نويد امن وامان
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف آيت اللہ صافی گلپایگانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نويد امن وامان

آیة اللہ صافی گلپایگانی


صبح ولادت

( وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلیٰ الَّذِینَ اسْتُضعِفُوا فِی الْا ٴَرْضِوَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوَٰ رِثِینَ ) قصص/ ۵

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ان پراحسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دے دیں ۔

پندرہویں شعبان ۲۵۵ ئھ کی مبارک و مسعود صبح طلوع ہونے والی تھی، امام حسن عسکری علیہ السلام کے خانہ امامت میں جوش و خروش اور انتظار کی شدت میں اضافہ ہوتاجارہا تھا ،آج ملائکہ کی آمد ورفت دوسرے اوقات کے مقابلہ میں کچھ زیادہ ہی تھی، رحمت الٰہی کی جلوہ نمائی اور خدائی شان و شوکت اور عظمت و جلالت کے انوار کی کرنیں ہر طرف پھوٹ رہی تھیں ۔

آسمان کی بلندیوں پر فرشتوں اور مقرب بارگاہ ملائکہ کے درمیان ابھی سے خاندان نبوت و رسالت کے اس چشم وچراغ کا چرچا ہے جو عنقریب اس دنیا میں قدم رکھنے والا ہے اور جو اپنے پرُ نور چہرے اور محمدی جلال و جمال کے دیدار سے عالمین کی آنکھوں کو روشنی عطا کرے گا ۔


جنت کو سجایا جا رہا تھا تاکہ اہل آسمان کے شایان شان محفل جشن وسرور کا اہتمام کیا جا سکے حوروں کے روح افزا اوردلنشین نغموں سے تمام اہل جنت پر روحانی وجد طاری تھا ،نیمہ شعبان کی رات ختم ہونے میں چندلمحے باقی رہ گئے تھے اور یہ بھی اتنے آہستہ آہستہ گذر رہے تھے کہ مجسم انتظار بنے ہوئے لوگوں کے لئے کئی سال کے برابر تھے ۔بالآخر رات اپنی بالکل آخری منزل تک پہونچ گئی منٹ سکنڈوں میں تبدیل ہو گئے اور وہ بھی بہت سست رفتاری سے گذر نے لگے کہ اچانک چاروں طرف ایک تیز روشنی پھیل گئی جو چراغوں کی روشنی سے کہیں زیادہ تھی اس نے سب لوگوں کو ایک نو مولود بچے کی پیدائش کی بشارت دی ،نومولود دنیا میں آیا اور بشریت کے آخری ہادی و رہبر، حضرت ولی اللہ الاعظم نے اپنے جمال پرُ نور سے پوری کائنات کو منور کردیا۔

جناب نرجس خاتون منزل فخر میں تھیں،تکبیر وتہلیل اور تسبیح خدا کے ساتھ مبارکباد اور تبریک و تہنیت کی آوازیں ہر طرف گونج اٹھیں ۔

نو مولود نے اپنے سر کو سجدہ میں رکھ کر خدا کی وحدانیت ،پیغمبر اکرم کی رسالت اور اپنے اجداد طاہرین کی امامت کی گواہی دی ،پھر بہت ہی اچھی اور دلنشین آواز میں اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی :


بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

( و نرید ان نمن علی الذین استُضعفوا فی الارض )

اس بچہ کی پیدائش کے ساتھ خاندان رسالت پر خدائی عنایتوں کی تکمیل ہوگئی۔

جی ہاں ! یہ فخر صرف نبوت و رسالت کے گھرانے سے ہی مخصوص ہے کہ بشریت کو ظلم و ستم سے نجات دینے اور عالمی پیمانے پر اسلامی حکومت قائم کرنے والی شخصیت کا تعلق اسی گھرانے سے ہے ۔

پیغمبر اکرم مسرور و شادماں تھے کہ ان کا فرزند مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ان کی رسالت اور آفاقی پیغام کو جامہ عمل پہنائے گا، آپ اپنے خاندان والوں ،خاص طور سے حضرت علی ،جناب فاطمہ حضرت امام حسن اور امام حسین کو یہ خوشخبری د ے رہے تھے کہ مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ وہی شخص ہے کہ جو اپنے بے مثال اور بے نظیر قیام کے ذریعہ شرک کی چولیں ہلا کر رکھ دے گا توحید و وحدانیت کی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم بنائے گا پوری دنیا پر اس کی حکومت ہوگی اوروہ انھیں حضرات کا فرزند ہے ۔

یہ وہی بے نظیر اور لا جواب وجود ہے جس کے ظہور کی خوشخبری انبیائے الٰہی اور اولیائے کرام نے دی ہے نیز دنیائے بشریت کو اس سے متعلق یہ خوشخبری سنائی ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت، عدالت کی برتری، دائمی امن و امان کے قیام اور ظالموں کی بساط کو لپیٹنے کے لئے قیام کرے گا اور اس خبر کے ذریعہ وہ سب کو دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں پر امید بنائے ہوئے ہے۔

مادی علوم اور صنعت کے میدان میں اگر چہ دنیا نے بیحد ترقی کی ہے اور آج فضا پر انسان کا تسلط ہے اور اسے اپنی طاقت وقدرت پر ناز ہے لیکن بڑے ہی افسوس کا مقام ہے کہ وہ انسانیت کے اعتبار سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکی بلکہ تہذیب و تمدن اوراخلاقی اعتبار سے وہ الٹے پاوں جاہلیت کی طرف واپس ہی چلی جار ہی ہے۔

خوف و ہراس اور دہشت نے ہر ایک کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے اسی لئے تمام ممالک کے بجٹ کا اکثر حصہ مہلک اور تباہ کن اسلحوں کی خریداری میں خرچ ہوتا ہے ۔


اخلاقی برائیوں ،فحاشی اور شہوت پرستی نے ہر مرد و عورت کو دم بخود کر رکھا ہے اور انہیں ذلت وپستی کی گھاٹی میں کھینچے لئے جا رہی ہیں، ریڈیو ،ٹیلیویژن اور اخبارات و رسائل ان کو اور ہوا دیتے رہتے ہیں۔

دینی احکام اور مذہبی رسومات کی پابندی میں کمی آتی جا رہی ہے اور مشرکانہ عادتیں یعنی لوگوں اور قوموں کو غلام بنانے اور انسان کی آزادی کو سلب کرنے کے بدترین طریقے مختلف شکلوں میں رائج ہوتے چلے جا رہے ہیں اور انکی بنیادیں ہر روز مزید مستحکم ہو تی جا رہی ہیں ،اس دور کا ترقی یافتہ کہا جانے والا انسان اپنے جیسے بے جان اور بے روح مجسموں کے سامنے جھکتا ہوا اور دعا کرتا ہوانظر آتا ہے جس سے وہ اپنی فکری پستی اور عقلی انحطاط کا اعلان کررہا ہے اور اس خدائی آواز :

( ما هٰذه التماثیل التی انتم لها عاکفون ) (۱) کی طرف توجہ نہیں دیتامادی دنیا کے بڑے بڑے لیڈر کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور بڑے سے بڑے جرم اور ظلم و ستم کو اپنے لئے باعث ذلت نہیں سمجھتے مختصر یہ کہ انسانیت تہذیب وتمدن سے عاری ہوتی جارہی ہے۔

اس دنیا میں صرف ایک امید کی کرن ہے جس کی وجہ سے بشر کا سرور و نشاط باقی ہے اوروہ

____________________

(۱) ”یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم حلقہ باندھے ہوئے ہو ؟“ سورہ انبیاء،آیت۵۲۔


اس سے یہ امید باندھے ہوئے ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح محرومی ونابودی، حیوانیت کی پستیوں اور طاقتور طبقہ کے مظالم کا شکار نہیں رہے گا اور اسکا انجام جہنم یا بدبختی نہیں ہے ،اسے ان مایوسیوں سے انبیاء اور ائمہ کی صرف وہی بشارتیں محفوظ رکھتی ہیں جنہوں نے ہر ایک کو دنیا کے روشن مستقبل کا یقین دلایا ہے اور انکے دلوں کو امید کے نور سے منور رکھا ہے۔

سب لوگ بڑے اعتماد اور جوش و ولولہ سے لبریز دل کے ساتھ انتظار کررہے ہیں اسکا انتظار جو اس دنیا کے سر پر منڈلانے والی ظلم و ستم کی کالی گھٹاوں کو دور کر دے گا اور پوری کائنات میں سچی بھائی چارگی اور آزادی کو رواج دے گا اور خداکے بلند مرتبہ احکام و قوانین کو نافذ کر کے انسانیت کی ارفع و اعلیٰ منزل مقصود کی طرف بشریت کی رہنمائی کرے گا۔

شیعہ اور اس ظہور کا ایمان رکھنے والے حضرات پندرہویں شعبان کی رات (شب برات)میں خوشیاں مناتے ہیں ،ہر طرف محفل مسرت کا اہتمام کیا جاتا ہے، چراغاں ہوتا ہے، سڑکوں ،بازاروں، دکانوں اور گھروں کو سجایا جاتا ہے ، سب خوشی میں ڈوبے رہتے ہیں ، اس طرح یہ لوگ عالمی عدل و انصاف اور امن و آشتی سے اپنے لگاو کا اعلان کر کے اپنے پر امید اور ہمت نہ ہارنے والے عزم و حوصلے کا اظہار کرتے ہیں ۔

اے ولی عصر اے مہدی موعود عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ؛

آپ کے شیعہ اور آپ کے چاہنے والے تمام لوگوں کو صرف اس بات کی آرزو اور اس گھڑی کا انتطار ہے جب ان کی اور تمام دنیا والوں کی سعادت و خوش بختی کی صبح نمودار ہو اور آپ کے قیام کے ذریعہ انکے تمام دردوں کا علاج ہو جائے اور محرومی ،ناکامی اور بے چارگی کے تمام راستے بند ہو جائیں اور پوری کائنات کے اندر صرف اورصرف توحیدو عدالت اور اسلامی صلح کا پرچم سربلند نظر آئے ۔

( وما ذلک علی اللّٰه بعزیز ) (۱)

”اور اللہ کے لئے یہ بات کوئی مشکل نہیں ہے ۔“

____________________

(۱)سورہ ابراہیم آیت۲۰


امام زمانہ(عج) کے ظہور سے متعلق قرآن اور احادیث کی بشارتیں

غیب پر ایمان

( الذین یوٴمنون بالغیب )

جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔بقرہ/ ۳

تمام نبوّتوں اور مذاہب حقہ کا مرکزی نقطہ اور انبیائے الٰہی کے دین کو دوسرے مذہبوں سے ممتاز کرنے والے عقیدے کا نام ”ایمان بالغیب “ہے۔

انبیائے کرام عالم محسوس یا عالم ظاہر سے عالم معقول یا غیب کے درمیان موجود رابطے کو بیان کرتے ہیں اور اس طریقہ کار کے ذریعہ بشریت کو عالم غیب کی تعلیم دیتے ہیں۔

غیب پر ایمان ،یعنی ان چیزوں پر ایمان رکھنا جو ظاہری حواس سے پوشیدہ ہیں چاہے باطنی حواس اور عقل کے ذریعہ ان کا ادراک ممکن ہو(جیسے وجود خدا ،صفات ثبوتیہ و سلبیہ، قیامت،جنت ،دوزخ اور فرشتے وغیرہ )اور چاہے ممکن نہ ہو جیسے خدا کی ذات اورصفات کی اصل حقیقت، ملائکہ اور روح کی حقیقت،اور چاہے یہ ایمان ماضی یا مستقبل کے واقعات و حادثات کے بارے میں کیوں نہ ہو۔

خدا پر ایمان ،ملائکہ پر ایمان ،برزخ پر ایمان ،جنت و جہنم پر ایمان ،یاوحی اور ان تمام چیزوں پر ایمان رکھنا جو انبیائے کرام نے ماضی یا مستقبل کے بارے میں ہمیں بتائی ہیں یہ سب ”غیب پر ایمان “کی قسمیں ہیں ۔

غیب پر ایمان یا توعقلی دلیل کے ذریعہ ثابت ہے یا اسکے بارے میں کوئی نقلی(منقولہ) دلیل ہے، البتہ اگر اس کی دلیل نقلی ہو تو پھر وہ غیب ایسا ہونا چاہئے کہ عقلی دلیلوں کے ذریعہ اسکا وجود محال نہ ہو اور عقل کے نزدیک اسکے وجود کا احتمال پا یا جاتا ہو ۔

جس وقت عقل کسی چیز کے موجود ہونے کی تصدیق کر دے یا اسکے محال ہونے کے بارے میں کوئی دلیل پیش نہ کر سکے تو نقلی (منقولہ) دلائل کے ذریعہ انہیں قبول کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ عقل کے حکم کے مطابق لازم ا ور ضروری ہے ۔

تمام آسمانی مذاہب نے ”غیب پر ایمان“کو نیک اعمال کی قبولیت کی شرط قرار دیا ہے نیز اخلاقیات میں اعتدال اور انسانی فضائل و کمالات کی تکمیل کو اسی سے مربوط جانا ہے اور اصولی طور پر انبیااورآسمانی ہادیوں کی تبلیغ کا اثر انہیں لوگوں پر زیادہ ہوتا ہے جو عالم غیب اور اس دنیا سے ما ورا ئچیزوں کے موجود ہونے کا احتمال رکھتے ہوں، آخری زمانہ کے مصلح یعنی حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور پر ایمان رکھنا بھی انہیں غیبی باتوں کا حصہ ہے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام نے ہمیں مطلع کیا ہے اور ان کی تصدیق واجب ہے ۔


جس طرح پیغمبر اکرم کی باتوں کی حقانیت اور سچائی کے بارے میں کوئی بھی مسلمان شک نہیں کرتا تھا اور سب لوگ اسے قبول کر لیتے تھے اسی طرح آپ کی نبوت کے بارے میں موجودہ دور کے مسلمانوں کا بھی بالکل یہی عقیدہ وایمان ہے ۔

پیغمبر اکرم نے حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور سے زیادہ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات کے بارے میں خبر دی ہے جیسے سورج کی چادر کا لپیٹ دیا جانا، دریاوں کا پھٹ جانا ،ستاروں کا گر پڑنا اور منتشرہوجانا، پہاڑوں کا حرکت میں آجانا ،آسمانوں کا شگافتہ ہو جانا ،دابة الارض کا خروج یا معاد اور قیامت۔

یہ سب غیب سے متعلق خبریں ہیں اور قرآن مجید میں مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی اور غیب سے متعلق خبریں کثرت سے موجود ہیں اور پیغمبر اکرم کے اوپر وحی نازل ہونے کا ایمان رکھنا ان تمام چیزوں پر ایمان (چاہے وہ اجمالی طور پر ہی کیوں نہ ہو)رکھنے سے الگ نہیں ۔

ایک دن آئے گا کہ جب وہ تمام عجیب و غریب حادثات اور واقعات ضرور رونما ہوں گے جنکے بارے میں پیغمبر اکرم اور قرآن مجید نے ہمیں باخبر کیا ہے، اور اسی طرح جیسا کہ قرآن مجید نے بیان کیا ہے اور پیغمبر اکرم نیز ان کے جانشین (ائمہ)نے ہمیں سینکڑوں روایات کے ذریعہ یہ بشارت دی ہے کہ ایک دن آخری زمانہ کے مصلح حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ظہور فرمائیں گے اور اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا ۔

غیب کے بارے میں پیغمبر اکرم اور ائمہ طاہرین نے جو پیشین گوئیاں کی ہیں وہ تواتر کی حد سے کہیں زیادہ ہیں اور تاریخ کی معتبر ترین اور کلیدی کتابیں اس کی بہترین سند ہیں ۔

ہمارے لئے آج پیغمبر اکرم کی بعثت کے ابتدائی دور کے مقابلے میں آنحضرت کی بیان کردہ غیبی خبروں کو قبول کر لینا نہایت آسان ہے کیونکہ اس وقت تک ان کے رونما نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی صداقت و حقانیت کی تائید ممکن نہیں تھی اسی طرح ہم پیغمبر اکرم کے دور کی طرف تاریخ کے جتنے اور اق پلٹتے چلے جائیں گے ،اس بات کوقبول کرنے کے امکانات (وسائل )کم سے کمتر ہوتے چلے جائیں گے لیکن اسکے بر خلاف جتنا آگے کی طرف نظراٹھا کر دیکھیں اور تاریخ اسلام کو شروع سے آخر تک دیکھنا شروع کریں تو ہماری عقل اور ہمارا ضمیر اس کو آسانی کے ساتھ قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور ہمارا ایمان کامل تر ہو جاتا ہے۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ بخوبی واضح و روشن ہو گیا کہ پیغمبر اکرم نے وحی الٰہی کی بنا پر مستقبل کے بارے میںپیشین گوئیاں کی تھیں اسی لئے (پیغمبر اکرم کے بعد )جتنازیادہ زمانہ گذررہا ہے اس کی صداقت مزید آشکار ہوتی جا رہی ہے۔


جب آپ اس آیت کی تلاوت کرتے تھے :

( و ان کنتم فی ریب مما نزّلنا علی عبدنا فاٴتوا بسورة من مثله و ادعوا شهدائَکم من دون الله ان کنتم صادقین فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودهاالناس و الحجارة اعدّت للکافرین ) (۱)

”اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اسکا جیسا ایک ہی سورہ لے آو اور اللہ کے علاوہ جتنے تمہارے مددگار ہیں سب کو بلالو اگر تم اپنے دعوے اور خیال میں سچے ہو ،اور اگر تم ایسا نہ کر سکے اور یقیناً نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جسکا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جسے کافرین کے لئے مہیا کیا گیا ہے۔“

اور جب آپ یہ پڑھتے تھے:

( قُل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاٴتوا بمثل هذا القرآن لا یاٴتون بمثله ولوکان بعضهم لبعض ظهیرا ) (۲)

”آ پ کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو بھی نہیں لا سکتے چاہے سب ایک دوسرے کے مددگار اور پشت پناہ ہی کیوں نہ ہو جائیں “۔

جس دن : آنحضرت قرآن مجید کے ایک سو چودہ سوروں کو ایک سو چودہ زندہ و پائندہ معجزوں کے طور پر پیش کر رہے تھے اور لوگوں کو یہ بتا رہے تھے کہ تم ،ان میں سے کسی ایک سورے کا جواب بھی نہیں لا سکتے ہو اور جن و انس قرآن کا جواب لانے سے قاصر ہیں ۔

جس دن : پیغمبر اکرم نے مسلمانوں سے فرمایا : تم کلمہ توحید کا اقرار کرو اور وحدہ لا شریک خدا کی عبادت کرو تاکہ تمام عرب تمہارے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور قیصر و کسریٰ کے خزانوں پر تمہارا قبضہ ہو جائے اور تم ملکوں کو فتح کر لو۔

جس روز: آپ یہ فرما رہے تھے کہ زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی اور مشرق سے لے کر مغرب تک سب کچھ مجھے دکھا دیا گیا اور میرے لئے جو کچھ سمیٹا گیا ہے وہ میری امت کو مل کر رہے گا۔

جس دن: آپ نے مکہ ،بیت المقدس ،یمن ،شام ،عراق،مصراور ایران کے فتح ہونے کی خبر دی تھی اور جس دن آپ مکہ میں مشرکوں سے یہ فرما رہے تھے تمہارے جسم پرانے کنویں میں ڈال دئے جائیں گے۔اور ابوسفیان کے بارے میں یوں مطلع کر دیا تھا کہ یہ جنگ احزاب کا فتنہ برپا کر ے گا۔

____________________

(۱)سورہ بقرہ آیت۲۳،۲۴۔

(۲)سورہ اسراء آیت ۸۸ ۔


جس دن :آپ حضرت علی کے ہاتھوں خیبرکے فتح ہونے کی خبر دے رہے تھے یاجناب ابوذر کو ان کے مستقبل سے یوں باخبر کر رہے تھے کہ تم تنہا ئی کی زندگی گذاروگے اور دنیا سے تنہا ہی جاو گے۔

جس دن: جنگ بدر سے پہلے ہی اس جنگ میں قتل ہونے والے کفار کے فوجیوں کے نام بتاکر یہ فرما رہے تھے کہ یہاں فلاں قتل کیا جائے گا اور اس جگہ فلاں قتل ہوگا، چنانچہ جنگ بدر میں جتنے کفار مارے گئے آپ نے ان سب کے نام پہلے ہی بتا دئے تھے ۔

جس دن آپ جناب عمار سے یہ فرما رہے تھے کہ : تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور اپنی عزیز ترین اور با عظمت بیٹی جناب فاطمہ زہرا سے یہ فرمایا تھاکہ: میرے اہل بیت میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملحق ہوگی اور اپنی ازواج سے یہ فرمایا تھا : تم میں سے کونسی خاتون ہے جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے اور وہ اونٹ پر سوار ہوگی اس کے آس پاس بہت سارے لوگ قتل کئے جائیں گے اور حضرت عائشہ سے فرمایا تھا :خیال رکھنا کہ تم ہی وہ عورت نہ ہو جانا ! بیہقی کی روایت(۱) کے مطابق ان سے فرمایا : اے حُمیرا اس وقت تمہاراکیا حال ہوگا جب حواب کے کتے تم پر بھونکیں گے اور تم اس چیز کا مطالبہ کروگی جس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے !

آپ نے زبیر کو جنگ جمل اور حضرت علی کے خلاف اس کے خروج سے مطلع کیا۔

جس دن: آپ نے حضرت علی اور امام حسن وحسین کی شہادت کااعلان واضح لفظوں میں کر دیا اور جب آپ حضرت علی کے خلاف ناکثین (جنگ جمل) قاسطین (جنگ صفین) مارقین (جنگ نہروان) کے بارے میں مطلع کر رہے تھے اور جنگ نہروان میں ذو الثد یہ خارجی کے

قتل ہونے کی تمام تفصیلات کی پیشین گوئی فرمارہے تھے یا بنی امیہ اور بنی الحکم کے فتنوں اور ان

____________________

(۱)المحاسن والمساوی ج۱ ص۷۶۔


کی حکومت اور اہل عذرا (جناب حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں )کی شہادت کی خبر دے رہے تھے۔(۱)

مسلمانوں کو ان تمام پیشین گوئیوں کا بآسانی یقین ہو جاتا تھا کیونکہ ان کی اطلاع پیغمبر اکرم نے دی تھی اور مسلمان آپ کی رسالت پر ایمان رکھتے تھے اور رسالت و نبوت پر ایمان رکھنے کے معنی یہی ہیں کہ پیغمبر اکرم نے غیب کے بارے میں جو خبریں دی ہیں ان کی سچائی پر ایمان اور اعتماد ہو لیکن اسلام کی تاریخ جوں جوں آگے کی طرف بڑھتی گئی اور تاریخ کے صفحات میں اضافہ ہوتا رہا ان پیشین گوئیوں نے لوگوں کو اپنی طرف اور زیادہ متوجہ کر لیا اور جن لوگوں کے دلوں میں ان سے متعلق کوئی خاص اعتماد نہیں تھا ان کے یقین میں بھی اضافہ ہو گیا اور ان کا ایمان مزید مستحکم اور استوار ہو گیا۔

____________________

(۱)غیب کے بارے میں پیغمبر اکرم کی ایک بالکل سچی اور مسلّم خبر سر زمین حجاز سے آگ کا ظاہر ہونا بھی ہے جسکے ظاہر ہونے سے دو تین صدی پہلے تالیف شدہ کتابوں میں اسکا تذکرہ درج تھا اس حدیث میں آپ نے سر زمین حجاز سے ایک ایسی آگ ظاہر ہونے کی پیشین گوئی فرمائی تھی جسکے اثرات بصریٰ اور شام سے دکھائی دینگے آپ کی اس پیشین گوئی کو صحابہ نے نقل کیا ہے اور جو کتابیں تیسری صدی ہجری میں تالیف ہوئی تھیں ان میں اس کا تذکرہ موجود ہے:

جیسے صحیح بخاری (متوفیٰ ۲۵۶)، طبرانی(متوفیٰ ۲۶۱)،مسند احمد بن حنبل (متوفیٰ ۲۴۱)مسند حاکم (متوفیٰ ۴۰۵)، طبرانی(متوفیٰ ۳۶۰) چنانچہ پیغمبر اکرم نے اس آگ کے بارے میں جو تفصیلات بیان کی تھیں بعینہ بالکل اسی طرح تیسویں جمادی الآخر ۶۵۴ ء ہجری میں یہ آگ مدینہ کے نزدیک ظاہر ہوئی اور کئی دنوں کی مسافت کے فاصلے سے بالکل صاف دکھائی دیتی تھی اور ۵۲،دنوں تک اسی طرح باقی رہی اور اسی سال ۲۷/رجب کو ختم ہوئی (یعنی بخاری و مسلم کے انتقال کے تقریباً چار سو سال بعد )جسکی تفصیل مندرجہ ذیل کتب تاریخ میں درج ہے”سیرت نبویہ“ سیرت حلبیہ کے حاشیہ پر مولفہ سید احمد زینی دحلان ج۳ ص۲۲۳”التذکرہ“ مولفہ:قرطبی ص ۲۵۰ ”الاذاعہ “ ص۸۴ ”الاشاعہ“ ص۳۷ ”تاریخ الخلفاء “ص ۳۰۹ ”صحیح مسلم ج۸ص۱۸۰”صحیح بخاری“ کتاب فتن ج۴ ص۱۴۲ ”وفاء الوفاء “ مولفہ سمہودی ج۱فصل ۱۶ص۱۵۲-۱۳۹،”الفتوحات الاسلامیہ“ ج۲ ص۶۲-۶۷ ”عمدة الاخبار فی تاریخ المدینة المختار ص ۱۲۵-۲۷ا،۱ور”فصل فی ظھورنار الحجاز ۔


رسالت کے زمانہ کے فصحاء و بلغا ء قرآن مجیدکے کسی سورے کا جواب لانے سے قاصر رہے اور آج قرآن مجید کو نازل ہوئے چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گذرچکا ہے اور ان چودہ صدیوں کے دوران ایک سے ایک مشہور ادیب، سخنور، اور صاحبان فصاحت و بلاغت دانشوروں کو دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور آج بھی اسلام کے مخالف بے شمار عیسائی ،یہودی نیز عربی زبان کے دوسرے ماہر ادباء اور اہل قلم موجود ہیں لیکن ان تمام لوگوں کے درمیان ایک شخص بھی قرآن مجید کے ایک سورے کا جواب پیش نہیں کر سکا جس سے قرآن مجید کے اعجاز اور پیغمبر اکرم کی پیشین گوئیوں کی صداقت آشکار ہو گئی کیونکہ اگر ان کے لئے ممکن ہوتا تو یہ اپنی حد درجہ اسلام دشمنی اور تعصب کی وجہ سے اب تک قرآن کے جیسی سینکڑوں کتابیں لکھ چکے ہوتے ۔ یہی نہیں بلکہ اگر یہ انکے بس کی بات ہوتی تو مشرق ومغرب کی تمام استعماری اور اسلام دشمن طاقتیں خاص طور سے عیسائی اپنی تمام تبلیغی مشینریوں کو اسی کے لئے وقف کر دیتے اور اسکے لئے عالمی مقابلے رکھے جاتے اور اس پر کروڑوں کے انعامات کا اعلان بھی کیا جاتا ۔

غزوہ بدر پیش آگیا اور پیغمبر اکرم نے جن لوگوں کا نام بتایا تھا وہ سب قتل کر دئے گئے اور انکے جنازوں کوکنویں میں ڈال دیا گیا ابو سفیان نے جنگ احزاب کا فتنہ بر پا کیا ،پیغمبر اکرم نے مکہ کو فتح کر لیا ،خیبر حضرت علی کے ہاتھوں فتح ہوا،جناب ابوذر نے ربذہ میں حالت تنہائی میں انتقال کیا ،جناب عمار کو معاویہ کی فوج نے شہید کیا ،جناب حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو دمشق کے نزدیک ،عذرا کے مقام پر شہید کر دیا گیا پیغمبر اکرم کے بعد آپ کے اہل بیت کی جوشخصیت سب سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوئی وہ جناب فاطمہ زہرا ہی تھیں،امیر المومنین امام حسن اور امام حسین کو بالکل اسی طرح شہید کیا گیا جس کی تفصیل پیغمبراکرم پہلے ہی بتا چکے تھے ،حضرت علی نے ناکثین ،مارقین، قاسطین یعنی اہل جمل وصفین اور نہروان سے جنگ کی اور ذو الثد یہ جنگ نہروان میں مارا گیا، ام المومنین عائشہ نے جنگ جمل کی سر براہی کی ، اور حواب کے کتے ان کے اوپر بھونکتے رہے اور انہوں نے ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتروا دئے ،بنی امیہ اور بنی الحکم حکومت پر قابض ہو کر لوگوں کے سروں پر سوار ہو گئے اور جیسا کہ پیغمبراکرم نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا اسلام کو انکے ہاتھوں بہت ہی برے دن دیکھنا پڑے۔


یہ غیبی خبریں اور ان کے جیسی نہ جانے کتنی غیبی خبریں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سچ ثابت ہوئیں اسکے علاوہ آنحضرت کے وصی اور جانشین یعنی حضرت علی یادوسرے ائمہ معصومین نے اسی قسم کی جو سینکڑوں پیشین گوئیاں کی تھیں وہ سب بالکل صحیح ثابت ہوئیں۔

اس تمہید کے بعد ہم باآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ معتبر ترین تاریخی شواہد کی بنیاد پر پیغمبر اکرم کی ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں پیشین گوئیاں بالکل صحیح ثابت ہوئیں، اور اگر ایک عام آدمی انکا دسواں حصہ ہی نہیں بلکہ ایک فیصد کے بارے میں ایسی اطلاع دیتا تو ہمیں اس کی کسی بھی پیشین گوئی کے بارے میں ذرہ برابر شک نہ ہوتا اور ہم اس پر بھی یقین کر لیتے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آخری زمانہ میں اس امت کو جن دشوار حالات اور شدید امتحانات سے گذرنا ہے اور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے بعد ان کا خاتمہ ہوگا ان تمام باتوں سے متعلق آنحضرت کی پیشین گوئیوں کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا رہیں ۔

ہم اپنے قارئین کرام کی مزید توجہ کے لئے اس بات کو دوبارہ بیان کر رہے ہیں کہ غیب سے متعلق آنحضرت کی پیشین گوئیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ جو شخص بھی صحیح و سالم فکراور عقل کی دولت سے بہرہ مند ہے اسکے لئے ان میں شک کرنا محال ہے اور جو شخص بھی اسلامی تاریخ سے واقفیت رکھنے یا اسکا مطالعہ کرنے والا ہے وہ خودبخود اس کی تصدیق کرے گا۔

ان تمام دلیلوں کے ہوتے ہوئے ہم حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کے بارے میں کیسے شک و شبہ کر سکتے ہیں جبکہ پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین نے اس سلسلہ میں بےحد تاکید فرمائی ہے اور متواتر روایات سے ہمیں اس کا بخوبی یقین ہوجاتاہے۔

آپ کے ظہور پر ایمان، آنحضرت کی نبوت ،غیب کے بارے میں آپ کی پیشین گوئیوں کی صحت اور سچائی کا لازمہ ہے اور ان سے ہر گز جدا نہیں ہے۔


جن مسلمانوں نے بعثت کے آغاز میں ان واقعات کو سچ ہوتے نہیں دیکھا تھا اسکے با وجود انھیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتوں میں شک نہیں ہوتا تھا تو پھر ہم ان میں سے بہت سی خبروں کی سچائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے یا قابل اطمینان لوگوں سے ان کے سچ ہونے کی خبر سننے کے بعد ان میں کیوں شک کرتے ہیں ؟ حتی کہ معاویہ اور عمرو عاص جیسے لوگ بھی ان باتوں کی حقانیت اور سچائی کا انکار نہیں کر سکتے تھے تو پھر اب جبکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے معصوم جانشینوں کی پیشین گوئیوں کے علاوہ ہمارے پاس اتنے مستحکم اور مضبوط شواہد اور قرائن موجود ہیں تو کیا ہم ان پر ایمان اور یقین نہ رکھیں ؟پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشین گوئیوں کی وجہ سے اسلام کے ابتدائی دور کے مسلمانوں کو جناب عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ اور آخری زمانہ کے فتنوں کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا اور سب کو یقین تھا کہ یہ خبریں سو فیصدی سچ ہیں اس کے بعد جب حالات گذرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی ہر پیشین گوئی اپنے صحیح وقت پر سچ ثابت ہو چکی ہے تو اب مستقبل کے بارے میں جوپیشین گوئیاں باقی رہ گئی ہیں ان کے بارے میں بھی کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔

اگر کوئی شخص آج آپ کو یہ اطلاع دے کہ کل فلاں صاحب، فلاں شہر سے جن کے یہ خصوصیات ہیں ،یہاں آئےں گے اور ایک مہینہ بعد اس قسم کے دس آدمی آئیں گے اور پانچ مہینے کے بعدپانچ سو آدمی آئیں گے اور ایک سال بعد ایک ہزار لوگ آئیں گے اور دو سال بعد اس شہر میں انقلاب آجائے گا اور حکومت بدل جائے گی یا بیس سال کے بعد وہاں جنگ ہو گی، پچاس سال کے بعد وہاں کا حاکم قتل کر دیا جائے گا اور سو سال کے بعد اور دو سوسال کے بعد

آپ چاہے ان تمام خبروں کی تصدیق نہ کریں مگر آپ ان کی تکذیب بھی نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ انکی تصدیق یا تکذیب کے تمام احتمالی راستے آپ کے اوپر بندہیں لہٰذا آپ کل تک انتظار کرینگے چنانچہ اگر پہلا شخص انہیں علامتوں اور خصوصیات کے ساتھ آگیا تو آپ کو اس سے حیرت ضرور ہوگی مگر اس کی بقیہ خبروں پر اعتماد میں اضافہ ہو جائے گا ۔


ایک مہینہ بعد وہ دس آدمی بھی آگئے اب اس کی باتوں پر آپ کو مکمل یقین اور اطمینان ہو جائے گا تیسری خبر سچ ثابت ہونے کے بعد آپ کا یقین بالکل پختہ ہوجائے گا۔

چوتھی اور پانچویں خبر کے سچ ثابت ہونے کے بعد اگر کوئی شخص انکی صداقت کا انکار کرے اور انہیں نا ممکن سمجھے تو آپ اس کو شکی مزاج قرار دیدیں گے۔

چنانچہ جتنی پیشین گوئیاں صحیح ہوتی جائیں گی چھٹی،ساتویں،آٹھویں اور نویں پیشین گوئی کے بارے میں آپ کے یقین و اطمینان اور ایمان میں اتنا ہی استحکا م پیدا ہو جائے گا ۔

اب ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جو پیغمبر صادق و مصدق ہیں اور انکی نبوت متعدد معجزات اور دوسری عقلی دلیلوں کے ذریعہ ثابت ہے،وہ پیغمبر جن کی سینکڑوں پیشین گوئیاں اب تک صحیح ثابت ہو چکی ہیں اور ان سب کو سنی اور شیعوں کی معتبر کتابوں نے نقل کیا ہے نیز یہ کہ ان بزرگوں نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ” اگر دنیا کی عمر ایک دن سے زیادہ بھی باقی نہ رہے توبھی خدا وند عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ظہور فرما کر دنیا کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی“ ۔


اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے اس ظہور کی علامتوں کو بھی بیان فرمایا ہے۔

اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ پیغمبر اکرم اور انکے جانشینوں کی پیشین گوئی سچ نہیں ہے یا اسے اس میں شک ہو تو پھر وہ پیغمبر اکرم کی نبوت کی گواہی اور اسکے ثبوت کے لئے اتنے معجزات اور علمی دلیلوں کے اقرار کرنے کا کیا جواب دے سکتا ہے؟

پیغمبر اکرم اور دوسرے انبیاء کی نبوت پر ایمان کا کیا جواز پیش کرے گا؟ کیونکہ دوسرے انبیاء نے بھی آخری زمانہ کے مصلح کے بارے میں بشارتیں دی ہیں۔

ان تمام پیشین گوئیوں کا کیا جواب دے گا جو پیغمبر اکرم نے کی تھیں اورگذشتہ چودہ سوسال کے اندر ان میں سے بہت ساری پیشین گوئیاں صحیح ثابت ہو چکی ہیں؟

اب اگر وہ یہ بہانہ بنائے کہ پیغمبر اکرم نے ایسی کوئی بشارت نہیں دی تھی تو ہم اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے شیعہ اور سنی کتب خانوں میں لے جائیں گے اور یہ کہیں گے کہ ذرا ان کتابوں کو ملاحظہ کرو جو ایک ہزار سال پہلے سے آج تک لکھی گئی ہیں، اب ذرا آپ بھی ملاحظہ کریں کہ اس بشارت کا تذکرہ کتنی روایتوں میں ہے اور ان کی تعداد کتنی ہے؟


کیا چند معتبر روایات آپ کے اطمینان کے لئے کافی ہیں ؟

ہمارا اور آپ کا مزاج تو یہ ہے کہ اکثر تاریخی واقعات کو صرف ایک مورخ کے نقل کردینے سے مان لیتے ہیں یا دنیا کے اہم واقعات کو صرف ایک نامہ نگار کے کہنے پر قبول کر لیتے ہیں تو اس بات کو قبول کر نے کے لئے آپ کو کتنی صحیح اور معتبر روایات کی ضرورت ہے جن کے بعد آپ کو اسکا یقین ہو سکے؟اگر آپ واقعا ً منصف مزاج ہوں گے تو کہیں گے کہ صرف ایک معتبر حدیث ہی کافی ہے اور اگر تھوڑے بہت شکی مزاج یا احتیاطی قسم کی طبیعت رکھتے ہو نگے تو کہیں گے کہ اگر دو تین حدیثیں ہوں تو مزید اطمینان پیدا ہو جائے گا۔

ہم جواب دینگے :کہ اس موضوع کی ہزاروں معتبر احادیث ہیں جو حدیث ،تاریخ،اوررجال کی سینکڑوں کتابوں میں موجود ہیں۔

مذکورہ گفتگو کے بعد اس سلسلہ میں کوئی شک و شبہہ باقی نہیں رہ جاتا کہ پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث اور پیشین گوئیوں کے عین مطابق آخری زمانہ میں جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی تو مصلح منتظر مہدی موعود جو اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینگے ان کا ظہور یقینی بات ہے اور اسمیں کسی قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے۔


مصلح عالم

جن چیزوں کے بارے میں تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق اور اجماع ہے، ان میں آخری زمانہ میں اہلبیت پیغمبر کے درمیان سے قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کاظہور بھی شامل ہے اور اس نظریہ کے تمام قائلین ایک ساتھ مل کر ایک ایسے عالمی انقلاب اورمصلح کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں جو خدا وند عالم پر ایمان اور اسلامی احکام کی بنیادوں پر دنیا کے نظام کو چلائے گا اور ہر طرف عدالت قائم کرے گا، دنیا کو ظالموں کے خونخوار پنجوں سے نجات عطا کرے گا اور اسلامی پرچم کو پوری دنیا میں بلند کر دے گا ۔

سب لوگوں کی آنکھیں اسی کی طرف لگی ہوئی ہیں اور سب لوگ انتظار کی گھڑیاں گن رہے ہیں کہ پیغمبر اکرم کی اولاد میں سے ایک محترم شخصیت قیام کرکے توحید ،اسلامی برادری اور مساوات کو نئے سرے سے زندگی عطا کردے، بشریت کو سکون و اطمینان کی نعمت سے بہرہ مند کرے، تفرقہ و جدائی اور محرومی وناکامی سے نجات عطا کرے ۔

یہ ایک الٰہی وعدہ ہے جو ہر گز جھوٹا نہیں ہو سکتا، دنیا اس روشن و تابناک دور کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ،زمانہ کی رفتار ،سورج کی گردش بشریت کو ہرلمحہ اس دن سے نزدیک تر کر رہے ہےں ۔

حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور اور پوری دنیا میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے ایمان سے متعلق قرآن مجید کی متعدد آیات ،متواتر روایات،اور مستحکم ترین اجماعات کو بہترین دلیل اور سند کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، لہٰذا جو مسلمان بھی قرآن کریم اور پیغمبر اکرم کی نبوت کا یقین رکھتا ہے اسکے لئے اس ظہور پر مکمل یقین اور ایمان رکھنا ضروری ہے۔


اگر چہ اس مضمون میں ان باتوں کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا اپنے محترم قارئین کی مزید توجہ کے لئے ان چار عنوانات: ۱ ۔آیات قرآن، ۲ ۔اجماع واتفاق مسلمین، ۳ ۔روایات اہل سنت، ۴ ۔روایات شیعہ، کے ذیل میں ہم ان کی مختصر وضاحت پیش کریں گے۔

۱ ۔قرآن مجید کی آیتیں

خدا وند عالم نے قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں ان باتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ پوری دنیا میں ایک اسلامی حکومت قائم ہوگی، دین اسلام ہر طرف پھیل جائے گا اور تما م مذاہب پر اس کا غلبہ ہوگا، (صالح اور لائق حضرات حکومت کریں گے) ان میں سے بعض آیتیں یہ ہیں:

( و قاتلوهم حتیٰ لا تکون فتنة و یکون الدین کله للّٰه ) (۱)

اور تم لوگ ان کفار سے جہاد کرو یہاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے اور سارا دین صرف اللہ کے لئے رہ جائے۔

( هو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ و دین الحق لیظهره علی الدین کله ) (۲)

وہ خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔

( یریدون ان یطفئوا نور اللّٰه باٴفواههم و یاٴبیٰ اللّٰه الا ان یُتمّ نوره ) (۳)

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منھ سے پھونک مار کر بجھا دیں حالانکہ خدا اسکے علاوہ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ اپنے نور کو تمام(اور کامل) کر دے۔

____________________

(۱)سورہ انفال آیت۳۹۔

(۲)سورہ توبہ آیت۳۳ وسورہ فتح آیت ۲۸۔

(۳)سورہ توبہ آیت۳۲۔


( یریدون لیطفئوا نور اللّٰه باٴفواههم واللّٰه مُتمّ نوره ) (۱)

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے۔

( و یرید الله ان یُحق الحق بکلماته و یقطع دابر الکافرین ) (۲)

اور اللہ اپنے کلمات کے ذریعہ حق کو ثابت کرنا چاہتا ہے اور کفار کے سلسلہ کو قطع کردینا چاہتا ہے۔

( و قل جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل کان زهوقا ) (۳)

اور کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل فنا ہو گیا کہ باطل بہر حال فنا ہونے والاہے۔

( ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثها عباديالصالحون ) (۴)

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میںبھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے۔

( و عد اللّٰه الذین آمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنّهم فی الارض ) (۵)

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان اور عمل صالح بجالانے والوںسے وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایاہے۔

( ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انهم لهم المنصورون و ان جندنا لهم الغالبون ) (۶)

اور ہمارے پیغامبربندوں سے ہماری بات پہلے ہی طے ہو چکی ہے کہ انکی مدد بہرحال کی جائیگی اور ہمارا لشکر بہر حال غالب آنے والا ہے۔

( انّا لننصر رسلنا والذین آمنوا فی الحیاة الدنیا ) (۷)

بیشک ہم اپنے رسول اور ایمان لانے والوں کی زندگانی دنیامیں بھی مدد کرتے ہیں۔

____________________

(۱)سورہ صف آیت۸۔

(۲)سورہ انفال آیت۷۔

(۳)سورہ اسراء آیت۸۱۔

(۴)سورہ انبیاء آیت۱۰۵۔

(۵)سورہ نور آیت۵۵۔ (۶)سورہ صافات آیت۱۷۱۔۱۷۳۔

(۷)سورہ غافر آیت۵۱۔


( کتب الله لا غلبن اناورسلی ان الله قويّ عزیز ) (۱)

اللہ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آنے والے ہیں بے شک اللہ صاحب قوت اور صاحب عزت ہے

انکے علاوہ دوسری آیتیں بھی ہیں جنکی تاویل حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کے وقت سامنے آئے گی وہ سب بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام تمام مذاہب پر غالب آجائے گا اور اہل حق، باطل پرستوں پر غلبہ حاصل کر لیں گے یاانبیائے الٰہی کا تسلط اور نور خدا کا تمام و کامل ہونا حتمی ہے ،ان سب آیتوں کے معنی ابھی مکمل طریقے سے ظاہر نہیں ہوئے ہیں اور یہ آیتیں آخری زمانے میں انکے عملی ہونے کی بشارت دے رہی ہیں ۔

خدا وند عالم نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے پیغمبروں کی ضرور مدد کرے گا اور ان کو غلبہ عطا کرے گا اور یہ طے ہے کہ اس غلبہ اور مدد کا تعلق صرف آخرت ہی سے نہیں ہے کیونکہ اس نے خود ارشاد فرمایا ہے:

( فی الحیاة الدنیا )

دنیاوی زندگی میں۔

دوسرے یہ کہ اس سے یہ مراد بھی نہیں ہے کہ انبیاء کرام اپنی اقوام کے اوپر اپنے زمانہ میں غلبہ حاصل کر لیں گے اور انکے مشن کو ترقی ہوگی کیونکہ بہت سارے انبیاء کی تبلیغ کا ان کی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ بہت سے انبیاء کو قتل بھی کر دیا گیا ۔

اس مدد اور غلبہ سے انکے مقصد اور پیغام کی مدد اور اسکا غلبہ مراد ہے اور ان آیتوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نصرت کسی خاص رتبہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس سے ہر طرح کی(مطلق) نصرت مراد ہے ۔

یہی نور کو تمام کرنے کے معنی بھی ہیں کہ جو لوگ خدا کے نور کو بجھانا چاہیں گے اور اسلام کی

____________________

(۱)سورہ مجادلہ آیت۲۱۔


پیشرفت میں رکاوٹ پیدا کریں گے انکے مقابلہ میں خدا وند عالم اپنے نور کو کامل کر دے گا اسکے معنی بھی یہی ہیں کہ خدا وند عالم دین کو ترقی عطا کرے گا اسلام کی سرحدیں بڑھتی چلی جائیں گی اور یہ نور اس وقت مکمل ہوگا جب اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا ۔

زمین پر مومنین کی جا نشینی اور اس پر ان کے وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پوری زمین کے مالک و مختار بن جائیں گے بلکہ یہ موقع صرف امام زمانہ اور ان کے ساتھیوں کو ملے گا۔

باطل کے اوپر ہر لحاظ سے حق کے غلبہ کے بھی یہی معنی ہیں کہ ہر اعتبار سے حق، باطل پر کامیاب و کامران ہو جائے گا اور اگر یہ کہا جائے کہ حجت و برہان کے ذریعہ غالب ہوگا اور ظاہر میں غالب نہ ہوگا تو اسے ہر لحاظ سے غلبہ نہیں کہا جائے گا جبکہ ان آیتوں سے ہر طرح کا تسلط سمجھ میں آتا ہے۔

لیکن یہ آیت:

( لیظهره علی الدین کله )

تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنا دے۔

اسلام کے غالب ہو جانے کے بارے میں واضح دلیل ہے۔

ان آیتوں کی تائید اُن روایتوں سے بھی ہوتی ہے جو رسول اکرم سے اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں جیسے آپ نے فرمایا:

( لیدخلن هذا الدین علی مَن دخل علیه اللیل )

جہاں کہیں بھی رات داخل ہوتی ہے یہ دین وہاں ضرورپہنچے گا۔

اس حدیث میں آپ نے”علی ما دخل علیہ اللیل “فرمایا ہے اور ”علی ما دخل علیہ الیوم او الشمس“نہیں فرمایا اسکا راز شائد یہ ہو کہ اسمیں دین کو سورج سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جہاں رات ہوتی ہے وہاں سورج ضرور پہنچتا ہے اسی طرح اسلام کے روشن و منور سورج کی کرنیں پوری دنیا میں پھیل جائےں گی اور کفر و ضلالت کی تاریکی کا اسی طرح خاتمہ ہو جائے گا جس طرح سورج ،رات کا خاتمہ کر دیتا ہے۔


۲ ۔اجماع مسلمین

اگر اس اجماع اور اتفاق سے شیعوں کا اجماع مرادہو تو یہ بالکل واضح ہے اور اسے سب ہی جانتے ہیں کہ امام حسن عسکری کے فرزند دلبند حضرت قائم آل محمدکا ظہور شیعہ اثنا عشری مذہب کا اہم حصہ ہے اور اگر اس سے تمام مسلمانوں کا اتفاق مراد ہو تو اسکے ثابت کرنے کے لئے اہل سنت کے ایک صاحب نظر اور نکتہ سنج عالم، معتزلیوں کے علامہ ابن الحدید کا یہی ایک جملہ کافی ہے جو انہوں نے شرح نہج البلاغہ (مطبوعہ مصر ج ۲ ص ۵۳۵) میں تحریرکیا ہے :

قد وقع اتفاق الفریقین من المسلمین اجمعین علی ان الدنیا والتکلیف لا ینقضی الا علیه

”دونوں فرقوںسنّی اور شیعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا اور تکلیف شرعی کاخاتمہ نہ ہوگا مگر حضرت پر “یعنی آپ کے ظہور کے بعد۔

اہل سنت کے اور چار معروف علماء کے اقوال کیونکہ آئندہ مضمون میں نقل کئے گئے ہیں لہٰذا انہیں اس مقام پر ذکر نہیں کیا جا رہا ہے انھیں وہیں ملاحظہ فرمائیے۔

جو لوگ تاریخ پر نظر رکھتے ہیں انہیں بخوبی معلوم ہے کہ مصلح منتظر مہدی آل محمد علیہ الصلاة والسلام کے ظہور کے بارے میں تمام مسلمانوں کے درمیان اس حد تک اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پہلی صدی ہجری سے اب تک جس نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے یا جس کی طرف اس دعوے کی نسبت دی گئی ہے سب نے اس کی کھل کر مخالفت کی ہے لیکن خود مسئلہ ظہور کی مخالفت کسی نے نہیں کی کیونکہ یہ بات مسلمانوں کے اجماع اور پیغمبر اکرم کی صریحی روایات کے خلاف تھی بلکہ وہ ان کی مخالفت اور ابطال کے لئے یہ طریقہ اپناتے تھے کہ روایات میں حضرت مہدی کے ظہور سے متعلق جن علامتوں اور نشانیوں کا تذکرہ ہے چونکہ ان مدعیوں کے یہاں ان میں سے کوئی علامت نہیں پائی جاتی ہے لہٰذا یہ لوگ جھوٹے ہیں۔


اہل سنت کے چاروں مذاہب کے چار بزرگ علماء یعنی ابن حجرشافعی، ابو السرور احمد بن ضیاء حنفی،محمد بن احمد مالکی،یحییٰ بن محمد حنبلی سے جب اس سلسلہ میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسکا اسی اندازمیں جواب دیا جسکی تفصیل کتاب ”البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان “ باب ۱۳ پر انکے فتووں کے ساتھ نقل ہوئی ہے انھوں نے مسئلہ ظہور مہدی کوثابت کرنے کے ساتھ آپ کی بعض خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے یعنی وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینگے یا حضرت عیسیٰ آپ کی اقتدا کریں گے یا آپ کے دوسرے اوصاف بیان کئے ہیں مختصر یہ کہ یہ ان کا مدلّل، دوٹوک اور قانونی فتویٰ ہے حتیٰ کہ جناب زید کی طرف مہدویت کی جو غلط نسبت دی گئی تھی اس سلسلہ میں بنی امیہ کے شاعر حکیم بن عیاش کلبی نے یوں کہا ہے:

ولم ا ر مهد یا علی ا لجذع یصلب (۱)

مجھے کوئی ایسا مہدی نہیں دکھائی دیا جسے سولی دی گئی ہو۔

اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ مہدی جب ظہور کرینگے تو تمام ممالک کو فتح کرینگے اور پوری دنیا میں صرف انہیں کی حکومت ہوگی ، ہر جگہ عدل و انصاف کا رواج ہوگا تو پھر جناب زید جنہیں سولی پر لٹکایا گیا وہ کس طرح مہدی ہو سکتے ہیں؟

۳ ۔احادیث اہل سنت

اہل سنت کے بڑے بڑے محدثین جنکے نام اور ان کی کتابوں کی تفصیل اس مقالہ میں اختصار کی بنا پر ذکر کرنا ممکن نہیں ہے انہوں نے حضرت مہدی کے بارے میں صحابہ کے علاوہ بہت

____________________

(۱)ابن حجر عسقلانی شافعی نے اپنی کتاب ”الاصابہ ج۱ ،ص۳۹۵ پر” فوائد کواکبی“ سے جو روایت نقل کی ہے اسکے مطابق، یہ حکیم بن عیاش ،امام جعفر صادق کی بد دعا کی وجہ سے بہت ہی عبرتناک حالت میں ہلاک ہوا تھا۔


سے تابعین سے بھی کثرت کے ساتھ روایتیں نقل کی ہیں اور بعض حضرات نے تو اس سلسلہ میں مستقل کتاب بھی تالیف کی ہے جبکہ بہت سے لوگوں نے ان روایتوں کے متواتر(۱) ہونے کی تصریح کی ہے اور ان حضرات کی تحریروں میں اس بات کی تاکید موجود ہے ۔

اس مقالہ کے بعض حصے جیسے صحابہ کے نام یا جن علمائے اہل سنت نے اس سلسلہ میں کتابیں لکھی ہیں یا جن لوگوں نے روایتوں کے متواتر ہونے کی صراحت کی ہے ان سب کے نام چونکہ اسی کتاب میں آئندہ ذکر کئے جائیں گے لہٰذا انہیں یہاں حذف کیا جا رہا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ : پیغمبر اکرم کی متواتر روایات سے صرف مسئلہ ظہور مہدی ہی حتمی اور قطعی نہیں ہے بلکہ تواتر کے ساتھ یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پوری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینگے اور حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہو کر آپ کی اقتدا کرینگے اور آپ پوری دنیا کو فتح کر کے اسمیں قرآنی احکام کوعام کردینگے۔

اسکے علاوہ اہل سنت کے بہت سے علماء و محققین نے اپنے اشعار، قصائد یا اپنی کتابوں میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری کے اکلوتے بیٹے ہیں جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب ”منتخب الاثر “ کی تیسری فصل کے پہلے باب میں آنحضرت کی ولادت ،غیبت اور امامت سے متعلق اہل سنت کے ساٹھ علماء کے واضح اعترافات نقل کئے ہیںچنانچہ جو منصف مزاج انسان بھی ان اعترافات کو ملاحظہ کر ے اسکے لئے کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہ سکتا ہے۔

۴ ۔احادیث شیعہ

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیعوں نے جو روایتیں نقل کی ہیں وہ سب سے زیادہ معتبر ہیں کیونکہ پیغمبر اکرم کے دور سے لیکر آج تک انکے درمیان حدیث نویسی کا سلسلہ کبھی بھی منقطع نہیں ہوا اورجو کتابیں پہلی صدی ہجری سے ۵۰ ہجری تک یا ۵۰ ہجری سے ۱۰۰ ہجری تک لکھی گئیں

____________________

(۱)حدیث متواتر : اس حدیث کو کہا جاتا ہے جسکے نقل کرنے والے راوی اتنے افراد ہوں جنکے جھوٹ بولنے اور ساز باز کرنے کا امکان نہ ہو


تھیں انمیں سے بعض آج بھی موجود ہیں جن سے لوگ با قاعدہ استفادہ کرتے ہیں بلکہ ان کی سب سے پہلی کتاب وہی کتاب ہے جسے رسول اکرم نے املاء فرمایا تھا اور حضرت علی نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا جیساکہ متعدد روایات میں ذکر ہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام احادیث کو نقل کرتے وقت اس کتاب کو سند کے طور پر پیش کرتے تھے۔

دوسرے فرقوں کی روایتوں کے مقابلہ میں شیعوں کی روایتوں کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کی روایتیں ائمہ معصومین کے ذریعہ نقل ہوئی ہیں اور یہ حضرات زہدوتقویٰ کا نمونہ ہیں اور ان کی عظمت و فضیلت فریقین کے نزدیک ہر لحاظ سے مسلّم ہے اور ”اہل البیت ادریٰ بما فی البیت “ (یعنی گھر والوں کو اپنے گھر کے حالات بہتر معلوم ہوتے ہیں)کے مطابق ان سے منقول روایتیںفطری طور پر زیادہ محکم اور غلطیوں سے پاک ہیں۔

تیسری اہم وجہ : جسکی بنا پر شیعوں کی روایات سب سے زیادہ معتبر قرار پائی ہیں اور درحقیقت یہی سبب ان کی روایتوں کا بہترین پشت پناہ اور سند بھی ہے وہ حدیث ثقلین ہے جو متواتر بھی ہے یا حدیث سفینہ اورحدیث امان یا ان کے علاوہ اور دوسری روایات ہیں جن میں امت کو اہل بیت کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ اہل بیت قرآن مجید کے ہم پلہ ہیں اور ان کا قول حجت ہے اور ان کے دامن سے وابستگی گمراہی سے نجات ہے نیز یہ کہ کوئی زمانہ، معصوم امام کے وجود سے خالی نہیں رہ سکتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ائمہ طاہرین سے جو روایتیں نقل ہوئیں ہیں ان میں اعلیٰ درجہ کی صداقت اور اعتبار پایا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف تو تمام عقلاء کی سیرت یہی ہے کہ وہ ایک معتبر شخص کی بات کو بخوشی قبول کر لیتے ہیں دوسرے یہ کہ اہل بیت کو پیغمبراکرم سے جس درجہ قربت حاصل تھی اور آنحضرت کے نزدیک ان لوگوں کا جو مرتبہ و مقام تھا وہ صحابہ اور تابعین میں کسی کو بھی حاصل نہیں تھا حتیٰ کہ حدیث ثقلین کے مطابق ان حضرات کا قول اور فعل شرعی حجت اور دلیل ہے اور کیونکہ یہ لوگ معصوم ہیں اور قرآن سے کبھی جدا نہیں ہونگے لہٰذا امت کے لئے ان کی بات ماننا اور ان کی طرف رجوع کرنا واجب ہے ۔

اس مختصر تمہید کے بعد( جسے ہم نے اپنی اُس کتاب میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جس میں اہل بیت کی پیروی کے واجب ہونے اور ان سے علم حاصل کرنے کے بارے میں گفتگو کی ہے) باآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیعوں کے یہاں قائم آل محمد حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالی فرجہ کے ظہور سے متعلق ان کے عظیم علماء ومحدثین کی کتابوں میں معتبر ترین روایات موجود ہیں جو آغاز ہجرت سے اب تک لکھی گئی ہیں جیسے ان اصل کتابوں کی روایتیں جو حضرت قائم آل محمد کی ولادت سے پہلے تالیف ہوئی ہیں مثلاً حسن بن محبوب (متوفیٰ ۲۲۴ ھ) کی کتاب ”مشیخہ“ یا ”سلیم بن قیس “ (متوفیٰ ۷۰ یا ۹۰ ہجری )کی کتاب ۔


یہ ایسی روایات ہیں کہ ان میں سے صرف ایک روایت ہی امام زمانہ کی امامت کو یقینی طور پر ثابت کرنے کے لئے کافی ہے اور یہ کہ آپ امام حسن عسکری کے اکلوتے بیٹے ہیں ،وہ روایات جن میں ایسی پیشین گوئیاں بھی ہیں جو اب تک سچ ثابت ہو چکی ہیں اور وہ اولیائے خدا کا معجزہ سمجھی جاتی ہیں اور انہیں ان کی غیب سے متعلق خبر شمار کیا جاتا ہے ۔وہ روایتیں جن میں اس ظہور کے خصوصیات ،شرائط اور اس کی علامتیں واضح طور پر بیان کی گئی ہیں ان روایتوں کی تعداد تواتر سے کہیں زیادہ ہے اور ان کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا صرف اسی کے لئے ممکن ہے جسکا مطالعہ بہت وسیع ہو اور وہ اس فن میں واقعاً صاحب نظر ہو ۔

قارئین محترم یہ مشکل صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ بالکل سچ اور حقیقت پر مبنی ہے جسکی بہترین دلیل حدیث کے اہم مجموعوں کے علاوہ بڑے بڑے شیعہ محدثین کی وہ سینکڑوں کتابیں بھی ہیں جو اس موضوع پر لکھی گئی ہیں ۔

جیسے تیسری صدی ہجری کے بزرگ عالم عیسیٰ بن مہران مستعطف کی تالیف ”المھدی “، فضل بن شاذان کی کتاب ”قائم و غیبت “، تیسری صدی ہجری کے جلیل القدر عالم عبد اللہ بن جعفر حمیری کی تالیف ”غیبت“،یا کتاب ”غیب وذکرالقائم “ مولفہ ابن اخی طاہر(متوفیٰ ۳۵۸ ھ)، محمد بن قاسم بغداد ی معاصر ابن ہمام (متوفیٰ ۳۳۳ ھ) کی کتاب ”غیبت“، شیخ کلینی کے ماموں علان رازی کلینی کی تالیف ”اخبار القائم “یا ”اخبار المھدی“مولفہ جلودی (متوفیٰ ۳۳۲ ھ)، چوتھی صدی ہجری کے ایک بڑے عالم نعمانی کی ”کتاب غیبت“، حسن بن حمزہ مرعشی (متوفیٰ ۳۵۸ ھ)کی تالیف ”غیبت“یا” دلائل خروج القائم“ مولفہ ابن علی حسن بن محمد بصری، (تیسری صدی ہجری کے عالم)احمد بن رمیح المروزی یا کتاب ”ذکر القائم من آل محمد“ قدیم محدث ابی علی احمد بن محمد جرجانی کی تالیف” اخبار القائم “ یا”الشفاء والجلاء“ مولفہ احمد بن علی رازی” ترتیب الدولہ“مولفہ احمد بن حسین مہرانی، ”کمال الدین “ ، ”کتاب غیبت کبیر“تالیف شیخ صدوق(متوفیٰ ۳۸۱ ھ)، ابن جنید کی کتاب”غیبت“ (متوفیٰ ۳۸۱ ھ)، ”کتاب غیبت“مولفہ شیخ مفید(متوفیٰ ۴۱۳ ھ)، سید مرتضیٰ (متوفیٰ ۴۳۶) کی کتاب غیبت، شیخ طوسی(متوفیٰ ۴۶۰) کی کتاب ”غیبت“۔ سید مرتضیٰ کے ہم عصر اسعد آبادی کی تالیف” تاج الشرفی ،کتا ب ما نزل من القرآن فی صاحب الزمان“ مولفہ عبداللہ عیاش (متوفیٰ ۴۰۱) ” فرج کبیر“،مولفہ محمد بن ھبت اللہ طرابلسی (شاگرد شیخ طوسی ) اسی طرح” برکات القائم“ ،تکمیل الدین، بغیة الطالب ،تبصرة الاولیاء ،کفایة المہدی ،اخبار القائم ،اخبار ظہور المہدی الحجة البالغ ،تثبیت الاقران ،حجة الخصام ،الدر المقصود ،اثبات الحجة ،اتمام الحجة ،اثبات وجود القائم ،مولد القائم،الحجة فی ما نزل فی الحجہ ،الذخیر ة فی المحشر ،السلطان المفرج عن الایمان،سرود اہل الایمان، جنی الجنتین ،بحار الانوار کی تیرھویں جلد ،غیبتِ عوالم کے علاوہ ایسی اور بھی سینکڑو ں کتابیں ہیں جن کی فہرست اور مولفین کے نام تحریر کرنے سے یہ گفتگو کافی طویل ہو جائے گی۔


ان متواتر روایات کی روشنی میں اس مقام پر ہم حضرت مہدی کے بعض اوصاف اور ان کی بعض علامتیں ایک فہرست کی شکل میں پیش کر رہے ہیں جن کی وضاحت کسی دوسرے موقع پر پیش کی جائے گی۔(۱)

آخر میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ امام عصر کے موجود ہونے کے بارے میں اور بھی عقلی و نقلی دلیلیں موجود ہیں جن کوہم اس مقام پر بیان نہیں کر رہے ہیں۔

البتہ مختصر یہ کہ وہ تمام عقلی و نقلی دلیلیں جو امامت عامہ پر دلالت کرتی ہیں یا یہ ثابت کرتی ہیں کہ ہر زمانہ میں ایک امام معصوم کا موجود ہونا ضروری ہے، ہر امام کی معرفت واجب ہے اور کبھی بھی زمین حجت سے خالی نہیں رہ سکتی کیونکہ ”لو بقیت الارض بغیر حجة لساخت باھلھا “ اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو جائے تو وہ تمام اہل زمین کو اپنے اندر دھنسا لے گی ،یہی سب دلیلیں حضرت صاحب الزمان کے وجود اور آپ کی امامت کی مستحکم دلیلیں ہےں اور امام عصر ارواحنافداہ کے وجود کے اثبات اور پردہ غیبت میں آپ کے زندہ رہنے پر استدلال و بر ہان قائم کرنے کے لئے یہی دلیلیں بہترین سند ہیں۔

____________________

(۱)چونکہ یہ تمام اوصاف ”امام مہدی کے اوصاف اور امتیازات “نامی فصل میں بیان کئے جائےں گے لہٰذا انہیں اس جگہ سے حذف کر دیا گیا ہے ،قارئین کرام ص۸۰کا مطالعہ فرمائیں۔


بارہ امام

ہمیں معلوم ہے کہ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کے بعداسلامی امت کی دینی اور سیاسی رہبری و قیادت ایک خدائی منصب ہے اور پیغمبراکرم نے اس کے لئے حکم خدا سے ایک لا ئق اور اہل شخص کو معین کیا اور جس طرح پیغمبر اکرم امت کی دینی ،سیاسی روحانی اور انتظامی قیادت کے ذمہ دار تھے، امام بھی جو کہ پیغمبر اکرم کا جانشین اور خلیفہ ہے، امت کا قائد و رہبر ہے ۔

