فلسفۂ انتظار
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف آیۃ اللہ ناصر مکارم شیرازی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین ( علیہ ما السلام ) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


فلسفۂ انتظار

مؤلف : مکارم شیرازی، ناصر (آیۃ اللہ)

مترجم / مصحح : احمد علی عابدی

ناشر : نور اسلام

نشر کی جگہ : فیض آباد ہندوستان

نشر کا سال : ۱۹۸۳

جلدوں کی تعداد : ۱

صفحات : ۱۰۴

سائز : رقعی

زبان : اردو


پیش لفظ

خداوند عالم نے جب انسان کو پیدا کیا تو اس کی مرضی یہ تھی کہ انسان ہدایت کی شاہراہ پر گامزن اور ضلالت و گمراہی کے راستوں سے دور رہے۔ اسی بنا پر خداوند عالم نے اس روئے زمین پر سب سے پہلے جس انسان کو بھیجا اس کو "رہبر" بنا کر بھیجا۔ تاکہ بعد میں آنے والے رہبر کی تلاش میں سرگرداں نہ رہیں۔

رہبر کے ساتھ ساتھ خداوند عالم نے ایک ایسا جامع نظام حیات بھی بھیجا جس کے تمام قانون فطرت کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں، تاکہ قوانین پر عمل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ یہ قوانین فطرت کے سانچے میں اس لئے ڈھالے گئے کہ ان پر عمل کرنے کے لئے بس ضمیر کی آواز کافی ہو اور رہبروں کی ذمہ داری توجہ دلانا ہو ۔۔ اس حقیقت کی طرف مولائے کائنات (ع) نے نہج البلاغہ میں ارشاد فرمایا ہے: ۔۔

انبیاء اس لئے مبعوث کیے گئے تاکہ وجود انسانی میں عقل کے پوشیدہ خزانوں کو سامنے لاسکیں"۔

جس وقت سے زمین آباد ہوئی ہے اس وقت سے آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پوری زمین پر اللہ کی حکمرانی ہو، اور بس اسی کا قانون چل رہا ہو۔ ہاں جناب سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ضرور کچھ دن دنیا پر اللہ کے قوانین کی حکومت تھی۔ کچھ دن اس مدّت کے مقابلہ میں لکھا گیا جب الٰہی احکام کا نفاذ نہیں تھا۔

ایک طرف ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ الٰہی احکام نافذ نہ ہونے پائیں۔ ہدایت کی شاہراہ کے بجائے انسان ضلالت کی وادیوں میں ہاتھ پیر مارتا رہے اور اسی حالت میں جان دے دے۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گمراہ کرنے کا جو منصوبہ شیطان نے بنایا تھا وہ اس میں کافی حد تک کامیاب رہا اور آج تک الٰہی احکام ساری دنیا پر نافذ نہ ہوسکے۔

ایک مدت کے بعد خدا کے مخلص بندوں نے ایران سے شیطانی حکومت کو اکھاڑ پھینکا اور الٰہی احکام نافذ کئے۔ مگر شیطان نے اس حکومت کے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈہ کیا کہ نزدیک کے ممالک بھی حقیقت حال سے آگاہ نہ ہوسکے اور اندیشہائے دور و دراز میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

ہاں ایک سوال یہ ہوسکتا ہے کہ کیا تک یہی صورت حال رہے گی۔ ساری دنیا پر اللہ کے احکام نافذ نہ ہوپائیں گے، اور شیطان کی عمل داری قائم رہے گی؟۔

اگر اس سوال کا جواب مثبت ہے تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ الٰہی احکام میں اس کی لیاقت ہی نہیں کہ ساری دنیا پر ان کا نفاذ ہوسکے۔

وہ لوگ جو عقیدۂ مہدویت کے قائل نہیں ہیں ان کے پاس گذشتہ سوال کا جواب ہی نہیں۔

البتہ وہ افراد جو عقیدۂ مہدویت کو دل سے لگائے ہوئے ہیں، یقین کامل سے یہ بات کہتے ہیں کہ شیطان کی ساری ریشہ دوانیاں پس چند روزہ ہیں، باطل کی چمک دمک وقتی ہے۔

ایک دن یقیناً ایسا آئے گا جب اللہ کی آخری حجت کا ظھور ہوگا۔ روئے زمین پر صرف اللہ کے احکام نافذ ہوں گے۔ فطرت سے منحرف انسان اپنی فطرت کی طرف واپس آجائے گا، انسان کا ضمیر اتنا زیادہ بیدار ہوجائے گا کہ وہ انسان کو انحراف سے باز رکھے گا۔

حضرت ولی عصر (عج) کے سلسلے میں اس مختصر کتاب میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اس کے پہلے ایڈیشن میں صرف "انتظار" کا فلسفہ بیان کیا گیا تھا۔ لیکن اس جدید ایڈیشن میں کئی نئے مباحث کا اضافہ کیا گیا ہے۔

انتظار" بھی استاد بزرگوار آیۃ اللہ مکارم شیرازی مدظلہ کے قلم کی تخلیق تھا اور جن نئے مباحث کا اضافہ کیا گیا ہے وہ بھی استاد بزرگوار کی گراں مایہ تصنیف "مھدی انقلابی بزرگ" سے اقتباس کیے گئے ہیں۔

نام: محمد

کنیت: ابو القاسم

القاب: مھدی، صاحب الزمان، قائم، منتظر، ولی عصر، بقیۃ اللہ

والد بزرگوار: حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام

والدۂ ماجدہ: جناب نرجس خاتون

تاریخ ولادت: ۱۵/ شعبان، ۲۵۵ ہجری

جائے ولادت: سامراء (عراق)

غیبت صغریٰ: ۲۶۰ ہجری

غیبت صغریٰ میں امام علیہ السلام کے نائبین:

(۱) ابو عمر عثمان بن سعید العمری (ربیع الاول ۲۶۰ - شعبان ۲۶۵)

(۲) ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید العمری _شعبان ۲۶۵ - جمادی الاولیٰ ۳۰۵)

(۳) ابو القاسم حسین بن روح النوبختی (جمادی الاولیٰ ۳۰۵ - شعبان ۳۲۶)

(۴) ابوالحسن علی بن محمد السمری (شعبان ۳۲۶ - شعبان ۳۲۹)

۳۲۹ ہجری کے بعد غیبت صغریٰ تمام ہوگئی۔

غیبت صغریٰ میں امام علیہ السلام عام نگاہوں سے پوشیدہ تھے۔ مگر ان نائبین کے ذریعہ امام تک رسائی ممکن تھی۔ یہ نائبین لوگوں کے مسائل امام کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور امام جواب مرحمت فرمادیتے تھے۔ ایک نائب کے انتقال کے بعد دوسرے نائب کا تعین فرمادیتے تھے۔ لیکن ابوالحسن السمری کے انتقال سے چند دن پہلے آپ نے توقیع میں تحریر فرمایا کہ:

اسی ہفتہ تمھارا انتقال ہوجائے گا، تم کسی کو نائب معین نہ کرنا۔۔۔۔۔

غیبتِ کبریٰ شروع ہونے والی ہے، خدا کے حکم سے ظھور ہوگا۔ اس دوران جو میری ملاقات کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔"

غیبت صغریٰ کے بعد نیابت خاصہ کا دور ختم ہوگیا۔ غیبت کبریٰ میں نیابت عامہ کا آغاز ہوا۔ غیبت کبریٰ میں امام نے دین کے تحفظ کی ذمہ داری کسی خاص فرد پر نہیں بلکہ عادل فقہاء پر عائد فرمائی ہے۔

ایک توقیع میں امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

جدید مسائل کے بارے میں ہم اری احادیث کے راوی (فقہاء) کی طرف رجوع کرو، کیونکہ یہ میری طرف سے تم لوگوں پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے ان پر حجت ہوں، ان کی بات کو رد کرنا میری بات کا رد کرنا ہے۔"

گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں اس لئے تحریف کا شکار ہوگئیں کہ اس وقت ایسے امین فقہاء نہ تھے ۔۔۔ لائق صد آفریں ہیں وہ فقہاء جنھوں نے دین کو تحریف سے محفوظ رکھا اور ہم تک دین پہونچایا ۔۔ اور اس اسلام دشمن دور میں اسلام کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ سلام ہو ان فقہاء پر۔

جس دن ان کی ولادت ہوئی، جس دن ان کی وفات ہوئی اور جس دن وہ محشور کیے جائیں گے۔

آئیے حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کے اقوال پر ایک نظر ڈالیں، اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

میرا وجود غیبت میں بھی لوگوں کے لیے ایسا ہی مفید ہے جیسے آفتاب بادلوں کی اوٹ سے۔

میں زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھردوں گا جس طرح وہ ظلم و جود سے بھر گئی ہے۔

ظھور میں تعجیل کے لئے دعا مانگو کیونکہ اسی میں تمھاری بھلائی ہے۔

جو لوگ ہم ارے اموال کو مشتبہ اور مخلوط کیے ہوئے ہیں، جو کوئی بھی اس میں سے ذرہ برابر بلا استحقاق کھائے گا گویا اس نے اپنا شکم آگ سے پر کیا۔

میں اہل زمین کے لئے اس طرح باعثِ امان ہوں جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے۔

ہم ارا علم تمھارے سارے حالات پر محیط ہے اور تمھاری کوئی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔

ہم تمھاری خبر گیری سے غافل نہیں ہیں اور نہ تمھاری یاد اپنےدل سے نکال سکتے ہیں۔

ہر وہ کام کرو جو تمھیں ہم سے نزدیک کردے اور ہر اس عمل سے پرہیز کرو جو ہم ارے لئے بار خاطر اور ناراضگی کا سبب ہو۔

تم میں کوئی تقویٰ اختیار کرے گا اور مستحق تک اس کا حق پہونچائے گا وہ آنے والی آفتوں سے محفوظ رہے گا۔

اگر ہم ارے چاہنے والے اپنے عہد و پیمان کی وفا کرتے تو ہم اری ملاقات میں تاخیر نہ ہوتی۔ اور ہم اری زیارت انھیں جلد نصیب ہوتی۔

ہم یں تم سے کوئی چیز دور نہیں کرتی مگر وہ جو ہم یں ناگوار اور ناپسند ہیں۔

نماز شیطان کو رسوا کردیتی ہے، نماز پڑھو اور شیطان کو رُسوا کرو۔

تعجب ہے ان لوگوں کی نماز کیسے قبول ہوتی ہے جو سورہ انّا انرلناہ کی تلاوت نہیں کرتے۔

ملعون ہے ملعون وہ شخص جو نماز مغرب میں اتنی تاخیر کرے کہ تارے خوب کھل جائیں۔

اور ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جو نماز صبح میں اتنی تاخیر کرے جب کہ تمام ستارے غائب ہوجائیں۔

بطورِ ابتداء

آج دانش ور حضرات یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ اگر دنیا کی یہی حالت رہی اور اسی رفتار سے مہلک ہتھیاروں میں اضافہ ہوتا رہا تو دنیا بہت جلد نیست و نابود ہوجائے گی۔ دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

اگر دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے تو اس کی بس ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ دنیا سے ممالک کی تقسیم اور جغرافیائی حد بندیاں ختم ہوجائیں، پوری دنیا پر صرف ایک حکومت ہو اور بس یہی ایک صورت ہے جس کی بنا پر امن قائم ہوسکتا ہے۔ آج نہیں تو کچھ دنوں بعد ضرور یہ حقیقت بالکل واضح ہوجائے گی۔

ایک سوال ذہن میں کروٹیں لیتا ہے کہ اس عظیم حکومت کی رہبری کس کے سپرد ہو، زمام حکومت کس کے ہاتھوں میں ہو۔؟

زمامِ حکومت بس اسی کے ہاتھوں میں ہونا چاہیئے جس نے اپنے اوپر پورا اختیار ہو، جو جذبات پر باقاعدہ مسلط ہو۔ جذبات میں بہہ جانے والا، خواہشات کے سمندر میں غرق ہوجانے والا کبھی صحیح رہبری نہیں کرسکے گا۔ خواہشات کا پابند ہونے کا مطلب یہی ہے کہ عدل و انصاف کا دامن اس کے ہاتھوں سے چھوٹ جائے، تو اس میں امن کہاں قائم ہوسکتا ہے۔

اگر دنیا کے عام انسان اس عظیم رہبری کی صلاحیت رکھتے ہوتے تو دنیا کب کی گہوارۂ امن بن چکی ہوتی۔

ضرورت ہے ایک ایسے رہبر کی جسے ہم اصطلاحاً معصوم کہتے ہیں۔

اس بات پر دنیا کے تمام مسلمان متفق ہیں کہ قبل ایک ایسے انسان کا ظھور ہوگا جو معصوم ہوگا، ساری دنیا پر اس کی حکومت ہوگی، جس کے نتیجہ یہ میدانِ جنگ گہوارۂ امن میں تبدیل ہوجائے گا۔

اختلاف صرف اس بات کا ہے کہ وہ عظیم انسان پیدا ہوچکا ہے، یا پیدا ہوگا۔۔؟ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ عظیم انسان ۲۵۶ ہجری میں اس دنیا میں آچکا ہے، اور اس وقت وہ پردۂ غیبت میں ہے، جس کا ہم لوگ انتظار کر رہے ہیں۔

کیا ایک انسان اتنے دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔؟

اگر وہ زندہ ہے تو ہم یں دکھائی کیوں نہیں دیتا۔؟

ارادہ تو یہی تھا کہ اس مقدمہ میں اس قسم کے سوالات کا معقول اور اطمینان بخش جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائے مگر اس صورت میں کتاب کافی طویل ہوجاتی۔ جس کی بنا پر صرف نظر کرنا پڑا۔ اگر توفیق خداوندی شاملِ حال رہی تو انشاء اللہ عنقریب ان موضوعات کو پیش کیا جائے گا۔

ایک سوال اور ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ:

اگر ایک امامِ غائب کا عقیدہ ایک خالص اسلامی عقیدہ ہے اور امام کا انتظار کرنا ایک عظیم عبادت ہے تو اس انتظار کا فائدہ کیا ہے۔ اور اس عقیدے کے اثرات انسانی زندگی پر کیا ہیں۔؟

اس سوال کا مفصل جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کتابچے میں ملے گا۔

اس کتابچے کو استاد محترم دانشمند عالی قدر حضرت علامہ الحاج آقایٔ ناصر مکارم شیرازی دام ظلہ العالی نے تحریر فرمایا ہے۔ آپ کا شمار "حوزہ علمیہ قم" (ایران) کے صفِ اوّل کے اساتذہ کرام میں ہوتا ہے،آپ کے جلسہ درس میں سیکڑوں با فضل طلاب علوم شرکت کرتے ہیں، اور آپ کے سر چشمۂ علم و کمال سے اپنے لئے بقدر طرف ذخیرہ کرتے ہیں۔ جہاں آپ "حوزہ علمیہ قم" کے طلاب علم کو معارف اسلامی سے آشنا کرتے ہیں، وھاں آپ ایران کے گوشہ و کنار میں لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آشنا کرانے کے لئے کثیر تعداد میں مبلغین ارسال فرمایا کرتے ہیں اور ان کے تمام مصارف خود برداشت کرتے ہیں۔

حضرت استاد محترم نے سب سے پہلے ایک ایسے درسِ عقائد کی بنیاد رکھی جس کی روشنی میں آج کی ترقی یافتہ اور متمدن دنیا کو اسلامی عقائد سے روشناس کرایا جاسکے۔ آپ نے بہت ہی نایاب انداز سے ان اعتراضات کا جواب دیا ہے جو آج کی دنیا اسلامی عقائد پر وارد کرتی ہے۔ یہ آپ کا شاھکار ہے کہ آپ نے اسلامی عقائد اور دیگر مذاہب کے عقائد کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے، جس میں اسلام کی برتری روزِ روشن کی طرح نظر آتی ہے اس درس کے نتیجہ میں متعدد علمی اور فلسفی کتابیں منظر عام پر آئیں، اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ مستقل حیثیت کی مالک ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والا علمی، فلسفی، دینی اور اخلاقی ماہنامہ "مکتب اسلام" آپ ہی کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

آپ بھی شاہ ایران کی ظالم و جابر حکومت کے ہاتھوں محفوظ نہ رہے، صرف اس لئے کہ آپ لوگوں تک اسلامی تعلیمات نہ پہونچاسکیں اور آپ کا مشن ناکام ہوجائے آپ کو مختلف شھروں میں شھر بدر کیا جاتا رہا، لیکن آپ اپنے عزم و ارادے سے ذرا بھی پیچھے نہ ہٹے بلکہ پہلے سے زیادہ عزم و استقلال کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ آپ کی زندگی کے حالات کے لئے خود ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔

ہم بارگاہ خداوندی میں دست بدعا ہیں کہ محمد وآل محمد علیہم السلام کے تصدق میں موصوف کو ہم یشہ مصائب و مشکلات سے محفوظ رکھے، طویل عمر عنایت فرمائے، آپ کے مقاصد کو دن دونی رات چوگنی ترقی نصیب ہو۔

اور ہم لوگ بھی آپ کی زندگی سے کچھ سبق حاصل کرسکیں۔ آمین یا رب العالمین۔

صاحبان نظر سے استدعا ہے کہ اگر کوئی اشتباہ ہو یا کوئی چیز باقی رہ گئی ہو، تو براہِ کرم حقیر کو مطلع فرمائیں تاکہ اس کا ازالہ ہوسکے۔ انسان کی کمزوریاں صحیح و سالم انتقاد سے دور ہوا کرتی ہیں۔

خدایا! توفیق عطا فرما کہ تیری راہ میں قدم اٹھا سکیں۔

لوگوں تک تیرا پیغام پہونچاسکیں، تو ہی بہترین توفیق دینے والا ہے۔

ناچیز مترجم


انتظار

سارے کے سارے مسلمان ایک ایسے "مصلح" کے انتظار میں زندگی کے رات دن گذارے رہے ہیں جس کی خصوصیات یہ ہیں:۔

(۱) عدل و انصاف کی بنیاد پر عالم بشریت کی قیادت کرنا، ظلم و جور، استبداد و فساد کی بساط ہم یشہ کے لئے تہ کرنا۔

(۲) مساوات و برادری کا پرچار کرنا۔

(۳) ایمان و اخلاق، اخلاص و محبّت کی تعلیم دینا۔

(۴) ایک علمی انقلاب لانا۔

(۵) انسانیت کو ایک حیاتِ جدید سے آگاہ کرانا۔

(۶) ہر قسم کی غلامی کا خاتمہ کرنا۔

اس عظیم مصلح کا اسم مبارک مھدی (عج) ہے، پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں ہے۔

اس کتابچے کی تالیف کا مقصد یہ نہیں ہے کہ گزشتہ خصوصیات پر تفصیلی اور سیر حاصل بحث کی جائے، کیونکہ ہر ایک خصوصیت ایسی ہے جس کے لئے ایک مکمل کتاب کی ضرورت ہے۔

مقصد یہ ہے کہ "انتظار" کے اثرات کو دیکھا جائے اور یہ پہچانا جاسکے کہ صحیح معنوں میں منتظر کون ہے اور صرف زبانی دعویٰ کرنے والے کون ہیں، اسلامی روایات و احادیث جو انتظار کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں، یہ انتظار کو ایک عظیم عبادت کیوں شمار کیا جاتا ہے۔؟

غلط فیصلے

سب سے پہلے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انتطار کا عقیدہ، کیا ایک خالص اسلامی عقیدہ ہے یا یہ عقیدہ شکست خوردہ انسانوں کی فکر کا نتیجہ ہے۔؟ یا یوں کہا جائے کہ اس عقیدہ کا تعلق انسانی فطرت سے ہے، یا یہ عقیدہ انسانوں کے اوپر لادا گیا ہے۔؟

بعض مستشرقین کا اس بات پر اصرار ہے کہ اس عقیدے کا تعلق انسانی فطرت سے نہیں ہے بلکہ یہ عقیدہ شکست خوردہ ذہنیت کی پیداوار ہے۔

بعض مغرب زدہ ذہنیتوں کا نظریہ ہے کہ یہ عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہودی اور عیسائی طرز فکر سے حاصل کیا گیا ہے۔

مادّہ پرست اشخاص کا کہنا ہے ک اس عقیدے کی اصل و اساس اقتصادیات سے ہے۔ صرف فقیروں، مجبوروں، ناداروں اور کمزوروں کو بہلانے کے لئے یہ عقیدہ وجود میں لایا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے ک اس عقیدے کا تعلق انسانی فطرت سے ہے اور یہ ایک خالصِ اسلامی نظریہ ہے، دوسرے نظریات کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس عقیدہ کے بارے میں اظھار رائے کیا ہے، اگر ان کو متعصب اور منافع پرست نہ کہا جاسکے تو یہ بات بہر حال مانی ہوئی ہے کہ ان لوگوں کی معلومات اسلامی مسائل کے بارے میں بہت زیادہ محدود ہیں۔ ان محدود معلومات کی بنا پر یہ عقیدہ قائم کرلیا ہے کہ ہم نے سب کچھ سمجھ لیا ہے اور اپنے کو اس بات کا مستحق قرار دے لیتے ہیں کہ اسلامی مسائل کے بارے میں اظھار نظر کریں، اس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جسے آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ بدیہی بات ہے کہ محدود معلومات کی بنیادوں پر ایک آخری نظریہ قائم کرلینا کہاں کی عقلمندی ہے، آخری فیصلہ کرنے کا حق صرف اس کو ہے جو مسئلے کے اطراف و جوانب سے باقاعدہ واقف ہو۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم یں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اس عقیدے کی بنیاد کیا ہے، ہم ارا سوال تو صرف یہ ہے کہ اس عقیدے کا فائدہ کیا ہے؟ اور اس کے اثرات کیا ہیں؟

ہم نے جو دیکھا وہ یہ ہے کہ جو لوگ اس عقیدے کو دل سے لگائے ہوئے ہیں وہ ہم یشہ رنج و محن کا شکار ہیں اور ان کی زندگیاں مصائب برداشت کرتے گذرتی ہیں ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے بھاگتے ہیں، فساد کے مقابل ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رھتے ہیں اور اس کی سعی و کوشش بھی نہیں کرتے کہ فساد ختم بھی ہوسکتا ہے ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے، ایسے عقیدے رکھنے والوں کو ایسی کوئی فکر ہی نہیں۔

اس عقیدے کی بنیاد جو بھی ہو مگر اس کے فوائد و اثرات خوش آیند نہیں ہیں یہ عقیدہ انسان کو اور زیادہ کاہل بنا دیتا ہے۔

اگر ایک دانش ور کسی مسئلے میں فیصلہ کرنا چاھتا ہے اور صحیح نظریہ قائم کرنا چاھتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کے اطراف و جوانب کا باقاعدہ مطالعہ کرے، اس کے بعد ہی کوئی صحیح نظریہ قائم ہوسکتا ہے۔

آئیے پہلے ہم خود اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر غور کریں کہ اس عقیدے کی بنیاد کیا ہے؟ کیا واقعاً یہ عقیدہ شکست خوردہ ذہنیت کے افکار کا نتیجہ ہے؟ یا اس کی بنیاد اقتصادیات پر ہے؟ یا پھر اس کا تعلق انسان کی فطرت سے ہے؟ اس عقیدے کے اثرات مفید ہیں یا نقصان رساں؟۔

