موعود امم (عالمی )امن کا ضامن
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف شیخ عباس شیخ الرئیس کرمانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب کانام: موعود امم (عالمی )امن کا ضامن

مصنف: شیخ عباس شیخ الرئیس کرمانی

مترجم: غلام قنبر عمرانی

نظرثانی: علامہ سید افتخار حسین النقوی النجفی

زیراہتمام: امام خمینی ٹرسٹ ماڑی انڈس میانوالی پاکستان


بسم اللہ الرحمن الرحیم

انتساب

اللہ کی بلند ترین علامت، کلمہ علیائ، وارث علوم انبیائ،تمام اوصیاءکی صفات کے حامل، اولیاءکی آنکھوں کا سکون، حجت معبود، مہدی موعود، روحی وارواح العالمین لہ الفداءکی خدمت اقدس میں۔


اظہاریہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حدیث نبوی ہے جو شخص چاہتا ہے کہ وہ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے کہ اس کا ایمان کامل ہو، اس کا اسلام خوب صورت ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ حضرت حجت صاحب الزمان علیہ السلام المنتظر سے ولایت رکھے۔ (بحوالہ الاربعین لابی الفوراس لحافظ اہل السنة حدیث نمبر۶سے مکیال المکارم ج۱ص۴۲)

رسول اسلام حضرت محمد مصطفی کے بارہویں جانشین اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ کی آخری حجت حضرت امام مہدی علیہ السلام کا موضوع ان دنوں پورے عالم میں زیر بحث ہے اس عنوان پر گذشتہ سالوں میں بہت کچھ مختلف زاویوں سے لکھا گیا ہے اور مسلسل اس موضوع پر لکھا جا رہا ہے ۔

زیر نظر کتاب ”موعود امم“شیخ عباس شیخ الرئیس کرمانی کی تالیف ہے۔ انہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے بڑے آسان انداز میں عوامی رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے مطالب کو بیان کیا ہے، مطالب آسان بھی ہیں عام فہم بھی، پیچیدہ علمی اور تحقیقی بحثوں سے گریز کیا ہے، جو بات کہی ہے باحوالہ کہی ہے ۔انہوں نے امام زمان علیہ السلام سے اپنے عشق اور ولاءکا اظہار ہر بحث کے اختتام پر فارسی کے اشعار سے کیا ہے، ان کی خواہش تھی کہ یہ کتاب اردو زبان میں ترجمہ ہو کر شائع ہوجائے اور اسے ذاکرین، واعظین، دینی مدارس کے طلباءاور دانشوروں تک ہدیةً پہنچائی جائے۔

اس سال ماہ ربیع الاول میں بیرون ملک کے دورہ سے واپسی پر قم المقدسہ میں میری ان سے ملاقات حضرت آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی دام ظلہ العالی کے گھر پر ہوئی جو کہ بہت ہی معلومات افزا تھی، میری ان سے یہ پہلی ملاقات تھی، اس سے پہلے ان سے آشنائی نہ تھی۔ انہوں نے اپنی کتابوں کا ایک سیٹ بھی میرے لیے ہدیہ کیا۔ بندہ نے ان سے وعدہ کر لیا کہ انشاءاللہ پاکستان واپس جا کر ”موعود امم“ کا اردو میں ترجمہ کر کے اسے شائع کیا جائے گا ۔

چنانچہ سفر سے واپسی پر اس کتاب کے ترجمہ کی بھاری ذمہ داری نوجوان عالم دین جناب غلام قنبرعمرانی کو دی، انہوں نے بڑی محنت اور لگن سے اس کا اردو ترجمہ مکمل کیا اور میں نے بھی اول سے آخر تک اس ترجمہ کو پڑھا جو اصل کتاب کے مطابق پایا اب کتاب اشاعت کے لئے آمادہ و تیار ہے۔

خداوند سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کے مصنف اس کے مترجم اور اس کی اشاعت کا بیڑا اٹھانے والوں کو اجر عظیم دے اور ہم سب کو حضرت بقیة اللہ الاعظم، نور آل محمد، خاتم الاوصیاء علیہ السلام، ولی عصر علیہ السلام، صاحب الزمان علیہ السلام،امام مہدی علیہ السلام کے ناصران اور معاونین سے قرار دے اور ان کی دعائیں ہمارے نصیب ہوں اور اس کتاب کے مندرجات کو مومنین کے لئے حضرت صاحب الزمان علیہ السلام سے ولایت رکھنے اور عشق و محبت کے اظہار کا ذریعہ بنائے۔

محب منتظران امام زمان علیہ السلامہ (عج)

سید افتخار حسین النقوی النجفی

(۲۲۔۱۱۔۵۰۰۲ھ)


پیش لفظ ازمصنف

ہر کس بہ زبانی صفت وحمد تو گوید

بلبل بہ غزل خوانی وقمری بہ ترانہ

(کشکول شیخ بھائی)

.... شیعہ ایک عالمی مصلح اور انسانیت کے لئے امن کے داعی مجسمہ عدالت، ایک آئیڈئیل انسانی معاشرہ قائم کرنے والی ہستی کے وجود کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر پہچانتے اور عقیدہ رکھتے ہیں ۔

لیکن یہ عقیدہ تنہا شیعہ سے مخصوص نہیں بلکہ عالمی مصلح کا عقیدہ شیعوں کے علاوہ دیگر مذاہب وملل و فرقوں میں بھی موجود ہے جسے

٭ اہل سنت کے تمام فرقے (البتہ ابن خلدون جیسے منکر وجود مہدی علیہ السلامہزاروں میں چند ہیں جن کا کوئی مقام نہیں ) یا تو آپ کے وجود ذی جود کے عقیدت مند ہیں یا انہیں وہ غیبت میں جانتے ہیں یا یہ کہ مہدی متولد ہوں گے اور پھر ظہور فرمائیں گے۔

٭ سابقہ ادیان، یہودی، عیسائی باقی آسمانی کتابوں کے پیروکار یہاں تک کہ زرتشنی مذہب (مجوسی) بھی قائل ہیں اور ان کی کتابوں میں حضرت کانام ان کے اوصاف کے ساتھ ہے

٭ قدیم مذاہب کے پیروکار جیسے ہندو، بدھ مت ، برہمن اور سکھ وغیرہ کہ انہوں نے یہ عقیدہ اپنی کتابوں سے لیاہے۔

٭ مادہ پرست، سوشلسٹ، کمیونسٹ(ایسے مکاتب جو خدا کے وجود کے منکر ہیں )وہ بھی اس بات کی انتظار میں ہیں کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ پورا انسانی معاشرہ امن کی مثال بن جائے گا زمین پر خوشحالی و ہریالی ہوگی، محرومیت کا خاتمہ ہوگا،ہر ایک کو اس کا حق ملے گا، انہوں نے اپنی علمی تحقیقات میں ایک آئیڈیل معاشرہ کے قیام کی خبر دی ہے۔اس مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لئے انہوں نے کتابیں تحریر کی ہیں اور اپنی تحقیقی کتابوں میں انہوں نے ایک حصہ منجی بشریت کے عنوان پر مخصوص کیا ہے اور ایسے مصلح عالم کی خصوصیات کو درج کیاہے۔ اس تناظر میں موعود عالم کے بارے مختلف پہلووں میں ایک وسیع وعریض بحث کی ضرورت ہے۔

اس بات کو اذہان میں بٹھانے کے واسطے ذیل میں ایک مثال پیش کرتاہوں۔

فرض کریں ایک گھر کامالک یا ایک دفتر کاایڈمنسٹریٹر اس جگہ سے غائب ہے جس وجہ سے اس مقام پر کم وبیش بدنظمی اور بدانتظامی نظر آتی ہے۔

(الف) کچھ لوگ اس صورتحال کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ہمارا عقل یہ کہتا ہے کہ اگر اس گھر کا مالک موجود ہوتا اوراس دفتر کا منتظم غائب نہ ہوتا تو یہ بدانتظامی اور بدنظمی موجود نہ ہوتی ، اس لحاظ سے وہ ایک لائق مدیر اور منتظم کے منتظر ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فلسفی مکاتب سے وابستہ ہیں (اور دنیا میں بدامنی، بدانتظامی، بے عدالتی کاخاتمہ ایک منتظم کی آمد میں دیکھتے ہیں )

(ب) کچھ وہ ہیں جو اس منتظم اور مالک کے اوصاف کے بارے کچھ معلومات رکھتے ہیں یہ وہ ہیں جو سابقہ آسمانی کتابوں کے قائل ہیں ۔

(ج) کچھ وہ ہیں جو اس منتظم کا نام جانتے ہیں اور ان کی کچھ خصوصیات سے بھی آگاہ ہیں جیسے اہل سنت۔

(د) کچھ وہ ہیں جو ان کانام، ان کے القاب، ان کی خصوصیات سے واقف ہیں اور ایسے منتظم کی ولادت کے بارے بھی معلومات رکھتے ہیں اور اس کے پروگرام سے مکمل آگاہ ہیں ، یہ حضرات اس کی آمد کے صحیح وقت سے واقف نہیں ۔ جیسے شیعہ حضرات۔

اسی قسم کے مہدی امم کے بارے نظریات و خیالات اور اعتقادات نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں آپکی ہستی کے ایسے گوشوں کے بارے قلم اٹھاوں جو ابھی تک تشنہ ہیں اور اس طرح میں نے موعود امم کی ذات سے متعلق کتاب تحریرکی، جس کی دس فصلیں ہیں اور پچیس ابواب ہیں اس کتاب کانام موعود امم رکھا ہے تاکہ یہ کتاب سب کے لئے مفید اور موثر ہومجھے امید ہے کہ میری یہ کوشش و کاوش درگاہ احدیت میں قبول ہوگی اور حضرت ولی عصر علیہ السلام کی بارگاہ میں شرفیابی کا ذریعہ بنے گی۔

٭٭٭٭٭

چو در آیینہ رخسار ماہ او تَجَلَّی اللّٰہ

بر این روی در خشان، آفرینش گفت: صَلَّی اللّٰہ

( قُل فَانتَظِرُوا اِنَّی مَعَکُم مِنَ اَلمُنتَظِرِینَ ) “۔(سورہ یونس آیت ۲۰۱)

”تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ یقینا انتظار کرتا ہوں“۔


فصل اول

نجات دہندہ بشریت

سایہ خدا

مہدی علیہ السلام ودیگر اقوام

مہدی علیہ السلام اور نہج البلاغہ خلیفة اللہ

حجت خدا

ارادہ خداوندی


باب اول

سایہ خدا

چار اعلیٰ والا امیدیں

اِن ذکرالخیر کنتم اوله واصله و فرعه ومعدنه وماواه ومنتهاه “ (مفاتیح الجنان زیارت جامعہ کبیرہ)

وہ چیز جو انسان کو زندہ دلی اور تلاش وجستجو کی طرف مائل رکھتی ہے وہ امید ہے اور یہ امید وہ واحداور اہم ترین چیز ہے جس سے ہرانسان کا واسطہ و تعلق ہے۔ اگرچہ اکثر و بیشتر امیدیں بے حیثیت و بے فائدہ ہوتی ہیں بلکہ بعض تو بہت زیادہ نقصان دہ اور گمراہ کرنے والی ہوتی ہیں ، قرآن کریم میں جن دو اسلامی اصل پر بہت تکیہ اور بھروسہ کیا گیا ہے وہ ہیں رجاءاور خوف ۔

۱۔ دیدار و زیارت حضرت قائم آل محمد

۲۔ حضرت سرکار امام زمان علیہ السلام کی حکومت حقہ کا دیدار

۳۔ انسانی کمالات حاصل کرنے کی آرزو

۴۔ ہمیشہ کی خوش بختی کا حصول یعنی ملاقات پروردگار اور اس کی نہ ختم ہونے والی نعماتِ جنت تک رسائی۔

۱۔ دیدار حضرت امام مہدی ”علیہ السلام“

اس اعلیٰ وارفع امیدبارے مذہب اہل بیت علیہ السلام کے منابع میں بہت زیادہ احادیث وارد ہوئی ہیں اور وہ دعائیں جو کہ آئمہ علیہ السلام سے سرکار امام زمان علیہ السلام کے منتظرین و عاشقان تک پہنچی ہیں کو اس امر یعنی دیدار سرکار حجت علیہ السلام کی طرف متوجہ کرتی ہیں ۔

دعائے ندبہ میں ہم پڑھتے ہیں :

بنفسی انت امنیة شاءق یتمنیٰ من مومن ومومنةٍ ذَکرا فحَنا “۔

ترجمہ:۔”میری جان آپ علیہ السلام پر قربان جائے اے دیدار کی تمنا کرنے والوں کا مقصود و نصب العین مقصود کی تمنا کہ جب مومن اسے یاد کرے تو نالہ و بکاکرے“۔

جی ہاں دیدار حضرت امام زمان علیہ السلام سرکار اہل ایمان کا مقصود ہے ۔ نصب العین ہے۔

۲۔ حضرت امام زمان علیہ السلام کی حکومت حق کے دیدار کی تمنا

ہر آزاد باایمان اس شکوہ تک رسائی چاہتا ہے جو کہ سرکار امام زمان علیہ السلام کے طاقت اور فتح مند ہاتھ سے وجود میں آئے گی۔ ہر مومن کی خواہش ہے کہ وہ اس باوقار وپُرشکوہ حکومت سرکار امام زمان علیہ السلام بارے غوروفکر کرے اس لیے سرکار قائم آل محمد کے ظہور پرنور کے منتظرین دعائے ندبہ میں یوں فریاد کرتے ہیں :”متی ترانا ونراک “۔

ترجمہ:۔ ”یہ کب ہوگا کہ جب ہم اپنے آپ کو آپ کی بارگاہ میں دیکھیں گے اور آپ کے کامیاب و کامران پرچم کو پوری آب و تاب سے لہراتا دیکھیں گے کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے آپ کو آپ کے اردگرد دیکھیں اور آپ کی زیارت اس حالت میں کریں کہ ہم سب کی رہبری آپ علیہ السلام نے اپنے ذمہ لی ہوئی ہے ہم دیکھیں کہ آپ نے زمین کو عدل و انصاف سے پر کردیا ہو اور اپنے دشمنوں کو آپ نے خاک ذلت و رسوائی پر بٹھا رکھا ہو منکروں اور گردن کشوں کو آپ نے نابود کردیا ہو، ستمگروں کی بنیادوں کو آپ نے جڑوں سے اکھاڑ دیا ہو ہم یہ سب کچھ دیکھ کر خوشی سے کہیں ”الحمدللہ رب العالمین“ جی ہاں آرزوئے دیدار حکومت حق (سرکار امام زمان علیہ السلام علیہ السلام) یعنی دنیا کو عدل و انصاف اور ایمان و انسانیت کے گلشن کے میں دیکھنا نصیب ہو۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے :”( وعدالله الذین ) .... الخ

ترجمہ:۔ ”خداوند کریم نے ایمان لانے والوں اور نیک اعمال بجالانے والوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ حتماً ان کو اس سرزمین پر پر ان کا جانشین قرار دے دے گا، جیسا کہ پہلے والوں کواس نے اپنا جانشین قرار دیا۔(سورئہ نور آیت نمبر۵۵)

اگرسوال کیا جائے کہ اس آیت مبارکہ میں فرمایا کہ وہ خداوندکی بدون شرک خفی و جلی پرستش کرتے ہیں اسکے بعد یہ کس لیے آیا ہے کہ ”( ومن کفر بعدذلک فاولیک هم الفاسقون ) “ کہ جس نے اسکے بعد یعنی ترک شرک کے بعد کفر کیا وہ فاسق ہے، ترک شرک کے بعد کفرکا کیا مطلب؟

اس کے جواب کچھ یوں دیا جائے گاکہ اس آیت میں کفر سے مراد کفران نعمت ہے شکر کے مقابل ممکن ہے یہ کفران نعمت زبانی ہو، جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے ”( لان شکرتم لازیدنکم لئن کفر تم ان عذابی لشدید ) “۔

ترجمہ:۔”اگر میرا شکر ادا کرو گے تو میں نعمات زیادہ کردوں گا اور اگر میری نعمات کا کفر و انکار کرو گے تومیرا عذاب شدید تر ہے“۔ (سورئہ ابراہیم علیہ السلام آیت نمبر۷)

ممکن ہے یہ کفران نعمت قلبی ہو، یعنی نعمت کو خدا وند کی طرف سے نہ جانے یاعمل کے ذریعہ کفران کرنا، اس عملی کفران نعمت کی صورت میں انسان اس حد تک بندگی سے خارج ہوجاتا ہے کہ ”( اولئِکَ هم الفاسقون ) “ کا مصداق بن جاتا ہے یعنی بندگی کی سرحد سے باہر چلا جاتا ہے اور فاسق ہو جاتا ہے بنابریں اس آیت مبارکہ میں کفر و فسق کا جوتذکرہ آیا ہے وہ کفروفسق معروف نہیں ہے۔ بلکہ کفر سے مراد کفران نعمت اور فسق سے مراد حدودبندگی سے تجاوز کرنا ہے عیاش نے امام زین العابدین علیہ السلام سے اس آیت میں ”( وعدالله الذین الخ ) “ بارے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا وہ لوگ جن سے اس کا وعدہ ہے وہ ہمارے شیعہ ہیں خداوند یہ کام ان کے لیے ایسے فرد کے ذریعہ کرے گا جو مہدی علیہ السلام امت ہوگا“۔

۳۔ آرزوئے حصول کمالات انسانی

کمالات انسانی جو کہ درحقیقت تزکیہ نفس ہے جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے کہ ”( قد افلح من زکٰها ) “ ۔”فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا“۔(سورئہ شمس آیت۹)

تزکیہ یعنی صفات رذیلہ سے پاک ہونا اور خصائل انسانی سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا کیونکہ تذکیہ شدہ افراد ہی گروہ صالحین ہیں جو کہ وارث زمین ہیں ”( ان الارض یرثها عبادی الصالحون ) “ یہ صالحون درحقیقت وہی اصحاب امام زمان علیہ السلام علیہ السلامہیں “۔ (سورئہ انبیاءآیت ۵۰۱)

۴۔ ابدی سعادت کی آرزو

چوتھا نصب العین و مقصود دیدار ذات مقدسہ الٰہی اور بہشت کی ہمیشہ رہنے والی نعمات تک رسائی ہے کہ خداوند کریم قرآن میں فرماتا ہے۔ ”یاایتهاالنفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیه مرضیه فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی “۔ (سورئہ فجر آیت۷۲ سے آخرتک)

”اے نفس مطمئنہ!راضی و خوشی خدا تم سے راضی اور تم خدا سے راضی ہو کر اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آو میرے بندوں میں داخل ہو جاو اور میری بہشت میں داخل ہو جاو اس آیت شریفہ میں تین عظیم نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے“۔

۱۔ اللہ کی طرف رجوع (مرنے کے بعد) یعنی دیدار خداوند

۲۔ ایسے بندگان خدا میں داخل ہو جانا جن سے مراد پیغمبران اور آئمہ اہل بیت علیہ السلام ہیں جو دوسرے جہاں ابدی کی طرف سفر کرچکے ہیں ۔

۳۔ جنت میں داخل ہوجانا، خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ انسان جو یہ چار امیدیں رکھتا ہے ان چاروں مرحلوں میں اہل بیت علیہ السلام سے رابطہ استوار رکھتا ہے۔

حضرت مہدی علیہ السلام و دیگراقوام و ادیان

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ نجات دہندہ بشریت بارے دیگر اقوام و ادیان کی کتب میں بہت زیادہ تذکرہ موجود ہے ہم کچھ موارد کایہاں تذکرہ و اشارہ کریں گے۔

شاکمونی

جس کو ہندو مذہب میں صاحب کتاب پیامبر کا درجہ دیا جاتا ہے اس کی کتاب میں درج ہے کہ دنیا کی حکومت اور بادشاہی سیدالکونین سرکار دو جہاں کشن (کشن ہندی زبان میں پیامبر گرامی کا نام ہے انہوں نے اس بشارت میں اپنے اس لائق فرزند کانام ”ایستادہ“ اور ”خداشناس“ بیان کیا ہے جیسا کہ شیعہ اسے قائم کہتے ہیں ) کے فرزند پر تمام ہوگی وہ فرزند رسول جس کا حکم مشرق ومغرب کے پہاڑوں پر چلے گا وہ شرق و غرب میں اپنا حکم چلائے گا، بادلوں پر سواری کرے گا، فرشتے اس کے دائیں بائیں بطور کارکنان موجود رہیں گے، انس و جن اس کی خدمت میں ہوں گے، وہ خط استواءکے نیچے سے لے کر سرزمین تسعین تک جو کہ قطلب شمالی کے نیچے ہے اور ماوارے سمندر اس کی حکومت ہوگی سب کچھ اس کا ہوگا اس کی حکومت میں دین خدا صرف ایک دین ہو جائے گا اور زندہ ہو جائے گا اس فرزند رسول کا نام قائم اور خداشناس ہوگا۔

باسک

جو کہ ہندو مذہب کی آسمانی کتاب شمار ہوتی ہے،اس میں ذکر ہے کہ دنیا ایک ایسے عادل بادشاہ آخرالزمان پر اختتام پذیر ہوگی جو کہ ملائکہ پریوں اور انسانوں کا پیشوا ہوگا حق اورسچائی اس کے ساتھ ہوگی جو کچھ دریاوں، زمینوں اورپہاڑوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس کے ہاتھ پہنچ جائے گا وہ آسمانوں اور زمینوں کی خبریں دے گا اس سے بڑھ کر کوئی بزرگ دنیا میں نہیں ہوگا۔

پاٹیکل Patecul

ہندو مذہب کے بڑے رہنماوں سے ہے اور ہندووں کے عقیدہ کے مطابق صاحب کتاب آسمانی ہے اپنی کتاب میں حکومت و سعادت سرکار امام زمان علیہ السلام کے بارے یوں بیان کرتا ہے:

”جب دنیا کی مدت ختم ہوجائے گی تو یہ پرانی اور فرسودہ دنیا دوبارہ نئی ہو جائے گی اور زندہ ہوگی اور اس دنیا کا نیا بادشاہ آجائے گا جو کہ دو عظیم پیشواوں کا بیٹا ہوگا۔ اول نامور آخر الزمان یعنی رسول اکرم، اور صدیق اکبروصی رسول خدا پشن ہے (حضرت علی علیہ السلام کا ہندی نام پشن ہے) اس کا نام راہنما ہو گا وہ حق کا حکمران ہو گا اور (رام) خداکا خلیفہ برحق ہوگا۔

اس کے لاتعداد معجزات ہوں گے جو شخص اس حکمران برحق کی پناہ میں جا کر اس کے آباءو اجداد کا دین قبول کرے گا وہ رام (خدا) کے ہاں سرخرو ہوگا۔اس کی حکومت بہت وسیع ہوگی اس کی عمر باقی اولاد پیغمبر سے زیادہ ہوگی۔

جاماسب

اپنی کتاب جو کہ جاماسب نامہ کے نام سے مشہور ہے میں زرتشت کے اقوال کے حوالہ سے پیامبر گرامی اور حکومت حضرت مہدی علیہ السلام اور وفات پاجانے والے کچھ افراد کی رجعت کے حوالہ سے لکھتا ہے۔ پیغمبرعرب آخری پیغمبر ہوگا جو کہ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان پیدا ہوگا وہ اونٹ کا سوار ہوگا اور اس کی قوم بھی شتر سوار ہوگی وہ اپنے غلاموں کے ساتھ کھائے پیے گا اور ان کے ہمراہ بیٹھے گا اس کا سایہ نہیں ہوگا وہ پشت پیچھے بھی ویسے ہی دیکھ سکے گا، جیسے سامنے دیکھے گا، اس کا دین تمام ادیان سے زیادہ باشرف ہوگا،اس کی کتاب تمام کتابوں کو منسوخ کردے گی، اس کی حکومت عجم کو برباد کر دے گی، دین محبوس اور پہلوی کو برطرف کردے گا اس کے آنے سے نارسدیر اور آتشکدہ بجھ جائے گا، کنانیوں اور اشکانیوں کازمان علیہ السلامہ ختم ہوجائے گا۔

اس پیغمبر آخر الزمان کی بیٹی جو کہ سیدة نساءالعالمین علیہ السلام ہوگی کی اولاد میں ایک فرزند دنیا پر حکمرانی کرے گا حکم پروردگار سے جو کہ پیغمبرآخرالزمان کا جانشین ہوگا وہ وسط دنیا میں ہوگا یعنی مکہ میں اس کی حکومت قیامت تک قائم رہے گی۔

عہد عتیق کا حوالہ

عہد عتیق تورات طبع لندن، سفرپیدائش ص۶۲، باب نمبر۷۱ جملہ نمبر۰۲۱۲ میں درج ہے:

”خصوصاً ائے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہم نے تمہاری دعا قبول کی ہم نے اسے برکت دی اسے بار آور بنایا اور اسے بہت زیادہ اولاد دی کثرت دی ۲۱رئیس (سردار)ہم نے اس سے پیدا کئے اور اس سے ہم نے ایک بہت بڑی امت پیدا کی “۔

(چونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام جدعرب ہیں اور بنوہاشم انہیں سے ہیں اور یہاں بارہ سرداروں سے مرادآئمہ معصومین علیہ السلامہیں (مترجم)

حضرت داود علیہ السلام کا بیان

حضرت داود علیہ السلام نے ہر فصل میں حضرت امام زمان علیہ السلام کے ظہور پرنور بارے تذکرہ کیا ہے ”اور بہت کثرت سے ذکر کیا ہے مثلاً آسمانوں کی خوشی، خاکیوں کی شادمانی، دریاوں کی طغیانی، صحراوں کا وجد، درختوں اور جنگلوں کا ترنم جو کہ سرکار حجت کے ظہور کے وقت ہوگاانہوں نے اس کا کثیر تذکرہ کیا ہے حضرت داود علیہ السلام نے جہاں کی آبادی انسانوں کی آسائش و خوشبختی کو سرکار امام زمان علیہ السلام کی حکومت کریمانہ کےساتھ مشروط کیا ہے اور سرکار کے انتظار کا فرمان دیا ہے اسی طرح مزمور نمبر۷۳ زبورداود میں آیا ہے کہ دنیا کے اشرار ختم ہونگے اور اللہ تعالیٰ مومنوں اور صالحین ومتوکلین کو زمین کا وارث بنائے گا، اشرار نیست و نابود ہوجائیں گے لوگ جتنی بھی کوشش کرینگے اشرار نہیں ملیں گے متواضع و مخلص لوگ زمین کے وارث بن جائیںگے اور سلامتی کی کثرت کیوجہ سے لذت حاصل کرینگے۔

اشعیاءعلیہ السلام نبی کا بیان

اشعیاءنبی کی کتاب میں ہے کہ بھیڑیا اور بکری باہم سکونت کریں گے شیر اور مینڈھا اور بچھڑے ایک ساتھ باہم سوئیں گے اورپھریں گے، چھوٹا سا بچہ ان کا مشترکہ چرواہا ہوگا۔

(یہ وہیزمان علیہ السلامہ ہوگا جب سرکار حجت کی عدل و انصاف سے لبریز حکومت قائم ہوگی(مترجم)

جناب حیقوق علیہ السلام نبی کا بیان

جناب حیقوق علیہ السلام نبی نے خوش خبری دی ہے سرکار کے ظہور کی اور سرکار کی غیبت کےزمان علیہ السلامہ کے طولانی ہونے بارے تذکرہ فرمایا ہے اور اپنی امت سے مخاطب ہو کر فرمایا: کہ اگر اس کے ظہور میں تاخیر ہو تو اس کا انتظار کرو کیونکہ وہ ضرور آئے گا۔

انجیل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا تذکرہ

جب فرزند انسان ملائکہ مقدسہ کے ہمراہ اپنے جاہ و جلال کے ساتھ آئے گا اور اپنی جلال کی مسند پررونق افروز ہوگا۔

انجیل مقدسہ متی کے باب نمبر۴۲ میں بیان کیا گیا ہے ہے کہ جب فرزند انسان کے ظہور کی علامت آسمان پر ظاہر ہوگی تو اس وقت زمین کے تمام گروہ سینہ زنی کریں گے اور وہ فرزند انسان اپنی قوت وجلال عظیم کے ساتھ آسمانی بادلوں کے تخت پر نمودار ہوگا۔

مگر ظہور فرزند انسان بھیزمان علیہ السلامہ نوح کیطرح ہوگا جیسے طوفان نوح سے پہلے لوگ کھاتے پیتے رہے نکاح وشادی کرتے رہے یہاں تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوگئے اور ان کی قوم پھر بھی نہ سمجھی یہاں تک کہ طوفان آگیا اور سب کو لے گیا اسی طرح فرزند انسان کا ظہور ہوگا اگرچہ جو لوگ ابھی متوجہ نہیں ہیں پس بیدار رہو، کیونکہ تمہیں نہیں پتہ کہ کب اور کس ساعت تمہارا خداوند آجائے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کم و بیش۰۵ جگہ پر ظہور سرکار امام زمان علیہ السلام کے اچانک ہونے بارے خبر دی ہے مثلاً حضرت عیسی علیہ السلامٰ فرماتے ہیں کہ:” اپنی کمر باندھ کے رکھو اپنے چراغ جلا کے رکھو خوش قسمت ہیں وہ غلام کہ جن کا آقا آئے تو غلام بیدار ہوں اور اس کی خدمت کے لیے آمادہ اور حاضر ہوں“۔

(عیون اخبارالرضا علیہ السلامج۱ص۷۴)

یوحنا نبی کے مکاشفہ

”عظیم علامت آسمان خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ایک با عظمت اور طاقتور خاتون ہے ایسی باعزت ایک خاتون کہ سورج جس کے سامنے ہوگا اور چاند جس کے پاوں کے نیچے اور اس کے سرپر بارہ ستاروں والا تاج ہوگا“۔

حضورنبی کریم نے شب معراج انوارطیبہ حضرت علی علیہ السلام و سیدہ زہراءعلیہ السلام و آئمہ اطہار علیہ السلام کو مشاہدہ کیا اور نور مقدس حضرت بقیة اللہ کو دیکھا جو کہ ان انوار کے درمیان مثل روشن ستارہ کے چمک رہا تھا تو خداوند کریم سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ آواز قدرت آئی یہ انوار آئمہ علیہ السلام ہیں اور یہ زیادہ روشن نور اسی قائم کا ہے کہ جو میرے حلال کو حلال اور میرے حرام کو حرام بنائے گا(کیونکہ ظہور قائم علیہ السلام سے پہلے کئی حلال کو لوگوں نے حرام اور کئی حرام کو لوگوں نے حلال بنالیا ہوگاسرکار آکر اصل کی طرف لوٹائیں گے”مترجم“)خدا وند عالم نے فرمایا کہ میں اسی قائم کے ذریعے اپنے دشمنوں سے انتقام لوں گا یہی قائم میرے دوستوں کے لیے باعث آرام و سکون ہوگا، یہ قائم تیرے شیعوں کے دلوں کو ستمگروں کافروں اور منکروں کے مظالم سے سکون بخشے گا، یہی قائم لات وعزیٰ کو دوبارہ خاک سے باہر نکالے گا اور انہیں آتش کا ایندھن بنائے گا۔

یہاں تک کہ رسول کریم نے ایک طولانی حدیث بیان فرمائی اور کہا کہ: ”طوبیٰ لمن لقیه وطوبیٰ لمن احبّه وطوبیٰ لمن قال به “۔(کمال الدین وتمام النعمہ ج۱ص۸۶۲)

ترجمہ:۔ ”خوش قسمت ہیں وہ جو اس (قائم علیہ السلام) کی ملاقات کریں گے، خوش قسمت ہیں وہ جو اس قائم علیہ السلام سے محبت کریں گے اور خوش قسمت ہیں وہ جو قائم علیہ السلام پر اعتقاد رکھتے ہیں “۔

یہاں تک فرمایا( فقل انما الغیب للّٰه فانتظرواانی معکم من المنتظرین ) (سورئہ یونس آیت ۰۲)

ترجمہ:۔”پس کہہ دو کہ وہ غیب اللہ کے پاس ہے، پس تم اس کا انتظار کرو کہ میں بھی تمہارے ساتھ اسی کا منتظر ہوں“۔

یہاں غیب سے مراد ظہور مہدی علیہ السلام ہے اورمنظور از جملہ” انی معکم من المنتظرین“ یعنی رسول خدا بھی سرکار حجت علیہ السلام کے ظہور کے منتظرین میں سے ہیں ۔

مہدی (عج) نہج البلاغہ میں

کتاب مہدی علیہ السلام منتظر درنہج البلاغہ کے مصنف محقق محترم حجة الاسلام والمسلمین فقیہہ ایمانی نے اپنی کتاب میں ۲۱ حوالہ جات از اہل سنت نقل کیے ہیں کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ مہدی علیہ السلام پیدا ہو چکے ہیں اور باامر خدا پردہ غیبت میں ہیں ۔ انہوں نے گیارہ مقامات پر امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام نہج البلاغہ سے نقل کیے ہیں ۔ جن میں مولیٰ امیر علیہ السلام نے حضرت مہدی علیہ السلام کے مبارک وجود کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں سے ہم سات مقامات کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کریں گے۔

۱۔ نہج البلاغہ فیض الاسلام خطبہ نمبر۹۹ میں تحریرہے کہ:

حتی یطلِعَ اللّٰه لکم من یجمعکم ویضم نشرکم “۔

ترجمہ:۔ ”یہاں تک کہ خدا ایک ایسی شخصیت کو طلوع کرے جو تمہیں جمع کرے (تمہارے اختلافات کو ختم کرے) تمہاری بے سروسامانی کو سامان دے پس تم طمع نہ کرو اس کا جو تمہاری طرف نہیں آتااور تمہیں نہیں ملا اور جس نے تم سے روگردانی کی اس سے مایوس نہ ہو، اس میں صریحاًاشارہ ہے غیبت سرکار امام زمان علیہ السلام کی طرف“۔

۲۔ خطبہ نمبر ۸۳۱ نہج البلاغہ فیض الاسلام میں امام مہدی علیہ السلام کے بارے ارشاد ہے اور ان کے بارے میں گفتگو ہوئی کہ:

یعطف الهویٰ علی الهدیٰ واذاعطفوا الهدی علی الهویٰ.... الخ “۔

ترجمہ:۔ ”وہ مہدی علیہ السلام خواہشات نفسانی کو ہدایت و راہنمائی الٰہی کی طرف لوٹائے گا جب کہ لوگ ہدایت الٰہی کو اپنی نفسانی خواہشات کی طرف پھیر چکے ہوں گے اس وقت جب کہ لوگ قرآن کی تفسیر پر لڑائی کریں گے ۔ اپنی آراءکو قرآن پر فوقیت دیں گے، حوادثات و واقعات اس حد تک بڑھ جائیں گے کہ جنگ ہر ایک کو لپیٹ میں لے لے گی، مثل اس حیوان درندہ کے جو حملہ کے موقع پر اپنا پورامنہ شکار کو چیرے پھاڑنے کے لئے آخری حد تک کھولتا ہے،جنگ تمین ڈنگ مارے گی جنگ کے پستان دودھ سے پرہوجا ئینگے، یعنی مہمات جنگی فراوان ہوں گے اس جنگ کا دودھ ابتداءمیں شیرین ہے اور آخر میں مثل زہر کے ہوجاتا ہے“۔

اس لیے کتاب مہدی علیہ السلام منتظر در نہج البلاغلہ کے مصنف لکھتے ہیں :”جنگ کی ابتداءمیں کچھ کامیابیاں اور غنیمت جنگ کرنے والے کو ہاتھ آتی ہیں اور زیادہ غنیمت حاصل کرنے اور مکمل کامیابی حاصل کرنے کی امید کی وجہ سے ذائقہ جنگ آغاز میں شیریں معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی فریق دوسرے فریق کی جنگ بندی کی اپیل قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا لیکن جنگ کا اختتام قتل و کشار ، بربادی، ڈھیروں زخمی ، جسمانی و روحانی بیماریاں، مال و اسباب کی غارتگری، ناموس و عزت کی پائمالی پر ہوتاہے اور کئی قسم کی بدبختیاں جنگ زدہ قوموں اور جنگ کرنے والوں کو دے جاتاہے۔ ہوشیار رہو آنے والے کل سے ، ایسا کل کہ جو کچھ اس کل میں ہے تم اس سے ناآگاہ ہو والی علیہ السلام کے ذریعہ، حکومتی اہل کاروں اور عمال حکومت جو کہ خیانت و تجاوز کے مرتکب ہوئے ان کا محاکمہ ہوگااور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ زمین اپنے جگر کا ٹکڑا اس کے لیے نکال کر پیش کرے گی عاجزی اور فروتنی کرتے ہوئے زمین اپنی چابیاں اس کی طرف ڈال دے گی، جس کے بعد وہ نگران آئین پیغمبر اکرم کے اجراءکا عملی مظاہرہ کرے گا کتاب خدا کے آثار اور سنت کے فراموش شدہ آثار و قوانین کو دوبارہ زندہ کرکے اس کے عمل کو دوبارہ رائج کرے گا۔ابن ابی الحدید نے یہاں ”والی“ سے مراد امام لیا ہے، جس کو خداوند آخر الزمان میں پیدا کرے گا۔

۳۔ نہج البلاغہ (۰۵۱) میں بھی ایسی اعلیٰ شخصیت کی غیبت کو موضوع بنایا گیا ہے کہ جتنی بھی کوشش کی جائے اس کا کوئی پتہ اور نشان قدم کبھی نہیں ملتا۔

۴۔ اسی طرح نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر۹۲۲ میں اصحاب وانصاران حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ :”اَلاَبابی وامی هم من عدة اسماو هم فی السماءمعروفةً وفی الارضِ مجهولة “۔ترجمہ:۔ ”میرے ماں باپ ان پر فدا ہوں وہ ایسا گروہ ہیں کہ جن کے اسماءگرامی آسمانوں میں بہت مشہور اور معروف ہیں مگر زمین وہ گم نام ہیں “۔

یہاں تک کہ حضرت فرماتے ہیں کہ:”مومن کے لیے تلوار مارنا نسبت ایک حلال درہم پیدا کرنے کے آسان ہے اور اس صورت میں اجر لینے والا دینے والے سے زیادہ ہے یہ وہ ہیزمان علیہ السلامہ ہو گا کہ لوگ سست ہوں گے بغیر شراب کے نعمتوں کی وجہ سے مستی میںہوگی، وہ قسم کھائیں گے بغیر کسی وجہ و مجبوری کے جھوٹ بولیں گے بغیر کسی جبروکراہ کے“۔

۵۔ اسی نہج البلاغہ کی نصیحت نمبر۹۳۱ میں تحریر ہے کہ:

اللهم بلیٰ لاتخلوالارض من قاءم للّٰه بحُجةٍ....الخ “۔

ترجمہ :۔ ”اے خداوند! تیرے لطف و کرم سے تیری زمین کبھی بھی تیری حجت اور امر حق کے قیام (قائم) سے خالی نہیں رہے گی خواہ وہ حجت قائم ، ظاہرو آشکار ہو یا مخفی وپنہاں یہاں تک کہ اس کی دلائل الٰہیہ اور مشیت خدائی تمام نہ ہو جائے “۔

۶۔ انہیں انصاران مہدی علیہ السلام بارے نہج البلاغہ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:”ان پر (اصحاب مہدی علیہ السلام) علم و دانش اصلی حقیقت سے ظاہر ہوگا وہ روح یقیں کو پاک اور آمادہ محسوس کریں گے ہر وہ چیزجو دنیا پرستوں اور ہوس کے بندوں کے لیے مشکل اور دشوار و ناہموارہو گی ان اصحاب مہدی کے لیے آسان اور پسندیدہ ہوگی، ہر وہ چیز جو احمقوں کے لیے خوف و حراس کا باعث ہوگی یہ (اصحاب مہدی علیہ السلام) اس سے محبت کریں گے ان کے بدن و جسم تو دنیا کے ساتھ ہوں گے مگر ان کی روح جہاںبالا سے مربوط ہوگی یہ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہیں دین خدا کی دعوت دینے والے ہیں ۔ آہ، آہ (ہائے ،ہائے) میں ان کی زیارت کا مشتاق اور دیدار کا آرزومند ہوں اے کمیل ! اب اگر چاہتا ہے تو واپس لوٹ جا“۔

۷۔ نہج البلاغہ کی نصیحت نمبر۰۰۲ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ :

لتعطِفنّ الدنیا علینا بعدشماسها “۔

ترجمہ:۔ ”دنیا تمہاری طرف رخ کرے گی بعد اس کے کہ پہلے وہ تم سے روگردانی کرچکی تھی اس کے بعد حضرت نے یہ آیہ مبارکہ ”( نریدان نمن علی الذین ) “ کی تلاوت فرمائی“۔

(سورئہ قصص آیت۵)


باب دوئم

خلیفة اللہ

زمین کا حجت خدا سے خالی نہ ہونا

اس میں کوئی شک نہیں کہ زمین ہرگز حجت خدا سے اور خلیفہ الٰہی سے خالی نہ رہی ہے اور نہ رہے گی اس ضمن میں قرآن مجید کی بہت زیادہ آیات وارد ہوئی ہیں کہ کچھ کا تذکرہ اور یاد آوری کرتے ہیں :

۱۔ ”( واذ قال ربک للملاءکة انی جاعل فی الارض خلیفه ) “۔(سورئہ بقرہ آیت نمبر۰۳)

ترجمہ:۔ ”جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر خلیفہ بناوں گا“۔

یہ خلیفہ حضرت آدم علیہ السلام نہیں تھے بلکہ جب تک انسانیت باقی ہے خلیفہ خدا ان کے درمیان موجود رہے گا زمین پر خلیفہ کی موجودگی لازم و ضروری ہے۔

۲۔ ”( فکیف اذاجئنامن کل امة بشهیدوجئنابک علی هو لاءشهیدا ) “۔

(سورئہ نساءآیت نمبر۱۴)

ترجمہ:۔ ”پس کیسا ہوگا ان کے لیے جب ہم گواہ قرار دیں ہر امت سے ان کے واسطے اور ان سب گواہوں پر گواہ قرار دیں یعنی انسان کی اولین پیدائش سے لے کرتاوقتیکہ انسان زمین پر سکونت پذیر ہے ہر امت پر ایک ایسا گواہ مووجود ہے جو اس امت کے اعمال کا شاہد ہے اور اے محمد آپ ان گواہان پر شاہد و ناظر دیکھنے اور نظر رکھنے والے ہیں “۔

۳۔ ”( اعلمو انما غنمتم من شی فان للّٰه خمسه، وللرسول ولذی القریٰ، والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل ) “۔(سورئہ انفال آیت نمبر۱۴)

ترجمہ:۔ ”جان لو کہ ہرقسمی منافع جو تمہیں حاصل ہو اس پر پانچواں(خمس) حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے اور رسول کے قرابت داروں میں سے ایک قریبی کے لیے، اور یتیموں اور مساکین ومسافروں کے لیے ہے“۔

وضاحت: اس آیت میں لفظ ”ذی القربیٰ“ آیا ہے جو کہ مفرد ہے اور یہاں ”ذی القربیٰ“ کا مقصد امام معصوم علیہ السلام ہے جو کہزمان علیہ السلامہ میں موجود ہے اور اس کا حصہ سہم امام علیہ السلام کے نام سے معروف ہے اور باقی جو سہم سادات کے نام سے موسوم ہے وہ اسی اولاد رسول سے یتامیٰ مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہے۔

۴۔ ”( انما انت منذرولکل قوم هاد ) “ ۔(سورئہ رعد آیت نمبر۷)

ترجمہ:۔ ”اے میرے پیامبر! تو خبردار کرنےوالا ہے ،ہرقوم کےلئے ہادی اور امام و رہبرموجود ہے ‘ ‘۔

اس آیت مبارکہ میں بھی مسلمہ حقیقت کا تذکرہ کیا گیا یعنی امامت ہر قوم و گروہ کو ہرزمانہ میں کمال انسانی تک رسائی حاصل کرنے کےلئے ایک ہادی جو اللہ کی طرف سے ہوکی ہمہ وقت ضرورت ہے۔

۵۔ ”( یوم ندعوا کل اناس بامامهم فمن اوتیٰ کتابه، بیمینه فاول ک یقرو ن کتابهم ولا یُظلمون فتیلا ) “۔(سورئہ اسراءآیت ۱۷)

ترجمہ:۔ ”اور اس دن جب ہم ہر گروہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ پکاریں گے اور ہر وہ جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے اور ان کے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہوگا“۔ اس آیت مبارکہ سے صراحتاً پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہ پیشوا اور امام انسان کے ساتھ ہے کہ قیامت کے روز انسان اسی امام کے کیساتھ محشور ہوگا۔

۶۔ ”( واذ قال ابراهیم لابیه وقومه اننی براء مماتعبدون الاالذی فطرنی فانه سیهدین جعلها کلمة باقیة فی عقبه لعلهم یرجعون ) “ (سورئہ زخرف آیت نمبر۶۲،۸۲)

ترجمہ:۔ ”جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا! اپنے چچا سے (جسکو باپ کہا جاتا تھا) اورقوم سے میں بیزار ہوں اس سے جسکی تم پوجا کرتے ہو مگر جس نے مجھے پیدا کیا اور میری راہنمابھی وہی کرے گا(میں تو آپ کی عبادت کروں گا) “ ۔

اکثر مفسرین نے کلمہ ”باقیه فی عقبه “ کو ایک ہدایت کرنے والا انسان ذکر کیا ہے جو کہ ہمیشہ انسانوں کے درمیان موجود ہے اورتوحید کی منادی دے رہا ہے وہ نسل ابراہیم علیہ السلام سے ہے اور وہ دنیا کے اختتام تک باقی رہے گا۔

۷۔ ”( تنزل الملاءکة والروح فیهاباذن ربهم من کل امرسلام هی حتی مطلع الفجر ) “۔(سورئہ قدر آیت ۴۔۵)

ترجمہ:۔”رب العزت کے حکم سے اس رات فرشتے اور روح ہر امر کے لیے نازل ہوتے ہیں تا طلوع صبح سلام ہے“۔ فرشتے اور روح کس پر نازل ہوتے ہیں ؟اور کس امر کےلئے نازل ہوتے ہیں ؟ سلام کس پر ہے؟ اور صاحب شب قدر کون ہے؟۔(لفظ ”الفجر“ کے عدد بحساب ابجد ۴۱۳ بنتے ہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام اور آپکے ۳۱۳ ناصران مل کر ۴۱۳ بنتے ہیں اس طرح روح ایک ایسا موجود ہے جو سب فرشتوں سے بلند ہے اسے روح اعظم بھی کہاجاتا ہے اور یہ جبرئیل علیہ السلام جن کا لقب روح الامین ہے اسکے علاوہ ہے) اس طرح سورئہ دخان میں ہے کہ ”( فیها یفرق کل امرٍ حکیم ) “ (سورئہ دخان آیت۴)” ہر امر محکم اس رات مشخص ومعین ہوجاتاہے ، یعنی غیر واضح اور مجمل امور اس رات (لیلة القدر) میںکھل جاتے ہیں “مثلاًمجمل ہے کہ آئندہ سال ایک ہزار نفر اس شہر میں وفات پائیں گے اس رات (لیلة القدر) میں یہ طے ہوجاتا ہے کہ وہ ایک ہزار نفر کون ہیں اور انکے کیا نام ہیں تفسیر نور الثقلین میں ۳۱ روایات نقل کی گئی ہیں کہ صاحب لیلة القدر یعنی شب قدر کے مالک سرکار امام زمان علیہ السلام ہیں کہ فرشتے آپ پر نازل ہوتے ہیں اور طلوع فجر تک مسلسل آپ پر درود و سلام بھیجتے ہیں ۔(نورالثقلین ج۴ص۲۱۶،۳۴۶)

حضرت امام زمان علیہ السلام کی معرفت بارے مشہور حدیث

من مات ولم یعرف امام زمان علیه السلامه مات میتة الجاهلیة “۔ (بحارالانوار ج۸ص۸۶۳)

جواپنےزمان علیہ السلامہ کے امام معصوم علیہ السلام کی معرفت حاصل کیے بغیر مرگیا گویا وہ جاہلیت کی موت مرگیا، ایک اور حدیث صحیح میں آیاہے ، حارث بن عفیرہ سے مروی ہے کہ میں نے اباعبداللہ سے پوچھاکہ کیا پیغمبر نے فرمایا ہے کہ جو معرفت امام زمان علیہ السلام کے بغیر مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں، میں نے پوچھا کہ جاہلیت سے مراد مطلق نادانی و جہالت ہے یا وہ جاہلیت جو امام علیہ السلام کی عدم شناخت کا سبب ہو تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: جاہلیت سے مراد جاہلیت نفاق اور گمراہی ہے۔

(مکیال المکارم ج۱ص۴۱)

عبداللہ بن عمر کا حجاج کے پاس بیعت کے لئے حاضر ہونا

ایک اور مقام پر نقل ہے کہ جب حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر کوتختہ دار پر لٹکادیا تو عبداللہ بن عمر ایک رات تاریکی میں حجاج بن یوسف کے پاس آیا اور کہا کہ اپنا ہاتھ آگے کرو میں عبدالملک کی بیعت تمہارے ہاتھ پر کرنا چاہتا ہوں کیونکہ رسول اکرم نے فرمایا: کہ جس نے معرفت امام زمان علیہ السلام حاصل نہ کی اور مرگیا تو گویا جاہلیت کی موت مرا، حجاج نے اپنے ہاتھے کی بجائے اپنا پاوں آگے کردیااور کہا کہ بیعت کرو، عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میرے ساتھ مذاق کرتے ہو، حجاج نے کہا کہ اے بنی عدی کے احمق! کیا علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام تیرے وقت کا امام نہ تھا تو نے اس کی بیعت کیوں نہ کی، آج میرے پاس حدیث لے کر آگئے ہو اورسنا رہے ہو خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ تُو حدیث کی وجہ سے نہیں بلکہ عبداللہ بن زبیر کا انجام دیکھ کر میرے پاس آیا ہے کہ تم اسے دار پر لٹکا دیکھ کر آئے ہو۔(الکنی والالقاب ج۱ص۳۶۳)

حدیث معرفت امام زمان علیہ السلام سے مراد

یہ حدیث جو کہ شیعہ و سنی دونوں کے نزدیک متفق علیہ ہے اس کے دو پہلو بنتے ہیں اور یہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہے ۔

۱۔ اس میں امام سے مراد حکام وخلفاءحکمران ہیں مثلاً عبدالملک، منصور، ہارون مامون و متوکل وغیرہ مراد ہیں ، تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ حکمران ظالم اور ستمگر تھے اور خداوند عالم رتبہ امامت بارے فرماتا ہے:”( لاینال عهدی الظالمین ) “ ۔ (سورئہ بقرہ آیت ۴۲۱)

ترجمہ:۔ ”یہ عہدہ امامت کسی ظالم کو نہیں دوں گا “ پس کس طرح انہیں امام قرار دیا جاسکتا ہے ۔

۲۔ امام سے مراد آئمہ معصومین علیہ السلام جو امیرالمومنین علیہ السلامسے حضرت امام مہدی علیہ السلام تک ہیں اور اس دور میں جس امام علیہ السلام کی معرفت ضروری ہے، وہ سرکار امام مہدی علیہ السلام کی ذات اقدس ہے اور یہی دوسری مراد ہی آیات و روایات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔

حضرت اما م مہدی علیہ السلام اور اہل بیت علیہ السلام اطہار آیات وروایات کی روشنی میں

قرآن مجید میں بہت زیادہ آیات ایسی ہیں جو جملہ آئمہ معصومین علیہ السلام کی امامت اور بالخصوص امام زمان علیہ السلام مہدی علیہ السلام کے بارے بیان کی گئی ہیں جن میں سے کچھ آیات کی طرف اشارہ کریں گے۔

۱۔ ”( فلا اقسم بالخنس الجوارالکُنس ) “۔(سورئہ تکویر ۵۱۔۶۱)

ترجمہ: ”قسم ہے ستاروں کی جو حرکت کرتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں “حضرت امام محمدباقر علیہ السلام فرماتے ہیں ”ایک امام جو کہ ۰۶۲ ہجر ی میں پردہ غیبت میں چلا جائے گا اور پھر ایسے ستارہ کی مانند جو تاریک رات میں روشن ہوجائے ظاہر ہوگا، حضرت راوی کوحدیث بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جب تم اس کےزمان علیہ السلامہ کو پاو گے تو تمہارے آنکھیں روشن ہوں گی“۔(تفسیر برہان ج۲،ص۴۲۲)

۲۔ ”( والسماءذات البروج ) “۔(سورئہ بروج آیت ۱)

ترجمہ:۔” آسمان کی قسم کہ جو باعظمت اور بلند و بالا برجوں کا حامل ہے“ رسول اکرم فرماتے ہیں کہ ذکر خدا افضل ترین عبادت ہے اسی طرح میرا ذکر عبادت ہے اور میرے بھائی علی علیہ السلام کا ذکر بھی عبادت ہے اور اسکے آئمہ معصومین علیہ السلام بیٹوں کی یاد عبادت ہے، ان آئمہ علیہ السلام برحق کی تعداد بھی سال کے مہینوں جتنی ہے یعنی بارہ ہیں ، وہ تعداد میں موسیٰ علیہ السلام کے نقیبوں کے برابر ہیں یعنی بارہ ہیں اسکے بعد حضرت نے مندرجہ بالاآیت تلاوت کی پھر فرمایا :آسمان سے مراد میں ہوں اور برجوں سے مراد میرے بعد آئمہ علیہ السلام برحق ہیں جن میں سے پہلے علی علیہ السلام اور آخری مہدی علیہ السلام ہیں “۔(تفسیر البرہان ج۱ص۰۵۲)

۳۔ ”( الفجر o ولیال عشرٍ o والشّفع والوتر o واالیل اذایسر o ) “۔ (فجر ۱تا۶)

ترجمہ:۔ ”صبح روشنی بخشیدہ کی قسم،دس راتوں کی قسم، جفت و طاق کی قسم اور اس رات کی قسم جو صبح روشن میں بدل جائے گی“۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :”الفجر“ سے مراد فجر قائم علیہ السلام ہے اور” لیال عشر“ سے مراد حضرت امام حسن”علیہ السلام“ سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام تک ۰۱ آئمہ طاہرین علیہ السلام ہیں ”والشفع“(جفت) سے مرادمولیٰ امیرالمومنین اور جناب سیدہ فاطمة الزہراء علیہ السلام ہیں ”والوتر“ سے مراد خداوند واحد واحد ہے کہ جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ”واللیل اذیسر“ وہ رات ہے جو ختم ہونے والی ہے یہاں حکومت جبر (آخری غاصب خلافت اہل بیت علیہ السلام ) کی ہے جو سرکار امام زمان علیہ السلام کی حکومت الٰہیہ کے قیام تک ہوگی۔(تفسیر برہان ج۱ص۶۷۲)

۴۔”( والشمس وضحاهاوالقمراذاتلاهٰاوالنهاراذاجلاها، والیل اذا یغشاهٰا ) “( شمس ۱ تا۴)

ترجمہ:۔ ”سورج کی قسم اور اس کی درخشندگی کی قسم، چاند کی قسم جب وہ چمک رہا ہو، دن کی قسم کہ جو تاریکی کو ختم کردیتا ہے اور دنیا کوروشن کردیتا ہے اور رات کی قسم کہ جب وہ دنیا کو پردہ تاریکی میں ڈھال دیتی ہے“۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:”یہاں سورج سے مراد رسول خدا ہیں اور چاند سے مراد حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ، دن کی قسم سے یہاں آخر الزمان علیہ السلامجو کہ ذریت سیدہ زہراء علیہ السلام سے ہے کہ ظلم وجور کی تاریکی کو ختم کردے گا اورجہاں کو روشن کرے گااور رات سے مراد یہاں آئمہ ظلم وجور(یعنی جھوٹے امام مراد ) ہیں ۔(تفسیر برہان ج۱ص۷۹۲)

شیعہ اور سنی کتب میں آئمہ علیہ السلام اور بالخصوص امام زمان علیہ السلام کی امامت حقہ بارے کچھ روایات نقل ہیں اور خصوصاً امام مہدی علیہ السلام بارے شیعہ وسنی تقریباً ۶ہزار حدیثیں موجود ہیں جن میں سے ۴سو احادیث سنی کتب میں درج ہیں اور ان چار سو احادیث میں سے ۰۷۲ احادیث اہل سنت کی معتبر ترین کتب میں درج ہیں مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ترمذی، سنن ابن داود، سنن ابن ماجہ وغیرہ مسندحنبل ومستدرک میں احادیث وارد ہیں مزید تشریح کے لیے آیت اللہ صافی کی کتاب منتخب الاکثر کی طرف رجوع کیا جاسکتاہے۔آیت اللہ ناصری مجلہ موعود(نشریہ نمبر۶۳سال۶) میں تحریر فرماتے ہیں کہ اہل سنت کی طرف سے امام مہدی علیہ السلام کے حوالہ سے ۲۰۲ کتب اب تک ضبط تحریر میں آ چکی ہیں اور مکتب تشیع کی طرف سے (۰۰۰۲) دو ہزار کتب سرکار امام زمان علیہ السلام پر تحریر کی جاچکی ہیں جس میں سرکارامام زمان علیہ السلام کا مکمل تعارف نامہ ،پتہ، ماں باپ و دیگر حوالہ جات کی معرفی کی گئی ہے ۷۰۲ قرآنی آیات اور ۷۰۲۶ روایات و احادیث سرکار امام زمان علیہ السلام کے بارے وارد ہوئی ہیں ۔


باب سوئم

اللہ کا اٹل ارادہ

اٹل وعدہ

خداوند مہربان نے ابتداءتخلیق دنیا وجہان سے جب سے اس نے انسان کو زمین پر پیدا کیا ساتھ ہی اپنے پیامبروں کا سلسلہ جاری کردیا تاکہ وہ انسانوں کو راہ ہدایت دکھاتے رہیں اور اسے ستمگروں اور ظالموں کے درندہ نماپنجوں سے آزادی دلائیں ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ:”( یریدون لیطفو ا نورااللّٰه بافواههم واللّٰه متم نوره ولوکره الکافرون ) “۔(سورئہ صف آیت ۸)

ترجمہ:۔ ”(دشمنان خدا) چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ کی پھونک سے بجھا دیں، لیکن خداوند اپنے نور کو تمام و مکمل کرنے والا ہے اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوارہے ارادہ خدا ہر صورت پورا ہونا ہے اگرچہ دشمن خدا اس کے لیے جتنا جلتے رہیں نور خدا کو ظاہر ہوناہے“۔

ہم اس باب میں ظہور مصلحان بزرگ کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیل ظہور پرنور سرکار امام زمان علیہ السلام کا جائزہ لےں گے۔

ظہور حضرت ابراہیم (علیہ السلام)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ظہور سے پہلے نمرود نے خواب دیکھا جو کہ نجومیوں کی پیشین گوئیوں سے مطابقت رکھتا تھا اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا ہے جس نے اس کے خدائی تخت و تاج کو متزلزل کردیا ہے اس بنا پر اس نے فیصلہ کیا کہ مردوں کو عورتوں سے علیحدہ کردیاجائے تاکہ ایسا بچہ پیدا ہی نہ ہوسکے لیکن نمرود کی حکومت میں ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک غار میں پیدا ہوئے اور مقام پیغمبری پر فائز ہوئے اور لوگوں کو خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کی دعوت دی مشرکوں کے بتوں کو توڑا جس کی پاداش میں انہیں آگ میں پھینکا گیا لیکن آگ حکم خدا سے ان کے لیے گلزار ہوگئی۔

ظہور حضرت موسیٰ(علیہ السلام)

فرعون کو نجومیوں نے خبردی کہ بنی اسرائیل سے ایک شخص تیری حکومت و اقتدار کو برباد کر دے گا جس کی بنا پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہر فرزند کو جو لڑکا ہو پیدائش کے بعد فوراً قتل کردیا جائے اسی بارے قرآن کہتاہے: ”( یذبح ابناءهم ویستحى نساءهم ) “۔(قصص ۴)

ترجمہ:۔ ”فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا اور ان کی آبروریزی کرتا“۔ لیکن ارادہ خداوند یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دنیا میں آنا ہے موسیٰ(علیہ السلام) دنیا میں آئے عجب شرائط کے تحت آئے اور ان کی ماں نے انہیں پانی میں پھینک دیا فرعون نے انہیں پانی سے پکڑ لیا اور اپنے محل میں پرورش دی اور خود مادر موسیٰ کو اجرت دی اوراسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلانے پر مامور کیا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) مقام نبوت پر فائز ہوئے، بنی اسرائیل کو مظالم فرعون سے نجات دی اور فرعون اور فرعونیوں کو دریائے نیل میں غرق کیا فرعون کے ناچاہتے ہوئے بھی نور خدا یعنی ظہور موسیٰ(علیہ السلام) ہوا اور ارادہ خدا ظاہر ہوا۔

ظہور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آنے سے پہلے بھی ماہرین ستارگان نے خبر دے دی تھی تاریخ میں ہے کہ کئی بچوں کو صرف اس لیے کہ نقشہ الٰہی اور ارادہ خدا کو ناکام کیا جائے قتل کردیا گیا۔ لیکن خداوند متعال نے اپنی حکمت کے ساتھ اپنے اس عظیم پیغمبرکو بغیر باپ کے پیدا کیا اور جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو خداوند عالم نے دشمنان خدا کے ارادوں کو ناکام کرتے ہوئے عیسیٰ(علیہ السلام) کو آسمان چہارم پر اٹھا لیا جو سرکار امام زمان علیہ السلام کو ظہور کے وقت آپ کے ہمراہ اور ساتھ ساتھ ہوں گے اور انصار میں ملیں گے۔

ظہور حضرت محمد (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم)

حضور نبی اکرم جو کہ سید الانبیاء اور مصلح اعظم ہیں ان کے بارے تورات و انجیل میں ان کے ظہور سے پہلے آگاہ کردیاگیا تھا روایات کے مطابق ایران کے حکمران شاہ پور جو کہ” شاہ پور ذوالاکتاف“ کے نام سے معروف تھا کو جب حضور کے بارے آگاہی دی گئی کہ ایک عرب پیغمبر دنیا میں آئے گا جو کیانیوں (ایرانیوں) کے تخت و تاج کو برباد کردے گاشاہ پور ”ذوالاکتاف“نے فیصلہ کیا کہ عربوں کی نسل کو بڑھنے نہ دے گا لیکن ارادہ خداوندپورا ہوا اور ظہورسید الانبیاء علیہ السلام ہوکررہا۔ ”( واللّٰه غالب علی امره ) “۔ اور اللہ اپنے امروفیصلہ پر غالب ہے۔ (سورئہ یوسف آیت ۱۲)

ظہور حضرت امام مہدی (علیہ السلام)

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ تمام ادیان عالم نے اپنے اپنے انداز میں ظہور امام مہدی علیہ السلام بارے ذکر کیا ہے اسی طرح رسول اکرم اور آئمہ علیہ السلام نے ظہور سرکار امام مہدی علیہ السلام بارے بہت زیادہ تذکرہ فرمایا وہ مہدی علیہ السلام جو کہ ظلم و طاغوت کے نابود کرنے والے ہیں ، اسی بنا پر بنی عباس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے خاندان کو مسلسل اپنی نظروں میں رکھا تا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے ہاں بیٹا پیدا ہوتے ہی اسے قتل کر دیا جائے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت مکمل طور پر مخفی رہی یہاں تک کہ آپ کی عمر مبارک کے پانچ سال گزر گئے اور آپ حکومتی اہکاروں سے مخفی رہے یہاں تک کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی حضرت امام مہدی علیہ السلام پانچ سال کی عمر میں ظاہر ہوئے اور اپنے پدربزرگوار کا جنازہ پڑھااور سب کو حیرت میں ڈال دیا، حکومتی ادارے آپ کے قتل کے درپے ہوگئے لیکن آپ پھر غائب ہوگئے جی ہاں! کسی میں جرات نہیں کہ وہ احکام الٰہی اور اہداف خداوندی کے اجراءمیں رکاوٹ بنے جب دنیا ظلم و جور سے پرہو جائے گی تو حضرت قائم علیہ السلام کا ظہور ہو گا اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے پر کردیں گے۔

حبیبم

حبیبم فریبا وزیباستی

گرفتار اوپیرو برناستی

چو گیسوی خود برفشاند فلک

ندا می دھد شام یلداستی

چو بیرون شود روی او از حجاب

سراسر جہان غرق غوغاستی

بہ پیشانی اوست بخت بلند

بلند است کز چرخ اعلاستی

بہ ابروی خود صید دلھا کند

کہ بر گردن او چہ خونہاستی

مگو چشم، سرچشمئہ لطف و مہر

بگو فتنہ اہل دنیاستی

از آن نقطئہ خال رویش خیال

گرفتار صد گونہ رو یاستی

کہ لعل لبش کانِ شہد و شکر

کلامش چہ شیرین و شیواستی

از آن خندہ و برق دندان او

چہ دلہا کہ دائم بہ یغماستی

مگو سینہ ، مرآت ایزدنما

زنورش جہان طور سیناستی

عطا و نوازش اگر خواستی

روان از دو دستش دو دریاستی

بہ ہر سو کہ آن قامت افتد بہ راہ

قیامت در آن نقطہ برپاستی

چہ گویم از آن یوسف گمشدہ

کہ گیتی زہجرش پر آواستی؟!

