یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : اسلام کے عقائد(دوسری جلد )
مؤلف : علامہ سید مرتضی عسکری
مترجم : اخلاق حسین پکھناروی
تصحیح : سید اطہر عباس رضوی (الٰہ آبادی)
نظر ثانی: ہادی حسن فیضی
پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ
ناشر: مجمع جہانی اہل بیت
کمپوزنگ : وفا
طبع اول : ۱۴۲۸ھ ۔ ۲۰۰۷ئ
تعداد : ۳۰۰۰
قال الله تعالی:
( اِنّما يُرِ يْدُ ﷲ ُلِيُذْ هِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبِيْتِ وَيُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيْرا )
ارشاد رب العزت ہے:
اللہ کا صرف یہ ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھے اور تمھیں پاک و پاکیز ہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
قال رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم :
''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب ﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض''
حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔
( اختلاف عبارت کے ساتھ : صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶، ۵۹. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)
حرف اول
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے ہوں تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب
اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصرحاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلىاللهعليهوآلهوسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام سید مرتضی عسکری کی گرانقدر کتاب'' عقائد اسلام در قرآن کریم ''کو فاضل جلیل مولانا اخلاق حسین پکھناروی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔
والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام
مقدمہ :
اسلام کے عقا ئد قرآن کریم کی رو شنی میں(۱)
علّامہ سید مرتضی عسکری نے جو کچھ نصف صدی کے زیادہ سے عرصہ میں تحریر کیا ہے، مباحث کے پیش کرنے اور اس کی ارتقائی جہت گیری میں ممتاز اور منفرد حیثیت کے مالک ہیں، ان کی تحقیقات اور ان کے شخصی تجر بے اس طو لا نی مدت میں ان کے آثار کے خلوص وصفا میں اضا فہ کر تے ہیں ،وہ انھیں طو لا نی تحقیقات کی بنیاد پر اپنے اسا سی پر وگرا م کو اسلامی معا شرہ میں بیان اور اجراء کر تے ہیں، ایسے دقیق اور علمی پرو گرام جوہمہ جہت استوار اور متین ہیں ،روزافزوں ان کے استحکا م اور حسن میں اضا فہ ہو تا رہتاہے اور مباحث کا دائرہ وسیع تر اور ثمر بخش ہو جا تا ہے نیز افراط وتفر یط اور اسا سی نقطہ ٔ نگاہ سے عقب نشینی اور انصراف سے مبر ا ہے اوریہ ایسی چیز ہے جو مباحث کے مضمون اور اس کے وسیع اور دائمی نتا ئج سے مکمل واضح ہے۔
علا مہ عسکری کا علمی اور ثقا فتی پر وگرام واضح ہدف کا ما لک ہو تا ہے : ان کی کوشش رہتی ہے کہ اسلامی میراث کو تحر یفات اور افتراپردازیوں سے پاک و صاف پیش کر یں،جن تحر یفات اور افتراپردازیوں کا دشوار اور پیچیدہ حا لا ت میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیا ت کے بعد اسلام کو سامنا ہوا ،ان کی کوشش ہے کہ اسلام کی حقیقت واصا لت نیز اس کے خا لص اور پاک وصاف منبع تک رسائی حاصل کر یںاور اس کے بعد اسلام کو جیسا تھا نہ کہ جیسا ہو گیا پاک و صا ف اور خا لص انداز سے امت اسلا میہ کے سا منے پیش کر یں۔
اسلامی تہذ یب میں اس طرح کا ہدف لے کر چلنا ابتدائے امر میں کوئی نئی اور منحصر بہ فرد چیز نہیں تھی، کیونکہ ایسی آرزو اورتمنا بہت سارے اسلا می مفکرین ما ضی اور حا ل میں رکھتے تھے اور رکھتے ہیں ،لیکن جو چیز علّامہ عسکری کو دوسروں سے ممتا زکر تی ہے اور انھیں خاص حیثیت کی ما لک بنا تی ہے وہ یہ ہے کہ وہ جز ئی اور محدود اصلا ح کی فکر میں نہیں ہیں تا کہ ایک نظر کو دوسری نظر سے اور ایک فکر کو دوسری فکر سے موازنہ کرتے
____________________
(۱) ''سلیم الحسنی'' کے مقالے کا ترجمہ کچھ تلخیص کے ساتھ جو عر بی زبان کے''الوحدة''نامی رسالہ میں شائع ہوا ہے،نمبر ۱۷۶،شوال ۱۴۱۵ ھ ،ص ۳۸.
ہوئے تحقیق کریں، نیز اپنے نقد وتحلیل کی روش کو دوسروں کو قا نع کر نے کے لئے محدود قضیہ کے ارد گرد استعمال کریں بلکہ وہ اسلام اور اسلامی میراث میں تحر یف اور کجر وی کے اصل سر چشمے کی تلا ش میں رہتے ہیں تا کہ شنا خت کے بعد اس کا علاج کرنے کے لئے کما حقہ قد م اٹھا ئیں؛ اور چو نکہ تحریف اور انحراف وکجروی کو قضیہ واحد ہ کی صورت میں دیکھتے ہیں لہٰذا اصلی اور خا لص اسلام تک رسا ئی کو بھی بغیر ہمہ جا نبہ تحقیق و بر رسی کے جو کہ تمام اطراف وجوا نب کو شا مل اورحا وی ہو، بعید اور غیر ممکن تصور کر تے ہیں ؛ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تمام جو انب اور فروعات کی تحقیق و بر رسی کیلئے کمر بستہ نظر آتے ہیں ، نیز خود ساختہ مفروضوں اور قبل از وقت کی قضا وت سے اجتناب کرتے ہیں، اسی لئے تمام تا ریخی نصو ص جیسے روایات،احا دیث اور داستان وغیرہ جو ہم تک پہنچی ہیں ان سب کے ساتھ ناقدانہ طرز اپناتے ہیں اور سب کو قا بل تحقیق مو ضو ع سمجھتے ہیں اور کسی ایک کو بھی بے اعتراض اور نقص و اشکال سے مبرانہیں جا نتے وہ صر ف علمی اور سا لم بحث و تحقیق کو قرآن کریم اور قطعی اور موثق سنت کے پرتو میں ہر کھوٹے کھرے کے علا ج اور تشخیص کی تنہا راہ سمجھتے ہیں تا کہ جھو ٹ اور سچ اور انحرا ف کے مقا بل اصا لت کی حد و مرز مشخص ہوجا ئے۔
علّا مہ عسکری نے اپنے تمام علمی کا ر نا موں، مشہو ر تا لیفا ت اور شہرہ آفاق مکتو بات کی اسی رو ش پر بنیا د رکھی ہے اور ان کو رشتۂ تحر یر میں لا ئے ہیں ، ایسی تا لیفا ت جو مختلف علمی مید انوں میں ہیں لیکن اصلی و اسا سی مقصد میں ایک دوسرے کے ہمراہ ہیں اور اس ہدف کے تحقق کی راہ میں سب ہم آواز ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اگر علّا مہ عسکری کو تا ریخ نگا ر یا تاریخ کامحقق کہیں تو ہماری یہ بات دقیق اور صحیح نہیں ہوگی ، جبکہ یہ ایک ایسا عنوان ہے جو بہت سارے قا رئین کے اذ ہا ن میں ( ان کی عبد ﷲ ابن سبانا می کتاب کے وجود میں آنے کے بعد چالیس سا ل پہلے سے اب تک )را سخ اور جا گز یں ہو چکا ہے۔
ہا ں علا مہ عسکر ی مور خ نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک ایسے پر وگرام کے بانی اور مؤسس ہیں جو جا مع اور وسیع ہے جس کی شا خیں اور فر وعات ، اسلا می میرا ث کے تمام جوانب کو اپنے احا طہ میں لئے ہو ئے ہیں، وہ جہاں بھی ہوں انحرا ف و کجروی اور اس کے حدود کے خواہاں اور اس کی چھان بین کر نے والے ہیں ، تاکہ اصلی اور خا لص اسلا م کی شنا سائی اور اس کا اثبات کرسکیں، شاید یہ چیزاسی کتاب (عقائد اسلام در قرآن کر یم ) میں معمو لی غور و فکرسے حا صل ہو جا ئے گی ،ایسی کتاب جس کی پہلی جلد تقر یبا ۵۰۰ صفحات پر مشتمل عر بی زبان میں منتشر ہو چکی ہے۔
یہ کتاب اسلام کے خا لص اور صا ف ستھرے عقائد کو قرآن کر یم سے پیش کر تی ہے،چنانچہ جنا ب علّامہ عسکر ی خود اس حقیقت کو بیان کر تے ہو ئے کتا ب کے مقد مہ میں فر ماتے ہیں: '' میں نے دیکھا کہ قرآن کریم اسلا می عقائد کو نہا یت سا دگی اور کامل اندا ز میں بیان کر تا ہے ، اس طرح سے کہ ہر عا قل عر بی زبان سے ایسا آشنا جو سن رشد کو پہونچ چکا ہے اسے بخو بی سمجھتا اور درک کرتا ہے ''علا مہ عسکر ی اس کتاب میں نرم اور شگفتہ انداز میں علماء پر اعترا ض کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں:
اسلامی عقائد میں یہ پیچید گی ، الجھاؤاوراختلاف وتفرقہ اس وجہ سے ہے کہ علما ء نے قرآ ن کی تفسیر میں فلسفیوں کے فلسفہ، صوفیوں کے عرفان، متکلمین کے کلام ، اسرا ئیلیات اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف منسو ب دیگر غیر تحقیقی روا یات پر اعتماد کیا ہے اور قرآن کر یم کی آیا ت کی ان کے ذریعہ تا ویل اور تو جیہ کی ہے اور اپنے اس کار نامہ سے اسلام کے عقائد میں طلسم ، معمے اور پہیلیاں گڑھ لی ہیں کہ جسے صرف فنون بلا غت، منطق، فلسفہ اور کلا م میں علماء کی علمی روش سے وا قف حضرا ت ہی سمجھتے ہیں اور یہی کام مسلما نوں کے( درمیان ) مختلف گروہوں،معتز لہ،اشا عرہ ،مر جئہ وغیرہ میں تقسیم ہو نے کا سبب بن گیا ہے ۔
لہٰذا یہ کتاب اپنی ا ن خصو صیات اور امتیا زات کے ساتھ جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے یقینا یہ بہت اچھی کتاب ہے جو اسلامی علوم کے دوروں کے اعتبار سے بہتر ین درسی کتاب ہو سکتی ہے۔
اس کتاب کے پڑھنے وا لوں کو محسوس ہو گا کہ ہمارے استاد علّامہ عسکری نے عقائد پیش کر نے میں ایک خا ص تر تیب اور انسجام کی رعا یت کی ہے اس طرح سے کہ گز شتہ بحث، آئندہ بحث کے لئے مقد مہ کی حیثیت رکھتی ہے ، نیز اس تک پہو نچنے اور درک کرنے کا را ستہ ہے اور قا رئین محتر م کو قدرت عطا کرتی ہے کہ عقائد اسلام کو دقت نظر اور علمی گہرا ئی کے ساتھ حاصل کر یں، چنا نچہ قارئین عنقر یب اس بات کو درک کرلیں گے کہ آئندہ مبا حث کو درک کر نے کے لئے لا زمی مقد مات سے گز ر چکے ہیں۔
اس کتاب میں مصنف کی دیگر تالیفات کی طرح لغو ی اصطلا حوں پر خاص طر سے تکیہ کیا گیا ہے ، وہ سب سے پہلے قا رئین کواصطلاح لغا ت کی تعر یفوں کے متعلق لغت کی معتبر کتا بوں سے آشنا کرا تے ہیں، پھر مورد بحث کلمات اور لغا ت نیز ان کے اصل مادوں کی الگ الگ تو ضیح و تشریح ،اسلا می اور لغوی اصطلا ح کے اعتبار سے کر تے ہیں تا کہ اسلا می اور لغو ی اصطلا ح میں ہر ایک کے اسباب اختلا ف اور جہا ت کو آشکا ر کریں اور ان زحمتوں اور کلفتوں کواس لئے بر داشت کر تے ہیں تا کہ بحث کی راہ ہموا ر کریں اور صحیح اور اساسی استفادہ اورنتیجہ اخذ کرنے کا امکا ن فر اہم کر یں۔
اس وجہ سے قا رئین کتاب کے مطا لعہ سے احساس کر یں گے کہ اسلا می عقید ے کو کا مل اور وسیع انداز میں جدید اور واضح علمی روش کے ساتھ نیز کسی ابہام وپیچید گی کے بغیر حا صل کرلیا ہے ؛ا ور اس کا مطا لعہ کر نے کے بعد دیگر اعتقا دی کتا بوں کی طرف رجو ع کر نے سے خو د کو بے نیاز محسوس کریں گے اوریہ ایسی خوبی ہے جو دیگر کتا بوں میں ند رت کے ساتھ پا ئی جا تی ہے ، با لخصوص اعتقا دی کتابیں جو کہ ابہام ، پیچید گی اور تکرار سے علمی واسلامی سطح میں مشہور ہیں،اسی طرح قارئین اس کتاب میں اسلام کے ہمہ جا نبہ عقائد کو درک کرکے قرآن کر یم اور اس کی نئی تفسیری روش کے سمجھنے کیلئے خود کو نئی تلاش کے سامنے دیکھتے ہیں،یہ سب اس خاص اسلوب اور روش کا مرہون منت ہے جسے علّا مہ عسکری نے قرآنی آیات سے استفادہ کے پیش نظر استعمال کیا ہے۔
علّا مہ سید مرتضی ٰ عسکری کی کتاب قرآنی اور اعتقا دی تحقیقات میں مخصوص مرتبہ کی حا مل ہے ،انھوں نے اس کتاب کے ذریعہ اسلام کے اپنے اصلی پر وگراموں کو نافذ کر نے میں ایک بلند قدم اٹھا یا ہے ۔
مباحث کی سرخیاں
۱۔حضرت آدم کے بعد:حضرت نوح، حضرت ابراہیم ،حضرت موسی ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلوات ﷲ علیہم اجمعین کی شریعتوں میں نسخ:
الف۔ حضرت آدم ، نوح اورابراہیم کی شریعت میں یگانگت اور اتحاد.
ب۔ نسخ و آیت کے اصطلاحی معنی.
ج۔آیۂ کریمہ''ما ننسخ من آےة''اور آیہ کریمہ '' اذا بد لنا آےة مکان آےة''کی تفسیر.
د۔ حضرت موسیٰ کی شریعت بنی اسرائیل سے مخصوص تھی اور حضرت خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت کے بعد ختم ہو گئی
ھ۔ ایک پیغمبر کی شریعت میں نسخ کے معنی.
۲۔رب العالمین انسان کو آثار عمل کی جزا دیتا ہے
الف۔ دنیوی جزا.
ب۔ اخروی جزا
ج۔ موت کے وقت
د۔ قبر میں
ھ۔محشر اور قیامت میں
و۔بہشت ودوزخ میں
ز۔صبر کی جزا.
عمل کی جزا ء آ ئندہ والوں کی میراث.
شفاعت، بعض اعمال کی جزا ہے.
عمل کا حبط ہونا بعض اعمال کی سزا ہے
جن اور انسان عمل کی جزا ء پانے میں برابر ہیں.
۳۔''رب العالمین ''کے اسماء اور صفات
الف ۔اسم کے معنی.
ب ۔رحمان.
ج۔ رحیم.
د۔ذوالعرش اور رب العرش.
۴۔''وللہ الاسماء الحسنیٰ '' کے معنی
الف ۔ﷲ.
ب ۔کرسی.
۵۔ ﷲرب العالمین کی مشیت
الف۔ مشیت کے معنی.
ب۔ رزق وروزی.
د: رحمت و عذاب
ج ۔ہدایت وراہنمائی.
۶۔بدا یا محو و اثبات( یمحوﷲ ما یشاء و یثبت)
الف۔بداکے معنی.
ب۔ بداعلمائے عقائد کی اصطلاح میں
ج۔ بدأ قرآن کریم کی روشنی میں
د۔ بدامکتب خلفاء کی روایات میں
ھ۔ بدامکتب اہل بیت (ع) کی روایات میں
۷۔جبر و تفویض اور اختیار نیز ان کے معنی.
۸۔ قضا و قدر
ا لف۔ قضا و قدر کے معنی.
ب۔ ائمہ اہل بیت کی روایات قضا و قدر سے متعلق.
ج ۔سوال وجواب.
(۱)
۱۔صاحبان شریعت پیغمبروں کے زمانے میں نسخ
الف: حضرت آدم اور نوح کی شریعتیں
ب : نسخ و آیت کی اصطلاح اور ہر ایک کے معنی.
ج : آیۂ کریمہ ''ما ننسخ من آیة ''اور آیۂ کریمہ: ''واذا بدلنا آیة مکان آیة.. .''کی تفسیر
د: موسی کی شریعت بنی اسرائیل سے مخصوص تھی اور خاتم الانبیاء کی بعثت کے بعد ختم ہوگئی.
(۱)
انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں
اس بحث میں قرآن کریم اور اسلامی روایات کی جانب رجوع کرتے ہوئے صر ف ان امور کو بیان کریںگے جن سے صاحبان شریعت پیغمبروں کے زمانے میں (نسخ) کا موضوع واضح اور روشن ہو جائے ، اسی لئے ہود ،صالح ، شعیب جیسے پیغمبروں کا تذکرہ نہیں کریں گے جن کی امتیں نابودہو چکی ہیں ،بلکہ ہماری گفتگوان پیغمبر وں سے مخصوص ہے جنکی شریعتیں ان کے بعد بھی زندہ رہیں،جیسے حضرت آدم ، نوح، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ اور محمد صلوات ﷲ علیھم اجمعین اور اس کو ہم زمانے کی ترتیب کے ساتھ ذکر کریں گے۔
حضرت آدم ، نوح ، ابراہیم اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعتوںمیں اتحاد و یگانگت
اوّل: حضرت آدم ابوالبشر
روایات میں منقول ہے کہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :روز جمعہ تمام ایاّم کا سردار ہے اور خدا کے نزدیک ان میں سب سے عظیم دن ہے، خدا وندعالم نے حضرت آدم کو اسی دن خلق فرمایا اور وہ اسی دن باغ(جنت) میں داخل ہوئے اور اسی دن زمین پر اترے( ۱ ) اور حجرالاسود ان کے ہمراہ نازل کیا گیا ۔( ۲ ) دوسری روایات میں اس طرح آیا ہے : خدا وند عالم نے پیغمبروں، اماموں اور پیغمبروں کے اوصیاء کو جمعہ کے دن خلق فرمایا۔اسی طرح روایات صحیحہ میں آیا ہے کہ جبرائیل حضرت آدم ـ کو حج کیلئے لے گئے اور انہیں مناسک کی
____________________
(۱) صحیح مسلم،ج ۵،ص ۵ کتاب الجمعة باب فضل الجمعة،طبقات ابن سعد،ج۱،طبع یورپ.(۲) مسند احمد،ج۲،ص ۲۳۲،۳۲۷اور۵۴۰۔ اخبار مکہ ازرقی(ت ۲۲۳ھج) طبع، ۱۲۷۵ھج ص ۳۱.
انجام دہی کا طریقہ سکھا یا اور بعض روایات میں مذکور ہے:
بادل کے ٹکڑے نے بیت ﷲپر سایہ کیا، جبرائیل نے سا ت بار آدم کو ا س کے ا رد گرد طواف کرایا پھر انہیں صفا و مروہ کی طرف لے گئے اور سات بار ان دونوں کے درمیان سعی(رفت و آمد) کی،پھر اسکے بعد ۹ ذی الحجہ کو عرفات میں لے گئے حضرت آدم نے عرفہ کے دن عصر کے وقت خدا وندعالم کی بارگاہ میں تضرع و زاری کی اور خدا وند عالم نے ان کی توبہ قبول کر لی ،اسکے بعددسویں کی شب کو مشعر الحرام لے گئے تو وہاں آپ صبح تک خدا وندعالم سے راز و نیاز اور مناجات میں مشغول رہے اور دسویں کے دن منیٰ لے گئے تو وہاں پر توبہ کے قبول ہونے کی علامت کے عنوان سے سر منڈوایا پھر دوبارہ انھیں مکّہ واپس لائے اور سات بار کعبہ کا طواف کرایا، اسکے بعد خدا کی خوشنودی کی خاظر نماز پڑھی پھر نماز کے بعد صفا و مروہ کی سمت روانہ ہوئے اور سات بار سعی کی ، خدا وند عالم نے حضرت آدم و حوا کی توبہ قبول کرنے کے بعد دونوں کو آپس میں ملا دیا اور دونوں کو یکجا کر دیا اور حضرت آدم کو پیغمبری کے لئے برگزیدہ فرمایا۔( ۱ )
دوم : ابو الا بنیاء حضرت نوح علیہ السلام
خدا وندسبحان نے سورئہ نوح میں ارشاد فرمایا:
( اِنَّا َرْسَلْنَا نُوحًا ِلَی قَوْمِهِ َنْ َنذِرْ قَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ َنْ یَاْتِیَهُمْ عَذَاب َلِیم٭ قَالَ یَاقَوْمِ ِنِّی لَکُمْ نَذِیر مُبِین٭ َانْ اعْبُدُوا ﷲ وَاتَّقُوهُ وَاَطِیعُونِی ٭وَقَالُوا لاَتَذَرُنَّ آلِهَتَکُمْ وَلاَتَذَرُنَّ وَدًّا وَلاَسُوَاعًا وَلاَیَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا ) ٭( ۲ )
بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور کہا : اپنی قوم کو ڈرائو، نوح نے کہا:اے قوم ! میں آشکارا ڈرانے والا ہوں تاکہ خدا کی بندگی کرو اور اس کی مخالفت سے پرہیز کرو نیز میری اطاعت کرو۔
ان لوگوں نے کہا :اپنے خداؤں کو نہ چھوڑو اور ودّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر نامی بتوں کو نہ چھوڑو۔
قرآن کریم میں حضرت نوح کی داستان کا جو حصہ ہماری بحث سے تعلق رکھتا ہے ،وہ سورئہ شوریٰ میں خدا وند متعال کا یہ قول ہے کہ فرماتا ہے:
____________________
(۱) طبقات ابن سعد،طبع یورپ،ج،۱ ص ۱۲،۱۵،۳۶،مسند احمد، ج،۱۔۵ ص ۱۷۸ اور ۲۶۵،مسند طیالسی(حدیث ۴۷۹) بحار الانوار ج۱۱،ص ۱۶۷ اور ۱۹۷ حضرت آدم کی کیفیت حج سے متعلق متعدد اور مختلف روایات پا ئی جاتی ہیں.
(۲) نوح:۲۳۳۲۱.
( شَرَعَ لَکم مِّن الدِّ ینِ مَا وَصَّیٰ بِهِ نُوحَاً وَ الَّذِی اَوحینَا اِلیکَ وَ مَا وَ صّیناَ بِه اِبراهِیمَ وَ موَسیٰ وَ عِیسیٰ اَن اَقِیمُواا لدِّینَ وَ لاَ تَتَفَرَّقُوا فیه ) ( ۱ )
وہی آئین و قانون تمہارے لئے تشریع کیا جس کا نوح کو حکم دیا اور جس کی تم کو وحی کی اورابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا ، وہ یہ ہے کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ کرو۔
کلمات کی تشریح
۱۔ودّ، سواع، یغوث اور نسر : علاّمہ مجلسی رحمة ﷲ علیہ حضرت امام جعفر صادق سے بحارالانوار میں ایک روایت ذکر کرتے ہیں جسکا مضمون ابن کلبی کی کتاب الاصنام اور صحیح بخاری میں بھی آیا ہے جس کا خلاصہ اس طرح ہے :
ودّ ، سواع، یغوث اور نسر ، نیکو کار، مومن اور خدا پرست تھے جب یہ لوگ مر گئے تو انکی موت قوم کے لئے غم واندوہ کا باعث اور طاقت فرسا ہوگئی ،ابلیس ملعون نے ان کے ورثاء کے پاس آکر کہا: میں ان کے مشابہ تمھارے لئے بت بنا دیتا ہوں تاکہ ان کو دیکھو اور انس حاصل کر وخدا کی عبادت کرو ،پھر اس نے ان کے مانند بت بنا ئے تو وہ لوگ خدا کی عبادت کرتے اور بتوں کا نظارہ بھی اورجب جاڑے اور برسات کا موسم آیا تو انھیں گھروں کے اندر لے گئے اور مسلسل خدا وند عزیز کی عبادت میں مشغول رہتے ،یہاں تک کہ انکا زمانہ ختم ہوگیا اور ان کی اولاد کی نوبت آگئی وہ لوگ بولے یقینا ہمارئے آباء و اجداد ان کی عبادت کرتے تھے ، اس طرح خدا وندکی عبادت کے بجائے انکی عبادت کرنے لگے، اسی لئے خداوند عالم ان کے قول کی حکایت کرتا ہے:
(وَلاَتَذَرُنَّ وداًّ وَ لا سُواعاً )( ۲ )
۲۔ وصیت : انسان کا دوسرے سے وصیت کرنا یعنی ، ایسے مطلوب اور پسندیدہ کاموں کے انجام دینے کی سفارش اور خواہش کرنا جس میں اس کی خیر و صلاح دیکھتا ہے۔
خدا وندعالم کا کسی چیز کی وصیت کرنا یعنی حکم دنیا اور اس کا اپنے بندوں پر واجب کرنا ہے۔( ۳ )
____________________
(۱)شوری ٰ: ۱۳
(۲) بحار الانوار۔ج۳،ص ۲۴۸ اور ۲۵۲؛ صحیح بخاری،ج۳ ص ۱۳۹ سورہ نوح کی تفسیر کے ذیل میں
(۳) معجم الفاظ القرآن الکریم مادۂ وصی.
آیات کی مختصر تفسیر
خدا وندعالم نے گزشتہ آیات میں خبر دی ہے کہ نوح کو انکی قوم کے پاس بھیجا تاکہ انھیں ڈرائیں نوح نے ان سے کہا: میں تمہیں ڈرانے والا(پیغمبر) ہوں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم سے کہوں : خدا سے ڈرو اور صرف اسی کی بندگی اور عبادت کرو اور خداوندا عالم کے اوامر اور نواہی کے سلسلے میں میری اطاعت کرو ،ان لوگوںنے انکار کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے جواب میں کہا : اپنے خدا کی عبادت سے دستبردار نہ ہونا! خدا وند عالم نے آخری آیتوں میں بھی فرمایا:
اے امت محمد! خداوند عالم نے تمہارے لئے وہی دین قرار دیا ہے جو نوح کے لئے مقرر کیا تھا اور جو کچھ تم پر اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وحی کی ہے یہ وہی چیز ہے جس کا ابراہیم ،موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا گیا تھا ، پھر فرمایا اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ اندازی نہ کرو۔( ۱ )
اورجو کچھ اس مطلب پر دلالت کرتا ہے وہی ہے جو خدا وند عالم سورئہ ( صافّات ) میں ارشاد فرماتا ہے:
( سَلام عَلَیٰ نُوحِ فِی العَالَميِنَ اِنَّاکذٰلِکَ نَجزِیَ المُحسِنِینَ اِنَّه مِن عِبَادِنَا المُؤمِنِینَ ثُمَّ اَ غرَقنَا ا لآ خرِینَ وَاِنَّ مِن شِیعتِه لاَ بِراهِیمَ اِذ جَا ئَ رَبَّهُ بِقلبٍ سَليِم ) ( ۲ )
عالمین کے درمیان نوح پر سلام ہو ہم اسی طرح نیکو کاروںکو جزا دیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مومن بندوں میں تھے ،پھر دوسروں کو غرق کر دیا اور ابراہیم ان کے شیعوں میں سے تھے ، جبکہ قلب سلیم کے ساتھ بارگاہ خدا وندی میں آئے۔
شیعہ یعنی ثابت قدم اور پائدار گروہ جو اپنے حاکم و رئیس کے فرمان کے تحت رہے،شیعہ شخص ، یعنی اسکے دوست اور پیرو۔( ۳ )
اس لحاظ سے، آیت کے معنی: (ابراہیم نوح کے شیعہ اور پیرو کارتھے)یہ ہوںگے کہ ابراہیم حضرت نوح کی شریعت کی پیروی اور اس کی تبلیغ کرتے تھے۔
خدا وندعالم کی توفیق و تائید سے آئندہ مزید وضاحت کریں گے۔
____________________
(۱)آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیر تبیان اور مجمع البیان میں ملاحظہ ہو
(۲) آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیر ''تبیان'' ملاحظہ ہو(۳) لسان العرب مادہ :شیع
سوم : خلیل خدا حضرت ابرا ہیم ـ
ہماری بحث میں حضرت ابراہیم سے مربوط آیات درج ذیل ہیں:
الف۔سورہ حج َ :
( وَ اِذ بَوّ انا لِابراهیم مکان البیتِ ان لا تشرک بی شیئا وطهر بیتی للطا ئفین و القائمین والرکع السجود٭ واذن فی الناس بالحج یأ توک رجالا و علیٰ کل ضامر یأ تین من کلّ فج عمیق ٭ لیشهدوا منافع لهم و یذکروا اسم ﷲ فی أیام معلومات علی مارزقهم من بهیمة الا نعام ) ( ۱ )
اورجب ہم نے ابراہیم کیلئے گھر( بیت اللہ) کو ٹھکانا بنایا توان سے کہا : کسی چیز کومیرے برابر اور میرا شریک قرار نہ دو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں ،قیام کرنے والوں ، رکوع اور سجودکرنے والوںکے لئے پاک و پاکیزہ رکھو اور لوگوں کو حج کی دعوت دو تا کہ پیادہ اور لا غر سواریوں پر سوار دور دراز راہ سے تمھاری طرف آئیں ، تا کہ اپنے منافع کا مشاہدہ کریں اور خدا وند عالم کا نام معین ایام میں ان چوپایوں پر جنھیں ہم نے انکا رزق قرار دیا ہے اپنی زبان پر لائیں:
ب ۔ سورئہ بقرہ:
( و اِذ جعلنا البیت مثابةً للناس و امناً و اتّخد وا من مقام اِبراهیم مصلی و عهدنا الی ابراهیم و اسماعیل ان طهرابیتی للطائفین و العا کفین و الرکع السجود... واذ یرفع أبراهیم القواعد من البیت و اسماعیل ربّنا تقبّل منا اِنک اَنت السمیع العلیم ربنا واجعلنا مسلمین لک و من ذریتنا أمة مسلمة لک و أرنا منا سکنا وتب علینا اِنّک اَنت التوّاب الرحیم ) ( ۲ )
اورجب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کا ٹھکانہ اور ان کے امن و امان کا مرکز بنایا اور ان سے فرمایا مقام ابراہیم کو اپنا مصّلیٰ قرار دو اور ابراہیم و اسما عیل کو حکم دیا کہ میرے گھر کوطواف کرنے والوں ،مجاورں ،رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوںکے لئے پاک و پاکیزہ رکھو اور جب ابراہیم و اسما عیل خانہ کعبہ کی
____________________
(۱) حج۲۶۔۲۸
(۲) بقرہ ۱۲۵۔۱۲۸
دیواریں بلند کر رہے تھے تو کہا : خدایا ہم سے اسے قبول فرما اس لئے کہ تو سننے اور دیکھنے والا ہے ،خدایا !ہمیں اپنا مسلمان اور مطیع و فرما نبردار قرار دے اور ہماری ذریت سے بھی ایک فرمانبردار ، مطیع ومسلمان امت قرار دے نیز ہمیں اپنی عبادت کا طریقہ بتا اور ہماری توبہ قبول کر اس لئے کہ تو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔
ج۔ سورئہ بقرہ :
( و قالو ا کونوا هوداً او نصاریٰ تهتدوا قل بل ملّة ابراهیم حنیفاً و ما کان من المشرکین قولو ا آمنّا با لله و ما أنزل الینا و ما أنز ل ا لیٰ اِبراهیم واِسماعیل و اسحٰق ویعقوب و الأِسباط وما أوتی موسیٰ وعیسیٰ و ما أوتیٰ النبيّون من ربّهم لا نفرق بین أحد منهم و نحن له مسلمون ) ( ۱ )
اور انھوں نے کہا : یہودی یا نصرانی ہو جائو تاکہ ہدایت پائو؛ ان سے کہو : بلکہ حضرت ابراہیم کے خالص اور محکم آئین کااتباع کرو کیونکہ وہ کبھی مشرک نہیں تھے ان سے کہو ہم خدا پر ایمان لائے ، نیزاس پر بھی جو ہم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ ابراہیم ،اسماعیل ، اسحق ،یعقوب اور انکی نسل سے ہو نے والے پیغمبروں پر نازل ہوا ہے ، نیز جو کچھ موسیٰ ،عیسیٰ اور تمام انبیاء پر خداوندا عالم کی جانب سے نازل کیا گیا ہے ہم ان میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں جانتے اور ہمصرف خدا کے فرمان کے سامنے سراپا تسلیم ہیں۔
د۔سورئہ آل عمران:
( ما کان اِبراهیم یهودیاً ولانصرانیاً و لکن کان حنیفاً مسلماً و ما کان من المشرکین ) ( ۲ )
ابرا ہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی بلکہ وہ ایک خالص خدا پر ست اور مسلمان تھے اور وہ کبھی مشرک نہیں تھے۔
نیز اسی سورہ میں :
( قل صدق ﷲ فاتبعوا ملّة ابراهیم حنیفاً وما کا ن من المشرکین ) ( ۳ )
کہو! خداوند عالم نے سچ کہا ہے ،لہٰذا براہیم کے خالص آئین کی پیروی کرو کیونکہ وہ کبھی مشرک نہیں تھے۔
____________________
(۱) بقرہ ۱۳۵ و ۱۳۶(۲) آل عمران۶۸(۳)آل عمران۹۵
ہ۔ سورئہ انعام:
( قل انّنی هدانی ربّی الی صراط مستقیم دیناً قیماً ملّة ابراهیم حنیفا وما کان من المشرکین ) ( ۱ )
کہو! ہمارے خدانے ہمیں راہ راست کی ہدایت کی ہے استوار و محکم دین اور ابراہیم کے خالص آئین کی وہ کبھی مشرک نہیں تھے۔
ز۔سورئہ نحل:
( ثمّ أوحینا الیک ان اتّبع ملّة اِبراهیم حنیفاًو ما کان من المشرکین ) ( ۲ )
پھر ہم نے تم کو وحی کی کہ ابراہیم جو کہ خالص اور استوار ایمان کے مالک تھے نیز مشرکوں میں نہیں تھے ان کے آئین کی پیروی کرو۔
کلمات کی تشریح:
۱۔ بوّانا: ھّیأنا :ہم نے آمادہ کیا ،جگہ دی اوراسے تمکن بخشا۔
۲۔اَذِّن: اعلان کرو ، دعوت دو ،صدا دو ،لفظ اذا ن کا مادہ یہی کلمہ ہے۔
۳۔ رجالاً: پا پیادہ ، جو سواری نہ رکھتا ہو،راجل یعنی پیادہ ( پیدل چلنے والا)
۴۔البھیمة: ہر طرح کے چوپائے۔
۵۔ ضامر: دبلا پتلا لاغر اندام اونٹ۔
۶۔فجّ: پہاڑوں کے درمیان درّہ کو کہتے ہیں۔
۷۔مثابة: اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں لوگ رجوع کرتے ہیں:
( و أِذجعلنا البیت مثابة للناس )
یعنی ہم نے گھر کو حجاج کے لئے رجوع اورباز گشت کی جگہ قرار دی تاکہ لوگ جوق در جوق اس کی طرف آئیں، نیز ممکن ہے ثواب کی جگہ مراد ہو ، یعنی لوگ مناسک حج و عمرہ کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ ثواب و
____________________
(۱) انعام ۱۶۱
(۲) نحل۱۲۳
جزاکے بھی مالک ہوں،نیز ان کے امن و امان کی جگہ ہے۔
۸۔(مناسکنا،عباداتنا )''نُسک ''خدا کی عبادت اور وہ عمل جو خدا سے نزدیکی اور تقرب کا باعث ہو ،جیسے حج میں قربانی کرنا کہ ذبح شدہ حیوان کو '' نسیکہ''کہتے ہیں ؛ منسک عبادت کی جگہ اورمناسک: عرفات ،مشعر اور منیٰ وغیرہ میں اعمال حج اور اس کے زمان و مکان کو کہتے ہیں۔
۹۔ مقام ابراہیم :کعبہ کے مقابل روئے زمین پر ایک پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات ہیں۔
۱۰۔ حنیف : استوار، خالص ، ضلا لت و گمراہی سے راہ راست اور استقامت کی طرف مائل ہونے والا ؛ حضرت ابراہیم کی شریعت کا نام ''حنیفیہ'' ہے۔
۱۱۔قِیماً، قِیماور قَےِّم: ثابت مستقیم اور ہر طرح کی کجی اور گمراہی سے دور۔
۱۲۔ ملة۔ دین، حق ہو یا باطل ، اس لحا ظ سے جب بھی خدا ، پیغمبر اور مسلمان کی طرف منسوب ہو اس سے مراد دین حق ہے۔
آیات کی مختصر تفسیر:
خدا وندا عالم فرماتا ہے: اے پیغمبر!اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ سے آگاہ کیا تاکہ اس کی تعمیر کر یں اور جب ابراہیم و اسماعیل خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو وہ دونوںاپنے پروردگار کو آواز دیتے ہوئے کہہ رہے تھے : خدا یا !ہم سے اس عمل کو قبول کر اور ہمیں اپنا مطیع و فرما نبردار مسلمان بندہ قرار دے، نیز ہماری ذریت سے ایک سراپا تسلیم رہنے والی مسلمان امت قرار دے، نیز ہمیں اپنی عبادت کا طریقہ بتا ،خدا وند سبحان نے انکی دعا قبول کر لی ، ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ اپنے بیٹے اسماعیل کو راہ خدا میں قربان کر رہے ہیں(۱ ) اس وقت اسماعیل سن رشد کو پہنچ چکے تھے اور باپ کے ساتھ کعبہ کی تعمیر میں مشغول تھے، ابراہیم نے خواب میں جو کچھ دیکھا تھا اسماعیل کو اس سے آگاہ کر دیا، انھوں نے کہا : بابا آپ جس امر پرمامور ہیںاسے انجام دیجئے ،آپ مجھے عنقریب صابروں میں پائیں گے، لہٰذا جب دونوں فرمان خدا وندی کے سامنے سراپا تسلیم ہو گئے اور ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو زمین پر لٹا دیا تاکہ راہ خدا
____________________
(۱) پیغمبر جو خواب میں دیکھتا ہے وہ ایک قسم کی وحی ہو تی ہے۔
میں قربان کریں تو خدا وند عالم نے آواز دی : اے ابراہیم !تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھا یا!کیو نکہ اسمٰعیل کو ذبح کرنے میں مشغول ہو گئے تھے اور یہ وہی چیز تھی جس کا انھوںنے خواب میں مشاہدہ کیا تھا ، انھوں نے خواب میں یہ نہیں دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذ بح کر چکے ہیں اسی اثنا میں خدا نے دنبہ کو اسماعیل کا فدیہ قرار دیا اور ابراہیم کے سامنے فراہم کردیا اور انھوں نے اسی کی منیٰ میں قربانی کی ۔
خدا وند عالم نے ابراہیم کو حکم دیا کہ حج کااعلان کردیں کہ عنقریب لوگ پاپیادہ اورسواری سے دور دراز مسافت طے کر کے حج کے لئے آئیں گے اور خدا وندعالم نے اس گھر کو امن و امان کی جگہ اور ثواب کا مقام قرار دیا اور حکم دیا کہ لوگ مقام ابراہیم کو اپنا مصلیٰ( نماز کی جگہ) بنا ئیں۔
خدا وند عالم دیگرآیات میں ابراہیم کے دین اور ملت کے بارے میں خبر دیتے ہو ئے فرماتا ہے :
ابراہیم خالص اور راسخ العقیدہ مسلمان تھے ، وہ نہ تو مشرک تھے اور نہ یہودی اور نصرانی ، جیسا کہ بعض اہل کتاب کا خیال ہے ، خداوندعالم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آئین ابراہیم کی پیروی کریں اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کام کے لئے مخصوص فرماتے ہو ئے ارشاد فرمایا کہ وہ لوگو ں سے کہیں:
ہمارے خدا نے ہمیں راہ راست کی ہدایت کی ہے ، جواستوار دین اور حضرت ابراہیم کی پاکیزہ ملت جوکہ شرک سے رو گرداں اور اسلام کی طرف مائل تھے منجملہ حضرت خاتم الا نبیاء کا اپنے جد ابراہیم کی شریعت کی پیروی میں مناسک حج بجا لا نا بھی ہے اس طرح کہ جیسے انہوں نے حکم دیا تھا ، رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی امت بھی ایسا ہی کرتی ہے اور مناسک حج اسی طرح سے بجا لاتی ہے جس طرح ابراہیم خلیل الر حمن نے انجام دیا تھا۔
بحث کا نتیجہ
جمعہ کا دن حضرت آدم اور ان تمام لوگوں کے لئے جوان کے زمانے میں زندگی گزار رہے تھے مبارک دن تھا، یہ دن حضرت خاتم الانبیا ء اور ان کی امت کے لئے بھی ہمیشہ کے لئے مبارک ہے۔
خانہ خدا کا حج آدم ، ابراہیم اور خاتم الانبیاء نیز ان کے ماننے والے آج تک بجا لا تے ہیں اور اسی طرح ابد الآبادتک بجا لا تے رہیں گے، خدا وند عالم نے حضرت خاتم الا نبیاء اوران کی امت کے لئے وہی دین اور آئین مقرر فرما یا جو نوح کے لئے تھا اورحضرت ابراہیم حضرت نوح کے پیرو اور ان کی شریعت کے تابع تھے ،اسی لئے خدا وند عالم نے خا تم الانبیاصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی امت کو حکم دیا کہ شریعت ابرا ہیم اور ان کے محکم اور پائدار دین کے تابع ہوں۔
پیغمبروں کی شریعتوں میں حضرت آدم سے پیغمبر خاتمصلىاللهعليهوآلهوسلم تک کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور اگرکچھ ہے بھی تو وہ گزشتہ شریعت کی آئندہ شریعت کے ذریعہ تجد ید ہے اور کبھی اس کی تکمیل ہے، یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ حضرت آدم نے حج کیا اور حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کی تعمیر کرکے حج کی بعض علا متوں کی تجد ید کی اور خا تم الانبیا ئصلىاللهعليهوآلهوسلم نے احرام کے میقا توں کی تعیین کی مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنایا اور تمام نشانیوں کی وضاحت کر کے اس کی تکمیل کی۔
خدا وند سبحان نے اسلا می احکام کواس وقت کے انسانوں کی ضرورت کے مطابق حضرت آدم کے لئے ارسال فرمایا جو انسان اپنی کھیتی باڑی اور جانورں کے ذریعہ گز ر اوقات کرتا تھا اور شہری تہذیب و تمدن سے دور تھا ،جب نسل آدمیت کا سلسلہ آگے بڑھا اور حضرت نوح کے زمانے میں آبادیوںکا وجود ہوا اور بڑے شہروں میں لوگ رہنے لگے تو انھیں متمدن اور مہذ ب افراد کے بقدر وسیع تر قانون کی ضرورت محسوس ہو ئی ، (انسان کی تجارتی ، سماجی اور گونا گوں مشکلات کو دیکھتے ہوئے جن ضرورتوں کا بڑے شہروں میں رہنے والوں کو سامنا ہوتاہے) تو خدا وندعالم نے اسلامی احکام کی جتنی ضرورت تھی حضرت نوح پر نازل کیا ،تا کہ ان کی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکے جس طرح خاتم الا نبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم پرزمانے کی ضرورت کے مطابق احکام نازل فرمائے
گزشتہ امتیں عام طور پر اپنے نبیوں کے بعد منحرف ہوکر شرک کی پجاری ہو گئیں جیسا کہ اولاد آدم کا کام حضرت نوح کے زمانے میں بت پرستی تھا ،ایسے ماحول میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلے خالق کی توحید کی دعوت دی اور بتوں کی عبادت کو ترک کرنے کا حکم دیا جیسا کہ حضرت نوح ، ابراہیم اور حضرت خاتم الانبیاء تک تمام نبیوں کا یہی دستور اور معمول رہاہے چنانچہ آ نحضرت عرب کے بازاروں اور حجاج کے خیموں میں رفت و آمد رکھتے اور فرماتے تھے (لااله الا ﷲ ) کہو !کا میاب ہو گے! کبھی بعض امتوں کے درمیان ان کے سرکش اور طاغوت صفت رہبر نے '' ربوبیت'' کا دعوی کیا جیسے نمرود ملعون نے حضرت ابراہیم کے ساتھ ان کے پروردگار کے بارے میں احتجاج کیا اور سرکش اور طاغی فرعون نے (انا ربکّم الا علیٰ )کی رٹ لگائی ،ایسے حالات میں خدا کے پیغمبر سب سے پہلے اپنی دعوت کا آغاز تو حید ربوبی سے کرتے تھے ، جیسا کہ ابر اہیم نے نمرود سے کہا:( ربّی الذی یحیی و یمیت ) میرا پر وردگار وہ ہے جو زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔
اور حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا :
( ربّنا الذی اعطیٰ کلّ شیئٍ خلقه ثمّ هدیٰ ) ۔( ۱ )
ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر مو جود کو اس کی خلقت کے تمام لوازم عطا کئے ،اس کے بعد ہدایت فر مائی۔
حضرت موسیٰ کی فر عون سے اس گفتگو کی تشریح سورئہ اعلی میں موجود ہے:
(سبّح اسم ربّک الأ علیٰ ۔ الذی خلق فسوّیٰ ۔ و الذی قدّر فھدیٰ ۔ و الذی أخرج المرعیٰ ۔ فجعلہ غثاء ً أ حویٰ)( ۲ )
اپنے بلند مرتبہ اور عالی شان پروردگار کے نام کو منزہ سمجھو ، وہی جس نے زیور تخلیق سے منظم و آراستہ فرمایا ، وہی جس نے تقدیر معین کی ہے اور پھر ہدایت فرمائی ، وہ جس نے چرا گاہ کو وجود بخشا پھر اسے خشک اور سیاہ بنادیا ۔
سورئہ اعراف میں بیان ہوتا ہے :
( اِنّ ربّکم ﷲ الذی خلق السّموات و الا ٔرض ) ( ۳ )
بیشک تمہارا ربّ وہ خدا ہے جس نے آسمان و زمین خلق کیا ہے۔
اس بنا پر بعض گزشتہ امتیں بنیادی عقیدہ تو حید سے منحرف ہوجاتی تھیں جیسے حضرت نوح اور ابراہیم وغیرہ کی قومیں اور بعض عمل کے اعتبار سے اسلام سے منحرف ہو جاتی تھیںجیسے قوم لوط اور شعیب کے کرتوت.
اگر قرآن کریم ، پیغمبروں کی رو ایات ،انبیا ء کے آثار اور اخبار اسلامی مدارک میں بغور مطالعہ اورتحقیق کی جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ بعد والے پیغمبر خدا وند عالم کی جانب سے پہلے والے پیغمبروں پر نازل شدہ شریعت کی تجدید کرنے والے رہے ہیں ، ایسی شریعت جو امتوں کی طرف سے محو اور تحریف ہو چکی تھی ، اس لئے خدا نے ہمیں حکم دیا کہ ہم کہیں:
( آمنّا بﷲ و ما أنزل الینا و ما أنزل ِالیٰ ابراهیم و اِسما عیل و اِسحق و یعقوب و الأسباط و ما أوتی مو سیٰ و عیسیٰ و ما أو تی ٰ النبيّون من ربّهم لا نفرّق بین أحد منهم ونحن له مسلمون ) ( ۴ )
کہو کہ ہم خدا اور جو کچھ خدا کی طرف سے ہم پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان لا ئے ہیںنیز ان تمام چیزوں پر بھی جو ابر اہیم، اسماعیل ، اسحق ، یعقوب اور انکی نسل سے ہو نے والے پیغمبروں پر نازل ہوئی ہیں ، نیزجو کچھ
____________________
(۱) طہ۵۰ (۲) اعلی ۱ ۔ ۵ (۳)اعراف۵۴ (۴)بقرہ ۱۳۶
موسیٰ، عیسیٰ اور تمام انبیا ء کو خدا کی جانب سے دیا گیا ، ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی کسی سے جدا تصوّر نہیں کرتے ہم تو صرف اور صرف فرمان خدا وندی کے سامنے سراپا تسلیم ہیں ۔
سوال:
ممکن ہے کوئی سوال کرے: اگر پیغمبروں کی شر یعتیں ایسی ہی ہیں جیسا کہ آپ بیان کرتے ہیں تو انبیاء کی شریعتوں میں نسخ کے معنی ٰ کیا ہوں گے کہ خدا و ندعالم ارشاد فرماتا ہے :
( ما ننسخ من آيةٍ أوننسها نات بخیر منها أو مثلها الم تعلم أنّ ﷲ علی کلّ شیئٍ قدیر ) ( ۱ )
(کوئی حکم ہم اس وقت تک نسخ نہیں کرتے یا اسکے نسخ کو تاخیر میں نہیں ڈالتے جب تک کہ اس سے بہتر یا ا س جیسا نہ لے آئیں کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے)۔
نیز خدا وند عالم کی اس گفتگو میں ''تبدیل'' کے کیا معنی ہیں کہ فرما تا ہے:
( و اِذا بدّلنا آية مکان آية و ﷲ اعلم بما ینزّ ل قالو اِنّما أنت مفتر بل أکثرهم لا یعلمون ) ( ۲ )
(اور جب ہم ایک آیت کو دوسری آیت سے تبدیل کرتے ہیں ( کسی حکم کو نسخ کرتے ہیں ) توخدا بہتر جانتا ہے کہ کونسا حکم نازل کرے ، کہتے ہیں: تم افترا پردازی کرتے ہو ، بلکہ ان میں زیادہ تر لوگ نہیں جانتے)
جواب:
ہم اسکے جواب میں کہیں گے : یہاں پر بحث دو موضوع سے متعلق ہے:
۱۔ اصطلا ح ''نسخ'' اور اصطلا ح'' آیت''
۲۔مذکورہ آیات کے معنی.
انشاء ﷲ آئندہ بحث میں اس کے متعلق چھان بین اور تحقیق کریں گے۔
____________________
(۱)سورہ ٔ بقرہ ۱۰۶
(۲)سورہ ٔ نحل ۱۰۱.
۲
نسخ وآیت کی اصطلا ح اور ان کے معنی
اوّل۔ نسخ:
نسخ؛ لغت میں ایک چیز کو بعد میں آنے والی چیزکے ذریعہ ختم کرنے کو کہتے ہیں جیسے کہتے ہیں: ''نسخت الشمس الظل'' سورج نے سایہ ختم کردیا ۔
نسخ؛ اسلامی اصطلاح میں : ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام کے ذریعہ ختم کرنا ہے، جیسے گزشتہ شریعتوں کے بعض احکام کا خاتم الانبیاء کی شریعت کے احکام سے نسخ یعنی ختم کرنا ہے، اسی طرح خاتم الانبیاء کی شریعت میں وقتی حکم کا دائمی حکم سے نسخ کرنا ، جیسے مدینہ میں فتح مکہ سے پہلے مہاجرین و انصار کے درمیان عقد اخوت کی بنیاد پرمیراث پانا رائج تھا جوفتح مکہ کے بعداعزاء واقارب کے میراث پانے کے حکم سے منسوخ ہوگیا۔( ۱ )
دوم ۔ آیت:
آیت؛ اسلامی اصطلاح میں تین معنی کے درمیان ایک مشترک لفظ ہے:
۱۔ انبیاء کے معجزہ کے معنی میں جیسا کہ موسیٰ ابن عمران سے سورئہ نمل میں خدا ارشاد فرماتا ہے :
( وأدخل یدک فی جیبک تخرج بیضاء من غیر سوئٍ فی تسع آیاتٍ الیٰ فرعون و قومهِ ) ( ۲ )
____________________
(۱) تفسیر طبری،ج۱۰،ص ۲۶،۲۷،تفسیر ابن کثیر ج،۲، ص۳۲۸ اور ۲۲۱ اور تفسیر الدر المنثور،ج۲،ص ۲۰۷.
(۲) نمل۱۲.
اپنے ہاتھ کو گریبان میں داخل کرو تاکہ سفید درخشاں اور بے عیب باہر آئے یہ انھیں نُہ گانہ معجزوں میں شامل ہے جن کے ہمراہ فرعون اور اس کے قوم کی جانب مبعوث کئے جا رہے ہو۔
۲۔ قرآنی الفاظ کی ترکیب جس کی تعیین شمارہ کے ذریعہ کی گئی ہے ، جیسا کہ سورئہ نمل میں ارشاد ہوتا ہے:
( طٰس تلک آیات القرآن وکتاب مبین )
طٰس ، یہ قرآنی آیتیں اور ایک کھلی ہوئی کتاب ہے۔
۳۔ کتاب الہٰی کے ایک یاچند حصّے جس میں شریعت کا کوئی حکم بیان کیا گیاہو۔( ۱ )
لہٰذا معلوم ہوا کہ قرآن کے بعض حصّوں کا آیت نام رکھنے سے مقصود اسکا مدلول اور معنی ہے یعنی وہ حکم جو اس حصّہ میں آیاہے اور '' نسخ '' اسی حکم سے متعلق ہے اور قرآن کے ان الفاظ کو شامل نہیں ہے جو کہ اس حکم پر دلالت کرتے ہیں۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مشترک الفاظ کے معنی ، کلام میں موجود قرینے سے جو کہ مقصود پر دلالت کرتا ہے معین ہو تے ہیں۔
یہ نسخ اور آیت کے اسلامی اصطلا ح میں معنی تھے اوراب موضوع بحث دو آیتوں کی تفسیر نقل کرتے ہیں:
____________________
(۱) اس بات کی مبسو ط اور مفصل شرح ((القرآن الکریم و روایات المدرستین)) کی دوسری جلد کی مصطلحات کی بحث میں مذ کور ہوئی ہے۔
۳
آیۂ نسخ اور آیۂ تبدیل کی تفسیر
آیۂ نسخ :
نسخ کی آیت سورئہ بقرہ میں ( ۴۰ سے ۱۵۲)آیات کے ضمن میں آئی ہے اس ضمن میں جو کچھ ہماری بحث سے متعلق ہوگااسے ذکر کررہے ہیں:
( یَابَنِی ِسْرَائِیلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِی الَّتِی َنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وََوْفُوا بِعَهْدِی ُوفِ بِعَهْدِکُمْ وَِیَّایَ فَارْهَبُونِی (۴۰) وَآمِنُوا بِمَا َنزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَکُمْ وَلاَتَکُونُوا َوَّلَ کَافِرٍ بِهِ وَلاَتَشْتَرُوا بِآیَاتِی ثَمَنًا قَلِیلًا وَِیَّایَ فَاتَّقُونِی (۴۱) وَلاَتَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وََنْتُمْ تَعْلَمُونَ (۴۲) یَابَنِی ِسْرَائِیلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِی الَّتِی َنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وََنِّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ (۴۷) وَاتَّقُوا یَوْمًا لاَتَجْزِی نَفْس عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا وَلاَیُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَة وَلاَیُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْل وَلاَهُمْ یُنصَرُونَ (۴۸) وَِذْ َخَذْنَا مِیثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَیْنَاکُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْکُرُوا مَا فِیهِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ ) ( ۱ )
اے بنی اسرئیل !ان نعمتو ں کو یاد کرو ، جو ہم نے تمہارے لئے قرار دی ہیں ؛ اورجو تم نے ہم سے عہد و پیمان کیا ہے اس کو وفا کرو ،تا کہ میں بھی تمہارے عہد و پیمان کو وفا کروں اور صرف مجھ سے ڈرو اور جو کچھ میں نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لا ؤ، جو تمہا ری کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور تم لوگ سب سے پہلے اس کے انکار کرنے والے نہ بنو، نیز میری آیات کو معمولی قیمت پر فروخت نہ کرو اور صرف مجھ سے ڈرو اور حق کو باطل سے مخلوط نہ کرو اور جو حقیقت تم جانتے ہو اسے نہ چھپاؤ اے بنی اسرائیل !جو تم پر میں نے اپنی نعمتیں نازل کی
____________________
(۱)سورئہ بقرہ ۴۰ ۔ ۶۳
ہیں اور تمہیں عالمین پر بر تری اور فضیلت دی ہے اسے یاد کرو نیز اس دن سے ڈرو ، جس دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اور کسی کی کسی کے بارے میں شفاعت قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی کاکسی سے تاوان لیا جائے گا اور کسی صورت مدد نہیں کی جائے گی ، اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد و پیمان لیا تھا نیز کوہِ طور کو تمہارے اوپر قرار دیا جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے مضبوطی سے پکڑ لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو شاید پرہیز گار ہو جائو۔
( وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وََیَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ اَفَکُلَّمَا جَائَکُمْ رَسُول بِمَا لاَتَهْوَی َنفُسُکُمْ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِیقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیقًا تَقْتُلُونَ (۸۷) وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْف بَلْ لَعَنَهُمْ ﷲ بِکُفْرِهِمْ فَقَلِیلًا مَا یُؤْمِنُونَ (۸۸) وَلَمَّا جَائَهُمْ کِتَاب مِنْ عِنْدِ ﷲ مُصَدِّق لِمَا مَعَهُمْ وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَهُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ ﷲ عَلَی الْکَافِرِینَ (۸۹) بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ َنفُسَهُمْ َنْ یَکْفُرُوا بِمَا َنزَلَ ﷲ بَغْیًا َنْ یُنَزِّلَ ﷲ مِنْ فَضْلِهِ عَلَی مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَائُوا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَاب مُهِین (۹۰) وَِذَا قِیلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا َنزَلَ ﷲ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا ُنزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُونَ بِمَا وَرَائَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ َنْبِیَائَ ﷲ مِنْ قَبْلُ ِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ (۹۱) وَلَقَدْ جَائَکُمْ مُوسَی بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وََنْتُمْ ظَالِمُونَ ) ( ۱ )
ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اوران کے بعد بلا فاصلہ پیغمبروں کو بھیجا ؛ اور عیسیٰ ابن مریم کو واضح و روشن دلائل دئے اور اس کی روح القدس کے ذریعہ تائید کی ، کیا ایسا نہیں ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر تمہاری نفسانی خواہشات کے خلاف کوئی چیز لایا، تم نے سرکشی اور طغیانی دکھائی اور ایک گروہ کو جھٹلایا اور کچھ کو قتل کر ڈالا ؟ توان لوگوں نے کہا : ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں !نہیں ،بلکہ خدا وند عالم نے انھیں ا ن کے کفر کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور رکھا ہے پس بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں اور جب خدا کی طرف سے ان کے پاس کتاب آئی جو کہ ان کے پاس موجود کتاب میں نشانیوں کے مطابق تھی اور اس سے پہلے اپنے آپ کو کافروں پر کامیابی کی نوید دیتے تھے ، ان تمام باتوں کے باوجود جب یہ کتاب اور شناختہ شدہ پیغمبر ان کے پاس آیا تو اسکا انکار کر گئے لہٰذا کافروں پر خدا کی لعنت ہو ، بہت برے انداز میں انھوں نے اپنا سودا کیا کہ
____________________
(۱)بقرہ ۸۷۔۹۲
ناحق خدا کی نازل کردہ آیات کا انکا ر کر گئے اور اس بات پر کہ خدا وندعالم اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہے اپنی آیات ارسال کرے اعتراض کرنے لگے! لہٰذا دوسروں کے غیظ و غضب سے کہیں زیادہ غیظ و غضب میں گرفتار ہو گئے اور کافروں کے لئے رسوا کن عذاب ہے اور جب ان سے کہا جاتا ہے : جو خدا نے بھیجا ہے اس پر ایمان لے آؤ ، تو وہ کہتے ہیں : ہم تو اس پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوا ہے اور اسکے علاوہ کے منکر ہوجاتے ہیں جب کہ وہ حق ہے اور انکی کتاب کی بھی تصدیق کرتاہے، کہو: اگر تم لوگ ایمان دار ہو تو پھر کیوں خدا کے پیغمبروں کو اس کے پہلے قتل کرتے تھے ؟اور موسیٰ نے ان تمام معجزات کو تمہارے لئے پیش کیا لیکن تم نے ان کے بعد ظالمانہ انداز میں گو سالہ پرستی شروع کردی۔
( وَلَقَدْ َنزَلْنَا ِلَیْکَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِهَا ِلاَّ الْفَاسِقُونَ (۹۹) وَلَوْ َنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَة مِنْ عِنْدِ ﷲ خَیْر لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ (۱۰۳) مَا یَوَدُّ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ َهْلِ الْکِتَابِ وَلاَالْمُشْرِکِینَ َنْ یُنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِنْ خَیْرٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَﷲ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ یَشَائُ وَﷲ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ (۱۰۵) مَا نَنسَخْ مِنْ آیَةٍ َوْ نُنسِهَا نَْتِ بِخَیْرٍ مِنْهَا َوْ مِثْلِهَا َلَمْ تَعْلَمْ َنَّ ﷲ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر ) ( ۱ )
ہم نے تمہارے لئے روشن نشانیاں ارسال کیں اور بجز کفار کے کوئی ان کا انکار نہیں کرتا اور اگر وہ لوگ ایمان لاکر پرہیز گار ہو جاتے تو خدا کے پاس جو ان کے لئے جزا ہے وہ بہتر ہے اگر وہ علم رکھتے کافراہل کتاب اور مشرکین یہ نہیں چاہتے کہ تمہارے خدا کی طرف سے تم پر خیر وبرکت نازل ہو، جبکہ خدا جسے چاہے اپنی رحمت کواس سے مختص کردے اور خدا وند عالم عظیم فضل کا مالک ہے ، جب بھی ہم کوئی حکم نسخ کرتے ہیں یا تاخیر میں ڈالتے ہیں تواس سے بہتر یااسی کے مانند پیش کرتے ہیں کیا تمھیں نہیں معلوم کہ خدا وندعالم ہر چیز پر قادر ہے؟
( وَدَّ کَثِیر مِنْ َهْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ ِیمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ َنفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ الْحَقُّ وَقَالُوا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ ِلاَّ مَنْ کَانَ هُودًا َوْ نَصَارَی تِلْکَ َمَانِیُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَکُمْ ِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ (۱۱۱) بَلَی مَنْ َسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن فَلَهُ َجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلاَخَوْف عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ (۱۱۲)وَلَنْ تَرْضَی عَنْکَ الْیَهُودُ وَلاَالنَّصَارَی )
____________________
(۱) بقرہ۹۹۔۱۰۶
( حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ ِنَّ هُدَی ﷲ هُوَ الْهُدَی وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ َهْوَائَهُمْ بَعْدَ الَّذِی جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنْ ﷲ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیرٍ ) ( ۱ )
بہت سارے اہل کتاب از روئے کفر وحسد(جو کہ ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کرچکاہے) آرزومندہیں کہ تمہیں اسلام اور ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں جبکہ ان پر حق مکمل طور پر واضح ہو چکاہے...۔ اورکہتے ہیںکوئی بھی یہود و نصاریٰ کے علاوہ بہشت میں داخل نہیں ہوگا ،یہ انکی آرزوئیں ہیں ان سے کہو : اگر سچ کہتے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو ، یقینا جو کوئی اپنے آپ کو خدا کے سامنے سراپاتسلیم کردے اور پرہیزگار ہو جائے تو خدا کے نزدیک اس کی جزا ثابت ہے نہ ان پر کسی قسم کا کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ محزون و مغموم ہوگا ،یہود و نصاریٰ تم سے کبھی راضی نہیں ہوں گے ، مگر یہ کہ تم ان کے آئین کا اتباع کرو ، ان سے کہو: ہدایت صرف اور صرف ﷲ کی ہدایت ہے اور اگر آگاہ ہونے کے باوجودان کے خواہشات کا اتباع کرو گے تو خدا کی طرف سے کوئی تمہارا ناصر و مدد گار نہ ہوگا :
( یَابَنِی ِسْرَائِیلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِی الَّتِی َنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وََنِّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ (۱۲۲) وَاتَّقُوا یَوْمًا لاَتَجْزِی نَفْس عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا وَلاَیُقْبَلُ مِنْهَا عَدْل وَلاَتَنفَعُهَا شَفَاعَة وَلاَهُمْ یُنصَرُونَ ) ( ۲ )
اے بنی اسرائیل! جو نعمتیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں اور تم کوتمام عالمین پر فضیلت و برتری عطا کی ہے اسے یاد کرو اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اور کسی سے کوئی تاوان نہیں لیا جائے گا اورکوئی شفاعت اسے فائدہ نہیں دے گی اور کسی صورت مدد نہیں ہو گی۔
خدا وندعالم نے ا ن آیات کے ذکرکے بعد ایک مقدمہ کی تمہید کے ساتھ جس کے بعض حصّے کو اس سے قبل حضرت ابراہیم اور اسماعیل کے خانہ کعبہ بنانے کے سلسلے میں ہم نے ذکر کیا ہے، فرمایا:
الف:( واِذ یرفع أبراهیم القواعدمن البیت و أِسماعیل ) ( ۳ )
اورجبکہ حضرت ابراہیم و اسماعیل خانہ کعبہ کی دیواریں بلند کر رہے تھے ۔
ب:( واِذ جعلنا البیت مثابة للنّاس و أمناً ) ( ۴ )
اورجب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے رجوع کا مرکز اور امن و امان کی جگہ قرار دی۔
____________________
(۱) بقرہ۱۱۹۔۱۲۰(۲) بقرہ۱۲۲،۱۲۳(۳) بقرہ ۱۲۷(۴) بقرہ ۱۲۵
ج:( و عهدنا الیٰ أبراهیم و أسماعیل أن طهرا بیتی للطّا ئفین و العاکفین و الرّکّع السجود ) ( ۱ )
اورہم نے ابراہیم و اسماعیل سے عہد لیا کہ ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں ، مجاورں ، رکوع اورسجدہ کرنے والوں کے لئے پاک و پاکیزہ رکھیں ۔
خدا وند عالم ایسی تمہید کے ذریعہ'' نسخ ''کا موضو ع معین کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَکُمْ شَطْرَهُ وَِنَّ الَّذِینَ ُوتُوا الْکِتَابَ لَیَعْلَمُونَ َنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا ﷲ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (۱۴۴) وَلَئِنْ َتَیْتَ الَّذِینَ ُوتُوا الکِتَابَ بِکُلِّ آیَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَکَ وَمَا َنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ...(۱۴۵) الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ َبْنَائَهُمْ وَِنَّ فَرِیقًا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ ) ( ۲ )
ہم آسمان کی جانب تمھاری انتظار آمیز نگاہوں کو دیکھتے ہیں یقینا ہم تمہیںاس قبلہ کی جانب جسے تم دوست رکھتے ہو واپس کردیں گے لہٰذا اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف موڑ لو اور جہاں کہیں بھی رہو اپنا رخ اسی جانب رکھو، یقینا جن لوگوں کو آسمانی کتاب دی گئی ہے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ فرمان حق ہے جو کہ تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور خدا وند عالم جو وہ کرتے ہیںاس سے غافل نہیں ہے اور اگر اہل کتاب کیلئے تمام آیتیں لے آؤ تب بھی وہ تمہارے قبلہ کا اتباع نہیں کریں گے اور تم بھی ان کے قبلہ کا اتباع نہیں کرو گے ، جن لوگوں کو ہم نے آ سمانی کتاب دی ہے اس( پیغمبر ) کو وہ اپنے فرزندوں کی طرح جا نتے اور پہچانتے ہیں ، یقینا ان میں سے کچھ لوگ حق کو دانستہ طور پر چھپا تے ہیں۔
خداوندعالم اہل کتاب کی مسلمانوں سے (تعویض قبلہ کے سلسلہ میں ) جنگ وجدال کی بھی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( سَیَقُولُ السُّفَهَائُ مِنْ النَّاسِ مَا وَلاَّهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمْ الَّتِی کَانُوا عَلَیْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَهْدِی مَنْ یَشَائُ ِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ (۱۴۲)...وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِی کُنتَ عَلَیْهَا ِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْهِ وَِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَةً ِلاَّ عَلَی الَّذِینَ هَدَی ﷲ وَمَا
____________________
(۱) بقرہ ۱۲۵
(۲) بقرہ ۱۴۴تا۱۴۶
( کَانَ ﷲ لِیُضِیعَ ِیمَانَکُمْ ِنَّ ﷲ بِالنَّاسِ لَرَئُ وف رَحِیم ) ( ۱ )
عنقریب نا عاقبت اندیش اور بیوقوف لوگ کہیںگے :کس چیز نے انھیں اس قبلہ سے جس پروہ تھے پھیردیا ہے؟کہو ؛مغرب ومشرق سب خدا کے ہیں خدا جسے چاہے راہ راست کی ہدایت کرتا ہے،ہم نے اس (پہلے) قبلہ کو جس پرتم تھے صرف اس لئے قرار دیا تھا تاکہ وہ افراد جو پیغمبر کا اتباع کرتے ہیں ان لوگوں سے جو جاہلیت کی طرف لوٹ سکتے ہیں ممتاز اور مشخص ہو جائیں یقینا یہ حکم ان لوگوں کے علاوہ جن کی خدا نے ہدایت کی ہے دشوار تھا اور خدا کبھی تمہا رے ایمان کو ضایع نہیں کرے گا ،کیوں کہ خدا وند عالم لوگوں کی نسبت رئوف ومہربان ہے۔
آیۂ تبدیل :
آیۂ تبدیل سورئہ نحل میں ۱۰۱سے ۱۲۴ آیات کے ضمن میں ذکر ہو ئی ہے،( ۲ ) ہم اس بحث سے مخصوص آیات کا ذکر کریں گے، خدا وند عالم فرماتاہے :
( وَِذَا بَدَّلْنَا آیَةً مَکَانَ آیَةٍ وَﷲ َعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوا ِنَّمَا َنْتَ مُفْتَرٍ بَلْ َکْثَرُهُمْ لاَیَعْلَمُونَ (۱۰۱)قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِینَ آمَنُوا وَهُدًی وَبُشْرَی لِلْمُسْلِمِینَ (۱۰۲) ِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِآیَاتِ ﷲ وَُوْلَئِکَ هُمْ الْکَاذِبُونَ (۱۰۵)فَکُلُوا مِمَّا رَزَقَکُمْ ﷲ حَلاَلاً طَیِّبًا وَاشْکُرُوا نِعْمَةَ ﷲ ِنْ کُنْتُمْ ِیَّاهُ تَعْبُدُونَ (۱۱۴) ِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیرِ وَمَا ُهِلَّ لِغَیْرِ ﷲ بِهِ فَمَنْ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلاَعَادٍ فَِنَّ ﷲ غَفُور رَحِیم (۱۱۵) وَلاَتَقُولُوا لِمَا تَصِفُ َلْسِنَتُکُمْ الْکَذِبَ هَذَا حَلاَل وَهَذَا حَرَام لِتَفْتَرُوا عَلَی ﷲ الْکَذِبَ ِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی ﷲ الْکَذِبَ لاَیُفْلِحُونَ (۱۱۶) وَعَلَی الَّذِینَ هَادُوا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ ...(۱۱۸) ثُمَّ َوْحَیْنَا ِلَیْکَ َنْ اتَّبِعْ مِلَّةَ ِبْرَاهِیمَ حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنْ الْمُشْرِکِینَ (۱۲۳) ِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِیهِ ) ( ۳ )
اور جب ہم ایک آیت کو دوسری آیت سے تبدیل کرتے ہیں ( ایک حکم کو کسی حکم کی جگہ قرار دیتے ہیں) خدا بہتر جانتا ہے کہ کونساحکم نازل کرے کہتے ہیں: تم افترا پردازی کرتے ہو ! نہیں بلکہ اکثریت ان کی نہیں جانتی، کہو :اسے روح القدس نے تمہارے پروردگار کی جانب سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ با ایمان
____________________
(۱)بقرہ ۱۴۲،۱۴۳(۲) بحث کی مزید شرح و تفصیل نیز اس کے مدارک و ماخذ ''قرآن کر یم اور مدر ستین کی روایات'': ج ۱، بحث : اسلامی اصطلاحات کے ضمن میں ملاحظہ کریں گے۔(۳) نحل: ۱۰۱ ۱۰۲ ۱۰۵ ۱۴ ۱ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۸ ۱۲۳ ۱۲۴.
افراد کو ثابت قدم رکھے نیز مسلمانوں کے لئے ہدایت و بشارت ہو ،صرف وہ لوگ افترا پردازی کرتے ہیں جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ لوگ خود ہی جھوٹے ہیں ، لہٰذا جو کچھ تمہارے لئے خدا نے روزی معین کی ہے اس سے حلال اور پاکیزہ کھائو اور نعمت خدا وندی کا شکریہ ادا کرو ، اگر اس کی عبادت اور پرستش کر تے ہو ۔ خداوندعالم نے تم پر صرف مردار ، خون ،سور کا گوشت اور وہ تمام اشیاء جن پر خدا کانام نہ لیا گیا ہو حرام کیا ہے،لیکن جو مجبور و مضطر ہو جائے (اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں ) جبکہ حد سے زیادہ تجاوز و تعدی نہ کرے خدا وند عالم بخشنے والا اورمہربان ہے اوراس جھوٹ کی بنا پر جو کہ تمہاری زبان سے جاری ہوتا ہے نہ کہو:''یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے'' تاکہ خدا پر افتراء اور بہتان نہ ہو، یقینا جو لوگ خدا پر افتراء پردازی کرتے ہیں کامیاب نہیں ہو ں گے ، جو کچھ اس سے پہلے ہم نے تمہارے لئے بیان کیا ہے، یہود پر حرام کیا ہے، پھر تم پر وحی نازل کی کہ ابراہیم کے آئین کی پیروی کر و جو کہ خالص اور محکم ایمان کے مالک تھے اور مشرکوں میں نہیں تھے ،سنیچر کا دن صرف ان لوگوں کے برخلاف اور ضرر میں قرار دیا گیا ، جو لوگ اس دن کے بارے میں اختلاف ونزاع کرتے تھے۔
لیکن جن چیز وں کی خدا وندعالم نے گزشتہ زما نہ میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے حکایت کی ہے اور اس سورہ کی ۱۱۸ویںآیت میں اس کا ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہے:
الف:۔سورہ آل عمران کی ۹۳ ویں آیت:
( کل الطعام کان حلاّ لِبنی أسرائیل ألا ما حرّم أسرائیل علی نفسه )
تمام غذائیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں جز ان چیزوںکے جسے اسرائیل (یعقوب) نے اپنے آپ پر حرام کرلیاتھا۔
ب: ۔سورئہ انعام کی ۱۴۶ ویں آیت:
( وماعلی الذین هادواحرّمنا کلّ ذی ظفر و من البقر و الغنم حرّمنا علیهم شحومهما اِلا ما حملت ظهور هما أو الحوایا أو ما اختلط بعظم ذلک جزیناهم ببغیهم و اِنّا لصادقون ) ( ۱ )
____________________
(۱)اسرائ۲
اور ہم نے یہودیوں پر تمام ناخن دار حیوانوں کو حرام کیا (وہ حیوانات جن کے کھر ملے ہو تے ہیں) گائے ،بھیڑ سے صرف چربی ان پر حرام کی ، جز اس چربی کے جو ان کی پشت پر پائی جاتی ہے اورپہلوؤں کے دو نوںطرف ہوتی ہے، یا وہ جو ہڈیوں سے متصل ہوتی ہے، یہ کیفر و سزا ہم نے ان کے ظا لمانہ رویہ کی وجہ سے دی ہے اور ہم سچّے ہیں۔
کلمات کی تشریح:
۱۔ (مصدقاً لما معکم)یعنی قرآن اور پیغمبر کے صفات ، پیغمبر کے مبعوث ہو نے اور آپ پر قرآن نازل ہونے کے بارے میں توریت کے اخبار کی تصدیق کرتے ہیں ، جیسا کہ توریت کے سفرتثنیہ کے ۳۳ ویں باب( میں طبع ریچارڈ واٹس لندن ۱۸۳۱ء عربی زبان میں )آیا ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے ۔
یہ ہے وہ دعائے خیر جسے مرد خدا حضرت موسیٰ نے اپنی موت سے پہلے بنی اسرائیل پر پڑھی تھی اور فرمایا تھا : خدا وندعالم سینا سے نکلا اور ساعیر سے نور افشاں ہوا اور کوہ فاران سے آشکار ہوا اور اس کے ہمراہ ہزاروںپاکیزہ افراد ہیں، اس کے داہنے ہاتھ میں آتشیںشریعت ہے، لوگوں کو دوست رکھتا ہے ، تمام پاکیزہ لوگ اس کی مٹھی میں ہیں جو لوگ ان سے قریب ہیں اس کی تعلیم قبول کرتے ہیں، موسیٰ نے ہمیں ایسی سنت کا فرمان دیا جو جماعت یعقوب کی میراث ہے. یہی نص( ریچارڈ واٹس لندن ۱۸۳۹ ء ،فارسی زبان میں ) اس طرح ہے:
۳۳واں باب
۱۔ یہ ہے وہ دعائے خیر جو موسیٰ مرد خدا نے اپنے مرنے سے قبل بنی اسرائیل پر پڑھی تھی ۔
۲۔ اور کہا :خدا وندعالم سینا سے برآمد ہوا اور سعیر سے نمودار ہوا اور کوہ فاران سے نور افشاں ہوا اور دس ہزار مقرب اور برگزیدہ لوگوں کے سا تھ و ارد ہوا اور اس کے داہنے ہاتھ سے آتش بار شریعت ان لوگوں تک پہنچی۔
۳۔بلکہ تبائل کو دوست رکھا اور اس کے تمام مقدسات تیرے قبضہ اور اختیار میں ہیں اور مقربین در گاہ تیری قدم بوسی کرتے ہوئے تیری تعلیم قبول کریں گے
۴۔ موسیٰ نے ہمیں ایسی شریعت کا حکم دیا جو بنی یعقوب کی میراث ہے.....