البتہ ان دونوں کے درمیان صرف اتنا سا فرق ہے کہ پیغمبر پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ کسی انسان کے وسیلہ کے بغیر دین و شریعت کو عالم غیب سے حاصل کرکے اسے اپنی قوم تک پہونچاتا ہے لیکن امام شریعت و کتاب لیکر نہیں آتا ہے ، اسکے پاس عہدہ نبوت نہیں ہوتا بلکہ وہ پیغمبر اکرم کی کتاب و سنت کے ذریعہ امت کی ہدایت کرتا ہے۔

یہ طے ہے کہ یہ طریقہ کار عدل و انصا ف ،عقل ومنطق اور حق کے عین مطابق ہے اور اسکے علاوہ امت کی رہبری و قیادت کے جتنے طریقے اور راستے ہیں ان میں یہی سب سے زیادہ قابل اعتماد اور بھروسہ کے لائق ہے کیونکہ جس شخص کو بھی پیغمبر اکرم خدا وند عالم کے حکم سے امت کا رہبر و ہادی بنائیں گے اسمیں رہبری کی تمام صلاحیتیں موجود ہوں گی اور وہی امامت و ہدایت کے لئے بہترہوگا جیسا کہ مشرقی اور مغربی فلاسفہ کے لئے قابل فخر اور عظیم فلسفی شیخ الرئیس ابو علی سینا نے کہا ہے: ”والاستخلاف بالنص اصوب فان ذالک لا یودیٰ الی التشعب والتشاغب والاختلاف “یعنی نص کے ذریعہ خلیفہ کا انتخاب ہی سب سے زیادہ درست بات ہے کیونکہ اس میں کسی بھی قسم کی پارٹی بازی ، فتنہ و فساد اور اختلاف کا امکان نہیں ہے ۔

مسلمانوں کی ایسی دینی اورسیاسی رہبری وقیادت کہ ان کے رہبر کا ہر قول وفعل ہر ایک کے لئے حجت اور لوگوں کے تمام دینی اور دنیاوی امور پر حاکم ہو یہ ایک بہت نازک اور بلند مقام و مرتبہ ہے اور اس سے بڑا عہدہ کوئی اور نہیں ہو سکتا لہٰذا اگر اس کے انتخاب میں ذرہ برابر کوتاہی ہو جائے تو اسکے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے اور پھر انبیاء کی بعثت کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہ جائے گا۔


صالح ہادی کاانتخاب

جو شخص اتنی اہم صلاحیتوں کا مالک ہو اس کی شناخت کرنا عام لوگوں کی عقل و شعور سے بالاتر ہے اس عہدہ کاحقدار وہی ہو سکتا ہے جسکے اندر انسانی فنون اور فضائل و کمالات جیسے علم ،حلم ،بخشش،چشم پوشی ،رحم دلی ،عدل ،تواضع، انسانی حقوق کی آزادی کا احترام ، انسان دوستی ،عقل ،تدبیر،دینی اور روحانی معاملات کے بارے میں دقت نظر کے علاوہ دوسرے اہم اور ضروری صفات اور شرائط پائے جاتے ہوں جن کو خداوند عالم کی ہدایت کے بغیر پہچاننا ہر گز ممکن نہیں ہے ۔

اس بنا پر یا اور دوسری عقلی ونقلی دلیلوں کی بنیاد پر شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر جیسے صفات رکھنے والے امام کو منصوب اور معین کرنے کا حق صرف خداوند عالم کے اختیار میں ہے اور امام کی تعیین جیسا کہ آیہ شریفہ میںصاف طور پر ذکر ہے دین کی تکمیل اور نعمت کا اتمام ہے اور بعثت انبیاء کی غرض اور اسکے مقصد کے عین مطابق ہے اور اسکو چھوڑ دینااسلامی سماج اور معاشرہ کے بارے میں بے توجہی کے مثل ہے اور یہ انبیاء کی زحمتوں کو ضائع کرنا ہے ۔

بشر کا انتخاب ہمیشہ حق نہیں ہو سکتا

شیعوں کا کہنا ہے کہ جس شخص کا قول و فعل حتی اس کی تائید یا خاموشی بھی ہرایک کے لئے نمونہ عمل ہے اور وہ شریعت کی ناموس کا محافظ اور اسکے احکام کی تشریح کرنے والا ہے ایسے بشر کا صحیح انتخاب انسانوں کے ذریعہ ہر گز ممکن نہیں ہے بلکہ ایسے ولی امر کا انتخاب کہ جسکی اطاعت اس آیت :( اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اُولی الامر منکم ) کے حکم کی بنا پر واجب ہے یہ صرف خدا کی طرف سے ہی صحیح اور حق بجانب ہے کہ خدا وند عالم لوگوں کی ظاہری ،باطنی ،روحانی اور فکری تمام صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے نہ اسے غافل بنایا جا سکتا ہے اور نہ اسکے یہاں غفلت کاامکان ہے اور نہ وہ کسی کی ریا کاری ،مکاری اور ظاہری اور کھوکھلی اداوں نیز عوام فریبی سے دھوکہ کھاتا ہے اور نہ ہی جذبات و احساسات ،خوف و دہشت یا کسی کی دھمکی سے اسکے اوپر کوئی اثر پڑتا ہے نہ ہی ذاتی اغراض و مقاصد اور اپنی قوم یا قبیلہ اور خاندان یا شہر والوں کے منافع کے خیال سے اسکا دامن داغدار ہے ۔


لیکن اگر اس انتخاب میں لوگوں کو شریک کر لیا جائے تو پہلے تو یہ کہ اگر وہ صالح فردکا انتخاب کرنا بھی چاہیں تو وہ اسے پہچانتے نہیں ہیں،دوسرے یہ کہ اثر ورسوخ کا استعمال، بھول چوک ایک دوسرے کی مخالفت یا لالچ وغیرہ ان کی آزادی خیال اور اظہار رائے کی راہ میں مانع ہو جاتے ہیں۔

تیسرے یہ کہ انہیں ذاتی مفادات کی فکر رہتی ہے جسکا مشاہدہ دنیا کے ہرالیکشن میں ہوتا رہتاہے ۔چاہے الیکشن جتنے آزاد اور صحیح کیوں نہ ہوں اسکے با وجود ان کے او پر ان اغراض و مقاصد کا ضرور اثر ہوتاہے اور تمام لوگ عام طور سے ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک ملکوں کے سر براہوں کا کوئی الیکشن ہر لحاظ سے صحیح اور کامل ثابت نہیں ہو سکا اور جن لوگوں کے اندر زیادہ لیاقت اور صلاحیت تھی انہیں نہیں چنا گیا اور اگر اتفاقاً کبھی کسی حد تک کوئی لائق آدمی چن بھی لیا گیا تو اس کی وجہ لوگوں کی صحیح تشخیص یا ان کی حق بینی اور باریک بینی یا دقت نظر نہیں تھی بلکہ اتفاقی طور پر یاملکی حالات اورسیاسی مجبوریوں کی بنا پر ایساہوگیا ہے ورنہ اگر لوگوں کی یہ تشخیص بالکل صحیح اور ہر قسم کے نقص سے دور اورحقیقت اور صحیح شناخت پر مبنی ہوتی تو پھر انکے چنے ہوئے ہر شخص کے اندر اس عہدے کی لیاقت اور صلاحیت ہونی چاہئے تھی جبکہ ہم عام طور سے دیکھتے رہتے ہیں کہ انسانوں کا انتخاب اکثر غلط ہی ہوتا ہے اور اسکا نتیجہ بہت کم صحیح ہو پاتا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ واقعاً صالح اور لائق افراد کو پہچاننے سے عاجز ہیں۔

جیسا کہ حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے سعد بن عبد اللہ اشعری قمی کے جواب میں فرمایا تھا ، جب انھوں نے آپ سے سوال کیا کہ لوگوں کو امام کے انتخاب کا حق کیوں نہیں ہے؟ امام نے فرمایا : نیک یا برا امام ؟


انہوں نے کہا : نیک

آپ نے فرمایا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے باطن اور نیت سے واقف نہیں ہے تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی نااہل کو چن لیں۔

عرض کی : جی ہاں ممکن ہے

آپ نے فرمایا : ”فهی العلة(۱)

” یہی وجہ ہے “کہ لوگ اپنے امام کو نہیں چن سکتے ہیں۔

اس سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ جو امام، پیغمبر کا جانشین اور خلیفہ ہوتا ہے اسےخدا کی طرف سے پیغمبر اکرم ہی معین کر سکتے ہیں اور یہ کام لوگوں کے بس سے باہر ہے اور ایک صالح سماج اور معاشرے یا نظام کے متعلق انبیاء اور دین کا جو مقصد تھا وہ پورا نہیں ہو سکتا ہے اسی لئے سب نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ لیا کہ پیغمبر اکرم کے بعد جب اس قاعدہ اور قانون کی خلاف ورزی کی

____________________

(۱)منتخب الاثر صفحہ ۱۵۱۔


گئی تو پہلے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ خلافت کو بھی وزیر اعظم کے الیکشن کی طرح لوگوں کے چناو اور اجماع سے طے ہونا چاہئے اورجب حضرت ابو بکر نے خودحضرت عمر کو اپنا جانشین مقرر کر دیا اوران ہی کے بقول ”امت کو خلیفہ کے انتخاب کا حق حاصل ہے “خود ہی یہ حق امت سے چھین لیا اور اپنی من مانی سے حضرت عمر کو خلیفہ بنا دیاتو پھر یہ کہنا شروع کر دیا کہ خلیفہ اپنا جانشین معین کر سکتا ہے۔

ایک منزل اور آگے بڑھ کر تو خلیفہ کے انتخاب کے لئے چھ آدمیوں پر مشتمل باقاعدہ کمیٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو دنیا کے کسی قانون حکومت کے مطابق نہیں تھی پھر کہنے لگے کہ اس طرح بھی خلیفہ منتخب ہو سکتا ہے جب کچھ اور آگے بڑھےتو بنی امیہ کے شرابی کبابی اور زانی بادشاہوں تک نوبت پہونچ گئی چنانچہ جب یہ صورتحال دیکھی کہ اگر ولی امر کے لئے ایک چھوٹی سی شرط بھی رکھ دی گئی تو پھر ان تمام گذشتہ حکومتوں کے غیر شرعی ہونے کا اعلان کرنا پڑے گا اور کھلے عام شیعہ عقیدہ کی ترویج کرناہوگی لہٰذا وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اسلامی حاکمیت بھی زمانہ جاہلیت کی حکومتوں کی طرح ہے اور اسکے لئے کوئی شرط ضروری نہیں ہے اس بنا پر جو شخص بھی اپنی طاقت کے بل بوتے پر باپ کی میراث میں یا کسی بھی طریقہ سے حکومت حاصل کر لے اس کی اطاعت تمام مسلمانوں پر واجب ہے اور ان کی جان و مال اور عزت و آبرو پر صرف اسی کا حکم نافذ ہے ۔

اس عقیدہ اور انداز فکر نے اخلاقی پستی کو جنم دینے کے علاوہ ظالموں اور جابروں کے لئے حکومت حاصل کرنے کے لئے زور آزمائی کا کھلا میدان فراہم کر دیا اور اس سے روز بروز ان کی لالچ میں اضافہ ہی ہو تا رہا اور تاریخ اسلام کی ابتداء سے آج تک حکومت پر بنی امیہ، بنی عباس جیسے تمام ظالم و جابر بادشاہوں اور سلاطین کے تسلط اور قبضہ کی یہی اہم وجہ ہے ،چنانچہ ان نااہل حکومتوں کی وجہ سے جو ظلم وتشدد ہوا اور اسلام کو ان کی طرف سے جو نقصان اٹھانا پڑا اسے اس مقالہ میں قلمبند کرنا ممکن نہیںہے اور بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہمارے دور کے ایسے مشہور اہل سنت مفکرین جو اس نظریہ اور اس عقیدے کے خطرناک نتائج کی وجہ سے اسکے مخالف ہیں انہوں نے بھی اس عقیدہ پر سخت تنقید کی ہے ۔


امام کی تعیین کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ بہت ہی مستحکم عقلی اورمنقولہ دلیلوں پر استوار ہے اور شروع سے لیکر آج تک ہر دور میں یہ عقیدہ حریت پسند،انصاف طلب اورظلم و ستم کے خلاف جہاد اور حق کے لئے قیام کرنے والے افراد کا اصل مرکز رہا ہے اسی لئے شیعوں کے صرف ایک عالم یعنی علامہ حلینے اپنی کتاب الفَین میں اس بارے میں ایک ہزار دلیلیں پیش کی ہیں کہ امام ،خدا کی طرف سے ہی معین اور منصوب ہونا چاہئے ،شیعوں کی نظر میں علمی اور عملی صلاحیتوں کے بغیر کسی کو کوئی چھوٹے سے چھوٹا سماجی یا حکومتی اور دینی منصب دینا جائز نہیں ہے اورحاکم کو اسلامی عدالت کا پیکر ہونا چاہئے اور یہ کہ وہ اسلامی احکام کو نافذکرے اور اس کے مقاصد کے لئے پوری سعی وکوشش کرے۔

بنی امیہ اور بنی عباس کے دور حکومت میں جو لوگ حکومت پر قابض ہوئے شیعوں کی نظر میں ان میں سے بہت سے لوگ تو کسی گاوں کی پردھانی بلکہ ایک گلی ، گوچہ کی پہرہ داری کے لائق بھی نہیں تھے ۔

جو شخص بھی اسلامی تعلیمات یا پیغمبر اکرم ،امیر المومنین اور ائمہ طاہرین کی سیرت اور لوگوں کے ساتھ ان کے طرز معاشرت کو ملاحظہ کرے اور اس کے بعد ان سرپھرے بادشاہوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھے جنہوں نے اسلامی ممالک پر حکومت کی ہے اور یہ دیکھے کہ انہوں نے طاقت کے زور پر اسلامی حکومت کے اوپر کیسے قبضہ کیا اور رعایا کے سروں پر سوار رہے اور وہ اپنی عیاشی، فحاشی، محلوں کی تعمیر و تزئین اور اپنے رشتہ داروں اور درباریوں کے منھ بھرنے کے لئے بیت المال کو کس بے دردی سے لٹاتے تھے ؟اور لوگوں کے اوپر اپنی قدرت و طاقت کا رعب جمانے کے لئے اپنے حوالیوں موالیوں کے ساتھ مخصوص حفاظتی فورس کے پہرے میں بیش قیمت سواریوں پر سوار ہو کر کس طنطنے کے ساتھ عوام کے درمیان سے گذرتے تھے؟ ان حالات کو دیکھنے کے بعد انسان یہ تصدیق کرنے پر مجبور ہے کہ ان کا طرز حکومت اسلام کے آزادی بخش نظام یا عدل وانصاف کو رواج دینے والی تعلیمات سے کسی طرح ہم آہنگ نہیں تھا جیسا کہ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ان کے رسم و رواج عام طور سے اسلامی حکومت کے اصول اور قوانین کے خلاف ہی نہیں تھے بلکہ وہ ظلم و استبداد اور کٹیٹرشپ کے بد ترین نمونے تھے جنکا تعلق سو فیصدی دور جاہلیت سے ہے اگر ہم اس موضوع کو چھیڑیں گے تو اس مقالہ کی منزل مقصود سے دور ہو جائیں گے، مختصر یہ کہ خداپرست عادل اور منصف مزاج ارباب حکومت کے عقیدے نے شیعوں کو ظلم وستم سے دور کر دیا


اور انہیں ظالم کے سامنے جھکنے اور اسکا احترام کرنے سے بالکل متنفر بنا دیا۔(۱)

اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے صاف واضح ہے کہ پیغمبر اکرم کو اپنی جانشینی اور امت کی رہبری کا خاص خیال تھا اور یہ ہر گز ممکن نہیں ہے کہ جو پیغمبر، مستحبات و مکروہات جیسے عام اور چھوٹے چھوٹے مسائل کو بیان کرنے میں سستی سے کام نہ لے اسے خلافت جیسے اہم اور حساس مسئلے کے بارے میں کوئی فکر نہ رہی ہوگی اور اس نے اس سلسلہ میں کوئی اقدام ہی نہ کیا ہوگا؟

ان تمہیدات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے؟

سوال :

پیغمبر اکرم نے کن افراد کو اپنا جانشین قرار دیااور جس طرح اسلام کے تمام احکام کا قرآن وسنت سے استنباط واستخراج ہوتا ہے کیا ہم قرآن مجید اور احادیث شریفہ کی طرف رجوع کرکے پیغمبر کے بعد امت کے واقعی رہبروں کو نہیں پہچان سکتے؟ کیا اس سلسلہ میں اسلامی منابع ومآخذ(کتب) میں معتبر احادیث اورنصوص پائی جاتی ہیں؟

جواب:

یہ موضوع قرآن وحدیث دونوں جگہ مذکور ہے اگرچہ حکام وقت کی سیا ست کی بنا پر ایسی روایات کے نقل و بیان پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کردی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس موضوع سے متعلق اتنی کثرت سے روایات،معتبر اسلامی کتب میں موجود ہیں کہ کسی اور اسلامی مسئلہ میں اتنی روایات

____________________

(۱)مولف کی کتاب ”پرتوی از عظمت حسین “(یعنی امام حسین کی عظمت کی ایک جھلک) صفحہ ۳۴۹ سے۳۵۸ تک ملاحظہ فرمائیے۔


ملنا مشکل ہے۔

ہم یہاں پر حدیث غدیر جیسی معتبر حدیث کا تذکرہ نہیں کریں گے جس کے صرف اسناد کے بارے میں ایک عالم نے ۲۸ جلدیں تحریر کی ہیں،عبقات الانواراورالغدیر کی متعدد جلدیں اسی سے متعلق ہیں ان کے علاوہ” ابن عقدہ“ جیسے حفاظ نے بھی حدیث غدیر سے متعلق ایک مکمل کتاب تحریر کی ہے۔ علاوہ بریں تمام مفسرین، متکلمین، محدثین اور ماہرین لغت نے اسے نقل کیا ہے۔

حدیث ثقلین جو متواتر ہے اور اہل سنت کی معتبر ترین کتب میں صحیح اور قابل اعتماداسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے حدیثِ امان، حدیث سفینہ اور ان کے علاوہ سینکڑوں احادیث ہیں جن میں صراحت کے ساتھ امیرالمومنین اور دیگر ائمہ کی جانشینی کا تذکرہ ہے ،ہم یہاں ان احادیث کو بیان نہیں کریں گے کیوں کہ ان میں سے اکثر احادیث سے کم و بیش سبھی واقف ہیں۔

حادیث ائمہ اثنا عشر

اس مقام پر ہم کتب اہل سنت سے صرف انھیں روایات کا تذکرہ کریں گے جن میں ائمہ کی تعداد اور ان کے نام ذکر کئے گئے ہیں اور احادیث کو نقل کرنے والے علماء ومفسرین کے مطابق انہیں احادیث میں حضرت مہدی کی بشارت بھی موجود ہے۔

ایسی احادیث مکتب شیعہ اثنا عشری کے علاوہ مسلمانوں کے کسی دوسرے فرقہ اورمذہب کے مطابق نہ کل تھیں اور نہ آج ہیں۔

ائمہ اثنا عشر کی روایت نقل کرنے والے صحابہ

پیغمبر اکرم کے بعض اصحاب نے ایسی روایات نقل کی ہیں جن کی رُوسے بارہ اماموں کی امامت کا اثبات ہوتا ہے ان میں کچھ نام یہ ہیں:

۱ ۔جابر بن سمرہ، ۲ ۔عبداللہ بن مسعود، ۳ ۔ابوجحیفہ، ۴ ۔ابوسعید خدری، ۵ ۔سلمان فارسی، ۶ ۔انس بن مالک، ۷ ۔ابوہریرہ، ۸ ۔واثلہ بن اسقع، ۹ ۔عمر بن الخطاب، ۱۰ ۔ابوقتادہ، ۱۱ ۔ابوالطفیل، ۱۲ ۔ امام علی ، ۱۳ ۔امام حسن ، ۱۴ ۔امام حسین ، ۱۵ ۔شفیاصبحی، ۱۶ ۔عبداللہ بن عمر، ۱۷ ۔عبداللہ بن اوفیٰ، ۱۸ ۔عمار بن یاسر، ۱۹ ۔ابوذر، ۲۰ ۔حذیفہ بن الیمان، ۲۱ ۔جابر بن عبداللہ الانصاری، ۲۲ ۔عبداللہ بن عباس، ۲۳ ۔حذیفہ بن اسید، ۲۴ ۔زید بن ارقم، ۲۵ ۔سعد بن مالک، ۲۶ ۔اسعد بن زرارہ، ۲۷ ۔عمران بن حصین، ۲۸ ۔زید بن ثابت، ۲۹ ۔عائشہ، ۳۰ ۔ام سلمہ، ۳۱ ۔ابوایوب انصاری، ۳۲ ۔حضرت فاطمہ زہرا، ۳۳ ۔ابوامامہ، ۳۴ ۔عثمان بن عفان۔


جن کتب حدیث میں یہ احادیث موجود ہیں

ان تمام کتب،جوامع اور اصول کو تلاش کرکے ایک جگہ جمع کرناانتہائی مشکل ہے جن میں یہ احادیث موجود ہیں سردست ہم شیعہ وسنی کتب میں سے صرف چند کتب کا تذکرہ کررہے ہیں۔

شیعہ کتب

۱ ۔الصراط المستقیم الی مستحق القدیم ۳ جلدیں۔

۲ ۔اثبات الہداة شیخ حرعاملی، جو کچھ عرصہ پہلے ۷ جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔

۳ ۔کفایة الاثر۔

۴ ۔مقتضب الاثر۔

۵ ۔مناقب شہر آشوب(۱)

____________________

(۱) ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب ”متشابہ القرآن و مختلفہ“ج۲ ص۵۵پراس حدیث کے راویوںمیں دیگر اصحاب کا نام بھی ذکرکیاہے۔


۶ ۔بحارالانوار۔

۷ ۔عوالم ۔

۸ ۔منتخب الاثر۔

کتب اہل سنت

۱ ۔صحیح بخاری، ۲ ۔صحیح مسلم، ۳ ۔سنن ترمذی، ۴ ۔سنن ابی داؤد، ۵ ۔مسند احمد، ۶ ۔مسند ابی داؤد طیالسی، ۷ ۔تاریخ بغداد، ۸ ۔تاریخ ابن عساکر، ۹ ۔مستدرک حاکم، ۱۰ ۔تیسیرالوصول، ۱۱ ۔منتخب کنزالعمال، ۱۲ ۔کنزالعمال، ۱۳ ۔الجامع الصغیر، ۱۴ ۔تاریخ الخلفاء، ۱۵ ۔مصابیح السنہ، ۱۶ ۔الصواعق المحرقہ، ۱۷ ۔الجمع بین الصحیحین، ۱۸ ۔معجم طبرانی، ۱۹ ۔التاج الجامع للاصول۔

مضمون احادیث

ہم یہاں ان ر وایات میں سے صرف چند کا تذکرہ کررہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ مذہب شیعہ اثنا عشری کی بنیاد تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک قابل قبول اورمعتبر مدارک ومنابع پر ہے، اور ”اثنا عشری“ کا نام زبان وحی ورسالت یعنیحضرت خاتم الانبیاء کے معجزنما کلام سے ماخوذ ہے۔

۱ ۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں عالی اسناد کے ساتھ ۳۵ روایات پیغمبر اکرم سے نقل کی ہیں جن کا مضمون یہ ہے کہ آنحضرت کے بعد آپ کے جانشین اور امت کے رہبروں کی تعدادبارہ ہوگی

مسند احمد بن حنبل اہل سنت کی مسانید وجوامع اور کتب حدیث کی معتبر ترین کتاب شمار کی جاتی ہے، احمد بن حنبل نے ایک روایت اپنے اسناد کے ساتھ پیغمبر کے مشہور صحابی جابر بن سمرہ سے نقل کی ہے، جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ ”میں نے پیغمبر کو یہ فرماتے ہوئے سنا:


یکون لهٰذه الامة اثنا عشر خلیفة(۱)

”اس امت میں بارہ افراد (میرے) خلیفہ ہوں گے۔“

اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ صرف مذہب شیعہ اثنا عشری کا ہی یہ نظریہ ہے۔

۲ ۔ ابن عدی نے کامل میں اور ابن عساکر نے ابن مسعود سے یہ روایت نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا:

انّ عدّة الخلفاء بعديعِدّةُ نقباء موسی(ع)“ (۲) ” میرے جانشینوں کی تعداد نقباء موسیٰ کی تعداد کے برابر ہے،، جنکی تعداد متفقہ طور پر بارہ تھی

۳ ۔ طبرانی نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا:

یکون من بعدي اثنیٰ عشر خلیفة کلّهم من قریش (۳)

”میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے۔“

۴ ۔ابن نجار نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا:

لن یزال هٰذا الدینُ قائماً الی اثنی عشر من قریش فاذا هلکوا ماجت الارض باٴهلها(۴)

”یہ دین اس وقت تک قائم رہے گاجب تک قریش کے بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں جب ان کی رحلت ہوجائے گی توزمین اپنے اہل کے ساتھ مضطرب ہوجائے گی۔“

۵ ۔دیلمی نے فردوس الاخبار میں ابوسعید خدری سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم ہم لوگوں کے ساتھ پہلی نماز اداکرنے کے بعد ہم لوگوں کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے گروہ اصحاب!

____________________

(۱)بحوالہ منتخب الاثر، ص۱۲

(۲)الجامع الصغیر،ج۱ص۹۱طبع چہارم

(۳)کنز العمال، ج۱ص۳۳۸،ج۶ص۲۰۱۔

(۴)کنز العمال،ج۶ص۲۰۱ ح ۳۴۸۳۔


بے شک تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح اور باب حطہ بنی اسرائیل کی ہے پس میرے بعد میرے اہل بیت سے متمسک رہنا جو راشدو رہبر میری ذریت سے ہیں (اگرتم نے ایسا کیا) تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔“

فقیل: یا رسول الله کم الائمةُ بعدک؟ قال اثنا عشر من اهل بیتي(اوقال) من عترتي

سوال کیا گیا: اے رسول خدا آپ کے بعد کتنے ائمہ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا:بارہ افراد میرے اہل بیت میں سے“ یا فرمایا ”میری عترت میں سے“(۱)

۶ ۔غایة الاحکام کے شارح نے اپنی اسناد کے ساتھ ابوقتادہ سے حدیث نقل کی ہے کہ ابوقتادہ نے کہا :”میں نے پیغمبر اکرم کو کہتے ہوئے سنا“

الائمة بعدي اثنا عَشَرَعد داً نقباءِ بني اسرائیل وحوا ري عیسیٰ(۲)

اس قسم کی روایات کتب اہلسنت میں بہت ہیں بطور نمونہ یہی روایات کافی ہیں۔

۷ ۔فاضل قندوزی نے ابوالفضیل عامر بن واثلہ سے، انہوں نے حضرت علی سے اورآپ نے پیغمبراکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ”اے علی تم میرے وصی ہو، تمہاری جنگ میری جنگ اور تمہاری صلح میری صلح ہے،تم امام اور والد امام ہو، گیارہ اماموں کے والدہو، جو سب کے سب پاک اور معصوم ہیں انھیںمیں سے مہدی بھی ہیں جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے“(۳)

۸ ۔فاضل قندوزی نے ہی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا ”میرے بعد بارہ امام ہوں گے اے علی جن میں سے پہلے امام تم ہو اور آخری امام( قائم) ہے جس کے ہاتھوں

____________________

(۱)عبقات الانوار، ج۲ص۲۴۶۔

(۲)کشف الاستار،ص۷۴۔

(۳) ینابیع المودة،ص۵۔


پر خدا مشرق ومغرب کی فتح عطا کرے گا“(۱)

۹ ۔حموئی نے ”فرائد السمطین“ اور سید علی ہمدانی نے ”مودة القربیٰ“ میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا:

انا سید النبیین وعلي بن ابیِ طالب سید الوصیین وانّ اوصیائیِ اثنا عشر اولهم علي بن ابیِ طالب وآخرهم القائم(۲)

”میں سید الانبیاء ہوں اور علی سید الاوصیاء ہیں اور میرے بارہ جانشین ہیں جن میں پہلے علی اور آخری قائم( عجل اللہ تعالیٰ فرجہ)ہیں۔

۱۰ ۔روضة الاحباب اور فرائد السمطین میں ابن عباس سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا: میرے اوصیاء اور جانشین اور میرے بعد مخلوق پر حجت خدا بارہ افراد ہیں جن میں پہلا میرا بھائی اور آخری میرا فرزند ہے۔

سوال کیا گیا: یا رسول اللہ آپ کا بھائی کون ہے؟

آپ نے فرمایا: علی بن ابی طالب

سوال کیا گیا: آپ کا فرزند کون ہے؟

آپ نے فرمایا: مہدی ،جو زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔ قسم اس ذات کی جس نے مجھے بشیر(بشارت دینے والا) بناکر مبعوث کیا اگر دنیا کی زندگی کا صرف ایک دن باقی رہ جائے گا توبھی خدااس دن کو اتنا طویل بنادے گا کہ میرا فرزند مہدی ظاہر ہو ،اور عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوکر ان کی اقتدا میں نماز ادا کریں، مہدی کے نور سے زمین منورہوجائے اور مشرق ومغرب تک اس کی حکومت پھیل جائے(۳)

____________________

(۱)ینابیع المودة،ص۴۹۳۔

(۲)ینابیع المودة، ص۲۵۸/۴۴۵، کشف الاستار،ص۷۴۔

(۳)ینابیع المودة،ص۴۴۷، عبقات،ج۲ص۲۳۷ج۱۲


۱۱ ۔غایة الاحکام کے شارح نے امام حسین سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہم میں بارہ مہدی ہیں جن میں پہلے علی بن ابی طالب اور آخری قائم ہیں“(۱)

۱۲ ۔حموئی او رہمدانی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا:

انا وعلی والحسن والحسین وتسعة من ولد الحسین مطهرون معصومون(۲)

”میں اور علی اور حسن وحسین اورحسین کی نسل سے نو فرزند معصوم ومطہر ہیں“۔

۱۳ ۔خوارزمی نے ”مقتل الحسین “اور ”مناقب“ میں نیز ہمدانی نے ”مودة القربیٰ“ میں جناب سلمان سے روایت نقل کی ہے کہ میں ایک روز پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ حسین آپ کے زانو پر ہیں اور آپ کبھی حسین کی آنکھوں کا بوسہ لے رہے تھے کبھی ہونٹ چوم رہے تھے اور فرمایا تم مولیٰ، فرزند مولیٰ ہو، تم امام فرزند امام برادر امام او رپدر امام ہو تم حجت خدا بھی ہو اور حجت خدا کے فرزند بھی اور تمہاری نسل میں نو حجت خدا ہیں ان میں سے نواں”قائم “ ہے۔(۳)

مذکورہ روایت سے زیادہ مفصل وہ احادیث ہیں جن میں حضرت علی سے لے کر حضرت مہدی تک تمام بارہ ائمہ کے نام بیان کئے گئے ہیں اور ان تفصیلی روایات سے ان روایات کا مقصود واضح ہوجاتا ہے جن میں صرف بارہ کی عدد بیان ہوئی ہے۔

شیعہ ذرائع کے لحاظ سے تو یہ روایتیں بہت زیادہ بلکہ متوا ترہیں،اہل سنت نے اپنے ذریعوں سے بھی انھیں نقل کیا ہے،اور اہل سنت کی روش کے مطابق بھی بارہ کی تعداد والی ،اُن روایات سے اِن روایتوں کی تائید وتصدیق ہوتی ہے جو ان کی صحیح کتب میں موجود ہیں۔

____________________

(۱)کشف الاستار،ص۷۴، عبقات،ج۲ج۱۲ص۲۴۰

(۲)ینابیع المودة،ص۲۵۸، ۴۵۵

(۳)مقتل الحسین،ج۱ص۹۴، ینابیع ا لمودة،ص۲۵۸،۴۹۲۔


۱۴ ۔جناب جابر کی روایت جو روضة الاحباب اور مناقب میں نقل ہوئی ہے(۱)

۱۵ ۔ابوسلمیٰ (پیغمبر کے اونٹ کے رکھوالے)کی روایت جسے خوارزمی اورقندوزی نے نقل کیا ہے(۲)

۱۶ ۔امیرالمومنین حضرت علی کی روایت جسے خوارزمی نے نقل کیا ہے(۳)

۱۷ ۔وہ روایت جسے حافظ ابوالفتح محمدبن احمد بن ابی الفوارس (متوفی ۴۱۲) نے اپنی اسناد کے ساتھ اپنی کتاب اربعین میں پیغمبر سے نقل کیا ہے، اربعین کی اس حدیث میں پیغمبر نے امیرالمومنین سے لے کر امام علی نقی تک تمام ائمہ کا نام ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

ومَن اٴحبّ ان یلقی الله عزّوجلّ وهو من الفائزین فلیتولّ ابنه الحسن العسکري ومَن احبّ ان یلقی الله عزوجل”ومَن اٴحبّ ان یلقی الله عزّوجلّ وهو من الفائزین فلیتولّ ابنه الحسن العسکري ومَن احبّ ان یلقی الله عزوجل وقدکمل ایمانه وحَسُنَ اسلامه فلیتول ابنه المنتظر محمداً صاحب الزمان المهدي فهولاء مصابیح الدجیٰ وائمة ٰالهدی واعلام التقیٰ فمن احبّهم وتولّاهم کنت ضامناً له علیٰ الجنة(۴)

”جو شخص خدائے عزوجل سے اس عالم میں ملاقات کرنا چاہتا ہے کہ وہ فائزین میں سے ہو تو ان کے فرزند حسن عسکری کی محبت اس کے دل میں ہونا چاہئے اور جو اس انداز میں خدائے عزوجل سے ملاقات کا خواہاں ہے کہ اس کا ایمان کامل اور اسلام بہترین ہو تو اسے ان کے فرزند منتظر ، محمد ، صاحب الزمان مہدی کی ولایت سے سرشار ہونا چاہئے، یہی حضرات ہدایت کے روشن چراغ، ائمہ ہدیٰ اور تقویٰ کی علامت ہیں، جو ان سے محبت کرے ان کی ولایت کا اقرار کرے،میں اس کی جنت کا ضامن ہوں۔“

____________________

(۱)عبقات،ص۲۳۸ج۲ج۱۲، ینابیع المودة،ص۴۹۴۔

(۲)مقتل الحسین،ج۱ص۹۵، ینابیع المودة،ص۴۸۶، فرائد السمطین،ج۲۔

(۳)مقتل الحسین،ج۱ص۹۴فصل۶۔

(۴)عبقات ج ۲ ج ۱۲ ص ۲۵۳و ۲۵۴،کشف الاستارص۲۷و۲۹،اربعین کاخطی نسخہ حدیث۴


جن روایات کا تذکرہ ہم نے کیا ہے اگر ان میں ائمہ کے اسمائے مبارکہ نہ بھی ہوتے اور صرف بارہ ائمہ کے عددپر ہی اکتفا کی گئی ہوتی تب بھی کافی تھا کیوں کہ ان ائمہ ھدیٰ علیہم السلام اور مذہب شیعہ اثنا عشری کے علاوہ کسی اور مذہب ومسلک سے یہ روایات مطابقت نہیں رکھتیں، یہ روایات اتنی قوی، معتبر اور متواتر ہیں کہ اہل سنت کی جانب سے بے جا توجیہ وتفسیر کی کوشش تو کی گئی مگر کسی نے بھی ان کی صحت کے بارے میں شک وشبہ کا اظہار نہیں کیا، ہم نے اپنی کتاب منتخب الاثر کے حاشیہ پر بھی یہ ثابت کیا ہے کہ بیحد کوششوں کے باوجود ان کی جانب سے اس کی کوئی قابل قبول توجیہ پیش نہیں کی جاسکی ہے،چنانچہ یہ احادیث براہ راست مذہب شیعہ کی صداقت وحقانیت کا اعلان کرتی ہیں۔

اسی لئے اہل سنت کے بہت سے علماء مثلا علامہ کبیر شیخ ،نفیس کتاب ”اظہارالحق“ اور دیگر کتب کے مولف، ینابیع المودة کے مولف فاضل قندوزی، دراسات اللبیب اور مواہب سید البشر فی حدیث الائمة الاثنی عشر“ کے مولف علامہ محمد معین بن محمد امین سندی، ”روضة الاحباب“ کے مولف سید جمال الدین ”الفصول المہمة“ کے مولف ابن الصباغ مالکی، ”تذکرة الخواص“ کے مولف سبط ابن جوزی، ”شواہد النبوہ“ کے مولف نورالدین عبدالرحمن جامی، ”کفایة الطالب“ اور ”البیان“ کے مولف حافظ ابی عبداللہ گنجی شافعی، ”مطالب السئول“ کے مولف کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی، ”ابطال نہج الباطل“ کے مولف اور ”الشمائل“ کے شارح قاضی روزبہان، ابن خشاب مولفِ موا لید الائمہ، شیخ سعد الدین حموئی، خواجہ محمد پارسا، حافظ ابو الفتح، محمد بن ابی الفوارس، عبدالحق دہلوی، صلاح الدین صفدی، جلال الدین رومی، شیخ عبدالرحمن صاحب ”مرآة الاسرار“ قاضی شہاب الدین دولت آبادی صاحب تفسیر ”البحرالمواج“ و”ہدایة السعداء“ عبداللہ بن محمد المطیری مدنی صاحب ”الریاض الزاہرة“ محمدبن ابراہیم حموینی شافعی صاحب ”فرائد السمطین“ قاضی بہلول بہجت آفندی، شمس الدین زرندی، جامعہ ازہر کے وائس چانسلر اور ”الاتحاف“ کے مولف شبراوی، لوامع العقول کے مولف شیخ ضیاء الدین احمد کشمخانوی جیسے بہت سے علماء نے صراحت کے ساتھ بارہ اماموں کی امامت کا اعتراف کیا ہے


اور ان کے فضائل ومناقب اپنی کتب میں تحریر فرمائے ہیں۔(۱)

بارہ اماموںسے متعلق مذکورہ روایات واحادیث سے مذہب شیعہ کی حقانیت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے۔ ان روایات سے حضرت مہدی کی امامت کا ثبوت اتنا واضح اور مسلم ہے کہ امام ابوداؤد نے بارہ اماموں سے متعلق روایات کو کتاب ”المہدی“ میں نقل کیا ہے ،واضح رہے کہ امام ابوداؤد کا شمار اہل سنت کے معتبر ترین اور معروف ترین افراد میں ہوتا ہے اور ان کی کتاب(سنن) ”صحاح ستہ“ میں شامل ہے۔

مزید وضاحت کے لئے ہم اپنی کتاب منتخب الاثر سے چند اعداد وشمار پیش کررہے ہیں ہر چند ہمیں اعتراف ہے کہ ابھی بھی ہم تمام کتب کا احاطہ نہیں کرسکے ہیں۔

خ ۲۷۱ ،احادیث بارہ ائمہ کی امامت پر دلالت کرتی ہیں۔

خ ۹۴ ،احادیث میں مذکور ہے کہ حضرت مہدی ان ائمہ کی آخری فردہیں۔

خ ۹۱ ، احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی ان میں سب سے پہلے اور مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ بارہویں فرد ہیں۔

خ ۱۰۷ ، روایات میں مذکور ہے کہ امام بارہ ہوں گے جن میں سے نو ائمہ امام حسین کی نسل

____________________

(۱)حسن اتفاق سے شیعوں اور سنیوں کے درمیان قربت پیدا کرنے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ مدینہ منورہ میں مسجد النبی کے دروازوں پر بارہ اماموں کے نام آج بھی لکھے ہوئے ہیں، جب کہ ملک سعود بن عبدالعزیز اور ملک فیصل کے زمانہ میں مسجد کی دوبارہ تعمیر وتوسیع کی گئی، معتبر تاریخ کے مطابق ائمہ کے نام مسجد کی تعمیر نو سے پہلے بھی مسجد میں لکھے ہوئے تھے، بس فرق یہ ہے کہ تعمیر نو اور تجدید وتوسیع سے پہلے ائمہ معصومین کے اسماء ترتیب وار لکھے ہوئے تھے ۔

لیکن اب ائمہ معصومین کے اسماء کے درمیان اصحاب اور ائمہ اربعہ کے نام بھی داخل کردئے گئے ہیں، ان میں حضرت مہدی کا نام اس عبارت کے ساتھ تحریر ہے ”محمد المہدی رضی اللہ عنہ“باب مجیدی سے اگر کوئی مسجدکے پہلے صحن میں داخل ہوتو اسے آپ کا نام نامی بالکل درمیان میں نظر آئے گا۔


سے ہوں گے اور ان میں نویں حضرت قائم عج ہیں۔

خ ۵۰ ، احادیث میں بارہ ائمہ کے نام صراحت کے ساتھ موجود ہیں۔

اس مقام پر جو اعداد وشمار پیش کئے گئے ہیں وہ ”منتخب الاثر“ کی بنیا د پر ہیں جب کہ ان موضوعات سے متعلق روایات ان سے کئی گنا زیادہ ہیں، انشہ المستعان اپنی آئندہ کتاب میں ہم اس سے زیادہ جامع اور تفصیلی اعداد وشمارشیعہ معاشرہ اور حق جو محققین کی خدمت میں پیش کریں گے۔

وماتوفیقي الابالله علیه توکّلت والیه اٴُنیب ۔


حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے اوصاف وخصوصیات

انواع واقسام کے مخلوقات حتی کہ انسان بھی ”مابہ الاشتراک“ اور ”مابہ الامتیاز“سے مرکب ہوتے ہیں بہ الفاظ دیگر افراد بعض ذاتی یاعرضی یااعتباری صفات میں دوسروں کے ساتھ شریک ہونے کے علاوہ کچھ خصوصی اور امتیازی صفات کے مالک ہوتے ہیں جن کی بنا پر وہ دوسروں سے الگ اور ممتاز ہوتے ہیں،یہی امتیازات عالم خلقت کی اہم ترین حکمت اور نظام کائنات کی بقاء کے ضامن ہیں۔

”مابہ الاشتراک“ قدر مشترک یا وجہ مشترک وہ چیز ہوتی ہے جس میں ایک یامتعدد افراد شریک ہوتے ہیں اور جس کی بنا پر کوئی بھی کلی یا عام لفظ کثیرافراد ومصادیق کے مطابق ہوتا ہے جیسے انسان کا ناطق وضاحک ہونا۔

”مابہ الافتراق والامتیاز“ یا وجہ امتیاز وہ حقیقی، عرضی یا اعتباری صفات وکیفیات ہیں جن سے کوئی شخص دوسروں سے ممتاز نظرآتا ہے اور جن کی بنا پر اس کی اپنی الگ شناخت ہوتی ہے۔

طبیعی طور پر کسی بھی فرد کے مشخصات کیفیات بہت زیادہ ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی بے شمار بھی ہوسکتے ہیں لیکن اگر کسی کا تعارف کرانا مقصود ہو تو پھر ایسے خصوصیات اور کیفیات بیان کرنا چاہئےں جواس شخص کے علاوہ کسی اور شخص میںنہ پائے جاتے ہوں تاکہ وہ شخص دوسروں کے ساتھ مشتبہ نہ ہونے پائے ورنہ تعارف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا،مثلا اگر کسی مقام کا پتہ بتانا ہو تو ملک، صوبہ، ضلع، شہر، محلہ، گلی اور مکان نمبر بتانا چاہئے اسی طرح اگرکسی کا جسمانی خصوصیات کے ذریعہ تعارف کرایا جارہا ہے تو شکل وشمائل، حلیہ، رنگ، بالوں کا انداز، قدوقامت کا ذکر ہونا چاہئے،نسبی اور خاندانی خصوصیات میں ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، دادیہال ونانیہال کے کارنامے بیان ہونا چاہئیں،شخصی کارناموں میں اصلاحی اقدامات، جنگ، صلح، معاہدات، مشغلہ، پیشہ، عہدہ و منصب، تاریخی حیثیت، طرززندگی، انداز معاشرت اور علمی کارموں میں انداز فکر، بلند خیالی، ایمان، عقیدہ، سماجی وسیاسی نظریات، اخلاقیات میں، اسکے عادات واطوار، شجاعت، سخاوت، عفو ودرگزر، تواضع وانکساری، شہامت، عدل وانصاف اور دیگر اخلاقی خوبیوں یا برائیوں کا تذکرہ ہونا چاہئے۔


شناخت وکوائف جتنے بہتر اور واضح انداز میں بیان کئے جائیں گے اس شخص کی معرفت اتنی ہی آسان اور بہتر ہوگی۔

حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے اوصاف کی معرفت دو لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے، پہلے تو یہ کہ امام وقت کی معرفت ہمارا فریضہ ہے کیوں کہ معرفت امام ہم پر شرعاً وعقلا واجب ولازم ہے مشہور ومعروف حدیث ہے۔

من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة الجاهلیة

”جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرگیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے“

امام زمانہ کے اوصاف کی معرفت ہمارے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اسی معرفت کے ذریعہ مہدویت کا دعویٰ کرنے والے جھوٹے افراد کے دعوے کو غلط اور باطل قرار دے سکتے ہیں، اور انھیں اوصاف سے ایسے افراد کا جھوٹ اور فریب واضح ہوسکتا ہے۔

حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے لئے روایات واحادیث میں جن اوصاف وعلائم کا تذکرہ پایا جاتا ہے ان کے پیش نظر، یہ اوصاف آپ کے علاوہ کسی اورمیں نہیں پائے جاتے اور ان کی روشنی میں کسی دوسرے شخص پر آپ کا دھوکا نہیں ہوسکتا۔

اگر کوئی شخص دعوائے مہدویت کرنے والوں کے مکروفریب میں پھنس گیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ ان اوصاف وخصوصیات سے غافل یا بے خبر تھا، یا پھر اس نے بعض ایسے اوصاف کو جو آپ کا خصوصی وصف نہیں بلکہ وصف عام تھا اور اس میں دوسرے افراد کی شرکت ممکن تھی، آپ کی خصوصی صفت سمجھ لیا اور دھوکہ میں مبتلا ہوگیا البتہ ایسے افراد بھی ہیں جو دیدہ ودانستہ حقیقت کو جانتے ہوئے بھی مادی یا سیاسی مقاصد، یا عہدہ ومنصب کی لالچ میں ایسے دعووں کو بظاہر تسلیم کرلیتے ہیں اور اس کی ترویج بھی کرتے ہیں، ورنہ آپ کے لئے جو اوصاف وخصوصیات مذکور ہیں وہ ایسے ہیں کہ آپ کی ذات گرامی کے علاوہ ،دعوائے مہدویت کرنے والے کسی بھی شخص پر ان کا منطبق ہونا ممکن ہی نہیں ہے اوران اوصاف وعلائم وخصوصیات کی عدم موجودگی میں ایسے افراد کے دعویٰ کا باطل ہونا آفتاب عالمتاب کی طرح واضح ہے۔


علم حدیث کے نامور اور معتبر علماء ومحققین نے اپنی معتبر اور مستند کتب میں مفصل طریقہ سے ان اوصاف وخصوصیات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اس مختصر مقالہ میں چوں کہ ان تمام احادیث کا ذکر ممکن نہیں ہے لہٰذا ہم نا مکمل اطلاعات اور تحقیق کی بنیاد پر اپنی کتاب ”منتخب الاثر“ سے آپ کے بعض اوصاف وخصوصیات سے متعلق احادیث کے بجائے صرف احادیث کی تعداد قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

۱ ۔مہدیعجل اللہ تعالیٰ فرجہ پیغمبر کے خاندان اور آپ کی ذریت سے ہیں، ۳۸۹ ، احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔

۲ ۔ ۴۸/ احادیث کے مطابق حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ پیغمبر کے ہم نام ہیں اور پیغمبر کی کنیت آپ کی کنیت ہے اور آپ پیغمبر سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔

۳ ۔ ۲۱/ احادیث میں آپ کے شمائل اور جسمانی خصوصیات کا تذکرہ ملتا ہے۔

۴ ۔ ۲۱۴/ احادیث میں مذکور ہے کہ آپ امیرالمومنین کی اولاد میں سے ہیں۔

۵ ۔ ۱۹۲/ احادیث کے مطابق آپ حضرت فاطمہ زہرا کی اولاد میں سے ہیں۔


۶ ۔ ۱۰۷/ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ ”امام حسن وامام حسین “ کی اولاد سے ہیں(۱)

۷ ۔ ۱۸۵/ احادیث میں مذکور ہے کہ آپ کا تعلق اولاد امام حسین سے ہے۔

۸ ۔ ۱۴۸/ احادیث بیان کرتی ہیں کہ آپ نسل امام حسین کے نویں فرزند ہیں۔

۹ ۔ ۱۸۵/ احادیث کے مطابق امام زین العابدین کے فرزندوں میں ہیں۔

۱۰ ۔ ۱۰۳/ احادیث کے مطابق حضرت امام محمد باقر کے ساتویں فرزند ہیں۔

۱۱ ۔ ۹۹/ احادیث میں صراحت ہے کہ آپ حضرت امام جعفر صادق کے چھٹے فرزند ہیں۔

۱۲ ۔ ۹۸/ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم کے پانچویں فرزند ہیں۔

۱۳ ۔ ۹۵/ روایات کے مطابق آپ امام رضا کے چوتھے فرزند ہیں۔

۱۴ ۔ ۶۰/ روایات کے مطابق امام محمد تقی کے تیسرے فرزند ہیں۔

۱۵ ۔ ۱۴۶/ روایات کے مطابق امام علی نقی کے جانشین کے جانشین اورامام حسن عسکری کے فرزند ہیں۔

۱۶ ۔ ۱۴۷/ روایات میں آپ کے پدر بزرگوار کا اسم گرامی ”حسن “ بتایا گیا ہے۔

۱۷ ۔ ۹/ احادیث کے مطابق آپ کی والدہ سیدہ کنیزان اور ان میں سب سے برتر ہیں۔

۱۸ ۔ ۱۳۶/ احادیث میں آپ کو بارہواں امام اور خاتم الائمہ کہا گیا ہے۔

۱۹ ۔ ۱۰/ احادیث کے مطابق آپ دو غیبت (صغریٰ، کبریٰ) اختیار فرمائیں گے۔

۲۰ ۔ ۹۱/ احادیث کے مطابق آپ کی غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ لوگوں کے ایمان کمزور پڑجائیں گے اور کم معرفت والے شک وشبہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔

۲۱ ۔ ۳۱۸/ احادیث کے مطابق آپ کی عمر شریف بہت طولانی ہوگی۔

____________________

(۱)آپ کو امام حسن وامام حسین ، کی اولاد سے اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کی مادر گرامی امام حسن کی دختر نیک اختر تھیں اس طرح امام محمدباقر اور آپ کے بعد امام زمانہ تک تمام ائمہ،نسل امام حسن سے بھی ہیں اور نسل امام حسین سے بھی۔


۲۲ ۔ ۱۲۳/ احادیث کے مطابق آپ ظلم وجور سے بھری ہوئی زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔

۲۳ ۔ ۸/ احادیث کے مطابق بڑھتی ہوئی عمر اور حالات زمانہ کا آپ پر اثر نہ ہوگا اور آپ جوان نظر آئیں گے۔

۲۴ ۔ ۱۴/ احادیث کے مطابق آپ کی ولادت کی خبر مخفی رہے گی۔

۲۵ ۔ ۱۴/ احادیث کے مطابق آپ دشمنان خدا کو قتل کریں گے اور روئے زمین سے شرک، ظلم وستم اور حکام جور کا خاتمہ کریں گے اور ”تاویل“ پر جہاد کریں گے۔

۲۶ ۔ ۴۷/ احادیث کے مطابق آپ دین خدا کو ظاہر فرماکر پوری زمین کے اوپر پھیلائیں گے اور پوری دنیا کے حاکم ہوں گے خدا آپ کے ذریعہ زمینوں کو زندہ کردے گا۔

۲۷ ۔ ۱۵/ احادیث میں ہے آپ لوگوں کی ہدایت فرماکرقرآن وسنت کی طرف پلٹائیں گے۔

۲۸ ۔ ۲۳/ احادیث کے مطابق آپ انبیاء کی سنتوں کے وارث ہیں ان میں سے ایک غیبت بھی ہے۔

۲۹ ۔بہت سی روایات کے مطابق آپ تلوار کے ذریعہ جہاد فرمائیں گے۔

۳۰ ۔ ۳۰/ روایات کے مطابق آپ کی سیرت بالکل پیغمبر کی سیرت کی طرح ہوگی۔

۳۱ ۔ ۲۴/ احادیث کے مطابق لوگوں کے سخت آزمائش وامتحان کی منزل سے گزرنے کے بعد ہی آپ ظہور فرمائیں گے۔

۳۲ ۔ ۲۵/ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔

۳۳ ۔ ۳۷/ روایات کے مطابق آپ کے ظہور سے قبل بدعتوں، ظلم وجور، گناہ، علی الاعلان فسق وفجور، زنا، سود، شراب خوری، جوا، رشوت، امربالمعروف ونہی عن المنکر سے روگردانی کا دور دورہ ہوگا، عورتیں بے حجاب ہوکر مردوں کے امور میں شریک ہوں گی، طلاق کثرت سے ہوگی،لہوولعب، غنا اور موسیقی عام ہوگی۔

۳۴ ۔آپ کے ظہور کے وقت آسمان سے ایک منادی آپ کا اور آپ کے پدربزرگوار کا نام لے کر ندا دے گا اور آپ کے ظہور کا اعلان کرے گا جو سب کو سنائی دے گا۔( ۲۷/ احادیث)


۳۵ ۔آپ کے ظہور سے قبل گرانی بہت زیادہ ہوگی بیماریاں پھیل جائیں گی،قحط ہوگا اور عظیم جنگ برپا ہوگی اور بہت سے لوگ مارے جائیں گے۔( ۲۳/ احا د یث )

۳۶ ۔آپ کے ظہور سے قبل ”نفس زکیہ“ اور ”یمانی“ قتل کئے جائیں گے اور یہ ”بیداء“ (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام) میں ہوگا، دجال اور سفیانی خروج کریں گے اور امام زمانہ انھیں قتل کریں گے۔ (فصل ۶ کے باب ۶ و ۷ اور فصل ۸ کے باب ۹ و ۱۰ کی احادیث)

۳۷ ۔آپ کے ظہور کے بعد زمین وآسمان کی برکتیں ظاہر ہوں گی زمین مکمل طور سے آباد ہوگی، خدا کے علاوہ کسی کی پرستش نہ ہوگی، امور آسان اور عقلیں کامل ہوجائیں گی۔ (فصل ۷ کے باب ۲،۳،۴ ، ۱۱ ، ۱۲ کی احادیث)

۳۸: آپ کے تین سو تیرہ اصحاب ایک وقت میں آپ کی خدمت میں پہونچیں گے( ۲۵ روایات)

۳۹ ۔آپ کی ولادت،کی تفصیلات کی تشریح، تاریخ ولادت اور آپ کی والدہ ماجدہ کے مختصر حالات سے متعلق ۲۱۴ ،احادیث۔

۴۰ ۔آپ کے پدر بزرگوار کی حیات طیبہ اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے دوران آپ کے بعض معجزات اور ان خوش نصیب افراد کے نام جو حجت خدا کی زیارت وملاقات سے شرفیاب ہوئے۔ (فصل ۳ باب ۲،۳ ،فصل ۴ باب ۱،۲ فصل ۵ باب ۱،۲)

ان کے علاوہ بھی بے شمار روایات ہیں ، جو شخص حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہکے اوصاف کے بارے میں تفصیل کا خواہاں ہو وہ راقم کی کتاب ”منتخب الاثر“ یا شیخ صدوق، نعمانی، شیخ طوسی، مجلسی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے عظیم المرتبت محدثین کی مفصل کتب حدیث ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔


مہدی جن کا اللہ نے امتوں سے وعدہ کیا ہے

بعض حضرات کا یہ خیال ہو سکتا ہے کہ مہدی منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کا عقیدہ شیعوں کا مخصوص عقیدہ ہے اور اس عقیدہ وایمان کی بنیاد اورمآخذ ومدارک صرف حدیث کی وہ کتب ہیں جن کے راوی سب کے سب شیعہ ہیں! ہوسکتا ہے کہ ایسے افراد اہل سنت والجماعت سے نقل ہونے والی بے شمار احادیث اور اس سلسلہ میں اہل سنت کے نامور علماء ومحدثین کی تالیفات سے بے خبر ہوں لہٰذا ہم اس مختصر مقالہ میں قرآن مجیداور روایات میں امام مہدی کی بشارتوں اور اہل سنت کے ان محدثین کرام کے اسماء ذکر کئے ہیں جنھوں نے مہدی منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ سے متعلق حدیثیں نقل کی ہیں ،اسی طرح اہل سنت کی وہ کتب جن میں ایسی روایات موجود ہیں اور سواد اعظم کے علماء نے خاص طور پر اس موضوع سے متعلق جو کتب تحریر کی ہیں نیز اس موضوع کی مناسبت سے چند دیگر مطالب کا تذکرہ بھی اس مقالہ میں مختصراً پیش کیا جارہا ہے راویوں اورعلماء یا کتب کی مکمل فہرست پیش کرنا مقصود نہیں ہے۔(۱)

۱ ۔قرآن کریم اور حضرت مہدی منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ

قرآن کریم کی متعددآیات(۲) کی تفسیر وتاویل حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور

____________________

(۱)یہ مقالہ ”مسجد اعظم“قم کے شمارہ ۹۰ ،سال دوم میں ص۲۲/۳۱پر شائع ہوا ہے۔

(۲)”الحجة فیما نزل فی القائم الحجه “ کے مولف محقق بصیر سید ھاشم بحرانی نے اپنی مذکورہ کتاب میں ایسی آیات کی تعداد سو سے زیادہ بیان کی ہے جن کی تفسیر حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ سے متعلق کی گئی ہے۔


سے کی گئی ہے ذیل میں صرف چند آیات پیش کی جارہی ہیں۔

( لیستخلفنّهم في الارض ) (۱)

یا( لیظهره علی الدین کله )

بہت سے مفسرین جیسے ابن عباس، سعید بن جبیر، اور سدی نے کہا ہے کہ اس وعدہ الٰہی کی تکمیل حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کے ذریعہ ہوگی(۲)

یا( ولقد کتبنا في الزبور ) (۳)

( الذین یوٴمنون بالغیب ) (۴)

( ونرید ان نمنّ علی الذین استُضعفوا في الارض ) (۵)

واِنه لعلمٌ للساعة “ اس آیہ کریمہ کے سلسلہ میں مقاتل بن سلیمان اور انکے تابع تمام مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیت حضرت مہدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے(۶)

۲ ۔ ظہور سے متعلق روایات

ظہور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے متعلق بے شمار روایات ہیں ان روایات کی کثرت کو دیکھ کر بااطمینان یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوسرے کسی اسلامی موضوع سے متعلق اتنی روایات شائد ہی ہوں، اتنی کثیر روایات کادسواں حصہ بلکہ ان کے ایک فیصد کو بھی رد کردینا خلاف ایمان

____________________

(۱)ینابیع المودة،ص۴۲۶ ، تفسیر غرائب القرآن نیشاپوری۔

(۲) تفسیر فخر، السراج المنیر شربینی، البیان ص۱۰۹، نورالابصارص۱۵۳ باب۲۔

(۳)ینابیع المودة،ص۴۲۵۔

(۴)غرائب القرآن، تفسیر کبیر۔

(۵)شرح ابن ابی الحدید،ج۴ص۳۳۶۔

(۶)اسعاف الراغبین، باب ۲ ص۱۴۱، نورالابصار، باب ۲ ص۱۵۳، ینابیع المودة، ص۱۵۳، البیان، ص۱۰۹۔


اورعقلا کے نزدیک قبول روایت کے معتبر طریقوں کے سراسر منافی ہے مزید یہ کہ ان میں سے بعض روایات میں ایسے قرائن بھی موجود ہیں جن سے ان کے قطعی ہونے کا یقین حاصل ہوجاتا ہے اور ان کے بارے میں کوئی شک وتردد باقی نہیں رہ جاتا۔

ان روایات میں احادیث ”عالیة السند“ اور ایسی احادیث بکثرت ہیں جن کے راوی موثق وممدوح ہیں، تاریخ، رجال اور حدیث کی کتابوں کے سرسری مطالعہ سے یہ بات بخوبی محسوس کی جاسکتی ہے کہ راویوں کے درمیان ان روایات کی بہت شہرت تھی، اور راویان کرام ان روایات کے مضامین ومطالب کے سلسلہ میںصحابہ اور تابعین سے توضیح وتشریح کے طالب رہتے تھے اورا ن کے مضامین کو مسلم الثبوت اور حتمی الوقوع سمجھتے تھے بعض اصحاب جیسے کہ ”حذیفہ بن یمان“ کو ان روایات کے بارے میں مہارت تامّہ حاصل تھی۔

۳ ۔ تواتر روایات

اہل سنت کے حفاظ ومحدثین کی کثیر تعداد مثلا صبان نے اسعاف الراغبین (باب ۲ ص ۱۴۰ مطبوعہ مصر ۱۳۱۲) شبلی نے نورا لابصار (ص ۱۵۵ مطبوعہ مصر ۱۳۱۲) ، شیخ عبدالحق نے لمعات میں بحوالہ حاشیہ سنن ترمذی (ص ۴۶ ج ۲ مطبوعہ دہلی) ابی الحسین آبری بحوالہ صواعق (ص ۹۹ مطبوعہ مصر) ابن حجر، سید احمد بن سید زینی دحلان مفتی شافعیہ نے فتوحات الاسلامیہ (ج ۲ ص ۲۱۱ مطبوعہ مصر) حافظ نے فتح الباری، شوکانی نے التوضیح میںبحوالہ غایة المامول (ص ۳۸۲ ج ۵) گنجی شافعی نے ”البیان“ (باب ۱۱) شیخ منصور علی ناصف نے غایة المامول، استاد احمد محمد صدیق نے ”ابراز الوھم المکنون“، ابوالطیب نے ”الاذاعة“ ابوالحسن سحری اور عبدالوھاب عبداللطیف استاد دانش کدہ شریعت نے حاشیہ ”صواعق“ میں صراحت کے ساتھ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہکے اوصاف وعلائم کے بارے میں وارد ہونے والی روایات کے ”متواتر“ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

علامہ شوکانی نے تو اِن روایات کے تواتر کے سلسلہ میں ”التوضیح في تواتر ما جاء فيالمنتظروالدجال والمسیح “ کے نام سے ایک مکمل کتاب تالیف فرمائی ہے، محمد بن جعفر الکتانی اپنی کتاب ”نظم المتناثر“ میں فرماتے ہیں ”الاحادیث الواردة في المهدي المنتظر متواترة “ ”مہدی منتظر کے سلسلہ میں وارد احادیث متواتر ہیں۔“

شیخ محمد زاہدکوثری اپنی کتاب ”نظرة عابرة“ میں تحریر کرتے ہیں ”واما تواتر اٴحادیث المهدي والدجال والمسیح فلیس بموضع ریب عند اهل العلم بالحدیث “ مہدی، دجال، مسیح کے متعلق احادیث کا تواترعلماء علم حدیث کے نزدیک شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ واسنوی ”مناقب شافعیہ“ میں فرماتے ہیں ”ظہور مہدی اور آپ کے اہلبیت پیغمبر ہونے سے متعلق روایات متواتر ہیں۔“


۴ ۔چند اصحاب کے اسماء جن سے اہل سنت نے ان روایات کو نقل کیا ہے:

۱ ۔حضرت علی ، ۲ ۔حضرت امام حسن ، ۳ ۔حضرت امام حسین ، ۴ ۔حضرت فاطمہ، ۵ ۔ ام المومنین عائشہ، ۶ ۔عبداللہ بن مسعود، ۷ ۔عبداللہ بن عباس، ۸ ۔عبداللہ بن عمر، ۹ ۔عبداللہ بن عمرو، ۱۰ ۔سلمان فارسی، ۱۱ ۔ابوایوب انصاری، ۱۲ ۔ابوعلی الہلالی، ۱۳ ۔جابر بن عبداللہ انصاری، ۱۴ ۔جابر بن سمرہ، ۱۵ ۔ثوبان، ۱۶ ۔ابوسعید الخدری، ۱۷ ۔عبدالرحمن بن عوف، ۱۸ ۔ابوسلمیٰ، ۱۹ ۔ابوہریرہ، ۲۰ ۔انس بن مالک، ۲۱ ۔عوف بن مالک، ۲۲ ۔حذیفہ بن الیمان، ۲۳ ۔ابولیلیٰ الانصاری، ۲۴ ۔جابر بن ماجد صدفی، ۲۵ ۔عدی بن حاتم، ۲۶ ۔طلحہ بن عبیداللہ، ۲۷ ۔قرة بن ایاس مزنی، ۲۸ ۔عبداللہ بن الحارث بن جزء، ۲۹ ۔ابوامامہ، ۳۰ ۔عمروبن العاص، ۳۱ ۔عمار بن یاسر، ۳۲ ۔ابوالطفیل، ۳۳ ۔ام سلمہ، ۳۴ ۔اویس ثقفی(۱)

____________________

(۱)غالباً صحیح نام ”اوس“ ہے جو کہ متعدد اصحاب کا نام تھا جیسے اوس بن حذیفہ، اوس بن ابی اوس ثقفی، اوس بن اوس ثقفی، اوس بن عوف ثقفی لیکن ”بدائع الظہور“ میں نزول حضرت عیسیٰ اور ان کے حضرت مہدی کی اقتدا سے متعلق حدیث میں اسی (اویس) نام کی تصریح ہے۔قال اویس الثقفی :سمعت رسول الله ۔