زہر کوی وبرزن کہ خواہی بپرس

اگر نام محبوب من خواستی

بہ ہر ملّتی نام او ہر چہ ہست

تو دانی کہ او مہدی ماستی

(دیوان گنجینئہ گوھر)

من از ہمہ بیگانہ ام ، در کوی تو پروانہ ام

وز عشق تو دیوانہ ام، لبریز شد پیمانہ ام

( یُرِیدُونَ لِیُطفِئُوا نُورَاَللّٰهِ بِافوَاهِهِم وَاَللّٰهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَو کَرِهَ اَلکَافِرُونَ ) “۔

”یہ لوگ اپنے منہ سے (پھونک مار کر) خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں حالانکہ خدا اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا اگرچہ کفار برا ہی (کیوں نہ) مانیں“۔ (سورہ صف۸)


فصل دوئم

مہدی علیہ السلام اور مہدویت کے دعویدار

جلوے

ولادت مہدی علیہ السلام

القاب مہدی علیہ السلام

جھوٹے دعویدار


باب اول

حضرت امام مہدی (علیہ السلام)کی ذات کے جلوے

۱۔ ولادت حضرت امام مہدی (علیہ السلام)

حضرت کی ولادت باسعادت جمعہ کی صبح ۵۱شعبان ،۵۵۲ہجری طلوع فجر کے وقت شہر سرمن رائے میں ہوئی۔بعض نے کہا ہے کہ جمعہ کی صبح کو ولادت ہوگی اور بعض نے شب جمعہ لکھا ہے تو اس میں فرق نہیں ہے کیونکہ طلوع فجر کے وقت ولادت باسعادت ہے۔ (اس حصہ میں منتہی الآمال سے استفادہ کیاگیاہے)۔

حکیمہ خاتون روایت کرتی ہیں کہ شب جمعہ تھی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے کہا کہ اے پھوپھی جان! آج کی رات ہمارے ہاں ٹھہر جائیے کیونکہ آج کی رات ایک ایسے فرزند نے متولد ہونا ہے خداوند جس کے ذریعہ زمین کو علم وایمان اور ہدایت کے ساتھ زندہ کرے گابعداس کے کہ وہ کفرو ضلالت کے ذریعہ مر چکی ہوگی۔

میں نے پوچھا کہ وہ فرزند کس سے متولد ہوگا فرمایا نرجس علیہ السلام خاتون سے کیونکہ نرجس علیہ السلام خاتون سے ان کے ہاں تو آثار حمل نہ ہیں ؟ حضرت نے تبسم فرمایا اور کہا کہ ان کا حمل مثل حمل مادر موسیٰ علیہ السلام ہے ، رات کا کافی حصہ گزر گیا میری حیرت میں اضافہ ہوتا رہا اس رات میں نے باقی راتوں سے زیادہ نماز و عبادت و تہجد میں صرف کی جب میں نمازوتر تک پہنچی نرجس خاتون نیند سے اٹھیں وضو کیا اور نماز شب کا آغاز کیا صبح کاذب طلوع ہوگئی حمل کی کوئی خبر نہ تھی اچانک امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی کہ پھوپھی جان! اس فرزند کے ظہورکا وقت قریب آگیا ہے۔

پھر حضرت علیہ السلام نے فرمایا: سورئہ قدر کی تلاوت کرو جب میں نے سورئہ قدر کی تلاوت شروع کی تو میں نے سنا کہ فرزند بھی بطن مادر میں سورئہ قدر کی تلاوت کررہا ہے۔

اچانک میرے اور نرجس خاتون علیہ السلام کے درمیان پردہ حائل ہوگیا، جب پردہ ہٹا تومیں نے حضرت صاحب الزمان علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ روبقبلہ ہیں اور حالت سجدہ میں گرے ہوئے ہیں اور زبان پر یہ کلمات جاری ہیں ”اشهدان لااله الاالله وحده لاشریک له، وان جدی رسول الله وان ابی امیرالمومنین علیه السلام وصیُ رسول الله “۔ پھر حضرت علیہ السلام نے ایک ایک امام علیہ السلام کا ذکر فرمایا یہاں تک کہ اپنے مبارک نام تک پہنچے اور فرمایا:”اے اللہ!وعدہ مدد جو تم نے میرے ساتھ فرمایا ہے وہ پورا فرمانا، میری خلافت اور امامت کے امور کو تمام و کامل فرما، میرے انتقام از دشمنان کو ثابت فرمااور زمین کو میرے طفیل عدل و انصاف سے پر فرما“۔ ایک اور روایت میں حکیمہ خاتون سے نقل ہے کہ:”صاحب الامر علیہ السلام کے دائیں بازو پر لکھا ہوا تھا ”( جاءالحق وزهق الباطل ان الباطل کان زهوقا ) “(اسراءآیت ۱۷)ترجمہ:۔”پس حق آگیا اور باطل نابود ہوگیااور باطل کونابود ہونا ہی تھا“جناب حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ میں فرزند کو حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں لے گئی جونہی سرکار حجت کی نگاہ اپنے والد محترم پر پڑی فوراً سلام کیا۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے انہیں میرے ہاتھوں سے لے لیا اور انہیں اپنے بائیں ہاتھ پر بٹھایا اور داہنا ہاتھ اپنے فرزند کے سر پر پھیرا اور فرمایا: کہ اے بیٹا حکم خدا سے کوئی بات کہہ تو صاحب الامر علیہ السلام حجت نے تعوذ وتسمیہ کے بعد یہ آیت قرآنی تلاوت کی ”( نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلهم اءمةً ونجعلهم الوارثین، ونمکن لهم فی الارض ونری فرعون وهامان وجنودهما منهم ماکانوا یحذرون ) “(سورئہ قصص ۵،۶)

سرکار امام زمان علیہ السلام (علیہ السلام) کے اسم و القاب

قرآن میں ارشاد ہے کہ ”( وللّٰه الاسماءالحسنیٰ ) اللہ کے کئی نیک خوبصورت نام ہیں اسی طرح زمین پر اللہ کے خلیفہ کے لیے کئی خوبصورت اور نیک نام ہیں کیونکہ خلیفہ خدا بھی زمین پر اسماءالٰہی و حسنیٰ کا مظہر ہوتا ہے اور اسم اعظم الٰہی ہوتاہے“۔

بارہویں امام علیہ السلام کے بہت زیادہ القاب ہیں کتاب نجم الثاقب(باب دوم ص۵۵) میں سرکار کے ۲۸۱ نام ولقب تحریر کیے گئے ہیں ہم حضرت قائم علیہ السلام کے کچھ نام والقاب کا تذکرہ کریں گے۔

آپ کا اسم مبارک محمد علیہ السلاماور آپ کی کنیت ابوالقاسم علیہ السلام ہے جو کہ حضوراکرم کا نام اور کنیت ہے۔ جس طرح حضور خاتم الانبیائ ہیں اسی طرح سرکار صاحب الامر علیہ السلام ، خاتم الاوصیاء علیہ السلام ہیں سرکار امام زمان علیہ السلام اپنے جد بزرگوار ختم مرتب کے دین و شریعت کااحیاءو اجراءفرمانے والے ہیں آپ خُلق و خَلق میں مکمل شبیہ پیغمبراکرم ہیں خود نبی اکرم کا اپنے فرزند امام مہدی علیہ السلام کے بارے فرمان ہے کہ ”المهدی علیه السلام اشبه الناس خَلقاً وخُلقًا بی “ میرا مہدی علیہ السلام پوری دنیا میں خَلقُ وخُلق میں میری شبیہ ہے(بحارالانوار ۶۱)

۲۔ بارہویں کے اسماءوالقاب

خداوند نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

( وللّٰه الاسماءالحسنی ) “ (سورئہ اعراف آیت۰۸۱)”اللہ کے لئے اسماءحسنیٰ مخصوص ہیں “۔

۱۔ مہدی علیہ السلام

روایات میں درج ہے کہ آپ کو مہدی علیہ السلام کہا جائے گا کیونکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو ہدایات کریں گے ان امور کی طرف جو پہلے لوگوں سے مخفی ہوں گے ان امور سے پہلے کوئی مطلع نہیں ہوگا آپ کو اللہ کی طرف سے ان امور کی ہدایت وراہنمائی مل چکی ہے کہ جس سے اور کوئی مطلع نہیں ہے آپ تمام اسرار و رموز کے جاننے والے ہیں ۔

۲۔ بقیة اللہ

آپ اپنے قیام کے وقت جو پہلا جملہ ارشاد فرمائیں گے وہ یہی ہوگا کہ ”( بقیة اللّٰه خیرلکم ان کنتم مومنین ) “۔ (سورئہ ہودآیت۶۸) روایات میں آیا ہے کہ سرکار امام زمان علیہ السلام سے ملاقات کے وقت یہی کہا جاتا ہے کہ ”السلام علیک یا بقیة اللّٰہ“ یہاں بقیة اللہ سے اشارہ دیا گیا ہے کہ آپ اوصیاءوانبیاءکی باقیات ہیں ۔(النجم الثاقب ص۲۶)

۳۔ حجت

روایات میں ہے”بولاالحجة لساخت الارض باهلها “ کہ اگر حجت خدا زمین میں نہ ہو تو زمین اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل جائے گی۔(کافی ج۱ص۹۷۱)

انسان پر خدا کی دوحجتیں

انسان پر اللہ کی طرف سے دوحجتیں ہیں ۔ ۱۔حجت باطنی ۲۔حجت ظاہری

حجت باطنی

حجت باطنی سے مراد یہاں انسان کا اپنا عقل ہے کہ یہی عقل اللہ کیطرف سے بنیادی رہنما اور حجت ہے ۔

حجت ظاہری

حجت ظاہری سے مراد انبیاء علیہ السلام ، اوصیاء علیہ السلام و آئمہ معصومین علیہ السلام ہیں (حضرت ختمی مرتبت تمام حجج کے سروروسردار ہیں اور جناب سیدہ زہراء علیہ السلام بھی حجت ہیں ) کہ ان کی سنت ان کا قول و فعل ان کی تائی،انسانوں بلکہ کائنات کے لیے حجت خداہے چونکہ معصوم عقل منفصل ہیں اس لیے ان کی حجت پر کوئی دلیل نہیں مانگی جا سکتی ۔(الکافی ج۱ص۹۷۱)سرکار قائم آل محمد کی انگشتری مبارک پر جو نقش کنندہ تھا وہ یہی تھا کہ ”انا الحجة “ میں حجت خدا ہوں اور آپ خطوط کے جواب میں لکھی گئی تحریر کے آخر میں جو دستخط فرماتے تھے وہ ”حجت ابن الحسن علیہ السلام“تھے۔

۴۔ خلیفة اللہ

خداوند متعال نے فرشتوں کومخاطب ہو کرفرمایا ”( انی جاعل فی الارض خلیفة ) “ (سورئہ بقرہ آیت ۰۳)

”میں زمین پر اپنا جانشین بنا رہا ہوں“ ۔ یعنی ہمیشہ زمین پر خلیفہ خدا وحجت خدا موجود ہے کہ سب سے پہلے خلیفہ حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری جناب قائم مہدی علیہ السلام ہیں ۔

۵۔ قائم

سرکار امام زمان علیہ السلام کا قیام ایک مکمل اور ہمیشہ قائم رہنے والا قیام ہے اسی وجہ سے جناب کے مقدس وجود کو قائم بالخصوص ”یاقاءم بامراللّٰه “ قائم قیام کرنے والے کوکہتے ہیں ۔

۶۔ منتظر

یعنی وہ کہ جس کا انتظار کیا جا رہا ہے جیسے کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ پوری دنیا بلا امتیاز، شیعہ سنی و مسلم و غیر مسلم بلکہ لامذہب بھی ایک ایسے مصلح کے منتظر ہیں جو کہ بشریت کو علمی، سیاسی و اجتماعی تاریکیوں سے نکال کر راہ نجات دے ۔ لہٰذا تمام بشریت آپ کے لیے منتظر ہے ۔

۷۔ نور اللہ

سورج کا نورو روشنی زندگی کی بقاءکے لیے ضروری ہے اگر سورج نہ ہو تو زندگی کے اثرات ہی نہ ہوں ، امام زمان علیہ السلام سرکار بھی تین زاویوں سے نور خدا ہیں ۔

الف) حضور نبی اکرم سے سوال کیا گیا کہزمان علیہ السلامہ غیبت مہدی علیہ السلام میں لوگ آپ سے کیسے استفادہ کرینگے جب کہ وہ تو غائب ہونگے حضرت نے جواب میں فرمایا کہ میرا مہدی علیہ السلام مثل اس سورج کے ہے جو بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا ہوتا ہے جب کہ وہ اپنی روشنی پھر بھی پہنچا رہا ہوتا ہے اور زندگی کے اثرات کو بقاءدے رہا ہوتاہے (مہدی علیہ السلام موعود ص۶۴۸نقل از کمال الدین) ازطرف ابن عبداللہ )۔

میرا مہدی علیہ السلام بھی پردہ غیبت سے اپنا نور خلق خدا پر ڈال رہا ہے اور دنیا ان کے نور سے مستفید ہو رہی ہے سرکار قائم علیہ السلام کا نور سورج کی روشنی سے بہت اعلیٰ و برتر ہے کیونکہ سورج کی روشنی میں تپش و جلاو ہے مگر حضور امام زمان علیہ السلام کی روشنی ونورمیں ملائمت اور محبت ہی محبت ہے۔

ب) آپ سرکار امام مہدی علیہ السلام نور ہدایت ہیں جس پر قرآن مجید کی آیات گواہ ہیں ”( یهدی اللّٰه لنوره من یشاء ) (سورئہ نور آیت ۵۳)( واللّٰه متم نوره ) “(سورہ صف آیت۸) یہاں نور سے مراد معنوی اور ہدایت کانورہے۔

ج) سرکار(عج) کا نور نور محسوس ہے یعنی محسوسات سے ہے کیونکہ جو کوئی تاریک رات میں آپ کو دیکھے کہ آپ کے ہرطرف روشنی ونور ہی نور ہے مختلف واقعات میں نقل ہے کہ وہ لوگ جو تاریک اور اندھیری راتوں میں ویرانی میں حضور کی زیارت سے مشرف ہوئے کہتے ہیں کہ بیابان ویرانہ آپ کے نور مقدس کی وجہ سے دن میں بدل جاتاتھا۔اسی لیے دعا کا جملہ ہے۔ ”علیه جلا بیبُ النور وعلم النور فی طغیاءالدیجور “۔ (روز گار رہائی ج۱ص۸۲۱)

آپ نور کے لباس میں ہیں اور آپ تاریکی شب میں نورانی پرچم ہیں ”السلام علیک یا نور اللّٰه الذی لایطفی “ سلام آپ پر اے نور خدا کہ جو کبھی نہیں بجھتا“۔(مفاتیح الجنان )

۸۔ ماءمعین

خداوند کریم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ”( قل اراءیتم ان اصبح ماو کم غوراً فمن یاتیکم بماء معین ) “ ۔ (الملک ۰۳)ترجمہ:۔ مجھے بتاو کہ جب تمہارا پانی تم سے چھپ گیا تو کون ہے جو تمہارا مدد گار پانی کو واپس دلائے پانی چونکہ مایہ حیات اور باعث زندگی ہے اس طرح بارہویں سرکار بھی دو زاویوں سے ماءمعین سے ملقب ہیں ۔

۱) جب سرکار قائم علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو آسمان اور زمینوں سے دریائے رحمت انسانوں کی طرف رواں ہوگا اور بے موسم بارشیں ، دریاوں اور نہروں کے جاری ہونے کا سبب بنیں گی اس لیے حضرت صاحب الامر علیہ السلام کی زیارت میں درج ہے ”السلام علیک یا ربیع الانام و نضرة الایام “۔(مفاتیح الجنان زیارت صاحب الزمان علیہ السلام)

ترجمہ:۔”سلام آپ پر اے دنیا جہان کی بہار اےزمان علیہ السلامہ کے خرمن ذخیرہ اور خوشحالی“اس عبارت میں( ربیع لانام) خلائق کو پھولوں اور سبزوں سے تشبیہ دی گئی ہے سرکار کے ظہور سے اس گل وسبزہ میں بہار آجائے گی اورشادابی پھیل جائے گی۔

ب) بوقت ظہور :بوجہ ظہور دل کو زندہ کردیں گے کیونکہ دلوںکی زندگی آب حیات سے زیادہ باازرش ہے لہٰذا زندہ کندہ یعنی آب حیات سے سرکار کو تشبیہ دی گئی۔

۹۔ غریم

غریم غرامت سے مشتق ہے اس کے دو معانی ہیں قرض خواہ اور قرض دہندہ۔ یہ قرض لینے اور دینے والے دونوں معانی میں مستعمل ہے۔کیونکہ سرکار قائم علیہ السلام کا ہماری گردنوں پر بہت زیادہ حق ہے اور صاحب کتاب وظیفة الانام نے تقریباً ۰۶ حقوق اپنی کتاب میں درج کیے ہیں جو صاحب الامر علیہ السلام کے ہماری گردنوں پر قرض ہیں مرحوم صدرالاسلام ہمدانی نے بھی اور کتاب مکیال المکارم ج ۱۳ص۶۶۱تاآخر (فارسی ترجمہ) میں بھی سرکار قائم علیہ السلام کے کافی زیادہ تقریباً۰۸ حقوق جو کہ ہماری گردنوں پر ہیں کا تذکرہ کیا گیا ہے اسی پر سرکار قرض خواہ ہیں اور کم سے کم سرکار(عج) کاجو حق ہم پر ہے وہ سہم امام علیہ السلام کی ادائیگی ہے۔

دوسری طرف چونکہ خداوند کریم نے انہیں ہماری فریاد رسی کے لئے اور ہمیں فیض رسانی کے لیے پیدا فرمایا ہے اس بنا پر ہم حضرت سے فیض کے خواہاں ہیں اوریوں حضرت مقروض اور ہم قرض خواہ کہ وہ ہمیں معنوی ومادی لحاظ سے عنایت فرمائیں۔

۱۰۔ مطہرالارض

زمین کو پاک کرنے والا آپ کرُہ ارض کو طول وعرض میں ظاہری نجاسات اور باطنی نجاسات سے مکمل پاک فرمائیں گے آپ کے ظہور کے بعد کچھ نجاستوں کا وجود ختم ہوجائے گا اور انہیں ختم کردیں گے۔ مثلاً سور،کتا،کافر،شراب اور دیگر پلیدوں کو ختم فرمائیں گے۔

۱۱۔ عدل مشتہر

حضرت امام مہدی علیہ السلام مظہر عدل پروردگار ہیں بعض دعاوں میں ذکر ہے”والعدل المشتهر مطهر الارض وناشرالعدل فی الطول والعرض “۔ (مفاتیح الجنان زیارت صاحب الامر)آپ محمدی عدل مشہور ہیں اورزمین کو رذائل سے پاک کرنے والے ہیں اور پوری دنیا میں عدل و انصاف کی فراہمی کرنے والے ہیں ۔


باب دوئم

جھوٹے مدعیان مہدی علیہ السلام

زمانہ غیبت کے بعد کئی لوگوں نے امام مہدی علیہ السلام ہونے کا جھوٹادعویٰ کیا اور کئی افراد کے گمراہ ہونے کا باعث بنے جن میں سے ہم یہاں کچھ جھوٹے مدعیاں مہدی کا تذکرہ کریں گے۔

۱۔ جعفر کذاب

جب حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے ہاں جعفر نامی بیٹے کی ولادت ہوئی تو بجائے خوش ہونے کے امام علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر اداسی چھا گئی اہل خانہ سے کسی خاتون نے افسردگی کیوجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا صبر کرو کئی لوگ اس مولود یعنی جعفر کی وجہ سے گمراہ ہوجائےں گے جب جعفر جوانی کی حدود میں سے داخل ہوا تو شراب وشباب کی محفلیں سجانے لگا حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے دوستوں کو جعفر کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور راہ ورسم رکھنے سے منع فرمادیا اور کہاکہ وہ میری اطاعت سے نکل گیا ہے وہ دین سے اورتعلیمات دین اسلام سے باہر ہوگیا ہے فرمایا ”( تجنبواابنی جعفر فانه بمنزلة نمرود ابن نوح µ الذی قال اللّٰه یانوح انه لیس من اهلک انه عمل غیرصالح ) “ ۔ (سورئہ ہود ۶۴)(تاریخ سامراءج۲ص۱۵۲)”میرے بیٹے جعفر!سے بچو یہ مثل فرزند نوح کے ہے(بعض جگہوں پر نوح کے بیٹے کا نام کنعان تھا، احتمال دیاجاسکتا ہے کہ اسکے دونام ہوں) جس کے بارے اللہ نے نوح سے فرمایا تھا کہ یہ تم میں سے نہیں کیونکہ اس کا عمل غیر صالح ہے“ حضرت نے جعفر کے معاملہ کو بہت زیادہ بیان کیا اور اسکے قصہ کو بہت تفصیل سے شیعوں کو ذکر فرمایا تاکہ فرزند امام ہونے کے ناطے کوئی اس سے دھوکہ نہ کھائے، جب ایک شخص نے جعفر بارے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: جعفر علی الاعلان بدکار ہے وہ نافرمان خدا ہے وہ فاجر اور شراب خوارہے۔

جعفر کے غیر شرعی اقدامات

جو بات روایات سے سامنے آتی ہے کہ جعفر نے تین آئمہ معصومین علیہ السلام کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ان کی مخالفت کرتا رہا اور سرکار قائم کے خلاف اعلانیہ مخالفت اور مبازرہ کرتا رہا اور اس نے آئمہ حق سے تین طرح سے مخالفت جاری رکھی۔

دعویٰ امامت

جعفر نے اپنے بھائی امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امامت کا دعویٰ کردیا پہلے تو وہ امام کی تعزیت کے لئے آنے والوںاور افسوس کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا پھر اس نے امامت کی مبارک بادیں قبول کرنا شروع کردیں اس کے بعد اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی نماز جنازہ پڑھانے کی تیاری کی اور اس بارے حکومت وقت کی مکمل حمایت حاصل کی تاکہ وہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی جگہ اپنے آپ کو امام منوائے اورشیعوں کی باگ ڈور اس کے ہاتھ لگ جائے، اس کام کے لئے اسے حکومت وقت کی مکمل تائید حاصل تھی۔

حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام)کے ورثاءسے انکار

جعفر نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے دیگر وارثان سے مکمل انکار کرکے اپنے آپ کو واحدوارث ظاہر کیا چنانچہ ہم بعد میں دیکھتے ہیں سرکار امام مہدی علیہ السلام نے کس خوبصورت انداز میں اس سے وراثت بارے مبارزہ کیا

غصب میراث کے لیے حکومت کو تحریک

جب جعفر نے نماز جنازہ کے موقع پر سرکار قائم کے آنے اور نماز جنازہ پڑھانے کے بعد کی صورتحال کو دیکھا تو اس نے حکومت وقت کو دعوت دی کہ وہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی میراث کو اپنے قبضہ میں لے لیں۔ جس کے بعد حکومتی کارندوں نے دوبارہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر پر دھاوا بول دیا اور امام مہدی علیہ السلام کی تلاش میں گھر کا کونہ کونہ چھان مارا لیکن حضرت قائم علیہ السلام کو تلاش نہ کرسکے جعفر نے تمام اموال امام حسن عسکری علیہ السلام پر حکومتی کارندوں کے ذریعہ قبضہ کرلیا اور اپنے استعمال میں لے لیا اس کے لیے اس نے دو باتوں کا سہارا لیا۔

۱۔ چونکہ سرکار قائم علیہ السلام کی ولادت مخفی تھی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کا ظاہراً کوئی بیٹانہ تھا پس جعفر نے اپنے آپ کو امام حسن عسکری علیہ السلام کا جانشین متعارف کرا کے تمام اموال کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور خود کو تنہا وارث کے طور پر تعارف کرایا۔

۲۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد جعفر نے اپنے آپ کو امام کہلوانا شروع کردیا اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے تمام اموال پر تصرف اپنا شرعی حق سمجھتا رہا جعفر نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے اہل خانہ کو لوازمات زندگی مثلاً خوراک ،لباس و رہائش کے حوالہ سے انتہائی تنگ دستی کا شکار کردیا کوئی بھی ان کے ساتھ اظہار ہمدردی یا محبت نہیں کرسکتا تھا جو کوئی ان کے ساتھ اظہار محبت کرتا حکومت کے نزدیک معتوب ٹھہرتا۔

ایک گروہ کی قم سے سامرہ آمد

ایک گروہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی زیارت اور مال امام و دوسری امانتیں آپ تک پہنچانے کےلئے قم سے عازم سامرہ ہوا۔جب یہ گروہ سامرہ پہنچا تو انہیں پتہ چلا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام شہید ہوگئے ہیں وہ حضرت کے جانشین کی تلاش کرنے لگے کچھ لوگوں نے انہیں جعفر کا تعارف بطور جانشین امام کرایا وہ جعفر کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جعفر دریائے دجلہ میں ایک کشتی پرسوار ہو کر مشغول شراب نوشی ہے اور اسکے ساتھ کئی اور ساتھی بھی ہیں جعفر جب گھر واپس آیا تو یہ گروہ گھر پر جعفر سے ملنے آیا اور انہوں نے کہا ہم قم سے آئے ہیں ہمارے پاس قم کے شیعوں کی طرف سے دی گئی رقم کی تھیلیاں ہیں جو کہ سربمہر ہیں اور سابقہ طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ خود امام بتاتا ہے کہ تھیلی میں کتنے سکے ہیں ، ان پر کیا نقش ہے اور یہ تھیلی کس نے بھیجی ہے اگرتو امام کا جانشین ہے تو وہی خصوصیات اور نشانیاں بتا اورہم سے یہ امانتیں اپنی تحویل میں لے۔جعفر نے کہا کہ میں علم غیب نہیں جانتا اور تم بھی جھوٹ بولتے ہو کہ میرابھائی حسن عسکری علیہ السلام غیب جانتا تھا اور ان سے کہا کہ امانتیں مجھے دے دو انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کے اموال کے وکیل ہیں ہمارا شرعی وظیفہ ہے کہ رسم قدیم کے مطابق ہم امانتیں اس کے حق دار کو تحویل دیں ورنہ ان کے بھیجنے والوں کو لوٹائیں گے۔جعفر معتمدعباسی خلیفہ وقت کے پاس گیا اور قم سے آنے والے گروہ کی شکایت کی جعفر اور اس گروہ کو دربار طلب کرایا گیا دونوں طرف کی باتیں سننے کے بعد معتمد نے کہا کہ وکیل موکل کے اذن کے ساتھ ہی حق تصرف رکھتا ہے اس نے گروہ کو حق دیاکہ وہ امانتیں واپس لے جائیں اس گروہ نے معتمد سے درخواست کی کہ ایک مامور متعین کردیاجائے تاکہ وہ اس مامور کی نگرانی میں شہر سامرہ سے باہر جائیں جب وہ شہر سے باہر نکلے تو ایک شخص ان سے ملا اور کہاکہ اپنے مولا کی خدمت میں چلو،انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ تو اس شخص نے کہا میں غلام، امام حسن عسکری علیہ السلام ہوں اور تمہیں انکے گھر تک راہنمائی کرنے آیا ہوں وہ لوگ اس شخص کےساتھ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر پہنچے انہوں نے وہاں سرکار قائم کی زیارت کی جو کہ سبز لباس میں ملبوس چمکتے ہوئے چہرے کےساتھ ایک تخت پر تشریف فرماتھے انہوں نے سلام کیا حضرت نے جواب دیا اور پھر ان کی رقومات کی تعداد نقش اور بھیجنے والوں کے بارے تمام تفصیلات سے انہیں آگاہ فرمایا، انہیں ان کے جانوروں تک سے آگاہ فرمایا، اس گروہ نے خوشی کی وجہ سے سجدہ شکر ادا کیا اور تمام اموال حضرت کے سپرد کیے حضرت نے انکے سوالات کے جوابات بیان فرمائے اور فرمایا کہ میں تمہارے لیے اپنے افراد میں سے ایک نمائندہ مقرر کرتاہوں آئندہ ہماری بجائے اموال وغیرہ اسی کی تحویل میں دے دیا کرو اور اس کے ذریعہ مجھ تک رسائی حاصل کیا کرو پھر وہ گروہ حضرت سے رخصت ہوا یہ واقعہ آغاز غیبت صغریٰ کا ہے جس کا دورانیہ ۰۷ سال تک تھا۔

جعفر کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کا امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر اہل قم کے گروہ سے ملاقات اور اموال کی تحویل کا پتہ چل گیا اس نے یہ خبرمعتمدکو دے دی حکومتی کارندوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر دوبارہ دھاوا بول دیا امام علیہ السلام کے گھر میں جو کچھ تھا اسے اپنے قبضہ میں لیا اور سرکار قائم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ بی بی نرجس علیہ السلام خاتون کو گرفتار کرلیاگیاحکومت وقت اور عدالت نے بی بی نرجس علیہ السلام خاتون کو مورد الزام ٹھہرایا اورسخت تکلیف میں رکھا اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو حکومتی تحویل میں دے بی بی نرجس علیہ السلام نے تمام واقعہ سے اظہار لاعلمی کیا اور کہا کہ کیسا بیٹا جب کہ میں نے ابھی تک کسی بچے کو نہیں جنا اور میں تو ابھی حاملہ ہوں جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ بی بی کو وزیر اعظم حکومت اور قاضی ابن شوراب کے گھر خواتین کی نگرانی میں رکھا گیا تاکہ ولادت مولود یہیں ہو لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔(منتہی الامال میں ہے کہ غیبت صغریٰ ۴۷سال ہے)۔

جعفرکا انجام

(جعفر کے انجام بارے بحث ”المہدی من المہدالی الظہور“سے لی گئی ہے)

محدثین جعفر کذاب کی توبہ بارے اختلاف رکھتے ہیں جو جعفر کی توبہ کرنے بارے نظریہ رکھتے ہیں ان کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں ہے کہ جس سے توبہ جعفرثابت ہو سوائے سرکار امام زمان علیہ السلام کے اس جواب کے جوانہوں اسحاق بن یعقوب کے سوال کے جواب میں محمدبن عثمان کوفرمایا وہ جملہ یہ ہے ”واما سبیل عمی جعفرو ولدہ سبیل اخوةیوسف“۔ کہ میرے چچا جعفر اور اس کے بیٹوں کا راستہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں والا راستہ ہے اس جملہ سے برادران یوسف علیہ السلام کی خطا ظاہر ہوتی ہے لیکن بردران یوسف علیہ السلام کا تذکرہ کچھ یوں بھی ہے کہ”یاابانااستغغفرلنا ذنوبنا اناکنا خاطئنِ“۔(سورئہ یوسف ۷۹)

اے ہمارے باپ ہمارے لیے استغفار کر ہمارے گناہوں پر کہ ہم خطاکار ہیں اور جواب میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا ”سوف استغفرلکم ربی “۔(سورئہ یوسف آیت۸۹)” میں تمہارے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا“۔یہاں امام زمان علیہ السلام کے جواب سے یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ چونکہ برادران یوسف علیہ السلام کی توبہ قبول ہو گئی تھی جعفر اور اس کے بیٹوں کا راستہ بھی برادران یوسف علیہ السلام کی طرح ہے جب کہ یہ توقیع مکمل مطابقت نہ رکھتی ہے کیونکہ برادران یوسف علیہ السلام نے درخواست استغفار کی تھی جب کہ جعفر نے تفاضائے عفووبخشش نہیں کیا۔(اگرچہ اس توقیع کا شیخ صدوقؒ نے کمال دین میں حوالہ نقل کیا ہے اگرچہ شیخ صدوقؒ ثقہ وبااعتماد ہیں لیکن اوپر جودلائل بیان ہوئے ہیں ان کی روشنی میں ایسی توقیع کا صحیح ہونا ثابت نہیں )۔

آقائے سید محمدصدرجوکہ کتاب زندگانی حضرت مہدی علیہ السلام کے مصنف ہیں اس توقیع بارے تحریر کرتے ہیں کہ یہ توقیع محمد بن عثمان نائب ”دوئم امام زمان علیہ السلام علیہ السلام“ کی طرف سے ہے لیکن اس کی تاریخ معلوم نہیں ہے ہم اس توقیع کو عقل وعدل کے ترازو میں جانچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ صورتحال واضح ہوسکے اگر اس جملہ امام سے مراد، راہ برادران یوسف علیہ السلام ۔ اشارہ توبہ کی طرف ہے تو دوسری طرف حضرت امام علی نقی علیہ السلام کا فرمانا کہ جعفر کا راستہ نمروداور پسرنوح علیہ السلام کا راستہ ہے یہ دونوں فرمان آپس میں ٹکراتے نظر آتے ہیں کیونکہ پسرنوح مجسمہ فساد تھا اور آئمہ علیہ السلام نے جعفر کی پیدائش سے پہلے اس کی بدکاریوں بارے خبریں دی تھیں ان پیشینگوئیوں کے ہوتے ہوئے اسے جعفرتواب کے عنوان سے کیسے پکاریں؟ اگر جعفر نے توبہ کرنی تھی اور اس کی توبہ قبول ہونی تھی تو پھر آئمہ معصومین علیہ السلام نے اس کی بدکاریوں کا تذکرہ کیوں کیا لوگوں کو اس کے برے اعمال کا تعارف کیوں کرایا جب کہ اس کا سرانجام توبہ ہونا تھا لہٰذا دوسرا سب سے بڑا ظلم یعنی دعویٰ امامت کیا جو کہ ناقابل معافی وبخشش ہے قرآن کہتا ہے ”فمن افتریٰ علی اللّٰہ کذبا“ (سورئہ انعام ۱۲) ”خداوندکریم پر جھوٹ باندھنے سے بڑا اور کیا ظلم ہے؟۔جعفر کذاب نے ایک نہیں تین آئمہ علیہ السلام کو اذیت دی ہے اور وہ تین آئمہ علیہ السلام کی تکالیف کا موجب بنا ہے ۔

۱۔حضرت امام علی نقی علیہ السلام ۲۔حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ۳۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام

جس کسی نے ایک معصوم علیہ السلام کو ناراض کیا وہ ناقابل بخشش ہے اور کجا کہ تین آئمہ معصومین علیہ السلام کی ناراضگی اس نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کو سخت اذیت دی ان کی میراث غصب کی آپ کی والدہ گرامی بی بی نرجس علیہ السلام کو سخت تکالیف میں مبتلا کیا اسی جعفر کی وجہ سے امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو اذیت ہوئی قرآن کی رو سے نبی کے قرابت داروں کے گناہ بانسبت دوسروں کے دوبرابرسزارکھتے ہیں اور اسی طرح ان کی نیکی کی جزا بھی دوسروں کی نیکی کے دوبرابرہے.... جعفر بھی فرزند امام تھے، اس کی برائی بھی یقینا دو برابر ہوگی توکہا جاسکتا ہے کہ جس نے اتنا ظلم کیا ہو اس کی توبہ کیسے قبول ہوسکتی ہے قرآن اسی طرح کے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :”( ختم اللّٰه علی قلوبهم وعلی سمعهم وعلی ابصارهم غشاوة ) “ ۔ (سورہ بقرہ آیت۷)

ترجمہ:۔ ”انکے دلوں اور انکے کانوں اور انکی آنکھوں پرمہر لگ چکی ہیں یہ قابل ہدایت نہیں “۔

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ”( کذلک یطبع الله علی کُلِّ قلبٍ متکبرجبار ) “۔(سورئہ غافر آیت ۵۳)”خدا نے ہر متکبر اور جابر کے دل پر مہر لگادی ہے“۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ جعفر کذاب نے توبہ کی تھی تو یہ اس چیز کی دلیل تونہیں کہ اس کی توبہ قبول ہوگئی ہے کتنے لوگ ہیں جو توبہ کرتے ہیں مگر ہم ان کی توبہ کی قبولیت بارے کچھ نہیں کہہ سکتے آیات و روایات کی رو سے چار افراد کی توبہ قبول نہ ہوسکے گی۔ان میں سے ایک وہ ہے جو خلق خدا کوگمراہ کرے اوراسے غلط راستہ دکھائے ۔جعفر کذاب نے آئمہ علیہ السلام حق سے لوگوں کو گمراہ کر کے غلط راستہ پرلگادیا۔ بعض روایات و آیات کی روشنی میں اس کی توبہ قبول نہیں ہوسکتی۔

جن چار گروہوں کی توبہ قبول نہیں وہ یہ ہیں ۔

۱۔ جو عذاب دیکھ کر توبہ کرے جیسے فرعون نے کیا۔ (سورہ غافر آیت۵۸)

۲۔ جوشخص حالت احتضار میںہو، سب پردے آنکھوں سے ہٹ جائیں۔

۳۔ جس کسی نے کسی اور شخص کو گمراہ کیا ہو اور وہ مرچکا ہوجب کہ ایسا شخص اب اس کی صحیح راہنمائی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ مرچکا ہوتاہے۔

۴۔ جس کسی نے پیغمبر یامعصوم (نمائندہ خدا) کوشہید کیاہو۔

ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے پیغمبراکرم سے سوال کیا کہ میں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور کچھ لوگ میرے پیروکاربن گئے تھے تو میری توبہ کیسی ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا: کہ جن لوگوں کو تونے گمراہ کیا ہے ان کو دوبارہ سیدھے راستے پر لے آجو ان گمراہ ہونے والوں میںسے مرگئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کر اور پھر انہیں ہدایت کر اس کے علاوہ جعفر کذاب دو آیت قرآن کا مصداق ٹھہرتا ہے ”( الا لعنة اللّٰه علی الظالمین ) “۔(سورئہ ہود آیت۸۱)”( الذین یصدّ ون عن سبیل اللّٰه یبغونهاعوجا ) “۔(سورئہ اعراف آیت۵۴)

انہیں دو آیات کی رو سے اسے جعفر کذاب کا لقب دیاجاسکتا ہے اور ان ہی کاموں کی وجہ سے لوگوں میں وہ کذاب کے نام سے مشہورہوا۔

(عرض مترجم: قارئین محترم ہم نے جعفر بارے مصنف کتاب کی تحریر میں کسی قسمی کمی بیشی کئے بغیر من و عن ترجمہ کردیا ہے جو کہ مصنف کی ذاتی تحقیق ہے البتہ بعض علماءکی تحقیق اور اس موضوع پر لکھی گئی قدیم کتب سے جعفر کی توبہ ثابت ہے اور یہی رائے مبنی بر حقائق ہے البتہ مزید تحقیق کے لئے قدیم کتب ، غیبت شیخ طوسی، غیبت نعمانی، اکمال الدین کی طرف رجوع کیا جا سکتاہے۔)


باب سوئم

مہدویت کے دعویدارجھوٹے مدعیان مہدویت

( ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبااوکذب بایٰاته ) “ ۔(سورئہ انعام آیت۱۲)

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مہدویت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور بڑی واضح ہے یہ مسئلہ مہدویت بھی مسئلہ توحید و نبوت کی طرح ثابت اور روشن ہے اسی وجہ سے جس طرح دنیا میں کئی جابروں نے خدائی دعویٰ کیا مثلاًفرعون وغیرہ اسی طرح کئی افراد نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے مثلاً مسیلمہ کذاب تو بالکل اسی طرح مہدویت بارے بھی کئی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے اور اپنے آپ کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے طور پر متعارف کرایا طول تاریخ میں تقریباً کم وبیش ۰۵ افراد نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جن میں سے ۹ افراد نے کافی شہرت پائی ان کا تذکرہ ہم اس باب میں کریں گے۔(مرحوم عماد زادہ نے کتاب ولی عصر میں ۳۵ نام لکھے ہیں اور آقای محمد بہشتی نے اپنی کتاب ادیان ومہدویت میں ۶۴افراد کے نام لکھے ہیں )

چونکہ پیامبراکرم کےزمان علیہ السلامہ ہی سے امام مہدی علیہ السلام بارے روایات و انکشافات ہوتے رہے ہیں اس لیے کچھ ایسے دعویٰ کرنے والے بھی ہیں جنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے ہی دعویٰ مہدویت کیا اور کچھ نےزمان علیہ السلامہ غیبت صغریٰ میں دعویٰ کیا اور کچھ نے غیبت کبریٰ کےزمان علیہ السلامہ میں مہدویت کا دعویٰ کیا۔

دعویٰ مہدویت قبل از ولادت امام مہدی علیہ السلام

۱۔ مختار بن ابوعبیدہ ثقفی

جوکہ امام حسین علیہ السلام کے خون کا انتقام لینے والوں میں شامل ہے اس نے ۴۶ ہجری میں امام حسین علیہ السلام کے خون کا انتقام لینے کے لیے قیام کیا مختار پہلے پہل جناب محمد حنفیہ کو امام مانتا تھا اور پھر اس نے مہدویت کا دعویٰ کیا اور آخر میں حقیقی شیعہ آل محمد کے طورپر سامنے آیا۔ امکان یہ ہے کہ اس نے کچھ مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے بظاہر جناب محمد حنفیہ کی امامت کا سہارا لیاہے جب کہ محمد بن حنفیہ نے دعویٰ امامت کیا ہی نہیں تھا مختار کا مقصد حکومت وقت سے بظاہر بچنا تھا یازیادہ قریب از حقیقت یہی رائے ہے کہ مختار ثقفی جو کہ خون حسین علیہ السلام کا منتقم تھا، نے کچھ مخصوص سیاسی حالات کی وجہ سے جناب محمد حنفیہ کو امام ظاہر کیا اور پھر خون حسین علیہ السلام کا انتقام لیا جب کہ مختار ثقفیؒ مذہب اہل بیت علیہ السلام کے نزدیک ایک محترم و قابل تحسین شخصیت شمار ہوتی ہے۔

(عرض مترجم:حضرت مختار ثقفیؒ کے بارے یہ کہنا کہ انہوں نے امام مہدی علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا ہمارے نزدیک ثابت نہ ہے۔ مندرجہ بالا تحریر مصنف کتاب کی ذاتی تحقیق ہے جس کا من و عن ترجمہ تحریر کر دیا گیاہے۔)

۲۔ محمد بن عبداللہ مخص

یہ نفس ذکیہ کے نام سے معروف ہوئے اس نے بھی قبل از ولادت حضرت صاحب الامر علیہ السلام دعویٰ مہدویت کیا اس کے پیروکاروں نے ایک حدیث گھڑی کہ جس کی بنیاد پر انہوں نے اسے مہدی موعود کہنا شروع کیا، پیامبر اکرم کا فرمان ہے کہ مہدی علیہ السلام کا نام میرا نام ہوگایعنی محمد اس کے باپ کا نام بھی میرے باپ کے نام پر ہوگا یعنی عبداللہ ہوگا جو کہ نفس ذکیہ کانام ہے محمد اور اس کے والد کانام عبداللہ تھا اسی بنا پر حدیث گھڑ کر اسے مہدی موعود بنادیاگیا۔نفس ذکیہ کے قیام اور قتل ہونے بارے ذکر منتہی الآمال میں درج ہے یہ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پوتے تھے اور ان کازمان علیہ السلامہ امام جعفر صادق علیہ السلام کازمان علیہ السلامہ تھا، احتمال قوی یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے محمدبن عبداللہ نفس ذکیہ کو مہدی متعارف کرایا جب کہ نفس ذکیہ قطعاً اس پر راضی نہ تھے۔(میں جناب مختار اور جناب محمد بن عبداللہ محترم سمجھتا ہوں ”والله العالم “ لیکن مہدویت کے جھوٹے دعویداروں میں ان کے نام کتابوں میں درج ہیں تو اس لئے میں نے بھی لکھ دیئے ہیں مصنف)۔

مدعیان مہدویت بعد از ولادت حضرت امام مہدی (علیہ السلام)

کچھ لوگوں نے حضرت صاحب الامر علیہ السلام کی ولادت کے بعد سرکار کی غیبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ مہدویت کیا جن کی تعداد بہت زیادہ ہے یہاں ہم کچھ کا ذکر کریں گے۔

۱۔ ابومحمد عبداللہ مہدی

یہ آغاز میں انتہائی متقی و پارسا تھا مکتفیٰ عباسی کےزمان علیہ السلامہ میں زندگی کی ، اس نے افریقہ میں یہودکے ساتھ سازش کی اور کئی جنگیں لڑیں اس نے ۰۷۲ ھ میں اپنے مبلغ کو مغربی ممالک کی طرف بھیجا اور اس نے یمن میں امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اس نے اپنا لقب القائم رکھا اور اپنے سکّہ پر حجة اللہ کندہ کروایا اپنے آپ کو مہدی موعود اور امیرالمومنین کہلوایا اس نے افریقہ میں اپنے بہت سے پیروکار پیدا کرلیے اور ۴۴۳ ہجر میں وفات پائی۔

۲۔ محمد بن تومرت (ابا عبداللہ مغربی)

اس کی پیدائش ۵۸۴ھ میں ہوئی اور اس نے ۲۲۵ھ کو دعویٰ مہدویت کیا اس نے کئی اہم جنگیں لڑیں اور ۴۲۵ھ میں وفات پائی اس کی وفات کے بعد عبدالمومن اس کا جانشین بنا ۔ وہ بھی ۲۵۵ھ کو دنیا سے چلا گیا عبدالمومن کے بعد اس کا جانشین یوسف بناجس نے یورپ کے ساتھ جنگ کی اور فتح حاصل کی ۰۸۵ھ کو دنیا سے رخصت ہوا (ادیان مہدویت از ابن خلکان وابن اثیر)

۳۔ مہدی (یامہتدی)سوڈانی

یہ ۷۴۸۱ءمیں پیدا ہوا یہ ۱۸۸۱میں صوفیوں کے ساتھ مربوط ہوا اسی سال اس نے قیام کیا سخت جنگ کے بعد اس نے دعویٰ مہدویت کیا اس نے سوڈان پر حملہ کر کے سب سے پہلے خرطوم (دارالحکومت) کو اپنے قبضہ میں لیا پھر آہستہ آہستہ پورے سوڈان پر اپنی گرفت مضبوط کی اس نے اپنے چار جانشین مقرر کیے جوکہ ایک کے بعد ایک اس کا جانشین تھا۔

۴۔ غلام احمد قادیانی

اس نے ماضی قریب میں خروج کیا اور دعویٰ مہدویت کیا اس نے تمام اقوام عالم میں اعلان کیا کہ میں وہی ہوں جس کا تم سب کو انتظار ہے اس نے عیسائیوں کو کہا کہ میں مسیح عیسیٰ ہوں یہودیوں کو کہا کہ میں آخری نبی ہوں، اس کی بہت ساری کتابیں موجود ہیں ۔

۵۔ مرزا طاہر حکاک اصفہانی

یہ سید کاظم رشتی کے شاگردوں سے ہے یہ اصفہان سے تہران اور پھر وہاں سے اسلامبول چلا گیا اسلامبول کی مسجد ریا صوفیہ کے ساتھ تحریروحکایت میں مشغول ہوگیا اور اپنے آپ کو ناصح العالم کے لقب سے ملقب کرنے لگ گیا اس نے ایک خط ناصرالدین شاہ کو لکھا جسکی عبارت نورچشم عزیزم ناصرالدین مرزا تھی اور ایک خط اس نے سلطان عبدالمجید ثانی کو ترکی زبان میں تحریر کیا جس میں اسے بھی عزیز اور برخوردار لکھا کہ میں تمام انبیاء علیہ السلام کی طرف سے منتخب کیا گیاہوں کہ بشر کو وعظ و نصیحت کروں اس نے دعویٰ مہدویت کے بعد بہت زیادہ پیروکار پیدا کر لیے اور وہ ۰۵۳۱ھ میں قتل ہوگیا۔

۶۔ سید محمد مشہدی

یہ اصل مشہد سے تھا اس نے ہندوستان میں سلطان ہند فرخ کےزمان علیہ السلامہ میں دعویٰ مہدویت کیا سلطان ہندفرخ سیر نے اس کی بیعت کرلی اور ایک نیا مذہب خفشانی کے نام سے ایجاد کیا اس نے دعویٰ نبوت اور وحی بھی کیا اس نے دعویٰ کیا کہ میں سیدہ زہراء علیہ السلام کا سقط شدہ محسن ہوں اس نے ایک نماز ایجاد کی جو چھ اطراف منہ کر کے پڑھی جاتی تھی اوپر، نیچے، شمال ، جنوب، مشرق، مغرب اوراپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ وہ تمام جہات کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں اس کی ایک کتاب بھی بنام مہمل بافی مثل مہمل بافی مرزا محمد علی باب کے ہے۔ اس کے پیروکاران کی مختلف عیدیں ہیں ان کی اہم ترین عید ۷۱ ذی الحجہ بنام عیدالجشن ہے اس کی مشہور ترین کتاب (قوزہ مقدس) ہے۔

۷۔ سیدعلی محمد باب

یہ یکم محرم ۵۳۲۱ھ کو شیراز میں پیدا ہوا۔ اس کے باپ کا نام سید محمدرضا اور اس کی والدہ کا نام فاطمہ بیگم تھا بچپن میں اس کا والد فوت ہو گیا یہ اپنے ماموں کی زیر کفالت پلتا رہا جب سید علی ۸سال کا ہوا تو شیخ عابد کے پاس تحصیل علم کے لیے چلا گیا ۷۱ سال کی عمر میں اپنے ماموں کے ساتھ تجارت کی غرض سے بوشہر چلا آیا اور وہاں ۵سال مقیم رہا ان پانچ سالوں میں اس نے کوئی خاص تجارت نہیں کی بلکہ مکان کی چھت پر ذکر و دعا میں مصروف رہتا اسی وجہ سے اسے سید ذکر بھی کہا جاتا تھا ۲۲ سال کی عمر میں بوشہر سے شیراز واپس آگیا اس کے بعد وہ مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوگیا وہ دوسال کربلا معلےٰ میں سید کاظم رشتی کے درس میں شریک رہا۔

سید علی محمد کی دعوت آغاز میں اور آخر میں

(اس بحث کو کتاب جمال ابہی اور تاریخ جامعہ بہائیت سے لیاگیاہے)

۹۵۲۱ھ میں سید کاظم رشتی جو کہ شیخ احمداحسائی بانی فرقہ شیخیہ کا شاگرد تھا فوت ہوگیا اس نے اپنے کسی جانشین کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مقرر کیا بلکہ اپنے پیروکاروں پر چھوڑگیا کہ اس کے بعد کچھ پیروکارحاج عبداللہ محمد کریم خانی کرمانی کے پاس جمع ہوگئے جوکہ کاظم رشتی کا شاگرد تھا اور اسے بطور رکن رابع چن لیا۰۶۲۱ھ میں سید علی محمد نے ملاحسن بشرویہ کی مدد سے خود کو رکن رابع اور سید کاظم رشتی کا جانشین متعارف کرایاآخرکار وہ باب امام غائب کہلانا شروع ہوگیا اور سید کاظم رشتی کے شاگردان وپیروکار سید علی محمد باب سے منسلک ہوگئے۔یہ بات درست معلوم نہیں کہ سید علی محمد باب اپنی دعوت کے آغاز سے ہی دعویٰ مہدویت کی خواہش اور ادعیٰ رسالت کی آرزو رکھتا تھا بلکہ بعد میں اسے یہ خیال آیا آخر کار اس نے خود کو قائم مہدی اور آخر کاررب اور خدا کہلوایا ۔

جس وقت سید علی محمد نے شیراز میں دعویٰ نیابت خاصہ کیا تو فرقہ شخیہ کے ۸۱ افراد کے ایک گروہ نے اسکی دعوت قبول کی اور اٹھارہ افراد کو اسی نے حروف حی کا نام دیا سید علی محمد اور اسکے پیروکاروں سے اہل شیراز نفرت کرنے لگے جسکی بنا پر اس نے فیصلہ کیا کہ انہیں شیراز سے باہر چلے جانا چاہیے ۰۶۲۱ھ میں اپنے ماموں کےساتھ عازم حجاز ہوا اس نے ملا حسن بشرویہ ای کونامہ بھیجااور کہا کہ تم سیاہ پرچموں کے ساتھ مشہد سے نجف آجانا اور وہ خود مکہ سے خروج کر کے نجف آجائے گا اس کام سے اس کا ارادہ یہ تھا کہ وہ ان روایات کو اپنے اوپر ثابت کرنا چاہتا تھا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام مکہ میں ظاہر ہوں گے تو خراسان سے سیاہ پرچموں کے ساتھ گروہ خروج کرے گا۔

سید علی محمد مکہ میں لوگوں کی کثرت سے خوف زدہ ہوگیا اور اس نے نجف جانے کا ارادہ بدل دیا اور ایران کی طرف چل پڑا اور دریائی راستہ سے داخل بوشہر ہوا اور پھروہاں سے شیراز چلاآیا حاکم شیراز نے اسے گرفتار کر لیا اور زندان میں بند کردیا حاکم شیراز نے علماءکی ایک محفل کا اہتمام کیا جنہوں نے علی محمد سے سوال وجواب کیے سید علی محمد اس علماءکی محفل میں رسوا ہوا طے پایا کہ اسے تنبیہہ کی جائے اس نے مسجد وکیل شیراز میں منبر پر اپنے الفاظ واپس لینے اور توبہ کرنے کا اعلان کیا لیکن علی محمد نے جب شیراز کے حالات نامساعد دیکھے تو معتمد الدولہ جو والی اصفہان تھا جس سے اس کی خفیہ دوستی اور روابط تھے اور وہ بیمار بھی تھا علی محمد نے شیراز سے اصفہان کی طرف فرار کیا ۔

اصفہان کے قریب جا کر اس نے ایک خط والی اصفہان کو اپنی آمد بارے لکھا معتمداصفہانی نے اس کے استقبال کے لیے کچھ لوگ اصفہان سے باہر بھیجے اسے امام جمعہ کی رہائش گاہ پر ٹھہرایا گیا اور ۰۴ روز تک اسے وہاں مہمان رکھا گیا اور اس کی خاطر مدارت کی گئی۔

والی اصفہان نے اس کی عزت وتکریم کے لیے علماءاصفہان کا اجلاس طلب کیا اور علماءاصفہان سے درخواست کی کہ اجلاس میں شرکت کریں مگر صرف چار علماءنے اس اجلاس میں شرکت کی ان چار علماءمیں سے ایک نے سید علی محمد باب سے پوچھا کہ تو مقلد ہے یا مجتہد تو علی محمد نے سخت لہجے میں جواب دیامیں باب ہوں نائب خاص اما م مہدی ہوں ، پیغمبرہوں اور مقام ربوبیت پر فائز ہوں یہ تم مجھ سے کیسی باتیں پوچھ رہے ہو۔اور بھی علماءنے کچھ سوال کیے جب بھی علماءنے اس سے کوئی دلیل چاہی تو جواب میں اس نے مہمل جملے بولنے شروع کردیے کہ جن کا کوئی مفہوم نہیں تھا۔ مثلاً ”هواللّٰه من له لبهی والبیهوت یامن الجل والجیلوت یامن له اللکمل الکلموت یامن العظم و فالعظموت “وغیرہ۔ (تاریخ جامع بہائیت باب کے محاکمہ کو۱۱ محرم ۲۶۲۱ھ لکھاہے)۔

سید علی محمد باب کو والی اصفہان کی مکمل سرپرستی وحمایت حاصل رہی چھ ماہ بعد والی اصفہان فوت ہوگیا علماءاصفہان نے بعد والے والی سے علی محمد کی شکایت کی والی نے تمام معاملہ تہران لکھ کر بھیج دیا تہران سے جواب آیا کہ اسے تہران بھیج دو اسطرح علی محمد عازم تہران ہوا اور تہران میں کلین کے مقام پر ۰۴ روز قید رہا جو کہ تہران کے نزدیک ہے وہاں سے اسے ماکو کے قلعہ میں بھیج دیا گیا وہاں کم وبیش ایک سال قید رہا اس کے بعد اسے قلعہ چہریق میں تین ماہ قید رکھا گیا وہاں سے تبریرلے جایاگیا۔(تاریخ جامع بہائیت میں ہے باب شعیان ۳۶۲۱ سے ج۱۔۴۶۲۱تک ماکو میں تھے)

محمد شاہ اور اس کے وزیر آقاسی کو علی محمد کی تبریر موجودگی سے احساس خطر ہوا محمد شاہ نے ولی عہد ناصرالدین کوحکم دیا کہ وہ علماءکو جمع کرے تاکہ سید علی محمد کا معاملہ ان کے سامنے رکھا جائے اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے علی محمد کو چہریق کے قیدخانہ سے باہر لایا گیا اور مجلس علماءمیں حاضر کیا گیا۔ ملامحمدمامقانی اور نظام العلماءاور دیگر کچھ علماءوہاں موجود تھے انہوں نے سید علی محمد سے کئی سوال کیے جن میں سے اہم سوالات اور ان کے جوابات کا ہم تذکر کریں گے۔(میرے خیال میں شاہ اور آقاسی سے اشتباہ ہو اگر وہ باپ کو لوگوں میں آزاد چھوڑتے اور لوگ اس کی یادہ گوئیاں اور بے ہودہباتوں کو سن لیتے تو اس سے خود ہی نفرت کرتے۔ مصنف)

سوال نظام العلمائ: باب کا کیا معنی ہے؟

جواب سید علی محمد: کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد”انا مدینة العلم وعلی بابها “۔

نظام العلمائ: کیا توباب مدینة العلم ہے؟

سید علی محمد: ہاں میں باب مدینة العلم اور علی ہوں۔

نظام العلمائ: پیغمبرحکیم کا قول ہے کہ علم کی دواقسام ہیں علم ادیان علم ابدان اور پھر طب سے سوال کیا؟۔

علی محمد: میں نے علم طب نہیں پڑھا۔

اس پر ولی عہد ناصرالدین نے کہا کہ اس طرح کا جواب تیرے دعویٰ کے منافی ہے۔

نظام العلماءنے علم اصول سے سوال کیا تو سید علی محمد نے جو جواب دیا اس کی رو سے خدا کا مرکب ہونا اور تعددخدا لازم آتا تھا۔ مجبوراً اسے کہنا پڑا کہ میں نے حکمت نہیں پڑھی۔نظام العلماءنے اس سے علم صرف سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں صرف بھول چکا ہوں ،نظام العلماءنے نحو سے سوال پوچھا تو سید محمد علی نے جواباً کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے۔نظام العلماءنے سوال کیا کہ اگر کسی کو دوران نماز دوسری اور تیسری رکعت بارے شک ہوجائے تو کیا کرے۔

سید علی محمدنے جواب دیا کہ اسے دوسری رکعت سمجھے۔

نظام العلماءنے سخت لہجے میں کہا کہ اے بے دین توں تو شکیات نماز بھی نہیں جانتا اور دعویٰ ربوبیت کرتا ہے تو فوراً کہنے لگا تیسری رکعت سمجھے ۔

پھر نظام العلماءنے کہا محمد شاہ جوڑوں کا مریض ہے اپنی کرامت دکھا کہ اسے شفامل جائے اس پر ولی عہدناصرالدین نے باب سے کہا کہ اگر تم اپنی کرامت کے ذریعہ نظام العلماءکو پھر سے جوان کردو تو میں اپنی ولی عہدی تمہیں دے دوں گا تو علی محمد باب نے کہا کہ یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ آخر میں علی محمد باب نے کہا کہ میں وہ ہوں کہ جسکی تم لوگوں نے ہزار سال انتظار کی ہے۔

نظام العلماءنے کہا کہ ہم تو اس کے منتظر ہیں کہ جس کے والد کانام حسن علیہ السلام اور والدہ نرجس علیہ السلام خاتون اور اس کی جائے پیدائش سامرہ ہومحفل علماءبرخاست ہوئی اور ناصرالدین نے اسے درے مارنے کا حکم صادر کیا اور ایک پرہجوم محفل میں اسے درے مارے گئے، درے کھانے کے بعد اس نے توبہ کی تو علماءنے کہا کہ تو، توبہ نامہ لکھ کردے جس پر اس نے توبہ نامہ لکھ کر دیا جس کی تصویر ایڈورڈ براون میں چھپی ہوئی ہے اور وہ توبہ نامہ مخزن کتابخانہ مجلس میں موجود ہے۔ (تاریخ جامع بہائیت ص۰۷۱ ، یہ توبہ نامہ سال ۵۱۳۱ھ مجلس ملی کی عمارت میں آویزاں رہی ہے بعد میں یہ توبہ نامہ غائب کردیاگیا)۔آخر کار محمد شاہ کی موت کے بعد ناصرالدین جانشین بنا تو صدر اعظم امیرکبیر نے ہرروز کسی نہ کسی جگہ علی محمد باب کے خلاف احتجاج اور شورشرابہ کی وجہ سے علی محمد باب کے قتل کا حکم صادر کیا اس وقت جب کہ وہ ۱۳ سال کا تھا تبریز کے قید خانہ سے باہر لایا گیا اور تختہ دار پر لٹا کر تیراندازی کر کے قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ ۸۲ شعبان ۶۶۲۱ھ میں پیش آیا۔

۸۔ مرزا حسین علی بہا

باب اور بہا کانام بہت زیادہ ملتاجلتا ہے اور ان دونوں کے پیروکار بابیان اور بھائیان کے احکام اور ان کادستوروآئین اس حد تک ملتاجلتا ہے کہ اس کی علیحدہ علیحدہ شناخت بہت مشکل ہے اور باب کے ذکر کے ساتھے ہی مناسب ہے کہ بھا کا ذکر بھی کردیاجائے حسین علی بہاءنے دعویٰ مہدویت نہیں کیا بلکہ اس نے اس سے بھی بڑا دعویٰ کیا مرزا حسین علی بہا ۳۳۲۱ھ یعنی مرزا علی محمد باب کی پیدائش سے دوسال پہلے تہران میں پیدا ہوا اس نے ادبیات اور مقدمات کی تعلیم تہران میں حاصل کی اور دو سال تک کردستان کے شہر سلیمانیہ میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔کواکب الدریّہ میں تحریر ہے کہ حسین علی بہا ۸۲ سال کی عمر میں باب پر ایمان لایا بابیوں نے ۱۶۲۱ تا۷۶۲۱ بہت زیادہ فتنے بپا کیے( مثلاً فتنہ قلعہ طبرسی کہ ملاحسین بشرویہ وہاں اس میں ۰۷ افراد سمیت دوران محاصرہ قتل ہوا زنجان میں بھی بہت زیادہ تعداد میں لوگ قتل ہوئے اسی طرح رنجان کا فتنہ بھی ہے)۔پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ۰۶۲۱ ھ میں علی محمد باب کوپھانسی دی گئی ۷۶۲۱ھ میں باب کے پیروکاروں نے ناصرالدین شاہ پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں ناصرالدین شاہ بال بال بچ نکلنے میں کامیاب ہوا جس کے بعد ناصرالدین شاہ کے حکم پر بابیوں کے ۰۴ افراد کو گرفتار کرایا گیا اس واقعہ میں حسین علی بہا نے روس کے سفارت خانہ میں پناہ لے لی آخر کار ایک عدالتی فیصلہ کی رو سے روس کی حمایت کی وجہ سے ایران بدر کردیاگیا حسین علی بہا ۱۱ سال تک عراق میں گھومتا رہا خطرات کی صورت میں چھپ جایا کرتا تھا کبھی کسی موقعہ پر اپنے آپکو ”من یظهراللّٰه “ کہتا اور علی محمد باب کے بارے کہتا کہ وہ میری خوشخبری دینے والا تھا اس نے ۱۱سال تک ہمیشہ اپنے آپکو مروج تعلیمات باب قرار دیا اس بنیاد پر اس نے ایک کتاب لکھی بنام القان جو کہ بابیت کے آئین وطرفداری پر مبنی ہے ۔۰۷۲۱ھ میں بہا، نے اپنے پیروکاروں سمیت بغداد سے حرکت کی اور ۲۱ دن باغ حبیسبیہ کے باہر قیام کیا بہا،نے باقاعدہ اپنی دعوت کا یہاں سے آغاز کیا اس سے پہلے وہ اعلانیہ دعوت نہیں دیتا تھا اس لیے بہائیوں نے ان ۲۱ دنوں کو ایام رضوان قرار دیا۔ سلطنت عثمانی اور حکومت ایران کے باہمی فیصلہ کی رو سے بہا ءکو عراق سے جلا وطن کر کے اسلامبول بھیج دیا گیا جہاں اس نے ۶ماہ قیام کیا اور پھر وہاں سے ادرن منتقل ہوگیا ادرن میں ہی بہانے اپنے باخبرپیغمبرہونے کا اعلان کیا اور اپنے قلمی نسخہ ”جمال ابہی“ میں لکھا کہ عیسیٰ آسمان سے آگیا ہے اور کہا کہ میں وہی ہوں جس کی باب نے خوشخبری دی تھی بہاءکی بہت بڑی خواہش تھی کہ اپنے آپ کو ”من یظہرہ اللّٰہ“ کے طور پر متعارف کرائے لیکن چونکہ باب نے اپنی کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھ دیا تھا کہ ”من یظہرہ اللہ“ سے پہلے ”المستغاث“ آئے گا(یہ لفظ حروف ابجد کے اعتبار سے۲۴۶۱بنتے ہیں ) اور وہ ابھی اصلاب اور ارحام میں ہوگا جس کی وجہ سے اس نے مادہ منویہ کو پاک قرار دیا دوسری طرف اس دعویٰ کی راہ میں خود بہاءکا بھائی مرزا یحییٰ صبح ازل مانع تھا بہا حیران تھا کہ کیا کرے آخر کار اس نے اعلان ”من یظهره اللّٰه “ کردیا اور اپنے دعویٰ کے ثبوت کے طور پر بے سروپاءباتیں کیں اور مرزا یحیٰ کی وصیتوں کو جعلی قرار دیا جس کی بنا پر ان دونوں بھائیوں کے پیروکاروں میں سخت جھگڑا شروع ہوگیا جس کی وجہ سے حکومت عثمانی نے ۵۷۲۱ھ میں حسین علی بہا کو ۳۷۱ افراد کے ہمراہ عکاءاور میرزا ٰیحیٰ کو ۰۳ افراد کے ہمراہ نکال دیا گیا اور قبرص بھیج دیا اس جلا وطنی سے لے کر ۹۰۳۱ ھ تک ۴۳ سال اس نے عکائ(یہ اسرائیل کا ایک شہرہے) میں الوہیت کا دعویٰ کیے رکھا،تمام انبیاءاور رسولوں نے شرک کے خلاف جنگ لڑی اولوالعزم پیغمبروں نے بتوں کوتوڑنے کا اقدام کیا اور بت پرستی کا مقابلہ کیا ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے خلاف موسی علیہ السلامٰ نے فرعون کے خلاف، جو کہ ہردو ربوبیت کے دعویدار تھے یہ جنگ لڑی حیرانگی اس امر پہ ہے کہ باب اور بہاد نے پہلے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیاپھر ربوبیت کا اور آخر میں الہ بن بیٹھا۔ (مصنف) آہستہ آہستہ وہ کئی باغات اور محلات کا مالک بن گیا، وہ کچھ لوگوں کے نزدیک معلم اخلاق اور کچھ کے ہاں نماز جمعہ پڑھنے والا اور کچھ لوگوں کے عقیدہ کے مطابق رجعت حسینی قرار پایا اور کچھ مریدوں کے عقیدہ مطابق عیسیٰ آسمان سے آگیا ہے قرار دیا گیا اور کچھ خاص معتقد مریدوں نے اسے خداوند قہار قرار دیا آخر کار ۹۰۳۱ ھ کو ۶۷ سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔

شام یلدای ما

خدا! ای خداوند اعلای ما!

نگہدار دلہای شیدای ما

بہ عشق تو گر سو ختیم از ازل

بجز تو نباشد تمنّای ما

بسوزان دل ما از این بیشتر

از آن آتشین جام صھبای ما

بہ دریای توحید خود غرق کن

ہمہ روح و جسم و سراپای ما

در این آب و آتش در این نور وناز

کسی نشنود جز تو آوای ما

خدایا! بہ موسای صحرای عشق

بہ آن ساقی بادہ پیمای ما

الٰہی! بہ آن یوسف گمشدہ

کہ بردہ است باخویش دلہای ما

بہ چشمان جادو، بہ خال رخش

بہ لعلِ لبِ آن مسیحای ما

بدہ مہدی ما بہ ما ای خدا!

بہ پایان رسان شام یلدای ما

(دیوان”انوار ولایت“)

خدایا! صبر تاکی؟! انتظار آسمان تاکی؟!

خداوندا! دعا تا کی؟! تو بردار این معمارا !

