یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
امت کی رہبری
تالیف: آیة اللہ جعفر سبحانی
عرض ناشر
عالم اسلام کی موجودہ صورت حال ، مسلمان حکومتوں اور ملکوں کا باہم متحد نہ ہونا اسلامی اخوت و مساوات کا فقدان، اسلام اور اسلامی تعلیمات کے بجائے غیر اسلامی تعلیمات کی طرف رجحان اور الٰہی طاقت و قوت پر اعتماد کے بجائے ان کا غیر الٰہی اور کھوکھلی طاقتوں پر ایمان۔ نتیجہ میں استعماری طاقتوں اور عالمی صھیونزم کا ان پر تسلط مسلمانوں کا بے مھابا قتل عام اور ان کے طبیعی و زمینی ذخائر کی اندھا دہند لوٹ کھسوٹ اور ساتھ ہی کلمہ لا الہ الا الله پڑھنے والوں کی بے بسی و بیکسی ایک صائب اور صحیح فکر رکھنے والے مسلمان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
ھم چودہ سو سال سے آج تک متفرق کیوں ہیں ۔ مسلمانوں کے درمیان صدیوں سے اس فرقہ واریت کے اسباب کیا ہیں ، مسلمانون میں کلام الٰہی کی یہ عملی تصویر کیوں نظر نہیں آتی جس میں وہ ارشاد فرماتا ہے( اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمته اخواناً ) بلکہ مسلمان خود ایک دوسرے کے جانی دشمن کیوں بنے ہوئے ہیں کیا ہم عملاً کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات عالم انساںیت کی فلاح کےلئے بھترین تعلیمات ہیں ۔قرآن کے آئیڈیل مسلمان جو( اشداء علی الکفار رحماء بینهم ) کی عملی تصویر ہیں پوری اسلامی تاریخ میں انگلیوں پر گننے کے قابل کیوں ہیں۔
اس کا صاف جواب یہ ہے کہ ہمارے پاس آنحضرت کی رحلت کے بعد سے کوئی عملی قرآنی لیڈر شب نہیں رہی مسلمانوں نے ابتدا ہی سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد نہ قرآنی تعلیمات پر سنجیدگی سے عمل کیا اور نہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ارشادات پر کان دھرے اور خدا پسند مسلمان بننے کے بجائے خود پسند مسلمان بنے۔ قرآن کریم کے معلم اول حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بعد قرآن کے جن معلموں کو ” حدیث ثقلین“ کی روشنی میں ہمارے درمیان چھوڑ گئے تھے مسلمانوں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ میں محفوظ ہے اور کسی باہوش مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔
لھذا ان حالات کی روشنی میں آج بھی یہ بحث تازہ اور گرما گرم ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم جو خدا کی جانب سے بھیجے گئے تھے اور الٰہی تعلیمات اور قرآنی دستور العمل ہماری حیات کےلئے لئے آئے تھے۔ ان کی رحلت کے بعد کیا مسلمان تمام الٰہی تعلیمات اور قرآنی دستور حیات سے اتنے آگاہ ہوچکے تھے کہ انھیں پھر کسی الٰہی معلم قرآن کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی اور وہ اپنی مرضی سے الٰہی نظام حیات کو چلا سکتے تھے؟ دوسرے لفظوں میں کیا وہ خدا سے زیادہ اپنے حالات و معاملات سے آگاہ ہوگئے تھے؟
یا ” عدول“ کا لقب پانے والے آنحضرت کے اصحاب نے خدا ، قرآن اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دستورات کے خلاف خدا و رسول کی مرضی کے بجائے اپنی مرضی کو عملی جامہ پھنایا اور ” امت کی رہبری“ اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ انجام کار سامنے ہے کہ مسلمان آج چودہ سو برسوں سے ترقی کے بجائے زوال کی طرف مائل ہیں اور خدا کی جانب سے ” مغضوب“ اور ” ضالین“ شمار کی جانے والی قومیں ان پر غالب ہیں ۔
یہ کتاب ” امت کی رہبری“ جو آپ کے ہاتھوں میں ہیں اسی موضوع پر آیة اللہ شیخ جعفر سبحانی مد ظلہ کی ایک بھترین کاوش ہے جسے موجودہ افکار و خیالات کی روشنی میں نئے رخ سے پیش کیا گیا ہے امید ہے کہ خداوند عالم اس کے ذریعہ حق کے جویا افراد کی ہدایت فرمائے ۔
آمین یا رب العالمین
ناشر
******
مقدمہ
اس کتاب کی تحریر کامقصد
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد امت کی قیادت ورہبری کامسئلہ اسلام کے ان اہم مسائل میں سے ہے جس کی تحقیق ہر طرح کے تعصب وغرض و مرض سے دور پر سکون ماحول میں کی جانی چاہئے۔
سب سے پہلا مسئلہ جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد زبانوںپر آیا اور بحث کا موضوع بنا اور آج بھی اس پر بحث وتحقیق جاری ہے وہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد مسلمانوں کی سیاسی وسماجی قیادت ورہبری کا مسئلہ تھا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)ھر جھت سے مسلمانوں کے س رپرست ورہبر تھے ۔ قرآن کی متعدد آیتیں آنحضرت کی وسیع قیادت ورہبری کی گواہی دیتی ہیں جن میں سے بعض آیتیں ہم یہاں ذکر کرتے ہیں :
۱۔( اطیعواالله واطیعواالرسول واولی الامر منکم ) (۱)
اللہ ،رسول اور اپنے حاکموںکی اطاعت کرو
۲۔( النبی اولیٰ بالمومنین من انفسهم ) (۲)
پیغمبر مومنوں (کی جان ومال )پر ان سے زیادہ سزاوار ہے۔
اس وسیع وعریض قیادت ورہبری کاایک پہلو اسلامی سماج میں عدالت قائم کرنا ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلممدینہ میں اپنے قیام کے دوران خود یامدینہ سے باہر دوسروں کے ذریعہ سماج میں عدالت برقرار کرتے تھے ۔قرآن مسلمانوں کو حکم دیتاہے کہ اپنے معاملات اور اختلافات میں
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلوں کو بے چون وچرا تسلیم کریں:
( فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثم لایجدوا فی انفسهم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما ) (۳)
تمھارے پروردگار کی قسم وہ لوگ ہرگز مومن واقعی شمار نہیں ہوں گے جب تک وہ اپنے اختلاف میں تمھیں حَکَم اور قاضی قرار نہ دیں اوراس پر ذرا بھی ملول نہ ہوں اور تمھارے فیصلہ پر مکمل تسلیم ہوں
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکی سماجی رہبری کاایک پہلو اسلام کے مالی واقتصادی امور کاادارہ کرناہے کہ ٓانحضرت اپنی حیات میں ان کاموںکوانجام دیتے تھے۔قرآن مجید نے ان الفاظ میں آپ کوخطاب کیاہے:
( خذ من اموالهم صدقة تطهرهم وتزکیهم بها ) ( ۴)
ان کے اموال میں سے زکوات لو اور اس طرح انھیں پاک کرو۔
دوسری آیات میں زکات اور ٹیکس کی مقدار اور ان کے مصارف کا بھی پوری باریکی کے ساتھ ذکر کیا گیاہے۔
ان آیات کے معانی،ان کی وضاحت کرنے والی روایات اور خود آنحضرت کاطرز عمل یہ بتاتاہے کہ آنحضرت مسلمانوں کے سرپرست ،سماج کے حاکم ،اور ملت وامت کے فرمانروا تھے۔اور جو سماج کامطلق العنان حاکم انجام دیتا ہے وہ انجام دیتے تھے ۔ فرق یہ تھا کہ یہ سرپرستی اور حکومت لطف الٰہی کی شکل میں خدا کی طرف سے آپ کو عطا ہوئی تھی۔لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس منصب کے لئے منتخب نہیں کیاتھا۔نقطہ حساس یہ ہے کہ ہم یہ جانیںکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکی رحلت کے بعد امت کی باگڈور اور سرپرستی کس کے ذمہ ہے اور اسلامی سماج کی اجتماعی وسیاسی قیادت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہئے جو سماج کو ہرج ومرج ،فساد اور پسماندگی سے محفوظ رکھے؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلام جیسے عالمی وجاودانی دستور میں اس امر کو فراموش نہیں کیاگیا ہے اور اس کے لئے ایک بنیادی منصوبہ پیش کیاہے اور وہ ہے ”اولی الامر“کی پیروی واطاعت جو ہم پر واجب کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں کوئی بحث نہیں ہے۔پس یہاں جو نکتھ قابل بحث ہے یہ ہے کہ جن حکام کی اطاعت واجب کی گئی ہے مسلمان ان کی شخصیت کو پہچانیں تاکہ خوب اطاعت کریں۔
مسلمانوںکا ایک گروہ یہ کھتاہے کہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خداوند عالم کے حکم سے اسلامی سماج کے سیاسی واجتماعی امور کو ادارہ کرنے کے لئے اپنے بعد حاکم ےا حکام معین کئے ہیں ۔اس گروہ کے مقابل ایک دوسرا گروہ ہے جو یہ کھتا ہے کہ خداوند عالم نے لوگوں کو یہ اختیار دیاہے کہ
پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعداپنے لئے حکام کاانتخاب کریں۔شیعہ پہلے نظریہ کے اوراہل سنت دوسرے نظریہ کے طرفدار ہیں۔
اگر مسلمانوں کی امامت وپیشوائی کامسئلہ اسی حد میں ہو کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم(کی رحلت کے بعد اسلام کے اس سیاسی واجتماعی منصب پر کون فائز ہوا،اس شخص کی تعیین کس شکل میں ہوئی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس منصب پر کسی کو معین کیا یاکوئی شخص عوام کی جانب سے اس منصب کے لئے منتخب ہوا ،تو یہ بحث صرف ایک تاریخی پہلو کی حامل ہوگی اور چودہ صدیوں کے بعد آج کی نسل کے لئے کوئی خاص سازگار اور مفید نہیں ہوگی۔(اگر چہ ان افراد کی شناخت بھی اس عھد کے لوگوں کے لئے ضروری اور اہم شمار ہوتی تھی)لیکن اگر بحث کی شکل تبدیل ہو اور یہ کھا جائے کہ بحث کا موضوع پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد اسلامی سماج کی صرف سیاسی و اجتماعی قیادت ہی نہیں ہے بلکہ پیغمبر اکر م (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اس منصب کے علاوہ ”دین کے اصول و فروع میں بھی مرجعیت ورہبری کا منصب رکھتے تھے ۔تو اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد اس پہلو کی قیادت کس کے ذمہ ہے؟ اور کیسے اشخاص کو حلال و حرام اور امر و نھی کا منصب دار ہونا چاہئے تا کہ اسلامی حقائق کے سلسلہ میں ان کے اقوال اور نظریات صبح قیامت تک انسانوں کے لئے حجت ہوں؟اس صورت میں امام کی شناخت اور دینی امامت و پیشوائی کے سلسلہ میں بحث ہر مسلمان کی زندگی کا حصہ قرار پاتی ہے اور کوئی شخص بھی اس معرفت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ۔اب اس مطلب کی و ضاحت پر توجہ دیں:
اسلامی معارف و احکام میں قیادت و مرجعیت:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی قیادت و رہبری صرف سیاسی و سماجی امور میں نہیں تھی بلکہ آپ قرآنی آیات کے مطابق اس الٰہی کتاب کے معلم ۱ ، قرآن کے مشکل مطالب کی تبیین و وضاحت کرنے والے ۲ ،اور الٰہی احکام و سنن کو بیان کرنے والے تھے ۳ ۔اس اعتبار
۱۔( یعلمهم الکتاب والحکمة ) (۵)
۲۔( و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما انزل الیهم ) (۶)
۳۔( وما آتاکم الرسول فخذوه و مانهاکم عنه فانتهوا ) (حشر/۷)(۷)
سے پورے اسلامی معاشرہ کا اس پر اتفاق ہے اور قرآنی نصوص بھی گواہی دیتی ہیں کہ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات اور بندوں کے فرائض میں آنحضرت کا قول و عمل لوگوں کے لئے سند اور حجت ہے۔
اس کتاب کے چوتھے حصہ میںواضح طور سے بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے ساتھ لوگوں کی تعلیم و تربیت کی ضرورت پوری نہیں ہوئی تھی اور ابھی اسلام کی علمی و عملی تحریک اپنے کمال کو نہیں پھنچی تھی کہ پھر سماج کو معصوم رہبروں کی ضرورت نہ رہے۔لھٰذا ضروری ہے کہ رسول خدا کی رحلت کے بعد کوئی شخص یا جماعت اسلام کے احکام اور اس کے علمی ،فکری وتربیتی اصول کی رہبری و مرجعیت کا عھدہ اس روز تک سنبھالے جب تک اسلام کا یہ انقلاب پوری طرح سے بارور ہوجائے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس منصب و مقام کے لئے کون سے افراد شائستہ ہیں تا کہ اسلامی معاشرہ ہر عھد اور ہر زمانہ میں ان کے افکار و کردار و گفتار سے فائدہ اٹھائے۔اور ان کی ہدایات و رہنمائی میں حلال خدا کو حرام سے اور واجبات کو محرمات سے تشخیص دے سکے ۔نتیجہ میں اپنے دینی فرائض پر عمل کرسکے ۔اس گروہ کی شناخت اور ان کی تعلیمات و ہدایات سے آگاہی حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے۔ اس کتاب میں اسی بات کی کوشش کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرم کے شائستہ اور سچے جانشینوں کا تعارف کرایا جاسکے۔
ظاہر ہے کہ (پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد امت کی رہبری )کی بحث کو پیش کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ موجودہ حساس حالات میں مذہبی اختلافات کو بھڑ کایا جائے یا تعصب آمیز اور بے ثمر و غیر مفید بحث کو جاری رکھا جائے۔ کیونکہ ان حساس اور نازک حالات میں نہ صرف حالات کو پھیلنے سے روکا جانا ضروری ہے بلکہ انھیں کم سے کم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے اور در حقیقت انسان کی عمر اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کہ تعصب آمیز بحث چھیڑی جائے اور اپنی اور دوسروں کی عمر تباہ کی جائے۔بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہر طرح کے تعصب و کینہ سے دور رہ کر ایک اہم اور اساسی مسئلہ کو واضح کرنے کے لئے حقائق کی بنیاد پر اس کی محققانہ اور منطقی تحقیق کی جائے۔تا کہ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے درمیان مزید قربت اور تفاہم پیدا ہو اور وہ زھر افشانیاں ختم ہوجائیں جو ہمارے دانا دشمن اور نادان دوست اس سلسلہ میں کیا کرتے ہیں۔امت کی رہبری سے مربوط بحثوں میں دو بنیادی اصل ہمارے پیش نظر ہیں :
۱۔پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی جانشینی جیسے اہم مسئلہ میں حقائق و واقعیات کو پہچانا جائے۔
۲۔مسلمانوں کے درمیان مفاہمت اور قربت پیدا کرنے میں مدد کی جائے اور ان عوامل و اسباب کو بر طرف کیا جائے جو سوء ظن کا باعث ہوتے ہیں اور جن سے دشمن فائدہ اٹھا کر ہم میں اختلاف پیدا کرتا ہے۔
اس کتاب کے مطالب چند برس پہلے تھران میں یونیورسٹی کے طلبہ کے لئے (حسینیہ بنی فاطمہ(ۡع)) میں درس کے طور پر بیان کے گئے تھے جو کافی حد تک لوگوں کو مکتب اہل بیت(ۡع)سے آشنا کرنے اور آنحضرت کے شائستہ جانشینوں کی معرفت کا باعث ہوئے تھے۔جنھیں شائقین کے اصرار پر کتابی شکل میں شائع کیا جارہاہے یہ کتاب اس بحث کا پہلا حصہ ہے جو ۲۴چوبیس فصلوں پر مشتمل ہے ۔انشاءاللہ دوسرا حصہ بھی جلد شائع ہوگا۔
وماتوفیقی الا بالله علیه توکلت والیه انیب
جعفر سبحانی
حوزہ علمیہ قم المقدسہ
اسلامی جمھوریہ ایران
پہلی فصل
امام کی شناخت کا فلسفہ
مسلمانوں کا اتحاد و یکجھتی ایک ایسی واضح چیز ہے جس کی ضرورت سے کسی بھی عقلمند کو انکار نہیں ہے،کیونکہ جو لوگ ایک کتاب کی پیروی کرتے ہیں اور اساسی و اصولی مسائل پراتفاق رائے رکھتے ہیں وہ مختلف فرقوں ،گروہوں دشمن جماعتوں کی شکل میں کیوں رہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں ہوں؟اگر ماضی میں لوگوں کے اکثر طبقوں کو اس اتحاد کی ضرورت کا احساس نہیں تھا تو آج جب کہ استعماری طاقتیں اسلامی ممالک کے قلب پرحملہ آور ہیں اور ہر روز آگے بڑھتی نظر آتی ہیں ایسے میں ہر عاقل و ہوشیار شخص کو اتحاد کی ضرورت کا بھر پور احساس ہے۔
کون غیرت مند مسلمان ہوگا جو فلسطین،بوسنیہ ،کشمیر ،چچنیہ اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں مسلمانوں کی ناقابل بیان حالت کو دیکھے اور خون کے آنسو نہ روئے اور اس بے حسی اور پراکندگی پر گریہ نہ کرے؟!/ span >
مسلمان ، دنیا کی ایک چوتھائی جمعیت کو تشکیل دیتے ہیں۔اورانسانی طاقت ،زمینی ذخائر اور اصیل اسلامی ثقافت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے زیادہ غنی جمعیت ہیں ۔ ایسی مادی اور معنوی طاقتوں سے سرشار مسلمان سیاست کے میدان میں سب سے زیادہ باوزن ہوسکتے ہیں اور دنیا کی سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی قیادت و رہبری اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں اور استعمار نیز اسلامی اتحاد کے مخالفوں کی بنائی ہوئی بہت سی جغرافیائی حدوں کو نادیدہ قرار دے کر مسلمانوں کی باہمی ضرورتیں پوری کرسکتے ہیں نیز اقتصادی و ثقافتی مبادلات کے ذریعہ اپنے حالات بہتر بنا سکتے ہیں ۔اس طرح اپنی سیادت و سرداری دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن اتحاد کی اس اہمیت کو مد نظر رکھنے کے با وجود امام کی شناخت و معرفت کے موضوع کو اسلامی اتحاد کی راہ کا کا نٹا نہیں سمجھنا چاہئے اور اسے اس اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہئے ،جس کی ضرورت کو سبھی محسوس کرتے ہیں ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض سادہ لوح یا فریب خوردہ جوان اسلامی اتحاد کو حضرت عثمان کا کرتہ بنا کر طالبان حقیقت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ابوبکر و علی(ع) کی خلافت کی بحث اور یہ کہ صحیح جانشین کون ہے ایک غیر مفید اور بے ثمر بحث ہے۔اس لئے کہ زمانہ کا پہیا اب پیچھے نہیں گھومے گا اور ہم پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حقیقی جانشین کو زندہ نہیں کر پائیں گے کہ اسے اس کا حق دلائیں اور مسند خلافت پر بٹھائیں اور مخالف کی تنبیہ اور اس کا مواخذہ کریں پس بہتر ہے کہ یہ فائل ہمیشہ کے لئے بند کر دی جائے اور اس کے بجائے کوئی دوسری گفتگو کی جائے!
اس خیال کے حامل افراد اس بحث کے درخشان نتائج سے غافل ہیں لھٰذا انھوں نے اسے غیر اہم ،بے فائدہ اور اسلامی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ تصور کیا ہے ، لیکن ہمارے خیال سے یہ فکر امام شناسی کے فلسفہ سے غفلت اور لا علمی کے علاوہ اور کچہ نہیں ہے کیوں کہ اگر اس بحث کا مقصد جھوٹے دعویداروں کے درمیان صرف پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے حقیقی جانشین کا پہچاننا ہو تو اس صورت میں ممکن ہے کہ اس طرح کی بحثوں کو غیر مفید و بے ثمر کہیں اور افراطیوں کی طرح جو ہر طرح کی علمی ومنطقی بحث کو اسلامی اتحاد کے خلاف سمجھتے ہیں ہم بھی اسے اتحاد کی راہ کا کانٹا سمجھیں ۔اس لئے کہ اب کیا فائدہ ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد حق کو ناحق سے تشخیص دینے کی کوشش کی جائے اور غاصب کے خلاف ایک غائبانہ حکم صادر کیا جائے جس کی کوئی عملی ضمانت نہیں ہے۔
لیکن یہ اعتراض اس وقت بیجا ہے جب ہم علمائے اہل سنت کی طرح اسلامی امامت و خلافت کو ایک طرح کا عرفی منصب جانیں جس کا فریضہ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنا،دفاعی طاقتوں کو مظبوط کرنا، عدل و انصاف کو رواج دنیا، حدود الٰہی کو قائم کرنا اور مظلوموں کو ان کا حق دلانا وغیرہ ہو ،کیونکہ اس صورت میں اس قسم کی بحثوں کی نوعیت یہ ہو گی کہ ہم بیٹہ کر یہ بحث کریں کہ پندرہویں صدی عیسوی میں برطانیہ پر کس شخص کی حکومت تھی یا لوئی پنجم کے بعد تخت حکومت پر بیٹھنے کا حق کس کو تھا؟!
لیکن شیعی نقطہ نظر سے جو امامت کو رسالت کا سلسلہ اورنبوت کے فیض معنوی کا تتمہ سمجھتے ہیں، اس طرح کی بحث لازمی وضروری ہے کیونکہ اس صورت میں امام کے فرائض صرف مذکورہ بالا امور میں ہی خلاصہ نہیں ہوتے ہیں۔بلکہ ان تمام امور کے علاوہ امام ،حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد احکام الٰہی کو بیان کرنے والا،قرآن کی مشکل آیات کا مفسر اور حرام و حلال کو بتانے والا بھی ہے ۔اس صور ت میں یہ سوال پیش آتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد مسلمانوں کو احکام الٰہی کی تعلیم دینے اور حرام و حلال بتانے والا کو ن ہے تا کہ پیش آنے والے نئے مسائل میں قرآن کی نص اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی کوئی معتبر حدیث موجود نہ ہونے کی صورت میں مسلمان اس کی طرف رجوع کریں اور اس کا قول ان موارد میں حجت قرار پائے۔(۱)
اصولا اسلامی امت قرآن کے مشکلات اور اختلافی مسائل میں کہ جن کی تعداد محدود بھی نہیں ہے آخر کس صاحب منصب کی طرف رجوع کریں اور کس کے قول و عمل کو اپنی زندگی کے لئے حجت اور چراغ راہ قرار دیں؟(۲)
یہی وہ منزل ہے جہاں ہم رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے علمی جانشین کے بارے میں بحث کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور یہاں یہ مسئلہ مکمل طور سے زندہ صورت اختیار کرلیتا ہے کیونکہ اس نظریہ کی روشنی میں امام ،الٰہی معارف اور اصول و احکام میں امت کا رہنما ہوتا ہے اور جب تک یہ منصب قطعی دلائل کے ذریعہ پہچانا نہ جائے صحیح نتیجہ تک نہیں پہنچاجاسکتا ۔
اگر مسلمان تمام اصو ل و فروع میں اتفاق و اتحاد رکھتے تو امامت کے سلسلہ میں بحث اس قدرضروری نہ ہوتی ،لیکن افسوس کہ ان کے یہاں کم ہی مسائل میں اتحاد پایاجاتا ہے ۔اب ہم جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے چودہ سو سال بعد وجود میں آئے ہیں،ہمارا وظیفہ کیا ہے ؟آیا اس زمانہ میں پیدا ہونے والے مسائل ، مشکلاتِ قرآن اور اختلافی مسائل میں کسی نہ کسی صحابی کی رائے منجملہ (ابوحنیفہ یا شافعی) کی طرف رجوع کریں یا حضرت علی ں اوران کی گرانقدراولاد کی طرف رجوع کریں جن کے لئے شیعوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی فضیلت ،عصمت،طہارت، وسیع و عمیق علم اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی جانب سے ان کے منصب امامت پر فائز کئے جانے کے سلسلہ میں عقلی و نقلی دلیلیں موجود ہیں؟
اس سوال کا جواب اسی ”امام شناسی“ کے موضوع اور ولایت کی بحث میں ملے گا جس میں تحقیق ،انسان کو مذکورہ بالا مشکلات میں حیرت و سرگردانی سے نجات دے دیگی۔حتی اگر ہم مسئلہ خلافت کو بھی چھوڑ دیں اور پیغمبر اکر م (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بعد مسلمانوں کی سرپرستی و حاکمیت جو حقیقت میںایک معصوم کا حصہ ہے، سے چشم پوشی کرلیں تو صرف اسی مسئلہ کی تحقیق کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد مسلمانوں کا دینی و علمی مرجع و راہنما کون ہے،بھت سی جھات سے بڑی اہمیت رکھتا ہے اور مسلمانوںکی مکمل سعادت و خوشبختی بھی اس سے وابستہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ جو باتیں ہم بعد میں وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے یہاں بہت اختصار کے ساتھ ذکر کردیں:
اگر ہم اس وقت خلافت و حاکمیت کے مسئلہ سے صرف نظر کردیں تو پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی مکرر تصریحات و تاکیدات کی روشنی میں آپ کی رحلت کے بعد مسلمانوں کے پاس قرآن کے علاوہ صرف ایک دینی و علمی مرجع و ملجاہے اور وہ پیغمبر اکر م (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اہل بیت علیھم السلام ہیں،کیونکہ آنحضرت نے مختلف موقعوں پر کتاب و عترت کے اٹوٹ رشتہ کو صراحت کے ساتھ بیان کیاہے :
”یا ایها الناس انی یوشک ان ادعی فاجیب و انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی کتاب الله حبل ممدود من السماء الی الارض و عترتی اهل بیتی و ان اللطیف اخبرنی انهما لن یفترقا “
”اے لوگو!میں عنقریب خدا کی دعوت پر لبیک کھنے والا ہوں۔میں تمھارے درمیان دو گرانقدر اور سنگین امانتیں چھوڑے جارہاہوں ۔ ایک اللہ کی کتا ب اور دوسری میری عترت ہے ۔اللہ کی کتاب وحی الٰہی اور ریسمان نجات ہے جو آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی ہے اور میری عترت اور اہل بیت(ۡع)۔ خدائے لطیف نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوںگے “
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے ان دونوںحجتوں کی باہم ملاذمت کو دینے آخری حج کے روز عرفہ یا غدیر کے دن منبر سے یا اپنی بیماری کے دوران بستر پر لیٹے ہوئے جب کہ آپ کا حجرہ اصحاب سے بھرا ہوا تھا صراحت سے بیان کیا اور آخر میں فرمایا ہے کہ:
”هذا علی مع القرآن و القرآن مع علی لایفترقان “(۳)
یہ علی(ۡع)ہمیشہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی(ۡع) کے ہمراہ ہے۔یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔
حدیث ثقلین کے مدارک اور حوالے ایک دو نہیں ہیں جن کو یہاں ذکر کردیا جائے ۔اس حدیث کے مدارک علامہ میر حامد حسین ہندی نے اپنی گرانقدر کتاب ”عبقات الانوار“ کی بارہویں جلد میں بیان کئے ہیں اور یہ کتا ب ہندوستان میں چھپ چکی ہے اور چند سال پہلے چہ جلدوں میں اصفھان میں بھی دوبارہ چھپی ہے،اور دار التقریب مصر سے بھی اس سلسلہ میں ایک کتاب چھپ چکی ہے جس کی بنیاد پر جامعہ الازھر کے سر براہ شیخ شلتوت نے چار مذاہب کی پیروی کے انحصار کو توڑا اور فتوا دیا کہ فقہ امامیہ کی پیروی بھی صحیح اور مجزی ہے۔شیخ شلتوت سے پوچھا گیا کہ بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنی عبادات اور معاملات صحیح کرنے کے لئے چار مشھور مذاہب (حنفی،مالکی،شافعی،حنبلی) کی تقلید کرے کہ شیعہ اثنا عشری اور زیدی مذہب ان میں سے نہیں ہیں،کیا جناب عالی بھی اس کلی نظریہ سے اتفاق رکھتے ہیں اور اثنا عشری مذہب کی تقلید و پیروی کو منع فرماتے ہیں ؟ تو انھوں نے جواب میں کھا:
۱۔ اسلام نے اپنے کسی پیروکار پر یہ واجب نہیں کیا ہے کہ (فرعی احکام میں) کسی معین مذہب کی پیروی کرے۔ھم کہتے ہیں کہ ہر مسلمان کو یہ حق ہے کہ ہر اس مذہب کی پیروی کرے جو صحیح مدارک کے مطابق ہم تک نقل ہواہے اور اس کے احکام کو مخصوص کتابوں میں تدوین کیا گیاہے ۔اسی طرح جن لوگوں نے کسی ایک مذہب کی پیروی کی ہے --- چاہے وہ جوبھی مذہب ہو --- وہ دوسرے مذہب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۲۔جعفری مذہب ،مشھور اثنا عشری امامیہ مذہب ہے اور ان مذہبوں میں سے ہے کہ اہل سنت کے تمام مذہبوں کی طرح اس کی بھی تقلید کی جاسکتی ہے ۔
لھذا بہتر ہے کہ تمام مسلمان اس حقیقت سے آگاہ ہوں اور کسی خاص مذہب سے تعصب کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ اللہ کا دین اور اس کا قانون کسی خاص مذہب کے تابع اور کسی معین و مخصوص مذہب میں منحصر نہیں ہے۔(اسلامی مذاہب کے پیشوا) سب مجتھدین اور خداوند عالم کے نزدیک مقبول ہیں اور جو لوگ اہل نظر اور صاحب اجتھادنھیں ہیں ان کے لئے جائز ہے کہ ان حضرات کی تقلید کریں اور جو کچہ انھوں نے فقہ میں مقرر کیا ہے اس پر عمل کریں۔اس سلسلہ میں عبادات و معاملات میں کوئی فرق نہیں ہے ۔(۴)
____________________
۱و۲۔ان مطالب کی تفصیل دوسرے حصہ میں ملاحظہ فرمائیں۔
(۳)۔الصواعق المحرقھ،ابن حجر ،فصل دوم ۔باب نھم ،حدیث ۴۱ص/۵۷
(۴)۔رسالة الاسلام،طبع مصر ،شمارہ سوم،گیارہواںسال
دوسری فصل
امامت کے سلسلہ میں دو نظر یئے
خلافت ،علمائے اہل سنت کی نظر میں ،ایک ایسا اجتماعی و سماجی عھدہ و منصب ہے جس کے لئے اس سے مخصوص مقاصد کی لیاقت و شائستگی کے علاوہ کوئی اور شرط نہیں ہے۔جب کہ شیعی نقطہ نظر سے امامت ایک الٰہی منصب ہے جس کا تعین خدا کی طرف سے ضروری ہے اور وہ بہت سے حالات اور ذمہ داریوںمیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے برابر و یکساں ہے۔
لھٰذا امامت کی حقیقت کے سلسلے میں علماء کے یہاں دو نظر یئے پائے جاتے ہیں ایک نظریہ اہل سنت کے علماء کا ہے اور دوسرا شیعہ علماء کا نظریہ ہے :
الف۔ علمائے اہل سنت کا نظریہ -:
علمائے اہل سنت کی عقائد و کلام کی کتابیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ امامت ان کی نظرمیں وسیع پیمانہ پر مسلمانوں کے دینی و دنیوی امور کی سر پرستی ہے اور خود ”امام “اور ان کی اصطلاح میں ”خلیفھ“ وہ شخص ہے جو پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد اس منصب کا ذمہ دار ہے اور مسلمانوں کے دینی و دنیاوی امور سے مربوط ہر گرہ اسی کے ذریعہ کھلتی ہے۔
یہ علماء ،امامت کی یوں تعریف کرتے ہیں :
”الامامة رئاسة عامة فی امور الدین و الدنیا خلافة عن النبی ( ص ) “(۵)
اہل سنت کے نظر یہ کے مطابق یہ عظیم دینی و اجتماعی عھدہ و منصب ایک سماجی بخشش ہے جو لوگوں کی طرف سے خلیفہ کو عطا ہوئی ہے اور خلیفہ انتخاب کے ذریعہ اس مرتبہ پر فائز ہوا ہے ۔ خلیفہ کی ذمہ داریوںکا دائرہ بھی مذکورہ تعریف میں پورے طور سے مشخص کر دیا گیا ہے۔
الف:۔دینی امور کی سرپرستی : اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے دینی مشکلات خلیفہ کے ہاتھوں حل ہوتے ہیں مثلا پوری دنیا میں جھاد کے ذریعہ اسلام کی توسیع ایک دینی امر ہے جس کا عھدہ دار امام کو ہونا چاہئے ۔
ب: ۔ دنیاوی امور کی سرپرستی : امام و خلیفہ کو چاہئے کہ طاقت کے ذریعہ عمومی امن و امان قائم کرے اور لوگوں کے اموال ان کی ناموس اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے۔
اس تعریف اورخلیفہ کے سپرد کی گئی ذمہ داریوں پر غور کرنے سے ایک حقیقت سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ امام یا خلیفہ ان کے نقطہ نظر سے ایک فرعی اور ایک سماجی حاکم ہے جو ملکی قوانین کا اجراء کرنے عمومی امن و امان قائم کرنے اور سماجی عدل وانصاف برقرار کرنے کے لئے منتخب ہوا ہے اور اس طرح کی حاکمیت کے لئے لیاقت و شائستگی کے علاوہ کسی اور چیز کی شرط نہیں ہے (نہ اسلامی احکام کے کلی و وسیع علم کی ضرورت ہے اور نہ سھو وخطا سے معصوم ہونے کی ضرورت ہے)
دوسرے لفظوں میں کوئی بھی معاشرہ چاہے جتنا بھی گناہ اور فسادسے پاک ہو پھر بھی برائی پورے طور سے اس سے دور نہیں ہوتی اور کہیں نہ کہیں گوشہ و کنار میں ایسے شر یر افراد ضرور نظر آتے ہیں جو جوا وشراب کی طرف ہاتھ بڑھاتے نظر آتے ہیں یا لوگوں کے عمومی اموال و جائداد پر زبردستی ڈاکاڈالتے ہیں اور ان پر قابض ہو جاتے ہیں یا لوگوں کی عزت و ناموس پر حملے کی فکر میں رہتے ہیں۔
اس لئے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد ایک ایسے شائستہ و لائق شخص کی ضرورت ہے جو گناہ گاروں اور فسادیوں کی الٰہی قانون کی روشنی میں تنبیہ کرکے اس طرح کی برائیوں اور آلودگیوں کو روکے ۔یہ اور اسی طرح کے امور وہ ہیں جو انسان کی دنیا سے مربوط ہیں، جن کی سرپرستی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد امام کے حوالے کی گئی ہے۔
مذکورہ امور کے مقابل کچہ دوسرے امور بھی ہیں جو دنیا میں اسلام کی ترقی اور پھیلاؤ سے مربوط ہیں اور جن کا تعلق انسان کے دین سے ہے ۔ مثلاً امام کا ایک فریضہ یہ ہے کہ اسلحوں سے لیس ایک منظم اور مضبوط فوج تیار کرے جو نہ صرف اسلامی سرحدوں کو ہر طرح کے باہری حملوں سے محفوظ رکھے بلکہ اگر ممکن ہو تو جھاد کے ذریعہ توحید کا پیغام پوری دنیا میں پھیلاسکے۔
اب یہاں آپ یہ کہیں گے کہ پھر لوگ اپنے حرام و حلال اور دینی و علمی مسائل کس سے دریافت کریں گے، اور اس عھدہ کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ تو اس کے جواب میں علمائے اہل سنت کہیں گے کہ اصحاب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)جنھوں نے آنحضرت سے حرام و حلال کے احکام سیکھے ہیں اس طرح کے مسائل میں امت کے مرجع ہیں ۔
اگر امام کی ذمہ داری ان ہی امور کی دیکہ بھال میں منحصر ہو ،جنھیں ہم نے اہل سنت کی زبانی نقل کیاہے ، تو ظاہر ہے کہ ایسے امام کے لئے صرف تھوڑی سی لیاقت و شائستگی کے علاوہ کسی بھی اخلاقی فضیلت اور انسانی کمال کی ضرورت نہیں ہے ، چہ جائیکہ اس کے بارے میں وسیع علم اور خطا و گناہ سے بچانے والی عصمت کی شرط رکھی جائے۔
افسوس کہ امام کا معنوی و روحانی مرتبہ و منصب اہل سنت کی نظر میں رفتھ رفتھ اس قدر گر گیا کہ قاضی باقلانی جیسا شخص پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے جانشین کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتاہے کہ خلیفہ و امام پست ترین اخلاقی خصلتوں کی غلاظت اور اپنے کالے سیاسی کارناموں کے باوجود امت کی قیادت و رہبری کے منصب پر باقی رہ سکتا ہے !وہ کھتا ہے :
”لا یخلع الامام بفسقه و ظلمه بغصب الاموال و تناول النفوس المحترمة و تضییع الحقوق و تعطیل الحدود “ ( ۶)
یعنی امام اپنے فسق وفجور اور ظلم کے ذریعہ ،لوگوں کے اموال غصب کرکے ، محترم افراد کو قتل کرکے ،حقوق کو ضائع کرکے اور الٰہی حدود و قوانین کو معطل کرکے بھی اپنے منصب سے معزول نہیں ہوتا بلکہ یہ امت پر ہے کہ اس کی برائیوں کو درست کریں اور اس کی و ہدایت کریں!
اور ہمیں مزید تعجب نہ ہوگا اگر ہم محقق تفتازانی جیسے عالم کو خلیفہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بارہ میں ایسے خیالات کا اظھار کرتے ہوئے دیکھیں،وہ لکھتے ہیں:
یہ ہرگز ضروری نہیں کہ امام لغزش اور گناہ سے پاک ہو یاامت کی سب سے اعلیٰ فرد شمار ہو۔ امام کی نافرمانی اور الٰہی احکام سے اس کی جھالت منصب خلافت سے اس کی معزولی کا سبب ہرگز نہیں ہوسکتی(۷)
خلیفہ اسلام کے بارے میں اس طرح کے فیصلوں اور نظریوں کی بنیاد یہ ہے کہ ان لوگوں نے امام کو ایک عرفی اور انتخابی حاکم سمجہ لیا ہے ۔کیونکہ ایک عرفی حاکم کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ نظام کو چلانے اور معاشرہ میں آرام و سکون برقرار کرنے کی لازمی صلاحیت رکھتا ہو اور فسادیوں کو کنٹرول کرسکے ۔خود اس کا گناہ سے آلودہ ہونا یا اس کی غلطیاںاس منصب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں جس کے لئے وہ منتخب ہواہے ۔
ب۔ شیعہ علماء کا نظریہ :
مذکورہ بالا نظریہ کے مقابل ایک دوسرا نظریہ بھی ہے جس پر شیعہ علماء تکیہ کرتے ہیں ۔یہ نظریہ کھتاہے کہ :امامت ایک طرح کی الٰہی ولایت ہے جو خداوند عالم کی جانب سے بندہ کو دی جاتی ہے۔ واضح الفاظ میں یوں کہیں کہ : امامت ،نبوت کی طرح ایک انتصابی منصب ہے اور اس کا عھدہ دار خود خدا کی طرف سے ،معین و منصوب ہوتا ہے ۔
اس بنیاد پر امام رسالت ہی کا سلسلہ ہے فرق یہ ہے کہ پیغمبر شریعت کی بنیاد رکھنے والا اورآسمانی پیام لانے والاہے اور امام شریعت کو بیان کرنے والا اور اس کا محافظ و نگھبان ہے ۔امام ، نزول وحی کے علاوہ تمام مراتب میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے برابر اور قدم بقدم ہے اور وہ تمام شرائط جوپیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے ضروری و لازم قرار دیے گئے ہیں (مثلاً اسلام کے معارف،اس کے اصول و فروع اور احکام کا علم اور ہر طرح کی خطاو گناہ سے اس کا محفوظ ہونا) بعینہ امام کے لئے بھی لازم و ضروری ہیں۔
یہ نظریہ رکھنے والے معتقد ہیں کھ: صحیح ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)لوگوں کے لئے مکمل دستور حیات لائے اور انھوں نے اسلامی تعلیمات اور دین حق کے تمام کلیات لوگوں کے حوالے کردئیے لیکن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی حیات کے بعد کوئی تو ایسا شخص ہونا چاہئے جو ان کلیات سے جزئی احکام کو استنباط کرے اورنکالے اور یہ کام علم (اور وہ بھی وسیع اور خدا داد علم )کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
صحیح ہے کہ اسلام کے تمام احکام کی تشریح پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے زمانہ میں ہوئی ہے اور یہ احکام وحی الٰہی کے ذریعہ انھیں بتائے گئے ہیں۔لیکن مساعدحالات نہ ہونے یا روزانہ پیش آنے والے نئے مسائل کے حل کے لئے احکام کا بیان امام کے ذمہ بھی کیا گیا ہے ،اور اس منصب کا سنبھالنا اللہ سے وابستہ اور مستند علم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اسی لئے شیعوں کا اعتقاد ہے کہ امام کو شریعت کے تمام امور سے واقف و آگاہ ہونا چاہئے۔ ( ۸)
لیکن امام معصوم کیوںھو؟تو جواب یہ ہے کہ شیعہ امام کو امت کا معلم و مربی جانتے ہیں اور تربیت سب سے زیادہ عملی پہلو رکھتی ہے اور مربی کے عمل کے ذریعہ انجام پانی چاہئے۔اگر مربی خود قانون توڑنے والا اور حدود کو پہچاننے والا نہ ہوتو لوگوںپر مثبت اثر کیسے ڈال سکے گا؟لھٰذا یہ نظریہ کھتا ہے کہ امت کے لئے ایسے شخص کی شناخت وسیع و خداداد علم اور ہمہ جھت عصمت کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور امام کو خدا کی جانب سے منصوب ہونا چاہئے۔
یہ دو نظریے ہیں جو ان دونوں گروہوں کے علماء کے ذریعہ بیان ہوئے ہیں۔اب ہم دیکھیں کہ ان میں سے کون سا نظریہ صحیح و استوا ر نیز قرآنی آیات اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی معتبر حدیث سے سازگار ہے ۔
____________________
(۵) شرح تجرید ،علاء الدین قوشجی ص/۴۷۲۔ اس کے علاوہ اور بھی تعریفیں علماء اہل سنت نے بیان کی ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر ہم ان سے گریز کرتے ہیں۔
(۶)التمھید ص/۱۸۶
(۷)شرح مقاصد ،ج/۲،ص/۲۷۱
(۸)چونکہ شیعہ علماء اہل سنت کے نظریہ کے برخلاف ،امامت کو ایک الٰہی منصب سمجھتے ہیں لھذا وہ امامت کی یوں تعریف کرتے ہیں ”الامامة رئاسة عامة الٰھیة فی امور الدین و الدنیا و خلافة عن النبی “امامت لوگوں کے دینی و دنیاوی امور میں ایک عام الٰہی سرپرستی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے جانشینی ہے۔
تیسری فصل
شیعہ نظریہ کی صحت کی دلیلیں
عقلی اور نقلی دلائل گواہی دیتے ہیں کہ امامت کا منصب نبوت کے مانند ایک الٰہی منصب ہے اور امام کو خدا کی جانب سے معین ہونا چاہئے اور جو شرائط پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے لئے (وحی اور بانی شریعت ہونے کے علاوہ ) معتبر ہیں وہ امام میں ہونے چاہئے۔
اب ہم دلائل کا جائزہ لیتے ہیں:
پیش آنے والے نئے مسائل :
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنی حیات طیبہ میں اسلام کے اصول و فروع کے تمام کلیات بیان کردئیے تھے اور اسلام اسی طریقہ سے خود پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے ہاتھوں تکمیل پایا۔لیکن کیا یہ اصول و کلیات امت کی علمی ضرورتوں کو پورا کرنے والی کسی مرکزی علمی شخصیت کے بغیر کافی ہیں؟یہ طے شدہ بات ہے کہ کافی نہیں ہیں۔بلکہ آنحضرت کے بعد ایسے معصوم پیشواوں کی ضرورت ہے جو اپنے وسیع و بے پایان عظیم علم کے ذریعہ کلیات قرآن و اصول اورسنت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی روشنی میں پیش آنے والے مختلف مسائل میں امت کی علمی ضرورت کی تکمیل کریں۔خصوصاً ایسے مسائل میں جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں پیش نہیں آئے تھے اور نہ حضرت کے زمانہ میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنی بعثت کے بعد رسالت کے تیرہ سال مکہ میں بت برستوں کے خلاف جدو جھد میںبسر کئے۔اور اس عرصہ میں حالات اور ماحول سازگار نہ ہونے کی وجہ سے آپ الٰہی شریعت کے احکام بیان کرتے ہیں کامیاب نہ ہوئے بلکہ آپ نے اپنی پوری توجہ اسلامی اصول و مبدا اور معاد یعنی توحید و قیامت کے سلسلہ میں لوگوں کا ذہن ہموار کرنے میں صرف کی،اور چونکہ حرام و حلال اور الٰہی فرائض و سنن بیان کرنے کے حالات نھیںتھے،لھٰذا آپ نے احکام کے اس حصہ کو بعد کے لئے اٹھار کھا۔
جب آنحضرت مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے سامنے مسائل ومشکلات کا ایک لشکر تھا۔ مدینہ میں آپ کی زندگی دس سال سے زیادہ نہ رہی لیکن آپ نے اسی مدت میں ستائیس مرتبہ خود بت پرستوں نیز مدینہ اور خیبر کے یھودیوں کے خلاف جنگوں میں شرکت فرمائی ۔دوسری طرف منافقوں کی ساز شوں نیز اہل کتاب سے مناظرہ و مجادلہ میں بھی آپ کا بڑا قیمتی وقت صرف ہوا۔
یہ حادثات و واقعات سبب بنے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنی رسالت کے دوران زیادہ تر اسلام کے فروع و احکام کے کلیات بیان کریں اور ان کلیات سے دوسرے احکام کے استنباط و استخراج کا کام دوسرے شخص کے حوالے کیا جائے۔
اگر قرآن یہ فرماتا ہے کہ( الیوم اکملت لکم دینکم ) (۹) تو اس سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور اسلام کی اس وقت کی حالت و کیفیت کو دیکھتے ہوئے آیت کے نزول یعنی دس ہجری کے وقت مراد یہ ہے کہ توحید و قیامت سے متعلق معارف و عقائد اور فروع و احکام کے تمام اصول و کلیات آیت کے نزول کے وقت خو د پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے ہاتھوں تکمیل ہوگئے اور اس اعتبار سے دین کے ارکان میں کوئی نقص باقی نہیں رہا اور یہی کلیات صبح قیامت تک امت کوپیش آنے والے مسائل کا حل تلاش کرنے میں بنیاد و اساس کا کام کریں گے۔
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ کون سا شخص ان اصول و کلیات کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی تمام ضرورتوں اور مسائل کا جواب دے سکتا ہے۔احکام سے متعلق قرآن میں ذکر شدہ آیات اور پیغمبر اکرم کی محدود احادیث کے ذریعہ صبح قیامت تک پیش آنے والے بے شمار مسائل کا حل اور احکام کا استنباط کرنا بہت ہی دشوار اور پیچیدہ کام ہے جو عام افراد کے بس کا نہیں ہے ۔کیونکہ قرآن مجید میں فقھی و شرعی احکام سے متعلق آیات کی تعداد تین سو سے زیادہ نہیں ہے۔اسی طرح سے حلال و حرام اور فرائض سے متعلق آنحضرت کی احادیث کی تعداد چارسو سے زیادہ نہیں ہے اور ایک عام انسان اپنے محدود علم کے ذریعہ ان محدود مدارک سے مسلمانوں کے روز افزوں مسائل و مشکلات کا حل نکال نہیں سکتا ۔بلکہ اس کے لئے ایک ایسے لائق اور شائستہ شخص کی ضرورت ہے جو اپنے الٰہی اور غیبی علم کے ذریعہ ان محدود دلائل سے الٰہی احکام نکال کر امت کے حوالے کرسکتا ہو۔
ساتھ ہی ساتھ ایساشخص اپنے اس وسیع و لا محدو دعلم کی وجہ سے گناہ و خطا سے محفوظ بھی ہونا چاہئے تاکہ لوگ اس پر اعتماد کرسکیں اور ایسے شخص کو خدا کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا لھٰذا وہی اسے معین بھی فرمائے گا۔
تکمیل دین کی دوسری نوعیت
یہاں ایک دوسری بات بھی کھی جاسکتی ہے ،اور وہ یہ ہے کہ آیت اکمال جو اسلام کی تکمیل سے متعلق ہے اسلام کی بقا دوام کو بیان کررہی ہے ۔کیونکہ یہ آیت کریمہ اسلامی محدثین کی متعدد و متواتر روایات کے مطابق غدیر کے دن حضرت علی ںکی ولایت و خلافت کے اعلان کے بعد نازل ہوئی ہے ۔اب رہی فرائض و محرمات اور دوسرے احکام سے متعلق تکمیل دین کی بات تو یہ اس آیت کے مقصد سے باہر کی چیز ہے ۔اس حصہ میں اسلام کے مسلمات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کھا جانا چاہئے کہ اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد وحی الٰہی کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور اب کوئی امین وحی کسی اسلامی حکم کو لےکر نہیں آئے گا ،بلکہ انسان کو صبح قیامت تک جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ سب جبرئیل امین رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس لا چکے ۔دوسری طرف ہم دیکھتے ہیںکہ دنیا کے تمام ہونے تک اسلامی معاشرہ کو پیش آنے والے مسائل کا حکم بیان کرنے کے لئے فقھی دلائل ہمارے پاس کافی نہیں ہیں بلکہ بہت سے احکام قرآن و حدیث میں بیان ہی نہیں کئے گئے ہیں۔
ان دو باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کھنے پر مجبور ہیں کہ تمام الٰہی احکام خود پیغمبر اکرم کے زمانہ میں آچکے تھے اور آپ کو ان کی تعلیم دی جا چکی تھی ۔اب چوں کہ رسالت کی مدت بہت ہی مختصر تھی،ساتھ ہی ہر روز کے مسائل اور دشواریاں ،نتیجہ میں آپ ان تمام احکام کی تبلیغ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے لھٰذا آپ نے وہ تمام تعلیمات الٰہی اور جو کچہ بھی آپ نے وحی کے ذریعہ الٰہی احکام اور اسلامی اصول و فروع کی شکل میں حاصل کیا تھا سب کچہ اپنے اس وصی و جانشین کے حوالے کردیا اور اسے سکھا دیا ،جو خود آنحضرت کی طرح خطا و غلطی سے بری اور محفوظ تھا ۔تاکہ وہ آپ کے بعد یہ تعلیمات اور احکام رفتھ رفتھ امت کو بتائے ۔ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی شناخت جو اس قدر وسیع علم رکھتا ہو اور ہر طرح کی خطا و لغزش سے پاک ہو صرف پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے تعارف اور اللہ کی جانب سے نصب و تعیین کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔امت انتخابات کے ذریعہ ایسے کسی شخص کو نہیں پہچان سکتی۔
یہ بھی عرض کردوں کہ ہم جو یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)جو کچہ امت سے بیان نہ کرسکے وہ انھوں نے اپنے وصی و جانشین کو تعلیم دے دیا تو اس سے مراد وہ معمولی تعلیم نہیں ہے جو ایک شاگرد اپنے استاد سے چند پرسوں میں حاصل کرتا ہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)ایک شخص کو اس طرح کی تربیت دینے کے بجائے ایک گروہ یا بہت سے لوگوں کی تعلیم و تربیت فرماتے ۔جب کہ یہ تعلیم ایک غیر معمولی تعلیم تھی جس میں آنحضرت نے اپنے وصی کی روح و قلب پر تصرف فرما کر تھوڑی ہی دیر میں اسلام کے تمام حقائق و تعلیمات سے انھیں آگاہ کر دیا اور کوئی چیز پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے جانشین سے مخفی و پوشیدہ نہیں رہ گئی ۔
آخر میں یہ یاد دھانی بھی کرادوں کہ جب اسلام دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلا تو مسلمان نئے نئے حالات سے دو چار ہوئے جن سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے عھد میں سابقہ نہیں پڑا تھا اور آنحضرت نے ان نئے حالات اور حادثات کے سلسلہ میں کوئی بات نہیں بتائی تھی۔
قرآن وحدیث کے اصول وکلیات سے اس طرح کے نئے حالات و مسائل کا حکم کشف کرنا اور نکالنا بہت ہی پیچیدہ اور اختلاف انگیز ہے ۔اس سلسلہ میں تکمیل شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ خاندان وحی سے وابستہ کوئی فرد ان نئے مسائل کا حکم قرآن و حدیث سے استنباط کرے یا ان کا حکم اس وہبی علم کے ذریعہ بیان کرے جو آنحضرت نے اس کے حوالے کیا ہے۔
اہل سنت معاشرہ کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ احکام سے متعلق قرآن کریم کی محدود آیات اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی چار سو حدیثوں سے ہی اسلام کے تمام احکام کا استنباط و استخراج کرنا چاہتے ہیں لیکن جونکہ بہت سے مواقع پر ناتوانی کا احساس کرتے ہیں اور مذکورہ بالا دلیلوں کو کافی نہیں پاتے لھٰذا قیاس و استحسان جن کی کوئی محکم اساس و بنیاد نہیں ہے ،کا سھارا لے کر امت کی ضرورتوں کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ خود جانتے ہیں کہ ایک مورد کا دوسرے مورد پر قیاس یا فقھی استحسان کے ذریعہ کسی مسئلہ کا حکم بیان کرنا کوئی صحیح بنیاد نہیں رکھتا ۔لیکن اگر امت میں کوئی ایسا شائستہ ولائق شخص ہو جو اپنے وسیع علم کے ساتھ اس قسم کے مسائل کا حکم ایک خاص طریقہ سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے حاصل کرکے امت کے حوالے کرے اور گمان و شک پر عمل کی اس بے سرو سامانی کا خاتمہ کردے تو یہ روش شریعت کی تکمیل اور لوگوں کے حقیقت تک پھچنے کی راہ میں زیادہ موثر ثابت ہوگی ۔
پھر بھی گنتی کے چند نادر موارد میں قیاس و استحسان کی ضرورت پیش آئی تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان جزئی موارد میں اسلام نے آسانی کے لئے ان پر عمل کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ لیکن اگر شریعت کے پورے پیکر کو ظن و گمان پر استوار کریں اور ایسے قوانین دنیا کے حوالے کریں جن کی بنیاد حدس و گمان اور استحسان اور ایک مورد کا دوسرے مورد پر قیاس ہو تو ایسی صورت میں ہم نے ایسے اسلامی احکام اور اسلام کا ایسا حقوقی و جزائی مکتب فکر اور اخلاقی نظام دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس کی اساس و بنیاد ہی ناہموار اور پھس پھسی ہے کیا ایسی صورت میں ہم یہ توقع رکہ سکتے ہیں کہ دنیا کے لوگ ایسے اسلام کے حقوقی و جزائی احکام پر عمل کریں گے جس کے بیشتر احکام وحی الھٰی سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتے۔
خلفاء امت کی لا علمی
تاریخ اسلامی امت کے حکام و خلفاء کی اسلامی اصول و فروع سے لا علمی کے بہت سے واقعات اپنے دامن میںلئے ہوئے ہے۔علمی محاسبات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ امت کے درمیان ایک عالم وآگاہ امام و پیشوا کا وجود ضروری ہے جو اسلامی احکام کا محافظ اور ان کا خزانہ دار ہو اور مستقل الٰہی تعلیمات کولوگوں تک پہنچاتارہے۔ھم یہاں پر خلفا کی لاعلمی اور اسلام کے بنیادی احکام سے ان کی جھالت کے چند نمونے پیش کرتے ہیں:
۱۔حضرت عمر نے اصحاب کے مجمع میںایک شوہر دار حاملہ عورت کو جو زنا کی مرتکب ہوئی تھی سنگسار کرنے کا حکم دیا لیکن آخر کار حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی راہنمائی کے ذریعہ یہ حکم تبدیل کیا گیا۔کیونکہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ماں نے گناہ کیا ہے تو وہ قصور وار ہے لیکن بچہ نے کیا قصور کیا ہے جو ابھی اس کے رحم میں ہے؟
۲۔خلیفہ نے ایک ایسے شادی شدہ شوہرکو جس کی بیوی دوسرے شھر میں رہتی تھی زنا کے جرم میں سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔جبکہ ایسے شخص کے لئے جس کی بیوی اس سے دور ہو اللہ کا حکم سو تازیانہ (کوڑے) کی سزاہے ،سنگسار نہیں ہے ۔چنانچہ یہ حکم بھی حضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ تبدیل کیا گیا۔
۳۔پانچ بدکار مردوں کو خلیفہ کے پاس لایا گیا اور گواہی دی گئی کہ یہ لوگ زنا کے مرتکب ہوئے ہیں ۔خلیفہ نے حکم دیا کے سب کو ایک طرف سے سو سو کوڑے لگائے جائیں۔امام علی علیہ السلام اس جگہ موجود تھے آپ نے فرمایا:ان میں سے ہر ایک کی سزا جدا جدا ہے۔ایک کافر ذمی ہے،اس نے اپنے شرائط پر عمل نہیں کیاہے۔وہ قتل کیاجائے گا۔دوسرا شادی شدہ مرد ہے جسے سنگسار کیا جائے گا ۔ تیسرا جوان آزاد ہے اور غیر شادی شدہ ہے، اسے سو کوڑے لگائے جائیںگے ۔ چوتھا غیر شادی شدہ غلام ہے ،اسے آزادکی آدھی سزا یعنی پچاس کوڑے لگائے جائیں گے، اور پانچواںشخص دیوانہ ہے، اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
۴۔حضرت ابوبکر کے زمانہ میں ایک مسلمان نے شراب پی لی تھی لیکن اس کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ ایسے لوگوں میں زندگی بسر کرتا رہا ہے جو سب کے سب شراب پیتے تھے اور وہ نہیں جانتا تھا کہ اسلام میں شراب پینا حرام ہے ۔ خلیفہ اور ان کے وزیر حضرت عمر نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور اس مشکل کو حل کرنے میں ناکام رہے آخرکار مجبور ہوکر انھوںنے حضرت علی علیہ السلام سے رجوع کیا۔ آپ(ۡع)نے فرمایا: اس شخص کو مھاجرین و انصار کے مجمع میں پھراواگر ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی یہ کہہ دیا کہ اس نے تحریم شراب کی آیت اسے سنائی ہے تو اس پر حجت تمام ہے اور اس پر حد جاری ہوگی ورنہ اسے معذور سمجہ کر چھوڑ دیا جائے گا۔
۵۔ایک شادی شدہ عورت کو زنا کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور اسے سنگسار کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔امام علی علیہ السلام نے فرمایا:اس عورت سے مزید تحقیق کی جائے،شاید اس کے پاس اس جرم کا کوئی عذر موجود ہو۔عورت کو دوبارہ عدالت میںپیش کیا گیا۔اس نے اس جرم کے ارتکاب کی وجہ یوں بیان کی کہ میں اپنے شوہر کے اونٹوں کو چرا نے صحرا لے گئی تھی ۔ اس بیابان میں مجہ پر پیاس کا غلبہ ہوا میں نے وہاں موجود شخص سے بہت منت سماجت کی اور اس سے پانی مانگا لیکن وہ ہر بار یہ کھتا تھا کہ تم میرے آگے تسلیم ہوجاوتو میں تمھیں پانی دوںگا۔جب میں نے محسوس کیا کہ پیاس سے مرجاوںگی تو میں مجبوراًاس کی شیطانی ہوس کے آگے تسلیم ہوگئی۔
اس وقت حضرت علی ںنے تکبیر بلند کی اور فرمایا:”اللہ اکبر فمن الضطر غیر باغ و لا عاد فلا اثم علیہ “یعنی اگر کوئی اضطرار اور مجبوری کی حالت میں کوئی غلط کام کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
اس طرح کے واقعات خلفاء کی تاریخ میں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان پر ایک مستقل کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔ ان تمام حوادث کا حکم بیان کرنے کا ذمہ دار کون ہے ۔اس طرح کے حوادث
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں پیش نھیںآئے تھے کہ امت ان کاحکم مرکز وحی یعنی خود آنحضرت سے حاصل کرلیتی۔ پھر آنحضرت کی رحلت کے بعد اس قسم کے احکام بیان کرنے والا اور الٰہی احکام کا محافظ و خزانہ دار کسے ہونا چاہئے ۔کیا یہ کھنا درست ہوگا کہ خداوند عالم نے ایسے حالات میں امت کو خود اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور اپنے معنوی فیضان کو امت سے دورکرلیا ہے ۔چاہے امت کی نادانی و جھالت کی وجہ سے لوگوں کی ناموس خطرے میں پڑجائے اور احکام حق کی جگہ باطل احکام لے لیں۔(۱۰)
____________________
(۹)مائدہ /۳ ۔ یعنی آج میں نے تمھارا دین مکمل کردیا
(۱۰)اسلام کے فروعی احکام سے متعلق امت کے حکام اور خلفاء کی لاعلمی کی ان رودادوں کی وضاحت کی ہمیں ضرورت نہیں ہے ان قضیوں کی تشریح تاریخ حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے۔علامہ امینی نے اپنی گرانقدر کتاب ”الغدیر“ کی چھٹی،ساتویں،اور آٹھویں جلد میں خلفاء کی عملی لیاقت کے سلسلہ میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔شائقین مزید معلومات کے لئے اس کتاب کی طرف رجوع کریں۔
چوتھی فصل
پیغمبر امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں
اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ امت کی رہبری کا مسئلہ مسلمان معاشرہ کے لئے اساسی اور حیاتی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ اسی مسئلہ پر اختلاف پیدا ہوا اور اس نے امت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان گھرا اختلاف پیدا کردیا ۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے تمام چیزوں کے بارے میں واجب، مستحب ،حرام و مکروہ سے متعلق تو ساری باتیں بیان فرمائیں لیکن امت کی قیادت و رہبری اور حاکم کے خصوصیات سے متعلق کوئی بات کیوں بیان نہیں کی؟ کیا انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اتنے اہم موضوع پر کوئی توجہ نہ دی ہوگی بلکہ خاموشی اختیار کی ہوگی اور امت کو بیدار نہ کیا ہوگا؟!