یہی نص طبع آکسفورڈ یونیورسٹی( ۱ ) لندن میں (بغیر تاریخ طبا عت )صفحہ نمبر ۱۸۴ پر اس طرح آئی ہے:
یہ انگریزی نص فارسی زبان میں مذکورہ نص سے یکسانیت اور یگانگت رکھتی ہے:
CHAPTER ۳۳
And this the blessing,where with moses the man of God blessed the children of israel before his death
۲ and he said ,the LORD came from sinai and rose up from seir unto them ;he shined forth from mount paran and he came with ten thousands of saints; from his right hand went ,a fiery law for them
۳ yea,he loved the people ,all his saints are in thy hand :and they sat down at thy feet ;every one shall receive of thy words
۴ moses commanded us a law .even the inheritance of the congreg ation of jacob (۱ )
اس نص میں مذ کور ہے کہ ( وہ دس ہزار مقرب افراد کے ساتھ آیا)یعنی ہزاروں کی عدد معین کیہے ، خواہ پہلی نص میں بغیر اس کے کہ ہزاروں کی تعداد معین کرے آیا ہے: ''اس کے ساتھ ہزاروں پاکیزہ افراد''کیونکہ جس نے غار حرا سے فاران میں ظہور کیا پھر دس ہزارافرادکے ہمراہ مکّہ کی سرزمین پر قدم رکھا وہ خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ و سلم ہیں، اہل کتاب نے عصر حاضر میں اس نص میں تحریف کر دی ہے
____________________
(۱)یہ طباعت سرخ اور سیاہ رنگ کے ساتھ(فقط) عہد جدید کے حصّہ میں مشخص ہو گی.
تا کہ نبی کی بعثت کے متعلق توریت کی بشارتوں کو چھپا دیں اور ہم نے ( ایک سو پچاس جعلی صحابی) نامی کتاب کی دوسری جلدکی پانچویں تمہید میں اس بات کی تشریح کی ہے ۔
''مصدقا لمامعکم''کی تفسیر میں بحث کا نتیجہ:
توریت کا یہ باب واضح طور پر یہ کہتا ہے : موسیٰ ابن عمران نے اپنی موت سے قبل اپنی وصےّت میں بنی اسرائیل سے کہا ہے : پروردگار عالم نے توریت کو کوہ سینا پر نازل کیا اور انجیل کو کوہِ سعیر پر اور قرآن کو کوہِ فاران ( مکّہ ) پر پھر تیسری شریعت کی خصوصیات شمار کرتے ہوئے فرمایا:
جب وہ مکہ میں آئے گا دس ہزار لوگ اس کے مقربین میں سے اس کے ہمراہ ہوں گے، یہ وہی دس ہزار رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سپاہی ہیں جو فتح مکّہ میں تھے اور یہ تیسری شریعت ، شریعت جہاد ہے۔
اور یہ کہ اس کی امت اس کی تعلیمات کو قبول کرے گی، اس تصریح میں بنی اسرائیل کے موقف کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے منحرف ہو کر گو سالہ پرستی شروع کر دی اور اپنے پیغمبر موسیٰ اور تمام انبیاء کرام سے جنگ و جدال کرتے رہے قرآن اور توریت میں اس کا تذکرہ ہوا ہے۔
ہم یہاں پر نہایت ہی ا ختصارسے کام لیں گے، کیونکہ اگر ہم چاہیں کہ وہ تمام بشارتیں جو خاتم الانبیاء کی بعثت سے متعلق ہیں( ان تمام تحریفات کے باوجود جسکے وہ مرتکب ہوئے ہیں) جوکہ باقی ماندہ آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں اور وہ آسمانی کتابیں جو حضرت خاتم الانبیاء کے زمانے میں اہل کتاب کے پاس تھیں ، اگر ہم ان تمام بشارتوںکو پیش کرنے لگیںتو بحث طولانی ہو جائے گی، البتہ انھیں بشارتوں کے سبب خداوند سبحان چندآیات کے بعد فرماتا ہے:
( الذین أتینا هم الکتاب یعرفونه کما یعرفون ابناء هم و أن فریقاً منهم لیکتمون الحقّ و هم یعلمون ) ( ۱ )
جن لوگوں کو ہم نے آسمانی کتاب دی ہے وہ لوگ اس( پیغمبر) کواپنے فرزندوں کی طرح پہچانتے ہیں یقینا ان کے بعض گروہ حق کو دانستہ طور پر چھپا تے ہیں۔
بنابر این مسلم ہے کہ خاتم الانبیائصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قرآن کے ساتھ بعثت، پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی امت کے مخصوص صفات
____________________
(۱)سورہ بقرہ ۱۴۶.
ان چیزوں کی تصدیق ہیں جو اہل کتاب کے نزدیک توریت اورانجیل میں ہیں( عالمین کے پر وردگار ہی سے حمدوستائش مخصوص)
۲۔( لاتلبسواالحقّ بالباطل )
حق کوباطل سے مخلوط نہ کرو کہ حقیقت پوشیدہ ہو جائے یا یہ کہ حق کو باطل کے ذریعہ نہ چھپاؤ کہ ا سے مشکوک بنا کر پیش کرو ۔
۳۔''عدل'':فدیہ ، رہائی کے لئے عوض دینا۔
۴۔''قفّینا'':لگاتار ہم نے بھیجا یعنی ایک کے بعد دوسرے کو رسالت دی۔
۵۔''غلف'' جمعِ اغلف جو چیز غلاف اور پوشش میں ہو۔
۶۔''یستفتحونَ''کامیابی چاہتے تھے، جنگ میں دشمن پر فتح حاصل کر نے کیلئے،یعنی اہل کتاب پیغمبر خاتمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نام لے کر اور انہیں شفیع بنا کر خدا کے نزدیک کامیابی چاہتے تھے۔( ۱ )
۷۔''ننسٔھا: نٔوخّر ھا:''اُسے تاخیر میں ڈال دیا ، ننسٔھا ،ننسِئھٰا کا مخفف اور نسأ کے مادہ سے ہے، یعنی ہر وہ حکم جسے ہم نسخ کریں یا اس کے نسخ میں تاخیر کریں تواس سے بہتر یااس کے مانند لاتے ہیں۔
''نُنْسِھا ،نُنْسِیْھا''کا مخفف مادئہ نسی سے جس کے معنی نسیان اور فراموشی کے ہیں ،نہیں ہو سکتا تاکہ اس کے معنی یہ ہو ںکہ جس آیت قرآن کی قرائت لوگوں کے حافظہ سے بھلا دیتے ہیں تواس سے بہتر یا اس کے مانند لے آئیں گے،جیسا کہ بعض لوگوں نے اسی طرح کی تفسیر کی ہے( ۲ ) کیونکہ:
الف ۔خدا وندمعتال نے خود ہی قر آن کی فراموشی اور نسیان سے حفاظت کی ضمانت لی ہے اور فرمایا ہے:(سنقرئک فلا تنسیٰ)ہم تم پر عنقریب قرآن پڑھیں گے اور تم کبھی اسے فراموش نہیں کر و گے۔
ب۔اس بات میں کسی قسم کی کوئی مصلحت نہیں ہے کہ اس کو لوگوں کے حافظہ سے مٹا دیا جائے،جب کہ خدا وندعالم نے خودآیات لوگوں کے پڑھنے کے لئے نازل کی ہیں پھر کیوں ان کے حافظہ سے مٹا دے گا؟
۸۔ھادوا وھودا، ھادوا: یہودی ہوگئے،ھودا جمع ہے ھائد کی یعنی یہودی لوگ۔
۹۔''( فضلتکم علی العا لمین'' ) : یعنی خدا وند عالم نے تم کو اس زمانے میں مصر کے فرعونیوں ،قوم عمالقہ اور دیگر شام والوں پر فوقیت دی ہے۔
____________________
(۱)تفسیر طبری آیہ مذکورہ
(۲) آیت کی تفسیر سے متعلق تفسیر قرطبی، طبری اور سعد ابن ابی وقّاص سے ا ن دونوں کی روایت کی طرف مراجعہ ہو۔
۱۰۔شطر:شطر کے کئی معنی ہیں کہ منجملہ ''جہت'' اور ''طرف''ہیں۔
۱۱۔( ''ماکان ﷲ لیضیع ایمانکم'' ) : خدا وند عالم ہر گز ان نمازوں کوجو تحویل قبلہ سے پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھی ہیںضائع نہیں کرے گا۔
۱۲۔'' أِذا بدّلنا '': جب بھی جا گزیں کریں، ایک حکم کو دوسرے حکم سے تبدیل کر د یں ، عوض اوربدل کے درمیان یہ فرق ہے کہ:عوض جنس کی قیمت ہوتا ہے اور بدل ا صل کا جا گزیں اور قائم مقام ہوتا ہے۔
۱۳۔''روح القدس'' : ایک ایسا فرشتہ جس کے توسط سے خدا وندعالم قرآن،احکام اور اس کی تفسیرپیغمبر پر نازل کرتا تھا ۔
۱۴۔'' ذی ظفر'': ناخن دار یہاں پر مراد ہر وہ حیوان ہے جس کے سم میں شگاف نہیں ہوتا جیسے اونٹ، شتر مرغ ،بطخ ،غاز، وﷲ عالم بالصواب۔
۱۵۔''الحوایا'': آنتیں.
۱۶۔''ما اختلط بعظم'': وہ چربی جو ہڈی سے متصل ہو ۔
تفسیر آیات
۱۔ آیۂ تبدیل:
وہ آیت جو سورئہ نحل کی مکی آیات کے ضمن میں آئی ہے:خدا وند سبحان ان آیات میں فرماتا ہے : جب کبھی ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ قرار دیتے ہیںیعنی گزشتہ شریعت کا کوئی حکم اٹھا کر کوئی دوسرا حکم جو قرآن میں مذکور ہے اس کی جگہ رکھ دیتے ہیں تو ہمارے رسول سے کہتے ہیں:تم جھوٹ بولتے ہو۔
اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ! کہو : قرآنی احکام کو مخصوص فرشتہ خدا کی جانب سے حق کے ساتھ لاتا ہے تاکہ مومنین اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہو، تم جھوٹ بولنے والے یا گڑھنے والے نہیں ہو، جھوٹے وہ لوگ ہیں جوآیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے،یعنی مشرکین،وہ لوگ خود ہی جھوٹے ہیں۔
خدا وندعالم اس کے بعد محل اختلاف کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے: جو کچھ ہم نے تم کو روزی دی ہے جیسے اونٹ کا گوشت اور حیوانات کی چربی اور اسکے مانندجس کو بنی اسرائیل پر ہم نے حرام کیا تھا،حلال و پاکیزہ طور پر کھاؤ،کیونکہ خدا ونداعالم نے اسے تم پر حرام نہیں کیا بلکہ صرف مردار ،خون ،سؤر کا گوشت اور وہ تمام جانور جن پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو ان کا کھانا تم پر حرام کیاہے،سوائے مضطر اور مجبور انسان کے جو کہ اس کے کھانے پر مجبورہو،یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو تم پر حرام کی گئی ہیں تم لوگ اپنے پاس سے نہ کہو:''یہ حرام ہے اور وہ حلال ہے''جیسا کہ مشرکین کہتے تھے اور خدا وندعالم نے سؤرہ انعام کی ۱۳۸سے۱۴۰ویں آیات میں اس کی خبر دی ہے کہ یہ سب مشرکوں کا کام ہے ،رہا سوال یہود کا توخدا وندعالم نے ان لوگوں پر مخصوص چیزوں کو حرام کیا تھا جس کا ذکر سورۂ انعام میں آیا ہے۔
رہے تم اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ! تو ہم نے تم پر وحی کی :حلال و حرام میں ملّت ابراہیم کے پیرو رہو اور شریعت ابراہیم کے تمام امور میں سے یہ ہے کہ جمعہ کا دن ہفتہ میں آرام کر نے کا دن ہے،لیکن سنیچر تو صرف بنی اسرائیل کے لئے تعطیل کا دن تھا ان پر اس دن کام حرام تھا جیسا کہ سورۂ اعراف کی ۱۶۳ ویں آیت میں مذکور ہے۔
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کی بنیاد پر تبدیل آیت کے معنی یہاں پر یہ ہیں کہ صرف توریت کے بعض احکام کو قرآن کے احکام سے تبدیل کرناہے اور شریعت اسلامی کی حضرت ابراہیم خلیل ﷲ کی شریعت کی طرف باز گشت ہے ۔
جو چیز ہمارے بیان کی تاکید کرتی ہے، خدا وندسبحان کا فرمان ہے کہ ارشاد فرما تا ہے:
( و اِذا بد لنا آية مکان آية قالوانما مفتر قل نزّله روح القدس )
کیونکہ لفظ'' نزلہ'' میں مذ کر کی ضمیر آیت کے معنی یعنی ''حکم''کی طرف پلٹتی ہے اور اگر بحث اس آیت کی تبدیل کے محورپر ہوتی جو کہ سورہ کا جز ہے تو مناسب یہ تھا کہ خدا وندسبحان فرماتا:''قل نزلھا روح القدس''یعنی مونث کی ضمیر ذکر کرتا نہ مذکر کی( خوب دقت اور غور و خوص کیجئے)۔
۲۔آیۂ نسخ:
یہ آیت سورہ بقرہ کی مدنی آیات کے درمیان آئی ہے،خداوندمتعال ان آیات میں فرماتا ہے:
اے بنی اسرائیل ؛خداوندعالم کی نعمتوں کو اپنے اوپر یادکرو اور اس کے عہد وپیمان کووفا (پورا)کروایسا پیمان جو توریت بھیجنے کے موقع پر ہم نے تم سے لیا تھا اور تم سے کہا تھا :جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اسے محکم انداز میں لے لواورجو کچھ اس میں ہے اسے یادرکھو۔
اس میں خاتم الانبیائصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت سے متعلق بشارت تھی خدا سے اپنے عہد وپیمان کو وفا کروتا کہ خدا بھی اپنے پیمان کو جو تم سے کیاہے وفا کرے اور اپنی نعمتوں کادنیا واخرت میں تم پر اضافہ کرے اور جو کچھ خاتم الانبیاء پرنازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ کہ وہ یقینا جو کچھ تمہارے پاس کتاب خدامیں موجود ہے سب کا اثبات کرتا ہے، حق کو نہ چھپاؤ اوراسے دانستہ طور پر باطل سے پوشیدہ نہ کرو ،خدا وند عالم نے موسیٰ کو کتاب دی اوران کے بعد بھی رسولوں کو بھیجا کہ انھیں میں سے عیسیٰ ابن مریم بھی تھے وہی جن کی خدانے روشن دلائل اور روح القدس کے ذریعہ تائید کی ،کیا ایسا نہیں ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر نے تمہارے نفسانی خواہشات کے خلاف کوئی چیز پیش کی تو تم لوگوںنے تکبر سے کام لیا کچھ لوگوں کوجھوٹا کہا اور کچھ کو قتل کر ڈالا؟اور کہا ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اوران چیزوں کو ہم نہیں سمجھتے ہیں،اب بھی قرآن خدا کی جانب سے تمہارے لئے نازل ہوا ہے اور جو خبریں تمہارے پاس ہیںان سے بھی ثابت ہے پھر بھی تم اس کا انکار کرتے ہو جبکہ تم اس سے پہلے کفار پر کامیابی کے لئے اس کے نام کو اپنے لئے شفیع قرار دیتے تھے اور اب تو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم آگئے ہیں اور تم لوگ پہچانتے بھی ہو پھر بھی اس کا اور جو کچھ اس پر نازل ہوا ہے ان سب کا انکار کرتے ہو،تم نے خود کو ایک بری قیمت پر بیچ ڈالاکہ جو خدا نے نازل کیا اس کا انکار کرتے ہو، اس بات پر انکار کرتے ہو کہ کیوں خدا نے حضرت اسماعیل کی نسل میں پیغمبر بھیجا حضرت یعقوب کی نسل میں یہ شرف پیغمبری کیوں عطا نہیں کیا؟لہٰذا وہ غضب خدا وندی کا شکار ہوگئے اور کافروں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔
اور جب یہود سے کہا گیا : جو کچھ خاتم الانبیا ء پر نازل کیا گیا ہے اس پرایمان لاؤ،تو انھوں نے کہا : جو کچھ ہم لوگوں پر نازل ہوا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور جو ہم پر نازل نہیں ہوا ہے ہم اس کے منکر ہیں،جب کہ وہ جو کچھ خاتم الانبیاء پر نازل کیا گیا حق ہے اور انبیاء کی کتابوں میں موجود اخبار کی تصدیق اور اثبات کرتا ہے یعنی وہ اخبار جو بعثت خاتم الانبیاء سے متعلق ہیں اوران کے پاس ہیں،اے پیغمبر!ان سے کہہ دو! اگر تم لوگ خود کو مومن خیال کرتے ہو تو پھر کیوں اس سے پہلے آنے والے انبیاء کو قتل کر ڈالا ؟ کس طرح کہتے ہو کے جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے اس پر ہم ایمان لائے ہیں جب کہ حضرت موسیٰ روشن علامتوںاور آیات کے ساتھ تمہارے پاس آئے اور تم لوگ خدا پر ایمان لانے کے بجائے گوسالہ پرست ہوگئے؟! اس وقت بھی خدا وندعالم نے جس طرح حضرت موسیٰ پر روشن آیات نازل کی تھیں اسی طرح خاتم الانبیاء محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر بھی نازل کی ہیں اور بجز کافروں کے اس کا کوئی منکر نہیں ہوگا۔
اگر یہود ایمان لے آئیں اور خدا سے خوف کھائیں یقینا خدا انھیں جزا دے گا ،لیکن کیا فائدہ کہ اہل کتاب کے کفار اور مشرکین کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم مسلمانوںپر کسی قسم کی کوئی آسمانی خبر یا کتاب نازل ہو،جب کہ خدا وندعالم جسے چاہے اپنی رحمت سے مخصوص کر دے ۔
خدا وندعالم اگر کوئی حکم نسخ کرے یااسے تاخیر میں ڈالے تو اس سے بہتر یا اس کے مانند لے آتا ہے خدا ہر چیز پر قادر اور توانا ہے۔بہت سارے اہل کتاب اس وجہ سے کہ وحی الٰہی بنی اسرائیل کے علاوہ پر نازل ہوئی ہے حاسدانہ طور پر یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں خاتم الانبیاء پر ایمان لانے کے بجائے کفر کی طرف پھیر دیںاور ایسااس حال میں ہے کہ حق ان پر روشن اور آشکار ہو چکاہے!یہ تم لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جائے گا یعنی تم لوگ اپنے اسلام کے باوجودبہشت سے محروم رہو گے؛کہو: اپنی دلیل پیش کرو !البتہ جو بھی اسلام لے آئے اور نیک اور اچھا عمل انجا م د ے اسکی جزا خدا کے یہاں محفوظ ہے اور یہود ونصاری تم سے کبھی راضی نہیں ہوں گے مگر یہ کہ تم ان کے دین کا اتباع کرو۔
اُس کے بعد یہود کومخاطب کر کے فرمایا :اے بنی اسرائیل ؛جن نعمتوں کو ہم نے تم پر نازل کیا ہے اور تم لوگوں کو تمہارے زمانے کے لوگوں پر فضیلت وبرتری دی ہے اسے یاد کرو اور روز قیامت سے ڈرو۔
اس کے بعد یہود اور پیغمبر کے درمیان نزاع ودشمنی وعداوت کا سبب اور اس کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ہم بیت المقدس سے تحویل قبلہ کے سلسلے میں آسمان کی طرف تمہاری انتظار آمیز نگاہوں سے باخبر ہیں ابھی اس قبلہ کی طرف تمھیں لوٹا دیں گے جس سے تم راضی وخوشنود ہوجاؤگے۔
(اے رسول! )تم جہاں کہیں بھی ہو اور تمام مسلمان اپنے رخ مسجد الحرام کی طرف موڑ لیں اہل کتاب،یہود جو تم سے دشمنی کرتے ہیں اور نصاریٰ یہ سب خوب اچھی طرح جانتے ہیں قبلہ کا کعبہ کی طرف موڑنا حق اور خدا وندکی جانب سے ہے اور تم جب بھی کوئی آیت یا دلیل پیش کرو تمہاری بات نہیں مانیں گے اور تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔
عنقریب بیوقوف کہیںگے : انھیں کونسی چیز نے سابق قبلہ بیت المقدس سے روک دیا ہے؟کہوحکم ،حکم خدا ہے مشرق و مغرب سب اسکا ہے جسے چاہتا ہے راہ راست کی ہدایت کرتا ہے، بیت المقدس کو اس کا قبلہ بنا نا اور پھر مکّہ کی طرف موڑنا لوگوں کے امتحان کی خاطر تھا مکّہ والوں کو کعبہ سے بیت المقدس کی طرف اور یہود کو مدینہ میں بیت المقدس سے کعبہ کی طرف موڑ کر امتحان کرتا ہے تا کہ ظاہر ہو جائے کہ آیایہ جاننے کے بعد بھی کہ یہ موضوع حق اور خدا وندعالم کی جانب سے ہے اپنے قومی وقبائلی اور اسرائیلی تعصب سے باز آتے ہیں یا نہیں اور بیت المقدس سے کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں یا نہیں اوراس گروہ کا امتحان اس وجہ سے ہوا تاکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ماننے والے ان لوگوں سے جو جاہلیت کی طرف پھرجائیں گے مشخص اور ممتاز ہوجائیں ،انکی نمازیں جو اس سے قبل بیت المقدس کی طرف پڑھی ہیں خدا کے نزدیک برباد نہیں ہوں گی۔
اس طرح واضح ہوجاتا ہے کہ تبدیلی آیت سے مراد ،جس کا ذکر سورۂ نحل کی مکی آیات میں قریش کی نزاع اور اختلاف کے ذکر کے تحت آیا ہے، خدا کی جانب سے ایک حکم کا دوسرے حکم سے تبدیل ہوناہے، اس نزاع کی تفصیل سورۂ انعام کی ۱۳۸تا۱۴۶ویں آیات میں آئی ہے۔
اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ (یہود مدینہ کی داستان میں ) نسخ آیت اور اس کی مدت کے خاتمہ سے مقصود و مراد موسیٰ کی شریعت میں نسخ حکم یا ایک خاص شریعت کی مدت کا ختم ہونا ہے ( اس حکمت کی بنا ء پر جسے خدا جانتا ہے)
راغب اصفہانی نے لفظ (آیت) کی تفسیر میں صحیح راستہ اختیار کیاہے وہ فرماتے ہیں :کوئی بھی جملہ جو کسی حکم پر دلالت کرتا ہے آیت ہے، چاہے وہ ایک کامل سورہ ہو یا ایک سورہ کا بعض حصّہ ( سورہ میں آیت کے معنی کے اعتبار سے)یااس کے چند حصّے ہوں ۔
لہٰذا مذکورہ دوآیتوں میں ایک آیت کودوسری آیت سے تبدیل کرنے اور آیت کے نسخ اور اس کے تاخیر میں ڈالنے سے مراد یہی ہے کہ جس کا تذ کرہ ہم نے کیا ہے ، اب آئندہ بحث میں حضرت موسیٰ کی شریعت میں نسخ کی حیثیت اور اس کی حکمت ( خدا کی اجازت اور توفیق سے ) تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے۔
۴
حضرت موسیٰ ـ کی شریعت بنی اسرائیل سے مخصوص ہے
حضرت موسیٰ کی شریعت جس کا تذکرہ توریت میں آیا ہے بنی اسرائیل سے مخصوص ہے ،جیسا کہ سفرتثنیہ کے ۳۳ ویں باب کے چوتھے حصّہ میں آیا ہے:
''موسیٰ نے ہم کو ایک ایسی سنت کا حکم دیا ہے جو کہ جما عت یعقوب کی میراث ہے''
یعنی موسیٰ نے ہمیں ایک ایسی شریعت کا حکم دیا ہے جو کہ جماعت یعقوب یعنی بنی اسرائیل سے مخصوص ہے ،گزشتہ آیات میں بھی اس خصوصیت کا ذکر ہوا ہے ،آئندہ بحث میں انشاء ﷲ امر نسخ کی بسط وتفصیل کے ساتھ تحقیق و بررسی کریں گے۔
حضرت موسیٰ ـکی شریعت میں نسخ کی حقیقت
اس بحث میں ہم سب سے پہلے قرآن سے( زمانے کے تسلسل کا لحاظ کر تے ہو ئے )بنی اسرائیل کی داستان کا آغا ز کر یں گے، پھر ان کی شریعت میں نسخ کے مسئلہ کو بیان کریں گے ۔
اوّل:بنی اسرائیل کو نعمت خدا وندی کی یاد دہانی
۱۔خدا وندعالم سورۂ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے:( یا بنی اسرائیل أذکر وانعمتی التی أنعمت علیکم و أنی فضّلتکم علی العالمین..و اِذ نجّینا کم من آل فرعون یسومو نکم سوء العذاب یذ بحون أبناء کم و یستحیون نساء کم و فی ذلکم بلاء من ربکم عظیم) (و أذفرقنا بکم البحر فانجیناکم وأغرقنا آل فرعون و ٔنتم تنظرون و أذ واعدناموسیٰ أربعین لیلة ثم ٔاتخذتم العجل من بعده و أنتم ظالمون ) ( ۱ )
اے بنی اسرائیل! جو نعمتیںہم نے تم پر نازل کی ہیں انھیں یاد کرو اور یہ کہ ہم نے تم کو عالمین پر برتری اور فضیلت دی ہے...اورجب ہم نے تم کو فرعونیوں کے خونخوارچنگل سے آزادی دلائی وہ لوگ تمہیں بری طرح شکنجہ میں ڈالے ہوئے تھے تمہارے فرزندوں کے سر اڑا دیتے اور تمہاری عورتوں کوزندہ رکھتے تھے اس میں تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سے عظیم امتحان تھا اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو شگاف کیا اور تمھیں نجات دی اور فرعونیوں کوغرق کر ڈالا ،درانحالیکہ یہ سب کچھ تم اپنی آنکھوںسے دیکھ رہے تھے اور جب موسیٰ کے ساتھ چالیس شب کا وعدہ کیا پھر تم لوگوں نے اس کے بعد گو سالہ کا انتخاب کیا جب کہ تم لوگ ظالم وستم گر تھے۔
۲۔سورۂ اعراف میں ارشاد فرماتا ہے:( وجاوزنا ببنی اسرائیل البحر فاتوا علی قوم یعکفون علیٰ أصنام لهم قالوا یا موسیٰ اجعل لنا اِلٰهاً کما لهم آلهة قال انکم قوم تجهلون ) ( ۲ )
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کرایا راستے میں ایسے گروہ سے ملاقات ہوئی جو خضوع خشوع کے ساتھ اپنے بتوں کے ارد گرد اکٹھا تھے، تو ان لوگوں نے کہا : اے موسیٰ !ہمارے لئے بھی ان کے خداؤں کے مانند کوئی خدا بنا دو ،انہوں نے فرمایا:سچ ہے تم لوگ ایک نادان اور جاہل قوم ہو۔
۳۔ سورۂ طہ میں ارشاد ہوتا ہے:( و اضلّهم السامری فکذٰلک القی السّامریفاخرج لهم عجلًا جسداً له خوار فقالو هذا اِلهکم واِلٰه موسیٰ و لقد قال لهم هارو ن من قبل یا قوم اِنّما فتنتم به و اِنَّ ربّکم الرحمن فا تبعونی وأَطیعوا أَمریقالو لن نبرح علیه عاکفین حتّیٰ یرجع اِلینا موسیٰ )
اورسامری نے انھیں گمراہ کر دیا ...اور سامری نے اس طرح ان کے اندر القاء کیا اور ان کے لئے گوسالہ کا ایسا مجسمہ جس میں سے گو سالہ کی آواز آتی تھی بنادیا تو ان سب نے کہا :یہ تمہارا اورموسیٰ کا خداہے... اور اس سے پہلے ہارون نے ان سے کہا : اے میری قوم والو! تم لوگ اس کی وجہ سے امتحان میں مبتلا ہو گئے ہو ، تمہارا رب خدا وند رحمان ہے میری پیروی کرو اور میرے حکم و فرمان کی اطاعت کرو ، کہنے لگے :
____________________
(۱)بقرہ۴۷،۴۹،۵۰،۵۱(۲) اعراف۱۳۸
ہم اسی طرح اس کے پابند ہیں یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف لوٹ کر آ جائیں۔( ۱ )
۴۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا :
( واِذْ قال موسیٰ لقومه یا قوم أنّکم ظلمتم انفسکم باتّخاذکم العجل فتو بوا ألی بارئکم فاقتلوا أنفسکم ذلکم خیر لکم عند بارئکم فتاب علیکم أنّه هو التوّاب الرّحیم ) ( ۲ )
اُس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم !تم نے گوسا لہ کا انتخاب کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے لہٰذا تو بہ کرو اور اپنے خالق کی طرف لوٹ آؤ اور اپنے نفسوں کو قتل کر ڈالو کیونکہ یہ کام تمہارے ربّ کے نزدیک بہتر ہے پھر خدا وند عالم نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہر بان ہے۔
دوم : توریت اور اس کے بعض احکام :
۱۔ خدا وند عالم سورہ ٔ بقرہ میں فرماتا ہے :
( واِذ أخذنا میثاقکم و رفعنا فوقکم الطّور خذوا ما آتینا کم بقوّة و اذ کروا ما فیه لعلّکم تتقون ) ( ۳ )
اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد و پیمان لیا اور کوہِ طور کو تمہارے او پر قرار دیا ( اور تم سے کہا) جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے ا سے محکم طریقے سے پکڑ لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو شاید پرہیز گار ہو جاؤ۔
۲۔ سورۂ اسراء میں ارشاد ہوتا ہے:
( وآتینا موسیٰ الکتاب وجعلناه هُدیً لبنی اسرائیل.. ) .)( ۴ )
اورہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب عطا کی اوراسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا وسیلہ قرار دیا ۔
۳۔سورۂ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے:
( کلّ الطعام کان حلًا لبنی اسرائیل اِلّا ما حرم اسرائیل علیٰ نفسه من قبل أن تنزّل التوراة... ) ( ۵ )
کھانے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں جزان اشیاء کے جنہیںخوداسرائیل (یعقوب)
____________________
(۱)طہ ۸۵ ،۹۱ .(۲)بقرہ ۵۴ (۳)بقرہ ۶۳،اس مضمون سے ملتی جلتی آیتیں سورہ بقرہ کی ۹۳ ویں آیت اور سورئہ اعراف کی ۱۷۱ویں آیت میں بھی آئی ہیں )
(۴)اسرائ۲ (۵)آل عمران ۹۳
نے توریت کے نزول سے پہلے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔
۴۔ سورۂ انعام میں فرمایا :
( و ماعلی الذین هادوا حرّمنا کلّ ذی ظفر من البقر و الغنم حرّمنا علیهم شحومهما الا ماحملت ظهور هما أو الحوایا أو ما اختلط بعظم ذلک جزیناهم ببغیهم و انّا لصاد قون ) ( ۱ )
یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن دار حیو ا نوں کو حرام کیا ، گائے اورگوسفند سے ا ن کی چربی ان پر حرام کی جزاس چربی کے جو ان کی پشت پر ہو یا جو پہلو میں ہو یا جو ہڈیوں سے متصل اورمخلوط ہو یہ ان کی بغاوت و سرکشی کا نتیجہ ہے کہ ہم نے انھیں اور سزا کا مستحق قرار دیا اور ہم سچ کہتے ہیں۔
۵۔ سورۂ نحل میں ارشاد ہوتا ہے:
( و علٰی الذین هادوا حرّمنا ما قصصنا علیک من قبل و ما ظلمنا هم و لکن کانوا أنفسهم یظلمون ) ( ۲ )
اورہم نے جن چیزوں کی اس سے پہلے تمہارئے لئے تفصیل بیان کی ہے ،ان چیزوں کویہود پر حرام کیا؛ ہم نے ان پر ظلم و ستم نہیں کیا ،بلکہ ان لوگوں نے خود اپنے نفوس پر ظلم کیا ہے۔
۶۔سورۂ نساء میں ارشاد ہوتا ہے:
( یَسَْلُکَ َهْلُ الْکِتَابِ َنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ کِتَابًا مِنْ السَّمَائِ فَقَدْ سََلُوا مُوسَی َکْبَرَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالُوا َرِنَا ﷲ جَهْرَةً فَعَفَوْنَا عَنْ ذَلِکَ... (۱۵۳) وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمْ الطُّورَ بِمِیثَاقِهِم.... وَقُلْنَا لَهُمْ لاَتَعْدُوا فِی السَّبْتِ وََخَذْنَا مِنْهُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا (۱۵۴) فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِیثَاقَهُمْ وَکُفْرِهِمْ بِآیَاتِ ﷲ وَقَتْلِهِمْ الَْنْبِیَائَ (۱۵۵) وَبِکُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَی مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیمًا (۱۵۶) فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبَاتٍ ُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیلِ ﷲ کَثِیرًا (۱۶۰) وََخْذِهِمْ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وََکْلِهِمْ َمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ.... ) ( ۳ )
اہل کتاب تم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کرو ؛ انھوں نے توحضرت موسیٰ سے اس سے بھی بڑی چیز کی خواہش کی تھی اور کہا تھا : خدا کو واضح اور آشکار طور سے ہمیں دکھا ؤ لیکن ہم نے انھیں در گزر کر دیا ...اور ہم نے ان کے عہد کی خلاف ورزی کی بنا پر ان کے سروں پر کوہ طور کو بلند کردیا
____________________
(۱)انعام ۱۴۶(۲)نحل ۱۱۸
(۳)نسائ۱۵۴۱۵۳ ۱۵۶۱۵۵ ۱۶۱۱۶۰.
اوران سے کہا :سنیچر کے دن تجاوز اور تعدی نہ کرو اوران سے محکم عہد و پیمان لیا ،ان کی پیمان شکنی ،آیات خداوندی کا انکار ،پیغمبروں کے قتل اور ان کے کفر کی وجہ سے نیزاس عظیم تہمت کی وجہ سے جو حضرت مریم پر لگائی، نیزاس ظلم کی وجہ سے جو یہود سے صادر ہوا اور بہت سارے لوگوں کو راہ راست سے روکنے کی وجہ سے بعض پاکیزہ چیزوں کو جو ان پرحلال تھیںان کے لئے ہم نے حرام کر دیا اور ربا اور سود خوری کی وجہ سے جب کہ اس سے ممانعت کی گئی تھی اور لوگوں کے اموال کو باطل انداز سے خرد برد کرنے کی بنا پر ۔
۷۔ سورۂ اعراف میں ارشاد ہوتا ہے:
( و سئلهم عن القرية التی کانت حاضرة البحراذ یعدون فی السبت اِذ تأ تیهم حیتانهم یوم سبتهم شُرّعاً ویوما لایسبتون لاتاتیهم کذٰلک نبلوهم بما کانوایفسقون ) ( ۱ )
دریا کے ساحل پر واقع ایک شہر کے بارے میں ان سے سوال کرو ؛ جب کہ سنیچر کے دن تجاوزکرتے تھے،اس وقت سنیچر کو دریا کی مچھلیاں ان پر ظاہر ہو جاتی تھیں اوراس کے علاوہ دوسرے دنوںمیں اس طرح ظاہر نہیں ہو تی تھیں ، اس طرح سے ہم نے ان کا اس چیز سے امتحان لیا جس کے نتیجہ میں وہ نافرمانی کرتے تھے ۔
۸۔ سورۂ نحل میں ارشاد ہو تا ہے:
( انّما جعل السبت علی الذین اختلفو فیه ) ( ۲ )
سنیچر کا دن صرف اور صرف ان کے مجازات اور سزا کے عنوان سے تھاان لوگوں کے لئے جو اس میں اختلاف کرتے تھے۔
سوم:خدا وند عالم کی بنی اسرائیل پر نعمتیں اور ان کی سرکشی و نا فرمانی
۱۔خدا وند عالم سورۂ اعراف میں ارشاد فرماتا ہے:
( وَقَطَّعْنَاهُمْ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ َسْبَاطًا ُمَمًا وََوْحَیْنَا ِلَی مُوسَی ِذْ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ َنْ اضْرِب بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا قَدْ عَلِمَ کُلُّ ُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ وَظَلَّلْنَا عَلَیْهِمْ الْغَمَامَ وََنزَلْنَا عَلَیْهِمْ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَکِنْ کَانُوا َنفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ (۱۶۰) وَِذْ قِیلَ لَهُمْ اسْکُنُوا هَذِهِ الْقَرْیَةَ وَکُلُوا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّة
____________________
(۱)اعراف ۱۶۳۔بقرہ ۶۵۔ نساء ۴۸، ۱۵۴.(۲)نحل ۱۲۴
وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَغْفِرْ لَکُمْ خَطِیئَاتِکُمْ سَنَزِیدُ الْمُحْسِنِینَ (۱۶۱) فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِنْ السَّمَائِ بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ ) ( ۱ )
اورہم نے بنی اسرائیل کو ایک نسل کے بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا اور جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی طلب کیا تو ان کو ہم نے وحی کی : اپنے عصا کو پتھر پر مارو! اچا نک اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اس طرح سے کہ ہر گروہ اپنے گھاٹ کو پہچانتا تھا اور بادل کوان پر سائبان۔قرار دیا اوران کے لئے من وسلویٰ بھیجا( اور ہم نے کہا) جو تمھیں پاکیزہ رزق دیا ہے اسے کھاؤ انھوں نے ہم پر ستم نہیں کیا ہے بلکہ خود پر ستم کیاہے اور جس وقت ان سے کہا گیا : اس شہر (بیت المقدس ) میں سکونت اختیار کرو اور جہاں سے چاہو وہاں سے کھاؤ اور کہو: خدایا ہمارے گناہوں کو بخش دے! اوراس در سے تواضع و انکساری کے ساتھ داخل ہو جاؤتا کہ تمہارے گناہوں کو ہم بخش دیں اور نیکو کاروں کو اس سے بڑھ کر جزا دیں،لیکن ان ستمگروں نے جوان سے کہا گیا تھا اس کے علاوہ بات کہی یعنی اس میں تبدیلی کردی اور ہم نے اس وجہ سے کہ وہ مسلسل ظالم و ستمگر رہے ہیںان کے لئے آسمان سے بلا نازل کردی ہے۔
۱۔سورۂ مائدہ میں ارشاد فرمایا:
( وَاِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ ﷲ عَلَیْکُمْ ِذْ جَعَلَ فِیکُمْ َنْبِیَائَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوکًا وَآتَاکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ َحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ (۲۰) یَاقَوْمِ ادْخُلُوا الَْرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِی کَتَبَ ﷲ لَکُمْ وَلاَتَرْتَدُّوا عَلَی َدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِینَ (۲۱) قَالُوا یَامُوسَی ِنَّ فِیهَا قَوْمًا جَبَّارِینَ وَِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّی یَخْرُجُوا مِنْهَا فَِنْ یَخْرُجُوا مِنْهَا فَِنَّا دَاخِلُونَ (۲۲) قَالَ رَجُلاَنِ مِنْ الَّذِینَ یَخَافُونَ َنْعَمَ ﷲ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوا عَلَیْهِمْ الْبَابَ فَِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی ﷲ فَتَوَکَّلُوا ِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ (۲۳) قَالُوا یَامُوسَی ِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا َبَدًا مَا دَامُوا فِیهَا فَاذْهَبْ َنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ (۲۴) قَالَ رَبِّ ِنِّی لاََمْلِکُ ِلاَّ نَفْسِی وََخِی فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ (۲۵) قَالَ فَِنَّهَا مُحَرَّمَة عَلَیْهِمْ َرْبَعِینَ سَنَةً یَتِیهُونَ فِی الْاَرْضِ فَلاَتَْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ )
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم! اپنے اوپرﷲ کی نعمتوں کو یاد کرو، جبکہ اس نے تمہارے درمیان پیغمبروں کو بھیجا اور تمھیں حاکم بنایا اور تمہیں ایسی چیزیں عطا کیں کہ دنیا والوں میں کسی کو
____________________
(۱)اعراف ۱۶۰، ۱۶۲
ویسی نہیں دی ہیں، اے میری قوم! مقدس سر زمین میں جسے خدا وند عالم نے تمہارے لئے مقر ر کیا ہے داخل ہو جاؤ اور الٹے پاؤں واپس نہ ہونا ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوگے ،ان لوگوں نے کہا: اے موسیٰ ! وہاں ستمگر لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہر گز نہیں جائیں گے جب تک کہ وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہو جائیں گے ، خدا ترس دومردوں نے جن پر خدا نے نعمت نازل کی تھی کہا:تم لوگ ان کے پاس شہر کے دروازہ سے داخل ہو جاؤ اگر تم دروازہ میں داخل ہوگئے تو یقیناً ان پر کامیاب ہو جاؤ گے اورا گرایمان رکھتے ہو تو خدا پر بھروسہ کرو ، ان لوگوں نے کہا: اے موسیٰ ! وہ لوگ جب تک وہاں ہیں ہم لوگ ہرگز داخل نہیں ہوں گے ! تم اور تمہارا رب جائے اوران سے جنگ کرے ہم یہیں پر بیٹھے ہوئے ہیں، کہا: پروردگارا! میں صرف اپنا اور اپنے بھائی کا ذمہ دار ہوں، میرے اور اس گنا ہ گار جماعت کے درمیان جدائی کر دے،فرمایا :یہ سرزمین ان کے لئے چالیس سال تک کے لئے ممنوع ہے وہ لوگ ہمیشہ سرگرداںاور پریشان رہیں گے اور تم اس گناہ گار قوم پر غمگین مت ہو۔( ۱ )
کلمات کی تشریح
۱۔''اسرائیل'': یعقوب،آپ ابراہیم خلیل ﷲ کے فرزند حضرت اسحق کے بیٹے ہیں،ان کا لقب اسرائیل ہے بنی اسرائیل ان ہی کی نسل ہے جوان کے بارہ بیٹوں سے ہے۔
۲۔'' یسومونکم'': تمکو عذاب دیتے تھے، رسوا کن عذاب ۔
۳۔''یستحیون'': زندہ رکھتے تھے۔
۴۔''یعکفون'': خاضعانہ طور پر عبادت کرتے تھے، پابندتھے ۔
۵۔''خوار'' : گائے اور بھیڑ کی آواز ۔
۶ ۔''لن نبرح'': ہم ہرگز جدا نہیں ہوں گے، آگے نہ بڑھیں گے ۔
۷۔''فتنتم'':تمھارا امتحان لیا گیا، آزمائش خدا وندی ، بندوں کے امتحان کے لئے ہے اور ابلیس اور لوگوں کا فتنہ ، گمراہی اور زحمت میں ڈالنے کے معنی میں ہے، خدا وند عالم نے لوگوں کو فتنہ ابلیس سے خبردار کیا ہے اور فرمایا ہے:
____________________
(۱) مائدہ۲۰، ۲۶
( یا بنی آدم لا یفتنّنکم الشیطان )
اے آدم کے بیٹو!کہیں شیطان تمھیں فتنہ اور فریب میں مبتلا نہ کرے: اور لوگوں کے فتنہ کے بارے میں فرمایا:
( اِنّ الذّین فتنوا المومنین و المومنات ثّم لم یتوبوا فلهم عذاب جهنم و لهم عذاب الحریق )
بیشک جن لوگوں نے با ایمان مردوں اور عورتوں کو زحمتوں میں مبتلا کیا ہے پھر انھوں نے توبہ نہیں کی ان کیلئے جہنم کا عذاب اور جھلسا دینے والی آگ کا عذاب ہے۔
۸۔'' باری'': خالق اور ہستی عطا کرنے والا
۹۔ ''أسباطاً'' : اسباط یہاں پر قبیلہ اور خاندان کے معنی میں ہے۔
۱۰۔''فا نبجست'': ابلنے لگا ، پھوٹ پڑا ۔
۱۱۔''المن والسلوی''ٰ:المن؛جامد شہد کے مانند چپکنے والی اور شیریں ایک چیز ہے اور السلوی ؛ بٹیر،ایساپرندہ جس کا شمار بحر ابیض کے پرندوں میں ہوتا ہے ، جو موسم سرما میں مصر اور سوڈان کی طرف ہجرت اختیار کرتا ہے۔
۱۲۔''حِطّة'': ہمارے گناہ کو جھاڑ دے،دھو دے، ہمارے بوجھ کو ہلکا کردے۔
۱۳۔''رفعنا'': ہم نے بلند کیا ، رفعت عطا کی۔
۱۴۔''میثاقکم'': تمہارا عہد و پیمان ، میثاق : ایسا عہد وپیمان جس کی تاکید کی گئی ہو، عہد وپیمان کا پابند ہونا۔
۱۵۔''رجز'': عذاب ، رجز الشیطان... اس کا وسوسہ۔
۱۶۔''یتیھون'': حیران و پریشان ہوتے ہیں ،راستہ بھول جاتے ہیں۔
۱۷۔''لا تأس'': غمز دہ نہ ہو، افسوس نہ کرو۔
۱۸۔''لا تعدوا'': تجاوز نہ کرو ،ظلم وستم نہ کرو۔
۱۹۔''میثاقاً غلیظاً'': محکم و مظبوط عہد و پیمان ۔
۲۰۔''الحوایا'': آنتیں
۲۱۔''شرعًّا'': آشکار اور نزدیک۔
۲۲۔جعل لھم: ان کے لئیقانون گزاری کی، قانون مقرر و معین کیا۔
آیات کی تفسیر
خدا وند عالم نے گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل سے فرما یا :اُن نعمتوںکو یاد کرو جو ہم نے تمہیں دی ہیں اور تمہارے درمیان پیغمبروں اور حکّام کو قرار دیا نیز من وسلویٰ جیسی نعمت جو کہ دنیا میں کسی کو نہیں د ی ہے تمہیںدی ، خدا وند سبحان نے انھیں فرعون کی غلامی، اولاد کے قتل اور عورتوں کو کنیزی میں زندہ رکھنے کی ذلت سے نجات دی،فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا اور انہیں دریا سے عبور کرا دیا، اس کے باوجود جب انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ بتوں کی عبادت اورپوجا میں مشغول ہیں ، تو موسیٰ سے کہا : ہمارے لئے بھی انہی کے مشابہ اور مانند خدا بنادو تاکہ ہم اس کی عبادت اور پرستش کریں ! اور جب حضرت موسیٰ کوہِ طور پر توریت لینے گئے تو یہ لوگ گوسالہ پرستی کرنے لگے اور جب موسیٰ نے انھیں حکم دیا کہ اس مقدس سر زمین میں داخل ہو جائیںجو خدا نے ان کے لئے مقرر کی ہے تو ان لوگوں نے کہا : اے موسیٰ ! وہاں ظالم اور قدرت مند گروہ (عمالقہ )ہے جب تک وہ لوگ وہاں سے خارج نہیں ہوں گے ہم وہاں داخل نہیں ہوسکتے''یشوع'' یا ''یسع'' اور ان کی دوسری فرد نے ان سے کہا : شہر میں داخل ہو جاؤ بہت جلدی کا میاب ہو جاؤ گے،تو انھوں نے سر کشی اور نا فرمانی کی اور بولے:اے موسیٰ تم اور تمہارا رب جائے اور عمالقہ سے جنگ کرے ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں! موسیٰ نے کہا : پروردگارا ! میں صرف اپنے اور اپنے بھا ئی کا مالک و مختار ہوں میرے اور اس گناہ گار قوم کے درمیان جدائی کردے! خداوند سبحان نے فرمایا : یہ مقدس اور پاکیزہ سر زمین ان لوگوں پرچالیس سال تک کے لئے حرام کر دی گئی ہے اتنی مدت یہ لوگ سینا نامی صحرا میں حیران و سرگرداں پھر تے رہیں گے تم ان گناہ گاروں کی خاطر غمگین نہ ہو۔
خدا وندعالم ان لوگوں کے بارے میں سورۂ اعراف میں فرماتا ہے : بنی اسرائیل کو بارہ خاندان اور قبیلوں میں تقسیم کیا اورانہوں نے جب موسیٰ سے پانی طلب کیا تو ہم نے موسی پر وحی کی کہ اپنا عصا پتھر پر مارو، اُس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑ ے ہر قبیلہ کے لئے ایک چشمہ، نیزبادل کو ان کے سروں پر سایہ فگن کر دیا تاکہ خورشید کی حرارت وگرمی سے محفوظ رہیں ،شہد کے مانند شرینی اور پرندہ کا گوشت ان کے کھانے کے لئے فراہم کیا، پھر کچھ مسافت طے کرنے کے بعدان سے کہا گیا : اس شہر میں جو کہ تمہارے رو برو ہے سکونت اختیار کرو اور اس کے محصولات سے کھاؤ
اور شہر کے دروازے سے داخل ہوتے وقت خدا کا شکر ادا کرو اور اس کا سجدہ ادا کرتے ہوئے کہو !''حطة'' یعنی خدا وندا ! ہمارے گناہوں کو بخش دے ستمگروں نے اس لفظ کو بدل ڈا لا اور ''حطة''کے بجائے''حنطة''کہنے لگے ،( ۱ ) یعنی ہم گندم ( گیہوں ) کے سراغ میں ہیں! خداوندعالم نے ان کے اس اعمال کے سبب آسمان سے عذاب نازل فرمایا۔
خدا وند عالم نے سورۂ نساء میں فرمایا: اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ! تم سے اہل کتاب کی خوا ہش ہے کہ تم کوئی کتاب ان کے لئے آسمان سے نازل کرو،یہ لوگ تو اس سے پہلے بھی اس سے عظیم چیز کا حضرت موسیٰ سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ خدا کو ہمیں آشکار اور کھلم کھلا دکھلادو تا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں ! ہم نے ان کے گناہوں کو معاف کیااور کوِہ طور کو ان کے اوپر جگہ دی۔
اسرائیل(یعقوب) کی پسندیدہ اور مرغو ب ترین غذا دودھ ا وراونٹ کا گوشت تھی ، یعقوب ایک طرح کی بیماری میں مبتلا ہوئے اورخدا نے انھیں شفا بخشی ،تو انھوں نے بھی خدا وند عالم کے شکرانے کے طور پر محبوب ترین کھانے اور پینے کی چیزوں کو جیسے دودھ اور اونٹ کا گوشت وغیرہ کو اپنے اوپر حرام کر لیا اور اسی طرح انھوں نے جگر اور گردے کی مخصوص چربی نیز دیگر چربی کو بھی اپنے اوپر حرام کر لیا کیونکہ اس چربی کو ماضی میں قر بانی کے لئے لے جاتے تھے اور آگ اسے کھا جاتی تھی ۔( ۲ )
قوم یہود کا خدا سے جو عہد وپیمان تھا منجملہ ان کے ایک یہ تھا کہ جن کے مبعوث ہونے کی موسیٰ ابن عمران نے بشارت دی ہے یعنی حضرت عیسیٰ اور حضرت خاتم الا نبیاء محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت،ان پر ایمان لائیں، اس بشارت کو اس سے پہلے ہم نے توریت کے سفر تثنیہ سے نقل کیا ہے۔
احکام کے بارے میں بھی انھوں نے عہد وپیمان کیا کہ شنبہ یعنی سنیچر کے دن تجاوز نہیں کریںگے ( کام کاج چھوڑ دیں گے ) خدا نے اس سلسلے میں محکم اور مضبوط عہد وپیمان لیا تھا،ان لوگوں نے خدا سے کئے ہوئے عہد وپیمان کو توڑ ڈالا اورآیات خدا وندی کا انکار کر گئے اور پاک وپاکیزہ خاتون مریم پر عظیم بہتان
____________________
(۱)آیت کی تفسیر کے ذیل میں بحارالا نوار اور مجمع البیان میں اسی طرح مذکور ہے
(۲ ) سیرئہ ابن ہشام ،طبع حجازی قاہرہ ، ج۲ ، ص ۱۶۸ ،۱۶۹ جو کچھ ہم نے متن میں ذکر کیا ہے تفسیر طبری اور سیوطی سے ماخوذ ہے میرے خیال میں جو کچھ سیرئہ ہشام میں ہے وہ متن میں مذکور عبارت سے زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے
باندھا اور زبر دست الزام لگایا اسی لئے تو خدا وند عالم نے تادیب کے عنوان سے بہت سی پاکیزہ چیزوں کو جو ان پر حلال تھیں حرام کردیا اورجب وہ لوگ گوسالہ پرستی کرنے لگے تو انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں یعنی جس نے بھی گوسالہ پر ایمان نہیں رکھا گوسالہ پرستوں قتل کرے اسی طرح جب یہ لوگ خدا پر ایمان لانے سے مانع ہوئے اور سود کا معاملہ کرنے لگے اور سود کھانے لگے ، باوجود یکہ سود (ربا ) سے انھیں منع کیا گیا تھا تواُن پر حلال اورپاکیزہ چیزیں بھی حرام کردی گئیں۔
ان کی دوسری مخالفت اس پیمان کا توڑنا تھا جو انھوں نے خدا سے کیا تھا کہ شنبہ کے دن مچھلی کا شکار نہیں کریںگے اوراس کے لئے انھیں سخت تاکید کی گئی تھی ،سنیچر کے دن مچھلیاںساحل کے کنارے سطح آب پر آجاتی تھیں لیکن دیگر ایام میں ایسا نہیں کرتی تھیں اور یہ ان کا مخصوص امتحان تھا سنیچر کے دن چھٹی کرنا صرف اور صرف بنی اسرائیل سے مخصوص تھا ،وہی لوگ کہ جنھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا، اس امتحان میں گرفتار ہوئے۔
خدا وندعالم سورۂ نساء میں فرماتا ہے:
اہل کتاب یہودی تم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے لئے آسمان سے کوئی کتاب نازل کرو،یہ لوگ تو اس سے پہلے بھی اس سے عظیم چیز کا حضرت موسیٰ سے مطالبہ کر چکے ہیںکہ خدا کو ہمیں آشکار اور کھلم کھلا دکھاؤ تا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں ! ہم نے ان کے گنا ہوں کو معاف کیااور کوِہ طور کوان کے سروں پر لٹکادیا اوران سے سخت اور محکم عہد و پیمان لیا کہ جو کچھ موسیٰ ابن عمران ان کے لئے لائے ہیںاس پر ایمان لاکر عمل کریں گے ، ہمارے پیمان کا بعض حصّہ خدا کے پیغمبر بالخصوص حضرت عیسیٰ ابن مریم اورمحمد ابن عبد ﷲ پر ایمان لانا تھا ، لیکن ان لوگوں نے مریم عذرا پر نا روا تہمت لگائی اور توریت کے احکام کو کذب پر محمول کیا ، خدا کے نبیوں کا انکار کیا اور بہت سوں کو قتل کر ڈالا اور راہ خدا سے روکا ، سود لیا، لوگوں کے اموال کو ناجائز طور پر خورد و برد کیا تو ہم نے بھی ان تمام ظلم و ستم کے باعث ان پاکیزہ چیزوں کو جو اس سے پہلے ان کے لئے حلال تھیں حرام کردیا، ان پر حرام ہونے والی اشیاء میں سنیچر کے دن ساحل پر رہنے والوں کے لئے مچھلی کا شکار کرنا بھی تھا جہاں اس دن مچھلیاں آشکار طور پران سے نزدیک ہو جاتی تھیں اور خود نمائی کرتی تھیں۔
بحث کا نتیجہ
خدا وندعالم نے بنی اسرائیل کو مصر کے ''فرعونیوں '' اور شام کے''عمالقہ'' اور اس عصر کی تمام ملتوں پر فضیلت اور برتری دی تھی بہت سے انبیاء جیسے موسیٰ ، ہارون ،عیسیٰ اور ان کے اوصیاء کوان کے درمیان مبعوث کیا اوراس سے بھی اہم یہ کہ توریت ان پر نازل کی ، ان سے سخت اور محکم پیمان لیا تا کہ جو کچھ ان کی کتابوں میں مذکور ہے اس پر عمل کریں ،''من وسلویٰ'' جیسی نعمت کا نزول ، پتھر سے ان کے لئے پانی کا چشمہ جاری کرنا وغیرہ وغیرہ نعمتوںسے سرفرازفرمایا، لیکن ان لوگوں نے تمام نعمتوں کے باوجودآیات الٰہی کا انکار کیا اور گوسالہ کے پجاری ہو گئے، سود لیا ،لوگوں کے اموال ناجائز طورپر کھائے اور اس کے علاوہ ہر طرح کی نافرمانی اور طغیانی کی، ایسے لوگوں کے اپنے آلودہ نفوس کی تربیت کی سخت ضرورت تھی اس لئے خدا وند عالم نے ان پر خود کو قتل کرنا واجب قرار دیا نیز سنیچر کے دن دنیاوی امور کی انجام دہی ان پر حرام کردی ،لیکن ان لوگوں نے سنیچر کے دن ترک عمل پر اختلاف کیا ، جیسا کہ اس ساحلی شہر کے لوگوں نے بھی اس سلسلے میں حیلے( ۱ ) اور بہانے سے کام لیا !خدا وندسبحان نے ان چیزوں کو جو کچھ اسرائیل نے اپنے او پر حرام کیا تھا(چربی ،اونٹ کا گوشت اور اس جیسی چیزوں کا کھا نا) ان کی جان کی حفاظت کی غرض سے ان پر بھی حرام کردیا، اس کے علاوہ چونکہ بنی اسرئیل ہمیشہ قبائلی اتحاد و یکجہتی اور اٹوٹ رشتہ کے محتاج تھے تا کہ ا ن سرکش وطاغی عمالقہ اور قبطیوں کا مقابلہ کر سکیں جو ان کو چاروں طرف سے اپنے محاصرہ میں لئے ہوئے تھے، لہٰذا خداوندعالم نے بھی قبل اس کے کہ ہیکلِ سلیمان نامی معروف مسجد کی تعمیر کریں،ان پر واجب قرار دیا کہ سب ایک ساتھ عبادت کے لئے '' خیمہ اجتماع'' کے پاس جمع ہوں اور اپنی دینی رسومات کو ہارون کے فرزند وں کی سر پرستی میں بجا لائیں جس طرح عیسیٰ ابن مریم کواور ان کی مادر گرامی مریم کو جو کہ حضرت داؤد کی نسل (جوبنی اسرائیل کے یہودا کی نسل )سے تھیںان کی طرف روانہ کیااور بعض وہ چیزیں جوان پر حرام تھیں حلال کر دیا ،جیسا کہ حضرت عیسیٰ کی زبانی سورۂ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے:
____________________
(۱) مادہ''سبت '' کے سلسلے میں کتاب قاموس کتاب مقدس ، تفسیر طبری ، ابن کثیر اور سیوطی ملاحظہ ہو ۔
( اِنّی قد جئتکم بآية من ربّکم... و مصدقاً لما بین یدیّ من التوراة و لأحلّ لکم بعض الذی حرّم علیکم... ) ( ۱ )
میں تمہارے پر وردگار کی جانب سے تمہارے لئے ایک نشانی لایا ہوں اور جو کچھ مجھ سے پہلے توریت میں موجود تھااس کی تصدیق اور اثبات کرتا ہوں اورآیا ہوں تاکہ بعض وہ چیزیں جو تم پرحرا م کی گئی تھیں حلال کر دوں۔
جو کچھ ہم نے ذکر کیااس سے واضح ہو گیاکہ انبیاء بنی اسرائیل موسیٰ ابن عمران سے لے کر عیسیٰ ابن مریم تک بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے ہیں ، نیز توریت میں بعض شرعی احکام بھی صرف بنی اسرائیل کی مصلحت کے لئے نازل ہوئے ہیں اس بنا پر ایسے احکام موقت یعنی وقتی ہوتے ہیںاور یہ ان چیزوں کے مانند ہیںجنہیں اسرائیل( یعقوب) نے خود اپنے اوپر حرا م کرلیا تھا لہٰذاان میں بعض کی مدت عیسیٰ ابن مریم کی بعثت سے تمام ہوگئی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ا ُن محرمات میں سے کچھ کوان کے لئے حلال کر دیا اور کچھ باقی بچے ہوئے تھے جن کی مدت حضرت خاتم الانبیاء محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت تک تھی وہ بھی تمام ہو گئی لہٰذاایسے میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم آئے اور ان سب کی مدت تمام ہونے کو بیان فرمایا۔
خدا وند عالم اس موضوع کو سورۂ اعراف میں اس طرح بیان کرتا ہے :
( الذین یتبعون الرسول النّبی الأمیّ الذی یجدونه مکتوباً عندهم فی التوارة و الأنجیل یا مرهم با لمعروف و ینها هم عن المنکر ویحلّ لهم الطيّبات و یحرّم علیهم الخبائث و یضع عنهم أِصر هم و الأغلال التی کانت علیهم ) ( ۲ )
جو لوگ اس رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیںجس کے صفات توریت اور انجیل میں جو خود ان کے پاس موجود ہے ،لکھا ہوا ہے وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی اور منکر سے روکتا ہے، پاکیزہ چیزوں کوان کے لئے حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اوران کے سنگین بار کو ان پر سے اٹھا دیا ہے اور جن زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے انھیں اس سے آزاد کردیتا ہے۔
'' اِصرھم'' :ان کے سنگین بوجھ یعنی وہ سخت تکالیف و احکام جوان کے ذمّہ تھے۔
نسخ کی یہ شان حضرت موسیٰ کی شریعت میں ان سے پہلے شرائع کی بنسبت تھی ، اسی طرح بعض وہ چیزیں
جو موسیٰ کی شریعت میں تھیں حضرت خاتم الانبیاء محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت میں نسخ ہو گئیں۔
''نسخ''کی دوسری قسم یہ ہے کہ یہ نسخ صرف ایک پیغمبر کی شریعت میں واقع ہو تاہے ،جیسا کہ آگے آئے گا۔
____________________
(۱)آل عمران ۴۹۔ ۵۰
(۲)اعراف ۱۵۷
ایک پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت میں نسخ کے معنی
ایک پیغمبر کی شریعت میں نسخ کے معنی کی شناخت کے لئے ، اس کے کچھ نمونے جو حضرت خاتم الانبیاء کی شریعت میں واقع ہوئے ہیں بیان کررہے ہیں:
یہ نمونہ وجوب صدقہ کے نسخ ان لوگوں کے لئے تھا جو چاہتے تھے کہ پیغمبر سے نجویٰ اورراز ونیاز کی باتیں کریں ،جیسا کہ سورۂ ''مجادلہ ''میں ذکر ہوا ہے:
( یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا ِذَا نَاجَیْتُمْ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَةً ذَلِکَ خَیْر لَکُمْ وََطْهَرُ فَِنْ لَمْ تَجِدُوا فَِنَّ ﷲ غَفُور رَحِیم (۱۲) ََشْفَقْتُمْ َنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ فَِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ ﷲ عَلَیْکُمْ فََقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وََطِیعُوا ﷲ وَرَسُولَهُ وَﷲ خَبِیر بِمَا تَعْمَلُونَ (۱۳ ) ( ۱ )
اے صاحبان ایمان! جب رسول ﷲ سے نجویٰ کرنا چاہو تواس سے پہلے صدقہ دو ، یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ ہے اور اگرصدقہ دینے کو تمھارے پاس کچھ نہ ہو تو خدا وندعالم بخشنے والا اور مہر بان ہے، کیا تم نجویٰ کرنے سے پہلے صدقہ دینے سے ڈرتے ہو ؟ اب جبکہ یہ کام تم نے انجام نہیں دیا اور خدا نے تمہاری توبہ قبول کر لی، تو نماز قائم کرو ، زکوة ادا کرو اور خدا و پیغمبر کی اطاعت کرو کیو نکہ تم جو کام انجام دیتے ہو اس سے خدا آگاہ اور باخبر ہے۔
اس داستان کی تفصیل تفاسیر میں اس طرح ہے:
بعض صحابہ حدسے زیا دہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نجویٰ کرتے تھے اور اس کام سے یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاص الخاص اور نزدیک ترین افراد میں سے ہیں ،رسول اکرم کا کریمانہ اخلاق بھی ا یسا تھا کہ کسی ضرورتمند کی درخواست کو رد نہیں کرتے تھے ، یہ کام رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے بسا اوقات دشواری کا باعث بن جاتا تھااس کے باوجود آپ اس پر صبر وتحمل کرتے تھے ۔
____________________
(۱)مجادلہ ۱۲، ۱۳،( اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں تفسیر طبری اور دیگر روائی تفاسیر دیکھئے )
اس بنا پر جو لوگ پیغمبر سے نجوی کرنا چاہتے تھے ان کے لئے صدقہ دینے کا حکم نازل ہوا پھر اس گروہ نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نجویٰ کرنا چھوڑ دیا لیکن حضرت امام علی بن ابی طالب نے ایک دینار کو دس درہم میں تبدیل کر کے دس مرتبہ صدقہ دے کر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اہم چیزوں کے بارے میں نجویٰ و سر گوشی فرمائی. اس ہدف کی تکمیل اور اس حکم کے ذریعہ اس گروہ کی تربیت کے بعد اس کی مدت تمام ہو گئی اور صدقہ دینے کا حکم منسوخ ہو گیا ( اٹھا لیا گیا)۔
نسخ کی بحث کا خلاصہ اوراس کا نتیجہ
جمعہ کا دن حضرت آدم سے لیکر انبیاء بنی اسرائیل کے زمانے تک یعنی موسیٰ ابن عمران سے عیسیٰ بن مریم تک بنی آدم کے لئے ایک مبارک اور آرام کا دن تھا۔
اسی طرح حضرت آدم اوران کے بعد حضرت ابراہیم کے زمانے تک سارے پیغمبروں نے منا سک حج انجام دئے ، میدان عرفات ،مشعر اور منیٰ گئے اور خانہ کعبہ کا سات بار طواف کیا ، اس کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اس کے بعد اپنے تا بعین اور ماننے والوں کے ہمراہ حج میں خانہ کعبہ کا طواف کیا۔
حضرت نوح نے بھی حضرت آدم کے بعدان کی شریعت کی تجدید کی اور حضرت خاتم الا نبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت کے مانند شریعت پیش کی اوران کے بعد تمام انبیاء نے ا ن کی پیروی کی کیو نکہ خدا وند متعال فرماتا ہے:
۱۔( شرع لکم من الد ین ما وصّیٰ به نوحاً ) ...)(۱ )
تمہارے لئے وہ دین مقرر کیا ہے جس کا نوح کو حکم دیا تھا ۔
۲۔( و ِأن من شیعة لأِبراهیم )
ابراہیم ان کے پیروکاروں اور شیعوں میں تھے۔( ۲ )
۳۔ خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی امت سے بھی فرماتا ہے:
الف۔( اتبع ملّة ابراهیم حنیفاً )
ابراہیم کے خالص اور محکم دین کا اتباع کرو۔
ب ۔( فاتّبعوا ملّة أِبراهیم حنیفاً )
____________________
(۱)شوری ۱۳(۲)،صافات ۸۳
پھر ابراہیم کے خالص اور محکم و استوار دین کا اتباع کرو۔( ۱ )
اس لحاظ سے رسولوں کی شریعتیں حضرت آدم کے انتخاب سے لے کر حضرت خاتمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چناؤ اور انتخاب تک یکساں ہیں مگر جو کچھ انبیاء بنی اسرائیل کی ارسالی شریعت میں موسیٰ ابن عمران سے عیسیٰ بن مریم تک وجود میں آیااس میں خاص کر اس قوم کی مصلحت کا لحاظ کیا گیا تھا، خدا وند عالم ان کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
۱۔( کلّ الطّعام کان حلاً لبنی أسرائیل اِلاّ حرّم اِسرائیل علیٰ نفسه ) ( ۲ )
کھا نے کی تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں ، بجزاس کے جسے اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔
۲۔( و علیٰ الذین هادوا حر منا ما قصصنا علیک من قبل ) ( ۳ )
اور اس سے پہلے جس کی تم سے ہم نے شرح و تفصیل بیان کی وہ سب ہم نے قوم یہود پر حرام کردیا۔
۳۔( اِنّما جعل السبت علیٰ الذین اختلفوا فیه ) ( ۴ )
سنیچر کے دن کی تعطیل صر ف ان لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔
توریت کے سفر تثنیہ کے ۳۳ ویں باب کے چوتھے حصّہ میں بھی صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے:''موسیٰ نے ہمیں با لخصوص اولاد یعقوب کی شریعت کا حکم دیا ہے''
اس تغییر کی بھی حکمت یہ تھی کہ بنی اسرائیل ایک ہٹ دھرم ،ضدی ، جھگڑالواور کینہپرور قوم تھی اس قوم کے لوگ اپنے انبیاء سے عداوت و دشمنی کرتے اور نفس امارہ کی پیروی کرتے تھے اور دشمنوں کے مقابلہ میں سستی ،بے چار گی اور زبوں حالی کا مظاہرہ کرتے ، یہ لوگ اس کے بعد کہ خدا نے ان کے لئے دریا میں راستہ بنایا اور فرعون کی غلامی جیسی ذلت و رسوا ئی سے نجات دی ، گوسالہ پرست ہو گئے اور مقدس سر زمین جسے خدا نے ان کے لئے مہّیا کیا تھا ،عمالقہ کے ساتھ مقابلہ کی دہشت سے اس میں داخل ہو نے سے انکار کر گئے؛ اس طرح کی امت کے نفوس کی از سر نو تربیت اور تطہیرکے لئے شریعت میں ایک قسم کی سختی درکار تھی لہٰذا وہ مومنین جو خود گوسالہ پرست نہیں تھے انہیںگوسالہ پرست مرتدین کو قتل کر ڈالنے کا حکم دیا گیا ، نیزان پر سنیچر کے دن کام کرنا حرام کر دیا گیااور انھیںصحرائے سینا میں چالیس سال تک حیران و سر گرداں بھی رہنا ہڑا۔
____________________
(۱)آل عمران۹۵(۲)آل عمران ۹۳ (۳)نحل ۱۱۸ (۴)نحل ۱۲۴
دوسری طرف ، اس لحاظ سے کہ وہ اپنے زمانہ کے تنہا مومن تھے اور ان کے گرد ونواح کا ،تجاوز گر کافروں اور طاقتور ملتوں نے احاطہ کر رکھا تھا لہٰذا انھیں آپس میں قوی و محکم ارتباط و اتحاد کی شدید ضرورت تھی تا کہ اپنے کمزوریوں کی تلافی کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کریں اور دوسروں سے خود کو جدا کرتے ہوئے اپنی مستقل شناخت بنا ئیں اور اپنے درمیان اتحاد و اتفاق قائم رکھیں ، لہٰذا خداوند عالم نے ان ا ہداف تک پہنچنے کے لئے ان کے لئے ایک مخصوص قبلہ معین فرمایا ،جس میں وہ تابوت رکھا تھا کہ جس میں الواح توریت ، ان سے مخصوص کتاب شریعت اورآل موسیٰ اور ہارون کاتمام ترکہ تھا ۔( ۱ ) نیز بہت سے دیگر قوانین جو ان کے زمان ومکان کے حالات اور ان کی خاص ظرفیت کے مطابق تھے ان کے لئے نازل فرمائے ۔
حضرت عیسی بن مریم کے زمانہ میں بعض حالات کے نہ ہو نے کی وجہ سے ان میں سے بعض قوانین ختم ہوگئے اور عیسیٰ نے ان میں سے بعض محرمات کو خدا کے حکم سے حلال کر دیا ۔
حضرت خاتم الانبیاء کے زمانہ میں بنی اسرائیل شہروں میں پھیل گئے اور تمام لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے ، وہ لوگ جن ملتوں کے درمیان زندگی گزار رہے تھے اس بات سے کہ ان کی حقیقت جدا ہے اور دوسرے لوگ یہ درک کر لیں کہ یہ لوگ ان لوگوں کی جنس سے نہیں ہیں اور ان کارہن و سہن پڑوسیوں اور دیگر ہم شہریوں سے الگ تھلگ ہے ، وہ لوگ آزردہ خاطر رہتے تھے خاص کر شہر والے اسرائیلیوں کو اپنوں میں شمار نہیں کرتے تھے اورانھیں ایک متحد سماج و معاشرہ کے لئے مشکل ساز اور بلوائی سمجھتے تھے، اسی لئے جو احکام انھیں دیگر امتوں سے جدا اور ممتاز کرتے تھے ا ن کے لئے وبال جان ہو گئے سنیچر کے دن کی تعطیل جیسے امور جو کہ تمام امتوں کے بر خلاف تھے ا ن کے لئے بار ہو گئے جیسا کہ سفر تثنیہ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے ۔
حضرت خاتم الانبیاء محمد ابن عبد ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خدا وند عالم کے حکم سے ان کی مشکل بر طرف کر دی اور گزشتہ زمانوں میں جو چیزیںان پر حرام ہو گئی تھیںان سب کو حلال کر دیا ، خدا وندعالم نے سورۂ اعراف میں ارشاد فرمایا :
( الذین یتبعون الرسول النبّی الأمّی الذی یجدونه مکتوباً عندهم فی التوراة و الأنجیل یأمرهم بالمعروف وینها هم عن المنکر ویحلّ لهم الطيّبا ت و یحرّم علیهم الخبائث و یضع عنهم أِصر هم والأغلال الّتی کا نت علیهم ) ( ۲ )
____________________
(۱) سورئہ بقرہ ۲۸۴
(۲)اعراف۱۵۷
وہ لوگ جو اس رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیںجس کے صفات اپنے پاس موجود توریت و انجیل میں لکھا ہواپاتے ہیں وہ پیغمبران لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہوئے منکر اور برائیوں سے روکتا ہے پاکیزہ چیزوں کوان کے لئے حلال اور گند گیوں اورنا پاک چیزوں کو حرام کرتاہے؛ اور ان کے سنگین باران سے اٹھا تے ہوئے ان کی گردن میں پڑی زنجیر کھول دیتا ہے ۔
خدا وندعالم نے اس طرح سے ان احکام کو جو گزشتہ زمانوں میں ان کے فائد ہ کیلئے تھے اور بعد کے زمانے میں جب یہ لوگ عالمی سطح پر دوسرے لوگوں سے مخلوط ہو تے تو یہی احکام ان کے لئے وبال جان بن گئے ، خدا نے ایسے احکام کوان کی گردن سے اٹھا لیا ، لیکن جو احکام حضرت موسیٰ ابن عمران کی شریعت میں تمام لوگوںکے لئے تھے اور بنی اسرائیل بھی انھیں میں سے تھے نہ وہ احکام اٹھا ئے گئے اور نہ ہی نسخ ہوئے جیسے کہ توریت میں قصاص کا حکم، خدا وندعالم سورۂ مائدہ میں اس کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( اِنّا انزلناالتوراة فیها هدیً و نور یحکم بها النبيّون الذین أسلموا للذین هادوا...) (و کتبنا علیهم فیها أنّ النفس با لنفس و العین با لعین والأنف بالأنف و الاذن بالاذن و السّن با لسّن و الجروح قصاص فمن تصدّق به فهو کفّارة له و من لم یحکم بما انزل ﷲ فأولائک هم الظالمون ) ( ۱ )
ہم نے توریت نازل کی کہ جس میں ہدایت اور نورہے ، خدا کے سامنے سراپا تسلیم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسی سے یہود کے درمیان حکم دیاکرتے تھے اوران پر ا س(توریت) میں ہم نے یہ معین کیا کہ جان کے بدلے جان ،آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے عوض کان ،دانت کے عوض دانت ہو اور ہر زخم قصاص رکھتا ہے اور جوقصاص نہ کرے یعنی معاف کردے تو یہ اس کے ( گناہوں )کے لئے کفارہ ہے اور جو کوئی خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق حکم نہ کرے تو وہ ظالم و ستمگر ہے۔
جس حکم قصاص کا یہاں تذکرہ ہے توریت سے پہلے اور اس کے بعد آج تک اس کا سلسلہ جاری ہے،وہ تمام احکام جن کو خدانے انسان کے لئے اس حیثیت سے کہ وہ انسان ہیں مقرر و معین فرمایا ہے وہ کسی بھی انبیاء کے زمانے اور شریعتوں میں تبدیل نہیں ہوئے ۔
____________________
(۱)مائدہ ۴۴ ،۴۵
آیۂ تبدیل کی شان نزول
جب خدا وند سبحان نے شریعت موسیٰ کے بعض احکام کو دوسرے احکام سے حضرت خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت میں تبدیل کردیا( جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے) توقریش نے رسول پر شورش کی اور بولے : تم خدا کی طرف جھوٹی نسبت دے رہے ہو!تو خدا وند عالم نے ا ُن کی بات انھیں کی طرف لوٹاتے ہوئے فرمایا:
( واِذا بدّلنا آية مکان آية و ﷲ اعلم بما ینزّل قالوا اِنّما أنت مفتر...) (اِنما یفتری الکذب الذین لایؤمنون بآیات ﷲ ...)( فکلوا ممّا رزقکم ﷲ حلا لاً طیباً ) ( ۱ )
اور جب ہم کسی حکم کو کسی حکم سے تبدیل کرتے ہیں (اور خدا بہتر جانتا ہے کہ کونسا حکم نازل کرے )تو وہ کہتے ہیں : تم صرف ایک جھوٹی نسبت دینے والے ہو ...،صرف وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو خدا کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا جو کچھ خدا نے تمہارے لئے رزق معین فرمایا ہے اس سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ۔
یعنی کچھ چیزیں جیسے اونٹ کا گوشت ،حیوانات کے گوشت کی چربی تم پر حرام نہیں ہے ، صرف مردار ، خون ، سؤر کا گوشت اور وہ تمام جانورجن کے ذبح کے وقت خدا کا نام نہیں لیا گیا ہے، حرام ہیں، نیز وہ قربانیاں جو مشرکین مکّہ بتوں کو ہدیہ کرتے تھے اسکے بعد خدا وند عالم نے قریش کو خدا پر افترا پردازی سے روکا اور فرمایا : من مانی اور ہٹ دھرمی سے نہ کہو : یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے !چنانچہ ان کی گفتگو کی تفصیل سورۂ انعام میں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( وقالوا هذه أنعام و حرث حجر لا یطعمها اِلاّ من نشاء بزعنمهم و أنعام حرّمت ظهور ها و أنعام لا یذکرون اْسم ﷲ علیها أفترائًً علیه و سیجزیهم بما کانوا یفترون)( و قالوا ما فی بطون هذه الأنعام خالصة لذکورنا و محرّم علیٰ أزواجنا و ِان یکن میتةً فهم فیه شرکاء سیجز یهم و صفهم أنّه حکیم علیم ) ( ۲ )
انھوں نے کہا : یہ چوپائے اور یہ زراعت ممنوع ہے، بجزان لوگوں کے جن کو ہم چاہیں(ان کے اپنے گمان میں )کوئی دوسرا اس سے نہ کھا ئے اور کچھ ایسے چوپائے ہیں جن پر سواری ممنوع اور حرام ہے ! اور وہ
____________________
(۱)نحل ۱۰۱ ، ۱۰۵، ۱۱۴
(۲)انعام ۱۳۸، ۱۳۹
چوپائے جن پر خدا کا نام نہیں لیتے تھے اور خدا کی طرف ان سب کی جھوٹی نسبت دیتے تھے عنقریب ان تمام بہتانوں کا بدلہ انہیں دیا جائے گا اور وہ کہتے تھے : جو کچھ اس حیوان کے شکم میں ہے وہ ہم مردوں سے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے ! اور اگر مر جائے تو سب کے سب اس میں شریک ہیں خدا وند عالم جلد ہی ان کی اس توصیف کی سزا دے گا وہ حکیم اور دانا ہے۔
سورۂ یونس میں بھی اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :
( قل أراْیتم ماأنزل ﷲ لکم من رزق فجعلتم منه حراماًوحلالاً قل آأﷲ أذن لکم أم علیٰ ﷲ تفترون ) ( ۱ )
کہو: جو رزق خدا وند عالم نے تمہارے لئے نازل کیا ہے تم نے اس میں سے بعض کو حلال اور بعض کو حرام کر دیا، کیا خدا نے تمھیں اس کی اجازت دی ہے ؟ یا خدا پر افترا پردازی کر رہے ہو؟
اس طرح رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مشر کین قریش کے درمیان حلال و حرام کا مسٔلہ قریش کے خود ساختہ موضوعات سے لے کر شریعت موسیٰ کے احکام تک کہ جنہیں جسے خدا نے مصلحت کی بناء پر حضرت خاتمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت میں دوسرے احکام سے تبدیل کر دیا ،سب کے سب موضوع بحث تھے۔
مکہ میں قریش ہر وہ حلال و حرام جسے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خداکے فرمان کے مطابق پیش کرتے تھے اور وہ ان کے دینی ماحول کے اور جو کچھ موسیٰ ابن عمران کی شریعت کے بارے میں جانتے تھے اس کے مخالف ہوتا تو عداوت و دشمی کے لئے آمادہ ہو جاتے تھے اسی دشمنی کا مدنیہ میں بھی یہود کی طرف سے سامناہوا، وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ان احکام کے بارے میں جو توریت کے بعض حصے کو نسخ کرتے تھے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے خدا وندعالم سورۂ بقرہ میں اس جدال کو بیان کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے فرماتا ہے:
( أفکلما جاء کم رسول بما لا تهوی انٔفسکم اْستکبرتم ففر یقاً کذبتم و فریقاً تقتلون ) ( ۲ )
کیا ایسا نہیں ہے کہ جب بھی کسی رسول نے تمہاری نفسانی خواہشات کے برعکس کوئی کسی چیز پیش کی ، تو تم نے تکبر سے کام لیا،لہٰذا کچھ کو جھوٹا کہا اور کچھ کو قتل کر ڈالا؟
____________________
(۱)یونس ۵۹
(۲)بقرہ ۸۷
( و اِذا قیل لهم آمنوا بما أنزل ﷲ قالوا نؤمن بما أنزل علینا ویکفرون بما ورائه ) ...)( ۱ )
اور جب ان سے کہا گیا :جو کچھ خدا نے نازل کیا ہی اسپر ایمان لاؤ!تو کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو خود ہم پر نازل ہو اہے اوراس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں۔
اور پیغمبر سے فرماتا ہے:
( ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخیر منها أَومثلها ) )
ہم اُس وقت تک کوئی حکم نسخ نہیں کرتے یااسے تاخیر میں نہیں ڈالتے ہیں جب تک کہ ا س سے بہتر یااس جیسا نہ لے آئیں۔( ۲ )
( ولن ترضیٰ عنک الیهودولا النّصاریٰ حتیٰ تتّبع ملّتهم ) )( ۳ )
یہود ونصاریٰ ہر گز تم سے راضی نہیں ہوں گے جب تک کے ان کے دین کا اتباع نہ کرلو۔
توریت کے نسخ شدہ احکام بالخصوص تبدیلی قبلہ سے متعلق بنی اسرائیل کے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نزاع و جدال کرنے کی خبر دیتے ہوئے خدا وند عالم سورئہ بقرہ میں فرماتا ہے :
''ہم آسمان کی جانب تمھاری انتظار آمیز نگاہ کو دیکھ رہے ہیں ؛ اب اس قبلہ کی سمت جس سے تم راضی اور خشنود ہو جاؤ گے تمہیں موڑ دیں گے ،جہاں کہیں بھی ہو اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف کر لو،اہل کتاب(یہود و نصاریٰ ) خوب جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اوران کے رب کی طرف سے ہے اور تم جیسی بھی آیت اور نشانی اہل کتاب کے سامنے پیش کرو وہ لوگ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔( ۴ )
پس اس مقام پر نسخ آیت سے مراد اس حکم خاص کا نسخ تھا ، جس طرح ایک آیت کو دوسری آیت سے بدلنے سے مراد کہ جس کے بارے میں قریش رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نزاع کر رہے تھے، مکّہ میں قریش اور غیر قریش کے درمیان بعض حلال و حرام احکام کو تبدیل کرنا ہے ۔بنابراین واضح ہوا کہ خدا کے کلام : ''( واِذا بدّلنا آية مکان آية ) '' میں لفظ آیت سے مراد حکم ہے ، یعنی :''( اِذا بدلنا حکماً مکان حکم' ) ' جب بھی کسی حکم کو حکم کی جگہ قرار دیں
اور خدا وندعالم کے اس کلام '' ما ننسخ من آےة أو ننسھا'' سے بھی مراد یہ ہے : جب کبھی کو ئی حکم ہم نسخ کرتے یا اسے تاخیر میں ڈالتے ہیں تواس سے بہتر یااس جیسا اس کی جگہ لاتے ہیں۔
____________________
(۱)بقرہ ۹۱(۲)بقرہ ۱۰۶(۳)بقرہ ۱۲۰(۴) بقرہ۱۴۴ ۱۴۵
حکم کو تاخیر میں ڈالنے کی مثال : موسی کی شریعت میں کعبہ کی طرف رخ کرنے کوتاخیر میں ڈالنا اوراس کا بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کے حکم سے تبدیل کرنا ہے کہ اس زمانہ میں بنی اسرائیل کے لئے مفیداور سود مند تھا۔
نسخ حکم اور اسے اسی سے بہتر حکم سے تبدیل کرنے کی مثال خاتم الانبیاء کی شریعت میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کے حکم کا منسوخ کرنا ہے کہ تمام لوگ تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنا رخ کعبہ کی طرف کریں۔پس ایک آیت کے دوسری آیت سے تبدیل کرنے کا مطلب ایک حکم کو دوسرے حکم سے تبدیل کرنا ہے ، اس طرح واضح ہو گیا کہ خدا وند عالم جو احکام لوگوں کے لئے مقرر کرتا ہے کبھی انسان کی مصلحت اس حیثیت سے کہ وہ انسان ہے اسمیں لحاظ کی جاتی ہے ایسے احکام نا قابل تغییرو تبدیل ہوتے ہیں جیسا کہ خداوندعالم نے سورۂ روم میں اس کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:
( فأ قم وجهک للدین حنیفاً فطرت ﷲ التی فطر الناس علیها لا تبدیل لخلق ﷲ ذلک الدین القیم و لٰکنّ أکثر الناس لا یعلمون ) ( ۱ )
اپنے رخ کو پروردگار کے خالص اور پاکیزہ دین کی طرف کر لو، ایسی فطرت کہ جس پر خدا وندعالم نے انسان کی تخلیق فرمائی ہے آفرینش خدا وندی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہے یہی محکم و استوار دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
یعنی اُن قوانین میں جنھیں خدا وند عالم نے لوگوں کی فطرت کے مطابق بنائے ہیں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے ،سورۂ بقرہ میں اسی کے مانندخدا کا کلام ہے:
( والوالدات یرضعن أولا دهنّ حولین کاملین لمن أراد أن یتم الرضاعة ) ( ۲ )
اور جو مائیں زمانہ رضاعت کو کامل کرنا چاہتی ہیں ، وہ اپنے بچوں کو مکمل دو سال دودھ پلائیں۔
یہ مائیں کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی زندگی گزارتی ہوں ان میں کوئی فرق نہیں ، خواہ حضرت آدم کی بیوی حواہوں جو اپنے نومولودکو درخت کے سائے میں یا غار میں دودھ پلائیں، یاان کے بعد کی نسل ہو ، جو غاروں، خیموںاور محلوں میں دودھ پلاتی ہے دو سال مکمل دودھ پلانا ہے۔
اسی طرح بنی آدم کے لئے کسی تبدیلی کے بغیر روزہ ، قصاص اور ربا (سود) کی حرمت کا حکم ہے، جیسا
____________________
(۱)روم ۳۰
(۲)بقرہ ۲۳۳۔
کہ خدا وند سبحان سورۂ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے :
۱۔( یا أيّها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ) ( ۱ )
اے صاحبان ایمان! روزہ تم پراسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض تھا شاید پرہیز گار ہو جاؤ۔
۲۔( یا أيّها الذین آمنواکتب علیکم القِصاص ) )( ۲ )
اے صاحبان ایمان ! تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے۔
۳۔( و أحلّ ﷲ البیع وحرّم الرّبا ) )( ۳ )
خدا وندعالم نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام کیاہے۔
یہ اور دیگر وہ احکام جسے خدا وندعالم نے انسان کی انسانی فطرت کے مطابق اسکے لئے مقرر فرمایا ہے کسی بھی آسمانی شریعت میں تغییر نہیں کرتے، یہ احکام قرآن میں لفظ''وصّٰی ، یوصیکم، وصےةاور کتب'' جیسے الفاظ سے تعبیر ہوئے ہیں۔
لیکن جن احکام کو خداوندعالم نے خاص حالات کے تحت بعض لوگوں کے لئے مقرر کیا ہے ، ان کی مدت بھی ان حالات کے ختم ہو جانے سے ختم ہوجاتی ہے جیسے وہ احکام جنھیں بنی اسرائیل سے متعلق ہم نے اس سے پہلے ذکر کیا جواُن کے خاص حالات سے مطابقت رکھتے تھے، یا وہ احکام جو خدا وندعالم نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ مکّہ سے ہجرت کرنے والوں کے لئے مقرر فرمائے اور عقد مواخات کے ذریعہ ایک دوسرے کا وارث ہونا انصار مدنیہ کے ساتھ ہجرت کے آغاز میں قانونی حیثیت سے متعارف اور شناختہ شدہ تھا پھر فتح مکّہ کے بعداس کی مدت تمام ہوگئی اور یہ حکم منسوخ ہو گیا، خدا وند عالم سورۂ انفال کی ۷۲ ویں ۷۵ ویں آیت تک اس کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( اِنّ الذین آمنو أوهاجروا )
وہ لوگ جو ایمان لائے اور مکّہ سے ہجرت کی۔
( واّلذین آووا ونصروا )
____________________
(۱)بقرہ ۱۸۳
(۲) بقرہ ۱۷۸
(۳) بقرہ ۲۷۵.
اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور نصرت فرمائی یعنی مدینہ میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے انصار ۔
( أولآء ک بعضهم أولیاء بعض )
ان لوگوں میں بعض ، بعض کے وارث اور ولی ہیں،یعنی میراث لینے اور نصرت کرنے کی ولایت رکھتے ہیں.
( والذین آمنوا ولم یهاجروا مالکم من ولایتهم من شیئٍ حتّیٰ یهاجروا والذین کفروا بعضهم أولیاء بعض )
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا لیکن ہجرت نہیں کی تم لوگ کسی قسم کی ولایت ان کی بہ نسبت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں... اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیںاُن میں سے بعض، بعض کے ولی اور سرپرست ہیں۔
پھر خدا نے اس حکم کے نسخ ہونے کو اس طرح بیان فرمایا ہے :
( وأولوا الأرحام بعضهم أولی ببعض فی کتا ب ﷲ )
اقرباء کتاب الٰہی میں آپس میں ایک دوسرے کی بہ نسبت اولیٰ اور سزاوار ترہیں۔
یعنی ان احکام میں جنھیں خدا وند عالم نے تمام انسانوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اقرباء کو حق تقدم اور اولویت حاصل ہے۔( ۱ )
خلاصہ، قوم یہود نے جب قرآن کی الٰہی آیات کو سنا اور دیکھا کہ صفات قرآن جو کچھ حضرت خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت کے متعلق ان کے پاس موجود ہے اس کی تصدیق اور اس کاا ثبات کر رہے ہیں تو وہ اس کے منکر ہوگئے اور بولے: ہم صرف اس توریت پر جو ہم پر نازل ہوئی ہے ایمان رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ انجیل اور قرآن پر ایمان و یقین نہیں رکھتے ،خدا وندعالم نے بھی قرآن کی روشن آیات اور اسکے معجزات اور احکا م کے ارسال کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: فاسقوں(کافروں )کے سوا کوئی اس کا منکر نہیں ہوگا اور پھر فرمایا: ہم شریعت کے ہر حکم کو نسخ کرتے ہیں( جیسے بیت المقدس کے قبلہ ہونے کے حکم کا منسوخ ہونا) یاہم اسے مؤخرکرتے ہیں تواُس سے بہتر یااسی جیسا حکم لوگوں کے لئے پیش کرتے ہیں ، خدا وند عالم خود زمین و آسمان کا مالک ہے ،وہ جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے یہود و نصاریٰ رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ہر گز راضی نہیں ہوںگے مگر یہ کہ جوان پر احکام نازل ہوئے ہیںان سے دست بردار ہو جائیں اوران کی شریعت کے احکام کے پابند ہوجائیں۔
خدا وندعالم اسی مفہوم کی دوسرے انداز میں تکرار کرتے ہوئے سورئہ اسراء میں فرماتا ہے:
____________________
(۱)اس آیت کی تفسیر کے لئے مجمع البیان ، تفسیر طبری اور دوسری روائی تفاسیرکی جانب رجوع کیجئے.
( و آتینا موسیٰ الکتاب و جعلنا ه هدیً لبنی اِسرائیل ) ( ۱ )
ہم نے موسیٰ کو کتا ب دی اوراسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا،پھر فرماتا ہے :
( انّ هذا القرآن یهدی للتی هی اقوم ) ( ۲ )
یہ قرآن محکم اور استوارترین راہ کی ہدایت کرتا ہے،یعنی قرآن کا راستہ اس سے وسیع اوراستوارتر ہے جو موسی کی کتاب میں آیا ہے۔
ہم نے ربوبیت کے مباحث میں بات یہاں تک پہنچائی کہ رب العالمین نے انسان کے لئے اسکی فطرت اور سرشت کے مطابق ایک نظام معین کیا ہے پھر راہ عمل میں ان مقررات اور قوانین کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ، انشاء ﷲ آئندہ بحث میں اس بات کی تحقیق و بر رسی کریں گے کہ رب العالمین کس طرح سے انسان کو دنیا و آخرت میں پاداش و جزا دیتا ہے۔
____________________
(۱) اسرائ۲
(۲)اسرائ۹
۲
ربّ العالمین اور انسان کے اعمال کی جزا
الف وب:دنیا و آخرت میں
ج:موت کے وقت.
د:قبر میں
ھ: محشر میں
و:بہشت وجہنم میں
ز:صبر وتحمل کی جزا.
ح: نسلوں کی میراث؛ عمل کی جزا
۱۔
انسان اور دنیا میں اس کے عمل کی جزا
ہم تمام انسان اپنے عمل کا نتیجہ دنیاوی زندگی میں دیکھ لیتے ہیں جو گندم ( گیہوں) بوتا ہے وہ گندم ہی کاٹتا ہے اور جو جَو بوتا ہے وہ جَو کا ٹتاہے اسی طرح سے انسان اپنی محنت کا نتیجہ کھاتا ہے۔
یہ سب کچھ دنیاوی زندگی میں ہمارے مادی کارناموں کے آثار کاایک نمونہ ہے۔ دنیاوی زندگی میں ہمارے اعمال مادی آثار کے علاوہ بہت سارے معنوی آثار بھی رکھتے ہیں مثال کے طور پر انسانوں کی زندگی میں صلۂ رحم کے آثار ہیں،جن کی خبررسول خدا نے دیتے ہوئے فرمایا :
''صلة الرّحم تزید فی العمر وتنفی الفقر''
اقرباء و اعزا ء کے ساتھ صلہ ٔرحم کرنا عمر میں اضافہ اور فقر کو دور کرنے کا باعث ہوتا ہے۔
نیز ارشاد فرمایا:
''صلة الرحم تزید فی العمر،وصدقة السر تطفیء غضب الربّ ، و اِنّ قطیعة الرّحم و الیمین الکاذبة لتذرٰان الدیار بلا قِعَ من أهلها و یثقلان الرحم و اِنَ تثقّل الرحم انقطاع النسل''
اقرباء و اعزا ء کے ساتھ صلہ رحم کرنا عمر میں اضافہ کا سبب ہے اور مخفی طور پر صدقہ دینا غضب الٰہی کو خاموش کرتا ہے، یقیناًاقرباء واعزاء سے قطع تعلق رکھنا اور جھوٹی قسم کھانا آباد سرزمینوں کو بر باد اور بار آور رحم کو بانجھ بنا دیتا ہے اور عقیم اور بانجھ رحم، انقطاع نسل کے مساوی ہے۔( ۱ )
یہ جو فرمایا :'' تطفی غضب الرّبّ'' پوشیدہ صدقہ دینا غیظ وغضب الٰہی کو خاموش کر دیتا ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر انسان اپنی (نامناسب) رفتار سے خدا کے خشم وغضب نیز دنیاوی کیفر کا مستحق ہو اور یہ
____________________
(۱) سفینة البحارمادئہ رحم.
مقرر ہو کہ اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کی جان و مال یا اس سے مربوط چیزوں کو نقصان پہنچے تو یہ پوشیدہ صدقہ اس طرح کی بلا کواس سے دور کردیتا ہے۔
بَلا قِع، بلقع کی جمع ہے ،بے آب وگیاہ ،خشک اور چٹیل میدان اور وادی برہوت ۔( ۱ ) چنانچہ امیر المومنین نے فرمایا:
''وصلة الرّحم فأِنّها مثراة فی المال ومنساة فی الأجل، وصدقة السرّفأنّها تکفرالخطية' '( ۲ )
رشتہ داروں کی دیکھ ریکھ اور رسید گی کرنا مال میں زیادتی اور موت میں تاخیر کا باعث ہے اور پوشیدہ صدقہ گناہ کو ڈھانک دیتا ہے اور اس کا کفارہ ہوتا ہے ۔
نیز فرماتے ہیں :
''و صلة الرحم منماة للعدد''
اقرباء واعزاء کے ساتھ نیک سلوک کرنا افراد میں اضافہ کا سبب ہے۔( ۳ )
ان تمام چیزوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ خدا وند عالم اپنی حکمت سے ایسا چاہتا ہے کہ روزی میں زیادتی، نسل میں اضافہ''صلہ رحم'' کی وجہ سے ہونیز تنگدستی اور عقیم ہونا ''قطع رحم'' میں ہو۔
یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی دوتاجرآدمی ایک طرح کا مال بازار میں پیش کرتے ہیں تو ایک کو نقصان ہوتا ہے اور دوسرے کو فائدہ ،پہلے کے نقصان کا سرچشمہ اقرباء سے قطع رحم کرنا ہے اور دوسرے کا فائدہ حاصل کرنا عزیز واقارب سے صلہ رحم کی بنا پر ہے خدا کی طرف سے ہر ایک کی جزا برابر ہے۔
ایسے عمل کی جزا انسان کے ،خدا پر ایمان اور عدم ایمان سے تعلق نہیں رکھتی ہے کیونکہ خدا وندعالم نے انسان کے کارناموں کے لئے دنیا میں دنیاوی آثار اور آخرت میں اخروی نتائج قرار دئے ہیں کہ جب بھی کوئی اپنے ارادہ واختیاراور ہوش وحواس کے ساتھ کوئی کام انجام دے گا تواس کا دنیاوی نتیجہ دنیا میں اور اخروی نتیجہ آخرت میں اُسے ملے گا۔
اسی طرح خدا وندعالم نے اپنے ساتھ انسان کی رفتاراور خلق کے ساتھ اس کے کردار کے مطابق جزا اور پاداش قرار دی ہے ، خواہ یہ مخلوق انسان ہو یا حیوان یا ﷲ کی نعمتوں میں سے کوئی نعمت ہو جس سے خدا نے
____________________
(۱) المعجم الوسیط مادئہ بلقع(۲)نھج البلاغہ خطبہ ۱۰۸(۳) نہج البلاغہ حکمت ۲۵۲
انسان کو نوازا ہے، ہر ایک کے لئے مناسب جزا رکھی ہے ،یہ تمام کی تمام ﷲ کی مرضی اور اس کی حکمت سے وجود میں آئی ہیں ،''ربّ العالمین'' نے ہمیں خود ہی آگاہ کیا ہے کہ انسان کے لئے اسکے کردار کے نتیجہ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے ( یعنی جیسا کردار ہو گا ویسی ہی اس کی جزا وپاداش ہوگی)
( وأن لیس للاِ نسان اِلاّ ما سعیٰ ) ( ۱ )
انسا ن کے لئے اس کی کوشش اور تلاش کے نتیجہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
اسی طرح خبر دی ہے کہ جو دنیا کے لئے کام کرئے گا خدا وند عالم اس کا نتیجہ اسے دنیا میں دکھاتا ہے اور جو کوئی آخرت کے لئے کوشاں ہوگا اسکے کام کی جزا اسے آخرت میں دکھائے گا:
( ومن یرد ثواب الدنیا نؤتیه منها و من یرد ثواب الآخرة نؤته منها وسنجزی الشاکرین ) ( ۲ )
جو کوئی دنیاوی جزا وپاداش چاہتا ہے اسے وہ دیں گے اور جو کوئی آخرت کی جزا چاہتا ہے ہم اسے وہ دیں گے اور عنقریب شکر گزاروں کوجزا دیں گے۔
( مَن کان یریدالحیا ة الدنیا وزینتها نوفّ الیهم أعمالهم فیها وهم فیها لا یبخسون)(اولاء ک الذین لیس لهم فی الاخرة اِلّا النار... )
جو لوگ (صرف) دنیاوی زندگی اور اس کی زینت و آرایش کے طلبگار ہیںان کے اعمال کا کامل نتیجہ ہم اسی دنیا میں دیں گے اور اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی اور یہ گرو ہ ان لوگوں کا ہے جن کے حصہ میں آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں ہے۔( ۳ )
( مَن کان یرید العاجلة عجلنا له فیها..)( ومن أراد الآخرة و سعیٰ لها سعیها وهو مومن فأولآء ک کان سعیهم مشکوراکلاً نمد هٰؤلاء و هٰؤلاء من عطاء ربّک وما کان عطاء رّبک محظوراً ) ( ۴ )
جو کوئی اس زود گزر دنیا کا طلبگا ر ہو اس کو اسی دنیا میں جزا دی جائے گی... اور جو کوئی دار آخرت کا خوہاں ہو اوراس کے مطابق کوشش کرے اور مومن بھی ہو اس کی کوشش وتلا ش کی جز ا دی جائے گی ، دونوںگروہوں میں سے ہر ایک کو تمھارے پروردگار کی عطا سے بہرہ مند کریں گے اور تمہارے رب کی عطا کبھی ممنوع نہیں قرار دی گئی ہے۔
____________________
(۱)نجم ۳۹.(۲)آل عمران ۱۴۵.(۳)ہود ۱۵ ،۱۶. (۴) اسرا ء ۱۸۔ ۲۰.
کلمات کی تشریح
''نوفّ اِلیھم'':ان کا پورا پورا حق دیں گے۔
'' لایبخسون ، لا ینقصون'': ان کے حق میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔
'' محظوراً '': ممنوعاً، حظر یعنی منع، رکاوٹ۔
دنیا وآخرت کی جزا
جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس بنیاد پر بعض اعمال ایسے ہیں کہ جن کی جزا انسان دنیا ہی میں دیکھ لیتا ہے ، لیکن ان میں سے بعض اعمال کی جزا قیامت میں انسان کو ملے گی ، مثال کے طور پر کوئی شہید خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہادت کے درجہ پر فائز ہو جائے ،وہ دنیوی جز ا کے دریافت کرنے کا امکان نہیں رکھتا تا کہ اس سے فائدہ اٹھائے ،لہٰذا خدا وندعالم اس کی جزا آخرت میں دے گا جیساکہ فرماتا ہے:
( ولا تحسبّن الذین قتلوا فی سبیل ﷲ امواتاً بل أحیاء عند ربّهم یرزقون) (فرحین بما آتهم ﷲ من فضله و یستبشرون با لذین لم یلحقو ا بهم من خلفهم الا خوف علیهم ولا هم یحزنون)( یستبشرون بنعمة من ﷲ وفضلٍ وأنّ ﷲ لا یضیع أجر المؤمنین ) ( ۱ )
اورجو لوگ راہ خدا میں شہید ہوگئے ہیں انھیں ہر گز مردہ خیال نہ کرو ! بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کی طرف سے رزق پاتے ہیں ،یہ لوگ اس نعمت کی وجہ سے جو خدا وندعالم نے انھیں اپنے فضل و کرم سے دی ہے ، راضی اور خوشنود ہیں اور جو لوگ ان سے ابھی تک ملحق نہیں ہوئے ہیں ان کی وجہ سے شاد و خرم ہیں کہ نہ انھیں کوئی خوف ہے اور نہ ہی کوئی حزن و ملال وہ لوگ نعمت الٰہی اوراس کی بخشش اور اس بات سے کہ خدا وند عالم نیکو کاروں کی جزا کو ضائع و برباد نہیں کرتا ، مسرور و خوش حال ہیں ۔
اسی طرح اقتدار کے بھوکے انسان اوراس شخص کا حال ہے جو کسی مومن کے ساتھ ظلم وتعدی کر کے اسے قتل کر دیتا ہے، ایسا شخص بھی اپنی جزا آخرت میں دیکھے گا جیسا کہ خدا وندعالم نے ارشاد فرماتا ہے:
( ومن یقتل مؤمناً متعمداً فجزاؤه جهنم خالداً فیها وغضب ﷲ علیه ولعنه وأعدّ له عذاباً عظیماً ) ( ۲ )
____________________
(۱) آل عمران ۱۶۹ ، ۱۷۱
(۲) نساء ۹۳.
جو کوئی کسی مومن انسان کو عمدا ( جان بوجھ کر) قتل کر ڈالے اسکی جزا جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا خدااس پر غضب ناک ہے اوراس نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اوراس کے لئے عظیم عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔
اسی طرح اس شخص کا حال ہے جو ناقص جسم کے ساتھ دنیا میں آتا ہے جیسے اندھا گونگا ،ناقص الخلقة (جس کی تخلیق میں کوئی کمی ہو) اگر ایسا شخص خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے اور اولیاء خدا کا دوست ہو اور اپنے عضو کے ناقص ہونے کی بناء پر خدا کے لئے صبر وتحمل کرے ایسے شخص کو خدا آخرت کی دائمی وجاوید زندگی میں ایسا اجر دے گا کہ جو دنیاوی کمی اور زحمتیںاس نے راہ خدا میں برداشت کی ہیں ان کا اس جزا کے مقابلہ میں قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔( ۱ )
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ،اس بنا پر عدل الٰہی آخرت میں عمل کی جزا دریافت کیے بغیر ثابت نہیں ہوتا، خداوند عالم نے دنیاوی زندگی کے بعداعمال کی جزا پانے کیلئے متعدد مراحل قرار دئے ہیں ہم آئندہ بحث میں اس پر گفتگو کریں گے۔
____________________
(۱) دیکھئے : ثواب الاعمال،صدوق باب ''اس شخص کا ثواب جو خدا وند عالم سے اندھے ہونے کی حالت میں ملاقات کرے اوراس نے خدا کے لئے اسے تحمل کیا ہو ، حدیث ۲۱ ، نیز معالم المدرستین، ج ۱، بحث شفاعت،اس ایک نا بینا شخص کی روایت کی طرف رجوع فرمائیں جورسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آیا اور آنحضرت سے درخواست کی کہ حضرت اس کے لئے دعا کریں تا کہ شفا ہو''۔
۲۔
انسان اور آخرت میں ا س کی جزا
خود انسان اپنے کھیت میں کبھی گیہوں،مکئی اور سبزیاںاگاتا ہے اور چند ماہ بعداس کا نتیجہ اورمحصول حاصل کرتا ہے اور کبھی انگور، انجیر، زیتون،سیب اور سنترہ لگاتا ہے اور تین یا چار سال بعداس کا نتیجہ پاتا ہے اور کبھی خرما اور اخروٹ بوتا ہے اور ۸ سال یااس سے بھی زیادہ عرصہ کے بعداس سے فائدہ اٹھاتا ہے،اس طرح سے عادی اور روز مرہ کے کاموں کا نتیجہ انسان دریافت کرتا ہے اور اپنے اہل وعیال اوردیگر افراد کواس سے فیضیاب کرتا ہے اس کے با وجود خدا فرماتا ہے:
( اِنّ ﷲ هو الرزّاق ذوالقوة المتین ) ( ۱ )
خدا وند عالم روزی دینے والا ہے وہ قوی اور توانا ہے۔
( ﷲ الذی خلقکم ثّم رزقکم ) ( ۲ )
وہ خدا جس نے تمھیں خلق کیا پھر روزی دی۔
( لا تقتلوا اولا دکم من اِملاقٍ نحن نرزقکم و اِيّاهم ) ( ۳ )
اپنی اولاد کو فقر وفاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو کیونکہ ہم تمھیں اور انھیں بھی رزق دیتے ہیں۔
( وکا يّن من دابة لا تحمل رز قها ﷲ یرزقهاو اِيّاکم ) ( ۴ )
کتنے زمین پر چلنے والے ایسے ہیں جو اپنا رزق خود حاصل نہیں کر سکتے لیکن خدا انھیں اور تمھیں بھی رزق دیتا ہے ۔
( و ﷲ فضّل بعضکم علیٰ بعضٍ فی الرّزق ) ( ۵ )
____________________
(۱) ذاریات ۵۸
(۲)روم ۴۰
(۳) انعام ۱۵۱.
(۴) عنکبوت ۶۰
(۵) سورہ نحل ۷۱.
خدا وندعالم نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت اور برتری دی ہے۔
جی ہاں! انسان زمین کا سینہ چاک کرتا ہے ، اس میں دانہ ڈالتا ہے، درخت لگاتا ہے ، پانی دیتا ہے ، تمام آفتوں اور بیماریوں کو دور کرتا ہے اس کی دیکھ ریکھ کرتا ہے تاکہ دانہ بن جائے اور بارآور ہو جائے جسے خود وہ بھی کھائے اور جسے دل چاہے کھلائے لیکن خدا وندسبحان فرماتا ہے :
( نحن نرزقکم و ایاّهم )
ہم تمھیں اوران کو روزی دیتے ہیں !
اور خدائے عظیم نے درست فرمایا ہے کیونکہ جس نے آب وخاک میں نباتات کے اگانے کے خواص قرار دئے اور ہمیں بونے اورپودا لگانے کا طریقہ سکھا یا ،وہی ہمیں روزی دینے والا ہے ۔
خدا کے روزی دینے اور انسان کے دنیا میں روزی حاصل کرنے کی مثال، میزبان کا مہمان کو '' self serveic ''والے ہوٹل میں کھانا کھلانے کی مانند ہے کہ جس میں نوکر چاکر نہیں ہوتے اور معمولاً مہمان سے کہا جاتا ہے ،اپنی پذیرائی آپ کیجیے(جو دل چاہے خود لے کر کھائے ) اس طرح کے ہوٹلوں میں میزبان مہمان کوکھانا کھلاتا ہے مہمان جس طرح کی چیزیں پسند کرنا چاہے اسے مکمل آزادی ہوتی ہے لیکن جو کچھ وہ کھاتا ہے میزبان کی مہیا کی ہوئی ہے لیکن اگرکوئی مہمان ایسی جگہ پر داخل ہو اور خود اقدام نہ کرے، چمچے، کانٹے، پلیٹ جو میزبان نے فراہم کئے ہیں نہ اٹھائے اور فراہم کی ہوئی غذا ؤں کی طرف اپنے قدموں سے نہ بڑھے اور اپنی مرضی سے کچھ نہ لے ،تو وہ کچھ کھا نہیں سکے گا،اس کے باوجود جس نے مہمانوں کیلئے غذا فراہم کی ہے و ہی میزبان ہے،ایسی صورت میں بری طرح کھا نے کا احتمالی نقصان بھی مہمان ہی کے ذمہ ہے جس نے خودہی نقصان دہ غذا کھا ئی ہے اور خداوند عظیم نے سورۂ ابراہیم میں کس قدر سچ اور صحیح فرمایا ہے:
( ﷲ الّذی خلق السّموات والأرض و انٔزل من السماء مائً فأخرج به من الثمرات رزقاً لکم و سخر لکم الفلک لتجری فی البحر بأمره وسخر لکم الأنهاروسخر لکم الشمس والقمر دائبین وسخر لکم اللیل و النهار ) ( ۱ )
خدا وندعالم وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو خلق کیا اور آسمان سے پانی نازل کیا اوراس سے تمہارے لئے زمین سے میوے اگائے ،کشتیوں کو تمہارا تا بع قرار دیا، تا کہ دریا کی وسعت میں اس کے حکم
____________________
(۱)ابراہیم ۳۲ ، ۳۳
سے رواں دواں ہوں ، نیز نہروں کو تمہارے اختیار میں دیا اور سورج ا ورچاند کو منظم اور دائمی گردش کے ساتھ تمہارا تابع بنا یا اوراس نے روز و شب کو تمہارا تابع قراردیا۔
اور سورۂ نحل میں ارشاد ہوتا ہے:
( و ﷲ أنزل من السماء مائً فأحیا به الارض بعد موتها انّ فی ذلک لاية لقومٍ یسمعون)(و أنَّ لکم فی الأنعام لعبرة نسقیکم مِّما فی بطونه من بین فرثٍ و دمٍ لّبنا خالصاً سائغاً للّشاربین)( و من ثمراتِ النخیلِ و الأعنابِ تتّخذون منه سکراً و رزقاً حسناً انّ فی ذلک لايةً لّقومٍ یعقلون)( و أوحیٰ ربّک اِلی النّحل ان اْتّخذی من الجبال بیوتاً و من الشجر و مّما یعرشون)( ثمّ کلی من کلّ الثّمرات فاْسلکی سبل ربّک ذللاً یخرج من بطونها شراب مختلف ألوانه فیه شفٰاء للناّٰس انَّ فی ذلک لآ يةً لقومٍ یتفکرون ) ( ۱ )
خدا وندعالم نے آسمان سے پانی برسایا ، پس زمین کو مردہ ہو جانے کے بعد حیات بخشی ،یقینا اس میں سننے والی قوم کے لئے روشن علامت ہے اور چوپایوں کے وجود میں تمہارے لئے عبرت ہے،ان کے شکم کے اندرسے گوبراور خون کے درمیان سے خالص دودھ ہم تمھیں پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے انتہائی خوشگوار ہے. اورتم درخت کے میووں ،کھجور اور، انگور سے مسکرات اور اچھی اور پاکیزہ روزی حاصل کرتے ہو یقینا اس میں روشن نشانی ہے صاحبان فکرکے لئے، تمہارے رب نے شہدکی مکھی کو وحی کی کہ پہاڑوں، درختوں اور لوگوں کے بنائے ہوئے کو ٹھوں پر اپنا گھر بنائے اور تمام پھلوں سے کھائے اوراپنے رب کے معین راستے کو آسانی سے طے کرے،ا س کے شکم کے اندر سے مختلف قسم کا مشروب نکلتاہے کہ اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے یقینا اس میں صاحبان عقل و فکر کے لئے روشن نشانیاں ہیں ۔
کلمات کی تشریح
۱۔'' دا ئبین،مستمرّین'': یعنی ہمیشہ گردش کر رہے ہیں ، معین مسیر میں حرکت اُن کی دائمی شان و عادت ہے ۔
۲۔''فرث '': حیوانات کے معدہ اور پیٹ میں چبائی ہوئی غذا (گوبر)۔
____________________
(۱) نحل ۶۵ ، ۶۹
۳۔''مّما یعرشون'': جو کچھ اوپر لے جاتے ہیں ، خرمے کے درختوں کے اوپر جو چھت بنائی جاتی ہے جیسے چھپر وغیرہ۔
آغاز کی جانب باز گشت:
روزی رساںرب ّنے اپنے مہمان انسان کے لئے اس دنیا میں نعمتیں فراہم کیں، روزی کس طرح حاصل کی جائے اور کس طرح بغیر کسی ضرر اور نقصان کے اس سے بہرہ ور ہوں، اس زود گزر دنیا اور آخرت میں ، انبیائ، اوصیاء اور علماء کے ذریعہ اس کی تعلیم دی اور فرمایا:
( یاأيّهاالذین آمنوا کلوا من طیبات مارزقناکم واشکروﷲ ) ( ۱ )
اے صاحبان ایمان ! پاکیزہ چیزوں سے جوہم نے تمہارے لئے روزی دی ہے کھا ؤ اور خدا کا شکر ادا کرو، نیز فرمایا:
( یسٔلونک ماذاأحلّ لهم قل أحلّ لکم الطيّبات ) ( ۲ )
تم سے سوال کرتے ہیں : کون سی چیزان کیلئے حلال کی گئی ہے ؟ کہہ دیجئے تمام پاکیز ہ چیزیںتمہارے لئے حلال کی گئی ہیں۔
نیز خاتم الانبیاء کے وصف میں فرمایا :
( ویحلّ لهم الطیبّات ویحرّم علیهم الخبائث ) ( ۳ )
اوروہ ( پیغمبر)ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور نا پاک چیزوں کو حرام کرتا ہے۔
اس لحاظ سے پروردگار سبحان نے ہمیں خلق کیا جوکچھ ہمارے اطراف میں تھا،اسے ہمارا تابع بنا دیا اور اس دنیا میں پاکیزہ چیزوں سے جو کہ ہماری زراعت و کاشت کا نتیجہ ہے ہمیں رزق دیا ،وہ اسی طرح ہمارے اعمال کے نتیجہ کو آخرت میں ہمارے لئے روزی قرار دے گا جیسا کہ فرمایا ہے:
( والذین هاجروا فی سبیل ﷲ ثّم قتلواأوما توالیر زقنّهم ﷲ رزقاً حسناً ) ( ۴ )
وہ لوگ جنھوں نے راہ خدا میں ہجرت کی ، پھر قتل کردئے گئے یا مر گئے ،خدا انھیں اچھی روزی دیگا۔
نیز فرماتا ہے:
____________________
(۱)بقرہ۱۷۲ (۲)مائدہ ۴(۳)اعراف ۱۵۷.(۴)حج۵۸
( الاّ مَن تاب وَآمنَ وَ عملَ صٰا لحاً فاُولاء کَ یدخُلُونَ الجنةَ وَلاَ يُظلمونَ شیئاً جنَّاتِ عدنٍ التی وعدالرحمنُ عبٰادهُ بالغیبِ اِنه کٰانَ وَعدهُ ما تيّا لا یسمعونَ فیها لغواً اِلّا سلاماً ولهم رزقُهُم فیها بُکرةً وعَشِيّاً ) ( ۱ )
...مگر وہ لوگ جو توبہ کریں اور ایمان لا ئیں اور شائستہ کام انجام دیں ، پس یہ گروہ بہشت میں داخل ہوگا اوراُس پر ادنیٰ ظلم بھی نہیں ہوگا، دائمی بہشت جس کا خدا وند رحمان نے غیب کی صورت میں وعدہ کیا ہے یقینا خدا کا وعدہ پورا ہونے والا ہے ،وہاں کبھی لغو وبیہودہ باتیں نہیں سنیں گے اور سلام کے علاوہ کچھ نہیں پائیں گے، ان کی روزی صبح وشام مقرر ہے۔
پس ربّ حکیم انسان کے اعمال کی جزا دنیا میں جلدی اور آخرت میں مدت معلوم کے بعدا سے دیتا ہے ، اسی طرح بہت سارے سوروں میں اس نے اس کے بارے میں خبر دی ہے اور سورۂ زلزال میں فرمایا ہے:
( فمَن یعمل مثقال ذرةٍ خَیراً یره ومَن یعمل مثقال ذرةٍ شراً یره ) ( ۲ )
پس جو ذرہ برابربھی نیکی کرے گا وہ اسے بھی دیکھے گا اور جو بھی ذرہ برابر بھی بُرائی کرے گا وہ اسے بھی دیکھے گا ۔
سورۂ ےٰسین میں ارشاد ہوتا ہے:
( فالیوم لا تُظلَمُ نفس شیئاً ولا تجزون اِلاّ ما کنتم تعلمون ) ( ۳ )
پس اس دن کسی پر بھی ذرہ برابر ظلم نہیں ہو گا اور جو تم نے عمل کیا ہی اسکے علاوہ کوئی جزا نہیں دی جائے گی۔
ہاں ، جو اس دنیا میں تلخ اورکڑوا ایلوالگائے گا ایلواکے علاوہ کوئی اور چیزاسے حاصل نہیں ہوگی اور جو اچھے ثمرداردرخت لگائے گا وہ اچھے اچھے میوے چنے گا ۔
جیسا کہ خداوند سبحان سورۂ نجم میں فرماتا ہے:
( وَ اَنْ لیس لِلا نسان اِلاّ ما سعیٰ وَ اَنَّ سعیه سوف یریٰ ) ( ۴ )
انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے اور اس کی کوشش عنقریب اس کے سامنے پیش کردی جائے گی ۔
____________________
(۱)مریم ۶۰ ، ۶۳(۲) زلزال ۷، ۸(۳)یسین ۵۴(۴)نجم ۳۹ ،۴۰
انسان اپنے اعمال کے نتائج صرف اس دنیا ہی میں نہیںدیکھتا ، بلکہ درج ذیل پانچ مختلف حا لات اور مقامات پر بھی دیکھتا ہے:
۱۔ موت کے وقت
۲ ۔ قبر میں
۳۔ محشر میں
۴۔ بہشت و جہنم میں
۵۔ ورثاء میں کہ عمل کی جزاان کے لئے میراث چھوڑ جاتا ہے۔
اس بحث میں ہم نے دنیا میں انسان کے اعمال کی پاداش کا ایک نمونہ پیش کیا، آئند ہ بحث میں ( انشاء ا )خدا وند متعال موت کے وقت کیسے جزا دیتا ہے اس کو بیان کریں گے۔
۳۔موت کے وقت انسان کی جزا
آخرت کے مراحل میں سب سے پہلا مرحلہ موت ہے ،خدا وند سبحان نے اس کی توصیف میں فرما یا ہے :
( وجاء ت سکرة الموت با لحقّ ذلک ما کنت منه تحید ) ( ۱ )
( اے انسان ) سکرات الموت حق کے ساتھ آ پہنچے ،یہ وہی چیز ہے جس سے تم فرار کر ر ہے تھے!
یعنی موت کی ہولناک گھڑی اور شدت جو آدمی کے عقل پر غالب آ جاتی ہے آپہنچی ،یہ وہی موت ہے کہ جس سے تو ( انسان) ہمیشہ فرار کرتا تھا!
( قُل يَتَوَ فّٰکم ملکُ المَوتِ الذی و کِل بکم ثُّم اِلیٰ ر بّکم تُرجعونَ ) ( ۲ )
اے رسول کہہ دو! موت کا فرشتہ جو تم پر مامور ہے تمہاری جان لے لے گا پھراس کے بعد تم اپنے ربّ کی طرف لوٹا دئے جاؤ گے۔یہ جو خدا وندعالم نے اس سورہ میں فرمایا ہے کہ'' موت کا فرشتہ تمہاری جان لے لے گا '' اور سورہ زمر میں فرمایا ہے :''( ﷲ یتوفی الا نفس ) ''( ۳ ) (خدا وندعالم جانوں کو قبض کرتا ہے) اور سورۂ نحل میں فرمایا ہے :''( تتو فاهم الملا ئکة ) ''( ۴ ) (فرشتے ان کی جان لیتے ہیں) اور سورۂ انعام میں ارشاد فرمایا ہے :( ''تو فته رُسُلُنا ) ' '( ۵ )
ہمارے فرستادہ نمائندے اس کی جان لیتے ہیں ! اِن باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے ،کیونکہ: فرشتے خدا کے نمائندے ہیں اور روح قبض کرتے وقت ملک الموت کی نصرت فرماتے ہیں اور سب کے سب خدا کے حکم سے
____________________
(۱)ق ۱۹(۲)سجدہ ۱۱(۳) سورہ زمر۴۲(۴)سورۂ نحل۲۸۔۳۲(۵)انعام۶۱
روح قبض کرتے ہیں ، پس در حقیقت خدا ہی روحوں کو قبض کرتا ہے اس لئے کہ وہ فرشتوں کواس کا حکم دیتا ہے۔
آخرت کا یہ مرحلہ شروع ہوتے ہی دنیا میں عمل کا امکان سلب ہو جاتا ہے اور اپنے عمل کا نتیجہ دیکھنے کامرحلہ شروع ہو جاتاہے ، منجملہ ان آثار کے جسے مرنے والا ہنگام مرگ دیکھتا ہے ایک وہ چیز ہے جسے صدوق نے اپنی سند کے ساتھ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :
''صوم رجب يُهوّن سکرات الموت'' ( ۱ )
ماہ رجب کا روزہ سکرات موت کو آسان کرتا ہے۔
آدمی کا حال اس مرحلہ میں عمل کے اعتبار سے جواس نے انجام دیا ہے دو طرح کا ہے، جیسا کہ خداوند متعال خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( فأ مّا اِن کان من المقربین) (فروح و ریحان و جنّت نعیم) (و أمّا اِن کان من أصحاب الیمین) (فسلامُ لک من أصحاب الیمین)( و أما اِن کان من المکذبین الضّٰا لّین)( فَنُزُل من حمیم.وَ تصليةُ جحیمٍ ) ( ۲ )
لیکن اگر مقربین میں سے ہے تو رَوح ،ریحان اور بہشت نعیم میں ہے لیکن اگر اصحاب یمین میں سے ہے تواس سے کہیں گے تم پر سلام ہو اصحاب یمین کی طرف سے لیکن اگر جھٹلا نے والے گمراہ لوگوں میں سے ہے تو دوزخ کے کھولتے پانی سے اس کا استقبال ہو گا اور آتش جہنم میں اسے جگہ ملے گی۔
خدا وند عالم نے جس بات کا گروہ اوّل ( اصحاب یمین اور مقربین) کو سامنا ہو گااس کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( یا أيّتها النفس المطمئنة اْرجعی اِلیٰ ربّک راضيةً مرضيّةً فادخلی فی عبادی و ادخلی جنّتی )
اے نفس مطمئنہ! اپنے رب کی جانب لوٹ آ اس حال میں کہ تواس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی و خوشنود ہے پس میر ے بندوں میں داخل ہوجا اورمیری بہشت میں داخل ہوجا۔( ۳ )
اوردوسرا گروہ، جس نے دنیاوی زندگی میں اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کے بارے میں بھی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( حَتَّی ِذَا جَائَ َحَدَهُمْ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُون٭ لَعَلِّی َعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَکْتُ کَلاَّ ِنَّهَا کَلِمَة هُوَقَائِلُهَاوَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخ ِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ) ( ۴ )
____________________
(۱) ثواب الاعمال باب : ثواب روزہ رجب ،حدیث ۴.(۲)واقعہ۸۸۔ ۹۴.(۳) فجر ۲۷ ، ۳۰.(۴)مومنون ۹۹، ۱۰۰.
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کی موت کا وقت آجاتا ہے تو کہتا ہے : میرے رب مجھے واپس کر دے شاید جو میں نے ترک کیا ہے اس کے بدلے عمل صالح انجام دے لوں، ایسا نہیں ہے ! یہ ایک بات ہے جو وہ اپنی زبان پر جاری کرتاہے ! اوران کے پیچھے قیامت تک کے لئے برزخ ہے۔
کلمات کی تشریح:
۱۔''یتوفّی'': مکمل اور تمام دریافت کرتا ہے، یعنی خدا وند عالم یا ملک الموت اس کی جان مکمل طور پرلے لیتے ہیں ،سوتے وقت بھی ایسا ہوتا ہے جب آدمی کی قوت ادراک اور بعض حواس کام نہیں کرتے جیسے کہ اس کی روح قبض کرلی گئی ہو۔
۲۔ ''حمیم'': کھولتا ہو اپانی ۔
۳۔''تصلےة جحیم'': جہنم میں کھولتے ہوئے پانی سے جلانا۔
۴۔'' برزخ'': دوچیز کے درمیان حد اور مانع ۔
انسان اس مرحلہ میں دنیاوی زند گی کی تمامیت اور اپنے تمام اعضاء کی موت کا احساس کرتا ہے لیکن اس کے بعد کی شناخت کے لئے بجزاخبار انبیاء کوئی وسیلہ نہیں رکھتا ، لہٰذا اگر انبیاء کی تصدیق کی ہے اوران پر اور وہ جو کچھ خدائی صفات اور شریعت الٰہی بیان کئے ہیںان سب پر ایمان رکھتاہے تو و ہ عا لم ا خرت اور اس کے مختلف مراحل پر بھی ایمان لے آئے گا ، عالم آخرت کے بار ے میں جو کہا گیا ہے اس کا، عالم دنیا میں جو دیکھا اور پہچانا ہے اس سے مقائسہ ممکن نہیں ہے ، کیونکہ ہمارے وسائل محدود اور اس دنیاوی زندگی سے مخصوص ہیں لیکن آخرت کے بارے میں انبیاء کی خبروں کی بررسی و تحقیق کا،جیسا کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کوئی عملی راستہ نہیں ہے۔
منجملہ وہ روایات جو آخرت اور زندگی کے آخری لحظات کے بارے میں ہمیں ملی ہیں ان میں سے ایک روایت وہ ہے جو امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :
''من مات ولم یحجّ حجّة الاِسلام دُونما مانع یمنعهُ فلیمُت ان شاء یهودیاً أو نصرانیا ً''( ۱ )
جس کسی کو موت آجائے اور وہ بغیر کسی قابل قبول عذر کے اپنا واجب حج ترک کردے تو اسے اختیار ہے چاہے تو یہودی مرے چاہے تو نصرانی۔
____________________
(۱)ثواب الاعمال ، باب '' حج ترک کرنے والے کی سزا '' حدیث ۲.
۴۔
قبر میں انسان کی جزا
جن چیزوں سے ميت کو قبر میں سامنا ہوگاان سے روائی کتابیں بھری پڑی ہیں: دو مامور فرشتوں کے عقائد سے متعلق سوال( ۱ ) سے لے کر حسن سلوک اور بد سلو کی نیز اپنی زندگی کی ہر حرکت و سکون کے آثار دیکھنے تک او ر یہ کہ قبر ميت کے لئے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا آگ کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ہے۔( ۲ ) اورجو کوئی چغل خوری کرے یا پیشاب کرتے وقت نجاست کی پرواہ نہ کرے قبر میں عذاب سے دوچار ہوگا( ۳ ) اور جس کا اخلاق اچھا ہو گا قبر میں داخل ہونے کے وقت سے لیکر قیامت میں حساب وکتاب کے آخری مرحلہ تک اچھی جزا پاتا رہے گا۔( ۴ ) اور جو کوئی اپنا رکوع صحیح انجام دے قبر میں اس پر کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔( ۵ )
____________________
(۱)سفینة البحار میں مادئہ '' نکر'' ملاحظہ ہو
(۲) سفینة البحار میں مادئہ '' قبر'' ملاحظہ ہو۔
(۳) ثواب الاعمال ،صدوق ، ص ۲۹۵ ، ح ۱ ؛صحیح مسلم ، کتاب الطہارة ، باب'' الدلیل علی نجاسة البول'' ص ۲۴۰۔ ۲۴۱ ؛ سنن دارمی ، کتاب الطہارة ، سنن ابی داؤد ، کتاب الطھارة ، باب'' الاستبراء من البول'' ج ۱ ، ص ۳۴ ، ۳۵ ؛ سنن ابن ماجہ ، کتاب الطہارة ، باب''ا التشدید فی البول'' ج۱ ، ص ۱۲۴ ، ۱۲۵ ؛ مسند احمد ، ج۱ ، ص ۲۲۵ ، ج۵ ،ص۴۶۶اور ۴۱۷ اور ۴۱۹ ؛صحیح بخاری ، کتاب الوضو، باب ''من الکبائران لا یستر من بولہ'' ج۱، ص۶۴، کتاب الادب ، باب الغیبة ج۸ ، ص ۲۰ اورباب ''النمیمة من الکبائر''ج۸ ، ص۲۱ ۔
(۴)ثواب الاعمال ، ص۱۸۰،باب'' برادر مومن کو خوش کرنے کا ثواب''
(۵)سفینة البحار ، مادئہ ''رکع''
۵۔
انسان اور محشر میں اس کی جزا
الف: صور پھونکنے کے وقت
محشر کے دن کاآغازحساب وکتاب کے لئے صور پھونکتے ہی ہو جائے گا ،''صور''عربی لغت میں شاخ کے مانند ایک چیز ہے، اسمیں پھونک مارتے ہیں تو اس سے آواز نکلتی ہے خداوند سبحان فرماتا ہے:
( و نفخ فی الصور فصعق مَن فی السماوات و مَن فی اِلٔاّرض الّا مَن شاء ﷲ ُ ثُّم نُفخَ فیه أخریٰ فا ذا هم قِیام ینظُرُون ) ( ۱ )
اورصور پھونکا جائے گا پس زمین وآسمان کے درمیان جتنے لوگ ہیں سب مر جائیں گے جزان لوگوں کے جنھیں خدا چاہے ،پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا اچانک سب یک بارگی اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے کہ انتظار میں ہوں۔
''صعق'': یہاں پر ایک ایسی آواز ہے جس کااثر موت ہے حدیث میں ''نفخ'' کے لئے ایک تفسیر بیان ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: صوردو مرتبہ پھونکا جائے گا:
پہلی مرتبہ:
پہلی مرتبہ جب اسرافیل صور پھونکیں گے اور تمام زمین وآسمان کے موجودات مر جائیں گے سوائے ان لوگوں کے جنھیں خدا چاہے حاملان عرش ، جبرائیل ، میکائیل اورعزرائیل اِس کے بعد خدا وند عالم ملک الموت سے کہے گا: کون باقی بچا ہے؟ کہیں گے: خدایا !ملک الموت ،جبرائیل ، میکائیل اور حاملان عرش کے علاوہ اور
____________________
(۱)زمر ۶۸
کوئی باقی نہیں بچا، خداوند عالم فرمائے گا : جبرائیل اور میکا ئیل سے کہو: مر جائیں اوران کی روح قبض کرلی جائے ، اس کے بعد ملک الموت سے کہے گا :کون بچا ہے ؟ ملک الموت جواب دیں گے: خدا یا ! ملک الموت اور حاملان عرش کے علاوہ کوئی باقی نہیں ہے! کہے گا : حاملان عرش سے کہو مر جائیں اوران کی روح قبض کر لی جائے اسکے بعد فرمائے گا :اے ملک الموت اب کون بچا ہے؟عرض کریں گے: ملک الموت کے علاوہ کوئی نہیں بچا ہے، ارشاد قدرت ہوگا : تم بھی مر جاؤ، ملک الموت بھی مر جائے گا،اب خدا وند ذوالجلال آواز دے گا :
( ''لمن الملک الیوم ) ٫٫آج کس کی حکومت ہے''؟
جب کوئی جواب نہیں دے گا،تواُس وقت خدا وند ذوالجلال خود ہی اپنا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا:
( ''ﷲ الواحدِ القهار٫٫ ) خدا وندیکتاو قہار کی حکومت ہے''۔( ۱ )
اُس کے بعد جب چاہے گا دوبارہ صور پھونکے گا جیسا کہ خود ہی فرماتا ہے: پھر دوبارہ صور پھو نکے گا اچانک سب کے سب ا ٹھ کھڑے ہوں گے جیسے کہ انتظار میں ہوں۔( ۲ )
دوسری مرتبہ:
خداوند عالم ا س کے بارے میں ارشاد فرماتاہے:
۱۔( ونفخ فی الصور فجمعنا هم جمعاً )
صورپھونکا جائے گاتوہم سب کو اکٹھا کریں گے۔( ۳ )
۲۔( و یوم ینفخُ فی الصور ففزعَ مَن فی السمواتِ و مَن فی الٔرض الّا من شاء ﷲ و کلّ أتوهُ ٰاخرین ) ( ۴ )
جس دن صور پھونکا جائے گا آسمان و زمین کے رہنے والے سب کے سب وحشت کے دریا میں غرق ہوںگے، جز ان کے جنھیں خد ا چاہے گا اور سب کے سب خضو ع کے ساتھ سرجھکائے اس کے حضور میں حاضر ہوں گے۔
۳۔( ونفخ فی الصورفاِذا هم من الأجداث الیٰ ربهم ینسلون)(قالوا یاویلنا مَن بعثنا من )
____________________
(۱) مومن ۱۶ (۲)الدر المنثور سیوطی ،۵ ۳۳۶، ۳۳۷؛ و بحار بہ نقل از کافی وغیرہ ۶ ۳۲۶، ۳۲۷ ۔(۳)کہف ۹۹ (۴)نمل ۸۷
( مرقد نا هذاماوعد الرحمن وصدق المرسلون)( ان کانت الّا صیحة ًواحدةً فاذاهم جمیع لدینا محضرون)(فالیومَ لا تُظلم نفس شیئاًً ولا تُجزونَ اِلّاما کُنتم تعملون ) ( ۱ )
صور پھونکا جائے گا ، نا گاہ وہ لوگ اپنی قبروں سے ا ٹھ کرتیزی کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف دوڑ یں گے اور کہیں گے ہم پر وائے ہو! کس نے ہمیں ہماری آرام گاہ سے اٹھاد یا ؟ یہ وہی ہے جس کا خدا وند رحمن نے وعدہ کیا تھا اورا س کے فرستادہ افراد نے سچ کہا تھا ،یہ روداد ایک چیخ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ ناگہاں سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہوں گے،آج کے دن کسی پر ذرہ برابربھی ستم نہیں ہو گا اور تم نے جو عمل کیا ہے اس کے علاوہ تمہیںکوئی پاداش اور جزا نہیں دی جائے گی۔
اور نیز اس سلسلہ میں کہ تمام انسانوں کو اکٹھا کریگا، فرمایا:
۱۔( وحشرناهم فلم نُغا درمنهم أحداً ) ( ۲ )
اورہم ان سب کواٹھا ئیں گے اوران میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
۲۔( یوم ینفخ فی الصورونحشرالمجرمین یومئذٍ زرقاً ) ( ۳ )
جس دن صور پھو نکاجائے گا اور مجرموں کو نیلے جسم کے سا تھ ( بدرنگ صورت میں ) اس دن جمع کریں گے۔
۳۔( یوم نحشر المتقین الیٰ الرحمن وفداً ) ( ۴ )
جس دن پرہیز گاروں کو ایک ساتھ خدا وند رحمن کے حضور میں محشور کریں گے۔
کلمات کی تشریح
ا ۔''داخرین'': ذلت اور رسوائی کے ساتھ۔
۲۔''أجداث'': قبریں۔
۳۔''ینسلون'': جدا ہوں گے ، قبروں سے تیزی کے ساتھ باہر آئیں گے
۴۔''زرقاً'': زَرَق یا اَزْرَق کی جمع ہے، نیلے پن کے معنی میں
۵۔ ''وفداً: وفد ھیئت'' اور اس گروہ کا نام ہے جو پاداش اور جزا حاصل کرنے یا کسی قسم کی ضرورت کے پیش نظر حاکم کے پاس جاتے ہیں۔
____________________
(۱)یس ۵۱، ۵۴(۲) کہف ۴۷ (۳) طہ ۱۰۲(۴)مریم ۸۵
ب:روز قیامت کے مناظر کے بارے میں
خدا وندعالم روز قیامت کا اس طرح تعارف کراتا ہے:
۱۔(( أنّهم مبعوثون، لیومٍ عظیمٍ، یومَ یقومُ الناسُ لربِّ العالمینَ ) ( ۱ )
وہ لوگ مبعوث ہو ں گے ،عظیم دین میں ، جس دن لوگ خدا وند عالم کے حضور میں کھڑے ہوں گے۔
۲۔( یوم یقومُ الرّ وُحُ و الملا ئکة ُ صفّاً لا یتکلمون الا منَ اذنَ لهُ الرحمنُ وقال صواباً ) ۔( ۲ )
جس دن روح اور فرشتے ایک صف میں کھڑے ہوں گے اور کوئی بھی سوائے اس کے جسے خدا وند رحمن اجازت دے اور درست کہے نہیں بولے گا۔
۳۔( وخلق ﷲ السمٰوات والأرض با لحق ولتجزیٰ کُلّ نفسٍ بما کسبت وهم لا یظلمون ) ( ۳ )
اور خدا وند عالم نے آسمان اور زمین کو بر حق خلق کیا ہے تا کہ ہر شخص کو اس کے کاموں کی جزا دی جائے اوران پر ظلم وستم نہیں ہو گا ۔
۴۔( وکل انسانٍ الزمناه طائره فی عنقه ونخرج له یوم القیامةِ کتاباً یلقاه منشوراًاقراکتابک کفیٰ بنفسک الیوم علیک حسیباً ) ( ۴ )
اورہم نے انسان کے نامۂ اعمال کوا س کی گردن میں آویزاں کر دیا ہے اور قیامت کے دن اس کے لئے ایک کتاب باہر نکا لیں گے کہ وہ اسے اپنے سامنے کھلا ہوا دیکھے گا!اس سے کہا جائے گا اپنی کتاب (نامہ اعمال) پڑھو! اتنا ہی کافی ہے کہ آج کے دن خود اپنا محاسبہ کر نے والے رہو۔
۵۔(( کل امة تدعیٰ الی کتا بها الیوم تجزون ما کنتم تعملون)( هذا کتابُنا ینطقُ علیکم بالحق انا کُنا نستنسخ ما کنتم تعملون)( وبدٰالهم سیئاتُ ماعملوا و حاق بهم ما کانوا به یستهزون)( وقیل الیوم ننسا کم کما نسیتم لقائَ یومکم هذا ومأوا کم النارُومالکم من ناصرین)(ذلکم بانکم اتخذ تم آیاتِ ﷲ هزواًوغر تکم الحیاة الدنیا فا لیوم )
____________________
(۱)مطففین ۴،۶(۲)نباء ۳۸(۳)جاثیہ ۲۲ (۴) اسراء ۱۳، ۱۴
( لایخرجون منها ولاهم يُستعتبونَ ) ( ۱ )
ہر امت کواس کی کتاب کی طرف دعوت دی جائے گی ،آج جو تم نے اعمال انجام دئیے ہیں ہم اس کی جزا دیں گے ، یہ ہماری کتاب ہے جو تم سے حق کے ساتھ گفتگو کرتی ہے، تم جو کچھ انجام دیتے ہو ہم لکھ لیتے اور جو انھوں نے برائیاں انجام دی ہیں آشکار ہو جائیں گی اور جس چیز کا مذاق اڑایا ہے وہی انھیں اپنے احاطہ میں لے لیگا اوران سے کہا جائے گا آج ہم تم کو فراموش کر دیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا ، تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مدد گار نہیں ہے، یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے آیات الٰہی کا مذاق اڑایا اور دنیاوی زندگی نے تمھیں فریب دیا ! آج وہ لوگ نہ دوزخ سے باہر آئیں گے اور نہ ان کا عذر قبول ہوگا ۔
۶( ( فا ما من اوتی کتابه بیمینه فیقول هاوم اقرء وا کتابیه)(وأما من أوتی کتابه بشماله فیقول یا لیتنی لم أوت کتا بیهولم أدرما حسا بیه ) ( ۲ )
پس جس کواس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا آؤ ہمارا نامہ اعمال پڑھو اور جسے ا س کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جا ئے گا وہ کہے گا : اے کاش! میرا نامہ اعمال کبھی میرے ہاتھ میں نہ دیا جاتا اور میں اپنے حساب کو نہ جانتا ۔
۷۔( فأما من أوتی کتابه بیمینه ) ( فسوف یحا سب حساباً یسیراً)( وأما من اوتی کتا به و راء ظهره)(فسوف ید عوا ثبو راً ) ( ۳ )
پس جس کوا س کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا عنقر یب اس کا حساب آسانی سے ہو جائے گا ، لیکن جسکا نامہ اعمال اس کے پیچھے سے دیا جائے گا عنقر یب وہ ہلا کت کی فر یاد اور واویلا کرے گا۔
۸۔( و لایحسبن الذین یبخلو ن بما آتاهم ﷲ من فضله هوخیراً لهم بل هو شر لهم سیطوّ قون ما بخلوا به یوم القیا مة ) ( ۴ )
جو لوگ بخل اور کنجوسی سے کام لیتے ہیں اور جو خدا وند عالم نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے خرچ نہیں کرتے ، وہ خیال نہ کریں کہ یہ کام ان کے نفع میں ہے ، بلکہ ان کے لئے بُرا ہے ،عنقریب قیامت کے دن جس چیز کے بارے میں بخل کیا ہے وہ ان کی گردن کا طوق بن جائے گا ۔
____________________
(۱)جاثیہ۲۸ ، ۲۹ ،۳۳، ۳۵(۲)حاقہ ۱۹، ۲۶ (۳) انشقاق۷ ، ۱۱(۴)آل عمران ۱۸۰
۹۔( و یوم یقوم الا شهاد)( یوم لا ینفع الظا لمین معذ ر تهم ) ( ۱ )
جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے ، اس دن ظالموں کوان کی معذرت فائدہ نہیں دے گی۔
۱۰۔( و یوم نبعث فی کلّ اُمّة شهیداً علیهم من أنفسهم وجئنا بک شهیداً علیٰ هٰولائِ ) ( ۲ )
جس دن ہم ہر امت میں انھیں میں سے ان پر ایک گواہ لا ئیں گے اور تم کو (اے پیغمبر!)ان پر گواہ قرار دیں گے۔
۱۱۔( حتّیٰ اِذا ماجاؤها شهد علیهم سمعهم و ابصار هم وجلو دهم بما کانوا یعملون)( و قالوا لجلود هم لم شهد تم علینا قالوا أنطقنا ﷲ الذی أنطق کلّ شییئٍ ) ( ۳ )
جب اس تک پہنچیں گے توان کے کان ،ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیںان کے کرتوت کی گواہی دیں گی ، وہ لوگ اپنی جلدوں سے کہیں گے : کیوںہمارے برخلاف گواہی دی ؟ جواب دیں گی : جس خدا نے ہرموجود کو قوت گویائی عطا کی اسی نے ہمیں بھی گویائی دی ہے ۔
کلمات کی تشریح
۱۔''طائرہ'':اس کے اچھے اور بُرے عمل سے کنایہ ہے۔
۲۔''ثبور'': ہلاکت، ید عو ثبوراً، یعنی ہلاکت کی فریادکرتاہے۔
۳۔''سیطوّ فون'': ان کی گردن میں طوق ڈال دیں گے، یعنی واجب حقوق کے ادا نہ کرنے پر سانپ کی صورت میں بخل ان کی گردن میں مجسم ہو جائے گا۔
۴۔''الشھید والا شھاد'':شہید یعنی وہ قاطع گواہ جو بدل نہ سکے اور''اشھاد'''' شاہد'' کی جمع ہے اس سے مراد انبیاء اوران کے ہمراہی ہیں جو اپنی امت پر گواہی دیں گے اور جو بھی انسان سے صادر ہونے والے اعمال پر گواہ ہو۔
قیامت کے دن اعمال کے آثار کے بارے میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے:
۱۔''أطوَ لُکم قنوتاً فی دار الدنیا أطوَلُکم راحةً یوم القیا مة فی الموقف ''( ۴ )
جو لوگ دار دنیا میں قنوت (نماز)کے اعتبار سے جتنا طولانی ہوں گے وہ آخرت میں حساب کے وقت
____________________
(۱)غافر۵۱(۲)نحل ۸۹(۳)فصلت ۲۰،۲۱ (۴)ثواب الاعمال،ص۵۵
اتنا ہی ز یادہ مطمئن ہوں گے ۔
۲۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
''اِذا سجد أحد کم فلیباشر بکفیه الأرض لعلّ یصرف عنه الغل یوم القیامة'' ( ۱ )
جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تواسے چاہئیے کہ اپنی ہتھیلیوں کو زمین سے چسپاں کرے تاکہ روز قیامت کی تشنگی کا اس کو سامنا نہ ہو ۔
۳۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے کے آپ نے فرمایا:
(مَن بغی علیٰ فقیرٍ أو تطاول علیه و استحقره حشره ﷲ یوم القیامة مثل الذرة علیٰ صورة رجل ید خُلُ النار )( ۲ )
جو کوئی کسی فقیر پر ظلم کرے یااس پر فخر ومباہات کرے اوراُسے حقیر و معمولی سمجھے خدا وند عالم اسے قیامت کے دن انسانی شکل میں چیونٹی کے مانند جہنم میں داخل کرے گا۔
۴۔حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
''ان المتکبر ین یجعلون فی صورة الذر یتوطأ بهم الناس حتیٰ یفرغ ﷲ منالحساب'' ( ۳ )
متکبرین قیامت کے دن چیونٹی کی شکل میں ہوں گے اور لوگ ان کے او پر سے راستہ طے کریں گے یہاں تک کہ خدا وند عالم حساب و کتاب سے فارغ ہو جائے۔
____________________
(۱)ثواب الاعمال،ص۵۵۔۵۷.
