یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
كتاب:قیامت
مؤلف:علی موسیٰ الکعبی
مقدمہ ناشر
بسم الله الرحمن الرحیم
قیامت ،اصول دین کی پانچویں اصل ھے جوہر مسلمان کی زندگی کا بنیادی ضابطہ اور قانون ھے، کیونکہ ہر مسلمان کو یہ بات معلوم ھے کہ وہ جو کچھ بھی اس دنیا میں انجام دیتا ھے اس کی جزا یا سزا روز قیامت ضرور ملے گی۔
چنانچہ جب ھم قرآن کریم کی تلاوت کرتے ھیں تو دیکھتے ھیں کہ خداوندعالم نے تقریباً دوہزار آیتوںکے ضمن میں بالواسطہ یابلاواسطہقیامت کا ذکر کیا ھے، لہٰذا خداوندمتعال کا ان تمام آیات کے ذکر کرنے کا مقصد کیا ھوسکتا ھے؟ جبکہ اس کا قول و فعل حکمت سے خالی نھیں ھوتا! تو فوراً ھی اس کا جواب آئے گا کہ چونکہ خداوندعالم ”ارحم الراحمین“ ھے، اور وہ اس دن اور اس میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں خبررکھتا ھے، اسی وجہ سے اس دن کا نام”کلیجہ منھ کو آنے والا دن“ اور ”آنکھیں چکاچوند کرنے والادن“ رکھا ھے، پس خداوندعالم اس کے ذریعہ انسان سے چاہتا یہ ھے کہ اس روز (قیامت) پر ایمان رکھے اور خود کو اس دن کے لئے آمادہ کرے۔کیونکہ ”جاویدانی زندگی “اسی دن سے شروع ھوتی ھے، لہٰذا خوش نصیب ھے وہ انسان جس نے اس دن کے لئے آمادگی کررکھی ھے، کیونکہ جس شخص نے اس دن کے لئے آمادگی کی ھوگی وہ اس دن میں کامیاب ھوگا، اور جس نے اس دن کے لئے آمادگی نھیں کی اس کے بارے میں نہ پوچھئے (العیاذ باللہ) وہ تو بڑے گھاٹے میں رھے گا۔
بالتحقیق قرآن کریم نے قیامت کو ثابت کرنے کے لئے (متعدد مقامات پر) عقلی اور منطقی دلائل و براھین پیش کئے ھیں، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَتَرَی الْاٴَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا اٴَنزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاٴَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَهِیجٍ ذَلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ هُوَ الْحَقُّ وَاٴَنَّهُ یُحْیِ الْمَوْتَی وَاٴَنَّهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ( ۱ )
”اور جب تم زمین کو مردہ دیکھتے ھو پھر جب ھم پانی برسادیں گے تو وہ لہلہانے لگتی ھے اور ابھرنے لگتی ھے اور ہر طرح کی خوبصورت چیز اگانے لگتی ھے۔یہ اس لئے ھے کہ وہ اللہ خدائے برحق ھے، اور وھی مردوں کو زندہ کرتا ھے اور وھی ہر شئے پر قدرت رکھنے والا ھے“۔
یہ مردہ زمین زندہ ھوگی لیکن خداوندعالم خاص سبب یا خاص قانون کے تحت اس کو زندہ کرے گا اور وہ ھے پانی کا برسنا ،جس سے زمین میں دوبارہ جان آجائے گی اور اس کی حیات واپس مل جائے گی، واضح رھے کہ مردہ زمین اور مردہ انسان میں کوئی فرق نھیں ھے، پس جس طرح زمین پانی برسنے سے زندہ ھوجائے گی اسی طرح انسان بھی ایک صور پھونکنے سے زندہ ھوجائیں گے:
( فَإِذَا هُمْ قَیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ) ( ۲ )
پس قیامت کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات بیان ھوئی ھیں جن سے خداوندعالم کا مقصد یہ ھے کہ انسان اس روز پر ایمان لے آئے اور اس عظیم (اور سخت) دن کے لئے ھمہ وقت تیاررھے۔
قارئین کرام! کتاب ہذامیں ضرورت قیامت اور اس کے اثبات پر بہت سے دلائل اور براھین بیان کئے گئے ھیں، موسسہ امام علی علیہ السلام اس کتاب کا ترجمہ اس لئے پیش کرتا ھے کہ دینی برادران کی کچھ خدمت ھوسکے اور اس کے ذریعہ مومنین کرام میں بیداری پیدا ھوجائے اور روزقیامت پر مستحکم ایمان رکھیں، اور اس عظیم (اور سخت) دن کے لئے ھمیشہ تیار رھیں، آخر میں خداوندعالم کی بارگاہ میں دعا ھے کہ خداوندعالم ھم کو مزید توفیق سے نوازتے ھوئے اس ناچیز خدمت کو قبول فرمائے اور ھمیں سیدھے راستے پر قائم رکھے۔(آمین یا رب العالمین، بحق محمد و آلہ الطاہرین )
شیخ ضیاء جواہری
مدیر موسسہ امام علی علیہ السلام
۱۱ ذی قعدة الحرام ۱۴۲۵ ھ
____________________
(۱) سورہ حج آیت ۵،۶۔
(۲) سورہ زمر آیت ۶۸۔
عرض مولف
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله ربّ العالمین واٴفضل الصلاة و اٴتم التسلیم علی خیرالاٴنام محمد المصطفیٰ وآله الهداة المعصومین الکرام، امابعد :
قرآن کریم اور احادیث معصومین علیھم السلام میں روز قیامت پر عقیدہ رکھنا اسلام کے اھم اصول اوربنیادی ارکان میں شمار کیا گیا ھے،اس کے علاوہ عقل سلیم روز قیامت اور اُخروی زندگی کے بارے میں دلالت کرتی ھے۔
اسی وجہ سے تمام آسمانی ادیان نے اس بنیادی اصل پر اتفاق کیا ھے، اور اس سلسلہ میں انبیاء اور مرسلین (علیھم السلام )نے اپنی اپنی قوموں میں اس عقیدہ کو راسخ کرنے کے لئے بہت زحمتیں اٹھائی ھیں،اور انھوں نے بڑے بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا ھے۔
زمین و آسمانی مخلوقات میں غور و فکر اور اسی طرح اس مرتب و منظم کائنات میں غور و فکر کرنے سے ان کے بنانے والے خدا کی عظیم قدرت کے ایمان پر اضافہ ھوتا ھے، اور اُخروی زندگی کے ایمان میں تازگی پیدا ھوتی ھے، جیسا کہ خداوندعالم نے ھمیں عدم سے وجود بخشا، کیونکہ جو کوئی شروع میں کوئی چیز بناسکتا ھے تو اس کو دوبارہ بنانے پر زیادہ قدرت رکھتا ھے:
( اٴَوَلَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللهَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَی اٴَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی ) ( ۱ )
”کیا ان لوگوں نے یہ نھیں غور کیا کہ جس خدا نے سارے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اور ا ن کے پیدا کرنے سے ذرا بھی تھکا نھیں وہ اس بات پر (بھی) قادر ھے کہ مردوں کو زندہ کرے گا“۔
اس سلسلہ میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”عجبت لمن انکر النشاة الاخرة ،وهو یری النشاة الاولیٰ ۔“( ۲ )
”واقعاً اس شخص پر تعجب ھے جو اُخروی زندگی کا انکار کرے جبکہ وہ اس دنیاوی زندگی کو دیکھ رھاھو!“
اس بنا پر موت ھمارا انتظار کررھی ھے جیسا کہ ھم سے پہلے لوگ بھی اس دنیا میں نھیں رھے، لیکن یہ موت عدم ،فنا اور انسان کا قصہ تمام ھونے کے معنی میں نھیں ھے ، وہ انسان جو خلیفة اللہ ھے، اور خداوندوحدہ لاشریک کی اطاعت و بندگی پر مامور کیا گیا ھے تاکہ اس دنیا میں نیکی اور خیر کے راستہ پر چلے، یھی نھیں ، بلکہ اسلامی عقیدہ کے مطابق یہ دنیا ھی عالم
آخرت کا مقدمہ ھے ،وہ عالم آخرت جہاں پر انسان کو ھمیشہ ھمیشہ کے لئے باقی رہنا ھے، چاھے جنت میں رھے یا دوزخ میں، کیونکہ انسان وہاں پر اپنے اعمال کا گروی ھوگا(جیسے اعمال اس دنیا میں انجام دے گا اس کو ویسی ھی جزا یا سزا دی جائے گی)چنانچہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَهِینَةٌ ) ( ۳ )
”ہر شخص اپنے اعمال کے بد لے گرو ھے“۔
پسیا تو انسان ھمیشہ ھمیشہ کے لئے جنت میں رھے گا، یا دوزخ کے عذاب میں مبتلا رھے گا۔ روز قیامت خداوندعالم کا عدل ، اس کی صداقت اور اس کے و عدہ و وعید واضح ھوجائیں گے ،پس معلوم یہ ھوا کہ آخرت میں انسان کو اس کے کئے کی جزا یا سزا ملے گی،لہٰذا اس بات پر ایمان رکھنا کہ خداوندعالم انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ خلق فرمائے گا، جیسا کہ اس نے وعدہ (بھی) کیا ھے ،اور اس بات پر ایمان رکھنا کہ اطاعت گزار بندوں کو جنت میں انعام و اکرام سے نوازے گا، اور نافرمان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا،انسان کو ھوائے نفس کی پیروی سے روکتا ھے، اور گناھوں سے دوری کا سبب بنتا ھے، اور انسان کو اس دنیا میں صاحب فضیلت بنادیتا ھے ،پھر انسان اجتماعی اور انفرادی طریقہ سے خیر و صلاح اور فضیلت و کمال کی طرف تیز ی سے قدم بڑھاتا ھے، تاکہ موت کے بعد پیش آنے والے واقعات (وحشت قبر اور روز حساب کے خوف)سے مقابلہ کے لئے خود کو آمادہ کرلے۔
روز قیامت پر ایمان رکھنے کا ایک دوسرا فائدہ یہ ھے کہ انسانی نفس میں ایک آرزو
پیدا ھوجاتی ھے اور وہ ھے اُخروی زندگی سے باخبر ھونا، جس کو عدل الٰھی ،اس کی صداقت اور اس کے وعدہ و وعید سے تعبیر کیا جاتا ھے، جس سے انسان کے اخلاق اور دینی عقائد میں استحکام پیدا ھوتا ھے، اور دین خدا کی تبلیغ میں پیش آنے والی صعوبتوں کو برداشت کرنے کی طاقت حاصل کرلیتا ھے۔
قارئین کرام! ھم اس کتاب میں قیامت کے بارے میں چار فصلوں میںدرج ذیل عنوان کے تحت بحث کریں گے:
۱ ۔ تعریف معاداور اس عقیدہ کے آثارو فوائد
۲ ۔ضرورت قیامت پر محکم دلائل و برہان
۳ ۔ حقیقت معاد اور قیامت پر ھونے والے اعتراضات کے جوابات
۴ ۔منازل الآخرت جیسے موت اور برزخی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کے مراحل وغیرہ۔
خداوندعالم ھمیں اپنے قہر و غضب سے محفوظ رکھے اور ھم پر اپنی رحمت و مغفرت کا سایہ فرمائے۔(آمین یا رب العالمین)
والسلام
علی موسیٰ الکعبی
____________________
(۱) سورہ احقاف آیت۳۳۔
(۲) غررالحکم ،مرحوم الا ٓ مدی ،ج۲:ص ۳۵/۳، موسسہ الا علمی ۔بیروت۔
(۳) سورہ مدثر آیت۳۸۔
پہلی فصل
تعریف معاد اور اس عقیدہ کے آثار و فوائد
پہلی بحث: معاد کے لغوی اور اصطلاحی معنی
معاد کے لغوی معنی:
ہر چیز کا اپنے مقصد او رانتھاکی طرف پلٹنا، اور یہ ”عادالیہ “ کا مصدرھے جس طرح کھاجاتا ھے: ”یعود عوداً وعودةً ومعاداً“ یعنی اس کی طرف رجوع کیا اور اس کی طرف پہنچ گیا، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ھے:
( کَمَا بَدَاٴَکُمْ تَعُودُونَ ) ( ۱ )
”جس طرح اس نے تمھیں شروع (شروع) میں پیدا کیا تھا اسی طرح پھر (دوبارہ) زندہ کئے (اور لوٹائے) جاوگے۔ “
اور یہ بنفسہ متعدی( ۲ ) بھی ھوجاتا ھے،اور ھمزہ کے ذریعہ بھی متعدی بناتے ھیں، یعنی باب افعال میں لے جاکر متعدی بناتے ھیںجیسے: ”عاد الشیءَ عوداً وعِیادا “، ”واعدتُ الشیء “یعنی میں نے اس کو دوبارہ بنادیا، یا اس کو دوبارہ پلٹادیا۔ جیسا کہ خداوندعالم کا قول ھے:
( ثُمَّ یُعِیدُکُمْ فِیهَا وَیُخْرِجُکُمْ إِخْرَاجًا ) ( ۳ )
”پھر تم کو اسی میں دوبارہ لے جائے گا اور (قیامت میں اسی سے)نکال کھڑا کرے گا“۔
معاد کی اصل ”مَعْود“ بر وزن ”مَفْعل“ھے جس کے واو کو الف سے بدل دیا گیا، اس کی بہت سی مثالیں بھی ھیں جیسے مقام اور مراح،جس کو حضرت امیر المومنین علیہ الصلاة والسلام نے ایک حدیث کے ضمن میں بیان فرمایا ھے:
”والحکم الله والمعود الیه القیامة “۔( ۴ )
”مَفْعل“ اور اس سے مشتق بمعنی عَودمصدر صحیح میں استعمال ھوتا ھے،اور معاد (عود) اسم زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ھوتا ھے جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( إِنَّ الَّذِی فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لَرَادُّکَ إِلَی مَعَادٍ ) ( ۵ )
”(اے رسول خدا ) جس نے تم پر قرآن نازل کیا ضرور ٹھکا نے تک پہنچا دے گا“۔
اور جیسا کہ حدیث میں وارد ھوا ھے:
”’واصلح لی آخرتی التی فیھامعاد ي“۔
”(پالنے والے میری آخرت کی اصلاح فرما، جہاں مجھے پلٹ کر جانا ھے“۔
”مبدی المعید“ خدا کے صفات میں سے ایک صفت ھے ، کیونکہ خداوندعالم نے تمام مخلوقات کو زندگی دی اس کے بعد ان کو موت دے گا اور پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرے گا، جیسا کہ ارشاد خداوندعالم ھوتا ھے:
( وَهُوَ الَّذِی یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ اٴَهْوَنُ عَلَیْهِ ) ( ۶ )
”اور وہ ایسا (قادر مطلق) ھے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ھے پھر دوبارہ(قیامت کے دن )پیدا کرے گااور یہ اس پر بہت آسان ھے“۔
معاد کے اصطلاحی معنی:
معاد کے اصطلاحی معنی : خداوندعالم کا تمام چیزوں کو مرنے اور ان کے اجزاء بکھرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ھے۔( ۷ )
معاد کی تعریف اس طرح بھی کی گئی ھے: ”فنا کے بعد دوبارہ وجود کی طرف پلٹنا“ یا ”اجزاء بدن کے منتشر ھونے کے بعد دوبارہ بدن کی طرف رجوع کرنا“ یا ”مرنے کے بعد زندہ ھونا“، یا ”جسم سے روح نکلنے کے بعد دوبارہ روح کا واپس آنا( ۸ )
لیکن آیا معاد فقط روحانی ھے یا جسمانی اس میں اختلاف ھے، بعض فلاسفہ کے نظریہ کے مطابق معاد صرف روحانی ھے ،چونکہ ان کی نظر میں ایک قاعدہ عقلی ھے کہ ”إن المعدوم لا یعاد “ (جو چیز ختم ھوگئی وہ دوبارہ پلٹ نھیں سکتی)لہٰذا جب جسم موت کی وجہ سے معدوم ھوگیا تو پھر اس کا پلٹا ناممکن نھیں، لہٰذا یہ لوگ کہتے ھیں کہ معاد صرف روح سے متعلق ھے کیونکہ روح فنا نھیں ھوتی، (بلکہ روح باقی رہتی ھے)
لیکن جسمانی معاد کے معتقد حضرات تقریباً تمام ھی مسلمین، متکلمین، فقہاء ،اہل حدیث اور صوفی حضرات کا یہ نظریہ ھے کہ روز قیامت اسی جسم کے ساتھ پلٹائے جائیں گے، جیسا کہ خداوندعالم نے بھی بیان کیا ھے۔
البتہ ان لوگوں نے روح کی بازگشت اور اس کے ٹھکانے کے بارے میں اختلاف کیا ھے، اور اس اختلاف کا سبب خود روح کے سلسلہ میں پائی جانے والی تفسیر اور اس کے معنی ھیں چنانچہ ان میں سے ایک گروہ یہ کہتا ھے کہ روح بھی ایک جسم ھوتا ھے جو انسان کے بدن میں جاری وساری ھوتا ھے جیسے کوئلہ میں آگ اور دریا میں پانی، چنانچہ ان کی نظر میں معاد جسم و روح سے متعلق ھے جس کو جسمانی معاد کھاجاتا ھے۔ دوسرا گروہ جس میں بہت سے بزرگ حکماء ، عظیم الشان علماء کلام وعرفان ھیں، جو کہتے ھیں کہ روح مجرد ھے لیکن یہ روح روز قیامت جسم میں پلٹ جائے گی، ان کے نزدیک یہ معاد جسمانی اور روحانی ھے، چنانچہ اس بنا پر معاد کے سلسلہ میں تین نظریے قائم ھوتے ھیں:
۱ ۔ معاد روحانی۔
۲ ۔ معاد جسمانی۔
۳ ۔ معاد جسمانی و روحانی۔( ۹ )
دوسری بحث: عقیدہ معاد کے آثار
عقیدہ معاد پر مرتب ھونے والے آثار کو بیان کرنے سے پہلے ھم یہ بیان کرنا ضروری سمجھتے ھیں کہ خداوندعالم نے یوم آخرت پر عقیدہ رکھنا ھمارے اوپر فرض نھیں کیا ھے، اسی طرح جو حساب و کتاب میں دقیق باتیں ھیں اور جو اعمال کے نتائج ظاہر ھوں گے، اس کے بارے میں ھم پر اعتقاد فرض نھیں ھے اسی طرح دنیا میں شر و فساد کے ردع کرنے کے وسائل کے بارے میں اعتقاد رکھنا یا عمل خیر و شر کی طرف ترغیب کے بارے میں اعتقاد ھمارے اوپر فرض نھیں ھے بلکہ خداوندمتعال نے اعتقاد بالمعاد اس لئے فرض کیا ھے کہ یہ ایک ثابت حقیقت ھے اور اس کا وجود واقعی ھے لہٰذا ایمان بالمعاد ایک امر واقع پر ایمان و اعتقاد رکھنا ھے اور ایک حتمی و ضروری قضا کے سامنے تسلیم ھونا ھے۔
جیسا کہ ارشاد خداوندعالم ھوتا ھے:
( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لاَتَاٴْتِینَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَی وَرَبِّی لَتَاٴْتِیَنَّکُمْ عَالِمِ الْغَیْبِ لاَیَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَلاَفِی الْاٴَرْضِ وَلَااٴَصْغَرُ مِنْ ذَلِکَ وَلاَاٴَکْبَرُ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ) ( ۱۰ )
”اور کفار کہتے ھیں کہ قیامت آنے والی نھیں ھے، تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار کی قسم !وہ ضرور آئے گی ، وہ عالم الغیب ھے ،اس کے علم سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ دور نھیں ھے اور نہ اس سے چھوٹا اور نہ بڑا، بلکہ سب کچھ اس کی روشن کتاب (لوح محفوظ) میں محفوظ ھے۔ “
لیکن روز قیامت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے پیدا ھونے والے آثارو فوائد جیسے شریعت کے احکام سے واقف ھونا اور اس کے احکام و قوانین کے مطابق عمل کرنا(اور جو آثار شریعت کی پیروی سے پیدا ھوتے ھیں مثلاً انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں صالح اور دیندار بن جاتا ھے، اخلاق و تہذیب کے میدان میں نیک کردار ھوجاتا ھے، نفسیاتی طور پر اس میں نیک سیرت اور اچھائی پیدا ھوتی ھے اور احکام خداوندی پر عمل کرنے سے اس کے فضل و کمال پیدا ھوجاتا ھے وغیرہ وغیرہ، ) یہ ساری چیزیں اعتقاد بالمعاد کی فرع ھیں یعنی اول اعتقاد بالمعاد ھوگا تب یہ ساری چیزیں پیدا ھوسکتی ھیں، قارئین کرام! ھم یہاں پر ان اھم آثار و فوائد کی طرف اشارہ کرتے ھیں:
۱ ۔انسانی زندگی پر معاد کے آثارو فوائد
قارئین کرام ! یہ بات ظاہر ھے کہ انسانی ہدایت و راہنمائی کی ضرورت کے پیش نظر بعثت انبیاء ضروری ھے اور یہ اسی صورت میں کارساز ھوسکتی ھے کہ جب اس ہدایت کو نافذ کرنے والی ایک بہترین قدرت ان کے پاس ھو، تاکہ انسان ان کی اطاعت و فرماں برداری کرے ، یہ الٰھی تعلیمات و احکام انسان کو آمادہ کردیتی ھیں جس کی وجہ سے انسان ہدایت و راہنمائی کے ساحل پر پہنچ جاتا ھے، بغیر اس کے کہ اس کی ذرہ برابر بھی مخالفت اور تجاوز کرے، لیکن اگر وہ قوت او رقدرت نہ ھو تو پھر یہ تعلیمات اور احکام صرف موعظہ بن کر رہ جائیں گے، جس کی کوئی اھمیت باقی نھیں رہتی، اور انسانی زندگی میں بے اثر ھوجاتی ھے۔
جب ھم بعض دنیاوی قوانین کو دیکھتے ھیں (جیسے سزائے موت، عمر قید، پھانسی اور جلا وطن کرنا وغیرہ) تو نفس پر کنٹرول کرتے ھیں اور یہ قوانین نیک اور اچھے کاموں کی طرف ہدایت کرتے ھیں، لیکن ھم خارج میں دیکھتے ھیں کہ یہ قوانین انفرادی و اجتماعی شرّ و فساد کو بالکل ختم کرنے میں ناکافی ھیںاور نہ ھی ان کے ذریعہ انسانی انفرادی یا اجتماعی سعادت و کمال کا حصول ممکن نھیں۔
یہ قوانین اس بنا پر معاشرہ سے شر و فساد کوختم کرنے میں ناکافی ھیں کہ قوانین جہاں مجرمین و اشرار کو بڑی سے بڑی سزا دینے میں کفایت کرتے ھیں وھیں پر جب سیاسی حضرات کی باری آتی ھے تو ان قوانین پر عمل نھیں ھوتا، حکام وقت اپنے خود ساختہ قوانین کے سایہ میں لوگوں کا مال ہضم کرتے ھوئے نظر آتے ھیں۔
اس کے بعد یہ بات بھی واضح ھے کہ انسان کی زندگی میں ظاہری اسباب بھی موثر ھوتے ھیں جیسا کہ اکثر حکومتوں میں سزائی قوانین مرتب کئے جاتے ھیں، اور یہ قوانین اس حکومت کی طاقت کے زور پر نافذ کئے جاتے ھیں ، لیکن اگر کسی حکومت میں قوانین نافذ کرنے کی طاقت ھی نہ ھو تو اس ملک میں بدامنی اور فساد پھیل جاتاھے اور پھر ان قوانین کی کوئی اھمیت باقی نھیں رہتی، اور نہ ھی ان قوانین سے کسی کو خوف و وحشت ھوتی ھے اور نہ ھی کوئی ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ھے۔
لہٰذا جب ھم نے یہ بات مان لی کہ قوانین ھی کے ذریعہ مجرمین کی تعداد کم کی جاسکتی ھے، اور انھیں قوانین کے ماتحت حکومت چل سکتی ھے، لیکن کبھی کبھی ایسے مواقع آتے ھیں جہاں پر انسان تنہائی کے عالم میں ھوتا ھے اور وہاں پر اس حکومت کی رسائی نھیں ھوتی اور نہ ھی وہاں تک قانون کی رسائی ھوتی ھے اور ان شاذ و نادر جرائم کو حکومت فاش نھیں کرپاتی ، مثلاً انسان نفسانی شھوات کا شکار ھوجائے اور اس پر سوار شیطان ھوجائے:
( وَیُرِیدُ الشَّیْطَانُ اٴَنْ یُضِلَّهُمْ ضَلاَلًا بَعِیدًا ) ( ۱۱ )
”اور شیطان تو یہ چاہتا ھے کہ انھیں بہکا کے بہت دور لے جائے “۔
( إِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُبِینًا ) ( ۱۲ )
”کیونکہ شیطان تو ایسی ھی باتوں سے فساد ڈلواتا ھے اس میں شک ھی نھیں کہ شیطان آدمی کا کھلا ھوا دشمن ھے“۔
اگر کوئی شخص کھے: ایک کافر و ملحد بھی کبھی کبھی صاحب فضیلت ھوتا ھے تو یہ اس کی ظاہری فضیلت ھوتی ھے،جس کی بنیاد نفسانی اصول نھیں ھوتے ھیں، ان کے اندر یہ اچھائیاں معاشرہ کے خوف کی وجہ سے پیدا ھوتی ھیں، یا حکومتی قوانین کے خوف سے پیدا ھوتی ھیں، چنانچہ اگر یہ دونوں چیزیں سامنے نہ ھوں اور وہ آزاد ھوں، تو پھر وہ کسی بھی طرح کے اخلاق کی رعایت نھیں کریں گے ، کسی کی بے عزتی کریں گے اور کسی کا مال لوٹیں گے، یا دوسری حرام چیزوں کے مرتکب ھوں گے، کیونکہ جب نفس پر شھوت کاغلبہ ھوجاتا ھے تو پھر وہ کسی بھی برائی سے پرھیز نھیں کرتا اور برائی میں غرق ھوتا ھوا نظر آتا ھے، پس یہ فضیلت اس شخص میں کیسے جلوہ گر ھوسکتی ھے جو اپنے کو فانی حیوان سمجھتا ھے؟
لہٰذا حکومت کی طرف سے بنائے گئے قوانین یہاں تک کہ آج کل کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بعض افراد کو خصوصی چھوٹ دی جاتی ھے تاکہ وہ موجودہ شرائط کے ساتھ اپنی زندگی آرام سے گزار سکےں، اور یھی انسان کا کردار معاشرہ میں اثرانداز ھوجاتا ھے جس کی بنا پر انسان دنیا و آخرت کو سنوار سکتا ھے۔
پس مذکورہ باتوں کے پیش نظر انسان کے اندر ایسے اندرونی اسباب ھوتے ھیں اور اس کا ضمیر اور وجدان ھوتا ھے جو انسان کے کرد ار کو سنوارتا ھے اور یھی انسان کا ضمیر اس کے سفر و حضر اور خلوت و بزم میں ادارہ کرتا ھے، اور چونکہ انسان کی روح اس کو اپنے اختیار میں رکھتی ھے، کیونکہ روح ایک بلند اور عالی حقیقت ھے جو انسان کو کمال و بلندی کی طرف لے جاتی ھے، لیکن کبھی کبھی انسان اپنے جسم کے لئے روح کو حاکم بنادیتا ھے کیونکہ یہ ایک مشکل کام ھے اور اس میں بہت زیادہ روحانی ریاضت کی ضرورت ھے، یہ وہ کام ھے جس کو اس شخص کے علاوہ اور کوئی انجام نھیں دے سکتا جو نفس اور روح کے ھمیشہ ھمیشہ باقی رہنے کا عقیدہ رکھتا ھو، اور یھی اعتقاد انسان کے ضمیر کو نیک اور اچھے کاموں کے لئے ابھارتا ھے، تاکہ اس کو آخرت میں ثواب مل سکے، اسی طرح یھی عقیدہ انسان کو ھوائے نفس کی اطاعت اور آخرت کے عذاب کے خوف کی بنا پر گناھوں اور برے کاموں سے روکتا ھے۔
یہ اس لئے ھے کہ انسان کا ضمیر برائیوں پر ملامت اور سرزنش تو کرسکتا ھے لیکن اس کو عذاب نھیں دے سکتا، اسی طرح انسان کا ضمیر اس کو وعظ و نصیحت کرتا ھے لیکن کبھی بھی اس کے لئے توجیہ نھیں کرسکتا، کیونکہ انسان ھوائے نفس کے مقابلہ میں کوئی نفع و نقصان نھیں پہنچاسکتا، اور جب اس کا غلبہ ھوجاتا ھے تو اس کو ناکارہ بنادیتا ھے اور پھر انسان لوگوں کی نگاھوں سے بچ کر جو چاہتاھے وہ انجام دیتا ھے۔
لہٰذا جب ایک طرف سے حکومتی قوانین اور معاشرہ انسان کو برائیوں سے روکنے والا ھے اور دوسری طرف خود انسان کا ضمیر اندر سے انسان کو برائیوں سے روکتا ھے تو یہ دونوں چیزیں قدر معین کی طرف ہدایت کرتی ھیں، اور خداوندعالم وروز قیامت پر ایمان کے ذریعہ ان دونوں کے درمیان اتفاق قائم کردیتا ھے، جس کے ذریعہ انسانی نفس میں قول و عمل میں دشمن کے رقیب ھونے کی بنا پر تربیت اخلاقی ھوجاتی ھے، اور کوئی بھی بندہ مومن اپنے رقیب و دشمن سے فرار نھیں کرسکتا چونکہ خداوندعالم ہر چیز پر محیط ھے اور رگ گردن سے زیادہ قریب ھے، ظاہری اور باطنی چیزوں کو جانتا ھے، اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا حساب کرنے والا ھے، کوئی بھی ذرہ اس سے مخفی نھیں ھے، اسی وجہ سے بندہ مومن کو اپنی ذمہ داری کا احساس ھونا چاہئے، خدا کے عقاب سے ڈرنا چاہئے، یہاں تک کہ اگر بندہ لوگوں کی نظروں سے چھپ کر بھی کوئی کام انجام دیتا ھے تو خود اس کے نفس سے جواب طلب ھوگا، چاھے قانون اور حکومت کی سزا سے محفوظ رھے، کیونکہ حکم خدا اور اس کی حکومت سے فرار ممکن نھیں ھے۔( ۱۳ )
جیسا کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی ھے کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: میں ایک عاصی اور گناہگار شخص ھوں، اور گناھوں پر صبر بھی نھیں کرسکتا، لہٰذا مجھ کو نصیحت فرمائےے اس وقت امام علیہ السلام نے نصیحت فرمائی:
”افعل خمسة اٴشیاء و اذنب ما شئت، فاٴول ذلک: لا تاٴکل رزق الله، و اذنب ما شئت، والثانی: اخرج من ولایة الله، و اذنب ما شئت، والثالث: اطلب موضعاً لایراک فیه الله،و اذنب ما شئت، والرابع: إذا جاء ملک الموت لیقبض روحک فادفعه عن نفسک،و اذنب ما شئت، والخامس: إذا اٴدخلک مالک في النار فلاتدخل النار، و اذنب ما شئت “۔( ۱۴ )
”پانچ کام انجام دینے کی طاقت حاصل کرلو اس کے بعد جو چاھو گناہ کرو،پہلی: خداوندعالم کا عطا کردہ رزق نہ کھاؤ،اس کے بعد جو چاھو گناہ کرو، دوسری: خدا کی ولایت و حکومت سے نکل جاؤ پھر جو چاھو گناہ کرو،تیسری: کوئی ایسی جگہ تلاش کرلو جہاں پر خدا نہ دیکھ سکے، پھر جو چاھو گناہ کرو، چوتھی: جب ملک الموت تمہاری روح قبض کرنے کے لئے آئے تو اس کو روح قبض نہ کرنے دینا، پھر جو چاھو گناہ کرو، پانچویں: جب داروغہ دوزخ تمھیں آتش جہنم میں ڈالنا چاھے تو داخل نہ ھونے کی قدرت حاصل کرلو ، پھر جو چاھو گناہ کرو،“۔
پس ایک بندہ مومن کا اعتقاد یہ ھونا چاہئے کہ ہر چیز خداوندعالم کے ارادہ اور حکومت کے تابع ھے، اس کی ولایت کے ما تحت ھے، خداوندعالم انسان کے ہر ہر اعمال اور حرکات و سکنات کو دیکھتا ھے، ان تمام چیزوں سے باخبر ھے جو انسان کے دل میں پیدا اورخطور کرتی ھیں، یھی وہ اعمال ھیں جو انسان کے مرنے کے بعد سے قیامت تک کے لئے اس کے ساتھی ھوں گے، اور انھیں اعمال کی بنیاد پر ثواب و عقاب دیا جائے گا، ان کے علاوہ اور کوئی چیز کام آنے والی نھیں ھے۔
حضرت رسول اکرم کا ارشاد گرامی ھے:
”یتبع المرء ثلاثة: اٴهله و ماله و عمله، فیرجع اثنان و یبقی واحد، یرجع اٴهله و ماله و یبقی عمله “۔( ۱۵ )
روز قیامت پر ایمان کے نتائج میں سے یہ ھیں: انسان اس بات پر عقیدہ رکھے کہ ھم لوگ آنے والی چیزوں کے مقروض اور گزشتہ چیزوں کے مرھون منت ھیں، ایک روز آنے والا ھے جس دن اس خدا کی بارگاہ میں حاضر ھونا ھے جو حساب و کتاب کرنے والا ھے اور اس سے چھوٹی سی چیز بھی مخفی نھیں ھے، تمام لوگوں سے ان کے اعمال، افعال اور مخفی ہر خیر و شرّکے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور اسی لحاظ سے جزا اور سزا دی جائے گی،جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَلاَتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْهَا وَلاَتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اٴُخْرَی ) ( ۱۶ )
”اور جو شخص کوئی برا کام کرتا ھے اس کا وبال اسی پر ھے اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نھیں اٹھا ئےگا “۔
نیز ارشاد فرماتا ھے:
( کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَهِینَةٌ ) ( ۱۷ )
”ہر شخص اپنے اعمال کے بد لے گرو ھے“۔
پس فضائل اور برائیوں کا معیار و مقیاس انسان کے اعمال ھیں، اور یھی اعمال خدا کی رحمت سے نزدیک اور دور ھونے کی بنیاد ھےں، کیونکہ روز قیامت انسان کی شکل و صورت دیکھ کر حساب و کتاب نھیں کیا جائے گا، نہ ھی حسب و نسب کے لحاظ سے، نہ ھی تجارت وکثرت اولاد اور کثرت مال کو مد نظر رکھ کر حساب و کتاب کیا جائے گا، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلاَاٴَنسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَلاَیَتَسَاءَ لُون. فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُهُ فَاٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَهُمْ فِی جَهَنَّمَ خَالِدُونَ ) ( ۱۸ )
”پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ لوگوں میں قرابت داریاں رھیں گی اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں گے،پھر جن (کی نیکیوں)کے پلے بھاری ھوں گے تو یھی لوگ کامیاب ھوں گے اور جن (کی نیکیوں )کے پلے ہلکے ھوں گے تو یھی لوگ ھیں جنھوں نے اپنا آپ کو نقصان پہنچایا، وہ ھمیشہ جہنم میں رھیں گے“۔
دوسری جگہ ارشاد فرماتا ھے:
( لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اٴَمْوَالُهُمْ وَلاَاٴَوْلاَدُهُمْ مِنْ اللهِ شَیْئًا ) ( ۱۹ )
”ان کو خدا (کے عذاب)سے نہ ان کے مال ھی کچھ بچائیں گے،نہ ان کی اولاد (کچھ کام آئے گی)“۔
( لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اٴَمْوَالُهُمْ وَلاَاٴَوْلاَدُهُمْ مِنْ اللهِ شَیْئًا ) ( ۲۰ )
”خدا (کے عذاب )سے بچانے میں ہرگز نہ ان کے مال ھی کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد“۔
نیز ارشاد فرماتا ھے:
( وَمَا یُغْنِی عَنْهُ مَالُهُ اِذَا تَرَدَّیٰٓ ) ( ۲۱ )
”اور جب وہ ہلاک ھوگا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا “۔
حضرت رسول اکرم (ص)کا ارشاد گرامی ھے:
”ان الله لا ینظر الی صورکم ،ولا الی اموالکم ،ولکن ینظر الی قلوبکم و اعمالکم “۔( ۲۲ )
”خداوندعالم تمہاری شکل و صورت اور تمہارے مال و اولاد کو نھیں دیکھے گا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کے (لحاظ سے حساب و کتاب کرے گا“)۔
قارئین کرام! یہ قیامت کے عقیدہ سے پیدا ھونے والے بعض آثار ھیں، اور یھی عقیدہ انسان کے اندر زہد و تقویٰ پیدا کرتا ھے ،خدا کی حرام کردہ چیزوں سے دور کرتاھے، اورانسان گناھوں کے ارتکاب سے پہلے اکثر مردد اور پریشان ھوتا ھے، اس کا ضمیر جس کا قیامت پر ایمان ھے اس کو روکتا ھے، اور اس کا ضمیر جو اعمال کے بارے میں رقیب پر یقین رکھتا ھے، بغیر اس کے قانون اور حکومت کا اس کو کوئی خوف ھو۔
لہٰذا معلوم ھوا کہ قیامت کا اعتقاد انسان کی انفرادی اورمعاشرتی زندگی پر موثرھے، کیونکہ قیامت پر ایمان رکھنے والا شخص قرآن کریم اور سنت نبوی (ص)سے تمسک رکھتا ھے ،جیسا کہ قرآن اور سنت نبوی میں زندگی بسر کرنے کا طریقہ بتایا گیا اسی لئے وہ ہر صاحب حق کے حق کوادا کرتا ھے، ہر کام کرتے وقت اس کو ذمہ داری اور فرض کا احساس ھوتا ھے، اور دوسروں کے حقوق پر زیادتی کو ظلم سمجھتا ھے، لہٰذا ان پر ظلم و ستم روا کرنے سے پرھیز کرتا ھے، جیسا کہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کا ارشاد گرامی ھے:
”بئس الزاد الی المعاد العدوان علی العباد “۔( ۲۳ )
”روز قیامت کے لئے بدترین زاد سفر بندگان خدا پر ظلم ھے“۔
نیز آپ کا ارشاد ھے:
”لا یومن بالمعاد من لایتحرّج عن ظلم العباد “۔( ۲۴ )
”جو شخص روز قیامت پر ایمان نھیں رکھتا وہ بندگان خدا پر ظلم سے باز نھیں آتا“۔
ایک دوسری جگہ آپ فرماتے ھیں:
”والله لان ابیت علی حسک السعدان مسهد ا ،او اجر فی الاغلال مصفد ا ،احب الی من ان القی الله و رسوله یوم القیامة ظالما لبعض العباد،و غاصبا لشیء من الحطام، وکیف اظلم احداً لنفسٍ یسرع الی البلی قفولها ،و یطول فی الثری حلولها؟! “۔( ۲۵ )
” خدا گواہ ھے کہ میرے سعدان کی خاردار جھاڑی پر جاگ کر رات گزار لینا یا زنجیروں میں قید ھوکر کھینچا جانا اس امر سے زیادہ عزیز ھے کہ میں روز قیامت پروردگار سے اس عالم میں ملاقات کرو ںکہ کسی بندہ پر ظلم کیا ھویا دنیا کے کسی معمولی مال کو غصب کیا ھو، بھلا میں کسی شخص پر اس نفس کے لئے کس طرح ظلم کروںگا جو بہت جلد فنا کی طرف پلٹنے والا ھے اور زمین کے اندر بہت دنوں رہنے والا ھے۔۔۔“۔
قارئین کرام! اسلام نے آخرت کے لئے بہترین زاد راہ ”تقویٰ“ کو قرار دینے پر زور دیا ھے، تاکہ انسان اسی تقویٰ کے ذریعہ خیانت اور دوسری برائیوں سے دور رھے، اور انفرادی و معاشرتی اصلاح کے لئے قدم بڑھائے۔
حضرات ائمہ طاہرین علیھم السلام نے مسلمانوں کو اسی راستہ کی ہدایت کی ھے، جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
””کان امیر المومنین علیه السلام بالکوفه ،اذا صلی بالناس العشاء الاخرة ینادی بالناس ثلاث مرات، حتی یسمع اهل المسجد :ایها الناس ،تجهزوا یرحمکم الله ،فقد نودی فیکم بالرحیل ،فما التعرج علی الدنیا بعد النداء فیها بالرحیل ؟!تجهزوا رحمکم الله ،و انتقلوا بافضل ما بحضر تکم من الزاد ،وهو التقوی “۔( ۲۶ )
”حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کوفہ میں تشریف فرما تھے، نماز عشاء پڑھنے کے بعد لوگوں کو تین مرتبہ یہ پیغام دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تمام اہل مسجد اس کو سنتے تھے، اے لوگو! اپنے کو آمادہ کرلو، خدا تم لوگوں پر رحم کرے، تمھیں سفر پر جانا ھے، لہٰذا جب تمھیں (آخرت کے) سفر پر جانا ھے تو پھر دنیا داری کیسی، آمادہ ھوجاؤ ، خدا تم پر رحم کرے، اور تم لوگ وہاں کے لئے بہترین زادہ راہ اختیار کرو اور وہ تقویٰ (الٰھی) ھے۔۔۔“۔
یھی قیامت کا اعتقاد حقوق الناس کی ادائیگی میں مدد کرتا ھے اور انسان اصول و فرض کی بنا پر اپنی زندگی گزارتا ھے، جس میں انصاف، صداقت اور امانت سے کام لیتاھے، جیسا کہ خدا وندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ھے:
( وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِینَ الَّذِیْنَ اِذَا اَکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ وَاِذَا کَالُوهُمّ اٴَوْوَّزَنُوهُمْ یُخْسِرُوْنَ اٴَلاَیَظُنُّ اٴُوْلَئِکَ اٴَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ لِیِوْمٍ عَظِیمٍ ) ( ۲۷ )
”ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی خرابی ھے،جو اوروں سے ناپ کرلیں تو پورا پورا لیں،اور جب ان کو ناپ یا تول کردیں تو کم دیں کیا یہ لوگ اتنا بھی خیال نھیں کرتے کہ ایک بڑے(سخت )دن (قیامت)میں اٹھائے جائیں گے“۔
اسلام نے اس بات پر بہت زور دیا ھے کہ جب انسان اس دنیا سے چلا جاتا ھے، تو اس کو کوئی چیز فائدہ نھیں پہنچاسکتی مگر یہ کہ نیک اولاد اور سنت حسنہ جس پر اس کی موت کے بعد عمل ھوتا ھے اور انسان کے عمل صالح اور دوسروں کے ساتھ نیکی اور احسان۔
حضرت صادق علیہ السلام کا ارشاد ھے:
”لیس یتبع المومن بعد موته من الاجرإلا ثلاث خصال :صدقة اجراها فی حیاته فهی تجری بعد موته، و سنة هو سنها فهی یعمل بها بعد موته ،او ولد صالح یدعوله “۔( ۲۸ )
”مومن کے مرنے کے بعد تین چیزوں کے علاوہ اور کوئی چیز کام نھیں آئے گی : وہ صدقہ جاریہ جو اس نے اپنی زندگی میں کیا ھو ، تو وہ اس کی موت کے بعد بھی جاری رہتا ھے، اور وہ سنت حسنہ جس کی بنیاد اس نے اپنی زندگی میں رکھی ھو اور اس پر عمل کیا جارھاھو، یا نیک اولاد جو اس کے لئے کار خیر انجام دیتی ھےں۔
اس حدیث پر غور و فکر کرنے سے یہ معلوم ھوتا ھے کہ انسان کو اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہئے، اور ایسے کارنامے انجام دینا چاہئے جن ثواب سے موت کے بعد بھی فیضیاب ھوتا رھے۔
اس بنا پر روز قیامت اور روز حساب پر ایمان رکھنے سے انسان ایسے اعتقاد ات پر یقین حاصل کرلیتا ھے جو نتیجہ کے لحاظ سے بااھمیت اور واضح نتائج کے حامل ھوں ،تاکہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو صحیح طور پرمنظم کرسکے اور اپنے کردار کو انسانی اغراض و مقاصد کے لحاظ سے مرتب کرے ، یعنی ہر طرح کے ظلم و ستم، قتل و غارت گری اور فساد و برائی سے دور رھے جیسا کہ آج کی دنیا میں ہر طرف ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کا دور دورہ ھے۔
( یھی وہ جگہ ھے کہ جہاں پر بے دین اور روز قیامت پر ایمان نہ رکھنے والے افراد مجبور ھوکر اس بات کا وضاحت کے ساتھ اعلان کرتے ھوئے نظر آتے ھیں کہ انسان کی زندگی کو ظلم و ستم سے بچانے اور حق و عدل اور انصاف سے زندگی گزارنے کے لئے قیامت کے عقیدہ کے علاوہ اور کوئی چیز نھیں ھوسکتی، جیسا کہ ”کانٹ“ اور ”فولٹر “وغیرہ نے اس کا اعتراف کیا ھے)۔( ۲۹ )
۲ ۔ انسانی زندگی پر قیامت کااثر
بے شک اللہ اور روز قیامت پر اعتقاد رکھنے کی وجہ سے انسان اپنے آپ کوتیار اور محفوظ رکھتا ھے، کیونکہ یہ عقیدہ انسانی نفس میں ایک ایسی طاقت بخشتا ھے جو خواہشات نفسانی کا مقابلہ کرتی ھے، اور اس دنیا میں دھوکہ دینے والی چیزوں سے محفوظ رہتا ھے اور عقیدہ معاد انسان کے لئے ایسی سپر ھے جس کی وجہ سے انسان خواہشات نفسانی ،دنیاپرستی اور ھوا وھوس سے مصون رہتا ھے کیونکہ اکثر وہ لوگ جو معاد پر ایمان نھیں رکھتے بلکہ ان کا اعتقاد ھے کہ جب انسان مرجائے گا تو اس کا جسم ریزہ ریزہ ھوکر نابود ھوجائے گا اور اس کی حیات بعد از مرگ تمام ھوجائے گی ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی چیز نھیں ھے جو دنیا میں اس کو سرکشی اور ھوا و ھوس سے روکے رکھے اور ان کو باطل پرستی و فعل قبیح کے اتیان سے باز رکھے۔
لیکن روز آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص اس دنیاوی چند روزہ زندگی کو ایک مدرسہ اور معرفت و فضیلت اور کمال تک پہنچنے کا وسیلہ اور آخرت میں آرام سے زندگی گزارنے اور سرمدی اور ھمیشگی زندگی کا ذریعہ سمجھتا ھے، کیونکہ انسان اس دنیا میں رہ کر اپنے کو گناھوں او رلغزشوں سے محفوظ رکھتا ھے، فضیلت و عدالت کو اپناتا ھے اور شرع و عقل کی مخالف چیزوں کا مقابلہ کرتا ھے تاکہ انسان کمال کی بلندی کو طے کرتا ھوا روحی اطمینان تک پہنچ جائے، جیسا کہ ارشاد رب العزت ھوتا ھے:
( یَااَیْتُهَاالنَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةَ ارْجِعِیٓ اِلَیٰ رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً فَادْخُلِی فِی عِبَادِی وَادْخُلِی جَنَّتِی ) ( ۳۰ )
”اے اطمینان پانے والی جان اپنے پرور دگار کی طرف چل تو اس سے خوش وہ تجھ سے راضی تو میرے (خاص)بندوں میں شامل ھوجا ،اور میرے بہشت میں داخل ھوجا“۔
اور انسان اس قیامت پر ایمان رکھے بغیر (جو برائی اور بھلائی کا روز جزا و سزا ھے)ان تمام اقدار اور بلندیوں کو نھیں چھوسکتا اور اسی عقیدہ معاد کی وجہ سے انسان کے نفس میں ایسی طاقت پیدا ھوجاتی ھے کہ جس سے انسان نیکیوں اور اچھائیوں کا دوستدار بن جاتا ھے اور گناھوں سے دور ھوتا چلاجاتا ھے، کیونکہ برائیوں کے ارتکاب سے انسان کے اندر شر مندگی، حسرت اور روز قیامت کی ذمہ داری کا احساس بڑھتا جاتاھے۔
اور پھر روز قیامت کا اعتقاد انسان کو برائیوں سے ھی نھیں روکتا بلکہ نفس کو مطمئن بھی کردیتا ھے اور خطرات کے موقع پر انسان میں چین و سکون پیدا کردیتا ھے، اسی کے ذریعہ امانت کی خاموش نہ ھونے والی شمع روشن ھوجاتی ھےں، انسان کی آرزوئیں صرف حق و کمال کی تلاش میں رہتی ھیں اس وقت انسان بافضیلت ھوجاتاھے، اور فضیلت کے اس مقام تک پہنچنے کی وجہ سے اس کا عذاب خدا سے ڈرنا یا امید ثواب نھیں ھے ،بلکہ اس معاد کے عقیدہ کی وجہ سے انسان رذیلت کی لذت سے فضیلت کی لذت محسوس کرنے لگتا ھے،اور وہ کسی ڈر یا لالچ میں اللہ کی عبادت نھیں کرتا بلکہ وہ خداکو عبادت کا مستحق سمجھتا ھے، جیسا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”الهی ما عبد تک خوفاً من عقابک ولا طمعا فی ثوابک ،ولکن وجدتک اهلا للعبادة فعبدتک “۔( ۱)(۳۱)
”پالنے والے! میں تیری عبادت تیرے عذاب کے خوف سے کرتا ھوں نہ تیرے ثواب کے لالچ سے، بلکہ تجھے عبادت کا اہل پاتا ھوں تو تیری عبادت کرتا ھوں“۔
یھی عبادت آزادافراد اور مخلص مومنین کی ھے۔
لیکن قیامت پرایمان نہ رکھنے والے اور خدا کی بارگاہ میں حاضر ھونے کا عقیدہ نہ رکھنے والے لوگ اسی دنیاوی زندگی پر خوشحال ، اور مطمئن ھیں اور اسی پر بھروسہ کئے ھوئے ھیں، جس سے ان کی رغبتوں میں اضافہ ھوتا رہتا ھے، اور ھوائے نفس ان پراور ان کی ذات پر غلبہ کرلیتی ھے جس سے ان کے نفوس تباہ و برباد ھوجاتے ھیں،اس وقت یہ لوگ خود کو دنیاوی برائیوں کے دلدل میں پھنساھوا دیکھتے ھیں۔ کیونکہ یہ لوگ سعادت اور اپنی زندگی کا عیش و آرام اور مرنے سے پہلے بہت سی آرزوں کو حاصل کرنا چاہتے ھیں، ان کے عقیدہ کے مطابق عالم موتفنا ھوجانا ھے۔
اسی وجہ سے آپ حضرات ان کو مضطرب اور پریشان دیکھتے ھیں، وہ ڈرتے ھیں کہ کھیں مرنے سے پہلے ھی ان کا رزق ختم نہ ھوجائے،مرنے سے پہلے آسائش و سکون کے اسباب نہ حاصل کرپائیں، وہ زندگی میں تھوڑی سی تکلیف سے پریشان ھوجاتے ھیں، اور ظاہری مال و دولت اور چین و سکون کے وسائل حاصل نہ کرنے پر اپنے نفس کی ملامت کرتے ھیں ان کی نظر میں یہ دنیا تاریک بن جاتی ھے یعنی اس کا مقصد معلوم نھیں ھوپاتا، اسی وجہ سے کبھی کبھی اس غم سے نجات حاصل کرنے کے لئے خودکشی کرلیتے ھیں، یہ لوگ درحقیقت اندھے ھیں، جو کچھ بھی نھیں دیکھ پاتے ھیں، دنیا نے ان کوحق و حقیقت اور خیر و کمال کو دیکھنے سے اندھا کردیا ھے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”انما الدنیا منتهیٰ بصر الاعمی ،لا یبصرمما و راء ها شیئا، والبصیر ینفذها بصره ،ویعلم ان الدار وراء ها فالبصیر منها شاخص، والاعمی الیها شاخص ،والبصیر منها متزود والاعمی لها متزوّد “۔( ۳۲ )
”یہ دنیا اندھے کی بصارت کی آخری منزل ھے جو اس کے ماوراء کچھ نھیں دیکھتا ھے جبکہ صاحب بصیرت کی نگاہ اُس پار نکل جاتی ھے اور وہ جانتا ھے کہ منزل اس کے ماوراء ھے، صاحب بصیرت اس سے کوچ کرنے والا ھے اور اندھا اس کی طرف کوچ کرنے والا ھے، بصیر اس سے زاد راہ فراھم کرنے والا ھے اور اندھا اس کے لئے زاد راہ اکٹھا کرنے والا ھے“۔
لیکن اس کے برعکس ایک مرد مومن کا عقیدہ یہ ھوتا ھے او راس کا نفس اس بات پر مطمئن ھوتا ھے کہ سعادت و خوشبختی اس دنیا اور اس کے محدود مال و متاع میں خلاصہ نھیں ھوتی کیونکہ اس کے عقیدہ کے مطابق جو چیز خدا کے پاس ھے وہ خیر کثیر اور باقی رہنے والی سعادت ھے، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَمَا اٴُوتِیتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَزِینَتُهَا وَمَا عِنْدَ اللهِ خَیْرٌ وَاٴَبْقَی ) ( ۳۳ )
”اور تم لوگوں کو جو کچھ عطا ھوا ھے تووہ دنیا کی (ذراسی)زندگی کا فائدہ اور اسی کی آرائش ھے اور جو کچھ خدا کے پاس ھے وہ اس سے کھیں بہتر اور پائیدار ھے “۔
لہٰذا وہ دنیاوی مشکلات و مصائب کے سامنے مضطرب اور پریشان نھیں ھوتا، حوادث کے سامنے سر نھیں جھکاتا، اضطراب و پریشانی کے موقع پر چیخ و پکار نھیں کرتا،بلکہ اپنے نفس کو صبر کی تلقین کرتا ھے، موت کا تذکرہ کرتا ھے، خداوندعالم کی بارگاہ میں حاضرھونے کی جاودانہ سعادت کی امید رکھتا ھے، جیسا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ارشادگرامی ھے:
”اکثروا ذکر الموت ویوم خروجکم من القبور ،وقیامکم بین یدی الله تعالی ،تهون علیکم المصائب “۔( ۳۴ )
” اکثر اوقات موت کا ذکر اور قبر سے نکلنے کا تصور کیا کرواور خداوندعالم کے سامنے حاضری کا تصور کیا کرو تو تم پر مصائب آسان ھوجائیں گے“۔
پس معلوم ھوا کہ قیامت کا عقیدہ انسان کو سعادت اور خوشبختی کی طرف لے جاتا ھے اور انسان کو کمال و فضیلت کا مالک بنادیتا ھے، کیونکہ حقیقی کامیابی وھی آخرت کی کامیابی ھے جو انسانی کمال اور فضائل کسب کرنے کی بنا پر حاصل ھوتی ھے کہ انسان اپنے کو حد اعتدال میں رکھے اورغضب و شھوت میں افراط و تفریط کا شکار نہ ھو ، اور ان راستوں کا انتخاب کرے جن کے ذریعہ وہ بہترین کمال تک پہنچ جائے اور اپنے کو مختلف برائیوں سے دور رکھے کیونکہ برائیوں میں انسان کی ذلت اور خواری کے علاوہ کچھ نھیں ھے، تاکہ آخرت میں ذلت اور عذاب کا مستحق قرار نہ پائے، لہٰذا ان تمام چیزوں کے پیش نظر انسان کے لئے یہ دنیا اُخروی کمال تک پہنچنے کا راستہ بن جاتی ھے۔
آج جب کہ انسان مختلف چیزوں میں ترقی کرتا ھوا نظر آتا ھے، اور مختلف طاقتوں پر قبضہ کئے ھوئے ھے لیکن خود اس کے نفس کی لگام ڈھیلی ھے اور اس کو کمال مطلوب کی طرف پہنچنے میں مانع ھے اس کے بعد انسان ان انحرافات ،پریشانیوں اور مشکلات کو دور کرنے سے عاجز رہ جاتا ھے، جیسا کہ آج کل کی ترقی یافتہ دنیا کے اکثر ممالک میں ھورھاھے۔
اسی وجہ سے روحانی پریشانی اور اضطرابات کو دور کرنے کے تمام راہ حل بے کار رہ جاتے ھیں اور انسان شش و پنج کی زندگی میں مبتلا ھوجاتا ھے۔
لہٰذا یہاں پر صرف ایک عقیدہ معاد ھی راستہ باقی رہ جاتا ھے ، جس کے ذریعہ انسان اپنے نفس کو پاکیزہ بناسکتا ھے اور انحرافات اور برائیوں کے آڑے آسکتا ھے،اوریہ ایسی مضبوط زرہ ھے جو ھوائے نفس اور خواہشات نفسانی سے محفوظ رکھتی ھے تاکہ انسان اپنی منزل مقصود کو حاصل کرلے،اوراسی بنیادی رکن پر نفس اور فاضل معاشرہ کی بنیاد رکھی ھوئی ھے۔
____________________
(۱) سورہ اعراف آیت ۲۹۔
(۲) فعل کی دو قسمیں ھوتی ھیں ایک لازم (جس کا اثر دوسرے تک نہ پہنچے، جیسے میں گیا،) دوسرے متعدی ( جس کا اثر دوسرے تک پہنچے جیسے میں نے زید کو مارا)، مترجم۔
(۳) سورہ نوح آیت۱۸۔
(۴) نہج البلاغہ / صبحی الصالح:۲۳۱ خطبہ نمبر۱۶۲ ۔دار الھجرة ۔قم۔
(۵) سورہ قصص آیت ۸۵۔
(۶) سورہ روم آیت۲۷۔، لغوی معنی کے سلسلہ میں رجوع کریں :لسان العرب ۳ ابن منظور ۔ عود۔۳/ ۳۱۵۔ادب الحوزہ ۔قم ،مفردات القرآن / الراغب ۔عود ۔:۳۵۱۔المکتبہ المرتضویہ ۔طہران، المصباح المنیر/ الفیومی ۔عاد ۔:۲۔۱۰۱مصر،معجم مقاییس اللغہ / ابن فارس ۔عود۔۴:۱۸۱۔دارالفکر ۔ بیروت ۔
(۷) النافع یوم الحشر فی شرح الباب الحادی عشرفاضل مقداد :۸۶ انتشارات زاہدی۔
(۸) شرح المقاصد /التفتازانی ۵:۸۲۔الشریف الرضی ۔قم۔
(۹) المبداء و المعاد / صدرا الدین الشیرازی :۳۷۴۔۳۷۵،حق الیقین / عبد اللہ شبر ۲:۳۶۔۳۷ مطبعہ العرفان ۔صیدا۔
(۱۰) سورہ سباآیت۳۔
(۱۱) سورہ نساء آیت۶۰۔
(۱۲) سورہ اسراء آیت۵۳۔
(۱۳) جیسا کہ مولائے کائنات دعاء کمیل میں فرماتے ھیں، ”ولا یمکن الفرار من حکومتک “۔ (تیری حکومت سے فرار کرنا ممکن نھیں ھے) (مترجم)
(۱۴) جامع الاخبار /سبزواری :ص۳۵۹/۱۰۰۱۔مو سسہ آل البیت علیہ السلام قم،بحار الانوار /علامہ مجلسی ج۷۸ص۱۲۶/۷، از امام حسین علیہ السلام ۔
(۱۵) کنزل العما ل /متقی ہندی ۱۵:۶۹۰/۴۲۷۶۱۔موسسہ الرسالہ ۔بیروت۔
(۱۶) سورہ انعام آیت۱۶۴۔
(۱۷) سورہ مدثر آیت۳۸۔
(۱۸) سورہ مومنون آیت۱۰۱تا۱۰۳۔
(۱۹) سورہ آل عمران آیت۱۰۔ و سورہ مجادلہ آیت۱۷۔
(۲۰) سورہ آل عمران آیت۱۱۶و ، سورہ مجادلہ آیت۱۷۔
(۲۱) سورہ لیل آیت۱۱۔
(۲۲) تفسیر رازی۲۲:۱۳۵۔دار احیا ء الترا ث العربی ۔بیروت۔
(۲۳) نہج البلاغہ / صبحی الصالح:۵۰۷۔الحکمہ ۲۲۱ ۔
(۲۴) غرر االحکم / الا ٓ مدی ۲:
(۲۵) نہج البلاغہ / صبحی الصالح:۳۴۶۔خطبہ نمبر ۲۲۴۔
(۲۶) امالی مفید :۱۹۸/۳۲ مو تمر شیخ مفید ۔قم۔
(۲۷) سورہ مطففین آیت۱۔۵۔
(۲۸) التہذیب /شیخ طوسی ۹:۲۳۲/۳ ۔دارالکتب الاسلامیہ ۔تہران۔
(۲۹) الا دلة الجلیہ فی شرح الفصول النصیریة/عبد اللہ نعمة :۱۹۳۔دارالفکر اللبنانی۔
(۳۰) سورہ فجر آیت۲۷۔۳۰۔
(۳۱) بحا رالانوار /علامہ مجلسی،ج۴۱،ص۱۴/۴۔
(۳۲) نہج البلاغہ /صبحی الصالح :۱۹۱۔خطبہ نمبر ۔(۱۳۳)
(۳۳) سورہ قصص آیت۶۰۔
(۳۴) الخصا ل،شیخ صدوق:۶۱۶۔حدیث الابعمائة۔
دوسری فصل
ضرورت قیامت پر محکم دلائل و برہان
اول: قرآنی دلائل
بے شک روز قیامت پر ایمان رکھنے کی بنیاد اس وحی الٰھی کے ثبوت پر قائم ھے جو ذات اقدس سے صادر ھوتی ھے،اور عقیدہ قیامت پر قرآن مجید میں بہت سی آیات بیان ھوئی ھیں،اور قرآن مجید کا کوئی سورہ بھی ایسا نہ ھوگا جس میں قیامت اور عالم آخرت کے بارے میں گفتگو نہ کی گئی ھو،یہاں تک کہ بعض علماء نے یہ بھی بیان کیاھے کہ قرآن مجید میں تقریباً ایک ہزار آیات میںوضاحت کے ساتھ یاارشارہ و کنایہ میں قیامت کے بارے میں بیان ھوا ھے۔
اسی طرح روز قیامت اور اس سے متعلق امور کے بارے میں مختلف صورتوں میں تفصیل بیان ھوئی ھے، جن کے ذریعہ سے مختلف دلائل اور براھین کے ذریعہ قیامت کے وجود کو حتمی اور ضروری عنوان سے بیان کیا گیا ھے، اس عقیدہ کو تمام ھی آسمانی ادیان کے مسلم اصول میں شمار کیا جاتاھے،اور انکار کرنے والوں کے شبہات ردّ کئے گئے ھیں، اور روز قیامت، حشرو نشر، حساب و صراط اور جنت میں مومنین کے حالات اور ان کے لئے آمادہ نعمات نیز گناہگاروں کے لئے جہنم اور ان کے لئے تیار ھمیشگی عذاب کے بارے میں تفصیل بیان ھوئی ھے۔
