مکتب تشیع
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف محمد رضا مظفر
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


اسم کتاب : مکتب تشیع

اسم مؤلّف :محمد رضا مظفر

عقائد امامیہ پر ایک مستند کتاب


گفتار مؤلّف

بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

حَمدًا وَّشُکرًاوَّسَلَاماً علیٰ مُحَمَّدٍ خَیرِ البَشَرِ وَاٰلِهِ الهُدَاةِ

تمام تعریفیں اور شکر خدا کے لیے ہے اور درود و سلام حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جو بہترین خلائق ہیں اور ان کے پا اہلبیت ؑ پر جو ہدایت کے راستے میں اجالا کرنے والے چراغ ہیں۔

اعتقادات کے اس مجموعے کو مرتب کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے ان عقیدوں کا خلاصہ لکھ ڈالوں جو میں نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہلبیت ؑ کے طور طریقوں سے سمجھے ہیں، میں نے اسلامی عقیدوں کا یہ خلاصہ کسی دلیل اور ثبوت اور ان روایات کے بغیر بیان کیا ہے جو بہت سے اعتقادی مسئلوں کے بیچوں بیچ آجاتی ہیں تاکہ عالم طالب علم اور عوام سب کے سب اس سے ایک ساتھ فائدہ اٹھاسکیں، میں نے اس مجموعے کا نام عقائد شیعہ رکھا ہے اور شیعہ سے میری مراد ""پیروان اہلبیت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم "" یا شیعہ اثنا عشری یعنی بارہ اماموں کے ماننے والے شیعہ ہیں۔

میں نے ۱۳۶۳ ہجری میں منتدی النشر نامی دینی کالج میں اپنے لکچروں کے سلسلے میں یہ مجموعہ مرتب کیا اور لکھا تاکہ یہ بحثیں علم کلام اور فلسفے کی اعلیٰ بحثوں کے لیے

ایک تمہید یا سر آغاز کا کام دے سکیں۔

میں جس زمانے میں ان میں سے بہت سے عقیدے پڑھانے میں کامیاب ہوچکا تھا ، میں نے اپنی یادداشتیں کتابی صورت میں مرتب نہیں کی تھیں ج تک سب کی رسائی ہوسکے بلکہ یہ یادداشتیں بھی میرے ان لکچروں کی طرح پڑی رہیں جو میں نے اس زمانے میں تیار کیے تھے، آخر ایک مدت دراز کے بعد میں نے انہیں ایک مختصر کتاب کی شکل میں باقاعدہ مرتب کیا تاکہ یہ لوگوں تک پہنچے اور وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے ذریعے سے شیعہ امامیہ پر لگائے جانے والے بہت سے الزامات دور ہوسکیں، بالخصوص ایسی حالت میں کہ مصر اور دوسرے ممالک می بعض معاصر اہل قلم اپنی تندوتیز تحریروں سے شیعوں اور شیعوں کے اعتقادات پر حملے کرتے ہیں۔ ان کے حملے یا تو اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ اہلبیت ؑ کے طرز فکر اور تعلیم سے ناواقف ہیں یا وہ جان بوجھ کر انجان بنتے ہیں۔

یہ لوگ حقیقت سے گریز کرکے اور بات بڑھا کر جوکہ نادانی نتیجہ ہوتا ہے اپنی کتابوں کے پڑھنے والوں میں مسلمانوں کے تفرقے اور اختلافات کا ذکر کرتے ہی اور اس طریقے سے مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف مسلمانوں کے دلوں میں دشمنیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ انہیں آپس میں ایک دوسرے کی جان کا گاہک بھی بناتے ہیں۔

ہر زمانے میں بالخصوص آجکل اگر ہم مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور ان سب کو ایک پرچم تلے جمع کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تو بھی کسی باخبر انسان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے گروہوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے ، انہیں باہم ملانے اور ان کی عداوتوں اور کینوں کو رفع کرے کی کتنی ضرورت ہے۔

میں یہ تجویز تو پیش کرتا ہوں لیکن یہ جانتے ہوئے افسوس بھی ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد سے متعلق ان تجویزوں میں سے کسی ایک تجویز کو بھی عملی جامہ پہنانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ موجودہ حالت میں جب کہ مصر کے اہل قلم مثل ڈاکٹر احمد امین اور ان جیسے دوسرے لوگ تفرقے کو یوں ہوا دیتے ہیں کہ شیعہ امامیہ کے عقائد کی تشریح اور انہیں ان کی نام نہاد غلطیوں سے مطلع کرنے کے بہانے سے صرف اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔

اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ کچھ لوگ ان کہ تحریروں سے دھوکا کھا جائیں گے اور ان کی بے بنیاد باتیں ان لوگوں پر اثر ڈالیں گی۔ یا شیعوں سے ان کی دشمنی کا اظہار کینے ، جھگڑے اور اختلافات میں اشتعال پیدا کرے گا تو ان مصنفوں اور ان کے علاوہ بعض دوسروں کی مسلسل معاندانہ کوششیں میرے نزدیک کچھ اہمیت نہ رکھتیں۔

بہر حال اس مجموعے کو اشاعت کے لیے پیش کرتے وقت امیدوار ہوں کہ یہ مجموعہ

ان لوگوں کے لیے جو حقیقت کی تلاش میں ہیں فائدہ مند ہوتا کہ میں اس مفید اسلامی

خدمت میں بلکہ اس عام انسانی خدمت میں شریک ہوسکوں۔

اس کتاب کو میں نے چند اَبواب میں تقسیم کر دیا ہے اور صرف خداوند عالم سے اِمداد کا طالب ہوں

۔ مُحَمّد رَضَا مُظفّر

۲۷ ۔ جمادی الاول ۱۳۷۰ ھ


پہلا باب

ابتدائی باتیں

عقیدے کے اصولوں پر غور کرنا واجب ہے

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا نے ہمیں سوچنے کی قوت اور عقل کی طاقت دے کر ہم پر لازم کر دیا ہے کہ ہم اس کی مخلوقات کے متعلق سوچیں، بڑے غور سے اس کی خلفت کی نشانیاں دیکھیں اور دنیا کی پیدائش اور اپنے جسم کی بناوٹ میں اس کی حکمت اور تدبیر کی پختگی کا گہرا مطالعہ کریں۔ جیسا کہ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے۔( سَنُرِیهِم اٰیٰتِنَا فِی الاٰفَاقِ وَفِی اَنفُسِهِم حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَهُم اَنَّهُ الحَقُّ

) ہم بہت جلد دنیا کی اور ان (انسانوں )کی پیدائش میں اپنی عظمت کی نشانیاں دکھائیں گے تاکہ ان پر یہ ظاہر ہوجائے کہ خدا ہی حق ہے۔ (سورہ حَم سجدہ ۔ آیت ۵۳ کا جزو)

ایک اور مقام پر خدا ان لوگوں کو جو اپنے بزرگوں اور پرکھوں کی پیروی کرتے ہیں

ملامت کرتے ہوئے فرماتا ہے:

( قَالُوا بَل نَتَّبِعُ مَااَلفَینَا عَلَیهِ اٰبَاءَنَااَوَلَوکَانَ اٰبَاؤُهُم لاَ یَعقِلُونَ شَیئًا ) ۔۔۔

انہوں نے کہا ، ہم اس طریقے پر چلتے ہیں جس پر ہم نے اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے ۔ تو کیا ان کے بزرگ کچھ بھی یہ سمجھتے ہوں پھر بھی (وہ پیروی کے لائق ہیں)؟ (سورہ بقرہ ۔ آیت ۱۷۰ کا جزو)

اسی طرح خدا ایک دوسرے مقام پر ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو اپنے گمان اور مبہم اندازوں پر چلتے ہیں :( اِن یَّتَبِعُونَ اِلَّاالظَّنَّ ) ۔

(گمراہ اور مشرک لوگ) صرف گمان پر چلتے ہیں۔ (سورہ انعام ۔ آیت ۱۱۷ کا جزو)

حقیقت میں ہمارا یہ عقیدہ ہماری عقل کا حکم ہے جو ہم سے یہ چاہتی ہے کہ ہم اس پیدا ہونے والی دنیا کے متعلق سوچیں اور اس راستے سے خالق کو پہچانیں۔ اسی طرح وہ ہمیں حکم دیتی ہے کہ ہم اس شخص کی دعوت پر غور کریں جو پیغمبر کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے معجزوں کا مطالعہ کریں۔ ان باتوں میں ہمارے لیے دوسرو کی پیروی مناسب نہیں چاہے وہ کتنے ہی اونچے مرتبے کے مالک ہوں۔

قرآن میں علم و معرفت کی پیروی اور غور و فکر کے متعلق جو ترغیب دلائی گئی ہے وہ حقیقت میں سوچ بچار کی اس پختگی اور آزادی کا بیان ہے جس پر تمام عقلمند لوگ متفق ہیں۔ در حقیقت قرآن مجید حقیقتوں کو پہچاننے اور ان کو سمجھنے کی اسی قدرتی صلاحیت سے ہماری روحو کو آگاہ کرتا ہے اور ذہنوں کو تحریک دے کر عقل کے فکری تقاضوں کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے اس لیے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ انسانی اعتقادی معاملات میں بے پروا رہے اور اپنے لیے کسی ایک راستے کا انتخاب نہ کرے یا اپنے تربیت دینے والوں کی یا ہر شخص کی پیروی کرنے لگے بلکہ عقل کی فطری آواز کے مطابق جس کی تائید قرآن مجید کی واضح آیتوں سے بھی ہوتی ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ سوچے سمجھے اور عقیدوں(۱) کے اصول کا جنہیں اصول دین کہتےہیں بہت دھیا سے مطالعہ کرے۔ ان میں سب ہم توحید(۲) ، نبوت، امامت اور قیامت ہیں۔

جس شخص نے ان اصولوں میں اپنے بزرگوں یا دوسرے لوگوں کی پیروی کی ہے وہ یقیناً غلطی کر بیٹھا ہے اور سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے اسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔

اس معاملے میں ہمارے عقیدے کا خلاصہ صرف دو باتیں ہیں:

۱: ۔ اصصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ل دین کے پہچاننے میں خود تفکر و تدبر کرنا ضروری ہے۔ اس بارے میں کسی شخص کے لیے بھی دوسروں کی پیروی جائز نہیں ہے۔

۲: ۔ غور و فکر کے ذریعے سے اصول دین کی پہچان۔۔۔۔۔ حکم شروع سے بھی پہلے ۔۔۔۔ عقل کے حکم کے مطابق واجب ہے، زیادہ صاف الفاظ میں یوں کہیے کہ اگرچہ تحریریں اور روایتیں عقلی دلیل کی تائید کرتی ہیں مگر اصول دین کی پہچان کو واجب ثابت کرنے کے لیے ہم دینی کتابوں اور روایتوں کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کرتے۔

اصول دین کی پہچان کو عقل کی رو سے واجب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ عقل اصول دین کی پہچان کی ضرورت اور اس معاملے میں سوچ و بچار اور غور و خوض کی ضرورت صاف صاف سمجھ لیتی ہے۔

____________________

(۱) جو کچھ اس کتاب می مذکور ہے ۔ یعنی اصول عقائد ۔ متذکرہ بالامنعوں میں نہیں ہے، بعض عقائد جو اس کتاب میں موجود ہیں مثلاً قضا و قدر اور رجعت وغیرہ ، ان امور میں فکر اور عقلی تحقیق ضروری نہیں ہے بلکہ یہ جائز ہے کہ ایسے علماء کی پیروی کی جائے جو اس قسم کے اعتقادات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اہلبیت رسول ؑ کی صحیح روایات سے سمجھ کر ہیمیں بتائیں۔

(۲) عدالت چونکہ خدائے حکیم سے جدا نہ ہونے والی ایک صفت ہے اس لیے مصنف نے یہاں اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کا بیان صرف تقابلی مطالعے کے وقت ضروری ہوتا ہے (ناشر)


فروعی اور عملی مسائل میں پیروی کی اجازت

اس کے برعکس ""فروع دین "" (عمل سے تعلق رکھنے والے احکام اور قوانین) میں یہ واجب نہیں ہے کہ ہر مسلمان ان کو سوچ بچار اور دلیلوں سے سمجھے بلکہ (جب کوئی بات دین کی طے کی ہوئی اور لازمی باتوں مثلاً نماز، روزہ اور زکات وغیرہ کے وجوب میں سے نہ ہو تو) مندرجہ ذیل تین طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کرلینے کی آزادی ہے

۔۔۔۔۔۔ ۱ ۔۔۔۔۔ اجتہاد کا درجہ اور اس درجے کی لیاقت حاصل کرکے دلیل اور مباحثے کے ذریعے سے ان احکام تک پہنچے۔

۔۔۔۔۔۔۔ ۲ ۔۔۔۔۔۔ اپنے اعمال میں احتیاط کے مطابق چلے اس طرح کی احتیاط کے موارد سے واقف ہو مثلاً تمام مجتہدوں کے فتوے جمع کرکے جس بات پر اسے یقین ہوجائے اس کا فرض ہے کہ اسے انجام دے(۱)

۔۔۔۔۔۔۔ ۳ ۔۔۔۔۔۔ ایسے مجتہد کی تقلید کرے جو جامع الشرائط ہو یعنی عاقل و عادل ہو اور گناہوں سے بچتا ہو۔ اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو، نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتا ہو اور اپنے مولا (خدا) کا حکم ماننے والا ہو۔

اگر کوئی شخص نہ مجتہد ہو نہ احتیاط پر عمل کرتا ہو اور نہ کسی جامع الشرائط مجتہد کی تقلید میں ہو تو اس کی تمام عبادتیں ارکات جائیں گی اور قبول نہیں ہوں گی چاہے اس نے اپنی پوری عمر عبادت اور نماز روزے میں گزاری ہو بجز اس صورت کے کہ اس کے پچھلے اعمال اس مجتہد

____________________

(۱) اگر مجتہدوں کے فتووں میں اختلاف پایا جائے یعنی بعض کسی عمل کو واجب جانتے ہوں اور بعض مستحب تو احتیاط یہ ہے کہ اس عمل کو بجا لایا جائے لیکن اگر بعض کہیں کہ فلاں عمل مکروہ ہے اور بعض کہیں کہ حرام ہے تو احتیاط یہ ہے کہ اس عمل کو انجام نہ دیا جائے۔ مزید برآں اگر بعض مجتہدین کسی عمل کو واجب کہیں اوربعض حرام کہیں تو اس صورت میں چونکہ احتیاط ممکن نہیں ہے ۔ اور کسی عمل کے کرنے یا نہ کرنے سے فرض کی ادائیگی کا یقین حاصل نہیں ہوگا لہذا ایسی صورت میں اجتہاد یا تقلید کرنا واجب ہے۔ (ناشر)

کے فتوے کے مطابق ہوں جس کی وہ بعد میں تقلید کر لیتا ہے اور اس نے ان (اعمال عبادت ) کے انجام دیتے وقت واقعی قصد قربت (خدا کے لیے اعمال کی انجام دہی) کا خیال کیا ہو۔


اَجتِہاد

ہمارا عقیدہ ہے کہ فروعی مسائل میں اجتہاد تمام مسلمانوں پر واجب اور غیبت (امام آخر الزمان علیہ السلام کی عدم موجودگی ) کے زمانے میں ""واجب کفائی"" ہے ۔ یعنی جب کافی تعداد میں لوگ اس فرض پ رکمر بستہ ہوجاتے ہیں اور اجتہاد کا منصب حاصل کرلیتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر اجتہاد و اجب نہیں رہتا ۔ باقی لوگ انہیں پر اکتفا کرلیتے ہیں اور فروع دین اور اعمال کے قوانین اور اصولوں میں انہیں مجتہدوں کی تقلید کرتے ہیں جو اجتہاد کی شرائط پوری کرتے ہیں۔

ہر زمانے میں مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں، جس وقت ان میں سے کچھ لوگوں نے درجہ اجتہاد حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ اجتہاد کے منصب پر پہنچ گئے۔ (اس لیے کہ ہر شخص ، سوائے اس کے جو اس کی صلاحیت رکھتا ہو، اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا) اور انہوں نے اس اہلبیت کی شرائط پوری کردیں کہ لوگ ان کی تقلید کریں تو پھر وہ دینی اعمال اور احکام میں ان کی طرف رجوع کریں اور ان کی تقلید کریں اور جب ایسے افراد نہ مل سکیں تو خود مقام اجتہاد حاصل کرنے کی کوشش کریں اور جب اس کا حصول بھی سب کے لیے ممکن نہ ہو یا بہت زیادہ مشکل ہو تو اپنے گروہ میں سے کچھ لوگوں کو مقام اجتہاد حاصل کرنے کے لیے آمادہ کریں۔ لیکن یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے کہ اس فرض کو یوں ہی چھوڑ دیں اور مرحوم مجتہدوں کی تقلید کرتے رہیں۔

اسلام کے وہ فروعی احکام اور مقررہ اعمال جو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لائے ہوئے ہیں، انہیں شرعی دلیلوں پر خوب غوروفکر کرکے سمجھنے اور ان پر عبور حاصل کرنے کو اجتہاد کہتے ہیں، یہ احکام زمانے اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ بدل نہیں سکتے بلکہ

حَلاَلُ مُحَمَّدٍ حَلاَلٌ اِلیٰ یَومِ القِیَامَةِ

وَحَرَامُ مُحَمَّدٍ حَرَامٌ اِلیٰ یَومِ القِیَامَةِ

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بتایا ہوا حلال قیامت کے دن تک حلال اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بتایا ہوا حرام قیامت کے دن تک حرام رہے گا۔

اِجتہاد کے مَآخِذ

۱: ۔ قرآن مجید

۲: ۔ سنت (رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمَّہ اہلبیت ؑ کے اقوال و افعال)

۳ ۔ اجماع

۴ ۔ عقل

ان میں سے ہر ایک کے ماخذ و مدرک بننے کی تشریح اصول فقہ کی کتابوں میں کی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ مقام اجتہاد کا حاصل کرنا بہت سے علوم و معارف کا محتاج ہے جن کا حاصل کرنا صرف انہیں لوگوں کے لیے ممکن ہے جو بہت زیادہ محنت اور کوشش کرتے ہیں اور اس راہ میں اپنا پورا زور لگادیتے ہیں۔

مَجتَہِد :۔ مرجع تقلید

تقلید کے لیے جملہ شرطیں پوری کرنے والے مجتہد کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ امام ؑ کی غیبت کے زمانے میں ایک طرح ان کا نمائندہ اور قائم مقام ہوتا ہے، وہ حاکم اور مطلق سربراہ ہے (تفصیل کے لیے آیت اللہ خمینی کی کتاب ولایت فقیہ ملاحظہ فرمائیں) قضاوت اور حوادث میں آخری حکم لگانے اور فرمان جاری کرنے میں جو کچھ امام ؑ کے لیے جائز ہے وہی اس کے لیے بھی جائز ہے جو کوئی ایک جامع شرائط مجتہد کی تردید کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے اس نے امام ؑ کی تردید کردی ہے اور امام ؑ کی تردید کرنا خدا کی تردید کرنا ہے اور یہ کام خدا کے ساتھ شرک کرنے کی حد میں آتا ہے امام جعفر صادق ؑ نے یہ بات اسی طرح سمجھائی ہے ۔

اس بنا پر مجتہد کا مقام صرف یہی نہیں ہے کہ لوگ فتوے لینے کے اس کی طرف رجوع کریں بلکہ وہ ولایت عامہ کا منصب بھی رکھتا ہے (یعنی حالات کے متعلق آخری حکم اور فیصلے کے لیے لوگ اس کے پاس آئیں) اور یہ اس کے خصوصی مقامات میں سے ایک مقام ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کے لیے یہ عہدہ داری بالکل اسی طرح جائز نہیں ہے ۔ جس طرح اس کے حکم کے بغیر ""حدود"" اور ""تعزیرات" کا جاری کرنا روا نہیں ہے۔

وہ اموال جن پر امام علیہ السلام کا حق ہے ان کے خرچ کے بارے میں بھی مجتہد سے پوچھا جاتا ہے ۔ عوام کی یہ سرداری اور یہ منصب خود امام ؑ نے جامع الشرائط مجہتد کے سپرد کیا ہے تاکہ مجہتد کےسپرد کیا ہے تاکہ مجتہد ان کی غیبت کے زمانے میں ، ان کا نمائندہ اور قائم مقام قرار پائے۔ اسی لیے مجہتد کو "نائب امام"" کہا جاتا ہے۔


دوسرا باب

خدا کی پہچان

خدا کے بارے میں

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خدا ایک ہے اور بے مثل ہے، وہ ہمیشہ تھا اور اب بھی ہے، وہ اول و آخر ہے یعنی کائنات سے پہلے بھی تھا اور کائنات کے خاتمے کے بعد بھی رہے گا۔ وہ زندہ ، عقلمند، طاقتور بے نیاز، سننے والا، دیکھنے والا، جاننے والا اور انصاف کرنے والا ہے، لوگ جن الفاظ سے مخلوقات کی تعریف کرتے ہی اس کی توصیف نہیں کرسکتے، وہ جسم نہیں ہے جو جگہ گھیرے ، نہ اس کی کوئی شکل و صورت ہے، وہ نہ جو ہر ہے (جوہر سے مراد وہ شے ہے جس می اَبعادِ اربعہ یعی لمبائی، چوڑائی، گہراءی اور وقت پائے جائیں مثلاً پتھر ، لکڑی اور گائے وغیرہ)نہ عرض ، (عرض سے مراد ہے کسی شے پر طاری ہونے والی طرح طرح کی کیفیات مثلاً رنگت، نرمی اور سختی وغیرہ)یعنی اس کے متعلق حرکت سکو ن بھاری پن ، ہلکے پن، چال، ٹھیراؤ، جگہ اور وقت کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کی طرف اشارہ ہی کیا جاسکتا ہے وہ اپنا مثل ، مقابل ، مانند ، بیٹا، ساتھی اور ساجھی نہیں رکھتا۔ کو ۴ ی اس جیسا نہیں ہے ، آنکھی اسے نہیں دیکھ سکتیں لیکن وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے ۔

جو کوئی خلقت میں خدا کا شریک مانے یا اس کے لیے شکل ہاتھ اور آنکھ کا تصور کرے یا یہ مانے کی خدا دنیا کے آسمان پر اترتا ہے بہشت والوں کے سامنے چاند کی طرح ظاہر ہوتا ہے، وہ شخص ایسے انسان کی طرح ہے ، جس نے کفر کیا اور خدا کو۔۔۔۔ کو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے ۔۔۔۔ نہیں پہچانا۔(اسی طرح جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ خدا قیامت کے دن اپنے آپ کو اپنی مخلوق کے سامنے ظاہر کرے گا اور اس کے بندے اسے دیکھیں گے انہوں نے کفر کیا، چاہے وہ زبان سے یہ کہتے رہیں کہ خدا جسم نہیں رکھتا، انسانوں کا یہ گروہ قرآن یا حدیث کے بعض لفظوں کے ظاہر پر رک گیا ہے یا اکتفا کر بیٹھا ہے اور ان لوگوں نے قرآنی آیات سمجھنے می سوچ بچار کی قوت سے بالکل کام نہیں لیا، نتیجہ یہ نکلا کہ یہ غلط سوچ اس بات کا سبب بن گئی کہ اب یہ قرآنی آیات کے ظاہر میں اتنا سا تصرف کرنے (یعنی حقیقی اور مجازی معنوں می تمیز) کی بھی قوت نہیں رکھتے کہ انہیں خیال ، دلیل اور قواعد کے مطابق ""استعارہ"" اور ""مجاز"" کہہ سکیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سوچنے کے اس انداز ، جمود، کی بنا پر قرآ مجید کے حقیقی معنیٰ نہیں سمجھ سکتے)

ہم چاہے کسی چیز کا تصور ذہن میں لائیں اور اس پر خوب غور بھی کریں لیکن ذہن میں جو تصویر ابھرتی ہے وہ ہماری ہی طرح کی مخلوق ہوتی ہے اور اس کی ہستی ہماری ہی ہستی کی طرح ہوتی ہے ۔ امام باقر ؑ نے اس بات کو اس طرح سمجھایا ہے۔

اس بات کی کتی فلسفیانہ ، علمی ، نازک اور جچی تلی تشریح ہوئی ہے؟

تَوحِید

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا ہر طرح سے یقیناً ایک ہے۔ جس طرح وہ اپنی ذات کے لحاظ سے ایک ہے، اسی طرح ""واجب الوجود"" ہونے کے اعتبار سے بھی ایک ہے کیونکہ خدا کی صفات اس کی عین ذات ہوتی ہیں (جیسا کہ ہم اس بات کا مطلب سمجھائیں گے) وہ اپنی ذاتی صفات میں اپنا مثل اور مانند نہیں رکھتا یعنی علم اور قدرت میں لاثانی ہے اور خالق اور رازق ہونے کی صفات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ تمام خوبیو میں بے مثل ہے۔

اسی طرح خدا کی ذاتی اور صفائی توحید پر ایمان رکھنے کے بعد ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا کی عبادت میں بھی توحید ہے ، اس لیے خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ ہم کسی کو خدا کے ساتھ اس کی عبادت میں (عبادت کی کوئی سی قسم ہو) اس کا شریک بنائیں ، چاہے واجب عبادت ہو چاہے غیر واجب، نماز میں یا نماز کے علاوہ دوسری عبادتوں میں

(جو شخص اپنی عبادت میں خدا کے ساتھ غیر خدا کو بھی شریک کرے گا وہ مشرک ہوگا، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنی عبادت میں فریب دیتا ہے اور غیر خدا کی نزدیکی چاہتا ہے ، ایسا آدمی شرع مقدس اسلام کی رو سے بت پرست کی طرح ہے اور ان دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (ناشر)

اس کے ساتھ ہی یہ بھی جان لینا چاہیے کہ قبروں کی زیارت اور غم منانے کی مجلس قائم کرنا ایک بات ہے اور عبادت میں غیر خدا سے نزدیکی چاہنا دوسری بات اس لیے کہ اعمال کی یہ قسم خدا کے لیے ایسے تقرب کی قسموں می سے ہے جو اچھے اعمال کے ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے جیسے بیمار کی خیرت پوچھنا، جنازے کے ساتھ ساتھ چلنا، ہم مذہبوں سے ملاقات کرنا اور حاجت مندوں کی مدد کرنا۔

مثال کے طور پر بیمار کی مزاج پرسی ایک نیک کام ہے جس کے وسیلے سے خدا کا نیک بندہ خدا کی نزدیکی چاہتا ہے ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ مریض کی عیادت خودع اس سے نزدیکی کے لیے ہو اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ عبادت غیر خدا کی ہو یا ہم خدا کو غیر خدا کے ساتھ عبادت میں شریک کرلیں اسی طرح قبروں کی زیارت، عزاداری کی مجلسیں برپا کرنا ، جنازے کے ساتھ چلنا اور ہم مذہب بھائیوں کی ملاقات وغیرہ کو بھی دوسرے اچھے اعمال کی طرح سمجھنا چاہیے۔ (ہم نے جو یہ کہا ہے کہ قبروں کی زیارت اور سوگ کی مجالس قائم کرنا شریعت کے اعمال ہیں تو یہ امر علم فقہ میں ثابت ہوچکا ہے ۔ چنانچہ یہاں ان پر بحث و تمحیص کی ضرورت نہیں ہے۔ اس جگہ ہمارا مقصد صرف یہ سمجھا دینا ہے کہ یہ اعمال ہرگز ہر گز خدا کی عبادت میں شرک کے مثل نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں) (ناشر)

جن سے خدا کا تقریب مقصود ہوتا ہے نہ کہ غیر خدا (مریض ، میت اور سوگوار) کا تقریب۔

اماموں کی قبروں کی زیارت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کے نام اور طریقے کو زندہ کیا جائے، ان کی یاد تازہ کی جائے اور خدا کے شعائر کا احترام کیا جائے جیسے وہ قرآن مجید میں فرماتا ہے

( وَمَن یُّعَطِّم شَعَآئِرَاللهِ فَاِنَّهَا مِن تَقوَی القُلُوبِ ) ۔

جو شخص اللہ تعالی کے شعائر اور نشانیوں کو بزرگ سمجھتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے تو ایسا کام دلوں کی پاکیزگی کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ (سورہ حج ۔ آیت ۳۲)

شریعت کی رو سے اس قسم کے تمام کاموں کی نیکی اور شائستگی ثابت ہے، جب انسان یہ اعمال خدا کے تقرب کے خیال سے بجالاتا ہے اور ان کے وسیلے سے خدا کی خوشنودی چاہتا ہے تو اسے اس کا انعام بھی ضرور ملے گا۔

خدا کی صفات

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خدا کی حقیقی ثبوتی صفات جنہیں ، کمال اور جمال کی صفات کہا جاتا ہے مثلاً علم ، قدرت، بے نیازی، ارادہ اور حیات خدا کی عی ذات ہیں، اس کی ذات سے الگ اور اضافہ نہیں ہیں، ان کا وجود خدا کی ذات کا ہی وجود ہے۔ اس لحاظ سے خدا کی قدرت ۔۔۔۔ اس کی ہستی کے نقطہ نظر سے ۔۔۔۔۔ وہی خدا کی حیات ہے اور خدا کی حیات وہی اس کی قدرت ہے۔ بلکہ خدا قادر ہے کیونکہ زندہ ہے اور زندہ ہے کیونکہ قادر ہے۔ خدا کی صفات میں دوئی نہیں ہے۔ چنانچہ خدا کی تمام کمال اسی طرح ہیں۔

البتہ معنیٰ ومطلب کے لحاظ سے ان صفات میں باہمی اختلاف ہے (مثلاً خدا کا علم اس کی قدرت سے الگ ہے) لیکن یہ صفات وجود کی نظر سے ایک ہیں کیونکہ اگر وہ صفات یا ہستی کے لحاظ سے الگ الگ ہوں اور یہ فرض کر لیا جائے کہ خدا کی صفات اس کی ذات کی طرح قدیم اور واجب ہیں (یادر رہے کہ علم کلام کی اصطلاح میں : جن چیزوں کی ہستی ناممکن ہو انہیں ممتنعُ الوجود کہتے ہیں، اور جو موجودات پہلے نہ ہوں اور بعد میں وجود میں آئیں انہیں ممکن والوجود کہتے ہیں اور وہ وجود جو قدیم و ازلی ہو اور ہر نقص و عیب سے پاک ہو اس کو واجب الوجود کہتے ہیں) (ناشر) تو یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ واجب الوجود بھی بہت سے ہوں اور پھر خدا کی ذات کی حقیقی وحدت ختم ہوجاتی ہے اور یہ بات خدا کی وحدانیت کے عقیدے کے خلاف جاتی ہے۔

خدا کی بعض صفات جو ثبوتی، اضافی اور نسبی ہیں مثلاً خدا کی خالقیت (پیدا کرنا) رازقیت (رزق دینا) تقدیم (قدیم ہونا) اور علیت (خدا کا تمام مخلوقات کی علت ہونا) یہ دراصل صرف ایک حقیقی صٖت میں جمع ہوجاتی ہیں جس کا مطلب تمام موجودات کے لیے خدا کا ""قَیِّم"" (اللہ تبارک و تعالی قیوم ہے یعنی تمام موجودات کا تکیہ اور بھر و ساہر وقت خدا پر ہے اور ہر وقت اس کی ہستی کے سہارے پر اپنی ہستی قائم رکھے ہوئے ہیں) ہونا ہے اور یہ قیومت ایک ایسی اکہری صفت ہے جس سے بہت سی صفات (مثلاً خالقیت اور رازقیت وغیرہ) منتزع ہوتی ہیں اور یہ انتزاع آثار اور تناسب کے لحاظ سے ہے۔

خدا کی تمام سلبی صفات کو جلالی صفات بھی کہتے ہیں یہ تمام صفات خدا کے ممکن الوجود ہونے کی نفی کرتی ہیں یعنی خداوند عالم ممکن الوجود کی صفات مثلاً جسم ، کیفیت ، حرکت، سکون، بھاری پن، ہلکاپن وغیرہ نہیں رکھتا بلکہ ہر نقص سے پاک ہے۔ خدا کا ممکن الوجود نہ ہونا دراصل اس کا واجب الوجود ہونا ہے اور خدا کا واجب الوجود ہونا بھی صفات ثبوتی میں سے ہے ۔ اس طرح صفات سلبی صفات ثبوتی کی طرف پلٹ آتی ہیں (صفات ثبوتی بن جاتی ہیں)۔ خدا ہر اعتبار سے ایک ہے ۔ اس کی پاک ذات میں کسی قسم کی کثرت نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ حقیقت میں خدائے واحد مرکب نہیں ہے۔

بعض لوگوں کی یہ بات نہایت حیرت انگیز ہے جو کہتے ہیں کہ خدا کی صفات ثبوتیہ اس کی صفات سلبیہ کی طرف پلٹ آتی ہیں، یعنی صفات سلبیہ بن جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس بات کے کہنے والے اس جملے کے معنی کہ ""خدا کی صفات اس کی عین ذات ہیں"" نہیں سمجھ سکے ہیں ۔ اس لیے انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ تمام صفات ثبوتیہ کے معنیٰ سلب و نفی کی صورت سے نکالے جائیں تاکہ خدا کی ذات کی اکائی اور اس کی کثرت کا نہ ہونا ثابت ہوجائے لیکن انہیں یہ خبر نہیں ہے کہ اس بات سے مطلوبہ نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ اس صورت میں ہم خدا کی پاک ذات کو جو عین وجود اور صرف وجود ہے۔ اور ہر قسم کے نقص اور امکان سے پاک ہے عین عدم اور نفی محض ٹھرا دیں گے ۔ خدا ہمیں خیالوں اور قلموں کی نعزشوں سے بچائے رکھے۔

اسی طرح ان لوگوں کا عقیدہ بھی حیرت ناک ہے جو کہتے ہیں کہ ""خدا کی صفات اس کی ذات پر اضافہ ہیں"" ۔ اس کے نتیجے میں لوگ وجود قدیم (بے اول) کی کثرت کے قائل ہوگئے ہیں یعنی ان ہی ذات و صفات کو ملا کر ان کے کتنے وجودوں کو قدیم ماننا پڑا ہے اور انہوں نے واجب الوجود خدا کے متعدد شریک ٹھرائے ہیں یا یہ لوگ خدا کے مرکب ہونے کے قائل ہوگئے ہیں۔

خدا کو ایک ماننے والوں کے سردار امیرالمومنین امام علیؑ فرماتے ہیں:

وَکَمَالُ الاِخلاَصِ لَهُ نَفیُ الصِّفَاتِ عَنهُ

خدا کے متلعق اخلاص کامل یعنی توحید تنزیہی یہ ہے کہ ہم خدا کے لیے کسی صفت (یعنی ذات پر اضافے) کے قائل نہ ہوں (نہج البلاغہ ۔ پہلا خطبہ)

کیونکہ ہر صفت (جیسے انسان کے لیے علم )یہ گواہی دیتی ہے کہ وہ اپنے موصوف سے الگ ہے اور ہر موصوف یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت سے جدا ہے، جو شخص خدا کے لیے صفت (یعنی ذات پر اضافے) کا قائل ہوجاتا ہے وہ خدا کو ان صفات کے قریب اور ساتھ کر دیتا ہے اور جو خدا کو کسی شے کے قریب کر دیتا ہے اور وہ اسے ایک سے زیادہ فرض کر لیتا ہے اور جو اسے متعدد فرض کرلیتا ہے وہ اس کا تجزیہ کر دیتا ہے اور جو خدا کی پاک ذات کا تجزیہ کرتا ہے اس نے خدا کو نہیں پہچانا ہے۔

عدل الہٰی

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا کی ثبوتی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ""عادل"" ہے اور کسی پر ظلم نہیں کرتا، اپنی حکومت اور دادگستری میں کسی قسم کا ستم برداشت نہیں کرتا، اپنے احکام کی اطاعت کرنے والوں کو انعام دیتا ہے اور انصاف کرتا ہے ۔ وہ حق رکھتا ہے کہ گنہگاروں کو سزا دے۔ اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف (اطاعت کا حکم) نہیں دیتا اور ان کی سزاواری سے زیادہ انہیں سزا نہیں دیتا۔

ہمارااعتقاد ہے کہ خدائے بزرگ اچھا اور پسندیدہ کام اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک کہ اس سے زیادہ پنسدیدہ کام اسے اس کی انجام دہی سے روک نہ دے اور خدا برا کام بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ نیک کام کرنے اور برا کام چھوڑ دینے پر اختیار رکھتا ہے اور اچھے کام کی اچھائی اور برے کام کی برائی سے واقف ہے۔ اسے کوئی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ نیک کام نہ کرے اور برا کام کر ڈالے اور نیک کام سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا جس سے وہ اسے چھوڑ دینے پر مجبور ہوجائے اور نہ اسے برے کام کی حاجت ہے کہ اسے انجام دے۔ اس لحاظ سے خدا دانا و حکیم ہے اس لیے یقیناً اس کے تمام کام دانائی اور قدرت کے نہایت کامل نظام کے تحت انجام پاتے ہیں۔

اگر خدا ظلم یا برے کام کرے (اور وہ باتوں سے بری ہے)تو ا چار صورتوں میں سے کسی ایک صورت سے باہر نہیں ہے :۔

۱ ۔ خدا برے کام کی برائی سے واقف نہیں ہے

۲ ۔ برے کام کی برائی سے تو واقف ہے لیکن اسے کرنے پر مجبور ہے اور اسے چھوڑ دینے سے عاجز ہے۔

۳ ۔ برے کام کی برائی جانتا ہے اور اسے کرنے پر مجبور نہیں ہے لیکن اس کی انجام دہی کا محتاج ہے۔

۴ ۔ برے کام کی برائی جانتا ہے ، مجبور بھی نہیں ہے اور نہ اس کی انجام دہی کا محتاج ہے لیک خدا اس (طلم یا برے کام ) کو اپنے شوق، حماقت، شغل یا کھیل کے طور پر انجام دیتا ہے۔

خدا کے متعلق یہ تمام صورتیں ناممکن ہیں، کیونکہ یہ تمام کام خدا میں نقص کا سبب بنتے ہیں ، جب کہ خدا کی پاک ذات صرف کمال ہے نتیجہ یہ ہے کہ خدا ہر قسم کے ظلم اور برے کام سے بری ہے ۔

(اس حقیقت کے برعکس، مسلمانوں کے بعض فرقے خدا کے لیے برے کام انجام دینے کو جائز سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر انہوں نے کہا بھی ہے کہ یہ بالکل جائز ہے کہ خدا اپنی اطاعت کرنے والوں کو سزا دے اور گنہگاروں بلکہ کافروں کو بہشت میں بھیج دے اور یہ بھی جائز ہے کہ خدا اپنے بندوں کی برداشت سے زیادہ فرض ان پر عائد کردے اور اس کے ساتھ ساتھ اس فرض کو ترک کرنے پر انہیں عذاب میں مبتلا کر دے۔ یہ بھی جائز ہے کہ خداظلم و ستم ڈھائے ، جھوٹ بولے، فریب دے اور دانائی ، مقصد ، بھلائی اور کسی فائدے کے بغیر کام کرے، اس کی دلیل یہ ہے کہ خدا قرآ میں فرماتا ہے۔

لاَ یُسئَلُ عَمَّا یَفعَلُ وَهُم یُسئَلُونَ

خدا سے اس کے کاموں کی باز پرس نہیں ہوسکتی البتہ بندوں سے جواب طلبی ہوسکتی ہے (سورہ انبیاء : آیت ۲۳) ا(سے غلط عقیدے اور بے بنیاد خیالات رکھنے والے گروہ کے نزدیک خدا سے مراد ہے ظالم ، احمق ، بازی گر، جھوٹا، دھوکے باز، برا کام کرنے والا اور اچھا کام چھوڑ دینے والا لیکن خدا کی پاک ذات اس قسم کے نامناسب اتہاموں سے بری ہے۔ خدا پر یہ اتہامات خالص کفر بلکہ کفر کی بھی بدتری قسم ہیں)

خدا قرآن مجید کی واضح آیات میں فرماتا ہے

وَمَا اللهُ یُرِیدُ ظُماً لِّلعِبَادِ خدا اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا۔(سورہ مومن ۔ آیت ۳۱)

وَاللهُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ ۔ خدا فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ بقرہ ، آیت ۲۰۵)

اور فرماتا ہے :وَمَا خَلَقنَا السَّمَآءَ وَالاَرضَ وَمَا بَینَهُمَا لٰعِبِینَ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے تفریحاً پیدا نہیں کیا ہے۔ (سورہ ابنیاء ۔ آیت ۱۶)

اور فرماتا ہے :وَمَا خَلَقتُ الجِنّ َوَالاِنسَ اِلاَّلِیَعبُدُونِ ۔ہم نے انسانوں اور جنوں کو عبادت کرنے کے لیے پیدا کیا ہے ۔ (سورہ ذاریات ۔ آیت ۵۶)

(اور دوسری آیات ) اے خدائے بزرگ تو ہر نقص اور عیب سے پاک ہے اور تو نے اس پر اسرار کائنات کو بیکار ، فضول اور کسی مقصد کے بغیر پید انہیں کیا ہے۔

انسان اور فرائض

ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدائے بزرگ اپنے بندوں کو دلیلوں کے ذریعے سے اور سبب بتا کر مذہبی فرائض سے آگاہ کرتا ہے اور ان پر کوئی ایسا فرض بھی عائد نہی کرتا جو ان کی قوت برداشت سے باہر ہو کیونکہ کسی پر ایسا فرض عائد کرنا کہ وہ کسی عذر کے بغیر اس سے مطلع نہ ہوسکے، یا جس کے انجام دینے سے عاجز ہو قطعاً ظلم ہے، البتہ وہ شخص کو دینی فرائض اور احکام سیکھنے اور یاد کرنے میں کوتاہی کرتا ہے خدا کے سامنے جوابدہ ہوگا اور اس سے باز پرس ہوگی اور اس کوتاہی پر سزا ملے گی ، کیونکہ ہر انسان پر واجب ہے کہ اپنی ضرورت بھر کے دینی احکام سیکھ لے۔

ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدائے بزرگ دین کے احکام اور قوانی اور وہ باتیں جن میں بندوں کی بھلائی اور خوش بختی ہے بندوں تک پہنچاتا ہے اور ان فرائض کی تکمیل واجب کرتا ہے ، تاکہ اس ذریعے سے نیکی ، بھلائی اور اقبال مندی کے راستوں کی طرف ان لوگوں کی رہنمائی ہو اور فساد، تباہ کاری اور نقصان سے اور اس سے جو عاقبت کی خرابی کا سبب ہوسکتا ہے خبردار کرتا ہے ، اگرچہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ لوگ اطاعت نہیں کریں گے۔

وجہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے یہ رہنمائیاں بندوں پر اس کا لطف اور رحمت ہیں۔ بندے بھی اپنی دنیا و آخرت کی خوش بختی کے بیشتر طریقوں اور بھلائیوں سے ناواقف ہوتے ہیں اور ایسے بہت سے معاملات سے جو ان کے نقصان اور گھاٹے کا سبب ہیں بے خبر ہوتے ہیں لیکن خداوندعالم بخشنے والا مہربان ہے،یہ مہربانی اور شفقت اس کا مطلق کمال اور اس کی عین ذات ہے۔ اس صفت کا اس سے الگ ہونا ناممکن ہے اور خدا کا یہ لطف اور رحمت مسلسل اور جاودانی ہے جو کسی وقت ختم نہیں ہوتا اگرچہ اس کے بندے (جہالت ، عناد اور خواہشات کی بنا پر) اس کی اطاعت سے منہ موڑ لیں اور اس کے حکم سے سرتابی کریں (اور اپنے ہی ہاتھوں اپنی سعادت اور خوش بختی کی راہ مسدود کردیں)

قَضَا و قَدر

جو لوگ عقیدہ جبر کے قائل ہی وہ کہتے ہیں کہ خدا، انسان (اور باقی موجودات) کے کام خود کر دیتا ہے ۔ خدا ہی انسانوں کو گناہوں پر مجبور کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کو گناہ کرنے پر سزا بھی دیتا ہے! خدا انسان کا اطاعت کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی اس کو اطاعت کرنے کا انعام بھی عطا کرتا ہے۔ دراصل مُجَبِّرہ یہ کہتے ہیں کہ انسان کے کام تو خدا کرتا ہے۔ بس کاموں کی انجام دہی۔۔۔۔ مجاز کے طور پر ۔۔۔۔انسان سے منسوب کر دی جاتی ہے کیونکہ انسان کام کی انجام دہی کا ایک ذریعہ اور ایک سبب ہوتا ہے!