۵ ۔ مشہور علماء اہلسنت اوران کی وہ کتب جن میں ظہور سے متعلق احادیث موجود ہیں:

۱ ۔مسند احمد، ۲ ۔سنن ترمذی۔ ۳ و ۴ ، کنزالعمال ومنتخب کنز العمال علی متقی ہندی مکی، ۵ ۔سنن ابن ماجہ، ۶ ۔سنن ابی داود، ۷ ۔صحیح مسلم، ۸ ۔صحیح بخاری، ۹ ۔ینابیع المودة قندوزی، ۱۰ ۔مودة القربی ہمدانی، ۱۱ ۔فرائد السمطین حموینی شافعی، ۱۲ و ۱۳ ۔مناقب ومقتل خوارزمی، ۱۴ ۔اربعین حافظ ابی الفوارس، ۱۵ ۔مصابیح السنة بغوی، ۱۶ ۔التاج الجامع للاصول شیخ منصور علی ناصف، ۱۷ ۔صواعق ابن حجر، ۱۸ ۔جواہر العقدین شریف سمہودی، ۱۹ ۔سنن بیہقی، ۲۰ ۔الجامع الصغیر سیوطی، ۲۱ ۔جامع الاصول ابن اثیر، ۲۲ ۔تیسیر الوصول ابن الدیبع شیبانی، ۲۳ ۔المستدرک حاکم، ۲۴ ۔معجم کبیر طبرانی، ۲۵ ۔معجم اوسط طبرانی، ۲۶ ۔معجم صغیر طبرانی، ۲۷ ۔الدر المنثور سیوطی، ۲۸ ۔نورالابصار شبلنجی، ۲۹ ۔اسعاف الراغبین صبان، ۳۰ ۔مطالب السول محمد بن طلحہ شافعی، ۳۱ ۔تاریخ اصفہان ابن مندہ، ۳۲ و ۳۳ ۔تاریخ اصفہان وحلیة الاولیاء حافظ ابی نعیم، ۳۴ ۔تفسیر ثعلبی، ۳۵ ۔عرایس ثعلبی، ۳۶ ۔فردوس الاخبار دیلمی، ۳۷ ۔ذخائر العقبی محب الدین طبری، ۳۸ ۔تذکرة الخواص سبط ابن الجوزی، ۳۹ ۔فوائد الاخبار ابی بکر الاسکاف، ۴۰ ۔شرح ابن ابی الحدید، ۴۱ ۔غرائب نیشاپوری، ۴۲ ۔تفسیر فخر رازی، ۴۳ ۔نظرة عابرة کوثری، ۴۴ ۔البیان والتبیین جاحظ، ۴۵ ۔الفتن نعیم تابعی، ۴۶ ۔عوالی ابن حاتم، ۴۷ تلخیص خطیب، ۴۸ ۔بدایع الزھور محمد بن احمد حنفی، ۴۹ ۔الفصول المھمة ابن صباغ مالکی، ۵۰ ۔تاریخ ابن عساکر، ۵۱ ۔السیرة الحلبیة علی بن برھان الدین حلبی، ۵۲ ۔سنن ابی عمرو الدانی، ۵۳ ۔سنن نسائی، ۵۴ ۔الجمع بین الصحیحین عبدری، ۵۵ ۔فضائل الصحابہ قرطبی، ۵۶ ۔تہذیب الآثار طبری، ۵۷ ۔المتفق والمفترق خطیب، ۵۸ ۔تاریخ ابن الجوزی، ۵۹ ۔الملاحم ابن منادی، ۶۰ ۔فوائد ابی نعیم، ۶۱ ۔اسد الغابہ ابن اثیر، ۶۲ ۔الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام سیوطی، ۶۳ ۔الفتن ابی یحییٰ، ۶۴ ۔کنوز الحقائق منادی، ۶۵ ۔الفتن سلیلی، ۶۶ ۔عقیدة اہل الاسلام غماری، ۶۷ ۔صحیح ابن حبان، ۶۸ ۔مسند رویانی، ۶۹ ۔مناقب ابن المغازلی، ۷۰ ۔مقاتل الطالبیین ابی الفرج اصبہانی، ۷۱ ۔الاتحاف بحبّ الاشراف شبراوی شافعی، ۷۲ ۔غایة المامول منصور علی ناصف، ۷۳ ۔شرح سیرة الرسول عبدالرحمن حنفی سھیلی، ۷۴ ۔غریب الحدیث ابن قتیبہ، ۷۵ ۔سنن ابی عمرو المقری، ۷۶ ۔التذکرہ عبدالوہاب شعرانی، ۷۷ ۔الاشاعة برزنجی مدنی، ۷۸ ۔الاذاعة سید محمد صدیق حسن، ۷۹ ۔الاستیعاب ابن عبدالبر، ۸۰ ۔مسند ابی عوانہ، ۸۱ ۔مجمع الزوائد ہیثمی، ۸۲ ۔لوامع الانوار البھیة سفارینی حنبلی، ۸۳ ۔الھدیة الندیة سید مصطفی البکری، ۸۴ ۔حجج الکرامة سید محمد صدیق، ۸۵ ۔ابراز الوھم المکنون سید محمد صدیق، ۸۶ ۔مسند ابی یعلی، ۸۷ ۔افراد دارقطنی، ۸۸ ۔المصنف بیہقی، ۸۹ ۔الحربیات ابی الحسن الحربی، ۹۰ ۔نظم المتناثر من الحدیث المتواتر محمد بن جعفر الکتانی،


۹۱ ۔التصریح بما تواتر فی نزول المسیح شیخ محمد انور کشمیری، ۹۲ ۔اقامة البرہان غماری، ۹۳ ۔المنار ابن القیم، ۹۴ ۔معجم البلدان یاقوت حموی، ۹۵ ۔مقالید الکنوز احمد محمد شاکر، ۹۶ ۔شرح الدیوان میبدی، ۹۷ ۔مشکاة المصابیح خطیب تبریزی، ۹۸ ۔مناقب الشافعی محمد بن الحسن الاسنوی، ۹۹ ۔مسند بزار، ۱۰۰ ۔دلائل النبوة بیہقی، ۱۰۱ ۔جمع الجوامع سیوطی، ۱۰۲ ۔تلخیص المستدرک ذہبی، ۱۰۳ ۔الفتوح ابن اعثم کوفی، ۱۰۴ ۔تلخیص المتشابہ خطیب، ۱۰۵ ۔شرح وردّ السحر ابی عبدالسلام عمر الشبراوی، ۱۰۶ ۔لوامع العقول کشخانوی اور تقریباًسبھی کتب حدیث وغیرہ۔

۶ ۔اس موضوع سے متعلق علماء اہل سنت کی کتب:

۱ ۔ البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، مولفہ عالم شہیر ملا علی متقی (متوفیٰ ۹۷۵ ء)۔

۲ ۔ البیان فی اخبار صاحب الزمان، مولفہ علامہ گنجی شافعی (متوفیٰ ۶۵۸ ء)۔

۳ ۔ عقد الدرر فی اخبار الامام المنتظر، مولفہ شیخ جمال الدین یوسف الدمشقی، ساتویں صدی کے عظیم المرتبت عالم۔

۴ ۔ مناقب المہدی ،مولفہ حافظ ابی نعیم اصفہانی (متوفیٰ پانچویں صدی ہجری)۔

۵ ۔ القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر، مولفہ ابن حجر(متوفیٰ ۹۷۴) ۔

۶ ۔ العرف الوردی فی اخبار المہدی، مولفہ عالم شہیر سیوطی (متوفیٰ ۹۱۱) ۔

۷ ۔ مہدی آل الرسول، مولفہ علی بن سلطان محمد الھروی الحنفی نزیل مکہ معظمہ۔

۸ ۔ فوائد الفکر فی ظہور المہدی المنتظر، مولفہ شیخ مرعی۔

۹ ۔ المشرب الوردی فی مذہب المہدی، مولفہ عالم شہیر علی القاری۔

۱۰ ۔ فرائد فوائد الفکر فی الامام المہدی المنتظر، مولفہ المقدسی۔

۱۱ ۔ منظومة القطر الشھدی فی اوصاف المہدی، نظم شہاب الدین احمد خلیجی حلوانی شافعی۔

۱۲ ۔ العطر الوردی بشرح قطر الشہدی، مولفہ بلیسی۔

۱۳ ۔ تلخیص البیان فی علامات مہدی آخر الزمان، مولفہ ابن کمال پاشا حنفی (متوفیٰ ۹۴۰) ۔

۱۴ ۔ ارشاد المستھدی فی نقل بعض الاحادیث والآثار الواردة فی شان الامام المہدی، مولفہ محمد علی حسین البکری المدنی۔

۱۵ ۔ احادیث المہدی واخبار المہدی، مولفہ ابی بکر بن خثیمہ۔


۱۶ ۔ الاحادیث القاضیہ بخروج المہدی، مولفہ محمد بن اسماعیل امیرالیمانی (متوفیٰ ۷۵۱) ۔

۱۷ ۔ الہدیة الندیہ فیما جاء فی فضل الذات المہدیة، مولفہ ابی المعارف قطب الدین مصطفی بن کمال الدین علی بن عبدالقادر البکری الدمشقی الحنفی (متوفیٰ ۱۱۶۲) ۔

۱۸ ۔ الجواب المقنع المحرر فی الرد علی من طغی وتبحر بدعوی انہ عیسیٰ او المہدی المنتظر، مولفہ شیخ محمد حبیب اللہ بن مایابی الجکنی الشنقیطی المدنی۔

۱۹ ۔ النظم الواضح المبین، مولفہ شیخ عبدالقادر بن محمد سالم۔

۲۰ ۔ احوال صاحب الزمان، مولفہ شیخ سعد الدین حموی۔

۲۱ ۔ اربعین حدیث فی المہدی، مولفہ ابی العلاء ہمدانی (بحوالہ ذخائر العقبی، ص ۱۳۶)

۲۲ ۔ تحدیق النظر فی اخبار المہدی المنتظر، مولفہ محمد بن عبدالعزیز بن مانع (مقدمہ ینابیع المودة)۔

۲۳ ۔ تلخیص البیان فی اخبار مہدی آخرالزمان ، مولفہ علی متقی (متوفیٰ ۹۷۵) ۔

۲۴ ۔ الرد علی من حکم وقضی ان المہدی جاء ومضی، مولفہ ملا علی قاری (متوفیٰ ۱۰۱۴)

۲۵ ۔ ”رسالة فی المہدی“ کتابخانہ اسعد افندی سلیمانیہ ترکی میں موجود رسالہ شمارہ ۳۷۵۸ ۔

۲۶ ۔ علامات المہدی، مولفہ سیوطی۔

۲۷ ۔ کتاب المہدی، مولفہ ابی داود (یہ کتاب، سنن ابی داود کی کتابوںمیں سے ہے اورمتعدد بار شائع ہوچکی ہے۔

۲۸ ۔ المہدی، مولفہ شمس الدین ابن القیم الجوزیة (متوفیٰ ۷۵۱) ۔

۲۹ ۔ المہدی الی ماورد فی المہدی، مولفہ شمس الدین محمد بن طولون۔

۳۰ ۔ النجم الثاقب فی بیان ان المہدی من اولاد علی بن ابی طالب، ۷۸ صفحہ مکتبہ لالہ لی سلیمانیہ میں کتاب اندراج نمبر ۶۷۹ پرموجود ہے۔

۳۱ ۔ الھدیة المہدویة، مولفہ ابوالرجاء محمد ہندی۔

۳۲ ۔ الفواصم عن الفتن القواصم، اس کتاب میں مولف نے صرف امام مہدی کے حالات تشریح وتوضیح کے ساتھ جمع کئے ہیں۔ (السیرہ الحلبیة، ص ۲۲۷ ، ج ۱)


۷ ۔ظہور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے بارے میں اجماع مسلمین

”آخر ی دور میں ایک مصلح عالم کا ظہور ہوگا“ اس سلسلہ میں اصحاب، تابعین اور تابعین کے پیروںسے لے کر آج تک کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کا مسئلہ اجماعی اور متفق علیہ تھا اور ہےاگر کوئی اس قسم کی روایات کی صحت یاپیغمبر اکرم سے منقول بشارتوں کے بار ے میں ذرا بھی تردد کا اظہار کرتا تو اس کو سفاہت وجہالت پر محمول کیا جاتا تھا،یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی نے بھی مہدویت کا دعویٰ کرنے والے کی یہ کہہ کر تکذیب نہیں کی کہ ”مہدویت اور ظہور حضرت مہدی “ کا عقیدہ ہی بے بنیاد ہے بلکہ ایسے جھوٹے مدعی کی بات کو یہ کہہ کر رد کیا جاتا رہا کہ یہ شخص ان علائم واوصاف کا مالک نہیں ہے جو آپ کے لئے احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔سویدی تحریر کرتے ہیں:

الذی اتفق علیه العلماء انّ المهدي هو القائم في آخر الوقت واٴنّه یملاٴ الاٴرض عدلاً، والاحادیث فیه وفی ظهوره کثیرة(۱)

”اس امر پر علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت مہدی ہی آخری زمانہ میں قیام فرمائیں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے اور (حضرت)مہدی اور آپ کے ظہور سے متعلق روایات بہت زیادہ ہیں۔“

ابن ابی الحدید نے بھی اس متفق علیہ امر کو صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

ابن خلدون مقدمہ تاریخ میں رقم طراز ہیں:

واعلم انّ المشهور بین الکافة من اهل الاسلام علی ممر الاعصارانه لابّد في آخرالزمان من ظهور رجل من اهل البیت یوٴید الدین ویظهر العدل ویتبعه المسلمون ویستولٰي علی الممالک الاسلامیة ویسمیٰ بالمهدي

____________________

(۱)سوائک الذہب، ص۷۸۔


”ہر عہد کے تمام مسلمانوں کے درمیان یہ بات شہرت کی حامل رہی ہے کہ آخری زمانہ میں یقینی طورپر اہل بیت (پیغمبر ) میں سے ایک شخص کا ظہور ہوگا جو دین کی تائید ونصرت اور عدل وانصاف کو ظاہر کرے گا، مسلمان اس کی پیروی کریں گے اور وہ تمام اسلامی ممالک کا حکمراں ہوگا اس کا نام ”مہدی“ ہوگا۔(۱)

شیخ علی ناصف تحریر کرتے ہیں:

فائدة : اتضح مما سبق ان المهدي المنتظر من هٰذه الامة الی ان قال وعلیٰ هذا اهل السنة سلفا وخلفا(۲)

”گذشتہ بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ”مہدی منتظر“ اسی امت سے ہوں گے اہل سنت گزشتہ اور موجودہ سب اسی عقیدہ کے قائل تھے اور ہیں۔“

علامہ ابو الطیب اپنی کتاب ”الاذاعة لما کان ویکون بین یدی الساعة “ میں تحریر فرماتے ہیں ”آخری زمانہ میں مہدی کا ظہور ہوگا اور آپ کا انکار بہت بڑی گستاخی اور عظیم خطا ولغزش ہے۔“

اس قسم کے اعترافات اہل سنت کے جلیل القدر علماء ومحققین کی کتب میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔

۸ ۔ کتب اہل سنت میں حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے بعض اوصاف و علائم

۱ ۔مہدی موعود ذریت پیغمبر اور اولاد فاطمہ میں سے ہیں۔

۲ ۔ مہدی موعود نسل حسین سے ہیں۔ (اولاد حسین میں سے ہیں)

۳ ۔ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے پُر

____________________

(۱) مقدمہ ابن خلدون، ص۳۶۷۔

(۲) غایة المامول ج۵ ص۳۶۲ ، ۳۸۱۔


کردیں گے۔

۴ ۔ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ دو غیبت اختیار کریں گے جن میں سے ایک غیبت طولانی ہوگی۔

۵ ۔ مہدی اُس سلسلہ امامت ورہبریت وخلافت کی بارہویں کڑی ہیں جس کی بشارت پیغمبر اکرم نے دی ہے اور مسند احمد، صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد اور اہل سنت کی دیگر معتبر کتب کی کثیر روایات کے مطابق جن بارہ اماموں کی امامت حجت ہے۔

۶ ۔ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہکی حکومت تمام ممالک اور شہروں پر ہوگی اور آپ لشکر کفر کو شکست دیں گے۔

۷ ۔ دین اسلام اور کلمہ توحید آپ کے ذریعہ عالم گیر سطح پر رائج ہوگا اور روئے زمین پر کوئی خدا کی وحدانیت کا منکر نہ ہوگا۔

۸ ۔ آپ کے دور حکومت میں لوگ اس قدر آرام وآسائش سے ہوں گے جس کی نظیر کسی دور میں نہیں ملتی۔

۹ ۔ حضرت مہدی ،پیغمبر کے ہم نام ہیں اور آپ کی کنیت پیغمبر کی کنیت ہے۔

۱۰ ۔ حضرت مہدی صورت وسیرت میں تمام لوگوں کی بہ نسبت پیغمبر سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں گے۔

۱۱ ۔ لوگوں کو سنت وشریعت وسیرت پیغمبر کی طرف پلٹا دیں گے اور کتاب وسنت کا احیاء کریں گے۔

۱۲ ۔ آپ کی غذا اور لباس نہایت سادہ ہوں گے۔

۱۳ ۔ آپ کے عہد میں زمین وآسمان کی برکتیں فراواں ہوں گی۔

۱۴ ۔ حلال وحرام خدا کے بارے میں آپ سے بڑا کوئی عالم نہ ہوگا۔

۱۵ ۔ آپ فقرا ومساکین پر مہربان اور حکومتی کارندوں پر سخت گیرہوں گے تاکہ کوئی عوام پر ظلم نہ کرسکے۔

۱۶ ۔ عیسیٰ بن مریم زمین پر نازل ہوں گے اور حضرت مہدی کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔

۱۷ ۔حضرت کے ظہور سے پہلے عظیم حوادث اور فتنے اٹھیں گے، عالمی جنگ ہوگی جس میں دنیا کی دو تہائی آبادی تباہ ہوجائے گی۔


۱۸ ۔ آپ کے ظہور سے پہلے گناہ وعصیان کا رواج ہوگا، کھلم کھلا شراب اور جوئے کا دور دورہ ہوگا،عورتوں میں حیا وعفت کم ہوجائے گی، لہوولعب اور غنا کے آلات ظاہر ہوں گے، سود معاملات کا حصہ ہوجائے گا، عورتیں نیم برہنہ وعریاں گھر سے باہر آئیں گی اور مردوں کے امور ومشاغل میں شریک ہوں گی، مرد، عورتوں کے تابع ومطیع ہوجائیں گے، احکام خدا اور حدود الٰہیہ معطل ہوجائیں گے اور ان کا نفاذ نہ ہوگاامربالمعروف اور نہی عن المنکر متروک ہوجائے گا بلکہ منکرات کا حکم دیا جائے گا اور معروف سے اس حد تک روکا جائے گا کہ لوگ معروف کو منکر اور منکر کو معروف سمجھنے لگیں گے، عورتیں فاسد اور جوان بدکردار ہوں گے اور امور نااہلوں کے سپرد کردئے جائیں گے،اس کے علاوہ بھی بہت سے علائم ہیں، جو حضرات ان اوصاف وعلائم جیسے ” زمین کا دھنس جانا“، ”خروج سفیانی“، ”دجال“، ”یمانی“ ، ”قتل نفس زکیہ“حضرت کے ظہور کی کیفیت یا آپ کے اعلان وغیرہ کے بارے میں تفصیلات جاننا چاہتے ہیں وہ تفصیلی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔(۱)

____________________

(۱) اسی کتاب میں آئندہ صفحات پر اوصاف وعلائم حضرت مہدی کا شیعہ وسنی کتب سے تفصیلی تذکرہ کیا جائے گا، سردست یہاں ،بطور اختصار کتب اہل سنت سے آپ کے چند اوصاف وعلائم بیان کردئے گئے ہیں۔


۹ ۔ حضرت مہدی کی ولادت و حیات کے معترف علما ء اہلسنت

اپنی کتاب ”منتخب الاثر“کے باب اول، فصل سوم میں ہم نے اہل سنت کے ان علماء کے نام ذکر کئے ہیں جوحضرت کی ولادت اور آپ کی حیات مبارکہ کے قائل ہیں۔ مذکورہ کتاب اور بعد کی تلاش وتحقیق کے مطابق ایسے علماء کی تعداد ستر سے زیادہ ہے۔

۱۰ ۔ مہدی کاانکارکفر ہے

فرائد السمطین، کتاب البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان، باب ۲ ، کتاب الاشاعة ص ۱۱۲ ، کتاب الاذاعہ، ص ۱۳۷ ،، کتاب التصریح، ص ۴۴۲ ، کتاب العرف الوردی فی اخبار المہدی، ج ۲ ص ۸۳ اور بعض دیگر کتب میں فوائد الاخبار مولفہ ابی بکر اسکافی نیز ابوبکر بن خیثمہ کی کتاب اخبار المہدی، اور شرح سیر سھیلی کے حوالوں سے جابر بن عبداللہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ: پیغمبراکرم نے فرمایا:

مَن انکر خروج المهدي فقد کفر

”جو شخص خروج مہدی کا منکر ہو وہ کافر ہے۔“

الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ یہ روایت بھی آپ ہی سے منقول ہے۔

مَن کذب بالمهدي فقد کفر

”جو شخص مہدی کی تکذیب کرے وہ کافر ہے۔“

سفارینی کے مطابق ان روایات کی سند قابل اعتبار ہے،سفارینی کتاب ”لوامع“ میں تحریر فرماتے ہیں:

”ظہور مہدی پر ایمان رکھنا واجب اور اہل سنت کے عقائد میں شامل ہے۔“


”ارشادالمستھدی“(۱) کے مولف اس کتاب کے صفحہ، ۵۳ پر تحریر فرماتے ہیں: اے عقلمند! ظہور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں ہر طرح کے شک وشبہ سے اجتنا ب کر، اس لئے کہ حضرت کے ظہور کا عقیدہ خدا، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی رسالت پر عقیدہ کی تکمیل او رآپ کے ذریعہ بیان کی گئی باتوں کی تصدیق کا باعث ہے، پیغمبر صادق ومصدّق ہیں، اس بات میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے کہ مہدی موعود کا ابھی تک ظہور نہیں ہوا ہے اگر کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا بھی ہے تو وہ جھوٹا اور کذّاب ہے اس لئے کہ حضرت مہدی کے لئے روایات میں جو اوصاف وعلائم بیان کئے گئے ہیں وہ ایسے شخص میں نہیں پائے جاتے، حضرت مہدی کا ظہور اور آپ کی شناخت کے ذرائع بالکل واضح اور عیاں ہیں آپ کا ظہور حضرت عیسیٰ کے نزول سے پہلے ہوگا، حضرت عیسیٰ کے ساتھ آپ کی موجودگی روایات صحیحہ کی رو سے قطعی اور بدیہی ہے۔

جو شخص تفصیل کا طالب ہو وہ اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب کی طرف رجوع کرے اس کتاب (ارشاد المستہدی) میں ہمارا نصب العین حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور سے متعلق بطور اختصار روایات کے تواتر کا اثبات ہے۔

صفحہ/ ۵۲ پر فاضل مولف تحریر فرماتے ہیں:

”مذکورہ احادیث (احادیث ظہور) وروایات کو اکثر محدثین اور غیر محدثین نے اپنی کتابو ں میں نقل فرمایا ہے اور حضرت مہدی رضی اللہ عنہ (ارشاد المستھدی کے الفاظ بعینہ نقل کئے گئے ہیں) کے ظہور کاعقیدہ صحابہ کے درمیان مشہور ومعروف تھا اور صحابہ کا یہ عقیدہ وایمان پیغمبر سے ماخوذ ہے اسی طرح تابعین سے منقول آثار وروایات مرسلہ سے بھی یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے اس لئے کہ اس قسم

____________________

(۱) ارشاد المستہدی حلب سے طبع ہوئی ہے اور حلب کے ہی ایک عالم جناب شیخ عبدالمتعالی سرمینی نے راقم الحروف کے پاس بطور ہدیہ ارسال فرمائی تھی۔


کے مسائل میں تابعین اپنے نظریئے یا اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے۔“

اس مقالہ سے با آسانی یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ حضرت مہدی موعود منتظر ارواح العالمین لہ الفداء کے ظہور کا مسئلہ تمام مسلمانوں کے نزدیک اجماعی اورمتفق علیہ ہے نیز اس موضوع سے متعلق اہل سنت نے اپنے ذریعوںسے جو روایات نقل کی ہیں وہ بھی متواتر اور مسلم الثبوت ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے، آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے اور آپ کے ذریعہ بیان کی گئیغیبی اخبارکا جزء ہے جن میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت پر ایمان کا لازمہ یہ ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور پر بھی ایمان لایا جائے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا جائز نہیں ہے۔

اس مقالہ میںسندکے طور پر صرف اہل سنت کے اقوال اور کتب کو بنیاد قرار دیا گیا ہے، اگر کوئی شخص، شیعوں کی معتبر کتب اور اہل بیت عصمت وطہارت سے معتبر ترین اسناد کے ساتھ منقول روایات اور گزشتہ ایک ہزار سال سے زائد عرصہ میں اس موضوع پر لکھی جانے والی لاتعداد کتابوں کو ملاحظہ کرے تو اس کی معلومات جامع اور کامل ہوسکتی ہیں۔

اس قسم کی روایات واحادیث شیعوں کی ان کتب میں بھی پائی جاتی ہیں جن کی تالیف وترتیب امیرالمومنین کے عہد میں ہوئی، اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کے دور میں حضرت مہدی بلکہ آپ کے پدر بزرگوار امام حسن عسکری کی ولادت باسعادت سے قبل جو کتب اور اصول مرتب ہوئے ان میں بھی ایسی روایات موجود ہیں جو بذات خود ایک معجزہ اور خبر غیبی کا درجہ رکھتی ہیں۔

ہم دست بدعا ہیں کہ خداوند عالم جملہ مسلمانان عالم کی آنکھوں کوحضرت کے جمال بے مثال کی زیارت سے منور فرمائے انتظار کے لمحے تمام ہوں،اوراس مصلح حقیقی کے ظہور سے انسانی زندگی میں پائے جانے والے اضطراب کا خاتمہ ہو۔

( انه علی کل شیء قدیر ) ” بیشک وہ ہر چیز پر قد رت رکھنے والا ہے۔“


ایک تابناک مستقبل کا انتظار(۱)

( ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثها عبادی الصالحون ) (۲)

اسلام خدائے واحد پر ایمان اور توحید حقیقی کے عقیدے کی دعوت دیتا ہے،اسلام کے عقائد اور اخلاقی نظام ،جزا وسزا، طرز حکومت اور تمام انفرادی ومعاشرتی احکام سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ دین اسلام کا اصل ہدف لغو اور بے بنیاد امتیازات اوربرتری کی دیواروں کو توڑکر تمام گروہوں اور قوموں کو متحد کرکے پوری نوع بشر کے درمیان اتحاد ویگانگت اورتعاون وخیرخواہی کا ایسا مستحکم رشتہ برقرار کرنا ہے جس کی بنیاد صرف ”کلمہ توحید“ اور خدائے وحدہ لاشریک کاایمان ہو۔

اسلام عقیدہ توحید کے ذریعہ ہر طرح کے اختلافات کو ختم کردینا چاہتا ہے،چاہے وہ نسلی، طبقاتی، قومی، ملکی، جغرافیائی یا لسانی اختلاف ہوں یامسلک ومذہب اور پارٹی یا گروہ کے نام پر، ان میں سے کوئی اختلاف باقی نہیں رہنا چاہئے ،اسلام کی نگاہ میں انمیں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو انسان کے لئے فضیلت وبرتری کا باعث ہو یا جس پر انسان فخر کرسکے حتیٰ کہ دینی اختلافات کا بھی خاتمہ ہونا چاہئے اور بلا استثناء سبھی کو خدا کے حکم (واقعی) کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہئے۔

اسلام کا اعلان ہے کہ قافلہ بشریت ایک دن اس منزل مقصود تک ضرور پہنچے گا، اسلام کے

____________________

(۱)یہ مضمون رسالة مکتب انبیاء (دین در عصر دانش )نمبر ۲ میںص۶۱سے۲۳تک طبع ہوا ہے۔

(۲) اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میںبھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے۔ سورہ انبیاء آیت ۱۰۵۔


قوانین اور نظام کسی حد تک اس کے مقدمات بھی فراہم کردیتے ہیں البتہ اس کو عملی شکل دینے کے لئے مناسب ماحول اور حالات کا انتظار ہے۔

عالمی حالات، مادی وصنعتی ترقی اور دور حاضر میں رابطہ کے ذرائع کے باعث جو نزدیکیاں پیدا ہوئی ہیں ان تمام چیزوں کی بدولت تمام انسانوں کے درمیان حقیقی اتحاد اور اخوت اور پختہ روابط کی ضرورت آج شدت سے محسوس کی جارہی ہے اور انسانیت جتنا آگے قدم بڑھائے گی اس ضرورت کا احساس شدید تر ہوتا جائے گا۔

آج اقوام عالم ایک اکائی کی شکل اختیار کرچکی ہیں اور پوری دنیا کے انسان ایک دوسرے کے پڑوسی بلکہ ایک ہی کنبہ کے افراد کی مانند ہوگئے ہیں، اگر دو پڑوسیوں یا ایک گھر کے دو افراد کے درمیان اختلاف ہو، ہر ایک کا دین ومسلک، وطن، زبان، عادات واطوار الگ الگ ہوں اور دونوں کو ایک ہی حکومت کے زیر سایہ زندگی بسر کرنا پڑے یا دونوں کو کوئی ایک مکتب فکر اور طرز معاشرت اختیار کرنا پڑے تو دونوں کی زندگی تلخ اور دشوار ہوجائے گی، دونوں کے درمیان ہمیشہ رسہ کشی اور جنگ وجدال کی کیفیت برقرار رہے گی۔

آج کی دنیا بعینہ اسی صورت حال سے دوچار ہے جب تک ایک عقیدہ، ایک نظریہ، ایک قانون، ایک طرح کے عادات واطوار، ایک نظام نہ ہو امن وآسائش میسر نہیں ہوسکتی اور یہ نظام وقانون بھی ایسا ہونا چاہئے کہ جس میں دنیا کے تمام چھوٹے بڑے سماجوں کو برابرکے حقوق دئے گئے ہوں، یورپ کو افریقہ پر اور مغرب کو مشرق پر کوئی برتری حاصل نہ ہو اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیشہ ایک طبقہ محروم رہے گا اور دوسرا خوشحال، ایک فاتح وغالب ہوگا اور دوسرا مفتوح ومغلوب، اختلاف وجدائی کے ایسے تمام اسباب کا خاتمہ ہونا چاہئے۔

آج فکر بشرارتقا ء کی اس منزل پر پہنچ چکی ہے کہ اسے اختلاف وجدائی کے اسباب کی بے مایہ حقیقت کا احساس بخوبی ہوچکا ہے لہٰذا انسانیت کو ایسے بے مایہ و بے بنیاد اسباب سے دست بردار ہو جانا چاہئے اور روئے زمین پرایک ایسا حقیقت پسند، ایسا صالح او رمستحکم معاشرہ وجود میں آنا چاہئے جس کا وعدہ قرآن نے کیا ہے۔


یہ بالکل واضح ہے کہ ایسا صالح معاشرہ خودبخود وجود میں نہیں آسکتا اس کے لئے مختلف اسباب درکار ہیں اس کے لئے عادلانہ قوانین، اجتماعی تعلیم، جزا وسزا کے منصفانہ نظام کے ساتھ ذاتی یا طبقاتی مفادات سے بلند ہوکر عالی مرتبت افراد کے ہاتھوں تعلیم وتربیت کا صحیح انتظام ضروری ہے اور صرف دین اسلام ہی اعلیٰ پیمانہ پر ان امور کی فراہمی کا ضامن ہوسکتا ہے، اسی کے ساتھ فکر بشر کا ارتقاء بھی ضروری ہے تاکہ ظلم وجور، قتل وغارتگری کی کثرت، بڑھتی ہوئی بدامنی کے باوجود حکام وقت کو اصلاح سے عاجز دیکھ کر بشریت خود متوجہ بلکہ فریادی ہوجائے کہ عدل وانصاف سے لبریز سماج اور نظام کی ضرورت ہے!

صرف عادلانہ نظام بھی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے عالی ہمت وعالی مرتبت رہبر کی ضرورت ہے، ایسا قائد ورہبر جو مادیت پرست نہیںبلکہ روحانیت کا علم بردار ہو، خواہشات نفس، غروروتکبر، غضب وغصہ اور خود غرضی جیسے پست جذبات واحساسات سے مبرا ہو، ایسا رہبر وپیشوا جو صرف خدا کو پیش نظر رکھے اور اتنا عالی نظر وعالی ظرف ہو کہ قومی، جغرافیائی اور نسلی اختلافات کے بجائے تمام انسانوں کو رافت ورحمت اور مساوات کی نگاہ سے دیکھے اور یہ اعلان کرے:

لا فضل لعربيعلیٰ اٴعجمي

”عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت وبرتری حاصل نہیں ہے۔“

الناس کلهم سواسیة کاٴسنان المشط

”تمام لوگ کنگھی کے دندانوں کی مانند برابر ہیں۔“

الخلق کلهم عیال اللّٰه فاٴحبّهم الی الله انفعهم لعیاله

”لو گ عیال خدا ہیں، ان میں سب سے زیادہ محبوب ِخدا وہ ہے جو عیال خدا کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتا ہو۔“

جن رہبروں میں یہ صفات نہیں پائے جاتے جو ایسے بلند وبالا مفاہیم سے واقف ہی نہیں یقینی طور پر وہ اس عادلانہ دنیا کے سربراہ نہیں ہوسکتے جس کی آج انسانیت متلاشی ہے، ہماری آج کی دنیا کے قائدین سیاہ وسفید، ایشیائی، یوروپی، افریقی، امریکی کو برابر نہیں تسلیم کرسکتے اور نہ ہی سب کے مساوی حقوق قرار دے سکتے ہیں۔


ان کا سب سے بڑا کارنامہ ایک طبقہ کے مفاد میں دوسرے طبقہ کا استحصال، طاقتور معاشرہ کے ذریعہ کمزور سماج کو نگل جانا اور اپنی قوم کے منافع کا حصول ہے۔ یہ لوگ افریقہ کے غریب و بے نوا اور الجزائر کے حریت پسند افراد کو شدید قتل وغارتگری اور سخت ترین آزار وشکنجہ کے ذریعہ اپنا غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں ان کے منھ کا لقمہ بھی چھین لینا چاہتے ہیں، دوسرے ممالک کے قدرتی ذخیروں پر قبضہ کرتے ہیں تاکہ اپنے ملک کے عیاش دولت مند ان سے ناراض نہ ہونے پائیں، دوسری جانب کچھ سربراہ کمزوروں اور ضعیفوں کی حمایت اور سامراجیت کے خلاف جنگ کے پر فریب نعرہ کے بہانے ”فردکی آزادی“ کو نیست نابود کرکے انسان کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کردینا چاہتے ہیں، شخص کے بجائے معاشرہ اور سماج کے اختیارات کے قائل ہیں اور سماج کو بالکل ایک ایسی زندہ مشین میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں جس میں ارادہ کا کوئی دخل نہ ہو اور جس کا کنٹرول خودا س کے بجائے چند بے ضمیرافراد کے ہاتھوں میں ہو۔

تیسری طرف اقلیتوں کی تقویت کے نام پر قوموں کے درمیان پھوٹ ڈال کر انھیں تقسیم کررہے ہیں ، اس طرح کمزور ممالک پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں،دنیاوی رہبروں اور لیڈروں کا یہی طریقہ کار ہے، کل بھی یہی صورت حال تھی اورآئندہ بھی یہی رہے گی، یہ لوگ کتنے ہی ناوابستہ کیوں نہ ہوں ان کا مقصد اپنے ملک وملت کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے انھیں دوسرے ممالک یا اقوام کی آزادی سے کیا واسطہ؟ اور جب یہ لوگ ایک پارٹی یا سماج کے لئے منتخب ہوتے ہیں تو ان سے اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی،آج کل سربراہان مملکت کی لیاقت وصلاحیت کا کل معیار اپنے سماج ومعاشرہ کے مفادات ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگلتی رہتی ہے، طاقتور، کمزور کو دباتا ہے اور کمزور قوموں کو وہ حقوق نہیں دئیے جاتے جو طاقتور قوموں کو حاصل ہیں،ا وروہ اپنے منافع حاصل کرنے کے لئے خطرناک جنگوں سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔

اس کے برخلاف خدا ئی منصب دار اور الٰہی رہبر چونکہ کسی خاص گروہ یا قوم سے تعلق نہیںر کھتا اور اپنے کو اس خدا کا نمائندہ سمجھتا ہے جو سب کا خالق ورازق ہے لہٰذا اس کا مقصد سب کے لئے راحت وآسائش اور سبھی کی آزادی ہوتا ہے وہ ایک ایسے عالمی ادارہ اور معاشرے کی تعمیر کرتا ہے جس کے زیر سایہ پورا عالم انسانیت گھر کے افراد کی طرح زندگی بسر کرسکے، گورے، کالے کا کوئی فرق نہ ہو سب ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہوں البتہ اس مقصدتک رسائی کے لئے انسانوں کی ذہنی آمادگی، علمی سطح کی بلندی اور فکری رشد درکا رہے۔


احادیث وروایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں علوم وفنون کی ترقی، وسائل ارتباط کی وسعت، اقوام عالم کی قربت ہلاکت خیزجنگ کے نتیجہ میں دوتہائی یا اکثر آبادی کی نابودی، ظلم وجور، فسق وفجور، فحشاء وفساد کے رواج اور حکام وقت کے ہاتھوں ان امور کی اصلاح سے عاجزی کے بعد عالم انسانیت دھیرے دھیرے دینی ومذہبی رہبر کی معصوم قیادت (یعنی حضرت مہدی موعود) کے تحت عدل وانصاف پر مبنی حک ومت الٰہی کی ضرورت کو محسوس کرے گا۔(۱)

____________________

(۱) آخری زمانہ کے فتنوں اور حوادث کے بارے میں شیعہ وسنی دونوں فرقوں کے نامور محدثین نے اپنی کتب (جن میں بعض کتب ایک ہزار سال سے زائد عرصہ قبل لکھی گئی ہیں) میں بے شمار روایات واحادیث نقل فرمائی ہیں،درحقیقت ان روایات کو بھی معجزات اورغیبی اخبار میں شمار کرنا چاہئے۔ تفصیل کے خواہاں افراد کو ان کتابوں کی طرف مراجعہ کرنا چاہئے۔آخری زمانہ سے متعلق روایات میں عورتوں کی بے پردگی، عریانیت، مردوں پر غلبہ، مشوروں میں شرکت، مردوں کے امور میں مداخلت، حکومتی مشاغل میں حصہ داری، شراب خوری اور مے فروشی، سود، زنا، جوے کا رواج، نماز کو سبک سمجھنا، سربفلک عمارتوں اور محلوں کی تعمیر، نااھلوں کی تقرری، کھلم کھلا گناہ، باطل اور لایعنی امور میں رقوم صرف کرنا (جیسا کہ آج نائٹ کلب اور کیبرہ ڈانس، سال نو کی خوشی یا دیگر راتوں میںعیاشی وفحاشی کا رواج ہے) بے حیا اور بدکردار عورتوں کی تعریف وتوصیف، گلوکاری، موسیقی اور عورتوں کو فحشا وفساد کی جانب راغب کرنے والے افراد کی خوشامد وچاپلوسی، حدود واحکام الٰہی کا معطل ہوجانا، حکم خدا کے خلاف فیصلہ کرنا، طلاق کی کثرت، امربالمعروف سے روکنا، مردوں کا سونے کے ذریعہ آرائش کرنا مثلا سونے کی انگوٹھی پہننا، نیززنازادوں کی بھرمار کا تذکرہ ملتا ہے۔ انہیں علامات میں شہر مقدس قم کی علمی مرکزیت اور اس کی حجیت اور اس شہر سے دوسرے شہروں تک علم دین کی تبلیغ وترویج بھی شامل ہے۔


جس طریقہ سے جزیرہ نمائے عرب اور عالمی سطح پر نظام کی خرابیوں اور انتظامی برائیوں اور کمزور طبقوں کے شدید اضطراب وبے چینی کی بدولت دنیا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی کے ظہور کا استقبال کرنے کے لئے آمادہ ہوچکی تھی اسی طرح آخری زمانہ میں بھی دنیا عظیم مصلح اورآپ کی ذریت واہلبیت کے جانشین کے ظہورکے لئے آمادہ ہوگی، اگرچہ عہد پیغمبر میں طویل مسافت، وسائل ارتباط کی قلت اور فکری سطح کے انحطاط کے باعث اقوام عالم کو اس ارفع واعلیٰ مقصد تک پہنچانا ممکن نہ ہوسکا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اسلام کے آفاقی پیغام کے ظہور کے باعث دنیا اس مقصد سے قریب ضرور ہوئی ہے اور اس کی جھلک صدر اسلام کی حق وانصاف پر مبنی پیغمبر اکرم کی حکومت اور امیرالمومنین کے دور حکومت کے ان صوبوں میں دیکھی جاسکتی ہے جہاں سلمان فارسی، حذیفہ یمانی، عمار یاسر، مقداد جیسے خاص اصحاب گورنر تھے۔

چودہ صدی قبل اگر قرآن مجید کایہ حریت بخش پیغام( تعالَوا الیٰ کلمة سواء بیننا وبینکم ) (۱) تمام اقوام عالم تک پہنچانے کے لئے طویل مدت درکار تھی تو آج زمان ومکان کے فاصلہ ختم ہوچکے ہیں آج عالمی نجات دہندہ کی آواز پوری دنیا کے کانوں تک پہنچ سکتی ہے اور بلا شبہ مستقبل میں ایسے وسائل مزید ترقی یافتہ اور فراواں ہوں گے۔

پیغمبراسلام نے قرآنی وعدہ کی تکمیل کے لئے شریعت ونبوت کے قوانین اوراپنی متعلقہ ذمہ داریوں کی حد تک مقدمات فراہم کردئے ہیں اور دوسرے مقدمات اور حالات کو آنے والے زمانہ کے حوالہ کردیا ہے، اور اسلام کی پیشین گوئی کے مطابق دھیرے دھیرے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں تعجب خیز تبدیلیاں رونما ہوں گی، قرآنی آیات اور متواتر روایات میں بہت صراحت کے ساتھ یہ بشارت موجو دہے کہ آخر ی زمانہ میں ایک عظیم مصلح ولی عصر حضرت حجة بن الحسن العسکری ارواح العالمین لہ الفدا کا ظہور ہوگا اور شرق وغرب عالم میں دین اسلام کا پرچم لہرائے گا اور ایک شخص

____________________

(۱)سورہ آل عمران آیت۶۴۔


بھی ایسا نہ ہوگا کہ جو کلمہ طیبہ ”توحید“ کا قائل نہ ہو۔

حضرت کے ظہور، علائم وخصوصیات اور ان سے متعلق جزئیات کے بارے میں شیعہ وسنی دونوں فرقوں کے اکابر علماء اور بڑے بڑے محدثین نے اپنی کتابوں میں متواتر، قطعی اور کثرت سے مشہور ومعروف روایات جمع کی ہیں کہ عقائد واحکام میں سے چندمسائل کے علاوہ کسی بھی مسئلہ میں اتنی روایات نظر نہیں آئیں۔ بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم کی رسالت اور آنحضرت کے ذریعہ بیان کی گئی غیبی باتوں پر ایمان کا لازمہ یہ ہے کہ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور اورآپ کے ہاتھوں اسلام کے آفاقی مذہب ہونے پر بھی ایمان لایا جائے۔

ہم بہت سے ایسے مذہبی امور اور اعتقادی مسائل پر عقیدہ رکھتے ہیں (اور عقیدہ ہونا بھی چاہئے)جن کے بارے میں صرف چند صحیح روایات ہی پائی جاتی ہیں توآخرکیا وجہ ہے کہ جس بات کی تائیدو تصدیق عقل وشریعت کرتی ہے، عہد پیغمبر سے لے کر آج تک جو علما ئے اسلام اور محدثین کرام کی توجہ کا مرکز رہی ہے جس کے بارے میں شیعہ علماء کے علاوہ اہل سنت کے متعدد علماء نے کتابیں لکھی ہیں ایک ہزار سے زائد روایات جس مسئلہ پر دلالت کرتی ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید کی بہت سی آیات کی تفسیر کی گئی ہو آخر اس پر عقیدہ کیوں نہ ہو؟ اس کا ایمان وعقیدہ تو اور مستحکم ہونا چاہئے۔

بے شک! ہمارا عقیدہ ہے اور ہمیں یقین کامل ہے کہ ایک دن نظام کائنات کی مہار بشریت کی صالح ترین فرد کے دست حق پرست میںہوگی اور انسانیت ظلم وستم، فقروفاقہ اور ہر طرح کی بدامنی سے نجات حاصل کرلے گی، ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا ایک تابناک مستقبل، روحانی وعقلی ترقی وتکامل اور مستحکم دینی والٰہی نظام اور صلح وآشتی، پختگی اور خیرسگالی کی جانب گامزن ہے۔

ہم بے کراں شوق ونشاط اور زندہ دلی کے ساتھ اس نورانی دور کی تمنا میں ثبات قدم کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مشغول ہیں اور شب نیمہ شعبان یعنی روز ولادت مصلح اعظم ومنجی بشریت کوعظیم عید سمجھتے ہیں اور ہر سال اس موقع پر چراغاں، جشن مسرت، محفل فضائل اور مدح وثنا کے گل نچھاور کرکے اس آستانہ کی غلامی کا اظہار کرتے ہیں جس کی پاسبانی ملائکہ کرتے ہیں اس طرح اپنے ایمان کے لئے نشاط تازہ کا سامان فراہم کرتے ہیں۔

ہم بارگاہ خداوندی میں دست بدعا ہیں کہ تمام شیعیان اہلبیت اور عشاق قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کو مذہبی شعائرکی تعظیم اور دینی وظائف پر عمل کرنے کی توفیق کرامت فرمائے۔

خداوند عالم ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں ان کے مددگاروں میں قرار دے آمین۔


ایک مصلح، دنیا جس کی منتظر ہے(۱)

جب دنیا سخت ترین اضطراب و بے چینی میں مبتلا ہوگی ہر طرف ظلم وتشدد کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے انسانیت کے درمیان سے امن اوربرادری ناپید ہوچکی ہوگی اور سربراہان حکومت اصلاح اور بڑھتے ہوئے فساد کو روکنے سے عاجز ہوں گے، جنگ وجدال، قتل وغارتگری اور اختلافات کے باعث نسل انسانی خطرہ میں پڑ جائے گی، خطرناک ایجادات اور اجتماعی قتل کے اسلحے ترقی کی منزل پر ہوں گے انسانی اقدار دم توڑ چکی ہوں گی اورا ن کی جگہ اخلاقی برائیوں کا دور دورہ ہوگا، کمزور اور چھوٹے ممالک اوراقوام کی حمایت وحفاظت کے نام پر وجود میں آنے والے اداروںسے بھی ضعیف اور مظلوم اقوام مایوس ہوچکی ہوں گی۔

خلاصہ یہ کہ جب ہر طرح کی خباثت، فحشا وفساد اور منکرات کا رواج ہوگا اس وقت کے لئے ایک عظیم مصلح الٰہی کے ظہور کی بشارت مکمل کوائف وخصوصیات کے ساتھ معتبر کتب ومآخذ اور متواتر

روایات میں دی گئی ہے، جس وقت یہ عظیم مصلح الٰہی قیام کرے گا تو نظام کائنات کی اصلاح کرے گا

اوراس کے وجود سے کائنات کو ہر طرح کی بدبختی سے نجات حاصل ہوگی، یہ عظیم مصلح پیغمبر اسلام صلی اللہ

____________________

(۱)یہ مقالہ رسالہ مکتب اسلام کے شمارہ نمبر ۳ میں ص۶/۱۰پر شائع ہوا ہے ۔


علیہ و آلہ وسلم کی ذریت اور علی وفاطمہ زہراسلام اللہ علیہماکی اولاد سے ہوگا۔

بے شمار راویوں سے منقول مشہور ومعروف حدیث:

یملاٴ الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجوراً “ کے مطابق وہ عظیم الشان مصلح، رو ئے زمین پر حق وعدالت کی حکومت کا پرچم لہرائے گا اور چھوٹے بڑے قصبوں، شہروں سے لے کر دیہاتوں تک دنیا کے چپہ چپہ پر نور اسلام جلوہ فگن ہوگا ہر جگہ قرآنی احکام نافذ ہوں گے،ذاتی اغراض ومنافع کی آلائش سے پاک الٰہی قوانین کی حکمرانی ہوگی ہر ادارہ خلق خدا کے آرام وآسائش اور فلاح وبہبود کے لئے کوشاں ہوگا،بہترین نظام کے تحت عملی واخلاقی کمالات کا سلسلہ شروع ہوگا اور اس طرح عمومی خوشحالی اور سطح زندگی کے معیار پر بہتری کے باعث روئے زمین پر کوئی فقیر نظر نہ آئے گا۔

یہ محض لفاظی یا خوش بیانی نہیں ہے بلکہ ان تمام جزئیات کے بارے میں فریقین نے مسلّم الثبوت روایات کا تذکرہ کیا ہے، جسکی تفصیلات ہم نے اپنی کتاب ”منتخب الاثر“ میں بیان کی ہیں۔

روایات کے مطالعہ سے ایسی پیشین گوئیاں بہت عجیب وغریب بلکہ بحد اعجاز نظرآتی ہیں کہ معصومین نے کئی صدی قبل ایسے حالات سے مطلع فرمایا ہے اس سے زیادہ باعث حیرت بات یہ ہے کہ صنعتی ترقی ہو یا اخلاقی انحطاط ہر میدان میں جو کچھ بھی رونما ہورہا ہے ”علائم ظہور“ کے عنوان سے ان تمام امور کا تذکرہ روایات میں موجود ہے۔

قرآن مجید کی متعدد آیات مثلا سورہ توبہ، سورہ صف یا سورہ انبیاء آیت ۱۰۵ ، سورہ نورآیت ۵۵ میں خدا کا یہ وعدہ ہے کہ دین اسلام عالمی دین ہوگا اور حضرت کے ظہور سے اس وعدہ کی تکمیل ہوگی،مصلح منتظر کے ظہور کی بشارت فریقین کی مسلم الثبوت اور قطعی روایات میں منقول ہے کہ پیغمبر اکرمنے فرمایا :

”کائنات کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ”مہدی موعود“ کا ظہور نہ ہوجائے اگر اس کائنات کی عمر کا صرف ایک دن باقی ہوگا تو خداوندعالم اسی دن کو اتنا طولانی کردے گا کہ یہ عظیم مصلح اپنے ظہور کے ذریعہ ظلم وجور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے“ ۔

حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے اوصاف وکمالات اور سیرت طیبہ، انداز ہدایت اور طرز حکومت، سے متعلق بھی بے شمار روایات وارد ہوئی ہیں۔ا سی طرح ابتدائے ولادت سے لیکر آپ کے امتیازات وخصوصیات، لوگوں کے ساتھ آپ کے برتاؤ، طول عمر، غیبت کے اسباب اور دور غیبت میں لوگوں کی ذمہ داریوں تک کے بارے میں روایات وارد ہوئی ہیں


اور ہزار سال سے زائد عرصہ سے بے شمار علماء ومحققین کی کتابوں کا محور ومرکز اور موضوع بحث قرار پائی ہیں، یہ مباحث اتنے وسیع ہوچکے ہیں کہ ان سب کا احاطہ اب کسی بھی محقق کے لئے ممکن نہیں ہے۔

راقم الحروف نے اپنی کتاب ”منتخب الاثر“ کی تالیف کے دوران مذکورہ بالا عناوین سے متعلق روایات تلاش کی ہیں ہم تمام روایات تک رسائی کے مدعی تو نہیں ہیں پھر بھی مذکورہ عناوین وموضوعات میں سے اکثر موضوعات سے متعلق روایات کا تواتر ثابت کرنے کی توفیق وسعادت حاصل ہوئی جسے قارئین کرام مذکورہ کتاب میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔

مقصود یہ ہے کہ جو شخص بھی شیعہ وسنی محدثین کی کتب یا جوامع حدیث کی ورق گردانی کرے یہ بات بہ آسانی اس کے علم میں آجائے گی کہ جس مقدار میں حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہسے متعلق احادیث موجود ہیں اس مقدار میں شائد ہی کسی موضوع سے متعلق روایات پائی جاتی ہوں

قطعی طور پر پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرنے کے بعد حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کا انکار کرنا اور اس پر ایمان وعقیدہ نہ رکھنا ممکن نہیں ہے، فریقین کے محدثین کرام نے حضرت علیہ السلام کی ولادت سے قبل بھی اپنی کتب میں آپ سے متعلق روایات نقل کی ہیں جس کے بعد کسی بھی مسلمان کے لئے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔

اس بشارت کے پورا ہونے کے لئے عالمی تغیرات، معاشرت کے موجودہ حالات اور مادی ترقی ان افراد کے لئے بھی امیدافزا ہے جو مسائل کو صرف ظاہری اسباب وعلل اور سطحی نگاہ سے دیکھنے کے قائل ہیں اوراس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ آخرکار ایک دن انسانیت حکومت الٰہی کے زیر سایہ پناہ حاصل کرے گی۔

انسان نے اگرچہ قدر تی قوتوں کو مسخر کرلیا ہے اور اس بات کا مدعی ہے کہ ایک گھنٹہ سے بھی کم مدت میں روئے زمین کے تمام جانداروں کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے لیکن اخلاق ومعنویات سے روگرداں اور گریزاں ہے اور اپنی خواہش کی تکمیل اور اپنے اقتدار پسند عزائم کو پورا کرنے کی کسی بھی کوشش سے باز نہیں آتا اور ہاتھ پیر مارتا رہتا ہے ایسے میں کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ انسان آرام سے بیٹھا رہے گا اور جنگ سے پرہیز کرے گا۔

کیا یہی چیزیں اس بات کا سبب نہیں ہوں گی کہ انسانیت کو عالمی انقلاب اور مختلف کوششوں کے باوجود اخلاق وتمدن کی نابودی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہ ہو، خدا اور قیامت کے ایمان کی بنیاد پر انسانیت دونوں ہاتھ پھیلا کر عادل پیشوا کی حکومت کا استقبال کرے۔


ہم ہی نہیں ہر مسلمان اس دن کا انتظار کررہا ہے، ہمیں انسانیت کا مستقبل روشن وتابناک نظرآتا ہے اس لئے نشاط وامید سے لبریز جذبہ کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوشاں رہتے ہیںہم بشریت کے آخری نجات دہندہ کی ولادت باسعادت کے پرمسرت موقع پر عالم انسانیت خصوصاً ان حضرات کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں جو مادیت کی تاریکی، ظالموں کے ظلم وستم اور تباہی وفساد سے جاں بلب ہیں۔

اللهم عجّل فرجه وسهل مخرجه واجعلنا من انصاره واعوانه

خدایا !امام زمانہ (عج)کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہم کو ان کے ناصراور مدد گاروںمیں قرار دے(آمین)

عالمی اسلامی معاشرہ(۱)

تمام مسلمانوں کایہ عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیتوں اورپیغمبر اکرم کی حدیثوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ کا پیغام اور آپ کی رسالت کوئی خصوصی دین اور علاقائی یاملکی سطح کی نبوت و رسالت نہیں تھی کہ جس سے صرف ایک سماج اور معاشرہ یا کسی خاص قوم و ملت یا علاقہ کی ہدایت و رہبری مقصود ہو اور اسلامی قوانین اور قرآنی احکام کسی ایک سماج یا معین ملک علاقہ یا کسی قوم و قبیلہ سے مخصوص نہیں ہیں ۔

عمومی تبلیغ

بلکہ اسلام کا پیغام پوری دنیا کے لئے ہے اور اسکے قوانین سب لوگوں کے واسطے ہیں اور وہ تمام مردوں،عورتوں ،مالدار ،فقیر ،کالے ،گورے،شہری یا دیہاتی بلکہ ہر طبقہ اور ہر صنف کے لئے ہدایت ہے(۲)

پیغمبر اسلام پوری کائنات کے لئے رحمت اور تمام عالمین کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے

____________________

(۱)یہ مقالہ مسجد اعظم کے کتب خانہ کے رسالہ میں شائع ہوا تھا ملاحظہ فرمائیے جلد ۲ شمارہ ۱۱۔

(۲)قرآن کریم کی وہ متعدد آیتیں ملاحظہ فرمائیں جن میں پیغمبر اکرم کی رسالت کے عام ہونے کی صراحت موجود ہے جیسے:وما اٴرسلنٰک الا رحمة للعالمین ان هو الا ذکر للعالمین قل یا ایهاالناس اني رسول الله الیکم جمیعا ً مَن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منه ۔


تھے ان کی رسالت تمام لوگوں کو بری عادتوں اور استعمار وطاغوت کی غلامی سے نجات دلانے ، توحید پر ایمان اور اخلاقی اقدارنیز انسانی حقوق کو ادا کرنے کی دعوت دینے کے لئے تھی ۔

ایک خدا کی عباد ت کی طرف دعوت دینا اور اس حسِین انداز سے تمام لوگوں کی ہدایت کرنا جس سے انکے اندر اتحاد کی فضا قائم ہو جائے ۔ ہر قسم کے فاصلے مٹ جائیں اور دوسروں پر ناحق کسی کو ترجیح دینے کا خاتمہ ہو سکے اور ایک عالمی سماج ، برادری اور ہر لحاظ سے نمونہ عمل شہر یا بستی کے قیام کے لئے کوشش کرنا یہ صرف اسلام کا ہی امتیاز ہے ۔

تمام اختلافات کی بنیاد در اصل خدائے وحدہ لاشریک سے منھ موڑنا اور غیر خدا کی عبادت کرنا ہے ۔

مختلف بنیادوں پر حکومتوں کا قیام اور انکے متضاد اور متصادم نظام اور ایک دوسرے کے مخالف قوانین یہ سب توحید کے معنی سے نا واقفیت ،خاص ماحول میں پرورش اور محدود ذہنیت کی بنیاد پر ہیں، اسلام کی عالمی رسالت کے فلسفہ پر توجہ اور عقیدہ توحید سے یہ بصیرت اور طہارت نظر پیدا ہوتی ہے کہ وہ سرحدوں اورزبانوں اور ہر طرح کے ضخیم پردوں کے پیچھے سے دنیا کے تمام علاقوں اور تمام لوگوں کو ایک انداز سے دیکھ لے اور اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کے سائے میں ایک عالمی حکومت قائم ہو جائے ۔

حقیقی توحید

اسلامی تبلیغ اور پیغام کا ایک اہم ستون، جس پر فلسفہ نبوت کا بھی دارو مدار ہے، وہ یہ ہے کہ ہر شریعت کا سرچشمہ اور تمام قوانین اور ہر طرح کے نظام کو بنانے والا، صرف خدا وند متعال ہی ہے، شریعتوں کے قوانین اور احکام سب اسی کی لازوال اور عالم و حکیم ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور لوگوں کو صر ف احکام خدا کے سامنے سرتسلیم خم کر نا چاہے


اورخدا کے علاوہ کسی دوسرے کے احکام کے آگے یا غیر اسلامی قوانین کے سامنے سر جھکانے کا مطلب اسلام کے راستہ سے انحراف ،شرک کی طرف توجہ اور حقیقی توحیدتک نہ پہنچنا ہے(۱)

احکام خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنا در حقیقت خدا کے سامنے سر جھکانا اور اس کی عبادت کرنا ہے اور جن حکومتوں اور قوانین کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کی پابندی کر نا غیر خدا کی عبادت اور ان کی غلامی کو قبول کرنا ہے ۔

جو شخص قانون اور احکام بنانے کو اپنا حق بھی سمجھتا ہو وہ خدا کے مخصوص افعال میں اپنے کو شریک قرار دیتا ہے اور جو شخص کسی دوسرے کے لئے ایسے حق کا اعتراف کرے تو اس نے اسکے خدا ہونے کا اقرارکیا ہے اور اس کی بندگی کو قبول کیا ہے ۔

الٰہی حکومت

اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کے اوپر صرف خدا اور احکام خدا کی حکومت رہے، اسی لئے اس نے اس دور میںشرک کی ان تمام قسموں کا مقابلہ کیا جو اُس وقت ایران،روم یا دوسرے علاقوں میں بادشاہوں کے احترام کے نام یا کسی اور دوسری شکل میں رائج تھیں ۔

رہبران اسلام جیسے حضرت علی نے ہر ایک کے لئے یہ واضح کر دیا کہ دور جاہلیت میں روم اور ایران کے اندر جس شاہی ٹھاٹ باٹ کا چلن تھا وہ سب خدا پرستی کی روح کے سراسر مخالف اور مقام انسانیت کی توہین ہے ، حضرت علی علیہ السلام جیساخلیفہ مسلمین جنکی ذات اور شخصیت کا ہر پہلو انسانیت کی

____________________

(۱)موجودہ دور کے ایک بڑے دانشمند نے اپنی کتاب میں قرآن مجید کی چند آیتیں ذکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالاہے کہ دین ،قوانین، حدود ،شریعت اور فکری و عملی نظام کا نام ہے۔لہٰذا اگر کسی شخص کے پاس قوانین و حدود کی پابندی کے وقت کوئی خدا ئی دلیل ہو تو وہ دین خدا کے دائرہ میں ہے لیکن اگر اسکے سامنے کسی شخص یا حاکم کا حکم معیار ہو تو اسے اسی کا پیرو کہا جائے گا اسی طرح اگر وہ کسی قبیلے کے سردار یا عوام الناس کی رائے کے ماتحت چلے تو اسے انہیں کے دین کا پابند قرار دیا جائے گا۔


عظمت کی علامت ہے وہ بنفس نفیس بہت سارے کام خود کیا کرتے تھے غریبوں کے لئے آٹا، روٹی یا کھجور لے جاتے تھے اور اگر لوگ زمانہ جاہلیت کی رسموں کے مطابق آپ کے احترام یا آپ کے اعزاز میں کوئی خاص اہتمام کرنا چاہتے تھے تو آپ ان کو سختی سے منع کر دیتے تھے پرانے اور پیوند لگے ہوئے کپڑوں میں ہر جگہ آتے جاتے تھے خود ہی بازار جاتے تھے اور وہاں سے گھر کا لازمی سامان خرید کر خود ہی اپنے گھر پہنچاتے تھے ۔

اولیائے خدا کا یہ اہتمام صرف اس لئے تھا تاکہ کوئی بھی اپنے کو کسی قوم کا حاکم اور لوگوں کی زندگی کا مالک و مختار نہ سمجھے بلکہ سب خدائی حکومت اور اسکے احکام کے دائرہ کے اندر رہیں اور تمام لوگوں کا حاکم اور ہا دی صرف خدا ہی ہو ۔

آزادی بشر کا اعلان

یہ آیہ کریمہ:( قل یا اٴهل الکتاب تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم ان لا نعبد الا اللّٰه ولا نشرک به شیئاً ولا یتخذ بعضنا بعضا ً اٴرباباً من دون اللّٰه ) (۱)

”اے پیغمبر آپ کہہ دیں کہ اہل کتاب آو ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کرلیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں کسی کو اسکا شریک نہ بنائیں اور خدا کے علاوہ آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کا درجہ نہ دیں “

یہ ہر طرح کی آزادی اور حریت کا اعلان ہے کہ خدا کے علاوہ کسی کا کوئی مالک اور صاحب اختیار نہیں ہے، کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ پوری قوم کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھے لہٰذا سب کو خدا کی حکومت کے دائرے میں داخل ہونا چاہئے کیونکہ وہی ہر ایک کا مالک و مختار ہے ۔ اس طرح پوری دنیا میں عدل و انصاف احسان ومساوات اور بھائی چارگی کا رواج پیدا ہو جائے اور ہر قسم کی اونچ نیچ

____________________

(۱)سورہ آل عمران آیت۶۴


اور دوریاں ختم ہو جائیں ۔

تیز رفتار ترقی

انہیں اصولوں کی وجہ سے اسلام نے ایک صدی سے کم مدت کے اندر برق رفتاری کے ساتھ ترقی کی، دل روشن و منور ہو گئے اور رومی و ایرانی قوموں نے اپنے حاکموں کے ظلم و بربریت کا جو تلخ مزہ چکھ رکھا تھا اوروہ ان کی کھو کھلی اور بے بنیاد عزت و احترام سے تنگ آچکے تھے، انسان پرستی کی وبا نے ان کو شقاوت و بد بختی کیبد ترین وادیوں میں ڈال رکھا تھا، وہ سب ان تعلیمات کے صدقہ میں جب بیدار ہو گئے(۱) تو انہیں ہوش آیا اور انہوں نے اپنے کو پہچانا ،چنانچہ جب وہ لوگ عوام اور رعایا کے ساتھ یا فوجیوں کے ساتھ اسلامی حاکموں کا اچھا برتاو دیکھتے تھے توانھیںبڑی خوشی ہوتی تھی، وہ اطمینان کی سانس لیتے تھے، انھوں نے آزادی کا ایسا مزہ چکھا کہ ایک دم اسلام کے دلدادہ اور عاشق ہو گئے،اگر خلافت اپنے راستے سے نہ بھٹکی ہوتی، خاص طور سے معاویہ جیسے لوگوں کی حکومت نے اگرقیصر وکسریٰ کے ٹھاٹ باٹ کو دوبارہ زندہ نہ کیا ہوتا، تو دنیا میں انسان پرستی کا کہیں نام و نشان بھی نہ ملتا ۔

مختصر یہ کہ اسلام اپنی ان تعلیمات کے ساتھ ایک نہ ایک دن پوری دنیا میں ایک عادلانہ