( فَلاَ اقسِمُ بِاَلخُنَّسِ اَلجَوَارِ اَلکُنَّسِ وَاَللَّیلِ اِذَا عَسعَسَ وَاَلصُّبحِ اِذَاتَنَفَّسَ ) “۔

”مجھے ان ستاروں کی قسم جو چلتے چلتے پیچھے ہٹ جاتے اور غائب ہوجاتے ہیں ۔ اور رات کی قسم جب ختم ہونے کو آئے اور صبح کی قسم جب روشن ہوجائے “۔(تکویر:۵۱۔۸۱)


فصل سوئم

غیبت

غیبت صغریٰ نوّاب اربعہ

غیبت کبریٰ نیابت عامہ

طول عمر


باب اول

غیبت صغریٰ

امام زمان علیہ السلام کی غیبت

امام زمان علیہ السلام کی غیبت دوزمانوں پر مشتمل ہے۔

۱۔غیبت صغریٰ

۲۔غیبت کبریٰ

ہم یہاں غیبت صغریٰ بارے گفتگوکریں گے۔


غیبت صغریٰ

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت معتمدعباسی کی زہر کے ذریعے ہوئی تو خلافت حجت خدا تمام انبیاء علیہ السلام واوصیاء علیہ السلام کی امیدوں کے مرکز سرکار قائم آل محمد حضرت امام مہدی علیہ السلام کا آغاز ہوا آپ کی امامت کا آغاز ہی انتہائی سخت سیاسی فضاءمیں ہوا اور عباسی حکومت کی پیدا کردہ بہت زیادہ مشکلات سے آپ روبرو رہے سب سے اہم ترین مشکل آپ کی والدہ ماجدہ کو حکومت کی نگرانی میں رہنا تھا۔ جسزمان علیہ السلامہ میں جناب نرجس علیہ السلام خاتون حکومت کی نگرانی میں تھیں پانچ اہم ترین واقعات رونما ہوئے کہ جن کی وجہ سے آخر نرجس علیہ السلام خاتون کو رہائی ملی ۔ہم ان پانچ واقعات کا ذکر کریں گے۔

واقعہ نمبر۱

یعقوب لیث(صفار کا قیام، یعقوب کا ارادہ تھا کہ وہ فتح فارس کے بعد سامرہ پر حملہ کرے گا مگر موت نے اسے مہلت نہ دی۔)

واقعہ نمبر۲

عبداللہ بن خاقان جو کہ معتمد کا بااعتماد وزیر تھا گھوڑے سے گر کر مرگیا۔

واقعہ نمبر۳

معتمد کی حکومت کا دارلخلافہ سامرہ سے بغداد منتقل ہوگیا۔

واقعہ نمبر۴

صاحب زنج نے بصرہ میں بغاوت کردی ۔

واقعہ نمبر۵

ابن شوراب جوکہ قاضی القضاة تھا اور جس کے گھر پر نرجس علیہ السلام خاتون کو نظر بند رکھاگیا تھا فوت ہوگیا۔

ان پانچ اہم ترین واقعات کے بعد نرجس خاتون کو۲سال نظر بند رکھنے کے بعدرہا کردیاگیا اگرچہ امام مہدی علیہ السلام کے خلاف حکومتی اقدامات ۰۲سال جاری رہے اس طرح ان حالات میں امام مہدی علیہ السلام کی غیبت صغریٰ کا آغاز ہوا اور اس دوران میں حضرت کے وکلاءبالترتیب مقرر ہوتے رہے۔

نوّاب اربعہ

اس بحث کو ”سفیران امام زمان علیہ السلام علیہ السلام“سے لیاگیاہے۔

نواب اربعہ کہ جنہوں نے ۰۷ سال تک امام مہدی علیہ السلام کی سفارت کاری کی اور بطور وکیل ماموریت انجام دہے رہے تھے وہ بہت بڑی عظمت وجلالت کے مالک تھے اور صاحب کرامات فراوان تھے اور اب بھی امام کی بارگاہ میں لوگوں کی سفارش اور شفاعت کرتے ہیں ۔ جیسا کہ عریضہ جات ارسال کرنے میں بھی ذکر ہے کہ چاروں نائیبین میں سے کسی ایک نائب کا ذکر ضرورکریں۔

سورئہ سباءکی آیت نمبر۸۱ میں ذکر ہے کہ ہم نے (آئمہ علیہ السلام) کے درمیان اور شیعوں کے درمیان نواب ونمائندگان مقرر کر دیے ہیں ان نمائندوں کے ذریعہ ہم نے قرار دیا ہے کہ وہ راہ چلیں دن رات انتہائی اطمینان کے ساتھ” حضرت امام سجاد علیہ السلام کی تفسیر کے مطابق یہ آیت مبارکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اور ان کے نواب پر صادق آتی ہے“۔کتاب سفیران امام زمان علیہ السلام میں آیا ہے آئمہ طاہرین علیہ السلام کے اصحاب میں سے سرکار امام زمان علیہ السلام کے نواب اربعہ جتنی جلالت و فضیلت کسی کو حاصل نہ ہے ۔

قوی احتمال یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے بعض خاص اصحاب نوّاب اربعہ سے بلند تر مقام رکھتے تھے مصنف) (بحارالانوارج۱۴ص۵۹۳)

نوّاب اربعہ کی ذمہ داریاں

نواب اربعہ کے اہم ترین ذمہ داریوں سے چند کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

۱۔ امام زمان علیہ السلام کا نام اور جگہ ومقام کو مخفی رکھنا

۲۔ لوگوں سے وجوہات شرعیہ، واجبات وصول کر کے حقیقی مستحق لوگوں تک پہنچایا۔

۳۔ لوگوں کے شبہات کو دور کرنے کے لیے ان کے سوالوں کے جواب دینا،جوابات کے سلسلہ میں انہیں مکمل امام زمان علیہ السلام کی رہنمائی حاصل ہوتی تھی۔

نائب اول عثمان بن سعید

امام زمان علیہ السلام کی غیبت صغریٰ میں سب سے پہلے نائب خاص جناب عثمان بن سعید عمروی تھے یہ بزرگوار امام زمان علیہ السلام کےساتھ ساتھ حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے مورداعتماد تھے اسی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ عثمان بن سعید تین اماموں کے وکیل تھے عثمان بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس ہم چالیس آدمی موجود تھے کہ امام نے سرکار امام زمان علیہ السلام کے بارے فرمایا کہ یہ مہدی علیہ السلام تمہارا امام ہے اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے اور تم پر میرے بعد حجت ہے۔ اسکی اطاعت کرو اور میرے بعد اپنے دین سے منحرف نہ ہونا کہ تم ہلاک ہوجاو گے اور آگاہ رہو کہ آج کے بعد تم اس کو دیکھ نہیں سکو گے عثمان بن سعید فرماتے ہیں کہ ہم امام کے گھر سے باہر آگئے اور ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا اس دنیا سے انتقال ہوگیا(کمال الدین ج۲ص۵۳۴)

نائب دوئم محمد بن عثمان

یہ سرکار امام زمان علیہ السلام کے دوسرے نائب ہیں انکے والد گرامی عثمان بن سعید اور محمدبن عثمان دونوں باپ بیٹے نے سرکار امام زمان علیہ السلام کی ۸۴ سال نمائندگی کی روایات میں ہے کہ محمدبن عثمان نے اپنی قبر بناکر رکھی تھی اور ہر رات اپنی قبر پر ایک جُزقرآن تلاوت کرتے تھے اس دوران ایک شخص محمد بن عثمان کے پاس آیا اس نے دیکھا کہ محمد بن عثمان کے پاس ایک تختی ہے جس پر آیات قرآن درج ہیں اور اسکے حاشیہ پر اسماءمبارکہ آئمہ معصومین علیہ السلام نظر آتے ہیں محمد بن عثمان نے اس کو تنہا قبر دکھائی اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ یہ تختی اپنی قبر میں دفن کروں، محمد بن عثمان سے سوال کیاگیا کہ آئمہ علیہ السلام پیدا کرنے والے ہیں یا روزی دینے والے تو اس سوال کا جواب سرکار امام زمان علیہ السلام کی طرف سے کچھ اس طرح آیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خداوندمتعال وہ ہے کہ جس نے افراد کے اجسام کو پیدا کیا ہے وہ خالق ہے وہ روزی دیتاہے یعنی رازق ہے۔ اس کا کوئی جسم نہیں اور نہ ہی وہ کسی کے جسم میں حلول کرتا ہے کوئی چیز اس کی طرح اور مثل نہیں ہے وہ سننے والا حکیم ودانا ہے لیکن آئمہ علیہ السلام جو خدا سے چاہتے ہیں وہ خدا پیدا کرتا ہے وہ جس کےلئے روزی چاہتے ہیں خدا اس کےلئے روزی دیتاہے۔ خدا یہ سب کچھ آئمہ علیہ السلام کی تعظیم میں اور ان کے حق کی وجہ سے کرتا ہے۔(تحفہ قدسی ۳۳۲،بحارالانوارج۱۵۳)

نائب سوئم حسین بن روح

تیسرے نائب خاص امام زمان علیہ السلام سرکار حسین بن روح ہیں جو کہ ۵۰۳ ھ تا۶۲۳ھ امام زمان علیہ السلام کے وکیل رہے ہیں ان کے وظائف میں سے ایک اہم وظیفہ تقیہ کرنا تھا دشمن اہل بیت سے اپنے لیے اور اپنے شیعوں کے لیے۔روایت ہے کہ دس افراد اہل سنت حسین بن روح کے پاس آئے ان دس میں سے ۹ افراد حسین بن روح کو گالیاں دیتے رہے اور ایک متردد تھا لیکن حسین بن روح انکے ساتھ ایسی جالب گفتگو کی کہ جب وہ باہر نکلے تو حسین بن روح کی تعریف کررہے تھے۔(حسین بن روح کے بارے میں ہے کہ تمام مذاہب کے آئمہ کے پیروکار آپ کا احترام کرتے تھے اور ہر مذہب والا آپ کو اپنے سے سمجھتا تھا آپ بہت ہی جلیل القدر اور راز داری کے معاملہ میں اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے)۔

نائب چہارم علی بن محمد سمری

امام علیہ السلام کے چوتھے نائب جناب علی بن محمد سمری تھے انہوں نے سرکار امام زمان علیہ السلام کی تین سال تک نیابت انجام دی غیبت صغریٰ تقریباً۰۷سال تک طول پکڑ گئی اور علی بن محمد سمری کی وفات کے بعد غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا۔

غیبت کبریٰ میں توقیعات

غیبت میں دو توقیعات شیخ مفیدؒ کے لئے جاری ہوئی ہیں ایک تحریر تو خود امام زمان علیہ السلام ہی کی تھی اور دوسری تحریر آپ علیہ السلام کے کاتب کی تھی لیکن یہ دوتوقیعات شیخ مفیدؒ کے پاس کیسے پہنچیں تو اس کی تفصیل معلوم نہیں ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام پر اعمال کاپیش ہونا

روایات میں ہے کہ سوموار اور جمعرات کی عصر کے وقت لوگوں کے اعمال حضرت امام مہدی علیہ السلام پر پیش ہوتے ہیں اسکے بعد باقی آئمہ علیہ السلام کی خدمت میں اور آخر میں رسول اللہ کی جناب میں وہ اعمال پہنچتے ہیں ، (سورئہ توبہ آیت ۵۰۱) اس پر دلیل ہے ”اے پیغمبر ان سے کہہ دو تم جو اعمال چاہتے ہو کرو خدا ، پیغمبر اور مومنین (آئمہ اہل بیت علیہ السلام) تمہارے اعمال کودیکھتے ہیں اور پھر سال میں ایک مرتبہ شب قدر میں دوبارہ سارے اعمال امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں ۔(سورئہ قدر آیت۴)

شب قدر

شب قدر میں دو طرح کی تقدیر ومقدر ہوتاہے۔ ۱۔حتمی تقدیر، آخری فیصلہ جو کہ لوح محفوظ میں ہے۔ ۲۔غیرحتمی اور مشروط تقدیر وفیصلہ یہ دونوں تقدیریں اور فیصلے اس رات حضرت امام مہدی علیہ السلامکے حضور پیش ہوتے ہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام بعض تر حتمی اور اور مشروط فیصلوں کے بارے شفاعت اور سفارش کرتے ہیں اور ان میں تبدیلی کردی جاتی ہے ۔ اس لئے دعا میں ہے (”این السبب المتصل بین الارض والسماء “)کہاں ہیں ؟ وہ جوزمین اور آسمان کے درمیان رابطہ اور وسیلہ ہیں (از مصنف)

سرکار امام زمان علیہ السلام کے یہ چار نائب خاص تھے اور دیگر شہروں میں حضرت کے ۸ وکلاءتھے جو لوگوں سے وجوہات شرعیہ اوراموال وغیرہ لےکر ان نائیبین خاص کو دیتے تھے ان آٹھ افراد سے ایک احمد ابن اسحاق تھے جو کہ قم میں تھے۔اس طرح جھوٹے نائیبین کی تعداد بھی آٹھ تھی جس میں سے ایک نمیری حلاج کہ جسے منصور حلاج کہا جاتا ہے اور دوسرا شلمغانی کانام معروف ہے۔(شلمغانی ہر امام زمان علیہ السلام نے اپنی توقیع میں لعنت بھیجی ہے )


باب دوئم

غیبت کبریٰ

نیابت عامہ

جناب علی محمد بن سمری نائب خاص چہارم کی وفات کے ساتھ ہی غیبت صغریٰ کا دور ختم ہوگیا اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل جو بارگاہ سرکار امام زمان علیہ السلام سے موصول ہوا کچھ اس طرح تھا۔

واما الحوادث الواقعه فارجعوافیهاالی رواة احادیثافانهم حجتی علیکم واناحجة علیهم “۔(روز گار رہائی ج۱ص۳۰۳)

حوادثاتزمان علیہ السلامہ میں جوواقعات پیش آئیں ان میں تم ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرنا وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں ان پرحجت ہوں۔

مرحوم شیخ صدوقؒ نے اپنے استاد حمدبن ولید اورانہوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دو اصحاب سے نقل کیا ہے اور انہوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے جس میں خاص طور پر فقہا کے لئے شرائط بیان کی گئی ہیں ۔

وامامن کان من الفقهاءصاءناً لنفسه، حافظاً لدینه، مخالفا لهواه، مطیعاً لامر مولاه،فللعوام ان یقلدوهُ “۔ (تفسیر منسوب حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام)

”فقہاءمیں سے ایسے کہ وہ اپنے نفس پر کنٹرول رکھتے ہوں، اپنے دین کی حفاظت کرنے والے ہوں، اپنے خواہشات نفس کے مخالف ہوں، اپنے مولاکے حکم کے فرماں بردار ہوں تو عوام کو چاہیے کہ ایسے فقہاءکی تقلید کریں“۔ غیبت کبریٰ کےزمان علیہ السلامہ میں نیابت خاصہ نہیں ہے بلکہ نیابت عامہ ہے مذکورہ بالاشرائط کے حامل علماءکرام امام زمان علیہ السلام کے نمائندگان ہیں ۔

پہلے اور دوسرے فقیہ

سب سے پہلے واجدالشرائط فقیہ حسن ابن علی بن ابی عقیل تھے اور دوسرے فقیہہ شیخ مفیدؒ یہ دونوں بزرگوار بغداد میں رہے۔اس غیبت کبریٰ کے طولانیزمان علیہ السلامہ میں کچھ لوگ سرکار امام زمان علیہ السلام سے گاہے بگاہے ملتے اور مشرف بزیارت ہوتے رہتے ہیں ۔ تاکہ حضرت کے وجود مقدس بارے شک وشبہ کا شکار نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ امام زمان علیہ السلام بارے کوئی خبر نہیں اس لیے امام زمان علیہ السلام مخصوص صالح افراد کو وقتاً فوقتاً اپنی زیارت کا شرف بخشتے رہے ہیں ۔

غیبت کی زندگی

غیبت ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس سے پہلے والی امتوں کو بھی واسطہ پڑا ہے قرآن اس بارے فرماتا ہے”اور جب تم تلاوت قرآن کریم کرتے ہوتو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے پوشیدہ پردے ڈال دیتے ہیں “ یعنی کبھی تو کفار و مشرکین حضور کوتلاوت کرتا ہوا دیکھتے تھے اور کبھی صرف آواز سنتے تھے خود حضور ان کی نظروں سے پوشیدہ رہتے تھے۔

(سورہ اسراءآیت۵۴)

سرکار امام زمان علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں جن کا ہم یہاں تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں ۔

۱۔ امام زمان علیہ السلام کی غیبت کیسی ہے؟ ۲۔ غیبت کی کیا وجوہات ہیں ؟

۳۔ غیبت کا فائدہ کیاہے؟ ۴۔ غیبت میںآپ کی زندگی کیسی ہے؟

مذکورہ سوالات میں سے آخری سوال کا جواب دینے میں ہم تین طرح کی صورتحال سامنے رکھیں گے

الف) امام زمان علیہ السلام ہمارے دائرہ حیات سے دور ہیں اور ہماری ان تک رسائی ممکن نہیں ہے، مثلاً حضرت قائم علیہ السلام جزیرہ خضرا میں ہیں اور ہمیں ان کی رہائش کا کوئی پتہ ونشان نہیں ہے۔

ب) ہم اپنے امام زمان علیہ السلام کو دیکھتے ہیں لیکن پہچان نہیں سکتے جیسے برادران یوسف علیہ السلام ،یوسف علیہ السلام کے سامنے ہوتے ہوئے اسے نہ پہچان سکے۔

ج) سرکار امام زمان علیہ السلام ہمارے درمیان ہیں مگر ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے یعنی ہمارے اور سرکار کے درمیان خدا نے پردے حائل کر رکھے ہیں جیسا کہ کبھی کبھی رسول اکرم باوجود پاس ہونے کے کفار و مشرکین کو نظرنہ آتے تھے صرف حضرت کی تلاوت کی آواز سنائی دیتی تھی۔ مگر حضور ان کودیکھ رہے ہوتے تھے اس طرح سرکار امام زمان علیہ السلام ہمیں دیکھ رہے ہیں مگر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔

سوال نمبر۲: کے جواب میں یعنی غیبت کی وجوہات کیاہیں ؟ اس بارے میں ہم تین طرح کے جوابات دے سکتے ہیں ۔

۱۔تقیہ۲۔ظالموں اور جابروں کی بیعت کانہ کرنا۔ ۳۔لوگوں کا غیبت امام زمان علیہ السلام کے ذریعہ امتحان،

بعض اقوال میں ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام کی غیبت کے اصلی اسرار و رموز سے آگاہی خود حضرت امام زمان علیہ السلام بوقت ظہور دیں گے اور ممکن ہے غیبت کی بیان کردہ تینوں وجوہات علل غیبت نہ ہوں۔

سوال نمبر۳: کہ غیبت کا فائدہ کیا ہے؟ تو اس کے جواب دیتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ :

۱۔ لازمی نہیں ہے کہ ہرموجود اور ہر امر ہمارے لیے سود مند ہو یایہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے لیے سود مند ہو مگر ضروری نہیں کہ ہم اسے سمجھ سکیں۔

ثانیاً امام زمان علیہ السلام کے مقدس وجود کےزمان علیہ السلامہ غیبت میں چار اہم ترین فائدے ہیں ۔

۱۔ وجود امام زمان علیہ السلام کائنات میں نہ ہو تو زمین اپنے اوپر بسنے والوں کو ڈبودے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ”لولا الحجة لساخت الارض باهلها “ اگر حجت خدا نہ ہو تو زمین اپنے اوپر رہنے والوں کو ڈبو دے تمام تر نعمات اور برکتوں کی موجودگی صرف وجود مقدس امام زمان علیہ السلام کی وجہ سے اور برکت سے ہے امام زمان علیہ السلام اس کائنات کی روح اور عالم امکان کادل ہیں ۔

(الکافی ج۱ ص۸۷۱)

۲۔ امام زمان علیہ السلام اسلام اور مسلمانوں کے نگہبان ہیں ان کے مقدس وجود کی بدولت اسلام ومسلمان بربادی سے محفوظ ہیں ۔

۳۔ امام زمان علیہ السلام انسانوں کو مشکلات سے نجات دیتے ہیں لوگوں کے توسل اور حوائج کو پورا فرماتے ہیں اور کئی مواقع پرجب انسان ان کی طرف متوجہ یامتوسل نہیں ہوتا ازخود مصیبتوں اور بلاوں کو حضرت دور کردیتے ہیں ۔ کبھی کبھی سرکار امام زمان علیہ السلام انسانوں کو اپنی زیارت سے شرفیاب کرتے ہیں اور معنویات اور مادیات سے مالا مال فرماتے ہیں ۔

۴۔ سرکار امام زمان علیہ السلام باطنی ومخفی رہبر ہیں اور کسب فیض کےلئے خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ورابطہ ہیں اور انہی کی بدولت اعمال میں رہنمائی حاصل ہوتی ہے اور دراصل یہی معنی امامت ہے ۔

سوال نمبر۴:کہزمان علیہ السلامہ غیبت میں حضرت کی زندگی کیسی ہے؟ کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام کی زندگیزمان علیہ السلامہ غیبت میں طبعی ہے اور اسی کرہ زمین پر ہے کیونکہ آپ کی غیبت فرشتوں اور جنوں کی غیبت کی طرح نہیں ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ آپ عالم ہورقلیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں یہ نادرست بات ہے(ھور قلیا کا عنوان سوائے افسانہ کے کچھ نہ ہے) بلکہ دعاوں اور زیارات میں آئے جملوں سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام نے تشکیل خانوادہ کی ہے اور مکمل خانوادہ رکھتے ہیں آپکی اولاد بھی ہے جسکے بارے ہم اقامت گاہ حضرت مہدی علیہ السلام کی بحث میں بات کریں گے اور اسکے مفصل دلائل دیں گے۔

طول عمراور اس کے متعلق امور

وہ چیز جس کے بارے میں امام زمان علیہ السلام کے حوالہ سے گفتگو ضروری ہے وہ ہے جناب کی طول عمر اور اس کا راز ہے قرآن انسانوں کی زندگی کے بارے فرماتا ہے ”اللہ نے ہرایک کے لیے ایک مدت مقرر کی ہے اور اجل اس کے نزدیک معین ہے“۔(سورئہ انعام ۲)

کچھ لوگ عمر کے بارے تین طرحوں کے قائل ہیں ۔طول عمر،عرض عمر، عمق عمر۔

(الف) لمبی عمر کا ہونا یعنی لمبی عمر حاصل کرنا۔

(ب) اس سے مراد تکامل اور خدمت خلق ہے یعنی اپنی عمر خدمت خلق میں صرف کرنا۔

(ج) زندگی کی لذات سے بہرہ مند ہونا اور اچھی اور خوشحال زندگی گزارنا ۔

عمر کے بارے قرآن مجید کی آیت مبارکہ ہے کہ”من عمل صالحا من ذکرٍاوانثیٰ وھو مو من فلنحیسیّنہ حیاة طیبہ“ (سورءنمل ۷۹)”جس نے نیک عمل کیا خواہ مرد ہویا عورت اور صاحب ایمان ہوتو ہم اسے زندگی دیتے ہیں ایک پاک زندگی“۔

شیطان بھی طول عمر رکھتا ہے لیکن اسے عرض عمر اور عمق عمر حاصل نہیں ہے طول عمر کی درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہےں۔

۱۔ موروثی طول عمر کچھ خاندان وراثتی طورپر لمبی عمر رکھتے ہیں ۔

۲۔ اپنی صحت کی حفاظت اور مناسب خوراک کی فراہمی اور افراط وتفریط نہ ہونے کی وجہ سے لمبی عمر حاصل ہوسکتی ہے۔

۳۔ غم ورنج اور روحی ہیجانات سے دور رہنا بھی باعث طول عمر ہوسکتا ہے۔

۴۔ خداوندکریم پرایمان کامل رکھنے سے طول عمر حاصل ہوسکتی ہے ”الابذکرالله تمطمئن القلوب “۔(سورہ رعد آیت ۸۲)

۵۔ نیک اخلاق ، عمل صالح، خدمت خلق، صلہ رحمی، مساکین کی مدد بھی طول عمر میں معاون ہوسکتے ہیں کیونکہ قرآن فرماتا ہے ”( اما ماینفع الناس فیمکث فی الارض ) “(سورئہ رعد ۸۲)

۶۔ ماں باپ اور غرباءومساکین اور رنجیدہ دل لوگوں کی دعائیں بھی باعث طول عمر ہیں ۔

۷۔ معصومین علیہ السلام کی دعائیں یادعائے مولاابوالفضل العباس علیہ السلام علمدار بھی باعث طول عمر ہے۔

۸۔ معجزہ بھی طول عمر کا باعث ہوتا ہے مثلاً انبیاء علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام، حضرت خضر علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلامٰ کو طول عمر معجزہ سے حاصل ہے اور اسی طرح امام زمان علیہ السلام کو بھی معجزہ سے طول عمر حاصل ہے۔

مہدی بیا!

ای روح من، ریحان من! ای جان من، جانان من!

ای مایہ ایمان من! ای معنی قرآن من!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای شاہ من! ای ماہ من! ای مشعل خرگاہ من!

ای والہ اللّٰہ من! ای مہدی جمجاہ من!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای بلبل گلزار من! ای دلبر دلدار من!

ای مطلع انوار من! ای ہادی افکار من!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

مینوی من! مینای من! پیدای ناپیدای من!

ای دین من! دنیای من! ای جنّة الما وای من!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

من از ہمہ بیگانہ ام، در کوی تو پروانہ ام

و زعشق تو دیوانہ ام، لبریز شد پیمانہ ام

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای ساقی صھبای ما! شمع شب یلدای ما!

یغماگر دلہای ما! ای مہدی زیبای ما!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای مقصد اعلای ما! یکتای بی ہمتای ما!

ای فارس ہیجای ما! بشنو کنون آوای ما!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای اشرف غایات ما! ای اعظم آیات ما!

ای ناشر رایات ما! ای قبلہ حاجات ما!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای رہبر عقل بشر! مفتاح ابواب ظفر!

روشنگر شمس و قمر، وزہرچہ گویم خوبتر!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای پیشوای بی نظیر! ای برہمہ عالم امیر!

ای شوکت و شا نت خطیر! یادت ہمیشہ در ضمیر

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

ای راحتی بخش ملل! شمع شبستان ازل!

تسخیر کن سھل و جبل! رایت بکش بر این زحل!

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

مرز (حقیقت) کوی تو، روح شریعت خوی تو

نور طریقت روی تو، رمز فضیلت بوی تو

ای منجی گیتی بیا! مہدی بیا! مہدی بیا!

(دیوان ”انوار ولات“ )

اگر باید بسوزم، زودتر خاکسترم سازید

نہیدم بر رہ بادی کہ پوید خاک خضرا را

( یَا بَنِىَّ اُذ هَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن یُوسُفَ وَاخِیهِ وَلاَ تَیا سُوا مِن رَّوحِ اللّٰهِ اِنَّهُ لاَ یَیا سُ مِن رَوحِ اللّٰهِ اِلاَّ القَومُ الکَافِرُونَ ) “۔(سورہ یوسف آیت ۷۸)

”میرے پیارے بچو! تم جاو اور یوسف علیہ السلامکی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقینا رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں “۔


فصل چہارم

جزیرة الخضراء(سرسبز جزیرہ)

مقدس سرزمین

اقامت گاہ

سبز رنگ

وادی امن کا سفر

باب اول

مقدس سرزمین


اقامت گاہ حضرت اما م مہدی (علیہ السلام)

سب سے اہم ترین مسئلہ سرکار امام زمان علیہ السلام کے حوالہ سے دوران غیبت اقامت گاہ رہائش گاہ سرکار امام زمان علیہ السلام ہے دعائے ندبہ میں ہم پڑھتے ہیں ۔

لیت شعری این استقرت بک النوی، ا برضوی اوغیرهاام ذی الطویٰ “۔

”اے کاش! مجھے پتہ ہوتا کہ آپ علیہ السلام کی اقامت گاہ کہاں ہے؟ آیا آپ کوہ رضوی میں ہیں یا کسی اور جگہ یا ذی طویٰ میں ہیں “۔

روایات اس کی شاہد ہیں کہ امام زمان علیہ السلام ایک مکمل دنیاوی زندگی رکھتے ہیں آپ کے بیوی بچے بھی ہیں اور ان کے ہمراہ زندگی گزار رہے ہیں ۔ہم ان شواہد اور روایات پر مکمل اور جامع بحث کریں گے اور آپ کی اولاد و فرزندان کے حوالہ سے بھی گفتگو کریں گے۔

۳۔ صلوات جو کہ امام زمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اس کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں ”اللهم اعطه فی نفسه وذریته، وشیعته “ نیز یہ الفاظ بھی ہیں ”وصل علی ولیک وولاة عهدک والاءمة من ولده “۔(مصباح المتہجد شیخ طوسی ۵۶۳)

اے اللہ! درود بھیج اپنے ولی امر پر اور اس کے ولی عہدوں پر اور اس کی اولاد میں سے رہنماوں پر اسی طرح زیارت ناحیہ میں ہے کہ ”فداک بروحه جسده وماله وولده “ (بحارالانوار ج۱۰۱ ص۰۲۳)کہ اگر میں تیرے ساتھ ہوتا اے مولا حسین علیہ السلام تو میں قربان کرتا اپنے روح کو،اپنے جسد کو، اپنے مال اور اولاد کو آپ پر ، یہ امام زمان علیہ السلام کا خطاب ہے امام حسین علیہ السلام کے لیے ۔

۲۔ زیارت وداع(مقدس تہہ خانہ میں) ہے کہصل علی ولیک وولاة عهدک والاءمه علیه السلام من ولده “۔اے اللہ! درود بھیج اپنے ولی اور اپنے ولی عہدوں پر اور اسکی اولاد میں سے پیشواوں پر۔ (مفاتیح الجنان )

۳۔ دعائے ندبہ میں ہے ”اللهم صل علی محمد وآل محمد وصل علی محمدجده ورسولک السیدالاکبر “۔

”اے اللہ! درود بھیج محمد وآل علیہ السلاممحمد (یعنی مہدی علیہ السلام اور اولاد مہدی علیہ السلام پر درود بھیج امام مہدی علیہ السلام کے جد بزرگوار محمد پر جو تیرا رسول ہے اور سید اکبر ہے)

یہاں محمد وآل علیہ السلام محمد سے مراد امام مہدی علیہ السلام اور اولاد سرکار امام زمان علیہ السلام ہے اور”صل علی جده محمد “سے مراد سرور کائنات ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ سرکار امام زمان علیہ السلام کی اولاد کثیر ہے جن پر درود بھیجا گیا ہے۔شادی یعنی ازدواج نبی اکرم کی اہم ترین سنت ہے اور کیسے ممکن ہے کہ امام مہدی علیہ السلام نے اپنے جد بزرگوار کی یہ اہم سنت ترک کی ہوئی ہو بلکہ آپ تو اپنے جدبزرگوار کی سنتوں کے زندہ کرنے والے ہیں ۔ جو خبر تحقیق وجستجو کے بعد سامنے آتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ سرکار امام زمان علیہ السلام او ائل غیبت میں ذی طویٰ جو کہ مدینہ سے ایک فرسخ کے فاصلہ پراور مسجدتنیعم کے قریب واقع ہے،اس میں ساکن رہے اسکے بعد آپ سرزمین رضوی کی طرف نقل مکانی کرگئے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے البتہ مرکزی شاہراہ سے کئی کلومیٹر دور ہے اس کے بعد آپ لمبی مدت تک طائف کے پہاڑوں میں مقیم رہے علی بن مہزیار نے آپ کی زیارت اسی جگہ سلسلہ کوہ ہائے طائف میں کی تھی اور آخری اور اصل رہائش آپ کی جزیرہ خضرا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی آپ کی کئی منازل ہیں جہاں آپ جاتے اور ٹھہرتے ہیں ۔

سبز رنگ کی خوبصورتی

جزیرة خضرا یعنی سبز جزیرہ اصلی رنگوں کی تعداد سات ہے لیکن ضمنی رنگ اور فروعی رنگ بہت زیادہ ہیں لیکن سبز رنگ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ رنگ تمام رنگوں میں سے خوبصورت ترین اور دلکش رنگ ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ رنگ آرام بخش رنگ ہے اسلام میں بھی اس رنگ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

ثلاثه، یذهبن عن قلب الحزن

الماءوالخضراءوالوجه الحسن

تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو دل سے غم دور کرتی ہیں ،پانی، سبزہ اور خوبصورت چہرہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے درختوں کو سبز رنگ دیا ہے۔قرآن مجید میں ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا اور زمین سرسبز ہوگی جی ہاں! اللہ ہی لطیف اور آگاہ ہے۔(سورئہ حج ۳۴)

سبز درخت اور آگ

( الذی جعل لکم من الشجر الاخضر نارًا ) “ ۔ اللہ ہی ہے کہ جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی ہے “۔ (سورئہ یٰسین آیت ۰۸)

جنت میں سبز لباس

( عَالِیَهُم ثیاب سندسٍ خضرواستبرق ) “۔ ”جنتی ریشمی اور بھاری سبز لباس پہنیں گے“۔(سورئہ انسان آیت ۱۲)

جنت کے سبز تکیے و بستر

( متکین علی رفرفٍ خضرٍوعبقریٍ حسان ) “۔(سورہ رحمن آیت۶۷)

جنتی لوگ سبز رنگ کے بستروں پرتکیہ کیسے ہوئے ہونگے اور نیکی کے فرش سے استفادہ کریں گے۔

( مدهامتان ) (سورئہ رحمن آیت۴۶)

جنت میں دو بہت زیادہ سبز باغ ہیں کہ بہت زیادہ سبزہ کی وجہ سے سیاہ رنگ کے لگتے ہیں روایات میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے ظاہر ہونے والی آگ سبز رنگ کے درختوں سے نکلی تھی اور مشہور ہے کہ اس آگ کا رنگ بھی سبز تھا۔بعض روایات میں ہے کہ بہشت کے آسمانوں کا رنگ بھی سبز ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ خضر نبی ایسی جگہ بیٹھے تھے کہ جہاں سبزہ وغیرہ نہ تھا آپ کے بیٹھنے کی وجہ سے وہ جگہ سرسبزوشاداب ہوگئی اورسبزہ اگ آیا جس کی وجہ سے آپ کا نام خضر مشہور ہوگیا۔

جزیرہ خضرا ئ

یہ جزیرہ دنیا کا خوبصورت ترین جزیرہ ہے کہ جس کی آب و ہوا اور سبزہ دنیا کے تمام نقاط سے زیادہ اعلیٰ وخوبصورت ہے البتہ آخری تحقیقات کی رو سے کچھ محققین نے جزیرہ خضراءکو برمودا سے تعبیر کیا ہے اور خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ یہی جزیرہ خضرا ہے اس بنیاد پر ہم اس علاقہ کی جغرافیائی حیثیت کے حوالہ سے گفتگو کریں گے۔

جزیرہ خضرا کہاں ہے ؟

مثلث برمودا بحراوقیانوس اطلس میں ہے اورفلوریدا سے مشرق اور جزائر آنٹیل کے شمال اور جزائربرمودا کے جنوب میں واقع ہے یعنی جزیرہ خضراءکے مغرب میں بحراوقیانوس مشرق میں فلوریڈا شمال میں جزائر آنٹیل اور جنوب میں جزائر برمودا واقع ہیں ۔ تین اطراف سے میامی اور سرخوان واقع ہیں اور اس مثلث کا مرکز اور ہیڈکوارٹرز برمودا ہے جو کہ مشہور ہے برمودا مثلث تقریباً ۰۶۳ چھوٹے چھوٹے جزائر پرمشتمل ہے جوکہ تمام جزائر برمودا کے نام سے معروف ہیں ان جزائر کے مرکز اور دارالحکومت کا نام ھاملٹن( Hameltean ) ہے۔یہ جزائر بحراوقیانوس کی جنت کے نام سے مشہور ہیں کیونکہ اس کے مناظر دنیا کے خوبصورت ترین مناظر ہیں اور فرحت بخش ہیں ان جزائر میں سے ۰۶ جزیرے آباد ہیں جہاں انسان بستے ہیں اور وہاں کی آبادی تقریباً۰۶ ہزار لوگوں پرمشتمل ہے جب نیویارک میں سخت برفباری ہورہی ہوتی ہے اس وقت برمودا کی تمام زمین کو پھولوں نے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے برمودا سے سردیوں میں بہت زیادہ سبزیاں اور پھول ایالات متحدہ امریکا بھیجے جاتے ہیں جزیرہ خضرا کے حوالہ سے دوواقعات ہم یہاں نقل کریں گے اور معتبر کتب سے جزیرہ خضرا کے بارے گفتگو کریں گے۔(برمودا، جغرافیا جہان ص۵۷۱)


باب دوئم

وادی امن کی طرف سفر

جزیرہ کی طرف جانے کی کئی محققین نے کوشش کی ہے اور ناکام ہوئے ہیں البتہ کچھ لوگوں کو جزیرہ خضرا کا سفر نصیب ہوا ہے ہم دو اہم ترین شخصیات کا ذکر کریں گے جن کو جزیرہ خضرا جانا نصیب ہوا کہ جس کے ذریعہ وہاں کے کچھ حالات کی وضاحت ملی۔

۱۔ علی بن فاضل کا جزیرہ خضراءکا سفر

زین الدین علی بن فاضل مارندرانی ۰۹۶ ہجری میں ایک کشتی میں تبلیغاتی سلسلہ کے لیے عازم سفر ہوا، اس نے سرزمین بربر سے ۳دن بحراوقیانوس کے مرکز میں کشتی رانی کی اور سفر جاری رکھااور کچھ شیعہ نشین جزائر میں وارد ہوااسے اس جزیرہ میں پتہ چلا کہ ایک جزیرہ جوکہ بحراوقیانوس میں بنام جزیرہ خضرا واقع ہے اور وہاں امام زمان علیہ السلام کی اولاد سکونت پذیر ہے علی بن فاضل تبلیغاتی سلسلہ میں چالیس روز ان شیعہ نشین جزائر میں رہے اس دوران سات کشتیاں جو کہ غذائی اجناس اور دیگر ضروریات سے لدی ہوئی تھیں جزیرہ خضراءسے ان شیعہ جزائر میں آئیں اور کشتی کے تمام ناخداوں نے علی بن فاضل کے نام کے حوالہ سے جزائر شیعہ نشین میں آکر دیں ایک کشتی ران نے علی بن فاضل کانام مع ولدیت بیان کیا اور کہا کہ مجھے حکم ہے کہ تجھے اپنے ساتھ جزیرہ خضرا میں لے جاوں علی بن فاضل فرماتے ہیں کہ ہم ۶۱ دن مسلسل کشتی پر سفر کرتے رہے اور آخر کار ہم سفید پانی تک پہنچ گئے مجھے کشتی کے ناخدا نے کہا کہ اس جزیرہ کا احاطہ اس سفید پانی نے کیا ہوا ہے کسی مخالف یا دشمن کی کشتی اس پانی داخل نہیں ہوسکتی اور حکم خدا سے غرق ہوجاتی ہے۔علی بن فاضل فرماتے ہیں کہ میں نے جزیرہ خضرا میں بہت آباد اور خوبصورت سرسبزوشاداب شہردیکھا کہ جس میں انواع واقسام کے باغات اور بڑی عظیم عمارتیں تھیں میں نے وہاں ایک سید بزرگوار کو دیکھا کہ جن کا نام سید شمس الدین ہے اور وہ امام زمان علیہ السلام کے پانچویں پوتے ہیں اور وہاں کے تعلیم وتدریس کے ادارہ کے مسول وانچارج ہیں ۔میں نے اٹھارہ دن وہاں قیام کیا اور سید شمس الدین کے حضور کسب فیض کرتا رہا۸۱ دن کے بعد سید شمس الدین کو حکم ملا کہ وہ مجھے واپس بھیج دیں علی بن فاضل نے اپنی کتاب فوائد الشمسہ میں اس واقعہ کو جو ان کے ساتھ پیش آیا انتہائی تفصیل کے ساتھ لکھاہے جو کہ ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر ہے اور خزانہ کتب امیرالمومنین میںموجود ہے۔اس واقعہ کو علامہ مجلسی ؒ نے بحارالانوار میں اور مقدس اردبیلی نے حدیقة الشیعہ میں شیخ حرعاملی نے اثبات الہدیٰ میں اور بحرالعلوم نے اپنی کتاب رجال میں ذکر فرمایا ہے۔قابل توجہ نقطہ یہ ہے کہ اب بھی اس جزیرہ کوسفید پانی نے اپنے حصار میں لیا ہوا ہے اور کوئی کشتی اور ہوائی جہاز اس کی دریائی یا فضائی حدود میں داخل نہیں ہوسکا بلکہ داخل ہوتے ہی کشتی غرق ہوجاتی ہے اور ہوائی جہاز گر کر تباہ ہوجاتا ہے سینکڑوں کشتیاں اور جہاز اس علاقہ میں داخلہ کی وجہ سے غرق اور گم ہوچکے ہیں لیکن یہ تباہی اور غرق ہونا صرف انہی کےلئے ہے جو مخالفت اور جستجو میں ہوتے ہیں مندرجہ بالا واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کسی کوخود بلایا جائے تو وہ مستثنیٰ شمار ہوں گے۔غرق شدہ کشتیوں اور جہازوں میں اہم ترین کشتی جوکہ جنگی کشتی تھی بنام (اٹلانٹا) کہ ۰۹۲ سواروں سمیت غرق ہوگئی اور ۵۴۹۱ میں ۵ ہوائی جہاز اس خطہ میں گم ہوگئے”مثلث برمودا“ جزیرہ خضرا کے ساتھ اور جزائر جن کے مقدس نام ہیں مثلاً جزیرہ زہراء علیہ السلام، جزیرہ صافیہ، جزیرہ ظلوم وعناطیس وغیرہ واقع ہیں کہ وہاں کے سکونتی تمام کے تمام شیعہ ہیں اور سرکار امام زمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ۵ افراد یہاں سکونت پذیر ہیں یعنی ہر جزیر میں ایک فرزند امام سکونت پذیر ہیں اور حکومت چلا رہے ہیں ۔(حدیقہ الشیعہ النجم الثاقب)

آیت اللہ شفتی کا جزیرہ خضراءکا سفر

نقل از العبقری الحسان ج۱،۷۲۱ علامہ نہاوندی نے ایک دوست جن کا نام سید احمد ہے سے نقل کیا حجة الاسلام شفتی نے کتاب تحفہ الابرار کی جلد کی اندرونی پشت پر یہ واقع تحریر فرمایا ہے ، جس کا ہم یہاں خلاصہ لکھیں گے علامہ شفتی کہتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ امام زمان علیہ السلام سے یہ دعا اور درخواست کی کہ مجھے وہ سفیدسمندر اور جزیرہ خضراءجس میں انکی اولاد ہے دکھائیں اور اس کےلئے میںنے خداوند کریم کو امام زمان علیہ السلام کا واسطہ اور قسم دی کہ اگر یہ سارا سلسلہ اور جزیرہ خضراءکا قصہ سچ ہے تو مجھ پر ظاہر فرمائے یہاں تک کہ عید غدیر کی رات جو کہ اتفاقاً شب جمعہ تھی اور رات کی دوتہائی گزر چکی تھی اور میں اپنے گھر کے باغیچہ کے کنارے جوبیدآباد اصفہان میں واقعہ ہے چہل قدمی کررہا تھا کہ میں نے ایک بزرگوار سید کو دیکھا جو کہ علماءکے لباس میں تھا اس نے وہ تمام باتیں جو میرے ذہن میں تھیں مجھ سے بیان کردیں اور کہا کہ جو کچھ تم نے جزیرہ خضرا کے بارے سنا ہے وہ صحیح ہے اور پھر مجھ سے پوچھا کہ کیا تم جزیرہ خضرا دیکھنا چاہتے ہو تاکہ تمہارے اور دیگر لوگوں کے لیے عبرت ہو میں نے عرض کی جی ہاں تو اس سید نے فرمایا کہ اپنی آنکھیں بند کرو اور سات بار محمد وآل محمد پر درود پڑھو میں نے وہی کیا جو انہوں نے کہا پھر کہا کہ آنکھیں کھولو میں نے آنکھیں کھولیں تو میں نے ایسا شہر دیکھا کہ جسکے گھروں کا ایک دوسرے سے فاصلہ تھا یعنی متصل نہ تھے اس شہر کے دائیں اور بائیں انتہائی خوبصورت درخت اور پھول تھے اس سید نے کہا کہ ان درختوں کے اختتام پر جاو وہاں ایک مسجد ہے اور اس میں ایک امام جماعت ہے اور وہ امام جماعت سرکار امام زمان علیہ السلام کا ساتواں بیٹا ہے اور اس کانام عبدالرحمن ہے سے ملو میں مسجد کی طرف گیا ایسے محسوس ہوتا تھا کہ میں نہیں چل رہا بلکہ زمین چل رہی ہے میں نے امام مسجد کو دیکھا جو کہ محراب مسجد میں تشریف فرما تھے انکی شکل مثل چاند کے تھی ان کا چہرہ چمک رہا تھا اس کی پیشانی سے نور نکل کر آسمان کی طرف جا رہا تھا۔انہوں نے میری طرف دیکھا اور فرمایا”مرحبالک“ خوش آمدید ،خداوند کریم نے تیرے اوپر احسان کیا ہے میں نے تمام مشکلات اور اپنے مسائل ان سے بیان کیے انہوں نے نہایت فراوانی سے ان کے جواب دیے، وہ نہایت مہربان تھے اور میرے ذہن کی خبریں دیتے تھے ایک دفعہ میرے ذہن میں خیال آیا کہ مجھے اس وقت بیدآباد اصفہان کی مسجد میں جاکر جمع شدہ لوگوں کو صبح کی جماعت کرانا ہے لوگ میرے منتظرہوں گے میرے ذہن کی کفیت کو وہ امام جماعت جان گئے اور مجھے فرمایا کہ پریشان مت ہو ہم تمہیں ابھی وہاں پہنچا دیتے ہیں تم ان کے ساتھ نماز پڑھو گے۔اس وقت وہی سید جو مجھے لائے تھے ظاہرہوئے میرے قریب آگئے اور فرمایا امام زمان علیہ السلام کی برکت سے چلیں؟ میں نے کہاہاں تو کیا دیکھتا ہوں کہ بیدآباد اصفہان کی مسجد میں کھڑا ہوں چونکہ نماز کا وقت تھا لوگ جمع تھے میں نے جماعت کرائی میں نے مڑ کر دیکھا تو اس سید کو وہاں موجود نہ پایا۔

(عرض مترجم:جزیرہ خضراءبارے محترم مصنف کتاب نے جو دلائل اور واقعات تحریر فرمائے ہیں ہم نے ان کا ترجمہ من وعن تحریر کردیا ہے البتہ یہ موضوع علماءو محققین کے درمیان متنازع رہا ہے اور جزیرہ خضراءشدید محل اختلاف ہے کہ آیا جزیرہ خضراءکا وجود ہے یا نہیں اور اس کے بارے لکھے گئے واقعات و داستانیں کہاں تک مبنی برصداقت ہیں اس بارے محققین میں شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ قارئین کرام اس بارے مزید تفصیلات جاننے کے لئے اس موضوع پر لکھی گئی دیگر کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔”واللّه عالم بالصواب “۔)

ای یوسف گم گشتہ

ای یوسف گم گشتہ محبوب کیجایی؟

ای نور خدائی!

این است گمانم کہ تو رنجیدہ زمایی؟

گفتی کہ نیایی

ہستیم مقرّ ہمہ تفصیر و خطایی

کانون عطایی

بردار نقاب از رخ وکن صلح وصفایی

بی چون و چرایی!

ای مہدی موعود امم! نور ہدایت! جانم بہ فدایت

آفاق جہان یکسرہ تاریک چو شب شد

گیتی بہ تعب شد

دلھا ہمہ بر ضدّ ھم امواج غضب شد

شیطان بہ طرب شد

یک عدّہ در این معرکہ حمّال حطب شد

ہر ظلم سبب شد

ہر دیو در این بادیہ اصلاح طلب شد

ای وای عجب شد!

ای مہدی موعود امم! نور ہدایت! جانم بہ فدایت

نیکان ہمہ نو مید بہ یک گوشہ خزیدند

اندوہ خریدند

اشرار فرومایہ زبیغولہ دویدند

اَبَر طعمہ پریدند

بیچارہ ضعیفان زتعب جامہ دریدند

فریاد کشیدند

ہر جا کہ دویدند جوابی نشنیدند

جز مکر ندیدند

ای مہدی موعود امم! نور ہدایت! جانم بہ فدایت

ای شاہ! بیا قافلہ گم کردہ رہ خویش

نِی راہ پس وپیش

در بحر ضلالت ہمہ افتادہ بہ تشویش

از مالک و درویش

آدم ہمہ یک آدم و راہش نہ زیک بیش

از تفرقہ دلریش

یا را ی تو اصلاح شود مغز کژ اندیش

دنیاہمہ یک کیش

ای مہدی موعود امم! نور ہدایت! جانم بہ فدایت

ای مہر جہانتاب! تو دریاب امم را!

بردار ظُلَم را!

بشکن بہ دو بازوی قوی جملہ صنم را!

دینار و درم را

بالا ببرای نابغہ افکار و ہم را!

تقوا و کرم را

کن رہبری اقوام عرب تابہ عجم را!

این کشور جم را

ای مہدی موعود امم! نور ہدایت! جانم بہ فدایت

بالای سرت پرچم( البیعة للّٰہ)

نام تو در افواہ

آن ھالہ احباب تو، یاران دل آگاہ

بر گرد تو ای ماہ!

کن دست ہمہ اہل ستم یکسرہ کوتاہ!

و آن دشمن بدخواہ

از خاور و از باختر این ملّت گمراہ

آور ہمہ در راہ!

ای مہدی موعود امم! نور ہدایت! جانم بہ فدایت

آیا کہ شود چہرہ زیبای تو بینم؟

سیمای توبینم؟

در ظلمت کفر آن ید بیضای تو بینم؟

ہیجای توبینم؟

باشد کہ نمیرم و تجلاّی توبینم؟

اعطای تو بینم؟

باعین (حقیقت) سر سودای تو بینم؟

کالای تو بینم؟

ای مہدی موعود امم! نور ہدایت! جانم بہ فدایت

(دیوان گنجینہ گوھر)

شکر ایزد کہ دل منوّر شد

در بساط شہود دلبر شد

( یَا ایُّهَاَاَلَّذِینَ آمَنُوا اَصبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاَتَّقُوا اَللّٰهَ لَعَلَّکُم تَفلِحُونَ ) “۔

”اے ایمان والو! تم ثابت قدم رہو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لئے تیار رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو“۔(آل عمران ۰۰۲)


فصل پنجم

میل جول اور ملاقاتیںرابطے اور شرف

رابطے توسل

دعائے ندبہ کی حقیقت

انفرادی ملاقاتیں

اجتماعی شرف زیارت


باب اول

رابطے

امام زمان علیہ السلام(علیہ السلام) کے ساتھ روابط لازم ہیں

ربط کا لغوی معنی ایک چیز کو دوسری چیز سے جوڑنا ہے لیکن یہاں ارتباط امام زمان علیہ السلام سے مراد مثل ایسے ربط کے ہے جو بدنی خلیوں کا دل سے دل اپنے عمل کے ذریعہ یعنی گردش خون سے خلیوں کو زندگی بخشتا ہے خلیوں کی زندگی دل کی حرکت پر منحصر ہے۔جب دل اپنا کام بندکر دے تو خلیے مر جاتے ہیں اور انسانی موت واقع ہوجاتی ہے ”( یاایهاالذین آمنوا صبروا وصابرو رابطوا واتقواللّٰه لعلکم تفلحون ) “۔ (آل عمران ۰۸۲)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ مصائب ومشکلات جو تمہیں ہماری راہ میں اٹھانی پڑیں اس پر صبرکرو تحمل کرو سائل نے عرض کی مولا ”صابروا“ سے کیا مراد ہے۔

تو امام نے فرمایا کہ جب تم اپنے اماموں کی دشمنی دیکھو تو بردبار رہو یعنی تقیہ کرو۔

سائل نے پوچھامولا! ”ورابطوا“ سے کیا مراد ہے؟فرمایا! اپنے امام علیہ السلام کے ساتھ ربط میں رہو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاجاو۔ سائل نے پوچھا مولا کیا یہ آیت اسی مطلب کے لیے نازل ہوئی ہے فرمایا ہاں ۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں ”اس آیت میں رابطہ سے مراداپنےزمان علیہ السلامہ کے امام کے ساتھ رابطہ میں رہو مراد ہے اور رابطوا کے باطن میں ممکن ہے اور کئی معانی مخفی ہوں اور وہ امام زمان علیہ السلام کی ذات کی طرف اشارہ ہو تاکہ ہم ایک دوسرے کو دوست رکھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مال اور دیگر روابط برقراررکھیں۔ تاکہ ان مقدمات اورتہذیب نفس کی بجاآوری اور مقام ولایت ومحبت کی وجہ ارتباط قلبی باامام زمان علیہ السلام حاصل ہونے کے بعد مقام اوتاد وابدال حاصل ہو کہ اس نوعیت کی محبت وارتباط باامام زمان علیہ السلام پر صرف اوتادوابدال اور اولیاءہی فائز ہیں ۔

امام زمان علیہ السلام سے ارتباط کے راستے

ارتباط با امام زمان علیہ السلام کے بیان کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام زمان علیہ السلام کے رابطہ سے کیسے مشرف ہونا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگرخدا چاہے اور مقدر یاوری کرے تو متعدد ذرائع سے سرکار امام زمان علیہ السلام سے روابط استوار کیے جاسکتے ہیں ۔

۱۔ اضطرار

وہ لوگ جنہوں نے حالت اضطرار اور مشکلات میں سرکار امام زمان علیہ السلام سے توسل کیا تو انہوں نے سرکار کی زیارت بھی کی ملا شیخ اسماعیل نمازی اور اس کے قافلہ نے حضرت کا دیدار کیا کہ جس کا ہم آگے ذکر کریں گے۔

۲۔ ختم وتوسل

مخصوص مقامات اور مخصوص ایام میں حضرت سے متوسل ہونا مثلاً

۱۔چالیس شب جمعہ حضرت امام حسین علیہ السلامکے حرم میں۔ ۲۔چالیس راتیں ہر بدھ کی رات مسجدسہلہ(کوفہ) میں ۔۳۔ہربدھ کی رات متواتر چالیس راتیں مسجد جمکران جانا۔

مسجد جمکران

یہ بات مسجد جمکران بارے مشہور ہے اس کا انہوں نے نتیجہ بھی لیا ہے لیکن جمکران میں بدھ رات خصوصیت کے ساتھ جانا، تو اس بارے کوئی خاص روایت نہیں دیکھی، جب کہ گذشتہزمان علیہ السلاموں میں بہت سارے علماءاور آیات عظام شب جمعہ جمکران مسجد میں مشرف ہوتے رہے ہیں ، جن میں مرحوم آیت اللہ شیخ عبدالکریم حائری یزدی، آیت اللہ شیخ محمد تقی بافقی، آیت سید محمد تقی خوانساری، مرحوم محمد شاقمی، شامل ہیں ۔ (مصنف)

۴۔ تہذیب اور پاکیزگی نفس کے ذریعہ ایک پارسا اور پاکیزہ نفس آدمی دعائے ندبہ پڑھتے ہوئے جب اس جملہ پر پہنچا ”ہل الیک یابن احمد سبیل فتلقیٰ“ کہ اے فرزند احمد کیا کوئی ایسا راستہ ہے کہ جس سے تیری زیارت نصیب ہوجائے توعالم مکاشفہ میں اسے سرکار امام زمان علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں راستہ ہے اور وہ ہے تزکیہ نفس ۔

۵۔ وہ لوگ جنہوں نے سرکار امام زمان علیہ السلام کی محبت میں دل کو دنیا سے اٹھالیا اور خاص کر وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی ہر چیز کو پیچھے چھوڑ دیا اور اپنا دل سرکار امام زمان علیہ السلام کے سپرد کر دیا ان میں سے کچھ جزیرہ خضرا میں پہنچ گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے اور کبھی کبھی انہیں سرکار امام زمان علیہ السلام کی طرف سے کوئی ذمہ داری بھی سونپ دی جاتی ہے۔

حضرت امام زمان علیہ السلام کے ساتھ رابطہ کی انواع واقسام ہیں اور کہاجاسکتا ہے کہ کچھ روابط کی اقسام کو مقدمہ اور کمزور روابط کا زینہ قرار دیا جائے اور کچھ روابط محکم ومستقیم اور کامل ہیں ۔

وہ امور جو کہ رابطہ کے مقدمات ہیں ان کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

۱۔ سرکار امام زمان علیہ السلام سے شدیدمحبت اور ہمیشہ ان کی یاد میں مگن رہنا۔

۲۔ دینی خدمات اور لوگوں کو امام زمان علیہ السلام سے متعارف کرانا اور سرکار امام زمان علیہ السلام کی تعریف وثناءخوانی کرنا بھی ارتباطات کا پیش خیمہ ہیں ۔

۳۔ سرکار امام زمان علیہ السلام کی سلامتی کے لیے صدقات دینا سرکار کے حوالہ سے منت و نذر ماننا اور اعمال صالح بجالانا کہ اس کا صلہ سرکار کے لیے ہو۔

۴۔ مختلف دعاوں اور زیارات کا پڑھنا جو کہ سرکار امام زمان علیہ السلام کے ساتھ منسوب ہیں اور خصوصاً دعائے ندبہ پڑھنا بھی ارتباط کا پیش خیمہ ہے۔

سرکار امام زمان علیہ السلام کے ساتھ ارتباطات کے ذرائع میں اہم ترین ذریعہ ایسی دعاوں اور زیارتوں کا پڑھنا ہے کہ جو امام زمان علیہ السلام کے ساتھ مخصوص ہیں کتاب مکیال المکارم میں تقریباً ایک سو کے قریب دعاوں کا ذکر ہے جو کہ امام زمان علیہ السلام کے ساتھ رابطہ خاص کاذریعہ ہیں ہم یہاں صرف چند خصوصی دعاوں کا تذکرہ کریں گے جو کہ مفاتیح الجنان میں تفصیلاً دیکھی جا سکتی ہیں ۔

۱۔ دعائے فرج”یامن تحل به عقدالمکاره “جوکہ بہت زیادہ خوبصورت دعاہے

۲۔ دعائے فَرَج ”یاعماد من لاعمادله ....“

۳۔ دعائے فَرَج ”الٰهی عظم البلاء ....“

۴۔ دعا جو کہ غیبت امام زمان علیہ السلام کےزمان علیہ السلامہ سے مخصوص ہے ”اللهم عرفنی نفسک “۔

۵۔ دعا برائے سلامتی امام زمان علیہ السلام علیہ السلام”اللهم ادفع عن ولیک وخلیفک وحجتک علی خلقک “ جو کہ مفصل دعا اور بہت عالی شان مضمون کی حامل ہے۔

۶۔ دعا برائے امام زمان علیہ السلام جو کہ صلوات ضراب اصفہانی کے نام سے مشہور ہے ”اللهم صل علی محمد سید المرسلین وخاتم النببین وحجة رب العالمین المنتجب فی المیثاق المصطفیٰ فی الظلال. ...“۔

۷۔ دعائے عہد ”اللهم بلغ مولای صاحب الزمان علیه السلام ....“۔

۸۔ دعانماز استغاثہ۔ ”سلام الله الکامل التام “۔

۹۔ زیارت حضرت حجت جو کہ جمعہ کے دن کے لیے ہے ”السلام علیک یاحجة الله فی ارضه “۔

۰۱۔ زیارت آل یٰسین “۔

۱۱۔ دو مشہور و مفصل زیارات جو کہ سامرہ کے مقدس تہہ خانہ میں پڑھی جاتی ہیں

۲۱۔ زیارت صلوات بر حجج طاہرہ ۔

۳۱۔دعائے ندبہ جو کہ بہت عالی شان دعا ہے ہم اس کے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں گے۔

(یہ سب دعائیں مفاتیح الجنان میں موجود ہیں )

دعائے ندبہ

سب سے پہلا فرد جس نے دعائے مبارکہ ندبہ کو اپنے مکتوب میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کیا ہے وہ ابوجعفر محمد بن حسین بن سفیان بزوفری ہے جو کہ مورد اعتماد وموثق ہے یہ ابوجعفر نبرو فری شیخ مفید کے اساتذہ سے ہےں دعائے ندبہ کئی عالی شان مضامین کی حامل ہے۔

صاحب کتاب (بادعائی ندبہ درس بگاہ جمعہ) حجة الاسلام علی اکبرمہدی پور اپنی کتاب میں دعائے ندبہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس دعا کے ۴۲۱ جملے روایات کے ساتھ منطبق ہیں ہم اس دعا کے اہم ترین حصوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

دعائے ندبہ کے پہلے ۶حصے

۱۔ پہلا حصہ جو کہ جملہ ”الحمدللّٰه رب العالمین “ سے شروع ہوتا ہے یہ حمد و ستائش پروردگار کے لیے مخصوص ہے اس کی نعمتوں کے عوض اور خصوصاً بزرگ ترین نعمت یعنی انبیاء علیہ السلام ورسل اور کتب کے بھیجنے پر حمدوشکر ہے۔

۲۔ دوسرا حصہ جس میں یہ جملہ ہے کہ ”الی ان انتهیت بالامرالی حبیبک “ اس میں نعمت خاصہ یعنی بعثت رسول اکرم اور ان کے فضائل ومناقب کا بیان ہے۔

۳۔ تیسرا حصہ جس کی عبارت کچھ یوں ہے ”فلما انقفت ایامه اقام ولیه علی بن ابی طالب “اس کا شروع امامت کے بارے ہے اور تاریخی واقعہ غدیر خم کی طرف اور مناقب امیرالمومنین علیہ السلام مولائے متقیان کی طرف اشارہ ہے۔

۴۔ چوتھا حصہ اس کی ابتداءاس جملہ سے شروع ہوتی ہے ”ولما قضیٰ نحبه “ جس میں مصائب آل محمد کا ذکر ہے جو عترت طاہرہ پروارد ہوئے اور آئمہ علیہ السلام کی محرومی کا تذکرہ کرتے ہوئے اشک ہائے حسرت بہانے کا تذکرہ ہے۔

۵۔ پانچواں حصہ جس کی عبارت کچھ یوں ہے کہ ”این بقیة الله التی لاتخلومن العترة الهادیه “ اس میں سرکار امام زمان علیہ السلام کی غیبت کے طولانی ہونے پر اظہار تاسف ہے اور درد ہجر ہے اور اظہار شوق دیدار کیا گیاہے۔

۶۔ چھٹا حصہ ”انت کشاف الکرب والبلوی “ اس میں دعا دیگر حصوں سے ممتاز ہو جاتی ہے اور بارگاہ خداوندی میں دعا کا اختتام ہوتاہے۔

دعائے ندبہ پراعتراضات اور جوابات

دعائے مبارکہ ندبہ کے خوبصورت متن سے اس دعا کی اہمیت مسلم اور واضح ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی کچھ کو تاہ فکر لوگوں نے اس دعا کو اعتراضات کا نشانہ بنایا ہے ہم ان اعتراضات کو بیان کرتے ہیں تاکہ ان کے جوابات دیے جاسکیں ۔

اعتراض اول: حضرت امام زمان علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کیسے ان کے لیے دعائے ندبہ آگئی ہے؟ جب کہ دعائے ندبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف منسوب ہے۔

جواب: حضرت امام زمان علیہ السلام کوئی معمولی فرد اور انسان نہیں ہیں بلکہ اتنی عظمت وفضیلت کے مالک ہیں کہ جس کا تذکرہ انبیاء علیہ السلام ماسلف اور اوصیاء علیہ السلام کرتے رہے ہیں اور بعض انبیاء علیہ السلام واوصیاء علیہ السلام ان کے فراق میں گریہ کرتے رہے ہیں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام حالت گریہ میں آنسو بہاتے ہوئے سرکار امام زمان علیہ السلام کے بارے فرماتے ہیں ۔ ”سیدی غیبتک نفت رقادی وضیقت عَلَیّ مهادی وابتزت منی راحة فوادی “۔(کتاب الغیبة ص۷۶شیخ طوسی)

اے میرے سردار وسرور تیری غیبت نے میری آنکھوں سے نیند چھین لی ہے اورعرصہ حیات مجھ پرتنگ کردیا ہے اور تیری غیبت نے میرے دل کا آرام وسکون اڑا دیا ہے۔

اعتراض نمبر۲: دعائے ندبہ فرضی اور من گھڑت ہے۔

جواب: دعائے ندبہ جو کہ تمام دعاوں میں اثر انگیز دعا ہے اور اس میں جنگ بدر، جنگ حنین،جنگ خیبر، جنگ صفین اور جنگ نہرواں کا تذکرہ بھی ہے اس دعا میں ۸۳ مقامات پر کلمہ ”این“ تحریر ہے جس کا معنی ہے (کہاں ہے؟)یہ کلمہ جبرواستبداد ظالموں اور متکبروں اور مفسدین کی تباہی و بربادی کے لیے آیا ہے جوکوئی بھی دعائے ندبہ پڑھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ انتظار کرے اور وہ منتظر رہے اور اپنے آپ کو سربازی اور قربانی کے لیے آمادہ رکھے اور وہ خود سازی کرے اور منتظر وہ ہے کہ جو اپنی پوری طاقت وقدرت کے ساتھ ظلم وفساد کے ساتھ مبارزہ کرے تو بنابرایں یہ دعا جو کہ انسان کو ہمیشہ حالت انتظار میں رکھتی ہے بھلا کیسے من گھڑت ہوسکتی ہے۔

اعتراض نمبر۳۔ دعائے ندبہ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان صدق کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے یہ کیسے قرآن کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے؟۔

جواب: دعائے ندبہ میں یہ جملہ آیا ہے کہ”وسئلک لسان صدقٍ فی الآخرین فاجبتہ وجعلت ذلک عَلِیّاً“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوندکریم سے درخواست کی کہ آنے والےزمان علیہ السلامہ میں مجھے سچی زبان عطا فرما۔ خداوند کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور سچی زبان یعنی (زبان توحید)علی علیہ السلام کو قرار دے کر دعا قبول فرمائی”( واجعل لی لسان صدق فی الآخرین ) “(سورئہ شعراء۴۸)میرے لیے آنے والےزمان علیہ السلامہ میں سچی زبان (لسان صدق ) دے

سورئہ مبارکہ مریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد سے دو انبیاء علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے لیے فرمایا کہ ”ہم نے اپنی رحمت کے ساتھ ان کو بہرہ مند کیا اور ان کے لیے (حضرت علی علیہ السلام) کو لسان صدق قرار دیا“۔ (سورئہ مریم ۰۵)دعائے ندبہ میں بھی اسی طرح اور اسی انداز سے آیا ہے اور جس طرح قرآن میں لسان صدق کی دعا کو قبول کرتے ہوئے ”علیا“ فرمایا گیا ہے اسی طرح دعائے ندبہ میں بھی علی علیہ السلام کو ہی لسان صدق سے تعبیر کیاگیاہے۔شیخ صدوقؒ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اس آیت مبارکہ میں ”علیاً“ سے مراد علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات ہے اور یہ حدیث کمال الدین وتمام النعمة ۹۳۱سے نقل ہے۔

اسی طرح علی بن ابراہیم نے اپنے باپ اور اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ اس آیت مبارکہ میں لفظ ”علیاً“ سے مراد علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔ (تفسیر قمی ج۲ص۱۵)

اور بھی روایات ہیں جن میں ذکر ہے کہ اس آیت مبارکہ میں کلمہ ”علیاً“ سے مراد حضرت امیر المومنین علیہ السلام ہیں تو پس دعائے ندبہ میں لسان صدق کے طورپر امیرالمومنین علیہ السلام کا تذکرہ کیا گیا ہے (تفسیر برہان ص۵۲۱ج۵ )یہ بالکل روایات کے مطابق ہے اور خلاف واقعات نہیں ہے۔

اعتراض نمبر۴: دعائے ندبہ میں ایک جملہ ذکر ہے کہ ”عرجت بروحه الی سماءک “ کہ تو نے اس کے روح کو آسمان کی طرف عروج دیا جب کہ پیغمبر گرامی کو معراج جسمانی ہوا ہے یہ جملہ معراج جسمانی کا مخالف ہے؟

جواب: سب سے قدیمی کتاب جس میں دعائے ندبہ کا متن لکھا ہے وہ کتاب المزار الکبیر مولف محدث عالی قدر شیخ ابوعبداللہ محمد بن جعفر مشہدی ہے اس میں یہ جملہ کچھ اس طرح ہے کہ ”عرجت به الی سماءک “ کہ تو نے اسے آسمان کی طرف عروج دیا اس کتاب کا قلمی نسخہ جوگیارہویں صدی کے لکھاریوں کا لکھا ہے حضرت آیت اللہ مرعشی کے کتاب خانہ قم میں موجود ہے تو پس اصل متن دعائے ندبہ میں معراج جسمانی کی مخالفت نہ ہے بلکہ معراج جسمانی ثابت ہے دوسری طرف یہ واقعہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔مرحوم آیت اللہ حاج میرزا مہدی شیرازی فرماتے ہیں کہ ایک رات میںامام زمان علیہ السلام کے تہہ خانہ میں گیا میں نے دروازہ اندر سے مکمل طورپربند کردیا اور دعا میں مشغول ہوگیا دعائے ندبہ پڑھتے ہوئے جب اس جملہ پر پہنچا ”عرجت بروجه الی سماءک “ تو اچانک دیکھا کہ ایک شخص میرے پہلو میں بیٹھاہے جب کہ میں نے تہہ خانہ کے دروازہ کومکمل طورپر بندکردیا تھا جب کہ میرے پہلو نشستہ شخص کی وجہ سے پورا تہہ خانہ منور ہوگیا تھا اور روز روشن کی طرح روشنی تھی۔انہوں نے فرمایا کہ یہ جملہ ”عرجت بروحه الی سماءک “ ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ” عرجت بہ“صحیح ہے اور پھر انہوں نے فرمایا کہ اگر ”بروحہ“ یعنی اگر معراج روحانی تھا تو پھر براق کی کیا ضرورت تھی کیونکہ روح کو تو سواری کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ براق پرسوار ہو کر آسمان کی طرف جائے اس کے بعد میں متوجہ ہوا کہ میرے پاس کلام کرنے والے سرکار امام زمان علیہ السلام تھے۔

اور ساتھ ہی دعائے ندبہ کا یہ جملہ کہ ”واوطاته، مشارقک ومغاربک “ کہ تو نے اس کے قدم مشارق اور مغارب میں ٹھہرائے یہ جملہ بذات خود معراج جسمانی کی طرف واضح اشارہ ہے۔

اعتراض نمبر۵: مشارق اور مغارب کیاہے؟

جواب: مشارق اور مغارب سے مراد عوالم بالاہیں کہ شب معراج نبی اکرم ان کرہ ہائے آسمانی میں گئے بلکہ آپ نے کئی جہانوں کا سفر کیا اور مشارق اور مغارب کی ابتداءکی سیر کی۔

اعتراض نمبر۶: دعائے ندبہ کا جملہ ”واودعته، علم ماکان ومایکون الی انقضاءخلقک “ کہ ہم نے تمام ”ماکان ومایکون “ہرشی کا علم اسے دے دیا ”تاانقصاءمدت“ جب کہ ہر چیز کا علم اللہ کے لیے خاص ہے اور علم غیب مخصوص باخدا ہے؟

جواب: قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”خدا تمہیں علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا مگر یہ ہے جن انبیاء علیہ السلام ورسل کو چاہتا ہے علم غیب عطا کردیتاہے “۔(آل عمران ۹۷۱)

اعتراض نمبر۷: دعائے ندبہ میں ”المودة فی القربیٰ‘ ‘ کی تفسیر آل محمد بشمول امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کی گئی ہے جبکہ آیت مبارکہ مودة ”( قل لااسئلکم علیه اجرًاالاالمودة فی القربیٰ ) “۔

سورئہ شوریٰ میں ہے اور سورہ شوریٰ مکی ہے اور اس وقت امام حسن علیہ السلام وامام حسین علیہ السلام نہیں تھے پس کیسے دعائے ندبہ میں ذی القربیٰ سے مراد آل محمدبشمول امام حسن علیہ السلام وامام حسین علیہ السلام لیا گیاہے؟

جواب: تمام مورخین بالاتفاق لکھتے ہیں کہ سورئہ شوریٰ مکی ہے مگر اس کی آیت نمبر۳۲ تا۷۲ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھیں۔

اعتراض نمبر۸: دعائے ندبہ میں تحریر ہے کہ ”ابرضوی اوغیرہا ام ذی طویٰ “ جب کہ رضوی جو کہ مضافات میں ہے یہ جگہ فرقہ کیسانیہ کے لیے مخصوص ہے اور ان کے بقول محمد حنفیہ اس جگہ پڑہیے۔

جواب: محمد حنفیہ کوصرف چند دن عبداللہ بن زہیر کے حکم پر ناحیہ رضوی میں جلا وطن کر کے رکھا گیا تھا اورکوہ رضوی طویٰ فرقہ کیسانیہ کے ساتھ مربوط نہیں ہیں ۔بلکہ کوہ رضوی ایک جگہ (ینبوع) ایک بہت بڑی آبادی ہے کہ مدینہ سے سات مقامات کے فاصلہ پر ہے یہاں بہت بڑاکھجوروں کا باغ ہے بعض تاریخی روایات کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام نے ایک مدت تک کوہ رضوی میں زندگی گزاری علی بن عیسیٰ جوہری جسے سرکار امام زمان علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی تھی نے منزل ذی طویٰ میں ایک بہت بڑے مکان میں زیارت کی ہے اور دستر امام علیہ السلام پر دو متضاد غذائیں دودھ اور مچھلی باہم دیکھی اور ان دونوں کے باہم کھانے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اسے فرمایا کہ کھاو یہ بہشت کی خوراک ہے۔وادی ذی طویٰ حجون کی بالائی طرف ہے قبرستان ابی طالب سے پہلے کہ جوبالائی سمت ہے اور تنعیم سے کچھ پہلے ہے اور اب شہر مکہ میں واقع ہے جوکوئی چاہے کہ مکہ کی نچلی طرف سے داخل مکہ ہو تو اس کے لیے مستحب ہے کہ ذی طویٰ میں غسل کرے اور پھر وارد شہر مکہ ہو۔(النہایة فی غریب الحدیث والاثرج۳ص۷۴۱)