اس عقیدے کا نتیجہ موجودات میں علت اور معلول کے فطری تعلق سے انکار کرنا اور اس بات کا قائل ہونا ہے کہ سبب کا اصلی اور حقیقی پیدا کرنے والا خدا ہے۔ باقی دوسرے کسی سبب یا علت کا کوئی وجود نہیں ہے۔

اس عقیدے کے پیروکاروں نے اس وجہ سے موجودات میں فطری سبب کے رشتے سے انکار کر دیا ہے کہ ان کے گمان میں خالق (پیدا کرنے والے) اور بے شریک (تنہا) خدا پر ایمان رکھنے کا تقاضا یہی ہے لیکن ہمارے عقیدے کے مطابق اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو وہ خدا کو ظالم قرار دیتا ہے جب کہ خدا ظلم سے بری ہے۔

کچھ دوسرے لوگ جنہیں ""مفوضہ"" کا نام دیا گیا ہے یہ کہتے ہیں کہ خدا نے تمام اعمال انسان کو سونپ دیے ہیں اور ان اعمال سے اپنا اختیار اور ارادہ اٹھالیا ہے۔

اس عقیدے کے پیروکاروں کی دلیل یہ ہے کہ انسان کے اعمال کو خدا سے منسوب کرنا گویا نقص اور عیب کو خدا سے منسوب کرنا ہے جبکہ اعمال کا اصلی سبب موجودات اور انسان ہیں حالانکہ تمام اسباب پہلے سبب (مسبب الاسباب) کی طرف پلٹتے ہیں جو خدا ہے۔

ہمارے عقیدے کی رو سے جو شخص ایسا سوچتا ہے وہ خدا کو اس کی خود مختار سلطنت سے بے دخل کر دیتا ہے اور موجودات کے پیدا کرنے میں اس کے غیر کو اس کا شریک بنا دیتا ہے۔

البتہ شیعوں کا نظریہ ائمّہ اطہار ؑ کی پیروی میں یہ ہے کہ نہ پہلا راستا (جبر) صحیح ہے نہ دوسرا (تقویض) بلکہ مقصود ان دونوں راستوں کے بیچ میں ہے اور وہ ان دونوں نظریات کے بیچ میں ایک درمیانی راستا ہے اور اس قدر نازک اور باریک ہے کہ مجبرہ ، مفوضہ اور متکلمی میں سے مناظر کرنے والے بھی اس کو سمجھنے سے عاجز ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ افراط کے راستے کی طرف نکل گئے اور کچھ دوسرے تفریط کی راہ پر چل پڑے، علم اور فلسفے نے صدیاں بیت جانے کے بعد اس باریک بات (امر بین الامرین) پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس کا کھوج لگایا ہے۔

ہمیں ان لوگوں پر کوئی حٰرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ قول ""بین الامرین"" پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس کا کھوج لگایا ہے۔

ہمیں ان لوگوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہی کہ قول ""بین الامرین"" مغرب کے پچھلی صدی کے فلسفیوں کی دریافت ہے اور اسے ان ہی کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ آج سے دس صدی پہلے یہ بات ہمارے اماموں نے کہی تھی حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اس درمیانی راہ کی تشریح کرتے ہوءے اپنا یہ مشہور جملہ فرمایا تھا:

لاَجَبرَ وَلاَ تَفوِیضَ وَلٰکِن اَمرٌ بَینَ الاَمرَینِ یعنی کام میں نہ جبر ہے نہ تقویض بلکہ حقیقت ان دونوں کے بیچ میں ہےہمیں ان لوگوں پر کوئی حٰرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ قول ""بین الامرین"" پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس کا کھوج لگایا ہے۔

ہمیں ان لوگوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہی کہ قول ""بین الامرین"" مغرب کے پچھلی صدی کے فلسفیوں کی دریافت ہے اور اسے ان ہی کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ آج سے دس صدی پہلے یہ بات ہمارے اماموں نے کہی تھی حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اس درمیانی راہ کی تشریح کرتے ہوءے اپنا یہ مشہور جملہ فرمایا تھا:

لاَجَبرَ وَلاَ تَفوِیضَ وَلٰکِن اَمرٌ بَینَ الاَمرَینِ یعنی کام میں نہ جبر ہے نہ تقویض بلکہ حقیقت ان دونوں کے بیچ میں ہےہمیں ان لوگوں پر کوئی حٰرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ قول ""بین الامرین"" پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس کا کھوج لگایا ہے۔

ہمیں ان لوگوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہی کہ قول ""بین الامرین"" مغرب کے پچھلی صدی کے فلسفیوں کی دریافت ہے اور اسے ان ہی کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ آج سے دس صدی پہلے یہ بات ہمارے اماموں نے کہی تھی حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اس درمیانی راہ کی تشریح کرتے ہوءے اپنا یہ مشہور جملہ فرمایا تھا:

لاَجَبرَ وَلاَ تَفوِیضَ وَلٰکِن اَمرٌ بَینَ الاَمرَینِ یعنی کام میں نہ جبر ہے نہ تقویض بلکہ حقیقت ان دونوں کے بیچ میں ہےہمیں ان لوگوں پر کوئی حٰرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ قول ""بین الامرین"" پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس کا کھوج لگایا ہے۔

ہمیں ان لوگوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہی کہ قول ""بین الامرین"" مغرب کے پچھلی صدی کے فلسفیوں کی دریافت ہے اور اسے ان ہی کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ آج سے دس صدی پہلے یہ بات ہمارے اماموں نے کہی تھی حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اس درمیانی راہ کی تشریح کرتے ہوءے اپنا یہ مشہور جملہ فرمایا تھا:

لاَجَبرَ وَلاَ تَفوِیضَ وَلٰکِن اَمرٌ بَینَ الاَمرَینِ یعنی کام میں نہ جبر ہے نہ تقویض بلکہ حقیقت ان دونوں کے بیچ میں ہےہمیں ان لوگوں پر کوئی حٰرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ قول ""بین الامرین"" پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس کا کھوج لگایا ہے۔

ہمیں ان لوگوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی جو ائمّہ اہلبیت ؑ کی رمزیہ اور عاقلانہ باتوں سے بے خبر ہیں اور نہ ان کے اس گمان پر حیرت ہوتی ہے جو سمجھتے ہی کہ قول ""بین الامرین"" مغرب کے پچھلی صدی کے فلسفیوں کی دریافت ہے اور اسے ان ہی کی طرف نسبت دیتے ہیں، حالانکہ آج سے دس صدی پہلے یہ بات ہمارے اماموں نے کہی تھی حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اس درمیانی راہ کی تشریح کرتے ہوءے اپنا یہ مشہور جملہ فرمایا تھا:

لاَجَبرَ وَلاَ تَفوِیضَ وَلٰکِن اَمرٌ بَینَ الاَمرَینِ یعنی کام میں نہ جبر ہے نہ تقویض بلکہ حقیقت ان دونوں کے بیچ میں ہے،

اَمربَینَ الاَمرَین

واقعی مندرجہ بالاجملہ کس قدر بلند ہے اور کتنے باریک اور گہرے معنی رکھتا ہے اس کے معنی کا خلاصہ اس طرح پر ہے: ""ہمارے اعمال ایک طرح سے حقیقت میں خود ہمارے ہی اعمال ہیں۔ ہم ان کے وجود کا طبیعی سبب ہیں اور وہ ہمارے اختیار میں ہوتے ہیں لیکن دوسری طرح سے یہی اعمال خدا کی قدرت اور حکومت کے سائے میں انجام پاتے ہیں کیونکہ اسے وجود میں لانے والا اور عطا کرنے والا وہی ہے""

نتیجہ یہ ہے کہ خدا نے ہمیں ہمارے کاموں کے لیے مجبور نہیں کیا ہے جو ہم کہہ سکیں کہ وہ ہمارے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے ہمیں سزا دے کر ظلم کرتا ہے اس لیے کہ ہم اپنے اعمال پر اختیار رکھتے ہیں لیکن دوسری طرف اس نے اعمال کی انجام دہی پورے طور پر ہم پر بھی نہیں چھوڑی ہےکہ ہم ان اعمال کو اس کی حکومت اور قبضے سے باہر لے جاسکیں بلکہ خلقت اور حکومت اسی خدا کی ہے اور وہی تمام موجودات پر قبضہ و اختیار رکھتا ہے اور تمام بندوں کے کاموں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

بہر حال ہمارے عقیدے کی رو سے قَضَا اور قَدر خُا کے بھیدوں میں سے ایک بھیدے ہے۔ جو کوئی ان کو اچھی طرح اور ان کے صحیح صحیح معنوں میں گھٹائے بڑھائے بغیر انہیں سمجھے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ تو حقیقت تک پہنچ جائے گا اور جو ایسا نہیں کرسکتا اس کے لیے ضروری بھی نہیں ہے کہ وہ اس کے سوچنے، سمجھنے کی تکلیف کرے۔ کہیں ایسا نہ ہوکر سمجھنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث وہ غلطی اور گمراہی میں جاپڑے اور اپنا عقیدہ بھی خراب کر بیٹھے کیونکہ یہ حقیقت (امر بین الامرین ) بہت باریک اور گہری ہے بلکہ فلسفلے کے سب سے زیادہ باریک اور نازک مباحث میں سے ہے جسے صرف مخصوص اور چوٹی کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں علم کلام کے بہت سے دانشمندوں کے قدم ڈگمگا گئے ہیں چنانچہ عام لوگوں کو اس حقیقت (امر بین الامرین) کا پابند یا ذمے دار بنانا ان کی سمجھ سے زیادہ انہیں تکلیف دینا ہے۔ جو صحیح نہی ہے۔

اس لیے یہی کافی ہے کہ ان لوگوں میں سے ہر شخص ائمہ اطہار ؑ کی پیروی میں مختصر طور پر اعتقاد رکھے کہ : "" کام میں نہ جبر ہے نہ تفویض بلکہ حقیقیت ان دونوں کے درمیان ہے""۔

یہ مسئلہ اصول دین میں داخل نہیں ہے جس کا تمام شرائط کے ساتھ تفصیل سے گہرائی میں سمجھنا واجب ہو۔

(نوٹ:۔ تمام اشیاء اور ساری کائنات اپنے وجود اور بقا کے لیے ہر لمحہ خالق کی مدد کی محتاج ہیں اور اس کی رحمت سے ہر وقت ان کا تعلق قائم و دائم ہے اس بنا پر بندہ اپنے افعال میں نہ مجبور ہے نہ اسے کلی اختیار حاصل ہے۔ اختیار حاصل ہے۔ اختیار اور جبر دونوں سے اسے حصہ ملا ہے بندہ جب کسی کام کو کرنے یا نہ کرتے میں اپنی طاقت استعمال کرتا ہے گو وہ اپنے اختیار سے ایسا کرتا ہے لیکن یہ طاقت بھی اللہ ہی کی دی ہوئی ہے اور وہی اس کام کے لیے ضروری شرائط اور مناسب ماحول فراہم کرتا ہے اس لیے اس کام کو ایک لحاظ سے بندی کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے اور دوسرے لحاظ سے اللہ کی طرف ، قرآنی آیات میں اس نکتہ کا لحاظ رکھا گیا ہے اپنے افعال میں بندہ کے بااختیار ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کا اختیار غیر موثر ہوگئے۔

فرض کیجیےکہ کسی شخص کا ہاتھ مفلوج ہے وہ خود اسے حرکت نہیں دے سکتا لیکن ڈاکٹر بجلی کی مدد سے اس میں وقتی طور پر حرکت ارادی پیدا کرسکتا ہے جب بجلی کاتار اس کے ہاتھ سے جوڑ دیا جاتا ہے وہ اسے حرکت دینے پر قادر ہوجاتا ہے اور جب تار ہٹا دیا جاتا ہے تو وہ بالکل ہاتھ ہیں ہلاسکتا۔ اب اگر تجرباتی طور پر ڈاکٹر نے اس بیمار ہاتھ سے بجلی کا تار جوڑ دیا اور وہ شخص اس بجلی کی طاقت کی مدد سے جو اسے برابر پہنچ رہی ہے اپنے ہاتھ کو حرکت دینے اور اس سے کام لینے لگا تو اس صورت میں نہ تو ہاتھ کی حرکت کو پورے طور پر اس شخص سے منسوب کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ حرکت بجلی کی طاقت پر موقف ہے جسے ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ڈاکٹر ہاتھ تک پہنچا رہا ہے اور نہ ہی اس حرکت کو کلی طور پر ڈاکٹر سے منسوب کیا جاسکتا ہے کیونکہ مریض اپنے ارادے سے اپنے ہاتھ کو حرکت دیتا ہے اور وہ اس حرکت پر مجبور نہیں ہے لیکن اسے کلی اختیار بھی نہیں ہے کیونکہ اسے باہر سے مدد مل رہی ہے تو یہ صورت ہوئی جبر اور اختیار کے بین بین۔ وہ سب افعال جو انسانوں سے بحیثیت فاعل مختار سر زد ہوتے ہیں ان کی یہی نوعیت ہے فعل سرزد ہوتا ہے بندہ کی مشیت سے ، مگر بندہ کی مشیت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اللہ کی مشیت نہ ہو۔ سب قرآنی آیات میں اسی صورت کی طرف اشارہ ہے۔ آیت اللہ خوءی کی کتاب البیان سے ماخوذ۔ ناشر)

حقیقت بَدَاء :۔

(نوٹ ):۔فاضل مصنف نے اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے بداء کی تشریح نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ اس امر پر اعتقاد رکھنے کے سبب انسان کے مقدر پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے صرف لفظ بداء کے معنیٰ بتاکر شبہ کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب کبھی عالم احکام (قرآن و حدیث ) میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اسے نسخ کہا جاتا ہے اور جب کبھی عالم تکوین (کائنات) میں تبدیلی رونما ہوتی ہے تو اسے بداء کہا جاتا ہے ۔

درحقیقت لوح کی دو قسمیں ہیں :۔ ایک لوح محفوظ (یعنی ام الکتاب) ہے جس میں تمام باتوں کا تذکرہ ہے اور جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور سوائے خدا کے کسی کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ دوسری لوح محو و ثبت ہے جس میں ان باتوں کا تذکرہ ہے جو تمام کی تمام مشروط ہیں اور جن میں مصلحتوں کی بنا پر تبدیلی ہوتی رہیتی ہے ۔ اس کا کچھ علم خاصان خدا کو بھی ہوتا ہے مگر وہ اس کے شرائط و موانع سے آگاہ نہیں ہوتے مثلاً حضرت عیسیٰ ؑ یہ تو جانتے تھے کہ دلہن شب زفاف میں مرجائے گی مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ اس واقعہ کے ظہور پذیر ہونے کے لیے صدقہ نہ دینا شرط ہے چنانچہ اتفاقاً دلہن کی ماں نے خیرات دے دی اور وہ بچ گئی اور یہی بداء ہے۔

بداء کافائدہ یہ ہے کہ ایک تو انسانوں کی آزمائش ہوجاتی ہے اور دوسرے ان کی خوئے تسلیم پروان چڑھتی رہتی ہے حضرت ابراہیم ؑ کے امتحانات اس کی واضح دلیل ہیں۔ اگر بداء نہ تو دعا و تصدق ، شفاعت و توسل اور انبیاء و اولیاء کی گریہ و زاری کیے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ان بزرگوں کے لرزاں و ترساں ہونے کا سبب وہ علم مکنون ہے جس سے خدا کے سوا کوئی آگاہ نہیں اور یہی بداء کا سرچشمہ ہے۔ (ناشر)

جب لفظ بداء انسان کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کسی چیز کے متعلق ایک ایسی رائے پیدا کرے جس کا اظہار اس نے اس سے پہلے ہیں کیا تھا (یعنی جس کام کو کرنے کا اس نے ارادہ کیا تھا اسے اپنے دوسرے ارادے سے بدل دیا)

ارادے کی اس تبدیلی کی وجہ کچھ ایسے عوامل کا وجود میں آنا ہے جو اس کے خیالات اور نظریات کی تبدیلی کا باعث بنے۔ چنانچہ ایسے شخص کے لیے کہاں جاتا ہے کہ اسے بداء حاصل ہوگیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے کسی کام کو انجام دینے کا ارادہ کرنے کے بعد اسے ترک کرنے کا ارادہ کر لیا ہے خیالات و نظریات کی یہ تبدیلی مصلحتوں اور رازوں سے انسان کی بے خبری اور گزشتہ اعمال پر پچھتاوے کا باعث ہوتی ہے ۔ اس معنی میں بداء خدائے پاک کے لیے محال ہے کیونکہ وہ پاک ذات جہل اور نقص سے بری ہے اور شیعہ اثنا عشری اس معنی کو خدا سے نسب نہیں دیتے۔

امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا ہے : جو شخص یہ گمان کرے کہ خدا نے کسی چیز کے بارے میں پچھتا کر اپنا نظریہ بدل لیا ہے وہ ہمارے نزدیک کافر ہے ۔

امام ؑ نے مزید فرمایا:۔ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو یہ گمان کرے کہ خدا پہلے کسی چیز کے بارے میں نہیں جانتا تھا اور اب چونکہ جان گیا ہے لہذا اس نے اپنا نظریہ تبدیل کرلیا ہے (اعتقادات، صدوقؒ )

اس بارے میں ائمّہ طاہرین ؑ سے جو چند روایات مروی ہیں اور مخالفین نے جن کی غلط تعبیر کرکے بداء کے وہ معنی جو انسان کی نسبت میں استعمال ہوتے ہیں وہ خدا سے منسوب کرکے انہیں مشتبہ بنا دیا ۔ ان میں سے امام جعفر صادق ؑ کا ایک قول بطور مثال درج کیا جاتا ہے جس کی مخالفین نے غلط تعبیر کی ہے:

آپ نے فرمایا :مَا بَدَا اللهُ فِی شَیءٍ کَمَا بَدَاَلَهُ فِی اِسمَاعِیلَ ابنِی یعنی اللہ نے جیسی وضاحت میرے بیٹے اسمعیل کے (امام نہ ہونے کے ) متعلق فرمائی ہے ایسی وضاحت اور کہیں نہیں فرمائی۔

(بعض مخالفین نے امام ؑ کے اس قول کے معنی یوں بیان کیے کہ کسی چیز کے بارے میں اللہ کے نظریے می ایسی تبدیلی ظاہر نہیں ہوئی جیسی میرے بیٹے اسماعیل کے بارے میں ظاہر ہوئی۔

اس غلط معنی سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ خداوند عالم امام جعفر صادق ؑ کے بعد ان کے فرزند اسماعیل کو امام بنانا چاہتا تھا لیکن بعد میں اس نے اپنا سابقہ ارادہ بدل دیا (معاذ اللہ)

بعض مصنفین نے امام ؑ کے اسی قول سے غلط معنی اخذ کرکے اسی کی آڑ میں شیعوں کو گمراہ قرار دینے کی مذموم کوشش کی ۔ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ امام ؑ کے اس فرمان گرامی کے صحیح معنیٰ وہی ہیں جس کا ذکر سورہ رعد کی ۳۹ ویں آیت میں کیا گیا ہے:

( یَمحُواللهُ مَایَشَآءُ وَیُثبِتُ ، وَعِندَهُ اُمُّ الکِتَابِ ) :۔ خدا جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے۔

اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ خداوند عالم کسی بات کو اس مصلحت کی خاطر جو اس کے ظاہر کرنے میں ہوتی ہے، اپنے پیغمبر اور ولی کے ذریعے سے یا کسی اور طریقے سے ظاہر کردیتا ہے لیکن بعد میں اس کو مٹا دیتا ہے یا اس کی کاٹ کر دیتا ہے حالانکہ وہ اس بات کے تمام پہلوؤں اور مرحلوں کا کما حصہ علم رکھتا ہے اور واضح لفظوں میں کہنا چاہیے کہ اس کے حکم کے ظاہر کرنے کی مصلحت ایک خاص وقت تک رہتی ہے لیکن مقصد کی تبدیلی لاعلمی کی وجہ سے نہیں ہوتی)

اس کی بالکل صحیح مثال حضرت اسماعیل ؑ اور ان کے والد بزرگوار حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ ہے ۔ ایک وقت حضرت اسماعیلصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیکھا کہ (خدا کے حکم کے مطابق) ان کے والد حضرت ابراہیم ؑ ان کو قربان کرنا چاہتے ہیں لیکن عمل کے وقت حضرت ابراہیم ؑ سے یہ فرض اٹھالیا گیا۔ اس کی بنیاد پر امام جعفر صادق ؑ کے ارشاد کے معنی یہ ہیں:

خدا نے (حضرت امام جعفر صادق ؑ کے بیٹے )اسمٰعیل کے معاملے سے زیادہ اور کوئی معاملہ واضح نہیں کیا کیونکہ ظاہراً یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اسمعیل اپنے والد امام جعفر صادق ؑ کے سب سے بڑے بیٹے ہونے کی حیثیت سے والد بزرگوار کے بعد امام ہوں گے لیکن خدا نے ان کی موت بھیج دی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ امام جعفر صادق ؑ کے بعد امام نہیں ہیں""۔

دین اسلام کے مقابلے میں پچھلے ادیان کے احکام اور پیغمیبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں خود اسلام کے بعض احکام منسوخ ہونے کا مسئلہ انھی صحیح معنیوں کے قریب ہے جو ہم نے بداء کے متعلق یپش کیے ہیں۔

دین کے قوانین :۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا نے واجب اور حرام وغیرہ کے تمام دینی احکام اور قوانین بندوں کے لیے ان بھلائیوں کے مطابق جو ان اعمال کے اندر ہیں ، مقرر کردیئے ہیں جس عمل میں پوری بھلائی ہے خدا نے اسے واجب کردیا ہے اور جس عمل میں خرابی زیادہ ہے اس سے منع کر دیا ہے اور اس عمل کو جس میں پوری اور لازمی بھلائی نہیں ہے اسے مستحب قرار دیا ہے اور اسی طرح باقی احکام ہیں۔

یہ بات خدا کے عدل اور بندوں پر اس کے لطف کا نتیجہ ہے خدا ہر واقعے اور حادثے میں حکم جاری کرنے والا ہے ۔ اگرچہ بعض معاملات میں ہمیں خدائی احکام کی اطلاع نہیں ہو پاتی لیکن کوئی بات ایسی نہیں ہوتی جو حکم خدا سے خالی ہو۔

اس کی وضاحت یوں ہے کہ خدا ایسی بات کا حکم نہیں دیتا جس میں خرابی مضمر ہو اور نہ ایسی بات سے منع کرتا ہے جس کے انجام دینے میں بھلائی ہو۔ لیکن مسلمانوں کے بعض فرقے کہتے ہیں کہ برا کام وہ ہے جس سے خدا منع کرے اور نیک کام وہ ہے جس کا خدا حکم دے لیکن خود اعمال میں ذاتی بھلائی، برائی یا خوبی خرابی نہیں ہوتی۔

یہ عقیدہ یقیناً عقل اور سوچ کے فیصلے کے خلاف ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس غلط عقیدے والے اس بات کو روا سمجھتے ہیں کہ خدا براکام انجام دے یا جس کام میں فساد اور تباہی ہو اس کا حکم دے اور اس کاموں سے جن میں بھلائی ہو منع کرے۔ اس سے پہلے یہ بتایا جاچکا ہے کہ یہ بات بالکل لچر ہے، اس لیے کہ یہ قول اس خدا کی مجبوری اور ناواقفیت پر دلالت کرتا ہے جو دراصل ہر نقص سے بری ہے ۔

غرض صحیح عقیدہ یہ ہے کہ خدا اگر ہمیں واجبات کا حکم دیتا ہے اور حرام باتوں سے منع کرتا ہے تو اس میں خود اس کا نفع نقصان نہیں ہوتا بلکہ تمام دینی قوانین میں نفع نقصان انسان کا ہوتا ہے چونکہ تمام اعمال بھلائی یا برائی والے ہوتے ہیں اس لیے خدا نے بھلائی کی خاطر ان کی انجام دہی کا حکم دیا ہے اور خرابیوں کے باعث ان سے منع فرمایا ہے کیونکہ خدا نہ بے فائدہ حکم دیتا ہے اور نہ بے وجہ منع کرتا ہے ۔ اپنے بندوں سے اس کی کوئی ضرورت یا غرض اٹکی ہوئی نہیں ہے۔


تیسرا باب

پیغمبر کی پہچان

پیغمبروں کی بھیجنے کے بارے میں :۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ نبوت اور پیغمبری ایک خدائی ذمے داری اور الوہی نمائندگی ہے اور خدا یہ منصب اپنے کامل، لائق اور نیک بندوں اور دوستوں میں سے منتخب لوگوں کو عطا فرماتا ہےاور ان کو اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی اور فائدے کے لیے انسانوں کی رہنمائی کریں۔

خدا اپنے پیغمبروں کو اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ انسانوں کو بری عادتوں، خراب خصلتوں اور غلط رسموں سے بچائیں اور انہیں پاک بنائیں، عقل و شعور کی باتیں سکھائیں اور نیکی کی راہیں دکھائیں تاکہ انسان پیغمبروں کی رہنمائی میں انسانیت کے اس کمال تک پہنچ جائیں جو ان کے شایان شان ہے اور دنیا و آخرت کے بلند مقاموں اور درجوں پر فائز ہوں۔

ہمارے عقیدے کے مطابق مہربان خدا قانون ""کطف"" کے باعث (جس کی تشریح آگے کی جائے گی) انسانوں کی رہنمائی اور دنیا کی اصلاح کا فرض منصبی ادا کرنے کے لیے پیغمبر بھیجتا ہے اور وہ پیغمبر خداءی منصب دار اور نمائندے ہوتے ہیں۔

ہمارے عقیدے کے مطابق یہ بھی ہے کہ خدا نے انسانوں کو اپنے لیے خود کوئی پیغمبر مقرر، پسند یا منتخب کرنے کا حق نہیں دیا۔ لوگوں سے اس بارے میں کوئی رائے نہیں لی جاتی بلکہ ان تمام باتوں کا اختیار صرف خدا کو ہے کیونکہ وہ قرآن میں فرماتا ہے :

( اَللهُ اَعلَمُ حَیثُ یَجعَلُ رِسٰلَتَهُ ) :۔ خدا یہ بات سب سے بہتر طور پر جانتا ہے کہ رسالت کس کو عطا کرے۔ (سورہ انعام ۔ آیت ۱۲۵ کا جزو)

اسی طرح انسانوں کو چاہیے کہ وہ پیغمبروں کا حکم مانیں۔ انہیں یہ حق نہیں ہے کہ ان پیغمبروں پر اپنا حکم چلائیں (ان کی بات کے مقابلے میں کوئی دوسری بات کہیں) جن کو خدا نے نیک راہ دکھانے ، خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور وہ اس کے بھی مجاز نہیں ہیں کہ پیغمبروں کے احکام اور قوانین میں کوئی عذر اور تامل کریں۔

پیغمبروں کا بھیجنا لطف خداوندی ہے :۔

انسان عجیب و غریب مخلوق ہے ۔ اس کے حالات بھی حیرت انگیز ہیں اور اس کی پیدائش، اس کے جسم و روح اور سوچ بچار کے لحاظ سے بہت ہی مرموز، پر اسرار اور پیچیدہ ہے بلکہ ہر انسان اپنی صورت اور خصوصیات کے لحاظ سے منفرد پیدا ہوا ہے اور ایسی جبلتیں اور فطری نقاضے رکھتا ہے جو اسے بدی کی طرف لے جاتے ہیں اور ایسے محرکام کا بھی مالک ہے جونیکی کی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔

ایک طرف انسان جبلتوں اور جذبوں مثلاً خود غرضی، لالچ اور غرور کے ساتھ ساتھ نفسانی خواہشوں کا غلام ہے اور جارحیت ، توسیع پسندی دوسرں کو محکوم بنانے اور دنیا کا مال اور شان و شوکت حاصل کرنے کے لیے تلاش اور جدوجہد میں مبتلا ہے ، جیسا کہ خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے :

( اِنَّ الاِنسَانَ لَفِی خُسرٍ ) :۔ انسان گھاٹے میں ہے ۔ (سورہ عصر ۔ آیت ۲)

اور دوسرے مقام پر کہتا ہے کہ

( اِنَّ الاِنسَان لَیَطغٰی ، اَن رَّاٰهُ استَغنٰی ) : جب انسان اپنے آپ کو مستغنی پاتا ہے ، تو بغاوت کر اٹھتا ہے ، (سورہ علق ۔ آیت ۶ ۔ ۷)

یا

( اِنَّ النَّفسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوٓءِ ) :۔ انسان کا نفس اسے ہمیشہ بدی کا حکم دیتا ہے (سورہ یوسف ؑ ۔ آیت ۵۳)

اسی طرح دوسری آیتیں بھی بڑی وضاحت سے یہ بات بتاتی ہیں کہ انسان سرکش جذبات اور رجحانات کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔

دوسری طرف خدا نے انسان میں عقل کی طاقت بھی رکھی ہے جو نیکی اور اصلاح کی طرف انسان کی رہنمائی کرتی ہے اور اسے ملامت کرنے والا نفس اور ضمیر بھی دیا ہے جو اسے برائیوں اور ظلموں سے روکتا ہے ، برے اور ناپسندیدہ کاموں کے برے نتیجے سے خبردار اور آگاہ کرتا رہتا ہے۔

انسان کے وجود میں ہمیشہ نفسانی خواہشات اور میلانات کا عقل اور سوچ کی قوت سے جھگڑا رہتا ہے جو شخص اپنی عقل کو جذبات پر غالب رکھتا ہے وہ بلند مقام پر فاءز اور ان لوگوں کی صف میں مشار ہوتا ہے جو شرافت اور اخلاق کی راہ میں قدم رکھتے ہیں اور روحانیت میں درجہ کمال کو پہنچ گئے ہیں اور جو شخص اپنے نفسانی میلانات اور خواہشات کو عقل اور فکر پر مسلط کرلیتا ہے وہ گھٹیا اور انسانیت کی راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کے زمرے میں آتا ہے اور جانوروں کی صف میں جگہ پاتا ہے۔

ان دو مخالف فریقوں میں سے جو ہمیشہ انسان کے اندر لڑتے رہتے ہیں نفسانی خواہشات اور ان کی فوج کا فریق انسانی طبیعت پر غالب آنے کے لیے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے چنانچہ نفسانی خواہشات کی پیروی میں اور دلی جذبات کو تسکین دینے کی وجہ سے زیادہ تر انسان گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور ہدایت کے راستے سے دور ہوگئے ہیں جیسا کہ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے :

( وَمَآ اَکثَرُ النّاسِ وَلَو حَرَصتَ بِمُئومِنِینَ ) :۔ اے پیغمبر ! اگرچہ لوگوں کے ایمان لانے کی آپ کو بہت فکر ہے لیکن ان میں سے بیشتر ایمان نہیں لائیں گے۔ (سورہ یوسف ؑ آیت ۱۰۳)

اس کے علاوہ ان چیزوں کے متعلق جو انسان کو گھیرے ہوئے ہیں یا جنہیں وہ خود بناتا ہے اس کی معلومات کی کمی اور ان کے تمام رازوں اور پوشیدہ حقیقتوں سے اس کی ناواقفیت کی وجہ سے وہ اس قابل نہیں ہے کہ نفع نقصان کے اسباب پہچان سکے اور اپنی خوش بختی اور بدبختی کی وجوہ سمجھ سکے۔ نہ وہ ایسی باتیں اور معاملے سمجھ سکتا ہے جو صرف اس سے مخصوص ہیں، نہ وہ جو تمام انسانوں اور ان کے سماج کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ انسان ہمیشہ اپنے معاملات میں بے خبر رہتا ہے اور قدرتی معاملات اور مادی مظاہر کو پہچاننے کے لیے جتنا آگے بڑھتا ہے اس کی ناواقفیت بھی بڑھتی جاتی ہے اور وہ اپنے علم کی کمی کو زیادہ محسوس کرنے لگتا ہے۔

اس بنا پر انسان نیکی کے بلند درجے حاصل کرنے کے لیے ان لوگوں کا سخت محتاج ہے جو اسے نیکی اور ہدایت کا روسن راستا دکھائیں تاکہ ان کی رہنمائی کے سائے میں وہ اپنی عقل کی قوت کو مستحکم بنا کر نفس جیسے ڈھیٹ دشمن پر اس وقت فتح حاصل کرے جب کہ وہ اپنے آپ کو عقل اور خواہشات کے درمیان سخت مقابلے کی صورت حال پھنسا ہوا پاتا ہے ۔

سب سے زیادہ سخت وقت، جب انسان ان کی رہنمائی کا محتاج ہوتا ہے وہ ہے جب نفسانی خواہشات اور جذبات حقائق کو الٹ کر دکھاتے اور دھوکا دیتےہیں اور چونکہ یہی اتفاق زیادہ پیش آتا ہے کہ ہمارے نفسانی رجحانات برے کاموں اور غلط رویوں کو دلکش اور دلفریب بنا کر دکھاتے ہیں اس لیے انسان ہر برائی کو اچھائی اور ہر اچھائی کو برائی سمجھنے لگتا ہے یہ نفسانی خواہشات خصوصاً ایسے وقت میں جب عقل کی قوت باسعادت اور بے سعادت کاموں کی پہچان کھو بیٹھتی ہے۔ دھوکے بازی اور فریب سے کام لینے لگتی ہیں، ہم میں سے ہر شخص وہ چاہے نہ چاہے ، جذبات اور عقل کی کشمکش کا مارا ہوا ہے لیکن جسے خدا نے معصوم بنایا ہے وہ ہمیشہ اپنے جذبات پر غالب رہتا ہے ۔

تہذیب یافتہ اور دانش ور انسانوں کا تو ذکر ہی کیا، وحشی انسانوں کے لیے بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسانوں کی خوشحالی اور بھلائی کی راہ پر ڈالیں اور اپنے اور اپنے سماج کے بھی تمام دینوی اور اخروی فائدے اور نقصانات پہچانیں، ایک دوسرے کے خیالات سے مدد لیں اور کانفرنسیں ، کانگریسیں اور مشاورتی مجلسیں وغیرہ ترتیب دیں۔

اس بنا پر اور مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے خدا پر واجب ہے کہ وہ اپنے بندوں پر مہربانی، لطف و رحمت اور شفقت کے طور پر پیغمبر مقرر کرے تاکہ وہ انسانوں کو آیات الہٰی سنائیں، ان کی پلیدی سے پاک کریں، کتاب اور حکمت سکھائیں، تباہی اور بربادی سے ڈرائیں اور انسانی بھلائی کے کاموں اور نیکی کے انعامات کی خوش خبری سنائیں

(( لَقَد مَنَّ عَلَی المُئومِنِینَ اَذ بَعَثَ فِیهِم رَسُولاً مِن اَنفُسِهِم یَتلُوا عَلَیهِم اٰیَاتِهِ وَیُزَکِّهِم وَیُعَلِّمُهُمُ الکِتٰبَ وَالحِکمَةَ ) : (سورہ آل عمران ۔ آیت ۱۶۴)

خدا پر لطف کے واجب ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ یہ بندوں پر اس کی رحمت اور اس کے مطلق کمال کا تقاضا ہے اور وہ اپنے بندوں پر لطف اور رحمت رکھتے ہوئے سخاوت اور بخشش کرنے والا بھی ہے اس وقت جب کہ خدا کی فیض رسانی اور سخاوت کی شرطیں موجود ہوں تو ہرگز ہرگز وہ مہربانی سے دریغ نہیں کرے گا کیونکہ اس کی رحمت کے میدان میں کنجوسی نہیں ہے اور اس کی بخشش اور سخاوت کے دریا میں کوئی کمی نہیں ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی دھیان رکھیے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا پر یہ لازم ہے کہ وہ لطف کرے تو اس کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ ایسا کرنے کے لیے کسی نے اسے حکم دیا ہےجس کی فرماں برداری اس پر واجب ہو بلکہ اس بارے میں واجب ہونے کے معنیٰ بالکل اسی طرح کے ہیں جیسے ہم خدا کے بارے میں کہیں کہ خدا واجب الوجود یعنی ناممکن ہے کہ خدا سے وجود الگ ہوجائے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ خدا کا لطف و کرم اس سے جدا ہوجائے۔

پیغمبروں کے معجزے :۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدائے بزرگ جو انسان کو صحیح راہ دکھانے کے لیے پیغمبر اور رہنما بھیجتا ہے اسے چاہیے کہ وہ انہیں ایک مقرر طریقے سے پہچنوائے اور ان کی طرف انسانوں کی صاف صاف رہنمائی کرے۔ ان کو پہچنوانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ خدا خود ان کی رسالت اور پیغمبری کے لیے دلیل اور ثبوت قائم کرے تاکہ بندوں پر اس کا لطف اور رحمت کامل ہوجائے اور یہ دلیل اس قسم کی ہو کہ اس کا پیش کرنا کسی ایسی ذات کے لیے ممکن نہ ہو جو مظاہر کی خالق اور موجودات کی منتظم نہ ہو۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں سمجھیے کہ وہ ایسی دلیل ہو جو کی منتظم نہ ہو۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں سمجھیے کہ وہ ایسی دلیل ہو جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔

خداوند عالم یہ دلیلیں اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے پیش کرتا ہے تاکہ یہ دلیلیں ان کی نبوت کی سچائی کی نشان دہی کریں اور ان کی پہچان کرائیں۔ اس دلیل کو معجز یا معجزہ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ اس قسم کی دلیل ہوتی ہے جسے پیش کرنے اور لانے سے عام انسان عاجز ہیں۔

جس طرح پیغمبر کے لیے معجزے کا مالک ہونا اور اس کی مدد سے لوگوں پر غالب آنا ضروری ہے اسی طرح یہ بات بھی ظاہر ہونا ضروری ہے کہ عوام کا ذکر ہی کیا تمام عالم، دانا اور ماہر لوگ بھی اسے پیش کرنے سے عاجز ہیں۔ اس کے علاوہ پیغمبروں کے ان معجزوں کو ان کے پیغمبری کے دعوے سے مربوط ہونا چاہیے تاکہ وہ معجزہ ان کے دعوے کی سچائی ثابت کرسکے۔ جب اس فن کے عالم اور ماہر اس جیسا معجزہ پیش کرنے سے عاجز ہوجائیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ معجزہ دکھانا انسانی طاقت سے بالاتر ہے اور اس فطری اور معمولی دنیا کے دائرے سے باہر ہے ۔ اس سے یہ نیتجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اس معجزے کا مالک انسانوں سے بالاتر ہے اور مظاہرے کے خالق اور منتظم (خدا) سے خاص معنوی اور روحانی تعلق رکھتا ہے۔

جس وقت کسی شخص سے ایسا معجزہ بالکل اور کامل شکل میں ظاہر ہوا اور اس نے اس معجزے کے تعلق سے پیغمبری اور رسالت کا دعویٰ کیا تو یہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لوگ اس کے دعوے کو سچ مانیں، اس کی پیغمبری پر ایمان لے آئیں اور اس کے قول اور حکم کے سامنے احترام سے سرجھکادیں (اس صورت میں خدا کی حجت پوری ہوچکی ہے) اس پر ایمان لے آئے اور جو چاہے اس سے انکار کردے۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر کا معجزہ ہے ان علوم اور فنون سے مناسبت رکھتا ہے جو اس کے زمانے میں رائج ہوتے ہیں۔

حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ ایک عصا تھا جو اپنے زمانے کے جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو نکل گیا اس لیے کہ آپ کے زمانے میں جادوگری کے فن اور علم کا بہت رواج تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ کا عصا میدان میں آیا تو جادوگروں کے بنائے ہوئے تمام سانپ ناکارہ ہوگئے اور انہوں نے جان لیا کہ عصا کا معجزہ ان کی قوت سے باہر ہے اور ان کے فن سے اونچا ہے۔ انسان اس کی مثال پیش کرنے سے عاجزرہ گئے اور علم و فن نے اس کے سامنے سرجھکا دیا۔

حضرت عیسیٰ ؑ کا معجزہ بھی ایسا تھا جو اندھے کو بینا کوڑھی کو صحت یاب اور مردوں کو زندہ کرنے کا تھا۔ اس لیے یہ معجزے اس زمانے میں ہوئے جب علاج معالجے کا علم سب سے زیادہ رواج یافتہ علم سمجھا جاتا تھا اس زمانے میں عالم ، نامور معالج اور نامی لوگ موجود تھے لیکن وہ سب کے سب حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزے کے سامنے ہار مان گئے اور سرجھکا بیٹھے۔

ہمارے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ قرآن کریم ہے جس نے اپنی فصاحت اور بلاغت سے جو اس زمانے کا شہرت یافتہ علم تھا، اس زمانے کے تمام فصیحوں اور بلیغوں کو ہرادیا۔ قرآن نازل ہونے کے زمانے میں جن لوگوں کی گفتگو فصاحت اور بلاغت کے لحاظ سے اچھی ہوتی تھی وہ دوسروں پر فضلیت پاتے تھے جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئیں (اس طرح جیسے آسمان سے بجلی گرتی ہے) تو انہوں نے اپنے بیان کے زور اور عظمت سے ان سب لوگوں کو پست کیا اور کپکپا دیا اور ان کی جڑیں ہلادیں۔ انہیں سمجھا دیا کہ وہ قرآن کے معجزانہ بیان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ آخر جب انہوں نے اپنی کمزوری اور مجبوری دیکھ لی تو قرآن کے سامنے تعظیماً سرجھکا دیا اور اپنے آپ کو اس کے سامنے گونگا محسوس کرنے لگے۔

ان کے عاجزہ رہ جانے کی دلیل یہ ہے کہ جب قرآ ن سب سے پہلے ان کو قرآن سورتوں کے مثل کی دس سورتیں لانے کا الٹی میٹم دیا۔

(( قُل فَاتُوا بِعَشرِ سُوَرٍ مِّثلِهِ مُفتَرَیٰتٍ وَّادعُوا مَنِ استَطَعتُم مِّن دُونِ اللهِ اِن کُنتُم صٰدِقِینَ ) (سورہ ہود۔ آیت ۱۳))

تو وہ پیش نہیں کرسکے۔ پھر قرآن نے اپنی سورتوں جیسی ایک ہی سورت لانے کو کہا تو وہ اس سے بھی عاجز رہ گئے۔

(( قُل فَاتُوا بِسُورَةٍ مِّثلِهِ وَادعُوا مَنِ اسَتطَعتُم مِّن دُونِ اللهِ اِن کُنتُم صٰدِقِینَ ) (سورہ یونس۔ آیت ۳۸)

اور زبان کے بجائے تلوار نکال لائے تو ہم سمجھ گئے کہ قرآن ایک قسم کا معجزہ ہے جسے حضرت محمد بن عبداللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی پیغمبری کے دعوے کے ساتھ لائے تھے۔

چنانچہ ہم کسی ہچکچاہٹ اور تامّل کے بغیر یقین کرلیتے ہیں کہ وہ خدا کے رسول اور پیغمبر ہیں اور جو کچھ اپنے ساتھ لائے ہیں سچا اور حقیقی ہے ۔

عصمت انبیاء :۔

ہمارا اعتقاد ہے کہ پیغمبر اور انہی کی طرح ائمّہ اطہار ؑ غلطی اور گناہ سے بچے ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں کے فرقوں میں سے کچھ لوگ اس عقیدے میں ہمارے مخالف ہیں اور امام تو امام وہ تو پییغمبروں کا معصوم ہونا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔

پیغمبروں کی عصمت کا مطلب ہے ""ان کا چھوٹے بڑے گناہوں اور بھول چوک سے بری ہونا"" (حالانکہ ان باتوں کا پیغمبروں سے سرزد ہونا عقل کی رو سے ناممکن نہیں ہے) یہی نہیں بلکہ پیغمبر کا ایسی باتوں سے بھی بری ہونا ضروری ہے جو حسن اخلاق اور وقار کے منافی ہیں، مثلاً لوگوں کے مجمع میں حقیر اور نامناسب کام کرنا، جیسے راستا چلتے کچھ کھان ، اونچی آواز میں ہنسنا اور ہر وہ کام کرنا جسے عام طور پر لوگ ناپسند کرتے ہیں۔

اس بات کی دلیل کہ پیغمبروں کا معصوم ہونا ضروری ہے ، یہ ہے : ""فرض کیجیے کہ پیغمبر گناہ کرتا ہے یا غلطی کرتا ہے یا وہ بھولنے لگتا ہے تو ایسی خطا اور گناہ وغیرہ کے موقع پر بھی اس کی پیروی واجب ہے یا نہیں ؟ اگر پیروی واجب ہے تو پھر ہمارا یہ کہنا بھی لازم ہے کہ خدا نے نہ صرف گناہ کرنے کی اجازت دے دی ہے بلکہ گناہ کرنا واجب بھی کر دیا ہے اور یہ مانی ہوئی بات ہے کہ دین اور عقل کی رو سے خدا کی طرف یہ بات منسوب کرنا بالکل لغو اور غلط ہے اور اگر اس کی پیروی واجب نہیں ہے تو یہ بات بھی مقام پیغمبری کے خلاف ہے کیونکہ پیغمبر کی مکمل اطاعت واجب ہے""

اس کے علاوہ اگر یوں ہو کہ ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہر فعل پر گناہ یا خطا کا شک کریں تو اس حساب سے بھی واجب نہیں ہے کہ ہم پیغمبر کے کسی قول اور فعل میں اس کی پیروی کریں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیغمبروں کے تصور کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ، اس صورت میں پیغمبر اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہتا اور اس کے قول و فعل کی وہ غیر معمولی قدر و قیمت جس سے اس پر اعتبار کیا جاسکے نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح ایسے پیغمبر کے احکام اور قوانین بھی قابل اطاعت نہیں رہتے اور اس کی گفتگو اور کردار پر بھروسا اور یقین کسی قید اور شرط کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔

یہ دلیل جو پیغمبروں کی لازمی عصمت کے لیے دی گئی ہے ، بالکل اسی طرح امام کی عصمت کے بارے میں بھی دلیل بن جائے گی کیونکہ اصل میں امام خدا کی طرف سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین کی حیثیت سے انسان کی ہدایت کے لیے منتخب ہوئے ہیں جیسا کہ امامت کے باب میں بنایا جائے گا۔

پیغمبروں کی صفات :۔

جس طرح ہمارے عقیدے میں یہ واجب ہے کہ پیغمبر معصوم ہو اسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ وہ سب سے کامل عقلی اور عملی صفات : مثلاً بہادری، سیاست ، تدبیر ، ثابت قدمی، ہوش مندی وغیرہ کا اس طرح مالک ہوکہ کوئی اور شخص اس کی صفات اور خصوصیات کے درجے تک نہ پہنچ سکے۔ اس لیے کہ اگر وہ ان صفات کا حامل نہیں ہوگا تو تمام انسانوں کے مقابلے میں دنیا کی سرداری کی قابلیت نہیں رکھ سکے گا اور دنیا والوں کی پیشوائی اور انتظام سے عاجز رہ جائے گا۔

اسی طرح پیغمبر کے لیے لازم ہے کہ وہ پیغمبری کے منصب پر فائز ہونے سے پہلے صحیح النسب ، ایمان دار، سچا اور ہر طرح کی گھٹیا باتوں سے بری ہوتا کہ اس سے دلوں کو سکون اور اطمینان ہو اور روحیں اس کی طرف رغبت کریں۔ ایسا نمایاں اور شاندار سابقہ کردار نبوت کے اعلیٰ منصب کے لیے مناسب اور ضروری ہے۔

انبیاء اور آسمانی کتابیں :۔

جس طرح ہم تمام پیغمبروں کے پاک اور معصوم ہونے کے معتقد ہیں ، اجمالی طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ تمام پیغمبر حق کے راستے پر تھے ہمارا عقیدہ ہے کہ ان کی نبوت کا انکار کرنا یا ان کو برا کہنا اور ان کا مذاق اڑانا کفر اور بے دینی کے برابر ہے کیونکہ ان باتوں سے ہمارے پیغمبر یعنی رسول اسلام حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے انکار لازم آتا ہے جنہوں نے ان کی نبوت اور سچائی کی خبردی ہے ۔ البتہ ان پیغمبروں پر ایمان لانا خاص طور سے واجب ہے جن کے نام اور شریعتیں مشہور ہیں ۔ جیسے حضرت آدم ؑ ، حضرت نوح ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت داود ؑ ، حضرت سلیمان ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت عیسیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دوسرے پیغمبر جن کے نام قرآن میں آئے ہیں، اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرتا ہے تو اس نے گویا سبھی سے انکار کر دیا ہے اور خصوصیت کے ساتھ ہمارے پیغمبر کی پیغمبری سے منکر ہوگیا ہے۔

اسی طرح ا کی کتابوں پر اور اس پر بھی جو خدا کی طرف سے ان پر نازل ہوا ایمان رکھنا چاہیے۔

لیکن یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ توریت اور انجیل جو آج لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں اصلی توریت اور انجیل نہیں ہیں۔ ان میں تبدیلی ہوچکی ہے اور حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بعدیہ ہوس کے غلاموں، توسیع پسندوں اور لالچ کے ماروں کے کھلونے بن چکی ہیں، ان میں بہت سی باتیں بڑھادی گئی ہیں بلکہ آج کل کی توریت اور انجیل کا بیشتر یا سب کا سب مواد حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے عہد کے بعد ان کے پیروؤں اور اتباع کرنے والوں ہاتھوں بدل چکا ہے اور یہ عمل اب بھی جاری ہے!