قارئین کرام! ھم یہاں پر قیامت سے متعلق قرآن مجید کی اھم مضامین پر مشتمل ان آیات کو بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ روز قیامت کو اعتقادی بنیادوں میں شمار کیا گیا ھے اور اس بات پر زور دیا گیاھے کہ روز قیامت کا اعتقاد واجب اعتقاد کے اصول میں سے ھے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھے:
( لَیْسَ الْبِرَّ اٴَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ ) ( ۱ )
”نیکی کچھ یھی تھوڑی ھے کہ (نمازمیں)اپنے منہ اور پورب یا پچھم کی طرف کرلوبلکہ نیکی تو اس کی ھے جو خدا اور روز آخرت اور فرشتوںاور( خدا کی)کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے“۔
اسی طرح ارشاد ھوتا ھے:
( مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِوَعَمِلَ صَالِحًا فَلاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ ) ( ۲ )
”جو خدا اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور اچھے (اچھے)کام کرے گا ان پر البتہ نہ تو کوئی خوف ھو گا “۔
۲ ۔درج ذیل آیات میں روز قیامت کے وجود پر تاکید کی گئی ھے اور اس کو ایک حتمی اور غیر قابل شک امر بتایا گیا ھے، ارشاد ھوتا ھے:
( رَبَّنَا إِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لاَرَیْبَ فِیهِ إِنَّ اللهَ لاَیُخْلِفُ الْمِیعَادَ ) ( ۳ )
”اے ھمارے پرور دگار بیشک تو ایک نہ ایک دن جس کے آنے میں کوئی شبہ نھیں لوگوں کو اکٹھا کرے گا (تو ھم پر نظر عنایت رھے )بیشک خدا اپنے وعدے کے خلاف نھیں کرتا “۔
( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ لاَرَیْبَ فِیهِ وَمَنْ اٴَصْدَقُ مِنْ اللهِ حَدِیثًا ) ( ۴ )
”اللہ تو وھی پروردگارھے جس کے سوا کوئی قابل پر ستش نھیں وہ تم کو قیامت کے دن جس میں ذرا بھی شک نھیں ضرور اکٹھاکرے گا خدا سے بڑھ کر بات میں سچا کون ھوگا“۔
( وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ اٴَیْمَانِهِمْ لاَیَبْعَثُ اللهُ مَنْ یَمُوتُ بَلَی وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔( ۵ )
”اور یہ کفار خدا کی جتنی قسمیں ان کے امکان میں تھیں کھا کر کہتے ھیں کہ جو شخص مرجاتا ھے پھر خدا اس کو دوبارہ زندہ نھیں کرے گا(اے رسول تم کہدو کہ)ہاں(ضرور ایسا کرے گا)اس پر اپنے وعدہ (کی وفا)لازمی و ضروری ھے مگربُہتر ے آدمی نھیں جانتے ھیں“۔
( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوالاَتَاٴْتِینَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَی وَرَبِّی لَتَاٴْتِیَنَّکُمْ ) ۔۔( ۶ )
”اور کفار کہنے لگے کہ ھم پر تو قیامت آئے ھی گی نھیں (اے رسول)تم کہدو ہاں(ہاں)مجھ کو اپنے اس عالم الغیب پرور دگار کی قسم ھے“۔
۳ ۔ھم ذیل میں وہ آیات پیش کرتے ھیں جن میں ظاہری طور پر قیامت کے تصور کو ثابت کیا گیاھے اور کبھی بھی ان آیات کی تاویل و توجیہ نھیں کی جاسکتی ، جن میں گزشتہ امتوں کے بعض افراد یا گروہ اور حیوانات کو اسی دنیا میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا گیا ھے، جب کہ وہ مرچکے تھے ،ان کی موت ثابت ھوچکی تھی، اور اس موت کے بعد خدا نے ان کو دوبارہ زندہ کےااور پھر دوبارہ خدا نے ان کو موت دی ھے، یہ کام مختلف زمانوں میں انجام پایا ھے تاکہ اس کے بعد دنیا والے تعجب نہ کرےں، اور انھیںخداوندعالم کی قدرت کا اندازہ ھوجائے، ھم یہاں پر ان میں سے بعض آیات کو مثال کے طور پر بیان کرتے ھیں۔( ۷ )
الف۔ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو دوبارہ زندگی ملی، جیسا کہ ارشاد خداوندعالم ھوتا ھے:
( اٴَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِیَارِهِمْ وَهُمْ اٴُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمْ اللهُ مُوتُوا ثُمَّ اٴَحْیَاهُمْ إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَشْکُرُونَ ) ( ۸ )
”تاکہ تم سمجھو (اے رسول)کیا تم نے ان لوگوں (کے حال)پر نظر نھیں کی جو موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکل بھاگے اور وہ ہزاروں آدمی تھے تو خدا نے ان سے فرمایا کہ سب کے سب مر جاو (اور وہ مر گئے )پھر خدا نے انھیں زندہ کیا ۔بیشک خدا لوگوں پر بڑ ا مہربان ھے مگر اکثر لو گ اس کا شکریہ ادا نھیں کرتے“۔
ب۔ بنی اسرائیل کے ایک نبی کو دوبارہ زندہ کیا گیا،جیساکہ خداوندعالم کا ارشاد ھے:
( اٴَوْکَالَّذِی مَرَّ عَلَی قَرْیَةٍ وَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلَی عُرُوشِهَا قَالَ اٴَنَّی یُحْیِی هَذِهِ اللهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَاٴَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ آیَةً لِلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَکْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهُ قَالَ اٴَعْلَمُ اٴَنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ( ۹ )
”(اے رسول تم نے )مثلاً اس (بندے کے حال )پر نظر بھی کی جو ایک گاوں پر (سے ھو کر)گذرا اور وہ ایسا اجڑا تھا کہ اپنے چھتوں پر ڈھے کے گر پڑا تھا ،یہ دیکھ کر وہ بندہ کہنے لگا ، اللہ اب اس گاوں کو (ایسی )ویرانی کے بعد کیونکر آباد کرے گا اس پر خدا نے اس کو (مار ڈالا )سو برس تک مردہ رکھا پھر اس کو جلا اٹھایا (تب)پوچھا تم کتنی دیر پڑے رھے عرض کی ایک دن پڑا رھایا ایک دن سے بھی کم،فرمایا نھیں تم (اسی حالت میں) سو برس پڑے رھے ،اب ذرا اپنے کھانے پینے (کی چیزوں)کو دیکھ کہ اُبسی تک نھیں اور ذرا اپنے گدھے (سواری)کو تو دیکھو(کہ اس کی ہڈیاں ڈھیر پڑی ھیں اوریہ سب اس واسطے کیاھے تاکہ لوگوں کے لئے تمھیں قدرت کا نمونہ بنائیں اور (اچھا اب اس گدھے کی ہڈیوں کی طرف نظر کرو کہ ھم کیونکر جوڑ جاڑ کر ڈھانچہ بناتے ھیں پھر ان پر گوشت چڑھاتے ھیں پس جب ان پر یہ ظاہر ھوا تو بیساختہ بول اٹھے کہ(اب )میں بہ یقین کامل جانتا ھوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ھے “۔
ج۔ قوم موسیٰ کے ستّر لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا، ارشاد ھوتا ھے:
( وَإِذْ قُلْتُمْ یَامُوسَی لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتَّی نَرَی اللهَ جَهْرَةً فَاٴَخَذَتْکُمْ الصَّاعِقَةُ وَاٴَنْتُمْ تَنظُرُونَ # ثُمَّ بَعَثْنَاکُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ) ( ۱۰ )
”اور وہ وقت بھی یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کھاتھا کہ اے موسیٰ ھم تم پر اس وقت تک ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم خدا کو ظاہر بظاہر نہ دیکھ لیں اس پر تمھیں بجلی نے لے ڈالا اور تم تکتے ھی رہ گئے ۔پھر تمھیں تمہارے مرنے کے بعد ھم نے جلااٹھایا تاکہ تم شکر کرو“۔
د۔ بنی اسرائیل کے ایک مقتول شخص کا زندہ ھونا، ارشاد ھوتا ھے:
( وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَاٴْتُمْ فِیهَا وَاللهُ مُخْرِجٌ مَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا کَذَلِکَ یُحْیي اللهُ الْمَوْتَی وَیُرِیکُمْ آیَاتِهِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ ) ( ۱۱ )
”اور جب تم نے ایک شخص کو مارڈالا اور تم میں اس کی بابت پھوٹ پڑگئی ۔کہ ایک دوسرے کوقاتل بتانے لگا اور جو تم چھپاتے تھے خدا کو اس کا ظاہر کرنا منظور تھا۔ پس ھم نے کھاکہ اس گائے کا کوئی ٹکڑا لے کر اس (کی لاش)پر مارو یوں خدا مردے کو زندہ کرتا ھے اور تم کو اپنی قدرت کی نشانیان دکھادیتا ھے تاکہ تم سمجھو “۔
ھ۔ جناب ابراھیم علیہ السلام کے لئے باذن اللہ پرندوں کا زندہ ھونا، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیِي الْمَوْتَی قَالَ اٴَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِی قَالَ فَخُذْ اٴَرْبَعَةً مِنْ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَی کُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْء اً ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاٴْتِینَکَ سَعْیًا وَاعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ( ۱۲ )
”اور(اے رسول )وہ واقعہ بھی یاد کرو )جب ابراھیم نے (خداسے)در خواست کی اے میرے پرور دگار تو مجھے بھی دکھا دے کہ تو مردہ کو کیونکر زندہ کرتا ھے خدا نے فرمایا کیا تمھیں (اس کا) یقین نھیں ،ابراھیم نے عرض کی (کیوں نھیں) مگر آنکھ سے دیکھنا اس لئے چاہتاھوں کہ میرے دل کو اطمینان ھوجائے فرمایا (اچھااگر یہ چاہتے ھو) تو چار پرندے لو اور ان کو( اپنے پاس منگا لو اور )ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو اس کے بعد ان کو بلاو(پھر دیکھوتو کیونکر)وہ سب کے سب تمہارے پا س کس طرح آتے ھیں اور سمجھو کہ خدا بیشک غالب و حکمت والا ھے“۔
۴ ۔ قرآن مجید میں اس بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیاھے کہ انبیاء علیھم السلام کے مھم امور میں سے ایک کام روز قیامت اور روز حساب و کتاب سے ڈرانا تھا، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے :
( یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ اٴَلَمْ یَاٴْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ هَذَا قَالُوا شَهِدْنَا عَلَی اٴَنفُسِنَا وَغَرَّتْهُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَشَهِدُوا عَلَی اٴَنفُسِهِمْ اٴَنَّهُمْ کَانُوا کَافِرِینَ ) ( ۱۳ )
”پھر( ھم پوچھیں گے)کہ کیوں اے گروہ جن و انس کیا تمہارے پاس تمھیں میں سے پیغمبر نھیں آئے جو تم سے ھماری آیتیں بیان کریں اور تمھیں اس روز (قیامت )کے پیش آنے سے ڈرائیں وہ سب عرض کریں گے (بیشک آئے تھے)ھم خود اپنے اوپر آپ (اپنے خلاف )گواھی دیتے ھیں (واقعی )ان کو دنیا کی (چند روزہ)زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا اور ان لوگوں نے اپنے خلاف آپ گواھی دی کہ بیشک یہ سب کے سب کافر تھے ‘ ‘ ۔
نیز ایک دوسری جگہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَسِیقَ الَّذِینَ کَفَرُوا إِلَی جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتَّی إِذَا جَاءُ وهَا فُتِحَتْ اٴَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا اٴَلَمْ یَاٴْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَتْلُونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ هَذَا قَالُوا بَلَی وَلَکِنْ حَقَّتْ کَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَی الْکَافِرِینَ ) ( ۱۴ )
”اور جو لوگ کافر تھے ان کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے یہاں تک کہ جب جہنم کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھو ل دئے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تم ھی لوگوں میںسے پیغمبر تمہارے پاس نھیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پرور دگار کی آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس روز (بد) کے پیش آنے سے ڈراتے وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہاں (آئے توتھے)مگر (ھم نے نہ مانااور ) عذاب کا حکم کافروں کے بارے میں پورا ھو کر رھا“۔
یہاں پر انذار اور خوف سے عام معنی مراد ھیں، کسی خاص قوم سے مخصوص نھیں ھیں۔
۵ ۔ قرآن کریم نے اس بات پرزور دیاھے کہ اسلام سے قبل آسمانی شریعتوں میں معاد کا عقیدہ موجود تھا، جیسا کہ خداوندعالم جناب نوح کے اپنی قوم سے خطاب کرتے ھوئے فرماتا ھے:
( وَاللهُ اٴَنْبَتَکُمْ مِنْ الْاٴَرْضِ نَبَاتًا ثُمَّ یُعِیدُکُمْ فِیهَا وَیُخْرِجُکُمْ إِخْرَاجًا ) ( ۱۵ )
”اور خدا ھی نے تم کو زمین سے پیدا کیا پھر تم کو اسی میں دوبارہ لے جائے گا اور (قیامت میں اسی سے)نکال کھڑا کرے گا“۔
اسی طرح جناب موسیٰ کے بارے میں ارشاد فرماتا ھے:
( ثُمَّ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَامًا عَلَی الَّذِی اٴَحْسَنَ وَتَفْصِیلًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَهُدیً وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُونَ ) ( ۱۶ )
”پھر ھم نے جو نیکی کی اس پر اپنی نعمت پوری کرنے کے واسطے موسیٰ کو کتاب (توریت)عطا فرمائی اور اس میں ہر چیز کی تفصیل (بیان کر دی )تھی اور لوگوں کے لئے (از سرتا پا)ہدایت و رحمت ھے تاکہ وہ لوگ اپنے پرور دگار کے سامنے حاضر ھونے کا یقین کریں“۔
اسی طرح خداوندعالم جناب موسیٰ کی فرعون اور اس کی قوم کی حکایت کرتے ھوئے فرماتا ھے:
( وَقَالَ مُوْسٰٓی إِنِّی عُذْتُ بِرَبِّی وَرَبِّکُمْ مِنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لاَیُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ) ( ۱۷ )
”اور موسیٰ نے کھاکہ میں تو ہر متکبر سے جو حساب کے دن (قیامت)پر ایمان نھیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ھوں“۔
نیز جناب عیسیٰ علیہ السلام کے لئے قیامت کے متعلق تذکرہ کرتے ھوئے ارشاد ھوتا ھے:
ا( ِٕذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی إِنِّی مُتَوَفِّیکَ وَرَافِعُکَ إِلَیَّ وَمُطَهِّرُکَ مِنْ الَّذِینَ کَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِینَ اتَّبَعُوکَ فَوْقَ الَّذِینَ کَفَرُوا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ثُمَّ إِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاٴَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیمَا کُنْتُمْ فِیهِ تَخْتَلِفُونَ ) ( ۱۸ )
”جب عیسیٰ سے خدا نے فرمایا اے عیسیٰ میں ضرور تمہاری زندگی کی مدت پوری کر کے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور کافروں (کی گندگی)سے تم کو پاک و پاکیزہ رکھوں گا اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ان کو قیامت تک کافروں پر غالب رکھوں گا ،پھر تم سب کو میری طرف لوٹ آنا ھے تب(اس دن)جن باتوں میں تم (دنیا)میں جھگڑے کرتے تھے (ان کا)تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا “۔
۶ ۔قرآن کریم نے بہت سی آیات میں اس بات کی تاکید کی ھے کہ خداوندعالم نے بندوں کے اعمال و افعال کو دقیق طور پر لکھنے کے لئے فرشتوں کو مامور کیا ھے، اور ایسے دفتر میں لکھتے ھیں جس میں وہ ان کے اعمال نہ ذرہ برابر اضافہ کرتے ھیں اور نہ کمی کرتے ھیں، جیسا کہ ارشاد قدرت ھے :
ا( ِٕنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتَی وَنَکْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَکُلَّ شَیْءٍ اٴحْصَیْنَاهُ فِی إِمَامٍ مُبِینٍ ) ( ۱۹ )
”ھم ھی یقیناً مردوں کو زندہ کرتے ھیں اور جو کچھ وہ لوگ پہلے کرچکے ھیں(ان کو) اوران کی(اچھی یا بُری باقی ماندہ) نشانیوں کو لکھتے جاتے ھیں اور ھم نے ہر چیز کو ایک صریح و روشن پیشوا میں گھیر دیاھے “۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( اٴَمْ یَحْسَبُونَ اٴَنَّا لاَنَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَی وَرُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَکْتُبُونَ ) ( ۲۰ )
”کیا وہ لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ ھم ان کے بھیداور ان کی سر گو شیوں کو نھیں سنتے۔ ہاں (ضرور سنتے ھیں)اور ھمارے فرشتے ان کے پاس ھیں اور ان کی سب باتیں لکھتے جاتے ھیں “۔
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ اٴَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ إِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنْ الْیَمِینِ وَعَنْ الشِّمَالِ قَعِیدٌ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْهِ رَقِیبٌ عَتِید ) ( ۲۱ )
”اور بیشک ھم نے انسان کو پیدا کیا اور جو خیالات اس کے دل میں گذرتے ھیں ھم ان کو جانتے ھیں اور ھم تو اس کی شہرگ سے بھی زیادہ قریب ھیں جب ( وہ کوئی کام کرتا ھے تو)وہ لکھنے والے (کراماًکاتبین)جو (اس کے )داہنے بائیں بیٹھے ھیں لکھ لیتے ھیں کوئی بات اس کی زبان پر نھیں آتی مگر نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ھے “۔
درج ذیل قرآنی آیات اس بات کو واضح کرتی ھیں کہ روز قیامت انسان کا نامہ اعمال ان کے سامنے پیش کیا جائے گا، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ هَذَا کِتَابُنَا یَنطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا کُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ( ۲۲ )
”جو کچھ تم لوگ کرتے تھے آج تم کواس کا بدلہ دیا جائے گا یہ ھماری کتاب (جس میں اعمال لکھے ھیں) تمہارے مقابلہ میں ٹھیک ٹھیک بول رھی ھے جو کچھ بھی تم کرتے تھے ھم لکھواتے جاتے تھے “۔
چنانچہ ان نامہ اعمال کو دیکھ کر کہ اس میں کس قدر امانت داری اور دقت سے کام لیا گیا ھے گناہگاروں میں خوف و دہشت طاری ھوجائے گا، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھے:
( وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیهِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْکِتَابِ لاَیُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلاَیَظْلِمُ رَبُّکَ اٴَحَدًا ) ( ۲۳ )
”اور لوگوں کے اعمال کی کتاب (سامنے )رکھی جائے گی تو تم گنہگار وں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ھے(دیکھ کر)سھمے ھوئے ھیں اور کہتے جاتے ھیں ہائے ھماری شامت یہ کیسی کتاب ھے کہ نہ چھوٹے ھی گناہ کو بے قلمبند کئے چھوڑتی ھے نہ بڑے گناہ کو،اور جو کچھ ان لوگوں نے (دنیامیں )کیا تھا وہ سب( لکھا ھوا)موجود پائیں گے اور تیرا پرور دگار کسی پر ظلم نہ کرے گا“۔
قارئین کرام! ان تمام آیات کے پیش نظر انسان مکمل طور سے قیامت کے عقیدہ پر یقین حاصل کرسکتا ھے وہ روز قیامت جہاں پر انسانی زندگی کا حساب و کتاب پیش کیا جائے گا، جہاں پر تمام چھوٹی بڑی سب چیزیںپیش ھوں گی۔
۷ ۔ قرآنی وہ بہت سی آیات جن میں قیامت کے منکرین کے بے جا اعتراضات کا جواب دیا گیا ھے اور اس بات کی تاکید کی گئی ھے کہ ان کے انکار کے لئے ذرہ بھی گنجائش باقی نھیں ھے، کیونکہ وہ تو صرف ظن کی پیروی کرتے ھیں اور ظن حق سے بے نیاز نھیں کرسکتا، ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( وَقَالُوا مَا هِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُهْلِکُنَا إِلاَّ الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلاَّ یَظُنُّونَ ) ( ۲۴ )
”اور وہ لوگ کہتے ھیں کہ ھماری زندگی تو بس دنیا ھی کی ھے یھیں مرتے ھیں اور یھیں جیتے ھیں اور ھم کو بس زمانہ ھی (جلاتا)مارتا ھے اور ان کو اس کی کچھ خبر تو ھے نھیں یہ لوگ تو بس اٹکل کی باتیں کرتے ھیں “۔
ایک دوسری جگہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لاَیُغْنِی مِنْ الْحَقِّ شَیْئًا ) ۔( ۲۵ )
”(حالانکہ )انھیں اس کی کچھ خبر نھیں ۔وہ لوگ تو بس گمان (خیال)کے پیچھے چل رھے ھیں حالانکہ گمان یقین کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نھیں آیا کرتا “۔
اور جب منکرین قیامت کا انکار کرتے ھیں تو ان سے دلیل طلب کی جاتی ھے:
( قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ) ( ۲۶ )
”اے (رسول )تم (ان مشرکین سے) کہدوکہ اگر تم سچے ھو تو اپنی دلیل پیش کرو ‘ ‘ ۔
کیونکہ ان کے اعتراضات اور شبہات بے جا اور بے ھودہ ھوتے ھیں( ۲۷ ) جن کا
جواب قرآن مجید نے کافی اور وافی طور پر دیا ھے، جن میں سے بعض کو عقلی دلائل کی بنیاد پر پیش کیا گیا ھے اور قیامت کی ضرورت اور وعدہ الٰھی کے پورا ھونے پر تاکید کی گئی ھے، جیسا کہ خداوندعالم نے ان کے اعتراض کو بیان کرتے ھوئے اس کا جواب بھی دیا ھے:
( وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ یُحْیِي الْعِظَامَ وَهِیَ رَمِیمٌ # قُلْ یُحْیِیهَا الَّذِی اٴَنشَاٴَهَا اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ ) ( ۲۸ )
”اور ھماری نسبت باتیں بنانے لگا اور اپنی خلقت (کی حالت)بھول گیا (اور)کہنے لگا کہ بھلا جب یہ ہڈیاں (سڑ گل کر)خاک ھو جائیں گی تو (پھر)کون (دوبارہ )زندہ کر سکتا ھے(اے رسول)تم کہدو کہ اس کو وھی زندہ کرے گا جس نے ان کو(جب یہ کچھ نہ تھے )تو پہلی مرتبہ زندہ کر دکھا یا وہ ہر طرح کی پیدائش سے واقف ھے “۔
دوسری دلیل: کلام معصوم
احادیث نبوی (ص)اور کلام اہل بیت علیھم السلام میں عالم آخرت ،روز قیامت حشر و نشر، حساب و کتاب اور جزا و سزا کا تذکرہ تفصیل سے بیان ھوا ھے، اور جس تفصیل سے قرآن مجید میں آیات موجود ھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مزید وضاحت کے ساتھ احادیث میں ذکر ھوا ھے، ھم یہاں پر بعض ان احادیث کا ذکر کرتے ھیں جو قیامت کے وجود کو ثابت کرتی ھیں اور اس کو حتمی اور ضروری سمجھتی ھیں۔
حضرت رسول اکرم (ص)ارشاد فرماتے ھیں:
”یا بنی عبد المطلب!إن الرائد لایکذب اٴهله،والذی بعثنی بالحق لتموتنّ کما تنامون،ولتبعثنّ کما تستیقظون،ومابعد الموت دارٌ إلاّٰ جنّة اٴونار،خَلْقُ جمیع الخلق و بعثهم علی الله عزّوجلّ کخلق نفس واحدة و بعثها،قال الله تعالیٰ :( وما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدة ) ۔(سورہ لقمان آیت ۲۸)(۲۹)
”اے بنی عبد المطلب ! بیشک سر پرست اپنے اہل و عیال کے سامنے جھوٹ نھیں بولتا قسم اس خدا کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا تمھیں موت ویسے ھی آئے گی جیسے تمھیں نیند آتی ھے، اور تم کو اٹھایاجائے گا جیسے تم بیدار ھوتے ھو، اور موت کے بعد سوائے جنت یا جہنم کے کچھ نھیں ھے، تمام مخلوق کو خداوندعالم کے سامنے ایک نفس کی طرح پیش ھونا ھے، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے: ”تم سب کا پیدا کرنا اور پھر (مرنے کے بعد )جلا اٹھانا ایک شخص کے (پیدا) کرنے اور جلااٹھانے کے برابر ھے“۔
نیز رسول اکرم (ص)کا ارشاد گرامی ھے:
”لا یومن عبد حتی یومن باربعة: یشهد ان لااله الا الله وحده لا شریک له،وانی رسول الله بعثنی بالحق ،وحتی یومن بالبعث بعد الموت،وحتیٰ یومن بالقدر ۔“( ۳۰ )
”کوئی بھی شخص اس وقت تک ایمان لانے والا نھیں بن سکتا جب تک چار چیزوں پر یقین نہ رکھے: گواھی دے کہ سوائے اللہ کے کوئی خدا نھیں ھے اور اس کا کوئی شریک نھیں ھے، اور میری نبوت کا اقرار کرے کہ مجھے حق کے ساتھ معبوث کیا گیا ھے، اور روز قیامت پر ایمان لائے، اور (قضاو) قدر پر یقین رکھے“۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”حتی اذا بلغ الکتاب اجله ،والامر مقادیره،والحق آخرالخلق باوله،وجاء من امرالله مایرید ه من تجدید خلقه،ماد السماء وفطرها، وارج الارض وارجفها،وقلع جبالهاونسفها،ودک بعضهابعضا من هیبة جلالته،ومخوف سطوته ،واخرج من فیها فجددهم بعد اخلاقهم ،و جمعهم بعد تفرقهم ،ثم میزهم لما یریده من مسالتهم عن خفایا الاعمال،وخبایا الافعال،و جعلهم فریقین :انعم علی هولاء، وانتقم من هولاء “۔( ۳۱ )
”یہاں تک کہ جب قسمت کا لکھا اپنی آخری حدتک اور امر الٰھی اپنی مقررہ منزل تک پہنچ جائےگا، اور آخرین کو اولین سے ملادیا جائے گا، اور ایک نیا حکم الٰھی آجائے گا، کہ خلقت کی تجدید کی جائے تو یہ امر آسمانوں کو حرکت دے کر شگافتہ کردے گا، اور زمین کو ہلاکر کھوکھلا کردے گا، اور پہاڑوں کو جڑ سے اکھاڑ کر اڑادے گا اور ھیبت جلال الٰھی اور خوف سطوت پروردگار سے ایک دوسرے سے ٹکراجائیں گے، اور زمین سب کو باہر نکال دے گی اور انھیں دوبارہ بوسیدگی کے بعد تازہ حیات دیدی جائے گی، اور انتشار کے بعد جمع کردیا جائے گا، اور مخفی اعمال پوشیدہ افعال کے سوال کے لئے سب کو الگ الگ کردیا جائے گا، اور مخلوقات دو گروھوں میں تقسیم ھوجائے گی ایک گروہ مرکز نعمات ھوگا اور دوسرا محل انتقام“۔
اسی طرح ایک دوسری جگہ حضرت علی علیہ السلام قیامت کی صفات بیان کرتے ھوئے بیان فرماتے ھیں:
”ذٰلک یوم یجمع الله فیه الاولین وآلاخرین لنقاش الحساب وجزاء الاعمال، خضوعا، قیاماً قد الجمهم العرق ،و رجفت بهم الارض،فاحسنهم حالا ً من وجد لقدمیه موضعاً، و لنفسه متسعاً “۔( ۳۲ )
”(روز قیامت) وہ دن ھوگا جب پروردگار اوّلین و آخرین کو دقیق ترین حساب اور اعمال کی جزا کے لئے اس طرح جمع کرے گا کہ سب خضوع و خشوع کے عالم میں کھڑے ھوں گے، پسینہ ان کے دہن تک پھونچا ھوگا اور زمین لرز رھی ھوگی، بہترین حال اس کا ھوگا جو اپنے قدم جمانے کی جگہ حاصل کرلے گا اور جسے سانس لینے کا موقع مل جائے گا“۔
اسی طرح حضرت سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”العجب کل العجب لمن شک فی الله وهو یری الخلق ،والعجب کل العجب لمن انکر الموت وهو یری من یموت کل یوم و لیلة، والعجب کل العجب لمن انکر النشاة الاخرة وهو یری النشاة الاولیٰ، والعجب کل العجب لعامر دار الفناء و یترک دار البقاء “۔( ۳۳ )
”واقعاً بہت زیادہ تعجب ھے اس شخص پر جو مخلوق کو تو دیکھ رھاھو لیکن خدا کے وجود کا انکار کرے، اور بہت زیادہ تعجب ھے اس شخص پرجو موت کا انکار کرے اور وہ آئے دن مرنے والوں کو دیکھ رھاھو، اور واقعاً تعجب ھے اس شخص پر جو روز قیامت کا انکار کرے جبکہ وہ خلقت اول کو دیکھ رھاھو، اور بہت زیادہ تعجب ھے اس شخص کے لئے جو اس فانی ھونے والی دنیا میں لگا ھوا ھے اور دار بقاء کو ترک کربیٹھا ھے“۔
تیسری دلیل: اجماع
روز قیامت ایک ایسا عقیدہ ھے جس پر تمام ھی اسلامی فرقوں کااجماع اور اتفاق ھے، اور اس کے حتمی ھونے پر کسی کو کوئی اختلاف نھیں ھے، اور سبھی اسلامی فرقے قیامت کے عقیدہ کو ضروریات دین( ۳۴ ) میں شمار کرتے ھیں اور اس عقیدہ کے وجوب کے قائل ھیں، اور جو لوگ اس عقیدہ کا انکار کرتے ھیں وہ مسلمانوں کی فہرست سے خارج ھیں،( ۳۵ ) اور یھی وہ عقیدہ ھے جس کا ہر مسلمان نماز پنجگانہ میں اقرار کرتا ھے:( مالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) گویا یہ اس بات کا اعتراف ھے کہ موت کے بعد ایک دن زندہ کیا جائے گا ، اور اس عقیدہ کو سبھی مانتے ھیں۔
تمام ادیان اور شریعتیں اس بات پر متفق ھیں کہ مرنے کے بعد ایک حیات ھوگی اگرچہ موت کے بعد زندگی کی کیفیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ھے، جیسا کہ ھم نے قیامت کے اصطلاحی معنی میں اقوال ذکر کئے ھیں، ھم یہاں پر ان اقوال کی نقد و تحقیق نھیں کرنا چاہتے اور نہ ھی یہاں پر یہ بیان کرنا چاہتے ھیں کہ کونسا قول صحیح ھے اور کون باطل،یہاں پر اھم بات اصل عقیدہ قیامت کو ثابت کرنا ھے کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا چاھے کسی بھی طرح ھو اور اس کو اس کے اعمال و کردار کی جزا دی جائے گی اگر اچھے اعمال انجام دئے ھیں تو اس کی جزا بھی اچھی دی جائے گی اور اگر برے اعمال کئے ھیں تو ان کی سزا بھی بُری ھی دی جائے گی، اور اس بات پر تمام ھی ادیان متفق ھیں، کیونکہ یہ بات عقلی طور پر ممکن ھے اور قرآنی و دیگر آسمانی کتابوں میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ھے۔
چوتھی دلیل: دلیل عقلی
بہت سے فلاسفہ اور متکلمین نے محض عقلی دلائل اور برہان کے ذریعہ قیامت کے ضروری ھونے کو ثابت کیا ھے، جیسا کہ خود قرآن مجید میں بھی بہت سے عقلی اور فطری دلائل کے ذریعہ قیامت اور حیات آخرت کا انکار کرنے والوں کے جواب میں ثابت کیا ھے، اور یہ بات واضح کی ھے کہ قیامت کا وجود ضروری اور حتمی ھے، ھم یہاں پر اپنے معزز قارئین کے لئے چند دلائل پیش کرتے ھیں:
۱ ۔ برہان مماثلة
مرحوم علامہ حلّی تحریر فرماتے ھیں: ھمارے عالم کا مماثل (ھم مثل ) عالم بھی ممکن الوجود ھے کیونکہ مثلین (ایک طرح کی دوچیزوں) کا حکم ایک ھوتا ھے، لہٰذا جب یہ عالم ممکن الوجود ھے تو پھر دوسرا عالم بھی ممکن الوجود ھے۔( ۳۶ )
جیسا کہ قرآن مجید میں دنیاوی اور آخرت کی زندگی کی مماثلت کی بعض مثالیں بیان کی گئی ھیں اور یہ شباہت دو طرح کی ھے:
۱ ۔ پہلی زندگی عدم سے وجود میں آئی اور دوسری زندگی بھی عدم کے بعد ھوگی۔
۲ ۔آخرت کی زندگی کی مثال اس زمین سے دی گئی ھے کہ جو پہلے مردہ ھو پھر زندہ ھوجائے اور یہاں ھماری عقل مثلین کے بارے میں ایک حکم لگاتی ھے۔
عقل حکم کرتی ھے کہ ایک جیسی چیزوں کا حکم بھی ایک ھی ھونا چاہئے، جس سے یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ جو ذات پہلی زندگی پر قادر ھے وہ دوسری زندگی پر بھی قادر ھے، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ھیں،
شباہت کی پہلی قسم: ھم اس بات سے روز قیامت پر دلیل قائم کرنا چاہتے ھیں مبداء کی بنا پر، کیونکہ ان دونوں میں شباہت پائی جاتی ھے، جیسا کہ قرآن کریم نے بھی پہلی شباہت کے طریقہ پر معاد کے امکان کو ثابت کیا ھے، کیونکہ دنیا میں انسان کی پیدائش عدم سے ھوئی ھے، (جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ھے) اس کے بعد قرآن میں بیان کیا گیا ھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ إِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ مِنْ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَیِّنَ لَکُمْ وَنُقِرُّ فِی الْاٴَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اٴَشُدَّکُمْ وَمِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی اٴَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلاَیَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا ) (الی قوله تعالیٰ )( ذَلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ هُوَ الْحَقُّ وَاٴَنَّهُ یُحْیي الْمَوْتَی وَاٴَنَّهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ) ( ۳۷ )
”اگر تم کو (مرنے کے بعد)دوبارہ زندہ ھونے میں کسی طرح کا شک ھے تو اس میں شک نھیں کہ ھم نے تمھیں (شروع شروع) مٹی سے اس کے بعد نطفہ سے اس کے بعد جمے ھوئے خون سے پھر اس لوتھڑے سے جو پورا (سڈول )ھویا ادھورا ھو پیدا کیا تاکہ تم پر (اپنی قدرت )ظاہر کریں(پھر دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ھے)اور ھم عورتوں کے پیٹ میں جس (نطفہ)کو چاہتے ھیں ایک مدت معین تک ٹھہرا رکھتے ھیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ھیں پھر (تمھیں پالتے ھیں)تاکہ تم اپنی جوانی تک کو پہنچو اور تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ھیں جو (قبل بڑھاپے کے)مر جاتے ھیں اور تم میںسے کچھ لوگ ایسے ھیں جو ناکارہ زندگی (بڑھاپے )تک پھیر لائے جاتے ھیں تاکہ سمجھنے کے بعد سٹھیا کے کچھ بھی (خاک)نہ سمجھ سکے اور تو زمین کو مردہ (بیکارافتادہ)دیکھ رہاھے پھر جب ھم اس پر پانی بر سادیتے ھیں تو لہلہانے اور ابھرنے لگتی ھے اور ہر طرح کی خوشنما چیز یں اُگائی ھیں “۔
پس انسان قابل ذکر نہ تھا خداوندعالم نے اس کو مٹی سے خلق فرمایا، اور وادی عدم سے ہستی وجود میں لایا، اس کو عقل و زبان عطا کیا اور اس کو احسن تقویم قرار دیا، لہٰذا اگر اس کو مرنے اور اس کے اعضاء کے مٹی میں ملنے کے بعددوبارہ زندہ کیا جائے تو اس میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نھیں ھے، کیونکہ اس دنیا میں اس کی خلقت اور وجود (آخرت کے زندگی) سے مشابہ ھے، اور دو مشابہ چیزوں کا حکم ایک ھوتا ھے ان دونوں کے درمیان عقل فرق نھیں کرتی، بلکہ ایک کے وجود کو دوسرے کے وجود پر دلیل قرار دیتی ھے، جبکہ پہلی زندگی تو عدم سے ھے اور دوسری زندگی تو ان کے اعضاء کے ذریعہ ھوگی، بہرحال پہلی زندگی اعظم اور اھم ھے، جیسا کہ خود خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ھے:
( وَهُوَ الَّذِی یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ اٴَهْوَنُ عَلَیْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاٴَعْلَی فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ( ۳۸ )
”اور وہ ایسا (قادرمطلق) ھے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ھے پھر دوبارہ (قیامت کے دن )پیدا کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ھے اور آسمان و زمین میں سب سے بالا تر اسی کی شان ھے “۔
اس برہان اور دلیل میں وہ تمام آیات شامل ھیں جو مبدا اور معاد کو حکم کے لحاظ سے مساوی اور برابر جانتی ھیں:
۱ ۔( اللهُ یَبْدَوا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ثُمَّ إِلَیْهِ تُرْجَعُونَ ) ( ۳۹ )
”خدا ھی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر وھی دوبارہ (پیدا) کرے گا پھر تم سب لوگ اسی کو لوٹا ئے جاوگے “۔
۲ ۔( فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا قُلْ الَّذِی فَطَرَکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) ( ۴۰ )
”تو یہ لوگ عنقریب ھی تم سے پوچھیں گے کہ بھلا ھمیں دوبارہ کون زندہ کرے گا تم کہدو کہ وھی (خدا) جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا“۔
۳ ۔( کَمَابَدَاٴْنَا اٴَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُهُ وَعْداً عَلَیْنَا اِٴنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ ) ( ۴۱ )
”جس طرح ھم نے (مخلوقات کو)پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح)دوبارہ (پیدا) کر چھوڑیں گے (یہ وہ)وعدہ (ھے جس کا کرنا)ھم پرلازم ھے اور ھم اسے ضرور کرکے رھیں گے“۔
شباہت کی دوسری قسم: قرآن کریم بہت سی آیات( ۴۲ ) میںقیامت کے اثبات کو شباہت کے طریقہ پر محسوس اور مشاہدہ کے طور پر دوبارہ زندگی پر تاکید کی ھے ، جو مردہ زمین کو دوبارہ حیات دینا ھے، زمین سے سبزہ پیدا کیا ھے جبکہ وہ خشک اور بے جان ھوچکی تھی، اور موسم سرما میں مردہ ھوچکی تھی، اسی طرح روز قیامت میں دوبارہ زندگی میں شباہت پائی جاتی ھے جیسا کہ ارشاد قدرت ھوتا ھے:
( اٴَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَیِّتٍ فَاٴَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ کَذَلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتَی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ ) ( ۴۳ )
”اور وھی تو وہ (خدا) ھے جو اپنی رحمت (ابر) سے پہلے خوش خبری دینے والی ھواوں کو بھیجتا ھے یہاں تک کہ جب ھوائیں (پانی سے بھرے )بوجھل بادلوں کو لے اڑیں تو ھم نے ان کو کسی شہر کی طرف (جو پانی کی نایابی سے گویا)مرچکا تھا ہنکادیا پھر ھم نے اس سے پانی برسایا پھر ھم نے اس سے ہر طرح کے پھل (زمین سے)نکالے ھم یونھی (قیامت کے دن زمین سے ) مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو“۔
قارئین کرام! یہ دونوں آیتیں عقل کے لئے یہ بات ثابت کرتی ھیں کہ دو مشابہ چیزوں کا حکم ایک جیسا ھوتا ھے، جب مردہ زمین کو زندگی مل سکتی ھے تو پھر مردہ انسان بھی دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ھے، اور دوسری چیزوں کو بھی زندہ کیا جاسکتا ھے۔
علامہ طباطبائی (رحمة اللہ علیہ )اپنی تفسیر میں تحریر کرتے ھیں: آیہ شریفہ ”إِنَّ ذَلِکَ لَمُحْیِی الْمَوْتَی “ سے مراد زمین کے زندہ ھونے اور دوسرے مردوں کی زندہ ھونے میں شباہت پر دلالت ھے، کیونکہ دونوں میں موت پائی جاتی ھے یعنی زندگی کے آثار ختم ھوجاتے ھیں اور زندگی ان ھی آثار کے ختم ھونے کے بعد دوبارہ واپس آنے کا نام ھے، اور جب زمین اور نباتات میں دوبارہ زندگی ثابت ھوچکی ھے تو پھر انسان اور غیر انسان کی حیات اور زندگی بھی انھیں کے مشابہ ھے، اور”حکم الامثال فی ما یجوز و فی ما لایجوز واحد ۔“( مشابہ اور ایک دوسرے کے مثل چیزوں کا حکم ممکن اور غیر ممکن میں ایک ھوتا ھے) پس جب ان بعض چیزوں میں دوبارہ زندگی ثابت ھوگئی جیسے زمین اور نباتات تو پھر دوسری چیزوں کے لئے بھی یھی حکم ممکن اور ثابت ھے۔( ۴۴ )
قرآن کریم نے اسی معنی و مفھوم کی طرف اشارہ کیا ھے کہ انسان کی خلقت نباتات کی طرح ھے اسی طرح اس کی دوبارہ زندگی بھی ھے، ارشاد ھوتا ھے:
( وَاللهُ اٴَنْبَتَکُمْ مِنْ الْاٴَرْضِ نَبَاتًا # ثُمَّ یُعِیدُکُمْ فِیهَا وَیُخْرِجُکُمْ إِخْرَاجًا ) ۔( ۴۵ )
”اور خدا ھی نے تم کو زمین سے پیدا کیا پھر تم کو اسی میں دوبارہ لے جائے گا اور (قیامت میں اسی سے)نکال کھڑا کرے گا “۔
۲ ۔برہان قدرت
جب خداوندعالم کی قدرت عظیم اور بے انتھاھے تو اس کی قدرت ہر مقدور شئے سے متعلق ھوسکتی ھے، اور خداکی یہ قدرت تمام چیزوں پر یکساں اور برابر ھے چاھے وہ کام آسان ھو یا مشکل ، اور یھی بات اس آیت سے ظاہر ھوتی ھے:( إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔ قرآنی آیات دونوں طریقوں سے قیامت پر استدلال قائم کرتی ھے ، کہ خدا کی قدرت عام اور لامحدود ھے :
پہلی صورت: خداوندعالم نے بہت سی آیات( ۴۶ ) میںمعاد اور روز قیامت کے سلسلے میں اپنی اس قدرت کا اظہار کیا ھے جس میں اس بات کا اشارہ موجود ھے کہ جو ذات گرامی عدم سے وجود عطا کرنے میں قدرت رکھتی ھے، اس کے لئے ان کو دوبارہ پلٹانا آسان ھے، ارشاد ھوتا ھے:
( اٴَوَلَمْ یَرَوْا کَیْفَ یُیْدِیٴُ اللهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ إِنَّ ذَلِکَ عَلَی اللهِ یَسِیرٌ#قُلْ سِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَاٴَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللهُ یُنشیِءُ النَّشْاٴَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ( ۴۷ )
”بس کیا ان لوگوں نے اس پر غور نھیں کیاکہ خداکس طرح مخلوقات کو پہلے پہل پیدا کرتا ھے اور پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا یہ تو خدا کے نزدیک بہت آسان ھے (اے رسول ان لوگوں سے)تم کہدو کہ ذراروئے زمین پر چل پھر کر دیکھو تو کہ خدا نے کس طرح پہلے پہل مخلوق کو پیدا کیا پھر( اسی طرح وھی)خدا (قیامت کے دن)آخری پیدائش پیدا کرے گابیشک خدا ہر چیز پر قادر ھے “۔
قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ دونوں مذکورہ آیتیں انسان کو خلقت میں غور و فکر کرنے پر تحریک کرتی ھیں تاکہ انسان کی عقل اپنے خالق اور مدبر کی معرفت میں استقلال اور اطمینان پیدا کرلے، اور انسان یہ سمجھ لے کہ خدا کی قدرت کے سامنے معاد کی ضرورت ھے کیونکہ خدا کی قدرت بے انتھاھے، جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری متعدد آیات میں اس بات پر زور دیا گیا ھے، ارشاد ھوتا ھے:
( اٴَلاَیَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ ) ( ۴۸ )
”بھلا جس نے پیدا کیا وہ بے خبر ھے اور وہ تو بڑا باریک بیںواقف کار ھے“۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( نَحْنُ خَلَقْنَاکُمْ فَلَوْلاَتُصَدِّقُونَ ) ( ۴۹ )
”تم لوگوں کو (پہلی بار بھی )ھم ھی نے پیدا کیا ھے پھر تم (دوبارہ کی) کیوں نھیں تصدیق کرتے“۔
یہاں تک کہ ارشاد ھوا:
( وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ النَّشْاٴَةَ الْاٴُولَی فَلَوْلاَتَذکَّرُونَ ) ( ۵۰ )
”اور تم نے پہلی پیدائش توسمجھ ھی لی ھے (کہ ھم نے کی)پھر تم غور کیوں نھیں کرتے‘ ‘۔
یہ بات ظاہر ھے کہ انسان پہلی خلقت کا علم رکھتا ھے، اور یہ بھی جانتا ھے کہ اسی ذات نے اس کو پیدا کیا ھے اور اس کو اسی کے لحاظ سے قدرت دی ھے اور اس کے امور کی تدبیر کرتا ھے، وھی اللہ تمام مخلوقات کا خالق ھے، اس کے علاوہ کوئی اس کا خالق و مدبر نھیں ھے، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( قُلْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَبْدوا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ) ( ۵۱ )
”(اے رسول ان سے )پوچھو کہ تم نے جن لوگوں کو (خدا کا ) شریک بنایا ھے کوئی بھی ایسا ھے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرے پھر ان کو (مرنے کے بعد )دوبارہ زندہ کرے“۔
نیز ارشاد قدرت ھوتا ھے:
( کَیْفَ تَکْفُرُونَ بِاللهِ وَکُنتُمْ اٴَمْوَاتًا فَاٴَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیکُمْ ثُمَّ إِلَیْهِ تُرْجَعُونَ ) ( ۵۲ )
”(ہائیں)کیوں کر تم خدا کا انکار کر سکتے ھوحالانکہ تم (ماوںکے پیٹ میں)بے جان تھے تو اسی نے تم کو زندہ کیاپھر وھی تم کو مارڈالے گاپھر وھی تم کو (دوبارہ قیامت میں)زندہ کرے گاپھر اسی کی طرف لوٹائے جاوگے“۔
قارئین کرام! مذکورہ آیات کے پیش نظر یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ قدرت خدا کی نسبت پہلی اور دوسری زندگی کے بارے میں ایک جیسی ھے وہ کسی کام کرنے سے عاجز نھیں ھے اور نہ اس کے لئے کوئی کام کرنا مشکل ھے اور نہ ھی وہ کسی کام سے تھکتا ھے، ارشاد ھوتا ھے:
( اٴَفَعَیِینَا بِالْخَلْقِ الْاٴَوَّلِ بَلْ هُمْ فِی لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِیدٍ ) ( ۵۳ )
”کیا ھم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ھیں (ہر گز نھیں ) مگر یہ لوگ از سر نو( دوبارہ ) پیدا کرنے کی نسبت شک میں پڑے ھیں“۔
اور یہ بات بھی واضح ھوجاتی ھے کہ خلق اول اور خلق جدید کے بارے میں قدرت خدا امکان اور وقوع کے لحاظ سے نفس واحد ہ کی خلقت کی طرح ھے، ارشاد پروردگار ھوتا ھے:
( مَاخَلْقُکُمْ وَلاَبَعْثُکُمْ إِلاَّ کَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ ) ( ۵۴ )
”تم سب کا پیدا کرنا اور پھر (مرنے کے بعد )جلا اٹھانا ایک شخص کے (پیدا) کرنے اور جلااٹھانے کے برابر ھے“۔
لہٰذا خدا کے لئے کوئی کام کرنا مشکل اور سخت نھیں ھے، یہ دلیل انسان کے لئے عقیدہ معاد کو ثابت کردیتی ھے اور اس کی تصدیق کا باعث بنتی ھے،(نیز انسان کے ایمان میں اضافہ کردیتی ھے)
دوسری صورت: خداوندعالم نے قیامت کے بارے میںاپنی قدرت کو خلقت زمین و آسمان کی خلقت پر مرتب کیا ھے یعنی جس خدا نے زمین و آسمان کو خلق کیا ھو اس کے لئے دوبارہ پلٹانا کوئی مشکل کام نھیں ھے، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَقَالُوا اٴَءِ ذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَء ِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا اٴَوَلَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللهَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ قَادِرٌ عَلَی اٴَنْ یَخْلُقَ مِثْلَهُمْ ) ( ۵۵ )
”اور کہنے لگے کہ جب ھم (مرنے کے بعدسڑگل کر)ہڈیاں ریزہ ریزہ ھوجائیں گے تو کیا پھر ھم از سر نو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے،کیا ان لوگوں نے اس پر بھی نھیں غور کیا کہ وہ خدا جس نے سارے آسمان و زمین بنائے اس پر بھی (ضرور ) قادر ھے کہ ان کے ایسے آدمی پیدا کرے“۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( اٴَوَلَیْسَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَی اٴَنْ یَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَی وَهُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِیمُ # إِنَّمَا اٴَمْرُهُ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئًا اٴَنْ یَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُون ) ( ۵۶ )
”(بھلا) جس خدانے سارے آسمان اور زمین پیدا کئے کیا وہ اس پر قابو نھیں رکھتا کہ ان کے مثل دوبارہ پیدا کر دے ہاں(ضرورقدرت رکھتاھے )اور وہ تو پیدا کرنے والا واقف کار ھے اس کی شان تو یہ ھے کہ جب کسی چیز کو (پیدا کرنا) چاہتا ھے تو وہ کہہ دیتا ھے کہ ھو جا تو (فوراً )ھو جاتی ھے“۔
ایضاً ارشاد رب العزت ھوتا ھے:
( اٴَوَلَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللهَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَی اٴَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی بَلَی إِنَّهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ) ( ۵۷ )
”کیاان لوگوں نے یہ نھیں غور کیا کہ جس خدا نے سارے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے ذرا بھی تھکا نھیں وہ اس بات پر قادر ھے کہ مردوں کو زندہ ناکرپائے گا ہاں(ضرور)وہ یقینا ہر چیز پر قادر ھے“۔
قارئین کرام! اگر ھم زمین و آسمان کی خلقت پر غور و فکر کریں تو روز قیامت پر ھمارے ایمان میں اضافہ ھوجائے گا، کیونکہ زمین و آسمان کی خلقت اتنی عظیم ھے(جیسا کہ اس عظیم وسعت، عجائبات، چھوٹے چھوٹے نظام جن کو دیکھ کر انسان ”انگشت بدندان“ ھوجاتا ھے اور انسان ان میں ایک ذرہ ھے) تو پھر اس زمین و آسمان کا خلق کرنے والا روز قیامت دوبارہ انسان کو کیسے زندہ نھیں کرسکتا؟! کیونکہ زمین و آسمان کی خلقت کے سامنے انسان کی خلقت بہت ھی آسان ھے، ارشاد الٰھی ھوتاھے:
( لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ اٴَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ ) ( ۵۸ )
”سار ے آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی بہ نسبت یقینی بڑا (کام ھے) مگر اکثر لوگ (اتنابھی)نھیں جانتے“۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( ءَ اَنْتُمْ اٴَشَدُّ خَلْقاً اٴَمِ السَّماءُ بَنَاهَا رَفَعَ سَمْکَهَا فَسَوَّاهَا وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاهَا ) ( ۵۹ )
”بھلا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ھے ،یا آسمان کا کہ اسی نے اس کو بنایا اس کی چھت کو خوب اونچا رکھا ۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعد زمین کو پھیلایا “۔
یہاں پر قرآن مجید ان جاہل لوگوں کا جواب دیتا ھے جو قیامت کے منکر تھے اور معاد کو بعید از عقل سمجھتے تھے، کہتے تھے:( وَقَالُوا اٴَءِ ذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا ) ۔( ۶۰ ) (”اور یہ لو گ کہتے ھیں کہ جب ھم (مر نے کے بعد سڑ گل کر) ہڈیاں رہ جائیں گے اور ریزہ ریزہ (ھو جائیں گے)تو کیا از سر نو پیدا کر کے اٹھا جائیں گے“) تو خداوندعالم نے اپنی قدرت مطلقہ کا ذکر کرتے ھوئے ان کے اس نظریہ کو ردّ کرتے ھوئے فرمایا:
( قُلْ کُونُوا حِجَارَةً اٴَوْ حَدِیدًا اٴَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُم ) ( ۶۱ )
”(اے رسول)تم کہدو کہ تم (مرنے کے بعد)چاھے پتھر بن جاو یا لوھایا کوئی اور چیز جو تمہارے خیال میں بڑی سخت ھو“۔
خدا نے ان کو پتھر یا لوھایا ان کے خیال میں سخت سے سخت چیز بن جانے کا حکم دیا یعنی جو چاھوبن جاؤ لیکن خداوندعالم تم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرلے گا، اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ خدا کی قدرت مطلق اور بے پناہ ھے، اس کے لئے کوئی مشکل نھیں ھے چاھے تم گل سڑکر مٹی بن جاؤ یا پتھر اور لوھابن جاؤ وغیرہ۔( ۶۲ )
۳ ۔ برہان حکمت