انتظار اور فطرت

بعض لوگوں کا قول ہے کہ اس عقیدے کی بنیاد فطرت پر نہیں ہے بلکہ انسان کے افکار پریشاں کا نتیجہ ہے اس کے باوجود اس عقیدے کی اصل و اساس انسانی فطرت ہے، اس نظریے کی تعمیر فطرت کی بنیادوں پر ہوئی ہے۔

انسان دو راستوں سے اس عقیدے تک پہونچتا ہے۔ ایک اس کی اپنی فطرت ہے اور دوسرے اس کی عقل۔ فطرت و عقل دونوں ہی انسان کو اس نظریے کی دعوت دیتے ہیں۔

انسان فطری طور پر کمال کا خواھاں ہے، جس طرح سے فطری طور پر اس میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ جن چیزوں کو نہیں جانتا ان کے بارے میں معلومات حاصل کرے، اسی طرح وہ فطری طور پر اچھائیوں کو پسند کرتا ہے اور نیکی کو پسند کرتا ہے۔

بالکل اسی طرح سے انسان میں کمال حاصل کرنے کا جذبہ بھی پایا جاتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے، اسی جذبے کے تحت انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرسکے کیونکہ وہ جتنا زیادہ علم حاصل کرے گا اتنا ہی زیادہ اس میں کمال نمایاں ہوگا۔ اسی جذبے کے تحت اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نیکی کرے، انسان فطری طور پر نیک طینت اور نیک اشخاص کو پسند کرتا ہے۔

کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تقاضے ایک شکست خوردہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں، یا ان کی بنیاد اقتصادیات پر ہے، یا ان کا تعلق وراثت اور ترتیب وغیرہ سے ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ وراثت اور ترتیب ان تقاضوں میں قوت یا ضعف ضرور پیدا کرسکتی ہیں لیکن ان جذبات کو ختم کردینا ان کے بس میں نہیں ہے کیونکہ ان کا وجود ان کا مرھونِ منّت نہیں ہے۔ ان تقاضوں کے فطری ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ تاریخ کے ہر دور اور ہر قوم میں یہ تقاضے پائے جاتے ہیں کیونکہ اگر یہ تقاضے فطری نہ ہوتے تو کہیں پائے جاتے اور کہیں نہ پائے جاتے۔ انسانی عادتوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ ایک قوم کی عادت دوسری قوم میں نہیں پائی جاتی، یا ایک چیز جو ایک قوم میں عزّت کی دلیل ہے وہی دوسری قوم میں ذلّت کا باعث قرار پاتی ہے۔

کمال، علم و دانش، اچھائی اور نیکی سے انسان کا لگاؤ ایک فطری لگاؤ ہے جو ہم یشہ سے انسانی وجود میں پایا جاتا ہے، دنیا کی تمام اقوام اور تمام ادوار تاریخ میں ان کا وجود ملتا ہے۔ عظیم مصلح کا انتظار انھیں جذبات کی معراجِ ارتقاء ہے۔

یہ کیوں کر ممکن ہے کہ انسان میں یہ جذبات تو پائے جائیں مگر اس کے دل میں انتظار کے لئے کوئی کشش نہ ہو، انسانیت و بشریت کا قافلہ اس وقت تک کمالات کے ساحل سے ہم کنار نہیں ہوسکتا جب تک کسی ایسے مصلح بزرگ کا وجود نہ ہو۔

اب یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ عقیدہ شکست خوردہ ذہنیت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ انسانی ضمیر کی آواز ہے اس کا تعلق انسان کی فطرت سے ہے۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسانی بدن کا ہر حصہ انسان کے جسمی کمالات پر اثر انداز ہوتا ہے ہم یں کوئی ایسا عضو نہیں ملے گا جو اس کی غرض کے پورا کرنے میں شریک نہ ہو، ہر عضو اپنی جگہ انسانی کمالات کے حاصل کرنے میں کوشاں ہے۔ اسی طرح روحی اور معنوی کمالات کے سلسلے میں روحانی خصوصیات اس مقصد کے پورا کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔

انسان خطرناک چیزوں سے خوف کھاتا ہے یہ روحانی خصوصیت انسان کے وجود کو ہلاکت سے بچاتی ہے اور انسان کے لئے ایک سپر ہے حوادث کا مقابلہ کرنے کے لئے

غصہ انسان میں دفاعی قوت کو بڑھا دیتا ہے، تمام طاقتیں سمٹ کو ایک مرکز پر جمع ہوجاتی ہیں جس کی بناء پر انسان چیزوں کو تباہ ہونے سے بچا تا ہے اور فائدہ کو تباہ ہونے سے محفوظ رکھتا ہے، دشمنوں پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔

اسی طرح سے انسان میں روحی اور معنوی طور پر کمال حاصل کرنے کا جذبہ پایا جاتا ہے، انسان فطری طور پر عدل و انصاف، مساوات اور برادری کا خواھاں ہے، یہ وہ جذبات ہیں جو کمالات کی طرف انسان کی رہبری کرتے ہیں۔ انسان میں ایک ایسا ولولہ پیدا کردیتے ہیں، جس کی بناء پر وہ ہم یشہ روحانی و معنوی مدارج ارتقاء کو طے کرنے کی فکر میں رہتا ہے، اس کے دل میں یہ آرزو پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ دن جلد آئے جب ساری دنیا عدل و انصاف مساوات و برادری، صدق و صفا، صلح و مروت سے بھر جائے ظلم و جور کی بساط اس دنیا سے اٹھ جائے اور ستم و استبداد رختِ سفر باندھ لے۔

یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ انسان کا وجود اس کائنات سے الگ نہیں ہے بلکہ اسی نظام کائنات کا ایک حصہ ہے، یہ ساری کائنات انسان سمیت ایک مکمل مجموعہ ہے جس میں زمین ایک جزو آفتاب و ماہتاب ایک جزء اور انسان ایک جزء ہے۔

چونکہ ساری کائنات میں ایک نظام کار فرما ہے لھٰذا اگر انسانی وجود میں کوئی جذبہ پایا جاتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس جذبے کا جواب خارجی دنیا میں ضرور پایا جاتا ہے۔

اسی بناء پر جب ہم یں پیاس لگتی ہے تو ہم خود بخود پانی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اسی جذبے کے تحت ہم یں اس بات کا یقین ہے کہ جہاں جہاں پیاس کا وجود ہے وھاں خارجی دنیا میں پیاس کا وجود ضرور ہوگا۔ اگر پانی کا وجود نہ ہوتا تو ہرگز پیاس نہ لگتی۔ اگر ہم اپنی کوتاہیوں کی بناء پر پانی تلاش نہ کرپائیں تو یہ اس بات کی ہرگز دلیل نہ ہوگی کہ پانی کا وجود نہیں ہے، پانی کا وجود ہے البتہ ہم اری سعی و کوشش ناقص ہے۔

اگر انسان میں فطری طور پر علم حاصل کرنے کا جذبہ پایا جاتا ہے تو ضرور خارج میں اس شے کا وجود ہوگا جس کا علم انسان بعد میں حاصل کرے گا۔

اسی بنیاد پر اگر انسان ایک ایسے عظیم مصلح کے انتظار میں زندگی بسر کر رہا ہے جو دنیا کے گوشے گوشے کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ چپہ چپہ نیکیوں کا مرقع بن جائے گا، تو یہ بات واضح ہے کہ انسانی وجود میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے، یہ انسانی سماج ترقی اور تمدن کی اس منزلِ کمال تک پہونچ سکتا ہے تبھی تو ایسے عالمی مصلح کا انتظار انسان کی جان و روح میں شامل ہے۔

عالمی مصلح کے انتظار کا عقیدہ صرف مسلمانوں کے ایک گروہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ سارے مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے۔ اور صرف مسلمانوں ہی تک یہ عقیدہ منحصر نہیں ہے بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہے۔

اس عقیدے کی عمومیت خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عقیدہ شکست خوردہ ذہنیت کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ ہی اقتصادیات کی پیداوار ہے کیونکہ جو چیزیں چند خاص شرائط کے تحت وجود میں آتی ہیں ان میں اتنی عمومیت نہیں پائی جاتی۔ ہاں صرف فطری مسائل ایسی عمومیت کے حامل ہوتے ہیں کہ ہر قوم و ملّت اور ہر جگہ پائے جائیں۔ اسی طرح سے عیقدے کی عمومیت اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ اس عقیدے کا تعلق انسان کی فطرت سے ہے۔ انسان فطری طور پر ایک عالمی مصلح کے وجود کا احساس کرتا ہے جب اس کا ظھور ہوگا تو دنیا عدل و انصاف کا مرقع ہوجائے گی۔

عالمی مصلح اور اسلامی روایات

ایک ایسی عالمی حکومت کا انتظار جو ساری دنیا میں امن و امان برقرار کرے، انسان کو عدل و انصاف کا دلدادہ بنائے، یہ کسی شکست خوردہ ذہنیت کی ایجاد نہیں ہے، بلکہ انسان فطری طور پر ایسی عالمی حکومت کا احساس کرتا ہے۔ یہ انتظار ضمیر انسانی کی آواز ہے ایک پاکیزہ فطرت کی آرزو ہے۔

بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ یہ عقیدہ ایک خالص اسلامی عقیدہ نہیں ہے بلکہ دوسرے مذاہب سے اس کو اخذ کیا گیا ہے، یا یوں کہا جائے کہ دوسروں نے اس عقیدے کو اسلامی عقائد میں شامل کردیا ہے۔ ان لوگوں کا قول ہے کہ اس عقیدے کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ فکر واقعاً ایک غیر اسلامی فکر ہے جو رفتہ رفتہ اسلامی فکر بن گئی ہے؟ یا در اصل یہ ایک خالص اسلامی فکر ہے۔

اس سوال کا جواب کس سے طلب کیا جائے۔ آیا ان مستشرقین سے اس کا جواب طلب کیا جائے جن کی معلومات اسلامیات کے بارے میں نہایت مختصر اور محدود ہیں۔ یہیں سے مصیبت کا آغاز ہوتا ہے کہ ہم دوسروں سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اس آدمی سے پانی طلب نہ کرے جو دریا کے کنارے ہے بلکہ ایک ایسے شخص سے پانی طلب کرے جو دریا سے کوسوں دُور ہے۔

یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ مستشرقین کی باتوں کو بالکل کفر و الحاد تصور کیا جائے اور ان کی کوئی بات مانی ہی نہ جائے، بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ "اسلام شناسی" کے بارے میں ان کے افکار کو معیار اور حرفِ آخر تصور نہ کیا جائے۔ اگر ہم تکنیکی مسائل میں علمائے غرب کا سہارا لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم اسلامی مسائل کے بارے میں بھی ان کے سامنے دستِ سوال دراز کریں۔

ہم علمائے غرب کے افکار کو اسلامیات کے بارے میں معیار اس لیے قرار نہیں دے سکتے کہ ایک تو ان کی معلومات اسلامی مسائل کے بارے میں نہایت مختصر اور محدود ہے، جس کی بنا پر ایک صحیح نظریہ قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ تمام اسلامی اصول کو مادی اصولوں کی بنیاد پر پرکھنا چاھتے ہیں، ہر چیز میں مادی فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ بدیہی بات ہے کہ اگر تمام اسلامی مسائل کو مادیت کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو ایسی صورت میں اسلامی مسائل کی حقیقت کیا سمجھ میں آئے گی۔

اسلامی روایات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ "انتظار" کا شمار ان مسائل میں ہے جن کی تعلیم خود پیغمبر اسلام (ص) نے فرمائی ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی انقلابی مہم کے سلسلے میں روایات اتنی کثرت سے وارد ہوئی ہیں کہ کوئی بھی انصاف پسند صاحبِ تحقیق ان کے "تواتر" سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ شیعہ اور سُنّی دونوں فرقوں کے علماء نے اس سلسلے میں متعدد کتابیں لکھی ہیں اور سب ہی نے ان روایات کے "متواتر" ہونے کا اقرار کیا ہے۔ ہاں صرف "ابن خلدون" اور "احمد امین مصری" نے ان روایات کے سلسلے میں شک و شبہ کا اظھار کیا ہے۔ ان کی تشویش کا سبب روایات نہیں ہیں بلکہ ان کا خیال ہے کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جسے اتنی آسانی سے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اس سلسلہ میں اس سوال و جواب کا ذکر مناسب ہوگا جو آج سے چند سال قبل ایک افریقی مسلمان نے مکہ معظمہ میں جو عالمی ادارہ ہے، اس سے کیا تھا۔ یہ بات یاد رہے کہ یہ ارادہ وھابیوں کا ہے اور انھیں کے افکار و نظریات کی ترجمانی کرتا ہے۔ سب کو یہ بات معلوم ہے کہ وھابی اسلام کے بارے میں کس قدر سخت ہیں، اگر یہ لوگ کسی بات کو تسلیم کرلیں تو اس سے اندازہ ہوگا کہ یہ مسئلہ کس قدر اہم یت کا حامل ہے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس جواب سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت امام مہدی (ع) کا انتظار ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر دنیا کے تمام لوگ متفق ہیں، اور کسی کو بھی اس سے انکار نہیں ہے۔ وھابیوں کا اس مسئلہ کو قبول کرلینا اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ اس سلسلہ میں جو روایات وارد ہوئی ہیں ان میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ذیل میں سوال اور جواب پیش کیا جاتا ہے۔

حضرت امام مہدی (ع) کے ظھور پر زندہ دلیلیں

چند سال قبل کینیا (افریقہ) کے ایک باشندے بنام "ابو محمد" نے "ادارہ رابطہ عالم اسلامی" سے حضرت مہدی (ع) کے ظھور کے بارے میں سوال کیا تھا۔

اس ادارے کے جنرل سکریٹری "جناب محمد صالح اتغزاز" نے جو جواب ارسال کیا، اس میں اس بات کی با قاعدہ تصریح کی ہے کہ وھابی فرقے کے بانی "ابن تیمیہ" نے بھی ان روایات کو قبول کیا ہے جو حضرت امام مھدی علیہ السلام کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ اس جواب کے ذیل میں سکریٹری موصوف نے وہ کتابچہ بھی ارسال کیا ہے جسے پانچ جید علمائے کرام نے مل کر تحریر کیا ہے۔ اس کتابچے کے اقتباسات قارئین محترم کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں: ۔۔۔۔

عظیم مصلح کا اسم مبارک مھدی (ع) ہے۔ آپ کے والد کا نام "عبد اللہ" ہے اور آپ مكّہ سے ظھور فرمائیں گے۔ ظھور کے وقت ساری دنیا ظلم و جور و فساد سے بھری ہوگی۔ ہر طرف ضلالت و گمراہی کی آندھیاں چل رہی ہوں گی۔ حضرت مہدی (ع) کے ذریعہ خداوندعالم دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، ظلم و جور و ستم کانشان تک بھی نہ ہوگا۔"

رسول گرامی اسلام (ص) کے بارہ جانشینوں میں سے وہ آخری جانشین ہوں گے، اس کی خبر خود پیغمبر اسلام (ص) دے گئے ہیں، حدیث کی معتبر کتابوں میں اس قسم کی روایات کا ذکر باقاعدہ موجود ہے۔"

حضرت مہدی (ع) کے بارے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں خود صحابۂ کرام نے ان کو نقل فرمایا ہے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:۔

(۱) علی ابن ابی طالب (ع)، (۲) عثمان بن عفان، (۳) طلحہ بن عبیدہ، (۴) عبد الرحمٰن بن عوف، (۵) عبد اللہ بن عباس، (۶) عمار یاسر، (۷) عبد اللہ بن مسعود، (۸) ابوسعید خدری، (۹) ثوبان، (۱۰) قرہ ابن اساس مزنی، (۱۱) عبد اللہ ابن حارث، (۱۲) ابوھریرہ، (۱۳) حذیفہ بن یمان، (۱۴) جابر ابن عبد اللہ (۱۵) ابو امامہ، (۱۶) جابر ابن ماجد، (۱۷) عبد اللہ بن عمر (۱۸) انس بن مالک، (۱۹) عمران بن حصین، (۲۰) ام سلمہ۔

پیغمبر اسلام (ص) کی روایات کے علاوہ خود صحابہ کرام کے فرمودات میں ایسی باتیں ملتی ہیں جن میں حضرت مہدی (ع) کے ظھور کو باقاعدہ ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں اجتہاد وغیرہ کا گذر نہیں ہے جس کی بناء پر بڑے اعتماد سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ تمام باتیں خود پیغمبر اسلام (ص) کی روایات سے اخذ کی گئی ہیں۔ ان تمام باتوں کو علمائے حدیث نے اپنی معتبر کتابوں میں ذکر کیا ہے جیسے:۔

سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، ابن ماجہ، سنن ابن عمر والدانی، مسند احمد، مسند ابن یعلی، مسند بزاز، صحیح حاکم، معاجم طبرانی (کبیر و متوسط)، معجم رویانی، معجم دار قطنی، ابو نعیم کی "اخبار المھدی"۔ تاریخ بغداد، تاریخ ابن عساکر، اور دوسری معتبر کتابیں۔

علمائے اسلام نے حضرت مھدی (ع) کے موضوع پر مستقل کتابیں تحریر کی ہیں جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں:

اخبار المھدی؛ تالیف: ابو نعیم

القول المختصر فی علامات المھدی المنتظر؛ تالیف: ابن ھجر ھیثمی

التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر والد جال والمسیح؛ تالیف: شوکانی

المھدی؛ تالیف: ادریس عراقی مغربی

الوہم المکنون فی الرد علی ابن خلدون؛ تالیف: ابو العباس بن عبد المومن المغربی

مدینہ یونی یورسٹی کے وائس چانسلر نے یونی ورسٹی کے ماہنامہ میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی ہے، ہر دور کے علماء نے اس بات کی باقاعدہ تصریح کی ہے کہ وہ حدیثیں جو حضرت مھدی (ع) کے بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ متواتر ہیں جنھیں کسی بھی صورت سے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ جن علماء نے حدیثوں کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے ان کے نام اور کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں، جن میں تواتر کا ذکر کیا گیا ہے:۔

۱۔ السخاوی اپنی کتاب فتح المغیث میں

۲۔ محمد بن السنادینی اپنی کتاب شرح العقیدہ میں

۳۔ ابو الحسن الابری اپنی کتاب مناقب الشافعی میں

۴۔ ابن تیمیہ اپنے فتوؤں میں

۵۔ سیوطی اپنی کتاب الحاوی میں

۶۔ ادریس عراقی مغربی اپنی کتاب المھدی میں

۷۔ شوکانی اپنی کتاب التوضیح فی تواتر ماجاء میں

۸۔ شوکانی اپنی کتاب فی المنتظر والدجال والمسیح میں

۹۔ محمد جعفر کنانی اپنی کتاب نظم المتناثر میں

۱۰۔ ابو العباس عبد المومن المغربی اپنی کتاب الوہم المکنون میں

ھاں ابن خلدون نے ضرور اس بات کی کوشش کی ہے کہ ان متواتر اور ناقابل انکار حدیثوں کو ایک جعلی اور بے بنیاد حدیث لا مھدی الا عیسیٰ (حضرت عیسیٰ کے علاوہ اور کوئی مھدی نہیں ہے) کے ہم پلّہ قرار دے کر ان حدیثوں سے انکار کیا جائے۔ لیکن علمائے اسلام نے اس مسئلہ میں ابن خلدون کے نظریے کی باقاعدہ تردید کی ہے خصوصاً ابن عبد المومن نے تو اس موضوع پر ایک مستقل کتاب الوہم المکنون تحریر کی ہے۔ یہ کتاب تقریباً ۳۰ برس قبل مشرق اور مغرب میں شائع ہوچکی ہے۔

حافظان حدیث اور دیگر علمائے کرام نے بھی ان حدیثوں کے متواتر ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔

ان تمام باتوں کی بنا پر ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ حضرت مھدی کے ظھور پر ایمان و عقیدہ رکھے۔ اہل سنت والجماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے اور ان کے عقائد میں سے ایک ہے۔

ھاں وہ اشخاص تو ضرور اس عقیدے سے انکار کرسکتے ہیں جو روایات سے بے خبر ہیں، یادین میں بدعت کو رواج دینا چاھتے ہیں، (ورنہ ایک ذی علم اور دیندار کبھی بھی اس عقیدے سے انکار نہیں کرسکتا۔)"

سکریٹری انجمن فقۂ اسلامی

محمد منتصر کنانی

اس جواب کی روشنی میں یہ بات کس قدر واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت مھدی (ع) کے ظھور کا عقیدہ صرف ایک خالص اسلامی عقیدہ ہے کسی بھی دوسرے مذہب سے یہ عقیدہ اخذ نہیں کیا گیا ہے۔

ایک بات ضرور قابل ذکر ہے وہ یہ کہ اس جواب میں حضرت امام مھدی (ع) کے والد بزرگوار کا اسمِ مبارک عبد اللہ ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ اہل بیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ہوئی ہیں۔ ان میں بطور یقین حضرت کے والد بزرگوار کا اسم مبارک حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ہے

اس شبہ کی وجہ وہ روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں "اسم ابیه اسم ابی " (ان کے والد کا نام میرے والد کا نام ہے) جبکہ بعض دوسری روایات میں ابی (میرے والد) کے بجائے ابنی (میرا فرزند) ہے، صرف نون کا نقطہ حذف ہوجانے یا کاتب کی غلطی سے یہ اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ اسی بات کو "گنجی شافعی" نے اپنی کتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں ذکر کیا ہے، اس کے علاوہ

۱۔ یہ جملہ اہل سنت کی اکثر روایات میں موجود نہیں ہے

۲۔ ابن ابی لیلیٰ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:اسمه اسمی اسم ابیه اسم ابنی ۔ (اس کا نام میرا نام ہے، اس کے والد کا نام میرے فرزند کا نام ہے) فرزند سے مراد حضرت امام حسن علیہ السلام ہیں۔

۳۔ اہل سنت کی بعض روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ امام زمانہ کے والد بزرگوار کا نام حسن ہے۔

۴۔ اہلبیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ہوئی ہیں جو تواتر کی حد کو پہونچتی ہیں ان میں صراحت کے ساتھ یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کے والد بزرگوار کا اسم مبارک حسن ہے۔

انتظار کے اثرات

گذشتہ بیانات سے یہ بات روشن ہوگئی کہ عظیم مصلح کا انتظار ایک فطری تقاضہ ہے اور انسان دیرینہ آرزو کی تکمیل ہے۔ یہ عقیدہ ایک خالص اسلامی عقیدہ ہے یہ عقیدہ صرف فرقہ شیعہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اسلام کے تمام فرقے اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اس سلسلے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں وہ "تواتر" کی حد تک پہونچی ہوئی ہیں۔(۱)

ھاں وہ حضرات جن کی معلومات کا دائرہ محدود ہے اور ہر بات کو مادیت اور اقتصادیات کی عینک لگاکر دیکھنا چاھتے ہیں، یہ حضرات ضرور یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی عقیدہ نہیں ہے، یا یہ طرز فکر ایک شکست خوردہ ذہنیت کا نتیجہ ہے۔