علمائے اہل سنت فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے قیادت وامامت کے طریقہ کے سلسلہ میں نفیاًو اثباتاً کوئی بات نہیں بیان کی اور یہ واضح نہیں کیا کہ قیادت و رہبری کا مسئلہ انتخابی ہے یا تعیینی ہے۔
سچ مچ کیا عقل باور کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اس انتھائی اہم اور حیاتی مسئلہ پر خاموشی اختیار کی ہوگی اور قضیہ کے ان دونوں پہلوں سے متعلق کوئی اشارہ نہ کیا ہوگا؟
عقل کے فیصلہ سے آگے بڑہ کر تاریخ اسلام کا جائزہ بھی اس نظریہ کے خلاف گواہی دیتا ہے ۔اور یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے مختلف موقعوں پر یہ یاد دھانی کی ہے کہ میرے بعد امت کی قیادت و رہبری کا مسئلہ خدا سے مربوط ہے اور وہ اس سلسلہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔یہاں ہم تاریخ اسلام سے چند نمونے پیش کرتے ہیں :
جب مشرکوں کے ایک قبیلہ کے سردار ”اخنس“ نے اس شرط پر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی حمایت کا اظھارکیا کہ اپنے کے بعد امت کی قیادت و سرپرستی آپ ہمارے حوالے کر جائیں گے تو پیغمبر اسلام نے اسے جواب دیا کھ” الا مر الیٰ اللہ یضعہ حیث یشاء “یعنی امت کی قیادت کا مسئلہ خدا سے مربوط ہے وہ جسے بہتر سمجھے اس امر کے لئے منتخب کرے گا ۔قبیلہ کا سردار یہ بات سن کر مایوس ہو گیا اور اس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے جواب میں کھلایا کہ یہ بات بالکل درست نہیں ہے کہ رنج و زحمت میں اٹھاؤں اور قیادت و رہبری کسی اور کو ملے!(۱۱)
تاریخ اسلام میں یہ واقعہ بھی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے ”یمامھ“ کے حاکم کو خط لکہ کر اسے اسلام کی دعوت دی اس نے بھی ”اخنس “ کے مانند آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے آپ کی جانشینی کا تقاضا کیا تو آنحضرت نے اسے انکار میں جواب دیتے ہوئے فرمایا:”لا ولاکرامة “ یعنی یہ کام عزت نفس اور روح کی بلندی سے بعید ہے۔(۱۲)
امت کی قیادت و رہبری کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس کی اہمیت کو صرف ہم ہی نے محسوس نہیں کیا ہے بلکہ صدر اسلام میں بھی یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کی نظر میں بڑی اہمیت رکھتا تھا ۔ مثلا جس وقت خلیفہ دوم ،ابو لو لو کی ضرب سے زخمی ہوئے اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر نے اپنے باپ کو مرتے ہوئے دیکھا تو اپنے باپ سے کھا جتنی جلدی ہو سکے اپنا ایک جانشین معین کیجئے اور امت محمدی کو بے حاکم وبے سر پرست نہ چھوڑئے ۔
بالکل یہی پیغام ام المومنین عائشہ نے بھی خلیفہ دوم کو کھلایا اور ان سے درخواست کی کہ امت محمدی کے لئے ایک محافظ و نگھبان معین کر جائیں۔اب کیا یہ کھنا صحیح ہوگا کہ ان دو شخصیتوں نے امت کی قیادت و رہبری کے مسئلہ کی اہمیت کو تو اچھی طرح محسوس کر لیا تھا لیکن رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)ان دو افراد کے بقدر بھی اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجہ نہیں پائے تھے ؟!
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی مدینہ کی دس سالہ زندگی کا ایک ھلکا سا جائزہ لینے کے ساتھ ہی یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ آنحضرت جب بھی کہیں جانے کے لئے مدینہ سے نکلتے تھے کسی نہ کسی کو مدینہ میں اپنا جانشین معین کر جاتے تھے ،تاکہ اس مختصر سی مدت میں بھی جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مدینہ میں تشریف نہیں رکھتے لوگ بے سر پرست اور بے پناہ نہ رہیں ۔ کیا یہ بہتر ہے کہ جو جانشین معین کرنے کی اہمیت سے آگاہ ہو اور یہ جانتا ہو کہ حتّٰی مختصر مدت کے لئے بھی جانشین معین کئے بغیر مدینہ کو ترک نہیں کرنا چاہئے ۔وہ دنیا کو ترک کرے اور اپنا کوئی جانشین معین نہ کرے یا کم از کم قیادت و رہبری کی شکل ونوعیت اور حاکمیت کے طریقہ کار کے بارے میںکچہ نہ کھے ؟!
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)جب کسی علاقہ کو فتح بھی کرتے تھے تو اسے ترک کرنے سے پہلے وہاں ایک حاکم معین فرماتے تھے پھر ان حالات میں یہ کیسے کھا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنا جانشین معین کرنے میں غفلت سے کام لیا ہوگا اور اس کے لئے میں کوئی فکر نہ کی ہوگی ،جو ان کے بعد امت کی قیادت و رہبری اپنے ہاتھ میں لے سکے اور اسلام کے نو پا درخت کی نگھبانی و سرپرستی کر سکے؟!
نبوت و امامت باہم ہیں
متواتراحادیث اور اسلام کی قطعی تاریخ صاف گواہی دیتی ہیں کہ نبوت اور امامت دونوں کا اعلان ایک ہی دن ہوا اور جس روز پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)خدا کی طرف سے اپنے خاندان والوں کے درمیان اپنی رسالت کا اعلان کرنے پر مامور ہوئے تھے اسی روز آپ نے اپنا خلیفہ و جانشین بھی معین فرمادیاتھا۔
اسلام کے گرانقدر مفسرین و محدثین لکھتے ہیں کہ جب آیت( و انذر عشیرتک الاقربین ) (شعراء /۲۱۴) نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے حضرت علی علیہ السلام کو خاندان والوں کے لئے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا جنھیں آنحضرت نے مہمان بلایا تھا۔حضرت علی علیہ السلام نے بھی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے حکم سے کھانا تیار کیا اور بنی ہاشم کی پینتالیس شخصیتیں اس مجلس میں اکٹھا ہوئیں۔پھلے روز ابو لھب کی بیھودہ باتوں کی وجہ سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنی رسالت کا پیغام سنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔دوسرے روز پھر یہ دعوت کی گئی اور مہمانوں کے کھانا کھالینے کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنی جگہ کھڑے ہوئے اور خداوند عالم کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا:
میں تم لوگوں اور دنیا کے تمام انسانوں کے لئے خدا کا پیغامبر ہوں اور تم لوگوں کے لئے دنیا وآخرت کی بھلائی لایا ہوں۔خدانے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو اس دین کی طرف دعوت دوں تم میں سے جو شخص اس کام میں میری ا مدد کرے گا وہ میرا وصی اور جانشین ہوگا۔
اس وقت حضرت علی بن ابیطالب ںکے علاوہ کسی نے بھی اٹہ کر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی نصرت و مدد کا اعلان نہیں کیا۔پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے حضرت علی علیہ السلام کو بیٹہ جانے کا حکم دیا اور دوبارہ اور تیسری بار بھی اپنا جملہ دھرایا اور ہر بار حضرت علی ںکے علاوہ کسی نے آپ کی حمایت اور اس راہ میں آپ کی نصرت و فدا کاری کا اظھار نہیں کیا۔اس وقت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنے خاندان والوں کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”ان هذااخی و وصی و خلیفتی فیکم فاسمعوا و اطیعوا “ یعنی علی(ۡع)میرا بھائی اور تمھارے درمیان میرا وصی و جانشین ہے،پس تم پر لازم ہے کہ اس کا فرمان سنو اور اس کی اطاعت کرو۔(۱۳)
تاریخ کا یہ واقعہ اس قدر مسلّم ہے کہ ابن تیمیہ جس کا خاندان اہل بیت(ۡع)سے عناد سب پر ظاہر ہے ،کے علاوہ کسی نے بھی اس کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے۔یہ حدیث حضرت علی ںکی امامت کی دلیل ہونے کے علاوہ اس بات کی سب سے اہم گواہ ہے کہ امامت کا مسئلہ امت کے اختیار میں نہیں ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جانشین کا اعلان اس قدر اہم تھا کہ نبوت و امامت دونوں منصبوں کے مالک افراد کا اعلان ایک ہی دن پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے خاندان والوں کے سامنے کیا گیا ۔ یہ واقعہ تین بعثت کو پیش آیا اور اس وقت تک پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی دعوت مخصوص افراد کے ذریعہ لوگوں تک پہنچائی جاتی تھی اور تقریباً ۵۰پچاس افراد اس وقت تک مسلمان ہوئے تھے۔
____________________
(۱۱)۔تاریخ طبری ،ج/۲، ص/۱۷۲
(۱۲)تاریخ کامل، ج/۲،ص/۶۳
(۱۳)۔تاریخ طبری ج/۲،ص/۶۲۔۶۳ تاریخ کامل ج/۲،ص/۴۰۔۴۱ مسند احمد ،ج/۱،ص/۱۱۱ ۔اور دیگرمآخذ
پانچویں فصل
اسلامی قوانین اور کتاب خدامعصوم کی تفسیر سے بے نیاز نھیں
اسلامی قوانین چاہے جتنے بھی روشن و واضح ہوں پھر بھی ان کی توضیح و تفسیر ضروری ہے بالکل یوں ہی جیسے آج ملکوں کے قوانین چاہے جس قدر روز مرہ کی زبان میں تنظیم کئے جائیں پھر بھی ان کی وضاحت کے لئے زبر دست قسم کے ماہروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے اہم پہلوؤں کو واضح کر سکیں ۔ اور اسلامی قوانین بھی حتیٰ وہ بھی جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی زبان سے نقل ہوئے ہیں توضیح و تفسیر سے مستثنٰی اور بے نیاز نہیں ہیں ۔اس کے گواہ مسلمانوں کے درمیان وہ سیکڑوں اختلافات ہیں جو قرآنی آیات اور اسلامی احادیث کے سلسلہ میں نظر آتے ہیں۔
کیا اسلام کے ابدی و جاودانی قوانین کو ایسے کسی پیشوا کی ضرورت نہیں ہے جوپیغمبر اکرم کے علوم کا وارث ہو اور اختلاف کے موارد میں سب کے لئے حجت ہو ؟اور کیا اختلافات دور کرنے فاصلوں کو کم کرنے اور اسلامی اتحاد بر قرار کرنے کے لئے ایسے جانشین کا تعین لازم و ضروری نہیں تھا؟
حضرت عمر کی خلافت کے دوران ایک شخص نے اسلامی عدالت میں شکایت کی کہ میری بیوی کے یہاں چہ ہی مھینہ میں بچہ پیدا ہو گیا ہے ۔ قاضی نے حکم دے دیا کہ لے جاؤ اس عورت کو سنگسار کر دو ۔راستہ میں اس عورت کی نگاہ حضرت علی علیہ السلام پر پڑی اس نے چیخ کر کھا :اے ابو الحسن میری فریاد کو پھنچئے ۔ میں ایک پاک دامن عورت ہوں اور میں نے اپنے شوہر کے علاوہ کسی سے قربت نہیں کی ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام جب واقعہ سے آگاہ ہوئے تو انھیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ قاضی نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی ہے ۔ آپ(ۡع) نے ماموروں سے مسجد واپس چلنے کو کھا اور مسجد میں جا کر خلیفہ سے پوچھا کہ تم نے یہ کیسا فیصلہ کیا ہے ؟خلیفہ نے کھا کہ شوہر سے اس عورت کی قربت کو صرف چہ ماہ گزرے ہیں ۔ کیا کہیں چہ مھینے میں بچہ پیدا ہوتا ہے ؟ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا جس میں آیا ہے( وحمله و فصاله ثلاثون شهرا ) (۱۴) یعنی اس کا حمل اور دودہ پلانے کا زمانہ تیس ماہ ہے۔خلیفہ نے جواب دیا درست ہے ۔ پھر حضرت علی ںنے فرمایا: کیا قرآن نے دودہ پلانے کا زمانہ دو سال نہیں معین کیا ہے کہ ارشاد ہوتا ہے:( والولدات یرضعن اولادهن حولین کاملین ) (۱۵) یعنی مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودہ پلائیں ۔خلیفہ نے جواب دیا :سچ فرمایا: اس پر حضرت علی ںنے فرمایا : کہ اگر دودہ پلانے کے چوبیس مھینوں کو تیس مھینوں سے کم کرو توچہ ہی ماہ باقی رہتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حاملگی کی کم سے کم مدت چہ ماہ ہے اور عورت اس مدت میں سالم بچہ پیدا کر سکتی ہے۔
حضرت امیر المومنین علی ںنے دو آیتوں کو باہم ضمیمہ کرکے ایسا قرآنی حکم استنباط کیا جس سے اصحاب واقف نہیں تھے اب کیا یہ کھا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس الٰہی کتاب قرآن مجید کی وضاحت کے لئے جو ایک جاوید رہنما اور ابدی قانون کی حیثیت رکھتی ہے اپنے بعد کوئی اقدام نہیں فرمایا ہے؟
ممکن ہے یہ کھا جائے کہ ایسے نادر مسئلہ میں اختلاف سے جو انسانی زندگی میں بہت کم پیش آتا ہے پورے اسلامی معاشرہ کے اتحاد کو خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا ،تو اس کے جواب میں یہ کھا جائے گا کہ اختلاف اس طرح کے نادر مسائل سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف مسلمانوں کے روز مرہ اور بنیادی فرائض و وظائف سے بھی تعلق رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہر روز کے مسائل میں مسلمانوں کے اختلاف و تفرقہ سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں اور یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اتنے سارے مسائل میں اختلافات سے مسلمانوں کے اتحاد و یکجھتی پر کوئی ضرب نہیں پڑتی ہے۔
قرآن مجید نے اپنے سورہ مائدہ آیت /۶ میں وضو کرنے کی کیفیت مسلمانوں سے بیان کی ہے اور صدر اسلام میں مسلمان ہر روز اپنی آنکھوں سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھتے تھے ، لیکن پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد قرآن مجید دنیا کے دور دراز کے علاقوں میں پھیلا اور علماء کے اوپر قرآنی آیات میں اجتھاد و تفکر کا دروازہ کھلا اور فقھی احکام سے متعلق آیات پر رفتھ رفتھ بحث و تحقیق ہوئی لیکن سر انجام کیفیت وضو سے متعلق آیت کو سمجھنے میں اختلاف پیدا ہوگیا اور آج یہ اختلاف باقی اور رائج ہے کیوں کہ شیعہ علماء اپنے ہاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھوتے ہیں اور پیروں کا مسح کرتے ہیں لیکن علمائے اہل سنت ان کے بالکل بر خلاف عمل کرتے ہیں۔
اگر امت کے درمیان ایک ایسا معصوم اور تمام اصول و فروع سے آگاہ رہبر موجود ہو کہ سب کے سب اس کی بات تسلیم اور اس کی پیروی کرتے ہوں تو ہر گز ایسا اختلاف جو مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دے پیش نہیں آئے گا اور پورا اسلامی معاشرہ اپنے روز مرہ کے فرائض کی انجام دھی میں یک رنگ و یک شکل ہوگا۔
قرآن کی تفسیر میں اختلاف
اسلام کے جزا و سزا کے قوانین میں ایک چور کے ہاتھ کاٹنے کا قانون ہے جو اپنے شرائط و خصوصیات کے ساتھ فقھی کتابوں میں درج ہے ابھی ابھی دو تین صدی پہلے تک جبکہ اسلام ایک طاقت کی شکل میں حاکم تھا اسلامی حکومتیں اپنے قوانین قرآن سے حاصل کرتی تھیں اور جبکہ مغربی قوانین ابھی اسلامی سرزمینوں تک نہیں پھنچے تھے چور کی تنھا سزا اس کاہاتھ کاٹنا تھی ۔لیکن افسوس کہ یہ ایک چھوٹا سا اور تقریبا روز مرہ کا مورد بھی ان موارد میں سے ہے کہ اسلام کی چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اس کی حد معین کرنے کے سلسلہ میں ایک نقطہ پر متحد نہیں ہو سکے
معتصم عباسی کے زمانہ میں جبکہ ھجرت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو دو سو سال سے زیادہ گزر چکے تھے ،علماء نے اسلام کے درمیان ہاتھ کاٹنے سے متعلق آیت کی تفسیرمیں اختلاف پیدا ہوگیا ۔وہ لوگ یہ طے نہیں کر پارہے تھے کہ چور کا ہاتھ کہاں سے کاٹنا چاہئے ۔ایک کھتا تھا :ھاتھ کلائی سے کاٹا جائے گا۔ دوسرا کھتا تھا : ہاتھ کھنی سے کاٹا جائے گا ۔تیسرا کھتا تھا : ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ آخر کار خلیفہ وقت نے شیعوں کے نویں امام حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے بھی دریافت کیا۔ آپ(ۡع) نے فرمایا: چور کے ہاتھ کی صرف چار انگلیاں کاٹی جائیں گی ۔ جب آپ(ع) سے پوچھا گیا کہ اس کی دلیل کیا ہے تو آپ(ۡع)نے فرمایاکہ خدا وند عالم قرآن مجید میں فرمایا ہے:” و ان المساجد اللہ “ سجدہ کی جگھیں خدا کے لئے ہیں اور اس سے متعلق ہیں ۔ آپ(ۡع) نے فرمایا: ان میں سے ایک ہتھیلی بھی ہے جسے سجدہ کے وقت زمین پر ٹکانا ضروری ہے اور جو چیز خدا سے متعلق ہو اسے کاٹا نہیں جا سکتا ۔
اگر امت کے درمیان ایک ایسا قرآن شناس موجود ہو جو قرآن کے اسرار و رموز سے پوری طرح آگاہی رکھتا ہو اور فکری اعتبار سے مسلمانوں کا ملجاو مرکز قرار پائے اور تمام مسلمان اس کی طرف رجوع کریں تو ظاہر ہے کہ بہت سے اختلافات آسانی سے دور ہو جائیں گے اور امت ایک ہی سمت میں ایک ہی مقصد کے ساتھ قدم بڑھائے گی۔نہ مسلمانوں کاقیمتی وقت ضائع ہوگا اور نہ ان میں خطرناک اور خونریزاختلاف ٹکراؤ پایاجائے گا۔
قرآن مجید ہر طرح کے استنباط اور صحیح اسلام کو سمجھنے کے لئے اساسی و بنیادی ماخذ ہے اور کوئی چیز اس عظیم کتاب کی برابری نہیں کر سکتی ۔اگر دوسرے ماخذ میں باہم اختلاف نظر آئے مثلا اگر پیغمبر اکرم کی دو حدیثیں باہم ٹکراو رکھتی ہوں تو ہم اس حدیث کو اپنائیں گے جو قرآن کے مطابق ہوگی۔
لیکن کیا دلالت اور بیان کے اعتبار سے قرآن کی تمام آئتیں ایک جیسی ہیں اور کیا قرآن میں سرے سے کوئی ایسی آیت ہے ہی نہیں جس کے لئے کسی معصوم مفسر کی ضرورت ہو ؟ یہ دعویٰ وہی کر سکتا ہے جو قرآن سے زیادہ لگاؤ نہیں رکھتا اور اس کی روح و فکر قرآن سے ہم آھنگ نہیں ہے ۔صحیح ہے کہ قرآن کی بہت سی آیتیں دلالت کے اعتبار سے روشن و واضح ہیں اور اس کی محکم آیات میں شمار ہوتی ہیںاور وہ قرآنی آیات بھی جومبھم ہیں دوسری آیتوں کے ذریعہ روشن و واضح ہو جاتی ہیں ۔(۱۶) اس کے باوجود قرآن میں ایسی آیتیں موجود ہیں جو یا نزول کے وقت سے ہی مبھم ہیں یا زمانہ وحی سے دوری کی وجہ سے مبھم ہوگئی ہیں۔ اس قسم کی آیات چاہے ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو کیسے حل کی جا سکتی ہیں؟
کیا امت کے درمیان کوئی ایسی مرکز ی شخصیت موجود نہیں ہونی چاہئے جو اس قسم کی آیات کا ابھام دور کرکے ان کی صحیح تفسیر کر سکے جن میں سے بعض کے نمونے آپ اوپر ملاحظہ کر چکے ہیں؟
حضرت علی علیہ السلام نے جب ابن عباس کو خوارج سے مناظرہ کے لئے روانہ کیا تو انھیں یہ حکم دیا تھا کہ :”لاتخا صمھم بالقرآن فان القرآن حمال ذو وجوہ تقول و یقولون“ یعنی ان سے ہرگز قرآن سے بحث و مباحثہ نہ کرنا ،کیوں کہ قرآن کی آیاتیں کئی احتمالات اور کئی معانی رکھتی ہیں ۔تم ان سے بعض آیات سے استدلال کروگے اور وہ تمھیں بعض دوسری آیات سے جواب دیں گے۔
یہ مسلم ہے کہ امام کی یہ گفتگو قرآن کی تمام آیات سے متعلق نہیں تھی بلکہ آپ کی گفتگو ان آیات سے متعلق تھی جو دو پہلووالی ہیں ،بظاہرروشن و واضح نہیں ہیں اور ان کا مفھوم و مفاد قطعی نہیں ہے۔
اس اعتبار سے امت کے درمیان ایک امام معصوم کا وجود جو اسلام کے اصول و فروع سے پوری طرح آگاہ ہو ،قرآن کریم کے علوم پر کامل تسلط رکھتا ہو اور امت کے درمیان ایک علمی و فکری پناہگاہ ہو۔ اختلافات دور کرے اور اس کی بات فیصلہ کن ہو، لازم و ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں اختلافات بڑھتے جائیں گے بلکہ بعض احکام اور قرآنی آیات کی تفسیرغلط کی جائے گی جو مسلمانوں کے قرآنی حقائق سے دور ہو جانے کا باعث ہوگی۔
ہشام ابن حکم
ہشام ،امام جعفر صادق کے زبردست شاگرد اور دوسری صدی ہجری میں علم مناظرہ اور علم کلام کے استاد تھے انھوں نے امت کے درمیان اختلاف دور کرنے اور صحیح فیصلہ کے لئے امام کے وجود کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے کہ آپ نے ایک روز فرقہ معتزلہ کے سردار اور بصرہ کے پیشوا عمر وبن عبید سے امت کے درمیان امام معصوم کے وجود کی ضرورت پر بحث کی شروع اور اس سے درخواست کی کہ میرے سوالوں کے جواب دو ۔ عمر و بن عبید نے بھی قبول کیا۔ ہشام نے پوچھا:
تمھارے آنکھ ہے ؟
ہاں
اس سے کیا کام لیتے ہو ؟
اس سے لوگوں اور چیزوں کو دیکھتاہوں اور رنگوں کی تشخیص دیتا ہوں۔
تمھارے کان ہے؟
ہاں؟
اس سے کیا کام لیتے ہو؟
اس سے آواز سنتا ہوں ۔
تمھارے ناک ہے ؟
ہاں۔
اس سے کیا کام لیتے ہو؟
اس سے بو سونگھتا ہوں۔
اس کے بعد ہشام نے دوسرے حواس یعنی قوت ذائقہ و لامسہ اور بدن کے دوسرے اعضاء مثلا انسان کے جسم میں ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کے بارے میں سوال کیا اور عمر وبن عبید نے ان سب کا صحیح جواب دیا۔ پھر ہشام نے پوچھا : تمھارے دل ہے ؟ ہاں ۔انسان کے بدن میں اس کا کیا کام ہے ؟ عمرو نے جواب دیا کہ جو کچہ بدن کے تمام اعضاء و جوارح انجام دیتے ہیں قلب کے ذریعہ انھیں تشخیص دیتا ہوں ۔ اور جب بھی انسانی حواس میں سے کوئی خطا کرتا ہے یا بدن کا کوئی حصہ شک میں مبتلا ہوتا ہے تو قلب و دل کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنے شک کو دور کردیتا ہے۔
اس وقت ہشام نے اس بحث سے نتیجہ حاصل کرتے ہوئے کھا کہ جس خدا نے جسم کے حواس اور اعضا ء کی شک و تردید دور کرنے کے لئے بدن میں ایک ایسی پناہگاہ اور مرکزی چیز پیدا کی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ انسانی معاشرہ کو یوں ہی اس کے حال پر جھوڑ دے اور اس کے لئے کوئی پیشوا و رہبر معین نہ کرے کہ انسانی معاشرہ اپنے شک ،حیرانی اور خطا کو اس کے ذریعہ دور کرے اور صحیح راہ اختیار کر سکے !(۱۷)
امام جعفر صادق(ع)،جانشین پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کو یوں بیان فرماتے ہیں: پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد ایسے امام کا وجود لازم و ضروری ہے جو الٰہی احکام کو ہر طرح کی گزند اور کمی و زیادتی سے محفوظ رکھے اور ان کی حفاظت کرے ۔ (۱ ۸) ہشام ابن حکم نے ایک روز حضرت امام جعفر صادق ںکی موجودگی میں شام کے ایک عالم سے مناظرہ کیا اور اس تفصیلی مناظرہ کے دوران اس سے پوچھا کہ کیا خدا وند عالم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد مسلمانوں کے درمیان ہر طرح کے اختلافات دور کرنے کے لئے کوئی دلیل و حجت ان کے حوالے کی ہے ؟ اس نے کھا: ہاں اور وہ دلیل و حجت قرآن کریم اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سنت یعنی ان کی احادیث ہیں ۔ ہشام نے پوچھا : کیا قرآن و احادیث اختلافات دور کرنے کے لئے کافی ہیں ۔اس نے جواب دیا ہاں ۔تو ہشام نے کھا اگر کافی ہیں تو پھر ہم دونوں جو ایک مذہب رکھتے ہیں اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں آپس میں اختلاف کیوں رکھتے ہیں؟ اور ہم میں سے ہر ایک نے ایسی راہ کیوں اختیار کر رکھی ہے جو دوسرے کے خلاف ہے ؟! اس پر اس شامی عالم کو خاموشی اختیار کرنے اور حقانیت کا اعتراف کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہ آیا۔(۱۹)
____________________
(۱۴) سورہ احقاف/۱۵
(۱۵) سورہ بقرہ /۲۳۲
(۱۶)۔ حضرت امیر المومنین علی اس قسم کی آیات کے بارے میں فرماتے ہیں :”کتاب الله تبصرون به ،وتسمعون به و ینطق بعضه ببعض و یشهد بعضه علی بعض “
(۱۷) اصول کافی ،ج/۱ص/۱۷۰
(۱۸) اصول کافی ،ج/۱ص/۱۷۲
(۱۹) اصول کافی ،ج/۱ص/۱۷۸
چھٹی فصل
خطرناک مثلث
اسلام کے تین دشمن
جس وقت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے دنیا سے رحلت فرمائی تو اسلام کے اس نوجوان وجود کو باہر اور اندر سے تین طرح کے دشمن گھیر ے ہوئے تھے اور ہر لمحہ اس کو خطرہ تھا کہ یہ تینوں طاقتیں باہم ایک ہو کرایک مثلث بنائیں اور اسلام پر حملہ آور ہوں ۔
پھلا دشمن :
داخلی دشمن یعنی مدینہ اور اس کے آس پاس کے منافقین تھے جنھوں نے کئی بار پیغمبر اکرم کی جان لینے کی کوشش کی تھیں اور جنگ تبوک سے واپسی کے وقت ایک خاص منصوبہ کے تحت جو پورے طورسے تاریخ میںذکرہوہے،پیغمبرکرم کے اونٹ کو بھڑکاکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان لینا چاہتے تھے۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان لوگوں کی سازش سے آگاہ ہو کر وہ تدبیر اپنائی کہ ان کا منصوبہ نا کام ہو گیا ۔ ساتھ ہی اسلام کی عمومی مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آنحضرت نے اپنی زندگی میں ہی ان کے نام بعض خاص افراد مثلا ”حذیفہ یمانی“ کو بتا دیئے تھے۔
اسلام کے یہ دشمن جو بظاہر مسلمانوں کے لباس میں چھپے ہوئے تھے،آنحضرت کی موت کا انتظار کر رہے تھے اور در حقیقت اس آیت کو اپنے دل میں دھرا رہے تھے جسے قرآن پیغمبرکی حیات میں کافروں کی زبانی نقل کرتاہے:”انما نتربص بہ ریب المنون“(۲۰) یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ فوت ہوجائے اور اس کی شھرت ختم ہوجائے۔
یہ لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے ساتھ ہی اسلام کی رونق ختم ہوجائے گی،اس کا پھیلاو رک جائے گا۔ کچہ لوگ یہ بھی سوچتے تھے کہ اسلام آنحضرت کے بعد کمزور پڑجائے گا اور وہ دوبارہ زمانہ جاہلیت کے عقائد کی طرف پلٹ جائےں گے۔
آنحضرت کی رحلت کے بعد ”ابوسفیان “ نے چاہا کہ قریش اور بنی ہاشم کے درمیان اختلاف پیدا کردے اور جنگ بھڑکاکر اسلامی اتحاد کے اوپر کاری ضرب لگائے اس مقصد کے پیش نظر وہ بڑے ہمدردانہ انداز میں حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوا اور ان سے بولا :اپنا ہاتھ بڑھایئے کہ میں آپ کی بیعت کروں تاکہ تمیم اور عدی قبیلوںکے لوگ آپ کی مخالفت کی جرات نہ کریں امام نے پوری ہوشیاری کے ساتھ صف اسلام میںاختلاف پیدا کرنے اور مسلمانوں کو آپس میں ٹکرانے کی اس کی شازش کو سمجہ لیا لھٰذا فورا ًٹکا سا جواب دیا اور خود پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تجھیز و تکفین میں مشغول ہو گئے۔(۲۱)
مسجد ضرار جو نویں ہجری میں بنائی گئی تھی اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے حکم سے عمار یاسر کے ہاتھوں منھدم کی گئی تھی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حیات کے آخر ی دنوں میں منافقوں کی خفیہ سازشوں کا ایک نمونہ تھی اور دشمن خدا (ابن عامر) سے ان کے تعلقات کو ظاہر کرتی تھی ابن عامر وہ شخص ہے جو فتح مکہ کے بعد روم بھاگ گیا اور وہاں سے اپنے گروہ کی ہدایت و رہنمائی کیا کرتا تھا۔ ھجرت کے نویں سال جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جنگ تبوک پر جانے کے لئے مدینہ سے نکلے تو داخلی سطح پر منافقوں کے ممکنہ فساد و سازش کے خطرہ سے بہت زیادہ پریشان تھے ۔اسی لئے آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا تھا اور آپ کے لئے وہ تاریخی جملہ فرمایا تھا ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ “(۲۲) یعنی اے علی(ۡع)تم کو مجہ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ(ۡع)سے تھی۔اس کے بعد آپ نے ان سے تاکید کی کہ داخلی سطح پر مدینہ میں سکون و آرام برقرار رکھنے اور فتنہ و فسد کی روک تھام کے لئے مدینہ میں ہی رہو ۔
منافقوں اور ان کی خطرناک سازشوں سے متعلق بہت سی آیتیں قرآن کریم کے مختلف سوروں میں موجود ہیں اور سب کی سب اسلام سے ان کی دیرینہ عداوت کو بیان کرتی ہیں ۔ اور ابھی یہ فسادی مدینہ میں موجود ہی تھے کہ آنحضرت نے دنیا سے رحلت فرمائی۔
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد قبائل عرب میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو آپ کے بعد کفر و شرک کی طرف پلٹ گئے اور ماموران زکوٰة کو باہر نکال کر انھوں نے اسلام کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا ۔یہ لوگ اگرچہ منافق نہیں تھے ،لیکن ایمان کے اعتبار سے اتنے کمزور تھے جو پت جھڑ کے پتوں کی طرح ہر رخ کی ہوا پر ادھرادھر ہی اڑنے لگتے تھے ۔اگر انھیں کفر و شرک کا ماحول مناسب لگتا تو اسلام کو چھوڑ کر کفر کی راہ اختیار کر لیتے تھے۔
ایسے خونخوار دشمنوں کے ہوتے ہوئے جو اسلام کی کمین میں بیٹھے تھے اور اسلام کے خلاف سازش و شورش میں مشغول تھے کیا یہ ممکن تھا کہ ایسے عاقل ،سمجھدار اور دور اندیش پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ان ناگوار حوادث کی روک تھام کے لئے اپنا کوئی جانشین مقرر نہ کریں اور امت واسلام کو دشمنوں کے درمیان اس طرح حیران و سر گردان چھوڑ جائیں کہ ہر گروہ یہ کھتا نظر آئے کہ ”منا امیر منا امیر“ یعنی یہ کھے کہ امیر ہم میں سے ہونا چاہئے اور وہ کھے کہ امیر ہم میں سے ہونا چاہئے ؟!
باقی دو دشمن
اس مثلث کے بقیہ دو دشمن اس وقت کی ایران و روم کی دو بڑی طاقتیں تھیں ۔ روم کی فوج سے اسلام کی پہلی جنگ ھجرت کے آٹھویں سال فلسطین میں ہوئی جو لشکر اسلام کے بڑے بڑے سردار وں ”جعفر طیار“ ، ”زید بن حارث“اور ”عبداللہ بن رواحہ “ کے قتل اور لشکر اسلام کی انتھائی سخت شکست پر تمام ہوئی اور لشکر اسلام خالد بن ولید کی سرداری میں مدینہ واپس آیا ۔کفر کی فوج سے لشکر اسلام کی اتنی سخت شکست سے قیصر روم کے حوصلے بلند تھے اور ہر لمحہ یہ خطرہ تھا کہ کہیں وہ لوگ مرکز اسلام پر حملہ نہ کریںاسی وجہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ھجرت کے نویں سال ایک بڑا لشکر جس کی تعداد تیس ھزار تھی لیکر شام کی طرف روانہ ہوئے تاکہ فوجی مشق کے علاوہ دشمن کے ممکنہ حملہ کو روک سکیں اور راہ کے بعض قبائل سے تعاون یا غیر جانبداری کا عھد و پیمان لے سکیں ۔ اس سفر میں جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو مسلسل رنج و زحمت اٹھانا پڑی آپ رومیوں سے لڑے بغیر مدینہ واپس آگئے۔
اس کامیابی نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو مطمئن نہیں کیا آپ لشکر اسلام کی شکست کے جبران کی کوشش میں لگے رہے ۔اس کے لئے آپ نے اپنی بیماری سے چند روز پہلے ”اسامہ بن زید “ کو لشکر اسلام کا علم دے کر اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اسامہ کی سرداری میں شام کی طرف روانہ ہوں اور اس سے پہلے کہ دشمن ان پر حملہ کرے وہ جنگ کے لئے تیار رہیں۔
یہ تمام واقعات اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)شمال یعنی روم کی طرف سے بہت نگراں تھے اور کھا کرتے تھے کہ ممکن ہے قیصر روم کی طرف سے اسلام کو سخت حملہ کا سامنا کرنا پڑے ۔
تیسرا دشمن ایران کی ساسانی شھنشاہی تھی ۔یہاں تک کہ خسرو پرویز نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا خط پھاڑ ڈالا تھا ،سفیر کو قتل کر دیا تھا اور یمن کے گونر کو لکھا تھا کہ (معاذ اللہ ) پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو قتل کرکے ان کا سر میرے پاس مدائن روانہ کرے ۔
حجازاور یمن عرصہ سے حکومت ایران کا حصہ شمار ہوتے تھے لیکن اسلام کے آنے کے بعد حجاج نہ صرف آزاد ہو گیا تھا بلکہ خود مختار ہو گیا تھا اور یہ امکانات بھی پیدا ہو گئے تھے کہ یہ محروم اور کچلی ہوئی قوم اسلام کے سایہ میں پورے ایران پر مسلط ہو جائے۔
اگر چہ خسرو پرویز پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی حیات میں گزر گیا تھا لیکن ساسانیوں کی حکومت سے یمن اور حجازکا جدا ہو جانا ان لوگوں کے لئے اتنا بڑا دھکا تھا جو خسرو کے جانشینوں کے ذہن سے دور نہیں ہو ا تھا ۔ساتھ ہی یہ بڑھتی ہوئی نئی طاقت جو ایمان و اخلاص اور فداکاری سے آراستہ تھی ان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔
ایسے طاقتور دشمنوں کے ہوتے ہوئے کیا یہ درست تھا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس دنیا سے چلے جائیں اور امت اسلام کے لئے اپنا کوئی فکری و سیاسی جانشین معین نہ کریں؟ ظاہر ہے کہ عقل ، ضمیر اور سماجی محاسبات ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اس طرح کی بھول ہوئی ہوگی ۔ اور انھوں نے ان تمام حادثات و مسائل کو نادیدہ قرار دیتے ہوئے اسلام کے گرد کوئی دفاعی حصار نہ بنایا ہوگا اور اپنے بعد کے لئے ایک آگاہ ،مدیر و مدبر اور جھاندیدہ رہبر معین نہ کیا ہوگا۔
____________________
(۲۰)۔سورہ طور/۳۰
(۲۱) الدرجات الرفیعہ ص/۷۷ حضرت علی ںنے اس موقع پر ابو سفیان سے اپنا وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: ”ما زلت علی و الاسلام و اهله “ تو ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کا دشمن رہا ہے ۔ الاستیعاب ،ج/۲ص/۶۹۰
ساتویں فصل
روحی و معنوی کمال معصوم امام کے سایہ میں
اس دنیا میں ہر وجود ایک مقصد کے تحت خلق ہو اہے اور اس وجود کی غرض خلقت اور کمال اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اس تخلیق کا مقصد پورا ہوجائے ۔ قدرت بھی موجودات
کو کمال تک پہنچانے کے لئے ہر وہ وسیلہ اس کے حوالے کرتی ہے جو اسے کمال تک پہنچانے میں
موثر ہوتا ہے ۔ اس راہ میں وہ صرف ضروری وسائل پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ ہر جزئی اور غیر
ضروری وسائل بھی اسے عطا کرتی ہے ۔ خوش قسمتی سے اس بارہ میں عالم طبیعت سے متعلق علوم
( NATURAL SCIENCES ) نے ہمارے زمانہ میں اپنی وسعت کے پیش نظر ہمیں ہر طرح کی مثال اور وضاحت سے بے نیاز کر دیا ہے۔
اگرہم صرف انسانی جسم میں سننے اور دیکھنے کے حیرت انگیز وسائل پر غور کریں تو ان میں سے ہر ایک یہ پکار پکار کر کھتا نظر آئے گا کہ نظام خلقت نے ہر وجود کو اس کے کمال ---جس کے لئے وہ خلق کیا گیا ہے ---تک پہنچانے پر خاص توجہ دے رکھی ہے۔
اب ذرا ہم جسم کے دوسرے حصوں کے بارے میں غور کریں جن کی طرف سے زیادہ تر غفلت برتی گئی ہے اور اہمیت کے اعتبار سے اسے دوسروں پر ثانوی حیثیت دی گئی ہے ۔ !مثال کے طور پر ہم انسان کے تلوؤں کی ساخت اور ان کے خاص انداز کے گڑھوں پر غور کریں ۔ان کو خدا نے اس غرض سے بنایا ہے کہ انسان کو چلنے میں آسانی ہو۔ حتٰی جن کے پاؤں کے تلوے پیدائشی طور سے بالکل ہموار ہو ں وہ آپریشن کے ذریعہ تلوؤںمیں گڑھے بنواتے ہیں تاکہ آسانی سے چل سکیں۔
ہماری انگلیاں لمبائی اور موٹائی کے لحاظ سے باہم فرق رکھتی ہیں کیوں کہ اگر وہ سب یکساں ہوتیں تو انسان ان سے جو بہت سے مختلف کام کرتا ہے نہیں کر پاتا ۔ انگلیوں کے اس اختلاف ہی کی وجہ سے انسان ظریف اور باریک صنعتوں اور بھترین ھنر اور فنون کا خالق بنا ہے ۔اس کی ہتھیلیوں اور انگلیوں میں ایسے خطوط اور لائینیں ہیں جو ہر چھوٹی اور بڑی چیز کے اٹھانے یاپکڑنے میں اس کی مدد کرتی ہیں ،اور چوں کہ ہر انسان کی انگلیوں کے خطوط ایک دوسرے سے جدا ہیں لھٰذا ہر فرد کی شناخت کے لئے اس کی انگلیوں کے نشانات لئے جاتے ہیں۔
یہ اور ان جیسی دوسری مثالوں سے ہم یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ دست قدرت نے ہر طرح کے وسیلہ کو خواہ اس کے لئے ضروری ہو یا غیر ضروری جو بھی اس کے کمال کے لئے موثر ہے اس کے اختیار میں دیا ہے اور اس راہ میں اس کے لئے انتھائی سخاوت مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اب یہ سوال پیش آتا ہے کہ جو خدا اس حد تک انسان کی سعادت و کمال کا خواہاں ہے ،آخر یہ کیسے ممکن ہے وہ اس کے معنوی و روحانی کمال سے چشم پوشی کر لے؟! یہ بیان جس طرح خدا وند عالم کی جانب سے انبیاء و مرسلین کی بعثت کی ضرورت کو ثابت کرتا ہے ،اسی طرح تمام معارف و احکام کے اسرار سے آگاہ امام معصوم کے تعین کو بھی لازمی قرار دیتا ہے۔ کیونکہ وحی الٰہی کی جانب سے ایک ایسے امام کا تعین اسلامی معاشرہ میں بہت سی کشمکشوں،جنگوں ، نفاق اور معاشرہ کی پسماندگی کے خاتمہ کا سبب بنتا ہے اور مسلمانوں کو ایک جماعت اور ایک گروہ کی مشکل میں تبدیل کردیتا ہے اور ہر طرح کے اختلاف و تفرقہ سے جو رہبر و خلیفہ کے انتخاب کا لا زمہ ہے نجات دے دیتاہے ۔ نتیجہ میں مسلمانوں کو ”سقیفہ بنی ساعدہ “ اور دوسری پر اسرار شوراوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد الٰہی نص (خدا کی طرف سے کی جانے والی تعیین ) سے چشم پوشی کرکے یا(جیسا کہ علمائے اہل سنت تصور کرتے ہیں) اللہ کی جانب سے نص نہ ہونے کی صورت میں۔ اس قدر اختلا ف وتفرقہ کا شکار ہوئے کہ اس کے منحوس آثار چودہ صدیوں کے بعد بھی دور نہیں ہوئے۔اور آج بھی استعماری طاقتیں جو مسلمانوں کو متحد دیکھنا نہیں چاہتیں مسلمانوں میں اختلاف برقرار رکھنے کے لئے آگ میں تیل ڈالنے کا کام کرتی رہتی ہیں۔
لیکن اگر مسلمان معاشرہ کا رہبر خدا کی جانب سے معین ہو اور مسلمان اپنے نا پختھ اور خام خیالات کو الٰہی نص و ہدایت پر مقدم نہ کریں تو مسلّم طور سے مسلمانوں کی حالت ہر زمانہ میں اس سے کہیں بہتر ہو۔اس کے علاوہ ہر طرح کے گناہ ،خطا اور اشتباہ سے محفوظ اور شریعت کے معارف و احکام کے اسرار سے آگاہ امام معصوم کا وجو د انسانی معاشرہ اور افراد کی روحانی ترقی اور کمال کی راہ میں ایک بڑا قدم ہے۔ پھر کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ ایسے رہبر کا وجود کیا انگلیوں اور ہتھلیوں کی لائینوں ، پیروں کے تلووں کی گھرائیوں اور آنکھوں کے اوپر ابرو کے جتنا بھی اہمیت نھیںرکھتا ہے؟! اس صورت میں کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ خداوند عالم نے انسان کے جسمانی کمال کے لئے تو ہر طرح کے وسائل اس کے اختیار میں دے دئیے لیکن معنوی کمال کے وسائل سے،جو اس کی روح کی ترقی میں موثر کردار ادا کرتے ہیں ،اسے محروم کردیا ہے۔ شیخ الرئیس ابن سینا نے کتاب ”شفا“ کی نبوت کی بحث میں مذکورہ بالا بیان سے انبیاء کی بعثت کی ضروت کو ثابت کیا ہے۔(۲۳) لیکن جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں یہ بیان جس طرح انبیاء و مرسلین کی بعثت کی ضرورت کو ثابت کرتا ہے اسی طرح ایک معصوم اور شریعت کے اسرار سے آگاہ امام کی تعیین کو بھی پوری طرح ثابت کرتا ہے ، جو انسانوں کے روحی کمال کا ذریعہ ہے۔
____________________
(۲۲) یہ حدیث شیعہ و سنی دونوں ماخذ میں تواتر کے ساتھ آئی ہے
(۲۳)شفاء،الالھیات، فصل یکم از مقالہ دھم ص/۴۸۸،تحقیق آیة احسن زادہ آملی
آٹھویں فصل
کیا شیعوں کا نظریہ امامت آزادی کے خلاف ہے
حریت و آزادی کا لفظ انسانوں کے کانوں میں پڑنے والا اب تک کا سب سے لطیف اور پرجوش لفظ ہے ۔ اس لفظ کا سننا ہی لوگوں کے اندر کیف و نشاط ،وجد و خوشی کی لھر پیدا کر دیتا ہے ۔ ایک صحیح فکر رکھنے والے انسان کی سب سے بڑی آرزو اور تمنا قید و بند سے نجات ،استعمار سے جھاد اور آزادی کی بلند بام چوٹی کو فتح کرنا ہے ۔ آزادی سے متعلق انسان کا لگاؤ اتنازیادہ ہے کہ اس نے اس راہ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں اور حد سے زیادہ فداکاریاں کی ہیں۔
یہ درست ہے کہ انسان نے یہ بخوبی محسوس کر لیا ہے کہ اجتماعی زندگی ایک ایسے حاکم کے بغیر ممکن نہیں ہے جس کی رائے نافذ اور جس کا فیصلہ قطعی۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس پر بھی ہرگز آمادہ نہیں ہے کہ اپنے مقدرات کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دے جس کے انتخاب کااختیار اس کے ہاتھ میں نہ ہو ۔یہی وجہ ہے کہ خاص طور سے عصر حاضر میں معاشرہ کے حاکم و ذمہ دار کے تعین کے طریقوں میں وہ صرف اسی روش کو صحیح جانتا ہے ،جس میں وہ اپنے رہبر کے انتخاب میں خود مختار اور آزادھو۔ جو حاکم ایک قوم کی سرنوشت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے وہ خود عوام سے ابھرے اور عوام نے اسے منتخب کیا ہو ۔ ورنہ دوسری صورت میں وہ ایک فرد کی حکومت کو اصول آزاد کے خلاف اور جبر کی حاکمیت سمجھتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امامت کے سلسلہ میں پائے جانے والے دو نظریوں میں کون سا نظریہ ڈیموکریسی کے اصول سے زیادہ سازگار ہے ،یہ کہ منصب امامت ایک انتخابی منصب ہے یعنی امام کو ”عام لوگوں کے ذریعہ یا اسلام کی اعلیٰ کمیٹی “ کے ہوتھوں چنا جانا چاہئے ۔یا یہ کہ رہبر اور جانشین پیغمبر کا انتخاب عوام کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ وہ سو فیصد ی خدا کی جانب سے منصوب ہو یعنی امام کوخدا اور پیغمبر کی جانب سے معین ہونا چاہئے ؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پہلا نظریہ آزادی کے اصول سے زیادہ ہم آھنگ ہے ۔ اگر ہم رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی جانشینی کے منصب کو انتخابی سمجھیں تو اس صورت میں ہمیں یہ فخر کرنا چاہئے کہ لیبرلیزم اور آزادی مغرب میں پروان چڑھنے سے پہلے مشرق میں اور ایک ھزار چار سو سال پہلے قابل عمل تھی ۔ لیکن اس راہ سے ہم اس جگہ پھنچتے ہیں جہاں پہلے نظریہ پر عمل ہی نہیں ہوا ۔
آج اہل سنت معاشرہ کے بعض اہل قلم شیعہ نظریہ یعنی امامت کے انتصابی ہونے کے موضوع پر تنقیدکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی جانشینی کا نصبی ہونا آج کے سماجی نظریات اور آزادی کی روح سے کسی بھی طرح سازگار نہیں ہے۔
جواب : شاید جو سب سے اہم اور دلچسپ منطق امام کے انتخابی ہونے کے سلسلہ میں پیش کی جا سکتی ہے اور جسے آج کے انسانی معاشرہ کے خیالات سے قریب قرار دیا جاسکتا ہے، وہی منطق ہے جسے ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور جو کم و بیش بعض علمائے اہل سنت کے قلم سے بھی ظاہر ہو چکی ہے ۔اس طرز استدلال کا تفصیلی جواب اس پر منحصر ہے کہ موجودہ بحث کے تین اساسی نکتے پوری طرح واضح ہوں:
۱۔ منصب امامت کانصبی یا منصوبی ہونا ”استبداد “ اور جبر سے بالکل جدا ہے۔
۲۔ مغرب کی جمھوری حکومتیں جو اقلیت پر اکثریت کی حکومت کی اساس پر استوار ہیں ۔ وہ ان غیر عادلانہ سیاسی نظاموں میں سے ہیں جنھیں آج کے انسانوں نے مجبور ا ًقبول کیا ہے۔
۳۔ اگر یہ فرض کر لیں کہ حاکم کے انتخاب کے لئے یہی روش صحیح ودرست ہے تو کیا صدر اسلام میں خلفاء کے انتخاب میں اس روش پر عمل ہو اہے؟
ان تین نکتوں خاص طور سے دوسرے اور تیسرے نکتہ پر مفصل بحث کی ضرورت ہے کہ ہم اختصار کے ساتھ ان میں سے ہر ایک پر روشنی ڈالتے ہیں۔
الف) ۔امام کا منصوب کیا جانا استبداد نھیں
استبدادی حکومتیںوہ انتھائی ظالمانہ طریقہ حکومت ہے جن سے انسان دو چار رہا ہے ۔ استبدادی نظام جبر و تشدد کا وہ جانکاہ نظام ہے جنھیں انسانی معاشرہ زمانہ قدیم سے جھیلتا آرہا ہے اور انسان کی معاشرتی زندگی میں اس کی مختلف شکلیں (گاؤں کا زمیندار ،تعلقدار،قبیلہ کا سردار ،یا مطلق العنان حاکم جو زمین کے وسیع علاقہ پر خود سرانہ حکومت کرتا ہے) نظر آتی رہی ہیں۔
استبداد کی بڑی شکل یہ کہ ایک شخص داخلی سطح پر بغاوت کے ذریعہ حاکم کو معزول کرکے خود حاکم ہو جاتا ہے یا غلبہ اور دوسرے ملک کی فوجی طاقت کے ذریعہ حاکم ہو جاتا ہے اور ایسی حکومت کی بنیاد ڈالتا ہے جس میں صرف حاکم کی بات یا اس کا حکم ہی نافذ ہوتا ہے اور اپنے بعد کے حاکم کے لئے بھی اسی کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کے سلسلہ میں شیعوں کا نظریہ اس طرح کی حکومتوں سے میلوں کا فاصلہ رکھتا ہے ۔امام کے منصوبی ہونے سے شیعوں کا مقصد یہ ہے کہ امام خدا کی جانب سے---جو سب کا خالق ہونے کے اعتبار سے تمام انسانوں پر اولویت اور حاکمیت کا حق رکھتا ہے -- ایک سب سے زیادہ شائستہ فرد کی حیثیت سے جو ہر طرح کی جسمی و روحی آلودگی ،برائی اور لغزش سے پاک ہے اور صرف اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہے ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بعدمسلمانوں کا رہبر و پیشوا معین کیا جائے۔
یہ کھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایسا شخص اپنے منصب پر فائز ہونے کے بعد ہر طرح کی خودسری وخود رائی سے دور ہوگا اور صرف پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے لائے ہوئے قوانین کی بنیاد پر انسانی معاشرہ کو چلائے گا۔
چونکہ خدا وند عالم خالق ہونے کی بنا پر فطری طور سے سب پر حکومت کا حق رکھتا ہے اورتمام قوموں نے اس کے قوانین کو جان و دل سے تسلیم کیا ہے لھٰذا امام بھی ان ہی قوانین کی بنیاد پر حاکم ہوا ہے اور معصوم ہونے کی بنا پر ہر طرح کے عمدی سھوی ظلم و ستم سے محفوظ ہے ،ایسی حکومت معقول ترین حکومت ہے ۔اس طرح کی حکومت میں اقلیت و اکثریت (یعنی اکثریت کی ڈکٹیٹر شپ) کا تصور ہی نہیں ہے ۔اس میں صرف خدا کی رضااور مخلوق کی مصلحت ہی پیش نظر ہوتی ہے (کوئی شخصی مرضی نہیں تھوپی جاتی اور نہ ان افراد کی خوشی مدنظر ہوتی ہے جنھوں نے اسے حاکم بنایا ہے)۔
یہ الٰہی و آسمانی حکومت جس میں کسی بھی طرح کی خود سری اور خود خواہی نہیں ہے بھلا اس کا ان ظالم و استبدادی حکومتوں سے کیا تقابل ۔یہ دونوں طرز حکومت ایک دوسرے سے اس قدر فاصلہ رکھتی ہیں کہ ان میں کسی بھی مشترک پہلو کاتصور کیا ہی نہیں جا سکتا ۔
(ب )۔ جمھوری حکومتوں کی کمزوریاں
آج کی جمھوری حکومتوں کی کمزوریاں ایک دو نہیں ہیں کہ یہاں ان پر تفصیل سے بحث کی جائے لیکن ہم یہاں نمونہ کے طور پر ان ہیں سے دو اہم کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
۱۔ اس طریقہ حکومت میں جو حاکم کسی پارٹی یا عوام کی ہاتھوں منتخب ہوتا ہے وہ ان کی رضامندی و خوشنودی حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے ۔ ان کی ہدایت و رہبری کی فکر میں نہیں رہتا ۔ کسی پارٹی یا گروہ کے سیاستداں کے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ وہ حق کا ساتھ دے ،اہم یہ ہے عوام کی حمایت سے اسے ہاتھ نہ دھونا پڑے ۔ اس کام میںکبھی اس کے لئے لازم و ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے ذاتی اعتقادات اور حقائق سے بھی آنکھیں بند کر لے ۔یہ وہ حقیقت ہے جس کا اظھار و اقرار دنیا کے ان عظیم سیاستدانوں نے بھی کیا جو عرصہ تک پوری دنیا کی سیاست سے کھیلتے رہے ہیں امریکہ کا ایک گزشتھ صدر جان۔ایف کنیڈی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
کبھی سینیٹر مجبور ہوتا ہے کہ کسی اہم موضوع کے سلسلہ میں عام جلسہ میں فوراً ہی اپنی رائے اور نظریہ کا اظھار کرے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ وہ بھی غور وفکر کرنے کے لئے وقت چاہتاہے تاکہ چند جملوں میں یا مختصر اصلاح کے ذریعہ شبھہ واختلاف کو بقدر امکان دور کرے ،لیکن نہ اسے غور کرنے کا موقع ملتا ہے نہ وہ خود کو لوگوں سے چھپا سکتا ہے اور نہ ہی اپنی رائے کے اظھار سے گریز کرسکتاہے ۔بالکل ایسا لگتاہے جیسے تمام موکل جنھوں نے اسے سنیٹر بناےاہے اس کی طرف آنکھیں گاڑے ہوئے اس بات کے منتظر ہیں کہ اس شخص کے رائے ،جس سے اس کی سیاست کا مستقبل وابستہ ہے ،کیا ہوگی۔
ان تمام باتوں کے علاوہ اس بات کی فکر کہ سنیٹر کی مراعات اس سے سلب نہ کر لی جائےں اور کہیں وہ اس چرب و نرم مشغلہ سے محروم نہ کر دیا جائے بڑے سے بڑے سیاستداں کی نیندیں حرام کئے رکھتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض سنیٹر اس نکتھ کی طرف متوجہ ہوئے بغیر آسان اور کم خطرہ راہ اختیار کرتے ہیں ۔ یعنی جب بھی ان کے ضمیر اور ان کے فیصلوں کے درمیان ٹکراو ہوتا ہے تو اپنی خود ساختھ منطق کے ذریعہ ضمیر کو مطمئن کر دیتے ہیں اور خود کو اپنے ووٹروں کے خیالات سے ہم آھنگ کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کو ڈرپوک نہیں کھا جاسکتا بلکہ یہ کھنا چاہئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں رفتھ رفتھ عام لوگوں کے رجحان و خیالات کی پیروی کرنے کی عادت پڑگئی ہے اور اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں کہ بھتی گنگا میں ہاتھ دھوئیں ۔ لیکن ان میں کچہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ضمیر کو کچل ڈالتے ہیں اور اپنے عمل کی توجیہ یوں کرتے ہیں ۔ لوگوں میں نفوذ کرنے کے لئے پوری سچائی کے ساتھ اپنے ضمیر کی آواز سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں۔ ”فرینک کینٹ “ کے بقول سیاست کو خلاف اخلاق مشغلہ نہیں کھا جا سکتا بلکہ یہ کھنا چاہئے کہ ”سیاست اخلاقی مشغلہ نہیں ہے“(۲۴)
سیاسی رائٹر” فرنیک کنیٹ“لکھتا ہے” کہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا مسئلہ بہت ہی اہم اور سنجیدہ ہے ۔اس کے حصول کی راہ میں بلاوجہ کے مسائل مثلا ”اخلاق“ یا ”حق و باطل“ پر کوئی توجہ نہیں کرنا چاہئے ۔ “
اس سلسلہ میں ”مارک اشکال “ نے اپنے ایک ساتھی کو ۱۹۲۰ئع کے امریکہ کے انتخابات میں بھترین نصیحت کی اور وہ یہ کہ ”تم عوام کو فریب دینا نہیں چاہتے ۔یعنی تم نمائندہ بننے کی راہ میں اپنے ضمیر کو کچل نہیں رہے ہو ،بلکہ تم یہ بات سیکھو کہ ایک سیاسی آدمی کے لئے ایسے حالات پیش آتے ہیں جن میں وہ اپنے ضمیر سے چشم پوشی کرنے پر مجبور ہے۔“(۲۵)
یہ آج کی دنیا کے جمھوری لوگوں کی زبان میں سب سے زیادہ منصفانہ باتیں ہیں ۔اب آپ اس اجمال سے تفصیل کا اندازہ کرلیں ۔یہ آزاد ملکوں کی حکومتوں کی حقیقت ہے ۔کیا عقل و منطق اس کی اجازت دیتی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے جانشین کوجسے بہت سی جھات میں ان ہی کی طرح ہونا چاہئے ،اس جمھوری طریقہ پر یعنی عوام کے خیالات کے ذریعہ یا ارباب حل وعقد کی بیعت یا مھاجرین و انصار کی بیعت کے ذریعہ منتخب ہونا چاہئے ؟ ہرگز نھیں۔ ۔ ۔ ۔ کیوں کہ اس طریقہ سے منتخب ہونے والا شخص فکری طور سے مستقل مزاج نہیں ہوتا بلکہ اپنے ووٹروں کے افکار و خیالات کا ترجمان ہوتا ہے ۔ایسے افراد بہت ہی کم اور نادر ہیں جو اپنی شھرت کو ٹھوکر مارنے پر آمادہ ہو جائیں اور عمومی خیالات و رجحان کے طوفان سے نہ ڈریں اور جو بات امت کی بھلائی کے لئے ہو اسی پر عمل کریں۔
ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ ووٹروں کی رضا مندی کا لحاظ اسی وقت لازم ہے جب حکومت کی مدت چند سال میں محدود ہو ،لیکن چونکہ امام کی رہبری دائمی ہے اور دائمی حاکم کی حیثیت رکھتی ہے جیسا کہ آج بھی بعض ملکوں میں عملی طور پر رائج ہے لھٰذا ضروری نہیں کہ خلافت کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد امام و خلیفہ عوام کی رضامندی و خوشنودی حاصل کرنے کی فکر میں ہو۔
تو جواب یہ ہے کہ یہ خیال بہت ہی خام اور بیجا ہے ،کیوں کہ:
اول تو:خود اس دائمی حاکمیت میں بھی عام انتخاب کرنے والوں کے خیالات و رجحان کو نادیدہ نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ بے توجھی کی صورت میں حاکم کو انقلاب ،شورش اور بغاوت کا سا منا کرنا پڑے گا۔
دوسرے یہ کہ: کئی امید واروںکی موجودگی میں کسی ایک شخص کا ایک گروہ کی طرف سے منتخب کھاجانا کسی تعاون وہم خیالی کے وعدہ کے بغیر عملی نہیں ہے ۔ اور اس بات کو دیکھتے ہوئے اگر وہ اپنے کئے ہوئے وعدہ سے چشم پوشی کرلے تو یہ خود ایک بہت بڑی خرابی ہے کیونکہ اس صورت میں معاشرہ کے مربی نے عملا وعدہ خلافی کی ہے اور دوسروں کو بھی اس راہ پر چلنا سکھا یا ہے۔