بے شک خداوند عالم اپنے کاموں میں حکیم ھے (یعنی اس کے تمام کام حکمت کے تحت اور حساب و کتاب کی بنا پر ھوتے ھیں) اور اس کے تمام کام چاھے عالم تکوینی میں ھوں یا عالم تشریعی میں؛ ان تمام کو حکمت کے تحت اور ہدف کے ساتھ انجام دیتا ھے، یہ عجیب نظام کائنات اپنے چھوٹے سے کام میں بھی خاص مقصد کے تحت حرکت کرتا ھے، اور اپنے بہترین نتیجہ کو حاصل کرتا ھے، اسی طرح عالم تشریع میں بھی تمام چھوٹی بڑی چیزیں حکمت الٰھی کے تحت ھوتی ھیں جن میں لغو اور بے فائدگی کا کوئی شائبہ نھیں ھوتا، چنانچہ خداوندعالم فرماتا ھے:
( اٴَفَحَسِبْتُمْ اٴَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَاٴَنَّکُمْ إِلَیْنَا لاَتُرْجَعُونَ ) ( ۶۳ )
”تو کیا تم یہ خیال کرتے ھو کہ ھم نے تم کو(یوںھی )بیکار پیدا کیا اور یہ کہ تم ھمارے حضور میں لوٹا کر نہ لائے جاوگے“۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْاٴَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا بَاطِلاً ذَلِکَ ظَنُّ الَّذِینَ کَفَرُوا فَوَیْلٌ لِلَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ النَّارِ ) ( ۶۴ )
”اور ھم نے آسمان اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ھیں بیکار نھیں پیدا کیا یہ ان لوگوں کا خیال ھے جو کافر ھو بیٹھے تو جو لوگ دوزخ کے منکر ھیں ان پر افسوس ھے“۔
ایضاً ارشاد ھوا:
( اٴَیَحْسَبُ الْإِنسَانُ اٴَنْ یُتْرَکَ سُدیً ) ( ۶۵ )
”کیاا نسان یہ سمجھتا ھے کہ وہ یوں ھی چھوڑ دیا جائے گا “۔
قارئین کرام! اس برہان کو قیاس کی شکل میں بھی بیان کیا جاسکتا ھے، جس کے دو مقدمے ھیں:
۱ ۔ خداوندعالم صاحب حکمت ھے۔
۲ ۔ صاحب حکمت کوئی بے ھودہ اور بے فائدہ کام نھیں کرتا۔
پس ان دونوں مقدموں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ خداوندعالم کوئی عبث اوربے ھودہ کام نھیں کرتا، اب اگر انسان کے لئے معاد نہ ھو تو اس کا خلق کرنا عبث اور بے فائدہ ھے، جبکہ خدا کی حکمت کا تقاضا یہ ھے کہ اس کا کوئی کام عبث اور بے ھودہ نہ ھو، لہٰذا ضروری ھے کہ انسان روز قیامت پلٹایا جائے، تاکہ وہاں پر حکمت الٰھی ظاہر ھوسکے۔
اوراگر انسان موت کے بعد نابود ھوجائے، اور اس کے بعد اس کے لئے کوئی دوسری دنیائے آخرت نہ ھو جہاں پر وہ سعادت و شقاوت کی زندگی گزارے تو پھر اس دنیا میں اس کی خلقت بے فائدہ ھوجائے گی، کیونکہ جب کسی کام کا کوئی فائدہ اور عقلائی ہدف نہ ھو تو وہ کام عبث اور بے ھودہ ھوتا ھے، لہٰذا فائدہ اور ہدف مرتب کرنے کی خاطر معاد کا ھونا ضروری ھے، کیونکہ اگر انسان موت کے بعد معدوم ھوجائے تو اس کامطلب یہ ھے کہ اس کی خلقت کا ہدف اور مقصد صرف یھی چند روزہ مشکلات و مصائب کی دنیا تھی ، اور اس زندگانی سے خداوندعالم صرف حیات دے کر مارنا چاہتا ھے، اورحیات و زندگی اسی طرح کرتا رھے اور اس کے کاموں کا کوئی مقصد نہ ھو !! واقعاً اس چیز کو کوئی بھی عاقل انسان قبول نھیں کرسکتا، تو پھر صاحب حکمت و جلال والی ذات اس کام کو کیونکر قبول کرسکتی ھے، کیونکہ خدا وندعالم کی حکمت سے کوئی بے ھودہ اور باطل کام سرزد نھیں ھوتا، تعالیٰ اللہ عن ذلک علواً کبیراً۔
لہٰذا مذکورہ گفتگو کے پیش نظر یہ بات ثابت ھوجاتی ھے کہ عالم آخرت اور قیامت کا ھونا ضروری ھے جس میں انسان کی خلقت کا ہدف واضح ھوجائے، یہ وھی عالم ھے جس کو ”عالم بقا“( اور قرآن کی )اصطلاح میں”حَیوَان“ کھاجاتا ھے، ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( وَمَا هَذِهِ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ) ( ۶۶ )
”اور یہ دنیا وی زندگی تو کھیل تما شے کے سوا کچھ نھیں اور اگر یہ لوگ سمجھیں بوجھیں تواس میں شک نھیں کہ ابدی زندگی(کی جگہ) تو بس آخرت کا گھر ھے “۔
یہاں پر ھم ایسی قرآنی آیات پیش کرتے ھیں جو اس چیز کی تاکید کرتی ھیں کہ اس دنیا کی خلقت کی حکمت و مصلحت کے پیش نظر عالم آخرت اور قیامت کا ھونا ضروری ھے، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( اٴَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی اٴَنفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ وَاٴَجَلٍ مُسَمًّی وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَکَافِرُونَ ) ( ۶۷ )
”کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں( اتنا بھی) غور نھیں کیا کہ خدا نے سارے آسمان اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان میں ھیں بس بالکل ٹھیک اور ایک مقررمیعاد کے واسطے خلق کیا ھے اور کچھ شک نھیں کہ بہتیرے لوگ تواپنے پروردگار (کی بارگاہ)کے حضور (قیامت) ھی کو کسی طرح نھیں مانتے “۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِینَ مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُونَ إِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیقَاتُهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ( ۶۸ )
”اور ھم نے سارے آسمان و زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان میںھیں ۔ ان کو کھیل تماشا کرنے کے لئے نھیں بنایا ان دونوں کو ھم نے بس ٹھیک (مصلحت سے)پیدا کیا مگر ان میں کے بہتیرے لوگ نھیں جانتے بیشک فیصلہ (قیامت)کا دن ان سب (کے دوبارہ زندہ ھونے)کا مقرر وقت ھے“۔
۴ ۔ برہان عدالت
۱ ۔ انسان کے لئے فرائض کا ھونا وجود قیامت کا اقتضاء کرتا ھے:
واضح رھے کہ خداوندعالم نے انسان کے لئے اس دنیا کو امتحان گاہ( ۶۹ ) اور آزمائش کی جگہ قرار دیا ھے، اس نے جہاں انسان کو جنبہ خیر عنایت کیا وھیں اس کو جنبہ شر بھی دیا ھے تاکہ وہ اس کے ذریعہ امتحان دے سکے، اس کے ساتھ ساتھ خداوندعالم نے اس انسان کو عقل بھی عنایت کی ھے جس سے وہ اچھائی اور برائی کے درمیان امتیاز پیدا کرسکے، اس کے علاوہ خدا نے انبیاء اور مرسلین کو بھی بھیجا تاکہ خیر و شرّ کے راستہ کو معین کردیں، اس کے بعد خداوندعالم نے حق کی پیروی کو واجب قرار دیا اور شرّ اور برائی سے پرھیز کر نے کا حکم دیدیا، اس کے بعد انسان کو ارادہ و اختیار دیاتاکہ وہ اپنے ارادہ سے نیکیوں یا برائیوں کے انجام دینے پر عقاب و ثواب مستحق ھو سکے، ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ اٴَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلاً ) ( ۷۰ )
”جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کام میں سب سے اچھا کون ھے “۔
ایضاً:
( وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ) ( ۷۱ )
”اور دکھ (دونوں طرح)سے آزمایا تاکہ وہ (شرارت سے )بازآجائیں“۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( وَ نَبْلُوکُم بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً وَ اِٴلَیْنَا تُرْجَعُونَ ) ( ۷۲ )
”اور ھم تمھیں مصیبت و راحت میں امتحان کی غرض سے آزماتے ھیں اور (آخر کار) ھماری ھی طرف لوٹائے جاو گے “۔
اسی بنا پر دنیاوی زندگانی میں مختلف قسم کی پریشانیاں اور سختیاں، بیماری، صحت ، مالداری اور غربت اور برائیوں کا رجحان اور نیکیوں سے بے رغبتی پائی جاتی ھے، یہ امتحان اور آزمائش ھے، اوریہاںپر کوئی ایسی چیز نھیں ھے جو جزا یا سزا بن سکے، اور چونکہ فرائض اور واجبات کا ھونا اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس کے لئے جزا یا سزا ھو اسی لئے روز قیامت کا ھونا ضروری ھے تاکہ نیکی انجام دینے والوں کو نیک جزا دی جائے اور برائی کرنے والوں کو سزا دی جائے، اور اگر ایسا نہ ھو تو پھر فرائض اور واجبات کا کوئی فائدہ نھیں ھوگا اور واجبات و تکالیف لغو و بےکار ھوجائےں گے۔
اس سلسلہ میں علامہ فاضل مقداد کہتے ھیں: اگر روز قیامت کا عقیدہ صحیح اور حق نہ ھو تو پھر واجبات و فرائض کا وجود قبیح اور بُرا ھوگا، اور واجبات و فرائض قبیح نھیںھیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ عقیدہ قیامت بھی صحیح اور حق بجانب ھے کیونکہ فرائض اور تکالیف ایک مشقت اور کلفت ھے، پس مشقت بغیر معاوضہ(اور بدلہ) کے ظلم ھے، اور یہ بدلہ فرائض کی ادائیگی کے وقت نھیں ھے، تو اس کے لئے دوسرے جہان کا ھونا ضروری ھے تاکہ انسان کو اپنے اعمال کا بدلہ مل سکے، ورنہ تو واجبات اور محرمات کا معین کرنا ظلم ھوجائے گا، جو قبیح اور بُرا ھے، خدا ظلم سے پاک و پاکیزہ ھے۔( ۷۳ )
۲ ۔ وجود قیامت ،عدل الٰھی کا تقاضا ھے
علامہ نصیر الدین طوسی صاحب قیامت کو ثابت کرنے کے لئے کہتے ھیں:”وعدہ (خدا) اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ھے کہ قیامت کا وجود ھو“۔ اس جملہ کی شرح میں علامہ حلی فرماتے ھیں: ”چونکہ خداوندعالم نے انسان سے ثواب و جزا کا وعدہ کیا ھے اسی طرح عذاب کا بھی وعدہ کیا ھے، تو اس صورت میں قیامت کا ھونا ضروری ھے تاکہ خداوندعالم اپنے وعد و وعید پر وفا کرے۔“( ۷۴ )
کیونکہ اس بات میں کسی بھی انسان کو کوئی شک و شبہ نھیں ھے کہ انسان اس چند روزہ زندگی میں اپنے اعمال کی جزا یا سزا تک نھیں پہنچتا، لہٰذا وہ متدین افراد جنھوں نے اپنی عمر عبادت و بندگی میں گزاردی ھواور معاشرہ کی فلاح و بہبودی کے لئے زحمت اٹھائی ھو ، اس سلسلہ میں مشکلات، سختیاں اور پریشانیاں برداشت کی ھوں ، تو کوئی بھی حکومت اس کے اعمال کی جزا اور ثواب نھیں دے سکتی، اسی طرح انسانیت پر بڑے بڑے ظلم و ستم کرنے والے مجرمین کو جنھوں نے دوسروں پر ظلم و ستم کی وجہ سے اس دنیا میں مزے اڑائے ھوں ،بعض اوقات تو مجرم غائب ھوجاتے ھیں اور اگر گرفتار بھی کرلئے جائیں تو ان کی سزا ان کے جرائم سے بہت کم ھوتی ھے، مثلاً اگر اس نے پچاس انسانوں کا خون بہایا ھو تو اگر اس کی سزا میں اس کو سولی بھی دی جائے تو ایک انسان کا بدلہ ھوا ھے، اور باقی جرائم کا بدلہ باقی ھے، لہٰذا اس دنیا میں کوئی ایسی طاقت نھیں ھے جو اس کے تمام جرائم کی سزا دے سکے۔
لیکن جب انسان مرجاتا ھے اور ظالم و مظلوم، صالح اور مفسد بغیر عادلانہ ثواب و عقاب کے قبروں کے حوالے کردئے جاتے ھیںیعنی نیکی کرنے والوں کو ثواب نھیں ملتا اور ظلم و ستم کرنے والوں کو درد ناک عذاب نھیں ملتا، پس یہ چیز اس وعدہ الٰھی کے خلاف ھے جس کی بنا پر نیکی کرنے والوں اور ظلم و ستم کرنے والوں کے درمیان فرق قائم کرے اور نیک افراد کو ثواب دے اور برے لوگوں کو عذاب دے، اور چونکہ یہ کام اس دنیا میں نھیں ھوتا ھے لہٰذا ایک ایسی عدالت (قیامت) کا ھونا ضروری ھے جہاں پر خدا کا وعدہ عملی طور پر پورا ھو، اور انبیاء، اولیاء ، شہداء اور خدا کے نیک بندوں کے ساتھ کیا ھوا خدا کا وعدہ صادق ھو، اور ظالمین و مفسدین سے انتقام لیا جائے۔
چنانچہ قرآن کریم نے اس دلیل کو وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ھے، ان لوگوں کے مقابلہ میں جو نیک اور برے افراد کو برابر سمجھتے تھے:
۱ ۔ جن آیات میں گناہگار اور اطاعت کرنے والوں میں روز قیامت فرق کیا جائے گا تاکہ ثواب و عذاب ، وعد و وعیدمحقّق ھو، اور یہ سب کچھ عدل الٰھی کا تقاضا ھے۔
ارشاد رب العزت ھوتا ھے:
( إِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا وَعْدَ اللهِ حَقًّا إِنَّهُ یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِیمٍ وَعَذَابٌ اٴَلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ ) ( ۷۵ )
”تم سب کو (آخر) اسی کی طرف لوٹنا ھے خدا کا وعدہ سچا ھے وھی یقینا مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ھے پھر (مرنے کے بعد)وھی دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ جزائے خیر عطا فرمائے گا ۔ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے ان کے کفر کی سزامیں پینے کو کھولتا ھوا پانی اور دردناک عذاب ھوگا“۔
نیز ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( فَاٴَمَّا مَنْ طَغَیٰ وَآثَرَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا فَاِٴنَّ الْجَحِیمَ هِیَ الْمَاٴْوَیٰ وَاٴَمَّامَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَ نَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوَیٰ فَاِٴنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاٴْوَیٰ ) ( ۷۶ )
”اور جس نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی اس کا ٹھکانا تو یقینا دوزخ ھے ۔مگر جو شخص اپنے پرور دگار کے سامنے کھڑے ھونے سے ڈرتا اور جولوگوں کونا جائز خواہشوں سے روکتا رھا۔تو اس کا ٹھکا نا یقینا بہشت ھے “۔
۲ ۔ جن آیات میں دونو ں کے برابر ھونے کو استفہام انکاری کے ذریعہ بیان کیا گیا ھے :
ارشاد پروردگار ھوتا ھے:
( اٴَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لاَیَسْتَوُونَ ) ( ۷۷ )
”تو کیا جو شخص ایمان دار ھے اس شخص کے برابر ھو جائے گا جو بدکار ھے(ہر گز نھیں یہ دونوں) بر ابر نھیں ھوسکتے“۔
نیز خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( اٴَمْ نَجْعَلُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَالْمُفْسِدِینَ فِی الْاٴَرْضِ اٴَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِینَ کَالْفُجَّارِ ) ( ۷۸ )
”کیا جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور (اچھے اچھے ) کام کئے ان کو ھم ان لوگوں کے برابر کردیں جو روئے زمین میں فساد پھیلایا کرتے ھیں ۔یا ھم پرھیزگاروں کو مثل بدکاروں کے بنادیں“۔
ایضاً:
( اٴَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ اٴَنْ نَجْعَلَهُمْ کَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْیَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ ) ( ۷۹ )
”جو لوگ برے کام کرتے ھیں کیا وہ یہ سمجھتے ھیں کہ ھم انھیں لوگوں کے برابر کر دیں گے جو ایمان لائے اور اچھے اچھے کام بھی کرتے رھے اور ان سب کا جینا مرنا ایک ساں ھوگا یہ لوگ (کیا ) برے حکم لگاتے ھیں “۔
إ( ِنَّ لِلْمُتَّقِینَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِیمِ اٴَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِینَ کَالْمُجْرِمِینَ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ ) ( ۸۰ )
”بیشک پر ھیز گار لوگ اپنے پروردگار کے ہاں عیش و آرام کے باغوں میں ھوں گے ۔تو کیا ھم فرنبرداروں کو نافرمانوں کے برابر کر دیں گے (ہرگزنھیں)تمھیں کیا ھوگیا ھے تم کیسا حکم لگاتے ھو“۔
____________________
(۱) سورہ بقرة آیت۱۷۷۔
(۲) سورہ مائدہ آیت ۶۹۔
(۳) سورہ آل عمران آیت۹۔
(۴) سورہ نساء آیت۸۷۔
(۵) سورہ نحل آیت ۸ ۳ ۔
(۶) سورہ سباء آیت۳۔
(۷) ھم یہاں پر صرف ان آیات کی طرف اشارہ کرتے ھیں تفصیل کے لئے کتاب ”الرجعة “،نشر مرکز الرسالة ص۱۸ ۔۲۶، پر رجوع کیجئے جس میں آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں احادیث بھی بیان کی گئی ھےں۔
(۸) سورہ بقرہ آیت۲۴۳۔
(۹) سورہ بقرہ آیت۲۵۹۔
(۱۰) سورہ بقرہ آیت۵۵۔۵۶۔
(۱۱) سورہ بقرہ آیت۷۲۔۷۳۔
(۱۲) سورہ بقرہ آیت۲۶۰۔
(۱۳) سورہ انعام آیت۱۳۰۔
(۱۴) سورہ زمر آیت۷۱۔
(۱۵) سورہ نوح آیت۱۷۔۱۸۔
(۱۶) سورہ انعام آیت۱۵۴۔
(۱۷) سورہ غافر آیت۲۷۔
(۱۸) سورہ آل عمران آیت۵۵۔
(۱۹) سورہ یٰس آیت۱۲۔
(۲۰) سورہ زخرف آیت۸۰۔
(۲۱) سورہ ق آیت۱۶۔۱۸، ایضا ً رجوع کریں:سورہ یونس آیت۲۱،سورہ اسراء آیت۱۴،سورہ قمر آیت ۵۲،۵۳،وانفطار آیت۱۰،۱۲۔
(۲۲) سورہ جاثیة آیت۲۸،۲۹۔
(۲۳) سورہ کہف آیت۴۹۔
(۲۴) سورہ جاثیة آیت۲۴۔
(۲۵) سورہ نجم آیت۲۸۔
(۲۶) سورہ نمل آیت۶۴۔
(۲۷) ھم انشاء اللہ بعض اعتراضات کو مع جواب تیسری فصل میں بیان کریں گے۔
(۲۸) سورہ یٰس آیت۷۹،۸۰۔
(۲۹) الا عتقادات ، شیخ صدوق :۶۴مو تمر شیخ مفید ۔قم ،بحا رالانوار /علامہ مجلسی۷:۴۷ /۳۱و۱۰۳/۱۳۔
(۳۰) بحا رالانوار /علامہ مجلسی۷:۴۰/۱۱۔
بحار الانوار ج ۷ ص ۴۰ حدیث ۱۱۔
(۳۱) نہج البلاغہ صبحی الصالح :۱۶۱۔خطبہ نمبر ۱۰۹۔
(۳۲) نہج البلاغہ صبحی الصالح :۱۴۷۔خطبہ نمبر۱۰۲۔
(۳۳) بحا رالانوار /علامہ مجلسی۷:۴۲/۱۴،حق الیقین /عبد اللہ شبر ۲:۵۴۔
(۳۴) ضروریات دین ان چیزوں کو کھاجاتا ھے جن پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ھو کہ یہ جز دین ھیں اور ان کے انکار سے انسان دین سے خارج ھوجاتا ھے۔ (مترجم)
(۳۵) دیکھے :بحا رالانوار /علامہ مجلسی۷:۴۷/۴۸،حق الیقین /عبد اللہ شبر ۲:۳۷۔۳۸۔
(۳۶) کشف المراد ،علامہ حلی :۴۲۴۔انتشارات شکوری ۔قم۔
(۳۷) سورہ حج آیت ۵،۶۔
(۳۸) سورہ روم آیت۲۷۔
(۳۹) سورہ روم آیت ۱۱۔
(۴۰) سورہ اسراء آیت۵۱۔
(۴۱) سورہ الانبیاء آیت۱۰۴۔
(۴۲)یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنْ الْحَیِّ وَیُحْیِي الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَکَذَلِکَ تُخْرَجُونَ (سورہ روم آیت ۱۹) ”وھی زندہ کو مردہ سے نکالتا ھے اور وھی مردہ کو زندہ سے پیدا کرتاھے اور زمین کو مرنے (پڑتی ھونے) کے بعد زندہ (آباد)کرتا ھے اور اسی طرح تم لوگ بھی(مرنے کے بعد) نکالے جاوگے “۔
وَاللهُ الَّذِی اٴَرْسَلَ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَی بَلَدٍ مَیِّتٍ فَاٴَحْیَیْنَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا کَذَلِکَ النُّشُورُ
(سورہ فاطر آیت۹)
”اور خدا ھی وہ (قادر و توانا) ھے جو ھواوں کو بھیجتا ھے تو ھوائیں بادلوں کو اڑا ئے لئے پھرتی ھیں ،پھر ھم اس بادل کو مردہ (افتادہ)شہر کی طرف ہنکادیتے ھیں پھر ھم اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد شاداب کرتے ھیں یونھی (مردوں کو قیامت میں) جی اٹھنا ھوگا“۔
وَمِنْ آیَاتِهِ اٴَنَّکَ تَرَی الْاٴَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا اٴَنزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِی اٴَحْیَاهَا لَمُحْیِی الْمَوْتَی إِنَّهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ
(فصلت ۳۹)
”اس کی( قدرت کی )نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ھے کہ تم زمین کو خشک و بے گیاہ دیکھتے ھو پھر جب ھم اس پر پانی برسادیتے ھیں تو لہلہانے لگتی ھے اور پھول جاتی ھے جس(خدا) نے (مردہ)زمین کو زندہ کیا وہ لقیناً مردوں کوجلائے گا وہ ہر چیز پر قادر ھے“۔
فَانظُرْ إِلَی آثَارِ رَحْمَةِ اللهِ کَیْفَ یُحْیيِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِکَ لَمُحْیِی الْمَوْتَی وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ (۴۲)
”غرض خدا کی رحمت کے آثار کی طرف دیکھو تو کہ وہ کیونکر زمین کو اس کی پڑتی ھونے کے بعد آباد کرتا ھے۔بیشک یقیناوھی مردوں کا زندہ کرنے والا اور وھی ہر چیز پر قادر ھے“۔
نیز ارشاد قدرت ھوتا ھے:
وَهُوَ الَّذِی یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهِ حَتَّی إِذَا وَالَّذِی نَزَّلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَاٴَنشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَیْتًا کَذَلِکَ تُخْرَجُونَ ۔
(سورہ زخرف آیت۱۱۔)
”اور جس نے ایک( مناسب)اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی بر سایا پھر ھم ھی نے اس کے ذریعہ سے مردہ (پڑتی)شہر کو زندہ(آباد)کیا اسی طرح تم بھی (قیامت کے دن قبروں سے) نکالے جاوگے“۔
رِزْقًا لِلْعِبَادِ وَاٴَحْیَیْنَا بِهِ بَلْدَةً مَیْتًا کَذَلِکَ الْخُرُوجُ
(سورہ ق آیت۱۱۔)
”(یہ سب کچھ) بندوں کی روزی دینے کے لئے (پیدا کیا)اور پانی ھی سے ھم نے مردہ شہر (افتادہ زمین ) کو زندہ کیا اسی طرح (قیامت میں مردوں کو نکلنا ھوگا“۔
(۴۳) سورہ اعراف آیت۵۷۔
(۴۴) تفسیر المیزان ۔مو سسہ الاعلمی،ج ۱۶ص۲۰۳، نیز رجوع فرمائیںج ۱۷ص۲۱۔
(۴۵) سورہ نوح آیت۱۷،۱۸۔
(۴۶)إِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا وَعْدَ اللهِ حَقًّا إِنَّهُ یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِیمٍ وَعَذَابٌ اٴَلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ
(سورہ یونس آیت۴)
”تم سب کو (آخر) اسی کی طرف لوٹنا ھے خدا کا وعدہ سچا ھے وھی یقینا مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ھے پھر (مرنے کے بعد)وھی دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ جزائے خیر عطا فرمائے گا ۔اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے ان کے کفر کی سزائیں پینے کو کھولتا ھواپانی اور دردناک عذاب ھوگا“۔
قُلْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَبْدَواالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ قُلْ اللهُ یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ فَاٴَنَّا تُؤْفَکُونَ (سورہ یونس ۳۴)
”(اے رسول ان سے )پوچھو کہ تم نے جن لوگوں کو (خدا کا ) شریک بنایا ھے کوئی بھی ایسا ھے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرے پھر ان کو (مرنے کے بعد )دوبارہ زندہ کرے (وہ توکیا جواب دیں گے) تمھیں کھو کہ خدا ھی پہلے بھی پیدا کرتاھے پھر وھی دوبارہ زندہ کرتا ھے تو کدھر تم الٹے چلے جا رھے ھو “۔
اٴَمَّنْ یَبْدَواالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَمَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ اٴَءِ لَهٌ مَعَ اللهِ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ (سورہ نمل آیت۶۴)
”بھلا وہ کون ھے جو خلقت کو نئے سرے سے پیدا کرتا ھے پھر اسے دوبارہ (مرنے کے بعد )
پیدا کرے گاان لوگوں کو آسمان و زمین سے رزق دیتا ھے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ھے (ہرگز نھیں اے رسول ) تم ان مشرکین سے کہدو کہ اگر تم سچے ھو تو اپنی دلیل پیش کرو“۔
اللهُ یَبْدَوا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ثُمَّ إِلَیْهِ تُرْجَعُونَ (سورہ روم آیت۱۱۔)
”خدا ھی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر وھی دوبارہ (پیدا) کرے گا پھر تم سب لوگ اسی کو لوٹائے جاوگے“۔
وَاللهُ اٴَنْبَتَکُمْ مِنْ الْاٴَرْضِ نَبَاتًا ثُمَّ یُعِیدُکُمْ فِیهَا وَیُخْرِجُکُمْ إِخْرَاجًا (سورہ نوح آیت۱۷،۱۸)
”اور خدا ھی نے تم کو زمین سے پیدا کیا پھر تم کو اسی میں دوبارہ لے جائے گا اور (قیامت میں اسی سے)نکال کھڑا کرے گا “۔
وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُوْدُ (سورہ بروج آیت۱۳)
”اور وھی دوبارہ( قیامت میں )زندہ کرے گا“
(۴۷) سورہ عنکبوت آیت۱۹،۲۰۔
(۴۸) سورہ ملک آیت۱۴۔
(۴۹) سورہ واقعہ آیت۵۷۔
(۵۰) سور ہ واقعہ آیت۶۲۔
(۵۱) سور ہ یونس آیت۳۴۔
(۵۲) سورہ بقرة آیت۲۸۔
(۵۳) سورہ ق آیت۱۵۔
(۵۴) سورہ لقمان آیت۲۸۔
(۵۵) سورہ اسراء آیات ۹۸،۹۹۔
(۵۶) سورہ یٰس آیات ۸۱،۸۲۔
(۵۷) سورہ احقاف آیت۳۳۔
(۵۸) سورہ غافر آیت۵۷۔
(۵۹) سورہ نازعات آیت۲۷،۠۰۔
(۶۰) سورہ اسراء آیت۴۹۔
(۶۱) سورہ اسراء آیت۵۱۔
(۶۲) دیکھئے المیزان ، علامہ طباطبائی ج۱ص۱۱۶۔
(۶۳) سورہ مومنون آیت۱۱۵۔
(۶۴) سورہ ص آیت۲۷۔
(۶۵) سورہ قیامت آیت۳۶۔
(۶۶) سورہ عنکبوت آیت۶۴۔
(۶۷) سورہ روم آیت ۸۔
(۶۸) سورہ دخان آیات ۳۸تا۴۰۔
(۶۹) جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ھے : ”الدنیا مزرعة الآخرة“ (دنیا آخرت کی کھیتی ھے)۔(مترجم)
(۷۰) سورہ ملک آیت۲۔
(۷۱) سورہ اعراف آیت۱۶۸۔
(۷۲) سورہ انبیاء آیت۳۵۔
(۷۳) النافع یوم الحشر فی شرح الباب الحادی عشر، / فاضل مقداد، ص ۸۶تا ۸۷، انتشارات زاہدی، اسی طرح علامہ حلی نے اپنے کتاب ”مناہج الیقین فی اصول الدین میں بیان کیا ھے۔
(۷۴) کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد/ علامہ حلی رحمة اللہ علیہ ص۴۳۱۔
(۷۵) سورہ یونس آیت۴۔
(۷۶) سورہ نازعات آیت۳۷،۴۱۔
(۷۷) سورہ سجدة آیت۱۸۔
(۷۸) سورہ ص آیت۲۸۔
(۷۹) سورہ جاثیة آیت۲۱۔
(۸۰) سورہ قلم آیت ۳۴ ، ۶ ۳۔
تیسری فصل
روح اور معاد کی حقیقت
گفتار اول: حقیقت روح اور اس کا مجرد ھونا
روح ایک پیچیدہ حقیقت ھے
یہ بات ایک مسلم حقیقت ھے کہ انسان تیری روح جو تیرے پہلو کے درمیان ھے وہ تجھ سے تمام اشیاء سے زیادہ قریب ھے اور تمام چیزوں کی نسبت تجھ سے زیادہ چسپیدہ ھے لیکن اس کے باوجود اس کی حقیقت معلوم نھیں ھے، عقل بشر اس کی حقیقت اور ماھیت کا پتہ لگانے سے عاجز ھے۔روح کے سلسلہ میں فلاسفہ اور متکلمین حضرات کے نظریات میں اختلاف پایا جاتا ھے کہ روح ایک ”عرض“ ھے یا ”جوہر“( ۱ ) ، اسی طرح روح کی پیدائش کے سلسلہ میں بھی اختلاف ھے کہ آیا یہ ”قدیم“ ھے یا ”حادث“، اسی طرح روح اور بدن میں کیا رابطہ ھے اور روح بدن کے کس حصہ میں رہتی ھے، اور آیا انسان کے مرنے کے بعد بھی روح ھمیشہ کے لئے باقی رہتی ھے، اور روح کی سعادت و خوشبختی یا بدبختی کی حقیقت کیا ھے؟ اس کے علاوہ اور دوسری بحثیں ھیں۔( ۲ )
قارئین کرام! ھم یہاں ان مختلف اقوال کو (اختصار کی بنا پر) بیان نھیں کرسکتے ھیں ، صرف روح کے معنی قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرکے آگے بڑھتے ھیں، اور یہ بھی بیان کریں گے کہ ”روح“ماھیت مادہ اور اس کے صفات سے مجرد ھے، اور یہ روح مرنے اور جسم کے پارہ پارہ ھونے کے بعد ھمیشہ کے لئے مستقل ھوجاتی ھے، کیونکہ روح کی حقیقت سمجھنے کے لئے ان چیزوں کا بیان کرنا ضروری ھے:
روح ، قرآن و حدیث کی روشنی میں
بحد نہایت روح کے معنی کے سلسلے میں یہ بات کھی جاسکتی ھے کہ ”روح وہ شی ھے جس کے ذریعہ جسم قائم رہتا ھے، اور احساس،حرکت اور ارادہ کی تقویت حاصل ھوتی ھے اور لغت میں اس کو مذکر اور مونث کھاگیا ھے۔( ۳ )
قرآن مجید کی مکی اور مدنی آیات میں اس معنی اور اس کے علاوہ دیگر معانی کی طرف اشارہ کیا گیا ھے، ھم ذیل میں معنی کی ترتیب سے قرآن میں بیان ھونے والے موارد کو ذکر کرتے ھیں ، اسی طرح احادیث میں بیان ھونے والے معنی کو بھی بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ روح وہ چیز ھے جو زندگی کا سبب بنتی ھے جیسا کہ ارشاد رب العزت ھوتا ھے:
( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی وَمَا اٴُوتِیتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیلًا ) ( ۴ )
”تمہار ا پروردگار (اس سے ) خوب واقف ھے) اور (اے رسول ) تم سے لوگ روح کے بارے میں سوال کرتے ھیں تم (ان کے جواب میں )کہدو کہ روح (بھی) میرے پروردگار کے حکم سے (پیدا ھوئی ھے )اور تم کو بہت ھی ٹھوڑاسا علم دیا گیا ھے“۔
اس سلسلے میں مفسرین قرآن نے چند نظریات بیان کئے ھیں( ۵ ) جن میں سب سے واضح ترین نظریہ یہ ھے کہ روح وہ چیز ھے جس کے ذریعہ بدن قائم و باقی رہتا ھے ، اور اسی معنی پر قرآن و احادیث اہل بیت علیھم السلام سے تائید ملتی ھے۔( ۶ )
جیسا کہ ابو بصیر نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ھے کہ میں نے اس
آیت( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ ) ۔۔۔ کے بارے میں سوال کیاکہ روح کیا چیز ھے؟ تو آپ نے فرمایا:وھی جو حیوانوں اور انسانوں میں ھوتی ھے؟ تو میں نے کہا: وہ کیا چیز ھے؟ تو آپ نے فرمایا:
”هی من الملکوت من القدرة “۔( ۷ )
”یہ (روح) ملکوت کی قدرت سے ایک چیز ھے“۔
آیہ شریفہ( قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی ) ۔۔۔ کے سلسلے میںمفسرین قرآن نے متعدد معنی نقل کئے ھیں جن میں سے ھم چند اقوال بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ پیغمبر اکرم (ص)سے روح کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آنحضرت نے اس آیت( قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی ) کے ذریعہ جواب دیا اور فرمایا کہ روح امر خدا کی قسم ھے ، اس کے بعد امر خدا کے بارے میں اس آیت کی تلاوت فرمائی:
( إِنَّمَا اٴَمْرُهُ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئًا اٴَنْ یَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِی بِیَدِهِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْءٍ وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ ) ( ۸۳)(۸)
”اس کی شان تو یہ ھے کہ جب کسی چیز کو (پیدا کرنا) چاہتا ھے تو وہ کہہ دیتا ھے کہ ھوجا تو وہ(فوراً)ھوجاتی ھے تو وہ خدا (ہر نقص سے ) پاک وصاف ھے جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز کی حکومت ھے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاوگے “۔
پس معلوم یہ ھے ھوا کہ ”امر خدا“ملکوت کی قدرت میں سے ایک چیز ھے اور امر خدا یہ ھے کہ جب کسی چیز کے لئے کہتا ھے ”کُن“ (یعنی ”ھوجا“) تو وہ چیز ھوجاتی ھے،اور اس کو بغیر کسی دوسرے واسطوں کے جن کے ذریعہ کوئی چیز وجود میں آتی ھے، اور بغیر کسی زمان و مکان کی قید و شرط کے زندگی مل جاتی ھے ، اس بات پر خداوندعالم کا یہ فرمان دلالت کرتا ھے:
( وَمَا اٴَمْرُنَا إِلاَّ وَاحِدَةٌ کَلَمْحٍ بِالْبَصَر ) ( ۹ )
”اور ھمارا حکم تو بس آنکھ کے جھپکنے کی طرح ایک بات ھوتی ھے “۔
پس واضح یہ ھوا کہ آیہ کریمہ روح کی حقیقت کو امر خدا کی اقسام سے بیان کرتی ھے۔( ۱۰ ) ۲ ۔ پیغمبر اکرم (ص)سے روح کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے اس آیت کے ذریعہ جواب دیا:( الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی ) ۔۔۔ یعنی جس چیزسے خداوندعالم اپنے علم کے ذریعہ اثر کرتا ھے، اور کوئی شخص بھی اس روح کی حقیقت کو نھیں جانتا۔( ۱۱ )
۳ ۔ پیغمبر اکرم (ص)سے روح کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ روح
قدیم ھے یا حادث ھونے والی ھے تو آیت نے جواب دیا( الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی ) ۔۔۔ یعنی خدا کے فعل اور اس کی خلق ھے ، پس آنحضرت (ص)نے روح کو حادث مراد لیا، جو خدا کے فعل اور اس کی ایجاد ھے“۔( ۱۲ )
گزشتہ آیت میں کئے گئے روح کے معنی ،حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت خداوندعالم کے اس قول کے ھم معنی ھے:
( فَإِذَا سَوَّیْتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی ) ( ۱۳ )
”تو جس وقت میں اس کو ہر طرح سے درست کر چکوں اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونک دوں“۔
اسی طرح خداوندعالم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ھے:
( فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوحِنَا وَجَعَلْنَا هَا وَ ابْنَهَا آیَةً لِّلْعَالَمِینَ ) ( ۱۴ )
”تو ھم نے ان( کے پیٹ) میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور ان کو اور ان کے بیٹے (عیسیٰ )کو سارے جہان کے واسطے (اپنی قدرت کی)نشانی بنائی “۔
نیز ارشاد خداوندعالم ھوتا ھے:
( اِٴنَّمَا الْمَسِیحُ عِیسَیٰ ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللّٰهِ وَ کَلِمَتُهُ اٴَلْقَاهَا اِٴلَیٰ مَرْیَمَ وَ رُوحٌ مِنْهُ ) ( ۱۵ )
”مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح(نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے پس) خدا کے ایک رسول اور اس کے ایک کلمہ(حکم )تھے جسے خدا نے مریم کے پاس بھیج دیا تھا (کہ حاملہ ھوجا)اور خدا کی طرف سے ایک جان تھے “۔
ان تمام آیات میں روح کے معنی ایک مخفی قدرت کے کئے گئے ھیں جس کے ذریعہ زندگی ملتی ھے، اور اسی روح کے ذریعہ موجودات میں حیات پیدا ھوتی ھے، بتحقیق خداوندعالم نے حضرت آدم و عیسیٰ (علیھما السلام) کی روح کو ذکر (نشانی) کے عنوان سے بیان کیاھے، کیونکہ ان دونوں انبیاء کی خلقت دوسری مخلوق کی نسبت کے علاوہ ھے، اور خداوندعالم نے ”روح“ کی اضافت اپنی طرف کی ھے ”رُوحِی“(یعنی میری روح) کھا، البتہ یہ اضافہ تشریفی ھے جس کے معنی ”کرامت، عظمت اور جلالت سے مخصوص“ کے ھیں، جیسا کہ خداوندعالم نے خانہ کعبہ کی اپنی طرف نسبت دی ھے، ارشاد ھوتا ھے:( طَهِّرَ بَیَتِیَ ) ۔۔۔( ۱۶ )
۲ ۔روح جناب جبرئیل کو بھی کھاجاتا ھے، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( فَاٴَرْسَلْنَا إِلَیْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا ) ( ۱۷ )
”تو ھم نے اپنی روح (جبرئیل ) کو ان کے پاس بھیجا تو وہ اچھے خاصے آدمی کی صورت بن کر ان کے سامنے آکھڑا ھوا (وہ اس کو دیکھ کر گھبرائیں)“۔
اس آیت میں روح سے مراد جناب جبرئیل ھے۔( ۱۸ )
خداوندعالم نے جناب جبرئیل کی توصیف امانت و طہارت سے کی ھے، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْاٴَمِینُ عَلَی قَلْبِکَ ) ( ۱۹ )
”(خدا ) کا اتارا ھوا ھے جسے روح الامین (جبرائیل )صاف عربی زبان میں لے کر تمہارے دل پر نازل ھوئے ھیں“۔
نیز ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّکَ ) ( ۲۰ )
”(اے رسول)تم صاف کہدو کہ اس (قرآن)کو تو روح القدس (جبرائیل ) نے تمہارے پرور دگار کی طرف سے حق نازل کیا ھے“۔
مذکورہ آیت کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ھے کہ آپ نے فرمایا: ”ھو جبرئیل، والقدس الطاہر“( ۲۱ ) روح کو خدا نے اپنی طرف نسبت دی ھے جو شرافت اور تعظیم کی بناپر ھے۔( ۲۲ )
۳ ۔ روح کے معنی مخلوق اعظم ملائکہ ھیں:بہت سی آیات و احادیث سے معلوم ھوتا ھے کہ روح سے مراد ملائکہ ھیں جو خدا کے نزدیک صاحب عظمت ھیں، جن کو خداوندعالم نے اپنے بعض اھم کام جیسے غیبی مسائل اور وحی کی ذمہ داری سونپی ھے، چاھے وہ ایک فرشتہ ھو یا ملائکہ ھوں، چاھے دنیاوی امور ھوں یاآخرت سے متعلق، ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوحُ وَالْمَلاَئِکَةُ صَفًّا لَا یَتَکَلَّمُونَ ) ( ۲۳ )
”جس دن جبرائیل اور فرشتے (اس کے سامنے)پرباندھ کر کھڑے ھوں گے(اس دن) اس سے کوئی بات نہ کر سکے گا“۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( تَنَزَّلُ الْمَلاَئِکَةُ وَالرُّوحُ فِیْهَا بِاِٴذْنِ رَبِّهِمْ مِن کُلِّ اٴَمْرٍ ) ( ۲۴ )
”اس (رات) میں فرشتے اور جبرائیل (سال بھر کی) ہر بات کا حکم لے کر اپنے پروردگار کے حکم سے نازل ھو تے ھیں“۔
اور احادیث میں اس مخلوق کو ملائکہ میں خلق اعظم سے یاد کیا گیا ھے۔( ۲۵ )
(یا ملک اعظم جبرئیل و میکائیل جو رسول الله ﷺاور آئمہ علیھم السلام کے ساتھ میں تھے( ۲۶ )
ابو بصیر حضرت امام صادق علیہ السلام سے آیہ شریفہ( : وَکَذَلِکَ اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوحًا مِنْ اٴَمْرِنَا ) ( ۲۷ ) کے سلسلہ میں روایت فرماتے ھیں:
”( خلق من خلق الله، اٴعظم من جبرئیل و میکائیل، کان رسول الله ( ص ) یخبره و یسدّده وهو مع الائمة بعده ) ۔“( ۲۸ )
”(امر خدا) خدا کی ایک مخلوق ھے، جو جناب جبرئیل و میکائیل سے بھی عظیم ھیں، اور یہ رسول اللہ (ص)کے ساتھ تھا، جس کے ذریعہ آپ کو خبریں ملتی تھی اور آپ کی مدد ھوتی تھی، یہ امر خدا آنحضرت (ص)کے بعد ائمہ کے ساتھ ھے۔“
۴ ۔ روح کے معنی ایمان کے ھیں،جیسا کہ خداوندعالم فرماتا ھے:
( وَاٴَیَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ ) ( ۲۹ )
”اور خاص اپنے نور سے ان کی تائید کی “۔
مذکورہ بالا آیت کے بارے میں امام باقر و امام صادق علیھما السلام سے روایت ھے کہ ”اس آیت میں روح سے مراد ایمان ھے۔“( ۳۰ )
ابو بکیر سے روایت ھے : ”میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے رسول اکرم سے منقول اس حدیث کے بارے میں سوال کیا: ”إذا زنا الزانی فارقه روح الایمان ؟“، امام علیہ السلام نے فرمایا:اس سے مراد خداوندعالم کا یہ قول ھے:( وَاٴَیَّدَهُمَ بِرُوَحٍ مِنْهُ ) ذلک الذی یفارقه “( ۳۱ ) ۔یعنی مذکورہ آیت میں جس روح کے ذریعہ مدد کی جاتی ھے اس سے مراد وھی روح ھے۔ ا سی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی روایت منقول ھے۔( ۳۲ )
اسی طرح روح کے سلسلے میں یہ بھی کھاگیا ھے کہ قرآنی آیات سے یہ بات ظاہر ھوتی ھے کہ مومنین کے لئے اس روح کے علاوہ جس میں مومن اور کافر سبھی شریک ھیں ؛ اس کے علاوہ ایک روح اور بھی ھے جس کے ذریعہ مومنین کو ایک دوسری حیات ملتی ھے جس کے ذریعہ ان کو شعور اورقدرت ملتی ھے، چنانچہ اسی کی طرح درج ذیل آیت اشارہ کرتی ھے:
( اٴَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاٴَحْیَیْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا یَمْشِی بِهِ فِ النَّاسِ کَمَنْ مَثَلُهُ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا ) ( ۳۳ )
”پھر ھم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور بنا یا جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں بے تکلف چلتا پھرتا ھے اس شخص کا سا ھو سکتا ھے جس کی یہ حالت ھے کہ (ہر طرف سے) اندھیروں میںپھنسا ھوا ھے کہ وہاں سے کسی طرح نکل نھیں سکتا ھے“۔
۵ ۔ روح کے معنی کتاب اور نبوت کے بھی ھیں، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( یُنَزِّلُ الْمَلاَئِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِهِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ) ( ۳۴ )
”وھی اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ھے وحی دے کر فرشتوں کو بھیجتا ھے ‘ ‘۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( یُلْقِی الرُّوحَ مِنْ اٴَمْرِهِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ) ( ۳۵ )
”وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ھے اپنے حکم سے وحی نازل کرتا ھے “۔
پہلی آیت کے بارے میں امام باقر علیہ السلام سے مروی ھے کہ روح سے مراد ”کتاب اور نبوت ھے“۔( ۳۶ )
کھاگیا ھے کہ یہاں(مذکورہ آیت میں) روح کا اطلاق : نبوت، دین اور وحی وغیرہ پر بھی ھوتا ھے، جن کے ذریعہ سے انسان روح اور عقل کو حیات ملتی ھے، کیونکہ انسان ان کے ذریعہ سے خداوندعالم، اس کی کتابوں ، اس کے انبیاء اور ملائکہ کی معرفت و شناخت حاصل کرتا ھے، اور روح کے ذریعہ یہ تمام معارف اور تعلیمات حاصل ھوتی ھیں۔( ۳۷ )
روح کا مجرد ھونا
روح سے مراد وہ شئے ھے جس کی طرف انسان لفظ : ”انا“ کے ذریعہ اشارہ کرتا ھے، یا جس کو نفس ناطقہ کھاجاتا ھے۔( ۳۸ ) روح کے مجرد ھونے کا مطلب یہ ھے کہ روح کے لئے کوئی قابل تقسیم اور زمان و مکان رکھنے والامادی عنصر نھیں ھے۔( ۳۹ ) اور روح کا حکم بدن اور اس کے دوسرے حصوں کی ترکیبات کے علاوہ ھے۔( ۴۰ )
قارئین کرام! یہ مسئلہ (روح کا مجرد ھونا) اس کے ھمیشہ باقی رہنے سے متعلق ھے، چنانچہ یہ ایک اھم فلسفی مسئلہ ھے جس کے بارے میں قدیم زمانہ سے فلاسفہ حضرات کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ھے، بعض کہتے ھیں کہ روح مجرد ھے اور بعض کہتے ھیں کہ روح مجرد نھیں ھے، کیونکہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ھے جو سب سے زیادہ انسان کے دل سے قریب اور متعلق ھے کیونکہ یہ مسئلہ عالم حس سے منقطع ھونے کے بعد انسان کی آرزوں کے لئے جائے اطمینان قرار پاتا ھے۔مادی لوگ روح کے ھمیشہ باقی رہنے کے منکر ھیں لیکن روح کو مجرد ماننے والے روح کے ھمیشہ باقی رہنے کے قائل ھیں، ھم ذیل میں دونوں نظریات بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ مادی افراد: روح کی اقسام اور روح کا جسم میں مقام کہاں ھے، اس سلسلہ میں مادی لوگوں کے نظریات میں اختلاف ھے،( ۴۱ ) لیکن تمام اس بات پر متفق ھیں کہ انسان اپنی خاص ھیکل و محسوس شکل میں مستقل وجود نھیں رکھتا یعنی اس مادہ سے جس کو روح کہتے ھیں اس سے الگ نھیں ھے بلکہ یہ روح جسم کی خاصیت ھے، انسان روح کے تمام دئے گئے احکام پر عمل کرتا ھے، اور عقل و شعور اور ارادہ و فکر یہ تمام اعضاء کے وظائف ھیں جس طرح بدن کے دوسرے وظائف ھوتے ھےں، اسی طرح مادیوں کے نزدیک فکری اور معرفتی آثار عصبی و عقلی خلیوں کی فعالیت کے نتائج ھیں، یہ تمام آثار اور روحی نشاط عقل و عصبی سسٹم کی بنا پر ظاہر ھوتے ھیں۔ یہ روح جسم کے مرنے سے مرجاتی ھے، اور جب انسان مرجاتا ھے تو اس کی شخصیت بھی مرجاتی ھے اور اس کا بدن نابودھوجاتا ھے، اور اس کے تمام عقلی، نفسانی اور روحی کمالات کا خاتمہ ھوجاتا ھے۔( ۴۲ )
آج کا مادی فلسفہ روحی تمام ان آثار سے جاہل ھے جو قانون مادہ کی کسوٹی پرپورے نھیں اترتے، اور مادی فلاسفہ کہتے ھیں کہ روح اور اس کے تمام آثار علم و شعور کی ایک قسم ھے، ان کا روح کے لئے کوئی وجود نھیں ھے جس کو انسانی مادی جسم سے الگ کیا جاسکے، بلکہ روح انسان کی ذات سے متعلق ھوتی ھے اور علم کی بنا پر اپنی ذمہ داری کو انجام دیتی ھے ، اور افکار اور خواہشات مادی کارکردگی کی بنا بر حاصل ھوتے ھیں، جیسے لوھے کے دو ٹکڑوں کو رگڑنے سے حرارت اور گرمی پیدا ھوتی ھے،یہ تمام نتائج جنھیں انسان حاصل کرتا ھے یہ عالم خارجی میں عکس العمل کا نام ھے، جیسا کہ ”بافلوف“ ری ایکشن کے سلسلے میں کہتا ھے: انسان کا ظرف اور جو چیزیںاس سے ظاہر ھوتی ھیں یہ سب مادہ کو عالی طریقہ سے منظم کرنے کا نتیجہ ھے۔
اہل جدل مادی حضرات اس تصور کا انکار کرتے ھیں کہ روح مادہ سے جدا ایک مستقل شی ھے بلکہ ان کا عقیدہ ھے کہ روح ایک مادہ کی اعلیٰ شکل ھے اور یہ ایک عمل و اجتماعی نشاط کا نتیجہ ھے۔( ۴۳ )
مادی فلاسفہ نے روح کے انکار کے سلسلے میں ایسے بے بنیاد دلائل بیان کئے ھیں، جن سے ان کا مدعیٰ ذرا بھی ثابت نھیں ھوتا۔( ۴۴ )
۲ ۔ روح کو مجرد ماننے والے: اکثر گزشتہ امتیں بھی روح کو مجرد اور ھمیشہ باقی رہنے والی شئے مانتی ھیں، جیسے ہندو، مصری، چینی، یونانی، زرتشت، اسی طرح ان کے فلاسفہ اور شعراء بھی روح کو مجرد مانتے تھے، ”سقراط“ اور ”افلاطون“ کا بھی یھی عقیدہ تھا کہ روح جوہر مجرد ھے اور ھمیشہ سے باقی ھے (اور باقی رھے گی)، جس وقت بچہ شکم مادر میں ھوتا ھے اسی وقت سے اس میں روح آجاتی ھے، اور انسان کے مرنے کے بعد اپنی پہلی جگہ پر لوٹ جاتی ھے۔ افلاطون کا عقیدہ ھے کہ انسان میں دو طرح کی روح ھوتی ھیں: ایک عاقلہ روح ، جو ھمیشہ باقی رہتی ھے،یہ دماغ میں رہتی ھے، دوسری غیر عاقلہ ھوتی ھے اور نہ ھی ھمیشہ کے لئے باقی رہتی ھے، اس کی بھی دو قسمیں ھیں، ایک غضبی، جو انسان کے سینہ میں رہتی ھے دوسری شھوتی روح جس کا مقام انسان کا شکم ھوتا ھے۔
ارسطو کا عقیدہ یہ ھے کہ انسان کی روح بدن کے ساتھ ساتھ پیدا ھوتی ھے، جس وقت انسان کا بدن (شکم مادر میں) کامل ھوتا ھے تو اس میں روح پیدا ھوتی ھے، ایسا نھیں ھے کہ انسان کی روح پہلے سے موجود ھو اور اس کے بدن میں آجاتی ھے، ارسطو نے بدن میں پائی جانی والی روح کی تین قسم کی ھیں: روحِ عاقلہ ( نفس ناطقہ)، یہ روح مجرد ھے، دوسری روح احساسی یا روح حیوانی کھی جاتی ھے اور تیسری روح غذائی ھے۔ دوسری اور تیسری قسم کی روح مجرد نھیں ھیں۔( ۴۵ )
”ڈی کرٹ“ ( ت: ۱۵۶۰) کا کہنا ھے کہ روح ،جسم سے الگ ھوتی ھے ، روح و جسم کی اپنی الگ الگ خصوصیتیں ھوتی ھےں ، روح کو ایک جوہر سمجھا گیا ھے جس کی خاص خصوصیت غور و فکر کرنا ھوتا ھے، اسی طرح روح کے حصے نھیں کئے کیا جاسکتے اور نہ ھی اس کی قسمیں بنائی جاسکتی ھیں،روح اور اس کے اجزاء میں جنس کا تصور نھیں ھے اور جسم کو ایک جوہر سمجھا گیا ھے جس کی خصوصیت مدد کرنا ھے، جسم کے حالات میں سے صورت اور حرکت ھے، اور یہ جسم قابل تقسیم ھے اور اس میں تغییر و تبدیلی آتی رہتی ھے۔( ۴۶ )
روح کے سلسلے میں مغربی قدیم اور جدید فلاسفہ کے مختلف اقوال ھیں، ھم صرف انھیں پر اکتفاء کرتے ھیں۔
لیکن مسلم فلاسفہ ،منجملہ :شیخ صدوق کہتے ھیں: روح کے سلسلے میں ھمارا عقیدہ یہ ھے کہ روح جسم کی جنس سے نھیں ھے بلکہ یہ ایک دوسری مخلوق ھے( ۴۷ ) ، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( ثُمَّ اٴَنشَاٴْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ ) ( ۴۸ )
”پھر ھم نے اس کو (روح ڈال کر )ایک دوسری صورت میں پیدا کیا (سبحان اللہ) خدا با برکت ھے جو سب بنا نے والوں سے بہتر ھے“۔
جب انسان مرجاتا ھے تو یہ روح اس کے بدن سے نکل جاتی ھے لیکن باقی رہتی ھے، اور بعض پر نعمتیں نازل ھوتی ھیں اور بعض پر عذاب نازل ھوتا ھے، یہاں تک کہ (روز قیامت) خداوندعالم ان روحوں کو ان کے جسموں میں پلٹادے گا۔( ۴۹ )
علامہ نصیر الدین طوسی فرماتے ھیں: نفس ایک جوہر مجرد ھے، علامہ حلی اس جملہ کی یوںتشریح فرماتے ھیں: نفس کی ماھیت اور حقیقت کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلاف ھے کہ آیا وہ جوہر ھے یا نھیں؟ اور جو لوگ جوہر کہتے ھیں ان کے درمیان بھی اختلاف ھے کہ آیا مجرد ھے یا نھیں؟ علماء علم کلام کے قدماء جیسے امامیہ میں سے نوبخت، شیخ مفید، اور اشاعرہ مذہب میں سے غزالی کے نزدیک یہ مشھور ھے کہ روح مجرد ھے جسم اور جسمانی نھیں ھے( ۵۰ ) اور روح کا جسم کے ساتھ رابطہ تدبیر اور تصرف جیسا ھوتا ھے۔۔۔
اسی نظریہ کو اشاعرہ میں سے راغب اصفہانی، فخر الدین رازی اور معتزلہ سے معمر بن عباد سلمی نے اختیار کیا ھے، اور امامیہ میں سے اسی نظریہ کی علامہ حلّی اور شیخ بہائی وغیرہ (شیعہ علماء) نے بھی تائید کی ھے،( ۵۱ ) اور بعض علماء متاخرین نے اس بات کا دعویٰ کیا ھے کہ روح کا مجرد ھونا بہت سی احادیث سے ثابت ھے۔( ۵۲ )
ابن سیناصرف قوہ عاقلہ کو مجرد مانتے تھے لیکن صدر المتالھین شیرازی کاعقیدہ ھے کہ انسان کی تمام حیاتی قوتوں کے لئے ایک مادی جہت ھوتی ھے اور دوسری جہت حالت تجرد ھوتی ھے، انسان کی تمام مادی قوتوں کے ساتھ مجرد قوتیںیہاں تک کہ جب انسان مرجاتا ھے توبھی اس سے عقل تنھاھونے کے باوجود جدا نھیں ھوتی، یھی نھیں بلکہ عقل و خیال قوہ ذاکرہ، باصرہ، اور سامعہ یہ سب بھی جدا نھیں ھوتیں( ۵۳ )
روح کے مجرد ھونے کے دلائل:
بہت سے فلاسفہ اور علماء علم کلام نے دلائل قائم کئے ھیں کہ روح بدنی صفات اور اعراض سے مجرد ھے اورموت سے نھیں مرتی بلکہ ھمیشہ باقی رہتی ھے اور اس پر یا نعمتیں نازل ھوتی رہتی ھیں یا عذاب نازل ھوتا رہتا ھے، ھم یہاں پر چند دلائل بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ قرآنی آیات:
وہ قرآنی آیات جو دلالت کرتی ھیں کہ شہداء کرام ، صدیقین کی ارواح مقدسہ بدن کے پارہ پارہ ھونے سے نھیں مرتی بلکہ ان کی روح پر خداوندعالم کی طرف سے نعمتیں نازل ھوتی رہتی ھیں، ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( وَلاَتَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتٌ بَلْ اٴَحْیَاءٌ وَلَکِنْ لاَتَشْعُرُونَ ) ( ۵۴ )
”اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے انھیں کبھی مردہ نہ کہنا بلکہ وہ (لوگ)زندہ ھیںمگر تم (ان کی زندگی کی حقیقت کا)کچھ بھی شعور نھیں رکھتے “۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ ) ( ۵۵ )
”اور جو لوگ خدا کی راہ میں شھید کئے گئے ھیں انھیں مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ لوگ جیتے (جاگتے موجود) ھیں اپنے پرور دگار کے ہاں سے(وہ طرح طرح کی)روزی پاتے ھیں“۔
ایضاً:
( یاَ اٴَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةّ ارْجِعِي اِٴلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَ ادْخُلِي جَنَّتِي ) ( ۵۶ )
”(اور کچھ لوگوں سے کھے گا)اے اطمینان پانے والی جان اپنے پروردگار کی طرف چل تو اس سے خوش وہ تجھ سے راضی تو میرے (خاص)بندوں میں شامل ھوجا ،اور میرے بہشت میں داخل ھو جا “۔
پس ان مذکورہ آیات کے پیش نظر ثابت ھوتا ھے کہ انسان کبھی کبھی جسم کے ساتھ زندہ رہتا ھے ، جس کا لازمہ یہ ھے کہ انسان کی حقیقت اس بدن کے علاوہ ھے۔( ۵۷ )