اسلام کا قانون :۔

ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا کے نزدیک واحد دین ""دین اسلام "" ہے۔

(نوٹ :۔انسان کی فطرت سے ہم آہنگ ، اس کے وجود کے اندازے پر مبنی اور طبیعت انسانی سے صحیح صحیح مطابق رکھنے والادین جو اس کے پروردگار کی جانب سے بھیجا گیا ہے ، اس نے اسلام نام پایا ہے یہ حضرت خاتم الانبیاء کی شریعت اور دین کا خاص نام نہیں ہے بلکہ جو دین تمام انبیاء کرام (مثلاً حضرت نوح ؑ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ) لائے اس کا نام بھی اسلام ہی ہے۔ جہاں تک قرآن مجید سے نشاندہی ہوتی ہے ، حضرت نوح ؑ سے پہلے والے دور کے سلسلے میں یہ پتا نہیں چلتا کہ آسمانی دین کا کیا نام تھا لیکن ان کے زمانے سے لے کر بعد کے ادوار میں تمام آسمانی شریعتوں کا نام ""اسلام"" ہی رہا ہے۔پہلے سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے (پھر وہ آپس میں جھگڑنے لگے) تب خدانے نجات کی خوشخبری دینے والے اور عذاب سے ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔ (سورہ بقرہ ۔ آیت ۲۱۳) لہذا اسلام کی تعریف مختصر الفاظ میں یوں کی جاسکتی ہے : ""یہ ایسے قوانین کا مجموعہ ہے جو انسان کے پروردگار نے اس کی ساخت کی مناسبت سے اور انسانی طبیعت کے مطابق اس کے لیے وضع فرمائے ہیں"" قرآن مجید کی منطق کے مطابق : دین تو خدا کے نزدیک بس اسلام ہی ہے، وہ دین جس کی طرف تمام پیغمبروں نے لوگوں کو دعوت دی وہ خدا کی عبادت اور اس کے احکام ماننے سے عبارت اور اس کے احکام ماننے سے عبارت ہے اور مختلف مذاہب کے علماء اگرچہ حق اور باطل کے فرق کو پہچانتے تھے لیکن تعصب اور دشمنی کی وجہ سے انہوں نے حق کو قبول نہیں کیا اور ہر ایک نے اپنا الگ راستا اختیار کیا جس کے نیتجے میں روئے زمین پر مختلف مذاہب پیدا ہوگئے۔ (سورہ آل عمرن ۔ آیت ۱۹) گزشتہ انبیاء کے بعد ""اسلام"" مکمل طور پر معاشرے سے ناپید ہوگیا ۔ جواسلام حضرت موسیٰ ؑ لائے وہ رفتہ رفتہ معدوم ہوگیا اور جو اسلام حضرت عیسیٰ لائے وہ بھی ان کے بعد نابود ہوگیا حتیٰ کہ اس کے نام کا وجود بھی باقی نہ رہا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جو دین اللہ کی جانب سے بذریعہ وحی تمام انبیائے کرام پر نازل کیا گیا اس کا نام ""اسلام "" ہے اور جو شریعت حضرت موسیٰ ؑ لائے اس کا نام بھی اسلام ہی تھا لیکن اب وہ یہودیت میں تبدیل ہوگیا ہے اور اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت کو مسیحیت کہا جاتا ہے ۔ یہ نام پروردگار عالم کی جانب سے نہیں بلکہ امتوں کے گھڑے ہوئے ہیں اور تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں وجود میں آئے ہیں۔ تفصیلات کے لیے علامہ مرتضی عسکری کی کتاب ""احیائے دین میں ائمّہ اہلبیت ؑ السلام کا کردار "" ملاحظہ فرمائیے (ناشر)

اسلام خدا کا سچا قانون ہے اور انسان کی خوش بختی کے حصول کے لیے سب سے آخر ، سب کامل اور سب سے اچھا اور انسانوں کی دنیا اور آخرت کے فوائد کے حصول کے لیے سب سے جامع دین ہے اور یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ جب تک رات دن جاری ہیں نہ اس میں کچھ بڑھے گا نہ اس میں کچھ گھٹے گا اور یہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ یہ ایسا دین ہے جو انفرادی ، سماجی اور سیاسی نظام اور معاملات میں انسان کی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہے۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام آخری دین ہے اور اب ہمیں کسی دوسرے دین کا انتظار نہیں ہے جو انسانوں کو ظلم ، خرابی اور بربادی سے بچائے، لامحالہ اس عقیدے کی رو سے ایک دن ایسا آئے گا کہ اسلامی نظام قت پکڑے گا اور پوری دنیا کو اپنے پختہ قوانین اور انصاف کے تحت لے آئے گا۔

اگر اسلام کے قوانین جیسے ہیں ویسے ہی زمین کے تمام مقامات پر اپنی کامل اور صحیح صورت میں نافذ ہوجائیں تو تمام انسانوں کو امن اور سکون مل جائے، تمام انسانوں کو حقیقی خوش حالی نصیب ہوجائے اور وہ بہبود، آرام، عزت ، ناموری ، استغناء اور یک عادات کی آخری حدود تک پہنچ جائیں، دنیا میں ہمیشہ کے لیے ظلم کی جڑکٹ جائے ، تمام انسانوں کے درمیان پیار اور بھائی چارہ قائم ہوجائے اور محتاجی، افلاس اور غریبی روئے زمین سے ختم ہوجائیں۔

یہ جو ہم آج ان لوگوں کے ۔۔۔۔ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔۔۔۔ افسوسناک اور شرمناک حالات دیکھتے ہیں، درحقیقت اسی پہلی صدی ہجری سے۔۔۔۔ جب کہ اسلام کے حقیقی اصول اور جذبہ مسلمانوں میں عام نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ آج تک جبکہ ہم خود کو مسلما کہتے ہیں ، چلے آرہے ہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ اور دن بہ دن زیادہ افسوسناک اور ملال انگیز ہوتے جارہے ہیں۔

دوسری قوموں سے مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کا شرمناک عیب اسلام سے وابستگی اور اس کی یپروی سے یپدا نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے برعکس بانی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعلیمات سے دوری، اسلام کے قوانین کی بے حرمتی ، حکمرانوں اور رعایا نیز عام اور خاص مسلمانوں کے درمیان ظلم اور زیادتی کا وجود میں آنا اور بچھڑ جانے ، اندرونی کمزوری، زوال، مجبوری اور ادبار کا باعث ہوا ہے ، خدا نے مسلمانوں کو ان گناہوں اور لیت ولعل کے باعث ان کی واجبی سزا تک پہنچا دیا ہے۔ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے :

( ذٰلِکَ بِاَنَّ اللهَ لَم یَکُ مُغَیِّرًا نِّعمَةً اَنعَمَهَاعَلٰی قَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَابِاَنفُسِهِم ) :۔ یہ اس لیے ہے کہ خدا جو نعمت کسی قوم کو دیتا ہے وہ اس سے وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک اس کے افراد اپنی نیک انسانی عادتیں بدل نہیں ڈالتے (سورہ انفال ۔ آیت ۵۳)

خدا کے تمام مظاہر میں یہ قانون اٹل ہے ۔ وہ دوسری آیتوں میں فرماتا ہے :

( اِنَّهُ لاَ یُفلِحُ المُجرِمُونَ ) :۔ یقیناً مجرم کامیاب نہیں ہوں گے۔ (سورہ یونس ۔ آیت ۱۷)

( وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُهلِکَ القُرٰی بِظُلمٍ وَّاَهلُهَا مُصلِحُونَ ) :۔ تیرا پروردگار کبھی ظلم سے کسی بستی کو نہیں اجاڑتا جب کہ اس میں مصلح (اپنی قوم کے امور کے اصلاح کرنے والے، ان کو آفات سے بچانے والے، ظالموں اور جابروں کا مقابلہ کرنے والے اور عدل و انصاف کو رواج دینے والے) بندے موجود ہوں (سورہ ہودؑ آیت ۱۱۷)

( وَکَذٰلِکَ اَخذُ رَبِّکَ اِذَا اَخَذَ القُرٰی وَهِیَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخذَهُ اَلِیمٌ شَدِیدٌ ) :۔ ایسی ہی ہے تیرے پروردگار کی پکڑ جب کہ اس نے بستی والوں کو ان کے ظلم کے سبب سے سزا دی اس کی سزا بہت تکلیف دہ اور شدید ہوتی ہے۔ (سورہ ہود۔ آیت ۱۰۲)

اسلام سے کسی طرح یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بدبختی سے چھٹکارا دلائے جب کہ خود اسلام ایسا رہ گیا ہے جیسے کاغذ پر روشنائی اور اس کے احکام جاری ہونے کا کوئی پتا نہیں ہے ۔ ایمان، ایمانداری، دوستی، محبت، نیک عمل ، چشم پوشی اور درگزر اور مسلمان بھائی کے لیےوہی پسند کرنا جو اپنے لیے پسند ہو وغیرہ ، یہ اسلام کے مانے ہوئے اصول ہیں لیکن اگلے پچھلے اکثر مسلمان یہ خوبیاں چھو بیٹھے ہیں اور جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے ہم مسلمانوں کو اور زیادہ ابتر دیکھ رہے ہیں جو دنیاوی منفعت کے لالچ میں آکر مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہیں، تو ہم پرستی کا شکار ہوگئے ہیں، اسلام کی حقیقی زندگی کو نہ سمجھ پانے کے باعث فضول اور غیر واضح عقیدوں اور خیالوں کے باعث ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا رہے ہیں، دین کی حقیقت تک نہیں پہنچ پائے ہیں، انفرادی اور قومی بہبود بھلا بیٹھے ہیں اور ایسی بحثوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں کہ :

قرآن مخلوق ہے یا نہیں ؟

عذاب و رجعت کیونکر ہوگی ؟

بہشت اور دوزخ پیدا ہوچکے ہیں یا بعد میں پیدا ہوں گے؟ اس قسم کی بحثیں اور جھگڑے ہیں جنہوں نے ان کو غافل بنا دیا ہے اور گھٹن میں مبتلا کر دیا ہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ کو کافر بنا رہا ہے ، یہ ناخوشگوار جھگڑے اور بحثیں بتاتی ہیں کہ مسلمان دینداری اور خدا کی سچی عبادت کے سیدھے راستے سے بھٹک گئے ہیں یہاں تک کہ تباہی اور زوال کے راستے پر جاپڑے ہیں اورجیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے ان افسوسناک پروگراموں کے جاری رہنے کے ساتھ ساتھ ان کی کجی اس طرح بڑھتی جارہی ہے کہ جہالت اور گمراہی ان پر اپنا منحوس سایہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہ سطحی اور بے بنیاد مسئلوں میں پڑ گئے ہیں اور فضولیات اور فرضیات میں پھنس گئے ہیں لڑائیوں ، جھگڑوں اور شیخیوں نے انہیں اندھے کنویں میں گرادیا ہے۔

جس دن سے اسلام کے کے جانی دشمن چوکنے مغرب نے اسلامی ملکوں کو اپنی توسیع پسندی کا محور بنالیا ہے ، اس دن سے مسلمان غفلت اور بے خبری کے عالم میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔

بے شک مغرب کی توسیع پسندی نے مسلمانوں کو ایک خطرناک گھاٹی میں گرادیا ہے جو ان کے اندرونی جھگڑو ں اور باہمی مخالفتوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسی گھاٹی ہے جس سے نکلنے کا راستا سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا جیسا کہ زندگی بخشنے اور آزادیوں کی خوش خبری دینے والا قرآن کہتا ہے :۔

( وَمَا کَانَ رَبُّک َلِیُهلِکَ القُریٰ بِظُلمٍ وَّاَهلُهَا مُصلِحُونَ ) :۔ تیرا رب کسی بستی کو ظلم سے ہلاک نہیں کرتا جب تک اس میں مصلح بندے موجود ہیں۔ (یعنی یہ لوگ خود ہی ایسے ہیں جو اپنے جرم اور غفلت کے پیروں سے چل کر گہرے گڑھوں کی طرف جارہے ہیں) (سورہ ہود۔ آیت ۱۱۷)

آج بھی اور آئندہ بھی مسلمانوں کے لیے نجات اور خوش بختی کا راستا سوائے اس کے دوسرا نہی ہے کہ نہایت غور و توجہ سے اپنا محاسبہ کریں۔ اپنی فضول خرچی اور بے فائدہ کاموں کا شمار کریں اور اپنی آنے والی نسل کو سدھارنے کے لیے اپنے محکم دین کے سائے میں ایک تحریک شروع کریں اور اس تحریک کے زیر اثر ظلم اور زیادتی کو اپنے اندر سے اکھاڑ پھینکیں ۔ یہی وقت ہے کہ وہ ان افسوسناک اور لرزا دینے والی ڈھلانوں سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں دنیا کے ظلم اور ستم سے بھر جانے کے بعد اسی تحریک سے اس میں عدل اور انصاف کا راج ہوجائے گا۔ جیسا کہ خدا اور اس کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات کا وعدہ کیا ہے اور دی اسلام کو بھی جو آخری دین ہے اور جس کے بغیر دنیا کی درستی نہیں ہوسکتی ، سوائے اس کے اور کوئی انتظار نہیں ہے۔ یہ انقلاب برپا کرنے کے لیے ایک پیشوا کی اشد ضرورت ہے جو آئے گا اور اسلام کے روشن چہرے سے توہم پرستی، بدعتوں اور گمراہیوں کی کثافتیں دھوڈالے گا اور انسان کو ہر جہتی بربادیوں ، ظلموں مسلسل دشمنیوں اور ان بے پروائیوں سے بچائے گا اور جو اچھے اخلاق اور انسانی روح کی بلندی سے برتی جارہی ہے خداوند عالم اس عظیم رہنما کو جلد ظاہر کرے اور اس کے ظہور اور انقلاب برپا کرنے سے پہلے کے معاملات کی راہ آسان بنائے۔ آمین۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

ہمارے عقیدے کے مطابق مذہب اسلام کے قائد اور رہبر حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں، وہ آخری پیغمبر اور تمام رسولوں کے پیشوا ہیں اور ان سب سے اعلیٰ وبالا ہیں ، اس طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تمام انسانوں کے سردار ہیں اور کمال و عظمت اور فضل و شرافت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے کسی شخص کی عقل اور عادات ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عقل اور عادات کو نہیں پہنچتیں جیسا کہ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے :

( وَاِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ ) :۔ یقیناً آپ بہت بلند اخلاق کے مالک ہیں۔ (سورہ قلم ۔ آیت ۴ )

تمام انسانوں کے مقابلے میں ان کے درجے کی یہ بلندی اور یہ شان انسان کی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن تک لیے ہے ۔

قرآن مجید

ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآ ن وحی الہٰی ہے جو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان مبارک پر جاری ہوئی اور اس میں ہر اس چیز کا بیان موجود ہے جو انسان کی ہدایت کے لیے ضروری ہے یہ پیغام پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جادوانی معجزہ ہے جس کی فصاحت و بلاغت اور بیش قیمت معلومات کے باعث انسان اس کا جوب یپش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ اس آسمانی کتاب میں کسی قسم کی کوئی، تحریف نہیں ہوئی ہے ۔ یہ قرآن جو ہمارے ہاتھوں میں ہے اور جس کی آیات ہم پڑھتے ہیں وہی قرآن ہے جو آنحضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوا تھا ، جو کوئی اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے ، غلط سوچتا ہے یا دھوکا کھا گیا ہے وہ سب کے سب لوگ جو کسی طریقے سے ایسا سوچتے ہیں صحیح راستے سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے اور خدا اس کے بارے میں فرماتا ہے ۔

( لاَ یَاتِیهِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیهِ وَلاَ مِن خَلفِهِ ) :۔ قرآن میں آگے پیچھے (کسی طرف) سے باطل (جھوٹ) داخل نہیں ہوسکتا ۔ (سورہ حٰمٓ سجدہ ۔ آیت ۴۲)

قرآن کو معجزہ ثابت کرنے والی دلیلوں میں سے ایک یہ ہے کہ جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھتا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ مختلف علوم و فنون اور معلومات میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ لیکن قرآن کی شیرینی اور تازگی اپنی جگہ قائم ہے ۔ اسی طرح اس کے خیالات اور مقاصد عظمت کی چوٹی پر موجود ہیں ، کسی ثابت شدہ اور مانے ہوئے علمی نظریے کی رو سے قرآن میں کوئی غلطی یا خامی ظاہر نہیں ہوپاتی ہے اور اس کے بلند مرتبہ مطالب اور حقائق میں کسی قسم کی تضاد بیانی نہیں آئی ہے۔

اس کے برعکس علم اور فلسفے کے ماہرین کی کتنی ہی کتابیں وہ علمی لحاظ سے کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں اور علم کی بلند ترین چوٹی پر ہی کیوں نہ ہوں ، آخر کار شبہات کا شکار ہوجاتی ہیں اور رفتہ رفتہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں غلطیاں درآئی ہیں، چنانچہ یہ بات یونانی فلسفے کے بزرگوں سقراط، افلاطون اور ارسطو کی کتابوں تک میں پائی جاتی ہیں، جنہیں ان کے بعد کے تمام دانشمند ""علم کا باپ "" کہتے ہیں اور جن کے خیالات کی عظمت کی تصدیق کرتے ہیں۔

ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کی عزت اور اس کی توقیر گفتگو اور کردار دونں کے ذریعے سے کرنا واجب ہے۔ قرآن کے کسی ایک لفظ کو بھی اس خیال سے کہ وہ قرآن کا ایک حصہ ہے ناپاک نہیں کرنا چاہیے اور جس نے اپنے آپ کو (وضو وغیرہ کرکے) پا ک نہیں کیا ہے اسے اپنے جسم کا کوئی حصہ قرآن کے الفاظ یا حروف سے نہیں چھونا چاہیے ۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے :

لاَ یَمَسُّهُٓ اِلاَّ المُطَهَّرُونَ :۔ صرف پاک لوگوں کو قرآن چھونا جائز ہے۔ (سورہ واقعہ ۔ آیت ۷۹)

قرآن اس ضمن میں نجاست میں کوئی تفریق نہیں کرتا، چاہے جناب سے ہو، حیض سے ہو، نفاس سے ہو یا ایسی باتوں کے پیش آنے سے ہو جو وضو کو باطل کردیتی ہیں، جن میں نیند جیسی چیز بھی ہوسکتی ہے اور طہارت صرف اس صورت میں مانتا ہے جب آدمی اسلامی فقہ کی کتابوں میں کی ہوئی تشریح کے مطابق غسل یا وضو کرلے۔

اسی طرح قرآن کو جلانا اور قرآن کی ایسی بے عزتی کرنا جسے لوگ توہیں سمجھتے ہیں جیسے اسے پھینک دینا، اس میں نجاست لگانا، اسے ٹھوکر مارنا، اسے نیچی اور نامناسب جگہ پر کھ رینا جائز نہیں ہے اگر کوئی جان بوجھ کر ان کاموں میں سے کسی کام سے یا ان جیسے اور کسی عمل سے قرآن کی بے عزتی کرتا ہے تو وہ اسلام کے منکروں اور ایسے لوگوں میں شمار ہوجاتا ہے جو قرآن کی پاکیزگی اور اس کے کلام الہٰی ہونے کے قائل نہیں ہیں اور اس کا سزاوار ہوجاتا ہے کہ خداوند اسے دین اسلام سے خارج کردے۔

اسلام اور دوسرے مذہبوں کی سچائی ثابت کرنے کا طریقہ

جب کوئی شخص دین اسلام کے صحیح اور درست ہونے کے متعلق ہم سے بحث کرے تو ہم اس سے اسلام کے لافانی معجزے یعی قرآن مجید کے متعلق بحث کرسکتے ہیں اس طریقے سے اسے اسلام کی سچائی کا قائل کرسکتے ہیں اور اس سے پہلے بھی ہم بیان کرچکے ہیں کہ قرآن ایک معجزہ ہے۔

اسی طرح ہم اپنی عقل اور سوچ کی قوت کے وسیلے پر قناعت کرکے اسلام کی درستی اور سچائی کو پالیں گے کیونکہ ہر اس انسان کے ذہن میں جو آزادی سے سوچتا ہے کسی مذہبی عقیدے کو اپناتے وقت لازمی طور سے کچھ شکوک اور سوالات ابھرتے ہیں لیکن یہودیت اور عیسائیت جیسے پچھلے مذہبوں کی (ان کے زمانے میں) سچائی کا سراغ لگانے کو ہمارے لیے قرآن کی گواہی سے پہلے (یا اگر ہم اپنے ذہنوں کو اسلام کے عقیدے سے خالی کرلیں تو) کوئی بھروسے کی دلیل یا راہ نہیں ہے اور ہم کسی پوچھنے والے کو مطمئن نہیں کرسکتے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہب کے لیے قرآن مجید کی طرح کا کوئی جاودانی معجزہ نہیں ہے اور وہ تھوڑے سے معجزے اور غیر معمولی کام جو ان مذہبوں کے ماننے والے اپنے اپنے پیغمبروں سے منسوب کرتے ہیں بھروسے کے لائق نہیں ہیں، کیونکہ وہ لوگ انہیں مذہبوں کے ماننے والے ہیں اس لیے ان کا دعویٰ انہیں کے مذہب کے متعلق درست نہیں مانا جاسکتا اور قدیم پیغمبروں کی یہ موجودہ کتابیں جیسے توریت اور انجیل جو ہمارے ہاتھوں میں ہیں لافانی معجزہ کہلانے کے لائق نہیں ہیں کہ بجائے خود قطعی دلیل بن سکیں اور انہیں اسلام کی طرف سے کسی تصدیق کی ضرورت نہ پڑے۔

ہم مسلمانوں کے لیے پچھلے نبیوں کی گواہی دینا اور جس امر کا اعتراف کرنا صحیح ہے وہ یہ ہے کہ جو کچھ اسلام لایا ہے ہم اس پر اعتقاد رکھیں اور اسے قبول کریں۔ اسی میں پچھلے نبیوں کی نبوت بھی ہے جس پر ہم پہلے بحث کرچکے ہیں۔

اس بنا پر جو شخص دین اسلام کا ماننے والا ہے وہ عیسائیت اور دوسرے قدیم ادیان کے (ا ن کے زمانے میں) درست ہونے کے بارے میں تحقیق و تدقیق اور بحث مباحثے کی ضرورت نہیں رکھتا کیونکہ اسلام کا مان لینا ان کے مان لینے کے برابر ہے اور اسلام پر ایمان لانا پچھلے نبیوں پر ایمان لانے سے وابستہ ہے چنانچہ کسی مسلمان کے لیے پچھلے مذہبوں اور ان کے معجزوں کے بارے میں تحقیق اور چھان بین کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ مان لیا گیا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور دل میں اسلام پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ پچھلی شریعتوں پر بھی ایمان رکھتا ہے، واقفیت اور تصدیق کے لیے بس اتنا ہی کاری ہے۔

ہاں جب کوئی شخص مذہب اسلام کی سچائی کی چھان بی کرتا ہے اور اس کی تحقیق کسی نتیجے تک نہیں پہنچتی تو عقل کی رو سے (سچے مذہب کی پہچان کے لیے غور و فکر کے واجب ہونے کے لحاظ سے) اس کو لازم ہے کہ وہ عیسائیت کی تحقیق کرے (تاکہ اگر وہ سچا مذہب ہے تو اسی کی پیروی کرے) اس لیے کہ عیسائیت اسلام سے پہلے آخری مذہب ہے اگر اس مذہب کی تحقیق کے بعد اس کی درستی کے بارے میں اطمینان نہیں ہوا تو پھر یہودیت کی تحقیق کرے اور پھر اسی طرح دوسرے قدیم مذہبوں کی تحقیق کرتا چلا جائے جب تک کہ وہ ان مذہبوں میں سے کسی ایک مذہب کی سچائی کا قائل نہ ہوجائے اور اگر اپنی تحقیقات میں وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو پھر تمام مذاہب کو چھوڑ بیٹھے۔

البتہ جو شخص یہودیت یا مسیحیت میں پلا بڑھا ہے اس کا کام اس کے بالکل خلاف ہے کیونکہ یہودی اپنے ہی دین کے معتقد ہونے کے باعث مسیحیت اور اسلام کی صحت کے متعلق تحقیق نہیں کرتا۔ اسی طرح عیسائی اسلام کی درستی کے بارے میں چھان بین نہیں کرتا لیکن عقل کی رو سے یہودیوں اور ان کی طرح عیسائیوں پر بھی واجب ہے کہ دین اسلام کی درستی کی تحقیق کریں اور صرف اپنے ہی دین پر قناعت نہ کر بیٹھیں کیونکہ یہودی اور مسیحی اپنے اپنے دین کی خاتمیت کا دعویٰ نہیں کرتے اور ہ کسی ایسے دین کے آنے سے انکاری ہیں جو ان کے دین کو منسوخ کرنے والا ہو۔

حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عسیٰ ؑ نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ ہمارے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئیگا (بلکہ یہ بزرگوار تو اپنے بعد میں آنے والے پیغمبر کے متعلق پیشین گوئیاں کر گئے ہیں)۔

ایسی صورت میں یہ کب جائز ہے کہ یہودی اور عیسائی اپنے ہی عقیدے پر مطمئن ہوکر بیٹھ رہیں اور اپنے بعد کے دین کے متعلق (جیسے یہودیت ، مسیحیت کے متعلق اور مسیحیت اور یہودیت اسلام کے متعلق) تحقیق کرنے سے پہلے اپنے ہی مذہب سے دل کو وابستہ کرکے بیٹھ رہیں۔ فطرت اور صحت مند عقل کے مطابق انہیں لازم ہے کہ بعد کے مذاہب کے بارے میں بھی کچھ کھوج لگائیں اور سوچ بچار کریں۔ اگر ان کی درستی ان پر ثابت ہوجائے تو ان کی طرف چلے جائیں ورنہ اپنے ہی دین کی صحت کے متعلق اطمینان حاصل کرلیں اور اسی عقیدے پر قائم رہیں۔

جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں اسلام پر ایمان لانے کے بعد مسلمان کے لیے مختلف مذاہب کے بارے میں (خواہ پچھلے مذاہب ہوں خواہ آنے والے) تحقیق اور غور و فکر ضروری نہیں ہے۔ چونکہ اسلام پچھلے مذہبوں کی بھی تصدیق کرتا ہے اس لیے کوئی مسلمان ان مذہبوں کی صحت کی دلیلیں کیوں تلاش کرے؟

ہر مسلمان مذہب اسلام کے متعلق یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ پچھلے مذہب (اپنے زمانے میں سچے تھے لیکن آج کل) منسوخ ہوچکے ہیں اور اب ان کتابوں کے احکام اور ضابطوں پر عمل کرنا واجب نہیں رہا۔ اب رہا آنے والے مذہب کے بارے میں تو چونکہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما دیا ہے کہ

لاَ نَبِیَّ بَعدِی :۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

اورآپ ہمارے عقیدے کے مطابق صادق اور امین ہیں اور بفجوائے قرآن :۔

( وَمَا یَنطِقُ عَنِ الهَوٰی اِن هُوَ اِلاَّ وَحیٌ یُّوحیٰ ) :۔ پیغمبر اپنی ہوائے نفس سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں وحی ہے جو خدا کی طرف سے ان پر نازل ہوتی ہے۔ (سورہ نجم ۔ آیت ۳ ۔ ۴)

اس لیے کوئی مسلمان پیغمبر کی سچی اور درست گفتار کے بعد ان بناوٹی مذاہب کے بارے میں جن کا بعد میں دعویٰ کیا گیا کس لیے تحقیق اور غور و فکر کرے؟

ان تمام اختلافات کی موجودگی میں مسلمان کا کام کیا ہے ؟

یہ بات نظر سے اوجھل نہیں رہنی چاہیے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مسلمانوں (اور پھر مسلمانوں میں بھی طرح طرح کی رائے اور مکاتب فکر پیدا ہونے) کے درمیا برسوں کی دوری اور فاصلے کے باوجود مسلمانوں کو اس راہ پر چلنا چاہیے جو اسلام کے حقیقی احکام اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہدایات تک پہنچنے کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہے کیونکہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اسلام کے احکام پر اسی طح عمل کرے جس طرح وہ نازل ہوئے ہیں لیکن وہ کس طریقے سے (طرح طرح کی رایوں اور خیالوں کے درمیان) اسلام کے اصلی احکام معلوم کر سکتا ہے اور آجکل کے حالات میں جب کہ اختلافات نے تمام احکام کی وسعت کو گھیر لیا ہے یہاں تک کہ نماز اور دوسری عبادات اور معاملات وغیرہ کے متعلق بھی ایک نظریہ نہیں رہا، اسے کیا کرنا چاہیے ؟ کس طرح نماز پڑھے اور عبادتوں، سماجی معاملوں، نکاح، طلاق ، وراثت اور خرید و فروخت وغیرہ میں حدود و دیات کے جاری کرنے میں کس رائے اور فتوے پر عمل کرے؟

اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کو تقلید کرے اور جس طریقے پر اس کے دوست اور رشتہ دار چل رہے ہیں اسی پر اطمینان ک بیٹھے۔ اسے چاہیے کہ ایسی راہ پر چلے جس سے وہ اپنے اور اپنے خدا کے درمیان حقیقی فرض کے ادا ہونے کا یقین کرسکے کیونکہ یہ جگہ نا تجربہ کاری، پاس و لحاظ ، دھوکے بازی اور جانبداری کی نہیں ہے۔

اسے چاہیے کہ بہت سے راستوں میں سے ایک ایسا راستا چن لے جو اس کے عقیدے کے مطابق فرض کی انجام دہی اور اپنے اور اپنے خدا کے درمیانی معاملے سے عہدہ برآہونے کا بہترین راستا ہو ایسا راستا جس پر چلنے سے خدائے بزرگ اس پر عذاب نازل نہیں کرے گا نہ اس کا جواب طلب کرے گا۔ ایسی صورت میں ایسا شخص کسی آدمی کے اعتراض اور ملامت سے نہیں ڈرتا۔

جیسا کہ خدا فرماتا ہے :

( اَیَحسَبُ الاِنسَانُ اَن یُّترَکَ سَدًی ) :۔ کیا انسان سوچتا ہے کہ وہ حساب دیے بغیر چھوٹ جائے گا۔ (سورۃ قیامت ۔ آیت ۳۶)

( بَلِ الاِنسَان عَلٰی نَفسِهِ بَصِیرَةٌ ) :۔ بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب جانتا ہے (سورہ قیامت آیت ۱۴)

( اِنَّ هٰذِهِ تَذکِرَةٌ فَمَن شَآءَ اتَّخَذَ اِلیٰ رَبِّهِ سَبِیلاً ) :۔ یہ قرآن یاد دلاتا ہے کہ جو چاہے خدا کی طرف جانے والا راستا خود چن لے، (سورہ دھر ۔ آیت ۲۹) ( سورہ مزمل ۔ آیت ۱۹)

اس جگہ پہلا سوال جو انسان اپنے ضمیر سے کرتا ہے وہ یہ ہے کہ معصوم اور پاک اہلبیت ؑ کا راستا اختیار کروں۔۔۔ یا دوسروں کا؟ اگر اہلبیت ؑ کا راستا اختیار کیا تو صحیح اثنا عشری شیعہ کا ہے یا دوسرے شیعوں کا ؟ اور اگر اہل تسنن کا راستا لیا تو ان کے چار مذہبوں (فقہوں) میں سے کس مذہب کی تقلید کی جائے؟ یا پھر ان کے علاوہ دوسرے کسی متروک مذہب کی پیروی کی جائے؟

یہ سوالات ہر اس شخص کے سامنے آتے ہیں جو ارادہ اور اختیار رکھتا ہے اور جسے سوچنے کی آزادی ہے تاکہ مضبوط اور اطمینا بخش بنیاد ہاتھ آسکے۔

اس بحث کے بعد ہمیں چاہیے کہ اسی طرز پر امامت کے بارے میں تحقیق کریں اور ان مسائل کا تجزیہ اور تشریح کریں جو اثنا عشری شیعوں کے عقیدے کے فروعات میں شامل ہیں۔


چوتھا باب

امام کی پہچان

امامت کا مسئلہ

ہمارا عقیدہ ہے کہ امامت اصول دین میں سے ایک اصول ہے اور اس کو مانے بغیر مسلمان کا ایمان پورا نہیں ہوتا اور اس بارے میں اس کے لیے باپ داداؤں ، رشتے داروں اور مربیوں کی تقلید جائز نہیں ہے، چاہے وہ کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ رکھتے ہوں بلکہ توحید اور نبوت کے مسئلے کی طرح اسے بھی تحقیق اور دلیل کی مدد سے سمجھنا چاہیے ۔

فرض کیجئیے کہ امامت اصول دین میں سے نہیں ہے تو یہاں ایک دوسرا مسئلہ پیش آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر مکلف کے لیے فرائض سے عہدہ برآء ہونے کا یقین حاصل کرنا ضروری ہے اور یہ ""یقین "" امامت کے عقیدے کی نفی یا اثبات سے وابستہ ہے لہذا عقل امامت پر اعتقاد رکھنے کو ضروری سمجھتی ہے۔ پس ایسی صورت میں تقلید جائز نہیں ہے۔

ہم یہ فض کرتے ہیں کہ ہم سب شرع مقدس اسلام کی طرف سے فرائض اور احکام کے پابند ہیں لیکن یہ احکام ہمیں قطعیت کے ساتھ (ٹھیک ٹھیک) معلوم نہیں ہیں تو ایسی صورت می کسی نہ کسی کی پیروی کرنا پڑے گی تاکہ اس کی پیروی کرکے ہم ذمہ داری اور باز پرس سے یقینی طور چھوٹ جائیں۔ شیعوں کے عقیدے کی رو سے ایسا شخص جس کی پیروی کرنا چاہیے ۔ امام ہے اور دوسروں کے لیے دوسرا شخص ہے۔

اسی طرح ہمارے عقیدے میں نبوت کی طرح امامت بھی لطف الہٰی کا ایک مظہر ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر زمانے میں ایک امام اور رہنما ہو جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ انسانوں کو دنیا اور آخرت کی بھلائی کا راستا دکھائے۔ یہ امام بھی اسی عام ولایت (دنیوی حکومت) کا مالک ہوتا ہے

(نوٹ ، تفصیلات کے لیے فلسفہ ولایت مولفہ مرتضی مطہری مطبوعہ جامعہ تعلیمات اسلامی ملاحظہ فرمائیے) جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں پر رکھتے تھے تاکہ وہ اپنے انتظامی طریقے سے قوم کے کام اور پالیسیاں چلائے انسانوں میں انصاف قائم کرے اور ظلم و ستم کا خاتمہ کردے۔

اس بنا پر امامت ، نبوت کا لاحقہ ہے ۔ جو دلیل پیغمبروں کے بھیجنے اور مقرر کرنے کا سبب بنتی ہے وہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد امام مقرر کرنے کو واجب بتاتی ہے۔

اس لیے ہمارا عقیدہ ہے کہ امامت کا منصب خدا کی طرف سے اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا پچھلے امام کی زبان سے طے ہونا چاہیے ۔ یہ لوگوں کے آزادانہ انتخاب یا اختیار سے طے نہیں ہوتا چنانچہ عام انسانوں کو یہ حق ہی نہیں ہے کہ وہ جسے چاہیں امامت پر مقرر کر دیں یا اسے رد کردیں اور پھر بغیر امام کے گزر کریں بلکہ رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ایک معتبر حدیث ہے کہ

مَن مَاتَ وَلَم یَعرِف اِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِیتَةَ الجَاهِلِیّةِ :۔ جو شخص اپنے زمانے کے امام کو جانے بغیر مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا ۔

(نوٹ، احمد بن حنبل ، مسند جلد ۳ صفحہ ۴۴۶ ، ہیثمی ، مجمع الزوائد جلد ۵ صفحہ ۲۲۳ ۔ نیز تواتر معنوی کے ساتھ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں علامہ امینی کی الغدیر جلد ۱۰ بھی دیکھیے۔

اس لیے کوئی زمانہ ایسے امام سے خالی نہیں رہ سکتا جس کی اطاعت واجب ہو اور جو خدا کی طرف سے مقرر کیا گیا ہو ، یعنی ہر زمانے میں خدا کی طرف مقرر کیا ہوا ایک امام ضرور موجود رہتا ہے اور اس کی اطاعت لوگوں پر واجب ہوتی ہے ، خواہ لوگ اسے مانیں خواہ نہ مانیں، چاہے اس کی مدد کریں چاہے نہ کریں ، خواہ اس کی پیروی کریں خواہ نہ کریں، چاہے وہ آنکھوں کے سامنے ہو چاہے آنکھوں سے اوجھل ہو، کیونکہ جس طرح پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا غار ثور اور شعیب ابی طالب میں لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہنا درست ہے اسی طرح امام کے غائب ہونے میں بھی کوئی عذر، شبہ یا اشکال نہیں ہوسکتا اور عقل کی رو سے امام کے غائب رہنے کی مدت میں کمی بیشی بھی کوئی فرق نہیں رکھتی۔

خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے :۔

( لِکُلِّ قَومٍ هَادٍ ) : ۔ ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہوتا ہے (سورہ رعد ۔آیت ۷)

پھر وہ یہ بھی فرماتا ہے :۔

( وَاِن مِّن اُمَّةٍ اِلاَّ خَلاَ فِیهَا نَذِیرٌ ) :۔ کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں (گناہ اور حق کی عدم پیروی سے جو کہ عذاب الہٰی ہے )ڈرانے والا نہ آیا ہو۔ (سورہ فاطر۔ آیت ۲۴)

اماموں کا معصوم ہونا :۔

ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ امام بھی پیغمبر کی طرح تمام ظاہری اور باطنی ، دانستہ اور نادانستہ اور بچپن سے مرتے وقت تک گناہوں اور نجاستوں سے پاک اور بری ہوتا ہے ۔ اسی طرح وہ بھول چوک اور غفلت سے بھی محفوظ ہوتا ہے۔

چونکہ امام بھی پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کی طرح دین کی حفاظت کرنے والے، اسے طاقت ور بنانے والے اور خطرات سے بچانے والے ہیں، اس لیے ان کے معصوم ہونے کے متعلق بھی ہماری دلیل وہی ہے جو پیغمبروں کے معصوم ہونے کے لیے ہے۔

خداوند عالم کی قدرت سے یہ بات دور نہیں کہ وہ تمام خصوصیات جو دنیا والے رکھتے ہیں ایک ہی شخصیت میں جمع کردے اور اسے تمام خوبیوں کا مجموعہ بنادے۔

امام کا علم اور صفات

ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ امام بھی پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح اخلاقی کمالات اور صفات مثلاً بہادری ، بخشش ، حفاظت نفس ، سچ بولنے، انصاف کرنے، تدبیر کی خوبی، عقلمندی ، علم اور تواضع میں سب لوگوں سے اونچا ہوتا ہے اس کے لیے بھی ہماری وہی دلیل ہے کہ پیغمبر وں میں تمام خوبیاں لازمی طور پر ایک جگہ جمع ہوگئی تھیں لیکن امام کے علم اور بصیرت سے وہ نکات سچائیاں اور تمام خدائی معلومات مراد ہیں جو وہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لیتا ہے یا دوسرے امام سے جس نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لیتا ہے یا دوسرے امام سے جس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاصل کی ہوں، وہ پیش آنے والے ہر معاملے کو الہام ، قوت قدسیہ اور باطنی طاقت کی مدد سے جو اسے خدا نے عطا کی ہے حقائق کو سمجھتا ہے چنانچہ جب کبھی امام کسی معاملے کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے چاہا کہ اس کی حقیقت سمجھ لے تو اسے فی الفور سمجھ جاتا ہے اور اس کے اس جاننے، سمجھنے میں کوئی غلطی یا خامی نہیں ہوتی اور نہ اسے اس کے لیے عقلی دلیلوں ، ہدایت اور رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے ، حالانکہ امام کے علم میں بڑھنے کی بھی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسی لیے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی دعا میں خدا سے عرض کرتے تھے کہ رَبِّ زِدنی عِلماً :۔ اے خدا میرے علم میں اضافہ فرما

(نوٹ، سورہ طٰہٓ ۔آیت ۱۱۴ ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ نفسیات کی بحثوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جن میں باتوں کا علم صرف اندازے (گمان) سے ہوجاتا ہے جو الہام کی ایک شاخ اور جزو ہے ۔ خدا نے یہ پوشیدہ قوت انسان کو عطا کی ہے جو مختلف لوگوں میں ان کی روح کی بناوٹ میں فرق کے حساب سے تیز ، سست، زیادہ اور کم ہوتی ہے۔

انسان کے لیے بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جن میں سوچ بچار، دلیل کے سہارے اور دوسروں کی رہنمائی کے بغیر ہی اسے کسی بات کا علم ہوجاتا ہے اور ہو انسان نے اپنی زندگی میں ایسے لمحات کو بخوبی محسوس کیا ہے جب یہ بات نفسیات کی رو سے ممکن ثابت ہوگئی تو اس کا بھی امکان ہے کہ انسان اس باطنی قوت کے کمال اور بلند ترین درجے تک بھی پہنچ جائے جیسا کہ قدیم و جدید فلسفی، انسانوں میں اس قوت کا وجود مسلم سمجھتے ہیں، اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ انسان میں ایسی قوت کا ذاتی طور رپر ہونا ممکن ہے ، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام میں یہ الہامی قوت جسے قوت قدسیہ کہتے ہیں زیادہ حد تک پائی جاتی ہے۔ چنانچہ امام اس قدر باطنی صفائی اور پاکیزگی کی وجہ سے اس صلاحیت اور اہلبیت کا مالک ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت الہام سے معلومات حاصل کرتا رہتا ہے اور ہر وقت ہر معاملے کے متعلق بے تکان کافی علم حاصل کرلیتا ہے اور اس راستے میں کسی دلیل اور رہنما کے تمہیدی بیان کی حاجب نہیں رکھتا اور ان اجسام کی طرح جو آئینے میں صاف نظر آجاتے ہیں امام کی پاک روح میں اشیاء کا علم جھلک اٹھتا ہے)

اماموں کی سوانح عمریوں کے مطالعے سے یہ بات اسی طرح ظاہر ہوتی ہے جس طرح پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

کی زندگی کے واقعات سے دوسروں کے مقابلے میں ان کے روحانی اور علمی کمالات معلوم ہوتے ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ ائمہ اطہار ؑ نے کسی شخص سے تربیت نہیں پائی۔ نہ کسی استاد اور معلم سے سبق پڑھا اور نہ بچپن سے لیکر بلوغ تک کسی کے پاس لکھے پڑھنے کے لیے ہی گئے۔ تاریخ سے یہ بات بالکل معلوم نہیں ہوتی کہ امام مکتب گئے ہوں یا انہوں نے کسی موقع پر اور کسی لمحے میں کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا ہو۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ وہ علم و کمال کے اس درجے پر ہیں کہ جہاں کوئی ان کا ہمسر نہیں ہے۔ ان سے کبھی کوئی ایسا سوال نہیں کیا گیا جس کا انہوں نے اسی وقت جواب نہ دیا ہو اور کبھی ان کی زبان پر یہ جملہ جاری نہیں ہوا کہ ""میں نہیں جانتا'" اور کبھی انہوں نے سوال کرنے والوں سے یہ نہیں کہا کہ ""سوچ کر یا کتاب میں دیکھ کر تمہیں جواب دوں گا""

کسی سوانح نگار کی ایسی کوئی کتاب پیش نہیں کی جاسکتی جو اسلام کے عالموں، راویوں اور فقیہوں کا حال تو لکھتی ہے لیکن ان کی تربیت ، تعلیم اور شاگردی کے زمانے اور مشہور استادوں کا حال، ان کے علم اور روایات حاصل کرنے یا مسائل وغیرہ میں ان کے تامل شک اور عذر کی کیفیت نہیں لکھتی ۔ یہ ایک فطری طریقہ ہے جس کے مطابق ہر زمانے میں اور ہر مقام پر انسان زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اماموں کے حکم کی تعمیل کرنا:۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ امام اُولیِ الامر کا وہی طبقہ ہے جس کی اطاعت خدا نے قرآ میں واجب کر دی ہے۔

( یٰٓاَیُّهَا الَّذِینَ اٰمَنُوٓا اَطِیعُواللهَ وَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ اُولیِ الاَمرِ مِنکُم ) (سورہ نساء ، آیت ۵۹)

یہ وہ افراد ہیں جو لوگوں کے اعمال کے گواہ ہیں، یہی افراد ہیں جو خدا کی طرف کھلنے والے دروازے اور خدا کی طرف جانے والے راستوں کی نشان دہی کرتے ہی، یہی لوگ ہیں جو خدائی علم کے دفینے، اس کی وحی بیان کرنے والے ، توحید کے ستون اور خدا کے پہچان کے خزانے ہیں،

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرمان کے مطابق یہ افراد دنیا والوں کے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو آسمان والوں کے لیے ستاروں کی ہے اور یہ (شیطان سے) پناہ اور بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے قول کے مطابق:۔

اِنَّ مَثَلَهُم فِی هٰذِهِ الاُمَّةِ کَسَفِینَةِ نُوحٍ مَن رَکِبَهَا نَجیٰ وَمَن تَخَلَّفَ عَنهَا غَرِقَ وَهَوٰی :۔ ان کی مثال اس امت میں حضر نوح ؑ کے سفینے کی سی ہے جو کوئی اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جو اس سے پھر گیا وہ گمراہ ہوا اور ڈوب گیا۔

(نوٹ ، یہ حدیث تغیر لفظی کے ساتھ بہت سی کتب میں درج ہے، ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۱ ۔حاکم ، مستدرک جلد ۳ صفحہ ۱۵۱ مطبوعہ حیدر آباد، ۲ ۔ ابن ابی الحدید، شرح ، نہج البلاغۃ جلد ۱ صفحہ ۲۱۸ مطبوعہ مصر نسخہ ابوالفضل، ۳ ۔ سیوطی، جامع الصغیر جلد ۲ صفحہ ۱۳۲ مطبوعہ میمنیہ مصر، ۴ ۔ شبلنجی ، نورالبصار صفحہ ۱۰۴ مطبوعہ سعیدیہ ، ۵ ۔ محب طبری ، ذخائر العقبیٰ صفحہ ۲ مطبوعہ مکتبۃ القدسی، ۶ ابو نعیم ، حلیتہ الاولیا، جلد ۴ صفحہ ۳۰۶ مطبوعہ سعادہ مصر، ۷ ۔ طبرانی، معجم صغیر جلد ۲ صفحہ ۲۲ مطبوعہ دارالنصر مصر، ۸ ۔ کنجی، کفایت الطالب صفحہ ۳۸۷ مطبوعہ الحیدریہ)

چنانچہ جو کوئی اماموں کی پیروی کرے گا وہ نیکی پائے گا ورنہ بربادی اور تباہی کے گڑھے میں گر جائے گا۔

خدا کی طرف سے ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔

( عِبَادٌ مُّکرَمُونَ لاَ یَسبِقُونَهُ بِالقَولِ وَهُم بِاَمرِهِ یَعمَلُونَ ) :۔ یہ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں جو خدا کی بات سے پہلے بات نہیں کرتے اور خدا کے احکام بجا لاتے ہیں (سورہ انبیاء ، آیات ۲۶ ۔ ۲۷)

انہی لوگوں کی شان میں ""آیت تطہیر ""نازل ہوئی ہے ۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے :

( اِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اَهلَ البَیتِ وَیُطَهِّرَکُم تَطهِیراً ) :۔ اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ؑ ! خدا نے قطعی اور یقینی طور پر ارادہ کر لیا ہے کہ تمہیں نجاست سے دور اور بالکل پاک اور پاکیزہ رکھے۔(سورہ احزاب ۔ آیت ۳۳)

(ہاں خدا نے پاک اماموں کو جو خاندان نبوت کے روشن چراغ ہیں ہر قسم کی کثافت اور نجاست سے پاک صاف رکھا ہے)

ہمارا عقیدہ ہے کہ اماموں کا حکم خدا کا حکم ہے، ان کی ممانعت خدا کی ممانعت ہے ۔ ان کی فرماں برداری خدا کی فرماں برداری ہے ان کے احکام کی خلاف ورزی خدا کے احکام کی خلاف ورزی ہے ان کی محبت خدا کی محبت ہے ان سے دشمنی خدا سے دشمنی ہے ان کا کہنا ٹالنا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کا نہ ماننا ہے اس لیے ان کے سامنے تعظیماً سر جھکانا اور ان کا حکم بجالانا اور ان کے کہے پر عمل کرنا چاہیے ۔

ہمارا ایمان ہے کہ شریعت کے احکام اور قوانین انہی کی معرفت سے قوت پاتے ہیں اور احکام صرف انہیں سے حاصل کرنا چاہیں ان کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف رجوع کرکے ہم اپنے فرائض کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتے، انسان کی اپنی ذات اور خدا کے درمیان صرف انہیں شرعی فرائض اور احکامات سے اطمینان ہوسکتا ہے جو اماموں کی طرف سے ملتے ہیں ۔ کیونکہ ان کی مثال کشتی نوحؑ کی سی ہے جو کوئی اس میں سوار ہوا وہ پار اتر گیا اور جو کوئی اس سے پھر گیا وہ شیطانی اور مادی گردابوں اور نجاست اور گمراہی کی موجوں میں غرق ہوگیا۔

اس زمانے میں یہ بحث کہ ""امام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اور شرعی جانشین ہیں اور خدائی حکومت کے معاملات کی باگ ڈور انہیں کے ہاتھ میں ہے "" اس قابل نہیں رہی کہ اس میں الجھا جائے اور س پر غور کیا جائے۔ اس لیے کہ اس بات کا زمانہ تاریخ کی حرکت کے ساتھ گزر گیا اور اس کو ثابت کرنے سے اماموں کا وہ زمانہ پلٹ کر نہیں آسکتا کہ حق دار کو اس کا حق سونپا جائے۔

آج تو بس یہ بات ضروری ہے جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ شریعت کے احکام اور قوانین لینے اور جو کچھ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنےساتھ لے کر آئے تھے اسے ٹھیک ٹھیک حاصل کرنے کے لیے صرف ائمہ اطہار ؑ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ان کو چھوڑ کر ان راویوں (مثلاً ابوہریرہ) اور مجتہدوں (مثلاً ابو حنیفہ) سے رجوع کرنا جنہوں نے ائمہ اطہار ؑ کی معرفت کے دریا سے پیاس نہیں بجھائی اور ان کی روشنی سے فائدہ نہیں اٹھایا یقیناً صحیح راستے سے بھٹک جانے کے مترادف ہے، انسان ایسے راویوں اور مجتہدوں کی پیروی کرکے یہ اطمینان قلب کبھی حاصل نہیں کرسکتا کہ وہ اپنے دینی فرائض کی ذمے داری اور جواب دہی سے سکبدوش ہوگیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ احکام شرعی کے متعلق مختلف اسلامی فرقوں اور گروہوں میں قسم قسم کے فتووں اور طرح طرح کی رایوں کی موجودگی مانتے ہوئے اس حد تک کہ ان اختلافات میں اتحاد اور موافقت کا کوئی راستا نہیں ملتا کوئی ذمے دار شخص کبھی ایسے مذہب کے انتخاب میں آزاد نہیں ہوسکتا جس پر وہ خود مائل ہو۔ بس اسے چاہیے کہ وہ مسلسل تحقیق سے اپنے اور خدا کے درمیان کسی خاص مذھب کے انتخاب میں فیصلہ کن دلیل اور خصوصی حجت قائم کرے اور یقین کرلے کہ اس مذہب کے انتخاب سے وہ اسلام کے حقیقی احکام تک پہنچ جائے گا اور فرض کی ذمے داری سے سبکدوش ہوجائے گا کیونکہ جس طرح احکام شرعی کے وجود کا اندازہ کرنا واجب ہے اسی طرح ا ن کی ذمے داری سے سبکدوش ہونے کا یقین اور اندازہ بھی واجب ہے، جیسا کہ اصول فقہ کے عالموں نے کہا ہے :

اَلاِشتِغَالُ الیَقِینِی یَستَدعیِ الفَرَاغَ الیَقِینِی :۔ اس بات کا یقین کر لینا کہ ہم شرعی احکام کے ضمن میں جواب دہی کے ذمے دار ہیں اس بات کا لازمہ ہے کہ ہم اپنے فرائض اس طرح بجا لائیں کہ ہمیں ان فرائض سے عہدہ بر آ ہونے کا یقین ہوجائے۔

اس کے علاوہ ہمارے پاس اس کی فیصلہ کن دلیل موجود ہے کہ احکام حاصل کرنے میں اہلبیت ؑ کی طرف سے رجوع کرنا چاہیے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد خدائی احکام کا مرجع وہی ہیں۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ایک حدیث اس بات کے ثابت کرنے کو کافی ہے کہ :۔

اِنِّی قَد تَرَکتُ فِیکُم مَآ اِن تَمَسَّکتُم بِهِ لَن تَضِلُّوا بَعدِی اَبَداً الثَقَلَینِ ، وَ اَحَدُهُمَآ اَکبَرُ مِنَ الاٰخَرِ، کِتَابَ اللهِ حَبلٍ مَّمدُودٍ مِّنَ السَّمَآءِ اِلٰی الاَرضِ وَعِترَتِی اَهلَ بَیتِی اَلاَ وَ اِنَّهُمَا لَن یَّتَفَرَّقَا حَتّٰی یَرِدَا عَلَییَّ الحَوضَ :۔ میں تمہارے درمیان دو ایسی قابل قدر چیزیں چھوڑ ے جاتا ہوں کہ اگر تم ان کا دامن پکڑے رہو گے تو میرے بعد ہرگز نہیں بھٹکو گے ۔ ان میں سے ایک دوسری سے بزرگ تر ہے ایک خدا کی کتاب (قرآن) ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکتی ہوئی رسی کے مانند ہے اور دوسری شے میری اولاد اور میرے اہلبیت ہیں، دیکھو یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ۔ یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے ۔

(نوٹ، یہ حدیث تغیر الفاظ کے ساتھ بہت سی معتبر کتب میں مذکورہے، ان میں سے چند ایک یہ ہیں: صحیح ترمذی جلد ۵ صفحہ ۳۲۸ مطبوعہ دارالفکر بیروت، جامع الاصول ، ابن اثیرجلد ۱ صفحہ ۱۸۷ مطبوعہ مصر، الفتح الکبیر، نبہانی جلد ۱ صفحہ ۵۰۳ مطبوعہ دارالکتب العربیہ ، اسدالغابہ، ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۱۲ مطبوعہ مصر آفسٹ ، تفسیر ابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۱۱۳ مطبوعہ احیاء الکتب العربیہ مصر، مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۱۸۲ ، ۱۸۹ مطبوعہ میمنیہ مصر ، جامع الصغیر سیوطی جلد ۱ صفحہ ۳۵۳ مطبوعہ مصر، کنزالعمال متقی جلد ۱ صفحہ ۱۵۴ طبع دوم، مستدرک حاکم جلد ۳ صفحہ ۱۴۸ مطبوعہ حیدر آباد)

اس حدیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اچھی طرح غصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ر کرنے سے جو شیعہ اور سنی دونوں کے یہاں معتبر مانی جاتی ہے ، انسان کو دلی اطمینان حاصل ہوجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ حدیث انتہائی اہمیت کی حاصل ہے چنانچہ ایک ہوشمند اور عقلمند انسان سنجیدگی سے سوچ لے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس جملے کا کیا مطلب ہے کہ :۔ ""اگر تم ان کا دامن پکڑے رہو گے تو میرے بعد ہرگز نہیں بھٹکو گے""۔

غور کرنا چاہیے کہ اس حدیث کے مطابق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمارے درمیان جو کچھ چھوڑا ہے وہ دو قابل قدر یاد گاریں ہیں جو ہمیشہ ساتھ ساتھ ہیں اور ایک ہی چیز کی طرح ہیں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان میں سے صرف ایک سے وابستگی کے لیے نہیں فرمایا بلکہ بالکل صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ان دونوں سے ایک ساتھ وابستگی میرے بعد گمراہی سے بچنے کا سبب ہوگی، اس کے بعد کا جملہ اس بات کو بہت زیادہ واضح کر دیتا ہے :۔ ""یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ حوض کوثر پر مجھ تک پہنچ جائیں گی""۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص ان دونوں کو جدا سمجھ لیتا ہے اور ان میں سے صرف ایک سے وابستہ ہوجاتا ہے وہ ہدایت کے راستے پر نہیں چلتا۔ اس لیے اہل بیت ؑ کو سفینہ نجات (پار لگانے والی کشتی) اور انسانوں کے لیے امان (دنیا کی آلودگیوں سے بچاؤ) کے نام سے یاد کیا گیا ہے ، جو کوئی ان کے احکام سے منہ موڑتا ہے وہ گمراہی کی دلدلوں میں دھنس جاتا ہے اور تباہی سے نہیں بچتا۔

جب کوئی اس گفتگو اور اس کے معنیٰ و مطلب کو محض اہلبیت ؑ کی دوستی بتاتا ہے لیکن نہ ان کے اقوال تسلیم کرتا ہے نہ ان کے راستے پر چلتا ہے تو ایسا شخص یقینی طور پر سچی اور اصلی بات سے کتراتا ہے اور اس کے اس گریز کا اصلی سبب جانبداری اور بے خبری ہے کیونکہ اس نے عربی کی ایک کھلی ہوئی اور سیدھی سادی سی بات کے معنیٰ و مفہوم میں کج فکری اختیار کی ہے۔

اہلبیت ؑ کی محبت :

خداوند عالم فرماتا ہے :۔( قُل لاَّ اَسئَلُکُم عَلَیهِ اَجراً اِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربیٰ ) :۔(اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! لوگوں سے) کہہ دو کہ میں تم سے (لگاتا ہدایت کے بدلے میں) صرف یہ معاوضہ چاہتا ہوں کہ تم میرے قریب ترین عزیزوں سے محبت کرو۔ (سورہ شوری ۔آیت ۲۳)

ہمارے عقیدے کی رو سے اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی واجب ہونے کے علاوہ ہر مسلمان پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ اس گھرانے سے محبت کرے کیونکہ خدا نے مذکورہ آیت میں یہ بتایا ہے کہ لوگوں سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مطالبے کا موضوع صرف اہلبیت نبوت کی محبت ہے۔

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت سی روایات کے ذریعے سے یہ بات آئی ہے کہ اہلبیت ؑ کی محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان کی دشمنی نفاق کی علامت ہے۔ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ بھی کہا ہے کہ جو ان سے محبت کرتا ہے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے محبت کرتے ہیں اور جو ان سے دشمنی کرتا ہے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اہلبیت ؑ کی محبت کا واجب ہونا تو اسلام کی ضروریات میں سے ہے اور اس بات میں نہ کوئی شک کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی جاسکتی ہے ۔ مسلمانوں کے مختلف فرقے اس بات پر متفق ہیں سوائے ان تھوڑے سے لوگوں کے جن کی پہچان ہی نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان سے دشمنی ہے (جو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان سے دشمنی کے باعث پہچانے جاتے ہیں) اور جو نواصب کہلاتے ہیں یعنی جنھوں نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان کی دشمنی کا پرچم اٹھا رکھا ہے۔ اس طرح یہ لوگ اسلام کے ایک ضروری ، مانے ہوئے اور ناقابل انکار مسئلے سے پھر گئے ہیں اور جو شخص اسلام کے کسی مانے ہوئے اور ضروری مسئلے مثلاً نماز، روزہ اور زکات کے واجب ہونے سے منکر ہوجائے وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت ہی سے انکار کردے بلکہ اصل میں ایسا شخص پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات سے ہی انکاری مانا جائے گا چاہے وہ زبان سے (خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی) گواہی دیتا رہے اور لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کہتا رہے ۔ چنانچہ اہلبیت پیغمبر ؑ کی دشمنی منافق ہونے کی نشانی ہے اور ان کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے دشمنی خد اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دشمنی ہے۔

اس میں شک نہیں ہے کہ خدا نے خاندان نبوت کی محبت بلاوجہ واجب نہیں کی ہے بلکہ ان کی محبت اس لیے واجب کی گئی ہے کہ یہ لوگ خدا کے حضور میں اپنے بلند مرتبے اور نزدیکی کے لحاظ سے نیز شرک کی نجاست ، گناہ کی آلائش اور ایسے تمام معاملات سے جو خدا کی رضامندی اور نیکی سے دور رکھتے ہیں اپنی دوری اور طہارت و پاکیزگی کے باعث اس دوستی اور محبت کے لائق اور مستحق ہیں۔

اس کے یہ معنیٰ نہیں نکالے جاسکتے کہ خدا کسی ایسے شخص کی محبت واجب کردے جو گناہ کرتا ہے اور خدا کا حکم نہیں بجا لاتا کیونکہ خدا کسی سے بلاوجہ قرب اور دوستی نہیں رکھتا بلکہ تمام انسان کسی چھوٹ کے بغیر خدا کی تمام مخلوقات اور بندوں کے برابر ہیں، خدا کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محترم وہ ہیں، جو تقویٰ اور پرہیزگاری میں بڑھے ہوئے ہیں۔(نوٹ، سورہ حجرات ، آیت ۱۳)

چنانچہ خدا جس کی محبت تمام لوگوں کے لیے واجب کرتا ہے وہ تمام انسانوں میں سب سے اہم، پرہیز گار اور اچھا ہے ورنہ وہ دوسرے کی محبت اور دوستی واجب کردیتا یا کسی وجہ ، غرض اور استحقاق کے بغیر صرف لالچ اور حماقت سے کسی کی دوستی واجب کر دیتا لیکن خدا کے متعلق اس قسم کا خیال بالکل درست نہیں ہے۔

اماموں کے متعلق ہمارا نظریہ

ہم اس عقیدے کو جو غلات (غلات ، جمع ہے غالی کی، یہ کچھ لوگ ہیں جنہوں نے ائمہ اطہار ؑ کے متعلق جوش اور مبالغے سے کام لیا ہے۔ مثلاً یہ حضرت علیؑ کے خدا ہونے کا عقیدہ رکھتے ہی اور ان کے چند فرقے ہیں، یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگ شیعہ تو کجا سرے سے مسلمان ہی نہیں کہلاسکتے، ایسے لوگ مرتد، دشمن اسلام اور اہلبیت ؑ کے لیے باعث ننگ و عار ہیں، ایسے فاسد العقیدہ اور نجس لوگوں سے دوری اور بیزاری ہر صحیح العقیدہ مسلما کے لیے ضروری) اور حلولی ائمہ اطہار ؑ (نوٹ، حلولی وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ خدا بعض انسانوں کے جسم میں سما جاتا ہے اور ان کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، ہندووں میں اسے اوتار کہتے ہیں) کے بارے می رکھتے ہیں بے بنیاد سمجھتے ہیں ، وہ بات جو یہ لوگ کہتے ہیں حد سے بڑھتی ہوئی اور بہت بڑی ہے۔ اس کے بجائے ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ تمام ائمہ اطہار ؑ ہماری ہی طرح کے انسان تھے۔ ہمارے ہی جیسے فرائض اور ذمے داریاں وہ بھی رکھتے تھے البتہ فرق یہ ہے کہ وہ چونکہ ممتاز اور پاک بندے ہیں ، خدائے تعالیٰ نے ان کو اپنے مخصوص بندوں میں سے قرار دیا ہے اور ان کی ولایت کا بلند مقام، عزت اور غیر معمولی شخصیت عطا کی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ علم، زہد، بہادری ، بزرگی اور پاکیزگی وغیرہ میں انسانی فضائل کے بلند ترین مدارج پر فائز ہیں اور تمام اچھی اخلاقی خصوصیات کے اس طرح مالک میں ہیں کہ کوئی دوسرا انسان اسے راستے میں ان کے برابر نہیں ہے۔

اسی سبب سے وہ اس کے سزاوار ہیں کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد شرعی احکام ، دینی نکات اور فیصلہ طلب معاملات میں اور دین، شرعی قوانین اور قرآن مجید کی تفسیر اور تشریح سے تعلق رکھنے والی باتوں میں مرجع خلائق ہوں (نوٹ، تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے احیائے دین میں ائمہ اہلبیت ؑ کا کردار "" مولفہ علامہ مرتضیٰ عسکری مطبوعہ مجمع علمی اسلامی کراچی)

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں۔

مَاجَآءَکُم عَنَّا مِمَّا یَجُوزُ اَن یَّکُونَ فِی المَخلُوقِینَ وَلَم تَعلَمُوهُ وَلَم تَفهَمُوهُ فَلاَ تَجحَدُوهُ وَرُدُّهُ اِلَینَا وَمَا جَٓاءَ کُم عَنَّامِمَّا لاَ یَجُوزُ اَن یّکُونَ فِی المَخلُوقِینَ فَاجحَدُوهُ وَلاَ تَرُدُّوهُ اِلَینَا :۔ جو بات ہم سے نقل کی جاتی ہے جب وہ عقل اور فطرت کے اصولوں اور قاعدوں کے لحاظ سے ممکن ہو تو چاہے تم اس کو نہ سمجھ سکو اس سے انکار نہ کرو ہمارا بیان سمجھ کر مان لو اور دوسروں کو سناتے رہو لیکن جب عقل کے لحاظ سے خلقت کے معیاروں کے خلاف (یعنی محال) ہو تو اس سے انکار کردو، اسے قبول نہ کرو اور نہ ہی اسے بیان کرو۔

خدا کی طرف سے امام کا تقرر

ہمارا عقیدہ ہے کہ نبوت کے منصب کی طرح امامت کا منصب بھی خدا کی جانب سے بندوں کے لیے ہوتا ہے اور امام کا یہ تقرر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا پچھلے امام کی زبان سے ہوتا ہے جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے یا اس سے پچھلے امام کی طرف سے مقرر ہوتا ہے ۔ اس معاملے میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور امام میں کوئی فرق نہیں ہے اور لوگ اس ذات کی نسبت کسی قسم کے اعتراض کا حق نہیں رکھتے جس کا تقرر خدا کی طرف سے انسانوں کی رہبری اور تربیت کے لیے ہوتا ہے ۔ اسی طرح انہی امام کے تعین ، تقرر اور انتخاب کرنے کا حق بھی نہیں ہے کیونکہ ایسے شخص کو تو صرف خدا ہی پہچان سکتا ہے جو اس پاک روحانی قوت کا مالک ہو اور تمام انسانوں کی رہنماءی اور امامت کی ذمے داری کا بوجھ اٹھانے کے لائق ہو اس لیے خدا ہی کو اس کا تقرر کرنا چاہیے۔

ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے جانشین اور اپنے بعد کے پیشواؤں کا تقرر کر دیا تھا یعنی اپنے چچیرے بھائی علی ابن ابی طالب ؑ کو کئی موقعوں پر مومنوں کا سردار، وحی کا امانت دار اور انسانو کا رہبر مقرر فرمایا اور غدیر کے دن علی ؑ کی ولایت کا عام اعلان فرمایا اور لوگوں سے ان کے لیے بطو مومنوں کے سردار کے بیعت لی اور صاف صاف فرما دیا:۔

اَلاَ مَن کُنتُ مَولاَهُ فَهٰذَا عَلِیُّ مَولاَهُ اَللّٰهُمَّ وَالِ مَن وَّالاَهُ وَعَادِ مَن عَادَاهُ وَانصُر مَن نَصَرَهُ وَاخذُل مَن خَذَلَهُ وَادرِ الحَقَّ مَعَهُ کَیفَ مَادَارَ :۔ دیکھو جس کا میں سردار اور رہبر ہوں یہ علی ؑ بھی اس کے سردار اور رہبر ہیں، اے خدا! اس سے محبت کر جو علیؑ سے محبت کرے اور اس کو دشمن رکھ جو علی ؑ سے دشمنی رکھے، جو علی ؑ کی مدد کرے اس کی مدد کر۔ جو علی ؑ کو چھوڑ دے اسے تو بھی چھوڑ دے اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر علیؑ مڑے۔

(نوٹ، ابن ابی الحدید: شرح نہج البلاغۃ جلد ۱ صفحہ ۲۸۹ طبع اول ، بلاذری، انسابُ الاشراف جلد ۲ صفحہ ۱۱۲ ، ابن عساکر: تاریخ دمشق جلد ۲ صفحہ ۱۳ ، کنجی شافعی: کفایت الطالب صفحہ ۶۳ ، حاکم جسکانی : شواہد التنزیل جلد ۱ صفحہ ۱۹۲ ، ہیمثی : مجمع الزوائد جلد ۹ صفحہ ۱۰۵ ، شہرستانی، الملل والنحل جلد ۱ صفحہ ۱۶۳ ، نساءی : خصائص علی ابن ابی طالب ؑ صفحہ ۹۶)

پہلی بار پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد علیؑ کی امامت کی وضاحت اس وقت فرمائی تھی جب انہوں نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو (نبوت کی تبلیغ کے لیے)بلایا تھا۔ اس موقع پر علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

اِنَ هَذَا اَخِی وَ وَصِیِّی وَ خَلِیفَتِی فِیکُم مِن بَعدِی فَاسمَعُوا لَهُ وَاَطِیعُوه :۔ یہ میرا بھائی، وصی اور میرےبعد میرا خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت اور پیروی کرو۔

(نوٹ، سیرت حلبیہ جلد ۱ صفحہ ۳۲۲ تاریخ کامل ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۶۳ تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۳۱۹)

بھی نہیں پہنچے تھے۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ بھی فرمایا:

( اَنتَ مِنِّی بِمَنزِلَةِ هَارُونَ مِن مُوسیٰ اِلاَّ اَنَّه لاَ نَبِیَّ بَعدِی ) :۔ تمہی مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون ؑ کو موسیٰ ؑ سے تھی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

(نوٹ ، یہ حدیث تواتر کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور اس کے راویوں میں جابر ابن عبداللہ انصاری، ابو سعید خدری ، ابو ایوب انصافی، عبداللہ ابن عباس ، سعد ابن ابی وقاص عمر ابن خطاب ، عبداللہ ابن عمر، معاویہ اور ابوہریرہ شامل ہیں ، ملاحظہ ہوصحیح بخاری: باب مناقب علی ابن ابی طالب ؑ، صحیح مسلم: باب من فضائل علی ابن ابی طالب ؑ، صحیح ترمذی، باب مناقب علیؑ سنن ابن ماجہ، باب فضائل علی ابن ابی طالبؑ نیز دیکھیے احمد بن حنبل کی المسند، حاکم کی مستدرک علی الصحیحن ، ابن سعد کی طبقات اور ہیثمی کی مجمع الزوائد، اس کے علاوہ متعدد حوالے ہیں جنہیں المراجعات میں دیکھا جاسکتا ہے)

امام علی ؑ کی رہبری اور ولایت کے ثبوت میں، بہت سی روایتیں دلیل کے طور پر موجود ہیں۔

(نوٹ، تفصیلات کے لیے علامہ امینی کی الغدیر ملاحظہ فرمائیے)

( اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ الله ُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ اٰمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلٰوةَ وَیُوتُونَ الزَّکٰوةَ وَهُم رَکِعُونَ ) :۔ در حقیقت تمہارا سردار اور رہبر اللہ ہے ، اس کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے اور وہ مومنین ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوۃ دیتے ہیں۔ (سورہ مائدہ ۔ آیت ۵۵)

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب امام علی ؑ نے حالت رکوع میں ایک محتاج کو اپنی انگوٹھی خیرات کر دی تھی۔

اس کتاب کا انداز، جس کی بنیاد اختصار پر رکھی گئی ہے اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اس بارے میں جو کثیر تعداد میں آیتیں اور روایتیں ہیں ہم انہیں نقل کریں اور ان کی مدد سے بحث کریں۔

آگے چل کر امام علی ؑ نے اپنے بعد کے امام کی حیثیت سے امام حسن اور امام حسین ؑ کا تعارف اور تقرر فرمایا۔

امام حسین ؑ نے اپنے بیٹے امام علی زین العابدین ؑ کو متعین کیا اور اس طرح پہلے امام نے اپنے بعد کا امام مقرر کیا اور یہ طریقہ آخری امام (حضرت مہدی آخرالزمان ؑ )تک جاری رہا کیونکہ ان کے بعد کوئی امام نہیں آئے گا۔


امام بارہ ہیں

ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام اور رہنما جو برحق ہیں اور شرعی مسائل میں مرجع خلائق ہیں اور جن کی امامت کا صاف صاف اعلان ہوچکا ہے بارہ ہیں، انہیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے ناموں کے ساتھ متعارف کرایا اور بعد میں ہر پچھلے امام نے اپنے بعد میں آنے والے امام کو مندرجہ ذیل سلسلے میں مقرر فرمایا۔

نمبر شمار کنیت نام لقب سن پیدائش سن وفات

۱ ۔ ابوالحسن علی ابن ابیطالبؑ مرتضیٰ ۲۳ قبل از ہجرت ۴۰ ھ

۲ ۔ ابو محمد حسن بن علی ؑ مجتبیٰ ۲ ھ ۵۰ ھ

۳ ۔ ابو عبداللہ حسین بن علی ؑ سیدالشہداء ۳ ھ ۶۱ ھ

۴ ۔ ابو محمد علی بن الحسین ؑ زین العابدین ۳۸ ھ ۹۵ ھ

۵ ۔ ابو جعفر محمد بن علی ؑ باقر ۵۷ ھ ۱۱۴ ھ

۶ ۔ ابوعبداللہ جعفر بن محمد ؑ صادق ۸۳ ھ ۱۴۸ ھ

۷ ۔ ابوابراہیم موسیٰ بن جعفر ؑ کاظم ۱۲۸ ھ ۱۸۳ ھ

۸ ۔ ابوالحسن علی بن موسیٰ ؑ رضا ۱۴۸ ھ ۲۰۳ ھ

۹ ۔ ابو جعفر محمد بن علی ؑ جواد ۱۹۵ ھ ۲۲۰ ھ

۱۰ ۔ ابوالحسن علی بن محمد ؑ ہادی ۲۱۲ ھ ۲۲۰ ھ

۱۱ ۔ ابو محمد حسن بن علی ؑ عسکری ۲۳۲ ھ ۲۶۰ ھ

۱۲ ۔ ابوالقاسم محمد بن حسن ؑ مہدی ۲۵۵ ھ

بارھویں امام ہمارے زمانے میں رہبر اور خدا کی حجت ہیں، خدا جلد ان کا ظہور فرمائے اور ان کے ظہور اور قیام کے ابتدائی حالات کو آسان بنائے تاکہ وہ زمین کو ظلم و ستم سے بھر جانے کے بعد انصاف سے بھر دیں۔

حضرت امام مہدی عَجَّلَ اللہُ فَرَجَہ

حضرت امام مہدی ؑ کے ظاہر ہونے کی خوش خبری جو حضرت فاطمہ ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور جو آخری زمانے میں جب روئے زمین پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک ظلم و ستم کی کثرت ہوجائے گی تو وہ اس میں عدل و انصاف رائج کریں گے۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت سی متواتر روایات کے ذریعے سے منقول ہے مسلمانوں کے تمام فرقوں نے اپنے اپنے اختلاف کے باوجود یہ روایتیں لکھی ہیں اور انہیں مستند مانتے ہیں۔

حضرت امام مہدی آخرالزمان ؑ کے ظہور سے متعلق عقیدہ صرف شیعوں سے ہی مخصوص نہیں ہے ۔

(نوٹ، تفصیلات کے لیے دیکھیے انتظار امام مولفہ آیت اللہ محمد باقر صدر ، مطبوعہ جامعہ تعلیمات اسلامی )

کہ وہ جو یہ عقیدہ قائم کرکے ظالموں اور ستمگروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو یہ تسلی دینا چاہیں اور اپنا دل خوش کرنا چاہیں کہ امام مہدی ؑ ظہور فرمائیں گے اور روئے زمین کو ظلم سے پاک کردیں گے جیسا کچھ گمراہ کرنے والوں نے ناانصافی سے کام لیتے ہوئے اس عقیدے کو اسی سبب سے شیعوں سے مخصوص کر دیا ہے۔

اگر ظہور مہدی ؑ کا عقیدہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول نہ ہوتا، مسلمانوں کے تمام فرقے اسے مستند نہ جانتے اور اس کی تردید کرتے تو مہدویت کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے یہ ممکن نہیں تھا وہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں کیسانیوں اور کچھ عباسیوں اور علویوں وغیرہ کی طرح مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے، اس کے ذریعے سے لوگوں کو دھوکا دیتے اور اس عام عقیدے سے حکومت اور سلطنت حاصل کرنے میں فائدہ اٹھاتے، ان لوگوں نے یہ غلط دعویٰ کرکےیہ چاہا کہ اس اسلامی عقیدے (ظہور امام مہدی ؑ کا عقیدہ جو تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہے) کو عوام کے خیالات پر اثر ڈالنے اور ان پر اپنا غلبہ قائم کرنے کا ذریعہ بنالیں، اگر یہ عقیدہ صرف شیعوں کا ہوتا تو مہدویت کا دعویٰ کرنے والے اس خصوصی عقیدے سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے تھے۔

ہم شیعہ دین اسلام کو سچا سمجھتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اسلام خدا کا آخؒری دین ہے اور ہم انسانی بھلائی کے لیے کسی دوسرے دین کے منتظر نہیں ہیں، اس کے باوجود ایک طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ظلم اور تباہی ہر جگہ اس طرح مسلط ہے کہ آئندہ انصاف اور اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے، یہاں تک کہ خود مسلمان اسلام کے قانون سے کنارہ کش ہوگئے ہیں اور انہوں نے تمام اسلامی ملکوں می اس کے احکام معطل کردیے ہیں اور اس کے ہزاروں اصولوں میں سے ایک اصول پر بھی عمل نہیں کرتے

جس کو کہتے ہیں مسلمان دوستوں اب وہ کہاں

دین حق اس دور میں ہے یوسف بے کارواں

(خوش قسمتی سے امت مسلمہ کو آج اسلامی فکر کے احیاء اور اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لیے امام خمینی کی صورت میں ایک عزیمت پیکر رہبر میسر آگیا ہے ، جس نے طاغوتی فضا میں لاَ شَرقِیَّہ وَلاَ غَربِیَّہ کا قرآنی نعرہ بلند کرکے عالم اسلام کو صحیح معنوں میں آزاد اور خود مختار اسلامی حکومت قائم کرنے کی راہ دکھلا دی ہے جہاں اسلامی قوانین اور اصولوں کا نفاذ شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے، ناشر)

ہم جب یہ عقیدہ رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ اسلامی ملکوں کی حالت خراب ہوچکی ہے اور اصلاح کرنے والے کا ظہور لازمی اور ضروری سمجھتے ہوئے اس کا انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ اسلام کو اس کی قوت اور بزرگی واپس دلائے اور ظلم اور خرابی کے گڑھے میں دھنسی ہوئی اس دنیا کو بچالے۔

دوسری طرف یہ خیال ہے کہ آج کے مسلمان اختلافات، گمراہیوں ، بدعتوں اور اسلامی قوانین کی تبدیلیوں میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اور پچھلے مسلمانوں کے درمیان میں غلط اور فضول قسم کے دعوے بھی ظاہرہوچکے ہیں لہذا ایسی صورت میں یہ ممکن نہیں ہے کہ دین اسلام اپنی قوت اور عظمت دوبارہ حاصل کرلے۔

ان حالات میں صرف ایک شخص اسلام کی قابل دید عظمت کو تازہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے، اس عظیم المرتبت مصلح کا ظہور جو مسلمانوں کو متحد کر دے گا اور خدا کے لطف کی بدولت اسلام کی پیشانی سے تبدیلیوں ، بدعتوں اور گمراہیوں کے داغ دھو دے گا ، صرف ایک رہنما ایسے انقلاب کی طاقت رکھتا ہے۔ جو ہر طرح کی ہدایت پائے ہوئے ہو اور ایک عظیم سرداری اور غیر معمولی قدرت اور عظمت کا مالک ہو تاکہ جب پوری زمین ظلم سے بھر جائے تو اس میں عدل اور انصاف قائم کرے۔

مختصر یہ ہے کہ دنیا میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک خرابی ، تباہی اور ظلم کا پھیل جانا اس عقیدے کے ساتھ اسلام سچا اور آخری مذہب ہے فطری طور پر ایسے بزرگ مصلح (امام مہدی منتظر ؑ) کی آمد کا تقاضا کرتا ہے جو اپنے طاقت ور ارادے سے دنیا کو تباہیوں اور گمراہیوں سے بچالے۔

اس لیے تمام اسلامی فرقے بلکہ غیر مسلم قومیں بھی اس حقیقی نکتے پر ایمان رکھتی ہیں، اثنا عشری شیعوں کے اعتقاد کے مطابق بس اتنا سا فرق ہے کہ وہ اصلاح اور ہدایت کرنے والا ایک خاص فرد ہے جس نے ۲۵۵ ہجری میں اس دنیا میں آنکھ کھولی تھی اور جو ابھی تک زندہ ہے، وہ امام حسن عسکری ؑ کے بیٹے ہیں اور ان کا نام ""محمدؑ"" ہے۔

حضرت پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے خاندان والوں نے ان کی پیدائش اور ظہور کی جو خبر دی ہے وہ ہم تک بہت سی متواتر اور قطعی روایتوں کے ذریعے سے پہنچی ہے زمی پر امامت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور ایک امام دنیا میں ضرور موجود رہتا ہے چاہے وہ نظروں سے اوجھل ہی ہو تاکہ وہ اس دن جو خدا نے مقرر کر دیا ہے اور جو خدا کے بھیدوں میں سے ہے اور جسے خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، ظاہر ہوکر سچائی کا پرچم بلند کرے۔

بے شک یہ بات واضح ہے کہ اتنی لمبی مدت تک امام مہدی ؑ کی زندگی ایک معجزہ (غیر معمولی اور غیر عادی واقعہ) ہے لیکن یہ اس سے زیادہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ آپ پانچ سال کی عمر میں جس روز آپ کے پدر بزگوار جنت کو سدھارے امام ہوگئے اور یہ واقعہ حضرت عسیٰ ؑ کے معجزے سے بھی بڑھ کر نہیں ہے۔جنہوں نے شیر خواری کے سن میں ہی اپنے جھولے می باتیں کیں اور اسی دوران میں نبوت کے منصب پر فائز ہوگئے۔

(نوٹ ،( فَاَشَارَت اِلَیهِ قَالُوا کَیفَ نُکَلِّمُ مَن کَانَ فِی المَهدِ صَبِیّاً ) ، سورہ مریم آیت ۲۹)

علم طلب کی رو سے ایسی زندگی ناممکن نہیں ہے جو فطری عمر سے زیادہ ہو یا اسے عمر سے زیادہ ہو جو فطری سمجھی جاتی ہے، اس وقت کی صورت حالات یہ ہے کہ علم طب ابھی تک لمبی عمر پانے کے کسی طریقے یا لمبی عمر بخشنے والی کسی دوا کی تحقیق یا انکشاف میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے بہر حال اگر علم طب اس سے عاجز ہے تو خدا تو ہر شے پر قدرت رکھنا ہے اور خدا کے فرمانے کے مطابق کچھ لوگ حضر نوح ؑ (( وَلَقَد اَرسَلنَا نوُحاً اِلیٰ قَومِهِ فَلَبِثَ فِیهِم اَلفَ سَنَةٍ اِلاَّ خَمسِینں عَامَا ) ۔ سورہ عنکبوت ۔ آیت ۱۴ ) اور حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح بھی گزرے ہیں جنہوں نے عام فطری عمر سے زیادہ زندگی پائی اور جو قرآن کو ماننے والا مسلمان اس کے متعلق شک کرے یا اسے نہ مانے تو اسے چاہیے کہ وہ اسلام کو خیر باد کہہ دے ۔ بڑا تعجب ہوتا ہے جب کوئی قرآن کو ماننے والا مسلمان یہ سوال کر دیتا ہے کہ کیا زندگی طبیعی عمر سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے؟

یہاں یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ اصلاح کرنےوالے اور نجات دہندہ (مہدی ؑ ) کے انتظار کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور جو کچھ پر واجب ہے مثلاً حق کی حمایت ، خدا کے لیے جہاد ، تبلیغ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وغیرہ ، اسے اسی امید پر چھوڑ دیں کہ امام مہدی ؑ آئیں گے اور کام سنوار دیں گے بلکہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے تاکہ اسلام کی طرف سے اس کو جو فرض سونپا گیا ہے اسے ادا کرے، دین کا تعارف کرانے کے لیے ٹھیک طرح سے کوشش کرے اور جہاں تک ہوسکے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرے جیسا کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےفرمایا ہے۔

کُلُّکُم رَاعٍ وَکُلُّکُم مَسُولٌ عَن رَعِیَّتِهِ :۔ تم سب لوگ ایک دوسرے کے رہبر اور (ایک دوسرے کو اصلاح کے ) ذمے دار ہو۔ (نہج الفصاحتہ ، حدیث ۲۱۶۳)

اس بناپر کسی مسلمان کے لیے نہ مناسب نہیں ہے کہ وہ انسانوں کے مصلح کے انتظار میں اپنے مسلم اور قطعی کاموں سے ہاتھ اٹھالے ، کیونکہ کسی مصلح کے متعلق عقیدہ کھنے سے نہ فرض ساقط ہوتا ہے اور نہ اپنی کوششوں میں سستی کرنا چاہیے کیا غفلت ، لاپروائی اور بے توجہی برتنے والا بے چروا ہے کے جانوروں کی طرح نہیں ہوتا؟

رجعت کا مسئلہ

اثنا عشری شیعوں کے عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ۔ ان روایات کے مطابق جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہلبیت ؑ سے منقول ہیں اور جنہیں وہ مانتے ہیں، عقیدہ رجعت بھی ہے یعنی خداوند عالم مردوں کی ایک جماعت کو اسی جسم اور شکل میں جو وہ رکھتے تھے زندہ کرکے دنیا میں واپس بھیج دے گا، ان میں سے کچھ لوگوں کو عزت دے گا اور کچھ کو ذلیل و خوار کرے گا۔ سچوں کا حق، باطل پرستوں سے اور مظلوموں کا حق، ظالموں سے لے گا اور یہ واقعہ امام مہدی ؑ کے قیام کے بعد پیش آئے گا۔

جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہوکر اس دنیا میں پلٹیں گے وہ صرف ایسے لوگ ہوں گے جو ایمان کی بلندی پر فائز ہوگئے تھے یا اخلاقی خرابی کے پاتال میں گر گئے تھے اور زندہ ہونے کے کچھ عرصے کے بعد دوبارہ مرجائیں گے تاکہ قیامت کے دن زنددہ ہوں اور جس سزا و جزا کے مستحق ہیں اس کو پہنچ جائیں جیسا کہ قرآن میں خداوند عالم ان لوگوں کی آرزو بیان فرماتا ہے جو مرنے کے بعد زندہ ہوگئے لیکن ان کے کام اسی واپس سے بھی نہیں سدھر سکے اور وہ تیسری بار زندہ ہونے کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ اس مدت میں وہ درست ہوجائیں ، جہاں وہ کہتا ہے :

( قَالُوٓا رَبَّنَٓا اَمَتَّنَا اثنَتَینِ وَاَحیَیتَنَا اثنَتَینِ فَاعتَرَفنَا بَذُنُوبِنَا فَهَل اِلٰی خُرُوجٍ مِّن سَبِیلٍ ) ۔

کافر کہیں گے کہ اے پروردگار ! تو نے ہمیں دوبارہ جلایا اور دوبارہ مارا۔ ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، کیا (اس عذاب سے) باہر جانے کا بھی کوئی راستا اور ذریعہ ہے؟ (سورہ مومن ۔ آیت ۱۱)

ہاں قرآ ن مجید میں رجعت (مردوں کا زندہ ہونا اور عرصے تک ان کی دوبارہ زندگی) کے متعلق آیتیں بیان کی گئی ہیں اور اس معاملے سے متعلق اہلبیت نبوت کی بہت سی روایتیں بھی ہم تک پہنچی ہیں۔ شیعہ امامیہ سب کے سب رجعت پر ایمان رکھتے ہیں سوائے ان تھوڑے سے لوگوں کے جنھوں نے رجعت کی آیتوں اور روایتوں کے معنیٰ میں تاویل کرلی ہے، مثلاً یہ کہ رجعت سے ظہور امام مہدی ؑ کے وقت امر اور نہی پر عملدرآمد کرانے کے لیے اہل بیت ؑ کی طرف حکومت کی واپسی مراد ہے، یہ مراد نہیں کہ مردہ انسان زندہ ہوں گے۔

اہل تسنن اور رجعت کا مسئلہ

سنی لوگ رجعت کے عقیدے کو اسلام کے خلاف سمجھتے ہوئے اس کو برا کہتے ہیں، سنی مصنفین اور شارحین رجال، رجعت کا عقیدہ رکھنے والے راویوں پر طعنہ کستے اور انہیں ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں (مثلاً کہتے ہیں کہ جابر جعفی قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ وہ رجعت کا عقیدہ رکھتا ہے) اور اسی عقیدے کو اس بات کا جواز قرار دیتے ہیں کہ ایسے راوی کی روایت مسترد کر دی جائے، یہاں تک کہ وہ رجعت کے عقیدے کو کفر اور شرک بلکہ اس سے بھی بدتر شمار کرتے ہیں اور یہی عقیدہ سب سے بڑا بہانہ ہے جس سے اہل تسنن (اپنے خیال کے مطابق) شیعوں پر ضرب لگاتے اور سخت نکتہ چینی کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ بات ان بے بنیاد اور گمراہ کن بہانوں میں سے ایک ہے جنہیں اسلامی فرقوں کے ایک گروہ نے دوسرے گروہوں کی کاٹ اور ان پر طعنہ زنی کا وسیلہ بنا لیا ہے ورنہ حقیقت میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جو اس بہانے کو درست منواسکے ، کیونکہ رجعت کا عقیدہ توحید اور نبوت کے عقیدے میں کسی قسم کا خلل نہیں ڈالتا بلکہ اس کے برعکس ، ان دونوں عقیدوں کو اور مضبوط کرتا ہے کیونکہ رجعت (مردوں کا زندہ ہونا) حشر و نشر کی طرح خدا کی قدرت کاملہ کی نشانی ہے اور غیر معمولی واقعات میں سے ہے جو ہمارے پیغمبر محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہلبیت ؑ کا معجزہ ہوسکتا ہے۔

اصل میں "رجعت" ہو بہو مردے زندہ کرنے کا معجزہ ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ دکھایا کرتے تھے بلکہ رجعت میں یہ معجزہ زیادہ موثر اور زیادہ مکمل ہے کیونکہ رجعت سے مراد مردوں کو گل سڑ چکنے اور خاک برابر ہوجانے کے بعد زندہ ہونا ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

( قَالَ مَن یُّحیِ العِظَامَ وَ هِیَ رَمِیمٌ ، قُل یُحیِیهَا الَّذِیٓ اَنشَاَ هَٓااَوَّلَ مَرَّةٍ، وَهُوَ بِکُلِّ خَلقٍ عَلِیمٌ ) :۔ (منکر نے گلی سڑی ہڈی دکھائی اور)کہا : کیا کوئی ان گلی سڑی ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے؟ اے پیغمبر کہہ دو جس نے اسے پہلے بار وجود بخشا تھا، وہ اسے دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے اور وہ ہر شے کی پیدائش کا جاننے والا ہے (سورہ یٰسٓ ۔آیت ۷۸ ۔ ۷۹ )

ایسی صورت میں رجعت کا یہ عقیدہ شرک اور کفر سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا جو ان کے زمرے میں یا ان سے بدتر سمجھا جائے۔

کچھ لوگ رجعت کا عقیدہ غلط ثابت کرنے کے لیے اس راستے سے آئے ہیں کہ رجعت "تناسخ" (آوا گون) کی ایک قسم ہے جس کو اسلام میں سب نے غلط مانا ہے ، درحقیقت ج لوگوں نے ایسا سوچا ہے انہوں نے تناسخ اور جسمانی معاد (واپسی) میں فرق نہیں رکھا ہے۔

(رجعت جسمانی معاد کی ایک قسم ہے) کیونکہ تناسخ روح کے ایک جسم سے دوسرے جسم میں جانے کو کہتے ہیں جب کہ روح پہلے جسم سے جدا ہوچکی ہو لیکن جسمانی معاد سے کمراد یہ ہے کہ روح اپنے ہی جسم میں ۰ جس میں وہ پہلے رہ چکی ہے) انہیں خصوصیات کے ساتھ واپس آجائے۔

اگر رجعت کے معنیٰ تاسخ کے ہوں تو یہ بات بھی لازمی طور سے تسلیم کرنا پڑے گی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھوں مردوں کا زندہ ہونا بھی تناسخ ہے اور حشر و نشر اور جسمانی معاد کا پورا ماجرا بھی تناسخ ہے (جب کہ ایسا نہیں ہے)

نتیجہ یہ نکلا کہ رجعت کے بارے میں دو پہلوؤں سے دفت اور دشواری پیدا ہوتی ہے۔

۱ ۔ رجعت کا پیش آنا ناممکن ہے۔

۲ ۔ رجعت کے بارے میں جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں ان کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔

فرض کیجیے کہ یہ دونوں دقتیں پیش آگئیں لیکن رجعت کا عقیدہ ایسی برائی نہیں ہے جسے اہل تسنن شیعوں سے دشمنی کا سبب بنا لیں اور اسے بہانہ بنا کر شیعوں پر چڑھ دوڑیں، اس لیے کہ مختلف اسلامی فرقوں میں بہت سے ایسے عقیدے پائے جاتے ہیں جو ناممکنات میں سے ہیں یا ان کے بارے میں اسلام کے رہنما صاف صاف بیان کرچکے ہیں لیکن یہ کفر اسلام سے خارج ہونے کا سبب ہیں بنتے ، ان کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں مثلاً

یہ عقیدہ کہ پیغمبر بھی بھول جاتا ہے یا گناہ کرتا ہے

یہ کہ قرآن قدیم ہے۔

یہ کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد کے لیے اپنے جانشین کا تقرر نہیں کیا ہے ۔

(اہل تسنن ان باتوں پر اعتقاد رکھتے ہیں)

پہلی دقت کا حل

یہ جو کہتے ہیں کہ رجعت ناممکن ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ ہم پیشتر کہہ چکے ہیں کہ رجعت بھی حشر و نشر اور جسمانی معاد (واپسی) کی قسم ہے ، دونوں میں فرق ہے تو بس اتنا سا کہ رجعت کا زمانہ اسی دنیا میں ہے ، جسمانی معاد کے ممکن ہونے کی دلیل ہی رجعت کے ممکن ہونے کی دلیل بھی ہے اسے مختلف یا عجیب سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