عمر نے اپنی موت کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لئے جو چہ نفری کمیٹی بنائی تھی اس میں” عبد الرحمن بن عوف“ نے جس کا جھکاوکمیٹی کے دوگروہوں کے درمیان فیصلہ کن تھا،
حضرت علی ں سے کھا: میں آپ کی بیعت کرتا ہوں لیکن اسی شرط پر کہ آپ اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت اور شیخین کی سیرت پر عمل کریں گے،حضرت علی ںنے فرمایا: میں صرف خدا کی کتاب ،رسول کی سنت اور اپنی عقل و فکر کی بنیاد پر عمل کروںگا۔اس موقع پر عبد الرحمان بن عوف نے عثمان سے بھی اسی جملہ کا اقرار لیا اور عثمان نے عبدالرحمان کی شرط پر اپنی وفاداری کا اعلان کیا اور خلیفہ منتخب ہوگئے(اور بعد میںسب نے دیکھا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے بنی امیہ کو لوگوں پر مسلط کردیا۔)
مختصر یہ کہ اکثر لوگوں کا انتخاب کرنے والے ایسی شرطیں رکھتے ہیں جس کا ماننا ایک با ایمان اور با ضمیر شخص کے لئے بڑا ہی سخت اور ناگوار ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ حق شناس ان افرادشرطوں کو تسلیم نہیں کرتے لھٰذا منتخب بھی نہیں ہوتے اور ان کی جگہ غیر صالح افراد ہر طرح کی شرط قبول کرلیتے ہیں اورمنتخب ہوجاتے ہیں۔
امریکہ کے صدر کے انتخاب میں آزاد سے آزاد شخص بھی عالمی صھیونزم کی مدد کو اپنے دستور العمل میں اولویت دینے پر مجبور ہوتا ہے اور ووٹ بنانے والی کمیٹیوں سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ اگر منتخب ہوگیا تو اسرائیل کی مدد کرے گا۔چاہے وہ یہ جانتا ہو کہ اس کا یہ عمل عدالت اور انسانیت کے اصول کے سراسر خلاف ہے۔
۲۔مغرب کی جمھوری حکومتوں پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس جمھوریت کی بازگشت ایک طرح کے ظلم و ڈکٹیٹر شپ ” تعداد کی ڈکٹیٹر شپ“اور ”اکثریت کا اقلیت پر استبداد و ظلم ) ہے۔ کیونکہ اگر یہ فرض بھی کرلیں کہ انتخابات بالکل صحیح اور کسی چالبازی کے بغیر انجام پائے ہیں اس کے باوجود اکثریت جو صرف ایک ووٹ سے جیتی ہے اس اقلیت پر حکومت کرے گی جو صرف ایک ووٹ سے نہیں جیتی جب کہ ممکن ہے کہ بہت سے موارد میں حق اقلیت کے ساتھ ہو اس کا مطلب یہ ہے صرف ایک ووٹ کے ذریعہ ایک ملک اور قوم کے منافع و مصلحتیں ضائع ہوجائیں! اسی وجہ سے کھا جاتا ہے کہ ۴۹پر۵۱ افراد کی حکومت ایک طرح کی ظالمانہ حکومت ہے جسے انسان نے مجبوری کی بناپر اور اس سے بہتر طریقہ نہ ہونے کی صورت میں یا کسی اور راہ کی طرف توجہ دئیے بغیر، جس کی طرف اسلام نے رہنمائی کی ہے، اپنا پاہے۔
لیکن خدا کی جانب سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے جانشین کے انتخاب میں جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے ان تمام نا انصافیوں کا سد باب کردیا گیاہے۔ امام کو وہ منتخب کرتا ہے جس کے حق حاکمیت پر سب راسخ ایمان رکھتے ہیںاور امام ان قوانین کے مطابق حکومت کرتا ہے جسے تمام لوگ قبول کرتے۔ یہاں پر اقلیت و اکثریت کا مسئلہ ہی پیش نہیں آتا ۔
ان سب باتوں کے علاوہ جمھوری نظاموں میں اکثر یت کی خواہشات اور آرزوئیں قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور ان کے ارادے قطعی فیصلوں اور محکم حکم کی صورت میں تمام لوگوں پر لاددئیے جاتے ہیں ،لیکن اسلامی قوانین کی روح ،جس میں ہمیشہ انسانی معاشرہ کی مصلحتوں کو ہی شریعت کا رنگ ملتا ہے ،ایسے پست نظر یہ کی تائید نہیں کر سکتی۔
قرآن مجید جس نے ہمیشہ لوگوں کے افکار و خیالات کو خطا و غلطی سے آلودہ بتایا ہے اور اکثریت کے بارہ میں فرماتا ہے (واکثرہم لایعقلون ) اور (واکثرہم لایشعرون)پھر وہ دین کے سب سے اہم موضوع یعنی امت کی امامت یا قیادت کے انتخاب کے سلسلہ میں معاشرہ کی اکثریت کے رجحان کو کیسے موثرو نافذ سمجہ سکتا ہے ؟ کیا قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا:( وعسٰی ان تکرهو ا شیئا وهو خیرلکم و عسٰی ان تحبوا شیئا و هو شرّلکم ) (۲۶) یعنی بعض اوقات تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو جب کہ وہ تمھارے لئے مفید و نفع بخش ہوتی ہے اور بعض اوقات کسی چیز کو تم پسند کرتے ہو جب کہ وہ تمھارے لئے مضر و نقصان دہ ہے ۔ یہ وہ قانون ہے جو معاشرہ کی اکثریت کی نفسانی خواہشات کو صراحت کے ساتھ خطا شمار کرتا اور فرماتا ہے اکثر لوگوں کے خواہشات ایسی چیز کاتقاضا کرتے ہیں جو خطرناک اور نقصان دہ ہوتی ہے اور کبھی ایسی چیز سے نفرت کا اظھار کرتے ہیں جو سو فی صد ی ان کے لئے مفید ہوتی ہے ۔اس روشنی میں امام کے انتخاب یا تعیین کو جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بعد سب سے اعلیٰ دینی منصب ہے ،ناقابل اعتبار اکثریت کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ۔
(ج)۔ کیا صدر اسلام میں خلیفہ کا انتخاب اکثریت نے کیا؟
بعض توجیہی ں واقعہ کے گزر جانے کے بعد اسباب تراشی کرتی ہیںاکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک معاشرتی واقعہ بعض حالات و شرائط کے تحت وجود میں آتا ہے ۔ بعد میں آنے والے اس واقعہ کو وجود میں لانے والوں کے فیصلوں کی بنیاد اپنے حدس و گمان پر رکھتے ہیں اور اس واقعہ کے لئے بے جھت خوش بینی کی بنا پر ایسے اخلاقی ،فکری اور سماجی اسباب و علل تراشتے ہیں کہ واقعہ کو وجود میں لانے والوں کی روح کوان کی بھی خبر نہیں ہوتی۔
اتفاق سے خلفا کی حکومت کے لئے جمھوری نوعیت اور عوام پر عوام کی حکومت یا اقلیت پراکثریت کی حکومت کی توجیہ اس کا روشن و واضح مصداق ہے در اصل صدر اسلام کے خلفاء کے انتخاب میں جو چیز وجود میں نہیں آئی وہ عوام کے ذریعہ خلفاء کا انتخاب تھا ۔کیوں کہ نہ اہل سنت کے محقق علماء خلیفہ کے انتخاب میں اس اصل کے معتقد ہیں اورنہ خلفاء کا انتخاب اس طریقہ سے انجام پایا ۔اس کے با وجود عصر حاضر کے بعض اہل قلم ان خلفاء کی خلافت کو صحیح و درست بتانے کے لئے ہمارے زمانہ کی چیز یعنی جمھوریت اور مغربی لیبرلیزم کا سھارالیتے ہیں اور عوام پر عوام کی حکومت یا اقلیت پر اکثریت کی حکومت کی مثال پیش کرتے ہیں جب کہ اس طرح کی توجیھات واقعہ کے وجود میں آنے کے بعد عالم تخیل میں اس کی اسباب تراشی ہے اور خلافت کا ہر گز اس سے کوئی ربط نھیںرہا ہے۔
اب ہم مزید اطمینان کے لئے اس سلسلہ میں بعض قدیم علماء کے اقوال نقل کرتے ہیں: قاضی ایجی اپنی مشھور کتاب شرح مواقف میں لکھتے ہیں : امام کے انتخاب کے لئے کسی فرد کے خلافت پر اجماع یا امت کے اتفاق کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اصحاب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)میں سے ایک یا دو شخص کی بیعت یا پیمان سے ہی اس شخص کی خلافت قانونی صورت اختیار کرلیتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اصحاب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے دینی امور میں کمال ایمان کی وجہ سے صرف حضرت ابوبکر کی رائے کو کافی سمجھا جنھوں نے عمر کو اپنے بعد خلافت کے لئے معین کیا اور نہ صرف تمام مسلمانوں کے اتفاق رائے کو شرط نہیں جانا بلکہ خود مدینہ میں رہنے والے صحابہ کے اتفاق رائے کو بھی ضرورینھیں سمجھا ۔(۲۷)
”احکام السلطانیہ“کے مولف لکھتے ہیں :بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں خلیفہ کا انتخاب اسلامی شھروں میں رہنے والی بزرگ اسلامی شخصیتوں کی تصویب سے انجام پاتاہے،جبکہ ابو بکر سقیفہ بنی ساعدہ میں صرف پانچ افراد کی رائے سے خلیفہ ہوئے ،عمر ،ابو عبیدہ ،اسید بن حضیر ،بشر بن سعد اور سالم مولیٰ ابو حذیفھ۔ (۲ ۸)
اسلامی خلافت کی تاریخ گواہ ہے کہ عمرنے کی خلافت صرف حضرت ابوبکر کی تعیین کے ذریعہ قانونی ہو گئی اور حضرت عمر نے بھی خلافت کے لئے کسی شخص کے انتخاب کا اختیار چہ نفری کمیٹی کے حوالے کر دیا اور بقیہ تمام مسلمانوں کو انتخاب ہونے اور انتخاب کرنے سے محروم کر دیا ۔
قاضی باقلانی لکھتے ہیں : ابوبکر کا انتخاب حضرت عمر کی کوشش اور دوسرے چار افراد کے ذریعہ انجام پایا؟۔(۲۹) حضرت امیر المومنین علی ںکی شھادت کے بعد خلافت بنی امیہ اور بنی عباس کے خاندانوں میں موروثی سلطنت کی شکل اختیار کر گئی ،جس کی کھانی بہت ہی دردناک ہے اور یہاں اس کے بیان کی گنجائش بھی نہیں ہے۔
____________________
(۲۴) سیمائے شجاعان ،ص/۳۳و۳۴
(۲۵) سیمائے شجاعان ،ص/۳۴
(۲۶) سورہ بقرہ /۲۱۶
(۲۷) شرح مواقف ،ج/۳ص/۲۶۵
(۲۸) الاحکام السلطانیہ ،ص/۴
(۲۹)التمھید ، ص ۱۷۸۔
نویں فصل
اسلام میں مشورہ
اس میں کسی بحث کی ضرورت نہیں کہ مشورہ کے ذریعہ بہت سی انفرادی و اجتماعی مشکلات حل ہوتی ہیں۔دو فکروں کا ٹکراو گویا بجلی کے دو مثبت ومنفی تاروں کے ٹکرانے کے مانند ہے جس سے روشنی پیدا ہوتی ہے اور انسان کی زندگی کی راہ روشن ہوجاتی ہے۔
مشورہ مشکلات کے حل کے لئے اس قدر اہم ہے کہ قرآن کریم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کوحکم دیتاہے کہ زندگی کے مختلف امور میں مشورہ کرو۔چنانچہ فرماتاہے:
( وشاورهم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی الله ان الله يحب المتوکلین ) (۳۰)
یعنی اپنے فیصلوں میں ان سے مشورہ کرو اور جب فیصلہ کرلو توخدا پر بھروسہ کرو۔بلا شبھہ خدا توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔
خداوند عالم ایک دوسری آیت میں صاحبان ایمان کی یوں تعریف کرتاہے:
( والذین استجابوالربهم واقامواالصلوٰةوامرهم شوریٰ بینهم ومما رزقناهم ینفقون ) (۳۱)
یعنی جو لوگ اپنے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیںاورنمازقائم کرتے ہیںاوران کے فیصلوںاور کاموںکی بنیادان کاآپسی مشورہ ہے اورجوکچہ خداانھیںرزق دیتاہے اس میں سے انفاق کرتے ہیں۔
لھٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ عقل اور نقل دونوں نے مشورہ کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور کیا اچھا ہو کہ مسلمان اسلام کے اس عظیم دستور کی پیروی کریں جس میں ان کی سعادت وخوشبختی اور سماج کی ترقی پوشیدہ ہے۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نہ صرف لوگوں کو یہ روش اپنانے کاحکم دیتے تھے بلکہ آپ نے اپنی زندگی میں خود بھی خدا کے اس فرمان پر عمل کیاہے ۔جنگ میں جبکہ ابھی دشمن کاسامنا نہیں ہواتھا ،بدر کے صحرا میں آگے بڑھنے اور دشمن سے مقابلہ کے سلسلہ میں آپ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور ان سے فرمایا :”اشیروا الیّ ایھا الناس“قریش سے جنگ کے سلسلہ میں تم لوگ اپنا نظریہ بیان کروکہ ہم لوگ آگے بڑھکر دشمن سے جنگ کریں یا یہی ں سے واپس ہوجائےں ؟مھاجرین وانصار کی اہم شخصیتوں نے دو الگ الگ اور متضاد مشورے دیئے لیکن آخر کار پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے انصار کا مشورہ قبول کیا۔(۳۲)
اُحد کی جنگ میں بڑے بوڑھے لوگ قلعہ بندی اور مدینہ میں ہی ٹھھرنے کے طرفدار تھے تاکہ برجوں اور مکانوں کی چھتوں سے دشمن پر تیر اندازی اور پھتروں کی بارش کرکے شھر کا دفاع کریں،جبکہ جوان اس بات کے طرفدار تھے کہ شھر سے باہر نکل کر جنگ کریں اور بوڑھوں کے نظریہ کو زنانہ روش سے تعبیر کرتے تھے ۔یہاں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے دوسرے نظریہ کو اپنایا ۔(۳۳) جنگ خندق میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ایک فوجی کمیٹی تشکیل دی اور مدینہ کے حساس علاقوں کے گرد خندق کھودنے کا جناب سلمان کا مشورہ قبول کیا اور اس پر عمل کیا ۔(۳۴)
طائف کی جنگ میں لشکر کے بعض سرداروں کے مشورہ پرفوج کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔(۳۵)
لیکن اس بات پر توجہ ہونی چاہئے کہ کیا صرف مشور ہ اور تبادلہ خیالات ہی مشکلات کاحل ہے یا یہ کہ پہلے عقل وفکر کے اعتبار سے بانفوذ مرکزی شخصیت جلسہ تشکیل دے اور تمام آراء کے در میان سے ایک ایسی رائے منتخب کرے اور اس پر عمل کرے جو اس کی نظر میںبھی حقیقت سےقریب ہو۔
معمولاً مشوروں کے جلسوں میں مختلف افکارونظریات پیش کئے جاتے ہیں اور ہرشخص اپنے نظریہ کا دفاع کرتے ہوئے دوسروں کی آرا ء کو ناقص بتاتا ہے ۔ایسے جلسہ میں ایک مسلم الثبوت رئیس و مرکزی شخص کا وجود ضروری ہے ،جو تمام لوگوں کی رائے سنے اور ان میں سے ایک قطعی رائے منتخب کرے۔ورنہ دوسری صورت میں مشورہ کا جلسہ کسی نتیجہ کے بغیر ہی ختم ہو جائے گا۔
اتفاق سے وہ پہلی ہی آیت جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کا حکم دیتی ہے مشورہ کے بعد سے یوں خطاب کرتی ہے :”فاذا عزمت فتوکل علی الله “ پس جب تم فیصلہ کر لو تو خداپر بھروسہ کرو ۔اس خطاب سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے یہ بات کھی جا رہی ہے کہ مشورہ کے بعد فیصلہ کرنے والی مرکز ی شخصیت خود پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی ذات ہے لھٰذا پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو ہی فیصلہ کرنا اور خدا پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
جمعیت کا پیشوا و رہبر ،جس کے حکم سے مشورہ کاجلسہ تشکیل پایا ہے ممکن ہے کہ لوگوں کے درمیان کسی تیسرے نظریہ کو اپنائے جو اس کی نظر میں ”اصلح “ یعنی زیادہ بہتر ہو۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اپنے اصحاب کے عمومی خیالات کی مخالفت کی اور مسلمانوں اور قریش کے بت پرستوں کے درمیان صلح کی قرار داد باندھی اور خود صلح یا صلح نامہ کے بعض پہلووں سے متعلق اپنے اصحاب کے اعتراضات پر کان نہیں دیئے اور زمانہ نے یہ بات ثابت کردی کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں مفید تھا ۔
اسلام میں مشورہ اور جمھوری حکومتوں کے مشورہ جس میں ملکی قوانین پاس کرنا پارلمینٹ اور سینٹ دونوں مجلسوں کے اختیار میں ہے اور حکومت کا صدر صرف ان دو مجلسوں کے تصویب شدہ قوانین کا اجرا کرنے والا ہے - میںزمین آسمان کا فرق ہے۔یہاں حکومت کارئیس وحاکم جوخود پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں، اقلیت یا اکثریت کی آراء کے مطابق عمل کرنے پر مجبور نہیں ہے ۔بلکہ آخری رائے یا آخری فیصلہ کا اظھار ،چاہے وہ اہل مجلس کی رائے کے ،موافق ہو یا مخالف ،خود پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اوپر ہے۔اور یہ پہلے عرض کیا جاچکا کہ مشورہ کے بعد قرآن کریم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو حکم دیتاہے کہ اب آپ خدا پر توکل کریں ،فیصلہ کریںاور آگے بڑھیں۔
دوسری آیت کا مطلب بھی یہی ہے۔دوسری آیت تبادلہ خیال کو بایمان معاشرہ کی ایک بھترین خوبی شمار کرتی ہے ۔لیکن یہ باایمان معاشرہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں ہرگز ایک نافذ اور مطلق العنان رئیس سے خالی نہیں تھا اور عقل یہ کھتی ہے کہ آنحضرت کی رحلت کے بعد بھی بایمان معاشرہ کو ایسی شخصیت سے خالی نہیں رہنا چاہئے ۔یہ آیت ایسے معاشروں کی طرف اشارہ کررہی ہے جنھوں نے حاکم ورہبر کے تعین کامرحلہ طے کرلیا ہے اور اب دوسرے مسائل میں مشورہ یا تبادلہ خیال کرتے ہیں ۔
اس بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بعض علمائے اہل سنت کا ان آیات سے مشورہ کے ذریعہ خلیفہ کے انتخاب کو صحیح قرار دینا درست نہیں ہے ۔کیونکہ جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں مذکورہ آیات ان معاشروں سے متعلق ہےں جن میں حاکم کے تعین کی شکل پہلے سے حل ہوچکی ہے اور مشورتی جلسے اس کے حکم سے تشکیل پاتے ہیں تا کہ مسلمان اپنے دوسرے امور میں تبادلہ خیال کریں ، خاص طور سے پہلی آیت جو صاف طورسے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے جومسلمانوں کے رہبر ہیں۔خطاب کرتی ہے کہ مشورہ کے بعد فیصلہ کرلو اور اس کے مطابق عمل کرو۔
اس کے علاوہ عمومی افکار و خیالات کی طرف رجوع اس سلسلہ میں ہے جس میں خداوند عالم کی طرف سے مسلمانوں کے لئے کوئی فریضہ معین نہ کیا گیا ہو۔ایسے میں مسلمان تبادلہ خیال کے ذریعہ اپنا فریضہ معلوم کرسکتے ہیں،لیکن جس امر میں نص کے ذریعہ سب کا فریضہ معین کیا جاچکا ہے اس میں مشورہ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ”حباب منذر“پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے پاس آئے اور فوج کے مرکز کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست کی تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے خطاب کرکے عرض کیا ”فان کان عن امر سلّمنا و ان کا عن الرای فالتاخر عن حصنھم“(۳۶) یعنی اگر اس سلسلہ میں کوئی الٰہی حکم ہے تو ہم تسلیم ہیں اور اگر ایسی بات ہے کہ ہم اس میں اپنی رائے دے سکتے ہیں تو لشکر اسلام کی مرکزی کمان کو دشمن کے قلعہ سے دورمیں ہی بھلائی ہے۔
حضرت علی ںکی خلافت و جانشینی کا موضوع ایسا مسئلہ ہے جسے بہت سے نقلی دلائل نے ثابت اور واضح کردیا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے خدا کے حکم سے بہت سے موقعوں پر مثلاً یوم الدار ،غدیر خم، اوربیماری کے ایام میں ان کی خلافت و جانشینی کو صراحت سے بیان کردیاہے۔پھر اب مشورہ کے ذریعہ آنحضرت کی جانشینی کی تعیین کا مسئلہ حل کیا جانا ہے کیا معنی رکھتا ہے۔کیا یہ عمل نص کے مقابلہ میں اجتھاد اور خدا کے قطعی حکم یا دلیل کے مقابل اپنے نظریہ کا اظھار نہیں ہے؟
قرآن مجید ایک آیت کے ضمن میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے : جب پیغمبر اکرم کے منہ بولے بیٹے زید نے اپنی بیوی جناب زینب کو طلاق دے دی اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے خدا کے حکم سے جناب زینب سے شادی کرلی تو یہ بات مسلمانوں کو بہت بری لگی کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا اور جس طرح نسبی بیٹے کی بیوی سے شادی نا پسندیدہ اور حرام تھی اسی طرح منہ بولے بیٹے کی بیوی سے بھی شادی نا روا اور قبیح سمجھی جاتی تھی۔
مسلمانوں کو یہ توقع تھی کہ آنحضرت ہمارے نظریات کے پیرو ہوں گے اور ہمارے خیالات کا احترام کریں گے ۔جبکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے یہ عمل خدا وند عالم کے حکم سے اور جاہلیت کے رسم و رواج کو غلط قرار دینے کے لئے انجام دیا تھا ۔ اور ظاہر ہے کہ خدا کے حکم کے ہوتے ہوئے عام لوگوں کے افکار و خیالات کی طرف توجہ دینا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے مندرجہ ذیل آیت کے ذریعہ ان موارد میں اپنی مداخلت اور اپنے خیالات کے اظھار کو شدت سے محکوم کیا ہے ، جن میں اللہ کے حکم نے مسلمانوں کے لئے کوئی خاص فریضہ معین کر دیا ہو ۔قرآن فرماتا ہے :
( وما کان لمومن ولا مومنة اذا قضی الله و رسوله امرا ان یکون لهم الخیرة من امرهم ومن یعص الله و رسوله فقد ضل ضلالا مبینا ) (۳۷)
”یعنی جب خدا اور اس کا رسول کسی سلسلہ میں حکم دے دیں پھر کسی مومن یا مومنہ کو اپنے امور میں کوئی اختیار نہیں ہے (انھیں بھر حال خدا کے حکم کی پیروی کرنا ہوگی) اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کے فرمان سے سرتابی کرے گا وہ کھلا ہوا گمراہ ہے“
____________________
(۳۰) آل عمران /۱۵۹
(۳۱) شوریٰ /۳۸
(۳۲) سیرہ ابن ہشام ، ج/۱ص/۶۱۵ ،مغازی واقدی ص/۴۸
(۳۳) سیرہ ابن ہشام ، ج/۲،ص/۶۳ ،مغازی واقدی،ج / ،۱ ص/۲۰۹
(۳۴) تاریخ کامل ،ج/۲ص/۱۲۲
(۳۵) مغازی واقدی ،ج/۳ص/۹۲۵
(۳۶)مغازی ،واخدی،ج/۳ ص/۹۲۵
(۳۷) احزاب /۳۶
دسویں فصل
یکطرفہ فیصلہ نہ کریں
اسلام میں وہ تنھا خلیفہ، جو مھاجر و انصار کی قریب با اتفاق اکثریت سے منتخب ہوا ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام تھے ۔ اسلامی خلافت کی تاریخ میں یہ امر بالکل بے نظیر تھا اور اس کے بعد بھی اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی ۔
اس دوران جب معاویہ ( جس نے مدتوں پہلے شام میں اپنی بادشاہت اور مطلق العنانیت کی داغ بیل ڈالی تھی اور خاندان رسالت کے ساتھ دیرینہ اور عمیق بغض و عداوت رکھتا تھا ) اس امر سے آگاہ ہوا کہ مھاجرین و انصار نے حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ منتخب کرلیا ہے ،تو سخت برہم ہوا اور امام(ع)سے بیعت کرنے کےلئے تیار نہ ہوا ۔ اس نے نہ صرف امام(ع)کی بیعت کرنے سے انکار کیا بلکہ حضرت(ع)پر حضرت عثمان کے قتل اور اس کے قاتلوں کی حمایت کی تھمت بھی لگادی!
امام (ع)، معاویہ کو خاموش کرنے اور اس کےلئے ہر قسم کے عذر کے راستوں کو مسدود کرنے کےلئے اپنے ایک خط میں اسے تحریر فرماتے ہیں کہ :
”وہی لوگ جنھوں نے ابو بکر ، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی، میری بھی بیعت کرچکے ہیں، اگر ان کی خلافت کو اس لحاظ سے قابل احترام سمجھتے ہو کہ مھاجرین و انصار نے ان کی بیعت کی تھی تو یہ شرط میری خلافت میں بھی موجود ہے“۔
امام(ع) کے خط کا متن :
”انه بایعنی القوم الّذین بایعوا ابابکر و عمر و عثمان علی ما بایعوهم علیه فلم یکن للشاهد ان یختار و لا للغائب ان یرد و إنّما الشوریٰ للمهاجرین و الانصار اجتمعوا علی رجل و سموه إماماً کان ذلک ( لله ) رضا“ (نھج البلاغہ ، خط نمبر/۶)
” جن افراد نے ابوبکر ، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی ، وہ میرے ساتھ بھی بیعت کرچکے ہیں اس صورت میں مدینہ میں حاضر شخص کو کسی اور کو امام منتخب کرنے اور مرکزِ شوریٰ سے دور کسی فرد کو ان کا نظریہ مسترد کرنے کا حق نہیں ہے ۔ شوریٰ کی رکنیت صرف مھاجر و انصار کا حق ہے۔ اگر انھوں نے کسی شخص کی قیادت و امامت پر اتفاق نظر کیا اور اسے امام کھا ، تو یہ کام خدا کی رضا مندی کا باعث ہوگا۔
امام علیہ السلام کے اس خط کا مقصد ، معاویہ کو خاموش کرنے ، اس کی ہر قسم کی بھانہ تراشی اور خود غرضی کا راستہ بند کرنے اور قرآن مجید کی اصطلاح میں”مجادلہ احسن“ کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ معاویہ شام میں حضرت عمر اور اس کے بعد حضرت عثمان کی طرف سے مدتوں گورنر رہ چکا تھا اور انھیں خلیفہ رسول اور اپنے آپ کو ان کا نمائندہ جانتا تھا ۔ ان حضرات کی خلافت کا احترام اسی جھت سے تھا کہ وہ مھاجر و انصار کی طرف سے منتخب ہوئے تھے ، اور بالکل یہی انتخاب واضح اور مکمل صورت میں امام علیہ السلام کے حق میں بھی انجام پایا تھا س لئے کوئی وجہ نہیں تھی کہ ایک کو قبول اور دوسرے کو مسترد کیا جائے۔
امام علیہ السلام نے قرآن مجید میں حکم شدہ مجادلہ کے ذریعہ(۳۸) اپنی خلافت کے بارے میں معاویہ کی مخالفت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا :
”جنھوں نے ابو بکر اور عمرو عثمان کی بیعت کی تھی ، وہی میری بیعت بھی کرچکے ہیں، لھذا اب تم میری خلافت کو جائز کیوں نہیں سمجھتے ہو؟“
مجادلہ کی حقیقت اس کے سوا کچھ اور نہیں ہے کہ جس چیز کو مخالف مقدس اور محترم جانتا ہو اسے استدلال کی بنیاد قرار دیکر مخالف کو اسی کے اعتقاد کے ذریعہ شکست دی جائے۔ اس لحاظ سے ، یہ خط ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امام علیہ السلام مھاجرین و انصار کی شوریٰ کے ذریعہ خلیفہ کے انتخاب کو سو فیصد صحیح جانتے تھے اور امام(ع)کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ خلیفہ کا انتخاب مھاجرین و انصار کی مشورت کے ذریعہ ہی انجام پانا چاہئے اور مسئلہ امامت ہرگز ایک انتصابیمسئلہ نہیں بلکہ انتخابی مسئلہ ہے۔
اگر امام علیہ السلام کا مقصد یہی ہوتا ، تو انھیں اپنے خط کو گذشتہ تین خلفاء کی بیعت کی گفتگو سے شروع نہیں کرنا چاہئے تھا ، بلکہ انھیں ان خلفاء کی خلافت کی طرف اشارہ کئے بغیر اپنی بات کویوں شروع کرنا چاہئے تھا :
”مھاجرین و انصار نے میری بیعت کی ہے اور جس شخص کی وہ بیعت کرلیں وہ لوگوں کا امام و پیشوا ہوگا “
یہ جو امام بعد والے جملوں میں فرماتے ہیں :”فان اجتمعوا علی رجل و سموه اماماً، کان ذلک ( لله ) رضا “ تو یہ احتجاج بھی مخالف کے عقیدہ کی روشنی میں ہے اور کلمہ ”الله“ نھج البلاغہ کے صحیح نسخوں میں موجود نہیں ہے بلکہ مصر میں چھپے نسخوں میں بریکٹ کے اندر پایا جاتا ہے (اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام(ع)کے خط میں اس کلمہ (الله) کے ہونے میں شک پا یا جاتا ہے ) حقیقت میں امام(ع)فرماتے ہیں کہ : اگر مسلمان اپنے پیشوا کے انتخاب میں ایک فرد پر اتفاق کریں ، تو ایسا کا م پسندیدہ ہے ، یعنی تم لوگوں کے عقیدہ کے مطابق یہ کام پسندیدہ اور رضا مندی کا باعث ہے اور یہی کام تو میرے بارے میں انجام پایا ہے ، اب کیوں میری بیعت کرنے میں مخالفت کرتے ہو؟
سب سے پہلا شخص ، جس نے اس خطبہ سے اہل سنت کے نظریہ کو ثابت کرنے کے سلسلہ میں استدلال کیا ہے ، شارح نھج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ، ہے ۔ اس نے اس خط میں اور نھج البلاغہ کے دیگر خطبوں میں موجود قرائن کے سلسلہ میں غفلت کے سبب اس سے اہل سنت کے نظریہ کی حقانیت پر استدلال کیا ہے اور امام(ع)کے فرمائشات کو ایک سنجیدہ امر سمجھتے ہوئے اسے آپ(ع)کا عقیدہ تصور کیا ہے(۳۹) ۔ شیعہ علما ء جب بھی اس خطبہ کی شرح پر پھنچتے ہیں تو انھوں نے وہی مطلب بیان کیا ہے جس کا ہم اوپر اشار کرچکے ۔
تعجب ہے کہ احمد کسروی نے اپنی بعض تحریروں میں اس خطبہ کو بنیاد بنا کر اسے شیعوں کے عقیدہ کے بے بنیاد ہونے کی دلیل قرار دیا ہے اور اس سے بڑہ کر تعجب ان لوگوں پر ہے جو ان دو افراد کی باتوں کو نیا روپ دیگر اسے دھوکہ کھانے والوں کے بازار میں ایک نئی چیز کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ ہر زمانے میں مذہب تشیع کے ایسے محافظ موجود ہوتے ہیں جو خودغرضوں کی سازشوں کا پردہ چاک کردیتے ہیں ۔
یک طرفہ فیصلہ نہ کریں !
کسی فیصلہ کےلئے خود سری سے کام نہیں لینا چاہئے اور ” نھج البلاغہ “ میں موجود امام (ع)کے دوسرے ارشادات سے چشم پوشی نہیں کرنا چاہئے ، بلکہ امام علیہ السلام کے تمام بیانات سے استفادہ کرکے ایک نتیجہ اخذ کرناچاہئے ۔
یہی امام جو اس خط میں لکھتے ہیں :
” جن لوگوں نے گذشتہ تین خلفا کی بیعت کی تھی ، انھوں نے میری بھی بیعت کی ہے اور جب کبھی مھاجر و انصار کسی کی امامت کے بارے میں اتفاق رائے کا اظھار کریں ، تو وہ لوگوں کا پیشوا ہوگا اور کسی کو اس کی مخالفت کرنے کا حق نہیں ہے“۔
خلافت خلفاء کے بارے میں خطبہ شقشقیہ میں فرماتے ہیں :
” خدا کی قسم ! فرزند ابو قحافہ نے پیراہن خلافت کو کھینچ تان کر پھن لیا حالانکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا خلافت کی چکی میرے وجود کے گرد گردش کرتی ہے اور میرا خلافت میں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کی کیل کا ہوتا ہے ۔ میں وہ (کوہ بلند ) ہوں جس سے علوم و معارف کا سیلاب نیچے کی طرف جاری ہے اور کسی کے وہم و خیال کا پرندہ بھی مجھ تک نھیںپھنچ سکتا ۔ لیکن میں نے جامہ خلافت کو چھوڑ دیا اور اس سے پہلو تھی کرلی اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں (کسی ناصر و مددگار کے بغیر ) سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کرلوں ، جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہوجاتا ہے اور مؤمن اس میں رنجیدہ ہو تا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے پروردگارکے پاس پھنچ جاتا ہے مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا۔ لھذا میں نے صبر کیا حالانکہ آنکھوں میں ( غم و اندوہ کے تنکے کی) خلش تھی اور حلق میں ( غم و رنج کی ) ھڈی پھنسی ہوئی تھی ۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکہ رہا تھا ، یہاں تک کہ پہلے ( ابو بکر ) نے اپنی راہ لی اور وہ اپنے بعد خلافت ابن خطاب کو دے گیا ۔ تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا ۔ لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کےلئے استوار کرتا گیا۔ ان دونوں نے خلافت کو دو پستانوں کے مانند آپس میں بانٹ لیا اس نے خلافت کو ایک سخت و درشت جگہ قرار دے دیا ۔
آپ نے مزید فرمایا : ” یہاں تک کہ دوسرا (عمر ) بھی اپنی راہ لگا ، اور اس نے خلافت کا معاملہ ایک جماعت کے حوالے کردیا ۔ اور مجھے بھی اس جماعت کا ایک فرد قرار دیا ۔ اے الله ! میں تجہ سے اس شوریٰ کی تشکیل اور اس کے مشورہ سے پناہ مانگتا ہوں جبکہ انھوںنے مجھے بھی اس کا ہم ردیف قرار دے دیا ۔ ۔(۴۰)
امام علیہ السلام اپنے ایک خط میں اپنی مظلومیت اور آپ(ع)سے بیعت لینے کے طریقے پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے معاویہ کے ایک خط کے جواب میں__جس میں اس نے حضرت(ع)کو لکھا تھا کہ انھیں اونٹ کی ناک میں نکیل ڈال کر کھینچنے کی صورت میں ابو بکر کی بیعت کرنے کےلئے کھینچ کر لے گئے تھے__لکھتے ہیں :
” تم نے لکھا تھا کہ : مجھے اونٹ کی ناک میں نکیل ڈالکر کھینچنے کی صورت میں بیعت کرنے کےلئے کھینچ کر لئے گئے تا کہ میں بیعت کروں ۔ خدا کی قسم تم نے چاہا کہ میری ملامت کرو لیکن اس کے بجائے تم میری ستائش کر گئے ہو اور مجھے رسوا کرنا چاہتے تھے لیکن خود رسوا ہوگئے ہو ( کیونکہ تم میر ی مظلومیت کا واضح طور پر اعتراف کرگئے ہو ) کیونکہ مسلمان کےلئے__ جب تک اس کے دین میں شک اور یقین میں خلل نہ ہو __مظلومیت اور ظلم و ستم سھنے میں کوئی عار نہیں ہے “(۴۱)
کیا امام(ع)کی اپنی مظلومیت کے بارے میں اس صراحت کے باوجود کہ آپ(ع)سے زورز بردستی اور جبراً بیعت لی گئی ہے ، یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ آپ(ع) نے خلفاء کی خلافت کی تائید کی ہوگی اور ان کو امت کے امام و پیشوا کے طور پر تسلیم کیا ہوگا ؟ ہر گز نہیں ، لھذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زیرِ بحث خط میں آپ(ع)کا مقصد مجادلہ اور طرف کو لاجواب کرنا تھا ۔ امام علیہ السلام اپنے ایک اور خط میں __جسے آپ(ع)نے اپنے گورنر مالک کے ہاتہ مصر بھیجا تھا __لکھتے ہیں : ” خدا کی قسم ! میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عرب پیغمبر کے بعد خلافت کو آپ کے خاندان سے نکال کر کسی دوسرے کو سونپ دیں گے اور ہمیں اس سے محروم کردیں گے ۔ ابو بکر کی بیعت کےلئے لوگوں کی پیشقدمی نے ہمیں رنج و مصیبت میں ڈالدیا “(۴۲)
____________________
۳۸۔(وجادلهم بالتی هی احسن )(نحل/ ۱۲۵)
۳۹۔۱۔شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۴، ص ۳۶
۴۰شرح نھج البلاغہ ، ج۱ ، خطبہ شقشقیہ ۔
۴۱و قلت إنّی کنت اقاد کما یقاد الجمل المخشوش لا بایع ، و لعمر الله لقد اردت ان تذم فمدحت ، و ان تفضح فافتضحت و علی المسلم من غضاضة فی ان یکون مظلوماً ما لم یکن شاکاً فی دینه و لا مرتاباً بیقینه “ ( نھج البلاغہ ، خط ۲۸)
۴۲۔”و لا یخطر ببالی انّ العرب تزعج هذا الامر من بعده صلی اللّٰه علیه وآله وسلم عن اهل بیته ولا انّهم منحوه عنی من بعده فما راعنی إلا انثیال الناس علی فلان یبایعونه. .“ (نھج البلاغہ ، خط ۶۲ )
گیارہویں فصل
سقیفہ بنی ساعدہ کی غم انگیر داستان
پیغمبرکی تشویش کہیں امت جاہلیت کی طرف پلٹ نہ جائے !
قرآن مجید کی آیات اور تاریخی قرائن اس امر کے شاہد ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلامی معاشرے کے مستقبل کے بارے میں سخت فکر مند تھے ۔ اور ( غیبی الھامات سے قطع نظر ) بعض سلسلہ وار ناگوار حوادث کو دیکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں یہ احتمال تقویت پارہا تھا کہ ممکن ہے ایک گروہ یا بہت سے لوگ آپ(ع)کی رحلت کے بعد جاہلیت کے زمانے کی طرف پلٹ جائیں اور سنن الھی کو پس پشت ڈال دیں اس احتمال اور خدشہ نے اس وقت آپ(ع)کے ذہن میں اور زیادہ قوت پائی جب آپ(ع)نے جنگ اُحد میں ( جب دشمن کی طرف سے پیغمبر اسلام کے قتل ہونے کی افواہ پھیلائی گئی تھی ) اس بات کا عینی مشاہدہ کیا کہ مسلمانوں کی اکثریت نے بھاگ کر پھاڑوں اور دور دراز علاقوں میں پناہ لے لی۔ اور بعض لوگوں نے فیصلہ کرلیا کہ منافقوں کے سردار ” عبدالله ابن ابی “ کے ذریعہ ابو سفیان سے امان حاصل کریں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کا مذہبی عقیدہ اتنا کمزور اور متزلزل ہوا تھا کہ وہ خدا کے بار ے میں بد گمان ہو کر جاہلانہ افکار کے مرتکب ہوگئے تھے ۔ قرآن مجید نے اس راز کا یوں پردہ چاک کیا ہے :
( وَ طاَئِفةٌ قَدْاهَمَّتْهُمْ انْفُسُهُمْ یِظُنُّونَ بَاللهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ یَقُولُونَ هَلْ لَّنٰا مِن َ الامْرِ شَیْءٌ ) (۴۳)
( اصحاب پیغمبر میں سے ایک گروہ کو ) اپنی جان کی اس قدر فکر تھی کہ وہ خداکے بارے میں دور ان جاہلیت کے جیسے باطل خیالات کے مرتکب ہوگئے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آیا (مسلمین پر حاکمیت ) جیسی کوئی چیز ہم پر ہے ؟
قرآن مجید ایک اور آیہ کریمہ میں اصحاب رسول خدا کے آپسی اختلافات کے بارے میں اشارتاً خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے :
( وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِه الرُّسُلُ افَإِنْ مَاتَ اوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَٰی اعْقَٰبِکُمْ وَ مَنْ یَنقَلِبْ عَلَٰی عَقِبَیْه فَلَنْ یَضُرَّ اللهَ شیْئاً وَ سَیَجْزِی اللهُ الشَّٰکِرِینَ ) (۴۴)
” اور محمد تو صرف خدا کی جانب سے ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل ہوجائیں تو تم الٹے پیر پلٹ جاؤ گے ؟ تو جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور خدا عنقریب شکر گزاروں کو ان کی جزا دے گا “۔
یہ آیہ شریفہ اصحاب رسول خدا کو دو حصوں یعنی عصر جاہلیت کی طرف لوٹ جانے والے اور ” ثابت قدم و شکر گزار “ گروہ میں تقسیم کرکے اشارتاً یہ بیان کرتی ہے کہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد مسلمان افتراق و اختلاف کے شکار ہو کر دو گروہ میں بٹ جائیں گے ایک گروہ عصر جاہلیت کی طرف پلٹ جائے گااور دوسرا گروہ ثابت قدم و شکر گذار رہے گا ۔
کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ پیغمبر اسلام ایک ایسی امت کو جو اختلاف و افتراق سے دو چارہو ، اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کےلئے ایک امام و پیشوا اور حاکم و فرمان روا مقرر نہ فرمائیں؟
پیغمبر کےلئے یاقومی اتحاد کے قائل افراد کےلئے بھی یہ ہر گز جائز نہیں کہ ایک ایسے لوگون کی اجتماعی و سیاسی زندگی کی باگ ڈورخود ان کے ہاتہ میں دیدیں ، بلکہ حالات پر قابو رکھنے کےلئے لازم بن جاتا ہے کہ ایک لائق اور قابل شخص کو امت کے امام و پیشوا کی حیثیت سے مقرر کیا جائے تا کہ حتی الامکان اختلاف و افتراق اور ناامنی سے معاشرے کو بچایا جاسکے ۔
پیغمبر اسلام جانتے تھے کہ آپ کی امت میں اختلاف و افتراق پایا جاتا ہے اور یہ امت بھی گزشتہ امتوں کی طرح مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی ، حتی آپ نے اپنی امت کے بارے میں پیشینگوئی کے ذریعہ فرمایا ہے :
”ستفترق امتی علی ثلاث و سبعین فرقة ، فرقة ناجیة و الباقون فی النار “
عنقریب میری امت ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی ان میں سے صرف ایک گروہ اہل نجات ہوگا اور باقی فرقے جھنمی ہوں گے“(۴۵)
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اطلاع و آگاہی رکھنے کے باوجود کہ امت کی رہبری کا انتخاب بہت سے اختلافات کا سد باب بن سکتا ہے کس طرح اس اہم امر کو ایک متلون مزاج جمعیت کے سپرد کیا ، جس کے نتیجہ میں امت میں یہ وسیع اختلافات و شگاف پیدا ہوگیا ؟!
اسلامی سماج ، ان دنوں مختلف گروہوں میں بٹ گیا تھا اور ہر گروہ ایک آرزو اور مقصد رکھتا تھا: انصار دو معروف گروہوں یعنی ” اوس“ و ” خزرج“ پر مشتمل تھے ، اور مھاجر ، بنی ہاشم اور بنی امیہ کے علاوہ قبائل ” تیم “ اور ” عدی “ پر مشتمل تھے ۔ ہر گروہ چاہتا تھا معاشرے کی قیادت اس کے ہاتہ میں آجائے اور ان کے قبیلہ کا سردار اس عھدہ کا مالک بنے ۔
کیا ان متضاد گروہوں کے ہوتے ہوئے امت میں اتحاد و یکجھتی اور دین کے سلسلے میں مسلمانوں کے استحکام و پائیداری کی امید کی جاسکتی ہے یا سب سے پہلے اختلاف و افتراق کے اسباب کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے تب ایسی امید رکھنی چاہئے ؟
پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد مسلمانوں کی صفوں میں جوسب سے بڑی دراڑ پیدا ہوئی اور جس سے ان کے اتحاد و یکجھتی پر کاری ضرب لگی وہ اسلامی قیادت کے بارے میں اختلاف نظر کا سبب تھا ۔ اگر مسلمان اس موضوع پر اختلاف و افتراق کے شکار نہ ہوتے تو بہت سے اختلافات قیادت کے مسئلہ میں اتفاق نظر اور اتحاد کی وجہ سے حل ہوجاتے ۔ لیکن اسی اہم اور بنیادی امر پر اختلاف ہی بعد والے اختلافات ، جنگوں اور فتنوں کا سبب بنا نتیجہ کے طور پر امت مختلف گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوگئی اور بعض گروہ ایک دوسرے کی مخالفت اور ٹکراؤ پر اتر آئے ۔
اہل سقیفہ کی منطق
قرآن مجید یاران پیغمبر کو تنبیہ کرتا ہے کہ مبادا آپ کی رحلت کے بعد وہ زمانہ جاہلیت کے افکار کی طرف پلٹ جائیں۔
سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے گروہ کی سرگزشت کی تحقیقات اورمطالعہ سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اس دن پوشیدہ اسرار اور کینہ و عداوت سے پردے اٹہ گئے اور اصحاب رسول کی گفتگو میں ایک بار پھر قومی اور قبیلہ ای تعصبات اور جاہلیت کے افکار رونما ہوئے اور واضح ہوگیا کہ اسلامی تربیت نے ابھی بہت سے اصحاب رسول کے دلوں کی گھرائیوں تک رسوخ نہیں کیا تھا اور اسلام ، جاہلیت کے منحوس چھرے پر ایک نقاب کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
اس تاریخی واقعہ کے مطالعہ اور تحقیق سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اس اجتماع کا مقصد کیا تھا،جھگڑالوں تقریروں ،ایک دوسرے پر حملوں کا مقصد ذاتی منفعت طلبی اور سود جوئی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہر شخص خلافت کا لباس شائستہ ترین شخص کو پھنانے کے بجائے اپنے بدن پر زیب تن کرنے کی کوشش میں تھا ، اور جو موضوع اس مجلس میں زیر بحث نہ آیا وہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت عامہ یا اس منصب کےلئے ایک شائستہ ترین فرد کی تلاش کرنا تھا ، جو عقلمندانہ تدبیر ، وسیع علم ، عظیم روح اور پسندیدہ اخلاق سے اسلام کی ڈوبتی کشتی کو ساحل تک پہنچانے میں قیادت کے فرائض انجام دیتا ۔
حادثہ سقیفہ کے مطالعہ و تجزیہ سے بخوبی پتا چلتا ہے کہ سقیفہ کے ہدایت کار اپنے اور اپنے منافع کے علاوہ کوئی اور فکر نہیں رکھتے تھے اور ہر شخص اپنا الو سیدھا کرنے کی فکر میں تھا۔
تاریخی المیہ !
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا جسداطھر ابھی زمین پر تھا ، بنی ہاشم اور آنحضرت کے بعض سچے اصحاب ، پیغمبر اسلام کی تجھیز و تکفین کے مقدمات میں مصروف تھے کہ اچانک انصار کا گروہ پیغمبر اسلام کے گھر سے چند قدم کی دوری پر ” سقیفہ بنی ساعدہ'' نام کے ایک سائبان کے نیچے جمع ہوا تا کہ پیغمبر اکرم کا خلیفہ و جانشین مقرر کرے۔ گویا ان لوگوں کی نظر میں خلیفہ کا تقرر پیغمبر اسلام کی تجھیز و تکفین و تدفین سے انتھائی فوری اوراہم مسئلہ تھا !۔
جس وقت حضرت علی علیہ السلام بنی ہاشم اور مھاجرین کے ایک گروہ کے ہمراہ گھر کے اندر اور اس کے باہر پیغمبر اسلام کی نماز جنازہ اور تدفین کی تیاریوں میں مصروف تھے ، اچانک حضرت عمر نے جو گھرکے باہر تھے ، انصار کے سقیفہ میں جمع ہونے کی خبر سنی ۔ کسی کے ذریعہ فوراً حضرت ابو بکر کو اطلاع دی کہ جتنی جلد ہوسکے گھر سے باہر آئے ۔ حضرت ابوبکر حضرت عمر کے بلاوے کے سبب سے آگاہ نہ تھے اس لئے عذر خواہی کے ساتھ جواب دیا کہ : ” میں یہاں پر کام میں مصروف ہوں لیکن آخر کار حضرت عمر کے اصرار پر مجبور ہوکر گھر اور پیغمبر کے جسد اطہر کو چھوڑ کر باہر آئے ۔ جب وہ بھی حضرت عمر کی طرح ماجرا سے آگاہ ہوئے توانھوں نے بھی سب کچھ چھوڑ کر سقیفہ کی راہ لی ۔دونوں سقیفہ کی طرف چلے اور ابو عبیدہ ابن جراح کو بھی اپنے ساتھ لئے گئے ۔اب ذرا غور سے طرفین کے مناظرہ اور استدلال کو سنیے کہ یہ لوگ کس منطق کے تحت خود کو اور اپنے قبیلہ کو خلافت کےلئے دوسرے سے لائق و شائستہ سمجھتے تھے۔
اس جلسہ میں انصار کے ترجمان سعد بن عبادہ اور حباب بن منذر تھے اور مھاجرین کی ترجمانی کا فریضہ ابوبکر ، عمر اور ابو عبیدہ انجام دے رہے تھے ، آخر میں انصار کی طرف سے بھی دو افراد نے سعد بن عبادہ کے کام میں روڑے اٹکانے کےلئے تقریریں کی ۔ اب پورا قضیہ ملاحظہ ہو :
سعد ( انصار سے مخاطب ہوکر ) : تم لوگ ایسی فضیلت اور برتری کے مالک ہو کہ دوسرے اس سے محروم ہیں ، پیغمبر گرامی نے سالھا سال اپنے لوگوں کو توحید کی دعوت دی ، لیکن چند لوگوں کے علاوہ کوئی آپ پر ایمان نہ لایا اور وہ بھی آپ کا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن تم لوگ انصار ! آنحضرت پر ایمان لائے آنحضرت اور آپ کے اصحاب کا دفاع کیا ۔ آپ کے دشمنوں سے جنگ لڑی جس کے نتیجہ میں لوگوں نے آپ کا دین قبول کیا ۔ یہ تم لوگوں کی تلواریں تھیں جس کی وجہ سے عرب آنحضرت کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے ۔ جب پیغمبر اسلام اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تم لوگوں سے راضی اور پر امید تھے اس لحاظ سے ضروری ہے کہ امر خلافت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لو کیونکہ تم لوگ اس امر میں تمام لوگوں سے شائستہ اور بہتر ہو ۔(۴۶)
سعد کی منطق یہ تھی ، چونکہ ہم نے پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو پناہ دی ہے ، آپ اور آپ کے اصحاب کا دفاع کیا ہے اور آپ کے دشمنوں سے جنگ لڑی ہے اس لئے ہم قیادت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینے میں دوسروں سے سزاوار اور لائق ہیں ۔
اب دیکھئے کہ اس کے مقابلے میں مھاجرین کی منطق کیا تھی؟
حضرت ابو بکر :مھاجرین اولین گروہ ہیں جو دین پیغمبر پر ایمان لائے اور اس فضیلت پر افتخار کرتے ہیں ۔ انھوںنے مشکلات اور سختیوں میں صبر و تحمل سے کام لیا ہے ، افراد کی کمی پر نہیں ڈرے ہیں ، دشمنوں کی اذیتوں کو برداشت کیا ہے اور آنحضرت پر ایمان اور آپ کے دین سے منہ نہیں موڑا۔ ہم ، آپ ، انصار کے فضائل اور خدمات سے ہر گز انکار نہیں کرتے اور بے شک مھاجرین کے بعد دیگر لوگوں پر آپ فضیلت اور برتری رکھتے ہیں ۔ اس لئے قیادت و رہبری کی باگ ڈور مھاجرین کے ہاتہ اور وزارت آپ لوگوں کے ہاتہ میں ہوگی اور ہم حاکم ہوں گے اور آپ وزیر اور کوئی بھی کام آپ لوگوں کے مشورہ کے بغیر انجام نہیں پائے گا(۴۷)
مھاجرین کی برتری کا استدلال یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں اور آپ کے دین کو قبول کیا ہے ۔
حباب بن منذر : اے جماعت انصار ! حکومت کی باگ ڈور کو اپنے ہاتہ میں لے لو۔ دوسرے لوگ تمھاری ہی قدرت کے سائے میں زندگی بسر کرتے ہیں اور کوئی تمھارے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا تم لوگ صاحب قدرت ہو اور تعداد میں بھی زیادہ ہو۔اپنی صفوں میں ہر گز اختلاف و تفرقہ پیدا نہ ہونے دو، اختلاف کی صورت میں تباہی اور بردباری کے سوا کوئی نتیجہ نہ ہوگا۔ اگر مھاجرین نے اقتدار پر قبضہ کرنے پر اصرار کیا تو ہم مسئلہ کو ” دو امیر“ کے طریقے سے حل کریں گے اور ایک قائد اور حاکم ہم میں سے اور ایک حاکم ان میں سے مقرر ہوگا(۴۸)
اس مناظرہ میں انصار کی منطق افراد کی کثرت اور ان کے دھڑے کی طاقت پر منحصر ہے ۔ وہ کہتے ہیں چونکہ ہم طاقتور ہیں اس لئے حاکم ہم میں سے ہونا چاہئے ۔
حضرت عمر: ایک غلاف میں ہرگز دو تلواریں نہیں سما سکتی ہیں۔ خدا کی قسم عرب تم لوگوں کی فرمانروائی کے سامنے ہرگز تسلیم نہیں ہوں گے کیونکہ ان کا پیغمبر آپ لوگوں میں سے نہیں ہے۔ لیکن اگر حکومت پیغمبر کے کسی رشتہ دار کے ہاتہ آئے تو عرب کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا ۔ کس کی جرات ہے کہ اس حکومت کے بارے میں ہمارا مقابلہ کرے اور ہم سے لڑے جس کی داغ بیل حضرت محمد نے ڈالی ہے ، جب کہ ہم آپ کے رشتہ دار ہیں ۔
اس گفتگو میں حضرت عمر نے زمام حکومت کو ہاتہ میں لینے کا معیار پیغمبر کے ساتھ اپنی رشتہ داری اور قرابت کو قرار دیا اور اس طرح مھاجر اور ان میں قبیلہ قریش کو خلافت کےلئے شائستہ و حقدار جتلایا ہے(۴۹)
” حباب بن منذر“ نے ایک بار پھر انصار کی طاقت کا سھارا لیتے ہوئے کھا:
اے انصار کی جماعت ! عمر اور اس کے ہم فکروں کی بات پر کان نہ دھرو وہ تم لوگوں سے قیادت اور فرمان روائی چھیننا چاہتے ہیں ۔ اگر انھوں نے ہماری بات نہ مانی تو ان سب کو اس سرزمین سے نکال باہر کرو تم لوگ اس کام (فرمانروائی) کےلئے دوسرے لوگوں سے زیادہ شائستہ ہو ۔ تم ہی لوگوں کی تلواروں کی جھنکار کے نتیجہ میں لوگوں نے یہ دین قبول کیا ہے ۔
عمر : خدا تجھے موت دے
حباب : خدا تجھے موت دے۔
ابو عبیدہ نے گویا انصار کو ایک رشوت دیتے ہوئے مھاجرین کو حکومت دیئے جانے کی یوں تائید کی :
اے انصار کی جماعت ! تم لوگ وہ پہلے افراد تھے جنھوں نے پیغمبر اسلام کی حمایت اور مدد کی اب یہ ہر گز سزاوار نہیں ہے کہ تم ہی لوگ سب سے پہلے پیغمبر کی سنت کو بھی بدل دو۔
یہاں پر انصار میں سے سعد بن عبادہ (جو خلافت کےلئے انصار میں سے تقریباً آدھے لوگوں کا امیدوار تھا )کا چچیرا بھائی بشیر بن سعد ، اٹہ کھڑا ہوا ، امیدتھی وہ انصار کے حق میں بول کر قضیہ کو ختم کردے گا لیکن اس نے اس کے برخلاف ، سعد بن عبادہ کے ساتھ اپنی دیرینہ عداوت کی وجہ سے حضرت عمر کے استدالال کی تائید کی اور اپنے رشتہ داروں کی طرف مڑکر کھا:
محمد قریش میں سے ہیں اور آپ کے رشتہ دار خلافت کےلئے دوسروں سے اولیٰ اور شائستہ ہیں ، میں یہ ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا کہ آپ لوگ اس مسئلے میں ان سے ٹکرائیں طرفین نے اپنی اپنی بات سنادی اور کوئی دوسرے کو مطمئن نہ کرسکا تو حضرت ابو بکر نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک تجربہ کار سیاستداں کی طرح ایک نئی تجویز پیش کی اور ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ دو آدمیوں کو پیش کرے تا کہ لوگ ان دونوں میں سے ایک کی بیعت کرلیں ، خاص کر انھوں نے مشاہدہ کیا کہ انصار میں اتفاق رائے نہیں ہے اور بشیر بن سعد ، سعد بن عبادہ ( قبیلہ خزرج کے سردار ) کا مخالف ہے ۔
اس لئے ایک خاص انداز میں بحث و مباحثہ کو ختم کرتے ہوئے بولے:
” میری درخواست ہے کہ مھربانی کرکے اختلاف و تفرقہ سے پرہیز کیجئے میں آپ لوگوں کا خیر خواہ ہوں ، بہتر ہے بات کو مختصر کیجئے اور عمرو ابو عبیدہ میں سے کسی ایک کی بیعت کر لیجئے“
عمرو ابوعبیدہ دونوں نے کھا:
ہمارے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ جیسی شخصیت کے ہوئے ہوئے حکومت و خلافت کی باگ ڈور ہم اپنے ہاتہ میں لے لیں ۔ مھاجرین میں سے کوئی بھی آپ کے برابر نہیں ہے ۔ آپ غار ثور میں پیغمبر کے ہمنشین تھے ،آپ نے پیغمبر کی جگہ پر نماز پڑھائی ہے اور آپ کی مالی حالت بھی بہتر ہے ، اپنے ہاتہ کو آگے بڑھائے تا کہ ہم آپ کی بیعت کریں۔
یہاں پر حضرت ابو بکر نے بلاکسی تکلف کے بغیر کچھ کھے اپنا ہاتہ پھیلادیا اور دل میں موجود راز سے پردہ اٹھادیا ، اور یہ بات کھل گئی کہ عمر اور ابو عبیدہ کو آگے بڑھانے کا مقصد اپنے لئے راہ ہموار کرنے کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔
لیکن اس سے پہلے کہ عمر ، ابو بکر کے ہاتہ پر بیعت کرے ، بشیر بن سعد نے سبقت کی اور حضرت ابو بکر کے ہاتہ پر دوسروں سے پہلے بیعت کی۔ اس کے بعد عمر اور ابو عبیدہ نے بھی جانشین رسول کی حیثیت سے حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔ اسی وقت گروہ انصار میں وہ گھری دراڑ پڑگئی جس کا امکان بشیر کی تقریر کے بعد پیدا ہوچکا تھا ۔ اس طرح انصار کی ناکامی قطعی ہوگئی۔
حباب بن منذر ، بشیر کی بیعت ( جو خود انصار میں سے تھا ) پر آگ بگولا ہوگیا اور فریاد بلند کرتے ہوئے بولا: بشیر ! تم نے نمک حرامی کی اور اپنے چچیرے بھائی سے رشک کی بنا پر اسے حاکم بننے نہیں دیا۔
بشیر نے کھا:
ھر گز ایسا نہیں ہے بلکہ میں یہ نہیں چاہتا تھاکہ خدا نے جو حق گروہ مھاجر کےلئے مخصوص کیا تھا ، اس پر جھگڑا برپا کروں۔
” اسید بن حضیر“ قبیلہ اوس کا سردار__جس کے دل میں ابھی بھی خزرج کے سردار کی طرف سے کینہ تھا__ اٹھا اور اپنے قبیلہ سے مخاطب ہوکر بولا :
اٹھوا اور ابو بکر کی بیعت کرو ، کیونکہ اگر سعد حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتہ میں لے لے گا تو قبیلہ خزرج ہم پر ایک قسم کی برتری پیدا کرلے گا اس پر قبیلہ اوس نے بھی اپنے سردار کے حکم سے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی۔
اس موقع پر سیدھے سادھے لوگوں کی جماعت جن میں فکری شعور نہیں پایا جاتا اور جو اپنے سردار کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے حضرت ابو بکر کی بیعت کےلئے اس طرح آگے بڑھے کہ سعد قدموں تلے روند ڈالا گیا۔
ایک نامعلوم شخص نے پکارتے ہوئے کھا:
خزرج کا سردار پیروں تلے روند ڈالا گیا ! اس کا خیال کرو!
لیکن حضرت عمر اس بے احترامی سے خوش ہوئے اور کھا :
خدا اسے موت دے ، کیونکہ ہمارے لئے ابو بکر کی بیعت سے بالاتر کوئی چیز نہیں ہے !