ایک بات باقی رہ جاتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر قبول بھی کرلیا جائے کہ یہ عقیدہ ایک خالص اسلامی عقیدہ ہے اور خالص اسلام کے انداز فکر کا نتیجہ ہے مگر اس عقیدے کا فائدہ کیا ہے، عظیم مصلح کے انتظار میں زندگی بسر کرنے سے انسان کی زندگی پر کیا اثرات رونما ہوتے ہیں۔۔؟ انسان کے طرز فکر میں کون سی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔؟

یہ عقیدہ انسان کو ایک ذمہ دار شخص بناتا ہے یا لا اُبالی؟

یہ عقیدہ انسان میں ایک جوش پیدا کرتا ہے یا اس کے احساسات پر مایوسی کی اوس ڈال دیتا ہے۔؟

انسانی زندگی کو ایک نیا ساز عطا کرتا ہے یا اس کی زندگی کو بے کیف بنا دیتا ہے۔؟

یہ عقیدہ انسان کو ایک ایسی قوت عطا کرتا ہے جس سے وہ مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے یا انسان کو ضعیف و کمزور بنا دیتا ہے۔؟

یہ بات بھی توجہ کے قابل ہے کہ ذوق اور سلیقے کے مختلف ہونے کی بنا پر ہوسکتا ہے کہ ایک ہی چیز سے دو مختلف نتیجے اخذ کئے جائیں۔ ایک آدمی ایسے نتائج برآمد کرلے جو واقعاً مفید اور کار آمد ہوں اور دوسرا آدمی اسی چیز سے ایسے نتائج اخذ کرے جو بے کار اور مضر ہوں۔ ایٹمی توانائی کو انسان ان چیزوں میں بھی استعمال کرسکتا ہے جو حیات انسانی کے لئے مفید اور ضروری ہیں اور اسی ایٹمی توانائی کو انسانیت کی ہلاکت کے لئے بھی استعمال کرسکتا ہے بلکہ کررہا ہے۔

یہی حال ان رواتیوں کا ہے جو انتظار کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں جن میں سے بعض بے خبر یا خود غرض لوگوں نے ایسے نتائج اخذ کئے ہیں جس کی بنا پر اعتراضات کی ایک دیوار قائم ہوگئی۔

انتظار کے اثرات بیان کرنے سے پہلے قارئین کی خدمت میں چند روایتیں پیش کرتے ہیں جن سے انتظار کی اہم یت کا اندازہ ہوجائے گا۔ بعد میں انھیں روایات کو اساس و بنیاد قرار دیتے ہوئے فلسفۂ انتظار کے بارے میں کچھ عرض کریں گے۔ ان روایات کا ذرا غور سے مطالعہ کیجئے تاکہ آئندہ مطالب آسان ہوجائیں۔

۱) ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا۔ وہ شخص جو ائمہ کی ولایت کا قائل ہے اور حکومت حق کا انتظار کر رہا ہے ایسے شخص کا مرتبہ اور مقام کیا ہے۔؟

امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے: "هو بمنزلة من کان مع القائم فی فسطاطه ۔" ( وہ اس شخص کے مانند ہے جو امام کے ساتھ اس ان کے خیمے میں ہو)۔

امام نے تھوڑی دیر سکوت کے بعد پھرمایا:۔ "هو کمن کان مع رسول الله "۔ وہ اس شخص کے مانند ہے جو رسول اللہ کے ہم راہ (جنگ میں) شریک رہا ہو۔(۲)

اسی مضمون کی متعدد روایتیں ائمہ علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں۔

۲) بعض روایات میں ہے: "بمنزلة الضارب بسیفه فی سبیل الله ۔" اس شخص کے ہم رتبہ ہے جو راہ خدا میں شمشیر چلا رہا ہو۔(۳)

۳) بعض روایات میں یہ جملہ ملتا ہے: :کمن قارع معه بسیفه ۔"(۴) اس شخص کے مانند ہے جو رسول خدا (ص) کے ہم راہ دشمن کے سرپر تلوار لگا رہا ہو۔

۴) بعض میں یہ جملہ ملتا ہے: "بمنزلة من کان قاعداً تحت لوائه ۔" اس شخص کے مانند ہے جو حضرت مھدی علیہ السلام کے پرچم تلے ہو۔(۵)

۶) بعض روایات میں یہ جملہ ملتا ہے:۔ "بمنزلة مجاهدین بین یدی رسول الله ۔" اس شخص کے مانند ہے جو پیغمبر اسلام (ص) کے سامنے راہ خدا میں جہاد کر رہا ہو۔(۶)

۷) بعض دوسری روایتوں میں ہے:۔ "بمنزلة من استشهد مع رسول الله " اس شخص کے مانند ہے جو خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم راہ درجۂ شھادت پر فائز ہوا ہو۔(۷)

ان روایتوں میں جو سات قسم کی تشبیہات کی گئی ہیں ان میں غور وفکر کرنے سے انتظار کی اہم یت کا باقاعدہ انداز ہوجاتا ہے اور یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انتظار اور جہاد میں کس قدر ربط ہے۔ انتظار اور شھادت میں کتنا گہرا تعلق ہے۔

بعض دوسری روایتوں میں ملتا ہے کہ "انتظار کرنا بہت بڑی عبادت ہے۔" اس مضمون کی روایتیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام (ص) کی ایک حدیث کے الفاظ ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "افضل اعمال امتی انتظار الفرج من الله عزوجل(۸)

ایک دوسری روایت میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے: "افضل العبادة انتظار الفرج ۔"(۹)

یہ تمام روایتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ انتظار اور جھاد میں کتنا گہرا لگاؤ ہے۔ اس لگاؤ اور تعلق کا فلسفہ کیا ہے، ا سکے لئے ذرا صبر سے کام لیں۔

____________________

۱. تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو "منتخب الاثر" تحریر آیت الله لطف اللہ صافی۔ ص۲۳۱۔ ۲۳۶

۲. بحار الانوار ج ۵۲ ص۱۲۵ طبع جدید

۳. بحار الانوار ج ۵۲ ص ۱۲۶

۴. بحار الانوار جلد ۵۲ ص ۱۲۶

۵. بحار الانوار ج ۵۲ ص ۱۴۲ طبع جدید

۶. بحار الانوار ج ۵۲ ص ۱۲۲

۷. بحار الانوار ج ۵۲ ص ۱۴۲

۸. بحار الانوار ج۵۲ ص۱۲۸

۹. بحار الانوار ج۵۲ ص۱۲۵


انتظار کا مفھوم

انتظار اس حالت کو کہتے ہیں جب انسان اپنی موجودہ حالت سے کبیدہ خاطر ہو اور ایک تابناک مستقبل کی تلاش میں ہو، جیسے ایک مریض جو اپنے مرض سے عاجز آچکا ہو صحت و سلامتی کی امید میں رات دن کوشاں ہے، ایک تاجر جو کساد بازاری سے پریشان ہو اس کی ساری تجارت ٹھپ ہو کر رہ گئی ہو، وہ اس انتظار میں ہے کہ کس طرح یہ کساد بازاری ختم ہو اور اس کی تجارت کو فروغ حاصل ہو، اسی امید میں وہ ہم یشہ سعی و کو شش کرتا رہتا ہے۔

انتظار کے دو پہلو ہیں، اور دونوں پہلو غور طلب ہیں:

۱) منفی: انسان کا اپنی موجودہ حالت سے کبیدہ خا طر ہونا۔

۲) مثبت: تابناک مستقبل کے لئے کو شاں رہنا۔

جب تک انسان کی ذات میں یہ دونوں پہلو نہ پائے جاتے ہوں، اس وقت تک اسے یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ وہ کسی کا منتظر ہے۔ کیونکہ جو شخص موجودہ حالت پر راضی و خوشنود ہوگا اسے مستقبل کے بارے میں کیا فکر ہوسکتی ہے اور اگر وہ موجودہ حالت سے تو راضی نہیں ہے مگر اسے مستقبل کی بھی کوئی فکر نہیں ہے تو ایسی صورت میں یہ شخص کس چیز کا انتظار کرے گا۔

جس قدریہ دونوں پہلو انسانی وجود میں جڑ پکڑتے جائیں گے اسی اعتبار سے اس کی عملی زندگی میں فرق پڑتا جائے گا، کیونکہ جو بات دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے اعضاء و جوارح اپنے عمل سے اس کا اظھار ضرور کرتے ہیں۔

انتظار کے دونوں پہلو انسان کی زندگی کے لئے مفید ہیں جب انسان زمانے کی موجودہ حالت سے کبیدہ خاطر ہوگا تو اس بات کی کوشش کرے گا کہ اپنے کو ہر قسم کے گناہ سے دور رکھے، ظلم و فساد سے کنارہ کشی اختیار کرلے، جور و استبداد کے ختم کرنے کی ہر امکانی کوشش کرے۔ اسی کے ساتھ ساتھ نیکی کی طرف قدم بڑھا رہا ہو اپنے کو نیک صفات سے آراستہ کرنے کی فکر میں ہو۔

اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیں انتظار کا یہ مفہوم انسان سے احساس ذمہ داری کو چھین لیتا ہے یا احساس ذمہ داری کو اور بڑھا دیتا ہے۔ اس بیان کی روشنی میں گذشتہ روایتوں میں ذکر شدہ باتیں کس قدر روشن ہوجاتی ہیں، انسان میں جس قدر آمادگی پائی جاتی ہے اور جس قدر وہ اپنے کو انقلاب عظیم کے لئے تیار کرچکا ہے اسی اعتبار سے وہ فضیلت کے مرتبہ پر فائز ہے آمادگی کے مراتب کو دیکھتے ہوئے روایتوں میں فضیلت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے

جس طرح سے ایک جنگ میں شرکت کرنے والوں کے مراتب مختلف ہیں کوئی وہ ہے جو رسول خدا (ص) کے ساتھ ان کے خیمے میں ہے، کوئی جنگ کے لئے آمادہ ہورہا ہے۔ کوئی میدانِ جنگ میں کھڑا ہے، کوئی تلوار چلا رہا ہے کوئی دشمن سے برسر پیکار ہے اور کوئی جنگ کرتے کرتے شھید ہوچکا ہے۔ انھیں مراتب کے اختلاف کی بنا پر جنگ میں شرکت کرنے والوں کے ثواب اور مراتب میں بھی اختلاف ہے۔

ہی صورت ان لوگوں کی بھی ہے جو ایک عظیم مصلح کے انتظار میں زندگی کے شب و روز گذار رہے ہیں، ایک عالمی انقلاب کی امید لگائے ہوئے ہیں جس کے بعد دنیا امن و امان، سکون و اطمینان کا گہوارہ ہوجائے گی۔ ظلم و جور و استبداد کی تاریکی کافور ہوجائے گی اب جس میں جتنی آمادگی، جذبۂ فدا کاری، شوق شھادت اور عزم و استقلال پایا جاتا ہے اسی اعتبار سے روایتیں اس کے شاملِ حال ہوتی جائیں گی۔

وہ شخص جو پیغمبر اسلام (ص) کے ہم راہ خیمے میں موجود ہے وہ کبھی بھی حالات سے غافل نہیں رہ سکتا، وہ ہم یشہ حالات پر نگاہ رکھے گا، ماحول کو باقاعدہ نظر میں رکھے گا، کیوں کہ وہ ایسی جگہ پر ہے جہاں غفلت اور لاپروائی سے دامن چھڑا کر یہاں آیا ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہے کہ اس کی غفلت سے کیا نتائج برآمد ہوں گے، اس کی معمولی سی چوک کس قدر تباہی اور بربادی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔

وہ شخص جو میدان جنگ میں برسرِ پیکار ہے اسے کس قدر ہوشیار ہونا چاہئے، معمولی سے معمولی چیز سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے، ہر لمحہ کو غنیمت شمار کرنا چاہئے۔ فتح حاصل کرنے کے لئے ہر امکانی کوشش کرنی چاہیئے، اگر یہی شخص غافل ہوجائے، فرصت سے استفادہ نہ کرے، لمحات کو غنیمت نہ شمار کرے اس کا لازمی نتیجہ ہزیمت اور شکست ہوگی۔

ہی صورت ان لوگوں کی ہے جو "انتظار" میں زندگی بسر کررہے ہیں اور منتظر کو مجاھد کا جو درجہ دیا گیا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ منتظر کو مجاھد کی طرح ہم یشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ماحول پر فتح حاصل کرنے کے لئے ہر امکانی کوشش کرنا چاہئے۔ فساد کی بساط تہ کرنے کے لئے ہم یشہ کوشاں رہنا چاہیئے۔ تاکہ انقلاب عظیم کے مقدمات فراہم ہوسکیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انسان اسی وقت میدان جنگ میں ایک بہادر اور دلیر ثابت ہوگا جب باطنی اور روحی طور پر بھی اس میں شجاعت اور دلیری پائی جاتی ہو ورنہ اگر دل ہی بُزدل ہے تو تیغ بُراں بھی بیکار ہے، حقیقی انتظار کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے کو باطنی طور پر اس قدر آمادہ کرلے کہ وقتِ انقلاب اس کا شمار مجاھدین میں ہو۔

اس بیان کی روشنی میں "ہر سچّا منتظر" روایات میں اپنی جگہ ڈھونڈھ لے گا۔

قارئین خود ہی فیصلہ کرلیں کہ انتظار کا یہ مفہوم انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے یا نہیں، اس کے ضمیر کی آواز ہے کہ نہیں۔؟

انتظار، یا آمادگی

اگر میں خود ہی ظالم اور ستم گر ہوں تو کیونکر ایسے انقلاب کا متمنی ہوسکتا ہوں جس میں ظالم اور ستم گر پہلے ہی حملے میں نیست و نابود ہوجائیں گے۔

اگر میں خود ہی گناھگار، بدکار اور بداخلاق ہوں تو کیونکر ایسے انقلاب کی آرزو

کرسکتا ہوں جس میں گناھگاروں کے لئے کوئی خاص گنجائش نہ ہو۔

وہ فوج جو آمادۂ جنگ ہے کیونکر اس کے سپاہی غافل اور بے پروا ہوسکتے ہیں، فوج ہم یشہ اس فکر میں رھتی ہے کہ معمولی سے معمولی کمزوری کو جلد از جلد دور کیا جائے اور ہم اری فوج میں کوئی بھی ضعف باقی نہ رہے اور جو ضعف ہیں ان کی فوراً اصلاح کرلی جائے۔

انسان کو جس چیز کا انتظار ہوتا ہے اسی اعتبار سے وہ خود کو آمادۂ استقبال کرتا ہے۔

اگر کسی مسافر کے آنے کا انتظار ہے تو ایک قسم کی تیاری ہوگی، اگر بہت ہی قریبی، اور جگری دوست آرہا ہے تو دوسرے قسم کی تیاریاں ہوں گی۔ اور اگر کسی طالب علم کو اپنے امتحان کا انتظار ہے تو اب اس کی تیاریاں ایک خاص قسم کی ہوں گی، اگر صحیح معنوں میں اسے امتحان کا انتظار ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے جسے امتحان کا انتظار ہو وہ گھر کی صفائی اور اس کے نظم و ضبط میں منہمک ہو اور جسے ایک مسافر کا انتظار ہو وہ اپنی کاپی، کتاب کی اصلاح اور ترتیب میں مصروف و مشغول ہو، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں اور کس انقلاب کی آس لگائے ہیں۔

انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو زمین کے کسی خطے سے مخصوص نہیں۔

انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں جغرافیائی حدود کی کوئی قید و شرط نہیں۔

انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو زندگی کے خاص شعبے میں محدود نہیں۔

انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا عظیم انقلاب جس کی مثال تاریخ بشریت کے دامن میں نہ ہو۔

انقلاب۔ اور اتنا انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو سیاست کو ایک نیا رخ دے، جو علم و ھنر میں ایک تازہ روح پھونک دے۔

انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اقتصادی الجھنوں کو دور کردے

انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اخلاقی قدروں کو سرفراز کردے

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے انقلاب کے انتظار میں زندگی گزارنے کے اثرات کیا ہیں۔ یہ بات پہلے ذکر کی جاچکی ہے کہ انتظار کے دو پہلو ہیں (۱) منفی (۲) مثبت

انتظار کی طرح انقلاب کے بھی دو پہلو ہیں: (۱) منفی (۲) مثبت

۱) منفی: موجودہ حالت کو ختم کرنا، فساد و تباہی کو ان کی آخری حد تک پہونچانا۔

۲) مثبت: ایک جدید اور زندگی بخش نظام کو پرانے اور فرسودہ نظام کا جانشین قرار دینا۔

اب جو لوگ واقعاً منتظر ہیں اور صحیح معنوں میں ایک "عالمی انقلاب" کی اُمّید لگائے ہوئے ہیں، صرف زبانی اور خیالی جمع خرچ میں مبتلا نہیں ہیں، تو ان لوگوں میں کچھ صفات ضرور پائے جائیں گے ان میں سے چند صفتیں نذر قارئین ہیں۔

۱) انفرادی اصلاح ۔ اِصلاحِ نفس

اس عظیم انقلاب کے لئے ایسے افراد کی ضرورت ہے جن کا ذہن عالمی اصلاحات کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ضرورت ہے ایسے افراد کی جو میدان علم کے شھسوار ہوں، افکار میں گہرائی ہو، دل میں وسعت ہو کہ دشمن کو بھی جگہ مل سکے، ضمیر زندہ اور بیدار ہو، اخلاق و مروت کے پرستار ہوں، ایسے افراد کی ضرورت ہے، جو تنگ نظر نہ ہوں، کج فکر اور کج خلق نہ ہوں، کینہ و حسد سے دور ہوں، اختلاف کی خانماں سوز آگ کو صلح و صفا و اخوت کے پانی سے بُجھا چکے ہوں۔

کیوں ۔۔۔ اس لئے کہ اگر کوتاہ فکر ہوں گے تو عالمی اصلاحات کو قبول کرنے سے انکار کردیں گے یا پھر اسے ایک دشوار گذار مرحلہ تصوّر کریں گے، اگر دل میں وسعت اور قلب میں محبّت نہ ہوگی، تو اپنے علاوہ دوسرے کے فائدے کو پسند نہیں کریں گے اگر آپس میں نفاق اور اختلاف ہوگا تو ایک عالمی حکومت سے تعاون نہیں کریں گے، اور دنیا میں افراتفری پھیلائیں گے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ انتظار کرنے والے کی حیثیت صرف ایک تماشہ دیکھنے والے کی حیثیت ہو، اور اس کو انقلاب سے کوئی سروکار نہ ہو، یا تو وہ اس عالمی انقلاب کا موافق ہوگا یا پھر مخالف۔ کسی تیسری صورت کی گنجائش نہیں ہے۔

بیدار ضمیر اور روشن فکر شخص جب کبھی اس انقلاب کے بارے میں فکر کرے گا اور اس کے نتائج پر نظر رکھے گا تو کبھی وہ مخالفین کی صف میں نہ ہوگا، کیونکہ اس انقلاب کے اصول اس قدر فطرت اور ضمیر کے نزدیک ہیں کہ ہر وہ شخص جس کے پہلو میں انسان کا دل ہے وہ ان اصولوں کو ضرور قبول کرے گا۔ مخالفت صرف وہی کریں گے جو ظلم و فساد کے دلدادہ ہوں، یا مظالم ڈھاتے ڈھاتے ظلم کرنا ان کی فطرت ثانیہ بن گئی ہو۔

جب انسان اس "عالمی انقلاب" کے طرفداروں میں ہوگا اور ہر انصاف پسند طرفدار ہوگا، ان لوگوں کے لئے ناگزیر ہے کہ انفرادی طور پر اپنی اصلاح کرلیں اور نیک اعمال بجالانے کے خوگر بنیں، عمل سے زیادہ نیت میں پاکیزگی ہو، تقویٰ دل کی گہرائیوں میں جاگزیں ہو علم و دانش سے سرشار ہو۔

اگر ہم خود فکری یا عملی طور پر ناپاک ہیں تو کیونکر ایسے انقلاب کے متمنی ہیں جس کی پہلی ہی لپیٹ ایسے لوگوں کو نگل جائے گی۔ اگر ہم خود ظالم اور ستم گر ہیں تو کیونکر ایسے انقلاب کا انتظار کررہے ہیں جس میں ظالم اور ستم گر کے لئے کوئی جگہ نہ ہوگی۔

اگر ہم خود مفسد ہیں اور فساد پھیلانے میں لگے رھتے ہیں تو کیوں ایسے انقلاب کی امید میں زندگی کے شب و روز گذار رہے ہیں جس میں مفسد اور فساد پھیلانے والے نیست و نابود ہوجائیں گے۔

خود فیصلہ کرلیجئے کیا اس عالمی انقلاب کا انتظار انسان کو باعمل اور باکردار بنا دینے کے لئے کافی نہیں ہے۔؟ یہ انتظار کی مدّت کیا اس بات کی مہلت نہیں ہے کہ انسان آمد انقلاب سے پہلے خود اپنی اصلاح کرلے اور خود کو انقلاب کے لئے آمادہ کرلے۔

وہ فوج جو ایک قوم اور ملّت بلکہ ایک ملک کو ظلم و ستم سے آزادی دلانا چاھتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہم یشہ مستعد رہے، اپنے اسلحوں کو پرکھ لے، اگر کوئی اسلحہ خراب ہوگیا ہے یا زنگ آلود ہوگیا ہے تو اس کی فوراً اصلاح کرلے، حفاظتی اقدام میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھے، اپنی چوکیوں کو مضبوط کرلے، اور جو مضبوط ہیں انھیں مضبوط تر بنالے سپاہیوں کا شمار کرلے، ان کی قوت آزمالے، ان کے جذبات کا جائزہ لے لے، جن کی ہم تیں پست ہوں ان میں ایک تازہ روح پھونکی جائے۔ ہر ایک کو اس کی ہم ت اور جذبہ کے مطابق کام سونپا جائے۔ اگر فوج ان خصوصیات کی حامل ہے تب تو اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگی، ورنہ اس کے تمام دعوے جھوٹے اور تمام منصوبے محض خواب و خیال ہوں گے۔

اسی طرح وہ لوگ جو اپنے کو حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا منتظر کہتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کہ ایک امام غائب کے انتظار میں زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کو اس عالمی انقلاب کے لئے آمادہ کریں۔ اپنے نفوس کا خود امتحان لے لیں، اپنے جذبات کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھ لیں، کیونکہ الخ

ایک قوم جو ہم یشہ اپنی اصلاح میں منہمک ہو، نہایت شوق و ولولے کے ساتھ نیک اعمال بجا لارہی ہو، سچے جذبات اور خلوص نیت کے ساتھ کردار کے اعلیٰ مراتب طے کر رہی ہو وہ قوم اور سماج کس قدر عالی اور بلند ہوگا، وہ ماحول کس قدر روح افزا اور وہ فضا کس قدر انسانیت ساز ہوگی، وہ صبح کس قدر تابناک ہوگی جس میں ایک ایسی عظیم قوم جنم لے گی۔ وہ قوم کوئی اور نہیں ہوگی بلکہ ہم اور آپ ہی ہوں گے بشرطیکہ متوجہ ہوجائیں اور اصلاحات میں لگ جائیں۔

یہ ہیں اس انتظار کے معنی جس کے بارے میں روایتیں وارد ہوئی ہیں، اور یہ ہے وہ "سچّا منتظر" جس کو روایت میں "مجاھد" اور "شھید" کا درجہ دیا گیا ہے۔