بات صرف یہ ہے کہ رجعت (مردو کے زندہ ہونے کی بات) سے ہم واقف نہیں ہیں، نہ دنیاوی زندگی میں ایسے موضوع سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے اور نہ اس کے اسباب اور رکاوٹوں ہی کو پہچانتے ہیں جو ہمیں اس عقیدے کے قریب لائیں یا اس سے دور کر دیں اور انسان کا ذہن اور سمجھ دونوں اس بات کے عادی ہیں کہ جن معاملات سے ہم واقف نہیں ہیں ان کی تصدیق نہ کریں، بالکل اسی طرح جس طرح ایک شخص قیامت میں اٹھائے جانے اور حشر و نشر کو عجیب و غریب اور غیر فطری سمجھتا ہے اور کہتا ہے۔

( قَالَ مَن یُّحیِ العِظَامَ وَهِیَ رَمِیمٌ قُل یُحِییهَاالَّذِیٓ اَنشَاَهَا اَوَّلَ مَرَّةٍ ، وَهُوَ بِکُلِّ خَلقٍ عَلِیمٌ ) :۔ کیا کوئی ان گلی سڑی ہڈیوں کو زندہ انسان بنا سکتا ہے ؟ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ "جس نے پہلی بار اسے وجود بخشا ہے وہی اسے دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے اور وہ ہر چیز کی خلقت جانتا ہے "۔(سورہ یٰسٓ ۔آیت ۷۸ ۔ ۷۹)

ہاں رجعت جیسے موضوعات میں جن کی موافقت یا مخالفت میں ہم کوئی عقلی دلیل نہیں رکھتے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ کوئی دلیل موجود نہیں ہے ، ہمیں چاہیے کہ قرآن کی آیات اور ایسی مذہبی روایات کی تلاش کریں جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر سے لی گئی ہوں اور وہاں سے مدد چاہیں

قرآن مجید میں ایسی آیتیں ہیں جو رجعت کے واقع ہونے، مردوں کے جی اٹھنے اور دنیا میں ان کے واپس آنے پر روشنی ڈالتی ہی جیسے مردوں کو زندہ کرنے سے متعلق حضرت عیسیٰ ؑ کا معجزہ جسے قرآن حضرت عیسیٰ ؑ کی زبان سے کہلواتا ہے :

۱ ۔( وَاُبرِیُ الاَکمَهَ وَالاَ برَصَ وَاُحیِ المَوتٰی بِاِذنِ اللهِ ) :۔ میں جنم کے اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کرتا ہوں اور مردوں کو خدا کے حکم سے زندہ کردیتا ہوں (سورہ آل عمرا ن۔ آیت ۴۹)

۲ ۔ یا مثلاً سورہ بقرہ کی یہ آیت جو ایک پیغمبر کا قول دہراتی ہے جو کسی ویرانے اور بستی سے گزرے اور کہنے لگے :

( اَنّٰی یُحیِ هٰذِهِ اللهُ بَعدَ مَوتِهَا فَاَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ) :، مجھے حیرت ہے کہ خدا اس بستی کے رہنے والوں کو ان کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے خدا نے انہیں سو سال تک مردہ رکھا اور پھر جلادیا۔ (سورہ بقرہ ۔ آیت ۲۵۹)

۳ ۔ اور اس آیت کی طرح جس کا ذکر اس بحث کی ابتدا میں کیا گیا ہے ۔

یہ آیتیں مرنے کے بعد اس دنیا میں واپس آنے کے واقعے کو صاف صاف بیان کرتی ہیں اور ان آیتوں کے دوسرے معنیٰ درست نہیں ہیں ، اگرچہ بعض مفسروں نے اپنے آپ کو اس قسم کی تاویل کرتے ہوئے فضول اور ان کے حقیقی معنوں سے ہٹے ہوئے معاملات کا لجھانے کا تکلف بھی کیا ہے۔

دوسری دقت کا حل

یہ کہتے ہیں کہ رجعت کے بارے میں حدیثیں اور روایتیں بناوٹی اور غیر حقیقی ہیں، یہ ایک بے دلیل دعویٰ ہے کیونکہ رجعت ایک ضروری اور کھلی ہوئی بات ہے جو ائمہ اطہار ؑ سے مسلسل اور قطعی حدیثوں اور روایتوں کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہے اور ان متوات روایتوں کے جعلی ہونے کا دعویٰ فضول اور بے بنیاد ہے۔

رجعت کے واقعے اور اس کی کیفیت اور معنی کے واضح ہوجانے کے بعد کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ اہل تسنن کا ایک مشہور مصنف جو علم و فضل کا دعویٰ بھی کرتا ہے یعنی احمد امین اپنی کتاب فجر الاسلام میں کہتا ہے ۔

"شیعوں کے عقیدہ رجعت سے یہودیوں کا مذہب ظاہر ہوگیا ہے"

ہم اس مصنف کے دعوے کے مطابق کہتے ہیں : "اس دلیل سے یہودیوں کا مذہب قرآن مجید میں ظاہر ہوگیا ہے کیونکہ اس میں بھی عقیدہ رجعت جھلک رہا ہے "اسی طرح ہم نے رجعت سے متعلق بھی کچھ قرآنی آیتیں پیش کر دی ہیں۔

اس جگہ ہم یہ اضافہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں :

حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا (اصلی اور ابتدائی) مذہب اسلام کے بہت سے قوانین اور عقیدوں سے ظاہر ہے کیونکہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پچھلے آسمانی مذہبوں اور شریعتوں کی تصدیق کرنے والے تھے ۔ اگرچہ ان کے تھوڑے سے احکام اسلام کے آنے سے منسوخ بھی ہوگئے۔

اس بنا پر یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبوں کے کچھ احکام کا اسلام میں نظر آنا اسلام کی کوئی برائی یا خامی نہیں ہے۔ چنانچہ فرض کر لیجیے کہ رجعت بھی یہودیو کے مذہب کا ایک حصہ ہے (جیسا کہ مصنف مذکور نے دعوی کیا ہے) اور پھر اسلام میں بھی یہ عقیدہ آگیا ہو گا۔

بہرحال رجعت اسلامی عقیدوں کی بنیاد نہیں ہے یعنی اصول دین میں داخل نہیں جو اس پر ایمان لانا اور غور کرنا واجب ہو بلکہ ہم شیعوں کا اعتقاد ان درست روایات کی پیروی ہے ہے جو ائمہ اطہار ؑ سے ہم تک پہنچی ہیں اور وہ ہمارے عقیدے کی رو سے معصوم ہیں اور رجعت کا یہ موضوع ان غیبی باتوں میں سے ہے جس کی انہوں نے اطلاع دی ہے اور پھر اس کا پیش آنا بھی ناممکن نہیں ہے۔

تقیے کا مسئلہ :۔

صحیح اور معتبر روایتوں کے مطابق امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا ہے ۔

اَلتَّقِیَّةُ دِینِی وَدِینُ اٰبَآ ئِی تقیه میرے دین کا حصہ اور میرے باپ داداؤ کا شیوہ ہے اورمَن لاَ تَقِیَّةَ لَهُ لاَ دِینَ لَهُ جو تقیہ نہیں کرتا، اس کا کوئی دین نہیں ہے ۔

(نوٹ۔ اصول کافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۱ مطبوعہ انتشارات علمیہ اسلامیہ ایران وسائل الشیعہ جلد ۶ صفحہ ۴۶۰ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

دراصل تقیہ اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار ؑ کا وطیرہ رہا ہے جس کے ذریعے سے انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے ماننے والوں کو خطروں اور نقصانوں سے بچایا اور ان کی جانوں کی حفاظت اور مسلمانوں کے حالات کی درستی اور ان کی پراگندگی اور تفرقے سے بچاؤ کا سامان فراہم کیا۔

تقیہ وہ طریقہ ہے جس سے "امامیہ شیعہ" ہمیشہ پہچانا جاتا ہے اور باقی اسلامی فرقوں سے نمایاں ہوجاتا ہے۔

جب انسان اپنے عقیدے پھیلانے یا ظاہر کرنے کے سبب سے اپنی جان و مال کو خطرے میں محسوس کرتا ہے تو مجبوراً انہیں چھپاتا ہے اور خطرے کے موقع پر اپنے آپ کو چھپا کر اور چوکنا رہ کر بچاتا ہے ، یہ بات (پوشیدگی) ایسی ہے جس کا تقاضا انسانی فطرت اور عقل دونوں کرتی ہیں (اسی بات کو آج کل "نظریہ ضرورت " کے تحت تسلیم کرلیا گیا ہے)۔

یہ بات واضح ہے کہ شیعہ امامیہ اور ان کے رہنما ہر زمانے میں مسلسل آفتوں اور قیدوں کے طوفان میں یوں گھرے رہے ہیں کہ کسی گروہ اور کسی قوم نے ان کی طرح گھیراؤ اور دباؤ میں زندگی بسر نہیں کی ہے اس لیے مجبور ہوکر بہت سے موقعوں پر انہوں نے تقیے سے کام لیا اور خود کو اور اپنے خصوصی اعمال اور عقائد کو چھپا کر دشمن کے خطروں سے بچانا ضروری سمجھا ورنہ دینی اور دنیوی نقصانات بھگتنے پڑتے ۔ اس لیے امامیہ شیعہ ہی تقیے سے پہچانے جاتے ہیں اور جب تقیے کا ذکر ہوتا ہے تو شیعہ بھی اس کے ساتھ ساتھ یاد آجاتا ہے ۔

جاننا چاہیے کہ خطرے اور نقصانات کے موقعوں کے مطابق تقیے کے واجب ہونے، نہ ہونے کے لیے شرعی احکامات موجود ہیں، جن پر شیعہ فقیہوں نے اپنی فقہ کی کتابوں کے خاص ابواب میں بحث کی ہے۔

ایسا نہیں ہےکہ تقیہ ہر جگہ واجب ہو بلکہ کبھی تقیہ جائز (مستحب، مباح یا مکروہ) ہوتا ہے بعض موقعوں پر مثلاً ایسی جگھوں پر جہاں سچ کے اظہار اور دکھاوے سے دین کی مدد، اسلام کی خدمت اور اسلام کی راہ میں جہاد ہو تقیہ نہ کرنا واجب ہوتا ہے۔ ایسے موقعوں پر جان اور مال کو اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ جان اور مال دین پر قربان ہوجاتے ہیں۔

کبھی تقیہ کرنا حرام ہوتا ہے مثلاً ایسے معاملات میں تقیہ کرنا جو مومن کے قتل یا باطل کی اشاعت یا دین میں خرابی یا مسلمانوں کی گمراہی کی صورت میں ان کے زیادہ اور ناقابل برداشت نقصان یا ان میں ظلم اور زیادتی کے ظاہر ہونے کا موجب بن جائیں۔

بہر حال شیعوں کی نظر میں تقیہ یہ نہیں ہے کہ اس کے ذریعے سے اجاڑنے اور بگاڑنے والی کوئی خفیہ جماعت بنائی جائے جیسا کہ شیعوں کے بعض دشمنوں نے تقیے کی حقیقت اور اصلیت اور اس کے موقع و محل کو سمجھے بغیر اسی خیال کو تقیے کا سبب قرار دے دیا اور خود کبھی یہ تکلیف نہیں اٹھائی کہ تقیے کے معاملے میں وہ شیعوں کا صحیح نقطہ نظر سمجھ لیں،

تقیے سے یہ بھی غرض نہیں ہے کہ اس کے ذریعے دین اور احکام کو ایک راز بنا دیں اور اس کو ان لوگوں کے سامنے جو اس کے معتقد نہیں ہیں ظاہر ہی نہ کریں، فقہ،احکام ، علم کلام کی بحثوں اور عقیدوں وغیرہ کے موضوعات پر شیعوں کی مختلف تالیفات اور کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے تمام مقامات کو پاٹ دیا ہے اور یہ کتابیں بہت زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی ہیں۔

ہاں تقیے کے متعلق ہمارے عقیدے کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہمارے مخالفوں نے اسے ایک بہانہ بنا لیا اور اسے غلط شکل میں پیش کرکے وہ ہم پر حملہ آور ہوگئے، گویا ان کی دشمنی اور نفاق کے شعلے ٹھنڈے نہیں پڑسکتے تھے جب تک کہ شیعہ تقیہ ترک کرکے خطرے میں نہ پڑجاتے اور ان کی گردنیں ان زمانوں میں (جب کہ بنی امیہ اور بنی عباس حکومت کرتے تھے) دشمنوں کی تلوار کی باڑھ کے نیچے نہ آجاتیں اور وہ مکمل طور پر فنا نہ ہوجاتے، اس زمانے میں آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمنوں یعنی بنی امیہ، بنی عباس بلکہ عثمانیوں کے ہاتھوں بھی شیعوں کا خون بہانے کے لیے صرف شیعہ کہلانا ہی کافی تھا۔

جو شخص اعتراض کی فکر میں ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تقیے کے موضوع کو شیعیت پر اعتراضات کا سرخیل بنا دے، اس کی دلیل یہ ہے کہ دینی نقطہ نظر سے تقیہ درست اور جائز نہیں ہے اس سے ہم کہتے ہیں ۔

اول ۔۔۔ ہم اپنے رہنماؤں ائمہ اطہار ؑ کے ماننے والے ہیں اور ان کی ہدایت کی راہ پر چلتے ہیں انہوں نے ضرورت کے وقت ہمیں تقیے کا حکم دیا ہے اور تقیہ ان کی نظر میں دین کا حصہ ہے جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا ہے ۔

"جو تقیہ" نہیں کرتا وہ کوئی دین ایمان نہیں رکھتا"

دوم ۔ اس کی تصریح قرآن مجید میں بھی کی گئی ہے کہ تقیہ شریعت کے مطابق ہے جیسا کہ سورہ نحل میں ہم پڑھتے ہیں۔

( مَن کَفَرَ بِاللهِ مِن بَعدِ اِیمَانِهِ اِلاَّ مَن اُکرِهَ وَقَلبُهُ مُطمَیِنٌّ بِالاِیمَانِ وَلٰکِن مَّن شَرَحَ بِالکُفرِ صَدراً فَعَلَیهِم غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَلَهُم عَذَابٌ عَظِیمٌ ) :۔ اس شخص پر جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا اور جی کھول کر کفر کیا خدا کا غضب اور عذاب نازل ہوا نہ اس شخص پر جس کا دل ایمان سے معمور ہو لیکن اسے کلمہ کفر پر مجبور کیا گیا ہو۔ (سورہ نحل ۔ آیت ۱۰۶)

یہ آیت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بزرگ صحابی عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہوں نے کافروں کے ڈر سے بناوٹی کفر کا اظہار کیا تھا (لیکن ان کا دل ایما کی دولت سے بھرا ہوا تھا چنانچہ وہ اس آیت اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرمانے کے مطابق قابل بخشش اور بے گناہ قرار پائے)

سورہ آل عمران میں ہم پڑھتے ہیں:

( لاَ یَتَّخِذِ المُومِنُونَ الکٰفِرِینَ اَولِیَآءَ مِن دُونِ المُومِنیںَ ، وَمَن یَّفعَل ذٰلِکَ فَلَیسَ مِنَ اللهِ فِی شَیءٍ اِلاَّ اَن تَتَّقُوا مِنهُم تُقٰةً ) :۔ مومنین ، مومنین کو چھوڑ کے کافروں سے دوستی نہ رکھیں ، جو کوئی ان سے دوستی کرتا ہے وہ خدا کے حکم کے خلاف ورزی کرتا ہے ، ہاں مگر تم چاہو تو دشمنوں سے تقیہ کرلو۔ (سورہ آل عمران ۔ آیت ۲۸)

(یعنی اس صورت میں ان سے ظاہر میں دوستی جتانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے)۔

سورہ مومن میں مزید ارشاد ہوتا ہے :

( وَقَالَ رَجُلٌ مُّومِنٌ مِّن اٰلِ فِرعَونَ یَکتُمُ اِیمَانَهُ ) :۔ آل فرعون کے اس مومن شخص نے جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا کہا۔۔۔ (سورہ مومن ۔ آیت ۲۸)

اس آیت میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض موقعوں پر تقیہ کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے ۔


پانچواں باب

اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق اور ان کا تربیتی مکتب

تمہید :۔

ہمارے وہ امام اور پیشوا جو اہلبیت ؑ میں سے تھے یہ جانتے تھے کہ جب تک وہ زندہ ہیں حکومت (ظالم خلیفاؤں کے زبردستی چھین لینے کی وجہ سے) انہیں نہیں ملے گی اور ظالم حکومتیں انہیں اور ان کے پیرووں کو لازمی طور پر نہایت کڑی پابندیوں اور سخت دباؤ میں رکھیں گی۔

ان حالات میں یہ بات فطری ہے کہ ایک طرف امام اس قدر دباؤ اور شدید پابندی میں اپنی ، اپنے عزیزوں اور اپنے حامیوں کی حفاظت کے لیے احتیاط کی راہ اختیاط کریں یعنی تقیے سے اپنے اور اپنے پیرووں کے لیے اس وقت تک کام لیں جب تک دوسروں کے جانی نقصان کا خدشہ اور دین اسلام کو خطرہ لاحق نہ ہو تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو سخت جانی دشمنوں اور حاسدوں سے بچا سکیں اور تقیے کے سائے میں زندگی بسر کرسکیں۔

دوسری طرف امامت کے ذمے دار منصب کے تقاضے کے مطابق یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے حامیوں کو اسلامی احکام اور قوانین سکھائیں، انہیں صحیح اور مکمل دین کی راہ دکھائیں اور انہیں سماجی شعبے میں ایسی تربیت دیں کہ وہ پکے اور سچے مسلمانوں کا نمونہ بن جائیں۔

اہلبیت ؑ نے ایسی صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ رہبری کی کہ اس کتاب میں اس کی تشریح اور تفصیل کی گنجائش نہیں ہے ضخیم اور مفصل کتابیں جو اہلبیت ؑ کی احادیث پر مشتمل ہیں ان تعلیمات اور دانائیوں سے بھری ہوئی ہیں۔

اس جگہ یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کے تعلیمی اور تربیتی پروگراموں کے ان نمونوں کی طرف اشارہ کرتے چلیں جو اعتقادات کی بحثوں سے ملتے ہیں اور تعلیم ، تربیت اور سماجی روش کے ان مفید پروگراموں کا انداز بھی جانتے چلیں جن کے مطابق وہ اپنے ماننے والوں کو تربیت دیتے تھے ۔ انہیں خدائی نجات اور بخشش کے قریب لاتے تھے اور ان کی روحوں کو گناہوں کی کثافتوں سے پاک کر دیتے تھے۔

یہاں ہم اہلبیت ؑ کے تربیتی مکتب کی کچھ تعلیمات بیان کرتے ہیں:۔

دعاء اور مناجات

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :

الدُّعَآءُ سِلاَحُ المُومِنِ وُعَمُودُ الدِّینِ وَنُورُ السَّمٰوَاتِ وَالاَرضِ :۔ دعا مومن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا اجالا ہے (اصول کافی، کتاب الدعاء)

دعا اور مناجات پر توجہ دینا شیعیت کی خصوصیات میں سے ہے جس کی بدولت شیعہ باقی لوگوں سے ممتاز ہوگئے ہیں شیعہ عالموں نے دعا کے قاعدوں ، طریقوں اور خوبیوں کے متعلق کتابیں لکھی ہیں اور ان دعاؤں کے متعلق جو اہلبیت ؑ سے آئی ہیں چھوٹی بڑی دس سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں۔ ان کتابوں میں دعا اور مناجات پر پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے خانوادے کی گہری توجہ اور ان کی بکثرت تاکیدوں کا ذکر کیا گیا ہے ، یہاں تک کہ ان کے یہ اقوال بھی بیان کیے گئے ہیں کہ

اَفضَلُ العِبَادَةِ الدُّعَآءُ :۔ دعا بہترین عبادت ہے ۔ (اصول کافی، کتاب الدعا)

اَحَبُّ الاَعمَالِ اِلیَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِی الاَرضِ الدُّعَآءُ :۔ دعا اور مناجات سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال ہیں جو روئے زمین پر خدا کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ (اصول کافی، کتاب الدعاء)

اِنَّ الدُّعَآءَ یَرُدُّ القَضَآءَ (وَالبَلآَءَ) :۔ دعا ناخوشگوار حادثات اور بلاؤں کو دور کرتی ہے۔ (اصول کافی، کتاب الدعا)

اِنَّ الدُّعَآءَ شِفَآءٌ مِّن کُلِّ دَآءٍ :۔ دعا ہر درد کی دوا ہے (اصول کافی ، کتاب الدعاء)

امیرالمومنین امام علی ؑ کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ آپ مجسم دعا تھے یعنی بہت زیادہ دعا اور مناجات کرتے تھے بے شک جو توحید پرستوں کا سردار اور خدا پرستو کا پیشوا ہو اس کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ آپ ؑ کی دعائیں بھی آپ کے خطبوں کی طرح عربی زبان کی بلاغت کے نمونے میں، مثلاً وہ مشہور دعا جو آپ نے کمیل ابن زیاد کو سکھائی تھی اور دعائے کمیل کے نام سے معروف ہے، یہ دعا خدائی تعلیمات اور دین کی ٹھوس حقیقتوں پر مشتمل ہے اور اس لائق ہے کہ ہر مسلمان کے لیے دین اور تربیت کا صحیح اور عظیم پروگرام اور دستور عمل بن جائے۔

اگر غور کیا جائے تو اصل میں وہ دعائیں جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہلبیت ؑ سے آئی ہیں ، ہر مسلمان کے لیے بہتری تربیتی مکتب اور تقلیدی نمونہ بن سکتی ہیں، ایک ایسا مکتب جو انسان میں ایمانی قوت ، پکا اعتقاد اور سچائی کے لیے جا دینے کا جذبہ پیدا کرتا ہے ، خدا کی عبادت کے راز سے واقف کراتا ہے ، مناجات کرنے اور خدا سے دل لگانے کا شوق دلاتا ہے، انسان کو فرض کا پہچاننا، دین پر چلنا اور ایسے اسباب مہیا کرنا سکھاتا ہے جو اسے خدا کے قریب لاتے اور بخشواتے ہیں اور اسے تباہیوں ، عیاشیوں اور بدعتوں سے دور رکھتے ہیں،

مختصر یہ ہے کہ ان دعاؤں میں اسلامی عقیدت، تربیت، اخلاق اور دین کی تعلیمات کے مجموعے کا نچوڑ جھلکتا ہے بلکہ یہ دعائیں فلسفہ اور اخلاق کی علمی بحثوں اور فلسفیانہ نظریوں اور خیالوں کے اہم ترین سرچشمے ہیں۔

اگر انسان میں اتنی صلاحیت اور اہلیت ہوتی۔۔۔ اہلبیت ایسا ساتھی ہے جو ہر ایک کو نہیں ملتا۔۔۔ کہ ان دعاؤں کے قیمتی اور روشن مواد سے فائدہ اٹھا پاتا تو ان تباہیوں کا نشان بھی نہ رہتا جنھوں نے کرہ ارض کو دبا رکھا ہے اور یہ برائیوں اور گناہوں کے قید خانوں میں گرفتار اور خوار روحیں سچائی اور پاکیزگی کے آسمان پر آزادی سے اڑتی (لیکن افسوس یہ ہے کہ انسانی نفس کی سرکش خواہشیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں) جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

اِنَّ الفَّفسَ لاَمَّارَةٌ بِالسُّوٓءٍ :۔ انسان کا نفس امارہ اسے ہمیشہ بدی کی راہ دکھتا ہے (سورہ یوسف ؑ ۔ آیت ۵۳)

وَمَآ اَکثَرُ النَّاسِ وَلَو حَرَصتَ بِمُومِنِنَ :۔ اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! بہت سے آدمی ایمان نہیں لائیں گے، اگرچہ تمہیں ان کے ایمان لانے کی بہت فکر اور بہت زیادہ اصرار ہوگا (سورہ یوسف ۔ آیت ۱۰۳)

ہاں انسان میں کج روی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ گھمنڈی ہوجاتا ہے اور اپنی برائیوں سے نظر بچاتا ہے ، گمراہی اور فریب نظر کے باعث اپنے تمام اعمال کو اچھا اور مناسب سمجھنے لگتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے کہ میں صرف نیک کام کیا ہے وہ جان بوجھ کر اپنے برے کامو سے آنکھیں بند کرلیتا ہے اور انہیں اپنے نزدیک بہت معمولی سمجھتا ہے۔

یہ دعائیں جو وحی کے سرچشمے سے لی گئی ہیں کوشش کرتی ہی کہ انسان کو خدا کے حضور تنہا ہونے پر مجبور کریں تاکہ انسان تنہائی میں راز و نیاز کے وقت اپنے گناہ مان لے اور یہ کہے کہ اپنے گناہوں میں پھنس جانے کی وجہ سے مجھے تنہائی میں توبہ اور بخشش کی درخواست کے ساتھ خدا کی پناہ لینا چاہیے ایسا شخص اپنے گھمنڈ کے واقعات کے اور گناہوں کو ٹٹولے کہ یہ کیا ہیں اور کس طرح اس کی تباہی کا سبب بن گئے ہیں ، اس مناجات کرنے والے کی طرح جو دعائے کمیل میں خدا سے عرض کرتا ہے۔

اِلٰهی وَمَولاَیَ اَجرَیتُ عَلِیَّ حُکماً اِتَّبعَتُ فِیهِ هَوٰی نَفسِی وَلَم اَحتَرِس فِیهِ مِن تَزیِینِ عَدُوِّی فَغَرَّنِی بِمَٓااَهوٰی وَاَسعَدَهُ عَلٰی ذٰلِکَ القَضَآءُ فَتَجَاوَزتُ بِمَا جَرٰی عَلَیَّ مِن ذٰلِکَ بَعضَ حُدُدِکَ وَخَالَفتُ بَعضَ اَوَامِرِکَ :۔ اے خدا اور اے میرے مالک ! تو نے مجھے حکم دیا تھا لیکن میں نے نفسانی خواہش کی پیروی کی اور اپنے آپ کو اس دشمن (شیطان) کے شعبدوں سے نہیں بچایا جو انسانوں کی کشش کے لیے گناہوں کو خوشنما بنا دیتا ہے اس نے مجھے ان خواہشات کے ذریعے سے دھوکا دیا، قضائے آسمانی نے بھی اس کی مدد کی جس سے میں تیرے بعض احکام سے پھر گیا اور اپنی حد سے نکل گیا اور تیرے کچھ حکموں سے میں نے منہ موڑ لیا۔

اس میں شک نہی کہ انسانوں کے لیے تنہائی میں اپنے گناہوں کا ایسا اعتراف لوگوں کے سامنے اعتراف کرنے سے زیادہ آسان ہے چاہے یہ اعتراف تنہائی میں ہونے کے باوجود روح کی نہایت کربناک حالت کا موجب ہی ہو۔

روح کی مخصوص پریشانی کا یہ اعتراف اگر پورے طور پر ہوجائے تو انسان کی ناپاک روح کے ہیجان میں کمی آنے اور اسے خوش بختی کی راہ پر لگانے میں بہت کامیاب ہوتا ہے جو انسان اپنے نفس کی اصلاح کا خواہش مند ہے اسے چاہیے کہ اپنی زندگی میں ایسی تنہائیاں اختیار کرتا رہے ، ان میں نہایت آزادی سے سوچے بچارے اور اپنے نفس کا جائزہ لے۔

تنہائی اور محاسبے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انسان نہایت توجہ سے ان دعاؤں کا ورد کرے جو ائمہ اطہار ؑ سے ہمیں ملی ہیں اور جن کے گہرے معنیٰ انسانی روح کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں جیسے ابو حمزہ ثمالی کی دعا جو امام زین العابدین ؑ سے نقل کی گئی ہے:

اَی رَبِّ جَلِّلنِی بِسِترِکَ وَاعفُ عَن تَوبِیخِی بِکَرَمِ وَجهِکَ :۔ اے میرے پالنے والے ! میری برائیوں کو اپنی پردہ پوشی سے چھپالے اور اپنی مہربانی اور بخشش کی بدولت مجھے ملامت اور تنبیہ سے معاف کر دے۔

اس جملے پر غور کرنے سے کہ ""میری برائیاں چھپالے"" ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے گناہوں کے چھپانے سے ذاتی دلچسپی رکھتا ہے اور یہ جملہ اس دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے اس لیے یہ دعا انسانوں کو گناہوں اور خطاؤں کے چھپانے کی طرف کسی بناوٹ کے بغیر توجہ دلاتی ہے جو ایک اہم بات ہے ۔ اس کے بعد یہ دعا اس مقام پر ایک دوسری حقیقت کا اعتراف کراتی ہیں جہاں مذکورہ دعا میں اوپر کے جملوں کے بعد کہتے ہیں:

فَلَوِ اطَّلَعَ الیَومَ عَلٰی ذَنبِی غَیرُکَ مَافَعَلتُهُ وِلَوخِفتُ تَعجِیلَ العُقُوبَةِ لاَاجتَنَبتُهُ :۔ اگر آج تیرے علاوہ کوئی اور بھی میرے گناہوں سے واقف ہوتا تو میں وہ گناہ نہ کرتا اور اگر مجھے گناہ کی جلد سزا ملنے کا ڈر ہوتا تو اس سے دور ہی رہتا۔

یہ اقرار اور اپنے گناہوں کے چھپانے سے گہری دلچسپی انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خدا سے گڑگڑا کر معافی اور بخشش طلب کرے تاکہ خدا کی دی ہوئی دنیوی یا اخروی سزاؤں کے نیتجے میں لوگوں کے سامنے رسوا نہ ہو، یہی وہ موقع ہے جب انسان راز و نیاز میں ایک لذت محسوس کرتا ہے مجبوراً خدا کی طرف جاتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے میری نافرمانیوں کے جواب میں برداشت اور چشم پوشی سے کام لیا اور اتنی زیادہ قوت رکھتے ہوئے بھی مجھے بدنام نہیں کیا، اسی دعا میں آگے چل کر امام زین العابدی ؑ فرماتے ہیں۔

فَلَکَ الحَمدُ عَلیٰ حِلمِکَ بَعدَ عِلمِکَ وَعَلٰی عَفوِکَ بَعدَ قُدرَتِکَ :۔ میں تیری تعریف کرتا ہوں کہ تو عالم اور دانا ہوتے ہوئے بھی حلیم اور برد بار ہے اور قادر اور توانا ہوتے ہوئے بھی عفو اور درگزر کرتا ہے۔

اس کے بعد امام ؑ انسان کو ان گناہوں کی معافی اور عذر خواہی کے طور پر جن کا ارتکاب اس نے خدا کی بردباری اور عفو سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کیا تھا، یہ دعا سکھاتے ہیں تاکہ بندے کا خدا سے تعلق مضبوط ہوجائے اور بندہ اقرار کرے کہ اس نے حکم خدا سے انکار یا لاپروائی کی بنا پر گناہ نہیں کیے، چنانچہ اس کے بعد فرماتے ہیں:

وَیَحمِلُنِی وَیُجَرِّئُنِی عَلٰی مَعصِیَتِکَ حِلمُکَ عَنِّی وَیَد عُونِی اِلٰی قِلَّةِ الحَیَآءِ سِترُکَ عَلَیَّ وَیُسرِعُنِی اِلَی التَّوَثُّبِ عَلٰی مَحَارِمِکَ مَعرِفَتِی بِسَعَةِ رَحمَتِکَ وَعَظِیمِ عَفوِکَ :۔ اے خدا! تیری بردباری مجھے گناہ کی طرف لے جاتی ہے اور گناہ کی جرات دلاتی ہے، تیری رحمت اور درگزر کی جو معرفت مجھے حاصل ہوئی ہے اس نے مجھے ااعمال کی سزاؤ کے خوف سے بے پروا بنا دیا ہے جو تونے حرام قرار دیے ہیں۔

ان دعاؤں میں اس تعمیری روش کے ساتھ یہ مناجاتیں نفس انسانی کی اصلاح اور طہارت کرتی ہیں اور انسان کو خدا کی فرماں برداری اور گناہ چھوڑ دینے پر آمادہ کرتی ہیں، اس کتاب میں ان دعاؤں کے بہت سے نمونے پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن ہمارا بہت جی چاہ رہا ہے کہ اس دعا کا ایک نمونہ ضرور دے دیں جس میں انسان نے خدا سے بحث اور استدلال کے طور پر معافی اور بخشش کی درخواست کی ہے ۔ مثلاً دعاءے کمیل کے ہنگامہ مچا دیے والے یہ فقرے:

وَلَیتَ شِعری یَا سَیِّدی وَاِلٰهِی وَ مَولاَیَ اَتُسلِّطُ النَّارَ عَلٰی وُجُوهٍ خَرَّت لِعَظَمَتِکَ سَاجِدَةًوَعَلٰی اَلسُنٍ نَطَقَت بِتَوحِیدِکَ صَادِقَةً وَبِشُکرِکَ مَادِحَةً وَعَلٰی قُلُوبٍ ن اعتَرَفَت بِاِلٰهِیَّتِکَ مُحَقّقَةً وَعَلٰی ضَمَآئِرَ حَوَت مِنَ العِلمِ بِکَ حَتَّی صَارَت خَاشِعَةً وَعَلیٰ جَوَارِحَ سَعَت اِلٰی اَوطَانِ تَعَبُّدِکَ طَآئِعَةً وَاَشَارَت بِاستِغفَارِکَ مُذعِنَةً مَا هٰکَذَاالظَّنُّ بِکَ وَلاَ اُخبِرنَا بَفَضلِکَ :۔ اے میرے خدا ! سردار اور آقا ! کاش میں جانتا کہ تو اپنے عذاب کی آگ ان صورتوں پر برسائے گا جو تیری عظیم درگاہ میں سرجھکائے ہوئے ہیں یا ان زبانوں پر جنہوں نے سچائی کے ساتھ تیری وحدانیت تعریف اور شکر کی باتیں کی ہیں یا ان دلوں پر جنہوں نے واقعی تیری خدائی کا اقرار کیا ہے یا ان ذہنوں پر جو تیری معرفت کی رو سے تیری عظمت کے سامنے احتام اور عاجزی سے پڑے ہوئے ہیں یا ان اعضا پر جو تیری عبادت کے لیے شوق سے عبادت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں ، (ایسا نہیں ہے) کوئی شخص تجھ پر ایسا شبہ بھی نہیں کرستا اور اس فضل و کرم کے باوجود جو تو ہم پر رکھتا ہے، ایسی کوئی خبر ہم تک نہیں پہنچی ہے۔

دعا کے ان فقرو کو پھر پڑھو اور ان کی جادو کر دینے والی بلاغت ، حسن اور بیان کی پاکیزگی پر غور کرو اور سوچو کہ یہ دعائیں کس طرح ایک ہی وقت میں گناہ اور قصور کے اقرار اور عبادت کی روح کا عملی طریقہ بھی سکھاتی ہیں اور انسان کو خدا کی مہربانی اور بخشش کی امید بھی دلاتی ہیں اور پھر رمزیہ انداز میں ۔۔۔۔ بالواسطہ طور پر ۔۔۔ خدا کی عبادت اور فرماں برداری کا ڈھنگ بتاتی ہیں اور سمجھای ہیں کہ فرائض ادا کرنے والا خدا کی بخشش اور انعام کا سزاوار ہوتا ہے۔

اس طرح کالائحہ عمل انسان میں یہ شوق پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی طرف رجوع کرے اور پھر ضمیر کی آواز پر اسے ادا کرے جو واجب تھا اور پہلے جسے ادا کرنے سے جی چرا رہا تھا۔

پھر ہم دعائے کمیل کے دوسرے حصے میں بحث اور فریاد کا دوسرا ڈھنگ پاتے ہیں اور خدا سے یوں راز و نیاز کرتے ہیں:

فَهَبنِی یَٓااِلٰهِی وَسَیِّدی وَمَولاَیَ وَرَبِّی صَبَرتُ عَذَابِکَ فَکَیفَ اَصبِرُ اَعلیٰ فِرَاقِکَ وَهَبنِی صَبَرتُ عَلیٰ حَرِّ نَارِکَ فَکَیفَ اَصبِرُ عَنِ النَّظَرِ اِلیٰ کَرَامَتِکَ :۔ اے خدا ، اے مالک اور اسے میرے پالنے والے ! بالفرض اگر میں تیرے عذاب کو برداشت بھی کرلوں تو تیری جدائی پر کیسے صبر کرلوں اور میں یہ بھی مانے لتا ہوں کہ میں تیرے غضب کی آگ کی گرمی برداشت کرسکتا ہوں لیکن تیرے فضل و کرم کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کرکے کیسے صبر کرلوں۔

یہ فقرے انسان کو بتاتے ہیں کہ اللہ کی نزدیکی سے لذت اور محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کی قدرت اور بخشش کے دیکھنے سے جوش ، دلچسپی اور شوق پیدا ہوتا ہے اور یہ بات واضح کرتے ہیں کہ اس لذت کا اس حد اور اس درجے تک پہنچ جانا مناسب ہے کہ اس سے محرومی کا تکلیف دہ اثر دوذخ کی آگ کی گرمی اور عذاب سے بھی بڑھ جائے۔

جس طرح یہ فرض کر لیا کہ ممکن ہے انسان دوذخ کی آگ کی گرمی برداشت کرلے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کی عنایت کی نظر سے محرومی پر صبر کرے اسی طرح یہ فقرے ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ محبوب اور معبود سے جو دل بستگی اور نزدیکی کی لذت بندے کو حاصل ہے اور خدا کے نزدیک بہتری سفارش ہے کیونکہ خدا ایسے بندے پر عنایت کرتا اور اس سے درگزر کرتا ہے اور عشق اور جوش کی پاکیزگی اور خوبی ، کرم کرنے والے، بردبار، توبہ قبول کرنے والے اور بخشنے والے خدا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

اس مقام پر یہ مناسب ہے کہ اس گفتگو کے اخیر میں وہ دعا بتادی جائے جو بہت مختصر ہے، تمام اخلاقی خوبیو پر محیط ہے اور انسان کے ہر عضو کے کام اور انسانی کے ہر طبقے اور ان کے طبقوں کی عمدہ خصوصیات بیان کرتی ہے، یہ دعا حضرت ولی عصر امام مہدی آخرالزمان ؑ کی دعا کے نام سے مشہور ہے اور وہ دعا یہ ہے :

اَللّٰهُمَّ ارزُقنَا تَوفِیقَ الطَّاعَةِ وَبُعدَ المَعصِیَةِ وَصِدقَ النِّیَّةِ وَعِرفَانَ الحُرمَةِ وَاَکرِمنَا بِالهُدٰی وَالاِستِقَامَةِ وَسَدِّد اَلسِنَتَنَا بِالصَّوَابِ وَالحِکمَةِ وَاملاَ قُلُوبَنَا بِالعِلمِ وَالمَعرِفَةِ وَطَهِّر بُطُونَنَا مِنَ الحَرَامِ وَالشُّبهَةِ وَاکفُف اَیدِیَنَا عَنِ الظُّلمِ وَالسَّرِقَةِ وَاغضُض اَبصَارَنَا عَنِ الفُجُورِ وَالخِیَانَهِ وَاسدُد اَسمَاعَنَاعَنِ اللَّغوِ وَالغِیبَةِ وَتَفَضَّل عَلیٰ عَلَمَآئِنَا بِالزُّهدِ وَالنَّصِیحَةِ وَعَلیَ المُتَعَلِّمِینَ بِالجُهدِ وَالرَّغبَةِ وَعَلَی المُستَمِعِین َ بِالاِتِّبَاعِ وَالمَوعِظَةِ وَعَلیٰ مَرضَی المُسلِمِینَ بِالشِّفَآءِ وَالرَّاحَةِ وَعَلیٰ مَوتَاهُم بِالرَّافَةِ وَالرَّحمَةِ وَعَلیٰ مَشَایِخِنَا بِالوَقَارِ وَالسَّکِینَةِ وَعَلَی الشَّبَابِ بِالاِنَابَةِ وَالتَّوبَةِ وَعَلیَ النِّسَآءِ بِالحَیَآءِ وَالعِفَّةِ وَعَلَی الاَغنِیَآءِ بِالتَّوَاضُعِوَالسَّعَةِ وَعَلِی الفُقَرَآءِ بِاالصَّبرِ وَالقَنَاعَةِ وَعَلَی الغُزَاةِ بِالنَّصرِ وَالغَلَبَةِ وَعَلَی الاُسَرَآءِ بِالخَلاَصِ وَالرَّاحَةِ وَعَلَی الاُمَرَآءِ بِالعَدلِ وَالشَّفَقَةِ وَعَلَی الرَّعِیَّةِ بِالاِنصَافِ وَحُسنِ السِّیرَةِ وَبَارِک لِلحُجَّاجِ وَالرُّوَّارِ فِی الزَّادِ وَالنَّفَقَةِ وَاقضِ مَآ اَوجَبتَ عَلَیهِم مِنَ الحَجِّ وَالعُمرَةِ بَفَضلِکَ وَرَحمَتِکَ یَآاَرحَمَ الرَّاحِمِینَ :۔ اے خدا ! اطاعت کی توفیق ، گناہ سے دوری، اچھی نیت اور اس کا علم عنایت فرما جو تیرے نزدیک قابل احترام ہے اے خدا! ہمیں ہدایت اور ثابت قدمی عطا کر، ہماری زبانوں پر درست اور دانائی کی بات چیت جاری کر، ہمارے دلوں کو علم اور معرفت سے بھردے ہمارے پیٹوں کو حرام اور نجس غذا سے پاک رکھ، ہمارے ہاتھو کو ظلم اور چوری سے روک دے۔ ہماری آنکھوں کو حرام کاریاں اور خیانت سے روک دے۔ ہمارے کانوں کو فضول اور بے ہودہ باتیں اور چغلی سننے سے معذور کردے، ہمارے عالموں کو زہد اور نصیحت کرنے کی توفیق، طالب علموں کو محنت اور علم کاشوق، سننے والوں کو اطاعت اور وعظ قبول کرنا، بیمار مسلمانوں کو صحت اور آرام، مسلمان مردوں پر مہربانی اور رحم، بوڑھوں کو عزت اور سنجیدگی ، جوانوں کو غلطیوں پر پچھتا اور توبہ ، عورتوں کو شرم اور پاکدامنی ، دولتمندوں کو کشادگی عطا اور عاجزی مفلسوں کو صبر اور قناعت ، جنگجوؤں کو مدد اور فتح ، قیدیوں کو آزادی اور آرام، حاکموں اور حکمرانوں کو عدل اور نرمی اور رعیت کو انصاف اور نیک کرداری عطا فرما!

حاجیوں اور زائروں کو راستے کا کھانا اور خرچ عنایت کر اور ان پر تو نے جو حج اور عمرہ واجب کیا ہے اپنے فضل اور رحمت سے اسے ادا کرنے کی توفیق دے۔ اے مہربانوں میں سب سے مہربان!