۲ ۔ بعض قرآنی آیات دلالت کرتی ھیں کہ کفار اپنے اسی جسم کے ساتھ اپنی اپنی قبروں میں عذاب میں ھوتے ھیں، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ ) ( ۵۸ )
”اور فر عونیوں کو برے عذاب نے (ہر طرف سے)گھیر لیا(اور اب تو قبر میں دوزخ کی) آگ ھے کہ وہ لو گ(ہر)صبح و شام اس کے سامنے لاکرکھڑے کئے جاتے ھیں اور جس دن قیامت بر پا ھو گی “۔
نیز ارشاد رب العزت ھوتا ھے:
( مِمَّا خَطِیئَاتِهِمْ اٴُغْرِقُوا فَاٴُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ یَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللهِ اٴَنْصَارًا ) ۔( ۵۹ )
”(آخر ) وہ اپنے گناھوں کی بدولت (پہلے تو)ڈوبائے گئے پھر جہنم میں جھونکے گئے تو ان لوگوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مدد گار نہ پایا“۔
پس کفار پر موت کے بعد عذاب ھوتا رہتا ھے، جس سے یہ بات ثابت ھوتی ھے کہ انسان کی حقیقت اس بدن کے علاوہ ھے( ۶۰ )
۳ ۔ بعض قرآنی آیات جن میں انسانی جسم کے مختلف مراحل کا ذکر کیا گیا ھے، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلاَلَةٍ مِنْ طِینٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِی قَرَارٍ مَکِینٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ) ( ۶۱ )
”اور ھم نے آدمی کو گیلی مٹی کے جو ہر سے پیدا کیا ،پھر ھم نے اس کو ایک محفوظ جگہ (عورت کے رحم میں) نطفہ بنا کر رکھا پھر ھم ھی نے نطفہ کو جماھوا خون بنا یا پھر ھم ھی نے منجمد خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا ،پھر ھم ھی نے (اس) لوتھڑے میں ہڈیاں بنائیں ‘پھر ھم ھی نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا “۔
مذکورہ آیت سے معلوم ھوتا ھے کہ انسان سوائے جسم کے کچھ نھیں ھے یہ جسم مختلف مراحل سے گزرا ھے اور جب خداوندعالم نے اس بدن میں روح پھونکنا چاھی تو فرمایا:
( ثُمَّ اٴَنشَاٴْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ ) ( ۶۲ )
یعنی ھم نے اس جامد جسم کو ایک دوسرے با شعور و علم و فکر والے جسم میں تبدیل کردیا، یہ اس بات کی وضاحت ھے کہ روح جس جسم سے متعلق ھوتی ھے وہ اس جسم سے الگ چیز ھے جو مختلف مراحل سے گزرا ھے، پس آیت دلالت کرتی ھے کہ روح بدن کے علاوہ ایک دوسری شئے ھے۔( ۶۳ )
اسی طرح خلقت انسان کے بارے میں خداوندعالم کا یہ فرمان:
( وَبَدَاٴَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِنْ طِینٍ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلاَلَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِینٍ ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِیهِ مِنْ رُوحِهِ ) ( ۶۴ )
”اور انسان کی ابتدائی خلقت مٹی سے کی پھر اس کی نسل (انسانی جسم کے) خلاصہ یعنی (نطفہ کے سے) ذلیل پانی سے بنائی پھر اس (کے پتلے ) کو درست کیا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تم لوگوں کے (سننے کے) لئے کان اور (دیکھنے کے لئے) آنکھیں اور (سمجھنے کے لئے )دل بنائے (اس پر بھی) تم لوگ بہت کم شکر کرتے ھو “۔
یا جناب آدم علیہ السلام کی خلقت کے بارے میں ارشاد فرمایا:
( فَإِذَا سَوَّیْتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی ) ( ۶۵ )
”تو جب میں اس کو درست کرلو ںاور اس میں اپنی (پیدا کی ھوئی ) روح پھونکدوں “۔
پس خداوندعالم نے اعضاء اور جسم کی خلقت اور روح پھونکنے کے درمیان فرق قائم کیا ھے لہٰذا یہ فرق کرنا اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ روح کی حقیقت جسم کی حقیقت کے علاوہ کوئی اور شئے ھے۔( ۶۶ )
۴ ۔ بعض آیات الٰھی میں اس فرق کو بیان کیا گیا ھے کہ انسان کے مادی اجزاء ختم ھوجاتے ھیں اورکچھ اجزاء باقی رہتے ھےں، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( اللهُ یَتَوَفَّی الْاٴَنْفُسَ حِینَ مَوْتِهَا وَالَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِهَا فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضَی عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاٴُخْرَی إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی ) ( ۶۷ )
”خدا ھی ان لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں (اپنی طرف) کھینچ کر بلاتا ھے اور جو لوگ نھیں مرے (ان کی روحیں) ان کی نیندمیں (کھینچ لی جاتی ھے )بس جن کے بارے میں خدا موت کا حکم دے چکا ھے ان کی روحوں کو روکے رکھتا ھے اور باقی (سونے والوں کی روحوںکو)پھر ایک مقرر وقت کے واسطے بھیج دیتا ھے “۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ انسان روح اور جسم کا نام ھے، اور روح حکم خدا سے بدن پر حکومت اور اس میں تدبیر کرتی ھے ،اور موت روح و بدن کے درمیان موجود رابطہ کے ختم ھوجانے کانام ھے، اور یہ روح موت کے بعد اپنے خالق کی طرف پلٹ جاتی ھے، اور خداوندعالم اس روح کو سوتے وقت اور موت کے وقت قبض کرلیتا ھے اور اگر کسی کی موت آجاتی ھے تو وہ روز قیامت تک خدا کے پاس باقی رہتی ھے، اور پھر روز قیامت اس کے جسم میں واپس چلی جائے گی۔
کھاجاتا ھے کہ جو نفس سوتے وقت جو (روح) انسان سے جدا ھوتا ھے وہ وھی نفس ھے جس کی بنا پر عقل و تمیز ھوتے ھیں،لیکن جب عقل و تمیز زائل ھوجاتے ھیں تو نفس باقی رہتا ھے،لیکن وہ نفس (روح) جو موت کے وقت وفات پاتا ھے وہ نفسِ حیات ھوتا ھے جس حیات کے نکلنے سے نفس (سانس) بھی نکل جاتا ھے ، پس جب انسان سوتا ھے تو اس کے ساتھ روح باقی رہتی ھے لیکن جب موت کے وقت روح قبض ھوتی ھے تو بدن سے روح نکل جاتی ھے۔( ۶۸ )
پس جب انسان کو موت آتی ھے تو قرآنی لحاظ سے تو اس کی شخصیت، انسانیت کا معیار اور انسان کی حقیقت باقی رہتی ھے اور یہ وھی روح ھے، جس کو حقیقت ارادی کھاجاتا ھے اور یہ جسم کے پارہ پارہ ھونے کے بعد بھی باقی رہتی ھے۔( ۶۹ )
قارئین کرام! یہ تمام مذکورہ آیات جن میں عہد و پیمان اور ارسال (رُسل) کے بارے میں بیان کیا گیا ھے ؛ان سے معلوم ھوتا ھے کہ نفس اور بدن میں مغایرت پائی جاتی ھے( ۷۰ ) (یعنی دو الگ الگ چیزیں ھیں) کیونکہ بعض خصوصیات میں فقط روح موثر ھوتی ھے ، اور اگر انسان کی حقیقت مادی ھوتی تو عہد و میثاق اور ارسال و امساک کے کوئی معنی نھیں ھوں گے۔
۵ ۔ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی ) ( ۷۱ )
”اور پیغمبر یہ آپ سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ھیں تو کہہ دیجئے کہ یہ میرے پروردگار کا ایک امر ھے “۔
ا( ِٕنَّمَا اٴَمْرُهُ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئًا اٴَنْ یَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ) ( ۷۲ )
”اسکا امر صرف یہ ھے کہ کسی شی کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرلے کہ ھو جا اور وہ شے ھوجاتی ھے “۔
امر سے مراد ”کُن“ کہنا ھے جس کی طرف خداوندعالم نے اپنے اس قول میں ارشارہ فرمایا ھے:
( إِنَّمَا اٴَمْرُهُ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئًا اٴَنْ یَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُون ) ۔( ۷۳ )
” اس کی شان تو یہ ھے کہ جب کسی چیز کو (پیدا کرنا) چاہتا ھے تو وہ کہہ دیتا ھے کہ ھو جا تو (فوراً) ھو جاتی ھے“۔
اس کا مطلب یہ ھے کہ امر خدا (جس میں سے ایک روح بھی ھے)کا وجود دفعی (ایک دم) ھے اور تدریجی نھیں ھے، پس یہ امر خدا زمان و مکان کے شرائط کے بغیر ھی ھوتا ھے، اس سے یہ بھی معلوم ھوجاتا ھے کہ روح جو امر خدا کی ایک قسم ھے جسمانی اور مادی
نھیں ھے، کیونکہ مادی جسمانی موجودات کے عام احکام میں سے ھے کہ رفتہ رفتہ پیدا ھوتے ھیں، یعنی ان کا وجود تدریجی ھوتا ھے اور زمان و مکان سے مقید ھوتے ھیں،پس معلوم یہ ھوا کہ روح مادی اور جسمانی شئے نھیں ھے۔( ۷۴ )
۲ ۔ احادیث کے ذریعہ استدلال
اگرچہ اس سلسلے میں بہت سی احادیث موجود ھیں لیکن ھم ان میں سے چند ایک بیان کرتے ھیں:
۱ ۔حضرت رسول اکرم (ص)نے فرمایا:
”من صلی عليَّ عند قبری سمعته ،ومن صلی عليَّ من بعید بلغته “
وقال (ص):”ومن صلی عليَّ مرة صلیت علیه عشرا ،ومن صلی عليَّ عشرا صلیت علیه مائة فلیکثر امرو منکم الصلاة عليَّ اٴو فلیقل“ (۷۵)
”جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود و سلام بھیجے تو میں اس کو سنتا ھوں، اور جو شخص دور سے بھی مجھ پر درود و سلام بھیجے تو
میں بھی جواب بھیجتا ھوں“۔
اسی طرح آنحضرت (ص)نے فرمایا:
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود و سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ درود و سلام بھیجوں گا، اور جو شخص مجھ پر دس مرتبہ درود و سلام بھیجے تو میں اس پر سو ( ۱۰۰) مرتبہ درود و سلام بھیجوں گا، لہٰذا جو شخص جتنی مرتبہ مجھ پر درود و سلام بھیجے گا اسی طرح ھماری طرف سے درود و سلام ھوگا“۔
پس ان احادیث کے پیش نظر یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ آنحضرت (ص)اس دنیا سے رحلت کے بعد بھی درود و سلام کو سنتے ھیں ، اور یہ ممکن نھیں ھے،مگر اس صورت میں کہ آنحضرت (ص)خدا کی بارگاہ میں زندہ ھوں، اسی طرح ائمہ معصومین علیھم السلام بھی ان پر بھیجے گئے درود و سلام کو سنتے ھیں چاھے سلام کرنے والا نزدیک سے سلام کرے یا دور سے، جیسا کہ ائمہ علیھم السلام سے مروی احادیث صادقہ میں بیان ھوا ھے۔( ۷۶ )
۲ ۔آنحضرت (ص)سے مروی ھے کہ جس وقت آپ بدر کے میدان میں کھڑے ھوئے تو آپ نے مقتول مشرکین کو خطاب کرتے ھوئے فرمایا:
”لقد کنتم جیران سوء لرسول الله ،اخرجتموه من منزله و طردتموه ،ثم اجتمعتم علیه فحار بتموه، فقد وجدت ما عدنی ربی حقا، فهل وجدتم ماو عدکم ربکم حقا ، فقیل له(ص)ما خطابک لهامٍ قد صدیت؟ فقال رسول(ص) ”فوالله ما انتم باسمع منهم ،وما بینهم وبین ان تاخذ هم الملائکة بمقامع الحدید الا ان اعرض بوجهی هکذا عنهم “۔( ۷۷ )
”بے شک تم لوگ رسول اللہ کے برے پڑوسی تھے، تم نے ان کو اپنے گھر سے نکال دیا اور پھر تم نے اس کے ساتھ جنگ کی، بے شک میںنے اپنے پروردگار کے وعدہ کو حق پایا، کیا تم نے بھی اپنے پروردگار کے وعدہ کو حق پایا؟ اس وقت آپ کے ساتھیوں نے کہا: یا رسول اللہ(ص) یہ آپ مردوں سے باتیں کررھے ھیں، تو آنحضرت (ص)نے فرمایا: ” خدا کی قسم تم لوگ ان سے زیادہ نھیں سن رھے ھو ۔ میرے منھ موڑتے ھی ان پر فرشتے عذاب نازل کرنا شروع کردیں گے“۔
ایک روایت میں یہ بھی وارد ھوا ھے :
”ما انتم باسمع لمااقول منهم،ولکن لایستطیعون ان یجیبونی “۔( ۷۸ )
” یہ لوگ تمہاری طرح ھی میری گفتگو کو سن رھے ھیں لیکن جواب دینے کی طاقت نھیں رکھتے“۔
۳ ۔ آنحضرت (ص)ایک طویل خطبہ کے درمیان فرماتے ھیں:
”حتی اذا حمل المیت علی نعشه ،رفرف روحه فوق النعش و یقول :یا اهلی ویاولدی ،لا تلعبن بکم الدنیا کما لعبت بی ،جمعت المال من حله و غیر حله ،فالغنی لغیری و التبعة عليَّ ،فاحذر وا مثل ما حل بی “۔( ۷۹ )
”یہاں تک کہ جب انسان کی میت اٹھائی جاتی ھے تو اس کی روح اس کی میت کے اوپر پرواز کرتی ھوئی کہتی ھے: اے میری اولاد اور بچوں ، تم میری طرح دنیا میں مشغول نہ ھوجانا، میں نے حلال و حرام طریقہ سے مال جمع کیا جس سے تم لوگ فائدہ اٹھاؤگے لیکن اس کی آفت میری وبال جان بنی ھوئی ھے، لیکن میرے حال کو دیکھ کر عبرت حاصل کرو“۔
۴ ۔حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ھے کہ آپ بصرہ کی جنگ کے بعد جب گھوڑے پر سوار ھوئے اورمقتولین کی صفوں میں پہنچے تو مقتولین میں کعب بن سورة کو دیکھا، کعب کی لاش کو دیکھاتو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کعب کو بیٹھایاجائے، کعب کو آپ کے پاس بٹھایاگیا تو آپ نے اس سے مخاطب ھوکر فرمایا:
”یا کعب بن سورة ،قد وجدت ما وعدنی ربی حقا ،فھل وجدت ما وعدک ربک حقا؟“۔
اے کعب بن سورة ! میں نے اپنے پروردگار کا کیا ھوا وعدہ حق پایا، کیا تو نے بھی اپنے پروردگار کے وعدہ کو حق پایا؟
اس کے بعد آپ نے فرمایاکہ کعب کو زمین پر لٹادو ، اس کے بعد طلحہ بن عبد اللہ کے ساتھ بھی اسی طرح کی گفتگو کی، تو آپ کے ایک صحابی نے عرض کی یا امیر المومنین ! یہ مردے آپ کی باتوں کو کیسے سن سکتے ھیں؟! تو اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:
”مه یا رجل فوالله لقد سمعا کلامی کما سمع اهل القلیب کلا م رسول الله (ص) “۔( ۸۰ )
”اے شیخ چب ھوجا، قسم بخدا یہ لوگ میری باتوں کو سن رھے ھیں جس طرح بدر کے میدان میں کلام رسول اللہ (ص)کو کفار و مشرکین نے سنا تھا“۔
۵ ۔ حبہ عرنی سے مروی ھے کہ میں ظہر کے وقت حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے ساتھ نکلا، تو آپ وادی السلام میں ایسے کھڑے ھوگئے گویااقوام سے مخاطب ھیں، میں نے عرض کیا یا امیر المومنین! آپ کتنی دیر یہاں کھڑے رھیں گے کچھ دیر آرام بھی تو فرمالیں،تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حبّہ! یہ مومنین سے گفتگو اور ان کے ساتھ انسیت ھے، تو میں نے عرض کیا یا امیر المومنین کیا واقعاً ایسا ھی ھے تو آپ نے فرمایا:
”نعم،ولوکشف لک لرایتهم حلقاحلقامحتبین یتحادثون ۔۔۔“۔( ۸۱ )
”ہاں ایسا ھی ھے، اگر تمہارے سامنے سے بھی حجاب اٹھ جائے تو تم دیکھو گے کہ یہ لوگ حلقہ حلقہ بیٹھے ھوئے گفتگو کررھے ھیں“۔
۶ ۔ ابو بصیر سے مروی ھے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے مومنین کی ارواح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی حجرات فی الجنة ،یاکلون من طعامها ،و یشربون من شرابها، ویقولون:ربنا اقم الساعة لنا،وانجزلنا ماوعدتنا،والحق آخرناباولنا “۔( ۸۲ )
”(مومنین کی ارواح) جنت کے حجروں میں ھیں، وہاں وہ کھانا کھاتی ھیں اور پانی پیتی ھیں، اور کہتی ھیں : پالنے والے! قیامت برپا کردے اور اپنے کئے ھوئے وعدہ کو وفا کردے، اور ھمارے بعد والوں کو بھی ھم سے ملادے“۔
۷ ۔ ابو بصیر سے مروی ھے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کفار و مشرکین کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی النار یعذبون ،یقولون :ربنا لا تقم لنا الساعة ،ولا تنجزلنا ما وعدتنا ولا تلحق آخرنا باولنا “۔( ۸۳ )
”(کفار و مشرکین کی روحیں) عذاب خدا میں رہتی ھیں اور کہتی ھیں پالنے والے! قیامت برپا نہ کر، اور اپنے کئے ھوئے وعدہ سے چشم پوشی کرلے، اور ھمارے بعد والوں کو ھم سے نہ ملا“۔
۳ ۔ عقلی دلائل:
روح کے صفات مادہ سے مجرد ھونے پر علماء کرام سے چند عقلی دلائل بیان کئے گئے ھیں ، جن میں سے یہاں پر بعض کو بیان کیا جاتا ھے:
۱ ۔ یہ بات واضح رھے کہ انسان کی تمام معلومات مادہ سے مجرد ھوتی ھےں، پس ان سے متعلق علم بھی لامحالہ ان کے مطابق ھوگا،تویہ علم بھی مجرد ھوگا، کیونکہ معلومات مجرد ھے، لہٰذا اس کے محل (جو کہ نفس ھے) کا بھی مجرد ھونا ضروری ھے، کیونکہ مجرد چیز مادی چیز میں نھیں سماسکتی۔
۲ ۔ مادیات قابل تقسیم ھیں، اور نفس پر عارض ھونی والی شئے ( علم) غیر قابل تقسیم ھے، تو اس کا مقام بھی ( نفس) غیر قابل تقسیم ھونا چاہئے، اس کے بعد تمام علوم کا مقام و محل اگر جسم ھو یا جسمانی ھو تو ان علوم کو تقسیم ھونا چاہئے، لیکن علوم اور ذہنی مطالب کا تقسیم ھونا محال ھے۔
۳ ۔ انسانی روح، لامتناھی (یعنی جس کی حد نہایت نہ ھو) افعال و ادراک پر قدرت عطا کرتی ھے جیسے لا متناھی عدد کا تصور کرنا، لیکن جسمانی قوت لامتناھی امور پر قادر نھیں ھے، لہٰذا معلوم یہ ھوا کہ روح جسم کے علاوہ ھے۔
۴ ۔ اگر علم کی جگہ دماغ یا دوسرے آلات تعقل ھوں تو ہر وہ معلوم جو اس کی طرف منسوب ھو وہ اس کا ایک حصہ ھوگا، تو انسان کی علمی قابلیت متناھی (محدود) ھوجائی گے، کیونکہ مادہ کی قابلیت اپنی معلومات کی نسبت محدود ھوتی ھے، جیسے ایک کاپی کو لکھنا شروع کریں تو لکھتے لکھتے وہ بھرجاتی ھے، یا ایک (کامپوٹر کی)سی ڈی آواز یا تصویر سے بھر جاتی ھے، اس کا مطلب یہ ھے کہ اگر انسان ایک لمبی عمر کرے تو اس کا علمی ظرف بھرجائے گا اور ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس سے علم حاصل کرنے کی استعداد ختم ھوجائے گی اور یہ محال ھے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”کل وعاء یضیق بما جعل فیه ،الا وعاء العلم فانه یتسع به “۔( ۸۴ )
”ہر ظرف کچھ چیزیں رکھنے سے بھر جاتا ھے سوائے علمی ظرف کے کہ یہ جتنا زیادہ علم ھوگا مزید وسیع ھوتا چلا جاتا ھے“۔
پس معلوم یہ ھوا کہ علم کا ظرف اس کے علم کی مقدار میں ھوتا ھے، لہٰذا اس صورت میں علم کا ظرف غیر مادی ھے۔
۵ ۔ علم بدیھی یہ ھے کہ ذات انسان میں ایک ثابت حقیقت ھوتی ھے جس کی طرف انسان کی عمر بھر اشارہ کرتا ھے، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی، جس کو ”انا“ (میں) سے تعبیر کیا جاتا ھے، اگر انسان اسی بدن کا نام ھو تو پھر یہ عرض قابل تبدل و تغیر بن جائے، اور اس کی تمام معلومات اور افکار پر پردہ پڑجائے،اوراحساس ”انا“ ایک باطل اور خاطی احساس قرار پائے،کیونکہ اجزائے بدن قابل تغیر و تبدیلی ھے، کیونکہ ہر روز انسان کے اندر لاکھوں خُلیے مرتے ھیں اور ان کی جگہ نئے خُلیے پیدا ھوتے ھیں، جس کا ماہرین نے حساب کیا کہ ہر دس سال میں انسان کا پورا بدن بدل جاتا ھے، لیکن موت کے بعد یہ بدن ذرہ ذرہ اور نابود ھوجاتا ھے، اور تبدیل ھونے والی چیز باقی نھیں رہتی، پس اس بنا پر انسانی شخصیت کا واحد معیار اور اس کے افکار و معلومات انسان کی روح ھوتی ھے، کیونکہ جسم میں تغیر و تبدیلی آتی رہتی ھے۔
۶ ۔ انسان کی جسمانی قوتیں زیادہ کام کرنے سے تھک جاتی ھیں اور کمزور ھوجاتی ھیںمثلاً اگر کوئی شخص دیر تک سورج کی طرف دیکھتا رھے تو اس کے بعد دوسری چیزوں کو صاف طریقہ سے نھیں دیکھ پاتا، لیکن نفسانی قوتیں کمزور نھیں ھوتیں بلکہ مزید غور و فکر کی بنا پر طاقتور ھوجاتی ھیں اس کی نشاط میں اضافہ ھوتا رہتا ھے، پس نتیجہ یہ ھوا کہ جب نفسانی طاقت جسمانی طاقت کی طرح زیادہ کارکردگی سے کمزور نھیں ھوتی ، تو پھر اس کو جسمانی اور مادی نھیں ھونا چاہئے بلکہ مجرد ھونا چاہئے۔
۷ ۔ نفسانی قوت میں اضداد (ایک دوسرے کی ضد) پائی جاتی ھیں لیکن جسمانی قوت میں نھیں پائی جاتی مثال کے طور پر جب ھم کہتے ھیں کہ سیاھی سفیدی کی ضد ھے تو ھمارے ذہن میں سیاھی اور سفیدی کی حقیقت تصور ھوتی ھے، اور یہ بات واضح ھے کہ اجسام میں اضداد کا جمع ھونا محال ھے، پس معلوم یہ ھوا کہ نفسانی طاقت میں اضداد پائی جاتی ھیں تو ماننا پڑے گا کہ یہ نفس (روح) جسمانی نھیں ھے بلکہ مجرد ھے۔
۸ ۔ جسمانی مادہ میں جب کوئی مخصوص شکل و صورت آتی ھے تو جب تک وہ شکل و صورت موجود ھو تو اس وقت تک کوئی دوسری شکل و صورت اس میں نھیں آتی، جب کہ ھم دیکھتے ھیں کہ ذہنی تعقل و تصور میں انسان مختلف چیزوں کی تصویر کواسی اندازہ کے مطابق لمحہ بھر میں تصور کرلیتا ھے اور اس کو انھیں یکے بعد دیگری تصور کرنے کی ضرورت نھیں ھوتی اور نہ ھی، اس تصور سے اس کا ذہن بھرتا ھے، پس اس کی جگہ کا بھی غیر مادی ھونا ضروری ھے۔
۴ ۔ علمی اور تجربی دلائل:
مغربی دانشوروں نے عالم روح ،اس کے ھمیشہ باقی رہنے اور روح کے مادہ سے الگ ھونے کے سلسلہ میں بہت زیادہ تحقیق کی ھے اور ایک واضح نتیجہ پر پہنچ گئے ھیں، البتہ یہ نتائج کسی فلسفی دلائل کی بنیاد پر نھیں ھےں بلکہ وہ اپنے تجربات کی بنا پر اس نتیجہ پر پہنچے ھیں جس میں ذرہ برابر بھی شک و تردید کی کوئی گنجائش باقی نھیں رہتی، جن کی وجہ سے مادی نظریات کی جڑیں ہل گئی ھیں، اور مادی نظریات کو ایسے ذلیل کردیا ھے کہ شرم کی وجہ سے پانی بھی نھیں مانگ سکتے، یہ انھوں نے ”احضار روح “ اور ”مقناطیسی نیند‘ ‘ (ہپنوتیزم Hypnotism )کے ذریعہ ثابت کیا ھے جو واقعاً عالم ارواح کے سلسلے میں ایک نیا باب ھے جس کی وجہ سے بعض ملحد اور مادی دانشمندوں میں ایک ا نقلاب پیدا کردیا ھے اور وہ عالم غیب اور روح کے ھمیشہ باقی رہنے کے معتقد ھوگئے ھیں۔
اگرچہ یہ دونوں علم (احضار روح اور ”مقناطیسی نیند“ ) قدیم زمانہ میں مشھور تھے جس کو اہل مصر، آرشوری، اہل ہند اور اہل روم جانتے تھے ، لیکن یہ دونوں علم صرف معابد اور مندروں تک ھی محدود رھے ھےں صرف مذہبی روحانی اس سے واقف ھوتے ھیں لیکن ۱۹ ویں صدی کے آخر میں یہ دونوں علم امریکہ اور یورپ میں بہت مشھور ھوئے، اور بہت زیادہ شہرت حاصل کرلی،چنانچہ ان دونوں علموں کا یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیمات کے اساتید نے اقرار و اعتراف کیا، جنھوں نے ان دونوں علموں میں ایک نئی جان ڈال دی ، ھم ذیل میں ان دونوں علموں کے بارے میں ایک مختصر سی وضاحت بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ احضار روح
اس علم میں عالم ارواح سے مردوں کی روح کو حاضر کرلیا جاتا ھے ، اور روح انسان کے سامنے حاضر ھوجاتی ھے اس سے باتیں کرتی ھے، روح کو حاضر کرنے والے پر یہ بات اچھی طرح واضح ھوجاتی ھے کہ یہ فلاں صاحب کی روح ھے، اور وہ روح اکثر ایسے مسائل کے بارے میں جواب دیتی ھے جن کا غور و فکر کے بعد ھی جواب دیا جاسکتا ھے اور بعض علماء و ماہرین نے مشکل مسائل کو روحوں کے ذریعہ حل کیا ھے، جیسا کہ خود روح سے اس کے حالات کے بارے میں سوال کیا گیا ھے کہ موت کے بعد اس کو نعمتیں ملیں یا سزا اور عذاب دیا گیا۔
اس انقلاب نے طبیعی ماہرین ، اطباء اور فلاسفہ وغیرہ کو متعجب کردیا ھے، جس کے بعد انھوں نے اس سلسلہ میں مزید تحقیق اور بحث و بررسی شروع کردی اور اس بات سے متفق ھوگئے کہ روح موت کے بعد بھی باقی رہتی ھے، چنانچہ انھوں نے اپنے تجربات اور دلائل کے ذریعہ عالم ارواح کے بارے میں مشاہدات کرلئے تو اس علم کا اعتراف کیا کیونکہ ان تجربات ،دلائل اور مشاہدات کے بعد شک و تردید کی کوئی گنجائش باقی نھیں رہ جاتی۔ جناب وجدی صاحب نے ”دائرة المعارف “ میں ان مشھور و معروف دانشورں کے ناموں کی فہرست بیان کی ھے۔( ۸۵ )
یھی نھیں بلکہ اس علم کی تحقیق اور بحث و بررسی کے لئے امریکہ اور برطانیہ میں یونیورسٹی بنائی گئی ھے،جس کی ریاست استاد ”ھیزلب“ امریکائی اور ڈاکٹر ”ھوڈسن“ برطانوی نے کی ھے، اور اس سلسلہ میں ۱۲/ سال کی غور و خوض اور تحقیق کرنے کے بعد ۱۸۹۹ ء میں یہ نتیجہ پیش کیا کہ ہاں یہ تحقیقات صحیح ھےں،اور مردوں کی روح سے رابطہ کرکے ان سے بہت سی چیزوں کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ھے۔
چنانچہ مختلف ممالک کے بہت سے مادی ماہرین اس سلسلہ میں تحقیق و بررسی میں مشغول ھوگئے جس سے انھوں نے یھی نتیجہ نکالا کہ انسان کے پاس ایک روحانی طاقت ھوتی ھے جو مادہ سے خالی ھوتی ھے اور وہ جسم کی موت فنا نھیں ھوتی، اپنی مکمل نشاط کے ساتھ خاکی جسم کے بغیر ھی کارکردگی میں مشغول رہتی ھے، اگرچہ یہ لوگ پہلے اس بات کے منکر تھے لیکن بعد میں روح کے ھمیشہ باقی رہنے کے معترف ھوگئے، ان ماہرین میں سے کچھ نام اس طرح ھیں:
آلفرڈ روسل ڈلس، برٹش یونیورسٹی کے صدر اور استاد کروکس ، برہنگم یونیورسٹی کے صدر اور ماہر طبیعات مسٹر سیراولیفر، ڈاکٹر جورج سکسٹون برطانوی، ڈاکٹر شامبیر، ڈاکٹر ھوڈسن، مشھور و معروف نجومی کامیل فلامریون( ۸۶ ) برطانوی فلسفی مسٹرسیرجون کوکس ، جیولوجی استاد بارکس وغیرہ، اور ان لوگوں کی روح کے سلسلہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے جد جہد جاری ھے۔
۲ ۔ ”مقناطیسی نیند “ ( ہپنوتیزم Hypnotism )
یہ ایک ایسی نیند ھے جس کے بارے میں ماہرین نے تحقیق کی ھے کہ کسی شخص کو ایک گہری نیند میں سلادیا جاتا ھے جس سے اس کا جسم بے حرکت اور بے حس ھوجاتا ھے، سونے والا شخص سلانے والے کی آواز کو سنتا ھے، اس کے ارادہ و افکار کے سامنے تسلیم ھوجاتا ھے اور بغیر کسی چون و چرا کے اس کے حکم کی اطاعت کرتا ھے، اس عجیب و غریب کام کا نتیجہ یہ ظاہر ھوتا ھے کہ اس کی روح جسم سے الگ چیز ھے ، اس کی روح دور دراز کے علاقے میں جاتی ھے، اور ایسے ایسے راز کشف کرتی ھے جو بیداری کی حالت میں بھی معلوم نھیں ھوتے، اور ایسی زبان میں گفتگو کرتی ھے جن کو صاحب روح بھی نھیں جانتا، نیز ایسی چیزوں کے بارے میں خبر دیتی ھے کہ اس کو ذرا بھی اس کی اطلاع نھیں ھوتی۔
فلاسفہ کے بعض گروہ نے اس سلسلہ میں تدریس کرنا شروع کی جس کے عجیب و غریب نتائج برآمد ھوئے جیسا کہ کمبرج یونیورسٹی کے استاد میارس برطانوی ،صاحب کتاب ”انسانی شخصیت“ نے بعض ماہرین کے تجربات اور مشاہدات کو بیان کیا ھے، اور اس کو تحربی مسائل میں قرار دیا ھے جن کی تعلیل وظائف اعضاء کے ذریعہ نھیں کی جاسکتی، بلکہ یہ ثابت کیا ھے کہ انسان مادی جسم کے ساتھ ایک روحانی طاقت بھی رکھتا ھے اور عالم روحانی اور عالم ارضی سے مدد حاصل کرتا ھے اور یھی انسان کی انسانیت اور اس کی کرامت ھے۔
اس علم نے عالم روح میں بہت سے ماہرین کے ذریعہ بہت زیادہ ترقی کی ھے، جنھوں نے اس سلسلہ میں تحقیق و جستجو کی ھے اور جدید علمی نتائج حاصل کئے ھیں، انھیں ماہرین میں سے جیمس برائڈ برطانوی، نولز، شارکو، فیلیپ کارس وغیرہ ھیں( ۸۷ )
قارئین کرام! ان تمام بیان شدہ دلائل کے پیش نظر واضح ھوجاتا ھے کہ انسان کی شخصیت جس کی طرف”میں“ کے ذریعہ اشارہ کیا جاتا ھے وہ جسم یا اعضاء جسم نھیں ھے کیونکہ انسان کی شخصیت علم و ادراک سے متصف ھوتی ھے جو جسم یا اعضاء جسم کے بدلنے سے نھیں بدلتی، اور نہ ھی جسم کی طرح زمان و مکان کی محتاج ھوتی ھے، بلکہ وہ دوسری خصوصیتوں سے امتیاز پیدا کرتی ھے جن کو جسم اور مادہ کی خصوصیات نھیں کھاجاسکتا جیسا کہ ھم نے بیان کیا ھے۔
لیکن جسم و روح کا رابطہ ،آلات و وسائل کی طرح ھے جس سے انسان کا جسم حرکت کرتا ھے ، روح جسم پر اثر کرتی ھے اور جسم روح پر، خوف و وحشت شادمانی اور خوشی کے آثار جسم پر ظاہر ھوتے ھےں، مثلاً خوف کے وقت انسان کا بدن لرزجاتا ھے اور اس کا رنگ بدل جاتا ھے اسی طرح اگر جسم اور بدن میں کوئی مشکل یا بیماری لاحق ھوجاتی ھے تو اس سے انسان کی فکر اور عقل متاثر ھوتی ھے، اور جسم و روح کے درمیان یہ رابطہ روز قیامت تک جاری رھے گا جبکہ انسان کی روح اس کے بدن میں ڈال دی جائے گی، اور یھی انسان کے اعضاء و جوارح روح کے اعمال پر شاہد ھوں گے، جیسا کہ قرآن مجید کی صریح آیت اس بات پر دلالت کرتی ھیں جن میں سے خداوندعالم کا یہ فرمان:
( یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اٴَلْسِنَتُهُمْ وَاٴَیْدِیهِمْ وَاٴَرْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ( ۸۸ )
”قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں سب گواھی دیں گے کہ یہ کیا کررھے تھے“۔
اس کے علاوہ جسم و روح کے رابطہ کے بارے میں یقین سے نھیں کھاجاسکتا کہ روح و جسم دونوں ایک ساتھ ھونے کی بنا پر ھے یا دونوں ایک چیز ھیں، یا ان میں سے ہر ایک مستقل طور پر ھے ، یہ چیز تو خداوندعالم ھی جانتا ھے کیونکہ تمام چیزوں کے بارے میں باخبر ھے۔
دوسری بحث: حقیقت ِمعاد
تمام ھی مسلمان قیامت کے سلسلے میں اتفاق نظر رکھتے ھیں، جن میں بعض جید فلاسفہ بھی اسی عقیدہ کے قائل ھیں، البتہ معاد کی کیفیت میں دو طریقہ پر اختلاف نظر رکھتے ھیں:
جسمانی معاد
جسمانی معاد سے مراد یہ ھے کہ خداوندعالم روز قیامت انسانوں کو اسی جسم کے ساتھ محشور کرے گا، قیامت کے یھی معنی اصول دین کی ایک عظیم اصل ھے جس پر عقیدہ اور ایمان رکھنا واجب اور ضروری ھے کیونکہ اس کے ارکان ثابت ھیں، اور اس کا انکار کرنے والا تمام مسلمانوں کے نزدیک بالاجماع کافر ھے۔
قیامت کے وجود پردلیل یہ ھے کہ یہ ممکن ھے، اور صادق الوعد نے اس کے ثبوت کی خبر دی ھے، لہٰذا قیامت پر یقین رکھنا واجب ھے جس کی طرف سب کی بازگشت ھے۔
لیکن اس کے ممکن ھونے کی دلیل تو قیامت کا ممکن ھوناھے ، گزشتہ فصل میں ھم اس سلسلے میں بیان کرچکے ھیں، اورقیامت کے ثبوت کے لئے اخبار اور احادیث تمام انبیاء علیھم السلام نے بیان کی ھیں، جیسا کہ ھمارے نبی صادق الامین حضرت محمد مصطفی (ص)کے دین میں قیامت کے بارے میں اخبار اور حدیث بیان ھوئی ھیں، جیسا کہ قرآن کریم نے اس بات کی وضاحت کی ھے، اور مخالفین کو بہت سی صریح آیات میں واضح الفاظ کے ساتھ جواب دیا ھے، جن میں اس بات کی تاکید کی گئی ھے کہ جب لوگوں کوقبروں سے نکالا جائے گا تو وہ تیزی سے حساب و کتاب کے لئے جائیںگے، چاھے وہ افراد نیک ھوں یا برے ،ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ وَتَرَی الْمُجْرِمِینَ یَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِینَ فِی الْاٴَصْفَادِ سَرَابِیلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَی وُجُوهَهُمْ النَّارُ لِیَجْزِیَ اللهُ کُلَّ نَفْسٍ مَا کَسَبَتْ ) ( ۸۹ )
”اس دن جب زمین دوسری زمین میں تبدیل ھوجائے گی اور آسمان بھی بدل دیئے جائیں گے اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ھوں گے اور تم اس دن مجرمین کو دیکھو گے کہ کس طرح زنجیروں میں جکڑے ھوئے ھیںان کے لباس قطران کے ھوںگے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھانکے ھوئے ھوگی تا کہ خدا ہر نفس کو اس کے کئے کا بدلہ دیدے کہ وہ بہت جلد حساب کرنے والا ھے“۔
اسی طرح پیغمبر اکرم (ص)اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے مروی احادیث متواترہ میں جسمانی معاد کے ثبوت پر واضح طور پر بیان کیا گیا ھے۔
آیات قرآن کریم:
۱ ۔( اٴَیَحْسَبُ الْإِنسَانُ اٴَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَی قَادِرِینَ عَلَی اٴَنْ نُسَوِّیَ بَنَانَهُ ) ۔( ۹۰ )
”کیا انسان یہ خیال کرتا ھے کہ ھم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکےں گے یقینا ھم اس بات پر قادر ھےں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں“۔
( وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ یُحْیِ الْعِظَامَ وَهِیَ رَمِیمٌ قُلْ یُحْیِیهَا الَّذِی اٴَنشَاٴَهَا اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ ) ( ۹۱ )
”اور ھمارے لئے مثل بیان کرتا ھے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ھے کہتا ھے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتاھے آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ھے وھی زندہ بھی کرے گااو روہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ھے“۔
۳ ۔وہ آیات جو مردوں کو قبر سے نکالے جانے پر دلالت کرتی ھیں، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِنْ الْاٴَجْدَاثِ إِلَی رَبِّهِمْ یَنسِلُونَ قَالُوا یَاوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ إِنْ کَانَتْ إِلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِیعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُونَ فَالْیَوْمَ لاَتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَلاَتُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ( ۹۲ )
”اور پھر جب صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف چل کھڑے ھوںگے۔ کھےں گے کہ آخریہ ھمیں ھماری خواب گاہ سے کس نے اٹھادیا ھے بیشک یھی وہ چیز ھے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور اس کے رسولوں نے سچ کھاتھا۔قیامت تو صرف ایک چنگھاڑ ھے اس کے بعد سب ھماری بارگاہ میں حاضر کردیئے جائیں گے۔پھر آج کے دن کسی نفس پر کسی طرح کا ظلم نھیں کیا جائے گااور تم کو صرف ویسا ھی بدلہ دیا جائے گا جیسے اعمال تم کررھے تھے“۔
نیز ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( مِنْهَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیهَا نُعِیدُکُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُکُمْ تَارَةً اٴُخْرَی ) ( ۹۳ )
”اسی زمین سے ھم نے تمھیں پیدا کیا ھے اور اسی میں پلٹا کر لے جائیں گے اور پھر دوبارہ اسی سے نکالیں گے“۔
۴ ۔جو آیات اس چیز پر دلالت کرتی ھیں کہ انسان اپنے تمام اعضاء و جوارح کے
ساتھ حساب کے لئے حاضر ھوگا اور انسان کے اعضاء و جوارح اس کے اعمال کی گواھی دیں گے، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی اٴَفْوَاهِهِمْ وَتُکَلِّمُنَا اٴَیْدِیهِمْ وَتَشْهَدُ اٴَرْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ( ۹۴ )
”آج ھم ان کے منھ پر مہر لگادیںگے اور ان کے ہاتھ بولےں گے اور ان کے پاؤں گواھی دیںگے کہ یہ کیسے اعمال انجام دیا کرتے تھے“۔
نیز ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( حَتَّی إِذَا مَا جَاءُ وهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاٴَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ( ۹۵ )
”یہاں تک کہ جب سب جہنم کے پاس آئےں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور جلد سب ان کے اعمال کے بارے میں ان کے خلاف گواھی دیں گے“۔
۵ ۔ وہ آیات جن میں جسمانی معاد کی واقعی مثال پیش کی گئی ھے،( ۹۶ ) جیسا کہ جناب عزیر، بنی اسرائیل کے مقتول ، اصحاب کہف اور جناب ابراھیم کے لئے پرندوں کا زندہ ھونا، جیسا کہ ھم نے قیامت کے دلائل میں بیان کیا ھے:
۶ ۔ وہ آیات شریفہ جو جنت میں لذت نعمت پر دلالت کرتی ھیں کیونکہ جسمانی لذت اعضاء و جوارح کے بغیر حاصل نھیں ھوتی، اسی طرح وہ آیات جو دوزخیوں کے عذاب اور درد و غم پر دلالت کرتی ھیں جو ان کے اعضاء و جوارح سے متعلق ھے، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( عَلَی سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ مُتَّکِئِینَ عَلَیْهَا مُتَقَابِلِینَ یَطُوفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ بِاٴَکْوَابٍ وَاٴَبَارِیقَ وَکَاٴْسٍ مِنْ مَعِینٍ لاَیُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلاَیُنزِفُونَ وَفَاکِهَةٍ مِمَّا یَتَخَیَّرُونَ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِمَّا یَشْتَهُونَ وَحُورٌ عِینٌ کَاٴَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُونِ ) ( ۹۷ )
”موتی اور یاقوت سے جوڑے ھوئے تختو ںپر ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ھوںگے ان کے گرد ھمیشہ نوجوان رہنے والے بچے گردش کررھے ھوںگے۔ پیالے اور ٹونٹی دار کنڑ اور شراب کے جام لئے ھوئے جس سے نہ درد سر پیدا ھوگا اورنہ ھوش و ھواس گم ھوںگے۔اور ان کی پسند کے میوے لئے ھوںگے۔‘اور ان پرندوں کا گوشت جس کی انھیں خواہش ھوگی۔ اور کشادہ چشم حوریں ھوںگی جیسے سربستہ موتی“۔
اسی طرح خداوندعالم اہل دوزخ کے بارے میں ارشاد فرماتا ھے:
( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِیهِمْ نَارًا کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَیْرَهَا لِیَذُوقُوا الْعَذَابَ ) ( ۹۸ )
”پس آپ کے پروردگا رکی قسم کہ یہ ہر گز صاحب ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حَکم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلے کے سامنے سراپا تسلیم ھوجائیں“۔
احادیث معصومین علیھم السلام
اسی طرح جسمانی معاد کے سلسلے میں بھی بہت سی احادیث موجود ھیں، ان میں سے حضرت علی علیہ السلام ”غرّہ“ نامی خطبہ میں ارشاد فرماتے ھیں:
”حتی اذا تصرمت الامور ،و تقضت الدهور ،و ازف النشور، اخرجهم من ضرائح القبور، و اوکار الطیور،واوجرة السباع، ومطارح المهالک ،سراعا الی امره ،مهطعین الی معاده، رعیلاً صموتاً،قیاماً صفوفاً “۔( ۹۹ )
”یہاں تک کہ جب تمام معاملات ختم ھوجائیں گے، اور تمام زمانے بیت جائیں گے اور قیامت کا وقت قریب آجائے گا تو انھیں قبروں کے گوشوں، پرندوں کے گھونسلوں، درندوں کے بھٹوں اور ہلاکت کی منزلوں سے نکالا جائے گا، اس کے امر کی طرف تیزی سے قدم بڑھاتے ھوئے اور اپنی وعدہ گاہ کی طرف بڑھتے ھوئے ،گروہ درگروہ، خاموش، صف بستہ اور ایستادہ۔
اسی طرح علی بن ابراھیم اور شیخ صدوق نے امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ھے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا:
”اذا اراد اللهان یبعث الخلق ،امطر السماء علی الارض اربعین صباحا ،فاجتمعت الاوصال،ونبتت اللحوم “۔( ۱۰۰ )
”جب خداوندعالم مخلوقات کو مبعوث کرنا چاھے گا تو زمین پر چالیس روز تک بارش برسائے گا ، پس تمام چیزیں جمع ھوجائیں گی اور گوشت نمو پیدا کرے گا(یعنی مردوں کے بکھرے ھوئے اعضاء و جوارح اس کے بدن میں جمع ھوجائیں گے)۔
جسمانی معاد کی حقیقت
جسمانی معاد کے قائلین حضرات تمام اسلامی فقہاء کرام، علمائے کلام، اہل حدیث اور اہل عرفان ھیں،اور تمام ھی اس بات کے قائل ھیں کہ انسان روز قیامت اپنے اسی بدن کے ساتھ حاضر کیا جائے گا، جیسا کہ خداوندعالم نے بھی قرآن مجید میں بیان کیا ھے، لیکن علماء کے درمیان روح کے سلسلے میں اختلاف ھے بعض علماء کہتے ھیں کہ روح ایک جسمانی شئے ھے جو بدن میں سرایت کئے ھوئے ھے، جیسے پھول میں پانی یا کوئلہ میں آگ، اس بنا پر ان کے نزدیک معاد بدن او رروح کے ساتھ جسمانی ھوگی، ایسا نھیں ھے کہ صرف ان کے مردہ جسم بغیر روح کے حاضر کئے جائیںگے، بلکہ ان کو زندہ کیا جائے گا یہ لوگ روح کو جسم کا ایک حصہ سمجھتے ھیں۔
لیکن بعض علماء روح کو جسم سے مجرد مانتے ھیں، پس ان کے نزدیک معاد روح کے لئے بھی ھوگی اور جسم کے لئے بھی، کیونکہ خداوندعالم روز قیامت ان کی روحوں کو ان کے جسموں میں پلٹادے گا، چنانچہ یہ عقیدہ رکھنے والوں میںسے جید علماء عرفان اور کلام ھیں، جیسے غزالی، کعبی، حلیمی، راغب اصفہانی، اسی طرح شیعہ علماء بھی اسی عقیدہ کے قائل ھیںجیسے شیخ مفید، ابو جعفر طوسی،سید مرتضیٰ، محقق طوسی، علامہ حلّی،ان سب علماء کا عقیدہ ھے کہ روح انسانی مجرد ھے اور روز قیامت انسان کے بدن میں واپس کردی جائے گی۔( ۱۰۱ )
قارئین کرام! مستفیض احادیث سے پتہ چلتا ھے کہ روح، بدن کے علاوہ ایک لطیف اور نورانی جوہر ھے اور یہ(مومن) انسان کی روح، انسان کے مرنے کے بعد خوشحال باقی رہتی ھے، اور خداکی طرف سے رزق پاتی ھے، یا (غیر مومن) انسان کی روح عذاب اور درد و غم میں گرفتار باقی رہتی ھے( ۱۰۲ ) جیسا کہ ھم نے پہلی بحث میں بہت سی آیات و احادیث بیان کی ھیں، ھم یہاں پر حضرت امام صادق علیہ السلام کی صرف ایک حدیث کے بیان پر اکتفاء کرتے ھیں، جو حقیقت معاد کی مکمل طور پر وضاحت کرتی ھے:
ایک زندیق (ملحد) نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے قیامت کا انکار کرتے ھوئے کہا: کیسے قیامت کا تصور کیا جاسکتا ھے جبکہ انسان کا بدن مٹی ھوجاتاھے اور اس کے اعضاء و جوارح ختم ھوجاتے ھیں، مثلاً ایک عضو کسی ملک میں کسی درندہ نے کھالیا ھے، اور بقیہ اعضاء دیگر حیوانات نے چیر پھاڑ ڈالے ھیں، اور کوئی عضو مٹی بن کر دیوار سے لگادیا گیا ھے؟اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:
”إنّ الروح مقیمة فی مکانها، روح المحسن فی ضیاء و فُسحة و روح المسیء فی ضیق و ظلمة، والبدن یصیر تراباً کمامنه خلق، و ما تقذف به السباع و الهوام من اٴجوافهامما اٴکلته و مزقته، کلّ ذلک فی التراب محفوظ عند من لا یعزب عنه مثقال ذرة فی ظلمات الارض، ویعلم عدد الاٴشیاء و وزنها فإذا کان حین البعث مطرت الاٴرض مطر النشور، فتربو الاٴرض، ثمّ تُمخَضوا مخض السقاء، فیصیر تراب البشر کمصیر الذهب من التراب إذا غُسِل بالماء، و الزبد من اللبن إذا مُخِض، فیجتمع تراب کل قالب إلی قالبه، فینتقل بإذن الله القادر إلی حیث الروح، فتعود الصور بإذن المصوّر کهیئتهاو تلج الروح فیها، فإذا قد استویٰ لاینکر من نفسه شیئاً “۔( ۱۰۳ )
”بے شک روح اپنے (مخصوص) مقام پر رہتی ھے، مرد محسن کی روح وسعت اور نور میں رہتی ھے، جبکہ بدکار شخص کی روح تاریکی اور تنگی میں رہتی ھے، اور انسان کا بدن مٹی بن جاتا ھے جیسا کہ اس کی خلقت مٹی سے ھوئی تھی، اور جو اعضاء بدن درندوں اور حیوانوں کے حوالہ شکم ھوگئے ھیںیہ تمام مٹی میں اپنے اس پروردگار کے پاس محفوظ رہتے ھیں جس زمین کی تاریکی میں بھی کوئی ذرہ پوشیدہ نھیں ھے، وہ خدا تمام چیزوں کی تعداد حتی کے اس کے وزن کو بھی جانتا ھے۔۔۔۔ جب خداوندعالم معاد کا ارادہ فرمائے گا تو نشور(یعنی دوبارہ زندگی) کی بارش برسائے گا،جس سے زمین پھول جائے گی اور مکھن کی طرح سب چیزوں کو باہر نکال دے گی ، انسان کی مٹی ایسی ھوجائے گی جس سے مٹی سے سونے کو دھوکر صاف کردیا جائے اور جس طرح دودھ بلوکر گھی الگ کردیا جاتا ھے، اس وقت تمام چیزوں کی مٹی ان کے بدن میں پہنچ جائے گی، اس وقت خداوندعالم کے حکم سے وہ روح کی طرف بڑھےں گے، دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور ان میں روح واپس آجائے گی، اور جب حساب و کتاب ھوگا تو کوئی اپنے نفس کا انکار نھیں کرپائے گا۔
دوسرا قول: معادِ روحانی
اکثر فلاسفہ کایہ عقیدہ ھے کہ معاد روحانی ھے، کیونکہ انھوں نے اس بات کو ممکن نھیں مانا ھے انسان کا بدن ختم ھونے کے بعد دوبارہ اسی حالت میں پلٹ جائے، چنانچہ کہتے ھیں کہ بے شک بدن اپنی صورت اور اعراض کے ساتھ معدوم (نابود) ھوجاتا ھے اور روح و جسم کا رابطہ ختم ھوجاتا ھے، لہٰذا دوبارہ وھی بدن نھیں لوٹ سکتا، کیونکہ ”المعدوم لایعاد“ (معدوم ھونے والی شئے دوبارہ نھیں لوٹ سکتی)، لیکن روح انسانی غیر قابل فنا جوہر ھے( ۱۰۴ ) اسی وجہ سے ان لوگوں نے معاد کو صرف روحانی قرار دیا ھے، کیونکہ اس کو فنا نھیں ھوتی۔
لیکن جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآنی آیات اور احادیث نبوی اس سے ھم آہنگ نھیں ھے، کیونکہ قرآن مجید اور سنت نبوی (ص)میں اس بات کی وضاحت ھوئی ھے کہ انسان روز قیامت اپنے اسی بدن کے ساتھ محشور کیا جائے گا، لیکن بعض وہ مسلمان فلاسفہ جو معاد روحانی کے قائل ھیں انھوں نے ثواب و عقاب کو بھی روحانی لذت یاروحانی اور عقلی عذاب مراد لیا ھے، انھوں نے دلائل شرعیہ (قرآن و احادیث) کے ظواہر کی تاویل و توجیہ کی ھے تاکہ ان کے عقلی قاعدہ سے مطابقت کرلے، لہٰذا انھوں نے ان قرآنی آیات کی بہت سی تاویل کرڈالی جو جنت یا دوزخ میں محسوس ثواب و عقاب پر دلالت کرتی ھیں،انھوں نے عذاب و ثواب کو روحانی یا عقلی عذاب و ثواب کے لئے حسّی مثال کے عنوان سے مانا ھے، کیونکہ عوام الناس کا ذہن امور حسی کو درک کرتا ھے عقلی اور فلسفی امور کو سمجھنا مشکل ھوتا ھے، تاکہ عوام الناس محسوس عذاب و ثواب سمجھ کر خداوندعالم کی اطاعت و فرمانبرداری کریں۔
شیخ الرئیس ابن سینا کے سلسلے میں مشھور ھے کہ وہ معاد جسمانی کے منکر تھے اور روحانی معاد کے قائل تھے( ۱۰۵ ) یہاں تک غزالی نے اپنی کتاب ”تہافت الفلاسفہ“ میں ابن سینااور بعض دوسرے فلسفی علماء کے کفر کا فتویٰ دیا کیونکہ ان لوگوں نے معاد جسمانی کے انکار کیا ھے( ۱۰۶ )
لیکن حق اور انصاف یہ ھے کہ ابن سینا نے اپنی معروف کتابوں میں معاد جسمانی کا صاف طور پر انکار نھیں کیا ھے، بلکہ ھم دیکھتے ھیں ان کی کتاب ”الشفاء“ جو کہ ان کی سب بڑی کتاب ھے اس میں جسمانی معاد کو قبول کیا ھے اور اسی قول کو حق جانا ھے، جس میں کسی طرح کا کوئی شک نھیں ھے۔
محقق دوانی ”عقائد العضدیہ“ کی شرح میںتحریر کرتے ھیں: شیخ الرئیس ابو علی نے اپنی کتاب ”معاد“ میں جسمانی معاد کا انکار کیا ھے اور اس میں مبالغہ سے کام لیا ھے اور اپنے زعم میں جسمادنی معاد کی نفی پر دلیل قائم کی ھے، چنانچہ وہ کتاب ”النجاة و الشفاء“ میں تحریر کرتے ھیں : معلوم ھونا چاہئے کہ معاد سے وھی مراد ھے جس کو شریعت میں بیان کیا گیا ھے، اور معاد کے اثبات کے لئے سوائے آیات قرآنی کے کوئی دوسرا راستہ نھیں ھے، لیکن روز قیامت ثواب و عذاب کیسے ھوگا اس کا معلوم ھونا ضروری نھیں ھے ، شریعت اسلام میں ھمارے سید و سردار حضرت محمد مصطفی (ص)نے تفصیل بیان کی ھے جو بدن سے مناسب ھے، اور اسی کو عقل اور قیاس برہانی سے درک کیا جاتا ھے، اور اسی کی تصدیق رسول اکرم نے فرمائی ھے، اور یھی سعادت و شقاوت انسانی نفس کے لئے ثابت ھیں، اگرچہ اس وقت ھماری عقلیں اس کے تصور سے قاصر ھیں ۔( ۱۰۷ )
استاد فتح اللہ خلیفة نے اپنے درس کے دوران ابن سینا کے لئے ثابت کیا ھے کہ وہ معاد جسمانی کے قائل ھیں اور اس میں کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نھیں ھے۔( ۱۰۸ )
جس طرح سے بعض لوگوں کا گمان ھے کہ غزالی بھی معاد جسمانی کے منکر ھیں جب کہ حق انصاف یہ ھے کہ وہ جسمانی معاد کے قائل تھے بہر حال شارح مقاصد کہتے ھیں:امام غزالی نے روحانی معاد کی تحقیق اور روح سے متعلق ثواب و عقاب کی قسموں کے بارے میں ایک حد تک مبالغہ سے کام لیا ھے، جس کی وجہ سے بہت سارے اعتراض و اوہام نے جنم لے لیا ھے یہاں تک کہ بعض عوام الناس کی زبانوں سے امام غزالی کی نسبت یہ بیان سنا گیا کہ آپ جسمانی معاد کے منکر تھے، حالانکہ امام غزالی نے اپنی کتاب
”الاحیاء“ اور دیگر کتابوں میں اس بات کی تصریح کردی ھے کہ جسمانی معاد ھے اور اس کا منکر کافر ھے اور بعض کتابوں میں اس بات کی تشریح اس بنا پر نھیں کی ھے کہ وہ جسمانی معاد کو ایک ظاہر و روشن مسئلہ سمجھتے تھے جس کی وضاحت کرنے کی ضرورت نھیں ھے۔( ۱۰۹ )
جسمانی معاد کا انکار
تمام انبیاء و مرسلین علیھم السلام کی قوم نے جب عقیدہ معاد کاانکار کیا تو سبھی نے اپنے قوم کو سمجھایا ھے، اور قیامت کے سلسلے میں دلائل قائم کئے ھیں، اور اس سلسلے میں بہت سے مصائب اور ناروا تھمتیں برداشت کی ھیں، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا هَلْ نَدُلُّکُمْ عَلَی رَجُلٍ یُنَبِّئُکُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّکُمْ لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ اٴَفْتَرَی عَلَی اللهِ کَذِبًااٴَمْ بِهِ جِنَّةٌ ) ۔( ۱۱۰ )
”اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کا کہنا ھے کہ ھم تمھیں ایسے آدمی کا پتہ بتائیں جو یہ خبر دیتا ھے کہ جب تم مرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ھوجاؤ گے تو تمھیں نئی خلقت کے بھیس میں لایا جائے گا “۔
جبکہ معاد کے سلسلے میں وحی اور عقل کے ذریعہ واضح طور پر دلائل بیان کئے گئے ھیں، یہاں تک کہ خداوندعالم نے معاد کے سلسلہ لاریب فیہ کھاھے(یعنی اس میں کوئی شک نھیں ھے) جیسا کہ خداوند عالم نے جناب ابراھیم علیہ السلام کے لئے پرندوں کو زندہ کیا، مقتول بنی اسرائیل کو دوبارہ زندہ کیا، جناب عُزیر اور اصحاب کہف کو زندہ کیا وغیرہ وغیرہ یہ تمام زندہ مثالیں ھیں تاکہ انسان یہ بات ذہن نشین کرلے کہ قدرت خدا اس بات پر قادر ھے کہ وہ انسان کو دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ھے، پس معلوم یہ ھوا جو لوگ معاد کا انکار کرتے ھیں ان کی شدت کے ساتھ مذمت کرتی ھے۔