اعتراض نمبر۹: دعائے ندبہ کو چار مخصوص ایام عید فطر، عید قربان، عید غدیر وجمعہ کوکیوں پڑھنا چاہیے؟۔

جواب: ہم چونکہ ان عیدوں کے موقع پر اپنے آقا ومولیٰ امام زمان علیہ السلام کی جگہ اور کرسی خالی دیکھتے ہیں جب کہ دنیا ظلم وجور سے پرہے تو ہم پکارتے اور کہتے ہیں کہ کاش ہمارے مولا و آقا کی حکومت ہوتی اور ہم ان عید کے دنوں میں اپنے آقا کی زیارت سے مشرف ہوتے اور آپ کو عید مبارک کہتے تو اسی بنا پر ہمیں چاہیے کہ فراق و جدائی اہلبیت علیہ السلام اور بالخصوص امام زمان علیہ السلام میں پکار و فریاد کریں اور اللہ رب العزت سے ان کی تعجیل ظہور کی دعا کریں ۔


باب دوئم

انفرادی ملاقاتیں

۱۔ گل نرگس گل وفا

حجة الاسلام آقائے احمد قاضی زاہدی گلپاہگانی اپنی کتاب شیفتگان مہدی علیہ السلام ج۲ میں تحریر فرماتے ہیں کہ حوزہ علمیہ قم کے دوستوں میں سے ایک دوست جو کہ جنوب مشرقی ایران کے دانشوروں اور محترم علماءمیں شمار ہوتے ہیں اور جنہیں سرکار امام زمان علیہ السلام سے شرف ملاقات اور خوش نصیبی حاصل ہوئی۲۷/۶/۰۳کو یہ واقعہ انہوں نے حضرت آیة العظمیٰ گلپایگانی کے گھر آیت اللہ العظمیٰ گلپایگانی اور آیت اللہ صافی کی موجودگی میں ان کے سامنے شرف یاب ملاقات سرکار امام زمان علیہ السلام ہونے کا بیان فرمایا جس کو سننے کے بعد آیت اللہ العظمیٰ گلپایگانی نے اشک آلود آنکھوں کے ساتھ فرمایا کہ ”رزقنا مثل ذلک “(ہمارا بھی ایسا ہی نصیب ہوتا) واقعہ کچھ اس طرح ہے ہم مشرف با زیارت ہونے والے عالم دین کی اپنی زبانی بیان کرتے ہیں ۔

کئی سالوں سے میں اس کی یاد لیے پھرتا تھا ایک مدت سے اس کے ہجر وفراق میں جل رہا تھا اور کئی کئی گھنٹے اس کے عشق میں روتا رہتا تھا جمعہ کی عصر تھی دعائے سمات کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس جملے پر پہنچا کہ جہاں لکھا ہے کہ اپنی حاجت طلب کرو میں نے اللہ رب العزت سے سرکار امام زمان علیہ السلام کی زیارت کی درخواست کی اسی رات مجھے خواب میں کہا گیا کہ تو مکہ میں ان کی زیارت کرے گا اس کے بعد حج کے سفر میں مجھے توفیق زیارت ہوئی۔ اس کے بعدوالے سفر میں صبح بیدار ہونے کے وقت اور حرکت کرنے سے پہلے مجھے الہام ہوا کہ ”( واعلمواانکم ملاقوهُ وبشرالمومنین ) “۔ (سورئہ بقرہ آیت نمبر۳۲۲)

اگر اس آیت کا آخری جملہ ”( وبشرالمومنین ) “ نہ ہوتا تو میں اپنی عمر کے آخری لحظہ تک کسی کو اس قضیہ سے آگاہ نہ کرتااس سے مجھے یقین ہوگیا کہ مجھے اس سفر میں انشاءاللہ دیدار نصیب ہوگا اس پورے سفر میں دعائے سریع الاجابتہ دعائے مشلول کے متعدد جملے اور قرآن کریم کی متعدد آیات میں مسلسل زبان پردھراتا رہا مثلاً ”( انی توکلت علی الله ) “(سورئہ ہود آیت۶۵) ”( انی وجهت وجهی للذی ) (سورہ انعام آیت ۹۷) اور”( امن یجیب المضطر اذادعاه ویکشف السوئ ) (سورہ نمل آیت۲۶)( ویجعلکم خلفاءالارض ) “(سورہ نحل آیت ۰۸)کو میں نے تکرار کیا اور آخری دفعہ میں نے آخر آیت تک تلاوت کی اور پھر دس بار یااللہ کہا اور پھراللہ تعالیٰ کوپنجتن کا واسطہ دیا اور آخر میں ”اللهم ارنی الطلعة الرشیده واکحل ناظری بنظرة منی الیه “۔ (دعائے عہد) پڑھی اور دل وجان سے خلاق عالم سے سرکار امام زمان علیہ السلام کے دیدار و زیارت کی التجا کی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ساتویں دن میں نے مکہ میں مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے پوری صحیفہ سجاد یہ کی تلاوت کی اور ناامید ہوکر رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوا مقام سعی عبور کرتے ہوئے میں کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیا جب کہ میں مکمل طور پر مایوس اور ناامید تھا کہ اچانک میرے دل میں خوشی کی لہر دوڑی کہ کل نرگس توگُل وفا ہے اور میں بھی تازہ جان ہوگیا میں اٹھا اور اپنی رہائش کی طرف چل پڑا پھر دس ذی الحجہ کی رات کی سحر کے وقت مشعر میں نماز وتر میں مجھے غیبی اشارہ ملا کے روانگی کے وقت میں نے سمجھا کہ مکہ سے روانگی کا اشارہ ہے مگر کچھ نہ ہوا بیت الاحزان اور بقیع میں ہم نے بہت گریہ کیا فریاد کی اور وہی ذکر جس کااشارہ ہوا تھا بار بار زبان پر دہراتا رہا مدینہ میں آخری قیام کے دن میں نے اپنے آپ سے کہا کہ صبح کی نماز مسجد نبوی میں جاوں میں جونہی مسجد میں باب النساء(قبلہ کی بائیں جانب کے دروازوںسے ہے)سے داخل ہوا جب کہ تمام لوگ نماز سے فراغت کے بعد بیٹھے تعقیبات صبح پڑھ رہے تھے۔

اگلی صفوں میں بائیں ہاتھ پر میں نے ایک فرد کو دیکھا وہ اپنے رخ کوقبلہ سے دروازہ کی طرف موڑ کر دیکھ رہا تھا میں اس کی مکمل حالت بیان کرسکتا ہوں اس نے مجھے دیوار کے پیچھے سے دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلایا میں تمام صفوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور نگاہیں اسی پر جمالیں تاکہ رش کی وجہ سے دوبارہ گم نہ کربیٹھوں لطف کی بات یہ ہے کہ جب تک میں اس تک نہ پہنچا وہ بھی قبلہ سے رخ ہٹا کر مسلسل مجھ حقیر کودیکھتا رہا ان کے حکم پر میں نے ان سے معانقہ کیا(گلے ملا) اور ان سے سوال کیا کہ آپ کانام کیا ہے انہوں سرکو ہلایامگر جواب نہ دیا میں نے اپنا رخ اس قبلہ مقصود کی طرف رکھا اور اپنی پشت ایک ستون سے لگالی اور ایک قدم کے فاصلے سے اس کا نظارہ کرنے لگا ان کا چہرہ مثل گل گلاب تھا اور ان کے دندان مبارک مثل موتیوں کے تھے ان کی ریش مبارک گھنی اور سیاہ تھی ان کے سر کے بال ریشم کی طرح نرم و ملائم لمبا عربی قمیض زیب کیا ہوا تھا کہ جس کا رنگ ہلکا آسمانی تھا ایسی جگہ تشریف فرماتھے کہ ان کے سامنے فرش کا پتھر نمایاں تھا جس کی وجہ سے انہیں سجدہ گاہ کی ضرورت نہ تھی آپ کے دائیں ہاتھ پر دو آدمی مو دب بیٹھے تھے اور بائیں طرف بھی دو آمی مو دب بیٹھے تھے جن کے لباس اہل یمن کی طرح تھے اس حالت میں کہ ان کے سرمتواضع جھکے تھے اور تعقیبات نماز میں مشغول تھے انہوں نے آخر تک سر اوپر نہیں اٹھایا میں نے اپنے آپ سے کہا کہ سرکار کو قسم دوں تاکہ مجھے اپنا تعارف کردیں پھر مجھے یہ احساس ہوا کہ قسم سے تو ان پر جواب دینا واجب ہوجائے گا اور ممکن ہے تعارف نہ کرانے میں مصلحت ہو اور آپ تعارف نہ کرانا چاہتے ہوں میں انہیں اذیت دینے کا موجب نہ بن جاوں لیکن مجھے اس دوران مکمل یقین حاصل تھا کہ میرے سرکار امام زمان علیہ السلام تشریف فرما ہیں لیکن پھر بھی اطمینان کی کیفیت نہ تھی پس میں نے ارادہ کیا کہ استدعا کروں تاکہ سرکار تعارف کرائیں۔ میں کچھ آگے بڑھا اور سامنے آکر عرض کی کہ مجھے اپنا تعارف کرائیں جس کے جواب میں انتہائی محبت و شفقت کے ساتھ جناب امام زمان علیہ السلام نے جملہ ارشاد فرمایا کہ مجھے جرات نہیں کہ اپنے بارے وہ جملہ دہراوں میں آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور آپ کی زیارت میں غوطہ زن ہوگیا مجھے خیال آیا کہ میں نے صبح کی نماز ادا کرنی ہے اور ایسی جگہ تلاش کروں جہاں پتھر ظاہر ہو تاکہ وہاں نماز پڑھوں لیکن میں اس بات سے غافل تھا کہ واپس آ کر حضرت امام زمان علیہ السلام سرکار کو دوبارہ نہ پاوں گا اور یہی ہوا۔

۲۔ آقائے ابراہیم صاحبزمان سے ملاقات امام زمان علیہ السلام

مرحوم حجة الاسلام علامہ آیت اللھی نے یہ واقعہ مجھے بیان کیا کہ میں کئی سال تک آیت اللہ حائری کے درس میں قم میں شریک رہا ایک شخص جس کا نام ابراہیم صاحبزمان تھا آیت اللہ حائری کے درس سے پہلے چند منٹ مجلس پڑھتا (مصائب پڑھتا تھا) چونکہ ہر روز اس کی زبان پر مولا صاحب الزمان علیہ السلام کا نام آتا تھا اس لیے اسے صاحبزمان علیہ السلامی کہا جانے لگا ۔

ایک دن میں نے اسے اکیلا پایا تو کہا کہ تو جو ہمیشہ صاحب الزمان علیہ السلام کا ورد کرتا ہے کیا تمہیں کبھی مولا صاحب الزمان علیہ السلام کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا یا نہیں تو اس نے کہاہاں ! میرا ایک نوکر تھا جس کا نام شیخ حسن تھا جس کے ہمراہ میں گدھے پر تبلیغ و مسائل بیان کرنے جایا کرتا تھا اور میرا نوکر ہمیشہ میرا حقہ اور تمباکو ہمراہ رکھتا تھا ایک دفعہ مجھے نوکر کے ہمراہ قلھک نامی جگہ پر ایک زنانہ مجلس میں شرکت کرنے اور مسائل بیان کرنے جانا تھا۔

راستہ میں میرے نوکر شیخ حسن نے مجھے کہا کہ آج مجھے حقہ اور تمباکو لانا یاد نہیں رہا میں واپس جاتا ہوں اور لے آتا ہوں میں نے اسے کہا کہ اب لازم نہیں ہے رہنے دو آگے بڑھیں جب ہم اپنی منزل مقصود پر پہنچے تو صاحب خانہ باہر چلا گیا شیخ حسن دروازہ کے پاس بیٹھ گیا جب کہ میں کمرے میں بیٹھ گیا اچانک میں نے دیکھا کہ ایک خوبرو شخص کمرے میں داخل ہوا، اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا جو اس نے ایک گوشہ میں رکھ دیا اور خود صدر نشین کرسی صدارت پر رونق افروز ہوگیا اور مجھے فرمایا کہ آج تمہارا حقہ نہیں ہے میں نے عرض کی ضرورت نہیں ہے فرمایا کہ حقہ تھیلے میں موجود ہے میں نے شیخ حسن کو آواز دی کہ حقہ لائے تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں خود جاو میں خود گیا اور حقہ لے آیا جو کہ مکمل آمادہ اور تیار تھا اور آگ بھری ہوئی تھی۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے تو ہر روز صاحب الزمان علیہ السلام کو بلاتا ہے بتا تجھے صاحب الزمان علیہ السلام سے کیا کام ہے میں نے عرض کی جب صاحب الزمان علیہ السلام سامنے ہوں گے تو خود انہیں بتادوں گا تو انہں نے کہا کہ فرض کرو صاحب الزمان علیہ السلام تمہارے سامنے ہے میںنے کہا کہ خدا آپ کی زبان مبارک کرے پھر کہا کہ بتاو ان سے کیا کام ہے میں نے کہا میری حاجت ہے اور اپنی حاجت بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ پوری کردی گئی ہے پھر فرمایا کہ پھر کبھی تمہیں یا ہمارے کسی دوست کو کوئی حاجت ہو تو اس ذکر کو سو مرتبہ کہو ذکر یہ تھا کہ ”یامحمد یاعلی علیہ السلام یافاطمہ علیہ السلام یا صاحب الزمان علیہ السلام اغثنی“ میں نے عرض کی کہ مجھے بھول نہ جائے تو پھر فرمایا کہ قلم اور کاغذ اسی تھیلا میں ہے اٹھا کر لکھ لو میں نے پھر شیخ حسن کو آواز دی تو فرمایا کہ اسے مت بلاو ۔ میں خود اٹھا اور حقہ کو میں نے تھیلا میں رکھا کاغذ قلم لیا اور عطا کردہ جملات لکھنے لگا ”یامحمد، یاعلی علیہ السلام ، یافاطمہ علیہ السلام، یا صاحب الزمان علیہ السلام“ جب کلمہ اغثنی لکھنے لگا تو قلم کو روک لیا وہ فرمانے لگے کہ تو اغثنی کی بجائے ”اغیثونی“ لکھنا چاہتا ہے میں نے عرض کی جی ہاں تو فرمایا کہ نہیں ”اغثنی“ ہی لکھ سب کام خود اکیلا مہدی علیہ السلام ہی کرتا ہے باقی بھی کام اسی کے سپرد کردیتے ہیں یہ جملات لکھنے کے بعد میں کاغذ اور قلم تھیلے میں رکھنے گیا رکھ کر واپس پلٹا تو دیکھا کہ آقا تشریف لے جاچکے ہیں فوراً تھیلے کی طرف پلٹا دیکھا کہ تھیلا بھی نہیں ہے میں نے فوراً شیخ حسن کو آواز دی اور پوچھا کہ یہ آقا کون تھے تو اس نے کہا کہ میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا البتہ تم دونوں کی گفتگو کی آواز سنتا رہا ہوں۔

۳۔ مکہ میں زیارت امام زمان علیہ السلام

آقائے سیدرحیم ہاشمی کہ روحانی ہیں اور مشہد مقدس میں مقیم ہیں (یہ ایک نیک آدمی ہیں مشہد مقدس ادارہ خیریہ چلاتے ہیں ان کے توسط سے اب تک پانچ سو غیرشادی شدہ جوڑوں کے لئے شادی کا انتظام کروایا، مصنف)انہوں نے مجھے (مصنف کتاب) کو یہ واقعہ اپنے الفاظ کے ساتھ بیان کیاہے۔چالیس سال قبل میں سخت بیمار ہوگیا میرا مال ختم ہوگیا میں نے اپنا رہائشی گھر جو کہ میں نے دو حصوں میں تقسیم کردیا آدھے حصہ میں میں نے خود رہائش رکھی اور آدھے حصہ کو فروخت کردیا اور شام کے راستے مکہ کی طرف روانہ ہوا اس امید پر کہ امام زمان علیہ السلام سے ملاقات ہواپنے نہ جاننے والوں کےساتھ وارد مکہ ہوا۔

شب عرفہ

نو ذی الحجہ کی رات اپنے خیمہ سے باہر نکلا تو تین آدمیوں سے ملا انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا تم آمادہ ہو کہ ہمارے ساتھ مل کر دعائے عرفہ پڑھو مجھے بڑی خوشی ہوئی ہم ایک کونہ میں چلے گئے وہ تینوں دعائے عرفہ زبانی پڑھتے رہے اور میں ان کی دعا سے لذت حاصل کرتا رہا۔پھر انہوں نے کہا کہ اگر کل ہمیں ملنا چاہتے ہو تو جبل رحمت کے نزدیک فلاں نقطہ پر آجانا دوسرے دن بوقت ظہر وہاں گیا تو ایک آدمی ان سے آیا ہوا تھا مجھے کہا کہ تشریف رکھو باقی بھی آجاتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ تمہارا دوپہر کا کھانا کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ پنیراور سبزی میں نے ان سے کہا کہ میرے قافلے میں آج مرغ اور چاول ہیں میں دوپہر کے کھانے کے لیے وہاں نہ رکا عید قربان کے دن میں خیمہ سے باہر نکلا تو پھر ان تینوں کو دیکھا انہوں نے مجھے کہا کہ اگر چاہتے ہو کہ تمہارا حج قبول ہو تو ہمارے ساتھ آو ہم جو کام کریں تم بھی وہی کرنا میں ان کے ساتھ رمی جمرات کے لیے گیا وہاں سے قربان گاہ ان کے ہمراہ گیا میں نے اپنی قربانی کسی کو دی اس نے اس کو ذبح کردیا میرے پاوں اور لباس خون آلودہ ہوگئے لیکن ان تینوں افراد کے ساتھ ایسا نہ ہوا میں نے ان کے ساتھ اپنا سرمنڈوایا اور ان کے ہمراہ شعب ابی طالب میں آئے اس دوران ہم ایک پانی کے حوض کے پاس پہنچے مجھے نہیں معلوم کہ یہ حوض کہاں سے آگیا ہم چاروں اس پانی میں اتر گئے ایک نے میرے بدن پر ہاتھ مارا دوسرے نے میرے کپڑے دھوئے اور اس جگہ ڈالے جہاں خشک ہوجائیں پھر ہم چاروں وہاں سے مسجد حرام کی طرف چلے اور باب السلام سے وارد مسجد ہوئے میں نے ان سے کہا کہ اب تک تم تینوں دعا پڑھتے رہے اب مجھے اجازت دو کہ میں بھی کوئی چیز پڑھوں انہوں نے کہا کہ پڑھو میں نے چہاردہ معصومین علیہ السلام پڑھنے شروع کردیے وہ بھی میرے ساتھ دہرانے لگے یہاں تک کہ میں کہا ”السلام علیک یابقیة اللہ“ میں نے دیکھا کہ ان میں سے دونے میرے ساتھ وہ جملہ دہرایا لیکن ایک خاموش ہوگیا اور پھر کہا ”وعلیکم السلام ورحمة اللہ “میں نے توجہ نہ کی کہ یہ کیا ہے ۔ وہ تینوں مسکرانے لگے میں نے کہا کہ آپ کیوں ہنس رہے ہیں کہنے لگے ہمیں ہنسی آگئی تھی ہم اکھٹے طواف کے لیے گئے آقا جو کہ ان دونوں کے آگے تھے اور وہ دونوں میرے دائیں بائیں تھے چونکہ میرا ہاتھ درد کرتا تھا وہ میری حفاظت کررہے تھے کہ کہیں میرا ہاتھ نہ دکھ جائے جب ہم مقام ابراہیم علیہ السلام پر پہنچے تو مجھے کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ ہم تیری نیابت میں نماز پڑھیں میں نے کہا ٹھیک ہے تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے خود پڑھ لو پھر ہم بھی نماز پڑھیں گے پھر ہم صفاءو مروہ کے لیے چلے گئے۔

کوہ صفاپر ان میں سے جو آقا تھے انہوں نے تین دعائیں کیں۔

۱۔ خدایا اس جگہ تیری کنیز حاجرہ علیہ السلام پانی کی تلاش میں سات بار دوڑتی ہوئی آئی اور گئی لیکن اب لوگ اپنے گناہوں کو بخشانے کےلئے دوڑتے ہیں اے اللہ تمام کو اپنی رحمت کا مستحق قرار دے ۔

۲۔ خداوند ہمارے شیعوں کو اپنی عنایت خاص کا مورد قرار دے۔

۳۔ اور آقا نے گریہ کی حالت میں جب کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے تیسری دعا اپنے لیے کی اور فرمایا ”ربنالا نزع قلوبنا بعد ازہدیتنا وھب لنا من لدنک رحمة انک انت الوہاب“۔(سورہ آل عمران آیت ۸)

پھر ہم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی شروع کردی جب کہ آقا مسلسل یہی آیت تلاوت کرتے رہے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری رہے سعی کے بعد تقصیر کی اور پھر طواف النساءکیا طواف کے بعد نماز پڑھی پہلے کی طرح انہوں نے میری نیابت میں نماز پڑھی۔ میں نے عرض کی کہ میں نے سنا ہے کہ جو شخص اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا کر دیوار کعبہ سے لگائے تو خدا اس کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے کیا میں یہ کام انجام دوں تو آقا نے فرمایا کہ لازم نہیں ہے کیونکہ جو شیعہ ہو اور اس طرح حج انجام دے تو اس کے گناہ معاف ہیں مجھے دو جگہ پر بڑی حیرانی ہوئی ایک اس وقت جب آقا نے کہا کہ (ہمارے شیعہ) اور دوسرا جب کہا کہ جو ہمارا شیعہ ہو، لیکن میںپھر بھی متوجہ نہ ہوا کہ آقا کون ہیں میں نے ان سے خدا حافظی کی آکر دیوار کعبہ کے ساتھ اپنا شکم مس کیا توبہ واستغفار کیا پھر اپنے خیمہ کی طرف آگیا جو کہ صحرا منیٰ میں تھا میں نے اپنے ہمراہ ساتھیوںسے پوچھا کہ کیا کر چکے ہیں تو انہوں نے کہا کچھ رمی جمرات کر چکے ہیں اور قربان گاہ کی طرف گئے ہیں تو نے کیا کیا ہے میں نے کہا کہ میں تو تمام اعمال صحیح انجام دے چکا ہوں کہنے لگے تو جھوٹ بولتا ہے میں نے جب سارا واقعہ سنایا تو سب کے سب رونے لگ پڑے میں ان کے گریہ سے متوجہ ہوا کہ میں نے اپنے حج کے اعمال امام زمان علیہ السلام کے ہمراہ انجام دیے ہیں ۔

۴۔ آیت اللہ شیخ محمد طہٰ کو شرف زیارت

سید حسین بحرالعلوم جو کہ سید علی بحرالعلوم کے پوتے ہیں فرماتے ہیں کہ نجف میں ایک کمرے میں بیٹھا ہوا تھا اور مہمانوں اور آنے والوں کا استقبال کر رہا تھا کہ ایک ہندی مسلمان جو کہ عامل اور ریاضت کار تھا وارد ہوا اس نے دعویٰ کیا کہ وہ غیبی سوال کا جواب دے گا وہ سوالات کا جواب کاغذ قلم اور ریاضی کے ذریعہ دیتا تھا۔(یہ شخص شیعہ تھا جس نے بہت ساری ریاضتیں کی ہوئی تھیں جس وجہ سے اس مقام پر پہنچ چکا تھا(مصنف)

میں نے اس سے سوال کیا کہ بتا اس وقت امام زمان علیہ السلام کہاں ہیں ؟۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد اس ہندی نے جواب دیا کہ وہ شیخ طہٰ کے گھر ہیں میں اور میرے اطراف میں بیٹھے دیگر لوگ فوراً شیخ طہٰ کے گھر کی طرف جلدی سے روانہ ہوئے شیخ طہٰ کے گھر کے قریب ایک شخص کو دیکھا کہ جس نے عراقی لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور بہت باوقار تھا اس کی شکل وصورت سے اس کی ہیبت وقدرت ظاہر تھی ہم شیخ کے گھر داخل ہوئے دیکھا کہ شیخ طہٰ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں اور مسلسل یہی بات دہرا رہے ہیں کہ میرے ہاتھ آئے اور پھر ہاتھ سے نکل گئے ہم نے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ لوگ مجھ سے شرعی مسائل معلوم کرنے اور دیگر معاملات حل کرانے آتے ہیں اور میں فتویٰ دیتا ہوں ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ کیا میرے اعمال اللہ رب العزت رسالتماب اور آئمہ علیہ السلام کے نزدیک مورد قبولیت ہیں یا نہیں میں نے تین سال تک اس سلسلہ میں مولا امیرالمومنین علیہ السلام سے توسل کیا اور درخواست کی کہ اگر اپنے اعمال میں مجھ سے خطا ہوئی ہے تو مجھے آگاہ فرمائیں کچھ راتیں پہلے مجھے عالم خواب میں مولاامیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: کہ جو چیز تم نے مجھ سے طلب کی ہے بہت جلد میرے بیٹے مہدی علیہ السلام کے ذریعہ جواب تم تک پہنچ جائے گا آج میں اپنے گھر اکیلا بیٹھا تھا اگرچہ میں نابینا ہوں مگر مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے گھر میں داخل ہوا ہے اس نے مجھ پر عراقی لہجہ میں سلام کیا اور مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا جس کا میں نے جواب دیا اس نے میرے جواب پر علمی اعتراض کیا میں نے پھر جواب دیا اس نے پھر اعتراض میں نے پھر اس کا جواب دیا تیسری مرتبہ اعتراض کیا میں نے پھر اسے جواب دیا اس نے پھر اعتراض کیا میں نے پھر جواب دیا پھر میرے دل میں خیال آیا کہ کیسے ممکن کہ ایک عراقی اس طرح کے مسائل سے آگاہ ہو تو اچانک اس عراقی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ”انت مرضی عندنا“ کہ تو ہمارے نزدیک پسندیدہ ہے مجھے عجیب لگا کہ ایک عراقی کیسے ایک مرجع تقلید کو یہ بات کہہ رہا ہے وہ یہ کہہ کر میرے گھر سے باہر چلا گیا تو میں بعد میں متوجہ ہوا کہ یہ تو میرے آقا و مولا امام زمان علیہ السلام تھے۔ہم نے شیخ طہٰ کو عرض کی کہ ہم اسی لیے آپ کے پاس آئے تھے اور ہم نے سرکار کی زیارت آپ کے گھر کے باہر کی ہے جو کہ عراقی لباس میں تھے۔(نقل از کتاب شیفتگان تلخیص)

۵۔ آیت اللہ عبدالنبی اراکی کو شرف زیارت

حجة الاسلام سید محمدمہدی مرتضوی لنگرودی جو کہ اس دور کے بہترین مصنف اور علماءسے ہیں نے یہ واقعہ مجھے بیان فرمایا کہ ایک روز آیت اللہ عبدالنبی اراکی میرے والد مرحوم سے جو کہ نامور علماءسے تھے ملنے کے لیے ہمارے گھرتشریف لائے سلام و دعا کے بعد میرے والد صاحب کو کہنے لگے کہ تمہیں پتہ ہے کہ ہماری نجف میں آیت اللہ اصفہانی بارے رائے کیا تھی اور ہم ان کی ترویج مرجعیت نہیں کرتے تھے بلکہ ہم اکثر علماءوفضلاءکی محفلوں میں کچھ یوں اظہار خیال کرتے تھے کہ ہم آیت اللہ اصفہانی سے کوئی زیادہ کم مرتبہ نہیں ہیں کہ ان کی مرجعیت کے حوالہ سے ترویج کریں۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ تم آیت اللہ اصفہانی کے بارے میں یہی کہتے تھے اور تمہارا دعویٰ یہی تھا مگر درحقیقت تم مراتب میں ان سے بہت کم تھے بلکہ تمہارا اور ان کاموازنہ کرنا مناسب ہی نہیں ہے۔ آیت اللہ اراکی نے کہا کہ آج میں تمہیں آیت اللہ اصفہانی کی عظمت وشخصیت کے بارے کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور کچھ یوں گفتگو جاری رکھی کہ ایک دن ہمیں پتہ چلا کہ ہندی ریاضت کار عامل نجف آیا ہے جو کہ بہت خدارسیدہ ہے کئی علماءوفضلا اورطلباءحوزہ علمیہ اس کے دیدار کے لیے جانے لگے۔میں بھی ا س کے دیدار کے لیے گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا دوران ریاضت کوئی ایسا ختم یا ورد وظیفہ تمہارے ہاتھ آیا ہے کہ جس کے ذریعہ سے امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں رسائی ہو تو اس نے جواب دیا کہ ہاں میرے پاس ایک تجربہ شدہ ختم ہے میں نے اس سے وہ مجرب ختم حاصل کیا وہ کچھ اس طرح تھا۔پاک وصاف لباس اور بدن کے ساتھ بیابان میں چلے جاو اور ایسی جگہ کا انتخاب کرو جو کہ لوگوں کی آمدو رفت کی جگہ نہ ہوباوضو ہو کر قبلہ رخ بیٹھ جاو اپنے ارد گرد ایک دائرہ کھینچ لو اور ۵۷ مرتبہ آیت الکرسی کی تلاوت شروع کردو پس ختم آیت الکرسی کے اختتام پر جو بھی پہلا شخص ختم پڑھنے والے کو ملے گا وہ امام زمان علیہ السلام ہوں گے، آیت اللہ اراکی فرماتے ہیں کہ میں بیابان میں چلا گیا اور بتائے گئے طریقہ مطابق ختم آیت الکرسی انجام دیا جیسے ہی ختم تمام ہوامیں نے ایک سید کو دیکھا جس کا سبز عمامہ تھا مجھ سے اس نے کہا کہ تمہاری کیا حاجت ہے میں نے فوراً کہا کہ مجھے تم سے حاجت نہیں ہے سید نے کہا کہ تم نے مجھے بلایا ہے میں نے کہا کہ آپ کو اشتباہ ہوا ہے میں نے آپ کو نہیں بلایا تو سید نے کہا کہ مجھے ہر گز اشتباہ نہیں ہے تو نے مجھے بلایا ہے جس کی وجہ سے میں یہاں آیا ہوں ورنہ ہمارے انتظار میں تو بہت لوگ ہیں لیکن تو نے اپنی درخواست میں جلدی کی ہے اس لیے ہم پہلے تمہارے پاس چلے آئے ہیں تاکہ تمہاری حاجت پوری کریں اور پھر یہاں سے کسی اور جگہ جائیں میں نے کہا کہ میرے ذہن میں نہیں آتا کہ مجھے آپ سے کوئی کام ہو آپ جس اور جگہ جانا چاہتے ہیں جا سکتے ہیں جہاں اورلوگ آپ کے خواہشمندہیں آپ ان سے جا کر ملیں میں تو ایک بزرگ و عظیم شخصیت کے انتظار میں ہوں سید کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ مجھ سے دور ہوگئے ابھی چند قدم دور گئے تھے کہ میرے دل میں خیال آیا کہ کیا اس عامل نے نہیں کہا تھا کہ ایسی جگہ جا کر بیٹھنا جہاں آمدورفت نہ ہو تو ایسی جگہ پر ختم کے مکمل ہوتے ہی جو شخص ظاہر ہوگا وہ آقا ومولا ہوں گے یقینا امام زمان علیہ السلام سرکار تھے، میں فوراً ان کے پیچھے ہو لیا لیکن میں نے انہیں جتنا بھی تلاش کیا ان تک نہ پہنچ سکا ناچار میں نے عبا اتاری اور بغل میں دی جوتے اتار کر ہاتھوں میں پکڑ لیے اور ننگے پاوں تیز تیز دوڑ کر آقا کے پیچھے ہو لیا لیکن ان تک نہ پہنچ سکا اگرچہ وہ بہت آہستہ چل رہے تھے تو مجھے یقین حاصل ہو گیا کہ وہ سید امام زمان علیہ السلام ہی تھے چونکہ میں بہت زیادہ دوڑا تو تھک گیا میں نے کچھ آرام کیا لیکن میری آنکھیں آقا کی طرف اورجستجو میں تھیں اور تلاش میں تھی کہ آقا کون سے جھونپڑے میں چلے گئے ہیں تاکہ میں کچھ آرام کے بعد اسی جھونپڑے میں چلا جاوں میں نے دور سے دیکھا وہ ایک جھونپڑے میں وارد ہوئے میں بھی کچھ دیر بعد اس جھونپڑے کی طرف چلا کچھ دیر چلنے کے بعد اس جھونپڑے تک پہنچ گیا میں نے دروازہ پر دق الباب کیادروازہ پر ایک شخص ظاہر ہوا اور کہا کیا کام ہے میں نے کہا کہ آقا سے ملنا چاہتا ہوں اس نے کہا آقا سے ملنے کے لیے اجازت چاہیے تم ٹھہرو میں تمہارے لیے اجازت طلب کروں وہ چلاگیا اور کچھ دیر بعد واپس آکر کہا کہ آقا نے اجازت دے دی ہے میں جھونپڑے میں داخل ہوا میں نے دیکھا کہ وہی آقا جو مجھے ملے تھے ایک تخت ، چٹائی پر بیٹھے تھے میں نے سلام کیا اور آقا نے جواب دیا میں نے سنا آقا نے فرمایا کہ چٹائی پر بیٹھ جاو میں اطاعت حکم کی اور آقا کے سامنے تخت پر بیٹھ گیا۔ کچھ ججھک کے بعد اپنے مشکلات مسائل ایک ایک کر کے بیان کرنا چاہا میں نے جتنی بھی کوشش کی کوئی ایک مسئلہ بھی مجھے یاد نہ آیا میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سراٹھایا تو دیکھا کہ آقا میرے منتظر ہیں مجھے شرمندگی ہوئی میں شرمسار ہوکر عرض کی آقا مجھے اجازت دیں انہوں نے فرمایا کہ ماشاءاللہ جاسکتے ہیں میں جھونپڑے سے نکلا ابھی چند قدم چلا تھا کہ مجھے اپنے مسائل ومشکلات تمام یاد آگئے مجھے خیال آیا کہ یہ سب زحمت جو میں نے اٹھائی ہے اوراس جگہ تک پہنچا ہوں لیکن آقا سے کوئی فائدہ نہیں لے سکا مجھے چاہیے کہ دوبارہ جرات کرتے ہوئے جھونپڑے کا دروازہ کھٹکھٹاوں آقا کی خدمت میں جاوں اور اپنے سوال بیان کروں میں نے جھونپڑے کا دروازہ بجایا، دوبارہ وہی شخص باہر آیا میں نے کہا کہ دوبارہ آقا سے ملنا چاہتا ہوں اس نے کہا کہ آقا نہیں ہیں میں نے کہا کہ جھوٹ نہ بولو میں گھومنے پھرنے نہیں آیا بلکہ مشکلات و مسائل ہیں جن کا آقا سے حل چاہتا ہو اس نے کہا کہ کیسے میری طرف جھوٹ کو نسبت دے رہے ہو۔ استغفار کرو، جھوٹ بولنا تو درکنار اگر میں صرف جھوٹ کا قصد بھی کروں تو مجھے یہاں کیسے ٹھہرایا جا سکتاہے۔ یہ آقا عام شخصیت نہیں ہیں یہ امام والا مقام ہیں مجھے بیس سال ہوگئے ہیں کہ آقا کی نوکری کررہا ہوں آقا نے مجھے کبھی دروازہ کھولنے کی زحمت نہیں دی اگر دروازہ بند ہو تو کبھی دروازہ بند ہونے کے باوجود اندر تشریف لے آتے ہیں کبھی چھت سے اندر آتے ہیں کبھی دیکھتا ہوں تو آقا تخت پر مشغول عبادت ہوتے ہیں اور کبھی اچانک غیب ہوتے ہیں لیکن ان کی صدا مبارک مجھے سنائی دیتی رہتی ہے اور کبھی کبھی تو مستقلاً جھونپڑا چھوڑ دیتے ہیں ۔کبھی اچانک تشریف لے آتے ہیں کبھی کبھی تین تین دن تک تشریف نہیں لاتے کبھی کبھی چالیس دن کبھی کبھی دس دن یا مسلسل جھونپڑے میں تشریف فرمارہتے ہیں ۔ ان آقا کے کام دیگر لوگوں سے مختلف ہیں میں نے کہا کہ میں نے جھوٹ کو آپ کی طرف نسبت دی جس پر معذرت خواہ ہوں اور استغفار کرتا ہوں مجھے امید ہے کہ آپ مجھے معاف فرمائیں گے۔ اس نے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کیا تو میں نے کہا کہ میری مشکلات کے حل کے لیے کوئی راہ ہے ! تو اس نے کہا کہ ہاں جب امام زمان علیہ السلام سرکار یہاں تشریف نہ رکھتے ہوں تو ان کے نائب یہاں آکر تشریف فرما ہو جاتے ہیں اور تمام مشکلات کا حل پیدا کرتے ہیں میں نے کہا کہ کیا ممکن ہے کہ میں اس نائب سے مل سکوں اس نے کہا کہ ہاں میں جھونپڑے میں داخل ہوا میں نے دیکھا کہ آقا امام زمان علیہ السلام کی جگہ پر آقائے ابوالحسن اصفہانی تشریف فرما ہیں میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور مسکر کر اصفہانی لہجہ میں فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی الحمدللہ پھر میں نے ایک ایک کر کے اپنے مسائل بیان کرنا شروع کر دیے میں نے جوبھی سوال عرض کیا انہوں نے بلاتامل جواب دیا اور ساتھ حوالہ دیا کہ یہ مسئلہ صاحب جواہر نے فلاں صفحہ پر درج کیا ہے اور فلاں جواب کتاب حدائق میں فلاں صفحہ پر ہے جو صاحب حدائق نے دیا ہے اس مسئلہ کا جواب صاحب ریاض نے فلاں صفحہ پر دیا ہے ان کے تمام جوابات اور حل انتہائی تحقیقی اور مطمئن کرنے والے تھے۔ تمام حل سننے کے بعد میں نے ان کے ہاتھوں کا بوسہ دیا اور اجازت لے کر رخصت ہوا!۔

جب باہر آیا تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ کیا یہ واقعاً سید ابوالحسن اصفہانی ہی تھے یا انکی شکل میں کوئی اور تھا میں تردد میں تھا میںنے اپنے آپ سے کہا کہ میرا تردد تب ختم ہوگا کہ نجف جاوں اور سید ابوالحسن اصفہانی کے گھرجاوں اور وہی مسائل جا کر ان سے دوبارہ پوچھوں اگر جواب وہی ہوئے اور کوئی کمی بیشی نہ ہوئی تو مجھے یقین ہو جائےگا کہ وہاں یہی سید ابوالحسن اصفہانی ہی تھے جب میں نجف میں آیا اور انکی منزل پر پہنچا ان کے مخصوص کمرے میں وارد ہوا سلام کیا انہوں نے جواب دیا انہوں نے مسکراتے ہوئے اسی انداز میں جیسا جھونپڑے میں تھا مجھ سے میرا حال خالص اصفہانی لہجہ میں پوچھا میں نے جواب دیا اور پھر اپنے مسائل اسی طرح بیان کیے اور انہوں نے جواب دیے اور پھر فرمایا کہ اب مطمئن ہو یا ابھی تردد میں ہو، میں نے کہا کہ اب یقین ہے میں نے انکے ہاتھوں کو بوسہ دیا جب میں انکی خدمت سے جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ میں قطعاً راضی نہیں ہوں گا کہ میری زندگی میں یہ واقعہ کسی کو نقل کرو ہاں میرے مرنے کے بعد بے شک کرنا

۶۔ ایرانی انجینئر اور اس کی امریکی بیوی کو شرف زیارت

ایک ایرانی جوان جو کہ امریکہ کی یونیورسٹی میں انجینرنگ کررہا تھا ایک مسیحی لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوگیا جو کہ طالبہ تھی اس نے اسے شادی کی پیشکش کی ایرانی جوان نے کہا کہ شادی ممکن نہیں ہے کیونکہ میں مسلمان ہوں اور تم عیسائی ہو تو لڑکی نے کہا میں مسلمان ہوجاتی ہوں لڑکے نے کہا کہ ہوس کی وجہ سے اسلام لانااسلام نہیں ہے تولڑکی نے کہا کہ پھر مجھے کیسے مسلمان ہونا چاہیے لڑکے نے کہا کہ پہلے تم اسلام کی معرفت اورپہچان حاصل کرو اگر پسند آئے تو اسلام قبول کر لینا لڑکے نے دو کتابیں قرآن مجید اور نہج البلاغہ جو کہ انگریزی زبان میں تھیں اس لڑکی کو دیں اور کہا کہ ان کا مطالعہ کرو اور اپنا نظریہ مجھے بتاو،لڑکی نے تقریباً دو ماہ تک قرآن اور نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا اور کہا کہ اسلام اچھا دین ہے اور میری عقل سے ہم آہنگ ہے لڑکے نے کہا کہ اسلام صرف عقیدہ کا نام نہیں ہے بلکہ عقیدہ کے ساتھ عمل بھی ہے اور پھر اسے نماز کی تعلیم دی اور کہا کہ تم چالیس دن نماز پڑھو اور پردہ کی حفاظت کرو تاکہ تمہاری عادت بن جائے پس لڑکی نے چالیس دن تک دیے گئے دستور مطابق عمل کیا تو ایرانی جوان نے اس لڑکی سے شادی کر لی لڑکے نے کہا کہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس ایران جا کر خدمت کرنا چاہتا ہوں تم بھی میرے ساتھ ایران چلو گی لڑکی نے کہا جی ہاں میں جاوں گی کچھ مدت بعد جب تعلیم مکمل ہوگئی تو ایران جانے کا وقت آگیالڑکے نے بیوی سے کہا کہ ایام حج نزدیک ہیں بہتر ہوگا کہ یہیں سے ہم حج پر چلے جائیں اور پھر وہاں سے ایران چلے جائیں گے لڑکی نے یہ بات قبول کر لی، واضح رہے کہ ان دونوں میاں بیوی کے درمیان امام زمان علیہ السلام کے حوالہ سے بہت زیادہ بحث و مباحثہ ہوتا رہا لڑکی کہتی تھی کہ امام زمان علیہ السلام کی غیبت کا کیا فائدہ ہے؟ امام کو چاہیے کہ وہ حاضر ہو تاکہ اس سے فائدہ حاصل کیا جا سکے لڑکا جواباً کہتا کہ امام دین اور افراد کے پشت پناہ ہیں مگر پردہ کے پیچھے سے اور جب دین کونابود ہونے کا خطرہ ہوگا تو امام ظہور فرمایں گے اور جب کہیں انسان پریشان و مضطر ہو جاتے ہیں تو امام سے متوسل ہوتے ہیں اور مدد چاہتے ہیں تو امام ان کی فریاد پر پہنچتے ہیں ۔

وہ ہر ضرورت کے موقعہ پر انسان کی مدد کے لیے آجاتے ہیں دونوں میاں بیوی اعمال حج انجام دیتے رہے رمی جمرات کے موقع پر رش کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے لڑکی جو کہ عربی اور فارسی نہ جانتی تھی جتنا تلاش کرتی رہی مگر شوہر نہ نظر آیا اور نہ ہی اپنا خیمہ تلاش کر سکی تھک کر ایک جگہ بیٹھ گئی اور رونے لگی اور اس نے امام زمان علیہ السلام سے مدد طلب کی دوسری طرف اس کا شوہر بھی سخت پریشان اپنے خیمہ کے دروازہ پر مایوسی کی حالت میں کھڑا دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ شاید اب وہ مجھے کبھی نہ ملے کہ اچانک اس کی بیوی ایک شخص کے ساتھ گفتگو کرتی ہوئی آرہی ہے ساتھ آنے والے شخص نے لڑکی کو اس کے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمہارا شوہر ہے اور لڑکی نے بھی دیکھ کر کہا کہ ہاں پس ساتھ آنے والے شخص نے خداحافظی کی اور لڑکی کو شوہر کے پاس پہنچا کر چلا گیا۔ ایرانی انجینئر نے بیوی سے پوچھا کہ تم کیسے پہنچی ہو تو لڑکی نے کہا کہ میں نے امام زمان علیہ السلام سے توسل کیا تو یہ آقا جو مجھے یہاں پہنچانے آئے تھے میرے پاس آگئے میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں مہدی علیہ السلام ہوں اور مجھ سے انگلش میں بات کی اور مجھے سیدھا اپنے خیمہ کی طرف لے آئے ۔

۷۔ نو مسلم خیبری کو شرف زیارت

حجة الاسلام یحیٰ طہرانی نے ثقة الاسلام سید ابوالحسن طالقانی جو کہ میرزا بزرگ کے اصحاب سے تھے سے واقعہ نقل کیا ہے انہیں کی زبانی تحریرہے۔

ہم کچھ دوستوں کے ساتھ کربلا معلی سے واپس سامرالوٹے ظہر کے وقت ہم ایک قصبہ جس کا نام دجیل ہے پہنچے دوپہر کے کھانے اور آرام کے لیے ہم وقت عصر تک رکے رہے۔

شیخ محمد حسن کے ہمراہ ایک سامرہ کے طالب علم کو دیکھا جو دیگر طلبہ کے ساتھ کھانا تیار کرانے میں مصروف تھا وہ طالب علم شیخ کے ساتھ عبرانی زبان میں تورات پڑھنے میں مصروف تھا مجھے تعجب ہوا اور میں نے شیخ محمد حسن سے پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس نے عبرانی زبان کہاں سے سیکھی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ نومسلم ہے پہلے یہودی تھا میں نے اس کے مسلمان ہونے کا واقعہ پوچھا کہ کیسے مسلمان ہوا؟تو خود اس طالب علم نے بتایا کہ میں خیبر کے یہودیوں سے تھا خیبر میں یہود کا ایک بہت بڑا اور پرانا کتاب خانہ ہے اس میں ایک تورات جو قدیم ہے جو کہ چمڑے پر لکھی ہوئی تھی ایک کمرہ میں بند تھی اور اسے تالا لگا کر رکھاجاتا تھا ۔ گذشتگان نے سفارش کی تھی کہ اس کمرے کا تالا کبھی نہ کھولا جائے اور کوئی اس تورات کی تلاوت ومطالعہ نہ کرے اور مشہور کر رکھا تھا کہ جو بھی اس تورات کو دیکھے گا پاگل ہو جائے گا اور بالخصوص جوانوں کو سختی سے منع کیا گیا تھا میں اور میرا بھائی اس چکر میں تھے کہ کسی طرح اس تورات کو دیکھیں ہم اس کمرے کے کلید بردار کے مخصوص کمرے میں گئے اور اس سے گزارش کی کہ وہ ہمارے لیے دروازہ کھول دے اس نے پہلے پہل تو انکار کردیا مگر ہمارے اصرار پر راضی ہو گیا ہم نے اسے کافی رقم کا لالچ دے کر راضی کیا ہم اس کے ساتھ طے شدہ وقت میں وہاں پہنچے اور کمرے میں داخل ہوگئے اور اس تورات کے مطالعہ میں مصروف ہوگئے ایک مخصوص صفحہ نے ہماری توجہ خاص طور پر اپنی طرف مبذول کرالی میں نے اسے بادقت پڑھا ایک صفحہ میں لکھا تھا کہ عربوں سے ایک پیغمبر آخریزمان علیہ السلامہ میں معبوث ہو گا جس کی تمام اوصاف و خصلت نام ونشان نسب وغیرہ بیان کیا گیا تھا اور ساتھ اس نبی کے ۲۱ اوصیاءکے نام اور تعارف بھی لکھا تھامیں نے اپنے بھائی سے کہا کہ ہمیں ان صفحات کو نقل کر لینا چاہیے اور اس پیغمبر بارے جستجو کریں ہم اس پیغمبر کے پرستار ہوگئے اور ہماری ساری کوشش اس نبی بارے جستجو کرنے اور تلاش میں ہوتی تھی ہمارا علاقہ پسماندہ تھا رفت وآمد کے ذرائع نہ تھے اور غیر ممالک یا شہروں سے ہمارا رابطہ بہت کم تھا۔

آخر کار مدینہ کے کچھ تاجر ہمارے شہر وارد ہوئے ہم نے بہت مخفی طریقہ سے ان میں سے دو آدمیوں سے پتہ چلایا کہ وہ پیغمبر جس کا تورات میں تذکرہ ہے وہ مبعوث ہوچکا ہے اور ہم کو اسلام کی حقانیت کا یقین ہوگیا لیکن ہم میں جرات نہ تھی کہ اس موضوع پر کسی سے گفتگو کریں میں نے اپنے بھائی کے مشورہ سے یہاں سے فرار کا منصوبہ بنا لیا ہم نے سوچا کہ اگر ہم مسلمانوں کے مرکزی شہر مدینہ جائیں تو چونکہ مدینہ ہمارے شہر کے نزدیک ہے یہودی ہمارے لیے مشکلات پیدا کریں گے ہم نے موصل اور بغداد کانام سنا ہواتھا۔ چونکہ انہی دنوں والد فوت ہوا تھا اور اس نے اپنا ایک وصی مقرر کیا ہوا تھا ہم اس وصی کے پاس گئے اس سے دوسواریاں اور کچھ رقم حاصل کی سواریوں پرسوار ہو کر ہم نے عراق کی طرف سفر شروع کردیا جب ہم موصل پہنچے تو ایک سرائے میں گئے رات وہاں بسر کی صبح ہماری سواریوں کو دو آدمیوں نے کافی اصرار کر کے ہم سے خرید لیا ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں بغداد جانا چاہیے لیکن دوسری طرف ہم خوفزدہ تھے کیونکہ بغداد میں ہمارا ماموں رہتا تھا اورتجارت کرتا تھا ممکن ہے اسے ہمارے فرار کی خبر ہوچکی ہو بہرحال ہم بغداد آگئے اور ایک کاروان سرائے میں جگہ حاصل کی ایک دن سرائے کا مالک جو کہ بوڑھا آدمی تھا ہمارے کمرے میں آیا ہم نے اسے کہا کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں کسی مسلمان عالم کے پاس لے چل اس نے اپنے اپنے ابرو ہاتھوں سے اٹھاکر دیکھا اور کہا کہ چلیں۔

ہم تین آدمی قاضی بغداد کے گھر پہنچ گئے قاضی نے پہلے توحید بارے گفتگو کی پھر پیامبر اسلام کے بارے بیان کیا اور پھر خلفاءپیغمبر میں سے عبداللہ بن ابی قحافہ (ابوبکر) کا تعارف کرایا میں نے قاضی سے کہا یہ عبداللہ کون ہے اس کا ذکر ہماری تورات میں اوصیاءپیغمبر میں نہیں ہے قاضی نے کہا کہ ابوبکر وہ ہے کہ جس کی بیٹی پیغمبر کی زوجہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ وصی پیغمبر وہ ہے کہ پیغمبر کی بیٹی جس کی زوجہ ہوگی۔ میری یہ بات سنتے ہی قاضی کا رنگ بدل گیا اور سخت ناراض ہوگیا اور کہا اس رافضی کو باہر نکال دو۔

مجھے اور میرے بھائی کو انہوں نے دھکے مار کر نکال دیا ہم سرائے میں واپس آگئے سرائے کا مالک بھی ہمارے اس ماجرا سے حیران تھا اور ہم سے بے پروائی یا غفلت نہیں برتتا تھا ہم حیران تھے کہ یہ رافضی کیا ہے رات کو ہم سوگئے صبح ہم نے پھر سرائے کے مالک کو بلایا اور اسے کہا کہ شاید قاضی کو ہماری بات سمجھ نہیں آئی ہمیں پتہ نہیں کہ یہ رافضی کیا ہوتا ہے اس نے کہا کہ جو کچھ قاضی کہتا ہے اسے قبول کرلو ہم نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی ہم نے اسلام کی تلاش میں اپنا گھر شہر اور عزیز و اقارب چھوڑے ہمیں دیگر کوئی غرض و غایت نہیں ہے ہم صرف حقیقت تلاش کرنا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ آو دوبارہ قاضی کے پاس چلتے ہیں ہم دوبارہ قاضی کے پاس گئے اور اسے کہا کہ ہم نے اپنا شہر اور گھر چھوڑ دیا ہے اور حقیقت کی تلاش میں ہیں ہم نے پیغمبر اور اس کے اوصیاءکی صفات اور نشانیاں قدیمی نسخہ تورات میں پڑھی ہیں لیکن اس میں عبداللہ ابن ابی قحافہ (ابوبکر) کا تذکرہ نہیں ہے تو قاضی نے کہا کہ اگر ابوبکر کا ذکر نہیں ہے تو پھر کس کا ہے میں نے کہا کہ تورات قدیم میں تو لکھا ہے کہ پیغمبر کا خلیفہ وہ ہوگا جو پیغمبر کا داماد اور چچازاد ہوگا۔ ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ قاضی نے اپنے پاوں سے جوتا اتار لیا میرے منہ اور سر پر جتنا مارسکتا تھا مارا بڑی مشکل سے میں نے اس سے جان چھڑائی میرا بھائی تو پہلے ہی بھاگ گیا تھا میں بھی زخمی منہ اور سر کے ساتھ بھاگ گیا اور مجھے معلوم نہ تھا کہ کہاں جاوں میں دریائے دجلہ کے کنارے پہنچا کمزوری کی وجہ سے بیٹھ گیا مصیبت مسافرت اور خوف کی وجہ سے رونے لگا اچانک ایک نوجوان کو دیکھا جس نے سفید لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور دو خالی کوزے اس کے ہاتھ میں تھے شاید دریا سے پانی بھرنا چاہتا تھا میرے قریب آیا اور بیٹھ گیا جب اس نے میرا منہ سرزخمی دیکھا تو پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ پردیسی ہوں اور خیبر کے یہود سے ہوں اور پھر اپنا تمام ماجرا اسے سنا دیا تو اس نے کہا کہ کیا میں تمہارے لیے تورات پڑھوں میں نے عرض کیا ہاں!

تو اس جوان نے تورات عبرانی زبان میں پڑھنی شروع کردی وہ ایسے پڑھ رہا تھا کہ جیسے وہ قدیمی نسخہ تورات جو چمڑے پر لکھا ہوا تھا اسی جوان کا لکھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میرے ساتھ یہ سب کچھ ہوا ہے اس سفید پوش جوان نے مجھ سے پوچھا کہ بتاو یہود کے کتنے فرقے ہیں میں نے عرض کی بہت زیادہ ہیں تو جوان نے کہا کہ ۱۷ فرقہ ہے اور پوچھا کہ کیا سارے حق پر ہیں میں نے کہا نہیں پھر اس نے پوچھا کہ عیسائی کتنے فرقے ہیں میں نے کہا کہ کئی ہیں فرمایا وہ ۲۷ فرقے ہیں پھر پوچھا کہ سارے حق پر ہیں میں نے عرض کی نہیں پھر اس نے فرمایا کہ اسلام کے بھی ۳۷ فرقے ہیں صرف ایک حق پر ہے تو میں نے عرض کی اسی حق والے فرقہ کا متلاشی ہوں کیا کروں تو اس جوان نے کہا کہ تم اس راستے سے کاظمین چلے جاواور شیخ محمد حسن آل یٰسین کے پاس پہنچو وہ تمہاری حاجت پوری کردے گا پھر اچانک نوجوان میری نظروں سے غائب ہوگیا میں نے بڑاڈھونڈھا مگر کوئی آثار اس کے نہ ملے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ عام لوگوں سے نہ تھا بلکہ ایک غیبی انسان تھا مجھے ہدایت کا یقین ہوگیا میں نے نئی طاقت پیدا کی اور اپنے بھائی کی تلاش میں نکل پڑا آخر اسے تلاش کرلیا اس وجہ سے کہ کاظمین اور شیخ محمد حسن کانام نہ بھول جاوں مسلسل زبان پر یہ دو نام لیتا رہا میرے بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ کون سی دعا پڑھ رہے ہو میں نے اسے واقع بتایا وہ بہت خوش ہوا اور ہم کاظمین روانہ ہوئے شیخ آل محمد حسن آل یٰسین کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں تمام واقعہ جوپیش آیا بیان کیا جس کو سن کر شیخ بہت رویا کچھ دیر ہماری آنکھوں کو چومتا رہا اور کہتا رہا کہ تم نے ان آنکھوں سے مولا ولی العصر امام زمان علیہ السلام کا دیدار کیا ہے ہم کچھ وقت شیخ کے مہمان رہے یہاں تک کہ ہم خبر ملی کہ ہماری گھر سے فرار کی خبر ہمارے ماموں کو بغداد میں کر دی گئی ہے اور ہمارا ماموں ہماری تلاش میں ہے اس بنا پر شیخ محمد حسن نے ہمیں سامرہ بھیج دیا ہم ایک مدت تک سامرہ رہے ہمارے ماموں کو اطلاع ملی اس نے حکومت کو شکایت کی کہ دوجوان اپنے باپ کا مال چوری کرکے سامرہ بھاگ آئے ہیں مرحوم آیت اللہ مرزا بزرگ نے فرمایا کہ تمہارے ماموں نے ہمارے لیے بڑی مشکلات اور زحمات پیدا کی ہیں ڈر ہے کہ وہ تمہیں کوئی صدمہ نہ پہنچائے لہٰذا تم حلہ چلے جاو ہم حلہ آئے اور علم دین حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے۔(مصلح حقیقی جہان)

۸۔ تین چِلّے امام زمان علیہ السلام کی جستجو میں

اہل علم سے نقل ہے کہ جوکوئی چالیس روز تک عمل صالح مسلسل بجالائے خلوص کے ساتھ اور اس نیت کے ساتھ کہ مجھے دیدار سرکار امام زمان علیہ السلام ہو تو اسے امام زمان علیہ السلام کا دیدارہوگامثلاً اگر کوئی مالدار مسلسل چالیس رات ۰۴ آدمیوں کو کھانا کھلاے تو اسے دیدار سرکار حاصل ہوگا ایک مال دار شخص نے یہ بات جب ایک عالم سے سنی تو پکاارادہ کر لیا کہ وہ چالیس رات ۰۴ مساکین کو کھانا کھلائے گا اس نے ایسا ہی کیا آخری رات کے کھانے بعد اس ثروت مند کر اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے کھانا مانگا ہے ثروت مند نے کہا کہ اسے کہو کھانا ختم ہوگیا ہے جب کہا گیا تو اس کھانا مانگنے والے شخص نے جواب دیا کہ ایک دیگ میں کچھ کھانا پڑا ہے اسی سے دے دو صاحب طعام کو بتلایا گیا تو اس نے پھر کہا کہ اسے کہو کھانا نہیں ہے وہ کیونکہ چالیس رات مسلسل کھانا دے چکا تھا اور ابھی تک دیدار امام سے محروم تھا اس لیے ناراحت تھا اس لیے غذا مانگنے والا آخر چلاگیا۔

اس ثروت مند نے اسی عالم دین سے دوبارہ رابطہ کیا اور ماجرا بیان کیا تو اس عالم دین نے کہا کہ سب سے آخر میں جس شخص نے غذ اطلب وہ ہی تو امام زمان علیہ السلام تھے لیکن تم چونکہ تھکے ہوئے تھے لہٰذا غذا کے نہ ہونے کا تم نے جھوٹ بولا اور دیدار حضرت سے محروم ہوگئے لہٰذا اب کوئی ویران مسجد تلاش کرو اور چالیس دن تک اس میں جاروب کشی کرو اور اس میں چراغ جلاو اور صبح کی نماز اسی مسجد میں پڑھو تاکہ تم سرکار کو مل سکو اس صاحب ثروت نے ایسا ہی کیا، چالیسویں دن جب یہ اپنے وقت مقررہ پر مسجد گیا تو دیکھا کہ مسجد کا دروازہ کھلاہوا ہے چراغ جلایا جا چکا ہے جائے نماز بچھ چکا ہے اور کوئی شخص مصروف عبادت ہے صاحب ثروت نے اس شخص سے اظہار ناراضگی کیا کہ تم نے یہ کام کیوں انجام دیا جب کہ یہ کام مجھے انجام دینا تھا جواباً اس شخص نے کہا کہ میں نے یہ کام خدا کے لیے انجام دیاہے۔ صاحب ثروت دوبارہ عالم دین کے پاس آیا اور ماجرا بیان کیا عالم دین نے کہا کہ جو تم سے پہلے مسجد میں موجود تھا وہی تو تمہارے امام زمان علیہ السلام تھے جس پر تو نے اعتراض کیا بوجہ مغروری نہ جان سکے لہٰذا اب جاو اور نجف کے ایسے محلہ میں جہاں پانی کم ہے لوگوں تک چالیس روز پانی پہنچاو اس صاحب ثروت نے مسلسل اپنا وقت لوگوں تک پانی پہنچا نے میں صرف کرنا شروع کردیا آخری دن یعنی چالیسویں دن جب یہ پانی سیڑھیوں سے اوپر لارہا تھا ایک شخص نے اس سے پانی کی درخواست کی اس ثروت مند نے اسے پانی دینے کی بجائے اسے پانی دکھایا اور کہا کہ جاو خود پی لو تمہیں نظر نہیں آتا اس جواب پر جس شخص نے پانی مانگا تھا مسکرانے لگا تو صاحب ثروت آدمی کے حواس درست ہوئے اور احساس ہوا کہ یہی میرے مقصد و مطلب سرکار امام زمان علیہ السلام ہیں حضرت نے اس کی زحمات کے عوض جو اس نے تین بار اٹھائیں تین بار شرف زیارت بخشا۔

۹۔ جمال اصفہانی سرکار امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں

میں نے ایک ایسے بااعتماد اور باوثوق شخص کہ جسے اولیاءخدا سے شمار کیا جا سکتا ہے یہ واقعہ سنا ہے کہ حجة الاسلام سید اسماعیل شفتی اصفہانی اپنے ایک سومعنقدین کے ہمراہ عازم زیارات مقامات عالیہ مکہ مکرمہ ہوئے زیارات کے اختتام پر نجف اشرف میں ایک بوڑھے مرد اور عورت نے کچھ رقم کی تھیلی امانتاًبرائے حفاظت آقائے شفتی کے حوالہ کی آخری رات جس میں طے تھا کہ کل قافلہ شمال عراق کی طرف سے براستہ رمل حجاز کی طرف سفر کرے گا۔ آقائے اسماعیل شفتی حرم امیرالمومنین سے واپس لوٹے اور اپنی ضروریات سفر وغیرہ دیکھنے لگے متوجہ ہوئے کہ ان بوڑھے میاں بیوی کی رقم والی تھیلی موجود نہیں ہے گم ہوگئی ہے۔ پریشان ہو کر مہمان سرا سے باہر نکلے اور مسجد سہلہ کی طرف چل پڑے درمیان راہ میں انہوں نے ایک گھوڑے سوار کو دیکھا کہ جس کے نور سے پورا بیابان روشن ہے اس گھوڑے کے سوار نے فرمایا کہ سید اسماعیل کہاں جارہے ہو میں نے عرض کی مسجد سہلہ کی طرف تاکہ امام زمان علیہ السلام سے اپنی حاجت بیان کروں اس گھوڑے سوار نے کہا کہ اپنی حاجت بیان کر میں نے کہا کہ اگر مولا کا دیدار ہو تو ان کو حاجت بیان کروں گا فرمایا کہ فرض کرو میں ہی مہدی علیہ السلام ہوں تو میں نے کہا کہ اگر آپ علیہ السلام مہدی ہیں تو آپ کو میری حاجت کا پتہ ہوگا تو اس وقت اس گھوڑے سوار نورانی جوان نے کہا کہ ان بوڑھے مرد اور عورت کی رقم گم کر بیٹھے میں نے عرض کیا جی ہاں!تو مولانے ہاتھ اصفہان کی طرف اٹھایا اور آواز دے کر کہا ھالو،ھالو اصفہان کے ایک قلی کانام تھا جس کو میں پہچانتا تھا مولا کے سامنے حاضر ہوگیا مولا نے فرمایا ھالو دیکھ تیرا ہمسایہ کیا کہتا ہے میں نے ھالو کی طرف رخ کیا اور اپنا معاملہ بتایا کہ میری امانت والی تھیلی گم ہوگئی ہے میں نے دوبارہ گھڑسوار کی طرف دیکھا تو وہ غائب تھے ھالو نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مہمان سرا کی طرف لے کر چل پڑا مجھے مہمان سرا والی گلی میں چھوڑ کر کہا کہ صبح بوقت روانگی تیرے پاس امانت والی تھیلی لے آوں گا، صبح جب قافلہ عازم حجاز ہوا ھالو راہ میں پہنچ گیا اور وہ رقم مجھے دی اور کہا کہ تم نے گویا مجھے نہیں دیکھا کبھی میری اس ملاقات کا ذکر نہ کرنا میں نے اس سے سوال کیا کہ میں تمہیں کہاں مل سکتا ہوں تو ھالو نے کہا کہ منیٰ میں عید قربان کی ظہر کے وقت میں نے سوچا کہ ھالو مجھے کہاں ملے گا احتمال ہوا کہ شاید مسجدخیف میں ،میں نے اپنی چادر کندھوں سے اتاری اور مسجد خیف کی طرف چل پڑا میں نے مسجد کے نزدیک تقریباً ۰۳ آدمیوں کو لباس احرام میں دیکھا ان سب سے آگے امام زمان علیہ السلام سرکار تھے اور وہ سب کے سب مسجد کی طرف جارہے تھے ان میں ھالو بھی تھا میں نے ھالو کو اشارہ کیا کہ کہاں جارہے ہو ھالو نے بتایا کہ یہ وہ نفر ہیں جو حج پر خدمت امام زمان علیہ السلام میں ہوتے ہیں تاکہ مصیبت زدہ اور پریشان حال حاجیوں کی مدد کریں اب مسجد کی طرف جا رہے ہیں کہ نماز ظہر پڑھیں تم بھی اگر چاہتے ہوتو ہمارے ساتھ آو میں نے بھی ان کی ہمراہی کی اور امام زمان علیہ السلام کے پیچھے نماز باجماعت ادا کی اور میں نے ھالو سے کہا کہ کیا ممکن ہے کہ میں امام زمان علیہ السلام سرکار کے ہاتھ چوم لوں تو ھالو نے کہا کہ بس یہی کافی ہے اور ہاں اصفہان میں تم ویسے ہی حجة الاسلام ہوگئے اور میں ایک قلی میرے بارے کسی کو کچھ نہ بتانا، اصفہان واپس آکر ملنے والے لوگوں سے جلد فارغ ہونا چاہتا تھا کہ ھالو کے دیدار کے لیے جاوں اور اس سے استفادہ کروں مجھے آئے ہوئے تیسرا دن تھا کہ لوگ میرے گھر آئے اور کہا ھالو آپ کو سلام کہتے ہیں اور کہا ہے کہ مجھے آکر حوالہ خاک کرودفن کرو میں نے باکمال افسوس و دکھ ھالو کا جنازہ پڑھااور اسے دفن کیا۔