خود حضرت عمر جب بعد میں سقیفہ کا ماجرا بیان کرتے تھے تو حضرت ابو بکر کے حق میں اپنی بیعت کی وضاحت یوں کرتے تھے :
اگر ہم اس دن نتیجہ حاصل کئے بغیر جلسہ کو ترک دیتے تو ممکن تھا ہمارے چلے جانے کے بعد انصار اتفاق رائے پیدا کرلیتے اور اپنے لئے کسی قائد کا انتخاب کرلیتے ۔
بالآخر سقیفہ کا جلسہ بیان شدہ صورت میں خلافت کےلئے حضرت ابو بکر کے انتخاب کے اوپر ختم ہوا اور حضرت ابو بکر مسجد رسول کی طرف بڑھے جبکہ حضرت عمر ، ابو عبیدہ اور قبیلہ اوس کا ایک گروہ انھیں اپنے درمیان میں لئے ہوئے تھا اور سعد بھی اپنے تمام ساتھیوں کے ہمراہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا(۵۰)
____________________
۴۳۔آل عمران /۱۵۴۔
۴۴۔آل عمران : ۱۴۴
۴۵۔ صحیح ابن ماجہ ، باب فتن و غیرہ ۔
۴۶۔الامامة و السیاسة ج ۱، ص ۵
۴۷۔ الامامة و السیاسة ج ۱ ، ص ۵۔
۴۸۔انصار نے دو امیروں کی تجویز پیش کرکے اپنے پیروں پر کلھاڑی ماری ۔ اس مقابلہ میں ایک قدم پیچھے ھٹے اور مھاجرین کے مقابلے میں اپنے ضعف و کمزوری کا اعتراف کیا ۔ اس لئے جب قبیلہ خزرج کے سردار نے ” حباب“ سے یہ بات سنی تو انتھائی افسوس کے ساتھ بول اٹھا : ھذا اول الوہن ، یہ تجویز ہماری کمزوری کی نشانی ہے
۴۹۔ آیندہ بحث میں اس سلسلے میں امیر المؤمنین کی تنقید بیان ہوگی۔
۵۰۔ حادثہ سقیفہ کی تفصیلات کو تاریخ طبری ج۳،(حوادت سال یازدھم ) اور الامامة و السیاسة ، ابن قتیبہ دینوری ج۱، اور شرح ابن ابی الحدید ج۲ ص ۲۲ ۔۶۰ سے نقل کیا گیا ہے ۔
بارہویں فصل
انصار اور مھاجرین کی منطق کیا تھی؟
سقیفہ کے واقعہ کے بغور مطالعہ کے بعد اب مناسب ہے کہ اس کے قابل توجہ نکات اور اسے وجود میں لانے والوں کی منطق پر غور کیا جائے ۔ اس ”جلسہ “ کے قابل توجہ نکات کا خلاصہ ذیل کے چند امور میں کیا جا سکتا ہے :
۱۔ قرآن مجید کا حکم ہے کہ مؤمن آپس میں جمع ہو کر اپنے مشکلات کی گتھیوں کو تبادلہ خیال کے ذریعہ سلجھائیں۔ اس کے اس گراں بھا حکم کا مقصد یہ ہے کہ عقلمند اور حق پسند لوگوں کی ایک جماعت ایک پر سکون جگہ پر جمع ہوں اور حقیقت پسندانہ نیز تعصب سے عاری غور و فکر کے ذریعہ زندگی کی راہ کو روشن کریں اور مسائل کو حل کریں۔
کیا سقیفہ کے جلسہ میں ایسا رنگ ڈھنگ پایا جاتا تھا؟ اور کیا حقیقت میں اسلامی معاشرے کے عقلا وہاں پر جمع ہوئے تھے کہ خلافت کی گتھی کو گفتگو کے ذریعہ حل کریں؟ یا مطلب اس کے بالکل بر عکس تھا؟
اس جلسہ میں مھاجرین میں سے صرف تین افراد حاضر تھے اور ان تین افراد نے دیگر مھاجرین کو اس امر سے مطلع نہیں کیا تھا کہ وہ یہ کام انجام دینے جارہے ہیں ۔ کیا ایسے جلسہ کو جس میں عالم اسلام کی عظیم شخصیتیں ، جیسے علی (ع)ابن ابیطالب ، سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد ، حذیفہ ، ابی بن کعب ، طلحہ و زبیر اور ان جیسی دسیوں شخصیتیں موجود نہ ہوں عالم اسلام کےلئے صلاح و مشورہ اور تبادلہ خیا کا جلسہ کھا جاسکتا ہے ؟
کیا یہ صحیح تھا کہ ایک ایسے اہم موضوع کے لئے ایک چھوٹی سی میٹینگ پر اکتفا کی جاتی جس میں چیخ و پکار اور داد و فریاد بلند کی گئی اور انصار کے امیدوار کو قدموں تلے کچل ڈالا گیا ؟! یا یہ کہ ایسے اہم موضوع کے بارے میںکئی جلسے منعقد کرنا ضروری تھا جن میں عالم اسلام کی اہم مدبر اور شائستہ شخصیتیں بیٹہ کر اس اہم مسئلہ پر صلاح مشورہ کریں اور بالآخر اتفاق نظر یا اکثریت آراء سے مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا جاتا ؟
اس جلد بازی کے ساتھ حضرت ابو بکر کو خلافت کےلئے منتخب کرنا اس قدر ناپختہ اور خلاف اصول تھا کہ ، بعد میں خود حضرت عمر اس سلسلے میں کہتے تھے:
”کانت بیعة ابی فلتة وقی الله شرّها فمن دعاکم الی مثلها فاقتلوه “(۵۱)
”یعنی خلافت کےلئے ابو بکر کا انتخاب ایک اتفاق سے زیادہ نہیں تھا او یہ کام صلاح ومشورہ اور تبادلہ خیال کی بنیاد پر انجام نہیں پایا ، اب جو کوئی بھی تم لوگوں کو ایسے کام کی دعوت دے، اسے قتل کرڈالو“
۲۔دوسرا قابل توجہ نکتہ خود اہل سقیفہ کی منطق ہے ۔
گروہ مھاجر کا استدلال غالباً دو چیزوں کے گرد گھوم رہا تھا : ایک ان کا خدا و پیغمبر اسلا م پر ایمان لانے میں پیش قدم ہونا اور دوسرا پیغمبر اسلام سے ان کی قرابت و رشتہ داری! اگر ان کی برتری کا معیار یہی دو چیزیں تھیں تو خلافت کےلئے حضرت ابو بکر کو حضرت عمر و ابو عبیدہ کا ہی سھارا نہیں لینا چاہئے تھا، کیونکہ مدینہ میں اس وقت ایسے افراد بھی موجود تھے جو ان دو افراد سے بہت پہلے دین اور توحید پر ایمان لا چکے تھے اور پیغمبر اسلام سے نزدیکی قرابت بھی رکھتے تھے۔
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے پہلے شخص تھے اور پیدائش کے دن سے ہی آپ کے دامن مبارک میں تربیت پائے ہوئے تھے اور رشتہ داری کے لحاظ سے بھی آپ کے چچیرے بھائی اور داماد تھے ۔ اس کے باوجود کس طرح ان تین افراد نے خلافت کی گیند کو ایک دوسرے کی طرف پاس دیتے ہوئے بالآخر اسے حضرت ابو بکر کے حوالے کر دیا؟! عمر نے ابو بکر کی برتری کی توجیہ ان کی دولت مندی ،غار ثور میں رسول اللہ کی ہمراہی ، اور پیغمبر کی جگہ پر نماز پڑھنے کے ذریعھکی۔
دولت مند ہونے کے بارے میں کیا کھا جائے ، یہ وہی ایام جاہلیت کی منطق ہے جب دولت اور ثروت کو برتی و فضیلت کا سبب جانتے تھے ۔ مشرکین کا ایک اعتراض یہی تھا کہ یہ قرآن مجید کیوں ایک دولتمند فرد پر نازل نہیں ہوا(۵۲)
اگر رسول خدا کے ساتھ غار ثور میں ہمسفر ہونا خلافت کےلئے شائستگی اور معیار ہوسکتا ہے تو امیرالمؤمنین(ع)کو خلافت کےلئے اس سے بھی زیادہ شائستہ و حقدار ہونا چاہئے۔کیونکہ آپ(ع)شب ھجرت اپنی جان پر کھیل کر پیغمبر اسلام کے بسترہ پر سوئے تھے مفسرین کا اتفاق ہے کہ درج ذیل آیت آپ(ع)کے بارے میں نازل ہوئی ہے :
( وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَه ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰه وَاللهُرَءُ وفٌ بِالْعِباَدِ )
اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مھربان ہے ۔(۵۳)
آنحضرت کی بیماری کے دوران پیغمبر کی جگہ حضرت ابو بکر کا نماز پڑھانا ، بذات خود ایک نامشخص اور مبھم داستان ہے اور یہ بات ثابت ہی نہیں کہ وہ نماز پڑھانے میں کامیاب بھی ہوئے کہ نھیں؟اور یہ کام پیغمبر کی اجازت سے انجام پایا تھا یا ایک من مانی حرکت تھی اور پیغمبر کی بعض بیویوں کے اشارہ پر نماز میں پیغمبر کی جانشینی پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی ؟! ( اس بحث کی تفصیل آیندہ فصلوں میں ملاحظہ فرمائیں)
بھر حال اگر یہی امر امت اسلامیہ کی خلافت کی شائستگی کےلئے دلیل ہو ، تو پیغمبر بارہا مسافرت کے وقت اپنی جانشینی کی ذمہ داری من جملہ نماز کی امامت بعض افراد کو سونپتے رہے ہیں ۔ ایسے افراد کا سراغ حیات پیغمبر کی تاریخ میں ملتا ہے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ ان سب جانشینوں میں سے صرف ایک آدمی ، وہ بھی صرف ایک نماز پڑھانے کی وجہ سے باقی لوگوں پر پیغمبر کی جانشینی کا حقدار بن جائے ؟
۳۔ شریعت کے اصول و فروع کا علم رکھنا ، اسلامی معاشرے کی تمام ضرورتوں سے باخبر ہونا اور گناہ و خطا سے پاک ہونا ، امامت و رسول خدا کی جانشینی کی دو بنیادی شرطیں ہیں ، جبکہ سقیفہ کے جلسہ میں اگر کسی چیز پر گفتگو نہیں ہوئی تو وہ یہی دو موضوع تھے۔
کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ یہ لوگ قومیت ، رشتہ داری اور دیگر بیھودہ معیاروں پر انحصار کرنے کے بجائے علم و دانش اور عصمت اور پاک دامنی کے موضوع کو معیار قرار دے کر اصحاب پیغمبر میں سے امت کی زعامت کےلئے ایک ایسے شخص کا انتخاب کرتے جو دین کے اصول و فروع سے بخوبی واقف ہو اور ابتدائے زندگی سے اس لمحہ تک اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہوئی ہو ؟ اس طرح خود خواہی کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو مد نظر رکھا جاتا ؟
۴۔ ان دونوں گروہوں کے استدال کے طریقے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کی خلافت و جانشینی سے ظاہری حکومت اور لوگوں پر فرماں روائی کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے پیغمبر اسلام کے دیگر منصبوں سے چشم پوشی کر رکھی تھی اور ان کی طرف کوئی توجہ نہیں رکھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ انصار ، افراد کی کثرت اوراپنے قبیلہ کی طاقت پر ناز کرتے ہوئے اپنے کو دوسروں پر فضیلت دیتے اور حقدار سمجھتے تھے۔
یہ صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام مسلمانوں کے حاکم اور فرماں روا تھے ، لیکن آپ اس مقام و منزلت کے علاوہ کچھ دوسرے فضائل اور منصبوں کے بھی مالک تھے کہ مھاجر و انصار کے امیدوارں میں ان کا شائبہ تک نہیں ملتا تھا ۔ پیغمبر اسلام شریعت کی تشریح کرنے والے ، اصو ل و فروع کو بیان کرنے والے ، اور گناہ و لغزش کے مقابلے میںمعصوم تھے۔ ان افراد نے پیغمبر کی جانشینی کا انتخاب کرتے وقت پیغمبر اسلام کی ان معنوی فضیلتوں کو کیسے نظر انداز کردیا جن کی وجہ سے آپ اسلامی معاشرہ میں برتر اور حکمراں قرار پائے تھے بلکہ اسے ظاہری و سیاسی حکومت کے زاویہ سے دیکھا جو عموماً دولت ، قدرت اور قبائلی قرابت کی بنیادوں پر قائم ہوتی ہے ۔
اس غفلت یا تغافل کی وجہ واضح ہے ، کیونکہ اگر اسلامی خلافت کو اس زاویہ سے دیکھتے تو انھیں اپنے آپ کو خلافت سے محروم کرنے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ملتا۔ اس لئے کہ دین کے اصول و فروع سے ان کی آگاہی بہت محدود تھی، حتی حضرت ابو بکر کا مجوزہ امیدوار (حضرت عمر) سقیفہ کی میٹینگ سے تھوڑی ہی دیر پہلے پیغمبر اسلام کی وفات کا منکر ہوچکا تھا اور اپنے ایک دوست کی زبانی قرآن مجید کی آیت ۱# سننے کے بعد خاموش ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ حکمرانی کے دوران اور اس سے پہلے بھی ان لوگوں کی بے شمار غلطیاں اور خطائیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ ان حالات کے پیش نظر کیسے ممکن تھا کہ وہ ایک ایسی حکومت کی داغ بیل ڈال سکیں جس کی بنیاد علم و دانش ، تقویٰ و پرہیزگاری ، معنوی کمالات اور عصمت پر مستحکم ہو؟!
اصحاب سقیفہ کی منطق پر امیر المؤمنین کا تجزیہ
امیر المؤمنین علیہ السلام نے سقیفہ میں موجود مھاجرین و انصار کی منطق پر یوں تنقید فرمائی :
جب ایک شخص نے امام(ع)کی خدمت میں آکر سقیفہ کا ماجرا بیان کیا کہ : مھاجر و انصار کے دو گروہ اپنے آپ کو خلافت کا حقدار سمجھ رہے تھے تو علی علیہ السلام نے فرمایا:
۱۔( وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِه الرُّسُلُ افَإِنْ مَاتَ اوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَٰی اعْقَٰبِکُمْ ) ( آل عمران ۱۴۴)
”تم نے انصارکوجواب کیوںنہ دیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے کھا ہے کہ ہم ان کے نیک افراد کے ساتھ نیکی کریںاور ان کے خطاکاروں کی تقصیر معاف کردیں“۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے پوچھا : قریش کس اصول پر اپنے آپ کو خلافت کا حقدار سمجھتے تھے ؟ اس شخص نے جواب دیا : وہ کہتے تھے ہمارا تعلق رسول خدا کے خاندان سے ہے اور ہمارا اور آپ کا قبیلہ ایک ہی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: انھوں نے درخت سے اپنے لئے استدلال کیا اور اس کے پہل اور میوہ کو ضایع و برباد کردیا ۔ اگر وہ اسی لحاظ سے خلافت کے حقدار ہیں تو وہ ایک درخت کی ٹھنیاں ہیں اور میں اس درخت کا پہل اور آنحضرت کا چچیرا بھائی ہوں ، پھرخلا فت کا حقدار میں کیوں نہیں ہوں(۵۴)
امیر المؤمنین کی خلافت کےلئے خود شائستہ ہونے کی منطق
سقیفہ کا ماجر انتھائی ناگفتہ بہ حالت میں اختتام کو پہنچا اور حضرت ابو بکر ایک فاتح کی حیثیت سے جلسہ سے باہر نکلے ، کچھ لوگ انھیں اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ کی بیعت کرواور بیعت کو عمومی بنانے کےلئے لوگوں کے ہاتہ پکڑ پکڑ کر حضرت ابو بکر کے ہاتہ پر رکھتے تھے۔
ان ناگفتہ بہ حوادث کے تحت کہ یہاں پرہم ان کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں ، حضرت علی کو مسجدمیں لایا گیا تا کہ وہ بھی بیعت کریں ۔
امام علیہ السلام نے خلافت کےلئے اپنی شائستگی اور سنت رسول سے متعلق اپنے وسیع علم اور عدالت کی بنیادوں پر حکومت کرنے کی اپنی روحی توانائی و صلاحیت کے ذریعہ خلافت کےلئے اپنی لیاقت و شائستگی پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا:
” اے گروہ مھاجر ! جس حکومت کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنیاد ڈالی ہے ، اسے آنحضرت کے خاندان سے خارج کرکے اپنے گھروں میں نہ لے جاؤ ۔ خدا کی قسم ہم اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ ہمارے درمیان ایسے افراد موجود ہیں جو قرآن مجید کے مفاہیم کا مکمل علم رکھتے ہیں ۔ دین کے اصول اور فروع کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے اچھی طرح آگاہ ہیں ، اور اسلامی سماج کو بخوبی ادارہ کرسکتے ہیں ۔ برائیوں کی روک تھام کرسکتے ہیں اور غنائم کو عادلانہ تقسیم کرسکتے ہیں ۔
جب تک معاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں دوسروں کی باری نہیں آتی ، ایسا شخص خاندان نبوت سے باہر کہیں نہیں مل سکتا ۔ خبردار ! ہویٰ و ہوس کے غلام نہ بنو کیونکہ اس طرح راہ خدا سے بھٹک جاؤ گے اور حق و حقیقت سے دور ہوجاؤ گے !(۵۵)
شیعہ روایات کے مطابق ، امیر المؤمنین بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ہمراہ حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور خلافت کے لئے مذکورہ صورت میں قرآن و سنت سے متعلق اپنے علم ، اسلام میں سبقت اور جھاد میں ثابت قدمی ، بیان میں فصاحت و بلاغت ، شھامت اور شجاعت کو دلائل کے طور پر پیش کرکے اپنی شائستگی کو ثابت کیا اور فرمایا :
” میں پیغمبر اسلام کی حیات اور آپ کی وفات کے بعد منصب خلافت کا مستحق اور سزاوار ہوں ، میں اسرار کا خزانہ اور علوم کا مخزن ہوں ۔ میں صدیق اکبر اور فاروق اعظم ہوں ۔
میں پہلا شخص ہوں جو پیغمبر پر ایمان لایا اس راہ میں آپ کی تصدیق کی ۔ میں مشرکین کے ساتھ جنگ و جھاد کے دوران سب سے زیادہ ثابت قدم ، کتاب و سنت کےعلم سے سب سے زیادہ آگاہ ، دین کے اصول و فروع سے سب سے زیادہ واقف ، بیان میں سب سے زیادہ فصیح اور ناخوشگوار حالات میں سب سے زیادقوی اور بھادر فرد ہوں ، تم لوگ اس وراثت میں میرے ساتھ جنگ و جدال پر کیوں اتر آئے ہو ۔(۵۶)
اسی طرح امیر المؤمنین اپنے ایک خطبہ میں خلافت کا حقدار ایسے شخص کو سمجھتے ہیں جو امت میں حکومت چلانے کےلئے سب سے بھادر حکم الٰہی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو :
( ایها الناس انّ احق الناس بهذا الامر اقواهم علیه و اعلمهم بامر الله فیه فان شغب شاغب استعتب فان بی قوتل ) (۵۷)
یعنی اے لوگو! حکومت کےلئے سب سے شائستہ فرد وہ ہے جو ، سماج کا نظام چلانے میں سب سے زیادہ طاقت ور اور حکم الھی کو جاننے میں سب سے زیادہ عالم ہو۔ اگر کوئی شخص فساد کو ہوا دے اور وہ حق کے سامنے تسلیم نہ ہو تو اس کی تنبیہ کی جائے گی اور اگر اپنی غلطی کو جاری رکھے تو قتل کیا جائے گا- ۔
یہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی منطق نہیں ہے بلکہ آپ(ع)کے بعض مخالفین بھی جب بیدار ضمیر کے ساتھ بات کرتے ہیں تو خلافت کےلئے حضرت علی(ع)کی شائستگی کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپ کا حق چھین لیا گیا ۔
جب ابو عبیدہ جراح حضرت ابو بکر کی بیعت سے حضرت علی علیہ السلام کے انکار کے بارے میں آگاہ ہوئے تو امام علیہ السلام کی طرف رخ کرکے بولے :
” حکمرانی کو ابو بکر کےلئے چھوڑ دیجئے ، اگر آپ زندہ رہے اور طولانی عمر آپ کو نصیب ہوئی تو آپ حکمرانی کےلئے سب سے شائستہ ہیں کیونکہ آپ کی فضیلت ، قوی ایمان ، وسیع علم ، حقیقت پسندی ، اسلام قبول کرنے میں پیش قدمی اور پیغمبر اسلام کے ساتھ آپ کی قرابت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے( ۵۸)
____________________
۵۱۔سیرہ ابن ہشام ، ج۴، ۳۰۸۔ ارشاد شیخ مفید ، ص ۲۶۰
۵۲۔(لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا القُرْء انُ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیمٍ ) ( زخرف / ۳۱) و نیز رجوع کریں اسراء /۹۰ ۔۹۱)
۵۳۔ بقرہ / ۲۰۷۔
۵۴۔ ”احتجوا بالشجرة و اضاعوا الثمرة “( نھج البلاغہ خطبہ ۶۴)
۵۵۔الله الله یا معشر المهاجرین لا تخربوا سلطان محمّد فی العرب عن داره و قعر بیته الی دورکم و قعور بیوتکم و لا تدعوا اهله عن مقامه فی الناس و حقّه ، فو الله یا معشر المهاجرین لنحن احق الناس به ، لانا اهل البیت و نحن احقّ بهذا الامر منکم ما کان فینا القاری لکتاب الله، الفقیه فی دین الله ، العالم بسنن الله، المضطلع بامر الرعیة ، المدافع عنهم الامور السیئّة القسم بینهم با لسویة، و الله انّه لفینا ، فلا تتبعو الهوی فتضلوا عن سبیل الله فتزدادوا من الحقّ بعداً “ ( الامامة و السیاسة ، ابن قتیبہ دینوری ، ج۱ ، ص ۱۲ ، احتجاج طبرسی ، ج۱ ، ص ۹۶)
۵۶۔انا اولی برسول الله حیاً و میّتاً و انا وصیّه و وزیره و مستودع سرّه و علمه ، و انا الصّدیق الاکبر و الفاروق الاعظم، اوّل من آمن به و صدّقه ، واحسنکم بلاءً فی جهاد المشرکین، و اعرفکم بالکتاب و السنة ، افقهکم فی الدین و اعلمکم بعواقب الامور و اذر بکم لساناً و اثبتکم جناناً فعلام تنازعو فی هذا الامر ( احتجاج طبرسی ، ج ۱۲ ، ص ۹۵)
۵۷۔ نھج البلاغہ، عبدہ ، خطبہ ۱۶۸۔
۵۸۔لامامة و السیاسة، ج ۱ ص ۱۲
تیرہویں فصل
نماز کی امامت ، خلافت کےلئے دلیل نھیں!
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد امت کی قیادت کا موضوع گزشتہ چودہ صدیوں سے عقائد اور مذاہب کے علماء اور دانشوروں کے درمیان مسلسل مورد بحث قرار پاتا رہا ہے ، لیکن آج تک ایک محقق بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جو یہ توجیہ کرے کہ حضرت ابو بکر کی خلافت پیغمبر اسلام کی نص کے مطابق عمل میں آئی ہے اور یہ کھے کہ پیغمبر خدا صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں اپنی حیات میں لوگوں کو وصیت کی تھی۔
حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں سنی علماء کے تمام دلائل مھاجرین و انصار کی بیعت اور خلافت پر اتفاق نظر تک محدود ہیں اور یہ امر کہ حضرت ابو بکر کی خلافت پیغمبر اکرم کی نص کے مطابق نہیں تھی ، یہ بات خود سقیفہ میں حضرت ابو بکر اور ان کے ہمفکروں کے بیانات سے بالکل ظاہر اور واضح ہوجاتی ہے ۔ اگر حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں پیغمبر کی طرف سے کوئی نص موجود ہوتی تو وہ خود سقیفہ میں حضرت عمر اور ابو عبیدہ کا ہاتہ پکڑ کر ہر گز یہ نہ کہتے کہ : ” قد رضیت لکم ھذین الرجلین “ میں ان دو افراد کو خلافت کےلئے صالح اور شائستہ جانتا ہوں اور ان دونوں کے انتخاب پرراضی ہوں۔
اس کے علاوہ اگر حضرت ابو بکر کی خلافت کے سلسلے میں کوئی الٰہی نص موجود ہوتی ، تو سقیفہ میں قریش کی پیغمبر اسلام صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم سے قرابت اور ان کی اسلام میں سبقت کے ذریعہ استدلال نہیں کیا جاتا اور ان کے دوست و ہم فکر کبھی حضرت ابو بکر کے پیغمبر کے ساتھ غار ثور میں ہم سفر ہونے اور نماز میں پیغمبر کی جانشینی جیسے مسائل سے اپنے استدلال کو تقویت نہ بخشتے۔
خود حضرت ابو بکر نے سقیفہ کے دن انصار کے امیدوار کی تنقید کرتے ہوئے کھا:
”ان العرب لا تعرف هذا الامر الّا القریش اوسط العرب داراً و نسباً “، عرب معاشرہ قریش کے علاوہ __جو حسب و نسب کے لحاظ سے دوسروں پر برتری رکھتے ہیں __کسی کو خلافت کےلئے شائستہ نہیں جانتا ۔
اگر حضرت ابو بکر کی خلافت کے حق میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک لفظ بھی بیان ہوا ہوتا تو ان کمزور دلائل سے استدلال کرنے کے بجائے اس کا سھارا لیکر خود حضرت ابو بکر کہتے : اے لوگو! پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فلاں سال اور فلاں روز مجھے مسلمانوں کے پیشوا اور خلیفہ کے طور پر منتخب کیا ہے۔
یہ کیسے کھا جاسکتا کہ حضرت ابو بکر کی خلافت کو پیغمبر نے معین فرمایا ہے جب کہ وہ خود بیماری کی حالت میں تمنا کرتے تھے، کہ کاش میں نے پیغمبر اسلام سےیہ پوچہ لیا ہوتا کہ ”امت کی قیادت“ کا حقدار کون ہے؟
عالم اسلام کے مشھور مؤرخ ، طبری اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” جب ابو بکر بیمار ہوئے اور قریش کا ایک معروف سرمایہ دار عبد الرحمان بن عوف ان کی عیادت کیلئے آیا تومقدماتی گفتگو کے بعد ابو بکر نے انتھائی افسوس کے ساتھ لوگوں کی طرف رخ کرکے کھا:
میری تکلیف کی پہلی وجہ وہ تین چیزیں ہیں جن کو میں نے انجام دیا ہے ، کاش میں نے انھیں انجام نہ دیا ہوتا ! اور تین چیزیں اور ہیں کہ کا ش میں نے ان کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا ہوتا ۔
وہ تین چیزں جنھیں کاش میں نے انجام نہ دیا ہوتا حسب ذیل ہیں :
۱۔ کاش فاطمہ کا گھر نہ کھلوایا ہوتا چاہے جنگ و جدال کی نوبت آجاتی ۔
۲۔ کاش میں نے سقیفہ کے دن خلافت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر نہ لی ہوتی اور اسے عمر یا ابو عبیدہ کے سپرد کرکے خود وزیر و مشیر کے عھدہ پر رہتا ۔
۳۔ کاش ایاس بن عبد الله کو جو راہزنی کرتا تھا ، آگ میں جلانے کے بجائے تلوار سے قتل کرتا۔
اور وہ تین چیزیں جن کے بارے میں کاش میں نے پیغمبر اکرم سے پوچہ لیاہوتا یہ ہیں :
۱۔ کاش میں نے پوچہ لیا ہوتا کہ خلافت و قیادت کا حقدار کون ہے ؟ اور خلافت کا لباس کس کے بدن کے مطابق ہے؟
۲۔ کاش میں سوال کرلیا ہوتا کہ کیا اس سلسلے میں انصار کا کوئی حق بنتا ہے؟
۳ کاش میں نے پھوپھی اور بھن کی بیٹی کی میراث کے بارے میں پیغمبر اسلام سے دریافت کرلیا ہوتا!(۵۹)
نماز میں حضرت ابو بکر کی جانشینی
اہل سنت کے بعض علماء اور دانشوروں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کے دوران نماز میں حضرت ابو بکر کی جانشینی کے موضوع کو بڑی شدو مد سے نقل کیاہے اور اسے ایک بڑی فضیلت یا خلافت کے لئے سند شمار کرکے یہ کھنا چاہا کہ جب پیغمبر نماز میں ان کی جانشینی پر راضی ہوں تو لوگوں کو ان کی خلافت اور حکمرانی پر اور بھی زیادہ راضی ہونا چاہئے جو ایک دنیوی امر ہے ۔
جواب :یہ استدلال کئی جھتوں سے قابل رد ہے :
۱۔ تاریخی لحاظ سے کسی بھی صورت میں ثابت نہیں ہے کہ نماز میں حضرت ابو بکر کی جانشینی پیغمبر کی اجازت سے انجام پائی ہو ۔ بعید نہیں ہے کہ انھوں نے خود یا کسی کے اشارہ پر یہ کام انجام دیا ہو۔ اس امر کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ حضرت ابو بکر نے ایک بار اور پیغمبر کی اجازت کے بغیر آپ کی جگہ کھڑے ہوکر نماز کی امامت خود شروع کردی تھی ۔
اہل سنت کے مشھور محدث امام بخاری اپنی صحیح میں نقل کرتے ہیں : ایک دن پیغمبر قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی طرف گئے تھے ۔ نماز کا وقت ہوگیا ابو بکر پیغمبر کی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور نماز کی امامت شروع کردی جب پیغمبر مسجد میں پھنچے اور دیکھا کہ نماز شروع ہوچکی ہے تو نمازکی صفوں کو چیرتے ہوئے محراب تک پھنچ گئے اور نماز کی امامت خود سنبھال لی اور ابو بکر پیچھے ھٹ کر بعد والی صف میںکھڑے ہوئے۔(۶۰)
۲۔ اگر ہم فرض کرلیں کہ حضرت ابو بکر نے پیغمبر کے حکم سے آپ کی جگہ پر نماز پڑھائی ہوگی تو نماز میں امامت کرنا ہرگز حکومت اور خلافت جیسی انتھائی اہم ذمہ داری کی صلاحیت کےلئے دلیل نہیں بن سکتا ۔
نماز کی امامت کےلئے قرائت کے صحیح ہونے اور احکام نماز جاننے کے علاوہ کوئی اور چیز معتبر نہیں ہے ( اور اہل سنت علماء کی نظر میں عدالت تک کی شرط نہیں ہے ) لیکن خلافت اسلامیہ کے حاکم کےلئے سنگین شرائط ہیں جن میں سے کسی ایک شرط کو نماز کی امامت کےلئے ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے ،جیسے : اصول اور فروع دین پر مکمل دسترس اور کامل آگاہی رکھنا۔
احکام اور حدود الٰہی کے تحت مسلمانوں کے امور کو چلانے کی پوری صلاحیت رکھنا ۔
گناہ اور خطا سے مبرّا ہونا
اس استدلال سے پتا چلتا ہے کہ استدلال کرنے والے نے امامت کے منصب کو ایک معمولی منصب تصور کرلیا ہے اور اس سے پیغمبر کی جانشینی کوایکعام حکمرانی کے سوا کچھ اور نہیں سمجھا ہے اسی لئے وہ کھتا ہے کہ : جب پیغمبر نے ابو بکر کو دینی امر کےلئے منتخب کرلیا تو لازم اور ضروری ہے کہ ہم ان کی خلافت پر اور بھی زیادہ راضی ہوں ، جو ایک دنیوی امر ہے۔
اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھنے والے نے اسلامی حکمرانی سے وہی معنی مراد لیا ہے جو دنیا کے عام حکمرانوں کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے ۔ جبکہ پیغمبر کا خلیفہ ظاہری حکومت اور مملکت کے امور کو چلانے کے علاو کچھ ایسے معنوی منصبوں اور اختیارات کا بھی مالک ہوتا ہے جو عام حکمراں میں نہیں پائے جاتے اور ہم اس سلسلے میں اس سے پہلے مختصر طور پر بحث کرچکے ہیں۔
۳۔ اگر نماز کیلئے حضرت ابو بکر کی امامت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے انجام پائی تھی ، تو پیغمبر اکرم بخار اور ضعف کی حالت میں ایک ہاتہ کو حضرت علی(ع)کے شانے پر اور دوسرے ہاتہ کو ” فضل بن عباس “ کے شانے پر رکہ کر مسجد میں کیوں داخل ہوئے اور حضرت ابو بکر کے آگے کھڑے ہوکر نماز کیوں پڑھائی؟ پیغمبر کا یہ عمل امامت کےلئے حضرت ابو بکر کے تعین سے میل نہیں کھاتا۔اگر چہ اہل سنت علماء نماز میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شرکت کی اس طرح توجیہ کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے پیغمبر اکرم کی اقتداء کی اور لوگوں نے ابو بکر کی اقتداء کی ۔ اسی صورت میں نما زپڑھی گئی(۶۱)
واضح ہے کہ یہ توجیہ بہت بعید اور ناقابل قبول ہے ، کیونکہ اگر یہی مقصود تھا تو کیا ضرورت تھی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس ضعف و بخار کی حالت میں اپنے چچیرے بھائیوں کا سھارا لیکر مسجد میں تشریف لا تے اور نماز کےلئے کھڑے ہوتے؟ بلکہ اس واقعہ کا صحیح تجزیہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم اپنی اس کاروائی سے حضرت ابو بکر کی امامت کو توڑ کر خود امامت کرنا چاہتے تھے۔
۴۔ بعض روایتوں سے پتا چلتا کہ کہ نماز کےلئے حضرت ابو بکر کی امامت ایک سے زیادہ بار واقع ہوئی ہے اور ان سب کا پیغمبر کی اجازت سے ثابت کرنا بہت مشکل اور دشوار ہے کیونکہ پیغمبر اکرم نے اپنے بیماری کے آغاز میں ہی اسامہ بن زید کے ہاتہ میں پرچم دیکر سب کو رومیوں سے جنگ پر جانے اور مدینہ ترک کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔ اور لوگوں کے جانے پر اس قدر مصر تھے کہ مکرر فرماتے تھے :
”جھّزو جیش اسامة “اسامہ کے لشکر کو تیار کرو۔
اورجو افراد اسامہ کے لشکر میں شامل ہونے سے انکار کررہے تھے ، آپ ان پر لعنت بھیج کر خدا کی رحمت سے محروم ہونے کی دعا فرماتے تھے(۶۲)
ان حالات میں پیغمبر ابوبکر کو امامت کے فرائض انجام دینے کی اجازت کیسے دیتے ؟!
۵۔ مؤرخین اور محدثین نے اقرار کیا ہے کہ جس وقت حضرت ابو بکر نماز کی امامت کرنا چاہتے تھے ، پیغمبر اکرم نے حضرت عائشہ ، ابو بکر کی بیٹی سے فرمایا:”فانّکنّ صواحب یوسف“” تم مصر کی عورتوں کے مانند ہو جنھوں نے یوسف(ع)کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا“اب دیکھنا چاہئے کہ اس جملہ کا مفھوم کیا ہے، اور اس سے پیغمبر کا مقصد کیا تھا؟
یہ جملہ اس امر کی حکایت کرتا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبر اکرم کی تنبیہ کے باوجود اسی طرح خیانت کی مرتکب ہوئی تھیں ، جس طرح مصر کی عورتیں خیانت کی مرتکب ہوئیں تھی اور زلیخا کو عزیز مصر سے خیانت کرنے پر آمادہ کرتی تھیں۔
جس خیانت کے بارے میں یہاں پر تصور کیا جاسکتا ہے ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حضرت عائشہ نے پیغمبر اکرم کی اجازت کے بغیر اپنے باپ کو پیغام بھیجا تھا کہ پیغمبر کی جگہ پر نماز پڑھائیں۔
اہل سنت کے علماء ، پیغمبر اسلام کے اس جملہ کی دوسرے انداز میں تفسیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں :
پیغمبر اصرار فرماتے تھے کہ حضرت ابو بکر آپ کی جگہ پر نماز پڑھائیں ، لیکن حضرت عائشہ راضی نہیں تھیں ، کیونکہ وہ کھتی تھیں کہ لوگ اس عمل کو فال بد تصور کریں گے اور حضرت ابو بکر کی نما زمیں امامت کو پیغمبر کی موت سے تعبیر کریں گے اور حضرت ابو بکر کو پیغمبر کی موت کا پیغام لانے والا تصور کریں گے “
کیا یہ توجیہ پیغمبر اسلام کے عمل ( مسجد میں حاضر ہوکر امامت کو سنبھالنے ) سے میل کھاتی ہے؟!!
یہاں پر میں اپنی بات تمام کرتے ہوئے اس قضیہ کی صحیح نتیجہ گیری کا فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں۔
____________________
۵۹۔ تاریخ طبری ،ج۳ ، ص ۲۳۴ ۔
۶۰۔ صحیح بخاری ج ۲، ص ۲۵۔
۶۱۔ صحیح بخاری ، ج ۲، ص ۲۲۔
۶۲۔ شرح نھج البلاغہ،ابن ابی الحدید ، ج ۶، ص ۵۲ ، نقل از : کتاب السقیفہ ، تالیف ابو بکر احمد بن عبد العزیز جوہری۔
چودھویں فصل
حکومت ،روحانی قیادت سے جدا نھیں
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے حاکم و فرماں روا ہونے کے ساتھ معنوی اور روحانی پیشوا بھی تھے۔ قرآنی آیات ، اسلامی متون اور معتبر تاریخ اس امر کے شاہد ہیں کہ پیغمبر اسلام نے مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے ابتدائی لمحات سے اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی اور حقیقی حکمرانی کی تمام ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھائیں اور اسلامی معاشرے کے بعض سیاسی ، سماجی اور اقتصادی امور کو اپنی سرپرستی میں بعض شائستہ اور لائق افراد کو سونپا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدا کی طرف سے فرماں روا اور حاکم ہونے کی بہت سی مثالیں ہیں یہاں ہم قارئین کرام کی توجہ کے لئے ذیل میں صرف چند مثالیں پیش کرتے ہیں :
۱۔ قرآن مجید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسلمانوں کی جانوں سے اولیٰ قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے :
( النَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ انْفُسِهِمْ ) (۶۳)
بیشک نبی تمام مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ اولیٰ ہے ۔
۲۔ قرآن مجید پیغمبر اکرم کوحاکم و قاضی قرار دیتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان الٰہی قوانین کے تحت فیصلے کرے ، چنانچہ اس سلسلے میں فرماتا ہے :
( فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَا انْزَلَ اللهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اهْوَآئَهُمْ ) (۶۴)
” آپ ان کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں اور خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق سے الگ ہوکر ان کے خواہشات کا اتباع نہ کریں“
۳۔ پیغمبر اکرم لوگوں میں نہ صرف خود فرماں روائی اور حکمیت کے فرائض انجام دیتے تھے بلکہ ہر علاقے کو فتح کرنے کے بعد، وہاں پر خود ایک شائستہ شخص کو بعنوان حاکم، دوسرے کو قاضی کی حیثیت سے اور تیسرے کو قرآن و احکام الٰہی کی تعلیم دینے کےلئے دینی معلم کی حیثیت سے مقرر فرماتے تھے اور بعض اوقات یہ تینوں عھدے ایک ہی فرد کو سونپتے تھے۔
پیغمبر اکرم کے زمانے میں ہی امیر المؤمنین علی علیہ السلام عبد الله ابن مسعود، ابی ابن کعب اور زید بن ثابت وغیرہ قضاوت اور حکمیت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔(۶۵)
جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ اور یمن کو فتح کیا تو ” عتاب بن اسید“ کو مکہ کا گورنر اور ”بازان“ کو یمن کا حاکم منتخب فرمایا:
کتاب ”التراتیب الاداریہ“ کے مؤلف ” عبد الحی کتانی “ نے اپنی کتاب میں ان مسلمان گورنروں کی فھرست ذکر کی ہے ، جنھیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے زمانے میں مختلف علاقوں کے سماجی ، سیاسی اور اقتصادی امور کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے منتخب فرمایا تھا ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے پیغمبر اسلام کے ذریعہ تشکیل دی گئی اسلامی حکومت کے طریقہ کار کا اشارہ ملتا ہے(۶۶)
اسلام نے جھاد کی دعوت دے کر اور دینِ الٰہی کو پھیلانے کیلئے جھاد کے خصوصی قوانین بیان کئے اور مسلمانوں میں جنگی اور دفاعی تربیت کو وسیع پیمانے پر رائج کیا۔ ساتھ ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۲۷ جنگوں میں بذات خود حصہ لیا اور ۵۵ ”سریہ“(۶۷) میں لشکر کے سردار معین کئے۔ اس طرح سے اسلامی حکومت کا چھرہ لوگوں کے سامنے نمایاں فرمایا اور یہ ثابت کردیا کہ آپ(ع)کی دعوت حضرت عیسی علیہ السلام کی دعوت کے مانند فقط روحانی ، معنوی دعوت نہیں ہے آپ کی رہبری احکام بیان کرنے اور تبلیغ دین کے لئے صرف وعظ و نصیحت تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ کی دعوت و معنوی رہنمائی ایک طاقتور حکومت کی تشکیل کے ہمراہ تھی تا کہ اپنے پیروؤں کو دشمنوں کے گزند سے محفوظ رکہ سکیں ، کتاب خدا اور دین اسلام کو ان سے بچا سکیں اور یہ حکومت انسانی سماج میں الٰہی قوانین کے نفاذ کی ضامن بن سکے۔
اسلام کا اقتصادی نظام ، حکومتی آمدنی ، جیسے انفال وغیرہ اور عوامی آمدنی جیسے زکات و خمس وغیرہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اسلام ایک جامع و کامل نظام ہے جس نے انسانو ں کی سماجی زندگی کے تمام پہلوؤں میں ایک مکمل اور ہمہ گیر نظریہ پیش کیا ہے اور صرف محدود پیمانے پر خشک مذہبی مراسم ، وہ بھی ھفتہ میں ایک روز کی عبادت پر اکتفاء نہیں کیا ہے ۔
لیکن اس جملے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ حقیقی عیسائی دین کی بنیاد یہی تھی ، بلکہ مسیحیت کے خود غرض مدعیوں نے قیصر و پاپ کے روپ میں دین مسحیت کو رفتہ رفتہ اس صورت میں تبدیل کیا ہے اور حضرت عیسی(ع)کے دین کو سماجی میدان سے خارج کرکے رکہ دیا ہے جب کہ بہت سے پیغمبر اس مقام و منصب کے مالک تھے۔
قرآن مجید بالکل واضح طور پر حضرت لوط اور حضرت یوسف علیہما السلام کے بارے میں کھتا ہے :
” کہ ہم نے انھیں حکومت اور فرمان روائی دی “(۶۸)
خود حضرت یوسف بارگاہ الٰہی میں حمد و ثنا کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
( رَبِّ ءَ اتَیْتَنِی مِنَ الْمُلْکِ )
پروردگارا ! تو نے مجھے ملک عطا کیا(۶۹)
قرآن مجید نے حضرت داؤد کی قضاوت اور ان کی حکومت ، اور حضرت سلیمان و طالوت کی فرمان روائی اور حکومت کےلئے ان کی امتیازی حیثیتوںکا ذکر کیا ہے ۔ اس طرح پیغمبروں کو الٰہی حکومت کے بانی اور حکم الٰہی نافذ کرنے والوں کی حیثیت سے پھچنوایا ہے ۔
امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے وسیع ابواب جو حکومت اسلامی کے نفاذ کی عملی بنیادوں میں سے ایک ہیں اور اسی طرح معاملات ، حدود ، دیات اور فقہ کے دیگر ابواب کے تمام قوانین کے مطالعہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے قائم کی گئی حکومت کا طریقہ کار ہر شخص کےلئے واضح و روشن ہوتا ہے ۔
یہ مسئلہ اس قدر واضح ہے اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی اور خلفاء کی حکومت ، خصوصاً امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی الٰہی حکومت کے دور اس امر کے اتنے نمایاں گواہ ہیں کہ ہم اس سلسلے میں مزید وضاحت سے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتے ہیں ۔
بیان احکام اور لوگوں کی رہنمائی
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حکومت اور سیاسی فرمان روائی کے علاوہ احکام الٰہی کو بیان کرنے والے الٰہی قوانین کے مفسر اور قرآن مجید کی آیات کے اغراض و مقاصد بیان کرنے کے عھدہ دار بھی تھے۔
قرآن مجید آپ کو مندرجہ ذیل آیہ شریفہ میں کتابِ خدا کے عالی مفاہیم بیان کرنے والے کی حیثیت سے پھچنوایا ہے :
( وَانْزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ )
اور آپ کی طرف ذکر ( قرآن ) کو نازل کیا ہے تا کہ لوگوں کےلئے ان احکام کو واضح کردیں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں ۔(۷۰)
آیہ شریفہ میں کلمہ ” لِتُبَیِّنَ“ تا کہ آپ بیان کریں ) سے واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کے علاوہ اس امر پر بھی مامور تھے کہ ان آیات کے مفاہیم اور مضامین کی وضاحت فرمائیں ۔ اگر آپ کا فریضہ صرف آیات الٰہی کو پڑھنا ہوتا تو کلمہ ” لِتُبَیّنَ “ کے بجائے ”لِتُقْرَا“ یا ”لِتُتْلٰی“ ہوتا ۔
بیشک قرآن مجید کے حکم کے مطابق آنحضرت کتابِ خدا اوراس کے حکیمانہ احکام کے معلّم ہیں ، جیسا کہ فرماتا ہے :
( هُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الاُمِیِّینَ رَسُولاً مِنْهُمْ یَتْلُوا عَلَیهِمْ آیَاتِه وََ یُزَکِّیهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَ )
” اس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا جو انھیں میں سے تھا کہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے ، ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے“(۷۱)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زندگی کے دوران ان دو عھدوں ( حاکمیت اور الٰہی احکام کے نفاذ) نیز احکام کی رہنمائی و تبلیغ پر فائز تھے اور یقینا آپ کی رحلت کے بعد بھی ، اسلامی معاشرے کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ان دو منصبوں کا حامل ہو۔
اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ان خصوصی شرائط کا حامل کون شخص ہے جو ان دو امور میں معاشرے کی باگ ڈور سنبھال سکے؟
واضح ہے کہ احکام بیان کرنا اور لوگوں کو حلال و حرام بتانا، اخلاقی فضائل اور ان کی فطری خوبیوں کی راہنمائی کرنا یعنی ایک جملہ میں یوں کھا جائے کہ : دینی رہبری اور معنوی امور کی قیادت کےلئے عصمت اور خطا و گناہ سے پاک ہونے اور وسیع علم کا مالک ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگوں پر مکمل قیادت ، جس میں پیشوا کا قول و فعل لوگوں کے لئے ہادی و رہنما ہو ، اس کی مکمل پرہیزگاری (جسے عصمت کہتے ہیں ) اور وسیع علم پر منحصر ہے ۔
دوسرے الفاظ میں : اسلامی معاشرے کے قائد کو احکام اور اصول و فروع دین پر مکمل دسترس ہونی چاہئے ، اس کے بغیروہ لوگوں کےلئے مکمل راہنما اور الٰہی رہبر نہیں بن سکتا ، اگلے صفحات میں ہم ثابت کریں گے کہ ہمہ گیر رہبری و رہنمائی عصمت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔
قرآن مجید خدائے تعالیٰ کی طرف سے طالوت کو فرمان روائی کے عھدے کیلئے منتخب کرنے کا سبب دو چیزیں بیان فرماتا ہے:
۱۔ علم و دانش میں برتری
۲۔ جسمانی لحاظ سے طاقتور ہونا ، جس کی وجہ سے دن رات ، وقت بے وقت قوم کےلئے کام کرسکے اور قیادت کی ذمہ داری سنبھال سکے (حکام کے لئے دوسری شرط زمانہ قدیم سے تجربہ کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہے ، حتی یہ بات ضرب المثل بن گئی ہے کہ : صحیح عقل و فکر صحت مند بدن میں ہوتی ہے)اب یہ آیہ شریفہ ملاحظہ ہو :
( اِنَّ اللهَ اصْطَفَٰ-ه عَلَیْکُمْ وَ زَادَه بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ )
” انھیں ( طالوت کو ) الله نے تمھارے لئے منتخب کیا ہے اور ان کے علم و جسم میں وسعت فرمائی ہے “(۷۲)
امیر المؤمنین علیہ السلام جب اپنے سپاہیوں اور افسروں کو خطاب فرماتے تھے اور انھیں خدا کی راہ میں جھاد کرنے کی ترغیب و دعوت دیتے تھے تو اسلامی معاشرے کو ہر جھت سے ادارہ کرنے کی اپنی صلاحیت اور شائستگی بیان کرنے کےلئے اسی آیہ شریفہ سے استدلال کرتے تھے اور فرماتے تھے :
لوگو! اس قرآن مجید کی پیروی کرو اور اس سے نصیحت حاصل کرو جسے خدائے تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر نازل کیا ہے ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے حضرت موسیٰ (ع)کی وفات کے بعد اپنے پیغمبر سے درخواست کی کہ خداوند عالم ان کےلئے ایک حاکم و فرماں روا منتخب کرے جس کی رہبری میں وہ خدا کی راہ میں جھاد کریں ۔ خدائے تعالیٰ نے حضرت طالوت کو ان کی فرماں روائی کیلئے منتخب فرمایا، لیکن بنی اسرائیل نے ان کی اطاعت نہیں کی ، اور اس کام کےلئے ان کی صلاحیت اور شائستگی میں شک کرنے لگے ۔ خدائے تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے کھدو کہ اس منصب کےلئے طالوت کے انتخاب کا سبب علمی لحاظ سے ان کی برتری اور جسمی توانائی ہے۔
لوگوا ! ان قرآنی آیات میں تم لوگوں کےلئے پند و عبرت پوشیدہ ہے ۔ خدا ئے تعالی نے اس لئے طالوت کو ان کےلئے حاکم اور فرمانروا قرار دیا تھا کہ وہ علم و جسمی توانائی میں ان سے برتر تھے اور وہ ان خصوصیات کی بنا پر جھاد و جد و جھد کرسکتے تھے(۷۳)
حضرت امام حسن مجتبیٰ (ع)بھی اہل بیت رسول کی خلافت و امامت کےلئے شائستگی ثابت کرنے
کے لئے تمام الھٰی احکام اور امت کی تمام ضرورتوں کے بارے میںان کے علم پر تکیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
لوگو! امت کے پیشوا ہمارے خاندان سے ہیں اور پیغمبر کی جانشینی کی صلاحیت ہمارے علاوہ کوئی نہیں رکھتا ، خدا ئے تعالی ٰ نے قرآن مجید میں اپنے پیغمبر کے ذریعہ ہمیں اس منصب کےلئے شائستہ قرار دیا ہے ، کیونکہ علم و دانش ہمارے پاس ہے ، اور ہم قیامت تک رونما ہونے والے ہر حکم ، حتی بدن پر لگی ایک معمولی خراش کے حکم سے بھی آگاہ ہیں(۷۴)
دو منصبوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا صحیح نہیں
حاکمیت کو معنوی قیادت کے منصب سے جدا کرنا ایسی چیز نہیں ہے جو اہل سنت علماء کی تازہ فکری پیداوار ہو بلکہ یہ بہت پرانی تاریخ ہے۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ سقیفہ کا ماجرا ختم ہوا اور حضرت ابو بکر نے امور اپنے ہاتہ میں لئے اور ظاہراً حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابیوں میں ایک گروہ ایسا تھا ، جو امیر المؤمنین کو خلافت کے عھدے سے محروم کرنے پر سخت ناراض تھا ، کیونکہ جنگ تبوک(۷۵)
کےلئے مدینہ سے باہر نکلتے وقت ، غدیر(۷۶) کے دن اور اپنی بیماری(۷۷) کے ایام میں پیغمبر اسلام کے ارشادات بھی ان کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
اس لئے کچھ حق پسند افراد اس ڈرامائی اندازمیں خلافت کے غصب کرنے پر سخت غصے میں آئے ، یہ لوگ کسی فریق کی طرفداری کئے بغیر خلیفہ کے پاس جاکر علی(ع)کے بارے میں سوال کرتے تھے ، خلیفہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ دو منصبوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ضروری ہے وہ کہتے تھے کہ ” منصب حکومت اور معنوی قیادت ہرگز ایک ساتھ ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتے “
رسول خدا کا ایک صحابی بریدہ بن خصیب ، پیغمبر کی رحلت کے وقت مدینہ سے باہر ماموریت پر گیا تھا ۔ وہ پیغمبر کی رحلت کے بعد واپس مدینہ آیا اور اس نے حالات کو دگرگوں پایا، تو ایک پرچم حضرت علی(ع)کے دروازے پر نصب کرکے غصہ کی حالت میں مسجد میں داخل ہوا اور خلیفہ اور ان کے ہمفکروں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کھنے لگا :
’ ’ کیا تم لوگوں کو یاد نہیں ہے کہ ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سب کو حکم دیا تھا کہ حاکم اور امیر المؤمنین کی حیثیت سے حضرت علی علیہ السلام کو سلام کرو اور کھو:” السلام علیک یا امیر المؤمنین(۷۸) اب کیا ہوا ہے کہ تم لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت اور سفارش کو فراموش کر بیٹھے ؟
خلیفہ نے ”بریدہ“ کے سوال کے جواب میں دونوں منصبوں کو جدا کرنے کا اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے کھا: خدائے تعالیٰ ہر دن ایک کام کے بعد دوسرا کام انجام دیتا ہے اور ایک خاندان میں نبوت (معنوی قیادت ) اور حکمرانی کو جمع نہیں کرتا ۔
یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت(ع)یا امت کے معنوی پیشوا ہوں گے تا کہ احکام و شریعت الٰہی کو بیان کریں یا حکمراں ، یہ دونوں منصب ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ،
خلیفہ کی بات پر ذرا دقت سے غور کریں ان کا مقصد یہ نظر نہیں آتا کہ یہ دو منصب ہر گز کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ، کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں منصبوں کے مالک تھے۔ آپ مسلمانوں کے حاکم بھی تھے اور معنوی قائد بھی ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ حضرت سلیمان (ع)جیسے دوسرے پیغمبر بھی ان دونوں عھدوں پر فائز تھے ۔
یقینا ان کا مقصد یہ تھا کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد یہ دو مقام اور منصب آنحضرت کے خاندان میں جمع نہیں ہوں گے ، لیکن یہ نظریہ بھی گزشتہ نظریہ کی طرح باطل اور بے بنیاد ہے ۔ لھذا جب حضرت امام باقر علیہ السلام اصحاب سقیفہ کے اس نظریہ ”جدائی“ کونقل کرتے تھے تو فوراً مندرجہ ذیل آیہ شریفہ ،__جو فرزندان ابراہیم میں ان دونوں منصبوں کے جمع ہونے کی حکایت کرتی ہے__ سے اس نظریہ کو باطل قرار دیتے تھے۔
( امْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلٰی مَا ءَ اتَ-ٰ-هُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِه فَقَدْ آتَیْنٰا ءَ الَ إِبْرَاهِیمَ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ آتَیْنَا هُمْ مُلکاً عَظِیماً ) (۷۹)
یا وہ ان لوگوں سے حسد کرتے ہیں جنھیں خدا نے اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ عطا کیا ہے تو پھر ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم ( بڑی فرمانروائی ) سب کچھ عطا کیا ہے “
امام باقر علیہ السلام نے مذکور آیہ شریفہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
” فکیف یقرّون فی آل ابراہیم و ینکرونہ من آل محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم“
پس یہ لوگ کس طرح ان دونوں منصبوں کے خاندان ابراہیم(ع)میں جمع ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ، لیکن اسی چیز کے خاندان محمد میں جمع ہونے کا انکار کرتے ہیں “
عیسائی تفکر
حقیقت میں ان دونوں منصبوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا ، ایک قسم کا عیسائی تفکر ہے جو اس نظریہ کے ہمفکروں کی زبان پر جاری ہوا ہے ۔ کیونکہ یہ موجودہ تحریف شدہ عیسائی دین ہے جو یہ کھتا ہے کہ میں اس امر پر مامور ہوں کہ امور قیصر کو خود قیصر کو سونپ دوں ، لیکن دین اسلام کے تمام قوانین ایک مکمل مادی و معنوی ضابطہ حیات کی حکایت کرتے ہیں کہ جو بشر کی تمام سماجی ، اخلاقی ، سیاسی اور اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے ۔
دین اسلام ، جس کی بنیاد اور احکام و قوانین کے تانے بانے انسانی سیاست یعنی اسلامی سماج کے امور کی تدبیر کو تشکیل دیتے ہیں اس میں معنوی رہبری کو حکومت اور فرماں روائی سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے۔
بیشک اسلام میں لوگوں پر حکومت و فرماں روائی بذات خود مقصد نہیں ہے بلکہ اسلامی حاکم اس لحاظ سے اس منصب کو قبول کرتا ہے کہ اس کے سائے میں حق کو زندہ کرسکے اور باطل کو نابود کرے۔
امیر المؤمنین علیہ السلام حکومت کو احیائے حق کا وسیلہ جاننے کے بجائے خود حکومت کو مقصد قرار دئےے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”و انّ دنیاکم هذه ازهد عندی من عفطة عنز “(۸۰)
یعنی تم لوگوں کی دنیا اور یہ حکومت جس کےلئے ہاتہ پاؤں ماررہے ہو ، میری نظر میں بکری کی ناک سے بھنے والے پانی کے برابر بھی قدر و قیمت نہیں رکھتے ۔
ماضی اور حال کے کچھ روشن خیال افراد یہ سوچتے ہیں کہ شیعہ و سنی کے درمیان اتحاد کا طریقہ یہ ہے کہ ان دو منصبوں کو خلفاء اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تقسیم کردیا جائے ، حکومت اور فرماں روائی کو خلفاء کا حق اور معنوی قیادت کو اہل بیت علیھم السلام کا حق جان لیں ۔ اس طرح اس چودہ سو سالہ جھگڑے کو ختم کردیں اور مسلمانوں کو مشرق و مغرب کی دو سامراجی طاقتوں کے خلاف متحد و طاقتور بنائیں۔
لیکن یہ نظریہ بھی غلط ہے کیونکہ اس طرح اس اتحاد کی بنیاد ایک غلط نظریہ پر قائم ہوگی جس سے ایک قسم کی عیسائیت اور سیکولرزم کی بو آتی ہے ۔ ہم قرآن مجید کے واضح حکم کے خلاف ان دو منسبوں کو ایک دوسرے سے جدا کرکے اسے قربانی کے گوشت کی طرح کیوں تقسیم کریں ؟!