گزشتہ اقوام معاد کو انکار کیا کرتے تھے لیکن ان کے پاس ایسی کوئی دلیل نھیں تھی جو حقیقت اور برہان کے مطابق ھو، بلکہ ان کا انکار معاد کرنا صرف وھم و گمان کی بنا پر ھوتا تھا، جبکہ وھم و گمان ،انسان کو حق تک نھیں پہنچاسکتا، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( وَقَالُوا مَا هِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُهْلِکُنَا إِلاَّ الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلاَّ یَظُنُّونَ ) ( ۱۱۱ )
”اور یہ لوگ کہتے ھیں کہ یہ صرف زندگانی دنیا ھے اسی میں مرتے ھیں اور جیتے ھیں اور زمانہ ھی ھم کو ہلاک کردیتا ھے او رانھیں اس بات کا کوئی علم نھیں ھے کہ یہ صرف ان کے خیالات ھےں اور بس“۔
گزشتہ اقوام صرف وجود معاد کو بعید سمجھتے تھے جس کی کوئی علمی ارزش نھیں ھے، بلکہ یہ توان کی نافھمی پر خود دلیل ھے کہ وہ حق و حقیقت تک پہنچنے کے لئے دلیل اور برہان کو سمجھنے سے قاصر تھے اور خداوندعالم کی موجود نعمتوں اور ملک عظیم کو نھیں سمجھ پاتے تھے۔
گزشتہ اقوام کے نردیک قیامت کے انکار کی اصل وجہ دنیاوی مقاصد اور شھوت پرستی وغیرہ جیسے بُرے مقاصد میں رکاوٹ تھی (کیونکہ قیامت کا عقیدہ دنیاوی مقاصد اور شھوت پرستی میں روکاٹ بنتا تھا)تاکہ ایمان و تقویٰ کے قید سے آزاد رہکر ہر برائی اور شھوت میں غرق رھیں،کیونکہ اگر ایمان قبول کرتے ھیں تو قیامت پر بھی عقیدہ رکھنا لازم تھا لہٰذا ان عقائد کو چھوڑ کر ہر برائی اور ظلم و جور کو اپنے لئے روا جانتے تھے،:
( بَلْ یُرِیدُ الْإِنسَانُ لِیَفْجُرَ اٴَمَامَهُ یَسْاٴَلُ اٴَیَّانَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ ) ( ۱۱۲ )
”بلکہ انسان یہ چاہتا ھے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے۔وہ یہ پوچھتا ھے کہ یہ قیامت کب آنے والی ھے“۔
اسی وجہ سے ھم دیکھتے ھیں کہ وہ ظالم و جابر جنھوں نے دنیا میں ظلم و جور اور برائیاں پھیلائیں وہ لوگ اپنی ھوا و ھوس اور شھوت پرستی میں غرق رھے، لہٰذا انھوں نے روز قیامت کا اقرار نھیں کیا یھی نھیں بلکہ اپنی برتری اور فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے قیامت کو بعید از عقل جانا، جیسا کہ جناب ھود علیہ السلام کی قوم کے بارے خداوندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ھے:
( وَقَالَ الْمَلَاٴُمِنْ قَوْمِهِ الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْاٴَخِرَةِ وَاٴَتْرَفْنَاهُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا مَا هَذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یَاٴْکُلُ مِمَّا تَاٴْکُلُونَ مِنْهُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ وَلَئِنْ اٴَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَکُمْ إِنَّکُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ اٴَیَعِدُکُمْ اٴَنَّکُمْ إِذَا مِتُّمْ وَکُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَنَّکُمْ مُخْرَجُونَ هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ إِنْ هِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِینَ إِنْ هُوَ إِلاَّ رَجُلٌ افْتَرَی عَلَی اللهِ کَذِبًا وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُؤْمِنِینَ ) ( ۱۱۳ )
”ان کی قوم کے ان رؤساء نے جنھوں نے کفر اختیار کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کردیا تھا اور ھم نے انھیں زندگانی دنیا میں عیش وعشرت کا سامان دےدیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ تو تمہارا ھی جیسا ایک بشر ھے جو تم کھاتے ھو وھی کھاتا ھے اور جو تم پیتے ھو وھی پیتا بھی ھے۔ اور اگر تم نے اپنے ھی جیسے بشر کی اطاعت کرلی تو یقینا خسارہ اٹھانے والو ںمیں سے ھوجاؤ گے۔ کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ھے کہ جب تم مرجاؤ گے او رخاک اور ہڈی ھوجاؤگے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤ گے حیف صد حیف تم سے کس با ت کا وعدہ کیا جارھاھے۔ یہ تو صرف ایک زندگانی دنیا ھے جہاں ھم مرےں گے او رجئیں گے اور دوبارہ زندہ ھونے والے نھیں ھےں۔ یہ ایک ایسا آدمی ھے جو خدا پر بہتان باندھتا ھے اور ھم اس پر ایمان لانے والے نھیں ھیں“۔
خداوندعالم نے اس بات کی تاکید کی ھے کہ یہ لوگ مستکبرھیں حق کے سامنے اپنا سر تسلیم کرنے والے نھیں ھیں اور نہ ھی دلیل و برہان کو قبول کرتے ھیں:
( فَالَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنکِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَکْبِرُونَ ) ( ۱۱۴ )
”تو جو لوگ آخرت پر ایمان نھیں رکھتے ان کے دل ھی (اس وضع کے ھیں کہ ہر بات کا) انکار کرتے ھیں اوروہ برے مغرور ھیں “۔
اسی طرح حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفی (ص)کے ھم عصر جاہلوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا کیونکہ وہ بھی قیامت کے وجود کو اپنے وھم و گمان کی بنا پر بعید از عقل جانتے تھے، اور وہ کسی بھی دلیل اور برہان کو نھیں مانتے تھے:
( بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْاٴَوَّلُونَ قَالُوا إِِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَء نَّا لَمَبْعُوثُونَ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا هَذَا مِنْ قَبْلُ إِنْ هَذَا إِلاَّ اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ) ( ۱۱۵ )
”بلکہ جو اگلے لوگ کہتے آئے ویسی ھی باتیں یہ بھی کہنے لگے ‘کہنے لگے کہ جب ھم مر جائیں گے اور (مر کر)مٹی (کا ڈھیر) اور ہڈیاں ھو جائیں گے تو کیا پھر دوبارہ (قبروں سے زندہ کرکے نکالے جائیں گے اس کا وعدہ تو ھم سے اور ھم سے پہلے ھمارے باپ داداوںسے بھی کیا جاچکا ھے یہ تو بس اگلے لوگوں کے ڈھکوسلے ھیں “۔
اسی وجہ سے قرآن مجید کی آیات نازل ھوئیں تاکہ سختی کے ساتھ ان کی تردید کرےںاور تین وجوہات سے ان کے شبہات کا جواب دیں:
پہلی جہت: عقل و وجدان کے مطابق دلائل و براھین قائم کئے، اور قیامت کے ضروری ھونے اور خداوندعالم کے وعدہ کے محقق ھونے کو ثابت کیا، تاکہ انکار کرنے والے کے ذہن سے قیامت کے بعید ھونے والے شبہہ کو دور کردیں،اور ان کے لئے بہترین دلائل بیان کئے، ان براھین میں برہان مماثلہ، برہان قدرت، برہان حکمت اور برہان عدالت ھے جنھیں ھم ”دلائل معاد“ میں مع مثال بیان کرچکے ھیں۔
دوسری جہت: انسانی حقیقت کو بیان کیاکیونکہ جاہلیت کے مشرکین،معاد جسمانی کا انکار کرتے تھے، جیسا کہ قرآن کریم نے ان کے انکار کو نقل کیا ھے:
( یَقُولُونَ اٴَءِ نَّا لَمَرْدُودُونَ فِی الْحَافِرَةِ اٴَ ءِ ذَا کُنَّا عِظَاماً نَخِرَةً قَالُوا تِلْکَ اِٴذاً کَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ) ( ۱۱۶ )
”کفار کہتے ھیں کہ کیا ھم الٹے پاوں(زندگی کی طرف)پھر لوٹیں گے ‘کیا جب ھم کھوکھلی ہڈیاں ھو جائیں گے ۔کہتے ھیں کہ یہ لوٹنا تو بڑ ا نقصان دہ ھے “۔
( وَقَالُوا اٴَءِ ذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَء نَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا ) ( ۱۱۷ )
”اور یہ لو گ کہتے ھیں کہ جب ھم (مر نے کے بعد سڑ گل کر) ہڈیاں رہ جائیں گے اور ریزہ ریزہ (ھو جائیں گے)تو کیا از سر نو پیدا کر کے اٹھا ئے جائیں گے“۔
( وَقَالُوا اٴَءِ ذَا ضَلَلْنَا فِی الْاٴَرْضِ اٴَءِ نَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ ) ( ۱۱۸ )
”اور یہ لو گ کہتے ھیں کہ جب ھم زمین میں ناپید ھو جائیں گے تو کیا ھم پھر نیا جنم لیں گے “۔
ان کے جواب میں خداوندعالم نے حقیقت انسان کو بیان کیا اور مثال دی کہ ملک الموت تمہاری روح کو قبض کرلے گا:
( قُلْ یَتَوَفَّاکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِی وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ إِلَی رَبِّکُمْ تُرْجَعُونَ ) ( ۱۱۹ )
”(اے رسول ) کہہ دو کہ ملک الموت جو تمہارے اوپر تعینات ھے وھی تمہاری روحیں قبض کرے گا اس کے بعد تم سب کے سب اپنے پرور دگار کی طرف لوٹا ئے جاوگے“۔
یعنی تم لوگ موت کے ذریعہ معدوم (نابود) نھیں ھووگے اور نہ ھی زمین میں مٹی بن کر ختم ھوجاؤگے کیونکہ ملک الموت تمہاری روح کو قبض کرے گا جو اس کے قبضہ میں رھے گی اور ناپید نھیں ھوگی، اور پھر تمھیں خدا کی بارگاہ میں محشور کیا جائے گا تاکہ تمہارا حساب و کتاب ھوسکے تو تمہاری روحوں کو تمہارے بدن میں لوٹایا دیا جائے گااور تم ”تم“ بن جاؤگے( ۱۲۰ )
تیسری جہت: روز قیامت کے انکار پر منکرین کو شدید عذاب سے ڈرایا گیا ھے، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ اٴَءِ ذَا کُنَّا تُرَابًا اٴَءِ نَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ وَاٴُوْلَئِکَ الْاٴَغْلَالُ فِی اٴَعْنَاقِهِمْ وَاٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ) ( ۱۲۱ )
”اور اگر تمھیں (اس بات پر ) تعجب ھوتا ھے تو ان کفار کا یہ قول تعجب کی بات ھے کہ جب ھم (سڑگل ) کر مٹی ھوجائیں گے تو کیا ھم (پھر دوبارہ) ایک نئے جنم میں آئیں گے ۔یہ وھی لوگ ھیں جنھوں نے اپنے پرو ر دگار کے ساتھ کفر کیا ۔اور یھی لوگ ھیں جن کی گردنوں میں (قیامت کے دن) طوق پڑے ھوں گے اور یھی لوگ جہنمی ھیں کہ یہ اس میں ھمیشہ رھیں گے“۔
نیز ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( وَاٴَنَّ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ اٴَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا ) ( ۱۲۲ )
”اور یہ بھی کہ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نھیں رکھتے ھیں ان کے لئے ھم نے بہت بڑ ا درد ناک عذاب تیا ر کر رکھا ھے “۔
ایضاً:
( وَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِینَ الَّذِینَ یُکَذِّبُونَ بِیَوْمِ الدِّینَ وَمَا یُکَذِّبُ بِهِ اِٴلاَّکُلُّ مُعْتِدٍ اٴَثِیمٍ ) ( ۱۲۳ )
”اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ھے جو لوگ روز جزا کو جھٹلاتے ھیں، اور اس کا انکار صرف وھی کرتے ھیں جوحد سے گزرجانے والے گناہگار ھیں “۔
جسمانی معاد پر کئے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات
جسمانی معاد کے سلسلے میں قدماء او رمتاخرین فلاسفہ نے بہت سے اعتراض کئے ھیں، جن کی بازگشت یا صفات خداوندی کی صحیح پہچان نہ ھونا ھے، خصوصاً ان لوگوں نے لامحدود قدرت خدا اور ہر شی پر محیط اس کے علم کو نھیں سمجھا ھے، یا ان اعتراض کی بازگشت عالم آخرت کے صفات اور اس بدن کے خصائص سے جاہل ھونا ھے جو روز قیامت معبوث کیا جائے گا، چونکہ انھوں نے اس عالم (آخرت) اور اس بدن (جو کہ روز قیامت پلٹایا جائے گا)کو اس مادی عالم(دنیا)اور مادی بدن اور یہاں کے قوانین و نظریات سے مقایسہ کیا ھے، لیکن ان کا مقایسہ کرنا صحیح نھیں ھے، کیونکہ عالم آخرت ،عالم دنیا سے اپنی تمام ابعاد و جوانب اور خصائص کے لحاظ سے مختلف ھے، کیونکہ عالم آخرت میں نظام کائنات بدل جائے گا، اور بساط منظومہ شمسی کو لپیٹ دیا جائے گایہ زمین ایک دوسری زمین میں تبدیل ھوجائے گی، لیکن یہ انسان یھی انسان رھے گا اور ایک ایسی زندگی ملے گی کہ اس کے بعد کبھی فنا نھیں ھوگی۔
جیسا کہ آپ حضرا ت نے ملاحظہ کیا کہ قرآن کریم اور سنت نبوی (ص)دلالت کرتی ھیں کہ انسان کا بدن معدوم اور فنا نھیں ھوتا بلکہ ایک دن محشور کیا جائے گا اور اس کی روح اس کے بدن میں لوٹا دی جائے گی، تو وہ انسان بذات خود یھی انسان ھوگا، تاکہ روز جزاء اپنے اعمال کی جزا یا سزا پاسکے، لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر معاد کے سلسلے میں اعتراضات کرنا جہالت کی نشانی ھے، لیکن پھر بھی ھم چند اعتراضات بیان کرکے ان کے جوابات پیش کرتے ھیں:
پہلا اعتراض: آکل و ماکول( ۱۲۴ )
یہ ایک قدیمی اعتراض ھے، جس کو افلاطون او ردوسرے قدماء اور متاخرین نے (مسلم و غیر مسلم) مختلف عبارتوں کے ذریعہ بیان کیا ھے، جن میں اھم عبارت یہ ھے کہ اگر انسان کسی دوسرے انسان کی غذا بن جائے( ۱۲۵ ) اور اس کے تمام اعضاء کھالے تو پھر ان دونوں میں سے ایک ھی کو محشور کیا جائے گا، کیونکہ پہلے انسان کے اجزاء باقی ھی نھیںر ھے جن سے اس کے اعضاء خلق ھوئے تھے،پس روز قیامت محشور ھونے والا بدن دونوں وجود میں سے کس روح کے ساتھ متعلق ھے؟اگر بدنِ محشور صرف آکل کی روح سے متعلق ھو اور وہ آکل کافر ھو اور ماکول مومن تو اس صورت میں آکل جو کافر ھے اس کو عذاب دینے کے ساتھ مومن کو بھی عذاب دینا لازم آتا ھے اور اگر ماکول کا بدن محشور ھوگا جو مومن ھے تو مومن کو ثواب دینے کی صورت میں کافر کو بھی ثواب دینا لازم آتا ھے کیونکہ مومن کا بدن آکل کا جز بن چکا ھے۔
جواب :
اس اعتراض کا جواب چند طریقے سے دیا جاسکتا ھے:
۱ ۔ خداوندعالم ہر چیز کا عالم ھے، اور اس کا علم ہر ممکن شئے پر محیط ھے، کائنات کے ذرہ ذرہ کو جانتا ھے، انھیں میں آکل و ماکول کے اجزاء بھی ھیں، لہٰذا خداوندعالم اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے ذریعہ انسان کے تمام اعضاء کو جمع کردے گا، اور اس میں روح ڈال دے گا، چاھے انسان کا بدن کتنا ھی بدل جائے، اس میں نقص پیدا ھوجائے یا بالکل ھی فنا ھوجائے، ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( قُلْ یُحْیِیهَا الَّذِی اٴَنشَاٴَهَا اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ ) ( ۱۲۶ )
”(اے رسول)تم کہدو کہ اس کو وھی زندہ کردے گا جس نے ان کو (جب یہ کچھ نہ تھے)تو پہلی مرتبہ زندہ کر دکھایا وہ ہر طرح کی پیدائش سے واقف ھے“۔
نیز خداوندعالم نے معاد کا انکار کرنے والوں کے اسی اعتراض کے جواب میں فرمایا:
( اٴَءِ ذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا ذَلِکَ رَجْعٌ بَعِیدٌ قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاٴَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَنَا کِتَابٌ حَفِیظٌ ) ( ۱۲۷ )
”بھلا جب ھم مر جائیں گے اور (سڑ گل کر) مٹی ھو جائیں گے تو پھر یہ دوبارہ زندہ ھونا (عقل سے) بعید (بات) ھے ا ن کے جسموں سے زمین جس چیز کو (کھاکھا کر) کم کرتی ھے وہ ھم کو معلوم ھے اور ھمارے پاس تو تحریری یاد داشت کتاب( لوح) محفوظ (موجود )ھے“۔
نیز ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْاٴُولَی قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّی فِی کِتَابٍ لاَیَضِلُّ رَبِّی وَلاَیَنسَی ) ( ۱۲۸ )
”فرعون نے پوچھا بھلا اگلے لوگوں کا حال (تو بتاو کہ ) کیا ھواموسیٰ نے کھاان باتوں کا علم میرے پرور دگار کے پاس کتاب (لوح محفوظ )میں (لکھا) ھواھے پرور دگار نہ بہکتا ھے اور نہ بھولتا ھے “۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام حشر کے بارے میں فرماتے ھیں:
”حتی اذا تصرمت الامور ،و تقضت الدهور ،و ازف النشور، اخرجهم من ضرائح القبور،و اوکار الطیور،واوجرة السباع ،ومطارح المهالک ،سراعا الی امره ،مهطعین الی معاده ۔۔۔“۔( ۱۲۹ )
”یہاں تک کہ جب تمام معاملات ختم ھوجائیں گے، اور تمام زمانے بیت جائیں گے اور قیامت کا وقت قریب آجائے گا تو انھیں قبروں کے گوشوں، پرندوں کے گھونسلوں، درندوں کے بھٹوں اور ہلاکت کی منزلوں سے نکالا جائے گا، اس کے امر کی طرف تیزی سے قدم بڑھاتے ھوئے اور اپنی وعدہ گاہ کی طرف بڑھتے ھوئے ،گروہ درگروہ، خاموش، صف بستہ اور ایستادہ۔
لہٰذا حضرت علی علیہ السلام کا فرمان اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ انسانوں کو روز قیامت محشور کیا جائے گا چاھے ان کو درندوں اور پرندوں ھی نے کھالیا ھو۔
۲ ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں بیان ھوا ھے کہ آپ نے فرمایا:جب جناب ابراھیم علیہ السلام نے دریا کے کنارے ایک میت دیکھی جس کو دریائی اور خشکی کے درندہ کھارھے تھے ، اور ایک دوسرے پر حملہ کررھے ھیں تاکہ خود کھائیں اس وقت جناب ابراھیم علیہ السلام کو تعجب ھوا اور عرض کی :
( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیِي الْمَوْتَی ) ،(اے میرے پرور دگار تو مجھے بھی دکھا دے کہ تو مردہ کو کیونکر زندہ کرتا ھے ؟) تو اس وقت آواز قدرت آئی:
( قَالَ اٴَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِی قَالَ فَخُذْ اٴَرْبَعَةً مِنْ الطَّیْرِ ) َ۔۔( ۱۳۰ )
(خدا نے فرمایا کیا تمھیں (اس کا) یقین نھیں ،ابراھیم نے عرض کی (کیوں نھیں) مگر آنکھ سے دیکھنا اس لئے چاہتاھوں کہ میرے دل کو اطمینان ھوجائے فرمایا (اچھااگر یہ چاہتے ھو) تو چار پرندے لو،تو جناب ابراھیم علیہ السلام نے مور، مرغ، کبوتر او رکوّے کو پکڑا ، آواز قدرت آتی:
فَصُرْہُنَّ إِلَیْک،یعنی ان کو ذبح کرلو اور ان کے گوشت کو آپس میں مخلوط کرلو اور ان کو دس پہاڑوں پر رکھدو، لیکن ان کی چونچوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لو، اور پھر ان کو بلاؤ تو وہ بہت تیز دوڑتے ھوئے تمہارے پاس آئےں گے، چنانچہ جناب ابراھیم علیہ السلام نے ایسا ھی کیا کہ ان پرندوں کے گوشت کو دس پہاڑوں پر رکھ دیا اور ان کوآواز دی، چنانچہ سب کا گوشت اور ہڈی وغیرہ جدا جدا ھوکر جناب ابراھیم علیہ السلام کے پاس آگئے، اس وقت جناب ابراھیم علیہ السلام نے کہا:
( إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ( ۱۳۱ )
خدا بیشک غالب و حکمت والا ھے“۔
کھاجاتا ھے کہ یہ حدیث اس بات کے اوپر اشارہ ھے کہ خداوندعالم ماکول کے اجزاء کو آکل (کھانے والے) کے بدن میں محفوظ رکھتا ھے، اور انھیں کو روز حشرماکول کے بدن میں پلٹا دے گا، جیسا کہ چارپرندوں کے مخلوط اور ایک دوسرے میں ملے ھوئے گوشت کو ان کو جسموں تک پہنچادیا۔( ۱۳۲ )
۳ ۔ اس اعتراض کا جواب متکلمین اور فلاسفہ نے بھی دیا ھے، جس کا خلاصہ یوں ھے کہ روز قیامت انسان کو اصلی اعضاء میںزندہ کیا جائے گا، جن کے ذریعہ اس کی شروع میں خلقت کی گئی ھے، اور یہ اعضاء اول عمر سے آخر عمر تک باقی رہتے ھیں، مطلق طور پر تمام اعضاء کے ذریعہ روز قیامت انسان کو زندہ نھیں کیا جائے گا، اور ماکول کے وہ اعضاء کھانے والے کے بعد باہر نکل آتے ھیں، لہٰذا کھانے والے کا اعادہ لازم نھیںرہتا بلکہ خود ماکول کا اعادہ کیا جائے گا،( ۱۳۳ ) کیونکہ خداوندعالم نے ان اعضاء کو محفوظ کرلیا ھے لہٰذا ان کو کسی دوسرے کے بدن کا حصہ قرار نھیں دیتا۔
اسی جواب سے محقق طوسی رحمة اللہ علیہ نے اتفاق کرتے ھوئے کتاب ”شرح تجرید“ میں فرمایا:”ولا یجب إعادة فواضل المکلف“۔علامہ حلّی رحمة اللہ علیہ اس کی شرح کرتے ھوئے فرماتے ھیں:مکلف کے سلسلے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ھے، چنانچہ بعض کہتے ھیںکہ مکلف نفس مجرد ھے (یعنی انسان کی روح پر تکلیف و فرائض واجب کئے گئے ھیں) اور محققین کی ایک جماعت کہتی ھے کہ مکلف انسان کے وہ اصلی اعضاء ھیں جن میں کوئی کمی و زیادتی نھیں ھوتی، اورکمی و زیادتی ان اعضاء میں ھوتی ھے جو اصلی اعضاء سے ملحق ھوتے ھیں، لہٰذا روز قیامت میں انھیں اصلی اعضاء کو لوٹانا ضروری ھے یا روح کو ان اصلی اعضاء کے ساتھ، لیکن ان اصلی اعضاء کے ساتھ ملے ھوئے اجزاء کو بعینہ لوٹانا ضروری نھیں ھے۔( ۱۳۴ )
دوسرا اعتراض: اعادہ معدوم
کہتے ھیں: اعادہ معدوم محال ھے( ۱۳۵ ) کیونکہ اس کا ملازمہ یہ ھے کہ ایک وجود میں عدم حلول کرجائے، یعنی جوخود ایک چیز میں موجود ھے اس میں عدم آجائے، اگر ایسا ھو تو ایک چیز دو چیز بن جائے گی، دوسرے الفاظ میں یہ کھاجائے کہ موت انسان کی فنا ھے، اگر دوبارہ اس کو زندہ کیا جائے تو یہ پہلے والے انسان کے علاوہ دوسرا انسان ھوگا، اور یہ عدم کے بعد دوسری خلقت ھے، اسی کو لوٹا یا نھیں گیاھے، اور مبداء و معاد کے درمیان کوئی رابطہ نھیں ھے
جواب:
۱ ۔ قارئین کرام! فلاسفہ کے لحاظ سے معاد کے معنی یا فنا کے بعد وجود کا نام ھے یا اجزاء منتشر ھونے کے بعد ان کو جمع کرنے کے معنی میں ھے، اور فناء کے بعد کسی چیز کے موجود ھونے کو فلاسفہ محال مانتے ھیں، لیکن ”لافوزی“ (ت ۱۷۹۴ ء) نے مادہ کے سلسلے میںجو قانون مادہ معین کیا ھے وہ فلاسفہ کے گزشتہ نظریہ کو باطل کرتا ھے، کیونکہ وہ اس بات کی صراحت کرتا ھے کہ مادہ فنا نھیں ھوتا ھے صرف اس کی صورت میں تبدیلی و تغیر پیدا ھوتا ھے جو اس پر عارض ھوتی ھے،جیسا کہ فلاسفہ کے نزدیک وجود پر عدم طاری نھیں ھوتا اسی طرح مادہ پر عدم طاری نھیں ھوتا، لیکن بعض فلاسفہ اور متکلمین نے اعادہ معدوم کو جائز مانا ھے، چنانچہ بعض فلاسفہ کہتے ھیں: معدوم کا دوبارہ وجود میں آنا محال نھیں ھے، نہ ذات کے لحاظ سے اور نہ اس کے لوازم کے لحاظ سے، ورنہ اگر معدوم کا دوبارہ موجود ھونا محال ھوتا تو اول ھی سے موجود نہ ھوتا، شروع میں کسی چیز کو بنانا مشکل ھوتا ھے لیکن اس کو دوبارہ بنانا پہلے کی نسبت آسان ھوتا ھے، جیسا کہ معتزلی علماء نے ”احوال و ذوات اشیاء“ کا اثبات کیا ھے، چنانچہ کہتے ھیں کہ معدوم بھی ایک چیز ھوتی ھے، جب وہ موجودمعدوم ھوجاتا ھے، تو اس کی مخصوص ذات باقی رہتی ھے، لہٰذا اس کو دوبارہ لوٹانا ممکن ھے، کیونکہ اس کی ذات باقی ھے یہاں تک کہ عدم کی حالت میں بھی، لیکن کبھی اس پر وجود طاری ھوتا ھے اور کبھی عدم۔
اب رھی بات معاد کے دوسرے معنی کی کہ متفرق اعضاء کو دوبارہ ملانے کا نام معاد ھے، بعض مسلم فلاسفہ نے معاد جسمانی کا اقرار کرتے ھوئے کہا: معاد جسمانی اعادہ معدوم نھیں ھے بلکہ متفرق اعضاء کو جمع کرنے کا نام معاد ھے، جسموں کا نابود ھونا معدوم ھونا نھیں ھے بلکہ اعضاء متفرق اور دوسری چیزوں سے مل جاتے ھیں، لہٰذا ان اجزاء کو ایک جگہ جمع کرنا ممکن ھے، کیونکہ خداوندعالم ان اجزاء کو جانتا ھے اور ان کے جمع کرنے پر بھی قادر ھے، کیونکہ اس کا علم ہر ذرہ ذرہ پر محیط ھوتا ھے اور اس کی قدرت تمام ممکنات پر ھے۔( ۱۳۶ )
۲ ۔جیسا کہ ھم گزشتہ اعتراض کے جواب میں عرض کر چکے ھیں کہ بعض فلاسفہ اور متکلمین نے اس بات کی وضاحت کی ھے کہ انسان کے اصلی اعضاء میں نہ کوئی کمی ھوتی ھے اور نہ کوئی زیادتی، اور نہ ھی وہ فنا ھوتے ھیں، اسی مطلب پر حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی حدیث بھی دلالت کرتی ھے، جیسا کہ کتاب ”کافی“ میں عمار بن موسی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ھے کہ امام علیہ السلام سے ایک ایسی میت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا بدن بوسیدہ ھوگیا تھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”نعم حتی لا یبقی لحم ولا عظم الا طینته التی خلق منها ،فانها لا تبلی ،تبقی فی القبر مستدیره حتی یخلق منها کما خلق اول مرة “۔( ۱۳۷ )
”ہاں انسان کا گوشت اور ہڈی باقی نھیں رہتے، لیکن اس کی طینت باقی رہتی ھے اور وہ بوسیدہ نھیں ھوتی، وہ قبر میں بھی باقی رہتی ھے، یہاں تک کہ اسی طینت کے ذریعہ انسان دوبارہ خلق کیا جائے گا جس طرح سے پہلی مرتبہ خلق کیا گیا ھے۔“
۳ ۔اگر ھم اعادہ معدوم کے محال ھونے کو قبول بھی کرلیں ، لیکن خداوندعالم نے انسان کو اس حال میں خلق کیا کہ ”لم یکن شیئاً مذکورا“ (یعنی انسان قابل ذکر بھی نھیں تھا) وھی خدا اس کو دوبارہ بھی لوٹا سکتا ھے اگرچہ وہ قابل ذکر بھی نہ ھو، چنانچہ ھم نے اس ”برہان قدرت“ کو دلائل قیامت میں بیان کیا ھے۔
۴ ۔ انسان کی شخصیت صرف روح ھوتی ھے اور وہ خدا کے نزدیک باقی رہتی ھے اور معدوم نھیں ھوتی،اور دوسرا وجود بدن کی خلقت اور روح سے رابطہ ھے، پس اس صورت میں یہ وھی انسان ھوگا نہ کہ اس کے مثل یا اس کے علاوہ، کیونکہ ان دونوں کے درمیان ماھیت (اور حقیقت )مشترک ھے۔
تیسرا اعتراض: تعدد ابدان
کہتے ھیں: دنیا میں انسان کے خُلیے تبدیل ھوتے رہتے ھیں، آج کی سائنس کہتی ھے کہ دس سال میں انسان کی تمام مادی ترکیب بدل جاتی ھیں، مثلاً اگر انسان ساٹھ سال کی عمر میں مرتا ھے تو اس کے بدن کی چھ مختلف ترکیبیں تھیں، تو اگر انسان کو انھیں چھ ترکیبوں کے ساتھ محشور کیا جائے گا تو پھر ایک انسان کے چھ بدن محشور کرنے لازم آئےں گے، او راگر ان میں سے ایک بدن محشور کیا جائے گا تو یہ عدل الٰھی کے خلاف ھے، کیونکہ یھی ایک بدن ان تمام اعمال کے لحاظ سے ثواب یا عذاب دیکھے گا جواس نے تمام عمر میں (مختلف بدن کے ساتھ) انجام دئے ھیں۔
جواب:
دنیا میں انسان کی زندگی خود ھی اس اعتراض کا جواب دیتی ھے کہ اگرچہ سائنس نے ثابت کیا ھے کہ انسان کا بدن دس سال میں بدل جاتا ھے، لیکن پھر بھی اس کی اپنی ایک شخصیت باقی رہتی ھے مثلاً اگر کسی شخص نے جوانی کے عالم میں کسی شخص کو قتل کرڈالا ھو، (اور وہ فرار ھوگیا ھو) تو اس کوبوڑھاپے میں بھی سزا دیتے ھیں ، کیونکہ قتل اسی نے کیا تھا، اور کوئی اس کو خلاف عدل و انصاف نھیں کہتا، یا کوئی یہ نھیں کہتا کہ وہ قاتل یہ نھیں ھے، لہٰذا اسی طرح قیامت کا حساب و کتاب اور جزا یا سزا ھے، جبکہ انسان کی روح اس کے جسم میں دوبارہ ڈال دی جائے گی تو بدن ، وھی بدن ھے ، چاھے وہ جوان محشور کیا جائے یا بوڑھا۔
فیلسوف بزرگوار ملاصدرا کہتے ھیں: حق و انصاف یہ ھے کہ روز قیامت بعینہ انسان کا وھی بدن محشور کیا جائے گا جن اجزاء کے ساتھ اس کو موت آئی ھے، نہ کہ اس کے مثل، چنانچہ اگر کوئی اس کو دیکھے گا تو کھے گا کہ یہ شخص بعینہ وھی شخص ھے جو دنیا میں تھا، پس اگر کوئی شخص جسمانی معاد کا انکار کرے تو گویا اس نے شریعت کا انکار کیا، اور جو شریعت کا انکار کرے وہ عقلی اور شرعی طور پر کافر ھے۔( ۱۳۸ )
خلاصہ یہ ھوا کہ ہر انسان پر یہ عقیدہ رکھنا واجب ھے کہ خداوندعالم انسان کوروز قیامت حساب و کتاب کے لئے محشور کرے گا، لیکن خصوصیات اورکیفیت کیا ھوگی، حساب و کتاب کیسے ھوگا، جنت و دوزخ کیسی ھوںگی؟ تو علماء کہتے ھیں ان چیزوں کا تفصیلی طور پر علم حاصل کرنا واجب نھیں ھے، بلکہ اجمالی اور مختصر طور پر عقیدہ رکھنا واجب ھے (کہ انسان کو روز قیامت حساب و کتاب کے لئے دوبارہ زندہ کیا جائے گا)، ھم نے اس کتاب میں مختلف اقوال و مختلف دلائل ذکر کردئے ھیں تاکہ قارئین کرام اس سلسلہ میں غور وفکر کریں چنانچہ جو کچھ ھم نے ذکر کیا ھے وہ صرف بحث و تحقیق کے لئے ھے،(اورقیامت کے سلسلے میں کوئی کسی طرح کا شک و شبہ ھو تو وہ دور ھوجائے اور اعتراض کرنے والوں کا جواب بھی دیا جاسکے۔)
____________________
(۱) عرض اس چیز کو کہتے ھیں جو اپنے وجود کے لئے کسی دوسرے موضع (جگہ)کا محتاج ھوتا ھے (جیسے سیاھی کہ کسی کپڑے یا دیوار وغیرہ پر ھی پر وجود میں آتی ھے)اور جوہر اس چیز کو کہتے ھیں کہ جوبذات خود موجود ھوتا ھو جیسے قلم و دوات وغیرہ، رجوع فرمائیں: تجرید اعتقاد /نصیر الدین الطوسی :۱۴۳۔مکتب الاعلام الاسلامی ،دستور العلماء ۳القاضی الاحمد نگری۱: ۱۹۸ و۳۱۸۔ موسسہ الاعلامی ۔بیروت، المقابسات / ابو حیان :۲۵۹۔دار الادب ۔بیروت۔
(۲) رجوع کریں :الروح / ابن القیم :۲۱۹و ۱۵۸و ۱۵۹۔دارالقلم ۔بیروت ،تفسیر رازی ۲۱:۴۰۔۵۳، روح المعانی / الالوسی ۱۵:۱۵۵۔داراحیاء التراث العربی ۔بیروت بحار الانوار ۶۱:۱۔۱۵۰،دائرة المعارف القرن العشرین /محمد فرید وجدی ، ج۴:۳۴۰۔۳۴۶۔دارالفکر۔بیروت۔
(۳) لسان العرب / ابن منظور ۔روح ۔۲:۴۶۳۔۴۶۴۔
(۴) سورہ اسراء آیت۸۵۔
(۵) تفسیر رازی ۲۱:۳۸ ،روح المعانی / الالوسی ۱۵:۱۵۲،مجمع البیان / الطبرسی ۶:۶۷۵۔دارالمعرفة ۔ بیروت ،میزان / طباطبائی ۱۳/ ۱۹۹۔
(۶) راجع :مجمع البیان / الطبرسی ۶:۶۷۴،روح المعانی / الالوسی ۱۵:۱۵۲۔
(۷) تفسیر العیاشی ۲:۳۱۷/۱۶۳۔المکتبہ العلمیہ الاسلامیہ ۔تہران۔
(۸) سورہ یس آیت۸۲۔۸۳۔
(۹) سورہ قمر آیت۵۰۔
(۱۰) المیزان /علامہ طباطبائی ،ج۱ص۳۵۱وج ۱۲ص۲۰۶وج۱۳ص۱۹۸۔
(۱۱) الکشاف / الزمخشری ۲:۶۹۰۔نشر ادب الحوزہ ،مجمع البیان ی/ الطبرسی ج۶ص۶۷۵۔
(۱۲) تفسیر رازی۲۱:۳۸، مجمع البیان / الطبرسی ۶:۶۷۵۔
(۱۳) سورہ حجر آیت۲۹۔
(۱۴) سورہ انبیاء آیت۹۱۔
(۱۵) سورہ نساء آیت۱۷۱ ۔
(۱۶) تصحیح الاعتقاد /شیخ مفید ص۳۲۔نشر موتمر شیخ مفید ۔قم مفردات الراغب ۔روح۔:۲۰۵،روح المعانی / الآلوسی ۱۵:۱۵۶والایہ من سورہ حج ۲۶۔
(۲)کامل آیت اس طرح ھے:وَإِذْ بَوَّاٴْنَا لِإِبْرَاهِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اٴَنْ لاَتُشْرِکْ بِی شَیْئًا وَطَهِّرْ بَیْتِی لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ (سورہ حج آیت۲۶۔)
”جب ھم نے (ابر کے ذریعہ سے) ابراھیم کے واسطے خانہ کعبہ کی جگہ ظاہر کر دی (اور ان سے کھاکہ ) میرا کسی چیز کو شریک نہ بنانا اور میرے گھر کو طواف اور قیام اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے واسطے صاف ستھرا رکھنا“۔
(۱۷) سورہ مریم آیت۱۷۔
(۱۸) تفسیر القمی ۲:۴۸۔دارالکتاب قم۔
(۱۹) سورہ شعراء آیت۱۹۳۔۱۹۴۔
(۲۰) سورہ نحل آیت۱۰۲۔
(۲۱) تفسیر قمی ج ۱ص ۳۹۰۔
(۲۲) تفسیر میزان / طباطبائی ج۱۴ص۳۶۔
(۲۳) سورہ نباء آیت۳۸۔
(۲۴) سورہ قدر آیت۴۔
(۲۵) بصائر الدرجات / الصفار :۴۸۴/۴موسسہ الاعلمی تہران۔
(۲۶) تفسیر القمی ۲:۴۰۲۔
(۲۷) سورہ شوریٰ ۵۲۔”اور اسی طرح ھم نے اپنے حکم کی روح (قرآن میں)تمہاری وحی کے ذریعہ بھیجی“۔
(۲۸) اصول کافی، شیخ کلینی، ج ۱:۲۱۴/۱۔
(۲۹) سورہ مجادلہ آیت ۲۲۔
(۳۰) اصول کافی،شیخ کلینی ۲:۱۲حدیث۱،و۱۳/۵۔
(۳۱) اصول کافی، شیخ کلینی، ج ۲:۲۱۳/۱۱۔
(۳۲) قرب الاسناد / الحمیری :۱۷ ۔مکتبہ نینوا، تہران۔
(۳۳) سورہ انعام آیت۱۲۲۔ تفسیر میزان / طباطبائی ۱۹:۱۹۷۔
(۳۴) سورہ نحل آیت ۲۔
(۳۵) سورہ غافر آیت۱۵۔
(۳۶) تفسیر القمی ۱:۳۸۲۔
(۳۷) تفسیر رازی ۲۱:۳۸، روح کی اصطلاحات کے سلسلے میںرجوع کریں،انباء بما فی کلمات القرآن من اضواء / الکرباسی ۳:۱۱۳۔مطبعہ الاداب ۔النجف ،مفردات الراغب ۔روح:۲۰۵،المصباح المنیر/ الفیومی ۔روح ۔۱:۲۹۵،لسان العرب ۔روح ۔۲:۴۵۵۔نفس ۔۶:۲۳۳۔
(۳۸) الاربعین /شیخ بہائی :۴۹۹۔جامعہ مدرسین ۔قم۔
(۳۹) تفسیر میزان / طباطبائی ۱:۳۶۴،المعاد / المطہری :۲۲۴۔مو سسہ ام القری۔
(۴۰) تفسیر میزان / طباطبائی ۱:۳۵۰۔
(۴۱) بحار الانوار ۶۱:۷۳۔۷۷عن شرح المواقف والصحائف الالھیہ ۔
(۴۲) رجوع فرمائیں: دائرة معارف القرن العشرین / وجدی ۴:۳۳۰،الادلة الجلیة فی شرح الفصول النصیریہ / عبد اللہ نعمة :۸ ۷ ۱۔
(۴۳) الادلة الجلیة فی شرح الفصول النصیریہ / عبد اللہ نعمة :۱۸۴۔۱۸۵۔
(۴۴) تفسیر رازی ۲۱:۵۲۔۵۳،تفسیر میزان /طباطبائی ۱:۳۶۵۔۳۷۰،دائرہ معارف القرن العشرین / وجدی ۴:۳۳۲،التفسیر الامثل ۹:۱۰۵۔۱۰۷ ۔موسسہ البعثہ ،بیروت ۔
(۴۵) معاد / شھید مطہری :۱۷۸۔۱۶۹۔مو سسہ ام القری ،روح المعانی / آلوسی ۱۵:۱۵۷،دائرہ معارف القرن العشرین / وجدی ۴:۳۲۴۔۳۲۶۔
(۴۶) دائرہ معارف القرن العشرین / وجدی ۴:۳۲۷۔
(۴۷) سورہ مومنون آیت۱۴۔
(۴۸) اعتقادات،شیخ صدوق۵۰۔
(۴۹) اعتقادات،شیخ صدوق:۴۷۔
(۵۰) کشف المراد فی شرح تجرید اعتقاد / علامہ حلّی،ص۱۹۵۔
(۵۱) المسائل السرویہ /شیخ مفید :۵۹۔مو تمر شیخ مفید ۔قم،الاربعین ۳ البہائی :۴۹۹۔۵۰۰،بحار الانوار / علامہ مجلسی۶۱:۱۳و۷۵۔۷۶،تفسیر رازی ۲۱:۴۵،روح البیان / الالوسی ۱۵:۱۵۶،دائرہ معرف القرن العشرین / وجدی ۴:۳۳۸۔
(۵۲) حق الیقین / عبداللہ شبر ۲:۴۸۔
(۵۳) معاد /علامہ مطہری :۱۶۹۔۱۷۰،فلسفتنا/ شھید صدر:۳۳۵۔دار التعارف ،بیروت ۔
(۵۴) سورہ بقرة آیت۱۵۴۔
(۵۵) سورہ آل عمران آیت۱۶۹۔
(۵۶) سورہ فجر آیت۲۶۔۳۰۔
(۵۷) المیزان ، علامہ طباطبائی ۱:۳۵۰،تفسیر رازی ۲۱:۴۰۔۴۱۔
(۵۸) سورہ غافر آیت۴۵۔۴۶۔
(۵۹) سورہ نوح آیت۲۵۔
(۶۰) تفسیر رازی۲۱:۴۲۔
(۶۱) سورہ مومنون آیت۱۲۔۱۴۔
(۶۲) سورہ مومنون آیت ۱۴۔
(۶۳) تفسیر رازی ، ج۲۱ص ۵۱، تفسیر المیزان، علامہ طباطبائی ج ۱ص ۳۵۲۔
(۶۴) سورہ سجدة آیت۷۔۹۔
(۶۵) سورہ حجر آیت۲۹،سورہ ص آیت۷۲۔
(۶۶) تفسیر رازی ۲۱:۵۱۔
(۶۷) سورہ زمر آیت۴۲۔
(۶۸) مجمع البیان /علامہ طبرسی،ج ۸ص۷۸۱۔
(۶۹) کاشف ، علامہ مغنیہ ۶:۴۱۹۔دار العلم للملایین ۔بیروت ۔
(۷۰) المیزان ، علامہ طباطبائی ۱:۳۵۱۔
(۷۱) سورہ اسراء آیت۸۵۔
(۷۲) سورہ یس آیت۸۲۔
(۷۳) سورہ یٰس آیت۸۲۔
(۷۴) تفسیر میزان / طباطبائی ۱:۳۵۱۔۳۵۲۔
(۷۵) تصحیح اعتقاد ، شیخ مفید :۹۱۔۹۲۔موتمر شیخ مفید۔
(۷۶) تصحیح اعتقاد ، شیخ مفید :۹۱تا۹۲۔
(۷۷) تصحیح اعتقاد ، شیخ مفید :۹۲۔
(۷۸) السیرة النبویہ /ابن ہشام ۲:۲۹۲۔مصطفی البابی الحلبی ۔مصر ۔
(۷۹) تفسیر رازی ۲۱:۴۱۔
(۸۰) تصحیح اعتقاد، شیخ مفید :۹۳۔
(۸۱) کافی / کلینی ۳:۲۴۳/۱۔
(۸۲) کافی / کلینی ۳:۲۴۵/۴۔
(۸۳) کافی / کلینی ۳:۲۴۵/۱۔
(۸۴) نہج البلاغہ / تحقیق صبحی الصالح :۵۰۵/ الحکمہ (۲۰۵)
(۸۵) دائرة المعارف القرن العشرین /وجدی،ج ۴،ص۳۷۷۔۳۷۸۔
(۸۶) اس کی ” المجھول والمسائل الروحیہ “ نامی کتاب بھی ھے جس میں درج ذیل چند نظریات بھی بیان کئے گئے ھیں:
۱۔ روح ،جسم سے ایک مستقل موجود ھے۔
۲۔ روح کے سلسلہ میں اب تک بہت سی چیز نامعلوم ھیں۔
۳۔ روح بدن کے بغیر ھی موثر کرسکتی ھے یا موثر ھوسکتی ھے ۔
(۸۷) رجوع کریں : اصول العقائد فی الاسلام ، تالیف لاری ۴:۸۹و۹۲۔۹۴۔الدار الاسلامیہ ۔بیروت ۔ الحیاة بعد الموت /رضا المطوّف السماوی: ۲۹۷۔۳۱۵۔ دارالزہراء۔ بیروت ، دائرہ معارف القرن العشرین / وجدی ۴:۳۶۵۔۲۴۰۰ ۱۰:۴۰۰۔۴۰۹۔
(۸۸) سورہ نور آیت۲۴۔
(۸۹) سورہ ابراھیم آیت۴۸۔۵۱۔
(۹۰) سورہ قیامة آیت۳۔۴۔
(۹۱) سورہ یس آیت۷۸۔۷۹۔
(۹۲) سورہ یٰس آیت ۵۱۔۵۴۔
(۹۳) سورہ طہ آیت ۵۵۔
(۹۴) سورہ یٰس آیت۶۵۔
(۹۵) سورہ فصلت آیت ۲۰۔
(۹۶) درج ذیل آیات کی طرف اشارہ ھےفَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا کَذَلِکَ یُحْیيِ اللهُ الْمَوْتَی وَیُرِیکُمْ آیَاتِهِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (سورہ بقرة ۷۳)
اٴَوْ کَالَّذِی مَرَّ عَلَی قَرْیَةٍ وَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلَی عُرُوشِهَا قَالَ اٴَنَّی یُحْیِی هَذِهِ اللهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَاٴَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ آیَةً لِلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَکْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهُ قَالَ اٴَعْلَمُ اٴَنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیيِ الْمَوْتَی قَالَ اٴَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِی قَالَ فَخُذْ اٴَرْبَعَةً مِنْ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَی کُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْء اً ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاٴْتِینَکَ سَعْیًا وَاعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیم (سورہ بقرہ ۲۵۹۔۲۶۰)
سَیَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَابِعُهُمْ کَلْبُهُمْ وَیَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ کَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَیْبِ وَیَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ کَلْبُهُمْ قُلْ رَبِّی اٴَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا یَعْلَمُهُمْ إِلاَّ قَلِیلٌ فَلاَتُمَارِ فِیهِمْ إِلاَّ مِرَاءً ظَاهِرًا وَلاَتَسْتَفْتِ فِیهِمْ مِنْهُمْ اٴَحَدًا وَلاَتَقُولَنَّ لِشَیْءٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذَلِکَ غَدًا إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ وَاذْکُرْ رَبَّکَ إِذَا نَسِیتَ وَقُلْ عَسَی اٴَنْ یَهْدِیَنِی رَبِّی لِاٴَقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا وَلَبِثُوا فِی کَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِینَ وَازْدَادُوا تِسْعًا (سورہ کہف۲۲۔۲۵۔)
(۹۷) سورہ واقعہ آیت۱۵۔۲۳۔
(۹۸) سورہ نساء آیت۶۵۔
(۹۹) نہج البلاغہ/صبحی الصالح:۱۰۸۔خطبہ نمبر (۸۳)۔ترجمہ ص ۱۳۵، علامہ جوادی۔
(۱۰۰) امالی صدوق :۲۴۳/۲۵۸مو سسہ البعثة ۔قم ،حق الیقین / عبداللہ شبر ۲:۵۴،بحار الانوار / علامہ مجلسی۷:۳۳/۱عن الامالی و ۷:۳۹/۸ عن اتفسیر علی بن ابراھیم ۔
(۱۰۱) الا سفار / صدر المتالھین ۹:۱۶۵،المبدا و المعاد / صدر المتالھین :۳۷۵۔
(۱۰۲) حق الیقن/عبد اللہ شبر ۲:۳۸۔۳۹۔
(۱۰۳) الاحتجاج ۳ الطبرسی :۳۵۰۔
(۱۰۴) الاسفار / صدر المتالھین ۹:۱۶۵،شرح الموقف ۳ الجرجانی ۸:۲۹۸۔۳۰۰۔
(۱۰۵) الاضحویہ فی المعاد ی/ ابن سینا :۱۲۶۔ المو سسہ الجامعہ ۔بیروت۔
(۱۰۶) تھافت الفلاسفہ / الغزالی :۲۳۵۔۲۵۳۔بیروت ۔۱۹۳۷۔
(۱۰۷) الشفا ء ۔الالھیات / ابن سینا :۴۲۳۔القاہرہ بحار الانوار / علامہ مجلسی،ج۷ص۵۰۔
(۱۰۸) ابن سینا و مذھبہ فی النفس / فتح اللہ خلیفة :۱۱۷،بیروت ،۱۹۷۴۔
(۱۰۹) بحار الانوار / علامہ مجلسی۷: ۵۲۔
(۱۱۰) سورہ سباء آیت ۷۔۸۔
(۱۱۱) سورہ جاثیة آیت۲۴۔
(۱۱۲) سورہ قیامة آیت۵۔۶۔
(۱۱۳) سورہ مومنون آیت۳۳۔۳۸۔
(۱۱۴) سورہ نحل آیت۲۲۔
(۱۱۵) سورہ مومنون آیت۸۱۔۸۳۔
(۱۱۶) سورہ نازعات آیت۱۰۔۱۲۔
(۱۱۷) سورہ اسراء آیت۴۹ و۹۸۔
(۱۱۸) سورہ سجدة آیت ۱۰۔
(۱۱۹) سورہ سجدة آیت۱۱۔
(۱۲۰) تفسیر المیزان / علامہ طباطبائی ،ج۱۱ص۲۹۹۔
(۱۲۱) سورہ رعد آیت۵۔
(۱۲۲) سورہ اسراء آیت ۱۰۔
(۱۲۳) سورہ مطففین آیت ۱۰۔۱۲۔
(۱۲۴) یعنی کھانے والا اور کھائی جانے والی چیز۔
(۱۲۵) مثلاً انسان مرنے کے بعد مٹی بن جائے، اور مٹی ،پھلوں یا سبزیوں میں تبدیل ھوجائے اور ان سبزیوں اور پھلوں کو انسان کھالے۔
(۱۲۶) سورہ یس آیت۷۹۔
(۱۲۷) سورہ ق آیت۳۔۴۔
(۱۲۸) سورہ طہ آیت ۵۱۔۵۲۔
(۱۲۹) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۱۰۸خطبہ نمبر (۸۳)۔ترجمہ،علامہ جوادی ص ۱۳۵ ۔
(۱۳۰) سورہ بقرہ آیت۲۶۰۔
(۱۳۱) تفسیر قمی،ج۱،ص۹۱۔
(۱۳۲) بحار الانوار / علامہ مجلسی،ج۷،ص۳۷۔
(۱۳۳) شرح المواقف ۳ الجرجانی ۸:۲۹۶۔مطبعہ السعادہ ۔مصر ،المبداء والمعاد / صدر الدین الشیرازی ۳۷۶۔
(۱۳۴) کشف المراد /علامہ حلی :۴۳۱۔۴۳۲۔
(۱۳۵) معدوم (یعنی نابود) ھونے والی چیز کا دوبارہ پہلی والی چیز بننا محال اور ناممکن ھے۔
(۱۳۶) شرح ا لمواقف / الجر جانی ،ج۸،ص۲۸۹۔۲۹۴۔مطبعہ السعادہ ۔مصر ۔ الادلہ الجلیہ فی شرح الفصول النصیریہ / عبد اللہ نعمة :۲۱۲۔۲۱۳۔
(۱۳۷) اصول کافی / شیخ کلینی ،ج۳،ص۲۵۱/۷،بحار الانوار،ج ۷،ص۴۳، حدیث ۲۱۔
(۱۳۸) المبداء والمعاد /ملا صدرا:۳۷۶۔
چوتھی فصل
منازل الآخرت
انسان کے مرنے کے بعد خدا کے حضور میں جانے تک متعدد سخت ترین منزلیں ھیںجن سے گزرکر آخرت کی منزل تک پہنچنا ھے، اور یہ اتنی سخت منزلیں ھیں کہ اگر ان کو حالت احتضار (یعنی مرنے کے وقت ) کے ساتھ مقایسہ کیا جائے تو موت کی منزل بہتر اور آسان دکھائی دے گی۔
مصحف ناطق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ان بین الدنیا والاخرة الف عقبة ،اهو نها و ایسرها الموت “۔( ۱ )
”(موت کے بعد) دنیا اور آخرت کے درمیان ہزار خطرناک گھاٹیاں ھیں (جن سے گزرکر جانا ھے) اور ان میں سب سے آسان مرحلہ موت ھے“۔
قارئین کرام! ھم یہاں پر مختصر طور پر ان منزلوں کو پانچ بحثوں میںبیان کرتے ھیں جنھیںانسان طے کرے گا۔
پہلی بحث : موت اور اس کی سختیاں
روز قیامت تک پہنچنے کے لئے سب سے پہلی منزل ھے، اور یہ آخرت تک پہنچنے کے لئے پہلی نشانی ھے۔ حضرت رسول اکرم (ص)فرماتے ھیں:
”الموت القیامة ،اذا مات احدکم فقد قامت قیامته،یری ما له من خیر و شر “۔( ۲ )
”موت ھی قیامت ھے، جب تم میںسے کوئی شخص مرتا ھے تو اس کی قیامت آجاتی ھے وہ اپنے کئے اعمال کی جزا یا سزا کو دیکھ لیتا ھے۔“
اسی طرح حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”الموت باب الاخرة “۔( ۳ )
”موت آخرت کا دروازہ ھے“۔
موت سے مراد انسان کی روح قبض ھونا اور جسم و روح کے رابطہ کا خاتمہ ھے، یا دنیاوی زندگی سے اُخروی دنیا تک منتقل ھوجانے کا نام ھے، اور یہ ”فعل اللہ“ یعنی اللہ کا کام ھے، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( هُوَ الَّذِی یُحْیِي وَیُمِیتُ فَإِذَا قَضَی اٴَمْرًا فَإِنَّمَا یَقُولُ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ) ( ۴ )
”وہ وھی خدا ھے جو جلاتا اور مارتا ھے پھر جب وہ کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیتا ھے تو بس اس سے کہہ دیتا ھے کہ ھوجا تو وہ فوراً ھوجاتا ھے“۔
بے شک خداوندعالم نے یہ ذمہ داری یعنی قبض روح کا کام ملک الموت کے حوالہ کررکھا ھے، ملک الموت ھی حکم خدا وندی سے انسان کی روح کو قبض کرتا ھے:
( قُلْ یَتَوَفَّاکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِی وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ إِلَی رَبِّکُمْ تُرْجَعُونَ ) ( ۵ )
”(اے رسول ) کہدو کہ ملک الموت جو تمہارے اوپر تعینات ھے وھی تمہاری روحیں قبض کرے گا اس کے بعد تم سب کے سب اپنے پرور دگار کی طرف لوٹا ئے جاو گے ‘ ‘ ۔
اور خداوندعالم نے ملک الموت کے لئے دیگر فرشتوں کو اعوان و انصار مقرر فرمایا ھے جو اسی کے حکم سے روح قبض کرتے ھیں اور ان کا فعل خدا کا فعل ھوتا ھے، ارشاد ھوتا ھے:
( حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَیُفَرِّطُونَ ) ( ۶ )
”یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے تو ھمارے فرستادہ (فرشتے)اس کو( دنیا سے)اٹھا لیتے ھیں اور وہ( ھمارے حکم میں ذرا بھی)کوتاھی نھیںکرتے“۔
خداوندعالم ملک الموت کے ذریعہ انسان کو موت دیتا ھے:
( اَللّٰهُ یَتَوَفَّی الْاٴَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا ) ( ۷ )
”اللہ ھی ھے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلا لیتا ھے“۔
اسی مطلب کی طرف حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ حدیث اشارہ کرتی ھے، جیسا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا ھے:
”ان الله جعل لملک الموت اعوانا من الملائکة ،یقبضون الارواح،بمنزلة صاحب الشرطة له اعوان من الانس ،یبعثهم فی حوائجه، فتتوفاهم الملائکة ،و یتوفاهم ملک الموت من الملائکة مع ما یقبض هو،و یتوفا ها الله تعالیٰ من ملک الموت “۔( ۸ )
”خداوندعالم نے ملک الموت کے لئے دیگر فرشتوں کو ناصر و مددگار بنایا ھے، جو انسانوں کی روحوں کو قبض کرتے ھیں جیسے انسانوں میںداروغہ کے ساتھ پولیس اور دیگر ناصرو مددگار ھوتے ھیں، اور انھیں اپنی حاجتیں پورا کرنے کے لئے ادھر اُدھر بھیجتا ھے اسی طرح ملک الموت دیگر فرشتوں کو روح قبض کرنے کے لئے بھجتا ھے اور ان فرشتوں کی روح خود ملک الموت قبض کریں گے اور ملک الموت کو خود خدا موت دے گا“۔
موت کی سختیاں
موت وہ حقیقت ھے جو عالم کائنات میں انسانی زندگی کی آخری منزل ھے، جس سے کوئی بھی فرار نھیں کرسکتا، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِی تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِیکُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ( ۹ )
”(اے رسول) تم کہدو کہ موت جس سے تم لوگ بھاگتے ھو وہ تو ضرور تمہارے سامنے آئے گی پھر تم پو شیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا ) کی طرف لوٹا دیئے جاوگے پھر جو کچھ بھی تم کرتے تھے وہ تمھیں بتا دے گا“۔
موت اور اس کی سختیوں کے بارے میں بہت سی آیات و روایات میں تفصیل بیان ھوئی ھے، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”وان للموت لغمرات هی افظع من ان تستغرق بصفة ،او تعتدل علی عقول اهل الدنیا “۔( ۱۰ )
”بے شک موت کی سختیاں ایسی ھی ھیں جو اپنی شدت میں بیان کی حدووں میں نھیں آسکتی، اور اہل دنیا کی عقول کے اندازوں پر پوری نھیں اترسکتی ھیں“۔
ھم ذیل میں قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی بعض سختیوں کے بارے میں بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ حالت احتضار(جانکنی): حالت احتضار سے مراد ملک الموت یا اس کے اعوان و انصار کا حاضر ھونا ھے چاھے وہ ملائکہ رحمت ھوں یا ملائکہ عذاب، تاکہ مرنے والے کی روح کو قبض کریں، اور یہ سب سے مشکل ترین مرحلہ ھے کیونکہ ملائکہ کو دیکھ کر اس پر بہت زیادہ خوف و وحشت طاری ھوتی ھے، حضرت امام زین العابدین علیہ الصلاة و السلام فرماتے ھیں:
”اشد ساعات ابن آدم ثلاث ساعات :الساعة التی یعاین فیها ملک الموت ،والساعة التی یقوم فیها من قبره ،والساعة التی یقف فیها بین یدی الله تبارک و تعالیٰ ،فاما الی الجنة ،واما الی النار “۔( ۱۱ )
”انسان کے لئے تین موقع بڑے سخت ھوتے ھیں: ایک موقع وہ جب انسان ملک الموت کا مشاہدہ کرتا ھے، دوسرا وہ موقع جب انسان کو قبر میں اتارا جاتا ھے، تیسرا موقع وہ ھے جب انسان روز قیامت حساب و کتاب کے لئے پیش ھوگا، چاھے جنت میں جائے یا دوزخ میں“۔
حالت احتضار کا خوف و وحشت تمام مرنے والوں کے لئے برابر نھیں ھے بلکہ اگر انسان نیک کردار ھوتا ھے تو اس کی جاں کنی آسانی سے ھوتی ھے اور اگر مرنے والے دیندار نہ ھو تو اس کے لئے سختیاں اور پریشانیاں زیادہ ھوتی ھیں،لہٰذا اگر مرنے والا مومن اور متقی ھے تو فرشتے بہت آسانی سے اس کی روح قبض کرتے ھیں اور اس کو جنت الفردوس کی بشارت دیتے ھیں، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( الَّذِینَ تَتَوَفَّاهُمْ الْمَلاَئِکَةُ طَیِّبِینَ یَقُولُونَ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ( ۱۲ )
”(یہ) وہ لوگ ھیں جن کی روحیں فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ھیں کہ وہ (نجاست کفر سے)پاک و پاکیزہ ھوتے ھیں تو فرشتے ان سے (نہایت تپاک سے) کہتے ھیں سلام علیکم، جو نیکیاں دنیا میں تم کرتے تھے اس کے صلہ میں جنت میں (بے تکلف) چلے جاو“۔
لہٰذا ان کے مرنے اور بشارت میں کوئی فاصلہ نھیں ھوتا کیونکہ آیت کے دونوں جملوں میں کوئی حرف عطف بھی نھیں ھے ، پس موت کے ساتھ ساتھ بشارت ھوتی ھے۔
لیکن کفار و ظالموں کی موت کی سختیوں کے سلسلے بہت سی آیات قرآنی بہت زیادہ خوف و وحشت اور ھیبت کے بارے میں بیان کرتی ھیں کیونکہ ان کو دردناک اور سخت سے سخت عذاب کے بارے میں خبر دی جائے گی، خداوندعالم فرماتا ھے:
( وَلَوْتَرٰٓی اِذْیَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الْمَلائِکَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ذَٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیْدِ ) ( ۱۳ )
”اور کاش (اے رسول) تم دیکھتے جب فرشتے کافروں کی جان نکال لیتے تھے اور ان کے رخ اور پشت پر (کوڑے )مارتے جاتے تھے اور (کہتے جاتے تھے کہ)عذاب جہنم کے مزے چکھو یہ سزا اس کی ھے جو تمہارے ہاتھوں نے پہلے کیا کرایا ھے اور خدا بندوں پر ہر گز ظلم نھیں کیا کرتا “۔
۲ ۔ سکرات موت: خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَجَاءَ تْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْهُ تَحِیدُ ) ( ۱۴ )
”اور موت کی بیھوشی یقینا طاری ھوگی یھی وہ بات ھے جس سے تو بھاگا کرتا تھا“۔
سکرات موت سے وہ کرب و پریشانی مراد ھے جسے دیکھ کر مرنے والا بے ھوش ھوجاتا ھے،مرگ بار مصیبتیں ٹوٹ پڑتی ھیں، وہ حیرت زدہ رہ جاتا ھے ،شدید قسم کے آلام اور طرح طرح کے امراض و اسقام ھوتے ھیں.