۱۰۔ شیخ حسن کا امام زمان علیہ السلام سے ملنا

نجف اشرف میں مدرسین میں سے ایک مدرس کے درس کے جلسہ میں طالب علموں کے ساتھ ایک طالب علم بنام شیخ حسن شرکت کرتا تھا جو کہ بہت زیادہ ذہین نہ تھا اور سادہ تھا اس نے ۵۲ سال دروس میں شرکت کی مگر کوئی قابل توجہ پیش رفت نہ کرسکا۔ استاد اور طالب علم اس کی سادگی کی وجہ سے اسے پسند کرتے تھے اور اس سے مذاق کرتے تھے اور کبھی استاد دوران درس یہ کہتے کہ جس کو درس کی سمجھ نہیں آتی وہ شیخ حسن سے پوچھ لے ایک دن استاد نے کہا کہ کئی ایسے لوگ گزرے ہیں کہ انہوں نے مسلسل ۰۴ روز تک نیک عمل برائے دیدار امام زمان علیہ السلام انجام دیے اور انہیں دیدار امام زمان علیہ السلام نصیب ہوا شیخ حسن نے کہا کہ آج مجھے درس سمجھ آیا ہے اس نے پکا ارادہ کرلیا کہ وہ چالیس روز تک وادی السلام میں مقام امام زمان علیہ السلام پر جائے گا اور ہروز ایک پارہ قرآن برائے ملاقات امام زمان علیہ السلام تلاوت کرے گا اس نے یہ کام ۷۳ یا۸۳ روز انجام دیا ایک دن جب کہ وہ قرآن پڑھنے میں مصروف تھا اس نے دو آدمیوں کو اپنی پشت پیچھے بات کرتے ہوئے سنا اس نے مڑ کر دیکھا تو دو سید آپس میں گفتگو کر رہے تھے شیخ حسن نے انہیں کہا کہ تمہاری گفتگو کی وجہ سے میری توجہ تبدیل ہوگئی ہے وہ دونوں وہاں سے چلے گئے دوسرے دن شیخ حسن مشغول تلاوت تھا کہ پھر دوآدمی وہاں آکر گفتگومیں مصروف ہوگئے شیخ حسن نے دوبارہ انہیں کہا کہ میری توجہ تبدیل ہوجاتی ہے وہ دونوں مسکرانے لگے اور کہا کہ کیا تو امام زمان علیہ السلام سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا شیخ نے کہا کیوں نہیں تو انہوں نے کہا کہ آو اکھٹے چلتے ہیں شیخ حسن ان کے ہمراہ چل پڑھا اور نزدیک ہی ایک بڑی چادر کے پاس گئے امام زمان علیہ السلام علیہ السلاماس چادر سے باہر تشریف لائے اور کہا کہ شیخ اگر میری زیارت کرنا چاہتے ہو تو میرے جدبزرگوار امام رضا علیہ السلام کی قبر کے کنارے مشہد آو شیخ حسن تنہا پیدل مشہد کی طرف روانہ ہوگیا جب مشہد پہنچا حرم میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ امام زمان علیہ السلام داخل حرم امام رضا علیہ السلام کی قبر کے سامنے زیارت امین اللہ پڑھنے میں مصروف ہیں پھرفرمایا اے شیخ! اگر مجھ سے ملاقات چاہتے ہو تو میرے جدبزرگوار امام حسین علیہ السلام کی قبر پر آو شیخ حسن بہت صبروتحمل کے ساتھ تکالیف برداشت کر کے کربلا پہنچا تو وہاں دیکھا کہ امام زمان علیہ السلام قبر مولا مظلوم کربلا کے ساتھ کھڑے زیارت امین اللہ پڑھ رہے ہیں ۔شیخ کے سلام کے ساتھ ہی انہوں نے فرمایا کہ میری زیارت کرنے کے لیے آئے ہو تو میرے مولا ابوالفضل العبا س علیہ السلام کی قبر پر آو شیخ حسن حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی قبر مبارک پر وارد ہوا اور وہاں امام زمان علیہ السلام کودیکھا انہوں نے فرمایا کہ ہماری زیارت کرنے آئے ہو شیخ حسن نے حضرت امام زمان علیہ السلام کا دامن پکڑ لیا اور کہا کہ آپ کو اپنے جدامجد کا واسطہ مجھے مزید حیران نہ کریں آقا نے فرمایا کیا چاہتے ہو شیخ حسن نے کہا کہ آپ کو چاہتا ہوں آقانے متعدد بار کہا کہ کیا چاہتے ہو شیخ نے ایک ہی جواب دیا کہ آ پ کو آپ سے چاہتا ہوں آقا نے فرمایا اچھا جاو خداحافظی کرو اور واقعہ اپنے استاد کو بتاو اور پھر میرے پاس آجانا شیخ حسن کو۶ماہ گزر گئے تھے کہ ان کے بارے استاد اور طلبہ کو خبر نہ تھی اچانک شیخ وارد مدرسہ ہوا توشیخ حسن کو دیکھتے ہی سب خوشحال ہوگئے شیخ نے اپنا واقعہ خاص طورپر استاد کو بیان کیا استاد نے کہا کہ میں کس طرح تمہاری بات کو سچ سمجھوں شیخ نے کہا کہ آپ کوئی بات اپنے ذہن میں رکھیں میں آپ کو بتادوں گا استاد نے کئی چیزیں ذہن میں رکھیں شیخ بتلاتا رہا شیخ حسن نے استاد سے کہا کہ دوسری نشانی یہ ہے کہ میں جب اس جگہ سے امام زمان علیہ السلام کی طرف جاوں گا تو آپ مجھے جاتا ہوا دیکھیں گے شیخ حسن نے استاد سے خدا حافظی کی اور ہوا میں اڑتا ہوا امام زمان علیہ السلام کی طرف چلاگیا۔(اس ملاقات بارے مجھے تیس سال قبل ایک با اعتماد آدمی نے بیان کیا۔ (مصنف)


باب سوئم

اجتماعی شرف زیارت

۱۔ شیخ اسماعیل غازی اور ان کے قافلہ کو شرف زیارت

۴۱ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ میں نے مکہ جانے کا ارادہ کیا اسزمان علیہ السلامے میں بسیں زائرین کو تہران سے مکہ لے جاتی تھیں اور پھر وہاں سے عراق لے جاتی تھیں مکہ سے واپسی پر عراق آتے ہوئے سینکڑوں بسیں ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑی ہوجاتی اور ان کی تلاشی ہوتی اور حجاز کی پولیس ان کی نگرانی وچیکنگ کرتی تھی ہماری بس کے دو ڈرائیور تھے ایک محمود آغا اور دوسرا اصغر آغا دونوں کا تعلق تہران سے تھا۔ اس گاڑی میں ۸۱ مسافر تھے اصغر آغا جو کہ گاڑی چلا رہا تھا نے کہا کہ اس دفعہ بھی ہماری گاڑی باقی گاڑیوں کے پیچھے آگئی ہے نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم اڑنے والی مٹی اور دھول کھائیں میں گاڑیوں کی لائن میں سے نکلتا ہوں اور متبادل کچے راستوں سے نکل کر جلدی آگے نکل جاوں گا اور قطار کے آگے چلا جاوں گااور یوں ہم گرد و غبار کھانے سے بچ جائیں گے میں نے اسے جتنی بھی نصیحت کی اور روکا لیکن اس نے ایک نہ سنی باقی زائرین بھی اسے روکنے میں میرے ساتھ شامل تھے اس نے گاڑی قطار میں سے نکالی اور کچے راستہ پر ڈال دی نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے راہ گم کر لیا اور دشت لوت میں جا نکلے میں نے ستاروں کے ذریعہ پتا چلا کہ ہم نے بہت غلط راستہ اختیار کر لیا ہے میں نے اسے کہا کہ گاڑی روکو نماز پڑھیں جب ہم نے نماز پڑھی تو طے یہ ہوا کہ ہم یہیں رات ٹھہریں اور صبح گاڑی کے ٹائروں کے نشانات پر واپس اسی جگہ پلٹ جائیں گے جہاں سے چلے تھے لیکن صبح گاڑی کے ٹائروں کے نشانات بھی نہ ملے جو کہ مٹ گئے تھے چونکہ ریتلی زمین تھی ہوا نے ریت کو جا بجا کر دیا تھا ہم نے طے یہ کیا کہ چاروں اطراف ۰۱یا۰۲ فرسخ سفر کریں تاکہ شاید اس طرح کوئی منزل یا نشان مل جائے لیکن کسی جگہ نہ پہنچ سکے پانی اور گاڑی کا ڈیزل ختم ہوگیا تیسرے دن پانی اور ڈیزل ختم ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئے اور راہ ملنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں ہم نے کہا کہ اصغر آغا نے ہمیں گم کیا ہے اور اس نے بہت سخت گناہ کیا ہے ہم سب گول دائرہ کی صورت میں اکھٹے ہوئے تاکہ امام زمان علیہ السلام سے متوسل ہوں ساتھ ہی میں نے ساتھیوں سے کہا کہ جس قدر طاقت وقدرت باقی ہے ہر کوئی اپنے لیے اس ریگزار میں قبر تیار کرے اور جب بالکل تھک جائے تو اسی قبر میں لیٹ جائے تاکہ ہوا ریت کے ذریعہ ہماری میت چھپا دے اور ہماری لاشیں پرندوں کی دستبرد سے محفوظ رہیں اور حیوان انہیں نقصان نہ پہنچائیں ہر ایک نے اپنے لیے قبر تیار کر لی اور قبروں کے کنارہ بیٹھ گئے اور چہاردہ معصومین علیہ السلام میں سے ایک ایک کے ساتھ متوسل ہوئے بہت زیادہ گریہ کیا اور ان سے مدد مانگی لیکن کوئی حل نہ ہوا کہ اچانک مجھے الہام ہوا کہ ذکر ”یافارس الحجاز ادرکنی “ کو پڑھو ہم نے پڑھا آنسو بہائے میں نے ساتھیوں سے کہا کہ اگر تمہاری زندگیوں میں کوئی خالص عمل ہے جو تم نے انجام دیا ہے تو خداوند متعال کو اس کام کا واسطہ دو کہ وہ ہمیں نجات دے اور پھر یہ کہا کہ میں منت مانوں کہ اگر خدا نے ہمیں نجات دی تو جوکچھ مال ہمارے ساتھ ہے اسے راہ خدا میں دے دیں گے اور باقی عمر لوگوں کی حاجات کو حل کرنے میں گزاریں گے پھر میں تنہا ہی قریبی ٹیلے کے پیچھے چلا گیا وہاں ایک گڑا تھا کسی نے مجھے نہیں دیکھا میں نے خداوند سے بات چیت شروع کردی خدایا ہم یہاں اس جگہ نہیں مرنا چاہتے اگر یہ ہمارے لیے سعادت ہی کیوں نہ ہو ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن میں مریں میں نے کہ اے ہمارے آقا ومولا امام زمان علیہ السلام اگر اس بے چارگی اور پیاس کی شدت میں آپ نے ہماری مدد نہ کی تو پھر کب ہماری مدد کریں گے اس حال میں ہم مخلوق سے تمام امیدیں قطع کرچکے ہیں اور خالق سے امیدیں لگائے ہیں ۔ ساری عمر اس طرح کی صورتحال مجھے پیش نہیں آئی میں نے آنسو بہاتے ہوئے گریہ وفریاد کی کہ آقا میں اس گروہ کا رہنما ہوں اسی دوران ایک سید عربی سات اونٹوں کے ہمراہ اس بیابان میں ظاہر ہوا اونٹوں پر بار لادا ہوا تھا میں نے سمجھا کہ شاید کوئی مسافر ہیں عربوں میں سے میں انہیں دیکھ کر اتنا خوش ہوا کہ پھولا نہ سماتا تھا وہ سید آقا میری طرف آیا میں نے سلام کیا اور انہوں نے فرمایا ”علیکم السلام ورحمة الله وبرکاته “ میں نے اس کے نورانی اور خوبصورت چہرے کوچوما وہ بہت جاذب نظر تھے انہوں نے میری طرف نگاہ کی اور فرمایا کہ راہ گم کر بیٹھے ہو میں نے عرض کی جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ میں آیاہوں کہ تمہیں راستہ بتاوں پھر فرمایا کہ جب سامنے والے دو پہاڑ عبور کرو گے تو دو اور پہاڑ ظاہر ہوں گے جب انہیں عبور کرو گے تو آگے راستہ مل جائے گاتم بائیں ہاتھ پرجانا تم حربہ جو کہ عراق اور عربستان کی سرحد ہے وہاں پہنچ جاو گے پھر فرمایا کہ جو نذرومنت تم نے مانی ہے وہ لازم اجرا نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے چونکہ تم اس سفر میں کربلا اور نجف جانے کا ارادہ رکھتے ہو جس کی وجہ سے تمہیں رقم کی ضرورت رہے گی اپنے اموال سے بچاو اسے جاکر وطن میں خرچ کرنا اگر تم نے دوران سفر اس منت پر عمل کیا تو سفر میں محتاج سوال ہوجاو گے اور گدائی بھی حرام ہے ہم خود حیران ہوگئے پھر آقا نے فرمایا اپنے دوستوں کو بلاو میں نے ان کو آواز دی وہ سب آگئے انہوں نے سلا م کیا اور آقا کے ہاتھ چومے آقا نے فرمایا کہ گاڑی میں سوا ہو جاو حاج محمد شاہ حسینی نے کہا کہ ہم راہ گم کر چکے ہیں ہماری گاڑی ریت میں دھنس گئی ہے اور مانی گئی نذر سے کچھ آقا کو دیں آقا نے فرمایا کہ وہ منت اس طرح نہیں ہے میں نے آقا کا حکم ان تک پہنچایا آقا نے فرمایا کہ مجھے علم ہے کہ جو رقم تمہارے پاس ہے تمہارے سفر کے لیے کافی ہے اگر کم ہوتی تو میں تمہیں دیتا میں نے محسوس کیا کہ یہ آقا ہم سے رقم نہیں لیں گے تو میں نے سوچا کہ اسے قرآن کی قسم دوں کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ عرب قرآن کا بہت احترام کرتے ہیں اس وقت میری جیب میں جو چھوٹا قرآن تھا وہ باہر نکالا اور کہا آقا آپ کو اس قرآن کی قسم ہمیں حربہ پہنچائیں فرمایا اب جب کہ تم نے قسم دی ہے تو میں تمہیں پہنچاتا ہوں غلطی علی اصغر کی ہے محمود سیٹ پر بیٹھے میں درمیان میں اور تو میرے ساتھ بیٹھ جلدی سوار ہو جاو آقا عربی میں بات کر رہے تھے وہ ہمارے ایک ایک مسافر کے نام سے آگاہ تھے اور مجھے میرے نام سے بلاتے تھے بولے محمود گاڑی اسٹارٹ کرو اور حرکت کرو گاڑی بغیر ڈیزل کے اسٹارٹ ہوگئی جب کہ ہم اس طرف متوجہ نہ تھے گاڑی تیزی سے ریت پر دوڑنے لگی ان دو پہاڑوں کو جو آقا نے کہے تھے عبور کیا اور آقا نے فرمایا کہ وہ سامنے دو پہاڑ ہیں ان کے وسط سے گزرنا ہے اچانک آقا نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور فرمایا کہ ”اب ظہر کا اول وقت ہے محمود سے کہو کہ رک جائے تاکہ نماز پڑھیں دوبارہ سوار ہوں اور گاڑی میں دوپہر کا کھانا کھایاجائے تاکہ مغرب سے پہلے ہم اپنے مقصد تک پہنچ جائیں جب ہم گاڑی سے اترے تو آقا نے فرمایا کہ پانی تو تمہارے پاس نہیں ہے میں نے عرض کی نہیں تو انہوں نے فرمایا! اس جھاڑی کو دیکھ رہے ہو وہ جھاڑی خار داری تھی اور بمشکل ایک عصا جتنی بلند تھی وہاں جھاڑی کے پاس جاو اور وہاں پانی ہے ، جی بھر کے پیو اور اپنی مشکیں پر کر لو وضو کر لو اور نماز پڑھو اور فرمایا کہ میں وضو سے ہوں میں نماز پڑھتا ہوں جب ہم اس جھاڑی کے پاس گئے تو ہم نے دیکھا کہ بہترین صاف پانی ہے ہم نے وضو کیا اپنے مشکیزے پر کیئے یہ پانی بہت زیادہ صاف اور شفاف تھا اور اس کی گہرائی ایک یا ڈیڑھ فٹ سے زیادہ نہ تھی جب کہ سعودی عرب میں کنویں کی گہرائی بہت زیادہ ہو تو تب پانی ملتا ہے نماز سے فراغت کے بعد ہم دوبارہ گاڑی میں سوار ہوئے میں نے کچھ خشک میوہ جات اٹھائے کہ کھاوں میں نے کہا کہ وہ کھائیں مگر انہوں نے نہ کھائے انہوں نے گاڑی چلتے وقت اپنی انگلی سے اشارہ کیا مگر کوئی بات نہ کی میں نے عرض کی کہ سعودی بادشاہ ہر حاجی سے ہزار تومان لیتا ہے مگر ایک اچھا راستہ نہیں بناتا کہ کوئی راہ گم نہ کرے تو آقا نے فرمایا کہ وہ کلب ابن کلب (کتاب ہے اور کتے کا بچہ ہے) وہ تمہیں یعنی شیعوں کو دیکھنا برداشت نہیں کرتے کجا کہ وہ تمہارے لیے راہ بنوایں میں نے راہ میں آقا سے کہا کہ ایران میں انگور اور ہندوانہ بہت سستا ہے جب کہ یہاں عربستان میں بہت مہنگا ہے تو آقا نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہماری برکات سے ہے اور کبھی فرماتے یہ ہم آئمہ علیہ السلام کی برکت کی وجہ سے ہے ہمارے درمیان سلسلہ گفتگو چونکہ جاری تھا اور سب اس طرف بالکل متوجہ نہ تھے کہ یہ آقا سرکار امام زمان علیہ السلام ہیں آقا نے ہمدان مشہد اور کرمانشاہ کی تعریف کی اور کچھ علماءکرام کی جن میں ملا علی ہمدانی، شیخ حسین خراسانی شامل تھے (شیخ حسین خراسانی سے آیت اللہ خراسان مراد ہیں جو کہ زندہ ہیں )تعریف کی اور فرمایا کہ ہماری عنایات و برکات ان کو حاصل ہیں اور مرحوم سید ابوالحسن کی تعریف کی اور مجھے فرمایا کہ تمہارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور مجھے جو پریشانیاں تھیں ان کی بابت مجھے تسلی دی میں نے وہ روٹی جو شاہرود میں تیار کی تھی آقا کو دی جو انہوں نے لے لی اور میں نے انہیں کھاتے ہوئے نہیں دیکھا میں نے عرض کی کہ ایران کے راستے بہت آباد ہیں یہاں آدمی راہ گم نہیں کرسکتا تو آقا نے فرمایا کہ یہ سب ہم اہلبیت علیہ السلام کی برکت سے ہے ہم مغرب کے وقت حربہ سرحدی قصبہ پہنچنے اور پھر بصرہ پہنچ گئے وہاں اترے اور میں نے کہا کہ ہر آدمی اپنے کام میں مصروف ہوجائے میں نے آقا کو عرض کی کہ وہ آج رات ہمارے مہمان ہوں تو آقانے فرمایا کہ تو نے مجھے قرآن کی قسم دی تھی میں نے تمہاری بات مانی اور قبول کی مجھے بہت زیادہ کام ہیں میں تم سے خداحافظی کروں گا اورتمہیں خداوند کریم کے سپرد کرتا ہوں اور وہ منت جو تم نے مانی ہے فی الحال ادا نہ کرنا جب تم وطن پہنچ جاو تو پھر ادا کرنا ظہر سے تین گھنٹے پہلے سے لے کر مغرب تک تقریباً ۸گھنٹے آقا کی خدمت میںرہا گرمیوں کا موسم تھا۔ ہم نے بہت اصرار کیا کہ آپ ابھی تشریف رکھیں لیکن آقا نے قبول نہ کیا اسی دوران جب کہ وہ مجھ سے محو گفتگو تھے کہ اچانک غائب ہوگئے میں نے آنسو بہاتے ہوئے فریاد کی اور ان کے پیچھے بھاگا میں اور میرے ساتھی بھی آنسو بہاتے ہوئے فریاد کرنے لگے ہماری آہ و بکاسن کر حکومتی اہلکار آگئے اور پوچھا کہ کیا ہے کیا کوئی فوت ہوگیا ہے کہ تم لوگ گریہ کر رہے ہو ہم نے کہا کہ نہیں ہم راستہ گم کر بیٹھے تھے اب منزل پر پہنچنے کی وجہ سے خوشی سے ہم آنسووں پر قابو نہ پاسکے ان حضرت کے بائیں پہلو میں ایک چھوٹی تلوار اور ان کے دائیں پہلو کے ساتھ ایک بڑی تلوار جس کی لمبائی تقریباً ایک میٹر ہوگی بھی بندھی ہوئی تھی اور ایک کمربند کے ذریعے دونوں تلواروں کو آپس میں جوڑا گیا تھا ان حضرت کے ابرومثل کمان کے خم دار تھے انہوں نے عربوں کی طرح کا لباس پہنا ہوا تھا عربوں کی طرح کا رومال ان کے سر پر تھا ہمارا ڈرائیور اصغر اپنے سر کو پیٹنے میں مصروف تھا اور کہتا تھا کہ میری غلطی تھی جس کی وجہ سے ہم راستہ بھول گئے مگر شکر خدا ہے کہ اس وجہ سے سرکار امام زمان علیہ السلام کا دیدار نصیب ہوا ایک اور ساتھی نے کہا کہ وہ ہمارا نام کیسے جانتے تھے۔ (یہ واقعہ اختصار کے ساتھ شیخ اسماعیل کی کیسٹ سے لیا گیا ہے جو اس وقت زندہ ہیں )۔

۲۔ چالیس افراد امام زمان علیہ السلام کی جستجو میں

نجف کے چالیس کارکنوں نے ارادہ کیا کہ وہ چالیس بدھ کی راتیں مسلسل مسجد سہلہ جائیں گے تاکہ شاید سرکار امام زمان علیہ السلام کا دیدار نصیب ہو جائے انہوں نے اپنا عمل شروع کر دیا چالیسویں رات ان میں سے دو آدمی باقی افراد کے سامان وغیرہ کی حفاظت کے لئے مسجد سہلہ میں رک گئے اور باقی مسجد کوفہ چلے گئے اچانک ایک عربی ان دو افراد کے پاس آیا اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا اس نے ان دو افراد سے کہا کہ یہ تھیلا تمہارے پاس میری امانت رہے میں واپس آکر لے لوں گا ان دو افراد نے وہ تھیلا قبول کر لیا جب وہ عربی چلا گیا تو انہوں نے تھیلے کو اٹھا کر دیکھا تو وہ کافی وزنی تھا ایسا لگتا تھا کہ اس میں سکے ہیں ان دونوں نے سوچا کہ ہمارے ساتھی واپس آجائیں تو ان سے مشورہ کریں گے اگر وہ راضی ہوگئے تو یہ سب کے درمیان برابر بانٹ لیں گے اور اس عربی کی امانت سے مکر جائیں گے جب ساتھی آگئے تو انہوں نے سکے تقسیم کرنے پر آمادگی ظاہری کردی اسی دوران وہ عرب واپس آگیا اس نے اپنے تھیلے کا تقاضا کیا تو انہوں نے کہا کہ کیسا تھیلا ہمارے پاس کوئی تھیلا نہ ہے اس نے آیت قرآن کی تلاوت کی کہ ”( ان اللّٰه یامرکم ان تو دوالامانات الی اهلها ) “(سورہ نساءآیت ۸۵) اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو واپس کردو اس کے بعد عرب نے دوبارہ آیت قرآن پڑھی مگر وہ لوگ آمادہ نہ ہوئے تمام گفت وشنید بے سود ثابت ہوئی نوبت تکرار تک آگئی کہ اچانک وہ عرب نظروں سے غائب ہوگیا تو تمام لوگوں کو سمجھ آئی کہ وہ ہمارے امام زمان علیہ السلام تھے وہ سب کے سب رونے لگے انہوں نے جب تھیلے کا منہ کھولا تو وہ کوڑے کرکٹ سے بھرا ہوا تھا۔”( خسرالدنیا والاخرة ) “۔ (سورہ حج آیت ۱۱)

۳۔ برزخ میں سرکار امام زمان علیہ السلام کی عنایت ومہربانی

مرحوم شریف رازی نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت آیة اللہ العظمیٰ میلانی کے پاس تھا کہ انہوں نے فرمایا کہ ”دو بھائی جو کہ سید تھے اور تبریز سے تھے ایک ان میں سے روحانی تھا اور دوسرا بازاری دونوں صاحب استطاعت تھے دونوں کے لئے مکہ مکرمہ جانا ممکن تھا جو بھائی غیر روحانی تھا یعنی بازاری تھا نے مکہ جانے کا ارادہ کیا دوسرا بھائی جو رووحانی تھا اور محرم قریب تھا اس نے محرم میں مجالس کے لئے وعدہ کیا ہوا تھا اس لیے اس نے حج کا پروگرام اگلے سال تک موخر کر دیا لیکن اسے موت نے مہلت نہ دی اور وہ تین ماہ بعد فوت ہوگیا اور دوسرا بھائی جو مکہ کے لئے گیا ہوا تھا وہ بھی واپس آگیا اپنے بھائی کی آخرت کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتا تھاکیونکہ وہ حج ادا کیے بغیر فوت ہوگیا تھا ایک رات اس نے عالم خواب میں اپنے روحانی بھائی کو دیکھا کہ وہ ایک خوبصورت باغ میں سکونت پذیر ہے اس نے تعجب کرتے ہوئے پوچھا کہ تم یہاں باغ میں کیسے آئے ہوتو روحانی نے جواب دیا کہ پس ازموت جب مجھے حساب کے لئے لے گئے اور حج نہ کرنے کی وجہ سے مجھے ایک انتہائی اندھیرے اور وحشت ناک مکان میں لے گئے جہاں بہت زیادہ بدبو تھی میں تنگی کی وجہ سے اپنی ماں سیدہ زہراء علیہ السلام سے متوسل ہوا اور میں نے عرض کی بی بی علیہ السلاممیں نے ایک عمر آپ علیہ السلام کے بیٹے حضرت امام مظلوم حسین علیہ السلام کی مظلومیت بیان کی ہے مجھے اس تنگی سے نجات دلوائیے۔ فرشتے مجھے سیدہ علیہ السلام کے پاس لے گئے سیدہ علیہ السلام نے مولائے متقیان امیرالمومنین علیہ السلام سے میری بخشش کی درخواست کی مولا علی علیہ السلام نے فرمایا اے دختر پیغمبر اس شخص نے کئی مرتبہ مجالس میں دوران مجلس لوگوں سے کہا کہ وہ شخص جس پر حج واجب ہو اور وہ نہ کرے تو بوقت موت اسے کہا جاتا ہے کہ بے شک وہ یہودی ہے نصرانی ہے اور یہ خود ترک حج کا مرتکب ہوا ہے میں اس کے بارے کیا کروں بی بی علیہ السلام نے کہا اے علی علیہ السلام اس کی بخشش کی کوی سبیل نکالو۔ حضرت علی علیہ السلام نے کہا کہ اس کی بخشش کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے بیٹے مہدی علیہ السلام سے کہو کہ اس سید کی نیابت میں حج ادا کرے تاکہ خدا اسے بخش دے میری ماں زہراء علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اور امام مہدی علیہ السلام نے میری نیابت میں حج مقبول کرلیا اور مجھے نجات مل گئی جس کے بعد مجھے ان خوبصورت باغات میں لایا گیا۔ (کرامات صالحین)

فراق تاکی؟!

گفتم کہ: (روی خوبت از من چرانہان است؟)

گفتا: (توخود حجابی، ورنہ رخم عیان است)

گفتم کہ :(از کہ پرسم، جانا! نشان کویت؟)

گفتا: (نشان چہ پرسی؟ آن کوی بی نشان است)

گفتم: (مراغم تو، خوشتر ز شادمانی)

گفتا کہ :(در رہ ما، غم نیز شادمان است!)

گفتم کہ: (سوخت جانم از آتش نہانم)

گفت: (آن کہ سوخت، او راکی نالہ یافغان است؟)

گفتم: (فراق تاکی؟) گفتا کہ:(تاتوہستی)

گفتم: (نَفَس ہمین است؟) گفتا: (سخن ہمان است)

گفتم کہ: (حاجتی ہست) گفتا: (بخواہ ازما!)

گفتم: (غمم بیفزا!) گفتا کہ :(رایگان است)

گفتم: (ز(فیض) بپذیر این نیم جان کہ داراد!)

گفتا: (نگاہ دارش! غمخانہ تو جان است)

(کلیّات اشعار فیض کاشانی ص۱۸)

چون فرا آیدزمان علیہ السلام متّقین

صالحین گردند ورّاث زمین

( وَلَقَد کَتَبنَا فِى اَلزَّبُورِ مِن بَعدِ اَلذَّکرِا نَّ اَلارضَ یَرِثُهَا عِبَادِى اَالصَّالِحُونَ ) “۔

”ہم زبور میں پندو نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے“۔(سورہ انبیاء۵۰۱)


فصل ششم

امام زمان علیہ السلام اور صالحین

خاتم الاوصیاء

عظمت ولی العصر علیہ السلام

محور کائنات

مشابہت با انبیاء علیہ السلام

وارث انبیاء

معجزات

انصاران مہدی علیہ السلام


باب اول

خاتم الاوصیاء

مقدمہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک جیسا پیدا نہیں کیا اگرچہ تمام انسان اصل میں توحید کی فطرت رکھتے ہیں لیکن استعداد و صلاحیت کی بنا پر فرق رکھتے ہیں ۔

عظمت ولی العصر علیہ السلام

ایسے اعلیٰ ووالا انسان جو کہ اللہ کی مخلوق پر حجت ہیں ایک خاص فضیلت رکھتے ہیں ان با فضیلت شخصیات میں سے ایک سرکار امام زمان علیہ السلام ہیں جو کہ انسان کامل واکمل ہیں اور لامحدود عظمت کے مالک ہیں جوزمان علیہ السلامہ کی عزت وآبرو ہیں جن کی وجہ سے زمین کو امان ہے ہم اس باب میں سرکار کی شخصیت اور کمالات بارے اپنی قدرت مطابق گفتگو کریں گے۔

۱۔ کمالات ذاتی

امام زمان علیہ السلام سرکار علیہ السلام اللہ کے آخری نور روح عظیم کے مالک اور عالم علم لدنی ہیں پنج تن پاک علیہ السلام کے بعد ان کی شان سب سے اعلیٰ وبالا ہے روایت میں ہے کہ سرکار امام زمان علیہ السلام خلقت آدم وعالم سے پہلے ملائکہ کے استاد تھے اور انہیں اللہ کی تسبیح کی تعلیم دیتے تھے۔ سرکار امام زمان علیہ السلام نے بطن مادر میں اپنی پھوپھی کو سورئہ قدر پڑھ کر سنائی اور بعداز تلاوت اپنے والد بزرگوار حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے ہاتھ پر قرآن کریم کی یہ آیت ”( ونریدا ن نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلهم اءمةً ونجلعهم الوارثین ) “(قصص آیت ۵) پڑھ کر سنائی۔

۲۔ کمالات اکتسابی

سرکار امام زمان علیہ السلام کے کمالات اکتسابی کو تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔

۱۔کمالات اکتسابی براہ راست

سرکار امام زمان علیہ السلام نے تمام اوصیاء علیہ السلام کے برابر عبادت اور راہ خدا میں خرچ کیا ہے اور آپ نے مخلوق کی مشکلات میں مدد کی ہے امام زمان علیہ السلام سرکار نے تقریباً ۱۱۵۰حج ادا کئے ہیں اور آپ علیہ السلام نے تقریباً ۷۰۰۰۰(سترہزار)بار زیارت امام حسین علیہ السلام اور ہر شب جمعہ اور روزہائے عید دیگر آئمہ علیہ السلام کے مزارات پر زیارات کے لئے گئے۔

۲۔ کمالات اکتسابی غیر مستقیم

وہ عبادات و درود فی سبیل اللہ خرچ نمازیں زیارات حج عمرے و دیگر کارہائے خیر جو مولا امام زمان علیہ السلام کے ماننے والے ان کی طرف سے انجام دیتے ہیں یہ مولا علیہ السلام کے لئے کمالات غیر مستقیم ہیں اور آنحضرت علیہ السلام کے کمالات میں ایک اور اضافہ ہیں ۔

۳۔ کمالات حاصل از صالحات باقیات

مولا امام زمان علیہ السلام نے چونکہ پوری دنیا پر حکومت عدل انصاف قائم کرنی ہے اور پوری دنیا سے شرانس و جن وشر شیاطین کونابود کرنا ہے اور دنیا کو قیامت تک راہ مستقیم پر گامزن کرنا ہے بنا برایں سرکار پوری دنیا کی نیکیوں کی جزا میں شریک ہیں جس کی وجہ سے آپ کے درجات اور زیادہ بلند ہوجاتے ہیں اسی بنا پر ہم ایک داستان جس سے عظمت سرکار امام زمان علیہ السلام واضح ہوتی ہے بیان کرتے ہیں ۔

محورکائنات

مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمیٰ آقائے شیخ وحید خراسانی مدظلہ نے حاجی شیخ محمد جو کہ مرحوم اخوند ملا کاظم خراسانی کے بیٹے تھے سے یہ واقعہ بذات خود سنا اور پھر انہوں نے میرے لیے نقل فرمایا۔ حاجی شیخ محمد فرماتے ہیں کہ میری اور سید احمد کی والدہ بیمار ہوگئیں ہم نے اپنے شہر نجف کے تمام ڈاکٹروں اور اطباءکو دکھایا ہر جگہ لے گئے لیکن بیماری سے افاقہ نہ ہوا اور انہوں نے لاعلاج قرار دے دیا ہمیں کسی نے بتایا کہ ایک عامل روحانی سید ہے جو کہ کبھی کبھی ضریح مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ دیکھاجاتا ہے اگر تمہیں نظر آئے تو اسے ملنا امید ہے وہ تمہاری مشکل حل کر دے گا ایک دن میں اور میرا بھائی زیارت کے لئے حرم گئے تو وہ سید ہمیں قبر امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ نظر آیا ہم اس کے پاس گئے اور اسے کہا کہ ہم حاجت مند ہیں اس نے اشارہ سے کہا کہ حاجت بتانے کی ضرورت نہیں ہے اپنی حاجت دل میں رکھو میرے بھائی نے حاجت دل میں رکھی اس نے تسبیح کے سرے کو پکڑا اور کہا کہ بیماری ہے اور تمہارا مریض ایسا ہے کہ جس کا دنیا میں علاج نہیں ہے اور وہ مریض تین دن بعد فوت ہوجائے گا۔بس ہماری والدہ تین دن بعد فوت ہوگئی ہم سید کے اس جواب سے بہت حیران ہوئے تھے دوبارہ ہم نے ایک سوال دل میں رکھا وہ یہ تھا کہ ہمارے امام زمان علیہ السلام اس وقت کہاں ہیں ہم نے سید سے اپنی نیت بارے پوچھا کہ ہمارے سوال کا جواب کیا ہے جو سوال دل میں ہے اس نے حسب سابق تسبیح کے سرے کو پکڑا اور کہا کہ اب وہ مکہ میں ہیں پھر تھوڑی دیر بعد مدینہ میں اور پھر فوراً دمشق میں ہےں اور پھرانہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھایا کہ وہ ہے کہ سورج جس کے گرد چکر لگاتا ہے پھر کہا کہ پوری کائنات کا وہ محور ہے وہ محورعالم امکان ہے میں نے کہا کہ ہاں آپ نے ٹھیک فرمایا میری مراد نیت سرکار امام زمان علیہ السلام تھے جو کہ واقعاً محورعالم امکان ہیں ۔

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) عدل قرآن ہیں

خداوند متعال کا قرآن میں ارشاد ہے کہ ”( لوانما فی الارض من شجرةٍ اقلام والبحرنمده من بعده سبعة ابحرٍا مانفدت کلمات اللّٰه ان اللّٰه عزیز حکیم ) “۔

(سورہ لقمان آیت ۷۲)

”جتنے زمین میں درخت ہیں قلم بن جایں دریااور سات اور دریا مل جائیں توبھی تمام کلمات خدا کا احاطہ نہیں ہوگا بے شک اللہ عزت والا اور حکیم ہے“۔

یحییٰ بن اکثم نے حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا کہ مراد ”کلمات اللہ“ کیا ہے تو مولا امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا کہ ”نحن کلمات الله التی تدرک فضاءلنا ولا تستعصیٰ “ ہم ہی وہ کلمات خدا ہیں کہ ہمارے فضائل نہ ہی پورے کوئی جان سکتا ہے اور نہ ہی ختم ہوتے ہیں “۔(بحارالانوار ج۱۱، ص۶۰۱)

ہم زیارت امام زمان علیہ السلام میں پڑھتے ہیں ۔ ”السلام علیک یا شریک القرآن“۔

چونکہ قرآن اور حضرت امام زمان علیہ السلام کے درمیان جو ہم آہنگی اور مشترکات ہیں ہم ان میں سے کچھ کا تذکرہ کریں گے ۔

۱۔ حدیث ثقلین میں پیامبر گرامی نے فرمایا کہ ”انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ وعترتی ما ان تمسکتم بھمالن تضلوا ابدا“۔”میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا اور دوسری میری اہل بیت علیہ السلام تاوقتیکہ کہ نے تم ان دونوں سے تمسک رکھا تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے“۔ قرآن اور اہلبیت علیہ السلام سے تمسک (یعنی ہرزمان علیہ السلامہ کے معصوم علیہ السلام کے ساتھ) گمراہی سے بچاتا ہے کیونکہ تمام آئمہ معصومین علیہ السلام قرآن ناطق ہیں ۔

۲۔ ”( مایعلم تاویله، الا اللّٰه والراسخون فی العلم ) “۔ (آل عمران آیت ۷)

”تاویل قرآن کو اللہ کے بعد اور ان کے جو علم میں راسخ اور ثابت قدم ہیں اور کوئی نہیں جانتا“۔

۳۔ زیارت جامعہ کبیر میں ہے کہ تراجمةً لوحیہ اہل بیت علیہ السلام اطہار قرآن کا ترجمہ ہیں ۔

۴۔ قرآن اندھیروں سے روشنی کی طرف نکلنے کا وسیلہ ہے اس طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی وسیلہ نور ہیں قرآن میں ہے ”( یهدی اللّٰه لنوره من یشاء ) “۔ ( سورئہ نور ۵۳)

”خداوند اپنے نور کے وسیلہ سے جسے چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے“۔ اس آیہ مبارکہ میں نور سے مراد حضرت امام زمان علیہ السلام ہیں ۔مفاتیح الجنان میں امام زمان علیہ السلام بارے آیا ہے۔ ”وعَلَم النورِ فی طغیاءالدیجور “ سیاہ رات میں آپ پرچم نور ہیں ۔ اسی طرح آیا ہے کہ ”یانور اللّٰه الذی لایطفیٰ “ اے وہ نور خدا جو کہ کبھی نہیں بجھتا“۔ (مفاتیح الجنان زیارت صاحب الزمان)

۵۔ قرآن مجید میں ہر چیز کا بیان ہے ”( تبیاناً لکل شی ) “(سورہ نحل آیت۹۸) اسی طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی ہر چیز کے عالم ہیں ۔

۶۔ جس طرح قرآن مومن کے جسم وجان کے لئے شفاءہے اسی طرح حضرت امام زمان علیہ السلام بھی مومن کے لئے شفاءہیں ۔

۷۔ قرآن کریم کے مطالب سے سوائے معصومین علیہ السلام کے کوئی کامل آگاہی حاصل نہیں کرسکتا اسی طرح سوائے معصومین علیہ السلام کے معرفت امام زمان علیہ السلام کوبھی کوئی مکمل نہیں حاصل کرسکتا۔مطہرین ہی اس کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں ۔ (سورہ واقعہ آیت ۹۷)

۸۔ قرآن اللہ کا زندہ جاوید معجز ہ ہے اور امام زمان علیہ السلام اللہ کی زندہ وباقی حجت ہیں ۔

۹۔ خداوند کریم قرآن کا محافظ ہے ”( انا نحن نزلنا الذکرواناله لحافظون ) “(سورہ حجرآیت۹) اسی طرح امام زمان علیہ السلام بھی محافظت خدا میں ہیں ۔ جیسا کہ ہم دعائے امام زمان علیہ السلام میں پڑھتے ہیں ”اللھم کن لولیک الحجة ابن الحسن علیہ السلام.... ولیاً وحافظاً....الخ۔

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کی انبیاء علیہ السلام سے مشابہت

حضرت امام زمان علیہ السلام سرکار انبیاء علیہ السلام سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ہم اختصار کے ساتھ ان انبیاء علیہ السلام سے ان کی شباہت کا ذکر کریں گے۔

الف) مشابہت باحضرت نوح (علیہ السلام)

حضرت نوح (علیہ السلام) شیخ الانبیاء علیہ السلام ہیں اور حضرت امام مہدی علیہ السلام شیخ الاوصیاء علیہ السلام ہیں بحارالانوار میں حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ۲۵۰۰سال لکھی گئی ہے جب کہ امام زمان علیہ السلام اب تک ایک ہزار سال سے زیادہ عمر گذار چکے ہیں طول عمر میں مشابہ نوح( علیہ السلام) ہیں ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا ”( رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیاراً ) “۔(سورئہ نوح علیہ السلام ۶۲)

”خدایا زمین پر کسی ایک کافر کو بھی باقی نہ رکھ“۔امام زمان علیہ السلام بھی زمین پر کسی ایک کافر کو باقی نہیں چھوڑیں گے حضرت نوح (علیہ السلام)نے ۹۵۰سال لوگوں کی طرف سے ملنے والی تکالیف وآزار برداشت کیئے امام زمان علیہ السلام بھی ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے دنیا پر ظلم وجور اور بے انصافیاں دیکھ رہے ہیں ”وہ جس نے کشتی حضرت نوح علیہ السلامکوچھوڑا ہلاک ہوا امام زمان علیہ السلام بھی کشتی نجات امت ہیں زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں ”من اتیٰکم نجیٰ ومن لم یاتکم هلک “(مفاتیح الجنان زیارت جامعہ) ہر وہ جو آپ کی طرف آگیا نجات پاگیا اور جو نہ آیا وہ ہلاک ہوگیا۔

ب) مشابہت باحضرت موسیٰ (علیہ السلام)

۱۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت مخفی تھی اسی طرح حضرت امام زمان علیہ السلام کی ولادت بھی عام لوگوں سے مخفی تھی۔

۲۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دوبار غیب ہوئے ایک بار مصر سے مدائن ہجرت کی جو۷۲ سال مہاجر رہے دوسری بار۰۴ رات کے لئے کوہ طور پر گئے ”( فتم میقات ربه اربعین لیلةً ) “ (سورئہ اعراف ۲۴۱)اسی طرح امام زمان علیہ السلام کی غیبت بھی دوبار ہے ۔غیبت صغریٰ، غیبت کبریٰ۔

۳۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ رب العزت نے کلام کیا اسی طرح حضرت امام زمان علیہ السلام سے بھی کلام کیا امام حسن عسکری (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے مہدی امت عطا فرمایا تو دوفرشتے بھیجے جوکہ مہدی علیہ السلام کو پردہ عرش پر لے جائیں وہ لے گئے اور اللہ نے میرے فرزند مہدی (علیہ السلام) سے خطاب کیا کہ خوش آمدید اے میرے برگزیدہ بندے میں نے تجھے اپنے دین کی نصرت کے لئے پیدا کیا ہے اپنی شریعت کے اظہار کے لئے پیدا کیا تومیرا ہدایت یافتہ بندہ ہے مجھے اپنی ذات کی قسم جو تیری اطاعت کرے گا اسے ثواب دوں گا اور جوتیری نافرمانی کرے گا اسے عذاب وعتاب دوں گا۔تیری شفاعت اور ہدایت کی وجہ سے میں اپنے بندوں کو بخش دوں گا تیری مخالفت کی وجہ سے لوگوں کو عذاب میں مبتلا کروں گا۔

موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس یدبیضا تھا اسی طرح حضرت امام زمان علیہ السلام کے چہرہ مبارک کا نور لوگوں کو سورج کی روشنی سے بے نیاز کردے گا۔

ج) مشابہت باعیسیٰ (علیہ السلام)

۱۔ عیسیٰ (علیہ السلام)مریم علیہ السلام کا بیٹا ہے جو کہ اپنےزمان علیہ السلامہ کی عورتوں کی سردار تھی حضرت امام زمان علیہ السلام فرزند زہراء علیہ السلام جو کہ سیدة نساءالعالمین علیہ السلام ہیں ۔

۲۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بوقت ولادت بات کی حضرت مہدی علیہ السلام نے شکم مادر میں سورئہ قدر کی تلاوت کی بوقت ولادت سجدہ کیا اور انگلی کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا ”( اشهد ان لااله الاالله وحدهُ لاشریک الله وان جدی رسول الله ان ابی امیرالمومنین وصی رسول الله ) “ اس کے بعد ایک ایک امام علیہ السلام کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ اپنے نام گرامی (مہدی علیہ السلام) تک پہنچے۔ (بحارالانور ج۱۵ صفحہ ۷۲)

د) مشابہت با محمد خاتم الانبیاء

۱۔ دونوں کا نام اور کنیت ایک ہے دونوں کے نام محمد ہیں اور کنیت ابوالقاسم ہے جناب رسالتماب نے فرمایا کہ میرا فرزند مہدی علیہ السلام”اشبه الناس بی خلقاً وخُلقاً “ (بحارالانوار ج۱۵، ص۲۷)

تمام لوگوں میں خُلق اور شکل وشباہت میں میرے مشاہبہ ہے۔

۲۔ جناب رسالتماب خاتم الانبیاء علیہ السلام ہیں اور سرکار امام زمان علیہ السلام خاتم الاوصیاء علیہ السلام ہیں ۔

حضرت امام مہدی(علیہ السلام) وارث انبیاء علیہ السلام

میراث انبیاء علیہ السلام سے مراد ان کا چھوڑا ہوا مال وترکہ نہیں بلکہ وہ روحانی ترکہ ہے جو انبیاء علیہ السلام سے اوصیاء علیہ السلامکو ملتا ہے تمام انبیاء علیہ السلام کا روحانی ترکہ سرکار امام زمان علیہ السلام کو منتقل ہوا ہم اس بارے کچھ وضاحت کریں گے

۱۔ قمیض یوسف (علیہ السلام)

دو قمیضیں جوحضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی ملیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے وہ قمیض حضرت یوسف علیہ السلام کو دے دی جس کی طرف قرآن میں اشارہ ہے۔ ”( اذهبوا بقمیصی هٰذا فالقَوهُ علی وجه ابی یات بصیرا ) “۔ (سورئہ یوسف علیہ السلام۳۹)حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا بھائیوں سے کہ یہ میری قمیض لے جاو اور اسے میرے باپ کے چہرے پر لگاو اس کی بصارت لوٹ آئے گی۔

۲۔ عصائے موسیٰ (علیہ السلام)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا جو کہ آس کی لکڑی سے بنا ہوا تھا اور جبرائیل علیہ السلام اسے خاص طور پر حضرت شعیب علیہ السلام کے لئے لائے تھے وہ حضرت شعیب علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دے دیا وہ ہمیشہ تازہ رہا اور رہے گا وہ امام زمان علیہ السلام کے پاس ہے۔

۳۔ سنگ موسیٰ (علیہ السلام)، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پتھر

قرآن مجید میں اس پتھر کا ذکر ہے کہ ۲۱ پانی کے چشمے اس سے ابل پڑے تھے۔

۴۔ حضرت سلیمان(علیہ السلام) بن داود(علیہ السلام) کی انگوٹھی

۵۔ پرچم

وہ پرچم جو جبرئیل علیہ السلام جنگ بدر میں جناب رسالتماب کےلئے لائے تھے یہ پرچم جہاں بھی کھلتا وہاں فتح ہوتی جناب رسول اکرم نے جنگ بدر میں اس پرچم کو کھولا تو مسلمانوں کو فتح ونصرت نصیب ہوئی یہ پرچم جنگ جمل میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس تھا اور امیرنے کھولا اور پھر فرمایا کہ یہ پرچم اب دوبارہ کبھی نہیں کھلے گا صرف حضرت امام زمان علیہ السلام اسے کھولیں گے اور تمام کفار اور ظالموں پر فتح پائیں گے۔

۶۔ قمیض جناب رسالتماب

ایک قول کی بنا پر پیغمبراکرم کی ایک قمیض تھی جو حضورنے جنگ احد میں زیب تن کر رکھی تھی جب حضور جنگ احد میں زخمی ہوئے تو آپ کے دندان مبارک سے بہنے والا خون اس قمیض پر گرا ایک روایت میں ہے کہ جناب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے وہ قمیں اپنے ایک صحابی کو دکھائی تھی جو ان کے پاس بطور تبرک تھی جو سلسلہ وار سرکار امام زمان علیہ السلام تک پہنچی۔

۷۔ عمامہ جناب رسول اکرم( صل اللہ علیہ وآلہ وسلم)

جناب رسول خدا کا عمامہ سفید رنگ کا تھا اور اس عمامہ کا نام سحاب تھا ۔

۸۔ جفر احمد ۹۔ جفر ابیض ۰۱۔جامعہ

یہ آخری تین حضور پاک سے میراث میں ملی ہیں ان کے علاوہ اور چیزیں بھی میراث میں آپ کے پاس ہیں جیسے مصحف فاطمہ علیہ السلامذوالفقار علی علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی قمیض یہ سب تبرکات بطور میراث امام زمان علیہ السلام تک پہنچے ۔

حضرت امام زمان علیہ السلام (علیہ السلام) اور معجزات انبیاء علیہ السلام

محقق اردبیلی حدیقہ الشیعہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں مولا جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں سات آدمی میرے فرزند مہدی علیہ السلام سے معجزہ طلب کریں گے۔

۱۔ ایک آدمی حضرت امام زمان علیہ السلام سے حضرت الیاس علیہ السلام نبی کا معجزہ طلب کرے گا، حضرت اس کے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائیں گے ”( ومن یتوکل علی اللّٰه فهوحسبه ) “(سورہ طلاق آیت۳) اس کے بعد آپ دریائے دجلہ کے پانی پر چلتے ہوئے دوسرے کنارے چلے جائیں گے تو وہ شخص کہے گا کہ یہ جادوگری ہے حضرت دریا کے پانی کو حکم دیں گے کہ اس شخص کو گرفتار کرے پانی اس شخص کو دبوچ لے گا وہ سات دن تک دریا میں زندہ جکڑا رہے گا اور کہتا رہے گا کہ یہ اس شخص کی سزا ہے جو امام زمان علیہ السلام کا انکار کرے۔

۲۔ ایک اصفہان کا رہنے والا حضرت سے معجزہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی درخواست کرے گا حضرت حکم دیں گے کہ بہت بڑی آگ جلائی جائے اور حضرت یہ آیت قرآن تلاوت فرمائیں گے”( فسبحان الذی بیده ملکوت کل شی والیه ترجعون ) “(سورہ یٰسین آیت ۳۸) اس کے بعد آگ میں داخل ہوجائیں گے آگ ان کے لئے ٹھنڈی ہوجائے گی جب کہ اس کے شعلے نکل رہے ہوں گے حضرت کو نہیں جلائے گی وہ شخص اس معجزہ کے بعد بھی منکر امامت رہے گا حضرت آگ کو حکم دیں گے کہ اسے جلادے آگ اسے جلادے گی۔

۳۔ فارس کا ایک شخص جب حضرت امام زمان علیہ السلام کے ہاتھ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا دیکھے گا تو آپ سے معجزہ کا تقاضا کرے گا تو حضرت یہ آیہ مبارکہ تلاوت فرمائیں گے ”فالقی عصا فاذا ہی ثعبان مبین “ (اعراف ۷۰۱)توعصا اژدھا بن جائے لیکن وہ شخص کہے گا کہ یہ جادو ہے امام زمان علیہ السلام کے حکم سے وہ اژدہا اس شخص کو نگل جائے گا اسطرح کہ اس شخص کا سر گردن اژدھا کے منہ سے باہر ہونگے ۔

۴۔ آذربائیجان کا ایک باشندہ ایک انسان کی ہڈی لے کر آئے گا اور امام زمان علیہ السلام سے کہے گا کہ اگر آپ امام علیہ السلام ہیں تو اس ہڈی سے بات کریں یہ ہڈی آپ سے بات کرے تو وہ ہڈی امام سے بات کرے گی کہ اے معصوم امام میں ایک ہزار سال سے عذاب میں مبتلا ہوں آپ علیہ السلام دعا فرمائیں کہ اللہ میرا یہ عذاب ختم کردے مگر پھر بھی وہ دشمن امام زمان علیہ السلام ایمان نہیں لائے گا تو آپ علیہ السلام حکم دیں گے کہ اس شخص کو تختہ دار پر لٹکا دیاجائے تو وہ شخص ایک ہفتہ تک تختہ دار پر لٹکا رہے گا اور کہتا رہے گا کہ یہ منکر معجزہ کی سزا ہے۔

۵۔ عمان کا ایک باشندہ امام زمان علیہ السلام سے حضرت داود علیہ السلام کے معجزہ کی درخواست کرے گا آپ علیہ السلام لوہے کو ہاتھ میں لیں گے اور وہ نرم ہوجائے گا مگر پھر بھی وہ منکر امامت رہے گا تو حضرت اسی نرم لوہے کومنکر کی گردن میں لپیٹ دیں گے وہ شخص لوگوں میں دوڑتا پھرے گا اور کہے گا کہ یہ اس شخص کی سزا ہے جو منکر امام علیہ السلام ہو۔

۶۔ اھواز کا ایک شخص امام زمان علیہ السلام کے ہاتھ میں چھری دے گا اور کہے گا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اس چھری سے اپنے بیٹے کو ذبح کرو تو حضرت اس چھری کو ستر بار اپنے بیٹے کی گردن پر چلائیں گے مگر وہ چھری کام نہیں کرے گی۔ پھر بھی وہ منکر معجزہ امام علیہ السلام رہے گا حضرت علیہ السلام اس چھری کو زمین میں ماریں گے تووہ چھری اس منکر کی گردن پر چل جائے گی وہ ذبح ہو کر روانہ جہنم ہوجائے گا

۷۔ ایک عربی امام زمان علیہ السلام سے رسول اکرم کا معجزہ طلب کرے گا سرکار امام زمان علیہ السلام شیر کو بلائیں گے شیر حضرت کے پاس آجائے گا اوراپنا سر،زمین پر رکھ دے گا اور امام کی حقانیت کی گواہی دے گا لیکن اس کے باوجود وہ شخص سرکار امام زمان علیہ السلام کی امامت کا منکر رہے گا شیر اس پر حملہ کر دے گا وہ عرب بھاگنے کی کوشش کرے گا لیکن شیر اسے ہلاک کردے گا۔


باب دوئم

کامیاب جماعت

اللہ کے سپاہی امام علیہ السلام کی خدمت میں

( وللّٰه جنودالسموٰت والارض ) “ (سورئہ فتح۶)

”اللہ کے لیے ہیں زمین وآسمان کے لشکر“ جونہی حضرت کو اذن ظہور ملے گا اور حضرت کے شکوہ مند ظہور کا وقت آئے گا تو اللہ کے لشکر جو تین گروہ ہیں ۔ لشکر فرشتگان، لشکر جنات، لشکر انسانی، حضرت کے مدد گار بن کر حاضر ہوںگے۔

لشکرملائک

سب سے پہلے جو فرشتہ حضرت امام زمان علیہ السلام کی بیعت کرے گا وہ جبرئیل علیہ السلام ہو گا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ۳۱۳ فرشتے امام زمان علیہ السلام کی مدد کےلئے آئیں گے راوی نے پوچھا کہ کیا فرشتے پہلے انبیاء علیہ السلام کی مدد کےلئے بھی آتے رہے تھے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں فرشتوں کا ایک گروہ حضرت نوح علیہ السلام کےساتھ کشتی میں ایک گروہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کےساتھ اس وقت جب انہیں آگ میں پھینکا جا رہا تھا موجود تھا اور فرشتوں کا ایک گروہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کےساتھ جب وہ دریا کو چیر رہے تھے تھا اسی طرح فرشتوں کا ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کےساتھ جب انہیں اوپر لے جایا گیا اسی طرح چار ہزار فرشتے جنہیں مردفین کہاجاتا ہے ہمارے نبی کریم کے ساتھ جنگ بدر میں تھے نیز ۳۱۳ فرشتوں نے پیغمبر اکرم کی مدد کی اسی طرح چار ہزار فرشتے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے تاکہ مدد کریںمگر حضرت امام حسین علیہ السلام نے انہیں اسکی اجازت نہ دی جس کی وجہ سے وہ واپس آسمان کی طرف چلے گئے اور پھر اجازت طلب کی انہیں حرم حضرت امام حسین علیہ السلام میں جانے دیا جائے تاکہ وہ وہاں قیامت تک گریہ کریں ان فرشتوں کا سردار فرشتہ جسکا نام منصور ہے یہ سب حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین کا استقبال کرتے ہیں جب زائرین وداع کرتے ہیں تو یہ انہیں خداحافظی کہتے ہیں جب کوئی زوار بیمار ہوجائے تو اسکی عیادت کرتے ہیں اگر کوئی زوار مرجائے تو اسکی نماز جنازہ ادا کرتے ہیں اور اسکی بخشش کی دعا کرتے ہیں یہ فرشتے امام حسین علیہ السلام کے حرم میں امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے منتظر ہیں روایات کی رو سے وہ تمام فرشتے جو تمام انبیاء علیہ السلام و اوصیا علیہ السلام کے پاس آئے وہ سبکے سب امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں آئیں گے۔

لشکر جنات

انسانوں اور جنوں کے نقیب حضرت امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں آئیں گے اور اپنی خدمات انجام دیں گے روایات میں ہے کہ جنوں اور انسانوں کے گروہ حضرت امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اس کے بعد مومن جنات حضرت کی مدد اور نصرت کریں گے اور ایسے جنات کو جوبدکار ہوں گے انہیں جہنم واصل کریں گے۔

اصحاب امام زمان علیہ السلام (علیہ السلام)

اصحاب حضرت امام زمان علیہ السلام کی تعداد ۳۱۳ہے جو پیغمبراسلام کے اصحاب کی تعداد کے برابر ہے جو جنگ بدر میں تھے قرآن مجید کی کافی آیات میں ان اصحاب امام زمان علیہ السلام کا تذکرہ ہے ہم ان آیات سے صرف پانچ آیات کا تذکرہ کریں گے جن سے ان بندگان صالح کا ذکر ہے۔

۱۔( ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثها عبادی الصالحون ) “۔ (سورئہ انبیاء۵۰۱)

ترجمہ:۔ ”ہم نے تورات کے بعد زبور میں لکھا ہے کہ ہم نیک اور صالح بندوں کو زمین کا وارث بنائیں گے“۔ روایات میں ہے کہ ان صالح بندگان سے مراد اصحاب حضرت امام زمان علیہ السلام ہیں مزامیرداود میں بھی آیا ہے کہ ہم نیک بندوںکو زمین کا وارث بنائیں گے۔

۲۔”( ان الله یحب الذین یقاتلون فی سبیله صفاً کانهم بنیان مرصوص ) “۔

(سورئہ صف آیت نمبر۱۴۱)

ترجمہ:۔ ”اللہ ایسے لوگوں کو دوست رکھتا ہے کہ وہ راہ خدا میں ایسے جم کر لڑتے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار اس آیت مبارکہ میں اصحاب امام زمان علیہ السلام کا تذکرہ تین صفات کے حوالہ سے کیا گیا ہے۔

۱۔جہاد کرنے والے ہیں ۔۲۔خلوص نیت رکھتے ہیں ۔۳۔آپس میں بہت زیادہ متحد رہیں ۔

۳۔”( یاایها الذین آمنوامن یرتدمنکم عن دینه فسوف یاتی اللّٰه بقوم یحبهم ویحبونه اذلة علی المومنین اعزة علی الکافرین یجاهدون فی سبیل اللّٰه ولا یخافون لومةَ لاءم ذلک فضل اللّٰه یوتیه من یشاءواللّٰه واسع علیم ) (سورئہ مائدہ ۳۵)

”اے ایمان والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے منحرف ہوگیا تو خدا اس کی جگہ ایک ایسا گروہ لے آئے گا جو اللہ کو دوست رکھتے ہوں گے اور اللہ انہیں دوست رکھتا ہوگا وہ مومنوں کے سامنے عاجزی کریں گے اور کافروں کے مقابل سرفراز ہوں گے وہ راہ خدا میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ خالصتاً فضل خدا ہے جسے چاہے دے اور خداوند صاحب وسعت اور جاننے والا ہے“۔ اس آیہ مبارکہ میں اصحاب امام زمان علیہ السلام کو جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ کچھ اس طرح ہے۔

(الف) وہ جو محبوب خدا ہیں ۔ (ب) خدا سے محبت کرتے ہیں ۔ (ج) مومنوں کے لیے متواضع ہیں ۔ (د) کافروں کے مقابل سرفراز ہیں ۔ (ھ) کوشش و جدوجہد کرنے والے ہوں گے۔ (ل) ملامت سے نہیں ڈرتے ۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس آیت میں بیان شدہ صفات اصحاب رسول اکرم یا اصحاب امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ خاص ہیں تو ان کے جواب میں کہیں گے اس آیت کی ابتداءمیں ہے کہ ”من یرتد منکم عن دینہ(سورہ بقرہ آیت۸۴۱) اس آیت سے یہ بات سمجھ سے آتی ہے ایسے اصحاب کی آمد سے پہلے مرتدین کا گروہ پیدا ہوگازمان علیہ السلامہ رسول اورزمان علیہ السلامہ مولا علی علیہ السلام میں ایسا گروہ پیدا نہیں ہواتھا، دوسرا اس آیت میں ہے کہ قوم آئے گی یعنی یہ اصحابزمان علیہ السلام پیغمبراسلام میں نہیں تھے انہیں ابھی آنا ہے۔

۴۔ ”( واستبقواالخیرات این ماتکونوایات بکم اللّٰه جمیعاً ) “۔(سورئہ بقرہ۸۴۱)

اس آیہ مبارکہ میں اصحاب امام زمان علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نیکی میں سبقت لیتے ہیں ۔

۵۔ ”( ولئن اخرنا عنهم العذاب الی امةً معدودة لیقولن مایحسبه الایوم یاتیهم لیس مصروفاً عنهم وحاق بهم ماکانوابه یستهزو ن ) “۔ (سورئہ ہود۸)

”اگرایک گنے چنے گروہ کے آنے تک ہم اپنا عذاب ان لوگوں سے موخر رکھیں تو یہ کہتے ہیں کہ کس چیز نے عذاب کو روکا ہوا ہے خبردار جس دن اس گروہ کے ذریعہ تم پرعذاب آیا تو پھر وہ عذاب ہٹنے والا نہیں ہے اور وہ لوگ جو مذاق کرتے ہیں انہیں یہ عذاب اپنی گرفت میں لے گا“۔

بعض مفسرین نے امت معدودہ سے مراد مختصرزمان علیہ السلامہ لیا ہے اور بعض نے اس سے مراد چھوٹا سا گروہ لیا ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں اس امت معدودہ سے مراد مختصر گروہ ہے اور واللہ یہ اصحاب قائم علیہ السلام ہی ہیں ۔جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے اصحاب امام زمان علیہ السلام ۳۱۳ نفر ہیں جو کہ سب کے سب اولیاء علیہ السلام اللہ ہیں میری نظر میںامام کے اصحاب چند گروہوں میں تقسیم ہیں ۔

۱۔ نقباء

ان ۳۱۳ میں سے ۲۱آدمی بہت اعلیٰ رتبے پر فائز ہیں کہ انہیں نقیب کہاجاتا ہے نقباءکو صدیقین بھی کہتے ہیں جو کہ امام زمان علیہ السلام کے پاس ہمہ وقت حاضر ہیں ایک روایت میں ہے کہ شعیب بن صالح سمرقندی ان میں شامل ہیں اورتیرہویں فردہیں اور حضرت امام زمان علیہ السلام کے وزیر ہیں ۔

۲۔ گواہان

حضرت کے اصحاب کے دوسرے گروہ جن کی تعداد ۰۷ ہے انہیں گواہان (شہدائ) کہتے ہیں روایات میں ہے کہ یہ روزانہ بادل پر سوار ہو کر ہوا کے ذریعہ امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوتے ہیں ان میں جو بھی کسی شہر کے اوپر سے گذرتا ہے تو ایک منادی ندا دیتا ہے کہ یہ فلاں بن فلاں ہے اس شخص کا نام لیتاہے ۔

۳۔ صالحین

امام زمان علیہ السلام کے اصحاب کا تیسرا گروہ جن کی تعداد۰۳۲ ہے وہ صلحاکے نام سے بلائے جاتے ہیں وہ طی الارض کے ذریعہ ظاہراً اور رات کو امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں جاتے ہیں ۔

معتبر روایات کی رو سے حضرت کے یہ اصحاب جیش غضب (غصے والالشکر) کہلاتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر شخص چالیس مردوں کے برابر طاقت رکھتا ہے یہ لوگ رکن ومقام کے درمیان بیعت کریں گے حضرت کے ۰۰۳ اصحاب جو کہ ان بارہ افراد کے علاوہ ہیں جو مرکز میں ہیں اور ایک وزیر کے علاوہ ہیں لشکر کی کمان امامت اور حکومت کے امور چلاتے ہیں کرہ ارض کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان چاروں حصوں کو انہی اصحاب کے ذریعہ سرکار امام زمان علیہ السلام چلاتے ہیں امام محمد باقر علیہ السلام ایک مفصل روایت میں فرماتے ہیں کہ ۳۱۳ مرد اور ۰۵ عورتیں بھی ان کے ساتھ ہیں جو ان ۳۱۳ افراد کے علاوہ ہیں جن کا ذکر ہوچکا ہے۔ وہ بادل کے ٹکڑوں کی مانند موسم حج کے علاوہ مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔ ”( این ماتکونواا یات بکم اللّٰه جمیعاً ان اللّٰه علی کل شی قدیر ) “۔ ترجمہ۔”تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں لے آئے گا اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ یہ پچاس عورتیں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے یہ اما مزمان علیہ السلام کی اصحابیات سے ہیں اور بلندوبالا مرتبہ کی مالک ہیں اور صاحب کرامت خواتین ہیں ۔(مہدی علیہ السلام موعود ص۳۳۱۱)

۰۵ خواتین کا ذکر کیا ہے ان کے علاوہ تیرہ خاص خواتین کا ذکر آئے گا۔ کتاب الفتن تالیف ابن حماد میں ۰۰۷۷یا۰۰۸۷خواتین امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں ہیں رسول اللہ سے حدیث میں آیاہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے حضرت مہدی علیہ السلام کے پاس ۰۰۸ مرد اور ۰۰۴عورتیں ہوں گی

ناصران حضرت امام مہدی (علیہ السلام)

اصحاب اور انصار کے درمیان فرق ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے حضرت کے اصحاب ۳۱۳ ہیں اور انصار وہ ہیں جو باکردار مومنین مکہ میں آپ علیہ السلام کے ساتھ آپ علیہ السلام کی مدد کے لئے شامل ہوں گے ان انصار میں سب سے اہم ترین انصار جو کہ تعداد میں دس ہزار ہیں اور انہیں حلقہ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے جب تک یہ دس ہزار نفر مکہ میں جمع نہیں ہوں گے حضرت قیام نہیں فرمائیں گے ایک اور روایت میں ہے کہ ۶۳ ہزار نفر مدینہ سے بصورت انصار امام اور ۲۱ ہزار نفر انصار حسنی عراق سے بصورت انصارسرکار امام زمان علیہ السلام سے آملیں گے اور یہ تعداد بتدریج دیگر انصار مہدی علیہ السلام کے الحاق سے بڑھتی چلی جائے گی۔

انصارِ رجعت

شیخ مفید نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ۷۲ افراد اور سات افراد جو کہ اصحاب کہف ہیں انہیں اور حضرت یوشع بن نون جو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی ہیں ان کو اور حضرت سلمان فارسی ، ابوذر، ابودجانہ انصاری، مقداد، مالک اشتر کو بھی انصار امام زمان علیہ السلام سے قرار دیا ہے جو اس وقت مختلف شہروں کے حاکم ہوں گے ایک روایت میں ہے کہ جو شخص مسلسل چالیس جمعہ دعائے عہد (اللهم رب النور العظیم ) کو پڑھے تو وہ انصاران امام زمان علیہ السلام میں سے ہوگا اگر وہ ظہور امام سے پہلے فوت ہوگیا تو بوقت ظہور اسے قبر سے نکالا جائے گاتاکہ وہ امام کے انصاران میں شامل ہوسکے۔

۱۔ صیانہ ماشطہ

دختر فرعون کا بناو سنگار کرنے والی خاتون،حزقیل مومن آل فرعون کی بیوی جس کی داستان طویل ہے جس کا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ذکر فرمایا مختصر یہ ہے کہ جب اس نے فرعون کی خدائی سے انکار کیا تو پہلے اس کے چار بیٹوں کو اور پھر خود اسے جلتے تنور میں جھونک دیا گیا انہیں زندہ کر کے انصار مہدی علیہ السلام میں شامل کیا جائے گا۔

۲۔ ام ایمن

جناب رسالتماب کے والد گرامی حضرت عبداللہ علیہ السلام کی کنیز جو بعد میں حضور کی کنیز اور جناب سیدہ زہراء علیہ السلام کی کنیز رہی جسکا تاریخ میں تفصیلی ذکر ہے وہ زندہ کی جائیں گی تاکہ انصار امام زمان علیہ السلام میں شامل ہوں ۔

۳۔سمیہ جناب عمار کی والدہ

سمیہ جنہیں انتہائی اذیتیں دے کر ابوجہل نے سینے میں نیزہ مار کر شہید کردیا یہ بھی بوقت ظہور امام علیہ السلام دوبارہ زندہ کی جائیں گی تاکہ نصرت امام کریں۔

۴۔حبّابہ

حبابہ جو حضرت علی علیہ السلام کےزمان علیہ السلامہ میں تھیں اس نے امیر علیہ السلام سے امامت کی نشانی طلب کی تھی حضرت نے اس سے پتھر کا ایک ٹکڑالیا اس پر مہر لگائی اور اسے واپس دے دیا اور فرمایا کہ جو کوئی یہ کام کرے گا امام ہوگا اسی طرح امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام نے بھی ایسا کیا اسی طرح امام رضا علیہ السلام نے بھی ایسا ہی کیا وہ حبابہ بھی بذریعہ رجعت نصرت امام علیہ السلام میں ہوں گی۔

۵۔ قنوائ

قنواءجو کہ رشید حجری کی بیٹی تھی دوبارہ زندہ کی جائیں گی تاکہ امام زمان علیہ السلام کو اپنے باپ کی شہادت کا واقعہ سنائیں۔

۶۔ ام خالد احمسیّہ

ام خالداحمسیّہ بھی بذریعہ رجعت نصرت امام میں ہوں گی۔

۷۔ ام خالد جہنیہ

(بحوالہ منتہی الامال ص۷۶۷الفتن ابن حماد)

زمین اور اس کے وارث

( ولقد کتبنا فی الذبور من بعدالذکران الارض یرثها عبادی الصالحون ) “۔ (النساء۵)

ترجمہ:۔ ”ہم نے تورات کے بعد زبور میں لکھا کہ ہم صالح بندوں کو زمین کا وارث بنائیں گے“۔

وراثت اور اس کی اقسام

۱۔ ارث صفاتی

وہ وراثت جو اولاد کو ماں باپ یا اباءاجداد سے بصورت صفات جسمانی یا صفات روحانی حاصل ہوں جس کے بارے کافی آیات اور روایات درج ہیں ۔