مسلمانوں کے درمیاں اتحاد و یکجھتی کےلئے دوسرا راستہ موجود ہے اوروہ ایسے مشترکات ہیں جو دونوں فرقوں میں پائے جاتے ہیں ۔ کیونکہ سب ایک کتاب ، ایک پیغمبر اور ایک قبلہ کی پیروی کرتے ہیں اور بہت سے اصول و فروع میں اتفاق نظر رکھتے ہیں ، لھذا دوسرے مسائل میں اختلاف آپس میں ٹکراؤ اور خوں ریزی کا سبب نہیں ہونا چاہیے ۔لیکن سیاسی اتحاد و یکجھتی کے تحفظ کے ساتھ ہر فرقہ کو اپنے عقائد کے صحیح اور منطقی دفاع کا پورا پورا حق ہونا چاہئے اور اپنے عقائد کے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنے مشترک دشمن ( سامراج اور صیھونزم) کے خلاف دیگر مسلمانوں کے ساتھ اتحاد و یکجھتی کی ضرورت کو فراموش نہ کرنا چاہئے ۔
____________________
۶۳۔ احزاب /۶
۶۴۔ مائدہ /۴۸
۶۵، التراتیب الاداریة ، ج۱ ،ص ۲۸۵۔
۶۶۔ التراتیب الاداریة ، ج۱ ،ص ۲۸۵۔
۶۷۔ سریہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں آنحضرت شامل نہ تھے۔
۶۸۔ انبیاء / ۷۲ ، یوسف / ۲۲۔
۶۹۔ یوسف / ۱۰۱
۷۰۔نحل /۴۴
۷۱۔جمعہ /۲
۷۲۔ بقرہ / ۲۴۷
۷۳۔ احتجاج طبرسی ، ج ۱، ص ۳۵۳ ، تلخیص کے ساتھ
۷۴۔”ان الائمة فینا و ان الخلافة لا تصلح الّا فینا و انّ الله جعلنا اهله فی کتابه وسنة نبیه و ان العلم فینا و نحن اهله و انه لا یحدث شیٴ الی یوم القیامة حتی ارش الخدش الّا وهو عندنا “ ( احتجاج طبری ، ج ۳ ص ۶)
۷۵۔ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک کی جنگ پر جانے کا فیضلہ کیا تو، حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کرکے فرمایا”انت منی بمنزلة هارون من موسی الّا انه لا نبی بعدی “ تم میرے لئے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسی کےلئے تھے ، فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ، پیغمبر اسلام نے اس جملہ سے ، نبوت کے علاوہ تمام منصبوں کو علی(ع)کےلئے ثابت کردیا
۷۶۔ حدیث غدیر کی تفصیل انیسویں فصل میں آئے گی ۔
۷۷۔ یہاں مقصود حدیث ثقلین ہے کہ اس کے بارے میں بائیسوں فصل میں گفتگو آئے گی ۔
۷۸۔ پیغمبر نے اپنے اصحاب سے فرمایا:سلّموا علی علیّ بامرة المؤمنین ۔
۷۹۔ نساء / ۵۴
۸۰۔ نھج البلاغہ ، خطبہ سوم
پندرہویں فصل
اسلامی احکام سے خلفاء کا ناآشنا ہونا
گزشتہ گفتگو سے یہ پوری طرح ثابت ہوا کہ ایک مکمل مذہبی قیادت کےلئے دین کے اصول و فروع سے متعلق وسیع علم اور اسلامی معاشرہ کی ضرورتوں سے مکمل آگاہی ضروری ہے اور اس طرح کی مکمل آگاہی کے بغیر مذہبی قیادت ممکن نہیں ہے ۔
کیونکہ بشر کی تخلیق کا مقصد یہی ہے کہ وہ شریعت الٰہی پر عمل کرتے ہوئے اور ارتقاء و کمال تک پھنچنے اورپیغمبروں کے بھیجے جانے اور شرعی وقوانین کے نفاذ کا مقصد بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان کو گمراہیوں سے بچا لیا جائے اور اسے کمالات و فضائل کی طرف رہنمائی کی جائے۔ الٰہی قوانین پر عمل کرتے ہوئے ترقی کی منزلیں طے کرنا اس صورت میں ممکن ہے جب الٰہی فرائض و احکام بندوں کی دسترس میں ہوں تا کہ کمال کی راہ طے کرنے والوں کےلئے کوئی عذرو بھانہ باقی نہ رہے یا ان کی راہ سے رکاوٹیں دور کی جائیں۔
تمام احکام تک رسائی حاصل کرنے کےلئے شرط ہے کہ پیغمبر کے بعد لوگوں میں کوئی ایسا شخص موجود ہو جو سماج کی دینی ضرورتوں سے پوری طرح آگاہ ہو۔ تا کہ لوگوں کو ارتقاء و کمال کا راستہ اور صراط مستقیم دکھائے اور تخلیق کے مقاصد کو صحیح ثابت کرنے میں ذرا بھی غفلت سے کام نہ لے ۔
خلفائے ثلاثہ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ان خصوصیات کا حامل نہ تھا اور احکام و لوگوں کی دینی ضروریات کے بار ے میں ان کے معلومات بہت ضعیف تھے۔
قرآن مجید کے بعد اسلامی معاشرہ کو ارتقاء بخشنے کا واحد راستہ سنن و احادیث پیغمبر سے آگاہی ہے کہ ان کا اعتبار اور حجیت تمام مسلمانوں کی نظر میں مسلّم ہے ۔ قرآن مجید نے بھی بہت سی آیات میں سنّت اور احادیث پیغمبر پر عمل کو ضروری قرار دیا ہے مثال کے طور پر درج ذیل آیہ شریفہ ملاحظہ ہو:
( مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوه وَ مَا نَهَاکُمْ عَنْه فَانْتَهُوا ) (۸۱)
” جو رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ“
لیکن مذکورہ خلفاء اسلامی احکام کے بارے میں کوئی نمایاں آگاہی نہیں رکھتے تھے اور ان ناقص اور معمولی معلومات کے ذریعہ انسانی قافلہ کو ہرگز کمال کی منزل تک نہیں پہنچایا جاسکتا ہے ، جس کےلئے خود اسلامی احکام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے۔
احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں جو روایتیں حضرت ابو بکر سے نقل کی ہیں ان کی کل تعداد ۸۰ احادیث سے زیادہ نہیں ہے(۸۲) جلال الدین سیوطی نے انتھائی کوشش کرکے ان کی تعداد ۱۰۴ تک پہنچائی ہے(۸۳)
سر انجام حضرت ابوبکر سے نقل کی گئی روایتوں کی آخری تعداد ۱۴۲ بتائی گئی ہے(۸۴) ان میں سے بھی بعض روایتیں نہیں ہیں بلکہ یہ باتیں ہیں جو ان سے نقل کی گئی ہیں مثلا ایک حدیث جو ان سے نقل کی گئی ہے اور انھی ۱۴۲ احادیث میں شمار ہوتی ہے یہ جملہ ہے :
”ان رسول اللّٰه اهدی جملاً لابی جهل “
یعنی پیغمبر نے ابو جھل کو ایک اونٹ ہدیہ کے طور پر دیا “
اس کے علاوہ ان سے نقل کی گئی کئی احادیث قرآن مجید اور عقل کے منافی ہیں مثلاً درج ذیل دو حدیثیں ملاحظہ ہوں:
۱۔ ”ان المیت ینضح علیه حمیم ببکاء الحی “
یعنی ، زندہ لوگوں کے رونے سے مردے پر گرم پانی ڈالا جاتا ہے ۔
واضح ہے کہ اس حدیث کا مضمون چند لحاظ سے مردود ہے :
اولاً: میت پر معقول رونا ، انسانی جذبات کی علامت ہے اور پیغمبر اکرم نے اپنے بیٹے حضرت ابراہیم (ع)کے سوگ میں شدت سے آنسو بھائے تھے اور فرماتے تھے :
” پیارے ابراہیم ! ہم تیرے لئے کچھ نہیں کرسکتے ، تقدیر الٰہی ٹالی نہیں جاسکتی ، تیری موت پر تیرے باپ کی آنکھیں اشک بار ہیں اور اس کا دل محزون ہے ، لیکن میں ہرگز ایسی بات زبان پر جاری نہیں کروں گا قھر خدا کا سبب بنے ۔(۸۵)
جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ”جنگ مؤتہ “ میں ” جعفر ابن ابو طالب “ کی شھادت کی خبر سے آگاہ ہوئے ، تو آپ اس قدر روئے کہ آپ کی ریش مبارک پر آنسو جاری ہوگئے تھے(۸۶)
دوسرے یہ کہ ہم فرض بھی کرلیں کہ اس قسم کا رونا صحیح نہ ہوگا، تو آخر کسی ایک کے عمل سے دوسرا کیوں عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ۔ قرآن مجید فرماتا ہے :
( وَ لاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ اُخْرَیٰ ) (۸۷) اور کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجہ نہ اٹھائے گا ۔
پھر ابو بکر کے نقل کے مطابق پیغمبر اکرم نے یہ کیسے فرما دیا کہ کسی کے رونے سے ، ایک بے بس مردہ عذاب میں مبتلا ہوگا؟!
۲۔ ”انما حرّ جهنمّ علی امتی مثل الحمّام “
یعنی ، میری امت کےلئے جھنم کی گرمی حمام کی گرمی کے مانند ہے۔
یہ بیان گناہگاروں کے گستاخ ہونے کا سبب بننے کے علاوہ ، جھنم کے بارے میں قرآن مجید میں بیان شدہ نصوص کے بالکل خلاف ہے ۔ جیسے( وقودها الناس و الحجارة ) اس کا ایندھن پتھر اور انسان ہیں اور اس آگ کے کوہ پیکر شعلے بیدار دلوں کو پگھلادیتے ہیں
بھر حال جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ، جو احادیث حضرت ابو بکر سے نقل ہوئی ہیں وہ یا ان کے معمولی بیانات ہیں یا وہ چیزیںھیں جو عقل و قرآن مجید سے ٹکراؤ رکھتی ہیں ۔ اور جسے حدیث کا نام دیا جائے ان میں بہت کم ملتی ہے۔
ظاہر ہے کہ ایسا شخص ، ان ضعیف اور ناچیز معلومات کے ساتھ اسلامی معاشرے کو ارتقا اور کمال کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتا اور امت کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتا ۔
خلیفہ ، خود اپنے ایک بیان میں اپنی معلومات سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں :
”انّی ولیت و لست بخیرکم و ان رایتمونی علی الحق فاعینونی و ان رایتمونی علی الباطل فسدونی (۸۸)
اے لوگو ! تمھارے امور کی باگ ڈور میرے ہاتہ میں دیدی گئی ہے ، جبکہ میں تم میں سے بھترین فرد نہیں ہوں ، اگر تم لوگ مجھے حق پر دیکھو تو میری مدد کرو اور اگر مجھے باطل پر دیکھو تو میری مخالفت کرو اور مجھے اس کام سے روکو“
دین و مذہب کے قائد کو جس کے نقش قدم پر اسلامی معاشرے کو چلنا ہے دینی مسائل میں امت سے مدد کا محتاج نہیں ہونا چاہئے ۔ یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ دینی قائد بجائے اس کے کہ امت کو تخلیق کے مقصد کی طرف راہنمائی کرے اپنی غلطیاں اور گمراہیاں سدھارنے کےلئے امت سے مدد مانگے ۔
خلیفہ اول کی لاعلمی کے چند نمونے
یہاں پر ہم خلیفہ کے معلومات سے متعلق چند نمونے پیش کرتے ہیں جو بذات خود دینی مسائل کے بارے میں ان کے معلومات کی سطح کے گواہ ہیں ۔ یہ نمونے اس امر کی حکایت کرتے ہیں کہ وہ بہت سے روز مرہ کے مسائل کے جواب سے بھی ناواقف تھے:
۱۔ ”دادی“ کی وراثت کا مسئلہ عام مسائل میں سے ہے خلیفہ اس کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتے تھے ۔ ایک عورت کا پوتا فوت ہوگیا تھا اور اس نے اس سلسلے میں ان سے حکم خدا پوچھا ، انھوں نے جواب دیا کہ : کتاب خدا اور پیغمبر کے ارشادات میں اس بارے میں کچھ بیان نہیں ہوا ہے ۔ اس کے بعد اس عورت سے کھا: تم جاؤ ، میں رسول خدا کے صحابیوں سے پوچھوں گا کہ کیا انھوں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں کچھ سنا ہے ؟! مغیرة بن شعبہ جو اسی مجلس میں موجود تھا ، اس نے کھا : میں پیغمبر خدا کی خدمت میں تھا، آپ نے دادی کےلئے میرا ث میں سے ۳/۱ حصہ مقرر فرمایاتھا ۔(۸۹)
خلیفہ کی لاعلمی زیادہ تعجب خیز نہیں ہے بلکہ تعجب اس بات پر ہے کہ اس نے مغیرہ جیسے آلودہ اور بد کردار شخص سے حکم الھی سیکھا ۔
۲۔ ایک ایسا چور خلیفہ کے پاس لایا گیا جس کا ایک ہاتہ اور ایک پاؤں کاٹا جاچکا تھا ، انھوں نے حکم دیا اس کا پاؤں کاٹ دیا جائے ، خلیفہ دوم نے اشارہ کیا کہ ایسے موقع پر سنت پیغمبر یہ ہے کہ ہاتہ کاٹا جائے ، اس پرخلیفہ نے اپنا نظریہ بدل دیا اور خلیفہ دوم کے نظریہ کی پیروی کی(۹۰)
ان دونمونوں سے فقہ اسلامی کے بارے میں خلیفہ کی معلومات کے کمی کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے اور واضح ہے کہ اس قدر معلومات کے فقدان اور مغیرہ جیسے افراد سے رجوع کرنے والے شخص کے ہاتھوں میںمعاشرے کی معنوی قیادت کی باگ ڈور ہرگز نہیں دی جاسکتی ہے جس کی بنیادی شرط اسلامی احکام سے متعلق وسیع معلومات کا حامل ہونا ہے۔
خلیفہ دوم کی معلومات کا معیار
حضرت عمر نے جن احادیث کو پیغمبر سے نقل کیا ہے ان کی تعداد پچاس سے زیادہ نہیں ہے ۔ درج ذیل داستان خلیفہ دوم کے فقھی معلومات کی سطح کی صاف گواہ ہے :
۱۔ ایک شخص نے حضرت عمر کے پاس آکر ان سے دریافت کیا: مجنب ہوں اور پانی تک رسائی نہیں حاصل کرسکا۔ ایسے میں میرا فریضہ کیا ہے ؟
حضرت عمر نے جواب دیا: تم سے نماز ساقط ہے ، خوشبختی سے ” عمار “ اس جگہ موجود تھے انھوںنے خلیفہ کی طرف رخ کرکے کھا: یاد ہے کہ ایک جنگ میں ہم دونوں مجنب ہوئے تھے اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے ، میں نے مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھی تھی ، لیکن تم نے نماز نہیں پڑھی تھی ؟ جب پیغمبر سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کافی تھا اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارکر چھرے پر ملتے یعنی تیمم کرتے ۔
خلیفہ نے عمار کی طرف رخ کرکے کھا: خدا سے ڈرو ؟ ( یعنی اب اس بات کو بیان نہ کرنا )
عمار نے کھا: اگر آپ نہیں چاہتے تو میں اس واقعہ کو کہیں بیان نہیں کروں گا(۹۱)
یہ واقعہ اہل سنت کی کتابوں میں مختلف صورتوں میں نقل ہوا ہے اور یہ تمام صورتیںاس امر کی حکایت کرتی ہیں کہ خلیفہ دوم مجنب کے بارے میں جس کے پاس پانی نہ تھا حکم الٰہی سے بے خبر تھے۔
قرآن مجید نے دو سوروں(۹۲) میں ایسے شخص کا فریضہ بیان کیا ہے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ قرآن مجید کی یہ دو آیتیں خلیفہ کے کانوں تک نہیں پھنچی تھیں !
ایسا شخص جو بارہ سال تک کوشش کے بعد صرف سورہ بقرہ یاد کر سکے اور اس کے شکرانہ کے طور پر قربانی کرے(۹۳) ، بھلا وہ کس طرح ان آیات تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکتا ہے ؟!
۲۔ شکیات نماز کے احکام ایسے احکام ہیں جن کی ہر مسلمان کو ضرورت ہوتی ہے ، بہت کم ایسے متدین افراد پیدا ہوں گے جو ان احکام سے آشنائی نہ رکھتے ہوں اب ذرا دیکھئے کہ اس سلسلے میںخلیفہ کی معلومات کس سطح کی تھی ؟
ابن عباس کہتے ہیں : ایک دن حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا: اگر ایک شخص اپنی نماز کی تعداد کے بارے میں شک کرے تو اس کا فریضہ کیا ہے ؟ میں نے خلیفہ کو جواب دیا کہ : میں بھی اس مسئلہ کے حکم سے واقف نہیں ہوں ، اسی اثنا میںعبد الرحمان بن عوف آئے اور انھوں نے اس سلسلے میں رسول خدا کی ایک حدیث بیان کی(۹۴)
شاید اس سلسلے میں ابن عباس کاجواب سنجیدہ نہ تھا ، اور اگر رہا بھی ہو تو بھی خلیفہ کی ایسے موضوع کے سلسلہ میں نا آگاہی واقعاً حیرت انگیزھے !!
۳۔مستحب ہے کہ عورتوں کا مھر چار سو دینار سے زیادہ نہ ہو ، حتی حدیث کی اصطلاح میں فقھا اسے ” مھر السنة“ کہتے ہیں ، لیکن اس کے باوجو د ہر فرد اپنی شریک حیات کی رضا مندی حاصل کرنے کےلئے اس سے زیادہ مھر مقرر کرسکتا ہے۔
ایک دن خلیفہ نے منبر سے مَھر زیادہ ہونے کے خلاف تنقید کی اور اس مخالفت کا اس حد تک اظھار کیا کہ اعلان کردیا کہ مھر کی زیادتی منع ہے ۔ جب خلیفہ منبر سے نیچے اترے تو ایک عورت نے سامنے آکر ان سے سوال کیا : آپ نے عورتوں کے مھر میں اضافہ پر پابندی کیوں لگا دی ، کیا خدائے تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ نہیں فرمایا ہے :
(وَ آتَیْتُمْ اِحْدیٰهُنَّ قِنطَاراً )(۹۵)
اگر عورتوں میں سے ایک کو زیادہ مال دیدیا ہے تو حرج نہیں ہے “
اس وقت خلیفہ نے اپنی غلطی کا احساس کیا اور بارگاہ الٰہی میں رخ کرکے کھا : ” خدا یا ! مجھے بخش دے اور اس کے بعد کھا: تمام لوگ احکام الٰہی کے بارے میں عمر سے زیادہ واقف ہیں(۹۶) اس کے بعد دوبارہ منبر پر جا کر اپنی بات کی تردید کردی(۹۷)
۴۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو یہ نہ جانتا ہو کہ الٰہی فرائض کی انجام دھی کےلئے عقل ، طاقت اور بلوغ شرط ہے ۔ اس کے باوجود ، حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں ایک پاگل عورت کو بد۰ کاری کے جرم میں خلیفہ کے حضور میں لایا گیا اور انھوں نے حکم صادر کردیا کہ اسے سنگسار کیا جائے ۔ خوشبختی سے جب مامور اسے سنگسار کرنے کےلئے لے جارہے تھے ،حضرت علی(ع)سے ملاقات ہوگئی ۔ امام جب حقیقت سے آگا ہ ہوئے تو انھیں واپس لوٹنے کا حکم دیا ۔ جب خلفیہ کے پاس پھنچے تو ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: کیا تمھیں یاد نہیں ہے پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے : نابالغ ، پاگل اور پر سے فرائض معاف کردیے گئے ہیں ؟
اس پر حضرت عمر نے ایک تکبیر کھی اور اپنا حکم واپس لے لیا ۔
اس قسم کے ناحق فیصلے خلیفہ دوم کی زندگی کی تاریخ میں بہت ملتے ہیں ۔ مرحوم علامہ امینی نے الغدیر کی چھٹی جلد میں احکام اسلام کے بارے میںخلیفہ کی نا آگاہی کے سو واقعات مستند حوالوں کے ساتھ ذکر کئے ہیں اور ان کا نام ” نوادر الاثر فی علم عمر “ رکھا ہے ۔
ان امور کے جائزہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی قیادت ہرگز ایسے فرد کے ہاتھوں میں نہیں دی جا سکتی ہے جو کتاب و سنت اور فقہ اسلامی کے سلسلے میں اتنا بھی نہیں جانتا ہو کہ دیوانہ اور پاگل پر کوئی فریضہ عائد نہیں ہوتا۔
کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ لوگوں کی ناموس اور اسلامی سماج کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں دے دی جائے جو عاقل اور دیوانہ میں فرق نہ کرسکتا ہو؟
کیا عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ خدائے عادل لوگوں کی جان و مال کو ایک ایسے شخص کے سپرد کردے جو یہ بھی نہ جانتا ہو کہ عورت چہ ماہ میں بچے کو جنم دے سکتی ہے اور ایسی عورت پر بدکاری کی تھمت نہیں لگائی جاسکتی اور نہ اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے ؟(۹۸)
خلیفہ سوم کے معلومات کا معیار
الٰہی احکام کے بارے میں تیسرے خلیفہ کے معلومات بھی گزشتہ دو خلفاء سے زیادہ نہیں تھے ۔ ان کے ذریعہ پیغمبر سے نقل کی گئی احادیث کی کل تعداد ۱۴۶ سے زیادہ نہیں ہے(۹۹)
اسلام کے اصول و فروع کے سلسلے میں حضرت عثمان کی آگاہی بہت کم اور ناچیز تھی قارئین کرام کی آگاہی کےلئے اسلامی تعلیمات سے ان کی بے خبری کے سلسلہ میں صرف ایک اشارہ پر اکتفا کی جاتی ہے :
اسلام کے واضح احکام میں سے ایک حکم یہ ہے کہ مسلمان اور کافر کا خون برابر نہیں ہے اور پیغمبر اسلام نے اس سلسلے میں فرمایا ہے :
”لا یقتل مسلم بکافرٍ “
کافر کو قتل کرنے پر مسلمان کو قتل نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ قاتل دیت ادا کرے گا ۔
لیکن افسوس ہے کہ خلیفہ سوم کی خلافت کے دوران جب ایک ایسا واقعہ پیش آیا تو خلیفہ نے قاتل کو قتل کرنے کا حکم صادر کردیا پھر بعض اصحاب رسول کی یاد دھانی پر اپنے حکم کو بد لا(۱۰۰)
خلیفہ سوم کی زندگی میں ایسے بہت سے نمونے ملتے ہیں ۔ بیان کو مختصر کرنے کیلئے ہم ان کی تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہیں اور ایک بار پھر بحث کے نتیجہ کی طرف آتے ہیں:
امت اسلامیہ کی مذہبی قیادت کےلئے الٰہی احکام سے متعلق وسیع علم اور معلومات کا مالک ہونا شرط ہے اور ایسا علم عصمت یعنی گناہوں سے محفوظ رہے بغیر ممکن نہیں ہے اور افسوس ہے کہ پہلے تینوں خلفاء اس لطف الٰہی سے محروم تھے۔
____________________
۸۱۔ حشر / ۷۔
۸۲۔ مسند احمد ، ج ۱، ۲۔۱۴۔
۸۳۔ تاریخ الخلفاء ، ص ۵۹ ۔ ۶۶۔
۸۴۔ الغدیر ج ۷ ص ۱۰۸
۸۵۔ سیرہ حلبی ، ج ۳ ، ص ۳۴، بحار ج ۲۲، ص ۱۵۷۔
۸۶۔ مغازی واقدی ، ج۲، ص ۷۶۶ ، بحار ، ج۲۱، ص ۵۴ ۔
۸۷۔ انعام / ۱۶۴
۸۸۔ طبقات ابن سعد، ج ۳،ص ۱۵۱۔
۸۹۔ موطا ابن مالک ص ۳۳۵۔
۹۰۔ سنن بیھقی ، ج۸ ص ۲۷۳۔
۹۱۔ سنن ابن ماجہ ، ج ۱، ص ۲۰۰۔
۹۲۔ نساء ۴۳، مائدھ/ ۶۔
۹۳۔ الدر المنثور ج۱،ص ۲۱۔
۹۴۔ مسند احمد ، ج ۱ ،ص ۱۹۲۔
۹۵۔ نساء/ ۲۰
۹۶۔ ”کل الناس افقہ من عمر”
۹۷۔ الغدیر ، ج ۶ ص ۸۷ ( اہل سنت کی مختلف اسناد سے منقول)
۹۸۔ اس کی تفصیل پانچویں فصل میں گزری ہے ۔
۹۹۔ الاضواء ، ص ۲۰۴
۱۰۰۔ سنن بیھقی ، ج ۸ ص ۳۳۔
سولھویں فصل
پیغمبر کے صحابی ، گناہ و خطا سے معصوم نھیں
شاید مھاجرین و انصارکے ایک گروہ پرہماری تنقید سُنی برادری کے بعض افراد کیلئے تعجب کا سبب بنے اور یہ سوچیں کہ یہ کیسے ممکن ہے ان حضرات کے قول و فعل کی عیب جوئی کرکے ان کو خطاکار قرار دیاجائے جبکہ قرآن مجید نے دو موقعوں پر ان کی ستائش کی ہے :
( وَالَسَّابِقُونَ الاوَّلُونَ مِنَ المُهٰاجِرِینَ وَ الْانْصَارِ وَ الَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَٰنٍ رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْه وَ اعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی تَحْتَهَا الانْهَارُ خٰلِدِینَ فِیهٰآ ابَداً ذٰلِکَ الْفَوزُ الْعَظِیمُ )
” اور مھاجرین و انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کا اتباع کیا ہے ، ان سب سے خدا راضی ہوگیا ہے اور یہ سب خدا سے راضی ہیں اور خدا نے ان کےلئے وہ باغات مھیّا کئے ہیں جن کے نیچے نھریں جاری ہیں اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے“(۱۰۱)
۲۔ ایک دوسر ے سورہ میں ان افراد کے بارے میں ، جنھوں نے سرزمین ” حدیبیہ پر ایک درخت کے سایہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی تھی ، یوں فرمایا ہے :
(لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبٰایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوبِهِمْ فَانْزَلَ السَّکِینَةَ عَلَیْهِمْ وَ اثَابَهُمْ فَتْحاً قَرِیباً )
” یقینا خدا صاحبان ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کررہے تھے پھر اس نے وہ سب کچھ دیکہ لیا جو ان کے دلوں میں تھا تو ان سب پر سکون نازل کردیا اور انھیں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کردی“(۱۰۲)
خلاصہ : پہلی آیہ کریمہ میں خدائے تعالیٰ مھاجرین و انصار میں سے ان افراد کی ستائش کرتا ہے جو دوسرے لوگوں سے پہلے اسلام لائے اس کے بعد ان افراد کی بھی تعریف کرتا ہے جنھوں نے ان میں سے کسی ایک کی پیروی کی ہو۔
دوسری آیہ شریفہ میں ، خداوند کریم ان افراد کے بارے میں رضا مندی اور خوشنودی کا اظھار کرکے انھیں آرام و سکون اور فتح مکہ کی بشارت دیتا ہے ، جنھوں نے ساتویں ہجری کو سرزمین ” حدیبیہ“ پر پیغمبر کی بیعت کی تھی۔
خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس ستائش اور اظھار خوشنودی کے ہوتے ہوئے کس طرح ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد رسول کے اصحاب اپنے فیصلوں میں خطا یا گناہ کے مرتکب ہوتے ہوں ؟!
مذکورہ بالا آیات کے مقاصد کی وضاحت کرنے سے پہلے ایک مطلب کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اہل سنت کے علماء نہ فقط ان دو گروہوں ( مھاجرین و انصار اور تابعین) کو __جن کے بارے میں ان دو آیتوں میں اشارہ ہوا ہے__عادل اور پاک دامن جانتے ہیں بلکہ ان کی اکثریت کا اعتقاد یہ ہے کہ تمام اصحابِ رسول عادل ، منصف ، متقی اورپرہیزگار تھے ۔ مگر یہ کہ کسی ایک کے بارے میں کسی واقعہ میں فسق و انحراف ثابت ہوجائے ۔
مختصر یہ کہ جس کسی نے پیغمبر اسلام کی مصاحبت کا شرف حاصل کیا ہے اسے عادل اورپاک دامن جاننا چاہئے ، مگر یہ کہ اس کے برخلاف کچھ ثابت ہوجائے۔
اس جملہ کا مفھوم یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابیوں جن کی تعدا د ایک لاکہ سے زیادہ ہے ، کے تانے بانے ہی جدا ہیں ، یعنی جوں ہی کوئی فرد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور مشرف ہوتا تھا ، ایک روحانی انقلاب پیدا کرکے اس لمحہ کے بعد اپنی پوری زندگی میں صحیح ، عادل اور پاک دامن ہونے کی سند حاصل کرلیتا تھا۔
صحابیوں کے بارے میں ایسی بات کھنا ، ان میں سے ایک گروہ کی بد کرداری پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے ، کیونکہ ایسے افراد کا ضعیف عمل اور بعض مواقع ، جیسے ، جنگ احد و جنگ حنین میں ان کا فرار کرنا ان کے ایمان میں کمزوری خود رسالت مآب اور آپ کے عالی مقاصد کے تئیں ان کی بے توجھی کی واضح دلیل ہے قارئین کرام جنگ ” احد“ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کی بے وفائی کے بارے میں نازل شدہ آیات کی تحقیق کرکے حقیقت کو بخوبی محسوس کرسکتے ہیں ۔
یہ کس طرح کھا جاسکتا ہے کہ تمام صحابی عادل اورپاک دامن تھے ، جبکہ قرآن مجید ان کے ایک گروہ کے حلقہ منافقین میں ہونے کے بارے میں یوں فرماتا ہے :
( وَ اِذْ یَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَ الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَ رَسُولُه إلَّا غُرُوراً )
” اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا ، یہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سراسر دھوکہ ہے “(۱۰۳)
کیا ایسی بات کھنے والوں کو عادل و منصف کھا جاسکتا ہے ؟ جبکہ ایسا کھنے والے کو حقیقی مسلمان بھی نہیں کھا جاسکتا ہے۔
قرآن مجید صحابہ کے ایک گروہ کا تعارف ” سمّاعون“ کی حیثیت سے کراتا ہے ۔
اس لفظ سے مراد و ہ افراد تھے جو منافقین کی باتوں کو فوراً قبول کرلیا کرتے تھے ، فرماتا ہے :
( لَوْ خَرَجُوا فِیکُمْ مٰا زَادُوکُمْ إِلَّا خَبَالاً وَلاََوْضَعُوا خِلَٰ-لَکُمْ یبْغُونَکُمُ الْفِتْنَةَ وَ فِیکُمْ سَمَّٰعُونَ لَهُمْ وَ اللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ )
اگر یہ ( منافقین ) تمھارے ساتھ نکل بھی پڑتے تو تمھاری وحشت میں اضافہ ہی کرتے اور تمھارے درمیان فتنہ کی تلاش میں گھوڑے دوڈاتے پھرتے اور تم میں ایسے لوگ بھی تھے جو ان کی باتوں کو خوب سننے والے تھے اور الله تو ظالمین کو اچھی طرح جانتا ہے ۔(۱۰۴)
اس گروہ کے تمام افراد کو کیسے عادل و پاک دامن جانا جاسکتا ہے ،جبکہ خالد بن ولید ( بعض اہل سنت مصنفین کے عقیدہ کے مطابق اس نے پیغمبر سے ” سیف اللہ “ کا لقب حاصل کیا تھا ) فتح مکہ کے سال ایک خطر ناک جرم کا مرتکب ہوا اور قبیلہ ” بنی خزیمہ'' کی ایک جماعت کو ضمانت اور عھد وپیمان کے بعد دھوکہ و فریب سے قتل عام کرڈالا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس مجرمانہ حرکت کی خبر سنی تو قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے ”استغاثہ'' کی حالت میں فرمایا :
”اللهم انّی ابرءُ الیک ممّا صنع خالد بن ولید “
خدا ! جو کچھ خالد بن ولید نے انجام دیا ہے ، میں اس سے بیزار ہوں ۔(۱۰۵)
اس نام نھاد ” سیف اللہ “ کے کارناموں کی سیاہ فائل یہی ں پر بند نہیں ہوتی بلکہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد مالک بن نویرہ اور اس کے قبیلہ کے ساتھ کئے گئے اس کے بھیمانہ جرائم تاریخ کے صفحات میں ضبط ہوچکے ہیں ۔ اس نے مالک کو__جو ایک مسلمان تھا__قتل کرڈالا اور اس کی بیوی کے ساتھ اسی شب اپنا منہ کالا کیا۔
حق و باطل پہچاننے کا راستہ
اصولی طور پر یہ سب سے بڑی غلطی ہے کہ ہم حق و باطل کو افراد کے ذریعہ پہچانیں اور ان کی رفتار و گفتار کی حقانیت کےلئے ان کی شخصیت کو معیار قرار دیں ، جبکہ ایک شخص کا عقیدہ اور قول و فعل اس کی حقانیت کی علامت ہوتا ہے ، نہ کہ بر عکس۔
” بریٹنڈرسل “ علم ریاضی کا ایک بڑا دانشور ہے اور ریاضیات میں اس کے نظریے نمایاں اور علماء کے لئے قابل قبول ہیں ، لیکن اس کے باوجود وہ ایک ملحد ہے اور خدا و الھی مقدسات کا منکر شمار ہوتا ہے ، وہ اپنی کتاب ” میں کیوں عیسائی نہیں ہوں“ میں خدا پرستوں کے دلائل سے ناواقفیت کے سبب صراحت کے ساتھ لکھتا ہے :
” میں ایک زمانے میں خدا پرست تھا اور اس کی بھترین دلیل ” علة العلل“ جانتا تھا لیکن بعد میں اس عقیدہ سے پھر گیا ۔ کیونکہ میں نے سوچا اگر ہر چیز کےلئے ایک علت اور خالق کی ضرورت ہے تو خدا کےلئے بھی ایک خالق ہونا چاہئے “(۱۰۶)
کیا عقل ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ” رسل“ کی شخصیت کو خدا کے بارے میں اس کے فاسد فلسفی نظریہ__جبکہ کائنات کے تمام ذرات خدا کے وجود کی گواہی دیتے ہیں__ کے صحیح ہونے کی بنیاد قرار دیں ؟ واضح ہے کہ ہمیں اپنے فیصلوں میں افراد کی علمی و سیاسی شخصیت سے متاثر نہیں ہونا چاہئے اور ان کے افکار و اعتقادا اور قول و فعل کو ہر طرح کے حب و بغض سے اوپر اٹھ کر صرف عقل و منطق کے معیار پر تولنا چاہئے۔
یہاں مناسب ہے کہ ہم اس موضوع کے بارے میں امیر المؤمنین علیہ السلام کے پائیدار اور مستحکم نظریہ کی طرف بھی اشارہ کردیں۔
جنگِ جمل میں کچھ لوگ حضرت علی(ع)کے طرفدار اور کچھ لوگ طلحہ، زبیر اور ام المؤمنین عائشہ کے طرفدار تھے ۔ اس حالت میں دو دلی کا شکار ایک آدمی جو حضرت علی(ع)کی عظیم شخصیت سے بھی آگاہ تھا، آگے بڑھا اور بولا :
کیسے ممکن ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہوں ، جبکہ ان کے درمیان طلحہ ، زبیر اور ام المؤمنین عائشہ جیسی شخصیتیں موجود ہیں ، کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ ان افراد نے باطل کا راستہ اختیار کیا ہوگا ؟!
امیر المؤمنین(ع)نے اس کے جواب میں ایک ایسی بات بیان فرمائی کہ مصر کا مشھور دانشور ڈاکٹر طہٓ حسین اس کے بارے میں کھتا ہے :
” وحی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد انسان کے کانوں نے اب تک ایسی با عظمت بات نہیں سنی ہے “
امام(ع)نے فرمایا:
”انک لملبوس علیک، ان الحق و الباطل لا یعرفان باقدار الرجال ، اعرف الحق تعرف اهله ، اعرف الباطل تعرف اهله “
یعنی ، تم نے حق و باطل کو پہچاننے کے معیار میں غلطی کی ہے ۔ حق و باطل ہرگز افراد کے ذریعہ نہیں پہچانے جاتے ، بلکہ پہلے حق کو پہچاننا چاہئے پھر اہل حق کو پہچانا جاسکتا ہے ، پہلے باطل کو پہچاننا چاہئے پھر اہل باطل کی تمیز دی جاسکتی ہے ۔
امیر المؤمنین کی یہ عظیم فرمائش __ کہ بقول ڈاکٹر طھٓ حسین ، وحی الٰہی کے بعد انسان کے کانوں نے ایسا کلام نہیں سنا ہے__ بعض سنی علماء کے اس اصول کو پوری طرح بے بنیاد ثابت کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے تمام اصحاب عادل ہیں ۔
اب ہم یہاں پر قرآن مجید کی مذکورہ بالا دو آیتوں کے سلسلہ میں بحث کرتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی آیت اس امر کی حکایت کرتی ہے کہ خدائے تعالیٰ دو گروہوں سے راضی ہوا ہے اور اس نے اپنی بھشت کو ان کےلئے آمادہ کیا ہے ۔ یہ دو گروہ حسب ذیل ہیں :
۱۔ مھاجریں و انصار کا ایک گروہ ، جنھوں نے ایمان اور اسلام لانے میں دوسرے لوگوں پر سبقت حاصل کی ہے اور نازک لمحات میں دین کی راہ میں قربانیاں دی ہیں ۔
۲۔ وہ لوگ جنھوں نے شائستہ طورپر مھاجریں و انصار کی پیروی کی ہے ۔
قرآن مجید نے پہلے گروہ کے بارے میں( السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ ) اور دوسرے گروہ کے بارے میں (وَ الَّذِینَ اتَّبَعُوہمْ بِاِحْسان ) کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔
لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ کیا ، جو چیز ان سے خدا کی خوشنودی و رضا مندی کا سبب بنی صرف ان کی اسلام اور پیغمبر پر ایمان لانے میں سبقت تھی ، اور کیا اس خوشنودی و رضا مندی کی بقاء و دوام بلا قید و شرط ہے ؟
واضح تر الفاظ میں : کیا اگر یہ افراد بعد والے زمانوں میں فکری یا اختلافی انحراف کا شکار ہوکر ظلم و جبر کے مرتکب ہوجائیں ، تو کیا پھر بھی وہ خدا کی رضا مندی اور خوشنودی کے حقدار ہوں گے اور قھر و غضب ان کے شامل حال نہیں ہوگا؟ یا یہ کہ اسلام لانے میں ان کی سبقت کےلئے خدا کی رضا مندی اور خوشنودی کا باقی رہنا اس امر پر مشروط ہے کہ ان کا ایمان و عمل صالح ان کی زندگی کے تمام ادوار میں باقی رہے ، اور اگر ان دو شرائط ،،میں ان کی زندگی میں کبھی خلل پیدا ہوجائے تو ان کی اسلام میں سبقت اور مھاجر و انصار کے عنوان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا؟
قرآن مجید کی دیگر آیات کی تحقیق سے قطعی طور پر دوسرے نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ خدا کی طرف سے اپنے بندوں کےلئے کامیابی اور خوشنودی کی بقا اسی شرط پر ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی میں ایمان اور عمل صالح پر قائم و دائم رہیں ۔ ملاحظہ ہوں اس قسم کی چند آیات کے نمونے :
قرآن مجید سورہ حشر(۱۰۷) میں مھاجرین کی ایک جماعت کی اس بات پر ستائش کرتا ہے کہ انھوں نے اپنا سب مال و منال چھوڑ کر مدینہ ھجرت کی تھی ، اس کے بعد ان کی ستائش کا سبب مندرجہ ذیل عبارتوں میں بیان فرمایا ہے ۔
( یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللهِ وَ رِضْوَاناً وَ یَنْصُرُونَ اللهَ وَ رَسُولَه )
وہ لوگ ہمیشہ خدا کے فضل و کرم اور اس کی مرضی کے طلبگار رہتے ہیں اور خدا و رسول کی مدد کرنے والے ہیں ۔
یہ آیہ شریفہ اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ انسان کی نجات کےلئے ھجرت کرنا گھر بار اور مال و منال کو چھوڑنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ خدا کی خوشنودی کے اسباب فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کرنا اور اپنے نیک اعمال کے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کی مدد کرنا بھی ضروری ہے ۔
قرآن مجید فرماتا ہے : فرشتے ، جو عرش کے اطراف میں خدائے تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں ، با ایمان افراد کےلئے اس طرح دعائے مغفرت کرتے ہیں :
( فَاغْفِر لِلَّذِین تٰابُو وَ اتَّبَعُوا سَبِیلَک )
” خدایا ! جو تیری طرف لوٹ آئے ہیں اور تیرے دین کی پیروی کرتے ہیں ، انھیں بخش دے “
قرآن مجید اصحاب پیغمبر میں سے ان افراد کی ستائش کرتا ہے جو کافروں کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اور آپس میں مھربان ہیں ، رکوع و سجود بجالاتے ہیں ، خدا کے کرم و خوشنودی کے طالب ہیں اور ان کے چھروں پر سجدوں کی نشانیاں نمایاں ہیں(۱۰۸)
اس کے علاوہ قرآن عفو و بخشش اور عظیم اجر کا حقدار ان اصحاب رسول کو جانتا ہے جو خدا پر ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں(۱۰۹)
مذکورہ آیات او ران کے علاوہ دیگر آیات اس بات کی گواہ ہیں کہ مھاجرین و انصاریا سابقین و تابعین کے عنوان ، سعادت مند و نجات یافتہ ہونے کے لئے کافی شرط نہیں ہیں بلکہ اس فضیلت کے ضمن میں دیگر فضائل ، جیسے نیک اعمال کی انجام دھی اور بُرے کاموں سے پرہیز کی شرط بھی ضروری ہے ، ورنہ یہ لوگ درج ذیل آیات کے زمرے میں شامل ہوں گے :
۱۔( فَإِنَّ اللهَ لاَ یَرْضیٰ عَنِ القَوْمِ الفَاسِقینَ )
خدائے تعالیٰ فاسقوں کے گروہ سے راضی نہیں ہوتا ۔(۱۱۰)
۲۔( وَ اللهُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمینَ )
خدائے تعالیٰ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ۔(۱۱۱)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایمان کے بلند ترین مقام پرفائز اور فضیلت و اخلاق کا نمونہ تھے ، لیکن پھر بھی خدائے تعالیٰ واضح الفاظ میں آپ(ع)کو خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے :
( لِئِنْ اشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُونَنَّ مِنَ الخَاسِرِینَ ) (۱۱۲)
اگر تم شرک اختیار کرو گے تو تمھارے تمام اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمھارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوگا “
بیشک پیغمبر اکرم کا قوی ایمان اور آپ کی عصمت ایک لمحہ کےلئے بھی آپ کو شرک کی طرف مائل نہیں کرسکتی ، لیکن یہاں پر قرآن مجید آپ سے مخاطب ہوکر در حقیقت دوسروں کو خبردار کرتا ہے کہ چند نیک اعمال کے دھوکے میں نہ رہیں بلکہ کوشش کریں کہ زندگی کی آخری سانس تک اسی نیک حالت پر باقی رہیں ۔
اس بنا پر ہمیں ہرگز یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ پیغمبر کا صحابی ہونا اور سابقین و تابعین کے زمرے میں شمار ہونا کسی کو ایسا تحفظ بخش دے گا کہ اگر وہ بعد میں کوئی غلط قدم بھی اٹھائے ، پھر بھی خدا کی خوشنودی کا مستحق قرار پائے گا۔
ان ہی مھاجرین اور انصار یا سابقین و تابعین میں سے بعض افراد خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ہی مرتد ہوگئے تھے اور پیغمبر خدا کی جانب سے انھیں سخت ترین سزا کا حکم سنا دیا گیا ، اس وقت کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا کہ : اے پیغمبر ! خدا وند کریم ان سے راضی ہوگیا ہے ، آپ انھیں کیوں یہ سخت سزا سنارہے ہیں ؟
اس سیاہ فھرست کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
۱۔ عبد الله بن سعد بن ابی سرح : وہ مھاجرین میں سے تھا اور کاتب وحی تھا اس کے بعد مرتد ہوگیا اور اس نے کھا:
( سَانْزِلُ مِثْلَ مٰا اَنْزَ لَ اللهُ ) (۱۱۳)
میں بھی خدا کی طرح کی باتیں نازل کرسکتا ہوں!
فتح مکہ میں پیغمبر اسلام نے چند افراد کے قتل کا حکم دیدیا اور فرمایا: جہاں کھیںوہ ملیں انھیں فوراًقتل کردیا جائے ، ان میں سے ایک یہی ” عبدالله“ تھا ، لیکن فتح مکہ کے بعد اس نے حضرت عثمان کے وہاں پناہ لے لی ، کیونکہ وہ حضرت عثمان کا رضاعی بھائی تھا حضرت عثمان کی سفارش اور اصرار کے سبب پیغمبرا کرم نے اسے چھوڑدیا ۔
پیغمبر اس شخص سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ اس کو معاف کرنے کے بعد آنحضرت نے اپنے اصحاب سے فرمایا : جب تم لوگوں نے دیکھا کہ میں اسے معاف کرنے سے انکار کررہا ہوں اس وقت تم لوگوں نے اسے قتل کیو ں نہیں کرڈالا؟(۱۱۴)
۲۔ عبید اللہ بن جحش : وہ اسلام کے سابقین اور مھاجرین حبشہ میں سے تھا ، لیکن حبشہ ھجرت کرنے کے بعد اسلام چھوڑ کراس نے عیسائی دین قبول کر لیا ۔
۳۔ حکم بن عاص : وہ ان لوگوں میں سے تھا جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ، لیکن پیغمبر اسلام نے چند وجوہات کی بنا پر اسے طائف جلا وطن کردیا۔
۴۔ حرقوص بن زھیر : اس نے بیعت رضوان میں شرکت کی تھی ، لیکن غنائم کی تقسیم پر اس نے پیغمبر اسلام سے تند کلامی کی اس پر رحمة للعالمین پیغمبر برہم ہوگئے اور فرمایا: وائے ہو تم پر ، اگر میں انصاف و عدالت کی رعایت نہ کروں گا تو کون انصاف کرے گا ؟! اس کے بعد اس کے خطر ناک مستقبل کے بارے میںفرمایا : حرقوص ایک ایسے گروہ کا سردار بنے گا جو دین اسلام سے اسی طرح دور ہوجائیں گے جس طرح کمان سے تیر نکل کر دور جاتا ہے“(۱۱۵)
پیغمبر اسلام کی یہ پیشین گوئی آپ کی رحلت کے سالھا بعد حقیقت ثابت ہوئی ۔ یہ شخص خوارج کا سردار بنا اور جنگ نھروان میں حضرت علی(ع)کی تلوار سے قتل ہوا ۔
یہ اس سیاہ فھرست کے چند نمونے تھے جس میں بہت سے اصحاب پیغمبر (مھاجر و انصار ) موجود ہیں ۔ پیغمبر اسلام کے صحابیوں کی تحقیق کے دوران ہمیں چند دوسرے افراد بھی نظر آتے ہیں : جیسے :حاطب بن ابی بلتعہ ، جو اسلام کے خلاف جاسوسی کرتا تھا یا ولید بن عقبہ ، جسے قرآن مجید نے سورہ حجرات(۱۱۶) میں فاسق کھا ہے یا خالد بن ولید ، جس کا نامہ اعمال اس کے کالے کرتوتوں سے بھرا پڑا ہے(۱۱۷)
کیا صحابیوں میں ایسے افراد کی موجودگی کے باوجود بھی یہ کھا جاسکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ سابقین اور تابعین سے راضی ہوچکا ہے اب کسی کو بھی ان کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنے کا حق نہیں ہے ؟!
مختصر یہ کہ خداکی رضا و خوشنودی ، ان کے عمل سے مربوط ہے ، یعنی خدائے تعالیٰ ان افرادسے راضی و خوشنود ہوا ہے ، جنھوں نے غربت کے زمانے میں اسلام اور رسول خدا کی حمایت و مدد کی ہے لیکن اس قسم کی خوشنودی کا اظھار اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کی یہ خوشنودی ان افراد کی زندگی کی آخری سانس تک باقی رہے گی ۔ بلکہ اس کی بقا کی شرط یہ ہے کہ ان کا ایمان اسی حال میں باقی رہے اور وہ ایسا کوئی کام انجام نہ دیں جو ان کے کفر ، ارتداد ، فسق اور اعمال صالح کے برباد ہوجانے کا سبب بنے۔
دوسرے الفاظ میں ، مھاجر ین وانصار کا ایمان و اخلاص ، بھی دوسرے نیک اعمال کی طرح اس پر مشروط ہے کہ بعد میں کوئی ایسا کام انجام نہ دیں جو ان کے اس عمل کو بے اثر بنا کردے ورنہ ان کا یہ نیک عمل باقی نہ رہے گا ۔ علماء کی اصطلاح میں جس پاداش کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے ( رضا مندی و بھشت) یہ ایک ” نسبی “ پاداش ہے ۔ یعنی وہ اس لحاظ سے ایسی پاداش کے حقدار ہیں لیکن اس سے بھی انکار نہیں ہے کہ اگر یہی لوگ بعد میں خدا کی نافرمانی کے کام انجام دیں گے تو غضب الھی اور جھنم کے مستحق ہوجائیں گے ۔ اس قسم کی آیات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سابق صحابیوں کو تحفظ بخش دیں چونکہ خداوند تعالیٰ ان سے خوشنود ہوگیا ہے ، لھٰذا وہ جو چاہیںا نجام دیں یا ان میں سے اگر کوئی کسی غیر شرعی کام کا مرتکب ہوگیا ہو تو ہم اس آیت کے حکم کی تاویل و تحریف پر مجبور ہوں کیونکہ اس آیت نے ان کے سلسلے میں قطعی حکم صادر کردیا ہے !
نھیں ایسی ضمانت انبیاء اور اولیاء میں بھی کسی کو نہیں ملی ہے حتی خود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی ایسی ضمانت نہیں ملی ہے ۔
قرآن مجید حضرت ابراہیم (ع)اور ان کے فرزند وں جیسے اسحاق (ع)، یعقوب (ع)، موسی (ع)و ہارون (ع)وغیرہ کے بارے میں فرماتا ہے :
( وَ لَو اشْرَکُوا لَحَبِطَ عَنْهم مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) (۱۱۸)
اگر یہ لوگ شرک اختیار کرلیتے تو ان کے سارے اعمال برباد ہوجاتے “
____________________
۱۰۱۔توبہ / ۱۰۰۔
۱۰۲۔ فتح /۱۸۔
۱۰۳۔احزاب / ۱۲
۱۰۴۔توبہ / ۴۷۔
۱۰۵۔ سیرہ ابن ہشام ، ج ۲ ، ص ۴۳۰۔
۱۰۶۔ چرا مسیحی نیستم
۱۰۷۔ حشر / ۸۔
۱۰۸۔ (مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَ الَّذِینَ مَعَه اشِدَّآءُ عَلَٰی الکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰیهُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللهِ وَ رِضْوَاناً سِیمَاهُم فِی وُجُوهِهِمْ مِنْ اثَرِ السُّجُودِ )( فتح/ ۲۹)
۱۰۹۔(وَعَدَ اللهُ الّذِینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَ اجْراً عَظِیماً ) (فتح/ ۲۹)
۱۱۰۔توبہ/ ۹۶۔
۱۱۱۔آل عمران /۵۷۔
۱۱۲۔زمر /۶۵
۱۱۳۔ نعام / ۹۳۔
۱۱۴۔ الاصابة ، ج ۲، ص ۳۸
۱۱۵۔ ان افراد میں سے ہر ایک کی زندگی کے حالات علم رجال کی کتابوں ، جیسے : الاستیعاب ،الاصابة ، اسد الغابة وغیرہ میں درج ہیں
۱۱۶۔ حجرات / ۶۔
۱۱۷۔ مذکورہ افرادا ن منافقوں کے گروہ کے علاوہ ہیں جن کی داستان مفصل ہے ۔
۱۱۸۔ انعام / ۸۸۔
سترہویں فصل
حضرت علی(ع)کی پیشوائی کے نقلی دلائل
گزشتہ بحثوں میں یہ ثابت ہو اکہ خد ا کی طرف سے امام کا تعین دنیاوی” مطلق العنان “ نظام سے بالکل مختلف ہے ، لوگوں میں قوانین الٰہی کی روشنی میں حکم کرنے اور انصاف قائم کرنے کےلئے جو حاکم خدا کی طرف سے معین ہوتا ہے ، اس کی حکومت روئے زمین پر قابل تصور حکومتوں میں سب سے زیادہ عادل اور مستحکم حکومت ہے ۔
اس قسم کی حکومت میں ، حاکم و فرماں روا خدا کی طرف سے منتخب ہوتا ہے ۔ خدا بھی اپنے حکیمانہ ارادہ سے ہمیشہ بھترین وشائستہ ترین فرد کو رہبر کے عنوان سے منتخب کرتا ہے اور خدا کے علم و تشخیص میں کسی بھی قسم کی غلطی و خطا یا غیر منطقی میلان کا امکان نہیں پایا جاتا ۔
خدائے تعالیٰ انسان کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتا ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں ان کی مصلحتوں اور ضرورتوں سے ان سے زیادہ واقف ہے ۔ جس طرح خدا کے قوانین اور احکام بھترین اور عالی ترین قوانین و احکام ہیں اور کوئی بھی قانون خدا کے قانون کے برابر نہیں ہے ، اسی طرح خدا کی طرف سے معین شدہ پیشوا اور رہبر بھی بھترین پیشوا اور شائستہ ترین و رہبر ہوگا ایک ایسا قائد و فرمان روا جس کی زندگی دسیوں سھو و خطا اور نفسانی خواہشات سے آلودہ ہو وہ خدا کی طرف سے منتخب شدہ رہبر وقائد کا ہم پلہ ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔
گزشتہ بحثوں میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلامی معاشرہ ہمیشہ ایک ایسے معصوم امام کا محتاج ہے جو الٰہی قوانین اور احکام سے آگاہ ہوتا ہے،کہ امت کےلئے فکری اور علمی پناہ گاہ بن سکے ۔
اصولی طور پر اسلامی معاشرہ فکری اور علمی لحاظ سے ارتقا ء کی اس حد تک نہیں پہنچا تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اپنا نظم و نسق خود سنبھال سکے اور اس قسم کے ایک الٰہی رہبر سے بے نیا ہوجائے۔
اب ہم غور کریں اور دیکھیں کہ ان تمام حالات کے تناظر میں پیغمبر الٰہی نے اسلامی امت کی قیادت کےلئے کس کو معین فرمایا تھا اور اس مسئلہ کو ہمیشہ کےلئے حل کردیا تھا ۔
یہاں پر ہم ایسے نقلی دلائل کا سھارا لیتے ہیں وہ دلائل جو قطعی طور سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صادر ہوئے اور اصطلاحاً متواتر ہیں اور ان میں جھوٹ اور جعل سازی کا ہرگز امکان نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ایسی روایتوں کا مفاد یہ ہے کہ ان ، کی دلالت کسی خاص فرد یا افراد کی امامت و پیشوائی کے بارے میں اتنی واضح اور روشن ہو کہ ہر قسم، کے شک و شبھہ کو دلوں سے نکال دے اور کسی بھی انصاف پسند انسان کےلئے سوال اور تذبذب کی گنجائش باقی نہ رہے۔
لھذا ہم یہاں پر چند ایسے نقلی دلائل کی طرف اشارہ کریں گے جن کی روایت پیغمبرا کرم سے قطعی اور مقصود کے بارے میں ان کی دلالت بھی واضح ہے۔ کتاب کے صفحات اور قارئین کرام کے وقت کی کمی کے پیش نظر ہم یہاں لوگوں پر امیر المؤمنین(ع)کی پیشوائی و ولایت کے سلسلے میں نقل ہوئے دلائل کی ایک بڑی تعداد میں سے حسب ذیل کا انتخاب کرتے ہیں :
۱۔ حدیث منزلت
شام کی طرف سے آنے والے تاجروں کے ایک قافلہ نے حجاز میں داخل ہونے کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خبر دی کہ روم کی فوج مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کررہی ہے کسی حادثہ کے بارے میں حفظ ، ماتقدم اس کے مقابلے سے بہتر ہے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے مدینہ منورہ اور اس کے اطراف میں فوجی آمادگی کا اعلان ہوا ۔ مدینہ منورہ میں سخت گرمی کا عالم تھا ، پہل پکنے اور فصل کاٹنے کا موسم تھا، اس کے باوجود تیس ھزار شمشیر زن اسلام کی چھاؤنی میں جمع ہوگئے اور اس عظیم جھاد میں شرکت پر آمادگی کا اعلان کیا۔
چند مخبروں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خبر دی کہ مدینہ کے منافق منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ آپ کی عدم موجودگی میں مدینہ میں بغاوت کرکے خون کی ہولی کھیلیں گے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر قسم کے حادثہ کی روک تھام کے لئے حضرت علی(ع)کو اپنا جانشین مقرر فرما کر انھیں حکم دیا کہ آپ مدینہ میں ہی رہیں اور میری واپسی تک حالات پر نظر رکھیں اور لوگوں کے دینی و دنیاوی مسائل کو حل کریں۔
جب منافقین حضرت علی علیہ السلام کے مدینہ میں رہنے کی خبر سے آگاہ ہوئے ، تو انھیں اپنی سازشیں ناکام ہوتی نظر آئیں ۔ وہ کسی اور تدبیر میں لگ گئے وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسا کام کریں جس سے حضرت علی علیہ السلام مدینہ سے باہر چلے جائیں ۔ لھذا انھوں نے یہ افواہ پھیلادی کہ حضرت علی(ع)اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان رنجش پیدا ہوگئی ہے اسی لئے پیغمبر نے علی(ع)کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے کہ انھیں اس اسلامی جھاد میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی!
مدینہ میں حضرت علی(ع)کے بارے میں __جو روز پیدائش سے ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مھر و محبت کے سائے میں پلے بڑھے__اس قسم کی افواہ کا پھیلنا ، حضرت علی(ع)اور آپ(ع)کے دوستوں کےلئے شدید تکلیف کا سبب بنا ۔ لھذا حضرت علی(ع)اس افواہ کی تردید کےلئے مدینہ سے باہر نکلے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پھنچے ،جو ابھی مدینہ منورہ سے چند میل کی دوری پر تھے آپ (ع)نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس واقعہ سے آگاہ فرمایا۔ یہاں پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے تئیں اپنے بے پایاں جذبات اور محبت کا اظھار کرتے ہوئے آپ کے مقام و منزلت کو درج ذیل تاریخی جملہ میں بیان فرمایا:
”اما ترضی ان تکون منّی بمنزلة هارون من موسیٰ ، الّا انه لا نبیّ بعدی، انّه لا ینبغی ان اذهب الّا و انت خلیفتی “
” یعنی کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمھیں مجھ سے وہی نسبت ہے جیسی ہارون(ع)کو موسی(ع)سے تھی ، بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا؟ میرے اس دنیا سے جانے کے بعد تم ہی میرے جانشین اور خلیفہ ہوگے “
یہ حدیث جو اسلامی محدثین کی اصطلاح میں حدیث ”منزلت“ کے نام سے مشھور ہے متواتر اور قطعی احادیث میں سے ہے۔
مرحوم محدث بحرانی نے کتاب ” غایة المرام“ میں ان افراد کا نام ذکر کیا ہے ، جنھوں نے اس حدث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور ایک دقیق و صحیح تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ اسلامی محدثین نے اس حدیث کو ۱۵۰ طریقوں سے نقل کیا ہے جن میں ۱۰۰ طریقے اہل سنت علماء و محدثین تک منتھی ہوتے ہیں(۱۱۹)
مرحوم شرف الدین عاملی نے بھی کتاب ” المراجعات “ میں اس حدیث کے اسناد کو اہل سنت محدثین کی کتابوں سے نقل کیا ہے اور ثابت کیاہے کہ یہ حدیث ان کی دس حدیث اور رجال کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے “(۱۲۰)
اس حدیث کے صحیح ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اہل سنّت کے صحا ح لکھنے والوں ”بخاری“ اور ” مسلم “ نے بھی اسے اپنی صحاح میں ذکر کیا ہے(۱۲۱) اس حدیث کے محکم ہونے کے بارے میں یہی کافی ہے کہ امیر المؤمنین کے دشمن ” سعد و وقاص “ نے اسے حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کی تین نمایاں فضیلتوں میں سے ایک فضیلت شمار کیا ہے ۔
جب معاویہ اپنے بیٹے ” یزید“ کے حق میں بیعت لینے کےلئے مکہ میں داخل ہوا ، اور ” الندوة“ کے مقام پر ایک انجمن تشکیل دی جس میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے بعض شخصیتیں جمع ہوئیں۔ معاویہ نے اپنی تقریر کا آغاز ہی حضرت علی(ع)کو بر ابھلا کھنے سے کیا، اسے امید تھی ، کہ ” سعد و وقاص“ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائے گا ۔ لیکن سعد نے معاویہ کی طرف رخ کرکے کھا: جب بھی مجھے حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کے تین درخشان کارنامے یاد آتے ہیں تو صدق دل سے کھتا ہوں کہ کاش ! ان تین فضیلتوں کا مالک میں ہوتا! اور یہ تین فضیلتیں حسب ذیل ہیں :
۱۔ جس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام سے کھا:
” تمھیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہاون کو موسیٰ(ع)سے تھی ، بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا“
۲۔ (پیغمبر اکرم نے ) جنگ خیبر کے دوران ایک دن فرمایا:
” کل میں علم ایسے شخص کے ہاتہ میں دوںگا جسے خدا و رسول دوست رکھتے ہیں اور وہ فاتح خیبر ہے ۔ فرار کرنے والا نہیں ہے“ ( اس کے بعد آنحضرت نے علم علی(ع)کے ہاتہ میں دیدیا )۔
۳۔ ” نجران“ کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے دن پیغمبر اکرم نے علی(ع)، فاطمہ(ع)، حسن(ع)، و حسین(ع)کو اپنے گرد جمع کیا اور فرمایا:
”پروردگارا ! یہ میرے اہل بیت(ع)ھیں “(۱۲۲)
لھذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس حدیث کے بیان کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کرنا چاہئے ، بلکہ ایک قدم آگے بڑہ کر اس حدیث کی دلالت ، مفھوم اور مقصد کے بارے میں قدرے غور کرنا چاہئے ۔
پھلے مرحلہ میں جملہ ”الاّ انه لا نبی بعدی “ قابل غور ہے کہ اصطلاح میں اسے ” جملہ استثنائی “ کھا جاتا ہے ، معمولاً جب کسی کی شخصیت کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں اورکھا جاتا ہے کہ یہ دونوں مقام و منزلت میں ہم پلہ ہیں ، تو اہل زبان اس جملہ سے اس کے سوا کچھ اور نہیں سمجھتے ہیں کہ یہ دو افراد اجتماعی شان و منصب کے لحاظ سے آپس میں برابر ہیں ۔ اگر ایسی تشبیہ کے بعد کسی منصب و مقام کو استثناء ، قرار دیا جائے تو وہ اس امر کی دلیل ہوتا ہے کہ یہ دو افراد اس استثناء شدہ منصب کے علاوہ ہر لحاظ سے ایک دوسرے کے ہم رتبہ ہیں ۔
اس حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ذات سے حضرت علی علیہ السلام کی نسبت کو حضرت ہارون (ع)کو ، حضرت موسی(ع)سے نسبت کے مانند بیان فرمایا ہے، اور صرف ایک منصب کو استثناء قرار دیا ہے ، وہ یہ ہے کہ حضرت ہارون(ع)پیغمبر تھے لیکن پیغمبر اسلام چونکہ خاتم النبیین ہیں لھذا آپ (ع)کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا ۔ اور علی(ع)پیغمبری کے مقام پر فائز نہیں ہوں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق حضرت ہارون(ع)کے پاس وہ کون سے منصب تھے کہ حضرت علی(ع)( بجز نبوت کے کہ خود پیغمبر نے اس حدیث کے ضمن میں اسے استثناء قرار دیا ہے ) ان کے مالک تھے ۔
قرآن مجید کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے خدائے تعالی سے حضرت ہارون کےلئے درج ذیل منصب چاہے تھے اور خد ا نے حضرت موسی(ع) کی درخواست منظور فرما کر وہ تمام منصب حضرت ہارون(ع)کو عطا فرمائے تھے:
۱۔ وزارت کا عھدہ : حضرت موسیٰ بن عمران(ع) نے خدائے تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ہارون(ع)کو ان کا وزیر قراردے :
(وَاجْعَلْ لِی وَزِیراً مِنْ اهْلِی ، هَا-ٰرُون اخِی )
” پروردگارا! میرے اہل بیت میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر قرار دیدے “(۱۲۳)
۲۔ تقویت و تائید: حضرت موسیٰ (ع)نے خدا سے درخواست کی کہ ان کے بھائی حضرت ہارون(ع)کے ذریعہ ان کی تائید و تقویت فرمائے :
( اُشْدُدْ بِه ازْرِی )
اس سے میری پشت کو مضبوط کردے(۱۲۴)
۳۔ رسالت کا عھدہ : حضرت موسی (ع)بن عمران نے خدائے تعالی سے درخواست کی کہ حضرت ہارون(ع)کو امر رسالت میں ان کا شریک قرار دے :
( وَ اَشْرِکه فِی امْرِی ) (۱۲۵)
اسے امر رسالت میں میرا شریک قرار دیدے ۔
قرآن مجید اشارہ فرماتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت موسی(ع) کی تمام درخواستوں کا مثبت جواب دیکر یہ تمام عھدے حضرت ہارون (ع)کو عطا کئے :
( قَدْ اُوتِیتَ رسُوْلَکَ یَٰمُوسَیٰ ) (۱۲۶)
یعنی اے موسی (ع)! بیشک تمھارے تمام مطالبات تمھیں عطا کردیے گئے اس کے علاوہ حضرت موسیٰ (ع)نے اپنی غیبت کے دوران بنی اسرائیل میں حضرت ہارون(ع)کو اپنا جانشین مقرر کرتے ہوئے فرمایا:
( وَ قَالَ مُوسیٰ لِاخِیه هَٰرُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی )
یعنی ، موسی نے ہارون سے کھا: تم قوم میں میرے خلیفہ و جانشین ہو۔(۱۲۷)
مذکورہ آیات کا مطالعہ کرنے پر ہارون(ع)کے منصب اور عھدے بخوبی معلوم ہوتے ہیں اور حدیث منزلت کی رو سے مقام نبوت کے علاوہ یہ سب منصب اور عھدے حضرت علی علیہ السلام کےلئے ثابت ہونے چاہئیں۔
اس صورت میں حضرت علی(ع)، امام ، وزیر ،ناصر و مدد گاراور رسول خدا(ع)کے خلیفہ تھے اورپیغمبر کی عدم موجودگی میں لوگوں کی رہبری و قیادت کے عھدہ دار تھے۔
ایک سوال کا جواب :
ممکن ہے یہ کھا جائے کہ حضرت علی علیہ السلام کےلئے پیغمبر اکرم کی جانشینی انھیں ایام سے مخصوص تھی جب آپ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تھے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت علی(ع)پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد آپ کے مطلق خلیفہ اور جانشین تھے۔
لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا ایک سرسری مطالعہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے۔
ایک : حضرت علی علیہ السلام پہلے اور آخری شخص نہیں تھے۔ جنھیں پیغمبر اکرم نے اپنی عدم موجودگی میں مدینہ میں اپنا جانشین قرار دیا ہو ۔ بلکہ پیغمبر اکرم مدینہ منورہ میں اپنے دس سالہ قیام کے دوران ، جب کبھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو کسی نہ کسی شخص کو اپنی جگہ پر جانشین مقرر کرکے ذمہ داریاں اسے سونپتے تھے اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس جملہ کے ذریعہ امام(ع)کو ہارون سے تشبیہ دینے کا مقصد صرف آپ(ع)کے مدینہ میں عدم موجودگی کے دوران امام(ع)کی جانشینی تھا ، تو پیغمبر اسلام نے یہ جملہ اپنے دیگر جانشینوں کےلئے کیوں نہیں فرمایا ، جبکہ وہ لوگ بھی جب پیغمبر جھاد یا حج خانہ خدا کےلئے مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے ، آپ کے جانشین ہوا کرتے تھے ؟پھر اس فرق کا سبب کیا تھا؟
دو: ایک مختصر مدت کےلئے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کرنے کی صورت میں پیغمبر کو اس طرح تفصیلی جملہ بیان کرکے منصب رسالت کو اس سے مستثنیٰ قرار دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی!