(۲) ثواب الاعمال،ص ۳۳۵، باب ''اعمال کی سزائیں''
(۳)ثواب الاعمال،ص۲۶۵
۶۔
انسان اور جنت و جہنم میں اس کی جزا
خدا وندعالم انسان کو عالم آخرت میں اس کے اعمال کے مطابق جو اس نے اس دنیاوی زندگی میں انجام دئیے ہیں اوراس عا لم میں اس کے سامنے مجسم ہوں گے بہشتی نعمتوں کے ذریعہ جزا اور عذاب جہنم کے ذریعہ سزا دے گا ، جیسا کہ اس کے بارے میں خود ہی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
۱۔( اِنّ ﷲ ید خل الذین آمنو ا وعملو االصالحات جنّٰاتٍ تجری من تحتها الأنهار ) ( ۱ )
خداوندعالم ایمان لانے والوںاورعمل صالح انجام دینے والوں کو بہشت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی داخل کرے گا۔
۲۔( ومَن عمل صالحاً من ذکر أو أنثیٰ وهو مؤمن فأولئک یدخلون الجنة یرزقون فیها بغیرِ حساب ) ( ۲ )
جو کوئی بھی عمل صالح انجام دے خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو، وہی لوگ بہشت میں جائیں گے اوراس میں بے حساب رزق پائیں گے۔
۳( من یعمل سوء اً یجز به و لا یجد له من دونِ ﷲ وليّا و لا نصیراً و من یعمل من الصّا لحات من ذکرٍ أو أنثیٰ و هو مؤمن فأولئک ید خلونَ الجنة و لا يُظلمونَ نقیراً )
جو شخص بُرے کام کریگا اسے اس کی سزا ملے گی اور خدا کے علاوہ کسی کو ولی اور یاور نہیں پائے گا اور اگر کوئی اعمال صالحہ انجام دے گا ، خواہ عورت ہو یامرد ، جب کہ وہ مومن بھی ہو وہ جنت میں جائے گا اوراس پر ادنیٰ ظلم بھی نہیں ہوگا۔( ۳ )
۴۔( و یوم القیا مة تری الذین کذبوا علیٰ ﷲ وجوههم مسو دّة الیس فی جهنم مثویً للمتکبرین
____________________
(۱)حج۲۳
(۲)مومن۴۰
(۳)نسائ۱۲۳،۱۲۴
ووفّیت کلّ نفسٍ ما عملت)(...وسیق الذین اِتّقواربّهم اِلی الجنةِ زمراً ) ( ۱ )
جن لوگوں نے خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے انھیں دیکھو گے کہ ان کے چہرے قیامت کے دن سیاہ ہوں گے،آیا متکبر ین کے لئے جہنم میں کوئی ٹھکانہ نہیں ہے؟ اور جس نے جو بھی عمل انجام دیا ہے بغیر کسی کم وکاست کے اسے دیا جائے گا اور جن لوگوں نے تقوائے الٰہی اختیار کیا ہے وہ جوق در جوق بہشت میں لے جائے جائیںگے۔
۵۔( الذین آمنوا بآ یا تنا و کانوا مسلمین أدخلوا الجنة انتم وأزواجکم تحبرون ) ( ۲ )
جو لوگ ہماری آیات پر ایمان لائے اور مسلمان بھی ہیں(اُن سے کہا جائے گا)تم اور تمہاری بیویاں جنت میں خوش وخرم داخل ہو جاؤ۔
۶۔( وتلک الجنة التی أورثتموها بما کنتم تعملون ِأن المجر مین فی عذاب جهنم خا لدون وما ظلمنا هم و لکن کانوا هم الظّا لمین ) ( ۳ )
اوریہ وہ بہشت ہے جس کے تم اپنے اعمال کی جزا کے طور پر وارث ہو گے،(لیکن) گناہ کاروں کے لئے جہنم کا عذاب ابدی ٹھکانہ ہے... ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ہے بلکہ وہ خود ظالم تھے ۔
۷۔( و الذین یکنزون الذهب والفضّة ولا يُنفقونها فی سبیل ﷲ فبشّرهم بعذابٍ ألیمٍ یوم یحمیٰ علیها فی نارجهنم فتکویٰ بها جبا ههم و جنو بُهُم و ظهو رُ هم هذا ما کنزتم لأنفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون ) ( ۴ )
جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں لیکن اسے راہ خدا میں انفاق نہیں کرتے انھیں درد ناک عذاب کی بشارت دیدو! جس دن انھیں جہنم کی آگ میں گرم کرکے ان کے چہروں ، پہلووں اور پشتوں کو داغا جائے گا (اورا ن سے کہیں گے )یہ وہی چیز ہے جس کا تم نے اپنے لئے خود ہی ذخیرہ کیا ہے ! لہٰذا جو تم نے جمع کیا ہے اسکا مزہ چکھو۔
شیخ صدوق نے اپنی سند کے ساتھ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :
''اربعة یؤذون أهل النار علی ما بهم من الأ ذی ینادون بالویل و الثبور: رجل علیه تا بوت من حجر فِانه مات وفی عنقه أموال الناس لم یجد لها فی نفسه ادائً ولا مخلصاً ورجل یجرأ معاء ه ،فأ نه کان لا یبالی أین أصاب البول جسده ورجل یسیل فوه قیحاً و دماً، فأنه
____________________
(۱) زمر۶۰ ،۷۰ ،۷۳(۲) زخرف ۶۹، ۷۰(۳)زخرف۷۲، ۷۴، ۷۶.(۴)توبہ۳۴، ۳۵
کان یحاکی فینظر کل کلمةٍخبیثةٍ فیفسدُ بها و یحاکی بها و رجل یأکل لحمه،فأنه کان یأ کل لحوم الناس بالغیبة و یمشی بالنمیمة'' ( ۱ )
چار گروہ ایسے ہیں کہ جب عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو آہ وواویلا اور دہائی کا شور مچائیں گے جس سے اہل جہنم کو اذیت ہوگی۔
۱۔ایک وہ شخص جس پر پتھر کا تابوت ہو گا کیونکہ وہ ایسی حالت میں دنیا سے گیا ہے کہ لوگوں کے اموال و مال حقوق اس کی گردن پر تھے جن کے نیز ادا کرنے اور ان سے چھٹکارا پانے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تھا ۔
۲۔وہ شخص جو اپنی آنتیں خود گھسیٹتا پھرے گا وہ ایسا آدمی ہے جو بدن کے کسی حصّہ پر پیشاب کے لگ جانے کی پرواہ نہیں کرتا ۔
۳۔ وہ شخص جس کے منھ سے پیپ اور خون جاری ہوگا ، اس لئے کہ وہ ان کے اوران کے منھ سے بُری باتیںلیکر دوسروں کے سامنے بیان کرتا تھا اور فتنہ وفساد برپا کرتا تھا۔
۴۔وہ شخص جواپنا گوشت کھائے گا ،وہ ایسا شخص ہے جو لوگوں کا گوشت غیبت اور چغلی کر کے کھاتا تھا۔
خدا وند متعال جنت اور جہنم کے متعدد دروازوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( واِنّ للمتقین لحسن مآبٍجناتِ عدنٍ مفتحةً لهم الأبواب ) ( ۲ )
پرہیز گاروں کا انجام بخیر ہے، جاوداںبہشتی باغات جس کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔
ابلیس سے خطاب کرتے ہوئے (اس پر خدا کی لعنت ہو) فرمایا:
( اِنّ عبادی لیس لک علیهم سلطان اِلاّمن أتبعک من الغاوین و اِنّ جهنم لموعدهم أجمعین،لهاسبعةُ ابوابٍ لکل بابٍ منهم جزء مقسوم ) ( ۳ )
تو کبھی ہمارے بندوں پر مسلط نہیں ہوپائے گا، سوائے ان گمراہوں کے جو تیری پیر وی کریں اور جہنم ان سب کا ٹھکانہ اور وعدہ گاہ ہے،جس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک معین گروہ تقسیم ہوا ہے۔
کلمات کی تشریح:
۱۔''نقیر'': خرمے کی گٹھلی کی پشت پر معمولی نشیب اور نقطہ کو کہتے ہیں کہ ہلکی اور بے ارزش چیزوں
____________________
(۱)عقاب الاعمال ص ۲۹۵ ،۲۹۶(۲)ص۴۹،۵۰. (۳)حجر ۴۲، ۴۴.
کی اس سے مثال دیتے ہیں۔
۲۔''مثوی'' : استقرارو اقامت کی جگہ، ٹھکانہ وغیرہ۔
۳۔'' زمرا ً '': گروہ گروہ، زُمَر ، زُمْرہ کی جمع ہے فوج اور گروہ کے معنی ہے۔
۴۔'' مآب'' : باز گشت، عاقبت ، انجام ۔
۵۔''جنات عدن'' : سکون و اطمینان کی جنتیں.
روایات میں آیات کی تفسیر
مذکورہ آیات کی تفسیر سے متعلق رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات ، بعض در، دوسرے در سے بہتر ہیں۔( ۱ )
حضرت امام علی سے ایک روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
کیا تمھیں معلوم ہے کہ جہنم کے دروزے کیسے ہیں ؟ راوی کہتا ہے کہ ہم نے کہا : انھیں دروازوں کے مانندہیں، فرما یا نہیں ، بلکہ اس طرح ہیں: اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھا اوراُسے کھول دیا ،یعنی جہنم کے دروازے خود جہنم کے مانند ایک دوسرے پر سوار ہیں اور تفسیر قر طبی میں آیا ہے،اس کے بعض دروازے بعض دروازوں پر ہیں اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ! ہر طبقے والے اپنے اسی طبقے میں ہیں۔( ۲ )
نیز رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے کہ آپ نے '' جزء مقسوم''کی تفسیر میں فرمایا:جہنم کے در وزوںمیں سے ہر در وازے کے لئے اہل جہنم کا ایک معین گروہ تقسیم ہو ا ہے کہ ہر گروہ جواپنے کرتوت کے مطابق عذاب میں مبتلاہو گا۔( ۳ )
آخر میں ہم بعض احادیث کا ذکر کر کے بحث کو تمام کریں گے جو گزشتہ آیات کی تشریح کر رہی ہیں اور اعمال کے نتائج اجمال واختصار اور بسط و تفصیل سے بیان کر رہی ہیں اس ۔
۱۔اصو ل کافی میں حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
''جو کسی مومن کو راضی و خوشنود کرے خدا وند عزوجل اس خوشنودگی سے ایسی مخلوق پیدا کرے گا جو اس کے
____________________
(۱) تفسیر سیوطی ،الدرالمنثور ج۴ ،ص ۹۹، ۱۰۰، (۲)اس آیت کی تفسیر کے لئے تفسیر مجمع البیان ، تفسیر قرطبی و سیوطی کی جانب مراجعہ کیجئے.(۳) تفسیر سیوطی ،الدرالمنثور ج۴ ،ص ۹۹.
مرنے کے وقت اس سے ملاقات کرے گی ا وراس سے کہے گی: اے خدا کے ولی! تجھے مبارک ہو کہ تو خداوندعالم کی کرامت اور اس کی رضاوخو شنودگی کے ساتھ ہے، پھر وہ اس کے ساتھ ہمیشہ رہے گی یہا ں تک کے قبر میں جاتے وقت اسے یہی خوشخبری دے گی اور جب محشور ہوگا تب بھی اس کے دیدار کو جائے گی ،اس کے پاس رہے گی یہاں تک کہ سخت اور ہولناک میں ہمیشہ اسے نوید دے گی اوراس کا دل شاد کرتی رہے گی، پھر وہ شخص اس سے
کہے گا : تجھ پر خدا کی رحمت ہو تو کون ہے ؟ کہے گی:''میں وہی خوشی ہوں جو تو نے فلاں شخص کو عطاکی تھی''( ۱ )
۲۔بحار میں جناب صدوق کی ''معانی الاخبار'' سے حضرت امام جعفر صادق سے روایت نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا:
جو کسی مومن کا غم غلط کرے اوراس کے رنج کو دور کرے خداوند عالم آخرت میں اس کے رنج و غم کو دور کرے گا اور وہ ٹھنڈے دل کے ساتھ خوش حال قبر سے باہر آئے گا اور جو کسی مومن کو گرسنگی اور بھوک سے نجات دے خدا وند عالم اسے بہشت میں میوے کھلائے گا اور جو کوئی اسے پانی پلائے خدا وند عالم اسے جنت کے مہر شدہ جام پانی سے سیراب کرے گا۔( ۲ )
۳۔ حضرت امام ابو الحسن سے اصول کافی میں روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
روئے زمین پر خدا کے کچھ ایسے بندے ہیں جو ہمیشہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے رہتے ہیں ،وہ لوگ روز قیامت آسودہ خاطر اور خوشحال افراد میں سے ہوںگے ، ہاں اگر کوئی کسی مومن کو خوش کرے تو خدا وندعالم قیامت کے دن اس کا دل شاد کرے گا۔( ۳ )
۴۔اصول کافی میں حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :
کوئی مسلمان کسی مسلمان کی ضرورت پوری نہیں کر تا مگر یہ کہ خدا وندعالم اسے آواز دیتا ہے تیری جزا مجھ پر ہے اور بہشت کے علاوہ کسی چیز پر تیرے لئے راضی نہیںہوں۔( ۴ )
۵ ۔جناب صدوق نے ثواب الاعمال میں معروف بن خر ّبوذ کا قول نقل کیا ہے کہ اس نے کہا، میں نے امام باقر ـ کو فرماتے ہوے سناہے:
''جو مومن بھی دنیا میں پریشانی اور مشکلات میں گرفتار ہو اور بوقت مشکل '' انا للہ و انا الیہ راجعون'' کہے ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جا ئیں گے! خدا وند عالم اس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دے گا ،
____________________
(۱)اصول الکافی ج۲ص۱۹۱،ح۱۲ (۲)بحار ج۶ ،ص ۳۵۵(۳)اصول کافی ج۶ ، ص ۱۹۷ ،ح۶ (۴)اصول کافی ج۱ ، ص۱۹۴ ،ح۷
سوائے ان گناہان کبیرہ کے جو جہنم کا باعث ہوں اور فرمایا: جب بھی کوئی اپنی آئندہ عمر میں کسی مصیبت کویاد کرے اور کلمہ استر جاع ''انا للہ و انا الیہ راجعون''کہے اور خدا کی حمد کرے خدا وندعالم اس کے وہ تمام گناہ جو کلمہ استر جاع اوّل اورکلمئہ استرجاع دوم کے فاصلہ میں انجام د یئے ہیں بخش دے گا سوائے گناہان کبیرہ کے''۔( ۱ )
۶۔ بحارالانوار میں امام جعفر صادق سے اور انھوں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ذکر کیا ہے کہ خدا وند عالم فرماتا ہے:
'' کسی بندہ کو بہشت میں ا س وقت تک داخل نہیں کروں گا جب تک کہ ا سے جسمانی تکالیف میں مبتلا نہ کردوں، اگر یہ بلا اور مصیبت اس کے گناہوں کے کفارہ کی حد میں ہے تو ٹھیک ہے ، ورنہ کسی جابر و ظالم کواس پر مسلط کر دوںگا اگراس سے اس کے گناہ دھل گئے تو اسی پر اکتفاء کروں گا ورنہ اس کی روزی کو تنگی میں میں قراردوں گا تاکہ اس کے گناہ دھل جائیں اگراگراس سے دھل گئے تو ٹھیک ورنہ موت کے وقت اس پر اتنی سختی کروں گا کہ میرے پاس بے گناہ اورپاک و صاف ا ئے پھراسے اسوقت بہشت میں داخل کروں گا...۔( ۲ )
۷۔صیح بخاری میں ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:
''کوئی مسلمان ایسا نہیںہے جو مصیبت میں مبتلا ہو اور خدااُس کے گناہوں کو ختم نہ کر دے جیسے کہ درخت سے پتے جھڑتے ہیں''( ۳ )
۸۔ایک دوسری روایت میں ہے : کسی مسلمان پر کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر یہ کہ خدا وند عا لم اسکے گناہوں کا کفارہ قرار دیتاہے خواہ وہ ایک خراش ہی کیوں نہ ہو۔( ۴ )
۹۔صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں مذکور ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
''کوئی مسلمان ایسا نہیںہے جس کوکانٹے کی خراش یااس سے سخت تر کوئی چیز پہنچے مگر یہ کہ خدا وند عالم
اس کے گناہوں کو اسی طرح جھاڑ دے گا جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں''۔( ۵ )
۱۰۔صحیح بخاری اور مسنداحمدمیں ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
''کسی مسلمان کو کوئی رنج و غم، دشواری، دردو مرض ، مصیبت و اندوہ، یااذیت و آزار،آسیب و گزند حتی کا خراش تک نہیں پہنچتی مگر یہ کہ خداوند عالم ا سے ا سکے گناہوں کا کفّارہ قراردیتا ہے''( ۶ )
____________________
(۱)بحارجلد۸۲ ، ص۱۲۷، ۱۲۸ بہ نقل از ثواب ا لاعمال ص۲۳۴ (۲)بحار ج۶ ، ص ۱۷۲ ۔ بہ نقل ازکتاب التمحیص.(۳)صحیح بخاری کتاب المرضی، باب :'' شدة المرض'' (۴)صحیح بخاری ج۳ ، ص ۳، کتاب المرضی، باب : ''ماجاء فی کفا رة المرض''(۵)صحیح بخاری ج۳، ص۳، کتاب المرضی، باب:''شدة المرض''صحیح مسلم،کتاب البر و الصلة والادب، باب'' ثواب المو من فیما یصیبہ ''(۶)صحیح بخاری ج۳، ص۲، کتاب المرضی باب:''ما جاء فی کفارة المرض'' .مسند احمد ج۳، ص ۱۸۰.
۷۔
صبر وتحمل کی جزا
جس طرح خدا وندعالم نے انسان کے ہر عمل کے لئے دنیوی جزا اور اخروی پاداش رکھی ہے اسی طرح مصائب و آلام پر انسان کے صبر و تحمل کیلئے دنیاوی جزا اور اخروی پاداش مقرر کی ہے، امام علی ـنے رسول خدا سے روایت کی ہے کہ آ نحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
''الصبر ثلاثة صبر عند المصیبة، و صبر علی الطاعة و صبر عند المعصیة'' ( ۱ )
صبر و شکیبائی کی تین قسمیں ہیں:
۱۔مصیبت کے وقت صبر کرنا ۔
۲۔ اطاعت میں استقامت و پائیداری۔
۳۔ معصیت کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرنا۔
خدا وند عالم سورہ ٔاعراف میں فرماتا ہے:
''بنی اسرائیل کو اس وجہ سے جزا دی ہے کہ انھوں نے دنیاوی زندگی میں صبر وشکیبائی کا مظاہرہ کیا''۔
( واورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الأرض و مغاربها التی بارکنا فیها و تمت کلمت ربّک الحسنی علی بنی اِسرائیل بما صبروا ودمّرنا ما کان یصنع فرعون و قومه و ما کانوا یعر شون ) ( ۲ )
مشرق ومغرب کی سر زمینوں کو جس میں ہم نے برکت دی ہے مستضعف قوم (بنی اسرائیل) کومیراث میں دیدیا اور تمہارے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل سے ان کے صبر و استقامت کے مظاہرے کے نتیجہ میں
____________________
(۱)بحار ، ج ۸۲ ،ص ۱۳۹، مسکن الفؤاد کے حوالے سے.
(۲)اعراف ۱۳۷.
پورا ہوا اور فرعون اور فرعون کی قوم والے جو کچھ بنا رہے تھے ان کو اور ان کی اونچی اونچی عمارتوں کو مسمار کر دیا ۔
نیز صبر کی سہ گانہ اقسام کی پاداش کے بارے میں فرماتا ہے۔
۱۔( ولنبلو نّکم بشیئٍ من الخوف والجوع و نقصٍ من الأموال و الأ نفس و الثمرات و بشّرالصا برین الذین اذا أصابتهم مصیبة قالوا اِنّا لله و اِنّا اِلیه را جعون اولآء ک علیهم صلوات من ربّهم و رحمة و اولاء ک هم المهتدون ) ( ۱ )
یقینا ہم تمھیں خوف، بھوک، جان ومال اور پھلوں کی کمی کے ذریعہ آزمائیں گے اور بشارت دیدو ان صبرکرنے والوں کو کہ جب کوئی مصیبت ان پر پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اوراسی کی طرف ہماری بازگشت ہے، ان ہی لوگوں پرپروردگار کا درودو رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
۲( لیس البرّ ان تولّوا وجوهکم قبل المشرق و المغرب و لکنّ البر من آمن بﷲ و الیوم الآ خر و الملا ئکة و الکتاب والنبیيّن و أتی المال علیٰ حبه ذوی القربیٰ و المساکین و ابن السبیل و السائلین و فی الرّقاب وأقام الصّلاة وآتی الزکاة و الموفون بعهد هم اذا عاهدوا والصابرین فی البأ ساء و الضرّاء و حین البأس اولئک الذین صدقوا و أولآء ک هم المتقون ) ( ۲ )
نیکی صرف یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کومغرب اور مشرق کی طرف کرلو،بلکہ نیکی اور نیک کردار وہ ہے جو خدا ،روز قیامت ، فرشتوں ، کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لائے ہو اور باوجود اس کے کہ اسے خود مال کی سخت ضرورت ہے، اپنے رشتہ داروں ، یتیموں، مسکینوں،ابن سبیل، سائلوں اور غلاموں پر انفاق کرے،نماز قائم کرتا ہو اور زکوة دیتا ہو، نیز وہ لوگ جو عہد وپیمان کرتے ہیں اور اپنے عہد کو وفا کرتے ہیںاور محرومیوں، بیماریوںاور جنگ کے موقع پر ثبات قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ لوگ ایسے ہیں جو سچ کہتے ہیں اور یہی لوگ متقی اور پرہیز گار ہیں!
سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیات کا خلاصہ یہ ہوا کہ پرہیز گار، نیک وصالح اور ہدایت یافتہ یہ وہ لوگ ہیںجو اچھے اور شائستہ عمل انجام دیتے ہیںاور صبر کے تینوں اقسام سے آراستہ اور مالامال ہیں۔
طاعت و مصیبت پر صبرکرنے کے منجملہ نمونے اور مصادیق میں سے اذیت وآزار اورتمسخر واستہزا پر مؤمنین کا خدا پر ایمان لانے کی وجہ سے صبر و شکیبائی اختیار کرنا جیسا کہ خدا وند عالم اس کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
____________________
(۱)بقرہ ۱۵۵، ۱۵۷
(۲)بقرہ ۱۷۷.
۱۔( اِنّه کان فریق من عبادی یقولون ربنا آمنّا فاغفرلنا وأرحمنا وأنت خیر الرّاحمین فأ تخذ تموهم سخريّا حتیٰ أنسوکم ذکری وکنتم منهم تضحکون انی جزیتهم الیوم بها صبروا أنّهم هم الفائزون ) ( ۱ )
بتحقیق ہمارے بندوں کا ایک گروہ کہتا ہے: خداوند ا! ہم ایمان لائے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر کیونکہ تو سب سے اچھا رحم کرنے والا ہے،تم نے ان کا مسخرہ کیااور مذاق اڑایا یہاں تک کہ انھوں نے تمھیں میرے ذکر سے غافل کر دیا اور تم لوگ اسی طرح مذاق اڑاتے رہے ، ہم نے آج ان کے صبرو استقامت کی وجہ سے انھیں جزا دی ہے،یقینا وہ لوگ کامیاب ہیں ۔
۲۔( الذین اتینا هم الکتاب من قبله هم به یؤمنون و اذا یتلیٰ علیهم قالوا آمنّا به اِنّه الحق من ربّنا اِنّا کنا من قبله مسلمین أولائک یؤتون اَجرهم مر تین بما صبروا و یدرأون با لحسنة السّيّئة و مِمّا رزقنا هم ینفقون واِذا سمعوا اللّغو اعرضوا عنه و قالوا لنا أعمالنا ولکم أعمالکم سلام علیکم لانبتغی الجاهلین ) ( ۲ )
وہ لوگ جنھیں ہم نے قرآن سے پہلے آسمانی کتاب دی اس پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان پر تلاوت ہوتی ہے تو کہتے ہیں ہم یہ اس پر ایمان لائے، یہ سب کا سب حق ہے اور ہمارے رب کی طرف سے ہے اور ہم اس سے پہلے بھی مسلمان تھے ، ایسے لوگ اپنے صبر و استقامت کی بنا پردومرتبہ جزا دریافت کرتے ہیں اور نیکیوں سے بُرائیوں کو دور کرتے ہیں، جوکچھ ہم نے انھیں روزی دی ہے اس میں سے انفاق کرتے ہیں اور جب کبھی بیہودہ اور لغو بات سنتے ہیںتواس سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے، تم پر سلام کہ ہم جاہلوں کو دوست نہیں رکھتے۔
۳۔خدا وند عالم نے سورۂ رعد میں نماز قائم کرنے والوں اور صابروں کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا:
( و الذین صبروا ابتغاء وجه ربهم ؤقامو االصلاة و أنفقوامِمّارزقنا هم سراً و علا نيةً و یدرء ون بالحسنة السیئة أولآئک لهم عقبیٰ الدار)(جنات عدنٍ ید خلونها و من صلح من آبائهم وأزواجهم وذر يّا تهم و الملا ئکة یدخلون علیهم من کل بابٍ سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار ) ( ۳ )
____________________
(۱)مومنون ۱۰۹، ۱۱۱
(۲)قصص ۵۲، ۵۵.
(۳)رعد ۲۲۔۲۴
اور جو خدا کی مرضی حاصل کرنے کے لئے صبر وشکیبائی کا مظاہرہ کرتے ہیںاور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ انھیں ہم نے روزی دی ہے اس میں سے آشکارا اور پوشیدہ طور پر انفاق کرتے ہیں اور نیکیوں کے ذریعہ بُرائیوں کودور کرتے ہیں ، اس دنیا یعنی عقبیٰ کا نیک انجام صرف ان سے مخصوص ہے دائمی اور جاوید بہشتوں میں اپنے نیک اور صالح آباء و اجداد،بیویوں اور فرزند وں کے ساتھ رہیں گے اور فرشتے ہر در سے ان پر داخل ہو کر کہیں گے:تم پر سلام ہو کہ تم نے صبر کا مظاہرہ کیا!اور کتنا اچھا ہے اس دنیا کاانجام!
کلمات کی تشریح:
۱۔''یعرشون'': اوپرلے جاتے ہیں،یہاں پر اس سے مراد وہ محکم اور مضبوط عمارتیں ہیں جنھیں فرعونیوں نے اپنی املاک میں بنائی تھیں۔
۲۔''البأ س و الباسآئ'': سختی اور ناخوشی اور جنگ یہاں پر باساء سے مراد سختی اورناخوشی ہے اور (بأس) سے مراد جنگ کا موقع ہے۔
۳۔''یدرؤن، ید فعون'': دور کرتے ہیں اور اپنے سے ہٹاتے ہیں۔
روایات میں صابروں کی جزا
بحار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق ـسے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
جب نامۂ اعمال کھو لا جائے گا اور اعمال تولنے کے لئے میزان قائم ہوگی تو مصیبتوں کا سامنا کرنے والے صابروں کے لئے نہ اعمال تولنے کا ترازو ہوگا اور نہ ہی ان کے اعمال نامے کھولے جائیںگے ! اور اس آیت کی تلاوت فرمائی:
( اِنّما یوفیّٰ الصابرون ٔاجر هم بغیرحساب )
صابروں کو ان کے صبر کی بے حساب جزا ملے گی۔( ۱ )
نیز بحار میں اپنی سند سے امام زین العابدین سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
____________________
(۱) بحارج ۸۲ ، ص ۱۴۵ا ور زمر ۱۰.
''جب خدا وند عالم تمام اولین وآخرین کوجمع کرے گا ،تو ایک منادی ندا کرے گا : کہاں ہیں صبر کرنے والے تاکہ بے حساب بہشت میں داخل ہوں ؟کچھ سرفراز اور ممتاز لوگ اٹھیں گے ، فرشتے ان کے پاس جاکر کہیں گے : اے اولاد آدم کہاں جارہے ہو ؟ کہیں گے : بہشت کی طرف : کہیں گے: حساب سے پہلے ہی؟کہیں گے ہاں، پھر وہ لوگ سوال کریں گے تم لوگ کون ہو؟کہیں گے صابرین! پھر وہ کہیں گے : تمہارا صبر کس طرح کا تھا ؟ جواب دیں گے :اطاعت الٰہی میں ثابت قدم اوراس کی معصیت سے ہم نے خود کو اس وقت تک بچایا جب تک کہ خدا نے ہمیں موت نہ دیدی اور روح نہ قبض کر لی ، فرشتے کہیں گے:تم ویسے ہی ہو جیسا کہ تم نے کہا، جنت میں داخل ہو جاؤ کیو نکہ اچھا کام کر نے والوں کی جزا بھی بہت اچھی ہوتی ہے۔( ۱ )
اور شیخ صدوق ثواب الاعمال میں اپنی سند کے ساتھ امام محمد باقر ـسے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
''جو شخص دنیا سے اندھا جا ئے ، جبکہ اس نے خدا کے لئے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا ہو اور محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا چاہنے والا ہو تو وہ خدا سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی حساب نہ ہوگا''۔( ۲ )
یہ سب اس جزا کے نمونے ہیں جسے انسان غم واندوہ پر صبر کر نے یا عمل کی بنیاد پر دریافت کر ے گاآیندہ بحث میں خدا کی مدداو رتوفیق سے اس بات کی تحقیق و بر رسی کر یں گے کہ اعمال کے نتیجے کس طرح سے میراث بن جاتے ہیں۔
____________________
(۱)بحار : ج،۲۸، ص ۱۳۸.
(۲)ثواب الاعمال،ص ۶۱ اور ۲۳۴.
۸۔
عمل کی جزا نسلوں کی میراث ہے
خدا وند عالم نے خبر دی ہے کہ عمل کی جزا اور پاداش بعد کی نسلوں کے لئے بھی باقی رہ جاتی ہے جیسا کے سورۂ نساء میں فرماتا ہے:
( ولیخش الذین لو ترکوا من خلفهم ذرّيةً ضعافاً خافوا علیهم فلیتّقوا ﷲ و لیقولوا قو لاً سد یدا)( اِنّ الذین یأ کلون أموال الیتامی ظلماً اِنّما یأ کلون فی بطو نهم ناراً و سیصلون سعیراً ) ( ۱ )
جو لوگ اپنے بعد چھو ٹے اور ناتواں بچے چھوڑ جاتے ہیںاوران کے آئندہ کے بارے میں خوفزدہ رہتے ہیں، انھیں چاہئے کہ ڈریں ، خداکا تقویٰ اختیار کریں،سنجیدہ اور درست باتیں کہیں، نیزوہ لوگ جو یتیموں کے اموال بعنوان ظلم وستم کھاتے ہیں ، وہ اپنے شکم کے اندر صرف آتش کھاتے ہیں اور عنقریب آگ کے شعلوں میں جلیں گے ۔
سورۂ کہف میں ارشاد ہوتا ہے:
( فانطلقا حتیّٰ اذا اتیا اهل قرية ٍ استطعما اهلها فا بوا ان یضیفو هما فوجدا فیها جداراً یرید ان ینقض فا قا مه قال لو شئت لتخذت علیه اجراً و اما الجدار فکان لغلا مین یتیمین فی المدینة و کان تحته کنز لهما و کان ابو هما صالحاً فا رادربک ان یبلغا اشُدَّ هُما و یستخرجا کنز هما رحمةً من ربک ) )( ۲ )
حضرت خضر و حضرت موسی اپنا راستہ طے کرتے رہے ،یہاں تک کہ لوگوں کی ایک بستی میں تک پہنچے اوران سے غذا کی درخواست کی ، لیکن ان لوگوں نے انھیں مہمان بنا نے سے انکارکیا ، وہاں ایک گرتی ہوئی
____________________
(۱)نساء ۹ ، ۱۰.
(۲) کہف ۷۷ ،۸۲
دیوار ملی ،خضر نے اسے سیدھا کر دیا موسیٰ نے کہا : اس کام کے بدلے اجرت لے سکتے تھے... لیکن وہ دیواراس شہر میں دو یتیموں کی تھی اوراس کے نیچے ایک خزانہ تھا جو انھیں دو سے متعلق تھا ، ان کا باپ نیک انسان تھا اور تمہارے پروردگار نے چاہا کہ جب وہ دونوں بالغ ہو جائیں تو اپنا خزانہ نکال لیں، یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک نعمت تھی۔
کلمات کی تشریح:
۱۔''سدید'': درست، قول سدید یعنی درست اور استوار بات جو عدل و شرع کے مطابق ہو۔
۲۔'' سعیر'': بھڑ کی ہوئی سر کش آگ کہ اس سے مراد جہنم ہے۔
۳۔''ینقض''ُّ: گرتی ہے ،یعنی وہ دیوار گرنے اور انہدام کی منزل میں تھی۔
۴۔''اشد ھما'':ان دونوں کی قوت اور توانائی،'' یبلغا اشدّ ھما''یعنی سن بلوغ اور توانائی کو پہنچ جائیں۔
مرنے کے بعد عمل کے نتائج اور آثار
بعض اعمال کے آثار انسان کے مرنے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں اور اس کا نفع اور نقصان اس صاحب عمل کو پہنچتا رہتاہے؛ جناب شیخ صدوق نے خصال نامی کتاب میں امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
'' انسان مرنے کے بعد کسی ثواب اور پاداش کا مالک نہیں ہوتا بجز تین کاموں کی جزا کے''۔
۱۔صدقہ جاریہ، یعنی وہ صدقہ جس کا سلسلہ اس نے اپنی زندگی میں قائم کیا ہو ، جیسے وقف کی وہ جائداد جو میراث میں تقسیم نہیں ہوتی، یہ سلسلہ مرنے کے بعد قیامت تک جاری رہتا ہے۔
۲۔ہدایت و راہنمائی کی وہ سنت قائم کی ہو جس پر وہ خود عامل رہا ہو اوراس کی موت کے بعد دوسرے اس پر عمل کریں۔
۳۔ اس نے ایک ایسی نیک اور صالح اولاد چھوڑی ہو جواس کے لئے بخشش ومغفرت کی دعاکرے ۔( ۱ )
____________________
(۱) خصال صدوق ج ۱، ص ۱۵۳.
اس حدیث کی شرح دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ امام نے فرمایا:
چھ چیزیں ایسی ہیں جن سے مومن اپنی موت کے بعد فائدہ اٹھا تا ہے:
۱۔ صالح اولاد جواس کے لئے بخشش ومغفرت چا ہتی ہے۔
۲۔ کتاب اور قرآن کاپڑھنا۔
۳۔پانی کا کنواں کھودنا۔
۴۔درخت لگانا۔
۵۔پانی جاری کر کے صدقہ کے لئے وقف کردینا ۔
۶۔وہ پسندیدہ سنت جو مرنے کے بعد کام آئے۔( ۱ )
یہاں تک ہم نے دنیا وآخرت میں عمل کے آثار اوران کا بعنوان میراث باقی رہنا بیان کیا ہے، نیک اعمال کے جملہ نتائج وآثار میں ایک''حق شفاعت''ہے کہ پروردگار عالم اپنے بعض بندوں کو عطا کرے گا اور ہم انشاء ﷲ آئندہ بحث میں اس پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔
____________________
(۱)خصال صدوق ج۱ ، ص ۳۲۳
۹۔
شفاعت کی لیاقت؛ بعض اعمال کی جز
الف:شفاعت کی تعریف
شفاعت عربی زبان میں ''دو ایک جیسی ''چیزوں کو ضمیمہ کرنے اور گناہگاروں کے لئے عفو وبخشش کی سفارش کرنے کو کہتے ہیں،شفیع اور شافع وہ شخص ہے جو گناہگاروں کی مدد کرنے کے لئے ان کے ہمراہ ہواور ان کے حق میں شفاعت کرے۔
ب: شفاعت قرآن کی رو شنی میں
خدا وندعالم سورۂ طہ میں ارشاد فرماتا ہے:
( یوم ینفخ فی الصور)(یومئذٍلا تنفع الشفا عة اِلّامن أَذن له الرّحمن و رضیَ له قولاً ) ( ۱ )
جس دن صور پھونکا جائے گا ....اس دن کسی کی شفاعت کار آمد نہیں ہوگی جزان لوگوں کے جنھیں خداوند رحمن نے اجازت دی ہو اور ان کی گفتار سے راضی ہو۔
سورۂ مریم میں ارشاد ہوتا ہے:
( لا یملکون الشفا عة اِلاّ من اْتّخذ عند الرحمن عهداً ) ( ۲ )
لوگ ہر گز حق شفاعت نہیں رکھتے جزان کے جوخداوند رحمن سے عہد وپیمان کر چکے ہیں۔
سورۂ اسراء میں ارشاد فرماتا ہے:
____________________
(۱)طہ ۱۰۲ ، ۱۰۹ (۲)مریم ۸۷
( عسیٰ ان یبعثک ربّک مقا ماً محموداً ) ( ۱ )
امید ہے کہ خداوند عالم تمھیںمقام محمود ( مقام شفاعت) پر فائز کرے گا.
سورۂ انبیاء میں ارشاد ہوتا ہے:
( لا یشفعون الا لمن ارتضیٰ وهم من خشیته مشفقون ) ( ۲ )
وہ لوگ (شائشتہ بندے) بجز اس کے جس سے خدا راضی ہو کسی اور کی شفاعت نہیںکریں گے اور وہ لوگ خوف الٰہی سے خوف زدہ ہیں ۔
سورہ اعراف میں ارشادہوتا ہے:
( الذین اتّخذ وادینهم لهواً ولعباً وغرّ تهم الحیاة الدنیا فالیوم ننساهم کما نسوا لقائَ یومهم هذا)( یوم یأتی تأویلهُ یقولُ الذین نسوه من قبل قد جاء ت رُسُل ربّنا بالحقّ فهل لنا من شفعاء فیشفعوا لنا ) ( ۳ )
جن لوگوں نے اپنے دین سے کھلواڑ کیا اوراسے لہو و لعب بنا ڈالا اور زندگانی دنیا نے انھیں مغرور بنا دیا آج (قیامت ) کے دن ہم انھیں فراموش کر دیں گے جس طرح کہ انھوں نے آج کے دن کے دیدار کو فراموش کر دیا جس دن حقیقت امر سامنے آجائیگی،جن لوگوں نے اس سے پہلے گزشتہ میں اسے فراموش کر دیا تھا کہیں گے: سچ ہے ہمارے ربّ کے رسولوں نے حق پیش کیا ،آیا کوئی شفاعت کرنے والا ہے جو ہماری شفاعت کرے؟
آیات کی تفسیر
جس دن صور پھونکا جائے گا توکسی کی شفاعت کار آمد نہیںہوگی جز خدا کے ان صالح بندوں کے جنھیں خدا نے اجازت دی ہو اوران کی گفتار سے راضی ہو۔
نیز کوئی بھی شفاعت کا مالک نہیں ہے سوائے ان لوگوں کے جو خدا وند عالم سے عہد وپیمان رکھتے ہیں یعنی انبیاء ، اوصیاء اور خدا کے صالح بندے جو ان کے ساتھ ہیں۔
شفاعت مقام محمودہے جس کا خدا نے حضرت خاتم الانبیائصلىاللهعليهوآلهوسلم سے وعدہ کیا ہے اور انبیاء بھی صرف ان لوگوں
____________________
(۱)اسرائ۷۹ (۲)انبیاء ۲۸(۳)اعراف ۵۱۔ ۵۳
کی شفاعت کریں گے جن کی شفاعت کے لئے خدا راضی ہو، یہی وہ دن ہے جس دن مغرور افراد اور وہ لوگ جنھیں زندگانی دنیا نے دھوکا دیا ہے جب کہ ان کا کوئی شفیع نہیں ہوگا کہیں گے:آیا کوئی ہمارا بھی شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے؟
ج : شفاعت روایات کی رو شنی میں
عیون اخبار الرضا نامی کتاب سے نقل کے مطابق بحار میں ہے کہ امام رضا نے اپنے والد امام موسی کاظم سے اور انھوں نے اپنے والد سے حضرت ا میر المومنین تک روایت کی ہے کہ آپ(امیر المومنین ) نے فرمایا : رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
''من لم یومن بحوضی الحوض: الکوثر فلا أو ردهُ ﷲ حوضی و مَن لم یؤمن بشفا عتی فلا اَنا لهُ ﷲ شفا عتی ''
جو شخص میرے حوض(حوض کوثر) پر اعتقاد وایمان نہیں رکھتا خدا وند عالم ا سے میرے حوض پر وارد نہ کرے اور جو میری شفاعت پر ایمان نہیں رکھتا ، خدا وند عالم اسے میری شفاعت نصیب نہ کرے۔
راوی روایت کے اختتام پر امام رضا سے سوال کرتا ہے اے فرزند رسول ! خدا وند عالم کے اس قول کے کیا معنی ہیں کہ فرماتا ہے:''( ولایشفعون الاّ لمن ارتضی'' )
شفاعت نہیں کر یں گے مگر ان کی جن سے خدا راضی ہو۔
فرمایا :آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ صرف ان کی شفاعت کریںگے جن کے دین سے خدا راضی و خوشنود ہو گا۔( ۱ )
مسند احمد میں ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
''الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامة ، یقول الصیام : أی ربّ منعته الطّعام و الشهواتِ با لنهار فشفعنی فیه و یقول ال قرآن : منعته النوم باللیل فشفّعنی فیه ، قال:فیشفعان'' ( ۲ )
قیامت کے دن روزہ اور قرآن خدا کے بندوں کی شفاعت کریں گے ، روزہ کہے گا:خدا وندا! میں نے اسے پورے دن کھانا کھانے اور خواہشات سے روکا ہے، لہٰذا مجھے اس کا شفیع قرار دے اور قرآن کہے گا: میں
____________________
(۱)بحار ، ج۸،ص۳۴ اور انبیائ ۲۸
(۲)مسند احمد ج۲، ص ۱۷۴.
نے اسے رات کی نیند سے روکاہے،لہٰذا مجھے اس کا شفیع قرار دے ،فرمایا: اس طرح اس کی شفاعت کریں گے۔
حضرت امام علی علیہ السلام کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا : رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے:
'' ثلاثة یشفعون اِلی ﷲ عزّو جلّ فیشفّعون: الأنبیاء ثُّم العُلماء ثُّم الشهدٰائ'' ( ۱ )
خدا کے نزدیک تین گروہ ایسے ہیں جو شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول ہوگی: انبیائ،علماء اور شہدا ء ۔
سنن ابن ماجہ میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
(یشفع یوم القیامة ثلاثة: الأنبیاء ثُّم العلمائُ ثُّم الشهدائ )( ۲ )
قیامت کے دن تین گروہ شفاعت کر یں گے:انبیاء ،علماء اور شہدائ۔
بحار الانوار میں امام جعفر صادق ـسے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شفاعت کے بارے میں قیامت کے دن ایک حدیث ہے جس کے آخر میں یہ ذکر ہوا ہے :
''اِ نَّ رسول ﷲ صلی ﷲ علیه و آله وسلم یومئذٍ یخر ساجداً فیمکُث ما شائَ ﷲ فیقولُ ﷲ عزّ و جل: أرفع رأسک و أشفع تُشفع، وسل تُعط ،و ذٰلک قولهُ تعالیٰ: عسیٰ ان یبعثک ربّک مقاماً محموداً'' ( ۳ )
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اس دن سجدہ میں گر پڑیں گے اور جب تک خدا چاہے گا سجدے میں رہیں گے، اس کے بعد خداوندعزوجل فرمائے گا اپنا سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو تاکہ تمہاری شفاعت قبول ہو، مانگو تا کہ تمہاری خواہش پوری کی جائے یہ وہی خدا وند عالم کا قول ہے کہ فرمایا ! تمہارا رب تمھیں مقام محمود تک پہنچا جائے گا۔
اس خبر کی تفصیل تفسیر ابن کثیر وطبری و دیگر لوگوں کی کتابوں میں کچھ الفاظ کے فرق کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔( ۴ )
ترمذی نے حضرت امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا:
''شفا عتی لأهل الکبائرمن أُمتی'' ۔
میری شفاعت میری امت کے گنا ہان کبیرہ انجام دینے والوں کے لئے ہے۔( ۵ )
____________________
(۱)بحارج۸ ، ص ۳۴.(۲)سنن ابن ماجہباب ذکر شفاعت ،ح۴۳۱۳ .(۳)بحارج۸،ص۳۶واسرائ۷۹.(۴)مذکورہ آیت کی تفسیر کے لئے تفسیر طبری ، قرطبی و ابن کثیراور صحیح بخار ی کتاب تفسیر ج ۳ ، ص ۱۰۲ اور سنن ابن ماجہ حدیث ۴۳۱۲ اور سنن ترمذی ،ج۹ ، ص ۲۶۷ کی جانب مراجعہ کیجئے: (۵)سنن ترمذی کتاب '' صفة یوم القیامة
بحث کا نتیجہ
شفاعت سے متعلق ذکر شدہ تمام آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن شفاعت ہر شخص کے لئے وہ بھی جس طرح چاہے نہیں ہے بلکہ شفاعت خدا وند عالم کی مشیت کے اعتبار سے ہے جو ان اعمال کی جز ا ہے جنہیں خدا وندعالم نے اسباب شفاعت قرار دیا ہے ،جیسے یہ کہ کسی مسلمان بندہ نے کسی واجب کے بارے میں کوتاہی کی ہو اور دوسری طرف اپنی دنیا وی زندگی میں تہہ دل سے رسول اور اہل بیت کا دوست رہا ہو نیز انھیں اس لئے دوست رکھتا تھا کہ وہ خدا کے اولیاء ہیں ،یا یہ کہ کسی عالم کا اس لحاظ سے اکرام و احترام کرتاکہ وہ اسلام کا عالم ہے یا کسی مومن ِ صالح کے ساتھ نیکی کی ہو جو کہ بعد میں درجہ شہادت پر فا ئز ہواہو، خدا وند عالم بھی اسے اس قلبی محبت اور عملی اقدام کی بنا پر جزا دے گا تا کہ ا س واجب کے سلسلے میں جو کوتاہی کی ہے اسکی تلا فی ہو جائے۔
ٹھیک اس کے مقابل یہ بات بھی ہے کہ بُرے اعمال اور گناہوں کے آثار نیک اعمال کی جز اکو تباہ وبرباد کر دیتے ہیں اور ہم انشاء ﷲ آئند ہ بحث میں اس کا جائزہ لیں گے۔
۱۰۔
پاداش اور جز ا کی بربادی ، بعض اعمال کی سزا ہے
الف:عمل کے حبط اور برباد ہو نے کی تعریف
کسی عمل اورکام کا حبط ہونا اس کام کے نتیجہ کا باطل اور تباہ ہونا ہے ،انسان کے اعمال کا نتیجہ آخرت میں درج ذیل وجوہات کی بنا پرتباہ ہوتا ہے:
۱۔ خدا وند عالم اور روز قیامت پر ایمان نہ لائے یا مشرک ہو اور خداو رسول سے جنگ کرے۔
۲۔ دنیاوی فا ئدہ کے لئے عمل انجام دیا ہو جس کی جز ا بھی حسب خواہش دنیا میں دریافت کرتا ہے۔
۳۔ متقی نہ ہو اور آداب اسلامی کو معمولی اور سمجھے اور ریا کرے وغیرہ...۔
ب: حبط عمل قرآن کریم کی رو شنی میں
خدا وند سبحان نے قرآن کریم میں انسانوں کے نیک اعمال کی تباہی اور حبط کی کیفیت ان کے اسباب کے ساتھ بیان کی ہے خواہ وہ کسی بھی صنف اور گروہ سے تعلق رکھتے ہوں سورۂ اعراف میں آیات خدا اورروز قیامت کے منکر ین کے بارے میں فرماتا ہے :
( و الذین کذبو ا بآ یا تنا و لقاء الآخر ة حبطت أعما لهم هل يُجزون اِلاّ ما کانوا یعملون ) ( ۱ )
جو لوگ آیات خدا اور قیامت کو جھٹلاتے اور تکذیب کرتے ہیں ان کے اعمال تباہ ہو جا ئیں گے،آیا جو کچھ عمل کرتے تھے اس کے علاوہ جز ا پائیں گے؟!
مشرکین کے بارے میں سورۂ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:
____________________
(۱)اعراف ۱۴۷۔
( ما کان للمشر کین أن یعمروا مساجد ﷲ شاهد ین علیٰ أنفسهم با لکفر اولآئک حبطت أعما لهم و فی النار هم خالدون)( اِنّما یعمر مساجد ﷲ من آمن بﷲ و الیوم الآخر و أقام الصلاة و أٰتی الزکاة و لم یخش اِلاّ ﷲ فعسی اولآئک أن یکونوا من المهتدین ) ( ۱ )
یہ کام مشرکین کا نہیں ہے کہ وہ مساجد خدا کو آباد کریںجب کہ وہ خود ہی اپنے کفر کی گواہی دیتے ہیں ! اس گروہ کے اعمال تباہ و برباد ہو جائیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ آتش جہنم میں رہیں گے، مساجد خدا وندی کو صرف و ہ آ باد کرتا ہے، جو خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اور نماز قائم کرتا اور زکاة دیتا ہواور خدا کے سوائے کسی سے نہ ڈرتا ہو امید ہے کہ یہ گروہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوگا۔
مرتد اور دین سے بر گشتہ افراد سے متعلق سورۂ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے:
( و مَن یر تدد منکم عن دینه فیمت و هوکافرفأولائک حبطت اَعما لهم فی الدنیا و الآخرة و أولآئک أصحاب النار هم فیهاخالدون ) ( ۲ )
تم میں سے جو بھی اپنے دین سے برگشتہ ہو جائے اور کفر کی حالت میں اس کی موت واقع ہو تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا وآخرت بر باد ہیں اوروہ اہل جہنم ہیں اوراس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
کافروں اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جنگ و جدال کرنے والوں سے متعلق سورۂ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میں ارشاد ہوتا ہے:
( ان الذین کفروا وصدّ وا عن سبیل ﷲ و شاقو ا الر سول من بعد ما تبین لهم الهدیٰ لن یضُرُّو ا ﷲ شیئاً و سيُحبط أعما لهم)( یا أ ّیها الذین آمنوا أطیعوا ﷲ وأطیعوا الرّ سول ولا تُبطلو ا أعما لکم ) ( ۳ )
وہ لوگ جو کافر ہو چکے ہیں اورلوگوں کو راہ خدا سے دور کرتے ہیں اور جب کہ ان پر راہ ہدایت روشن ہوچکی ہے ( پھر بھی) رسول خدا سے جھگڑاکرتے ہیں ایسے لوگ کبھی خدا کو نقصان نہیں پہنچا سکتے( بلکہ خدا) بہت جلد ان کے اعمال کو تباہ او رنا بود کردے گا، اے صاحبان ایمان! خدا اور رسول کی اطاعت و فرما نبر داری کرو اور اپنے اعمال کو تباہ نہ کرو!
اعمال کا حبط اوربرباد ہونا( جیسا کہ گزرچکا ہے اور آگے بھی آئے گا) صرف کافروں ہی کو شامل نہیں ہے بلکہ اس کے دائرہ میں مسلمان بھی آتے ہیں، خدا وند عالم سورۂ حجرات میں ارشاد فرماتا ہے:
____________________
(۱) توبہ ۱۷ ، ۱۸ .(۲) بقرہ ۲۱۷.(۳)محمد ۳۲ ، ۳۳
( یا اَيّها الذّ ین آمنوالا ترفعوااَصواتکم فوق صوت النّبی ولاتجهروا له با لقول کجهر بعضکم لبعض أن تحبط أعمالکم و أنتم لا تشعرون ) ( ۱ )
اے صاحبان ایمان ! اپنی آواز وں کونبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور جس طرح تم ایک دوسرے سے بات کرتے ہو نبی سے بلند آواز میں بات نہ کرو کہ تمہارے اعمال بر باد ہوجائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو۔
سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:
( یا أ يُّها الذین آمنوا لا تُبطلوا صد قا تکم با لمنّ و الأ ذی کا لّذی يُنفِقُ ما لهُ رِئاء الناسِ و... ) ( ۲ )
اے صاحبان ایمان! اپنے صدقات اور بخششوں کو منت وآزار کے ذریعہ تباہ و برباد نہ کرو،اُس شخص کی طرح جو اپنا مال ریااور خود نمائی کی خاطر انفاق کرتا ہے۔
ج:حبط عمل روایات کی روشنی میں
اسلامی روایات میں حبط اعمال کے بہت سارے اسباب کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ ہم ذیل میں ان کے چند نمونے ذکر کررہے ہیں:
شیخ صدوق نے ثواب الاعمال نامی کتاب میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک روایت ذکر کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: جو شخص ''سبحان ﷲ'' کہتا ہے خدا وند عالم اس کے لئے بہشت میں ایک درخت لگاتا ہے اور جو شخص ''الحمد للہ''کہتا ہے خدا وند عالم اس کے لئے بہشت میں ایک درخت لگاتاہے اور جو شخص '' لا الہ ا لاّﷲ'' کہتاہے خدا وندعالم اس کے لئے بہشت میں ایک درخت لگاتاہے اور جو شخص ''ﷲ اکبر''کہتا ہے خدا وند عالم اس کے لئے بہشت میں ایک درخت پیدا کرتا ہے۔قریش کے ایک شخص نے کہا: اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ! اس لحاظ سے تو ہمارے لئے بہشت میں بہت سارے درخت ہیں! فرمایا: ہاں ایسا ہی ہے، لیکن ہوشیار رہوکہیں ایسا نہ ہو کہ ان سب کو تم آگ بھیج کر خاکستر کر دو، کیونکہ خدا وند عزّوجل فرماتا ہے :
( یا اَيّها الذین آمنوا اطیعوا ﷲ و اطیعو ا الرّسول و لا تبطلوا أعمالکم ) ( ۳ )
اے صاحبان ایمان! خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کرو نیز اپنے اعمال کو ( نافرمانی کر کے) باطل نہ کرو۔
صحیح مسلم وغیرہ میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ذکر کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
____________________
(۱) حجرات۲(۲)بقرہ۲۶۳. ۲۶۴. ( ۳ )ثواب الاعمال ص ۳۲ اور سورئہ محمد آیہ ۳۳
ِانّ فر طکم علیّ الحوض، مَن وردَ شرب، و مَن شرب لم یظمأ بعد ،وَ لیر دنَّ علیَّ أقوام أعر فُهُم و یعر فونی ثمُّ يُحٰالُ بینی و بینهم'' ( ۱ )
میرے پاس طرف حوض کوثر کی جا نب سبقت کرو کیو نکہ جو وہاں پہنچے گا سیراب ہوگا اور جو سیراب ہوگااس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہوگا،وہاں میرے پاس کچھ گروہ آئیں گے جنھیں میں پہنچانتا ہوں گا اور وہ بھی مجھے پہچانتے ہوں گے پھراس کے بعد میرے اوران کے ما بین جدائی ہو جائے گی۔
دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
'' لیر دَنَّ علیَّ الحوض رجال ممن صاحبنی حتیٰ اِذا رأیتهم اختلجوُا دونی،فَلاََقوُْلنَّ أیْ ربَّ أصحابی ، فيُقا لنَّ لی : ِانّکَ لا تدری ما أحد ثوا بعدک'' ۔( ۲ )
میرے اصحاب میں سے کچھ لوگ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے لیکن جب تک کہ میں انھیں دیکھوں مجھ سے جدا کر دئے جائیں گے ، میں (جلدی سے) کہوں گا : میرے خدا! میرے اصحاب ہیں! میرے اصحاب ہیں! مجھ سے کہا جائے گا :تمھیں نہیں معلوم کے انھوں نے تمہارے بعد کیا کیا ہے!
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک دوسری حدیث میں ذکر ہوا ہے:
( ِانَّ المرائی يُد عیٰ به یوم القیامة بأر بعة أسماء ٍ: یا کافر ! یا فاجر! یا غادر! یا خاسر! حبط عملک وبطل أجرک و لا خلاق لک الیوم ، فا لتمس أجرک ممن کُنتَ تعملُ لهُّ )( ۳ )
قیامت کے دن ریا کار انسان کو چار ناموں سے پکارا جائے گا: اے کافر، اے فاجر، اے مکار ، اے زیانکار! تیرا عمل تباہ و برباد اور تیری جزا باطل ہوگئی ، آج تجھے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا ، اس وقت اپنی جزا کے لئے کسی ایسے سے درخواست کر جس کے لئے کام کرتا تھا!
گزشتہ بحث کا خلاصہ
یہاں تک'' ربّ العا لمین'' کی جانب سے انسانوں کودی جانے والی جزاکے نمونے بیان کئے ہیں آئندہ بحث میں انشاء ﷲالٰہی جزا اور سزامیں جن وانس کی شرکت کے بارے میں گفتگو کر یںگے۔
____________________
(۱)صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، حدیث ۲۶، ۲۷، ۲۸ اور ۳۲، ۴۰. (۲) صحیح مسلم،کتاب الفضائل حدیث ۲۶ ، ۲۷، ۲۸ ،۳۲، ۴۰
(۳) بحار : ج۷۲، ص ۲۹۵، بحوالہ ٔ امالی شیخ صدوق.
۱۱۔
جزا اور سزا کے لحاظ سے جنات بھی انسان کے مانند ہیں
ہم نے حضرت آدم کی تخلیق کی بحث میں بیان کیا ہے کہ خداوند عالم نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کا سجدہ کریں ؛ سارے فرشتوںنے آدم کا سجدہ کیا لیکن ابلیس نے انکار کر دیاکہ وہ جنوں میں سے تھا ، خدا وند عالم نے بھی اسے کیفر و سزا دی اور اپنی بارگاہ سے نکال دیا یہاں پر جو ہم پیش کریں گے ،وہ خدا کا بیان ہے جو ابلیس اوراس جنی ہمزا دوں کے انجام کے بارے میں آیا ہے :
۱۔ خدا وند عالم سورۂ انعام میں فرماتا ہے:
( و یوم یحشرهم جمیعاً یا معشرالجن قد استکثرتم من الانس)( یامعشر الجنّ والاِ ْنس أَلم یأ تکم رُسُل منکم یقُصّون علیکم بآیاتی و ینذ رُونکم لقاء یومکم هذا قالوا شهدنا علیٰ أنفُسنا وغرّ تهم الحیوةُ الدنیا وشهدواعلی أنفسهم أنّهم کانوا کافرین ) ( ۱ )
جس دن خدا سب کو اکٹھاکرے گا ( کہے گا) اے گروہ جنات : تم نے بہت سارے انسانوں کو گمراہ کیا ہے اے گروہ جن و انس! کیا تم میں سے کوئی رسول تمہاری طرف نہیںآیا جو ہماری آیتوں کو تمہارے سامنے پڑھتا اور تمھیں ایسے دن کے دیدار سے ڈراتا؟ وہ لوگ کہیں گے : ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں ! (ہاں) دینوی زندگی نے انھیں فریب دیا اور اپنے ضرر میں گواہی دیں گے کہ کافر ہیں۔
۲۔سورۂ جن میں جناتوں کی زبانی ان کی قوم کے بارے میں فرماتا ہے:
____________________
(۱) انعام ۱۲۸ ، ۱۳۰.
( وأنّا منّا المسلمون و منا القا سطون فمن أسلم فا ولآء ک تحرّوا رشداً و اماالقا سطون فکانوا لجهنم حطباً )
(ان لوگوں نے کہا) ہم میں سے بعض گروہ مسلمان ہیں تو بعض ظالم و ستمگر اور جو بھی اسلام لایااس نے راہ راست اور ہدایت کا انتخاب کیا ہے، لیکن ظالمین آتش دوزخ کا ایند ھن ہیں!( ۱ )
۳۔ سورۂ اعراف میں ارشاد ہوتا ہے:
( قَالَ ادْخُلُوا فِی ُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِنْ الْجِنِّ وَالِْنسِ فِی النَّارِ کُلَّمَا دَخَلَتْ ُمَّة لَعَنَتْ ُخْتَهَا حَتَّی ِذَا ادَّارَکُوا فِیهَا جَمِیعًا قَالَتْ ُخْرَاهُمْ لُِولَاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلَائِ َضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنْ النَّارِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْف وَلَکِنْ لاَتَعْلَمُونَ ٭ وَقَالَتْ ُولَاهُمْ لُِخْرَاهُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ ) ( ۲ )
(خدا وند عالم ستمگروں سے فرماتا ہے): تم سے پہلے جو جن و انس کی مجرم جماعتیں گزر چکی ہیں تم بھی انھیں کے ساتھ جہنم میں داخل ہو جاؤ ! جب کوئی گروہ داخل ہوگاتو اپنے جیسوں کولعنت و ملامت کرے گا اور جب سب کے سب وہاں پہنچ جا ئیں گے تو بعد والے ، پہلے والوں کے بارے میں کہیں گے: خدا یا ! یہ لوگ وہی تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے لھٰذا ان کے جہنمی عذاب وکیفر کو دو گنا کر دے! خدا فرمائے گا : سب کا عذاب دوگنا ہے لیکن تم نہیں جا نتے،اور پہلے والے ، بعد والوں سے کہیں گے: تم لوگ ہم سے بہتر نہیں تھے ، لہٰذا عذاب کا مزہ چکھو جو کہ تمہارے کاموں کا نتیجہ ہے!
۴۔ سورۂ ہود میں ارشاد فرماتا ہے:
( و تمّت کلمة ربّک لأملأنّ جهنّم من الجنّة و الناس أجمعین ) ( ۳ )
اور تمہارے رب کا فرمان یقینی ہے کہ جہنم کو تمام جن و انس سے بھر دوں گا!
یہ قرآن کریم کی بعض آیات جنوں کے اعمال اور ان کے دنیا و آخرت میں مجازات کے بارے میں تھیں،قرآن کریم نے قیامت کے دن جنوں کے حالات کو اس طرح تفصیل سے بیان نہیں کیا ہے جیسا کہ انسان کے بارے میں تمام تفصیل بیان کی ہے۔
____________________
(۱)سورہ ٔ جن ۱۴۔۱۵.
(۲) اعراف ۳۸ ،۳۹ (۳)ہود ۱۱۹.
جزا اور سزا کی بحث کا خلاصہ
ہم کہہ چکے ہیں کہ انسان خود گیہوں جو اور دیگر دانے دار چیزیں بوتا ہے اور چند ماہ گزرنے کے بعد اس کے محصول کو کاٹتا ہے نیز انواع و اقسام کے پھل کے درخت لگا تا ہے پھر چند سال گزرنے کے بعداس کے پھلوں سے بہرہ مند ہوتا ہے ، یعنی انسان اپنی گا ڑھی کمائی کا نتیجہ کھاتا ہے، اس کے باوجود خدا فرماتا ہے:
( کلوا مماّرزقکم ﷲ ) ( ۱ )
خدا وند عالم نے جو تمھیں روزی دی ہے اسے کھاؤ!
نیز فرماتا ہے :
( یا ایهاالذین آمنوا کلوا من طيّبات مارزقنا کم ) ( ۲ )
اے صاحبان ایمان ! ہم نے تمھیں جو پاک و پاکیزہ رزق دیا ہے اس سے کھاؤ۔
اور فرما تاہے:
( لا تقتلوا أولا دکم خشية ِاملاقٍ نحن نرز قهم و اِيّاکم ) ( ۳ )
اپنی اولاد کو فقر وفاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو ہم انھیں اور تمھیں رزق دیتے ہیں۔
اور ہم نے یہ بھی کہا :یہ اس لئے ہے کہ انسان اس مجموعۂ عالم میں اس شخص کے مانند ہے جو'' self servic ''والے میں جاتا ہے اپنے کام آپ انجام دیتا ہے اوراسے چاہئے کہ اپنے ہاتھوں اپنی مہمان نوازی اور پذیرائی کرے، ایسی جگہوں پر جس نے مہمان کو کھا نا کھلایا ہے اور انواع واقسام کے کھانے کی چیزیں ان کے لئے فراہم کیں وہ میز بان ہے، لیکن مہمان خود بھی کھانا پسند کرنے اوراسے پلیٹوں میں نکالنے میں آزاد اور مختار ہے اگر اقدام نہ کرے اور چمچہ اور پلیٹ ہاتھ میں نہ لے اور کھانے کے دیگ کے قریب نہ جائے اور اپنی مر ضی و خواہش کے مطابق اس میں سے کچھ نہ لے تو بھو کا رہ جائے گا اور اسے اعتراض کا بھی اسی طرح اگرحدسے زیادہ کھالے یا نقصان دہ غذا کھالے تواس کا نتیجہ بھی خوداسی پر ہے کیونکہ یہ خوداسی کا کیا دھرا ہے۔
انسان اپنے معنوی اعمال کے نتائج سے استفادہ کرنے میں بھی کچھ اس طرح ہے کہ اپنے کردار کے بعض نتائج مکمل طور پر اسی دنیا میں دریافت کر لیتا ہے، جیسے کافر کے صلۂ رحم کا نتیجہ کہ اس کے لئے دنیا ہی
____________________
(۱)مائدہ ۸۸ ؛ نحل ۱۱۴. (۲) بقرہ ۱۷۲.(۳) اسراء ۳۱
میں پاداش ہے ، بعض اعمال کی جزا صرف آخرت میں ملتی ہے جیسے شہا دت کے آثار جو صرف مو منین سے مخصوص ہیں، بعض اعمال ایسے ہیں جن کا فائدہ دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی جیسے مومن کا صلہ رحم کرنا دنیا وآخرت دونوں میں پاداش رکھتا ہے۔
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کے مطابق، انسان اپنی معنوی رفتار کا نتیجہ اپنی مادی رفتار کے نتیجہ کی طرح مکمل دریافت کرتا ہے یا دنیامیں یا آخرت میں یا دنیا و آخرت دونوں میں یہی حال بُرے اعمال کے نتا ئج کا بھی ہے۔
قیامت کے دن حق شفاعت اور یہ کہ خدا بعض انسان کو ایسی کرامت عطا کرے گا ، یہ بھی اُن اعمال کا نتیجہ ہے جو انسان دنیا میں انجام دیتا ہے یہی صورت ہے انسان کے حبط اعمال کی قیامت کے دن جو اس کے بعض دنیاوی کردار کا نتیجہ ہے کیونکہ:( لیس لِلِاْنِسان اِلاّ ماسعیٰ )
جو انسان نے کیا ہے اس کے علاوہ اس کے لئے کوئی جزا نہیں ہے۔
اسی طرح قرآن کریم نے خبر دی ہے کہ جنات بھی انسان کی طرح اپنے اعمال کی مکمل پاداش آخرت میں دریافت کریں گے۔
جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ تقدیر '' رب العالمین''کی اساس پراور اس کے بعض ربوبی صفات کے اقتضاء کے مطابق ہیں انشاء ﷲآئندہ بحث میں ''ربّ العا لمین'' کے دیگر صفات کو تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے۔
۳
ربّ العا لمین کے بعض اسماء اور صفات
۱-اسم کے معنی
۲- ۳- رحمن اوررحیم
۴-ذوالعرش اور رب العرش
۱۔اسم کے معنی
اسم ؛قرآن کی اصطلاح میں اشیاء کے صفات، خواص اور ان کی حقیقت بیان کرنے والے کے معنیٰ میں ہے، اس بنا پر جہاںخدا وند عالم فرماتا ہے۔
( وعلمّ آدم الأسماء کلّها ) ( ۱ )
اور خدا وند عالم نے سارے اسماء کا علم آدم کو دیا !
اس کے معنی یہ ہوں گے، خدا وند عالم نے اشیاء کی خاصیتوں اور تمام علوم کا علم آدم کو سکھا یا، جز علم غیب کے کہ کوئی اس میں خدا کا شریک نہیں ہے مگر یہ کہ کسی کو وہ خود چاہے اور بعض پوشیدہ اخبار اس کے حوالے کر دے۔
۲ - ۳- رحمن ورحیم کے معنی
قرآن کریم میں خدا وند عالم کے اسماء اور مخصوص صفات ذکر ہوئے ہیں ان میں سے بعض دنیوی آثار بعض اخروی اور بعض دینوی اور اخروی دونوں آثار کے حامل ہیں، منجملہ ان اسماء اور صفات کے'' رحمن ورحیم'' جیسے کلمات ہیںجن کے معنی تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے۔لغت کی کتابوں میں '' رحم ، رحمت اور مرحمت'' مہر بانی، نرمی اور رقت قلب کے معنی میں ذکر ہوئے ہیں '' مفردات الفاظ القرآن'' نامی کتاب کے مصنف راغب کا '' رحم'' کے مادہ میں جو کلام ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:
رحمت؛رقت قلب اور مہر بانی ہے اس طرح سے کہ جس پر رحمت نازل ہوتی ہے اسکے لئے احسان وبخشش کا باعث ہوتی ہے، یہ کلمہ کبھی صرف رقت اور کبھی احسان وبخشش کے معنی میں بغیررقت کے استعمال ہوتاہے:جب رحمت خدا وندی کی بات ہوتی ہے تواس سے مراد بغیر رقت صرف احسان وبخشش ہوتا ہے، اس
____________________
(۱)بقرہ ۳۰
لئے روایات میں آیا ہے: جو رحمت خدا کی طرف سے ہوتی ہے وہ مغفرت وبخشش کے معنی میں ہے اور جو رحمت آدمیوں کی طرف سے ہوتی ہے وہ رقت اور مہر بانی کے معنی میں ہو تی ہے۔
لفظ ''رحمان'' خدا وند متعال سے مخصوص ہے اور اس کے معنی خدا کے علاوہ کسی اورکو زیب نہیں دیتے کیونکہ تنہا وہی ہے جس کی رحمت تمام چیز وںکو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔
لفظ '' رحیم'' خدا اور غیر خدادونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، خدا وند عالم نے اپنے بارے میں فرمایا ''انّ ﷲ غفور رحیم'' خدا وند عالم بخشنے والا مہر بان ہے اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں فرمایا:
(لقد جاء کم رسول من أنفسکم عزیز علیه ما عنتّم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم )( ۱ )
یقینا تم ہی میں سے ایک رسول تمہاری جانب آیا کہ تمہاری مصیبتیں اس کے لئے گراں ہیں تمہاری ہدایت کے لئے حرص رکھتاہے اور مومنین کے ساتھ رؤوف و مہربان ہے۔
نیز کہا گیا ہے : خدا وند عالم دنیا کا رحمن اور آخرت کا رحیم ہے، کیونکہ خدا کا احسان دنیا میں عام ہے جو کہ مومنین اور کافرین دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں صرف مومنین سے مخصوص ہے، خدا وند عالم نے سورۂ اعراف میں فرمایا:
( و رحمتنی وسعت کل شی ئٍ فسأ کتبها للذین یتقون ) ( ۲ )
میری رحمت ساری چیزوں کو شامل ہے عنقریب میں اسے ان لوگوں سے مخصوص کر دوں گے جو تقوی اختیار کرتے ہیں۔
یعنی میری رحمت دنیا میں مومنین اور کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں صرف مومنین سے مخصوص ہے۔
تاج العروس'' کتاب کے مصنف بھی اس سلسلے میں اپنا ایک نظریہ رکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے:''رحمن'' خداوند عالم کامخصوص نام ہے جو اس کے علاوہ کسی اور کے لئے سزا وار نہیں ہے ،کیو نکہ ، اس کی رحمت تمام موجودات کو خلق کرنے ، رزق دینے اور نفع پہنچانے کے لحاظ سے شامل ہے۔
رحیم'' ایک عام نام ہے ہراس شخص کے لئے استعمال ہو سکتا ہے جو صفت رحمت سے متصف ہو،اس
____________________
(۱)توبہ ۱۲۸
(۲)اعراف ۱۵۶
کے بعد کہتے ہیں : امام جعفر صادق کے کلام کے یہی معنی ہیں جو آپ نے فرمایا :'' رحمان'' عام صفت کے لئے ایک خاص نام ہے اور رحیم ایک خاص صفت کے لئے ایک عام نام ہے ۔
جو کچھ ان لوگوں نے کہا ہے اس کا مؤید یہ ہے کہ،''رحیم'' قرآن کریم میں ۴۷مقام پر'' غفور''، ''بَرّ''،''رؤف'' اور ''ودود ''( ۱ ) کے ہمراہ ذکر ہوا ہے۔
کلمہ ''رحمن''سورۂ الرحمن میں اس ذات کا اسم اور صفت ہے جس نے انسان کو خلق کرنے اور بیان سکھا نے کے بعد قرآنی ہدایت کی نعمت سے نوازا ہے اور زمین کو اس کی ساری چیزوں کے ساتھ جیسے میوہ جات، کھجوریں،دانے اور ریا حین (خوشبو دار چیزیں) وغیرہ اس کے فائدہ کے لئے خلق فرمائی ہیں پھر جن وانس کو مخاطب کر کے فرمایا :( فبأَیّ آلاء ربّکما تکذبان )
پھر تم اے گروہ جن و انس خدا کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے!
پھر بعض دنیاوی نعمتیں شمار کرنے کے بعد کچھ اخروی نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :
( لمن خاف مقام ربّه جنتان )
اُس شخص کے لئے جو اپنے پرور دگار کی بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے، بہشت میں دو باغ ہوںگے یہاں تک کہ آخر سورہ میں فرماتا ہے:
( تبارک اسم ربّک ذوالجلال والاِکرام )
بابرکت اور لا زوال ہے تمہارے صاحب جلال اورعظیم پروردگار کانام!
____________________
(۱) دیکھئے:'' معجم المفہرس'' مادہ ٔ '' رحم''
۴۔ذوالعرش اور''ربُّ العرش''
قرآن کریم کی وہ آیات جو ''عرش خدا''کے بارے میں بیان کرتی ہیں،درج ذیل ہیں:
۱۔ سورۂ ہود میں فرماتاہے:
( وهوالذی خلق السموات و الأرض فی ستة أیامٍ وکان عرشه علی الماء لیبلوکم أيّکم أحسن عملاً ) ( ۱ )
اور خدا وہ ہے جس نے زمین اورآسمانوں کو چھ دن میں خلق کیا ہے اوراس کا''عرش'' پانی پر ہے، تا کہ تمھیں آزمائے تم میں سے کون زیادہ نیکو کار ہے۔
۲۔سورۂ یونس میں فرمایا:
( اِنَّ ربکم ﷲ الذی خلق السموات و الأرض فی ستّة ائامٍ ثُّم استوی علی العرش یدبّر الأمر ) ( ۲ )
تمہارا ربّ ﷲ ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں خلق فرمایا پھر عرش پر مستقر ہوا اور تدبیر کار میں مشغول ہو گیا۔
۳۔ سورۂ فرقان میں ارشاد فرماتا ہے:
( الذی خلق السموات والأرض و ما بینهما فی ستّة أیامٍ ثُّم اْستوی علیٰ العرش الرّحمن فسئل به خبیراً ) ( ۳ )
اس نے زمین و آسمان اور ان کے ما بین جو کچھ ہے ان سب کوچھ دن میں خلق فرمایا پھر عرش پر مستقر ہوا وہ رحمن ہے ،اس سے سوال کرو کیونکہ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے۔
____________________
(۱)ہود ۷
(۲)یونس ۳.
(۳)فرقان ۵۹.
۴۔سورۂ غافر میں ارشاد فرمایا:
( ...الذین یحملونَ العرش ومَن حوله يُسبّحون بحمد ربّهم ویؤمنون به و یستغفرون للذین آمنواربّنا وسعت کُلّ شیئٍ رّحمةً و علماً فأغفر للذین تابوا و اتّبعوا سبیلک و قِهم عذابَ الجحیم ) ( ۱ )
وہ جو عرش خدا کو اٹھاتے ہیںنیز وہ جو اس کے اطراف میں ہیں،اپنے پروردگار کی تسبیح وستائش کرتے ہوئے اس پر ایمان رکھتے ہیںاور مومنین کے لئے (اس طرح)طلب مغفرت کرتے ہیں:خدایا! تیری رحمت اور علم نے ہر چیز کا احاطہ کر لیا ہے، پس جن لوگوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے انھیں بخش دے اور دوز خ کے عذاب سے محفوظ رکھ!
۵۔ سورۂ زمر میں ارشاد ہوتا ہے:
( و تریٰ الملا ئکة حا فّین من حول العرش يُسبحون بحمد ر بهم و قضی بینهم با لحق و قیل الحمد للّه ربّ العا لمین ) ( ۲ )
اور فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش خدا کے ارد گرد حلقہ کئے ہوئے ہیں اور اپنے ربّ کی ستائش میں تسبیح پڑھتے ہیں ؛ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا:ستائش ﷲربّ العالمین سے مخصوص ہے۔
۶۔ سورۂ حاقہ میں ارشاد ہوتا ہے:
( و یحمل عرش ربّک فوقهم یومئذٍ ثمانية ) ( ۳ )
اس دن تمہارے رب کے عرش کوآٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔
کلمات کی تشریح
۱۔العرش:
عرش ؛لغت میں چھت دار جگہ کو کہتے ہیں جس کی جمع عروش ہے ، تخت حکومت کو حاکم کی رفعت وبلندی
____________________
(۱)غافر ۷(۲)زمر ۷۵(۳)سورہ ٔ حاقہ ۱۷ ۔
نیز اس کی عزت وشوکت کے اعتبار سے عرش کہتے ہیں، عرش ملک اور مملکت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، کتاب''لسان العرب'' میں آیا ہے کہ''ثلّ ﷲ عرشھم'' یعنی خدا وند عالم نے ان کے ملک اور سلطنت کو برباد کر دیا۔( ۱ )
ایک عرب زبان شاعر اس سلسلے میں کہتا ہے:
اِذا ما بنو مروان ثلت عروشهم :: وأودت کما أودت اِیادوحمیر
جب مروانیوں کا ملک تباہ وبرباد ہوگیااور'' حِمْےَر'' اور'' اِیاد'' کی طرح مسمار ہوگیا۔( ۲ )
۲۔ استویٰ:
الف:''التحقیق فی کلمات القرآن''نامی کتاب میں مادہ ''سوی''کے ضمن میں آیا ہے کہ ''استوائ'' کے معنی بمقتضائے محل بدلتے رہتے ہیں ، یعنی ہر جگہ وہاں کے اقتضاء اور حالات کے اعتبار سے اس کے معنی میں تغییر اور تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔
ب:''مفردات راغب'' نامی کتاب میں مذکور ہے کہ'' استوائ'' جب کبھی علیٰ کے ذریعہ متعدی ہو تو ''استیلائ'' یعنی غلبہ اور مستقر ہونے کے معنی میں ہے ،جیسے''الرحمن علی العرش استویٰ''رحمن عرش پر تسلط اور غلبہ رکھتا ہے۔
ج:'' المعجم الوسیط'' نامی کتاب میں مذکور ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ!استویٰ علیٰ سریر الملک أوعلیٰ العرش'' تخت حکومت پر متمکن ہوا یابادشاہی کرسی پر بیٹھا، اس سے مراد یہ ہے کہ مملکت کا اختیار اپنے قبضہ میں لیا۔
اخطل نامی شاعر نے بشربن مروان اموی کی مدح میں کہا ہے:
قد استویٰ بشر علی العراق :: من غیر سیفٍ أودمٍ مهراقٍ
بشر نے عراق کی حکومت شمشیر اور کسی قسم کی خونریزی کے بغیر اپنے ہاتھ میں لے لی!( ۳ )
____________________
(۱)مفردات راغب اور المعجم الوسیط میں مادہ '' عرش'' اور لسان العرب میں مادہ ثلل کی جانب مراجعہ کیجئے۔
(۲)بحار، ج ۵۸، ص ۷.