ہم پڑھنے والے بھائیوں سے پر زور سفارش کرتے ہیں کہ فرصت کو غنیمت جانو اور دعاؤں کی تلاوت اس طرح کرو کہ ان کے معنیٰ فائدے اور مقصد پر گہری نظر رہے اور خدا کی طرف پورا پورا دھیان دے کر نہایت خلوص سے دل لگا کر پڑھو، تمہارے پڑھنے کا یہ انداز ہو جیسے یہ دعائیں تمہیں نے لکھی ہیں اور اب انہیں اپنی زبان سے ادا کر رہے ہو

یہ دعائیں ان قاعدوں کے مطابق پڑھنا چاہئیں جو اہلبیت ؑ سے ہم تک پہنچے ہیں، اس لیے کہ ان کو دلی توجہ کے بغیر پڑھنا صرف زبان ہلانا ہے اور اس سے نہ انسان کے لیے خدا کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے نہ وہ خدا کا مقرب بن سکتا ہے اور نہ اس کی پریشانی کی گتھی سلجھ سکتی ہے اور پھر ایسی صورت میں دعا قبول بھی نہیں ہوتی جیسا کہ امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یَستَجِیبُ دُعَآءً بِظَهرِ قَلبٍ سَاهٍ فَاِذَا دَعَوتَ فَاَقبِل بِقَلبِکَ ثُمَّ استَقِن بِالاِجَابَةِ :۔ خداوند بزرگ و برتر وہ دعا قبول نہیں کرتا جو کسی بےپروا دل سے نکلتی ہے جب دعا کرو تو دل سے خدا کی طرف دھیان دو، پھر یقین رکھو کہ تمہارا چاہا ہوا پورا ہوجائے گا۔(اصول کافی جلد ۴ باب الدعاء صفحہ ۷۴۳)

صحیفہ سجادیہ کی دعائیں:۔

عاشورا کے دن جان گھلا دینے والے واقعے کے بعد بنی امیہ کے بادشاہوں نے مسلمانوں کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے کر سخت ظلم اور آمریت کے ساتھ بے حد خون بہاتے اور ظلم ڈھاتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو شدید نقصان پہنچایا۔

ان حالات میں امام زین العابدین ؑ بجھے دل کے ساتھ مصیبت کے مارے اپنے گھر میں بیٹھے زندگی گزار رہے تھے ۔ کوئی ان کے پاس نہیں آتا تھا اور آپ بھی سخت نگرانی کے باعث آزاد نہیں تھے کہ لوگوں میں چلیں پھریں اور ان کے فرائض اور کام ان کو بتائیں۔

ان حالات کے پیش نظر آپ نے یہ دستور اپنایا کہ دعا کے ذریعے سے جو تعلیم و تربیت کا ایک طریقہ ہے قرآن کے اصول ، اسلام کے حقائق اور اہلبیت ؑ کے رہن سہن کے طریقے بتائیں۔ لوگوں کو مذہب کی اصلیت سے روشناس کرائیں ۔ پرہیز گاری کی تعلیم دیں اور نفس کو سدھارنا اور سنوانا اور اچھی عادتی ڈالنا سکھائیں۔

یہ طریقہ ایک بے مثل ایجاد تھی جس کے پردے میں امام ؑ دشمنوں کو کسی بہانے کا موقع دیے بغیر اسلام کے حقائق اور اصول عام کرنے لگے۔ چنانچہ آپ نے لوگوں کو بہت سی دعائیں سکھائیں۔ ان مناجاتوں میں سے کچھ جمع کرکے "صحیفہ سجادیہ" کے نام سے ایک کتاب مرتب کر دی گئی ہے جسے "زبور آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم " بھی کہتے ہیں۔

عربی ادب کے بلند ترین نمونوں کے طرز پر اس کتاب کا اسلوب بیان بہت دلکش ہے، یہ مذہب اسلام کے بلند مقاصد، توحید و نبوت کے گہرے رموز، سرور کائناتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق اور اسلام کے حقائق کی تعلیم کا سب سے صحیح طریقہ ہے اور اس می دینی تربیت کے مختلف مسائل شامل ہیں ، واقعی یہ کتاب دعا کے لباس میں مذہب اور اخلاق کی تعلیم دیتی ہے یا ایک مناجات ہے جو مخصوص اسلوب میں مذہب اور اخلاق کا ذکر کرتی ہے، سچ تو یہ ہے کہ یہ کتاب قرآن اور نہج البلاغہ کے بعد عربی کے نہایت اعلیٰ انداز اور طرز بیان کی حامل ہے اور الہٰی اور اخلاقی فلسفوں کے سمندر سے ابھرا ہوا روشنی کا سب سے اونچا مینار ہے۔

اس دعا کی کچھ تعلیمات وہ ہیں جو یہ سکھاتی ہیں کہ خدا کی تعریف اور تقدیس کس طرح کی جائے۔ اس کا شکر کیسے ادا کیا جائے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کیوں کرکے جائے۔

اس کا ایک حصہ یہ بتایا ہے کہ خدا سے راز و نیاز کیسے کیا جائے،تنہائی میں اخلاص سے کیسے کام لیا جائے اور اچھی طرح دل کیسے لگایا جائے۔

اس کتاب کا ایک جزو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تمام انبیاء ؑ اور خدا کے منتخب بندوں پر درود و سلام کے حقیقی معنی اور اس کا صحیح طریقہ بیان کرتا ہے۔

اس کتاب میں جو باتیں شامل ہیں ان کا ایک حصہ والدین کے احترام، اولاد پر والدین کے اور والدین پر اولاد کے حقوق کی تشریح کرتا ہے۔ اسی طرح پڑوسیوں ، عزیزوں اور تمام مسلمانوں کے حقوق اور غریبوں کے حقوق مالداروں پر اور غریبوں پر مالداروں کے حقوق بیان کرتا ہے۔

یہ کتاب اپنے ایک حصے میں قرض داروں اور تمام معاشی اور مالی معاملات کے سلسلے میں انسان کے فرائض ، تمام دوستوں، ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں اور اصول طور پر تمام آدمیوں ، کاریگروں اور ملازموں کے باہمی سلوک اور رویے کی تشریح کرتی ہے۔

یہ کتاب ایک اور حصے میں تمام اخلاقی خوبیوں کے ایسے اسباب کی نشان دہی کرتی ہے جو اچھی عادتیں ڈالنے کا ایک مکمل ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ایک اور حصے میں یہ بتاتی ہے کہ برے حالات اور حادثٓت میں کیسے صبر کرنا چاہیے اور بیماری اور صحت میں کس طرح رہنا چاہیے۔

کچھ فقرو میں اسلامی فوج کے فرائض اور فوج کے مقابلے میں دوسرے لوگوں کے فرائض منصبی بیان کرتی ہے اور مجموعی طور پر جو کچھ اخلاق محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شریعت الہٰی کے تقاضے ہیں دعا کے لباس اور طرز میں ان سب کو کھول کر بیان کرتی ہے۔

حضرت امام زین العابدین ؑ کی ان دعاؤں کے نمایاں فقروں کے چند نمونے مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت مختصر طور پر پیش کیے جاتے ہیں :۔

۱ ۔ خدا کی پہچان :۔

خدا اور اس کی عظمت اور قدرت کی پہچان کرانا اور اس کی وحدانیت اور تقدس کی تشریح کرنا، علم کی نہایت نازک اور باریک معنیٰ آفرینیوں میں سے ہے،اور یہ مضمون ان دعاؤں میں طرح طرح کی عبارتو اور اسلوبوں میں آیا ہے ۔ جیسے یہ فقرے جو ہم پہلی دعا میں پڑھتے ہیں۔

اَلحَمدُلِلّٰهِ الاَوَّلِ بِلاَاَوَّلٍ کَانَ قَبلَهُ وَالاٰخِرِ بِلاَ آخِرٍ یَکُونُ بَعدَهُ الَّذِی قَصُرَت عَن رُویَتِهِ اَبصَارُ النَّاظِرِینَ وَعَجَزَت عَن نَعتِهِ اَوهَامُ الوَاصِفِینَ ابتَدَعَ بِقُدرَتِهِ الخَلقَ ابتِدَاعاً وَاختَرَ عَهُم عَلٰی مَشِیَّتِهِ اختِراعاً :۔ اس خدا کی تعریف اور شکر کرتا ہوں جو ایسا اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی آغاز نہیں تھا اور ایسا آخر ہے کہ اس کے بعد کوئی انجام نہیں ہوگا۔ وہ ایسا خدا ہے جس کے دیکھنے سے آنکھی معذور ہیں اور تعریف کرنے والوں کی عقلیں اس کی تعریف سے عاجز ہیں وہ ایسا خدا ہے جس نے موجودات (کائنات) کو اپنی قدرت سے یپدا کیا اور اس کو جس طرح چاہتا تھا ظاہر کیا۔

مندرجہ بالافقرات نے بڑی نزاکت سے خدا کے اول اور آخر ہونے کی حقیقت مجسم بنا کر سمجھا دی کہ خدا اس سے بری اور الگ ہے جو آنکھ اور سوچ سے دیکھا اور سمجھتا جاتا ہے اس طرح ان فقرات میں بڑی باریکی سے موجودات کی (جو خدا کی قدرت اور ارادے سے متعلق ہیں) پیدائش اور بناوٹ بیان کی گئی ہے۔

ہم چھٹی دعا میں پڑھتے ہیں :۔

اَلحَمدُ لِلّٰهِ الَّذِی خَلَقَ اللَّیلَ وَالنَّهَارَ بَقُوَّتِهِ وَمَیَّزَ بَینَهُما بِقُدرَتِهِ وَجَعَلَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنهُما حَدّا مَّحدُوداً وَاَمَداً مَّمدُوداً یَولِجُ کُلَّ وَاحِدٍ مِّنهُمَا فِی صَاحِبِهِ وَیُولِجُ صَاحِبَهُ فِیهِ بَتَقدِیرٍ مِنهُ لِلعِبَادِ فِیمَا یَغذُوهُم بِهِ وَیُنشِئُهم عَلَیهِ فَخَلَقَ لَهُمُ اللَّیلَ لِیَسکُنُوا فِیهِ مِن حَرَکَاتِ التَّعَبِ وَنَهَضَاتِ النَّصَبِ وَجَعَلَهُ لِبَاساً لِیلبِسُوا مِن رَّاحَتِهِ وَمَنَامِهِ فَیَکُونَ ذٰلِکَ لَهُم جَمَاماً وَقُوَّةً وَلیَنَالُوابِهِ لَذّةً وَشَهوَةً :۔اس خدا کی تعریف اور شکر کرتا ہوں جس نے رات اور دن کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور اسی قدرت سے ان میں فرق رکھا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کی ایک حد مقرر کی ، وہ ایسا خدا ہے جس نے رات اور دن میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کا جانشین (جگہ لینے والا) بنا دیا (نوٹ، اس طرح کہ دھیرے دھیرے کرکے رات اور دن کے اثرات داخل کیے، یکدم روشنی یا تاریکی نہیں ہوتی) تاکہ (اس کے ذریعے سے) خلقت کی غذا بہم پہنچائے اور ان کی پرورش کرے، رات کو اس لیے پیہدا کیا کہ اس میں تھکا دینے والی حرکت اور محنت طلب تلاش سے آرام پائیں اور اس کو ان کے لیے پردہ بنا دیا تاکہ بستر پر آرام کریں، اس میں اپنی طاقت کے حصول اور خوشی کا انتظٓم کریں اور اپنی فطری خواہش اور لذت سے بہرہ مندہوں ۔

اس دعا میں دن رات کے پیدا کرنے اور اس انسانی فرض کے سلسلے میں جو اس نعمت کے شکریے کے لیے عائد ہوتا ہے کچھ دوسرے فائدے بھی بتائے گئے ہیں۔

ساتویں دعا میں دوسرے ڈھنگ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ تمام معاملات اور واقعات خدا کے ہاتھ میں ہی جیسا کہ ہم پڑھتے ہیں:۔

یَامَن تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ المَکَارِهِ وَیَا مَن یُفثَاُ بِهِ حَدُّ الشَّدَٓائِدِ وَیَامَن یُلتَمَسُ مِنهُ المَخرَجُ اِلیٰ رَوحِ الفَرَجِ ذَلَّت لِقُدرَتِکَ الصِّعَابُ وَتَسَبَّبَت بِلُطفِکَ الاَسبَابُ وَجَرٰی بَقُدرَتِکَ القَضَآءُ وَمَضَت عَلیٰ اِرَادَتِکَ الاَشیَآءُ فَهِیَ بِمَشِیَّتِکَ دُونَ قَولِکَ مَؤتَمِرَةٌ وَبِاِرَادَتِکَ دُونَ نَهِیکَ مُنزَجِرَةٌ :۔ اے خدا! دشواریاں (تکلیفیں ) تیرے ہی ذریعے سے دور ہوتی ہیں۔ اے خدا! مصیبتوں کی سختی تیری ہی بدولت کم ہوتی ہے اے خدا! آزادی اور آرام کی فراہمی کا تجھی سے تقاضا ہوتا ہے ۔ تیری ہی قدرت سے مصیبتیں چھٹ جاتی ہیں، تیری مہربانی سے اسباب اپنی جگہ ٹھیر جاتے ہیں۔ تیری طاقت سے حکم جاری ہوتا ہے اور تیرے چاہنے کے مطابق کام چلتے ہیں یہ تمام معاملات گفتگو میں حکم دیے بغیر تیری منشا اور ارادے سے طے ہوجاتے ہیں اور تیرے منع کیے بغیر ہی رک جاتے ہیں۔

۲ ۔ خدا کی عبادت میں عاجزی:۔

اس بات کی تشریح کہ انسان خدا کی درگاہ میں خالص عبادت اور فرماں برادری کی چا ہے جتنی کوششیں کریں، خدا کے انعامات اور مہربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے ، جیسا کہ ہم سینتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں:

اَللّٰهُمَّ اِنَّ اَحَداً لاَ یَبلُغُ مِن شُکرِکَ غَایَةً اِلاّ حَصَلَ عَلَیهِ مِن اِحسَانِکَ مَا یُلزِمُهُ شُکراً وَلاَ یَبلُغُ مَبلَغاً مِن طَاعَتِکَ وَاِنِ اجتَهَدَ اِلاَّ کَانَ مُقَصِّراً دُونَ استِحقَاقِکَ بِفَضلِکَ فَاَشکَرُ عِبَادِکَ عَاجِزٌ عَن شُکرِکَ وَاَعبُدُهُم مُقَصِّرٌ عَن طَاعَتِکَ :۔ اے خدا! کوئی شخص تیری شکر گزاری کا پورا حق ادا نہیں کرسکتا البتہ صرف یہ کرسکتا ہے کہ پھر تیرا احسان مند ہو اور اس پر دوبارہ تیرا شکر ادا کرنا واجب ہوجائے ، وہ چاہے جتنی زیادہ کوشش کرے تیری اطاعت کی حد ختم نہیں کرسکتا۔ بس یہ کرسکستا ہے کہ تیری بے حد مہربانی کے باعث تیرے شایان شان اطاعت کرنے سے قاصر رہے ۔ اس لیے تیرے سب سے زیادہ شاکر بندے بھی تیری شکر گزاری میں کمزور ہیں اور تیرے سب سے زیادہ عبادت کرنے والے بندے تیری اطاعت سے قاصر ہیں۔

چونکہ بندوں کے لیے خدا کی نعمتیں اور عطیے لامحدود ہیں، بندے ان کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہیں۔ پھر اسے کیا کہی جو لوگ نہایت ڈھٹائی سے خدا کا حکم ٹال دیں۔ وہ گنہگار بندہ جو ان گناہوں میں سے ایک گناہ کی تلافی کی بھی طاقت نہیں رکھتا وہ کیا کرے ، صحیفہ سجادیہ کی سولہویں دعا کے کے مندرجہ ذیل فقرے اس نکتے کی وضاحت کرتے ہیں:۔

یَآاِلٰھی لَوبَکَیتُ اِلَیکَ حَتیّٰ تَسقُطَ اَشفَارُ عیَنَیَّ وَانتَجَبتُ حَتّٰی یَنقَطِعَ صَوتِی وَقُمتُ لَکَ حَتّٰی تَتَنَشَّرَ قَدَمَایَ وَرَکَعتُ لَکَ حَتّٰی یَنخَلِعَ صُلبِی وَسَجَدتُّ لَکَ حَتیّٰ تَتَفَقَّاَ حَدَقَتَایَ وَاکَلتُ تُرَابَ الارضِ طَولَ عُمرِی وَشَرِبتُ مَآءَ الرَّمَادِ اٰخِرَ دَھرِی وَذَکَرتُکَ فِی خِلَالِ ذٰلِکَ حَتّٰی یَکِلَّ لَسَانِی ثُمَّ لَم اَرفَع طَرَفِی اِلیٰ اٰفَاقِ السّمَآءِ استِحیَاءً مِنکَ مَااستَوجَبتُ بَذٰلِکَ مَحوَسَیِّئَۃِ وَاحِدَۃٍ مِّن سَیِّئَاتِی :۔ اے خدا! اگر میں تیرے سامنے اس قدر روؤں کہ میری آنکھوں کی پلکیں بھی جھڑجائیں اور اس زور سے روؤں کہ میری آواز ختم ہوجائے (ٹوٹ جائے) اور اپنے دونوں پاؤں پر اتنے عرصے تک کھڑا رہوں کہ پاؤں سوج جائیں اور تیرے لیے اتنے رکوع کروں کہ میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے اور تجھے اتنے سجدے کرو کہ میری آنکھوں کے ڈھیلے حلقوں سے نکل پڑیں اور تمام عمر زمین کی مٹی چاٹتا رہوں اور مرتے وقت تک گدالا پانی پیتا رہوں اور ان حالات میں تیرے ذکر میں اتنا مشغول رہوں کہ زبان بولنے سے رک جائے اور پھر تجھ سے شرمندہ ہوکر آسمان کی طرف آنکھ نہ اٹھا سکوں اس وقت بھی ان کاموں کے عوض اپنے ایک گناہ کی معافی کا بھی حقدار نہیں ہوسکتا۔

۳ ۔ خدا کی طرف سے سزا اور جزا:۔

سزا و جزا اور بہشت و دوزخ اور اس کا بیان کہ خدا کے تمام انعامات اس کی مہربانی کا نتیجہ ہیں اور چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی جو بندہ ڈھٹائی سے کر بیٹھتا ہے عذاب کا موجب ہوگا۔ گناہ کے متعلق بندے پر خدا کی حجت ختم ہوچکی ہے اور اب بندے کو کسی قسم کے اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوگا۔

صحیفہ سجادیہ کی سبھی دعائیں یہ اثر رکھتی ہیں کہ خدائی عذاب کا ڈر اور اس کے انعام کی امید انسان کی روح میں سمو دیں۔ یہ سبھی دعائیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ اپنے طرح طرح کے اسالیب سے انسان کے سوچنے والے ذہبن میں گناہ کے ارتکاب کا ڈربٹھاٹی ہیں جیسا کہ ہم چھیالسیویں دعا میں پڑھتے ہیں،

حُجَّتُکَ قَآئِمَةٌ لاَ تُدحَضُ وَسُلطَانُکَ ثَابِتٌ لاَ یَزُولُ فَالوَیلُ الدَّآئِمُ لِمَن جَنَحَ عَنکَ وَالخَیبةٌ الخَاذِلَةٌ لِمَن خَابَ مِنکَ وَالشَّقَآءُ الاَشقیٰ لِمَنِ اغتَرَّبِکَ مَآاَکثَرَ تَصَرُّفَه فِی عَذَابِکَ وَمَآآبَعَدَ غَایَتَهُ مِنَ الفَرَجِ وَمَآ اَقنَطَهُ مِن سُهُولَةِ المَخرَجِ عَدلاً مّن قَضَآئِکَ لاَ تَجُورُ فِیهِ وَاِنصَافاً مِن حُکمِکَ لاَ تَحِیفُ عَلَیهِ فَقَد ظَاهَرتَ الحُجَجَ وَاَبلَیتَ الاَعذَارَ :۔اے خدا ! تیری دلیل اور حجت مضبوطی سے قائم ہے اور باطل نہیں ہوگی چنانچہ تیرا دائمی عذاب اس کے لیے ہے جو تجھ سے پھر گیا ہے اور ذلیل کرنے والی ناامیدی اسے نصیب ہے جو تجھ سے آس توڑ بیٹھا ہے۔ حددرجہ بدبخت وہ ہے جو تیری مہربانی اور بخشش سے گھمنڈی ہوگیا ہے ۔ کتنی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایسا آدمی لگاتار تیرے عذاب کی طرف پلٹتا ہے اور تیری سزا میں وہ کتنے لمبے عرصے تک پریشانی بھگتتا ہے اور اس کی مصیبت کتنی طویل ہوتی ہے کتنے مایوس ہیں لوگ اس رہائی سے جو تیرے عادلانہ فیصلے کے باعث جس میں تو کوئی ظلم نہیں کرتا اور اپنے منصفافہ حکم کی بدولت جس میں تو کوئی زیادتی نہیں کرتا آسانی سے حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ تو حجتوں اور دلیلوں کو لگاتار (یا ایک دوسرے کی تائید میں) گردش دیتا اور ان کو مدتوں تک ظاہر کرتا رہا ہے۔

ہم اکتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں :۔

اَللّٰهُمَّ فَارحَم وَحدَتِی بَینَ یَدَیکَ وَ وَجِیبَ قَلبِی مِن خَشیَتِکَ وَاضطِرَابَ اَرکَانِی مِن هَیبَتِکَ فَقَد اَقَامَتنِی یَارَبِّ ذُنُوبِی مَقَامَ الخِزیِ بِفَنَائِکَ فَاِن سَکَتُّ لَم یَنطِق عَنِّی اَحَدٌ وَاِن شَفَعتُ فَلَستُ بِاَهلِ الشَّفَاعةِ :۔اے خدا ! تو اپنی بارگارہ میں میری تنہاءی، اپنے ڈر سے میرے دل کی دھڑکن اور اپنی دھاک سے میرے اعضا کی تھرتھری پر ترس کھا کیونکہ اے میرے پالنے والے ! میرے گناہ مجھے تیری درگارہ میں فنا کی بدنامی کے مقام پر لے آئے ہیں، اب اگر میں چپ رہتا ہوں تو کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا جو سفارش یا ذریعہ چاہتا ہوں تو اپنے آپ کو سفارش کے لائق نہیں پاتا۔

انتالیسویں دعا میں پڑھتے ہیں :۔

فَاِنَّکَ اِن تُکَافِنِی بِالحَقِّ تُهلِکنِی وَاِلاَّ تَغَمَّدنِی بِرَحمَتِکَ تُوبِقنِی (اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَستَوهِبُکَ یَٓااِلٰهِی مَالاَ یُنقِصُکَ بَذلُهُ وَاَستَحمِلُکَ مَالاَ یَبهَضُکَ حَملُهُ اَستَوهِبُکَ یَٓااِلٰهِی نَفسِیَ الَّتِی لَم تَخلُقهَا لِتَمتَنِعَ بِهَامِن سُوٓءٍ اَو لِتَطَرَّقَ بِهَا اِلٰی عَلیٰ مِثلِهَا وَاحتِجَاجاً بِهَا عَلٰی شَکلِهَا) وَاَستَحمِلُکَ مِن ذُنُوبِی مَا قَد بَهَطَنِی حَملُهُ وَاَستَعِین بِکَ عَلیٰ مَاقَد فَدَحَنِی ثِقلُهُ فَصَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهِ وَهَب لِنَفسِی عَلٰی ظُلمِهَا نَفسِی وَ وَکِّل رَحمَتَکَ بِاحتِمَالِ اِصرِی :۔ اگر تو مجھے صحیح سزا دے گا تو ہلاک کرے گا اور اگر مھجے اپنی رحمت سے نہیں ڈھانپے گا تو تباہ کردے گا۔ میں تجھ سے یہ چاہتا ہوں کہ میرے گناہ مجھ سے لے لے کیونکہ میں ان کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں اور تجھ سے ان گناہوں کے سلسلے میں مدد مانگتا ہوں جن کے بوجھ نے مجھے جھکا اور تھکا دیا ہے۔ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر درود بھیج اور میرے نفس کو معاف کردے جس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنی رحمت کو میرے گناہوں کا بوجھ اٹھانے میں میرا وکیل کر۔

۴ ۔ دعاؤں کی چھاؤں میں گناہ سے پرہیز :

یہ دعائیں اپنے پرھنے والے کو برائیوں، برے کاموں اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہیں اور اس کے دل کی گندگیاں دھو دھلا کر اسے پاک صاف کرتی ہیں۔

مثلاً بیسویں دعا کے یہ فقرے :۔

اَللّٰهُمَّ وَفِّر بِلُطفِکَ نِیَّتِی وَصَحِّح بِمَا عِندَکَ یَقِینِی وَاستَصلِح بِقُدرَتِکَ مَا فَسَدمِنِّی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحمَّدٍ وَمَتِّعِی بِهُدًی صَالِحٍ لاَ اَستَبدِلُ بِهِ وَطَرِیقَةِ حَقٍّ لاَ اَزِیغُ عَنهَا وَنِیَّةِ رُشدٍ لاَ اَشُکُّ فِیهَا اَللّٰهُمَّ لاَ تَدَع خَصلَةً تُعَابُ مِنِّی اِلاَّ آصلَحتَهَا وَلاَ عَآئِبَةً اُوَنَّبُ بِهَا اِلاَّ حَسَّنتَهَا وَلاَ اُکرُومَةً فِی نَاقِصَةٍ اِلاَّ اَتمَمتَهَا :۔ اے معبود ! اپنی مہربانی سے میری نیت پوری کر میرا یقین مضبوط کر اور میری بربادیں اپنی قدرت سے درست کر اے خدا ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی آل پر درود بھیج اور مجھے ایسی اچھی رہنمائی عطا کر جسے (دوسری راہ سے) بدل نہ سکوں، ایسا سچا راستا جس سے ٹھیک نہ سکوں اور ایسی ثابت نیت جس پر شک نہ کرسکوں ۔ اے خدا! میری وہ عادت درست کردے جسے لوگ برا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح میری وہ بری خصلتیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں اچھی بنا دے اور میری اچھی لیکن ادھوری عادت کو کامل کردے۔

۵ ۔طاقتور روح کی پرورش :۔

ان دعاؤں کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ پڑھنے والے کو قوت بخشتی ہیں تاکہ وہ خود کو لوگوں سے بے غرض بنالے ، ان کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہو اور اپنی حاجت صرف خدا کے سامنے پیش کرے، جاننا چاہیے کہ اس چیز کی خواہش کرنا جو دوسروں کے ہاتھ میں ہو انسان کی ایک گھٹیا عادت ہے۔

جیسا کہ بیسوی دعا میں ہم پڑھتے ہیں :

وَلاَ تَفتِنِّی بِالاِستِعَانَةِ بِغَیرِکَ اِذَا اضرُرِرتُ وَلاَ بِالخُضُوعِ لِسُؤَلِ غَیرِکَ اَذا افتَقَرتُ وَلاَ بِالتَّضَرُّعِ اِلٰی مَن دُونَکَ اِذَا رَهِبتُ فَاستَحِقَّ بِذٰلِکَ خَذ لاَنَکَ وَ مَنعَکَ وَاِعرَاضَکَ :۔ مجھے اس خرابی میں نہ ڈال کہ مجبوری میں تیرے سوا کسی اور سے مدد چاہو، مفلسی میں تیرے سوا کسی اور سے گھگھیا کر مانگوں، ڈر کے مارے غیر کے سامنے رؤو پیٹوں اور گمراہیوں کی وجہ سے ذلت اور رسوائی، تیری رحمت سے دوری اور تیری بے توجہی کا سزوار بن جاؤں۔

اٹھائیسویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں:

اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَخلَصتُ بِانقِطَاعِیٓ اِلَیکَ وَاَقبَلتُ بِکُلِّی عَلَیکُ وَصَرَفتُ وَجهِی عَمَّن یَحتَاجُ اِلٰی رِفدِکَ وَقَلَبتُ مَسئَلَتِی عَمَّن لَّم یَستَغنِ عَن فَضلِکَ وَرَاَیتُ اَنَّ طَلَبَالمُحتَاجِ اِلَی المُحتَاجٍ سَفَةٌ مِن رَایِهِ وَضَلَّةٌ مِن عَقلِهِ :۔ اے خدا! میں نے تجھ سے دل لگایا ہے اور تیرے علاوہ اس غیر سے جو تیری مہربانی کا محتاج ہے الگ ہوگیا ہوں، اس سے جو تیرے کرم کا حاجتمند ہے میں نے اپنا سوال واپس لے لیا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک حاجت مند کا دوسرے حاجت مند سے مانگنا سوچ بچار کی حماقت اور عقل کا بھٹکنا ہے۔

تیرھویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں:۔

فَمَن حَاوَلَ سَدَّ خَلَّتِهِ مِن عِندِکَ وَرَامَ صَرفَ الفَقرِ عَن نَفسِهِ بِکَ فَقَد طَلَبَ حَاجَتَهُ فِی مَظَانِّهَا وَاَتٰی طَلَبَتَهُ مِن وَجهِهَا وَمَن تَوجَّهَ بِحَاجَتِهِ اِلٰی اَحَدٍمّ،ن خَلقِکَ اَوجَعَلَهُ سَبَبَ نُجحِهَا دَونَکَ فَقَد تَعَرَّضَ لِلحِرمَانِ وَاستَحَقَّ مِن عِندِکَ فَوتَ الاِحسَانِ :۔ جو کوئی تیرے حضور میں اپنی حاجت مندی کا نقص مٹانے کی درخواست کرتا ہے اور اپنی مفلسی تیرے کرم سے دور کرنا چاہتا ہے وہ واقعی ٹھیک جگہ سے اپنی حاجتیں طلب کرتا ہے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ماسب راستے سے آتا ہے لیکن جس کسی نے اپنی ضرورت کی خاطر تیری کسی مخلوق کی طرف رخ کیا یا تیرے سوا کسی اور کو اپنی حاجت برآری کا سبب ٹھیرایا وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ تجھ سے مایوس ہوجائے یا تیرے احسان اور بخشش میں شامل نہ ہو۔

۶ ۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی

صحیفہ سجادیہ کی دوسری دعاؤں کے فقرے انسانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کے حقوق کی پاسداری لازم ہے اور یاد دلاتے ہیں کہ اسلامی برادری کے معنی کی اصلیت یہ ہے کہ مسلمانوں میں مدد، سہارا، صلح و صفائی، ہمدردی ، درگزر اور جاں نثاری پیدا ہو تاکہ ان میں اسلامی اخوت قائم ہو۔

جیسا کہ ہم اڑتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں :

اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعتَذِرُ اِلَیکَ مِن مَظلُومٍ ظُلِمَ بِحَضرَتِی فَلَم اَنصُرهُ وَمِن مَعرُوفٍ اُسدِیَ اِلَیَّ فَلَم اَشکُرهُ وَمِن مُسِیٓءِنِ اعتَذَرَ اِلیَّ فَلَم اَعذِرهُ وَمِن حَقِّ ذِی حَقٍّ لَزِمَنِی لِمُؤمِنٍ فَلَم اُوَفِّرهُ وَمِن عَیبِ مُؤمِنٍ طَهَرَ لِی فَلَم اَستُرهُ :۔ اے خدا! میں تیرے حضور میں معافی چاہتا ہوں اس مظلوم کی وجہ سے جس پر میرے سامنے ظلم ہوا اور میں اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکا اور اس احسان کی وجہ سے جو مجھ پر ہوا اور میں اس کا شکریہ ادا نہیں کرسکا اور جس برا کام کرنے والے نے مجھ سے معافی مانگی لیکن میں نے اسے معاف نہیں کیا اور اس حاجت مند کی وجہ سے جس نے مجھ سے مانگا اور میں نے اس کو اپنے اوپر ترجیح نہی دی اور اس حق کی وجہ سے جو مجھ پر واجب ہے اور میں نے اسے ادا نہیں کیا اور مومن کے اس عیب کی وجہ سے جو میرے سامنے کھل گیا تھا لیکن میں نے اس کو نہیں ڈھانکا۔

واقعی اس قسم کی عذر خواہی اور عفوطلبی ایسا پرکشش منصوبہ ہے جو انسان کی روح کو نہایت اعلیٰ درجے کی خوبیوں اور خدائی اخلاق کی طرف مائل کرتا ہے۔

انتالیسویں دعا میں جب ہم وسیع ترنظ سے دیکھتے ہیں تو یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جس آدمی نے کوئی برائی کی ہو اسے کس طرح معاف کردینا چاہیے اور اس سے بدلہ نہیں لینا چاہیے ۔ یہ ایسی دعا ہے جو روح کو پاک کرتی اور انسان کو خدا کے نیک بندوں کے رتبے پر پہنچا دیتی ہے۔چنانچہ ہم پڑھتے ہیں :

اَللّٰهُمَّ وَاَیُّمَا عَبدٍ نَالَ مِنِّی مَاحَظَرتَ عَلَیهِ وَانتَهَکَ مِنِّی مَاحَجَرتَ عَلَیهِ فَمَضیٰ بِظَلاَمِتِی مَیِّتاً اَو حَصَلَت لِی قِبَلَهُ حَیّاً فَاغفِرلَهُ مَا اَلَمَّ بِهِ مِنِّی وَاعفُ لَهُ عَمَّا اَدبَرَ بِهِ عَنِّی وَلاَ تَقِفهُ عَلٰی مَاارتَکَبَ فِیِّ وَلاَ تَکشِفهُ عَمَّا اکتَسَبَ بِی وَاجعَل مَا سَمَحتُ بِهِ مِنَ العَفوِ عَنهُم وَتَبَرَّعتُ بِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ عَلَیهِم اَزکٰی صَدَقَاتِ المُتَصَدِّقِینَ وَ اَعلٰی صِلاَتِ المُتَقَرِّبِینَ وَعَوِّضنِی مِن عَفوِی عَنهُم عَفوَکَ وَمِن دُعَائِی لَهُم رَحمَتَکَ حَتَّی یَسعَدَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنَّا بَفَضلِکَ :۔اے خدا! جس بندے نے میرے متعلق وہ عمل کیا جس سے تو نے اسے منع کر دیا تھا اور میری ایسی پردہ دری کی جسے تو جائز نہیں سمجھتا، میرا حق روند ڈالا اور دنیا سے اٹھ گیا یا زندہ ہے اور میرا حق اس کے پاس موجود ہے اسے تو نے جس مصیبت میں ڈالا ہے بخش دے اور میرا جو حق اس نے چھینا ہے اس سے درگزر کر اور اس نے میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے لیے اسے ملامت مت کر اور اس نے جو کچھ ظلم مجھ پر کیا ہے اس کے لیے اس رسوا نہ کر میری طرف سے اس کے لیے معافی اور درگزر کو معاف کرنے والوں کی بہترین معافیوں اور اسی طرح اس صدقے اور خیرات کو جو میں نے ان کے لیے کیا ہے اسے اپنے برگزیدہ بندو کی سب سے اعلیٰ سخاوتوں اور عطاؤں کا درجہ دے اور مجھے اس معافی کی خاطر جو میں نے ان کے لیے چاہی اور اس دعا کی خاطر جو میں نے ان کے لیے چاہی اور اس دعا کی خاطر جو میں نے ان کے لیے مانگی اپنی رحمت اور بخشش سے بدلہ دے تاکہ ہم میں سے ہر ایک تیرے احسان سے نیک بختی حاصل کرسکے۔

سچ مچ دعا کے یہ آخری فقرے کس قدر پرکشش ہیں اور پاکیزہ روحوں پر کس قدر مناسب اور اچھا اثر ڈالتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آدمی کو سب لوگوں کے لیے ثابت اور پاک نیت رکھنا چاہیے اور سب کے لیے خوشحالی طلب کرنا چاہیے یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے اس پر ظلم کیا ہے (صحیفہ سجادیہ کو دعاؤں میں یہ موضوع بیشتر نظر آتا ہے۔ واقعی زبور آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اس قسم کی تعلیمات اور روحانی نصیحتیں اس قدر شامل ہیں کہ اگر انسان اس کی ہدایت کی راہ میں قدم رکھیں تو ان کی روح پاک ہوجائے اور اس سے گندگیاں دھل جائیں۔


قبروں کی زیارت :

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار ؑ کے مزارات مقدسہ کی زیارت پر زیادہ توجہ امامیہ شیعوں کی خصوصیات میں داخل ہے کیونکہ شیعہ ان مزارات کا غیر معمولی احترام کرتے ہیں اور ان کے لیے پرشکوہ اور بڑی بڑی عمارتیں بنواتے ہیں اور اس کام کے لیے اعتقاد اور گہرے لگاؤ کے باعث تھوڑی اور بہت دولت خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔

شیعہ یہ احترام اور تعظیم ائمّہ اطہار ؑ کے طریقوں اور سفارشوں کے مطابق کرتے ہیں کیونکہ ان حضرات نے ان مزارات کی زیارت کے لیے شیعوں کو بہت وصیتیں کی ہیں اور وہ خدا کے یہاں سے بہت بڑے صلے پانے کی خاطر شیعوں کو ان زیارتوں کی ترغیب دیتے تھے اور اس عمل کو واجب عبادتوں کے بعد بہترین عبادتی اور خدا کے نزدیک ہونے کے وسیلے سمجھتے تھے وہ ان مزارات کے پہلو کو خدا کی طرف خالص توجہ دینے اور دعا کے قبول ہونے کے لیے بہترین مقام بتاتے تھے، وہ تو یہاں تک بتاتے تھے کہ ان قبروں کی زیارت اور تعظیم ائمہ اطہار ؑ سے شیعوں کے عہد وفاداری کی تکمیل کرتی ہے، جیسا کہ امام رضا ؑ نے فرمایا ہے :

لِکُلِّ اِمَامٍ عَهدًا فِی عُنُقِ اَولِیَآئِهِ وَشِیَعتِهِ وَاِنَّ مِن واِنَّ مِن تَمَامِ الوَفَاءِ بِالعَهدِ وَحُسنِ الاَدَآءِ زِیَارَةَ قُبُورِهِم فَمَن زَارَهُم رَغبَةً فِی زِیَارَتِهِم وَتَصدِیقاً بِمَا رَغِبُوا فِیهِ کَانَ اَئِمَّتُهُم شُفَعَآئَهُم یَومَ القِیَامَةِ :۔ ہر امام سے اس کے شیعوں اور دوستوں کا ایک معاہدہ ہوتا ہے انہیں کاموں میں سے جو اس معاہدے کی بخوبی تکمیل کرتے ہیں، ائمہ اطہار ؑ کے مزارات کی زیارت بھی ہے، جو شخص شوق سے اماموں کے مزارات کی زیارت کرتا ہے اور اس زیارت میں ائمّہ اطہار ؑ کے مقاصد کی طرف دھیان رکھتا ہے قیامت کے دن ائمَّہ ؑ اس کی بخشش کی سفارش کریں گے۔ (محمد بن قولویہ : کامل الزیارات صفحہ ۱۲۲ )

ان قبروں کی زیارت پر ائمّہ اطہار ؑ کی خاص توجہ اور خاص عنایت اس وجہ سے کہ اس کے ضمن میں بہت سے دینی اور دینوی فائدے حاصل ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں:

ائمہ اطہار ؑ اور ان کے شیعوں کے درمیان زیادہ دوستی اورمحبت کا تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔

دلوں میں ائمہ اطہار ؑ کی خوبیوں ، اچھی عادتوں اور خدا کے لیے ان کے جہاد کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

(خاص طور پر) زیارت کے دنوں میں دنیا کے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے مسلمان جب روضہ امام کے اطراف میں جمع ہوتے ہیں تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے واقف ہوجاتے ہیں اور باہم محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طریقے سے خدا کی فرماں برداری اور اطاعت کا جذبہ اور خدا کے احکام کی بجا آوری میں خلوص زیارت کرنے والوں کے دلوں میں باہم گندھ جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ زیارتوں کی ا بلیغ عبارتوں کے پردے میں جو اہلبیت ؑ کی طرف سے ہم تک پہنچی ہیں توحید کی حقیقت، اسلام کی طہارت اور پاکیزگی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا اقرار دہرایا جاتا ہے اور جو کچھ ہر مسلمان کا فرض واجب ہے مثلاً بلند اور پختہ اخلاق، کائنات کے منتظم (خدا) کے آگے عاجزی اور تعظیم اور اس کی نعمتوں اور بخششوں کی شکر گزاری زائروں میں ابھر آتی ہیں،

اس لحاظ سے زیارتوں کا پڑھنا بھی وہی اثر رکھتا ہے جو ائمہ اطہار ؑ سے منقول دعائی رکھتی ہیں (جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے) بلکہ ان میں سے کچھ تو نہایت بلیغ اور بلند رتبہ دعاؤں میں شامل ہی مثلاً زیارت امین اللہ جو امام زین العابدین ؑ نے اپنے دادا حضرت علی ؑ کی قبر کے پہلو میں زیارت کے وقت پڑھی ہے۔

ایک لحاظ سے یہ زیارتیں جو ائمہ اطہار ؑ سے ہم تک پہنچی ہیں اماموں کے مراتب، خدا کی محبت، دین کے کلمے کی بلندی کے لیے ان کی قربانیوں اور خدا کی بارگاہ میں ان کی پرخلوص اطاعتوں کو مجسم کر دیتی ہیں، یہ زیارتیں عربی کے چمکیلے اسالیب اور بڑی فصاحت کے ساتھ ایسی عبارتوں میں ملتی ہیں جن کا مطلب سمجھ لینا عام اور خاص سب لوگوں کے لیے آسان ہے اور توحید کے مطالب اور اس کی باریکیوں کی تشریح ، خدا سے دعا اور اس سے لو لگانے کے بیان پر مشتمل ہیں۔

واقعی قرآن ، نہج البلاغہ اور ان دعاؤں کے بعد جو اماموں سے ہم تک چلی آرہی ہیں یہ زیارتیں دین کے اعلیٰ ترین ادب ہے کیونکہ ان میں ائمہ اطہار ؑ کی تعلیمات کا نچوڑ اور خلاصہ ملتا ہے اور دینی اور اخلاقی معاملات سے متعلق ان کے اصول جھلکتے ہیں۔

زیات کے آداب :۔

دوسری طرف سے دیکھیے تو جو آداب ان مزارات کی زیارت کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں وہ ان تعلیمات اور اشارات کو واضح کرتے ہیں جو دین کے ایسے اعلیٰ معانی اور مطالب حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں جیسے مسلمانوں کا روحانی درجہ بلند کرنا، ان میں کمزور پر مہربانی کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ، سماجی زندگی سے تعلق اور چلن میں حسن معاشرت اور رعایت اخلاق پر انہیں آمادہ کرنا اس وجہ سے ان میں سے کچھ زیارت کے بیچ میں اور کچھ زیارت کے بعد پورے کرنا چائیں۔

ہم اس جگہ ان میں سے کچھ آداب بیان کرتے ہیں تاکہ ان زیارتوں کے مقاصد واضح ہوجائیں۔

۱ ۔ آداب زیارت میں سے ایک یہ ہے کہ زائر زیارت شروع کرنے سے پہلے نہائے اور اپنے آپ کو پاک صاف کرے اس کام کا فائدہ جو ہم سمجھتے ہیں بہت واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ غسل انسان کے جسم کو غلاظتو اور گندگیوں سے پاک کرتا ہے ، بدن کو بہت سی بیماریوں سے اور دوسرے آدمیوں کو اس کے بدن کی بدبو سے پریشان ہونے سے بچاتا ہے (نوٹ، امیرالمومنین امام علیؑ فرماتے ہیں، اپنے بدن کو پانی کے وسیلے سے بدبو سے بچاؤ اور ہمیشہ یہ کام کرتے رہو، خدا ایسے لوگوں کو دشمن رکھتا ہے جن کے بدن کی بدبو سے دوسرے پریشان ہوتے ہیں۔ (تحف العقول صفحہ ۲۴)

اسی طرح غسل روح اور باطن کی گندگی سے بھی طہارت کا سبب ہوتا ، (ثبوت یہ ہے کہ ) روایت کے مطابق اور ائمہ اطہار ؑکے دستور کے مطابق زائر عمل سے پہلے یہ دعا پڑھے تاکہ زیارت کے بلند مقاصد سے آگاہ ہوجائے۔

اَللَّهُمَّ اجعَل لِّی نَوراً وَحَرِّزاً کَافِیاًمِّن کُلِّ دَآعٍ وَّسُقمٍ وَمِن کُلِّ آفَةٍ وَعَاهَةٍ وَطَهِّر بِهِ قَلبِی وَجَوَارِ حِی وَعِظَامِی وَلَحمِی وَدَمِی وَشَعرِی وَبَشَرِی وَمُخِّی وَعَظمِی وَمَآ اَقَلتُ الاَرضَ مِنِّی وَاجعَل لِی شَاهِداً یَومَ حَاجَتِی وَفَقرِی وَفَاقَتِی :۔ اے خدا ! اس غسل کو میرے لیے روشنی اور طہارت کا سبب اور ہر دکھ، درد اور ہر مصیب اور دشواری کی روک کے لیے ایک مناسب ڈھال بنا دے اور میرے دل ، اعضاء ہڈیوں ، گوشت ، خون، بال ، کھال ، گودے اور نسوں کو (اس غسل کی بدولت) پاک کر اور اسے اس دن (یعنی قیامت کے دن) جو میری حاجت ، تہی دستی اور بیچارگی کا دن ہوگا میرا گواہ بنادے۔

۲ ۔ زیارت کے دیگر آداب میں سے ایک یہ ہے کہ زائر اپنا سب سے اچھا اور سب سے پاکیزہ لباس پہنے، عام مجمعوں میں صاف ہے اور اچھے کپڑے پہننا لوگوں میں محبت اور دوستی کا سبب ہوتا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے قریب کردیتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کام عزت نفس میں بھی اضافہ کرتا ہے اور ان رسوم کی جن میں شرکت کرتے ہیں اہمیت معلوم ہونے کا بھی ذریعہ ہوتا ہے۔

یہ دھیان رہے کہ اس اصول کا یہ مقصد نہیں ہے کہ زائر سب لوگوں سے اچھا لباس پہنے بلکہ مقصد یہ ہے کہ زائر کے پاس جو کپڑے ہیں ان میں سے اچھے کپڑے پہنے کیونکہ ہر شخص بہترین لباس مہیا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس میں مفلسوں کو سخت مجبوری آپڑے گی اور یہ بات مہربانی اور شفقت کے خلاف ہے اسی وجہ سے جسموں کی زیب اور زینت کرتے وقت فقریروں اور محتاجوں کو نظر میں رکھنا چاہیے۔

۳ ۔ ایک ادب یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے زائر اپنے کپڑوں میں خوشبو لگائے اور اس کا فائدہ اور اثر بھی اچھا لباس پہننے کے فائدے اور اثر کی طرح ہے جیسا کہ بیان کیا گیا۔

۴ ۔ جتنا ہوسکے فقیروں اور مفلسوں کی مدد کرے، ان مراسم میں محتاجوں پر صدقے اور خیرات کا اثر ظاہر ہے کیونکہ اس کام سے بھی بے آسرا اور مجبور لوگوں کی مدد کرکے زائر میں امداد اور غریب نوازی کا جذبہ پرورش پاتا ہے۔

۵ ۔ زیارت کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ زیارت گاہ کی طرف نہایت وقار اور آہستہ روی سے جائے اور اس طرح جائے کہ غیر شرعی مناظر کے دیکھنے سے آنکھیں بند کرلے ۔ ظاہر ہے کہ اس قاعدے پر عمل حرم، زیارت اور زیارت کرنے والے کی عزت اور تعظیم اور خدا کی طرف خالص توجہ کا سبب ہوتا ہے اس کے علاوہ آنے جانے والوں کے لیے رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی اور دوسروں کی بے ادبی بھی نہیں ہوتی۔

۶ ۔ زیارت کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ زیارت کے وقت جہاں تک ہوسکے اللہ اکبر کا جملہ دہراتا رہے۔ بعض زیارتوں میں سو بار دہرانے کو کہا گیا ہے اس دستور کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی روح خدا کی بڑائی کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی چیز اس سے بڑی نہیں ہے زیارت خدا کی عبادت، احترام اور تسبیح و تقدیس کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ خدا کہ نشانیوں اور شعائر کو زندہ کرکے اس کے قانون کی پیروی کی جائے۔

۷ ۔ زیارت کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ پیغمبرخدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا امام ؑ کے مزار کے زیارت کرنے کے بعد زائر کم از کم دو رکعت نماز پڑھے اور اس طرح خدا کی عبادت اور شکر ادا کرے کہ اس نے زیارت کی توفیق دی اور اس نماز کا ثواب جس مزار کی زیارت کی ہے اس کے مالک کی روح کو ہدیہ کیاجاتا ہے۔

اس کے ساتھ زائر جو دعا اس نماز کے بعد پڑھتا ہے وہ اسے دھیان دلاتی ہے کہ اس کی یہ نماز اور یہ عمل صرف ایک خدا کے لیے ہے وہ غیر خدا کی عبادت نہیں کرتا ہے اور یہ زیارت صرف خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ اور وہ اس دعا میں پڑھتا ہے:

اَللّٰهُمَّ لَکَ صَلَّیتُ وَلَکَ رَکَعتُ وَلَکَ سَجَدتُّ وَحدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لاِنَّهُ لاَ تَکُونُ الصَّلوٰةُ وَالرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ اِلاَّ لَکَ لِاَنَّکَ اَنتَ اللهُ لآ اِلٰهَ اِلاَّ اَنتَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّل مِنِّی زِیَارَتِی وَاَعطِنِی سُؤلِی بِمُحَمَّدٍ وَّاِلِهِ الطّاهِرِینَ ۔ اے خدا ! میں نے صرف تیرے لیے نماز پڑھی ہے اور رکوع اور سجدہ کیا ہے ۔ تو ایک ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے اس لیے نماز، رکوع اور سجدہ تیرے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے کیونکہ تو ہی خدا ہے، تیرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔

اے خدا ! محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل محمد ؑ پر درود بھیج، میری زیارت قبول کر اور میری حاجت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صدقے میں پوری کر جو پاک اور طاہر ہیں۔

یہ قاعدہ مزارات کی زیارت سے ائمہ اطہار ؑ اور ان کے شیعوں کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے اور ان لوگوں کے لیے منہ توڑ جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ قبروں کی زیارت شیعوں کے نزدیک قبروں کی پرستش ، قبروں کی نزدیکی اور خدا کے ساتھ شرک ہے۔

غالباً ایسے خیال پرستوں کا اعتراض اس لیے کہ (ان دم بازیوں سے) لوگوں کو شیعوں کے ان مفید او ۴ ر شاندار اجتماعات سے الگ رکھیں، کیونکہ دراصل یہ اجتماعات اہل بیت ؑ کے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں ورنہ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں زیارت کے اس دستور سے اہل ؑ کے اعلیٰ مقاصد کا پتا نہیں لگا ہوگا۔

یہ بزرگ انسان جو نہایت خلوص سے خدا کی عبادت کرتے تھے اور دین کی خاطر اپنی جانیں تک فدا کر دیتے تھے کیا وہ لوگوں کو خدا کی عبادت میں شرک کی دعوت دیتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