____________________

(۱)ہماری نظر میں انسان پرستی کا نقصان بت پرستی سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ انسان دوسروں کے ذریعہ احترام اورانکی تواضع و انکساری اور چاپلوسی کی وجہ سے مغرور ہو جاتا ہے اور اسکے اندر اس حد تک تکبر اور خود سری پیدا ہو جاتی ہے کہ دوسروں کی تنقیدوں یا مشوروں سے اس کی پیشانی پر بل پڑ جاتے ہیں اور وہ فرعونیت کا اظہار کرنے لگتا ہے اور اگر لوگ اس کی پوجا کریں یا اسکے سامنے سر تسلیم خم کئے رہیں تووہ اس سے لطف اندوز ہوتا ہے لیکن بت پرستی میں یہ نقصانات موجود نہیں ہےں یہ واقعاً بڑے ہی افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ دور کی موڈرن کہی جانے والی دنیا میں بھی یہ انسان پرستی نئی یا پرانی شکلوں میں آج بھی باقی ہے۔


حکومت قائم کرے گا کیونکہ اسکاپیغام دنیا کے ہر انسان کے لئے ہے اور اس کی نظر میں ہر کالا گورا خدا کے احکام کے سامنے برابر ہے ۔

اسلامی پرچم

دین حق تمام انسانوں کو صرف ایک پرچم تلے جمع کرتا ہے جسکا تعلق صرف خدا سے ہے اور کسی ملک ،حکومت ،قوم، قبیلے یا کسی شخص سے اس کی کوئی نسبت نہیں ہے اور اس طرح وہ پورے انسانی سماج کو ایک جسم کی طرح ایسا بنا دیتا ہے کہ:

اذا اشتکیٰ منہ عضو تداعیٰ لہ سائرُہ بالحُمّیٰ والسھر

یعنی جب کسی عضو میں کوئی درد پید ا ہوتا ہے تو دودسرے تمام اعضاء بھی بخار یا بیداری کے ذریعہ اسکے درد میں شریک ہو جاتے ہیں ۔

اسلام کے اس پر چم اورجھنڈے کی یہ خاصیت ہے کہ اسکے نیچے دنیا کے ہرملک اور ہر طرح کے لوگ ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسے اپنی یا اپنی قوم ا ور قبیلے کی طرف نسبت دے سکے کہ جس کے نتیجے میں ایک دوسرے سے تعصب پیدا ہو جائے ۔

اسلامی پرچم ایک ایسا پرچم ہے جس سے ہر پرانے اور نئے مسلمان کا رابطہ ہے، چاہے وہ کہیں رہتا ہواور اسکا تعلق کسی بھی سرزمین سے ہو، مختصر یہ کہ اسکے سائے میں ہر قسم کے قومی اور نسلی تعصب کا خاتمہ ہوتا ہے، لیکن دوسرے تمام پرچم چاہے وہ کسی نام سے ہوں ، اختلاف ،جدائی اور ذاتیات کی پہچان ہیں ۔

اسلام کا ہر قانون سب کے لئے یکساں ہے، اگر اس کی ان تعلیمات پر عمل کیا جائے تو وہ خود بخود تمام قوموں کو ایک عالمی برادری کی طرف لے جائے گا اور تمام قوموں کو ایک اسلامی قوم کے اندر ضم کرکے انہیں دونوں جہان میں سعادت مند بنا دے گا ۔


عالمی متحدہ حکومت

مختصر یہ کہ اسلام دنیا کے تمام انسانوں اور ہر معاشرے کا قانون ہے لیکن اس معنی میں وہ عالمی حکومت نہیں کہ جو”لاینس پالینک“ یا دوسرے مفکرین کا نظریہ ہے کہ وہ عالمی متحدہ حکومت کا نعرہ لگاتے ہیں اور عالمی متحدہ حکومت کا طرفداررسالہ انکے افکار کو نشر کرتا رہتا ہے کیونکہ اگر بالفرض دنیا میں ایک دن ایسی حکومت قائم بھی ہو گئی تو وہ بھی ایسی ہی ہوگی جیسے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ ( U.N.O )کے نام پر عالمی حکومت بنائی گئی اور جیسا کہ اس نظرئے کے مخالفین مثلاً ”اسٹراوس“ کا کہنا ہے کہ اس سے درد سری پیدا ہو گی اور لوگوں کی آزادی چھن جائے گی طاقتور کمزوروں پر مسلط ہو جائیں گے یا متحدہ عالمی حکومت کے مخالفین کے بقول اس دنیا میں موڈرن قسم کے مظالم کا راستہ کھل جائے گا کیونکہ انہوں نے جس متحدہ حکومت کا نظریہ پیش کیا ہے اسکا خدا اور توحید پر ایمان یا ایسے عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے جو سب کے لئے یکساں طور پر قابل قبول ہو اور اسکا دارو مدار ایک دوسرے کے حقوق یا تمام لوگوں کی آزادی کے اوپر نہیں ہے ۔

یہ لوگ جس حکومت کا نظریہ پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر پوری دنیا میں ایک متحدہ حکومت نہ ہو تو ایٹم بم جیسے مہلک اسلحوں کی دوڑ ایک نہ ایک دن پوری انسانیت کو نیست و نابود کر کے رکھ دے گی لہٰذا اس سے بچاو کے لئے ابھی سے دنیا کی تمام قوموں کو قانونی طور پر ایک عالمی سماج اور معاشرے کی بنیاد ڈالنا چاہئے ۔

ایسی کوئی حکومت وجود میں نہیں آسکتی اور بالفرض وجود میں آبھی جائے تو اسکے نفاذ کی کوئی ضمانت نہیں لی جا سکتی اور نہ ہی وہ لوگوں کی خواہشات اور جذبات پر قابو پاکر ان کی رہنمائی کر سکتی ہے اور نہ ہی اس سے دنیا میں ایک ایمانی اور انسانی برادری قائم ہو سکتی ہے۔

ایمانی برادری

لیکن اسلام جو کچھ بھی کہتا ہے اس کے مطابق اسکے نفاذ کی یقینی ضمانت موجود ہے اور ایمان و عقیدے سے اس کی پشت پناہی ہوتی ہے اور وہ لوگوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے نیزان کی خواہشات اور جذبات کوصحیح رخ پر لگاتا ہے ۔

جیسا کہ صدر اسلام میں اسکا عملی نمونہ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور آج بھی اسلامی ملکوں کی حد بندیوں کے باوجود کروڑوں مسلمان اپنے کو ایک ہی اسلامی معاشرے کا حصہ سمجھتے ہیں ، انکے اندر ایک دوسرے کے بارے میں یکساں طور پر بھائی چارگی کا احساس پایا جاتا ہے اور وہ لوگ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک رہنا چاہتے ہیں ۔


دنیا کے موجودہ یا اسلام سے پہلے کے ہر چھوٹے بڑے سماج اور معاشرہ کے مقابلہ میں اسلامی سماج اور معاشرہ کا امتیاز یہی ہے کہ اس معاشرے میں ہر چیز کی بنیاد اور اس کا مرکز خدا کی ذات اور اسکے احکام وتعلیمات ہی ہیں اور اسلام کے تعلیمات اس عالمی معاشرے کا نظم و نسق چلانے کے لئے ہر لحاظ اور ہراعتبار سے کافی ہیں ۔

ایمان کا کردار

اس عقیدہ کا مرکزی نقطہ اور بنیادی قلعہ عقیدہ توحید اور وحدہ لاشریک خدا پر ایمان رکھنا ہے، جو سب کا خالق اور رازق ہے اور جوشخص جتنا بڑا متقی ہوگا وہ اس سے اتنا ہی قریب ہوتا جائے گا، اس اسلامی معاشرے کا ایک حقیقی اور واقعی محور ہے جو کسی ایک شخص سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس سے ہر ایک کا رابطہ ہے جبکہ ”لاینس پالینک“ اور اس کے ساتھیوں کے عالمی معاشرے کی کوئی بنیاد اور مرکز نہیں ہے بلکہ انکے یہاں اس کی اصل وجہ سب کو جلا کر رکھ دینے والی عالمی جنگ کا خوف اور اس کی دہشت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔

اسلام عقیدہ توحید کے ذریعہ لوگوں کے انداز فکر کو تبدیل کرکے انکی فکروں کی سطح کو بلند کرتا ہے اور لوگوں کی سوجھ بوجھ اور وسعت نظر میں اضافہ کر دیتا ہے تاکہ وہ لوگ کسی جنگ یا مہلک اسلحوں کی وحشت اور خوف کے بغیر ایک دوسرے سے نزدیک ہو سکیں اور کسی بھی مسئلے کے بارے میں انکے درمیان بآسانی مفاہمت پیدا ہو سکے ۔

ہمیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ اسلام کی یہ عالمی حکومت ایک دن پوری دنیا کے نظم و نسق کو بخوبی چلائے گی اور تمام مذاہب ،تمام حکومتوں اورقوانین کی وحدت عملی شکل اختیار کرکے رہے گی اور جب تک دنیا میں یہ وحدت پیدا نہ ہوگی اسلام کے پیغام کا حق بخوبی ادا نہیں ہو سکتا ہے ۔

یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ دنیا میں اس اتحاد کے طرفدارو ں کی تعداد میں ہر دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ ایک عالمی حکومت کے قیام کی فکر سامنے آنے کی وجہ سے ہی عالمی اداروں کی بنیاد پڑی اگر چہ ایسے ادارے لوگوں کو دھوکہ میں رکھکر ان سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے ہی بنائے گئے ہیں لیکن اسکے با وجود یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک بین الاقوامی دینی ،سیاسی اور سماجی اتحاد، انسانی فطرت اور اس کی روح کی آواز ہے اور یہی مجازی تحریکیں در حقیقت بشریت کی جانب سے اسلام کی عالمی حکومت کی تیاریوں کی علامت ہے۔


اتحا دکی زمین ہموار ہو رہی ہے

گذشتہ دور میں ایک عالمی سماج اور معاشرے کے قیام کا نظریہ اس لئے بہت کم سامنے آتا تھا اور اس سے متعلق اسلامی تعلیمات پر توجہ نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ پہلے زمانے میں ارسال و ترسیل اور ایک دوسرے سے رابطہ پیدا کرنے کے وسائل موجود نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ایسی عالمی حکومت قائم ہونے کو دشوارہی نہیں بلکہ نا ممکن سمجھتے تھے لیکن آج ٹیلیفون،ٹیلیویژن، ریڈیو،کمپیوٹر،انٹرنیٹ، جہاز اور دوسرے ترقی یافتہ وسائل نے جس طرح تمام دنیا والوں کو ایک گھرمیں رہنے والوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے اسی طرح اس سے اسلامی تعلیمات کے سائے میں ایک عالمی حکومت کے قیام کا راستہ صاف ہو گیا ہے چنانچہ صنعت اور ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کرے گی اسلام کے بیش قیمت اور بلند و بالا احکامات کے لئے حالات اتنے ہی سازگار ہوتے چلے جائیں گے اور اولیائے الٰہی کی بشارتیں اپنی منزل سے اتنی ہی قریب ہو تی چلی جائیں گی آہستہ آہستہ انفرادی اورعلاقائی قدریں کمزور پڑتی نظر آئیں گی اور دنیا کی تمام قومیں اپنے مقدر کے فیصلہ میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر خود حصہ لے سکیں گی جسکے بعدتمام علاقائی نظاموں کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ تنہا نظام جو ان نظاموں کی جگہ پر آنے کے بعد پوری دنیا کے نظم و نسق کو عدل و انصاف کے ساتھ چلا سکے گا وہ اسلامی نظام ہی ہوگا۔

مختصر یہ کہ دنیا خود بخود اسلامی مقاصد کی طرف آگے بڑھتی جا رہی ہے اور ایک دن وہ ان تمام خود ساختہ قوانین، نظاموں اور سیاسی یا سماجی امتیازات اور اونچ نیچ کو پیچھے چھوڑ دیگی ،اسلامی مفاہمت کا ایک عام ماحول پیدا ہو جائے گا اور ظلم و ستم اور افراط وتفریط کا خاتمہ ہو گا(۱)

____________________

(۱)امریکی فلاسفر ”ویلم لوکا ریسون“ کا کہنا ہے :” بشریت کے لئے ہمیں ایک ملک ،ایک قانون ،ایک قاضی اور ایک حاکم کا اعتراف ہے دنیا کے تمام شہر ہمارے شہر اور دنیا کی ہر قوم والے ہمارے شہری اور ہمارے ہیں ہمیں اپنے شہروں کی سر زمین سے اتنی ہی محبت ہے جتنی کہ دوسرے شہروں سے محبت ہے“ البتہ امریکی اپنے اس نظریہ میں کس حد تک سچے یا جھوٹے ہیں اسکا فیصلہ دنیا والے خود کرینگے۔


مشہور اطالوی ادیب”دانٹہ“ نے کہا : پوری زمین اور اس پر جتنے لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں سب کو ایک حاکم کے ما تحت رہنا واجب ہے اور اسے ہر چیز کا اختیار ہو،تا کہ جنگ کی آگ نہ بھڑک سکے اور امن و آشتی قائم رہے ۔

فرانسوی ”نولیتر“نے یہ کہا ہے: کسی بھی شخص نے اس وقت تک اپنے شہروں کی سر بلندی کی آرزو نہیں کی جب تک اس نے دوسروں کی بدبختی اور انکے فنا ہونے کی آرزو نہیں کر لی ۔دوسرے مفکرین جیسے صموئیل وغیرہ کے بھی ایسے ہی نظریات ہیں جن سے ”ایک عالمی حکومت کے قیام “کے نظریہ کا پتہ چلتا ہے۔

اسلام نے شروع ہی سے اس روشن مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کی تھی اورآیات و روایات میں اسکا صاف صاف وعدہ کیا گیاہے اور بشر کو ایسے دن کا منتظر رہنے کے لئے کہاگیاہے کہ جس دن سب لوگ اسلامی پرچم کے نیچے جمع ہوجائیں گے اور سب کا دین و مذہب قومیت اور حکومت ایک ہی ہوگی اور ان میں ایسے عالی مرتبہ ہادی عالم کے ظہور کی بشارت دی گئی ہے جو پوری دنیا کا نظام چلا سکے اور اس کو عدل و انصاف سے بھر دے اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے سب کو اس کی شناخت بھی کرا دی ہے۔

قرآن مجید کی آیتیں

سورہ توبہ آیت ۳۳ ،سورہ فتح آیت ۲۸ اور سورہ صف کی ۹ ویں آیت میں خداوند عالم نے یہ ارشاد فرمایا ہے:

( هوالذی اٴرسل رسوله بالهدیٰ و دین الحق لیُظهره علی الدین کله )

وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنا ئے ۔

تمام مذاہب پر اسلام کے غلبہ کے وعدہ سے متعلق ان آیتوں کی دلالت بالکل واضح ہے ۔

سورہ انبیاء کی ۱۰۵ ویں آیت میں خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

( ولقد کتبنا فيا لزبور من بعد الذکر ان الاٴرض یرثها عبادي ا لصالحون )

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے۔

اس آیت میں بھی واضح اعلان ہے کہ زمین پر خدا کا اختیار ہے اور اسکے صالح بندے ہی اسکے مالک بنیں گے ۔


سورہ نور کی ۵۵ ویں آیت میں ارشاد فرمایا ہے:

( وعد الذین آمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنّهم فی الاٴرض )

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے۔

ان دونوں آیتوں میں واضح تاکیدوں کے بعد یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اسلام طاقتور ہو جائے گا اور انکا خوف و ہراس امن میں بدل جائے گا۔

سورہ قصص کی پانچویں آیت میں ارشاد ہے:

( و نرید ان نمن علی الذین استُضعفوافي الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثین )

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں ۔

احادیث اور تفسیروں کے مطابق یہ آیت بھی انہیں آیتوں میں سے ہے جن میں حضرت ولی عصرکے ظہور اور ان کی عالمی حکومت کی بشارت دی گئی ہے ۔

نہج البلاغہ اور دیگر بہت سی معتبر کتابوں میں امیر المومنین کا یہ ارشاد نقل ہواہے:

لتعطفنّ الدنیا علینا بعد شماسها عطف الضروس علی ولدها وتلیٰ عقیب ذلک و نرید ان نمن علی الذین استُضعفوافي الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثین (۱)

یہ دنیا منھ زوری دکھلانے کے بعد ایک دن ہماری طرف بہر حال جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی کو اپنے بچہ پر رحم آجاتا ہے اسکے بعد آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی ”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان بندوں پر احسان کریں جنھیںروئے زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں “

____________________

(۱)نہج البلاغہ حکمت۲۰۹


احادیث

شیعہ اور سنی دونوں کے یہاں متواتر حدیثوں سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلام پوری کائنات میں پھیل جائے گا اور کوئی گھر ایسا باقی نہیں رہے گا کہ جو اسلامی تعلیمات کے زیر اثر نہ آ جائے کوئی شہر اور دیہات ایسا نہ ہوگاجس میں ہر صبح و شام اذان اور توحید ورسالت کی گواہی کی آواز بلند نہ ہو جب ہر قوم انقلابی تحریکوں، فتنہ وفساد ،لوٹ مار، گھروں کو جلا کر راکھ کر دینے والی جنگوں ،قحط،مہنگائی اور بیماریوں سے تنگ آچکی ہوگی توخدا وند عالم دنیا کے حقیقی مصلح یعنی قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کو بھیجے گا تاکہ وہ ظلم و جور سے دنیا کے بھر جانے کے بعد اسے عدل و انصاف سے بھر دیں، آپ کے ظہور کی برکت سے ہرظلم اور بے چینی کا خاتمہ ہو جائے گا ،ہرجگہ امن وآشتی کا دور دورہ ہوگا۔ پوری دنیا میں ایک حکومت قائم ہو گی اور خدا وند عالم مشرق ومغرب کو آپ کے حوالے کر دے گا اور انہیں آپ کے ہاتھوں فتح کر دے گا۔

یہ روایات ان کلیدی اور معتبر کتابو ںمیںموجود ہیں جن پر اہلسنت اور شیعوں کا اعتماد ہے جن میں وہ کتابیں بھی شامل ہیں جو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور سے بہت پہلے یعنی پہلی صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں اور اہل نظر بخوبی واقف ہیں کہ رسول اکرم اور ائمہ معصومین اور صحابہ و تابعین کی احادیث و روایات میں جس کثرت کے ساتھ اس مسئلہ کا تذکرہ ہوا ہے اس کے مقابلے میں دوسرے مسائل کا تذکرہ بہت ہی کم ہے ،کیونکہ اس مصلح عالم اور کائنات کے نجات دینے والے کے ظہور کا ایمان در حقیقت پیغمبر اکرم کی صداقت اور آپ کی نبوت کی تصدیق کا اٹوٹ حصہ ہے اور یہ ایک الٰہی وعدہ ہے جو ہر گز غلط نہیں ہو سکتا:

( ان اللّٰه لا یخلف المیعاد ) (۱)

اور اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا۔

یہ وعدہ ظہور،الٰہی سنتوں اوربشریت نیز عالم ہستی کے ارتقائی سفر کے عین مطابق ہے اور خدا کے اسمائے حسنیٰ جیسے ’الحاکم‘ ’العادل‘ ’الظاہر ‘ ’الغالب‘ کی تائید ہے۔

( فلن تجد لسنة الله تبدیلا ولن تجد لسنة الله تحویلا ) (۲)

اور خدا کا طریقہ کار ہرگز بدلنے والا نہیں ہے اور نہ اس میں کسی طرح کا تغیر ہوسکتا ہے ۔

____________________

(۱)سورہ آل عمران آیت۹

(۲)سورہ فاطر آیت۴۳


دوسر ا حصه فلسفہ واسرار غیبت

غیبت کا راز

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کے فائدو ں اور اس کی مصلحت کے بارے میں گفتگو کرنے سے پہلے ہمیں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ انسان نے عام طریقوں سے اب تک جو بھی معلومات حاصل کی ہیں ان کے با وجودوہ موجودات دنیا کے تمام رازوں کو نہیں سمجھ پایا اور اگر علم ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں سال اور ترقی کر لے تب بھی انسان کی معلومات کی تعداد اسکے مجہولات کے مقابلہ میں بہت ہی مختصر اور نا چیز ہوگی اور ایک بڑے دانشورکے بقول”یہ ایک نا متناہی چیز کے مقابلہ میں بالکل نہ ہونے کے مثل ہے“ اور یہ بھی اُس صورت میں ہے کہ جب ہم تمام انسانوں کے علم کا حساب کریں لیکن اگر صرف ایک عالم اور دانشور کے علم پر نظر رکھیں تو پھر ابھی تک کشف اور واضح ہونے والے رازوں سے اسکا موازنہ کرنا کسی مضحکہ سے کم نہیں ہے اور اسے جہالت و نادانی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔

جب حضرت علی کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہیں:

سبحانک ما اعظم ما نری من خلقک وما اصغر عظیمَها في جنب ماغاب عنا من قدرتک

پاک و پاکیزہ ہے تو ،تیری وہ مخلوق کتنی عظیم ہے جو ہماری نگاہوں کے سامنے ہے اور اس کی عظمت کتنی چھوٹی ہے تیری اس قدرت کے مقابلہ میں جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔

تو پھر دوسروں کا حال تو خودبخود معلوم ہے !

لہٰذا کسی کے اندر یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اس عظیم کائنات کی کسی بھی خلقت کا راز معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اسکے وجود کے بارے میں اعتراض شروع کردے یا اس کائنات کے بعض نظاموں اور اسکے قوانین کو فضول سمجھنے لگے ۔

کوئی شخص بھی یقینی طور پر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا ہے کہ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی چیزمیں کوئی راز یا نکتہ پوشیدہ نہیں ہے جس طرح کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اسے دنیا کے تمام اسرار معلوم ہیں قدیم اور جدید علماء وفلاسفہ اوردانشوروں نے صرف اسی ادراک کو اپنے لئے باعث فخر قرار دیا ہے کہ :


ہر گز دلم نز علم محروم نشد

کم ماند ز اسرار کہ مفہوم نشد

میرا دل علم سے ہر گز محروم نہیں رہا

وہ راز کم ہیں جو میرے لئے واضح نہ ہو گئے ہوں

ہفتاد و دو سال جہد کردم شب وروز

معلومم شدکہ ھیچ معلوم نشد

۷۲ سال تک میں نے دن رات محنت کی ہے

اور صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ کچھ معلوم نہیں ہے

بہ جائی رسیدہ دانش من

کہ بدانم ھنوز نادانم

میرایہ علم صرف وہاں تک پہونچ سکا

کہ یہ جان سکوں کہ ابھی نادان ہوں


عرب کا ایک دانش مند اور حکیم شاعر کہتا ہے :

ما للتراب و للعلوم و ا نمّا

یسعیٰ لیعلم انه لا یعلم

مٹی اور علوم کے درمیان کیا رابطہ بلکہ وہ تویہ

کوشش کرتا ہے کہ یہ جا ن لے کہ و ہ جانتانہیں ہے

مشہور ہے کہ ایک عورت نے مشہور حکیم” بزرگ مہر“ سے کوئی سوال پوچھا حکیم نے اسے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے ۔

عورت نے کہا اے حکیم صاحب: بادشاہ سلامت تمہیںہر مہینے صرف اس لئے تنخواہ دیتے ہیں تاکہ تم اپنے علم و حکمت کے ذریعہ لوگوں کی مشکلات کو حل کر سکو !کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ میرے سوال کے جواب میں تم اپنی جہالت اور نادانی کا اقرار کر رہے ہو ؟

حکیم نے کہا : بادشاہ مجھے جو کچھ دیتا ہے وہ میری معلومات کے اعتبار سے دیتا ہے لیکن اگر وہ میرے مجہولات (جو چیزیں مجھے معلوم نہیں ہےں ان)کے اعتبارسے مجھے دینا چاہے تو وہ اپنا پورا خزانہ بھی خالی کر دے گا تب بھی میرے لئے کم رہے گا ۔

لہٰذا ہمیں مجہولات کو کشف کرنے اور اسرار کائنات کو جاننے کے لئے ہر دم کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اگر کسی جگہ پر ہماری تحقیق اور جستجوکا کوئی نتیجہ برا ٓمد نہ ہو سکا تو اسے اسکے موجود نہ ہونے کی دلیل قرار نہ دینا چاہئے ۔

مثلاً جب انسان کی آنکھیں طاقتورٹیلسکوپ اور میکروسکوپ سے مسلح نہیں تھیں تو اسے یہ حق نہیں تھا کہ وہ ذرہ کے برابر موجودات ،یا ان لاکھوں کرات کا انکار کر دے جو اس سے پہلے کشف نہیں ہوئے تھے ۔

جس طرح وہ حیوانات جو ہر رنگ نہیں دیکھ پاتے یا انہیں صرف ایک رنگ دکھائی دیتا ہے وہ ان رنگوں کا انکار نہیں کر سکتے جو انسان کو مختلف انداز سے دکھائی دیتے ہیں ،جس طرح کوئی سنی جانے والی اور نہ سنی جانے والی آوازوں اور ان کی امواج کا انکار نہیں کر سکتا ہے ۔


یہ قاعدہ تکوینی دنیا اور شرعی دنیا دونوں ہی جگہ جاری ہے دنیائے شریعت میں بھی بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کے فلسفہ و حکمت تک ہماری عقل نہیں پہونچ پاتی ہے اور ایسے احکام شریعت کا حال بھی بالکل بقیہ کائنات (عالم تکوین)کی طرح ہے لہٰذا جس طرح ہمیں کائنات کے بارے میں اس قسم کے اعتراض کا حق نہیں ہے اسی طرح شرعی مسائل میں بھی اعتراض کا حق نہیں ہے ۔

اگر ان دونوں مقامات (شریعت اور تکوین (کائنات))پر ہمیں کوئی ایسا مسئلہ دکھائی دے کہ صحیح عقل اور برہان اسکے خیرنہ ہونے یا شر (مضر)ہونے کا فیصلہ کر دیں تو ہمیں ناراض ہونے کا حق ہے ،لیکن آج تک شریعت اور کائنات میں ہمیں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی اور نہ کبھی آئندہ نظرآئے گی۔

اس مقدمہ کے بعد ہم کہتے ہیں : کہ امام زمانہ کی غیبت پر ایمان رکھنے کے لئے اسکا فلسفہ جاننا ہر گز ضروری نہیں ہے اور اگر بالفرض ہمیں اسکا کوئی راز معلوم نہ ہو سکا تب بھی ہمیں اسکا پختہ یقین رہے گا ، ہمیں اجمالا ًیہ معلوم ہے کہ اس غیبت میں بہت اہم فائدہ اور مصلحت پوشیدہ ہے ،لیکن ہمارے جاننے یا نہ جاننے سے اسکے ہونے یا نہ ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے جیسا کہ اگر ہم اصل مسئلہ غیبت کو ہی نہ جانتے ہوں تب بھی اس کا کوئی ضرر نہ ہوگا ۔

حضرت کی غیبت ایک انجام یافتہ امر الٰہی ہے جسکی اطلاع معتبر احادیث سے ہم تک پہونچی ہے اور اس مدت میں بہت سے بزرگوں نے آپ کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے۔

لہٰذااگر غیبت کے نہ جاننے اور اس کے واقع ہونے کے درمیان کسی قسم کا کوئی ربط نہیں ہے توہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں غیبت کا راز معلوم نہیں ہے اس کے باوجود ہمیں امام زمانہ کے وجود پر مکمل ایمان ہے بالکل اسی طرح جس طرح ہم بہت ساری چیزوں کا فائدہ نہیں جانتے ہیں مگر ان کے موجود ہونے کا ہمیں علم ہے۔


غیبت کے فوائد

واضح رہے کہ غیبت کے اسرار کے بارے میں سوالات کا آغاز ہمارے ہی زمانہ سے نہیں ہوا ہے اور اسکا تعلق صرف اِسی دور سے نہیں ہے بلکہ جب آپ کی غیبت شروع نہیںہوئی تھی حتی کہ آپ کی ولادت سے بہت پہلے جب پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین نے حضرت مہدی کے ظہور کی خبر دی تھی اسی وقت یہ سوالات سامنے آگئے تھے۔

آپ غیبت کیوں اختیار کرینگے ؟ اس غیبت کا فائدہ کیا ہے ؟

آپ کی غیبت کے دور میں آپ کے وجودسے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے گا؟

معصومین نے حضرت مہدی کے ظہور کی بشارت دینے کے ساتھ ہمیں ان سوالات کے جوابات سے بھی آگاہ کر دیا ہے جن میں سے بعض جوابات کو مختصر طور سے اس مقام پر ذکر کیا جا رہا ہے ۔

۱ ۔آپ کے ظہور کاسب سے اہم راز اور سب سے بڑی وجہ آپ کے ظہور کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی جیسا کہ جب جناب موسیٰ (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام) جناب خضر کے ساتھ گئے تھے تو ان کے کاموں کی حکمت اور راز اس وقت تک معلوم نہ ہو سکے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو گئے ۔

یا بالکل اسی طرح جیسے ہر موجود کی خلقت کا فائدہ چاہے وہ جمادات ہوں یا نباتات اور یا انسان اور حیوان ہوں ان کا فائدہ کئی مہینے یا کئی سال گذرنے کے بعد ظاہر ہو پاتا ہے ۔

۲ ۔اس غیبت کے کچھ اسرار معلوم ہیں جیسے یہ بندوں کا امتحان ہے کیونکہ غیبت کی وجہ سے خاص طور سے جبکہ اسکا راز معلوم نہ ہو تو لوگوں کے ایمان کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ تقدیر الٰہی کے بارے میں انکا ایمان کتنا قوی ہے ان کی زبان میں کتنی سچائی پائی جاتی ہے اس طرح غیبت کے زمانہ میں رونما ہونے والے حادثات میں تمام لوگ شدید ترین امتحانات میں مبتلا ہوتے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنے کافی الحال امکان نہیں ہے ۔


انہیں اسرار میں سے ایک رازیہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں دنیا کی تمام قومیں آہستہ آستہ علمی اخلاقی اور عملی طور پر اس مصلح حقیقی اور بشریت کے حالات کو سدھارنے والے کے ظہور کےلئے تیار ہو جائیں کیونکہ حضرت کا ظہور دوسرے تمام انبیاء کی طرح نہیں ہے جسکا دار و مدار ظاہری اور عام اسباب کے اوپر ہو بلکہ دنیا کی قیادت میں آپ کا طریقہ کار حقیقتوں پر مبنی ہوگا اور اصل حق کے مطابق حکم کریں گے اسکے علاوہ تقیہ سے پرہیز، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں سختی، تمام کارندوں اورذمہ داروں سے سخت مواخذہ (بازپرس)اور انکے کاموں کی کڑی نگرانی کرنا بھی آپ کی حکومت کا اہم حصہ ہے اور ان کاموں کی انجام دہی کے لئے علوم و معارف کے ارتقاء اور بشریت کی فکری اور اخلاقی ترقی بے حد ضروری ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کے دنیا میں چھا جانے اور قرآنی احکامات کی عالمی حکومت کے لئے و سائل فراہم رہےں۔

آخر میں لازم ہے کہ اپنے قارئین محترم کی مزید واقفیت کے لئے مسئلہ غیبت سے متعلق کچھ اہم کتابوں کی طرف اشارہ کر دیا جائے جیسے ”غیبت نعمانی“ غیبت شیخ طوسی اور ”کمال الدین وتمام النعمہ“ کیونکہ غیبت کے بعض اسرار کو سمجھنے کے لئے انکا مطالعہ نہایت مفید ہے۔

امید ہے کہ خدا وند عالم اپنے فضل و کرم سے حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کو نزدیک فرمائے اور ہماری آنکھوں کو انکے بے مثال جمال کے نور سے روشن کرے ، پوری دنیا میں ایک اسلامی حکومت قائم ہو اور دنیا کوجاہ طلب لوگوں کے ظلم و ستم اور متصادم سیاستوں کے نقصانات سے نجات عطا فرمائے ۔

بحق محمد و آله الطاهرین علیهم السلام


غیبت کی حکمت اور اس کا فلسفہ

( وقل رب زدنی علما ) (۱)

اور آپ کہتے رہیں کہ پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما۔

اکثر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انہیں چیزوں کی حقیقت اور واقعیت معلوم ہے اور انھوں نے جو کچھ دیکھا یا سنا یا پہنا اور چکھا ہے یا اسے چھوا ہے اسکے ذریعہ انہیں اس کی حقیقت معلوم ہو گئی ہے اور شاید اپنی نادانی کی طرف ان کی تھوڑی توجہ بھی نہ ہو ۔

جو کسان یا مالی (باغبان)کھیت اور باغ کے اندر کھیتی یا باغبانی میں مصروف ہے اسکا خیال یہ ہے کہ جن جن چیزوں سے اسکا سرو کار (رابطہ)ہے جیسے زمین مٹی، گھاس پھوس، پانی، بیج، جڑیں، تنا، ڈالی، پتے، کلی، پھل، دانہ، پتھر اور درختوں کی بیماریوں سے وہ نا واقف نہیں ہے اور یہ سب اسکے لئے مجہول نہیں ہیں، ایک معدن کا مزدور بھیڑ ،بکریوں اور گائے بھینس کا چرواہا سب کا یہی خیال ہے کہ انہوں نے کم ازکم اپنے ماتحت چیزوں کو پہچان لیا ہے ۔

جن لوگوں نے تھوڑی بہت تعلیم حاصل کی ہے وہ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں اسی لئے وہ اپنے کو عالم حقائق سمجھتے ہیں ۔

بجلی،معدنیات اورکھیتی باڑی کا ماہر، کھال ،اعصاب ،خون،ہڈی،دماغ وغیرہ کے اسپشلسٹ

____________________

(۱)سورہ طہ آیت۱۱۴۔


ڈاکٹر، ریاضیات، نجوم، نفسیات، ہستی شناس، علم کیمیا یا دوسرے علوم کے تمام ماہر ین ، اپنے علم و فن سے متعلق تمام چیزوں کوچاہے اچھی طرح پہچان لیں لیکن وہ ان کی حقیقت کو پہچاننے سے عاجز ہیں اور چاہے وہ جتنی مہارت حاصل کر لیں ان چیزوں کے بعض ظاہری آثار اورخاصیتوں کو پہچاننے کے علاوہ اس کی کوئی حقیقت بیان نہیں کر سکتے، نیز آئندہ بھی وہ جتنے زیادہ ماہر ہوتے چلے جائیں گے وہ اپنی بتائی ہوئی تعریفوں (اصطلاحوں) کے نقائص اور مشکلات سے اتنا ہی واقف ہوں گے۔

کیونکہ دنیا کے اندر پیچیدہ مسائل کا ایک اتنا طویل سلسلہ ہے کہ اس کی ابتداء و انتہا بشر سے بالکل پوشیدہ ہے اور اس سلسلہ کی ہر منزل اور ہر مرحلے پر اتنے راز اور معمے (گتھیاں)موجود ہیں جن کا صرف تصور ہی انسان کو حیرت میں ڈالنے کے لئے کافی ہے۔

”لیڈی اسٹور“ کا بیان ہے کہ اگر کوئی شخص صرف اس مقدار میں بولے جسکی حقیقت کو اس نے پہچان لیا ہے تو پوری کائنات کے اوپر ایک گہری خاموشی کی حکومت قائم ہو جائے گی(۱)

ادارہ رو کفلر کے نائب صدر ”وارین ویفر“نے کہا : کیا علم، جہل و نادانی سے جنگ جیت سکتا ہے ؟ جبکہ علم جس سوال کا جواب بھی پیش کر تا ہے اسکے سامنے کئی نئے سوالات پیدا ہو جاتے ہیں اور مجہولات کوکشف کرنے کے راستے میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اسے جہل کی تاریکیاں اتنی ہی زیادہ دکھائی دیتی ہیں ،علم بشر کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ احساس کہ اسمیں کوئی ترقی نہیں ہو رہی ہے اب بھی اپنی جگہ پر باقی ہے کیونکہ جن چیزوں کے بارے میں ہمیں معلومات حاصل ہوئی ہیں (انکی دریافت کرتے ہیں )اور ان کو نہیں سمجھ پاتے یا انکونہیں پہچانتے ہیں ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔(۲)

____________________

(۱) رسالہ:المختار من ریدرزدایجست صفحہ ۳۷/ نومبر۱۹۵۹

(۲)رسالہ ”المختار من ریدر دائجست صفحہ ۱۱۳ /اکتوبر۱۹۵۹


جی ہاں جس بشر نے اپنے تجربی اور حسی علوم کے ذریعہ بجلی، بھاپ، لوہا، پانی، مٹی ہوااور ایٹم کو مسخر کر لیا ہے اورآسمانی کرات بھی اس کی رسائی کے دائرے میں ہیں اور اس نے عناصر کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے نئی نئی ایجادات جیسے فون، ریڈیو اور ٹیلیویژن یا کمپیوٹر، بڑے بڑے صنعتی کارخانے اس نے بنائے ہیں اسکے باوجود آج بھی وہ ان چیزوں کی حقیقت جاننے سے قاصر ہے جن سے اسے دن رات سروکار رہتا ہے ۔

اس نے بجلی کی حقیقت ،پانی کی حقیقت ،عناصر کی حقیقت ،درختوں اور معدنوں ،جراثیم اور خلیوں، ایٹم ،الکٹرونوغیرہ کی حقیقتوں کو نہیں پہچانا ہے اور انکے بعض خصوصیات یا چند ظاہری چیزوں کے علاوہ اسے کچھ معلوم نہیںہو پایا اور یہ تمام چیزیں اسکے لئے آج بھی ایک پہیلی (معمہ) اورنہ سمجھ میں آنے والی گتھی بنی ہوئی ہیں ۔

ایک مفکر دانشور کے بقول جو لوگ انسان کی تعریف میں حیوان ناطق اور گھوڑے کی تعریف میں حیوان صاہل(ہنہنانے والا)کہتے ہیں یہ لوگ ان الفاظ سے اس کی اسی طرح شناخت کراتے ہیں اور علمی غرور نے انکے ذہن کے غبار ے میں اتنی ہوا بھر دی ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوںنے انسانوں اور گھوڑوں کی حقیقت کو پہچان لیا ہے۔

لیکن اگر انکے اس غبارے کی ہوا نکل جائے تو ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ اس تعریف کے ذریعہ نہ انہوں نے کسی انسان کوگھوڑے کی حقیقت سے واقف کیا ہے اور نہ خود ہی ان کی حقیقت کو سمجھ پائے ہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اشیاء کی حقیقت پہچنوانے کے لئے ان تعریفوں کو بیان نہ کیا جائے ۔

یہ انسان اپنے سے قریب ترین اشیاء کی حقیقت کو جاننے سے قاصر ہے کیونکہ اس کی روح سے زیادہ اور کوئی چیز اسکے نزدیک نہیں ہے تو کیا اس نے اپنی زندگی کو پہچان لیا ہے ؟اور کیا وہ روح اور حیات کی حقیقت کی وضاحت کر سکتا ہے ؟

کیا اسے اپنے بہت سارے فطری امور کی معرفت ہے ؟کیا وہ عشق و محبت لذت وصل، ذوق اور شجاعت یا دوسری فطری چیزوں کو سمجھتا ہے ؟


لیکن ان تمام دشواریوں اور جہالتوں کے باوجود کیا انسان صرف اس لئے ان حقیقتوں کا انکار کر سکتا ہے کہ اس کی عقل ان کو سمجھنے سے قاصر ہے یا اسکے اندر اتنی طاقت ہے کہ وہ ان کروڑوں، اربوں بلکہ ان سے بھی زیادہ مخلوقات اور عجیب وغریب اشیاء کا انکار کر دے جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور اسے معلوم نہیں ہیں؟ کیا وہ اس عالم ہستی کی ضخیم کتا ب کے کلمات کے معانی ،اسرارو خصوصیات اور اسکے فائدوں کا انکار کر سکتا ہے ؟

کیاہم کہہ سکتے ہیں کہ کیونکہ ہم نے فلاں چیز نہیں دیکھی لہٰذا اسکا کوئی وجود نہیں پایا جاتا یا کسی چیز کا راز اوراسکا فائدہ میری سمجھ میں نہیں آیا لہٰذا وہ بے فائدہ ہے اور اسمیں کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے؟

ہر گز ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا ! اور چاہے انسان کا علم و فن کتنی ہی ترقی کرلے وہ کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کرے گا بلکہ علم جتنا آگے بڑھے گا وہ اس قسم کے دعووں سے اتنا ہی دور رہے گا ۔

وہ آسمانی بجلی جس سے انسان ہزاروں سال تک ڈرتا رہا کیا اُس زمانہ میں کہ جب تک اسکے خصوصیات اور فائدوں تک سائنس کی رسائی نہیں ہوئی تھی اور خدا کی اس عظیم طاقت میں اس کی قدرت کا جو اعجازاور نشانیاںموجود ہیں اور نباتات یا حیوانات کے اوپر اسکا کیا اثر ہوتا ہے وہ ان سے آگاہ نہیں ہواتھا تو کیا اسکے اندر یہ منافع موجود نہیں تھے ؟اور کیا اس وقت وہ خدا وند عالم کی ایک عظیم نعمت نہیں تھی؟اور وہ لوگ جو اسے صرف نعمت یا عذاب کا ایک مظہر سمجھتے ہیں کیاوہ نا سمجھی کا شکار نہیں تھے ؟(۱)

ہر عالم اور دانشور دنیا کی عمارت کو منطق اور صحیح نظر کی بنیاد پر استوار سمجھتا ہے اور ان ظاہری

____________________

(۱)بجلی کے عجیب و غریب اہم فوائدکی تفصیلات کے لئے”الصواعق نعمة“ کے عنوان کا مقالہ ملاحظہ فرمائیے جو ماہنامہ رسالہ”بو بیلدرسائینس“ ”المختار من ریدرز دائجست“ شمارہ اکتوبر۱۹۵۹ ءء ص ۱۰۶ پر موجود ہے۔


چیزوں کو حقائق کا خزانہ قرار دیتا ہے اور اسے یہ کائنات ایک ایسا مدرسہ دکھائی دیتی ہے جس میںوہ علم و حکمت حاصل کرے وہ اس کے خصوصیات لوازم اور اجزاء کے بارے میں گفتگو کرنے سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اسکے یہی معمے اور اسرار اس کے لئے پر لطف چیز یں ہیں نیز پوری زندگی تعلیم اور تحقیق (انکشافات) کے میدان میں بسر کرنے کے بعد اسکے اندر حیرت اور استعجاب کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ اس کی علمی زندگی کی سب سے (با لذت)لذیذ اور پر کیف چیز ہے جس لذت سے کسی چیز کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ،وہ دنیا کو ریاضی اور علم ہندسہ کے اس پیجیدہ سوال کی طرح سمجھتا ہے جسکا حل کرنا بظاہر آسان ہے لیکن جب اسے حل کرنا چاہیں تو اسمیں جتنا آگے بڑھتے جائیں اس کی پیچیدگی اور گہرائی میں اتنا ہی اضافہ ہو تاجاتا ہے ۔

ایک مفکر اور فلسفی کے لئے یہ لمحات بڑے حسین اور پر کیف ہوتے ہیں اور وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی حیرت میں اور اضافہ ہوتا رہے اور وہ اس منزل تک پہونچ جائے کہ اسکویہ دکھائی دینے لگے کہ اس کی آنکھ ان تمام مجہولات (پوشیدہ چیزوں کو)دیکھنے والے آلات سے مسلح نہیں ہے اور پھر معرفت و بصیرت کے ساتھ قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کرے:

ولو انّ ما فيالا رض من شجرة اقلام و البحر یمدّہ من بعدہ سبعة ابحر ما نفدت کلمات اللہ۔(۱)

”اور اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر کا سہارا دینے کے لئے سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الٰہی تمام ہونے والے نہیں ہیں “۔

اور وہ یہ کہتا ہو ا دکھائی دے:

مجلس تمام گشت و بہ آخر رسید عمر

ما ہم چنان در اول وصف تو ماندہ ایم

مجلس ختم ہو گئی اور عمر تمام ہو گئی مگر ہم تیری توصیف کی شروعات میں ہی رکے رہ گئے ہیں۔

____________________

(۱)سورہ لقمان آیت۲۷


اسکے با وجود انسان ہر علمی میدان میں اپنی تمام تحقیقات نیز محنتوں اور مشقتوں سے اس دنیا کے پیدا کرنے والے کی حکمت ،منطق ،مقصد،ارادہ،قدرت اور اسکے علم سے واقف ہوتا ہے اور اسے بخوبی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بے نظمی نہیں ہے اور دنیا کی کسی مخلوق کو فضول یا بے فائدہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

یہ انسانی عاجزی (ناتوانی)اور اس کی فہم و شناخت کے مختلف طریقوں کی ایک مختصر سی جھلک تھی ، اور یہی اس کی عقل و خرد کی عجیب و غریب قدرت و طاقت کی دلیل بھی ہے ۔

ان خصوصیات کے بعد اگر وہ عالم تشریع یا عالم تکوین میں (کشف)ظاہر ہونے والی کسی بھی چیز کا فلسفہ نہ سمجھ پائے اور اس کی تاویل یا تشریح نہ کر سکے یا اس کی تعریف و توصیف کرتے وقت اسے الفاظ کا دامن (دائرہ)تنگ دکھائی دے تو وہ اسکے فائدہ کا انکار نہیں کر سکتا ۔

دنیائے حقیقت و معانی اور بشری علوم اور معلومات کی مثال ایسی ہے جیسے الفاظ اور معانی کے درمیان رابطہ ہوتا ہے، الفاظ کی دنیا چاہے جتنی وسیع اور کشادہ کیوں نہ ہو جائے پھر بھی وہ اپنے اندر تمام معانی کو نہیں سمیٹ سکتی ،کیونکہ زبانیں اور انکے الفاظ یا کلمات کی تعداد محدود ہے جبکہ معانی اور اشیاء (چیزیں)نا محدود ہیں اور یہ طے ہے کہ محدود چیز، نا محدود چیز کا احاطہ نہیں کر سکتی جیسا کہ ایک عربی شاعر نے کہا ہے:

وان قمیصا ً خیط من نسج تسعة

و عشرین حرفا عن معالیہ قاصر


ایک قمیص اگرچہ ۹ دھاگوں سے بنائی گئی ہے مگر بیس حروف بھی اس کے فضائل بیان کرنے سے قاصر ہیں ۔

اس حقیقت کو سب سے بہترین اور اچھے طریقہ سے قرآن مجید نے اس آیت میں بیان کیا ہے :

( قل لو کان البحر مداداً لکلمات ربي لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربيولو جئنا بمثله مدد ا ) (۱)

”آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کے کلمات کے لئے سمندر بھی روشنائی بن جائیں تو کلمات رب کے ختم ہونے سے پہلے ہی سارے سمندر ختم ہو جائیں گے چاہے ان کی مدد کے لئے ہم ویسے ہی سمندر اور بھی لے آئیں “

قرآن مجید نے آج سے چودہ صدی پہلے اس آیت میں کائنات کی مخلوقات کی عظمت اور ان کی بے شمار تعداد کو نہایت حسین انداز میں بیان کر دیا ہے جس کا علمی استحکام اور اعجاز سامنے آتا رہتا ہے اسکے علاوہ معصومین کی احادیث میں بھی اس حقیقت کو آشکار کیا گیا ہے مثلا ً اس وقت جبکہ انسان صرف تھوڑے سے ستاروں کو ہی پہچانتا تھا تو اس وقت کسی چیز کی کثرت میں مبالغہ کرنے کے لئے بارش کے قطروں ،ریت کے ذروں اور آسمان کے ستاروں کی مثال دیا کرتا تھا ۔

انسانی فہم و شعور اس دنیا کی حقیقتوں کو درک کرنے سے کتنا قاصر ہے اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے:

یا بن آدم لو اکل قلبک طائر لم یشبعہ و بصرک لو وضع علیہ خرت ابرة لغطاہ ترید ان تعرف بھا ملکوت السموات والارض۔(۲)

اے فرزند آدم ! اگر تیرا دل ایک پرندہ کھالے تو اس سے اسکا پیٹ نہیںبھر سکتا اور اگر تیری آنکھ کے اوپر ایک سوئی کی نوک رکھ دی جائے تو وہ اسے ڈھک لے گی اور پھر تو یہ چاہتا ہے کہ اسکے ذریعہ ملکوت آسمان و زمین کو پہچان لے ۔

اس تمہید کے بعد جو لوگ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی غیبت کے راز اور آپ کے پوشیدہ رہنے کا فلسفہ معلوم کرنا چاہتے ہیں ہم ان سے یہ کہیں گے :

آپ دریافت کیجئے اور غور و فکر سے کام لیجئے تحقیق اور جستجو فرمائیے ہمیں آپ کے تحقیق کرنے

یا آپ کے دریافت کرنے پر کوئی اعتراض نہ ہو گا،پوچھئیے اور تلاش میں لگے رہئے کیونکہ اگر آپ اس

____________________

(۱)سورہ لقمان آیت۲۷۔

(۲)حق الیقین ج ۱ص ۴۶۔


غیبت کی اصل وجہ اور اسکے حقیقی اسرار تک نہ بھی پہنچ سکے تو کم از کم اس کی بعض حکمتوں اور دوسری متعلقہ چیزوں سے تو آگاہ ہو جائیں گے، اور عین ممکن ہے کہ آپ اپنی اس جستجو کے ذریعہ کچھ نئی معلومات حاصل کر لیں ،لیکن اگر ان سوالات اور اس جستجو سے آپ کا مقصد صرف اعتراض کرنا ہے اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ غیبت کی وجہ معلوم نہ ہونے اور اسے سمجھنے سے اپنی عقل کے عاجز ہونے کوآپ اس کے نہ ہونے کی دلیل قرار دے دیں تو پھر آپ عقل و خرد سے بہت دور ہو چکے ہیں اور اس سے آپ کسی کے ایمان اور عقیدے کو کھوٹا ثابت نہیں کر سکتے ہیں ۔

کسی چیز کو نہ پانا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا کیا آپ کی نظر میں صرف یہی ایک چیز پوشیدہ اور نا معلوم ہے ؟ کیا آپ نے دنیا کی تمام موجودات کی خلقت کے راز کشف کر لئے ہیں ؟ دنیا کے اجزاء اور اسکے ظاہر و باطن کے بارے میں انسان کے ذہن میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں کیا آپ نے ان سب کا جواب تلاش کر لیا ہے ؟

کیونکہ ان کا راز آپ کو معلوم نہیں ہے تو کیا آپ انہیں بے فائدہ سمجھتے ہیں؟

کیا انکے فائدہ مند یا نقصا ن دہ ہونے کا معیار ہماری اور آپ کی عقل یاشعور ہے ؟

یا ایسا نہیں ہے بلکہ ان اسباب اور ان حکمتوں تک نہ پہنچ پانے کو آپ اپنی فکر و شعور اور استعداد کی نا توانی (کمزوری)کی دلیل قرار دیتے ہیں ؟

آپ کا یہ نظریہ ہے کہ اگر آپ کی عقل دوسرے آلات سے مسلح ہوتی اور ارسال و ترسیل (رابطے) کے موجودہ وسائل کے بجائے آپ کے پاس اس سے زیادہ پیش رفتہ وسائل (آلات)ہوتے تو دنیا کے اور بہت سارے اسرار معلوم ہوسکتے تھے ؟


اگر ایک دانشور، ان سوالات کا جواب دینا چاہے تو وہ یقیناً اپنی کمزوری کا ہی اعلان کرے گا اور ہر روز جو پوشیدہ (نا معلوم )چیزیں سامنے آرہی ہیں ان ہی پر نظر رکھنے کے بعد کسی چیز کے نہ جاننے کو اسکے موجود نہ ہونے کی دلیل نہ بنائے گا، اور اس دنیا کی ہر چیز میں بے شمار عجیب و غریب اسرار کا قائل ہونے کے بعد یہ کہتا دکھائی دے گا :

پشہ چون داند این باغ از کی است

کو بہاران زاد و مرگش دودی است

خود چو باشد پیش نور مستقر

کرو فرو اختیار بو البشر

پیہ پارہ آلت بینای او

گوشت پارہ آلت گویای او

مسمع او از دو قطعہ استخوان

مدرکش دو قطرہ خون یعنی جنان

کرمکی و از قذر آکندہ ای

طمطراقی در جہان افکندہ ای


اگر مچھر کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ باغ کس کا ہے؟بہا ر میں پیدا ہوا اور دھواں اس کی موت ہے۔اس کیخود جب نور کے سامنے ابو البشر کا کرّ وفرّ اور اختیار آتا ہے۔چربی کا ایک ٹکڑا اس کے دیکھنے کا آلہ (آنکھ)ہے گوشت کا ایک لوتھڑا (زبان)بولنے کا آلہ ہے ،اس کا کان دو ہڈیوں سے بنا ہے ،تیری ابتدا منی کے دو قطرے ہیں ،ایک کیڑا وہ بھی گندگی سے لت پت اورتونے پوری دنیا میں ہنگامہ مچا رکھا ہے ۔

لہٰذا غیبت کے فلسفہ کو جاننے کے اتنا پیچھے نہ پڑیں اور اس کے بارے میں سوال پر سوال نہ کریں غیبت ایک طے شدہ چیز (امر)ہے جو عالم وجود میں آ چکی ہے غیبت کا راز معلوم ہو سکے یا نہ معلوم ہو سکے غیبت شروع ہو چکی ہے اور آپ کا نہ جاننا ہر گز اس کی نفی اور اسکے باطل ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا ۔

ہمیں قضا و قدر کا یقین ہے اور ہم قرآن و اہلبیت کی ہدایت یا فلسفی معلومات اور براہین سے اسکے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہی ہیں ،لیکن کیا کوئی ایسا ہے جو قضا و قدر کے بارے میں سب کچھ بتا سکے ؟ اسی لئے اسکے بارے میں زیادہ سوچنے اور غور و فکر کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔

واد مظلم فلا تسلکوہ۔ ”یہ ایک تاریک وادی ہے لہٰذا اس میں گھسنے (چلنے) کی کوشش نہ کرو اور اس میں طلب (علم و معرفت)کے گھوڑے نہ دوڑاو کہ تھک کر چور چور ہو جاوگے ۔

در این وادی مران زنھار زنھار

کہ در اول قدم گردی گرفتار

شکار کس نہ شد عنقا بدوران

چرا دام افکنی ای مرد نادان


اس وادی میں طائر فکر کو پرواز نہ کر نے دو کہ پہلے ہی قدم پر جال میں گرفتار ہو جاو ،عنقا (سیمرغ)پرندہ کو کوئی شکار نہ کر سکا ،اے نادان تو کیوں جال بچھا رہا ہے(۱)

یہ جگہ صرف تسلیم و رضا اور ایمان کا مقام ہے لیکن بالکل بے دلیل ایمان بھی نہیں اور نہ ہی ایسا ایمان جس میں سو فیصد تسلیم و رضا ہو بلکہ یہ ایسا ایمان ہے جسکا سر چشمہ انسانی عقل اور اس کی فطرت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وحی کی زبان ،قرآن مجیدکی آیتوں ،متواتر حدیثوں،معجزوں اور مخصوص لوگوں کی سیرت اور انکے مکاشفات نے بھی اس کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے ۔

مختصر یہ کہ غیبت کے اسرار کے بارے میں جو کچھ کہا جائے اس میں اکثر وبیشتر کا تعلق اسکے فوائد و اثرات سے ہے اور اس کی اصل وجہ ہمارے لئے مجہول ہی ہے۔

اُن حدیثوں کے یہی معنی ہیں جن میں یہ آیا ہے کہ غیبت کاراز ظہور کے بعد ہی آشکار ہوگا جس طرح درختوں کی خلقت کا راز پھل ظاہر ہونے سے پہلے معلوم نہیں ہو پاتا اور بارش کی حکمت اس وقت تک نہیں معلوم ہوتی جب تک زمین زندہ نہ ہو جائے ،سبزہ نہ لہلہانے لگے ، باغ و بوستان اور گل وگلشن پر تازگی نہ آجائے ۔

شیخ صدوق نے اپنی کتاب” کمال الدین“ اور ”علل الشرائع“ میں اپنی سند کے ساتھ عبد اللہ بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ سنا ہے :

آپ نے فرمایا” صاحب الامر کے لئے یقیناایک غیبت ہو گی جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں

____________________

(۱) یہ دونوں شعر مولف کے والد کے گنج دانش یا صد پندسے نقل کئے گئے ہیں۔


ہے کہ اس دوران ہر اہل باطل شک وشبہہ میں مبتلا ہو جائے گا “میں نے عرض کی : میری جان آپ پر قربان !ایسا کیوں ہے ؟

فرمایا : اُس وجہ سے ،جس کو ظاہر کرنے کی ہمیں اجازت نہیں ہے ۔

میں نے عرض کی : ان کی غیبت کی حکمت کیا ہے؟

فرمایا : وہی حکمت ہے جو ان سے پہلے خدا کی حجتوں کے غائب ہونے کی حکمت تھی۔

یقیناً غیبت کی حکمت اسی وقت ظاہر ہوگی جب انکا ظہور ہو جائے گا بالکل اسی طرح جیسے حضرت خضر کے کام یعنی کشتی میں سوراخ کرنے ،لڑکے کو جان سے مار دینے اور دیوار بنا دینے کا راز جناب موسیٰ علیٰ نبینا و آلہ و علیہ السلام کو اسی وقت معلوم ہو پایا جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے ۔

اے فرزندِ فضل یہ غیبت، خداکے امور میں سے ایک امر، اسرار الٰہیہ میں سے ایک راز اور خدا کے علم غیب کا ایک حصہ ہے ،اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ خدا وند عالم حکیم ہے اور ہم نے یہ گواہی دی ہے کہ اسکا ہر قول و فعل حکمت کے مطابق ہے چاہے اسکا راز ہم سے پوشیدہ ہی کیوں نہ ہو(۱)

اس کے با وجود ہم یہاں پر غیبت کے بعض فوائد اور منافع کی وضاحت آئندہ چند صفحوںمیں پیش کریں گے جو عقلی اور سماجی (عرفی)اعتبار سے بالکل صحیح اور معقول ہیں اور روایات نیز اسلامی دانشمندوں اورمفکروں کے اقوال اور تحریروں میں انکا تذکرہ موجود ہے ۔

قتل ہونے کا خوف

( واٴوحینا الیٰ اٴم موسیٰ ان ارضعیه فاذا خفت علیه فاٴلقیه في الْیَمِّ و لا تخافيولاتحزنيانا رادّوه الیک و جاعلوه من المرسلینّ ) (۲)

____________________

(۱)منتخب الاثر مولفہ:مصنف،باب۲۸فصل۲ حدیث ۱۔

(۲)سورہ قصص آیت۷۔


اور ہم نے مادر موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنے بچے کودودھ پلاو اوراس کے بعد اس کی زندگی کا خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اوربالکل ڈرو نہیں اورپریشان نہ ہو کہ ہم اسے تمہاری طرف پلٹا دینے والے اوراسے مرسلین میں سے قرار دینے والے ہیں ۔

( ففررت منکم لما خفتکم فوهب لی ربی حکما و جعلنی من المرسلین ) (۱)

شیخ کلینی اور شیخ طوسی نے ”اصول کافی“ اور ”غیبت “ میں اپنی سند کے ذریعہ جناب زرارہ سے روایت نقل کی ہے کہ اما م جعفر صادق نے فرمایا ہے : ” قائم کے لئے قیام کرنے سے پہلے ایک غیبت ہے“میں نے عرض کی: کس لئے ؟ فرمایا: اس لئے کہ انہیں جان کا خطرہ ہے۔

جیسا کہ اس حدیث اور دوسری حدیثوں سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیبت کی ایک وجہ قتل ہونے کا خوف بھی ہے اور جس طرح اس خوف کا رابطہ غیبت کے شروع ہونے سے ہے اسی طرح اس کے باقی رہنے سے بھی اسکا تعلق ہے (غیبت کی شروعات اور اس کی بقا دونوں سے ہی اسکا تعلق ہے)

قتل کے خوف اور جان کی حفاظت ناممکن ہونے کی وجہ سے غیبت شروع ہوئی یہ ایک مسلم الثبوت بات ہے جسکی وضاحت تاریخ کی معتبر کتابوں کے اندر درج ہے ،کیونکہ بنی عباس کے حکمرانوں نے یہ سن رکھا تھا اور انہیں یہ بخوبی معلوم تھا کہ پیغمبر اکرم کے خاندان میں امیر المومنین اور جناب فاطمہ زہرا کی نسل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جس کے ذریعہ ظالموں اور جابروں کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ بچہ امام حسن عسکری کا فرزند ہوگا ،لہٰذا انہوں نے اسے قتل کرنے کی ٹھان لی اور فرعون نے جناب موسیٰ کو قتل کرنے کے لئے جو طریقہ کار اپنایا تھا انہوں نے بھی بالکل وہی کام کیا، آپ کی ولادت کی اطلاع حاصل کرنے کے لئے جاسوس چھوڑ دئے اور پھر آپ کی پیدائش کے بعد بھی اس کوشش میں لگے رہے کہ کسی طرح آپ کو گرفتار کر لیں لیکن خداوند عالم نے آپ کی حفاظت

____________________

(۱) پھر میں نے تم لوگوں کے خوف سے گریز اختیار کیا تو میرے رب نے مجھے نبوت عطا فرمائی اورمجھے اپنے نمائندوں میں قراردیا۔سورہ شعرا آیت۲۱۔


فرمائی اور آپ کے دشمنوں کو مایوس کر دیا اسی دوران ملک کے اندر بڑے پیمانے پر خانہ جنگی اور ”صاحب زنج“ کے انقلاب یا دوسری شورشوں کی وجہ سے بنی عباس نے بظاہر اس مسئلے کو ترک کر دیا،جیسا کہ سرداب مقدس کے قدیم دروازہ سے معلوم ہوتاہے۔

جو دروازہ بیش قیمت آثار قدیمہ میں شامل ہے اور بنی عباس کے عالم اور ایک بڑے شہنشاہ ’الناصردین اللہ “ کے دور کی یادگار ہے، اس دروازے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بادشاہ آپ کی ولادت اورغیبت کا ایمان رکھتا تھا اور اسماعیل ہرقلی کا واقعہ جو کشف الغمہ میں صحیح روایات میں نقل ہوا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بغداد کے ”مدرسہ مستنصریہ“ کا بانی خلیفہ ”المستنصر باللہ“ بھی حضرت کے بارے میں ایمان رکھتا تھا چنانچہ اس نے اسماعیل کو ایک ہزار دینار پیش کر کے امام کی بارگاہ میں عقیدت کا اظہار کرنا چاہا مگر اسماعیل نے امام کے حکم کی بنا پر انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا تو اس بات پر شدید ملال اور افسوس ہونے کی وجہ سے خلیفہ رو دیا۔

مختصر یہ کہ غیبت کی شروعات میں آپ کی جان کو خطرہ لاحق تھا اور اسمیں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کے دور کے حکام آپ کی طرف سے مسلسل تشویش کا شکار تھے اور وہ آپ کے وجود کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھتے تھے اور اگر انکے بس کی بات ہوتی تو وہ آپ کوفوراً شہید کر دیتے اس لئے آپ کی ولادت ان سے اسی طرح مخفی رہی جس طرح جناب موسیٰ علی نبینا و آلہ علیہ السلام کی ولادت فرعونیوں پر ظاہر نہیں ہو پائی تھی اور ولادت کے بعد بھی آپ ان کی نظروں سے پوشیدہ رہے اوروہ تمام کوششوں کے با وجود آپ کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

آپ کی غیبت کے جاری رہنے سے آپ کی جان کو لاحق خطرہ کا تعلق یہ ہے کہ اگرچہ خدا وند عالم اس بات پر ہر لحاظ سے قدرت رکھتا ہے کہ وہ جب کبھی چاہے اپنی قوت وطاقت کے سہارے آپ کو اس دنیا میں ظاہر کر دے اور اسباب و حالات فراہم ہونے سے پہلے ہی پوری دنیا کو آپ کے تسلط اور اختیار میں دے دے لیکن چونکہ خداوند عالم نے اس دنیا کا نظام اسباب ومسببات کے قاعدہ و قانون کے تحت بنایا ہے لہٰذا جب تک آپ کے ظہور کے اسباب فراہم نہ ہو جائیں گے آپ کے ظہور میں تاخیر ہوتی رہے گی اور اگر بالفرض حالات سازگار ہونے سے پہلے ہی ظہور ہو جائے تو آپ کی جان کو بہر حال خطرہ لاحق رہے گا۔


جیسا کہ اگر پیغمبر اکرم اپنی بعثت کے آغاز میں ہی جہاد کا اعلان کردیتے تو یہ جلدی کا اقدام ہو تا لیکن جب اس کا مناسب موقع آگیا تو آپ کے لئے دفاع اور جہاد کا حکم آگیا اور خدائی امداد بھی نازل ہونے لگی جسکی بنا پر اسلام نے کافی پیش رفت کی ۔

سوال :امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ اپنے آباء واجداد کی طرح کیوں ظاہر نہیں ہوتے تاکہ یا تو کامیاب و کامران ہوجائیں اور یا راہ خدا میں شہید کر دئے جائیں ۔

جواب:آپ کا ظہور خدا کے نور کو مکمل کرنے اورانبیاء و صالحین کی تبلیغ کو منزل مقصود تک پہونچانے اور پرچم اسلام و توحید کے زیر سایہ عدل و انصاف اور امن وآشتی اور قرآن مجید کے احکام کو نافذ کرنے کے لئے ہے۔