”انة موجعة ،و جذبة مکربة و سوقة متعبةٍ “۔( ۱۵ )
انسان سکرات موت کی مدھوشیوں، شدید قسم کی بدحواسیوں، دردناک قسم کی فریادوں اور کرب انگیز قسم کی نزع کی کیفیتوں اور تھکادینے والی شدتوں میں مبتلا ھوجاتا ھے۔
حضرت رسول اکرم (ص)ارشاد فرماتے ھیں:
”ادنی جبذات الموت بمنزله مائة ضربة بالسیف “۔( ۱۶ )
”موت کا معمولی سا درد تلوارکی سو ضربت کے برابر ھے“
ان سکرات موت اور غمرات موت کے آثار میں سے انسان کی زبان کا لڑکھڑانا ھے،یا مثلاً آنکھوں کی بینائی کم ھوجاتی ھے اور پہلو ہلنے لگتے ھیں، اس کے ھونٹ پپڑا جاتے ھیں، اس کی پسلیاں چڑھ جاتی ھیں، اس کا سانس پھول جاتا ھے، اس کا رنگ پیلا پڑجاتا ھے اور آہستہ آہستہ اس کے اعضاء و جوارح بے جان ھونے لگتے ھیں یہاں تک کہ اس کی رانیں، اس کا سینہ اور اوپری حصہ گلے تک ٹھنڈے پڑ جاتے ھیں، اس کے بعد دنیا سے رخصت ھوجاتا ھے اور اس کے بعد دنیا میں نھیں لوٹ سکتا:
( فَلَوْلاَإِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ وَاٴَنْتُمْ حِینَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ اٴَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْکُمْ وَلَکِنْ لاَتُبْصِرُونَ فَلَوْلاَإِنْ کُنتُمْ غَیْرَ مَدِینِینَ تَرْجِعُونَهَا إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ) ( ۱۷ )
”تو کیا جب جان گلے تک آپہنچی ھے اور تم اس وقت (کی حالت) پڑے ھوئے دیکھا کرتے ھو اور ھم (اس مر نے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ھیں لیکن تم کو دکھائی نھیں دیتا تو اگر تم کسی کے دباو میں نھیں ھوتو اگر (اپنے دعوے میں) تم سچے ھو تو روح کو پھیر کیوں نھیں دیتے“۔
یھی وہ موقع ھے جس کو حالت احتضار کہتے ھیں جو واقعاً ایک وحشت ناک موقع ھے۔
(خدا وندعالم اس وقت ھماری مدد کرے، آمین)
حضرت علی علیہ السلام حالت احتضار کے بارے میں ارشاد فرماتے ھیں:
”اجتمعت علیهم سکرة الموت ،وحسرة الفوت ،ففترت لها اطرافهم وتغیرت لها الوانهم ،ثم ازداد الموت فیهم ولوجا فحیل بین احدهم وبین منطقه ،وانه لبین اهله ،ینظر ببصره ،ویسمع باذنه ،علی صحة من عقله ،وبقا ء من لبه ،یفکر فیم افنی عمره ،فیم اذهب دهرهفهو یعض یده ندامة علی ما اصحر له عند الموت من امره،ویزهد فیما کان یرغب فیه اٴَیام عمره فلم یزل الموت یبالغ فی جسده،حتی خالط لسانه و سمعه،فصار بین اهله لا ینطق بلسانه ولا یسمع بسمعه ،یردد طرفه بالنظر فی وجوهم، یری حرکات اٴلسنتهم، ولا یسمع رجع کلامهم، ثم ازداد الموت التیاطاً به ،فقبض بصره کما قبض سمعه ،و خرجت الروح من جسده ،فصار جیفة بین اهله ،قد او حشوا من جانبه ،و تباعد وا من قربة ،لا یسعد باکیا ً ،ولا یجیب داعیاً ، ثم حملوه الی مخط فی الارض ،فاسلموه الی عمله، وانقطعوا عن زورته“ ۔( ۱۸ )
”(تو اب اس مصیبت کا بیان بھی ناممکن ھے) جہاں ایک طرف موت کے سکرات ھیں اور دوسری طرف فراق دنیا کی حسرت، حالت یہ ھے کہ ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑگئے ھیں اور رنگ اڑگیا ھے، اس کے بعد موت کی دخل اندازی اور بڑھی تو وہ گفتگو کی راہ میں بھی حائل ھوگئی کہ انسان گھروالوںکے درمیان ھے انھیں آنکھوں سے دیکھ رھاھے، کان سے ان کی آوازیں سن رھاھے، عقل بھی سلامت ھے اور ھوش بھی برقرار ھے، یہ سوچ رھاھے کہ عمر کو کہاں برباد کیا ھے اور زندگی کو کہاں گزارا ھے۔۔۔
ندامت سے اپنے ہاتھ کاٹ رھاھے اور اس چیز سے کنارہ کش ھونا چاہتا ھے جس کی طرف زندگی بھر راغب تھا اب یہ چاہتا ھے کہ کاش جو شخص اس سے اس مال کی بنا پر حسد کررھاتھا یہ مال اُس کے پاس ھوتا اور اس کے پاس نہ ھوتا۔ اس کے بعد موت اس کے جسم میں مزید دراندازی کرتی ھے اور زبان کے ساتھ کانوں کو بھی شامل کرلیتی ھے کہ انسان اپنے گھروالوں کے درمیان نہ بول سکتا ھے اور نہ سُن سکتا ھے، ہر ایک کے چہرہ کو حسرت سے دیکھ رھاھے ، ان کی زبان کی جنبش کو بھی دیکھ رھاھے لیکن الفاظ نھیں سن سکتا ۔
اس کے بعد موت اور چپک جاتی ھے، توکانوں کی طرح آنکھوں پر بھی قبضہ ھوجاتا ھے، اور روح جسم سے پرواز کرجاتی ھے اب وہ گھروالوں کے درمیان ایک مُردار ھوتا ھے، جس کے پہلو میں بیٹھنے سے بھی وحشت ھونے لگتی ھے اور لوگ دور بھاگنے لگتے ھیں، یہ اب نہ کسی رونے والے کو سہارا دے سکتا ھے اور نہ کسی پکارنے والے کی آواز پر آواز دے سکتا ھے، لوگ اسے زمین کے ایک گڑھے تک پہنچادیتے ھیں اور اسے اس کے اعمال کے حوالہ کردیتے ھیں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ختم ھوجاتا ھے۔
لیکن بعض اعمال صالحہ جیسے صلہ رحم، والدین کے ساتھ نیکی کرنا وغیرہ حالت احتضار کے وقت مشکل آسان کرتے ھیں، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایاھے:
”من احب ان یخفف الله عز وجل عنه سکرات الموت ،فلیکن لقرابته وصولاً،وبوالدیه باراً ۔۔۔“۔( ۱۹ )
”جو شخص چاہتا ھے کہ خداوندعالم سکرات موت اور اس سختیوں کو آسان کردے تو اس کو چاہئے کہ صلہ رحم کرے اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کرے“۔
۳ ۔ قبض روح : احادیث میں بیان ھوا ھے کہ انسان کی جان کنی اس کے اعمال کے لحاظ سے آسانی سے یا سختی کے ساتھ ھوگی، وہ مومنین جن کا ایمان راسخ ھے، جنھوں نے اپنے اعضاء و جوارح کو گناھوں سے روکا ھے، ان کو لقاء پروردگار کی آرزو رہتی ھے، تو ملائکہ رحمت ان کی روح بہت آسانی سے قبض کریں گے، لیکن کفار جن کو دنیا نے دھوکہ میں ڈال دیا ھے، اور فسق و فجور کے دلدل میں پھنس گئے ھیں، نیز لقاء پروردگار سے روگرانی کرتے ھیں تو عذاب و غضب کے فرشتے ان کی روح شدت اور سختی سے قبض کرتے ھیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ان آیة المومن اذا حضره الموت ان یبیض وجهه اشد من بیاض لونه ،و یرشح جبینه ،و یسیل من عینیه کهیئة الدموع ،فیکون ذلک آیة خروج روحه ،وان الکافر تخرج روحه سلاًمن شدقه کزبد البعیر ۔۔“۔( ۲۰ )
”جان کنی کے عالم میںمومن کی نشانی یہ ھے کہ اس کے چہرے کا رنگ سفید ھوجاتا ھے، اس کی پیشانی سے پسینہ جاری ھوجاتا ھے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ھوجاتا ھے، پس روح نکلنے کی یھی نشانیاں ھیں، لیکن کافر کی روح بڑی سختی سے اس طرح نکالی جاتی ھے جیسے اونٹنی کے دودھ سے گھی نکالا جاتا ھے“۔
قارئین کرام! احادیث معصومین علیھم السلام سے یہ بات ظاہر ھوتی ھے کہ مذکورہ قاعدہ (جان کنی میں سختی اور آسانی سے کسی کے ایمان یا کفر کا پتہ لگانا)مسلم نھیں ھے ،کیونکہ اگر کسی شخص کی جان کنی سختی کے ساتھ ھورھی ھو تو وہ عذاب میں مبتلا ھے اور جس کی آسانی سے روح نکل جائے وہ ثواب اور اکرام کی حالت میں ھے، کیونکہ کبھی مومن کی روح سختی سے قبض کی جاتی ھے تاکہ یہ سختی اس کے گناھوں کا کفارہ بن جائے، اور وہ آخرت میں پاک ھوکر جائے، اور کبھی کبھی کافر کی روح آسانی سے نکل جاتی ھے تاکہ اس کی نیکیوں کی جزا دنیا ھی میں مل جائے( ۲۱ ) ، جیسا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ھم دیکھتے ھیں کہ کسی کافر کی روح آسانی سے اس حال میں نکل جاتی ھے کہ ، وہ باتیں کررھاتھا ہنس رھاتھا ، اور مومنین کے لئے بھی ایسا ھی ھوتا ھے، بہر حال ھم کس طرح مومنین اور کفار میں سکرات موت اور سختیوں کا اندازہ لگائیں؟ تب امام علیہ السلام نے فرمایا:
”ماکان من راحة للمومن هناک فهو عاجل ثوابه ،وماکان من شدة فهو تمحیصه من ذنوبه ،لیرد الاخرة نقیاً نظیفاً ،مستحقاً لثواب الابد، لامانع له دونه ،وماکان من سهولة هناک علی الکافر فلیوفی اجر حسناته فی الدنیا ،لیرد الاخرة ولیس له الا ما یوجب علی العذاب، وماکان من شدة علی الکافر هناک فهو ابتداء عذاب الله له بعد نفاد حسناته ،ذلک بان الله عدل لایجور “۔( ۲۲ )
”جس مومن کے لئے حالت احتضار میں راحت و سکون ھوتا ھے وہ اس بنا پر ھے کہ اس کو آخرت میں ثواب ملنے ولاھے اور اس کا ثواب اس قدر ھے کہ اس دنیا میں ھی وہ ثواب سے محظوظ ھونے لگتا ھے یعنی تعجیل ثواب میں اس کو یھیں سے راحت و سکون دیدیا جاتا ھے،او راگر اسے حالت احتضار میں سختیاں پیش آئیں تو وہ اس کو گناھوں سے پاک کرنے کے لئے ھیں تاکہ وہ آخرت میں گناھوں سے پاک و صاف ھوکر جائے، اور ھمیشہ کے لئے ثواب اور نعمتیں ملتی رھیں، اور اس کے ثواب میں کوئی مانع درپیش نہ آئے، لیکن کفار کے لئے موت کے وقت آسانی دنیا میں کی ھوئی نیکیوں کی وجہ سے ھے تاکہ آخرت میں اس کے لئے عذاب ھی عذاب رھے اور اگر کافر پر سختیاں ھیں تو یہ عذاب خدا کی ابتداء ھے کیونکہ اس کے پاس نیکیاں نھیں ھے، یہ سب اس وجہ سے ھے کہ خداوندعالم عادل ھے کسی پر ظلم نھیں کرتا“۔
۴ ۔ آخرت کی منزل میں داخل ھونا:جب انسان موت کو دیکھتا ھے تو اس کی پریشانیاں بڑھ جاتی ھیں، اس کی روح نکلنے کے لئے تیار ھوتی ھے اور موت کے ذریعہ اس کے سامنے سے زندگی میں موجود پردے ہٹ جاتے ھیں جیسے سوتا ھوا انسان کچھ نھیں دیکھتا اور جاگتے میں سب کچھ دیکھتا ھے کیونکہ جاگتے میں وہ پردہ ہٹ جاتا ھے گویا کہ انسان کی زندگی ایسی ھے جیسے کہ ”لوگ سوئے ھوئے ھیں جب مرجاتے ھیں تو متوجہ ھوتے ھیں“،تووہ ان چیزوں کا مشاہدہ کریں گے جو زندگی میں نھیں کرسکے تھے، ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( لَقَدْ کُنْتَ فِی غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا فَکَشَفْنَاعَنْکَ غِطَاء کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیدٌ ) ( ۲۳ )
”(اس سے کھاجائے گا )کہ اس (دن) سے تو غفلت میں پڑا تھا تو اب ھم نے تیرے سامنے سے پر دے کو ہٹا دیا تو آج تیری نگاہ بڑی تیز ھے“۔
انسان موت کے وقت کن چیزوں کا مشاہدہ کرتا ھے، احادیث کے مطابق ھم ان کا ذکرکرتے ھیں:
الف۔ جنت یا جہنم میں اپنا مقام: حضرت رسول اکرم (ص)ارشاد فرماتے ھیں:
”اذا مات احدکم عرض علیه مقعد ه بالغداة و العشي،ان کان من اهل الجنة فمن اهل الجنة، وان کان من اهل النار فمن اهل النار، ویقال: هذا مقعدک حتی یبعثک الله الیه یوم القیامة “۔( ۲۴ )
”جب انسان مرجاتا ھے تو اس کواس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ھے ، اگر وہ اہل جنت سے ھے تو اس کو جنت میں اس کا مقام دکھایا جاتا ھے او راگر جہنمی ھے تو دوزخ میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ھے، اور اس سے کھاجاتا ھے: یہ تیرا ٹھکانا ھے یہاں تک کہ روز قیامت خدا سے ملاقات کرے“۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے جب محمد بن ابی بکر کو مصر کا والی بنایا تو آپ نے ایک تحریر لکھی:
”لیس احد من الناس تفارق روحه جسده حتی یعلم ای المنزلتین یصل ؛الی الجنة ،ام الی النار، اعدو هو لله ام ولی ،فان کان ولیالله فتحت له ابواب الجنه ،و شرعت له طرقها،ورای ما اعدالله له فیها ففرغ من کل شغل ،ووضع عنه کل ثقل ،وان کان عدواً لله فتحت له ابواب النار، و شرعت له طرقها، و نظر الی ما اعدا لله له فیها ،فاستقبل کل مکروه و ترک کل سرور، کل هذا یکون عندالموت ،و عنده یکون الیقین “۔( ۲۵ )
”جب تک انسان کو جنت یا جہنم میں اس کا مقام نھیں دکھادیا جاتا اس وقت تک اس کی روح مفارقت نھیں کرتی، اور یہ کہ وہ دشمن خدا ھے یا دوست خدا، اگر وہ دوست خدا ھے تو اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ھیں اور اس کے راستے کھول دئے جاتے ھیں اور وہ خداوندعالم کی طرف سے تیار کردہ نعمتوں کو دیکھ لیتا ھے، وہ ہر کام سے فارغ ھوجاتا ھے او راس کی ہر مشکل دور ھوجاتی ھے، اگر وہ مرنے والا دشمن خدا ھے تو اس کے لئے جہنم کے دروازے کھول دئے جاتے ھیں اور اس کے راستے بتادئے جاتے ھیں، اور وہ خدا کی طرف سے تیار کردہ عذاب کو دیکھ لیتا ھے، تو اس کی پریشانیوں میں اضافہ ھوجاتا ھے اور ساری خوشیاں ختم ھوجاتی ھیں، یہ تمام چیزیں موت کے وقت ھوتی ھیں، اور وہ ان باتوں کا یقین کرلیتا ھے“۔
ب۔ مال و اولاد اور اعمال کا مجسم ھونا:
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ان العبد اذا کان فی آخر یوم من الدنیا ،واول یوم من آلاخرة،مثل له ماله وولده وعمله، فیلتفت الی ماله ویقول :والله انی کنت علیک حریصا شحیحاً فما لی عندک ؟فیقول :خذ منی کفنک قال فیلتفت الی ولده ،فیقول :والله انی کنت لکم محبا ،وانی کنت علیکم محامیا، فماذا لی عندکم؟ فیقولون :نودیک الی حفرتک ونواریک فیها فیلتفت الی عمله فیقول :والله انک کنت علي لثقیلا ،وانی کنت فیک لزاهد ا،فماذا عندک ؟فیقول :انا قرینک فی قبرک ویوم نشرک حتّیٰ اعرض انا وانت علی ربک “۔( ۲۶ )
”جب انسان کی زندگی کا آخری روز اور آخرت کا پہلا دن ھوتا ھے تو اس کا مال ، اس کی اولاد اور اس کے اعمال مجسم ھوجاتے ھیں، چنانچہ اپنے مال کی طرف متوجہ ھوکرکہتا ھے: خدا کی قسم میں تیرے سلسلے میں بہت زیادہ حریص او رلالچی تھا، (تجھے حاصل کرنے کے لئے کتنی زحمتیں اٹھائیں ھیں؟) تو میری کیا مدد کرسکتا ھے؟ اس وقت مال کھے گا: میں تجھے کفن دے سکتا ھوں (اور بس) اس کے بعد اپنی اولاد کی طرف متوجہ ھوکر کہتا ھے: قسم خدا کی میں تم سے بہت محبت کیا کرتا تھامیں تمہاری حمایت او رمدد کیا کرتا تھا، آج تم میری کیا مدد کرسکتے ھو؟ تو اولاد کھے گی: ھم تجھے تیری قبر تک پہنچا سکتے ھیں اور تجھے قبر میں چھپا سکتے ھیں، اس کے بعد اپنے اعمال کی طرف متوجہ ھوکر کہتا ھے: قسم خدا کی، تم میرے لئے ثقیل اور گراں تھے اور میں تم سے دور رہتا تھا، آج تم کیا کروگے؟ اس وقت انسان کے اعمال کھیں گے کہ ھم تیرے ساتھ رھیں، قبر میں بھی اور روز محشر بھی، یہاں تک کہ ھم دونوں بارگاہ الٰھی میں پیش ھوں“۔
۴ ۔ نبی اکرم (ص)اور ائمہ علیھم السلام کا دیدار:
شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ھیں کہ اس سلسلے میں شیعہ امامیہ کا اتفاق ھے ، امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیھم السلام سے متواتر احادیث بیان ھوئی ھیں، نیز حضرت علی علیہ السلام نے حارث ھمدانی سے مشھور اشعار میں فرمایا:
یا حارِ همدان من یمُت یرني
من مومن اٴو منافقٍ قبلا
یعرفني طرفه و اٴعرفه
بعینه و اسمه وما فعلا(۲۷)
ابن ابی الحدید معتزلی نے حضرت علی علیہ السلام کے درج ذیل قول کے بعد چھ مصرعہ بیان کئے ھیں:
”فانکم لو قد عاینتم ما قد عاین من مات منکم،لجزعتم و وهلتم، وسمعتم واطعتم ولکن محجوب عنکم ما قد عاینوا ،و قریب ما یطرح الحجاب “۔( ۲۸ )
اس کے بعد ابن ابی الحدید کہتے ھیں: ممکن ھے کہ اس کلام سے حضرت علی علیہ السلام نے اپنے نفس کا ارادہ کیا ھو کہ اس وقت تک کوئی انسان نھیں مرتا جب تک کہ علی (علیہ السلام) اس کے پاس حاضر نہ ھوجائے۔
اس کے بعد ابن ابی الحدید اس قول کے صحیح ھونے پر استدلال کرتے ھوئے کہتے ھیں: یہ کوئی عجیب چیز نھیں ھے اگر حضرت نے یہ بات اپنے بارے میں کھی ھو کیونکہ قرآن مجید کی آیت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ اہل کتاب اس وقت تک نھیں مرتے جب تک وہ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کی تصدیق نہ کردیں، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( وَإِنْ مِنْ اٴَهْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُونُ عَلَیْهِمْ شَهِیدًا ) ( ۲۹ )
چنانچہ بہت سے مفسرین کہتے ھیں کہ اس کا مطلب یہ ھے کہ یھود و نصاریٰ اور گزشتہ امت کے مرنے والے لوگ حالت احتضار میں حضرت عیسیٰ مسیح کو دیکھتے ھیں اور اس کی تصدیق کرتے ھیں جس نے فرائض اور تکالیف کے وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی ھو۔( ۳۰ )
لیکن دیدار کی کیفیت کے کا صحیح علم ھمارے پاس نھیں ھے بلکہ اس مسئلہ میں اور اس جیسے غیبی مسائل میں صرف اجمالی تصدیق کافی ھے، اور اسی چیز پر ایمان رکھنا کافی ھے کیونکہ اس سلسلے میں ائمہ معصومین علیھم السلام سے صحیح احادیث بیان ھوئی ھیں۔
دوسری بحث : برزخ اور اس کا عذاب
بزرخ کے معنی: دو چیزوں کے درمیان حائل چیز کو برزخ کہتے ھیں( ۳۱ ) یہ موت اور قیامت کے درمیان کا واسطہ ھے ، او راسی عالم برزخ میں روز قیامت کے لئے انسان نعمتوں سے نوازا جائے گا یا اس پر عذاب ھوگا( ۳۲ ) خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( مِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ) ( ۳۳ )
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھائے جائےں گے “۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ یہ عالم برزخ دنیاوی زندگی اور روز قیامت کے درمیان ایک زندگی کا نام ھے۔
عالم برزخ کے بارے میں حضرت امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”البرزخ:القبر ،وفیه الثواب والعقاب بین الدنیا وآلاخرة “۔( ۳۴ )
وحشت برزخ: جیسا کہ ھم بیان کر چکے ھیں کہ عالم آخرت کی زندگی موت سے شروع ھوتی ھے، انسان موت کے ذریعہ عالم آخرت میں پہنچ جاتا ھے، اور موت کے بعد درج ذیل قبر کے خوف و وحشت سے روبرو ھوتا ھے:
۱ ۔ وحشت قبر اور قبر کی تاریکی: قبر، معادکی وحشتناک منزلوں میں سے ایک منزل ھے، جب انسان کو ایک تاریک و تنگ کوٹھری میں رکھ دیا جاتا ھے جہاں پر اس کے مددگار صرف اس کے اعمال اور عذاب یا ثواب کے فرشتے ھوں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اہل مصر کے نام ایک خط میں تحریر فرماتے ھیں:
”یا عباد الله،ما بعد الموت لمن لا یغفر له اشد من الموت؛القبر فاحذروا ضیقه و ضنکه وظلمته و غربته،ان القبریقول کل یوم :انابیت الغربة،انا بیت التراب،انا بیت الوحشة ،انا بیت الدود و الهوام “۔( ۳۵ )
”اے بندگان خدا! اگر انسان کی بخشش نہ ھو تو پھر موت کے سے سخت کوئی چیز نھیں ھے، (لہٰذا قبر کی تاریکی، تنگی اور تنہائی سے ڈرو!! بے شک قبر ہر روز یہ آواز دیتی ھے: میں تنہائی کا گھر ھوں، میں مٹی کا گھر ھوں، میں خوف و حشت کا گھر ھوں، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ھوں۔۔۔“۔(اے کاش ھم اس آواز کو سن لیں)
قارئین کرام! یھی وہ جگہ ھے کہ جب انسان زمین کے اوپر سے اس کے اندر چلا جاتا ھے، اہل و عیال اور دوستوں کو چھوڑ کر تنھاھوجاتا ھے، روشنی کو چھوڑ کر تاریکی میں چلا جاتا ھے، دنیا کے عیش و آرام کو چھوڑ کر تنگی اور وحشت قبر میں گرفتار ھوجاتا ھے، اور اس کا سب نام و نشان ختم ھوجاتا ھے اور اس کا ذکر مٹ جائے گا اس کی صورت متغیر ھوجائے گی اور اس کا جسم ابدان بوسیدہ اور جوڑ جوڑ جدا ھوجائیں گے۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فکم اکلت الارض من عزیز جسد ،وانیق لون ،کان فی الدنیا غذی ترف ،وربیب شرف، یتعلل بالسرور فی ساعة حزنه و یفزع الی السلوة ان مصیبة نزلت به ،ضنا بغضارة عیشه وشحاحة بلهوه و لعبه ۔۔۔“۔( ۳۶ )
”اُف! یہ زمین کتنے عزیزترین بدن اور حسین ترین رنگ کھاگئی ھے جن کو دولت و راحت کی غذامل رھی تھی اور جنھیں شرف کی آغوش میں پالا گیا تھا جو حزن کے اوقات میں بھی مسرت کا سامان کیا کرتے تھے اور اگر کوئی مصیبت آن پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوں پر للچائے رہنے واور اپنے لھو و لعب پر فریفتہ ھونے کی بنا پر تسلی کا سامان فراھم کرلیا کرتے تھے“۔
(زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے؟!! )
۲ ۔ فشار قبر:
احادیث میں وارد ھوا ھے کہ میت کو اس قدر فشار قبر ھوگا کہ اس کاگوشت پارہ پارہ ھوجائے گا، اس کا دماغ باہر نکل آئے گااس کی چربی پگھل جائے گی، اس کی پسلیاں آپس میں مل جائیں گی، اس کی وجہ دنیا میں چغل خوری اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی، بہت زیادہ (بے ھودہ) باتیں کرنا، طہارت ونجاست میں لاپرواھی کرنا ھے، اور کوئی انسان اس(فشار قبر) سے نھیں بچ سکتا مگر یہ کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جائے اور کمال کے درجات پر فائز ھو۔
ابو بصیر کہتے ھیں کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص فشار قبر سے نجات پاسکتا ھے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”نعوذ بالله منها ما اقل من یفلت من ضغطة القبر ۔۔۔“۔( ۳۷ )
”ھم اللہ کی پناہ مانگتے ھیں فشار قبر سے، بہت ھی کم لوگ فشار قبر سے محفوظ رھیں گے“۔
صحابی رسول سعد بن معاذ /کو بھی فشار قبر کے بارے میں روایت میں ملتا ھے کہ جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ملائکہ تشییع جنازہ کے لئے آئے اور خود رسول اکرم (ص)آپ کی تشییع جنازہ میں پابرہنہ اور بغیر عبا کے شریک ھوئے، یہاں تک کہ قبر تک لے آئے اور قبر میں رکھ دیا گیا تو امّ سعد نے کہا: اے سعد تمھیں جنت مبارک ھو ، تو اس وقت رسول اکرم نے فرمایا:
”یا ام سعد! مَہ لاتجزمي علی ربک ،فان سعدا قد اصابتہ ضمة“۔وحینما سُئل عن ذلک، قال(ص) ”انہ کان فی خلقہ مع اھلہ سوء“۔( ۳۸ )
”اے مادر سعد یہ نہ کھو ، تم اپنے رب کے بارے میں یہ یقینی نھیں کہہ سکتی، سعد پر اب فشار قبر ھورھاھے“۔
اور جب رسول اکرم (ص)سے اس کی وجہ معلوم کی گئی تو آنحضرت (ص)نے فرمایا کہ سعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتے تھے“۔
رسول اکرم (ص)نے یہ بھی فرمایا:
”ضغطة القبر للمومن کفارة لما کان منه من تضییع النعم “۔( ۳۹ )
”فشار قبر مومن کے لئے کفارہ ھے تاکہ اس کی نعمتوں میں کمی نہ ھو۔“
۳ ۔ سوال منکر و نکیر:
خداوندعالم، انسان کی قبر میں دو فرشتوں کو بھیجتا ھے جن کا نام منکر و نکیر ھے، یہ دوفرشتے اس کو بٹھاتے ھیں اور سوال کرتے ھیں کہ تیرا رب کون ھے ؟ تیرا دین کیا ھے؟ تیرا نبی کون ھے؟ تیری کتاب کیا ھے؟ تیرا امام کون ھے جس سے تو محبت کرتا تھا، تو نے اپنی عمر کو کس چیز میں صرف کیا، تونے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیاھے؟ اگر اس نے صحیح اور حق جواب دیا تو ملائکہ اس کوراحت و سکون اور جنت الفردوس کی بشارت دیتے ھیں اور اس کی قبر کو تا حد نظر وسیع کردیتے ھیں، لیکن اگر اس نے جواب نہ دیا یا ناحق جواب دیا، یا اس کا جواب نامفھوم ھوا تو ملائکہ اس کی کھولتے ھوئے پانی سے میزبانی کرتے ھیں اور اس کو عذاب کی بشارت دیتے ھیں۔
بے شک اس سلسلے میں نبی اکرم (ص)اور اہل بیت علیھم السلام سے صحیح روایت منقول ھےں جن پر سبھی مسلمین اتفاق رکھتے ھیں( ۴۰ ) اور اس مسئلہ کو ضرورت دین میں سے مانتے ھیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”من انکر ثلاثة اشیاء ،فلیس من شیعتنا المعراج ،والمساء لة فی القبر ، والشفاعة “۔( ۴۱ )
”جو شخص تین چیزوں کا انکار کرے وہ ھمارا شیعہ نھیں ھے، معراج، سوال منکر و نکیر، اور شفاعت“۔
۴ ۔ قبر میں عذاب و ثواب:
یہ عذاب و ثواب عالم برزخ میں ایک مسلم حقیقت ھے ، اور لامحالہ واقع ھوگا، کیونکہ اس کا امکان پایا جاتا ھے، آیات ِقرآن مجید اور نبی اکرم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے احادیث میں متواتر بیان ھوا ھے ، نیز اس سلسلے میں علماء کرام کا گزشتہ سے آج تک اجماع بھی ھے( ۴۲ )
قرآنی دلائل: وہ آیات جن میں قبر میں ثواب و عذاب کے بارے میں بیان ھوا یا بعض آیات کی تفسیر عذاب و ثواب کی گئی ھے، جن میں سے بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، ھم یہاں پر دو آیتوں کو پیش کرتے ھیں:
( وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ ) ( ۴۳ )
”اور فرعونیوں کو برے عذاب نے(ہر طرف سے )گھیر لیا (اور اب تو قبر میں دوزخ کی) آگ ھے کہ وہ لوگ (ہر)صبح و شام اس کے سامنے لا کرکھڑے کئے جاتے ھیں اور جس دن قیامت برپا ھوگی (حکم ھوگا کہ )فرعون کو لوگوں کے سخت سے سخت عذاب میں جھونک دو“۔
یہ آیہ شریفہ وضاحت کرتی ھے کہ قبر میں ثواب و عذاب ھوگا کیونکہ اس آیت میں ”واو“کے ذریعہ عطف کیا گیا ھے( وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ ) جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ اس سے پہلے بیان شدہ ایک الگ چیز ھے اور اس کے بعد بیان ھونے والا مطلب الگ ھے، کیونکہ پہلے صبح و شام آگ نے گھیر رکھا ھے، اور اس کے بعد روز قیامت کے عذاب کے بارے میں بیان کیا گیا ھے، اسی وجہ سے پہلے جملے میں( عَرَضَ ) (گھیرنے کے معنی) ھیں اور دوسرے جملہ میں( اٴَدْخِلُوا ) (داخل ھوجاؤ)کا لفظ استعمال ھوا ھے۔( ۴۴ )
اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ھے کہ آپ نے فرمایا:
”ان کانوا یعذبون فی النار غدوا و عشیا ففیما بین ذلک هم من السعداء لا ولکن هذا فی البرزخ قبل یوم القیامة ،الم تسمع قوله عزوجل :( وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ ) ؟“۔( ۴۵ )
” اگر وہ صبح و شام عذاب میںھوں گے اگرچہ ان کے درمیان کچھ نیک افراد بھی ھوں لیکن یہ سب برزخ میں ھوگا قبل از قیامت، کیا تو نے خداوندعالم کے اس فرمان کو نھیں سنا: ”اور جب قیامت برپا ھوگی تو فرشتوں کو حکم ھوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو“۔
۲ ۔ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَمَنْ اٴَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِی فَإِنَّ لَهُ مَعِیشَةً ضَنکًا وَنَحْشُرُهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَعْمَی ) ( ۴۶ )
”اور جس نے میری یاد سے منھ پھیرا تو اس کی زندگی بہت تنگی میں بسر ھوگی اور ھم اس کو قیامت کے دن اندھا( بنا کے) اٹھائیں گے“۔
بہت سے مفسرین کہتے ھیں کہ ”سخت اور تنگ زندگی“ سے مراد عذاب قبر اور عالم برزخ میں سختیاں اور بدبختی ھے، قرینہ یہ ھے کہ حرف عطف ”واو“ کے ذریعہ حشر کا ذکر کیا جو اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ یہ دونوں چیزیں الگ الگ ھوں۔ سخت زندگی سے دنیا کی پریشانیاں مراد نھیں لی جاسکتیں کیونکہ دنیا میں بہت سے کفار کی زندگی مومنین سے بہتر ھوتی ھے، اور ایسے چین و سکون کی زندگی بسر کرتے ھیں کہ اس میں کسی طرح کی کوئی پریشانی نھیں ھوتی ھے۔( ۴۷ )
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”واعلموا ان المعیشة الضنک التی قالها تعالیٰ :( فَإِنَّ لَهُ مَعِیشَةً ضَنکًا ) هی عذاب القبر “۔( ۴۸ )
جان لو کہ (مذکورہ بالا) آیت میں سخت اور تنگ زندگی سے مراد عذاب قبر ھے“۔
احادیث سے دلائل: قبر کے عذاب و ثواب پر دلالت کرنے والی متعدد احادیث شیعہ سنی دونوں طریقوں سے نقل ھوئی ھیں،( ۴۹ ) اور بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ھوئی ھیں، بعض کو ھم نے ”روح کے مجرد ھونے“ کی بحث میں بیان کیا ھے، یہاں پر ان میں سے صرف تین احادیث کو بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ حضرت رسول اکرم (ص)ارشاد فرماتے ھیں:
”القبر اما حفرة من حفرالنیران او روضة من ریاض الجنة “۔( ۵۰ )
”قبر یا دوزخ کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے“۔
۲ ۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ھیں:
”یسلط علی الکافر فی قبره تسعة و تسعین تنینا،فینهشن لحمه ، و یکسرن عظمه ،و یترددن علیه کذلک الی یوم یبعث ،لوان تنینا منها نفخ فی الارض لم تنبت زرعا ابدا “۔( ۵۱ )
”خداوندعالم کافر کی قبر میں ۹۹ اژدھے مسلط کرتا ھے، جو اس کے گوشت کو ڈستے ھوں گے اور اس کی ہڈیوں کو کاٹ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردےں گے،اور روز قیامت تک وہ اژدھے اس پر عمل کرتے رھیں گے کہ اگر وہ ایک پھونک زمین پر ماردیں تو کبھی بھی کوئی درخت اور سبزہ نہ اُگے“۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا گیا:
مِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ( ۵۲ )
”اور ان کے مرنے کے بعد (عالم) برزخ ھے (جہاں )سے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھایے جائےں گے “۔
تو آپ نے فرمایا:
”هوالقبر،وان لهم فیه لمعیشة ضنکا ، والله ان القبر لروضة من ریاض الجنة،اوحفرة من حفر النیران “۔( ۵۳ )
”اس آیت سے مراد قبر ھے،اور کفار کے لئے سخت اور تنگ زندگی ھے، قسم بخدا، یھی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے یا جہنم کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ھے ‘ ‘ ۔
اعتراضات: قبر کے ثواب و عذاب کے بارے میں بعض اشکالات و اعتراضات کئے گئے ھیں جن میں سے اکثر عذاب و ثواب کی کیفیت کے بارے میں ھیں، کہ اس میں ثواب و عذاب کی کیفیت کیا ھوگی، لیکن اس سلسلے میں تفصیل معلوم کرنا ھمارے اوپر واجب نھیں ھے، بلکہ اجمالی طور پر قبر کے ثواب و عذاب پر عقیدہ رکھنا واجب ھے، کیونکہ یہ ممکن امر ھے، اور معصومین علیھم السلام نے اس سلسلے میں بیان کیا ھے، اور تمام غیبی امور اسی طرح ھیں کیونکہ غیبی امور عالم ملکوت سے تعلق رکھتے ھیں جس کو ھماری عقل اور ھمارے حواس نھیں سمجھ سکتے۔
ھم یہاں پر عالم برزخ پر ھونے والے بعض اھم اعتراضات بیان کرکے قرآن و حدیث کے ذریعہ جوابات پیش کرتے ھیں:
۱ ۔ جب انسان کا بدن ھی روح تک عذاب پہنچنے کا وسیلہ ھے تو بدن سے روح نکلنے کے بعد انسان پر کس طرح عذاب یا ثواب ھوگا، جب کہ بدن بوسیدہ ھوچکا ھوگا۔
جواب: احادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ خداوندعالم انسان کو منکر نکیر کے سوالات کے لئے دوبارہ زندہ کرے گا، اور اگر وہ مستحق نعمت ھے تو اس کو ھمیشہ کے لئے حیات دےدی جائے گی، اور اگر عذاب کا مستحق ھے تو بھی ھمیشہ کے لئے اس کو عذاب میں باقی رکھا جائے گا، عذاب ھونے والا بدن ،یھی دنیاوی بدن ھوگا یا اس بدن کے مثل ایک بدن ھوگا۔ احادیث میں ان دونوں کے سلسلے میں بیان کیا گیا ھے:
اول: یھی دنیاوی بدن زندہ کیا جائے گا:
یعنی خداوندعالم انسان کی قبر میں اس کے بدن میں روح لوٹادے گا، اور متعدداحادیث اس بات پر دلالت کرتی ھیں، جیسا کہ حضرت رسول اکرم (ص)سے (ایک حدیث کے ضمن) مروی ھے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا:
”تعاد روحه فی جسده ،ویاتیه ملکان فیجلسانه “۔( ۵۴ )
”(انسان کی)روح اس کے بدن میں لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کو بٹھاکر سوال و جواب کریں گے“۔
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
”فاذادخل حفرته ،ردت الروح فی جسده ،وجاء ه ملکا القبر فامتحناه “۔( ۵۵ )
”جب انسان کو اس کی قبر میں اتاردیا جائے گا تو اس کی روح اس کے بدن میں واپس لوٹا دی جائے گی اور دو فرشتے اس کے امتحان کے لئے آئیں گے“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ثم یدخل ملکا القبر ،وهما قعیدا القبر منکر و نکیر ،فیقعد انه و یلقیان فیه الروح الی حقویه “۔( ۵۶ )
”۔۔۔ اس کے بعد قبر میںدومنکر و نکیر آئیں گے، اور قبر کے دونوں کناروں پر بیٹھیں گے اس کو بٹھائیں گے اور اس کے جسم میں ہنسلیوں تک روح داخل کردےں گے“۔
اسی وجہ سے کھاگیا ھے کہ قبر کی حیات ،حیات ِبرزخی اور ناقص ھے، اس میں زندگی کے تمام آثار نھیں ھوتے سوائے احساس درد و الم اور لذت کے، یعنی عالم برزخ میں روح کا بدن سے کمزور سا رابطہ ھوتا ھے، کیونکہ خداوندعالم قبر میں صرف اتنی زندگی عطا کرتا ھے جس سے درد و الم اور لذت کا احساس ھوسکے۔( ۵۷ )
دوم: مثالی بدن کو عذاب یا ثواب دیا جائے گا:
احادیث میں وارد ھوا ھے کہ
خداوندعالم انسان کے لئے عالم برزخ میں ایک لطیف جسم مثالی میں روح کو قرار دے گا، ایسا مثالی بدن جو دنیا کے بدن سے مشابہ ھوگا، تاکہ قبر میں اس سے سوالات کئے جاسکیں اور اس کو ثواب یا عذاب دیا جاسکے، پس اسی عالم میں روز قیامت تک کے لئے اس کو ثواب یا عذاب دیا جائے گا، اور روز قیامت اسی بدن میں انسان کی روح لوٹائی جائے گی۔( ۵۸ )
ابو بصیر سے روایت ھے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے مومنین کی ارواح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی الجنة علی صورا بدانهم ،لورایته لقلت فلان “۔( ۵۹ )
”جنت میں ان کی روح ان کے جسم میں لوٹائی جائے گی کہ اگر تم روح کو دیکھو گے تو کھوگے کہ یہ فلاں شخص ھے“۔
یونس بن ظبیان سے مروی ھے کہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا، تو آپ نے فرمایا: مومنین کی ارواح کے سلسلے میں لوگ کیا کہتے ھیں؟ تو میں نے کہا: کہتے ھیں : عرش کے نیچے پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ھےں، اس وقت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”سبحان الله ! المومن اکرم علی الله من ان یجعل روحه فی حوصلة طیریا یونس ،المومن اذاقبضه الله تعالیٰ صیر روحه فی قالب کقالبه فی الدنیا ،فیا کلون و یشربون ،فاذاقدم علیهم القادم عرفوه بتلک الصورة التی کانت فی الدنیا “۔( ۶۰ )
”سبحان اللہ! مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میں رکھاجائے، اے یونس! جب خداوندعالم مومن کی روح قبض کرتا ھے تو اس کو دنیا کی طرح ایک قالب میں ڈال دیتا ھے، جس سے وہ کھاتا اور پیتا ھے، جب کوئی (دنیا سے جاتا ھے تو)اس کو پہچانتا ھے اور وہ اسی صورت میں رہتا ھے جس میں دنیا میں رہتا تھا“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں وارد ھوا ھے کہ آپ نے فرمایا:
”المومن اکرم علی الله من ان یجعل روحه فی حوصلة طیر،ولکن فی ابدان کابدانهم “۔۔( ۶۱ )
”مومن خدا کے نزدیک اس سے کھیں زیادہ باعظمت ھے کہ اس کی روح کو پرندہ کے پوٹے میںرکھے، بلکہ انسان کی روح دنیا کی طرح ایک بدن میں ھوتی ھے“۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ھیں جو ھماری عرض کی ھوئی بات پر دلالت کرتی ھیں ۔( ۶۲ )
قارئین کرام! مذکورہ باتوں کے پیش نظر احادیث میں بیان شدہ قبر کے ثواب و عذاب سے مراد عالم برزخ میں دوسری زندگی ھے جس میں انسان کی روح بدنِ مثالی میں قرار دی جائے گی ، لہٰذا آیات قرآن اور احادیث میں بیان شدہ روح کے مجرد ھونے اور عذاب و ثواب والا مسئلہ حل ھوجاتا ھے، کہ انسان کی روح مجرد بھی ھے لیکن اس پر عذاب و ثواب بھی ھوتا ھے اور اس کی روح پرواز بھی کرتی ھے اور اپنے اہل و عیال اور دوسروں کو دیکھتی بھی ھے۔
سائنس جسم مثالی کی تائید کرتا ھے :احضار روح کے ماہرین کے تجربوں سے اجسام مثالی کی حقیقت کا پتہ چلتا ھے جیسا کہ اس سلسلہ میں مشھور ماہرین کہتے ھیں: در حقیقت موت کچھ نھیں ھے مگر یہ کہ ایک مادی جسم سے دوسرے مادی جسم میں منتقل ھوجانا، لیکن وہ دوسرا (مادی جسم) اس دنیاوی جسم سے زیادہ واضح اور لطیف ھوتا ھے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ھے کہ روح کے لئے ایک بہت زیادہ شفاف اور لطیف مادہ ھوتا ھے ، لہٰذا اس پر مادہ کے قوانین جاری نھیں ھوسکتے۔( ۶۳ )
کیا یہ باطل تناسخ نھیں ھے؟
بعض لوگوں نے گمان کیا ھے کہ انسان کی روح کا اس دنیاوی بدن سے جدا ھونے کے بعد اسی جیسے بدن میں چلاجانا یہ وھی باطل تناسخ ھے ، جو صحیح نھیں ھے، کیونکہ ضرورت دین اور اجماع مسلمین تناسخ کی نفی کرتے ھیں حالانکہ بہت سے متکلمین اور محدثین جسم مثالی کے قائل ھوئے ھیں، اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی احادیث میں بیان ھوا ھے، لیکن تناسخ کے قائل لوگوں نے اس کا انکار کیا ھے اور اسی وجہ سے معاد اور ثواب و عذاب کا انکار کرتے ھیں، کہتے ھیں کہ یہ روح دوبارہ اسی دنیا میں دوسرے بدن میں آجاتی ھے، لہٰذا قیامت کا کوئی وجود نھیں ھے، نیز یہ لوگ تناسخ کے ذریعہ خالق اور انبیاء علیھم السلام کا بھی انکار کرتے ھیں، نیز لازمہ تناسخ وظائف اور تکالیف کا بھی انکار کرتے ھیں، اور اسی طرح کی دوسری بے ھودہ باتیں ھیں( ۶۴ )
۲ ۔ اس سلسلے میں دوسرا اعتراض یہ ھے کہ قبر میں کس طرح ثواب و عذاب ھوگا حالانکہ جنت یا دوزخ موجود نھیں ھے۔
جواب: وہ قرآنی آیات اور احادیث جن کو ھم نے قبر کے ثواب و عذاب کے دلائل کے عنوان سے بیان کیا ھے وہ اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ جنت اور دوزخ مخلوق (اور موجود)ھیں،اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے مروی روایت بھی اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ جب آپ سے مومنین کی روحوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”فی حجرات فی الجنة ،یاکلون من طعامها ،و یشربون من شرابها “۔( ۶۵ )
”(مومنین کی روحیں) جنت کے بالا خانوں میں رہتی ھیں جنت کا کھانا کھاتی ھیں اور جنت کا شربت پیتی ھیں“۔
اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی دوسری حدیث:
”ان ارواح الکفار فی نارجهنم یعرضون علیها “۔( ۶۶ )
”کفار کی ارواح کوجہنم کی آگ کی سیر کرائی جاتی ھے“۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ھیں: جنت و جہنم کے سلسلے میں ھمارا یہ عقیدہ ھے کہ یہ دونوں مخلوق ھیں اور ھمارے نبی اکرم ﷺمعراج کی شب جنت کی سیر فرماچکے ھیں، اور جہنم کو بھی دیکھ چکے ھیں، اور اس وقت تک انسان اس دنیا سے نھیں جاتا جب تک جنت یا دوزخ میں اپناٹھکانا،نہ دیکھ لے“۔( ۶۷ )
علامہ خواجہ نصیر الدین طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ھیں:آیات و روایات جنت و دوزخ کے مخلوق ھونے پر دلالت کرتی ھیں، (یعنی جنت و نار اس وقت بھی موجود ھیں) لہٰذا جو روایات اس مفھوم کے مخالف اور متعارض ھیں ان کی تاویل کی جائے گی، علامہ حلی علیہ الرحمہ نے اپنی شرح میں اختلاف کو بیان کرتے ھوئے فرمایاھے:لوگوں کے درمیان یہ اختلاف ھے کہ جنت و نار اس وقت موجود اور مخلوق ھیں یا نھیں؟ بعض لوگوں کا عقیدہ ھے کہ جنت و نار مخلوق شدہ ھیں اور اس وقت موجود ھیں، اس قول کو ابوعلی اختیار کرتے ھیں، لیکن ابو ہاشم اور قاضی قائل ھیں کہ غیر مخلوق ھے (یعنی اس وقت موجود نھیں ھے۔
پہلانظریہ رکھنے والوں نے درج ذیل آیات سے استدلال کیا ھے:
( اٴُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ ) ( ۶۸ )
”اور ان پرھیزگاروں کے لئے مھیا کی گئی ھے“۔
( اٴُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ ) ( ۶۹ )
”اور کافروں کے لئے تیار کی گئی ھے“۔
( یَاآدَمُ اسْکُنْ اٴَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ ) ( ۷۰ )
”اے آدم تم اپنی بیوی سمیت بہشت میں رھاسھاکرو اور جہاں تمہارا جی چاھے“۔
( عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاٴْوَی ) ( ۷۱ )
”اسی کے پاس تو رہنے کی بہشت ھے“۔
جنة الماوی یھی دار ثواب ھے جو اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ اس وقت آسمان میں موجود ھے۔
ابو ہاشم نے اپنے نظریہ کے اثبات کے لئے درج ذیل آیت سے استناد کیا ھے:
( کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلاَّ وَجْهَه ) ( ۷۲ )
”اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ھونے والی ھے “۔
چنانچہ ابوہاشم نے کھاھے کہ اگر اس وقت جنت موجود ھوتی تو اس (روز قیامت) کا ہلاک اور نابود ھونا ضروری ھوتا، لیکن یہ نتیجہ باطل ھے، چونکہ خداوندعالم فرماتا ھے:
( اٴُکُلُهَا دَائِمٌ ) ( ۷۳ )
”اور اس کے پھل دائمی ھوںگے“۔
چنانچہ علامہ حلّی علیہ الرحمہ نے جواب دیتے ھوئے فرمایا: اس کے پھل دائمی ھونے کا مطلب یہ ھے کہ اس قسم کے پھل ھمیشہ رھیں گے، کیونکہ اس طرح کے پھل ھمیشہ پیدا ھوتے رھیں گے، اور جنت کے پھل کھانے سے ختم ھوجاتے ھیں لیکن خداوندعالم دوبارہ ان جیسے پھل پیدا کردیتا ھے، یہاں پر ہلاک ھونے کے معنی ”فائدہ پہنچانے سے رک جانا“ ھیں، بے شک مکلفین کے ہلاک ھونے سے جنت بھی غیر قابل انتفاع ھوجائے گی، پس اس معنی کے لحاظ سے جنت بھی ہلاک ھوجائے گی۔( ۷۴ )
تیسری بحث: قیامت کی نشانیاں
اشتراط الساعة کے لغوی معنی تمام شرائط کا جمع ھونا ھے، یہاں پر نشانی مراد ھے، لہٰذا اشتراط الساعة کے معنی قیامت کی نشانیاں یا قیامت پر دلالت کرنے والی علامتیں ھیں،ابن عباس سے مروی ھے کہ قیامت کی نشانیاں جیسا کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ھے:
( فَهَلْ یَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ اٴَنْ تَاٴْتِیَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ اٴَشْرَاطُهَا فَاٴَنَّی لَهُمْ إِذَا جَاءَ تْهُمْ ذِکْرَاهُمْ ) ( ۷۵ )
”تو کیا یہ لوگ بس قیامت ھی کے منتظر ھیں کہ ان پر اک بارگی آجائے تو اس کی نشانیاں آھی چکی ھیں تو جس وقت قیامت ان (کے سر) پر آپہنچے گی پھرانھیں نصیحت کہاں مفید ھو سکتی ھے“۔
یہ آیہ شریفہ قیامت کی دو نشانیاں بیان کرتی ھیں:
۱ ۔ قیامت اچانک او رناگہانی طور پر آئے گی، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( لاَتَاٴْتِیکُمْ إِلاَّ بَغْتَةً ) ( ۷۶ )
”وہ تمہارے پاس بس اچانک آجائے گی“۔
یہ آیت اس بات پر (بھی) دلالت کرتی ھے کہ قیامت کے آنے کا وقت صرف خداوندعالم کے پاس ھے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّی لاَیُجَلِّیهَا لِوَقْتِهَا إِلاَّ هُوَ ) ( ۷۷ )
”تم کہہ دو کہ اس کا علم بس فقط میرے پروردگار ھی کو ھے وھی اس کے معین وقت پر اس کو ظاہر کردے گا “۔
۲ ۔ جس وقت قیامت کے آثار نمایاں ھوجائیں اور اس کی نشانیاں دکھائی دینے لگیں تو پھر ایمان لانا یا گناھوں سے توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نھیں ھوگا، جیسا کہ خداوندعالم فرماتا ھے:
( یَومَ یَاٴْتِي بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَیَنفَعُ نَفْسًا إِیمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اٴَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِهَا خَیْرًا ) ( ۷۸ )
”(یہ صرف اس بات کے منتظر ھیں کہ ان کے پاس ملائکہ آجائیں یا خود پروردگار آجائے ) یا اس کی بعض نشانیاں آجائیں تو جس دن اس کی بعض نشانیاں آجائیں گی اس دن جو نفس پہلے سے ایمان نھیں لایا ھے یا اس نے ایمان لانے کے بعد کوئی بھلائی نھیں کی ھے اس کے ایمان کا کوئی فائدہ نہ ھوگا“۔
قیامت کی نشانیاں ظاہر ھونے کے بعد کسی کی توبہ قبول نھیں ھوگی اور نہ ھی کسی کا ایمان لانا مفیدھو گا۔
نشانیوں کے اقسام:
قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں قیامت کی نشانیوں کو دو قسموں پر تقسیم کیا جاسکتا ھے:
اول:
پہلی نشانی آخر الزمان میں لوگوں کے کردار سے مخصوص ھے، اور اسی سے متعلق ھے، چاھے اس سلسلے میں متعدد احادیث میں آخر الزمان میں لوگوں کے اعمال اور کردار کی باتیں کی گئی ھوں یا حوادث اور جنگوں کے بارے میں بیان کیا گیا ھو، (لہٰذا ھم ذیل میں چند ایک احادیث بیان کرتے ھیں:)
۱ ۔ابن عباس ، حضرت رسول اکرم (ص)سے روایت کرتے ھیں کہ آنحضرت نے فرمایا:
”من اشراط الساعة :اضاعة الصلوات ،واتباع الشهوات والمیل الی الاهواء،و تعظیم اصحاب المال، و بیع الدین بالدنیا ، فعندهایذاب قلب المومن فی جوفه کما یذاب الملح بالماء ،مما یری من المنکر فلا یستطیع ان یغیره “۔( ۷۹ )
”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ھیں: نماز کو ضایع کیا جائے گا، شھوت پرستی کی پیروی کی جائے گی، ھوا و ھوس کی طرف رغبت ھونے لگے گی، مالدار لوگوں کا (ان کے مال کی وجہ سے)احترام کیا جائے گا، دین کو دنیا کے بدلے فروخت کیا جائے گا، پس وقت مومن کا دل اس کے اندراس طرح ذوب (پانی) ھوجائے گا جس طرح پانی میںنمک ، اس وقت برائیوں کو دیکھنے والا ان کو بدل نھیں سکے گا“۔
۲ ۔ اسی طرح حضرت رسول اکرم ﷺنے فرمایا:
”اذا عملت امتی خمس عشرة خصلة حل بها البلاء“ قیل: یا رسول الله وما هی؟ قال:”اذاکانت المغانم دولا،والامانة مغنما،والزکاة مغرما، واٴطاع الرجل زوجته و عق امه، وبر صدیقه ،وکان زعیم القوم ارذلهم ،و اکرمه القوم مخافة شره ،و ارتفعت الاصوات فی المساجد،ولبسوا الحریر ،واتخذوا القینات ،وضربوا بالمعازف ،ولعن آخر هذه الامة اولها، فلیرتقب عند ذلک الریح الحمراء اوالخسف اوالمس خ “۔( ۸۰ )
”جب میری امت میں ۱۵ / عادتیں پیدا ھوجائےں تو ان پر بلائیں نازل ھونا جائز ھے“۔ تو لوگوں نے سوال کیا یا رسول اللہ وہ کیا ھیں؟ تو آنحضرت (ص)نے فرمایا: جب مال غنیمت کا ناجائز استعمال کیا جانے لگے، اور امانت کو غنیمت سمجھا جانے لگا، زکوٰة کی ادائیگی نہ کی جائے، جب شوہر اپنی زوجہ کی اطاعت اور اپنے والدین کی نافرمانی کرنے لگے ، دوست سے نفرت کی جائے، پست و ذلیل لوگ قوم کی سرپرستی کریں، شریف ترین لوگ ان کے خوف سے سھم جائیں، مسجد میں آوازیں بلند ھونے لگے، حریر کا لباس پہنا جانے لگے، ناچ گانے کا سازو سامان جمع کیا جانے لگے، اس امت کے بعد والے پہلے والوں پر لعنت کرنے لگےں، اس وقت سرخ آندھی ، سورج گرہن اور مسخ ھونے کا انتظار کرو“۔
دوم :
قیامت کی دوسری نشانی زمینی اور فلکی حوادث ھیں جیسا کہ بعض احادیث میں بیان ھوا ھے:
۱ ۔ حیوان کا نکلنا، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اٴَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنْ الْاٴَرْضِ تُکَلِّمُهُمْ اٴَنَّ النَّاسَ کَانُوا بِآیَاتِنَا لاَیُوقِنُونَ ) ( ۸۱ )
”اور جب ان لوگوں پر (قیامت کا) وعدہ ھوگا تو ھم ان کے واسطے زمین سے ایک چلنے والا نکال کھڑا کریں گے جو ان سے یہ باتیں کرے گا کہ(فلاں فلاں ) لوگ ھماری آیتوںپر یقین نھیں رکھتے تھے“۔
۲ ۔ امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کا ظھور ، قیامت سے پہلے امام زمانہ (عج) کے ظھور کے سلسلے میں بہت (ھی)زیادہ احادیث بیان ھوئی ھیں، جن میں حضرت رسول اکرم (ص)کی مشھورومعروف یہ حدیث ھے:
”لاتقوم الساعة حتی یخرج رجل من عترتی (اوقال من اهل بیتی) یملو ها قسطا و عدلاً کما ملئت ظلما و عدواناً “۔( ۸۲ )
”اس وقت تک قیامت نھیں آئے گی جب تک میری عترت میں سے ایک شخص قیام نہ کرے، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ھوگی“۔
۳ ۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا (آسمان سے) نزول ھوگا، جیسا کہ درج ذیل آیت کی تفسیر میں یہ بات کھی گئی ھے:( ۸۳ )
( وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلاَتَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیمٌ ) ( ۸۴ )
”اور وہ تو یقینا قیامت کی ایک روشن دلیل ھے تم لوگ اس میں ہر گز شک نہ کرو اور میری پیروی کر و۔یھی سیدھا راستہ ھے“۔
مذکورہ بالا حدیث کے سلسلے میں بہت سے مفسرین نے کھاھے کہ یہ آیت حضرت عیسی علیہ السلام کے آخر الزمان میں نزول سے مخصوص ھے۔( ۸۵ )
۴ ۔ یاجوج و ماجوج کا خروج،( ۸۶ ) جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( حَتَّیٰ إِذَا فُتِحَتْ یَاٴْجُوجُ وَ مَاٴْجُوجُ وَهُم مِن کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِٴذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اٴَبْصَارُ الَّذِینَ کَفَرُوا ) ( ۸۷ )
”بس اتنا (توقف توضرور ھوگا)کہ جب یاجوج و ماجوج (سد سکندری کی قید سے) کھول دیئے جائیں اور یہ لوگ (زمین کی) ہر بلندی سے دوڑتے ھوئے نکل پڑیں اور قیامت کا سچاوعدہ نزدیک آجائے پھر تو کافروں کی آنکھیں ایک دم سے پتھراھی جائیں“ ۔
۵ ۔ بہت زیادہ دھواں اٹھے گا، خداوندعالم کا فرمان ھے:
( فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاٴْتِی السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ یَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ( ۸۸ )
”تو تم اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے ظاہر بظاہر دھواں نکلے گا(اور) لوگوںکو ڈھانک لے گا یہ درد ناک عذاب ھے “۔
احادیث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ھے کہ(قیامت سے پہلے) مشرق و مغرب تک دھواں پھیل جائے گا اور یہ دھواں چالیس دن تک رھے گا۔( ۸۹ )
۶ ۔ ان کے علاوہ قیامت کے سلسلے میں احادیث میں دوسری بہت سی نشانیاں بھی ذکر ھوئی ھیں، جیسے قعر عدن سے ایسی آگ کا نکلنا،جو لوگوں کو محشر کی طرف ڈھکیلے گی، جس کے پیچھے کوئی نھیں رہ جائے گا، اور جب لوگ رکےں گے تو وہ بھی رک جائے گی اور جب لوگ چلنے لگےں گے تو بھی چلنے لگے گی،مغرب سے سورج نکلے گا، تین سورج گہن ھوں گے ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں اور تیسرا جزیرہ عرب پر، دجال( ۹۰ ) ظاہر ھوگا، فالج کی بیماری اور اچانک موتیں زیادہ ھوں گی( ۹۱ ) (دمدار) ستارہ طلوع کرے گا، بے موسم میں بارشیں ھوگی( ۹۲ ) اور کالی آندھی چلے گی۔( ۹۳ )
چوتھی بحث : روز قیامت کا مشاہدہ
قیامت، یعنی وہ روز جب تمام مخلوق خدا کے حضور میں حاضر ھوں گے، کھاگیا ھے کہ لفظ قیامت نحوی اعتبار سے مصدر ھے ، جیسے کھاجاتا ھے: قام الخلق من قبورھم قیامةً“ ایک قول یہ ھے کہ یہ سریانی زبان کا لفظ ”قِیمثا“ ھے جس کو عربی بنالیا گیا ھے۔( ۹۴ )
حضرت رسول اکرم (ص)سے سوال کیا گیا کہ قیامت کو ”قیامت“ کیوں کہتے ھیں تو آنحضرت (ص)نے فرمایا: ”لان فیها قیام الخلق للحساب “۔( ۹۵ )
”کیونکہ اس روز مخلوق ،حساب کے لئے جمع کی جائے گی“۔
قرآن مجید میں بہت سے الفاظ کے ذریعہ قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا ھے جیسا کہالازفة، والحاقة، والقارعة، والطامة الکبریٰ، والواقعة، والصاخّة، والساعة،و یوم الجمع، ویوم التغابن،ویوم الموعود، ویوم المشهود، ویوم التلاقی، ویوم التنادی، ویوم الحساب، ویوم الفصل،و یوم الحسرة،و یوم الوعید ۔
قیامت انسان کے لئے ایک سخت منزل ھے کیونکہ اس دن خوف و ہراس، نالہ و فریاد اور طولانی مدت تک قیام ھوگا، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
یَااٴَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیمٌ یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا اٴَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِیدٌ ( ۹۶ )
”اے لوگواپنے پروردگار سے ڈرتے رھو (کیونکہ) قیامت کا زلزلہ (کوئی معمولی نھیں) ایک بڑی سخت چیز ھے جس دن تم اسے دیکھ لوگے تو ہر دودھ پلانے والی (ڈر کے مارے)اپنے دودھ پیتے (بچے) کو بھول جائیں گی ا ور ساری حاملہ عورتیں اپنے اپنے حمل (دہشت سے) گرادیں گی اور( گھراہٹ میں )لوگ تجھے متوالے معلوم ھوںگے حالانکہ وہ متوالے نھیں ھیں بلکہ خدا کا عذاب بہت سخت ھے“۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”کل شيء من الدنیا سماعہ اعظم من عیانہ ،وکل شيء من آلاخرة عیانہ اعظم من سماعہ ۔فیکفیکم من العیان السماع ومن الغیب الخبر“۔( ۹۷ )
”(یارکھو!) دنیا میں ہر شے کا سننا اس کے دیکھنے سے عظیم تر ھوتا ھے او رآخرت میں ہر شے کا دیکھنا اس کے سننے سے بڑھ چڑھ کر ھوتا ھے لہٰذا تمہارے لئے دیکھنے کے بجائے سننا اور غیب کے مشاہدہ کے بجائے خبر ھی کو کافی ھوجانا چاہئے“۔
قیامت کے مواقف (قیام کی جگہ) زیادہ ھوں گی اور دیر دیر تک کھڑا ھونا پڑے گا، جس کے مختلف مقامات ھیں، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا علیها ،فان للقیامة خمسین موقفا،کل موقف مقداره الف سنة“، ثم تلا قوله تعالیٰ :( تَعْرُجُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ إِلَیْهِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ اٴَلْفَ سَنَةٍ ) ( ۹۸ )
”اپنے نفس کا حساب کرو قبل اس کے تمہارا حساب کیا جائے، کیونکہ قیامت کے پانچ موقف ھوں گے، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ھوگا، اس کے بعد آنحضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:
”جس طرف فرشتے اور روح الامین چڑھتے ھیں (اور یہ) ایک دن میں (اتنی مسافت طے کرتے ھیں ) جس کا اندازہ ہزار برس کا ھوگا“۔
قارئین کرام !ھم ذیل میں قیامت کے مواقف کو بیان کرتے ھیں کہ جب صور پھونکی جائے گی اور اس کو یا جنت میں سعادت اور کامیابی یا جہنم میں بدبختی کا پیغام سنایا جائے گا:
۱ ۔ صور پھونکا جائے گا: جیسا کہ ارشاد الٰھی ھے:
( وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاءَ اللهُ ) ( ۹۹ )
”اور( جب پہلی بار )صور پھونکا جائے گاتو جو لوگ آسمانوں میں ھیں اور جو لوگ زمین میں ھیں (موت سے) بیھوش ھو کر گر پڑیںگے (ہاں) جس کو خدا چاھے(وہ البتہ بچ جائے گا)“۔
نیز ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( مَا یَنظُرُونَ إِلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً تَاٴْخُذُهُمْ وَهُمْ یَخِصِّمُونَ فَلاَیَسْتَطِیعُونَ تَوْصِیَةً وَلاَإِلَی اٴَهْلِهِمْ یَرْجِعُونَ ) ( ۱۰۰ )
”(اے رسول ) یہ لوگ ایک سخت چنگھاڑ (صور) کے منتظر ھیں جو انھیں (اس وقت) لے ڈلے گی جب یہ لوگ باھم جھگڑ رھے ھوں گے پھر نہ تو یہ لوگ وصیت ھی کرنے پائیں گے اور نہ اپنے اہل و عیال ھی کی طرف لوٹ کر جا سکیں گے “۔
تفاسیر میں بیان ھوا ھے کہ” صور “سے مراد وہ قرن(سنکھ)ھے جس سے(صور) پھونکا جائے گا، اور یہ بھی کھاگیا ھے کہ ”صور“صورت کی جمع ھے یعنی خداوندعالم قبر میں انسانوں کی صورت خلق فرمائے گا جس طرح سے شکم مادر میں انسانوں کی صورت خلق کرتا ھے، اور پھر ان میں روح پھونکے گا جیسا کہ صورت بننے کے بعد شکم مادر میں روح پھونکتا ھے۔( ۱۰۱ )
لیکن قرآن مجید کی آیتوں کے ظھور اور احادیث کی صراحت پہلے معنی پر دلالت کرتے ھیں، جیسا کہ متضافرہ (یعنی تواتر کے حد سے کم اور واحد کے حد سے زیادہ) احادیث میں وارد ھوا ھے کہ خداوندعالم نے اسرافیل کو خلق فرمایا تو اس کے ساتھ ایک صور کو بھی خلق فرمایا جس کے دو گوشے ھیں ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں، اور اسرافیل اس صورکو لئے حکم خدا کے منتظر ھیں، جس وقت خدا وندعالم حکم فرمائے گا تواسرافیل صور پھونک دیں گے۔( ۱۰۲ )
صورپھونکنے کا نتیجہ یہ ھوگا کہ زمین و آسمان کے درمیان تمام ذی روح کو موت آجائے گی، کوئی زندہ نھیں بچے گا زندگی کے کوئی آثار نھیں بچےں گے، مگر جو خدا وندعالم چاھے:
( لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلاَّ وَجْهَهُ لَهُ الْحُکْمُ وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ ) ( ۱۰۳ )
”اس کے سوا کوئی قابل پرستش نھیں اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ھونے والی ھے، اس کی حکومت ھے اور تم لوگ اسی کی طرف (مرنے کے بعد)لوٹائے جاوگے “۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”وانه سبحانه یعود بعد فناء الدنیا وحده لا شيء معه کما کان قبل ابتداء ها ،کذلک یکون بعد فناء ها بلا وقت ولا مکان ،ولا حین ولا زمان ،عدمت عند ذلک الاجال و الاوقات،وزالت السنون والساعات، فلا شيء الا الله الواحد القهار الذی الیه مصیر جمیع الامور “۔( ۱۰۴ )
”وہ خدائے پاک و پاکیزہ ھی ھے جو دنیا کے فنا ھوجانے کے بعد بھی رہنے والا ھے،اس کے ساتھ کو ئی رہنے والا نھیں ھے جیساکہ ابتداء میں بھی ایسا ھی تھا اور انتھامیں بھی ایسا ھی ھونے والا ھے، اس کے لئے نہ وقت ھے نہ مکان، نہ ساعت ھے نہ زمان، اس وقت مدت اور وقت سب فنا ھوجائیں گے، اور ساعت و سال سب کا خاتمہ ھوجائے گا، اس خدائے واحد و قہار کے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے اسی کی طرف تمام امور کی بازگشت ھے“۔(ص ۳۶۵ ترجمہ علامہ جوادی )
۲ ۔ نظام کائنات کی تبدیلی: عالم آخرت کی زندگی ایک نئے نظام کے تحت ھوگی جو ھمیشہ کے لئے ھوگی، یا فقط سعادت و نیک بختی ھوگی یا عذاب و بدبختی، اور یہ نظام اس دنیاوی نظام کے خاتمہ پر ھوگا، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) ( ۱۰۵ )
”(مگر کب ) جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین کر دی جائے گی اور( اسی طرح) آسمان (بھی بدل دیئے جائیں گے) اور سب لو گ یکتا قہار خدا کے روبرو (اپنی اپنی جگہ سے) نکل کھڑے ھوں گے“۔
خداوندعالم نے قرآن مجید کی متعدد آیات میں زمین و آسمان کے تبدیلی کا ذکر فرمایا ھے،جن کا مضمون اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ پہاڑ اپنی جگہ چھوڑدیں گے اور بیابان بن جائیں گے یا ریتیلے ٹیلے کی شکل اختیار کرلیں گے اور دھنکی ھوئی روئی کی طرح اڑنے لگےں گے،سمندروں میں طوفان پیدا ھونے لگے گا زمین چٹیل میدان بن جائے گی، کچھ بھی دکھائی نھیں دے گا، زلزلہ آئے گا ، زمین میں لرزش پیدا ھوجائےگی، سورج چاند میں گہن لگ جائے گا ستارے ڈوب جائیں گے، نور چلا جائے گا آسمان سرخ ھوجائے گا، چاروں طرف دھواں ھی دھواں پھیلا ھوگا ، آسمان گرجائے گا، اور ایک طومار کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔
حضرت علی علیہ السلام اس دن کے متعلق یوں فرماتے ھیں:
”یوم عبوس قمطریر،ویوم کان شره مستطیرا، ان فزع ذلک الیوم لیرهب الملائکة الذین لا ذنب لهم و ترعد منه السبع الشداد ،والجبال الاوتاد ،والارض المهاد ، وتنشق السماء فهی یومئذ واهیة،و تتغیر فکانها وردة کالدهان ،و تکون الجبال کثیبا مهیلا بعد ما کانت صما صلاباً “۔( ۱۰۶ )
”قیامت کا دن وہ دن ھوگا جب انسان کی شکل بگڑ جائے گی اور ھوائیاں اڑنے لگےں گی، اس کی سختی ہر طرف پھیل جائے گی، اس روز کے خوف و وحشت سے بے گناہ فرشتے بھی ڈرنے لگیں گے، شدید قسم کی بھوک و پیاس ھوگی، پہاڑوں کی کیلیں ہلنے لگے گی، زمین خاک بن جائے گی، آسمان پھٹ جائے گا، آسمان تیل کی طرح سرخ ھوجائے گا، پہاڑریت کے ٹیلوں اور موج کی طرح ھوجائیں گے، جبکہ اس سے پہلے وہ بہت قوی ھوں گے“
۳ ۔ زندگی کا صور پھونکاجانا: دوسری مرتبہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مخلوق عالم آخرت کے لئے زندہ ھوجائے گی، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
( وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِنْ الْاٴَجْدَاثِ إِلَی رَبِّهِمْ یَنسِلُونَ# قَالُوا یَاوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ# إِنْ کَانَتْ إِلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِیعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُونَ ) ( ۱۰۷ )
”اورپھر( جب دوبارہ)صور پھونکا جائے گا تو اسی دم یہ سب لوگ (اپنی اپنی) قبروں سے (نکل نکل کے )اپنے پروردگار (کی بارگاہ) کی طرف چل کھڑے ھوں گے اور حیران ھوکر کھیں گے کہ ہائے افسوس ھم تو پہلے سو رھے تھے ھمیں ھماری خوابگاہ سے کس نے اٹھا یا (جواب آئے گا )کہ یہ وھی (قیامت کا)دن ھے جس کا خدا نے (بھی )وعدہ کیا تھااور انبیاء نے بھی سچ کہاتھا(قیامت تو) بس ایک سخت چنگھاڑ ھوگی پھر ایکا ایکی یہ لوگ سب کے سب ھمارے حضور میں حاضر کئے جائیں گے “۔
نیز ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( وَنُفِخَ فِی الصُّورِ ذَلِکَ یَوْمُ الْوَعِیدِ وَجَاءَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِیدٌ ) ( ۱۰۸ )
”اورصور پھونکا جائے گا یھی (عذاب کے) وعدہ کا دن ھے اور ہر شخص (ھمارے سامنے اس طرح حاضر ھو گا کہ اس کے ساتھ ایک (فرشتہ )ہنکانے والا ھوگا اور ایک (اعمال کا) گواہ “۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”لا تنشق الارض عن احد یوم القیامة الا و ملکان آخذان بضبعیه، یقولان :اجب رب العزة “۔( ۱۰۹ )
”روز قیامت زمین پھٹتے ھی فرشتے اس کے بازو پکڑلیں گے اور کھیں گے: چلو اپنے پروردگار کے سامنے حساب و کتاب دو“۔
” پس اس وقت منادی پکارے گابعد اس کے کہ زمین پھٹنے لگے گی، حساب و کتاب کی طرف جلدی چلو ، حالانکہ ان کی آنکھیں دھنسی ھوں گی رسوائی چھائی ھوگی، ٹڈی دل کی طرح منتشر ھوجائیں گے۔
( یَوْمَ یَخْرُجُونَ مِنْ الْاٴَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاٴَنَّهُمْ إِلَی نُصُبٍ یُوفِضُونَ# خَاشِعَةً اٴَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ذَلِکَ الْیَوْمُ الَّذِی کَانُوا یُوعَدُونَ ) ( ۱۱۰ )
”اسی طرح یہ لوگ قبروں سے نکا ل کر اس طرح دوڑیں گے گویا وہ کسی جھنڈے کی طرف دوڑے چلے جا تے ھیں (ندامت سے) ان کی آنکھیں جھکی ھوئی ھو ں گی ان پر رسوائی چھائی ھوئی ھوگی ۔یہ وھی دن ھے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا“۔
۴ ۔ حشر: حشر کے معنی جمع کرنے کے ھیں، یہاں پر حشر سے مراد یہ ھے کہ تمام مخلوق بغیر کسی استثناء کے جمع ھوگی کوئی باقی نھیں بچے گا، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اٴَحَدًا ) ( ۱۱۱ )
”اور ھم ان سبھو ں کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے ایک کو نہ چھوڑیں گے“۔
پرندے، حیوانات اور درندے سبھی محشور کئے جائیں گے، چنانچہ خداوندعالم ارشادفرماتا ھے:
( وَاِٴذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ ) ( ۱۱۲ )
”اور جس طرح وحشی جانور اکٹھاکئے جائیں گے“۔
نیز خدا وندعالم کا یہ فرمان:
( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْهِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّهِمْ یُحْشَرُون ) ( ۱۱۳ )
”زمین میں جو چلنے والے پھرنے والا (حیوان ) یا اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا پرندہ ھے ان کی بھی تمہاری طرح جماعتیں ھیں (اور سب کے سب لوح محفوظ میں موجود ھیں ) ھم نے کتاب (قرآن ) میں کوئی بات فرو گذاشت نھیں کی ھے پھر سب کے سب (چرند ھوں یا پرند ) اپنے پرور دگار کے حضور میں لائے جائیں گے“۔
حشر اس مقام کا نام ھے کہ جہاں پر عقلیں حیران ھوجائیں گی اور انسان کے دل ہل جائیں گے اس طرح کہ انسان ہر طرف بری طرح سے چیخ پکار کرتا ھوگا، ننگے پاؤں بے کسی کے عالم میں تھکا ھوگا اور پسینہ سے شرابور ھوگا۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”وذلک یوم یجمع الله فیه الاولین والاخرین ،لنقاش الحساب و جزاء الاعمال، خضوعا، قیاما، قد الجمهم العرق ،و رجفت بهم الارض، فاحسنهم حالاً من وجد لقدمیه موضعا ولنفسه متسعاً “۔( ۱۱۴ )
”(روز قیامت) وہ دن ھوگا جب پروردگار اوّلین و آخرین کو دقیق ترین حساب اور اعمال کی جزا کے لئے اس طرح جمع کرے گا کہ سب خضوع و خشوع کے عالم میں کھڑے ھوں گے، پسینہ ان کے دہن تک پھونچا ھوگا اور زمین لرز رھی ھوگی، بہترین حال اس کا ھوگا جو اپنے قدم جمانے کی جگہ حاصل کرلے گا اور جسے سانس لینے کا موقع مل جائے گا“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ھے کہ آپ نے فرمایا:
”مثل الناس یوم القیامة اذا قاموالرب العالمین ،مثل السهم فی القرب ،لیس له من الارض الا موضع قدمه کالسهم فی الکنانة ،لا یقدر ان یزول هاهنا ولا ها هنا “۔( ۱۱۵ )
”انسان روز قیامت اس طرح اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ھوگا جیسے پہلو میں تیر، کہ صرف کھڑے ھونے کی جگہ ھوگی، جس طرح ترکش میں تیر ھوتا ھے کہ وہ ادھر آسکتا ھے اور نہ اُدھر جاسکتا ھے“۔
تمام لوگ اپنے رب کے فیصلہ کے منتظر ھوں گے وہاں پر نہ مال کام آئے گا اور نہ مقام، اور نہ نھی ان کی کوئی چیز پوشیدہ ھوگی:
( یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لاَتَخْفَی مِنْکُمْ خَافِیَة ) ( ۱۱۶ )
”اس دن تم سب کے سب (خدا کے سامنے )پیش کئے جاو گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نھیں رھے گی“۔
مخفی چیزیں ظاہر ھوجائیں گی، اور سب راز کھل جائیں گے:
( یَوْمَ تُبْلَی السَّرَائِرُ ) ( ۱۱۷ )
”جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے“۔
اس وقت انسان کے تمام اعمال و عقائد بالکل ظاہر ھوجائیں گے جن کا وہ دنیا میں مالک تھا:
( یَوْمَ هُمْ بَارِزُونَ لاَیَخْفَی عَلَی اللهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ ) ( ۱۱۸ )
”جس دن وہ لوگ (قبروں سے) نکل پڑیں گے (اور )ان کی کوئی چیز خدا سے پوشیدہ نھیں رھے گی“۔
لیکن روز قیامت کا حال انسان کے اعمال کے لحاظ سے ھوگا، اس روز (مومن و) متقی افراد سواری پر محشور ھوں گے:
( یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِینَ إِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ) ( ۱۱۹ )
”جس دن پرھیزگاروں کو (خدا ئے ) رحمان کے سامنے مھمانوں کی طرح جمع کریں گے “۔
اور ان کے چہروں پر خوشی و مسرت کے آثار ظاہر ھوں گے:
( وُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ# ضَاحِکَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ ) ( ۱۲۰ )
”بہت سے چہرے تو اس دن خنداں شادماں اور چمکتے ھوں گے (یھی نیکوکار ھیں ) ‘ ‘۔
کیونکہ انھوں نے دنیا میں رہ کر ثواب و عظیم کامیابی کا راستہ اپنایا تھا، ان کے لئے ایک نور ھوگا جس کے سہارے وہ اہل قیامت کے سامنے سے گزر جائیں گے:
( یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ یَسْعَی نُورُهُمْ بَیْنَ اٴَیْدِیهِمْ وَبِاٴَیْمَانِهِمْ ) ( ۱۲۱ )
”جس دن تم مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کانور ان کے آگے آگے اور دا ہنی طرف چل رھاھوگا“۔
لیکن کافر و مشرک مجرمین اپنے شیطان و ستم گر دوستوں کے ساتھ محشور کئے جائیں گے:
( فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّیَاطِینَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّا ) ( ۱۲۲ )
”(اے رسول ) تمہارے پرور دگار کی (اپنی) قسم ھم ان کو اور شیطانوں کو اکٹھا کریں گے پھر ان سب کو جہنم کے گردا گرد گھٹنو ں کے بل حاضر کریں گے“۔
اور خدا کو چھوڑ کر جس کی وہ عبادت کرتے تھے، ان کے ساتھ محشور کیا جائے گا:
( وَیَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ ) ( ۱۲۳ )
”اور جس دن خدا ان لوگوں کو اور جس کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پرستش کیاکرتے ھیں“۔
اہل محشر ان کے سیاہ چہروں اور ظاہری صورت کو دیکھ کر سمجھ جائیں گے (کہ یہ لوگ جہنمی ھیں):
( وَوُجُوهٌ یَوْمَئِذٍعَلَیْهَا غَبَرَةٌ# تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ) ( ۱۲۴ )
”اور بہت چہرے ایسے ھوں گے جن پر گرد پڑی ھوگی ۔ان پر سیاھی چھائی ھوئی ھوگی“۔
ان کے چہروں کو دوزخ کی طرف گھسیٹا جائے گا اور وہ حواس باختہ ھوں گے:
( وَنَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَلَی وَجُوهِهِمْ عُمْیًا وَبُکْمًا وَصُمًّا ) ( ۱۲۵ )
”اور قیامت کے دن ھم ان لوگوںکو منھ کے بل اوندھے اندھے اور گونگے اور بہرے قبروں سے آٹھائیں گے “۔
۵ ۔عدالت الٰھیہ: خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَاٴَشْرَقَتْ الْاٴَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْکِتَابُ وَجِیءَ بِالنَّبِیِّینَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ# وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهُوَ اٴَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُونَ ) ( ۱۲۶ )
”اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (لوگوں کے سامنے) رکھدی جائے گی ،اور پیغمبر اور گواہ لاحاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر (ذرہ برابر ) ظلم نھیںکیا جائے گا ۔اور جس شخص نے جیسا کیا ھو اسے ا س کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ لوگ کرتے ھیں وہ اس سے خوب واقف ھے“۔
یہ عدالت الٰھیہ ھوگی جو دنیاوی عدالتوں کی طرح نھیں ھوگی، کیونکہ روز قیامت کا قاضی خائن آنکھ کو پہچانتا ھے اور دلوں کے راز سے آگاہ ھے، اس کے گواہ انبیاء و مرسلین (علیھم السلام) ھوں گے، اور انسان کے اعضاء و جوارح اس کی گواھی دیں گے نیز اس کے کئے اعمال بھی وہاں اس کے سامنے مجسم ھوں گے، اور اس کا نامہ اعمال اس کے سامنے موجود ھوگا جس میں سب کچھ لکھا ھوگا، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہ ھوگی جو اس میں لکھی نہ گئی ھو، اس وقت انسان (اپنے اعمال کا) انکار کیسے کرے گا؟ جبکہ اس کے اعمال حاضر ھوں گے، نامہ اعمال پیش نظر ھوگا، گواہ، گواھی دے چکے ھوں گے اور اعضاء و جوارح بول چکے ھوں گے؟!
