حج کی منتخب حدیثیں
گروہ بندی متن احادیث
مصنف سید علی قاضی عسکر
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


حج کی منتخب حدیثیں

مولف سید علی قاضی عسکر

مترجم سید احتشام عباس زیدی


پیش لفظ

حج لغت میں قصد وارادہ اوراصطلاح میں خانہ خداکی طرف سفر کرنے کو کہتےہیں ۔یہ مسلمانوں کا ایک اھم دستور ہے۔کعبہ کی کشش ہر سال لاکھوں مسلمانوں کو دنیا کے کونے کونے سے اپنی طرف کھینچتی ہے تاکہ وہ ایک تمرینی میدان میں اعمال ومناسک اور کچھ مخصوص قوانین کی رعایت کر کے توحیدی زندگی کو بروئے کار لانے کی کوشش کریں اور دنیا والوں کے سامنے اسلام کی قوت وعظمت کا نظارہ پیش کریں۔

اس عظیم اجتماع میں مسلمان مختلف نسلوں اور رنگوں میں کعبہ کے گرد اکٹھاہوتےہیں تاکہ ایک دوسرے سے تعارف حاصل کریں اور اس طرح اسلامی معاشروں میں اتحاد وہم بستگی کی فضاقائم کریں ۔

حج،روحانیت ،شوق شعور ،تعبد وبندگی ،جرات و ایثار، اتحاد وذکر کی جلوہ گاہ او ر خدا سے ربط و وابستگی کا نام ہے لہٰذا ایسے سفر کی توفیق خداجو افرا د کے لئے بہترین موقع ہوتا ہے تاکہ روحی واخلاقی اعتبار سے خود کو پاک وصاف کریں اور ان کی روح وجان میں ساز گار اور مثبت دگرگونی وانقلاب پیداہو۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی دینی تعلیمات میں بہت سے سبق آموز نکتے موجودہیں جو اس وادی نور کے زائروںکو ان مواقع سے بہتر فائدہ اٹھانے میں مدد دیتےہیں ۔ان تعلیمات میں حاجیوں سے تاکید کی گئی ہے کہ اس سفر سے پھلے گناہوں سے دوری اختیار کریں اور اپنے باطن کو توبہ کے پانی سے پاک کریں ۔سفر کا خرچ پاک اور حلال مال سے مھیاکریں ۔عزیز واقارب ،دوستوں اور ہمسایوں کو خدا حافظ کہیں اور ان سے قصور بخشوالیں،اور ان کی رضا مندی حاصل کرنے کے بعد اس راہ میں قدم بڑھائیں ۔سفر کا آغاز خدا کے نام اور اس کی یاد سے کریں ،خدا طلبی خدا جوئی کے لئے سفر کریں۔سفر کے دوران گناہ اور خدا کی نافرمانی سے پرہیز کریں اور خود اپنے محافظ رہیں۔

یہ فرامین اور ان پر عمل اس بات کا موجبهوتا ہے کہ حاجی میں ایک نبیادی اور مثبت تبدیلی پیداہو نتیجہ میں وہ اپنے غلط اور بُرے ماضی سے دوری اختیار کر کے خود کو ایک صحیح اسلامی زندگی کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔

روایات میں حج کامقصدحاجیوں میں روحی واخلاقی دگرگونی اور فلاح و کامیابی نیز خدا سے ان کی قربت بیان کیا گیا ہے۔ اگر حج کرنے والے روحی واخلاقی تغیر اور اپنی اصلاح کے ساتھ الٰھی راہ میں قدم بڑھائیں تو اس عظیم جمعیت کو دیکھتےہو ئے جوھر سال عمرہ وحج سے مشرفهوتی ہے بلاشبہ یہ تبد یلیا ں خاندانوں اور معاشروں میں بھی پیداہوںگی۔

جو مسلمان بھی حج کے لئے جاتا ہے اگر یہ فیصلہ کر لے کہ سفر کے دوران اور واپسی میں اسلامی اخلاق کی رعایت کرے گا، حرام کاموں سے پر ہیز کرے گا اور دینی واجبات پر جیسے خدا چاھتا ہے عمل کرے گا اور اسی فکر وخیال کو وہ اپنی اولاد،عزیزوں، دوستوں اور ساتھ کام کرنے والوں میں منتقل کرے تو قطعی طور سے معاشرہ میں بڑا اخلاقی تغیر پیداہو جائے گا اور دشمن اپنے تھذیبی حملوں میں ناکامهو کر رہ جائیں گے ۔

یہ مختصر مجموعہ ان تعلیمات کا ایک حصہ ہے جنھیں معصومین علیھم السلام نے خانہ خدا کے زائروں اور حاجیوں کی رہنمائی کے لئے بیان فرمایا ہے ۔امید ہے کہ حجاج کرام اس پر عمل کر کے خدا کی بارگاہ سے نزدیک اور الٰھی سفر کی نورانیتوں اور برکتوں سے مالامال ہوں گے۔

سید علی قاضی عسکر

معاون آموزش و تحقیقات

بعثہ رہبر انقلاب اسلامی

----------


حج کا واجب ہونا

قَالَ عَلِیعليه‌السلام :

”فَرَضَ عَلَیْکُمْ حَجَّ بَیْتِهِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلَهُ قِبْلَةً لِلْاٴَنْامِ “ ۔( ۱ )

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا:

”خداوند عالم نے اپنے اس محترم گھر کے حج کو تم پر واجب قرار دیا ہے جسے اس نے لوگوں کا قبلہ بنایا ہے“۔

قال علیعليه‌السلام :

”فَرَضَ حَجَّهُ وَاٴَوْجَبَ حَقَّهُ وَکَتَبَ عَلَیْکُمْ وِفَادَتَهُ فَقَالَ سُبْحَانَهُ ( وَلِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطاٰعَ إِلَیْهِ سَبِیلاً وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰالَمِینَ ) ( ۲ )

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا:

”خدا وند عالم نے کعبہ کے حج کو واجب ،اس کے حق کی ادائیگی کو لاز م اور اس کی زیارت کو تم پر مقرر کیا ہے پس وہ فرماتا ہے:”لوگوں پر خدا کا حق یہ ہے کہ جو بھی خدا کے گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ہے وہ بیت اللہ کی زیارت کے لئے جائے اور وہ شخص جو کفر اختیار کرتا ہے (یعنی حج انجام نھیں دیتا )تو خدا عالمین سے بے نیاز ہے “۔

حج کا فلسفہ

قال علیعليه‌السلام :

”جَعَلَهُ سُبْحَانَهُ عَلاٰمَةً لِتَوَاضُعِهِمْ لِعَظَمَتِهِ و َاِذعانَهُمْ لِعِزَّتِهِ“ ۔(۳)

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا:

”خدا وند عالم نے کعبہ کے حج کو علامت قرار دیا ہے تاکہ لوگ اس کی عظمت کے سامنے فروتنی کا اظھار کریں اور پروردگار عالم کے غلبہ نیز اس کی عظمت و بزرگواری کا اعتراف کریں “۔

قال علیعليه‌السلام :

”جَعَلَهُ سُبْحَانَهُ لِلْإِسْلاٰمِ عَلَماًوَلِلْعَائِذِینَ حَرَماً“ ۔(۴)

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا:

”خدا وند عالم نے حج اور کعبہ کو اسلام کا نشان اور پرچم قرار دیا ہے اور پناہ لینے والے کے لئے اس جگہ کو جائے امن بنایا ہے“۔

دین کی تقویت کا سبب

قال علیعليه‌السلام :

”وَالْحَجَّ تَقْوِیَةً لِلدِّینِ(۵)

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا:

”۔۔۔اورحج کو دین کی تقویت کا سبب قرار دیاھے“۔

دلوں کا سکون

قال الباقرعليه‌السلام :

”الحَجُّ تَسْکِین القُلُوبُ“ (۶)

امام محمد باقرعليه‌السلام فرماتے ہیں:

”حج دلوں کی راحت وسکون کا سبب ہے“۔

حج ترک کرنے والا

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

”مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ إِنْ شَاءَ یَهُودِیّاً وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِیّاً“ ۔(۷)(۸)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

”جو شخص حج انجام دیئے بغیر مر جائے (اس سے کھا جائے گا کہ ) تو چاھے یہودی مرے یا نصرانی “۔

یھی مضمو ن ایک دوسری روایت میں امام جعفر صادقعليه‌السلام سے بھی نقلهواھے۔( ۹ )

حج و کامیابی

”لوگوں نے امام محمد باقرعليه‌السلام سے دریافت کیا کہ حج کا نام حج کیوں رکھا گیاھے ؟تو آپ نے فرمایا:

”قَالَ حَجَّ فُلاٰنٌ اٴَيْ اٴَفْلَحَ فُلاٰنٌ“ ۔(۱۰)

” فلاں شخص نے حج کیا یعنی وہ کامیابهوا “۔

حج کی اھمیت

محمد بن مسلم کہتےہیں کہ :

امام محمد باقرعليه‌السلام یا امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”وَدَّ مَنْ في الْقُبُورِ لَوْ اٴَنَّ لَهُ حَجَّةً وَاحِدَةً بِالدُّنْیَا وَمَا فِیهَا “۔(۱۱)

”مُردے اپنی قبروں میں یہ آرزو کرتےہیں کہ اے کاش!وہ دنیا،اور دنیا میں جو کچھ بھی ہے دیدیتے اور اس کے عوض انھیں ایک حج کا ثواب مل جاتا “۔

حج کا حق

قال الإمام زَیْنُ العابِدِین عليه‌السلام فِي رسالَةِ الحُقُوق: ”حَقُّ الْحَجِّ اٴَنْ تَعْلَمَ اٴَنَّهُ وِفَادَةٌ إِلَی رَبِّکَ وَفِرَارٌ إِلَیْهِ مِنْ ذُنُوبِکَ وَفِیهِ قَبُولُ تَوْبَتِکَ وَقَضَاءُ الْفَرْضِ الَّذِي اٴَوْجَبَهُ اللّٰهُ تَعَالیَ عَلَیْکَ“ ۔(۱۲)

امام زین العابدینعليه‌السلام اپنے رسالہ حقوق میں فرماتے ہیں:

”حج کا حق تم پر یہ ہے کہ جان لو حج اپنے پروردگار کے حضو رمیں تمھاری حاضری ہے اوراپنے گناہوںسے اس کی جانب فرار ہے حج میں تمھاری توبہ قبولهوتی ہے اوریہ ایک ایسا فریضہ ہے جسے خدا وند عالم نے تم پر واجب کیا ہے“۔

خد اجوئی

قال الصادقعليه‌السلام :

”مَنْ حَجَّ یُرِیدُ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ لاٰ یُرِیدُ بِهِ رِیَاءً وَلاٰ سُمْعَةً غَفَرَ اللّٰهُ لَهُ اَلْبَتَّةَ“.( ۱۳ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”جو شخص حج کی انجام دھی میں خدا کا ارادہ رکھتاہواور ریاکاری و شھرت کا خیال نہ رکھتاہو خدا وند عالم یقینا اسے بخش دے گا“۔

حج کا ثواب

قالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

”لَیْسَ لِلْحِجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوابٌ إِلاَّ الجَنَّةَ “( ۱۴ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”حج مقبول کا ثواب جنت کے سوا کچھ اور نھیں ہے“۔

حج کی تاثیر

ہشام بن حکم کہتےہیں :

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فر مایا:

”مَامِن سَفَرٍاٴَبْلَغَ فِي لَحْمٍ وَلاٰدَمٍ وَلاٰجِلْدٍ وَلاٰ شَعْرٍ مِنْ سَفَرِ مَکَّةً وَمَا اٴَحَدٌ یَبْلُغُهُ حَتَّی تَنَالَهُ الْمَشَقَّةُ“ ۔( ۱۵ )

”مکہ کے سفر کی طرح کوئی سفر بھی انسان کے گوشت، خون، جلد، اور بالوں کوکا متاثر نھیں کرتا اور کوئی شخص سختی اور مشقت کے بغیر وہاں تک نھیں پہنچتا “۔

حج میں نیت کی اھمیت

قال الصادقعليه‌السلام :

”لَمَّا حَجَّ مُوسَیعليه‌السلام نَزَلَ عَلَیْهِ جَبْرَئِیلُ فَقَالَ لَهُ مُوسَی یَا جَبْرَئِیلُ مٰا لِمَنْ حَجَّ هَذَا الْبَیْتَ بَنِیَّهٍ صَادِقَةٍ وَنَفَقَةٍ طَیِّبَةٍ؟قَالَ:فَرَجَعَ إِلَی اللّٰهِ

عَزَّ وَجَلَّ،فَاٴَوْحَی اللّٰهُ تَعَالیٰ إِلَیْهِ؛قُلْ لَهُ:اٴَجْعَلُهُ فِي الرَّفِیقِ الْاٴَعْلَی مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنْ اٴُولَئِکَ رَفِیقاً“( ۱۶ )

”جس وقت جناب موسیٰ نے حج کے اعمال انجام دیئے تو جبرئیلعليه‌السلام ان پر نازلهوئے جناب موسیٰ نے ان سے پوچھا:

اے جبرئیلعليه‌السلام !

جو شخص اس گھر کا حج سچی نیت اور پاک خرچ سے بجا لائے اس کی جزا کیا مقررهوئی ہے جبرئیل کچھ جواب دیئے بغیر خدا وند عالم کی بارگاہ میں واپس گئے (اور اس کا جواب دریافت کیا)خداوند عالم نے ان پر وحی کی اور فرمایا:موسیٰ سے کہو کہ میں ایسے شخص کو ملکوت اعلیٰ میں پیغمبروں صدیقوں ،شھدااور صالحین کا ہم نشین قرا ر دوں گااور وہ بہترین رفیق اور دوست ہیں“۔

نور میں واردهونا

عبد الرحمان بن سمرة کہتے ہیں:ایک روز میں حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں تھا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

”إِنِّي رَاٴَیْتُ الْبَارِحَةَ عَجَائِبَ “۔

میں نے گذشتہ رات عجائبات کا مشاھدہ کیا ۔

ھم نے عرض کی کہ اے رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !ھماری جان ہمارا خاندان اور ہماری اولاد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر فداہوں آپ نے کیا دیکھا ہم سے بھی بیان فرمایئے:

فقال

رَاٴَیْتُ رَجُلاً مِنْ اٴُمَّتِي مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ ظُلُمَةٌ وَمِنْ خَلْفِهِ ظُلْمَةٌ وَعَنْ یَمِینِهِ ظُلَمَةٌ وَعَنْ شِمَالِهِ ظُلْمَةٌ وَمِنْ تَحْتِهِ ظُلْمَةٌ ، مُسْتَنْقِعاً فِي الظُّلْمَةِ فَجَاءَ هُ حَجُّهُ وَعُمْرَتُهُ فَاٴَخْرَجَاهُ مِنَ الظُّلْمَةِ وَاٴَدْخَلاٰهُ فِي النُّورِ( ۱۷ )

”فرمایا:میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے سامنے سے، پشت سے ، دائیں اور بائیں سے،اور قدموں کے نیچے سے ، اسے تاریکی نے گھیر رکھا تھا اور وہ ظلمت میں غرق تھا اس کا حج اور اس کا عمرہ اس کے پاس آئے اور انھوں نے اسے تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کردیا “۔

حق کے حضور حاضری

قالَ عَلِیٌّعليه‌السلام :

اَلْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُاللّٰهِ،وَحَقٌّ عَلَی اللّٰهِ اٴَنْ یُکْرِمَ وَفْدَهُ وَیَحْبُوَهُ بِالْمَغْفِرَةِ( ۱۸ )

حضرت علیعليه‌السلام فرماتے ہیں:

”حج اور عمرہ انجام دینے والا خدا کی بارگا ہ میں حاضرهونے والوں میں سے اور خدا پر ہے کہ اپنی بارگاہ میں آنے والے کا اکرام کرے اور اسے اپنی مغفرت و بخشش میںشامل قرار دے ‘ ‘۔

خدا وند عالم کی میزبانی

قال الصّادقعليه‌السلام :

إِنَّ ضَیْفَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ رَجُلٌ حَجَّ وَ اعْتَمَرَ فَهُوَ ضَیْفُ اللّٰهِ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی مَنْزِلِهِ( ۱۹ )

امام جعفر صادق نے فرمایا:

”جو شخص حج یا عمرہ بجالائے وہ خدا کا مھمان ہے اور جب تک وہ اپنے گھر واپس نہهو جائے ا س کا مھمان باقی رہتا ہے ‘ ‘ ۔

حج اور جھاد

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

جِهٰادُ الْکَبیرِ وَالصَّغیرِ وَالضَّعیفِ وَالْمَراٴَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ( ۲۰ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”عورتوںاور کمزور لوگوں کا حج اور عمرہ بڑا جھاد اور چھوٹا جھاد ہے“۔

حج عمرہ سے بہتر ہے

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

اِعْلَمْ اَنَّ الُعُمْرَةَ هِیَ الْحَجُّ الاٴصُغَرُ،وَاَنَّ عُمْرَةً خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیٰا وَمٰا فیهٰا وَحَجَّةً خَیْرٌ مِنْ عُمْرَةٍ( ۲۱ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عثمان بن ابی العاص سے فرمایا:

”جان لو کہ عمرہ حج اصغر ہے اور بلا شہ عمرہ دنیا اور جو کچھ اس کے اندر ہے ان سب سے بہتر ہے ،نیز یہ بھی جان لو کہ حج عمرہ سے بہتر ہے“ ۔