اس کے علاوہ اس قسم کی جا نشینی کسی خاص فخر کا سبب نہ ہوتی اور اگر فرض کرلیں کہ یہ ایک اعزاز تھا تو اس صورت میں یہ چیز حضرت علی(ع)کے خاص فضائل میں شمار نہیں ہوتی کہ برسوں کے بعد سعد و قاص اس فضیلت کو سیکڑوں سرخ اونٹوں کے عوض خریدنے کی تمنا کرتا ! اور خو د حضرت علی(ع)کے انتھائی اہم فضائل ( فاتح خیبر اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں نفس پیغمبر اور آپ کے اہل بیت(ع))کے مقام تک پھنچنے کی آرزو کرتا !!
تین : اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف جنگ تبوک کےلئے جانے کے موقع پر اس تاریخی جملہ کو بیان فرمایا ہوتا تو کسی کے ذہن میں ایسا سوال پیدا ہونا بجا تھا ۔ لیکن پیغمبر اسلام نے امام علی علیہ السلام کے بارے میں یہ اہم جملہ دیگر مواقع پر بھی فرمایا ہے اورتاریخ اور حدیث کے صفحات میں یہ واقعات ثبت و ضبط ہوچکے ہیں ۔ ہم یہاں پر اس کے صرف دو نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں( وَجَعَلْنَا مَعَه اَخَاه هَٰرُونَ وَزِیراً )
ھم نے موسی کے بھائی ہارون کو ان کا ویزر قرار دیا“(۱۲۸)
۱۔ ایک دن حضرت ابو بکر ، عمر اور ابو عبیدة بن جراح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو حضرت علی علیہ السلام کے شانہ پر رکہ کر فرمایا:
” یا علی انت اول المؤمنین ایماناً و اوّلهم اسلاماً ، و انت منّی بمنزلة هارون من موسیٰ “(۱۲۹)
” اے علی ! تم وہ پہلے شخص ہو جو مجھ پر ایمان لائے اور دین اسلام کو قبول کیا اور تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی“
۲۔ ھجرت کے ابتدائی ایام میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مھاجرین و انصار کو جمع کیا اور انھیں آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنایا صرف حضرت علی علیہ السلام کو کسی کا بھائی قرار نہ دیا۔ حضرت علی(ع)کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، آپ(ع)نے پیغمبر سے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے کہ آپ نے ہر فرد کےلئے ایک بھائی معین فرمایا، اور میرے لئے کسی کا انتخاب نہیں کیا؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہاں پر صحابیوں کے مجمع میں اپنا وہی تاریخی جملہ دھرایا:
”وَ الَّذی بعثنی بالحق ما اخرتک الا لنفسی و انت منی بمنزلة هارون من موسی غیر انه لا نبیّ بعدی و انت اخی و وارثی “(۱۳۰)
” قسم اس خدا کی جس نے مجھے حق پر مبعوث فرمایا ہے ، میں نے تمھیں صرف اپنا بھائی بنانے بنانے کیلئے یہ تاخیر کی ہے ، اور تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون (ع)کو موسی(ع)سے تھی ، بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا ، تم میرے بھائی اور میرے وارث ہو“(۱۳۱)
حضرت علی(ع)ان تمام عھدوں اور منصبوں کے مالک تھے جو حضرت ہارون (ع)کو ملے تھے اس بات کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام خدا کے حکم سے مختلف طریقوں سے کوشش فرماتے تھے کہ لوگ اس سے آگاہ ہوجائیں کہ حضرت علی(ع)کی حیثیت آپ کی نسبت وہی ہے جو ہارون (ع)کی موسی (ع)کی بنسبت تھی اور نبوت کے علاوہ اس میں کسی اور قسم کی کمی نہیں ہے۔
لھذا جب حضرت زھرا علیھا السلام سے حضرت علی علیہ السلام کے دو بیٹے پیدا ہوئے ، تو پیغمبر نے علی(ع)کو حکم دیا کہ ان کے نام ” حسن (ع)و حسین (ع)“ رکھیں جیسا کہ ہارون(ع)کے بیٹوں کے نام ” شبر وشبیر “ تھے کہ عربی زبان میں ان کا مطلب حسن و حسین ہوتا ہے ۔
ان دو جانشینوں (یعنی حضرت علی (ع)اور حضرت ہارون (ع))کے بارے میں تحقیق و جستجو سے چند دیگر مشابھتوں کا سراغ بھی ملتا ہے ہم یہاں پر ان کے ذکر سے صرف نظر کرتے ہیں ، مرحوم شرف الدین نے کتاب ” المراجعات “ میں اس سلسلے میں مفصل بحث کی ہے۔(۱۳۲)
____________________
۱۱۹۔ غایة المرام ، ص ۱۰۷ ۔ ۱۵۲۔
۱۲۰۔ المراجعات ، ص ۱۳۱۔ ۱۳۲
۱۲۱۔ صحیح بخاری ج ۳، ص ۵۸ ، صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۲۳۔
۱۲۲۔ صحیح مسلم ، ج ۷ ص ۱۲۰۔
۱۲۳۔ طٓہ / ۲۹۔۳۰۔
۱۲۴۔ طٓہ / ۳۱۔
۱۲۵۔ طٓہ / ۳۲
۱۲۶۔ طہ/ ۳۶اس کے علاوہ قرآن مجید ایک دوسری آیت میں حضرت ہارون (ع)کی نبوّت کے بارے میں صراحت سے فرماتا ہے :
(وَوہبْنَا لَہ من رَحْمَتِنَآ اخاَہ ھَٰرُونَ نَبِیًّا)(مریم / ۵۳)
۱۲۷۔ اعراف / ۱۴۲۔ ایک اور آیت میں حضرت ہارون کی وزارت کے بارے میں صراحت سے فرماتا ہے:
(۱۲۸) (فرقان / ۳۵ )
۱۲۹۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس جملہ کو مختلف مواقع پر سات بار بیان فرمایا ہے ، لیکن ہم اختصار کی وجہ سے یہاں پر صرف دو مورد کا ذکر کرتے ہیں۔
۱۳۰۔ کنز العمال ، ج ۶، ص ۳۹۵ ، حدیث نمبر ۶۰۳۲ ۔
۱۳۱۔ منتخب کنزل العمال ( مسند کے حاشیہ میں ) ج ۵، ص ۳۱
۱۳۲۔ المراجعات / ص ۱۴۱ ، ۱۴۷
اٹھارہویں فصل
حدیث غدیر (پھلا حصہ)
اسلام کی عالمی تحریک ، ابتداء سے ہی قریش بلکہ جزیرہ نمائے عرب کے عام بت پرستوں کی طرف سے جنگ اور مخالفتوں سے روبرو ہوئی ۔ جو گوناگوں سازشوں کے ذریعہ اس شمع الٰہی کو بجھانے کے در پے تھے ، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی خاص کا میابی حاصل نہ کرسکے۔ ان کی آخری خیالی امید یہ تھی کہ اس عظیم تحریک کے پائے اس کے پیشوا اور بانی کی وفات کے بعد اس طرح ڈھہ جائیں گے جس طرح پیغمبر سے پہلے بعض لوگوں کی یکتا پرستی کی دعوت(۱۳۳) ان کی وفات کے بعد خاموش ہوگئی۔
قرآن مجید جس نے اپنی بہت سی آیات میں ان کی سازشوں اور منصوبوں سے پردہ اٹھایا تھا اس دفعہ بت پرستوں کی آخری خیالی امید یعنی وفات پیغمبر کے بارے میں درج ذیل آیت میں اشارہ فرماتا ہے :
( امْ یَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِه رَیْبَ الْمَنُونِ قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِینَ امْ تَامُرُهُمْ احْلَامُهُمْ بِهَذَا امْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ ) (۱۳۴)
” یا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر شاعر ہے اور ہم اس کی موت کا انتطار کررہے ہیں ۔ تو آپ کہہ دیجئے کہ بیشک تم انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں! کیاان کی خام عقلیںانھیں اس بات پر آمادہ کرتی ہیںیا وہ واقعاً سرکش قوم ہیں “
مناسب ہے کہ یہا ںپر بت پرستوں کی طرف سے رسالتماب کے ساتھ چھیڑی گئی بعض خائنانہ جنگوں اور روڈے اٹکانے کی منحوس حرکتوں کی ایک فھرست بیان کی جائے اور اس کے بعد دیکھا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے ان کی آخری امیدوں کو کیسے ناکام بنایا اور آغوش پیغمبر میں حضرت علی(ع)جیسے لائق و شائستہ شخص کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین کی حیثیت سے منتخب کرکے ان کی سازشوں کو خاک میں ملادیا ۔
۱۔ تھمت کا حربہ
کفار مکہ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر شاعر ، کاہن ، دیوانہ اور جادوگر ہونے کی تھمتیں لگا کر یہ کوشش کی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات کے اثرات کم کریں ، لیکن سماج کے مختلف طبقوں میں اسلام کی نمایاں ترقی نے ثابت کردیا کہ آپ کی مقدس ذات ان تھمتوں سے بالاتر تھی ۔
۲۔ آپ کے پیروؤں کو آزار پہچانا
کفار مکہ کا ایک اور منصوبہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیرؤوں کو آزار پہنچانا اور انھیں جسمانی اذیتیں دینا اور قتل کرنا تھا تاکہ آپ کے ارشادات و ہدایت کے وسیع اثرات کو روک سکیں ۔ لیکن پیغمبر کے حامیوں کی ہر ظلم و جبر اور اذیت و آزار کے مقابلے میں استقامت و پامردی نے قریش کے سرداروں کو اپنے منحوس مقاصد تک پھنچنے میں ناکام بنادیا ۔ آنحضرت کے حامیوں کی آپ کے تئیں والھانہ عقیدت و اخلاص نے دشمنوں کو حیرت زدہ کردیا ، حتی ابو سفیان کھتا تھا، ” میں نے قیصر وکسریٰ کو دیکھا ہے لیکن ان میں سے کسی کو اپنے پیرؤوں کے درمیان محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا با عظمت نہیں دیکھا جن کے پیرؤوں نے ان کے مقاصد کی راہ میں اس قدر جاںبازی اور فداکاری کا ثبوت دیا ہے(۱۳۵)
۳۔ عرب کے بڑے داستان گو کو دعوت
قرآن مجید کے روحانی اور جذباتی اثرات سے کفار قریش حیرت زدہ تھے اور تصور کرتے تھے کہ قرآن مجید کی آیات کو سننے کےلئے لوگوں کا پروانہ وار دوڑنا اس سبب سے ہے کہ قرآن مجید میں گذشتہ اقوام کی داستانیں اورکھانیاں بیان ہوئی ہیں ۔ اس لئے کفار مکہ نے دنیائے عرب کے سب سے مشھور داستان گو ” نصر بن حارث “ کو دعوت دی کہ وہ خاص موقعوں پر مکہ کی گلی کوچوں میں ’ ایران “ اور ” عراق“ کے بادشاہوں کے قصے سنائے تا کہ اس طرح لوگوں کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف مائل ہونے سے روک سکیں ! یہ منصوبہ اس قدر احمقانہ تھا کہ خود قریش یہ داستانیں سننے سے تنگ آچکے تھے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔
۴۔ قرآن مجید سننے پر پابندی
قریش کا ایک اور منحوس منصوبہ قرآن مجید سننے پر پابندی عائد کرنا تھا اس شمع الٰہی کے پروانوں کی استقامت سے ان کا یہ منصوبہ بھی خاک میں مل گیا۔ قرآن مجید کی زبر دست شیرینی اور دلکشی نے مکہ کے لوگوں کو اس قدر فریفتہ بنا دیا تھا کہ وہ رات کے اندھیرے میں گھروں سے نکل کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کے اطراف میں چھپ جاتے تھے تا کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز شب اور تلاوت قرآن مجید کےلئے اٹھیں تو وہ قرآن کی تلاوت سن سکیں ۔ قریش کے کفار صرف لوگوں کو قرآن سننے سے ہی منع نہیں کرتے تھے بلکہ لوگوں کو پیغمبر سے ملنے جلنے سے منع کرتے تھے ۔ جب عرب کی بعض بزرگ شخصیتیں جیسے ، اعشی و طفیل بن عمر پیغمبر سے ملنے کےلئے مکہ میں آئے تو قریش نے مختلف ذرایع سے ان کو پیغمبر تک پھنچنے سے روک دیا(۱۳۶)
۵۔اقتصادی پابندی
کفار قریش نے ایک دستور کے ذریعہ لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ کسی کو بنی ہاشم یا محمد کے طرفداروں کے ساتھ لین دین کرنے کا حق نہیں ہے ۔ جس کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں اور اعزّہ کے ساتھ ” شعب ابی طالب (ع)“ میں پورے تین سال تک انتھائی سخت اور قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ لیکن قریش کے بعض سرداروں کے اقدام اور بعض معجزات کے رونما ہونے کی وجہ سے یہ بائیکاٹ ختم ہوگیا۔
۶۔ پیغمبر اکرم کو قتل کرنے کی سازش
قریش کے سرداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے قریش کے چالیس جوان رات کے اندھیرے میں پیغمبر کے گھر پر حملہ آور ہوں اور آپ کو آپ کے بسترہ پر ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں ۔ لیکن خداوند کریم (جو ہر وقت آپ کا حافظ و نگھبان تھا )نے پیغمبر کو دشمنوں کی اس سازش سے آگاہ کردیا اور پیغمبر خدا نے خدا کے حکم سے حضرت علی(ع)کو اپنے بسترہ پر سلا کر خود مکہ سے مدینہ کی طرف ھجرت کی ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ کی طرف ھجرت اور اوس و خزرج جیسے قبیلوں کا اسلام کی طرف مائل ہونا اس کاباعث ہوا کہ مسلمانوں کو ایک امن کی جگہ مل گئی اور پراکندہ مسلمان ایک پر امن جگہ پر جمع ہوکر دین کا دفاع کرنے کے لائق ہوگئے۔
۷۔ خونین جنگیں
مسلمانوں کے مدینہ منورہ میں اکٹھا ہونے اور حکومت اسلامی کی تشکیل کو دیکھتے ہوئے جزیرہ نمائے عرب کے بت پرست خوفزدہ ہوگئے اور اس دفعہ یہ فیصلہ کیا کہ ہدایت کی شمع فروزاں کو جنگ اور قتل و غارت کے ذریعہ ہمیشہ کےلئے بجھادیں ۔ اسی غرض سے کفار نے مسلمانوں سے بدر، احد ، خندق اور حنین کی خونین جنگیں لڑیں ۔ لیکن خدا کے فضل و کرم سے یہ جنگیں مسلمانوں کی فوجی طاقت میں اضافہ کا باعث بنیں اور انھوں نے بت پرستوں کو عرب میں ذلیل و خوار کرکے رکھدیا۔
۸۔پیغمبر اسلام کی وفات
دشمنوں نے اپنے ناپاک عزائم کے سلسلے میں آخری امید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت سے باندھی تھی ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے ساتھ ہی اس تحریک کی بنیادیں اکھڑ جائیں گی اور اسلام کا بلند پایہ محل زمین بوس ہوجائے گا ۔ اس مشکل کو دور کرنے اور اس سازش کو ناکام بنانے کےلئے دو راستے موجود تھے :
۱۔ امت اسلامیہ کی فکری و عقلی نشو و نما اس حد تک پھنچ جائے کہ مسلمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام کی اس نئی تحریک کی عھد رسالت کے مانند ہدایت و رہبری کرسکیں اور اسے ہر قسم کے انحراف سے بچاتے ہوئے ” صراط مستقیم“ پر آگے بڑھائیں ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد امت کی ہمہ جھت قیادت کی سخت ضرورت تھی کیونکہ ابھی جو بد قسمتی سے امت کے افراد میں سازگار حالات نہیں پائے جاتے تھے ۔ اس وقت یہ مناسب نہیں ہے کہ ان حالات کے ہونے یا نہ ہونے پر مفصل بحث کریں ، لیکن مختصر طور درج ذیل چند اہم نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے :
الف) ایک ملت کی مختلف میدانوں میں ترقی اور بنیادی انقلاب کا پیدا ہونا چند روز یا چند سالوں میں ممکن نہیں ہوتا اور مختصر مدت میں ایسے مقاصد تک نہیں پہنچا جاسکتا ہے بلکہ انقلاب کی بنیادوں کو استحکام بخشنے اور اسے لوگوں کے دلوں کی گھرائیوں میں اتارنے کیلئے ایسے ممتاز اور غیر معمولی فرد یا افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس تحریک کے بانی کی رحلت کے بعد امور کی باگ ڈور سنبھال سکیں اور انتھائی ہوشیاری اور پیھم تبلیغ کے ذریعہ سماج کو ہر قسم کے غلط رجحانات سے بچا سکیں تا کہ پرانی نسل کی جگہ ایک ایسی نئی نسل لے لے جو ابتدا ء سے ہی اسلامی آداب و اخلاق کے ماحول میں پلی ہو ۔ ورنہ دوسری صورت میں تحریک کے بانی کی وفات کے ساتھ ہی بہت سے لوگ اپنی پرانی روش کی طرف پلٹ جائیں گے ۔
اس کے علاوہ تمام الٰہی تحریکوں میں اسلام ایسی خصوصیت کا حامل تھا جس میں اس تحریک کے استحکام کےلئے ممتاز افراد کی اشد ضرورت تھی ۔ دین اسلام ایسے لوگوں کے درمیان وجود میں آیاتھا جو دنیا کی پسماندہ ترین قوم شمار ہوتے تھے اور اس معاشرہ کے لوگ سماجی و اخلاقی قواعد و ضوابط کے لحاظ سے انتھائی محرومیت کی حالت میں زندگی بسر کرتے تھے مذہبی آداب و رسوم کے طور پر وہ اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں ملی ہوئی ( جو خرافات اور برائیوں سے بھری تھیں ) کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں جانتے تھے ۔ حضرت موسی (ع)اور حضرت عیسی (ع)کے دین نے ان کی سرزمین پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا اور حجاز کے اکثر لوگ اس سے محروم تھے اور اس کے مقابلہ میں جاہلیت کے عقائد اور رسم و رواج ان کے دلوں میں راسخ ہوکر ان کی روح میں آمیختہ ہوچکے تھے۔
ممکن ہے کہ ایسے معاشروں میں مذہبی اصلاح زیادہ مشکل نہ ہو لیکن اس کا تحفظ اور اس کی بقا، ایسے لوگوں میں جن کی روح میں منفی عوامل نفوذ کرچکے ہوں ، انتھائی مشکل کام ہوتا ہے اس کےلئے مسلسل ہوشیاری اور تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ ہر قسم کے انحرافات اور رجعت پسندی کو روکا جاسکے ۔
” احد“ اور ” حنین“ کے دل دوز حوادث کے مناظر ، جب گرما گرم جنگ کے دوران تحریک کے حامی رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میدان کارزار میں تنھا چھوڑ کر باگ کھڑے ہوئے تھے اس بات کے واضح گواہ ہیں کہ تحریک کے مؤمن افراد ، جو اس کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینے پر حاضر تھے ، بہت کم تھے اور معاشرے کے زیادہ تر لوگ فکری و عقلی رشد و بلوغ کے لحاظ سے اس مقام پر نہیں پھنچے تھے کہ پیغمبر اسلام نظام کی باگ ڈور ان کے ہاتہ میں دیدیتے اور دشمن کی آخری امید یعنی پیغمبر کی رحلت کے انتظار، کو ناکام بنادیتے ۔
یہ وہی امت ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اختلاف و تفرقہ کا مرکز بن گئی اور رفتہ رفتہ ۷۲ فرقوں میں بٹ گئی۔
جو باتیں ہم نے اوپر بیان کیں اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کی رحلت کے وقت فکری اور عقلی رشد کے لحاظ سے امت اسلامیہ اس حد تک نہیں پھنچی تھی کہ دشمنوں کے منصوبے ناکام ہوجاتے اسلئے کسی دوسری چارہ جوئی کی ضرورت تھی کہ ہم ذیل میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۲۔ تحریک کو استحکام بخشنے کےلئے آسان اور سادہ طریقہ یہ ہے کہ تحریک کے اصول و فروع پر ایمان و اعتقاد کے لحاظ سے پیغمبر جیسا ایک لائق و شائستہ شخص تحریک کی قیادت و رہبری کےلئے خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے انتخاب کیا جائے اور وہ قوی ایمان ، وسیع علم اور عصمت کے سائے میں انقلاب کی قیادت کو سنبھال کر اس کو استحکام اور تحفظ بخشے۔
یہ وہی مطلب ہے جس کے صحیح اور مستحکم ہونے کا دعویٰ شیعہ مکتب فکر کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں بہت سے تاریخی شواہد بھی موجود ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجة الوداع سے واپسی کے دوران ۱۸ ذی الحجة کو خدا کے حکم سے اس گتھی کو سلجھادیا اور خدا کی طرف سے اپنا جانشین اور ولی مقرر فرما کر اپنی رحلت کے بعد اسلام کو استحکام اور تحفظ بخشا۔اس کا واقعہ یوں ہے ، کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۱۰ ہ ء میں حج بجالانے کےلئے مکہ کی طرف عزیمت فرمائی ، چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حج کا یہ سفر آپ کی زندگی کا آخری سفر تھا اس لئے یہ حجة الوداع کے نام سے مشھور ہوا ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شوق سے یاا حکام حج کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سیکھنے کےلئے جن لوگوں نے اس سفر میں آپ کا ساتھ دیا ان کی تعداد کے بارے میں مؤرخین نے ایک لاکہ بیس ھزار کا تخمینہ لگایا ہے ۔
حج کی تقریبات ختم ہوئیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم راہی مدینہ ہوئے جوق در جوق لوگ آپ کو الوداع کررہے تھے لیکن مکہ میں آپ سے ملحق ہونے والوں کے علاوہ سب آپ کے ہمسفر تھے ۔ کاروان ، جحفہ سے تین کلو میٹر کی دوری پر ” غدیر خم“ کے ایک صحرا میں پہنچا ، اچانک وحی الٰہی نازل ہوئی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رکنے کا حکم ملا۔ پیغمبر نے بھی حکم دیا کہ سب حجاج رک جائیں تا کہ پیچھے رہنے والے لوگ بھی پھنچ جائیں ۔
پیغمبر کی طرف سے ایک تپتے ریگستان میںد وپھر کو تمازتِ آفتاب میں رکنے کے حکم پر لوگ تعجب میں تھے۔ اور سرگوشیاں کررہے تھے کہ ضرور خدا کی طرف سے کوئی خاص حکم پہنچا ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خدا کی طرف سے پیغمبر کو امر ہوا ہے کہ وہ ان نامساعد حالات میں لوگوں کو روک کر فرمان الٰہی پہنچائیں۔
پیغمبر اکرم کو یہ فرمان الٰہی درج ذیل آیہ شریفہ کے ذریعہ ملا ۔
( یَا ایُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا انْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰا بَلَّغْتَ رِسَالَتَه وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) (۱۳۷)
” اے پیغمبر ! آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا آپ خدا کی رسالت کو نہیں بجا لائے اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“
اس آیہ شریفہ کے مضمون پر غور کرنے سے ہمیں مندرجہ ذیل نکات کی طرف ہدایت ملتی ہے :
اولاً: جس حکم الھٰی کو پہنچانے کی ذمہ داری پیغمبر اسلام کو ملی تھی وہ اتنا اہم اور عظیم تھا کہ اگر پیغمبر اکرم ( بفرض محال ) اسے پہنچانے سے ڈرتے اور نہ پہنچاتے تو گویا آپ نے اپنی رسالت کا کام ہی انجام نہیں دیا ہوتا ، بلکہ -( آیندہ اس کی وضاحت کریں گے کہ ) اس ماموریت کو بجالانے سے ہی آپ(ع)کی رسالت مکمل ہوتی ہے ۔
دوسرے الفاظ میں( مَا انْزِلَ اِلَیْکَ ) ( جو آپ پر نازل کیا گیا ہے ) کا مقصود قرآن مجید کی تمام آیات اور احکام اسلامی نہیں ہوسکتے ہیں ،کیونکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احکام الٰہی نہ پہنچاتے تو اپنی رسالت کو انجام ہی نہ دیا ہوتا اور اس قسم کے بدیہی امر کے بارے میںکچھ کھنے اور آیت نازل کرنے کی ضرورت ہی نھیںتھی ، بلکہ اس کا مقصد ایک خاص موضوع کو پہنچانا ہے کہ اس کا پہنچانا رسالت پہنچانے کے برابر شمار ہوتا ہے اور جب تک اسے نہ پہنچا یا جائے ، رسالت کی عظیم ذمہ داری اپنے کمال تک نہیں پھنچتی۔
اس بنا پر اس ماموریت کا مسئلہ اسلام کے اہم اصولوں میں سے ایک ہونا چاہئے جو اسلام کے دوسرے اصول و فروع سے پیوستہ ہو اور خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی طرح یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہو ۔
ثانیاً : سماجی حالات اور ان کے محاسبات کے پیش نظر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ گمان کرتے تھے کہ اس ماموریت کو انجام دینے کی صورت میں ممکن ہے لوگوں کی طرف سے آپ کو کوئی نقصان پھنچے ، اس لئے خدائے تعالیٰ نے آپ کے ارادہ کو قوت بخشنے کےلئے فرمایا:
( و َ اللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ )
” خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“
اب یہ دیکھنا ہے کہ مفسرین اسلام نے اس آیت کے موضوع کے بارے میں جو احتمالات(۱۳۸) بیان کئے ہیں ان میں سے کون سا احتمال اس آیہ شریفہ کے مضمون سے قریب تر ہے ۔شیعہ محدثین کے علاوہ اہل سنت محدثین کے تیس ۱# افراد نے لکھا ہے کہ یہ آیہ شریفہ غدیر کے دن نازل ہوئی ہے ، جس دن خدا نے پیغمبر کو مامور کیا کہ علی(ع)کو ”مؤمنین کے مولا “ کے طور پر پھچنوائیں۔
امت پر پیغمبر کی جانشینی کے عنوان سے امام(ع)کی قیادت کا مسئلہ ہی اتنا ہی اہم اور سنجیدہ تھا کہ اس کا پہنچانا رسالت کی تکمیل کا باعث اور نہ پہنچانا رسالت کے نقصان اور رسول کی زحمتوں کے تباہ ہوجانے کا سبب شمار ہوتا۔
اسی طرح پیغمبر اکرم کا اجتماعی محاسبات کے پیش نظر خوف و تشویش سے دوچار ہونابجا تھا، کیونکہ حضرت علی(ع)جیسے صرف ۳۳ سالہ شخص کا جانشین اور وصی قرار پانا اس گروہ کےلئے انتھائی سخت اور دشوار تھا جو عمر کے لحاظ سے آپ(ع)سے کہیں زیادہ بڑے تھے(۱۳۹)
اس کے علاوہ ایسے افراد بھی مسلمانوں کی صفوں میں موجود تھے جن کے اسلاف مختلف جنگوں میں حضرت علی(ع)کے ہاتھوں قتل ہوچکے تھے اور قدرتی طور وہ کینہ توز ایسے شخص کی حکومت کی شدید مخالف کرتے ۔
اس کے علاوہ حضرت علی(ع)پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد بھی تھے، اور تنگ نظر لوگوں کی نظر میں ایسے شخص کو خلافت کے عھدہ پر مقرر کرنا اس کا سبب ہوتا کہ وہ اس عمل کو کنبہ پروری تصور کرتے۔
لیکن ان تمام ناسازگار حالات کے باوجود خدائے تعالی کا حکیمانہ ارادہ یہی تھا کہ رسول کا جانشین مقررفرما کر اسلامی تحریک کو تحفظ بخشے اور اپنے نبی کی عالمی رسالت کا رہبر و راہنما مقرر کرکے اسے تکمیل تک پہنچائے۔
اب اس تاریخی واقعہ کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
____________________
۱۳۳۔جیسے ، ورقةبن نوفل جس نے عیسائی کتابوں کے مطالعہ کے بعد بت پرستی کو چھوڑ کر عیسائی مذہب قبول کرلیا تھا۔
۱۳۴۔طور/ ۳۰ ۔۳۲
۱۳۵۔سیرہ ابن ہشام ، ج ۲ ، ص ۱۷۲
۱۳۶۔ سیرہ ابن ہشام ، ج۱ ص ۳۸۶، ۴۱۰
۱۳۷۔ مائدہ /۶۷
۱۳۸۔ فخرر ازی نے اپنی تفسیر (ج۳، ص ۶۳۵) میں پیغمبر کی اس ماموریت کے بارے میں دس احتمالات بیان کئے ہیں جب کہ ان میں سے ایک احتمال بھی __ جبکہ ان کا کوئی صحیح ماخذ بھی نہیں ہے __ مذکورہ دو شرائط کا حامل نہیں ہے ، جنھیں ہم نے مذکورہ آیت سے اس کے موضوع کے تحت بیان کیا ہے ، ان میں سے زیادہ تر احتمالات ہرگز اس قدر اہم نہیں ہیں کہ ان کے نہ پہنچانے پر رسالت کو کوئی نقصان پھنچتا یا پیغامات کا پہنچانا خوف و وحشت کا سبب بن جاتا یہ احتمالات حسب ذیل ہیں :
۱۔ یہ آیت ، گناہگار مردوں اور عورتوں کو سنگسار کرنے کے بارے میں ہے ۔
۲۔یہ آیت ، یھودیوں کے پیغمبر پر اعتراض کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
۳۔ جب قرآن مجید نے پیغمبر کی بیویوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ دنیا کے زر و زیور کو چاہیں گی تو پیغمبر ا ن کو طلاق دیدیں گے ، پیغمبر اس حکم الھی کو پہنچانے سے ڈرتے تھے کہ کہیں وہ دنیا کو ترجیح نہ دیں۔
۴۔ یہ آیت ، پیغمبر کے منہ بولے بیٹے زید کے واقعہ سے متعلق ہے کہ پیغمبر کو خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ زید کی طلاق یافتہ بیوی سے شادی کرلیں۔
۵۔ یہ آیت لوگوں اور منافقین کو جھاد کی طرف دعوت دینے سے مربوط ہے ۔
۶۔ بتوں کی برائی کرنے سے پیغمبر کی خاموشی سے مربوط ہے۔
۷۔یہ آیت حجة الوداع میں اس وقت نازل ہوئی ہے جب پیغمبر شریعت اور مناسک بیان فرمارہے تھے۔
۸۔ پیغمبر قریش ، یھود اور نصاری سے ڈرتے تھے اس لئے یہ آیت آپ کے ارادے کو قوت بخشنے کےلئے نازل ہوئی ہے۔
۹۔ ایک جنگ میں جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کے سایہ میں آرام فر مارہے تھے ، ایک عرب ننگی تلوار لے کر پیغمبر پر حملہ آور ہوا اور آپ سے مخاطب ہوکر کھا: ” اب تمھیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے“ ، پیغمبر نے جواب میں فرمایا: ” خدا “ اس وقت دشمن پر خوف طاری ہوا وہ پیچھے ھٹ گیا اور اس کا سر درخت سے ٹکرا کر پھٹ گیا ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (والله یعصمک من الناس ) آیہ شریفہ کے مفاد کا مذکورہ احتمالات کے مطابق ہونا ( مثلا ً آخری احتمال) بہت بعید ہے جب کہ غدیر خم کے واقعہ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ۔
۱۔ مرحوم علامہ امینی نے ان تیس افراد کے نام اور خصوصیات اپنی تالیف ، الغدیر ، ج ۱، ص ۱۹۶ ۔ ۲۰۹۔میں مفصل بیان کئے ہیں ان میں ، طبری ، ابو نعیم اصفھانی ، ابن عساکر ، ابو اسحاق حموینی اور جلال الدین سیوطی وغیرہ جیسے افراد بھی شامل ہیں کہ انھوں نے ابن عباس، ابو سعید خدری اور براء بن عازب سے یہ حدیث نقل کی ہے ۔
۱۳۹۔ خاص طور پر عرب قوم میں ہمیشہ بڑے عھدوں کو قبیلہ کے عمر رسیدہ لوگوں کے سپرد کرنے کی رسم تھی اور جوانوں کو اس بھانے سے ایسے عھدے سونپنے کے قائل نہ تھے کہ جو ان زمانہ کا تجربہ نہیں رکھتے ہیں ۔ لھذا جب پیغمبر نے ” عتاب بن ولید“ کو مکہ کا گورنر اور اسامہ کو سپہ سالار مقرر فرمایا تو عمر رسیدہ لوگوں نے آپ پر اعتراض کیا پھر لوگ اس امر کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ حضرت علی(ع)دیگر جوانوں سے مختلف ہیں ، یہ لائق اور شائستہ شخص الھی عنایتوں کے سایہ میں ایسے مقام تک پہنچا ہوا ہے کہ ہر قسم کی خطا اور لغزشوں سے محفوظ ہے اور ہمیشہ عالم بالا سے امداد حاصل کرتاہے۔
انیسویں فصل
حدیث غدیر(دوسراحصہ)
غدیر کا تاریخی واقعہ ایک ابدی حقیقت
۱۸ ذی الحجة کی دوپھر کا وقت تھا ، سورج کی تمازت نے غدیر خم کی سرزمین کو جھلسا رکھا تھا ۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد__جس کے بارے میں ۷۰ ھزار سے ۱۲۰ ھزار تک لکھا گیا__ پیغمبر کے حکم سے وہاں پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھی اور یہ لوگ اس دن رونما ہونے والے تاریخی واقعہ کا انتظار کررہے تھے۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ، لوگوں نے اپنی ردائیں تہ کرکے آدھی سر پر اور آدھی پاؤں کے نیچے رکھی تھیں ۔
ان حساس لمحات میں اذان ظھر کی آواز سے تمام صحرا گونج اٹھا ، اور لوگ نماز ظھر کےلئے آمادہ ہوئے ، پیغمبر اکرم نے اس عظیم اور پرشکوہ اجتماع __ کہ سرزمین غدیر پہ ایسا عظیم نہیں ہوا تھا__کے ساتھ نماز ظھر ادا کی ۔ اس کے بعد آپ لوگوں کے درمیان تشریف لائے اور اونٹوں کے پالان سے بنے ایک بلند منبر پرجلوہ افروز ہوکر بلند آواز سے خطبہ دینا شروع کیا اور فرمایا:
” حمد و ستائش تنھا خدا کے لئے ہے ، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں ، اور اسی پر توکل کرتے ہیں ، اور اپنے نفس امارہ اور برائی کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے اس خدا کی پناہ لیتے ہیں ، جس کے سوا گمراہوں کی ہدایت و راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس کی خداوند کریم ہدایت کرے کوئی اسے گمراہ نہیں کرسکتا ہم اس خدا کی گواہی دیتے ہیں جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے ۔
اے لوگو! خدائے لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ ہر پیغمبر کی رسالت کی مدت اس سے پہلے کی رسالت کی آدھی ہوتی ہے ، اور میں جلدی ہی دعوت حق کو لبیک کھنے والا اور تم سے رخصت ہونے والا ہوں ، میں ذمہ دار ہوں اور تم لوگ بھی ذمہ دار ہو ، میرے بارے میں کیا سوچتے ہو؟
اصحاب رسول نے کھا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے دین خدا کی تبلیغ کی ، ہمارے بارے میں خیر خواہی کی اور ہماری نصیحت فرمائی اور اس راہ میں سعی و کوشش کی ، خدائے تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ۔
مجمع پر خاموشی چھاگئی تو پیغمبر نے فرمایا: کیا تم لوگ گواہی نہیں دیتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے ، جنت ، جھنم اور موت حق ہے ۔ بے شک قیامت آئے گی اور خدائے تعالیٰ زمین میں دفن لوگوں کوپھر سے زندہ کرے گا ؟
اصحاب رسول : جی ہاں ! جی ہاں ! ہم گواہی دیتے ہیں ۔
پیغمبر : میں تم لوگوں کے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں تم لوگ ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرو گے؟
ایک شخص : یہ دو گراں قدر چیزیں کیا ہیں ؟
پیغمبر : ثقل اکبر خدا کی کتاب ہے کہ اس کا ایک سرا خدا سے وابستہ اور دوسرا سرا تمھارے ہاتہ میں ہے ، خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑ ے رہو تا کہ گمراہ نہ ہواور ” ثقل اصغر“ میری عترت اور اہل بیت(ع)ھیں ۔ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ میری یہ دو یادگاریں قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی۔
خبردار، اے لوگو: خدا کی کتاب اور میری عترت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا اور نہ ان سے پیچھے رہنا تا کہ نابودی سے بچے رہو۔
اس موقع پر پیغمبر نے علی(ع)کا ہاتہ پکڑ کر انھیں اس قدر بلند کیا کہ آپ کے بغل کے نیچے کی سفیدی نمایاں ہوگئی اور تمام لوگوں نے علی(ع)کو پیغمبر کے پہلومیں دیکھا اور انھیں اچھی طرح سے پہچان لیا۔ سب سمجھ گئے کہ اس اجتماع کا مقصد، علی(ع)سے مربوط کوئی اعلان ہے ۔ سب شوق و بے تابی کے ساتھ پیغمبر کی بات سننے کے منتظر تھے۔
پیغمبر : اے لوگو! مؤمنوں پر ، خود ان سے زیادہ سزاوار کون ہے ؟
اصحاب پیغمبر : خدا اور اس کا پیغمبر بہتر جانتے ہیں ۔
پیغمبر : ” خدا میرا مولا اور میں مؤمنوں کا مولا اور ان پر ، خود ان سے زیادہ اولی و سزاوار ہوں ۔ اے لوگو ! ” من کنت مولاہ فعلی مولاہ'' یعنی جس جس کا میں مولا ---__ خود اس سے زیادہ اس پر سزاوار __ ہوں اس کے علی(ع)بھی مولا ہیں “ اور پیغمبر نے اس جملہ کو تین بار فرمایا(۱۴۰)
اس کے بعد فرمایا: پروردگارا! اس کو دوست رکہ ، جو علی (ع)کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکہ جو علی(ع)سے دشمنی کرے۔ خدایا ! علی(ع)کے دوستوں کی مدد فرما اور اس کے دشمنوں کو ذلیل و خوار فرما ۔ خداوندا ! علی کو مرکز حق قرار دے “
اس کے بعد پیغمبر نے فرمایا: ضروری ہے کہ اس جلسہ میں حاضر لوگ اس خبر کو غیر حاضروں تک پہنچادیں اور دوسروں کو بھی اس واقعہ سے باخبر کریں۔
ابھی غدیر کا اجتماع برقرار تھا کہ فرشتہ وحی تشریف لایا اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو بشارت دی کہ خداوند کریم فرماتا ہے : میں نے آج اپنے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردیں اور اس پر راضی ہو اکہ یہ کامل شدہ اسلام تمھارا دین ہو(۱۴۱)
یہاں پر پیغمبر اسلام نے تکبیر کی آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا: میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے اپنے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت تمام کردی اور میری رسالت اور میرے بعد علی(ع)کی ولایت پر خوشنود ہوا۔
اس کے بعد پیغمبر اپنی جگہ سے نیچے تشریف لائے ، آپ کے اصحاب گروہ گروہ آگے بڑھے اور علی (ع)کو مبارکباددی اور انھیں اپنے اور تمام مومنین و مومنات کا مولا کھا۔
اس موقع پر رسول خدا کا شاعر ” حسان بن ثابت “ اٹھا اور اس نے اس تاریخی روداد کو شعر کی صورت میں بیان کرکے اسے ابدی رنگ دیدیا۔ اس کے اس قصیدہ سے صرف دو ابیات کا ترجمہ یہاں پر ذکر کرتے ہیں :
” پیغمبر نے علی(ع)سے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ! میںنے تمھیں اپنے بعد لوگوں کی قیادت اور راہنمائی کےلئے منتخب کیا ہے ۔(۱۴۲) جس کا میں مولا ہوں ، اس کے علی(ع)بھی مولا ہیں ۔
لوگو! تم لوگوں پر لازم ہے کہ علی(ع)کے سچے اور حقیقی دوست رہو ۔
اوپر بیان شدہ روداد غدیر کے واقعہ کا خلاصہ ہے جو اہل سنت علماء کے اسناد و مآخذمیں ذکر ہوا ہے ۔ شیعوں کی کتابوں میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔
مرحوم طبرسی نے اپنی کتاب ” احتجاج“ میں پیغمبر خدا سے ایک مفصل خطبہ نقل کیا ہے ، شائقین اس کتاب میں اس خطبہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں(۱۴۳)
غدیر کا واقعہ لافانی و جاویدانی ہے
خدائے تعالیٰ کا حکیمانہ ارادہ یہی تھا کہ غدیر کا تاریخی واقعہ تمام زمانوں اور صدیوں میں ایک زندہ تاریخ کی صورت میں باقی رہے تا کہ ہر زمانے کے لوگ اس کی طرف جذب ہوں اور ہر زمانے میں اسلام کے اہل قلم تفسیر ، حدیث ، کلام اور تاریخ پر قلم اٹھاتے وقت اس موضوع پر لکھیں اور مذہبی مقررین ، وعظ و سخن کی مجلسوں میں اسے بیان کرتے ہوئے اس کو امام (ع)کے ناقابل انکار فضائل میں شمار کریں ۔ ادباء و شعراء بھی اس واقعہ سے الھام حاصل کرکے اپنے ادبی ذوق و شوق کو اس واقعہ سے مزین کرکے مولا کے تئیں اپنے جذبات مختلف زبانوں میں بھترین ادبی نمونوں کی صورت میں پیش کریں۔
یہ بات بلا سبب نہیں کہ انسانی تاریخ میں بہت کم ایسے واقعات گزرے ہیں جو واقعہ غدیر کی طرح علماء ، محدثین ، مفسرین ، متکلمین ، فلاسفہ ، مقررین ، شعراء ، مؤرخین و سیرت نگاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہیں ان سب نے اس واقعہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں ۔
بیشک اس واقعہ کے لافانی اور جاویدانی ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس واقعہ سے مربوط قرآن مجید میں دو آیتیں(۱۴۴) نازل ہوئی ہیں ۔چونکہ قرآن لافانی اور ابدی ہے اس لئے یہ واقعہ بھی لافانی ہوگیا ہے اور ہر گز ختم ہونے والا نہیں ہے۔
اس کے علاوہ چونکہ گزشتہ زمانہ میں اسلامی معاشرہ اور آج کا شیعہ معاشرہ اس روز کو مذہبی عیدوں میں ایک عظیم عید شمار کرتا ہے اور اس مناسبت سے ہر سا ل با شکوہ تقریبات منعقد کرتا ہے لھذا قدرتی طور پر غدیر کے تاریخی واقعہ نے ابدیت کا رنگ اختیار کرلیا ہے اور کبھی فراموش ہونے والا نہیں ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸ ذی الجة الحرام کا دن مسلمانوں کے درمیان عید غدیر کے طور پر معروف تھا ، یہاں تک کہ ” ابن خلکان “ فاطمی خلیفہ مستعلی بن المستنصر کے بارے میں لکھتا ہے :
” سن ۴۸۷ء ہ عید غدیر کے دن ، کہ ۱۸ ذی الحجة الحرام ہے ، لوگوں نے اس کی بیعت کی(۱۴۵) المستنصر بالله کے بارے میں ” العبیدی“ لکھتا ہے:
” وہ سن ۴۸۷ ھء میں جب ماہ ذی الحجة میں ۱۲ شبیں باقی بچی تھیں ، فوت ہوا ، یہ شب وہی ۸ اویں ذی الحجة کی شب ہے ، اور شب عید غدیر ہے“(۱۴۶)
ابن خلکان نے ہی اس شب کو عید غدیر کی شب کا نام نہیں دیا ہے بلکہ ” مسعودی“(۱۴۷) # اور ”ثعالبی“(۱۴۸) نے بھی اس شب کوامت اسلامیہ کی مشھور و معروف شبوں میں شمار کیا ہے۔
عید غدیر کے دن جشن و سرور کی تقریبات کا سلسلہ اس دن خود پیغمبر کے عمل سے شروع ہوا ہے۔ کیونکہ اس دن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے مھاجرین و انصار بلکہ اپنی بیویوں کو بھی حکم دیا تھا کہ علی(ع)کے پاس جاکر انھیں اس عظیم فضیلت کی مبارکباد دیں۔
زید بن ارقم کہتے ہیں : مھاجرین میں سے سب سے پہلے جن افراد نے علی(ع)کے ہاتہ پر بیعت کی ، ابو بکر ، عمر ، عثمان ، طلحہ اور زبیر تھے اور مبارکبادکی یہ تقریب اس دن سورج ڈوبنے تک جاری رہی۔
واقعہ کی لافانیت کے دیگر دلائل
اس تاریخی واقعہ کی اہمیت کےلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ۱۱۰ صحابیوں نے اسے نقل کیا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اتنی بڑی جمعیت میں سے صرف ان ہی افراد نے غدیر کے واقعہ کو نقل کیا ہے، بلکہ سنی علماء کی کتابوں میں اس واقعہ کے صرف ۱۱۰ راوی ذکر ہوئے ہیں ۔ یہ بات صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم نے ایک لاکہ کے مجمع میں تقریر فرمائی، لیکن ان میں بہت سے لوگ حجاز سے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے تھے ، جن سے کوئی حدیث نقل نہیں ہوئی ہے ، یا اگر نقل ہوئی بھی ہو تو ہم تک نہیں پھنچی ہے۔ ان میں سے اگر کسی جماعت نے اس واقعہ کو نقل بھی کیا ہے تو تاریخ ان کے نام درج کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
دوسری صدی ہجری میں -- __جو عصر تابعین کے نام سے مشھور ہے __ نواسی افراد نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
بعد والی صدیوں میں حدیث کے بہت سے راوی سنی علماء تھے ان میں سے تین سو ساٹہ راویوں نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور ان میںسے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے صحیح اور محکم ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
تیسری صدی ہجری میں ۹۲ (بانبے) سنی علماء نے ، چوتھی صدی میں تینتالیس( ۴۳) ، پانچویں صدی میں جوبیس(۲۴) ، چھٹی صدی میں بیس(۲۰) ، ساتویں صدی میں اکیس(۲۱) ، آٹھویں صدی میں اٹھارہ(۱۸) ، نویں صدی میں سولہ(۱۶) ، دسویں صدی میں(۱۴) چودہ ، گیارہوں صدی میں بارہ(۱۲) ، بارہویں صدی میں تیرہ(۱۳) ، تیرہویں صدی میں بارہ(۱۲) اور چودھویں صدی میں بیس(۲۰) سنی علماء نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
مذکورہ علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث کی نقل پر ہی اکتفاء نہیں کی ہے بلکہ اس کے اسناد اور مفھوم پر مخصوص کتابیں لکھی ہےں۔
عالم اسلام کے عظیم اور نامور تاریخ دان ، طبری نے ” الولایة فی طرق حدیث الغدیر “ کے موضوع پر کتاب لکھی ہے اور اس میں اس حدیث کو ستر(۷۰) سے زیادہ طریقوں سے ، پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔
ابن عقدہ کوفی نے اپنے رسالہ ” ولایت“ میں اس حدیث کو ایک سو پچاس(۱۴۹) افرادسے نقل کیا ہے۔
جن افراد نے اس تاریخی واقعہ کی خصوصیات کے بارے میں مخصوص کتابیں لکھی ہیں ، ان کی تعداد چھبیس(۲۶) ہے ۔ ممکن ہے اس سے زیادہ افراد ہوں جنھوں نے اس موضوع پر کتابیں یا مقالات لکھے ہیں لیکن تاریخ میں ان کا نام درج نہیں ہوا ہے یا ہماری رسائی ان تک نہیں ہے۔
شیعہ علماء نے بھی اس تاریخی واقعہ پر گراں بھا کتابیں لکھی ہیں کہ ان تمام کتابوں میں جامع ترین اور تاریخی کتاب علامہ مجاہد مرحوم آیت اللہ امینی کی کتاب ” الغدیر“ ہے ۔
ھم نے امام (ع)کی زندگی کے اس پہلوکے بارے میں ان کی اس کتاب سے کافی استفادہ کیا ہے۔
____________________
۱۴۰۔ احمد بن حنبل کا کھنا ے کہ پیغمبر نے اس جملہ کو چار بار فرمایا
۱۴۱۔ (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَ اتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْإِسْلاَمَ دِینًا )(مائدہ/ ۳)
۱۴۲فقال له قم یا علی فاننی
رضیتک من بعدی اماماً و هادیا
فمن کنت مولاه فهذا ولیه
فکونو له اتباع صدق موالیا
۱۴۳۔ احتجاج طبرسی ، ج ۱ ص ۷۱ تا ۷۴ طبع ، نجف ۔
۱۴۴۔ آیہ ، (یَا ایُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا انْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّک ") (مائدہ / ۶۷ )، اور آیہ شریفہ (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَ اتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی ") (مائدہ /۳)
۱۴۵۔ وفیات الاعیان ، ج۱، ص ۶۰ ۔
۱۴۶۔ وفیا ت الاعیان ، ج۱، ص ۲۲۳۔
۱۴۷۔ التنبیہ و الاشراف ، ص ۲۲ ۔
۱۴۸۔ ثمارة القلوب ، ص ۵۱۱۔
۱۴۹۔حدید/ ۱۵
بیسویں فصل
حدیث غدیر(تیسرا حصہ)
غدیر کے با شکوہ اجتماع کا مقصد ؟
گزشتہ بحثوں سے اچھی طرح واضح اور ثابت ہوگیا کہ غدیر کا واقعہ قطعی اور یقینی طور پر ایک تاریخی واقعہ ہے اور اس میں کسی قسم کا شک و شبھہ کرنا بدیہی امور میں شک کرنے کے مترادف ہے ۔ اسلامی احادیث میں شاید ہی کوئی ایسی حدیث ہو جو متواتر اور قطعی ہونے کے لحاظ سے اس حدیث کی برابری کر سکے ۔
اس لئے ہم اس کی سند کے بارے میں مزید بحث و گفتگو نہیں کریں گے بلکہ اب اس کے مفاد و مفھوم کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس حدیث کو سمجھنے کی کنجی یہ ہے کہ جملہ ”من کنت مولاه فعلی مولاه'' میں وارد شدہ لفظ ”مولیٰ“ کو سمجھ لیں اس لفظ کے معنی کو سمجھنے کے بعد قدرتی طور پر حدیث کا مفھوم بھی واضح ہوجائے گا ۔
سب سے پہلے یہ امر قابل غور ہے کہ قرآن مجید میں لفظ ”مولیٰ“ ، اولی“ اور ” ولی“ کے معنی میں استعمال ہو ا ہے ، جیسے:
۱۔( فاَلْیَومَ لاَ یُؤْخَذُ مِنْکُمْ فِدْیَةٌ وَ لاَ مِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مَاوَاکُمُ النّارُ هِیَ مَولَ-ٰک-ُمْ وَ بِئْسَ الْمَصِیرُ )
تو آج ( قیامت کے دن) نہ تم سے کوئی فدیہ یا عوض لیا جائے گا اور نہ کفار سے ، تم سب کا ٹھکانا جھنم ہے وہی تم سب کا صاحب اختیار (مولا) ہے اور تمھارا بدترین انجام ہے۔(۱۵۰)
اسلام کے بڑے اور نامور مفسرین اس آیہ شریفہ کی تفسیر میں کہتے ہیں : اس آیت میں ”مولیٰ“ کا لفظ ” اولی“ کے معنی میں ہے ، کیونکہ یہ افراد ، جو ناشائستہ اور برے اعمال کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کےلئے ان اعمال کے عوض جھنم کی آگ کے سوا کوئی اور چیز سزاوار نہیں ہے(۱۵۰)
۲۔( یَدْعُوا لَمَنْ ضَرَّه اقْرَبُ مِنْ نَّفْعِه لَبِئْسَ الْمَولٰی وَ لَبِئْسَ الْعَشِیرُ )
”یہ اس بت کو پکارتا ہے جس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ قریب تر ہے وہ اس کا بدترین سرپرست ( ولی ) اور بدترین ساتھی ہے “۔(۱۵۱)
یہ آیہ شریفہ اپنے مضمون اور گزشتہ آیات کے قرینہ کی روشنی میں مشرکوں اور بت پرستوں کے عمل سے متعلق ہے کہ وہ بتوں کو اپنا صاحب اختیار ( ولی) جانتے تھے اور اسے اپنے سرپرست ( ولی) کی حیثیت سے مانتے تھے اور ” ولی“ کی حیثیت سے ہی ان کو پکارتے تھے۔
ان دو آیتوں اور اسی طرح دوسری آیات _ جن کے ذکر سے ہم صرف نظر کرتے ہیں _ سے اجمالی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ ”مولیٰ“ کے معنی وہی ” اولیٰ“ اور ” ولی“ کے ہیں ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جملہ ”من کنت مولاه فهذا علی مولاه'' کا مقصد کیا ہے ؟ کیا اس کا مقصد وہی نفوس پر تصرف رکھنے میں اولیٰ ہونا ہے جس کا لازمہ کسی شخص کا انسان پر ولایت مطلقہ رکھنا ہے یا حدیث کا مفھوم کچھ اور ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے تصور کیا ہے کہ حدیث غدیر میں ”مولیٰ“ دوست اور ناصر کے معنی میں ہے۔
بے شمار قرائن اس کے گواہ ہیں کہ ” مولیٰ“ سے مراد وہی پہلا معنی ہے جسے علماء اور دانشوروں نے ولایت مطلقہ سے تعبیر کیا ہے اور قرآن مجید نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے:
( اَلنَّبِیُّ اَوْلَٰی بِالْمُؤْمِنِینَ مَنْ انْفُسِهِمْ ) (۱۵۲)
بیشک نبی تمام مؤمنین سے ان کے نفوس کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔
اگر کوئی شخص ( تسلط اور تصرف کے لحاظ سے ) کسی کی جان پر خود اس سے زیادہ شائستہ و سزاوار ہو تو وہ قدرتی طور پر اس کے مال پر بھی یہی اختیار رکھتا ہوگا۔ اور جو شخص کسی انسان کی جان و مال پر اولی بالتصرف ہو ، وہ اس کے بارے میں ولایت مطلقہ رکھتا ہے۔
اس بنا پر انسان کو اس( ولی) اس کے تمام احکام کی موبمو اطاعت کرنی چاہئے اور جس چیز سے وہ منع کرے اس سے با ز رہنا چاہئے۔
یہ عھدہ اور منصب ، خدا کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا گیا تھا ۔ آپ خود ذاتی طور پر ہرگز اس منصب و مقام کے حامل نہیں تھے۔
واضح تر الفاظ میں یوں کھا جائے گا کہ یہ خدائے تعالیٰ ہے جس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوگوںکی جان و مال پر مسلط فرمایا ہے ۔ آپ کو ہر قسم کے امر و نھی کے اختیارات دئے ہیں اور آپ کے احکام و اوامر کی مخالفت کو خدا کے احکام کی مخالفت جانا ہے ۔
چونکہ قطعی اور یقینی دلائل سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس حدیث میں ”مولیٰ“ کے معنی وہی ہیں جو آیہ شریفہ میں ” اولیٰ“ کے ہیں ، لھذا قدرتی طور پر امیر المؤمنین حضرت علی(ع)اسی منصب و مقام کے حامل ہوئے جس کے آیہ شریفہ کی نص کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے ، یعنی اپنے
زمانے میں امت کے پیشوا اور معاشرے کے رہبر اور لوگوں کی جان و مال پر اولی وبالتصرف کا اختیار رکھنے والے اور امامت کا یہی وہ عظیم اور بلند مرتبہ ہے جسے ولایت الھیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ( یعنی وہ ولایت جو خدا کی طرف سے بعض خاص افراد کو وسیع پیمانے پر عطا ہوتی ہے )
اب ہم وہ قرائن و شواہد بیان کرتے ہیں جن سے پوری طرح ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث میں لفظ ” مولیٰ“ کے معنی تمام امور میں ( اولی بالتصرف) اور صاحب اختیار ہونے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔
ذیل میں ایسے چند شواہد ملاحظہ ہوں:
۱۔ غدیر کے تاریخی واقعہ کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شاعر حسّان بن ثابت حضور اکرم سے اجازت حاصل کرکے کھڑے ہوئے اورپیغمبر اکرم کے بیانات کے مضمون کو اشعار کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا ۔ یہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس فصیح ، بلیغ ، اور عربی زبان کے رموز سے واقف شخص نے لفظ ”مولیٰ“ کی جگہ پر امام و ہادی کا لفظ استعمال کیا ہے ، ملاحظہ ہو:
فقال له قم یا علی فاننی
رضیتک من بعدی اماماً و هادیا
یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی (ع)کی طرف رخ کرکے ان سے فرمایا: اٹھو کہ میں نے تمھیں اپنے بعد لوگوں کا امام و ہادی مقرر کردیا ہے “
واضح رہے کہ حسّان نے پیغمبر کے کلام میں موجود لفظ ” مولیٰ“ سے امت کی امامت ، پیشوائی اور ہدایت کے علاوہ کوئی اور معنی نہیں لئے ہیں(۱۵۳)
صرف حسّان ہی لفظ” مولیٰ“ سے یہ نہیں سمجھے ، بلکہ اس کے بعد بھی اسلام کے عظیم شعرا __جن میں سے اکثراعلیٰ درجے کے شعرا اور بعض عربی زبان کے استاد شمار ہوتے تھے__ نے بھی اس لفظ سے وہی معنی لئے ہیں جو حسان نے سمجھے تھے ، یعنی امت کی امامت و پیشوائی۔
۲۔ امیر المؤمنین(ع)نے معاویہ کو لکھے گئے اپنے چند اشعار میں حدیث غدیر کے بارے میں یوں فرمایا ہے:
و اوجب لی ولایتہ علیکم
رسول الله یوم غدیر خم
” رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری ولایت کو تم لوگوں پر غدیر کے دن واجب فرمایا ہے “
علی(ع)سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو ہمارے لئے حدیث کے حقیقی مفھوم کو واضح کر سکے ؟ جبکہ شیعہ و سنی آپ(ع)کے علم ،امانتداری اور تقویٰ کے سلسلے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت (ع)حدیث غدیر سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
” پیغمبر خدا نے غدیر کے دن میری ولایت کو تم لوگوں پر واجب فرمایا“
کیا اس وضاحت سے یہ مطلب نہیں نکلتا ہے کہ غدیر کے دن حاضر تمام لوگوں نے آنحضرت (ع)کے بیانات سے دینی سرپرستی اور معاشرے کی رہبری کے علاوہ کوئی اورمفھوم نہیں سمجھا تھا؟
خود حدیث میں ایسے قرائن موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے اس جملہ کا وہی مطلب ، یعنی حضرت علی(ع)کا ” اولی بالتصرف“ و صاحب اختیار ہوناہے ۔ کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جملہ ” من کنت مولاہ “ فرمانے سے پہلے یوں فرمایا تھا :
”الست اولیٰ بکم من انفسکم“
کیا میں تم لوگوں پر تمھارے نفوس سے زیادہ اختیار نہیں رکھتا ہوں ؟
اس جملہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ” اولی بکم من انفسکم “ سے استفادہ فرمایا ہے اور اپنے آپ کو تمام لوگوں پر ان کے نفوس سے زیادہ صاحب اختیار بتایا ہے ۔
اس کے فوراً بعد فرماتے ہیں : ” من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ“
ان دو جملوں کی ترتیب سے ذکر کئے جانے کا مقصد کیا ہے ؟ کیا اس سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ علی(ع)بھی میر ی طرح لوگوں کے نفوس پر صاحب اختیار ہےں جسے آپ نے پہلے اپنے لئے ثابت فرمایا اور یہ جو آپ نے فرمایا کہ : ” اے لوگو! وہی منصب و مقام جس کا میں حامل ہوں ، علی(ع)بھی اسی منصب کے حامل ہیں “ اگر پیغمبر کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور ہوتا تو اپنی اولویت کے بارے میں پہلے لوگوں سے اقرار لینے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
۴۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی تقریر کی ابتدا ء میں لوگوں سے اسلام کے تین اہم اصول ( توحید، نبوت ، معاد) کے بارے میں اقرار لیتے ہوئے فرمایا:
( الَسْتمُْ تَشْهُدُون َ انَّ لاإِله إِلَّا اللهَ و َ انَّ مُحمّداً عَبْدُه وَ رَسُولُه وَ انَّ الْجَنَّةَ حَقٌ وَ النَّارَ حَقٌ )
یعنی ، کیا تم لوگ گواہی نہیں دیتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی پروردگار نہیں ہے ، محمد اس کا بندہ اور رسول ہے اور بھشت و جھنم حق ہیں۔
یہ اقرار لینے کا مقصد کیا ہے ؟ کیا اس کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور ہے کہ پیغمبر اسلام لوگوں کے ذہنوں کو اس پر آمادہ کرنا چاہتے تھے کہ علی کے بارے میں جس منصب کا اعلان کرنے والے ہیں وہ انھی اصولوں کے مانند اہم ہے ، اور لوگ جان لیں کہ آپ کی ولایت و خلافت کا اقرار اسلام کے مذکورہ تین اصول کے مانند ہے جس کا سب نے اقرار و اعتراف کیا ہے ؟ اگر ”مولیٰ“ کا مقصد دوست اور مددگار لیا جائے تو اس صورت میں جملوں کا سلسلہ ہی ٹوٹ جاتا ہے اور پیغمبر کے کلام کی بلاغت و پائداری ختم ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ منصب ولایت سے الگ ھٹ کر حضرت علی (ع)خودایسے عظیم مسلمان تھے جنھوں نے ایسے معاشرہ میں پرورش پائی تھی جہاں پر تمام مؤمنوں سے دوستی کی ضرورت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی چہ جائیکہ علی (ع)جیسے مؤمن سے دوستی جسے پیغمبر اس اہتمام و شان کے ساتھ ایک بڑے اجتماع میں اعلان فرماتے ! اور اس صورت میں یہ امر اتنا اہم بھی نہیں تھا کہ اسلام کے تین بنیادی اصولوں کے برابر قرار پاتا ۔
۵۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خطبہ کے آغاز میں اپنی رحلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”انه یوشک ان ادعی فاجیب “
” قریب ہے کہ میں دعوت حق کو لبیک کھوں“
یہ جملہ اس امر کی حکایت کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی رحلت کے بعد کےلئے کوئی اہتمام و اقدام کرنا چاہتے تھے تا کہ اپنے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کریں۔
اور بلاشبہ واضح ہے کہ جو چیز اس خلا کو پر کرسکتی تھی وہ صرف حضرت علی(ع)کی خلافت و امامت تھی کہ رسول خدا کی رحلت کے بعد امور کی باگ ڈور حضرت علی(ع)اپنے ہاتہ میںلے لیں ، نہ کہ علی(ع)کی محبت و دوستی یا ان کی نصرت و مدد !