۲۔ ارث مادی

وہ ورثہ جو مال یا جائیداد دنیا کی صورت میں فوت ہوجانے والے سے وارث کو حاصل ہو۔

۳۔ تیسری وراثت

ایسی وراثت جو والدین کے اعمال کی وجہ سے حاصل ہو جیسا کہ آیت قرآن ہے۔

( واما الجدار فکان لغلامین یمین فی المدینه وکان تحته، کنزلهماوکان ابوهما صالحاً ) “۔(سورئہ کہف آیت۲۸)

”اور بہرحال دیوار،ان دویتیم لڑکوں کی تھی اس شہر میں اس دیوار کے نیچے خزانہ تھا جو ان کے لئے اپنے باپ کی طرف سے تھا ان کا باپ صالح مرد تھا“۔ مفہوم آیت یہ ہے کہ ان کے باپ کی نیکوکاری کی وجہ سے ارادہ خداوند یہ قرار پایا کہ یہ خزانہ جو دیوار کے نیچے ہے ان لڑکوں کو ملے اس وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام نے دیوار کو گرا کر دوبارہ بنایا تاکہ خزانہ ان بچوں کے جوان ہونے تک محفوظ رہے چونکہ ان لڑکوں کا والد صالح تھا ارادہ خدا ان لڑکوں کے لیے یہ قرار پایا کہ باپ کی نیکی کے اثرات لڑکوں کو ملےں اگر اسی طرح والد بدکار ہوتا تو اس کے اثرات بھی اولاد تک پہنچے ۔یہ وراثت انہیں باپ کی نیکوکاری کی وجہ سے ملی۔

( ولیخش الذین لوترکوامن خلفهم ذریتً ضعافاً خافواعلیهم ) “۔ (سورئہ نسائ۹)

ترجمہ:۔ ”جولوگ اپنے پیچھے ناتواں اور ضعیف اولاد چھوڑیں وہ خوف رکھیں کہ ان کی اولاد ان کے بارے کیا کرے گی“۔جی ہاں! جو لوگ اپنی اولاد کے آئندہ کے لئے فکر مند ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ان کے لیے سوچیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یتیم ہو کر اپنے بزرگوں کے برے کردار کی وجہ سے وہی راہ اپنا لیں یہ آیت ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو یتیم بچوں پر ستم کرتے ہیں کہ آئندہ ان کے اس ستم کی وجہ سے ان کی یتیم اولاد پر بھی ستم ہوگا۔

۴۔ چوتھی وراثت

وہ وراثت جو خداوند کریم اپنے نیک وصالح بندوں کو عطا فرماتا ہے جسکی طرف ابتداءمیں آیت مبارکہ کے ذریعہ اشارہ کیا گیا ہے خداوند کا ارادہ ہے کہ وہ بادشاہی و تمام وسائل اپنے نیک بندوں کو عطا کرے گا۔

درود حضرت امام مہدی علیہ السلام

برآن چہرہ ماہِ مہدی درود

برآن قلب آگاہ مہدی درود

درودی برآن لعل خندان او

نہ از من، زاللّٰہ مہدی درود

برآن قلب امکان، امام زمان علیہ السلام

برآن عزّت وجاہ مہدی درود

برآن عشق سوزان وچشم پراشک

برآن سینہ و آہ مہدی درود

بر آن کوہ (رَضوی) کہ دارد مقام

بر آن بزم و خرگاہ مہدی درود

بر آن وادی اقدس (زی طُوی)

بہ دربان درگاہ مہدی درود

بر آنان کہ بر گرد او دایمند

بر آن جمع ہمراہ مہدی درود

بر آن صفَّ سرباز جانباز او

بر آن ہالہ ماہ مہدی درود

برآن سیصد و سیزدہ یاورش

صفِ عشق دلخواہ مہدی درود

بر آنان کہ آن شاہ را دیدہاند

برآن چشم بر راہ مہدی درود

برآنان کہ از عشق او سوختند

برآن عشق جانکاہ مہدی درود

(حقیقت) درود تو را پاسخی است

تورامی دہد شاہ مہدی، درود

(دیوان ”انوار ولایت“ اثر نگارندہ)

می رسد از رہ بشیر و پیر ہن

می کند ما را بہ کویش منتقل

( وَلَمَّا فَصَلَتِ اَلعِیرُ قَالَ ا بُوهُم اِنَّى لَا جِدُ رِیحَ یُوسُفَ لَو لاَ ا ن تُفَنَّدُونِ ) “۔

”جب یہ قافلہ جدا ہوا تو ان کے والد نے کہا کہ مجھے تو یوسف علیہ السلام کی خوشبو آرہی ہے اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو“۔(سورہ یوسف آیت ۴۹)


ساتویں فصل

آستان ظہور

اعمال انتظار

زمانہ ظہور

علامات ظہور

آسمانی آوازیں


باب اول

اعلیٰ وارفع اعمال

فَرَج ، کشادگی اور اس کی اقسام

( واشرقت الارض بنورربها ) “۔ (الزمر ۷۶)

ترجمہ:۔ ”زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوگی“۔

حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب سرکار امام زمان علیہ السلام (علیہ السلام) کا ظہور ہوگا تو زمین اس نور خدا (یعنی امام زمان علیہ السلام کے نور) سے روشن ومنور ہوجائے گی اور زمین اس کے پاوں کے نیچے چلے گی (طیٰ الارض) اور وہ ہے کہ جس کا سایہ نہیں ہوگا۔ (بحوالہ کمال الدین ص۲۷۳)

فَرَجَ

فَرَج کا لغوی معنی کشادگی ہے یعنی تنگی سے باہر آنا فقر وتنگ دستی اور بیماری اور درد مصیبت سے باہر آن

فَرَج کی اقسام

فَرَج کی تین اقسام ہیں ۔۱۔فَرَج انفرادی ۲۔فَرَج اجتماعی ۳۔ فَرَج آل محمد۔

۱۔ فَرَج انفرادی

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعونیوں سے فرار کیا اور مصر سے مدائن پہنچے تو کہارب انی لما انزلت الی من خیر فقیر (سورئہ قصص۴۲) اے میرا اللہ تو جو کچھ بھیج دے میں نیاز مند اور ضرورت مند ہوں (یعنی بہت بھوکا ہوں تو فوری طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلامکےلئے فَرَج ہوئی اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اسے اپنے گھرد عوت دی اس طرح حضرت ایوب علیہ السلام نے تنگدستی ، بیماری اور عالم کسمپرسی میں بیابان میں زندگی گذاری تو اپنے پروردگار سے التجاءکی( انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین ) (سورئہ انبیاء علیہ السلام۳۸)

”خداوند سختی نے مجھے گھیر لیا ہے اور تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے“۔

اس التجاءسے ان کے لئے کشادگی و آسانی ظاہرہوئی ایک چشمہ ظاہر ہوا جس میںنہا کر ایوب علیہ السلام اور ان کی بیوی پھر سے جوان اور صحت مند ہوگئے ۔

حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی /مگر مچھ کے پیٹ میں چلے گئے تو تنگی کی وجہ سے التجا فَرَج کی ”لااله الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین “۔ (سجدہ انبیاء علیہ السلام۷۸)

”تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور توپاک ومنزہ ہے اور میں ستمکاروں سے ہوں “۔

توفوراً اللہ تعالیٰ نے اسے اس تنگی سے فَرَج و کشادگی عطا کی اگر یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں یہ ذکر نہ کرتے تو قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے (بحوالہ سورئہ الصفات ۴۴۱)

یہ مذکورہ بالا تمام مثالین فَرَج فردی وشخصی کی تھیں کہ ہمیں بھی جب کوئی تنگی اور ناگواری ہو تو ہمیں خداوند کریم سے التجا فَرَج وکشادگی کرنی چاہیے۔

۲۔ فَرَج اجتماعی

فَرَج اجتماعی کی دو قسمیں ہیں ۔ (الف)فَرَج کشادگی شیعیان (ب)فَرَج وکشادگی عمومی

(الف) فَرَج وکشادگی شیعیان

اس بارے بہت زیادہ دعا ہائے فَرَج ذکر ہیں مثلاً دعائے الٰہی غطم البلا.... الخ، ان دعاوںکے ذریعہ ہم خداوندمتعال سے تمام شیعوں سے تنگی اور فقروبیماری دورہونے کی دعا کرتے ہیں اور بالخصوص پروردگار امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے ذریعہ شیعوں کی مشکلات آسان فرمائے۔

(ب) فَرَج اجتماعی وعمومی

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں تمام جہان کے لئے فَرَج وکشادگی کی التجاءکی ہے قرآن کریم میں ہے کہ ”( رب لاتذرعلی الارض من الکافرین دیارًا o انک ان تذرهم یضلوا عبادک ولا یلدوا الافاجِرًا کفارًا ) “۔ (سورئہ نوح آیت ۷۲،۶۲)

”اے میرے پروردگار زمین پر کوئی کافر باقی نہ رکھ اگر تونے کفار کو ان کے حال پر باقی رکھا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی آئندہ نسل بھی فاسد وفاجر ہوگی“۔

۳۔ فَرَج آل علیہ السلام محمد

بہت زیادہ دعاوں میں فَرَج آل علیہ السلاممحمد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ فَرَج آل علیہ السلام محمد کے لئے دعا کریں جس دن سے پیامبراکرم نے رحلت فرمائی اسی دن سے آل علیہ السلام محمد اور ان کے شیعوں پر ظلم وستم کا آغاز ہوگیا مادی اور معنوی دونوں طریقوں سے آل علیہ السلام محمد اور سادات وشیعوں پر ظلم وستم روا رکھے گئے اور بہت زیادہ تعداد اسی بنا پر قتل کی گئی امام زمان علیہ السلام کے ظہور پر نور کے ذریعہ آل محمد پر اب تک روا کیے گئے ظلم سے اور تنگی سے فَرَج وکشادگی حاصل ہوگی اسی لیے کہاجاتا ہے کہ ”اللهم صل علی محمد وآل علیه السلام محمد وعجل فَرَج آل علیه السلام محمد “۔ خداوند محمد وآل علیہ السلاممحمد پر درود بھیج اور ان کے لئے کشادگی عطا فرما۔یارب الحسین علیه السلام بحق الحسین علیه السلام اشف صدرالحسین علیه السلام بظهور الحجة “۔ اے پروردگارِ حسین علیہ السلام بحق حسین علیہ السلام امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے ذریعہ امام حسین علیہ السلام کے دل کو شفا وسکون عطا فرما، جو یقینا ظہور سرکار امام زمان علیہ السلام سے حاصل ہوگا۔

انتظار فَرَج

انتظار کامقصد ہے ہر قسمی فداکاری اور جانثاری کے لئے اور امام زمان علیہ السلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ علیہ السلام کومکمل آمادہ اور تیار رکھنا اپنے آپ علیہ السلام کو تیار کر کے پھر انتظار کرنا کہ سرکار علیہ السلام کب ظہور فرمائیں اور میں ان کے لشکر میں شامل ہو کر اپنی جان نثار کرو۔انتظار ہی درحقیقت ہمارے لیے امید ہے اور ہمارے دلوں کو گرم رکھنے کا ذریعہ ہے انتظار کا الٹ مایوسی ہے اور ناامیدی اور قرآن مجید میں ناامید اورمایوسی سے منع کیا گیا ہے اور ہمیں انتظار کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ انتظار کی وجہ سے مایوسی اور ناامیدی دامن گیر نہ ہو ارشادد ہے ”( فانتظروا انی معکم من المنتظرین ) “۔ (اعراف ۱۹)حضرت امیرالمومنین علیہ السلام جناب رسالتماب سے نقل فرماتے ہیں کہ ”حضور نے فرمایااحب الاعمال امتی انتظار الفرج ، میری امت کے محبوب ترین اعمال میں ہے فَرَج وکشادگی کا انتظار کرنا“۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام بھی حضور کے فرمان کو نقل فرماتے ہیں ”افضل اعمال امتی انتظار فَرَج الله عزوجل “۔ (عیون اخبارالرضا)کیونکہ انتظار بذات خود امیدوزندگی دل کا باعث ہے اور مایوسی موت ہے اسی بنا پر امام زین العابدین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ”انتظار الفَرَج من اعظم الفرج “ ، کشادگی کا انتظار کرنا بذات خود کشادگی ہے ۔


باب دوئم

زمانہ ظہور

عصر سے مراد

( والعصر ان الانسان لفی خسر ) “ (سورةالعصر)”عصر کی قسم انسان خسارہ میں ہے ‘ ‘۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں عصر سے مراد جس کی خداوند کریم نے قسم کھائی ہے عصر ظہور امام زمان علیہ السلام ہے شیخ صدوقؒ نے اپنی سند کے ساتھ اور مفضل بن عمر کی روایت کے ساتھ انہی معصوم علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام علیہ السلام سے سورئہ والعصر کے عصر بارے پوچھا کہ یہ کون سازمان علیہ السلامہ ہے؟ جس کی اللہ نے قسم اٹھائی ہے تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اس عصر سے مراد عصر ظہور قائم علیہ السلام( ’انهم یرونه بعیدًا ونراه قریبا ) “(معارج۶،۷) روایات میں ہے کہ امام زمان علیہ السلام سرکارزمان علیہ السلامہ غیبت میں مثل سورج کے ہیں جو بادلوں میں چھپا ہوتا ہے غروب کے وقت جب کہ سورج چھپ رہا ہوتا ہے اور چھپ جاتا ہے تو بھی اس کی شعاعیں دنیا کومنور اور روشن رکھے ہوتی ہیں امام زمان علیہ السلام بھیزمان علیہ السلامہ کے لیے خورشید عالم ہیں انہوں نے بھیزمان علیہ السلامہ غیبت میں مثل سورج کے آہستہ آہستہ غروب کیا ہے اس خورشید عالم نے غیبت صغریٰ کے ۲۷ سال اپنے چار نائبوں کے ذریعہ اپنے ماننے والوں شیعوں تک اپنی روشنی پہنچائی اور پھر اس کے بعد لمبی غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا۔(مہدی علیہ السلام موعود ص۵۴۸)جب سورج کا طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی طلوع سے پہلے ہی دنیا کوروشن کرتی ہے جسے صبح صادق کہاجاتا ہے صبح صادق کے تمام ہوتے ہی پھر سورج اچانک طلوع ہوجاتا ہے اسی طرح خورشید عالم سرکار امام زمان علیہ السلام سے پہلے زمین پر اور خصوصاًشیعوں کے درمیان کچھ آثار ظہور امام پیدا ہوں گے جن کو ہم آثار ظہور صغریٰ کہتے ہیں ظہور صغریٰ کے بعد ظہورکبریٰ ہوگا۔

ظہور صغریٰ

اب ہم ظہور صغریٰ کے اثبات میں اور اپنے اسزمان علیہ السلامہ کو جس میں ہم ہیں عصر ظہور صغریٰ بارے گفتگو کریں گے۔

۱۔ ایک جیّد عالم دین جو کہ وفات پاچکے ہیں نے فرمایا کہ عصر ظہور صغریٰ کا ۰۴۳۱ ھ ق سے آغاز ہوگا انہوں نے عصر ظہور صغریٰ کی دلیل دی کہ علوم جدید نئے نئے فنون و ایجادات مثلاً ریڈیو ٹیلی فون، جدید ترین وسائل حمل ونقل تیزرفتار ترین وسائل کی ایجاد اور تیل سے پیدا شدہ مصنوعات بذات خود علائم عصر ظہور صغریٰ ہیں اس لیے اسزمان علیہ السلامہ کو عصر ظہور صغریٰ کہاجاسکتا ہے جیسا کہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہر نبی کامعجزہ اس نبی کےزمان علیہ السلامہ کے علم وہنر کی مناسبت سے ہوتا رہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کےزمان علیہ السلامہ میں جادوگری کافن بہت رائج تھا جس کی وجہ سے عصائِ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کی مصنوعات کو نگل لیا۔حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کےزمان علیہ السلامہ میں علم طب عروج پر تھا بہت بڑی بڑی بیماریوں کے علاج ہوتے تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مادرزاداندھوں کو بینا کرکے اور مردوں کو زندہ کر کے اس دور کے ماہرین کے غرور اور ناموری کو توڑاہمارے پیغمبر اسلام کےزمان علیہ السلامہ میں فصاحت وبلاغت اور ادب زوروں پر تھے ہمارے رسول اکرم اپنے ہمراہ قرآن لائے جو فصاحت وبلاغت کا اعلیٰ نمونہ ہے اور اس کی فصاحت کے مقابل تمام فصحا عاجز آگئے چونکہ قرآن فصاحت وبلاغت کا اعلیٰ شاہکار ہے۔جب سرکار امام زمان علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو کرہ ارض کا علم جو۲۷حروف میں سے صرف ۲حرف ہے امام زمان علیہ السلام ان دوحروف کے مقابل ۵۲ حروف اور اضافہ کرکے علوم و فنون کو مکمل فرمائیں گے اور اس وقت کے علم وادب فن وہنرکے نامور برج ،ان کے علم ودانش کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے، جدیدعلوم کا اس دور میں پیدا ہونا سرکار امام زمان علیہ السلام کے ظہور کا پیش خیمہ ومقدمہ ہے اور جدید علوم وقفوں کاظاہر ہونا بذات خود عصر ظہور صغریٰ ہے۔

۲۔ آج سے ۰۸ سال پہلے شرح خواندگی بہت کم تھی اور کرہ ارض پر بہت کم لوگ اہل علم ودانش تھے بلکہ خود شیعوں کی تمام ترتوجہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف تھی لوگ امام زمان علیہ السلام کے بارے بہت کم ذکر کرتے اورجانتے تھے پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ سرکار امام زمان علیہ السلام کی طرف لوگ زیادہ متوجہ ہونے لگے اور آپ کے مقدس نام پر بہت زیادہ نام رکھے جانے لگے بہت زیادہ اداروں، مسجدوں، عبادت گاہوں، شاہراوں کے نام آپ کے مقدس نام”مہدی علیہ السلام“ پر رکھے جانے لگے پھر آپ کے متعلق دعائیں مثلاً دعائے ندبہ، دعائے امام زمان علیہ السلام علیہ السلام،بہت زیادہ پڑھی جانے لگیں آپ سرکار امام زمان علیہ السلام نہ صرف شیعیان جہان میں زبان زد عام ہوگئے بلکہ تمام دنیا میں بلا امتیاز مذہب ومسلک اس مصلح جہانی کا چرچا عام ہوگیا۔حتیٰ کہ اہل سنت میں امام زمان علیہ السلام سرکار کا نام مہدی علیہ السلام بہت زیادہ عقیدت وشہرت حاصل کر گیا ہے جس کی ایک مثال سوڈان کے اہل سنت کی ایک جماعت ہے جس کا نام انہوں نے حزب انصار المہدی علیہ السلامرکھا ہے۔

۳۔ اسزمان علیہ السلامہ جدید جسے ہم ”عصر ظہور صغریٰ “کہتے ہیں سے پہلے آ پ کی ولادت کے حوالہ سے کوئی خاص تقریب یا جشن نہیں منایا جاتا تھا لیکن اب لوگ بہت زور وشور اور انتہائی عقیدت و احترام سے بھاری بھرکم اخراجات کرکے بہت ہی عمدہ انداز سے مناتے ہیں آج سیکڑوں نہیں ہزاروں کتب امام زمان علیہ السلام کی ذات کے حوالہ سے منظر عام پر آچکی ہیں (جب کہ اس سے پہلے چند قدیم کتابوں کے امام زمان علیہ السلامہ کے بارے کوئی کتاب میسر نہ تھی)یہ سب اقدامات اس چیز کی دلیل ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے تمام دنیا کی توجہ آپ کی طرف بہت زیادہ مبذول ہوئی ہے۔

۴۔ چونکہ یہزمان علیہ السلامہزمان علیہ السلامہ ظہور صغریٰ ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ لوگ اسزمان علیہ السلامہ میں آپ علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہورہے ہیں امام زمان علیہ السلام کے دیدار بارے بہت زیادہ واقعات ، کتب چھپ کر منظر پر آچکی ہیں اس سے پہلے جناب کی زیارت بہت کم لوگوں کو ہوتی تھی اور یہ خورشیدِعالم وجود بہت کم لوگوں کو شرف زیارت بخشتے تھے۔

۵۔ سرکار امام زمان علیہ السلام نے عالم خواب میں اور بیداری کی حالت میں بہت زیادہ لوگوں کو اپنے ظہور کے قریب ہونے کی خوشخبری دی ہے بلکہ یہاں تک ہے کہ کچھ افراد کو امام زمان علیہ السلام نے بیداری کی حالت میں فرمایا کہ فلاں توزندہ ہے اور وہ میرے ظہور سے پہلے نہیں مرے گا۔

۶۔ اکثر علامات ظہور امام زمان علیہ السلام علیہ السلام” جن کا تذکرہ متعدد کتب میں ہے“ واقع ہوچکی ہےں بعض بزرگ معتقد ہیں کہ صرف پانچ علامات باقی ہیں جن کے ساتھ ہی ظہورامام زمان علیہ السلام سرکارحتمی ہو جائےگا

علامات ظہور امام علیہ السلام

۱۔ جامع الاخبار میں رسول خدا سے مروی ہے کہ حضور فرماتے ہیں ایسازمان علیہ السلامہ آئے گا کہ لوگوں کا پیٹ ان کا خدا ہوگا ان کی عورتیں ان کا قبلہ ہوں گی اسزمان علیہ السلامے کے لوگوں کے دینار ان کا دین ہوں گے ان کے سازوسامان ان کا شرف وعزت ہوں گے اسلام سوائے نام کے اور قرآن سوائے پڑھنے کے اور کچھ نہیں ہوگا اسزمان علیہ السلامے کی مسجدیں آباد ہوں گی مسجدوں میں رونق ہوگی مگر ان کے دل برباد ہوں گے اور خالی از ہدایت ہوں گے۔(کرامات المہدی)

۲۔ کتاب بشارة الاسلام میں حضور نبی اکرم سے مروی ہے حضرت فرماتے ہیں کہ کیساجانتے ہو ایسےزمان علیہ السلامہ کو جب تمہاری عورتیں تباہ کاراور تمہارے جوان فاسق وبدکار ہوں گے اور تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرو گے، اصحاب نے عرض کی یارسول اللہ کیا ایسازمان علیہ السلامہ آئے گا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس سے بھی بدتر آئے گا وہ وقت کیا ہوگا جب تم برائی کا حکم دو گے اور نیکی سے روکو گے اصحاب نے عرض کی کیا ایسا بھی ہوگا؟فرمایا اس سے بھی بدتر ہو گا وہ وقت کیسا ہوگا تم نیکی کو برائی اوربدی کو اچھائی جانو گے۔

۳۔ ہوائی جہاز اور جنگی طیاروں کے وجود میں آنے کی پیشین گوئی آقائے عمادزادہ نے اپنی کتاب زندگانی ولی عصر علیہ السلام میں ایک حدیث رسول خدا سے نقل کی ہے حضرت فرماتے ہیں ایکزمان علیہ السلامہ آئے گا تمہارے بیابانوں میں آگ لگ جائے گی جو بغیر شعلہ ہوگی اور سرد ہوگی یہ ٹھنڈی آگ لوگوں کے جان ومال کو کھا جائے گی اور یہ آگ تمام دنیا میں گھومے گی یہ آگ ایک ایسی چیز میں ہوگی جو پرندے کی طرح پرواز کرے گی اس کی پرواز مثل تیز ہوا اور بادل کے ہوگی یہ چیز زمین اور آسمان کے درمیان لوگوں کے سروں پر پرواز کرے گی اس پرواز کرنے والے طیارہ کی آواز اور کڑک مثل بادل اور بجلی کی چمک کی آواز اور کڑک کے ہوگی۔

۴۔ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں آخریزمان علیہ السلامے میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور قابل احترام جگہوں پر ساز وسرود بجیں گے لیکن انہیں روکنے کی طاقت کسی میں نہیں ہوگی (کتاب ادیان و مہدویت )

۵۔ ایران میںبغاوت رضا خان(اس نے ۹۹۲۱ہجری شمسی میں قزوین سے قیام کیا) شیخ طوسی نے کتاب غیبت میں جناب محمد بن حنفیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ بغاوت کیا ہوگی؟اور کیسے ہوگی؟ تو حضرت نے اپنے سرکو ہلایا اور پھر فرمایا یہ بغاوت واقع ہوگی مگر ابھی توزمان علیہ السلامہ نے اپنی سختی کو وارد نہیں کیا اور میرے بھائیوں( اہل ایمان) پر جفا نہیں کی تو پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ بغاوت ابھی واقع ہوحالانکہ اس بادشاہ نے ظلم وستم ابھی نہیں کیا کیسے ظلم وستم ہو جب کہ ابھی تک تو اس زندیق (رضاخان) نے قزوین سے قیام نہیں کیااور اس خطے کے لوگوں کی ناموس کو برباد نہیں کیا ابھی وہ زندیق نہیں آیا کہ علاقہ کے لوگوں کے سروں کو کاٹے ان کے رواجوں کو توڑے ان کی عزت وآبرو کو ان کی شان کو برباد کردے ہر وہ شخص جو اس زندیق سے فرار کرے گا وہ زندیق اسے اپنے چنگل میں لے گا ہر وہ جو اس زندیق سے جنگ کرے گا وہ اسے قتل کردے گا ہر وہ شخص جو اس زندیق سے کنارہ کشی اختیار کرے گا وہ تنگدست ہوجائے گا اور ہر وہ شخص جو اس کی بیعت کرے گا کافر ہو جائے گا یہاں تک کہ لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ اپنے دین کے ہاتھ سے جانے کی وجہ سے گریہ کرے گا دوسرا گروہ دنیا ہاتھ سے جانے کی وجہ سے گریہ کرے گا۔ (بحوالہ کتاب مہدی موعود۶۸۹) (رضاخان خائن نے ۹۹۲۱ھ میں قزوین سے قیام کیا)

۶۔ کتاب غیبت نعمانی میں ابان بن تغلب سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں اذظہرت رایة الحق لعنہا اہل الشرق والغرب اتدری لِمَ ذلک ، قلت لاقال، للذی یلقی الناس ومن اہل بیتہ قبل خروجہ(کتاب مہدی موعود ۹۲۱۱)

جب حق کا پرچم ظاہر ہوگا تو اہل شرق وغرب اس پر لعنت کریں گے جانتے ہو کیوں؟ میں نے عررض کیا نہیں فرمایا ان سختیوں کی وجہ سے جولوگوں کو ان کے خاندان یعنی سادات کی وجہ سے ان کے ظہور سے قبل ملی ہوں گی۔

۷۔ صعصعہ بن صوحان نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ دجال کب خروج کرے گا فرمایا ”جب لوگ نماز کو مار دیں گے، امانت کو ضائع کریں گے، جھوٹ کو حلال جانیں گے سوداور رشوت کو خوش ہو کر لیں گے، بلند وبالا عمارتیںبنائیں گے، دین کو دنیا کے عوض بیچ دیں گے، بے وقوف اور گمراہ لوگوں سے کام لیا جائے گا، عورتوں سے مشورہ لیا جائے گا، اپنے اقرباءسے قطع رحمی ہوگی، اپنی خواہشات ونفس کی پیروی ہوگی، خونریزی اور قتل وغارت گری کو معمول سمجھا جائے گا، حلم وبردباری کو کمزوری سمجھا جائے گا، بے ہودگی اور لغویات کو فخر سمجھاجائے گا، امراءوحکمران فاسق ہوں گے اور وزیر ستم گر ہوں گے ، خیانت کار معروف ہوں گے، قرآن کے قاری فاسق ہوںگے، جھوٹی گواہی فجور بہتان اور گناہ ظاہری ہوگا، دنیا کے حرص میں فاسقوں کی آواز بلند ہوگی۔

۸۔ مجمع نورین اور غیبت ابن عقدہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ حضرت نے فرمایا عجم کے دوگروہوں میں کلمہ عدل پر اختلاف ہوگا جس میں ہزاروں لوگ مارے جائیں گے شیخ طبرسی انکی مخالفت کرینگے اور وہ تختہ دار پر لٹکا دیے جائیں گے بعض لوگ کہتے ہیں کہ کلمہ عدل سے مراد مشروطیت(قاچاریہ بادشاہوں کے آخری دور میں ایران کے اندر جو اصلاحی تحریک چلائی گئی اسے مشروطیت کا عنوان ملا(مترجم) ہے اور شیخ طبرسی سے مراد شیخ فضل اللہ نوری ہیں جو ۹۲۳۱ قمری میں تختہ دار پر چڑھا دیئے گئے ۔

۹۔ کتاب ناسخ التواریخ میں درج ہے کہ جناب عمر بن خطاب کے فارس فتح کرنے کے بعد ابوموسیٰ اشعری فاتح فارس جو کہ فتح خراسان کے لئے آگے بڑھنا چاہتا تھاجناب عمر، ابوموسیٰ اشعری کو خط لکھنے میں مشغول تھا حضرت امیرالمومنین بھی وہاں تشریف فرماتھے آپ نے جناب عمر کو فتح خراسان سے منع کیا اور ڈرایا اور طالقان کی بڑی تعریف کی اور فرمایا کہ وہاں اللہ کے خزانے بہت ہیں جو کہ مال ودولت نہیں بلکہ ایسے دانشور مردوں کے روپ میںہیں جو کہ خدا کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے پہچاننے کا حق ہے اور یہ لوگ آخریزمان علیہ السلامہ میں قائم آل محمد کے خدمتگار ہوں گے، البتہ آخریزمان علیہ السلامہ میں شہر ہرات پر پرندے (طیارے) بمباری کریں گے اور اس شہر کے لوگوں کو برباد کردیں گے اور شہر ترمد کو طاعون کی بیماری اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور اس شہر کے لوگ فنا اور نابود ہوں گے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آخریزمان علیہ السلامہ میں ۳ملین لوگ مشرق اور مغرب میں قتل ہوجائیں گے بعض لوگ دوسرے بعض کو قتل کریں گے اور یہی روایت اس آیت مبارکہ کی تاویل ہے ۔ ”فما زالت تلک دعواہم حتی جعلنا ہم حصیداً خامدین“۔ (سورئہ انبیاء۵۱)”پس ان کا یہی دعویٰ اور بات تھی اسی پر وہ قائم تھے کہ ہم نے انہیں مردہ قرار دے دیا“۔(مہدی علیہ السلامموعود۹۲۲۱)

قرآن اور دنیا کی دیگر پیشین گوئیاں

قرآن جو کہ اللہ کا کلام ہے اس میں آنے والےزمان علیہ السلامہ بارے بہت زیادہ پیشینگوئیاں ہیں اس میں یہ آیت بھی ہے کہ ”( فَهَلَ ینتظرون اِلَّا مثل اَیَّام الذین خلوامن قبلهم قل فانتظِروا انِی معکم من المنتظرین ) “۔ (سورئہ یونس ۲۰۱)یہ آیہ مبارکہ بعض تفسیروں کے مطابق آنے والے باغی اقوام کے بارے ہے اور آنے والی بلاوں اور جنگ عظیم بارے ہے۔

تیسری جنگ عظیم

واقعہ آرماگدون غرب اور ظہور امام علیہ السلام سے قبل کی آمادگی اور یونانی نظریہ کے مطابق آخری اور حتمی جنگ جو حق اور باطل کے درمیان ہوگی اور جو شام، اردون، لبنان، فلسطین اور اسرائیل کے مناطق کے درمیان بہت بڑی جنگ ہوگی جو عہد جدید یوحنا کے سولہ نمبر باب میں درج ہے جسکی وجہ سے انسان کی موجودہ زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔صیحیحہ میّسر میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہے امام فرماتے ہیں ”اے میّسر!اس جگہ سے قرقیسا کتنا فاصلہ ہے میں نے عرض کی نزدیک ہے فرات کے کنارے آپ نے فرمایا اس خطہ میں ایک عجیب واقعہ ہوگا کہ جب سے خداوند نے زمین اور آسمانوں کوپیدا کیا ہے ایسا واقعہ نہیں ہوا اور جب تک آسمان ہے ایسا واقعہ پھرنہ ہوگا۔

عجیب دستر خوان

ایک ایسا دستر خوان کہ جس سے زمین کے درندے اور آسمان کے پرندے اپنا پیٹ بھریں گے یعنی بہت زیادہ قتل وکشتار ہوگا اور اسی طرح کی روایات حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے اور دیگر آئمہ (علیہم السلام) سے مروی ہیں مذکورہ بالا روایت کی روشنی میں اور یوحنّا کی پیشینگوئیوں کے مطابق اس واقعہ عظیم کو ہم تیسری جنگ عظیم کہہ سکتے ہیں اور وہ اسی علاقہ میں ہوگی روایات کی زبانی یہ واقعہ سفیانی سے مربوط ہے اور عیسائی اس واقعہ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کے ساتھ مربوط کرتے ہیں ، اس واقعہ کا وقوع پذیر ہونا حتمی ہے البتہ کسی روایت میں پہلی دوسری یا تیسری جنگ عظیم کا نام نہیں لیا گیالیکن بہت زیادہ احادیث میں بہت سارے لوگوں کے اجتماعی قتل وکشتار کاذکر ہے۔ کتاب قرب الاسناد ابن عیسیٰ میں حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے روایت ہے جسے بزنطی نے نقل کیا ہے :”قال قدام هذالامر قتل بیوح قلت وما البیوح قال داءم لایفتر “ (بحارالانوارج۲۵ص۲۸۱) امام فرماتے ہیں اس امر یعنی ظہور سرکار امام زمان علیہ السلام سے پہلے قتل یبوح ہوگاراوی نے سوال کیا کہ مولا یہ یبوح کیا ہے فرمایا ایسی جنگ کہ جو رکے گی نہیں ۔ امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے حضرت نے فرمایا کہ ظہور مہدی علیہ السلام تب تک نہیں ہوگا جب تک ایک تہائی لوگ قتل نہ ہوجائیں گے اور ایک تہائی طبعی موت نہ مرجائیں گے اور ایک تہائی صرف باقی بچیں گے (بحوالہ کتاب عقدالدرر وصحیح بخاری)حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے دو طرح کی موت آئے گی سرخ اور سفید موت اور ہر سات افراد میں سے پانچ آدمی مرجائیں گے ۔ سرخ موت سے مراد قتل ہے اور سفید موت سے مراد مرگ طاعون ہے۔ (بحوالہ کمال الدین)

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کی تین اہم نشانیاں

وہ لوگ جو ظہور سرکار امام زمان علیہ السلام کے موضوع پر مطالعہ رکھتے ہیں اور اس اہم ترین امر بارے تحقیق کرتے رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اکثر علامات ظہور امام زمان علیہ السلام ظاہر ہوچکی ہیں ہم یہاں ان علامات میں سے صرف تین علامتوں کا تذکرہ کریں گے۔

۱۔ دنیا کا ظلم سے پُرہو جانا

پیغمبر اسلام فرماتے ہیں( لولم یبق من الدنیا الایوم واحدلطول اللّٰه ذلک الیوم حتیٰ یلی رجلاً من عترتی اسمه اسمی یملا الارض عدلاً وقسطاًکماملئت ظلماًوجوراً ) اگر دنیا کی عمر میں سے صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کردے۔

یہاں تک کہ میرے اہل بیت سے ایک مرد حکومت کرے گا جس کانام میرے نام پر ہوگا وہ زمین کو عدل وانصاف سے پر کردے گا جسطرح زمین پہلے ظلم وجور سے پر ہوگی(مجمع البیان جلد۷ صفحہ ۷۶۲)

ملاحظہ فرمائیں کیا دنیا ابھی ظلم وجور سے پر نہیں ہوئی؟ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ دنیا اس وقت ظلم وجور سے پر ہوگئی تھی جب مغلوں نے ایشیا پرحملہ کیا اورجب دوسری جنگ عظیم لگی تھی لیکن مغلوں کا حملہ یا جنگ ایشیا میں واقع ہوئی صرف ایشیا پُر ازظلم ہوا جب کہ باقی دنیا نہیں ہوئی تھی اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں پوری دنیا شامل نہیں ہوئی اور زمین کا کچھ حصہ ظلم سے پر ہوا جیسا کہ روایات کے حوالہ سے بیان کیا جا چکا ہے کہ ایسی جنگ وارد ہوگی کہ جس کی وجہ سے پوری دنیا کے ۱/۳لوگ ختم ہوجائیں گے اور شاید یہ واقعہ ایک ایسی جنگ ہو جسے تیسری جنگ عظیم کہا جائے گا اور اس کی وجہ سے پوری دنیا ظلم سے پُر ہو جائے گی۔

۲۔ مہذب و تربیت یافتہ افراد کا پیدا ہونا

علامات ظہور امام مہدی (علیہ السلام) سے ایک اہم ترین علامات ۳۱۳ مہذب وباتربیت افراد کا پوری دنیا میں پیدا ہونا ہے امام علیہ السلام کے ظہور میں تاخیر سے پتا چلتا ہے کہ ایسے افراد ابھی جمع نہیں ہوئے

۳۔ مصلح عالم کی آرزو

ابھی تک عمومی طور پر پوری دنیا کے لوگوں کی طرف سے ظہور مصلح عالم کی خواہش کی درخواست کی صورت پیدا نہیں ہوئی اگرچہ اس کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں کچھ عرصہ سے لوگ علماءوروحانیونِ اسلام اور علماءمسیحیت سے بے زار نظر آرہے ہیں اور ان کا جھکاو دانشوروں اور سائنسدانوں کی طرف رہا ہے لیکن سائنس دانوں کی طرف سے مہلک ترین ایٹمی وجراثیمی ہتھیار تیار کرنے کی وجہ سے ان سائنسدانوں اور دانشوروں سے مایوس ہوکر لوگوں نے اپنی توجہ مختلف بین الاقوامی انجمنوں کی طرف کر لی اب لوگ متوجہ ہیں کہ جن اغراض ومقاصد کے حصول کے لئے انہوں نے بین الاقوامی انجمنوں کی طرف رجوع کیا تھا وہ اغراض و مقاصد پورے کرنا ان انجمنوں کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ انجمنیں شاید دس (۱۰)فیصد بھی توقعات پوری نہ کرسکیں اب لوگ مایوس ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ لوگ متوقع تیسری جنگ عظیم کی وجہ سے ابھی سے پریشان ہیں اور لوگوں نے اس پریشانی کی وجہ سے اب اللہ رب العزت کی طرف رجوع کر لیا ہے اور خدا سے ایک ایسے اصلاح کندہ (مصلح) کی طلب رکھتے ہیں جو ان کو مایوسیوں سے نکالے اور ان کی پریشانیاں ختم کرے اور خداوند اپنے وعدہ کے مطابق کہ ”( اَمَن یجیبُ المضَطَّر اذا دَعَاهُ ویکشف السوئ ) “۔ (سورئہ نمل ۲۶)ضرور مصلح بھیجے گا تاکہ سوال کرنے والوں کا اضطراب ختم ہو اور اللہ ضرور ایک مصلح جو درحقیقت امام زمان علیہ السلام ہیں کا ظہور فرمائے گا۔

آسمانی آوازیں

حضور امام زمان علیہ السلام کے ظہور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی آسمانی آوازوں کا آنا ہے ایسی روایات جن میں ان آوازوں کا ذکر ہے ان میں متعدد آوازوں کا تذکرہ ہے بعض روایات میں ۹ آوازوں کا ذکر ہے ان ۹ آوازوں میں سے ایک آواز شیطان کی ہوگی ہم ان آوازوں کے بارے میں تفصیلاً ذکر کرتے ہیں ۔

ماہ رجب میں تین آسمانی آوازیں

حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے منقول ایک مفصل حدیث ہے جس میں حضرت فرماتے ہیں کہ ”ماہ رجب میں تین آوازیں آسمان سے سنائی دیں گی ۔

پہلی آواز

اَلَا لَعنة اللّٰه علی الظالمین آگاہ رہو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔

دوسری آواز

اَزِفَتِ ال ازفةُ یامعشرالمومنین “ قیامت نزدیک ہے اے مومنوں کے گروہ۔

تیسری آواز

خداوند نے فلاں( مہدی علیہ السلام) کو بھیجا ہے اس کی پیروی کرو۔

چوتھی آواز

۳۲ ماہ رمضان المبارک کو ایک آواز آئے گی جس میں قائم علیہ السلام آل علیہ السلام محمد اور ان کے والد گرامی کا نام ہوگا اس نداءکا تواتر کے ساتھ ذکر ہے اسے (صیحہ آسمانی) آسمانی پکار بھی کہتے ہیں اور یہ علامت حتمی علامت ظہور امام علیہ السلام ہے۔

پانچویں آواز

خبردار حق علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام اور اس کے شیعوں کے ساتھ ہے یہ آواز آسمانوں سے سنائی دے گی اس آواز کے دوسرے دن ایک آواز وہ بھی آسمان سے آئے گی کہ حق فلاں اور اس کے پیروکاروں کے ساتھ ہے کیونکہ وہ مظلومیت کی حالت میں قتل ہوا ہے اٹھو اور اس کے خون کا انتقام لو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ منادی آسمان سے صبح کے وقت نداءدے گا کہ حق علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام اور اس کے شیعوں کے ساتھ ہے اور یہ آواز ہر ایک کو اس کی مادری زبان میں سنائی دے گی پھر اسی دن عصر کے وقت شیطان نداءدے گا کہ حق فلاں اور اس کے پیروکاروں کے ساتھ ہے اہل باطل اس ندا کو سن کر مترد ہوجائیں گے۔

چھٹی آوازبوقت ظہور امام زمان علیہ السلامہ علیہ السلام

روایت میں ہے کہ امام زمان علیہ السلام مکہ میں داخل ہوں گے اور خانہ کعبہ کے ساتھ ظاہر ہوں گے جس وقت سورج طلوع ہوگا ایک منادی سورج کے سامنے سے صدا کرے گا کہ پوری زمین و آسمان کے رہنے والے اس آواز کو سنیں گے وہ آواز یہ ہوگی کہ خبردار! یہ مہدی علیہ السلام آل علیہ السلام محمد ہے اسے اس کے جدِ بزرگوار ختمی مرتبت کی کنیت سے پکارو اور اسے اس کے نسب سے اس طرح پکارو۔ بن حسن علیہ السلام عسکری علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن محمد علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن موسیٰ علیہ السلام بن جعفر علیہ السلام بن محمد علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام منادی اس طرح آپ علیہ السلام کا نسب بیان کرے گا کہ تمام شرق و غرب اسے سنے گا۔

ساتویں آواز

سب سے پہلے جو آپ علیہ السلام کی بیعت کرے گا وہ جبرئیل علیہ السلام ہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک قدم بیت اللہ پر رکھے گا اور ایک قدم بیت المقدس پر رکھے گا اور بلند آواز کے ساتھ یہ کہے گا کہ جسے پوری دنیا سنے گا ”اتی امر اللّٰہ ولا تستعجلُوہُ“ اللہ کا حکم آگیا ہے تم اس میں جلدی نہ کرو۔

خروجِ حسنی

ایک حسنی جوان جو کہ اہل خراسان سے ہوگا اور اس کا نام بعض جگہ محمد علی ذکرہے، اولاد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے ہوگا اور خالی ہاتھ کالے پرچموں کے ساتھ مشہد مقدس سے خروج کرے گا اس کے لشکر کے آگے آگے شعیب بن صالح ہوگا یہ حسنی سید ایران فتح کرنے کے بعد یاکم از کم تہران ، قم، اصفہان وغیرہ فتح کرنے کے بعد وارد عراق ہوگا جب وہ وارد عراق ہوگا تو سفیانی کوفہ میں بہت زیادہ خون ریزی کر چکا ہوگا اور بہت ساری عورتوں کو قیدی بنا چکا ہوگا۔ یہ حسنی سید ان قیدی عورتوں کو سفیانی کی قید سے آزاد کرائے گا وہاں پہ لشکر حسنی اور لشکر یمانی باہم مل جائیں گے اور دونوں مل کر سفیانی کے لشکر سے جنگ کریں گے بہت زیادہ قتل و کشتار ہوگی آخر سفیانی شکست کھائے گا اس دوران امام زمان علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ سے عراق پہنچ جائیں گے تو یہ حسنی سید آپ سے معجزہ دکھانے کی درخواست کرے گا آپ علیہ السلام معجزہ ظاہر کریں گے حسنی سید اور اس کا لشکر امام زمان علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہو جائیں گے۔

خروجِ سفیانی

امام زمان علیہ السلام کی ظہور کی علامات میں سے اہم اور حتمی علامت سفیانی کا خروج ہے جس کا نام عثمان بن عنبسہ ہوگا اور وہ اموی نسل سے ہوگا وہ مسلک اباحی سے ہوگا یعنی اس کی روش کمیونسٹوں کی طرح ہوگی بہت تنگ دل اور سفاک ہوگا اس کا اور اس کے ہمرائیوں کا دل بغض آل محمد سے پر ہوگا سفیانی ایک بلا و مصیبت ہے مشرق وسطیٰ یعنی سوریہ،عراق، مدینہ اور اس کے اطراف کے لئے وہ وادی یابس جو کہ دمشق کے نواح میں ہے وہاں سے خروج کرے گا وہ دمشق کو فتح کرے گا اس وقت حمص، حلب، اردن، فلسطین اور یہود اس کی پیروی کریں گے سفیانی کو اطلاع ملے گی کہ امام مہدی علیہ السلام مدینہ میں ظاہر ہیں وہ ایک لاکھ بیس ہزار کا لشکر مدینہ کی طرف بھیجے گا اور خود سفیانی ایک لاکھ تیس ہزار کے لشکر کے ساتھ عراق کی طرف جائے گا، نجف کے قریب جا کر ۰۶ ہزار افراد کو نجف و کوفہ کی طرف روانہ کر دے گا اس دوران ۵ ہزار سرباز بغداد سے روانہ ہوں گے کوفہ کی طرف، تاکہ سفیانی کے لشکر سے جنگ کریں یہا ںبہت زیادہ قتل و غارتگری ہوگی سفیانی کو فتح ہوگی وہ کچھ وقت کوفہ میں رہے گا اور بہت زیادہ مظالم کرے گا۔ جب سفیانی کا لشکر مدینہ کی طرف چلے گا تو امام زمان علیہ السلام خفیہ طریقہ سے مکہ کی طرف چلے جائیں گے سفیانی کالشکروارد مدینہ ہو کر وہاں بہت زیادہ ظلم و ستم کرے گا اور پھراس کا لشکر مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوگا تاکہ امام زمان علیہ السلام سے جنگ کرے جب لشکر سفیانی سرزمین بیدائ،جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پہنچے گا تو جبرئیل علیہ السلام اپنا پر زمین پر مارے گا تو تمام کا تمام لشکر اپنی سواریوںسمیت زمین مین دھنس جائے گا صرف دو افراد اس لشکر کے بچیںگے جو دو افراد باقی بچیں گے ان میں سے ایک کو جبرئیل علیہ السلام شام بھیج دے گا تاکہ سفیانی کو اس کے لشکر کی تباہی کی خبر دے اور دوسرے فرد کو اس حالت میں کہ اس کا چہرہ پُشت کی طرف ہوگا امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں مکہ کی طرف بھیجے گا تاکہ سفیانی کے لشکر کی بربادی کی اطلاع آپ تک پہنچائے وہ شخص امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں جا کر توبہ کرےگا اور سرکار علیہ السلام اس کا چہرہ پھر درست سمت کردیں گے۔

سفیانی کا انجام

سفیانی ایک ایسا ظالم و سفاک شخص ہے کہ وہ بعد از خروج بغداد میں ۰۷ ہزار افراد کو قتل کرے گا تین سو حامل عورتوں کے پیٹ چاک کرے گا وہ ہر اس شخص کو جس کا نام محمد، علی ، علیہ السلام حسن علیہ السلام، حسین علیہ السلام ، ہوگا قتل کر دے گا۔ امام زمان علیہ السلام مکہ و مدینہ فتح کرنے کے بعد عراق کی طرف جائیں گے اس دوران سفیانی وادی راملہ جو کہ فلسطین میں ہے وہاں پہنچ جائے گا اور وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے تقاضائے ملاقات کرے گا اور سرکار امام زمان علیہ السلام کے ساتھ ملاقات میں مسلمان ہوجائے گااور سرکار امام زمان علیہ السلام کی بیعت کرے گا اور پھر اپنے لشکر کے پیچھے جائے گا تواس کے لشکر کے سپاہی اسے کہیں گے کہ تو تو ہمارا کمانڈر تھا تو ہمارا حاکم تھا یہ تو نے کیا کیا پس یہ سن کر وہ دوبارہ بیعت توڑ دے گا اور امام زمان علیہ السلام سے دوبارہ آمادہ جنگ ہوجائے گا ان کے درمیان صبح سے جنگ شروع ہوگی اور امام زمان علیہ السلام کا لشکر غالب آجائے گا، سفیانی کو گرفتار کر لیا جائے گا اور اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔

دجال

دجال دجل سے ہے اور دجل کا معنی ہے فریب دہندہ، دجال اسے کہتے ہیں جو باطل کو حق کی صورت میں ظاہر کرے ، روایات میں ہے کہ ظہور امام مہدی علیہ السلام سے پہلے ۰۴ دجال آئیں گے یعنی ۰۴ فریب کار آدمی آئیں گے، ان دجالوں کے درمیان ایک بڑا دجال ہے ہم اس کے بارے گفتگو کریں گے کیونکہ ہر نبی نے اپنی امت کو ایسے دجال سے ڈرایا ہے۔

دجال اعظم کی خصوصیات

روایات میں ہے کہ دجال ایک آنکھ والا ہوگا ممکن ہے ایک آنکھ سے مراد دنیا پرست ہو اور آخرت سے اسے کوئی سرو کار نہ ہو۔دجال انتہائی فریب کار جادوگر ہے اور وہ دعویٰ ربوبیت کرے گا ممکن ہے اس سے پہلے دعویٰ نبوت و وصایت کرے اور پھر دعویٰ ربوبیت کرے گا اور دعویٰ ”انا ربکم الاعلی“کرے گا شلمغانی کی طرح جیسے اس نے ابتداءمیںدعویٰ حلول کیا اور پھر دعویٰ ربوبیت کیا۔روایات میں ہے کہ دجال اصفہان کے مضافات سے خروج کرے گا اور یہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ظاہر ہوگا، کچھ دیگر روایات میں ہے کہ دجال قحط کے سال میں ظاہر ہوگا اس کے پیروکار گھٹیا اور بے حیثیت اور معاشرہ کے پست ترین افراد ہوں گے۔ لیکن بعض نے لکھا ہے کہ دجال متمدن اور جدید علوم رکھتا ہوگا۔

نفس زکیہ کا قتل

نفس زکیہ یعنی بے گناہ انسان کا قتل وہ حسنی سادات سے ہوگا۔ روایات میں آیا ہے امام کے ظہور سے ۵۱ روز پہلے یعنی ۵۲ ذی الحجہ سے عاشورہ تک ایک شخص بنام نفس زکیہ مکہ میں رکن و مقام کے درمیان شہید ہوگا۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ! ”قائم علیہ السلام اپنے اصحاب سے کہیں گے کہ اے میرا گروہ اہل مکہ مجھے نہیں چاہتے لیکن میں اتمام حجت کےلئے ایک شخص کو بھیج رہا ہوں پھر آپ اپنے اصحاب میں سے ایک فرد کو کہیں گے کہ جاو اہل مکہ سے کہو میں نمائندہ امام مہدی علیہ السلامہوں، میرے مولا امام زمان علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم خاندان رحمت ہیں ، ہم معدن رسالت ہیں ، ہم ذریت محمد ہیں ، ہم وارثان انبیاء علیہ السلام ہیں ، ہم مظلوم ہیں ، کئی مصائب اور بلائیں ہم پر اتریں،زمان علیہ السلامہ رسالتماب سے اب تک ہمارا حق غصب کیا گیا ہے، ہم آپ سے مدد کے خواہاںہیں ، ہماری مدد کرو۔

جب یہ باتیں نمائندہ امام کریں گے تو دوسری طرف سے ان پر حملہ ہو جائے گا اور وہ نمائندہ رکن و مقام کے درمیان قتل کر دیاجائے گا۔

(مہدی موعود ص۹۷۰۱،۹۲۰۱)،(بحارالانوارج۲۵ ص۲۹۲ ، ۹۸۲،ص۳۵۵)،( اکمال الدین واتمام النعمة ج۲ص۱۷۶)،( الزام الناصب ج۲ص۵۰۳)،( الامام المہدی علیہ السلام من المہدالی الظہورص۸۱۳

سرور بشارت

دہید این بشارت بہ نوع بشر

کہ وقتی نماندہ دگر تا سحر

ہمیشہ جہان نیست تاریک و تار

زمانی زند باز خورشید سر

بشر از چہ رو شد ہماہنگ جہل؟

چرا گشت بی نقشہ و راہبر؟

نہ در روحش از آدمیّت نشان

تنش برلب پرتگاہ خطر

شدہ خاور و باختر قبلہ اش

ندارد خبرز آسمانھا دگر

بہ اُمّ القری نور امّید توست

تواز مکّہ باید شوی بہرہ ور

تورا دادہ یک نقشہ از آسمان

کہ قرآن شدہ نام آن نامور

یکی مصلح آسمانی دھد

ھمان مہدی منجی دادگر

قیامت در آن شب نماید قیام

کہ قائم در آن خانہ گیرد مقر

زہر بیشہ ہر شیر رز مندہ ای

نمودہ بہ عزم جہادی سفر

در آن جوّ آرام بیت الحرام

نجوم سماوات گِرد قمر

در آن محفل نور و عشق و صفا

ہمی می رود اشکہا از بصر

برآن پاکبازان پاکیزہ جان

دھد شرح گمراہی بحر و بر

بہ منشور او سازمان ملل

خجل زادّعای حقوق بشر

چو (نصر من اللّٰہ) ہمراہ اوست

مسخّر کند خاور باختر

کند واژگون کاخھای ستم

زند برسر ظلم تیغ شرر

نہد برسر عدل تاج شرف

دھد برہمہ کارگیتی نظر

بہ ہر کاخ وہر کوخ و ہر کنگرہ

بلند است رایات فتح وظفر

تدای اذانِ دل انگیز ما

کند خفتگان جہان راخبر

ہمی نغمہ و صوت قرآن ما

بگیرد بسیط زمین سر بہ سر

تعالیم والای اسلام ما

بہ ہر جاست مُجرا چوحکم قدر

ہمای ہمایون اعزاز ما

ہمی می پرد برہمہ بوم وبر

جہان از کران تاکران موج نور

دہد گلشن آدمیّت ثمر

(حقیقت) نماندہ است تا بشنوی

ندای روان بخش آن منتظر

بہ منشور او سازمان ملل

خجل زادّعای حقوق بشر

( وَ قَاتِلُوهُم حَتَّیٰ لاَ تَکُونَ فِت نَة µ وَیَکُونَ اَلدَّینُ لِلّٰهِ ) “۔ (سورہ بقرہ ۳۹۱)

”ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے، اگر یہ رک جائیں (تو تم بھی رک جاو) زیادتی تو صرف ظالموں پر ہی ہے“۔


آٹھویں فصل

قیام سے نظام تک

اطاعت عہدوپیمان

برقراری عدالت

معرکے

اللہ کی مدد

اصلاحات


باب اول

آپ علیہ السلام کی اطاعت کا عہد و پیمان

بوقت قیام آپ علیہ السلام کا خطبہ

جونہی اللہ رب العزت کی طرف سے آپ علیہ السلام کو اذن ظہور ہوگا تو آپ علیہ السلام سب سے پہلے اپنی ذات کی پہچان کے حوالہ سے گفتگو فرمائیں گے۔ روایات میں ہے کہ آپ بوقت ظہور دیوار کعبہ سے پشت لگائیں گے بعد از حمدوثناءپروردگار اور درودوسلام بر پیغمبر اسلام اپنا تعارف کرائیں گے۔ ”بقیة اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین “ (سورئہ ہود ۶۸)آپ اس آیت کو اپنے بارے بیان فرمائیں گے اور کہیں گے ”انا بقیة اللّٰہ وخلیفتہ وحجتہ علیکم“ ۔”میں ہی بقیة اللہ ہوں اور خلیفہ و حجت خدا ہوں تمہارے اوپر یعنی میں تمام اوصیاءو انبیاء علیہ السلام کی نشانی ہوں“۔

جی ہاں! آپ ہی خلیفہ خدا ہیں آپ ہی امام اور سلطان اعظم ہیں اور پوری دنیا پر آپ حجت خدا ہیں حضرت امام محمدباقر نے آپ کے سب سے پہلے خطبہ کے متن بارے فرمایا ہے کہ وہ کچھ اسطرح ہو گا۔اے لوگو! ہم خدا اور اپنے ماننے والوں سے نصرت کے طلب گار ہیں ، ہم تمہارے پیغمبر اسلام کی اہل بیت ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے سب سے زیادہ قریب ہیں ۔ اگر کوئی میرے ساتھ آدم علیہ السلام بارے بات کرے تو میں سب سے زیادہ آدم علیہ السلامکے قریب ہوں، میں نوح علیہ السلام و ابراہیم علیہ السلام ودیگر انبیاء علیہ السلام بارے زیادہ حق دار ہوں، پھر آپ علیہ السلام فرمائیں گے کہ کیا تم لوگوں نے قرآن میں نہین پڑھا کہ اللہ فرماتا ہے میں نے آدم علیہ السلام نوح علیہ السلام اور خاندان ابراہیم علیہ السلام کو پوری دنیا میں چن لیا ہے اور میں اس ذریت سے ہوں کہ جسے خدا نے چن لیا ہے، میں برگزیدہ خدا ہوں۔(الامام المہدی علیہ السلاممن المہد الاالظہور ص۲۱۴)

دوسرا خطبہ

ایک اور روایت میں ہے کہ امام علیہ السلام ایک اور خطبہ بھی دیں گے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ”امام مہدی علیہ السلام بوقت عشاءمکہ میں ظاہر ہوں گے ان کے پاس رسول خدا کا پرچم ہوگا حضورکی قمیض آپ علیہ السلام کی تلوار اور دیگر کئی نورانی اور بیانی علامات ہوں گی جب نماز عشاءپڑھیں گے تو آپ بلند آواز میں لوگوں سے کہیں گے اے لوگو! میں تمہیں یاد خدا کی دعوت دیتا ہوں اور اس وقت کی یاد دلاتا ہوں جب تم بارگاہ رب العزت میں پیش ہوگے وہ خدا جس نے اپنی تمام حجتیں تم پر تمام کیں، انبیاء علیہ السلام بھیجے کتابیں نازل فرمائیں اور اس نے تمہیں حکم دیا کہ شرک نہ کرو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر کار بند رہو ہر وہ چیز جسے قرآن نے زندہ کیا ہے اسے زندہ کرو جسے قرآن نے ختم کردیا ہے اسے ختم کردو۔(الامام المہدی من االمہد الاالظہور ص۲۲۴، سیوطی کتاب الحاوی)(منتخب الاثر)

تیسرا خطبہ

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ایک تیسرا خطبہ بیان فرمائیں گے ہم اس تیسرے خطبہ کا کچھ حصہ یہاں نقل کرتے ہیں امام مہدی علیہ السلام اپنی پشت دیوار کعبہ کے ساتھ لگا کر لوگوں کو مخاطب ہو کر کہیں گے ”اے لوگو!اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ آدم علیہ السلام کو دیکھے تو میں آدم علیہ السلام اور شیث علیہ السلام ہوں، جو کوئی نوح علیہ السلام اور اس کے بیٹے کو دیکھنا چاہے تو میں نوح علیہ السلام اور اس کا بیٹا سام ہوں، اگر کوئی ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کو دیکھنا چاہتا ہے تو آو میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام ہوں، اگر کوئی عیسیٰ علیہ السلام اور شمعون کو دیکھنا چاہے تو میں عیسیٰ علیہ السلام و شمعون ہوں۔اگر کوئی محمد اور علی علیہ السلام کو دیکھنا چاہے تو میں محمد اور علی علیہ السلام ہوں، اگر کوئی حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کو دیکھنا چاہتا ہے تو میں حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام ہوں اگر کوئی باقی آئمہ معصومین علیہ السلام کو دیکھنا چاہے تو میں مثل باقی آئمہ علیہ السلام ہوں۔

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کے خطبہ کے بعد آپ کے گرد ۳۱۳، افراد جمع ہوجائیں گے اور آپ علیہ السلام کی بیعت کریں گے ان میں سب سے پہلے جبرئیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کی بیعت کریں گے اور ۰۴ ہزار فرشتے جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ نازل ہوں گے ۔(بحارالانوار ج۳۵ص۹)

خاص اصحاب کا جمع ہو جانا

۳۱۳ ، افراد جو کہ اصحاب امام زمان علیہ السلام ہوں گے وہ ظہور کے قریب اکھٹے ہوں گے عبداللہ بن عجلان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ انصار امام زمان علیہ السلام کی جمع آوری اور آمادہ باش حالت اس لئے ہوگی کہ ”یصبح احدکم وتحت راسہ صحیفة ، علیہا مکتوب، طاعةً معروفة“ ان انصار کو جمع ہونے اور آمادہ باشں ہونے کے لئے یہ نشانی بتائی گئی ہے کہ تم جب صبح اپنے بستر سے اٹھوگے تو تمہارے سروں کے نیچے ایک دعوت نامہ پڑا ہوگاجس میں یہ جملہ درج ہوگا۔ ”طاعتہ معروفة“) خالص اور پسندیدہ اطاعت)یہ جملہ گویا ان انصار کے لئے آمادہ باش ہوگا جب وہ ایک دوسرے کو ملیں گے تو گویا انہیں الہام ہوگا کہ اکھٹے ہو جاو وہ وقت اطاعت آگیا ہے۔ ایک اور روایت ہے”المفقودون عن فروشہم“ اپنے بستروں سے گم ہوجانے والے انہیں انصاران مہدی علیہ السلام بارے ہے کہ ۰۷ آدمی ان ۳۱۳ گمشدگان میں سے دن کو دیکھے جا سکیں گے جو کہ مسلسل سوار ہیں اور مکہ کی طرف حرکت کرتے ہیں ان ۰۷ افراد کا مقام باقی انصار سے زیادہ بلند ہے اور آیت قرآن ” این ماتکونوایات بکم اللّٰہ جمیعاً“ (بقرہ ۸۴۱) تم جہاں بھی ہوگے خدا تمہیں لے آئے گا ، یہ انہیں ۳۱۳، افراد بارے ہے۔

امام علیہ السلام کی بیعت

بیعت ، بیع سے ہے یعنی بیچنا،زمانہ قدیم میں جب لوگ کوئی سودا کرتے تھے تو آپس میں ہاتھ ملاتے تھے اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ سودا پکا ہو گیا یہ طریقہ پرانےزمان علیہ السلامہ کے سیاسی یا الٰہی لوگوں میں رائج تھا اس کی بابت قرآن میں ارشاد خداوندی ہے ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللّٰہ یداللّٰہ فوق ایدیہم“۔ (سورئہ فتح ۰۱)”وہ لوگ جنہوں نے تمہاری بیعت کی سوائے اس کے نہیں کہ انہوں نے اللہ کی بیعت کی اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے“۔

الف) بیعت رسول اکرم

صدر اسلام میںبیعت کا رواج تھا تاریخ میں حضور نبی کریم کے لئے تین بیعتوں کا ذکر ملتا ہے۔

۱۔ بیعت عقبیٰ اولی

جو کہ منی میں کی گئی یہ بیعت کرنےوالے بارہ آدمی تھے انکی بیعت کا معنی یہ تھا کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں

۲۔ بیعت عقبیٰ دوئم

یہ بیعت بھی منیٰ میں کی گئی یہ بیعت کرنے والے ۰۷ آدمی تھے اس بیعت کا مقصد امور رسالت میں آپ کی مدد کرنے کا وعدہ تھا۔

۳۔ بیعت رضوان

یہ بیعت ایک درخت کے نیچے حدیبیہ کے نزدیک کی گئی اس میں شامل مسلمانوں کی تعداد ۰۰۸ سے زائد تھی حضور نے ان سے موت کی بیعت لی تھی، بیعت کی وجہ کچھ مسلمانوں کی مخالفت تھی جب کہ مسلمان عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔ البتہ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی بیعتوں کا ذکر تاریخ میں ہے لیکن ہم یہاں اپنے موضوع کی مناسبت سے سرکار امام زمان علیہ السلام کی بیعت کا ذکر کریں گے۔

ب) بیعت حضرت امام مہدی علیہ السلام

سب سے پہلے جبرئیل علیہ السلام سرکار امام زمان علیہ السلام کی بیعت کریں گے وہ عاشورہ کے دن رکن و مقام کے درمیان آپ کی بیعت کریں گے اور جبرائیل علیہ السلامکہیں گے ”البیعة اللّٰه “ جبرئیل علیہ السلام کے بعد ۳۱۳،افراد جو کہ سرکار مہدی علیہ السلام کے اصحاب و انصار ہیں بیعت کریں گے حضرت کی بیعت کے ۰۳ یا۰۴ فرمان ہوں گے سرکار کی بیعت خاص مطلب آپ کی اطاعت پر کاربند رہنا اور آپ کی ذات سے انحراف نہ کرنا ہے آپ کے پرچم پر”البعیة للِّٰه “ تحریر ہوگا۔آپ کی بیعت ایک ایسی بیعت عام ہے کہ تمام اہل زمین اور آسمان اس کی تائید کریں گے ۳۱۳ افراد مکہ میں آپ کی بیعت کے لئے پہلے سے منتظر ہوں گے یہاں تک کہ مکہ ہی میں ۰۱ ہزار افراد آپ کی نصرت کے لئے ان ۳۱۳ افراد کے ساتھ شامل ہوجائیں گے جسے حلقہ کہیں گے جب تک یہ دس ہزار افراد ان ۳۱۳ افراد کے ساتھ نہیں ہوں گے اس وقت تک آپ کا قیام نہیں ہوگا اور آپ مکہ نہیں چھوڑیں گے۔(بحارالانوار ج۲۵، ص۰۹۲)(بحارالانوار ج۲۵، ص۷۰۳،۸۳۳)


باب دوئم

برقرار یِ عدالت حضرت مہدی (علیہ السلام)

امام زمان علیہ السلام مکہ میں

امام زمان علیہ السلام بیعت تمام ہونے کے بعد مکہ میں اپنا مرکز قائم کرلیں گے طاقت کے تمام مراکز کو اپنی تحویل میں لے لیں گے اس وقت کی حکومت بھی آپ کے خلاف کوئی رد عمل نہیں دکھائے گی آپ مکہ میں تین اہم کام انجام دیں گے۔

۱۔ مقام ابراہیم علیہ السلام کی منتقلی

روایات میں ہے کہ امام زمان علیہ السلام مقام ابراہیم علیہ السلام کو اس کی اصل جگہ پر منتقل کردیں گے یعنی اسے کعبہ کے ساتھ ملا دیں گے جیسا کہزمان علیہ السلامہ رسول اکرم میں تھا لیکن جناب عمر بن خطاب نے اسے وہاں سے منتقل کیا تھا جب کہ امام زمان علیہ السلام اسے اس کے اصل مقام پر منتقل کریں گے تو اس کے بعد طواف کرنا آسان ہو گا۔

۲۔ طواف مستحب سے رکاوٹ

دوسرا کام جو آپ مکہ میں کریں گے آپ لوگوں کو کعبہ کے مستحب طواف سے روک دیں گے جو لوگ طواف مستحب کا ارادہ رکھتے ہوں گے وہ اپنا طواف اس کودے دیں گے جن کے اوپر طواف واجب ہے۔

۳۔ منتظمین کعبہ کے ہاتھ قطع کرنا

امام زمان علیہ السلام مکہ میں انجام دیئے جانے والے تین کاموں میں سے ایک کام اس وقت کے کلید بردارانِ کعبہ کے ہاتھ کاٹ دیں گے جو کہ بنی شیبہ سے ہوں گے چونکہ وہ کعبہ کے چور ہوں گے لہٰذا ان کے ہاتھ قطع کر دیے جائیں گے۔ (بحوالہ بحارالانوار جلد۲۵، ۲۳۳)

مکہ کے لئے حاکم کا تقرر

آپ ان امور کی انجام دہی کے بعد مکہ میں ایک حاکم مقرر کر کے فوراً عازم مدینہ ہوں گے مگر آپ کے مقرر کردہ حاکم و نمائندہ کو قتل کر دیاجائے گا اس طرح آپ تین مرتبہ حاکم مکہ مقرر فرمائیں گے مگر تینوں دفعہ انہیں قتل کردیا جائے گا اس دوران آپ چھ بار قریش مکہ پر حملہ آور ہوں گے اور ہر دفعہ ۰۰۵ قریش مکہ کو قتل کریں گے یوں کل ۰۰۰۳ افراد کو قریش مکہ سے قتل کرنے کے بعد مکہ میں امن ہو جائے گا۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام مدینہ میں

حضرت امام زمان علیہ السلام مدینہ آکر سب سے پہلے اپنی ماں جناب سیدہ زہراء علیہ السلام کی قبر کی نشان دھی کریں گے جناب سیدہ علیہ السلام پر ظلم و ستم کرنے والے افراد کی قبریں کھود کر انکی لاشیں باہر نکالیں ان کو زندہ کر کے انکے خلاف مقدمہ چلائیں گے اور انہیں پھانسی چڑھا دیں گے پس از اعدام ان کی لاشوں کو جلا دیں گے حضرت محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں آگاہ رہو کہ جب ہمارا قائم علیہ السلام قیام کرے گاتو ہر اس شخص کو جو مولا علی علیہ السلام کے مقابل جنگ کے لئے نکلا ہوگا تازیانے لگائیں گے اور پھر جناب زہراء علیہ السلام کا انتقام لیں گے۔