ضرورت ہے ایسے افراد کی جن کے ارادے کے سامنے مصائب کا طوفان خود چکر میں آجائے، جن کے عزم کے سامنے پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں، جن کی امید کے سامنے مایوسی کی چٹانیں پاش پاش ہوجائیں۔ فکر اس قدر وسیع ہوکہ آسمان اور زمین کی وسعتیں کم ہوں، اخلاق اس قدر بلند ہوکہ دشمن بھی کلمہ پڑھیں۔ کردار اتنا مستحکم ہوکہ ملائک بھی سجدہ ریز ہوں۔

۲) سماج کی اصلاح

سچّا منتظر وہ ہے جو صرف اپنی اصلاح پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کی بھی اصلاح کی فکر کرے۔

کیونکہ جس انقلاب کا انتظار ہم کررہے ہیں، اس میں صرف جزوی اصلاحات نہیں ہوں گی بلکہ سماج کے سبھی افراد اس میں برابر کے شریک ہوں گے، لھذا سب مل کر کوشش کریں، ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ رہیں، ایک دوسرے کے شریک رہیں اور شانے سے شانہ ملاتے ہوئے انقلاب کی راہ پر گامزن رہیں۔

جب کام سب مل کر انجام دے رہے ہوں تو اس میں کوئی ایک دوسرے سے غافل نہیں رہ سکتا۔ بلکہ ہر ایک کا فریضہ ہے کہ دوسروں کا بھی خیال رکھے۔ اطراف و جوانب کا بھی علم رکھتا ہو، جہاں پر کوئی معمولی سی کمزوری نظر آئے، فوراً اس کی اصلاح کرے۔ کوئی کمی ہوتو فوراً اس کو پورا کیا جائے۔

اسی بناء پر جہاں ہر انتظار کرنے والے کا یہ فریضہ ہے کہ خود کی اصلاح کرے، کردار کے جوھر سے آراستہ ہو وھاں اس کا یہ بھی فریضہ ہے کہ دوسروں کی بھی اصلاح کرے، سماج میں اخلاقی قدروں کو اجاگر کرے۔

صحیح انتظار کرنے کا یہ دوسرا فلسفہ ہے، ان باتوں کو پیش نظر رکھ کر روایات کا مطالعہ کیا جائے تو معنی کس قدر صاف اور روشن ہوجاتے ہیں۔ منتظر کو کہیں مجاھد کا درجہ، کہیں راہ خدا میں شمشیر بکف کا درجہ، اور کہیں پر فائز بہ شھادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ بدیہی بات ہے اپنی اصلاح یا دوسروں کی اصلاح، انفرادی زندگی کے ساتھ حیات اجتماعی کو بھی سنوارنا کس قدر دشوار گذار مرحلہ ہے۔ ان مراحل میں وہی ثابت قدم رہ سکتا ہے جو عزم و عمل کا شاھکار ہو، جس کے قدم ثبات و استقلال کی آپ اپنی مثال ہوں۔

ایک اعتراض

دنیا کے بارے میں ہم اری معلومات محدود ہیں، اور نہ ہم یں موجودہ حکم فرما نظام کی حقیقت معلوم ہے اور نہ ہم اس کے نتائج سے باخبر ہیں، اس بناء پر ہم خیال کرتے ہیں کہ ظلم و فساد میں ابھی کچھ کمی ہے۔ اگر صحیح طور سے دیکھا جائے تو آج بھی دنیا فساد سے بھری ہوئی ہے آج بھی دنیا ظلم و ستم کی آما جگاہ بنی ہوئی ہے"۔

دنیا میں کچھ ایسے بھی موجودہ ہیں جو ہم یشہ اس فکر میں رھتے ہیں کہ کس طرح ایک اصلاحی بات سے بھی فساد کا پہلو نکالا جائے۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہر چیز میں اس کا منفی پہلو اُبھارا جائے، اصلاح کو بھی فساد کا جامہ پہنا دیا جائے، تاکہ ان کی دُکان ٹھپ نہ ہونے پائے۔ زیر بحث مسئلہ بھی ان لوگوں کی سازش سے محفوظ نہ رہ سکا۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت مھدی علیہ السلام کے ظھور میں شرط یہ ہے کہ آپ اس وقت ظھور فرمائیں گے جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی، دور دور تک کہیں اچّھائیوں کا نام تک نہ ہوگا، نیکی کی شمع کوسوں دور بھی نظر نہ آتی ہوگی۔

اگر ہم لوگ اصلاح کے راستے پر قدم بڑھائیں گے، ظلم و جور کو مٹانے کی کوشش میں لگے رہیں گے تو حضرت کے ظھور میں خواہ مخواہ تاخیر ہوگی، لھذا کیوں نہ ہم لوگ مل کر فساد کی آگ کو اور بھڑکادیں، ظلم و ستم کے شعلوں کی لپک کو اور تیز کردیں، استبداد کی بھٹی کو کیوں نہ اور گرم کردیں، جو کچھ تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے، اسے جلد از جلد پورا کریں تاکہ حضرت کا ظھور جلد ہوسکے۔

اسی اعتراض کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:

وہ حضرات جو ظھور حضرت مھدی علیہ السلام کے انتظار میں زندگی بسر کر رہے ہیں، انھیں یہ انتظار کوئی تقویت نہیں پہونچاتا بلکہ رہی سہی قوت ارادی کو بھی چھین لیتا ہے گنے چُنے جو نیک لوگ ہیں انھیں بھی یہ انتظار نیک باقی نہیں رھنے دیتا۔ فقر و فاقہ کی زندگی میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے، کیونکہ جو لوگ کم مایہ اور فقیر ہیں وہ اس امید میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کہ جب حضرت کا ظہور ہوگا، اس وقت ہم اری حالت "خود بخود" بدل جائے گی، فقر و فاقہ دور ہوجائے گا، زندگی کا ایک حصہ تو گذر چکا ہے بقیہ بھی اسی امید میں گذر جائے گا۔ سرمایہ داروں کو تو چاندی ہوجائے گی۔ وہ اسی بہانے اپنی تجوریاں بھرتے چلے جائیں گے، لوگوں کو اپنا دست نگر بنانے میں کامیاب ہوتے رہیں گے۔ یہ عقیدہ انسانی زندگی کے لئے آبِ حیات ہے یا صحیح معنوں میں زھر ھلاہل۔؟

یہ ہے وہ اعتراض جسے مخالفین کافی آب و تاب سے بیان کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے

خود دل سے اس اعتراض کو قبول نہ کرتے ہوں، مگر اپنے ناپاک مقاصد کے لئے، اپنی شخصیت کو چھپانے کے لئے اس اعتراض کو "بطور نقاب" استعمال کرتے ہوں۔

جو بھی صورت حال ہو، اس اعتراض کے جواب کے لئے ان باتوں کی طرف توجہ فرمایئے:

۱۔ صف بندی اور تشخیص

اس عالمی انقلاب میں یا تو لوگ موافقین کی فہرست میں ملیں گے یا پھر مخالفین کی فہرست میں، تماشائی کی حیثیت کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ دنیا میں جتنے بھی انقلاب آتے ہیں سب کی صورت حال یہی ہے۔ کیونکہ دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں وہ دو صورتوں سے خالی نہیں ہیں۔ انقلاب سماج کے لئے فائدہ مند ہوگا یا فائدہ مند نہیں ہوگا اگر انقلاب سماج کے لئے فائدہ مند ہے تو ہر آدمی کا فریضہ ہے کہ اس میں شرکت کرے، اگر یہ انقلاب سماج کے لئے نقصان کا باعث ہے تو سب کا فریضہ ہے کہ مل کر اس کی مخالفت کریں اور اس کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ یہ بات دور از عقل ہے کہ انقلاب تو آئے لیکن سماج کے لئے نہ فائدہ مند ہو نہ باعثِ نقصان۔

جب یہ بات تو ہم یں چاہیئے کہ ہم ابھی سے یہ طے کرلیں کہ ہم یں کس صف میں رہنا ہے ہم اپنے کو خود آزمالیں کہ ہم یں کس کا ساتھ دینا ہے۔

اگر آج ہم فساد کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں تو کل کیونکر اصلاح کرنے والوں کی صف میں آجائیں گے اور فساد کو آگ بجھا رہے ہوں۔؟ اگر آج ہم ارا دامن ظلم و جور سے آلودہ ہوگا تو کل یقیناً ہم ارا شمار مخالفین کی فہرست میں ہوگا۔ کیونکہ یہ بات تو سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مھدی علیہ السلام کے ظھور کے بعد جو انقلاب آئے گا اس میں ظلم و جور کا نشان تک باقی نہ رہے گا۔ ہم کو ان ظالموں کی صف میں اپنے کو شمار کرنا چاہئے جن کی گردنوں کا بوسہ عدل و انصاف کی شمشیر لے گی۔ فساد پھیلانا تو بالکل ایسا ہی ہے کہ ہم ایک ایسی آگ بھڑکائیں جس کا پہلا شعلہ ہم یں ہی خاکستر کردے۔

اگر اس اعتراض کو قبول بھی کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم جس قدر اپنے اعمال بد کے ذریعہ حضرت مھدی علیہ السلام کے ظھور کو نزدیک کریں گے اتنا ہی ہم اپنی نابودی اور فنا سے بھی قریب تر ہوجائیں گے، اپنے ہی ہاتھوں اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لیں گے۔

اگر ہم باقی رہنا چاھتے ہیں اور اس عالمی انقلاب کے نتائج سے لطف اندوز اور بہرہ مند ہونا چاھتے ہیں تو اپنے دامن کو آلودگیوں سے دور رکھیں، ظلم و جور سے تمام رشتوں کو توڑدیں، ضلالت و گمراہی کے سمندر سے نکل کر ہدایت کے ساحل پر آجائیں۔

۲۔ مقصد آمادگی ہے، فساد نہیں

جو چیز حضرت مھدی علیہ السلام کے ظھور کو کسی حد تک نزدیک کرسکتی ہے وہ ہے وہ ظلم وجور و فساد نہیں ہے بلکہ ہم اری آمادگی ہے، ہم ارا اشتیاق ہے۔ کیا ہم یں حضرت کا اسی طرح انتظار ہے جس طرح سے ایک پیاسے کو پانی کا۔

ھاں یہ اور بات ہے، جس قدر ظلم و جور، فساد اور بربادی میں اضافہ ہوتا جائے گا اتنا ہی لوگ موجودہ نظام اور ضابطۂ حیات سے عاجز ہوتے جائیں گے۔ رفتہ رفتہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہوتا جائے گا کہ موجودہ ضابطۂ حیات میں سے کوئی ایک بھی ہم اری مشکلات کا حل پیش نہیں کرسکتا بلکہ جتنے بھی نظام رائج ہیں وہ سب کے سب ہم اری مشکلات میں اضافہ تو کرسکتے ہیں مگر کمی نہیں کرسکتے۔ یہی یقین اس بات کا سبب ہوگا کہ لوگ ایک ایسے نظام کے منتظر ہوں گے جو واقعاً ان کی مشکلات کا حل پیش کرسکتا ہے جس قدر یہ یقین مستحکم ہوتا جائے گا، اتنا ہی انسان کا اشتیاق بڑھتا جائے گا۔

دھیرے دھیرے یہ بات بھی روشن ہوتی جائے گی اور لوگوں کو یقین ہوتا جائے گا کہ دنیا کی جغرافیائی تقسیم مشکلات کا سر چشمہ ہے۔ یہی جغرافیائی تقسیم ہے جس کی بنا پر بے پناہ سرمایہ اسلحہ سازی میں خرچ ہورہا ہے، انسان کی گاڑھی کمائی کے پیسے سے خود اس کی تباہی کے اسباب فراہم کئے جارہے ہیں۔ جغرافیائی تقسیم اور حد بندی کا نتیجہ ہے جس کی بنا پر ہر قوی اور طاقت ور ملک ضعیف اور فقیر ملک کو اپنے قبضہ میں کرلیتا ہے۔ ان کے پاس جو خدا داد نعمتیں ہیں ان کو ہتھیانے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ یہ جغرافیائی تقسیم اور حد بندی کا نتیجہ ہے جس کی بنا پر ملکوں میں آپس میں ایک حسد اور تعصب پایا جاتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو انسانی مشکلات کا سرچشمہ ہیں، جس قدر یہ حققیت انسانی ذہن میں اترتی جائے گی اتنا ہی انسان ایک ایسی حکومت کی فکر میں ہوگا، جس میں یہ قصّہ ہی نہ ہو، جہاں پر کوئی حد بندی نہ ہو۔ اگر حد بندی ہو تو صرف انسانیت اور آدمیت کی۔ جب ایک عالمی حکومت کا قیام ہوگا تو وہ بے پناہ سرمایہ جو اسلحہ کے اوپر خرچ ہورہا ہے، وہ انسان کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ ہوگا، اب نہ حسد کا سوال ہوگا اور نہ رقابت کا، بلکہ سب مل کر شانے سے شانہ ملاکر ہاتھ میں ہاتھ دے کر، عدل و انصاف، صدق و صفا، برادری، اخلاص و ایثار، اخلاق و کردار، مروت و شرافت کی بنیاد پر قصر آدمیت و انسانیت کو تعمیر کریں گے۔

۳۔ تاریکی کا عُروج

دنیا تو مدت ہوئی ظلم و جور سے بھر چکی ہے۔ یہ جنگیں یہ قتل و غارت، لوٹ مار خوں ریزیاں اس بات کی نشانی نہیں ہیں کہ دنیا ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے۔ یہ کینہ و حسد ایک دوسرے کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ایک سے ایک اسلحہ بنانا، طاقت کے گہم نڈ میں غریبوں اور کمزوروں کو کچل کے رکھ دینا، دنیا سے اخلاقی قدروں کو مٹ جانا جہاں کردار کی بھیک مانگے سے نہ ملتی ہو، جہاں شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہ ہو تو اب بھی ظلم و جور میں کوئی کمی باقی رہ جاتی ہے۔؟

ھاں جس چیز کی کمی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک موجودہ نظام ھائے حکومت کی حقیقتوں سے واقف نہیں ہوئے ہیں، ابھی ہم ان ضابطۂ حیات کے نتائج سے باقاعدہ آگاہ نہیں ہوئے۔ ابھی تک یہ بات بالکل روشن نہیں ہوئی ہے کہ واقعاً ہم اری مشکلات کا سرچشمہ کیا ہے، جس کی بناء پر ہم اپنے وجود میں اس جذبے کا احساس نہیں کرتے جو ایک پیاسے کو پانی کا ہوتا ہے، ایک مریض کو شفا کی آرزو۔

جس قدر ہم ارے جذبات میں اضافہ ہوتا جائے گا، جتنا ہم میں آمادگی پیدا ہوتی جائے گی، جس قدر حضرت (ع) کے ظھور کی ضرورت اور عالمی انقلاب کا احساس ہوتا جائے گا، اتنا ہی حضرت کا ظھور نزدیک ہوتا جائے گا۔

۴۔ سچّا منتظر کون۔؟

انتظار کے اثرات و فوائد میں سے دو کا ذکر کیا جاچکا ہے۔ ۱ انفرادی اصلاح یا اصلاح نفس ۲ سماج کی اصلاح۔

انتظار کے اثرات صرف انھیں دو میں منحصر ہیں بلکہ اور بھی ہیں، ان میں سے ایک اور قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

جس وقت فساد وباکی طرح عام ہوجائے گا، ہر طرف فساد ہی فساد نظر آئے، اکثریت کا دامن فساد سے آلودہ ہو، ایسے ماحول میں اپنے دامن کو فساد سے محفوظ رکھا ایک سچّے اور حقیقی منتظر کا کام ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جس وقت نیک اور پاک سیرت افراد روحی کش مکش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کبھی بھی یہ خیال ذہنوں میں کروٹیں لینے لگتا ہے کہ اب اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ مایوسی کردار کے لئے ایک مہلک زھر ثابت ہوسکتی ہے۔ انسان یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ اب اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے، اب حالات سدھرنے والے نہیں ہیں، اب کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، بلکہ حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے، ایسی صورت میں اگر ہم اپنے دامن کردار کو بچائے بھی رکھیں تو اس کا کیا فائدہ جب کہ اکثریت کا دامن کردار گناھوں سے آلودہ ہے۔ اب تو زمانہ ایسا آگیا کہ بس "خواہی نشوید رسوا ہم رنگ جماعت باش"۔۔ اگر رسوائی اور بدنامی سے بچنا چاھتے ہو تو جماعت کے ہم رنگ ہوجاؤ۔

ھاں! اگر کوئی چیز ان لوگوں کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور ان کے دامن کردار کی حفاظت کرسکتی ہے تو وہ صرف یہی عقیدہ کہ ایک دن آئے گا جب حضرت مھدی سلام اللہ علیہ کا ظھور ہوگا اور دنیا کی اصلاح ہوگی جیسا کہ رسول گرامی (ص) کا ارشاد ہے: "اگر آنے میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اس قدر طولانی کردے گا کہ حضرت مھدی سلام اللہ علیہ کا ظھور ہوجائے"۔(۱۱) جب ایک دن اصلاح ہوگی اور ضرور ہوگی تو کیوں نہ ہم اپنے دامن کردار کو محفوظ رکھیں، دوسروں کی اصلاح کی فکر کیوں نہ کریں۔ اس سعی و کوشش کی بنا پر ہم اس لائق ہوسکیں گے کہ وقت انقلاب موافقین کی صف میں ہوں اور ہم ارا بھی شمار حضرت کے اعوان و انصار میں ہو۔

تعلیماتِ اسلامی میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ سب سے عظیم گناہ اگر کوئی چیز ہے تو وہ "رحمت الٰہی سے مایوسی ہے"۔ اس کی وجہ بھی صاف واضح ہے۔ جب انسان رحمتِ الٰہی سے مایوسی ہوجائے گا تو کبھی بھی اصلاح کی فکر نہیں کرے گا۔ وہ یہی خیال کرے گا کہ جب کافی عمر گناہ کرتے گزری تو اب چند دنوں کے لئے گناہ سے کنارہ کشی اختیار کرنے سے کیا فائدہ۔ جب ہم گناھوں کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں تو کیا ایک اور کیا دس۔ اب تو پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے، ساری دنیا میں بدنامی ہوچکی، اب کاھے کی پرواہ، اپنے اعمال کے ذریعہ دوزخ خرید چکا ہوں۔ جب آتش جہنم میں جلنا ہے تو باقاعدہ جلیں گے اب ڈر کس بات کا۔

اگر انسان کی ساری عمر گناہ کرتے گزری ہو، اور اسے اس بات کا یقین ہو کہ میرے گناہ یقیناً بہت زیادہ ہیں، لیکن رحمتِ الٰہی اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ میرے لاکھ گناہ سھی مگر اس کی رحمت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، اس کی ذات سے ہر وقت امید ہے، اگر میں سدھر جاؤں تو وہ آج بھی مجھے بخش سکتا ہے۔ اگر میں اپنے کئے پر نادم ہوجاؤں تو اس کی رحمت شامل حال ہوسکتی ہے۔ یہی وہ تصور اور عقیدہ ہے جو انسان کی زندگی میں ایک نمایاں فرق پیدا کرسکتا ہے، ایک گناھگار کو پاک و پاکیزہ بنا سکتا ہے۔

اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ امید انسانی زندگی کے لئے بہت ضروری چیز ہے۔ امید کردار سازی میں ایک مخصوص درجہ رکھتی ہے۔ اصلاح کی امید فساد کے سمندر میں غرق ہونے سے بچا لیتی ہے، اصلاح کی امید انسانی کردار کے لئے ایک مستحکم سپر ہے۔

جس قدر دنیا فاسد ہوتی جائے گی اسی اعتبار سے حضرت کے ظھور کی امید میں اضافہ ہوتا جائے گا، جس قدر یہ امید بڑھتی جائے گی اسی اعتبار سے انفرادی اور اجتماعی اصلاح ہوتی جائے گی۔ ایک صالح اور با کردار اقلیت کبھی بھی فسادی اکثریت کے سمندر میں غرق نہیں ہوگی۔

یہ ہے انتظار کا وہ فائدہ جو کردار کو فاسد ہونے سے محفوظ رکھتا ہے، ایک سچّے اور با کردار منتظر کا دامنِ عفت گناھوں سے آلودہ نہیں ہوگا۔

مختصر یہ کہ

اگر انتظار کو صحیح معنوں میں پیش کیا جائے تو انتظار انسان کی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اخلاقی قدروں کو اجاگر رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ انتظار بے حس انسان کو ذمہ دار بنا دیتا ہے۔ بے ارادہ انسانوں کو پہاڑوں جیسا عزم و استقلال عطا کرتا ہے۔

ھاں اگر انتظار کے مفھوم کو بدل دیا جائے، اس کی غلط تفسیر کی جائے تو اس صورت میں انتظار ضرور ایک بے فائدہ چیز ہوگی۔

انتظار کبھی بھی انسان کو بے عمل نہیں بناتا۔ اور نہ بد اعمالی کی دعوت دیتا ہے، اس بات کی زندہ دلیل وہ روایت ہے جو اس آیتہ کریمہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہے:وَعدَ اللهُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِ لِیَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فی الارض "وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور عمل صالح بجالاتے ہیں ان سے خدا کا یہ وعدہ ہے کہ خدا ان کو روئے زمین پر حکومت عطا کرے گا۔" امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اس آیت سے مرادالقائم واصحابه (۱۱) اس سے مراد حضرت مھدی (ع) اور ان کے اصحاب ہیں۔

ایک دوسری روایت میں ہےنزلت فی المهدی (۱۲) یہ آیتہ کریمہ حضرت مھدی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اس آیتہ کریمہ میں جو حضرت کے اصحاب کی صفت بیان کی گئی ہے ان میں ایک ایمان ہے اور دوسرا عمل صالح يقیناً اس عالمی انقلاب کے لئے ایسے افراد کی ضرورت ہے جن کے ایمان پختہ ہوں، عقائد مستحکم ہوں، عقیدے کی ہر منزل کامل ہو، عمل کے میدان میں مرد میداں ہوں۔ جو لوگ ابھی انتظار کی گھڑیاں گذار رہے ہیں، ان میں گزشتہ باتوں کا پایا جانا ضروری ہے اور جن میں یہ صفات موجود ہوں گے وہی سچّے منتظر ہوں گے۔

وہ لوگ جن کے ایمان کامل نہیں ہیں یا عمل صالح میں کورے ہیں تو وہ ظھور سے پہلے اپنی اصلاح کرلیں ورنہ بغیر اصلاح کئے ہوئے اگر کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں تو وہ بس اپنی ہی فنا اور نابودی ہے۔

انتظار کا حق اسے ہے جس کا دل ایمان سے لبریز ہو، جو عزم و استقلال کا مالک ہو۔ وہ کیا انتظار کرے گا جو ہم یشہ اونگھا کرتا ہے۔

سچا منتظر وہ ہے جو ہم یشہ اپنی اصلاح میں لگا رہتا ہے اور اسی کے ساتھ سماجی اصلاح کی فکر میں غرق رہتا ہے اجتماع کی فلاح و بہبود میں ہم یشہ کوشاں رہتا ہے۔