۶۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جملہ ”من کنت مولا ه ''کے بعد یوں فرمایا:
الله اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی و الولایة لعلی بن ابی طالب
میں خدا کی طرف سے تکمیل دین ، اتمام نعمت ، اپنی رسالت اور علی(ع)ابن ابیطالب کی ولایت پر تکبیر کھتا ہوں۔
۷۔ اس سے واضح اور بہتر کیا گواہی ہوسکتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر سے نیچے تشریف لانے کے بعد شیخین اور اصحاب رسول کی ایک بڑی جماعت نے حضرت علی(ع)کی خدمت میں مبارک باد پیش کی اور مبارک بادی کا یہ سلسلہ سورج ڈوبنے تک جاری رہا؟
مزے کی بات یہ ہے کہ شیخین پہلے افراد تھے جنھوں نے امام(ع)سے کھا:
”هنیئاً لک یا علی بن ابی طالب اصبت و امسیت مولی کل مؤمن و مومنة “
” مبارک ہو آپ کو یہ منصب ، اے علی (ع)! کہ آپ ہر مومن زن و مرد کے مولیٰ ہوگئے“
حقیقت میں حضرت علی(ع)اس روز امت کی سرپرستی و رہبری کے علاوہ کسی اور منصب کے مالک نہیں بنے تھے جبھی وہ اس قسم کی مبارکباد کے مستحق قرار پائے اور اسی وجہ سے اس دن ایسے کی بے مثال تقریب اور ایسے عظیم اجتماع کا اہتمام کیا گیا ۔
۸۔ اگر مقصد صرف علی(ع)کی دوستی کا اعلان تھا تو یہ ضروری نہیں تھا کہ پیغمبر اسلام ایسے موسم گرما میں حجاج کے ایک لاکہ کے مجمع کو رکوا کر اور لوگوں کو تپتی ریت پر بٹھا کر مفصل خطبہ بیان کرتے اور اس کے بعد ا س مسئلہ کو پیش کرتے ۔
کیا قرآن مجید نے مؤمن افراد کو ایک دوسرے کا بھائی نہیں پکارا ہے ؟ جیسا کہ فرمایا ہے :
( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ) )(۱۵۴)
” با ایمان لوگ آپس میں ایک دوسر کے بھائی ہیں“
کیا قرآن مجید نے مؤمنوں کا تعارف ایک دوست کے دوسرے کی حیثیت سے نہیں کرایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے :
( و َ المُؤمِنُونَ وَ المُؤْمِنَٰتُ بَعْضُهُمْ اوْلِیاءُ بَعْضٍ )
”با ایمان لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں “(۱۵۵)
علی(ع)بھی تو اسی با ایمان معاشرے کی ایک فرد تھے ، اس لئے اس کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الگ سے اور وہ بھی اس اہتمام کے ساتھ علی(ع)کی دوستی اور محبت کا اعلان فرماتے !!
جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ بعض لوگوں کا یہ دعویٰ ، کہ حدیث غدیر کا مقصد علی(ع)کی دوستی یا ان کی نصرت و مدد کو ضروری قرار دینا تھا اور پیغمبر کے خطبہ میں لفظ ”مولیٰ“ دوست یا ناصر کے معنی میں ہے ، در حقیقت تعصب پر مبنی ایک قسم کی غیر منصفانہ تفسیر اور بہت بچگانہ باتیں ہیں ۔ گزشتہ قرائن اور اس خطبہ کے اول سے آخر تک بغور مطالعہ کے بعد یہ ناقابل انکار حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خطبہ میں ”مولیٰ“ کا ایک ہی معنی ہے ، یعنی ” صاحب اختیار“ (اولی بالتصرف) ہونا۔ اور اگر یہ کھا جائے کہ اس کا مقصد سیادت اور آقائی ہے اور مولیٰ ” سید “ کے معنی میں ہے تو اس سیادت کا مقصد وہ دینی والٰہی سیادت ہے جو امام کی اطاعت کو لوگوں پر واجب اور ضروری قرار دیتی ہے۔
____________________
۱۵۰۔ای اولی لکم ما اسلفتم من الذنوب ۔
۱۵۱۔ حج / ۱۳۔
۱۵۲۔ احزاب ۶
۱۵۳۔ مناقب خوارزمی ص ۸۰ وغیرہ۔
۱۵۴۔ حجرات / ۱۵
۱۵۵۔توبہ / ۷۱
اکیسویں فصل
دو سوالوں کے جواب
دو سوال
پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی ںکی بلا فصل خلافت کا اعلان غدیر خم میں کر دیا اور ان کی اطاعت و پیروی تمام مسلمانوں پر لازم و واجب قرار دے دی ۔یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں۔
۱۔ جب حضرت علی ںکی جانشینی کا اعلان ایسے مخصوص دن کر دیا گیاتھا تو پھر اصحاب نے آنحضر ت کی رحلت کے بعدحضرت علیںکی وصایت و ولی عھدی کو اندیکھا کرتے ہوئے کسی اور کی پیروی کیوں کی ؟
۲۔ امام علی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اپنی امامت کو ثابت کرنے کے لئے اس حدیث سے استدلال کیوں نہیں کیا؟
پھلے سوال کا جواب :
اگرچہ اصحاب پیغمبر کے ایک گروہ نے حضرت علی ںکی جانشینی کو فراموش کرتے ہوئے غدیر کے الٰہی فرمان سے چشم پوشی کرلی اور بہت سے لاتعلق و لاپرواہ لوگوں نے -- جن کی مثالیں ہر معاشرہ میں بہت زیادہ نظر آتی ہیں-- --- --ان لوگوں کی پیروی کی ،لیکن ان کے مقابل ایسی نمایاں شخصیتیں اور اہم افراد بھی تھے جو حضرت علیںکی امامت و پیشوائی کے سلسلہ میں وفادار رہے ۔ اور انھوں نے امام علی ںکے علاوہ کسی اور کی پیروی نہیں کی ۔ یہ افراد اگر چہ تعداد میں پہلے گروہ سے کم اور اقلیت شمار ہوتے تھے ،لیکن کیفیت و شخصیت کے اعتبار سے پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ممتاز اصحاب میں شمار ہوتے تھے جیسے :سلمان فارسی ،ابوذر غفاری ،مقداد بن اسود ، عمار یاسر ،ابی بن کعب ،ابو ایوب انصاری ،خزیمہ بن ثابت ،بریدہ اسلمی ، ابوہثیم بن التیھان،خالد بن سعید اور ایسے ہی بہت سے افراد کہ تاریخ اسلام نے ان کے نام اور ان کی زندگی کے خصوصیات و نیک صفات ، موجودہ خلافت پر ان کی تنقیدیں اورامیر المومنین علی ںسے ان کی وفاداریوں کو پوری باریکی کے ساتھ محفوظ کیا ہے۔
تاریخ اسلام نے دو سو پچاس صحابیوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ سب کے سب امام کے وفادار تھے اور زندگی کے آخری لمحہ تک ان کے دامن سے وابستہ رہے ۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے امام کی محبت میں شھادت کا شرف بھی حاصل کیا۔(۱۵۶)
افسوس کے ساتھ کھنا پڑتا ہے کہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی وصایت و ولایت کا مسئلہ ہی نہیں ہے جس میں آنحضرت کے صریح و صاف حکم کے باوجود پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعض صحابیوں نے مخالفت اور آنحضرت کے حکم سے چشم پوشی کی ،بلکہ تاریخ کے صفحات کی گواہی کے مطابق خود پیغمبر کے زمانہ میں بھی بعض افراد نے آنحضرت کے صاف حکم کو اندیکھا کیا ، اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف اپنے نظریہ کا اظھار کیا ۔
دوسری لفظوں میں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بعض اصحاب جب آنحضرت کے حکم کو اپنے باطنی خواہشات اور سیاسی خیالات کے مخالف نہیں پاتے تھے تو دل سے اسے قبول کرلیتے تھے ۔ لیکن اگر پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تعلیمات کے کسی حصہ کو اپنے سیاسی افکار و خیالات اور اپنی جاہ پسند خواہشات کے خلاف پاتے تھے تو پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اس کام کی انجام دھی سے روکنے کی کوشش کرتے تھے اور اگر پیغمبر اپنی بات پر جمے رہتے تو آنحضرت کے حکم سے سرتابی کی کوشش کرتے تھے یا اعتراض کرنے لگتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ خود پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) ان کی پیروی کریں۔
ذیل میں ہم بعض اصحاب کی اس ناپسندیدہ روش کے چند نمونے بیان کرتے ہیں:
۱۔ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حکم دیا کہ میرے لئے قلم و دوات لے آؤ تاکہ میں ایک ایسی تحریر لکہ دوں جس کی روشنی میں میرے بعد میری امت کبھی گمراہ نہ ہو۔لیکن وہاں موجود بعض افراد نے اپنی مخصوص سیاسی سوجہ بوجہ سے یہ سمجھ لیا کہ اس تحریر کا مقصد اپنے بعد کے لئے جانشین کے تعین کا تحریری اعلان ہے لھٰذا پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے صریحی حکم کی مخالفت کر بیٹھے اور لوگوں کو قلم و کاغذ لانے سے روک دیا!
ابن عباس نے اپنی آنکھوں سے اشک بھاتے ہوئے کھا : مسلمانوں کی مصیبت اور بدبختی اسی روز سے شروع ہوئی جب پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) بیمار تھے اور آپ نے اس وقت قلم کا غذ لانے کا حکم دیا تاکہ ایسی چیز لکہ دیں کہ ان کے بعد امت اسلام گمراہ نہ ہو ۔لیکن اس موقع پر بعض حاضرین نے جھگڑا اور اختلاف شروع کردیا ۔بعض لوگوں نے کھا: قلم ،کا غذ لے آؤ بعض نے کھا نہ لاؤ ۔ آخر کار پیغمبر نے جب یہ جھگڑا اور اختلاف دیکھا تو جو کام انجام دینا چاہتے تھے نہ کر سکے۔(۱۵۷)
۲۔ مسلمانوں کے لشکر کے سردار ”زید بن حارثہ"رومیوں کے ساتھ ،جنگ موتہ میں قتل ہوگئے
اس واقعہ کے بعد پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک فوج تشکیل دی اور مھاجرین وانصار کی تمام شخصیتوں کو اس میں شرکت کاحکم دیا اور لشکر کاعلم اپنے ہاتھوں سے ”اسامہ ابن زید“کے حوالے کیا۔ناگہاں اسی روز آنحضرت کو شدید بخار آیاجس نے آنحضرت کو سخت مریض کردیا۔اس دوران پیغمبر کے بعض اصحاب کی جانب سے اختلاف ،جھگڑے اور پیغمبر خدا کے صاف حکم سے سرتابی کاآغاز ہوا۔بعض لوگوں نے ”اسامہ"جیسے جوان کی سرداری پر اعتراض کرتے ہوئے اپنے غصہ کااظھار کیا اور آنحضرت سے اس کی معزولی کامطالبہ کیا۔ ایک گروہ جن کے لئے آنحضرت کی موت قطعی ہوچکی تھی،جھاد میں جانے سے ٹال مٹول کرنے لگا کہ ایسے حساس موقع پر مدینہ سے باہر جانا اسلام اور مسلمانوں کے حق میں اچھا نہیں ۔
پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) جب بھی اپنے اصحاب کی اس ٹال مٹول اور لشکر کی روانگی میں تاخیر سے آگاہ ہوتے تھے تو آپ کی پیشانی اور چھرہ سے غصہ کے آثار ظاہر ہونے لگتے تھے اور اصحاب کو آمادہ کرنے کے لئے دوبارہ تاکید کے ساتھ حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے :جلد ازجلد مدینہ ترک کرو اور روم کی طرف روانہ ہوجاو۔لیکن اس قدر تاکیدات کے باوجود ان ہی اسباب کے پیش نظر جو اوپر بیان ہوچکے ہیں،ان افراد نے آنحضرت کے صاف وصریح حکم کو ان سنا کردیا اور اپنی ذاتی مرضی آگے پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی پیھم تاکیدات کو ٹھکرادیا۔
۳۔ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے فرمان سے بعض اصحاب کی مخالفت کے یہی دو مذکورہ نمونے نہیں ہیں۔ اس قسم کے افراد نے سرزمین ”حدیبیہ" پر بھی،جب آنحضرت قریش سے صلح کی قرار داد باندہ رہے تھے،سختی کے ساتھ آنحضرت کی مخالفت کی اور ان پر اعتراض اور تنقیدیں کیں۔
پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد ان لوگوں کی آنحضرت کے دستورات سے مخالفت اس سے زیادہ ہے۔کیونکہ ان ہی افراد نے بعض اسباب کے تحت نماز اور اذان کی کیفیت میں تبدیلی
کردی ”ازدواج موقت“کی آیت کو ان دیکھا کردیا ماہ رمضان مبارک کی شبوں کے نوافل کوجنھیں فرادیٰ پڑھنا چاہئے ایک خاص کیفیت کے ساتھ جماعت میں تبدیل کردیا اور میراث کے احکام میں بھی تبدیلیاں کیں۔
ان میں سے ہر ایک تبدیلیوں اور تحریفوں اور آنحضرت کے حکم سے ان سرتا بیوں کے اسباب و علل اور اصطلاحی طور سے ”نص کے مقابلہ میں اجتھاد“کی تشریح اس کتاب میں ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں کتاب ”المراجعات“کے صفحات ۲۱۸۔۲۸۲تک اور ایک دوسری کتاب ”النص و الاجتھاد “ کا مطالعہ مفید ہوگا ،جو اسی موضوع سے متعلق لکھی گئی ہے۔
اصحاب پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی مخالفت اور شرارت اس قدربڑہ گئی تھی کہ قرآن مجید نے انھیں سخت انداز میں رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے دستورات سے مخالفت اور ان پر سبقت کرنے سے منع کیا چنانچہ فرماتا ہے:
( فلیحذر الذین یخالفون عن امره ان تصیبهم فتنة او یصیبهم عذاب الیم ) (۱۵۸)
یعنی جو لوگ رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے فرمان کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ کہیں کسی بلا یا درد ناک عذاب میں مبتلا نہ ہوں۔
اور فرماتاہے :
( یا ایها الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی الله و رسوله واتقوا اللّٰه ان الله سمیع علیم ) (۱۵۹)
اے ایمان لانے والو!خدا اور اس کے رسول پر سبقت نہ کرو اور اللہ سے ڈرو کہ بلا شبہ اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔
جولوگ یہ اصرار کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)ان کے نظریات و خیالات کی پیروی کریں خداوند عالم انھیں بھی وارننگ دیتا ہے:
( واعلموا ان فیکم رسول الله لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ) (۱۶۰)
اور جان لو کہ تمھارے درمیان رسول خدا جیسی شخصیت موجود ہے۔اگر بہت سے امور میں وہ تمھارے نظریات کی پیروی کریں گے تو تم زحمت میں پڑجاوگے۔
یہ حادثات اور یہ آیات اس بات کی صاف حکایت کرتی ہےں کہ اصحاب پیغمبر میں ایک گروہ تھا جو آنحضرت کی مخالفت کرتا تھا اور جیسی ان کی اطاعت کرنا چاہئے اطاعت نہیں کرتا تھا ۔بلکہ یہ لوگ کوشش کرتے تھے کہ جو احکام الٰہی ان کے افکار اور سلیقہ سے سازگار نہیں تھے،ان کی پیروی نہ کریں۔حتیٰ یہ کوشش کرتے تھے کہ خود رسول خدا کو اپنے نظریات کا پیرو بنائیں۔
افسوس رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے بعد سیاسی میدان میں دوڑنے والے اور سقیفہ نیز فرمائشی شوریٰ کی تشکیل دینے والے یہی لوگ جنھوں نے غدیر خم میں پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے صاف حکم اور نص الٰہی کو اپنی باطنی خواہشات کے مخالف پایا لھٰذابھت تیزی سے اسے بھلادیا۔
دوسرے سوال کاجواب:
جیسا کہ اس سوال میں در پردہ ادعا کیا گیا ہے ،یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ حضرت علی ں نے اپنی زندگی میں متعدد موقعوں پر حدیث غدیر کے ذریعہ اپنی حقانیت اور اپنی خلافت پر استدلال کیا ہے۔حضرت امیرالمومنین جب بھی موقع مناسب دیکھتے تھے مخالفوں کو حدیث غدیر یاد دلاتے تھے ۔ اس طرح سے اپنی حیثیت لوگوں کے دلوں میں محکم فرماتے تھے اور حقیقت کے طالب افراد پر حق کو آشکار کردیتے تھے ۔
نہ صرف حضرت امام علی (ع) بلکہ بنت رسول خدا حضرت فاطمہ زھرا(ع) اور ان کے دونوں صاحب زادوں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام اور اسلام کی بہت سی عظیم شخصیتوں مثلاً عبداللہ بن جعفر،عمار یاسر،اصبغ بن نباتہ،قیس بن سعد، حتیٰ کچھ اموی اور عباسی خلفاء مثلاً عمر بن عبد العزیز اور مامون الرشید اور ان سے بھی بالاتر حضرت(ع) کے مشھور مخالفوں مثلا عمروبن عاص اور.... نے حدیث غدیر سے احتجاج واستدلال کیاہے۔
حدیث غدیر سے استدلال حضرت علی (ع) کے زمانہ سے آج تک جاری ہے اور ہر زمانہ وہر صدی میں حضرت (ع) کے دوست داروں نے حدیث غدیر کو حضرت کی امامت وولایت کے دلائل میں شمار کیاہے۔ھم یہاں ان احتجاجات اور استدلالوںکے صرف چند نمونے پیش کرتے ہیں:
۱۔سب جانتے ہیں کہ خلیفہ دوم کے حکم سے بعد کے خلیفہ کے انتخاب کے لئے چہ رکنی کمیٹی تشکیل پائی تھی کمیٹی کے افراد کی ترکیب ایسی تھی کہ سبھی جانتے تھے کہ خلافت حضرت علی (ع)تک نہیں پھنچے گی کیونکہ عمر نے اس وقت کے سب سے بڑے سرمایہ دار عبدالرحمان بن عوف (جو عثمان کے قریبی رشتہ دار تھے)کو ویٹو پاور دے رکھا تھا۔ان کا حضرت علی (ع) کے مخالف گروہ سے جو رابطہ تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ حضرت علی (ع) کو اس حق سے محروم کردیں گے ۔
بھر حال جب خلافت عبد الرحمان بن عوف کے ذریعہ عثمان کو بخش دی گئی تو حضرت علی (ع)نے شوریٰ کے اس فیصلہ کو باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا:میں تم سے ایک ایسی بات کے ذریعہ احتجاج کرتاہوں جس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا یہاں تک کہ فرمایا :میں تم لوگوں کو تمھارے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تمھارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جس کے بارہ میں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا ہو ”من کنت مولاه فهذا علیّ مولاه، اللّٰهم وال من والاه وانصر من نصره لیبلغ الشاهد الغائب “ یعنی میں جس جس کا مولاہوں یہ علی (ع)بھی اس کے مولا ہیں۔خدا یاتواسے دوست رکہ اور اس کی مدد فرما جو علی (ع)کی مدد کرے۔حاضرین ہر بات غائب لوگوں تک پہنچائیں۔
اس موقع پر شوریٰ کے تمام ارکان نے حضرت علی (ع)کی تصدیق کرتے ہوئے کھا: خدا کی قسم یہ فضیلت آپ کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی ۔(۱۶۱)
امام علی (ع)کا احتجاج و استدلال اس حدیث سے صرف اسی ایک موقع پر نہیں تھا بلکہ امام نے حدیث غدیر سے دوسرے مقامات پر بھی استدلال فرمایا ہے۔
۲۔ ایک روز حضرت علی ں کوفہ میں خطبہ دے رہے تھے۔تقریر کے دوران آپ نے مجمع سے خطاب کرکے فرمایا: میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں ،جوشخص بھی غدیر خم میں موجود تھا اور جس نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے مجھے اپنی جانشینی کے لئے منتخب کیا ہے وہ کھڑے ہو کر گواہی دے۔لیکن صرف وہی لوگ کھڑے ہوں جنھوں نے خود اپنے کانوں سے پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ بات سنی ہے۔وہ نہ اٹھیںجنھوں نے دوسروںسے سنا ہے۔اس وقت تیس افراد اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور انھوں نے حدیث غدیر کی گواہی دی۔
یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جب یہ بات ہوئی تو غدیر کے واقعہ کو گزرے ہوئے پچیس سال ہوچکے تھے۔اور پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بہت سے اصحاب کوفہ میں نہیں تھے،یا اس سے پہلے انتقال کرچکے تھے اور کچھ لوگوں نے بعض اسباب کے تحت گواہی دینے سے کوتاہی کی تھی۔
”علامہ امینی“ مرحوم نے اس احتجاج وا ستدلال کے بہت سے حوالے اپنی گرانقدر کتاب ”الغدیر“ میں نقل کئے ہیں۔شائقین اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔(۱۶۲)
۳۔حضرت عثمان کی خلافت کے زمانہ میں مھاجرین و انصار کی دوسو بڑی شخصیتیں مسجد نبی میں جمع ہوئیں۔ان لوگوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو شروع کی۔یہاں تک کہ بات قریش کے فضائل ان کے کارناموں اور ان کی ھجرت کی آئی اور قریش کا ہر خاندان اپنی نمایاں شخصیتوں کی تعریف کرنے لگا۔جلسہ صبح سے ظھر تک چلتا رہا اور لوگ باتیں کرتے رہے حضرت امیر المومنین (ع) پورے جلسہ میں صرف لوگوں کی باتیں سنتے رہے۔اچانک مجمع آپ (ع)کی طرف متوجہ ہوا اور درخواست کرنے لگا کہ آپ بھی کچھ فرمائیے۔امام علیہ السلام لوگوں کے اصرار پر اٹھے اور خاندان پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اپنے رابطہ اور اپنے درخشاںماضی سے متعلق تفصیل سے تقریر فرمائی۔یہاں تک کہ فرمایا:
کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ غدیر کے دن خداوند عالم نے پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو یہ حکم دیا تھا کہ جس طرح تم نے لوگوں کو نماز ،زکات اور حج کی تعلیم دی یوں ہی لوگوں کے سامنے علی (ع)کی پیشوائی کا بھی اعلان کردو۔اسی کام کے لئے پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا: خداوند عالم نے ایک فریضہ میرے اوپر عائد کیاہے۔میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں اس الٰہی پیغام کو پہنچانے میں لوگ میری تکذیب نہ کریں،لیکن خدواند عالم نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ کام انجام دوں اور یہ خوش خبری دی کہ اللہ مجھے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
اے لوگو! تم جانتے ہو کہ خدا میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور ان کے حق میں ان سے زیادہ اولیٰ بالتصرف ہوں؟سب نے کھا ہاں۔اس وقت پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا: علی ! اٹھو ۔میں اٹہ کھڑا ہوا۔ آنحضرت نے مجمع کی طرف رُخ کرکے فرمایا:”من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللّٰھم وال من والاہ و عاد من عاداہ “ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی (ع)مولا ہیں ۔خدایا! تو اسے دوست رکہ جو علی (ع)کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکہ جو علی (ع)سے دشمنی کرے۔
اس موقع پر سلمان فارسی نے رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے دریافت کیا : علی (ع)ھم پر کیسی ولایت رکھتے ہیں ؟پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا:”ولائہ کولائی ،من کنت اولی بہ من نفسہ ،فعلیّ اولی بہ من نفسہ “ یعنی تم پر علی (ع)کی ولایت میری ولایت کے مانندھے ۔میں جس جس کی جان اور نفس پر اولویت رکھتا ہوں علی (ع)بھی اس کی جان اور اس کے نفس پر اولویت رکھتے ہیں۔(۱۶۳)
۴۔ صرف حضرت علی ںنے ہی حدیث غدیر سے اپنے مخالفوں کے خلاف احتجاج و استدلال نہیں کیا ہے بلکہ پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی پارہ جگر حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا نے ایک تاریخی دن جب آپ اپنے حق کو ثابت کرنے کے لئے مسجد میں خطبہ دے رہی تھیں، تو
پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا:
کیا تم لوگوں نے غدیر کے دن کو فراموش کردیا جس دن پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے حضرت علی (ع) کے بارے میں فرمایا تھا :
”من کنت مولاه فهٰذ ا علی مولاه " جس کا میں مولا ہوں یہ علی اس کے مولا ہیں.
۵۔ جس وقت امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کی قرار داد باندھنے کا فیصلہ کیا تو مجمع میں کھڑے ہو کر ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:
”خدا وندعالم نے پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اہل بیت (ع)کو اسلام کے ذریعہ مکرم اور گرامی قرار دیا ہمیں منتخب کیا اور ہر طرح کی رجس و کثافت کو ہم سے دور رکھا یہاں تک کہ فرمایا: پوری امت نے سنا کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی ںسے فرمایا: تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسی (ع) سے تھی“
تمام لوگوں نے دیکھا اور سناکہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے غدیر خم میں حضرت علیں کا ہاتہ تھام کرلوگوں سے فرمایا:
”من کنت مولاه فعلی مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه "(۱۶۴)
۶۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی سرزمین مکہ پر حاجیوں کے مجمع میں جس
میں اصحاب پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ---خطبہ دیتے ہوئے
فرمایا:
”میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ پیغمبر اسلام نے غدیر کے دن حضرت علی ںکو اپنی خلافت و ولایت کے لئے منتخب کیا اور فرمایا کہ : حاضرین یہ بات غائب لوگوں تک پہنچا دیں “ ؟ پورے مجمع نے کھا : ہم گواہی دیتے ہیں ۔
۷۔ ان کے علاوہ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں ، پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے کئی اصحاب مثلا عماریاسر ،زید بن ارقم ،عبداللہ بن جعفر ،اصبغ بن نباتہ اور دوسرے افراد نے بھی حدیث غدیر کے ذریعہ حضرت علی ںکی خلافت و امامت پر استدلال کیا ہے ۔(۱۶۵)
____________________
۱۵۶۔ سید علی خان مرحوم ”مدنی“ نے اپنی گرانقدر کتاب ”الدرجات الرفیعه فی طبقات الشیعة الامامیة “ میں اصحاب پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)میں سے ایسے افراد کے نام و خصوصیات بیان کیئے ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کے وفادار رہے ۔مرحوم شرف الدین عاملی نے بھی اپنی تالیف العقو ل المھمة ص/۱۷۷تاص۱۹۲ میں اپنی تحقیق کے ذریعہ ان میں مزید افراد کا اضافہ کیا ہے ۔
اس کتاب کے مولف نے بھی ”شخصیتھای اسلامی در شیعہ" کے عنوان سے ایک کتاب تدوین کی ہے جس میں ان افراد کے حالات زندگی اور امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے ان کی ولایت کے مراتب دقیق ماخذ کے ساتھ بیان کئے ہیں اور یہ کتاب چند جلدوں میں شائع ہوگی۔
۱۵۷۔صحیح بخاری ج/۱،ص/۲۲(کتاب علم)
۱۵۸۔نور /۶۳
۱۵۹۔حجرات /۱
۱۶۰۔الحجرات/۷
۱۶۱۔مناقب خوارزمی ،ص/۲۱۷
۱۶۲۔الغدیر، ج/۱،ص/۱۵۳۔۱۷۱
۱۶۳۔فرائد المسطین،باب۵۸۔حضرت علی علیہ السلام نے ان تین موقعوں کے علاوہ مسجد کوفہ میں ”یوم الرجعہ “ نام کے دن ،روز ”جمل “ ”حدیث الرکبان“کے واقعہ میں اور ”جنگ صفین “ میں حدیث غدیر سے اپنی امامت پر استدلال کیا ہے۔
۱۶۴۔ ینابیع المودة ص/۴۸۲
۱۶۵۔ مزید آگاہی کے لئے ”الغدیر “ ج/۱ص/۱۴۶تا ص/۱۹۵ ملاحظہ فرمائیں۔ اس کتاب میں بائیس استدلال حوالوںکے ساتھ درج ہیں۔
بائیسویں فصل
حدیث”ثقلین “اورحدیث ” سفینہ"قرآن و عترت کا باہم اٹوٹ رشتہ
حدیث ثقلین(۱۶۶) اسلام کی ان قطعی و متواتر احادیث میں سے ہے جسے علمائے اسلام نے پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے نقل کیا ہے ۔مختلف زمانوں اور صدیوں میں اس حدیث کے متعدد اور قابل اعتماد اسناد پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حدیث کو قطعی ثابت کرتے ہیں اور کوئی بھی صحیح فکر اور صحیح مزاج والا شخص اس کی صحت و استواری میں شک نہیں کر سکتا ۔
علمائے اہل سنت کے نقطہ نظرسے اس حدیث کا جائزہ لینے سے پہلے ہم ان سے بعض افراد کی گواہی یہاں نقل کرتے ہیں:
”منادی“ کے بقول:یہ حدیث ایک سو بیس(۱۲۰) سے زیادہ صحابیوں نے
پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے نقل کی ہے ۔(۱۶۷)
ابن حجر عسقلانی کے بقول : حدیْث ثقلین بیس(۲۰) سے زیادہ طریقوں سے نقل ہوئی ہے(۱۶۸)
عظیم شیعہ عالم علامہ میر حامد حسین مرحوم ،جن کا انتقال ۱۳۰۶ء ہ میں ہوا ہے ،انھوں نے مذکورہ حدیث کو علمائے اہل سنت کی ۵۰۲ کتابوں سے نقل کیا ہے ۔ حدیث کی سند اور دلالت سے متعلق ان کی تحقیق چہ جلدوں میں اصفھان سے شائع ہو چکی ہے ، شائقین اس کتاب کے ذریعہ اس حدیث کی عظمت سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔
اگر ہم اہل سنت کے مذکورہ راویوں پر شیعہ راویوں کا اضافہ کردیں تو حدیث ثقلین معتبر اور متواتر ہونے کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ پر نظر آتی ہے ،جس کے اعتبار کا مقابلہ حدیث غدیر کے علاوہ کسی اور حدیث سے نہیں کیا جا سکتا ۔حدیث ثقلین کا متن یہ ہے
”انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا ابدا ولن یفترقا حتیٰ یردا علی الحوض “
”میں تمھارے درمیان دو گرانقدر امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں ،ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری عترت و اہل بیت(ع) ہیں ،جب تک تم ان دونوں سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے ،یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پہ پھنچ جائیں“
البتہ یہ حدیث اس سے بھی وسیع انداز میں نقل ہوئی ہے ۔حتی ابن حجر نے لکھا ہے کہ
پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس حدیث کے آخر میں اضافہ فرمایا:
”هٰذا علی من القرآن و القرآن مع علی لا یفترقان “(۱۶۹)
”یعنی یہ علی ہمیشہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ہمراہ ہے۔یہ دونوںایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے“
مذکورہ بالا روایت حدیث کی وہ مختصر صورت ہے جسے اسلامی محدثوں نے نقل کیا ہے اور اس کی صحت پر گواہی دی ہے ۔ لیکن حدیث کی صورت میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مختلف موقعوں پر الگ الگ تعبیروں میں لوگوں کو قرآن و اہل بیت(ع) کے اٹوٹ رشتہ سے آگاہ کیا ہے ۔ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے ان دونوں حجتوں کے ربط کو حجة الوداع کے موقع پر غدیر خم(۱۷۰) میں۔منبرپر(۱۷۱) ، اور بستر بیماری پر(۱۷۲) جب کہ آپ کا حجرہ اصحاب سے بھرا ہو ا تھا ،بیان کیا تھا ۔اور اجمال و تفصیل کے لحاظ سے حدیث کے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت نے اسے مختلف تعبیروں سے بیان کیا ہے
اگر چہ حدیث مختلف صورتوں سے نقل ہوئی ہے اور پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنی دو یادگاروں کو کبھی ”ثقلین “ کبھی ”خلیفتین“ اور کبھی ” امرین“ کے الفاظ سے یاد کیا ہے ، اس کے باوجود سب کا مقصد ایک ہے اور وہ ہے قرآن کریم اور پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی عترت و اہل بیت (ع)کے درمیان اٹوٹ رابطہ کا ذکر۔
حدیث ثقلین کا مفاد
حدیث ثقلین کے مفاد پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی عترت و اہل بیت (ع)گناہ تو گناہ خطا ولغزش سے بھی محفوظ و معصوم ہیں ،کیوں کہ جو چیز صبح قیامت تک قرآن کریم سے اٹوٹ رشتہ و رابطہ رکھتی ہے وہ قرآن کی ہی طرح ( جسے خدا وند عالم نے ہر طرح کی
تحریف سے محفوظ رکھا ہے) ہر خطا و لغزش سے محفوظ ہے۔
دوسرے لفظوں میںیہ جو پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا کہ اسلامی امت صبح قیامت تک (جب یہ دونوں یادگاریں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے ملاقات کریں گی) ان دونوں سے وابستہ رہے اور ان دونوں کی اطاعت و پیروی کرے ،اس سے یہ بات اچھی سمجھی جا سکتی ہے کہ یہ دونوں الٰہی حجتیں اور پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی یادگاریں ،ہمیشہ خطا و غلطی سے محفوظ اور ہر طرح کی کجی و انحراف سے دور ہیں ۔ کیوں کہ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ خدا وند عالم کسی عاصی و گناہگار انسان کی اطاعت ہم پر واجب کرے یا قرآن مجید جیسی خطا سے پاک کتاب کا کسی خطا کار گروہ سے اٹوٹ رشتہ قرار دےدے ۔قرآن کا ہمسر اور اس کے برابر تنھا وہی گروہ ہو سکتا ہے جو ہر گناہ اور ہر خطا و لغزش سے پاک ہو۔
جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں ،امامت کے لئے سب سے اہم شرط عصمت یعنی گناہ و خطا سے اس کامحفوظ رہنا ہے ۔آگے بھی ہم عقل کی روشنی میں الٰہی پیشواؤںاور رہبروں کے لئے اس کی ضرورت پر ثبوت فراہم کریں گے حدیث ثقلین بخوبی اس بات کی گواہ ہے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عترت و اہل بیت (ع)قرآن کی طرح ہر عیب و نقص ،خطا و گناہ سے پاک ہیں اور چونکہ ان کی پیروی واجب کی گئی ہے لھٰذا انھیں بھر حال گناہ و معصیت سے پاک ہونا چاہئے۔
امیر المومنین (ع)کا حدیث ثقلین سے استدلال
کتاب ”احتجاج “ کے مولف احمد بن علی ابن ابیطالب کتاب ”سلیم بن قیس “ سے (جوتابعین میں ہیں اور حضرت امیر المومنینں کے عظیم شاگرد ہیں)نقل کرتے ہیں کہ عثمان کی خلافت کے دور میں مسجد النبی میں مھاجرین و انصار کا ایک جلسہ ہو اجس میں ہر شخص اپنے فضائل و کمالات بیان کر رہا تھا ۔ اس جلسہ میں امام علیں بھی موجود تھے لیکن خاموش بیٹھے ہوئے سب کی باتیں سن رہے تھے ۔ آخر کا ر لوگوں نے امام (ع)سے درخواست کی کہ آپ (ع)بھی اپنے بارہ میں کچھ بیان کریں ،امام نے ایک تفصیلی خطبہ ارشاد فرمایاجس میں چند آیات کی تلاوت بھی فرمائی جو آپ کے حق میں نازل ہوئی تھی اس کے ساتھ ہی آپ نے ارشاد فرمایا: میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا نے اپنی زند گی کے آخری ایام میں خطبہ دیا تھا اور اس میں فرمایا تھا:
”یا ایها الناس انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بیتی فتمسکوا بهما لاتضلوا “
” اے لوگو! میں تمھارے درمیان دو گرانقدر میراث چھوڑے جا رہا ہوں ۔ اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت (ع)پس ان دونوں سے وابستہ رہو کہ ہر گز گمراہ نہ ہوگے ۔(۱۷۳)
مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی عترت و اہل بیت (ع)سے مراد ان سے وابستہ تمام افراد نہیں ہیں کیوں کہ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ تمام وابستہ افراد لغزش و گناہ سے پاک و مبرا نہیں تھے بلکہ اس سے مراد وہ معین تعداد ہے جن کی امامت پر شیعہ راسخ عقیدہ رکھتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں اگر ہم حدیث ثقلین کے مفاد کو قبول کر لیں تو عترت و اہل بیت کے افراد اور ان کے مصداق مخفی نہیں رہ جائیں گے کیوں کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزندوں یا ان سے وابستہ افراد کے درمیان صرف وہی لوگ اس حدیث کے مصداق ہو سکتے ہیں جو ہر طرح کی لغزش و خطا سے مبرا و پاک ہیں اور امت کے درمیان طہارت ،پاکیزگی ،اخلاقی فضائل اور وسیع و بیکراں علم کے ذریعہ مسلمانوں میں مشھور ہیں اور لوگ انھیں نام و نشان کے ساتھ پہچانتے ہیں۔
ایک نکتہ کی یاد دھانی
اس مشھوراور متفق علیہ حدیث یعنی حدیث ثقلین کا متن بیان ہو چکا اور ہم نے دیکھا کہ
پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ہر جگہ" کتاب و عترت “ کو اپنی دو یاد گار کے عنوان سے یاد کیا ہے اور ان دو الٰہی حجتوں کے باہم اٹوٹ رشتہ کو ذکر کیا ہے لیکن سنت کی بعض کتابوں میں کہیں کھیں ندرت کے ساتھ ”کتاب اللہ و عترتی “ کے بجائے ”کتاب اللہ و سنتی “ ذکر ہو اہے اور ایک غیر معتبر روایت کی شکل میں نقل ہوا ہے ۔
ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب میں حدیث کی دوسری صورت بھی نقل کی ہے اور اس کی توجیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : در حقیقت سنت پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)جو قرآنی آیات کی مفسر ہے اس کی بازگشت خود کتاب خدا کی طرف ہے اور دونوں کی پیروی لازم وواجب ہے ۔
ہمیں اس وقت اس سے سرو کار نہیں کہ یہ توجیہ درست ہے یا نہیں ۔جو بات اہم ہے یہ ہے کہ حدیث ثقلین جسے عام طور سے اسلامی محدثوں نے نقل کیا ہے وہ وہی ” کتاب اللہ و عترتی “ھے اور اگر جملہ ”کتاب اللہ و سنتی “ بھی پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے صحیح و معتبر سند کے ساتھ نقل ہوئی ہوگی تو وہ ایک دوسری حدیث ہوگی ۔ جو حدیث ثقلین سے کوئی ٹکراؤ نہ رکھے گی ۔جبکہ یہ تعبیر احادیث کی کتابوں میں کسی قابل اعتماد سند کے ساتھ نقل نہیں ہوئی ہے ۔اور جو شھرت و تواتر پہلی بایوں کھا جائے کہ اصل حدیث ثقلین کو حاصل ہے وہ اسے حاصل نہیں ہے۔
عترت پیغمبر سفینہ نوح کے مانند
اگر حدیث سفینہ کو حدیث ثقلین کے ساتھ ضم کردیا جائے تو ان دونوں حدیثوں کا مفاد
پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے اہل بیت (ع)کے لئے فضائل و کمالات کی ایک دنیا کو نمایاں کرتاہے۔
سلیم ابن قیس نے لکھا ہے کہ : میں حج کے زمانہ میں مکہ میںموجود تھا.میں نے دیکھا کہ جناب ابوذر غفاری کعبہ کے حلقہ کو پکڑے ہوئے بلند آواز میں کہہ رہے ہیں:
اے لوگو! جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتاہے اور جو نہیں پہچانتا میں اسے اپنا تعارف کراتا ہوں۔ میں جندب بن جنادہ ”ابوذر“ھوں.اے لوگو! میں نے پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا ہے کہ"
”ان مثل اہل بیتی فی امتی کمثل سفینة نوح فی قومہ من رکبھا نجیٰ ومن ترکھا غرق“
میرے اہل بیت کی مثال میری امت میں جناب نوح کی قوم میں ان کی کشتی کے مانند ہے کہ جو شخص اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جس نے اسے ترک کردیا وہ غرق ہوگیا.(۱۷۴)
حدیث سفینہ ،حدیث غدیر اور حدیث ثقلین کے بعد اسلام کی متواتر حدیثوں میں سے ہے اور محدثین کے درمیان عظیم شھرت رکھتی ہے
کتاب عبقات الانوار(۱۷۵) کے مولف علامہ میر حامد حسین مرحوم نے اس حدیث کو اہل سنت کے نوے /۹۰ مشھور علماء و محدثین سے نقل کیا ہے.(۱۷۶)
حدیث سفینہ کا مفاد
حدیث سفینہ جس میں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عترت کو نوح کی کشتی سے تعبیر کیا گیا ہے.اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بیت (ع)کی پیروی نجات کا سبب اور ان کی مخالفت نابودی کا سبب ہے ۔
اب یہ دیکھنا چاہیئے کہ کیا صرف حلال و حرام میں ان کی پیروی کرنا چاہیئے اور سیاسی و اجتماعی مسائل میں ان کے ارشاد و ہدایت پر عمل کرنا واجب نہیں ہے یا یہ کہ تمام موارد میں ان کی پیروی واجب ہے اور ان کے اقوال اور حکم کو بلا استثناء جان و دل سے قبول کرنا ضروری ہے ؟
جولوگ کہتے ہیں کہ اہل بیت (ع)پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی پیروی صرف دین کے احکام اور حلال و حرام سے مربوط ہے وہ کسی دلیل کے بغیر پیروی کے موضوع کو محدود کرتے ہیں اور اس کی وسعت کو سمجھنے کی کوشش نھیںکرتے جب کہ حدیث میں اس طرح کی کوئی قید و شرط نہیں ہے۔
لھٰذا حدیث سفینہ بھی اس سلسلہ میں وارد ہونے والی دوسری احادیث کی طرح اسلامی
قیادت و سرپرستی کے لئے اہل بیت (ع)کی لیاقت و شائستگی کو ثابت کرتی ہے۔
اس کے علاوہ مذکورہ حدیث اہل بیت (ع)کی عصمت و طہارت اور ان کے گناہ و لغزش سے پاک ہونے کی بھترین گواہ ہے،کیونکہ ایک گناہگار و خطا کار بھلا کس طرح دوسروں کو نجات اور گمراہوں کی ہدایت کرسکتا ہے ؟!
حضرت امیر المومنین ںاور ان کے جانشینوں کی ولایت اور امت اسلام کی پیشوائی و رہبری کے لئے ان کی لیاقت و شائستگی کے دلائل اس سے کہیں زیادہ ہیں اور اس مختصر کتاب میں سمیٹے نہیں جاسکتے لھٰذا ہم اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں اور اپنی گفتگو کاآغاز عصمت کے موضوع سے کرتے ہیں جو الٰہی رہبروں کے لئے بنیادی شرط ہے ۔
____________________
۱۶۶۔ ثقل ،فتح ”ق“ اور ”ث“ اس کے معنی ہیں کوئی بہت نفیس اور قیمتی امر ۔ اور کسرِ ”ث“ اور جزم ”ق“ سے مراد کوئی گرانقدر چیز.
۱۶۷۔فیض القدیر ،ج/۳ص/۱۴
۱۶۸۔صواعق محرقہ ،عسقلانی ،حدیث ۱۳۵
۱۶۹۔ ینابیع المودة ص/۳۲وص/۴۰
۱۷۰۔ مستدرک ،حاکم ،ج/۳ص/۱۰۹ وغیرہ
۱۷۱۔ بحار الانوار ج/۲۲ص/۷۶نقل از مجالس مفید
۱۷۲۔ الصواعق المحرقہ ،ص/۷۵
۱۷۳۔احتجاج ج/۱،ص/۲۱۰
۱۷۴۔احتجاج طبرسی،ص/۲۲۸
۱۷۵۔جزء دوم از جلد دوازدھم ،ص/۹۱۴کے بعد ملاحظہ فرمائیں۔
۱۷۶۔ مستدرک حاکم ،ج/۳،ص/۳۴۳۔کنز العمال ،ج/۱،ص/۲۵۰۔صواعق،ص/۷۵۔ فیض القدیر،ج/۴،ص/۳۵۶۔
تیئیسویں فصل
ایک شخص کا معصوم ہونا کیسے ممکن ہے
کیا انسانی معاشرہ کی قیادت و رہبری سے بڑھکر کوئی منصب تصور کیا جا سکتا ہے؟کیا کوئی شخص روحی و جسمی امتیازات کے بغیر زندگی کے کسی ایک پہلو میں بھی معاشرہ کی قیادت کا بوجہ سنبھال سکتا ہے ؟ چہ جائیکہ زندگی کے تمام مادی ومعنوی پہلوؤں میں !! جو صرف الٰہی رہبروں یعنی انبیاء وغیرہ سے مخصوص ہے؟
سیاسی لیڈران جو ملک و مملکت کے صرف سیاسی مسائل میں قیادت کرتے ہیں یا اقتصادی مسائل کے ماہرین جو ملک کی اقتصادکی باگڈور ہاتہ میں رکھتے ہیں ان میدانوں سے متعلق خاص شرائط و صفات کے بغیر -----جو انھیں دوسروںسے ممتاز و بر تر ثابت کرتے ہیں -----ملک کے اس اعلیٰ سیاسی یا اقتصادی منصب کو حاصل ہی نہیں کر سکتے ۔
اگر ایسا ہی ہے تو یہ بات بدرجہ اولی تسلیم کرنی چاہئے کہ انبیائے الٰہی اور ان کے حقیقی جانشینوں ----- جو انسانی معاشرہ کے تمام میدانوں میں رہبر ہیں -----میں بھی وہ عالی اور با عظمت صفات و کمالات ہونے چاہئےںجو ان کی رہبری کی حیثیت کو ثابت کریں ۔ کیوں کہ در حقیقت ان صفات اور امتیازات کی بنا پر ہی ان افراد کو یہ عظیم منصب عطا کیا گیا ہے۔
آپ ان عظیم افراد کے امتیازات کو حسب ذیل دو عنوانوں میں خلاصہ کر سکتے ہیں:
۱)۔ گناہ اور خدا کی نا فرمانی سے محفوظ رہنا۔
۲)۔ خدا سے احکام حاصل کرنے اور لوگوں کو ان احکام کی تبلیغ کرنے میں خطا و غلطی سے محفوظ رہنا ۔ اس سے پہلے کہ الٰہی رہبروں کے لئے عصمت کے لازم ہونے کے دلائل بیان کئے جائیں ،بھتر ہے کہ خود عصمت کے بارے میں اجمال کے ساتھ یہ گفتگو کی جائے کہ کس طرح ایک شخص گناہ سے محفوط رہتا ہے۔
عصمت کیا ہے؟
عصمت ایک نفسانی صفت اور ایک باطنی طاقت ہے جو اپنے حامل کو گناہ ہی سے نہیں بلکہ گناہ انجام دینے کی فکر یا خیال سے بھی دور رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ خدا کا باطنی خوف ہے جو انسان کو گناہ سے حتٰی گناہ کے ارادہ سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص تمام گناہوں سے محفوظ رہے اور وہ نہ صرف گناہ نہ کرے بلکہ گناہ اور نافرمانی کے ارادہ سے بھی دور رہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ گناہ کی برائیوں کے علم کا لازمہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہ سے محفوظ رکھے ۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ کی برائیوں کے سلسلہ میں ہر درجہ کا علم انسان کو گناہ سے محفوظ و معصوم بنا دیتا ہے ،بلکہ علم کی حقیقت نمائی اس قدر قوی ہو جو گناہ کے برے آثار کوانسان کی نگاہ میں اس قدر مجسم کر دے کہ انسان ان برے کاموں کے انجام کو اپنی آنکھوں میں مجسم ہوتے ہوئے دیکھے ۔ اس صورت میں گناہ اس کے لئے ”محال عادی “ ہو جائے گا ۔ ذہن کو اور قریب کرنے کے لئے حسب ذیل مطلب پر توجہ دیں۔
ھم میں سے ہر ایک شخص بعض ایسے اعمال سے جن سے ہماری جان جانے کا خطرہ ہوتاہے ایک طرح سے محفوظ ومعصوم ہیں ۔اس طرح کا تحفظ اس علم کی پیدا وار ہے جوان اعمال کے نتائج کے طور پر ہمیں حاصل ہے مثال کے طور پر ایک دوسرے کے دشمن دو ملک جن کی سرحدیں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور ہر طرف کے فوجی تھوڑے فاصلہ سے بلند برجوں پر قوی دوربینوں،تیز لائٹوں اور سدھے ہوئے کتوں کے ذریعہ سرحد کی نگرانی کررہے ہیں اور خاص طور سے کسی کے سرحد پار کرنے پر گھری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی سرحد سے ایک قسم بھی آگے بڑھا گولوں سے بھون دیا جائے گا ایسی صورت میں کوئی عقل مند انسان سرحد پار کرنے کا خیال بھی اپنے ذہن میں نہیں لاسکتا چہ جائےکہ عملا بہ اقدام کرے ۔ایسا انسان اس عمل کے سلسلہ میں ایک طرح سے محفوظ ومعصوم ہے۔
زیادہ دور نہ جائےں ،ھرعاقل انسان جسے اپنی زندگی سے پیار ہے ،قاتل زھر کے مقابل جس کا کھانا اس کے لئے جان لیوا ہوگایابجلی کے ننگے تار کے مقابل جس کا لمس کرنا اسے جلاکر سیاہ کردے گایا اس بیمار کی بچی ہوئی غذا کے مقابل-- جسے ”جذام“یا”برص“کی شدید بیماری ہوئی ہو-- جس کے کھانے سے اس کے اندر یہ مرض سرایت کرجائے گا،ایک طرح کا تحفظ اور عصمت رکھتاہے۔یعنی وہ ہرگز اور کسی بھی قیمت پر یہ اعمال انجام نہیں دیتا اور اس سے ان اعمال کا ہونا ایک”محال عادی“ھے۔ اس کااس طرح سے محفوظ ومعصوم رہنے کا سبب بھی ان اعمال کے برے نتائج کا اس کی نظر میں مجسم ہونا ہے۔عمل کے خطرناک آچار اس کی نظر میں اس قدر مجسم اور اس کے دل کی نگاہ میں اتنے نمایاں ہوجاتے ہیں کہ ان کی روشنی میں کوئی بھی انسان اپنے ذہن میں ان کاموں کے انجام دینے کا خیال تک نہیں لاتا،چہ جائے کہ وہ یہ عمل انجام دے ڈالے۔
ھم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص یتیم وبےنوا کا مال ھضم کرجانے میں کوئی باک نہیں رکھتا جبکہ اس کے مقابل دوسرا شخص ایک پیسے حرام کھانے سے بھی پرہیز کرتا ہے ۔پھلا شخص پوری بے باکی کے ساتھ ےتیموں کا مال کیوں کھا جاتاہے لیکن دوسرا شخص حرا م کے ایک پیسہ سے بھی کیوں پرہیز کرتاہے؟
اس کاسبب یہ ہے کہ پہلا شخص سرے سے اس قسم کی نافرمانی کے برے انجام کا اعتقادھی نہیں رکھتا اور اگر قیامت کا تھوڑا بھیت ایمان رکھتا بھی ہے جب بھی تیزی سے تمام ہوجانے والی مادی لذتیں اس کے دل کی آنکھوں پر اس کے برے انجام کی طرف سے ایسا پردہ ڈال دیتی ہےں کہ ان کے برے آثار کا ایک ھلکا ساسایہ اس کی عقل کی نگاہوں کے سامنے سے گذر کر رہ جاتاہے اور اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ لیکن دوسراشخص اس گناہ کے برے انجام پر اتنا یقین رکھتا ہے کہ مال یتیم کا ہر ٹکڑا اس کی نظر میں جھنم کی آگ کے ٹکڑے کے برابر ہوتا ہے اور کوئی عقلمند انسان آگ کھانے کا اقدام نہیں کرتا ،کیونکہ وہ علم وبصیرت کی نگاہ سے دیکہ لیتا ہے کہ یہ مال کس طرح جھنم کی آگ میں بدل جاتاہے ۔لھٰذا وہ اس عمل کے مقابل محفوظ ومعصوم رہتاہے۔
اگر پہلے شخص کو بھی ایسا ہی علم اور ایسی ہی آگاہی حاصل ہوجائے تو وہ بھی دوسرے شخص کی طرح یتیم کا مال ظالمانہ طریقہ سے ھڑپ نہ کرے گا۔جو لوگ سونے اور چاندی کادھیر اکٹھا کرلیتے ہیں اور خدا کی طرف سے واجب حقوق کو ادا نہیں کرتے قرآن مجید ان کے سلسلہ میں فرماتا ہے :یہی سونا چاندی قیامت کے دن آگ میں بدل جائے گا اور اس سے ان کی پیشانی پہلووں اور پشت کو داغا جائے گا۔(۱۷۷)
اب اگر ایسا خزانہ رکھنے والے اس منظر کو خود اپنی آنکھوں سے دیکہ لیں اوریہ دیکہ لیں کہ ان جیسے افراد کاکیا انجام ہوا،اس کے بعد انھیں تنبیہ کی جائے کہ اگر تم بھی اپنی دولت کو جمع کرکے رکھوگے اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کروگے تو تمھارا بھی یہی انجام ہوگا تو وہ بھی فوراً اپنی چھپائی ہوئی دولت کو نکال کر خدا کی راہ میں خرچ کر ڈالیں گے۔
اکثر بعض افراد اسی دنیا میں الٰہی سزا وعذاب کے اس منظر کو دیکھے بغیر اس آیت کے مفھوم پر اس قدر ایمان رکھتے ہیں جو دیکھی ہوئی چیز پر ایمان سے کم نہیں ہوتا ۔یہاں تک کہ اگر دنیا وی و مادی پردے ان کی نگاہوں سے ھٹا دیئے جائیں جب بھی ان کے ایمان میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ایسی صورت میں یہ شخص اس (خزانہ جمع کرنے کے ) گناہ سے محفوظ رہتا ہے ،یعنی ہر گز سونا چاندی اکٹھا نہیں کرتا ۔
اب اگر ایک شخص یا ایک گروہ کائنات کے حقائق کے سلسلہ میں کامل اور حقیقی آگاہی و معرفت رکھنے کی وجہ سے تمام گناہوں کے انجام کے سلسلہ میں ایسی ہی حالت رکھتا ہو اور گناہوں کی سزا ان پر اس قدر نمایاں اور واضح ہو کہ مادی حجاب نگاہوں سے اٹھنے یا زمان و مکان کے فاصلوں کے باوجود ان کے ایمان و اعتقاد میں کوئی فرق نہیں آتا تو اس صورت میں یہ شخص یا وہ گروہ ان تمام گناہوں کے مقابل سو فی صدی تحفظ اور عصمت رکھتا ہے ۔نتیجہ میں ان سے نہ صرف گناہ سرزد نہیں ہوتے بلکہ انھیں گناہ کا خیال بھی نہیں آتا۔
لھٰذا یہ کھنا چاہئے کہ عصمت کسی ایک چیز یا تمام چیزوں میں اعمال کے انجام و نتائج کے قطعی علم اور شدید ایمان کے اثر سے پیدا ہوتی ہے ْاور ہر انسان بعض امور کے سلسلہ میں ایک طرح کی عصمت رکھتا ہے مگر انبیائے الٰہی اعمال کے انجام سے مکمل آگاہی اور خدا کی عظمت کی کامل معرفت کی وجہ سے تمام گناہوں کے مقابل مکمل عصمت رکھتے ہیں اور اسی علم و یقین کی بنا پر گناہ کے تمام اسباب، خواہشوں اور شھوتوں پر قابو رکھتے ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی خدا کے معین کردہ حدود سے سرکشی نہیں کرتے ۔
آخر میں اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضرور ی ہے کہ یہ صحیح ہے کہ انبیائے کرام گناہ اور ہر طرح کی نافرمانی سے محفوظ ہیں ، لیکن اس تحفظ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ گناہ کے کام انجام دینے کی توانائی نہیں رکھتے اور خدا کا حکم بجا لانے پر مجبور ہیں ۔ بلکہ یہ حضرات بھی تمام انسانوں کی طرح عمل کی آزادی اور اختیار رکھتے ہیں اور اطاعت یا نافرمانی دونوں پر انھیں قدرت حاصل ہے لیکن یہ لوگ اپنی باطنی آنکھوں سے -- جو کائنات کے حقائق سے متعلق ان کے وسیع علم کی وجہ سے انھیں حاصل ہوئی ہیں -- اعمال کے نتائج و انجام کا مشاہدہ کرلیتے ہیں اور ان نتائج سے جنھیں شریعت کی زبان میں عذاب کھا جاتا ہے ،واقف و آگاہ رہتے ہیں، لھٰذا ہر طرح کے گناہ اور نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں ۔اسے سمجھنے کے لئے حسب ذیل عبارت پر غور کیجئے :
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا وند عالم ہر طرح کے برے اور قبیح کا م انجام دینے پر قادر ہے لیکن اس سے کبھی اس طرح کام صادر نہیں ہوتا جو اس کے عدل اور اس کی حکمت کے خلاف ہو اس کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ان کاموں کو انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ بلکہ وہ ہر شئے پر قادر ہے ۔ معصوم افراد بھی گناہ کے سلسلہ میں یہی کیفیت رکھتے ہیں وہ لوگ بھی گناہ کرنے کی قدرت و توانائی رکھنے کے باوجود معصیت و گناہ کی طرف نہیں جاتے۔
____________________
۱۷۷۔ ”یوم یحمیٰ علیها فی نار جهنم فتکویٰ بها جباههم و ظهورهم هذا ما کنزتم لا نفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون “ سورہ توبہ /۳۵
چوبیسویں فصل
رہبران الٰہی کے لئے عصمت کی دلیلیں
علمائے عقائد نے الٰہی رہبروں خصوصاً انبیاء کرام کی عصمت کے بارے میں متعدد دلائل بیان کئے ہیں ہم یہاں ان میں سے دو دلیلیں بیان کرتے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ ان علماء نے یہ دلیلیں انبیاء کی عصمت کے لئے بیان کی ہیں لیکن یہی دلیلیں جس طرح انبیاء کی عصمت کو ثابت کرتی ہیں اسی طرح اماموں کی عصمت کو بھی ثابت کرتی ہےں ۔کیونکہ امامت شیعی نقطہ نظر سے رسالت اور نبوت کاہی تسلسل ہے ۔فرق یہ ہے کہ انبیاء منصب نبوت رکھتے ہیں اور ان کا رابطہ وحی الٰہی سے ہے اور امام کے یہاں یہ دوصفتیں نہیں ہےں ۔لیکن اگر ان دو خصوصیتوں سے صرف نظر کریں تو انبیاء اور اماموں کے در میان کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔
اب یہ دونوں دلیلیں ملاحظہ ہوں :
۱۔تربیت عمل کے سایہ میں :
اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیائے کرام کی بعثت کامقصد انسانوں کی تربیت اور ان کی راہنمائی ہے اور تربیت کے موثر اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ مربی میں ایسے صفات پائے جائیں جن کی وجہ سے لوگ اس سے قریب ہوجائےں ۔مثال کی طور پر اگر کوئی مربی خوش گفتار ،فصیح اور نپی تلی بات کرنے والا ہو لیکن بعض ایسے نفرت انگیز صفات اس میں پائے جائیں جس کے سبب لوگ اس سے دور ہوجائےں تو ایسی صورت میں انبیاء کی بعثت کامقصد ہی پورا نہیں ہوگا۔
ایک مربی ورہبر سے لوگوں کی دوری اور نفرت کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس کے قول وفعل میں تضاد اور دورنگی پائی جاتی ہو۔اس صورت میں نہ صرف اس کی راہنمائیاں بے قدر اور بیکار ہوجائےں گی بلکہ اس کی نبوت کی اساس وبنیاد ہی متزلزل ہوجائے گی ۔
شیعوں کے مشھور اور بزرگ عالم سید مرتضی علم الھدیٰ نے اس دلیل کو یوں بیان کیا ہے:اگر ہم کسی کے فعل کے بارہ میں اطمینان نہیں رکھتے یعنی اگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ وہ کوئی گناہ انجام دیتاہے تو ہم اطمینان قلب کے ساتھ اس کی بات پر دھیان نہیں دیتے ۔اور ایسے شخص کی باتےں ہم پر اثر نہیں کرسکتیں جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ خود اپنی بات پر عمل نہیں کرتا ۔جس طرح مربی یارہبرکا گناہ کرنالوگوںکی نظر میں اسے کم عقل ،بے حیا اور لاابالی ثابت کرتاہے اور لوگوں کو اس سے دور کردیتاہے اسی طرح مربی یا رہبر کے قول وفعل کی دو رنگی بھی لوگوں پر اس کے خلاف منفی اثر ڈالتی ہے ۔
اگر کوئی ڈاکٹر شراب کے نقصانات پر کتاب لکھے یاکوئی متاثر کرنے والی فلم دکھائے لیکن خود لوگوں کے مجمع میں اس قدر شراب پئے کہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکے ۔ایسی صورت میں شراب کے خلاف اس کی تمام تحریریں ،تقریریں اور زحمتیں خاک میں مل جائیں گی۔
فرض کیجئے کہ کسی گروہ کارہبر کرسی پر بیٹہ کر عدل وانصاف اور مساوات کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے زبردست تقریرکرے لیکن خود عملی طور سے لوگوں کا مال ھڑپ کرتارہے تو اس کاعمل اس کی کھی ہوئی باتوں کو بے اثر بنادے گا۔
خداوند عالم اسی وجہ سے انبیاء کو ایسا علم وایمان اور صبر وحوصلہ عطا کرتاہے تاکہ وہ تمام گناہوں سے خود کو محفوظ رکھیں ۔
اس بیان کی روشنی میں انبیائے الٰہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ بعثت کے بعد یا بعثت سے پہلے اپنی پوری زندگی میں گناہوں اور غلطیوں سے دور رہیں اور ان کا دامن کسی بھی طرح کی قول وفعل کی کمزوری سے پاک اور نیک صفات سے درخشاں رہنا چاہئے ۔کیونکہ اگر کسی شخص نے اپنی عمر کاتھوڑا سا حصہ بھی لوگوں کے درمیان گناہ اور معصیت کے ساتھ گزارا ہو اور اس کی زندگی کانامہ اعمال سیاہ اور کمزوریوں سے بھرا ہو تو ایسا شخص بعد میں لوگوں کے دلوں میں گھر نہیں کرسکتا اور لوگوں کو اپنے اقوال وکردار سے متاثر نہیں کرسکتا۔
خداوند عالم کی حکمت کاتقاضا ہے کہ وہ اپنے نبی ورسول میں ایسے اسباب وصفات پیدا کرے کہ وہ ہر دل عزیز بن جائےں۔اور ایسے اسباب سے انھیں دور رکھے جن سے لوگوںکے نبی یارسول سے دور ہونے کا خدشہ ہو ۔ظاہر ہے کہ انسان کے گزشتہ برے اعمال اور اس کاتاریک ماضی لوگوں میں اس کے نفوذ اور اس کی ہر دلعزیزی کو انتھائی کم کردے گا اور لوگ یہ کہیں گے کہ کل تک تو وہ خود بد عمل تھا، آج ہمیں ہدایت کرنے چلاہے؟!