واضح رہے کہ جس کی نظر اتنے مقاصد کے اوپر ہواسکے لئے ضروری ہے کہ وہ ان حالات میں قیام کرے جب اس کی فتح اورکامیابی کا سو فیصد یقین ہو اور (جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے) حکمت الٰہی کی بنا پر غیبی امداد اور نصرت الٰہی نازل ہونے کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے پائے لیکن اگر اسکے لئے کوئی ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس سے ظہور کا یہ مقصد حاصل نہ ہو سکے تو یہ ظہور کی حکمت کے خلاف ہے(اس سے نقض غرض لازم آتا ہے )اور اس صورت میں بشریت کو وعدہ الٰہی پورا ہونے تک دوبارہ انتظار کرنا پڑے گا ۔


گردن پر کسی کی بیعت نہ ہونا

امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی ایک خصوصیت اور پہچان یہ ہے کہ آپ کی گردن پر کسی بھی ظالم و جابر اور ستمگر حاکم کی بیعت نہیں ہے اور آپ نے تقیہ میں بھی کسی کی بیعت نہیں کی آپ اس شان سے ظاہر ہونگے کہ کسی بھی طرح کے عادل یا فاسق و فاجر حاکم کے سامنے آپ کبھی بھی نہیں جھکے اور ظاہری طورپر بھی ان کی حکومتوں کی تائید نہیں کی، آپ خدا وند عالم کے ان اسماء ”العادل “ ،”الغالب “ ، ”الحاکم “ کے سب سے کامل مظہر ہیں ،روایات کے مطابق ایک ایسی شخصیت اسی لائق ہے کہ خداوندعالم کے علاوہ کسی اور کے ما تحت نہ رہے اور فاسق و فاجر حاکموں کی تائید کرنے سے دور رہے (چاہے وہ تائید تقیہ کی حالت میں کیوں نہ ہو )جیسا کہ بکثرت روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ تقیہ پر عمل نہ کریں گے اور حق کو آشکار کرکے باطل کو صفحہ ہستی سے محو کر دیں گے۔

مختصر یہ کہ غیبت کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ظہور کاوقت آنے سے پہلے اور ظہور کرنے کے لئے مامور ہونے سے پہلے آپ اپنے اجداد طاہرین کی طرح (چاہے تقیہ ہی کی حالت میں سہی)اپنے دور کے حاکموں کی بیعت کرنے پر مجبور نہیں ہونگے اسی لئے جب آپ ظہور کرینگے تو آپ کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی اور آپ نے خدا کے علاوہ کسی کی حکومت کو قبول نہ کیا ہوگا۔

یہ سبب ”کمال الدین “باب ۴۸ باب علت غیبت ”عیون“ اور ”علل الشرائع“ جیسی کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں کے اندر متعدد احادیث میں مذکور ہے ان میں سے ایک ہشام بن سالم کی روایت بھی ہے جسمیں امام جعفر صادق نے فرمایا ہے:

”یقوم القائم و لیس فی عنقہ بیعة لاحد“

جب قائم (آل محمد )قیام کریں گے تو ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی۔

حسن بن فضال سے روایت ہے کہ جب امام نے یہ خبر دی کہ امام حسن عسکری کی وفات کے بعد غیبت ہوگی تو انہوں نے سوال کیا کس لئے ؟

امام رضا نے فرمایا تاکہ جب وہ تلوار لیکر قیام کریں تو ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہو۔


امتحان

غیبت کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اس سے شیعوں کا ایمان خالص ہو گا اور اسکے ذریعہ ان کے عقیدے اور ان کی معرفت کا امتحان مقصود ہے ۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اور دین و شریعت نیز آیات و روایات اور اہل شریعت کی سیرت اس کی بہترین دلیل ہے کہ خدا وند عالم کی ایک سنت جو ہمیشہ قائم ودائم ہے وہ بندگان خدا کا امتحان اور ان کی آزمائش بھی ہے تاکہ اسکے ذریعہ نیک،صالح اور لائق افراد کا انتخاب کیا جا سکے، موت و حیات ،غربت اور مالداری ،صحت اور بیماری، عہدہ اور مقام ،نعمت کا ہونا (وجود) اور نہ ہونا،(فقدان) حالات زمانہ کی گردش، پریشانیا ں اور مشکلا ت،خوشیاں اور مسرتیں یہ سب مومنین کے ایمان میں خلوص، ان کی تربیت،امتحان، ریاضت، ان کے کمالات کا اظہار، ان کی صلاحیتوں، ان کی شخصیت ایمان ،صبر و استقامت اور خدائی احکام کے سامنے انکے درجہ تسلیم و رضا کو پہچاننے کا ذریعہ ہیں ۔

جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دو وجہوں کی بنا پر حضرت مہدی کی غیبت سب سے اہم امتحان الٰہی ہے(۱)

____________________

(۱)ملاحظہ کریں مولف کی کتاب ”منتخب الاثر“ فصل ۲،باب ۲۸ اور ۴۷۔


پہلی وجہ:غیبت کیونکہ بہت طولانی ہوگی اس لئے اکثر لوگ شک و شبہہ کا شکار ہوجائیں گے جبکہ بعض لوگ آپ کی ولادت یا آپ کے زندہ رہنے کے بارے میں شک کریں گے اور صرف مخلص صاحبان معرفت اورتجربہ کار لوگوں کے علاوہ کوئی شخص بھی آپ کی امامت کے عقیدہ پر باقی نہ رہے گا جیسا کہ پیغمبر اکرم کی ایک معروف روایت میں ہے جسے جناب جابر نے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

ذلک الذی یغیب عن شیعته و اٴولیائه لا یثبت فیها علی القول بامامته الا مَن امتحن الله قلبه للایمان (۱)

وہ اپنے شیعوں اور چاہنے والوں کی نظروں سے غائب ہو جائے گا اور اُس شخص کے علاوہ اس کی امامت کاکوئی قائل نہ رہ جائے جسکے دل کا خداوند عالم نے ایمان کے لئے امتحان لے رکھاہے۔

اور یہ واضح ہے کہ آپ کے موجود ہونے اور آپکی طولانی عمر اور غیبت نیز ظہور کا طولانی انتظار اور غیبت پر ایمان رکھنا یہ سب باتیں پیغمبر اکرم اور ائمہ طاہرین کی پیشین گوئیوں اور غیب سے متعلق خبروں پر حسن اعتماد ،قدرت الٰہی پر ایمان اور دینی نظام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی (مقدارکی ) علامت ہے کیونکہ غیبی چیزوں کے بارے میں کامل اور سچا یقین صرف انہیں کو حاصل ہے جو متقی وپرہیزگار اور اہل یقین ہیں اور وسوسے کی تاریکیوں سے نکل کر اطمینان نفس اور عقیدہ میں استقامت اور ثبات قدم کی منزل تک پہونچ چکے ہیں اور ان کے دل ہدایت الٰہیہ سے روشن ومنور ہیں نیز وہ شکوک و شبہات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور دینداری اور امامت کے راستے میں ان کے قدموں میں کبھی لغزش پیدا نہیں ہوتی ۔

دوسری وجہ: غیبت کے دور میں پیش آنے والی وہ مشکلات اور ناگوار حوادث اور حالات زمانہ کا الٹ پھیر ہے جو لوگوں کو اس طرح منقلب کر ڈالے گا کہ جسکے بعد ایمان کی حفاظت کرنا بہت

____________________

(۱)گذشتہ حوالہ فصل۱باب۸ح۴۔


مشکل مرحلہ ہے اور لوگوں کا ایمان بہت بڑے خطرات سے دو چار ہوگا جیسا کہ امام جعفر صادق نے فرمایا ہے : جو شخص غیبت کے زمانہ میں اپنے دین کا پابند رہنا چاہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے خاردار شاخ پر اسکے کانٹے صاف کرنے کے لئے ہاتھ مارے پھر امام نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے اس کی وضاحت کی اور یہ فرمایا: اس صاحب امر کی ایک غیبت ہے لہٰذا ہر بندہ خدا پرہیز گاری سے کام لے(اورخدا سے ڈرے )اور اسکے دین سے متمسک (وابستہ)رہے۔

حدیث کی عربی عبارت یہ ہے:

ان لصاحب هذا الامرغیبة المتمسک فیها بدینه کالخارط للقُتَاد ثم قال : هٰکذا بیده ثم قال ان لصاحب هذا الامرغیبةٌ فلیتق اللّٰه عبدَه وَلْیتمسَّک بدینه ۔(۱)

غیبت کے زمانے میں دنیا کی ظاہری آرائشیں اور چمک دمک جتنی زیادہ پر فریب ہونگی لوگوں کے لئے گناہوں ،برائیوں اور حیوانی لذتوں کے امکانات اتنے ہی زیادہ فراہم ہو ں گے ہر طرف لہو و لعب اور ناچ گا نے کا دور دورہ ہوگا ،نا محرم مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھیں گے، آمدنی کے حرام ذرائع عام بات اور قانونی سمجھے جائیں گے، اکثر لوگوں کی آمدنی ناجائز (حرام) راستوں سے ہوگی اور مومن کے لئے تلوار کا ایک وار سہنا ایک حلال درہم حاصل کرنے سے آسان ہوگا لوگوں پر مادیت اور دنیا پرستی کا تسلط ہوگا منصب اور عہدے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں پہونچ جائیں گے جنہیں احکام خدا کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کام کاج میں عورتوں کا عمل دخل ہوگا، سود،شراب کی خرید و فروخت اور شراب نوشی، جوا، بے حیائی (بدکاری)کا کھلا چلن ہوگا۔

دیندار اور مومن ،ذلیل و خوار اور بدکار ،بد معاش اور بے دین لوگ بظاہر صاحب عزت بن بیٹھیں گے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرمتروک ہو جائے گا اور اسکے بر عکس نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی کہا

____________________

(۱)کمال الدین ج۲ص۱۶ ح ۳۴ ب ۳۴ اور مولف کی کتاب منتخب الاثر فصل۲ ب۲۷ج۱۰۔


جائے گا گناہ و معصیت اور ظالموں کے کاموں میں شرکت فخر کی بات ہوگی ،امانت کو مال غنیمت اور صدقہ کوگھاٹا سمجھا جائے گا۔

اسلامی آداب اور رسم و رواج کے بجائے کفار کی رسموں کو قانونی حیثیت دی جائے گی اہل حق خانہ نشین ہونگے اور نالائق ایمان سے بے بہرہ لوگوں کو ہر چیز پر اختیار حاصل ہوگا عورتیں انتہائی بے حیائی کے ساتھ تمام اسلامی احکام کو بالائے طاق رکھکر دور جاہلیت کی صورتحال کی طرف پلٹ جائیں گی کفار کے تسلط ،اشرار کی غنڈہ گردی کی وجہ سے مومنین ایسے دباو کا شکار اور اس طرح آزادی سے محروم ہوجائیں گے کہ کسی کے اندر علی الاعلان خدا کانام لینے کی طاقت نہ ہوگی اور ایمان کی حفاظت اتنا سخت مرحلہ ہوگا کہ ایک شخص صبح کو مومن اور مسلمان ہوگا اور رات تک اسلام سے خارج ہوکر کا فر ہو چکا ہوگا ۔

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : یہ امر (ظہور) تمہارے سامنے نہیں آئے گا مگر ناامیدی کے بعد ۔خدا کی قسم یہ اس وقت تک ظاہر نہ ہوگا جب تک تم (مومن اور منافق) ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جاو ۔خدا کی قسم یہ اس وقت تک ظاہر نہ ہوگا جب تک جسے بد قسمت (شقی)ہونا ہے وہ بد بخت اور شقی نہ ہو جائے اور جس کو سعید (خوش قسمت )ہونا ہے وہ خوش قسمت نہ ہو جائے(۱)

ابن عباس سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا : ان کی غیبت کے زمانہ میں ان کی امامت کے عقیدے پر ثابت قدم رہنے والے سرخ سونے سے بھی زیادہ نایاب ہونگے یہ سن کر جناب جابر کھڑے ہوگئے اور عرض کی:

یارسول اللہ! آپ کی اولاد میں سے قائم کے لئے غیبت ہے ؟

____________________

(۱)کمال الدین ج۲ب۳۴ص۱۵ح۳۱


آپ نے فرمایا : ہاں میرے پرور دگار کی قسم ایسی غیبت جو ایمان کو خالص کر دے اور کفار کو محو کر دے اے جابر! یہ خدا کے امور میں سے ایک امر (بڑا کام) اور خدا کے رازوں میں سے ایک ایسا راز ہے جو بندوں کے اوپر پوشیدہ ہے لہٰذا اسمیں شک کرنے سے ڈرتے رہنا کیونکہ خدا وند عالم کے کاموں میں شک کرنا یقیناً کفر ہے(۱)

عبد الرحمٰن بن سلیط کی روایت کے مطابق امام حسین نے فرمایا ہے :

ہمارے درمیان سے بارہ مہدی (ہدایت یافتہ)ہونگے جن میں سب سے پہلے امیرالمومنین علی بن ابی طالب اور آخری میرا نواں فرزندہے وہ امام قائم(عج) ہے جو حق کے ساتھ قیام کرے گا جسکے ذریعہ خدا وند عالم مردہ زمین کو زندگی عطا کرے گا اور اس کے ذریعہ دین کو ظاہر کرے گا اور ہر دین پر فتح عطا کرے گا اگر چہ مشرکین کو یہ ناگوار ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے ایک ایسی غیبت ہے جسمیں کچھ لوگ دین سے منحرف ہو کر مرتد ہو جائیں گے اور کچھ لوگ اپنے دین پر باقی رہ کر مشکلات کا شکار ہونگے ان سے کہا جائے گا : کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ (قائم کا ظہور کب ہوگا) یاد رکھو! ان کی غیبت میں مشکلات اور دشمنوں کی تکذیب پر صبر کرنے والاپیغمبراکرم کی رکاب میں آپ کے سامنے جہاد کرنے والوں کی طرح ہے(۲)

واضح رہے کہ اس امتحان کی شدت کے بارے میں بہت زیادہ حدیثیں موجود ہیں ملاحظہ فرمائیے ”غیبت نعمانی “ ، ”غیبت“ شیخ طوسی اور شیخ صدوق کی کتاب ”کمال الدین“ اور اس حقیر کی کتاب ”منتخب الاثر“۔

____________________

(۱)کمال الدین ج۱ ب۲۶ ص۴۰۴ ح ۷۔

(۲)کمال الدین ج اب ۳۰ ص ۴۳۴ ح ۳۔


حالات سازگار ہونے کا انتظار

غیبت کی ایک مصلحت انسانی صلاحیتوں (اور استعدادوں )کی تکمیل اور ان کو فکری اور ذہنی اعتبار سے آپ کے ظہور کے لئے تیار کرنا ہے کیونکہ آپ کا طریقہ کار ظاہری باتوں کی رعایت یاظاہر پر حکم کرنا نہیں ہے بلکہ آپ کا دارومدار حق اور حقیقت کا خیال رکھنا اور اسی کے مطابق حکم کرنا اور اسمیں تقیہ سے پرہیز، دینی معاملات، دوسروں کے حقوق، ناحق لئے جانے والے اموال کی واپسی، حقیقی انصاف قائم کرنا اور تما م اسلامی احکام کو کسی رعایت اور چشم پوشی کے بغیر نافذ کرناہے۔

اسلام دشمن طاقتوں اور اصلاحات کے مخالفین اور عہدہ پرست اہل سیاست نے جتنے نظام بنا رکھے ہیں وہ ان سب کو ختم کر کے ان کی جگہ اسلام کے ان قوانین اور احکام کو زندہ اور نافذ کریں گے جنکو انہوں نے مٹا رکھا ہے اور آپ کے جد اکرم حضرت محمد مصطفیٰ جو دین لیکر آئے تھے اور دنیا کے جاہ طلب اور سر پھرے حاکموں کے ناحق دباو اور مظالم کی بنا پرجس کی کوئی قانونی یا سماجی حیثیت نہیں رہ گئی تھی وہ اسے پھر سے قانونی حیثیت عطا کرےنگے اور پوری کائنات کو اسلام اور قرآن کے پیغامات کی طرف واپس پلٹائیں گے ،صاحبان منصب اور لوگوں کے کاموں کے ذمہ دار افراد سے سختی کے ساتھ پوچھ گچھ ہو گی اور مجرموں نیز گناہگاروں کے لئے کسی قسم کی رعایت یاچھوٹ نہیں ہوگی اور ہر طرف اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی ۔

یہ طے ہے کہ ایسے ہمہ جہت انقلاب اور نظام کے لئے بشر کی علمی،فکری اوراخلاقی ترقی نیز لوگوں کے اندر اس تحریک کو قبول کرنے اور اسے ماننے کی آمادگی اور اس عظیم الشان ہادی کی رہبرانہ (قائدانہ) صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ اسکے علاوہ آپ کے مخصوص اصحاب جو آپ کی مدد میں ثابت قدم اور معرفت وبصیرت کے لحاظ سے کامل ہوں وہ بھی احادیث میں بیان شدہ تعداد کے برابر ہو جائیں، دنیا کی فضا ایسے ظہور کے لئے ہموار ہو جائے اور دنیا کی تمام قومیں اچھی طرح یہ سمجھ لیں کہ اس سے پہلے جتنے بھی نظام حکومت اور سیاسی یا اقتصادی مکاتب فکر سامنے آئے وہ کسی درد کی دوا نہیں ہیں اور حقوق بشر کے لئے قائم کئے جانے والے عالمی ادارے، بڑے بڑے بین الاقوامی اجتماعات اور کانفرنسیں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے ،اب تک جو کچھ بھی اصلاحی اور تعمیری پروگرام بنے ہیں یا آئندہ بنائے جائیں گے ان کے بارے میں مایوسی سب کو اپنی گرفت میں لے لے جیسا کہ روایات میں ہے کہ بے حیائی اور فحاشی اتنی عام ہو جائے کہ جانوروں کی طرح سڑکوں پر کھلے عام مردوں اور عورتوں کو بدکاری میں کوئی شرم محسوس نہ ہو اور شرم وحیاء اور غیرت کا جنازہ نکل جائے۔


جیسا کہ ہمیں دکھائی دے رہا ہے کہ جتنے منصوبے بھی بنائے جاتے ہیں اور جو لائحہ عمل بھی تیار ہوتا ہے وہ سب تہذیب و تمدن کے برخلاف ہے اور اس سے ظلم وستم یا برائیوں کو بڑھا وا ملتا ہے جس سے لوگوں کے اندر پریشانی واضطراب پیدا ہوتا ہے اور روحانی (نفسیاتی) گتھیاں اور الجھ جاتی ہیں ارتداد اور رجعت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے اور زیادہ تر جسمانی اور مادی (حیوانی) پہلوؤں پر توجہ کی جاتی ہے اور انسانی اور روحانی اقدار کی کوئی پرواہ نہیں رہتی ہے۔

جب دنیا کا یہ حال ہو جائے اور (انسانیت سے عاری)موجودہ تہذیب و تمدن سے سب عاجز آجائیں اور دنیا پر تاریکی چھا جائے توغیبی عنایتوں کے سائے میں ایک مرد خدا کے بہترین استقلال کا نظارہ آنکھوں کے سامنے ہوگا اندھیرے چھٹ جائیں گے اور تشنگان حق وعدالت کو معرفت و سعادت کے شیریں جام سے سیراب کریں گے اور مردہ انسانوں کے دل میں نئی روح پھونک دینگے:

( اعلموا انّ الله یحي الارض بعد موتها ) (۱)

____________________

(۱)سورہ حدید آیت۱۷۔


یا د رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کو زندہ کرنے والا ہے۔

ایسے حالات میں اہل دنیا بے مثال طریقے سے آسمانی منادی کی روحانی آواز کو اپنے دل کی گہرائیوں سے قبول کریں گے کیونکہ اندھیرا جتنا زیادہ ہوتا ہے نور کی روشنی (چمک)اتنی ہی زیادہ عیاں ہوتی ہے اور اسکا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔

لیکن اگر حالات سازگار نہ ہوں اور حکمت الٰہی کی بنا پر اسمیں جس حد تک تاخیر ہونا چاہئے وہ تاخیر نہ ہو تو پھر اس ظہور کے تمام فائدے کما حقہ حاصل نہیں ہوسکتے، لہٰذا ایک معین مدت تک اس ظہور میں تاخیر ضروری ہے اور جیسے ہی حالات سازگار ہوں اور حکمت الٰہی کے تحت غیبی آواز اسکا اعلان کر دے اس وقت ظہور ہو جائے گا جس کی خبر کسی کو نہیں ہے اورجو شخص بھی ظہور کا وقت معین کرے وہ جھوٹا ہے۔

امام جعفر صادق نے فرمایا ہے : ظہور کا کوئی وقت معین نہیں ہے کیونکہ قیامت کی طرح اسکا علم بھی صرف خدا کو ہے یہاں تک کہ فرمایا : ہمارے مہدی کے ظہور کے لئے کسی نے بھی وقت معین نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اپنے کو خدا کے علم میں شریک سمجھے اور یہ دعویٰ کرے کہ خدا نے اسکو اپنے راز (اسرار) بتا دئے ہیں(۱)

کفار کی نسل میں مومنین کی پیدائش

جیسا کہ متعدد روایات میں ذکر ہے کہ خدا وند عالم نے بہت سے مومنین کا نطفہ کفار کے صلبوں میں امانت کے طور پر رکھ دیا لہٰذا امانتوں کا ظاہر ہونا لازمی ہے اب اگر ان امانتوں کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی امام قیام کر کے جزیہ کا قانون ختم کردیں اور کفار کو قتل کر ڈالیں تو یہ مقصد پورا نہیں ہو گا اور وہ امانتیں ظاہر نہ ہو پائیں گی۔

____________________

(۱)اثبات الہداة ج۷ فصل ۵۵ب۳۲ص۱۵۶ج۴۰۔


کیا کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھاکہ حجاج جیسے خونخوار اور جلاد (دشمنان اہلبیت میں اس جیسے سفاک اور درندہ صفت بہت کم لوگ ملتے ہیں)کی نسل میں حسین بن احمد بن حجاج (جو ابن الحجاج کے نام سے مشہور ہیں) جیسا نامور شاعر، مشہور خطیب(سخنور)خاندان پیغمبر کا چاہنے والا اور ان کا شیعہ پیدا ہو جائے گا اور اہلبیت کی مدح میں ایسے لا جواب قصیدے اور ان کے دشمنوں کی مذمت میں ایسے اشعار کہے گا جس سے شیعہ مذہب کی ترویج ہوگی، ان کے مشہور و معروف قصائد میں اسے ایک مشہور قصیدہ کا مطلع یہ ہے :

یا صاحب القبة البیضاء علی النجف

من زار قبرک و استشفیٰ لدیہ شفیٰ

”اے بلند مقام پر درخشاں قبہ کے مالک جو شخص آپ کی قبر کی زیارت کرے اوراس سے شفا طلب کرے اس نے شفا حاصل کر لی ،،

کیا کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ حضرت امام موسیٰ کاظم کے قاتل ”سندی بن شاہک“کی اولاد میں مشہور شاعر اور دنیائے ادب کے درخشاں ستارے ”کشاجم“ پیدا ہو سکتے ہیں جو حضرت علی اور ان کے گھر والوں کی امامت کے حقیقی جلوہ کی تاثیر کی بنا پر اپنی پوری عمر انہیں کی مدح و ثنا میں گذار دیں گے ۔

مختصر یہ کہ کفار کی پشتوں (نسلوں )میں مومنین کی پیدائش یہ ایک ایسی اہم چیز ہے جسکے لئے ظہور کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے اور ایسے ہی موقع پر ظہور ہو جب کفار کے صلبوں میں کوئی امانت باقی نہ رہ جائے جیسا کہ قرآن مجید نے جناب نوح کے قصہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی یہ دعا نقل کی ہے:( ولا یلدوا الا فاجراً کفاراً ) ۔(۱)

حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کا ظہور بھی ایسے ہی حالات میںہوگا ،اور یہی آیہ کریمہ :

( لوتزیّلوا لعذّبنا الذین کفروا منهم عذاباً الیما ) ۔(۲)

____________________

(۱)” اور فاحر و کافر کے علاوہ کوئی اولاد بھی پیدا نہ کریں“سورہ نوح آیت ۲۷۔

(۲) سورہ فتح آیت۲۵۔


”اگر یہ لوگ الگ ہو جاتے تو ہم کفار کو درد ناک عذاب میں مبتلا کر دیتے“ کی تفسیر ہے جو متعدد روایات میں ذکر ہوئی ہے جس کو تفسیر برہان، صافی وغیرہ یا احادیث کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے ان روایا ت کا مضمون یہ ہے :

”قائم اس وقت تک ہر گز ظہور نہ کرینگے جب تک خدا کی امانتیں ظاہر نہ ہو جائیں اور جب وہ سب امانتیں سامنے آجائیں گی تو تمام دشمنان خدا کا پتہ چل جائے گا اور آپ ان کو قتل کرڈالیں گے“

محقق طوسی کا قول

فیلسوف مشرق، اسلامی حکماء اور فلاسفہ کے لئے باعث افتخار خواجہ نصیر الدین طوسی نے امامت کے بارے میں ایک فلسفیانہ اور محققانہ رسالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی غیبت اور اس کی طولانی مدت اور مسئلہ غیبت کے امکان کے بارے میں ایک پوری فصل تحریر کی ہے جسکے آخر میں آپ نے یہ لکھا ہے:

و اما سبب غیبته فلا یجو ز ان یکون من الله سبحانه ولا منه کما عرفت فیکون من المکلفّین وهو الخوف الغالب و عدم التمکین والظهور یجب عند زوال السبب (۱)

”لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی غیبت خدا کی طرف سے، یاخود آپ کی طرف سے ہو جیسا کہ آپ جان چکے ہیںپس اس کی وجہ خود عوام (لوگ) ہیں کیوں کہ ان کے اوپر

____________________

(۱)یہ رسالہ ۱۳۳۵ہء شمسی میں تہران میں طبع ہوا تھا جسمیں یہ جملہ تیسری فصل کے اندر صفحہ ۲۵ پر نقل ہوا ہے۔


خوف کا غلبہ ہے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرناہی اس کا سبب ہے اور جب بھی یہ رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی تو ظہور واجب ہوجائے گا “۔

اگر غور و فکر اور دقت نظر سے کام لیا جائے تو اس عظیم عالم نے عقل و حکمت کی روشنی میں اس موضوع کی جو وضاحت اور تحلیل کی ہے یہ سب باتیں ان بعض اسباب کی تائید کرتی ہیں جن پر ہم نے اس مقالہ میں روشنی ڈالی ہے یعنی ”جان کا خطرہ اور عوام کا آپ کی اطاعت نہ کرنا“ اگر یہ اسباب بر طرف ہو جائیں تو آپ کا ظہور یقینی ہے ۔

لہٰذا یہ ہر گز مناسب نہیں ہے کہ لوگ خود غیبت کا سبب بننے کے باوجود اس بارے میں اعتراض کریں اور بالفرض اگر لوگ ان رکاوٹوں کو ختم نہ کریں گے تو آپ خدا وند عالم کی مصلحت اور اس کے ارادہ کے تحت مناسب وقت پر ہر ایک کے اوپر غلبہ حاصل کریں گے اور قرآن مجید کی اس آیہ کریمہ :

( وعداللّٰه الذین آمنوا منکم و عملواالصالحات لیستخلفنّهم في الارض کما استخلف الذین من قبلهم و لیمکنن لهم دینهم الذي ارتضیٰ لهم ولیبدّلنهم من بعد خوفهم امناً ) (۱)

”اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان وعمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین پر اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا“

میں مومنین سے جو وعدہ کیا گیا ہے اسے پورا کردے اور آپ ظاہر ہوجائیں اور اگر دنیا کی عمر میں ایک دن سے زیادہ مدت باقی نہ رہ جائے تب بھی اسے اتنا طولانی کردے کہ مہدی کا ظہور ہوجائے اور وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھردےں جس طرح و ہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

____________________

(۱)سورہ نورآیت۵۷۔


ظہور سے صدیوں قبل ولادت کا سبب اور امام غائب کا فائدہ

سوال: ظہور سے صدیوں قبل امام علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوچکی ہے اورآپ طویل عمر کے بعد ظہور فرمائیں گے آخر اس کی مصلحت کیا ہے؟

کیا خداوندعالم میں اتنی قدرت نہیں ہے کہ وہ ظہور سے چالیس سال قبل ایسے باصلاحیت اور ایسی اہم ذمہ داری کے لئے شائستہ فرد کو خلق فرمادے؟

آخر ظہور اور قیام سے سینکڑوں سال قبل آپ کی پیدائش کا کیا فائدہ ہے اور ان تمام باتوں سے قطع نظر، غائب اور مخفی امام سے کیا حاصل ہے؟ کیا ایسے امام کا وجود وعدم مساوی نہیں ہے؟

جواب: یہ سوال درحقیقت ”فلسفہ غیبت“کے بارے میںہی ہے اس سے الگ کوئی جدید سوال نہیں ہے ہرچند گزشتہ مقالات میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جاچکا ہے پھر بھی یہاں اس سوال کے مختلف جوابات پیش کئے جارہے ہیں۔

پہلاجواب: وجود امام کے فائدہ کو صرف ظہور، آخرزمانہ میں قیام اور ظاہر بہ ظاہر امور تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ وجود امام کا ایک فائدہ مخلوق کی تباہی سے حفاظت، دین وشریعت کی فضا اور خدا کی حجت کا اہتمام بھی ہے،جیسا کہ اس سلسلہ میں معتبر روایات پائی جاتی ہیں یہ روایات ہماری کتب میں بھی مذکور ہیں اور برادران اہل سنت نے بھی انھیں نقل کیا ہے مثلا بارہ اماموںسے متعلق روایات سے بھی اس بات کا استفادہ ہوتا ہے، متعدد روایات کے مطابق زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی چنانچہ روایات کے مطابق امیرالمومنین حضرت علی نے فرمایا:


اللهم بلیٰ لا تخلو الارض من قائمٍ للّٰه بحجة اما ظاهراً مشهوراً اوخائفا مغمورالئلا تبطل حجج اللّٰه وبیناته(۱)

”خدا یا! بے شک زمین حجت الٰہی اور قیام کرنے والے سے خالی نہیں ہوسکتی چاہے وہ ظاہر وآشکار ہو یا خائف ومخفی تاکہ خدا کی حجتیں اور براہین تمام نہ ہونے پائیں۔“

اس عالم ہستی میں امام کی وہی حیثیت ہے جو کہ بدن انسانی میں قلب یاروح کی ہوتی ہے کہ حکم الٰہی سے یہی روح تمام اعضاء وجوارح کے باہمی رابطہ کی ذمہ دار ہے اور اسی کے تعلق وتصرف سے جسم کی بقا وابستہ ہے۔ ”انسان کامل“ اور ”ولی“ یعنی امام بھی باذن الٰہی تمام مخلوقات کے لئے اسی مقام و منزلت کا حامل ہوتا ہے،اسی طرح وجود امام کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ روایات کے بموجب لوگوں کے درمیان مومن کا وجود خیروبرکت اور نزول رحمت کا سبب ہوتا ہے اور اس کے باعث پروردگار کی خصوصی عنایات عطا ہوتی ہیں اور بے شمار بلائیں دفع ہوتی ہیں اگر ایک عام مومن کے وجود کے اتنے برکات وفوائد ہیں تو ”امام“ اور ”ولی اللہ الاعظم “ کے وجود اقدس کے فوائد وبرکات کتنے زیادہ ہوں گے!

باالفاظ دیگر امام اور حجت خدا واسطہ فیض الٰہی ہے،خدا اور بندگان خدا کے درمیان واسطہ ہے، جن برکات وفیوض الٰہیہ کو براہ راست حاصل کرنے کی صلاحیت لوگوں میں نہیں پائی جاتی ہے امام ان فیوض وبرکات کو خدا سے لے کر بندوں تک پہنچانے کا ذریعہ و وسیلہ ہے، لہٰذا حضرت کی طولانی عمراور ظہور سے صدیوں قبل آپ کی ولادت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس طویل مدت میں بھی بندگان خدا الطاف الٰہیہ سے محروم نہ رہیں اور وجود امام کے جو برکات ہیں وہ مسلسل لوگوں تک پہنچتے رہیں۔

____________________

(۱)نہج البلاغہ صبحی صالح، ص۴۹۷ کلام ۱۴۷۔


دوسرا جواب: امور میں ظاہر بہ ظاہر مداخلت اور تصرف نہ کرنے کے ذمہ دار امام علیہ السلام نہیں بلکہ خود عوام ہیں جوآپ کی رہبری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور مخالفت پر کمربستہ ہیں جیسا کہ آپ کے آباء واجداد طاہرین کی اطاعت کے بجائے مخالفت کی گئی اگر لوگ اطاعت پر آمادہ ہوتے تو حضرت ظاہر ہی رہتے، محقق طوسی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ”تحرید الاعتقاد“ میں یہی جواب تحریر فرمایاہے:

وجوده لطف وتصرفه لطف آخر وعدمه مِنّا(۱)

”امام کا وجود بھی لطف (اطاعت ومصالح سے نزدیک اور معاصی ومفاسد سے دور کرنے والا) ہے اور امام کاتصرف ایک الگ لطف ہے اور ان کا ظاہر نہ ہونا ہماری وجہ سے ہے۔“

خلاصہ کلام یہ کہ امام کا وجود لطف اور بندگان خدا پر اتمام حجت کا سبب ہے اور اگر اس طویل مدت میں ولایت وہدایت کا سلسلہ منقطع ہوجائے تو لوگوں کو خدا کے خلاف دلیل حاصل ہوجائے گی، اپنے دیگر صفات کمالیہ مثلا رحمانیت، رحیمیت، ربوبیت کے مانند امام کی خلقت اور ہدایت کے لئے آپ کی تعیین کے ذریعہ خداوندعالم نے تربیت وہدایت کی نعمت کو بھی منزل کمال تک پہنچا دیا ہے کہ ارشاد خداوندی ہے:

( الیوم اکملت لکم دینکم ) (۲)

اب اگر لوگ اس عظیم نعمت سے بہرہ مندنہ ہوں اورآفتاب ہدایت کی شعاعوں کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو اس سے امام کے وجود پر اعتراض نہیں ہوسکتا جیسا کہ اگر لوگ دوسری نعمتوں سے استفادہ نہ کریں اور ان نعمتوں کے فوائد ہی ظاہر نہ ہونے دیں یا مزید برآں ان کا غلط استعمال کریں تو اس رویہ کے باعث ان نعمتوں کی خلقت پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ انھیں خلق کیوں کیا گیا؟ کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ جب لوگ ان نعمتوں سے استفادہ نہیں کررہے ہیں تو ان کا فائدہ کیا ہے؟ ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ بلکہ ایسے موقع پر تو یہ کہا جانا چاہئے کہ جب فیاض خدا نے اپنے بے پایاں فیض کے باعث ان

____________________

(۱)تجرید الاعتقاد، بحث امامت۔

(۲)”آج میں نے آپ کے لیے آپ کے دین کو کا مل کر دیا“۔سورہ مائدہ آیت ۳۔


نعمتوں کو خلق فرماکر لوگوں کے حوالہ کردیا تو لوگ کیوں ان نعمتوں سے استفادہ نہیں کرتے اور کیوں کفران نعمت کررہے ہیں؟

تیسرا جواب: ہم یہ بات قطعی طور سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مکمل طریقہ سے اپنے تمام دوستوں اور برگزیدہ اشخاص سے بھی پوشیدہ ہیں اور جہاں مصلحت ہوتی ہے وہاں انھیں برگزیدہ افراد کے واسطہ سے تائید وحمایت کے ذریعہ امور میں مدد نہیں فرماتے۔

چوتھاجواب: یہ طے شدہ ہے کہ زمانہ غیبت میں حضرت لوگوں کی نگاہوں سے پنہاں ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ بھی آپ کی نگاہوں سے اوجھل ہیں بلکہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ حج کے لئے تشریف لے جاتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ حج بجالاتے ہیں اپنے اجداد کی زیارت کرتے ہیں زائرین وحجاج کے درمیان تشریف فرما ہوتے ہیں، مظلوموں کی فریاد رسی کرتے ہیں بیماروں کی عیادت فرماتے ہیں اور بسا اوقات بہ نفس نفیس لوگوں کی مشکلات برطرف فرماتے ہیں۔

پانچواں جواب: امام کے لئے یہ لازم وضروری نہیں ہے کہ براہ راست اور بلاواسطہ امور میں دخیل ہو بلکہ وہ دوسروں کو بطور خاص یا عام طور پر اپنا نائب مقرر کرسکتا ہے جیسا کہ امیرالمومنین اور دیگر ائمہ دوسرے شہروں کے لئے اپنے نمائندہ معین فرماتے تھے اسی طرح غیبت صغریٰ کے زمانہ میں امام علیہ السلام نے نائب خاص معین فرمائے تھے اور غیبت کبریٰ کے لئے بھی آپ نے معاملات اور اختلافات کے حل ، اجرائے سیاست اور مصالح اسلامی کے تحفظ ونظارت کے لئے احکام کی باریکیوں سے واقف، عادل علماء وفقہاء کو بطور عام منصوب ومعین فرمایا ہے جو آپ کے بعد زمانہ غیبت میں ظاہری طور پر حفاظت شریعت کے ذمہ دار اور لوگوں کے لئے مرجع ہیں اور فقہ کی کتب میں مذکور تفصیلات کے مطابق فقہا کو آپ کی نیابت میں ولایت بھی حاصل ہے۔


چھٹا جواب: امام کا محض موجود ہونا ہی بندگان خدا اور سالکان راہ ہدایت کی تقویت قلب وروح کا باعث ہے بہ الفاظ دیگر سالکان راہ خدا کے لئے ایک مرکز اور تکیہ گاہ ہے، یہ صحیح ہے کہ سب کے لئے مرکز اعتماد خدا کی ذات ہے اور ہر ایک اسی کی ذات پر اعتماد کرتا ہے لیکن جنگوں میں پیغمبراسلام کی موجودگی مجاہدوں کی تقویت قلب کا ذریعہ تھی اور آپ کی موجودگی کے تصور سے ہی سپاہیوں کے حوصلے بلند رہتے تھے اورآپکی عدم موجودگی سے بہت فرق پڑتا تھا اس چیز کو امیرالمومنین جیسی شخصیت کے قول کی روشنی میں بہتر طریقہ سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ امیرالمومنین کا ارشاد ہے:

کنا اذا احمرّ الباٴس اِتقینا برسول الله فلم یکن احدٌ منا اقرب الی العدو منه(۱)

”جب شدید جنگ ہوتی تھی تو ہم لوگ رسول خدا کی پناہ میں چلے جاتے تھے کہ آپ سب سے آگے ہوتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی پیغمبر سے زیادہ دشمن سے نزدیک نہیں ہوتا تھا۔“

ہم زندہ امام کے ماننے والے ہیں، امام ہی ہمارا ملجا وماویٰ اور محافظ شریعت ہے یہی تصور قوت قلب اور استحکام روح کا باعث ہے اور سالکین ومجاہدین راہ خدا پر کسی طرح کی مایوسی یا ناامیدی طاری نہیں ہونے پاتی، بلکہ قدم، قدم پرآپکی ذات بابرکت سے استمداد کرتے رہتے ہیں اورہمت وحوصلہ کی درخواست کرتے ہیں، یہ چیز نفسیاتی لحاظ سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

مثل مشہور ہے (مثل برائے مثل ہوتی ہے اس پر اعتراض نہیں کیا جاتا) کہ نادر شاہ افشار نے مورچہ خوار کی جنگ میں ایک فوجی کوپوری شجاعت کے ساتھ جنگ کرتے دیکھا کہ تنہا فوجی دشمنوں کی فوج کو تہہ وبالا کررہا ہے اسے بہت تعجب ہوا، نادرشاہ نے فوجی سے پوچھا: افغانیوں کے حملہ کے وقت تم کہاں تھے؟ (کہ اس وقت ایسی جنگ نہ کی) بہادر فوجی نے جواب دیا میں تو وہیں تھا

(جنگ میں مصروف تھا) مگر آپ نہیں تھے۔

لہٰذا نفسیاتی لحاظ سے بھی تقویت قلب وروح کی خاطرمومنین کے لئے وجود امام جیسی معتبر پناہ گاہ ضروری ہے یہ بھی ایک اہم فائدہ ہے اور ایسے فائدہ کے لئے بھی امام کی تعیین عقلاً وشرعاًحتمی وقطعی طور پر لازم ہے۔

____________________

(۱)نہج البلاغہ،ص۲۱۴،حیرت انگیز کلمات ۹۔


غیبت صغریٰ کا سلسلہ کیوں باقی نہ رہا؟

بعض اذہان میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر غیبت صغریٰ کا خاتمہ کیوں ہوگیا؟ اگر غیبت صغریٰ کا سلسلہ چلتا رہتا اور امام پوری غیبت کے دوران امور کی نگرانی اور عوام الناس کی ہدایت کے لئے نائب خاص مقرر فرماتے رہتے تو کیا حرج تھا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام کی غیبت سے متعلق طریقہ کار کا تعین خداوندعالم نے فرمایا ہے اور امام کی ذمہ داری اسی معینہ طریقہ کار کو اختیار کرنا ہے۔،جب دلائل کے ذریعہ امامت کا اثبات ہوچکا ہے تو اس کے بعد نظام اور طریقہ کار کے بارے میں کسی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی، امام بھی حکم الٰہی اور روش خدواندی کا مطیع ہوتا ہے، کسی شئے کی علت یا سبب دریافت کرنا درحقیقت تسلیم وبندگی اور عبودیت کے منافی ہے، گذشتہ مقالات سے یہ بات بخوبی واضح ہوچکی ہے کہ غیبت سے متعلق تمام سوالات واعتراضات ایک ہی طرح کے ہیں اور ان میں کوئی سوال ایسا نہیں ہے کہ اگر اس کا جواب معلوم نہ ہوسکے تو کوئی بہت بڑی خرابی لازم آئے گی۔

بہرحال اگر مزید معرفت اور حصول بصیرت کے لئے ایسا سوال کیا جاتا ہے تو اس کے جواب کے لئے ہمیں اس سوال کو دو سوالوں میں تقسیم کرنا ہوگا:

۱ ۔کیوں امام کےلئے دو غیبتیں رکھی گئیں اور ابتدا ہی سے غیبت کبریٰ کا سلسلہ کیوں شروع نہ ہوا؟

۲ ۔غیبت صغریٰ کے آغاز اور نواب خاص کی تعیین کے بعد یہ سلسلہ کیوں ختم ہوگیا؟ اگر غیبت صغریٰ کا سلسلہ ہی جاری رہتا تو کیاقباحت تھی؟


پہلے سوال کا جواب

۱ ۔غیبت صغریٰ، غیبت کبریٰ کا مقدمہ تھی اور غیبت صغریٰ کے ذریعہ ہی غیبت کبریٰ کے مقدمات فراہم کئے گئے ابتداء میں لوگوں کے لئے غیبت نامانوس چیز تھی ان کے ذہن غیبت کے تصور سے ناواقف تھے، اگرچہ امام علی نقی وامام حسن عسکری کے دور میں کبھی کبھی ایسے نمونے نظرآتے ہیں کہ یہ دونوں بزرگوار ذہنوں کو غیبت سے مانوس کرنے کے لئے کچھ وقت کے لئے نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے لیکن مکمل غیبت کبھی سامنے نہ آسکی ایسے میں اگر اچانک پہلی ہی منزل میں غیبت کبریٰ اختیار کرلی جاتی تو لوگوں کی حیرت واستعجاب بلکہ وحشت وانکار کا باعث اور انحراف و گمراہی کے اسباب کی موجب ہوتی، امام سے اچانک مکمل رابطہ قطع ہوجانا (جیسا کہ غیبت کبریٰ میں ہوا ہے) اکثر افراد کے لئے سخت دشوار اور تکلیف دہ ہوتا۔

اسی لئے تقریبا ۷۰/ سال تک نواب خاص کے ذریعہ لوگوں کا رابطہ امام کے ساتھ قائم رہا اور مومنین نوابین خاص کے ذریعہ اپنے مسائل ومشکلات امام زمانہ کی خدمت میں پیش کرکے ان کاجواب حاصل کرتے تھے، امام کی جانب سے توقیعات لوگوں تک پہنچتی تھیں،بہت سے خوش نصیب افراد کو آپ کی خدمت میں شرفیابی کا موقع ملا اور اس طرح دھیرے دھیرے لوگ غیبت سے مانوس ہوتے رہے۔

۲ ۔ابتدا میں نواب خاص کے ذریعہ رابطہ اور بہت سے افراد کا آپ کی زیارت سے شرفیاب ہونا آپ کی ولادت اور حیات طیبہ کے اثبات کے لئے مفید بلکہ لازم اور ضروری تھا، اگر آپ کے معاملات مکمل طور پر پوشیدہ رکھے جاتے کہ کسی کو بھی آپ کی ولادت تک کا علم نہ ہوتا تو اس سے فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان پہنچتا لوگ آپ کے وجود اقدس کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا ہوجاتے اسی لئے امام حسن عسکری کی حیات طیبہ میں اور غیبت صغریٰ کے دوران بھی بہت سے مخصوص افراد کو آپ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اورحضرت کے دست مبارک سے معجزات ظاہر ہونے کے باعث ایسے خوش نصیب افراد کا ایمان اور مستحکم ہو گیا۔


دوسرے سوال کا جواب

۱ ۔غیبت صغریٰ کا سلسلہ منقطع ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اصل طریقہ کار غیبت کبریٰ ہی تھا اور غیبت صغریٰ تو صرف مقدمہ کے طور پر اختیار کی گئی تھی تاکہ ذہن مانوس ہوجائیں اور غیبت کبریٰ کے مقدمات فراہم ہوجائیں۔

۲ ۔اگر یہ مسلم ہو کہ نائب خاص کا حکم نافذ نہ ہوگا اسے قدرت ظاہری حاصل نہ ہوگی اور وہ مکمل طریقہ سے امور میں مداخلت نہ کرسکے گا بلکہ دیگر طاقتیں اور حکام وقت اپنی تمام تر توجہات اسی کی طرف مرکوز کرکے اس کے کام میں رکاو ٹ ڈالتے رہیں گے اس کے ساتھ ٹکراؤ جاری رہے گا تو ایسی صورت میں اقتدار کی ہوس رکھنے والے موقع پرست افراد بھی نیابت خاصہ کا دعویٰ کرکے گمراہی کے اسباب فراہم کردیں گے جیسا کہ غیبت صغریٰ کی مختصر مدت میں ہی دیکھنے میں آیا کہ نہ معلوم کتنے افراد نیابت خاصہ کے دعوے دار ہوگئے، یہ چیز بذات خود ایک مفسدہ ہے جس کا دور کرنا ضروری ہے کہ اس مفسدہ کو دور کرنے کی مصلحت، نائب خاص کی تعیین سے اگر زیادہ نہ بھی ہو تو کم بھی نہیں ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ غیبت کے ابتدائی دور کے مصالح سے قطع نظر،نیابت خاصہ کا تسلسل اور ایسے نائبین خاص جن کے اختیارات محدود ہوں ،اورنفاذ حکم کی کوئی صورت نہ ہو اور حکام وقت کے زیر اثر تقیہ کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں تو ایسے نائبین خاص کی تعیین میں عقلی طور پر کوئی لازمی مصلحت نہیں ہے بلکہ اس میں مفسدہ کے امکانات زیادہ ہیں۔

( واللّٰه اعلم بمصالح الاٴمور وَلا یُسئَلُ عَمّا یَفعلُ وَهُم یُسئَلونَ وَلا یَفعلُ وَلاةُ اَمره الاّ بِمَا اَمَرهُمُ اللّه تعالیٰ بِه فَانَّهُم عِبادُهُ الْمُکرمُونَ لَا یَسبِقُونَه بِالْقَول وَهم بِاَمْرهِ یَعمَلونَ )

اور اللہ تمام امور کی مصلحتوں کو بہتر جانتا ہے ا ور اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ ہر ایک کا حساب لینے والا ہے اور اس کے والیان امرصرف وہی کرتے ہیں جو اللہ نے انہیںحکم دیا ہے بیشک وہ اس کے محترم بندے ہیں جو کسی بات میں اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں۔


سامرہ کا مقدس سرداب

مغرض دشمنان اہل بیت اور مخالفین شیعہ کی جانب سے شیعوں پر لگائے جانے والی ناروا تہمتوں میں یہ افتراء بھی شامل ہے کہ شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امام علیہ السلام نے سامرہ کے سرداب (تہہ خانہ) سے غیبت اختیار کی ہے آپ اسی سرداب میں ہیں اور اسی سرداب میں ظاہر ہوں گے!! ہر رات شیعہ اس تہہ خانہ کے دروازہ پر جمع ہوتے ہیں اور جب ستارے خوب چمکنے لگتے ہیں تو اپنے اپنے گھر چلے جاتے ہیں اور پھر اگلے روز جمع ہوجاتے ہیں!!!

ایسے بے بنیاد اور جھوٹے اتہامات کی تکذیب کے لئے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، جو چیز عیاں ہے اسے بیان کرنے سے کیا حاصل ، ہر شخص واقف ہے کہ ایسی تہمتیں ابن خلدون اور ابن حجر جیسے افراد کے ذہن کی ایجاد ہیں جنھوں نے شیعہ دشمنی، اہل بیت سے انحراف، بنی امیہ اوردشمنان خاندان رسالت سے قلبی رجحان کے باعث ایسی خرافات جعل کی ہیں ایسے مصنفین بلکہ ان کے بعد آج تک پیدا ہونے والے افراد شیعہ کتب ومنابع سے شیعہ عقائد ونظریات حاصل کرنے کے بجائے اپنی طرف سے جھوٹی باتیں گڑھ لیتے ہیں یا سابقین کے افترا اور جعلی باتوں کو نقل کرتے ہیں اور انھیں جھوٹی و فرضی باتوں کوشیعہ عقائد کے بارے میں تحقیقی کارنامہ سمجھ کر بخیال خود، شیعی عقائد کے بارے میں معرفت حاصل کرلیتے ہیں اس طرح خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

کتنی تعجب خیز بات ہے کہ جس قوم کے ہزاروں عظیم الشان مصنفین نے اپنے عقائد ونظریات مکمل صراحت ووضاحت کے ساتھ اپنی تالیفات میں تحریر کئے ہوں اس قوم کی طرف ایسی چیز کی نسبت دی جائے جس کا احتمال بھی کسی مصنف نے نہ دیا ہو۔

امامت اور دیگر عقائد کے بارے میں علم کلام واعتقادات کی کتب میں شیعی نظریات محفوظ وموجود ہیں اور غیبت کے سلسلہ میں ائمہ ہدیٰ کے دور سے آج تک جتنی کتب بھی تحریر کی گئی ہیں ان میں غیبت سے متعلق تمام جزئیات مرقوم ہیں اور کسی معمولی سے معمولی کتاب میںبھی اس ناروا تہمت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔


”امام سامرہ کے سرداب میں مخفی ہیں“ اس کا کوئی قائل نہیں ہے بلکہ شیعہ کتب میں موجود روایات اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے دور میں حضرت سے منسوب معجزات وکرامات اور شرف زیارت حاصل کرنے والے افراد کے واقعات اس جھوٹے الزام کی تردید وتکذیب کرتے ہیں۔

بے شک سامرہ میں ایک سرداب ہے شیعہ حضرات وہاںزیارت کے لئے جاتے ہیں، خداکی عبادت کرتے ہیں دعائیںمانگتے ہیں لیکن اس بنا پر نہیں کہ وہاں امام پوشیدہ ہیں یا آپ اسی مقام پر قیام فرماہیں، بلکہ اس عبادت اورزیارت واحترام کی وجہ یہ ہے کہ یہ سرداب مقدس بلکہ اس کے اطراف کے مقامات، اورا س کے قرب وجوار کی جگہ دراصل ائمہ معصومین کے بیت الشرف اور امام علیہ السلام کی جائے ولادت ہے اس سرزمین پر بے شمار معجزات رونما ہوئے ہیں۔

انسان جب اس مقدس سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو اس عہد کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور مومن تصورات کی دنیا میں ان مقامات سے امام زمانہ(عج) آپ کے پدربزرگوار اور جد امجد کے ارتباط میں کھوجاتا ہے کہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں ان ذوات مقدسہ کی رفت وآمد رہتی تھی اور یہ حضرات وہاں خدا کی عبادت میں مشغول رہتے تھے انھیں مقامات میں وہ سرداب بھی شامل ہے، یہ مقامات دور ائمہ میں بھی محبان اہلبیت کا مرکز تھے اور آج بھی۔ شیعیان اہلبیت کی نگاہ میں ایسے مقامات اور گھرانے محترم ہیں اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے کیونکہ مقدس گھروں کے لئے خداوندعالم قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( فی بیوت اٴذن ا للّٰه ان تُرفع ویُذکر فیهااسمه یسبح له فیها بالغد و والآصال )

ان گھروں میں ،جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اسکے نام کا ذکر کیا

جائے کہ ان گھروں میں صبح وشام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں۔(۱)

صرف سرداب ہی نہیں بلکہ وہ دیگر مقامات کہ جن پرحضرت کے مبارک قدم پہنچے تھے وہ بھی محبان اہلبیت کی نگاہ میں لائق احترام ہیں۔ (جیسے مسجد جمکران)(۲)

____________________

(۱) سورہ نورآیت۳۶

(۲) ہم نے اپنی کتاب ”منتخب الاثر“ ص۳۷۱ تا ص۳۷۳ میں اس موضوع کو تحریر کیا ہے اسی طرح محدث نوری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ”کشف الاستار“ میں اوردیگر مولفین نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔


تیسرا حصه حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) کی طویل عمر

طولانی عمر

انسانیت ہمیشہ سے جن چیزوں کی متلاشی ہے ان میں سے ایک مسئلہ طویل عمر کا بھی ہے،صحت وتندرستی کے ساتھ طویل عمر ایسی بیش بہا نعمت ہے جس کی کوئی قیمت معین نہیں کی جاسکتی۔

انسانی وجود میں حب ذات، حبّ بقا ودوام اور فطری خواہشات ہمیشہ سے انسان کو طویل عمر کا عاشق وشیدا بنائے ہوئے ہیں اور یہی چیزیں انسان کو اس راہ میں سعی پیہم اور جہد مسلسل پر آمادہ کرتی ہیں کہ بہت کم مدت کے لئے ہی سہی مگر سلسلہ عمر کچھ اور دراز ہوجائے۔

اس موضوع سے متعلق مطالعہ وجستجو سے یہ بات تو صاف طور پر عیاں ہوتی ہے کہ ”بہت طویل عمر کا امکان“ تو ہمیشہ سے مسلم رہا ہے اورآج تک کسی نے بھی طول عمر کے ممکن نہ ہونے یا محال ہونے کاد عویٰ نہیں کیا ہے۔

ہم پہلے عصری علوم جیسے علم طب، زولوجی اور دیگر مخلوقات کے بارے میں موجودہ معلومات کی روشنی میں انسان کی صورت حال کا موازنہ کریں گے اس کے بعد آسمانی مذاہب میں تلاش کریں گے کہ آسمانی مذاہب کی روسے طو ل عمر کا نظریہ ممکن اور قابل قبول ہے یانہیں؟

طول عمر سائنٹفک نقطہ نظر سے

آج سائنسی نقطہ نظر طول عمر کی مکمل تائید کرتا ہے اور سائنس کے اعتبار سے طول عمر کے لئے کی جانے والی انسانی کوششیں نتیجہ خیز ہیں اوراس میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں ان کوششوں کو جاری رہنا چاہئے اورسائنس کے لحاظ سے طول عمر کی کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی۔


سائنس کے مطابق آج شرح اموات میں کمی اورعمر کو طولانی کرنے کی بات تھیوری کے مرحلہ سے نکل کر عملی منزل میں داخل ہوچکی ہے اور بہت تیزی کے ساتھ ترقی کے مراحل طے کررہی ہے اور ایک صدی سے کچھ زیادہ عرصہ میںعمرکا اوسط ۴۷ سے بڑھ کر ۷۴ ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر الکسیس کارل نے ۱۹۱۲ ءء میں ایک مرغ کو تیس سال تک زندہ رکھا جب کہ مرغ کی زندگی دس سال سے زیادہ نہیں ہوتی ہے(۱)

آٹھ سو سال زندگی

ڈاکٹر ہنری حیس کہتا ہے کہ عمومی شرح اموات کو دس سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات کے برابر پہنچانا چاہئے اور جس دن ایسا کرنا عملاً میسر ہوجائے گا مستقبل کا انسان آٹھ سو سال زندگی بسر کرے گا(۲)

دنیاکے دانشور حضرات انسان کی طبیعی عمر کے لئے آج تک کوئی حتمی سرحد معین نہیں کرسکے ہیں اور ان دانشوروں نے اپنے اپنے لحاظ سے الگ الگ حد معین کی ہے ”پاولوف“کا خیال ہے کہ انسان کی طبیعی عمر ۱۰۰ سال ہے جبکہ ”مچنیکوف“ کے خیال میں اوسط عمر ۱۵۰ سے ۱۶۰ سال کے درمیان ہونا چاہئے۔

جرمنی کے مشہور ومعروف ڈاکٹر ”گوفلاند“ کا نظریہ ہے کہ عموما ًانسان کی اوسط عمر ۲۰۰ سال ہے۔

انیسویں صدی کے معروف فزیشین ”فلوگر“ کے مطابق طبیعی عمر ۶۰۰ سال اور انگلینڈ کے

”روجر بیکن“ نے ۱۰۰۰ سال بیان کی ہے(۳)

____________________

(۱/۲)روزنامہ اطلاعات شمارہ ۱۱۸۰۵۔

(۳) مجلہ دانشمند شمارہ ۶۱۔


لیکن ان میں سے کسی نے بھی ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کی ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ اس کی بیان کردہ عمر حرف آخر ہے اوراس سے زیادہ عمر کا امکان ہی نہیں ہے۔

روس کے معروف ماہر طب اور فزیالوجسٹ ”ایلیا مچنیکوف“ کا نظریہ ہے کہ ”انسان کے بدن کے خلیوں ( Cells ) کی تعداد تقریباً ۶۰ کھرب (ٹرملین) ہے جو آنتوں خصوصاً بڑی آنت کے بیکٹریا سے مترشح ہونے والے مادہ کی وجہ سے مسموم ہوتے رہتے ہیں، آنتوں سے روزانہ تقریباً ۱۳۰ کھرب بیکٹریا پیدا ہوتے ہیں، بہت سے بیکٹریا بدن کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتے لیکن بعض بیکٹیریا زہریلے اور نقصان دہ ہوتے ہیں، ایسے بیکٹیریا بدن کو اندر سے اپنے زہر کے ذریعہ مسموم کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں انسانی بدن کو صحیح وسالم رکھنے والے اجزاء اور خلیے قبل از وقت ضعیفی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ضعیف ہونے کے بعد حیات کی ضرورتوں کو پورا کرنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے اور یہ خلیے مردہ ہوجاتے ہیں(۱) کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ”اسمیس“ کا کہنا ہے کہ ”سن اور عمر کی حد بھی صوتی دیوار کی طرح ہے اور جس طرح آج صوتی دیوار ٹوٹی ہے اسی طرح ایک نہ ایک دن عمر کو محدود کرنے والی دیوار بھی ٹوٹ جائے گی۔“(۲)

سترہزار سال عمر

پانی کے بعض چھوٹے جانوروں پر کی گئی تحقیقات کے نتیجہ میں سائنس داں کافی حد تک پر امید ہیں، دوران زندگی میں تبدیلی کا امکان بہر حال ہے، اسی طرح محققین نے پھلوں پر پائی جانے والی مکھیوں پر جو تجربات کئے ہیں اس کے نتیجہ میں ان کی طبیعی عمر میں ۹۰۰ گنا کا اضافہ ہوگیا ہے،(۳) اسی طرح اگر ایسا تجربہ انسان پر بھی کیا جائے اور وہ تجربہ کامیاب رہے اور انسان کی طبیعی عمر ۸۰ سال

____________________

(۱) مجلہ دانشمند شمارہ ۶۱۔ (۲)اطلاعات ۱۱۸۰۵۔ جیٹ اور سپر سونیک طیاروں سے پہلے یہ تصور عام تھا کہ آواز کی رفتار سے تیز سفر کرنا ممکن نہیں ہے گویا آواز کی رفتار سرعت کی راہ میں حائل ہے لیکن سوپر سونیک طیاروں کے وجود میں آنے سے یہ حائل ختم ہوگیا۔ (مترجم)

(۳) الہلال، شمارہ ۵ ص۶۰۷، منتخب الاثر، ص۲۷۸۔


فرض کی جائے تواس بات کا امکان ہے کہ انسان کی عمر ۷۲ ہزار سال ہوجائے۔

اسی طرح حیوانات پر دوسرے تجربات بھی کئے جارہے ہیں جس کے نتائج انسان کے لئے امید افزا ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل میں طول عمر اور جوانی کی واپسی ،ہر ایک کے اختیار میں ہوگی۔

بہت سے محققین کے نزدیک اصل مسالہ، جوانی کے برقرار رہنے یااس کی واپسی کا ہے نہ کہ طول عمر کاان کے خیال میں طول عمر اور مخصوص حالات وشرائط میں زندگی کی بقا تومسلّم ہے گویا یہ معمہ تو حل شدہ ہے بس ضعیفی کے لئے کوئی راہ حل تلاش کرنا چاہئے۔

کوئی ایسا انجکشن تلاش کرنا چاہئے جو ضعیفی کو روک دے اس لئے کہ اگر عمر طولانی ہوجائے مگر اس کے ساتھ بڑھاپے کی زحمتیں ہوں توایسی عمر لذت بخش نہ ہوگی۔

میڈیکل سائنس کے بعض ماہرین نے اس سے بڑھ کر مبالغہ سے کام لیا ہے اور کہتے ہیں کہ ”موت دنیا کے حتمی اصولوں میں سے نہیں ہے“(۱) ان کے خیال میں موت نہ طول عمر کا نتیجہ ہے اور نہ بڑھاپے کا بلکہ بیماری اور حفظان صحت اور مزاج کی سلامتی کے اصولوں کی رعایت نہ کرنے کا نتیجہ ہے اگر انسان ان عوامل پر غلبہ حاصل کرلے جو مزاج کو متاثر کرتے ہیں تو موت کا اختیار انسان کے ہاتھ میں ہوگا۔

ان عوامل سے مراد ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی کے مزاج کی صحت، انھیں تولید مثل اور حفظان صحت کے طبی اصولوں کا علم، آداب نکاح، دوران حمل ماں کے مزاج کا اعتدال، حمل اور رضاعت کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کی رعایت، حسن تربیت، مناسب آب و ہوا، آرام دہ مشاغل، معاشرت اور لباس وغیرہ میں اعتدال، نیک باایمان، پاک باز، پاک طینت، خرافات اور باطل عقائد سے منزہ افراد کی صحبت، صحیح اور مناسب غذا، نشہ آور چیزوں سے پرہیزوغیرہ ہیں اور چوں کہ

____________________

(۱)البتہ قرآن مجید کی صریحی آیات کے مطابق ہر جاندار کے لئے موت ایک حتمی مرحلہ ہے اوران سائنس دانوں کا یہ نظریہ مبالغہ آمیز ہے۔


ان میں سے اکثر انسان کے اختیار میں نہیں ہیں اس لئے انسان مغلوب ہوکر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے، بیمہ کمپنیوں کی جانب سے اموات کے بارے میں اعداد وشمار شائع ہوتے ہیں ان کے مطابق مختلف مشغلوں،ماحول اورسکونت سے تعلق رکھنے والے افراد کی موت کی شرح مختلف ہوتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسط عمر کا تعلق بیرونی عوامل سے ہے اور جس حد تک یہ عوامل کم ہوتے جائیں گے عمر طولانی ہوتی جائے گی، بارہا ایسے افراد دیکھنے کو ملتے ہیں جن کی عمر ۱۵۰ ، ۱۶۰ ، ۱۷۰ ، یا دو سو سال سے بھی زیادہ ہے ، ہمارے دور میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جن کی عمر ۱۵۰ سال سے زیادہ ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ موت کے عوامل ان کے قریب نہ آسکے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ طویل عمر کا امکان علم وسائنس کے نقطہ نظر سے سوفیصدی قابل قبول اور ناقابل تردید ہے۔

اکثر وبیشتر ہم زیادہ طولانی عمر پر اظہار تعجب کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مختصر عمر سے مانوس اور اسی کے عادی ہیں اس سلسلہ میں انگلینڈ کے ایک ڈاکٹر کی رائے پر غور فرمائیں، یہ ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر پنامانہر کے علاقہ کو جہاں بہت بیماریاں پائی جاتی ہیں دنیا کے دوسرے حصوں سے جدا کردیا جائے اور ہم پنامانہرکے علاقہ میں زندگی بسر کریں اور ہمیں دنیا کے دوسرے حصوں کی شرح موت وحیات کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ہو تو اس علاقہ میں اموات کی کثرت اور عمر کی قلت کو دیکھ کر ہم یہی فیصلہ کریں گے کہ طبیعی طور پر ہر انسان کی عمر اتنی ہی ہے اوراس میں کوئی تبدیلی علم وسائنس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے جس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ چوں کہ بعض بیماریا ں ابھی لاعلاج ہیں لہٰذا شرح اموات میں کمی اورعمر کو طولانی بنانا مشکل نظر آتا ہے اگر کوئی مجھ سے اس بارے میں بحث کرے اور کہے کہ شرح اموات یہی ہے اور عمر کا اوسط بہرحال معین ہے تو اس سے سوال کروں گا کہ کون سی اوسط عمر معین ہے؟ ہندوستان کی اوسط عمر یا نیوزی لینڈ یا امریکہ یا پناما نہر کی؟