۸ ۔ زیارت کا ایک اور ادب یہ ہے کہ زائر اپنے پاس بیٹھنے والوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کرے ، بات کم کرے اور جو بات کرے وہ مفید ہو، نیز بیشتر خدا کی یاد میں مشغول رہے۔

(نوٹ، خدا کو یاد کرنے سے یہ مراد نہیں کہ کثرت سے سبحان اللہ لا الہ الا اللہ اللہ اکبر کہا جائے بلکہ مقصد وہ ہے جیسا کہ امام جعفر صادق ؑ نے بعض احادیث کے مطابق بہت زیادہ خدا کی یاد میں رہنے کی تفسیر میں فرمایا اور یہ وضاحت کی : مقصد سبحان اللہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا نہیں ہے اگرچہ یہ بھی خدا کی یاد کی مثالیں ہیں بلکہ ذکر خدا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اچھائی کی طرف راغب ہو اور برائی سے بچے ۔ (محمد بن قولویہ : کامل الزیارات) اس میں عاجزی ہو، بہت سی نمازیں پڑھے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل محمد ؑ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجے، آنکھوں سے اشارے نہ کرے، غریب بھائیوں اور دوستو کی مدد کرے اور خود ان سے درگزر کرے۔ جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے اور دشمنی کرنے سے دور رہے

اور بہت زیادہ قسم کھانے اور ایسے لڑائی جھگڑے سے جس میں قسم کھانا پڑتی ہو پرہیز کرے۔

دوسری بات یہ ہے کہ زیارت کی حقیقت کا مطلب پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا امام ؑ پر اس سلام بھیجنا ہے جیسے وہ لوگ زندہ ہیں اور خدا کے یہاں سے رزق پاتے ہیں، (سورہ آل عمران ۔ آیت ۱۶۹)

فرشہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا

تیرے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

(اقبال)

وہ زائرو کی باتیں سنتے ہی اور ان کا جواب دیتے ہیں یہی کافی ہے کہ زائر پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت میں کہے :

اَلسَّلامُ عَلَیکَ یَارَسُول اللہِ

اے خدا کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! آپ پر سلام ہو۔

البتہ بہتر یہ ہے کہ اہل بیت ؑ کی طرف سے اس ضمن میں جو زیارتیں تعلیم کی گئی ہیں وہ بلند مقاصد کی طرف دھیا دینے کے لیے، دینی فائدوں اور ان تاثیروں کے لیے جو وہ رکھتی ہیں اور جن کا پہلے ذکر کیا جاچکا ہے، ان کی سلیس عبارتوں، فصاحت اور بلاغت پر غور کرنے کے لیے اور ان کے ایسی دعاوں پر مشتمل ہونے کے باعث جو بہت بلند ہیں، غور و فکر اور اہمیت کے لائق ہیں اور انسان کو ایک بے مثل خدا کی طرف متوجہ کرتی ہی ، پڑھتی جائیں۔

ائمہ اطہار ؑ کی نظر میں سچا شعیہ :

جب ائمہ اہل بیت ؑ اسلامی حکومت کی باگ ڈور اپنےہاتھوں میں لینے سے محروم کردیے گئے تو انہوں نے اپنی پوری توجہ اور تدبیر صحیح معنوں میں مسلمانوں کے اخلاق کی درستی، پرورش اور تربیت پر لگا دی جیسا کہ خدا نے ان سے چاہا تھا۔ انہوں نے ایسے تمام لوگوں کی تربیت کا انتظام کیا جو اہل بیت رسول ؑ سے تعلق رکھتے تھے اور ائمہ کے بھروسے کے تھے۔ انہوں نے انتہائی کوشش کی کہ ان لوگوں کو اسلام کے تمام احکام، قوانین اور حقائق و معارف سکھائیں اور انہیں نفع و نقصان کی باتوں سے آگاہ کریں۔

وہ ہر ایک کو شیعہ یا اپنا پیرو نہیں سمجھتے ، ان کی نظر میں شیعہ وہ تھا جو ہر لحاظ سے خدا کے حکم کا تابع اور نفسانی خواہشات سے بچنے والا ہو اور رہبروں کی تعلیمات اور رہنمائیوں پر عامل ہو۔ اس آدمی کی طرح جو گناہ اور خواہشات میں ڈوبا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ ائمہ ؑ سے محبت اور دوستی کو اپنے عذر کے طور پر منتخب کرے۔ وہ بخشش کے لیے صرف ائمہ ؑ سے دوستی کافی نہیں سمجھتے تھے جب تک وہ نیک کرداری، درستی، امانت اور پرہیزگاری سے ملی ہوئی نہ ہو۔

خیثمہ کہتے ہیں کہ میں امام باقر ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ کو الوداع کہوں۔ آپ نے مجھ سے فرمایا :

یَا خَیثَمَةُ ! اَبلِغ مَوَالِیَنَا اِنَّا لاَ نُغنِی عَنهُم مِنَ اللهِ شَیئاً اِلاّبِعَمَلٍ وَاَنَّهُم لَن یَّنَالُوا وَلاَ یَتَنَا اِلاَّ بِالوَرَعِ وَاِنَّ اَشَدَّ النَّاسِ حَسرَةً یَومَ القِیَامَةِ مَن وَصَفَ عَدلاً ثُمَّ خَالَفَهُ اِلیٰ غَیرِه :۔ اے خیثمہ ! ہمارے دوستوں سے (ہمارا یہ پیام) کہنا کہ ہم صرف ان کے نیک عمل کی ہی بدولت خدا کی طرف سے ان کی نجات کا انتظام کرواسکتے ہیں، وہ لوگ یقینی طور پر تقویٰ اور پرہیزگاری ہی سے ہماری دوستی اور محبت پاسکتے ہیں قیامت کے د سب سے زیادہ وہ شخص پچھتائے گا جس نے دوسرو کے لیے تو عدالت کی تعریف کی اور خوبیاں بیان کیں لیکن خود اس کی مخالفت کی یعنی خود عدالت سے کام نہیں لیا ۔

(نوٹ ، اصول کافی جلد دوم صفحہ ۱۷۶ باب زیارت اخوان)

بلکہ شیعوں کے رہنماؤں نے اپنے ماننے والوں سے عمل چاہا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ خدا کی طرف بلانے والے اور خوشحالی کی راہ دکھانے والے ہیں اور نیکیوں کی ہدایت کرتے ہیں، ائمہ اطہار ؑ کے نقطہ نظر سے عملی ترغیب زبانی ترغیب سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں :

کُونُوا دُعَاةً لِّلنَّاسِ بِغَیرِ اَلسِنَتِکُم لِیَرَوا مِنکُمُ الوَرَعَ وَالاِجتِهَادَ وَالصَّلاَةَ وَالخَیرَ :۔ تم لوگوں کو اپنی زبانوں کے بغیر (یعنی عمل سے ) خدا کی طرف بلاؤ اور رہنمائی کرو۔ انہیں چاہیے کہ وہ تمہارا تقویٰ ، کوشش ، نماز اور نیک کام دیکھیں۔

(نوٹ ، اصول کافی جلد دوم صفحہ ۷۸ باب ورع)

اب ہم اس جگہ ائمہ اطہار ؑ کی ان گفتگوؤں کے کچھ حصے جو انہوں نے اپنے ماننے والوں سے کی ہیں پیش کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ محترم ہستیا لوگوں کی عادتیں سدھارنے کے لیے ترغیب و تاکید کو کتنی اہمیت دیتی ہیں۔

امام باقر ؑ کی جابر جعفی سے گفتگو:

اے جابر ! کیا اس شخص کا جو شیعہ ہونے کا دعوی کرتا ہے یہ کہنا کافی ہے کہ اہل بیت اؑ سے محبت کرتا ہوں؟ خدا کی قسم ہمارا شیعہ وہی ہے جو پرہیز گار ہو اور خدا کی اطاعت کرتا ہو۔

ہمارے شیعوں کو ان صفات سے پہچاننا:

عاجزی اور انکساری والے ہیں۔

امامنت دار ہیں۔

خدا کو بہت یاد کرتے ہیں۔

نماز، روزے کے پابند ہیں۔

ماں باپ کی عزت کرتے ہیں۔

پڑوسیوں، غریبوں، حاجت مندوں، قرض داروں اور یتیموں پر مہربانی کرتے ہیں۔

سچ بولتے ہیں۔

قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

زبان سے لوگوں کی نیکیاں بیان کرتے ہیں۔

اور اپنے رشتہ داروں کی ہر شے کے امانت دار ہیں۔

خدا کے حضور میں پرہیزگار بنو، خدا کا انعام حاصل کرنے کے لیے نیک عمل کرو، خدا کی کسی سے رشتہ داری نہیں ہے، خدا کی درگارہ میں سب سے پیارا بندہ وہ ہے جو تقویٰ اور اطاعت میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔

(نوٹ، امیرالمومنین ؑ نے نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں جو خطبہ قاصعہ کے نام سے مشہور ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں۔خدا کا حکم آسمان اور زمین والوں کے لیے ایک ہی ہے خدا نے جو چیزیں سب کے لیے حرام کر دی ہیں ان کے لیے کسی ایک شخص کو بھی چھوٹ نہیں دی جس سے اس کے مضبوط قانون پر چوٹ پڑے)۔

اے جابر! خدا کی قسم آدمی صرف اطاعت سے ہی خدا کی نزدیکی حاصل کرسکتا ہے اور ہمارے پاس دوزخ کی آگ سے آزادی کا پروانہ نہیں ہے اب اگر کوئی شخص اللہ کی اطاعت نہیں کرتا وہ خدا کے سامنے عمل نہ کرنے کا عذر نہیں رکھتا۔ جو خدا کی اطاعت کرتا ہے وہ ہمارا دوست ہے اور جو خدا کے حکم سے منہ موڑتا ہے وہ ہمارا دشمن ہے لوگ صرف نیک عمل اور پرہیزگاری ہی سے ہماری ولایت اور دوستی تک پہنچ سکتے ہیں۔

(نوٹ، اصول کافی جلد دوم صفحہ ۷۴ باب طاعت و تقویٰ)

سعید بن حسن سے امام محمد باقر ؑ کی گفتگو

سعید بن حسن کہتے ہیں کہ امام باقر ؑ نے مجھ سے فرمایا:

امام: کیا تمہارے ہاں یہ دستور ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنے دینی بھائی کے پاس جائے، اس کی جیب میں ہاتھ ڈالے اور اپنی ضرورت کی رقم اس میں سے نکال لے اور جیب والا اسے منع نہ کرے؟

سعید: اپنے یہاں میں نے ایسا دستور نہیں دیکھا اور نہ مجھے اس کا پتا ہے ۔

امام : اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ لوگوں کے درمیان بھائی چارہ نہیں ہے۔

سعید: کیا ایسی صورت میں ہم ہلاک ہوگئے؟

امام: ان لوگوں کی عقل کامل نہیں ہوپائی ہے (یعنی عقل کے مختلف درجوں کے حساب سے فرض بھی مختلف ہوجاتا ہے ۔

(نوٹ ، اصول کافی جلد دوم صفحہ ۱۷۴ باب حق مومن علیٰ اخیہ)

ابوالصباح کعنانی سے امام جعفر صادق ؑ کی گفتگو

ابوالصباح کنعانی کہتے ہیں : میں نے امام صادق ؑ سے عرض کیا:

آپ سے تعلق کے باعث لوگوں کی طرف سے ہمیں کیا کیا چیزیں (اور چوٹیں) ملتی ہیں۔

امام صادق ؑ : لوگو سے تمہیں کیا ملتا ہے ؟

ابوالصباح : جب تک ہمارے اور کسی شخص کے درمیان بات چیت ہوتی رہتی ہے وہ کہتا ہے : ""اے جعفری خبیث""

امام صادقصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : کیا لوگ تمہیں ہماری پییروی کی وجہ سے ملامت کرتے ہیں؟

ابو الصباح : جی ہاں۔

امام صادق ؑ : خدا کی قسم ! تم میں کتنے کم لوگ ہیں جو واقعی جعفر ؑ کی پیروی کرتے ہیں میرے اصحاب وہ لوگ ہیں ج کا تقویٰ اور پرہیزگاری پکی ہے وہ اپنے پیدا کرنے والے کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے صلے کے امیدوار ہیں۔ ہاں میرے اصحاب ایسے لوگ ہیں۔(اصول کافی جلد ۲ ۔ باب ورع)

امام جعفر صادق ؑ اس بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں ، اس میں سے کچھ ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔

لَیسَ مِنَّا وَلاَ کَرَامَتةَ مَن کَانَ فِی مِصرٍ فِیهِ مِاةُ اَلفٍ اَو یَزِیدُونَ وَکَانَ فِی ذٰلِکَ المِصِر اَحَدٌ اَورَعَ مِنهُ : وہ شخص نہ ہم میں سے ہے اور نہ فضیلت رکھتا ہے جو ایک لاکھ یا زیادہ انسانوں کے شہر میں رہتا ہے اور اس شہر میں اس سے زیادہ پرہیز گار ایک اور شخص ہو۔

اِنَّالاَ نَعُدُّ الرَّجُلَ مُؤمِناً حَتیّٰ یَکُونَ لِجَمِیعِ اَمرِنَا مُتبِعاً وَمُرِیدًا اَلاَ وَاِنَّ مِن اِتبَاعِ اَمرِنَا وَاِرَادَتِهِ الوَرعُ فَتَزَ یَّنُوا بِهِ یَرحَمُکُمُ اللهُ :۔ ہم اسے مومن نہیں گنتے مگر وہ جو تمام احکامات میں ہماری پیروی کرتا ہے اور ان سب احکام کو چاہتا ہے جان لو کہ تقویٰ اور پرہیز گاری ہمارے حکم کی پیروی کی شان اور اس کا تقاضا ہے اپنے آپ کو تقویٰ سے آراستہ کرو۔ خدا تمہیں اپنی مہربانی میں شاملا کرے گا۔

لَیسَ مِن شِیعَتِنا مَن لاَ تَتَحَدَّثُ المُخَدَّراتُ المُخَدَّرَاتُ بِوَرَعِهِ فِی خُذُورِهِنَّ وَلَیسَ مِن اَولِیآَئِنَا مَن هُوَ فِی قَریَةٍ فِیهَا عَشَرَةُ اٰلاَفِ رَجُلٍ فِیهِم مِن خَلقِ اللهِ اَورَعَ مِنهُ :۔ وہ شخص ہمارا شیعہ نہیں ہے جسے پاک دامن عورتیں پردوں کے اندر پاکباز نہیں کہتیں، وہ شخص ہمارے دوستوں میں سے نہیں ہے جو دس ہزار نفری کے شہر میں رہتا ہے اور میں سے ایک یاکئی آدمی اس سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔

اِنَّمَاشیِعةُ جَعفَرٍ مَن عَفَّ بَطنَهُ وَفَرجَهُ وَاشتَدَّحِهَادَهُ عَمِلَ لِخَالِقِهِ وَرَجَاثَوَابَهُ وَخَافَ عِقَابَهُ فَاِذَا رَاَیتَ اُولٰئِکَ فَاُولٰئِکَ شِیعَةُ جَعفَرٍ :۔ واقعی جعفر ؑ کا شیعہ وہ ہے جو اپنے پیٹ اور شرمگاہ کر حرام سے بچاتا ہے ۔ اس کا جہاد اور جانبازی دین کی خاطر پکی ہے وہ خدا کی خوشنودی کے لیے کام کرتا ہے اور اسی سےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امید رکھتا ہے اور اس کی سزاوں سے ڈرتا ہے جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو تو سمجھ لو کہ یہ لوگ واقعی جعفر ؑ کے شیعہ ہیں۔

تشیع کے نقطہ نظر سے ظلم اور زیادتی

دوسروں کے حقوق مارلینا اور ان پرظلم وستم ڈھانا ان سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے جن سے ائمہ اطہار ؑ نے قرآن کی پیروی میں جس نے نہایت شدت سے انسانوں کو ظلم وستم سے روکا ہے نہایت سختی سے منع کیا ہے ۔ قرآن کہتا ہے : یہ نہ سمجھنا کہ خدا ظالموں کے افعال سے بے خبر ہے۔ اس نے ان کی سزا اس (قیامت کے) دن پر اٹھا رکھی ہے جب آنکھیں حیران ہوجائیں گی۔

(نوٹ، سورہ ابراہیم ۔ آیت ۴۲)

امام علیؑ نے بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ ظلم وستم کی برائی میں نہایت سخت لہجے میں کچھ باتیں کہی ہیں ان میں سے ایک یہ پیاری اور سچی بات بھی ہے۔

وَاللّٰهِ لَواُعطِیتُ الاَ قَالِیمَ السَّبعَةَ بِمَا تَحتَ اَفلاکِهَا عَلیٰ اَن اَعصِیَ اللهَ فِی نَملَةٍ اَسلُبُهَا جُلبَ شَعِیرَةٍ فَعَلتُهُ : بخدا اگر ہفت اقلیم بھی اس سب مال و متاع کے ساتھ ساتھ جو آسمان کے نیچے ہے مجھے اس شرط پر دی جائے کہ میں چیونٹی کے منہ سے جو کا ایک چھلکا چھین لوں اور خدا کا اتنا سا گناہ کروں تو بھی میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا

(نوٹ، صبحی صالح : نہج البلاغۃ ۔ خطبہ ۲۲۴)

یہ مقدار ظلم سے بچنے کی سب سے آخری حد ہے جسے انسان ستم سے دور رہنے اور اسے برا سمجھنے کے لیے سوچ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ امام علی ؑ چیونٹی پر جو کا چھلکا چھیننے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتے چاہے۔ ہفت اقلیم کی حکومت ان کو دے دی جائے۔

اس صورت میں ان کا کردار کیسا ہے جنہوں نے حد سے زیادہ مسلمانوں کا خون بہایا ہے، ان کا مال لوٹا ہے اور لوگوں کی آبروریزی کرتے ہیں۔

جو ایسا ہے وہ اپنی زندگی کی مطابقت امام علی ؑ کی زندگی سے کیسے کرسکتا ہے اور ان کے تربیت یافتہ شاگردوں کے مقام تک کیسے پہنچ سکتا ہے ۔ یہ ہے خدا کی اعلیٰ تربیت جو وہ اپنے دین کی خاطر انسان سے چاہتا ہے۔

ہاں ظلم ان سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے جنہیں خدا نے حرام کر دیا ہے اس لیے اہل بیت ؑ کی دعاؤں اور روایتوں میں ظلم و ستم کی سب سے زیادہ برائی کی گئی ہے اور برائی کے ساتھ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

ائمہ اطہار ؑ کا یہ رویہ اور طریقہ کار رہا ہے کہ وہ ان لوگوں پر ظلم کرنے سے بھی دور رہتے تھے جو ان پر ظلم ڈھاتے اور ان کی توہین کرتے تھے۔ ایک شامی مرد کے ساتھ حضرت امام حسن ؑ کی بردباری کا مشہور قصہ اس بات کا گواہ ہے۔ اس شخص نے بہت گستاخیاں کیں، یہاں تک کہ آپ کو گالیاں دیں لیکن آپ نے ان بدتمیزیوں کے جواب میں نہایت برداشت اور خاص مہربانی کا برتاؤ کیا کہ جس سے آخر میں وہ اپنے برے رویے پر شرمندہ ہوگیا۔

چند صفحے پہلے ہم نے صحیفہ سجادیہ میں ایک دعا پڑھی ہے کہ امام سجاد ؑ اپنے عالی مکتب میں ان لوگوں کو معاف کرنے کی کیسے حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے جو انسانوں پر ظلم کرتے تھے اور یہ سبق دیا کرتے تھے کہ ہم خدا سے ان کی بخشش کی دعا کریں۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ شرع کے مطابق ظالم کے ظلم کے جواب میں ظلم کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا جائز ہے لیکن جائز ہونا ایک اور بات ہے اور معافی اور درگزر جو اخلاقی خوبیوں میں سے ہے دوسری چیز ہے بلکہ ائمہ اطہار ؑ کے نقطہ نظر سے ظالم پر زیادہ لعنت بھیجنا بعض اوقات ظلم شمار ہوتا ہے۔

امام صادق ؑ فرماتے ہیں۔

اِنَّ العَبدَ لَیَکُونَ مَظلُوماً فَمَا یَزَالُ یَدعُو حَتَّٰی یَکُونَ ظَالِماً :۔ کبھی کبھی وہ انسان جس پر ظلم ہوا ہے ظلم کرنے والے پر اس قدر لعنت بھیجتا ہے کہ خود بھی ظالم بن جاتا ہے (یعنی زیادہ لعنت کرنے کے باعث ظالم ہوجاتا ہے)

حیرت اس بات پر ہے کہ جب ظالم پر لعنت کی کثرت ظلم شمار ہوتی ہے تو اس صورت میں اہل بیت ؑ کی تعلیم کی رو سے اس شخص کا حساب کیسے ہوگا جو ابتدا میں ظلم و زیادتی کرتا ہے یا لوگوں کو بے آبرو کرتا ہے یا ان کا مال لوٹ لیتا ہے یا ظالموں سے لوگوں کی چغلی کھتا ہے تاکہ انہیں ظالموں کی بدنیتی کا نشانہ بنوادے یا دھوکا دے کر لوگوں کی پریشانی ، تکلیف اور تباہی کا سبب بنتا ہے یا مخبری کرکے لوگوں کو پکڑوا دیتا ہے۔

ایسے لوگ تمام لوگوں کی بہ نسبت خدا سے زیادہ دور ہیں، ان کا گناہ اور اس کی سزا بھی زیادہ سخت ہوگی اور ایسے لوگ عمل اور اخلاق کی رو سے تمام انسانوں سے برے ہیں۔


ظالموں کی مدد

چونکہ ظلم ایک بڑا گناہ ہے اور اس کا نتیجہ بہت برا ہوتا ہے اس لیے خدا نے ظالموں کے ساتھ شریک ہونے اور ان کو سہارا دینے سے منع کیا ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

وَلاَ تَرکَنُوا اِلیَ الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَالَکُم مِن دَونِ اللهِ مِن اَولِیَآءَ ثُمَّ لاَ تُنضَرُونَ :۔ ظالموں کے ساتھ شرکت اور دوستی نہ کرو جو تم آگ میں جاپڑو۔ تم خدا کے سوا اور کسی سے دوستی نہ کرو ورنہ پھر کوئی تمہاری مدد نہیں کرے گا۔(سورہ ہود۔ آیت ۱۱۳)

یہ ہے قرآن کی تربیت کا ڈھنگ اور وہ ہے اہل بیت ؑ کے تربیتی مکتب کا انداز!

ظالموں کی مدد کرنے ، ان کی تقویت کا باعث بننے اور ان کے ساتھ کسی کام میں شرکت کرنے سے چاہے، وہ ایک کھجور کے ٹکڑے کے برابر ہی ہو، پرہیز اور نفرت کرنے کے سلسلے میں ائمہ اہلبیت ؑ کی بہت سی روایات ہم تک پہنچی ہیں۔

اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی سب سے بڑی بدبختی اور مصیبت یہ رہی ہے کہ ظالموں سے نرمی کرتے ہیں ان کے برے کاموں سے چشم پوشی کرتے ہیں اور ان سے تعلق قائم رکھتے ہیں، پھر یہ تو اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ ان سے نہایت گرمجوشی سے ملیں اور ظلم ڈھانے میں ان کی مدد کریں۔

واقعی حق کی راہ سے ہٹ کر مسلمانوں پر کیا کیا بدبختیاں اور نحوستیں نازل ہوئی ہیں کہ جن کے منحوس سائے میں دین دھیرے دھیرے کمزور ہوتا گیا اور اس کی طاقت گھٹتی چلی گئی یہاں تک کہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دین اجنبی ہوگیا اور مسلمان یا وہ لوگ جو صرف ظاہر میں مسلمان ہیں اور وہ جو غیر خدا سے دوستی کرتے ہیں خدا کی دوستی اور توفیق میں شامل نہیں رہے اور خدا کی مدد سے ایسے محروم ہوگئے کہ اب طاقتور عیسائی دشمنوں کا تو ذکر ہی کیا، یہودیوں جیسے سب سے زیادہ کمزور دشمنوں اور ظالموں سے مقابلے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔

ائمہ اطہار ؑ بہت کوشش کرکے شیعوں اور اپنے ماننے والے لوگوں کو ایسی باتوں سے جو ظالموں کی مدد کا موجب ہوتی تھیں الگ رکھتے تھے اور اپنے محبوں کو سختی سے تاکید کرتے تھے کہ ظالموں کی ذرا سی بھی مدد اور دوستی کا اظہار نہ کریں، اس بارے میں ان کے ارشادات شمار سے باہر ہیں، انہی میں ایک وہ بات ہے جو امام سجاد ؑ نے محمد بن مسلم زہری کو ایک خط میں لکھی تھی۔ آپ اس خط میں دشمنوں کی مدد سے خبردار کرنے کے بعد ان کے ظلم کے متعلق لکھتے ہیں:

اَوَلَیسَ بِدُعَائِهِم اِیَّاکَ حِینَ دَعَوکَ جَعَلوُکَ قُطباً اَدَارُوا بِکَ رَحٰیَ مَظَالِمِهِم وَجِسراً یَعبَرُونَ عَلَیکَ اِلٰی بَلاَیَاهُم سِلماً اِلٰی ضَلاَلَتِهِم دَععِیاً اِلٰی غَیِّهم سَالِکاً سَلِبِیلَهُ یَدخُلُونَ بِکَ الشَّکَّ عَلَی العُلَمَآءِ وَیَقتَادُونَ بِکَ قُلُوبَ الجُهَّالِ اِلَیهِم فَلَم یَبلُغ اَخَصَّ وُزَرَآئِهِم وَلاَ اَقوٰٓی اَعوَانِهِم اِلاَّ دُونَ مَابَلَغَت مِن اِصلاَحِ فَسَادِهِم وَاختِلاَفِ الخَآصَّةِ وَالعَآمَّةِ اِلَیهِم فَمَآ اَقَلَّ مَآاَعطوکَ فِی قَدرِمَآ اَخَذُوا مِنکَ وَمَآ اَیسَرَ مَا عَمَرُوا لَکَ فِی جَنبِ مَا خَرَّبُوا عَلَیکَ فَانظُر لِنَفسِکَ فَاِنَّهُ لاَ یَنظُرُ لَهَا غَیرُکَ حَاسِبِهَا حِسَابَ رَجُلٍ مَسؤُلٍ :۔ کیا تمہارے لیے دشمنوں کے بلاوے کی یہ غرض نہیں تھی کہ تم کو اپنے ظلم کی چکی کا محور و مدار اور پشت و پناہ بنالیں اور تمہیں اپنے منحوس مقاصد تک پہنچنے کے لیے پل ، اپنی گمراہی کی سیڑھی، ظلم کا اعلان کرنے والا اور اپنے ظلم کے راستے کا مسافر سمجھ لیں۔

انہوں نے تمہاری شمولیت سے عقلمندوں کے دل میں شک پیدا کر دیا اور تمہارے وسیلے سے بیوقوفوں کے دل اپہنی طرف مائل کرلیے۔ انہوں نے اچھے موقعے پر اپنا فساد چھیڑکر اور خاص و عام کی توجہ اپنی طرف کرکے جو فائدہ تم سے اٹھایا وہ خاص الخاص وزیروں جی حضوریوں اور سب سے زیادہ طاقتور دوستوں سے بھی نہیں اٹھایا، تمہارے دیے ہوئے کے بدلے میں انہوں نے جو کچھ تمہیں دیا وہ بہت تھوڑا ہے اورتمہاری اتنی ساری بربادیوں کے بدلے میں انہوں نے جو کچھ تمہارے لیے بسایا وہ بہت کم ہے۔ اپنے نفس کے بارے میں سوچو کیونکہ تمہارے علاوہ اور کوئی اس کے متعلق نہیں سوچے گا اور اپنے نفس سے اتنا حساب لو اور اتنی پوچھ گچھ کرو جتنا ایک ذمے دار اور فرض پہچاننے والا آدمی اس سے حساب لے گا۔

(نوٹ، تحف العقول عن آل الرسول صفحہ ۱۹۸ مطبوعہ سستہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱۹۷۴) ۔

امام ؑ کا آخری جملہ واقعی اہم ہے کیونکہ جب انسان پر خواہش نفسانی غالب آجاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو اپنے ضمیر میں بہت ہی حقیر اور ہیچ محسوس کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں خود کو اپنے اعمال کا ذمے دار نہیں پاتا۔ اپنے کام بہت چھوٹے گنتا اور سوچتا ہے کہ ان کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔ اس طریقے کا اختیار کرنا انسان کے نفس امارہ کی خفیہ کارروائیوں میں شامل ہے۔

امام زین العابین ؑ کا اس بیان سے یہ مقصد ہے کہ محمد بن مسلم زہری کو نفس کے ان بھیدوں سے جو ہمیشہ انسان میں موجود رہتے ہیں آگاہ کردیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر یہ خیال غالب آجائے اور وہ انہیں ان کی ذمے داری کے مقام سے ہٹا دے۔

ظالموں کے ساتھ کام کرنے کے گناہ کو آنکھو کے سامنے لے آنے میں پچھلی گفتگو سے زیادہ واضح اور پرتاثیر صفوان جمال (اونٹ والے) سے ساتوی امام حضرت موسیٰ ب جعفر ؑ کی بات چیت ہے۔ صفوان ساتویں امام کے شیعہ اورمعتبر راوی تھے۔

کشی کی کتاب رجال کی روایت کے مطابق جو اس نے ""صفوان ان سے بیان کرتا ہے"" کے ذیل میں دی ہے ، صفوان نقل کرتے ہیں کہ میں امام موسیٰ ب جعفر ؑ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا:

اے صفوان ! ایک کام کے سوا تمہارے سب کام اچھے ہیں۔

میں نے کہا : میں آپ کے صدقے، وہ ایک کام کون سا ہے؟

امام ؑ نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ تم اپنے اونٹ اس مرد (ہارون رشید) کو کرائے پر دیتے ہو۔

میں نے کہا : خدا کی قسم ! میں اپنے اونٹ حرام ، گناہ ، باطل ، شکار اور عیاشی کے کاموں کے لیے نہیں دیتا بلکہ میں نے اپنے اونٹ مکے جانے کے لیے کرائے پر دیے ہیں اور پھر میں خود اونٹوں کے ساتھ نہیں جاتا بلکہ اپنے غلاموں کو بھیج دیتا ہوں۔

امام ؑ نے فرمایا: اے صفوان ! کیا تمہارے کرائے کی شرط یہ ہے کہ وہ واپس آجائیں؟

میں نے کہا : آپ پر فدا ہوجاؤں ، بے شک۔

آپ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ وہ زندہ واپس آجائیں تاکہ تمہارا کرایہ وصول ہوجائے۔

میں نے عرض کیا : جی ہاں ۔

آپ نے فرمایا :

فَمَن اَحَبَّ بَقَآءَ هُم فَهُوَمِنهُم وَمَن کَانَ مِنهُم فَهُوا کَاَن وَّرَدَ النَّارَ :۔ جو ان کے زندہ رہنے کو اچھا سمجھتا ہے وہ انہیں کے زمرے میں داخل ہے اور جو ان کے زمرے میں داخل ہے وہ دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے گا۔

صفوان کہتا ہے کہ میں گیا اور میں نے تمام اونٹ ایک دم بیچ دیے۔

ہاں جب محض ظالموں کی زندگی باقی رہنے کی خواہش ایسی ہوسکتی ہے تو پھر اس شخص کا کیا ہوگا جو مستقل طور پر ظالموں کی مدد کرتا ہے اور ان کے ظلم اور زیادتی میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور پھر ان کا پوچھنا ہی کیا جو انہیں کی سی عادتیں اختیار کریں اور ان کے ساتھ ان کے کاموں ، منصوبوں اور گروہوں میں شریک ہوجائیں۔

ظالموں کی طرف سے کام قبول کرنا

جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ظالموں کی مدد اور ان کے ساتھ کام کرنے کی چاہے ایک کھجور کے ٹکڑے کے برابر ہی کیوں نہ ہو بلکہ ان کے لیے زندگی کی خواہش کرنے کی بھی ائمہ اطہار ؑ نے نہایت سختی سے ممانعت کی ہے۔ پھر اس کے بارے میں تو کہا ہی کیا جائے جو ایسی حکومت میں شریک ہے اور ایسی ظالم حکومت کے منصوبوں اور عہدو پر متعین ہے۔ اس سے بھی آگے اس شخص کے لیے کیا کہا جائے جو ایسی حکومت کی بنیاد ڈالنے والوں میں سے ہو اور جو اس حکومت کو قوت پہنچانے اور مضبوط بنانے والے کارکنوں میں شمار کیا جائے کیونکہ امام جعفر صادق ؑ کے فرمان کے مطابق ظالم حکومت تمام صحیح قوانین کے مٹنے، باطل کے زندہ ہونے اور ظلم اور تباہی کے ظاہر ہونے کا موجب بنتی ہے۔

البتہ ائمہ اطہار ؑ نے بعض خاص موقعوں پر ان عہدوں کا قبول کرنا جائز سمجھا ہے مثلاً ظالم حکومت کی طرف سے ایک ایسا منصب قبول کرنا جو انصاف قائم کرنے، خدائی سزائیں دینے، مومنوں سے احسان اور نیکی کرنے، حلال کا حکم دینے اور حرام سے منع کرنے کے لیے ہو جیسا کہ امام موسیٰ بن جعفر ؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں :

اِنَّ لِلّٰهِ فِیٓ اَبوَابِ الظُّلمَةِ مِن نُّورِ اللهِ بِهِ البُرهَانَ وَمَکَّنَ لَهُ فِی البِلاَدِ اُمُورَ المُسلِمِینَ اُولٰٓئِکَ هُمُ المُؤمِنُونَ حَقّاً اُولٰٓئِکَ مَنَارُ اللهِ فِیٓ اَرضِهِ اُولٰٓئِکَ نُورُ اللهِ فِی رَعِیَّتِهِ :۔ ظالموں کے یہاں خدا کے لیے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے خدا لوگو پر اپنی دلیل اور حجت ظاہر کرتا ہے اور ان کو شہروں میں اختیار دیتا ہے تاکہ ان کے وسیلے سے اپنے دوستوں کی مدد ہو، ان سے شر دفع ہو اور مسلمانوں کے کام سدھریں ایسے لوگ اصلی مومن ہوتے ہیں، ایسے لوگ زمین پر خدا کی واضح علامتیں اور نشانیاں اور خدا کے بندوں میں اس کی روشنی ہوتے ہیں

اس کے بارے میں ائمہ اطہار ؑ سے بہت سی روایتیں ہیں جو مذکورہ حکومتوں کے منصب داروں کے فرائض اور اچھے طرز عمل پر روشنی ڈالتی ہیں مثلاً امیرا ہواز عبداللہ نجاشی کے نام امام جعفر صادق ؑ کا رسالہ جس کا ذکر ایک بہت بڑے محقق شیخ حرعاملی نے وسائل الشیعہ کتاب البیع باب ۷۷ میں کیا ہے۔

اسلامی اتحاد کی ترغیب :۔

اہل بیت ؑ ان چیزوں کی بزرگی اور مضبوطی کی شدید خواہش رکھتے تھے جن سے اسلام کا اظہار ہوتا ہے ۔ اور اسلام کی عزت، مسلمانوں کے اتحاد، ان میں بھائی چارے کی حفاظت اور مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں سے ہر قسم کی دشمنیاں دور کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

مولی الموحدین ، امام المتقین ، امیر المومنین حضر ت علی ؑ کا ان خلفاء کے ساتھ طرز عمل جو ان سے پہلے مسند خلافت پر بیٹھے تھے بھلایا نہیں جاسکتا۔ اگرچہ آپ خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے اور ان لوگوں غاصب ، تاہم آپ نے ان کے ساتھ (مسلمانوں کے اتحاد کی حفاظت کی خاطر) صلح جوئی اور مصاحبت رکھی بلکہ (ایک مدت تک) آپ نے اپنا یہ عقیدہ بھی عوام کے مجمعوں میں پیش نہیں کیا کہ منصب خلافت پر جس کا تعین کیا گیا ہے وہ صرف وہی ہیں لیکن جب حکومت آپ کے ہاتھ میں آئی تو آپ نے ""میدان رحبہ"" (نوٹ،کوفہ کا وہ مقام جہاں امیرالمومنین ؑ عموماً اپنے دور خلافت میں خطبہ دیا کرتے تھے) میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے باقی ماندہ اصحاب سے جنہوں نے غدیر کے دن حضور سرورکائناتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے آپ کا تقرر دیکھا تھا گواہی چاہی، آپ نے ان باتوں کا بے جھجک ذکر کیا جن میں مسلمانوں کے فائدے اور بھلائیاں تھیں۔ یہ اسی اتحادالمسلمین کے خیال سے تھا جو آپ نے اپنی حکومت سے پہلے کے زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

فَخَشِیتُ اِن لَّم اَنصُرِالاِسلاَمَ وَ اَهلَهُ اَرٰی فِیهِ ثَلماً وَّهَدماً :۔مجھے ڈر تھا کہ اگر میں اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ نہیں دوں گا تو اسلام میں تفرقہ اور تباہی پھیل جائے گی۔

یہی وجہ تھی کہ خلافت شروع ہونے کے بعد امام ؑ کی جانب سے کوئی ایسی بات دیکھنے میں نہیں آئی کہ ان کی گفتگو یا عمل سے (اسلام کی طاقت کی حفاظت کے خیال سے)خلفاء کی طاقت اور دبدبے کو نقصان پہنچے یا ان کی طاقت گھٹنے یا ان کی شان اور رعب میں بٹا لگنے کا سبب بنتی ، خلفاء کی ان کارروائیوں کے باوجود جو آپ دیکھتے تھے اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے گھر میں بیٹھے رہے یہ تمام احتیاطیں محض اس لیے تھیں کہ اسلام کے فائدے محفوظ رہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے اتحاد اور میل جول کے محل میں کوئی خرابی اور دراڑ پیدانہ ہو چنانچہ یہ احتیاط لوگوں نے آپ ہی سے سیکھی سمجھی ۔

حضرت عمر ابن خطاب بار بار کہتے تھے:

لاَ کُنتُ لِمُعضَلَةٍ لَیسَ لَهَا اَبُو الحَسَن :۔ خدا نہ کرے کہ میں ایسی مشکل میں پڑوں کہ جہاں ابوالحسن نہ ہوں۔

یا

لَولاَ عَلِّیٌ لَهَلَکَ عُمَرُ :۔ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔

(نوٹ، ۱ ۔صحیح بخاری، کتاب المحاربین ، باب الایرجم المجنون ،سنن ابی داود، باب مجنون یسرق صفحہ ۱۴۷ ، مسند احمد بن حنبل جلد ۱ صفحہ ۱۴۰ و ۱۵۴ ،سنن دار قطنی، کتاب الحدود صفحہ ۳۴۶ ، کنرالعمال، علی متقی، جلد ۳ صفحہ ۹۵ ،فیض القدریر ،منادی،جلد ۴ صفحہ ۳۵۶ ، موطا، مالک، کتاب الاشر بہ صفحہ ۱۸۶ ، مسند، شافعی، کتاب الاشربہ صفحہ ۱۶۶ ، مستدرک حاکم جلد ۴ صفحہ ۳۷۵ ، سنن بیہقی صفحہ ۱۲۳ ، ریاض النضرہ، محب طبری، جلد ۲ صفحہ ۱۹۶ ، طبقات ابن سعد جلد ۲ باب ۲ صفحہ ۱۰۲ ، شرح معافی الآثار، طحاوی، کتاب القضاء صفحہ ۲۹۴ ، استیعاب، ابن عبدالبر، جلد ۲ صفحہ ۴۶۳ ، نورالابصار، ثعلبی، صفحہ ۵۶۶ ، درمنشور، سیوطی، سورہ مائدہ آیت خمر)

امام حسین ؑ کی روش بھی کبھی بھلائی نہیں جاسکتی کہ انہوں نے کس طرح اسلام کی حفاظت کی خاطر معاویہ سے صلح کی، جب آپ نے دیکھا کہ اپنے حق کے دفاع کے لیے جگ پر اصرار کرنا، قرآن اور عادلانہ حکومت ہی کونہیں بلکہ اسلام کے نام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹادے گا اور شریعت الہٰیہ کو بھی نابود کردے گا تو آپ نے اسلام کی ظاہری نشانیوں اور دین کے نام کی حفاظت ہی کو مقدم سمجھا۔

اگرچہ یہ رویہ اس کے برابر ٹھہرا کہ ان ظالموں کے باوجود جن کے بارے میں یہ انتظار تھا کہ آپ پر اور آپ کے شیعوں پر ڈھائے جائیں گے، معاویہ جیسے اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن اور آپ سے اور آپ کے شیعو سے دل میں بغض اور کینہ رکھنے والے دشمن سے صلح کی جائے۔ اگرچہ بنی ہاشم اور آپ کے عقیدت مندوں کی تلواریں نیام سے باہر آچکی تھیں اور حق کے بچاؤ اور حصول کے بغیر نیام میں واپس جانے کو تیار نہیں تھیں لیکن امام حسن ؑ کی نظر میں اسلام کے اعلیٰ فوائد اور مقاصد کی پاسداری ان تمام معاملات پر فوقیت رکھتی تھی۔

لیکن جب اسلام کے یہی اعلیٰ مقاصد معرض خطر میں پڑگئے تو امام حسین ؑ نے اپنے بھائی امام حسن ؑ کے طرز عمل سے جداگانہ رویہ اختیار کیا(نوٹ، تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے مکتب اسلام مولفہ علامہ محمد حسین طباطبائی مطبوعہ جامعہ تعلیمات اسلامی) اور امام حسین ؑ باطل کے خلاف ڈٹ گئے، کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ بنی امیہ کی حکومت اس راستے پر چل رہی ہے کہ اگر اسی طرح چلتی رہی اور کوئی اس کی برائیاں کھول کر سامنے نہیں لایا تو حکمران اسلام کی بنیادیں ڈھادیں گے اور اسلام کی عظمت ختم ہوجائے گی، آپ نے چاہا ہے کہ اگر اسی طرح چلتی رہی اور کوئی اس کی برائیاں کھول کر سامنے نہیں لایا تو حکمران اسلام کی بنیادیں ڈھادیں گے اور اسلام کی عظمت ختم ہوجائے گی۔ آپ نے چاہا کہ اسلام اور شریعت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی دشمنی تاریخ میں محفوظ کر دیں اور ان کو ان برائیوں سمیت رسوا کریں چنانچہ امام حسین ؑ نے جس طرح چاہا تھا اسی طرح ہوا۔

اگر آپ کھڑے نہ ہوتے تو اسلام اس طرح فنا ہو جاتا کہ صرف تاریخ اسے ایک غلط مذہب کے نام سے یاد کرتی۔

شیعیان اہل بیت ؑ جو طرح طرح سے سیدالشہداء امام حسین ؑ کی یاد تازہ رکھنے سے شدید دلچسپی رکھتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ان کی تحریک کی تبلیغ مکمل کریں جو ظلم وستم کو کچلنے کے لیے وجود میں آئی تھی اور ان کا مقصد (جو عدالت کا قیام تھا) حاصل کریں تاکہ امام حسین ؑ کے بعد ائمہ اطہار ؑ کی رسم کے مطابق عاشورہ محرم کی یاد تازہ کرنے کے معاملے میں ان کی پیروی اور اتباع کرنے والے بن جائیں، یہی وجہ ہے کہ ""عاشورہ "" ہمارا شعار بن گیا۔(نوٹ، تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمایئے فلسفہ شہادت مولفہ مرتضیٰ مطہری، مطبوعہ جامعہ تعلیمات اسلامی)

اسلام کی عظمت کو قائم رکھنے سے اہل بیت ؑ کی انتہائی دلچسپی (نوٹ عظمت اسلام ان باتوں سے عبارت ہے خدائے واحد کی عبادت اور حکومت ، دین، رہبران دین اور بنی نوع انسان کے حقوق کا پاس، معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی عدالت کا اجراء، انسانوں کے مابین اسلامی اخوت اور مساوات اور فکر و عمل کی آزادی، اسلام یعنی کتاب و سنت کے انہی آفاقی اصولوں کی حفاظت اور بقا کے لیے ائمہ اہل بیت ؑ نے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔ انہوں نے ایسے افراد کی تربیت کی جو ا سنہرے اصولوں کی پاسداری کرسکیں۔ اگر کوئی شخص یا گروہ ان اصولوں کے حصار کو توڑ کر کسی کا حق غصب کرے، عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیرے ، طبقاتی نظام قائم کرے، انسانوں کی آزادی سلب کرے یا فرعونیت کا اظہار کرے تو وہ قرآ کی اصطلاح میں طاغوت ہے اور وہ بندگان خدا جن پر ایسی افتاد نازل کی جائے اور انہیں خدائے منعم کی دی ہوئی نعمتوں سے محروم کردیا جائے وہ مستضعف ہیں۔ شیعیان اہل بیت ؑ خدائے عزوجل کے سوا کسی کو سپر پاور تسلیم نہیں کرتے اور اپنے اپنے زمانے کے طاغوتوں سے ٹکر لینے اور کلمہ لا الہ الا اللہ کو بلند کرنے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کو اپنا اشعار قرار دیتے ہیں جب وہ کلمہ طیبہ اپنی زبان پر جاری کرتے ہیں، تو وہ انہیں اصولوں پر اپنے ایمان اور ان سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں) اگرچہ ان کے دشمن حالات پر حاوی تھے۔۔امام علی زین العابدین ؑ کی زندگی سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ اگرچہ آپ سلاطین بنی امیہ کے مد مقابل تھے اور بنی امیہ نے آپ کے رشتہ داروں کا خون بھی بہایا تھا اور آپ کے خاندا ن کی بے ادبی اور توہین کرنے میں حد سے گزر چکے تھےاور آپ کربلا کے دل ہلادینے والے حادثے کے باعث جس میں بنی امیہ نے آپ کے پدر بزگوار اور ان کے حرم پر بے حد و حساب ظلم توڑے تھے سخت دلگیر اور غمگین تھے پھر بھی آپ تنہائی میں مسلمانوں کی فوج کے لیے دعا کیا کرتے تھے اور خدا سے ان کی فتح ، اسلام کی عزت اور مسلمانوں کی امنیت اور سلامتی چاہتے تھے۔

اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے امام زین العابدین ؑ کا واحد ہتھیار آپ کی دعا تھی آپ نے اپنے عقیدت مندوں کو یہ سکھایا کہ اسلامی فوج اور مسلمانوں کے لیے کس طرح دعا کریں۔