(۳)بشر بن مروان اموی خلیفہ عبد الملک مروان کا بھائی ہے جس نے ۷۴ ھ میں بصرہ میں وفات پائی اس کی تفصیل آپ کو ابن عساکر کی تاریخ دمشق میں ملے گی
آیات کی تفسیر
جب ہم نے جان لیا کی ا سمائے الٰہی میں ''رحمن ورحیم'' ''ربُّ العا لمین'' کے صفات میں سے ہیں اور ہر ایک کے دنیا وآخرت دونوں جگہ آثار پائے جاتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ''اسم''قرآنی اصطلاح میں صفات ، خواص اشیاء اور ان کی حقیقت بیان کرنے کے معنی میں ہے اور''عرش'' عربی لغت میں حکومت اور قدرت کے لئے کنایہ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ''استوائ'' جب علیٰ کے ذریعہ متعدی ہوگا تو غلبہ اور تسلط کے معنی دیتا ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے:
''استویٰ علی سریر الملک او علیٰ العرش''
سریر حکومت یا عرش حکومت پر جلوہ افروز ہوا (متمکن ہوا)یعنی:''تولیٰ الملک'' مملکت وحکومت کا اختیار اپنے قبضہ میں لیا۔
اب اگر قرآن کریم میں '' استویٰ علی العرش''کے مذکورہ ہفت گانہ مقامات کی طرف رجوع کریں تو اندازہ ہوگا کہ ان تمام مقامات پر''استوائ''علیٰ کے ذریعہ متعدی ہوا ہے ،جیسے:
( استویٰ علیٰ العرش ید بّر الأمر ) ( ۱ )
وہ عرش پر متمکن ہو کر امر کی تدبیر کرتا ہے۔
( ثُّم استویٰ علی العرش ید بر الامر ) ( ۲ )
پھر وہ عرش پر متمکن ہوااور تدبیر امر میں مشغول ہوگیا۔
ان آیات میں (نوع تدبیر کی طرف اشارہ کئے بغیر)صراحت کے ساتھ فرمایا :'' عرش پر متمکن ہوا اور تدبیر امر میں مشغول ہو گیا۔،، سورۂ اعراف کی ۵۴ ویں آیت میں انواع تدبیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( استویٰ علی العرش یغشی الیل النهار...) )
وہ عرش پر جلوہ افروز ہوا اور شب کے ذریعہ دن کو چھپا دیتا ہے۔
اور سورۂ حدید کی چوتھی آیت میں تدبیر کار کی طرف کناےةًاشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( استویٰ علیٰ العرش یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منها )
____________________
(۱)یونس ۳.
(۲)سجدہ ۴و ۵ ؛ رعد ۲
عرش پر متمکن ہوا وہ جو کچھ زمین کے اندر جاتاہے اور جو کچھ اس سے خارج ہوتا ہے سب کو جانتاہے۔
یعنی خداوند عالم جو کچھ اس کی مملکت میں ہوتا ہے جانتا ہے اور ساری چیزیںاس کی تدبیر کے مطابق ہی گردش کرتی ہیں۔
یہیں پر سورۂ فرقان کی ۵۹ ویں آیت کے معنی بھی معلوم ہوجاتے ہیں جہاں خداوندعالم فرماتا ہے:
( استویٰ علیٰ العرش الرحمن فسئل به خبیراً )
عرش قدرت پر متمکن ہوا، خدائے رحمان ،لہٰذا صرف اسی سے سو ال کرو کہ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے! یعنی وہ جو کہ عرش قدرت پر متمکن ہوا ہے وہی خدا وند رحمان ہے جو کہ تمام عالمین کو اپنی وسیع رحمت کے سایۂ میں پرورش کرتا ہے اور جو بھی اس کی مملکت میں کام کرتا ہے اس کی رحمت اور رحمانیت کے اقتضاء کے مطابق ہے یہ موضوع سورۂ طہ کی پانچوں آیت میں مزیدتا کید کے ساتھ بیان ہوا ہے:
( الرحمن علیٰ العرش استویٰ) )
خدا وند رحمان ہے جو عرش قدرت پر غلبہ اور تسلط رکھتا ہے۔
اس لحاظ سے، جو کچھ سورہ ''ہود'' کی ساتویں آیت میں فرماتا ہے :
( خلق السموات والأرض فی ستة أیام وکان عرشه علیٰ المائ )
آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں خلق فرمایا اور اس کا عرش قدرت پانی پرٹھہراتھا ۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مملکت خدا وندی میں زمین وآسمان کی خلقت سے قبل جز پانی کے جس کی حقیقت خدا وندعالم ہی جانتا ہے کوئی اور شے ٔموجود نہیں تھی ۔
اورجو سورۂ غافر کی ساتویں آیت میں فرماتا ہے:
( الذین یحملون العرش )
وہ لوگ جو عرش کو اٹھاتے ہیں۔
اس سے بار گاہ الٰہی کے کار گزار فرشتے ہی مراد ہیں کہ بعض کو نمائندہ بنایا اور بعض کو پیغمبروں کی امداد کے لئے بھیجا بعض کچھ امتوں جیسے قوم لوط پر حا ملان عذاب ہیں اور بعض آدمیوں کی روح قبض کرتے ہیں خلاصہ یہ کہ ہر ایک اپنا مخصوص کام انجام دیتا ہے اور جو کچھ ہماری دنیا میں خدا وند عالم کی ربوبیت کا مقتضیٰ ہی اس میں مشغول ہے۔
اور سورۂ حاقہ کی ساتویں آیت میں جو فرماتا ہے:
( و یحمل عرش ربّک فوقهم یومئذٍ ثمانية )
تمہارے رب کے عرش قدرت کو اس دن آٹھ فرشتے حمل کریں گے۔
اس سے مراد قیامت کے دن فرمان خدا وندی کا اجراء کرنے والے فرشتوں کے آٹھ گروہ ہیں۔
اورسورہ نحل کی ۱۴ و یں آیت میں جو فرمایا:
( وهو الذ ی سخر البحر لتأکلوا لحماً طریاً و تستخر جوا منه حليةً تلبسو نها و تری الفلک مواخر فیه )
وہ خدا جس نے تمہارے لئے دریا کو مسخر کیا تا کہ اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ دریا کا سینہ چاک کرتی ہیں۔
اس کے معنی یہ ہے کہ دریا کو ہمارا تابع بنا دیا تا کہ اُس کے خواص سے فائد ہ اٹھائیں اور یہ حضرت آدم کی تعلیم کا ایک مورد ہے چنانچہ اس سے پہلے اسی سورہ کی ۵ ویں تا۸ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
( والأ نعام خلقها لکم فیها دفء و منا فع ومنهاتأکلون و لکم فیها جمال حین تُر یحون وحین تسرحون و تحمل أثقا لکم اِلیٰ بلدٍ لم تکونوا بالغیه الِاّ بشقّ الأنفس اِنّ ربّکم لرء وف رحیم ، والخیل و البغا ل و الحمیر لترکبو ها وزینةً و )
اور اس نے چوپا یوں کو خلق کیا کیو نکہ اس میں تمہاری پوشش کا وسیلہ اور دیگر منفعتیں پائی جاتی ہیں اوران میں سے بعض کا گوشت کھاتے ہو اوروہ تمہارے شکوہ اور زینت وجمال کا سبب ہیں، جب تم انھیںجنگل سے واپس لاتے ہو اور جنگل کی طرف روانہ کرتے ہو،نیز تمہارا سنگین و وزنی بار جنھیں تم کافی زحمت ومشقت کے بغیروہاںتک نہیںپہنچا سکتے یہ اٹھاتے ہیں،یقیناتمہاراربرؤفومہربان ہے اوراس نے گھوڑوں،گدھوں اور خچروں کو پید ا کیاتا کہ ان پر سواری کرو اور وہ تمہاری زینت کا سامان ہوں۔خدا وند عالم نے اس کے علاوہ کہ ان کو ہمارا تابع اور مسخربنایا ہے ان سے استفادہ کے طریقے بھی ہمیں سکھائے تا کہ گوشت،پوست، سواری اور بار برداری میں استفادہ کریں۔
سورہ زخرف کی بارھویں اور تیر ھویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
( والذی خلق الأزواج کلّها و جعل لکم من الفلک و الاّنعام ماتر کبون ، لتستوا علی ظهوره، ثُمّ تذکر وا نعمة ربّکم اِذا استو یتم علیه و تقو لوا سبحان الذی سخر لنا هذا و ما کُنا له مقر نین )
اور جس خدا نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا اور تمہارے لئے کشتیوں اور چوپایوں کے ذریعہ سواری کا انتظا م کیا تا کہ ان کی پشت پر سوار ہو اور جب تم ان کی پشت پر سوار ہو جاؤ تو اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو اور کہو: وہ خدا منزہ اور پاک و پاکیزہ ہے جس نے ان کو ہمارا تابع اور مسخر بنایا ورنہ ہمیں ان کے تسخیر کرنے کی طاقت وتوانائی نہیں تھی۔
جس خدا نے ہمیں ان آیات میں مذکور چیزوں سے استفادہ کا طریقہ بتا یا اور اپنی''ربوبیت'' کے اقتضاء کے مطابق انھیں ہمارا تابع فرمان اور مسخر بنایااسی خدا نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں اور گھر کے چھپروں میں پھول اور شگو فوں کو چوس کر شہد بنائے، اسی نے دریا کو مچھلیوں کے اختیار میں دیا اور الہام غریزی کے تحت اس سے بہرہ مند ہونے اور استفادہ کرنے کی روش اورطریقہ بتا یا،اس طرح سے اسنے اپنی وسیع رحمت کے ذریعہ ہر ایک مخلوق کی ضرورت کو دیگر موجودات سے بر طرف کیا اوراس کے اختیار میں دیا نیز ہر ایک کو اس کی ضروری اشیاء کی خاصیتوں سے آگاہ کیا تا کہ اس سے فائدہ حاصل کرے بعبارت دیگر شہد کی مکھی کوبقائے حیات کے لئے ضرور ی اشیاء کے اسما ء اور ان کی خاصیتوں سے آگاہ کیا تاکہ زندگی میں اس کا استعمال کرے اور مچھلیوں کو بھی ان کی ضرورت کے مطابق اشیاء کے اسماء اور خواص سکھائے تاکہ زندگی میں ان کا استعمال کرے ،وغیرہ ۔
رہی انسان کی بات تو خدا وندعالم نے اسے خلق کرنے کے بعد اس کی تعریف وتوصیف میں فرمایا:
( فتبارک ﷲ احسن الخا لقین )
بابرکت ہے وہ ﷲ جو بہترین خالق اور پیدا کرنے والا ہے۔
خدا وند عالم نے تمام اسماء اوران کی خاصیتیں اسے بتا دیں ؛چنانچہ سورۂ جاثیہ کی ۱۳ ویں آیت میں فرمایا:
( وسخر لکم مافی السموات والأرض جمیعاً منه )
اورخدا نے جو کچھ زمین وآسمان میں ہے سب کو تمہارے اختیار میں دیا اور اسے تمہارا تابع بنا دیا۔
سورۂ لقمان کی ۲۰ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے!
( ألم تروا اَنّ ﷲ سخر لکم ما فی السموات وما فی الأرض )
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں کو تمہارا تابع اور مسخر بنا یا۔
پر وردگار عالم نے اپنی مخلوقات کی ہر صنف کو دیگر تمام مخلوقات سے استفادہ کرنے کی بقدر ضرورت ہدایت فرمائی۔ اور جو مخلوق دیگر مخلوق کی نیاز مندتھی تکوینی طور پر اس کو اس کا تابع بنایا ہے۔
اور انسان جوکہ خدا داد صلاحیت اور جستجوو تلاش کرنے والی عقل کے ذریعہ تمام اشیاء کے خواص کو درک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر کوشش کرے اور علوم کو حاصل کرنے کے لئے جد وجہد کرے،تو اسے یہ معلوم ہوگا کہ تمام مخلوقات اس کے استعمال کے لئے اسکے اختیار میں ہیں، مثال کے طور پر اگر'' ایٹم'' کے خواص کو درک کرنے کی کوشش کرے تویقینا وہاں تک اس کی رسائی ہو جائے گی اور چو نکہ ایٹم ان اشیاء میں ہے جو انسان کے تابع اور مسخر ہے، قطعی طور پر وہ اسے شگا ف کرنے اور اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس طرح سے خدا نے آگ ،الکٹریک اورعلوم کی دیگر شاخوں جیسے فیزک اور کیمسٹری کواس کے حوالے کیا نیز انھیں اس کا تابع بنایا تا کہ مختلف دھاتوںسے ہوائی جہاز اور راکٹ وغیرہ بنائے اوراسے زمین کے اطراف میں گردش دے وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن یہ انسان''چونکہ سرکش ، طاغی اور حریص ہے ''لہٰذا اس شخص کا محتاج اور ضرورت مند ہے جو ان مسخرات سے استفادہ کا صحیح طریقہ اور راستہ بتائے تا کہ جو اس نے حاصل کیا اور اپنے قبضہ میں کر لیا ہے ا سے اپنے یا دوسروں کے نقصان میں استعمال نہ کرے۔''کھیتی'' اور نسل '' کو اس کے ذریعہ نابود نہ کرے''ربّ رحمان''نے عالی مرتبت انبیاء کواس کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا تا کہ مسخرات سے استفادہ کی صحیح راہ وروش بتائیں پس''ربّ رحمن'' کے جملہ آثار رحمت میں سے پیغمبروں کا بھیجنا ،آسمانی کتابوں کا نازل کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا ہے، اس موضوع کی وضاحت سورہ رحمان میں لفظ ''رحمن'' کی تفسیر کے ذریعہ اس طرح کی ہے:
( الرّحمن، علّم القرآن )
خدا وندرحمان نے ،قرآن کی تعلیم دی۔
( خلق الاِنسان،علّمهُ البیان )
انسان کوخلق کیا اوراسے بیان کرنا سکھا یا۔
( الشمسُ والقمر بحسبان )
سورج اور چاندحساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔
( والنجم والشجر یسجدان )
اور بوٹیاں بیلیں اور درخت سب اسی کا سجد ہ کر رہے ہیں ۔
( والسماء رفعها ووضع المیزان )
اوراُس نے آسمان کو رفعت دی اور میزان وقانون وضع کیا(بنایا)۔
( والأرض وضعها للِْاِ نام )
اور زمین کو مخلوقات کے لئے خلق کیا۔
( فیها فا کهة والنخل ذات الأکمام )
اس میں میوے اور کھجو ریں ہیں جن کے خوشوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔
( والحبّ ذوالعصف والرّیحان )
اورخوشبو دار گھاس اور پھول کے ساتھ دانے ہیں۔
( فباَیّ آلاء ربّکما تکذّبان )
پھر تم اپنے ربّ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔
( تبارک اْسم ربّک ذی الجلال والاِکرام )
تمہارے صاحب جلال واکرام رب کا نام مبارک ہے۔
نیز ''ربّ'' ہے جو :
( یبسط الرّزق لمن یشاء ویقدر ) ( ۱ )
جس کی روزی میں چاہے وسعت دیدے اور جسکی روزی میں چاہے تنگی کر دے۔
جو کچھ ہم نے رحمت''ربّ'' کے آثار دنیا میں پیش کئے ہیں وہ مومن اور کافر تمام لوگوں کو شامل ہیں اس بناء پر''رحمان'' دنیا میں ''ربّ العالمین''کے صفات میں شمار ہوتا ہے نیز اس کی رحمت تمام خلائق جملہ مومنین وکافرین سب کو شامل ہے اور چونکہ ''ربّ العالمین'' لوگوں کی پیغمبروں پر''وحی'' کے ذریعہ ہدایت کر تا ہے، قرآن کریم ''وحی'' کی ''ربّ'' کی طرف، جو کہ ﷲ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے ،نسبت دیتے ہوئے فرماتا ہے :
( ذلک ممّا أوحیٰ اِلیک ربّک من الحکمة ) ( ۲ )
یہ اس کی حکمتوں میں سے ہے کہ تمہارے''ربّ'' نے تم کو وحی کی ہے۔
____________________
(۱) سبا۳۶،۳۹
(۲) اسراء ۳۹.
اور فرمایا:
( اتّبع ما أوحی اِلیک من ربّک ) ( ۱ )
جو چیز تما رے ربّ کی طرف سے تم پر وحی کی گئی ہے اس کی پیروی کرو۔
قرآن اسی طرح ارسال رسل اور آسمانی کتابوں کے نازل کرنے کو '' ربّ العالمین''کی طرف نسبت دیتا ہے اور حضرت ہود کے حالات زندگی کی شرح میں فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا:
( یا قوم لیس بی سفا هة و لکِنّی رسول من ربّ العالمینأبلٔغکم رسا لات ربِّی ) ( ۲ )
اے میری قوم! میرے اندر کسی قسم کی سفاہت نہیں ہے لیکن میں ،،ربُّ العالمین،، کی جانب سے ایک رسول اور فرستادہ ہوں کہ اپنے پروردگار کی رسالت تم تک پہنچاتاہوں۔
نیز حضرت نوح کے بارے میں فرماتا ہے: انھوں نے اپنی قوم سے کہا:
( یا قوم لیس بی ضلا لة و لکنّی رسول من ربّ العا لمینَاُبلّغکم رسالات ربِّی ) ( ۳ )
اے میری قوم! میرے اندر کسی قسم کی ضلالت اور گمراہی نہیں ہے، لیکن میں ''ربّ العا لمین'' کا فرستادہ اور رسول ہوں ،کہ اپنے پروردگار کی رسالت تم تک پہنچاتاہوں۔
اور حضرت موسیٰ کے بارے میں فرماتا ہے کہ ا نھوں نے فرعون سے کہا:
( یا فرعون انِّی رسول من ربّ العا لمین ) ( ۴ )
اے فرعون! میں ربّ العالمین کا فرستادہ ہوں۔
آسمانی کتابوں کے نازل کرنے کے سلسلے میں فرمایا :
( واتل ما أوحی اِلیک من کتاب ربّک ) ( ۵ )
جوکچھ تمہارے''رب'' کی کتاب سے تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کرو!
( تنزیل الکتاب لاریب فیه من ربّ العالمین ) ( ۶ )
اس کتاب کا نازل ہونا کہ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے رب العا لمین کی طرف سے ہے ۔
____________________
(۱) انعام ۱۰۶ (۲)اعراف ۶۷ ، ۶۸(۳)اعراف ۶۱ ، ۶۲(۴) اعراف ۱۰۴ (۵)کہف ۲۷(۶) سجدہ ۲ ۔
( اِنّه لقرآن کریم تنزیل من ربّ العالمین ) ( ۱ )
بیشک یہ قرآن کریم ہے جو ''ربّ العا لمین'' کی طرف سے نازل ہوا ہے
نیز امر و فرمان کی نسبت''ربّ'' کی طرف دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( قل أمر ربِیّ با لقسط و أقیموا وجو هکم عند کلّ مسجد ) ( ۲ )
کہہ دو!میرے ربّ نے عدالت وانصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر مسجد میں اپنا رخ اس کی طرف رکھو۔
اس لحاظ سے صرف اورصرف''ربّ'' کی اطاعت کرنی چاہئے ،جیسا کہ خاتم الانبیائصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مومنین کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( آمن الرسول بما أنزل الیه من ربّه و المؤ منون و قالوا سمعنا وأطعنا غفرانک ربّناّ ) ( ۳ )
پیغمبر جو کچھ اس کے ''رب'' کی طرف سے نازل ہوا ہے اس پر ایمان لایا ہے اور تمام مومنین بھی ایمان لا ئے ہیںاوران لوگوںنے کہا ! ہم نے سنا اور اطاعت کی اے ہمارے پروردگارہم ! تیری مغفرت کے خواستگار ہیں۔
انبیاء بھی چو نکہ اوامر ''ربّ العا لمین''کی تبلیغ کرتے ہیں ، لہٰذا خدا وند متعال نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیتے ہوئے فرمایا :
( أطیعواﷲ وأطیعواالرسول ولا تبطلوا أعمالکم ) ( ۴ )
خدا کی اطاعت کرواور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو ۔
یہی حال گناہ اور معصیت کا ہے کہ کسی سے بھی صادر ہو''ربّ العا لمین'' کی نافرمانی کی ہے ،جیسا کہ فرمایا:
( فسجدوا الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربه ) ( ۵ )
سارے فرشتو ں نے سجدہ کیا جز ابلیس کے، جوکہ جنوں میں سے تھا اور اپنے ''ربّ'' کے فرمان سے باہر ہو گیا۔
نیز یہ بھی فرمایا:
( فعقروا الناقة و عتوا عن أمر ربهم ) ( ۶ )
____________________
(۱)واقعہ ۷۷، ۸۰(۲)اعراف ۲۹ (۳)بقرہ ۲۸۵(۴) محمد ۳۳(۵)کہف ۵۰ (۶)اعراف ۷۷
(قوم ثمود) نے''ناقہ'' کوپے کر دیا اور اپنے ربّ کے فرمان سے سر پیچی کی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لفظ ''امر'' اور فرمان جملہ سے حذف ہو جاتا ہے لیکن اس کے معنی باقی رہتے ہیں، جیسا کہ حضرت آدم کے بارے میں فرمایا:
( وعصیٰ آدم ربّه فغویٰ)( ) ۱ )
آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور جزا سے محروم ہو گئے۔
یعنی آدم نے اپنے رب کے امرکی نافرمانی کی۔
انبیاء علیہم السلام بھی چونکہ اوامر''ربّ''کولوگوں تک ابلاغ کرتے ہیں تو ان کی نافرمانی اور سر پیچی فرمان''ربّ'' کی مخالفت شمار ہوتی ہے، جیسا کہ خدا فر عون اور اس کی قوم نیز ان لوگوں کے بارے میں جوان سے پہلے تھے فرماتا ہے:
( و جاء فرعون ومن قبلهفعصوا رسول ربّهم ) ( ۲ )
فرعون اور وہ لوگ جواس سے پہلے تھے ....ان سب نے اپنے ربّ کے فرستادہ پیغمبر کی مخالفت کی ۔
انسان نافرمانی کرنے کے بعد جب توبہ کرتا ہے اپنے ''رب'' سے مغفرت چاہتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے:
( الذین یقولون ربّنا انّنا آمنا فا غفرلنا ذنو بنا ) ( ۳ )
وہ لوگ کہتے ہیں: اے ہمارے'' رب'' ! ہم ایمان لائے ، لہذا ہمارے گناہوں کو بخش دے۔
( وما کان قولهم اِلاّ أن قالوا ربنّا أغفرلنا ذنوبنا ) ( ۴ )
اوران کا کہنا صرف یہ تھا کہ اے ہمارے پروردگار !ہمارے گناہوں کو بخش دے۔
( ربّنا فاغفر لنا ذنو بنا و کفرعناّ سيّئا تنا ) ( ۵ )
ا ے ہمارے پروردگارا ! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کی پردہ پوشی کر۔
سورہ قصص میں حضرت موسیٰ کے قول کے حکایت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( ربّ انِی ظلمتُ نفسی فاغفر لیِ فغفر له ) ( ۶ )
ا ے میرے پروردگار! میں نے اپنے او پر ظلم کیا لہٰذا مجھے بخش دے اورخدا نے انھیں بخش دیا۔
اسی وجہ سے ''غفور'' و غفار''بھی ربّ کے صفات میں سے ہے، چنانچہ فرمایا:
____________________
(۱)طہ ۱۲۱(۲) حاقہ ۹،۱۰(۳)آل عمران ۱۶ (۴)آل عمران ۱۴۷(۵)آل عمران ۱۹۳۔(۶)قصص ۱۶۔
( والذین عملوا السئّات ثُّمّ تابوا من بعد ها وآمنوا انّ ربّک من بعدها لغفور رحیم ) ( ۱ )
وہ لوگ جنھوں نے گناہ کیا اور اس کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے(جان لیں کہ) تمہاراربّ اس کے بعد غفور ومہر بان ہے۔
اپنی قوم سے نوح کے قول کی حکایت کرتا ہے:
( فقلت استغفروا ربّکم انّه کان غفاّراً ) ( ۲ )
(نوح نے کہا) میں نے ان سے کہا:اپنے ربّ سے بخشش ومغفرت طلب کرو کیونکہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور غفاّر ہے۔
سورۂ بقرہ میں فرمایا:
( فتلقّیٰ آدم من رّبه کلماتٍ فتاب علیه اِنّه هو التّوابُ الرحیم ) ( ۳ )
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے اور خدا نے ان کی توبہ قبول کی کیو نکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہر بان ہے۔
اور جو لوگ گناہ کرنے کے بعد توبہ کے ذریعہ اس کی تلافی اور جبران نہیں کرتے ان کے کردار کی سزاربّ العالمین کے ذمہّ ہے ،جیسا کہ فرمایا:
( قل یا عبادیِ الذین أسر فوا علیٰ أنفسهم لا تقنطوا من رحمة ﷲو انیبوا اِلیٰ ربّکم و أسلموا له من قبل أن یا تیکم العذا بُ ثُمّ لا تنصرون ) ( ۴ )
کہو: اے میرے و ہ بندو کہ تم نے اپنے اوپر ظلم وستم نیزا سراف کیاہے! خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہواپنے رب کی طرف لوٹ آؤ اوراس کے فرمان کے سامنے سراپا تسلیم ہو جاؤقبل اسکے کہ تم پر عذاب نازل ہو پھر کوئی یار ویاور نہ رہ جائے۔
ربّ کا اعمال کی جزا دینا کبھی دنیا میں ہے اور کبھی آخرت میں اور کبھی دنیا وآخرت دونوں میں ہے قرآن کریم سب کی نسبت رب کی طرف دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( لقد کان لسبا فی مسکنهم آية جنتان عن یمینٍ و شمالٍ کلوا من رزق ربّکم و اشکرٔ وا له بلدة طیبة و ربّ غفور فا عرضوا فارسلنا علیهم سیل العرم و بد لنا هم بجنّتیهم جنتین )
____________________
(۱)اعراف ۱۵۳(۲)نوح ۱۰ (۳)بقرہ ۳۷(۴)زمر ۵۳،۵۴
( ذوا تی أکل خمطٍ و اثلٍ و شیئٍ من سدرٍ قلیل ذلک جز ینا هم بما کفر واوهل نجازی اِلّا الکفو ر ) ( ۱ )
قوم ''سبا'' کے لئے ان کی رہائش گاہ میں ایک نشانی تھی: داہنے اور بائیں دو باغ تھے( ہم نے ان سے کہا) اپنے رب کارزق کھاؤ اور اس کا شکر اداکرو ، شہر صاف ستھرا اور پاکیزہ ہے اور تمہارا ''ربّ'' بخشنے والا ہے، (لیکن) ان لوگوں نے خلاف ورزی اوررو گردانی کی تو ہم نے تباہ کن سیلابی بلااُن کے سر پر نازل کر دی اور دو میوہ دار باغوں کو تلخ اور کڑوے باغوں اور کچھ کو بیر کے درختوںمیں تبدیل کر دیا، یہ سزا ہم نے انھیں ان کے کفر کی بنا پر دی،آیا ہم کفران نعمت کرنے والے کے علاوہ کو سزا دے سکتے ہیں؟
لیکن آخری جزا قیامت میں دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب کتاب کے بعد ہے،قرآن کریم محشور کرنے اور حساب و کتاب کرنے کی بھی نسبت ربّ کی طرف دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( وانّ ربّک هو یحشر هم ) ( ۲ )
تمہارا''ربّ'' انھیںمحشور کرے گا
نیز فرماتا ہے:
( ما فرّطنا فی الکتاب من شیٔ ٍثمّ الی ربّهم یحشرون ) ( ۳ )
اس کتاب میں ہم نے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے، پھر سب کے سب اپنے ''ربّ'' کی جانب محشور کئے جائیں گے۔
اور فرماتا ہے:
( انّ حسابهم الِّا علی ربِّی لو تشعرون ) ( ۴ )
(نوح نے کہا) ان کا حساب صرف اور صرف ہمارے رب کے ساتھ ہے اگر تم یہ بات درک کرتے ہو !
لوگ حساب وکتاب کے بعد یا مومن ہیں کہ ہر حال میں ''رحمت''خدا وندی ان کے شامل حال ہو گی یا غیر مومن کہ رحمت الٰہی سے دور ہوں گے ،خدا وند عالم نے مومنین کے بارے میں فرمایا:
( یوم نحشر المتّقین الی الرحمن و فداً ) ( ۵ )
جس دن پرہیز گاروں کو ایک ساتھ خدا وند ''رحمان'' کی جانب مبعوث کریں گے۔
____________________
(۱)سبا ۱۵ (۲)حجر ۲۵(۳)انعام ۳۸ (۴)شعرا ۱۱۳(۵) مریم ۸۵
البتہ ربّ العالمین کی رحمت اس دن مو منین سے مخصوص ہے،یہی وجہ ہے کہ خدا کو آخرت کا رحیم کہا جاتا ہے اور لفظ ''رحیم'' رحمان کے بعد استعمال ہوا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا:
( ألحمد للّه ربّ العالمین،الرحمن الرحیم )
حمد وستائش عالمین کے ربّ ﷲ سے مخصوص ہے،وہ خدا وند رحمن ورحیم ہے۔
کیو نکہ رحمن کی رحمت اس دنیا میں تمام افراد کو شامل ہے ،لیکن ''رحیم'' کی رحمت مو منین سے مخصوص ہے۔
غیر مومن اور کافر کے بارے میں ارشاد فرمایا!
( انّ جهنّم کانت مرصاداً، للطا غین مآباًجزائًً وفاقاً ) ( ۱ )
یقینا جہنم ایک سخت کمین گاہ ہے اور نافرمانوںکی باز گشت کی جگہ ہے ...یہ ا ن کے اعمال کی مکمل سزا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رب العالمین کو روز جزا کا مالک کہتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوا:
( الحمد للّه ربّ العالمینالرحمن الرحیم مالک یوم الدین )
جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کے مطابق ''ربّ'' رحمن بھی ہے اور ''رازق'' بھی'' رحیم'' بھی ہے اور ''توّاب و غفار ''بھی اور تمام دیگر اسمائے حسنیٰ کا بھی مالک ہے۔
بحث کاخلاصہ
خدا وند عالم سورۂ اعلی میں فرماتا ہے: مخلوقات کا رب وہی ہے جس نے انھیں بہترین طریقے سے خلق کیا ،پھر انھیںہدایت پذ یری کے لئے آمادہ کیا ،پھر اس کے بعد ہر ایک کی زندگی کے حدود معین کئے اور انھیں ہدایت کی ، پھراس کے بعد کی آیات میں حیوان کی چراگاہ کی مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے:''ربّ'' وہی ہے جس نے حیوانات کی چرا گاہ کو ظاہر کیا اوراسے پر ورش دی تا کہ شدید سبز ہو نے کے بعد ا پنے آخری رشد یعنی خشک گھاس کی طرف مائل ہو۔
اسی طرح سورۂ رحمن میں جس کی آیات کو ہم نے پیش کیا جو ساری کی ساری ربوبیت کی توصیف میں تھیں آغاز سورہ میں تعلیم بیان کے ذریعہ انسان کی تربیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :
( خلق الانسان علّمه البیان )
____________________
(۱) نبائ۲۱، ۲۲، ۲۶
انسان کو خلق کیا اوراسے بیان کی تعلیم دی یعنی اسے ہدایت قبول کرنے کے لائق بنایا۔
سورۂ علق میں انسان کی پرورش سے متعلق صفات''ربوبیت''کے دوسرے گوشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( خلق الانسان من علقالذی علّم با لقلم علّم الاِنسان ما لم یعلم )
انسانوں کو منجمد خون سے خلق کیا وہی ذات جس نے ا سے قلم کے ذریعہ تعلیم دی اور جو انسان نہیں جانتا تھا اس کی تعلیم دی ،یعنی اسے ہدایت قبول کر نے کے لئے آمادہ کیا۔
مذکورہ دونوں موارد(آموزش بیان اور قلم کے ذریعہ تعلیم) کلمہ ''سوّی'' کی تشریح ہے جو کہ''سورہ اعلیٰ'' میں آیاہے۔
سورۂ'' شوریٰ، نساء ، آل عمران'' میں ''ربّ العالمین ''کے ذریعہ انسان کی کیفیت ہدا یت کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:انسان کے لئے دین اسلام کو معین کیا اوراسے اپنی کتابوں میں اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ارسال کیا
سورۂ یونس اور اعراف میں فرمایا:تمہارا ربّ وہی خدا ہے جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور انھیں ہدایت تسخیری سے نوازا۔
سورۂ انعام میں ۹۵ تا۱۰۱آیات میں انواع مخلوقات کی یاد آوری کے بعدآیت ۱۰۲ میں فرمایا:
( ذلکم ﷲ ربکم لا اله الاّ هوخالق کل شیئٍ فا عبدوهُ )
یہ ہے تمہارا رب، ﷲ ،اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے،وہ تمام چیزوں کا خالق ہے ،صرف اس کی عبادت کرو۔
یہاں تک جو کچھ ہم نے ربوبیت کے صفات اور اس کے اسماء کو بیان کیا سب کے سب ﷲ کے صفات اور اس کے اسماء سے تعلق رکھتے ہیں، ﷲ کے'' اسمائے حسنیٰ ''کی بحث میں انشاء ﷲ دیگر اسمائے حسنیٰ کوجو ﷲ سے مخصوص ہیں ذکر کر یں گے۔
۴
ﷲ کے اسمائے حسنیٰ
۱۔ ﷲ
۲۔ کرسی
۱۔ﷲ
بعض علمائے علم لغت کہتے ہیں: ﷲ در حقیقت'' اِلٰہ'' تھا جو کہ'' آلِھة'' کا اسم جنس ہے ،اس پر الف و لام تعریف داخل ہوا، اور ''اَلْاِلٰہُ ''ہو گیا، پھر الف کو اس کے کسرہ کے ساتھ حذف کردیا گیا اور دو لام کو باہم ادغام کر دیا ''ﷲ'' ہو گیا ،یعنی لفظ الہ اور ﷲ ؛رجل اور الرجل کے مانند ہیں پہلے دونوں یعنی الہ ورجل ''الھة او ر رجال'' کا اسم جنس ہیں اور دوسرے دونوں یعنی ''ﷲ'' اور ''الرجل'' الف ولام کے ذریعہ معرفہ ہو گئے ہیں اورمورد نظررجل اورالہ معین ومشخص کئے ہیں اس لحاظ سے لا الہ الاﷲ'' کے معنی ہو ں گے: کوئی معبود نہیں ہے جزاس کے جو کہنے والے کا موردنظر اورمقصود ہے۔
یہ نظریہ غلط اور اشتباہ ہے ، کیو نکہ لفظ ﷲ نحویوں کی اصطلاح میں ''عَلَم مرتجل'' (منحصر بہ فرد )ہے اور ذات باری تعالیٰ سے مخصوص ہے، جس کے تمام صفات جامع جمیع اسمائے حسنیٰ ہیں اور کوئی بھی اس نام میں اس کا شریک نہیں ہے جس طرح کوئی ''الوہیت اور ''ربوبیت'' میں اس کاشریک نہیں ہوسکتاہے ۔
چنانچہ ﷲ اسلامی اصطلاح میں ایک ایسا نام ہے جو اس ذات سے مخصوص جس کے یہاں تمام صفات کمالیہ پائے جاتے ہیں، جیسا کہ خود ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ولِلّہ الأسماء الحسنیٰ'' تمام اسمائے حسنیٰ( ۱ ) ''ﷲ'' کیلئے ہیں اور فرمایا:( ﷲ لا اِلٰه اِلاّ هوله ا لأ سماء الحُسنیٰ ) ( ۲ ) وہ خدا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے تمام اسمائے حسنیٰ اس کے لئے ہیں۔
بنابرایں ''لا اِلٰہ اِلّا ﷲ'' یعنی ہستی میں کوئی موثراور خالق نہیں اور تمام صفات کمالیہ اور اسمائے حسنیٰ کے مالک خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ﷲ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک''قیوّم'' ہے قیوّم یعنی پائندہ قائم بالذات ہر چیز کا محافظ و نگہبان نیز وہ ذات جو موجودات کو قوام عطا کرتی ہے، آیت کے یہ معنی سورۂ طہ کی
____________________
(۱)اعراف ۱۸۰ (۲)طہ ۸.
۵۰ ویں آیت میں ذکر ہو ئے ہیں:
( ربّنا الذی أعطی کلّ شیٍ خلقه ثّم هدی ) ( ۱ )
ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر موجود کو جو اس کے خلقت کا لازمہ تھا عطا کیا، پھر اس کے بعد ہدایت کی ہے.
پس وہی ﷲ جو تما م صفات کمالیہ اور اسمائے حسنیٰ کا مالک ہے وہ ربّ، رحمان ، رازق، تواب،غفاّر، رحیم اور روز جزا کا مالک ہے، یہی وجہ ہے قرآن کریم میں کہیں پر لفظ ﷲربّ کی جگہ استعمال ہوا ہے یعنی جس جگہ ربّ کانام ذکر کرنا سزاوارتھا وہاں ربّ کی جگہ استعمال ہوا اور ربّ کے صفات اپنے دامن میں رکھتا ہے جیسے:رازق،تواب،غفورا وررحیم اور وہ ذات جو انسان کو اس کے عمل کی جزا دیتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا:
۱۔( ﷲ یبسط الرّزق لمن یشاء ویقدر ) ( ۲ )
ﷲ ہی ہے جوجس کے لئے چاہتاہے اس کے رزق میں وسعت عطا کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق میں تنگی کرتا ہے۔
۲۔( وانّ ﷲ هو التّواب الرحیم ) ( ۳ )
یقینا وہی ﷲ توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔
۳۔( اِنّ ﷲ غفوررحیم ) ( ۴ )
یقینا ﷲ بخشنے والا اور رحیم ہے۔
۴۔( لیجزیهم ﷲ أحسن ما کانوا یعملون ) ( ۵ )
تاکہ خدا انھیں جزا دے بہترین اعمال کی، جو انھوں نے انجام دئے ہیں۔
گزشتہ آیات میں جیسا کہ ہم نے ملا حظہ کیا ِ،صفات رزّاق ،غفور اور رحیم اور جزا دینے والا کہ ربّ العالمین سے مخصوص ہیں سب کی نسبت ﷲ کی طرف ہے ،کیو نکہ ﷲ تما م صفات کمالیہ کا مالک اور خود ''ربّ العا لمین'' ہے۔
بعض اسماء و صفات جو قرآن کریم میں آئے ہیں وہ بھی ''ﷲ'' کی مخصوص صفت ہیں جیسے:
( ﷲ لا اِلٰه اِلاّ هو الحیّ القيّوم لا تأ خذه سنة و لا نوم له ما فی السموات و ما فی )
____________________
(۱) طہ۵۰(۲) رعد۲۶ (۳) توبہ ۱۰۴ (۴) بقرہ ۱۸۲(۵) توبہ ۱۲۱
( الأرض من ذالّذی یشفع عنده اِلاّ باِ ذنه یعلم ما بین أید یهم و ما خلفهم و لا یحیطون بشیئٍ من علمه اِلّا بما شاء وسع کر سيّه السموات و الأرض و لا یؤده حفظهما و هو العلیّ العظیم ) ( ۱ )
کوئی معبودنہیںجزاللہ کے حی وقیوم اور پائندہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ ہی نیند ،جو کچھ زمین وآسمان میں ہے ا سی کا ہے کون ہے جو اس کے پاس ا س کے فرمان کے علاوہ شفاعت کرے؟ جو کچھ ان کے سامنے اور پیچھے ہے اسے جانتا ہے اور کوئی اس کے علم کے ایک حصہ سے بھی آگاہ نہیں ہوتا جز یہ کہ وہ خود چاہے، اس کی حکومت کی''کرسی'' زمین وآسمان کو محیط ہے نیز ان کی محا فظت اسے تھکا تی نہیں ہے اور وہ ' علی ّ و عظیم''(بلند مرتبہ و با عظمت) ہے۔
اس آیت میں مذکور تمام اسماء و صفات ''ﷲ'' سے مخصوص ہیں اور ''الہٰ '' خالق اور ربّ العالمین کے صفات میں سے نہیں ہیں۔
نیز ایسے صفات جیسے:عزیز ،حکیم،قدیر،سمیع،بصیر،خبیر، غنی،حمید، ذوالفضل العظیم،( عظیم فضل کا مالک) واسع، علیم(وسعت دینے والا اور با خبر) اور فعال لمایشائ(اپنی مرضی سے فعل انجام دینے والا)... یہ سارے صفات '' ﷲ'' کے مخصوص صفات ہیں، اس لحاظ سے ﷲ ایک نام ہے ا ن صفات میں سے ہر ایک کے لئے اوراللہ کی حقیقت یہی صفات اور اسمائے حسنیٰ ہیں۔
عبرانی زبان میں بھی ''ےَھُوَہ'' کو'' ﷲ'' کی جگہ اور''الوھیم'' کو''الا لہ'' کی جگہ استعمال کرتے ہیں ۔
ﷲ کی ایک صفت یہ ہے کہ اس کی ''کرسیٔ حکومت'' زمین وآسمان سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ چنانچہ اب ہم''کرسی'' کے معنی کی تحقیق وبر رسی کریں گے۔
____________________
(۱) بقرہ ۲۵۵
۲۔کرسی
لفظ کرسی؛ لغت میں تخت اور علم کے معنی میں ہے۔
طبری،قرطبی اور ابن کثیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ فرمایا :''کرسی خدااس کا علم ہے''۔ اورطبری کہتے ہیں:
''جس طرح خدا وند عالم نے فرشتوں کی گفتگو کی خبر دی ہے کہ انھوں نے اپنی دعا میں کہا :
( ربّنا وسعت کلّ شیء علماً )
پروردگار ا! تیرا علم تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
اس آیت میں بھی خبر دی ہے کہ''وسع کرسےّہ السموات و الأرض'' اس کا علم زمین وآسمان کو محیط ہے،کیو نکہ''کرسی'' در حقیقت علم کے معنی میں ہے ،عرب جو اپنے علمی نوٹ بک کوکرّاسہ کہتے ہیں اسی باب سے ہے ،چنانچہ علما ء اور دانشوروں کو ''کَراسی'' کہا جاتا ہے۔(طبری کی بات تمام ہوئی)۔
طبری کی بات پر اضافہ اضافہ کرتے ہوئے ہم بھی کہتے ہیں:خدا وند عالم نے حضرت ابراہیم کی اپنی قوم سے گفتگوکی حکایت کی ہے جو انھوں نے اپنی قوم سے کی:
( وسع ربیّ کلّ شیئٍ علماً أ فلا تتذکّرون ) ( ۱ )
ہمارے رب کا علم تمام چیزوں کو شامل اور محیط ہے آیاتم لوگ نصحت حاصل نہیں کرتے؟
اورشعیب کی گفتگو اپنی قوم سے کہ انھوں نے کہا ہے:
( وسع ربّنا کلّ شیئٍ علماً ) ( ۲ )
ہمارے رب کا علم تمام اشیا ء کو محیط ہے۔
اور موسیٰ کی سامری سے گفتگو کہ فرمایا:
____________________
(۱) انعام ۸۰
(۲)اعراف ۸۹
( ِِِانّما اِلٰهکم ﷲ الذی لا أِله الاّ هو وسع کلّ شیئٍ علماً ) ( ۱ )
تمہارا معبود صرف ''ﷲ'' ہے وہی کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اس کا علم تمام اشیاء کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔
رسول خدا کے اوصیاء میں چھٹے وصی یعنی امام جعفر صادق نے سائل کے جواب میں جس نے کہا : (وسع کر سیہ السموات و الارض) اس جملہ میں کرسی کے کیا معنی ہیں ؟فرمایا: خدا کا علم ہے۔( ۲ )
قرآن کریم میں کرسی کا تخت اور علم دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے، خدا وند عالم نے سور ئہ ص میں سلیمان کی داستان میں فر مایا:
( و لقد فتّنا سلیمان و ألقینا علیٰ کر سيّه جسداً ) ( ۳ )
ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ان کی کرسی (تخت ) پر ایک جسد ڈال دیا۔
اور اس آیت میں فرماتا ہے:
( یعلم ما بین أید هم وما خلفهم ولا يُحیطون بشیء ٍ من علمه ِالّا بما شاء وسع کر سيّه السموات و الٔارض ) ( ۴ )
خدا وند عالم ان کے سامنے اور پس پشت کی ساری باتوں کو جانتا ہے اور وہ ذرہ برابر بھی اس کے ''علم'' سے آگاہ نہیں ہو سکتے جز اس کے کہ وہ خود چاہے،اس کی کرسی یعنی اس کا''علم''زمین وآسمان کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
''کرسی'' جیسا کہ آیہ شریفہ سے ظاہر ہے ''علمہ'' کے بعدمذکور ہے اس قرینہ سے معنی یہ ہوں گے:وہ لوگ ذرہ برابر علم خدا وندی سے آگاہ نہیں ہو سکتے جزاس کے کہ خدا خود چاہے، اس کا علم زمین وآسمان کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔
اس لحاظ سے بعض روایات کے معنی ،جو کہتی ہیں:''کل شیء فی الکرسی'' ساری چیزیں کرسی میں ہیں، یہ ہوں گے کہ تمام چیز علم الٰہی میں ہے۔
یہاں پر'' ﷲ کے اسمائے حسنی ٰ''کی بحث کو ختم کرتے ہیںاور''عبودیت'' کی بحث جو کہ اس سے مر بوط ہے اس کی بر رسی و تحقیق کر یں گے۔
____________________
(۱)طہ ۹۸(۲) توحید صدوق:ص ۳۲۷، باب: معنی قول اللہ عز وجل : وسع کرسیہ الماوات والارض.(۳) سورۂ ص ۳۴. (۴)بقرہ۲۵۵
عبد وعبادت
عَبَدَ :اس نے اطاعت کی''عبودیت'' یعنی: عاجزی و فرو تنی اورخضوع و خشوع کے ساتھ اطاعت بجالانااور''عبادت'' یعنی نہایت خضوع وخشوع اور فر وتنی وعاجزی کے ساتھ اطاعت کرناجو '' عبودیت''سے زیادہ بلیغ ہے۔
الف: عبودیت
سورہ حمد میں ''ربّ العالمین''کے ذکر کے بعد جملہ''ایاّک نعبد'' آیا ہے اس میں عبودیت بمعنی ٔ اطاعت ہے ،یعنی ہم صرف تیری ہی اطاعت کرتے ہیں۔
امام جعفر صادق ـ نے بھی ایک حدیث میں فرمایا ہے :
''مَن أطاع رجلاً فی معصية فقد عبده ''( ۱ )
جو شخص کسی انسان کی معصیت اور گناہ میں اطاعت کرے گویااس نے اسکی عبادت کی ہے۔
جیسا کہ ظاہر ہے عبادت و اطاعت ایک ساتھ اور ایک معنی میں استعمال ہو ئے ہیں۔امام علی رضا کی گفتگو میں بھی ہے کہ دوسرے کی بات سننے کو،جو ایک قسم کی اطاعت اور اس کی پیروی ہے،''عبادت'' سمجھاگیاہے، جیسا کہ فرمایا:
''مَن أصغیٰ اِلی ناطق فقد عبده فاِن کان الناطق عن ﷲ عزّ و جلّ فقد عبد ﷲ،واِن کان الناطق عن أبلیس فقد عبدأبلیس'' ( ۲ )
جو شخص کسی قائل کی آواز پر کان دھرے اس نے اس کی عبادت کی ہے اب اگر قائل خدا وند عالم کی بات کرے تو خدا کی عبادت کی اور اگر ابلیس کی بات کرے تو ابلیس کی عباد ت کی۔
عبادت: باشعور موجودات کے لئے اختیاری ہے لیکن دیگر مخلوقات کے لئے تسخیری اور غیر اختیاری
____________________
(۱)اصول کافی ج ۲، ص ۳۹۸(۲) عیون اخبار الرضا،ص۳۰۳، ح۶۳؛ وسایل الشیعہ ج۱۸، ص ۹۲ ح ۱۳
ہے، جیسا کہ خدا وند سبحان نے فرمایا :
( یا أيّها الناس اعبد واربّکم الذی خلقکم و الذین من قبلکم.. ) .)( ۱ )
اے لوگو !اپنے رب کی عبادت کرو ،وہی جس نے تمکو اور تم سے پہلے والوں کو زیور تخلیق سے آراستہ کیا ہے۔
اوردیگر مو جودات کے بارے میں فرمایا :
( وللّه یسجد ما فی السموات وما فی الٔارض من دابة والملا ئکة وهم لا یستکبرون ) ( ۲ )
تمام وہ چیزیں جو آسمان وزمین میں پائی جاتی ہیں چلنے والی ہوں یا فرشتے خدا کے لئے سجدہ( عاجزی اور فرونتی) کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں۔
ب: عبد
عبد کے چار معنی ہیں:
۱۔غلام کے معنی میں جیسے سورۂ نمل میں خدا ارشاد فرماتا ہے:
( ضرب ﷲ مثلاً عبدا ً مملوکاً لا یقدر علیٰ شیئٍ ) ( ۳ )
خدا وند عالم نے ایک ایسے غلام مملوک کی مثال دی ہے جو کسی چیز پر قادر نہیں ہے۔
اس عبد کی جمع عبید ہے جیسا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا :
''مَن خرج ِالینا من العبید فهوحرّ'' ( ۴ )
جو غلام بھی ہماری سمت (اسلام کی طرف)آجائے وہ آزاد ہے۔
۲۔''عبد'' بندہ ہونے کے معنی میں بھی ہے اس کی سب سے زیادہ روشن اور واضح مثال خدا وند عالم کے ارشاد میں ہے کہ فرمایا:
( ِان کلّ مَن فی السموات والأر ض اِلّا أتی الرحمن عبداً ) ( ۵ )
زمین وآسمان کے ما بین کوئی نہیں ہے مگر یہ کہ بند گی کی حالت میں خدا وند رحمان کے سامنے آئے۔
اس معنی میں بھی عبد کی جمع ''عبید'' (بندے) ہے جیسے :
( و أنّ ﷲ لیس بظلام للعبید ) ( ۶ )
____________________
(۱)سورہ ٔ بقرہ ۲۱. (۲) نحل ۴۹(۳) نحل ۷۵(۴) مسند احمد ج۱، ص ۲۴۸ (۵)مریم ۹۳۔(۶)انفال ۵۱ ۔
خدا وند عالم اپنے بندوںپر ظلم نہیں کرتا ہے۔
۳۔ ۴۔عبد؛،عبادت کرنے والے اور خدمت گزار بندہ کے معنی میں ہے جس کے بارے میں ''عابد'' کی تعبیر زیادہ بلیغ ہے، اس کی دو قسم ہے:
الف:خدا کا خالص'' عبد'' اورحقیقی بندہ ہونا جس کی جمع عباد آتی ہے جیسے خدا وند عالم کاکلام ان کے موسیٰ اور اوران کے جوان ساتھی کی داستان کی حکایت میں ہے،وہ فرماتا ہے:
( فوجدا عبداً من عبادنا آتینا ه رحمة من عند نا ) ( ۱ )
ا ن دونوںنے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ کو پایا جسے ہم نے اپنی خاص رحمت سے نوزا تھا۔
ب۔اور دنیا کا'' عبد'' بندہ ہونا یعنی جو شخص اپنا تمام ہم و غم اور اپنی تمام توانائی دنیا اور دنیا طلبی کے لئے وقف کر دے،یہاں بھی عبد کی جمع''عبید'' ہے جیسا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: '' تَعِسَ عبد الدرھم وعبد الدینار''درہم ودینار کا بندہ ہلاک ہوگیا۔( ۲ )
اور چو نکہ پروردگار عالم بندوں کی ہدایت اور لوگوں کے ارشاد کے لئے امر ونہی کرتا ہے لہٰذا جو شخص فرمان خدا وندی کی اطاعت کرتاہے ا سے کہتے ہیں: (عَبَدَا لرّبَّ)اس نے خدا وند رحمان کی عبادت وبندگی کی، وہ عابد ہے یعنی:اس نے خدا کی اطاعت کی ہے اور و ہ پروردگار کا مطیع وفرمانبردار ہے۔
اور چونکہ''الہ''معبود کے معنی میں ہے اور اس کے لئے دینی مراسم منعقد کئے جاتے ہیں، کہتے ہیں: ''عَبَدَ فلان اِلا لہَ''فلاں نے خدا کی عبادت کی (پرستش کی)وہ عابد(پر ستش کرنے والا ہے)یعنی وہ دینی مراسم خدا کے لئے انجام دیتا ہے۔( ۳ )
جن صفات کو''الوہیت'' کی بحث میں '' الہٰ'' کے صفات میں شمار کیاہے اور ربوبیت کی بحث میں ان تمام صفات کورب ّ کے صفات سے جانا ہے وہ سارے کے سارے ﷲ ربّ العالمین کے صفات ہیں ، ﷲ ربّ العالمین کے صفات میں ایک دوسری صفت یہ ہے کہ ہر چیز کا جاری و ساری ہونا اس کی مشیت اور اس کی مرضی سے ہے اور ہم انشاء ﷲآئندہ بحث میں اس کی وضاحت کر یں گے۔
____________________
(۱)کہف:۶۵ (۲) سنن ابن ماجہ ص۱۳۸۶(۳)جو کچھ ہم نے''عبد'' کے بارے میں ذکر کیا ہے وہ مندرجہ ذیل کتابوں سے مادہ عبد کے مطالب کا خلاصہ ہے، جوہری کی کتاب صحاح ،مفردات القرآن راغب ،قاموس اللغة فیروز آبادی، معجم الفاط القرآن الکریم ،طبع مصر، ہم نے ان سب کی عبارت کو مخلوط کر کے ایک سیاق و اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے.
۵
ربّ العالمین کی مشیت
الف ۔مشیت کے معنی
ب: رزق میں خدا کی مشیت
ج:ہدایت میں خدا کی مشیت
د: رحمت وعذاب میں خدا کی مشیت
۱- لغت اور قرآن کریم میں مشیت کے معنی
الف:مشیت کے لغوی معنی
مشیت کے لغوی معنی؛ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور اس معنی میں لوگ بھی ارادہ ومشیت کے مالک ہوتے ہیں ،خدا وند کریم نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:( اِنّ هذه تذکرة فمن شاء اتّخذا الیٰ ربّه سبیلاً ) ( ۱ )
یہ یاد دہانی ہے،لہٰذا جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف راہ اختیار کرے۔یعنی اگر انسان چاہے اور ارداہ کرے کہ خدا کی سمت راہ انتخاب کرے تو وہ مکمل آزادی اور اپنے ارادہ واختیار کے ساتھ اس بات پر قادر ہے،اسی آیت سے ملتا جلتا مضمون سورہ مدثر کی ۵۵ ویں آیت عبس کی بارہویں آیت تکویر کی اٹھائیسویں آیت اور کہف کی ۹۲ آیت ویں وغیرہ میں بھی ذکر ہوا ہے،خدا وند سبحان نے لغوی مشیت کی نسبت بھی اپنے طرف دیتے ہوئے فرمایا:
۱۔( الم تر اِلی ربّک کیف مدّ الظلّ و لو شاء لجعله ساکناً ) ( ۲ )
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کس طرح تمہارے ربّ نے سایہ کو دراز کردیا؟اوراگر چاہتا تو ساکن کر دیتا.
۲۔( فاما الذین شَقُوا ففی النار لهم فیها زفیر و شهیق)( خالدین فیها ما دامت السموات و الأرض الا ما شاء ربّک انّ ربّک فعال لما يُرید)( وأما الذین سعدوا ففی الجنة خالدین فیها ما دامت السموات و الأرض الا ماشاء ربک عطائً غیر مجذوذٍ ) ( ۳ ) لیکن جو بد بخت ہو چکے ہیں،تو وہ آتش جہنم میں ہیں اور ان لوگوں کے لئے وہاں زفیر اور شہیق( آہ و نالہ وہ فریاد) ہے اور جب تک زمین وآسمان کا قیام ہے وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے مگر جو تمہارا رب چاہے اور تمہارا رب جو چاہتاہے انجام دیتا ہے، رہے وہ لوگ جو نیک بخت اور خوش قسمت ہیں وہ جنت میں ہیں اور
____________________
(۱) مزمل ۱۹ ؛ انسان ۲۹ (۲)فرقان ۴۶.(۳)ہود۱۰۶ ۱۰۸
جب تک زمین وآسما ن کا قیام ہے وہ اس میں رہیں گے جز اس کے جو تمہارا رب چاہے یہ ایک دائمی بخشش ہے۔
ان دو آیتوںکے مانند سورۂ اسراء کی ۸۶ ویںاور فرقان کی ۵۱ ویںآیت میں بھی ذکر ہوا ہے۔
لیکن گزشتہ آیات کے معنی یہ ہیں:
۱۔خدا وندعالم نے پہلی جگہ فرمایا:
( الم تریٰ الی ربک کیف مدّ الظل و لو شاء لجعله ساکناً )
یعنی خدا وند عالم نے کس طرح ظہر کے بعد ،سورج کے مغرب سے قریب ہو نے کے تناسب سے سایہ کو مشرق کی جانب پھیلا دیایہاں تک کہ ڈوب کر شب میں اپنی آخر ی حد داخل ہو گیا اوراگر''چاہتا''تو سایہ کو ہمیشہ ساکن ہی رہنے دیتا ، سایہ کا دراز ہونا اوراس کا حرکت کرنا خدا کی مشیت اور اس کے ارادہ پر ہے اور مرضی الٰہی سے باہر نہیں ہے۔
۲۔ خدا نے دوسرے مقام پر فرمایا: اہل جہنم ہمیشہ کیلئے آتش میں ہیں اور اہل بہشت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بہشت میں ہیںاور یہ خدا کی قدرت اور مشیت کے تحت ہے اور اس کی مرضی اور مشیت سے خارج نہیں ہے۔
ب:مشیت؛ قرآنی اصطلاح میں
قرآن مجید میں جب بھی کلمات رزق، ہدایت،عذاب،رحمت اور ان کے مشتقات کے بعد ''مشیت خدا کی'' بحث ہو تی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ رزق وروزی ،ہدایت اور اس کے مانند دوسرے امور کا جاری ہونا ان سنتوں کی بنیاد پرہے جنہیں خدا وند عالم نے اپنی حکمت کے اقتضا ء سے معین فرمایا ہے اور خدا کی سنت ان امور میں نا قابل تبدیل ہے اور وہ اس آیت کے مصادیق و افراد میں سے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے:
( سنة ﷲ و لن تجد لسنة ﷲ تبدیلاً ) ( ۱ )
یہ سنت الٰہی ہےاور سنت الٰہی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو تی ہے۔
جیسا کہ سورہ فاطر میں بھی ارشاد فرماتا ہے:
( فلن تجد لسنة ﷲ تبدیلاً و لن تجد لسنة ﷲ تحویلاً )
سنت خدا وندی میں کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے اور سنت الٰہی میں کبھی تغیر نہیں پاؤ گے۔
____________________
(۱)سورۂ احزاب ۶۲ اور فتح ۲۳.
دوم ۔ رزق وروزی میں خدا کی مشیت
۱۔خدا وند عالم سورۂ شوریٰ میں فرماتا ہے:
( له مقا لید السموات و الأرض یبسط الرّزق لمن یشائُ و یقدر اِ ّنه بکل شیء ٍ علیم ) ( ۱ )
آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں اس سے مخصوص ہیں،جس کی روزی میں چاہتا ہے وسعت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ا س کی روزی تنگ کر دیتا ہے وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے۔
سورئہ عنکبوت میں فرمایا ہے:
( وکأيّن من د ابةٍ لا تحمل رزقها ﷲ یر زقها و اِيّا کم و هو السمیع العلیم و لئِن سألتهم مَن خلق السموات والأرض و سخر الشمس و القمر لیقو لنّ ﷲ فأنّی یوفکون ﷲ یبسط الرّزق لمَن یشاء من عباده و یقدر له ِانّ ﷲ بکلّ شیٍئٍ علیم ولئن سا لتهم من نزّل من السماء مائً فأ حیا به الٔارض من بعد موتها لیقو لُنَّ ﷲ قل الحمد لله بل أکثر هم لا یعقلون ) ( ۲ )
کتنے چلنے والے ایسے ہیں جو اپنا رزق حمل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے خداانھیں اور تمھیں روزی دیتا ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے اور جب بھی ان سے سوال کرو گے : کس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے ؟ توکہیں گے:''ﷲ'' پھر اس حال میں وہ لوگ کیسے منحرف ہو تے ہیں؟خدا اپنے بندوں میں جس کی روزی میں چاہتا ہے وسعت بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے خداوند عالم تمام چیزوں سے آگاہ ہے اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کیا؟ کہیں گے: ''ﷲ'' کہو!حمد و ستائش خدا سے مخصوص ہے لیکن ان میں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں۔
۳۔سورۂ سبا میں فرمایا:
____________________
(۱)شوریٰ۱۲
(۲) عنکبوت۶۰تا۶۳.
( قل اِنَّ ربّیِ یبسط الرّزق لمَن یشاء من عباده و یقد ر له و ما أنفقتم من شیئٍ فهو يُخلفهُ وهوخیرالرّا زقین ) ( ۱ )
کہو! خدا اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کے رزق میں وسعت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس کی جگہ پرْ کر دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
۴۔سورہ اسراء میں ارشاد ہو تا ہے:
( ولا تجعل یدک مغلو لةً اِلی عنفک ولاتبسطها کلّ البسطِ فتقعد ملوماً محسوراً)(اِنَّ ربّک یبسط الرّزق لمَن یشاء ویقدر اِنّه کان بعباده خبیراً بصیراً)( ولا تقتلوا أولادکم خشية اِملاقٍ نحن نر زقهم و اِيّاکم اِنَّ قتلهم کان خطئاً کبیرا)( و لا تقر بوا مال الیتیم اِلّا با لتی هی أحسن حتیٰ یبلغ أشدّ ه و أو فو ا بالعهد اِنّ العهدکان مسوؤ لاً)( و أوفوا الکیل اِذا کلتم و زنوا با لقسطاس المستقیم ذلک خیر و أحسن تاویلاً ) (۲)
اپنے ہاتھوں کو پس گردن بندھاہوا قرار نہ دو ( تاکہ انفاق سے رک جاؤ) اور نہ ہی اتنا پھیلادو کہ سرزنش کے مستحق قرار پاؤ اور حسرت کا نشانہ بن جاؤ ،یقینا ًخدا جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت دیتا ہے اور جس کے رزق میں چاہتا ہے تنگی کر دیتا ہے،اپنے فرزندوں کو فقر و فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو ہم انھیں اور تمھیں روزی عنایت کرتے ہیںیقینا ً ان کا قتل کرنا ایک عظیم گناہ ہےاور یتیم کے مال سے بہترین طریقہ کے علاوہ قر یب نہ ہو نا جب تک کہ بلوغ کونہ پہنچ جائے اور اپنے عہد وپیمان کو وفا کرو کہ عہد وپیمان کے متعلق سوال ہوگا! اور جب کسی چیز کو تولو تو تو لنے کا حق ادا کرو اور صحیح ترازو سے وزن کرو کہ یہ بہتر اور نیک انجام کاذریعہ ہے۔
۵۔سورۂ آل عمران میں فرمایا:
( قل أللّهم مالک الملک تؤتیِ الملک من تشائُ و تنزع الملک ممّن تشاء و تعزّ مَن تشاء و تذّل مَن تشاء بیدک الخیر اِنّک علیٰ کلّ شیئٍ قدیر تولج اللیل فی النهار و تو لج النهار فی اللّیل و تخرج الحیَِّ من الميّت و تخرج الميّت من الحیِّ و تر زق مَن تشاء بغیرحسابٍ ) ( ۳ )
کہو!: خدا وندا! تو ہی حکو متوں کا مالک ہے جسے چاہتا ہے حکومت دیتاہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل ورسوا کر دیتاہے تما م خوبیاں تیر ے ہاتھ میں
____________________
(۱)سبا۳۹
(۲)اسراء ۲۹ تا ۳۵
ہیں اورتو ہر چیز پر قادر ہے ،رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو شب میں ، اور مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
خدا کی مشیت کیسی اور کس طرح ہے؟
اعمال کی جز ا کی بحث میں ہم نے ذکر کیا کہ خدا وند عالم نے رزق کی وسعت ''صلہ رحم'' میں قرار دی ہے یعنی کوئی اپنے اعزاء و اقرباء سے صلہ رحم کرتا ہے تو اس کے رزق میں اضافہ ہو تا ہے اور انسان اپنے باپ کی صلاح و درستی کے آثار بعنوان میراث پاتا ہے ،جیسا کہ حضرت موسی اور بندہ ٔخدا حضرت خضر کی داستان میں گزر چکا ہے کہ گر تی ہوئی دیوار کو گر نے سے بچایا تا کہ اس کے نیچے دو یتیموں کا،کہ جن کا باپ صالح انسان تھا ،مد فون خزانہ بر باد نہ ہو جائے اور وہ دونوں بالغ ہو نے اور سن شعور تک پہنچنے کے بعداسے باہر نکالیں! یہ خدا کی مشیت و ارادہ کے دو نمو نے روزی عطا کرنے کے سلسلہ میں ہیں جو ثابت اور ناقابل تبدیل الٰہی سنت کی بنیاد پر جاری ہوتے ہیں ۔
____________________
(۱) آل عمران ۲۶، ۲۷
سوم :مشیت خداوندی ہدایت اور راہنمائی میں
انسان کی ہدایت قرآن کریم کی رو سے دو قسم کی ہے:
۱۔ہدا یت اسلامی احکام اور عقائد کی تعلیم کے معنی میں
۲۔ ہدایت ایمان اور عمل صالح کی تو فیق کے معنی میں
قرآن کریم پہلی قسم کی ہدایت کی زیادہ تر پیغمبروں کی طرف نسبت دیتا ہے جنھیں خدا وند عالم نے اسلامی عقائدو احکام کی تبلیغ اور ا پنی پیغام رسا نی کے لئے انسانوں کی طرف بھیجا ہے اور کبھی خود خدا کی طرف نسبت دیتاہے کہ اس نے پیغمبروں کو دین اسلام کے ساتھ بھیجا ہے۔
قرآن کریم دوسری نوع ہد ایت کی نسبت خدا وند عالم کی طرف دیتا ہے اور کبھی مشیت کے ذکر کے ساتھ کہ ہدایت خدا کی مرضی اور اس کی خواہش ہے اور کبھی''مشیت'' کے ذکرکے بغیر۔
خدا وند عالم نے ہدایت کی دونوں قسموں سے بہرہ ور ہونے کی شرط لوگوں کا انتخاب اور پسندیدگی نیزاس کو حاصل کرنے کے لئے ان کے عملی اقدام کو قرار دیا ہے، اس کا بیان درجہ ذیل سہ گانہ مباحث میں کیاجارہا ہے:
الف: تعلیمی ہدایت
قرآن کریم لوگوں کی تعلیمی ہدایت کی تبلیغ اسلام کے معنی میں کبھی انبیاء کی طرف نسبت دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( و اِنّک لتهدی اِلیٰ صراط مستقیم ، صراط ﷲ الذی له ما فی السموات و ما فیِ الأرض اِلَا اِلیٰ ﷲ تصیر الأ مور )
اوریقیناً تم راہ راست کی طرف ہدایت کرتے ہواس خدا وند عالم کے راستے کی جانب کہ جو کچھ زمین وآسمان کے درمیان ہے
سب اسی کا ہے ،آگاہ ہو جاؤ !تمام امور کی بازگشت خدا کی طرف ہے۔( ۱ )
اور کبھی انبیاء کے ہدایت کرنے کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہوئے فرماتا ہے :
۱۔( و جعلنا هم أئمة یهدون بأمرنا ) ( ۲ )
اورہم نے انھیں پیشوا قرار دیا جو ہمارے فرمان کی ہدایت کرتے ہیں۔
۲۔( هوالذِی أرسل رسوله بالهدیٰ ودین الحقّ لیظهره علیٰ الدین کلّه ) ( ۳ )
وہ ایسی ذات ہے جس نے اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا تا کہ اسے تمام ادیان پر غالب اورکامیاب کرے۔
اسی معنی میں آسمانی کتابوں کی طرف بھی ہدایت کی نسبت دیتے ہوئے فرماتا ہے:
۱۔( شهررمضان الذی انزل فیه القرآن هُدیً للناس وبيّناتٍ مِن الهدیٰ والفُرقانِِ ) ( ۴ )
ماہ رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں لوگوں کی ہدایت کرنے والا قرآن نازل کیا گیا اس میں ہدایت کی نشا نیاں اور حق و باطل کے درمیان جدائی ہے۔
۲۔( و أنزل التّوراة و الٔانجیل من قبل هدیً للناس ) ( ۵ )
لوگوں کی ہد ایت کے لئے پہلے توریت اور انجیل نازل فرمائی ہے۔
کبھی تعلیمی ہد ایت کی نسبت بلا واسطہ خدا کی طرف دیتے ہوئے فرمایا:
۱۔( ألم نجعل له عینین و لساناًو شفتین و هدیناه النّجد ین ) ( ۶ )
کیا ہم نے انسان کو دو آنکھیں نہیں دیں؟ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئے؟ اور اسے راہ خیر وشر کی طرف ہدایت نہیں کی؟!
۲۔( و أمّا ثمود فهد ینا هم فا ستحبّوا العمیٰ علی الهدیٰ ) ( ۷ )
اور ہم نے قوم ثمود کی ہدایت کی لیکن انھوں نے ضلا لت اور نا بینائی کو ہدایت پر تر جیح دی۔
بنا براین خدا کبھی تعلیمی ہدایت اور آموزش اسلام کی نسبت پیغمبروں اور اپنی کتابوں کی طرف دیتا ہے اور کبھی اپنی پاک و پاکیزہ ذات کی طرف !اور یہ اس اعتبار سے ہے کہ خوداسی نے ان کتابوں کے ہمراہ لوگوں کی تعلیم کے لئے پیغمبروں کو بھیجا ہے۔
____________________
(۱)شوریٰ ۵۲،۵۳ (۲)انبیاء ۷۳(۳)توبہ ۳۳(۴) بقرہ ۱۸۵ (۵)آ ل عمراان۲،۳ (۶) بلد۸،۱۰ (۷) فصلت ۱۷
انشاء اآئندہ بحث میں انسا ن کی ہدایت قبول کرنے یا نہ کرنے کی کیفیت تحقیق کے ساتھ بیان کریں گے۔
ب:انسان اور ہدایت یا گمراہی کاانتخاب
قرآنی آیات میں غور و خوض کر نے سے ہم درک کرتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ انبیاء کے مبعوث ہونے اور آسمانی کتاب کے نازل ہو نے کے بعد دو گروہ میں تقسیم ہوئے ہیں: ایک گروہ ہدایت کو گمرا ہی پر ترجیح دیتا ہے اور اس کا انتخاب کرتا ہے اور دوسرا گروہ ضلالت و گمراہی کو ہدایت پر ترجیح و فوقیت دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل آیات پر توجہ فرما ئیں:
۱ ۔( اِنّما أمرت أن اعبد ربّ هذه البلدة)( و أن أتلوا القرآن فمَن أهتدیٰ فِاّنما یهتدیِ لنفسه و مَن ضلَّ فقل اِنّما أنا من المنذ رین ) ( ۱ )
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے ربّ کی عبادت کر وں اور قرآن کی تلاوت کروںلہٰذا جس نے ہدایت پائی اسنے اپنے فائدہ میں ہدایت پائی اور جو گمراہ ہو ا تو اس سے کہو ہم تو صرف ڈرانے والے ہیں۔
۲۔( قل یا أيّها الناس قد جاء کم الحقّ من ربّکم فمَن اهتدیٰ فاِنّما یهتدیِ لنفسه و مَن ضلَّ فِا ّنما یضلُّ علیها و ما أنا علیکم بوکیلٍ ) ( ۲ )
کہو: اے لوگو! تمہارے ربّ کی جانب سے حق تمہاری طرف آچکا ہے ،لہٰذا جو ہدایت پائے وہ اپنے نفع میں ہدایت یا فتہ ہوا ہے اور جو گمراہ ہو جائے تنہا اپنے ضرر میں گمراہ ہوا ہے اور میں تم پر وکیل نہیں ہوں۔
۳۔( مَن اهتدیٰ فاِنّما یتهدی لنفسه و مَن ضلَّ فاِ نّما یضلّ علیها ولا تزر واز رة وزرأخریٰ و ما کنّا معذّ بین حتیٰ نبعث رسولاً ) ( ۳ )
جو ہدایت پائے وہ اپنے فائدہ میں ہدایت یافتہ ہوا ہے اور جو گمراہ ہو جائے ا پنے ضرر اورنقصان میں گمراہ ہوا ہے اورکوئی بھی کسی دوسرے کے گناہ کا بار نہیں اٹھا ئے گا اور ہم اس وقت تک کسی کومعذب نہیں کرتے جب تک کہ کوئی پیغمبر مبعوث نہ کردیں۔
____________________
(۱)نمل ۹۱ ، ۹۲ (۲)یونس ۱۰۸
(۳)اسراء ۱۵
ہدایت طلب انسان اور ﷲ کی امدا د(توفیق)
خدا وند عالم سورۂ مریم میں ہدایت طلب انسان کی ہدایت خواہی کے بارے میں فرماتا ہے:
( و یزید ﷲ الذین اهتدوا هُدیً ) ( ۱ )
اور وہ لوگ جو راہ ہدایت گامزن ہیں خدا ان کی ہدا یت میں اضافہ کردیتا ہے۔
سورۂ محمد میں ارشاد ہوتا ہے:
( والذین اهتدوازادهم هدیً واتا هم تقواهم ) ( ۲ )
وہ لوگ جو ہدایت یافتہ ہیں ،خدا وند عالم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کیا اور انھیں روح تقوی عطا کی۔
جو لوگ ﷲ کے رسولوں کی آمد کے بعد ہدایت کا انتخاب کرتے ہوئے راہ خدا میں مجاہدت کرتے ہیں وہ لوگ توفیق الٰہی کے سزاوار ہوتے ہیں لیکن جن لوگوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور اپنی نفسا نی خواہشات کا اتبا ع کیا ، ان کی گمرا ہی یقینی ہے۔
خدا دونوں گروہ کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( والذین جاهدوا فینا لنهد ینّهم سُبُلنا واِنَّ ﷲ لمع المُحسنینَ ) ( ۳ )
جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں یقینا ہم انھیں اپنی راہوں کی ہدایت کرتے ہیں اور خدا وند عالم نیکو کاروں کے ہمراہ ہے ۔
۲۔( ولقد بعثنا فی کل أمةٍ رسولاً ان اْعبدواﷲ واْجتنبواالطاغوت فمنهم من هدی ﷲ ومنهم من حقت علیه الضلا لة فسیروا فی الأرض فانظر وا کیف کان عا قبة المکذ بین ان تحرص علی هدا هم فان ﷲ لا یهدی من یضلُّ ومالهم من ناصرین ) ( ۴ )
ہم نے ہر امت کے درمیان ایک رسول مبعوث کیا تا کہ ﷲ کی عبادت کرو اور طاغوت سے دوری اختیار کرو !بعض کی خدا نے ہدایت کی اور بعض کی گمرا ہی ثابت ہوئی لہٰذا روئے زمین کی سیر کرو اوردیکھو کہ تکذیب کر نے والوں کا ا نجام کیا ہوا ؟ اگر ان کی ہدایت پر اصرار کرو گے تو (جان لو کہ) خدا جسے گمراہ کر دے
____________________
(۱) مریم، ۷۶(۲)محمد۱۷(۳) عنکبوت ۶۹ (۴)نحل ۳۶، ۳۷
کبھی اس کی ہدایت نہیں کرتا اورایسے لوگوں کا کوئی ناصر ومد د گار نہیں ہے۔
۳۔( فر یقاً هدیٰ و فر یقاً حقّ علیهم الضلا لة اِنّهم اتّخذ واالشیاطین أولیاء من دون ﷲ و یحسبون أنّهم مهتدون ) ( ۱ )
خدا نے بعض گروہ کی ہدایت کی اور بعض گروہ کی گمرا ہی ان پرمسلط اور ثابت ہوگئی ہے کہ ان لوگوں نے شیاطین کو خدا کی جگہ اپنا ولی قرار دیا ہے اور خیال یہ کرتے ہیں کہ ہدایت یا فتہ ہیں۔
اس طرح کی ہدایت ''مشیت الٰہی'' کے ساتھ ہدایت ہے اسکی شرح آگے بیان کی جا رہی ہے۔
ج: ہدایت یعنی مشیت الٰہی سے ایمان و عمل کی توفیق
ہد ایت؛ ایمان وعمل میں مشیت الٰہی کے اشارے پرتوفیق الٰہی کے معنی میں پر سورہ بقرہ ، نور اور یونس کی درج ذیل آیات میں اس طرح وارد ہوئی ہے:
( وﷲ یهدی من یشاء اِلیٰ صراط مستقیم ) ( ۲ )
خدا جسے چاہے راہ راست کی ہدایت کرتا ہے۔
سورۂ انعام میں آیا ہے :
( من یشأ ﷲ یضلله و من یشأ یجعله علی صراط مستقیم ) ( ۳ )
خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر قرا ر دیتا ہے ۔
سورۂ قصص میں آیاہے:
( اِنّک لا تهدی مَن أحببت و لکنّ ﷲ یهدی مَن یشاء و هوأعلم با لمهتدین ) ( ۴ )
جسے تم چاہو اسے ہدایت نہیں کر سکتے لیکن خدا جسے چاہے اس کی ہد ایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں سے زیادہ آگاہ ہے۔
کلمات کی تشریح
۱۔''صراط مستقیم'': صراط،آشکار اور واضح راستہ،مستقیم ایسا سیدھا جس میں کوئی کجی نہ ہو۔
____________________
(۱)اعراف ۳۰(۲) بقرہ۱۴۲،۲۱۳؛نور۴۶؛یونس۲۵ .(۳)انعام ۳۹(۴)قصص ۵۶.