وہ کون سے پیشے یا مشاغل ہیں جن کی اوسط عمر مقرر ہے؟

کیا آپ علم افلاک اور علم نجوم کے پیشہ کی عمر کو مقررہ حد مانتے ہیں جس کی شرح اموات اوسط سے ۱۵ سے ۲۰ فیصدی کم ہے؟

یا وکالت کے پیشہ کو جس کی شرح اموات حد متوسط سے ۵ سے ۱۵ فیصد ی زیادہ ہے؟نالوں وغیرہ کی صفائی کا پیشہ جس کی شرح اموات اوسطاً ۴۰ سے ۶۰ فیصد زیادہ ہے؟ پیشہ ومشغلہ کی لحاظ سے اوسط عمر کے درمیان اختلاف کی یہ چند مثالیں تھیں ان کے علاوہ بھی ہمارے پاس اور بہت سی دلیلیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مصنوعی وسائل کے ذریعہ دوران حیات میں تبدیلی ممکن ہے کیوں کہ اب تک بعض جانوروں پر جو تجربات کئے گئے ہیں وہ سب کامیاب رہے ہیں(۱)

طول عمر اور دین

تمام ادیان میں متفق علیہ طور پر کچھ لوگوں کی بہت طویل عمر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے:

تحریف شدہ موجودہ توریت جس پر یہودونصاریٰ ایمان رکھتے ہیں سفر تکوین اصحاح ۵ آیت ۵ ، ۸ ، ۱۱ ، ۱۴ ، ۱۷ ، ۲۰ ، ۲۷ ، ۳۱ ، اصحاح ۹ آیت ۲۹ ، اصحاح، ۱۱ آیت ۱۰ تا ۱۷ ۔ اور دیگر مقامات پر صراحت کے ساتھ متعدد انبیائے کرام اور دیگر افراد کے اسماء کا تذکرہ ہے جن کی عمریں چار سو، چھ سو، سات سو، آٹھ سو یا نو سو سال تھیں۔(۲)

اس کے علاوہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ”ایلیا“ کو زندہ ہی آسمان پر اُٹھا لیا گیا ہے تاکہ انھیں موت کی اذیت برداشت نہ کرنا پڑے، ایک یہودی مفسر ”آدم کلارک“کہتا ہے کہ : ”اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایلیا کو زندہ ہی آسمان پر اُٹھا لیاگیا۔(۳)

____________________

(۱)الہلال، شمارہ ۵ طبع ۱۹۳۰،منتخب الاثر ۲۷۷و۲۷۸۔

(۲) عبرانی، کلدانی اور یونانی زبان سے عربی میں ترجمہ شدہ توریت مطبوعہ بیروت ، ۱۸۷۰ءء کی طرف رجوع فرمائیں۔

(۳) اظہار حق، ج۲ص۱۲۴۔


دین مبین اسلام

دین اسلام کی رو سے طولانی عمر کا مسئلہ قطعی طور پر متفق علیہ ہے، قرآن کریم سورہ عنکبوت آیت ۱۴ میں حضرت نوح کی طولانی عمر کے بارے میں صراحت کے ساتھ اعلان کرتا ہے:

فلبث فیهم اٴلف سنة الا خمسین عاماً

اس آیت کریمہ کے مطابق حضرت نوح علی نبینا وآلہ وعلیہ السلام اپنی قوم کے درمیان طوفان سے قبل نو سو پچاس سال تبلیغ کرتے رہے، تبلیغ سے قبل اورتبلیغکے بعد آپ کتنی مدت تک زندہ رہے اسے خدا ہی جانتا ہے۔

تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ جناب عیسیٰ بلکہ جناب خضر، جناب الیاس اورادریس اب بھی زندہ ہیں، اور حضرت عیسیٰ آخری زمانہ میں زمین پر تشریف لائیں گے اور حضرت مہدی (عج) کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔

تاریخی لحاظ سے بھی طویل عمر کامسئلہ مسلّم ہے جو تاریخ ہماری دست رس میں ہے اس کے مطابق بے شمار افراد نے طویل عمر پائی ہے۔

طویل عمر بسر کرنے والوں کے بارے میں کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں ابوحاتم سجستانی (متوفی ۳۵۰) کی کتاب ”المعمّرون“ بہت مشہور ومعروف ہے،افراد کے حالات زندگی اور علم رجال کے لئے یہ کتاب ماخذ ومنبع کی حیثیت رکھتی ہے کچھ عرصہ قبل جدید فہرست اور نفیس اسلوب کے ساتھ شائع ہوئی ہے اس کتاب میں تاریخی حوالوں کے ساتھ طول عمر کے مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔


نتیجہ

گذشتہ باتوں کی روشنی میں جس چیز کو بھی معیار قرار دیا جائے طویل عمر بہرحال ممکن ہے چاہے عہد قدیم کی تاریخ ملاحظہ کی جائے یا علم قدیم اور فلسفہ یونان کو معتبر تسلیم کیا جائے یا جدید علوم پر اعتماد کیا جائے یا انبیاء ومرسلین کی خبروں کو بنیاد بنایا جائے یہ تمام چیزیں طویل عمر کے نہ صرف امکان بلکہ اس کے وقوع کو بھی ثابت کرتی ہیں اور ان تمام منابع کے مطابق طولانی عمر کوئی خارق العادات یا معجزاتی چیز نہیں ہے بلکہ عالم طبیعت کے تمام قوانین میں شامل ہے۔

البتہ اتنا ضرور ہے کہ چونکہ طولانی عمر کے افراد بہت کم ہوتے ہیں لہٰذا ہمارا ذہن اتنی طویل عمر سے ذرا نامانوس ہوتا ہے اور ہمیں عجیب سا محسوس ہوتا ہے جب کہ علم وسائنس کے مطابق مختصر اور کم عمر، خلقت اور عالم طبیعت پر حکمراں قوانین کے خلاف ہے اور اگر سابق الذکررکاوٹیں دورہوجاتیں تو مختصر عمر بھی غیر عادی شمار کی جاتی۔

حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طویل عمر

آپ کی عمر مبارک اگر مزید ہزار برس یا اس سے بھی زیادہ طولانی ہو تو اس میں بھی کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے کہ طویل عمر کا امکان اور وقوع دونوں مسلم الثبوت ہیں، چاہے ہم طبیعی طو رپر طولانی عمر کو ممکن تسلیم کریں (جیسا کہ یہی صحیح نظریہ ہے) اور چاہے اس امکان کو تسلیم نہ کرتے ہوئے طویل عمر کو خلاف عادت اور معجزہ تسلیم کریں، بہر صورت اگر ہم خدا اور اس کی قدرت پر ایمان ر کھتے ہیں اور انبیاء کی صداقت کا کلمہ پڑھتے ہیں تو حضرت ولی عصر کی طولانی عمر کے بارے میں ذرہ برابر تردد نہیں ہونا چاہئے۔

حضرت کی عمر مبارک کے بارے میں سینکڑوں روایات پائی جاتی ہیں اور مشیت الٰہی بھی یہی ہے، جو شخص بھی خدا کو قادر مطلق مانتا ہے وہ اس مسئلہ کا بھی معتقد ہوگا اور جو العیاذ باللہ خدا کو عاجز مانتا ہوگا اور عاجزی کو نقص وعیب اور خدا کے صفات سلبیہ میں شمار نہیں کرتا وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ عجز نقص ہے اور ناقص محتاج ہوتا ہے اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا۔


اس طویل عمر کے دوران صاحبان ایمان وتقویٰ اور صالحین نے بارہا آپ کی زیارت وملاقات کا شرف حاصل کیا ہے اور پاکیزہ قلب ونظر کے مالک افراد کی آنکھیں آپ کے جمال پر نور کی زیارت سے منور ہوئی ہےں۔

آپ کی حیات مبارک کے بارے میں طویل عمر کے ممکن ہونے یا نہ ہونے کی بحث بے محل ہے اور ہمارے خیال سے آپ کی طول عمر کے مسئلہ میں اس سوال کو بلاوجہ داخل کردیا گیا ہے۔

جو لوگ طول عمر کو عقلی طور پر محال جانتے ہیں اور قائل ہیں کہ عقلا طویل عمر ناممکن ہے یا طبیعی طورپر محال ہے انھیں دلیل پیش کرنا چاہئے نہ کہ ہمیں اس کے باوجود ہم نے ثابت کیا کہ بہت طویل عمر نہ تو عقلی طور پر محال ہے اور نہ ہی ذاتی طور پر محال ہے اور نہ ہی اس کے واقع ہونے سے کوئی محال لازم آتا ہے یعنی فلسفیانہ اصطلاح کے مطابق طول عمر نہ محال عقلی ہے نہ محال ذاتی اور نہ محال وقوعی

ہم پھر یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے مختلف دانشوروں اور مفکروں کے نظریات اور مغربی سائنسدانوں کی تحقیقات و تجربات کے جو نتائج پیش کئے ہیں ان کا مقصد سطحی ذہن رکھنے والے کم علم افراد کو مطمئن کرنا ہے کہ ان باتوں سے انھیں بھی یہ اطمینان حاصل ہوجائے کہ طبیعی طور پر طویل عمر کا امکان، مشرق ومغرب کے تمام دانشوروں اور سائنسدانوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔

لیکن جہاں تک امام زمانہ ارواحنا فداہ کی طولانی عمر کا مسئلہ ہے ہم ان چیزوں کے بجائے قدرت خدا اور ارادہ الٰہی کو دلیل مانتے ہیں کہ اگر بالفرض طبیعی طور پر طویل عمر ممکن نہ ہو یا خارق العادة ثابت ہو تب بھی آپ کی طویل عمر پر کوئی اعتراض اور شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے کہ نبوت ِا نبیاء کی تصدیق خارق العادہ امور اور معجزات کو تسلیم کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔


تمام انبیاء کے معجزات خارق العادہ امور ہیں جو حضرات بلا چوں وچرا انبیاء کے معجزات کو تسلیم کرتے ہیں انھیں آپ کی طویل عمر پر کیوں تعجب ہوتا ہے؟ آخر زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے، عصا کے اژدہے میں تبدیل ہونے، پہاڑ سے اونٹ کے برآمد ہونے، آسمان سے مائدہ نازل ہونے، گہوارہ میں بچے کے گفتگو کرنے، بغیر باپ کے عیسیٰ کی پیدائش اور طویل عمر میں کیافرق ہے؟ علم وسائنس طویل عمر کے امکان کی تائید کرتی ہے لیکن یہی سائنس بہت سے معجزات کو ناممکن قرار دے کر ان کی تکذیب کرتی ہے تو آخر کیسے ممکن ہے کہ ہم تمام معجزات کو تسلیم کرلیں مگر طویل عمر کا انکار کردیں۔

ہم قائل ہیں کہ چاہے جس چیز کو بنیاد قرار دیاجائے حضرت قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طولانی عمر پر تعجب یا اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور تمام عقلا مل کر بھی حضرت کی طولانی عمر پرا عتراض کے سلسلہ میں کوئی معقول اور قابل قبول دلیل پیش نہیں کرسکتے۔

خدا نے فرمایا ہے، پیغمبر اکرم نے خبر دی ہے، ائمہ معصومین نے بشارتیں دی ہیں کہ حجت عصر، ”امام حسن عسکری کا نور نظر جس کی ولادت باسعادت نیمہ شعبان ۲۵۵ ھء کی نورانی صبح میں ہوچکی ہے اور جس کے نور جمال سے پوری کائنات منور ہے“ ایک ایسی طویل غیبت کے بعد جس میں لوگ حیرت وتردد میں مبتلا ہوجائیں گے بلکہ اکثر لوگ شک وتردد میں گرفتا ر ہوں گے، ظلم و جور، آلام ومصائب اور گونا گوں مشکلات سے بھری ہوئی دنیا کو اپنے ظہور کے ذریعہ عدل وانصاف سے بھرد ے گا اور پوری دنیا پر اس کی حکومت ہوگی اور ہر جگہ اسلام کے قانون کی بالادستی ہوگی اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں قرآنی تعلیمات کے مطابق عادلانہ نظام قائم ہوگا۔

جب یہ بشارتیں اور خبریں قطعی، مسلم الثبوت اور متواتر ہیں اور خداوندعالم بھی قادر مطلق ہے تو آخر شک وشبہ کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ آپ کی طویل عمر اور غیبت کے اسباب کے بارے میں شکوک وشبہات شیطانی وسوسے ہیں ، ہم واضح کرچکے ہیں کہ چاہے جس معیار سے دیکھا جائے حضر ت صاحب الزمانعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طویل عمر کے بارے میں تعجب کا کوئی مقام نہیں ہے، علم وسائنس، عقل ونقل، قرآن وحدیث، دیگر آسمانی کتب اور قدیم وجدید دانش مندوں کے نظریات سب کے سب ہمارے عقیدہ کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔


انسان اور دیگر مخلوقات کی عمر اور استثنائی موارد

عالم خلقت میں مجردات ومادیات کے مختلف انواع وافراد کے درمیان کبھی کبھی ایسے استثنائی افراد(۱) نظر آتے ہیں کہ جو اپنے ہم جنس یا اپنے خاندان کے افراد سے بہت زیادہ مختلف

ہوتے ہیں چوں کہ ہم عموماً ایک ہی طرح کی چیزوں کو دیکھنے کے عا دی ہیں لہٰذا ان استثنا ئی چیزوں کا فر ق خاص طو ر سے جبکہ وہ بہت زیا دہ ہو ہمیں بہت حیرت انگیز لگتا ہے۔ چاہے یہ فرق اور فاصلہ طول یا عرض یا حجم ووزن کے لحاظ سے ہو یا معنوی خصوصیات کے اعتبار سے یا کسی اور جہت یا قانون کے تحت پہچان لیں یا اسکا سبب ہمیں معلوم نہ ہو، بہرحال اس طرح کے استثنائی افراد کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

آسمانوں، ستاروں اور کرہ افلاک سے لے کر ایٹم کے ذرہ تک جہاں دیکھئے استثنائی کیفیات نظر آتے ہیں یعنی ایسے موجودات دکھائی دیتے ہیں کہ جن میں اپنے ہم نوع افراد کی بہ نسبت کوئی استثنائی خصوصیت ہے جس کی بنا پر وہ توجہ کو اپنی طرف مبذول کرلیتے ہیں۔

____________________

(۱) یہاں استثنائی موارد سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایسے استثنائی افراد کسی قاعدہ وقانون کے تحت نہیں آتے کہ جیسے عوام الناس بغیر کسی سبب یا مصلحت کے کسی بھی فرق وامتیاز کو استثناء کہہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ استثنائی افراد بھی اپنے مخصوص قوانین اور سنن الٰہیہ کے تحت ظاہر ہوتے ہیں اور انھیں استثنائی اس لحاظ سے کہاجاتا ہے کہ وہ شاذونادر ہی دکھائی دیتے ہیں اوران سے بہت کم سابقہ پڑتا ہے۔ ہمارے لحاظ سے کسی ستارہ کا طلوع یا فضا کی تبدیلی ایک استثنائی اور عدیم النظیر چیز ہوسکتی ہے لیکن جو افراد علم افلاک کے ماہر ہیں اور ستاروں او رکہکشاؤں کی حرکت پر نظر رکھتے ہیں ان کے لئے یہ کوئی عجوبی چیز نہیں ہے بلکہ ان کے خیال میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور دنیا کی لاکھوں سال عمر کے دوران بارہا ایسا ہوچکا ہے۔


کرات میں استثناء

آپ کبھی علم افلاک کے ماہرین علمائے علم ہیئت ( Astronomy )کہ جو اربوں ستاروں، شمسی نظاموں، کہکشاؤں، ستاروں کے درمیان فاصلوں، ان کی مسافت وحجم اور قطر کے بارے میں وسیع معلومات کے مالک ہیں ان سے دریافت کیجئے کہ کواکب وسیارات، افلاک وکرات کے بارے میں آپ حضرات کوجن حتمی نظریات کا علم ہے کیا ان میں بھی کوئی استثناء نظر آتا ہے؟کیا کبھی آپ ایسی صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں جو آپ کے خزانہ علم میں موجودنظریات کے تحت نہیں آتی، ان حضرات سے ضرور دریافت کیجئے تاکہ آپ کو ”اثبات“ میں جواب ملے اور ایسے حضرات یہ اعتراف کرتے نظرآئیں کہ ہاں یہاں بھی استثنائی مواقع اور افراد پائے جاتے ہیں۔

خدواندعالم کی ان عظیم ترین مخلوقات کے درمیان حجم وقطر اور وزن کے لحاظ سے جو فرق پایا جاتا ہے کیا اس کی حد معین ہے؟ یقینی طور پر جواب ملے گا کہ کوئی حد معین نہیں ہے، مثلا ہماری زمین اور ”سدیم المراة المسلسلہ“ کے درمیان حجم وقطر اور وزن کا کتنا فرق ہے اس کا حساب خدا کے علاوہ کوئی نہیں لگا سکتا، اس فرق اور فاصلہ کو کسی حد تک سمجھنے کے لئے پہلے سورج اور ”سدیم المراة المسلسلہ“ کا فرق محسوس کرنے کی کوشش کیجئے، علماء ہیئت کے مطابق ”سدیم المراة المسلسلہ“کے حجم کے مقابل سورج کے حجم کی ایسی ہی ہیئت ہے کہ جیسے دریچہ کے ذریعہ کمرہ میں پہنچنے والی کرن کی ہوتی ہے، یعنی آفتاب کے مقابل جو حیثیت ذرہ کی ہوتی ہے،اپنی تمام تر عظمت کے باوجود وہی حیثیت ”سدیم المراة المسلسلہ“کے مقابل آفتاب کی ہے، اب ذرا زمین کا حساب لگائیے کہ زمین سدیم المراة المسلسلہ سے کتنی چھوٹی ہوگی کیوں کہ سورج زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے جب سورج کا قطر تیرہ لاکھ نوے ہزار کلومیٹر ہے تو سدیم المراة المسلسلہ کا قطر کیا ہوگا؟ اور اتنے عظیم قطر کے ساتھ بھلا اس کا زمین سے موازنہ ہوسکتا ہے؟

ہماری زمین اور سدیم المراة جیسے بلکہ اس سے بھی بڑے کروں (کرات) کے درمیان اختلاف کس بنیا د پر ہے؟ یا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم دو کروں کے درمیان اتنے زیادہ فرق کو تسلیم نہیں کرتے؟

آخر کیا وجہ ہے کہ اس نظام شمسی میں استثنائی طور پر صرف ہماری زمین یاشائد مریخ پر ہی زندگی پائی جاتی ہے؟ دیگر سیارات پر زندگی کا امکان نہیں ہے،شائد مفقود الحیات سیاروں کی تعداد لاکھوں کروڑوں سے بھی زیادہ ہو۔


ایٹم کی دنیا اور اختلاف عمر

کہا جاتا ہے کہ ایٹم کے مرکز سے کچھ میزن ( Meson )جدا ہوتے ہیں انہیں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی عمر سکنڈ کا ہزارواں حصہ ہوتی ہے جب کہ کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی عمر سکنڈ کے دس کروڑ حصوں میں سے ایک حصہ ہوتی ہے یعنی بہت ہی زیادہ کم اور مختصر کل جب اہل دنیا ایٹم کی حقیقت سے بے خبرتھے اگران کے سامنے یہ فرق بیان کیا جاتا تو کیاوہ لوگ اسے قبول کرلیتے؟ ہرگز نہیں لیکن آج یہ فزکس کا مسلمہ ہے(۱)

علم نباتات کی دنیا میں اختلاف اور استثنائ

عالم نباتات میں بھی بے شمار عجیب وغریب استثناآت دکھائی دیتے ہیں، درختوں میں ایسے بہت سے درخت ہیں جو اپنی لمبائی، چوڑائی، سن یا قطر کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں مثلا لبنان کا ”ارز“ اور امریکا کے ”ام الاجمہ“ (جنگلات کی ماں) نامی درخت، ”ام الاجمہ“(۲) امریکا کے سب سے بڑے درختوں میں شمار ہوتا ہے اس کی لمبائی ۳۰۰ سے ۴۰۰ فٹ کے قریب ہوتی ہے اور

____________________

(۱)رسالہ نور دانش،شمارہ۶،سال ۵۔

(۲)”ام الاجمہ“ اس درخت کا عربی نام ہے۔


زمین کے نزدیک اس کے تنے کا قطر تین سو فٹ اور اس کی چھال اٹھارہ انگل موٹی ہے۔

اسکاٹ لینڈ میں پائے جانے والے بعض درختوں کی عمر ایک اندازہ کے مطابق تین سو سال سے زیادہ ہے،ماحولیات کے ایک محقق نے ایک درخت کی عمر کا اندازہ تقریباً پانچ ہزار سال بیان کیا ہے جب کہ یہ درخت اپنی طرح کے درختوں میں سب سے چھوٹا ہے۔

کیلی فورنیا میں ”کاج“ (چیڑ)کا ایک درخت ہے جس کی لمبائی تین سو فٹ اور قطر تقریباً تیس فٹ ہے اس کی عمر چھ ہزار سال ہے۔

ان سب سے زیادہ تعجب خیز (بحر اوقیانوس) دریائے اٹلانٹک کے جزیرہ ”تنزیف“ میں واقع شہر ”اورتاوا“ کا ”عندم“ نامی درخت ہے،(۱) اس درخت کا قطر اتنا ہے کہ اگر دس افراد ہاتھ پھیلا کر انگلیوں سے انگلیاں ملاکر کھڑے ہوجائیں تب بھی اس کے تنے کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتے ہیں، ”الآیات البینات“ کے مصنف فرماتے ہیں کہ مذکورہ جزیرہ کے انکشاف کو آج( ۱۸۸۲ ءء میں) ۴۸۲ سال گزر چکے ہیں اور عندم کا یہ عظیم تناور درخت اس وقت بھی ایسا ہی تھا اور اس میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی، عندم کی قسم کے دوسرے چھوٹے درختوں کو دیکھ کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نشوء نما کی رفتار بہت سست ہوتی ہے لہٰذا صرف خدا کو ہی معلوم ہے کہ یہ درخت کتنی صدیوں پرانا ہے۔

علم نباتات کا ایک ماہر اس درخت کی عمر کے بارے میں عاجزی کا اعلان کرتے ہوئے کہتاہے کہ : ”فکر بشری اس راز کو سمجھنے سے قاصر ہے اور اس درخت کی عمر کے بارے میں اندازہ بھی نہیں لگاسکتی میرے خیال میں اتنا طے شدہ اور مسلّم ہے کہ خلقت بشر کے پہلے سے اس درخت کی نشوء نما کا سلسلہ جاری تھا اور طویل عمر گزارنے کے بعد آج یہ درخت اس تن وتوش اور قدوقامت کا ہوا ہے۔“

”الآیات البینات“ کے مصنف فرماتے ہیں: ”اس سے زیادہ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ

____________________

(۱)عندم کے درخت کو”دم الاخوین“اور”دم الثعبان“اور فارسی میں ”خون سیاوش“ یا ”خون شیاوشان“ بھی کہا جاتا ہے۔ بظاہر عربی میں صحیح تلفظ ”عُندُم“ ہے۔


علم نباتات کے ماہرین عندم کو درختوں میں شمار نہیں کرتے بلکہ اس کا شمار ایسے پودوں (گھاس پھوس) میں ہوتا ہے جن کی جڑ پیاز کی طرح ہوتی ہے جیسے کہ سنبل ونرگس کی جڑیں اب ذرا ان حقائق کے پیش نظر اس درخت کے خالق علیم وقدیر کی قدرت کا اندازہ لگائیے کہ ہر اگنے والی شئے کے اندر اس کے اسرار حکمت کا خزانہ پوشیدہ ہے(۱)

کیا آپ کو معلوم ہے کہ بعض درخت ”گوشت خور ہوتے ہیں، جو پرندوں، حیوانوں اور بسا اوقات انسان کو شکار کرلیتے ہیں؟

نباتات کی دنیا میں دریاؤں میں پائے جانے والے ان ”ژلاتین“ جیلن کا شمار بھی گھاس میں ہوتا ہے جو ”کلوروفل“ ( Chlorophyll ) کو جذب کرتے ہیں اور جن کی عمر ایک سکینڈ سے بھی کم ہوتی ہے۔

استوائی علاقہ میں ایسے درخت بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر انھیں پانی میسر ہوتا رہے تو قیامت تک سرسبزوشاداب رہیں گے اور ان میں برگ و بار او رشاخیں نکلتی رہیں گی۔(۲)

”لامباردیا“ میں ایک درخت ہے جس کی اونچائی ۱۲۰ فٹ اور قطر ۲۳ فٹ ہے اور اس کی عمر دوہزار سال سے زیادہ ہے، ”بریبورن کینٹ“ میں ایک درخت ہے جس کی عمر کا اندازہ تقریباً تین ہزار سال لگایا جاتا ہے اسی طرح ”تکودیم“ اور ”شیشیوم“ نامی قسم کے درخت بھی ہیں جن کی عمر کا اندازہ چھ ہزار سال ہے۔(۳)

گیہوں کے ایک دانہ سے سات سو دانوں سے زیادہ کبھی نہیں سنا گیا لیکن اِدھر اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ”بوشہر“ کے گاؤں ”کرہ بند“ کے ایک کھیت میں ایک دانہ سے چار ہزار سے

____________________

(۱)پیک ایران شمارہ ۱۱۵۲۔

(۲)نوردانش، شمارہ۶، سال۵ ۔

(۳)اللهوالعلم الحدیث، ص۹۶۔


زائد دانوں کی پیداوار ہوئی جس کے باعث ماہرین زراعت بھی حیرت میں پڑگئے،جب کہ ایک دانہ سے اوسط پیداوار چالیس دانے ہے۔

حیوانات کی دنیا میں اختلاف

مختلف انواع کے حیوانات کی اوسط عمر کے بارے میں علم الحیوان کے ماہرین کی جانب سے جو اعداد وشمار پیش کئے جاتے ہیں ان سے حیوانات کی اوسط عمر کا علم بخوبی ہوجاتا ہے لیکن ان کے درمیان بھی کم و زیادہ فاصلہ کی صورت حال عجیب وغریب ہے، فرق اور اختلاف کے ساتھ ساتھ ہر نوع کے افراد کے درمیان استثنائی افراد بھی بہت نظر آتے ہیں، ایسی خبریں اکثر وبیشتر اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں اگر ان خبروں کو جمع کیا جائے تو ایک مفصل اور قابل توجہ کتاب تیار ہوجائے۔

روس کی جمہوریہ ”یا کوتسک“ میں قطب شمال کے نزدیک دانشوروں کو ایک گھونگا، ملا ہے جو کئی ہزار سال یعنی ماقبل تاریخ سے اب تک زندہ ہے۔(۱)

شمالی یورپ کے بحراعظم اطلس میں ایسی مچھلیاں دیکھی گئی ہیں جن کی عمر کے بارے میں تیس لاکھ سال کا اندازہ لگایا گیا ہے، اسی طرح سانپوں کی عمر کئی ہزار سال بتائی جاتی ہے جب کہ بعض ایسے رینگنے والے جانور بھی ہیں جن کی عمر چند لمحات سے زیادہ نہیں ہوتی(۲)

کیا آپ کو معلوم ہے کہ رانی مکھی کی عمر شہد کی مکھیوں کے مقابلہ میں چار سو گنا زیادہ ہوتی ہے؟

عالم انسان میں استثناء

انسانوں کے درمیان بھی فرق، امتیاز اور اختلاف کا قانون حاکم ہے، اگر یہ قانون نہ ہوتا تو

____________________

(۱)روزنامہ اطلاعات، شمارہ ۹۷۷۔

(۲) نوردانش، شمارہ۶ سال۵۔


افراد کا پہچاننا ممکن نہ ہوتا، خداوندعالم نے اس اختلاف کو اپنی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے اعلان ہوتا ہے:

( ومن آیاتهاختلاف السنتکم والوانکم ) (۱)

اللہ کی نشانیوں میں سے تمہارے رنگوں اور زبانوں کا اختلاف بھی ہے۔

لوگوں کے درمیان اتنا زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ اپنی کثرت کے باعث یہ اختلاف اکثر افراد کی نگاہوں سے اوجھل ہے، عموماً لوگ شکل وقیافہ کے ذریعہ ہی افراد کو پہچانتے ہیں لیکن آج انسان نے ترقی کے باعث جو وسائل ایجاد کئے ہیں ان کے سہارے انسانوں کو خون، ہڈیوں،اور انگلیوں کے نشانات کے ذریعہ بھی پہچانا جاسکتا ہے(۲)

عمر، قد، رنگ، بدن کی ساخت، قوت عقل وفکر، احساسات وغیرہ کے لحاظ سے نادرالوجود افراد مل جاتے ہیں مثلا ایک شخص کا دل داہنی طرف تھا، کوئی شخص اپنے قدوقامت یا وزن کے لحاظ سے اربوں انسانوں کے درمیان اپنی مثال آپ ہوتاہے۔

اگر روحانی واخلاقی عادات واطوار اور صفات کے لحاظ سے دیکھیں تو کوئی سخاوت میں حاتم طائی نظر آتا ہے تو کوئی کنجوسی میں ضرب المثل بن جاتا ہے، فکر ودماغ کے لحاظ سے بھی کوئی نابغہ عصر ہوتا ہے تو کوئی اتنا ذہین کہ مشکل سے مشکل فلسفی وریاضی مسائل کا حل کرنا اس کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا، اور کوئی اتنا کندذہن اور غبی ہوتا ہے کہ سامنے کی بات بھی اس کی سمجھ میں نہیں آتی اور دو، دو چار جیسے جوڑ بھی اس کے لئے مشکل ہوتے ہیں، تاریخ میں جتنے بھی نابغہ اور نامور ہستیاں گزری ہیںوہ کوئی الگ مخلوق نہیں تھیں بلکہ ایسی فاتح عالم ہستیاں بھی انسان ہی تھے مگر عام انسانوں سے ان کا مرتبہ ذرا بلند تھا۔

____________________

(۱) سورہ روم، آیت۲۲۔

(۲)آج کل D.N.A بھی قطعی شناخت کا ذریعہ بن گیا ہے۔ (مترجم)


خلاصہ کلام یہ ہے کہ عالم خلقت میں استثنائی صورت حال کا ہر جگہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ہاں کبھی اس کا سبب ہمیں معلوم ہوجاتا ہے اور کبھی معلوم نہیں ہوپاتااور کبھی یہ صورت اچانک رونما ہوتی ہے۔

اب ہم ان لوگوں سے جو امام زمانہ کی طویل عمر کو بعید تصور کرتے ہیں، یا سرے سے اس کے منکر ہیں یہ دریافت کرتے ہیں:

آخر آپ انکار کیوں کررہے ہیں کیا مخلوقات کے درمیان آپ کو استثناآت نظر نہیں آتے؟ کیا طویل عمر انھیں استثناآت کا حصہ نہیں ہے؟

آخر کیوں ہم کروڑوں، ایٹم، نباتات وحیوانات کی دنیا میں عمر یا دیگر کسی اور لحاظ سے استثنائی صورت حال کوتو تسلیم کرلیتے ہیں لیکن امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کہ جوولی خدا بھی ہیں ان کے بارے میںطولانی عمر کے استثناء کو تسلیم نہیں کرتے؟

اگر کوئی شخص مومن وموحد نہ بھی ہو تب بھی اسے عالم طبیعت میں بکھرے ہوئے بے شمار نمونوں کو دیکھ کر کسی شخص کی طویل عمر کے انکار کا حق نہیں ہے، اور اگرہم معرفت خدا رکھتے ہیں اس کی قدرت اور انبیاء کرام کی خبروں پر ایمان لاتے ہیں تو پھر حضرت کے طول عمر کے انکار کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟۔

کیا خدا اس بات پر قادر نہیں ہے؟ کیا خدا کسی انسان کو ہزاروں سال تک زندہ نہیں رکھ سکتا؟آپ تو طویل عمر سے بھی زیادہ عجیب وغریب اور استثنائی باتوں کو تسلیم کرتے ہیں مثلا عصا کا اژدھے میں تبدیل ہونا، بغیر باپ کے جناب عیسیٰ کی ولادت تو آخر فرزند پیغمبر کی طویل عمر کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟

کیا کرات، ایٹم، نباتات، حیوانات کا خدا یا جناب عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کرنے والا خدا کوئی اور ہے اور امام زمانہ کا خدا کوئی اورہے؟ ہرگز نہیں آپ ہی نہیں کوئی بھی شخص اس سوال کا منفی جواب نہیں دے سکتا ہے کہ اس سے خدا کی قدرت پر حرف آتا ہے۔


دا ئمی عمر

حیات ابدی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی طرف بشریت کی توجہ ہمیشہ سے مبذول رہی ہے اور اس سلسلہ میں زمانہ قدیم سے ہی تحقیق و جستجو اور تجربات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

جہاں تک دائمی عمر اور حیات ابدی کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ سبھی عقلی طو رپر اسے ممکن گردانتے ہیں اور شائد ہی کوئی انسان ہو جو حیات ابدی کو ممکن سمجھنے کے بجائے محال جانتا ہو۔

تحقیقات کا تعلق اس کے علمی امکان سے ہے یعنی علم حیات اور مفکرین اپنے تجربات اورآزمائشوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کے درپے ہیں کہ حیات ابدی کبھی انسانی اختیار میں آسکتی ہے یا نہیں کہ اگر کوئی انسان اسے حاصل کرنا چاہے تو حاصل کرلے۔

اس سلسلہ میں اب تک جو تحقیقات اور تجربات ہوئے ہیں وہ کامیاب رہے ہیں؟

اس میدان کی تحقیقات ،ماہرین فن کے لئے امید افزا ہیں یا مایوس کرنے والی؟

کیا اس میدان میں تحقیق و جستجو کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے؟

جس طرح انسان نے چیچک، ملیریا، تپ دق اور دیگر بیماریوں کے جراثیم تلاش کرکے ان سے مقابلہ کیا ہے، کیا کسی دن عمر کے منقطع ہونے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا؟

علمی لحاظ سے ان سوالات کا جواب مثبت ہے یا منفی؟

انسانیت کے لئے سب سے اہم مسئلہ آج یہی ہے اور مادی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔

بیماری سے لڑنا، خطرناک کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی دوا تلاش کرنایہ سب اسی اصل مسئلہ کی فروعات ہیں یعنی ان سب کوششوں کا راز یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ہمیشہ نہ سہی تو زیادہ سے زیادہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔


ہماری معلومات کے مطابق علم الحیات، میڈیکل سائنس اور متعلقہ موضوعات کے ماہرین نے ان سوالات کا جواب مثبت انداز میں دیا ہے اور ان کی تحقیقات امیدافزا ہیں اسی لئے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، اگرچہ بعض حضرات ابھی احتیاط کے لہجہ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمر کو مزید طویل بنانا ممکن ہے، یہ محتاط حضرات ابدی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں کہتے لیکن اتنا ضرور مانتے ہیں کہ عمر کو طولانی بنانے کا مطلب ہے کہ ہم زندگی سے ایک قدم نزدیک ہورہے ہیں، بنیادی طور پر میڈیکل سائنس جتنے شعبوں پر کام کررہی ہے اور بیماریوں کا علاج جیسے جیسے میسر ہوتا جارہا ہے یہ چیز بذات خود ہمیں اس ہدف سے قریب تر کررہی ہے اس لئے کہ بیماری کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ بیماری کے باعث عمروزندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور بیماری ابدی زندگی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جب یکے بعد دیگرے بیماریوں کا علاج فراہم ہوتا جائے گا توبتدریج حیات ابدی کا حصول بھی ممکن ہوتا جائے گا۔

اگرچہ محققین الگ الگ یونیورسٹیوں اور لیبورٹریز میں مختلف شعبوں پر کام کررہے ہیں او رہر ایک الگ بیماری کے بارے میں معلومات اور اس کا علاج تلاش کررہا ہے لیکن ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تحقیقات اور تجربات کتنے ہی کامیاب کیوں نہ ہوں جب تک انسانیت کے سرپر موت کی تلوار لٹکی ہوئی ہے ان کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے، لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ ایسی تمام کوششیں اسی ہدف ومقصد اور اسی نتیجہ تک رسائی کے لئے ہیں اور جیسے جیسے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں قافلہ بشریت اس ہدف سے نزدیک تر ہوتا جارہا ہے یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں ہے۔

حیات ابدی کے امکانی حصول کے لئے بظاہر دو راستوں سے مطالعات وتحقیقات وتجربات کا سلسلہ جاری ہے۔

۱ ۔ ایسے لوگوں کے حالات زندگی اوران کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی، دینی اور اقتصادی صورت حال کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں جنھوں نے طویل زندگی بسر کی ہے۔


۲ ۔ بعض حیوانات، جینس( Genes )، خلیوں،یا اعضا کے اوپر تحقیقات کی جائیں۔

دونوں مرحلوں میں اب تک تحقیقات مثبت اور امیدافزا رہی ہیں اور ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رشتہ حیات کا منقطع ہونا کسی جاندار کا طبیعی لازمہ نہیں ہے بلکہ بعض عوارض یا حوادث کے باعث ایسا ہوتا ہے۔

غیرمعمولی معمر حضرات کے حالات زندگی سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عمر کی کوئی حد معین نہیں ہے اور حیات وزندگی جیسی عظیم نعمت انسان کے حصہ میں اتنی محدود ومختصر بھی نہیں ہے جسکے ہم عادی ہوگئے ہیں، اوراگرکسی کو خصوصی شرائط اور حالات اتفاقاً میسر ہوجائیں تو انسان اوسط سے کئی گنا زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔

علمی ا ورسائنسی تحقیقات

ڈاکٹر ”ہنری اطیس“ کہتے ہیں کہ ”ابدی زندگی ممکن ہے اوریہ انسانی اعضائے بدن کی مصنوعی ساخت اور انسانی بدن میں ان کی پیوند کاری کے ذریعہ عملاً ممکن ہوجائے گا۔“(۱)

ایک اور مفکر کا قول ہے ”موت بیماری کے باعث آتی ہے نہ کہ ضعیفی کے باعث اور بیماری کے بہت سے اسباب ہیں جن میں سے بعض انسان کے اختیارسے باہر ہیں جیسے والدین کا جاہل ہونا یا ان کی جانب سے اپنے رشتہ کے انتخاب سے لے کر حمل ورضاعت کے مختلف مراحل پر حفظان صحت کے اصول وقواعد کی رعایت نہ کرنا، بچوں کی غلط تربیت، خراب ماحول وغیرہ ، کچھ اسباب ایسے ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں او رانسان انھیں دور کرسکتا ہے جیسے زیادہ کھانا، زیادہ سونا،

____________________

(۱)اطلاعات،شمارہ۱۱۸۰۵۔


غیرمنظم زندگی، غلط عادات، بداخلاقی اور باطل افکار ونظریات جن کے باعث انسان اضطراب و بے چینی میں مبتلا رہتا ہے اورآخر کار نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مایوسی وافسردگی کا شکار ہوجاتا ہے، اور انسانی زندگی سے سکون واطمینان ختم ہوجاتا ہے۔

اس طرح اگر انسان ان اسباب سے دوری اختیار کرکے لباس، غذا، مشاغل اور دیگر امور میں اعتدال سے کام لے تو اس کی عمر کی کوئی حد نہ ہوگی اورسائنٹفک اصولوں کے تحت اس کے لئے ابدی زندگی محال نہ ہوگی۔

لیکن آیات قرآنی اور انبیائے کرام کی زبانی موصولہ خبروں سے یہ ثابت ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔

کل مَن علیها فان “جو بھی روئے زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے۔

اینما تکونوا یدرککم الموت “تم جہاں بھی رہو گے موت تمہیں پا لے گی۔

البتہ یہی ذرائع ہزار سال یا اس سے زیادہ عمر کی نفی نہیں کرتے۔(۱) اور نہ ہی یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا کی بقا ء تک عام افراد کی زندگی محال ہے۔

عربی زبان کے مشہور ومعروف علمی وسائنسی رسالہ ”المقتطف“نے ۱۳۵۹ ء ھ ش کے تیسرے شمارہ میں ایک مقالہ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ”هل یخلد الانسان فی الدنیا “”کیا انسان ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں زندہ رہے گا؟“

اس مقالہ میں موت و حیات، موت کی حقیقت او رکیا ہر جاندار کے لئے موت ضروری ہے؟ جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔

اس مقالہ میں علمی تحقیقات اورتشریحات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جن جراثیم اور Cells کے باعث نسل آگے چلتی ہے اور انسان، حیوانات، مچھلیاں، پرندے، درندے، گھوڑے، گائے،

____________________

(۱)منتخب الاثر،ص۲۸۰


بکریاں اور جاندار بلکہ نباتات اور درخت انھیں جراثیم اور سیل کے ذریعہ باقی ہیں یہ جراثیم ہزاروں بلکہ لاکھوں بر س پہلے سے زندہ تھے۔

آگے چل کر مزید تحریر کرتے ہیں کہ ”قابل اعتماد علم کے حامل افراد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حیوان کے جسم کے تمام اعضائے رئیسہ میں لامحدود اور دائمی بقا کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور اگررشتہ حیات کو منقطع کرنے والے اسباب وحوادث رونما نہ ہوں تو انسان بھی ہزاروں سال زندگی گزار سکتا ہے، ان حضرات کا نظریہ محض اندازہ اور خیال نہیں ہے بلکہ تجربات کے ذریعہ ثابت ہوچکا ہے۔

نیویارک کی روکفکر لیبوریٹری کے ممبر ڈاکٹر ”الیکس کارل“ ( Alex Carl ) نے حیوان کے بدن کے ایک جداشدہ حصہ کو اس حیوان کی طبیعی عمر سے کہیں زیادہ عرصہ تک زندہ رکھنے میں کامیابی حاصل کی یعنی جدا شدہ حصہ تک اس کی مطلوبہ اور معینہ غذا پہنچتی رہی اور وہ زندہ رہا جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اگر ہمیشہ مطلوبہ غذا پہنچتی رہے تو ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے۔

یہی تجربہ انہوں نے گھریلو مرغی کے جنین پر بھی کیا وہ جنین آٹھ سال تک زندہ رہا، اسی طرح خود انھوں نے اور دیگر محققین نے انسانی بدن کے بعض اعضاء، پٹھوں، دل، کھال، گردوں پر بھی یہ تجربہ کیا جس سے یہ نتیجہ اخذکیا کہ جب تک اعضاء کو غذا ملتی رہے گی وہ زندہ رہیں گے اور ان میں نشوء نما بھی ہوتی رہے گی۔

جانس ہنکش یونیورسٹی کے پروفیسر ڈائمنڈ وبرل تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ جسم انسانی کے تمام اعضائے رئیسہ کے سیل کی ابدی زندگی یا تو تجربات کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہے یا ان کی ابدی حیات کا احتمال قطعا رجحان کا حامل ہے۔

بظاہر سب سے پہلے حیوانات کے اعضاء پر کامیاب تجربہ کرنے والے روکفلر لیبوریٹری کے ممبر ڈاکٹر جاک لوب تھے، ان کے بعد ڈاکٹر ورن لوئٹس اور ان کی زوجہ نے یہ ثابت کیا کہ مرغ کے جنین کے سیل ( Cells ) کو ایک نمکین مایع میں زندہ رکھا جاسکتا ہے اور اگر اس میں غذا ئی اجزا کا اضافہ کردیا جائے تو ان Cells میں نشوء نما ہوسکتی ہے۔


تجربات کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور آخرکار یہ ثابت ہوگیاکہ حیوانی بدن کے سیل کوایسے مایع میں زندہ رکھا جاسکتا ہے جس میں ان سیلز کے لئے ضروری غذائی مواد موجود ہوں لیکن ان تجربات سے یہ ثابت نہ ہوسکا کہ ان اجزاء کو ضعیفی ( Fluids ) کے باعث موت نہ آئے گی،یہاں تک کہ ڈاکٹر کا رل کی تحقیقات سامنے آئیں جن میں انھوں نے ثابت کیا کہ سیلز حیوانات کے بڑھاپے کا سبب نہیں ہیںبلکہ یہ تو معمول سے بہت زیادہ عرصہ تک زندہ رہ سکتے ہیں، ڈاکٹر کارل اور ان کے ساتھیوں نے ہمت نہ ہاری اور سخت جدوجہد کے ساتھ تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ انھوں نے یہ ثابت کیا کہ:

۱ ۔ جسم کے خلیوں ( Cells )کے اجزاء زندہ رہتے ہیں انھیں صرف اسی صورت میں موت آتی ہے جب غذا نہ ملے یا کوئی بیکٹریا ان کو ختم کردے۔

۲ ۔ اجزاء نہ صرف یہ کہ زندہ رہتے ہیں بلکہ ان میں نشوء نما کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور ان کی تعداد میں ایسے ہی اضافہ ہوتا رہتا ہے جیسے زندہ جسم کا حصہ ہونے کی صورت میں ہوتا رہتا تھا۔

۳ ۔ ان کی نشو نما اور تعداد میں اضافہ کا تعلق ان کی غذا سے ہے۔

۴ ۔ زمانہ ان کی ضعیفی یا بڑھاپے پر قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا اور طول عمر سے ان کی ضعیفی پر معمولی سا بھی اثر نمایاں نہیں ہوتا بلکہ نشوء نما اور توالد وتناسل کا سلسلہ ہر سال گزشتہ برسوں کی مانند جاری رہتا ہے او ربظاہر آثار یہ نظر آتے ہیں کہ جب تک تجربہ کرنے والوں کے ذریعہ ان تک مطلوبہ غذا پہنچتی رہے گی وہ زندہ ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضعیفی خود سبب نہیں ہے بلکہ نتیجہ ہے۔

پھر وہ خود بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ واقعا اگر ایسا ہے تو آخر انسان کو موت کیوں آتی ہے؟ انسان کی عمر محدود کیو ں ہوتی ہے؟ اور آخر کیوں صرف معدودے چند افراد ہی سو سال سے زیادہ عمر گزارتے ہیں؟

وہ جواب دیتے ہیں کہ حیوانات کے جسمانی اعضاء بہت زیادہ ہیں اور مختلف ہونے کے باوجود ان کے اندر اتنا زیادہ تعلق وارتباط بھی ہوتا ہے کہ ایک عضو کی زندگی دوسرے پر موقوف ہوتی ہے۔

لہٰذا جب کوئی عضو کمزور پڑ جاتا ہے یا کسی سبب سے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تودوسرے اعضاء کو بھی موت آجاتی ہے جیسا کہ مائکروب( Microbe ) کی بیماری میں یہ بات صاف طور پر نظر آتی ہے اس لئے اوسط عمر ستر، اسّی سال سے کم ہوتی ہے۔


اب تک کے تجربات اور تحقیقات کا ماحصل یہ ہے کہ انسان کو اس لئے موت نہیں آتی کہ وہ ساٹھ یا ستّر یا اسّی یا سویا اس سے زیادہ سال کا ہوگیا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کے کچھ اجزا بعض عوارض کی بنا پر ختم ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد آپسی ارتباط کے باعث ان اجزاء سے تعلق رکھنے والے اجزا بھی مرجاتے ہیں لہٰذا جب علم وسائنس ان عوارض کو برطرف کرنے یا ان کی تاثیر ختم کرنے کے قابل ہوجائے گا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ انسان سینکڑوں سال زندگی نہ گزار سکے، جب کہ بعض درخت ہزاروں سال تک زندہ رہتے ہیں(۱)

کچھ عرصہ قبل غیر ملکی جرائد سے ایک مقالہ کا ترجمہ روزنامہ ”اطلاعات“ میں شائع ہوا تھا جس میں ضعیفی کے علاج او ردائمی زندگی کے بارے میںچند عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹروں کی آخری تحقیقات پیش کی گئی تھیں۔

مذکورہ مقالہ میں صراحت کے ساتھ یہ بات ثابت کی گئی تھی کہ اگر مرنے والے انسان کے بدن سے کوئی حصہ اس کی زندگی میں جدا کرلیا جائے اور پھر اسے مناسب ماحول میں رکھا جائے تو وہ حصہ زندہ رہے گا معلوم ہوا کہ حیات ابدی کا راز مناسب اور سازگار ماحول ہے(۲)

امریکہ میں ایسی کمپنیاں وجود میں آچکی ہیں جو مردوں کو مومیائی کرنے کے بعد منجمد کرکے دیتی ہیں تاکہ انھیں دوبارہ زندہ کیا جاسکے، ان کمپنیوں کا اعلان ہے کہ حیات ابدی کا تصور

____________________

(۱)رسالہ المقتطف شمارہ ۳ سال ۵۹سے ماخوذ ، اصل مقالہ منتخب الاثر ص ۲۸۰تا ۲۸۳ پر نقل ہوا ہے۔

(۲)اطلاعات شمارہ ،۱۱۸۰۵۔


ناقابل قبول نہیں ہے البتہ حیات ابدی کا مطلب لامحدود زندگی نہیں ہے یہ زندگی بھی محدود ہوگی اور تقریباً ایک لاکھ برس سے زیادہ نہ ہوسکے گی! یہ بھی ضروری ہے کہ حیات ابدی تک رسائی کے لئے ہمیں نفسیاتی موانع کو بھی راہ سے ہٹانا پڑے گا اس وقت ہم موت اور محدود ومختصر زندگی کے اتنا زیادہ عادی ہوچکے ہیں کہ ابدی زندگی کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ہیں، اس طرز فکر کو تبدیل کرنا ہوگا۔(۱)

اگر ہم طول عمر اور ابدی زندگی کے بارے میں محققین ومفکرین کی تمام آرا ونظریات جمع کریں تو متعدد تفصیلی مقالات کے بعد بھی ہم محققین کے نظریات وتحقیقات بیان نہ کرسکیں گے، البتہ مکمل وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جو حضرات بھی علمی دنیا کے ایسے جرائد ومجلات سے تھوڑا بہت سروکار رکھتے ہیں جن میں دانشوروں کے تازہ ترین نظریات اور جدید ترین تحقیقات اور علم وصنعت کی دنیا میں ہرروز نئی تبدیلیوں اور ارتقاء کے بارے میں رپورٹیں شائع ہوتی ہیں ایسے افراد کو جدید علمی نظریات اور تجربات کے نتائج نیز معمر حضرات کے بارے میں کہیں زیادہ اطلاعات ومعلومات فراہم ہوتی رہتی ہیں۔

ایک اور چیز کہ جس سے طول عمر اور ابدی زندگی کے امکان کو تقویت حاصل ہوتی ہے وہ اعضا کی پیوند کاری ہے یہ کارنامہ اس سال ڈاکٹر برنارڈ نے انجام دیا ہے جس کا چرچا ہر طرف سنائی دیتا ہے(۲)

دوسرے انسان کے بدن میں ایک انسان کے کسی عضو کی پیوندکاری کا مطلب ہے کہ خراب اور بے کار عضو نکال کر اس کی جگہ دوسرا صحیح عضو لگا دیا جائے اور اگر متعدد مرتبہ اس کا امکان ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ موت کو ٹالا جاسکتا ہے، عین ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید بہتر اور آسان امکانات فراہم ہوجائیں۔

____________________

(۱)اطلاعات، شمارہ۱۲۱۴۳، مجلہ دانشمند، شمارہ۶۴/۶۵۔

(۲) یہ اس وقت کی بات ہے جب فاضل مصنف نے یہ مقالہ تحریر فرمایا تھا آج کل تو اعضا کی پیوندکاری میڈیکل سائنس کے روزمرہ کے معمولات کا حصہ ہے۔ (مترجم)


علمی میدان سے اتنی وضاحتیں اور شہادتیں پیش کرنے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ ”امام زمانہ حضرت ولی عصر ارواحنافداہ “کی طول عمر او رغیبت کے تسلسل سے متعلق شیعوں کا عقیدہ وایمان، عقل، علم وسائنس اور عالم خلقت وطبیعت پر حکم فرما قوانین کے عین مطابق ہے۔

جب حیات ابدی انسان کے اختیار میں ہوسکتی ہے تو کیا خداوندعالم کے لئے اپنے ولی خاص کو بہت طولانی عمر عطا کرنا مشکل ہے؟

جو کام انسان کے دائرہ قدرت میں ہے کیا وہ کام خالق انسان کے دائرہ قدرت میں نہ ہوگا؟

کیا طویل عمر کے حالات وشرائط حضرت ولی عصرکے لئے فراہم کئے نہیں جاسکتے ہیں؟


پائیدار جوانی

امام زمانہ کے اوصاف وخصوصیات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ کے وجود مبارک پر بڑھتی عمر کا کوئی اثر نہ ہوگا، اور ایسا ہونا بھی چاہئے اس لئے کہ اگر طولانی عمر کے باعث پیری وضعیفی کے آثار آپ کے وجود میں پائے جائیں تو آپ وہ تمام اصلاحات اور عظیم انقلاب کیسے برپا کرسکیں گے جو آپ کے ذمہ ہیں۔

لہٰذا جس طرح حکم خداوندی سے آپ کو طویل عمر حاصل ہے اسی طرح اس عالمی رہبر کی جوانی، نشاط اور توانائیاں بھی حکم خدا سے باقی رہیں گی اور اس میں کوئی تعجب کا مقام نہیں ہے اس لئے کہ ہم طول عمر سے متعلق گفتگو میں یہ باتیں ثابت کرچکے ہیں کہ:

۱ ۔ یہ چیز خدا کے دائرہ قدرت میں شامل ہے، جو انسان خدا کے وجود اور اس کی خالقیت پرا یمان رکھتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا نے ہی مادہ کو پیدا کیا ہے مختلف مادوں کو آپس میں جوڑ کر اتنے مستحکم نظام کے ساتھ یہ کائنات خلق کی ہے صرف یہی عالم نہیں بلکہ وہ عالمین کا خالق ہے کیا وہ خدا کسی انسان کی جوانی، نشاط اور توانائی کو باقی رکھنے پر قادر نہیں ہے؟

۲ ۔ بقائے جوانی کے امکان کا مسئلہ طولانی عمر کے امکان کے ضمن میں حل ہوچکا ہے اور سائنسی تجربات سے اس کی تصدیق وتائید ہوتی ہے، تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور بہت سے محققین ضعیفی، کمزوری کے خاتمہ اورجوانی کے بقاء بلکہ واپسی اور بڑھاپے کی تاخیر کو ممکن قرار دیتے ہیں بلکہ اسے اب عملاً مسلّم جانتے ہیں۔

ضعیفی سے مقابلہ اور نشاط ونوجوانی کی واپسی اگرچہ عہد قدیم سے ہی توجہ کا مرکز رہی ہے اور تاریخ خصوصاً مذہبی تاریخ میں جن معمر حضرات کا تذکرہ ملتا ہے ان میں بہت سے جوانی کی نعمت سے مالا مال تھے لیکن جدید علوم کے اعتبار سے اس سلسلہ میں تحقیقات کا سلسلہ اٹھارویں اور انیسویں صدی سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔


سب سے پہلے ”براؤن اکار“ نامی دانش مند نے ۱۸۶۹ ءء میں ضعیفی کے عالم میں جوانی حاصل کرنے کی کوشش کی اس کے بعد دیگر محققین ”ورونوف“ نے ۱۹۱۸ ءء میں براؤن کے تجربات کی روشنی میں مزید تحقیقات کیں، تجربہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ”اشیناش“ کے تجربات ہیں جس نے بعض جانوروں کے تناسلی نظام میں آپریشن کے ذریعہ جوانی واپس لانے کا کارنامہ انجام دیا لیکن ایسے تجربات میں آپریشن سے ہارمون میں نقص وغیرہ جیسے خطرات کا فی پائے جاتے تھے۔(۱)

بعض محققین نے ضعیفی کے اصل اسباب کے لئے راہ علاج تلاش کرنا شروع کردیا کہ ان کے خیال میں بڑھاپے کا اصل سبب سیلز کا کمزور یا پرانا ہوجانا تھا۔

عمر کو طولانی بنانے اور جانوروں پر تجربات کے ذریعہ جوانی کی واپسی کی کوشش کرنے والوں میں ایک مشہور ومعروف ”ڈاکٹر فوردنوف“ کا کہنا ہے: کہ اب تک چھ سو کامیاب تجربہ کرچکا ہوں اوروہ بڑے اعتماد کے ساتھ بھروسہ دلاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں معمر افراد کی ازکاررفتہ قوتوں کی تجدید اور ان سے بڑھاپے کے گرد وغبار کا زائل کرنا اور جھکی ہوئی کمر کو دوبارہ سیدھا کرنا ممکن

____________________

(۱)اطلاعات، شمارہ ۸۹۳۰۔


ہوگا اور اس طرح بڑھاپے میں تاخیر اور آخر عمر تک قلب ودماغ کی صحت کے ساتھ عمر کو طویل بنانا بلکہ انسان کے عادات واطوار اور شخصیت میں بھی تبدیلی ممکن ہوگی ۔(۱)

آج میڈیکل سائنس کے محققین کے ذریعہ ضعیفی کا سبب تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری دنیا کی آبادی کے اعداد وشمار اور عمر میں فرق سے متعلق اعداد وشمار کی مناسبت سے ”الثورہ“ اخبار نے مشہور ومعروف ڈاکٹروں کی آراء پر مشتمل ایک مقالہ شائع کیا ہے اس مقالہ کا بیشتر حصہ ضعیفی کے اسباب اور اصل سبب کی شناخت سے متعلق بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں کی جانے والی تحقیقات سے تعلق رکھتا ہے۔

مذکورہ مقالہ میں زور دے کر یہ بات کہی گئی ہے کہ بڑھاپے کا عمر کی زیادتی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ کثرت سن کے بجائے جب انسان اپنے کو بے کار اور بے اہمیت سمجھنے لگتا ہے تو اس پر بڑھاپا طاری ہوجاتا ہے، میڈیکل سائنس کے لحاظ سے بڑھاپے کا مطلب یہ ہے کہ جسم کے حیاتی خلیے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرپار ہے ہیں یعنی بقدر ضرورت زندہ سیل بنانے کی صلاحیت ان میں ختم ہوگئی ہے اور اس احساس یا صورت حال کا تعلق سن کی زیادتی سے نہیں ہے بلکہ کبھی بعض عوارض کے باعث انسان کو چالیس سال کی عمر میں ہی یہ احساس ہونے لگتا ہے اور بسااوقات سو سال کی عمر میں بھی اس کے آثار نہیں دکھائی دیتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بنا پر جسم کے ایک حصہ میں ضعیفی کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں جب کہ دیگر اعضاء میں جوانی اور نشاط کی وہی کیفیت پائی جاتی ہے۔

اس مقالہ کے مطابق جدید میڈیکل سائنس کی نگاہ میں ضعیفی کے تین اسباب ہیں:

۱ ۔ پرانی اور مزمن ( Chronie )بیماریاں : جیسے معدہ کی بیماریاں یا غذا کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں وغیرہ۔

____________________

(۱)مجلہ کل شئی، تفسیر طنطاوی، ج۱۷ص۲۲۴۔


۲ ۔ نفسیاتی اور اعصابی حالات: یہ حالات بھی ضعیفی کا باعث یا نشاط کے خاتمہ اور حیاتی سیلز کی قلت کا سبب ہوتے ہیں۔

۳ ۔ بیرونی عوامل: جیسے ماحول، آب و ہوا، سردی ،گرمی یا رطوبت(۱) ضعیفی کا علاج تلاش کرنے والوں میں ایک تاریخی نام ”بوکومالتھس“ کا بھی ہے، مالتھس کا عقیدہ تھا کہ انجکشن کے ذریعہ بدن کی ساخت میںپہلی جیسی نرمی واپس لائی جاسکتی ہے ،مالتھس گھوڑے کو مخصوص انجکشن لگاکرا س گھوڑے سے ایسے انجکشن تیار کرتا تھا جنہیں وہ عرصہ دراز تک مغربی ممالک میں اعلیٰ قیمتوں پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتا تھا۔

مغربی ممالک میں بھی مالتھس کے نقش قدم پر چلنے والوں میں ”ڈاکٹر پنھانس“ کا شمار ہوتا ہے جو سوئڈ لینڈ کا باشندہ تھا۔

ڈاکٹر پنھانس کا طریقہ یہ تھا کہ ازکار رفتہ نسوں کے اندر کسی دوسرے حیوان یا انسان کی جوان نس لے کر منتقل کردیا کرتا تھا لیکن اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ ایک بدن سے نس نکالنے اور دوسرے جسم میں منتقل کرنے کے درمیان ساٹھ منٹ سے زیادہ کا وقفہ نہ ہو۔

ڈاکٹر پنھانس کہتے ہیں کہ اب تک بیس ہزار ایسے تجربات کرچکا ہوں اور کسی میں بھی ناکامی نہیں ہوئی۔

کچھ عرصہ قبل رومانیہ کے ڈاکٹر ”اصلان“ نے ضعیفی سے مقابلہ کے لئے ایک نیا مادہ بنام H-۳ پیش کیا ہے جو اس وقت تقریباً پوری دنیا میں استعمال ہورہا ہے اسے استعمال کرنے والوں میں مشہور ڈاکٹر” شرمن“ کہتے ہیں کہ اس مادہ سے جلد ملائم ہوجاتی ہے اور بدن کی تکان بھی دور ہوتی ہے یہ حافظہ کو قوی کرتا ہے اور اس سے نیند بھی خوب اچھی طرح آتی ہے۔

ڈاکٹر شرمن کہتے ہیں کہ اس دوا سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان میں ۴۰ فیصدمیں مکمل کامیابی

____________________

(۱)روزنامہ الثورة مطبوعہ بغداد شمارہ ۹۴ سال اول۔


۳۵ فیصدمیں مناسب کامیابی اور ۲۵ فیصد موارد میں ناکامی ہوئی(۱)

فرانس کے مشہور ومعروف ماہر حیاتیات ”بلوفر“ شہد کی مکھیوں سے متعلق اپنی مشہور تحقیقات کے دوران حیرت انگیز مسئلہ سے دو چار ہوئے اور آخرکار اسے حل کرنے کے لئے انھوں نے انتھک کوشش کی اور وہ ”رانی مکھی“ کی بھرپور جوانی اور نشاط کے ساتھ اس کی طویل زندگی“ کا مسئلہ تھا۔

اپنی تحقیقات کے دوران انھوں نے پایا کہ رانی مکھی زندگی بھر وہ مخصوص غذا استعمال کرتی ہے کہ جو دوسری کام کرنے والی مکھیاں تیار کرتی ہیں جب کہ عام مکھیاں زندگی کے صرف ابتدائی تین ایام میں ہی اس پراسرار دستر خوان سے غذا استعمال کرتی ہیں، آخر یہ حیرت انگیز غذا کیا ہے؟ کیا واقعا اسی پر اسرار غذا میں رانی مکھی کی جوانی، رعنائی اور طویل عمر کا راز پوشیدہ ہے کہ رانی مکھی عام مکھیوں کی بہ نسبت چار سو گنا زیادہ زندہ رہتی ہے؟

فرانس کے اس محقق نے ۱۹۳۸ ءء میں شب وروز اسی مشکل مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مسلسل تگ ودو کی اور آخرکار بڑی گراں قدر کامیابیاں حاصل کیں۔

اس دسترخوان ”شاہانہ شہد“( Royal Jelly ) کی ترکیبات واقعا اسرار آمیز ہیں اور اس کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ اس میں کاربن، ہائڈروجن، نائٹروجن Azote -، آرگیسٹرول، وٹامن بی اور بالخصوص ایسڈ بانتو نشیک کافی مقدار میں پایا جاتاہے۔

بلوفر نے اپنی ۱۴/ سالہ تحقیقات کے ذریعہ ثابت کیا کہ شہد کی مکھیوں کی جنین کی تبدیلی وتکامل اور رانی مکھی کی جوانی سے بھرپور طویل عمر میں ”شاہانہ شہد“ ( Royal Jelly ) حیرت انگیز حد تک موثر ہے اسی طرح اس نے اس مادہ سے ایک دوا تیار کی جو ”ا ے پی سرم“ کے نام سے مشہور ہوئی، یہ دوا اس نے جب بوڑھے افراد کے لئے تجویز کی تو اس سے حیرت انگیز نتائج حاصل ہوئے،بلوفر نے اپنے تجربات کی بنیا دپر یہ اعلان کیا کہ شاہانہ شہد کے ذریعہ انسان کی ضعیفی کو مکمل طور پرروکاتو نہیں

____________________

(۱)اطلاعات شمارہ،۵۔۱۱۸۰۔


جاسکتا لیکن دوران جوانی کومزید طویل بنایا جاسکتا ہے ایسی جوانی کہ جس میں قوت وتندرستی بھرپور طورپر موجود ہو، درحقیقت ”اے پی سرم“ کوئی دوا نہیں تھی مگر ایک معجز نما اور حیات بخش نعمت تھی۔(۱)

روزنامہ اطلاعات میں فرانسیسی نیوز ایجنسی سروسز کے حوالہ سے ایک مقالہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ”انسان عمر کے آخری مرحلہ تک مکمل جوان اور شاداب رہے گا“ اس مقالہ میں مذکور ہے کہ ”کیوبک میں منعقدہ اطباء کی آخری بین الاقوامی کانفرنس کے تبادلہ خیال کے نتیجہ میں اس سوال کا کہ ”کیا موت کی منزل تک ضعیفی کا علاج،اور شباب وشادابی کی بقا ممکن ہے؟“ اب مثبت جواب دیا جاسکتا ہے، اسی مقالہ میں امریکی محقق اور بروکلین ریسرچ سنٹر سے وابستہ ”ڈاکٹر ھاورڈ کورئیس“ کے حوالہ سے یہ بات بھی کہی گئی کہ ضعیفی اور بدن کے Cells کا فرسودہ وبے کار ہونا درحقیقت D.N.A .نامی سیل کی خرابی کے باعث ہوتا ہے جس کی وجہ سے سیلز بننے کی مقدار کم ہوجاتی ہے او ربعض ادویات کے ذریعہ اس کا علاج ممکن ہے اس طرح دواؤں کے ذریعہ ضعیفی کو روکنا ممکن ہے۔