گناہ دُھل جاتےہیں

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

اَیُّ رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِه حٰاجاًاَوْ مُعْتَمِراً، فَکُلَّمٰا رَفَعَ قَدَماًوَ وَضَعَ قَدَماً،تَنٰاثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ بَدَنِهِ کَمٰایَتَنٰا ثَرُ الْوَرَقُ مِنَ الشَّجَرِ،فَاِذَا وَرَدَ الْمَدِیْنَةَ وَصٰافَحَنی بِالسَّلاٰمِ،صٰافَحَتْهُ الْمَلاٰئِکَةُ بِالسَّلاٰمِ،فَاِذَا وَرَدَ ذَالْحُلَیْفَةَ وَاغْتَسَلَ،طَهَّرَه اللّٰهُ مِنَ الذُّنُوبِ،وَاِذَا لَبِسَ ثَوْبَیْنِ جَدیدَیْنِ،جَدَّدَ اللّٰهُ لَهُ الْحَسَنٰاتِ و َاِذَا قَالَ:اللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ، اٴَجٰابَهُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ:”لَبَّیْکَ و َسَعْدَیْکَ،اَسْمَعُ کَلاٰمَکَ وَاَنْظُرُ اِلَیْکَ،فَاِذَا دَخَلَ مَکَّةَ وَ طٰافَ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفٰاوَالْمَرْوَةَ وَصَلَ اللّٰهُ لَهُ الْخَیْراتِ( ۲۲ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جو شخص حج وعمرہ کے لئے اپنے گھر سے باھر نکلتا ہے پس جو قدم بھی وہ اٹھاتا اور زمین پر رکھتا ہے اس کے بدن سے گناہ یوں گرتے جاتےہیں جیسے درختوں سے پتے چھڑتے ہیں،

پس جب وہ شخص مدینہ میں واردهوتا ہے اور سلام کے

ذریعہ مجھ سے مصافحہ کرتا ہے تو فرشتے بھی سلام کے ذریعہ اس سے ہاتھ ملاتےہیں اور مصافحہ کرتےہیں اور جب وہ ذولحلیفہ (مسجد شجرہ) میںواردهو کر غسل کرتا ہے تو خدا وند عالم اسے گناہوں سے پاک کردیتا ہے۔ جب وہ احرام کے دو جامہ اپنے تن پر لپٹتا ہے تو خدا وند عالم اسے نئے حسنات اور ثواب عطا کرتا ہے جب وہ ”لبیک اللھم لبیک “کھتا ہے تو خداوند عزوجل اسے جواب دیتےہوئے فرماتا ہے ”لیبک و سعدیک“ میں نے تیرا کلام اور تیری آواز سنی اور (عنایت کی نظر )تجھ پر ڈال رہاہوں اور جب وہ مکہ میں واردهوتاھے اور طواف نیز صفا ومروہ کے درمیان سعی انجام دیتا ہے تو خد اوند عالم ہمیشہ کی نیکیاں اور خیرات اس کے شامل حال کر دیتا ہے“۔

دعا کی قبولیت

قالَ رَسُولُ اللّٰهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

اَرْبَعَةٌ لا تُرَدُّ لَهُمْ دَعُوَةٌ حَتّٰی تُفْتَحَ لَهُمْ اَبْوٰابُ السَّمٰاءِ وَتَصیرَ إِلَی الْعَرْشِ:

اَلْوٰالِدُ لِوَلَدِهِ،وَالْمَظْلُومُ عَلٰی مَنْ ظَلَمَهُ، وَالْمُعْتَمِرُحَتّی یَرْجِعَ ، والصّٰائِمُ حَتّٰی یُفْطِرَ( ۲۳ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”چار لوگ ایسےہیں جن کی دعا رد نھیںهوتی یھاں تک کہ آسمان کے دروازے ان کے لئے کھو ل دیئے جاتےہیں اور دعائیں عرش الٰھی تک پہنچ جاتیہیں :

۱ ۔باپ کی دعا اولاد کے لئے ،

۲ ۔مظلوم کی دعا ظالم کے خلاف،

۳ ۔عمرہ کرنے والے کی دعا جب تک کہ وہ اپنے گھر واپس آجائے ۔

۴ ۔روزہ دار کی دعا یھاں تک کہ وہ افطار کر لے ۔

دنیا بھی اور آخرت بھی

قالَ رَسُولُ اللّٰهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

مَنْ اَرَادَا لدُّنْیٰاوَالآخِرَةَ فَلْیَوٴُمَّ هٰذَاالبَیْتَ،فَمٰا اٴتٰاهُ عَبْدٌ یَسْاٴَلُ اللّٰهَ دُنْیٰا اِلاَّ اٴَعْطٰاهُ اللّٰهُ مِنْهٰا،وَلایَسْاٴَلُهُ آخِرَةً اِلاَّادَّخَرَلَهُ مِنْهٰا( ۲۴ )

رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جو شخص دنیا اور آخرت کو چاھتا ہے وہ اس گھر کی طرف آنے کا ارادہ کرے بلاشبہ جوبھی اس جگہ پر آیا اور اس نے خدا

سے دنیا مانگی تو خداوند عالم نے اس کی حاجت پوری کردی نیز یہ کہ اگر خدا وند عالم سے اس نے آخرت طلب کی تو خدا وند عالم نے اس کی یہ دعا بھی قبول کی اور اسے اس کے لئے ذخیرہ کردیا“۔

آگاھی کے ساتھ حج

قالَ رَسُولُ اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :في خُطْبَتِهِ یَوْمَ الْغَدِیر: مَعٰاشِرَ النّٰاسِ، حُجُّواالْبَیْتَ بِکَمٰالِ الدّینِ وَالتَّفَقُّه، وَلا تَنْصَرِفُواعَنِ الْمَشٰاهِدِ اِلاَّ بِتَوْبَةٍ واِقْلاٰعٍ ۔( ۲۵ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یوم غد یر کے خطبہ میں فرمایا:

”اے لوگو! خانہ خدا کا حج پوری آگاھی اور دینداری سے کرو ، اوران متبرک مقامات سے توبہ اور گناہوں کی بخشش کے بغیر واپس نہ لوٹو “۔

شرط حضور

قَالَ اٴَبُو عَبْدِاللّٰهِعليه‌السلام کاَنَ اٴَبِي یَقُولُ:

مَنْ اٴَمَّ هَذَاالْبَیْتَ حَاجّاً اٴَوْمُعْتَمِراًمُبَرَّاٴً مِنَ الْکِبْرِ رَجَعَ مِنْ ذُنُوبِهِ کَهَیْئَةِ یَوْمَ وَلَدَتْهُ اٴُمُّهُ( ۲۶ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”میرے پدر بزرگوار فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص حج یا عمرہ کے لئے اس گھر کی طرف روانہهو اور خود کو کبر و خود پسندی سے دور رکھے تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاکهو جاتا ہے جیسے اسے اس کی ماں نے ابھی پیدا کیاہو“۔

حج کی برکتیں

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِعليه‌السلام :

حَجُّوا وَاعْتَمِرُوا،تَصِحَّ اٴَبْدَانُکُمْ،وَتَتَّسعَ اٴَرْزَاقُکُمْ،وَتُکْفَوْا مَوٴُونٰاتِ عِیَالِکُمْ،وَقَالَ:الْحَاجُّ مَغْفُورٌ لَهُ وَمَوْجُوبٌ لَهُ الْجَنَّةُ،وَمُسْتَاٴْنَفٌ لَهُ الْعَمَلُ،وَمَحْفُوظٌ فِي اٴَهْلِهِ وَمَالِهِ( ۲۷ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

” علی بن الحسین علیھما السلام فرماتے تھے کہ:حج اور عمرہ بجالاوتاکہ تمھارے جسم سالم،تمھاری روزیاںزیادہ اور تمھار ے خانوادہ اور زندگی کا خرچ پوراہو آپ مزید فرماتے تھے:حاجی بخش دیا جاتا ہے جنت اس پر واجبهو جاتی ہے ، اس کا نامہ

عمل پاک کر کے پھر سے لکھا جاتا ہے اور اس کا مال اور خاندان امان میں رہتے ہیں“۔

جو حج قبول نھیں

عَنْ اٴَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِعليه‌السلام قَالَ:

مَنْ اٴَصَابَ مَالاً مِنْ اٴَرْبَعٍ لَمْ یُقْبَلْ مِنْهِ فِي اٴَرْبَعٍ: مَنْ اٴَصَابَ مَالاً مِنْ غُلُولٍ اٴَوْ رِبًا اٴَوْ خِیَانَةٍاٴَوْ سَرِقَةٍ لَمْ یُقْبَلْ مِنْهُ فِي زَکَاةٍ وَلاٰ صَدَقَةٍ وَلاٰحَجٍّ وَلاٰ عُمْرَةٍ( ۲۸ )

امام محمد باقرعليه‌السلام فرماتے ہیں:

”جو شخص چار طریقوں سے مال اور پیسہ حاصل کرے اس کا خرچ کرنا چار چیزوں میں قبول نھیں ہے :

جو شخص آلودگی اور فریب کی راہ سے،سودکے ذریعہ، خیانت کے ذریعہ اور چوری کے ذریعہ پیسہ حاصل کرے تو اس کی زکات ، صدقہ،حج اور عمرہ کرنا قبول نھیں ہے ‘ ‘ ۔

مال حرام کے ذریعہ حج

قال اٴبو جعفرعليه‌السلام :

لا یَقْبَلُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ حَجّاًوَلاٰعُمْرَةً مِنْ مالٍ حَرامٍ( ۲۹ )

امام محمد باقرعليه‌السلام فرماتے ہیں:

”خدا وند عالم حرام مال کے ذریعہ کئے جانے والے حج و عمرہ کو قبول نھیں کرتا “۔

حاجی کا اخلاق

عَنْ اٴَبي جَعْفَرٍعليه‌السلام قَالَ:

مَا یُعْباٴُ مَنْ یَسْلُکُ هَذَا الطَّرِیقَ اِذَا لَمْ یَکُنْ فِیْهِ ثَلاٰثُ خِصَالٍ: وَرَعٌ یَحْجُزُهُ عَنْ مَعَاصِي اللّٰهِ،وَحِلْمٌ یَمْلِکُ بِهِ غَضَبَهُ،وَ حُسْنُ الصُّحْبَةِ لِمَنْ صَحِبَهُ( ۳۰ )

امام محمد باقرعليه‌السلام نے فرمایا :

” جو شخص حج کے لئے اس راہ کو طے کرتا ہے اگر اس میں تین خصلتیں نہهوں تو وہ خدا کی توجہ کا مرکز نھیں بنتا :

۱ ۔تقویٰ وپرہیز گاری جو اسے گناہ سے دور رکھے۔

۲ ۔صبر وتحمل جس کے ذریعہ وہ اپنے غصہ پر قابو رکھے۔

۳ ۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک ۔

کامیاب حج

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

مَنْ حَجَّ اٴَوْ اعْتَمَرَ فَلَمْ یَرْفَثْ وَلَمْ یَفْسُقْ یَرْجِعُ کَهَیْئَةِ یَومٍ وَلَدَتْهُ اٴُمُّهُ( ۳۱ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جس نے حج یا عمرہ کیا اورکوئی فسق وفجور انجام نہ دیا تو وہ اس شخص کی طرح پاک واپسهوتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے ابھی پیدا کیا ہے“۔

حج کی قسمیں

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

الْحَجُّ حَجَّانِ:حَجُّ اللّٰهِ،وَحَجُّ لِلنَّاسِ،فَمَنْ حَجَّ لِلّٰهِ کَانَ ثَوَابُهُ عَلَی اللّٰهِ الْجَنَّةَ،وَمَنْ حَجَّ لِلنَّاسِ کاَنَ ثَوَابُهُ عَلَی النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ( ۳۲ )

امام جعفر صادق ٍعليه‌السلام فرماتے ہیں:

حج کی دو قسمیں ہیں:

”خدا کے لئے حج اور لوگوں کے لئے حج،پس جو شخص خدا

کے لئے حج بجالایا اس کی جزا وہ خدا سے جنت کی شکل میں حاصل کرے گا اور جو شخص لوگوں کے دکھانے کے لئے حج کرتا ہے اس کی جزا قیامت کے دن لوگوں کے ذمہ ہے “۔

حاجیوں کی قسمیں

معاویہ ابن عمار کہتے کہ امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

الْحَاجُّ یَصْدُرُونَ عَلَی ثَلاٰثَةِ اٴَصْنَافٍ:فَصِنْفٌ یَعْتِقُونَ مِنَ النَّارِ،وَصِنْفٌ یَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ کَیَوْمٍ وَلَدَتْهُ اٴُمُّهُ،وَصِنْفٌ یُحْفَظُ فِي اٴَهْلِهِ وَمَالِهِ،فَذَلِکَ اٴَدْنَی مَا یَرْجِعُ بِهِ الْحَاجُّ ۔( ۳۳ )

” حاجی تین قسم کےہوتےہیں :

ایک گروہ جہنم کی آگ سے رہائی پاتا ہے ،دوسرا گروہ گناہوں سے اس طرح پاکهوتا ہے جیسے وہ ابھی اپنی ماں کے بطن سے پیداہواہو، اور تیسرا گروہ وہ ہے کہ اس کا خاندان اور اس کا مال محفوظهوجاتا ہے اور یہ وہ کمترین جزا ہے جس کے ساتھ حاجی واپسهوتے ہیں“۔

ناکام حاجی

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

یَاٴتي عَلَی النَّاسِ زَمانٌ یَحُجُّ اٴغنِیاءُ اٴمَتِّي لِلنُّزهَةِ،وَاٴَوْساطُهُمْ لِلْتِجارةِ،وَقُرّاوٴُ هُمْ للریّاءِ وَالسَّمْعَةِ وَفُقَرائُهُم لِلمساٴلةِ

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ میری امت کے دولت مندلوگ سیرو تفریح کے لئے اور درمیانی طبقہ کے لوگ تجارت کے لئے قاری حضرات ریاکاری اور شھرت کے لئے اور فقرا مانگنے کے لئے حج کو جائیں گے “۔

اپنے ہمراھیوں کے ساتھ سلوک

قَالَ اٴَبُو عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام :

وَطِّنْ نَفْسَکَ عَلَی حُسْنِ الصِّحَابَةِ لِمَنْ صَحِبْتَ فِي حُسْنِ خُلْقِکَ،وَکُفَّ لِسَانَکَ،وَاکْظِمْ غَیْظَکَ،وَاٴَقِلَّ لَغْوَکَ،وَتَفْرُشُ عَفْوَکَ، وَتَسْخُو نَفْسَکَ( ۳۴ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”خود کو آمادہ کرو تاکہ جس شخص کے بھی ہمراہ سفر کرو اچھے اور خوش اخلاق ساتھی رہو اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو ،اپنے غصہ کو پی جاو،بیہودہ وبے فائدہ کام کم کرو ،اپنی بخشش کو دوسروں کے لئے وسیع کرو،اور سخا وت کرنے والے رہو“۔

راہ کی اذیت

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

مَنْ اٴَمَاطَ اٴَذًی عَنْ طَرِیقِ مَکَّةَ کَتَبَ اللّٰهُ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ کَتَبَ لَهْ حَسَنَةً لَمْ یُعَذِّبْهُ( ۳۵ )

امام جعفر صادق نے فرمایا:

”جو شخص مکہ کی راہ میں اذیت و تکلیف اٹھا ئے خدا وند عالم اس کے لئے نیکی لکھتا ہے اور جس شخص کے لئے خداوند عالم نیکی لکھتا ہے اسے عذاب نھیں دیتا “۔

حج کی راہ میں موت

قال الصادقعليه‌السلام :

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام

قَالَ: مَنْ مَاتَ فِي طَرِیقِ مَکَّةَ ذَاهِباًاَّوُ جَائِیاً اٴَمِنَ مِنَ الّفَزَعِ الّاٴَکْبَرِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ( ۳۶ )

عبد اللہ ابن سنان سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق ٍعليه‌السلام نے فرمایا:

”جو شخص مکہ کی راہ میں جاتے وقت یا واپسهوتے وقت مرجائے وہ قیامت کے دن کے عظیم خوف ہراس سے امان میں ر ہے گا “۔

حج میں انفاق کرنا

قال الصادقعليه‌السلام :

”دِرْهَمٌ فِي الْحَجِّ اٴَفْضَلُ مِنْ اٴَلْفِيْ اٴَلْفٍ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ سَبِیلِ اللّٰهِ “( ۳۷ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتے ہیں:

”حج کی راہ میں ایک درہم خرچ کرنا حج کے علاوہ کسی اور دینی راہ میں بیس لاکھ درہم خرچ کرنے سے بہتر ہے“۔

احرام کا فلسفہ

عَنِ الرِّضَاعليه‌السلام :

فَاِنْ قَالَ:فَلِمَ اُمِرُوا بِالإحْرٰامٍ؟قیل:لِاَ ن یَتَخَشَّعُوا قَبْلَ دُخُولِ حَرَمَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ وَاَمْنِهِ وَلِئَلاّٰ یَلْهُوا وَیَشْتَغِلُوا بِشَیْءٍ مِنْ اٴمُرِ الدُّنْیَا وَزِینَتِهَا وَالَذَّاتِهَا وَیَکُونُوا جَادِّینَ فِیمَا هُمْ فِیهِ قَاصِدِینَ نَحْوَهُ،مُقْبِلِینَ عَلَیْهِ بِکُلِّیِّتِهِمْ،مَعَ مَا فِیهِ مِنَ التَّعْظیمِ لِلّٰهِ تَعٰالی وَلِبَیْتِهِ،وَالتَّذَلُّلِ لِاٴَنْفُسِهِمْ عِنْدَ قَصْدِ هِمْ إِلَی اللّٰهِ تَعٰالیٰ وَوِفَادَتِهِمْ إِلَیْهِ، رَاجِینَ ثَوَابَهُ،رَاهِبِینَ مِنْ عِقَابِهِ،مَاضِینَ نَحْوَهُ مُقْبِلِینَ إِلَیْهِ بِالذُّلِّ وَالِاسْتِکَانَةِ وَالْخُضُوعِ( ۳۸ )

امام علی رضاعليه‌السلام نے فرمایا:

”اگر یہ کھا جائے کہ لوگوں کواحرام پہننے کا حکم کیوں دیا گیا ہے ؟ تو یہ کھا جائے گا کہ :اس لئے کہ لوگ اللہ کے حرم اور امن وامان کی جگہ میں واردهونے سے پھلے خاشع اور منکسر مزاجهوں ، امور دنیا ،اس کی لذتوںاور زینتوں میں سے کسی بھی چیز میں خودکو مشغول نہ کرےں جس کام کے لئے آئے ہیںاور جس کا ارادہ رکھتےہیں اس پر صابر رہیں اور پورے وجود سے اس پر عمل کریں۔ اس کے علاوہ احرام میں خدااور اس کے گھر کی تعظیم۔ اپنی فروتنی اور باطنی ذلت وحقارت ، خدا کی طرف قصد

اور اس کے حضور واردهونا ہے،جب کہ وہ اس سے جزا کی امید رکھتےہیں اس کے عقاب اور سزا سے خوف زدہہیں اور انکسار وفروتنی اور ذلت خوا ری کی حالت میں اس کی طرف رخ کئےہوئے ہیں“۔

احرام کا ادب

قَالَ اٴَبُو عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام :

إِذَا اٴَحْرَمْتَ فَعَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰهِ،وَذِکْرِ اللّٰهِ کَثِیراً،وَقِلَّةِ الْکَلاٰمِ إِلاَّ بِخَیْرٍ،فَإِنَّ مِنْ تَمَامٍ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ اٴَنْ یَحْفَظَ الْمَرْءُ لِسَانَهُ إِلاَّ مِنْ خَیْرٍ( ۳۹ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا :

”جب محرمهو جاو تو تم پر لازم ہے کہ باتقویٰ رہو ،خدا کو بہت یاد کرو ،نیکی کے علاوہ کوئی بات نہ کرو کہ بلا شبہ حج اور عمرہ کا کاملهونا یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کو نیکی کے علاوہ کسی اور امر میں نہ کھو لے “۔

حقیقی لبیک

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبّی اِلاَّ لَبّٰی مَا عَنْ یَمینِهِ وَشِمٰالِهِ مِنْ حَجَرٍاٴَوْ شَجَرٍاٴَْومَدَرٍحَتّٰی تَنْقَطِعَ الاَرْضُ مِنْ هٰا هُنَا وَهٰاهُنَا( ۴۰ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”کوئی شخ-ص لبیک نھیں کہتا مگر یہ کہ اس کے دائیں بائیں ،پتھر درخت ،ڈھیلے اس کے ساتھ لبیک کہتےہیں یھاں تک کہ وہ زمین کو یھاں سے وہاں تک طے کر لے “۔

حج کا نعرہ

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : اٴَتَانِي جَبْرَئِیلُعليه‌السلام فَقَالَ:

اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ یَاٴْ مُرُکَ اَنْ تَاٴْمُرَ اٴَصْحَابَکَ اٴَنْ یَرْفَعُوا اٴَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِیَةِ فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ( ۴۱ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جبرئیل میرے پاس آئے اور کھا کہ خدا وند عالم آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنے ساتھیوں اوراصحاب کو حکم دیں کہ بلند آواز سے لبیک کہیں کیونکہ یہ حج کا نعرہ ہے “۔

معرفت کے ساتھ واردهونا

قَالَ الْبَاقِرُعليه‌السلام :

مَنْ دَخَلَ هَذَا الْبَیْتَ عَارِفاً بِجَمیع ما اٴَوْجَبَهُ اللّٰه عَلَیْهِ کٰانَ اٴَمِناً فِي الآخِرَةِ مِنَ الْعَذَابِ الدّٰائِمِ( ۴۲ )

امام محمد باقرعليه‌السلام فرماتےہیں :

”جو شخص اس گھر میں اس عرفان کے ساتھ داخل ہو کہ جو کچھ خداوند عالم نے اس پر واجب کیا ہے اس سے آگاہ رہے تو قیامت میں دائمی عذاب سے محفوظ رہے گا“۔

خدا کے غضب سے امان

عبد اللہ بن سنان کہتےہیں کہ میں نے امام جعفر صادق ں سے پوچھا :”کہ خدا وند عالم کا ارشاد( ومن دخله کان آمناً ) ( ۴۳ )

”یعنی جو شخص اس میں داخل هو وہ امان میں ہے اس سے مراد گھر ہے یا حرم ؟

قَالَ:مَنْ دَخَلَ الْحَرَمَ مِنَ النَّاسِ مُسْتَجِیراً بِهِ فَهُوَ آمِنٌ مِنْ سَخَطِ اللّٰهِ ۔۔۔ ۔( ۴۴ )

”امامعليه‌السلام نے فرمایا:جو شخص بھی حرم میں داخل ہو اور وہاں پناہ حاصل کرے وہ خدا کے غضب سے امان میں رہے گا “۔

مکہ خدا و رسول کا حرم

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

مَکَّةُ حَرَمُ اللّٰهِ وَحَرَمُ رَسُولِهِ وَحَرَمَ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَعليه‌السلام ،الصَّلاٰةُ فِیهَابِمِائَةِ اٴَلْفِ صَلاٰةٍ، وَالدِّرْهَمُ فِیهَ ابِمِائَةِ اٴَلْفِ دِرْهَم،وَالْمَدِینَةُ حَرَمُ اللّٰهِ وَحَرَمُ رَسُولِهِ وَحَرَمُ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَیْهِمَاالصَّلاٰةُ فِیهَا بِعَشَرَةِ آلاٰف صَلاٰةٍ وَ الدِّرْهَمُ فِیهَا بِعَشَرَةِ آلاٰفِ دِرْهَمٍ( ۴۵ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتےہیں :

”مکہ خدا وندعالم ،اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اور امیر المومنین کا حرم ہے اس میں ایک رکعت نماز ادا کرنا ایک لاکھ رکعت کے برابر ہے۔ ایک درہم انفاق کرنا ایک لاکھ درہم

خیرات کرنے کے برابر ہے۔ مدینہ (بھی)اللہ ،اس کے رسول اور امیر المومنین علی ابن ابی طالبعليه‌السلام کا حرم ہے اس میں پڑھی جانے والی نماز دس ہزار نماز کے برابر اور خیرات کیا جانے والا ایک درہم دس ہزار درہم کے برابر ہے “۔

مسجد الحرام میں داخل ہونے کے آدا ب

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَادْخُلْهُ حَافِیاً عَلَی السَّکِینَة ِوَالوَقَارِ وَالْخُشُوعِ( ۴۶ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتےہیں :

”جب تم مسجد الحرام میں داخل ہوتو پابرہنہ اور سکون ووقار نیز خوف الٰھی کے ساتھ داخل ہو “۔

جنت کے محل

قَالَ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَعليه‌السلام :

اٴَرْبَعَةٌ مِنْ قُصُورِ الْجَنّةِ فِي الدُّنْیَا:الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ،وَمَسْجِدُ الرَّسُولِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، وَ مَسْجِدُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَمَسْجِدُ الْکُوفَةِ؛( ۴۷ )

حضرت علی ابن ابی طالبعليه‌السلام فرماتےہیں :

”چار جگھیں دنیا میں جنت کے محلہیں :

۱ ۔مسجد الحرام ، ۲ ۔مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ۳ ۔مسجد الاقصیٰ، ۴ ۔مسجد کوفہ ،

حرمین میں نماز

عَنْ إِبْرَاهِیمَ بْنِ شَیْبَةَقَالَ:

کَتَبْتُ إِلَی اٴَبِي جَعْفَرٍعليه‌السلام اٴَسْاٴَلُهُ عَنْ إِتْمَامِ الصَّلاٰةِ فِي الْحَرَمَیْنِ،فَکَتَبَ إِلَیَّ:کَانَ رَسُولُ اللّٰه یُحِبُّ إِکْثَارَالصَّلاٰةِ فِي الْحَرَمَیْنِ فَاٴَکْثِرْفِیهِمَا وَاٴَتِم َّ( ۴۸ )

ابراہیم بن شیبہ کہتےہیں کہ:

میں نے امام محمد باقرعليه‌السلام کو خط لکھا اور اس میں مکہ اور مدینہ میں پوری نماز اداکرنے کے سلسلہ میں دریافت کیا امامعليه‌السلام نے جواب میں تحریر فرمایا:

” رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیشہ مسجد الحرام اور مسجد النبی میں زیادہ نماز پڑھنا پسند کرتے تھے پس ان دو جگہوں پر نماز یں زیادہ پڑھو اور اپنی نماز بھی پوری ادا کرو“۔

مکہ میں نماز جماعت

عَنْ اٴَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اٴَبِي نَصْرٍ،عَنْ اٴَبِيالْحَسَنِعليه‌السلام قَالَ:

سَاٴَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ یُصَلِّي فِي جَمَاعَةٍ فِي مَنْزِلِهِ بِمَکَّةَ اٴَفْضَلُ اٴَوْ وَحْدَهُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ: وَحْدَهُ( ۴۹ )

احمد ابن محمد ابن ابی نصرکھتےہیں :

”میں نے حضرت علی بن موسیٰ الرضاعليه‌السلام سے دریافت کیا اگر کوئی شخص مکہ میں نماز جماعت اپنے گھر میں ادا کرے یہ افضل ہے یا مسجد الحرام میں فرادیٰ نماز اداکرنا افضل ہے فرمایا: فرادیٰ (مسجد الحرام میں)“ ۔

اہل سنت کے ساتھ نماز

عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ،قَالَ:

”قَالَ لِي اٴَبُو عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام :یَا إِسْحَاقُ اٴَ تُصَلَّي مَعَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:صَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّ الْمُصَلِّي مَعَهُمْ فِي الصَّفِّ الْاٴَوَّلِ کاَلشَّاهِرِ سَیْفَهُ فِي سَبِیلِ اللّٰهِ“( ۵۰ )

اسحاق ابن عمار کہتےہیں :

”امام جعفر صادقعليه‌السلام نے مجھ سے فرمایاکہ: اے

اسحاق!کیا تم ان لوگوں (اہل سنت )کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرتےہو؟میں نے عرض کیا ہاں!حضرتعليه‌السلام نے فرمایا:ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو بلاشبہ جو شخص ان لوگوں کے ہمراہ پہلی صف میں نماز پڑھے وہ اس مجاھد کے مانند ہے جو خدا کی راہ میں تلوار چلا رہاہواور دشمنان دین کے ساتھ جنگ کررہاہو‘ ‘۔

کعبہ چوکور کیوں ہے؟

رُوِيَ اٴَنَّهُ إِنَّمَا سَمِّیَتْ کَعْبَةً لِاٴَنَّهَا مُرَبَّعَةٌ وَصَارَتْ مُرَبِّعَةً لِاٴَنَّهَا بِحِذَاءِ الْبَیْتِ الْمَعْمُورِ وَهُوَ مَرَبِّعٌ وَصَارَ الْبَیْتُ الْمَعْمُورُ مُرَبِّعاً لِاٴَنَّهُ بِحِذَاءِ الْعَرْشِ وَهُوَمُرَبَّعٌ، وَصَارَالْعَرْشُ مُرَبَّعاً،لِاٴَنَّ الْکَلِمَاتِ الَّتِي بُنِیي عَلَیْهَا الْإِسْلاٰمُ اٴَرْبَعٌ:وَهِیَ :سُبْحَانَ اللّٰهِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ،وَلاٰ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، وَاللّٰهُ اٴَکْبَرُ ۔( ۱)(۵۱)

شیخ صدوق فرماتے ہیں:

”ایک روایت میں آیا ہے کہ کعبہ کو کعبہ اس لئے کھا گیا ہے کہ وہ چوکور ہے اور وہ چوکو اس لئے بنا یاگیا ہے کہ اسی کے مقابل (آسمان اول پر) بیت المعمور چوکور بنایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عرش خدا کے مقابل ہے جو چوکور ہے اور عرش خدا بھی اس لئے چوکور ہے کہ اس کی بنیاد اسلام کے چار کلموں پر ہے اور وہ یہہیں :”سُبْحَانَ اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ،وَلاٰ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ،وَاللّٰہُ اَکْبَرُ“۔

کعبہ کی طرف دیکھنا

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

مَنْ نَظَرَإِلَی الْکَعْبَةِ لَمْ یَزَلْ تُکْتَبُ لَهُ حَسَنَةٌ وَتُمْحَی عَنْهُ سَیِّئَةٌ، حَتَّی یَنْصَرِفَ بِبِصَرِهِ عَنْهَا( ۵۲ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرمایا :

”جو شخص کعبہ کی طرف دیکھے ہمیشہ اس کے لئے حسنات لکھے جاتےہیں اور اس کے گناہ محو کئے جاتےہیں جب تک وہ اپنی نگاھیں کعبہ سے ہٹا نھیں لیتا “۔

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

النَّظَرُ إِلَی الْکَعْبَةِ عِبَادَةٌ،وَالنَّظَرُ إِلَی الْوَالِدَیْنِ عِبَادَةٌ،وَالنَّظَرُ إِلَی الْإِمَامِ عِبَادَةٌ( ۵۳ )

امام جعفرصادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے ،ماں باپ کی طرف دیکھنا عبادت ہے،اور امام کی طرف دیکھنا عبادت ہے“۔

الٰھی لمحہ

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

إِنَّ لِلْکَعْبَةِ لَلَحْظَةً فِي کُلِّ یَوْمٍ یُغْفَرُ لِمَنْ طَافَ بِهَا اٴَوْ حَنَّ قَلْبُهُ إِلَیْهَا اٴَوْ حَسَبَهُ عَنْهَا عُذْرٌ( ۵۴ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”بلا شبہ کعبہ کے لئے ہر روز ایک لمحہ (ایک وقت )ھے کہ خدا وند عالم اس میں کعبہ کا طواف کرنے والوں اور ان لوگوں کو جن کا دل کعبہ کے عشق سے لبریز ہے نیز ان لوگوں کو جو کعبہ کی زیارت کے مشتاقہیں لیکن ان کی راہ میں رکاوٹیںہیں ،بخش دیتا ہے“۔

برکتوں کا نزول

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

إِنَّ لِلّٰهِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ حَوْلَ الْکَعْبَةِ عِشْرِینَ وَمِائَةَ رَحْمَةٍ مِنْهَا سِتُّونَ لِلطَّائِفِینَ وَاٴَرْبَعُونَ لِلْمُصَلِّینَ وَعِشْرُونَ لِلنَّاظِرِینَ( ۵۵ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتے ہیں:

”خدا وند عالم اپنی ایک سو بیس رحمتیں کعبہ کے اوپر نازل کرتا ہے جن میں سے ساٹھ رحمتیں طواف کرنے والوں کے لئے ،چالیس رحمتیں نماز پڑھنے والوں کے لئے اور بیس رحمتیں کعبہ کی طرف دیکھنے والوں کے لئےہوتی ہیں“۔

دین اور کعبہ کا ربط

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

لاٰ یَزَالُ الدِّینُ قَائِماً مَا قَامَتِ الْکَعْبَةُ( ۵۶ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتےہیں :

”جب تک کعبہ قائم ہے اس وقت تک دین بھی اپنی جگہ بر قرار رہے گا“۔

یہ عمل منع ہے

محمد ابن مسلم کہتےہیں کہ: میںنے امام صادق ںسے سنا آپ فرما رہے تھے:

قال الصادقعليه‌السلام :

لاٰ یَنْبَغِي لِاٴَحَدٍ اٴَنْ یَاٴْخُذَ مِنْ تُرْبَةِ مَا حَوْلَ الْکَعْبَةِ وَإِنْ اٴَخَذَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئاً رَدَّهُ( ۵۷ )

” کسی شخص کے لئے یہ درست نھیں ہے کہ کعبہ اور اس کے اطراف کی مٹی اٹھائے اور اگر کسی نے اٹھا ئی ہے تواسے واپس کر دے“۔

کعبہ کا پردہ

عَنْ جَعفر،عَنْ اٴَبیهِ علیهما السلام:

اٴَنَّ عَلِیّاً کَانَ یَبْعَثُ بِکِسْوَةِ الْبَیْتِ في کُلِّ سَنَةٍ مِنَ الْعَرٰاقِ( ۵۸ )

امام محمد باقرعليه‌السلام نے فرمایا:

”بلا شبہ حضرت علی ابن ابی طالبعليه‌السلام ہر سال عراق سے کعبہ کا پردہ بھیجتے تھے “۔

امام زمانہعليه‌السلام کعبہ میں

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْیَرِیِّ اٴَنَّهُ قَالَ: سَاٴَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ الْعُمْرِیَّ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ - فَقُلْتُ لَهُ:رَاٴَیْتَ صَاحِبَ هَذَا الْاٴَمْرِ؟فَقَالَ:نَعَمْ وَآخِرُ عَهْدِي بِهِ عِنْدَ بَیْتِ اللّٰهِ الْحَرَامِ وَهُوَ یَقُولُ:اللَّهُمَّ اٴَنْجِزْ لِي مَاوَعَدْتَنِي( ۵۹ )

عبد اللہ ابن جعفر حمیری کہتے ہیں:

”میں نے محمد بن عثمان عمری سے پوچھا کیا تم نے امام زمانہعليه‌السلام کو دیکھا ؟انھوں نے جواب دیا ہاں!میںنے آخری بار انھیں کعبہ کے نزدیک دیکھا کہ حضرتعليه‌السلام فرمارہے تھے اے میرے اللہ !جس چیز کا تونے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فر ما “۔

حجر اسود

قَالَ رَسُولُ اللَّهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

اَلْحَجَرُ یَمینُ اللّٰهِ فِي الاٴَرْضِ،فَمَنْ مَسَحَ یَدَهُ عَلَی الْحَجَرِ فَقَدْ بٰایَعَ اللّٰهَ اَنْ لاٰ یَعْصِیَهُ( ۶۰ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”حجر اسود زمین میں خدا کے داہنے ہاتھ کے مانند ہے پس جو شخص اپنا ہاتھ حجر اسود پر پھیرے اس نے اس بات پر اللہ کی بیعت کی ہے کہ اس کی معصیت ونافرمانی نھیں کرے گا“۔

حجر اسود کو دور سے چومنا

عَنْ سَیْفٍ التَّمَّارِ قَالَ:

قُلْتُ لِاٴَ بِي عَبْدِ اللّٰهِ اٴَتَیْتُ الْحَجَرَ الْاٴَسْوَدَ فَوَجَدْتُ عَلَیْهِ زِحَاماً فَلَمْ اٴَلْقَ إِلاَّ رَجُلاً مِنْ اٴَصْحَابِنَا فَسَاٴَلْتُهُ فَقَالَ:لاٰبُدَّ مِنِ اسْتِلاٰمِهِ فَقَالَ:إِنْ وَجَدْتَهُ خَالِیاً وَإِلاَّ فَسَلِّمْ مِنْ بَعِیدٍ( ۶۱ )

سیف ابن تمار کہتے ہیں”میں نے امام جعفرصادقں سے عرض کیا :

”میں حجر اسود کے قریب آیا وہاں جمعیت بہت زیادہ تھی میں نے اپنے ساتھیوں میں سے ہر ایک سے پوچھا کیا کروں ؟ سب نے جواب دیا کہ استلا م حجر کرو (حجر اسود کا بوسہ لو)۔میرا فریضہ کیا ہے؟امام نے اس سے فرمایا :اگر حجر اسود کے پاس مجمع نہهو تو اسے استلام کروورنہ اپنے ہاتھ سے دور سے اشارہ کرو “۔

عدل کا ظہور

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

اٴَوَّلُ مَا یُظْهِرُ الْقَائِمُ مِنَ الْعَدْلِ اٴَنْ یُنَادِيَ مُنَادِیهِ اٴَنْ یُسَلِّمَ صَاحِبُ النَّافِلَةِ لِصَاحِبِ الْفَرِیضَةِ الْحَجَرَ الْاٴَسْوَدَ وَالطَّوَافَ( ۶۲ )

امام جعفر صاد قعليه‌السلام فرماتےہیں :

”جو سب سے پہلی چیز امام زمانہعليه‌السلام اپنے عدل سے ظاھر کریں گے یہ ہے کہ ان کا منادی پکار کر کھے گا مستحبی طواف کرنے والے اور حجر اسود کو لمس کرنے والے حجر اسوداور اطواف کی جگہ کو واجبی طواف کرنے والوعليه‌السلام کے لئے خالی کردیں “۔

حرم میں ایثار وفدا کاری

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

اَبْلِغُوا اٴهْلَ مَکَّةَ وَالمُجاوِرینَ اَنْ یُخَلُّوا بَیْنَ الحُجّاجِ وَبَیْنَ الطَّوَافِ وَالْحَجَرِ الْاٴَسْوَدِ وَمَقامِ اِبراهِیمَ وَالصَّفِّ الاٴوَّلِ مِنْ عَشْرٍ تَبْقیٰ مِنْ ذِي القَعْدَةِ اِلی یَوْمِ الصَّدْرِ( ۶۳ )

رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”اہل مکہ اور اس میں رہنے والوں تک یہ بات پہنچادو کہ ذی القعدہ کے آخری دس دن سے حاجیوں کی واپسی کے دن تک طواف کی جگہ ،حجر اسود ،مقام ابراہیمعليه‌السلام اور نماز کی پہلی صف کو حاجیوں کے لئے خالی کردیں “۔

جس بات سے روکا گیا ہے

عَنْ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ:

کَانَ بِمَکَّةَ رَجُلٌ مَوْلًی لِبَنِي اُمَیَّةَ یُقَالُ لَهُ:ابْنُ اٴَبِي عَوَانَةَ لَهُ عِنَادَةٌ،وَکَانَ إِذَادَخَلَ إِلَی مَکَّةَ اٴَبُو عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام اٴَوْاٴَحَدٌ مِنْ اٴَشْیَاخِ آلِ مُحَمَّدٍ یَعْبَتُ بِهِ،وَإِنَّهُ اٴَتَی اٴَبَا عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام وَهُوَ فِي الطَّوَافِ فَقَالَ:یَا اٴَبَا عَبْدِ اللّٰهِ مَا تَقُولُ فِي اسْتِلاٰمِ الْحَجَرِ ؟ فَقَالَ:اسْتَلَمَهُ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَقَالَ لَهُ:مَا اٴَرَاکَ اسْتَلَمْتَهُ قَالَ:اٴَکْرَهُ اٴَنْ اٴَوذِيَ ضَعِیفاًاٴَوْ اٴَ تَاٴَذَّی قَالَ فَقَالَ قَدْ زَعَمْتَ اٴَنَّ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسْتَلَمَهُ قَالَ:نَعَمْ وَلَکِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰهِ إِذَا رَاٴَوْهُ عَرَفُوا لَهُ حَقَّهُ وَاٴَنَا فَلاٰ یَعْرِفُونَ لِي حَقِّي( ۱)

حماد بن عثمان کہتے ہیں:

”مکہ میں بنی امیہ کے دوستداروں میں سے ابن ابی عوانہ نام کا ایک شخص رہتا تھا جو اہل بیت علیھم السلام سے کینہ رکھتا تھا اور جب بھی امام جعفر صادقعليه‌السلام یا پیغمبر کی اولاد میں سے کوئی( ۶۴ ) بزرگ مکہ آتا تھا وہ اپنی باتوں سے ان کی تحقیر کرتا تھا اور اذیت پہنچاتا تھا۔

ایک روز وہ طواف کی حالت میں امام جعفرصادقعليه‌السلام کی خدمت میں آیا اور آپعليه‌السلام سے پوچھنے لگا کہ حجر اسود پر ہاتھ پھیرنے سے متعلق آپعليه‌السلام کا نظریہ کیا ہے ؟حضرتعليه‌السلام نے فرمایا:رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسح واستلام کرتے تھے ، اس شخص نے کھا میں نے آپعليه‌السلام کو استلام حجر کرتےہوئے نھیں دیکھا ،امامعليه‌السلام نے جواب دیا :

میں اس بات کو پسند نھیں کرتا کہ کسی کمزور کو اذیت پہنچاوں یاخود اذیت میں مبتلاہوں اس شخص نے پھر پوچھا: آپعليه‌السلام نے فرمایا ہے کہ: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کا استلام کرتے تھے ،امام نے فرمایا:ھاں!لیکن جب لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھتے تھے تو ان کے حق کی رعایت کرتے تھے (یعنی انھیںراستہ دے دیا کرتے تھے)لیکن میرے لئے ایسا نھیں کرتے اور میرا حق نھیں پہچانتے “۔

ھاتھ سے اشارہ

محمد بن عبیداللہ کہتےہیں :

لوگوں نے امام علی رضاعليه‌السلام سے پوچھا :اگر حجر اسود کے اطراف جمعیت زیادہهو تو کیا حجر اسودکو ہاتھ سے مسح کرنے کے لئے لوگوں سے زبردستی کرنا یا جھگڑنا چاہئے ؟

قَالَ:”إِذَا کَانَ کَذَلِکَ فَاٴَوْمِ إِلَیْهِ إِیمَاءً بِیَدِکَ “۔( ۶۵ )

”امامعليه‌السلام نے فرمایا :جب بھی ایسی صورتهو ،اپنے ہاتھ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرو (اور گذر جاو)“۔

خواتین کے لئے

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

إِنَّ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ وَضَعَ عَنِ النِّسَاءِ اٴرْبَعاً: الْإِجْهَارَ بِالتَّلْبِیَةِ ، وَالسَّعْیي بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ یَعْنِي الْهَرْوَلَةَ وَدُخُولَ الْکَعْبَةِ وَاسْتِلاٰمَ الْحَجَرِ الْاٴَسْوَدِ( ۶۶ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”بلاشبہ خدا وند عالم نے چار چیزوں کو حج میں عورتوں سے معاف رکھا ہے:

۱ ۔بلند آوازسے لبیک کہنا،

۲ ۔صفاو مروہ کے درمیان سعی میں ہرولہ(آہستہ دوڑنا )

۳ ۔کعبہ کے اندر داخل ہونا ،

۴ ۔حجر اسود کو لمس کرنا “۔

____________________

[۱] نھج البلاغہ :خ۱۔

[۲] وسائل الشیعہ :۱۱/۱۵۔نھج البلاغہ :خ۱۔

[۳] نھج البلاغہ :خ۱

[۴] وسائل الشیعہ:۱۱/۱۵۔نھج البلاغہ:خ۱۔

[۵] نھج البلاغہ :خ۱۔

[۶] بحار الانوار :۷۵/۱۸۳۔

[۷]وسائل الشیعہ :۱۱/۱۰۳۔علل الشرایع :۱/۴۱۱۔

[۸] وسائل الشیعہ :۱۱/۱۰۹۔ثواب الاعمال:۲/۷۰۔

[۹]وسائل الشیعہ :۱۱/۱۰۳۔علل الشرایع :۱/۴۱۱۔

[۱۰] وسائل الشیعہ :۱۱/۱۰۳۔علل الشرایع :۱/۴۱۱۔

[۱۱] وسائل الشیعہ :۱۱/۱۱۰۔تھذیب الاحکام :۵/۲۳۔

[۱۲] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۶۲۰/۳۲۱۴۔

[۱۳] مستدرک الوسائل :۸/۱۸۔،محجة البیضاء:۲/۱۴۵۔

[۱۴] سنن ترمذی:۳/۱۷۵/۸۱۹۰۔ محجة البیضاء:۲/۱۴۵۔

[۱۵] الکافی :۴/۲۶۲/۴۱۔

[۱۶] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۲۳۵/۲۸۷۔

[۱۷] امالی صدوق:۳۰۱/۳۴۲۔مستدرک الوسائل :۸/۳۹۔

[۱۸] وسائل الشیعہ:۴/۱۱۶۔تحف العقول :۱۲۳۔

[۱۹] خصال :۱۲۷/۔وسائل الشیعہ:۱۴/۵۸۶۔

[۲۰] سنن نسائی:۵/۱۱۴۔

[۲۱] معجم الکبیر طبرانی:۹/۴۴/۸۳۳۶۔

[۲۲] الحج العمرة فی القرآن والحدیث :۱۴۸/۳۲۵۔

[۲۳] کافی :۲/۵۱۰/۶

[۲۴] مسند الامام زید:۱۹۷۔

[۲۵] الحج العمرة فی القرآن والحدیث:۲۵۷/۷۱۸۔

[۲۶] کافی:۴/۲۵۲/۲۔

[۲۷] کافی:۴/۲۵۲/۱۔

[۲۸] امالی صدوق:۴۴۲۔وسائل الشیعہ:۱۱/۱۴۵۔

[۲۹] بحار الانوار:۹۳/۱۲۰۔

[۳۰] کافی:۴/۲۸۶/۲۔

[۳۱] سنن دار قطنی:۲/۲۸۴۔

[۳۲] ثواب الاعمال :۷۴/۱۶۔

[۳۳] تھذیب الاحکام :۵/۲۱/۵۹۔

[۳۴] کافی:۴/۲۸۶/۳۔

[۳۵] کافی:۴/۵۴۷/۳۴۔

[۳۶] تھذیب الاحکام :۵/۲۳/۶۸۔

[۳۷] تھذیب الاحکام :۵/۲۲۔

[۳۸] عیون اخبار الرضا:۲/۲۵۸۔وسائل الشیعہ:۲/۳۱۴۔

[۳۹] کافی:۴/۳۳۷/۳۔

[۴۰] سنن ابن ماجہ:۲/۹۷۵/۲۹۲۱۔

[۴۱] مستدرک الوسائل :۹/۱۷۷/۔سنن دارمی :۱/۴۶۲/۱۷۵۵۔

[۴۲] عوالی اللّآلی:۲/۸۴/۲۲۷۔

[۴۳] سورہ آل عمران آیت ۹۶۔

[۴۴] کافی:۴/۲۲۶/۱۔

[۴۵] کافی:۴/۵۸۶/۱۔

[۴۶] کافی :۴/۴۰۱۔

[۴۷] امالی طوسی:۳۶۹۔وسائل الشیعہ:۵/۲۸۲۔

[۴۸] کافی :۴/۵۲۴/۱۔

[۴۹] کافی:۴/۵۲۷۔

[۵۰] وافی:۲/۱۸۲

[۵۱] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۱۹۰۔علل الشرائع:۳۹۶و۳۹۸۔

[۵۲] کافی۴/۲۴۰/۴۔

[۵۳] کافی:۴/۲۴۰/۵۰۔

[۵۴] کافی:۴/۲۴۰/۳۔

[۵۵] کافی:۴/۲۴۰/۲۔

[۵۶] کافی:۴/۲۷۱/۴۔

[۵۷] وھی:۲۲۹۔

[۵۸] قر ب الاسناد:۱۳۹/۴۹۶۔

[۵۹] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۵۲۰۔غیبت شیخ طوسی:۳۶۳۔

[۶۰] الحج والعمرة فی القرآن والحدیث:۱۰۲/۱۸۵۔

[۶۱] تھذیب الاحکام :۵/۱۰۳/۳۳۔

[۶۲] کافی:۴/۴۲۷/۱۔

[۶۳] کنز العمال:۵/۵۴/۱۲۰۲۴۔

[۶۴] کافی:۴/۴۰۹/۱۷۔

[۶۵] کافی:۴/۴۰۵/۷۔

[۶۶] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۳۲۶/۲۵۸۰۔


خدا کا فخر

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

ان الله یباهی بالطائفین( ۶۷ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتےہیں :

”بلا شبہ خد اوند عالم طواف کرنے والوں پر فخر ومباھات کرتا ہے‘ ‘ ۔

طواف اور رہائی

عَنْ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قَالَ:

فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَیْتِ اٴُسْبُوعاً کَانَ لَکَ بِذَلِکَ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدٌ وَذِکْرٌ یَسْتَحْیُيمِنْکَ رَبُّکَ اٴَنْ یُعَذِّبَکَ بَعْدَهُ( ۶۸ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”پس جب تم نے اللہ کے گھر کا سات مرتبہ طواف کرلیا تو اس کے ذریعہ خدا وند عالم کے نزدیک تمھارا عھد اور ذکر ہے کہ خداوند عالم اس کے بعد تم پر عذاب کرنے سے شرم کرے گا“۔

زیادہ باتیں نہ کرو

قَال رَسُولُ اللّٰهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلٰوةٌ،فَإِذَا طُفْتُمْ فَاٴَقِلُّوا الْکَلاٰمَ( ۶۹ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”اللہ کے گھر کا طواف نماز کے مانند ہے پس جب تم طواف کرتےہو تو باتیں کم کرو “۔

طواف کا فلسفہ

قَال رَسُول اللّٰهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

إِنَّمَاجَعَلَ الطَّوٰافُ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَرَمْیُ الْجِمٰارِ لإِقٰامَةِ ذِکْرِ اللّٰهِ( ۷۰ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”اللہ کے گھر کا طواف،صفاو مروہ کے درمیان سعی اور رمی جمرات خدا کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے مقرر کئے گئےہیں ‘ ‘۔

عمل میں نیت کی تاثیر

عَنْ زیاد القندی،قال:قُلْتُ لاٴبي الحسنعليه‌السلام :جُعِلْتُ فِداک إنّي اٴَکونُ في الْمَسْجِدِ الْحرامِ، وَاٴنْظُرُ اِلی النّاسِ یَطوفونَ بالبَیْتِ واٴنا قاعِدٌ فاغْتَمُّ لِذلکَ،فقال:

یَازِیَاُد لاٰ عَلَیْکَ فَإِنَّ الْمُوٴْمِنَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَیْتِهِ یَوٴُمُّ الْحَجَّ لاٰیَزَالُ فِي طَوَافٍ وَسعْيٍ حَتَّی یَرْجِعَ( ۷۱ )

زیاد قندی (جو ایک مفلوج آدمی تھا)کھتا ہے کہ :

”میں نے امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام سے عرض کیا آپعليه‌السلام پر قربانهو جاوں میں کبھی مسجد الحرام میںهوتاہوں اوردیکھتاہوںکہ لوگ کعبہ کا طواف کررہےہیں اور میں بیٹھاہوں (طواف نھیں کر سکتا )اس پر میں غم زدہهو جاتاہوں امامعليه‌السلام نے

فرمایا:اے زیاد!تم پر کوئی ذمہ داری نھیں ہے (غمگین نہهو) بلاشبہ مومن جس وقت سے حج کے ارادہ سے اپنے گھر سے نکلتا ہے اس وقت سے ہمیشہ طواف اور سعی کی حالت میں ہے یھاں تک کہ اپنے گھر واپس چلاجائے “۔

انسانی تھذیب کی رعایت

عَنْ سَمَاعَة بْنِ مِهْرَانَ عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِ عليه‌السلام :سَاٴلْتَهُ عَنْ رَجُلٍ لي عَلَیْهِ مالٌ فغابَ عَنّي زَماناً فَرَاٴَیْتُهُ یَطوفُ حَولَ الْکَعْبَةَ اٴفاٴتَقاضاهُ مالِي؟قَالَ:لاٰ،لاٰ تُسَلِّمْ عَلَیْهِ وَلاٰ تُرَوِّعْهُ حَتَّی یَخْرُجَ مَنْ الْحَرَمِ ۔( ۷۲ )

سماعة ابن مھران کہتےہیں کہ:

”میں نے امام جعفرصادقعليه‌السلام سے پوچھا :ایک شخص میرا مقروض ہے اور میں نے ایک مدت سے اسے نھیں دیکھا پس اچانک میں اسے کعبہ کے اطراف میں دیکھتاہوں کیا میں اس سے اپنے مال کا تقاضہ کر سکتاہوں؟فرمایانھیں،حتی اسے سلام بھی نہ کرو اور اسے نہ ڈراویھاں تک کہ وہ حرم سے خارجهو جائے “۔

نماز ،مقام ابراہیمعليه‌السلام کے نزدیک

عَن رَسُولِ اللّٰهِ قال:

فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَیْتِ اٴُسْبُوعاً لِلزِّیَارَةِ وَ صَلِّیْتَ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ضَرَبَ مَلَکٌ کَرِیمٌ عَلَی کَتِفَیْکَ فَقَالَ اٴَمَّا مَا مَضَی فَقَدْ غُفِرَ لَکَ فَاسْتَاٴْنِفِ الْعَمَلَ فِیمَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ عِشْرِینَ وَمِائَةِ یَوْمٍ( ۷۳ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”پس جب تم خانہ کعبہ کے گرد زیارت کا طواف کر لیتےہو اور مقام ابراہیمعليه‌السلام کے نزدیک نماز طواف ادا کر لیتےہو تو ایک کریم وبزرگوار فرشتہ تمھارے شانوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے :جو کچھ گزر گیا اور تم نے جو گناہ پھلے انجام دیئے تھے خدا وند عالم نے وہ سب بخش دیئے پس اس وقت سے ایک سو بیس دن تک (تم پاک وپاکیزہ رہو گے اب )نئے سرے سے اپنے عمل کا آغاز کرو“۔

امام حسینعليه‌السلام مقام ابراہیمعليه‌السلام کے پاس

رُئِیَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ،ثُمَّ صٰارَ اِلَی الْمَقٰامِ فَصَلّٰی،ثُمَّ وَضَعَ خَدَّهُ عَلَی الْمَقٰامِ فَجَعَلَ یَبْکی وَیَقُولُ: عُبَیْدُکَ بِبٰابِکَ، سَائِلُکَ بِبٰابِکَ، مِسْکینُکَ بِبٰابِکَ، یُرَدِّدُ ذٰلِکَ مِرٰاراً ۔( ۷۴ )

”لوگوں نے امام حسینعليه‌السلام کو دیکھا کہ وہ اللہ کے گھر کا طواف کر رہے تھے اس کے بعدانھوں نے مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کی پھر اپنا چھرہ مقام ابراہیم پر رکھا اور روتےہوئے خداوند عالم کی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے ! تیرا حقیر بندہ تیرے دروازہ پر ہے ،تیرا فقیر تیرے دروازہ پر ہے،تیرا مسکین تیرے دروازہ پر ہے،اور آپعليه‌السلام ان جملوں کو باربار دھرا رہے تھے“۔

ہمراہیوں کی مدد

عن اِبراهیم الخثعَمي قال:قُلْتُ لاٴبي عبد الله عليه‌السلام :إِنَّاإِذَا قَدِمْنَا مَکَّةَ ذَهَبَ اٴَصْحَابُنَا یَطُوفُونَ وَیَتْرُکُونِّي اٴَحْفَظُ مَتَاعَهُمْ قَالَ اٴَنْتَ اٴَعْظَمُهُمْ اٴَجْراً ۔( ۷۵ )

اسماعیل خثعمی کہتے ہیں میں نے امام جعفر صادقعليه‌السلام سے عرض کیا :

”ھم جب مکہ میں واردهوئے تو ہمارے ساتھی مجھے اپنے سامان کے پاس چھوڑ کر طواف کے لئے چلے گئے تاکہ میں ان کے سامان کی حفاظت کروں ،امامعليه‌السلام نے فرمایا: تمھارا ثواب ان سے زیادہ ہے“۔

آب زمزم ہر درد کی دوا

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

مَاءُ زَمْزَمَ دَوَاءٌ لِمَا شُرِبَ لَهُ( ۷۶ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”زمزم کا پانی ہر اس درد کی دوا ہے جس کی نیت سے وہ پیا جائے “ ۔

زمین کا بہترین پانی

قَالَ اٴَمِیرُ الْمُوٴْمِنِینَعليه‌السلام :

مَاءُ زَمْزَمَ خَیْرُ مَاءٍ عَلَی وَجْهِ الْاٴَرْضِ( ۷۷ )

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا:

”آب زمزم روئے زمین پر بہترین پانی ہے “۔

حجر اسماعیل

عَنْ اٴبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

الْحِجْرُ بَیْتُ إِسْمَاعِیلَ وَفِیهِ قَبْرُ هَاجَرَ وَقَبْرُ إِسْمَاعِیلَ( ۷۸ )

امام جعفر صادق نے فرمایا:

”حجر ،جناب اسماعیلعليه‌السلام کاگھر ہے اور اس میں آپعليه‌السلام کی اور آپ کی والدہ جناب ہاجرہعليه‌السلام کی قبر ہے “۔

عن اٴبي عبد اللهعليه‌السلام قال:

إن إسماعیلعليه‌السلام تُوُفّي وَهُوَ اِبنُ مائَةَ وَثَلاثِینَ سَنَة وَدُفِنَ بِالحِجْر مَعَ اٴُمِّه( ۷۹ )

امام جعفر صادق نے فرمایا:

”جناب اسماعیلعليه‌السلام نے ایک سو تیس سال کے بعد وفات پائی اور اپنی والدہ کے ہمراہ حجر میں دفن کئے گئے “۔

حطیم

معاویہ ابن عمار کہتے ہیں:میں نے حطیم کے بارے میں امام جعفرصادق ںسے دریافت کیا :

فَقَالَ هُوَ مَا بَیْنَ الْحَجَرِ الْاٴَسْوَدِ وَبَیْنَ الْبَابِ “۔

”آپعليه‌السلام نے فرمایا :یہ حجر اسود اوردر کعبہ کے درمیان ہے“ میں نے سوال کیا کہ اسے حطیم کیوں کہتےہیں ؟

فَقَالَ لِاٴَ نَّ النَّاسَ یَحْطِمُ بَعْضُهُمْ بِعْضاً هُنَاکَ ۔( ۸۰ )

”فرمایا :اس لئے کہ لوگ اس جگہ ایک دوسرے کو (کثرت جمعیت کی وجہ سے ) دباتےہیں “۔

ملتزم

قٰال رَسُول اللّٰهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقٰامِ مُلْتَزَمٌ مٰایَدْعُوا بِهِ صٰاحِبُ عٰاهَةٍ اِلاّٰ بَرِیٴَ( ۲)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”رکن حجر اسود اور مقام ابراہیمعليه‌السلام کے درمیان ملتزم ہے کوئی بھی بیماری اور مشکل میں مبتلا شخص وہاں دعا نھیں کرتا مگر یہ کہ اس کی حاجت پوریهوتی ہے “۔

مستجار

قَالَ الصَّادِقُعليه‌السلام :

بَنیٰ إِبْراهِیمُ الْبَیْتَوَجَعَلَ لَهُ بَابَیْنِ بَابٌ إِلَی الْمَشْرِقِ وَ بَابٌ إِلَی الْمَغْرِبِ،وَالْبَابُ الَّذِي إِلَی الْمَغْرِبِ یُسَمَّی الْمُسْتَجَارَ( ۸۱ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتےہیں :

”جنا ب ابراہیم خلیل ںنے کعبہ کی تعمیر فرمائی اور اس کے لئے دو دروازے بنائے،ایک در مشرق کی طرف ،اور ایک در مغرب کی طرف،جودر مغرب کی طرف ہے اسے مستجار کہتے ہیں‘ ‘۔

رکن یمانی

رَاٴَیْنٰاکَ تُکْثِرُ اِسْتِلاٰمَ الرُّکْنِ الْمَیٰانیِّ فَقَالَ: مٰا اَتَیْتُ عَلَیْهِ قَطُّ اِلاّٰ وَجَبْرَئیلُ قٰائِمٌ عِنْدَهُ یَسْتَغْفِرُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ ۔( ۸۲ )

عطا کہتےہیں :

” لوگوں نے حضرت رسول خد ا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کھا ہم بہت دیکھتےہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکن یمانی کا بوسہ لے رہےہیں فرمایا:میں ہر گز رکن یمانی کے پاس نھیں آیا مگر یہ کہ میں نے دیکھاکہ جبرئیلعليه‌السلام وہاں کھڑےہیں اور جولوگ اسے چوم رہےہیں ان کے لئے مغفرت کی دعا کر رہےہیں “۔

سعی کی جگہ

عَنْ اٴَبِي بَصِیرٍ قَالَ:

سَمِعْتُ اٴَبَا عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام یَقُولُ:

مَا مِنْ بُقْعَةٍ اٴَحَبَّ إِلَی اللّٰهِ مِنَ الْمَسْعَیٰ لِاٴَنَّهُ یُذِلُّ فِیهَا کُلَّ جَبَّارٍ( ۸۳ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:”کوئی بھی جگہ خدا وند عالم کے نزدیک سعی کی جگہ سے محبوب اور پسندیدہ نھیں ہے کیونکہ وہاں ہر جبار وستم گر ذلیل خوارهوتا ہے “۔

مقبول شفاعت

قَالَ عَلِيُّبْنُ الْحُسَیْنِعليه‌السلام :

السَّاعِي بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَشْفَعُ لَهُ

الْمَلاٰئِکَةُ فَتُشَفَّعُ فِیهِ بِالإِیجَابِ( ۸۴ )

امام زین العابدینعليه‌السلام فرماتےہیں :

”فرشتہ صفاو مروہ کے درمیان سعی کرنے والے کی(خدا سے) شفاعت طلب کرتےہیں اور ان کی دعا قبولهوتی ہے ‘ ‘ ۔

ھرولہ

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

صَارَ السَّعْیُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِاٴَنَّ إِبْرَاهِیمَ عَرَضَ لَهُ إِبْلِیسُ فَاٴَمَرَهُ جَبْرَئِیلُعليه‌السلام ، فَشَدَّ عَلَیْهِ فَهَرَبَ مِنْهُ،فَجَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ - یعنی بالْهَرْوَلَة -( ۸۵ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”صفاو مروہ کے درمیان سعی میں (ھرولہ)اس لئے ہے کہ ابلیس نے خود کو وہاں جناب ابراہیمعليه‌السلام پر ظاھر کیا اس وقت جبرئیلعليه‌السلام نے جناب ابراہیمعليه‌السلام کو شیطان پر حملہ کا حکم دیا آپعليه‌السلام نے اس پر حملہ کیا تو وہ بھاگااس وجہ سے ہرولہ سنت بن گیا “۔

صفا ومروہ کے درمیان بیٹھنا

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام :

لاٰ یَجْلِسُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ مَنْ جَهَدَ( ۸۶ )

امام جعفرصادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”صفاو مروہ کے درمیان نہ بیٹھے مگر وہ شخص جو تھک جائے ‘ ‘ ۔

اہل عرفات پر فخر

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

”إنّ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ یُباهي مَلائِکَتَهُ عَشِیَّةَ عَرَفَة بِاَهْلِ عَرَفَةَ فَیَقُولُ:

اُنْظُرُوا اِلی عِبادي اٴتَوْني شُعْثاً غُبْراً“( ۸۷ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”بلا شبہ خدا وند عالم روز عرفہ کے عصر کے وقت اہل عرفات کے سلسلہ میں فرشوں سے فخر ومباھات کرتا ہے اور فرماتا ہے :میرے بندوں کو دیکھو جو پریشاں حال اور غبار آلود میرے پاس آئے ہیں“۔

مشعر الحرام

قال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : - وَهُوَ بِمنیٰ -:

”لَوْ یَعْلَمُ اَهْلُ الجَمْعَ بِمَنْ حَلُّوا اٴَوْبِمَنْ نَزَلُوا لاَ سْتَبْشَرُوا بالفَضْلِ مِنْ رَبِّهِمْ بَعْدَ المَغْفِرَةِ“( ۸۸ )

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب منیٰ میںتشریف فرماتھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ”اگر اہل مشعر جان لیتے کہ کس کی بارگاہ میں آئےہیں اور کس لئے آئےہیں تو مغفرت اور بخشش کے بعد خدا کے فضل کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو بشارت دیتے “۔

منیٰ

قال الصادقعليه‌السلام :

”إِذَا اٴَخَذَ النَّاسُ مَوَاطِنَهُمْ بِمِنًی،نَادَی مُنَادٍمِنْ قِبَلِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ:إِنْ اٴَرَدْتُمْ اٴَنْ اٴَرْضَی فَقَدْ رَضِیتُ“( ۸۹ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتےہیں :

”جب لوگ منیٰ میں اپنی جگہ ٹھھر جاتےہیں تو منادی

خداوند عالم کی جانب سے ندا دیتا ہے اگر تم یہ چاھتے تھے کہ میں تم سے راضیهو جاوں تو میں تم سے راضیهو گیا “۔

شیطا ن کو کنکریاں مارنا

قالَ الصَّادِقُعليه‌السلام :

”إنَّ عِلَّةَ رَمْيِ الْجَمَراٰتِ اٴَنَّ إِبْراهِیمعليه‌السلام تَراء یٰ لَهُ إِبْلِیسُ عِنْدهٰا فَاٴمَرهُ جَبْرائیلُ بِرَمْیِه بِسَبعِ حَصَیاتٍ وَاٴَنْ یُکَبِّر مَعَ کُلِّ حَصَاةٍ فَفَعَلَ وَجَرَتْ بِذلِکَ السُّنَةِ“( ۹۰ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتےہیں :

”ان جمرات کوکنکریاں مارنے کی وجہ یہ ہے کہ ابلیس وہاں پر حضرت ابراہیمعليه‌السلام کے سامنے ظاھرهوا اس وقت جبرئیلعليه‌السلام نے جناب ابراہیمعليه‌السلام کو حکم دیا کے سات کنکریوں سے شیطا ن کو ماریں اور ہر کنکری پر تکبیر بھی کہیں جناب ابراہیمعليه‌السلام نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد سے یہ سنت بن گئی“۔

قربانی

عن اٴبی جعفرعليه‌السلام قال: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

إِنَّمَا جَعَلَ اللّٰهُ هَذَا الْاٴَضْحَی لِتَشْبَعَ مَسَاکِینُهُمْ مِنَ اللَّحْمِ فَاٴَطْعِمُوهُمْ“( ۹۱ )

امام محمد باقرعليه‌السلام فرماتےہیں :

”کہ رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :خدا وند عالم نے اس قربانی کو واجب قرار دیا ہے تاکہ بے نوا اور مسکین لوگ گوشت سے استفادہ کریں اور سیرهوں پس انھیں کھلاو “۔

مغفرت طلب کرنا

قال الصادقعليه‌السلام :

”اِسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللّٰهِ لِلْمُحَلِّقِینَ ثَلاٰثَ مَرَّاتٍ“( ۹۲ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتےہیں :

”کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منیٰ میں سر مڈانے والوں کے لئے تین مرتبہ استغفار کیا (اور خدا سے ان کے لئے بخشش طلب کی)ھے“۔

حج کے اسرار

عالم جلیل سید عبد اللہ مرحوم محدث جزائری کے پوتوں سے نقل کرتےہوئے کتاب شرح نخبہ میں تحریر کرتےہیں :

متعدد ما خذ میں جن پر میری تائید ہے بعض بزرگوں کی تحریر میں یہ حدیث مرسل اس طرح نقلهوئی ہے کہ شبلی حج انجام دینے کے بعد امام زین العابدین ںکی زیارت کو آئے تو حضرتعليه‌السلام نے ان سے فرمایا:

حَجَجْتَ یَا شَبْلِیُّ؟

قَالَ:نَعَمْ یَا ابْنَ رَسُولِ اللّٰهِ فَقَالَعليه‌السلام :اٴَنَزَلْتَ الْمِیقَاتَ وَ تَجَرَّدْتَ عَنْ مَخِیطِ الثِّیَابِ وَاغْتَسَلْتَ؟ قَالَ:نَعَمْ،

قَالَ:فَحِینَ نَزَلْتَ الْمِیقَاتَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ خَلَعْتَ ثَوْبَ الْمَعْصِیَةِ وَلَبِسْتَ ثَوْبَ الطَّاعَةِ؟ قَالَ:لاٰ،

قَالَ:فَحِینَ تَجَرَّدْتَ عَنْ مَخِیطِ ثِیَابِکَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ تَجَرَّدْتَ مِنَ الرِّیَاءِ وَالنِّفَاقِ وَالدُّخُولِ فِي الشُّبُهَاتِ؟قَالَ:لاٰ،

قَالَ:فَحِینَ اغْتَسَلْتَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ اغْتَسَلْتَ مِنَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوبِ؟قَالَ:لاٰ،

قَالَ:فَمَا نَزَلْتَ الْمِیقَاتَ وَلاٰ تَجَرَّدْتَ عَنْ مَخِیطِ الثِّیَابِ وَلاٰ اغْتَسَلْتَ،

اے شبلی! کیا تم نے حج کر لیا؟عرض کیا ہاں اے فرزند رسول خدا! فرمایا:کیا تم میقات میں ٹھھرے اور اپنے سلےہوئے لباس کو جسم سے اتار کر غسل کیا؟ شبلی نے جواب دیا، ہاں۔امام نے پوچھا جب تم میقات میںداخل ہوئے تو کیا یہ نیت کی کہ میں نے گناہ اور نافرمانی کا لباس اتار دیا ہے اور خدا کی اطاعت و فرمانبرداری کا لباس پہن لیا ہے ؟

شبلی: نھیں۔امام نے پوچھا:جب تم نے اپنا سلاہوا لباس اتارا تو کیا یہ نیت کی تھی کہ خود کو ریا ،دوروئی اور شبھات وغیرہ سے دور کر رہےہو ؟شبلی نھیں:

امامعليه‌السلام : غسل کرتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ خود کو خطاوں اور گناہوں سے پاک کر رہےہو؟شبلی نھیں :

امامعليه‌السلام :(پس در حقیقت تم ) نہ میقات میں واردهوئے اور نہ تم نے سلاہوا لباس اتارا اور نہ غسل کیا ہے “۔

ثُمَّ قَالَ:تَنَظَّفْتَ وَاٴَحْرَمْتَ وَعَقَدْتَ بِالْحَجِّ، قَالَ:نعمقَالَ: فَحِینَ تَنَظَّفْتَ وَاٴَحْرَمْتَ وَ عَقَدْتَ الْحَجَّ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ تَنَظَّفْتَ بِنُورَةِ التَّوْبَةِ الْخَالِصَةِ لِلَّهٰ تَعَالیَ؟قَالَ لاٰ،قَالَ:فَحِینَ اٴَحْرَمْتَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ حَرَّمْتَ عَلَی نَفْسِکَ کُلَّ مُحَرَّمٍ حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ؟قَالَ:لاٰ،

قَالَ:فَحِینَ عَقَدْتَ الْحَجَّ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ قَدْ حَلَلْتَ کُلَّ عَقْدٍ لِغَیْرِ اللّٰهِ؟قَالَ:لاٰ،