ھاں یہ ہے سچا منتظر اور یہ ہیں انتظار کے حقیقی معنی۔

____________________

۱۰. بحار الانوار، جلد۵۱ ص۷۴ طبع جدید

۱۱. بحار الانوار ج۵۱، ص۵۸ طبع جدید


ظھور کی علامتیں

اس عالمی انقلاب کی کچھ علامتیں بھی ہیں کہ انتا عظیم انقلاب کب برپا ہوگا۔؟

ہم اس عظیم انقلاب سے نزدیک ہو رہے ہیں یا نہیں۔؟

اس عظیم انقلاب کو اور قریب کیا جاسکتا ہے؟

اگر یہ ممکن ہے تو اس کے اسباب و وسائل کیا ہیں۔َ

تمام سوالوں کے جواب مثبت ہیں۔

دنیا میں کوئی بھی طوفان ایکا ایکی نہیں آتا ہے۔ سماج میں انقلاب رونما ہونے سے پہلے اس کی علامتیں ظاھر ہونے لگتی ہیں۔

اسلامی روایات میں اس عظیم انقلاب کی نشانیوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ نشانیاں اور علامتیں دو طرح کی ہیں:

۱) عمومی علامتیں جوھر انقلاب سے پہلے (انقلاب کے تناسب سے) ظاھر ہوتی ہیں۔

۲) جزئیات جن کو معمولی و اطلاع کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاسکتا ہے بلکہ ان جزئیات کی حیثیت ایک طرح کی اعجازی ہے۔

ذیل کی سطروں میں دونوں قسم کی علامتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ظلم و فساد کا رواج

سب سے پہلی وہ علامت جو عظیم انقلاب کی آمد کی خبر دیتی ہے۔ وہ ظلم و فساد کا رواج ہے۔ جس وقت ہر طرف ظلم پھیل جائے، ہر چیز کو فساد اپنی لپیٹ میں لے لے۔ دوسروں کے حقوق پامال ہونے لگیں، سماج برائیوں کا گڑھ بن جائے اس وقت عظیم انقلاب کی آھٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ جب دباؤ حد سے بڑھ جائے گا تو دہم اکہ ضرور ہوگا یہی صورت سماج کی بھی ہے جب سماج پر ظلم و فساد کا دباؤ حد سے بڑھ جائے گا تو اس کے نتیجہ میں ایک انقلاب ضرور رونما ہوگا۔

اس عظیم عالمی انقلاب اور حضرت مھدی (عج) کے ظھور کے بارے میں بھی بات کچھ اسی طرح کی ہے۔

منفی انداز فکر والوں کی طرح یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ظلم و فساد کو زیادہ سے زیادہ ہوا دی جائے تاکہ جلد از جلد انقلاب آجائے بلکہ فساد اور ظلم کی عمومیت کو دیکھتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی فکر کرنا چاہیے، تاکہ صالح افراد کی ایک ایسی جماعت تیار ہوسکے جو انقلاب کی علمبردار بن سکے۔

اسلامی روایات میں اس پہلی علامت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:۔

کما ملئت ظلما وجوراً " جس طرح زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ "ظلم و جور" مترادف الفاظ ہیں یا معانی کے اعتبار سے مختلف۔

دوسروں کے حقوق پر تجاوز دو طرح ہوتا ہے۔

ایک یہ کہ انسان دوسروں کے حقوق چھین لے اور ان کی محنت سے خود استفادہ کرے اس کو "ظلم" کہتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ دوسروں کے حقوق چھین کر اوروں کو دے دے، اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے اپنے دوستوں کو عوام کے جان و مال پر مسلط کردے اس کو "جور" کہتے ہیں۔

ان الفاظ کے مد مقابل جو الفاظ ہیں وہ ہیں ظلم کے مقابل "قسط" اور جور کے مقابل "عدل" ہے۔

اب تک بات عمومی سطح پر ہورہی تھی کہ ہر انقلاب سے پہلے مظالم کا وجود انقلاب کی آمد کی خبر دیتا ہے۔

قابل غور بات تو یہ ہے کہ اسلامی روایات نے سماجی برائیوں کی جزئیات کی نشاندھی کی ہے۔ یہ باتیں اگر چہ ۱۳۔ ۱۴ سو سال پہلے کہی گئی ہیں لیکن ان کا تعلق اس زمانے سے نہیں ہے بلکہ آج کل ہم اری دنیا سے ہے۔ یہ جزئیات کچھ اس طرح بیان کیے گئے ہیں گویا بیان کرنے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو، اور بیان کررہا ہو۔ یہ پیشین گوئیاں کسی معجزے سے کم نہیں ہیں۔

اس سلسلے میں ہم متعدد روایتوں میں سے صرف ایک روایت کو ذکر کرتے ہیں۔ یہ روایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے۔ اس روایت میں سیاسی، سماجی اور اخلاقی مفاسد کا ذکر کیا گیا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے بعض اصحاب سے ارشاد فرمایا ہے:

۱۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ ہر طرف ظلم و ستم پھیل رہا ہے۔

۲۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ قرآن فرسودہ کردیا گیا ہے اور دین میں بدعتیں رائج کردی گئی ہیں۔

۳۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ دین خدا اس طرح اپنے مفاہیم سے خالی ہوگیا ہے جس طرح برتن الٹ دیا گیا ہو۔

۴۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ اہل باطل صاحبانِ حق پر مسلط ہوگئے ہیں۔

۵۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ مرد مرد پر اور عورتیں عورتوں پر اکتفا کر رہی ہیں۔

۶۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ صاحبانِ ایمان سے خاموشی اختیار کرلی ہے۔

۷۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ چھوٹے بڑوں کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔

۸۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ رشتہ داریاں ٹوٹ گئی ہیں۔

۹۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ چاپلوسی کا بازار گرم ہے۔

۱۰۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ شراب اعلانیہ پی جارہی ہے۔

۱۱۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ خیر کے راستے اُجاڑ اور شر کی راہیں آباد ہیں۔

۱۲۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا جارہا ہے۔

۱۳۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ احکامِ دین کی حسبِ منشا تفسیر کی جارہی ہے۔

۱۴۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ صاحبان ایمان ہے آزادی اس طرح سلب کرلی گئی ہے کہ وہ اپنے دل کے علاوہ کسی اور سے اظھار نفرت نہیں کرسکتے۔

۱۵ جس وقت تم یہ دیکھو کہ سرمایہ کا بیشتر حصّہ گناہ میں صرف ہورہا ہے۔

۱۶۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ حکومتی ملازمین کے درمیان رشوت عام ہوگئی ہے۔

۱۷۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ حساس و اہم منصبوں پر نااہل قبضہ جمائے ہیں۔

۱۸۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ (بعض مرد) اپنی عورتوں کی ناجائز کمائی پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

۱۹۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ قمار آزاد ہوگیا ہے (قانونی ہوگیا ہے)

۲۰۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ ناروا تفریحیں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ کوئی روکنے کی ہم ت نہیں کر رہا ہے۔

۲۱۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ قرآنی حقائق کا سننا لوگوں پر گراں گذرتا ہے۔

۲۲۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ پڑوسی پڑوسی کی زبان کے ڈر سے اس کا احترام کر رہا ہے۔

۲۳۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ مسجدوں کی آرائش کی جارہی ہے۔

۲۴۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ غیر خدا کے لئے حج کیا جارہا ہے۔

۲۵۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ عوام سنگ دل ہوگئے ہیں۔

۲۶۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ عوام اس کے حامی ہوں جو غالب آجائے (خواہ حق پر ہو خواہ باطل پر)

۲۷۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ حلال کے متلاشی افراد کی مذمّت کی جائے اور حرام کی جستجو کرنے والوں کی مدح۔

۲۸۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ لہو و لعب کے آلات مكّہ مدینہ میں (بھی رائج ہوں۔

۲۹۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ مسجد ان لوگوں سے بھری ہے جو خدا سے نہیں ڈرتے۔

۳۰۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ لوگوں کی ساری توجہ پیٹ اور شرمگاہ پر مرکوز ہے۔

۳۱۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ مادی اور دنیاوی وسائل کی فراوانی ہے، دنیا کا رخ عوام کی طرف ہے۔

۳۲۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ اگر کوئی امر بمعروف اور نہی از منکر کرے تو لوگ اس سے یہ کہیں کہ یہ تمھاری ذمہ داری نہیں ہے۔

۳۳۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ عورتیں اپنے آپ کو بے دینوں کے حوالے کر رہی ہیں۔

۳۴۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ حق پرستی کے پرچم فرسودہ ہوگئے ہیں۔

۳۵۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ بربادی آبادی پر سبقت لے جارہی ہے۔

۳۶۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ بعض کی روزی صرف کم فروشی پر منحصر ہے۔

۳۷۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ ایسے افراد موجود ہیں جنھوں نے مال کی فراوانی کے باوجود اپنی زندگی میں ایک مرتبہ بھی زکات نہیں دی ہے۔

۳۸۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ لوگ صبح و شام نشہ میں چور ہیں۔

۳۹۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور بروں کی تقلید کرتے ہیں۔

۴۰۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ ہر سال نیا فساد اور نئی بدعت ایجاد ہوتی ہے۔

۴۱۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ عوام اپنے اجتماعات میں خود پسند سرمایہ داروں کے پیروکار ہیں۔

۴۲۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ جانوروں کی طرح سب کے سامنے جنسی افعال انجام دے رہے ہیں

۴۳۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ غیر خدا کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے میں کوئی تکلف نہیں کرتے لیکن خدا کی راہ میں معمولی رقم بھی صرف نہیں کرتے۔

۴۴۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ ایسے افراد بھی ہیں کہ جس دن گناہ کبیرہ انجام نہ دیں اس دن غمگیں رھتے ہیں۔

۴۵۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ حکومت عورتوں کے ہاتھوں میں چل گئی ہے۔

۴۶۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ ہوائیں منافقوں کے حق میں چل رہی ہیں، ایمان داروں کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہے۔

۴۷۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ قاضی احکامِ الٰہی کے خلافِ فیصلہ دے رہا ہے۔

۴۸۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ بندوں کو تقویٰ کی دعوت دی جارہی ہے مگر دعوت دینے والا خود اس پر عمل نہیں کر رہا ہے۔

۴۹۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ لوگ اوقات نماز کو اہم یت نہیں دے رہے ہیں۔

۵۰۔ جس وقت تم یہ دیکھو کہ ضرورت مندوں کی امداد بھی پارٹی کی بنیاد پر کی جارہی ہے، کوئی خدائی عنصر نہیں ہے۔

ایسے زمانے میں اپنے آپ کی حفاظت کرو، خدا سے نجات طلب کرو کہ تمھیں مفاسد سے محفوظ رکھے (انقلاب نزدیک ہے)۔(۱۳)

اس طولانی حدیث میں (جس کو ہم نے بطور اختصار پیش کیا ہے) جو برائیاں اور مفاسد بیان کئے گئے ہیں انھیں تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

۱) وہ برائیاں اور مفاسد جو دوسروں کے حقوق اور حکومتوں سے متعلق ہیں جیسے باطل کے طرفداروں کی کامیابی، زبان و عمل پر پابندیاں، وہ بھی اتنی سخت پابندیاں کہ صاحبانِ ایمان کسی سے اظھار رائے نہ کرسکیں بربادی کے سلسلے میں سرمایہ گذاری، رشوت کی گرم بازاری، اعلیٰ اور حساس منصبوں کی نیلامی، جاہل عوام کی طرف سے صاحبانِ اقتدار کی حمایت۔

جنگ کا میدان گرم رکھنے کے لئے سرمایہ کی افراط، تباہ کن اسلحوں کی دوڑ (آج وہ رقم جو اسلحوں پر صرف ہورہی ہے وہ اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو تعمیری اور فلاح و بہبود کے کاموں پر صرف ہوتی ہے)۔

برائیوں کے اس ھجوم میں کسی کو اپنی ذمہ داری کا احساس تو در کنار، ایک دوسرے کو یہ نصیحت کی جارہی ہے کہ ایسے ماحول میں بے طرف رہنا چاہئے۔

۲) اخلاقی برائیاں، جیسے چاپلوسی، تنگ نظری، حسد، ذلیل کاموں کے لئے آمادگی۔ (جیسے مرد اپنی زوجہ کی ناجائز کمائی سے زندگی بسر کرے)۔ شراب و قمار کی عمومیت غیر اخلاقی تفریحیں، اعمال پر تقریریں اور بے عمل مقررین، ریا کاری، ظاھر داری ہر چیز میں پارٹی بازی، شخصیت کا معیار دولت کی فراوانی

۳) وہ برائیاں جن کا تعلق مذہب سے ہے، جیسے خواہشات کو قرآنی احکام پر ترجیح دینا، اسلامی احکام کی حسب منشاء تفسیر، مذہبی معاملات کو مادی اور دنیاوی معیاروں پر پرکھنا، مسجدوں میں گناہگاروں کی اکثریت، مسجدوں کی آرائش، تقویٰ اور پرہیز گاری سے بے بہرہ نمازی، نماز کو اہم یت نہ دینا۔

اگر غور کیا جائے اور منصفانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو آج کے سماج میں یہ ساری برائیاں نظر آئیں گی۔

یہ تمام برائیاں انقلاب کی پہلی اور آخری شرط نہیں ہیں بلکہ ظلم و جور کی فراوانی انقلاب کے لئے زمین ہم وار کر رہی ہے۔ یہ برائیاں مست اور خوابیدہ انسانوں کو بیدار کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ سوئے ہوئے ضمیر کے حق میں تازیانہ ہیں تاکہ لوگ بیدار ہوں اور انقلاب کے لئے آمادہ ہوجائیں۔

دنیا والے ایک نہ ایک دن ضرور ان برائیوں کے علل و اسباب تلاش کریں گے اور اس کے نتائج پر غور کریں گے یہ تلاش عمومی سطح پر آگاہی فراہم کرے گی جس کے بعد ہر ایک کو اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ اصلاح کے لئے انقلاب ضروری ہے۔ عالمی اصلاح کے لئے عالمی انقلاب درکار ہے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر دنیا کا کوئی گوشہ ان برائیوں سے پاک صاف ہے، یا بعض افراد ان مفاسد میں ملوث نہیں ہیں تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ کیونکہ جو بات بیان کی گئی ہے وہ عمومی سطح پر اور اکثریت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بیان کی گئی ہے۔

خاص علامتیں

۱) دجّال

جب کبھی دجال کا تذکرہ ہوتا ہے، ذہن پُرانے تصورات کی بنا پر فوراً ایک خاص شخص کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے جس کے صرف ایک آنکھ ہے جس کا جسم بھی افسانوی ہے اور سواری بھی۔ جو حضرت مھدی (عج) کے عالمی انقلاب سے پہلے ظاھو

ھوگا۔

لیکن دجال کے لغوی معنی(۱۴) اور احادیث سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ دجال کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عنوان ہے جو ہر دھوکہ باز اور حیلہ گر پر منطبق ہوتا ہے۔ اور ہر اس شخص پر منطبق ہوتا ہے جو عالمی انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں ایجاد کرتا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مشھور حدیث ہے:

انه له یکن نبی بعد نوح الا انذر قومه الدجال وانی انذر کموه ۔(۱۵)

"جناب نوح (ع) کے بعد ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنہ سے ڈرایا ہے میں بھی تمھیں اس سے ہوشیار کرتا ہوں۔"

یہ بات مسلم ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قوم کو کسی ایسے فتنے سے نہیں ڈراتے تھے جو ہزاروں سال بعد آخری زمانہ میں رونما ہونے والا ہو۔

اسی حدیث کا یہ آخری جملہ خاص توجہ کا طالب ہے کہ:

فوصفه لنا رسول الله فقال لعله سیدرکه بعض من رأنی او سمع کلامی

رسول خدا (ص) نے ہم ارے لئے اس کے صفات بیان فرمائے اور فرمایا کہ ہوسکتا ہے وہ لوگ اس سے دوچار ہوں جنھوں نے مجھے دیکھا ہے یا میری بات سنی ہے۔"

اس بات کا قوی احتمال ہے کہ حدیث کا یہ آخری جملہ ان فریب کاروں، سرکشوں، حیلہ گروں، مكّاروں کی نشاندھی کر رہا ہو جو آنحضرت (ص) کے بعد بڑے بڑے عنوان کے ساتھ ظاھر ہوئے۔ جیسے بنی امیہ اور ان کے سرکردہ معاویہ، جہاں "خال المومنین" اور "کاتب وحی" جیسے مقدس عناوین لگے ہوئے ہیں ان لوگوں نے عوام کو صراط مستقیم سے منحرف اور ان کو جاہلی رسومات کی طرف واپس لانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی، متقی اور ایمان دار افراد کو کنارے کردیا، اور عوام پر بدکاروں، جاہلوں اور جابروں کو مسلط کردیا۔

صحیح ترمذی کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ آنحضرت (ص) نے دجال کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ:

"ما من نبی الا وقد انذر قومه ولٰکن ساقول فیه قولا لم یقله نبی لقومه تعلمون انه اعور ۔ (وہی مآخذ)

ھر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنہ سے ڈرایا ہے، لیکن اس کے بارے میں، میں ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہا، اور وہ یہ کہ وہ کانا ہے۔"

بعض حدیثوں میں ملتا ہے کہ حضرت مھدی (عج) کے ظھور سے پہلے تیس دجال رونما ہوں گے۔

انجیل میں بھی دجّال کے بارے میں ملتا ہے کہ:

تم کو معلوم ہے کہ دجال آنے والا ہے۔ آج کل بھی کافی دجال ظاھر ہوتے ہیں۔"(۱۶)

اس عبارت سے صاف ظاھر ہے کہ دجال متعدد ہیں۔

ایک دوسری حدیث میں آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ:

لا تقوم الساعة حتی یخرج نحوستین کذا بکلهم یقولون انا نبی ۔

قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ساٹھ ۶۰ جھوٹے پیدا نہ ہوجائیں جن میں سے ہر ایک اپنے پیغمبر بتائے گا۔"(۱۷)

اس روایت میں گرچہ دجال کا لفظ نہیں ہے لیکن اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں جھوٹے دعوے داروں کی تعداد ایک دو پر منحصر نہیں ہوگی۔

یہ ایک حقیقت ہے ک جب بھی کسی معاشرے میں انقلاب کے لئے زمین ہم وار ہوتی ہے تو غلط افوا ہیں پھیلانے والوں، فریب کاروں، حیلہ گروں اور جھوٹے دعوے داروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ یہی لوگ ظالم اور فاسد نظام کے محافظ ہوتے ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ عوام کے جذبات، احساسات اور ان کے افکار سے غلط فائدہ اٹھایا جائے۔

یہ لوگ انقلاب کو بدنام کرنے کے لئے خود بھی بظاھر انقلابی بن جاتے ہیں اور انقلابی نعرے لگانے لگتے ہیں ایسے ہی لوگ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

یہ وہ دجال ہیں جن سے ہوشیار رھنے کے بارے میں ہر نبی نے اپنی امت سے نصیحت کی ہے۔

حضرت مھدی (عج) کا انقلاب صحیح معنوں میں عالمی انقلاب ہوگا۔ اس عالمی انقلاب کے لیے عوام میں جس قدر آمادگی بڑھتی جائے گی جتنا وہ فکری طور س آمادہ ہوتے جائیں گے ویسے ویس دجّالوں کی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکا سکیں۔

ھوسکتا ہے کہ ان تمام دجالوں کی سربراہی ایک بڑے دجّال کے ہاتھوں میں ہو، اور اس دجال کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ علامتی صفات ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ مجلسی (رح) نے بحار الانوار میں ایک روایت امیر المومنین علیہ السلام سے نقل فرمائی ہے جس میں دجال کی صفات کا ذکر ہے وہ صفات یہ ہیں:

۱) اس کے صرف ایک آنکھ ہے، یہ آنکھ پیشانی پر ستارۂ صبح کی طرح چمک رہی ہے۔ یہ آنکھ اس قدر خون آلود ہے گویا خون ہی سے بنی ہے۔

۲) اس کا خچر (سواری) سفید اور تیزرو ہے، اس کا ایک قدم ایک میل کے برابر ہے۔ وہ بہت تیز رفتاری سے زمین کا سفر طے کرے گا۔

۳) وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ جس وقت اپنے دوستوں کو آواز دے گا تو ساری دنیا میں اس کی آواز سنی جائے گی۔

۴) وہ دریاؤں میں ڈوب جائے گا۔ وہ سورج کے ساتھ سفر کرے گا، اس کے سامنے دھنویں کا پہاڑ ہوگا اور اس کی پشت پر سفید پہاڑ ہوگا۔ لوگ اسے غذائیں مواد تصور کریں گے۔

۵) وہ جس وقت ظاھر ہوگا اس وقت لوگ قحط میں اور غذائی مواد کی قلت میں مبتلا ہوں گے۔(۱۸)

یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ ہم یں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم قرآن اور احادیث میں بیان شدہ مطالب کو "علامتی عنوان" قرار دیں کیونکہ یہ کام ایک طرح کی تفسیر بالرائے ہے جس کی شدّت سے مخالفت کی گئی ہے۔ لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عقلی اور نقلی قرینوں کی موجودگی میں لفظ کے ظاھری مفھوم سے چپکے رہیں۔

آخری زمانے کے بارے میں جو روایتیں وارد ہوئی ہیں ان میں "علامتی عنوان" بکثرت موجود ہیں۔

مثلا ایک روایت میں ہے کہ اس وقت مغرب سے آفتاب آئے گا۔ اگر اس حدیث کے ظاھری معنی مراد لئے جائیں تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آفتاب ایکا ایکی مغرب سے طلوع کرے تو اس صورت میں منظومہ شمسی کی حرکت بالکل معکوس ہوجائے گی جس کے نتیجہ میں نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ آفتاب رفتہ رفتہ مغرب سے طلوع کرے۔ تو اس صورت میں رات دن اس قدت طولانی ہوجائیں گے جس سے نظام زندگی میں درہم ی پیدا ہوجائے گی واضح رہے کہ یہ دونوں ہی معنی حدیث سے مراد نہیں ہیں۔ کیونکہ نظام درہم برہم ہونے کا تعلق سے ہے آخری زمانے سے نہیں، جیسا کہ صعصعہ بن صوحان کی روایت کے آخری فقرے سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث ایک علامتی عنوان ہے امام زمانہ کے بارے میں۔

نزال بن سیدہ جو اس حدیث کے راوی ہیں، انھوں نے صعصعہ بن صوحان سے دریافت کیا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے دجال کے بارے میں بیان کرنے کے بعد یہ کیوں ارشاد فرمایا کہ مجھ سے ان واقعات کے بارے میں نہ دریافت کرو جو اس کے بعد رونما ہوں گے۔"

صعصعہ بن صوحان نے فرمایا:۔

جس کے پیچھے جناب عیسیٰ (ع) نماز ادا کریں گے وہ اہل بیت علیہم السلام کی بارھویں فرد ہوگا اور امام حسین علیہ السلام کی صلب میں نواں ہوگا۔ یہ وہ آفتاب ہے جو اپنے کو مغرب سے طلوع کرے گا۔

لہٰذا یہ بات بہت ممکن ہے کہ دجال کی صفات "علامتی عنوان" کی حیثیت رکھتی ہوں جن کا تعلق کسی خاص فرد سے نہ ہو بلکہ ہر وہ شخص دجال ہوسکتا ہے جو ان صفات کا حامل ہو یہ صفات مادی دنیا کے سر براھوں کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہیں، کیونکہ:

۱) ان لوگوں کی صرف ایک آنکھ ہے، اور وہ ہے مادی و اقتصادی آنکھ ۔ یہ لوگ دنیا کے تمام مسائل کو صرف اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مادی مقاصد کے حصول کی خاطر جائز و ناجائز کے فرق کو یکسر بھول جاتے ہیں۔

ان کی یہی مادی آنکھ بہت زیادہ چمکدار ہے، کیونکہ ان لوگوں نے صنعتی میدان میں چشم گیر ترقی کی ہے۔ زمین کی حدوں سے باھر نکل گئے ہیں۔

۲) تیز رفتار سواریاں ان کے اختیار میں ہیں۔ مختصر سی مدّت میں ساری دنیا کا چكّر لگا لیتے ہیں۔

۳) یہ لوگ خدائی کے دعوے دار ہیں۔ کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی قسمت سے کھیلنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

۴) جدید ترین آبدوزوں کے ذریعہ سمندر کی تہوں میں سورج کے ساتھ سفر کرتے ہیں، ان کی نگاہوں کے سامنے دیو پیکر کارخانے، دھویں کا پہاڑ، اور ان کے پیچھے غذائی مواد کا انبار سفید پہاڑ، (جس کی عوام غذائی اشیاء تصور کرتے ہیں، جب کہ وہ صرف پیٹ بھراؤ چیزیں ہیں، ان میں غذائیت نہیں ہے)۔

۵) قحط، خشک سالی، استعماریت، جنگ کے لئے سرمایہ گذاری، اسلحہ کے کمرشکن مصارف قتل و غارت گری ان چیزوں کی بنا پر غذائی اشیاء میں شدید قلت پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بعض لوگ بھکمری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یہ حالات دجال کے منصوبہ بند پروگرام کا نتیجہ ہیں جس سے وہ حسب منشاء استفادہ اٹھاتا ہے۔ کمزوروں، غریبوں اور زحمت کشوں کی امداد کے بہانے اپنے اقتدار کو استحکام عطا کرتا ہے۔

بعض روایتوں میں ہے ک دجّال کی سواری کے ہر بال سے مخصوص قسم کا ساز سنائی دے گا یہ روایت آج کل کی دنیا پر کس قدر منطبق ہو رہی ہے کہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں موسیقی کا جال بچھا ہوا ہے کوئی گھر سازو آواز سے خالی نہیں ہے۔

خواہ دجال ایک مخصوص شخص کا نام ہو، خواہ دجال کی صفات "علامتی عنوان" کی حیثیت رکھتی ہوں، بہر حال عالمی انقلاب کے منتظر افراد، اور حضرت مھدی (عج) کے جانبازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دجال صفت افراد سے مرعوب نہ ہوں اور ان کے دام فریب میں گرفتار ہوں۔ انقلاب کے لئے زمین ہم وار کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں، اور کسی وقت بھی ناکامی اور سستی کے احساس کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔

۲) سفیانی کا ظھور

دجال کی طرح سفیانی کا بھی تذکرہ شیعہ اور سنّی روایات میں ملتا ہے۔ عالمی انقلاب کے نزدیک زمانے میں سفیانی کا ظھور ہوگا۔(۱۹)

بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سفیانی ایک معین شخص کا نام ہے جو ابوسفیان کی نسل سے ہوگا۔ لیکن بعض دوسری روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ سفیانی صرف ایک فرد کا نام نہیں ہے بلکہ یہ نام ان تمام افراد کو شامل ہے، جن میں سفیانی صفات پائی جاتی ہیں۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک روایت ہے جس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ سفیانی شخص سے زیادہ صفات کا نام ہے۔ سفیانی بھی ایک علامتی عنوان ہے کہ ہر مصلح کے مقابلے میں کوئی نہ کوئی سفیانی ضرور ظاھر ہوگا۔

وہ روایت یہ ہے:

امر السفیانی حتم من الله ولا یکون قائم الا بسفیانی (۲۰)

"سفیانی کا ظھور لازمی اور ضروری ہے۔ اور ہر قیام کرنے والے کے مقابلے میں ایک سفیانی موجود ہے۔"

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:

انا واٰل ابی سفیان اهل بیتین تعادینا فی الله! قلنا صدق الله وقالوا کذب الله! قاتل ابوسفیان رسول الله و قاتل معاویة علی ابن ابی طالب و قاتل یزید بن معاویة الحسین بن علی والسفیانی یقاتل القائم (۲۱)

"ہم اور آل ابوسفیان دو خاندان ہیں جنھوں نے اللہ کی راہ میں ایک دوسرے کی مخالفت کی۔ ہم نے الہی پیغامات کی تصدیق کی اور انھوں نے الٰہی پیغامات کی تکذیب، ابوسفیان نے رسول خدا (ص) سے جنگ کی، معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کی، معاویہ کے بیٹے یزید نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا اور سفیانی قائم (عج) سے برسر بیکار ہوگا۔"

گذشتہ صفحات میں بیان کیا جاچکا ہے کہ تعمیری اقدامات کے مقابلہ میں دجال صفت افراد کس طرح سرگرم رہیں گے، ذیل کی سطروں میں سفیانیوں کی سرگرمیاں ملاحظہ ہوں۔ سفیانیوں کی شاہ فرد اور اس ناپاک سلسلے کی ابتداء کا نام ہے ابوسفیان! جس میں یہ خصوصیات تھیں:۔

۱) لوٹ مار، ڈاکہ، قتل، غارت گری کے ذریعہ سرمایہ دار بنا تھا۔ دوسروں کے حقوق چھین چھین کر مالدار ہوگیا تھا۔

۲) شیطانی حربوں سے قدرت و طاقت حاصل کی تھی۔ مکہ اور مضافات کی ریاست اسی کے ہاتھوں میں تھی۔

۳) جاہلی اور طبقاتی نظام کا مکمل نمونہ تھا۔ وہ جی جان سے بتوں اور بت پرستی کی حمایت کرتا تھا تفرقہ اندازی اس کا بہترین مشغلہ تھا، اور یہی اس کی حکومت کا راز تھا۔

اسلام ان تمام باتوں کا شدت سے مخالف تھا اور ہے۔ اسلام کے آنے کے بعد اس کی ساری شخصیت پر پانی پڑگیا۔ اس کی سرمایہ داری، طاقت اور ریاست سب ختم ہوگئی۔ کیونکہ اسلام نے وہ تمام ذرائع یکسر ختم کردیے جن کے ذریعہ ابوسفیان سرمایہ دار، قدرت مند اور سردار قوم بنا تھا۔ اسی لئے وہ برابر اسلام سے جنگ کرتا رہا مگر ہر مرتبہ ہزیمت اٹھاتا رہا۔ اس طرح ابوسفیان کے جیتے جی اس کی شخصیت زندہ درگور ہوگئی فتح مکہ کے بعد ابوسفیان نے بادل ناخواستہ اسلام تو قبول کرلیا، مگر اسلام دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی، اور اسلام دشمنی نسلاً بعد نسل اس کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی ۔ معاویہ کو ورثہ میں اسلام اور آل محمد (ص) کی دشمنی ملی اور معاویہ نے یزید میں یہ جراثیم منتقل کردیے۔

جس وقت حضرت مھدی (عج) کا ظھور ہوگا اس وقت بھی ابوسفیان کی نسل کا ایک سفیانی، یا ابوسفیان کی صفات کا ایک مجسمہ ایک سفیانی حضرت کے خلاف صف آراء ہوگا۔ اس کی بھرپور کوشش یہ ہوگی کہ انقلاب نہ آنے دے یا کم از کم انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں ایجاد کرکے انقلاب کو جلدی نہ آنے دے۔

دجّال اور سفیانی دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، مگر جو فرق ہوسکتا ہے وہ یہ کہ دجال کی سرگرمیاں پوشیدہ پوشیدہ ہوں گی جبکہ سفیانی کھلے عام مخالف اور جنگ کرے گا۔

بعض روایت کے مطابق سفیانی زمین کے آباد حصوں پر حکمرانی کرے گا۔ جس طرح ابوسفیان معاویہ، یزید نے حکومتیں کی ہیں۔

آخری زمانے کا یہ سفیانی بھی اس طرح ہزیمت اُٹھائے گا جس طرح اس کے قبل ابوسفیان اور بقیہ سفیانیوں نے اپنے اپنے زمانے کے مصلح سے ہزیمت اٹھائی ہے۔

ہاں پر ہم ایک بار پھر یہ بات گوش گزار کریں گے کہ آخری زمانے کے انتظار کرنے والوں اور حضرت مھدی (عج) کے جانباز سپاہیوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر طرح کے دجالوں اور سفیانیوں سے ہوشیار رہیں خواہ وہ کسی لباس، کسی صورت اور کسی انداز سے کیوں نہ پیش آئیں کیونکہ سفیانیوں کی ہم یشہ یہ کوشش رہی ہے کہ شائستہ افراد، متقی و پرہیز گار اور مصلحین سماجی سرگرمیوں سے بالکل کنارہ کش ہوجائیں، تاکہ یہ لوگ بے روک ٹوک اپنے منصوبوں کو عملی بنا سکیں جس کی مثالیں معاویہ کی حکومت میں بے شمار ہیں۔

۳) طولانی غیبت

علامات ظھور کے ذیل میں ابھی یہ تذکرہ کرچکے ہیں کہ ظلم و استبداد کی ہم ہ گیری کسی عالمی مصلح کی آمد کی خبر دے رہی ہے۔ شب کی سیاہی سپیدۂ سحری کا مژدہ سنا رہی ہے۔

اس صورت میں ایک سوال ذہن میں کروٹیں لیتا ہے اور وہ یہ کہ جب ظلم اتنا پھیل چکا ہے تو ظھور میں تاخیر کیوں ہورہی ہے؟ استبداد کی ہم ہ گیری کے باوجود غیبت طولانی کیوں ہورہی ہے؟

اس سوال کے جواب کے لئے یہ باتیں قابل غور ہیں۔

(۱) گزشتہ انبیاء اور رسولوں کے انقلاب کی طرح حضرت مھدی (عج) کا انقلاب بھی طبیعی علل و اسباب پر مبنی ہوگا۔ اس انقلاب کی کوئی اعجازی شکل و صورت نہ ہوگی۔ معجزات تو خاص خاص صورتوں سے مخصوص ہیں۔ جس طرح پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی ۲۳ سالہ تبلیغی زندگی میں خاص مواقع کے علاوہ ہر جگہ عام علل و اسباب سے کام لیا ہے۔

اسی لئے ہم یں ملتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنے مشن کی تبلیغ و توسیع میں روز مرّہ کے وسائل سے استفادہ کرتے تھے مثلاً افراد کی تربیت، مسائل میں مشورہ، منصوبہ کی تشکیل، جنگ کے لیے نقشہ کشی خلاصہ یہ کہ ہر مادی اور معنوی وسائل سے استفادہ کرتے اور اسی سے اپنے مشن کو آگے بڑھاتے تھے۔ وہ میدان جنگ میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی معجزے کا انتظار نہیں کرتے تھے، بلکہ خدا پر بھروسہ کر کے اپنی طاقت سے جنگ لڑتے تھے اور کامیاب ہوتے تھے۔

اسی طرح حضرت مھدی (عج) اپنے عالمی انقلاب میں روز مرہ کے وسائل سے استفادہ کریں گے۔ الٰہی منصوبوں کو عملی بنائیں گے ان کا کام الٰہی پیغام کی تبلیغ ہی نہیں بلکہ وہ الٰہی احکام کو ان کی صحیح شکل میں نافذ کریں گے۔ وہ دنیا سے ہر طرح کا ظلم و جور کا خاتمہ کردیں گے اتنا بڑا کام صرف یونہی نہیں ہوجائے گا بلکہ اس کے لئے بہت سی چیزیں ضروری ہیں۔

(۲) گذشتہ بیان سے یہ بنیادی بات واضح ہوگئی کہ انقلاب سے پہلے بعض چیزوں کا وجود ضروری ہے۔ عوام میں کئی اعتبار سے آمادگی درکار ہے۔

ایک: قبولیت

دنیا کی نا انصافیوں کی تلخیوں کو دنیا والے باقاعدہ احساس کریں۔ انسان کے خود ساختہ قوانین کے نقائص اور اس کی کمزوریوں کو بھی سمجھیں۔

لوگوں کو اس حقیقت کا باقاعدہ احساس ہوجائے کہ مادی قوانین کے سایہ میں حیاتِ انسانی کو سعادت نصیب نہیں ہوسکتی ہے۔ انسان کے خود ساختہ قوانین کے لئے کوئی "نفاذی ضمانت" نہیں ہے بلکہ انسان کے خود ساختہ قوانین مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں کمی نہیں۔ یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ موجودہ افراتفری کا سبب خود ساختہ نظام ھائے حیات ہیں۔

لوگوں کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے کہ یہ دنیا اسی وقت سدھر سکتی ہے جب میں ایسا نظام نافذ ہوگا جس کی بنیاد معنویت، انسانی اور اخلاقی اقدار پر ہو، جہاں معنویت اور مادیت دونوں کو جائز حقوق دیے گئے ہوں۔ جس میں انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو بہ حد اعتدال سیراب کیا گیا ہو۔

اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور ہوجائے کہ صنعت اور ٹکنالوجی کے میدانوں میں چشم گیر اور حیرت انگیز ترقیاں انسان کو سعادت عطا نہیں کرسکتی ہیں۔ البتہ شقادت ضرور تقسیم کرسکتی ہیں۔ ہاں اس صورت میں ضرور مفید ثابت ہوسکتی ہیں جب یہ ترقیاں معنوی، انسانی اور اخلاقی اصولوں کے زیر سایہ حاصل کی جائیں۔

مختصر یہ کہ جب خوب تشنہ نہیں ہوں گے اس وقت تک چشمہ کی تلاش میں تگ و دو نہیں کریں گے۔

یہ تشنگی کچھ تو رفتہ رفتہ وقت گذرنے سے حاصل ہوگی اور کچھ کے لیے تعلیم و تربیت درکار ہوگی، یہ دنیا کے مفکرین کا کام ہے کہ ہر ایک میں یہ احساس بیدار کردیں کہ انسان کے خود ساختہ قوانین دنیا کی اصلاح نہیں کرسکتے ہیں بلکہ اس کے لئے ایک عالمی انقلاب درکار ہے۔ بہر حال اس میں وقت لگے گا۔

دو۔ ثقافتی اور صنعتی ارتقاء

ساری دنیا کے لوگ ایک پرچم تلے جمع ہوجائیں، حقیقی تعلیم و تربیت کو انتا زیادہ عام کیا جائے کہ فرد فرد اس بات کا قائل ہوجائے کہ زبان، نسل، علاقائیت ہرگز اس بات کا سبب نہیں بن سکتے کہ تمام دنیا کے باشندے ایک گھر کے افراد کی طرح زندگی بسر نہ کرسکیں۔

دنیا کی اقتصادی مشکلات اسی وقت حل ہوسکتی ہیں جب ثقافت اور افکار میں ارتقاء اور وسعت پیدا ہو۔ اسی کے ساتھ صنعت بھی اتنا ترقی یافتہ ہوکہ دنیا کا کوئی گوشہ اس کی دسترس سے دور نہ ہو۔

بعض روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مھدی (عج) کے ظھور کے بعد صنعت خاص طور پر ٹرانسپورٹ اتنی زیادہ ترقی یافتہ ہوجائے گی کہ یہ وسیع و عریض دنیا نزدیک شھروں کے مانند ہوجائے گی۔ مشرق و مغرب میں بسنے والے اس طرح زندگی بسر کریں گے جس طرح ایک گھر کے افراد زندگی بسر کرتے ہیں۔

ظھور کے بعد ہوسکتا ہے کہ ترقیاں انقلابی صورت میں رونما ہوں مگر اتنا ضرور ہے کہ ظھور کے لئے علمی طور پر آمادگی ضروری ہے۔

تین: انقلابی گروہ

ایسے افراد کی موجودگی ضروری ہے جو انقلاب میں بنیادی کردار ادا کرسکیں، ایسے افراد کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو، مگر عملی اعتبار سے ہر ایک بھرپور انقلابی ہو اور انقلابی اصولوں پر جی جان سے عامل ہو، غیر معمولی شجاع، دلسوز، فداکار، جانباز اور جاں نثار ہو۔

اس دھکتی ہوئی دنیا اور خزاں رسیدہ کائنات میں ایسے پھول کھلیں جو گلستاں کا مقدمہ بن سکیں جو بہار کا پیش خیمہ ہوسکیں۔ انسانوں کے ڈھیر سے ایسے عالی صفت افراد نکلیں جو آئندہ انقلاب کی مکمل تصویر ہوں۔

ایسے افراد کی تربیت خود معصوم رہبر کے سپرد ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسے افراد کی تربیت کا انتظام کریں۔ چونکہ ہر کام معجزے سے نہیں ہوگا، لھٰذا یہاں بھی وقت درکار ہے۔

بعض روایتوں میں حضرت مھدی (عج) کی غیبت کے طولانی ہونے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ خالص ترین افراد سامنے آجائیں، جو ہر طرح کے امتحانوں میں کامیاب ہوچکے ہوں۔

اس بات کی وضاحت کی ضرورت ہے کہ الٰہی امتحان اور آزمائش کا مطلب ممتحن کے علم میں اضافہ کرنا نہیں ہے بلکہ امتحان دینے والوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کا اظھار ہے یعنی وہ استعداد جو قوت کی منزل میں ہے اسے فعلیت عطا کرنا ہے۔

گذشتہ بیان سے یہ بات کسی حد تک ضرور واضح ہوگئی ک حضرت مھدی (عج) کے ظھور میں تاخیر کیوں ہورہی ہے تاخیر کا سبب ہم ارے نواقص اور کمزوریاں ہیں، ورنہ اس طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہے۔ جس وقت ہم اپنے نواقص کو ختم اور کمزوریوں کو دور کرلیں گے اس وقت ظھور ہوجائے گا۔ جس قدر جلد ہم اس مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے اتنا ہی جلد ظھور ہوگا۔

زمانۂ غیبت میں وجودِ امام کا فائدہ

حضرت مھدی عجل اللہ فرجہ کی غیبت کا جب تذکرہ ہوتا ہے تو یہ سوال ذہنوں میں کروٹیں لینے لگتا ہے کہ امام یا رہبر کا وجود اسی صورت میں مفید اور قابل استفادہ ہے جب وہ نگاہوں کے سامنے ہو اور اس سے رابطہ برقرار ہوسکتا ہے لیکن اگر امام نظروں سے غائب ہو، اس تک پہونچنا ممکن نہ ہو، ایسی صورت میں وجود امام سے کیا حاصل ؟

بعض کے لئے ہوسکتا ہے کہ یہ سوال نیا معلوم ہو اور کسی "دانشمند" ذہن کی اُپج معلوم ہو مگر خوش قسمتی یا بد قسمتی سے یہ سوال بہت پرانا ہے۔ یہ سوال حضرت مھدی (عج) کی ولادت سے پہلے کیا جاچکا ہے کیونکہ جب حضرت مھدی (عج) اور ان کی غیبت کے بارے میں رسول خدا (ص) یا ائمہ علیہم السلام بیان فرماتے تھے اس وقت بعض لوگ یہی سوال کرتے تھے۔

احادیث میں اس سوال کا جواب متعدد انداز سے دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث قابلِ غور ہے۔ آنحضرت (ص) نے زمانہ غیبت میں حضرت مھدی (عج) کے وجود کا فائدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

ای والذی بعثنی بالنبوة انهم ینتفعون بنور ولایته فی غیبته کانتفاع الناس بالشمس وان جللها السحاب "

قسم ہے اس ذات اقدس کی جس نے مجھے نبوت پر مبعوث فرمایا، لوگ ان کے نورِ ولایت سے اس طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح لوگ سورج سے اس وقت استفادہ کرتے ہیں جب وہ بادلوں کی اوٹ میں ہوتا ہے۔"

اس حدیث کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم پہلے یہ سمجھیں کہ نظام کائنات میں آفتاب کیا کردار ادا کرتا ہے۔

آفتاب دو طرح اپنا نور پھیلاتا ہے ایک بلا واسطہ اور دوسرے بالواسطہ۔ دوسرے لفظوں میں ایک واضح اور دوسرے پوشیدہ۔

جس وقت آفتاب بلا واسطہ اور واضح نور پھیلاتا ہے، اس وقت اس کی شعاعیں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ زمین کے گرد ہوا کی دبیز چادر شعاعوں کی حرارت میں کمی کر دیتی ہے اور ان کے زھریلے اثرات کو ختم کرتی ہے۔ لیکن ہوا کی یہ دبیز چادر آفتاب کو بلا واسطہ نور پھیلانے سے نہیں روکتی۔

لیکن بالواسطہ اور بطور مخفی نور افشانی کی صورت میں بادل آفتاب کے چہرے کو چھپا لیتا ہے اس صورت میں روشنی تو ضرور نظر آتی ہے مگر آفتاب دکھائی نہیں دیتا۔

اس کے علاوہ آفتاب کا نور اور اس کی شعاعیں نظام کائنات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں یہ نور اور شعاعیں،

زندہ چیزوں کا رشد و نمو،

غذا اور بقائے نسل،

حس و حرکت،

خشک زمینوں کی آبیاری،

دریا کی موجوں کا جوش و خروش،

نسیم سحر کی اٹکھیلیاں،

پژمردگی کو حیات نو عطا کرنے والی بارش،

آبشاروں کے نغمے،

مرغانِ چمن کی خوش الحانیاں،

پھولوں کی نزاکت اور طراوٹ،

انسان کی رگوں میں خون کی گردش اور دل کی دھڑکن،

ذہن بشر میں فکر کی جولانیاں،

طفلِ شیر خوار کی طرح کیوں کی مسکراھٹ۔

یہ ساری کرشمہ سازی آفتاب کے نور اور اس کی شعاعوں کی بدولت ہے۔ اگر لمحہ بھر بھی زمین کا رشتہ آفتاب سے منقطع ہوجائے تو پھر نور پر ظلمتوں کا راج ہوجائے اور نظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔

ہاں ایک سوال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ساری باتیں صرف اس صورت میں ہیں جب آفتاب بلا واسطہ نور پھیلا رہا ہو۔؟

ھر شخص نفی میں جواب دے گا۔ جب آفتاب کا نور بالواسطہ زمین تک پہونچ رہا ہو اس وقت بھی آثار حیات باقی رھتے ہیں۔ بالواسطہ نور افشانی کی صورت میں صرف وہی آثار ختم ہوتے ہیں جن کا تعلق بلا واسطہ نور افشانی سے ہوتا ہے، بالواسطہ نور افشانی میں وہ جراثیم ضرور پھیل جاتے ہیں جن کے حق میں بلا واسطہ نور افشانی زھر ھلاہل ہے۔

اب تک بادلوں کی اوٹ میں آفتاب کے اثرات کا تذکرہ تھا۔ اب ذرا یہ دیکھیں، کہ غیبت کے زمانے میں دینی رہبروں کے فوائد کیا ہیں اور اس کے اثرات کیا ہیں۔