سرکار امام زمان علیہ السلام مدینہ میں تین دن تک جبت و طاغوت کے طرف داروں کو وعظ و نصیحت کریں گے ان لوگوں سے کچھ توان دونوں سے پیچھے ہٹ جائےں گے تیسرے دن جو لوگ ان سے منسلک رہیں گے وہ بادصرصر ،تیز اور ٹھنڈی ہوا کے چلنے سے تباہ و برباد ہوجائیں گے۔(الامام المہدی علیہ السلاممن المہد الاالظہور ص۱۴۵)(دلائل امامت طبری امامی ص۲۴۲) (بحارالانوار ج۲۵ ص۴۱۳)

مدینہ سے کوفہ روانگی

سرکار امام زمان علیہ السلام جب مدینہ سے کوفہ کی طرف حرکت کریں گے تو اپنے اصحاب و ہمرکاب لوگوں سے کہیں گے کوئی اپنے ساتھ زاد راہ خوراک و پانی نہ لے جائے یہ سب کچھ تمہیں سنگ موسیٰ کے ذریعہ مل جائے گا آپ کوفہ آکر وہاں پرایک گھر میں رکیں گے اپنے اہل بیت کو وہاں ٹھہرائیں گے یہ وہی گھر ہوگا جہاں حضرت نوح علیہ السلام کا گھر تھاامام زمان علیہ السلام کوفہ کو اپنی حکومت کا مرکز قرار دیں گے اپنے خاص اصحاب میں سے تین سوافراد کے لگ بھگ ساتھیوں کو دنیا کے مختلف علاقوں میں بھیجیں گے ہر ایک کے سینہ اور کندھوں پر آپ علیہ السلام ہاتھ ماریں گے تاکہ کسی بھی حکم وفیصلہ کرنے میں وہ عاجزوناتوان نہ ہوں آپ مسجد سہلہ کو بیت المال عدالت برائے فیصلہ جات اور مال غنیمت کی جمع آوری کی جگہ قرار دیں گے، شہر کوفہ کو اتنی وسعت دیں گے کہ کوفہ کربلا کے ساتھ متصل ہوجائے گاآپ کوفہ سے تین پرچم بردار لشکر دنیا کے تین علاقوں میں روانہ کرینگے وہ مقامات درج ذیل ہیں

۱۔قسطنطنیہ یہ آج کا ترکی ہے جو کہ یورپ کی کنجی اور گیٹ وے ( Geatway ) ہے جو لشکر یہاں جائے گا وہ اس راستہ سے یورپ میں داخل ہوجائے گا۔

۲۔ چین یہ مشرقی بلاک کے ممالک اور کمیونسٹوں پر مشتمل خطہ ہے ایک لشکروہاں جائے گا۔

۳۔تیسرا لشکرکوہائے دیلم کی طرف جائے گا جو ایران قفقار اور روس کے ممالک پر مشتمل ہے۔

دیگر معرکے

۱۔ مذکورہ بالا جنگوں کے علاوہ اور بھی کئی معرکے ہوں گے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں ۔

۱۔عرب کے نامور اور سیاسی ومذہبی رہنماوں اور سرداروں سے معرکہ آرائی ہوگی اس لیے کہا گیا ہے کہ” علی العرب شدید“ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ معرکہ عرب کے نامور سرداروں وبادشاہوں سے لڑاجائے گا، پھر کہا گیا ہے کہ امام زمان علیہ السلام کو بھی عربوں سے وہی صورتحال پیش آئے گی جو جناب رسالتماب کو عرب جاہلوں سے پیش آئی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت صورتحال کا سامنا ہوگا وہ قرآن کے سہارا سے آپ سے بحث و مناظرہ کریں گے گویا یہ مذہبی راہنما ہوں گے جن سے معرکہ آرائی ہوگی۔(بحارالانوار ج۳۵ ص۳۱)(کتاب چشم اندازی بحکومت مہدی علیہ السلام)

۲۔ بنو امیہ کے ساتھ معرکہ

دعائے ندبہ میں ہے کہ ”این الطالب بدم المقتول بکربلا “ کہاں ہے مقتول کربلا کے خون کا انتقام لینے والا“۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ قاتلان سید الشہداء علیہ السلام تو اس وقت نہیں ہوں گے پس امام زمان علیہ السلام ان سے کس طرح انتقام لیں گے تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”رضوا بفعل ابائہم “ یعنی اولاد بنی امیہ اپنے بڑوں کے اس فعل پر راضی ہیں یہی وہ اولاد بنو امیہ جو اپنے بڑوں کے راستہ پر ہیں اور قتل حسین علیہ السلام پر راضی ہوں گے ان سے انتقام ہوگا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص جو قتل حسین علیہ السلام پر خوش تھا یا آج خوش ہے اوراہل بیت علیہ السلام کاد شمن ہے وہ خون حسین علیہ السلام بہانے میں شامل شمار ہوگا اور اس سے انتقام خون لیا جائے گا۔

مثلاً مراکش،زنجبار( ایتھوپیا)، شام اور موصل میں اب بھی ایسے لوگ آ باد ہیں جن کو اباضیہ کہا جاتا ہے اور یہ دشمنئیِ اہل بیت علیہ السلام میں مشہور و معروف ہیں البتہ توبہ کرلینے والوں کو معاف کردیاجائے گا۔

۳۔ اہل کتاب کے ساتھ معرکہ

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان سے اتر آنے کے بعد اور ان کا حضرت امام زمان علیہ السلام کے ساتھ شامل ہو جانے کے بعد اہل کتاب پر حجت تمام ہوجائے گی اب اگر وہ اہل کتاب اپنے آپ کو امام زمان علیہ السلام کے تسلیم نہیں کریں گے تو پھر حضرت ان کے ساتھ کفار جیسا برتاو کریں گے

۴۔ بتریتہ کے ساتھ معرکہ

یہ زیدیہ کا ایک گروہ ہے جو کہ کوفہ میں ہوں گے اور آپ علیہ السلام سے کہیں گے کہ تم لوٹ جاو ہمیں اولاد فاطمہ علیہ السلام کی ضرورت نہیں ہے ان کی تعداد ۰۱ ہزار ہوگی یہ تمام کے تمام قتل ہو جائیں گے اور حضرت امام زمان علیہ السلام کاایک سپاہی بھی زخمی نہیں ہوگا۔

۵۔ باغیوں کے ساتھ معرکہ

جب امام زمان علیہ السلام مسجد کوفہ میں خطاب کرر ہے ہوں گے تو ایک بہت بڑا گروہ آپ علیہ السلام پر اعتراض کرتا ہوا مسجد سے نکل جائے گا جنکی تعداد کئی ہزار تک ہوگی حضرت انکا پیچھا کرینگے اور ان کو سزا دیں گے۔

۶۔ معرکہ شہر رمیلہ

آخری بغاوت جو حضرت امام زمان علیہ السلام کے خلاف ہوگی وہ رملہ میں”جو کہ فلسطین کا شہر ہے“ میں ہوگی جسے کچل دیاجائے گا۔

دنیا کی سب سے بڑی مسجد

پیغمبر اسلام کے بعد لوگوں نے بہت کم مدت مولا علی علیہ السلام اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پیچھے نماز جماعت ادا کی اور باقی آئمہ علیہ السلام کو باجماعت نماز کرانے کا موقعہ میسر نہ آیا حضرت امام زمان علیہ السلام جمعہ کے دن نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے کوفہ کی جامع مسجد میں تشریف لائیں گے اور نماز ادا کریں گے آپ کے ساتھ باجماعت آپ کی امامت میں اداکی گئی نماز کا ثواب پیامبر اسلام کی اقتدا میں ادا کی گئی نماز کے برابر ہوگا۔دوسرے جمعہ لوگ آپ سے درخواست کریں گے کہ مسجد میں گنجائش کم ہے نمازی بہت زیادہ ہیں حضرت باہر صحرا میں چلے جائیں آپ نشان دہی کریں گے اور ایک بہت بڑی مسجد کی تعمیر کا حکم دیں گے ایک ایسی مسجد بنانے کا حکم دیں گے جس کے ایک ہزار دروازہ ہوگا اگر یہ مسجد مربع شکل کی ہوتو چاروں اطراف ۰۵۲ دروازہ ہر سمت ہوگا اس مسجد کی مساحت ۱۰,۶۲۷,۶۰۰ مربع میٹر ہوگی اور اس میں تقریباً پندرہ(۵۱) ملین افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہو گی ۔(کتاب الغیبت شیخ طوسیؒ ص۱۸۲) (مہدی علیہ السلام موعود ۷۱۱۱)


باب سوئم

اللہ کی مدد

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آسمان سے آمد

روایات میں ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام بیت المقدس سے شمال کی طرف رملہ میں سفیانی اور اس کے لشکر کو شکست دیں گے اور آپ کی حکومت میں یہ علاقہ بھی شامل ہوجائے گا تو باب لُد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوجائیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ایک بہت خوشگوار اثر ڈالے گی جس کی وجہ سے مسلمان آپس میں متحد ہوجائیں گے بلکہ بہت سے مسیحی بھی متفق ہوجائیں گے۔

(الامام المہدی علیہ السلامص۲۵۵) (صحیح مسلم جلد۲ ص۵۱) ( عصر ظہور علی کورانی ص۲۴۴)

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام ) کی اہمیت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا آپ کی فتح و نصرت میں اہم اثر و کردار ہے کیونکہ :

۱۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک اولیٰ العزم نبی ہیں اور صاحب کتاب آسمانی ہیں ۔

۲۔ وہ ایسے فرد ہیں جو بغیر باپ کے اس دنیا میں آئے اور بوقت ولادت گفتگو فرمائی اور ولادت کے وقت سے ہی اعلان نبوت فرمایا ۔

۳۔ ان کی امت کی تعداد پورے جہان میں دس ارب سے زیادہ ہوگی ۔

۴۔ پوری دنیا میں تقریباً ۰۹ ممالک مسیحی ہیں جو کہ اکثریت رکھتے ہیں ۔

۵۔ مسیحوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہت زیادہ اور غیرمعمول محبت ہے اور اسی شدت محبت کی وجہ سے انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصاویر کو کلیساوں میں لگا رکھا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے تو دو فرشتے دائیں اور دو ان کی بائیں طرف ساتھ ساتھ ہوں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم پر بوقت نزول دوہی کپڑے ہوں ان کے بالوں سے مثل موتیوں کے پانی کے قطرے گریں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد صبح کی نماز حضرت امام زمان علیہ السلام کے پیچھے نماز ادا کریں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب سے سرکار امام زمان علیہ السلام کی پیروی کی وجہ سے پوری دنیائے مسیحیت سرکار امام زمان علیہ السلام کے تابع ہوجائے گی۔

حضرت امام زمان علیہ السلام تورات وانجیل کی تختیاں غار انطاکیہ سے باہر نکالیں گے اس وقت کے تمام یہودی تورات کو دیکھتے ہی خود کو آپ کے تسلیم کردیں گے روایت ہے کہ اس تورات کو دیکھتے ہی ۰۳ ہزار یہودی شیعہ ہوجائیں گے آپ دیگر ادیان کے پیروکاروں میں مبلغ بھیجیں گے تاکہ انہیں صحیح دین اسلام سکھایا جاسکے۔

زمانہ ظہور میں شیطان کا انجام

سرکار امام زمان علیہ السلام کے ظہور پر نور سے کہ جس کی وجہ سے پوری دنیا بقعہ نوربن جائے گی اس وقت سب سے دلچسپ اور قابل دید حالت شیطان اور اس کے ہمکاروں کی ہوگی چونکہ شیطان بوجہ تکبر بارگاہ رب العزت سے نکالا گیا تھا اور اس نے خداوند کریم سے مہلت مانگی تھی قرآن کریم اس مہلت کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے۔ ”( قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون o قال فانک من االمنظرین،الی یوم الوقت المعلوم ) “۔ (سورئہ حجر ۶۳تا۸۳)شیطان نے کہا! اے خدایا مجھے اٹھانے کے وقت تک مہلت دے ارشاد خداوندی ہوا کہ تجھے وقت معلوم تک مہلت ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شیطان صوراسرافیل پھونکے جانے تک زندہ رہے گا کیونکہ جس وقت تک انسان مکلف ہے شیطان زندہ رہے گا تاکہ گمراہی کی کوشش کرتا ہے اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیطان نے تو تقاضا کیا مگر اس کے تقاضا کے مطابق اللہ نے مہلت نہیں دی بلکہ اللہ نے وقت معین تک اسے مہلت دی۔

بعض آراءکے مطابق شیطانزمان علیہ السلامہ رجعت تک زندہ رہے گا، اس بارے ابن عباس کی روایت ہےزمان علیہ السلامہ رجعت میں رسول خدا تشریف لائیں گے اور شیطان کو حربہ کے ذریعہ قتل کریں گے۔

اس روایت کے بارے یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ ابن عباس نے روایت اہل تسنن کی وجہ سے بصورت تقیہ یہ بات کی ہے۔

سید علی بن عبدالحمید نے اپنی کتاب انوار المضیئہ میں اپنی سند کے ساتھ اسحاق بن عمار سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ شیطان سے خداوند کریم نے فرمایا کہ:

فانک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم “ یہ وقت معلوم کب آئے گا آپ نے فرمایا یہ وقت معلوم ہمارے قائم کے قیام کادن ہے۔جب سرکار امام زمان علیہ السلام آمادہ قیام ہوں گے آپ مسجد کوفہ میں ہوں گے شیطان اس وقت زانوں پر یعنی گھنٹوں کے بل چلتا ہوا وہاں آئے گا اور کہے گا کہ ہائے آج بہت خطرہ ہے ہمارا قائم اس کے پیشانی کے بالوں سے پکڑے گا اور اس کی گردن اڑا دے گا وہ ہی وقت، وقتِ معلوم ہوگا کہ جب شیطان کو دی گئی مدت ختم ہوجائے گا۔

بعض تفاسیر میں سورئہ حجر بارے تفسیر کرتے ہوئے شیطان کے انجام تک پہنچنے کو عصر ظہور امام زمان علیہ السلام بیان کیا ہے ان کے بقول کہ کیا ممانعت ہے کہ پوری دنیا صالح ہوجائے گی جب شیطان ختم ہوجائے گا کہ ”( ان الارض یرثها عبادی الصالحون ) “۔ (سورئہ انبیاء علیہ السلام ۵۰۱)

یہ مفسرین مزید کہتے ہیں کہ شیطان کے وجودکا لازمہ گناہ ہے اور یہ بات اس حوالہ سے درست بھی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت مبارکہ ہے کہ ”( الم اعهدالیکم یابنی آدم ان ل اتعبدو االشیطان ) “ (سورئہ یس ۰۶)

یعنی اگر شیطان نہ ہوتا تو لوگ گناہ نہ کرتے لیکن شرعی تکالیف کی بقاءکا لازمہ نہیں ہے کہ شیطان کا وجود باقی رہے تاکہ اس وجہ سے یہ کہا جا سکے کہ جب تک انسان باقی ہے شیطان بھی باقی رہے یہ لازم نہیں ہے بلکہ یہ غلط خیال ہے۔ (مہدی علیہ السلام موعود ص۶۳۱۱)

کامیابی کے اسباب

سرکار امام زمان علیہ السلام کی حکومت جہانی اور دین اسلام کی برتری یہ موضوع قابل بررسی و گفتگو ہے ہم اس بحث میں آپ علیہ السلام کی حکومت کی کامیابی کے اسباب وعوامل کا جائزہ لیں گے۔

۱۔ آپ کی کامیابی کی سب سے اہم وجہ و سبب یہ ہے کہ آپ کا ظہور ارادہ خداوندی ہے تاریخ اس کی شاہد ہے کہ خداوندکریم نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا سلوک کیا، یا دریا نیل میں فرعونیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، اگرچہ آپ کے تمام کام معجزات نہیں ہوں گے البتہ بہت زیادہ امور میں آپ معجزہ سے استفادہ کریں گے۔

۲۔ آسمان سے آواز کا آنا اور پھر اسکے ساتھ ہی آپکا کعبہ سے خطاب جو کہ بہت زیادہ جوش و جذبہ دے گا اور تمام انسان حضرت کے اس خطاب کو اپنی اپنی زبان میں سنیں گے اور سمجھیں گے۔

۳۔ ہر نبی اپنےزمان علیہ السلامہ کے حالات کے مطابق معجزہ ساتھ لایا اسی طرح جب سرکار امام زمان علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو وہزمان علیہ السلامہ علم و ہنر کازمان علیہ السلامہ ہوگا، حضور ایسا علم لائیں گے جو کہ اس وقت دنیا کے علم سے کئی گنا زیادہ ہوگا اور آپ کا علم اس وقت کے تمام دانشمندوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گا۔

۴۔ چونکہ سرکار امام زمان علیہ السلام امام معصوم اور توکل و تکیہ بر خدا کرتے ہیں اس لئے لوگ آپ سے مطمئن ہوں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے۔

۵۔ اللہ تعالیٰ نے سرکار امام زمان علیہ السلام کی مدد بذریعہ رعب کی ہے آپ ”المنصور بالرعب“ ہیں آپ کے ظہور کے ساتھ ہی فرشتے ستم گروں کے دلوں میں آپ کا رعب ڈال دیں گے یہی رعب آپ کی کامیابی کا سبب ہوگا۔

۶۔ آپ کو آ ہنی عزم کے مالک اصحاب اور مخلص جانثار میسر ہوں گے اس طرح کے اصحاب امام حسین علیہ السلام کے بعد کسی کو میسر نہیں ہوئے۔

۷۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے آجائیں گے اور آپ کی نصرت کریں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد آپ کے لیے کامیابی کا سبب ہے ۔

۸۔ قوت ملکوتی آپ کے ہمراہ ہوگی مثلاً جبرئیل علیہ السلام آپ کے حکم پر ظالموں کی بربادی کے لئے زمین کو زلزلہ میں ڈال دیں گے یہ نصرت و مدد آپ کی کامیابی و کامرانی کا اہم سبب ہوگا۔(مہدی علیہ السلامموعود ص۹۱۱۱)(خرائج راوندی)


باب چہارم

حضرت امام زمان علیہ السلام(علیہ السلام) اور اصلاحات

حضرت امام مہدی(علیہ السلام) اور اختلافات

حضرت امام مہدی علیہ السلام نسلی و قومی اختلافات کو ختم کردیں گے کالے اور گورے سرخ اور زرد انسان آپ کے لئے برابر ہوں گے کوئی کسی پر فوقیت نہیں رکھے گا لوگ آزاد ہوں گے کہ جس لب ولہجہ اور زبان میں بات کریں لیکن یہ بات بعید نہیں ہے کہ آب عربی کو رائج کریں گے چونکہ عربی اسلام قرآن اور اہل بہشت کی زبان ہے اس لیے اس کو تمام اقوام کی زبان قرار دیاجائے گا۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور عقل و سلیقہ کا اختلاف

روایات میں ہے کہ آپ لوگوں کے سروں پر ہاتھ پھیریں گے تو تمام لوگوں کا عقل کامل ہو جائے گا اور جس کی وجہ سے لوگوں میں حق گوئی اورحق شناسی زیادہ ہوجائے گی اور لوگ تعصب اور جہالت سے نکل جائیں گے آپ لوگوں کو عقل وفہم کے مطابق مرتبہ ودرجہ دیں گے جو زیادہ عقل وفہم رکھتا ہوگااس کی طرف آپ کی توجہ زیادہ ہوگی۔(بحارالانوار ج۲۵ ص۸۲۳)

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور دینی و سیاسی اختلافات

آپ علیہ السلام کے ظہور کے بعد دنیا کے تمام لوگ آئین تشیع قبول کرلیں گے چونکہ لوگوں کی عقل سے پردے ہٹ جائیں گے ان میں عقل و فہم ایجاد ہوجائے گی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی وجہ سے تمام اہل کتاب اور دیگر مسلمان مشرف باتشیع وآئین تشیع ہوجائیں گے بقول قرآن کریم ”وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ“۔ (سورئہ نساء۹۵۱)کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہے کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان تمام کو امام زمان علیہ السلام کی پیروی کا حکم دیں گے جسکے نتیجہ میں تمام اہل کتاب مشرف بااسلام ہو جائیں گے۔

سرحدیں ختم ہوجائیں گی اور پوری دنیا حکومت جہانی امام زمان علیہ السلام کی اتباع کرے گی حضرت ان پر باخبر اور بابصیرت حکام مقرر کریں گے جو ان کی فریاد سنیں گے جس کی وجہ سے تمام اختلافات ختم ہوجائیں گے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور فسادی لوگ

وہ فسادی لوگ جو کسی طرح بھی عقل کی اتباع نہیں کریں گے اور تعصب اور عناد کو نہیں چھوڑیں گے حضرت امام زمان علیہ السلام سرکار اپنی تلوار کے ساتھ انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔

حضرت امام زمان علیہ السلام اور اہل سنت

حضرت امام زمان علیہ السلام جب دشمنان سیدہ زہراء علیہ السلام کو زندہ کریں گے اور ان کا احتساب ومحاکمہ کریں گے تو حق لوگوں پر واضح ہو جائے گا اور دشمنان سیدہ زہراء علیہ السلام کا کردار لوگوں پر واضح ہوجائے گا بالخصوص وہ لوگ جو دنیا میں ان دشمنان زہراء علیہ السلام کی پیروی کرتے رہے ہیں ان پر حقیقت واضح ہو جائے گی اس وقت آپ حکم دیں گے کہ ان کو قبروں سے باہر نکالا جائے اور ایک پرانے اور بوسیدہ درخت کے ساتھ جو کہ خشک ہوگا انہیں پھانسی دے دی جائے گی تو وہ درخت فوری طور پر سرسبز اور شاداب ہوجائے گا۔ اس وقت لوگ دوحصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ ایسا ہوگا کہ جو آپ سے کہے گا کہ ہم آپ سے اور آپ کے پیروکاروں سے بیزار ہیں ، اس وقت آپ کالے بادلوں کو حکم کریں گے جو ان کو اٹھا کر ایسے بکھیر دیں گے جیسے پرانے کھجور کے ریشے ہوں پھر دشمنان زہراء علیہ السلام کو سولی سے اتار ا جائے گا اور انہیں زندہ کردیاجائے گا ان کا محاکمہ ہوگا اور وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے تو انہیں پھر سولی پر لٹکا دیا جائے گا اورانہیں آگ لگا دی جائے گی ان کی راکھ کو بذریعہ ہوا دریاوں میں پھیلا دیا جائے گا۔(مہدی علیہ السلام موعود ص۰۶۱۱)

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور طبقاتی اختلاف

آپ فقرو تنگدستی کو دنیا سے ختم کردیں گے اس وقت کوئی انسان بھوکا اور غریب نہیں رہے گا بلکہ ہر آدمی آرام و سکون اور آسائش کی زندگی اور خوشبختی کی زندگی گزارے گا آپ طبقاتی اختلاف کو بہت حد تک کم کردیں گے لیکن نجی مالکیت کو جو کہ اسلام کا فطری فیصلہ ہے آپ اسے برقرار رکھیں گے۔یعنی نجی ملکیت کا قانون ختم نہ ہوگا۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مجرموں ، جاہلوں اور فاسقوں کے ساتھ برتاو

آپ ایسے مجرموں کو جو قابل اصلاح نہیں ہیں انہیں موت کا حکم سنائیں گے چھوٹے مجرموں اور فاسقوں کو توبہ کرائیں گے اور انہیں تزکیہ نفس پر آمادہ کریں گے اور ایسے نادان جو پوری دنیا میں اسلام کے نام لیوا تھے ان سے نہایت مہربانی اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے اور ان پر اپنے خالص شیعوں کا حکم لگائیں گے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور اچھے انسان

جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ ”( اِنَّ اکرمکم عنداللّٰه اتقٰیکم ) “ (سورئہ حجرات)

آپ اچھے انسانوں کومزید بلندی اور عزت دیں گے بالخصوص وہ لوگ جو بلند درجات رکھتے ہیں انہیں زمین پر حاکمیت دیں گے اور وہ لوگ جو کچھ نچلا درجہ رکھتے ہیں انہیں کلیدی عہد ے دیں گے البتہ تمام لوگوں کا ماہانہ معاوضہ اور وظیفہ ایک جیسا ہوگا اور وہ بیت المال سے ہوگا۔

این آہ دل

کاری آخر می کند این آہ دل

گربہ یادی مدّتی شد مشتغل

بی دل و بیمار و بی طاقت شدم

گربمیرم از فراقش یحتمل

ساقیا! می دہ بہ یاد مہدیم

بند بندم راز ہم کن منفصل

برمشامم بویی از یوسف رسید

وزپی آن مژدہ ھای متّصل

می رسد از رہ بشیر و پیرھن

می کند ما رابہ کویش منتقل

اَیُّهَا اَلا ح بَابُ قُومُوا فَان دُبُوا

وَاَط لُبُوا اَلمَه دِی بِدَم عٍ مُن هَمِل

جستجویی آخر از مہدی کنید!

در کجایی مہدی! ای محبوب دل؟

ای طبیب عشق! فریادم برس!

بین مرا از پای تاسر مشتعل

یٰا شَفٰاء اَلقَل ب یَاب نَ العَس کَرى

لَی سَ جُر حِى یَا طَبِیِبى یَن دَمِل

آرزو دارم ببینم روی تو

گرچہ ہستم از رخ ماہت خجِل

یک نگاہ از لطف تو مارا بس است

ہست چون بر صد کرامت مشتمل

ای گل نرگس! بہ حقّ مادرت

فاطمہ، مارا بکش از آب وگل

(دیوان گنجینہ گوھر)

لِکُلِّ اُنٰاسٍ دَو لَة یَر قُبُونَهٰا

وَدَو لَتُنٰا فی اٰخِرِ اَلذَّه رِ یَظ هَرُ

( اِنَّ اَلا ر ضَ لِلّٰهِ یُورِثُهٰامَن یَشٰاء مِن عِبٰادِهِ وَاُل عٰاقِبَةُ لِل مُتَّقینَ ) “۔

”یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں “۔(اعراف ۸۲۱)


فصل نہم

آخری حکومت

تحریکیں حکومت کے نام

حکومت الٰہی کا قیام

چھ انوکھے کام

حکومت کی مدت


باب اول

تحریکیں

ارشاد امیرالمومنین علیہ السلام ہے کہ ”افلح من نهض بجنٰاحٍ اواستسلم فا راح “(نہج البلاغہ خطبہ ۵ ص۷۵)

وہ فلاح پاگیا کہ جس نے قیام کیا اپنے پروں کے ساتھ یا پھر تسلیم ہوا تو وہ آسودہ حال ہوگیا نہضت کا لغوی معنی اٹھنا ہے حرکت کرنا جنبش لینا ہے اور اصطلاح میں نہضت کا معنی ہے اپنے سیاسی یا اجتماعی اغراض تک پہنچنے کے لئے قیام کرنا۔

یہاں ہماری بحث دینی تحریکوں اور بالخصوص امام زمان علیہ السلام کی تحریک بارے ہے۔البتہ اس بحث میں داخل ہونے سے پہلے ہم کچھ اشارہ انبیاء علیہ السلام و اولیاء علیہ السلام کے قیام کی طرف کریں گے۔

۱۔ (بعثت کا معنی اٹھنا ہے جس کا معنی خداوند کی جانب پیغمبر کامبعوث ہونا ہے اگرچہ تمام انبیاءعلیہ السلام اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے۔ لیکن سب انبیاء علیہ السلام صاحب شریعت نہیں ہیں ۔ یعنی سب اولوالعزم پیغمبر نہیں ہیں ، بعض پیغمبر ایک قبیلہ کے لئے تھے اور بعض ایک علاقہ کے لئے تھے۔ ان کی ذمہ داریاں اولوالعزم پیغمبروں جیسی نہ تھیں(مصنف) بعثت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کا اپنےزمان علیہ السلامے کے متکبر اور طاغوت (رامس دوئم) فرعون کے خلاف قیام جس کی بنا پر آپ نے اسے اور اس کے لشکر کو برباد و فنا کردیا اور آپ نے اسرائیلی تمدن کی بنیاد رکھی۔

۲۔ طالوت کا سموئیل علیہ السلام نبی کی تائید سے جالوت جیسے طاغوت وسرکش حکمران کے خلاف قیام اور حضرت داود علیہ السلام کی مدد سے اسے قتل کیا اور اپنی حکومت تشکیل دی۔

۳۔ ذوالقرنین (کورش کبیر) جس کا قرآن میں اچھے الفاظ سے تذکرہ کیا گیا ہے انہوں نے ظلم و ستم کے خلاف بلکہ شرک کے خلاف اپنے قیام کے لئے لشکر کشی کی اور سلسلہ ہخا منشیاں کے سردار ٹھہرے ۔

۴۔ اگر چہ رسول کریم مکہ میں پیدا ہوئے اور اعلان رسالت بھی وہیں کیا مگر آپ نے اپنی تحریک کا باقاعدہ آغاز و قیام مدینہ سے کیا آپ نے بہت سی جنگیں لڑیں اور تقریباً اا(گیارہ) سال تک فتح مکہ کے بعد اپنی اسلامی تحریک کو دنیا کی دیگر جہات میں پھیلایا۔(آپ نے مدنی زندگی کے دوران چھوٹے بڑے ۰۷ معرکے دشمنوں کے خلاف لڑے)

۵۔ عثمان بن عفان کے قتل کے بعد لوگوں کی عمومی درخواست اور اصرار پر حکومت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام نے سنبھالی اور اپنے قیام کے لئے راہ ہموار، دیکھ کر آمادہ ہوئے کہ ایک بے نظیر عادلانہ اسلامی حکومت قائم کریں یہی وجہ ہے کہ جب آپ لوگوں سے بیعت لے چکے تو آپ نے فرمایا ”قمت بالامر“ میں نے امر کی بجاآوری کے لیے قیام کیا ہے اور آپ علیہ السلام نے اس وقت مدینہ کے ہر فرد کو تین سونے کے سکے دیئے آپ نے اپنے لئے اور حسنین علیہ السلام شریفین اور باقی بنی ہاشم اور اپنے خواص کے لئے بھی دوسروں کی طرح تین سکے ہی مخصوص کئے ہر ایک صاحب سکہ طلا ہوا۔(نہج البلاغہ خطبہ نمبر۵، ص۷۵)(ترجمہ فیض الاسلام)

امام زمان علیہ السلام کی عالمی تحریک اور قیام

آپ کی تحریک و قیام کی بنیاد اللہ کے فرمان پر مبنی ہے وہ تحریک مکہ سے شروع ہو گی جس کے آغاز میں ۳۱۳ ،افراد جو کہ سب کے سب برگزیدہ اور شائستہ فرد ہوں گے مدینہ اور عراق کے علاوہ تمام نقاط جہان میں پہنچیں گے اور امام زمان علیہ السلام اپنے طے شدہ طریقہ و پروگرام جو کہ ان کو علم ہے کے مطابق تمام دنیا کو فتح فرمائیں گے اور دجال کے قتل کے بعد تمام دنیا ہمیشہ کے لئے حضرت امام زمان علیہ السلام اور ان کے خانوادہ عصمت کے زیر اثر ہوجائے گی۔

حضرت امام زمان علیہ السلام کی تحریک کے بنیادی ارکان

آپ کی تحریک کے چار ارکان ہیں

۱۔ رہبر ۲۔ تحریک کے مقصد کا اجراء ۳۔ قانون اور پروگرام ۴۔بجٹ

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ظہور امام زمان علیہ السلام بارے وعدہ فرمایا ہے کہ ”( وعداللّٰهُ الذین امنوا منکم وعملواالصالحات یستخلفنهم فی الارض ) “۔ (سورئہ نور ۵۵)

جو لوگ ایمان لائے اور اعمال شائستہ بجالائے اللہ تعالیٰ کا ان سے وعدہ ہے کہ انہیں زمین پر اپنا جانشین و خلیفہ بنائے گا۔ہم اس جگہ اختصار کے ساتھ حضرت امام زمان علیہ السلام کی عالمی حکومت و تحریک کے ارکان بارے بحث کریں گے۔

۱۔ رہبری وقیادت

ہر تحریک کی کامیابی کےلئے رہبر کلیدی حیثیت رکھتا ہے اس عالمی حکومت و تحریک کی رہبری ایک معصوم رہبر کے پاس ہوگی جو علمی کمالات اور معنوی فضائل میں اور اخلاقی امور میں اعلیٰ و والا ہوں گے۔

۲۔ تحریک کے مقاصد کا اجراء

آپ کے اہداف کے جاری کرنے والے، ۳۱۳، اصحاب باوفا اور آہنی عزم جو کہ انتہائی مہذب اور خود سازی میں اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے اور کامل انسان ہوں گے جن کے ذریعے اجرائی کام ہوں گے مثلاً آپ کے لشکر کی کمانڈ منصف وجج اورگورنر یہی لوگ ہوں گے قرآن میں ان لوگوں کے اوصاف کا تذکرہ ہے۔

۳۔ آئین و قانون حکومت امام زمان علیہ السلام

آپکی عالمی حکومت کا آئین و قانون قرآن کی بنیادپر ہوگا جسکے معانی اور مفاہیم سے امام علیہ السلام آشناءہوں گے اسکے علاوہ تمام آسمانی اور زمینی علوم بارے سب سے زیادہ عالم وبا خبر ہونے کی وجہ سے اور آپ کا خالق کائنات سے مربوط ہونے کی بنا پر تمام بیش آمدہ مشکلات حل ہوتی جائیں گے۔

۴۔ بجٹ

آپ کی عالمی حکومت میں زمین اپنے خزانے آپ پر ظاہر کر دے گی بلکہ باہر نکال دے گی دوسری طرف آسمان سے رحمت خدا اورآسمانی برکات مثل بارش کے برسیں گی اس بارے امیرالمومنین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ اسزمان علیہ السلامہ میں اگر ایک کسان دس سیر گندم یا چاول کاشت کرئے گا تو وہ اس سے سات سو گنا زیادہ حاصل لے گا مکہ اور مدینہ میں مسلسل کھجوروں کا بصورت باغات بار آور ہونا اور حضرت آدم علیہ السلام کےزمان علیہ السلامہ کی طرح ہر طرف قیمتی سبزوں کا اگ آنا اور زمین و آسمان میں دروازہ ہائے رحمت کاکھل جاناجس کی طرف سورئہ اعراف کی آیت نمبر۸۵۔۷۵ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ خرچ دفاع پر کیاجاتا ہے اس وقت ہر ملک کے بجٹ کا بہت زیادہ حصہ اس شعبہ پر خرچ ہوجاتا ہے آپ علیہ السلام کی حکومت میں یہ بجٹ حذف کرکے عوام کی ترقی اور فلاح پر صرف کیا جائے گا ہمارے اسزمان علیہ السلامہ میں بجٹ کے غلط طور طریقوں اور غلط استعمال کو آپ آکر ختم کر کے صحیح خطوط پر بجٹ تیار کریں گے اور دنیا میں مالی نظام کی تمام خرابیوں کی اصلاح کریں گے جس کی وجہ سے آپ کی عالمی حکومت کا بجٹ ایک مثالی بجٹ ہوگا۔

تحریک امام زمان علیہ السلام کا دیگر تحریکوں سے فرق

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون “۔

” میں نے نہیں پیدا کیا جن اور انس کو مگر عبادت کے لئے“۔

۱۔ آپ کی حکومت ہمہ جہتی ہوگی آپ کی تحریک ، آپ کی حکومت مادی لحاظ اور تعلیم و تعلم کے اعتبار سے،پرورش اور تربیت کے لحاظ سے، عدالت و فیصلہ جات کے لحاظ سے، ان کا انداز حکومت اور روابط مثالی اور منفرد ہوں گے آپ کی حکومت میں علاج و معالجہ کی سہولت وافرمقدار میںہوگی میڈیکل کی سہولیات سب کے لئے یکساں ہوںگی۔

۲۔ آپ کی تحریک اور حکومت معنوی اور روحانی اعتبار سے بھی منفرد ہوگی مذہب حقہ کی ترویج ہوگی، راہ سیروسلوک الی اللہ واضح ہوگا آپ کی حکومت میں لوگوں کا ہدف مال و دولت حاصل کرنا نہیں ہوگا بلکہ ان کا ہدف معنوی کمالات کا حاصل کرنا ہوگا اور روحانی تکامل ان کا مقصد ہوگا لوگ قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہوں گے آپ کی حکومت میں تمام لوگوں کا مرکز عبادت و خداوند کی رضایت اور تقرب کا حصول ہوگا۔

۳۔ آپ کی حکومت اور تحریک عالمی ہوگی جوپوری کرہ ارض پر محیط ہوگی۔

۴۔ آپکی تحریک پائیدار اور مضبوط ہوگی اور ابدی وہمیشہ رہنے والی ہوگی چونکہ شیطان اور اسکا لشکر اور انسان و جن میں موجود شیاطین سب ختم ہوجائیں گے تمام ظالم حکمرانوں کا خاتمہ ہوگا۔

امام زمان علیہ السلام کی حکومت کے نام

آپ کی حکومت کے چند نام تحریر کئے گئے ہیں ہم ان میں سے کچھ ناموں کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

۱۔ حکومت کریمہ

یعنی آپ کی حکومت کا محور ومرکز کرامت و بزرگی ہوگا جیسے کہ مفاتیح الجنان کی ماہ رمضان میں پڑھی جانے والی دعائے اافتتاح میں درج ہے کہ ”اللهم انانرغب الیک فی دولة کریمة تعز بهاالاسلام واهله، وتذل بها النفاق واهله “۔ اے خدایا ہم سب ایک ایسی کریم حکومت کے مشتاق و خواہشمند ہیں کہ جس میں اسلام اور اہل اسلام عزت والے ہوں اور اس حکومت کی وجہ سے منافقین ذلیل وخوار ہوں گے۔(مفاتیح الجنان دعائے افتتاح)

۲۔ حکومت صالحین

یعنی صالح اور باکردار لوگوں کی حکومت قرآن مجید کی سورئہ انبیاء علیہ السلام میں ہے:”ان الارض یرثہا عبادی الصالحون“(انبیاءآیت ۵۰۱)” زمین کے وارث صالح بندگان خدا قرار پائیں گے“۔

۳۔ حکومت مستضعفین

آپ کی حکومت میںضعیف اور کمزور لوگوں کی حکمرانی ہوگی جیسا کہ قرآن مجید کی سورئہ قصص کی آیت نمبر ۵ میں ارشاد ہے ”( نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلهم اءمةً ونجعلهم الوارثین ) “(قصص آیت۵) ”ہم نے ارادہ کیا ہے کہ کمزور اور مستضعف لوگوں کو امام اور رہنما بنایں اور انہیں زمین کا وارث قرار دیں“۔

۴۔ حکومت حق

”للحق دولة وللباطل جولة “کے مصداق حکومت حق کے لئے ہے باطل کی صرف بھاگ ڈورہوتی ہے جن کی حکومت کو دوام ہے، باطل کی حکومت وقتی ہے۔

۵۔ آخری حکومت

آپ کی حکومت کے ناموںمیں سے یہ بہترین نام ہے ارشاد امیرالمومنین علیہ السلام ہے کہ:

لیس بعد ملکنا ملک لانا اهل العاقبة یقول اللّٰه عزوجل والعاقبة للمتقین “۔

ہماری حکومت کے بعد کوئی حکومت نہیں ہے کیونکہ ہم اہل عاقبت ہیں اور ارشاد خداوندی ہے کہ عاقبت متقیوں کے لئے ہے اور اسی طرح قرآن میں ہے کہ :

( ان الارض یرثها من یشاءمن عباده والعاقبة للمتقین ) “ (سورہ اعراف ۶۲۱)

پس بتحقیق جسے وہ چاہے اسے اپنے بندگان سے زمین کاوارث بنائے گا اور عاقبت متقین کے لئے ہے۔ ایک اور روایت میں امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں ’دولتنا اٰخِرُالدول ولم یبق اهل بیتٍ لهم دولة الا ملکوا قبلنا وهو قول اللّٰه ”عزوجل( والعاقبة للمتقین ) “۔

ہماری حکومت آخری حکومت ہوگی ہر خاندان کے لئے حکومت ہوگی جو کہ ہم سے پہلے حکومت کریں گے آخری حکومت ہماری ہوگی کیونکہ ارشاد خداوندی ہے کہ عاقبت و انجام متقیوں کے لیے ہے۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

لِئِلّٰا یقولوا اذٰا را واسیرتنا، اذ ملکنا سرنا مثل سِیرَةِ هﺅلاء “۔ (غیبت شیخ طوسی ص ۲۸۲)

ہم سے پہلے تمام گروہ حکومت کرلیں گے لیکن جب آخر میں ہماری حکومت کاانداز دیکھیں گے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ اگر ہمیں حکومت ملتی تو ہم اسی طرح حکومت کرتے اوران کی (امام مہدی علیہ السلام) روش پر عمل کرتے۔

آخر میں ہم ایک شعر جو کہ آئمہ علیہ السلام کی طرف منسوب ہے تحریر کرتے ہیں ۔

لِکُلّ اُنَاسٍ دولةً یَرقُبُونها

وَ دولتُنا فی اَخِرِالدهریظَه ر

ہر گروہ اور جماعت کے لئے حکومت ہے جس کے وہ منتظر ہیں ، ہماری حکومت آخریزمان علیہ السلامہ میں ہوگی اور ظاہر ہوگی اوروہ آخری حکومت ہوگی۔

اب تک تحریر شدہ دلائل جو نقل کیے ہیں وہ سب آیات اورروایات سے ا خذکیے گئے ہیں اب ہم آپ علیہ السلام کی حکومت کے حوالے سے کچھ عقلی دلائل تحریر کرتے ہیں ۔

۱۔ عدالت، تمام بشریت کی ضرورت ہے اور ہرانسان عدالت کا محتاج اور غرض مند ہے ۔

۲۔ خداوند کریم نے زمین کو بغیر امام اور انصاف کرنے والے کے نہیں چھوڑ رکھا۔

۳۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ عدالت و انصاف کو قبول کرے اور تمام انسان اس وقت تک انصاف کو قبول نہیں کریں گے جب تک کہ ان کے لئے تمام انصاف کے دروازے بند نہ ہوجائیں اور پھر وہ اللہ سے عدل و انصاف کی فریاد کریں اور انصاف و عدالت سوائے ظہور امام علیہ السلام اور حکومت امام علیہ السلام کے ممکن نہیں ہے۔(غیبت شیخ طوسیؒ، ص۲۸۲)

آخری زمان علیہ السلامہ

آخریزمان علیہ السلامہ سب سے برازمان علیہ السلامہ ہوگا وہزمان علیہ السلامہ نافرمانی اور خودپسندی اور خود سری کازمان علیہ السلامہ ہوگا، وہزمان علیہ السلامہ بشر کی بدبختی کا آخریزمان علیہ السلامہ ہوگا، ظلم وجور سے کرہ ارض پر ہوگاہر طرف افراتفری کا عالم ہوگا، دہشت گردی عام ہوگی، لوگ عدل وانصاف کو ترسیں گے تو پھر خداوند عالم ایک امام عادل و منصف حاکم کو اذن ظہور دے گاتاکہ دنیا پر عدل و انصاف کی حکمرانی قائم کرے ۔

(من لایحضر الفقیہ)


باب دوئم

حکومت الٰہی کا قیام

عدل و انصاف سے زمین کا زندہ ہونا

ارشاد خداوندی ہے کہ : ”( اعلموا ان اللّٰه یحیی الارض بعد موتها قد بینّالکم الایات لَعَلّکُم تعقلون ) “۔ (سورئہ حدید ۷۱)

خداوند عالم زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کرے گا اللہ نے تمہارے لیے اپنی واضح نشانیاں بیان کردی ہیں تاکہ تم سوچ و بچار کرو۔شیخ طوسی اپنی کتاب الغیبتہ میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں جو کہ اسی آیت کے ضمن ہے کہ خداوند کریم قائم علیہ السلام آل علیہ السلام محمد کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کرے گا یعنی ظلم و جور کی وجہ سے مردہ زمین کو عدل و انصاف کے ذریعہ زندہ کرے گا۔زمین ظلم وجور سے ویران ہوچکی ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے آخری نمائندہ کے ذریعہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گافخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں بھی یحیی الارض بارے یہی تفسیر کی ہے کہ زمین عدل و انصاف کے ذریعہ زندہ ہوگی۔

قرآن مجید میں بائیس (۲۲) مقامات پر کلمہ” اعلموا “استعمال ہوا ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بعد میں ذکر ہونے والے مطالب کو خوب سمجھ اور سوچ بچار کرلو جہاں پر عالمی عادلانہ حکومت کے قیام کی بات کی گئی ہے ان آیات میں اعلموا سے بات کی گئی ہے ۔

( وَاَتَّقُو اَللّٰهَ وَآع لَمُوا ا نَّ اللّٰهَ شَدِیدُ ال عِقَابِ ) “۔ (سورہ بقرہ۶۹۱)

”لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے“۔

( وَآع لَمُوا ا نَّ اللّٰهَ یَحُولُ بَی نَ اَلمَر ئِ وَقَل بِهِ ) “۔ (سورہ انفال ۴۲)

”اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان آر بن جایا کرتاہے اور بلاشتہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے“۔

( وَآع لَمُوا ا نَّمَا ا م وَالُکُم وَا و لاَ دُکُم فِت نَة وَا نَّ اَللّٰهَ عِن دَهُ ا جر عَظِیم ) “۔(انفال آیت ۸۲)

”اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے“۔

( وَاِن تَوَلَّو ا فَاع لَمُوا ا نَّ اللّٰهَ مَو لاَکُم نِع مَ اَلمَو لَیٰ وَنِع مَ اَلنَّصِیرُ ) “۔ (انفال آیت ۰۴)

”اور اگر رو گردانی کریں تو یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارا کارساز ہے، وہ بہت اچھا کارساز ہے اور بہت اچھامدد گارہے“۔

( وَآع لَمُوا ا نَّمَا غَنِم تُم مِن شَى ئٍ فَا نَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى وَاَل یَتَامَیٰ وَاَل مَسَاکِینِ وَاَب نِ اَلسَّبِیلِ ) “۔ (سورہ انفال ۱۴)

”جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں اور مسکینوں کا اور مسافروں کا“۔

( اَع لَمُوا ا نَّمَا اَلحَیَاةُ اَلدُّن یَا لَعِب وَلَه و وَزِینَة وَتَفَاخُر بَی نَکُم وَتَکَاثُر فِى اَلا م وَالِ وَاَل ا و لاَدِ ) “۔ (سورہ حدید ۰۲)

”خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (وغرور) اور مال و اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے“۔

حضرت امام زمان علیہ السلام کی عالمی حکومت

قرآن مجید کی بہت زیادہ آیات میں امام زمان علیہ السلام کی عالمی حکومت بارے خبر دی گئی ہے اور کافی مفسرین نے اسکی تفسیر بھی اسی حوالے سے کی ہے ہم چند ایک آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

۱۔ ”( وعداللّٰه الذین اَمنوامنکم وعملو الصالحات لیستَخ لِفَنَّهُم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم ولَیمکنن لهم دِینهم الذی ارتضیٰ لهم ولیبدلنهم من بعد خوفِهِم اَم ناً یعبدو نَنَی لایُشِرِکُون بی شیاء ومن کفر بعد ذٰلِکَ فا ولَئَک هم الفاسقون ) “۔ (سورئہ نور ۵۵)

خداوند کریم نے تم میں سے ایسے لوگوں کے ساتھ وعدہ کررکھا ہے جو نیک اعمال بجالاتے ہیں اور صاحبان ایمان ہیں کہ انہیں ہر صورت زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا گیا تھا اور ان کے دین کو ہر صورت کامرانی دے گا جو کہ اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اور ہر صورت ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا تاکہ وہ میری عبادت کریں اور کسی کو میرا شریک نہ بنائیں اور جو کوئی اس کے بعد کافر ہوگیا،اس نے کفران نعمت کیااور میرے دائرہ حکم سے باہر نکل گیا، میری بندگی سے خارج ہوگیا تو ایسے افراد ہی فاسق ہیں کچھ مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس کے ضمن میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ :

۱۔ اس آیت میں وعدہ خلافت خداوندی پوری امت اسلام سے نہیں ہے بلکہ اس امت کے مومنین سے وعدہ ہے جو عمل صالح کرنے والے ہیں اس آیت میں کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ ان مومنین سے مراد اصحاب پیغمبر ہیں یا خود ذات پیغمبر اور آئمہ اہل بیت علیہ السلام ہیں ۔

۲۔ اس آیت میں جو وعدہ خلافت ہے اس خلافت سے مراد ایک صالح معاشرہ اورنیک اجتماع کی تشکیل ہے مومنین میں سے جو زمین کے وارث قرار پائیں جس طرح کہزمان علیہ السلامہ گذشتہ میں گذشتہ امتوں سے مومنین کو وارث زمین بنایا گیا اور وہ وارثان زمین صاحب شان و شوکت اور قدرت،صاحب قوت تھے یہ مناسب نہیں کہ خداوندکریم اپنے باعظمت انبیاء علیہ السلام کرام کےلئے لفظ ”الذین من قبلهم “ استعمال کرے اور پھر اس حکومت سے ان ہی کی حکومت مراد لی جائے بلکہ اس آیت میں ارادہ خلافت الٰہی سے مراد حکومت داود علیہ السلام اور حکومت سلیمان علیہ السلام یا دیگر انبیاء علیہ السلام کرام نہیں ہے جو کہ اپنےزمان علیہ السلاموں میں اپنی امت پر ولایت رکھتے تھے بلکہ اس خلافت سے مراد ایک صالح معاشرہ، اجتماع کی تشکیل ہے اور ایک صالح حکومت کا قیام ہے فقط عالم ولایت مراد نہیں ہے۔

۳۔ جس پسندیدہ دین کے کامیاب وکامران ہونے کا اس آیت میں کہا گیا ہے ایسا دین ہے کہ جسکے اصول میں اختلاف نہیں ہے اور وہ دین اپنے احکام کو جاری کرنے میں سستی نہیں کرتا اور اس دین پر عمل کرنےوالے اس کے فروع پر عمل کرتے ہیں اور ان کے معاشرے میں نفاق نہیں ہے بلکہ اس دین کی وجہ سے ان کے معاشرے میں امن اور آسودگی ہے اور اجتماعی سلامتی ہے۔

۴۔ ”یعبدوننی“ سے مراد ایسا حق عبادت ہے کہ جو مکمل اخلاص کے ساتھ انجام دی جائے جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔

مفسرین ایسی تفسیر کے ضمن میں کہتے ہیں کہ حق یہی ہے کہ یہ آیت سوائے اس اجتماع کے جو ظہور امام مہدی علیہ السلام کے بعد امام علیہ السلام کے انصار و اصحاب سے تشکیل پائے گا کسی اور پر منطبق نہیں ہوتی مفسرین کی تحریروں کا خلاصہ یہ ہے کہ:

۱۔ اس آیت میں درج خلافت سے مرادپوری امت کی عمومی خلافت نہیں ہے۔

۲۔ اس خلافت سے مرادپیغمبر اورآئمہ علیہ السلامکی خلافت بھی نہیں ہے۔

۳۔ خلافت و جانشینی سے مراد حضرت امام مہدی علیہ السلام اور انکے ۳۱۳، انصار ہیں اس اجتماع کا تذکرہ ہے۔جس نے آخری دور میں موجود ہوتاہے، جو صالحین کا اجتماع ہوگااور اسی دور کی حکومت مراد ہے۔

۴۔ تمکین دین سے مراد دین اسلام کی حکومت اور احکام دین کا رائج ہونا اور حکومت امام مہدی علیہ السلام اور ناصران امام مہدی علیہ السلام ہے۔

۵۔ اس اجتماع میں مکمل سلامتی اور امن ہوگا۔

۶۔ حکومت و خلافت امام زمان علیہ السلام میںاللہ کی خالص عبادت ہوگی۔

۷۔ کفر سے مراد کفران نعمت ہے فسق سے مراد اللہ کی بندگی کی حدود سے تجاوز ہے۔

امام زمان علیہ السلام کا عالمی عدل

قسط و عدل ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جسکا قرآن مجید میں بہت زیادہ تذکرہ ہے ان آیات میں سے ایک آیت ہے ”( انزلنا معهم الکتاب والمیزان لیقوم الناس بالقسط ) “۔(سورئہ حدید ۵۲)

ہم نے انبیاء علیہ السلام کرام کے ساتھ کتاب اور میزان بھیجا تاکہ لوگوں کو عدل و انصاف پر آمادہ کیا جائے یہ عالمی انصاف و عدل سوائے دست امام زمان علیہ السلام جو کہ انتہائی طاقتور ہاتھ ہے ممکن نہیں ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔ ”( یملاء الارض عدلاً وقسطاً کما ملئت جورًا وظلما ) “۔ (مہدی موعود ص۵۳۱۱)(یہ روایت تقریباً۰۰۳ بار ذکر ہوئی ہے)

حضرت امام مہدی علیہ السلام زمین کو عدل و انصاف سے پر کردیں گے جیسا کہ وہ زمین پہلے ظلم و زیادتی سے پر ہوگی روایات میں حضرت علی علیہ السلام سے وارد ہے کہ ظلم کی تین اقسام ہیں ۔

۱۔ وہ ظلم جو خداوند نہیں بخشے گا وہ ظلم شرک ہے ۔ ”ان الشرک مظلم عظیم “۔

۲۔ وہ ظلم جسے خدا معاف نہیں کرے گا وہ دوسروں پر ظلم ہے۔

۳۔ وہ ظلم جسے اللہ معاف فرما دے گا بشرطیکہ انسان توبہ کرے وہ ہے اپنے آپ پر ظلم۔

(مہدی علیہ السلام موعود ص۵۳۱۱)

دوسروں پر ظلم کی اقسام

۱۔ کسی کے مال پر تجاوز وظلم ۲۔ کسی کی جان پر تجاوز وظلم

۳۔ کسی کی ناموس پر زیادتی اور ظلم ۴۔کسی کی حیثیت اور آبرو پر ظلم

زمانہ حکومت امام زمان علیہ السلام میں تینوں اقسام کے ظلم ختم ہوجائیں گے۔

۱۔ ظلم وستم،شرک و کفر کا خاتمہ

قرآن فرماتا ہے کہ ”( هوالذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق لیُظهَرهُ علی الدین کلّه ولوکره المشرکون ) “(توبہ آیت۳۳) وہ خدا کہ جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کےساتھ تاکہ غالب کرے دین کو تمام ادیان پر اگرچہ یہ بات مشرکین کوناگوار ہی کیوں نہ ہو

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ”( اذخرج القاءم علیه السلام لم یبق کافرا ولا مشرک الا کره خروجه حتی لوکان کافراو امشرک فی بطن صخرة لقالت الصخرة یامومن فی بطنی کافراومشرک فاقتله فینحیه اللّٰه فیقتلهُ ) “ ۔(بحارالانوار ج۱۵، ص۰۶)

امام علیہ السلام فرماتے ہیں ”جب ہمارا قائم ظہور کرے گا توکوئی کافر یا مشرک باقی نہیں بچے گامگر یہ کہ قائم کا ظہور اسے ناگوار ہوگا یہاں تک کہ اگر کوئی کافر یا مشرک کسی پتھریلی چٹان کے نیچے چھپا ہوگا تو وہ چٹان مومن سے کہے گی کہ اے مومن میرے نیچے کافر یا مشرک چھپا ہے اسے قتل کردے گاپس وہ مومن اسے قتل کر دے گا۔

دوسروں پر ظلم کا خاتمہ

فاذا خَرجَ اشرقت ِ الارض بنور رَبّهٰا ووضع میزان لعَدلِ بین الناس فلایَظِل م احدحَد ا “۔ (بحار الانوار ج۲۵ ص۲۲۳)

جب حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا توز مین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی وہ مہدی علیہ السلام معیار عدل و انصاف کو لوگوں میں برقرار کرے گا تو اس وقت کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا یہ بات واضح رہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ حیوانات کے حقوق کی رعایت بھی لازم ہے حتیٰ کہ نباتات وغیرہ کی سلامتی کو بھی مدنظر رکھا جائے گاان کے حقوق کی خلاف ورزی بھی دوسرں پر ظلم ہوگا۔

اپنے اوپر ظلم کا خاتمہ

حضرت رسول اکرم فرماتے ہیں ”یملا قلوبَ عِبَاده یسعهم عدله “۔ نیز آپ کا فرمان ہے ”به یمحق اللّٰه الکذب ویُذهب الزمان الکلب وبه یُخرج ذُلَّ الّرِقِّ مِن اعناقِکُم “ مہدی علیہ السلام لوگوں کے دلوں کو عبادت کے جذبے سے بھر دے گا، اس کا عدل و انصاف ہر کو شامل ہوگا خداوند کریم اس کے ذریعہ جھوٹ کوزمان علیہ السلامہ سے ختم کر دے گا،مشکل حالات آپ کے ذریعہ ختم ہوجائیں گے طوق ذلت و رسوائی کو آپ کے دور حکومت میں لوگوں کی گردن سے اتار لیا جائے گا۔(شیخ طوسی ص۱۱۱،۴۱۱)(بحارالانوار ج۲۵ ص۲۲۳)

عمومی عدل

جسطرح ظلم کا تذکرہ ہوا ہے مناسب ہے کہ عدل کل الٰہی کا تذکرہ بھی کیا جائے جسکی چار قسمیں ہے

۱۔ تکوین وخلقت میں عدل۔”( الذی خَلقَکَ وسُوَّاک ) “۔ (سورئہ انفطار۸) ”( قاءماً بالقسط ) “۔(سورئہ آل عمران ۸۱)

۲۔ عدل در تقدیر۔ ”لاجبرولاتفویض

۳۔ عدل اور تشریع۔ اس کے سارے قوانین مبنی بر عدل ہیں ۔

۴۔ سزا و جزا میں عدل جو کہ ثابت ہے

حضرت امام زمان علیہ السلام کے وزیر اعظم اور وزراء

( واجعل لی وزیرًا من اهلی هارون اخی ) “۔ (سورئہ طہٰ ۰۳۔۹۲)

”اے خدایا میری اہل سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر قرار دے“۔

جیسا کہ تمام انبیاء علیہ السلام کے وزیر اور پرچم دار و کمانڈر ہوتے رہے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہارون علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے آصف برخیا، رسول اکرم کے لئے حضرت علی علیہ السلام، اسی طرح امام زمان علیہ السلام کے لئے بھی وزیر اور پرچم دار ہیں بعض علماءکے بقول حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ علیہ السلام کے وزیر اعظم ہیں اور بعض کے بقول حضرت شعیب بن صالح علیہ السلام وزیر اعظم ہیں ممکن ہے ہر دو صورتیں صحیح ہوں اور امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد تک شعیب علیہ السلام بن صالح وزیر رہیں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں تو پھر وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوں ۔امام زمان علیہ السلام کے ۲۱ نقیب ، نمائندے ہیں جن کے ذریعہ تمام امور انجام دیئے جانے ہیں بہتر ہوگا کہ وہ تمام امور جو انجام دیئے جانے ہیں ان کی طرف بھی اجمالی اشارہ کیا جائے۔

ادارہ جاتی امور

۱۔ تعلیم وتزکیہ

تمام تر تربیت کا دارومدار تزکیہ پر ہے گھر سے لے کر معاشرہ تک تمام امور میں تزکیہ اولین شرط تربیت ہے۔ آج ناقص تعلیم و تربیت کی وجہ سے جھوٹ ، رشوت، خیانت، تجاوز، جنایت نے معاشرہ کے تمام پیروجوان حتیٰ کہ بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، امام زمان علیہ السلام کی حکومت میں تمام امور میں تربیت کا حکم جاری کیا جائے گا اور ان تعلیمات و تربیتی اصولوں کی روشنی میں عورت اپنے گھر میں بیٹھ کردینی احکامات بارے اس قدر مطلع ہوگی اور عمل کرے گی جیساایک مجتہد جامع الشرائط مطلع ہوتاہے۔

۲۔ بیت المال

نہ صرف یہ کہ امام زمان علیہ السلام کی حکومت میں بیت المال سے سُوئِ استفادہ نہیں ہوگااور اس کا غلط استعمال نہ ہوگا بلکہ تمام لوگوں میں بیت المال مساوی تقسیم ہوگا حکومت امام زمان علیہ السلام میں لوگوں کو ایک ماہ میں دوبار تنخواہ دی جائے گی اور سال میں دو بار بونس بھی دیا جائے گا۔

۳۔ امن عامہ کی صورتحال

تین چیزیں بدامنی کا باعث ہوتی ہیں ۔

۱۔ فقرو محرومیت جو کہ چوری ، خیانت، رشوت اور فساد کا موجب بنتی ہے۔

۲۔ بے ایمانی یا ایمان کی کمزوری بدامنی کا باعث ہوتی ہے ۔

۳۔ صحیح قانون اور انصاف کی عدم فراہمی ایڈمنسٹریشن کی کمزوری، عدم تدبر اور موجودہ روش سیاست بھی بدامنی کا موجب بنتی ہیں ۔

امام زمان علیہ السلام کی حکومت کی برقراری سے پورے عالم میں عدل و انصاف کی حکمرانی ہوجائے گی۔

۱۔ تمام لوگ آسودہ زندگی بسر کریں گے اور آپ کی حکومت میں محتاجی ختم ہوجائے گی۔

۲۔ شیطان اور دیگر شریر لوگ قتل کر دیئے جائیں گے جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایمان محکم جاگزین ہوجائے گا حرص و طمع کو جڑ سے اکھاڑ دیاجائے گا جس کی وجہ سے آپ کی حکومت میں مکمل امن اور سکون ہوگا اور امن عامہ کاکوئی مسئلہ نہ ہوگا۔

۳۔ صحیح قوانین اور انصاف وعدل کی صحیح اور جلد فراہمی لائق اور بابصیرت ایڈمنسٹریشن اور تدبیر و پرہیز گاری کی وجہ سے کسی قسمی بدامنی پیدا نہیں ہوگی نہ ہی عمداً بدامنی ہوگی اور نہ ہی سہواً بد امنی ہوگی۔امن ہی امن ہوگا،سکون ہی سکون ہوگا،خوشحالی ہوگی۔قرآن مجید ”( القوي الامین ) “ کا نقطہ استعمال کیا گیا ہے۔ (سورہ نمل ۹۳)

۴۔ قضاوت حضرت امام زمان علیہ السلام

۱۔ حضرت امام زمان علیہ السلام ہمارے موجود ہ قوانین کے مطابق فیصلے نہیں فرمائیں گے کیونکہ آج کل دنیا میں لاکھوں قانون اور طریقہ ہای قضاوت وعدالت موجود ہیں جن میں سے اکثر قوانین خلاف عقل و خلاف قوانین آسمانی ہیں ، مثلاً آج ہم جنس پرستی اور لواطت وغیرہ تک کے لئے قانون سازی کر کے اس قبیح عمل تک کو جائز قرار دے دیا گیا ہے، اسی طرح سود کو قانونی تحفظ مل چکا ہے حالانکہ یہ سب کچھ قوانین الٰہی کے خلاف ہیں امام زمان علیہ السلام اپنے دور حکومت میں ہر اس قانون کو ختم کردیں گے جو خلاف قرآن ہوگا آپ کا ہر حکم قرآن کے مطابق ہوگا آپ ہر حکم قرآن سے لیں گے یا آپ کو بذریعہ الہام راہنمائی حاصل ہوگی۔

۲۔ آپ لوگوں کے باطن سے آگاہ ہوں گے اور فیصلہ بھی لوگوں کے باطن سے آگاہی کی بنیاد پر کریں گے آپ قسم وغیرہ پر فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ لوگوں کے دلوں میں موجود حقائق جان کر فیصلہ کریں گے حالانکہ نبی اکرم ظاہری اسباب و قسم وغیرہ کی بنیاد پر فیصلہ فرماتے تھے۔البتہ آپ کے آخری خلیفہ کو اللہ کی طرف سے یہ اذن مل جائے گا کہ وہ اپنے علم کی بنیاد پر فیصلے سنائیں۔

امام زمان علیہ السلام باطن پر عمل کریں گے آپ باطن کو جان لیں گے آپ علیہ السلام حضرت داود علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرح فیصلہ کریں گے آپ علیہ السلام فیصلہ میں کسی گواہ اور دلیل کے محتاج نہیں ہوں گے۔

۳۔ آپ علیہ السلام خود مظلوم کو تلاش کریں گے اور اس کے پیچھے جائیں گے ضروری نہیں کے متاثرین آپ علیہ السلام کے پاس آئیں تو آپ علیہ السلام تب فیصلہ کریں بلکہ آپ علیہ السلام خود مظلومین اور متاثرین کی دادرسی کے لئے ان تک پہنچیں گے کیونکہ آپ علیہ السلام کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کو عدل و انصاف سے پر کریں آپ ایسے مظلوموں تک خود پہنچیں گے جن کی آواز کوئی نہیں سنتا یا وہ جرات اظہار نہیں رکھتے آپ علیہ السلام انہیں ان کا حق دلائیں گے آپ کے مقرر کئے ہوئے حاکم جو کہ پوری دنیا میں ہوں گے جب انہیں کوئی مشکل پیش آئے گی تو وہ اپنی ہتھیلی کی طرف دیکھیں گے ان پر حکم حقیقی اورصحیح وضعیت ظاہر ہوجائے گی جس کی بنیادپر وہ عدالت لگائیں گے اور فیصلہ کریں گے خلاصہ یہ کہ آپ کے مقرر کردہ حاکموں کو ہر وقت آپ علیہ السلام کی سرپرستی و راہنمائی حاصل ہوگی۔

آپ علیہ السلام کے دور حکومت میں اجتماعی زندگی

آپ علیہ السلام کے دور پر نور میں فقر و تنگدستی ختم ہو جائے گی جہالت نابود ہو جائے گی، ہر قسمی ظلم و ستم ختم ہوجائے گا اسلامی احکامات ہر ایک پر واضح ہو جائیں گے اور احکام قرآن پوری دنیا میں پھیل جائیں گے پورا عالم بشرتین گواہیوں کے پرچم تلے اکھٹا ہو جائے گا۔

(مہدی علیہ السلام موعود ص۹۰۱۱) (بحارالانوار ج۲۵ ص۶۱۳)

توحید کی گواہی ،نبوت کی گواہی اور ولایت کی گواہی

آپ علیہ السلام کے دور حکومت میں زندگی اپنے تمام معنوی پہلووں کے ساتھ پورے عروج پر ہوگی حضرت ایسی شادیوں کو جو جبر و اکراہ کے ذریعہ کرائی گئی ہوں گی اور بے جوڑ و غیر مناسب شادیوں کو فسخ کردیں گے۔ آج کل پوری دنیا میں بجٹ کا اکثریتی حصہ دفاع اور فوجی سازوسامان پر خرچ ہورہا ہے، آپ کے دور حکومت میں جنگ وجدال نہ ہونے کی وجہ سے یہ تمام بجٹ رفاہ عامہ پر صرف ہو گا روایات میں درج ہے کہ اکیلی عورت عراق سے شام زیورات سے لدی ہوئی بیابان اور سرسبز و شاداب صحراوں میں سفر کرے گی لیکن کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا ایک اور روایت میں ہے کہ بھیڑ اور بھیڑیا ، گائے اور شیر آدمی اور سانپ و اژدھا ایک دوسرے کے ساتھ باہم زندگی بسر کریں گے اور ایک دوسرے سے مکمل محفوظ ہوں گے یہاں تک کہ چوہے کسی بوری یا تھیلی کونہیں کاٹیں گے، جزیہ ساقط ہوجائے گا، صلیب ٹوٹ جائے گی، تمام کرہ ارض پر خنزیر مار دیئے جائیں گے(بحارالانوار جلد۱۵، ص۱۶)(مہدی موعود ص۹۰۱۱بحارالانوارج۲ص۶۱۳،ص۲۱، ص۱۲۳،عصر ظہور ص۰۷۳)

آپ کے دور میں چھ عجیب کام

آپ علیہ السلام کے دور حکومت میں چھ عجیب و غریب کام انجام دیئے جائیں گے ۔

۱۔ امام زمان علیہ السلام لوگوں کے عقل کی سطح کو بلند کر دیں گے لوگوں میں عقلی شعور بڑھ جائے گا اور لوگ مکمل عاقل بن جائیں گے۔

۲۔ علم میں اضافہ کردیاجائے گا اور موجودہ علم سے کئی گناعلم و دانش میں اضافہ ہو جائے گا

۳۔ عدل بہت زیادہ ہو جائے گا عدل و انصاف اپنے عروج پر پہنچ جائیں گے۔

۴۔ آسمانوں اور زمینوں کے درمیان موجودپردے ہٹا دیے جائیں گے آسمانوں اور زمینوں میں موجود لوگوں اور دیگر مخلوقات کے درمیان آپس میں رابطے برقرار ہو جائیں گے۔

۵۔ معنویت کے دریچے کھول دیے جائیں گے انسان اور فرشتوں کے درمیان رابطہ ہو گا لوگ مُردوں سے رابطہ کر سکیں گے۔

۶۔ چالیس سال تک کوئی بیمار بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی فوت ہو گا ۔(کمال الدین باب ۷۵، جلد ۲، ص۵۷۶) (مہدی علیہ السلام موعود ص۵۱۱۱)(بحارالانوار ج۲۵ ص۶۳۳) (بحارالانوار ج۲۵ ص۱۲۳) (عصر ظہور ص۰۷۳)(الملاحم والفتن سید ابن طاوس ص۷۹)