قَالَ لَهُعليه‌السلام :مَا تَنَظَّفْتَ وَلاٰاٴَحْرَمْتَ وَلاٰ عَقَدْتَ الْحَجَّ ،

”اس کے بعد امامعليه‌السلام اس سے پوچھتے ہیں، کیا تم نے خودکو پاک صاف کیا اور احرام پہنا اور حج کا عھد وپیمان کیا (یعنی حج کی نیت کی)شبلی: ہاں

امامعليه‌السلام : کیا تم یہ نیت کی تھی کہ خود کو خالص توبہ کے نور ہ سے پاکیزہ کر رہےہو؟شبلی :نھیں

امامعليه‌السلام :احرام باندھتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ جو کچھ خدا نے تمھیں کرنے سے روکا ہے اسے اپنے آپ پر حرام سمجھو؟شبلی:نھیں۔ امام: حج کا عھد کرتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ تم نے ہر غیر الٰھی عھد وپیمان سے خودکو رہا کر لیا ہے؟ شبلی: نھیں۔

امامعليه‌السلام :پھرتم نے احرام نھیں باندھا پاکیزہ نھیںهوئے اور حج کی نیت نھیںکی “۔

قَالَ لَهُ: اٴَدَخَلْتَ الْمِیقَاتَ وَصَلَّیْتَ رَکْعَتَيِ الْإِحْرَامِ وَلَبَّیْتَ؟ قَالَ:نَعَمْ،

قَالَ:فَحِینَ دَخَلْتَ الْمِیقَاتَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ بِنِیَّةِ الزِّیَارَةِ؟قَالَ:لاٰ

قَالَ:فَحِینَ صَلَّیْتَ الرَّکْعَتَیْنِ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ تَقَرَّبْتَ إِلَی اللّٰهِ بِخَیْرِ الْاٴَعْمَالِ مِنَ الصَّلاٰةِ وَاٴَکْبَرِ حَسَنَاتِ الْعِبَادِ؟ قَالَ:لا،

قَالَ:فَحِینَ لَبَّیْتَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ نَطَقْتَ لِلّٰهِ سُبْحَانَهُ بِکُلِّ طَاعَةٍ وَصُمْتَ عَنْ کُلِّ مَعْصِیَةٍ؟ قَالَ:لاٰ ،

قَالَ لَهُعليه‌السلام : مَا دَخَلْتَ الْمِیقَاتَ وَلاٰ صَلَّیْتَ وَلاٰ لَبَّیْتَ،

”اس کے بعد امامعليه‌السلام نے پوچھا :کیا تم میقات میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز احرام ادا کی اور لبیک کھی ؟شبلی:ھاں۔

امامعليه‌السلام :میقات میں داخل ہوتے وقت کیا تم نے زیارت کی نیت کی؟ شبلی: نھیں۔

امامعليه‌السلام :کیا دو رکعت نماز پڑھتے وقت تم نے یہ نیت کی تھی کہ تم بہترین اعمال اور بندوں کے بہترین حسنات یعنی نماز کے ذریعہ خدا سے قریبهو رہےہو؟شبلی: نھیں۔

امامعليه‌السلام :پس لبیک کہتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ خدا کی خالص فرمانبر داری کی بات کر رہےہواور ہر معصیت سے خاموشی اختیار کر رہےہو؟شبلی: نھیں ۔

امامعليه‌السلام نے فرمایا:پھر نہ تم میقات میں داخل ہوئے نہ نماز پڑھی اور نہ لبیک کھی “۔

ثُمَّ قَالَ لَهُ:اٴَدَخَلْتَ الْحَرَمَ وَرَاٴَیْتَ الْکَعْبَةَ وَصَلَّیُتَ؟ قَالَ:نَعَمْ،

قَالَ :فَحِینَ دَخَلْتَ الْحَرَمَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ حَرَّمْتَ عَلَی نَفْسِکَ کُلَّ غَیْبَةٍ تَسْتَغِیبُهَا الْمُسْلِمِینَ مِنْ اٴَهْلِ مِلَّةِ الْإِسْلاٰمِ؟قَالَ:لاٰ

قَالَ فَحِینَ وَصَلْتَ مَکَّةَ نَوَیْتَ بِقَلْبِکَ اٴَنَّکَ قَصَدْتَ اللّٰهَ؟ قَالَ:لاٰ

قَالَعليه‌السلام :فَمَا دَخَلْتَ الْحَرَمَ وَلاٰ رَاٴَیْتَ الْکَعْبَةَوَلاٰ صَلَّیْتَ،

”امامعليه‌السلام نے پھر پوچھا :کیا تم حرم میں داخل ہوئے، کعبہ کو دیکھا اور نماز ادا کی ؟شبلی :ھاں۔

امامعليه‌السلام :حرم میں داخل ہوتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ اسلامی معاشرہ کے مسلمانوں کی غیبت کو اپنے اوپر حرام کرتےہو ؟ شبلی: نھیں۔

امامعليه‌السلام :مکہ پہنچتے وقت کیا تم نے یہ نیت کی کہ صرف خدا کو چاھتےہو ؟شبلی:نھیں۔

امامعليه‌السلام :پھر نہ تم حرم میں واردهوئے اور نہ کعبہ کا دیدار کیا اور نہ نماز ادا کی “۔

ثُمَّ قَالَ:طُفْتَ بِالْبَیْتِ وَمَسَسْتَ الْاٴَرْکَانَ وَسَعَیْتَ؟قَالَ:نَعَمْ

قَالَعليه‌السلام :فَحِینَ سَعَیْتَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ هَرَبْتَ إِلَی اللّٰهِ وَعَرَفَ مِنْکَ ذٰلِکَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ؟قَالَ:لاٰ

قَالَ فَمَا طُفْتَ بِالْبَیْتِ وَلاٰ مَسِسْتَ الْاٴَرْکَانَ وَلاٰ سَعَیْتَ

”پھر امام نے پوچھا :کیا تم نے خانہ خدا کا طواف کیا ارکان کو مس کیا اور سعی انجام دی ؟شبلی :ھاں۔

امامعليه‌السلام :سعی کرتے وقت کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ شیطان اور اپنے نفس سے بھاگ کر خدا کی پناہ حاصل کرتےہواور وہ غیب سے سب سے زیادہ آگاہ ہے وہ اس بات کو جانتا ہے ؟ شبلی:نھیں۔

امامعليه‌السلام :پھر نہ تم نے خانہ خدا کاطواف کیا نہ ارکان مس کئے اور نہ سعی کی،

ثُمَّ قَالَ لَهُ:صَافَحْتَ الْحَجَرَوَ وَقَفْتَ بِمَقَامِ إِبْرَاهِیمَعليه‌السلام وَصَلَّیْتَ بِهَ رَکْعَتَیْنِ؟قَالَ:نَعَمْ فَصَاحَعليه‌السلام صَیْحَةً کَادَ یُفَارِقُ الدُّنْیَا ثُمَّ قَالَ:آهِ آهِ

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام :مَنْ صَافَحَ الْحَجَرَ الْاٴَسْوَدَ فَقَدْ صَافَحَ اللّٰهَ تَعَالَی،فَانْظُرْ یَامِسْکِینُ لاٰ تُضَیِّعْ اٴَجْرَ مَا عَظُمَ حُرْمَتُهُ،وَتَنْقُضِ الْمُصَافَحَةَ بِالْمُخَالَفَةِ،وَقَبْضِ الْحَرَامٍ نَظِیرَ اٴَهْلِ الْآثَامِ

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام :نَوَیْتَ حِینَ وَقَفْتَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِیمَعليه‌السلام اٴَنَّکَ وَقَفْتَ عَلَی کُلِّ طَاعَةٍ وَتَخَلَّفْتَ عَنْ کُلِّ مَعْصِیَةٍ؟قَالَ:لاٰ

قَالَ:فَحِینَ صَلَّیْتَ فِیهِ رَکْعَتَیْنِ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ صَلَّیْتَ بِصَلاٰةِ إِبْرَاهِیمَعليه‌السلام ،وَاٴَرْغَمْتَ بِصَلاٰتِکَ اٴَنْفَ الشَّیْطَانِ؟قَالَ:لاٰ

قَالَ لَهُ:فَمَا صَافَحْتَ الْحَجَرَ الْاٴَسْوَدَ وَلاٰ وَقَفْتَ عِنْدَ الْمَقَامِ وَلاٰ صَلَّیْتَ فِیهِ رَکْعَتَیْنِ

”امامعليه‌السلام نے دریافت فرمایا:کیا تم نے حج اسود سے مصافحہ کیا، مقام ابراہیمعليه‌السلام کے نزدیک کھڑےہوئے اوردو رکعت نماز ادا کی ؟شبلی: ہاں،

پس امامعليه‌السلام :نے فریا د بلند کی ایسا لگتا تھا کہ آپعليه‌السلام دنیا سے ہی کو چ کرجانے والےہیں اس کے بعد فرمایا :آہ ،آہ۔۔۔۔

پھر فرمایا :جو حجر اسود کو لمس کرے اس نے خدا سے مصافحہ کیا پس اے مسکین !دیکھ اس عظیم حرمت وعزت کو ضائع نہ کر اور مصافحہ کو مخالفت اور گناہکاروں کے مانند حرام کاری کے ذریعہ نہ توڑ اس کے بعد پوچھا : جب تم مقام ابراہیمعليه‌السلام کے نزدیک گئے تو کیا تمھاری نیت یہ تھی کہ خدا کے تمام احکام وفرامین کی پابندی اور ہر معصیت ونافرمانی کی مخالفت کرو گے؟شبلی :نھیں

امامعليه‌السلام :جب تم نے طواف کی دور کعت نماز ادا کی تو کیا یہ نیت تھی کہ تم نے جناب ابراہیم کے ہمراہ نماز پڑھی ہے اور شیطان کی ناک کو خاک پر رگڑدیاھے ؟شبلی:نھیں۔

امامعليه‌السلام :پھر درحقیقت نہ تم نے حجر اسود کا مصافحہ کیا نہ مقام ابراہیم کے پاس کھڑےہوئے اور نہ وہاں دو رکعت نماز اداکی ۔

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام :لَهُ اٴَشْرَفْتَ عَلَی بِئْرِ زَمْزَمَ وَ شَرِبْتَ مِنْ مَائِهَا؟ قَالَ:نَعَمْ

قَالَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ اٴَشْرَفْتَ عَلَی الطَّاعَةِ، وَغَضَضْتَ طَرْفَکَ عَنِ الْمَعْصِیَةِقَالَ:لاٰ

قَالَعليه‌السلام :فَمَا اٴَشْرَفْتَ عَلَیْهَا وَلاٰ شَرِبْتَ مِنْ مَائِهَا

پھرامامعليه‌السلام نے پوچھا :کیا تم چاہ زمزم پر گئے اور اس کا پانی پیا؟ شبلی: ہاں

امامعليه‌السلام نے فرمایا :کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ تم نے خدا کی فرماں برداری حاصل کر لی اور اس کے گناہوں اور معصیت سے آنکھیں بند کر لی ہیں؟شبلی:

نھیں

امامعليه‌السلام نے فرمایا :پھر درحقیقت نہ تم چاہ زمزم پر گئے اور نہ اس کا پانی پیا ہے “۔

ثُمَّ قَالَ لَهُعليه‌السلام :اٴَسَعَیْتَ بَیْنَ الصَّفَاوَالْمَرْوَةِ وَمَشَیْتَ وَتَرَدَّدْتَ بَیْنَهُمَا؟قَالَ:نَعَمْ

قَالَ لَهُ:نَوَیْتَ اٴَنَّکَ بَیْنَ الرَّجَاءِ وَالْخَوْفِ؟ قَالَ:لاٰ

قَالَ:فَمَاسَعَیْتَ وَلاٰمَشَیْتَ وَلاٰتَرَدَّدْتَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ:اٴَخْرَجْتَ إِلٰی مِنیٰ؟ قَالَ: نَعَمْ،قَالَ: نَوَیْتَ اٴَنَّکَ آمَنْتَ النَّاسَ مِنْ لِسَانِکَ وَقَلْبِکَ وَیَدِکَ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَمَا خَرَجْتَ إِلٰی مِنًی

ثُمَّ قَالَ:لَهُ اٴَوَقَفْتَ الْوَقْفَةَ بِعَرَفَةَ،وَطَلَعْتَ جَبَلَ الرَّحْمَةِ، وَعَرَفْتَ وَادِيَ نَمِرَةَ،وَدَعَوْتَ اللّٰهَ سُبْحَانَهُ عِنْدَالْمِیْلِ وَالْجَمَرَاتِ؟قَالَ:نَعَمْ،قَالَ:هَلْ عَرَفْتَ بِمَوْقِفِکَ بِعَرَفَةَمَعْرِفَةَ اللّٰهِ سُبْحَانَهُ اٴَمْرَ الْمَعَارِف وَالْعُلُومِ وَعَرَفْتَ قَبْضَ اللّٰهِ عَلٰی صَحِیفَتِکَ وَ اطِّلاٰعَهُ عَلَی سَرِیرَ تِکَ وَقَلْبِکَ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ نَوَیْتَ بِطُلُوعِکَ جَبَلَ الرَّحْمَةِ اٴَنَّ اللّٰهَ یَرْحَمُ کُلَّ مُوٴْمِنٍ وَ مُوٴْمِنَةٍ وَیَتَوَلَّی کُلَّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ؟ قَالَ: لاٰ، قَالَ: فَنَوَیْتَ عِنْدَ نَمِرَةَ اٴَنَّکَ لاٰ تَاٴْمُرُ حَتَّی تَاٴْتَمِرَ،وَلاٰ تَزْجُرُ حَتَّی تَنْزَجِرَ؟ قَالَ: لاٰ، قَالَ:فَعِنْدَمَا وَقَفْتَ عِنْدَ الْعَلَمِ وَالنَّمِرَاتِ، نَوَیْتَ اٴَنَّهَا شَاهِدَةٌ لَکَ عَلَی الطَّاعَاتِ حَافِظَةٌ لَکَ مَعَ الْحَفَظَةِبِاٴَمْرِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَمَا وَقَفْتَ بِعَرَفَةَ،وَلاٰ طَلَعْتَ جَبَلَ الرَّحْمَةِ،وَلاٰ عَرَفْتَ نَمِرَةَ، وَلاٰدَعَوْتَ، وَلاٰ وَقَفْتَ عِنْدَ النَّمِرَاتِ

”پھرامامعليه‌السلام نے کیا تم نے دریافت کیا، صفاو مروہ کے درمیان سعی انجام دی اور پید ل ان دو پھاڑوں کے درمیان راہ طے کی ہے ؟ شبلی :ھاں

امامعليه‌السلام : کیا تم نے یہ نیت کی تھی کہ خوف ورجاء کے درمیان راہ طے کر رہےہو؟شبلی:نھیں

امامعليه‌السلام :پس تم نے صفاو مروہ کے درمیان سعی نھیں کی پھر فرمایا کیا تم منیٰ کی طرف گئے ؟شبلی:ھاں

امامعليه‌السلام :کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ لوگوں کو اپنی زبان اپنے دل اور اپنے ہاتھوں سے امان میں رکھو؟شبلی :نھیں

امامعليه‌السلام :پھر تم منیٰ نھیں گئےہو۔ اس کے بعد پوچھا :کیا تم نے عرفات میں وقوف کیا اور جبل رحمت کے اوپر گئے اور وادی نمرہ کو پہچانااور جمرات کے کنارے خدا سے دعاکی ؟شبلی:ھاں

امامعليه‌السلام نے فرمایا:آیا عرفات میں وقوف کے وقت تمھیں معارف و علوم کے ذریعہ اللہ کی معرفتهوئی اور کیا تم نے جانا کہ اللہ تمھارے نامہ عمل کولے گا اور وہ تمھاری فکر و خیال سے آگاھی رکھتا ہے ؟شبلی:نھیں

امام :کیا جبل رحمت کے اوپر جاتے وقت تمھاری یہ نیت تھی کہ خداوند عالم ہر با ایمان مرد وزن پر رحمت نازل کرتا ہے اور ہر مسلمان مردوزن کی سرپرستی کرتا ہے ؟شبلی:نھیں

امام :آیا وادی نمرہ میں تم نے یہ خیال کیا کہ کوئی حکم نہ دو جب تک خود فرمانبردار نہهوجاواور نھی نہ کرو جب تک خود کو نہ روکو؟ شبلی:نھیں

جب تم نشان اور نمرہ کے نزدیک ٹھھرے تو کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ وہ تمھاری عبادات اور طاعت پر گوا ہهوں اور خداوندعالم کے نگھبانوں کے ہمراہ اس کے حکم سے تیری حفاظت کریں؟ شبلی:نھیں

حضرت نے فرمایا:پھر نہ تم عرفات میں ٹھھرے نہ جبل رحمت کے اوپر گئے نہ نمرہ کو پہچانا نہ دعا کی اور نہ نمرہ کے نزدیک وقوف کیاھے۔