غیبت کے زمانے میں وجود امام کی نامرئی شعاعیں مختلف اثرات رکھتی ہیں۔

۱) اُمّید

میدان جنگ میں جاں نثار بہادر سپاہیوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی صورت پرچم سرنگوں نہ ہونے پائے جبکہ دشمن کی پوری طاقت پرچم سرنگوں کرنے پر لگی رھتی ہے کیونکہ جب تک پرچم لہراتا رہتا ہے، سپاہیوں کی رگوں میں خون تازہ دوڑتا رہتا ہے۔

اسی طرح مرکز میں سردار لشکر کا وجود سردار خاموش ہی کیوں نہ ہو سپاہیوں کو نیا عزم اور حوصلہ عطا کرتا رہتا ہے۔

اگر لشکر میں یہ خبر پھیل جائے کہ سردار قتل ہوگیا تو اچھا خاصا منظم لشکر متفرق ہوجاتا ہے سپاہیوں کے حوصلے منجمد ہوجاتے ہیں۔

قوم شیعہ جس کا یہ عقیدہ ہے کہ اس کے امام زندہ ہیں، اگر چہ بظاھر امام نظر نہیں آتے ہیں، اس کے باوجود یہ قوم خود کو کبھی تنہا محسوس نہیں کرتی۔ اسے اس بات کا یقین کہ اس کا رہبر موجود ہے جو ان کے امور سے واقف ہے ہر روز رہبر کی آمد کا انتظار رہتا ہے یہ انتظار قوم میں تعمیری جذبات کو بیدار رکھتا ہے۔ ماھرین نفسیات اس حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ انسان کے حق میں جس قدر "مایوسی" زھر ھلاہل ہے اسی قدر "امید" تریاق، ہے۔

اگر رہبر کا کوئی خارجی وجود نہ ہو بلکہ لوگ اس کے تولد کا انتظار کر رہے ہوں تو صورت حال کافی مختلف ہوجائے گی۔

اگر ایک بات کا اور اضافہ کردیا جائے تو بات کافی اہم ہوجائے گی اور وہ یہ کہ شیعہ روایات میں کافی مقدار میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ غیبت کے زمانے میں امام علیہ السلام اپنے ماننے والوں کی باقاعدہ حفاظت کرتے ہیں۔ ہر ہفتہ اُمّت کے سارے اعمال امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیے جاتے ہیں۔(۲۲)

یہ عقیدہ ماننے والوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ہم یشہ اپنے اعمال کا خیال رکھیں کہ ان کا ہر عمل امام علیہ السلام کی نظر مبارک سے گزرے گا۔ لھٰذا اعمال ایسے ہوں جو امام علیہ السلام کی بارگاہ اقدس کے لائق ہوں جن سے امام خوش ہوں۔ یہ طرز فکر کس قدر تعمیری ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔

۲) دین کی حفاظت

حضرت علی علیہ السلام نے ایک مختصر سے جملے میں امام کی ضرورت کو بیان فرمایا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کسی بھی صورت میں الٰہی نمائندے سے خالی نہیں رہ سکتی ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں:

اللهمّ بلیٰ لاتخلوا الارض من قائم لله بحجّة اما ظاهراً مشهورا او خائفا مغمورا لئلا تبطل حجج الله وبیناته

ھاں واللہ زمین کبھی بھی الٰہی دلیل، قائم اور حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی خواہ یہ حجت ظاھر و آشکارا ہو اور خواہ پوشیدہ و مخفی۔ تاکہ اللہ کی دلیلیں اور اس کی نشانیان ضائع نہ ہونے پائیں۔

ھر روز ہی شخصی نظریات کو مذہب کا رنگ دیا جارہا ہے خود غرض اور فتنہ پرداز افراد آسمانی تعلیمات کی حسب خواہش توضیح و تفسیر کر رہے ہیں جس کی بنا پر اصلی اسلام میں اتنی خرافات شامل ہوگئی ہیں کہ ایک عام انسان کے لئے صحیح اسلام کی تلاش محال نہیں تو دشوار ضروری ہے۔

وحی کے ذریعہ آسمان سے نازل شدہ آب حیات میں اجنبی نظریات کی آمیزش سے وہ تازگی اور بالیدگی نہ رہی جو صدر اسلام میں تھی۔ ایسی صورت میں ایک ایسے فرد کی موجودگی سخت ضروری ہے جس کے پاس آسمانی اسناد اپنی اصلی صورت میں ہوں۔ اب کسی پر وحی تو نازل ہوگی نہیں۔ کیونکہ آنحضرت (ص) کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا لھٰذا اس زمانے میں بھی ایک معصوم فرد کا وجود لازمی ہے جو اسلامی تعلیمات کا تحفظ کرسکے، جس کے پاس ہر طرح کی خرافات سے پاک صاف دین موجود ہو۔ اسی حقیقت کی طرف مولائے کائنات نے اشارہ فرمایا ہے کہ "تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشانیاں ضائع نہ ہونے پائیں۔" اور اس طرح حقیقت کے متلاشی افراد حقیقت تک پہونچ سکیں اور ہدایت کے پیاسے سرچشمۂ ہدایت و حیات سے سیراب ہوسکیں۔

۳) فداکاروں کی تربیت

بعض افراد کا خیال ہے کہ غیبت کے زمانے میں امام (ع) کا کوئی تعلق عوام سے نہیں ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر خلاف ہے۔ اسلامی روایات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ غیبت کے زمانے میں بھی امام علیہ السلام سے ایک ایسے خاص گروہ کا رابطہ ضرور برقرار رہے گا جس کا ہر فرد عشق الٰہی سے سرشار، اخلاص کا پیکر، اعمال و اخلاق کی منھ بولتی تصویر اور دلوں میں عالم کی اصلاح کی تمنا لیے ہوئے ہے اسی طریقے سے ان لوگوں کی رفتہ رفتہ تربیت ہورہی ہے، انقلابی امنگیں ان کی روح میں جذب ہوتی جارہی ہیں۔

یہ لوگ اپنے علم و عمل اور تقویٰ و پرہیز گاری سے اتنی بلندی پر ہیں جہاں ان کے

اور آفتابِ ہدایت کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے حقیقت بھی یہی ہے اگر آفتاب بادلوں کی اوٹ میں چلا جائے تو اس کی زیارت کے لئے آفتاب کو نیچے کھینچا جاسکتا بلکہ خود بادلوں کو چیر کر اوپر نکلنا ہوگا تب آفتاب کا رخ دیکھ سکیں گے۔ گذشتہ صفحات میں ہم یہ حدیث نقل کرچکے ہیں کہ پیغمبر اسلام (ص) نے غیبت کی مثال بادلوں میں چھپے ہوئے آفتاب سے دی ہے۔

۴) نامرئی تاثیر

ہم سب جانتے ہیں کہ سورج کی شعاعیں دو طرح کی ہیں، ایک وہ شعاعیں جو دکھائی دیتی ہیں اور دوسرے وہ جو دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ اسی طرح آسمانی رہبر اور الٰہی نمائندے دو طرح عوام کی تربیت کرتے ہیں ایک اپنے قول اور عمل کے ذریعے اور دوسرے اپنے روحانی اثرات کے ذریعے۔ اصطلاحی طور پر پہلے طریقے کو "تربیت تشعریعی" اور دوسرے طرز کو "تربیت تکوینی" کہا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت میں الفاظ و حروف نہیں ہوتے بلکہ جاذبیت اور کشش ہوتی ہے۔ ایک نگاہ اثر انداز سے روح و جسم میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ اس طرح کی تربیت کی بے شمار مثالیں اسلامی تاریخ کے صفحات پر جابجا نظر آتی ہیں۔ شاھد کے طور پر جناب زھرقین، جناب حر، جناب ابو بصیر کے پڑوسی (حکومت بنی امیہ کا سابق کارندہ)، قیدخانہ بغداد میں ھارون کی فرستادہ مغنیّہ

۵) مقصد تخلیق

کوئی بھی عقلمند بے مقصد قدم نہیں اٹھاتا ہے۔ ہر وہ سفر جو علم و عقل کی روشنی میں طے کیا جائے اس کا ایک مقصد ضرور ہوگا۔ فرق صرف یہ ہے کہ جب انسان کوئی با مقصد کام انجام دیتا ہے تو اس کا مقصد اپنی ضروریات پورا کرنا ہوتا ہے لیکن جب خدا کوئی کام انجام دیتا ہے تو اس میں بندوں کا فائدہ پوشیدہ ہوتا ہے کیونکر خدا ہر چیز سے بے نیاز ہے۔

اب ذرا اس مثال پر توجہ فرمائیے:

ایک زرخیز زمین میں ایک باغ لگایا جاتا ہے جس میں طرح طرح کے پھل دار درخت اور رنگ برنگ کے خوشنما اور خوشبودار پھول ہیں، ان درختوں کے درمیان کچھ بیکار قسم کی گھاس بھی اُگی ہوئی ہے۔ لیکن اس باغ کی آبیاری کی جائے گی تو گھاس کو بھی فائدہ پہونچے گا۔

ہاں دو مقصد سامنے آتے ہیں:

اصلی مقصد: پھل دار درختوں کی اور پھولوں کی آبیاری،

ثانوی مقصد: گھاس کی آبیاری،

بغیر کسی شک و تردید کے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آبیاری کا سبب اصلی مقصد ہے ثانوی مقصد نہیں۔

اگر اس باغ میں صرف ایک پھل دار درخت باقی رہ جائے جس سے تمام مقاصد پورے ہورہے ہوں، تب بھی آبیاری ہوتی رہے گی اور اس بنا پر کوئی عقل مند آبیاری سے دستبردار نہیں ہوگا کہ ایک درخت کی خاطر کتنی بیکار چیزیں سیراب ہورہی ہیں۔ البتہ اگر باغ میں ایک درخت بھی نہ رہ جائے تو اس صورت میں آبیاری ایک بے مقصد کام ہوگا۔

یہ وسیع و عریض کائنات بھی ایک سر سبز و شاداب باغ کی مانند ہے۔ انسان اس باغ کے درخت ہیں۔ وہ لوگ جو راہ راست پر گامزن ہیں اور روحانی و اخلاقی ارتقاء کی منزلیں طے کر رہے ہیں، وہ اس باغ کے پھل دار درخت ہیں اور خوشبو دار پھول ہیں۔ لیکن وہ افراد جو راہ راست سے منحرف ہوگئے اور جنھوں نے گناہ کی راہ اختیار کی، ارتقاء کے بجائے پستیوں میں گرتے چلے گئے، یہ لوگ اس باغ کی گھاس وغیرہ کہے جاسکتے ہیں۔

یہ چمکتا ہوا آفتاب، یہ نسیم جانفزا، یہ آسمان و زمین کی پے پناہ برکتیں، گناھگاروں اور ایک دوسرے سے دست و گریباں افراد کے لیے پیدا نہیں کی گئی ہیں، بلکہ یہ ساری کائنات اور اس کی تمام نعمتیں خدا کے نیکو کار بندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور وہ دن ضرور آئے گا جب یہ کائنات ظالموں کے ہاتھ سے نکل کر صالحین کے اختیار میں ہوگی۔

ان الارض یرثها عبادی الصالحون

قیناً میرے صالح بندے اس زمین کے وارث ہوں گے۔"

یہ صحیح ہے کہ دنیا میں ہر طرف گناھگاروں اور خدا ناشناس افراد کی اکثریت ہے لیکن کائنات کا حسنِ نظام بتا رہا ہے کہ کوئی ایسی فرد ضرور موجود ہے جس کی خاطر یہ دنیا سجی ہوئی ہے۔ حدیث میں اس بات کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:

بیمنہ رزق الوریٰ و بوجودہ ثبتت الارض والسماء

ان کی (حجت خدا کی) برکت سے لوگوں کو رزق ملتا ہے اور ان کے وجود کی بنا پر زمین و آسمان قائم ہیں۔"

اسی بات کو خداوند عالم نے حدیث قدسی میں پیغمبر اسلام (ص) کو مخاطب کرکے بیان فرمایا ہے:

لولاک لما خلقت الافلاک

اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو نہ پیدا کرتا۔"

زمانۂ غیبت میں وجود امام علیہ السلام کا ایک فائدہ اس کائنات ھستی کی بقاء بھی ہے۔

وہ لوگ جو حقائق سے بہت دور ہیں وہ زمانۂ غیبت میں وجود امام (ع) کے لئے صرف شخصی فائدے کے قائل ہیں اور اس عقیدے کے سلسلے میں شیعوں پر طرح طرح کے اعتراضات کیا کرتے ہیں جبکہ وہ اس بات سے بالکل غافل ہیں کہ خود ان کا وجود امام علیہ السلام کے وجود کی بنا پر ہے۔ یہ کائنات اس لئے قائم ہے کہ امامِ قائم (عج) پردۂ غیبت میں موجود ہیں اگر امام نہ ہوتے تو نہ یہ دنیا ہوتی اور نہ اس دنیا کے بسنے والے

___________________

۱۳. بحار الانوار جلد۵۲ ص۲۵۶ تا ۲۶۰

۱۴. دجال۔ دجل (بروزن درد. سے ہے جس کے معنی ہیں دروغ گوئی اور دھوکہ بازی۔

۱۵. صحیح ترمذی۔ باب ماجاء فی الدجال ص۴۲

۱۶.رسالہ دوم یوحنا۔ باب ۱ جملہ ۶۔ ۷

۱۷. بحار الانوار ج۵۲ ص۲۰۹

۱۸. بحار الانوار ج۵۲ ص۱۹۲ صعصعہ بن صفوان کی حدیث سے اقتباس۔

۱۹. بحار الانوار ج۵۲ ص۱۸۲ تا ۲۰۹

۲۰. بحار الانوار ج۵۲ ص۱۸۲

۲۱. بحار الانوار ج۵۲ ص۱۹۰

۲۲. یہ روایت تفسیر "برہان" میں اس آیہ کریمہ کے ذیل میں نقل ہوئی ہے: وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون (سورۂ توبہ آیۃ ۱۰۵.


فتح کا انداز

جب حضرت مھدی سلام اللہ علیہ ظھور فرمائیں گے تو حضرت کی فتح کا انداز کیا ہوگا؟ اور کس طرح سے حضرت ساری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔؟ کیا حضرت تلوار کے ذریعہ جنگ کریں گے اور جدید اسلحوں پر کامیابی حاصل کریں گے۔؟

ان باتوں کے دو جواب دیے جاسکتے ہیں، ایک عقل کی روشنی میں اور دوسرا حدیث کی روشنی میں۔

عقل

یہ ایک حقیقت ہے کہ گذرے زمانے کی طرف باز گشت ناممکن اور غیر منطقی ہے ظھور کے بعد ہرگز یہ نہ ہوگا کہ "عصر نور" "عصر ظلمت" کی طرف پلٹ جائے۔

جدید صنعت اور ترقی یافتہ ٹکنا لوجی نے جہاں انسان کی بہت سی مشکلات کو حل کیا ہے وھاں یہ چیزیں عادلانہ حکومت کے قیام کے بارے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔ کیونہ ساری کائنات پر حکمرانی، اور گوشہ گوشہ میں عدل و انصاف کا قیام بغیر ترقی یافتہ ٹکنا لوجی کے ناممکن ہے بلکہ حضرت کے طرز حکومت کو پیش نظر رکھتے ہوئے موجودہ طرقی یافتہ صنعت و ٹکنالوجی اس دور میں ناکافی ہوگی۔

جنگ کے میدان میں بھی ایسے اسلحوں کا استعمال ہوگا جن کا تصور اس دور میں

ہم ارے لئے آسان نہیں ہے۔ طرز جنگ کے سلسلے میں عقل کی بنیاد پر کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی۔ یہ اسلحے مادی ہوں گے یا نفسیاتی البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ اسلحہ ایسے ہوں گے۔ جو نیکو کار اور گناھگار میں فرق کو ضرور قائم رکھیں گے۔

حدیث

احادیث میں ایسی پر معنی تعبیریں ملتی ہیں جن سے گزشتہ باتوں کے جواب واضح ہوجاتے ہیں۔ ذیل کی سطروں میں صرف چند حدیثیں قارئین کی نظر کر رہے ہیں۔

۱) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ:

ان قائمنا اذا قام اشرقت الارض بنور ربها واستغنی العباد من ضوء الشمس (۲۳)

"جس وقت ہم ارے قائم قیام فرمائیں گے اس وقت زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی اور بندگان خدا سورج کی روشنی سے بے نیاز ہوجائیں گے۔"

اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت روشنی اور انرجی کا مسئلہ اس قدر آسان ہوجائے گا کہ دن و رات سورج کے بجائے ایک دوسرے نور سے استفادہ کیا جاسکے گا۔ ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ اس چیز کو معجزے کی شکل دیں۔ لیکن در حقیقت یہ اعجاز نہ ہوگا بلکہ یہ ٹکنا لوجی اور صنعت کے ترقی یافتہ دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

اتنے زیادہ ترقی یافتہ دور کے مقابلے میں آج کے جدید ترین اسلحوں کی کیا حقیقت ہوگی۔

۲) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جناب ابو بصیر سے ارشاد فرمایا کہ:

انه اذا تناهت الامور الی صاحب هذا الامر رفع الله تبارک وتعالیٰ له کل منخفض من الارض خفض له کل مرتفع حتی تکون الدنیا عنده بمنزلة راحته فایکم لو کانت فی راحته شعرة لم یبصرها ۔(۲۴)

"جس وقت سلسلہ امور صاحب الامر تک پہونچے گا اس وقت خداوند عالم زمین کی ہر پستی کو ان کے لئے بند کردے گا اور ہر بلندی کو ان کے لئے پست کردے گا۔ یہاں تک کہ ساری دنیا ان کے نزدیک ہاتھ کی ہتھیلی کے مانند ہوجائے گی۔ تم میں سے کون ہے جس کی ہتھیلی میں بال ہو، اور وہ اس کو نہ دیکھ رہا ہو۔"!؟

آج کی ترقی یافتہ دنیا میں بلندیوں پر جدید ترین آلات نصب کرکے دنیا کے مختلف گوشوں میں آوازیں اور تصویریں بھیجی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں مصنوعی سیاروں سے بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔ لیکن اس کی دوسری صورت آج کی دنیا میں ابھی تک عملی نہیں ہوسکی ہے یعنی مختلف جگہوں سے ایک مرکز پر خبروں اور تصویروں کا انعکاس۔ مگر یہ کہ دنیا کے گوشے گوشے میں نشر کرنے والے اسٹیشن قائم کیے جائیں۔

اس حدیث سے ہم یں یہ پتہ چلتا ہے کہ ظھور کے بعد یہ مشکل بھی آسان ہوجائے گی اس وقت دنیا ہاتھ کی ہتھیلی کی مانند ہوجائے گی۔ دنیا کے دور ترین مقامات پر رونما ہونے والے واقعات پر حضرت کی بھرپور نظر ہوگی۔ اس وقت نزدیک و دور کا امتیاز ختم ہوجائے گا۔ دور و نزدیک ہر ایک پر حضرت کی یکساں نگاہ ہوگی۔ ظاھر ہے جی عادلانہ عالمی حکومت کے لیے وسیع ترین اطلاعات کی سخت ضرورت ہے۔ جب تک دنیا کے ہر واقعہ پر بھرپور نظر نہ ہوگی اس وقت تک عدل کا قیام اور ظلم کی فنا کیونکر ممکن ہوگی۔

۳) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ:

ذخر لصاحبکم الصعب!

قلت: وما الصعب؟

قال: ما کان من سحاب فیه رعد و صاعقة او برق فصاحبکم یرکبه اما انه سیرکب السحاب وبرقی فی الاسباب، اسباب السمٰوٰات والارضین!(۲۵)

تمھارے امام کے لئے سرکش وسیلہ کو ذخیرہ کیا گیا ہے۔

راوی کا بیان ہے کہ میں نے دریافت کیا کہ مولا وہ سرکش وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ بادل ہے جس میں گرج چمک یا بجلی پوشیدہ ہے وہ اس بادل پر سوار ہوگا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ عنقریب بادلوں پر سوار ہوگا، بلندیوں پر پرواز کرے گا، ساتوں آسمانوں اور زمینوں کا سفر کرے گا۔"

بادل سے یہ عام بادل مراد نہیں ہے۔ یہ تو بخارات کا مجموعہ ہیں۔ یہ اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے ذریعہ سفر کیا جاسکے، زمین سے بادلوں کا فاصلہ کوئی زیادہ نہیں ہے بلکہ بادل سے ایک ایسے وسیلہ سفر کی طرف اشارہ ہے جس کی رفتار بے پناہ ہے۔ جس کی آواز گرج، چمک اور بجلی جیسی ہے وہ سفر کے دوران آسمانوں کو چیرتا ہوا نکل جائے گا۔

آج کی دنیا میں ہم ارے سامنے کوئی ایسا وسیلہ اور ذریعۂ سفر نہیں ہے جسے مثال کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ البتہ صرف "اڑن طشتری" کے ذریعہ اس وسیلہ سفر کا ایک ھلکا سا تصور ذہنوں میں ضرور آسکتا ہے۔

ان حدیثوں سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت مھدی سلام اللہ علیہ کے ظھور کے بعد صنعت، ٹکنالوجی کس بام عروج پر ہوں گی۔ ان حدیثوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ظھور کے بعد ترقی ہوگی تنزلی نہیں۔ حضرت جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ دنیا میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے۔ لیکن ایک بات جو ذہنوں میں بار بار کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا حضرت تلوار کے ذریعہ جنگ کریں گے۔؟

اس بات کا جواب یہ ہے کہ روایات میں "سیف" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

سیف" یا شمشیر یہ الفاظ جب استعمال کیے جاتے ہیں تو ان سے قدرت و طاقت مراد لی جاتی ہے جس طرح "قلم" سے ثقافت کو تعبیر کیا جاتا ہے۔

روایات میں لفظ "سیف" سے عسکری طاقت مراد ہے

یہ بات بھی واضح ہوجائے ک ہرگز یہ خیال بھی ذہنوں میں نہ آئے کہ حضرت ظھور کے بعد یکبارگی تلوار اٹھالیں گے اور ایک طرف سے لوگوں کے سرقلم کرنا شروع کردیں گے۔

سب سے پہلے دلائل کے ذریعہ حقائق بیان فرمائیں گے۔ افکار کی رھنمائی فرمائیں گے، عقل کو دعوت نظر دیں گے، مذہب کی اصطلاح میں سب سے پہلے "اتمام حجّت" کریں گے۔ جب ان باتوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اس وقت تلوار اٹھائیں گے۔

پھر تو اک برق تباں جانبِ اشرار چلی

نہ چلی بات تو پھر دھوم سے تلوار چلی

اسلام کو اپنی حقانیت پر اس قدر اعتماد ہے کہ اگر اسلامی تعلیمات واضح طور سے بیان کردی جائیں تو ہر منصف مزاج فوراً تسلیم کرلے گا ہاں صرف ھٹ دھرم اور تعصّب کے اندھے قبول نہ کریں گے اور ان کا تو بس ایک علاج ہے اور وہ ہے تلوار یعنی طاقت کا مظاھرہ۔

طرز حکومت

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ کے عالمی انقلاب کے لئے تین مراحل ضروری ہیں:

پہلا مرحلہ:

انتظار۔ آمادگی۔ علامتیں

دوسرا مرحلہ:

انقلاب۔ ظلم و ستم سے پیکار۔

تیسرا مرحلہ:

عدل و انصاف کی حکومت کا قیام۔

پہلے اور دوسرے مرحلے کے سلسلے میں گذشتہ صفحات میں بحث کی جاچکی ہے۔ اب ہم تیسرے مرحلے بارے میں بعض اہم باتیں قارئین کی نذر کررہے ہیں۔

ایک ایسی دنیا کا تصور انسان کے لئے کتنا زیادہ وجد آفریں، اطمینان بخش اور غرور آمیز ہے جہاں طبقاتی اختلافات نہ ہوں، فتنہ و فساد نہ ہو جنگ و خونریزی نہ ہو، فقر و تنگ دستی نہ ہو، غریب کے لاشے پر سامراجیوں کے مستانہ قہقہے نہ ہوں قہقہوں کے گرد ناداروں کی سسکتی اہیں نہ ہوں، نہ دریا دریا فقر ہو اور نہ کشتی کشتی ثروت "

ایسی دنیا کا تصور ایک افسانہ ضرور معلوم ہوتا ہے مگر دینِ اسلام نے اس کو یقینی بتایا ہے اور اس کے خطوط بھی ترسیم کیے ہیں۔

اسلامی نقطہ نظر سے عالمی حکومت کے چند اہم خطوط ملاحظہ ہوں:

۱) علوم کی برق رفتار ترقی

کوئی بھی انقلاب فکری اور ثقافتی انقلاب کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا ہے۔ ہر انقلاب کی بقاء کے لئے فکری اور ثقافتی انقلاب ضروری ہے۔ فکری انقلاب کے دو پہلو ہوں، ایک طرف فکری انقلاب انسانوں کو ان علوم کے سیکھنے پر آمادہ کرے جن کی سماج کو ضرورت ہے اور دوسری طرف صحیح انسانی زندگی کے اصول سے واقف کرائے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں ارشاد فرمایا کہ:

العلم سبعة و عشرون حرفاً فجمیع ما جائت به الرسل حرفان فلم یعرف الناس حتی الیوم غیر الحرفین فاذا قام قائمنا اخرج الخمسة والعشرین حرفاً، فبثها فی الناس و ضم الیها الحرفین حتی یبثها سبعة و عشرین حرفاً (۲۶)

"علم و دانش کے ستّائیس (۲۷) حروف ہیں (۲۷ شعبے اور حصے ہیں) وہ تمام باتیں جو انبیاء علیہم السلام اپنی امت کے لئے لائے وہ دو حرف ہیں۔ اور آج تک تمام لوگ دو حرفوں سے زیادہ نہیں جانتے ہیں لیکن جس وقت ہم ارے قائم کا ظھور ہوگا وہ بقیہ ۲۵ حرف (۲۵ شعبے اور حصے) بھی ظاھر فرمادیں گے اور ان کو عوام کے درمیان پھیلادیں گے اور ۲۵ حرفوں میں پہلے کے دو حرف بھی شامل کرلیں گے اس وقت ۲۷ حرف مکمل طور سے پھیلائے جائیں گے۔"

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت کے ظھور کے بعد علم کس برق رفتاری سے ترقی کرے گا۔ اس زمانے کی علمی ترقی آج تک کی تمام ترقیوں کے مقابلے

میں بارہ گُنا سے زیادہ ہوگی۔ اس وقت علوم و فنون کے تمام دروازے كُھل جائیں گے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس سے گذشتہ حدیث کی تکمیل ہوتی ہے وہ حدیث یہ ہے:

اذا قام قائمنا وضع الله یده علی رؤوس العباد فجمع بها عقولهم وکملت بها احلامهم (۲۷)

"جس وقت ہم ارے قائم کا ظھور ہوگا خداوند عالم بندوں کے سروں پر ہاتھ رکھے گا جس سے ان کی عقلیں کامل اور ان کے افکار کی تکمیل ہوگی۔"

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ کی رہبری میں اور آپ کے وجود کی برکت سے لوگوں کی عقلیں کامل ہوجائیں گی۔ افکار میں وسعت پیدا ہوجائے گی۔ تنگ نظری اور کوتاہ فکری کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور اس طرح وہ چیزیں بھی فنا ہوجائیں گی جو تنگ نظری اور کوتاہ فکری کی پیداوار تھیں۔

اس وقت کے لوگ وسیع نظر، بلند افکار، کشادہ دلی، اور خندہ پیشانی کے مالک ہوں گے جو سماج کی مشکلات اپنی پاکیزہ روح اور طاھر افکار سے حل کردیں گے۔

۲) صنعت کی بے مثال ترقی

"فتح کا انداز" کے عنوان کے تحت پہلی، دوسری اور تیسری حدیث جو نقل کی ہے اس میں صنعت اور ٹکنالوجی کی غیر معمولی ترقی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

مواصلات کا نظام اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہوجائے گا کہ وسیع و عریض کائنات ہاتھ کی ہتھیلی کی مانند ہوجائے گی، ساری دنیا پر مرکز کی پوری پوری نظر ہوگی تاکہ رونما ہونے والے واقعات کا فوری حل تلاش کیا جاسکے۔

روشنی اور انرجی کا مسئلہ اس حد تک حل ہوجائے گا کہ لوگ سورج کی روشنی کے محتاج نہ رہیں گے۔

اس وقت سفر کے ایسے ذرائع ایجاد ہوں گے جن کی تیز رفتاری کا آج ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ایسے ذرائع ہوں گے جس سے زمین کیا آسمان کی وسعتوں میں بھی سفر کیا جائے گا۔

صنعت و ٹکنالوجی کی برق رفتاری کے سلسلے میں ذیل کی حدیث خاص توجہ کی طالب ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ:

ان قائمنا اذا قام مدّ الله بشیعتنا فی اسماعهم و ابصارهم حتیٰ لایکون بینهم و بین القائم برید یکلمهم فیسمعون وینظرون الیه وهو فی مکانه (۲۸)

"بے شک جس وقت ہم ارے قائم کا ظھور ہوگا، خداوند عالم ہم ارے شیعوں کی سماعت اور بصارت کو اتنا تیز کردے گا کہ ان کے اور قائم کے درمیان کوئی نامہ برنہ ہوگا، وہ شیعوں سے گفتگو کریں گے اور یہ لوگ سنیں گے "اور قائم کی زیارت کریں گے جبکہ وہ اپنی جگہ پر ہوں گے۔"

اس وقت مواصلات کا نظام اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہوجائے گا کہ ہر ایک شخص اس سے استفادہ کرسکے گا، لوگ اپنی اپنی جگہوں سے حضرت کی زیارت کریں گے اور حضرت کی آواز سنیں گے۔ اس وقت ڈاک و تار کا نظام غیر ضروری چیزوں میں شمار ہونے لگے گا۔ پیغام رسانی کے لئے ہر ایک کے پاس اپنا ذریعہ ہوگا۔!!

اس سلسلہ کی ایک دوسری حدیث بھی ملاحظہ ہو۔ یہ حدیث بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے:

ان المومن فی زمان قائم وهو بالمشرق سیری اخاه الذی فی المغرب، وکذا الذی فی المغرب یریٰ اخاه الذی بالمشرق ۔

قائم کے زمانے میں مومنین کا حال یہ ہوگا کہ مشرق کے رھنے والے مغرب کے مومنین کو دیکھیں گے اور مغرب کے رھنے والے مشرق کے مومنین کو دیکھیں گے۔"

صرف حکومت کے اور عوام کے درمیان ہی براہ راست رابطہ نہ ہوگا بلکہ عوام کا بھی ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ ہوگا۔

اور اس طرح علم و صنعت عدل و انصاف کی بنیاد پر سماج کی تشکیل نوکریں گے سماج میں ہر طرف صدق و صفا، اخوت و برادری کا چرچا ہوگا۔

۳) اقتصادی ترقیاں اور عدالتِ اجتماعی

جس زمین پر ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ موجودہ نسل اور آنے والی نسل کی کفالت کرسکے، لیکن بہت سے منابع کا ہم یں علم نہیں ہے اور تقسیم کا نظام بھی صحیح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج غذا کی قلت کا احساس ہورہا ہے اور ہر روز لوگ بھوک سے جان دے رہے ہیں۔ اس وقت دنیا پر جس اقتصادی نظام کی حکومت ہے وہ ایک استعماری نظام ہے جو اپنے زیر سایہ "قانونِ جنگل" کی پرورش کر رہا ہے۔ وہ لوگ جو زمین میں پوشیدہ ذخیروں کا پتہ لگاتے، انسانیت کی فلاح و بہبود کی کوشش کرتے ہیں وہ استعمار کی بارگاہ ظلم و استبداد میں "امن و امان" کی خاطر بھینٹ چڑھا دیے جاتے ہیں۔

لیکن جس وقت اس دنیا سے استعماری نظام کا خاتمہ ہوجائے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ "قانون جنگل" بھی نابود ہوجائے گا، اس وقت زمین میں پوشیدہ خزانوں سے بھی استفادہ کیا جاسکے گا، اور نئے ذخیروں کی تلاش ہوسکے گی۔ علم و دانش بھی اقتصادیات کی بہتری میں سرگرم رہیں گے۔

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ کے سلسلے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں ان میں اقتصادیات کی بہتری کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔ ذیل کی سطروں میں اس سلسلے کی چند حدیثیں ملاحظہ ہوں:

انه یبلغ سلطانه المشرق والمغرب، وتظهرله الکنوز ولا یبقیٰ فی الارض خراب الا یعمّره

آپ کی حکومت مشرق و مغرب کو احاطہ کیے ہوگی، زمین کے خزانے آپ کے لئے ظاھر ہوجائیں گے۔ زمین کا کوئی حصہ غیر آباد نہیں رہے گا"۔

غیر آباد زمینیں افراد، مال یا ذرائع کی کمی کی بنا پر نہیں ہیں بلکہ یہ زمینیں انسان کی ویران کردہ ہیں۔ ظھور کے بعد انسان تعمیر کرے گا تخریب نہیں۔

اس سلسلے کی ایک دوسری حدیث ملاحظہ ہو۔ یہ حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے۔

اذا قام القائم، حکم بالعدل وارتفع الجور فی ایامه وامنت به السبل واخرجت الارض برکاتها ورد کل حق الی اهله وحکم بین الناس بحکم داؤد و حکم محمد فحینئذ تظهر الارض کنوزها ولا یجد الرجل منکم یومئذ موضعا لصدقته ولا لبره لشمول الغنی جمیع المومنین

جس وقت ہم ارے قائم کا ظھور ہوگا، عدل و انصاف کی بنیاد پر حکومت قائم کریں گے ان کے زمانے میں ظلم و جور نابود ہوجائیں گے۔

راستوں پر امن و امان ہوگا،

زمین اپنی برکتیں ظاھر کردے گی،

صاحبان حقوق کو ان کے حق مل جائیں گے۔

عوام کے درمیان جناب داؤد (ع) اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح فیصلہ کریں گے۔

اس موقع پر زمین اپنے خزانے ظاھر کردے گی۔

کسی کو صدقہ دینے یا مالی امداد کا کوئی موقع نہ ملے گا کیونکہ اس وقت تمام لوگ مستغنی ہوچکے ہوں گے۔"

زمین کا اپنی برکتوں کو اور خزانوں کو ظاھر کردینا بتا رہا ہے کہ اس وقت زراعت بھی عروج پر ہوگی، اور زمین میں پوشیدہ تمام منابع کا انکشاف ہوگا۔ عوام کی سالانہ آمدنی اتنی ہوگی کہ سماج میں کوئی فقیر نہ ہوگا، سب کے سب خود کفیل ہوچکے ہوں گے۔

جس وقت عدل و انصاف کی بنیاد پر حکومت قائم ہوگی اور ہر شخص کی استعداد سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا جس وقت تمام انسانی طاقتیں زراعت اور منابع کے انکشاف میں لگ جائیں گی تو روزانہ نئے خزانے کا انکشاف ہوگا اور ہر روز زراعت میں ترقی ہوگی۔ غذائی اشیاء کی قلتیں، بھوک، پریشانی وغیرہ کی وجہ غیر منصفانہ طرز تقسیم ہے۔ یہ تقسیم کا نقص ہے کہ کہیں سرمایہ کی بہتات ہے اور کہیں دو لقمہ کو کوئی ترس رہا ہے۔

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ کے دوران حکومت صرف زراعت میں ترقی اور زمین میں پوشیدہ خزانوں ہی کا انکشاف نہ ہوگا بلکہ اس دور میں شھر اس وقت سے زیادہ آباد ہوں گے، چوڑی چوڑی سڑکیں ہوں گی۔ عین سادگی کے ساتھ وسیع مسجدیں ہوں گی۔ گھروں کی تعمیر اس طرح ہوگی کہ کسی دوسرے کو اس سے کوئی تکلیف نہیں پہونچے گی۔ اس سلسلے میں چند روایتیں ملاحظہ ہوں:۔

۱) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

و یبنیٰ فی ظهر الکوفه مسجدا له الف باب و یتصل بیوت الکوفه بنهر کربلا وبالحیرة (۲۹)

"کوفہ کی پشت پر ایک ایسی مسجد تعمیر کریں گے جس کے ہزار دروازے ہوں گے اور کوفہ کے مکانات کربلا کی نہر اور حیرہ سے مل جائیں گے"۔

سب جانتے ہیں کہ اس وقت کوفہ سے کربلا کا فاصلہ ۹۰ کلومیٹر ہے۔

۲) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ:

اذا قام القائم یکون المساجد کلها جمالا شرف فیها کما کان علی عهد رسول الله (ص) و یوسع الطریق الاعظم فیصیر ستین ذراعها ویهدم کل مسجد علی الطریق ویسد کل کوة الی الطریق وکل جناح و کنیف ومیزاب الی الطریق (۳۰)

"جس وقت حضرت قائم کا ظھور ہوگا اس وقت مسجدوں کی چھوٹی چھوٹی دیواریں ہوں گی، مینار نہیں ہوں گے، اس وقت مسجدوں کی وہی شکل ہوگی جو رسول اللہ کے زمانے میں تھی۔ شاھراہیں وسیع کی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی چوڑائی ساٹھ گز ہوجائے گی۔ وہ تمام مسجدیں منھدم کردی جائیں گی جو راستوں پر ہوں گی (جس سے آنے جانے والوں کو زحمت ہوتی ہوگی)

وہ کھڑکیاں اور جنگلے بھی بند کردیے جائیں گے جو راستوں کی طرف کھلتے ہوں گے۔

وہ چھجے، پر نالے اور گھروں کا گندہ پانی جس سے راستہ چلنے والوں کو تکلیف ہوگی وہ ختم کردیے جائیں گے۔

۳) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک طولانی حدیث میں وارد ہوا ہے کہ:

ولیصیرن الکوفة اربعة وخمسین میلا ولیجارون قصورها کربلا ولیصیرن الله کربلا معقلا ومقاما " (۳۱)

"وہ کوفہ کی مسافت ۵۴ میل کردیں گے، کوفہ کے مکانات کربلا تک پہونچ جائیں گے، اور خدا کربلا کو سرگرمیوں کا مرکز قرار دے گا۔"

زراعت، تعمیرات، آبادکاری وغیرہ کے سلسلے میں کافی مقدار میں روایتیں وارد ہوئی ہیں۔ مزید روایتوں کے لئے "منتخب الاثر" کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

۴) عدلیہ

ظلم و جور، ستم و استبداد نا انصافی و نا برابری کا قلع قمع کرنے کے لئے جہاں ایمان و اخلاق کی سخت ضرورت ہے وھاں صحیح نظام کے لئے طاقت ور عدلیہ کی بھی ضرورت ہے۔

صنعت اور ٹکنالوجی کی ترقی کی بنا پر یہ ممکن ہوجائے گا کہ انسانوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جاسکے۔ ان اقدامات پر پابندی عائد کی جاسکے جو فساد کی خاطر کئے جاتے ہیں۔ مجرموں کی آوازیں ٹیپ کرنا، ان کے خفیہ اعمال کی تصویر لینا ان چیزوں سے مجرموں پر گرفت مضبوط ہوجائے گی۔ مجرموں کی نگرانی کامیاب حکومت کے لئے بہت ضروری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت کے زمانے میں اخلاقی تعلیمات اتنی عام ہوجائیں گی کہ عوام کی اکثریت سعادتمند معاشرے کی تشکیل کے لئے آمادہ ہوجائے گی۔ عوام کو اخلاقی تربیت سے سماج کے کافی مسائل حل ہوجائیں گے۔

لیکن انسان آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ اپنے اعمال میں اسے پورا اختیار حاصل ہے۔ اس لئے اس بات کا امکان ضرور ہے کہ ایک صحت مند سماج میں ایسے افراد پائے جائیں جو خواہ مخواہ فساد پھیلانا چاھتے ہوں۔

اس بنا پر سماج کی مکمل اصلاح کے لئے وسیع الاختیار عدلیہ کی ضرورت ہے تاکہ مجرموں کو ان کے جرم کا بدلہ دیا جاسکے۔

جرائم کے علل و اسباب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے جرائم کو ان طریقوں سے روکا جاسکتا ہے:

۱) عادلانہ تقسیم

ضروریات زندگی کی عادلانہ تقسیم سے کافی جرائم ختم ہوجاتے ہیں۔ عادلانہ تقسیم سے طبقاتی کش مکش ختم ہوجاتی ہے۔ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، گراں فروشی، اور سرمایہ داروں کی ناروا سختیاں نیز سرمایہ دارون کی باہم ی چپقلیش سب کافی حد تک ختم ہوجائیں گی۔

۲) صحیح تربیت

صحیح تربیت بھی مفاسد اور جرائم کی روک تھام میں کافی موثر ہے۔ اس وقت دنیا میں فساد کی گرم بازاری، جرائم کی فراوانی اس وجہ سے ہے کہ تعلیم کے لئے تو ضرور نئے نئے طریقے اختیار کئے جارہے ہیں لیکن تربیت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ تعلیم کو صحیح راستے پر لگانے کے بجائے تعلیم سے فساد کی شاہراہ تعمیر کی جارہی ہے غیر اخلاقی فلمیں، ڈرامے، کتابیں، اخبار، رسالے سب انسان کے اخلاقیات پر حملہ آور ہیں۔

لیکن جب تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی جدید ترین معقول انتظام ہوگا، عالمی حکومت انسانوں کی تربیت پر بھرپور توجہ دے گی۔ وہ مفاسد اور جرائم خود بخود ختم ہوجائیں گے جن کا سرچشمہ عدم تربیت یا ناقص تربیت ہے۔

۳) طاقت ور عدلیہ

ایک ایسی عدلیہ کا وجود جس سے نہ مجرم فرار کرسکتا ہے اور نہ فیصلوں سے سرتابی اس وقت دنیا کے ہر ملک میں عدلیہ موجود ہے۔ لیکن یا تو عدلیہ کی گرفت مجرم پر مضبوط نہیں ہے یا عدلیہ میں صحیح فیصلے کی صلاحیت نہیں ہے، یا دونوں ہی نقص موجود ہیں بلکہ بعض مجرم عدلیہ کی شہ پر جرم کرتے ہیں۔

لیکن ایک ایسی عدلیہ جس کی گرفت بھی مجرم پر سخت ہو اور جو فیصلوں میں رو رعایت نہ کرتی ہو، فساد اور جرائم کے انسداد میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر یہ تینوں باتیں یکجا ہوجائیں، عادلانہ تقسیم۔ صحیح تربیت اور طاقت ور عدلیہ تو آپ خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کتنے عظیم پیمانے پر جرائم کا سد باب ہوجائے گا اور سماج کی اصلاح میں کس قدر موثر اقدام ہوگا۔

روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مھدی سلام اللہ علیہا کے زمانۂ حکموت میں یہ تینوں عوامل اپنے عروج پر ہوں گے۔

مدّتِ حکومت

احادیث میں حضرت کی حکومت کے سلسلے میں مختلف روایتیں ملتی ہیں۔ روایتیں ۵ سال سے ۳۰۹ سال (جتنے دنوں اصحاب کہف غار میں سوتے رہے) تک ہیں۔ یہ مختلف اعداد ہوسکتا ہے کہ حکومت کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کر رہے ہوں مرحلہ انقلاب مرحلہ استحکام اور مرحلہ حکومت ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ مُدّتوں کا انتظار، یہ تیاریاں، یہ مقدمات کسی ایسی حکومت کے لئے زیب نہیں دیتے جس کی عمر مختصر ہو۔ حضرت کی حکومت کی عمر یقیناً طولانی ہوگی تاکہ ساری زحمتیں ثمر آور ہوسکیں ویسے حقائق کا علم ذاتِ احدیت کو ہے۔

____________________

۲۳. بحار الانوار ج۵۲ ص۳۳۰

۲۴. بحار الانوار ج۵۲ طبع جدید ص۳۲۸

۲۵. بحار الانوار ج۵۲ طبع جدید ص ۳۲۱

۲۶. بحار الانوار ج۵۲ ص۳۳۶۔

۲۷. بحار الانوار ج۵۲ ص۳۲۸

۲۸. بحار الانوار ج۵۲ ص۳۳۶

۲۹. بحار الانوار ج۵۲ ص۳۳۰

۳۰. بحار الانوار ج۱۳ ص۱۸۶ مطبوعہ امین الضرب

۳۱. سابق مآخذ


فہرست

پیش لفظ ۴

بطورِ ابتداء ۷

انتظار ۱۰

غلط فیصلے ۱۰

انتظار اور فطرت ۱۱

عالمی مصلح اور اسلامی روایات ۱۴

حضرت امام مہدی (ع) کے ظھور پر زندہ دلیلیں ۱۵

سکریٹری انجمن فقۂ اسلامی ۱۸

محمد منتصر کنانی ۱۸

انتظار کے اثرات ۱۸

انتظار کا مفھوم ۲۲

انتظار، یا آمادگی ۲۳

۱) انفرادی اصلاح ۔ اِصلاحِ نفس ۲۵

۲) سماج کی اصلاح ۲۶

ایک اعتراض ۲۷

۱۔ صف بندی اور تشخیص ۲۸

۲۔ مقصد آمادگی ہے، فساد نہیں ۲۹

۳۔ تاریکی کا عُروج ۳۰

۴۔ سچّا منتظر کون۔؟ ۳۰


ظھور کی علامتیں ۳۴

ظلم و فساد کا رواج ۳۴

خاص علامتیں ۳۸

۱) دجّال ۳۹

۲) سفیانی کا ظھور ۴۲

۳) طولانی غیبت ۴۴

ایک: قبولیت ۴۵

دو۔ ثقافتی اور صنعتی ارتقاء ۴۶

تین: انقلابی گروہ ۴۶

زمانۂ غیبت میں وجودِ امام کا فائدہ ۴۷

۱) اُمّید ۴۹

۲) دین کی حفاظت ۵۰

۳) فداکاروں کی تربیت ۵۰

۴) نامرئی تاثیر ۵۱

۵) مقصد تخلیق ۵۱

فتح کا انداز ۵۴

عقل ۵۴

حدیث ۵۴

طرز حکومت ۵۷

۱) علوم کی برق رفتار ترقی ۵۷


۲) صنعت کی بے مثال ترقی ۵۸

۳) اقتصادی ترقیاں اور عدالتِ اجتماعی ۶۰

۴) عدلیہ ۶۲

۱) عادلانہ تقسیم ۶۳

۲) صحیح تربیت ۶۳

۳) طاقت ور عدلیہ ۶۳

مدّتِ حکومت ۶۴