مقالہ میں مزید یہ لکھا ہے کہ اس وقت دنیا میں ضعیفی روکنے کے لئے جن تحقیقاتی اداروں اور ریسرچ سنٹروں میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے ان میں بخارسٹ، پیرس اور بالٹیمور کے ریسرچ کرنے والے مراکز زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، بالٹیمور میں اس وقت ۱۸/ سال سے لے کر ۹۹ / سال کے چھ سو افراد پر تجربات جاری ہیں۔

روزنامہ مقالہ کے آخر میں لکھتا ہے کہ اس وقت ڈاکٹروں کی کوشش یہ ہے کہ ادویات کے ذریعہ D.N.A کی خرابی کو روکا جاسکے اور اس سلسلہ میں خاطرخواہ کامیابی ملی ہے لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہت جلد ضعیفی نامی بیماری کا خاتمہ ہوجائے گا۔(۲)

____________________

(۱)روزنامہ اطلاعات، شمارہ۸۹۳۰۔

(۲)اطلاعات، شمارہ ۱۲۶۷۲۔


طویل عمر کے ساتھ جوانی

ایسے افراد بہت ہیں جو طویل عمر کے باوجود جوانی کی نعمت سے مالامال تھے، بطور نمونہ کولمبیا کا رہنے والا ”پی پرارا“ نامی شخص ہے جس کی عمر ۱۶۷ سال تھی اس شخص کے بارے میں روزنامہ اطلاعات کے شمارہ ۹۱۲۱ اور ۹۲۳۶ میں تفصیلات شائع ہوئی ہیں، ۱۶۷ سال کی عمر میں بھی اس شخص کی جوانی کی قوتیں صحیح وسالم تھیں، اس کی ہڈیاں اور جوڑ بند اتنے مضبوط تھے کہ جوان ایسی ہڈیوں اور جوڑوں کی صرف تمنا کرتے ہیں تجربات سے یہ بات سامنے آئی کہ اتنی عمر کے باوجود اس کی رگوں میں کیلشیم کی کمی کا کوئی اثر نہیں تھا جب کہ ۹۰ فی صدسن رسیدہ افراد کے یہاں یہ خرابی عموماً پائی جاتی ہے۔

کینیا میں ایک ۱۵۸ سالہ شخص موجود ہے اور کچھ عرصہ قبل اس کے اپنڈکس کا آپریشن کیاگیا ہے، اس عمر میں یہ شخص جوانوں کے درمیان جوان ترین افراد سے بھی زیادہ جوان ہے۔(۱)

چند سال قبل روس کے باشندے ”عیوض رف“ کے بارے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ موصوف ۱۴۷ سا ل کی عمر میں بھی اپنے تمام امور خود انجام دیتے ہیں گھوڑسواری کرتے ہیں اور بہ نفس نفیس انگور کے باغ کی دیکھ بھال کرتے ہیں(۲)

چین میں ”دلی چینگ“ نامی شخص کی ۲۵۳ سال کی عمر میں بھی بال سیاہ اور شباب کی رعنائیاں برقرار تھیں جب کہ موصوف کی ۲۳ بیویاں ان کے گھر میں خداکوپیاری ہوچکی تھیں۔(۳)

آسٹریا میں ایک صاحب نے اپنی ۱۴۰ ویں سالگرہ اس عالم میں منائی کہ موصوف اب بھی زراعت کے امور خود انجام دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”مجھے یادنہیں کہ زندگی میں کبھی بیماری میرے نزدیک آئی ہو۔“(۴)

____________________

(۱)اطلاعات، شمارہ۱۲۶۷۲۔

(۲)اطلاعات ۱۱۸۰۵۔

(۳)الامالی المنتخبہ شیخ عبدالواحد مظفری، ص۷۹ مطبوعہ نجف۔ (۴)اطلاعات،۸۷۳۹۔


شمالی قفقاز کے ایک گاؤں ”گالون“کی رہنے والی ”گوھوگا“ نامی خاتون نے اپنی ۱۴۷ ویں سالگرہ کا جشن منایا، اس عمر میں بھی اس کے نشاط میں کوئی کمی نہیں آئی اوربصارت وسماعت بھی قطعاً متاثر نہیں ہوئی ہے(۱)

گذشتہ بیانات سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ آخر عمر تک شباب ونشاط کا باقی رہنا ناممکن نہیں ہے اور بہت سے ایسے عمرِدراز کے مالک افراد گذرے ہیں جو آخر وقت تک تمام رعنائیوں کے ساتھ زندگی گزارتے رہے یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اس وقت محققین یہ تلاش کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں کہ ضعیفی کے اسباب کیا ہیں ؟اور کس طرح جوانی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے اور کس طرح ان معمر حضرات نے اپنی توانائیوں کو باقی رکھا ہے ۔

ماہرین کی رائے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں بشریت کو مستقبل میں بہت سی کامیابیاں ملنے والی ہیں۔

بہر حال ان باتوں سے ہمارا مقصود یہ ثابت کرنا تھا کہ ضعیفی وبڑھاپے کے بغیر بھی طویل عمر ممکن ہے تاکہ ضعیف ایمان والے بھی اسے تسلیم کرلیں اور اسے عجیب وغریب اور بعید از عقل قرار نہ دیںورنہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طویل عمر او ربقائے جوانی کے لئے ہمارا اصل سرمایہ قدرت خدا، انبیاء واوصیاء الٰہی کی بیان کردہ خبریںہیں اور ہم انھیں کو مضبوط ترین دلیل سمجھتے ہیں اور قرین عقل اسی دلیل پر ایمان رکھتے ہیں چاہے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ تاریخ بشریت میں تن تنہا طویل عمر کے مالک ہوں اور طول عمر کے باوجود صرف آپ کی ہی جوانی برقرار رہے، چاہے محققین اپنے تجربات کے سہارے کسی نتیجہ تک نہ پہنچ سکیں اور اعلان کردیں کہ سائنس کے لئے طویل عمر بنانا ممکن نہیں ہے ان تمام باتوں سے ہمارے اوپر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے کیونکہ حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی جوانی اور طول عمر عقلی اعتبار سے ایسے مویدات کی محتاج نہیں ہے،یہ مسئلہ قدرت خدا کا مسئلہ ہے، اعجاز، خرق عادت اور مشیت

____________________

(۱)اطلاعات اخبار شمارہ ۹۱۹۸۔


ایسے مسائل میں اس طرح کے مویدات کی موجودگی اور عدم موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

روایات

شیخ صدوق نے اپنی کتاب ”کمال الدین“ اور علی بن محمد خزاز رازی نے ”کفایة الاثر“ میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے۔ امام حسن نے فرمایا: ”میرے بھائی حسین کے نویں فرزند کی عمر کو خداوندعالم غیبت کے دوران طویل کردے گا اور اس کے بعد اپنی قدرت کے ذریعہ انہیں اس طرح ظاہر کرے گا کہ وہ چالیس سال سے بھی کم عمر کے جوان دکھائی دینگے ۔

( وذلک لیعلم ان الله علی کل شیء قدیر ) (۱)

تاکہ معلوم ہوجائے کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

شیخ صدوق نے امام رضا علیہ السلام سے ایک حدیث کے ضمن میں اس طرح نقل کیا ہے:

القائم هو الذی اذا خرج کان فی سنّ الشیوخ ومنظر الشُبّان قویٌ فی بدنه(۲)

”قائم وہ ہیں کہ جب ظاہر ہوں گے تو سن بزرگوں کا ہوگا لیکن شکل وشمائل جوانوں کی سی ہوگی اوربدن قوی ہوگا۔“

ابو ا لصلت ہروی امام رضا علیہ السلام سے ایک روایت میں نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام رضا سے دریافت کیا کہ قائم جب ظہور کریں گے تو ان کی علامت کیا ہوگی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ان کی علامت یہ ہے کہ عمر ضعیفوں کی ہوگی مگر شکل وصورت جوانوں کے مانند ہوگی کہ جو بھی آپ کو دیکھے گا چالیس برس یا اس سے بھی کم عمر کا گمان کرے گا،ان کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ

____________________

(۱)منتخب الاثر، ص۲۰۶باب۱۰فصل۲ج۶۔

(۲)منتخب الاثر، باب۱۷فصل۲ج۲،ص۲۲۱۔


دنیا سے رخصت ہونے تک ان پر گردش شب وروز کا کوئی اثر نہ ہوگا“(۱)

برادران اہل سنت کی خدمت میں دو باتیں

اہل سنت کے بہت سے بزرگ اور نامور علماء ،ائمہ اثنیٰ عشر کی ولایت وجانشینی کے قائل ہیں اور اسی طرح امام زمانہ کے مہدی موعود ہونے کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ بعض حضرات امام زمانہ عج کی زیارت کے مدعی بھی ہیں اور آپ کے بہت سے معجزات ان علماء نے نقل کئے ہیں۔

بہت سے ایسے علمائے اہل سنت بھی ہیں جو مہدی موعود کی تعیین کے بارے میں شیعوں کے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں لیکن اس پر اتنے زیادہ تعصب کا مظاہرہ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اسے شیعوں اور سنیوں کے درمیان بنیادی اختلاف کا باعث گردانتے ہیں بلکہ اسے ایک جزوی مسئلہ قرار دیتے ہیں اوران کی نگاہ میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔

چوں کہ دونوں فرقوں کے نزدیک یہ بات توحتمی اور متفق علیہ ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت مہدی کا ظہور ہوگا لہٰذا یہ حضرات کہتے ہیں کہ جب آسمانی آواز جیسی حتمی علامات ظاہر ہوجائیں گی تو یہ جزئی اختلاف بھی ختم ہوجائے گا۔

اسی طرح مہدی موعود سے متعلق شیعوں کا عقیدہ فریقین کے درمیان مسلّم اور متواتر روایات کے خلاف بہرحال نہیں ہے تو آخر اس مسئلہ میں سنّیوں کی جانب سے شیعوں کی اتنی مخالفت کیوں ہوتی ہے؟ کیوں اس مسئلہ کو اختلاف اور بحث ومباحثہ کا موضوع بنایا جاتا ہے؟ جب شیعوں کی جانب سے اس موضوع پر اتفاق واجماع کے خلاف کوئی بات نہیں کہی جاتی ہے توآخر شیعوں کی تردید کیوں کی جاتی ہے؟

اہل سنت کے معاصر عالم ”استاد محمد زکی ابراہیم رائد“ نے عشیرہ محمدیہ نیمہ شعبان اورمہدی

____________________

(۱)منتخب الاثر،باب۳۱فصل۲ج۲۔


منتظرکی مناسبت سے اپنے مقالہ جو مجلہ ”المسلم“ اور مجلہ ”العشیرة المحمدیہ“ (مطبوعہ مصر شعبان ۱۳۸۷) میں شائع ہوا ایک فصل ”موعود آخرالزمان فی مختلف المذاہب والادیان“ کے عنوان سے قائم کی ہے۔ اس فصل میں استاد زکی ابراہیم تحریر فرماتے ہیں: ”مہدی موعود کے بارے میں شیعوں کے نظریات کی تشریح ہم کسی اور موقع پر پیش کریں گے لیکن برادران شیعہ جس چیز کے قائل ہیں اس کی بازگشت جمہور اہل سنت کے بنیادی اصول ومبادی کی طرف ہی ہے ان اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آرزووں کو پورا کرنے والے اور بشریت کے بدترین حالات کی اصلاح کرنے والے مہدی اہلبیت کاظہور یقینی ہے۔“

جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ فاضل مقالہ نگار نے مہدویت کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو شیعہ وسنی دونوں کے درمیان متفق علیہ اصول ومبانی کے موافق ومطابق بتایا ہے اور ادب واحترام کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے شیعوں کے جذبات کو مجروح کئے بغیر شائستہ انداز میں گفتگو کی ہے اور دشنام طرازی وہرزہ سرائی سے دور رہ کر قلم کو حرکت دی ہے مگر افسوس ایسے افراد بھی ہیں جو ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں، دونوں فرقوں کے درمیان غلط فہمیاں پھیلاکر اختلاف کی آگ کو ہمیشہ شعلہ ور رکھتے ہیں اور اس طرح ان دونوںفرقوں کے درمیان خلیج میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، جو آپس میں مسالمت آمیز زندگی بسر کرسکتے ہیں اور دشمنان اسلام کو ہم آواز ہوکر للکار سکتے ہیں ۔

ایسے مفاد پرست افراد ہمارے دور میں تو شائد عالمی سامراج اور صہیونزم کے آلہ کار اور ایجنٹ محسوس ہوتے ہیں ایسے افراد کو شیعوں اور سنیوں کے درمیان بے شمار مشترکات اور متفق علیہ مسائل نظر نہیں آتے یہ لوگ ایسے اختلافی مسائل کے درپے رہتے ہیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرکے ان کی صفوں میں انتشار پیدا کرسکیں، ایسے جزئی اور معمولی اختلافی مسائل کے سہارے جن کا آج کے زمانہ میں کوئی وجود ہی نہیں ہے رائی کا پہاڑ تیار کرتے ہیں اور جب کبھی زبان یا قلم سے اظہار کا موقع آتا ہے تو دشنام طرازی اور افتراء پردازی سے کام لے کر شیعوں پر بے بنیاد الزام لگاتے ہیں تاکہ شیعہ بھی غصہ میں آکر جوابی کارروائی کریں اور دونوں کی آپسی لڑائی سے دشمنان اسلام اور سامراجی طاقتوں کو فائدہ پہنچے،آج کم وبیش سبھی کو معلوم ہے کہ اسلام ومسلمین کے بارے میں سامراجی طاقتوں کے کیا عزائم ہیں اپنے زعم باطل میں یہ قوتیں دونوں فرقوں کی عظمت دیرینہ کو ختم کرنا چاہتی ہیں بلکہ ان کااصل مقصد مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے انھیں ایک دوسرے کا خونی دشمن بناکر کفار کو ان پر مسلط کرنا ہے۔


سردست ہمارا مقصد ایسے ضمیر فروش صاحبان قلم یا حکمرانوں کی شناخت کرانا نہیں ہے جو اس زمانہ میں مذہبی، قومی، ملکی، نسلی یا لسانی مسائل کے ذریعہ انتشار پھیلاکر پوری امت مسلمہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، البتہ ماضی وحال میں خود کو اہلسنت کہنے والے ”ابن حجر“ اور ”محب الدین خطیب“ جیسے لوگوں کی جانب سے اس انتشار کو مزید ہوا دینے کے لئے شیعوں پر جو الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں ان میں سے حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طویل عمر کا مسئلہ بھی ہے، اس عقیدہ کے باعث شیعوں کامذاق اڑایا جاتا ہے انھیں برا بھلا کہا جاتا ہے اورا ن کی طرف جہالت ونادانی کی نسبت دی جاتی ہے، شیعوں کے جذبات کو مجروح اور انکے افکار منحرف کرنے کے لئے ایسی سخت وسست باتیں کہی جاتی ہیں کہ گویا امام زمانہ کی طویل عمر کو تسلیم کرکے شیعوں نے انتہائی احمقانہ اور نامعقول نظریہ قائم کرلیا ہے۔

ہم ان حضرات کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ آپ مسلمان ہیں، خداوندعالم کی قدرت کاملہ پر ایمان رکھتے ہیں تو آخر ہم پر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟

آپ ان لوگوں کا مذاق کیوں اُڑاتے ہیں جو خدا کو اس بات پر قادر سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے کسی خاص بندے کی عمر کو مصلحتوں کے مطابق طولانی کرسکتا ہے کیا آپ خدا کو قادر مطلق نہیں مانتے ہیں؟

کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ قرآن حضرت نوح کے بارے میں اعلان کرتا ہے:

( فلبث فیهم الف سنة اِلّا خمسین عاماً ) (۱)

____________________

(۱) سورہ عنکبوت،۱۴۔


کیا اس آیہ شریفہ میں یہ صاف اور واضح اعلان نہیں ہے کہ حضرت نوح اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس سال تک رہے؟

آخر اس عقیدہ کی بنا پر آپ شیعوں کی ملامت کیوں کرتے ہیں؟ ان کی طرف جہالت کی نسبت کیوں دیتے ہیں؟ یاد رکھیئے شیعوں پر آپ کے ان الزامات کے کچھ نتائج ولوازم بھی ہیں کہ وہ اپنے عقائد کی بناء پر ان نتائج ولوازم کو تسلیم نہیں کرسکتے۔

کیا آپ نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا ہے کہ خدا نے ابلیس کو ”وقت معلوم“ تک کی مہلت دی ہے؟

کیاآپ کی ”صحیح مسلم“ کے حصہ دوم جز ء دوم“ میں ابن صیاد کے باب میں، ”سنن ترمذی“ کے جزء دوم، سنن ابی داؤد کے ابن صائد سے متعلق روایات کے باب اور کتاب ملاحم میں ابن صیاد اور ابن صائد سے متعلق پیغمبر اکرم سے منقول وہ روایات نہیں ہیں جن میں پیغمبر نے یہ احتمال دیا ہے کہ ابن صیاد یا صائد وہی دجال ہے جو آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا؟

صحیح مسلم کے باب خروج دجال میں ”تمیم داری“ کی حدیث، ابن ماجہ جزء دوم کے ابواب فتن اور ابوداؤد کے جزء دوم میں موجود روایات آپ کی نظروں سے نہیں گزریں؟ جن میں یہ صراحت موجود ہے کہ دجال عہد پیغمبر میں تھا اورآخرزمانہ میں پھر ظاہر ہوگا، آخر کیا وجہ ہے کہ دشمنان خدا کی طویل عمر کو تو آپ تسلیم کرلیتے ہیں لیکن ولی خدا اور فرزند پیغمبر کی طویل عمر کے موضوع پر شوروغل شروع ہوجاتا ہے جب کہ ان روایات کے راوی آپ ہی کے بزرگان حدیث و رجال ہیں، دجال سے متعلق ان کی روایات کو آپ آنکھ بند کرکے تسلیم کرلیتے ہیں مگر فرزند پیغمبر سے متعلق روایات کی تکذیب کردیتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے کہ حضرت خضر،حضرت ادریس اورحضرت عیسیٰ کی طویل عمر کو تو ممکن جانتے ہیں لیکن اتنے ادلہ وشواہد اورزمانہ غیبت میں بے شمار معجزات وکرامات کے اظہار کے باوجود حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طولانی عمر آپ کو محال نظرآتی ہے؟ آخر آپ حضرت عیسیٰ کی بقائے حیات کے ایمان پر خود اپنا اور دوسرے مسلمانوں کا مذاق کیوں نہیں اُڑاتے؟

اگر تمسخرواستہزا کی ہی بات ہے تو آپ کے اصول دین میں ایسے بہت سے مسائل ہیں جو عقل سلیم اور اسلام کے عقیدہ توحید کے سراسر منافی ہیں۔


جن حضرات کو آپ اپنی اصطلاح میں اقطاب واولیاء سمجھتے ہیں ان کی جانب ایسی ایسی باتوں کی نسبت دیتے ہیں کہ انھیں سن کر ہر ایک کو ہنسی آجائے۔

ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ”مقابلہ بہ مثل“ اور”جیسے کو تیسا“ والا نظریہ صحیح نہیں ہے،ہم کوئی ایسی بات لکھنا یا کہنا نہیں چاہتے ہیں جس سے آپ اغیار کی نگاہوں میں خفیف ہوں، ہم صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ سامراجی طاقتوں کی طرف سے عالم اسلام پر جو شکنجہ کسا جارہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف جس طرح کی شازشیں ہورہی ہیں ان کے پیش نظر ہم دونوں کو ایسے اختلافات کے بارے میں ایک دوسرے کی عیب جوئی سے پرہیز کرنا چاہئے، جب دشمنان اسلام، اسلام و قرآن اور احکام قرآن سے بنیادی دشمنی پرآمادہ ہیں اور اسلام کے احکام واصول اور فریقین کے درمیان متفق علیہ دینی شعائرپر عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر کفار کی جانب سے سخت ترین حملہ ہورہے ہیں اوراسلامی احکام کی نابودی کے لئے روز بروز نئی تدبیروں کو نام نہاد سنیوں اور شیعوں کے ذریعہ جامہ عمل پہنایاجارہا ہے تو ایسے میں کیا ہم آپس میں ایسے ہی دست وگریباں رہ سکتے ہیں؟

اپنے افکار ونظریات کے بارے میں تھوڑا غوروفکر کیجئے اسی طرح شیعوں کے پاک ومقدس عقائد اور ان کے معتبر مدارک کا تعصب کی عینک اتار کر انصاف کے ساتھ مطالعہ کیجئے،شیعہ عقائد کی بنیاد قرآن وسنت اور عقل محکم ہے،بلاوجہ شبہات،الزامات اور افترا کے ذریعہ شیعوں کے جذبات مجروح نہ کیجئے اور اپنے سنی بھائیوں کو بھی غلط فہمی، بدگمانی اور اسلامی عقائد ونظریات سے متعلق بے خبری سے نجات دیجئے۔


تاریخ کے معمر حضرات

اگرچہ گزشتہ صفحات میں ہم نے طویل عمر کے امکان کے بارے میں کافی وضاحت پیش کردی ہے لیکن اس مسئلے کی تاریخی حیثیت نمایاں کرنے کے لئے قارئین کرام کو تاریخ، سیرت اور سوانح حیات سے متعلق معتبر کتب کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں تاکہ انھیں اندازہ ہوجائے کہ طول عمر کا مسئلہ تاریخی لحاظ سے ہمیشہ قابل قبول رہا ہے سوانح حیات کی کتب میں تو بہت سے افراد کے طولانی سن وسال کا تذکرہ مل ہی جائے گا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت زیادہ عمر بسر کرنے والے افراد کے حالات زندگی سے متعلق خصوصی کتب بھی تحریر کی گئی ہیں۔

ابی حاتم سجستانی (متوفیٰ ۲۴۸) نے ”المعمّرون“ نامی کتاب لکھی ہے جو ۱۸۹۹ ءء میں انگریزی ترجمہ کے ضمیمہ کے ساتھ لندن سے شائع ہوئی اور کچھ عرصہ قبل اس کا جدید ایڈیشن شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شیخ صدوق کی کتاب ”کمال الدین“ اورشیخ طوسی کی کتاب”غیبت“ اور سید مرتضیٰ کی ”امالی“ میں ایک مخصوص باب یا فصل اسی موضوع سے متعلق موجودہے۔

ان کتب کے مطالعہ سے بخوبی محسوس کیاجاسکتا ہے کہ بلا وجہ اتنی طویل گفتگو نہیں کی گئی ہے اور اس سے یہ یقین حاصل ہوجائے گا کہ تاریخ سے جن حضرات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مستند حوالہ کے ساتھ ہے نیز یہ کہ انسانی عمر کی کوئی حد معین نہیں ہے۔ دنیا کی تاریخ بےشمار طویل عمر کے مالک افراد کے عجیب واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اسی زمین پر بہت سے ایسے افراد گزرے ہیں جنھوں نے امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ سے زیادہ عمر بسر کی ہے۔

طبیعی طور پر معمر حضرات کی تاریخ کے بارے میں ہماری معلومات اور اس سلسلہ کی کتب کے مندرجات یقینا ایک عظیم دنیا کا معمولی سا حصہ ہیں۔ اگر دوسرے اقوام کی تاریخ ہمارے اختیار میں ہوتی اور اگر شروع سے ہی معمر حضرات کے حالات کو بھی بادشاہوں کے حالات کے برابر اہمیت دی گئی ہوتی تو اس وقت معمر حضرات کی تاریخ بہت تفصیلی ہوتی۔

ان تمام باتوں کے باوجود ہم موجود منابع ومآخذ سے معمر حضرات کے اسماء کی مختصر فہرست پیش کررہے ہیں اگرچہ تاریخ کے تمام معمر حضرات بلکہ موجودمنابع ومآخذ سے ہی تمام تر اعداد وشمار اور حالات فراہم کرنے کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہے اس لئے ہم صرف بطور نمونہ کچھ افراد کے اسماء پر اکتفا کررہے ہیں کہ مثل مشہور ہے ”حکم الامثال فیما یجوز وفیما لایجوز سواء“ اگر ان حضرات کے لئے طویل عمر ممکن ہے تو دوسروں کے لئے کیوں ممکن نہ ہوگی۔


بعض معمر حضرات کے نام

۱ ۔آدم، ۹۳۰ سال

۲ ۔شیث ، ۹۱۲ سال

۳ ۔انوش، ۹۰۵ سال

۴ ۔قینان، ۹۱۰ سال

۵ ۔مہلئیل ، ۸۹۵ سال

۶ ۔یارد، ۹۶۲ سال

۷ ۔اخنوخ، ۳۶۵ سال

۸ ۔متوشالح، ۹۶۹ سال

۹ ۔لامک، ۷۷۷ سال

۱۰ ۔نوح، ۹۵۰ سال(کتب تاریخ وحدیث کے مطابق آپ کی کل عمربعثت سے قبل اور طوفان کے بعد ۲۵۰۰ سال تھی)

۱۱ ۔سام، ۶۰۰ سال

۱۲ ۔ارفکشاد، ۴۳۸ سال

۱۳ ۔شالح، ۴۳۳ سال

۱۴ ۔عابر، ۴ ۴۶ سال

۱۵ ۔ابراہیم، ۱۷۵ سال

۱۶ ۔اسمٰعیل، ۱۳۷ سال۔

ان افراد کی عمریں توریت کے مطابق لکھی گئی ہیں، توریت میں ان کے علاوہ فالح، رعو، سروح اور ناحور وغیرہ کے اسماء بھی ہیں۔ توریت کاعربی ترجمہ مطبوعہ بیروت ۱۸۷۰ ءء اور مصنف کی کتاب منتخب الاثر ص ۲۷۶ ۔ ۲۷۷ ملاحظہ فرمائیں۔


غالباً اخنوخ سے مراد وہی ایلیا ہیں جن کے بارے میں یہود ونصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ ولادت مسیح سے ۳۳۸۲ سال قبل آسمان پر اُٹھالئے گئے اورانھیں موت نہیں آئی۔ (اظہار الحق، ج ۲ ص ۱۲۴)

۱۷ ۔ربیعة بن ضبیع فزاری، ۳۸۰ سال، (کمال الدین، ج ۲ ص ۲۳۳ تا ۲۳۵)

۱۸ ۔اوس بن حارثہ، ۲۲۰ سال، (المعمّرین، ص ۳۶)

۱۹ ۔عبید بن شرید جرھمی، ۳۵۰ سال، (کمال الدین، ج ۲ ص ۲۳۲)

۲۰ ۔برد، ۹۶۲ سال، (کنزالفوائد، ص ۲۴۵) ۔

۲۱ ۔ ایوب بن حداد عبدی، ۲۰۰ سال، (کمال الدین، ج ۲ ص ۱۴۲) ۔

۲۲ ۔ ثعلبة بن کعب، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۶۴) ۔

۲۳ ۔ تیم اللہ بن ثعلبہ، ۵۰۰ سال، (تذکرة الخواص، ص ۲۰۵ والمعمّرین، ص ۳۱) ۔

۲۴ ۔ ثوب بن تلدہ اسدی، ۲۲۰ سال، (المعمّرین، ص ۵۹) ۔

۲۵ ۔ جعفر بن قرط عامری، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۴۳) ۔

۲۶ ۔ جلھمہ بن اددبن زید، ۵۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص ۸۴) ۔

۲۷ ۔ یحابر بن مالک بن ادد، ۵۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص ۸۴) ۔

۲۸ ۔ زہیر بن عتاب کلبی، ۳۰۰ سال، (کمال الدین، ص ۲۴۶) ۔

۲۹ ۔ جلیلة بن کعب، ۱۹۰ سال (المعمّرین، ص ۶۵) ۔

۳۰ ۔ حادثة بن صحر، ۱۸۰ سال، (المعمّرین، ص ۴۹) ۔

۳۱ ۔ حادثة بن عبید کلبی، ۵۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۶۷) ۔

۳۲ ۔ حامل بن حادثة، ۲۳۰ سال، (المعمّرین، ص ۶۹) ۔

۳۳ ۔ حبابہ والبیہ، خلافت امیرالمومنین حضرت علی سے امام رضا کے زمانہ تک حیات پائی، (حدیث کی معتبر کتب)۔

۳۴ ۔ حارث بن مضاض جرہمی، ۴۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص ۸۱ المعمّرین، ص ۴۲) ۔

۳۵ ۔ ذوالاصبع العدوانی، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۸۲) ۔


۳۶ ۔ حنظلة بن شرقی، ۲۰۰ سال (المعمّرین، ص ۴۹) ۔

۳۷ ۔ درید بن زید، ۴۵۰ سال، (المعمّرین، ص ۲۰) ۔

۳۸ ۔ ذوجدن حمیری، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۳۳) ۔

۳۹ ۔ درید بن صمت، ۲۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۲۲) ۔

۴۰ ۔ ذوالقرنین، ۳۰۰۰ سال، (تذکرة الخواص، ص ۳۷۷ ، نقل از تورات)۔

۴۱ ۔ ربیعہ بجلی، ۱۹۰ سال، (المعمّرین، ص ۶۸) ۔

۴۲ ۔ رداد بن کعب نخعی، ۳۰۰ سال، (کمال الدین، ج ۲ ص ۲۴۲) ۔

۴۳ ۔ زہیر بن خباب، ۴۲۰ سال، (المعمّرین، ص ۲۵) ۔

۴۴ ۔ سطیح کاہن، ۳۰ قرن، (المعمّرین، ص ۵) ۔

۴۵ ۔ سیف بن وہب، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۴۱) ۔

۴۶ ۔ شریة بن عبداللہ جعفی، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۳۹) ۔

۴۷ ۔ شق کاہن، ۳۰۰ سال، (کمال الدین ، ج ۲ ص ۲۳۵) ۔

۴۸ ۔ صیفی بن ریاح، ۲۷۰ سال، (غیبت شیخ، ص ۸۰) ۔

۴۹ ۔ ضبیرة بن سعید، ۲۲۰ سال، (المعمّرین، ص ۲۰) ۔

۵۰ ۔ عباد بن سعید، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۷۰) ۔

۵۱ ۔ عوف بن کنانہ کلبی، ۳۰۰ سال، (کمال الدین، ج ۲ ص ۲۵۵) ۔

۵۲ ۔ عبدالمسیح بن عمرو غسانی، ۳۵۰ سال، (المعمّرین، ص ۳۸) ۔

۵۳ ۔ اوس بن ربیعة اسلمی، ۲۱۴ سال، (المعمّرین، ص ۶۶) ۔

۵۴ ۔ عبید بن شرید جرہمی، ۳۵۰ سال، (کمال الدین، ج ۲ ص ۲۳۲) ۔

۵۵ ۔ عمرو بن حمة الدوسی، ۴۰۰ سال، (غیبت شیخ، ص ۸۱) ۔

۵۶ ۔ عمرو بن لحی، ۳۴۵ سال، (غیبت شیخ، ص ۸۶) ۔


۵۷ ۔ قس بن ساعدہ، ۶۰۰ سال، (کنزالفوائد، ص ۲۵۴) ۔

۵۸ ۔ کعب بن حمة الدوسی، ۳۹۰ سال، (تذکرة الخواص، ص ۲۰۵ ، المعمّرین، ص ۲۲) ۔

۵۹ ۔ کعب بن رادة نخعی، ۳۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۶۶) ۔

۶۰ ۔ محصن بن عتبان زبیدی، ۲۵۶ سال، (کمال الدین، ج ۲ ص ۲۵۵) ، المعمّرین، ص ۲۱)

۶۱ ۔ مرداس بن صبیح، ۲۳۰ سال، (المعمّرین، ص ۳۵) ۔

۶۲ ۔مستوغر بن ربیعة بن کعب، ۳۳۰ سال، (المعمّرین، ص ۹ وسیرة ابن ہشام، ج ۱ ص ۹۳) ۔

۶۳ ۔ ھبل بن عبداللہ کلبی جد زہیر بن خباب، ۷۰۰ سال، (المعمّرین، ص ۲۹) ۔

۶۴ ۔ نفیل بن عبداللہ، ۷۰۰ سال، (تذکرة الخواص، ص ۲۰۵) ۔

اگر ہم المعمرین، غیبت شیخ، کمال الدین، کنزالفوائد اور تاریخ کی قدیم کتب سے ہی معمر حضرات کے اسما ء پیش کرتے رہیں تو مقالہ بہت طویل ہوجائے گا لہٰذا ان کتب سے صرف انھیں اسماء پر اکتفا کرتے ہوئے آخری دور میں لکھی گئی کتب سے چند اسماء تحریر کررہے ہیں اور اسی طرح موجودہ دور کے ان معمر حضرات کے اسماء بھی شامل کررہے ہیں جن کے حالات اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اخبارات سے تلاش کرنے کے لئے ہم نے کوئی باقاعدہ تحقیقی کام نہیں کیا ہے بلکہ اتفاقی طور پر جو اسماء مل گئے انھیں شامل کرلیاگیا۔

۶۵ ۔ ہنری جنکس، ۱۶۹ سال، (اس شخص نے ۱۱۲ سال کی عمر میں فلورفید کی جنگ میں شرکت کی)

۶۶ ۔ جون بافن بولندی، ۱۷۵ سال، (اس کے تین بیٹے سو سال سے زیادہ عمر کے تھے)۔

۶۷ ۔ یوحنا سور تنغتون نروژی، (متوفیٰ ۱۷۹۷) ، ۱۶۰ سال۔

۶۸ ۔ طوز مابار، ۱۵۲ سال۔

۶۹ ۔ کورتوال، ۱۴۴ سال۔

۷۰ ۔ ایک فرد زنگباری، ۲۰۰ سال۔

ان افراد کے نام تفسیر الجواہر جلد ۱۷ ص ۲۲۶ پر مذکور ہیں۔

۷۱ ۔ ماتوسالم، ۹۶۹ سال۔


۷۲ ۔ ملک جزیرہ ”لوکمبانز“ ۸۰۲ سال۔

۷۳ ۔ چندپنجابی، ۲۰۰ سال۔

۷۴ ۔ مارکوس ابونیوس، ۱۵۰ سال سے زیادہ۔

۷۵ ۔ اھالی جبل آتوس ہریک، ۱۳۰ سال۔

۷۶ ۔ دو دون، ۵۰۰ سال۔

۷۷ ۔ سنجرین، قبرس کا بادشاہ، ۱۶۰ سال۔

۷۸ ۔قدیس سیمون، ۱۰۷ سال۔

۷۹ ۔ قدیس تاکریس، ۱۶۵ سال۔

۸۰ ۔ قدیس انطوان، ۱۰۵ سال۔

۸۱ ۔ البوما مطران حبشہ، ۱۵۰ سال۔

۸۲ ۔ توماس بار، ۱۵۲ سال۔

۸۳ ۔ ایک معمر شخص موت کے وقت جس کے بیٹے کی عمر ۱۴۰ سال تھی۔

۸۴ ۔ برنوکرتریم، ۱۵۰ سال۔

۸۵ ۔ سربیا کا ایک معمر شخص، ۱۳۵ سال۔

۸۶ ۔ سربیا کا ایک اور معمر شخص، ۱۲۵ سال۔

۸۷ ۔ سربیا کا ایک اور معمر شخص، ۲۹۰ سال۔

۸۸ ۔ لیفونیا کا ایک معمر شخص، ۱۶۸ سال۔

۸۹ ۔ لوسرون کا ایک معمر شخص جس کا انتقال ۱۸۶ سال کی عمر میں ہوا۔

۹۰ ۔ ایقاسی کا ایک کاشتکار، ۱۸۵ سال۔

۹۱ ۔ مصر کا معمر، ۱۵۴ سال۔

۹۲ ۔ زار ومعمّر ترکی، ۱۵۶ سال۔


ان افراد کے نام روزنامہ الاہرام، شمارہ ۳ دسمبر ۱۹۳۰ کے مقالہ بعنوان ”الخلود وطول العمر حوادث مدھشة عن طول الاعمار“ سے لئے گئے ہیں (تفسیر الجواہر، ج ۲۴ ، ص ۸۶ تا ۸۸) ۔

۹۳ ۔ شیخ محمد سمحان، ۱۷۰ سال، (مجلہ صبا، شمارہ ۲۹ ، سال ۳ ، از مجلہ الاثنین قاہرہ)۔

۹۴ ۔ سید میرزا کاشانی، ۱۵۴ سال، (پرچم اسلام شمارہ ۳ سال ۲) ۔

۹۵ ۔ جمعہ، ۱۴۰ ، (کیہان شمارہ ۷۲۵۳) ۔

۹۶ ۔ محمود باقر عیوض اف۔ اپنی ایک سو پچاسویں سالگرہ منائی اور ان کے اعزاز میں روس کی پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف وزارت نے یادگاری ٹکٹ جاری کیا جس پر عیوض اف کا فوٹو شائع ہوا تھا، (اطلاعات، شمارہ، ۹۶۰۳)

۹۷ ۔صربستان یوگوسلاویہ کا ایک دیہاتی بنام”اوچکوویچ۔ ۱۷۹۸ عیسوی میں پیدا ہوا اور ۱۹۵۵ عیسوی تک زندہ تھا، (اطلاعات شمارہ ۹۲۱۵)

۹۸ ۔ شیر علی مسلم اف ۱۶۴ سالہ، ۱۳۴۶ ء شمسی میں موصوف نے ۱۶۲ ویں سالگرہ منائی، اس عمر میں بھی ہشاش بشاش تھے اور زندگی میں کبھی شراب کو منھ نہ لگایا۔ عالمی جرائد نے بارہا ان کی طول عمر اور حالات زندگی کو اپنے صفحات میں جگہ دی ہے۔(کیہان ۷۱۵۱ ، ۷۷۴۶ ، اطلاعات ۱۱۷۴۴ ، ۱۱۷۵۰ ، ۱۲۸۹۳)

۹۹ ۔ حاجی محمد بدوئی ابوالشامات، ۱۲۵ سال (اطلاعات، شمارہ ۹۰۷۲) ۔

۱۰۰ ۔ شیخ علی بن عبداللہ، قطر کے سابق حکمراں، ۱۵۰ سال (اطلاعات، شمارہ ۹۳۰۳) ۔

۱۰۱ ۔ سید محمد الفجال، ۱۳۶ سال نہر سوئنر کے پروجکٹ میں شامل تھے (اطلاعات، شمارہ ۹۰۹۳)

۱۰۲ ۔ نوذر باباتا مصطفی یف آذربائیجان (قدیم روس )کا باشندہ، جس نے کچھ عرصہ قبل اپنی ایک سو چالیسویں سالگرہ کا جشن منایا، (اطلاعات، شمارہ، ۱۱۶۲۲) ۔

۱۰۳ ۔ محمد انباتوف، ۱۶۹ سال، آذربائیجان(قدیم روس )کے الیکشن میں سب سے معمر امیدوار موصوف کے سو سے زیادہ اولاد، نواسے اور پوتے تھے، (اطلاعات، شمارہ ۹۴۳۱) ۔


۱۰۴ ۔ کدخدا قنبر علی رستم آبادی، ۱۵۶ سال، (اطلاعات، شمارہ ۹۷۶۳ و ۹۸۷۳) ۔

۱۰۵ ۔ ترکیہ کی ہاجر نامی خاتون ۱۶۹ سال جس کا ایک بھائی ۱۱۳ سال کا تھا (اطلاعات شمارہ ۱۱۳۴۷)

۱۰۶ ۔ حسین پیرسلامی فارسی، ۱۴۶ سال، (اطلاعات، شمارہ ۹۷۴۶ و ۹۷۴۸) ۔

۱۰۷ ۔ہادی محمد، نیپولین کے زمانہ میں ولادت ہوئی اور ۱۳۴۲ ء شمسی میں ۱۶۳ سال عمر، ایک بیٹے کی عمر ۱۱۰ سال تھی جب کہ اس کے ۱۵۰ پوتے اور نواسے تھے، اس وقت بھی کاسابلانکا میں زندگی بسر کررہا ہے۔ (کیہان ۵۹۹۱)

۱۰۸ ۔سید حسین قرائی۔ ۱۵۳ سال۔ (اطلاعات، ۸۷۳۱)

۱۰۹ ۔ارجنٹائناکی خاتون بنام ”ناوارز“ ۱۴۸ سال۔(اطلاعات، ۸۷۳۱)

۱۱۰ ۔آسٹریا کے ”فرانتر وائز“ ۱۴۰ وین سالگرہ منائی اور فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ کبھی بیمار ہوا ہوں۔ اس عمر میں بھی اپنی زراعت کی نگرانی خود کرتے تھے۔

۱۱۱ ۔محمد ولی مسلم مراغای، ۱۴۰ سال۔ (اطلاعات ۱۰۰۰۰)

۱۱۲ ۔گرجستبان کاباشندہ ”اشناکر“ ۱۴۷ سال، (اطلاعات ۱۱۱۸۷)

۱۱۳ ۔صاح اسماعیل تونسی کی دختر بنام ”عائشہ“ ۱۳۰ سال۔ (اطلاعات ۸۶۴۶)

۱۱۴ ۔گالون قفقاز کی خاتون ”گوموکا“ ۱۴۷ ویں سالگرہ منائی، ہشاش بشاش ہیں سماعت وبصارت میں کوئی نقص نہیں ہے۔ (اطلاعات ۸۹۷۲)

۱۱۵ ۔امریکا کے ”ڈیوڈ فربانذ“ ۱۳۳ سال (اطلاعات ۸۹۷۲)

۱۱۶ ۔ ۱۸۵ سال ضعیف۔ فاخر الدین شاہ کی ولادت کے وقت ان کی عمر ۵۰ سال اور محمد خان قاچار کے زمانہ میں ۱۲ سال کے تھے۔ (کیہان، ۶۰۶۲)


۱۱۷ ۔کردیف قفقازی، ۱۴۷ سال۔ (اطلاعات ۹۰۲۳)

۱۱۸ ۔چینی باشندہ ، ۱۵۵ سال۔ (اطلاعات شمارہ، ۱۱ ۱۳۳۳)

۱۱۹ ۔البانیہ کا باشندہ ”خودہ“، ۱۷۰ سال۔ (مجلہ دانش مند شمارہ ۶۱)

۱۲۰ ۔ترکی کی دادی خدیجہ، ۱۶۸ سال۔(اطلاعات ۱۱۱۰۵)

۱۲۱ ۔سیارام، پنجاب ہندوستان، ۱۴۰ سال۔(اطلاعات ۸۹۲۸)

۱۲۲ ۔ترکی کی ”کومروبمیرنین“ ، ۱۷۳ سال۔(اطلاعات ۸۷۴۵)

۱۲۳ ۔سید حبیب علی معاطی مراکشی، ۱۴۷ سال، اس عمر میں بھی اپنے تمام امور خود انجام دیتے ہیں بیٹے بھی کافی پہلے سو سال کے ہوچکے ہیں۔ (الامالی المنتخبہ منطوی، ج ۱ ص ۷۹)

۱۲۴ ۔چینی باشندہ ”دلی چنگ، ۲۵۳ سال۔ (الامالی المنتخبہ منطوی، ج ۱ ص ۷۹)

۱۲۵ ۔احمدآداموف۔ ۱۶۱ سال، شادی کی ۱۰۰ ویں سالگرہ منائی۔ (اطلاعات ۸۹۶۳)

۱۲۶ ۔محمود باقر اوغلو، ۱۴۸ ویں سالگرہ منائی۔ (اطلاعات ۸۹۶۳)

۱۲۷ ۔پی ریرارا یا جاوید پریراپر، ۱۶۷ سال۔ جنوبی امریکا کا سرخ پوست جس کے حالات زندگی تفصیل کے ساتھ اطلاعات کے شمارہ ۹۲۳۶ میں شائع ہوئے۔

۱۲۸ ۔سید ابوطالب موسول المعروف بہ ”ذی القرنین“، ۱۹۱ سال۔ ایک چھوٹی سی آبادی کے پردھان تھے جس میں سب کے سب ان کے بیٹے، پوتے نواسے ہی تھے، آخری زوجہ کی عمر ۱۰۵ سال ہے۔ فرماتے ہیں کہ ناصر الدین شاہ سے پہلے شادی کی اور دو مرتبہ ان کے دانت نکلے۔ (اطلاعات ۱۱۱۷۹)

۱۲۹ ۔شیر سوار۔ فومن کا ۱۴۰ سالہ باشندہ۔ (اطلاعات ۹۷۴۱ ، ۹۷۴۲)

۱۳۰ ۔کربلائی آقا باطنی کرمانشاہی، ۱۴۰ سال۔ (اطلاعات ۹۷۸۰)


۱۳۱ ۔سید علی فریدنی، ۱۸۵ سال۔ دو بیٹوں کی عمر بھی سوسال سے زیادہ تھی۔ ۳۵ سال قبل یعنی ۱۵۰ سال کی عمر میں دوبارہ دانت نکلے، حکومت کی جانب سے وزارت صحت کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے معاینہ کیا اور ان کے حالات سے متعلق وزارت صحت کا خط روزمانہ اطلاعات میں شائع ہوا۔ (اطلاعات ۹۷۴۱ ، ۹۷۴۴ ، ۹۷۶۵)

۱۳۲ ۔ایکور کرویف، ۱۵۷ سال۔ روسی جنرل الکسی میر مولف کے خلاف نیپولین اول کی جنگ میں جنرل الکسی کا باورچی تھا۔ ایکور کرویف شراب اور سگریٹ نوشی کا شدت سے مخالف تھا۔ (اطلاعات ۹۳۳۷)

۱۳۳ ۔کینیا کا ایک باشندہ جس کا ۱۵۸ سال کی عمر میں اپنڈکس کا نیروبی میں آپریشن ہوا، موصوف جو ان ترین جوانوں سے بھی زیادہ جوان تھے، ۱۲۰ سے ۱۳۰ سال کی عمر کے دوران جوان بیوی سے ۵ ا ولادیں ہوئیں، سب سے بڑے صاحبزادے ۱۲۵ سال کے ضعیف اور کمر خمیدہ ہیں لیکن ۱۵۸ سالہ باپ اب بھی ”ہاتھی پچھاڑ“ اور افسانوی پہلوان کی طرح طاقتور ہے۔ دوسرے بیٹے ایک قبیلہ کے سردار ہیں اپنی زندگی میں ۳۹ شادیاں کیں اور ۱۷۳ ،اولادیں ہوئیں۔ طول عمر اور کثرت اولاد میں یہ گھرانہ ضرب ا لمثل بنا ہوا ہے۔ (عالمی جرائد، اطلاعات ۱۲۶۷۲)

۱۳۴ ۔سرکاری سروے کے مطابق گرجستان میں اکیس سو افراد کی عمر سو سال سے زیادہ ہے۔ (اطلاعات ۱۱۱۷۸)

۱۳۵ ۔ایک سروے کے اعداد وشمار کے مطابق روس میں ۱۱۰ سے ۱۵۰ سال تک کے دو سو افراد پائے جاتے ہیں، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر شہد کی مکھیاں پالتے ہیں اورا ن کی غذا شہد ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طول عمر میں شہد کا کردار بہت اہم ہے۔ (اطلاعات ۸۹۰۴)

۱۳۶ ۔امریکا میں سو سال سے زیادہ عمر والے افراد کی تعداد کا اندازہ تین ہزار پانچ سو بتایا جاتا ہے۔ (اطلاعات ۹۴۳۷)

۱۳۷ ۔چین میں ۳۳۸۴ افراد کی عمر سو سال سے زیادہ ہے ان کے درمیان ایسے افراد بھی ہیں جو ۱۵۰ سال سے زیادہ کے ہیں۔(اطلاعات ۱۱)

۱۳۸ ۔سویت یونین میں زندگی کی دوسری صدی میں قدم رکھنے والے افراد کی تعداد تقریبا تیس ہزار ہے۔(مجلہ دانش مند ۶۱)

۱۳۹ ۔مجارستان کے ایک دیہاتی باشندہ کا ۱۷۲۴ ءء میں ۱۸۵ سال کی عمر میں انتقال ہوا، موصوف آخر عمر تک جوانوں کی طرح کام کیا کرتے تھے۔ (دانشمند ۶۱)


۱۴۰ ۔مجارستان کے ایک اور شخص ”جان راول“ کی عمر انتقال کے وقت ۱۷۰ سال تھی جب کہ موصوف کی زوجہ کی عمر ۱۶۴ سال تھی اس جوڑے نے زندگی کے ۱۳۵ سال ایک ساتھ گزارے۔ (مجلہ دانش مند ۶۱)

۱۴۱ ۔”آشرااوماروا“ نامی خاتون ۱۵۹ سال۔ (اطلاعات ۱۲۸۸۲)

۱۴۲ ۔چند برس پہلے اخبارات نے اطلاع دی کہ جنوبی امریکہ میں ۲۰۷ سال کی عمر میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔ (دانش مند ۶۱)

مقالہ کے اختتام پر بار دیگر یہ یاد دہانی کرادیں کہ اگر کسی کے پاس اقوام کی تاریخ اور پوری دنیا سے منتشر ہونے والے اخبارات، رسائل، مجلات ہوں تو اس کے پاس عجیب وغریب معلومات اور اعداد وشمار جمع ہوجائیں گے۔

اس مقالہ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ تاریخ معاصرین اور زمانہ قدیم کے معمر حضرات کے حالات کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسانی عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، اور جیسا کہ سید بن طاؤوس نے اپنی کتاب کشف المحجہ فصل ۷۹ میں معروف مثل کے ذریعہ وضاحت پیش کی ہے لہذا کسی بھی قسم کا تعجب نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جب کثرت کے ساتھ بار بار تاریخ کے دامن میں معمر حضرات کا وجود پایا جاتا ہے تو حیرت کس بات پر ہے؟

ہم نے طول عمر کے سلسلے میں جو مختلف اعتبار سے تشریحی گفتگو کی ہے اس کا مقصد صرف یہ سمجھانا تھا کہ طویل عمر کے انکار کی وجہ تاریخ کے بارے میں ناقص معلومات، معمر حضرات کے حالات اور علوم طبیعہ سے ناواقفیت، ضعف ایمان، عناد اورحق کوقبول کرنے سے ٹال مٹول کے سوا کچھ نہیں ہے۔


اگر یہ دلائل نہ ہوتے، طویل عمر کی کوئی اور مثال نہ ہوتی، سائنس تائید نہ کرتی تو بھی ان تمام باتوں کے باوجود حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی عمر کا مسئلہ مطابق عقل اور قبول کرنے کے لائق تھا اس لئے کہ پیغمبر اکرم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے اتنی احادیث اور بشارتیں نقل ہوئی ہیں ،آپ کے پدر بزرگوار امام حسن عسکری کی حیات طیبہ اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے زمانہ میں آپ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی ذات گرامی سے نہ معلوم کتنے معجزات ظاہر ہوئے،بہت سے افراد جن کی صداقت اور زہد وتقویٰ شک وشبہ سے بالاتر ہے حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی خدمت میں شرفیاب ہوئے، بے شمار افراد کو زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے یہ تمام چیزیں اس آفاقی رہبر کی حیات مبارکہ کی بہترین دلیل ہیں جیساکہ انبیاء کے معجزات بھی خارق العادہ ہونے کے باوجود تواتر کے ساتھ اطلاع دینے والوں اور قدرت الٰہی پر ایمان کی وجہ سے قطعی طور پر مسلّم ہیں۔

اللّهُمَ اِنَّا نَرْغَبُ اِلَیْکَ فِیْ دَوْلَةٍ کَرِیْمَةٍ تُعِزّ بِهَا الاِسْلام واٴَهْلَه وَتُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَاَهْلَه وَتَجْعَلُنَا فِیْهَا مِنَ الدُّعَاةِ اِلٰی طَاعَتِکَ وَالْقَادَةِ اِلٰی سَبِیْلِکَ وَتَرْزُقُنَا بِهَا کَرَامَةَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ “۔

”خدایا ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں اس با عظمت حکو مت کا جس سے اسلام اور اہل اسلام کو عزت ملے ا ور نفاق اور اہل نفاق کو ذلت نصیب ہوہمیں اس حکو مت میں اپنی اطاعت کا طرفدار اور اپنے راستے کا قائد بنا دے ا ور اس کے ذریعہ ہمیں دنیا اور آخرت کی کرا مت عنایت فرما“۔


چوتها حصه حضرت ولی عصرکی ولادت باسعادت کا انداز

حضرت ولی عصر علیہ السلام کی ولادت باسعادت اور آپ کے وجود مبارک سے متعلق روایات بھی بے شمار ہیں، ہم نے اپنی کتاب منتخب الاثر کی فصل سوم کے باب اول میں اس موضوع سے متعلق دو سو سے زیادہ روایات نقل کی ہیں،علامہ سید میر محمد صادق خاتون آبادی اپنی کتاب اربعین میں فرماتے ہیں کہ ”شیعوں کی معتبر کتب میں حضرت مہدی کی ولادت، غیبت، آپ کے بارہویں امام اور فرزند حسن عسکری ہونے پر ایک ہزار سے زائد روایات موجود ہیں۔“

امام علیہ السلام کی ولادت باسعادت کوبیان کرنے والی تفصیلی روایات معتبر کتب حدیث میں موجود ہیں، انھیں روایات میں سے ایک تفصیلی روایت ینابیع المودة کے مولف اور اہل سنت کے معروف عالم فاضل قندوزی نے اپنی کتاب کے ص ۴۴۹ اور ۴۵۱ پر نقل کی ہے ان کے علاوہ شیخ طوسی نے اپنی کتاب ”غیبت“ میں اور شیخ صدوق نے ”کمال الدین“ میں صحیح اور معتبر سند کے ساتھ جناب موسیٰ بن محمد بن قاسم بن حمزة بن موسیٰ بن جعفر علیہما السلام سے اور انہوںنے امام محمد تقی علیہ السلام کی دختر جناب حکیمہ خاتون سے نقل کیا ہے کہ جناب حکیمہ نے فرمایا:

امام حسن عسکری نے ایک شخص کے ذریعہ میرے پاس کہلایا کہ پھوپھی آج شب نیمہ شعبان آپ میرے یہاں افطار فرمائیں خداوندعالم آج کی رات اپنی حجت کو ظاہر کرے گا اور وہی روئے زمین پر حجت خدا ہوگا۔

میں نے امام حسن عسکری کی خدمت میں عرض کیا: حجت کی ماں کون ہے؟

امام نے فرمایا: نرجس۔

میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان،بخدا نرجس کے یہاں تو ایسے کوئی آثار نہیں ہیں۔امام نے فرمایا: جو میں نے کہا وہی حقیقت ہے۔


جناب حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ میں حسب وعدہ پہنچی اور سلام کیانرجس نے میرے آرام کے لئے بستر وغیرہ آمادہ کیا اور ”میری اور میرے خاندان کی سیدوسردار خاتون“کہہ کر مجھ سے حال دریافت کیا۔

جناب حکیمہ نے فرمایا: میں نہیں تم میری اور میرے خاندان کی سید وسردار ہو۔

جناب نرجس نے فرمایا: پھوپھی یہ آپ کیا فرما رہی ہیں؟

جناب حکیمہ نے فرمایا: میری بیٹی!آج کی رات خدا تجھے وہ فرزند عطا کرے گا جو دنیا وآخرت کا آقا ہے،جناب نرجس کے چہرہ پر شرم وحیا کے آثار نمودار ہوگئے، میں نے نماز عشاء سے فارغ ہوکر روزہ افطار کیا اور بستر پر لیٹ گئی، جب نصف شب گزر گئی تو نماز شب کے لئے بیدار ہوئی نماز شب پڑھنے کے بعد میں نے دیکھا کہ جناب نرجس اسی طرح آرام سے سو رہی ہیں تعقیبات کے بعد میری آنکھ لگ گئی، گھبراکر اُٹھی نرجس اسی طرح سو رہی تھیں،پھر جناب نرجس اٹھیں، نماز شب بجالائیں اور پھر سوگئیں۔

میں صبح کی جستجو میں باہر نکلی فجر اول طلوع ہوچکی تھی،جناب نرجس محو خواب تھیں میرے دل میں شک کا گزر ہوا امام حسن عسکری نے آواز دی: پھوپھی عجلت مت کیجئے گھڑی نزدیک آرہی ہے، جناب حکیمہ فرماتی ہیں کہ میں نے الم سجدہ اور سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کردی، ناگاہ میں نے دیکھا کہ جناب نرجس گھبراکر بیدار ہوئیں میں ان کے سرہانے گئی میں نے کہا: ”بسم اللہ علیک “ کیا کچھ محسوس کررہی ہو؟جواب دیا ”جی ہاں اے پھوپھی۔“


میں نے کہا گھبراؤ نہیں یہ وہی بات ہے جس کی اطلاع میں تمہیں دے چکی ہوں۔

جناب حکیمہ فرماتی ہیں کہ مجھ پر ہلکی سی غنودگی طاری ہوگئی،جب مجھے اپنے آقا کے وجود کا احساس ہوا تو آنکھ کھلی،پردہ ہٹایا تو میں نے نرجس کے پاس اپنے آقا کو سجدہ ریز پایا،تما م اعضائے سجدہ زمین پر تھے،میں نے گود میں لیا تو بالکل پاک وصاف پایا، امام حسن عسکری نے آواز دی ”اے پھوپھی میرے لال کو میرے پاس لائیے۔“

میں اس مولود کوامام کی خدمت میں لے گئی امام نے اپنے دست مبارک سے بچہ کو آغوش میں لیا بچہ کے پیر اپنے سینہ پر رکھے اور اپنی زبان نومولود کے دہن میں دی اورسر وصورت پر دست شفقت پھیرا۔

پھر امام نے فرمایا: میرے لال گفتگو کرو۔نومولود نے جواب میں کہا:

اشهد ان لاالٰه الا الله وحده لاشریک له وانّ محمداً رسولُ الله ۔“

وحدانیت ورسالت کی گواہی کے بعد امیرالمومنین سے لے کر اپنے پدر بزرگوار تک تمام ائمہ پردرود بھیجا اور خاموش ہوگئے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: انہیں ان کی ماں کے پاس لے جایئے تاکہ ماں کو سلام کریں اس کے بعد میرے پاس لایئے،میں بچہ کو ماں کے پاس لے گئی، اس نے ماں کو سلام کیا پھر میں نے اسے امام کی خدمت میں پہنچا دیا،امام نے فرمایا اے پھوپھی ساتویں دن پھر تشریف لائیے گاجناب حکیمہ فرماتی ہیں کہ میں اگلی صبح پہنچی، امام کو سلام کیا اور پردہ ہٹایا تاکہ اپنے آقا کی زیارت کرسکوں مگر بچہ نظر نہ آیا میں نے عرض کیا میری جان آپ پر قربانمیرا آقا کیا ہوا؟

امام نے فرمایا: اے پھوپھی میں نے بھی اپنے لال کو اسی کے حوالہ کردیا جس کے حوالہ مادر موسی نے اپنا بچہ کیا تھا۔

جناب حکیمہ کہتی ہیں کہ میںساتویں دن پھر امام کی خدمت میں پہنچی، سلام کیا اور بیٹھ گئی۔

امام نے فرمایا: میرے فرزند کو میرے پاس لایئے، میں اپنے آقا کو اس عالم میں امام کے پاس لے گئی کہ آپ کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے امام نے پہلے دن کی طرح آغوش میں لیا، دست شفقت پھیرا، دہن میں زبان رکھی گویا بچہ کو دودھ اور شہد دے رہے ہیں پھر فرمایا:

میرے لال! گفتگو کرو۔

بچہ نے کہا: ”اشہد ان لاالہ الا اللہ“، پھرحضرت محمد ،امیرالمومنین اور اپنے پدربزرگوار ودیگر ائمہ پر درود وسلام بھیجا اوراس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی :


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

( ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلهم اٴئمة ونجعلهم الوارثین ونمکن لهم فی الارض ونری فرعون وهامان وجنودهما منهم ماکانوا یحذرون )

راوی حدیث موسیٰ بن محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ میں نے اس واقعہ کے بارے میں عقید (خادم)سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ”حکیمہ خاتون نے سچ کہا ہے“(۱)

شیخ صدوق نے انتہائی معتبر حدیث میں احمد بن الحسن بن عبداللہ بن مہران امی عروضی ازدی کے واسطہ سے احمد بن حسین قمی سے روایت کی ہے کہ امام حسن عسکری کے یہاں خلف صالح کی ولادت ہوئی تو امام حسن عسکری کی جانب سے میرے دادا احمد بن اسحاق کے نام سات خطوط خود آپ کے دست مبارک سے لکھے ہوئے موصول ہوئے،جیسا کہ اس سے قبل توقیعات بھی اسی تحریر میں موصول ہوتی تھیں،ان خطوط میں یہ تحریرتھا کہ ”ہمارے یہاں ایک فرزند کی ولادت ہوئی ہے جو تمہارے نزدیک مخفی اور لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہے گا، اس لئے کہ ہم اس کو کسی پر ظاہر نہ کریں گے مگر صرف قریب ترین حضرات کو قربت کے باعث اور چاہنے والوں کو ان کی محبت کی بنا پر، ہم نے چاہا کہ ہم تمہیں بتادیں تاکہ خدا تمہیں اسی طرح مسرورکرے جس طرح اس نے ہمیں مسرور کیا ہے۔(۲)

____________________

(۱)منتخب ا لاثر ص۳۲۱ تا۳۴۱

(۲)منتخب الاثر، ص۲۴۳ تا ص۲۴۴۔


مسعودی کی روایت میں ہے کہ احمد بن اسحاق نے امام حسن عسکری سے عرض کیا: ”جب آقا کی ولادت سے متعلق آپ کا بشارت نامہ موصول ہوا تومردوزن اور منزل شعورمیں قدم رکھنے والا کوئی جوان ایسا نہیں تھا جو حق کا قائل نہ ہو گیا ہو۔

حضرت نے فرمایا کیا تمہیں نہیں معلوم کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔(۱)

ایک اور روایت، ثقہ جلیل فضل بن شاذان نے جن کی وفات ولادت حضرت ولی عصرکے بعد اور امام حسن عسکری کی شہادت سے قبل ( ۲۵۵ سے ۲۶۰ ہجری کے درمیان) ہوئی اپنی کتاب ”غیبت“ میں محمد بن علی بن حمز ہ بن حسین بن عبداللہ بن عباس بن امیرا لمومنین کے واسطہ سے امام حسن عسکری سے نقل کی ہے کہ امام حسن عسکری نے فرمایا: شب نیمہ شعبان ۲۵۵ ء طلوع فجر کے وقت میرے جانشین اور میرے بعد بندگان خدا پر حجت خدا اور ولی خدا کی اس عالم میں ولادت ہوئی کہ اسے ختنہ کی ضرورت نہ تھی سب سے پہلے جس نے مولود کو نہلایا وہ رضوان خازن جنت تھا جس نے چند دیگر ملائکہ مقربین کے ساتھ مل کر اسے کوثر وسلسبیل کے پانی سے غسل دیا۔(۲)

دوسری روایات میں ملتا ہے کہ جب امام عصر کی ولادت ہوئی تو امام حسن عسکری نے حکم دیا کہ دس ہزار رطل روٹی اور دس ہزار رطل گوشت فقراء بنی ہاشم میں تقسیم کیا جائے اور تین سو گوسفند بطور عقیقہ ذبح فرمائے۔(۳)

اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ ولادت کے تیسرے دن حضرت کے پدر بزرگوار نے آپ کو مومنین کے سامنے پیش کرکے فرمایا:یہی میرا جانشین اور میرے بعد تمہارا امام ہے۔ یہی وہ قائم ہے جس کا انتظار کیا جائے گا اور جب دنیا ظلم وجور سے بھر جائے گی اس وقت ظاہر ہوکر دنیا کو عدل

____________________

(۱)منتخب الاثر،ص ۲۴۵-۲۴۶

(۲)منتخب الاثر، ص۳۲۰، اثبات الھداة،ج۷ص۱۳۹، ج۶۸۳ اربعین خاتون آبادی، ص۲۴ ودیگر کتب۔

(۳)منتخب الاثر، ص۳۴۱-۳۴۳


وانصاف سے بھردے گا۔(۱)

رجال اہل سنت کی ایک معتبر فرد نصر بن علی جہضمی نے اپنی کتاب ”موالید الائمہ“ میں امام حسن عسکری سے نقل کیا ہے کہ آپ نے اپنے فرزند ”م ح م د“ کی ولادت کے وقت فرمایا: ظالم یہ سمجھتے تھے کہ مجھے قتل کرکے میری نسل کا سلسلہ منقطع کردیں گے انہوں نے قدرت خدا کو کیسا پایا اور مولود کا نام آپ نے ”مومَّل“ (جس سے امید لگائی جائے) رکھا(۲)

احمد بن اسحاق اشعری نے امام حسن عسکری سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

الحمد لله الّذی لم یخرجنی من الدنیا حتیٰ ارانی الخلف من بعدی اشبه الناس برسول الله خلقا وخلقا یحفظه الله فی غیبته ثم یظهر فیملاٴ الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجوراً ۔“(۳)

”تمام تعریفیں اس خدا کے لئے جس نے میرے دنیا سے رخصت ہونے سے قبل مجھے میرے جانشین کی زیارت کرادی میرا یہ جانشین لوگوں کے درمیان خَلق وخُلق میں رسول اللہ سے سب سے زیادہ مشابہ ہے ، اللہ غیبت میں اس کی حفاظت فرمائے گا پھر اسے ظاہر کرے گا اور وہ دنیا کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جیسے وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی تھی۔“

تفصیلی معلومات کے لئے حدیث کی کتب مثلا غیبت نعمانی و غیب شیخ،کمال الدین،بحار الانوار، اثبات الھداة، اربعین خاتون آبادی اور ناچیز کی کتاب منتخب الاثر کی طرف رجوع فرمائیں۔