قارئین کرام! ذیل میں ھم ان چیزوں کو بیان کرتے ھیں جن کے ذریعہ عدالت الٰھی ھمیں فیصلہ ھوگا، کیا کیا سوال ھوگا، کیسا حساب ھوگا اور کون کون گواھی دےں گے:
۱ ۔ سوال : تمام ھی مخلوقات سے سوال ھوگا:
( فَوَرَبِّکَ لَنَسْاٴَلَنَّهُمْ اٴَجْمَعِینَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُون ) ( ۱۲۷ )
”تو( اے رسول )تمہارے ھی پرور دگار کی (اپنی ) قسم کہ ھم ان سے جو کچھ یہ کرتے تھے ( اس کے متعلق بہت سختی سے)ضرور باز پرس کریںگے“۔
نیز ارشاد ھوتا ھے:
( فَلَنَسْئلَنَّ الَّذِینَ اٴُرْسِلَ إِلَیْهِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِینَ ) ( ۱۲۸ )
”پھر ھم تو ضروران لوگوں سے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے تھے ،سوال کریں گے اور خود پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے“۔
یعنی دین کے بارے میں سوال ھوگا، لیکن گناھوں کے بارے میں سوال نھیں ھوگا مگر جس کا حساب ھوچکا ھو اور جس کا حساب ھوگا اس پر عذاب ضرور ھوگا چاھے طولانی مدت تک کا قیام ھی کیوں نہ ھوں۔( ۱۲۹ )
اعضاء و جوارح سے سوال ھوگا جیسا کہ درج ذیل آیت :
( إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اٴُوْلَئِکَ کَانَ عَنْهُ مَسْوولاً ) ( ۱۳۰ )
”(کیونکہ ) کان اور آنکھ اور دل ان سب کی( قیامت کے دن )یقینا باز پرس ھوتی ھے “۔
کے بارے میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا:
”یسال السمع عما سمع ،والبصر عما یطرف ،والفواد عما یعقد علیه “۔( ۱۳۱ )
”آنکھوں سے سوال ھوگا کہ انھوں نے کیا دیکھا، کانوں سے سوال ھوگا کہ انھوں نے کیا سنا اور دل سے سوال ھوگا کہ اس نے کس چیز پر عقیدہ رکھا“۔
یہ سوال انسان کے پورے وجود اور اس کے اعتقاد سے ھوگاجیسا کہ رسول اکرم سے مروی ھے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا:
”لا تزول قدما عبد یوم القیامة حتی یسال عن اربع :عن عمره فیما افناه وعن جسده فیما ابلاه و عن ماله مما اکتسبه وفیم انفقه ، وعن حبنا اهل البیت “۔( ۱۳۲ )
”روز قیامت انسان سے چار چیزوں کے بارے میں سوال ھوگا: (الف) کس چیز میں عمر گزاری،(ب) اعضاء و جوارح سے کیا کام لیا،(ج) مال کو کس طرح جمع کیا اور کہاں خرچ کیا، (د) اور ھم اہل بیت کی محبت کے بارے میں سوال ھوگا“۔
جن اہل بیت علیھم السلام کی محبت کے بارے میں سوال ھوگا، وھی اہل بیت علیھم ا لسلام ھیں جن کی عصمت کے بارے میں خدا وندعالم نے آیہ تطھیر میں وضاحت فرمائی ھے:
( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ( ۱۳۳ )
”اے (پیغمبر کے )اہل بیت خدا تو بس یہ چاہتا ھے کہ تم کو ہر طرح کی برائی سے دور رکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ھے ویسا پاک و پاکیزہ رکھے“۔
وھی اہل بیت علیھم السلام جن کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص) نے نصاری نجران کے مقابلہ میں مباہلہ کیا، ارشاد ھوتا ھے:
( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَائَنَا وَاٴَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ( ) ۱۳۴)
”تو کھو کہ (اچھا میدان میں )آو ھم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو اور ھم اپنی عورتوں کو (بلائیں ) اور تم اپنی عورتوںکو اور ھم اپنی جانوں کو (بلائیں ) اور تم اپنی جانوں کو اس کے بعد ھم سب مل کر خدا کی بارگاہ میں گڑ گڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں “۔
اہل بیت رسول خدا ﷺ، حضرت علی علیہ السلام، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام اور آپ کی ذریت کے نو امام معصوم علیھم السلام ھیں، ان کے علاوہ کوئی اہل بیت میں شامل نھیں ھے۔
انھی اہل بیت علیھم السلام کی محبت کے بارے میں خداوندعالم سوال کرے گا کیونکہ اس نے محبت اہل بیت کو مخلوق پر واجب قرار دیا ھے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( قُلْ لَا اٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِٴلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَیٰ ) ( ۱۳۵ )
”اور (اے رسول )تم کہدو کہ میں اس تبلیغ رسالت کا اپنے قرابتداروں (اہلبیت) کی محبت کے سوا تم سے کوئی صلہ نھیں مانگتا“۔
جس طرح پیغمبر اکرم (ص)نے دل و جان سے اسلام اور ایمان کے قبول کرنے کی دعوت دی ھے اور آنحضرت (ص)نے اہل بیت علیھم السلام سے محبت کرنے پر زور دیا ھے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بیان ھوا ھے، آنحضرت (ص)فرماتے ھیں:
”احبوا الله لما یغذوکم من نعمه ،وا حبونی لحب الله ،و احبوا اهل بیتی لحبی “۔( ۱۳۶ )
”خدا سے محبت کرو کیونکہ وھی تمہارے لئے رزق کا انتظام کرتا ھے، اور مجھ سے خدا کی محبت کے لئے محبت کرو اور میرے اہل بیت (علیھم السلام) سے میری محبت کی وجہ سے محبت کرو“۔
صرف ان کی محبت کے بارے میں سوال نھیں ھوگا بلکہ رسول اکرم (ص)کے بعد ان کی ولایت و امامت اور وصی برحق ھونے کے اعتقاد کے سلسلے میںسوال ھوگا، جیسا کہ آنحضرت (ص)سے درج ذیل آیت :
( وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْوولُونَ ) ( ۱۳۷ )
”اور (ہاں ذرا)انھیں ٹھہراو توا ن سے کچھ پوچھنا ھے“۔
کے بارے میں سوال کیا کہ روز قیامت کس چیز کے بارے میں سوال ھوگا تو آنحضرت (ص)نے فرمایا:
”یعنی عن ولایة علی بن ابی طالب “۔( ۱۳۸ )
”ولایت علی بن ابی طالب کے بارے میں سوال ھوگا“۔
۲ ۔ حساب: جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( إِنَّ إِ لَیْنَا إِ یَا بَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَاحِسَابَهُمْ ) ( ۱۳۹ )
”بیشک ان کو ھماری طرف لوٹ کر آنا ھے ،پھر ان کا حساب ھمارے ذمہ ھے“۔
حساب کے معنی یہ ھیں کہ انسان کے اعمال اور اس کی جزا کو تولا جائے گا، تاکہ نیک اعمال پر جزا دی جائے اور بُرے اعمال پر سزا دی جائے، جس کے نیک اعمال ھوں اس کی مدح و ثنا ھوگی، اور اس کو نیک جزا کا مستحق قرار دیا جائے گا۔( ۱۴۰ )
خداوندعالم اولین و آخرین سے اپنے حساب کے لئے ایک آواز دے گا جس کو سب سنیں گے لیکن سوچیں گے کہ میرے علاوہ کسی دوسرے کو کھاجارھاھے، اور خداوندعالم کا خطاب میرے علاوہ کسی دوسرے سے ھے، اور خدا کو کوئی مشغول نھیں کرسکتا، خداوندعالم تمام اولین و آخرین کا حساب دنیا کے ایک گھنٹے میں کرلے گا۔( ۱۴۱ )
جب معصوم سے( وَاللهُ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) ( ۱۴۲ ) (”اور خدا بہت جلد حساب لینے والا ھے “۔) کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اس سے مراد پلک جھپکتے ھی خداوندعالم حساب کرلے گا یا ایک روایت کے مطابق بکری کو دوہنے کے برابر وقت میں حساب کرے گا۔( ۱۴۳ )
حضرت امام صادق سے درج ذیل آیہ شریفہ کے بارے میں سوال کیا:
( فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِینَ اٴَلْفَ سَنَةٍ ) ( ۱۴۴ )
”ایک دن میں ،جس کا اندازہ پچاس ہزار سال کا ھوگا“۔
تو امام علیہ السلام نے جواب دیا:
”لو ولی الحساب غیر الله لمکثوا فیه خمسین الف سنة من قبل ان یفرغوا ،والله سبحانه یفرغ من ذلک فی ساعة “۔( ۱۴۵ )
”اگر اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا حساب کرے تو واقعاً وہ پچاس ہزار سال سے پہلے حساب نھیں کرسکے گا، لیکن خداوندعالم ایک ساعت میں تمام مخلوق کے حساب و کتاب سے فارغ ھوجائے گا“۔
حضرت امیرے المومنین علی علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ اتنی کثیر مخلوق کا کس طرح حساب کرے گا تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”کما یرزقهم علی کثرتهم “ قیل: فکیف یحاسبهم ولایرونه؟ قال: ”کما یرزقهم ولا یرونه “۔( ۱۴۶ )
”جس طرح وہ ان کی کثرت کے باوجود ان کو رزق دیتا ھے“،سوال کیا گیا کہ خدا کس طرح حساب کرے گا حالانکہ وہ ان کو دیکھ بھی نھیں رھاھوگا؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”جس طرح ان کو رزق پہنچاتا ھے اور ان کو دیکھنے کی ضرورت نھیں ھوتی“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ھے:
”ان اول ما یحاسب به العبد الصلاة،فان قبلت قبل ما سواها “۔( ۱۴۷ )
”سب سے پہلے (روز قیامت) بندوں سے نماز کے بارے میں سوال ھوگا اگر نماز قبول ھے تو دوسرے اعمال بھی قبول ھیں“۔
روز قیامت کے خوف و ہراس سے کوئی نجات نھیں پائے گا مگر وہ شخص جس نے دنیا میں اپنے اعمال و اقوال کو شریعت کی میزان میں پرکھ لیا ھو، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”عباد الله زنوا انفسکم من قبل ان توزنوا ،و حاسبوها من قبل ان تحاسبوا وتنفسوا قبل ضیق الخناق ،و انقاد وا قبل عنف السیاق “۔( ۱۴۸ )
”بندگان خدا! اپنے آپ کو تول لو قبل اس کے کہ تمہارا وزن کیا جائے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے تمہارا حساب کیا جائے،گلے کا پھندا تنگ ھونے سے پہلے سانس لے لو اور زبردستی لے جائے جانے سے پہلے از خود جانے کے لئے تیار ھوجاؤ۔۔۔“۔
۳ ۔ شھود اور تطائر کتب: یہ بھی قیامت کی وحشت و خوف و ہراس کی منزل میں ھے، کیونکہ اس وقت انسان بہت سے گواھوں کے مدمقابل ھوگا جن کی دلیل کو ردّ نھیں کرسکتا، اور نہ ھی ان کو جھٹلاسکتا ھے، لہٰذا اسے اپنے گناھوں اور خطاؤں کا اقرار کرنا ھوگا، گواھی کون کون دےں گے:
الف: خداوندعالم خود گواہ ھوگا: کیونکہ وہ ہر چیز کاعلم رکھتا ھے، اس کا علم سب چیزوں پر احاطہ کئے ھوئے ھے، انسان کی خلوت کو بھی دیکھتا ھے اور اس کے دل میں پوشیدہ اسرار سے بھی آگاہ ھے، وہ انسان کی رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ھے، چنانچہ خداوندعالم فرماتا ھے:
( وَلاَتَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُهُودًا ) ( ۱۴۹ )
”اور (لوگو) تم کوئی سا بھی عمل کر رھے ھو ھم (ھمہ وقت )جب تم اس کام میں مشغول ھوتے ھو تم کو دیکھتے رہتے ھیں “۔
نیز ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( مَا یَکُونُ مِنْ نَجْوَی ثَلاَثَةٍ إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَخَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَاٴَدْنَی مِنْ ذَلِکَ وَلاَاٴَکْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ اٴَیْنَ مَا کَانُوا ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) ( ۱۵۰ )
”جب تین (آدمیوں )کا خفیہ مشورہ ھوتا ھے تو وہ (خدا) ان کا ضرور چوتھا ھے اور جب پانچ کا (مشورہ) ھوتا ھے تو وہ ان کا چھٹا ھے اور اس سے کم ھوں یا زیادہ اور چاھے جہاں کھیں ھوں وہ ان کے ساتھ ضرور ھوتا ھے پھر جو کچھ وہ (دنیامیں ) کرتے رھے قیامت کے دن ان کو اس سے آگاہ کر دے گا بیشک خدا ہر چیز سے خوب واقف ھے“۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”اتقوا معاصی الله فی الخلوات ،فان الشاهد هو الحاکم “۔( ۱۵۱ )
”تنہائی میں بھی خدا کی نافرمانی سے ڈرو کہ جو دیکھنے والا ھے وھی فیصلہ کرنے والاھے“ ۔
ب: انبیاء اور اوصیاء الٰھی: قرآن کریم کی آیات اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ خداوندعالم کے سامنے ہر نبی اپنی امت کے اعمال پر گواھی دے گا،اور ھمارا نبی اکرم محمد مصطفی ﷺاپنی امت کے اعمال کی گواھی دیں گے، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتاھے:
( فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اٴُمَّةٍ بِشَهِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلاَءِ شَهِیدًا ) ( ۱۵۲ )
”بھلا اس وقت کیا حال ھوگا جب ھم ہر گروہ کے گواہ طلب کریں گے اور (اے محمد) تم کو ان سب پر گواہ کی حیثیت میں طلب کریں گے“۔
نیز خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِی کُلِّ اٴُمَّةٍ شَهِیدًا عَلَیْهِمْ مِنْ اٴَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَهِیدًا عَلَی هَؤُلاَء ) ( ۱۵۳ )
”اور (وہ دن یاد کرو جس دن ھم ہر ایک گروہ میں سے ا نھیںمیں کا ایک گواہ ان کے مقابل لا کھڑا کریں گے اور (اے رسول)تم کو ان لوگوں پر (ان کے)مقابل میں گواہ بنا کر لاکھڑا کریں گے“۔
قارئین کرام! یہ آیہ مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ھے کہ ہر زمانہ میں ایک ایسی شخصیت کا ھونا ضروری ھے جس کا قول اس زمانہ کے افراد کے لئے حجت ھو اور وہ خدا کے نزدیک عدل (بہت زیادہ عادل) ھو، اسی مطلب کو جبّائی صاحب اور اکثر اہل عدل مانتے ھیں، اور یھی قول علمائے شیعہ کی نظر کے موافق ھے، اگرچہ اختلاف پایا جائے جاتا ھے کہ وہ عدل اور حجت (خدا ) کون ھے؟۔( ۱۵۴ )
یہ بات واضح ھے کہ تمام امت کا انتخاب نھیں کیا جاسکتا اور نہ تمام امت عادل ھوسکتی ھے جن کو لوگوں کے لئے گواہ بنایا جاسکے، بہت سے ایسے ھیں کہ جن کی حالت لوگوں پر مخفی نھیں ھے، لہٰذا یہ صفات بعض افراد سے مخصوص ھےں ، پس انھیں بعض لوگوں کو انتخاب کیا جائے گا۔
تفسیر عیاشی میں درج ذیل آیت :
( وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اٴُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُهَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَهِیدًا ) ( ۱۵۵ )
”(اور جس طرح تمہارے قبلہ کے بارے میں ہدایت کی )اسی طرح تم کو عادل امت بنایا تاکہ اور لوگوں کے مقابلہ میں گواہ بنیں “۔
کی تفسیر میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ھے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا:
”فان ظننت اٴن الله تعالیٰ عنی بهذه الآیة جمیع اٴهل القبلة من الموحّدین، اٴفتری اٴن من لاتجوز شهادته فی الدنیا علی صاع من تمر، یطلب الله شهادته یوم القیامة، و یقبلهامنه بحضرة جمیع الاٴمم الماضیة؟ کلا لم یعن الله مثل هذا من خلقه، یعنی الاٴمة التي وجبت لهادعوة ابراهیم علیه السلام ( کُنْتُمْ خَیْرَ اٴُمَّةٍ اٴُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) ( ۱۵۶ )
وهم الاٴمة الوسطیٰ، وهم خیر اُمّة اُخرجت للناس “۔( ۱۵۷ )
”کیا تم یہ گمان کرتے ھو کہ خداوندعالم کی اس آیت سے تمام اہل قبلہ مراد ھیں، واقعاً یہ بہتان ھے کہ جس کی گواھی دنیا میں ایک صاع خرمہ کے بارے میں قبول نہ ھو خداوندعالم روز قیامت اس کو گواہ قرار دے، اور اس کی تمام گزشتہ امتوں کے بارے میں گواھی قبول کرے، ہرگز خدا نے (تمام اہل قبلہ) کاارادہ نھیں کیا ھے، یعنی وہ امت جس پر ملت ابراھیم علیہ السلام کی پیروی کرنا واجب ھے،(ترجمہ آیت:)”تم اچھے گروہ ھو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے ھو“۔ وہ امت وسطیٰ ھے اور یھی لوگوں کی ہدایت کے واسطہ بہترین افراد ھیں“۔
حضرت امام باقر علیہ السلام سے مروی ھے :
”نحن الا مة الوسطی ، ونحن شهداء الله علی خلقه،و حججه فی ارضه “۔( ۱۵۸ )
”ھم امت وسطیٰ ھیں، ھم اللہ کی طرف سے لوگوں پر گواہ ھیں اور زمین پر اس کی حجت ھیں“۔
ج۔ ملائکہ اور فرشتے: خداوندعالم نے ہر انسان کے لئے دو فرشتوں کو مقرر کیا ھے کہ ھمیشہ اس کے ساتھ رھیں اور اس کے تمام اعمال کولکھتے رھیں، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( إِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنْ الْیَمِینِ وَعَنْ الشِّمَالِ قَعِیدٌ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْهِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ ) ( ۱۵۹ )
”جب (وہ کوئی کام کرتا ھے تو )دولکھنے والے (کراماً کاتبین)جو(اس کے) داہنے بائیں بیٹھے ھیں لکھ لیتے ھیں کوئی بات اس کی زبان پر نھیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ھے “۔
یھی ملائکہ روز قیامت انسان کے کئے اعمال (چاھے وہ نیک اعمال ھوں یا بُرے اعمال) کی گواھی دیں گے، ارشاد خداوندعالم ھے:
( وَنُفِخَ فِی الصُّورِ ذَلِکَ یَوْمُ الْوَعِیدِ وَجَاءَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِیدٌ ) ۔( ۱۶۰ )
”اور صور پھونکا جائے گایھی (عذاب کے )وعدہ کا دن ھے اور ہر شخص (ھمارے سامنے اس طرح )حاضر ھوگا کہ اس کے ساتھ ایک (فرشتہ )ہنکا نے والا ھوگا اور ایک (اعمال کا)گواہ“۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”سائق یسوقها الی محشر ها ،و شهید یشهد علیها بعملها “۔( ۱۶۱ )
”انسان کے لئے قیامت کی طرف ایک(فرشتہ) ہکانے والا ھے اور ایک گواہ ھے جو روز قیامت اس کے اعمال کی گواھی دے گا“۔
د: اعضاء و جوارح: خداوندعالم قیامت میں بعض مقامات پر انسان کے منہ پر مہر لگادے گا اور خود انسان کے ہاتھ اور تمام اعضاء و جوارح ان سے کئے ھوئے اعمال کی گواھی دیں گے، جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے:
( یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اٴَلْسِنَتُهُمْ وَاٴَیْدِیهِمْ وَاٴَرْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ( ۱۶۲ )
”جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاوں ان کی کارستانیوں کی گواھی دیںگے“۔
یہاں پر اعضاء و جوارح کی بُرائیوں پر گواھی سے مراد انھیں (اعضاء ) کے لحاظ سے ھوگی پس جو گناہ انسان نے زبان سے کئے ھیں جیسے کسی پر قذف، جھوٹ کی تھمت لگانا یا کسی کی غیبت کرنا وغیرہ تو ان کی گواھی خود زبان دے گی، (یعنی اس زبان کی مہر ہٹالی جائے گی) اور اگر دوسرے اعضاء و جوارح سے گناہ کئے ھیں جیسے چوری، چغل خوری کے لئے جانا یا تھمت وغیرہ کے لئے جانا تو انسان کے دوسرے اعضاء گواھی دیں گے“۔( ۱۶۳ )
ھ: نامہ اعمال: جیساکہ ھم نے پہلے بھی ذکر کیا کہ انسان کے تمام اعمال و اقوال فرشتوں کے ذریعہ نامہ اعمال میں لکھے جاتے ھیں، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَإِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِینَ کِرَاماً کَاتِبِینَ یَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ) ( ۱۶۴ )
”حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ھیں بزرگ(فرشتے سب باتوں کے)لکھنے والے (کراماً کاتبین )جو کچھ تم کرتے ھو وہ سب جانتے ھیں “۔
یہ نامہ اعمال قیامت کے روز انسان کے سامنے پیش کردئے جائیں گے، اس وقت خداوندعالم ہر امت کے لئے ایک کتاب نکالے گا جو تمام لوگوں کے اقوال و افعال کی حقیقت کے بارے میںبولے گی جیسا کہ ارشاد خداوندی ھے:
( وَتَرَی کُلَّ اٴُمَّةٍ جَاثِیَةً کُلُّ اٴُمَّةٍ تُدْعَی إِلَی کِتَابِهَا الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ هَذَا کِتَابُنَا یَنطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا کُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ( ۱۶۵ )
”اور (اے رسول )تم ہر امت کو دیکھو گے کہ (فیصلہ کی منتظر ادب سے)گھٹنوں کے بل بیٹھی ھوگی اور ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم لوگ کرتے تھے آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائےگا یہ ھماری کتاب (جس میں اعمال لکھے ھیں)تمہارے مقابلہ میں ٹھیک ٹھیک بول رھی ھے جو کچھ بھی تم کرتے تھے ھم لکھتے جاتے تھے “۔
ہر انسان کا نامہ اعمال جس میں تمام چھوٹے بڑے اعمال کو لکھا گیا ھے اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا، خداوندعالم ہر انسان کو اپنے نفس کے حساب کے لئے قاضی اور حاکم قرار دے گا، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھے:
( وَکُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِی عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابًا یَلْقَاهُ مَنشُورًا اقْرَاٴْ کِتَابَکَ کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیبًا ) ( ۱۶۶ )
”اور ھم نے ہر آدمی کے نامہ اعمال کو اس کے گلے کا ہار بنا دیا ھے (کہ اس کی قسمت اس کے ساتھ رھے )اور قیامت کے دن ھم اس کے سامنے نکال رکھ دیں گے کہ وہ اس کو ایک کھلی ھوئی کتاب اپنے روبرو پائے گا (اور ھم اس سے کھیں گے کہ)اپنا نامہ اعمال پڑھ لے اور آج اپنا حساب لینے کے لئے آپ ھی کافی ھے“۔
چنانچہ کفار و مشرکین اس دقیق حساب و کتاب کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے:
( وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیهِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْکِتَابِ لاَیُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاهَا ) ( ۱۶۷ )
”اور لوگوں کے اعمال کی کتاب (سامنے) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروںکو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ھے (دیکھ کر) سھمے ھوئے ھیں اور کہتے جاتے ھیں ہائے ھماری شامت یہ کیسی کتاب ھے کہ نہ چھوٹے ھی گناہ کو بے قلمبند کئے چھوڑتی ھے نہ بڑے گناہ کو“۔
و: خوداعمال کا ظاہر اور مجسم ھونا: جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( یَوْمَئِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ اٴَشْتَاتاً لِیُرَوْا اٴَعْمَاَلُهْم ) ( ۱۶۸ )
”اس دن لوگ گروہ گروہ (اپنی قبروں سے)نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھیں“۔
نیز ارشادالٰھی ھوتا ھے:
( یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ اٴَنَّ بَیْنَهَا وَبَیْنَهُ اٴَمَدًا بَعِیدًا ) ( ۱۶۹ )
”(اور اس دن کو یاد رکھو )جس دن ہر شخص جو کچھ اس نے (دنیا میں) نیکی کی ھے‘ اور جو کچھ برائی کی ھے ‘اس کو موجود پائے گا(اور)آرزو کرے گا کہ کاش اس کی بدی اور اس کے درمیان میں زمانہ دراز(حائل )ھو جاتا “۔
پس معلوم یہ ھوا کہ انسان کے یھی اعمال روز قیامت خود گواھی دیں گے، البتہ مفسرین کے درمیان اختلاف ھے کہ یہ اعمال کس طرح مجسم ھوں گے، چنانچہ بعض افراد نے کھاھے کہ انسان کے اعمال جزا یا سزا کی شکل میں حاضر ھوں گے یا نامہ اعمال حاضر کئے جائےں گے جس میں تمام نیکیاں اور بُرائیاں موجود ھیں، اس چیز پربنا رکھتے ھوئے کہ اعمال ”اعراض“ ھیں جو نابود ھوجاتے ھیں( ۱۷۰ ) یا خود اعمال ظاہر ھوں گے ، کیونکہ اعمال کا مجسم ھونا اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ خود اعمال موجود اور محفوظ ھیں ،لیکن وہ اس دنیا میں دکھائی نھیں دیتے، جن کو خداوندعالم روز قیامت حاضر کرے گا، اسی وجہ سے کھاگیا ھے کہ نامہ اعمال میں خود اعمال کی حقیقت موجود ھوگی۔( ۱۷۱ )
پس خود اعمال کا ظاہر ھونا اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ اعمال غائبانہ طور پر ایک عالم خارجی میں محفوظ ھوجاتے ھیں، اسی بات کو ذہن قبول کرتا ھے، اور یھی اعمال روز قیامت انسان کے سامنے پیش ھوں گے جن کو وہ ظاہر بظاہر دیکھے گا اور اس کے لئے کوئی بہانہ باقی نھیں رھے گا۔
۶ ۔ میزان: لغت میں میزان ، اس شئے کو کہتے ھیں جس کے ذریعہ مختلف چیزوں کو تولا جاسکے، جس سے مختلف چیزوں کے معیار کاپتہ چلتا ھے، قیامت میں بھی تما م لوگوں کے لئے میزان قرار دے گا جس سے اہل ایمان و اہل اطاعت کو کفار اور گناہگاروں سے جدا کرے گا، ارشاد ھوتا ھے:
( وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطِ لِیَوْمِ الْقِیَامَةِ فَلاٰ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَ إِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ اٴَتَیْنَا بِهَا وَ کَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ ) ( ۱۷۲ )
”اور ھم قیامت کے روز انصاف کی ترازو قائم کریں گے اور کسی نفس پر ادنیٰ ظلم نھیں کیا جائے گا اور کسی کا عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ھے تو ھم اسے لے آئیں گے اور ھم سب کا حساب کرنے کے لئے کافی ھیں“۔
اور قیامت میں کفار و مشرکین کے اعمال کا وزن ھی نھیں کیا جائے گابلکہ ان کے اعمال باطل ھوجائیںگے،اور ان کو فوج در فوج جہنم میں بھیج دیاجائےگا،ارشاد الٰھی ھوتا ھے :
( اٴُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ اٴَعْمَالُهُمْ فَلاَنُقِیمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَزْنًا ) ( ۱۷۳ )
”یھی وہ لوگ ھیں جنھوں نے اپنے پرور دگار کی آیتوں سے اور (قیامت کے دن) اس کے سامنے حاضر ھونے سے انکار کیا تو ان کا سب کیا کرایا اکارت ھو اتو ھم اس کے لئے قیامت کے دن میزان حساب بھی قائم نہ کریں گے “۔
حضرت امام سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام ایک حدیث کے ضمن میں فرماتے ھیں:
”اعلموا عباد الله ان اهل الشرک لا تنصب لهم الموازین ،ولا تنشرلهم الدواوین ،وانما یحشرون الی جهنم زمرا ،وانما نصب الموازین و نشر الدواوین لاهل الا سلام ،فاتقواالله عباد الله “( ۱۷۴ )
”اے بندگان خدا! جان لو کہ (کفار و )مشرکین کی میزان نصب نھیں کی جائے گی ، اور نہ ھی ان کے لئے فیصلہ کیا جائے گا بلکہ ان کو فوج در فوج جہنم میں بھیج دیا جائے گا ، میزان اور فیصلہ تو اہل اسلام کے بارے میں ھوگا پس اے بندگان خدا ، خدا سے ڈرو۔()
اصل ِمیزان کی حقیقت کے بارے میں امت کے مختلف فرقوں میں کوئی اختلاف نھیں پایا جاتا، کیونکہ قرآن مجید کی آیات اور احادیث معصومین علیھم السلام اس کے وجود پر دلالت کرتی ھیں،لیکن اس کے معنی اور مفھوم کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ھے، جن میں سے بعض کو احادیث سے مستند کیاجاتا ھے جن میں سے چند اھم یہ ھیں:
پہلا قول: قیامت کی میزان بھی دنیا کی میزان کی طرح ھے، ہر میزان میں ایک زبان ھوتی ھے اور دوپلڑے،چنانچہ اسی میزان میں انسان کے اعمال (اچھائیوں اور برائیوں) کو تولا جائے گا، اس قول میں صرف اس لفظ ”میزان“ کے ظاہر کو لیا گیا ھے، لیکن تُلنے والی چیز کے بارے میں اختلاف ھے کہ وہ اعمال ھیں یا نامہ اعمال ھیں یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ھے۔( ۱۷۵ )
دوسرا قول: میزان ”عدل الٰھی“ کی طرف،کنایہ اور اشارہ ھے یعنی خداوندعالم کسی ایک پر بھی ظلم نھیں کرے گا، میزان یعنی عدل الٰھی ، پلڑا وہ بھاری ھوگا جس میں نیکیاں اور حسنات زیادہ ھوں گے لیکن بُرائیوں کا پلڑا ہلکا ھوگا، یعنی ترجیح عدل کے ساتھ ھوگی، جس کے حسنات کے غلبہ اور زیادتی کی وجہ سے اعمال کو ترجیح ھوگی تو وھی لوگ کامیاب ھوں گے، اور جن لوگوں کے اعمال کو حسنات کی وجہ سے ترجیح نہ ھوگی وھی لوگ خسارہ میں ھوں گے۔( ۱۷۶ )
اسی دوسرے قول کی تائید امام صادق علیہ السلام سے مروی حدیث سے بھی ھوتی ھے کہ جب ایک زندیق نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا اعمال کا وزن نھیں ھوگا؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”لا ،ان الاعمال لیست باجسام ،و انما هی صفة ما عملوا وانما یحتاج الی وزن الشيء من جهل عدد الاشیاءولا یعرف ثقلها اوخفتها، وان الله لایخفی علیه شیء،قال فمامعنی المیزان؟، قال:”العدل“،قال فما معناه فی کتابه ( فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُهُ ) ( ۱۷۷ ) ؟قال:فمن رجح عملہ“۔( ۱۷۸ )
”نھیں، اعمال کا کوئی جسم نھیں ھے، بلکہ اعمال اس صفت کانام ھے جس کو لوگ انجام دیتے ھیں، کسی چیز کا وزن کرنا اور تولنا تو اس شخص کے لئے ضروری ھے جو چیزوں کی حقیقت سے جاہل ھو اور اس کے وزن کو نہ جانتا ھو، بے شک اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا علم مخفی نھیں ھے، زندیق نے سوال کیا تو پھر میزان کے کیا معنی ھیں؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: میزان کے معنی ”عدل“ کے ھیں، پھر وہ بولا تو پھر قرآن مجید کی اس آیت کے کیا معنی ھیں:”پھر تو جن کے (نیک اعمال کے)پلے بھاری ھوں گے “،تو امام علیہ السلام نے فرمایا: جس کے عمل کی ترجیح ھوگی “۔
تیسرا قول: میزان کے معنی حساب کے ھیں، اور میزان کا بھاری اور ہلکا ھونا حساب کے کم یا زیادہ ھونے کا کنایہ و اشارہ ھے، جیسا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے روایت ھے :
”ومعنی قوله :( فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُهُ ) ،( وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُهُ ) فهو قلة الحساب و کثرته، والناس یومئذ علی طبقات ومنازل ،فمنهم من یحاسب حساباًیسیراو ینقلب الی اهله مسروراً، ومنهم الذین یدخلون الجنة بغیر حساب ،لانهم لم یتلبسوا من امرالدنیا بشیء ،وانما الحساب هناک علی من تلبس هاهنا،ومنهم من یحاسب علی النقیر والقطمیر،ویصیرالی عذاب السعیر،ومنهم ائمة الکفرو قادةالضلال،فاولئک لایقیم لهم وزناً ولایعبابهم،لانهم لم یعباٴوابامره ونهیه،فهم فی جهنم خا لد و ن ، تلفح وجوههم النار ،وهم فیها کالحون “۔( ۱۷۹ )
”ان دونوں آیتوں سے مرادحساب کا کم یا زیادہ ھونا ھے، کیونکہ لوگوں کی کئی قسمیں ھیں ایک گروہ وہ ھوگا جن کا حساب بہت آسان ھوگا، اور وہ اپنے اہل و عیال کے پاس خوشحال واپس آئیں گے، ان میں سے ایک گروہ ایسا ھوگا جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ھوجائے گا کیونکہ وہ دنیا کی کسی چیز میں مشغول نھیں ھوئے ھیں، بے شک حساب ان لوگوں کا ھوگا جو دنیاوی کاموں میں مشغول رھے ھیں، ان میں سے ایک گروہ وہ ھوگا جس کا حساب سخت ھوگا اور ان کو جہنم کے درد ناک عذاب میں بہت جلد بھیج دیا جائے گا، یہ گروہ گمراہ اور ضلالت کے سرداروں کا ھوگا، پس یھی لوگ بے اھمیت ھوں گے اور ان پر کوئی توجہ نھیں دی جائے گی کیونکہ انھوں نے خدا وندعالم کے احکام پر کوئی توجہ نھیں کی ھے، یھی لوگ ھمیشہ کے لئے جہنم میں رھیں گے، اور ان کے چہرے جہنم کی آگ میں جلتے رھیں گے اور یھی لوگ جہنم کے دردناک عذاب میں گرفتارر ھیں گے“۔
چوتھا قول: میزان اور موازین( صیغہ جمع) سے مراد انبیاء اور اوصیاء ھیں جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے اس آیت( نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطِ لِیَوْمِ الْقِیَامَةِ ) کی تفسیر کے بارے میں بیان ھوا ھے:
تو امام علیہ السلام نے فرمایا:”الموازین :الا نبیاء والاوصیاء “۔( ۱۸۰ )
”موازین (جمع میزان) سے مراد انبیاء اور اوصیاء الٰھی ھیں“۔
پس انبیاء اور اوصیاء علیھم السلام وہ پیمانے ھیں جن کے ذریعہ حق و عدل کی شناخت ھوگی، اور وہ اعمال کے لئے رجحان ھیں اور یہ رجحان ان کے ایمان کے برابر ھوگا اور جتنا انبیاء و اوصیاء علیھم السلام سے محبت اور ان کی اطاعت و پیروی ھوگی اسی لحاظ سے ھوگا۔
قارئین کرام! میزان کے سلسلے میں( چار) اھم قول اور احادیث تھیں کہ بعض مصادیق کو آپ حضرات نے سمجھ لیا ھے، لیکن میزان کی تفصیل کے بارے میں عقیدہ رکھنا ضروری نھیں ھے بلکہ کسی تفصیل اور حقیقت و ماھیت کے بغیرصرف اجمالی طور پر ”میزان“ کے اوپر عقیدہ رکھنا واجب ھے ۔
۷ ۔ صراط: صراط کے لغوی معنی راستہ یا واضح راستہ کے ھیں،جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ) ( ۱۸۱ )
”تو ھم کو سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھ“۔( ۱۸۲ )
صراط بھی آخرت کی ایک منزل ھے، اور صراط سے مقصود جہنم پر بچھایا جانے والا پُل ھے جس پر سے تمام مخلوق کو گزرنے کا حکم دیا جائے گا، جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ھوگا، اہل جنت بغیر کسی خوف و خطر کے وہاں سے گزر جائیں گے ، لیکن کفار خوف و عقاب میں زیادتی کی وجہ سے گزارے جائیں گے، اور جب وہ جہنم میں اپنی جگہ کے سامنے تک پہنچےں گے تو اسی پُل صراط سے گر پڑےں گے۔( ۱۸۳ )
پُل صراط سے گزرنے کی رفتار، دنیا میں کئے گئے اعمال کی وجہ سے مختلف ھوگی ، اور مومنین بجلی کی طرح بہت تیز اس پُل سے گزرجائیں گے اور اور کفار پہلے ھی قدم سے لڑکھڑا جائیں گے اور جہنم میں گرجائیں گے، حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”الناس یمرون علی الصراط طبقات ،والصراط ادق من الشعرة، واحد من السیف ،فمنهم من یمر مثل البراق، ومنهم من یمرّ مثل عدوالفرس ،ومنهم من یمرحبواً،ومنهم من یمر مشیاً،ومنهم من یمر متعلقاً،قد تاخذ النار منه شیئاً وتترک شیئاً “۔( ۱۸۴ )
”پُل صراط سے گزرنے والوں کی قسمیں ھوں گی، پُل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ھے، پس بعض لوگ اس پر سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے، ان میں سے کچھ لوگ گھوڑے کی چال کی طرح اور کچھ لوگ رینگتے ھوئے گزریں گے اور کچھ لوگ آہستہ گزریں گے،اور کچھ لوگ ھوں گے جو صراط کو پکڑے ھوئے چلیں گے جب کہ ان کے پیر ادھر ادھر ڈگمگاتے ھوں گے، جہنم کی آگ ان میں سے کچھ کو اپنے اندر کھینچ لے گی اور کچھ کو چھوڑ دے گی“۔
ایک قول یہ ھے کہ پُل صراط بھی دنیا کے پُلوں کی طرح ھے جو شخص اس دنیا میں صراط مستقیم پر قائم رھااس کے لئے پُل صراط سے گزرنا آسان ھے اور وہ نجات پاجائے گا، لیکن جو شخص دنیا میں صراط مستقیم پر نھیں چلا او راپنے کو گناھوں او رمعصیتوں سے سنگین کرلیا تو ایسا شخص پہلے قدم پر ھی ڈگمگاجائے گا اور (جہنم میں گرپڑے گا)( ۱۸۵ )
حضرت امام صادق علیہ السلام پُل صراط کے معنی بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
”هو الطریق الی معرفة الله عز وجل ،وهما صراطان: صراط فی الدنیا ،و صراط فی آلاخرة، واما الصراط الذی فی الدنیا فهو الامام المفترض الطاعة ،من عرفه فی الدنیا و اقتدی بهداه ،مر علی الصراط الذی هو جسر جهنم فی الاخرة ،ومن لم یعرفه فی الدنیا زلت قدمه عن الصراط فی آلاخرة ، فتردی فی نار جهنم “۔( ۱۸۶ )
”یہ خدا کی معرفت کا راستہ ھے ، اور وہ دو صراط ھیں ، ایک صراط دنیا میں اور ایک آخرت میں، لیکن وہ صراط جو دنیا میں ھے وہ امام واجب الاطاعة ھے، جس نے دنیا میں اس کو پہچان لیا اور اس کی پیروی کی تو ایسا شخص اس پُل صراط سے گزرجائے گا جو جہنم کے اوپر واقع ھوگا، لیکن جو شخص اس دنیا میں (امام کو )نہ پہچانے تو اس کے قدم پُل صراط پر لڑکھڑا جائیں گے اور وہ جہنم میں گرجائے گا“۔
اسی مطلب پر آنحضرت (ص)کی یہ حدیث (بھی) دلالت کرتی ھے:
”اذ اکان یوم القیامة ،ونصب الصراط علی شفیر جهنم ،لم یجز الا من معه کتاب علی بن ابی طالب “۔( ۱۸۷ )
”جب روز قیامت جہنم کے اوپر پُل بچھایا جائے گا، تو اس سے کوئی نھیں گزر سکتا مگر جس کے پاس (حضرت)علی بن ابی طالب کا خط ھوگا“۔
قارئین کرام! ائمہ معصومین علیھم السلام کا راستہ وہ واضح راستہ ھے جس کو ان کی محبت میں صراط مستقیم اور اعتدال سے تعبیر کیا گیا ھے ، جس میں نہ افراط ھو او رنہ تفریط، نہ غلو ھو اور نہ ھی تقصیر، کیونکہ خداوندعالم نے ان کی محبت کو ھم پر واجب کیا ھے اور ان پر عقیدہ رکھنا ضروری ھے اور اسی حال میں ھم خداوندعالم سے ملاقات کریں۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ھیں:
”الصراط المستقیم هو صراطان :صراط فی الدنیا،وصراط فی آلاخرة،فاما الصراط المستقیم فی الدنیا ،فهو ما قصر عن الغلو،و ارتفع عن التقصیر،و استقام فلم یعدل الی شیء من الباطل،اما الصراط الآ خرة فهو طریق المومنین الی الجنة ،الذی هو مستقیم لا یعدلون عن الجنة الی النار،ولا الی غیر النار سوی الجنة “۔( ۱۸۸ )
”صراط مستقیم دوصراط ھیں : ایک صراط دنیامیں اور ایک صراط آخرت میں، لیکن وہ صراط جو دنیا میں ھے اس میں نہ غلو ھو اور نہ تقصیر (اور کمی) ، انسان اسی پر قائم رھے اور باطل کی طرف نہ مڑے، لیکن آخرت کی صراط ، سے مراد جنت تک جانے کے لئے مومنین کا راستہ ھے، جو سیدھا ھے جو جنت سے جہنم کی طرف نھیں مڑتا اور نہ ھی جہنم سے کسی دوسری طرف مڑتا ھے“۔
پُل صراط کی گھاٹیاں : پل صراط سے گزرنا بہت سخت اور دشوار منزل ھے،کیونکہ اس میں بہت خطرناک گھاٹیاں ھوں گی جن سے ہر انسان کو گزرنا ھوگا،جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”واعلموا ان مجازکم علی الصراط ،ومزالق دحضه ،و اهاویل زلله، وتارات اهواله “۔( ۱۸۹ )
”یاد رکھوا! تمہاری گذرگاہ صراط اور اس کی ہلاکت خیز لغزشیں ھیں، تمھیں ان لغزشتوں کے ھولناک مراحل اور طرح طرح کی خطرناک منازل سے گذرنا ھے“۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ھیں: ” پُل صراط پر گھاٹیاںھوں گی جو اوامر و نواھی کے نام پر ھوں گی، جیسے نماز، زکوٰة، صلہ رحم، امانت اورولایت، لہٰذا جس شخص نے ان چیزوں میںسے کسی میں بھی تقصیر کی ھوگی تو وہ شخص اس گھاٹی میں گِھر جائے گا ، اور وہاں پر حق خداوندی کا مطالبہ کیا جائے گا، اگر وہاں سے ان اعمال صالحہ کے ذریعہ جن کو پہلے سے بھیجا گیا ھے یا رحمت خدا کے ذریعہ وہاں سے گزرکر دوسری گھاٹیتک پہنچ جائے گا، اسی طرح تمام گھاٹیوں سے گذرنا پڑے گا، جب ان تمام سے صحیح و سالم گذرجائے گا تو ”دار بقاء“ (بہشت) تک پہنچ جائے گا اور اس کوھمیشہ کے لئے زندگی مل جائے گی اور ایسی سعادت وخوشبختی نصیب ھوگی جس میں شقاوت کا ذرا بھی شائبہ نہ ھوگا، لیکن اگر وہ ان گھاٹیوںسے نہ گذرپایا تو اس کے قدم لڑکھڑا جائیں گے اور وہ نارِجہنم میں گرپڑے گا“۔( ۱۹۰ )
اسی طرح شیخ مفید علیہ الرحمہ پل صراط کی گھاٹیوںکے بارے میں فرماتے ھیں:عقبات (یعنی گھاٹیوں) سے مراد واجب اعمال ھیں جن کے بارے میں سوال ھوگا، اور ان کی تائید ضروری ھے، اور ان گھاٹیوںسے مراد پہاڑ نھیں ھیں جن سے گزرنا پڑے گا بلکہ یہ وھی اعمال ھےں جو گھاٹی کی طرح دکھائی دیں گے، لیکن ان کو یہ صفت دی گئی ھے چونکہ اگر انسان نے خدا کی اطاعت میں تقصیر کی ھو تو اس کو وہ گھاٹیوں کی طرح دکھائی دےں گی جن سے نکلنا اور گزرنا مشکل ھوتا ھے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
( فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ#وَمَا اٴَدْرَاکَ ماَ الْعَقَبَةُ #فَکُّ رَقَبَةٍ ) ( ۱۹۱ )
”پھر وہ گھاٹی پر سے ھو کر(کیوں)نھیں گزرااور تم کو کیا معلوم کہ گھاٹی کیا ھے،کسی کی گردن کا (غلامی یا قرض سے) چھڑانا“۔
خدا وندعالم نے انسان پر واجب کردہ اعمال کو گھاٹی کا نام دیا ھے کیونکہ یہ بھی گھاٹیوں اور پہاڑوں سے شباہت رکھتے ھیں، اور انسان کو ان کے ادا کرنے میں اسی طرح زحمت ھوتی ھے جس طرح گھاٹیوں پر چڑھنے میں زحمت ھوتی ھے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ان امامکم عقبة کووداً ومنازل مهولة ،لابد لکم من الممربها، والوقوف علیها،فاما برحمة من الله نجوتم ،واما بهلکة لیس بعد ها انجبار “۔
”بندگان خدا! تمہارے سامنے گھاٹیاں ھیں جس طرح سخت وادی کی منزل ھوتی ھے، جن سے تمھیں گذرنا ھوگا، اور وہاں قیام کرنا ھوگا ، لیکن خدا کی رحمت سے وہاں سے نجات پاجاؤگے ، اوراگر انسان ان میں ہلاک ھوگیا (یعنی ان میں گھرگیا) تو اس کے بعد پھر نجات نھیں پاسکتے“۔
قارئین کرام! یہاں پر امام علیہ السلام کی گھاٹیوں سے مراد انسان کی قیامت کے روز سخت مشکلات ھیں۔( ۱۹۲ )
پانچویں بحث: اہل جنت اور اہل جہنم
روز قیامت کے خوف و حشت اور حساب وکتاب اور میزان و صراط کی منزلوں کو طے کرنے کے بعد انسان کو ایک ھمیشگی جگہ پر پہنچادیا جائے گا اور وہ یا تو جنت کی نعمتوں میں ھوگا یا جہنم کے دردناک عذاب میں۔
اول: جنت کی صفت، اہل جنت اور اس کی نعمتیں
جنت کی صفت: جنت وہ جگہ ھے جس کو خدا کی معرفت حاصل کرنے والے اور اس کی عبادت کرنے والے مومنین ،متقین اور صالحین کے لئے خداوندعالم نے آمادہ کررکھا ھے، اس کی نعمتیں ھمیشہ ھمیشہ کے لئے ھیں اور یہ ھمیشہ باقی رہنے والی جگہ ھے، یھی ”دار البقاء“ اور ”دار السلامة“ ھے جہاں نہ موت ھے اور نہ کوئی پریشانی و مصیبت اور نہ ھی مرض و آفت، اور نہ ھی کوئی غم و غصہ ، نہ ھی کوئی حاجت ھے اور نہ ھی محتاجگی، یہ غنیٰ اور سعادت کا گھر ھے ،یہ عظمت و کرامت کا گھر ھے، یہاں نہ کوئی بیماری ھوگی اور نہ ھی تھکن،یہاں پر اہل بہشت کی خواہش کے مطابق ہر چیز موجود ھوگی، اور وہ یہاں ھمیشہ رھیں گے،اہل بہشت خدا کے ھمسایہ اور اس کے اولیاء اور اس کے دوست اور اہل کرامت ھوں گے۔( ۱۹۳ )
اہل جنت:اٴُوْلَئِکَ هُمْ الْوَارِثُونَ الَّذِینَ یَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ( ۱۹۴ )
”درحقیقت یھی وہ وارثان جنت ھیں جو فردوس کے وارث بنیں گے اور اس میں ھمیشہ ھمیشہ رہنے والے ھیں “۔
خداوندعالم نے جنت الفردوس میں جانے والوں کے صفات بیان کئے ھیں: وہ ایمان لانے والے اور عمل صالح کرنے والے ھیں، وہ اپنے خدا سے ڈرنے والے ھیں، وہ خداورسول پر ایمان لانے والے ھیں، وہ اللہ و رسول کی اطاعت کرنے والے ھیں، وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے ھیں، وہ نماز قائم کرنے والے ھیں، وہ خدا کے عطا کردہ رزق سے مخفی طور پر اور ظاہر بظاہر خیرات کرنے والے ھیں۔
وہ شہدا اور صدیقین ھیں، وہ اپنے پروردگار کی عظمت کے سامنے ڈرنے والے اور ھوائے نفس پر کنٹرول کرنے والے ھیں، وہ کہتے ھیں کہ ھمارا رب اللہ ھے اور پھر اس پر قائم رہتے ھیں، وہ راہ خدا میں ہجرت کرتے ھیں اس کے بعد قتل ھوجاتے ھیں یا مرجاتے ھیں، وہ خدا کے مخلص بندے ھیں، وہ خدا کی آیات پر ایمان رکھتے ھیںاور مسلمان ھیں، وہ لوگ اپنے مومن و صالح آباء و اجداد، ازواج اور ذریت کے ساتھ جنت میں رھیں گے ، وہ اپنے نفس کی حفاظت کرنے والے ھیں ، وہ از غیب اپنے پروردگار سے ڈرنے والے ھیں اور قلب سلیم رکھتے ھیں۔( ۱۹۵ )
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے درج ذیل آیت:
( وَسِیقَ الَّذِینَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَی الْجَنَّةِ زُمَرًا ) ( ۱۹۶ )
(’ ’اور جو لوگ اپنے پر وردگار سے ڈرتے تھے وہ گروہ بہشت کی طرف (اعزازو اکرام )سے بلائے جائیں گے“۔)کے سلسلے میں اہل جنت کے دنیا میں صفات بیان کرتے ھوئے فرمایا:
”قد اُمِن العذاب ،وانقطع العتاب، وزُحزحوا عن النار،واطماٴنّت بهم الدار ،ورضوا المثوی والقرار،الذین کانت اٴعمالهم فی الدنیا زاکیة،واٴعینهم باکیة،وکان لیلهم فی دنیاهم نهاراً،تخشّعا واستغفاراً، وکان نهارهم لیلاً توحّشاً وانقطاعاً،فجعل الله لهم الجنة مآباً،والجزاء ثواباً،وکانوا اٴحق بهاواٴهلها، فی ملک دائم،ونعیم قائم “( ۱۹۷ )
”جہاں عذاب سے محفوظ ھوں گے اور عتاب کا سلسلہ ختم ھوچکا ھوگا، جہنم سے الگ کردئے جائیں گے اور اپنے گھر میں اطمینان سے رھیں گے، جہاں اپنی منزل اور اپنے مستقر سے خوش ھوں گے یھی وہ لوگ ھیں جن کے اعمال دنیا میں پاکیزہ تھے اور جن کی آنکھیں خوف خدا سے گریاں تھیں ، جن کی راتیں خشوع اور استغفار کی بنا پر دن جیسی تھیں اور ان کے دن وحشت و گوشہ نشینی کی بنا پر رات جیسے تھے، اللہ نے جنت کو ان کی بازگشت کی منزل بنادیا ھے اور جزائے آخرت کو ان کا ثواب”یہ حقیقتاً اسی انعام کے حقدار اور اہل تھے“، جو ملک دائم او رنعیم ابدی میں رہنے والے ھیں“۔
اہل بہشت کی قسمیں: شیخ مفید علیہ الرحمہ نے جنت میں رہنے والوں کی تین قسمیں بیان کی ھیں:( ۱۹۸ )
۱ ۔ جو لوگ مخلصین خدا ھوں گے، یہ لوگ عذاب خدا سے محفوظ رہتے ھوئے جنت میں داخل ھوںگے۔
۲ ۔ جن لوگوں نے نیک اعمال کے ساتھ بُرے اعمال بھی انجام دئے ھیں ، اور وہ توبہ کرنے کا ارادہ رکھتے ھوں ، لیکن انھیں قبل اس کے کہ وہ توبہ کرتے موت نے آلیا، پس انھیں عذاب کا خوف دنیا و آخرت میں لاحق ھوا یا صرف دنیا میں،اس کے بعد خدا کی بخشش یااس کے عذاب کے بعد یہ لوگ جنت میں داخل ھوں گے۔
۳ ۔ جس شخص نے دنیا میں عمل صالح انجام نھیں دئے ھیں ،لیکن ان پر خدا اپنا فضل و کرم کرے گا، جنت میں ھمیشہ رہنے والے لڑکے (غلمان) ھیں جنھیں خدا نے اہل جنت کے اعمال کے ثواب کے لئے ان کی خدمت اور ان کی حاجتیں پورا کرنے کے لئے مقرر کیاھے، جن کے تصرف میں انھیں کوئی زحمت و مشقت نھیں ھوگی، کیونکہ ان کی خلقت ھی مومنین کی خدمت اور ان کی مدد کرنے کے لئے ھوئی ھوگی۔
جنت کی نعمتیں: جنت میں مختلف قسم کی نعمتیں اور لذتیں ھیں جن سے جنت میں رہنے والے ھمیشہ لذت حاصل کریں گے، جنت میں وہ جو چاھیں گے اورانھیں جس چیز کی خواہش ھوگی وہ موجود ھے، جیسا کہ خداوندعالم فرماتا ھے:
( فِیهَا مَا تَشْتَهِیهِ الْاٴَنفُسُ وَتَلَذُّ الْاٴَعْیُنُ ) ( ۱۹۹ )
”اور جس سے آنکھیں لذت اٹھائیں (سب موجود ھے)“۔
( لَهُمْ مَا یَشَاوونَ فِیهَا وَلَدَیْنَا مَزِیدٌ ) ( ۲۰۰ )
”اس میں یہ لوگ جو چاھیں گے ان کے لئے حاضر ھے اور ھمارے ہاں تو( اس سے بھی)زیادہ ھے “۔
خداوندعالم نے اپنے متقین بندوں کے لئے جنت میں وہ نعمتیں آمادہ کررکھیں ھیں جن کی الفاظ کے ذریعہ توصیف بیان نھیں کی جاسکتی اور نہ ھی کسی انسان سے اب تک سنا ھے، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ھے:
( فَلاَتَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اٴُخْفِیَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ اٴَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ( ۲۰۱ )
”ان لوگوں کی کار گذاریوں کے بدلے میں کیسی کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے ڈھکی چھپی رکھی ھے اس کو تو کوئی جانتاھی نھیں ھے“۔
حدیث قدسی میں بیان هوا هے:”قال الله تعالی :اعددت لعبادی الصالحین ما لاعین رات،ولااذن سمعت،ولاخطر علی قلب بشر “۔( ۲۰۲ )
”خداوندعالم فرماتا ھے: میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے وہ چیز آمادہ کر رکھی ھے جس کو کسی آنکھ نے (ابھی تک ) نھیں دیکھا ھے، اور نہ ھی کسی کان سے سنا ھے، اور نہ ھی کسی انسان کے دل میں اس کا تصور آیا ھے“۔
حسی لذات: اہل جنت کھانے پینے کی چیزوں سے لذت حاصل کریں گے اور وہاں کے مناظر اور حوروں سے لذت حاصل کریں گے، اور جس چیز کی خواہش ھوگی وہ سب ان کے لئے حاضر ھوگا۔( ۲۰۳ )
ھم یہاں پر قرآن مجید میں بیان شدہ بعض لذتوں کو بیان کرتے ھیں:
۱ ۔ کھانے پینے کی چیزیں: اہل جنت کو جنت میں کھانے پینے کی چیزیں بے حساب ملےں گی، اور وہ کبھی ختم نھیں ھوں گی، اور وہ جس طرح کی کھانے پینے کی چیزوں کی خواہش کریں گے وہ سب موجود ھوگی، اپنے مرضی سے چوپھل چاھےں گے مل جائے گا، ان کے سروں پر قریب ترین سایہ ھوگا اور اور میوے بالکل ان کے اختیار میں کردئے جائیں گے۔( ۲۰۴ )
اہل بہشت کے لئے شراب طھور ھوگی، جن سے انھیں سیراب کیا جائے گاجن کے پیالے پر مشک کی مہر لگی ھوگی ،اس سے ان کی عقلیں زائل نہ ھوںگی، اور نہ وہ بے ھودہ باتیں کریں گے، وہاں جام بہت خوبصورت اور دل پذیر ھوں گے، جن پر کافور اور زنجبیل کی خوشبو ھوگی ، جہاں بہت سی نہریں اور چشمے ھوں گے، صاف و شفاف پانی کی نہریں ھوں گی دودھ کی نہریں ھوں گی جس کا ذائقہ کبھی نھیں بدلے گا، شراب کی وہ نہریں ھوں گی جس سے پینے والوں کو مزہ آجائے گا، اور بہترین شہد کی نہریں ھوں گی، کوثر و تسنیم اور سلسبیل ھوں گی، اہل جنت سے کھاجائے گا کہ کھاؤ اور پیئو، ان اعمال کے بدلے میں جو تم انجام دیتے تھے( ۲۰۵ )
۲ ۔ لباس اور حلّے: اہل بہشت کے لئے جنت الفردوس میں بہترین قسم کے نازک کپڑے ھوں گے جیسے حریر اور ریشم، جس میں انھیں سونے چاندی کے کنگن اور موتیوں سے سجائے ھوئے لباس پہنائے جائےں گے۔( ۲۰۶ )
لذت بخش مناظر: اہل بہشت جنت میں نہروں کے کنارے بیٹھے لذت محسوس کریں گے اور ھمیشگی بہترین سایہ میں ھوں گے جہاں پر نہ سورج دکھائی دے گا اور نہ ھی سورج کی گرمی ھوگی، بہتی ھوئی نہروں اور جاری چشموں کو دیکھیں گے ، اور انگور، خرمہ اور انار کے باغات ھوں گے جو پھلوں سے لدے ھوں گے۔( ۲۰۷ )
۴ ۔ جنت کے محلوں اور اس کے وسائل سے محظوظ ھونا:
مومنین اس جنت میں داخل ھوں گے جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ھوگی، اس کے دروازے کھلیں ھوں گے، اور دروازوں پر ملائکہ استقبال کے لئے کھڑے ھوں گے، جنت میں بہت سے درجے ھوں گے جن میں سے بعض بعض پر فوقیت رکھتے ھوں گے دنیا میں جیسے اعمال انجام دئے ھوں گے ویسے ھی درجے ، محل اور مکانوں میں ان کو رکھا جائے گا، ھمیشہ کے لئے عالی وبہترین مسکن ھوں گے جن کے کمرے ایک دوسرے کے اوپربنے ھوں گے،جن کے نیچے نہریں جاری ھوں گے ، اہل بہشت بہترین اور خوبصورت بساط پھیلائے ھوئے بیٹھے ھوں گے،ان کے استبرق و حریر کے استر ھوں گے، بہترین اور اونچے تکیے لگائے ھوں گے، حالانکہ ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے ھوں گے، اور خدام جنت اہل جنت کے گرد سونے اور چاندی کے بڑے بڑے پیالے، ظرف اور لوٹے لے کر طواف کرتے ھوںگے،یعنی ان کی خواہش کے مطابق سب چیزیں مھیا ھوں گی۔( ۲۰۸ )
۵ ۔ھمیشہ رہنے والے نوجوان: جنت میں اہل جنت کی خدمت کے لئے غِلمان (نوجوان لڑکے) ھوں گے جو بہترین حسن و جمال اور خوبصورتی کے مظہر ھوں گے جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
( وَیَطُوفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَاٴَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنثُورًا ) ( ۲۰۹ )
”اور ان کے سامنے ھمیشہ ایک حالت پر رہنے والے نوجوان لڑکے چکر لگاتے ھوں گے کہ جب تم ان کو دیکھو تو سمجھو کہ بکھرے ھوئے موتی ھیں“۔
۶ ۔ ازواج اور حور عین : اہل جنت کے لئے پاک و پاکیزہ ازواج ”حور عین“ ھوں گی جو خیموں میں تکیہ لگائے بیٹھی ھوں گی، خداوندعالم نے ان کو جوان خلق کیا ھے جو اپنے شوہروں کی منتظر اور چاہنی والی ھوں گی،صرف اپنے شوہر کی طرف دیکھتی ھوں گی، عمر میں اپنے شوہر کے برابر ھوں گی، وہ باکرہ او ردوشیزہ ھوں گی جن کو اس سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہ لگایا ھوگا، اپنے جمال میں جادو رکھتی ھوں گی گویا وہ یاقوت اور مرجان ھوں گی، یا لولو اور سفید مکنون کی طرح ھوں گی۔( ۲۱۰ )
روحی لذتیں: ان سب کے علاوہ اہل بہشت جنت میں روحانی یا عقلی نعمتوں سے محظوظ ھوں گے،جو خدا کی رضوان اوراس کی رحمت و مغفرت ھوگی اور وہ ملائکہ اور حوروں کی ھمراھی میں خوشی و مسرت کا احساس کریں گے، اور ان کی یہ سعادت و خوشبختی ھمیشگی ھوگی، اور وہ وہاں پر عذاب ، حزن و ملال اور ہر طرح کے لغو و بے ھودہ چیزوں سے امان میں ھوں گے۔( ۲۱۱ )
دوم: جہنم کے صفات ،اہل جہنم اور اس کے صفات
جہنم کے صفات: جہنم کفار اور گناہگاروں کے لئے انتقام اور خوف و وحشت کی جگہ ھے قرآن کریم نے اس کی ایک قید کی طرح توصیف کی ھے جو کافروں پر محیط اور ان کو گھیرے ھوئے ھے، اس میں پردے ھوں گے جو ان کو گھیرے ھوئے ھوں گے، وہ آگ لمبے لمبے ستون کے ساتھ ان کو گھیرے ھوگی،وہاں پر کسی طرح کا سایہ نہ ھوگا، اور وہ عذاب کی شدت میں گرفتار ھوں گے، اس میں آگ کا ایندھن انسان اور پتھر ھوں گے، اس کی شدت کبھی ختم نہ ھوگی، اور جب آگ خاموش ھونا چاھے گی تو اس میں اور اضافہ ھوجائے گا، دردناک عذاب کے فرشتے غیض و غضب کے ساتھ ان پر عذاب کرتے رھیں گے، یہ فرشتے امر خدا کی معصیت نھیں کریں گے اور جو انھیں حکم دیا جائے گا اس کو انجام دیں گے، جہنم کے سات دروازے ھوں گے جس سے ایک گروہ داخل ھوگا۔( ۲۱۲ )
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں:
”ان جهنم لها سبعة ابواب اطباق بعضها فوق بعضفاسفلها جهنم، وفوقهالظی،و فوقها الحطمة،و فوقها سقر، وفوقها الجحیم ،و فوقها السعیر،و فوقها الهاویه“و فی روایة :”اسفلها الهاویة،واعلاها جهنم “۔( ۲۱۳ )
”جہنم کے سات دروازے ھیں، اس کے چند طبقہ ھیں جس کا سب سے نیچے کا طبقہ جہنم ھے، اس کے اوپر ”لظی“ ھے اس کے اوپر ”حطمہ“ ھے ”اس کے اوپر ”سقر“ ھے، اس کے اوپر ”جحیم“ ھے اس کے اوپر ”سعیر“ ھے اور اس کے اوپر ”ہاویہ“ ھے“
ایک روایت میں اس طرح آیا ھے کہ سب سے نیچے والے حصہ کا نام ”ہاویہ“ ھے اور سب سے اوپر والے طبقہ کا نام ”جہنم“ ھے“۔
نیز حضرت جہنم کی وصف کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
”فاحذروا ناراً قعرها بعید،و حرها شدید،و عذابها جدید ،دارلیس فیها رحمة،ولا تسمع فیها دعوة ، ولا تفرج فیها کربة “۔( ۲۱۴ )
” اس جہنم سے ڈرو جس کی گہرائی بہت دور تک ھے اور اس کی گرمی بے حد شدید ھے اور اس کا عذاب بھی برابر تازہ ھوتا رھے گا، وہ ایساگھر ھے جہاں نہ رحمت کا گذر ھے اور نہ وہاں کوئی فریاد سنی جاتی ھے، اور نہ کسی رنج و غم کا کوئی امکان ھے۔۔۔“۔
اہل نار:
( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوْا الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا اٴَصْبَرَهُمْ عَلَی النَّارِ ) ( ۲۱۵ )
”یھی وہ لوگ ھیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراھی مول لی اور بخشش (خدا)کے بدلے عذاب ،پس وہ لوگ دوزخ کی آگ کوکیونکر برداشت کریں گے“۔
قرآن کریم کی آیات سے یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ خداوندعالم نے جہنم کو کفار،راہ خدا کو مسدود کرنے والے اور کفر کی حالت میں مرنے والوں کے لئے آمادہ کررکھا ھے، نیز ان مشرکین کے لئے جنھوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا ھے، اور منافقین، متکبرین، ظالمین، طغیان کرنے والے، خدا و رسول کی تکذیب کرنے والے اور خدا و رسول کی نافرمانی کرنے والے، اور حدود خدا سے تجاوز کرنے والے، اس کی عبادت سے منھ موڑنے والے، اور خدا کے راستہ کو مسدود کرنے والے، ذکر خدا سے اعراض کرنے والے،اس کے حضور میں پیش نہ ھونے کی امیدنہ رکھنے والے، روز قیامت کا انکار کرنے والے، دنیاوی زندگی اس کی زرق و برق اور اس پر اطمینان کرنے والے، اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے والے، برائیوں اورخطاؤں سے بھرے ھوئے، دین خدا سے پھرنے والے اور کفر پر مرنے والے، مال حرام کھانے والے، یا یتیموں کا مال کھانے والے، کسی مرد مومن کو ناحق قتل کرنے والے، سونے چاندی (اور مال دو لت) جمع کرکے ان کو راہ خدا میں خرچ نہ کرنے والے، ظلم و ستم کے بانی اور سردار اور نماز کو ترک کرنے والوں کے لئے جہنم تیار کررکھا ھے۔( ۲۱۶ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
”انی سمعت رسول الله یقول:یوتی یوم القیامه بالامام الجائر ولیس معه نصیر ولا عاذر فیلقی فی نار جهنم فیدورفیها کما تدورالرحی ،ثم یربط فی قعرها “۔( ۲۱۷ )
”میں نے رسول اکرم (ص)کو یہ فرماتے ھوئے سنا ھے کہ روز قیامت ظالم رہنما کو اس عالَم میں لایا جائے گا کہ نہ کوئی اس کا مددگار ھوگا اور نہ عذر خواھی کرنے والا، اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ، اور وہ اس طرح چکر کھائے گا جس طرح چکّی ، اس کے بعد اسے قعر جہنم میں جکڑدیا جائے گا“۔
اسی طرح امام علیہ السلام اپنے اصحاب کو وعظ کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
”تعاهدوا امرالصلاة،وحافظوا علیها،واستکثروامنها،وتقربوا بها ، فانها کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً،الا تسمعون الی جواب اهل النار حین سئلوا :( ما سلککم فی سقر قالوا لم نک من المصلین ) ؟ ! ‘ ‘۔( ۲۱۸ )
”دیکھو ! نماز کی پابندی اور اس کی نگہداشت کرو، زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھو اور اسے تقرب الٰھی کا ذریعہ قرار دو، کہ یہ صاحبان ایمان کے لئے وقت کی پابندی کے ساتھ واجب کی گئی ھے، کیا تم نے اہل جہنم کا جواب نھیں سنا ھے کہ جب ان سے سوال کیا جائے گا کہ تمھیں کس چیز نے جہنم تک پھونچادیا ھے تو کھیں گے: ”ھم نمازی نھیں تھے“۔
جہنم میں ھمیشہ رہنے والے: جہنم میں ھمیشہ ، صرف کفار و مشرکین رھیں گے، لیکن اہل توحید کے گناہگار لوگ جہنم سے رھاھوجائیں گے یا تو رحمت خدا ان کے شامل حال ھوجائے گی یا اس کی شفاعت ھوگی۔( ۲۱۹ )
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ھیں:
”لا یخلد فی النار الا اهل الکفر والجحود ،واهل الضلال والشرک “۔( ۲۲۰ )
”جہنم میں ھمیشہ رہنے والے صرف کفار و ملحد اور اہل شرک اور اہل گمراھی ھوں گے“۔
عذاب جہنم: اہل جہنم کے لئے مختلف روحی اور حسی عذاب ھوگا جس کو خداوندعالم نے عذاب مھین، عذاب غلیظ، عذاب الیم، عذاب عظیم اور عذاب شدید سے توصیف کیا ھے، جس وقت مجرمین کو گروہ درگروہ جہنم میں لے جایا جائے گا، تو عذاب کے فرشتے ان کو گھیر لیں گے اور ان کو جہنم میں ھمیشہ کے لئے ڈال دیا جائے گا، واقعاً متکبرین کا بُرا ٹھکانا ھے،جہنم کی آگ دور ھی سے ان کے انتظار میں ھوگی، جب ان کو دیکھے گی تو شیر کی طرح اپنا منھ کھولے ھوئے غیظ و غضب کا اظہار کرے گی جس طرح شیر اپنے شکار پر ٹوٹ پڑتا ھے۔
ان کے لئے دروازے کھول دئے جائیں گے، ان کو شیاطین اور وہ جس کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا، پس یہ لوگ ایک دوسرے کے لئے ایندھن کا کام کرےں گے، اور جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کی چیخ سنیں گے اور وہ جوش مارھاھوگا،بلکہ قریب ھوگا کہ جوش کی وجہ سے پھٹ پڑے، اور جہنم کی آگ بھڑک اٹھے گی، اس کے شعلے بھڑک اٹھےں گے اور شرارہ تند ھوجائیں گے اور اپنی شدت کے ساتھ جہنمیوں کو اپنے اندر سمیٹ لے گی، ان کا کھانا ، پینا اور لباس بھی جہنم ھوگا ، جہنم ھی ان کا گھوارہ اور یھی ان کی چھت ھوگی ، اور اوڑھنا بچھونا بھی یھی جہنم ھوگا،وہ طبقات جہنم میں چیختے چلاتے ھوں گے، لیکن عذاب ان کو نیچے اور اوپر سے گھیرے ھوگا، جہنم کے مختلف طبقات میں تارکول کے کپڑے ھوں گے، ان کی پیشانی پر ذلت کے نشان ھوں گے ،ان کے چہرے جل رھے ھوں اور اور وہ آگ میں منقلب ھورھے ھوں گے، ان کے چہرے کالے پڑجائیں گے ان کے سر سے پیپ نکل رھی ھوگی۔
وہ ھمیشہ اسی دردناک عذاب میں رھیں گے، ہر طرف سے موت آتی دکھائی دے گی لیکن نھیں مریں گے، اور نہ ھی ان کے مرنے کی تمنا پوری ھوگی تاکہ وہ مرجائیں ، نہ ھی ان کے عذاب میں کچھ کمی آئے گی اور نہ ھی ان کو مہلت دی جائے گی، جب ان کی جِلد (کھال) جل جائے تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا ھوجائے گی تاکہ ان کے عذاب میں ایک تازگی پیدا ھوجائے، اور جب وہ اس شدت عذاب سے گھبراکر بھاگنا چاھیں گے تو ان کو واپس لوٹا دیا جائے گا، اور ان سے کھاجائے گا: بھڑکتی ھوئی آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔
یہ سب ایک طرف ، دوسری طرف ان کو ہتھکڑیوں، بیڑیوں اور طوق میں جکڑدیا جائے گا، ان کو تنگ جگہ میں رکھا جائے گا،کھولتا ھوا پانی ان کے اوپر ڈال دیا جائے گا،پھر پیشانی اور پیروں سے پکڑلئے جائیں گے، اس کے بعد آگ بھڑک اٹھے گی،لوھے کے درّوں سے پیشانی پھٹ جائے گی، ان کے سروں پر گرما گرم پانی ڈالا جائے گاجس سے ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ھے اور ان کی جلدیں سب گل جائیں گی۔
اور اگر وہ لوگ پیاس کی شدت سے استغاثہ بلند کریں گے تو ان کو جواب میں پیپ دار پانی پلایا جائے گا جس کے بعد سے پھر استغاثہ بلند نھیں کریں گے، یا گرما گرم پانی پلایا جائے گا جس سے ان کے اندر کا سب کچھ گل جائے گا، یا پگھلتے ھوئے تانبے کی طرح کھولتے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی ، ان کو نہ ٹھنڈا پانی پلایا جائے گا اور نہ ھی شربت ،سوائے گرما گرم کھولتے پانی اور پیپ کے، لیکن وہ اس کو پیاسے اونٹ کی طرح پی جائیں گے۔
اور اگر بھوک کی شدت سے کھانا طلب کرےں گے تو ان کو درخت زقوم کا دھوون دیا جائے گا، یہ ایسا درخت ھے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ھے اس کے پھل ایسے ھوں گے جیسے شیاطین کے سر، لیکن اس کے باوجود بھی یہ لوگ اسی کو کھائیں گے ، اسی سے اپنا پیٹ بھریں گے اور اسی ماء حمیم کو پئیں گے۔
وہاں پر خوف و وحشت ھوگا اور طبقات جہنم میں چیختے چلاتے رھیں گے ، ان کے اوپر کھولتا ھوا پانی ڈالا جائے گا،ان کے نالہ و فریاد اور چیخنے چلانے کی آوازیں بلند ھوں گی لیکن (اس دن) ان کی کوئی بات نھیں سنی جائے گی۔( ۲۲۱ )
حضرت علی علیہ السلام جہنم کے عذاب کے بارے میں فرماتے ھیں:
”اما اهل المعصیة فانزلهم شر دار ،وغل الایدی الی الاٴعناق و قرن النواصی بالاقدام، والبسهم سرابیل القطران ،و مقطعات النیران ،فی عذاب قد اشتد حره و باب قد اطبق علی اهله فی نار لها کلب ولجب، ولهب ساطع ،و قصیف هائل ،لا یظعن مقیمها،ولا یفادی اسیرها ،ولا تفصم کبولها ،لا مدة للدار فتفنی ولا اجل للقوم فیقضی “۔( ۲۲۲ )
”لیکن اہل معصیت کے لئے بدترین منزل ھوگی جہاں ہاتھ گردن سے بندھے
ھوں گے اور پیشانیوں کو پیروں سے جوڑدیا جائے گا، تارکول اور آگ کے تراشیدہ لباس پہنائے جائیں گے اس عذاب میں جس کی گرمی شدید ھوگی اور جس کے دروازے بند ھوں گے اور اس جہنم میں جس میں شرارہ بھی ھوں گے اور شور و غوغا بھی، بڑھکتے ھوئے شعلے بھی ھوں گے اور ھولناک چیخیں بھی، نہ یہاں کے رہنے والے کوچ کریں گے اور نہ ھی یہاں کے قیدیوں سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ یہاں کی بیڑیاں جدا ھوسکتی ھیں نہ اس گھر کی کوئی مدت ھے جو تمام ھوجائے اور نہ اس قوم کی کوئی اجل ھے جو ختم کردی جائے۔
روحانی عذاب: اس روحانی عذاب کی مختلف صورتیں ھیں، جن میں سے خسارہ، ندامت،خوف و وحشت کا احساس ھوگا، جنت اور اس کی نعمتوں سے محرومی کی حسرت ھوگی، اور لقاء اللہ اور اس کی رضا کے فوت ھونے کا افسوس ھوگا، رحمت و مغفرت کے بدلے ناامیدی اور مایوسی ھوگی، اپنے کو ذلت و ندامت ھوگی جس وقت ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور ذلت کی وجہ سے نظریں جھکائے ھوں گے( ۲۲۳ )
جس وقت ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور عذاب جہنم کو دیکھیں گے تو حسرت و یاس اور ندامت سے ان کی سانسیں رک جائیں گی اس وقت وہ اپنے سرداروں اور رہبروں سے برائت کا اظہار کرےں گے، اور ان کی زبان پر ”اے کاش اے کاش“ ھوگا او رکھیں گے:
( یَالَیْتَنَا اٴَطَعْنَا اللهَ وَاٴَطَعْنَا الرَّسُول ) ( ۲۲۴ )
”اے کاش ھم نے خدا کی اطاعت کی ھوتی اور رسول کا کہنا مانا ھوتا“۔
ان میں سے ہر ایک کھے گا:
( یاَلَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی ) ( ۲۲۵ )
”کاش میں نے اپنی اس زندگی کے واسطے کچھ پہلے بھیجا ھوتا“۔
( یَاوَیْلَتیٰ لَیْتَنِی لَمْ اٴَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا ) ( ۲۲۶ )
”ہائے افسوس کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا بے شک یقینا اس نے ھمارے پاس نصیحت آنے کے بعد مجھے بہکایا“۔
بے شک یہ لوگ ندامت کے عالم میں بڑی پریشانی کا سامنا کریں گے۔
دنیا میں لوٹنے کی حسرت کرتے ھوئے چلائیں گے کہ ھمیں دنیا میں لوٹادیا جائے تاکہ ھم نیک اعمال انجام دیں اور مومنین میں سے ھوجائیں اور پکاریں اور چلائیں گے:
( فَلَوْ اٴَنَّ لَنَا کَرَّةً فَنَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) ( ۲۲۷ )
”تو کاش ھمیں اب دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع ملتا تو ھم (ضرور)ایمان داروں میںسے ھوتے “۔
( رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِی کُنَّا نَعْمَل ) ( ۲۲۸ )
”پروردگار ااب ھم کو (یہاں سے)نکال دے تو جو (برے کام)ھم کیا کرتے تھے اسے چھوڑ کر نیک کام کریں گے“۔
لیکن ان کی یہ آرزوئیں سراب ھوجائیں گی کیونکہ آخرت میں اطاعت ، توبہ اور اظہار پشیمانی کا کوئی فائدہ نھیں ھوگا، اگر وہ صادق ھوتے تو دنیا میں جہاں اعمال کی جگہ تھی توبہ اور ندامت کا اظہار کرتے:
( وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ ) ( ۲۲۹ )
”اور (ھم جانتے ھیں کہ) یہ لوگ (دنیا میں)لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی جس چیز کی مناھی کی گئی ھے اسے کریںگے(اور ضرور کریں گے)اور اس میں شک نھیں کہ یہ لوگ ضرورجھوٹے ھیں “۔
لیکن اس موقع پر جواب دیا جائے گا:
( فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُون ) ( ۲۳۰ )
”ہاں(بالکل سچ) ھے تب خدا فرمائے گا چونکہ(دنیا میں) اس سے انکار کرتے تھے“۔
اور ان سے کھاجائے گا:
( اخْسَئُوا فِیهَا وَلاَتُکَلِّمُونِ ) ( ۲۳۱ )
”خدا فرمائے گا دور ھو جاواسی میں (تم کورہنا ھوگا)اور (بس)مجھ سے بات نہ کرو“۔
اس وقت ان کے دل میں حسرت رسوائی میں اضافہ ھوجائے گا اور رحمت و مغفرت سے محرومی اور ناامیدی ھوگی پس اس وقت جہنم میں مذمت، ملامت اور مردود کی حالت میں داخل ھوں گے۔
اور جیسے ھی ملائکہ ان کو جہنم کی طرف لے کر چلیں گے تو ان کے دل میں خوف و وحشت طاری ھوگا، اور اپنے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
ارشاد خداوندی ھوتا ھے۔
( کُلَّمَا اٴُلْقِیَ فِیهَا فَوْجٌ سَاٴَلَهُمْ خَزَنَتُهَا اٴَلَمْ یَاٴْتِکُمْ نَذِیرٌ ) ( ۲۳۲ )
”جب کسی گروہ کو اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نھیں آیا تھا؟“۔
اور وہ اعتراف و اقرار کریں گے:
( بَلَی قَدْ جَاءَ نَا نَذِیرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ فِی ضَلاَلٍ کَبِیرٍ وَقَالُوا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اٴَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِی اٴَصْحَابِ السَّعِیرِ فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ فَسُحْقًا لِاٴَصْحَابِ السَّعِیرِ ) ( ۲۳۳ )
”ہاں ھمارے پاس ڈرانے والا تو ضرور آیا تھامگر ھم نے اس کو جھٹلادیا اور کھاخدا نے تو کچھ نازل نھیں کیا تم تو بڑی (گہرائی کے ساتھ)گمراھی میں(پڑے)ھواور (یہ بھی)کھیں گے کہ اگر(ان کی بات)سنتے یا سمجھتے تب تو (آج )دوزخیوں میں نہ ھوتے ۔غرض وہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیں گے تو(تب بھی) دوزخیوں کو خدا کی رحمت سے دوری ھے“۔
اور جس وقت وہ یاس و ناامید میں گھر جائیں گے تو داروغہ جہنم سے کھیں گے:
( یَامَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ ) فیقول لهم ( إِنَّکُمْ مَاکِثُونَ ) ( ۲۳۴ )
”اے مالک اگر تمہارا پروردگار ھمیں موت دیدے تو بہت اچھا ھو، لیکن جواب ملے گا کہ تم اب یھیں رہنے والے ھو“۔
خداوندعالم ھم سب کو روز قیامت کے خوف و وحشت اور آتش جہنم کے شر سے محفوظ رکھے، اور اپنی رحمت واسعہ کے دائرہ میں لے لے اور ھمارے نبی اکرم اور آپ کی عترت اطہار علیھم السلام کی شفاعت نصیب فرمائے۔
(آمین یا رب العالمین، بحق محمد و آله الطاهرین )
.....................................تمام شد.................................
____________________
(۱) من لا یحضرہ الفقیہ ،شیخ صدوق،ج۱ص۸۰/۳۶۲۔دارالکتب الاسلامیہ ۔تہران ۔
(۲) کنزل العمال / متقی ہندی ۱۵:۵۴۸/۴۲۱۲۳۔
(۳) غررالحکم ۳ الامدی ۱:۲۳/ ۳۷۱۔
(۴) سورہ غافر آیت۶۸۔
(۵) سورہ سجدة آیت۱۱۔
(۶) سورہ انعام آیت ۶۱۔
(۷) سورہ زمر آیت ۴۲۔
(۸) من لا یحضرہ الفقیہ ،شیخ صدوق۱:۸۲/۳۷۱۔
(۹) سورہ جمعہ آیت۸۔
(۱۰) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۳۴۱۔خطبہ نمبر (۲۲۱)۔
(۱۱) خصال شیخ صدوق ، ص ۱۱۹، ۱۰۸، بحار الانوار ج ۶ص ۱۵۹ حدیث ۱۹۔
(۱۲) سورہ نحل آیت۳۲۔
(۱۳) سورہ انفال آیت ۵۰۔۵۱۔ اسی طرح درج ذیل آیات کو بھی ملاحظہ فرمائیں:
الَّذِینَ تَتَوَفَّاهُمْ الْمَلاَئِکَةُ ظَالِمِی اٴَنفُسِهِمْ فَاٴَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ بَلَی إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ فَادْخُلُوا اٴَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِینَ (سورہ نحل آیت۲۸۔۲۹)
”یہ وہ لوگ ھیں کہ جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے لگتے ھیں (اور یہ لوگ کفر کر کرکے)آپ اپنے اوپر ستم ڈھاتے رھے تو اطاعت پر آمادہ نظر آتے ھیں اور (کہتے ھیں کہ)ھم تو (اپنے خیال میں )کوئی برائی نھیں کرتے تھے (تو فرشتے کہتے ھیں)ہاں جو کچھ تمہاری کر تو تیں تھیں خدا اس سے خوب اچھی طرح واقف ھے (اچھا تو لو) جہنم کے دروازوں میں داخل ھو جاواور اس میں ھمیشہ رھوگے غرض تکبر کرنے والوں کا بھی کیا برا ٹھکانا ھے“۔
ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ اتَّبَعُوا مَا اٴَسْخَطَ اللهَ وَکَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَاٴَحْبَطَ اٴَعْمَالَهُمْ (سورہ محمد آیت۲۸)
”یہ اس سبب سے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ھوتا ھے اس کی تو یہ پیروی کرتے ھیں اور جس میں خدا کی خوشی ھے اس سے بیزار ھیں تو خدا نے ان کی کارستانیوں کو اکارت کر دیا “۔
(۱۴) سورہ ق آیت ۱۹۔
(۱۵) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۱۱۳۔خطبہ نمبر (۸۳)۔ترجمہ علامہ جوادی ص ۱۴۵۔
(۱۶) کنزل العمال ،متقی ہندی ۱۵:۵۶۹/۴۲۲۰۸۔
(۱۷) سورہ واقعہ آیت ۸۳۔۸۷۔
(۱۸) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۱۶۰ ا۔خطبہ نمبر۱۰۹۔(ترجمہ علامہ جوادی، ص ۲۱۵)
(۱۹) امالی شیخ طوسی :۴۳۲/۹۶۷۔
(۲۰) من لایحضرہ الفقیہ ،شیخ صدوق۱:۸۱/۳۶۶،الکافی ۳ الکلینی ۳:۱۳۴/۱۱۔
(۲۱) رجوع فرمائیں :تصحیح الاعتقاد / الشیخ المفید :۹۵۔
(۲۲) معانی الاخبار ،شیخ صدوق،ج۱،ص۲۸۷،علل الشرائع ،شیخ صدوق۱:۲۹۸۔باب (۲۳۵)/ ح۲، العقائد ،شیخ صدوق:۵۴۔
(۲۳) سورہ ق آیت ۲۲۔
(۲۴) مسند احمد ۲:۵۱۔دارالفکر ،بیروت ،احیاء التراث العلوم /الغزالی ۵:۳۱۶۔دار الوعی ۔حلب ،کنزل العمال ۳ المتقہ الہندی ۱۵:۶۴۱/ ۴۲۵۲۹۔ مسند احمد ۲:۵۱۔دارالفکر ،بیروت ،احیاء التراث العلوم /الغزالی ۵:۳۱۶۔دار الوعی ۔حلب ،کنزل العمال ۳ المتقہ الہندی ۱۵:۶۴۱/ ۴۲۵۲۹۔
(۲۵) الامالی / المفید :۲۶۳۔۲۶۴۔
(۲۶) من الایحضرہ الفقیہ ،شیخ صدوق۱:۸۲۔۸۳/۳۷۳،الکافی الکلینی ۳:۲۳۱/۱، یہ اس روایت اور اس کے مثل روایت کے لحاظ سے ھے، اس سلسلہ میں میں دوسری بحثیں بھی ھیں کہ جن کو ھم اختصار کی وجہ سے ذکر نھیں کرسکتے۔
(۲۷) مزید احادیث کے سلسلہ میں رجوع فرمائیں: الکافی / الکلینی۳:۱۲۸۔۱۳۵۔باب مایعاین المومن والکافر ،بحارالانوار /علامہ مجلسی۶:۱۷۳۔۲۰۲باب(۷)۔
(۲۸) اوائل المقالا ت / الشیخ المفید :۷۳۔۷۴۔نشر موتمر الشخ المفید ۔قم
(۲۹) سورہ نساء آیت۱۵۹۔
(۳۰) شرح ابن ابی الحدید ۱:۲۹۹۔۳۰۰(خطبہ نمبر ۲۰)۔
(۳۱) لسان العرب / ابن منظور ۔برزخ ،۳:۸۔
(۳۲) تفسیر المیزان ۳ طباطبائی ۱:۳۴۹۔
(۳۳) سورہ مومنون آیت۱۰۰۔
(۳۴) تفسیرقمی ،ج۱،ص۱۹،بحارالانوار ۳ علامہ مجلسی،ج۶،ص۲۱۸/۱۲۔
”برزخ سے مراد قبر ھے جس میں انسان کو قیامت تک کے لئے ثواب یا عذاب دیا جائے گا“۔
(۳۵) امالی شیخ طوسی :۲۸/۳۱،بحارالانوار ۶:۲۱۸/۱۳۔
(۳۶) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۳۴۰ /خطبہ نمبر (۲۲۱)۔
(۳۷) اصول کافی /اکلینی۳:۲۳۶/۶۔
(۳۸) علل الشرائع :۳۰۹/۴امالی الصدوق :۴۶۸/۶۲۳،امالی شیخ طوسی :۴۲۷/۹۵۵۔
(۳۹) ثواب الاعمال ،شیخ صدوق:۱۹۷۔منشورات الرضی ۔قم ،علل الشرائع ،شیخ صدوق:۳۰۹/۳،امالی الصدوق :۶۳۲/۸۴۵۔
(۴۰) اصول کافی /الکلینی۳:۲۳۲/۱و۲۳۶/۷و ۲۳۸/۱۰و ۲۳۹/۱۲،الاعتقاد ات ،شیخ صدوق:۵۸ ،تصحیح الاعتقاد / المفید :۹۹۔۱۰۰،شرح الموقف / الجرجانی ۸:۳۱۷۔۳۲۰۔
(۴۱) امالی شیخ صدوق:۳۷۰/۴۶۴۔
(۴۲) کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۲،المسائل السرویہ /المفید :۶۲۔مسالة (۵)،الاربعین ۳ ،البہائی: ۲۸۳ و۳۸۷،حق الیقین ۳ عبد اللہ شبر ۲:۶۸۔
(۴۳) سورہ غافر آیت ۴۵۔۴۶۔
(۴۴) تفسیر المیزان / علامہ طباطبائی ۱۷:۳۳۵۔
(۴۵) مجمع البیان ۳ الطبرسی ۸:۸۱۸۔
(۴۶) سورہ طہ آیت۱۲۴۔
(۴۷) ا ربعین ، شیخ بہائی :۴۸۸۔
(۴۸) شرح ابن ابی الحدید ۶:۶۹۔داراحیاء الکتب العربیہ ۔مصر ،امالی شیخ طوسی :۲۸/۳۱۔
(۴۹) اصول کافی /الکلینی ۳:۲۳۱۔۲۳۹،۲۴۴۔۲۴۵و۲۵۳/۱۰،المحاسن / البرقی :۱۷۴۔۱۷۸۔ دارالکتب الاسلامیہ ۔قم ،بحارالانوار / مجلسی ۶:۲۰۲باب(۸)،سنن النسائی ۴:۹۷۔۱۰۸۔کتاب الجنائز ۔ دارالکتاب العربی ۔بیروت ،کنزل العمال/ المتقی الہندی ۱۵:۶۳۸و غیرھا۔
(۵۰) سنن الترمذی ۴:۶۴۰/۴۶۰۔کتاب صفة القیامة ۔داراحیاء التراث العربی ۔بیروت ،حیاء علوم الدین/ الغزالی ۵:۳۱۶۔
(۵۱) امالی شیخ طوسی :۲۸/۳۱۔
(۵۲) سورہ مومنون آیت۱۰۰۔
(۵۳) الخصال ،شیخ صدوق:۱۲۰/۱۰۸۔
(۵۴) درالمنثور ۳ ا،سیوطی ،ج۵،ص۲۸۔
(۵۵) ا صول کافی ،شیخ کلینی،ج ۳ص۲۳۴/۳۔
(۵۶) ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۳۹/۱۲۔
(۵۷) اربعین ،شیخ بہائی :۴۹۲۔
(۵۸) اوائل المقالات ،شیخ مفید :۷۷،تصحیح الاعتقاد ،شیخ مفید۸۸۔۸۹،المسائل السرویہ،شیخ مفید: ۶۳۔ ۶۴۔ المسالة (۵)،الاربعین ، شیخ بہائی :۵۰۴۔
(۵۹) تہذیب ، شیخ طوسی ،ج ۱،ص۴۶۶/۱۷۲۔
(۶۰) تہذیب ، شیخ طوسی ۱:۴۶۶/۱۷۱،الکافی /الکلینی ۳:۳۴۵/۶۔
(۶۱) اصول کافی /الکلینی ۳:۲۵۵/۱
(۶۲) اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۳و۳۴۵/۷۔
(۶۳) دائرة معارف القرن العشرین /وجدی ۴:۳۷۵۔
(۶۴) حق الیقین /عبد اللہ شبر ۲:۵۰،الاربعین / البہائی :۵۰۵،بحارالانوار ۶:۲۷۱و۲۷۸۔
(۶۵) اصول کافی /الکلینی ۳:۲۴۴/۴۔
(۶۶) ا صول کافی /الکلینی ۳:۲۴۵/۲۔
(۶۷) الاعتقادات ،شیخ صدوق:۷۹۔
(۶۸) سورہ آل عمران آیت۱۳۳۔
(۶۹) سورہ بقرة آیت۲۴۔
(۷۰) سورہ بقرة آیت۳۵۔
(۷۱) سورہ نجم آیت۱۵۔
(۷۲) سورہ قصص آیت۸۸۔
(۷۳) سورہ رعد آیت۳۵۔
(۷۴) کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۳،رجوع کریں: شرح المواقف / الجرجانی ۸:۳۰۱۔۳۰۳۔
(۷۵) سورہ محمد آیت۱۸۔
لسان العرب، ابن منظور ۔شرط ۔۷:۳۲۹۔۳۳۰،مجمع البیان ، طبرسی،ج۹،ص۱۵۴،تفسیر المیزان، علامہ طباطبائی ،ج۱۸،ص۲۳۶۔
(۷۶) سورہ اعراف آیت۱۸۷۔
(۷۷) سورہ اعراف آیت۱۸۷۔
(۷۸) سورہ انعام آیت۱۵۸۔
(۷۹) تفسیرقمی ۲:۳۰۳،بحار الانوار ۶:۳۰۶/۶۔
(۸۰) خصال شیخ صدوق:۵۰۰/۱و۲۔
(۸۱) سورہ نمل آیت۸۲۔،مزید تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: ”کتاب الرجعة“، مرکز الرسالة: ۲۷ ۔ ۲ ۳ ۔
(۸۲) مسند احمد ۳:۳۶،صحیح ابن حبان ۸:۲۹۰/۶۲۸۴،ا۔مستدرک علی اصحیحین ۴:۵۵۷۔
(۸۳) خصال شیخ صدوق:۴۴۹/۵۲،جامع الاصول / ابن الاثیر ۱۱:۸۷۔داراحیاء التراث العربی ، بیروت۔
(۸۴) سورہ زخرف آیت۶۱۔
(۸۵) معالم التنزیل / البغوی ۵:۱۰۵۔دارالفکر ۔بیروت ،الکشاف / الزمخشری ۴:۲۶،تفسیر الرازی ۲۷: ۲۲۲، تفسیر القرطبی ۱۶:۱۰۵۔داراحیاء التراث العربی ۔بیروت ،تفسیر ابی السعود ۸:۵۲۔داراحیاء التراث العربی۔بیروت۔
(۸۶) راجع:الخصال ، شیخ صدوق :۴۳۱/۱۳،الدرالمنثور / السیوطی ۶:۳۸۰۔
(۸۷) سورہ الانبیاء آیت۹۶۔۹۷۔
(۸۸) سورہ دخان آیت ۱۰۔۱۱
(۸۹) تفسیر الطبری ۲۵:۶۸۔دارالمعرفة ۔بیروت۔
(۹۰) الخصال ،شیخ صدوق:۴۳۱/۱۳،الدرالمنثور / السیوطی ۶:۳۸۰،مسند احمد ۲:۲۰۱،جامع الاصول / ابن الاثیر ۱۱:۸۷۔
(۹۱) اصول کافی / الکلینی ۳:۲۶۱/۳۹۔
(۹۲) تفسیر القمی ۲:۳۰۴و۳۰۶۔
(۹۳) بحارالانوار ۶:۳۱۵/۲۴۔
(۹۴) لسان العرب /ابن منظور ۔قوم ۔۱۲:۵۰۶۔
(۹۵) علل الشرائع ،شیخ صدوق:۴۷۰۔
(۹۶) سورہ حج آیت۱۔۲۔
(۹۷) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۱۷۰/خطبہ نمبر (۱۱۴)۔
(۹۸) الکافی /الکلینی ۸:۱۴۳/۱۰۸،امالی شیخ طوسی :۳۶/۳۸،، سورہ معارج ،آیت۴۔
(۹۹) سورہ زمر آیت۶۸۔
(۱۰۰) سورہ یس آیت۴۹۔۵۰۔
(۱۰۱) مجمع البیان / الطبر سی ۶:۷۶۶۔
(۱۰۲) تفسیر قمی ۲:۲۵۷،بحار الانوار ۶:۳۲۴/۲۔
(۱۰۳) سورہ قصص آیت۸۸۔
(۱۰۴) نہج البلاغہ /صبحی الصالح :۲۷۶/خطبہ نمبر (۱۸۶)
(۱۰۵) سورہ ابراھیم آیت۴۸۔
(۱۰۶) امالی شیخ طوسی :۲۸/۳۱۔
(۱۰۷) سورہ یس آیت۵۱۔۵۳۔
(۱۰۸) سورہ ق آیت۲۰۔۲۱۔
(۱۰۹) الامالی ،شیخ صدوق:۴۹۷/۶۸۱۔
(۱۱۰) سورہ معارج آیت۴۳۔۴۴۔
(۱۱۱) سورہ کہف آیت۴۷۔
(۱۱۲) سورہ تکویر آیت۵۔
(۱۱۳) سورہ انعام آیت۳۸۔
(۱۱۴) نہج البلاغہ ،ص۱۴۷/خطبہ نمبر (۱۰۲)۔
(۱۱۵) اصول کافی ۳/الکلینی۸:۱۴۳/۱۱۰۔
(۱۱۶) سورہ حاقة آیت۱۸۔
(۱۱۷) سورہ طارق آیت۹۔
(۱۱۸) سورہ غافر آیت۱۶۔
(۱۱۹) سورہ مریم آیت۸۵۔
(۱۲۰) سورہ عبس آیت۳۸۔۳۹۔
(۱۲۱) سورہ حدید آیت۱۲۔
(۱۲۲) سورہ مریم آیت۶۸۔
(۱۲۳) سورہ فرقان آیت۱۷۔
(۱۲۴) سورہ عبس آیت۴۰۔۴۱۔
(۱۲۵) سورہ اسراء آیت۹۷۔
(۱۲۶) سورہ زمر آیت۶۹ ۔ ۰ ۷ ۔
(۱۲۷) سورہ حجر آیت۹۲۔۹۳۔
(۱۲۸) سورہ اعراف آیت۶۔
(۱۲۹) الا عتقادات ، شیخ صدوق :۷۴۔
(۱۳۰) سورہ اسراء آیت۳۶۔
(۱۳۱) تفسیر العیاشی ۲:۲۹۲/۷۵۔
(۱۳۲) خصال،شیخ صدوق:۲۵۳/۱۲۵،الامالی / شیخ طوسی :۵۹۳/۱۲۳۷، معجم الکبیر / طبرانی ۱۱:۳ ۸ / ۷ ۷ ۱ ۱ ۱ ۔ داراحیاء التراث العربی ۔بیروت ،مجمع الزوائد /ھیثمی ج۱۰، ص۳۴۶، دار الکتاب العربی ۔بیروت۔
(۱۳۳) سورہ ا حزاب آیت۳۳۔
(۱۳۴) سورہ آل عمران آیت۶۱۔
(۱۳۵) سورہ شوریٰ آیت۲۳۔
(۱۳۶) سنن الترمذی ۵:۶۶۴/۳۷۸۹۔دار احیاء التراث العربی۔بیروت،حلیة الاولیاء/ابونعیم ۳: ۲۱۱ ۔ دار الکتاب العربی ۔بیروت ،تاریخ بغداد / الخطیب ۴:۱۵۹۔دار الکتب العلمیہ ۔بیروت ،اسد الغابہ / ابن الاثیر ۲:۱۳۔دار احیاء التراث العربی ۔بیروت ،المستدرک / الحاکم ۳:۱۵۰و صححہ ۔دارالمعرفة ۔ بیر وت۔
(۱۳۷) سورہ صافات آیت۲۴۔
(۱۳۸) عیون اخبار الرضا علیہ السلام ، شیخ صدوق ۱:۳۱۳/۸۶،معانی الا خبار ، شیخ صدوق :۶۷/ ۷ الصواعق المحرقہ / الیتمی :۱۴۹باب ۱۱فصل ۱قال :اخرجہ الیلمی ،الامالی /شیخ طوسی :۲۹۰/۵۶۴،تفسیر الحبری: ۳۱۲/۶۰مو سسہ آل البیت ۔قم ،المنا قب / ابن شہر آشوب ۲:۱۵۲دارالاضواء۔بیروت ،مناقب علی بن ابی طالب / الخوارزمی :۱۹۵،تذکرة الخواص /سبط ابن الجوزی:۱۷۔
(۱۳۹) سورہ غاشیة آیت ۲۶۔
(۱۴۰) تصحیح الاعتقاد / المفید :۱۱۳۔
(۱۴۱) الا عتقادات ، شیخ صدوق:۷۵۔
(۱۴۲) سورہ بقرة آیت ۲۰۲۔
(۱۴۳) مجمع البیان / الطبرسی ۲:۵۳۱۔
(۱۴۴) سورہ معارج آیت ۴۔
(۱۴۵) مجمع البیان / الطبرسی ۱۰:۵۳۱۔
(۱۴۶) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۵۲۸/ خطبہ نمبر (۳۰۰)۔
(۱۴۷) اصول کافی / الکلینی ۳:۲۶۸/۴،التہذیب / شیخ طوسی ۲:۲۳۹/۹۴۶۔
(۱۴۸) نہج البلاغہ / صبحی الصالح:۱۲۳/ خطبہ نمبر (۹۰)۔
(۱۴۹) سورہ یونس آیت۶۱۔
(۱۵۰) سورہ مجادلة آیت ۷۔
(۱۵۱) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۵۳۲/ الحکمة (۳۴۳)۔
(۱۵۲) سورہ نساء آیت ۴۱۔
(۱۵۳) سورہ نحل آیت ۸۹۔
(۱۵۴) مجمع البیان ، علامہ طبرسی ، ج ۶،ص۵۸۴۔
(۱۵۵) سورہ بقرة آیت ۱۴۳۔
(۱۵۶) سورہ آل عمران آیت ۱۱۰۔
(۱۵۷) تفسیر العیاشی ۱:۶۳/۱۱۴۔
(۱۵۸) اصول کافی / الکلینی ۱:۱۴۶/۲و ۱۴۷/۴،بصائر الدرجات / الصفار :۱۸۳/۱۱و ۱۰۲/۳۔مو سسہ الاعلمی۔ تہران ،تفسیر العیاشی ۱:۶۲/۱۱۰۔
(۱۵۹) سورہ ق آیت ۱۷۔۱۸۔
(۱۶۰) سورہ ق آیت ۲۰۔۲۱۔
(۱۶۱) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۱۱۶/خطبہ نمبر (۸۵)۔
(۱۶۲) سورہ نور آیت ۲۴۔
(۱۶۳) تفسیر المیزان / الطباطبائی ۱۵:۹۴۔
(۱۶۴) سورہ انفطار آیت ۱۰۔۱۲۔
(۱۶۵) سورہ جاثیہ آیت ۲۸۔۲۹۔
(۱۶۶) سورہ اسراء آیت ۱۳۔۱۴۔
(۱۶۷) سورہ کہف آیت ۴۹۔
(۱۶۸) سورہ زلزال آیت ۶۔
(۱۶۹) سورہ آل عمران آیت ۳۰۔
(۱۷۰) مجمع البیان / الطبرسی ۲:۷۳۲،تفسیر الرازی ۸:۱۶۔
(۱۷۱) المیزان ،علامہ طباطبائی ۳:۱۵۶و ۱۳:۵۵۔
(۱۷۲) سورہ انبیاء آیت۴۷۔
(۱۷۳) سورہ کہف آیت ۱۰۵۔
(۱۷۴) الکافی/ ۸:۲۹،الامالی ،شیخ صدوق:۵۹۵/۸۲۲۔مو سسہ البعثة ۔قم
(۱۷۵) رجوع فرمائیں:کشف المراد / العلامہ الحلی:۴۵۳،تفسیر المیزان / الطباطبائی ۸:۱۴،حق الیقین / عبداللہ شبر ۲:۱۰۹۔
(۱۷۶) راجع:تصحیح الاعتقاد / المفید :۱۱۴، تفسیر المیزان / الطباطبائی ۸:۱۲۔۱۳۔
(۱۷۷) سورہ اعراف آیت ۸۔
(۱۷۸) الاحتجاج / الطبرسی:۳۵۱۔
(۱۷۹) الاحتجاج / الطبرسی :۲۴۴۔
(۱۸۰) اصول کافی/ الکلینی ۱:۳۴/۳۶،معانی الاخبار / الصدوق:۳۱/۱،الاعتقادات / الصدوق:۷۴۔
(۱۸۱) سورہ فاتحہ آیت ۶۔
(۱۸۲) لسان العرب ۔سرط ۔۷:۳۱۳۔۳۱۴۔
(۱۸۳) کشف المراد / العلامہ الحلی :۴۵۳۔
(۱۸۴) الامالی ،شیخ صدوق:۲۴۲/۲۷۵،تفسیر القمی ۱:۲۹۔
(۱۸۵) احیا ء علوم الدین / الغزالی ۵:۳۶۳۔
(۱۸۶) معانی الاخبار ی،شیخ صدوق:۳۲/۱۔
(۱۸۷) الصواعق المحرقہ /ابن حجر :۱۴۹،مناقب علی ابن ابی طالب / ابن المغازلی :۲۴۲/ ۲۸۹،فرائد السمطین/ الجوینی۱:۲۸۹/۲۲۸،الامالی / شیخ طوسی -۲۸۹/۵۶۴۔
(۱۸۸) معانی الاخبار ،شیخ صدوق:۳۳/۴۔
(۱۸۹) نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر (۸۳) ص۱۴۱۔
(۱۹۰) الا عتقادات ،شیخ صدوق:۷۱۔۷۲۔
(۱۹۱) سورہ بلد آیت ۱۱۔۱۲۔
(۱۹۲) تصحیح الاعتقاد ،شیخ مفید :۱۱۲۔۱۱۳۔
(۱۹۳) الا عتقادات،شیخ صدوق:۷۶،تصحیح الاعتقاد /المفید :۱۱۶۔
(۱۹۴) سورہ مومنون آیت ۱۰۔۱۱۔
(۱۹۵) رجوع فرمائیں:سورہ بقرہ آیت۲۵،۳۸ ،سورہ آل عمران : آیت۱۹۸، سورہ نساء : آیت۱۳و۶۹، سورہ توبہ: آیت ۲۰،سورہ رعد : آیت۲۲۔۲۴،سورہ طہ: آیت۷۵،سورہ حج: آیت۵۸،،سورہ صافات : آیت۴۰،سورہ غافر (مومن): آیت ۸،سورہ زخرف : آیت۶۹،سورہ احقاف : آیت۱۳۔۱۴،سورہ فتح : آیت۱۷،سورہ ق: آیت۳۱۔۳۳،سورہ طور : آیت۲۱،سورہ حدید : آیت۲۱،سورہ نازعات : آیت۴۰۔
(۱۹۶) سورہ زمر آیت ۷۳۔
(۱۹۷) نہج البلاغہ خطبہ نمبر (۱۹۰)، ص ۳۷۳۔
(۱۹۸) تصحیح الا عتقاد / المفید :۱۱۶۔۱۱۷۔
(۱۹۹) سورہ زخرف آیت ۷۱۔
(۲۰۰) سورہ ق آیت ۳۵۔
(۲۰۱) سورہ سجدہ آیت ۱۷۔
(۲۰۲) کنزل العمال / المتقی الہندی ۱۵:۷۷۸/۴۳۰۶۹،بحا رالانوار / علامہ مجلسی۸:۱۹۱ / ۱۶۸۔
(۲۰۳) تصحیح الاعتقاد / المفید :۱۱۷۔
(۲۰۴) رجوع کریں : سورہ رعد:آیت۳۵،سورہ حج:آیت۵۰،سورہ یٰس:آیت۵۷،سورہ ص:آیت۵۴، سورہ غافر: آیت۴۰،سورہ فصلت :آیت۳۱،سورہ محمد: آیت۱۵، سورہ طور:آیت۲۲، سورہ رحمن:آیت ۵۲ سورہ واقعہ: آیت۲۱،۲۸،۳۳، سورہ دہر: آیت۱۴،سورہ مرسلات: آیت۴۲،۔
(۲۰۵) رجوع کریں :سورہ صافات : آیت۴۵، سورہ محمد : آیت۱۵،سورہ طور :آیت۱۹و۲۳،سورہ واقعہ : آیت۱۷۔۱۹،سورہ انسان: آیت۵۔۶و۱۷۔۱۸و۲۱،سورہ مرسلات : آیت۳ ۴،سورہ مطففین : آیت۲۵۔۲۸۔
(۲۰۶) سورہ حج : آیت۲۳،سورہ کہف : آیت۳۱،سورہ فاطر- آیت ۳۳،سورہ دخان : آیت۵۳،سورہ دہر : آیت۱۲و۲۱۔
(۲۰۷) رجوع کریں : سورہ رعد: آیت۳۵،سورہ یٰس : آیت۵۶،سورہ رحمن : آیت۶۸،سورہ واقعہ : آیت۳۰،سورہ دہر : آیت۱۳،سورہ مرسلات : آیت۴۱،سورہ نباء : آیت۳۲۔
(۲۰۸) سورہ آل عمران : آیت۱۳۳،سورہ انفال : آیت۴،سورہ توبہ : آیت۷۲،سورہ مومنون : آیت ۳ ۰ ۱ ، سورہ عنکبوت:آیت۵۸، سورہ صافات: آیت۴۳۔۴۴،سورہ ص:آیت ۵۰۔۵۱،سورہ زمر آیت: ۲۰، سورہ زخرف : آیت۷۱،سورہ طور:آیت۲۰،سورہ رحمن:آیت۵۴،سورہ واقعہ:آیت۱۵۔۱۸۔ و۳۴، سورہ صف : آیت۱۲،سورہ دہر : آیت۱۴۔۱۶،سورہ غاشیہ : آیت۱۰۔۱۶۔
(۲۰۹) سورہ دہر :ا ٓیت ۱۹۔
(۲۱۰) رجوع کریں : سورہ یٰس :آیت۵۶،سورہ صافات :آیت۴۸۔۴۹،سورہ ص:آیت۵۲،سورہ دخان :آیت۵۴،سورہ طور :آیت۲۰،سورہ رحمن :آیت۵۶۔۵۸و۷۲،سورہ واقعہ:آیت۲۲۔ ۲۳ و ۳۵۔ ۳۷،سورہ نساء:آیت ۳۳۔
(۲۱۱) رجوع کریں:سورہ آل عمران :آیت۱۵و۱۳۶،سورہ توبہ :آیت۷۲،سورہ حجر:آیت۴۷۔ ۴۸، سورہ مریم :آیت۶۲،سورہ فاطر:آیت۳۴۔۳۵سورہ یٰس:آیت۵۵،سورہ زمر:آیت۷۳، سورہ دخان:آیت۵۶،سورہ محمد:آیت۱۵،سورہ طور:آیت۱۸،سورہ مجادلہ:آیت۲۲،سورہ نباء: آیت۳۵، سورہ غاشیہ:آیت۱۱۔
(۲۱۲) رجوع کریں: سورہ بقرہ:آیت۲۴،سورہ توبہ:آیت۴۹،سورہ حجر:آیت۴۳،۴۴،سورہ اسراء:آیت ۸و۹۷،سورہ کہف:آیت۲۹،تحریم:آیت۶،سورہ مرسلات:آیت۳۰۔۳۱،سورہ ھمزہ:آیت۸۔۹۔
(۲۱۳) مجمع البیان / علامہ طبرسی، ج۶:۵۱۹۔
(۲۱۴) نہج البلاغہ / صبحی الصالح:۳۸۴۔الکتاب (۲۷)۔
(۲۱۵) سورہ بقرہآیت ۱۷۵۔
(۲۱۶) رجوع کریں: سورہ بقرہ:آیات۸۱و۸۶و۱۶۱۔۱۶۲و۲۱۷،سورہ نساء:آیات۱۰، و۱۴و۵۶و ۹۳و ۱۴۵،سورہ توبہ:آیات۳۴و۶۳،سورہ یونس:آیات۷۔۸و ۵۲،سورہ ھود:آیات ۱۵۔۱۶،سورہ نحل: آیت۸۵،سورہ کہف:آیت۱۰۲۔۱۰۶،سورہ طہ: آیت۷۴و۱۲۴۔۱۲۷،سورہ فرقان:آیت۱۱،سورہ سجدہ : آیت۱۲۔۱۴، سورہ زمر: آیت۵۰و۷۱،۷۲،سورہ غافر: آیت ۶۰و ۷۰۔ ۷۲،سورہ ق: آیت۲۴۔ ۲۶، سورہ جن : آیت۱۷و۲۳،سورہ مدثر : آیت۴۱۔۴۶،سورہ نازعات : آیت۳۷۔۳۹۔
(۲۱۷) نہج البلاغہ /صبحی الصالح :۲۳۵۔خطبہ نمبر (۱۶۴)۔
(۲۱۸) نہج البلاغہ / صبحی الصالح :۳۱۶۔خطبہ نمبر (۱۹۹)، سورہ مدثر : آیت۴۲۔
(۲۱۹) الاعتقاد ات ،شیخ صدوق:۷۷۔
(۲۲۰) التوحید / الصدوق:۴۰۷/۶۔جامع مدرسین۔قم۔
(۲۲۱) مزید تفصیلات کے لئے رجوع فرمائیں :سورہ بقرہ:آیات۹۰و۱۰۴و۱۱۴و۱۶۲،سورہ نساء:آیت ۵۶،سورہ انعام : آیت۷۰،سورہ اعراف: آیت۴۱،سورہ ابراھیم: آیات۱۶، ۱۷ و۴۹۔۵۰،سورہ کہف : آیت ۲۹، سورہ طہ: آیت۷۴،سورہ انبیاء : آیت۹۸۔۱۰۰،سورہ حج: آیت۱۰۔۲۲،سورہ مومنون آیت۱۰۴،سورہ فرقان: آیت۱۲۔۱۴،سورہ عنکبوت : آیت۵۴۔۵۵،سورہ احزاب : آیت۶۴ ۔ ۶۸، سورہ فاطر: آیت۳۶۔۳۷،سورہ صافات : آیت۶۲۔۶۸،سورہ ص: آیت۵۵۔۶۴،سورہ زمر: آیت۷۱،سورہ غافر: آیت۷۰۔۷۶،سورہ دخان: آیت۴۳۔۵۰،سورہ محمد: آیت۱۵،سورہ طور: آیت۱۳۔۱۶،سورہ قمر: آیت۴۷۔۴۸،سورہ رحمن : آیت۴۱۔۴۴،سورہ واقعہ: آیات۴۱۔ ۴۴ و ۱ ۵ ۔ ۵۶،سورہ ملک: آیت۵۔۱۱،سورہ حاقہ: آیت۳۱،سورہ مزمل: آیت۱۲۔۱۳سورہ دہر: آیت۴،سورہ مرسلات: آیت۳۰۔۳۳،سورہ نباء: آیت۲۱۔۳۰سورہ لیل: آیت۱۴۔۱۶،سورہ ھمزہ: آیت۴۔۹۔
(۲۲۲) نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ۱۰۹،ص ۲۱۷۔
(۲۲۳) سورہ بقرہ:آیات۱۶۱و۱۶۶۔۱۶۷،سورہ انعام :آیات۲۷۔۳۱و۱۲۴،سورہ اعراف:آیت۵۳، سورہ ابراھیم:آیت۴۴،سورہ اسراء:آیت۱۸و۳۹،سورہ مومنون:آیت۱۰۳۔ ۱۰۸، سورہ شعراء:آیت ۹۵۔۱۰۲،سورہ عنکبوت:آیت۲۳،سورہ احزاب:آیت۶۶۔۶۸،سورہ سباء:آیت۳۳،سورہ فاطر: آیت ۳۶۔ ۳۷، سورہ زمر:آیت۷۱،سورہ غافر:آیت ۷۳۔ ۷۶، سورہ شوریٰ:آیت۴۵،سورہ زخرف:آیت۷۷،سورہ ملک: آیت۱۵،سورہ مطففین: آیت۱۵۔۱۷۔
(۲۲۴) سورہ احزاب آیت ۶۶۔
(۲۲۵) سورہ فجرآیت۲۴۔
(۲۲۶) سورہ فرقان آیت۲۸۔
(۲۲۷) سورہ شعراء آیت۱۰۲۔
(۲۲۸) سورہ فاطرآیت ۳۷۔
(۲۲۹) سورہ انعام آیت۲۸۔
(۲۳۰) سورہ انعام آیت۳۰۔
(۲۳۱) سورہ مومنون :آیت ۱۰۸۔
(۲۳۲) سورہ ملک آیت ۸۔۱۱۔
(۲۳۳) سورہ تحریم آیت ۸۔۱۱۔
(۲۳۴) سورہ زخرف: آیت ۷۷۔، چونکہ اس آخری بحث کے مضامین(جنت و دوزخ کے اوصاف) قرآن کریم کی روشنی میں بیان کئے ھیں اور ذیل میں قرآن مجید کے حوالے بھی نقل کئے ھیں، اس سلسلے میں بیان شدہ احادیث کے لئے پر رجوع فرمائیں : بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج۸،ص ۱۱۶تا۲۲۲، ۳۲۹ تا۳۸۰، احیاء علوم الدین ، تالیف غزالی ج۵ص ۳۸۵، ۳۹۲، و ۳۷۴تا ۳۸۱ ۔
فہرست
مقدمہ ناشر ۴
عرض مولف ۶
پہلی فصل ۹
تعریف معاد اور اس عقیدہ کے آثار و فوائد ۹
پہلی بحث: معاد کے لغوی اور اصطلاحی معنی ۹
معاد کے لغوی معنی: ۹
معاد کے اصطلاحی معنی: ۱۰
دوسری بحث: عقیدہ معاد کے آثار ۱۱
۱ ۔انسانی زندگی پر معاد کے آثارو فوائد ۱۲
۲ ۔ انسانی زندگی پر قیامت کااثر ۱۸
دوسری فصل ۲۴
ضرورت قیامت پر محکم دلائل و برہان ۲۴
اول: قرآنی دلائل ۲۴
دوسری دلیل: کلام معصوم ۳۱
تیسری دلیل: اجماع ۳۳
چوتھی دلیل: دلیل عقلی ۳۳
۱ ۔ برہان مماثلة ۳۴
۲ ۔برہان قدرت ۳۶
۳ ۔ برہان حکمت ۴۰
۴ ۔ برہان عدالت ۴۲
۲ ۔ وجود قیامت ،عدل الٰھی کا تقاضا ھے ۴۳
تیسری فصل ۵۲
روح اور معاد کی حقیقت ۵۲
گفتار اول: حقیقت روح اور اس کا مجرد ھونا ۵۲
روح ایک پیچیدہ حقیقت ھے ۵۲
روح ، قرآن و حدیث کی روشنی میں ۵۲
روح کا مجرد ھونا ۵۷
روح کے مجرد ھونے کے دلائل: ۵۹
۱ ۔ قرآنی آیات: ۶۰
۲ ۔ احادیث کے ذریعہ استدلال ۶۳
۳ ۔ عقلی دلائل: ۶۶
۴ ۔ علمی اور تجربی دلائل: ۶۸
۱ ۔ احضار روح ۶۸
۲ ۔ ”مقناطیسی نیند “ ( ہپنوتیزم Hypnotism ) ۶۹
دوسری بحث: حقیقت ِمعاد ۷۰
جسمانی معاد ۷۱
آیات قرآن کریم: ۷۱
احادیث معصومین علیھم السلام ۷۳
جسمانی معاد کی حقیقت ۷۴
دوسرا قول: معادِ روحانی ۷۶
جسمانی معاد کا انکار ۷۷
پہلا اعتراض: آکل و ماکول (۱۲۴) ۸۱
جواب : ۸۲
دوسرا اعتراض: اعادہ معدوم ۸۴
جواب: ۸۴
تیسرا اعتراض: تعدد ابدان ۸۶
جواب: ۸۶
چوتھی فصل ۹۵
منازل الآخرت ۹۵
پہلی بحث : موت اور اس کی سختیاں ۹۵
موت کی سختیاں ۹۷
ب۔ مال و اولاد اور اعمال کا مجسم ھونا: ۱۰۲
۴ ۔ نبی اکرم (ص)اور ائمہ علیھم السلام کا دیدار: ۱۰۳
دوسری بحث : برزخ اور اس کا عذاب ۱۰۴
۲ ۔ فشار قبر: ۱۰۵
۳ ۔ سوال منکر و نکیر: ۱۰۶
۴ ۔ قبر میں عذاب و ثواب: ۱۰۷
اول: یھی دنیاوی بدن زندہ کیا جائے گا: ۱۰۹
دوم: مثالی بدن کو عذاب یا ثواب دیا جائے گا: ۱۱۰
کیا یہ باطل تناسخ نھیں ھے؟ ۱۱۱
تیسری بحث: قیامت کی نشانیاں ۱۱۳
نشانیوں کے اقسام: ۱۱۴
اول: ۱۱۵
دوم : ۱۱۵
چوتھی بحث : روز قیامت کا مشاہدہ ۱۱۷
۱ ۔ سوال : تمام ھی مخلوقات سے سوال ھوگا: ۱۲۴
پانچویں بحث: اہل جنت اور اہل جہنم ۱۳۸
اول: جنت کی صفت، اہل جنت اور اس کی نعمتیں ۱۳۸
۴ ۔ جنت کے محلوں اور اس کے وسائل سے محظوظ ھونا: ۱۴۱
دوم: جہنم کے صفات ،اہل جہنم اور اس کے صفات ۱۴۲
اہل نار: ۱۴۳