امام زمان علیہ السلام کی مدت حکومت

آپ علیہ السلام کی حکومت کی مدت بارے مختلف روایات ہیں جن کی رو سے آپ کی حکومت کی مدت آٹھ سال، انیس سال، بیس سال، چالیس سال ، ستر سال، تین سو نو سال ذکر ہے ۔ لیکن میری نظر میں (مصنف) چالیس سال کی مدت عقل و نقل دونوں کی رو سے مناسب تر ہے البتہ از لحاظ عقل یہ مراد ہو سکتا ہے کہ ایک لمبی انتظار، ایک ایسے دور حکومت کے لئے جس کی مدت صرف ۷ یا ۹۱ یا ۰۲ سال ہونا مناسب نہیں ہے لیکن بالحاظ نقل امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کا خطبہ جو کہ آخر کتاب میں ذکر ہے دو خطبوں میں آپ کی حکومت کی مدت کی طرف ۰۴ سال کا اشارہ کیا گیا ہے کہ امام زمان علیہ السلام کی مدت حکومت چالیس سال ہوگی۔

جناب رسول اکرم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا اور انہوں نے دجال کو قتل کر دیا تو ایسی صبح آئے گی جس کا سورج مغرب سے طلوع ہوگا اس چالیس سال میں نہ کوئی بیمار ہوگا اور نہ ہی کوئی فوت ہوگا اس فرمان نبوی سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی حکومت کی مدت چالیس سال ہوگی۔ارطاة کہتا ہے کہ ہمیں جو خبر ملی ہے اس کی رو سے امام زمان علیہ السلام کی حکومت چالیس سال ہوگی آپ علیہ السلام چالیس سال پس از ظہور زندہ رہیں گے اور پھر آپ علیہ السلام کا انتقال طبعی موت سے ہوگا۔آپ کے شہید ہونے بارے صرف ایک کتاب الزام الناصب میں ذکر ہے اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں آپ کی شہادت بارے ذکر نہیں بلکہ طبعی موت کا ذکر ہے۔

یزدیؒ نے الزام الناصب میں یہ روایت یوں نقل کی ہے کہ جب امام زمان علیہ السلام کی حکومت کے ۶۷ سال پورے ہوگئے اور آپ علیہ السلام کا وقت موت قریب آیا تو بنی تمیم کی ایک عورت آپ علیہ السلام کو شہید کرے گی جس کا نام سعیدہ ہوگا اس کی مردوں کی طرح داڑھی ہوگی آپ راستہ سے گذررہے ہوں گے تو وہ عورت اپنے گھر کی چھت سے آپ پر پتھر کا بھاری برتن گرائے گی جس سے آپ کی شہادت واقع ہو گی جب آپ علیہ السلام کا انتقال ہوگا تو امام حسین علیہ السلام آپ علیہ السلام کی تجہیز وتکفین کریں گے۔

مرحوم علامہ قزوینی جو کہ کتاب”مھدی من المھدالی الظہور“ کے مصنف ہیں اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ آقائے یزدی نے جو امام کی شہادت کا ذکر ایک عالم دین کے کہنے پر انحصار کرتے ہوئے لکھا ہے اے کا ش وہ اس عالم دین کا نام بھی ذکر کر دیتے۔(عیون اخبارالرضا جلد۲، ص۶۵۲)

امام زمان علیہ السلام کی طبعی موت

میرے نزدیک (مصنف)امام زمان علیہ السلامہ کے قتل ہونے کے بارے ہمارے پا س دلیل نہیں ہے امام زمان علیہ السلام ہمارے باقی آئمہ علیہم السلام سے مستشنیٰ اور منفرد ہیں آپ کی وفات طبعی موت سے ہو گی جب کہ باقی سب کے سب شہید ہوئے۔امام زمان علیہ السلامہ چالیس سال بعد از ظہور دنیا سے انتقال کر جائینگے۔ امام زمان علیہ السلام کے شہید نہ ہونے کے بارے ہمارے پاس کچھ دلائل ہیں جنکا ہم تذکرہ کرتے ہیں ۔

۱۔ اگر یہ کہیں کہ آپ کی موت قتل سے ہو گی تو پھر نقص غرض لازم آتا ہے یعنی آپ کے قیام و ظہور کی غرض ظلم و جور کا خاتمہ ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ خود ظلم کا شکار ہوں اس کا مطلب ہے آپ نعوذ بااللہ ظلم ختم نہ کر سکے۔

۲۔ امام زمان علیہ السلامہ باطن سے آگا ہ ہیں دلوں کے بھید جانتے ہیں لوگوںکی نیتوں سے آگاہ ہیں کیسے ممکن ہے کہ ان کے بارے قتل کا ارادہ یا نیت کی جائے۔

۳۔ آپ کے قتل ہونےکے بارے کوئی معتبر مدرک اور روایت نہیں ہے۔

۴۔ مشہور مضمون جو کہ رسول خدا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ، امام رضا علیہ السلام و دیگر آئمہ سے مروی ہے کہ ”مَا مِنَّا اِلَّا مسموم ومقتول “ ہم میں سے کوئی زہر سے شہید ہو گا تو کوئی شمشیر و خنجر سے اس روایت کی صحت کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام زمان علیہ السلامہ کی ولادت اور آپ کی وفات اس قانون سے مستشنیٰ ہے

۵۔ جب شیطان اور تمام مفسد قتل کر دئے جائیں گے ظلم و جور کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ ایسا ظالم موجود ہو جو آپ کو شہید کرے۔

۶۔ جس عورت کی طرف آپ کے قتل کو منسوب کیا گیا ہے قتل کی وجہ یعنی وجہ عناد کا ذکر نہیں ہے۔لہٰذا یہ بات کہ حضرت امام زمان علیہ السلامہ علیہ السلامکو کوئی بدبخت عورت شہید کرے یہ بات درست نہیں ہے۔

امام زمان علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام

( ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لولیه سلطانا فلا یسرف فی القتل انه، کان منصورا ) “۔( سورہ اسرائیل ۳۳)

جو کوئی نا حق قتل کر دیا گیا ہم اس کے وارث و ولی کو سلطنت دیں گے کہ وہ انتقام میں زیادتی نہیں کرے گاوہ ہماری طرف سے مدد شدہ ہے روایات میں ہے کہ اس آیت میں مظلوم سے مراد امام حسین علیہ السلام ہیں اور ان کے خون کے وارث امام زمان علیہ السلام(عج) ہیں ۔

ہم یہاں امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے امام حسین علیہ السلامسے ارتباط بارے کچھ توضیح دیں گے۔

۱۔ زیارت ناحیہ میں ہے کہ امام زمان علیہ السلام صبح و شام امام حسین پر گریہ فرماتے ہیں

۲۔ امام زمان علیہ السلام کا ظہور اور قیام بھی روز عاشورہ ہو گا۔

۳۔ امام زمان علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے خون کے انتقام لینے والے ہیں ۔منتقم خون حسین!امام حسین کے روضہ مبارک کے گنبد پر نصب سرخ پرچم کی تنصیب اسی انتقام کی طرف اشارہ ہے کہ انتقام ابھی باقی ہے۔اسی لئے دعائے ندبہ میں ہم پڑھتے ہیں این الطالب بدم المقتول بکربلا کہاں ہے خون حسین کا حساب لینے والا۔

اسی لئے جب آپ کا ظہور ہو گا تو آپکے نعروں میں سے ایک نعرہ یہ ہو گا کہ یا لثارات الحسین علیہ السلام

۴۔ چہاردہ معصومین علیہ السلام میں پنجتن پاک علیہ السلام کے بعد امام زمان علیہ السلام کا مرتبہ و رتبہ بالا تر ہے امام حسین علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کا مقام بلند ہے۔

۵۔ امام زمان علیہ السلام اپنی وفات کے وقت زمام حکومت اپنے جدبزرگ امام حسین علیہ السلام کو دے جائیں گے جو کہ بذریعہ رجعت تشریف لاچکے ہوں گے۔

۶۔ حضرت امام زمان علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام ہی آپ کو غسل و کفن دیں گے اور آپ علیہ السلام کواپنی قبر میں اتار دیں گے۔ (بحارالانوار ج۳۵ ص۳۰۱)(تفسیر نورالثقلین جلد۳، ص۳۶۱)

زیباتراز زیبا

صورتگر گھلھا منم

زیباتر از زیبا منم

گر بنگری کونین را

آن ا حسن ال حُس نیٰ منم

دریای ہستی یک صدف

آن لو لو لا لا منم

خورشید آفاق وجود

ای چشم نابینا!منم

گر طالب دنیاستی

دنیا و مافیہا منم

گر عاشقی فردوس را

آن جنّة الما وی منم

گر والہ ای اللّٰہ را

مرآت آن یکتا منم

مجلای اللّٰہ الصمد

وان جملہ اسما منم

آن نور موسای کلیم

درسینہ سینا منم

آرندہ عیسی زچرخ

در آن شب یلدا منم

معراج راگر ببنگری

مصداق (ا َوا دنیٰ) منم

گر بشنوی آیات وحی

معانی (مَا ا و حَیٰ) منم

رہ گم مکن سوی من آی

آن مشعل دنیا منم

بعد از خداوند جہان

آن مقصد ا علامنم

در تنگنای زندگی

ملجایِ پا برجا منم

آن دیدہ بان خاکیان

از صفحہ خضرا منم

بر کرسی و لوح و قلم

بر سدرہ و طوبیٰ منم

آن نور چشمان رسول

وان گلشن زہرا منم

گنجینہ عشق و وفا

مہدیّ بی ہمتا منم

نور (حقیقت) را نگر

تنہا منم ، تنہا منم

(دیوان ”گنجینہ گوھر“)

تشکیل شد بعد از قرونی دولت قرآن

باطل سر آمد دورہ اش، دوران احمد شد

( وَیَو مَ نَح شُرُ مِن کُلَّ ا مَّةٍ فَو جاًمِّمَّن یُکَذِّبُ بِآیٰتِنَافَهُم یُو زَعُو نَ ) “۔

”اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر لائیں گے پھر وہ سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے“۔(سورہ نمل ۳۸)


فصل دہم

حکومت آل محمد علیہ السلام

خواص حکومت

اولاد امام زمان علیہ السلام

رجعت

رجعت معصومین علیہ السلام

دنیا کا انجام واختتام


پہلا باب

آپ علیہ السلام کی حکومت اور اولاد کے خواص

حضرت امام زمان علیہ السلام علیہ السلاماور آپ علیہ السلام کے ملازمین و خدمت گار

حضرت خضر علیہ السلام جن کا تذکرہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سورئہ کہف میں آیا ہے امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے مستقل دوست اور ملازم ہیں حسن بن علی فضال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے سنا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا حضرت خضر علیہ السلام نے آب حیات پیا ہے اور وہ زندہ ہیں تاوقتیکہ اسرافیل صور پھونکے گا حضرت خضر علیہ السلام زندہ رہیں گے وہ بوقت صور اسرافیل فوت ہوں گے۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام ہمارے پاس آتے ہیں ہمیں سلام کرتے ہیں ہم اس کی آواز سنتے ہیں لیکن وہ خود نظر نہیں آتے جہاں بھی خضر علیہ السلام کا نام لیا جائے وہ معنوی طور پر آجاتے ہیں ، پس تم جب بھی حضرت خضر علیہ السلام کا نام لو تو اس پر سلام کیا کرو وہ ہر سال حج کے موسم میں آتے ہیں حج کے تمام اعمال بجا لاتے ہیں وہ عرفہ میں کھڑے ہوتے ہیں اور مومنین کی دعاوں پر آمین کہتے ہیں خداوند کریم اسی خضر علیہ السلام کے ذریعہ ہمارے قائم علیہ السلام کی تنہائی دورکئے ہوئے ہے۔

امام زمان علیہ السلام علیہ السلاماس وقت تنہا نہیں ہیں بلکہ ہر وقت آپ علیہ السلام کی خدمت میں خدمت گار موجود رہتے ہیں جن کا ہم یہاں تذکرہ کریں گے۔(کمال الدین شیخ صدوقؒ جلد ۲ ، ص۰۹۳)

۱۔ اوتاد

اوتاد کا معنی ہے کیل (میخیں) جس طرح ہر خیمہ کی ایک عمود اور چادرکے کیل ہوتے ہیں اور خیمہ کی رسیوں کو ان کیلوں کے ساتھ باندھا جاتا ہے اسی طرح امام زمان علیہ السلام علیہ السلاممثل عمود خیمہ کے ہیں اور چار آدمی خدمتگار بطور کیل آپ علیہ السلام کے حضور حاضر رہتے ہیں جنہیں اوتاد کہاجاتا ہے۔

۲۔ ابدال

یعنی متبادل، سات آدمی ہیں جو کہ پوری دنیا میں امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکی طرف سے مامور ہیں جو لوگوں کی مشکلیں حل کرتے ہیں ۔

۳۔ ہم نشین

۰۳ آدمی جزیرہ خضراءمیں آپ علیہ السلام کے ہمراہ رہتے ہیں جن کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی دلجوئی ہوتی رہتی ہے اور تنہائی ختم ہوتی ہے یہ حج کے موقع پر مکہ میں ہوتے ہیں اور ضرورت کے وقت لوگوں کی مشکلات بحکم امام زمان علیہ السلام علیہ السلامحل کرتے ہیں ۔ حجة الاسلام آقائے شفتی نے حج کے موقع پر ان تیس افراد کی زیارت کی تھی جب بھی ان تیس افراد میں سے کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کی جگہ کسی اور اہل شخص کو شامل کر لیا جاتاہے۔ (اصول کافی جلد۱، ص۰۴۳) (بحارالانوار جلد۳۵، ص۰۲۳)

۴۔ ولی عہد

وہ صلوات جو کہ آپ علیہ السلام کی طرف سے وارد ہوئی ہے وہ اس طرح ہے کہ ”وصل علی ولیک و ولاة عهده والاءمه علیه السلام من ولده ومُدّفِیه اعمارهم وزدفی آجالهم “ اس طرح امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے تہہ خانہ میں وداع کرتے وقت پڑھاجاتاہے۔(مفاتیح الجنان ، اعمال روز جمعہ)

وصل علی ولیک وولاة عهدک والاءمه علیه السلام من ولده “۔

اسی طرح زیارت امام زمان علیہ السلام علیہ السلامجو کہ روز جمعہ کے لئے مخصوص ہے ،میں ہے ”والسلام علی ولاة عہدہ وعلی الائمہ علیہ السلام من ولدہ“ امام رضا علیہ السلام نےزمان علیہ السلامہ غیبت ولی عصر کےلئے جو دعا بیان فرمائی ہے ۔

اللهم صَلِ علی ولاة عهده والاءمة من بعده.... فانهم معادن کلماتک وارکان توحیدک ودعاءم دینک، وولاة امرک وخالصتک بین عبادک وصفوئک من خلقک واولیاءک وسلاءل اولیاءک وصفوة اولاد رسلک والسلام علیهم ورحمة الله وبرکاته “۔ (بحارالانوار ج۵۹، ص۲۳۳)

پروردگار درود وسلام بھیج اس کے اولیاءعہد (اولاد)پر اور اسکے بعد کے پیشواوں کو نازل فرما، جو کہ تیرے کلمات کا خزانہ ہیں تیرے دین کے ستون ہیں ، تیرے حکم کے فرماں بردار ہیں ، تیری مخلوق میں چنے ہوئے لوگ ہیں ،تیرے اولیاءکا تسلسل ہیں ، تیرے منتخب پیغمبر کی اولاد ہیں ، سلام اور رحمت اور برکت خدا ہو ان پر۔

اب ہم یہ ر واضح کرنا چاہیں گے کہ یہ ولاة عہد ہیں کون؟

ہمارے نظریہ مطابق ولاة عہد سے مراد جزیرہ خضراءمیں مقیم اولاد امام زمان علیہ السلام علیہ السلامہیں جو کہ یکے بعد دیگرے مشغول ہدایت و خلافت ہیں ان لوگوں میں جو وہاں مقیم ہیں وہ آپ کے وہ فرزندان ہیں کہ جن کو اس دعا میں خزانہ ہائے کلمات خدا اور خزائن علم کہا گیا ہے۔

آپ علیہ السلام کے بعد آئمہ علیہ السلام

بعض دعاوں میں ”والاءمه علیه السلام من وُلِدِه “ تحریر ہے سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد والے آئمہ علیہ السلام کون ہیں ؟

شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب کمال الدین میں ابوبصیر سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کی کہ میں نے آپ علیہ السلام کے والد محترم سے سنا ہے انہوں نے فرمایا ہے کہ ”ہمارے مہدی علیہ السلام کے بعد بارہ مہدی ہوں گے تو امام علیہ السلام نے فرمایا میرے والد نے کہا بارہ مہدی ہوں گے، یہ نہیں کہا کہ بارہ(۲۱) امام علیہ السلام اور ہوں گے، وہ بارہ(۲۱) مہدی علیہ السلام ہمارے وہ شیعہ ہیں جو لوگوں کو ہماری دوستی کی دعوت دیں گے اور لوگوں کو ہماری پہچان کرائیں گے بعض روایات میں ۲۱ (بارہ)کی بجائے ۱۱(گیارہ) مہدی کا ذکر کیا گیاہے۔دعاوں میں درج ہے کہ ”ولاة عہدہ والآئمہ علیہ السلام من بعدہ“۔

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ”ولاة عهده “ سے مراد امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے فرزندان ہیں جو کہ جزیرة خضراءمیں مقیم ہیں ”والاءمه من بعده “ سے مراد بھی ۲۱(بارہ) افرادہیں جو کہ امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکی اولاد سے ہیں جو کہ یکے بعد دیگرے دنیا میں رشدوہدایت کا ذریعہ ہیں اور علم کے روشن چراغ ہیں جس طرح امام زمان علیہ السلام علیہ السلاماپنے اسم مبارک میں رسول اکرم سے مشابہت رکھتے ہیں اور جس طرح رسول اکرم کے ۲۱(بارہ) جانشین ہیں اسی طرح امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے بھی ۲۱(بارہ) جانشین ہیں جنہیں ”والاءمه علیه السلام من بعده “ کہا گیاہے۔واضح رہے کہ یہ امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے بارہ جانشین اور آئمہ علیہ السلام میں فرق ہے، امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے جانشینوں کے لئے لفظ امام علیہ السلام کا استعمال ان کے تقویٰ اور کامل انسان ہونے کی بنا پر ہوا ہے جب کہ حقیقی امام معصوم بارہ ہی ہیں جو رسول اللہ کے بارہ خلفاءہیں امام زمان علیہ السلام علیہ السلاماگرچہ خود زندہ وموجود ہیں لیکن ان کے جانشین جزیرة الخضراءمیں موجود ہیں ۔

(اصول کافی ص۰۴۳)(بحارالانوارج۳۵،ج۲۵)(جنة الماوی ص۰۲۳)(مفاتیح الجنان، زیارات امام زمان علیہ السلامہ علیہ السلامودعائیں)


باب دوئم

رجعت

رجعت کا معنی

رجعت کا لغوی معنی پلٹنا ہے اور اصطلاح میں رجعت کا معنی ہے موت کے بعد اور حشر سے پہلے دنیا میں زندہ ہو کر واپس آنا۔قرآن مجید میں ہے”( ویوم یحشر من کل امةٍ فوجا ممن یکذب بایٰتِنٰا فهم یوزعون ) “ (سورئہ نمل ۳۸)

وہ دن کہ جس دن ہم ہر امت سے ایک گروہ کو واپس دنیا میں پلٹائیں گے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا پھر ان سے باز پر س ہوگی۔

اس آیت مبارکہ میں مردہ کو زندہ کرنے کا کہا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ زندہ کرنا روز قیامت سے پہلے ہے کیونکہ اس روز تو سب زندہ ہوں گے لیکن یہاں ایک گروہ کے زندہ کرنے کا تذکرہ ہے اس زندگی سے مراد رجعت ہے اور قیامت سے پہلے زندہ کرنا رجعت کہلاتا ہے اور یہ شیعہ مسلمہ عقائد سے ہے۔شیخ صدوقؒ فرماتے ہیں رجعت مخصوص ہے خالص مومن کے لیے یا خالص کافر کے لئے درمیانی طبقہ کے لئے رجعت نہیں ہوگی۔مومنوں اور کافروں کی ایک تعداد دنیا میں رجعت کرے گی وہ اپنے اصلی بدن اور روح و قلب کے ساتھ پلٹیں گے ہر قسم کے کافر رجعت نہیں کریں گے ان کے بارے علامہ مجلسیؒ بحارالانوار کی جلد نمبر۳۱ کے صفحہ نمبر۸۹۱ میں ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس کو اس آیت کے ساتھ منطبق کرتے ہیں کہ ”( حرام علی قریةٍ اهلکنا ها انهم لایرجعون ) “ ۔(سورئہ انبیاء علیہ السلام ۵۹)

”حرام ہے اس شہر کا واپس پلٹنا جس کو ہم نے ہلاک کیا“۔

یعنی وہ کفار جو بوجہ عذاب ہلاک ہوئےزمان علیہ السلامہ رجعت میں وہ واپس نہیں آئیں گے بلکہ وہ بروز قیامت زندہ ہوں گے۔مومنوں اور کافروں کی رجعت کی وجہ یہ ہے کہ مومن کوزمان علیہ السلامہ رجعت میں اس لئے زندہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے آپ کو مکمل وکامل کرسکیں اورمومنوں سے کئے ہوئے اللہ کے وعدے پورے ہو سکیں گے جو کہ دنیا بارے تھے اور مومنین اس کو اسی دنیا میں دیکھ سکیں۔

کافروں کوزمان علیہ السلامہ رجعت میں واپس زندہ اس لیے کیا جائے گا کہ انہیں دینی اقدار کا انہوں نے انکار کیا تھا اور دین داروں سے انکا اختلاف تھا تاکہ انہیں اس کی سزا دی جائے اور انہیں ذلت و خواری کا مزہ اسی دنیا میںچکھایا جائے تاکہ کفار کو ذلیل و خوار دیکھ کر مومنوں کے دل کو خوشی حاصل ہو

رجعت گذشتہ امتوں میں

قرآن مجید میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کےزمان علیہ السلامہ میں ایک شخص قتل ہوگیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس مقتول کو زندہ کیا تاکہ مقتول خود اپنے قاتل کی نشان دہی کرے اس مقتول کا نام عامیل تھا ۔

(سورئہ بقرہ ۷۶تا۱۷)

ایک اور قرآنی قصہ میں ہے کہ حضرت عُزیرکی نظر ایک بوسیدہ انسانی ہڈی پر پڑی وہ متعجب ہوئے کہ خدا کیسے انہیں زندہ کرے گا اللہ نے عزیر اوران کے گدھے کو ایک سوسال تک موت سے ہمکنار رکھا سو سال بعد عزیر کو زندہ کیا تاکہ وہ اپنے گدھے کو زندہ ہوتا دیکھ سکے اس طرح رب العزت نے اسے معاد جسمانی کا عملی مشاہدہ کرایا کہ میں کس طرح مردوں کو زندہ کروں گاامام زمان علیہ السلام علیہ السلامکی زیارت میں درج ہے کہ وان یجعل لی کرةً فی ظہورک ورجعةً فی ایامک لابَل غَ من طاعتکَ مرادی اشفِیَ من اعدائِکَ فوادی ۔(مفاتیح الجنان اذن دخول سرداب)

خداوند مجھے لوٹائے آپ کے ظہور کے وقت اور مجھے رجعت دے آپ علیہ السلام کےزمان علیہ السلامہ میں اگر میں مرجاوںتودوبارہ اسی دنیا میں زندہ ہوکرمیں آپ کی فرمان برداری کرکے اپنے مقصود و مطلوب تک پہنچ سکوں اور آپ علیہ السلام کے دشمنوں کو ذلیل و خوار دیکھ کر میرے دل کو شفا ملے۔

بعض روایات میں ہے کہ اصحاب کہف جو کہ تعداد میں سات تھے وہ امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکےزمان علیہ السلامہ ظہور میں رجعت کریں گے اور امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکی مدد و نصرت کریں گے۔

چھٹے امام حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام”العجب ثم العجب بین جمادی ورجب

بارے فرماتے ہیں کہ ماہ جمادی الثانی اور رجب میں ۴۲(چوبیس) بارشیں ہوں گی اورزمان علیہ السلامہ ظہور امام علیہ السلام میں کچھ مردے زندہ ہوجائیں گے یعنی انہیں رجعت حاصل ہوگی ۔(بحارالانوار جلد۳۵ ص۹۵)

دعائے عہد میں ہے ”خداوند اگر امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے ظہور کازمان علیہ السلامہ ہمیں حاصل نہ ہوا اور ہم پہلے مرگئے تو اسزمان علیہ السلامہ ظہور میں ہمیں قبروں سے نکالنا تاکہ ہم اپنے امام کی مدد کے لئے جائیں۔

اس دعا اور دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ صدق دل سے امام زمان علیہ السلام کے منتظر ہیں اور انتظارکرتے کرتے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ان کوزمان علیہ السلامہ ظہور امام میں دوبارہ زندہ کیاجائے گا تاکہ ناصران امام علیہ السلام میں شامل ہوسکیں اور یہی رجعت ہے۔

رجعت معصومین ”علیہم السلام“

رجعت حضرت امام حسین علیہ السلام

جیسا کہ پہلے عرض کی جا چکا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی رجعت بارے بالتواتر روایات و احادیث موجود ہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت مطلقہ میں ہے ”وَاُش هِدُاللّٰه وملاءکَتُهُ وانبیاءهُ ورسلهُ اَنَّی بکم مومن وبایابکم موقن “۔ میں اللہ اور اس کے انبیاء علیہ السلام ورسل کو گواہ بناتا ہوں کہ میں آپ پر اور آپ کی رجعت پر ایمان رکھتا ہوں ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا رجعت حق ہے؟تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا جی ہاں!

سائل نے پوچھا کہ سب سے پہلے رجعت کسے حاصل ہوگی؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا حضرت امام حسین علیہ السلام کو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ امام زمان علیہ السلام کی وفات کے بعد حکومت حضرت امام حسین علیہ السلام کے پاس ہوگی حضرت امام حسین علیہ السلام ہی امام مہدی علیہ السلام کو غسل کفن اور حنوط کریں گے اور پھر انہیں اپنی قبر میں خود دفن کریں گے پھر امام جعفر صادق علیہ السلام نے قرآن کی آیت ”( ثم رددنا لکم الکرة ) “۔ (سورئہ اسراء۶)پڑھی کہ پھر تمہیں ہم رجعت دیں گے اور فرمایا کہ یہ آیت حضرت امام حسین علیہ السلام کے بارے ہے امام حسین علیہ السلام اپنے ۰۷ اصحاب کے ساتھ رجعت فرمائیں گے ۔(مفاتیح الجنان زیارت جامع کبیر)(بحارالانوار ج۳۵، ص۳۰۱)

رجعت امیرالمومنین علیہ السلام

روایات اور زیارت ناحیہ کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام بھی رجعت فرمائیں گے جابر جعفی امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا خدا کی قسم امام مہدی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہم اہلبیت سے ایک شخص پوری دنیا پر۹۰۳سال حکومت کرے گا، جابر نے عرض کیا ایسا کب ہوگا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہمارے قائم علیہ السلام کے بعد جابر نے عرض کیا قائم کتنا عرصہ دنیا میں رہیں گے امام نے فرمایا ۹۱ سال اس دوران (منتصر) یعنی حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے اور اپنے انصار کے خون کا حساب لینے کےلئے دنیا میں آجائیں گے اور پھر حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام رجعت فرمائیں گے اور حکومت کریں گے۔(بحارالانوار جلد ۳۵، ص۰۰۱)

(البتہ محققین نے حضرت امام مہدی علیہ السلامکی حکومت کی مدت کے بارے تمام روایات کی روشنی میں یہ رائے قائم کی ہے کہ آپ کی حکومت کا تسلسل قیام قیامت تک رہے گا(مترجم)

رجعت حضرت رسول اکرم

زیارت جامعہ میں درج ہے ”یحشر فی زمر تکم ویکر فی رجعتکم “ میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ جب آپ علیہ السلام رجعت فرمائیں تو میں بھی آپ کے ہمراہ اسی دنیا میں لوٹایاجاوں اسی زیارت میں ہے کہ ”مصدق برجعتکم “ میں آپ کی رجعت کی تصدیق کرتاہوں ”یکر فی رجعتکم یملک فی دولتکم “ خدا مجھے بھی رجعت دے تاکہ میں آئمہ علیہ السلام کی رجعت کےزمان علیہ السلامہ میں ان کے ساتھ شام ہو سکوں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آیت مبارکہ ”یوم کان مقدارہ خمسین الف سنتة“ (سورئہ معارج ۴) کی تفسیر کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ یہ پیغمبر اسلام کی رجعت کی طرف اشارہ ہے بعد از رجعت، رسول اکرم کی حکومت و سلطنت ۰۵ ہزار سال ہوگی امیرالمومنین علیہ السلام ۴۴ ہزار سال حکومت کریں گے اورایک روایت میں جناب سلمان حضرت رسول خدا سے نقل فرماتے ہیں کہ میںنے ”ثم رددنا لکم الکرة علیهم “ بارے آپ سے پوچھا کہ کیایہ آپ کےزمان علیہ السلامہ میں ہوگا ۔تو آپ نے فرمایا ”ہاں! اللہ کی قسم اسزمان علیہ السلامہ میں (زمانہ رجعت) میں علی علیہ السلام وفاطمہ علیہ السلام حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام اور ۹ امام از اولاد حسین علیہ السلام جو کہ سارے کے سارے میری اہلبیت علیہ السلام کے مظلوم ہیں ،ایک جگہ جمع ہوجائیں گے اس وقت شیطان اور اس کا لشکر مومنین حقیقی اور اصلی کافر سب حاضر کئے جائیں گے مومنین تمام کفار سے قصاص لیں گے اور آپ علیہ السلام نے فرمایا ہم آیت قرآن ”( ونریدان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ) “ کا مصداق ہیں ۔

روایات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم بھی آئمہ معصومین علیہ السلام کے ساتھ رجعت فرمائیں گے امیرالمومنین علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی رجعت تکراری ہے۔(مہدی علیہ السلامموعود ص۷۳۲۱)

دنیا کا آخری انجام

بعض لوگوںنے آیات و روایات کے حوالہ سے یہ اشارہ دیا ہے کہ آل علیہ السلام محمد کی رجعت کے بعد دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی اور یہ دنیا والے ایک بار پھر فاسد اور بے عمل وبدکردار ہوجائیں گے لیکن ہم اس خیال کو درست نہیں سمجھتے ہیں اس بارے چند گذارشات ملاحظہ ہوں۔

۱۔ کہا جاتا ہے کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا اور اس کے بعد باب تو بہ بند ہوجائے گا اس سے سمجھا یہ جاتا ہے کہ جس دن سورج مغرب سے طلوع کرے گا وہ دنیا کا آخری دن ہوگا حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ دن امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکے ظہور کا دن ہوگا اور اس دن باب توبہ صرف کافروں کے لئے بند ہوجائے گا جیسا کہ قرآن مجید کی آیت مبارکہ ہے کہ:

( قل یوم الفتح لاینفع الذین کفرواایمانهم ولاهم ینظرون فاعرض عنهم وانتظر انهم منتظرون ) “۔ (سورئہ حم سجدہ ۰۳)

”کہہ دو کہ فتح کے دن کافروں کو ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا ان کی طرف نظر رحمت نہیں ہوگی پس ان سے روگردانی کرو اور انتظار کرو بے شک وہ بھی انتظار کررہے ہیں “۔

بعض تفاسیر میں ہے کہ اب تک ایسا روز فتح نہیں آیا ہے کہ جس کے بعد کسی کا ایمان قابل قبول نہ ہوگا اور کہا گیا ہے کہ روز فتح وہ ہے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا یہ طلوع از مغرب ہی روز فتح کی نشانی ہے۔

حضرت پیغمبر اکرم نے فرمایا: کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور اس رات کا سورج مغرب سے طلوع ہوگا لوگ اس کے بعد ۰۴ سال تک آسودہ اور خوش حال زندگی بسر کریں گے ان چالیس سالوں میں کوئی بیمار نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی فوت ہوگا۔

اس حدیث مبارکہ سے دو نقاط واضح ہوتے ہیں ۔

۱۔ روز فتح وہ دن ہے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔

۲۔ وہ روز فتح ظہور امام زمان علیہ السلام علیہ السلامکا دن ہے نہ کہ وہ روز فتح دنیا کے اختتام کا دن ہے۔

وہ روز فتح جس کا آیت میں ذکر ہے وہ روز ظہور امام علیہ السلام ہے جو کہ فتح اعظم اورفتح اسلام کا دن ہے۔

دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں !

این صاحب یوم الفتح وناشر رایة الهدی “۔” کہاں ہے وہ جو فتح کے دن کا مالک ہے جو پرچم اسلام لہرانے والاہے“۔

قرآن مجید میں ہے ۔( یوم یاتی بعض آیا ت ربک لاینفع نفسا ایمانهالم تکن امنت من قبل اوکسبت فی ایمانها خیرًا قل انتظر وا واِنَّا منتظرون ) (سورئہ انعام ۸۵۱)

جس دن اللہ کی بعض نشانیاں آگئیں اس دن پھر ایمان لانا کسی کو فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لا چکے ہوں گے یاایمان سے سعادت حاصل نہیں کرسکیں ہوں گے۔

زیارات آل یٰسین میں یہ جملہ درج ہے۔

واِنَّ رجعتکم حق لاریب فیه “ (مفاتیح الجنان زیارت امام زمان علیہ السلام علیہ السلام)

بے شک آپ کی رجعت حق ہے اور اس میں شک نہیں ہے یہ اشارہ ہے اہل بیت علیہ السلام کی رجعت کی طرف بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کلمہ ”ساعت“ سے مراد فقط قیامت ہے حالانکہ حدیث میں ہے ”یقوم الساعة علی شرارالناس یفسدون کمایفسدالبہائم“۔

ظہور کے بعدرجعت برپا ہوگی ان شریر لوگوں کے لئے جو کہ فسادی ہیں مثل حیوانوں کے۔

ساعت صرف بمعنی قیامت نہیں ہے بلکہ ساعت بمعنی ظہور اور رجعت بھی ہے مذکورہ حدیث میں ساعت بمعنی آخریزمان علیہ السلامہ ہے جب امام زمان علیہ السلام علیہ السلامقیام فرمائیں گے اور ان لوگوں کے سروں پر قیامت بپا کردیں گے جواشرار اور مفسدہیں اوران کی زندگی حیوانوں جیسی ہے جیسا کہ آج مغربی ممالک میں پارکوں اورکلبوں میں حیوانی زندگی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

۳۔ روایت میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلامزمان علیہ السلامہ رجعت میں تشریف لائیں گے تو آپ علیہ السلام کے ہمراہ عصائے موسیٰ علیہ السلام ہو گا حضرت سلیمان علیہ السلام ابن داود علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی آپ عصائے موسیٰ علیہ السلام کفار کی پیشانی پر لگائیں گے تو وہ لکھاجائے گا”کافر حقاً “(حقیقی کافر)اور مومن کی پیشانی پر انگوٹھی لگائیں گے تو اس پر لکھا جائے گا ”مومن حقًا “ (حقیقی مومن)یہ تبھی ممکن ہے جب رجعت ہو،تاکہ مومنوں اور کافروں کی پیشانی پر یہ لکھا جا سکے۔ حدیث کی رو سے ساعت بمعنی وقت ظہور امام زمان علیہ السلام علیہ السلامہے اسی مضمون سے ملتی ہوئی حدیث ہے۔ ”عن اصبغ بن نباته عن امیرالمومنین قال سمعته یقول یظهر فی آخر الزمان علیه السلام واقترب الساعته وهوشرالازمنة نسوة کاشفاتً عاریات متبرجات µ من الدین داخلات فی الفتن ماءلات الی الشهٰواتِ مشرعات اِلَی اللذّاتِ مستحلات µ المحرمات فی جهنم خالدات “۔ (مفاتیح الجنان آداب زیارت)

اصبغ بن نباتہ، امیرالمومنین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ مولا نے فرمایا آخریزمان علیہ السلامہ ظہور کے قریب بدترینزمان علیہ السلامہ ہوگا، اسزمان علیہ السلامہ میں ایسی عورتیں ہوں گی جو بے پردہ ہوں گی ،عریان ہوں گی، ظاہری زیب و زینت کریں گی،کھلے عام پھریں گی، فتنوں میں وارد ہوں گی (فتنوں کی ماہر ہوں گی، شہوات اور جنسی لذات کی طرف مائل ہوں گی، جو جنسی لذات ابھارنے کی ماہر ہوں گی، حلال کو حرام اور حرام کو حلال کریں گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں گے)اس حدیث میں آخریزمان علیہ السلامہ کو بدترینزمان علیہ السلامہ کہا گیا ہے اور ساتھ ہی ساعت کا ذکر ہے چونکہ ظہور امام علیہ السلام اسی بدترینزمان علیہ السلامہ کےساتھ ملتا ہوازمان علیہ السلامہ ہے اور حدیث میں جن حالات کا ذکر کیا گیا ہے وہ ہمارے موجودہزمان علیہ السلامہ کے حالات سے ملتے جلتے ہیں جن میں ظہور امام علیہ السلام ہوگا لہٰذا ساعت سے مراد وقت ظہور امام علیہ السلام ہے۔دوسری دلیل آیت مبارکہ قرآن ہے ۔ ”( فهل ینظرونَ اِلَّا الساعَةَ ان تاتِهم بغتةً فقد جاء اشراطُها ) “۔ (سورئہ محمد۸۱)وہ وقت جو ان پر اچانک آئے گا کیا وہ اس کے منتظر ہیں کیونکہ اس کی علامات پوری ہو چکی ہیں ،یہاں شرط بمعنی علامت ہے اکثر مفسرین نے اس آیت بارے تفسیر میں علامات سے مراد علائم ظہور امام زمان علیہ السلام علیہ السلامذکر کیا ہے جن کاحال پیغمبر نے مسلمانوں کو بیان فرما دیا تھا۔(الملاحم والفتن سید ابن طاووس ص۷۹)(مفاتیح الجنان زیارت امام زمان علیہ السلام علیہ السلام)

صدائے موت

( ماینظرون اِلّا صیحة واحدةً تاخُذُهم وهم یخِصِمُون ) “۔ (سورئہ یٰس ۹۴)

”یہ منکرین قیامت صرف ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو انہیں اپنی گرفت میں لے لے گی جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے“۔ جو بات قابل توجہ ہے وہ اس مسئلہ کا حل ہے کہ سوائے معصومین علیہ السلام ، انبیاء علیہ السلام و اولیاء علیہ السلام کے باقی سب کے سب انسان دومرتبہ موت سے ہمکنار ہوں گے۔

پہلی موت

جسموں کی موت دنیاوی زندگی سے کنارہ اور ارواح کا عالم برزخ کی طرف سفر۔

دوسری موت

ارواح کی موت عالم برزخ میں تاکہ عالم آخرت میں ان کاورود ہو۔ہماری نظر میں پہلی موت (آواز) جس کے ساتھ جسموں کی موت واقع ہوگی جس کے ساتھ تمام مخلوقات زمینی اور آسمانی سوائے چار مقرب ملائکہ، عزرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، جبرئیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام ، کے باقی سب مرجائیں گے اور پھر اس موت کے بعد ارادہ خداوندی کے تحت یہ ملائکہ مقربین بھی بالترتیب موت سے ہمکنار ہوجائیں گے اس چنگاڑ سے مرنے والوں کی ارواح عالم برزخ میں موجود روحوں کے ساتھ مل جائیں گے ۰۶۳ سال تک عالم ارواح باقی رہے گا اس کے بعد ارادہ خداوندی کے تحت ”( کل شئی هالک الاوجهه ) “ تمام موجودات بشمول نظام شمسی کرہ ہائے ارض تمام عالم ہلاک وختم ہوجائیں گے صرف وجہ ”رب ذوالجلال“ جوکہ معصومین علیہ السلام ، انبیاء علیہ السلام اور اولیاء علیہ السلام ہیں باقی رہیں گے ، انسان کی یہ دوسری موت پہلی موت سے چالیس سال بعد واقع ہوگی اور پھر بقول قرآن ”( ثُمَّ اللّٰه ینشی النشاة الاخرة ) “ پھر اللہ دوسری زندگی دے گا جو اخروی زندگی ہوگی‘ (سورئہ عنکبوت ۰۲)

صدائے ِزندگی

قرآن میں ہے کہ :( ان کانت اِلّا صیحةً واحدةً فاذاهم جمعیاً لدینا محضرون ) “۔ (سورئہ یٰس ۳۵)پھر ایک آواز ہوگی جس کے ساتھ اچانک سب کے سب زندہ ہوکر ہمارے سامنے حاضر ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے تحت حضرت اسرافیل علیہ السلام دوبارہ زندہ ہوں گے اور دوبارہ صور پھونکیں گے جس کے ساتھ تمام اہل زمین و آسمان زندہ ہوجائیں گے اور میدان محشر میں حاضری کے لئے تیار ہوجائیں گے اور یہ نظام دنیا سے نظام آخرت کی طرف منتقلی اور تبدیلی ہوگی جس کے ساتھ ہر چیز میں ایک خوشنما تبدیلی آجائے گی۔

(حوالہ جات: مہدی موعود ص۷۳۲، بحارالانوارج۳۵ص۳۰۱،۰۰۱،ص۹۵،۰۶،۷۷،۱۸۔ مفاتیح الجنان دعائے عہد، زیارت جامعہ۔ الملاحم والفتن ابن طاووس ص۷۹۔ معجم احادیث المدی ج۲ص۳۱۱)

یااللّٰه

خریدار جمال مہدی ماہیم، یااللہ!

نشستہ در کناری چشم بر راہیم، یااللہ!

شود او رابہ جمع ما گذر یایک نظر افتد؟

کرم فرما کہ دست از چارہ کو تاہیم! یااللہ!

ہمہ دیوانہ دیدار این مصداق وجہ اللہ!

ہمہ محتاج دست آن یداللّہیم، یااللہ!

بہ غیر از وصل او مارا امیدی در دو عالم نیست

کہ از ہجران او در نالہ وآہیم، یااللہ!

ا غِث نَا یَا غِیَاثَ اَلمُس تَغِیثِین! ای خدا ای دل!

گرفتار بلای عشق جانکاہیم، یا اللّٰہ!

بدہ آن نجم ہادی منبع نور عوالم را!

نہ از ہستی کہ ما از خود نہ آگا ہیم، یااللہ!

دل ما محو یاد او، زبان ما بہ وصف او

ہمہ در آستانش خاک درگاہیم، یااللہ!

(حقیقت) را چو در بحر ولا یش غوطی ور کر دی

گدای کوی آن سلطان جم جاہیم، یااللہ!

اَلحَمدُ لِلّٰهِ الَّذی صَدَقَنٰا وَعدَهُ وَا َو رَثَنَاالا َر ضَ نَتَبَوَّا مِنَ الجَنَّةِ حَیثُ نَشٰاء فَنِعمَ اَجرُالعٰامِلین “۔

تمت بالخیر

بعون اللہ تعالیٰ کتاب موعود امم کا ترجمہ ۱۲ جمادی الثانی مطابق ۸۲ جولائی ۵۰۰۲ بروز جمعرات

بوقت ۴ بجے سہ پہرجامعہ سیدہ خدیجة الکبریٰ علیہ السلام پکی شاہ مردان ضلع میانوالی میں مکمل ہوا

یکی از منتظرین قنبر عمرانی عفی عنہ


ماخذ و منابع

جن کتب سے مدد لی گئی :

۱۔ قرآن کریم ۲۔ نہج البلاغہ

۳۔ بحارالانوار ۴۔ امالی صدوق

۵۔ غیبت نعمانی ۶۔ الزام الناصب

۷۔ تفسیر المیزان ۸۔ تفسیر البرھان

۹۔ تفسیر نورالثقلین ۰۱۔ المہدی من المہد الی الظہور

۱۱۔ النّجم الثاقب ۲۱۔ شیفتگان حضرت مہدی علیہ السلام

۳۱۔ کمال الدین ۴۱۔ جزیرئہ خضراء

۵۱۔ منہی الآمال ۶۱۔ تاریخ سامرّا

۷۱۔ سفیران امام علیہ السلام ۸۱۔ حدیقة الشیعہ

۹۱۔ مہدی منتظر درنہج البلاغہ ۰۲۔ آیا ظہور نزدیک است؟

۱۲۔ مفاتیح الجنان ۲۲۔ تحفئہ قدسی

۳۲۔ مہدی موعود ۴۲۔ سرمایہ سخن

۵۲۔ دیوان انوار ولایت ۶۲۔ دیوان گنجینئہ گھر

۷۲۔ العبقری الحسان ۸۲۔ بشارة الاسلام

۹۲۔ عیون اخبار الرضازمان علیہ السلام ۰۳۔ صحیح مسلم

۱۳۔ سیوطی ۲۳۔ الحاوی

۳۳۔ منتخب الاثر ۴۳۔ عقدالدّرر

۵۳۔ صحیح بخاری ۶۳۔ ناسخ التواریخ

۷۳۔ غیبت شیخ طوسی ۸۳۔ کرامات المہدی

۹۳۔ جلاءالعیون ۰۴۔ کرامات صالحین

۱۴۔ بیان الائمہ ۲۴۔ المنجد

۳۴۔ کشکول شیخ بھایی ۴۴۔ النہایة فی غریب الحدیث والاثر

۵۴۔ تمام النعمہ ۶۴۔ الغیبہ

۷۴۔ دعای ندبہ درپگاہ جمعہ ۸۴۔ روزگار رہایی

۹۴۔ تاریخ جامع بہائیّت ۰۵۔ ادیان ومہدویت

۱۵۔ ولی عصر علیہ السلام ۲۵۔ جمال ابہیٰ

۳۵۔ مثلث برمودا ۴۵۔ جغرافیای جہان

۵۵۔ مصلح حقیقی جہان ۶۵۔ مسائل مرویہ

۷۵۔ الکُنیٰ والالقاب ۸۵۔ مکیال المکارم

۹۵۔ اصول کافی ۰۶۔ کتاب شاکمونی

۱۶۔ کتاب باسک ۲۶۔ جاماسب نامہ

۳۶۔ زبور داود ۴۶۔ کتاب حیقوق (نبی)

۵۶۔ کتاب اشعیاء(نبی) ۶۶۔ انجیل مَتّٰی

۷۶۔ انجیل لوقا ۸۶۔ تورات

۹۶۔ مکاشفئہ یوحَنّٰای ِ رسول ۰۷۔ کلیات اشعار فیض کاشانی

۱۷۔ فرہنگ فارسی دکتر معین ۲۷۔ نشریہ موجود

۳۷۔ چشم اندازی بہ حکومت مہدی علیہ السلام ۴۷۔ ا لفِتَن


فہرست

انتساب ۴

اظہاریہ ۵

پیش لفظ ازمصنف ۷

فصل اول ۹

نجات دہندہ بشریت ۹

باب اول ۱۰

سایہ خدا ۱۰

چار اعلیٰ والا امیدیں ۱۰

۱۔ دیدار حضرت امام مہدی ”علیہ السلام“ ۱۰

۲۔ حضرت امام زمان علیہ السلام کی حکومت حق کے دیدار کی تمنا ۱۱

۳۔ آرزوئے حصول کمالات انسانی ۱۲

۴۔ ابدی سعادت کی آرزو ۱۲

حضرت مہدی علیہ السلام و دیگراقوام و ادیان ۱۳

شاکمونی ۱۳

باسک ۱۳

پاٹیکل Patecul ۱۳

جاماسب ۱۴

عہد عتیق کا حوالہ ۱۴

حضرت داود علیہ السلام کا بیان ۱۴


اشعیاءعلیہ السلام نبی کا بیان ۱۵

جناب حیقوق علیہ السلام نبی کا بیان ۱۵

انجیل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا تذکرہ ۱۵

یوحنا نبی کے مکاشفہ ۱۶

مہدی (عج) نہج البلاغہ میں ۱۷

باب دوئم ۲۰

خلیفة اللہ ۲۰

زمین کا حجت خدا سے خالی نہ ہونا ۲۰

حضرت امام زمان علیہ السلام کی معرفت بارے مشہور حدیث ۲۲

عبداللہ بن عمر کا حجاج کے پاس بیعت کے لئے حاضر ہونا ۲۲

حدیث معرفت امام زمان علیہ السلام سے مراد ۲۲

حضرت اما م مہدی علیہ السلام اور اہل بیت علیہ السلام اطہار آیات وروایات کی روشنی میں ۲۳

باب سوئم ۲۵

اللہ کا اٹل ارادہ ۲۵

اٹل وعدہ ۲۵

ظہور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۲۵

ظہور حضرت موسیٰ(علیہ السلام) ۲۵

ظہور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۲۶

ظہور حضرت محمد (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۲۶

ظہور حضرت امام مہدی (علیہ السلام) ۲۷


حبیبم ۲۷

فصل دوئم ۳۰

مہدی علیہ السلام اور مہدویت کے دعویدار ۳۰

باب اول ۳۱

حضرت امام مہدی (علیہ السلام)کی ذات کے جلوے ۳۱

۱۔ ولادت حضرت امام مہدی (علیہ السلام) ۳۱

سرکار امام زمان علیہ السلام (علیہ السلام) کے اسم و القاب ۳۲

۲۔ بارہویں کے اسماءوالقاب ۳۲

۱۔ مہدی علیہ السلام ۳۳

۲۔ بقیة اللہ ۳۳

۳۔ حجت ۳۳

انسان پر خدا کی دوحجتیں ۳۳

حجت باطنی ۳۳

حجت ظاہری ۳۳

۴۔ خلیفة اللہ ۳۴

۵۔ قائم ۳۴

۶۔ منتظر ۳۴

۷۔ نور اللہ ۳۴

۸۔ ماءمعین ۳۵

۹۔ غریم ۳۶


۱۰۔ مطہرالارض ۳۶

۱۱۔ عدل مشتہر ۳۶

باب دوئم ۳۷

جھوٹے مدعیان مہدی علیہ السلام ۳۷

۱۔ جعفر کذاب ۳۷

جعفر کے غیر شرعی اقدامات ۳۷

دعویٰ امامت ۳۸

حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام)کے ورثاءسے انکار ۳۸

غصب میراث کے لیے حکومت کو تحریک ۳۸

ایک گروہ کی قم سے سامرہ آمد ۳۹

جعفرکا انجام ۴۰

باب سوئم ۴۳

مہدویت کے دعویدارجھوٹے مدعیان مہدویت ۴۳

دعویٰ مہدویت قبل از ولادت امام مہدی علیہ السلام ۴۳

۱۔ مختار بن ابوعبیدہ ثقفی ۴۳

۲۔ محمد بن عبداللہ مخص ۴۴

مدعیان مہدویت بعد از ولادت حضرت امام مہدی (علیہ السلام) ۴۴

۱۔ ابومحمد عبداللہ مہدی ۴۴

۲۔ محمد بن تومرت (ابا عبداللہ مغربی) ۴۴

۳۔ مہدی (یامہتدی)سوڈانی ۴۵


۴۔ غلام احمد قادیانی ۴۵

۵۔ مرزا طاہر حکاک اصفہانی ۴۵

۶۔ سید محمد مشہدی ۴۵

۷۔ سیدعلی محمد باب ۴۶

سید علی محمد کی دعوت آغاز میں اور آخر میں ۴۶

۸۔ مرزا حسین علی بہا ۴۹

فصل سوئم ۵۳

غیبت ۵۳

باب اول ۵۴

غیبت صغریٰ ۵۴

غیبت صغریٰ ۵۵

واقعہ نمبر۱ ۵۵

واقعہ نمبر۲ ۵۵

واقعہ نمبر۳ ۵۵

واقعہ نمبر۴ ۵۵

واقعہ نمبر۵ ۵۵

نوّاب اربعہ ۵۶

نوّاب اربعہ کی ذمہ داریاں ۵۶

نائب اول عثمان بن سعید ۵۷

نائب دوئم محمد بن عثمان ۵۷


نائب سوئم حسین بن روح ۵۷

نائب چہارم علی بن محمد سمری ۵۸

غیبت کبریٰ میں توقیعات ۵۸

حضرت امام مہدی علیہ السلام پر اعمال کاپیش ہونا ۵۸

شب قدر ۵۸

باب دوئم ۶۰

غیبت کبریٰ ۶۰

نیابت عامہ ۶۰

پہلے اور دوسرے فقیہ ۶۰

غیبت کی زندگی ۶۱

طول عمراور اس کے متعلق امور ۶۳

مہدی بیا! ۶۳

فصل چہارم ۶۶

جزیرة الخضراء(سرسبز جزیرہ) ۶۶

مقدس سرزمین ۶۶

اقامت گاہ حضرت اما م مہدی (علیہ السلام) ۶۷

سبز رنگ کی خوبصورتی ۶۸

سبز درخت اور آگ ۶۸

جنت میں سبز لباس ۶۸

جنت کے سبز تکیے و بستر ۶۸


جزیرہ خضرا ئ ۶۹

جزیرہ خضرا کہاں ہے ؟ ۶۹

باب دوئم ۷۰

وادی امن کی طرف سفر ۷۰

۱۔ علی بن فاضل کا جزیرہ خضراءکا سفر ۷۰

آیت اللہ شفتی کا جزیرہ خضراءکا سفر ۷۱

فصل پنجم ۷۷

میل جول اور ملاقاتیںرابطے اور شرف ۷۷

باب اول ۷۸

رابطے ۷۸

امام زمان علیہ السلام(علیہ السلام) کے ساتھ روابط لازم ہیں ۷۸

امام زمان علیہ السلام سے ارتباط کے راستے ۷۸

۱۔ اضطرار ۷۹

۲۔ ختم وتوسل ۷۹

مسجد جمکران ۷۹

دعائے ندبہ ۸۱

دعائے ندبہ کے پہلے ۶حصے ۸۱

دعائے ندبہ پراعتراضات اور جوابات ۸۱

اعتراض نمبر۲: دعائے ندبہ فرضی اور من گھڑت ہے۔ ۸۲


اعتراض نمبر۳۔ دعائے ندبہ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان صدق کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے یہ کیسے قرآن کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے؟۔ ۸۲

اعتراض نمبر۴: دعائے ندبہ میں ایک جملہ ذکر ہے کہ ” عرجت بروحه الی سماءک “ کہ تو نے اس کے روح کو آسمان کی طرف عروج دیا جب کہ پیغمبر گرامی کو معراج جسمانی ہوا ہے یہ جملہ معراج جسمانی کا مخالف ہے؟ ۸۳

اعتراض نمبر۵: مشارق اور مغارب کیاہے؟ ۸۴

اعتراض نمبر۶: دعائے ندبہ کا جملہ ” واودعته، علم ماکان ومایکون الی انقضاءخلقک “ کہ ہم نے تمام ” ماکان ومایکون “ہرشی کا علم اسے دے دیا ”تاانقصاءمدت“ جب کہ ہر چیز کا علم اللہ کے لیے خاص ہے اور علم غیب مخصوص باخدا ہے؟ ۸۴

اعتراض نمبر۷: دعائے ندبہ میں ” المودة فی القربیٰ‘ ‘ کی تفسیر آل محمد بشمول امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کی گئی ہے جبکہ آیت مبارکہ مودة ” ( قل لااسئلکم علیه اجرًاالاالمودة فی القربیٰ ) “۔ ۸۴

اعتراض نمبر۸: دعائے ندبہ میں تحریر ہے کہ ”ابرضوی اوغیرہا ام ذی طویٰ “ جب کہ رضوی جو کہ مضافات میں ہے یہ جگہ فرقہ کیسانیہ کے لیے مخصوص ہے اور ان کے بقول محمد حنفیہ اس جگہ پڑہیے۔ ۸۵

اعتراض نمبر۹: دعائے ندبہ کو چار مخصوص ایام عید فطر، عید قربان، عید غدیر وجمعہ کوکیوں پڑھنا چاہیے؟۔ ۸۵

باب دوئم ۸۶

انفرادی ملاقاتیں ۸۶

۱۔ گل نرگس گل وفا ۸۶

۲۔ آقائے ابراہیم صاحبزمان سے ملاقات امام زمان علیہ السلام ۸۸

۳۔ مکہ میں زیارت امام زمان علیہ السلام ۸۹

شب عرفہ ۸۹

۴۔ آیت اللہ شیخ محمد طہٰ کو شرف زیارت ۹۱


۵۔ آیت اللہ عبدالنبی اراکی کو شرف زیارت ۹۲

۶۔ ایرانی انجینئر اور اس کی امریکی بیوی کو شرف زیارت ۹۴

۷۔ نو مسلم خیبری کو شرف زیارت ۹۵

۸۔ تین چِلّے امام زمان علیہ السلام کی جستجو میں ۹۸

۹۔ جمال اصفہانی سرکار امام زمان علیہ السلام کی خدمت میں ۹۹

۱۰۔ شیخ حسن کا امام زمان علیہ السلام سے ملنا ۱۰۰

باب سوئم ۱۰۲

اجتماعی شرف زیارت ۱۰۲

۱۔ شیخ اسماعیل غازی اور ان کے قافلہ کو شرف زیارت ۱۰۲

۲۔ چالیس افراد امام زمان علیہ السلام کی جستجو میں ۱۰۵

۳۔ برزخ میں سرکار امام زمان علیہ السلام کی عنایت ومہربانی ۱۰۵

فراق تاکی؟! ۱۰۶

فصل ششم ۱۰۸

امام زمان علیہ السلام اور صالحین ۱۰۸

باب اول ۱۰۹

خاتم الاوصیاء ۱۰۹

عظمت ولی العصر علیہ السلام ۱۰۹

۱۔ کمالات ذاتی ۱۰۹

۲۔ کمالات اکتسابی ۱۰۹

۱۔کمالات اکتسابی براہ راست ۱۰۹


۲۔ کمالات اکتسابی غیر مستقیم ۱۱۰

۳۔ کمالات حاصل از صالحات باقیات ۱۱۰

محورکائنات ۱۱۰

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) عدل قرآن ہیں ۱۱۱

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کی انبیاء علیہ السلام سے مشابہت ۱۱۲

الف) مشابہت باحضرت نوح (علیہ السلام) ۱۱۳

ب) مشابہت باحضرت موسیٰ (علیہ السلام) ۱۱۳

ج) مشابہت باعیسیٰ (علیہ السلام) ۱۱۴

د) مشابہت با محمد خاتم الانبیاء ۱۱۴

تمام لوگوں میں خُلق اور شکل وشباہت میں میرے مشاہبہ ہے۔ ۱۱۴

حضرت امام مہدی(علیہ السلام) وارث انبیاء علیہ السلام ۱۱۴

۱۔ قمیض یوسف (علیہ السلام) ۱۱۴

۲۔ عصائے موسیٰ (علیہ السلام) ۱۱۵

۳۔ سنگ موسیٰ (علیہ السلام)، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پتھر ۱۱۵

۴۔ حضرت سلیمان(علیہ السلام) بن داود(علیہ السلام) کی انگوٹھی ۱۱۵

۵۔ پرچم ۱۱۵

۶۔ قمیض جناب رسالتماب ۱۱۵

۷۔ عمامہ جناب رسول اکرم( صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۱۱۶

۸۔ جفر احمد ۹۔ جفر ابیض ۰۱۔جامعہ ۱۱۶

حضرت امام زمان علیہ السلام (علیہ السلام) اور معجزات انبیاء علیہ السلام ۱۱۶


باب دوئم ۱۱۸

کامیاب جماعت ۱۱۸

اللہ کے سپاہی امام علیہ السلام کی خدمت میں ۱۱۸

لشکرملائک ۱۱۸

لشکر جنات ۱۱۹

اصحاب امام زمان علیہ السلام (علیہ السلام) ۱۱۹

۱۔ نقباء ۱۲۰

۲۔ گواہان ۱۲۱

۳۔ صالحین ۱۲۱

ناصران حضرت امام مہدی (علیہ السلام) ۱۲۱

انصارِ رجعت ۱۲۲

۱۔ صیانہ ماشطہ ۱۲۲

۲۔ ام ایمن ۱۲۲

۳۔سمیہ جناب عمار کی والدہ ۱۲۲

۴۔حبّابہ ۱۲۲

۵۔ قنوائ ۱۲۳

۶۔ ام خالد احمسیّہ ۱۲۳

۷۔ ام خالد جہنیہ ۱۲۳

زمین اور اس کے وارث ۱۲۳

وراثت اور اس کی اقسام ۱۲۳


۱۔ ارث صفاتی ۱۲۳

۲۔ ارث مادی ۱۲۳

۳۔ تیسری وراثت ۱۲۳

۴۔ چوتھی وراثت ۱۲۴

درود حضرت امام مہدی علیہ السلام ۱۲۴

ساتویں فصل ۱۲۷

آستان ظہور ۱۲۷

باب اول ۱۲۸

اعلیٰ وارفع اعمال ۱۲۸

فَرَج ، کشادگی اور اس کی اقسام ۱۲۸

فَرَجَ ۱۲۸

فَرَج کی اقسام ۱۲۸

۱۔ فَرَج انفرادی ۱۲۸

۲۔ فَرَج اجتماعی ۱۲۹

(الف) فَرَج وکشادگی شیعیان ۱۲۹

(ب) فَرَج اجتماعی وعمومی ۱۲۹

۳۔ فَرَج آل علیہ السلام محمد ۱۲۹

انتظار فَرَج ۱۳۰

باب دوئم ۱۳۱

زمانہ ظہور ۱۳۱


عصر سے مراد ۱۳۱

ظہور صغریٰ ۱۳۱

علامات ظہور امام علیہ السلام ۱۳۳

قرآن اور دنیا کی دیگر پیشین گوئیاں ۱۳۵

تیسری جنگ عظیم ۱۳۶

عجیب دستر خوان ۱۳۶

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے ظہور کی تین اہم نشانیاں ۱۳۶

۱۔ دنیا کا ظلم سے پُرہو جانا ۱۳۷

۲۔ مہذب و تربیت یافتہ افراد کا پیدا ہونا ۱۳۷

۳۔ مصلح عالم کی آرزو ۱۳۷

آسمانی آوازیں ۱۳۸

ماہ رجب میں تین آسمانی آوازیں ۱۳۸

پہلی آواز ۱۳۸

دوسری آواز ۱۳۸

تیسری آواز ۱۳۸

چوتھی آواز ۱۳۹

پانچویں آواز ۱۳۹

چھٹی آوازبوقت ظہور امام زمان علیہ السلامہ علیہ السلام ۱۳۹

ساتویں آواز ۱۳۹

خروجِ حسنی ۱۴۰


خروجِ سفیانی ۱۴۰

سفیانی کا انجام ۱۴۱

دجال ۱۴۱

دجال اعظم کی خصوصیات ۱۴۱

نفس زکیہ کا قتل ۱۴۲

سرور بشارت ۱۴۲

آٹھویں فصل ۱۴۷

قیام سے نظام تک ۱۴۷

باب اول ۱۴۸

آپ علیہ السلام کی اطاعت کا عہد و پیمان ۱۴۸

بوقت قیام آپ علیہ السلام کا خطبہ ۱۴۸

دوسرا خطبہ ۱۴۸

تیسرا خطبہ ۱۴۹

خاص اصحاب کا جمع ہو جانا ۱۴۹

امام علیہ السلام کی بیعت ۱۵۰

الف) بیعت رسول اکرم ۱۵۰

۱۔ بیعت عقبیٰ اولی ۱۵۰

۲۔ بیعت عقبیٰ دوئم ۱۵۰

۳۔ بیعت رضوان ۱۵۰

ب) بیعت حضرت امام مہدی علیہ السلام ۱۵۰


باب دوئم ۱۵۲

برقرار یِ عدالت حضرت مہدی (علیہ السلام) ۱۵۲

امام زمان علیہ السلام مکہ میں ۱۵۲

۱۔ مقام ابراہیم علیہ السلام کی منتقلی ۱۵۲

۲۔ طواف مستحب سے رکاوٹ ۱۵۲

۳۔ منتظمین کعبہ کے ہاتھ قطع کرنا ۱۵۲

مکہ کے لئے حاکم کا تقرر ۱۵۲

حضرت امام مہدی علیہ السلام مدینہ میں ۱۵۳

مدینہ سے کوفہ روانگی ۱۵۳

دیگر معرکے ۱۵۴

۲۔ بنو امیہ کے ساتھ معرکہ ۱۵۴

۳۔ اہل کتاب کے ساتھ معرکہ ۱۵۵

۴۔ بتریتہ کے ساتھ معرکہ ۱۵۵

۵۔ باغیوں کے ساتھ معرکہ ۱۵۵

۶۔ معرکہ شہر رمیلہ ۱۵۵

دنیا کی سب سے بڑی مسجد ۱۵۵

باب سوئم ۱۵۷

اللہ کی مدد ۱۵۷

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آسمان سے آمد ۱۵۷

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام ) کی اہمیت ۱۵۷


زمانہ ظہور میں شیطان کا انجام ۱۵۸

کامیابی کے اسباب ۱۵۹

باب چہارم ۱۶۱

حضرت امام زمان علیہ السلام(علیہ السلام) اور اصلاحات ۱۶۱

حضرت امام مہدی(علیہ السلام) اور اختلافات ۱۶۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور عقل و سلیقہ کا اختلاف ۱۶۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور دینی و سیاسی اختلافات ۱۶۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور فسادی لوگ ۱۶۲

حضرت امام زمان علیہ السلام اور اہل سنت ۱۶۲

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور طبقاتی اختلاف ۱۶۲

حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مجرموں ، جاہلوں اور فاسقوں کے ساتھ برتاو ۱۶۲

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور اچھے انسان ۱۶۳

این آہ دل ۱۶۳

فصل نہم ۱۶۶

آخری حکومت ۱۶۶

باب اول ۱۶۷

تحریکیں ۱۶۷

امام زمان علیہ السلام کی عالمی تحریک اور قیام ۱۶۸

حضرت امام زمان علیہ السلام کی تحریک کے بنیادی ارکان ۱۶۸

۱۔ رہبری وقیادت ۱۶۸


۲۔ تحریک کے مقاصد کا اجراء ۱۶۸

۳۔ آئین و قانون حکومت امام زمان علیہ السلام ۱۶۹

۴۔ بجٹ ۱۶۹

تحریک امام زمان علیہ السلام کا دیگر تحریکوں سے فرق ۱۶۹

امام زمان علیہ السلام کی حکومت کے نام ۱۷۰

۱۔ حکومت کریمہ ۱۷۰

۲۔ حکومت صالحین ۱۷۰

۳۔ حکومت مستضعفین ۱۷۰

۴۔ حکومت حق ۱۷۱

۵۔ آخری حکومت ۱۷۱

آخری زمان علیہ السلامہ ۱۷۲

باب دوئم ۱۷۳

حکومت الٰہی کا قیام ۱۷۳

عدل و انصاف سے زمین کا زندہ ہونا ۱۷۳

حضرت امام زمان علیہ السلام کی عالمی حکومت ۱۷۴

امام زمان علیہ السلام کا عالمی عدل ۱۷۶

دوسروں پر ظلم کی اقسام ۱۷۶

دوسروں پر ظلم کا خاتمہ ۱۷۷

اپنے اوپر ظلم کا خاتمہ ۱۷۷

عمومی عدل ۱۷۷


ادارہ جاتی امور ۱۷۸

۱۔ تعلیم وتزکیہ ۱۷۸

۲۔ بیت المال ۱۷۹

۳۔ امن عامہ کی صورتحال ۱۷۹

۴۔ قضاوت حضرت امام زمان علیہ السلام ۱۷۹

آپ علیہ السلام کے دور حکومت میں اجتماعی زندگی ۱۸۰

توحید کی گواہی ،نبوت کی گواہی اور ولایت کی گواہی ۱۸۰

آپ کے دور میں چھ عجیب کام ۱۸۱

امام زمان علیہ السلام کی مدت حکومت ۱۸۱

امام زمان علیہ السلام کی طبعی موت ۱۸۲

امام زمان علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام ۱۸۳

فصل دہم ۱۸۸

حکومت آل محمد علیہ السلام ۱۸۸

پہلا باب ۱۸۹

آپ علیہ السلام کی حکومت اور اولاد کے خواص ۱۸۹

حضرت امام زمان علیہ السلام علیہ السلاماور آپ علیہ السلام کے ملازمین و خدمت گار ۱۸۹

۱۔ اوتاد ۱۸۹

۲۔ ابدال ۱۸۹

۳۔ ہم نشین ۱۸۹

۴۔ ولی عہد ۱۹۰


آپ علیہ السلام کے بعد آئمہ علیہ السلام ۱۹۰

باب دوئم ۱۹۲

رجعت ۱۹۲

رجعت کا معنی ۱۹۲

رجعت گذشتہ امتوں میں ۱۹۳

رجعت معصومین ”علیہم السلام“ ۱۹۴

رجعت حضرت امام حسین علیہ السلام ۱۹۴

رجعت امیرالمومنین علیہ السلام ۱۹۴

رجعت حضرت رسول اکرم ۱۹۴

دنیا کا آخری انجام ۱۹۵

صدائے موت ۱۹۷

پہلی موت ۱۹۸

دوسری موت ۱۹۸

صدائے ِزندگی ۱۹۸

ماخذ و منابع ۲۰۱