____________________

(۱)ینابیع المودة، ص۴۶۰، منتخب الاثر،ص۳۴۲

(۲)اثبات الھداة،ج۶ص۳۴۲ باب۳۱فصل۱۰ج۱۱۶

(۳)اثبات الھداة، ج۷ص۱۳۸، ج۶۸۲،باب۳۲فصل ۴۴کفایة الاثر، کمال الدین، منتخب الاثر۔


امام مہدی کی ولادت وامامت علماء ومورخین اہل سنت کی نظر میں

شیعہ اثنا عشری محدثین، مورخین اور علم رجال کے مصنفین نے تو امام زمانہ کی ولادت سے متعلق روایات کو صحیح اور معتبر منابع ومدارک کی بنیاد پر اپنی کتب میں تحریر فرمایا ہی ہے، آپ کے پدر بزرگوار کی حیات طیبہ اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے دوران سینکڑوں قابل اعتماد اور ثقہ افراد کو آپ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے،بےشمار معجزات آپ کی ذات سے ظاہر ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ اہل سنت کے بہت سے مشہور علماء نے بھی اپنی کتب میں آپ کی ولادت باسعادت سے متعلق تفصیلات تحریر فرمائی ہیں، بعض حضرات تو آپ کی امامت ومہدویت کے معتقد تھے، بعض حضرات نے اظہار عقیدت اور مدح سرائی کے لئے عربی یا فارسی میں اشعار کہے یہاں تک کہ بعض حضرات تو آپ کی خدمت اقدس میں شرفیاب ہونے اور بہ نفس نفیس آپ سے حدیث سننے کے مدعی ہیں، ہم نے ان میں سے بعض حضرات کے اقتباسات اپنی کتاب منتخب الاثر میں ذکر کئے ہیں لیکن یہاں اختصار کے پیش نظرصرف ان کے اسماء پر اکتفا کررہے ہیں:

۱ ۔ ابن حجر ہیثمی مکی شافعی، (متوفیٰ سال ۹۷۴) ۔

۲ ۔ مولف روضة الاحباب سید جمال الدین، (متوفی ۱۰۰۰ ء )۔

۳ ۔ ابن الصباغ علی بن محمد مالکی مکی، (متوفیٰ ۸۵۵ ء)۔

۴ ۔ شمس الدین ابو المظفر یوسف، مولف التاریخ الکبیر وتذکرة الخواص، (متوفیٰ ۶۵۴ ء)۔

۵ ۔ نور الدین عبدالرحمن جامی معروف، صاحب کتاب شواہد النبوہ۔

۶ ۔ شیخ حافظ ابو عبداللہ محمد بن یوسف گنجی، صاحب کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان و دیگر کتب(متوفیٰ ۶۵۸ ء)۔

۷ ۔ ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، (متوفی ۴۵۸ ء)۔

۸ ۔ کمال الدین محمدبن طلحہ شافعی، (متوفی ٰ ۶۵۲ ء)۔

۹ ۔ حافظ بلاذری ابو محمد احمد بن ابراہیم طوسی، (متوفیٰ ۳۳۹ ء)۔

۱۰ ۔ قاضی فضل بن روز بہان، شارح کتاب الشمائل ترمذی۔

۱۱ ۔ ابن الخشاب ابو محمد عبداللہ بن احمد، (متوفیٰ ۵۶۷ ء)۔


۱۲ ۔ شیخ وعارف شہیر محی الدین، صاحب کتاب الفتوحات، (متوفیٰ ۶۳۸ ء)۔

۱۳ ۔ شیخ سعد الدین حموی۔

۱۴ ۔ شیخ عبدالوہاب شعرانی مولف الیواقیت والجواہر، (متوفیٰ ۹۷۳ ء)۔

۱۵ ۔ شیخ حسن عراقی۔

۱۶ ۔ شیخ علی الخواص۔

۱۷ ۔ ابن اثیر، مولف تاریخ کامل۔

۱۸ ۔ حسین بن معین الدین میبدی، صاحب شرح دیوان۔

۱۹ ۔ خواجہ پارسا محمد بن محمد بن محمود بخاری، ( ۸۲۲ ء)۔

۲۰ ۔ حافظ ابوالفتح محمد بن ابی الفوارس، صاحب کتاب الاربعین۔

۲۱ ۔ ابوالمجد عبدالحق دہلوی ،(ستر کتابوں کے مولف ۱۰۵۲ ء)۔

۲۲ ۔ شیخ احمد جامی نامقی۔

۲۳ ۔ شیخ فریدالدین عطار نیشاپوری معروف۔

۲۴ ۔ جلال الدین محمد رومی، صاحب مثنوی، (متوفی ٰ ۶۷۲ ء)۔

۲۵ ۔ شیخ صلاح الدین صفدی، (متوفیٰ ۷۶۴ ء)۔

۲۶ ۔ مولوی علی اکبر بن اسد اللہ ہندی صاحب کتاب مکاشفات۔

۲۷ ۔ شیخ عبدالرحمن صاحب کتاب مراة الاسرار۔

۲۸ ۔ شعرانی کے بعض مشایخ ۔

۲۹ ۔ مصرکے ایک عالم ، بہ نقل شیخ ابراہیم حلبی۔

۳۰ ۔ قاضی شہاب الدین دولت آبادی، صاحب تفسیر البحر المواج و کتاب ہدایة السعداء۔

۳۱ ۔ شیخ سلیمان قندوزی بلخی، (متوفی ۱۲۹۴ ھء)۔


۳۲ ۔ شیخ عامر بن عامر البصری صاحب قصیدہ تائیة ”ذات الانوار“۔

۳۳ ۔ قاضی جواد سابطی۔

۳۴ ۔ صدر الدین قونوی صاحب تفسیر الفاتحہ ومفتاح الغیب۔

۳۵ ۔ عبداللہ بن محمد مطیری مدنی، مولف کتاب الریاض الزاھرہ۔

۳۶ ۔ شیخ محمد سراج الدین رفاعی، مولف صحاح الاخبار۔

۳۷ ۔ میر خواند محمد بن خاوند شاہ، مولف تاریخ روضة الصفا، (متوفیٰ ۹۰۳ ء)۔

۳۸ ۔ نضر بن علی جہضمی عالم و محدث معروف۔

۳۹ ۔ قاضی بہلول بہجت افندی، مولف کتاب محاکمہ در تاریخ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

۴۰ ۔ شیخ محمد ابراہیم جوینی، (متوفی ٰ ۱۱۷۴ ء)۔

۴۱ ۔ شیخ شمس الدین محمد بن یوسف زرندی، مولف معراج الوصول۔

۴۲ ۔ شمس الدین تبریزی، شیخ جلال الدین رومی۔

۴۳ ۔ ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں آپ کی تاریخ ولادت معین کی ہے۔

۴۴ ۔ ابن ارزق در تاریخ میافارقین۔

۴۵ ۔ مولی علی قاری صاحب کتاب مرقاة درشرح مشکاة۔

۴۶ ۔ قطب مدار۔

۴۷ ۔ ابن وردی مورخ۔

۴۸ ۔شبلنجی، مولف نورالابصار۔

۴۹ ۔ سویدی، سبائک الذہب۔

۵۰ ۔ شیخ الاسلام ابراہیم بن سعد الدین۔

۵۱ ۔ صدر الائمہ موفق بن احمد مالکی خوارزمی۔

۵۲ ۔مولی حسین بن علی کاشفی، مولف جواہر التفسیر، (متوفیٰ ۹۰۴ ء)۔

۵۳ ۔ سید علی بن شہاب ہمدانی، مولف ”المودة فی القربیٰ“

۵۴ ۔ شیخ محمد صبان مصری، (متوفی ۱۲۰۵ ء)۔


۵۵ ۔ الناصر لدین اللہ خلیفہ عباسی۔

۵۶ ۔ عبدالحی بن عمار حنبلی، مولف شذرات الذھب، (متوفی ٰ ۱۰۸۹ ء)۔

۵۷ ۔ شیخ عبدالرحمن بسطامی، در کتاب درة المعارف۔

۵۸ ۔ شیخ عبدالکریم یمانی۔

۵۹ ۔ سید نسیمی۔

۶۰ ۔ عماد الدین حنفی۔

۶۱ ۔ جلال الدین سیوطی۔

۶۲ ۔ رشید الدین دھلوی ہندی۔

۶۳ ۔ شاہ ولی اللہ دہلوی۔

۶۴ ۔ شیخ احمد فاروقی نقشبندی۔

۶۵ ۔ ابوالولید محمد بن شحنہ حنفی، در تاریخ روضة المناظر۔

۶۶ ۔ شمس الدین محمد بن طولون مورخ شہیر، درکتاب الشذرات الذہبیہ، (متوفیٰ ۹۵۳ ء)۔

۶۷ ۔ شبراوی شافعی،سابق رئیس جامعہ ازہر و مولف کتاب الاتحاف۔

۶۸ ۔ یافعی، مولف تاریخ مراة الجنان،

۶۹ ۔ محمد فرید وجدی در دائرة المعارف۔

۷۰ ۔ عالم محقق شیخ رحمة اللہ ہندی، مولف اظہار الحق۔

۷۱ ۔ علاء الدین احمد بن محمد السمانی۔

۷۲ ۔ خیر الدین زرکلی در کتاب الاعلام، ج ۶ ص ۳۱۰ ۔

۷۳ ۔ عبدالملک عصامی مکی۔

۷۴ ۔ محمود بن وہیب القراغولی بغدادی حنفی۔

۷۵ ۔ یاقوت حموی در معجم البلدان، ج ۶ ص ۱۷۵ ۔

۷۶ ۔ مولف تاریخ گزیدہ، ص ۲۰۷،۲۰۸ ، طبع لندن، ۱۹۱۰ ءء۔

۷۷ ۔ ابوالعباس قرمانی احمد بن یوسف دمشقی در اخبار الدول وآثار الدول۔


ظہورمہدی کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے

جو لوگ شیعوں کی اندھی دشمنی میں مبتلا ہوکر شیعہ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں یا دشمنان اسلام کے سیاسی اغراض پر مبنی مسموم افکار کی ترویج کرتے ہیں وہ جادہ تحقیق سے منحرف ہوکر اپنے مقالات یا بیانات میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ظہور مہدی کا عقیدہ ،شیعہ عقیدہ ہے اوراسے تمام اسلامی فرقوں کا عقیدہ تسلیم کرتے ہوئے انھیں زحمت ہوتی ہے۔

کچھ لوگ تعصب ونفاق کے علاوہ تاریخ وحدیث اورتفسیر ورجال سے ناواقفیت،اسلامی مسائل سے بے خبری اور عصر حاضر کے مادی علوم سے معمولی آگاہی کے باعث تمام دینی مسائل کو مادی اسباب وعلل کی نگاہ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں اور اگر کہیں کوئی راز یا فلسفہ سمجھ میں نہ آئے توفوراً تاویل وتوجیہ شروع کردیتے ہیں یا سرے سے انکار کربیٹھتے ہیں۔

اس طرح اپنے کمرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر قلم اٹھاتے ہیں اور اسلامی مسائل سے متعلق گستاخانہ انداز میں اظہار نظر کرتے رہتے ہیں جب کہ یہ مسائل ان کے دائرہ کا رومعلومات سے باہر ہیں، اس طرح یہ حضرات قرآن وحدیث سے ماخوذ مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ مسائل کا بہ آسانی انکار کردیتے ہیں۔ انھیں قرآن کے علمی معجزات، اسلامی قوانین اور اعلیٰ نظام سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے لیکن انبیاء کے معجزات اور خارق العادہ تصرفات کے بارے میں گفتگو سے گریز کرتے ہیں تاکہ کسی نووارد طالب علم کے منہ کا مزہ خراب نہ ہوجائے یا کوئی بے خبر اسے بعیداز عقل نہ سمجھ بیٹھے۔

ان کے خیال میں کسی بات کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر آدمی سمجھ سکے یا ہر ایک دانشوراس کی تائید کرسکے یا ٹیلی اسکوپ، مائیکرو اسکوپ یا لیبوریٹری میں فنی وسائل کے ذریعہ اس کا اثبات ہوسکے۔

ایسے حضرات کہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو انبیاء کو ایک عام آدمی کی حیثیت سے پیش کرنا چاہئے اور حتی الامکان ان کی جانب معجزات کی نسبت نہیں دینا چاہئے بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ دنیا کے حوادث کی نسبت خداوندعالم کی جانب بھی نہ دی جائے یہ لوگ خدا کی قدرت، حکمت، علم، قضاوقدر کا صریحی تذکرہ بھی نہیں کرتے جو کچھ کہنا ہوتا ہے مادہ سے متعلق کہتے ہیں۔

خدا کی حمد وستائش کے بجائے مادہ اور طبیعت ( Nature )کے گن گاتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی لے میں لے ملا سکیں، جنہوں نے تھوڑے مادی علوم حاصل کئے ہیں یا فزکس، کمیسٹری، ریاضی سے متعلق چند اصطلاحات، فارمولے وغیرہ سیکھ لئے ہیں اوراگر انگریزی یا فرانسیسی زبان بھی آگئی تو کیا کہنا۔


یہ صورت حال کم وبیش سبھی جگہ سرایت کررہی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں، عموماً اس صورت حال کا شکار کچے ذہن کے وہ افراد ہوتے ہیں جو علوم قدیم وجدید کے محقق تو نہیں ہیں لیکن مغرب کے کسی بھی نظریہ یا کسی شخص کی رائے کو سو فیصدی درست مان لیتے ہیں چاہے اس کا مقصد سیاسی اور استعماری ہی رہا ہو، ہمارے بعض اخبارات، رسائل، مجلات و مطبوعات بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں عوامل سے متاثر ہو کر سامراجی مقاصد کی خدمت میں مصروف ہیں(۱)

انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر لوگ اور ان کے حکام کی علمی، عقلی، فلسفی اور دینی معلومات بالکل سطحی ہوتی ہےں، وہ اکثر بے خبر اور مغرض ہوتے ہیں (بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ۸۱/ فیصدافراد ضعف عقل و اعصاب ا ور دماغ میں مبتلا ہیں)اور اپنے پست اور انسانیت سے دور

____________________

(۱) ایک مصری دانشور کہتا ہے کہ جب میں فرانس زیرِ تعلیم تھا تو ماہ رمضان میں ایک پروگرام میں شرکت کی، کالج کے پرنسپل نے میرے سامنے سگریٹ پیش کی تو میں نے معذرت کر لی،اس نے وجہ دریافت کی تو میں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ ہے اور میں روزہ سے ہوں،اس نے کہا میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم بھی ان خرافات کے پابند ہوگے،پروگرام کے بعد ایک ہندوستانی پروفیسر نے جو اس پروگرام میں شریک تھے مجھ سے کہا کہ کل فلاں مقام پر مجھ سے ملاقات کرلینا، اگلے روز میں پروفیسر سے ملاقات کے لئے گیا وہ مجھے چرچ لے گئے اور دوسرے ایک شخص کو دکھا کر پوچھا، پہچانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا ہمارے پرنسپل ہیں، پروفیسر نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا عبادت میں مشغول ہیں،پروفیسر نے کہا یہ لوگ ہمیں تو دینی آداب و رسوم ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور خود پابندی کے ساتھ مذہبی امور بجا لاتے ہیں۔یہ خطرناک بیماری جو اغیار اور سامراجی طاقتوں کے پروپیگنڈہ کے

ذریعہ ہمارے اندر پھیلتی جا رہی ہے اوران کی صنعتی ترقی سے مرعوب ہو کر ہم اپنی کمزوری کا احساس کرنے لگے ہیں اور یہ احساس دیمک کی طرح ہماری حیثیت، شخصیت اور ترقی پذیر اقوام کی آزادی فکر کو نابود کر رہا ہے کتنی پست اور حقیر ہے وہ مسلمان قوم جو قرآن پر تو فخر کرتی ہے نماز میں روزانہ بیس مرتبہ ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ کہتی ہے مگر اس کی کتابوں کے سر ورق سے یہ نورانی جملہ غائب ہے، کتنے ذلیل و خوار ہیں وہ لوگ جو اغیار کی روش اختیار کرتے ہیں کتنی حقیر ہے وہ قوم جو اپنی مذہبی اور قومی روش اورلباس کو چھوڑ کر اپنے پروگراموں میں دوسروں کا لباس اور طور طریقہ اختیار کرتی ہے اور جس کے مرد و زن اپنی شخصیت اور اعتماد نفس سے محروم ہیں۔


بعض حضرات تو مغربی تہذیب کے دھارے میں اس طرح بہہ گئے ہیں کہ خود ان سے آگے بڑھکر دیگ سے زیادہ چمچہ گرم کے مصداق نظر آتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس بیماری سے وسیع پیمانہ پر مقابلہ کی ضرورت ہے ،ایسا مقابلہ جس کی بنیاد عقل ومنطق اور اسلامی آداب و احکام کے احترام پر استوار ہو۔

حقیقت یہی ہے کہ بعض مشرقی افراد جب اپنی کمزوری کا احساس کرتے ہیں تو مغربی تمدن کے سامنے سپرانداختہ ہو جاتے ہیں اور اپنی قومی و مذہبی عادات، اخلاق، لباس وغیرہ سب کچھ تج کر مغربی تہذیب کو فخر کے ساتھ اپنا لیتے ہیں اور اپنے ماحول میں بھی انہیں کا طرز معاشرت اختیار کر لیتے ہیں لیکن مغربی افراد کا چونکہ ڈنکہ بجتا ہے لہذا وہ اپنے مال و ثروت، علم و صنعت اور مادی ترقی پر اکڑتے ہیں اور اپنے عادات و اطوار کتنے ہی پست، حیوانی اور خرافاتی کیوں نہ ہوں اہل مشرق کے سامنے فخر کے ساتھ انہیں بجا لاتے ہیں۔

بہت سے مشرقی افراد مغرب سے علم و ٹکنالوجی سیکھنے کے بجائے مغرب کی اندھی تقلید کو ہی اپنا شیوہ بنا لیتے ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ اقوام مشرق ،مغرب پرست ہونے کے بجائے علم و صنعت و ٹکنالوجی حاصل کر کے اپنی زمین، معدنیات، سمندر، ہوا کے خود ہی مالک ہوتے یہ لوگ اتنے مغرب زدہ اور مغرب پرست ہوتے ہیں کہ ان میں اتنی بھی ہمت نہیں ہوتی کہ ٹائی وغیرہ کے بجائے اپنا قومی لباس پہن کر ان کے پروگرام میں شرکت کریں،معدودے چند افراد ہی اپنا لباس ترک نہیں کرتے جیسے ہندوستان کے سابق صدرڈاکٹر ذاکر حسین یا حجاز ،مراکش اور بعض دیگر ممالک کے سربراہ بھی بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنا قومی لباس پہن کر شریک ہوتے رہے، جب کہ اکثریت ایسے سربراہانِ مملکت کی ہے جو اہل مغرب کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں، انہیں احساس ہی نہیں ہے کہ احساس کمتری کتنی بڑی لعنت ہے اور عزت نفس کتنا بڑا سرمایہ

کتنا محترم ہے وہ مسلم سربراہ جسکے اعزاز میں اگر مغربی سربراہانِ مملکت دعوت کرتے ہیں تو دسترخوان پر شراب نہیں ہوتی، کتنا قابل فخر ہے وہ سربراہ جو ماسکو میں کمیونسٹ حکومت کا مہمان ہونے کے باوجود نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کا رخ کرتا ہے، کتنا باعظمت و شرافت ہے وہ سربراہ جو امریکا میں بھی چرچ میں داخل نہیں ہوتا اور سودی قرض سے پرہیز کرتا ہے، کتنا عظیم مردآہن ہے وہ مسلمان کہ جو اقوام متحدہ کی کانفرنس میں اپنی تقریر کا آغاز ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ سے کرتا ہے۔


سیاسی مقاصد کے لئے دنیا کے مختلف مقامات پر اپنے سیاسی مفادات کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، البتہ جو لوگ ذی علم و استعداد، محقق و دانشور ہیں ان کا معاملہ فحشاء و فساد میں ڈوبی اکثریت سے الگ ہے۔

ان کے معاشرہ میں ہزاروں برائیاں اور خرافات پائے جاتے ہیں پھر بھی وہ عقلی، سماجی، اخلاقی اور مذہبی بنیاد پر مبنی مشرقی عادات و رسوم کا مذاق اڑاتے ہیں۔

مشرق میں جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اسے ”مغرب زدہ ہونا“ یا مغرب زدگی کہا جاتا ہے جس کی مختلف شکلیں ہیں اور آج اس سے ہمارا وجود خطرے میں ہے، انہوں نے بعض اسلامی ممالک کی سماجی زندگی سے حیاو عفت اور اخلاقی اقدار کو اس طرح ختم کر دیا ہے کہ اب ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے جو اندلس (اسپین) کے اسلامی معاشرہ کا ہوا تھا۔(۱)

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے افراد جن کی معلومات اخبارات و رسائل سے زیادہ نہیں ہے اور انہوں نے مغربی ممالک کا صرف ایک دو مرتبہ ہی سفر کیا ہے،مغرب زدگی، مغرب کے عادات و اخلاق کے سامنے سپرانداختہ ہوکر موڈرن بننے کی جھوٹی اور مصنوعی خواہش، جو دراصل رجعت پسندی ہی ہے کو روشن فکری کی علامت قرار دیتے ہیں،اور اغیار بھی اپنے ذرائع کے ذریعہ مثلاً اپنے سیاسی مقاصد کے لئے انہیں مشتشرق، خاورشناس کا ٹائٹل دے کر ان جیسے

____________________

(۱) اندلس کی نام نہاد اسلامی حکومت نے کفار اور اغیار سے اسلامی اصولوں کے برخلاف ایسے معاہدے کئے کہ اس کے نتیجہ میں عیسائیت کے لئے دروازے کھل گئے۔ فحشاء و فساد اور شراب نوشی سے پابندی ختم ہو گئی عیسائیوں کی طرح سے مرد و عورت آپس میں مخلوط ہو گئے راتوں کو عیش و عشرت، مردوں اور عورتوں کے مشترکہ پروگرام، رقص و سرور، ساز و موسیقی نے اسلامی غیرت و حمیت کا خاتمہ کر دیا۔ غیر ملکی مشیران اسلامی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کرنے لگے اور آخر کاراسلامی اندلس ایک عیسائی مملکت میں تبدیل ہو گیا اور اسلامی علم و تمدن کا آفتاب اس سرزمین پر اس طرح غروب ہوا کہ آج اسلامی حکومت کے زرین دور کی مساجد، محلّات اور دیگر عالیشان عمارتوں جیسی یادگار وں کے علاوہ کچھ بھی باقی نہ رہا۔ البتہ یہ تاریخی اور یادگار تعمیرات آج بھی اپنی مثال آپ اور اس مملکت کے عہد زریں کے علم و صنعت کا شاہکار ہیں۔ خدا کی لعنت ہو فحشاء و فساد، ہوس اقتدار اور نفاق پرور ایسے ضمیر فروش اور اغیار پرست حکام پر


افراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔

ظہور حضرت مہدی کے بارے میں بھی ادھر ہمارے سنّی بھائیوں میں سے کچھ مغرب زدہ احمد امین، عبدالحسیب طٰہٰ حمیدہ جیسے افراد نے امام مہدی کے متعلق روایات نقل کرنے کے باوجود تشیع پر حملے کئے ہیں گویا ان کے خیال میں یہ صرف شیعوں کا عقیدہ ہے یا کتاب و سنت، اقوال صحابہ و تابعین وغیرہ میں اس کا کوئی مدرک و ماخذ نہیں ہے، بے سر پیر کے اعتراضات کر کے یہ حضرات اپنے کو روشن فکر، مفکر اور جدید نظریات کا حامل سمجھتے ہیں،غالباً سب سے پہلے جس مغرب زدہ شخص نے ظہور مہدی سے متعلق روایات کو ضعیف قرار دینے کی ناکام و نامراد کوشش کی وہ ابن خلدون ہے، جس نے اسلامی مسائل کے بارے میں ہمیشہ بغض اہلبیت اور اموی افکار کے زیر اثر بحث و گفتگو کی ہے۔

”عقاد “ کے بقول اندلس کی اموی حکومت نے مشرقی اسلام کی وہ تاریخ ایجاد کی ہے جو مشرقی مورخین نے ہرگز نہیں لکھی تھی اور اگر مشرقی مورخین لکھنا بھی چاہتے تو ایسی تاریخ بہر حال نہ لکھتے جیسی ابن خلدون نے لکھی ہے۔

اندلس کی فضا میں ایسے مورخین کی تربیت ہوتی تھی جو اموی افکار کی تنقید و تردید کی صلاحیت سے بے بہرہ تھے، ابن خلدون بھی انہیں افراد میں سے ہے جو مخصوص سیاسی فضا میں تربیت پانے کے باعث ایسے مسائل میں حقیقت بین نگاہ سے محروم ہو گئے تھے، فضائل اہلبیت سے انکار یا کسی نہ کسی انداز میں توہین یا تضعیف اور بنی امیہ کا دفاع اور ان کے مظالم کی تردیدسے ان کا قلبی میلان ظاہر ہے۔ ابن خلدون معاویہ کو بھی ”خلفائے راشدین“ میں شمار کرتے ہیں۔

انہوں نے مہدی اہل بیت کے ظہور کے مسئلہ کو بھی اہل بیت سے بغض و عناد کی عینک


سے دیکھا ہے کیونکہ مہدی بہرحال اولاد فاطمہ میں سے ہیں خانوادہ رسالت کا سب سے بڑا سرمایہ افتخارہیں لہٰذا اموی نمک خوار کے حلق سے فرزند فاطمہ کی فضیلت کیسے اتر سکتی تھی چنانچہ روایات نقل کرنے کے باوجود ان کی تنقید و تضعیف کی سعی لاحاصل کی اور جب کامیابی نہ مل سکی تو اسے ”بعید“ قرار دے دیا۔

اہل سنت کے بعض محققین اور دانشوروں نے ابن خلدون اور اس کے ہم مشرب افراد کا دندان شکن جواب دیا ہے اور ایسے نام نہاد روشن فکر افراد کی غلطیاں نمایاں کی ہیں۔

معروف معاصر عالم استاد احمد محمد شاکر مصری ”مقالید الکنوز“ میں تحریر فرماتے ہیں ”ابن خلدون نے علم کے بجائے ظن و گمان کی پیروی کر کے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ ابن خلدون پر سیاسی مشاغل، حکومتی امور اور بادشاہوں، امیروں کی خدمت و چاپلوسی کا غلبہ اس قدر ہو گیا تھا کہ انہوں نے ظہور مہدی سے متعلق عقیدہ کو ”شیعی عقیدہ“ قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے مقدمہ میں طویل فصل لکھی ہے جس میں عجیب تضاد بیان پایا جاتا ہے ابن خلدون بہت ہی فاش غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں، پھر استاد شاکر نے ابن خلدون کی بعض غلطیاں نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا: اس(ابن خلدون) نے مہدی سے متعلق روایات کو اس لئے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس پر مخصوص سیاسی فکر غالب تھی، پھر استاد شاکر مزید تحریر کرتے ہیں کہ: ابن خلدون کی یہ فصل اسماء رجال، علل حدیث کی بے شمار غلطیوں سے بھری ہوئی ہے کبھی کوئی بھی اس فصل پر اعتماد نہیں کرسکتا۔“

استاد احمد بن محمد صدیق نے تو ابن خلدون کی رد میں ایک مکمل کتاب تحریر کی ہے جس کا نام ”ابراز الوہم المکنون عن کلام ابن خلدون“ ہے۔ اس کتاب میں استاد صدیق نے مہدویت سے متعلق ابن خلدون کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا مکمل جواب دیا ہے اور ابن خلدون کو بدعتی قرار دیا ہے۔


ہر چند علمائے اہل سنت نے اس بے بنیاد بات کا مدلل جواب دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ظہور مہدی کا عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک متفق علیہ اور اجتماعی ہے مگرہم چند باتیں بطور وضاحت پیش کر رہے ہیں :۔

۱ ۔ شیعوں کا جو بھی عقیدہ یا نظریہ ہے وہ اسلامی عقیدہ و نظریہ ہے، شیعوں کے یہاں اسلامی عقائد و نظریات سے الگ کوئی عقیدہ نہیں پایا جاتا، شیعی عقائد کی بنیاد کتاب خدا اور سنت پیغمبر ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی عقیدہ شیعی عقیدہ ہو مگر اسلامی عقیدہ نہ ہو۔

۲ ۔ ظہور مہدی کا عقیدہ شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ علمائے اہلسنت بھی اس پر متفق ہیں اور یہ خالص اسلامی عقیدہ ہے۔

۳ ۔ آپ کے نزدیک ”اسلامی عقیدہ“ کا معیار کیا ہے؟ اگر قرآن مجید کی آیات کی تفسیر اسی سے ہوتی ہو تو کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟ اگر صحیح، معتبر بلکہ متواتر روایات (جو اہل سنت کی کتب میں بھی موجود ہیں) سے کوئی عقیدہ ثابت ہو جائے تب بھی کیا وہ عقیدہ اسلامی عقیدہ نہ ہوگا؟

اگر صحا بہ و تابعین اور تابعینِ تابعین کسی عقیدہ کے معتقد ہوں تو بھی وہ عقیدہ اسلامی نہیں ہے؟ اگر شواہد اور تاریخی واقعات سے کسی عقیدہ کی تائید ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ یہ عقیدہ ہر دور میں پوری امت مسلمہ کے لئے مسلّم رہا ہے پھر بھی کیا آپ اسے اسلامی عقیدہ تسلیم نہ کریں گے؟

اگر کسی موضوع سے متعلق ابی داؤد صاحب سنن جیسا محدث پوری ایک کتاب بنام ”المہدی“، شوکانی جیسا عالم ایک کتاب ”التوضیح“ اسی طرح دیگر علماء کتابیں تحریر کریں، بلکہ پہلی صدی ہجری کی کتب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہوتب بھی یہ عقیدہ اسلامی نہ ہوگا؟

پھر آپ ہی فرمائیں اسلامی عقیدہ کا معیار کیا ہے؟ تاکہ ہم آپ کے معیار و میزان کے مطابق جواب دے سکیں، لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ ہی نہیںبلکہ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مذکورہ باتوں کے علاوہ اسلامی عقیدہ کا کوئی اور معیار نہیں ہو سکتا اور ان تمام باتوں سے ظہور مہدی کے عقیدہ کا اسلامی ہونا مسلّم الثبوت ہے چاہے آپ تسلیم کریں یا نہ کریں۔


عقیدہ ظہور مہدی اور مدعیان مہدویت کا قیام

احمد امین مصری اور طنطاوی جیسے بعض دیگر افراد نے مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کی جانب سے کی جانے والی بغاوتوں یا انقلابات کو جنگ وجدال اور مسلمانوں کی کمزوری کا عذر پیش کرتے ہوئے ظہور مہدی کے عقیدہ کو اس کی علت قرار دیا ہے اور اس طرح ان حوادث و واقعات کے سہارے شیعوں کے خلاف زہر افشانی کر کے معاشرہ کے ثبات و استحکام اور آئندہ کے اطمینان کا سبب بننے والے عقیدہ سے لوگوں کے اذہان کو منحرف کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ جن لوگوں نے مہدویت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے یا کر سکتے ہیں ان کے دعویٰ کا ظہور مہدی کے عقیدہ کی صحت یا عدم صحت سے کوئی تعلق نہیں ہے ایک دانشور کی جانب سے ایسے واقعات کو کسی دینی و مذہبی واقعات کے انکار کا بہانہ قرار دیا جانا انتہائی تعجب خیز ہے۔

جناب احمد امین صاحب ! ذرا فرمائیں تو سہی۔ وہ کون سے اعلیٰ مفاہیم اور خدائی نعمتیں ہیں کہ جن کا مغرض افراد نے غلط استعمال نہیں کیا؟ کیا ریاست طلب اور اقتدار کے بھوکے اپنے مقاصد کے لئے ایسے ہتھکنڈے نہیں اپناتے ہیں؟

حق، صلح، عدالت، امانت و صداقت، تہذیب و تمدن، تعلیم و تربیت، ترقی و تکامل، دین و مذہب، آزادی، ڈیموکریسی، نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی جیسے ان گنت مفاہیم کے ساتھ مفاد پرست افراد اور موقع پرست سیاستداں کل بھی کھلواڑ کرتے رہے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں کل بھی ان چیزوں کا غلط استعمال ( Miss Use ) کیا گیا اور آج بھی کیا جا رہا ہے، واقعیت یہ ہے کہ اب توان میں سے اکثر الفاظ اپنے مخالف معنی میں استعمال ہو رہے ہیں۔

جنگجو اور وسعت پسند صلح و ڈیموکریسی کا، ظالم عدل وانصاف کا، فساد برپا کرنے والے اصلاح کا، رجعت پسند ترقی کا، خیانت کار امانت کا اور آزادی کے دشمن آزادی کا دم بھرتے ہیں لیکن درحقیقت ان الفاظ کے سہارے اپنے مقاصد کے در پے رہتے ہیں اور خوشنما الفاظ کے ذریعہ اپنی خیانتوں اور خباثتوں کی پردہ پوشی کر کے مظلوم اقوام پر اپنی مرضی تحمیل کرتے رہتے ہیں۔

تعلیم و تربیت کی توسیع کے ذریعہ لوگوں کو صحیح اخلاقی راستہ سے ہٹاکر علمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ایجاد کی جا تی ہے، آزادی، مظلوموں کی نجات اور کمزور اقوام کے حقوق کے دفاع کے نام پر جو جنگیں لڑی گئیں ان کا مقصد کمزور ممالک کے حقوق کو پامال کر کے ان کی ثروت پر قبضہ کرنا اور انہیں اپنے نوآبادیاتی حصہ میں شامل کرناتھا۔


معنوی رہبری اور رسالت آسمانی کے نام پر زیادہ بغاوتیں ہوتی ہیں یا مہدویت کے نام پر،با لفاظ دیگر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے یا مہدویت کا؟

مختلف ممالک میں جومسلسل فوجی بغاوتیں یا انقلاب رونما ہوتے ہیں وہ اصلاح، نجات ملت، آزادی، قانون کی بالادستی کے نام پر ہوتے ہیں یا کسی اور نام پر؟ کیا ایسے انقلابات کے خودساختہ رہبر واقعاً آزادی یا اصلاح کے لئے قیام کرتے ہیں یا ان کے درپردہ مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں؟

قرآن مجید جب نااہل مغرض اور سیاسی افراد کے ہاتھ لگتا ہے تو اس کی بھی خلاف واقع اور غلط تفسیر کی جاتی ہے غلط افراد کو آیات قرآنی کا مصداق قرار دیا جاتاہے اور یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ معاویہ و یزید بھی علی و حسین کی طرح قرآن کے کاتب اور قاری تھے!

چونکہ قرآن مجید کی بعض آیتوں کی لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر، دل خواہ طریقہ سے تاویل و تفسیر کر لی ہے اور اس طرح کچھ لوگوں کی ضلالت و گمراہی کا سبب بن گئے ہیں تو کیاقرآن کے بارے میں بھی آپ یہ تجویز پیش کریں گے کہ (العیاذباللہ) قرآن سے ایسی آیات حذف کر دینا چاہئےں تاکہ لوگ اپنی مرضی سے تفسیر نہ کر سکیں؟

ان سب سے بڑھکر کچھ لوگوں نے تو خدائی کا دعویٰ بھی کیا ہے، صرف زبانی ہی نہیں عملی طور پر لوگوں کو اپنی عبدیت میں رکھا ہے کروڑوں افراد گائے کی پوجا کرتے ہیں، بت پرست، آتش پرست اور ستارہ پرست ہیں بے شمار افراد فرعون، نمرود اور تاریخ کے دیگر ڈکٹیٹروں کے سامنے ذلت و رسوائی کا شکار رہے اور خود کو ان کا بندہ بے دام اور غلام کہتے رہے اپنے جیسے بلکہ اپنے سے بھی جاہل، نالائق انسانوں کی پرستش کرتے رہے اور خدائے واحد کے بجائے سلاطین کا نام لیتے رہے اور خدائے رحمٰن و رحیم کے بجائے ظالموں کے پست و حقیر ناموں سے کام کا آغاز کرتے رہے اگر اسلام کا سورج طلوع نہ ہوا ہوتا اور عقیدہ توحید کی روشنی نے لوگوں کے دلوں تک پہنچ کر انہیں غلط افکار سے آزادی نہ دلائی ہوتی اور انسان نے اپنے آپ کو نہ پہچانا ہوتا ، قوم نے حکام سے رابطہ کی حقیقت کا ادراک نہ کیا ہوتا، ”بسم اللہ“ اور ”اللہ اکبر“ آزاد منش افراد کا نعرہ نہ بنا ہوتا تو انسان پرستی کا بدنما طوق کبھی بھی بشریت کی گردن سے نہ اترتا۔


چونکہ تاریخ شریعت میں علم و صنعت، خدا پرستی، نبوت، صلح، عدل و انصاف اقتدار پرست سیاستدانوں کا کھلونا بنتے رہے ہیں اس لئے کیاآپ ان چیزوں کی مذمت کر سکتے ہیں؟

چونکہ کچھ لوگ آزادی اور عدل و انصاف یا قانون کی بالادستی کے نام پر ظلم و تشدد اور قانون شکنی کرتے ہیں ڈکٹیٹر بن جاتے ہیں تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ عدل و انصاف، حریت و آزادی، قانون، مساوات و فضیلت کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، بلکہ یہ چیزیں تو انسانیت کے لئے دردِ سر ہیں لہٰذا انہیں انسانیت کی لغت سے حذف کر دینا چاہئے؟

کیا آپ اسی نارسا فکر اور غلط منطق کے بل بوتے پرایسے موضوع کے بارے میں جس کے سلسلہ میں سینکڑوں حدیثیں پائی جاتی ہیں اور کروڑوں مسلمان ہر دور میں جس عقیدہ کے حامل رہے ہوں؟ اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں؟

نہیں جناب احمد امین صاحبہرگز آپ ایسی بے عقلی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔

آپ بخوبی واقف ہیں کہ دنیا میں اکثر اختلافات جزئیات اور مصادیق کے ہی ہوتے ہیں۔ اور اگر سہواً یا عمداً کسی چیز کو کسی کلی یا جزئی کامصداق قرار دے دیا گیا یا باطل کو حق کا لباس پہنا دیا گیا تو اس سے حق کی صداقت پر حرف نہیں آتا۔

جس طرح کچھ جاہل جھوٹی ڈگریاں لے کر خود کو عالم بتایا کرتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ مصلح، عادل، مہدی موعود، امام، نبی اور پیغمبر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ بلکہ مہدویت کے جھوٹے دعویداروں میں سے ایک (علی محمد شیرازی) نے جب یہ دیکھا کہ معاملہ میں جان نہیں آئی اور ہلدی پھٹکری کے باوجود رنگ نہیں جما اور اپنے معتقدین کو بہت زیادہ نادان اور احمق محسوس کیا تو مہدویت کے علاوہ اور بھی دعوے کرنے


لگا(۱)

____________________

(۱) علی محمد شیرازی ابتداء میں خود کوسید کہتا تھا بعد میں ”بابیت“ کا مدعی ہوا اور اس کے بعد صراحت کے ساتھ حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ کی امامت و مہدویت اور ان کے فرزند امام حسن عسکری ہونے کا اقرار و اعتراف کرنے کے باوجود مہدویت اور اس کے بعد نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اور اس کے بعض مکتوبات کے مطابق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خدائی کا دعویدار ہو گیا تھا۔ آخر میں تمام باتوں کا منکر ہو گیا اور اپنے ہاتھ سے معذرت نامہ اور توبہ نامہ لکھ کر ناصر الدین شاہ کے سامنے پیش کیا مدعیان مہدویت کے درمیان علی محمد جیسی صورتِ حال شائد ہی کسی کی ہو اوہ اپنی مختلف اور نامعقول باتوں، رکیک اور ہذیانی عبارتوں کے باعث پاگل مشہور تھا۔ یہ بات مخفی نہ رہے کہ بابی یا بہائی گروپ در اصل ایک زرخیز سیاسی گروہ سے جو آخری صدی میں ہندوستان، ترکی، ایران خاص طور پر فلسطین اور دیگر اسلامی مراکز میں سامراجی طاقتوں کا آلہ کار اور ان کی سیاست کے لئے حالات ہموار کرنے نیز ان کے لئے جاسوسی کا ایک نیٹ ورک رہا ہے۔ اسی لئے یہ لوگ مشرقی ممالک خصوصاً ملت مسلمہ پرلالچی نگاہیں رکھنے والے ممالک کے منظور نظر رہے ہیں۔ ابتدائی مرحلہ میں انہیں ایرانی قوم کے درمیان اختلاف اور حکومت کے خلاف شورش کا کام سپرد کیا گیا اور اس کی مدد کا وعدہ کیا گیا۔ علی محمد جب ایران پہونچا تو ایران میں نفوذ رکھنے والی روسی حکومت کی سرپرستی اور حفاظت نے اس امید میں کہ شائد بہائیت روسی سیاست کے نفاذ اور اسلام و علماء کے نفوذ کی کمزوری کاوسیلہ ہو سکے فارس میں اسے سزائے موت نہ ہونے دی۔ اور اسے صوبہ فارس سے اصفہان کے حاکم منوچہر خان گرجی کے سپاہیوں کی حفاظت میں اصفہان لے آئے۔ اصفہان کا حاکم منو چہر خان گرجی ارمنی نژاد تھا اور اسے روسی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ جب تک منو چہر زندہ رہا روسی حکومت کے حکم کے مطابق علی محمد کو مخفیرکھ کراس کی حفاظت کی گئی۔ کافی عرصہ تک روس کاسفارتخانہ اور قونسل خانہ بہائیت کی حمایت کرتے رہے یہاں تک کہ یہ لوگ اصفہان میں بھی کھلم کھلا دین، اورملکی آزادی کے خلاف اور روسی مفادات کے حق میں فتنہ انگیزی کرتے رہے۔ جب کبھی علماء اور عوام کے دباؤ کے نتیجہ میں حکومت اصفہان مجبور ہو جاتی اور ان کی گرفتاری کے لئے اقدام کرتی تو یہ لوگ روس کے قونسل خانہ میں پناہ گزیں ہو جاتے اور کونسلٹ ان کی حمایت کرتا اس طرح اعلانیہ طور پر ایران کے معاملات میں مداخلت کرتے رہتے۔ جب روس والوں کو احساس ہوا کہ یہ لوگ نمک حرامی پر کمر بستہ ہیں اور انہوں نے انگلینڈ سے ساز باز کر لی ہے اور اب انگریزوں کے ایجنٹ ہیں تو مجبوراً روس والوں نے ان کی حمایت ترک کر دی اپنے لگائے ہوئے پودے کو انگلینڈ کے حوالہ کر دیا۔ انگلینڈ کے جاسوسی ادارہ نے ان سے کام لینا شروع کر دیا اور ایران، ترکی نیز بعض عربی ممالک میں ان کی موجودگی سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اچھی تنخواہوں کے ساتھ بہتر وسائل ان کے حوالہ کئے۔ عباس افندی نے پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کی جو خدمت کی جس کے نتیجہ میں انگریز فلسطین پر قابض ہوئے اور اسلامی ممالک کا تجزیہ شروع ہوا اس کے انعام کے طور پر انگریز جنرل البنی نے رسمی البتہ مخفی طور پر عباس افندی کو ”لقب“ اور میڈل وغیرہ سے نوازا۔ بعد میں اس جشن کی تصاویر اور تفصیلات کتابوں میں شائع ہوئیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس فرقہ کی تمام فعالتیوں اور جاسوسی کا مقصد عالمی صیہونزم کو فائدہ پہونچانا تھا۔ انگلینڈ کے بعد امریکیوں نے بھی ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا اور اس طرح یہ C.I.A کے ایجنٹ ہو گئے۔ عباس افندی کے وصیت نامہ کے برخلاف شوقی آفندی مقطوع النسل رہ گیا اور شوقی آفندی کی موت کے بعد ڈاکٹر شعبی کے بقول (مقارنة الادیان ج ۱ ص ۳۰۹) بہائیت رسمی طور پرصہیونیت کا حصہ بن گئی یا اس نے اپنے چہرہ سے نقاب ہٹا کر صیہونزم کا چہرہ اختیار کر لیا۔ اس حقیقت کا اعتراف دیگر مصنفین نے بھی کیا ہے اور پھر اسرائیل میں منعقدہ عظیم کانفرنس میں ”میسن“ نامی ایک امریکی صہیونیت کو بہائیت کا عالمی رہبر منتخب کر لیا گیا۔البتہ شوقی کے دوست ”میسن رسمی“ نامی ایک شخص نے بھی شوقی کی جانشینی کا دعویٰ کیا اور ایک دوسرے شخص نے خودکو ”سماء الہٰ“ کہا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بابی یا بہائی گروپ کا وجود ایک سیاسی کھیل تھا جس کے ذریعہ ایران کے استقلال و آزادی کو ختم کرنا مقصود تھا۔ یہ سب صہیونزم کے زرخرید ایجنٹ تھے اور ہیں ۔ایک روسی جاسوس نے ان کی بنیاد رکھی بعد میں یہ لوگ اسلام مخالف سامراجی طاقتوں کا کھلونا بن گئے۔ اگر بڑے اور طاقتور ممالک کا نفوذ نہ ہوتا، صہیونی اور امریکہ کی یہودی کمپنیوں، اداروں اور انجمنوں نے ان کی حمایت نہ کی ہوتی جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے تو یہ گروپ رو ز اول ہی ختم ہو گیا ہوتا،جو لوگ اس سیاسی ڈرامہ اور ان کے ضمیر فروش سربراہوں کی تاریخ اور ان کی خیانتوں، فتنوں اور قتل و غارت گری کے بارے میں تفصیل کے خواہاں ہیں و ہ علی محمد کے فتنہ کے دور میں لکھی جانے والی کتب مثلاً ناسخ، روضة الصفا، یا کشف الحیل، فلسفہ نیکو، ساختہ ہای بہائیت در دین و سیاست، مہازل البہائیہ، محاکمہ و بررسی، بہائیت دین نیست،بہائی چہ می گوید، دزد بگیر شرح بگیر، مفتاح باب الابواب، یادداشتہائی کینیا دالگورکی، دانستنیہائی دربارہ تاریخ، نقش سیاسی رہبران بہائی بلکہ خود اسی فرقہ کی کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں ہمارے خیال میں اس جاسوس اور اغیار کے مزدور فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا بعض کلیدی مقامات پر ہونا انہیں امتیازات دیا جانا اور تبلیغاتی و تجاری شعبوں میں ایسے افراد کی آج بھی مداخلت اس بات کی دلیل ہے کہ سامراج اور اغیار کا نفوذ ہمارے یہاں بھی پایا جاتا ہے۔ اور اپنے ملک و ملت کی حاکمیت کا جذبہ رکھنے والے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ان سامراجی ایجنٹوں اور جاسوسوں کے لئے اپنے ملک کے دروازے بند کردے۔


لہٰذا یہ بات، کہ چونکہ ظہور مہدی کے عقیدہ کو چند اقتدار پسند عیار و مکار افراد نے استعمال کیا ہے لہٰذا اس مسلّم الثبوت واقعیت کا انکار ہی کر دیا جائے قطعی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ نہ ہی یہ بات عقل و منطق کے مطابق ہے۔

اسی لئے پہلی صدی ہجری سے آج تک جب بھی کسی نے مہدویت کادعویٰ کیایا دوسروں نے کسی کی جانب ایسی نسبت دی تو کسی نے بھی یہاں تک کہ بنی امیہ اور بنی عباس نے بھی یہ کہہ کر اس کی تکذیب نہیں کی کہ اصل ظہور کا عقیدہ ہی غلط ہے بلکہ ہمیشہ موعود کے صفات نہ ہونے کا حوالہ دے کر انہیں جھٹلایا جاتا تھا،کسی نے آج تک یہ نہیں کہا کہ چونکہ لوگ جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں لہٰذا ظہور مہدی کا ہی انکار کر دینا بہتر ہے،کیونکہ جو مسلمان بھی کتاب، سنت، اجماع صحابہ و تابعین پر ایمان رکھتاہے

اس کے خیال میں اس فکر یعنی ظہور مہدی کے انکار کا مطلب قولِ پیغمبر اور کتاب و سنت کی تکذیب کے مانند ہے جو کہ ایک مسلمان کے لئے کسی قیمت پر قابلِ قبول نہیں ہے اور چونکہ ظہور مہدی سے متعلق احادیث میں شروع سے ہی خبر بھی دی گئی تھی کہ جھوٹے مدعی بھی پیدا ہوں گے لہٰذا ایسے جھوٹے افراد کے سامنے آنے سے ظہور مہدی پر یقین و اطمینان اور زیادہ ہوتا جاتاہے اور اگر کچھ لوگ جھوٹے دعوؤں کی بنا پر گمراہ بھی ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اوصاف و علائم مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے بارے میں بقدرِ ضرورت معرفت نہیں تھی لہٰذا یہ لوگ اپنی جہالت، نادانی، بے معرفتی کے باعث گمراہ ہوئے نہ کہ جھوٹے دعوے کی وجہ سے لیکن اگر کوئی مہدی منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کو احادیث میںمذکور اوصاف و علائم کے ذریعہ پہچانے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگا جھوٹے دعوؤں سے اس کا عقیدہ و ایمان متزلزل نہ ہوگا، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جتنے واضح اور روشن طریقہ سے امام مہدی کے اوصاف و خصوصیات بیان کئے گئے ہیں اتنے واضح انداز میں نبی، ولی یا کسی اور منصوص من اللہ شخصیت کے اوصاف بیان نہیں ہوئے ہیں۔


عقیدہ ظہور کا اخلاق پر اثر

مشہور مصری مفسر ”طنطاوی“ نے اپنی تفسیر میں قرب ساعت” قیامت“ اور ظہور مہدی کے بارے میں ابن خلدون کے نظریات نقل کرنے کے بعد ان دونوں موضوعات کو پست ہمتی، تساہلی اور اختلاف و تفرقہ کا سبب قرار دیا ہے اور علمائے اسلام کی جانب غفلت بلکہ جہالت و ضلالت کی نسبت دی ہے

اختلاف و تفرقہ کے بارے میں گذشتہ مقالہ میں وضاحت پیش کی جا چکی ہے اور یہ بتایا گیا

ہےکہ تمام اچھے عنوانات یا حقائق کا فاسد اور مفاد پرست افراد کے ہاتھوں غلط استعمال ہوا ہے یہاں تک کہ مذہبی و قومی اتحاد کے ذریعہ بھی اختلافات برپا کئے گئے اورتحفظ اتحاد کے نام پر بھی اختلاف پیدا ہوئے اور شرم سے سر جھکا دینے والے جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔

لیکن اس کے باوجود اتحاد کی اچھائی اور ضرورت پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔

دوسرے اسلامی عقائد کی مانند ظہور مہدی کے عقیدہ کو بھی اسلامی فرقوں کے درمیان قدر مشترک اور اتحاد کا ذریعہ ہونا چاہئے تھا، غلطی آپ کی ہے جو ایسے موضوع کا انکار کر رہے ہیں یا اس کے ذریعہ امت کے درمیان تفرقہ پیدا کر رہے ہیں جس پر پوری امت مسلمہ متفق و متحد ہے اور جس کے لئے دوسرے اسلامی عقائد سے زیادہ معتبر مدارک و منابع پائے جاتے ہیں۔

رہا قرب ساعت ”قیامت“ کا مسئلہ پہلی بات تو یہ کہ اقتراب اور قرب قیامت پر ایمان، قرآن مجید کی صریح و محکم آیات سے ماخوذ ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہ عقیدہ کسی بھی قیمت پر ضعف یا سستی کا موجب نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے برخلاف قوت ارادی، احساس ذمہ داری، خلوص نیت، تہذیب نفس، اور کارِ خیر اور اعمال صالح کی جانب رغبت کا باعث ہوگا۔ غلطی سے آپ نے چونکہ حقائق کی تصدیق یا تکذیب کا معیار مادی نتائج کو بنا رکھا ہے اس لئے آپ ”اقترا ب ساعت“ کو براہ راست ممالک کی فتح کا سبب، مختلف ایجادات اور صنعتی و مادی ترقی کی دعوت کا موجب قرار دینا چاہتے ہیں اور آپ معنویات و اخلاقیات کی تاثیر اور اسلام کے مقصد ِ نظر ”مدینہ فاضلہ“ اوراس کے رابطہ سے بے خبر ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ انبیاء کی دعوت اور تعلیم و تربیت کی اساس مبداء ومعاد کے ایمان پرہے۔


مسلمانوں نے مبد ا ء ومعاد اور اسی اقتراب ساعت کے ایمان کے ساتھ بڑے بڑے ممالک کو فتح کیا ہے اور دور دراز علاقوں میں اسلامی پرچم لہرایا ہے اور دنیا بھر میں انسانی آزادی کا پیغام دیا ہے۔

اسی ایمان کے ساتھ دنیا والوں کو علم و دانش، تحقیق و تفکر اور علمی و صنعتی ترقی کی دعوت دی ہے ۔مسلمان اسی ایمان کے ساتھ علم و دانش اور تہذیب و تمدن کے علمبردار بنے ۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں بھی اسلام نے نامورعلماء پیش ‏کیئے۔

قیام مہدی اور قیامت کے وقت کی تعیین کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ ”یہ عقائد انحراف و گمراہی کا ذریعہ ہیں اور فلاں دھوکہ باز سنی صوفی نے اس کا وقت مقرر کر دیا ہے“ اس طرح آپ اپنے سنی بھائیوں سے شکوہ کر رہے ہیں۔ آپ کو شکوہ کا حق بھی ہے لیکن اگر کوئی مسلمان اس دھوکہ باز صوفی کی بات تسلیم کرلے تو اس کا گناہ اہل سنت کے آپ جیسے رہبروں کی گردن پر ہے کہ آپ افکار و اذہان کو روشن نہیں کرتے مبداء و معاد سے متعلق قرآنی معارف مسلمانوں کو نہیں بتاتے۔

قرآن نے صاف و صریح طور پر اعلان کیا کہ قیامت کا علم صرف خدا کو ہے اور ہمارا عقیدہ یہی ہے کسی کو قیامت کے وقت کا علم نہیں ہے اور اگر کوئی اس کا وقت معین کرے تو وہ جھوٹا ہے۔ عوام کی اکثریت بلکہ تمام مسلمان چاہے سنی ہوں یا شیعہ انہیں علم ہے کہ قیامت کی اطلاع کسی کو نہیں ہے۔ علماء اور خواص کو تو جانے دیجئے۔ قرآن کا اعلان ہے:

”انّ اللہ عندہ علم السّاعة“(۱)

اس کے باوجودبھی اگر نادان اس بارے میں اظہار خیال کرے تو اس کی بات قابل قبول نہ ہوگی اور نہ ہی کوئی اس کی بات پر دھیان دے گا۔ ایسے عقائد ضعف یا سستی کا موجب نہیں ہیں۔ بلکہ ضعف ِمسلمین کا سبب حقائق کا چھپایا جانا، حکام کی غلط سیاست اور اسلامی معاشرہ کو اسلام کے واضح راستہ سے گمراہ کرنا ہے۔

قیام ساعت اور قرب قیامت کی طرح ظہور مہدی پر ایمان بھی ضعف، پست ہمتی اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کا سبب نہیں ہے۔ کسی نے نہیں کہا کہ چونکہ مہدی کا ظہور ہوگا لہٰذا

____________________

(۱) یقینا الله ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ،سورئہ لقمان ۳۴۔


تمام ذمہ داریاں ختم اب مسلمانوں کو کفار کے حملوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں کرنا ہے بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔

کسی نے نہیں کہا کہ آیہ کریمہ :

( واعدوا لهم مااستطعتم من قوة ) (۱)

امربالمعروف و نہی عن المنکر، حق کی طرف دعوت، اسلام کے دفاع اور سیاسی و سماجی فرائض سے متعلق آیات کا نفاذنہیں ہونا چاہئے۔

کسی نے نہیں کہا کہ ظہور مہدی کا عقیدہ کاہل سست، ضعیف الارادہ اور بہانہ تلاش کرنے والوں اور اپنے گھر، وطن اور اسلامی علاقوں میں اغیار کے ظلم و ستم برداشت کرنے والوں کے لئے ”عذر“ ہے۔

ایک بھی روایت میں یہ نہیں ملتا کہ تمام امور مستقبل یا ظہور مہدی تک معطل رکھو،اس کے برعکس روایات میں صبروثبات، سعی واستقامت اور شدت کے ساتھ اسلامی تعلیمات اور قرآنی احکام پر عمل پیرا رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

جیسے کہ پیغمبر اکرم اوراسلام کے اولین مجاہد حضرت علی اور دیگر صحابہ والا مقام نے ظہور مہدی کے انتظار میں گوشہ نشینی اختیار نہیں کی اورگھر میں خاموش نہیں بیٹھے رہے بلکہ کلمہ اسلام کی برتری کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں ہوئے اوراس راہ میں کسی قسم کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا آج بھی مسلمانوں کی یہی ذمہ داری ہے۔

ظہور مہدی کا ایمان اور امام وقت کی موجودگی کا احساس، ذمہ داریوں سے غافل نہیں بناتا بلکہ احساس ذمہ داری میں اضافہ کرتا ہے۔

ظہور مہدی کا عقیدہ طہارت نفس، زہدوتقویٰ اور پاکیزگی کردار کا سبب ہے۔

____________________

(۱) اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت کا انتظام کرو، سورئہ انفال۔ ۶۰


ظہور مہدی کے ایمان کا مطلب امور کو آئندہ پر اُٹھا رکھنا، گوشہ نشینی اختیار کرنا اورآج کوکل پر ٹالنا اور کفار واغیار کے تسلط کو قبول کرنا، علمی وصنعتی ترقی نہ کرنا اور سماجی امور کی اصلاح ترک کردینا ہرگز نہیں ہے۔

ظہور مہدی کا عقیدہ رشد فکر کا باعث اور ضعف وناامیدی اور مستقبل کے تئیں مایوسی سے روکتاہے چنانچہظہور مہدی کے عقیدے سے وہی فوائد حاصل ہوتے ہیں جو:

( انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون ) (۱)

”ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔“

( یریدون لیطفئوا نور اللّٰه بافواههم ) (۲)

”یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنی پھونکوںسے بجھا دیں۔“

( ولاتهنوا ولاتحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم موٴمنین ) (۳)

”مسلمانوں! خبردار (دینی معاملات میں) سستی نہ کرو اور (مال غنیمت اور متاع دنیا فوت ہوجانے کے ) مصائب سے محزون نہ ہونا اگر تم صاحبان ایمان ہو تو سربلندی تمہارے ہی لئے ہے۔“

جیسی آیات سے حاصل ہوتے ہیں جس طرح ان آیات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان سستی کا شکار ہوجائے اور ذمہ داریوں سے گریزاں رہے اسی طرح ظہور مہدی ، آپ کے غلبہ اور عالمی حکومت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سستی اور ذمہ داریوں میں کوتاہی کو جائز سمجھ لیں۔

جس طرح صدر اسلام کے مسلمانوں نے ان آیات اور پیغمبر اکرم کی بشارتوں سے مستقبل کی فتوحات اور مسلمانوں کے ہاتھوں ممالک کی فتح کے بارے میں یہ نہیں سمجھا کہ ہمیں گھر میں بیٹھ کر مستقبل کا انتظار کرنا چاہئے اور دور سے مسلمانوں کی شکست، اور کفار کے مقابل علم وصنعت اور اسباب قوت میں مسلمانوں کی پسماندگی کا نظارہ کرتے رہنا چاہئے اور اس دور کے مسلمان یہ سوچ کر

خاموش نہیں بیٹھ گئے کہ خدا حافظ وناصر ہے اس نے نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا نور کبھی بجھ نہیں

____________________

(۱)سورہ حجر آیت۹۔

(۲)سورہ صف آیت۸۔

(۳)سورہ آل عمران آیت۱۳۹۔


سکتااسی طرح جو لوگ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں خصوصاً اگرانہوں نے شیعہ طرق سے نقل ہونے والی روایات پڑھی ہیں تو انھیں اوامر خدا کی اطاعت اور احکام الٰہی کی ادائیگی میں دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ آگے ہونا چاہئے اور قرآن وشریعت، حریم اسلام، عظمت مسلمین کے دفاع کے لئے زیادہ غیرت وحمیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اللهّم عجّل فرجه وسهّل مخرجه واجعلنا من انصاره واعوانه

وآخر دعوانا ان الحمد للّٰه ربّ العالمین


فہرست

صبح ولادت ۴

امام زمانہ(عج) کے ظہور سے متعلق قرآن اور احادیث کی بشارتیں ۹

غیب پر ایمان ۹

مصلح عالم ۲۰

۱ ۔قرآن مجید کی آیتیں ۲۱

۲ ۔اجماع مسلمین ۲۵

۳ ۔احادیث اہل سنت ۲۶

۴ ۔احادیث شیعہ ۲۷

بارہ امام ۳۱

صالح ہادی کاانتخاب ۳۲

بشر کا انتخاب ہمیشہ حق نہیں ہو سکتا ۳۲

سوال : ۳۷

جواب: ۳۷

حادیث ائمہ اثنا عشر ۳۸

ائمہ اثنا عشر کی روایت نقل کرنے والے صحابہ ۳۸

جن کتب حدیث میں یہ احادیث موجود ہیں ۳۹

شیعہ کتب ۳۹

کتب اہل سنت ۴۰

مضمون احادیث ۴۰


حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے اوصاف وخصوصیات ۴۹

مہدی جن کا اللہ نے امتوں سے وعدہ کیا ہے ۵۵

۱ ۔قرآن کریم اور حضرت مہدی منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ۵۵

۲ ۔ ظہور سے متعلق روایات ۵۶

۳ ۔ تواتر روایات ۵۷

۴ ۔چند اصحاب کے اسماء جن سے اہل سنت نے ان روایات کو نقل کیا ہے: ۵۸

۵ ۔ مشہور علماء اہلسنت اوران کی وہ کتب جن میں ظہور سے متعلق احادیث موجود ہیں: ۵۹

۶ ۔اس موضوع سے متعلق علماء اہل سنت کی کتب: ۶۰

۷ ۔ظہور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے بارے میں اجماع مسلمین ۶۲

۸ ۔ کتب اہل سنت میں حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے بعض اوصاف و علائم ۶۳

۹ ۔ حضرت مہدی کی ولادت و حیات کے معترف علما ء اہلسنت ۶۶

۱۰ ۔ مہدی کاانکارکفر ہے ۶۶

بے شمار راویوں سے منقول مشہور ومعروف حدیث: ۷۷

عالمی اسلامی معاشرہ(۱) ۷۹

عمومی تبلیغ ۷۹

حقیقی توحید ۸۰

الٰہی حکومت ۸۱

آزادی بشر کا اعلان ۸۲

تیز رفتار ترقی ۸۳

اسلامی پرچم ۸۴


عالمی متحدہ حکومت ۸۵

ایمانی برادری ۸۵

ایمان کا کردار ۸۶

اتحا دکی زمین ہموار ہو رہی ہے ۸۷

قرآن مجید کی آیتیں ۸۸

احادیث ۹۰

دوسر ا حصه فلسفہ واسرار غیبت ۹۱

غیبت کا راز ۹۱

غیبت کے فوائد ۹۵

غیبت کی حکمت اور اس کا فلسفہ ۹۷

قتل ہونے کا خوف ۱۰۸

گردن پر کسی کی بیعت نہ ہونا ۱۱۲

امتحان ۱۱۳

حالات سازگار ہونے کا انتظار ۱۱۸

کفار کی نسل میں مومنین کی پیدائش ۱۲۰

محقق طوسی کا قول ۱۲۲

ظہور سے صدیوں قبل ولادت کا سبب اور امام غائب کا فائدہ ۱۲۴

غیبت صغریٰ کا سلسلہ کیوں باقی نہ رہا؟ ۱۲۹

پہلے سوال کا جواب ۱۳۰

دوسرے سوال کا جواب ۱۳۱


سامرہ کا مقدس سرداب ۱۳۲

تیسرا حصه حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) کی طویل عمر ۱۳۴

طولانی عمر ۱۳۴

طول عمر سائنٹفک نقطہ نظر سے ۱۳۴

آٹھ سو سال زندگی ۱۳۵

سترہزار سال عمر ۱۳۶

وہ کون سے پیشے یا مشاغل ہیں جن کی اوسط عمر مقرر ہے؟ ۱۳۹

طول عمر اور دین ۱۳۹

دین مبین اسلام ۱۴۰

نتیجہ ۱۴۱

حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی طویل عمر ۱۴۱

انسان اور دیگر مخلوقات کی عمر اور استثنائی موارد ۱۴۴

کرات میں استثناء ۱۴۵

ایٹم کی دنیا اور اختلاف عمر ۱۴۶

علم نباتات کی دنیا میں اختلاف اور استثنائ ۱۴۶

حیوانات کی دنیا میں اختلاف ۱۴۹

عالم انسان میں استثناء ۱۴۹

دا ئمی عمر ۱۵۲

علمی ا ورسائنسی تحقیقات ۱۵۴

پائیدار جوانی ۱۶۱


طویل عمر کے ساتھ جوانی ۱۶۷

روایات ۱۶۹

برادران اہل سنت کی خدمت میں دو باتیں ۱۷۰

تاریخ کے معمر حضرات ۱۷۵

بعض معمر حضرات کے نام ۱۷۶

چوتها حصه حضرت ولی عصرکی ولادت باسعادت کا انداز ۱۸۷

امام مہدی کی ولادت وامامت علماء ومورخین اہل سنت کی نظر میں ۱۹۳

ظہورمہدی کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے ۱۹۷

عقیدہ ظہور مہدی اور مدعیان مہدویت کا قیام ۲۰۴

عقیدہ ظہور کا اخلاق پر اثر ۲۰۹