دین کے صراط مستقیم کوخداوند سبحان نے سورۂ حمد میں اس طرح بیان کیا ہے:
( صراط الذین أنعمت علیهم غیرالمغضوب علیهم ولاالضّا لین ) ( ۱ )
ان لوگوں کی واضح اور آشکار راہ جنھیں تونے نعمت دی ہے ،نہ ان لوگوںکی جن پر تو نے اپنا غضب نازل کیا ہے اور نہ ہی گمرا ہوں کی۔
خدا وند عالم نے سورۂ مریم میں جن لوگوں پر اپنی نعمت نازل کی ہے ان کو بیان کیا ہے اور زکریا،یحییٰ، مریم اور عیسیٰ علیہم السلام کی داستان نقل کر نے کے بعد فرماتاہے :و اذکر فی الکتاب ابراہیم اس کتاب( قرآن ) میں ابراہیم کو یاد کرو واذکر فی الکتاب موسیٰ اس کتاب میں موسیٰ کو یاد کروواذکر فی الکتاب اسماعیل اس کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو اذکر فی الکتاب ادریس اس کتاب میں ادریس کو یاد کرو۔
اس کے بعد فرماتاہے :
( أولآء ک الذین أنعم ﷲ علیهم من النّبيّین من ذرّية آدم)(و ممّن هدینا و اجتبینا اِذا تتلی علیهم آیات الرحمن خرّوا سجّداً و بکّیاً ) ( ۲ )
یہ وہ انبیاء ہیں آدم کی ذریت سے، جن پر خداوند سبحان نے نعمت نازل کی ہے اور ان لوگوں میں سے جنھیں ہم نے ہدایت کی اور انتخاب کیا جب ان پرآیات الٰہی کی تلاوت ہوتی ہے تو سجدہ کرتے ہوئے اوراشک بہاتے ہوئے خاک پر گر پڑتے ہیں۔
ان لوگوں کی صراط اور راہ دین اسلام ہے اور ان کی سیرت اور روشِ زندگی اس پر عمل ،وہی جس کی لوگوں کووہ دعوت دیتے تھے۔
۲۔''مغضوب علیھم'': جن لوگوں پر غضب نازل ہوا ،اس کی مصداق صرف قوم یہود تھی جس کا خداوند متعال نے سورۂ بقرہ میں تعارف کراتے ہوئے فرمایاہے:
( وضربت علیهم الذلّة و المسکنة و باء وا بغضبٍٍ مِن ﷲ ذلک بأ نّهم کانوا یکفرون بآ یات ﷲ و یقتلون النّبيّین بغیر الحقّ ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون ) ( ۳ )
ان کے لئے ذلت و خواری ، رسوائی اوربیچار گی معین ہوئی اور خدا کے غیظ و غضب کے مستحق قرار
____________________
(۱)سورہ فاتحہ ۷(۲)مریم ۵۸.(۳)سورہ بقرہ ۶۱.
پائے اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور پیغمبروں کو نا روا قتل کرتے تھے اوریہ ان کی نافر مانی اور تجاوز کی وجہ سے تھا۔انھیں تعبیرات کے مانند ان کے بارے میں سورۂ آل عمران( آیت:۱۱۲) میں بھی آیاہے۔
۳۔''ولاالضالین'': ضالین؛ گمراہ افراد ، وہ تمام لوگ جو اسلام سے منحرف اوررو گرداں ہیں ، جیسا کہ سورۂ آل عمران کی ۸۵- ۹۰ ویںآیت میں صراحت کے ساتھ فرماتاہے:
( و مَن یبتغ غیر الِاسلام دیناً فلن یقبل منه)( و أولئک هم الضّالّون )
جو بھی دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کا انتخاب کرے تو اس سے قبول نہیں کیا جائے گا وہی گمراہ لوگ ہیں۔
۴۔''یھدی'' : ہدایت کرتا ہے، اس کی شرح''ربّ العالمین'' کی بحث میں ملاحظہ کیجیے۔
چہارم : ﷲ کی مشیت عذاب اور رحمت میں
عذاب ورحمت کے سلسلہ میں مشیت الٰہی کا بیان قرآن کریم میں چند مقا مات پر منجملہ ان کے سورہ اعراف میں ہوا ہے ،خدا وند عالم موسیٰ کی دعا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( و اکتب لنا فِی هذه الدّنیا حسنة و فِی الٔاخرة اِنّا هد نا اِلیک قال عذابِی اصیب به مَن أشاء و رحمتِی وسعت کل شیئٍ فسأ کتبها للذین یتّقون و یؤ تون الزّکاة و الذین هم بآ یا تنا یؤ منون الذین یتّبعون الر سول النّبیِ الأ میِ الذی یجد ونه مکتوباً عند هم فی التوراة و الأِنجیل یأ مر هم با لمعروف و ینها هم عن المنکر و یحلَ لهم الطیبات و یحرّم علیهم الخبائث و یضع عنهم اِصر هم و الأغلا ل التیِ کانت علیهم فالذ ین آمنوا به و عزّروه ونصروه و اتّبعوا النور الذِی أنزل معه أ ولئک هم المفلحون ) ( ۱ )
(موسیٰ نے کہا:) اور ہمارے لئے اس دنیا اور آخرت میں نیکی معین کردے ہم تیری طرف لوٹ چکے ہیں، فرمایا : اپنا عذاب جس تک چاہوں گا پہنچا دوں گا اور میری رحمت تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ، زکاة دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں مقرر کروںگا، وہ لوگ اس پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور نبی امی کا اتباع کرتے ہیں ایسا پیغمبر جس کے صفات اپنے پاس موجود توریت و انجیل میں لکھاہوا پاتے ہیں ،جوان لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور منکر(برائی) سے روکتا ہے ان کے لئے پا کیزہ چیزوں کو حلال کرتا ہے اور نا پاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور سنگین اور وزنی بار (بوجھ) نیز وہ زنجیریں جس میں وہ جکڑ ے ہوئے تھے انھیں ان سے آزاد کرتا ہے ،پس ، جو لوگ اس پرایمان لائے اوراس کی عزت و توقیر کی اور اس کی نصرت فرمائی اور اس نور کی جو اس کے ساتھ نازل ہوا اس کی پیروی کی، وہی لوگ کا میاب ہیں۔
____________________
(۱)اعراف ۱۵۶،۱۵۷
سورۂ انبیاء میں فرماتا ہے:
( اِقترب للناس حسابهم و هم فی غفلة ٍ معرضون)( ما یأتیهم من ذکرٍ من ربهم محدث اِلّااستمعوه و هم یلعبون)(لا هية قلو بهم و أسرّ وا النّجویٰ الذین ظلموا هل هذا اِلّا بشر مثلکم أفتا تون السحر و أنتم تبصرون)( قال ربّیِ یعلم القول فی السماء و الأرض و هو السمیع العلیم)( بل قالو ا أضغاث أحلا مٍ ٍ بل افتراه بل هو شاعر فلیا تنا بآيةٍ کما أرسل الأوّلون)( ما آمنت قبلهم من قريةٍ أهلکنا ها أفهُم یؤمنون)( و ما أر سلنا قبلک ألّا ر جالاً نو حیِ اِلیهم فسئلوا أهل الذِّکر أن کنتم لاتعلمون)( وما جعلنا هم جسداً لا یأ کلون الطعام و ما کانوا خالد ین)( ثَّم صد قنا هم الو عد فأ نجینا هم و مَن نشائُ و أهلکنا المسر فین)( لقد أنزلنا اِلیکم کتا باً فیه ذکر کم أفلا تعقلون ) ( ۱ )
لوگوں کا یوم حساب ان سے نز دیک ہو گیا اوروہ لوگ اسی طرح غفلت اور بے خبری کے عالم میں پڑے منحرف اور رو گرداں ہیں، جب بھی ان کے ربّ کی جانب سے ان کے لئے کوئی نئی یاد دہانی ان کے پاس آتی ہے تو اسے سنکر کھلواڑ بناتے اور استہزا ء کرتے ہیں،ان کے دل لہو ولعب اور بے خبری میں مشغول ہیں اور ظالموں نے سر گوشی میں کہا : کیا یہ تمھارے جیسے انسان کے علاوہ کچھ اور ہے ؟ کیادیکھنے کے با وجود سحر و جادو کے پیچھے دوڑتے ہو؟ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کہا : میرا رب زمین و آسمان کی تمام گفتگو کو جانتا ہے وہ سننے والا اور دانا ہے ، بلکہ ان لوگوں نے کہا: ( یہ سب وحی نہیں ہے) بلکہ یہ سب خوابِ پریشان کا مجموعہ ہے، یاخدا کی طرف اس کی جھوٹی نسبت دی گئی ہے، نہیں بلکہ وہ ایک شاعر ہے !اسے ہمارے لئے کوئی معجزہ پیش کر نا چاہیے جس طرح گز شتہ انبیا ء بھیجے گئے تھے ، ان سے پہلے کی آبادیوں میں سے جن کو ہم نے نابود کر دیا ہے کوئی بھی ایمان نہیں لایا آیا یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟ ہم نے تم سے پہلے ،جز ان مردوںکے جن پر ہم نے وحی کی کسی کو نہیں بھیجا ، پس تم لوگ اگر نہیں جانتے توجاننے والوں سے دریافت کر لو ۔ہم نے پیغمبروں کو ایسے اجسام میں قرار نہیں دیا ،جنہیںغذا کی ضرورت نہ ہو ، وہ لوگ عمر جاوداں بھی نہیں رکھتے تھے! پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھااسے سچ کر دکھایا ،پس ان کو اور جنھیں ہم نے چاہا نجات دی اور زیادتی کرنے وا لوں کو ہلاک کر ڈالا ، ہم نے تم پر ایک کتاب نازل کی جس میں تمہاری یاد آوری اور بلندی کا سر مایہ ہے کیاتم درک نہیں کرتے ؟
____________________
(۱)انبیاء ۱۔۱۰
سورۂ اسراء میں فرمایا :
( من کان یر ید العا جلة عجّلنا له فیها ما نشاء لمن نر ید ثمّ جعلنا له جهنم یصلا ها مذمو ماً مد حو راً ) ( و من اراد الآخر ة و سعی لها سعیها و هو مؤمن فاولائک کان سعیهم مشکورا ً ) کلا نمد هو لا ء هولائِ من عطا ء ر بّک و ما کان عطائُ ربک محظورا ً ) ( ۱ )
جو شخص زود گزر دنیا کی زند گی چاہے، تو ہم جو چا ہیں گے جسے چاہیں گے اس دنیا میں اسے دیدیں گے ،پھر جہنم اس کے لئے معین کریں گے تا کہ مردود بار گاہ اور راندہ درگاہ ہوکر اس کا جز ء لازم ہو جا ئے اور جو کوئی آخرت کاطلب گار ہو اوراس کے لئے کوشاں ر ہے، درانحالیکہ مومن ہو ،اس کی کوشش و تلاش کی جزا دی جائے گی ، ان دو گروہوں میں سے ہر ایک گروہ کی امداد کریں گے ،یہ تمہارے پر وردگار کی عطا ہے اور تمہارے رب کی عطاکسی پر بند نہیںہے ۔
سورۂ انسان میں فرماتا ہے:
( انَّ هٰئو لا ئِ يُحبّون العا جلة و یذ رون وراء هم یوما ً ثقیلا ً انََّ هذ ه تذ کرة فمن شائَ اتّخذ الیٰ ربّه سبیلا ً و ما تشا ء ون اِلّا أن یشاء ﷲ اِنَّ ﷲ کان علیما ً حکیما ید خل من یشاء فی رحمته والظا لمین أعدّ لهم عذا باً ألیماً ) ( ۲ )
یہ لوگ دنیا کی زود گزر زند گی چاہتے ہیں اور سخت دن کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، یہ ایک یاد آوری ہے، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف ایک راہ انتخاب کرے اور تم لوگ وہی چاہتے ہو جو خداچاہتا ہے ،خدا دانا اور حکیم ہے ،وہ جس کو چا ہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے اور اس نے ستمگروں کے لئے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔یہ'' رب العا لمین ''کے'' ارادہ'' اور ''مشیت'' کے معنی تھے،خدا وند متعال کے جملہ صفات میں سے ایک یہ ہے کہ جس چیز کو چاہتا ہے'' محو یا اثبات'' کرتا ہے اس کے معنی انشاء ﷲآئندہ بحث میں بیان کریں گے۔
____________________
(۱)اسراء ۱۸تا۲۰.
(۲)انسان۲۷تا۳۱.
۶
بدا یا محو و اثبات
الف:۔ بداء کے معنی
ب:۔بداء ؛ اسلامی عقا ئد کے علماء کی اصطلاح میں
ج:۔بداء ؛ قرآن کریم کی رو شنی میں
د:۔ بداء سے متعلق مکتب خلفاء کی روایات
ھ:۔ بداء کے بارے میں ا ئمۂ اہل یبت کی روایات
اوّل: بداء کے لغوی معنی
بداء کے لغت میں دو معنی ہیں:
۱۔''بَدَأَ الْاَمْرُ بُدُوًّاو بَدَاْئً'' :یعنی یہ مو ضوع واضح و آشکار ہوا ، لہٰذا بداء کے ایک معنی آشکار اور واضح ہو نے کے ہیں۔
۲ ۔''بَدَاَ لَهُ فیِ اْلَاَمْرُ کَذَاْ '' : اس مو ضوع میں اس کے لئے ایسی رائے پیدا ہوئی، ایک نیا نظریہ ظاہرہوا۔
دوم: اسلامی عقائد کے علماء کی اصطلاح میں بداء کے معنی
اسلامی عقائد کے علماء نے کہا ہے :بداء خدا وند عالم کے بارے میں کسی ایسی چیز کا آشکار کرنا ہے ،جو بندوں پر مخفی ہو لیکن اس کا ظہور ان کے لئے ایک نئی بات ہو، اس بنا پر ، جن لوگوں کا خیال ہے کہ بداء سے مراد خدا کے بارے میں یہ ہے کہ حق تعا لیٰ کے لئے بھی مخلوقات کی طرح ایک نیا خیال اور ایک نئی رائے (اس کے علاوہ جو بداء سے پہلے تھی )پیدا ہوئی تو، وہ حددرجہ غلط فہمی کا شکار ہیں، سچ مچ خدا وند عالم اس سے کہیں زیادہ بلند و بر تر ہے جو وہ خیال کرتے ہیں۔
سوم: بداء قرآن کریم کی رو شنی میں
الف؛ خدا وند متعال سورہ رعد کی ۷ ویں اور ۲۷ ویں آیت میں فرماتا ہے :
( و یقول الذین کفروا لولا أنزل علیه آية من ربّه )
اورجنھوں نے کفر اختیار کیا وہ کہتے ہیں : کیوں (ہماری پسند سے) کوئی آیت یا معجزہ اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل نہیں ہوا؟
ب : پھر اسی سورہ کی۳۸ویں تا۴۰ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
( و ما کان لرسولٍ ٍ اِن یأتی باية اِلّابِأِذن ﷲ لکلّ أجل کتاب)( یمحو ﷲ ما یشاء و یثبت و عنده ام الکتاب)(و اِن ما نر ینّک بعض الذی نعد هم أو نتو فّینّک فاِنّما علیک البلاغ و علینا الحساب )
کسی پیغمبر کے لئے سزاوار نہیں ہے کہ اذن خدا وندی کے بغیر کوئی آیت یا معجزہ پیش کر دے ہر مدت اور زمانہ کے لئے ایک سر نوشت (نوشتہ مقرر)ہے، خدا جسے چاہتا ہے محو و نابود کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی جگہ پر ثابت اورباقی رکھتا ہے اور ام الکتاب (لوح محفوظ)اس کے پاس ہے، اگر اس کا کچھ حصّہ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تمھیں دکھا دیں یا تمھیں ( وقت معین سے قبل) موت دیدیں، بہر صورت جو کچھ تمہاری ذمہ داری ہے وہ تبلیغ و پیغام ر سا نی ہے اور ( ان کا) حساب ہم پرہے۔
کلمات کی تشریح
۱۔''آےة'': آیت؛ لغت میں واضح و آشکار نشا نی اور علامت کوکہتے ہیں جیسا کہ اس شاعر نے کہا ہے:
وفی کلّ شیئٍ له آية :: تد ل علیٰ انّه واحد
اور ہر چیز میں اس کے وجود کی واضح و آشکارنشانی ہے جواس کے واحد اور یکتا ہو نے پر دلا لت کرتی ہے۔
انبیاء کے معجز ات کو آیت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ان کے صدق کی علامت اور قدرت الٰہی پر ایک دلیل ہے، وہی پرور دگارجس نے اس طرح کے معجزات پیش کر نے کی انہیںطاقت دی ہے جیسے مو سیٰ کا عصا اور جناب صالح کا ناقہ ،جیسا کہ سورۂ شعرا کی ۷۶ ویں اور اعراف کی ۷۳ ویں آیات میں بیان ہوا ہے۔
اسی طرح قرآن کریم نے انواع عذاب کو جسے خداوندسبحان نے کا فرامتوں پر نازل کیا آیت کا نام دیا ہے ،جیسا کہ سورۂ شعراء میں قوم نوح کے متعلق فرماتا ہے:
( ثمّ أغرقنابعد البا قین ، اِنّ فی ذلک لآ یة ً ) ( ۱ )
____________________
(۱)شعرائ ۱۲۰، ۱۲۱
پھر ہم نے باقی رہ جانے والوں کو غرق کر دیا یقینااس میں علامت اور نشانی ہے۔
اور قوم ہود کے بارے میں فر ماتا ہے:
( فکذّ بوه فأهلکنا هم انَّ فی ذالک لَآ ية ) ً)( ۱ )
ان لوگوں نے اپنے پیغمبر(ہود) کی تکذ یب کی، ہم نے بھی انھیں نابود کر دیا، بیشک اس میں (عقلمندوں کے لئے )ایک آیت اور نشانی ہے۔ اور سورۂ اعراف میں قوم فرعون کے بارے میں ارشاد ہوا:
( فأ رسلنا علیهم الطوفان والجراد والقمل والضَّفا دع والدَّ م آیاتٍ مفصَّلات ) ( ۲ )
پھر ہم نے طوفان ،ٹڈ یاں ، جوں ،منیڈ ھک، کھٹمل اور خون کی صورت میں ان پر عذاب نازل کیا کہ ہر ایک جدا جداآیات اور نشانیاں تھیں۔
۲۔''اجل'': محدود مدت ، وقت، زمانہ، سر انجام،خاتمہ، انتہا۔
یہ جو کہا جاتاہے کہ فلاں کی اجل آ گئی یعنی مر گیااور اس کی مدت حیات تمام ہو گئی اور یہ جو کہا جاتا ہے: اس کے لئے ایک اجل (مدت) معین کی گئی ہے ،یعنی اس کے لئے ایک محدود وقت قرار دیاگیا ہے۔
۳۔'' کتاب'': کتاب کے مختلف اور متعد د معانی ہیں، لیکن یہاں پر اس سے مراد لکھی ہوئی مقداریا معین و مشخص مقدارہے،جیسے ''لکلّ أجل کتاب'' کے معنی، جو آیت میں مذکور ہیں، یہ ہیں کہ معجزہ پیش کر نے کا زمانہ پیغمبر کے ذریعہ پہلے سے معین ہے، یعنی ہرایک زمانہ کی ایک معین سر نو شت ہے ۔
۴۔''یمحو'': محو کرتا ہے، زائل کرتا ہے،مٹاتا ہے، محو لغت میں باطل کرنے اور نابود کرنے کے معنی میں ہے،جیسا کہ خدا وند عالم سورۂ اسراء کی ۱۲ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
( فمحونا آية اللیل وجعلنا آية النهار مبصرة )
پھر ہم نے شب کی علامت کو مٹا دیا اور دن کی علامت کو روشنی بخش قرار دیا۔
اور سورۂ شوریٰ کی ۲۴ ویں آیت میں فرماتا ہے:
( ویمح ﷲ الباطل و یحق الحق بکلماته )
____________________
(۱) شعراء ۱۳۹(۲)اعراف ۱۳۳
خدا وند عالم باطل کو محو ونابود اور حق کو اپنے فرمان سے ثا بت و استوار رکھتا ہے،یعنی باطل کے آثار کو مٹا دیتا ہے۔
آیات کی تفسیر
خدا وند سبحان ان آیات میں فرماتا ہے :کفار قریش نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے درخواست کی کہ ان کے لئے معجزات پیش کریں خدا وند عالم نے ان کی نوع درخواست کو بھی سورۂ اسراء میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
( و قالوا لن نؤمن لک حتیٰ تفجر لنا من الأرض ینبوعاً)( أو تُسقط السماء کما زعمت علینا کسفا ً أو تأتی بﷲ و الملا ئکة قبیلا ً ) ( ۱ )
اورانھوں نے کہا: ہم اس وقت تک ہرگز تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم اس سر زمین سے جوش مارتا چشمہ نہ جاری کردو یا آسمان کے ٹکڑے (جیسا کہ خیال کرتے ہو) ہمارے سر پر نازل کر دو، یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے حاضرلے آؤ۔
سورۂ رعد کی ۳۸ ویں آیت میں فرماتا ہے:
(و ما کان لرسولٍ أن یأتی بآےة)
کوئی پیغمبر حق نہیں رکھتا کہ جو معجزہ اس سے طلب کیا گیا ہے پیش کر ے''الا باذن ﷲ'' مگر خدا کے اذن سے، کیو نکہ ہر کام کے لئے جو مکتوب الٰہی میں مقدر ہے ایک خاص وقت اور زمانہ ہو تا ہے۔
خدا وند عالم بعد کی آیت میں بغیر فا صلہ کے، نوشتہ ٔ تقدیر کے استثناء کو بیان کرتے ہو ئے فرماتا ہے: (یمحو ﷲ ما یشائ)خدا جو چاہتا ہے محو کر دیتا ہے، یعنی خدا کا ہاتھ بندھا ہوا (مجبور) نہیں ہے وہ جب چاہے
رزق ، اجل ،سعادت اور شقاوت اس مکتوب مقدر(نوشتۂ تقدیر) میں بد ل دیتا ہے،و یثبت ما یشائ'' اور (مکتوبات میں سے ) جس کو چاہتا ہے ثابت اور باقی رکھتا ہے ، کیو نکہ'' وعندہ أمّ الکتاب''، اصل کتاب تقدیر و سر نو شت یعنی ''لوح محفوظ'' جس میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغییر نہیں ہے وہ خدا کے پاس ہے۔
اسی وجہ سے اس کے بعد فرماتا ہے:
( واِن ما نرینّک بعض الذی نعد هم )
____________________
(۱)اسراء ۹۰، ۹۲
اور اگر کچھ ایسے عذاب جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تمھیں (زمان حیات میں ) دکھادیں ''او نتوفینک'' یا تمہیں(اس سے پہلے) موت دے دیں '' فانما علیک البلا غ'' ہر حال میں تم صرف ابلاغ کرنے والے ہو اور بس۔
اس آیت کی تفسیر میں طبری، قر طبی اور ابن کثیر نے ایک روایت ذکر کی ہے جو ہمارے مدعیٰ کی تائید کرتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:دوسرے خلیفہ عمر ابن خطاب نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے کہا:
''اللّهمّ اِن کنت کتبتنِی فِی أهل السعادة فا ثبتنِی فیها و اِن کنت کتبتنیِ فی أهل الشقا وة و الذنب فا محنِی و اثبتنیِ فِی أهل السعادة و المغفرة فاِنّک تمحو ما تشاء و تثبت وعندک أم ّالکتاب''
خدایا !اگر تو نے مجھے سعادت مندوں کے زمر ہ میں قرار دیا ہے تو ان کے درمیان مجھے استوار کر دے اور اگر بد بختوں کے زمرہ میں مجھے قرار دیا ہے تو اشقیاء کی صف سے نکال کر سعیدوں کی صف میں شا مل کر دے کیونکہ تو جو چاہتاہے محو کر دیتاہے اور جو چاہتاہے ثابت اور قائم رکھتا ہے اور اصل کتاب تیرے پاس ہے۔
''ابی وائل'' کا قول ذکر کیا جاتاہے وہ بارہا کہتاتھا:
''اللّھمّ اِن کنت کتبتنا أشقیاء فا مح وا کتبنا سعدائ،واِن کنت کتبتنا سعداء فاثبتنا فاِ نک تمحو ما تشاء و تثبت و عندک أمّ الکتاب''
خدایا! اگر تو نے ہمیں بد بختوں کے زمرہ میں قرار دیا ہے تو ان کے درمیان سے ہمارا نام مٹا کر نیک بختوں کے زمرہ میں درج کر دے اور اگر نیک بختوں کے زمرہ میں قرار دیا ہے تواس پر ہمیں ثا بت رکھ کیونکہ تو جو چاہے محو کر دے اور جو چاہے ثابت اور باقی رکھے اور اصلی کتاب تیرے ہی پاس ہے۔( ۱ )
بحار الانوار میں مذکور ہے:
(و اِن کنت من الأ شقیا ء فا محنیِ من الأ شقیاء واکتبنیِ من السعداء فأنّک قلت فِی کتا بک المنزّل علیٰ نبیک صلوا تک علیه و أ له یمحو ﷲ ما یشاء و یثبت و عنده أٔم الکتاب )( ۲ )
____________________
(۱) دونوں ہی حدیث طبری نے آیت کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کی ہے ،ابو وائل شقیق ابن سلمہ کو فی ہے، اس کے حا لا ت زندگی تہذیب التہذیب ،ج ۱۰،ص۳۵۴ پر اس طرح ہیں : وہ ثقہ ہے اور مخضرم: (جاہلیت اور اسلام) دونوں ہی کو درک کیا) ہے صحابہ اور تابعین کے زمانے میں مو جود تھا اور عمر بن عبد العزیز کی خلافت کے زمانے میں سو سا ل کی زندگی میں دار فانی کو وداع کیا۔
(۲)بحار الانوار ج۹۸،ص۱۶۲
اور اگر میں بدبخت اور شقی ہوں تو ان کے زمرہ سے مٹا کر نیک بختوں کے زمرہ میں شامل کر دے ، کیونکہ تو نے ہی اپنی اس کتاب میں جسے تو نے اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل کی ہے فرما یا ہے :خدا جو چاہتا ہے بر قرار رکھتا ہے اور جو چاہتاہے محو اورزائل کر دیتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔
قر طبی نے بھی اس روایت کے ذیل میں جو اس نے صحیح بخاری اور مسلم سے نقل کی ہے ، اس معنی پر استدلال کیا ہے ۔
روایت کہتی ہے :رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
''من سرّه أن یبسط له فیِ رزقه و يُنسَأ له فیِ أثر ه (اجله) فلیصل رَحِمَه'' ( ۱ )
جو شخص وسعت رزق اور عمر کی زیاد تی سے خو شنود و شاد ہوناچاہتا ہے،اسے چاہئے کہ اپنے اقرباء و اعزاء کے ساتھ نیکی کرے۔
ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ان سے کسی سائل نے یہ سوال کیا : عمر اور اجل میں کس طرح زیادتی اور اضا فہ ہو تا ہے؟ ا نھوںنے کہا: خدا وند عزو جل نے فرمایا ہے:
( هو الذیِ خلقکم من طینٍ ثَّم قضیٰ أجلا ً و أجل مسمّی عنده )
وہ ذات جس نے تمھیں مٹی سے خلق کیا پھر ایک مدت معین کی، لیکن یقینی اجل (مدت) اسی کے پاس ہے۔( ۲ )
ابن عباس نے کہا : آیت میں پہلی اجل (موت) بندہ کی اجل ہے پیدائش سے موت تک اور دوسری اجل یعنی جو خدا کے پاس ہے۔موت کے بعد سے قیامت تک ہے جو کہ برزخ میں گزارتاہے اور کوئی خدا کے علاوہ اسے نہیں جانتا ، اگر کوئی بندہ خدا سے خوف کھائے اور''صلہ رحم'' بجا لائے تو خدا اس کی بر زخی عمر کو کم کرتا ہے اور پہلی عمر میں اضا فہ کر دیتاہے اور اگر نافرمانی کر ے اور قطع رحم ( رشتہ داری ختم کر ے) کرے تو خدااس کی دنیا وی عمر کم کر کے بر زخی عمرمیں اضا فہ کر دیتا ہے۔،،( ۳ )
ابن کثیر نے اس استد لال میں اضافہ کر تے ہو ئے ایک بات کہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: یہ بات اس روایت سے جو احمد ، نسائی اور ابن ماجہ نے بیان کیا ہے ہم آہنگ ہے، ان لوگوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول
____________________
(۱)صحیح بخاری ،ج۳، ص ۳۴ کتاب الادب، باب ۱۲،۱۳ اور صحیح مسلم ، ص ۱۹۸۲، حدیث ۲۰ ۲۱،صلہ رحم کے باب سے اور مسند احمد ، ج ۳، ص ۲۴۷ ،۲۶۶ ج،۵، ص ۷۶.
(۲)انعام۲.
(۳)تفسیر قر طبی ، ج۹،ص ۳۲۹، ۳۳۱.
خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
(اِنَّ الرجل لیحرم الرزق با لذنب یصیبه و لایردّ القدر اِلّا الد عاء و لا یز ید فی العمر اِلّا البرّ )( ۱ )
انسان کبھی گناہ کے باعث روزی سے محروم ہو جاتا ہے اور اس بلا و سر نوشت کو دعا کے علاوہ کوئی اور چیز ٹال نہیں سکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی چیزاس کی عمر میں اضا فہ نہیں کر سکتی۔
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
''انَّ الدعاء و القضا ء لیعتلجان بین السماء و ألارض'' ( ۲ )
دعا اور سر نو شت آسمان و زمین کے ما بین آپس میں مبا رزہ کر تی ہیں۔
جو ہم نے ذکر کیا ہے اس آیت کے معنی کے ذیل میں بیان کئے گئے رخوں میں سے ایک تھا، دیگر وجوہات بھی آیت کے معنی کے ذیل میں لوگوں نے بیان کی ہیں ، جیسے یہ بات :''محوو اثبات'' سے مراد آیت میں کسی حکم کامحو کرنا اور دوسرے حکم کا اثبات ہے ، یعنی احکام شر یعت کا نسخ کرنا اورزیادہ صحیح اور درست یہ ہے کہ ہم کہیں: مقصود آیت سب کو شامل ہے ، جیسا کہ قرطبی نے بھی اسی نظریہ کو انتخاب کر تے ہوئے کہا ہے:
'' یہ آیت عام ہے اور ہرچیز کو شامل ہے اور یہ اظہر ہے اور خدا زیادہ جاننے والا ہے''( ۳ )
طبری اور سیو طی نے ابن عباس سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس آیت:
( یمحو ﷲ ما یشا ء ویثبت و عنده ام الکتاب )
کے سلسلہ میں کہا ہے کہ خدا ہر سال کے امور کو شب قدر میں معین فرماتا ہے سوائے نیک بختی اور بد بختی کے...( ۴ )
ب:۔ خدا وند سبحان سورۂ یو نس میں فرماتا ہے:
( فلولاکانت قر ية آمنت فنفعها اِیما نها اِلّاقوم یونس لمّاآمنوا کشفنا عنهم عذاب الخزیِ فیِ الحيٰوة الدُّ نیا ومتَّعنا هم اِلیٰ حینٍ ) ( ۵ )
کیوں شہر و آبادی کے لوگوں میں کسی نے ایمان قبول نہیںکیا تا کہ انھیں ان کا ایمان فائدہ پہنچائے جز یونس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لائی،تو دنیا وی زندگی میں ذلت وخواری کا عذاب ان سے ہٹا لیا اور ایک مدت تک انھیں فیضیا ب کیا ۔
____________________
(۱)مقدمہ سنن ابن ماجہ ، باب ۱۰، حدیث ۹۰.(۲) تفسیر ابن کثیر، ج،۲،ص۵۱۹.(۴) تفسیر قرطبی،ج،۲،ص۳۲۹.(۵)تفسیر طبری،ج ۱۳،ص۱۱۱ و تفسیر سیو طی،ج،۴،ص۶۵عبارت طبری کی ہے.
کلمات کی تشریح
۱۔''کشفنا'': ہم نے زائل کیا ،مٹا دیااور اٹھا لیا۔
۲۔''خزیِ'': خواری،ذلت ورسوائی۔
۳۔''حین'': نا معلوم وقت اور زمانہ جس کی کمی و زیادتی معلوم اور معین نہیں ہے۔
آیت کی تفسیر
تفسیر طبری،قرطبی اور مجمع البیان میں مذ کور داستان کے مطا بق حضرت یو نس کی داستان کا خلاصہ یوں ہے:
یونس کی قوم موصل کی سر زمین نینوا میں زندگی گز ار رہی تھی اور بتوں کی پوجا کر تی تھی ، خدا وند عالم نے یونس کو ان کی طرف بھیجا تا کہ انھیں اسلام کی دعوت دیں اور بت پر ستی سے روکیں ، انھوں نے انکار کیا۔ ان میں سے دو آدمی ایک عا بد اور ایک عالم نے حضرت یو نس کی پیر وی کی، عابد نے حضرت یو نس سے درخواست کی کہ اس قوم کے خلاف نفر ین و بد دعا کریں لیکن عالم نے انھیں منع کیا اور کہا : ان پر نفرین نہ کریں، کیو نکہ خدا آپ کی دعا توقبو ل کرلے گا لیکن اپنے بندوں کی ہلاکت پسند نہیں کرے گا ! یونس نے عابد کی بات مان لی اور نفرین کر دی ،خدانے فرمایا فلاں دن عذاب نازل ہو گا ،یونس نے انھیں اس کی خبر دی، جب عذاب کا وقت قریب آگیا تو یو نس اس عابد کے ساتھ باہر نکل گئے لیکن وہ عالم ان کے درمیان موجود رہا، قوم یو نس نے اپنے آپ سے کہا:ہم نے اب تک یو نس سے کوئی جھوٹ نہیں دیکھا ، ہو شیار رہو اگر وہ آج رات تمہا رے درمیان رہے تو پھر کوئی عذاب نہیں ہے لیکن اگر باہر نکل گئے تو یقین کرو کہ کل صبح تم پر عذاب آنا یقینی ہے ،جب آدھی رات ہوئی تو یو نس ان کے درمیا ن سے ا علانیہ نکل گئے، جب ان لو گوں نے یہ جان لیا اور عذاب کے آثار مشاہدہ کئے اور اپنی ہلا کت کا یقین کر لیا تو اس عالم کے پاس گئے اس نے ان لوگوں سے کہا : خدا کی بارگاہ میں گر یہ و زاری کرو وہ تم پر رحم کر ے گا اور تم سے عذاب کو دور کر دے گا بیا بان کی طرف نکل جاؤ عورتوں بچوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دواور حیوا نوںاوران کے بچوںکے درمیا ن جدائی پیدا کر دو پھر دعا کرو اور گر یہ کرو ۔
ان لوگوں نے ایسا ہی کیا عورتوں بچوں اور چو پا یوں کے ہمرا ہ صحرا کی طرف نکل پڑے، لباس پشمی پہنااور ایمان و تو بہ کا اظہار کیا اور اپنی نیت کو خالص کیا اور تمام مائوںکے خواہ (انسانوں کی ہوں یا حیوا نات )کی اور ان کے بچوں کے درمیان جدائی پیدا کر دی پھر گریہ و زاری ، نالہ و فریاد میں مشغول ہوگئے جب آوا زیںغم و اندوہ میں ڈوب گئیں اورفریادیںگونج گئیں تو نالہ و اندوہ کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : خدا یا جو کچھ یو نس نے پیش کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے تو خدا نے انھیں بخش دیا اوران کے گناہ معاف کرکے ان کی دعا قبول کر لی اور ان کے سر وں پر سایہ فگن عذاب کو ان سے بر طرف کر دیا...۔
خدا وند عالم نے قوم یو نس سے عذاب کو اس طرح ان کے تو بہ کر نے کے بعدبر طرف کر دیا، ہاں ، خدا جو چا ہتا ہے محو کر تا یا اسے بر قرار رکھتا ہے۔
ج: خدا وند سبحان سورۂ اعرا ف میں فرماتا ہے:
( ووأعد نا موسی ثلا ثین لیلةً و أتممنا ها بعشر ٍ فتمَّ میقات ربّه أر بعین لیلةً ) ( ۱ )
اور ہم نے مو سیٰ کے ساتھ ۳۰ رات کا وعدہ کیا اور اسے دیگر ۱۰ شب سے مکمل کیا یہاں تک ان کے رب کا وعدہ چا لیس شب میں تمام ہو گیا۔
سورہ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے۔
( واِذا وأعد نا مو سیٰ أر بعین لیلة ثُمَّ اتّخذ تم العجل من بعده و أنتم ظا لمون )
اورجب ہم نے موسیٰ کے ساتھ چالیس شب کا وعد ہ کیا اور تم نے اس کے بعد جب کہ ظالم و ستمگر تھے،گو سا لہ تیارکرلیا۔( ۲ )
____________________
(۱)اعراف۱۴۲.
(۲)بقرہ:۵۱.
چہارم : بداء مکتب خلفا ء کی روایات میں
طیا لسی، احمد ، ابن سعد اور تر مذی ایک روایت نقل کر تے ہیں جس کا خلاصہ طیا لسی کی عبارت میں یوں ہے:
''قال رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم صلی ﷲ علیه وآله وسلم:انَّ ﷲ أریٰ آدم ذر يَّته فرأ یٰ رجلا ً أز هرسا طعاًنو ره، قال: یا ربّ من هذا؟ قال : هذا ابنک داود! قال : یا ربّ فما عمره ؟ قال: ستوّن سنة! قال: یا ربِّ زد فی عمرهِ! قال : لا .اِلّا تزیده من عمر ک ! قال وما عمری ؟ قال: ألف سنة! قال آدم! فقد و هبتُ له أر بعین سنة من عمری فلمَّاحضرهُ الموتُ و جا ئَ ته الملا ئکةُ قال : قد بقِی من عمریِ أربعون سنة، قٰا لُوا اِنّک قد وهبتهالد اود''
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا : خدا وند عالم نے آدم کو ا ن کی نسل دکھا ئی ، تو آدم نے ان کے درمیان ایک نو رانی صورت مرد کو دیکھا ، عرض کیا: خدا یا : یہ کون ہے؟ فر مایا: یہ تمہارے فر زند داؤد ہیں! عرض کیا: خدا یا ! اس کی عمر کتنی ہے ؟ فر مایا: ساٹھ سال! آدم نے کہا : پالنے والے! میرے اس فرزند کی عمر میں اضافہ فرما ! ارشاد قدرت ہوا: نہیں ، مگر یہ کہ تم خود اپنی عمر سے اس کی عمر میں اضافہ کردو ، دریافت کیا : پالنے والے ! میری عمر کتنی ہے ؟ فرمایا :ہزار سال ، آدم نے کہا : میں نے اپنی عمر کے چالیس سال اسے بخش دیئے چنانچہ جب ان کی وفات کا زمانہ قر یب آیا اور فرشتے روح قبض کر نے کے لئے ان کے سر ہانے آئے تو انھوں نے کہا : ابھی تو میر ی عمر کے چالیس سال باقی ہیں ! انھوں نے کہا : آپ نے خود ہی اسے داؤد کو بخش دیا ہے۔( ۱ ) یہ روایت اور اس کے علاوہ ، '' صلہ رحم'' کے آثار کے بارے میں اور اس کے مانند ہم نے مکتب خلفاء کی روایات سے جو کچھ پیش کیا ہے وہ سب'' یمحوﷲ ما یشا ء و یثبت وعندہ ام الکتاب''کے مصادیق میں سے ہے ، ائمہ اہل بیت نے'' محوو اثبا ت'' کو بداء کے نام سے ذکرکیاہے کہ انشاء ﷲ پانچویں حصّہ میں اس کی تحقیق اور بر رسی کر یں گے۔
پنجم: بداء ائمہ اہل بیت کی روایات میں
بحار میں حضرت امام جعفر صادق سے ذکر کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
''ما بعث ﷲ عزَّ وجل نبیا ً حتیٰ یأ خذ علیه ثلاث خصا لٍ: الا قرارُ با لعبو دية، و خلع الأنداد، و انَّ ﷲ یقدم ما یشا ء و یؤخرما یشائ ''( ۲ ) خدا وند عالم نے کسی پیغمبر کو اس وقت تک مبعوث نہیں کیا جب تک کہ اس سے تین چیزوں کا مطا لبہ نہیں کیا: خدا کی بند گی کا اقرار ،اس کے لئے ہر طرح کے شریک اور ہمتا کی نفی اور یہ کہ خدا جسے چاہے مقدم کر دے
____________________
(۱)مسندطیالسی ص۳۵۰ح۲۶۹۲؛مسند احمد ج۱ ،ص ۲۵۱،۲۹۸،۳۷۱؛طبقات ا بن سعد چاپ یورپ، ج۱، پہلا حصہ ص۷تا۹؛ سنن ترمذی،ج۱۱، ص۱۹۶ ۱۹۷ ؛ سورئہ اعراف کی تفسیر میں ۔ اور علامہ مجلسی نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اس روایت کو بحار الانوار ج۴ ص ۱۰۲ ،۱۰۳ میں درج کیا ہے۔ (۲)بحارج۴،ص۱۰۸، بہ نقل از توحید صدوق.
اور جسے چاہے مو ٔ خر کر دے۔
امام جعفر صادق نے اس معنی کو ایک دوسرے بیان میں لفظ''محوو اثبات'' کے ذریعہ ذکر کرتے ہو ئے فرمایا ہے۔
''ما بعث ﷲ نبیا ً قط حتیٰ یأ خذ علیه ثلا ثا ً: ِالا قرارُ با لعبودية ،و خلع الٔا ند اد، و انَّ ﷲ یمحو ما یشا ئُ و یثبت ما یشائُ'' ( ۱ )
خدا وند عالم نے کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ اس سے تین چیزوں کا مطا لبہ کیا : خدا کی عبو دیت کا اقرار ، خدا کے لئے کسی کو شریک اور ہمتا قرار نہ دینا اور یہ کہ جو چاہے محو کر دے اور جو چاہے باقی ر کھے۔
ایک تیسری روایت میں (محو و اثبات ) کو بدا ء کا نام دیا ہے جس کا خلاصہ یوں ہے:
'' ما تنبَّأنبیّ قط حتیٰ يُقِرَّلله تعا لی با لبدائ ''( ۲ )
کسی پیغمبر نے کبھی پیغمبری کا لباس نہیں پہنا مگر یہ کہ خدا وندمتعال کے لئے ان امور کا اعتراف کیا ہوانہی اعترافات میں بداء کااعتراف ہے ۔
امام رضا سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا :
'' ما بعث نبیا قط اِلّا بتحر یم الخمر و اَن یقرّ له با لبدائ'' ( ۳ )
خدا وند متعال نے کبھی کسی پیغمبر کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ شراب کی حر مت کے ساتھ اوریہ کہ بداء (محو و اثبات) کا خدا کے حق میں اعتراف کرے۔
دوسری روایت میں حضرت امام جعفر صادق نے محوو اثبات کے زمانہ کی بھی خبر دیتے ہو ئے فرمایا:
'' اِذا کان لیلة القدر نز لت الملا ئکة و الرّ وح و الکتبة الیٰ سما ء الدُنیا فیکتبون ما یکون من قضا ء ﷲ تعا لیٰ فی تلک السنة فاِ ذا أراد ﷲ أن يْقدِّم شیئا ً أو یؤخرأو ینقص شیئاً أمر الملک أن یمحو ما یشا ئُ ثُمّ أثبت الذی أراد''
جب شب قدر ہو تی ہے تو فر شتے، روح اور کاتب قضاء وقدر آسمان دنیا کی طرف نازل ہو تے ہیں اور جو کچھ اس سال خدا وند عالم نے مقرر فرمایا ہے اسے لکھتے ہیں ، اگر کسی چیز کو خدا مقدم یا مو خر یا کم کر نا چاہتا ہے
____________________
(۱)بحارج۴،ص۱۰۸، بہ نقل از توحید صدوق
(۲)بحارج۴،ص۱۰۸، بہ نقل از توحید صدوق
(۳)بحارج۴،ص۱۰۸، بہ نقل از توحید صدوق
تو مامور فر شتے کو حکم دیتا ہے کہ اسے اسی طرح جیسے چاہتا ہے محو ونابود کرے یا ثابت و برقرار ر کھے۔( ۱ )
حضرت امام باقر ـنے بھی ایک دوسرے بیان میں اس کی خبر دی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :
'' تَنز ل فیها الملا ئکة و الکتبة اِلی السماء فیکتبون ما هو کائن فی أمرالسّنه و ما یصیب العباد فیها، قال: و أمر مو قوف لله تعا لیٰ فیه المشیئة يُقد م منه ما یشا ئُ و ئو خر ما یشائُ و هو قو له تعا لیٰ : یمحو ﷲ ما یشاء ویثبتُ وعنده أم الکتاب'' ( ۲ )
شب قدر میں فرشتے اور کاتب قضاء وقدر آسمان دنیا کی طرف آتے ہیں اور جو کچھ اس سال ہو نے والا ہے اور جو کچھ اس سال بندہ کو پہنچنے والا ہے ، سب کچھ لکھ لیتے ہیں ، فرمایا : اورکچھ ایسے امور ہیں جن کا تعلق مشیت خدا وندی سے ہے جسے چاہے مقدم کر دے اور جسے چاہے موخر کر دے ،یہی خدا وند متعال کے کلام کے معنی ہیں کہ فرماتا ہے:
( یمحوا ﷲ ما یشاء و یثبت و عنده أم الکتاب ) ( ۳ )
حضرت امام باقر ـ نے دوسری حدیث میں اس آیت:( و لن یؤخر ﷲ نفساً اِذا جاء أجلھا)(خداوندعالم جسکی موت کاوقت آگیاہواس کی موت کبھی تاخیر میں نہیں ڈالتا ) کے ذیل میں فرمایا : ''جب موت آتی ہے اور آسمانی کاتبین اسے لکھ لیتے ہیں تو اس موت کوخدا وند عالم تاخیر میں نہیں ڈالتا''۔
علّا مہ مجلسی نے بحارالانوارکے اسی باب میں اسی داستان کو جس میں آدم نے اپنی عمر کے چالیس سال حضرت داؤد کو بخش دئے تھے، ذکر کیا ہے اور ہم نے اسے مکتب خلفاء کی روایات میں ذکر کیا ہے:( ۴ )
بداء کے یہ معنی ائمہ اہل بیت کی روایات میں تھے لیکن''بدائ'' کے یہ معنی کہ خدا کے لئے کوئی نئی اور جدید رائے کس کام میں ظاہرہوتی ہے جسے وہ اس سے پہلے نہیں جانتا تھا !! معاذﷲیہ نظریہ مکتب اہل بیت میں مردود اور انکار شد ہ ہے اور اس سے ہم خداکی پناہ مانگتے ہیں، اس سلسلہ میں ائمہ اہل بیت کا نظریہ وہی ہے جسے علّا مہ مجلسی نے امام صادق سے ذکر کیا ہے کہ امام نے فرمایا :
''مَن زعم انَّ ﷲ عزَّوجل یبد و له فی شیئٍ لم یعلمه أمس فأ بروا منه'' ( ۵ )
جو شخص خدا وند متعال کے بارے میں کسی امر سے متعلق یہ خیال کرے کہ اس کے لئے نئی اور جدید رائے
____________________
(۱)بحار ج۴،ص۹۹ تفسیر علی بن ابراہیم سے نقل .(۲)بحار ج ۴، ص۱۰۲ ، نقل از امالی شیخ مفید(۳)بحار ج ۴، ص۱۰۲ ، نقل از تفسیر علی بن ابراہیم(۴)بحار ج ۴، ص۱۰۲ ،بہ نقل از علل الشرائع(۵)بحار ج۴ ص۱۱۱بہ نقل از اکمال الدین
ظاہر ہوئی ہے جسے وہ اس سے قبل نہیں جانتا تھا تو ایسے لوگوں سے دوری اور بیزاری اختیار کرو۔
عقیدہ ٔ بدا کا فائدہ
اگرکسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ بعض وہ انسان جو نیک بختوں کے زمرہ میں واقع ہوتے ہیں کبھی ان کی حالت بد لتی نہیں ہے اور کبھی بد بختوں کی صف میں واقع نہیں ہو ںگے اور بعض انسان جو کہ بد بختوں کی صف میں ہیں ان کی بھی حالت کبھی نہیں بدلے گی اوروہ نیک بختوں کی صف میں شامل نہیں ہوں گے اور قلم تقدیر، انسان کی سر نوشت بد لنے سے خشک ہوچکا ہے اور رک گیا ہے، اگر ایسا تصور صحیح ہو تو کبھی گناہ گار اپنے گناہ سے تو بہ ہی نہیں کر ے گا بلکہ اپنے کام کا سلسلہ جاری رکھے گا، کیو نکہ وہ سونچ چکا ہے کہ شقاوت اور بد بختی اس کی یقینی اور قطعی سر نوشت ہے اور اس میں تبدیلی نا ممکن ہے ! دوسری طرف ، شیطا ن نیکو کار بندوں کو وسوسہ کرے گا کہ تم نیک بخت ہو،اشقیاء اور بد بختوں کے زمرہ میں داخل نہیں ہوگے اورعبادت و اطاعت میں سستی پیدا کر نے کے لئے اتنا وسوسہ کا فی ہے اورپھراس کے ساتھ ایسا کر ے گا جو نہیں ہو نا چاہئے ۔
بعض مسلمان جنھوں نے'' مشیت '' کے سلسلہ میں واردآیات و روایات کے معا نی واضح اور کامل طور سے درک نہیں کئے مختلف گروہ میں تقسیم ہو گئے ہیں ، ایک گروہ کاخیال ہے کہ انسان اپنے کاموں میں مجبور ہے اور دوسرے گروہ کا عقیدہ ہے کہ تمام امور انسان کے حوالے اور پر چھوڑ دئے گے ہیں ہم آئندہ بحث میں انشاء ﷲ اس مو ضو ع کی تحقیق کر کے راہ حق و صوا ب کی شناسائی کریں گے ۔
۷
جبر و تفویض اور اختیار
الف: جبر کے لغوی معنی
''جبر'' لغت میں زورزبر دستی سے کوئی کام کرانے کو کہتے ہیں اور ''مجبور'' اس کو کہتے ہیں جس کوزور زبردستی سے کوئی کام کرایا جائے ۔
ب: جبر اسلامی عقائد کے علماء کی اصطلاح میں
''جبر'' اس اصطلاح میں یہ ہے : خدا وند عالم نے بندوں کو جو اعمال وہ بجالاتے ہیں ان پر مجبور کیا ہے،خواہ نیک کام ہو یا بد ،براہو یا اچھا وہ بھی اس طرح سے کہ بندہ اس سلسلہ میں اس کی نا فرمانی ،خلاف ورزی اور ترک فعل پر ارادہ واختیار نہیں رکھتا۔
مکتب جبر کے ماننے والوں کا عقیدہ یہ ہے انسان کو جو کچھ پیش آتا ہے وہی اس کی پہلے سے تعین شدہ سر نوشت ہے، انسان مجبور ہے وہ کوئی اختیار نہیں رکھتا ہے ،یہ اشاعرہ کا قول ہے۔( ۱ )
ج: تفویض کے لغوی معنی
تفویض لغت میں حوالہ کرنے اور اختیار دینے کے معنی میں ہے۔
د: تفویض اسلا می عقائد کے علما ء کی اصطلاح میں
''تفویض'' اس اصطلاح میں یعنی: خدا وند عالم نے بندوں کے امور (افعال )خود ان کے سپرد کر دئے ہیں جو
____________________
(۱) اشاعرہ کی تعریف اور ان کی شناخت کے لئے شہر ستانی کی کتاب ملل و نحل کے حا شیہ میں ( الفصل فی الملل و الا ھواء و النحل) ابن حزم، ج،۱،ص۱۱۹،تا ۱۵۳،ملاحظہ ہو.
چاہیں آزادی اوراختیا ر سے انجام دیں اور خدا وند عالم ان کے افعا ل پر کوئی قدرت نہیں رکھتا، یہ فرقۂ ''معتزلہ'' کا قول ہے۔( ۱ )
ھ: اختیار کے لغو ی معنی
'' اختیار'' لغت میں حق انتخاب کے معنی میں ہے ، انتخاب کرنا پسند کرنا اور انتخاب میں آزاد ہو نے کو اختیار کہتے ہیں۔
و: اختیار اسلامی عقائدکے علماء کی اصطلاح میں
خدا وند عالم نے اپنے بندوں کو اپنے انبیا ء اور رسولوں کے ذریعہ بعض امور میں مکلف بنایایعنی ان کے انجام دینے کا مطالبہ کیا تو بعض سے نہی اور ممانعت فرمائی، خدا نے کسی کام کے انجام دینے یا اس کے ترک یعنی نہ کرنے کی بندوں کو قدرت عطا کی جو امور وہ انجام دیتے ہیں ان کے انتخاب کا انھیںحق دیا اور کسی کو اس سلسلہ میں مجبور نہیں کیا ، پھر اس کے بعد ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی امر و نہی میں اطاعت کریں ۔اس موضوع سے متعلق استد لال انشاء ﷲآئندہ بحث میں آئے گا۔
____________________
(۱) ''معتز لہ'' کی شناخت کے لئے شہر ستانی کی کتاب ملل و نحل ،ابن حزم کے حاشیہ (الفصل فی الملل والا ھواء و النحل) ج۱، ص ۵۵، ۵۷ پر ملاحظہ ہو۔
(۸)
قضا و قدر
الف:۔ قضا و قدر کے معنی
ب:۔قضا و قدر کے بارے میں ائمہ اہل بیت کی روایات
ج:۔سوال و جواب
قضا وقدر کے معنی
'' قضا و قدر'' کا مادہ مختلف اور متعدد معا نی میں استعما ل ہو ا ہے جو کچھ اس بحث سے متعلق ہے اسے ذکر کرتے ہیں۔
الف:۔ مادّۂ قضا کے بعض معانی:
۱۔ ''قضا'' دو آپس میں جھگڑ نے والوں کے درمیا ن قضا وت اور فیصلہ کرنے کے معنی میں ہے، جیسے۔
( انَّ ربّک یقضی بینهم یوم القیا مة فیما کا نوا فیه یختلفون ) ( ۱ )
تمہا را پر وردگار قیا مت کے دن جس چیز کے بارے میں وہ لوگ اختلا ف کرتے تھے ان کے درمیان قضاوت اور فیصلہ کر ے گا۔
۲۔ ''قضا'' آگاہ کر نے کے معنی میں ہے ،جیسے خدا وند عالم کا قول لوط کی داستان سے متعلق اور ان کو ان کی قوم کے نتا ئج سے آگا ہ کرنا کہ فرماتا ہے :
( وقضینا اِلیه ذلک الأمر انَّ دابرهٰؤلاء مقطوع مُّصبحینَ )
ہم نے لوط کو اس موضوع سے با خبر کر دیا کہ ہنگا م صبح سب کے سب بیخ وبن سے اکھاڑ دئے جائیں گے۔( ۲ )
۳۔ '' قضا '' واجب کرنے اور حکم دینے کے معنی میں ہے ،جیسے:
( و قضیٰ ربّک ألا تعبد وا اِلاّ اِيّا هُ ) ( ۳ )
____________________
(۱) یونس ۹۳ .(۲)حجر ۶۶ (۳) اسراء ۲۳
تمہا رے رب کا حکم ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پر ستش نہ کرو۔
۴۔'' قضا '' تقد یر اور ارادہ کے معنی میں ہے ، جیسے :
( واِذا قضیٰ أمراً فأِ نّما یقو ل له کن فیکون ) ( ۱ )
جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتاہے ، تو صرف کہتا ہے ہو جا ، تو ہو جاتی ہے۔
( هو الذی خلقکم من طین ثُمَّ قضیٰ أجلا ) ً)( ۲ )
وہ ایسا خدا ہے جس نے تمھیں مٹی سے خلق کیا ہے ،پھر ( ہر ایک کے لئے) ایک مدت مقدر(معین) فرمائی، یعنی انسان کی حیات کے لئے ایک معین مقدار اور اندا زہ قرار دیا ۔
ب:مادہ ٔ قد ر کے بعض معا نی
۱۔قدر ؛ یعنی قادر ہوا ، اقدام کی قدرت پیدا کی ، ''قادر'' یعنی تو انا اور ''قدیر'' یعنی قدرت مند. خدا وند متعال سورہ ٔ یٰس میں فرماتا ہے:
( أو لیس الذی خلق السّموات و الأرض بقٰدرٍ علیٰ أن یخلق مثلهم ) ( ۳ )
آیا جس نے زمین و آسمان کو زیور تخلیق سے آراستہ کیا ہے وہ ا س جیسا خلق کر نے پر قادر نہیں ہے؟
سورۂ بقرہ ۲۰،میں ارشاد فرماتا ہے:
( ولوشاء ﷲ لذهب بسمعهم وأبصا رهم اِنَّ ﷲ علیٰ کلّ شی ئٍ قدیر ) ( ۴ )
اگر خدا چاہے تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو زائل کر دے ، کیو نکہ ، خدا وند عالم ہر چیز پر قادر ہے ۔یعنی خدا وند عا لم ہر کام کے انجام دینے پر جس طرح اس کی حکمت اقتضا ء کرتی ہے قادر ہے ۔
۲۔قدر: یعنی تنگی اور سختی میں قرار دیا ،'' قَدَرَ الرزق علیہ ویقدر'' یعنی اسے معیشت کی تنگی میں قرار دیا اور دیتا ہے ۔خدا سورۂ سبا کی ۳۶ ویں آیت میں فرماتا ہے:
( قل اِنّ ربّی یبسط الرّزق لمن یشا ء و یقدر )
کہو: خدا وند عالم جس کے رزق میں چاہتا ہے اضا فہ کرتا ہے اور جس کے رزق میں چاہتا ہے تنگی کرتا ہے۔
۳۔ قَدَرَ :تد بیر کی اور اندا زہ لگا یا ،'' قد ر ﷲ الامر بقدرہ ''خدا وند سبحا ن نے اسکی تد بیر کی یا
____________________
(۱)بقرہ ۱۱۷(۲) انعام ۲(۳)یس۸۱(۴)بقرہ۲۰
اس کے واقع ہو نے کا خواہشمند ہو ا، جیسا کہ سورۂ قمر کی بارہو یں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
( وفجَّر ناالأرض عیوناً فا لتقی الما ء علی أمر ٍ قد قدر )
اورہم نے زمین کوشگا ف کیا اور چشمے نکالے اور یہ دو نوں پا نی ( بارش اور چشمے کے ) تد بیر اور خواہش کے بقدر آپس میں مل گئے ۔
ج:۔ قدَّر کے معنیٰ
۱۔قدر '' یعنی اس نے حکم کیا ، فرمان دیا ، قَدَّرَ ﷲ الأمر یعنی خدا وند رحمان نے حکم صادر فر مایا اور فرمان دے دیا کہ کام، اس طرح سے ہو جیسا کہ سورۂ نمل کی ۵۷ ویں آیت میں لوط کی بیوی کے بارے میں فرماتا ہے:
( فأ نجینا ه و أهله اِلّاامرأ ته قدّرنا ها من الغا بر ین )
ہم نے انھیں (لوط) اور ان کے اہل و عیال کو نجات دی ،جز ان کی بیوی کے کہ ہم نے فرمایا : وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہو گی، یعنی ہما را حکم اور فرمان یہ تھا کہ وہ عورت ہلاک ہو نے والوں میں رہے گی۔
۲۔''قَدَّر'' یعنی مدارا ت کی ، تو قف و تامل اور تفکر کیا ،'' قدرفی الامر'' یعنی کام کی انجام دہی میں تو قف و تامل کیا اور اس کے ساتھ رفق و مدارا ت کی، جیسا کہ خدا وند عالم سورہ سبا کی ۱۱ ویں آیت میں داؤد سے فر ماتا ہے :
( أن أعمل سابغا ت وقدّرفی السّرد )
مکمل اور کشادہ ز ر ہیں بناؤ نیز اس کے بنانے میں غور و خوض اور نر می سے کام لو ۔
یعنی زرہ بنانے میں جلد بازی سے کام نہ لو بلکہ کافی غور و فکر ،توجہ اور دقت کے ساتھ زرہ بناؤ تاکہ تمہارے کام کا نتیجہ محکم اور استوار ہو۔
د: ۔ قدرکے معنی
۱۔قَدَر:مقدار، اندازہ اور کمیت کے معنی میں استعما ل ہوا ہے جیسا کہ سورۂ حجر کی ۲۱ ویں آیت میں ارشاد ہو تا ہے:
( واِن من شی ئٍ اِلاّ عند نا خزا ئنه و ما ننزّ له اِلاّ بقدرمّعلو م ) ٍ)
اور جو کچھ ہے اس کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم معین انداز ہ اور مقدار کے علاوہ نازل نہیں کرتے ۔
۲ ۔ قدر: زمان و مکان کے معنی میں استعمال ہو ا ہے، جیسا کہ سورۂ مر سلات کی ۲۰ ویں تا۲۲ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
( ألم نخلقکّم مِّن مّائٍ مّهینٍ ، فجعلناه فی قرارٍمکینٍ اِلیٰ قدرٍمعلوم )
کیا ہم نے تم کو پست اور معمو لی پانی سے خلق نہیں کیا ، اس کے بعد ہم نے اسے محفوظ اور آمادہ جگہ پر قرار دیا، معین اور معلوم زما نہ تک ؟ !
۳۔قدر: قطعی اور نا فذ حکم کے معنی میں ، قَدَرُ ﷲ خدا وند سبحان کا قطعی، نا فذ اور محکم حکم ، جیسا کہ سورۂ احزاب کی ۳۸ ویں آیت میں ارشاد ہو تا ہے:
( سنّة ﷲ فی الَّذ ین خلوا من قبل و ُکان أمر ﷲ قدراً مّقد ورا ً )
ﷲ کی یہ سنت گز شتگان میں بھی جاری تھی اور خدا کا فرمان قطعی اور، نافذ ہو نے والا ہے۔
قول مؤلف:
شاید قضا و قدر کے متعدد معنی اور اس کی خدا وند منّا ن کی طرف نسبت باعث ہو ئی کہ بعض مسلمان غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں اور اس طرح خیال کرتے ہیںکہ ''قضا و قدر'' کے معنی قرآن و حدیث میں یہ ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں جو کچھ کر تا ہے خواہ نیک ہو یا بد اسی''قضا و قدر'' اور سر نوشت کی بنیا د پر ہے،جسے خدا وند عالم نے اس کی خلقت سے پہلے اسکے لئے مقرر کر دیا تھا۔جیسا کہ ہماری روایتوں میں کلمہ قدری کا اطلاق ''جبری ''اور'' تفویضی'' دونوں پر ہوا ہے۔
اور اس اطلا ق کی بنا پر کلمہ''قدر'' کسی شۓ اوراس کی ضد دونوں کا نام ہو جا تا ہے، جیسے کلمہ'' قرئ'' کہ حیض '' اور پاکی'' دونوں کا نام ہے یعنی متضاد معنی میں استعما ل ہوا ہے۔
خا تمہ میں قدریوں کے اقوال اور ان کے جواب سے اس بنا ء پر صرف نظر کرتے ہیں کہ کہیں بحث طولانی نہ ہو جائے اور صرف ان احا دیث پر اکتفا ء کر تے ہیں جن میں ان کے جوابات پائے جا تے ہیں، تاکہ خدا کی تا ئید و تو فیق سے ، جواب کے علاوہ موضوع کی تو ضیح اور تشریح بھی ہو جائے۔
قضا و قدر سے متعلق ائمہ اہل بیت کی روایات
پہلی روایت:
صدوق نے کتا ب تو حید میں اپنی سند کے سلسلہ کو امام حسن مجتبی تک لے جاتے ہوئے اور ابن عسا کر نے تاریخ میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کیا ہے: (عبارت صدوق کی ہے)
'' دخل ر جل من أهل العراق علی أمیر المؤمین فقال : اخبر نا عن خروجنا الی اهل الشام أبقضا ء من ﷲ وقدر ؟
فقال له أمیر المومنین أجل یا شیخ ، فوﷲ ما علو تم تلعة ولا هبطتم بطن واد ٍ الّا بقضا ء ٍ من ﷲ و قدر ٍ ، فقال الشیخ: عند ﷲ احتسب عنا ئی یا أمیر المومنین ، فقال مهلا ً یا شیخ! لعلک تظن قضا ء ً حتما ً و قدرا ً لا ز ما ً، لو کان کذلک لبطل الثواب وا لعقاب و الامر والنهی و الزَّ جر، و لسقط معنی الوعید والو عد ، و لم یکن علی مسیء ٍ لا ئمة و لا لمحسن محمدة ، و لکا ن المحسن او لیٰ با للا ئمة من المذ نب و المذ نب او لی با لاحسا ن من المحسن تلک مقا لة عبدة الا وثان و خصماء الرحمان و قد رية هذه الأمة و مجو سها، یا شیخ! ان ﷲ عز وجل کلف تخییرا ً، ونهی تحذیرا، واعطی علی القلیل کثیرا ً و لم یعص مغلو با ، و لم یطع مکر هاً و لم یخلق السموا ت و الأر ض و ما بینهما با طلا ً ذلک ظن الذین کفروا فو یل للذین کفر وا من النّا ر''
ایک عرا قی حضرت امیر المو مین کے پاس آیا اور کہا : کیا ہمارا شا میوں کے خلاف خروج '' ْقضا و قدر الٰہی '' کی بنیا د پر ہے ؟ امام نے اس سے فر مایا ! ہاں ، اے شیخ ! خدا کی قسم کسی بلندی پرنہیں گئے اور نہ ہی کسی وادی کے درمیان اترے مگر ! قضا وقدر الہٰی
کے تحت ایسا ہوا ہے، اس شخص نے کہا : امید کرتا ہوں کی میری تکلیف خدا کے نز دیک کسی اہمیت کی حامل ہو۔( ۱ )
امام نے اس سے کہا :ٹھہر جا اے شیخ ! شاید تو نے خیال کیا کہ ہم قضا و قدر کو بیان کررہے ہیں اگر ایسا ہوتو ثواب و عقاب ، امر و نہی اور زجر سب باطل ہو جائے ، ڈرانا اور بشارت دینا بے معنی ہو جائے ، نہ گنا ہگار کی ملا مت بجا ہوگی اورنہ نیکو کار کی ستا ئش روا ، بلکہ نیکو کار بد کار کی بہ نسبت ملامت کا زیا دہ سزا وار ہو گا( ۲ ) اور گنا ہگا ر نیکی کا نیک شخص سے زیادہ سزاوار ہوگا،یہ سب بت پر ستوں ، خدا وند رحما ن کے دشمنوں اوراس امت کے ''قدریوں'' اور مجو سیوں کی باتیں ہیں ! اے شیخ! خدا وند عز وجل نے بندوں کو مکلف بنا یا ہے تا کہ وہ اپنے اختیار سے کام کریں اور انھیں نہی کی تا کہ وہ خود اس سے باز رہیں اور معمولی کام پر زیا دہ جزا دے ، مغلوب ہو کر یعنی شکست خوردگی کے عالم میں اس کی نافرمانی نہیں ہو ئی اور زبر دستی اس کی اطا عت نہیں ہو ئی اس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام مو جو دات کو بے کار اور لغو پیدا نہیں کیا ، یہاں لو گوں کا گمان ہے جو کا فر ہوگئے ہیں ، پس ان لوگوں پر وائے ہو جو آتش جہنم کے عذاب کا انکار کرتے ہیں۔( ۳ )
روای کہتا ہے: وہ شخص اٹھا اور یہ ا شعار پڑھنے لگا:
أنت الاِمام الذّی نرجو بطا عته :: یوم النِّجا ة من الرّحمن غفرا ناً
أوضحت من دینِنا ما کان مُلتبساً :: جزا ک ر بُّک عنّا فیه اِحسا نا ً
فلیس معذرة فی فعل فا حشة :: قدکُنت راکبها فسقا ً و عصیا نا ً
تم و ہی امام ہو جس کی اطا عت کے ذریعہ قیا مت کے دن ہم خدا وند رحمن سے عفو و بخشش کے امید وار ہیں ۔ تم نے ہمارے دین سے یکبا رگی تمام شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہم تمہا رے رب سے در خواست کرتے ہیں کہ وہ تمھیں اس کی نیک جز ا دے۔ لہٰذا اس واضح او رروشن بیان کے بعدمجھ سے کوئی گناہ سر زد نہ
____________________
(۱)یعنی اگر ہمارا خرو ج اور جہاد کر نا'' قضا و قدر'' الٰہی کی بنیا د پر ہے تو جز ا کے مستحق نہیں ہیں ، پس میں امید وار ہوںکہ ہماری مشقت وزحمت راہ خدا میں محسوب ہو اورہم ان لوگوں کے اعمال کی ردیف میں واقع ہو جو قیا مت کے دن خدا کے فضل ورحمت کے سایہ میں ہوں گے۔
(۲) کیو نکہ دو نوں در اصل مسا وی اور برا بر ہیں چو نکہ عمل ان کے ارادہ اور اختیار سے نہیں تھا، دوسری طرف چو نکہ نیکو کار لوگوں کی ستا ئش کا مستحق ہو تا ہے اوراسے اپنا حق سمجھتا ہے جب کہ ایسا نہیںہے ، اس گمان و خیال کی بنیاد پر وہ شخص گنا ہگار سے زیا دہ ملامت کا حقدار ہے، کیو نکہ گناہ گارلو گوں کی ملا مت کا نشا نہ بنتا ہے اور وہ خو د کو اس ملامت کا مستحق جا نتا ہے جب کہ ایسا نہیں ہے ، لہٰذا اس پر احسا ن ہو نا چاہئے تا کہ لوگوں کے آزارو اذیت اور ان کی سر ز نش و ملا مت بر داشت کر نے کی اس سے تلا فی کر ے، نہ کہ نیکو کا ر پر احسان ہونا چاہیئے سے۔
(۳)سورہ ٔ ص کی ۲۷ ویں آیت سے اقتبا س ہے.
ہو کہ جس پر نہ معذرت کر سکوں اور نہ میری نجا ت ہو ۔
دوسری روایت
ائمہ اہل بیت میں سے چھٹے امام حضرت امام جعفر صادق سے دوسری رو ایت ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
''اِنَّ النا س فی القدر علیٰ ثلا ثة أو جه: ر جل زعم أنَّ ﷲ عزَّو جلّ أجبر النّا س علیٰ المعا صی فهذا قد ظلم ﷲ فی حکمه فهو کا فر، ورجل یز عم انَّ الأمر مفوَّض الیهم فهذا قد أو هن ﷲ فی سلطا نه فهو کا فر ، و رجل یز عم انَّ ﷲ کلَّف العباد ما يُطیقون و لم يُکلَّفهم ما لا يُطیقون و اِذاأحسن حمد ﷲ واِذا أسا ئَ استغفر ﷲ فهذا مسلم با لغ'' ( ۱ )
''قدر'' کے مسئلہ میں لوگ تین گروہ میں تقسیم ہیں:
۱۔ جس کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا وند عزو جل نے لوگوں کو گناہ پر مجبور کیا ہے ،اس نے فرمان خدا وندی کے بارے میں خدا پر ظلم کیا ہے اور وہ کافر ہے۔
۲۔ جس کا عقیدہ ہے کہ تمام امور لو گوں کے سپر د کر دئے گئے ہیں،اس نے خدا کواس کی قدرت اور بادشا ہی میں ضعیف و نا توا ں تصور کیا ہے لہٰذا وہ بھی کا فر ہے۔
۳۔جس کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا وندسبحان نے بندوں کو انھیں چیزوں پر مکلف بنایا ہے جن کی وہ طاقت رکھتے ہیں اور جن کی وہ طاقت نہیں رکھتے اس کا ان سے مطا لبہ نہیں کیا ہے، وہ جب بھی کو ئی نیک کام کرتا ہے تو خدا کی حمد ادا کر تا ہے اور اگر کوئی بُرا فعل سر زد ہو تا ہے تو خدا سے مغفر ت اور بخشش طلب کرتا ہے ، یہ وہی مسلما ن ہے جس نے حق کو درک کیا ہے۔
تیسری روایت:
ائمہ اہل بیت میں سے آٹھو یں امام ، حضرت امام علی بن مو سیٰ الر ضا سے ہے کہ آپ نے فرما یا:
۱۔''انَّ ﷲ عزّ وجلَّ لم یطع بِأِکراهٍ، ولم یعص بغلبةٍ و لم يُهمل العباد فی ملکه، هو المالک لما مَلَّکَهم و القا در علیٰ ما أقد ر هم علیه فاِن ائتمر العباد بطا عته لم یکن ﷲ منها
____________________
(۱)توحید صدوق، ص۳۶۰،۳۶۱.
صا دّا ً، و لا منها ما نعا ً، واِنِ أئتمر وا بمعصیتهِ فشا ء أن یحول بینهم و بین ذلک فعل و اِن لم یحل و فعلوهُ فلیس هو الذّی اد خلهم فیه'' ( ۱ )
خدا وند عالم کی جبر و اکرا ہ کے ذریعہ اطا عت نہیں کی گئی ہے نیز ضعف و شکست اور مغلو ب ہو نے کی بنا پر اس کی نا فرمانی نہیں کی گئی، اس نے اپنے بندوں کو اپنی حکو مت اور مملکت میں لغو و بیہو دہ نہیں چھو ڑا ہے، وہ ان تمام چیزوں کا جس پر انھیں اختیا ر دیا ہے مالک ہے اوران تمام امور پر جس کی تو انائی دی ہے قا در ہے اگر بندے اطاعت گزار ہوں تو خدا ان کے را ستوں کو بند نہیں کر ے گا اور اطا عت سے انھیں نہیں رو کے گا اور اگر وہ لوگ نافر مانی و عصیا ن کے در پے ہوں گے اور وہ چا ہے کہ گناہ اور ان کے درمیا ن فا صلہ ہو جائے تو وہ کر دے گا اور اگر گناہ سے نہ رو کا اور انھوں نے گناہ انجام دیا، تو اس نے ان لوگوںکو گناہ کے راستہ نہیں پرڈالاہے۔
یعنی جو انسا ن خدا کی اطاعت کرتا ہے وہ اس اطاعت و پیر وی پر مجبور نہیں ہے اور جو انسا ن خدا کی نافرمانی کرتا ہے وہ ﷲ کی مر ضی اورا س کے ارادہ پر غا لب نہیں آگیا ہے بلکہ یہ خو د خدا ہے جو یہ چا ہتا ہے کہ بندہ اپنے کا م میں آزاد و مختار ہو۔
۲۔ اور فرمایا: خدا وند متعا ل فرماتا ہے:
( یاابن آدم بمشیئتی کُنت انت الذّی تشائُ لنفسک ما تشائ، و بقوَّ تی ادَّ یت الیّ فرا ئضی، و بنعمتی قویت علی معصیتی، جعلتک سمیعا ً بصیرا ً قو يّاً، ما اصا بک من حسنةٍ فمن ﷲ و ما أصا بک من سيِّئة ٍ فمن نفسک ) ( ۲ )
اے فرزند آدم! میری مشیت اور مر ضی سے تو انتخاب کر نے وا لا ہو گیا ہے اور جو چاہتا ہے اپنے لئے اختیا ر کر لیتا ہے اور میری ہوئی طا قت سے میرے واجبا ت بجا لا تا ہے اور میری ہی نعمتیں ہیں جن کے ذریعہ تو میری نا فرمانی پر قادرہے ، میں نے تجھے سننے والا، دیکھنے والا اور طا قتو ر بنایا ہے(پس یہ جان لے کہ) جو کچھ تجھے نیکی حاصل ہو تی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو بد ی تجھ تک پہنچتی ہے تیری وجہ سے ہے۔
ایک دوسری روایت میں آیا ہے :
''عملت با لمعا صی بقو تی التی جعلتها فیک'' ( ۳ )
ہم نے جو تو انائی تیرے وجود میں قراردی تونے اس کی وجہ سے گنا ہ کا ارتکاب کیا ۔
____________________
(۱)توحید صدوق ص۳۶۱ .(۲) تو حید صدو ق، ص ۳۲۷، ۳۴۰ اور ۳۶۲ اور کافی ،ج، ۱،ص ۱۶۰، سورہ نسا ء ۷۹.(۳) تو حید صدوق، ص ۳۶۲.
حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :
'' لا جبرولا تفو یض ولکن أمر بین أمر ین، قال قُلتُ: و ما أمر بین أمر ین؟ قال مثل ذلک رجل رأ یته علیٰ معصية ٍ فنهیتهُ فلم ینته فتر کته ففعل تلک المعصية، فلیس حیثُ لم یقبل منک فتر کته کنت أنت الذّی أمر ته بالمعصية'' ( ۱ )
نہ جبرہے اور نہ تفو یض ، بلکہ ان دونوں کے درمیا ن ایک چیز ہے، راوی کہتا ہے : میں نے کہا : ان دونوں کے درمیا ن ایک چیز کیا ہے؟ فر مایا: اس کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو گنا ہ کی حا لت میں ہو اور تم اسے منع کرو اور وہ قبول نہ کر ے اس کے بعد تم اسے اس کی حالت پر چھو ڑ دو اور وہ اس گناہ کو انجام دے ، پس چونکہ اس نے تمہا ری بات نہیں مانی اور تم نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ، لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ تم ہی نے اسے گناہ کی دعوت دی ہے۔
۲'' ما استطعت أن تلو م العبد علیه فهو منه و ما لم تستطع أن تلو م العبد علیه فهو من فعل ﷲ، یقول ﷲ للعبد: لم عصیت؟ لم فسقت؟لم شربت الخمر؟ لم ز نیت؟ فهذا فعل العبد ولا یقول له لم مر ضت؟ لم قصرت؟ لم ابیضضتَ؟ لم اسو ددت؟ لأنه من فعل ﷲ تعا لیٰ'' ( ۲ )
جس کام پر بندہ کو ملا مت و سر زنش کر سکو وہ اس کی طرف سے ہے اور جس کام پرملا مت وسر زنش نہ کرسکو وہ خدا کی طرف سے ہے، خدا اپنے بندوں سے فرما تا ہے : تم نے کیوں سر کشی کی ؟ کیوں نافرمانی کی ؟کیوں شراب پی؟ کیوں زنا کیا؟ کیو نکہ یہ بندے کا کام ہے ، خدا اپنے بندوں سے یہ نہیں پو چھتا : کیو ں مر یض ہوگئے ؟ کیوں تمہا را قد چھوٹاہے؟ کیوں سفید رنگ ہو؟ کیوں سیا ہ رو ہو؟ کیو نکہ یہ سارے امور خدا کے ہیں ۔
روایات کی تشریح
جبر وتفویض کے دوپہلو ہیں :
۱۔ ایک پہلو وہ ہے جو خدا اوراس کے صفا ت سے متعلق ہے۔
۲۔ دوسرا پہلووہ ہے جس کی انسان اوراس کے صفا ت کی طر ف بازگشت ہو تی ہے۔
'' جبر و تفویض'' میں سے جو کچھ خدا اوراس کے صفات سے مر بوط اور متعلق ہے ، اس بات کا سزا وار
____________________
(۱) کافی،ج، ۱، ص ۱۶۰ اور توحید صدو ق، ص ۳۶۲.(۲)بحار ج۵،ص۵۹ح۱۰۹
ہے کہ اس کو خدا،اس کے انبیا ء اور ان کے اوصیا ء سے اخذ کر یں اور جو چیز انسا ن اوراس کے صفات اور افعال سے متعلق ہو تی ہے ، اسی حد کافی ہے کہ ہم کہیں : میں یہ کام کر وں گا ، میں وہ کام نہیں کرو ں گا تا کہ جانیں جو کچھ ہم انجام دیتے ہیں اپنے اختیا ر سے انجام دیتے ہیں ، گزشتہ بحثو ں میں بھی ہم نے یہ بھی جانا کہ انسا ن کی زندگی کی رفتا ر ذ رہ ، ایٹم، سیارات اور کہکشا نو ں نیز خدا کے حکم سے دیگر مسخرات کی رفتار سے حرکات اور نتا ئج میں یکساں نہیں ہے ،یہ ایک طرف ، دو سری طرف خدا وند سبحا ن نے انسا ن کوا س کے حال پر نہیں چھو ڑا اوراسے خود اس کے حوالے نہیں کیا تا کہ جو چا ہے ، جس طرح چاہے اور نفسیا نی خو اہشا ت جس کاحکم دیںاسی کو انجام دے ، بلکہ خدا وند عالم نے اپنے انبیا ء کے ذریعہ اس کی راہنما ئی کی ہے : اسے قلبی ایمان کی راہ بھی حق کے ساتھ دکھا ئی نیزاعمال شائستہ جو اس کے لئے جسمانی اعتبار سے مفید ہیں ان کی طرف بھی راہنمائی کی اور نقصا ن دہ اعمال سے بھی آگا ہ کیا ہے، اگر وہ خدا کی ہدا یت کا اتبا ع کرے اور ﷲ کی سیدھی را ہ پر ایک قد م آگے بڑھ جا ئے تو خدا وند عا لم اسے اس کا ہا تھ پکڑ کر اسے دس قد م آگے بڑھا دیتا ہے پھر دنیا و آخرت میں آثار عمل کی بناء پر اس کوسات سو گنازیادہ جزا دیتا ہے اور خدا وند عالم اپنی حکمت کے اقتضاء اور اپنی سنت کے مطابق جس کے لئے چا ہتا ہے اضا فہ کرتاہے۔
ہم نے اس سے قبل مثا ل دی اور کہا: خدا وند عا لم نے اس دنیا کو'' سلف سروس''والے ہوٹل کے مانندمو من اور کا فر دو نوں کے لئے آما دہ کیا ہے، جیسا کہ سورۂ اسرا ء کی بیسویں آیت میں فرماتا ہے:
( کلاًّ نمدّ هٰؤلا ء و هٰؤٰلآء من عطا ئِ ربّک و ما کان عطائُ ربِّک محظورا )
ہم دو نو ں گروہوںکوخواہ یہ خواہ وہ تمہا رے رب کی عطا سے امداد کر تے ہیں ، کیو نکہ تمہا رے ربّ کی عطاکسی پربند نہیں ہے۔
یقینا اگر خدا کی امداد نہ ہو تی اور خدا کے بند ے جسمی اور فکر ی توا نائی اور اس عا لم کے آمادہ و مسخر اسباب و وسا ئل خدا کی طرف سے نہ رکھتے تو نہ راہ یا فتہ مو من عمل صا لح اور نیک و شا ئستہ عمل انجام دے سکتا تھا اور نہ ہی گمرا ہ کا فر نقصا ن دہ اور فا سد اقدامات کی صلا حیت رکھتا، سچ یہ ہے کہ اگر خدا ایک آن کے لئے اپنی عطا انسا ن سے سلب کر لے چا ہے اس عطا کا ایک معمو لی اور ادنیٰ جز ہی کیوں نہ ہوجیسے بینائی، سلا متی، عقل اور خرد وغیرہ... تویہ انسان کیا کر سکتا ہے ؟ اس لحا ظ سے انسا ن جو بھی کر تا ہے اپنے اختیا رسے اور ان وسا ئل و اسباب کے ذریعہ کرتاہے جو خدا نے اسے بخشے ہیں لہٰذا انسا ن انتخاب اور اکتسا ب میں مختار ہے۔
جی ہاں ،انسا ن اس عالم میں مختارکل بھی نہیں ہے جس طرح سے وہ صرف مجبور بھی نہیں ہے، نہ اس عالم کے تمام اموراس کے حوالے اور سپرد کر دئے گئے ہیں اور نہ ہی اپنے انتخا ب کر دہ امور میں مجبور ہے، بلکہ ان دو نوں کے درمیا ن ایک امر ہے اور وہ ہے( امر بین امرین) اوریہ وہی خدا کی مشیت اور بند وں کے افعال کے سلسلے میں اس کا قا نو ن اور سنت ہے، '' ولن تجد لسنة ﷲ تبد یلا ً'' ہر گز سنت الٰہی میں تغیر و تبد یلی نہیں پا ؤ گے!
چند سوال ا و ر جو اب
اس حصّہ میں د ر ج ذیل چا ر سوا ل پیش کئے جا رہے ہیں:
۱۔ انسا ن جو کچھ کر تا ہے ا س میں مختار کیسے ہے، با وجو د یکہ شیطا ن اس پر تسلط اور غلبہ رکھتا ہے جب کہ وہ دکھا ئی بھی نہیں دیتا آد می کو اغوا( گمراہ) کرنے کے چکر میں لگا رہتا ہے اوراس کے دل میں و سو سہ ڈالتا رہتاہے اور اپنے شر آمیز کاموں کی دعوت دیتا ہے؟
۲۔انسان فا سد ماحول اور برے کلچرمیں بھی ایسا ہی ہے، وہ فسا د اور شر کے علا وہ کو ئی چیز نہیں دیکھتا پھر کس طرح وہ اپنے اختیا ر سے عمل کر تاہے ؟
۳۔ایسا انسا ن جس تک پیغمبروں کی دعو ت نہیں پہنچی ہے اوردور درازافتادہ علا قہ میں زند گی گزا رتا ہے وہ کیا کرے ؟
۴۔'' زنا زا دہ'' کا گنا ہ کیا ہے ؟( یعنی نا جا ئز بچہ کاکیا گنا ہ ہے) کیوں وہ دو سر وں کی رفتا ر کی بنا ء پر شر پسند ہوتا ہے اور شرار ت و برائی کر تا ہے؟
پہلے اور دوسرے سوال کا جو اب:
ان دو سو الوں کا جواب ابتدا ئے کتاب میں جو ہم نے میثا ق کی بحث کی ہے ا س میں تلا ش کیجئے۔( ۱ )
وہاں پر ہم نے کہا کہ خدا نے انسا ن پر اپنی حجت تمام کردی ہے ا ور تمام موجودات کے سبب سب کے متعلق جستجواور تلاش کے غریزہ کو ودیعت کرکے اس کی بہانہ بازی کا دروازہ بند کردیا ہے، لہٰذااسے چاہیئے کہ اس غریزہ کی مدد سے اس اصلی سبب سازتک پہنچے ، اسی لئے سورۂ اعرا ف کی ۱۷۲ ویں آ یت میں میثا ق خدا وند ی سے متعلق ارشاد فرما یا:
____________________
(۱)اسی کتاب کی پہلی جلد، بحث میثاق .ملاحظہ ہو.
( أن تقولوا یو م القیامة اِنّا کُناعن هذا غا فلین )
تا کہ قیا مت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم اس (پیمان ) سے غا فل تھے ہمیں ۔
انسا ن جس طر ح ہر حا لت میں بھو ک کے غر یزہ سے غا فل نہیں ہو تا ہے جب تک کہ اپنی شکم کو غذا سے سیر نہ کرلے ، اسی طرح معر فت طلبی کے غر یزہ سے بھی غا فل نہیں ہو تا یہاں تک کہ حقیقی مسب الاسباب کی شناخت حا صل کرلے۔
تیسر ے سوال کا جو اب:
ہم اس سوال کے جواب میں کہیںگے : خداو ند سبحا ن نے سورہ بقرہ کی ۲۸۶ ویں آیت میں ارشا د فرما یا:
( لایکلف ﷲ نفساًاِلاّوسعها )
خدا کسی کو بھی اس کی طا قت سے زیا دہ تکلیف نہیں دیتا۔
چو تھے سوا ل کا جو اب:
نا جا ئز اولا د بھی بُرے کا م انجام دینے پر مجبو ر نہیں ہے ، جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ بد کار مرد اور عو رت کی روحی حالت اور کیفیت ارتکاب گناہ کے وقت اس طرح ہوتی ہے کہ خو د کو سما جی قوا نین کا مجرم اور خا ئن تصور کرتے ہیں اور یہ بھی جا نتے ہیں کہ معا شرہ ان کے کام کو برااور گناجا نتا ہے اور اگر ان کی رفتا ر سے آگا ہ ہو جائے اورایسی گند گی اور پستی کے ارتکاب کے وقت دیکھ لے تو ان سے دشمنی کر تے ہو ئے انھیں اپنے سے دور کر دیگا اور یہ بھی جانتے ہیں کہ تمام نیکو کار ، پا کیز ہ کر دار اور اخلاق کر یمہ کے ما لک ایسے کا م سے بیزاری کرتے ہیں یہ رو حی حا لت اور اندرونی کیفیت نطفہ پر اثر اندا ز ہو تی ہے اور میرا ث کے ذریعہ اس نو مو لو د تک منتقل ہو تی ہے اورنوزاد پر اثر انداز ہوتی ہے جواسے شر دوست اور نیکیوں کا دشمن بنا تی ہے اور سما ج کے نیک افراد اور مشہو ر و معروف لو گوں سے جنگ پر آمادہ کرتی ہے اس سیرت کا بارز نمو نہ'' زیا د ابن ابیہ'' اور اس کا بیٹا ابن زیاد ہے کہ انھوں نے عرا ق میں اپنی حکومت کے دوران جو نہیں کر نا چا ہئے تھا وہ کیا ،با لخصوص'' ابن زیاد'' کہ اسکے حکم سے امام حسین کی شہا دت کے بعد آپ اور آپ کے پا کیزہ اصحاب کے جسم اطہر کو مثلہ کیاگیا اور سروں کو شہروں میں پھرایا گیا اور رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حرم کو اسیر کر کے کو فہ و شام پہنچا یا گیا اور دیگر امور جو اس کے حکم سے انجام پا ئے اور یہ ایسے حا ل میں ہو اکہ حضرت امام حسین کی شہا دت کے بعد کو ئی فرد ایسی نہیں بچی تھی جو ان لوگوںکی حکو مت کا مقا بلہ کر ے
اور کسی قسم کی تو جیہ اس کے ان افعا ل کیلئے نہیں تھی، بجز اس کے کہ وہ شر و برا ئی کا خو گر تھا اس کی خو اہش یہ تھی کہ عرب اور اسلام کے شریف ترین گھرا نے کی شا ن و شو کت، عظمت و سطو ت ختم کرکے انھیں بے اعتبار بنا دے، ہاں وہ ذا تی طور پر برا ئی کا دوست اور نیکیوں کا دشمن تھا اور سماج و معا شرہ کے کریم و شر یف افراد سے بر سر پیکا ر تھا۔( ۱ )
اس بنا پر ( صحیح ہے اور ہم قبو ل کر تے ہیں کہ) شر سے دوستی، نیکی سے دشمنی، نیکو کاروں کو آزار و اذیت دنیا اور سماج کے پا کیز ہ لو گوں کو تکلیف پہنچا نا زنا زادہ میں حلال زادہ کے بر خلاف تقریباًاس کی ذات اور فطرت کا حصہ ہے، لیکن ان تمام باتوں کے با وجو د ان دو میں سے کو ئی بھی خواہ امور خیر ہوں یا شر جو وہ انجام دیتے ہیں یا نہیں دیتے مجبو ر ،ان پر نہیں ہیں، ان دو نوں کی مثال ایک تندرست و صحت مند ، با لغ و قوی جوان اور کمر خمیدہ بوڑھے مر د کی سی ہے: پہلا جسما نی شہو ت میں غرق اور نفسانی خوا ہشا ت تک پہنچنے کا خواہاں ہے اور دوسرا وہ ہے جس کے یہا ں جو انی کی قوت ختم ہو چکی ہے اور جسمانی شہو ت کا تارک ہے! ایسے حال میں واضح ہے کہ کمر خمیدہ مرد '' زنا ''نہیں کر سکتا اور وہ جوان جس کی جنسی تو انا ٰئی اوج پر ہے وہ زنا کرنے پر مجبو ر بھی نہیں کہ مجبوری کی حالت میں وہ ایسے نا پسندیدہ فعل کا مر تکب ہو تومعذور کہلا ئے، بلکہ اگر زنا کا مو قع اور ما حو ل فر اہم ہو اور وہ ''خا ف مقا م ربہ'' اپنے رب کے حضور سے خو فز دہ ہو، ( ونھیٰ النفس عن الھوی) اور اپنے نفس کو بیجا خو اہشوں سے رو ک رکھے تو( فاِنّ الجنة ھی المأویٰ) یقینا اس کا ٹھکا نہ بہشت ہے۔( ۲ )
اس طرح ہم اگر انسان کی زندگی کے پہلؤوں کی تحقیق کر یں اور ان کے بارے میں غور و فکر کر یں، تو اسے اپنے امور میں صا حب اختیا ر پا ئیں گے، جز ان امور کے جو غفلت اور عدم آگا ہی کی بنیا د پر صا در ہوتے ہیں اور اخروی آثا ر نہیںرکھتے ہیں ۔
یہاں تک مباحث کی بنیاد قرآن کر یم کی آیات کی روشنی میں '' عقائد اسلام '' کے بیان پر تھی آئندہ بحثوں میں انشاء ﷲ خدا کے اذ ن سے مبلغین الٰہی کی سیرت کی قرآ ن کریم کی رو سے تحقیق و بررسی کر یں گے اور جس قدر توریت ،انجیل اور سیرت کی کتابوں سے قرآن کریم کی آیات کی تشریح و تبیین میں مفید پا ئیں گے ذکر کر یں گے۔
''الحمد لله ربّ العا لمین''
____________________
(۱)زیادکے الحاق ( معاویہ کا اسے اپنا پدری بھائی بنانے ) کی بحث آپ کتاب عبدﷲ بن سبا کی جلد اول میں ، اور شہادت امام حسین کی بحث معالم المدر ستین کی جلد ۳ میں ملاحظہ کریں. (۲)سورۂ ناز عا ت کی چا لیسویں آیت ''و امّا من خاف...'' سے اقتبا س ہے.
(۹)
ملحقات
اسلا می عقا ئد میں بحث و تحقیق کے راستے اور راہ اہل بیت کی فوقیت و بر تری( ۱ )
اسلا می عقا ئد ہمیشہ مسلما نوں اور اسلامی محققین کی بحث و تحقیق کا موضوع رہے ہیں اور تمام مسلما نو ں کا نظر یہ یہ ہے کہ اسلا می عقا ئد کا مر جع قرآ ن اور حدیث ہی ہے ، وہ اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود گز شتہ زمانے میں صدیو ں سے، مختلف وجوہ اور متعدد اسباب( ۲ ) کی بنا پر مختلف خیا لات اور نظریات اسلا می عقائد کے سلسلہ میں پیدا ہوئے کہ ان میں بعض اسباب کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
۱۔ بحث وتحقیق اور استنبا ط کے طریقے اور روش میں اختلا ف.
۲۔ علما ئے یہو د و نصا ریٰ (احبار و رہبا ن)کا مسلما نو ں کی صفو ں میں نفو ذ اور رخنہ انداز ی اور اسلا می رو ایا ت کا ''اسرا ئیلیا ت''اور جعلی داستانوں سے مخلوط ہونا۔
۳۔ بد عتیں اور اسلا می نصو ص کی غلط اور نا درست تا ویلیں اور تفسیر یں۔
۴۔سیا سی رجحا نا ت اور قبا ئلی جھگڑے۔
۵۔ اسلا می نصوص سے ناواقفیت اور بے اعتنا ئی ۔
ہم اس مقا لہ میں سب سے پہلے سبب '' راہ اور روش میں اختلا ف ''کی تحقیق وبر رسی کر یں گے اور اسلامی عقائد کی تحقیق و بر رسی میں جو مو جو دہ طریقے اور را ہیں ہیں ان کا اہل بیت کی راہ و روش سے موازنہ کر کے قا رئین کے حو الے کر یں گے ، نیز آخری روش کی فو قیت وضا حت کے ساتھ بیان کر یں گے ۔
____________________
(۱) مجمع جہانی اہل البیت ، تہران کے نشریہ رسالة الثقلین نامی مجلہ میں آقا شیخ عباس علی براتی کے مقالہ کا ترجمہ ملاحظہ ہونمبر ۱۰، سال سوم ۱۴۱۵ ھ، ق.(۲) مقدمہ کتاب '' فی علم الکتاب '' : ڈاکٹر احمد محمود صبحی ج۱، ص ۴۶پانچواں ایڈیشن، بیروت، ۱۴۰۵ھ، ۱۹۸۵ ئ.
عقید تی اختلا فا ت اور اس کی بنیاد اور تا ریخ
مسلما نوں کے درمیا ن فکر ی اور عقید تی اختلا ف پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے سے ہی ظا ہر ہو چکا تھا ،لیکن اس حد تک نہیں تھا کہ، کلامی اور فکر ی مکا تب و مذاہب کے وجو د کا سبب قرار پائے، کیو نکہ رسو لصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا بنفس نفیس اس کا تدارک کرتے تھے اور اس کے پھیلنے کی گنجا ئش با قی نہیں ر کھتے تھے ، بالخصوص روح صدا قت وبرا دری، اخوت و محبت اس طرح سے اسلامی معاشرہ پر حا کم تھی کہ تا ریخ میں بے مثا ل یا کم نظیر ہے۔
نمو نہ کے طور پر اورانسا نو ں کی سر نو شت '' قدر'' کا مو ضو ع تھا جس نے پیغمبر کے اصحا ب اور انصا ر کے ذہن و فکر کو مکمل طور پر اپنے میں حصار میں لے لیا تھا اور انھیں اس کے متعلق بحث کر نے پر مجبور کردیا تھا ، یہاں تک کہ آخر میں بات جنگ و جدا ل اور جھگڑے تک پہنچ گئی جھگڑے کی آ واز پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کان سے ٹکر ائی توآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے (جیسا کہ حدیث کی کتا بو ں میں ذ کر ہوا ہے) اس طرح سے ان لو گو ں کو اس مو ضو ع کے آگے بڑھانے کے عواقب و انجام سے ڈرایا:
احمد ابن حنبل نے عمر و بن شعیب سے اس نے اپنے با پ سے اور اس نے اپنے جد سے رو ایت کی ہے کہ انھو ں نے کہا : ایک دن رسو ل خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے گھر سے باہر نکلے تو لو گو ں کو قدر کے مو ضو ع پر گفتگو کرتے دیکھا،راو ی کہتا ہے : پیغمبر اکر م کے چہر ہ کا رنگ غیظ و غضب کی شدت سے اس طرح سر خ ہو گیا تھا، گو یا انار کے دانے ان کے رخسا ر مبارک پربکھرے ہوئے ہو ں! فر مایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ کتاب خدا کی جر ح وتعدیل اور تجزیہ و تحلیل کر رہے ہو اسکے بعض حصّہ کا بعض سے مو از نہ کر رہے ہو( اس کی نفی و اثبات کرر ہے ہو )؟ تم سے پہلے وا لے افراد انہی کا موں کی و جہ سے نا بو د ہو گئے ہیں۔( ۱ )
قرآن کر یم اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت میں اسلامی عقا ئد کے اصو ل اور اس کے بنیادی مبا نی بطو ر کلی امت اسلام کے لئے بیا ن کیے گئے ہیںبعد میں بعض سو الات اس لئے پیش آئے کہ ( ظا ہر اً)قرآن و سنت میں ان کا صریح اور واضح جو اب ان لوگوںکے پاس نہیں تھا اورمسلمان اجتہا د و استنبا ط کے محتا ج ہو ئے تو یہ ذ مہ داری عقا ئد و احکام میں فقہا ء و مجتہد ین کے کا ند ھوں پر آئی، اس لئے اصحا ب پیغمبر بھی کبھی کبھی اعتقا دی مسا ئل میں ایک دوسرے سے اختلا ف رائے ر کھتے تھے ، اگر چہ پیغمبر کی حیات میں ان کے اختلاف کے آثا ر و نتائج، بعد کے
____________________
(۱)مسند احمد ج۳،ص۱۷۸تا ۱۹۶.
زمانوں میں ان کے اختلاف کے آثار و نتائج سے مختلف تھے ،کیو نکہ ، پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی حیات میں خو د ہی ان کے درمیا ن قضا وت کر تے تھے اور اپنی را ہنما ئی سے اختلا ف کی بنیا د کواکھاڑ دیتے تھے !( ۱ )
لیکن پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد لو گ مجبو ر ہو ئے کہ کسی صحا بی یا ان کے ایک گروہ سے( جوکہ خلفا ء و حکا م کے بر گز یدہ تھے) اجتہا د کا سہا را لیں اور ان سے قضا وت طلب کر یں جب کہ دو سرے اصحا ب اپنے آرا ء ونظریات کو محفو ظ ر کھتے تھے ( اور یہ خو د ہی اختلا ف میں اضا فہ کا سبب بنا ) اس اختلا ف کے واضح نمونے مند ر جہ ذ یل باتیں ہیں۔
۱۔ پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفا ت کے بعد امت کا خلا فت اور اما مت کے بارے میں اختلاف۔( ۲ )
۲۔ زکو ة نہ دینے وا لو ں کا قتل اور یہ کہ آیا زکو ة نہ دینا ارتد اد اور دین سے خا رج ہو نے کا با عث ہے یا نہیں؟اس طرح سے ہر اختلا ف،خاص آراء و خیا لا ت ، گروہ اور کلا می اور اعتقا دی مکا تب کی پید ائش کا سر چشمہ بن گیاجس کے نتیجہ میں ہر ایک اس رو ش کے ساتھ جو اس نے استد لا ل و استنبا ط میں اختیا ر کی تھی اپنے آ را ء و عقا ئد کی تر ویج و تد وین میں مشغول ہوگیا ، ہما ری تحقیق کے مطا بق ان مکا تب میں اہم تر ین مکاتب مند ر جہ ذیل ہیں :
۱۔خالص نقلی مکتب۔
۲۔ خالص عقلی مکتب
۳۔ ذو قی و اشراقی مکتب
۴۔ حسّی و تجر بی مکتب
۵۔ فطر ی مکتب
الف ۔ خالص نقلی مکتب:
'' احمد ابن حنبل'' حبنلی مذ ہب کے امام ( متو فی ۲۴۱ ھ) اپنے زمانے میں اس مکتب کے پیشوا اور پیشر و شما ر کئے جاتے تھے، یہ مکتب ،اہل حد یث ( اخبار یین عا مہ) کے مکتب کے مانند ہے: ان لو گو ں کارو ایات
____________________
(۱)سیرہ ٔ ابن ہشام ، ص ۳۴۱،۳۴۲ ،اورڈاکٹرمحمد حمیدﷲ مجموعة الوثائق السیاسةج۱،ص۷.(۲)اشعری '' مقا لات الاسلامیین و اختلاف المصلین '' ج ۱، ص ۳۴، ۳۹ اور ابن حزم '' الفصل فی الملل والاہواء والنحل '' ج ۲، ص ۱۱۱ اور احمد امین '' فجر الاسلام ''.
کی حفا ظت وپا سدا ری نیز ان کے نقل کر نے کے علا وہ کوئی کام نہ تھااوران کے مطا لب میں تد بر اور غور خوض کرنے نیزصحیح کو غلط سے جدا کرنے سے انھیںکوئی تعلق نہ تھا ،اس طرح کی جہت گیر ی کو آخری زمانوں میں ''سلفیہ'' کہتے ہیں، اور فقہ میں اہل سنت کے حنبلی مذہب والے میں اس روش کی پیر وی کرتے ہیں، وہ لوگ دینی مسا ئل میں رائے و نظر کو حرام( سبب و علت کے بارے میں ) سوال کو بدعت اور تحقیق اور استد لال کو بدعت پرستی اورہوا پر ستوں کے مقا بلے میں عقب نشینی جانتے ہیں، اس گروہ نے اپنی سا ری طاقت سنت کے تعقل وتفکرسے خالی درس و بحث پر وقف کر دی اوراس کو سنت کی پیر وی کرنااوراس کے علاوہ کو ''بد عت پرستی'' کہتے ہیں۔
ان کی سب سے زیادہ اور عظیم تر ین کو شش و تلا ش یہ ہے کہ اعتقا دی مسا ئل سے مر بو ط احا دیث کی تدوین اور جمع بندی کرکے اس کے الفا ظ و کلما ت اور اسنا د کی شر ح کریں جیسا کہ بخا ر ی ، احمد ابن حنبل ، ابن خز یمہ، بیہقی اور ابن بطّہ نے کیا ہے، وہ یہاںتک آگے بڑھ گئے کہ عقید تی مسا ئل میں علم کلا م اور عقلی نظر یا ت کو حرا م قراردے دیا،ان میں سے بعض نے اس سلسلہ میں مخصوص رسا لہ بھی تد وین کیا ، جیسے ابن قدامہ نے''تحریم النظر فی علم الکلا م''نا می رسا لہ تحریر کیا ہے۔
احمد ابن حنبل نے کہا ہے: اہل کلام کبھی کا میاب نہیں ہو ں گے ، ممکن نہیں کہ کوئی کلام یا کلامی نظر یہ کا حامل ہو اور اس کے دل میں مکر و حیلہ نہ ہو،اس نے متکلمین کی اس درجہ بد گو ئی کی کہ حا رث محا سبی جیسے (زا ہد و پرہیز گا ر) انسا ن سے بھی دور ہو گیا اور اس سے کنا رہ کشی اختیا ر کر لی، کیو نکہ اس نے بد عت پرست افراد کی رد میں کتا ب تصنیف کی تھی احمد نے اس سے کہا : تم پر وا ئے ہو! کیا تم پہلے ان کی بد عتوں کا ذکر نہیں کروگے تاکہ بعد میں اس کی رد کر و؟ کیا تم اس نوشتہ سے لوگوں کو بد عتوں کا مطا لعہ اور شبہو ں میں غو ر و فکر کرنے پر مجبور نہیں کروگے یہ بذات خود ان لو گو ں کو تلا ش و جستجو اورفکرونظر کی دعوت دینا ہے۔
احمد بن حنبل نے یہ بھی کہا ہے: علما ئے کلا م ز ند یق اور تخریب کا ر ہیں۔
زعفرا نی کہتا ہے :شا فعی نے کہا : اہل کلام کے بارے میں میرا حکم یہ ہے کہ انھیں کھجور کی شاخ سے زدو کوب کرکے عشا ئر اور قبا ئل کے درمیا ن گھما ئیں اور کہیں: یہ سزا اس شخص کی ہے جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر علم کلام سے وابستہ ہوگیا ہے!
تمام اہل حدیث سلفیو ں(اخبار یین عا مہ) کا اس سلسلہ میں متفقہ فیصلہ ہے اور متکلمین کے مقا بل ان کے عمل کی شد ت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا لوگوں نے نقل کیا ہے، یہ لو گ کہتے ہیں : پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحا ب باوجو د یکہ حقائق کے سب سے زیا دہ عا لم اور گفتا ر میں دوسرو ں سے زیا دہ محکم تھے، انہوں نے عقائد سے متعلق با ت کر نے میں اجتنا ب نہیں کیا مگر صرف اس لئے کہ وہ جا نتے تھے کہ کلام سے شر و فسا د پیدا ہوگا۔ یہی و جہ ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک ہی جملے کی تین با ر تکرا ر کی اور فر مایا :
(هلک المتعمقون، هلک المتعمقون ،هلک المتعمقون )
غو ر وخو ض کر نے وا لے ہلا ک ہو گئے، غو ر وخو ض کر نے وا لے ہلا ک ہو گئے، غو ر وخو ض کر نے والے ہلا ک ہو گئے، یعنی (دینی) مسا ئل گہرائی کے ساتھ غور و فکر کر نے والے ہلا ک ہوگئے!
یہ گروہ(اخبا ریین عا مہ) عقیدہ میں تجسیم اور تشبیہ(یعنی خدا کے جسم اور شبا ہت) کا قائل ہے ، '' ْقدر'' اور سر نوشت کے ناقابل تغییر ہونے اور انسا ن کے مسلو ب الا را دہ ہونے کا معتقدہے۔( ۱ )
یہ لو گ عقا ئد میں تقلید کو جا ئز جا نتے ہیں اور اس کے سلسلہ میں را ئے و نظر کو جیسا کہ گز ر چکا ہے حرام سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر احمد محمود صبحی فر ماتے ہیں:
'' با وجو د یکہ عقا ئد میں تقلید- عبد ﷲ بن حسن عنبری، حشویہ اور تعلیمیہ( ۲ ) کے نظریہ کے بر خلا ف نہ ممکن ہے اور نہ جائز ہے،یہی نظریہ ''محصل '' میں فخر رازی کا ہے( ۳ )
اورجمہو ر کا نظریہ یہ ہے کہ عقائد میں تقلیدجائز نہیں ہے اور استاد ابو اسحا ق نے ''شرح التر تیب'' میں اس کی نسبت اجماع اہل حق اور اس کے علاوہ کی طرف دی ہے اور امام الحرمین نے کتاب''الشامل'' میں کہا ہے کہ حنبلیوں کے علا وہ کو ئی بھی عقائد میں تقلید کا قائل نہیں ہے ، اس کے با وجود ، امام شو کا نی نے لو گو ں پر عقائد میں غور و فکر کو واجب جاننے کو''تکلیف مالایطاق'' (ایسی تکلیف جو قدرت و توانائی سے باہر ہو) سے تعبیر کیا ہے، وہ بزرگان دین کے نظریات اور اقوال پیش کرنے کے بعد کہتے ہیں: خدا کی پناہ !یہ کتنی عجیب و غریب باتیں ہیں یقیناً یہ ، لوگوں کے حق میں بہت بڑا ظلم ہے کہ امت مرحومہ کو ایسی چیز کا مکلف بنایا جائے جس کی ان میں قدرت نہیں ہے،(کیا ا یسا نہیں ہے ) وہی صحا بہ کا حملی اور تقلیدی ایمان جو اجتہا د و نظر کی منزل تک نہیں پہنچے تھے، بلکہ اس سے نزدیک بھی نہیں ہوئے تھے ، ان کے لئے کافی ہو ؟۔
____________________
(۱)صابونی ؛ ابو عثمان اسماعیل ؛رسالة عقیدةالسلف و اصحاب الحدیث(فی الرسائل المنیرة).
(۲)آمری؛ ''الاحکام فی اصول الاحکام'' ،ج۴ ، ص ۳۰۰.
(۳)شوکانی: '' ارشاد الفحول '' ص۲۶۶-۲۶۷.
انھوں نے اس سلسلے میں نظر دینے کو بہت سارے لو گو ں پر حرا م اور اس کو گمرا ہی اور نا دانی میں شما ر کیا ہے ۔( ۱ )
اس لحا ظ سے ان کے نز دیک علم منطق بھی حرا م ہے اور ان کے نزدیک منطق انسانی شنا خت اور معرفت تک رسا ئی کی رو ش بھی شما ر نہیں ہو تی ہے، با وجودیکہ علم منطق ایک مشہو ر ترین اور قدیم تر ین مقیاس و معیا ر ہے یہ ایک ایسا علم ہے جس کو ارسطو نے'' ار غنو ن'' نامی کتاب میں تد وین کیا ہے اور اس کا نام علم سنجش و میز ان رکھا ہے۔
اس روش کو اپنا نے والوں کی نظر میں تنہا علم منطق ذہن کو خطا و غلط فہمی سے محفو ظ رکھنے کے لئے کا فی نہیں ہے ،یہ لوگ کہتے ہیں بہت سارے اسلامی مفکرین جیسے کندی .فا رابی، ابن سینا ، امام غزالی ، ابن ماجہ ، ابن طفیل اور ابن رشد علم منطق میں ممتا ز حیثیت کے مالک ہیں، لیکن آرا ء وافکا ر اور نظریاتمیں آپس میں شد ید اور بنیا دی اختلا فات کا شکا ر ہو گئے ہیں،لہٰذا منطق حق و با طل کی میزان نہیں ہے ۔
البتہ آخری دورمیں اس گروہ کا موقف علم منطق اور علم کلا م کے مقابلہ میں بہت نرم ہو گیا تھا جیسے ابن تیمیہ کے موقف کو علم کلام کے مقا بل مضطرب دیکھتے ہیں ،وہ علم کلام کو کلی طور پر حرا م نہیں کرتا بلکہ اگر ضرو رت اقتضا ء کرے اور کلا م عقلی اور شرعی دلائل پر مستند ہو اور تخریب کا روں، زند یقوں اور ملحدوں کے شبہو ں کو جدا کرنے کا سبب ہو توا سے جائز سمجھتا ہے۔( ۲ )
اس کے با وجود اس نے منطق کو حرا م کیا اور اس کی ردّ میں '' رسا لة الر د علیٰ المنطقین'' نا می رسا لہ لکھا ہے: اور اس کے پیرو کہتے ہیں:'' ڈیکا رٹ فر انسیسی''(۱۵۹۶۔۱۶۵۰ئ) نے خطا وصوا ب کی تشخیص کے لئے ارسطا طا لیس کی منطق کے بجا ئے ایک نئی میزا ن اور معیا ر اخترا ع کیا اور تا کید کی کہ اگر انسا ن اپنے تفکر میں قدم بہ قدم اس کے اختر اعی مقیا س کو اپنا ئے تو صواب کے علا وہ کو ئی اور راہ نہیں پا ئے گا'' ڈکا رٹ'' کی رو ش کا استعمال کر نا یقین آور نتیجہ دیتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا اور دورمعاصرمیں ڈکا رٹ کی روش سے جو امیدیں جاگیں تھیں ان کا حال بھی منطق ارسطو سے پائی جانے والی امیدوںکی طرح رہا اور میلاد مسیح سے لے کر اب تک کے موضوع بحث مسائل ویسے کے ویسے پڑے رہ گئے۔( ۳ )
____________________
(۱) امام جوینی: '' الار شاد الی قواطع الادلة '' ص۲۵، غزالی '' الجام العوام عن العلم الکلام '' ص ۶۶، ۶۷.ڈاکٹر احمد محمود صبحی : '' فی علم الکلام'' مقدمہ ٔ جلد اول
(۲)ابن تیمیہ :''مجموع الفتاوی ''ج۳ ،ص ۳۰۶ ، ۳۰۷.(۳)ڈاکٹر عبد الحلیم محمود : '' التوحید الخالص'' ، ص ۵تا ۲۰.
یہ و ہی چیز ہے جس کے باعث بہت سارے پہلے کے مسلما ن مفکر ین منجملہ امام غزا لی(۴۵۰۔۵۰۵ھ) روش عقلی کے ترک کر نے اور اسے مطر ود قرار دینے کے قا ئل ہوئے ، غز الی اپنی کتا ب ( تھا فة الفلاسفہ) میں عقلی دلا ئل سے فلسفیوں کے آراء و خیا لا ت کو باطل اور رد کرتا ہے ، غزالی کی اس کتاب میں دقت ا س بات کی گواہ ہے کہ وہ عقل جو کہ دلا ئل کا مبنیٰ ہے، وہی عقل ہے جو ان سب کو برباد کر دیتی ہے۔
غزالی ثابت کرتاہے کہ عالم الٰہیات اور اخلا ق میں انسا نی عقل سے ظن و گمان کے علاوہ کچھ حا صل ہونے والا نہیں ہے۔
اسلامی فلسفی ابن رشد اند لسی(متوفی ۔۵۹۵ھ) نے اپنی کتاب ( تھا فةالتہافت) میں غزا لی کے آراء و خیا لات کی رد کی ہے ، ابن رشد وہ شخص ہے جو اثبا ت کرتا ہے کہ عقل صریح اور نقل صحیح کے درمیا ن کسی قسم کا کوئی تعا رض نہیں ہے ، اوریہ بات ا س کی کتاب (فصل المقال بین الحکمة و الشر یعة من الا تصا ل) سے واضح ہو تی ہے ، حیرت انگیز یہ ہے کہ وہ اس موقف میں '' ابن تیمیہ'' کے ساتھ اپنی کتاب ( عقل صریح کی نقل صحیح سے مو افقت) میں ایک نتیجہ پر پہنچے ہیں۔
پھر ابن تیمیہ کے دو نوں موقف: '' عقلی روش سے مخالفت اور عقل صریح کے حکم سے موافقت''کے درمیان جمع کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ نہیں معلوم ۔
مکتب خلفا ء کے اہل حدیث اور مکتب اہل بیت کے اخباریوں کی روش ؛ نصوص شر عی،آیات وروا یات کے ظواہر کی پیروی کرنا اوررائے و قیا س سے حتی الامکان اجتناب کرنا ہے۔( ۱ ) ( سلفی مکتب) یا اہل حدیث کا مر کز اس وقت جز یرة العر ب (نجد کا علا قہ) ہے نیز ان کے کچھ گروہ عرا ق، شام اور مصر میں بھی پا ئے جاتے ہیں۔( ۲ )
ب: خالص عقلی مکتب
اس مکتب کے ماننے وا لے عقل انسا نی کی عظمت و شان پر تکیہ کر تے ہو ئے، شنا خت و معر فت کے اسباب و وسا ئل کے مانند، دوسروں سے ممتاز اور الگ ہیں ، یہ لوگ اسلامی نقطہ نظر سے ''مکتب رائے''کے ماننے والے اور عقیدہ میں ''معتز لہ '' کہلاتے ہیں ۔
____________________
(۱) شیخ مفید ، '' اوائل المقالات ''؛سیوطی'' صون المنطق والکلام عن علمی المنطق والکلام'' ص ۲۵۲.شوکانی : ارشاد الفحول ؛ ص ۲۰۲ ؛ علی سامی النشار : ''مناھج البحث عند مفکری الاسلام''ص ۱۹۴ تا ۱۹۵،علی حسین الجابری ،الفکرالسلفی عند الاثنی عشر یہ ،ص ۱۵۴، ۱۶۷، ۲۰۴ ، ۲۴۰ ، ۴۲۴، ۴۳۹ .(۲)قاسمی '' تاریخ الجہمیہ والمعتزلة ''ص ۵۶۔ ۵۷.
اس مکتب کی پیدائش تاریخ اسلام کے ابتدا ئی دور میں ہوئی ہے ، سب سے پہلے مکتب اعتزال کی بنیاد'' واصل ابن عطا( ۸۰ھ، ۱۳۱ ھ) اور اس کے ہم کلا س '' عمر و بن عبید''( ۸۰ ھ۔ ۱۴۴ھ) منصور دوا نقی کے معاصر نے ڈالی ، اس کے بعد مامون عباسی کے وزیر'' ابی داؤد''اور قاضی عبد الجبا ر بن احمدہمدا نی،متوفی ۴۱۵''جیسے کچھ پیشوا اس مکتب نے پیدا کئے اس گروہ کے بزرگوں میں '' نظّا م''''ابو ہذ یل علاّف''''جا حظ'' اور جبا ئیان کا نام لیا جا سکتا ہے۔
اس نظر یہ نے انسا نی عقل کو بہت اہمیت دی ،خدا وند سبحا ن اور اس کے صفات کی شناخت اور معرفت میں اسے اہم ترین اور قوی ترین شما ر کرتا ہے، شریعت اسلامی کا ادراک اور اس کی تطبیق و موا زنہ اس گروہ کی نگاہ میں ، عقل انسا نی کے بغیر انجام نہیں پا سکتا۔
یہ مکتب ( معتز لہ) ہمارے زمانے میں اس نام سے اپنے پیرو اور یار ویاور نہیں رکھتا صرف ا ن کے بعض افکار'' زید یہ'' اور ابا ضیہ فرقے میں دا خل ہو گئے ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ'' معتزلہ'' کے ساتھ بعض افکار ونظریات میں شر یک ہیں اسی طرح '' معتز لہ'' شیعہ اثنا عشری اور اسما علیہ کے ساتھ بعض جو انب کے لحاظ سے ایک ہیں ،اہل حدیث( اخباریین عا مہ) نے'' معتزلہ'' کواس لحا ظ سے کہ ارادہ اور انتخاب میں انسان کی آزا دی کے قا ئل ہیں'' قدر یہ'' کالقب دیا ہے۔
عقائد میں ان کی سب سے اہم کتاب'' شر ح الاصول الخمسة'' قا ضی عبد الجبا ر معتزلی کی تا لیف اور ''رسائل العدل والتو حید'' ہے جو کہ معتز لہ کے رہبروں کے ایک گروہ جیسے حسن بصری ، قاسم رسی اور عبد الجبا ر بن احمد کی تالیف کردہ کتاب ہے۔
معتزلہ ایسے تھے کہ جب بھی ایسی قرا نی آیات نیز مروی سنت سے رو برو ہو تے تھے جو ان کے عقائد کے بر خلا ف ہو تی تھی اس کی تا ویل کرتے تھے اسی لئے انھیں '' مکتب تاویل'' کے ماننے والوں میں شما ر کیا جاتاہے، اس کے با وجود ان لوگوں نے اسلام کیلئے عظیم خد متیں انجام دی ہیں اور عباسی دور کے آغا ز میں جب کہ اسلام کے خلاف زبردست فکری اور ثقا فتی یلغا ر تھی اس کے مقا بلہ کے لئے اٹھ کھڑ ے ہوئے ، بعض خلفاء جیسے'' مامون'' اور'' معتصم ''ان سے منسلک ہو گئے ، لیکن کچھ دنوں بعد ہی'' متو کل'' کے زمانے میں قضیہ برعکس ہو گیا اور ان کے نقصا ن پر تمام ہو ا اور کفر و گمرا ہی اور فسق کے احکا م یکے بعد دیگرے ان کے خلا ف صادر ہوئے، بالکل اسی طرح جس طرح خود یہ لوگ درباروں پر اپنے غلبہ و اقتدار کے زمانے میں اپنے مخالفین کے ساتھ کرتے تھے اور جو ان کے آراء و نظریات کوقبول نہیں کرتے تھے انھیں اذیت و آزار دیتے تھے۔
اس کی مزید وضاحت معتزلہ کے متعلق جد ید اور قدیم تا لیفا ت میں ملا حظہ کیجئے ۔( ۱ )
فرقۂ معتز لہ حسب ذیل پانچ اصول سے معروف و مشہور ہے :
۱۔توحید، اس معنی میں کہ خدا وند عالم مخلو قین کے صفات سے منزہ ہے اور نگا ہوں سے خدا کو دیکھنا بطور مطلق ممکن نہیں ہے ۔
۲۔ عدل، یعنی خدا وند سبحا ن نے اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا ہے اور اپنی مخلو قات کو گناہ کر نے پر مجبور نہیں کرتا ہے
۳۔ ''المنز لة بین المنز لتین''
یعنی جو گناہ کبیرہ انجام دیتا ہے نہ مو من ہے نہ کافر بلکہ فا سق ہے۔
۴۔ وعدو وعید، یعنی خدا پر واجب ہے کہ جو وعدہ ( بہشت کی خو شخبری) اور وعید ( جہنم سے ڈرا نا) مومنین اور کا فرین سے کیا ہے اسے وفا کرے۔
۵۔ امر با لمعروف اور نہی عن المنکر، یعنی ظالم حکام جو اپنے ظلم سے باز نہیں آ تے ،ان کی مخا لفت وا جب ہے۔( ۲ )
مکتب اشعر ی :ما تر یدی یا اہل سنت میں متوسط راہ
'' مکتب اشعر ی'' کہ آج زیا دہ تر اہل سنت اسی مکتب کے ہم خیال ہیں،'' معتزلہ مکتب'' اور اہل حدیث کے درمیان کا راستہ ہے ، اس کے بانی شیخ ابو الحسن اشعر ی(متوفی ۳۲۴ ھ ) خودابتدا میں ( چا لیس سال تک) معتز لی مذ ہب رکھتے تھے ،لیکن تقریبا ۳۰۰ ھ کے آس پاس جا مع بصرہ کے منبر پر جا کر مذ ہب اعتزا ل سے بیزا ری اور مذہب سنت وجما عت کی طر ف لوٹنے کا اعلان کیا اور اس بات کی کوشش کی کہ ایک میا نہ اور معتدل روش جو کہ معتزلہ کی عقلی روش اور اہل حد یث کی نقلی روش سے مرکب ہو ، لوگوں کے درمیان عام
____________________
(۱)زھدی حسن جار ﷲ:( المعتز لة) طبع بیروت، دار الا ھلےة للنشر و التو زیع، ۱۹۷۴ ئ.
(۲) قاسم رسی،'' رسا ئل العدل و التو حید و نفی التشبیہ عن ﷲ الوا حد الصمد'' ج،۱،ص ۱۰۵۔
کریں، وہ اسی تگ ودو میں لگ گئے، تا کہ مکتب اہل حدیث کو تقو یت پہنچائیں اور اس کی تائید و نصرت کریں، لیکن یہ کام معتزلہ کی اسی بروش یعنی : عقلی اور بر ہا نی استد لا ل سے انجام دیاکرتے تھے اس وجہ سے معتز لہ اور اہل حدیث کے نز دیک مردود و مطرود ہو گئے اور دونو ں گر وہوں میں سے ہر ایک اب تک اہم اور اساسی اعترا ضا ت وارد کر کے ا ن کی روش کو انحرا فی اور گمراہ کن جانتا ہے، یہا ں تک کہ ان کے بعض شد ت پسند وں نے ان کے کفر کا فتویٰ د ے دیا ۔
ایک دوسرا عالم جو کہ اشعری کا معاصر تھا ، بغیر اس کے کہ اس سے کو ئی را بطہ اورتعلق ہو،اس بات کی کوشش کی کہ اسی راہ وروش کو انتخاب کر کے اسے با قی رکھے اور آگے بڑھائے ، وہ ابو منصور ما تر ید ی سمرقندی(متوفی ۳۳۳ھ) ہے وہ بھی اہل سنت کے ایک گروہ کا عقید تی پیشوا ہے، یہ دو نو ں رہبرمجمو عی طور پر آپس میں آراء و نظریات میں اختلا ف بھی رکھتے ہیں بعض لوگو ں نے ان میں سے اہم ترین اختلاف کو گیا رہ تک ذکرکیا ہے ۔( ۱ )
اشعر ی مکتب کی سب سے اہم خصو صیت یہ ہے کہ ایک طرف آیات و روایات کے ظا ہری معنی کی تاویل سے شدت کے ساتھ اجتناب کرتا ہے، دوسری طرف کوشش کرتا ہے کہ''بلا کیف'' کے قول کے ذریعہ یعنی یہ کہ با ری تعا لیٰ کے صفا ت میں کیفیت کا گزر نہیں ہے '' تشبیہ و تجسیم'' کے ہلا کت بار گڈ ھے میں سے فرار کرتا ہے اور'' با لکسب'' کے قول سے یعنی یہ کہ انسان اپنے کردار میں جو کچھ انجام دیتا ہے کسب کے ذریعہ ہے نہ اقدا م کے ذریعہ ''جبر'' کی دلدل میں پھنسنے سے دوری اختیار کر تا ہے، اگر چہ علماء کے ایک گروہ کی نظر میں یہ روش بھی فکری واعتقا دی مسا ئل کے حل کے لئے نا کافی اور ضعیف و ناتواں شمار کی گئی ہے ،'' اشعری مکتب'' نے تدریجا ً اپنے استقلا ل اور ثبات قدم میں اضا فہ کیا ہے اور اہل حدیث ( اخبا ریین عا مہ) کے بالمقابل استقا مت کا مظا ہر ہ کیا اور عا لم اسلام میں پھیل گیا۔( ۲ )
____________________
(۱)دیکھئے: محمد ابو زہر ہ؛ '' تاریخ المذ اھب الاسلا مےة'' قسم الا شا عرہ و الما تر یدےة، آےة ﷲ شیخ جعفر سبحانی ، ا لملل والنحل، ج، ۱،۲، ۴، الفر د بل : ( الفرق الا سلا مےة فی الشما ل الا فر یقی) ص ۱۱۸۔ ۱۳۰، احمد محمود صبحی: ( فی علم الکلا م)
(۲)سبکی : ''الطبقات الشافعیة ج ۳، ص ۳۹۱ الیافعی '' مرآة الجنان '' ج ۳، ص۳۴۳. ابن کثیر ؛ '' البدایة والنہایة '' ج ۱۴، ص ۷۶.
ج:۔ ذو قی و اشر اقی مکتب
بات کا رخ دوسری طرف موڑتے ہیں اور ایک علیحدہ اور جدا گانہ روش کہ جس میں کلامی مسائل جن کا اپنے
محور بحث اور منا قشہ ہے ان سے آزاد ہو کر صو فیوں کے رمزی اور عشقی مسلک کی پیروی کرتے ہیں، یہ مسلک تمام پہلؤوں میں فلسفیو ں اور متکلمین کی روش کا جوکہ عقل و نقل پر استوار ہے، مخا لف رہا ہے.'' منصور حلاج'' (متوفی ۳۰۹ھ) کوبغدا د میں اس مذ ہب کا با نی اور '' امام غزا لی'' کو اس کا عظیم رہبر شمار کیا ہے، غزالی اپنی کتاب''الجام العوا م عن علم الکلا م'' میں کہتا ہے ! یہ راہ '' خواص'' اوربر گز یدہ افراد کی راہ ہے اور اس راہ کے علاوہ( کلام و فلسفہ وغیرہ)''عوام'' اور کمتر در جے وا لوں نیزان لوگو ں کی راہ ہے جن کے اور عوام کے درمیان فرق صرف ادلہ کے جاننے میں ہے اور صرف ادلہّ سے آگا ہی استد لال نہیں ہے۔( ۱ )
بعض محققین نے عقائد اسلامی کے دریا فت کرنے میں امام غزالی اور صو فیوں کی روش کے بارے میں مخصوص کتا ب تا لیف کی ہے ۔( ۲ ) ڈاکٹر صبحی، غزا لی کی راہ و روش کو صحیح درک کر نے کے بعد کہتے ہیں:
اگر چہ غزالی ذا ت خدا وندی کی حقیقت کے بارے میں غو ر و خوض کرنے کو عوام پر حرا م جانتے ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا ان کے متعلق کوئی انکار نہیں کرتا ، لیکن انھوں نے اد بائ، نحو یوں، محد ثین ،فقہاء اور متکلمین کو عوام کی صف میں قرار دیا ہے اور تاویل کو راسخون فی العلم میں محدود و منحصر جا نا ہے اور وہ لوگ ان کی نظر میں اولیا ء ہیں جو معرفت کے دریا میں غر ق اور نفسانی خواہشات سے منزہ ہیں اور یہ عبارت بعض محققین کے اس دعویٰ کی صحت پر خود ہی قر ینہ ہے کہ'' غزا لی'' حکمت اشرا قی و ذوقی وغیرہ... میں ایک مخصوص اور مرموز عقیدہ رکھتے ہیں جو کہ ان کے عام اور آشکار اعتقاد کے مغائر ہے کہ جس کی بنا ء پروہ لوگو ں کے نز دیک حجةالاسلام کی منزل پر فا ئز ہوئے ۔
ڈ اکٹر صبحی سوال کرتے ہیں:
کیا حقیقت میں را سخون فی العلم صرف صو فی حضرا ت ہیں اور فقہا ئ، مفسر ین اور متکلمین حضرات ان سے خارج ہیں؟!
اگر ایسا ہے کہ فن کلام کی پیدا ئش اور اس کے ظاہر ہو نے سے برائیوں میں اضافہ ہوا ہے توکیا یہ استثنائ(صرف صو فیوںکو را سخون فی العلم جاننا ) ان کے لئے ایک خاص مو قع فراہم نہیں کرتا ہے کہ وہ اس خاص موقع سے فائدہ اٹھائیں اور نا روا دعوے اور نازیباگستا خیا ں کریں؟
____________________
(۱)''الجام العوام عن علم الکلام '' ص ۶۶تا ۶۷.
(۲) ڈاکٹر سلیمان دنیا ؛ '' الحقیقة فی نظر الغزالی ''
تصوف فلسفی کے نظر یات جیسے فیض، اشرا ق اوراس کے ( شرع سے) بیگا نہ اصول بہت زیا دہ واضح ہیں،اور ان کا اسلا می عقائد کے سلسلے میں شر و نقصا ن متکلمین کے شرور سے کسی صورت میں کم نہیں ہے۔( ۱ )
لیکن بہر صورت ، اس گروہ نے اسلامی عقائد میں صو فیا نہ طر ز کے کثرت سے آثا ر چھو ڑے ہیں کہ ان کے نمو نوں میں سے ایک نمو نہ'' فتو حات مکیہ'' نامی کتاب ہے۔( ۲ )
د: حسی و تجر بی مکتب( آج کی اصطلا ح میں علمی مکتب)
یہ روش اسلامی فکر میں ایک نئی روش ہے کہ بعض مسلما ن دا نشو روں نے آخری صدی میں ، یو رپ کے معا صرفکر ی رہبر وںکی پیر وی میں اس کو بنایاہے ، اس روش کا اتباع کر نے والے جد ید مصر، ہند، عرا ق اور ان دیگر اسلا می مما لک میں نظر آتے ہیںجو غرب کے استعما ری تمد ن اور عا لم اسلا م پر وارد ہو نے والی فکری امواج سے متاثر ہوگئے ہیں۔
وہ لوگ انسا نی معرفت و شنا خت کے وسا ئل کے بارے میں مخصوص نظر یات رکھتے ہیں، حسی اور تجر بی رو شوں پر مکمل اعتماد کر نا اور پر انی عقلی راہ وروش اور ارسطو ئی منطق کو با لکل چھو ڑ دینا ان کے اہم خصو صیات میں سے ہے. یہ لوگ کو شش کرتے ہیں کہ'' معا رف الٰہی'' کی بحث اور ما وراء الطبیعت مسا ئل کو'' علوم تجربی''کی رو شوں سے اور میدان حس وعمل میں پیشکریں۔( ۳ )
اس جدید کلامی مکتب کے منجملہ آثار میں سے معجز ات کی تفسیر اس دنیا کی ما دی علتوں کے ذریعہ کرنا ہے ، اور نبو ت کی تفسیر انسا نی نبوغ اورخصو صیا ت سے کرنا ہے، بعض محققین نے ان نظر یات کی تحقیق و بر رسی کے لئے مستقل کتا ب تا لیف کی ہے۔( ۴ )
اس نظریہ کے کچھ نمو نے ہمیں '' سرسید احمد خان ہندی'' کے نو شتوں میں ملتے ہیں اگرانھیں اس مکتب کا پیرو نہ ما نیں ، تب بھی وہ ان لو گوں میں سے ضرور ہیں جو اس نظر یہ سے ہمسوئی اور نزدیکی رکھتے ہیں، اس نزدیکی کا
____________________
(۱) ڈاکٹر احمد محمود صبحی ؛ '' فی علم الکلام '' ج ۲، ص۰۴ ۶تا۶۰۶. (۲) شعرانی عبد الوہاب بن احمد ؛ '' الیواقیت والجواہر فی بیان عقاید الاکابر '' سمیع عاطف الزین ؛ '' الصوفیة فی نظر الاسلام '' تیسرا ایڈیشن ، دار الکتاب اللبنانی ، ۱۴۰۵ ھ ، ۱۹۸۵ ئ. (۳)ڈاکٹر عبد الحلیم محمود: '' التو حید الخا لص اوا لا سلا م و العقل'' ، مقدمہ.
(۴)ڈا کٹر عبد الر زّ اق نو فل؛ '' المسلمو ن و العلم الحدیث''. فر ید وجدی؛'' الا سلام فی عصر العلم''.
سبب بھی یہ ہے کہ انھوں نے غرب کے جد ید دا نشو روں کے آراء و نظریات کو قرآن کی تفسیر میں پیش کرکے اوراپنی تفسیر کو ان نظر یات سے پُر کر کے یہ کو شش کی ہے کہ یہ ثا بت کر یں کہ قرآ ن تمام جد ید انکشا فات سے مو ا فق اور ہماہنگ ہے،سر سیداحمد خا ن ہندی بغیر اس کے کہ اپنے نظریئے کے لئے کوئی حد ومر ز مشخص کریں، اوردینی مسا ئل اور جد ید علمی مبا حث میں اپنا ہد ف، روش اور مو ضو ع واضح کریں، ایک جملہ میں کہتے ہیں:'' پو را قرآ ن علوم تجر بی انکشافات سے مو افق اور ہم آہنگ ہے''۔( ۱)
ھ:اہل بیت کا مکتب راہ فطرت
اس مکتب یعنی راہ فطرت کاخمیر، اہل بیت کی تعلیمات میں مو جو د ہے، ان حضرات نے لوگو ں کے لئے بیا ن کیا ہے :'' اسلامی عقائد کا صحیح طریقہ سے سمجھنا انسانی فطرت سے ہم آہنگی اور مطا بقت کے بغیر ممکن نہیں ہے'' اس بیان کی اصل قرآن و سنت میں مو جود ہے ، کیو نکہ قرآ ن کریم جہا ں با طل کا کسی صورت سے گزر نہیں ہے اس میں ذکر ہوا ہے:
(( فطرة ﷲ التی فطر الناس علیها لا تبدیل لخلق ﷲ ذلک الدین القیم و لکن اکثر الناس لایعلمون ) سورہ روم :۳۰.
ﷲ کی وہ فطرت جس پر اس نے انسا نوں کو خلق کیا ہے ، ﷲ کی آفر ینش میں کوئی تغیر اور تبد یلی نہیں ہے ، یہ ہے محکم آئین لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے!
پروردگا ر عا لم نے اس آیت میں اشارہ فرمایا: دینی معارف تک پہنچنے کی سب سے اچھی راہ انسان کی فطر ت سلیم ہے، ایسی فطرت کہ جسے غلط اور فا سد معاشرہ نیز بری تربیت کاما حول بھی بد ل نہیں سکتا اوراسے خواہشات ، جنگ و جدا ل محوا ورنابود نہیں کر سکتے اور اس بات کی علت کہ اکثر لوگ حق و حقیقت کو صحیح طر یقے سے درک نہیں کر سکتے یہ ہے کہ خود خواہی ( خود پسند ی) اور بے جا تعصب نے ان کے نور فطرت کو خا موش کر دیا ہے، اور ان کے اور ﷲ کے واقعی علوم و حقائق کے اور ان کی فطری درک و ہدایت کے درمیا ن طغیا نی اور سرکشی حا ئل ہو گئی ہے اور دونو ں کے درمیا ن فا صلہ ہو گیا ہے۔
____________________
(۱)۔محمود شلو ت '' تفسیر القرآن الکریم'' الا جزاء العشر ة الا ولی'' ص ۱۱ ۔ ۱۴، اقبال لاہو ری: ( احیا ئے تفکر دینی در اسلا م) احمد آرام کا تر جمہ ص ۱۴۷۔۱۵۱ ، سید جمال الدین اسد آبادی: ( العر وة الو ثقیٰ) شمار ہ ۷ ،ص ۳۸۳ ، روم، اٹلی ملا حظہ ہو.
اس معنی کی سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم میں بھی تا کید ہو ئی ہے اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک روایت میں مذ کور ہے :
''کل مولودٍ یو لد علی الفطر ةِ فا بوٰ اه یهو دٰ ا نه او ینصرٰا نه او يُمجسانه' '( ۱ )
ہر بچہ ﷲ کی پا کیزہ فطرت پرپیداہوتاہے یہ تو اس کے ماں باپ ہیں جواسے ( اپنی تربیت سے) یہودی، نصرا نی یا مجو سی بنا دیتے ہیں۔
راہ فطرت کسی صورت عقل و نقل، شہود و اشرا ق ، علمی وتجر بی روش سے استفادہ کے مخا لف نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ یہ راہ شنا خت کے اسباب و وسا ئل میں سے کسی ایک سبب اور وسیلہ میں محدود و منحصر نہیں ہے بلکہ ہر ایک کو اپنی جگہ پر خداوند عا لم کی ہدایت کے مطابق میں استعمال کرتی ہے ، وہ ہدا یت جس کے بارے میں قرآن کریم خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( یمنو ن علیک أن أسلموا قل لاتمنوا علیّ اِسلا مکم بل ﷲ یمن علیکم أن هدا کم للاِیمان اِن کنتم صا دقینَ ) ( ۲ )
(اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم )وہ لوگ تم پر اسلا م لانے کا احسان جتا تے ہیں ، تو ان سے کہہ دو! اپنے اسلام لا نے کا مجھ پر احسان نہ جتا ؤ ، بلکہ خدا تم پر احسان جتا تا ہے کہ اس نے تمھیں ایما ن کی طر ف ہدا یت کی ہے، اگر ایمان کے دعوے میں سچے ہو !
دوسری جگہ فرماتا ہے :( و لولا فضل ﷲ علیکم و رحمته ما زکیٰ منکم من أحدٍ أبدا ) () ( ۳ )
اگر خدا کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہو تی تو تم میں سے کو ئی بھی کبھی پاک نہ ہو تا ۔
اس راہ کا ایک امتیاز اور خصو صیت یہ ہے کہ اس کے ما ننے وا لے کلا می منا ظر ے اور پیچیدہ شکو ک و شبہات میں نہیں الجھتے اور اس سے دور ی اختیا ر کرتے ہیںاور اس سلسلے میں اہل بیت کی ان احا دیث سے استنا د کرتے ہیں جو دشمنی اور جنگ و جدا ل سے رو کتی ہیں، ان کی نظر میں وہ متکلمین جنھیں اس راہ کی تو فیق نہیں ہو ئی ہے ان کے اختلا ف کی تعداد ایک مذ ہب کے اعتقادی مسا ئل میں کبھی کبھی ( تقریبا)سینکڑوں مسائل تک پہنچ جاتی ہے۔( ۴ )
____________________
(۱) صحیح بخاری: کتاب جنائز و کتاب تفسیر ؛ صحیح مسلم : کتاب قدر ، حدیث ۲۲تا ۲۴.مسند احمد : ج ۲، ص ۲۳۳، ۲۷۵، ۲۹۳، ۴۱۰، ۴۸۱، ج۳،ص ۳۵۳؛ صراط الحق: آصف محسنی (۲)سورہ حجرات ۱۷
(۳)سورہ ٔ نور ۲۱.
(۴) علی ابن طاؤوس ، ''کشف المحجة لثمرة الحجة '' ص ۱۱اور ص ۲۰، پریس داروی قم
یہ پا کیزہ '' فطرت'' جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اہل بیت کی روایات میں کبھی ''طینت اور سرشت'' اور کبھی'' عقل طبیعی'' سے تعبیر ہو تی ہے، اس مو ضو ع کی مز ید معلو مات کے لئے اہل بیت کی گرانبہا میرا ث کے محا فظ اور ان کے شیعوں کی حد یث کی کتا بوں کی طرف رجو ع کر سکتے ہیں۔( ۱ )
اسلامی عقا ئد کے بیان میں مکتب اہل بیت کے اصول و مبا نی
عقائد میں ایک مہم ترین بحث اس کے ماخذ و مدارک کی بحث ہے ، اسلامی عقائد کے مدا رک جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے،صرف کتاب خدا وندی اور سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں، لیکن مکتب اہل بیت اور دیگرمکاتب میں بنیا دی فرق یہ ہے کہ مکتب اہل بیت پوری طرح سے اپنے آپ کو ان مدا رک کا تا بع جانتا ہے اور کسی قسم بھی کی خو اہشات ، ہوائے نفس اوردلی جذ با ت اور تعصب کو ان پر مقدم نہیںکرتا اور ان دونوں مر جع سے عقائد حاصل کرنے میں صرف قرآ ن کریم اور روایات رسول اسلام میں اجتہاد کے اصول عامہ کو ملحوظ رکھتا ہے ، ا ن میں سے بعض اصول یہ ہیں:
۱۔ان نصوص و تصر یحا ت کے مقا بلے میں ، جو معا رض سے خالی ہوں یا معارض ہو لیکن نص کے مقا بل استقا مت کی صلا حیت نہ رکھتا ہو، کبھی اجتہا د کو نص پر مقد م نہیں رکھتے اس حال میں کہ بعض ہوا پر ستوں اور نت نئے مکتب بنا نے وا لوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لغو اور بیہودہ تا ویلا ت کے ذریعہ اپنے آپ کو نصوص کی قید سے آزا د کر لیں ،عنقریب اس کے ہم چند نمو نوںکی نشان دہی کریں گے۔
حضرت امام امیر المو منین ـ ''حارث بن حوط'' کے جو اب میں فرما تے ہیں :
''انک لم تعرف الحقّ فتعرف من اتاه و لم تعرف البا طل فتعرف مَن أتا ه ''( ۲ )
تم نے حق ہی کو نہیں پہچا ناکہ اس پر عمل کرنے والوں کو پہچا نو اور تم نے باطل ہی کو نہیں پہچا نا کہ اس پر عمل کر نے والوں کو پہچا نو۔
۲۔ دوسرے لفظوںمیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں: مکتب اہل بیت کے ما ننے وا لے کسی چیز کو نص اوراس روایت پر جو قطعی اور متو اتر ہو مقدم نہیں کرتے اور یہ اسلام کے عقیدہ میں نہایت اہم اصلی ہے ، کیو نکہ عقائد میں ظن و گما ن اور اوہام کا گزر نہیں ہے ، اس پر ان لوگوں کو توجہ دینی چاہیئے جو کہ ''سلفی'' نقطۂ نظر رکھتے ہیں ، نیز
____________________
(۱)کافی کلینی: ترجمہ ، ج۳، ص ۲، باب طینة المؤمن والکافر ، چوتھا ایڈیشن ، اسلامیہ تہران ، ۱۳۹۲ ھ.(۲)نہج البلا غہ، حکمت:۲۶۲:
وہ لوگ جو آحاد اور ضیعف روایات کوعقائد میں قبو ل کرتے ہیں اور اس کا شد ت کے سا تھ دفاع کرتے ہیں ، نیز اسی بنا پر مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں،''سلفی حضرات '' اور اہل سنت کے اخبا ریوں کو تو جہ کر نا چاہئے کہ روایات میں '' حق و باطل اورسچ وجھوٹ ، ناسخ و منسوخ ،عا م و خاص، محکم و متشا بہ حفظ ( حقیقت )ووہم ''سب کچھ پائے جاتے ہیں ۔( ۱ )
بہت جلد ہی اس مو ضو ع کی مز ید شرح و وضا حت پیش کی جائے گی۔
____________________
(۱) نہج البلاغہ : خطبہ ۲۱۰.
۳۔ اسلامی عقائد دو حصّوں پر مشتمل ہیں: ضروری و نظری:
ضروری اسلامی عقائد:
ضروری وہ ہیں جن کا کوئی مسلما ن انکا ر نہیں کرتا مگر یہ کہ دین کے دائرہ سے خارج ہو جائے کیو نکہ ضروری کا شمار ، دین کے بدیہیات وواضحات میں ہو تا ہے جیسے: تو حید ، نبوت اور معا دوغیرہ۔
نظری اسلامی عقائد:
نظری وہ ہیں جو تحقیق و بر ہان ، شاہد و دلیل کا محتا ج ہو اور اس میں صاحبان آراء و مذا ہب کا اختلاف ممکن ہو ، ضروری عقائد کا منکر کافر ہو جاتا ہے لیکن نظری عقائدکے منکر تکفیر سے روکا گیا ہے۔
۴۔ عقیدہ میں قیا س اور استحسان کی کوئی اہمیت نہیں جا نتے ہیں۔
۵۔ حکم صریح عقلی کی حکم صحیح نقلی سے مقافقت پر ایما ن رکھتے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ تمام اوصا ف لازم کی ان دونوں میں ر عایت کی گئی ہو اور کبھی بھی ظن و گمان کو یقین کی جگہ قرار نہیں دیتے وہ لوگ کبھی ضیعف خبر سے استناد نہیں کرتے اور نہ ہی خبر واحد کو صحیح متو اتر کی جگہ اپنا تے ہیں۔
۶۔ ذاتی اجتہا د، خیال بافی اور گمان آفرینی سے عقائد میں اجتناب کرتے ہوئے ان تعبیروں سے جو بدعت شمار ہو تی ہیں کنارہ کشی اختیا ر کر تے ہیں ۔
۷۔ ﷲ کے تمام انبیاء اوربارہ ا ئمہ کو صلوا ت ﷲ اجمعین معصو م جانتے ہیں اور اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے آثار نیز صحیح و معتبر روایات پر ایمان رکھنا وا جب ہے اور مجتہد ین حضرات ان آثا ر میں کبھی درست اور صوا ب کی راہ اختیا ر کرتے ہیں تو کبھی خطا کر جاتے ہیں ، لیکن وہ اجتہا د کی تما م شرطوں کی رعا یت کریں اور اپنی تمام کوششوں اورصلا حیتوں کو بروئے کار لائیں تو معذورقرار پائیں گے ۔
۸۔ امت کے درمیا ن ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں ''محدَّث'' اور'' مُلھَم'' کہتے ہیں : نیز ایسے لوگ بھی ہیں جو صحیح خواب دیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ حقائق تک رسائی حا صل کرتے ہیں ،لیکن یہ ساری باتیں اثبات چاہتی ہیں اور ان کااستعمال ذاتی عقیدہ کی حد تک ہے اوراس پر عمل انفرادی دائرہ سے آگے نہیں بڑھتا۔
۹۔عقائد میں منا ظرہ اور منا قشہ اگر افہا م و تفہیم کے قصد سے آداب تقویٰ کی رعا یت کے ساتھ ہو تو پسند یدہ ہے، لیکن یہ انسان کا فریضہ ہے کہ جو نہیں جانتا اس کے بارے میں کچھ نہ کہے ،بحث ومنا ظرہ اگر ضد،ہٹ دھرمی ، خود نمائی کے ساتھ نا زیبا کلمات اور بد اخلا قی کے ذریعہ ہو تو یہ امر نا پسندیدہ اور قبیح ہے اور اس سے عقیدہ کی حفا ظت کے لئے اجتناب واجب ہے۔
۱۰ ۔ ''بدعت''دین کے نام پر ایک اختراعی اور جعلی چیز ہے جو کہ دین سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ ہی شریعت میں کوئی اصل رکھتی ہے کبھی ایسی چیز کو بھی '' بدعت'' کہہ دیتے ہیں کہ اگر دقت اور غور و خو ض سے کام لیا جائے تو وہ '' بدعت'' نہیں ہے، جیسا کہ بعض ان چیزوں کو جو'' سنت'' نہیں ہیں سنت کہہ دیتے ہیں ، لہٰذا فتویٰ دینے سے پہلے غور و فکر کر نا لا زم ہے۔( ۱ )
۱۱ ۔''تکفیر'' کے بارے میں غور و فکر اور دقت نظر واجب ہے اس لئے کہ جب تک کسی کا کفر خود اس کے قرار یا قطعی بینہ ذریعہ ثابت نہ ہو اس کے بارے میں کفر کا حکم جائیز نہیں ہے ، کیو نکہ( تکفیر) حد شر عی کا با عث ہے اور حد شرعی کے بارے میں فقہی قاعدہ یہ ہے کہ ''اِنَّ الحدود تدرأبالشبھا ت'' حدود شبہات سے بر طرف ہو جاتے ہیں اور دوسروںکو کافر سمجھنا عظیم گنا ہ ہے مگر یہ کہ حق ہو۔
۱۲ ۔ اختلا فی موارد میں '' کتاب، سنت اور عترت'' کی طرف رجوع کرنا واجب ہے جیسا کہ رسو ل خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا ہے اور خدا وند عالم اس کے بارے میں فرما تا ہے:
( و لو ردُّوهُ أِلی الرسو ل و أِلی أولی الأمر منهم لعلمه الذین یستنبطو نه منهم و لولافضل ﷲ علیکم و رحمته لا تَّبعتُمُ الشَّیطان اِلاَّ قلیلا ً ) ( ۲ )
اوراگر( حوادث اور پیش آنے والی باتوں کے سلسلہ میں ) پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور صاحبان امرکی طرف رجوع کریں تو انہیںبنیا دی مسا ئل سے آگا ہی و آشنائی ہو جائے گی ، اگر تم پرخدا کی رحمت اور اس کا فضل نہ ہو تا تو کچھ لوگوں کے علا وہ تم سب کے سب شیطان کی پیروی کرتے۔
____________________
(۱)سید مرتضی علی ابن الحسین الموسوی ( وفات ۴۳۶ ھ ، رسائل الشریف المرتضی ، رسالة الحدود والحقائق.