ثُمَّ قَالَ:مَرَرْتَ بَیْنَ الْعَلَمَیْنِ،وَصَلَّیْتَ قَبْلَ مُرُورِکَ رَکْعَتَیْنِ،وَمَشَیْتَ بِمُزْدَلِفَةَ، وَل َقَطْتَ فِیهَا الْحَصَی،وَمَرَرْتَ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحِینَ صَلَّیْتَ رِکْعَتَیْنِ،نَوَیْتَ اٴَنَّهَا صَلاٰةُ شُکْرٍ فِي لَیْلَةِ عَشْرٍ،تَنْفِی کُلَّ عُسْرٍ، وَتُیَسِّرُ کُلَّ یُسْرٍ؟ قَالَ: لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَامَشَیْتَ بَیْنَ الْعَلَمَیْنِ،وَلَمْ تَعْدِلْ عَنْهُمَا یَمِیناً وَشِمَالاً،نَوَیْتَ اٴَنْ لاٰ تَعْدِلَ عَنْ دِینِ الْحَقِّ یَمِیناً وَشِمَالاً،لاٰ بِقَلْبِکَ،وَلاٰ بِلِسَانِکَ،وَلاٰبِجَوَارِحِکَ، قَالَ:لاٰ، قَالَ:فَعِنْدَ مَا مَشَیْتَ بِمُزْدَلِفَةَ وَلَقَطْتَ مِنْهَا الْحَصَی،نَوَیْتَ اٴَنَّکَ رَفَعْتَ عَنْکَ کُلَّ مَعْصِیَةٍ،وَ جَهْلٍ،وَثَبَّتَّ کُلَّ عِلْمٍ وَعَمَلٍ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا مَرَرْتَ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ،نَوَیْتَ اٴَنَّکَ اٴَشْعَرْتَ قَلْبَکَ إِشْعَارَ اٴَهْلِ التَّقْویٰ وَالْخَوْفَ لِلّٰهِ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَمَا مَرَرْتَ بِالْعَلَمَیْنِ،وَلاٰ صَلَّیْتَ رِکْعَتَیْنِ،وَلاٰ مَشَیْتَ بِالْمُزْدَلِفَةِ،وَلاٰ رَفَعْتَ مِنْهَا الْحَصَی،وَلاٰ مَرَرْتَ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ

پھرامام نے پوچھا کہ کیا تم دونشانوں کے درمیان سے گذرے اور وہاں سے گذرنے سے پھلے دورکعت نماز اداکی اور پیدل مذدلفہ گئے اور وہاں کنکریاں چنیں اور مشعر الحرام سے گذرے؟شبلی:ھاں

امام نے فرمایا:جب دورکعت نماز اداکی تو کیا یہ نیت کی تھی کہ یہ نماز شب دھم کی نماز شکر ہے جو ہر سختی کو دور اور کاموں کو آسان کرتی ہے ؟ شبلی:نھیں

امام :جب تم دو نشانوں کے درمیان سے گذرے اور دائیں اور بائیں منحرف نھیںهوئے تو کیا یہ نیت کی تھی کہ دین حق سے دائیں اور بائیں نہ دل سے نہ زبان سے اور نہ اپنے اعضاء بدن سے منحرف نھیںهوئےہو؟شبلی:نھیں

امام :جب تم مذدلفہ گئے اور وہاں سنگریزے جمع کئے تو کیا یہ نیت کی تھی کہ ہر گناہ اور جھالت کو خود سے دور کیاھے اور ہر علم و نیک عمل کو اپنے آپ میں پائےدار کیا ہے؟شبلی:نھیں

امام :جب تم مشعر الحرام سے گذرے تو کیا یہ نیت کی تھی کہ اپنے دل کو اہل خدا کے تصور اور خدا کے خوف سے آراستہ کرو؟شبلی:نھیں

امام :پھر نہ تم دو پھاڑوں کے درمیان سے گذرےہو، نہ دورکعت نماز ادا کی ہے ،نہ مذدلفہ گئےہو ،نہ سنگریزے چنے ہیںاور نہ مشعر الحرام سے گذرےہو“۔

ثُمَّ قَالَ لَهُ:وَصَلَّتَ مِنٰی،وَرَمَیْتَ الْجَمْرَةَ، وَحَلَقْتَ رَاٴْسَکَ، وَذَبَحْتَ هَدْیَکَ،وَصَلَّیْتَ فِي مَسْجِدِ الْخَیْفِ،وَرَجَعْتَ إِلَی مَکَّةَ،وَطُفْتَ طَوَافَ الْإِفَاضَةِ؟قَالَ:نَعَمْ،قَالَ:فَنَوَیْتَ عِنْدَ مَا وصَلْتَ مِنًی وَرَمَیْتَ الْجِمَارَ،اٴَنَّکَ بَلَغْتَ إلَی مَطْلَبِکَ،وَقَدْ قَضَی رَبُّکَ لَکَ کُلَّ حَاجَتِکَ؟قَالَ:لاٰ، قَالَ:فَعِنْدَ مَا رَمَیْتَ الْجِمَارَنَوَیْتَ اٴَنَّکَ رَمَیْتَ عَدُوَّکَ إِبْلِیسَ وَغَضِبْتَهُ بِتَمَامِ حَجِّکَ النَّفِیسِ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا حَلَقْتَ رَاٴْسَکَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ تَطَهَّرْتَ مِنَ الْاٴَدْنَاسِ، وَمِنْ تَبِعَةِ بَنْی آدمَ،وَخَرَجْتَ مِنَ الذَّنُوبِ کَمَا وَلَدَتْکَ اٴُمُّکَ؟ قَالَ: لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا صَلِّیْتَ فِي مَسْجِدِ الْخَیْفِ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ لاٰ تَخَافُ إِلاَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ وَذَنْبَکَ،وَلاٰ تَرْجُو إِلاَّ رَحْمَةَ اللّٰهِ تَعَالیَ؟ قَالَ:لاٰ،قَالَ:فَعِنْدَ مَا ذَبَحْتَ هَدْیَکَ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ ذَبَحْتَ حَنْجَرَةَ الطَّمَع بِمَا تَمَسَّکْتَ بِهِ مِنْ حَقِِیقَةِالْوَرَعِ،وَاٴَنَّکَ اتَّبَعْتَ سُنَّةَ إِبرَاهِیمَ بِذَبْحِ وَلَدِهِ،وَثَمَرَةِ فُوٴَادِهِ وَرَیْحَانِ قَلْبِهِ،وَحاَجَّهُ سُنَّتُهُ لِمَنْ بَعْدَهُ، وَقَرَّبَهُ إِلَی اللّٰهِ تَعَالیٰ؟لِمَنْ خَلْفَهُ قَالَ:لاٰ، قَالَ: فَعِنْدَمَا رَجَعْتَ إِلَی مَکَّةَ وَطُفْتَ طَوَافَ الْإِ فَاضَةِ نَوَیْتَ اٴَنَّکَ اٴَفِضْتَ مِنْ رَحْمَةِ ۱ للّٰهِ تَعَالَی،وَرَجَعْتَ إِلَی طَاعَتِهِ وَتَمَسَّکْتَ بِوُدِّهِ وَاٴَدَّیْتَ فَرَائِضه،وَتَقَرَّبَتَ إِلَی اللّٰهِ تَعَالیٰ؟قَالَ:لاٰ،قَالَ: لَهُ زَیْنُ العابدینعليه‌السلام فَمَا وَصَلْتَ مِنًی وَلاٰرَمْیَتَ الْجِمَارَ،وَلاٰحَلَقْتَ رَاٴْسَکَ، وَلاٰ اٴَدَّیْتَ نُسُکَکَ،وَلاٰ صَلَّیْتَ فِي مَسْجِدِ الْخَیْفِ، وَلاٰ طُفْتَ طَوَافَ الْإِ فَاضَةِ،وَلاٰ تَقَرَّبْتَاْرجِعْ فَإِنَّکَ لَمْ تَحُجَّ

”پھر امامعليه‌السلام نے پوچھا کیا تم منیٰ پہنچے اور جمرہ کو کنکریاں ماری ،سر کے بال اتارے،اور اپنی قربانی انجام دی؟ نیز مسجد خیف میں نماز ادا کی ، اور مکہ واپس آکر ”طواف افاضہ انجام دیا “؟شبلی:ھاں

امامعليه‌السلام نے فرمایا:جب تم منیٰ پہنچے اور رمی جمرات انجام دی تو کیا یہ محسوس کیا کہ تمھاری تمنا پوریهو گئی اور خدا وند عالم نے تمھاری تمام حاجتیں پوری کردیں ؟شبلی:نھیں

امامعليه‌السلام :جب جمرات کو کنکریاں ماریں تو کیا یہ نیت تھی کہ اپنے دشمن ابلیس کو کنکری ماررہےہواور اپنے قیمتی حج کو مکمل کرنے کے ساتھ تم نے اسے غضب ناک کر دیا ہے؟شبلی:نھیں

امامعليه‌السلام :جب تم نے اپنے سر کے بال اتارے توکیایہ نیت کی تھی کہ بنی آدم کے گناہوں اور آلودگیوں سے پاکهو گئے اور اپنے گناہوں سے یوںباھر آگئے جیسے تمھیں تمھاری ماں نے ابھی پیدا کیا ہے؟ شبلی:نھیں

امامعليه‌السلام :جب تم نے مسجد خیف میں نماز ادا کی تو کیا تمھاری یہ نیت تھی کہ خدا ئے متعال اور گناہوں کے علاوہ کسی چیز سے نھیں ڈرتے اور خدا کی رحمت کے علاوہ کسی اور سے امیدوار نھیںهو؟شبلی:نھیں

امامعليه‌السلام :جب تم نے اپنی قربانی کو ذبح کیا تو کیا یہ نیت تھی کہ حقیقی تقویٰ وپرہیز گاری کے ذریعہ تم نے اپنی لالچ کا گلا کاٹ دیا ہے اور جناب ابراہیمعليه‌السلام کہ جنھوں نے اپنے میوہ دل اور لخت جگر بیٹے کو قربان گاہ میں لا کر خدا سے قرب حاصل کرنے کا ایک وسیلہ اپنے بعد کی نسلوں کے لئے سنت کے طور پر قائم کیا تھا،ان کی پیروی کر رہےہو؟ شبلی: نھیں

امامعليه‌السلام :جب تم مکہ واپسهوئے اور ”طواف افاضہ“ انجام دیاتو کیا یہ نیت کی تھی کہ خدا کی رحمت سے کوچ کر کے اس کی اطاعت کی طرف پلٹ رہےہو،اس کی محبت حاصل کر لی ہے الٰھی واجبات ادا کئےہیں اور خدا سے نزدیکهو گئےہو؟ شبلی: نھیں

امام :پھر نہ تم منیٰ پہنچے ،نہ شیطانوں کوسنگریزے مارے ہیں،نہ اپنے سر کے بال اتارے ہیں،نہ اپنے حج کے اعمال انجام دیئے ہیں،نہ مسجد خیف میںنماز ادا کی ہے،نہ طواف بجا لائےہواور نہ خدا کے قرب میں پہنچےہوواپس جاو کہ تم نے حج انجام نھیں دیا ہے ۔

فَطَفِقَ الشِّبْلِیُّ یَبْکِی عَلَی مَافَرَّطَهُ فِي حَجِّهِ،وَمٰا زَالَ یَتَعَلَّمُ حَتَّی حَجَّ مِنْ قَابِلٍ بِمَعْرِفَةٍ وَیَقینٍ ۔( ۹۳ )

”جنا ب شبلی اس با ت پر بُری طرح رونے لگے کہ جیسا حج کرناچاہئے تھا انجام نھیں دیا اور مناسک حج آگاھی کے ساتھ ادا نھیں کئے آپ اپنی حالت پر شدت سے غم زدہ تھے اور اس کے بعد سے حج کے اسرار ومعارف یاد کرنے میں مشغولهو ئے تاکہ اگلے سال پوری شناخت اور یقین کے ساتھ حج بجالائےں“ ۔

ختم قرآن

قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِعليه‌السلام :

تَسْبِیحَةٌ بِمَکَّةَ اٴَفْضَلُ مِنْ خَرَاجِ الْعِرَاقَیْنِ یُنْفَقُ فِي سَبِیلِ اللّٰهِ، وَقَالَ:مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ بِمَکَّةَ لَمْ یَمُتْ حَتَّی یَریٰ رَسُولَ اللّٰهِ وَیَریٰ مَنْزِلَهُ فِي الْجَنَّةِ( ۹۴ )

امام زین العابدینعليه‌السلام :نے فرمایا:

”مکہ میں سبحان اللہ کہنے کا ثواب عراق اور شام کے مالیات کو خدا کی راہ میں انفاق کرنے سے بہتر ہے، نیز فرمایا:جو شخص مکہ میں ایک قرآن ختم کرے وہ اپنی موت سے پھلے حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کر لیتا ہے اور جنت میں اپنی جگہ کا مشاھدہ کر لیتا ہے “َ

کعبہ سے وداع

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

إِذَا اٴَرَدْتَ اٴَنْ تَخْرُجَ مِنْ مَکَّةَ وَتَاٴْ تِيَ اٴَهْلَکَ فَوَدِّعِ الْبَیْتَ وَطُفْ بِالْبَیْتِ اٴُسْبُوعاً( ۹۵ )

معاویہ ابن عمار کہتے ہیں-کہ امام جعفر صادق ں نے فرمایا:

”جب تم مکہ سے نکل کر اپنے گھر والوں کی طرف واپس آنا چاہوتو کعبہ سے وداع کرو اور سات مرتبہ اس کے گرد طواف کرو“۔

قبولیت کی نشانی

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

آیَةُ قَبُولِ الْحَجِّ تَرْکُ مَا کَانَ عَلَیْهِ الْعَبْدُ مُقِیماً مِنَ الذُّنُوبِ( ۹۶ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”حج کے قبولیت کی نشانی یہ ہے کہ جو گناہ بندہ پھلے انجام دیتا تھا اسے ترک کردے “۔

حج کی نورانیت

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

الْحَاجُّ لاٰ یَزَالُ عَلَیْهِ نُورُ الْحَجِّ مَا لَمْ یُلِمَّ بِذَنْبٍ( ۹۷ )

امام جعفرصادقعليه‌السلام فرمایا:

”حج کرنے والا جب تک اپنے آپ کو گناہ سے آلودہ نہ کرے ، حج کا نورہمیشہ اس کے ساتھ رہتاھے“۔

دوبارہ آنے کی نیت

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

مَنْ اٴَرَادَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةَ فَلْیَوٴُمَّ هَذَا الْبَیْتَ،وَ مَنْ رَجَعَ مِنْ مَکَّةَ وَهُوَ یَنْوِي الْحَجَّ مِنْ قَابِلٍ زِیدَ فِي عُمُرِهِ( ۹۸ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جو شخص دنیا وآخرت چاھتا ہے وہ اس گھر کی طرف آنے کا قصد کرے اور جو شخص مکہ سے واپسهو اوریہ نیت رکھے کہ اگلے سال بھی حج سے مشرفهوگا تو اس کی عمر میںاضافہهوتا ہے ‘ ‘ ۔

حج کی تکمیل

قالَ الصادِقُعليه‌السلام :

”اِذاحَجَّ اَحَدُکُمْ فَلْیَخْتِمْ حَجَّهُ بِزِیارَتِنَا لِاٴَ نَّ ذٰلِکَ مِنْ تَمامِ الحَجِّ“( ۹۹ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام اسماعیل ابن مھران سے فرماتےہیں :

”جب بھی تم میں سے کوئی شخص حج انجام دے اسے چاہئے کہ اپنے حج کو ہماری زیارت پر تمام کرے کیونکہ یہ حج کے کاملهونے کی شرطوں میں سے ہے “۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

مَنْ حَجَّ فَزٰارَ قَبْری بَعْدَ مَوْتی کَانَ کَمَنْ زٰارَنی في حَیٰاتِی( ۱۰۰ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جس نے حج کیا اور میری موت کے بعد میری زیارت کی وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے میری زندگی میں میر ی زیارت کی ہے“۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ حج

”عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

إِنَّ زِیٰارَةَ قَبْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صلی الله علیه و آله و سلم تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ مَبْرُورَةً( ۱۰۱ )

امام محمد باقرعليه‌السلام فرماتےہیں :

”بلا شبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قبر کی زیارت (کاثواب) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کئے جانے والے ایک مقبول حج کے برابر ہے “۔

عاشقانہ زیارت

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

مَنْ جٰاءَ نی زٰائِراً لایَعْمَلُهُ حٰاجَةً اِلاّٰ زِیٰارَتی، کَانَ حَقّاً عَلَیَّ اَنْ اَکُونَ لَهُ شَفیعاً یَوْمَ الْقِیٰامَةِ( ۱۰۲ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

”جو شخص میری زیارت کو آئے اور میری زیارت کے علاوہ کوئی اور کا م نہ کرے تو مجھ پر یہ حق ہے کہ میں روز قیامت اس کی شفاعت کروں“ ۔

فرشتوعليه‌السلام کی ماموریت

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالیٰ لَیْ مَلَکَیْنِ یَرُدَّانِ السَّلاٰمَ عَلٰی مَنْ سَلَّمَ عَلَیَّ مِنْ شَرْقِ البِلاٰدِ وَغَرْبِهٰا،اِلاّٰ مَنْ سَلَّمَ :

عَلَیَّ فی دٰاری فَاِنّی اَرُدُّ عَلَیْهِ السَّلاٰمَ بِنَفْسی( ۱۰۳ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”خدا وند عالم نے میرے لئے دو فرشتے خلق فرمائےہیں کہ جو شخص بھی مشرق ومغرب میں مجھے سلام کرتا ہے اور مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ اس کا جواب دیتےہیں مگر جو شخص میرے گھر آتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے تو میں خودا س کے سلام کا جواب دیتاہو ں “۔

مسجد النبی میں نماز

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

صَلاٰةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰهِ عَشَرَةَ آلاٰ فِ صَلاٰةٍ فِيغَیْرِهِ مِنَ الْمَسَاجِدِإِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَإِنَّ الصَّلاٰةَ فِیهِ تَعْدِلُ مِائَةَ اٴَلْفِ صَلاٰةٍ( ۱۰۴ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”میری مسجد میں نماز دوسری مسجدوں میں پڑھی جانے والی دس ہزار نمازوں کے برابر ہے سوائے مسجد الحرام کے کہ

اس میں پڑھی جانے والے نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہے “۔

جنت کا باغ

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

مَا بَیْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّةِ،وَمِنْبَرِي عَلَی تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ( ۱۰۵ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”میری قبر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر جنت کے دریچوں میں سے ایک دریچہ کے اوپر ہے “۔

حضرت فاطمہعليه‌السلام پرسلام

یزید ابن عبد الملک نے اپنے باپ سے سنا کہ اس کے دادا کہتے تھے کہ میں حضرت فاطمہ زھراعليه‌السلام کی خدمت میں حاضرهواآپعليه‌السلام نے مجھے سلام کیا اور اس کے بعد دریافت کیاکہ تم کس لئے یھاں آئےہو؟میں نے عرض کی،برکت کی درخواست کرنے ۔