امام زین العابدین ؑ اس دعا میں جو ""دعائے اہل ثغور"" کے نام سے مشہور ہے یوں فرماتے ہیں۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهِ وَ حَصِّن ثُغُورَ المُسلِمِینَ بِعِزَّتِکَ وَ اَیِّدحُمَاتِهَا بَقُوَّتِکَ وَ اَسبِغ عَطَایَاهُم مِن جِدَتِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهِ وَکَثِّر عَدَّتَهُم وَاشحَذ اَسلِحَتَهُم وَاحرُس حَوزَتَهُم وَامنَع حَومَتَهُم وَ اَلِّف جَمعَهُم وَدَبِّر اَمرَهُم وَ وَاتِر بَینَ مِیَرِهِم وَتَوّحَّد بِکِفَایَةِ مُؤنِهِم وَاعضُدهُم بِالنَّصرِ وَاَعِنهُم بِالصّبرِ وَالطُف لَهُم فِی المَکرِ :۔ اے خدا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آل محمد ؑ پر درود بھیج، مسلمانوں کی جماعت بڑھا، ان کے ہتھیار تیز کر، ان کے علاقے کی حفاظت کر، ان کی صف کی قابل توجہ حد مضبوط بنا، ان کی جماعت میں یک جہتی برقرار رکھ، ان کے کام پورے کر، ان کو روزی ان کے پیچھے پیچھے (ساتھ ساتھ ۹ پہنچا، ان کے اخراجات پورے کر، ان کو اپنی مدد سے طاقتور بنا صبر اور ثابت قدمی سے ان کی امداد کر اور ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلے میں اپنا راستا پالینے کی خفیہ حکمت عملی عطا فرما۔ (صحیفہ ، ستاءیسویں دعا)

پھر کافروں پر لعنت بھیجنے کے بعد فرماتے ہیں:

اَللّٰهُمَّ وَقَوِّ بَذٰلِکَ مِحَالَ اَهلِ الاَسلاَمِ وَحَصِّن بِهِ دِیَارَهُم وَثَمِّر بِهِ اَموَالَهُم وَفَرِّغهُم عَن مُحَارَبَتِهِم لِعِبَادَتِکَ وَعَن مُنَابَذَتِهِم لِلخَلوَةِ بِکَ حَتّٰی لا یُعبَدَ فِی بَقَاعِ الاَرضِ غَیرُکَ وَلاَ تُعَفَّرَ لاَحَدٍ مِّنهُم جَبهَةٌ دُونَکَ :۔ (نوٹ، یہ دعا واقعی کتنی اچھی اور جامع ہے، اس دور میں مسلمانوں کو چاہیے کہ یہ دعا دن رات پڑھا کریں اور اس کے معافی سے سبق لیں اور خدا سے چاہیں کہ وہ انہیں میل جول ، اتحاد، صفوں کا گٹھاؤ اور عقل کی روشنی عطا فرمائے)۔

اے خدا! اس دور اندیش وسیلے سے مسلمانوں (یا ان کے مقامات) کو طاقت عطا کر، ان کے شہر مستحکم اور ان کی دولت زیادہ کر، ان کو اپنی بندگی اور عبادت کے لیے اور اپنے ساتھ تنہائی اختیار کرنے کے لیے دشمنوں کی جنگ اور رگڑے جھگڑے سے فرصت اورسکون عطا فرماتا کہ روئے زمین پر تیرے سوا دوسرے کی عبادت نہ ہو اور تیرے سوا ان کی پیشانی کسی کے آگے نہ جھکے۔

امام زین العابدین ؑ اس بلیغ اور پر تاثیر دعا میں (جو ان دعاؤں میں سب سے لمبی ہے) لشکر اسلام کو اس کام کے لیے جو اس کے شایان شان ہے اس طرح آمادہ کرتے ہیں کہ وہ عسکری اور اخلاقی خوبیوں کے مالک بنیں اور دشمنوں کی صفوں کے مقابلے میں پوری طرح مل کر کھڑے ہوجائیں۔

آپ اس دعا کے پردے میں اسلامی جہاد کی فوجی تعلیم، نتیجہ ، مقصد اور اس کے فائدے بیان کرتےہیں اور دشمن سے تصادم اور جھڑپوں میں جنگی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہیں، اور ساتھ ساتھ یہ بھی آجاتا ہے کہ لڑائی کے بیچ میں خدا کی محبت، اس پر بھروسا ، گناہوں سے پرہیز اور خدا کی خاطر جہاد کرنا دھیان سے نہ اترے۔

اپنے زمانے کے حاکموں کے مقابلے میں باقی اماموں کا بھی یہی رویہ رہا۔ یہ بزرگ اگرچہ دشمنوں کی قسم قسم کی دھکمیوں اور دھوکے بازیوں، سنگدلیوں اور بے باکیوں کا مقابلہ کرتے رہے لیکن جب انہوں نے سمجھ لیا کہ حق حکومت ان کی طرف نہیں پلٹے گا تو بھی وہ اپنے اصل مقصد سے نہیں ہٹے اور لوگوں کی دینی اور اخلاقی تعلیم اور اپنے پیروکاروں کو مذہب کی بلند مرتبہ تعلیمات کی طرف متوجہ اور راغب کرنے میں مصروف رہے۔

یہ ہے اہل بیت رسول ؑ اور ان کے پیروکاروں کا طریقہ لیکن کتنا بڑا جرم ہے آج کل کے مصنفین کا جو چند ڈالروں اور ریالوں کی خاطر شیعوں کو ایک خفیہ، تخریب کار اور بنیاد اکھیڑ دینے والی جماعت کا نام دیتے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ ہر وہ مسلمان جو اہل بیت ؑ کے تعلیمی مکتب کا ماننے والا ہے وہ ظلم اور ظالموں کا دشمن ہوتا ہے ، ظالموں اور بدکاروں سے تعلق نہیں رکھتا اور ان لوگوں کو جو ظالموں کی مدد کرتے ہیں نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے چنانچہ یہ نیک عادت اور صحیح دستور ایک نسل سے دوسری نسل تک چلتا رہتا ہے لیکن اس کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ ہم شیعوں کو بہانہ ، دھوکا اور مکر وغیرہ کے عنوان سے پہچانیں۔

شیعہ مسلمان دوسرے مسلمانوں کو دھوکا دینا اپنے لیے جائز نہیں سمجھتے ۔ یہ وہ طریقہ ہے جو انہوں نے اپنے اماموں سے لیا ہے شیعوں کے عقیدے کی رو سے ہر اس مسلمان کا مال ، جان اور عزت محفوظ ہے جو خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے کسی مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کا مال کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھاءی ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کے ان حقوق کا خیال رکھے ج کی طرف ہم آگے کی بحث میں اشارہ کریں گے۔

مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق :

مختلف طبقوں، درجوں اور مقاموں سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم کرنے کی ترغیب مذہب اسلام کی سب سے بڑی اور سب سے اچھی ترغیبوں میں سے ہے چنانچہ آج کے اور پچھلے مسلمانوں کا سب سے زیادہ بے وقعت اور ذلیل کام یہ ہے کہ انہوں نے اس اسلامی بھائی چارے کے تقاضوں کی طرف دھیان نہیں دیا اور اس بارے میں لاپروائی اور غفلت برتی۔

وجہ یہ ہے کہ اس بھائی چارے کا (جیسا کہ امام جعفر صادق کؑ کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے اور جسے ہم بیان کریں گے) کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہ پسند کرے اور عزیز رکھے جسے اپنے لیے اس نے پسند کیا ہے اور عزیز رکھا ہے اور جسے اپنے لیے پسند نہیں کرتا اسے دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی پسند نہ کرے۔

اس چھوٹے اور سیدھے سادے سے قاعدے کے بارے میں جو اہلبیت ؑ کے پسندیدہ دستوروں میں سے ہے سوچنا چاہیے اور اس خیال سے سوچنا چاہیے کہ اس قاعدے پر صحیح صحیح عمل کرنا آج کے مسلمانوں کے لیے کتنا مشکل ہے ۔ آج کے مسلمان واقعی اس قاعدے سے کتنے دور ہیں اور اگر واقعی یہ لوگ انصاف سے کام لیتے اور اپنے مذہب کو ٹھیک ٹھیک پہچان لیتے اور صرف اسی قاعدے پر عمل کرتے تو کبھی ایک دوسرے پر ظلم نہ کرتے اور ان میں زیادتی، چوری، جھوٹ، بدگوئی ، چغلی ، الزام ، گستاخی ، تہمت لگانا، توہین کرنا اور خود غرضی وغیرہ کے عیوب ہرگز نہ ہوتے۔

بے شک اگر مسلمان آپس میں بھائی چارے کی کم سے کم خوبی کو سمجھ کر ہی عمل کرتے تو ان میں ظلم اور دشمنی باقی نہ رہتی اور انسان حد درجہ خوشی اور اجتماعی خوش بختی کے اونچے اونچے مرحلوں کی فتح کے ساتھ ساتھ بھائیوں کی طرح اپنی زندگی گزارتے۔

انسانیت کی دنیا میں وہ ""مثالی بعاشرہ"" جس کا قیام پچھلے فلسفیوں سے رہ گیا تھا یقینی طور پر وجود میں آجاتا، اس صورت میں لوگوں میں دوستی اور محبت کی حکمرانی ہوتی حکومتوں ، عدالتوں ، پولیس ، جیل تعزیری قوانین اور سزا اور قصاص کے احکام کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی، اگر وہ سامراجیوں اور جابر حکمرانوں کے سامنے سر نہ جھکاتے اور باغی خود سروں کے دھوکے میں نہ آتے تو آخر کار پوری زمین بہشت کا بدل ہوجاتی اور خوش بختی کے گھر کی طرح بن جاتی۔

میں اس جگہ یہ مزید کہتا ہوں : اگر محبت اور بھائی چارے کا قانون جیسا کہ اسلام نے چاہا ہے انسانوں میں حکمرانی کرتا تو ہمارے مکتب کی لغت سے عدالت کا لفظ ہی نکل جاتا۔ یعنی ایسی صورت میں ہمیں عدل کی ضرورت ہی نہ پڑتی جو ہم لفظ عدل سے کام لینے کی حاجت رکھتے بلکہ محبت اور بھائی چارے کا قانون ہی نیکیاں پھیلانے ، امن ، خوش بختی اور کامیابی قائم رکھنے کو ہمارے لیے کافی ہوتا ۔

وجہ یہ ہے کہ انسان قانون عدل کی طرف اس وقت جاتا ہے جب سماج میں محبت نہیں ہوتی لیکن جہاں لوگوں میں باپ بیٹے اور بھائی بھائی کی سی محبت راج کرتی ہے، وہاں انسان اپنی خواہشات اور ضروریات چھوڑ بیٹھتا ہے اور محبت کے مقدس حدود کی خود خوشی خوشی حفاظت کرتا ہے آخر کار تمام مشکلیں محبت کے سائے تلے دور ہوجاتی ہیں اور پھر عدالت اور سیاست کی ضرورت نہیں رہتی ۔

اس کا راز اور سبب یہ ہے کہ ہر انسان صرف اپنے آپ سے اور اس چیز سے محبت کرتا ہے جو اسے اچھی لگتی ہے وہ کبھی ایسی چیز سے جو اس کی ہستی سے باہر ہو اس وقت تک محبت نہیں کرتا جب تک وہ اس سے تعلق پیدا نہ کرے ، وہ اسے بھلی نہ لگنے لگے، اسے اس کی ضرورت نہ پڑجائے اور اس سے رغبت نہ ہوجائے۔

اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کی خاطر جسے وہ پسند نہیں کرتا اور جس کی طرف وہ مائل نہیں ہے اپنے ارادے اور اختیار سے جان دے دے اور قربانی ہوجائے اور اس کے لیے اپنی خواہشات اور مرغوبات چھوڑ بیٹھے بجز اس صورت کے وہ ایک ایسا عقیدہ رکھتا ہو جس کی طاقت اس کی خواہشات اور مرغوبات سے زیادہ ہو ، جیسے عدالت اور احسان کا عقیدہ اس صوت میں زیادہ طاقتور میدان (مثلاً عدالت اور احسان چاہنے کا عقیدہ) کمزور رجحانات کو دبا دیتا ہے۔ یہ زیادہ پکا اور مضبوط عقیدہ انسان میں اس وقت جنم لیتا ہے جب کہ وہ بلند روح کا مالک ہو، ایسی روح جو اس سے زیادہ بلند ہو کہ خیالی اور مادی معاملات کی خاطر مادے سے ماورا (یعنی حقیقی، معنوی اور روحانی ) معاملات کو نظر انداز نہ کرے، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ کسی غیر کے ساتھ احسان اور انصاف کیے جانے کے مرحلے کو اعلیٰ سمجھے گا۔

انسان اس صورت میں اس روحانی پروگرام کا محتاج ہوتا ہے جب وہ اپنے اور تمام انسانوں کے بھائی چارے کے جذبے اور سچی محبت کے قائم رکھنے سے عاجزہ جائے۔ ورنہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ محبت، عدالت کی جگہ لے لیتی ہے اور محبت کی حکومت میں عدالت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان پر بھائی چارے کی صفت سے آراستہ ہونا واجب ہے۔ اسے سب سے پہلے یہ چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھائی چارے کا جذبہ رکھے اور جب اپنے نفس کی خواہشات غالب آجانے کے باعث اپنے اندر یہ جذبہ پیدا کرنے سے عاجز رہ جائے (جیسا کہ اکثر ہوتا ہے) تو اسلامی مواعظ اور رہبریو کی پیروی کرکے اپنے نفس میں عدالت اور احسان طلبی کا عقیدہ مضبوط کرے اور اس کی بدولت اسلامی مقاصد حاصل کرے اور اگر اسے مرحلے سے بھی مجبور ہوگیا تو پھر وہ صرف نام کا مسلمان ہے (کیونکہ محبت کے درجو کی کوئی انتہا نہیں ہے اور عدل ، اسلام کی آخری حد ہے جس کے بعد کفر و ضلالت ہے) اور وہ اللہ کی سرپرستی اور حزب اللہ سے باہر نکل گیا ہے اور امام ؑ کی تشریح کے مطابق جو بیان کی جارہی ہے خدا اس پر مہربانی اور عنایت نہیں کرتے گا۔

اکثر نفس کی سرکش خواہشیں اور تقاضے انسان پر غالب آجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اس کے لیے دشوار ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے لیے انصاف چاہنے کی ضرورت محسوس کرے تو پھر اس بات کا توخیر خیال ہی چھوڑ دیجیے کہ وہ انسانی انصاف کی اتنی طاقت اپنے اندر اکٹھی اور تیار کرلے کہ اپنے نفس کی سرکش خواہشوں اور تقاضوں پر غالب آجائے۔

یہی وجہ ہے کہ بھائی چارے کے حقوق کا لحاظ اس حالت میں جب کہ انسان میں بھائی چارے کا سچا جذبہ نہ ہو سب سے مشکل مذہبی تعلیم اور سبق ہے ، چنانچہ امام جعفر صادق ؑ نے اپنے ایک صحابی معلیٰ بن خنیس کے جواب میں جس نے بھائی چارے کے حقوق پوچھے تھے اس کی حالت کا خیال کیا اور اس ڈر سے کہ معلیٰ بن خنیس ان حقوق کو جانتا ہے لیکن ان پر عمل نہیں کرسکتا اس کی قوت برداشت سے زیادہ وضاحت نہیں کی۔

معلیٰ بن خنیس کہتے ہیں ، میں نے امام جعفر صادق ؑ سے عرض کیا :

مَا حَقُّ المُسلِمِ عَلَی المُسلِمِ :۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر کیا حق ہے ؟

آپ نے فرمایا :

لَهُ سَبعُ حُقُوقٍ وَاجِبَاتٍ ، مَامِنهُنَّ حَقٌّ اِلاَّ وَهُوَ عَلَیهِ وَاجِبٌ ، اِن ضَیَّعَ مِنهَا شَیئاً خَرَجَ مِن وِلاَیَةِ اللهِ وَطَاعَتِهِ ، وَلَم یَکُن لِلّٰهِ فِیهِ نَصِیبٌ :۔ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر سات حق واجب ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک خود اس پر بھی واجب ہے اگر وہ ان میں سے ہر حق ضائع کردے گا تو خدا کی بندگی، حکومت اور سرپرستی سے باہر نکل جائے گا اور پھر خدا کی طرف سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

میں نے کہا : میں آپ پر فدا ہوجاؤں، وہ حقوق کیا ہیں؟

آپ نے فرمایا:۔ اے معلیٰ ! میں تجھ پر شفقت کرتا ہوں، مجھے ڈر ہے کہ تو کہی یہ حقوق تلف نہ کرے، ان کی حفاظت نہ کرسکے اور انہیں سمجھتے ہوئے بھی ان پر عمل نہ کرسکے۔

میں نے کہا : خدا کے سوا کسی میں طاقت نہیں ہے مجھے خدا کی مدد سے امید ہے کہ میں کامیاب ہوجاؤں گا۔

اس وقت امام نے ساتوں حقوق بیان کیے، اس کے بعد فرمایا کہ جو ان میں سب سے ادنی ہیے وہی سب سے سادہ بھی ہے اور وہ یہ ہے:

اَن تُحِبَّ لَهُ کَمَا تُحِبُّ لِنَفسِکَ وَتَکرَهَ لَه مَاتکرَرهُ لِنَفسِکَ :۔ دوسروں کے لیے بھی وہ چیز پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی وہ ناپسند کر جو تو اپنے لیے ناپسند کرتا ہے۔

کس قدر عجیب ہے ! سبحان اللہ ! کیا سچ مچ یہ سب سے ادنیٰ اور سب سے سادہ حق ہوسکتا ہے؟

آج ہم مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ کیا اس حق کا ادا کرنا ہمارے لیے سادہ اور سہل ہے؟ ان کے مہ کو لوکا لگے جو مسلمان ہونے کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن اسلام کے سب سے سادہ قاعدے پر بھی عمل نہیں کرتے ۔ اس سے بھی زیادہ تعجب اس بات پر ہے کہ اسلام کے پچھڑ جانے اور زوال پذیر ہونے کی بات کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کا عمل اس زوال کا سبب بنا ہے۔ اسلام می خود کوئی برائی نہیں ہے جو برائی ہے وہ ہمارے مسلمان ہونے کے دعوے میں ہے۔ ہاں تمام گناہ ان کے ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اپنے مذہب کے سب سے آسان اور سادہ قاعدے پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

صرف تاریخ میں لکھے جانے کے لیے اور اس لیے کہ ہم خود کو اور اپنی کوتاہیوں کو پہچان لیں، یہ ساتوں حقوق جن کی امام جعفر صادق ؑ نے معلیٰ بن خنیس کی خاطر تشریح کی ہے ہم اس مقام پر پیش کرتے ہیں :

۱ ۔آن تحِبَّ لاَخِیکَ المُسلِمِ مَاتُحِبُّ لِنَفسِکَ وَتَکرَهَ لَهُ مَا تَکرَهُ لِنَفسِکَ :۔ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہ چیز پسند کو جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور جو اپنے لیے پسند نہیں کرتا اس کے لیے بھی پسند نہ کر۔

۲ ۔آن تَجتَنِبَ سَخَطَهُ وَتَتَّبِعَ مَرضَاتَهُ وَتُطِیعَ اَمرَهُ :۔ اپنے مسلمان بھائی کو ناراض کرنے سے (یا اس کے غصے سے) بچتا رہ جو اس کی مرضی کے مطابق ہو وہ کر اور اس کا حکم مان۔

۳ ۔اَن تُعِینَهُ بِنَفِسکَ وَمَالِکَ وَلِسَانِکَ وَیَدِکَ وَرِجلِکَ :۔ اپنی جان ، مال ، زبان اور ہاتھ پاؤں سے اس کا ساتھ دے۔

۴ ۔آن تَکُونَ عَینَهُ وَدَلِیلَهُ وَمِراٰتَهُ :۔ اس کی آنکھ، رہنما اور آئینہ بن کر رہ۔

۵ ۔اَن لاَّ تَشبَعَ وَیَجُوعَ وَلاَ تَروٰی وَیَظمَاَ وَلاَ تَلبَسَ وَیَعرٰی :۔ تو اس وقت تک پیٹ نہ بھر جب تک وہ بھوکا ہے۔ اس وقت تک سیراب نہ ہو جب تک وہ پیاسا ہے اور اس وقت تک کپڑے نہ پہن جب تک وہ ننگا ہے۔

۶ ۔اَن یَّکُونَ لَکَ خَادِمٌ وَلَیسَ لاَخِتکَ خَادِمٌ فَوَاجِبٌ اَن تَبعَثَ خَادِمَکَ فَیُغَسِّلَ ثِیَابَهُ وَیَصنَعَ طَعَامَهُ وَ یُمَهِّدَ فِرَاشَهُ :۔ اگر تیرے پاس ملازم ہے اور تیرے بھائی کے پاس نہیں ہے تو تجھے لازم ہے کہ اپنا ملازم اس کے پاس بھیج دے تاکہ وہ اس کا لباس دھودے ، کھانے کا انتظام کردے اور بستر لگا دے۔

۷ ۔اَن تُبِرَّ قَسَمهُ وَتُجِیبَ دَعوَتَهُ وَ تَعُودَ مَرِیضَهُ وَتَشهَدَ جَنَازَتَهُ وَاِذَا عَلِمتَ اَنَّ لَهُ حَاجَةً تُبادِرُهُ اِلیٰ قَضَآئِهَا وَلاَ تُلجِئُهُ اِلٰی اَن یَّساَلَکَهَا وَلٰکِن تُبَادِرهُ مُبَادَرَةً :۔ اسے اس کے معاہدوں کی ذمے داری سے آزاد کر، اس کی دعوت قبول کر، اس کی بیماری میں مزاج پرسی کر، اس کے جنازے میں شریک ہو، اگر تو جانتا ہے کہ اسے کوئی ضرورت ہے تو فوراً اس کی ضرورت پوری کر۔ اس کی ضرورت پوری کرنے میں اس انتظار میں دیرنہ کر کہ وہ خود ضرورت ظاہر کرے بلکہ جلد سے جلد اس کی حاجت پوری کرنے میں لگ جا۔

پھر امام صادق ؑ نے اپنی گفتگو ان جملوں پر ختم کی:

فَاِذَا فَعَلتَ ذٰلِکَ وَصَلتَ وِلاَیَتَکَ بِوِلاَیَتِهِ وَ وَلاَیَتَهُ بِوِلاَیَتِکَ :۔ جب تو نے یہ حقوق ادا کر دیے تو اپنی محبت کا رشتہ اس کی محبت سے اور اس کی محبت کا رشتہ اپنی محبت سے جوڑ لیا۔

(نوٹ، وسائل الشعیہ ، کتاب الجج ابواب احکام احکام العشرۃ باب ۱۲۲ حدیث ۷)

اس مضمون کی بہت سی روایتیں ائمہ اطہار ؑ سے منقول ہیں اور ان کا بیشتر حصہ کتاب وسائل الشیعہ کے مختلف ابواب میں درج ہے۔

ایک شک کا ازالہ :۔

بعض اوقات کچھ لوگ یہ شک کرتے ہیں کہ اس برادری سے جس کا ذکر اہل بیت ؑ کی حدیثوں میں آیا ہے مسلمانوں کے تمام فرقوں کی نہیں بلکہ شیعوں کی برادری مراد ہے لیکن ان تمام حدیثوں کو دیکھ کر جن میں یہ موضوع بیان ہوا ہے یہ شک دور ہو جاتا ہے، درآنحالیکہ ائمہ اطہار ؑ دوسری وجوہ سے مخالفین کے طور طریقوں کے خلاف تھے اور ان کےعقیدے کو درست نہیں سمجھتے تھے۔

اس مقام پر یہی کافی ہے کہ ہم پڑھنے والے سامنے ""معاویہ بن وہب"" کی حدیث پیش کریں، وہ کہتے ہیں:

میں نے امام جعفرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا کہ ہم تمام مسلمانوں سے جو ہمارے یہاں آمدورفت رکھتے ہیں لیکن شیعہ نہیں ہیں کس طرح پیش آئیں؟ آپ نے فرمایا:

اپنے اماموں کو دیکھو اور انہیں کی طرح مخالفوں سے پیش آؤ ۔ خدا کی قسم ! تمہارے امام ان کے مریضوں کی عیادت کرتے ہیں ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں ، ان کی موافقت یا مخالفت میں قاضی کے سامنے گواہی دیتے ہیں اور ان کی امانتوں میں خیانت نہیں کرتے۔

(نوٹ ، اصول کافی کتاب العشرۃ باب اول)

وہ بھائی چارہ جو ائمہ اطہار ؑ نے اپنے شیعوں سے چاہا ہے وہ اس اسلامی بھائی چارے سے بھی بڑھ کر ہے جس باب میں شیعوں کی تعریف کی گئی ہے اس میں بہت سی حدیثیں اس بات کی گواہ ہیں اس سلسلے میں وہ گفتگو کافی ہے جو امام صادق ؑ اور ان کے ایک صحابی ابان بن تغلب کے درمیان ہوئی ہے ہم اسے یہاں درج کرتے ہیں۔

ابان کہتے ہیں : ہم لوگ امام جعفر صادق ؑ کے ساتھ خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھے کہ اس بیچ میں ایک شیعہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ ایک کام کے لیے میرے ساتھ چلے چلو، اسی وقت امام جعفر صادق ؑ نے ہم دونوں کو دیکھ لیا تو مجھ سے فرمایا :

کیا اس شخص کو تم سے کام ہے؟

آپ نے فرمایا : کیا وہ تمہاری طرح ہی شیعہ ہے ؟

میں نے کہا : جی ہاں

آپ نے فرمایا : طواف چھوڑ دو اور اس کے ساتھ اس کے کام سے چلے جاؤ۔

میں نے کہا : چاہے طواف، طواف واجب ہو اسے چھوڑ دوں ۔

آپ نے فرمایا : ہاں

میں اس کے ساتھ چلاگیا اور اس کا کام کرنے کے بعد امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے مومن کا حق دریافت کیا ۔ آپ نے فرمایا:

یہ سوال چھوڑ دو اور نہ ہراؤ ۔

لیکن میں نے سوال دہرایا تو آپ نے فرمایا :

اے ابان ! کیا تم اپنی دولت اس مومن کے ساتھ بانٹ لو گے؟

اس کے بعد امام نے میری طرف دیکھا اور جوکچھ امام کی بات سن کر میں نے سمجھا تھا وہ انہوں نے میرے چہرے سے بھی پڑھ لیا تو فرمایا :

اے ابان ! کیا تم جانتے ہو کہ خدا ایثار کرنے والوں کو یاد کرتا ہے

(نوٹ،( وَ یُؤثِرُونَ عَلٰی اَنفُسُهِم وَلَو کَانَ بِهِم خَصَاصَةٌ ، وَمَن یُّوقَ شُحَّ نَفِسِهِ فَاُولٰئِکَ هُمُ المُفلِحُونَ ) (سورہ حشر۔ آیت ۹)

میں نے جواب دیا: جی ہاں میں جانتا ہوں۔

آپ نے فرمایا :

تم اپنا مال اس کو بانٹ دو گے تب بھی ""صاحب ایثار"" نہیں ہوسکو گے البتہ تم اس وقت ایثار کے درجے پر پہنچو گے جب اپنا آدھا مال اس کو دے دو گے اور جو دوسرا آدھا مال تمہارے لیے رہ گیا ہے وہ بھی اس کو دے ڈالو گے۔

(وسائل الشیعہ کتاب العج ابواب العشرہ باب ۱۲۲ حدیث ۱۶)

میں کہتا ہو کہ واقعی ہماری زندگی کی حقیقت کتنی شرم دلانے والی ہے واقعی ہمیں زیب نہیں دیتا کہ اپنے آپ کو مومن کہیں، ہم ایک وادی میں اور ایک طرف ہیں، ہمارے امام دوسری وادی میں اور دوسری طرف ہیں، وہی حالت اور رنگ بدلنے کی کیفیت جو امام کے فرمانے پر (مال بانٹنے کے سلسلے میں) ان کی ہوئی ان لوگوں کی بھی ہوگی جو یہ حدیث پڑھیں گے۔

ہم نے اپنے آپ کو اتنا بھلا دیا ہے اور حدیث سے منہ موڑ بیٹھے ہیں جیسے یہ حدیث ہمارے لیے نہیں ہے اور ہم ایک ذمے دار انسان کی طرح کبھی اپنے نفس کو نہیں جانچتے۔


چھٹا باب

معاد اور قیامت

مرنے کے بعد کی دنیا :۔

ہمارے عقیدے کے مطابق خدائے بزرگ انسان کو مرنے کے بعد دوسرے جسم میں ایک خاص دن اٹھائے گا۔ اس دن نیک لوگو کو جزا اور انعام دے گا اور گنہگاروں کو سزا دے گا۔

اس پورے کے پورے سادہ عقیدے پر (تفصیلات کو چھوڑ کر) تمام آسمانی مذہبوں اور خدا کے ماننے والے فلسفیوں کا اتفاق ہے اور ہر مسلما کے لیے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لائے ہوئے قرآن کے مطابق یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ جو شخص خدا کی توحید اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کا قطعی اعتقاد رکھتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ خدا نے حضرت محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو انسانوں کی رہنمائی اور سچے مذہب کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قرآن پر بھی ضرور ایمان رکھتا ہے ۔ وہ وہی قرآن ہے جو قیامت کے دن، ثواب، عذاب ، جنت ، دوذخ ، انعام اور عتاب کی خبر دیتا ہے ۔ قرآن کریم میں لگ بھگ ایک ہزار آیتیں حشر کا موضوع صاف صاف اور اشارے کنائے سے بیان کرتی ہیں۔

جب کوئی اس بارے میں شک کرتا ہے تو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ حقیقت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت یا خدا اور اس کی قدرت پر شک کرتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کی در حقیقت وہ تمام مذہبوں پر شک کرتا ہے اورتمام شریعتوں کے سچے ہونے کی تردید کرتا ہے۔

جسمانی واپسی

شیعہ اصل معاد پر اعتقاد رکھنے کے علاہ جسمانی معاد کو بھی دینی ضروریات میں شمار کرتے ہیں جیسا کہ قرآن جسمانی واپسی پر نہایت صاف صاف دلیل دیتا ہے۔

سورہ قیامت کی آیات ۳ ، ۴ میں ہم پڑھتے ہیں :

( اَیَحَسَبُ الاِنسَانُ اَلَّن نَّجمَعَ عِظَامَهُ ، بَلیٰ قَادِرِینَ عَلیٰ اَن نُّسَوِّیَ بَنَانَهُ ) :۔ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم (قیامت کے دن) اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟ نہ صرف ایسا ہے بلکہ ہم اس کی بھی قدرت رکھتے ہی کہ ان کی انگلیوں کے سرے بھی (پہلی شکل میں) درست کردیں۔

سورہ رعد کی آیت ۵ میں ہم پڑھتے ہیں :

( وَاِن تَعجَب فَعَجَبٌ قَولُهُم ءَ اِذَا کُنَّا تَرُاباً ءَ اِنَّا لَفِی خَلقٍ جَدِیدٍ ) :۔ اگر تجھ کو منکروں کے کام پر تعجب ہے تو اس سے بھی زیادہ تعجب ان کی گفتگو پر ہے جو کہتے ہیں :

کیا ہم خاک ہو چکنے کے بعد دوبارہ جنم پائیں گے ؟

سورہ قٓ کی آیت ۱۵ میں ہم پڑھتے ہیں :

( اَفَعَیِینَا بِالخَلقِ الاَوَّلِ ) ۔ بَل ھُم فِی لَبسٍ مِّن خَلقٍ جَدِیدٍ :۔ کیا ہم پہلے بار دنیا کو پیدا کرنے سے عاجز اور درماندہ تھے؟ (نہیں) بلکہ یہ منکر ہی اس پر شک کر رہے ہیں کہ لوگ دوبارہ پیدا ہوں گے۔

مختصر بات یہ ہے کہ جسمانی واپسی کا مطلب یہ ہے کہ انسان قیامت کے دن زندہ ہوگا اور اس کا بدن جو مدت سے گل سڑچکا ہوگا دوبارہ دنیا کی اسی پہلی شکل میں واپس ہوگا۔

اس سیدھے سادھے عقیدے سے زیادہ جس کا اعلان قرآن مجید کرتا ہے تفصیلات اور جسمانی واپسی کی کیفیت وغیرہ پر اعتقاد رکھنا ضروری نہیں ہے ۔ بس جو کچھ ضروری ہے وہ واپسی (معاد) اور ان چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے جو اس کے تابع ہیں جیسے حساب کتاب پل صراط، میزان ، بہشت ، دوذخ ، ثواب ، عذاب اور وہ بھی صرف اس حد تک جس حد تک قرآن مجید نے ان کے بارے میں بتایا ہے۔

بے شک ان تمام باتوں کا سمجھنا ضروری نہیں ہے جس حد تک صرف مفکر ہی پہنچ سکتے ہیں مثلاً کیا بالکل یہی بدن واپس ہوں گے یا ان جیسے واپس ہوں گے ؟ روحیں بھی جسموں کی طرح ختم ہوجائیں گی یا باقی رہیں گی؟ تاکہ قیامت کے دن اپنے بدنوں سے مل جائیں کیا ۔ واپسی (معاد) اور حشر و نشر صرف انسانوں ہی کے لیے ہیں یا جانداروں کی تمام قسموں کا بھی حشر ہوگا؟ کیا قیامت کے دن جسم رفتہ رفتہ زندہ ہوں گے یا ایک دم؟

مثال کے طور پر جنت اور دوزخ پر اعتقاد ضروری ہے لیکن یہ اعتقاد ضروری نہیں ہے کہ جنت اور دوذخ اس وقت موجود ہیں یا ہم یہ معلوم کریں کہ یہ آسمان میں ہیں یا زمی میں ہیں یا ایک آسمان میں ہے اور دوسرا زمیں میں ہے۔ اسی طرح اصل اعتقاد تو میزان پر واجب ہے لیکن یہ اعتقاد لازم نہیں ہے کہ میزان ایک بخاری قسم کی ترازو ہے یا دوسری ترازووں کی طرح دو پلڑوں کی ہے یہ جاننا بھی ضروری نہیں ہے کہ صراط نہایت ہلکا (یعنی تلوار سے تیز اور بال سے باریک پل ہے یا اس سے صرف مجازی ثابت قدمی مراد ہے ۔

مختصر یہ ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ صراط جسم رکھتا ہے یا نہیں ، اسلامی عقیدے کی تکمیل کے لیے ضروری نہیں ہے۔

(نوٹ، اقتباس از کشف الغطاء صفحہ ۵ تالیف استاد بزرگ کا شف الغطاء )

یہ ہے وہ سادہ اور سمجھ میں آنے والا عقیدہ جو اسلام نے واپسی (معاد) کے بارے میں پیش کیا ہے

جو انسان یہ چاہتا ہے کہ واپسی (معاد) کے بارے میں قرآن مجید نے جو کچھ صاف صاف یا اشارے کنائے میں بتایا ہے اس سے زیادہ جان لے تاکہ اسے منکرو ، ڈھل مل یقینوں اور ان لوگوں کے شبہات کے مقابلے میں جو عقلی ثبوت اور مادی تجربہ مانگتے ہیں ایک مطمئن کردینے والی دلیل مل جائے اس نے گویا اپنے آپ کو مشکلات اور بے حد پیچیدہ عمل الجھنو میں پھنسا دیا ہے۔

مذہب میں یہ قاعدہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ان تمام باتوں کی طرف متوجہ کیا جائے جو علم کلام اور فلسفے کی کتابو ں جمع ہوگئی ہیں اور ہماری دینی، سماجی اور سیاسی ضرورت بھی اس قسم کے مقالوں، بحثوں اور گتھیوں کی طرف جانے پر مجبور نہیں کرتی جو ان کتابوں میں موجود ہیں، یہ بیکار باتیں وقت کو برباد اور قوت فکر کو ضائع کرتی ہیں۔

ان تمام شکوک اور شبہات کو زائل کرنے کے لیے جو ان تفصیلات سے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، یہ بات سامنے رکھنا کافی ہے کہ انسان ان تمام معاملات کے سمجھنے سے قاصر ہے جو اس سے پوشیدہ ہیں اور جو ہماری مادی زنگی سے ماوراء ہیں۔

اس کے علاوہ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خداوند عالم جاننے والا اور طاقت ور ہے ۔ اس نے ہمیں بتادیا ہے کہ واپسی اور حشر و نشر کا دن بالکل یقینی ہے علموں ، تجربوں اور بحثوں سے انسان میں یہ سکت پیدا نہیں ہوسکتی کہ وہ ان چیزوں کو جو اس تک نہیں پہنچتیں اور اس کے تجربے اور جانچ پڑتال میں نہیں آتیں سمجھ سکے یا چھوسکے ۔ جب تک وہ اس احساس ، تجربے اور بحث کی دنیا سے کسی دوسرے دنیا میں نہ چلا جائے۔

ایسی صورت میں انسان اپنی سوچ بچار اور محدود تجربے کے زور پر واپسی کے مسئلے کا اقرار یا انکار کیسے کر سکتا ہے؟ اس کی خصوصیات اور تفصیلات کے جاننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، سوائے اس صورت کے کہ وہ کہانت، غیبی بجھارتوں یا احتمال اور غیر واقعیت کی راہ سے اس کی کوشش کرے۔

اسی طرح انسان اپنی طبیعت کے اعتبار سے ایسا واقع ہوا ہے کہ وہ ان چیزوں کو جن کا وہ عادی نہیں ہے اور جنہیں نہ وہ جانتا ہے نہ چھوسکتا ہے اس آدمی کی طرح عجیب و غریب شمار کرتا ہے جو حشر و نشر پر حیران ایک گلی سڑی ہڈی ہاتھ میں ؒیے پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے ہڈی کو اس طرح مسلا کہ اس کے ذرات ہوا میں اڑنے لگے اور بولا:

( قَالَ مَن یُّحیِ العِظَامَ وَهِیَ رَمِیمٌ ) ؟ کیا کسی میں یہ طاقت ہے کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو انسان کی صورت میں زندہ کردے ؟(سورہ یسین ۔ آیت ۷۸)

وہ شخص اس بات کو اس لیے عجیب و غریب سمجھتا ہے کہ اس نے کسی مردے کو گل سڑ جانے کے بعد پہلی شکل میں زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہے لیکن یہ شخص اپنی پیدائش کی ابتدا بھول گیا کہ کس طرح عدم سے وجود میں آیا، اس کے بدن کے ذرات بھی پیدائش سے پہلے زمین اور فضا میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے لیکن آخر میں وہ انسان کی متناسب صورت میں عقل اور بیان کا مالک بن کر آموجرد ہوا۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ہم پڑھتے ہیں :

( اَوَلَم یَرَاِنسَانُ اَنَّا خَلَقنٰهُ مِن نُظفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیمٌ مُّبِینٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّنَسِیَ خَلقَهُ ) :۔ کیا یہ انسان نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے (بے مقدار) نطفے سے پیدا کیا، وہ اب (عاجزی اور شکر گزاری کے بجائے)ہمارا کھلا ہوا دشمن ہوگیا، اس نے ہمارے سامنے ایک مثال پیش کی ہے لیکن وہ اپنی پیدائش کی ابتدا بھول جچکا ہے۔(سورۃ یسین ۔ آیت ۷۷ ۔ ۷۸)

ایسے بھولنے والے آدمی کے جواب میں قرآن مجید کہتا ہے :

( قُل یُحیِیهَا الَّذِیٓ اَنشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِکُلِّ خَلقٍ عَلِیمٌ ) :۔ وہی جو انسان کو پہلی بار وجود میں لایا اس کو زندہ کردے گا اور وہ ہر شے کی پیدائش جانتا ہے۔(سورہ یسین ۔ آیت ۷۹)

ہم منکر سے کہتے ہیں کہ اس کے بعد کہ تونے کائنات کے پیدا کرنے والے کو اس کی قدرت کو، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کو اور ان کی لائی ہوئی خبروں کو صحیح مان لیا اور اپنے علم اور سمجھ کی طرف سے تو اپنی پیدائش کے بھید کو سمجھنے سے بھی عاجز ہے اور اس بات سے بھی بے خبر ہے کہ تو کس طرح پلا بڑھا، تو نے اس نطفےسے جو ہوش ، ارادہ اور عقل نہیں رکھتا تھا کتنی منزلیں طے کیں، یہاں تک کہ آخر کار بکھرے ہوئے ذروں کے مل جانے کے بعد انسان کی موزوں ، چھلی چھٹی اور عقل، تدبیر ، ہوش اور احساس والی صورت پر آگیا، اب اپنی پیدائش کے آغاز کی کیفیت جانتے ہوئے تو کس لیے اس پر تعجب کرتا ہے کہ تو مرنے کے بعد گل سڑکر دوبارہ زندہ ہوگا ، تو لازمی طور پر یہ چاہتا ہے کہ علم اورتجربے کے ذریعے سے یہ بات سمجھ لے کہ مردے کس طرح زندہ ہوں گے لیکن اس کے ذریعے سے تجھے کامیابی نہیں ہوگی، اب تیرے لیے صرف ایک راستا کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔

کائنات کو پیدا کرنے والی اس ذات کو مان لے جس نے تجھے عدم سے اور گلے سڑے اور بکھرے ہوئے ذرات سے پیدا کیا اور جس نے قرآن میں واپسی اور قیامت کے دن کی اطلاع دی ہے تو چاہے جس شعبدے اور سازش سے کام لے اس حقیقت کا انکشاف ناممکن ہے اور تیرا علم اور تیری سمجھ اس تک نہیں پہنچ سکتی، وہ شعبدہ اور سازش بے فائدہ اور جھوٹے ہیں اور جنگلوں میں بھٹکنے اور گھپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے برابر ہیں۔

اس انسان نے اس کے باوجود کہ اس دور میں مختلف علوم میں ترقی کرلی ہے، بجلی اور ریڈار دریافت کرکے ان سے کام لے رہا ہے، ایٹم توڑ لیا ہے اور ایسی ہی دوسری ایجادات حاصل کرلی ہیں جن کا نام اگرکوئی پچھلی صدیوں میں لیتا تو لوگ انہیں ناممکن کہتے ہیں اور اس کا مذاق اڑاتے، ابھی وہ بجلی اور ایٹم کو بھی پوری طرح نہیں سمجھ پایا ہے بلکہ ان کے ایک خاصے کی بھی حقیقت نہیں جانتا۔ ایسی صورت میں وہ کس طرح چاہتا ہے کہ پیدائش کے بھید سمجھ لے پھر اس سے بھی اوپر جائے اور معاد اور قیامت کی حقیقت جان لے؟

ہاں ! انسان جس بات کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ وہ اسلام پر ایمان لانے کے بعد اپنی خواہشات کی تکمیل سے بچے اور ایسے کاموں می لگے جو اس کی دنیا اور آخرت کی حالت سدھاریں اور خدا کی بارگاہ میں اس کی شخصیت اور منزلت کی ترقی کا سبب بنیں وہ ایسی باتیں سوچے جو اس کی راہ میں مدد کریں اور اس پر دھیان دے کر مرنے کے بعد کی حالت میں کیسے معاملات سامنے آئیں گے، جیسے قبر کی سختیاں، حساب کتاب اور قدرت والے خدا کے حضور میں پوچھ گچھ وغیرہ ، وہ تقویٰ اپنائے اور قیامت کے دن کے لیے تیار ہوجائے، جبکہ :

""کوئی اس کو عذاب سے نہیں بچائے گا اور نہ اس کے لیے کسی کی سفارش مانی جائے گی، نیز اس سے گناہ کے بدلے میں کوئی معاوضہ قبول نہیں ہوگا اور کوئی اس کی مدد کی بھی نہیں پہنچے گا""

(سورہ بقرہ ۔ آیت ۴۸ ملخصاً)


فہرست

گفتار مؤلّف ۴

پہلا باب ۶

ابتدائی باتیں ۶

عقیدے کے اصولوں پر غور کرنا واجب ہے ۶

فروعی اور عملی مسائل میں پیروی کی اجازت ۸

اَجتِہاد ۹

اِجتہاد کے مَآخِذ ۹

مَجتَہِد :۔ مرجع تقلید ۱۰

دوسرا باب ۱۱

خدا کی پہچان ۱۱

خدا کے بارے میں ۱۱

تَوحِید ۱۲

خدا کی صفات ۱۳

عدل الہٰی ۱۵

انسان اور فرائض ۱۶

قَضَا و قَدر ۱۷

اَمربَینَ الاَمرَین ۲۰

حقیقت بَدَاء :۔ ۲۱

دین کے قوانین :۔ ۲۳


تیسرا باب ۲۵

پیغمبر کی پہچان ۲۵

پیغمبروں کی بھیجنے کے بارے میں :۔ ۲۵

پیغمبروں کے معجزے :۔ ۲۸

عصمت انبیاء :۔ ۳۰

پیغمبروں کی صفات :۔ ۳۱

انبیاء اور آسمانی کتابیں :۔ ۳۱

اسلام کا قانون :۔ ۳۲

پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۳۵

قرآن مجید ۳۶

اسلام اور دوسرے مذہبوں کی سچائی ثابت کرنے کا طریقہ ۳۷

ان تمام اختلافات کی موجودگی میں مسلمان کا کام کیا ہے ؟ ۳۹

چوتھا باب ۴۱

امام کی پہچان ۴۱

امامت کا مسئلہ ۴۱

اماموں کا معصوم ہونا :۔ ۴۲

امام کا علم اور صفات ۴۳

اماموں کے حکم کی تعمیل کرنا:۔ ۴۴

اہلبیت ؑ کی محبت : ۴۸

اماموں کے متعلق ہمارا نظریہ ۴۹


خدا کی طرف سے امام کا تقرر ۵۰

امام بارہ ہیں ۵۳

حضرت امام مہدی عَجَّلَ اللہُ فَرَجَہ ۵۴

رجعت کا مسئلہ ۵۶

اہل تسنن اور رجعت کا مسئلہ ۵۷

پہلی دقت کا حل ۵۹

دوسری دقت کا حل ۶۰

تقیے کا مسئلہ :۔ ۶۱

پانچواں باب ۶۴

اہلبیت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق اور ان کا تربیتی مکتب ۶۴

تمہید :۔ ۶۴

دعاء اور مناجات ۶۵

صحیفہ سجادیہ کی دعائیں:۔ ۷۰

۱ ۔ خدا کی پہچان :۔ ۷۲

۲ ۔ خدا کی عبادت میں عاجزی:۔ ۷۳

۳ ۔ خدا کی طرف سے سزا اور جزا:۔ ۷۴

ہم اکتیسویں دعا میں پڑھتے ہیں :۔ ۷۵

انتالیسویں دعا میں پڑھتے ہیں :۔ ۷۵

۴ ۔ دعاؤں کی چھاؤں میں گناہ سے پرہیز : ۷۶

۵ ۔طاقتور روح کی پرورش :۔ ۷۶


۶ ۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی ۷۷

قبروں کی زیارت : ۷۹

زیات کے آداب :۔ ۸۰

ائمہ اطہار ؑ کی نظر میں سچا شعیہ : ۸۳

امام باقر ؑ کی جابر جعفی سے گفتگو: ۸۵

سعید بن حسن سے امام محمد باقر ؑ کی گفتگو ۸۶

ابوالصباح کعنانی سے امام جعفر صادق ؑ کی گفتگو ۸۶

تشیع کے نقطہ نظر سے ظلم اور زیادتی ۸۷

ظالموں کی مدد ۹۰

ظالموں کی طرف سے کام قبول کرنا ۹۲

اسلامی اتحاد کی ترغیب :۔ ۹۳

مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق : ۹۷

ایک شک کا ازالہ :۔ ۱۰۲

چھٹا باب ۱۰۵

معاد اور قیامت ۱۰۵

مرنے کے بعد کی دنیا :۔ ۱۰۵

جسمانی واپسی ۱۰۵