۲۔اعتماد جذب کرنا:
تعلیم وتربیت کے شرائط میںسے ایک شرط ،جو انبیاء یاالٰہی رہبروں کے اہم مقاصد میں سے ہے ،یہ ہے کہ انسان اپنے مربی کی بات کی سچائی پر ایمان رکھتاہوکیونکہ کسی چیز کی طرف ایک انسان کی کشش اسی قدر ہوتی ہے جس قدر وہ اس چیز پر اعتماد وایمان رکھتاہے۔ایک اقتصادی یا صحی پروگرام کا پر جوش استقبال عوام اسی وقت کرتے ہیں جب کوئی اعلیٰ علمی کمیٹی اس کی تائید کردیتی ہے ۔کیونکہ بہت سے ماہروں کے اجتماعی نظریہ میں خطا یا غلطی کاامکان بہت کم پایا جاتا ہے ۔ اب اگر مذہبی پیشواوں کے بارے میں یہ امکان ہو کہ وہ گناہ کرتے ہوں گے تو قطعی طور سے جھوٹ یا حقائق کی تحریف کا امکان بھی پایا جاتا ہوگا ۔اس امکان کی وجہ سے ان کی باتوں سے ہماراا طمینان اٹہ جائے گا۔ اسی طرح انبیاء کا مقصد جو انسانوں کی تربیت اور ہدایت ہے ہاتہ نہ آئے گا۔
ممکن ہے یہ کھا جائے کہ اعتماد واطمینان حاصل کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ دینی پیشوا جھوٹ نہ بولیں اور اس گناہ کے قریب نہ جائےں تا کہ انھیں لوگوں کا اعتماد حاصل ہو ۔بقیہ سارے گناہوں سے ان کا پرہیز کرنا لازم نہیں ہے کیونکہ دوسرے گناہوں کے کرنے یا نہ کرنے سے مسئلہ اعتماد واطمینان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
جواب یہ ہے کہ اس بات کی حقیقت ظاہر ہے ،کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولنے پر آمادہ نہ ہو لیکن دوسرے گناہوں مثلاً آدم کشی ،خیانت اور بے عفتی وبے حیائی کے اعمال کرنے میں اسے کوئی باک نہ ہو؟اصولاً جو شخص دنیا کی لمحاتی لذتوں کے حصول کے لئے ہر طرح کے گناہ انجام دینے پر آمادہ ہو وہ ان کے حصول کے لئے جھوٹ کیسے نہیں بول سکتا۔؟!(۱۷۸)
اصولی طور سے انسان کو گناہ سے روکنے والی طاقت ایک باطنی قوت یعنی خوف خدا اور نفس پر قابو پاناہے ۔جس کے ذریعہ انسان گناہوں سے دور رہتا ہے ۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جھوٹ کے سلسلہ میں تو یہ قوت کام کرے لیکن دوسرے گناہوں کے سلسلہ میں جو عموماً بہت برے اور وجدان و ضمیر کی نظر میں جھوٹ سے بھی زیادہ قبیح ہوں ،یہ قوت کام نہ کرے ؟!
اور اگر ہم اس جدائی کو ثبوت کے طور پر قبول کربھی لیں تو اثبات کے طور سے یعنی عملاً عوام اسے قبول نہیں کرےں گے۔کیونکہ لوگ اس طرح کی جدائی کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔
اس کے علاوہ گناہ جس طرح گناہ گار کو لوگوں کی نظر میں قابل نفرت بنادیتے ہیں اسی طرح لوگ اس کی باتوں پر بھی اعتماد واطمینان نہیں رکھتے اور”انظر الیٰ ما قال ولاتنظر من الیٰ قال“یعنی یہ دکھو کیا کہہ رہاہے یہ نہ دیکھو کون کہہ رہاہے کا فلسفہ فقط ان لوگوں کے لئے موثر ہے جو شخصیت اور اس کی بات کے در میان فرق کرنا چاہتے ہیں لیکن ان لوگوں کے لئے جو بات کی قدرقیمت کو کھنے والے کی شخصیت اور اس کی طہارت وتقدس کے آئینہ میں دیکھتے ہیں یہ فلسفہ کارگر نہیں ہوتا۔
یہ بیان جس طرح رہبری وقیادت کے منصب پر آنے کے بعد صاحب منصب کے لئے عصمت کو ضروری جانتاہے،اسی طرح صاحب منصب ہونے سے پہلے اس کے لئے عصمت کو لازم وضروری سمجھتاہے ۔کیونکہ جو شخص ایک عرصہ تک گناہ گارو لاابالی رہاہواور اس نے ایک عمر جرائم وخیانت اور فحشا وفساد میں گزاری ہو، چاہے وہ بعد میں توبہ بھی کرلے ،اس کی روح میں روحی ومعنوی انقلاب بھی پیدا ہوجائے اور وہ متقی وپرہیزگاراور نیک انسان بھی ہوجائے لیکن چونکہ لوگوں کے ذہنوں میں اس کے برے اعمال کی یادیں محفوظ ہیں لھٰذا لوگ اس کی نیکی کی طرف دعوت کو بھی بد بینی کی نگاہ سے دیکھیںگے اور بسا اوقات یہ تصور بھی کرسکتے ہیں کہ یہ سب اس کی ریاکاریاں ہیں وہ اس راہ سے لوگوں کو فریب دینا اور شکار کرنا چاہتاہے۔اور یہ ذہنی کیفیت خاص طورسے تعبدی مسائل میں جہاں عقلی استدلال اور تجزیہ کی گنجائش نہیں ہوتی ،زیادہ شدت سے ظاہر ہوتی ہے۔
مختصر یہ کہ شریعت کے تمام اصول و فروع کی بنیاد استدلال و تجربہ پر نہیں ہوتی کہ الٰہی رہبر ایک فلسفی یا ایک معلم کی طرح سے اس راہ کو اختیار کرے اور اپنی بات استدلال کے ذریعہ ثابت کرے ،بلکہ شریعت کی بنیاد وحی الٰہی اور ایسی تعلیمات پر ہے کہ انسان صدیوں کے بعد اس کے اسرار و علل سے آگاہ ہوتا ہے اور اس طرح کی تعلیمات کو قبول کرنے کے لئے شرط یہ ہے کہ لوگ الٰہی رہبر کے اوپر سو فی صد ی اعتماد کرتے ہوں کہ جو کچھ وہ سن رہے ہیں اسے وحی الٰہی اور عین حقیقت تصور کریں ، اور ظاہر ہے کہ یہ حالت ایسے رہبر کے سلسلے میں لوگوں کے دلوں میں ہر گز پیدا نہیں ہو سکتی جس کی زندگی ابتدا سے انتھا تک روشن و درخشاں اور پاک و پاکیزہ نہ ہو۔(۱۷۹)
یہ دو دلیلیں نہ صرف انبیائے کرام کے لئے عصمت کی ضرورت کو ثابت کرتی ہیں ،بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ انبیاء کے جانشینوں کو بھی انبیاء کی طرح معصوم ہونا چاہئے ، کیوں کہ امامت کا منصب اہل سنت کے نظر یہ کے برخلاف کوئی حکومتی اور معمولی منصب نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں امامت کا منصب ایک الٰہی منصب ہے اور امام پیغمبر کے ساتھ (نبوت اور وحی کے علاوہ ) تمام منصبوں میں شریک ہے ۔ امام ،دین کا محافظ و نگھبان اور قرآن کے مجمل مطالب کی تشریح کرنے والا ہے نیز ایسے بہت سے احکام کو بیان کرنے والا ہے جنھیں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) بیان کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے ۔
اس لئے امام مسلمانوں کا حاکم اور ان کی جان و مال و ناموس کا نگھبان بھی ہے اور شریعت کو بیان کرنے والا اور الٰہی معلم و مربی بھی ہے اور ایک مربی کو معصوم ہونا چاہئے ، کیوں کہ اگر اس سے کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گناہ سرزد ہوا تو اس کی تربیت بے اثر ہو جائے گی ۔ اور اس کی گفتار و کردار کی صحت و درستگی پر سے لوگوں کا اعتماد اٹہ جائے گا۔
____________________
۱۷۸۔اس کے علاوہ گناہ کرنے والے اگر جھوٹ نہ بولیں گے تو اس کالازمہ یہ ہوگا کہ وہ سچائی کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور جب لوگ ان کی برائیوں سے آگاہ ہوجائےں گے تو فطری طور سے ان کا وقار اور ان کی عزت خاک میں مل جائے گی اور لوگ ان سے نفرت کرنے لگیں گے۔نتیجہ میں دوبارہ وہی مشکل پیش آئے گی کہ مربی اپنے عملی گناہ کے سبب لوگوں میں اپنی عزت گنوادے گا۔
۱۷۹۔ لوگوں کا اعتماد جزب کرنے کا لازمہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنی زندگی کے تمام ادوار میں چاہے وہ رہبری سے پہلے کی زندگی ہو یا اس کے بعد والی زندگی ہر طرح کے گناہ لغزش اور الودگی سے پاک و پاکیزہ ہو ۔ کیوں کہ یہ بے دھڑک اور سو فی صدی اعتماد اسی وقت ممکن ہے جب اس شخص سے کبھی کوئی گناہ ہوتے ہوئے نہ دیکھا جائے ۔ جو لوگ اپنی زندگی کا کچھ حصہ گناہ اور آلودگی میں بسر کرتے ہیں ،اسکے بعد توبہ کرتے ہیں ،ممکن ہے کہ ایک حد تک لوگوں کا اعتماد جذب کرلیں لیکن سو فی صد ی اعتماد تو بھر حال جذب نہیں کر سکتے ۔
ساتھ ہی اس بات سے یہ نتیجہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے کہ رہبروں کو عمدی گناہ کے ساتھ ساتھ سھو اور بھو ل سے کئے گئے گناہ سے بھی محفوظ ہونا چاہئے ،کیوں کہ عمدی گناہ اعتماد کو سلب کر لیتا ہے اور سھوی گناہ اگر چہ بعض موارد میں اعتماد سلب کرنے کاباعث نہیں ہوتا لیکن انسان کی شخصیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتا اور اس کی شخصیت کو بری طرح مجروح کر دیتا ہے اگر چہ سھوی گناہ کی سزا نہیں ہے اور انسان ،دین و عقل کی نگاہ سے معذور سمجھا جاتا ہے لیکن رائے عامہ پر اس کابرا اثر پڑتا ہے اور لوگ ایسے شخص سے دور ہو جاتے یا میں خاص طور سے اگر گناہ بھول سے کسی کو قتل کرنے کا یا اسی جیسا ہو ۔
پچیسویں فصل
جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا یہ طے ہے کہ اہم اور بڑی ذمہ داریوں کی انجام دھی کے لئے حالات و شرائط بھی سنگین ہوتے ہیں۔ذمہ داری جتنی بڑی اور جتنی سنگین ہوتی ہے ،شرائط بھی اسی لحاظ سے سنگین اور سخت ہوتے ہیں ۔ایک امام جماعت کے شرائط عدالت کے اس قاضی کے برابر نہیں ہیں جس کے اختیار میں لوگوں کی جان و مال ہوتے ہیں۔
نبوت اور امامت عظیم ترین منصب ہے جو خدا کی طرف سے انسانوں کو عطا ہوا ہے ، جو افراد اس منصب پر فائز ہوتے ہیں وہ خدا وند عالم کی طرف سے لوگوں کی جان و مال وناموس پر مکمل تسلط و اختیار رکھتے ہیں اور ان کاارادہ لوگوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر نافذ ہوتا ہے۔قرآن مجید پیغمبر اکرم کے بارے میں فرماتا ہے :( النبی اولیٰ بالمونین من انفسهم ) (۱۸۰) یعنی پیغمبر باایمان لوگوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق رکھتا ہے۔
پیغمبر اسلام (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے حدیث غدیر کے خطبہ میں خود کو اور حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں کی جانوں پر ان سے زیادہ اولیٰ اور صاحب اختیار بتایا ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ حکمت و تدبیر ولا خدا ایسے عظیم اور اہم منصب کی باگڈور ایک غیر معصوم شخص کے ہاتہ میں دےدے( اللّٰه اعلم حیث یجعل رسالته ) "
قرآن کی راہنمائی
پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور صاحبان امر (اولی الامر)(۱۸۱) قرآن کے صاف حکم کے مطابق واجب الاطاعت ہیں اور جس طرح ہم خداکے فرمان کی اطاعت کرتے ہیں یوں ہی ان کے حکم کی اطاعت بھی ہم پر واجب ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : ” اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم“یعنی خدا کی اطاعت کرو ،اس کے رسول کی اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔(۱۸۲)
یہ آیت باکل واضح طور سے صاحبان امر کی بلا قید و شرط اطاعت کا حکم دیتی ہے ۔ اگر یہ افراد سو فی صد ی گناہ و خطا سے محفوظ ہوں گے جب ہی خدا وند عالم کی طرف سے ان کی بلا قید و شرط اطاعت کا واجب کیا جانا صحیح ہوگا ۔ کیوں کہ اگر ہم ان کی عصمت کو تسلیم کرلیں تومعصوم کی بے قید و شرط اطاعت پر کوئی اعتراض نہ ہوگا ،لیکن اگر ہم یہ فرض کرلیں کھ(اولی الامر) یعنی صاحبان امر کا گروہ جن کی اطاعت ہم پر واجب کی گئی ہے ۔ معصوم نہ ہوں بلکہ گناہ گار و خطا کار افراد ہوں تو ایسی صورت میں خدا وند عالم یہ کیسے حکم دے گا کہ ہم ان لوگوں کی بلاقید و شرط پیروی کریں ؟!
لھٰذا اگرہم پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے جانشینوں کے لئے عصمت کو شرط نہ جانیں اور فرض کریں کہ کسی جانشین نے کسی مظلوم کے قتل یا کسی بے گناہ کا مال و جائداد ضبط کئے جانے کا حکم دے دیا اور ہم جانتے ہوں کہ وہ شخص مظلوم یا بے گناہ تھا تو ایسی صورت میں ہمیں قرآن کے حکم کے مطابق اس جانشین کے فرمان پر موبموعمل کرنا ہوگا یعنی اس مظلوم کو قتل یا بے گناہ کا مال ضبط کرنا ہوگا۔
لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ قرآن کریم نے ”اولی الامر “ کی پیروی کو خدا اور رسول کی اطاعت کے ساتھ قرار دیا ہے اور ان تینوں اطاعتوں کو بلا قید و شرط شمار کیا ہے تو اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ” اولی الامر “ رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی ہی طرح گناہ و خطا سے معصوم ہیں ۔ لھٰذا اب ہم یہ کہیں گے کہ کبھی کوئی معصوم ” اولی الامر “ کسی مظلوم کے قتل یا کسی بے گناہ کا مال ضبط کرنے کا حکم نہیں دیتا۔
ایک سوال کا جواب:
ممکن ہے یہ کھا جائے کہ اولی الامر کی اطاعت اسی صورت میں واجب ہے جب وہ شریعت اور خدا و رسول کے صاف حکم کے مطابق عمل کرے ۔ور نہ دوسری صورت میں نہ صرف ان کی اطاعت واجب نہیں ہے بلکہ ان کی مخالفت کرنی چاہئے۔
اس سوال کا جواب واضح ہے ۔کیوں کہ یہ بات اسی وقت عملی ہے جب اول یہ کہ تمام لوگ الٰہی احکام اور فروع دین سے مکمل آگاہی رکھتے ہوں اور حرام و حلال کی تشخیص دے سکتے ہوں ۔ دوسرے یہ کہ اس قدر جرات و شجاعت رکھتے ہوں کہ حاکم کے قھر و غضب سے خوف زدہ نہ ہوں جب ہی یہ ممکن ہے کہ وہ حاکم کا حکم شریعت سے مطابق ہونے کی صورت میں بجالائیں ورنہ دوسری صورت میں اس سے مقابلہ کے لئے اٹہ کھڑے ہوں ۔ لیکن افسوس کہ عام طور سے لوگ الٰہی احکام سے پوری آگاہی نہیں رکھتے کہ ”اولی الامر “ کے فرمان کو تشخیص دے سکیں بلکہ لوگوں کی اکثریت اس بات کی توقع رکھتی ہے کہ" اولی الامر“کے ذریعہ الٰہی احکام سے آگاہ ہوں اسی طرح جو طاقت سب پر مسلط ہے اس کی مخالفت بھی کوئی آسان بات نہیں ہے اور ہر ایک اس کے انجام کو برداشت نہیں کرسکتا ۔
اس کے علاوہ اگر قوم کو ایسے اختیارات حاصل ہو جائیں تو لوگوں کے دلوں میں سر کشی کا جذبہ پیدا ہو گا اور نظام درہم و برہم ہو جائے گا اور ہر شخص کسی نہ کسی بھانہ سے ” اولی الامر “ کی اطاعت سے انکار کرے گا اور قیادت کی مشینری میں خلل پیدا ہو جائے گا ،
یہی وجہ ہے کہ اس آیت کریمہ کی روشنی میں یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ ”اولی الامر “ کا منصب ان لوگوں کے لئے ہے جن کی اطاعت بلا قید و شرط واجب کی گئی ہے اور یہ افراد معصوم شخصیتوں کے علاوہ کوئی اور نہیں ہیں جن کا دامن ہر طرح کے گناہ ،خطا ، یا لغزش سے پاک ہے۔
قرآن کی دوسری راہنمائی
قرآن کریم میں ایک دوسری آیت جو امامت سے متعلق گفتگو کرتی ہے پوری بلاغت کے ساتھ ظلم وستم سے پرہیز کو امامت کے لئے شرط قرار دیتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
( اذ ابتلیٰ ابراهیم ربه بکلمات فاتمهن قال انی جاعلک للناس اماماً قال و من ذریتی قال لا ینال عهد ی الظالمین )
” یعنی جب ابراہیم (ع) کو ان کے پروردگار نے بعض امور کے لئے آزمایا اور وہ تمام امتحانوں میں کامیاب ہوئے تو ان سے ارشاد ہوا کہ میں نے تم کو لوگوں کا پیشوا و امام قرار دیا ۔(جناب ابراہیم (ع)نے) عرض کیا: میری ذریت اور میری اولاد کو بھی یہ منصب نصیب ہوگا تو جواب ملا کہ میراعھد ستم گاروں تک نہیں پھنچے گا“(۱۸۳)
امامت ،نبوت کے مانند الٰہی منصب ہے جو صرف صالح اور شائستہ افراد کو ہی ملتاہے اس آیت میں جناب ابراہیم (ع)نے خدا سے یہ تقاضا کیا کہ میری اولاد کے حصہ میں بھی یہ منصب آئے لیکن فوراً خدا وند عالم کا خطاب ہوا کہ ظالم و ستمگر افراد تک یہ منصب نہیں پھنچے گا۔
مسلّم طور سے اس آیت میں ظالم سے مراد وہ افراد ہیں جو گناہوں سے آلودہ ہیں ، کیوں کہ ہر طرح کا گناہ اپنے آپ پر ایک ظلم اور خدا کی بارگاہ میں نافرمانی کی جسارت ہے ۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ کون سے ظالم لوگ اس آیت کے حکم کے مطابق منصب قیادت و امامت سے محروم ہیں۔ اصولی طور سے جو شخصیتیں لوگوں کی پیشوائی اور حاکمیت کی باگڈور سنبھالتی ہیں وہ چار ہی طرح کی ہوتی ہیں :
۱۔یا وہ زندگی بھر ظالم رہے ہیں چاہے منصب حاصل کرنے سے پہلے یا اس کے بعد ۔
۲۔یاانھوں نے پوری عمر میں کبھی گناہ نہیں کیا۔
۳۔حاکم ہونے سے پہلے ظالم وستمگر تھے لیکن قیادت وپیشوائی حاصل کرنے کے بعد پاک صاف ہوگئے۔
۴۔ یہ تیسری قسم کے برعکس ہے یعنی حکومت ملتے ہی ظلم وستم شروع کردیا اس سے پہلے گناہ نہیں کرتے تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جناب ابراہیم (ع)نے ان چار گروہوں میں سے کس کے لئے اس منصب کی آرزو کی تھی؟یہ تو ہرگز سو چا نہیں جاسکتا کہ جناب ابراہیم (ع) نے پہلے اور جو تھے گروہ کے لئے اس عظیم منصب کی آرزو کی ہوگی ۔کیونکہ جو لوگ حاکمیت کے دوران ظالم وستمگر میں کسی بھی صاحب عقل اور صائب رائے رکھنے والے کی نظر میں اس منصب کے لائق نہیں ہوتے ہیں ،چہ جائیکہ ابراہیم (ع)خلیل کی نگاہ میں۔ جنھوں نے خود کتنے سنگیں امتحانات دینے،ساری زندگی پاکیزگی کے ساتھ بسر کرنے اور گناہ وظلم سے مسلسل لڑنے کے بعد یہ عظیم منصب حاصل کیا ہے وہ ہرگز مذکورہ دوگروہوں کے لئے تمام انسانوں پر امامت کی آرزو نہیں کرسکتے ۔ظاہر ہے کہ جناب ابراہیم (ع)کا مقصود دوسری دو قسم کی شخصیتیں تھیں ۔اس صورت میں جملہ ”لاینال “کی شرط کے ذریعہ تیسرا گروہ بھی نکل جاتاہے اور منصب امامت کے لئے صرف وہی گروہ رہ جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں کیاہے۔
____________________
۱۸۰۔ احزاب /۳۲
۱۸۱۔ یہ وہی صاحبان امر ہیں جو پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے بعد مسلمانوں کے امور کے ذمہ دار ہیں ۔یا کم از کم مصداق ”اولی الامر“ھیں۔
۱۸۲۔ نساء /۵۹
۱۸۳۔ بقرہ /۱۲۴
چھبیسویں فصل
کون سی تعبیر صحیح ہے ”عترتی“ یا”سنتی“
اگر چہ کتاب اپنے اختتام کو پھنچ چکی تھی لیکن یہاں دوموضوع پر گفتگو لازمی وضروری ہے۔
۱۔حدیث ثقلین سے متعلق گفتگوہوتی ہے توبعض اہل سنت لفظ”عترتی“کی جگہ ”سنتی “ استعمال کرتے ہیں اور ”کتاب اللہ وسنتی“کھتے ہیں۔
۲۔اہل سنت حضرات پیغمبر اکرم پر درود بھیجتے وقت ان کی آل کو شامل نہیں کرتے ۔
یہ دو موضوع شیعہ اور اہل سنت دونوں گروہوں کے درمیان اختلاف کاسبب ہیں لھٰذا یہاں ان دونوں موضوعات کاجائزہ لیاجارہاہے۔
۱۔ کون سی تعبیر صحیح ہے :
امامیہ متکلمین جیسے صدوق ،طوسی اور مفید رضوان اللّٰہ علیھم نے بہت سے کلامی مسائل میں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی عترت واہل بیت(ع) کی احادیث سے استدلال کیا ہے اور اس سلسلہ میں حدیث ثقلین کاسھارا لیتے ہیں جب کہ بعض محدثوںنے مذکورہ حدیث کو دوسری شکل میں نقل کیا ہے اور لفظ ”عترتی“کے بجائے ”سنتی “لائے ہیں ۔حدیث ثقلین کے متن میں اس اختلاف کے ہوتے ہوئے اس کے ذریعہ کلامی مسائل میں استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے ؟
وضاحت: امامیہ شیعہ جو اصول وعقائد میں برہان وعقلی دلیل کی پیروی کرتے ہیں ،اہل بیت (ع) کے اقوال و احادیث کوبھی اگر صحیح نقل ہوئی ہوں تواصول وفروع میں حجت جانتے ہیں ۔فرق یہ ہے کہ فروعی وعملی مسائل میں خبر صحیح کو مطلق طور سے حجت جانتے ہیں چاہے وہ خبر واحد کی صورت میں کیوں نہ ہو لیکن اصول وعقائد سے مربوط مسائل میں چونکہ مقصد اعتقاد ویقین پیدا کرنا ہے اور خبر واحد یقین کی حد تک نہیں پہنچاتی لھٰذا صرف اس قطعی خبر کو جس سے یقین وعلم حاصل ہوتا ہو حجت شمار کرتے ہیں ۔اہل بیت (ع)کے اقوال کی حجیت کی ایک دلیل حدیث ثقلین ہے جسے بہت سے اسلامی محدثوں نے قبول کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے ارشاد فرمایاہے:
”انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا “
لیکن چونکہ بعض روایات میں ”عترتی“کے بجائے”سنتی “آیاہے ،اسی لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو روایتوں میں سے کون صحیح ودرست ہے ؟اس لئے کلامی مسائل میں اہل بیت(ع) کی احادیث کے ذریعہ استدلال پر سوالیہ نشان لگ گیاہے ؟جس کے جواب میں علمائے شیعہ کی طرف سے رسالے اور کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں سب سے اہم کتاب ”دار التقریب بین المذاہب الاسلامیة“کی جانب سے قاہرہ مصر میں شائع ہوچکی ہے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے اردن کے ایک اہل سنت عالم ”شیخ حسن بن علی سقاف“نے اس سوال کا جواب دیاہے ،ھم قارئین کرام کی خدمت میں اس کاترجمہ پیش کرتے ہیں اور چونکہ ان کا جواب سوفیصدی تحقیقی ہے لھٰذا اسی پر اکتفاکرتے ہیںآخر میں ایک یاد دھانی شیخ سقاف کی خدمت میں بھی کریں گے۔
سوال:
مجھ سے حدیث ثقلین کے بارے میں سوال کیا گیا اور دریافت کیا گیا ہے کہ ”عترتی واہل بیتی“صحیح ہے یا”کتاب اللّٰہ وسنتی“آپ سے درخواست ہے کہ سند کے اعتبار سے اس حدیث کی وضاحت فرمائیے۔
جواب:
اس متن کو دو بڑے محدثوں نے نقل کیاہے:
۱۔ مسلم نے اپنی صحیح میں جناب زید بن ارقم سے نقل کیاہے ۔وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے ایک روز مکہ اور مدینہ کے در میان ”خُم “نام کی جگہ پر ایک خطبہ ارشاد فرمایااور اس میں خدا کی حمد وثنا اور لوگوں کو نصیحت فرمائی ۔اس کے بعد فرمایا:
”یا ایها الناس!فانما انا بشر یوشک ان یاتی رسول ربی فاجیب وانا تارک فیکم ثقلین :اولهما کتاب اللّه فیه الهدیٰ والنور ،فخذوا بکتاب اللّٰه واستمسکوا به فحثّ علیٰ کتاب اللّٰه ورغّب فیه ثم قال واهل بیتی،اذکّرکم اللّٰه فی اهل بیتی،اذکّرکم اللّه فی اهل بیتی،اذکّرکم اللّه فی اهل بیتی “
اے لوگو !میں انسان ہوں ممکن ہے کہ عنقریب خدا کا فرستادہ میرے پاس آئے اور میں اس کی دعوت پر لبیک کھوں ۔میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ایک اللہ کی کتاب ہے ،جس میں ہدایت و نور ہے ۔پس اللہ کی کتاب کو حاصل کرو اور اس سے تمسک اختیار کرو ،
پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کی تاکید کی اس کے بعد فرمایا: اور میرے اہل بیت (ع)،میں تمھیں اپنے اہلبیت(ع) کے لئے خدا کی یاد دلاتا ہوں (یہ جملہ آپ نے تین بار فرمایا)
اس متن کو مسلم(۱۸۵) نے اپنی صحیح میں اور دارمی نے اپنی سنن(۱۸۶) میں ذکر کیا ہے اور دونوں کی سند آفتاب کی طرح روشن ہے ان سند میں ذرہ برابر بھی خدشہ نہیں ہے۔
۲۔ ترمزی نے بھی اس متن کو ” عترتی اہل بیتی “ کے الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔حدیث کا متن یوں ہے :
”انّی تارک فیکم ما ان تمسکتم به لن تضلوا بعدی ، احدهما اعظم من الاخر کتاب اللّٰه حبل ممدود من السماء الیٰ الارض و عترتی اهل بیتی لن یفترقا حتٰی یردا علیّ الحوض ،فانظر وا کیف تخلفونی فیها “(۱۸۷)
”میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ،جب تک تم اس سے متمسک رہو گے ہر گز گمراہ نہیں ہوگے ان میں سے ایک دوسرے سے بزرگ ہے ۔ اللہ کی کتاب ریسمان رحمت جو آسمان سے زمین کی طرف آویزاں ہے ۔اور میری عترت و اہل بیت (ع)۔یہ دونوں ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آجائیں ۔ اب دیکھو میری ان دونوں میراثوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔
یہ دونوںمتن کہ دونوں میں لفظ ”اہل بیت “ کی تاکید ملتی ہے اس سلسلہ میں جواب کے طور پر کافی ہیں دونوں کی سندوں میں کمال یقین پایا جاتا ہے اور اس میں کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے ۔ دونوں حدیثی متن کے ناقل صحاح و سنن ہیں جو ایک خاص اعتبار رکھتے ہیں ۔
”و سنتی “کے متن کی سند
وہ روایت جس میں ”اہل بیتی “ کے بجائے لفظ ” سنتی“ آیا ہے ۔ جعلی حدیث ہے جو سند کے ضعف کے علاوہ امویوں سے وابستہ افراد کے ہوتھوں گڑھی ہوئی ہے ۔ ذیل میں ہم اس حدیث کی اسناد کا جائزہ لیتے ہیں:
پہلی سند ،حاکم کی روایت :
حاکم نیشاپوری نے اپنی ”مستدرک “ میں حسب ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے-:
۱۔اسماعیل بن ابی اویس
۲۔ابی اویس
۳۔ثور بن زید الدیلمی
۴۔عکرمہ
۵۔ابن عباس کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا-:
”یا ایها الناس انی قدترکت فیکم ان اعتصمتم به فلن تضلوا ابدا کتاب الله و سنة نبیه "(۱۸۸)
اے لوگو!میںنے تمھارے درمیان دو چیزیں ترک کیں جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے ہر گز گمراہ نہ ہوگے ۔ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔
اس متن کی سندکی مشکل اسماعیل بن ابی اویس اور ابو اویس ہیں۔ ان باپ اور بیٹوں کی نہ صرف توثیق نہیں ہوئی ہے بلکہ ان پر جھوٹ اورحدیث گڑھنے کا الزام ہے ۔ اب ان کے بارے میں علمائے رجال کی آرا ء ملاحظہ فرمائیں:
حافظ مزی نے اپنی کتاب ”تھذیب الکمال “ میں اسماعیل اور اس کے باپ کے بارے میں رجال کے محققین کی زبانی یوں نقل کیا ہے:
یحییٰ بن معین ( جو علم رجال کے بڑے عالم ہیں) کہتے ہیں ۔ابو اویس اور اس کا بیٹا ضعیف ہیں ، یحییٰ بن معین سے یہ بھی نقل ہے کہ یہ دونوں حدیث چراتے ہیں ۔ ابن معین نے اس کے بارے میں یہ بھی کھا ہے کہ : اس کی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
نسائی نے بیٹے کے بارے میں کھا ہے کہ : وہ ضعیف ہے اور ثقہ نہیں ہے ۔ ابو القاسم لالکائی نے کھا ہے کہ نسائی نے اس کے خلاف بہت کچھ کھا ہے ۔ یہاں تک کہ اس نے کھا ہے : اس کی حدیث کو ترک کر دینا چاہئے ۔
رجال کے ایک عالم ابن عدی نے کھا ہے : ابن ابی اویس نے اپنے ماموں مالک سے مجھول حدیثیں نقل کی ہیں جنھیں کوئی قبول نہیں کرتا۔(۱۸۹)
ابن حجرنے فتح الباری کے مقدمہ میں لکھا ہے : ابن ابی اویس کی حدیث کے ذریعہ ہر گز استدلال نہیں کیا جا سکتا ۔ کیوں کہ نسائی نے اس کی مذمت کی ہے۔(۱۹۰)
حافظ سید احمدبن الصدیق نے کتاب ” فتح الملک العلّی “ میں سلمہ بن شبیب سے نقل کیا ہے کہ اس نے اسماعیل بن ابی اویس کو کہتے ہوئے سنا ہے : جب اہل مدینہ کسی موضوع کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں تو میں حدیث گڑھتا ہوں۔(۱۹۱)
لھٰذا بیٹا (اسماعیل بن ابی اویس)وہ ہے جس پرحدیث گڑھنے کا الزام ہے اور ابن معین اسے جھوٹا کہتے ہیں مزید یہ کہ اس کی حدیث کسی بھی کتب صحاح میں نقل نہیں ہوئی ہے ۔
اور باپ کے بارے میںیہی کھنا کافی ہے کہ ابو حاتم رازی نے کتاب ” جرح و تعدیل “ میں لکھا ہے : اس کی حدیث لکھی جاتی ہے لیکن اس کے ذریعہ احتجاج و استدلال نہیں کیا جاتا۔ اور اس کی حدیث قوی و محکم نہیں ہے ۔(۱۹۲)
نیز ابو حاتم نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ ابو اویس قابل اعتماد نہیں ہے۔
جو روایت ان دونوں کی سند کے ذریعہ بیان ہو ہر گز صحیح نہیں ہوگی ۔جب کہ یہ روایت صحیح و ثابت روایت کے مخالف و مقابل ہے۔
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ حدیث کے ناقل یعنی حاکم نیشا پوری نے اس حدیث کے ضعیف ہونے کا اعتراف کیا ہے لھٰذا اس کی سند کی تصحیح نہیں کی ہے لیکن اس کے مفاد کی صحت پر گواہ لے آئے ہیں کہ وہ بھی سند کے اعتبار سے سست اور اعتبار کے درجہ سے ساقط ہے ۔ اس لئے حدیث کی تقویت کے بجائے اس کے ضعف میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
وسنتی کی دوسری سند
حاکم نیشاپوری نے ابو ہریرہ سے بطور مرفوع(۱۹۳) نقل کیا ہے:
”انّی قد ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدهما:کتاب الله وسنتی ولن یفترقا حتٰی یردا علیّ الحوض “(۱۹۴)
اس متن کو حاکم نے اس سند کے ذریعہ نقل کیاہے:
۱۔الضبی،از
۲۔صالح بن موسیٰ الطلحی،از
۳۔عبد العزیزبن رفیع از
۴۔ابی صالح ،از
۵۔ابی ہریرہ.
یہ حدیث پہلی حدیث کی طرح جعلی ہے۔اور اس کی سند کے در میان صالح بن موسیٰ الطلحی پر انگلی رکھی جاسکتی ہے۔اب ہم اس کے بارے میں علمائے علم رجال کے نظریات نقل کرتے ہیں:
یحییٰ بن معین کابیان ہے کہ صالح بن موسیٰ قابل اعتماد نہیں ہے۔ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ اس کی حدیث ضعیف اور منکر ہے۔وہ بہت سی منکر حدیثوں کو ثقہ افراد کے نام سے نقل کرتاہے ۔نسائی کابیان ہے کہ اس کی حدیث لکھی نہیں جاتی اور دوسری جگہ کہتے ہیں :اس کی حدیث متروک ہے۔(۱۹۵)
ابن حجر ”تھذیب التھذیب “میں لکھتے ہیں کہ ابن حبان نے کھاہے :صالح بن موسیٰ ،ثقہ افراد سے ایسی چیزیں منصوب کرتاہے جو ان کی باتیں نہیں لگتیں۔اور آخر میں ابن حجر نے لکھا ہے کہ : اس کی حدیث حجت نہیں ہے ،اور ابو نعیم کہتے ہیں کہ"اس کی حدیث متروک ہے وہ ہمیشہ منکر حدیث نقل کرتاہے۔(۱۹۶)
متروک ہے اور ذہبی،کتاب ”کاشف “(۱۹۸) ۱# میں لکھتے ہیں :اس کی حدیث سست ایک دوسری جگہ ابن حجر کتاب تقریب(۱۹۷) میں لکھتے ہیں :اس کی حدیث ہے۔آخرمیں ذہبی نے”میزان الاعتدال“(۱۹۹) ۲# میں مذکورہ بالا حدیث کو نقل کرتے ہوئے لکھاہے کہ اس کی حدیثیں منکر ہوتی ہیں۔
حدیث ”وسنتی “کی تیسری سند:
ابن عبد البر نے کتاب ”تمھید“(۲۰۰) ۳# میں اس متن کو حسب ذیل سند کے ساتھ ذکر کیاہے :
۱۔عبد الرحمان بن یحییٰ ۔از
۲۔احمد بن سعید۔از
۳۔محمد بن ابراہیم الدبیلی۔از
۴۔علی بن زید الفرائضی۔از
۵۔الحنینی۔از
۶۔کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ۔از
۷۔اس کے باپ نے اس کے داداسے
ھم ان راویوں کے در میان کثیر بن عبد اللہ پر انگلی رکھتے ہیں۔امام شافعی لکھتے ہیں :وہ جھوٹ کے ارکان میں سے ایک ہے۔(۲۰۱) ۴# ابو داود کابیان ہے:وہ کذابوں اور بڑے جھوٹوں میں سے ہے(۲۰۲) ۵# ابن حیان کہتے ہیں :عبداللہ بن کثیرنے اپنے باپ اور دادا سے حدیث کی کتاب نقل کی ہے جس کی بنیاد جعلی حدیثوں پر ہے کہ اس کتاب سے نقل کرنااور عبداللہ سے روایت کرنا حرام ہے اور فقط تعجیب وتنقید کے لئے اس کی روایت نقل کی جاسکتی ہے۔(۲۰۳) ۶#
۴۔ کاشف ،ذہبی،ترجمہ نمبر۲۴۱۲
۵۔میزان الاعتدال،ذہبی،ج/۲،ص ۳۰۲
۳۔ التمھید:ج/۲۴،ص۳۳۱
۴۔۵۔ تھذیب التھذیب ،ابن حجر ،ج/۱ص/۳۷۷،طبع دارالفکر۔تھذیب الکمال:ج/۲۴،ص۱۳۸
۶۔المجروحین از ابن حبان،ج/۲،ص۲۲۱
نسائی اور دار قطنی کہتے ہیں :اس کی حدیث متروک ہے۔امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ :وہ منکر الحدیث ہے اور قابل اعتماد نہیں ہے۔ابن معین نے بھی یہی بات اس کے بارے میں کھی ہے۔
ابن حجر کے اوپر تعجب ہے کہ انھوں نے کتاب ”التقریب“ میں اس کے حالات بیان کرتے ہوئے اسے صرف ضعیف لکھا ہے اور جن لوگوں نے اسے جھوٹا کھاہے انھیں افراطی کھاہے،جبکہ علم رجال کے پیشواوں نے اسے جھوٹا اور جعل ساز قرار دیا ہے یہاں تک کہ ذہبی کہتے ہیں کہ :اس کی باتیں فضول وضعیف وبیکار ہیں۔
بغیر سند کی روایت
امام مالک نے کتاب ”الموطّا“میں اس روایت کو سند کے بغیر بطور مرسل نقل کیاہے۔اور سب جانتے ہیں کہ ایسی حدیث کوئی اہمیت نھیںرکھتی۔(۲۰۴)
مذکورہ بالا باتیں پوری طرح سے یہ بات ثابت کرتی ہےںکہ ”وسنتی“والی حدیث جھوٹے اور اموی دربار سے وابستہ راویوں کی جعلی اور گڑھی ہوئی حدیث ہے جو انھوں نے حدیث صحیح کے مقابلہ میں گڑھی ہے ۔لھٰذامسجدوں کے اماموں ،خطیبوں اور اہل منبرحضرات پر واجب ہے کہ جو حدیث حضرت رسول اکرم سے وارد نہیں ہوئی ہے اسے ترک کردیں اور اس کے بجائے لوگوں کوصحیح حدیث سے آگاہ کریں ۔جس حدیث کو مسلم نے”اہل بیتی“کے ساتھ اور ترمذی نے ”عترتی واہل بیتی“کے ساتھ نقل کیاہے اسے بیان کریں ۔طالب علموں پر لازم ہے کہ علم حدیث کی طرف توجہ کریں اور صحیح وضعیف حدیث میں فرق کو سمجھیں۔
آخر میں ،میں یہ یاد دھانی کرانا چاہتاہوں کہ لفظ”اہل بیتی“میں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی ذریت مثلاً حضرت فاطمہ وحسن وحسین علیھم السلام بھی داخل ہیں،کیونکہ مسلم نے اپنی صحیح(۲۰۵) میں اور ترمذی نے اپنی سنن(۲۰۶) میں خودام المومنین عایشہ سے نقل کیا ہے کہ"
”نزلت هذه الآیةعلی النبی ( صل الله علیه و آله وسلم ) ”انما یریداللّٰه لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا“فی بیت ام سلمة،فدعاالبنی فاطمة وحسناً وحسیناًفجللهم بکساء وعلی خلف ظهره فجلله بکساء ثم قال:اللّٰهم هٰولاء اهل بیتی فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهیراً،قالت ام سلمة وانا معهم یا نبی اللّٰه؟قال انت علی مکانک وانت الی الخیر “
آیت”انّما یریداللّٰہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطھرکم تطھیرا“جناب ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فاطمہ،حسن وحسین علیھم السلام کو کسا ء کے نیچے لے لیا۔حضرت علی (ع)آپ کی پشت پر کھڑے تھے آنحضرت نے ان پر بھی اپنی عبا اڑھائی اور فرمایا:پالنے والے !یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے ہر طرح کی برائیوں کو دور فرما اور انھیں ایسا پاک قرار دے جو پاک کرنے کا حق ہے ۔ اس وقت جناب ام سلمہ نے کھا : اے رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا-:تم اپنی جگہ پر رہو(یعنی چادر کے نیچے نہ آؤ) تم راہ خیر پر ہو۔(۲۰۷)
یہ تو تھا اہل سنت کے عالم دین شیخ حسن بن علی سقاف کا برادران اہل سنت کو جواب ۔لیکن یہاں خود شیخ سقاف کے بیان کردہ ایک مسئلہ کو صاف کرنا چاہتا ہوں ۔انھوں نے آیت تطھیر میں ازواج پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے شامل ہونے کو تو مسلم بتایا ہے اور آیت کے مفاد کو وسیع کرکے اس میں پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی بیٹی اور ان کے دو صاحب زادوں کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جب کہ خود جناب ام سلمہ کی روایت جسے صحیح مسلم اور سنن ترمذی نے نقل کیا ہے ان کے نظریہ کے خلاف گواہی دے رہی ہے ۔ اگر اہل بیت کے علاوہ ازواج پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) آیت تطھیر میں داخل ہوتیں تو جناب ام سلمہ کو کساء میں داخل ہونے سے روکا نہ جاتا اور یہ نہ کھا جاتا ”انت علٰی مکانک“ یعنی تم اپنی جگہ پر رہو ۔ اور تم خیر پر ہو!!
اس کے علاوہ جو شخص بھی ازواج پیغمبر (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سلسلہ میں قرآن کی آیات کا مطالعہ کرے گا اسے واضح طور سے یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ ان کے بارے میں آیات کی زبان تنبیہ و شرزنش والی ہے ۔ ایسے افراد آیت تطھیر کے مصداق اور رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی دعا میں شامل نہیں ہوسکتے ۔ اس کی تفصیل ” تفسیر منشور جاوید “(۲۰۸) میں ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔پیغمبر پر صلوات کیسے بھیجیں
شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ جب پیغمبر پر صلوات بھیجتے ہیں تو اس میں ان کی آل کو شامل نہیں کرتے اور وہ ” صلی اللہ علیہ وسلم“ کہتے ہیں ۔ جب کہ شیعہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر صلوات بھیجتے وقت ان کی آل (ع)کو بھی شامل کرتے ہیں اور آل کو ان پر عطف کرتے ہوئے کہتے ہیں ”صلی اللہ علیہ و آلہ"۔اب سوال یہ ہے کہ ان دو صورتوں میں سے کون سی صورت صحیح ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معصوم رہبروں یعنی ائمہ علیھم السلام نے دوسری صورت کو صحیح جانا ہے اور ہمیشہ آنحضرت کے ساتھ ان کی آل (ع)کو بھی شامل کرتے ہیں ۔اب ذرادیکھیں کہ اہل سنت کی روایات میں صلوات کی کیفیت کیا ہے ۔ اور ان کی روایتیں ان دونوں صورتوں میں سے کس کی تصدیق کرتی ہیں۔
پھلے ہم اس سوال کا مختصرجواب دے چکے ہیںاب یہاں روایت نقل کرتے ہیں :
”جب آیت( ان الله و ملائکة یصلون علی النبی یا ایها الذین آمنوا صلوا علیه و سلّموا تسلماً ) سورہ احزاب /۵۶“ نازل ہوئی تو اصحاب نے آنحضرت سے دریافت کیا کہ آپ پر کس طرح صلوات بھیجیں؟ آنحضرت نے فرمایا: ”لا تصلوا علی الصلاة البتراء “ مجھ پر ناقص صلوات مت بھیجو۔ لوگوں نے پوچھا کیسے بھیجیں ؟ فرمایا: کھو ( اللّٰھم صلی علی محمد وآل محمد )(۲۰۹)
درود بھیجنے کے اعتبار سے آل محمدکی حیثیت ایسی ہے کہ اہل سنت کے بعض فقھی مذاہب آل محمد پر پیغمبر کے ساتھ صلوات بھیجنے کو لازم و واجب جانتے ہیں۔امام شافعی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :
يااهل بیت رسول الله حبکم
فرض من الله فی القرآن انزله
کفاکم فی عظیم القدر انکم
من لم یصل علیکم لاصلاة له( ۲۱۰)
اے رسول خدا کے اہل بیت (ع)آپ کی محبت ایسافریضہ ہے جو قرآن میں نازل کیا گیاہے آپ کی عظمت وجلالت کےلئے اتنا ہی کافی ہے کہ جو شخص آپ پر صلوات نہ بھیجے اس کی نماز ہی نہیں ہے۔
شعری ترجمہ
اے اہل بیت(ع) آپ کی الفت خدا گواہ ہے
فرض ہر بشر پہ خدا کی کتاب میں
رفعت یہ ہے کہ جو نہ پڑھے آپ پر درود
اس کی نماز ہی نہیں حق کی جناب میں
(ازمترجم)
صحیح بخاری اہل سنت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد سب سے معتبر اور صحیح کتاب مانی جاتی ہے۔اب ہم سورہ احزاب کی تفسیر کے ذیل میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرتے ہیں:
عبدالرحمان ابن ابی لیلی نقل کرتے ہیں کہ"کعب بن معجرہ نے مجھ سے ملاقات کی اور کھا:کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں ایک حدیث تمھیں تحفہ کے طورپر پیش کروں ،وہ حدیث یہ ہے کہ ایک روز پیغمبر اکرم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے۔ھم نے عرض کی:یارسول خدا!ھم نے آپ پر سلام کرنے کی کیفیت قرآن سے سیکہ لی اب بتائیے کہ آپ پر صلوات کیسے بھیجیں؟آنحضرت نے فرمایا:”اللّٰهم صل علیٰ محمد وآل محمد کماصلیت علیٰ ابراهیم وآل ابراهیم انک حمید مجید “(۲۱۱)
لھٰذا اسلامی ادب اور پیغمبر اسلام کے حکم کی تعمیل کاتقاضا ہے کہ ہم آنحضرت پر ناقص اور دم بریدہ صلوات نہ بھیجیں نیز آنحضرت اور ان کی آل پاک (ع)میں جدائی نہ پیداکریں۔
تمام شد
بحمدالله والمنة وصلی الله علی سیدنا محمد وآله الطاهرین خیر الائمة
۱۱/ذیقعدہ ۲۴۲۴ء ہ بروز میلاد حضرت امام رضا-
____________________
۱۸۵۔ صحیح مسلم ،ج/۴/۳،۱۸ نمبر ۲۴۰۸ چاپ عبد الباقی
۱۸۶۔سنن دارمی ،ج/۲ص/۴۳۱۔۴۳۲
۱۸۷۔ سنن ترمذی ،ج/۵ ص/۶۶۳ نمبر ۳۷۷۸۸
۱۸۸۔ المستدرک ،حاکم ،ج/۱ص/۹۳
۱۸۹۔ حافظ مزی ،تھذیب الکمال ،ج/۳ص/۱۲۷
۱۹۰۔ ابن حجر عسقلانی مقدمہ فتح الباری ،ص/۳۹۱طبع دار المعرفھ
۱۹۱۔ حافظ سید احمد ، فتح الملک العلی ص/۱۵
۱۹۲۔ ابو حاتم رازی ، الجرح و التعدیل ج/۵ص/۹۲
۱۹۳۔ وہ حدیث جسے راوی معصوم سے نسبت نہ دے
۱۹۴۔ حاکم،مستدرک ج/۱ ، ص۹۳
۱۹۵۔ حافظ مزی، تھذیب الکمال،ج/۱۳،ص ۹۶
۱۹۶۔ تھذیب التھذیب،ابن حجر،ج/۴،ص۳۵۵
۱۹۷۔ تقریب،ابن حجر،ترجمہ نمبر ۲۸۹۱
۲۰۴۔ الموطّا،امام مالک ،ص۸۸۹،حدیث نمبر۳
۲۰۵۔ صحیح مسلم ،ج/۴ ص۱۸۸۳ نمبر ۲۴۲۴
۲۰۶۔ترمذی ج/۵ ص۶۶۳
۲۰۷۔ صحیح صفة صلاة النبی از حسن بن علی السقاف کے ص/۲۸۹تا ص/۲۹۴ سے ماخوذ
۲۰۸۔ منشور جاوید،ج/۵ص/۲۹۴
۲۰۹۔ صواعق محرقہ ، چاپ دوم مکتبہ ” القاہرہ" مصر باب /۱۱ فصل اول ص/۱۴۶
ایسی ہی روایت سیوطی کی کتاب ”الدر المنثور“ج/ ۵ سورہ احزاب کی آیت نمبر ۵۶ کے ذیل میں وارد ہوئی ہے جسے سیوطی نے ”المصنف“کے مولف عبد الرزاق ،ابن ابی شیبہ ،احمد بن حنبل ،امام نجارومسلم ،ابوداود،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ اور ابن مردویہ سے نقل کیاہے۔
۲۱۰۔ صواعق محرقہ،باب/۱۱ ص ۱۴۸ ،اتحاف بشراوی ص۲۹ وغیرہ
۲۱۱۔صحیح بخاری،کتاب تفسیر جزء ۶ ص/۲۱۷ سورہ احزاب
فہرست
عرض ناشر ۴
مقدمہ ۶
اس کتاب کی تحریر کامقصد ۶
اسلامی معارف و احکام میں قیادت و مرجعیت: ۸
پہلی فصل ۱۰
امام کی شناخت کا فلسفہ ۱۰
دوسری فصل ۱۴
امامت کے سلسلہ میں دو نظر یئے ۱۴
الف۔ علمائے اہل سنت کا نظریہ -: ۱۴
ب۔ شیعہ علماء کا نظریہ : ۱۶
تیسری فصل ۱۸
شیعہ نظریہ کی صحت کی دلیلیں ۱۸
پیش آنے والے نئے مسائل : ۱۸
تکمیل دین کی دوسری نوعیت ۱۹
خلفاء امت کی لا علمی ۲۱
چوتھی فصل ۲۴
پیغمبر امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں ۲۴
نبوت و امامت باہم ہیں ۲۵
پانچویں فصل ۲۷
اسلامی قوانین اور کتاب خدامعصوم کی تفسیر سے بے نیاز نھیں ۲۷
قرآن کی تفسیر میں اختلاف ۲۸
ہشام ابن حکم ۳۰
چھٹی فصل ۳۳
خطرناک مثلث ۳۳
اسلام کے تین دشمن ۳۳
پھلا دشمن : ۳۳
باقی دو دشمن ۳۵
ساتویں فصل ۳۷
روحی و معنوی کمال معصوم امام کے سایہ میں ۳۷
آٹھویں فصل ۳۹
کیا شیعوں کا نظریہ امامت آزادی کے خلاف ہے ۳۹
الف) ۔امام کا منصوب کیا جانا استبداد نھیں ۴۰
(ب )۔ جمھوری حکومتوں کی کمزوریاں ۴۱
(ج)۔ کیا صدر اسلام میں خلیفہ کا انتخاب اکثریت نے کیا؟ ۴۴
نویں فصل ۴۷
اسلام میں مشورہ ۴۷
دسویں فصل ۵۲
یکطرفہ فیصلہ نہ کریں ۵۲
امام(ع) کے خط کا متن : ۵۲
یک طرفہ فیصلہ نہ کریں ! ۵۴
گیارہویں فصل ۵۶
سقیفہ بنی ساعدہ کی غم انگیر داستان ۵۶
پیغمبرکی تشویش کہیں امت جاہلیت کی طرف پلٹ نہ جائے ! ۵۶
اہل سقیفہ کی منطق ۵۸
تاریخی المیہ ! ۵۸
بارہویں فصل ۶۴
انصار اور مھاجرین کی منطق کیا تھی؟ ۶۴
اصحاب سقیفہ کی منطق پر امیر المؤمنین کا تجزیہ ۶۷
امیر المؤمنین کی خلافت کےلئے خود شائستہ ہونے کی منطق ۶۷
تیرہویں فصل ۷۰
نماز کی امامت ، خلافت کےلئے دلیل نھیں! ۷۰
نماز میں حضرت ابو بکر کی جانشینی ۷۱
گناہ اور خطا سے مبرّا ہونا ۷۲
چودھویں فصل ۷۵
حکومت ،روحانی قیادت سے جدا نھیں ۷۵
بیان احکام اور لوگوں کی رہنمائی ۷۷
دو منصبوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا صحیح نہیں ۷۹
عیسائی تفکر ۸۱
پندرہویں فصل ۸۴
اسلامی احکام سے خلفاء کا ناآشنا ہونا ۸۴
خلیفہ اول کی لاعلمی کے چند نمونے ۸۶
خلیفہ دوم کی معلومات کا معیار ۸۷
خلیفہ سوم کے معلومات کا معیار ۸۹
سولھویں فصل ۹۱
پیغمبر کے صحابی ، گناہ و خطا سے معصوم نھیں ۹۱
حق و باطل پہچاننے کا راستہ ۹۳
سترہویں فصل ۱۰۰
حضرت علی(ع)کی پیشوائی کے نقلی دلائل ۱۰۰
۱۔ حدیث منزلت ۱۰۱
ایک سوال کا جواب : ۱۰۴
اٹھارہویں فصل ۱۰۸
حدیث غدیر (پھلا حصہ) ۱۰۸
۱۔ تھمت کا حربہ ۱۰۸
۲۔ آپ کے پیروؤں کو آزار پہچانا ۱۰۸
۳۔ عرب کے بڑے داستان گو کو دعوت ۱۰۹
۴۔ قرآن مجید سننے پر پابندی ۱۰۹
۵۔اقتصادی پابندی ۱۰۹
۶۔ پیغمبر اکرم کو قتل کرنے کی سازش ۱۱۰
۷۔ خونین جنگیں ۱۱۰
۸۔پیغمبر اسلام کی وفات ۱۱۰
انیسویں فصل ۱۱۶
حدیث غدیر(دوسراحصہ) ۱۱۶
غدیر کا تاریخی واقعہ ایک ابدی حقیقت ۱۱۶
غدیر کا واقعہ لافانی و جاویدانی ہے ۱۱۸
واقعہ کی لافانیت کے دیگر دلائل ۱۱۹
بیسویں فصل ۱۲۲
حدیث غدیر(تیسرا حصہ) ۱۲۲
غدیر کے با شکوہ اجتماع کا مقصد ؟ ۱۲۲
اکیسویں فصل ۱۲۹
دو سوالوں کے جواب ۱۲۹
دو سوال ۱۲۹
پھلے سوال کا جواب : ۱۲۹
دوسرے سوال کاجواب: ۱۳۲
بائیسویں فصل ۱۳۷
حدیث”ثقلین “اورحدیث ” سفینہ"قرآن و عترت کا باہم اٹوٹ رشتہ ۱۳۷
حدیث ثقلین کا مفاد ۱۳۸
امیر المومنین (ع)کا حدیث ثقلین سے استدلال ۱۳۹
ایک نکتہ کی یاد دھانی ۱۳۹
عترت پیغمبر سفینہ نوح کے مانند ۱۴۰
حدیث سفینہ کا مفاد ۱۴۱
تیئیسویں فصل ۱۴۳
ایک شخص کا معصوم ہونا کیسے ممکن ہے ۱۴۳
عصمت کیا ہے؟ ۱۴۳
چوبیسویں فصل ۱۴۷
رہبران الٰہی کے لئے عصمت کی دلیلیں ۱۴۷
۱۔تربیت عمل کے سایہ میں : ۱۴۷
۲۔اعتماد جذب کرنا: ۱۴۸
پچیسویں فصل ۱۵۱
قرآن کی راہنمائی ۱۵۱
ایک سوال کا جواب: ۱۵۲
قرآن کی دوسری راہنمائی ۱۵۳
چھبیسویں فصل ۱۵۵
کون سی تعبیر صحیح ہے ”عترتی“ یا”سنتی“ ۱۵۵
۱۔ کون سی تعبیر صحیح ہے : ۱۵۵
سوال: ۱۵۶
جواب: ۱۵۶
”و سنتی “کے متن کی سند ۱۵۷
پہلی سند ،حاکم کی روایت : ۱۵۷
وسنتی کی دوسری سند ۱۵۹
حدیث ”وسنتی “کی تیسری سند: ۱۶۰
بغیر سند کی روایت ۱۶۱
۲۔پیغمبر پر صلوات کیسے بھیجیں ۱۶۲