قَالَتْ:اٴَخْبَرَنِي اٴَبِي وَهُوَ ذَا هُوَ اٴَنَّهُ مَنْ سَلَّمَ عَلَیْهِ وَعَلَيَّ ثَلاٰثَهَ اٴَیَّامٍ اٴَوْجَبَ اللّٰهُ لَهُ الْجَنَّةَ

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے فرمایا:

”میرے بابا نے مجھے خبر دی ہے کہ :جوشخص انصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور مجھ پرتین روز سلام کرے خدا وند عالم اس پر جنت واجب کردیتا ہے “۔

قُلْتُ لَهَا:فِي حَیَاتِهِ وَحَیَاتِکِ قَالَتْ نَعَمْ وَ بَعْدَ مَوْتِنَا ۔( ۱۰۶ )

”میں نے حضرتعليه‌السلام سے پوچھا :ان کی اورآپعليه‌السلام کی حیات میں ؟ فرمایا: ہاں اور ہماری موت کے بعد بھی “۔

ائمہعليه‌السلام پر سلام

قََالَ اٴَبُو جَعْفَرٍعليه‌السلام ،وَنَظَرَ النَّاسَ فِي الطَّوَافِ قَالَ:

اٴُمِرُوا اٴَنْ یَطُوفُوا بِهَذَا ثُمَّ یَاٴْتُونَافَیُعَرِّفوُنَا مَوَدَّتَهُمْ ثُمَّ یَعْرِضُوا عَلَیْنَا نَصْرَهُمْ“( ۱۰۷ )

امام محمد باقرعليه‌السلام نے،اس وقت جب کہ آپ لوگوں کوطواف کرتےہوئے دیکھ رہے تھے فرمایا:

”ان کو حکم دیا گیا ہے کہ یھاں (کعبہ کے گرد)طواف کریں اور اس کے بعد ہمارے پاس آئیں اور اپنی دوستی اور محبت و نصرت ومدد کا ہم سے اظھارکریں اوراسے ہمارے سامنے پیش کریں “۔

شھیدوں پر سلام

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

إِنَّ فَاطِمَةَ علیها السلام کَانَتْ تَاٴْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ فِي کُلِّ غَدَاةِ سَبْتٍ فَتَاٴْتِي قَبْرَ حَمْزَةَ وَ تَتَرَحَّمُ عَلَیْهِ وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ( ۱۰۸ )

امام جعفرصادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا:ھر سنیچر کی صبح کوشھیدا کی قبروں پر آتیں پھر جناب حمزہ کی قبر پر آتی تھیں اور ان کے لئے رحمت وبخشش کی دعا کر تی تھیں “ ۔

ائمہعليه‌السلام کی زیارت

قَال الرضاعليه‌السلام :

إِنَّ لِکُلِّ اِمامٍ عَهْداً في عُنُقِ اَوْلِیائِهِ وَشِیعَتِهِ

وَاِنَّ مِنْ تَمامِ الوَفاءِ بالعَهْدِ وَحُسْنِ الاٴدءِ زِیارَةُ قُبُورِهِمْ فَمَنْ زارَهُم رَغْبَةً في زیارَتِهِمْ وَ تَصْدیقاً بِما رَغبوا فیهِ کانَ ا ٴَئِمَّتُهُم شُفَعائَهُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ( ۱۰۹ )

امام علی رضاعليه‌السلام نے فرمایا:

”ھر امامعليه‌السلام کاعھدان کے دوستوں اور چاہنے والوں کی گردن پر ہے کہ اس عھد کی مکمل وفا ان کی قبروں کی زیارت ہے پس جو شخص عشق و محبت کے ساتھ اور اس کی تصدیق کے ساتھ جس کی طرف وہ رغبت کرتےہیں ان کی قبروں کی زیارت کرے تو ان کے ائمہعليه‌السلام بھی قیامت میں اپنے ان زائروں کی شفاعت کریں گے “۔

مسجد قبا میں نماز

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلی الله علیه و آله و سلم :

الصَّلاٰةُ فی مَسْجِدِ قُبٰاءَ کَعُمْرَةٍ( ۱۱۰ )

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”مسجد قبامیں نماز پڑھنا ایک عمرہ انجام دینے کے مانند ہے “۔

دوسرے ممالک کے مسلمانوں سے سلو ک

زَیْدٌ الشَّحَّامُ عَنِ الصَّادِق عليه‌السلام ،اٴَنَّهُ قَالَ:”یَا زَیْدُ خَالِقُوا النَّاسَ بِاٴَخْلاٰقِهِمْ صَلُّوافِي مَسَاجِدِ هِمْ وَعُودُوا مَرْضَاهُمْ وَاشْهَدُوا جَنَائِزَ هُمْ وَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ اٴَنْ تَکُونُوا الْاٴَ ئِمَّةَ وَالمُوٴَذِّنِینَ فَافْعَلُوا فَإِنَّکُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ قَالُوا هَوٴُلاٰءِ الْجَعْفَرِیَّةُ رَحِمَ اللّٰهُ جَعْفَراً مَا کَانَ اٴَحْسَنَ مَا یُوٴَدِّبُ اٴَصْحَابَهُ وَإِذَا تَرَکْتُمْ ذٰلِکَ قَالُوا هَوٴُلاٰءِ الْجَعْفَرِیَّةُ فَعَلَ اللّٰهُ بِجَعْفَرٍ مَاکاَنَ اٴَسْوَاٴَ مَایُوٴَدِّبُ اٴَصْحَابَهُ ۔( ۱۱۱ )

”امام جعفر صادقعليه‌السلام نے زید شحّام سے فرمایا :اے زید!خود کو لوگوں کے اخلاق سے ہماہنگ کرو ،ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو،ان کی مسجد وں میں نماز اداکرو،ان کے پیماروں کی عیا دت کرو،ان کے جنازوں کی تشییع میں حاضرهو،اور اگربن سکو تو ان کے امام جماعت یا موذن بنو۔ کیونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ لوگ یہ کہیں گے کہ یہ لوگ جعفری(حضرت جعفر بن محمد علیھما السلام کی پیروی کرنے والے )ھیں خدا وند عالم جعفر (ره) پر رحمت نازل فرمائے اس نے ان لوگوں کی کیا اچھی تربیت کی ہے اور اگر ایسا نہ کروگے تو وہ لوگ کہیں گے کہ یہ جعفریہیں ،خداوند عالم جعفر (ره)کے ساتھ ایسا ویسا کرے اس نے اپنے ماننے والوں کی کیا بُری تربیت کی ہے!!“۔

حاجیوں کا استقبال

عَنْ اٴبِي عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام قَالَ:

”کَانَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِعليه‌السلام یَقُولُ:یَا مَعْشَرَ مَنْ لَمْ یَحُجَّ اسْتَبْشِرُوا بِالْحَاجِّ وَصَافِحُوهُمْ وَ عَظِّمُوهُمْ فَإِنَّ ذَلِکَ یَجِبُ عَلَیْکُمْ تُشَارِکُو هُمْ فِي الْاٴَجْرِ“( ۱۱۲ )

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

”حضرت علی بن الحسین علیھما السلام ہمیشہ فرماتے تھے اے لوگو!جو حج پر نھیں گئےہو حاجیوں کے استقبال کے لئے جاو، ان سے مصافحہ کرو،اور ان کا حترام کرو کہ یہ تم پر واجب ہے اس طرح تم ان کے ثواب میں شریکهوگے “۔

حاجیوں کے اہل خانہ کی مدد کا ثواب

قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِعليه‌السلام :مَنْ خَلَفَ حَاجّاً

فِی اٴَهْلِهِ وَمَالِهِ کاَنَ لَهُ کَاٴَجْرِهِ حَتَّی کَاٴَنَّهُ یَسْتَلِمُ الْاٴَحْجَارَ( ۱۱۳ )

امام زین العابدینعليه‌السلام نے فرمایا:

”جو شخص حاجی کی عدم موجودگی میں اس کے اہل خانہ اور اس کے مال کی دیکھ بھال کرے تو اس کا ثواب اسی حاجی کے ثواب کے مانند ہے یھاں تک کہ گویا اس نے کعبہ کے پتھروں کو بوسہ دیا ہے “۔

مبارک ہو

عَنْ یَحْیَی بْنَ یَسَارٍ قَالَ:حَجَجْنَا فَمَرَرْنَا بِاٴَبِی عَبْدِ اللّٰهِعليه‌السلام فَقَالَ:

”حَاجُّ بَیْتِ اللّٰهِ وَزُوَّارُ قَبْرِ نَبِیِّةِ صلی الله علیه و آله و سلم وَشِیعَةُ آلِ مُحَمَّدٍعليه‌السلام هَنِیئاً لَکُمْ( ۱۱۴ )

یحییٰ بن یسار کہتےہیں :

”ھم نے حج انجام دینے کے بعد امام جعفر صادقعليه‌السلام سے ملاقات کی، حضرت نے فرمایا:اللہ کے گھر کے حاجی قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زائر اور شیعہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (هونا تمھیں )مبارک ہو“۔

____________________

[۶۷] مستدرک الوسائل :۹/۳۷۶۔تاریخ بغداد:۵/۳۶۹۔

[۶۸] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۲۰۲/۲۱۳۸۔

[۶۹] مسند ابن حنبل:۵/۲۵۶/۱۵۴۲۳۔

[۷۰] سنن ابی داود :۲/۱۷۹/۱۸۸۔

[۷۱] کافی:۴,۴۲۸/۸۔

[۷۲] کافی:۴/۲۴۱/۱۔

[۷۳] تھذیب الاحکام :۵/۲۰/۵۷۔من لایحضرہ الفقیہ:۲/۲۰۲۔

[۷۴] تاریخ دمشق:۴۱/۳۸۰۔

[۷۵] کافی:۴/۵۴۵/۲۶۔

[۷۶] محاسن :۲/۳۹۹/۲۳۹۵،کافی:۶/۳۸۷۔

[۷۷] محاسن :۲۳۹۴۔

[۷۸] کافی:۴/۲۱۰/۱۴۔

[۷۹] الحج العمرة فی القرآن والحدیث:۱۰۷/۱۹۹۔

[۸۰] علل الشرائع:۴۰۰۔

[۸۱] مستدرک الوسائل :۹/۳۲۳۔تفسیر قمی:۱/۶۲۔

[۸۲] اخبار مکہ ارزقی:۱/۳۳۸۔

[۸۳] کافی:۴/۴۳۴/۳۔

[۸۴] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۲۰۸/۲۱۶۸۔

[۸۵] علل الشریع:۴۳۲۔وسائل الشیعہ:۱۳/۴۵۰

[۸۶] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۴۱۷/۲۸۵۴۔

[۸۷] مسنداحمد حنبل :۲/۶۹۲/۷۱۱۱۔

[۸۸] معجم الکبیر طبرانی:۱۱/۴۵/۱۱۰۲۱۔

[۸۹] کافی:۴/۲۶۲/۴۲۔

[۹۰] علل الشرایع:۱/۴۳۷۔کنز الفوائد :۲/۸۲۔

[۹۱] وسائل الشیعہ:۱۴/۱۶۶۔

[۹۲] تھذیب الاحکام :۵/۲۴۳/۸۲۳۔

[۹۳] مستدرک الوسائل :۱۰/۱۶۶۔

[۹۴] تھذیب الاحکام:۵/۴۶۸/۱۶۴۰۔

[۹۵] کافی:۴/۵۳۰/۱۔

[۹۶] مستدرک الوسائل:۱۰/۱۶۵۔

[۹۷] کافی:۴/۲۵۵/۱۱۔

[۹۸] من لایحضرہ الفقیہ:۲/۱۴۱/۶۴۔

[۹۹] علل الشرایع:۱/۴۵۹۔

[۱۰۰] معجم الاوسط طبرانی:۳/۳۵۱/۳۳۷۶۔

[۱۰۱] وسائل الشیعہ:۱۴/۳۳۵۔کامل الزیارات:۴۷۔

[۱۰۲] معجم الکبیر طبرانی:۱۲/۲۲۵/۱۳۱۴۹۔

[۱۰۳] کنز العمال:۱۲/۲۵۶/۳۴۹۲۹۔

[۱۰۴] کافی:۴/۵۵۶/۱۱ -،ثواب الاعما-ل۱/۵۰۔

[۱۰۵] کافی:۴/۵۵۴/۳۔

[۱۰۶] تھذیب الاحکام:۶/۹/۱۸۔

[۱۰۷] مستدر ک الوسائل :۱۰/۱۸۹۔

[۱۰۸] تھذیب الاحکام:۱/۴۶۵/۱۶۸۔

[۱۰۹] کافی:۴/۵۶۷۔

[۱۱۰] سنن ترمذی:۲/۴۵ا/۳۲۴۔

[۱۱۱] وافی:۲/۱۸۲ -، من لایحضرہ الفقیہ:۱/۳۸۳۔

[۱۱۲] کافی:۴/۲۶۴/۴۸۔

[۱۱۳] محاسن :۱/۱۴۷/۲۰۶، -وسائل الشیعہ :۱۱/۴۳۰۔

[۱۱۴] کافی:۴/۵۴۹۔


فہرست

پیش لفظ ۴

حج کا واجب ہونا ۶

حج کا فلسفہ ۶

دین کی تقویت کا سبب ۷

دلوں کا سکون ۷

حج ترک کرنے والا ۷

حج و کامیابی ۷

حج کی اھمیت ۸

حج کا حق ۸

خد اجوئی ۸

حج کا ثواب ۹

حج کی تاثیر ۹

حج میں نیت کی اھمیت ۹

نور میں واردهونا ۱۰

حق کے حضور حاضری ۱۰

خدا وند عالم کی میزبانی ۱۰

حج اور جھاد ۱۱

حج عمرہ سے بہتر ہے ۱۱

گناہ دُھل جاتےہیں ۱۱


دعا کی قبولیت ۱۲

دنیا بھی اور آخرت بھی ۱۲

آگاھی کے ساتھ حج ۱۳

شرط حضور ۱۳

حج کی برکتیں ۱۳

جو حج قبول نھیں ۱۴

مال حرام کے ذریعہ حج ۱۴

حاجی کا اخلاق ۱۴

کامیاب حج ۱۵

حج کی قسمیں ۱۵

حج کی دو قسمیں ہیں: ۱۵

حاجیوں کی قسمیں ۱۶

” حاجی تین قسم کےہوتےہیں : ۱۶

ناکام حاجی ۱۶

اپنے ہمراھیوں کے ساتھ سلوک ۱۶

راہ کی اذیت ۱۷

حج کی راہ میں موت ۱۷

حج میں انفاق کرنا ۱۷

احرام کا فلسفہ ۱۸

احرام کا ادب ۱۸


حقیقی لبیک ۱۸

حج کا نعرہ ۱۹

معرفت کے ساتھ واردهونا ۱۹

خدا کے غضب سے امان ۱۹

مکہ خدا و رسول کا حرم ۲۰

مسجد الحرام میں داخل ہونے کے آدا ب ۲۰

جنت کے محل ۲۰

حرمین میں نماز ۲۱

مکہ میں نماز جماعت ۲۱

اہل سنت کے ساتھ نماز ۲۱

کعبہ چوکور کیوں ہے؟ ۲۲

کعبہ کی طرف دیکھنا ۲۲

الٰھی لمحہ ۲۳

برکتوں کا نزول ۲۳

دین اور کعبہ کا ربط ۲۳

یہ عمل منع ہے ۲۳

کعبہ کا پردہ ۲۴

امام زمانہ عليه‌السلام کعبہ میں ۲۴

حجر اسود ۲۴

حجر اسود کو دور سے چومنا ۲۵


عدل کا ظہور ۲۵

حرم میں ایثار وفدا کاری ۲۵

جس بات سے روکا گیا ہے ۲۶

ھاتھ سے اشارہ ۲۶

خواتین کے لئے ۲۷

خدا کا فخر ۳۱

طواف اور رہائی ۳۱

زیادہ باتیں نہ کرو ۳۱

طواف کا فلسفہ ۳۱

عمل میں نیت کی تاثیر ۳۲

انسانی تھذیب کی رعایت ۳۲

نماز ،مقام ابراہیم عليه‌السلام کے نزدیک ۳۲

امام حسین عليه‌السلام مقام ابراہیم عليه‌السلام کے پاس ۳۳

ہمراہیوں کی مدد ۳۳

آب زمزم ہر درد کی دوا ۳۳

زمین کا بہترین پانی ۳۴

حجر اسماعیل ۳۴

حطیم ۳۴

ملتزم ۳۵

مستجار ۳۵


رکن یمانی ۳۵

سعی کی جگہ ۳۶

مقبول شفاعت ۳۶

ھرولہ ۳۶

صفا ومروہ کے درمیان بیٹھنا ۳۷

اہل عرفات پر فخر ۳۷

مشعر الحرام ۳۷

منیٰ ۳۷

شیطا ن کو کنکریاں مارنا ۳۸

قربانی ۳۸

مغفرت طلب کرنا ۳۸

حج کے اسرار ۳۹

ختم قرآن ۴۵

کعبہ سے وداع ۴۶

قبولیت کی نشانی ۴۶

حج کی نورانیت ۴۶

دوبارہ آنے کی نیت ۴۶

حج کی تکمیل ۴۷

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ۴۷

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ حج ۴۷


عاشقانہ زیارت ۴۸

فرشتو عليه‌السلام کی ماموریت ۴۸

مسجد النبی میں نماز ۴۸

جنت کا باغ ۴۹

حضرت فاطمہ عليه‌السلام پرسلام ۴۹

ائمہ عليه‌السلام پر سلام ۴۹

شھیدوں پر سلام ۵۰

ائمہ عليه‌السلام کی زیارت ۵۰

مسجد قبا میں نماز ۵۰

دوسرے ممالک کے مسلمانوں سے سلو ک ۵۱

حاجیوں کا استقبال ۵۱

حاجیوں کے اہل خانہ کی مدد کا ثواب ۵۲

مبارک ہو ۵۲