(۲) نساء ۸۳
۱۳ ۔ خدا وند عالم کے صفات سے متعلق اہل بیت کا نظریہ یہ ہے:
'' خدا وند عالم؛ حی ،قادر اور اس کا علم ذاتی ہے ، یعنی حیات ،قدرت اورعلم عین ذات ِ باری تعا لیٰ ہے، خدا وند سبحان( مشبہّہ اور بد عت گزا روں جیسے ابو ہا شم جبائی کے قول کے بر خلاف) زائد بر ذات صفات و
احوال سے منزہ و مبرا ہے، یہ ایسا نظریہ ہے جس پر تمام اما میہ اور معتز لہ( ما سوا ان لوگو ں کے جن کا ہم نے نام لیا ہے ) اکثر مر جئہ تمام زیدیہ اور اصحا ب حدیث و حکمت کے ایک گروہ کا اتفاق ہے( ۱ ) ان کا اثبا ت و تعطیل کے درمیا ن ایک نظریہ ہے یعنی با و جو د یکہ خدا وند سبحا ن کو زا ئد بر ذات صفات رکھنے سے منزہ جانتے ہیں لیکن ﷲ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات سے متعلق بحث کو ممنوع اور بے فا ئدہ نہیں جانتے ہیں''۔
۱۴ ۔وہ لوگ '' حسن و قبح'' عقلی کے معتقد ہیں اور کہتے ہیں : بعض اشیاء کے '' حسن و قبح'' کا درک کرنا عقل کے نزدیک بد یہی اور آشکار ہے۔
____________________
(۱)شیخ مفید؛'' اوا ئل المقا لات'' ص ۱۸
اہل بیت کی راہ قرآ ن کی راہ ہے
اسلامی عقا ئد میں مکتب اہل بیت کوجب بد یہی معلو مات اور باعظمت یقینیات کے ساتھ موازنہ کیا جاتاہے تو اس کی فوقیت و برتری کی تجلی کچھ زیادہ ہی نمایاںہو جاتی ہے، ہم اس کے کچھ نمو نوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں:
۱ ۔ تو حید کے بارے میں :
توحید کے سلسلے میں اہل بیت کا مکتب قرآن کریم کی تعلیم کی بنیا د پر خدا وند عالم کو مخلوقات سے ہر قسم کی تشبیہ اور مثال و نظیر سے بطور مطلق منزہ قرار دیتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا :
( لیس کمثله شیئ وهو السمیع البصیر ) ( ۱ )
کوئی چیز اس ( خدا ) کے جیسی نہیں ہے اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔
اسی طرح نگا ہوں سے رویت خدا وندی کو قرآن کریم کے الہام کے ذریعہ مردود جانتا ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوا:( لا تد رکه الأبصا روهوید رک الأبصاروهواللّطیف الخبیر ) ( ۲ )
نگا ہیں ( آنکھیں ) اسے نہیں دیکھتیں لیکن وہ تمام آنکھو ں کو دیکھتا ہے اور وہ لطیف و آگا ہ ہے۔
نیز مخلوقات کے صفات سے خدا کی تو صیف کر نا مخلو قات کی طرف سے نا ممکن جا نتا ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوا:
الف ۔( سبحا نه وتعا لیٰ عمّایصفون ) ( ۳ )
جو کچھ وہ تو صیف کرتے ہیں خدا اس سے منزہ اور بر تر ہے!
ب ۔( سبحان ربک ربّ العزّة عمّایصفون ) ( ۴ )
____________________
(۱)شوری ۱۱
(۲) انعام ۱۰۳
(۳) انعام ۱۰۰
(۴)صافات۱۸۰
تمہا را پروردگارپروردگا رِ عزت ان کی تو صیف سے منزہ اور مبرا ہے ۔
۲ ۔عدل کے بارے میں :
مکتب اہل بیت نے خدا سے ہر قسم کے ظلم وستم کی نفی کی ہے اور ذات باری تعا لیٰ کو عد ل مطلق جا نتا ہے،جیسا کہ خدا وند عالم نے فرمایا :
الف۔( اِنّ ﷲ لایظلم مثقال ذرة )
بیشک خدا وند عالم ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ۔
ب۔( ان ﷲ لایظلم الناس شیئاً و لکن الناس أنفسهم یظلمون ) ( ۱ )
بیشک خداوند عا لم لوگوں کے اوپر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنے اوپر کچھ بھی ظلم کرتے ہیں ۔
۳۔ نبوت کے بارے میں :
نبوت کے بارے میں مکتب اہل بیت کا نظریہ یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام مطلقاً معصوم ہیں ، کیونکہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے :
الف: ۔( وما کا ن لنبیٍ أن یغلّ ومن یغلل یأت بماغلّ یوم القیامة ) ( ۲ )
اور کوئی پیغمبر خیا نت نہیں کرتااورجو خیا نت کرے گاقیا مت کے دن جس چیز میں خیانت کی ہے اسے اپنے ہمرا ہ لائے گا۔
ب:۔( قل اِنیّ أخاف اِن عصیت ربیّ عذا ب یومٍ عظیمٍ ) ( ۳ )
( اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم )کہہ دو! میں بھی اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تواس عظیم دن کے عذا ب سے خوف زدہ ہوں۔
ج :۔( ولو تقوَّل علینا بعض الأقا ویلِ)(لاخذ نا منه با لیمین ثُمَّ لقطعنا منه الوتین ) ( ۴ )
اگر وہ (پیغمبر) ہم پر جھوٹا الزام لگا تا تو ہم ا سے قدرت کے ساتھ پکڑ لیتے، پھر اس کے دل کی رگ کو قطع کر دیتے۔
اسی طرح مکتب اہل بیت تمام فر شتوں کو بھی معصوم جا نتا ہے ، کیو نکہ خدا وند عالم نے فرمایا ہے:
____________________
(۱)یونس ۴۴ (۲) آل عمران ۱۶۱ (۳) انعام ۱۵. (۴)حاقہ۴۴۔۴۶
( علیهاملا ئکة غلا ظ شدا دلا یعصو ن ﷲ ماأمر هم ویفعلو ن ما یؤمرون )
اُس ( جہنم ) پر سخت گیر اور درشت مزا ج فرشتے مامور ہیں اور کبھی خدا کی جس کے بارے میں اس نے حکم دیا ہے نا فرما نی نہیں کرتے اور جس پر وہ مامور ہیںاس پر عمل کرتے ہیں۔( ۱ )
۴ ۔امامت کے بارے میں :
مکتب اہل بیت کہتا ہے : امامت یعنی ، پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دینی اور دنیا وی امور میں نیا بت یہ ایک ایسا ﷲ کا عہد و پیمان ہے کہ جو غیر معصوم کو نہیں ملتا ، کیو نکہ ، خدا وند عالم نے فرمایا ہے:
( واِذ ابتلیٰ اِبرا هیم ربُّه بکلما ت فا تمّهنّ قال اِنّی جا علک للناس اِماما ً قال و من ذُرّ یتی قال لا ینا ل عهدی الظّالمین ) ( ۲ )
اور جب ابرا ہیم ـکو ان کے رب ّ نے چند کلمات ( طریقو ں ) سے آزمایا اور وہ بحسن و خوبی اس سے عہدہ بر آہو گئے تو خدا وند عالم نے فر مایا : میں نے تم کو لوگو ں کا امام اور پیشوا قرار دیا ! ابرا ہیم نے عرض کیا : میری ذریت میں بھی اس عہد کو قرار دے گا؟ فر مایا : میرا یہ عہد ظالموں کو نصیب نہیں ہو گا ۔
آیت شریفہ کے (مضمو ن اور ابرا ہیم کے امتحا ن دینے کی کیفیت) سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ تمام رسولوں ، انبیاء اور ائمہ کے خوا ب جھوٹ سے محفو ظ بلکہ صادق ہوتے ہیں اور خدا وند عالم انھیں خواب میں بھی غلطی اور اشتباہ سے محفوظ رکھتا ہے ۔( ۳ )
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ راہ اہل بیت کی قرآن کریم سے مطا بقت اور ہماہنگی کا ایک نمونہ تھا۔
____________________
(۱) تحریم۶
(۲) بقرہ ۱۲۴
(۳) شیخ مفید ، اوائل المقا لا ت، ص ۴۱۔
مکتب اہل بیت میں ''عقل'' کا مقام
مکتب اہل بیت کا نظریہ عقل کے استعمال اور اس کی اہمیت کے متعلق ایک درمیا نی نظریہ ہے جو معتزلہ کی تند روئی اور شدت پسندی سے اور اہل حدیث کے ظاہر بین افراد کی سستی اور جمود سے محفو ظ ہے ۔
شیخ مفید(متوفی ۴۱۳ ھ) کہتے ہیں:
یہ جو بات اما میہ کے مخا لفین کہتے ہیں:'' تمہا رے ائمہ کی امامت پر صر یح اخبار تو اتر کی حد کو نہیں پہنچتے ہیں اور آحاد خبریں حجت نہیں ہیں'' ہمارے مکتب کے لئے ضرر رساں نہیںہے اور ہماری حجت و دلیل کو بے اعتبار نہیںکرتی ، کیو نکہ ہماری خبریں '' عقلی دلا ئل کے ہمراہ ہے ، یعنی وہ دلا ئل ما ضی میں جن کی تفصیل اما موں کی امامت اور ان کے صفا ت کے بارے میں گزر چکی ہے ، وہ دلا ئل (جیسا ہمارے مخا لفین نے تصور کیا ہے) اگر باطل ہوں ، تو '' ائمہ پر نص کے وجوب کے عقلی دلا ئل'' بھی باطل ہو جائیں گے ۔''( ۱ )
اور یہ بھی کہتے ہیں:'' ہم خدا کی مرضی اور اس کی تو فیق سے ، اس کتا ب میں مکتب شیعہ اور مکتب معتزلہ کے درمیا ن فرق اور عدلیہ شیعہ اور عدلیہ معتز لہ کے درمیا ن افترا ق وجدا ئی کے اسباب کا اثبات کریں گے۔''( ۲ )
شیخ صدوق محمدبن با بویہ (متوفی ۳۸۱ ھ) فر ماتے ہیں: '' خدا وند عالم کسی سبب کی سمت دعوت نہیں دیتا مگر یہ کہ اس کی حقا نیت کو عقو ل میں اجاگر کر دے اور اگر اس کی حقانیت کو عقلوں میں اجاگر اور روشن نہ کیا ہو تو دعوت نا روا اور بے جا ہو گی اور حجت نا تمام کہلا ئے گی ، کیو نکہ اشیا ء اپنے اشکال کو جمع کرنے والی اور اپنی ضد کے بارے میں خبر دینے وا لی ہیں، لہٰذا اگر عقل میں رسو لوں کے انکا ر کی جگہ اور گنجائش ہو تی تو خداوندعالم کسی پیغمبر کو ہرگزمبعوث نہ کرتا۔ ''( ۳ )
____________________
(۱)شیخ مفید؛ '' المسائل الجارودیہ'' ص۴۶، طبع، شیخ مفید،ہزار سالہ عالمیکانفرنس ،قم، ۱۴۱۳ھ
(۲)شیخ مفید؛ ''اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات''
(۳) ابن بابویہ ؛ ''کمال الدین و تمام النعمة '' طبع سنگی ، تہران ، ۱۳۰۱ ھ
مزید کہتے ہیں: اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ کہا جا ئے : ہم نے خدا کو اس کی تا ئید و نصرت سے پہچانا، کیو نکہ ، اگر خدا کو اپنی عقل کے ذریعہ پہچا نا تو وہی عقل عطا کر نے والا ہے اور اگر ہم نے اسے انبیائ، رسولوں اور اس کی حجتوں کے ذریعہ پہچا نا تو اسی نے تمام انبیاء رسو لوں اور ائمہ کا انتخاب کیا ہے اور اگر اپنے نفس کے ذریعہ معر فت حا صل کی تو اس کا بھی وجو د میں لا نے وا لا خدا وند ذوالجلا ل ہے لہٰذا اسی کے ذریعہ ہم نے اس کو پہچا نا۔ ''( ۱ )
اس طرح سے عقل کا استعمال اور اس سے استفا دہ کر نا ، یعنی اس کا کتاب ، سنت اور ائمہ معصو مین کے ہمرا ہ کر نا اہل بیت کی رو ش کے علاوہ کہیں کسی دوسری اسلا می روش میں نہیں ملتا ہے۔
امام جعفر صادق ـاس سلسلہ میں فر ماتے ہیں :''لولا الله ماعرفنا ولولانحن ماعرف الله '' اگر خدا نہ ہو تا تو ہم پہچا نے نہیںجاتے اور اگر ہم نہ ہوتے تو خدا پہچا نا نہیں جاتا۔( ۲ )
اس حدیث کی شرح میں شیخ صدوق کہتے ہیں: یعنی اگر خدا کی حجتیں نہ ہو تیں تو خدا جیسا کہ وہ مستحق اور سزا وار ہے پہچا نا نہیں جاتا اور اگر خدا نہ ہو تا تو خدا کی حجتیں پہچا نی نہیں جاتیں۔''( ۳ )
کلا می منا ظرہ اور اہل بیت ـ کا نظریہ
گزشتہ بحثو ں میں ان لوگو ں کے نظر یہ سے آگا ہ ہوچکے جو دین میں بطور مطلق ہر طرح کے بحث و مناظرہ کو ممنو ع جانتے ہیں نیز ان لو گوں کے نظریہ سے آشنا ہو ئے جو معتدل رہتے ہوئے اقسام منا ظرہ کے درمیان تفصیل اور جدائی کے قا ئل ہیں۔
اہل بیت کی روش بھی اس سلسلے میں معتدل اوردر میا نی ہے، وہ لوگ کتاب خدا وند ی کی پیر وی میں جدال کی دو قسم کرتے ہیں:
۱ ۔جدا ل حسن
۲ ۔ جدا ل قبیح
خدا وند متعال فرما تا ہے:
____________________
(۱) توحید شیخ صدوق ؛ ص ۲۹۰.(۲)توحید صدو ق، ص۲۹۰(۳)توحید صدو ق، ص۲۹۰
( اُدع اِلیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلهم با لتی هی احسن اِنَّ ربّک هواعلم بمن ضلَّ عن سبیله وهوأعلم بالمهتدین )
( لوگو ں کو) حکمت اور نیک مو عظہ کے ذریعہ سے اپنے ربّ کے راستہ کی طرف دعوت دو اور ان سے نیک روش سے جدا ل و منا ظرہ کرو تمہا را ربّ ان لوگوں کے حال سے جو اس کی راہ سے بھٹک چکے اور گمراہ ہوگئے ہیں زیا دہ وا قف ہے اور وہی ہدا یت یا فتہ افراد کو بہتر جانتا ہے۔( ۱ )
اس سلسلہ میں شیخ مفید فر ماتے ہیں:
( ہمارے ائمہ)صادقین نے اپنے شیعوں کے ایک گروہ کو حکم دیا کہ وہ اظہا ر حق سے بازرہیں اوراپنا تحفظ کریں'' اور حق کو اپنے اندر دین کے دشمنو ں سے چھپا ئے رکھیں اوران سے ملا قات کے وقت اس طرح برتاؤ کریں کہ مخا لف ہونے کا شبہ ان کے ذہن سے نکل جائے، کیو نکہ یہ روش اس گروہ کے حا ل کے لئے زیا دہ مفید تھی ، نیز اسی حا ل میں شیعوں کے ایک دوسرے گروہ کو حکم دیا کہ مخا لفین سے بحث و مناظرہ کرکے انھیں حق کی سمت دعوت دیں ،کیو نکہ ہما رے ائمہ جا نتے تھے کہ اس طریقہ سے انھیں کو ئی نقصان نہیں پہنچے گا۔''( ۲ )
شیخ مفید کی اپنی گفتگو میں '' صا دقین'' سے مراد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عترت سے '' منصوص ائمہ'' ہیں کہ خداوندعالم نے اپنی کتا ب میں جن کی طہارت کی گو ا ہی دی اور انھیں گناہ و معصیت سے پاک و پاکیزہ قرار دیا اور انھیں مخا طب قرار دے کر فر مایا ہے:
( اِنّما یر ید ﷲ لیذ هب عنکم الرّجس أهل البیت ویطهِّرَکم تطهیرا ً ) ( ۳ )
خدا وند عالم کا صرف یہ ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھے اور تمھیں پاک و پاکیز ہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
خدا وند عالم نے امت اسلامی کو بھی تقوائے الٰہی اور عقیدہ و عمل میں ان حضرات کی ہمرا ہی کی طرف دعوت دیتے ہو ئے فر ماتا ہے:
( یا أیها الذ ین آ منوا اتّقوا ﷲ وکونو امع الصَّا دقین ) ( ۴ )
اے اہل ایمان ! تقوائے الٰہی اختیا ر کرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ!
____________________
(۱)نحل ۱۲۵(۲)شیخ مفید ؛'' تصحیح الاعتقاد ''ص ۶۶.(۳) احزاب ۳۳ .(۴)توبہ ۱۱۹.
بیشک وہ ایسے امام ہیں جن کے اسما ئے گرامی کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے صرا حت کے ساتھ بیان فر مایا اور ہر ایک امام نے اپنے بعد والے امام کا بارہ اماموں تک واضح اور آشکار تعار ف کرا یا ہے، ان کے اولین وآخرین کے نام اور عدد پر نص اورصراحت رسول گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت میں مو جو د ہے ، جو چا ہے رجو ع کر سکتا ہے۔( ۱ )
عقل وحی کی محتا ج ہے
منجملہ ان باتوں کے جو عقل و شرع کے درمیان ملا زمہ کے متعلق مکتب اہل بیت میں تا کید کرتی ہیں وہ صدوق رحمة ﷲ علیہ کی یہ بات ہے ،وہ کہتے ہیں:( عقل وحی کی محتا ج ہے) لیکن حضرت ابرا ہیم خلیل کا استدلال کہ ز ہرہ کی طرف نظر کر کے اس کے بعد چا ند اس کے بعد سورج کی طرف نظر کرکے ان کے ڈوبنے کے وقت کہا :
( یا قوم اِنّی بریٔ ممّا تشرکون ) ( ۲ )
اے میری قوم! میں ان شر کا ء سے جو تم خدا کے لئے قرار دیتے ہو بیزار ہوں۔
یہ کلام اس وجہ سے تھا کہ آپ ملہم نبی اور الہام خدا وندی کے ذریعہ مبعوث پیغمبر تھے، کیو نکہ خدا وند عالم نے خود ہی فر مایا ہے:
( و تلک حُجَّتُنا ئَ اتینا ها اِبرا هیم علیٰ قو مه ) ( ۳ )
یہ ہمارے دلا ئل تھے جن کو ہم نے ابرا ہیم کو ان کی قوم کے مقا بلہ میں عطا کیا ۔
اور تما م لوگ ابرا ہیم کے مانند ( غیبی الہام کے مالک) نہیں ہیں ، اگر ہم تو حید کی شنا خت میں خدا کی نصرت اوراس کی شناسائی کرا نے سے بے نیاز ہو تے اور عقلی شنا خت ہمارے لئے کا فی ہو تی تو خدا وند سبحان پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نہیں فرماتا:
( فا علم ٔانّه لا اِله اِلاَّ ﷲ ) ( ۴ )
پھر جان لو کہ ﷲ کے علا وہ کو ئی معبو د نہیں ہے۔
ابن بابویہ کی مراد یہ ہے کہ عقل بغیر وحی کی نصرت و تا ئید کے جیسا خدا کو پہچا ننا چاہئے نہیں پہچا ن سکتی ، نہ
____________________
(۱)ابن عباس،جوہری '' مقتضب الاثر فی ا لنص علی عدد الائمہ الاثنی عشر''؛ابن طولون الدمشقی، الشذرات الذھبیہ فی ائمہ الاثناء عشریہ''؛المفید، المسائل الجارودےة ،ص ۴۵، ۴۶.طبع ہزار سالہ شیخ مفید کانفرس قم،۱۳ ۱۴ھ ؛''اثبات الھداةبالنصوص والمعجزات''شیخ حر عاملی تحقیق: ابو طالب تجلیل طبع قم، ۱۴۰۱ھ ، ملاحظہ ہو
(۲) سورہ انعام ۷۸.(۳)سورہ انعام ۸۳. (۴)سورہ محمد ۱۹.
یہ کہ عقلی نتا ئج بے اعتبار ہیں۔( ۱ )
یہی مطلب شیخ مفید کی بات کا بھی ہے کہ فر ماتے ہیں : عقل مقد مات اور نتا ئج میں وحی کی محتا ج ہے۔( ۲ )
لیکن اسی حال میں ،وہ خو د عقل کے استعما ل کو عقائد اسلا می کے سمجھنے میں تقو یت دیتے ہیں اور کہتے ہیں: خدا کے بارے میں گفتگو کر نے کی مما نعت صرف اس لئے ہے کہ خلق سے خدا کی مشا بہت اور ظلم و ستم کی خالق کی طرف نسبت دینے سے لوگ با ز آئیں۔( ۳ )
انھوں نے عقل و نظر کے استعمال کے لئے مخا لفین سے احتجا ج کرنے میں دلیل پیش کی ہے اور ان لوگوں کو فکر (رائے )و نظر کے اعتبا ر سے نا تواں اور ضعیف تصور کرتے ہوئے فر ما تے ہیں :
'' عقل و نظر کے استعما ل سے رو گردانی کی باز گزشت تقلید کی طرف ہے کہ جس پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ وہ مذموم اور نا پسند ہے۔''( ۴ )
نقل کا مرتبہ
پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ '' عقل '' اہل بیت کے مکتب میں اپنی تمام تر ارزش و اہمیت کے با وجود ''معرفت دینی '' میں نور وحی سے بے نیا ز نہیں ہے اور اس سے کو ئی بھی کلا می اور اسلامی مکتب فکر انکا ر نہیں کرتا، جو کچھ بحث ہے نقل پر اعتماد کے حدود کے سلسلے میں ہے ، کیو نکہ نقل ( یہا ں پر اس سے مراد حدیث ہے چو نکہ قرآن کریم کی نقل متو اتر اور قطعی ہے ) کبھی ہم تک متو اتر صورت میں پہنچتی ہے ، یعنی راویوں اور نا قلین کی کثرت کی وجہ سے ہر طرح کے شکو ک و شبہا ت بر طرف ہو جاتے ہیں، اس طرح سے کہ انسان کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم یا عترت طاہرہ یا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب سے حدیث صا در ہو نے کا اطمینا ن پیدا ہو جاتا ہے، لیکن کبھی حدیث اس حد کو نہیں پہنچتی ہے، بلکہ صرف ظن قوی یا گمان ضعیف حا صل ہو تا ہے اور کبھی اس حد تک پہنچتی ہے کہ اسے خبر واحد کہتے ہیں ، یعنی وہ خبر جو ایک آدمی نے روایت کی ہو اورصرف ایک شخص اس خبرکے معصو م سے صا در ہو نے کا مد ّ عی ہواس حالت میں بھی بہت سارے مقا مات پر شک و جہل کی طرف ما ئل ظن اور گمان پیدا ہوتا ہے۔
مکتب اہل بیت کا اس آخری حالت میں موقف یہ ہے:
____________________
(۱) توحید :ص ۲۹۲.(۲)شیخ مفید ؛ '' اوائل المقالات '' ص ۱۱۔۱۲.(۳)تصحیح الاعتقاد بصواب الانتقاد : ص ۲۶، ۲۷.(۴)تصحیح الاعتقاد بصواب الانتقاد : ص ۲۸، طبع شدہ یا اوائل المقالات ، تبریز ، ۱۳۷۰ ، ھ ، ش
'' اس طرح کی روایات کے صدق و صحت پر اگر کوئی قرینہ نہ ہو توقا بل اعتماد اور لا ئق استنا د نہیں ہیں۔''
عقائد میں خبر واحد کا بے اعتبار ہو نا
مکتب اہل بیت میں خبر واحد پر بے اعتما دی جب عقید تی مسا ئل تک پہنچتی ہے توجو کچھ ہم نے کہا اس سے بھی زیا دہ شدید ہو جا تی ہے ، کیو نکہ عقائد اپنی اہمیت کے ساتھ ضیعف دلا ئل اور کمزور برا ہین سے ثا بت نہیں ہوتے ہیں ،با لخصوص ہمارے زمانہ میں جب کہ ہمارے اور رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نیز سلف صالح کے زمانے میں کافی فا صلہ ہوگیاہے اور ہم پرفرض ہے کہ کافی کو شش و تلا ش کے ساتھ مشکو ک اور گمان آور باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے یقینیا ت یقین کرنے والی باتیں یا جو ان سے نز دیک ہوں ان کی طرف رخ کریں، تاکہ ان فتنوں اور جدلی اختلافات اور جنجالوں میں واقع ہونے سے محفوظ رہیںجودین اور امت کے اتحا د کو بزرگترین خطرہ سے دوچار کرتے ہیں۔
شیخ مفید اس سلسلے میں فرما تے ہیں :
'' ہمارا کہنا یہ ہے کہ حق یہ ہے کہ اخبار آحاد سے آگاہی اور ان پر عمل کرناواجب نہیں ہے اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے دین میں خبر واحد کے ذریعہ قطع و یقین تک پہنچے مگر یہ کہ اس خبر کے ہمرا ہ کو ئی قرینہ ہو جو اس کے راوی کے بیان کی صدا قت پر دلا لت کرے ،یہ مذ ہب تمام شیعہ کا اور بہت سے معتز لہ ، محکمہ کا اور مرجئہ کے ایک گروہ کا ہے کہ جو عامہ کے فقیہ نما افراد اوراصحاب رائے کے خلاف ہے ۔''( ۱ )
جی ہاں! عقید تی مسا ئل میں مکتب اہل بیت کے پیرو محتا ط ہیں کیو نکہ اہل بیت نے اپنے ما ننے وا لوں کو احتیاط کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب ورع وہ ہے جو شبہا ت کے وقت اپنا قدم روک لے اور احتیا ط سے کام لے۔
بحث کا خاتمہ
اب ہم اپنی بحث کے خاتمہ پرعقائد اسلامی سے متعلق مکتب اہل بیت علیہم السلام کی روش بیان کرنے اس سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ اہل بیت کا نہج اور راستہ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان ہو چکا ہے کامل اور اکمل نہج اور راستہ ہے ، جو اپنی جگہ پر شناخت کے تمام وسا ئل سے بہر ہ مند ہے ،مثا ل کے طور پر الہٰیا ت کے مسائل اور باری تعالیٰ کے صفات کو تجر بہ کی راہ سے درک نہیں کرتا ، کیونکہ یہ مسا ئل ایسے وسائل کی دسترس سے
____________________
(۱)اوائل المقالات ، ص ۱۰۰،طبع تبریز ۱۳۷۰ ،ھ ش.
دور ہیں ، اسی طرح ایک وسیلہ پر جمو د اوراڑے رہنے جیسے با طنی اشرا ق اورصوفی عشق و ذوق کو بھی جا ئز نہیں سمجھتا، جس طرح کہ عقل کے بارے میں بھی زیادہ روی اور غلو سے کام نہیں لیتا اور اسے مستقل اور تمام امور (منجملہ ان کے غیب اورنہاں نیز جزئیات معاد) کا درک کرنے والا نہیں جانتا اور وحی (نقل)کے بارے میں کہتا ہے کہ وحی کا درک کرنا نور عقل سے استفادہ کئے بغیر نا ممکن ہے۔
اہل بیت کا مکتب یہ ہے کہ جو بھی روایت ، سنت اور نقل کی صورت میں ہو-جب تک کہ اس کی نسبت کی صحت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، ائمہ اور صحا بہ کی طرف ثا بت نہ ہو نیز جب تک اس کا تمام نصوص اورقرآن کی تصریحات سے مقابلہ نہ کرلے اور اس کے عام و خاص ، ناسخ و منسوخ ، محکم و متشا بہ اور حقیقت و مجا ز کو پہچا ن نہ لے، اس وقت -تک اس کے قبول کرنے میں سبقت نہیں کرتا، مختصر یہ کہ مکتب اہل بیت علیہم السلام اس ''اجتہا د '' پر موقوف ہے جونصوص سے شرعی مقصود کے سمجھنے میں جد و جہد اور قوت صرف کرنے اور اپنی تما م تر تو انائی کا استعمال کر نے کے معنی میں ہے، اس کے با وجود نقد وتحقیق اور علمی منا ظرہ اور منا قشہ سے -جب تک عوا طف وجذبات کو بر انگیختہ نہ کیا جائے، یا دشمنی نہ پیدا ہو- نہ صرف یہ کہ منع نہیں کرتا بلکہ اسے راہ پروردگار کی طرف دعوت ، جدال احسن،حکمت اور مو عظۂ حسنہ سمجھتا ہے ، جیسا کہ خدا وند متعال نے فرمایا ہے:
( و الّذین آمنوا وعملو االصا لحا ت لا نُکلّف نفساً اِلَّاو سعها اولآ ئک أصحاب الجنّة هم فیها خا لدون)( ونزعنا ما فی صدورهم من غلّ تجری من تحتهم الأنهاروقالوا ألحمد للّه الذی هدا نا لهٰذا وما کُنا لنهتدی لو لاأن هدا نا ﷲ لقد جائت رُسل ربّنا بالحقّ و نو دوا أن تلکم الجنّةأورثتمو ها بما کنتم تعملون ) ( ۱ )
اورجو لوگ ایمان لا ئے اور عمل صا لح انجام دیا ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیا دہ تکلیف نہیں دیتے، وہ اہل بہشت ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور جو ان کے دلوں میں کینہ ہے، اسے ہم نے یکسر ختم کردیا ہے ، ان کے نیچے نہریں جا ری ہیں،وہ کہتے ہیں: خدا کی ستا ئش اور اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس راستہ کی ہدایت کی'' ایسا راستہ کہ اگر خدا ہماری ہدا یت نہ کرتا تو ہم راہ گم کر جاتے! یقینا ہمارے ربّ کے رسول حق لائے !( '' ایسے مو قع پر) ان سے کہا جا ئے گا : یہ بہشت ان اعمال کے عوض اور بدلے میں جو تم نے انجام دئے ہیں، تمھیںبطور میرا ث ملی ہے ۔
____________________
(۱)اعراف ۴۲،۴۳
روایات میں آغا ز خلقت اور مخلوقات کے بعض صفات
۱ ۔مسعو دی کی روایت کے مطابق آغاز خلقت:
مسعودی اپنی سند کے ساتھ حضرت امام علی سے روایت کرتا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابتدائے خلقت کو اپنے مختصر سے خطبہ میں اس طرح بیان فرما یا ہے:
''فسح الٔارض علی ظهر الماء ، وأخرج من الماء دخا نا ً فجعله السما ء ، ثم استجلبهما اِلی الطا عة فا ذعنتابا لا ستجا بة ، ثم أنشأ ﷲ الملا ئکة من انٔوار ابٔدعها و ارواح اختر عها ، و قرن بتو حید ه نبوَّ ة محمد صلی ﷲ علیه وآله و سلم فشهرت فِی السماء قبل بعثته فیِ الٔارض ، فلما خلق ﷲ آ دم أ بان فضله للملا ئکة، و أرا هم ما خصّه به من سا بق العلم من حیث عرَّ فه عند استنبا ئه ِ ا يّا ه أ سماء ا لا شیا ء ، فجعل ﷲ آدم محرا باً وکعبة وبا با ً و قبلة أ سجد الیها الٔا بر ار و الر وحا نیین الأ نوار ثم نبّه آدم علی مستو د عه ، وکشف له عن خطر ما ائتمنه علیه ، بعد ما سما ه اِ ما ما ً عند الملا ئکة'' ( ۱ )
اس( خدا )نے پا نی کی پشت پر ز مین بچھا ئی اور پانی سے بھا پ اور دھوا ں نکا لا اور اسے آسما ن بنایا ، پھر ان دونوں کو اطا عت کی دعوت دی ، ان دونوں نے بھی عا جزانہ جو اب دیا اور لبیک کہی، اس کے بعد اس نور سے جسے خود پیدا کیا تھا اور اس روح سے جسے خود ایجا د کیا تھا فرشتوں کی تخلیق کی ، اپنی تو حید و یکتا پر ستی سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبو ت کو وابستہ کیا اس وجہ سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم زمین پر مبعوث ہو نے سے پہلے آسمان پر مشہور تھے ،جب خدا نے حضرت آدم کو خلق کیا تو ان کی فو قیت و بر تری فر شتو ں پربرملاوآشکا ر کی ،نیز علم و دانش کی وہ خصوصیت جو اس نے پہلے ہی حقیقت اشیا ء کے بارے میں خبر دینے کے واسطے آدم کودے رکھی تھی ، فر شتو ں
____________________
(۱)مروج الذہب ، ج۱ ، ص ۴۳
کوبتائی،پس خدا نے آدم کو محرا ب، کعبہ ، باب اور قبلہ قرار دیا تا کہ نیک لو گ ، رو حا نی اور نو را نی افراد اس کی طرف سجدہ کو آئیں، پھر انھیں (فر شتو ں کے سا منے اما م پکا رنے کے بعد) ان کے اما نت دار ہو نے سے آگاہ کیا اوراس کے خطرات اور ا س کی لغز شو ں کو ان کے سا منے نما یا ں کیا ۔
۲ ۔نہج البلا غہ کے پہلے خطبہ میں خلقت و آفرینش کا آ غاز:
'' أنشا ٔ الخلق اِنشا ئً ، و ابتدأ ه ابتدا ء ً ، بلا رو يّة أ جا لها ، ولا تجر بة استفا د ها ، و لا حر کة أ حد ثها، ولا هما مة نفس اضطر ب فیها، أ حا ل الا شیا ء لاوقا تها ، و لأ م بین مختلفا تها، و غرَّز غرا ئز ها ، و ألز مها أشبا حها؛ عالما ً بها قبل ابتدا ئها ، محیطاً بحدود ها وأنتها ئها ، عا رفا ً بقر ائنها و أحنا ئها، ثمّ أ نشأ سبحا نه فتق الأجوا ئ، و شق الأرجا ئ، و سکا ئک الهوا ئ، فأجری فیها ما ئً متلا طماً تیاّ ره ، مترا کما ً زخّا ره، حمله علی متن الریح العا صفة، والز عزع القا صفة، فأ مر ها بردّه، وسلّطها علی شدّه و قر نها الی حدّه؛ الهواء من تحتها فتیق، و الما ء من فو قها دفیق ، ثم أنشأ سبحا نه ریحا ً اعتقم مهبّها، وأ دا م مر بّها ، و أعصف مجرا ها ، و أبعد منشاها ، فأ مر ها بتصفیق الماء الزّخّا ر، و اِثا رة موج البحا ر، فمخضته مخض السّقا ئ، و عصفت به عصفها با لفضا ئ، تردُّ أوُّ له اِلی آخره و سا جیه اِلی ما ئره، حتیّ عبّ عبا به، و رمی با لزّبد رکامه، فر فعه فی هو اء منفتق، وجوّ منفهق ، فسوی منه سبع سموات جعل سفلا هنَّ موجا ً مکفو فا ً، وعلیا هنَّ سقفا ً محفو ظا ً، و سمکاً مر فوعا ً، بغیرعمد ید عمها ، ولا دسار ینظمها ، ثم زيّنها بز ینة الکوا کب، وضیا ء الثوا قب، وأ جری فیها سرا جاً مستطیرا ً، وقمرا ً منیرا ً، فی فلک دائر، وسقف سائر، ورقیم ما ئر ''
اس نے بغیر غور و خوض اور سابق تجربہ کے اور ہرطرح کی اثر پذیری، انفعا ل اور دا خلی اضطرا ب سے دور مخلوقات کو پیدا کیا اور مو جو دات کو ان کے ظرف زمان میں ایجا د اور ثا بت کیا ،ان کے تفاوت اور اختلاف کو مناسب پیوند اور ان کی سرشت کو ایک خو شگوار تر کیب بخشی، جبکہ خلقت سے پہلے ہی ان کی کیفیت کو جا نتا تھا اور ان کی ابتداء انتہا ء ، حدود اور ما ہیت اور ان کی حقیقت پر محیط تھا، ہر ایک کی فطرت اور سر شت اس کے ملازم اور ہمرا ہ قرار دی۔
پھر فضا کو وسعت بخشی اور اس کے اطراف و اکناف اور ہواؤں کے طبقات ایجاد کئے پھر اس میں مو ج مارتے، سر کش ،مضطرب اور تہ بہ تہ،تلاطم خیز پا نی کوجاری کیا۔
اور اس کو تند و تیز اور پر صلابت ہواؤ ں کے دائرہ ٔ اقتدار میں دیااور اس کو حکم دیا تاکہ اس کو گرنے اور ٹوٹنے سے روکے اور محکم طور پر اس کے دائرہ ٔ کار میں اس کی حفاظت کرے ، حالانکہ اس کے نیچے ہوا پھیلی اور کھلی ہوئی تھی اور اس کے اوپر پانی اچھلنے اچھل رہا تھا ۔
پھر اس کے بعد دوسری عقیم ہوا پیدا کی تاکہ ہمیشہ پانی کے ساتھ رہے ، اور اسے مرکز پر روک کر اس کے جھونکو ںکو تیز کردیا اور اس کے میدان کو وسیع تر بنا دیا ،پھر اس کو حکم دیا تاکہ اس آب زخار کو تھپیڑے لگائے اور سمندر کی موجوں کو جنبش اور تحریک میں لائے اور دریا کے ٹھہرے ہوئے پانی کو موج آفرینی پر مجبور کرے، چنانچہ اس ہوا نے پر سکون اور ٹھہرے ہوئے دریا کو مشک آب کے مانند متھ ڈالااور اس زور کی ہوا چلی کہ اس کے تھپیڑوں نے اس کے اول و آخر اور ساکن و متحرک ،سب کو آپس میں ملادیا ، یہاں تک کہ پانی کی ایک سطح بلند ہوگئی اور اس کے اوپر تہ بہ تہ جھاگ پیدا ہو گیا پھر اس کے جھاگ کو کھلی ہوئی ہوا اور وسیع فضا میں بلندی پر لے گیا اور اس سے ساتوں آسمان بنائے ایسے آسمان جن کے نچلے طبقہ کو موج ثابت اور اوپری طبقہ کو بلندو محفوظ چھت اور بے ستون سائبان قرار دیا ، پھر ان کو ستاروں اور نورانی شہابوں سے زینت بخشی اور ضو فگن آفتاب اور روشن ماہتاب کی قندیلیں آسمانِ پُر نقش و نگار،فلک دوار، سائبان سیار اور صفحہ ٔ تاباں و زر نگار میں لگائیں ۔
کلمات کی تشریح
۱ ۔''الرّو يّة'' : تفکر اور غور و خوض۔
۲ ۔''هما مة النفس'' : روح کا متا ثر ہو نا اور اثر قبو ل کرنا۔
۳ ۔''أحال الا شیاء لأوقا تها'' مو جو دات کو ان کے ظرف زمان میں عدم سے عا لم وجود میں لایا۔
۴ ۔''لأم'': اتصال اور ہم آہنگی بخشی یعنی ان کے تفاوت و اختلاف کو تناسب و توافق بخشا ، جس طرح جسم و روح کے پیو ند اور اتصال سے انسان کی تر کیب دل آرا کو وجود بخشا:
''( فتبا رک ﷲ أحسن الخا لقین'' )
۵ ۔''غرَّ ز الغرا ئز'' : غرا ئز غر یز ہ کی جمع سر شت اور طبعیت کے معنی میں ہے یعنی ہر مو جو د میں ایک خا ص سر شت قرار دی۔
۶ ۔''ألز مها أشبا حها'' : شَبَح،اشیا ء کا وہمی سایہ اور ان کی خیالی تصویر اور یہا ں پر مقصود یہ ہے کہ ہر خو اور طبیعت کے مالک کو جدا نہ ہو نے وا لی سر شت اور طبیعت کے ہمرا ہ قرار دیا ہے، مثال کے طو ر پر ایک بہادر اور دلیر انسان ڈر پوک اور خو فزدہ نہیں ہوسکتا۔
۷ ۔''عا رفا ً بقرا ئنها وأحنا ئها'' :
قرا ئن قرین کی جمع مصا حب اور ہمرا ہ کے معنی میں ہے اور احنا ء حَنْو کی جمع، پہلو اور ہر ٹیڑ ھے پن اور کجی کے معنی میں ہے خواہ وہ جثہ ہو یا غیر جثہ لیکن یہا ں پر پو شیدہ چیزوں سے کنا یہ ہے ، یعنی خدا وند عالم تمام موجودات کے تمام صفا ت اور ان کی طبیعتوں، خصلتوں سے آگا ہ اور باخبرہے۔
۸ ۔'' أنشأ سبحا نہ: فتق الأ جواء و شقُّ الأرجاء وسکا ئک الھوائ.
فتق الا جوائ'' فضا ؤ ںکا شگا ف''شق الارجائ'' گرد و نواح اور اطراف کا کشا دہ کرنا ، ''سکا ئک الھوا''فضا اور ہوا کے اوپری حصے یعنی : خدا وند عالم نے کشا دہ فضا اور اس کے ما فوق ہوا کو تمام عالم ہستی کے اطراف میں خلق کیا اور اسے پھیلا دیا۔
۹ ۔'' متلا طم''، ٹھا ٹھیں مارنے والا، تھپیڑے کھا نے والا ، موج مارنے والا۔
۱۰۔'' تیاّ ر '': مو ج، حرکت اور جنبش ۔
۱۱ ۔ ''مترا کم '': ڈھیر، جمع شدہ( تہہ بہ تہہ)۔
۱۲۔''زخاّر'' لبر یز اور ایک پرایک سوار ۔
۱۳ ۔''الریح العا صفہ'' : تیز و تند اور طو فان خیز ہوا۔
۱۴ ۔'' الزَّ عز عُ القا صفھة'': تیز و تند ہوا ،گرج اور کڑک کے ساتھ ہوا ۔
۱۵ ۔'' دفیق'': جہندہ اور اچھلنے والا۔
۱۶ ۔'' اعتقم مھبّھا'' : اس کے چلنے والے رخ کو عقیم اور با نجھ بنا دیا،یعنی اس ہوا کی خا صیت صرف پانی کو تحریک اور جنبش دینا ہے۔
۱۷ ۔''اَدام مُر بھا'': ہمیشہ اس کے ہمراہ رہی۔
۱۸ ۔''أمر ھا بتصفیقِ الما ء الز ّ خا ر و اثا ر ة مو ج البحا ر''
اسے حکم دیا تا کہ اس لبر یز اور انبوہ کو تھپیڑے لگائے اور اس پر آپ دریا کو جنبش اور ہیجان میں لائے۔
۱۹ ۔'' مخض السقائ'' : وہ مشک جسے گردش دے کر(متھ کر) اس کے اندر دہی سے مکھن نکا لتے ہیں یعنی یہ ہوا اس پا نی کو اس مشک کے مانند گر دش دیتی ہے جس سے مٹھا اور مکھن نکا لتے ہیں۔
۲۰ ۔ ''عصفت بہ عصفا ً با لفضائ'':
اسے شدت کے ساتھ ادھر اورادھرجھکورے دیتی ہے۔
۲۱ ۔''حتّی عب ّ عبا بُہ و رفی با لز بد رکا مہ''
یہاں تک کے ایک دوسرے پر ڈھیر لگ گیا اور اس کی جنبش اور ڈھیر سے جھاگ پیدا ہوگیا ۔
۲۲ ۔ ''مُنفتق'': کھلا ہوا اور کشا دہ۔
۲۳ ۔'' منفھق'' : وسیع و عر یض
۲۴ ۔''سفلیٰ '': نچلا
۲۵ ۔'' عُلیا'' :اوپری۔
۲۶ ۔''مکفو ف'':رکا ہوا ،ٹھہرا ہوا ۔
۲۷ ۔''سمک '': بلند چھت۔
۲۸ ۔ '' دسا ر'': مسمار، کیل، ریسمان اور بندھن۔
۲۹ ۔ ''ثوا قب'' : ثا قب کی جمع ہے نور افشان یا نو را نی شہا ب۔
۳۰ ۔''فلک '': آسمان۔
۳۱ ۔''رقیم'' : متحر ک لو ح اور صفحہ۔
قرآن کریم میں '' کَوْن و ہستی ''یا'' عا لم طبیعت ''( ۱ )
کلمۂ'' کون'' اور'' ہستی'' خارجی مو جو دات اور ظوا ہر طبیعت کو بیان کرتا ہے یعنی تمام مخلو قات انسان ، حیوان ، ستارے، سیارے، کہکشا ں اور دیگر مو جودات سب کو شا مل ہے۔
''کون '' اور '' ہستی'''' مک میلا ن''( ۲ ) کے دائرة المعارف کے مطا بق ، ان اجسام کے مجموعہ سے مرکب ہے جو شنا خت کے قا بل ہیں ، جیسے : زمین ، چا ند، سورج ، اجرام منظو مۂ شمشی ، کہکشائیں اور ان کے درمیان کی دیگر اشیاء ، اسی طرح چٹا نوں، معادن ( کا نیں ) مٹی، گیس، حیوا نات ، انسان اور دیگر ثابت اور متحرک اجسام کو بھی شا مل ہے۔
منجمین اور ماہرین فلکیات نے مجبوری اور نا چا ری کی بناپر لفط'' کون'' کوآسمانی فضا اور اجرام کے معنی میں استعمال کیاہے، جبکہ مجموعہ ہستی کی وسعت اور کشادگی اتنی ہے کہ زمین آسمان، چاند سورج اور دیگر سیا رے اس بیکراں، وسیع و عریض مجموعہ کے چھو ٹے چھوٹے نقطے ہیں یہ خورشید اس کہکشا ں کا صرف ایک ستارہ ہے کہ جس میں سو ملین( ایک ارب) کے قریب ستارے پائے جاتے ہیں ! اور یہی ہماری زمین اور وہ دیگر سیارے جو سورج کے ارد گرد چکر لگا تے ہیں اور اس عا لم کے نظم کو وجود میں لا تے ہیں ، ہم انسا نوں کی نگا ہ میں بہت عظیم اور وسیع نظر آتے ہیں۔
ہماری زمین سے سورج کا فا صلہ تقر یبا ً ۹۳ملین میل کا ہے اور یہ انسان کی نظر میں کا فی لمبی اور طولانی
____________________
(۱) اقتباس از مقالہ ٔ '' حافظ محمد سلیم '' ،مجلۂ ثقافتی ، نشریہ ٔ سفارت پاکستان ، دمشق، فروری ۔مارچ ، ۱۹۹۱ ئ.
(۲) MACMILLAN ENCILOPEDIA
مسافت ہے، لیکن اگر اس مسا فت کواس مسا فت سے جو کہ آ فتاب منظو مہ شمشی کے سب سے دور والے سیارہ سے رکھتا ہے، موازنہ کیاجائے تو بہت کم اورمختصر لگے کی بطور مثال ،''پلو ٹون'' سےّارہ کی مسا فت زمین سے تقریبا ً زمین اور خورشید کی مسا فت کے چا لیس گنا ہے یعنی ۳ ارب چھ سو بیس ملین(۰۰۰،۰۰۰،۶۲۰،۳) میل ہے۔
اصل'' کون و ہستی '' سے متعلق بہت سارے نظریات ہیں ، ان میں سب سے جد ید '' بیگ با نگ''( ۱ ) کی تھیوری ہے جو ۱۹۲۰ء میں جارج لا میٹر کے ذریعہ پیش کی گی ہے وہ واضح طور پر کہتا ہے: تمام مواد اور اشعہ ہستی میں ایک عظیم دھماکہ سے ظہور میں آئی ہیں اور طبیعت کی یہ وسیع شکل ا سی کا نتیجہ ہے اور اسی طرح یہ وسیع ترہو تی چلی جا رہی ہے ۔
اس نظریہ کے مطابق مذکورہ دھماکہ تقریبا ً ۱۰ سے ۲۰ ہزار ملین سال قبل و اقع ہوا ہے؛ اور اس بات کی طرف تو جہ کر تے ہو ئے کہ ہائیڈروجن اور ہلیوم کا ابتدائی اور بلند ترین درجہ ٔ حرارت اس طرح کی ناگہانی وسعت اور ہستی کی یکبارگی تشکیل کے لئے ہلیوم گیس سے کافی تھا ، یہ نظریہ پریکٹیکل تجربات سے بخوبی ہماہنگی رکھتا ہے۔
اس سلسلے میں حیرت انگیز اور قابل تو جہ ایک دوسرا انکشاف ہے جو کہ ''ہا بل''( ۲) کے قانو ن کے نام سے ہستی کی وسعت کے بارے میں معروف ہے ، اس تھیو ری کے مطا بق''کون وہستی'' کی وسعت ایک دائمی امر ہے اور یہ گسترش اور وسعت ہستی کی تمام جہا ت میں یکساں ہے ، یہ تھیو ری کہتی ہے :دورکی کہکشاؤں میں موجود ستاروں سے ساطع ہونے والے نو ر کا رنگ سُر خ طیف کی انتہا کی طرف حرکت کرتا ہے، یعنی ان کے طیفی خطوط بلند ترین موجوں کے طول کی طرف مکا ن بدلتے رہتے ہیں اور یہ یعنی کہکشائوں کا ہم سے اور ہماری کہکشائوں سے دور ہونااور عا لم میں کہکشاؤں کے درمیان فا صلوں کا اضا فہ ہونا ہے۔
آخر میں ستارہ شنا س دانشوراور علم نجوم کے ماہرین بہت عظیم کہکشا ؤں کے بارے میں خبر دیتے ہیں جو راہ شیری کہکشاں( ۳ ) کی کئی گناہیں، جن کا فاصلہ ہما ری زمین سے دس ملین نوری سال ہے۔
____________________
(۱) BIGBANG THEORY
(۲)''اڈوین پاول ہابل ''ایک امریکی دانشور ہے کہ جو علم نجوم میں مہارت رکھتا تھا۱۸۸۹ ۔ ۱۹۵۳ء
(۳) milkyway
ان کہکشاؤں کی شنا خت پہلے مر حلہ میں تمام ہو ئی اور بہت سارے دانشو ر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ'' کون و ہستی'' بے انتہا وسعت اورپھیلاؤ کی جانب گامزن ہے یا ناچاراندر کی طرف سمٹ رہی ہے۔
کون و ہستی قرآن کریم کی روشنی میں
قرآن کریم جو کہ آخری آسمانی کتا ب ہے،بدرجہ ٔ اکمل وضاحت کے ساتھ عالم ہستی و آفر ینش کے بنیادی و اسا سی حقا ئق سے پردہ اٹھا تی ہے اور اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ: جو کچھ'' کون و ہستی'' میں پا یا جاتا ہے خدا وند خالق و ربّ العا لمین '' کی تخلیق و آفر ینش کی نشانی ہے،خدا وند عالم نے چاند، سورج اور آسمان و زمین نیز ان کے ما بین جو کچھ ہے سب کو متنا سب اندا زہ میں خلق کیا ہے۔قرآن کریم اس سلسلے میں فر ما تا ہے:
( بدیع السموات والأرض واِذا قضیٰ أمرا ً فا نّما یقو ل له کن فیکون ) ( ۱ )
زمین اور آسمانوں کو وجود دینے والا وہ ہے اور جب بھی کسی چیز کے ہو نے کا حکم صا در کرتاہے، تو صرف کہتا ہے : ہو جا ، تو وہ چیز فو را ً وجود میں آجا تی ہے ۔
لفظ '' بدیع'' آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ خدا وند عالم اشیا ء کو عدم سے وجود میں لایا ہے ،را غب اصفہانی '' مفردات '' نامی کتا ب میں فرماتے ہیں : کلمۂ'' بدع'' اس معنی میں ہے کہ کو ئی چیز بغیر ''ما دہ''اور نمونہ ''آئیڈیل '' کے وجود میں لائی جائے ، یہ لفظ جب بھی خدا کے بارے میں اور اس کے اسمائے حسنی اور صفات کی ردیف میں ذکر ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا نے اشیا ء کوعدم سے خلق فرمایا ہے،'' قرآن کریم دوسری جگہ فرماتا ہے:
( وهوالذی خلق السّموات والأرض با لحقّ و یو م یقول کن فیکون ) ( ۲ )
وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ خلق فرمایا ہے اور جس دن کسی بھی چیز سے کہتا ہے : ہو جا ! تو وہ فورا ً مو جود ہو جا تی ہے ۔راغب فرماتے ہیں: کلمۂ'' حق '' کا استعمال کر نا بے مثا ل اور جدید چیز کی طرف اشارہ ہے ، کہ جب بھی خالق کی صفت سے مر بوط ہو ، تو اس سے مراد کسی نٔی چیز کو عدم سے وجود میں لانا ہے، یعنی خدا وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کو عدم سے وجود میں لایا ۔
____________________
(۱)بقرہ ۱۱۷۔(۲)انعام ۷۳
دو سری جگہ پر عالم خلقت کے مادی اور طبیعی مظاہر کے بارے میں ا رشاد فرماتا ہے:
( هو الذی جعل الشمش ضيٰا ئً والقمر نوراً وقدَّ رهُ منٰا زل لتعلموا عدد السِّنین والحسا ب مٰا خلق ﷲ ذٰ لک الاّ با لحق يُفصِّل الا یات لقوم ٍ یعلمون ) ( ۱ )
خداوہ ہے جس نے سورج کوضیا باراور چاند کو نور بنا یا ہے اور اس (چا ند)کے لئے منزلیںمقررکیں تاکہ سال کا شمار اورکاموں کا حسا ب جان سکو، خدا وند عالم نے انھیں صرف حق کے ساتھ خلق کیا ، وہ (اپنی) آیات کی ان لوگو ں کے لئے جو سمجھتے ہیں تشریح کرتا ہے۔
قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ خدا وند عالم عظمت تخلیق کی طرف اشارہ کر تے ہوئے فر ماتا ہے۔
( أولم یروا أنَّ ﷲ الذی خلق السَّموا ت والأ رض و لم یعی بخلقهنَّ بقا در ٍ علیٰ أن يُحیی المو تیٰ بلیٰ انَّه علیٰ کلّ شی ء ٍ قدیر ) ( ۲ )
کیا وہ نہیں جانتے جس خدا نے آسمانوںاور زمینوں کو خلق فرمایا اور ان کی تخلیق سے عا جز وناتواں نہیں ہے تھا وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہی مردوں کو زندہ کر دے ہے؟ ہاں وہ ہر چیز پر قادر وتوانا ہے۔
گز شتہ آیات واضح طور پر بیان کر تی ہیں: صرف خدا وند عزوجل ہے جس نے اس عا لم محسو س کوبالکل صحیح اندازے کے مطابق موزوں اور منا سب طور پر خلق فرمایا ہے اور دوبارہ ان تمام موجو د کی تخلیق اوران کے لوٹانے پر قادر ہے، مادہ کی ہے تخلیق اور عالم ہستی کے تمام قوا نین اور ان کو حرکت میں لانے والی قوتوں میں اصل اصیل خدا وند عالم کا امر اورفرمان ہے ۔
تخلیق کی کیفیت
قرآن کریم نے '' ہستی '' کی تخلیق کی کیفیت کو متعددبار بیان کیا ہے؛ درج ذیل آیات تخلیق کے بنیا دی اصول و طرز کا خلا صہ ہما رے سا منے اس طرح پیش کرتی ہیں:
الف۔( أولم یر الّذین کفر وا أنَّ السموات والأرض کا نتارتقا ً ففتقنٰهُما و جعلنا من الماء کلّ شی ئٍ حیٍّ ) ( ۳ )
____________________
(۱)یونس ۵(۲)احقاف ۳۳.(۳)انبیاء ۳۰
آیا جو لوگ کافر ہو گئے ہیں کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین ،متصل اورپیو ستہ تھے تو ہم نے انھیں جدا کیا اور وسیع بنایا اور ہر چیز کو پا نی سے حیا ت بخشی؟
دوسری آیت میں زمین کی خلقت کے بعد آسمان کے شکل اختیا ر کرنے کے طریقے اور متقا بل تا ثیر اور امر خلقت کے پے در پے ہو نے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما تا ہے ۔
ب۔( ثُمَّ استو یٰ الی السما ء وهی دُخان فقا ل لها وللأ رض ائتیا طوعا ً او کر ها ً قا لتا أتینا طا ئعین ) ( ۱ )
پھر آسمان کی طرف متو جہ ہوا جبکہ ابھی وہ دھواں تھا ، پھر اس سے اور زمین سے کہا : اپنی خواہش اور مرضی سے یا جبر وا کراہ کے ساتھ آگے آؤ! دونوں نے کہا : ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں۔
پہلی آیت نے درج ذیل حقائق سے پر دہ ہٹا یا ہے:
۱ ۔جو مادہ'' ہستی'' کی پیدا ئش میں مو ثر ہے اس کی ایک ہی ما ہیت اور حقیقت ہے۔
۲ ۔تمام '' ہستی'' ایک ٹکڑے کے مانندباہم پیو ستہ اور جڑی ہوئی ہے۔
۳ ۔ اجزا ء ہستی کی وسعت او ر اس میں تفکیک طبیعی قوا نین اور مادہ کے تحول و تبدل کی روش پر مبتنی اور منظم ہے، یہ نظام صرف منظو مہ شمشی اور ہماری کہکشاں میں جو سیا رے انہیں سے وابستہ ہیں اس میں خلاصہ نہیں ہوتاہے، بلکہ خود کہکشا ئیں بھی،ایک برتر اور وسیع تر نظا م کا جز ہیں جو کہ ایک دوسری شکلمیں ،(منظومہ شمسی کے مانند) اپنے مر کزی محور پر گر دش کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر''موریس بو کیل'' نے آخری زمانے میں ایک نظر یہ کی بنا رکھی جو ''ہستی ''کی شکل اختیا ر کر نے کے سلسلہ میں قرآن کی آیات کی روشنی میں بعض مسلمان علماء کے نظریہ کے مطابق ہے وہ '' کل کو قابل شمارش اجزاء میں تفکیک اور تبدیل کرنے کی فکر کے سلسلہ میں '' کہتا ہے :جدا ئی اور تفکیک ہمیشہ ایک مرکزی نقطہ سے ہوتی ہے جس کے عنا صر ابتدا ء میں ایک دوسرے سے متصل اور جڑے ہوئے ہوتے ہیں '' یعنی وہی کہ جس کو آیہ شر یفہ میں کلمہ '' رتق'' یعنی متصل اور پیو ستہ سے اور '' فتق''یعنی کھلا اور جدا سے تعبیر کیا گیاہے ۔
موجودہ علمی نظریہ کے مقا بل جو کچھ '' انفجا ر ہستی''( ۲ ) کے عنوا ن سے معروف ہوا ہے، وہ ایک زمانے میں ایک اتفاقی حا دثہ کا نتیجہ ہے جو انتہائی درجہء حرارت کی وجہ سے استثنائی صورت میں پیش آیا تھا اور فرض یہ
____________________
(۱)فصلت ۱۱(۲) bigbang
ہے کہ اس انفجا ر(دھماکہ) کے وقت تمام ہستی ایک نقطہ پر ایک جز کی حیثیت سے تھی اور یہ جدائی اس میں ظاہر ہو ئی ہے سوائے اس کے کہ یہ مادی قوانین اس انفجا ر کا نتیجہ نہیں ہیں ،یہ نظریہ معلومات کے لحا ظ سے ان معلو مات کے مشا بہ ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے۔
جوبات حیرت میں اضا فہ کاباعث ہے یہ ہے کہ قرآن کریم نے ۱۴۰۰ سو سال سے زیا دہ پہلے اس راز سے پر دہ اٹھا یا ہے، جب کہ اس وقت کوئی علمی بحث اس طرح کی مو جود نہیں تھی ! ٹھیک اسی طرح سے قرآن کریم نے ''ہا بل '' کے نظریہ میں جو کہ ہستی کی وسعت کے بارے میں حقائق بیان ہوئے ہیں ان اس سے بھی پردہ اٹھا یا ہے اور سورہ '' ذاریات ''کی آیہ(۴۷) میں ارشاد ہو تا ہے :
( والسّما ء بنینا ها بأیدٍ وانا لمو سعو ن )
ہم نے آسمان کی قدرت کے ساتھ بنیادرکھی اورہم ہمیشہ اسے وسعت بخشتے ہیں۔
جب ہم جدید نظریے کے مطا بق ہستی کی وسعت اوراس کے طول و عرض کو سمجھنا چاہتے ہیں تو اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ خو رشید میں مو جو د ''ہائیڈرو جن'' ہمیشہ ایٹمی اور نیوکلیائی پگھلاؤ نے سے ہلیوم کے عنصر میں تبدیل ہو تا رہتا اور نورا نی غبار( ۱ ) یعنی جو بہت چھوٹے چھوٹے ستا روں کے تودیغبار کے ذرات کے مانند نظر آتے ہیں ،وہ حرارت آمیز ایٹمی اور نیو کلیائی شعلوں کے علاوہ کو ئی دوسری شۓ نہیں ہیں۔
اس طرح تمام ہستی بارور قدرت اور توانا ئی سے مرکب اور اسی پر مبنی ہے اور یہ صورت حال ہمیشہ تو سعہ اوروسعت کی حالت میں ہے، یہ نتیجہ اس فر ض کی بنیاد پر ہے کہ '' سرخ انتقا ل یا تحول''( ۲ ) پیمانہ سرعت کے امکان کے ساتھ نور پراجسام کی متقابل تا ثیر کا نتیجہ ہے ۔
ہم اس سلسلے میں ، یعنی ہستی کی وسعت کے بارے میں جب قر آن کریم کی طرف مر ا جعہ کرتے ہیں تو اس کے لئے سب سے اہم کلمہ لفظ عالمین ہم کو نظر آتا ہے کہ جس کی دسیوں بار قرآن کریم میں تکرار ہو ئی ہے ،جیسے:
۱۔( و لکن ﷲ ذو فضل ٍ علی العا لمین ) '
لیکن خدا وند عا لم '' عا لمین'' کی نسبت لطف و احسا ن رکھتا ہے۔( ۳ )
۲ ۔( قل أنَّ صلا تی و نسکی و محیا ی و مما تی للّٰه ربّ العا لمین ) ( ۴ )
کہو!ہما ری نما ز ، عبادت ،زندگی اور موت سب کچھ عا لمین کے ربّ کے لئے ہے۔
____________________
(۱) stardust (۲) redshift (۳)بقرہ۲۵۱ (۴)انعام۱۶۳
۳ ۔( ألا له الخلق والأمر تبا رک ﷲ ربّ العا لمین ) ( ۱ )
آگا ہ ہو جاؤ ! تخلیق و تد بیر اس کی طرف سے ہے ، عا لمین کا پروردگار بلند مرتبہ خدا ہے۔
۴ ۔( و ما أرسلنا ک اِلاّ رحمة ً للعا لمین ) ( ۲ )
تمھیں عا لمین کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
۵ ۔( اِنّی اِنّا ﷲ ربُّ العا لمین ) میں ہوں''عا لمین '' کا پروردگا ر خدا۔
جن آیات کو ہم نے پیش کیا ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عا لم کا سید نظم بر قرار رکھنے والا، حا فظ، خالق اور پروردگار اپنے وسیع معنی میں خدا وند سبحا ن ہے اور کلمۂ ''عا لمین'' ہستی یا عا لم کے متعددہونے کے معنی میں آیا ہے۔
ان عوالم میں کروڑوں کہکشا ئیں پائی جا تی ہیں اور ایک کہکشاں کے ان گنت اور بے شمار منظوموں میں سے ہر ایک منظومہ میں ایسے کروڑوںثابت اورسیار ستار ے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے ارتباط اور اتصال رکھتے ہیں اور اگر کسی راہ شیری کہکشاں کے اربوں ستاروں میں سے کوئی ایک ستارہ کسی ایک سیاّرے سے پیو ستہ مثلاً ہماری زمین سے اور مر بوط ہو، تو اس کے معنی یہ ہو ں گے کہ کروڑوں سیاروں کے زمین سے متصل ہو نے کا امکان ہے اور '' ہستی شنا سی'' کے جد ید علم کے مطا بق دیگر سیارات سے ناگہا نی ارتباط اور اتصال ند آنے والے زمانے میں بعید نہیں ہے۔
ڈاکٹر'' موریس بو کیل'' نے ہستی کی وسعت اور ضخا مت کے بارے میں جد ید علمی معلو مات فر اہم کی ہیں،جیسے خو رشید کی شعاع اور نور کے پلوٹون تک پہنچنے کے لئے، جو کہ منظو مہ شمسی کا ایک سیاّ رہ ہے، نور کی رفتار سے( جس کی سرعت ہر سکینڈ میں تین لاکھ کیلو میٹر ہے) تقر یبا چھ گھنٹہ کاوقت در کار ہے۔
اس لحاظ سے ، آسمانو ں کے دور دراز ستاروں کے نور کوہم تک پہنچنے کے لئے لاکھوں سال در کار ہوتے ہیں ۔
عالم طبیعت کی یہ مختصراور بطور خلا صہ تحقیق کسی حد تک اس آ یۂ شر یفہ کے سمجھنے میں معا ون ثا بت ہو تی ہے:
( والسّما ء بنیناها بأید و اِنّا لموسعو ن ) ( ۳ )
آسما ن کو ہم نے قدرت سے بنا یا اور مسلسل ہم اسے وسعت عطا کرتے رہتے ہیں۔
اور جب بات طبعیت اور ہستی کی تاریخ کی ابتداء میں '' خاکستر اور دھوئیں'' کے متعلق ہو تو قرآن کریم
____________________
(۱)اعراف ۵۴(۲)انبیائ۱۰۷ (۳)ذاریات۴۷
اس راز سے بھی پر دہ اٹھا تے ہوئے فرماتا ہے:
( ثُمَّ استو یٰ اِلیٰ السّما ء و هی دُخان ) ( ۱ )
پھر وہ آسمان کی تخلیق میں مشغو ل ہو گیا جب کہ وہ دھوئیں تھا۔
طبیعت و ہستی کے آغاز پیدا ئش میں '' دھوئیں'' کا و جود اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت ہستی میں پایاجانے والا مادہ گیس کی صورت میں تھا ، جد ید دانش میں محققین '' سد یمی ابر''( ۲ ) کی تھیو ری پیش کرتے ہیںاور کہتے ہیں : اپنے پہلے مر حلہ میں طبیعت و ہستی اسی طرح تھی۔
قرآ ن کریم فر ماتا ہے:
( قل أئنکم لتکفرون با لذ ی خلق الأرض فی یو مین و تجعلون له اندادا ً ذلک ر بُّ العا لمین)( وجعل فیها روا سی من فو قها...ثُمَّ استو یٰ اِلیٰ السّما ء و هی دُخا ن ) ( ۳ )
کہو! کیا تم لوگ اس ذا ت کا ا نکا ر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن مین خلق کیا ہے اور اس کے لئے شریک قرار دیتے ہو ؟ وہ تمام عالمین کا ربّ ہے !اُ س نے زمین میں استوار اور محکم پہا ڑوں کو قرار دیا پھر آسما نوں کی تخلیق شروع کی جب کہ وہ دھوئیں کی شکل میں تھا۔
جب ہم ان آیات کی تلا وت کرتے ہیں تو درک کرتے ہیں کہ '' طبیعت و ہستی ''کا شکل اختیار کرنا اولین''سدیمی'' بادلوں کا تہ بہ تہ ڈھیرہونا پھران کی ایک دوسرے سے جدا ئی کا نتیجہ ہے ، یہ وہ چیز ہے کہ قرآن کریم وضا حت کے ساتھ جس کے راز سے پردہ اٹھا تا ہے پھر ان کاموں کی طرف اشارہ کرتے کرتے ہوئے کہ جن سے آسمانی '' دھوئیں اور دخان '' میں اتصال و انفصال پیدا ہوتا ہے، خلقت کا راز ہم پر کھو لتا ہے، یہ وہی چیز ہے جس کو جد ید علم اصل '' طبیعت و ہستی '' کے بارے میں بسط و تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
____________________
(۱)فصلت۱۱ (۲) nebula (۳)فصلت ۹ تا۱۱
فہرستیں
جلد اول و دوم
ترتیب و پیشکش: سردارنیا
اسماء کی فہرست
جلد اول ودوم
حضرت آدم ـ : جلد اول :۱۷،۱۹،۵۶،۵۸،۶۸،۱۰۱،۱۰۲،۱۰۳،۱۰۹،۱۱۱،۱۱۲،۱۱۵،۱۱۶،۱۱۷،۱۲۰،
۱۲۱،۱۲۳،۱۲۴،۱۲۵،۱۲۶،۱۲۷،۱۲۸،۱۲۹،۱۳۳،۱۳۴،۱۳۵،۱۳۶،۱۳۷،۱۳۸،۱۴۷،۱۶۰،۱۶۱،۱۶۳،۱۶۴،۱۶۵،۱۷۳،۱۷۶،۱۸۲،۱۸۸،۱۹۰،۱۹۱،۱۹۲،۲۰۰،۲۱۹،۲۲۰،۲۲۱،۲۲۲،۲۲۵،۲۳۹،۲۴۴،
۲۶۹،۲۷۲،۲۷۳،۲۸۰۔
جلددوم:۱۵،۱۷،۱۸،۱۶۹،۱۸۶،۲۴۱،۲۸۰۔
آسیہ :۲۳۔ج۱.
آصف محسنی : ۲۲۶
آل ابرا ہیم : ۲۸۰۔ ج۱.
آل عمرا ن : جلداول:۲۸۰۔جلددوم: ۳۷۔
آل فرعون : جلددوم : ۳۰۔۶۷۔
آل موسیٰ : جلددوم۴۸۔
آ ل ہا رون : جلددوم:۴۸۔
آمری : جلددوم:۲۱۷۔
ابراہیم :۲۵،۲۶،۲۸،۸۰،۱۴۷،۱۴۸،۱۵۶،۱۶۶،۱۷۲،۱۷۳،۱۸۲،۱۸۶،۲۰۳،۲۱۸،۲۲۵،۲۲۸،
۲۳۷،۲۳۸،۲۳۹،۲۴۴،۲۶۹،۲۷۶،۲۷۷،۲۸۰،۲۹۳۔
جلددوم:۱۳،۱۷ تا ۲۷،۳۴،۳۵،۳۷،۴۳،۶۱،۶۲،۱۵۲۔
ابلیس: ۸۹،۱۰۲،۱۰۳،۱۰۷،۱۰۹،۱۱۱،۱۱۲،۱۱۵،۱۱۶،۱۱۸،۱۲۳،۱۲۴،۱۲۶،۱۲۷،۱۳۲،۱۳۷،۱۵۰،
۱۶۰،۱۶۱،۱۶۴،۱۶۳،۲۰۶،۲۲۱،۲۳۵،۲۳۷،۲۴۰۔
جلددوم:۱۹،۵۳،۹۹،۱۲۰،۱۴۰،۱۵۵۔
ابن ابی الحدید : ۱۳۲.
ابن ابی العو جا ء : ۲۵۴،۲۵۵۔
ابن اثیر :۲۲۰۔
ابن با بویہ :جلددوم:۲۳۴،۲۳۷۔
ابن بطہ : جلددوم: ۲۱۶.
ابن تیمیہ : جلددوم: ۲۱۸۔۲۱۹۔
ابن حجر :۲۵۵
ابن حزم : جلددوم:۱۹۳،۱۹۴،۲۱۵۔
ابن حبان:۲۵۵.
ابن خزیمہ : جلددوم:۲۱۶.
ابن خلکان : ۲۵۳.
ابن رشد :جلددوم:۲۱۸۔ ۲۱۹۔
ابن زیاد : جلددوم:۲۰۸۔
ابن سعد :۱۲۹۔۱۸۸۔ ۲۲۰۔ ۲۵۳۔۴ ۲۵۔
جلددوم :۱۸۵۔
ابن سینا : جلددوم:۲۱۸۔
ابن طفیل : جلددوم:۲۱۸۔
ابن طولو ن : جلددوم:۲۳۷.
ابن عبا س : ۱۷۔۱۸۸۔۲۰۹۔۲۱۹۔ جلددوم:۱۵۲۔ ۱۸۲۔۱۸۳۔ ۲۰۱۔
ابن عبا س جو ھری :جلددوم:۲۳۷۔
ابن عساکر : جلددوم:۱۳۲۔ ۲۰۱۔
ابن قدامہ: جلددوم: ۲۱۶۔
ابن کثیر : ۱۸۸۔ ۲۲۰۔۲۸۴۔ جلددوم:۵۷۔۱۱۴۔۱۵۲۔۱۸۱۔۱۸۲۔ ۲۲۲۔
ابن کلبی : جلددوم:۱۹۔
ابن ما جہ :جلددوم:۱۸۵۔۲۱۸۔
ابن منظور : ۳۸۔
ابن ہشا م : ۲۸۵۔ جلد دوم :۲۵۱۔
ابو الحسن اشعری:جلددوم:۲۱۵۔۲۱۹۔
ابو بکر ( خلیفہ )۲۷۹۔
ابو حا تم : ۲۵۵۔
ابو حنیفہ : ۲۶۲۔
ابو داؤد : ۱۲۹۔
ابو طا لب تجلیل : جلددوم:۲۳۷۔
ابو عبیدہ :۲۷۹۔
ابوملک بن یر بو شت :۲۵۸۔
ابو منصور ما تر یدی سمر قندی؛ جلددوم: ۲۲۲۔
ابو ہا شم جبا ئی: جلددوم: ۲۳۰۔
ابو ہذیل علا ف :جلددوم:۲۲۰۔
ابو ہریرہ :۲۵۴
ابو الھیثم : ۳۸۔
ابو وائل : جلددوم:۱۸۱ ۔
احمدصلىاللهعليهوآلهوسلم : ۱۴ ۔
احمد آرام :جلددوم:۲۲۵۔
احمد امین : جلددوم: ۲۱۵۔
احمد ابن حنبل : ۱۴۸. جلددوم:۱۰۲۔۱۱۳۔۱۸۲،۱۸۵۔۲۱۴۔۲۱۵۔۲۱۶۔
سرسیداحمد خان ہندی : جلددوم: ۲۲۴،۲۲۵۔
احمد محمو د صبحی : جلددوم: ۲۱۳،۲۱۷،۲۱۸،۲۲۲،۲۲۴۔
اخطل شاعر : جلددوم:۱۳۲ ۔
خنوخ :۲۱۹،۲۲۰۔
ادریس :۲۱۹۔۲۲۰۔۲۲۱۔۲۲۵جلددوم:۱۶۹۔
اڈو ین پا ول ھا بل : جلددوم:۲۴۷۔
ارسطا طا لیس : جلددوم:۲۱۸۔
ارسطو : جلددوم:۲۱۸۔۲۲۴۔
اسا مہ بن زید : ۲۶۶۔۲۶۷ ۔
اسبا ط : ۱۴۷۔جلددوم:۱۵۴ ۔
اسحق :۱۴۷۔۱۴۸۔جلددوم:۲۲۔۲۷۔۵۳۔
اسرا ئیل :۱۳۔۱۴۔ ۵۱۔۱۸۷۔۱۸۹۔۱۹۴۔۲۰۰۔۲۲۳۔۲۲۴۔۲۴۹۔۲۵۱۔۲۵۲۔۲۵۷۔۲۶۰۔
۲۶۱۔۲۶۳۔۲۹۰۔۲۹۲۳۔
جلددوم:۱۳،۱۵،۳۱،۳۴،۳۷،۳۸،۴۰،۴۲،۴۳،۴۵،۴۷،۴۸،۴۹،۵۲،۵۳،۵۶،۵۸،۶۱،۶۲،
۶۶،۶۷،۷۱،۱۰۳۔
اسرا فیل :۹۰۔
اسماعیل :۱۶،۱۴۷،۱۴۸،۱۹۹،۲۵۲۔ جلددوم:۲۱۔۲۲۔ ۲۴،۲۵،۲۷،۳۴،۳۵،۴۴۔
اصحا ب ۔ صحا بی :۹،۱۰،۱۰۳،۱۲۰۔ جلددوم:۴۰،۶۰،۸۷،۱۱۷،۱۱۹،۱۸۱،۲۰۸۔
العازار کا ہن :۲۲۳۔
الفر دبل : جلددوم:۲۲۲۔
اقبال لاھوری :جلددوم:۲۲۵۔
الیاس :۲۲۵۔
امام ابو الحسن :جلددوم:۱۰۱۔
امام الحر مین :جلددوم:۲۱۷ ۔
ائمہ اہل بیت : ۱۲،۲۲۷،۲۷۷۔ جلددوم :۱۴،۱۸۶،۱۸۸،۱۹۵،۲۰۱،۲۰۳۔
امام جعفر صادق :۱۰۹،۱۱۰،۱۳۶،۲۷۳،۲۸۴۔ جلددوم:۱۹،۸۸،۹۶،۱۰۰،۱۰۱،۱۰۲،۱۰۶،۱۰۹،
۱۱۴،۱۲۹،۱۵۳،۱۸۵،۲۰۳،۲۰۵،۲۳۵۔
امام حسن مجتبی : جلددوم۲۰۱ ۔
امام حسین : ۵۶۔جلددوم:۲۰۸،۲۰۹۔
امام زین العا بدین : جلددوم۱۰۶۔
امام علی بن ابی طا لب :۶۹،۱۳۰،۱۳۲،۱۳۳،۱۳۵۔جلددوم:۶۱،۱۰۰،۱۰۳،۱۱۴۔
امام علی ابن موسی ٰ الر ضا :۱۳۷،۲۳۰،۲۷۹۔. جلددوم۱۸۷۱۱۳،۲۰۳۔
امام کا ظم :جلددوم :۱۱۳۔
امام محمد باقر ـ :۱۰۸،۱۳۶۔ جلددوم:۱۰۱،۱۰۷،۱۸۸۔
امام امیر المو منین علی :۲۴۵۔ جلددوم: ۷۶،۱۱۳،۱۰۲،۲۲۷۔
انس ابن مالک :۲۵۲۔ ۲۵۵ ۔۲۶۱۔۲۶۲۔ ۲۸۴.
ا نصار :جلددوم:۲۹۔ ۶۹۔۷۰۔
انوش :۲۱۹ ۔
اوریا : ۲۵۰۔۲۵۲۔ ۲۵۶۔۲۵۷۔۲۵۸۔۲۵۹۔۲۶۲۔۲۸۰۔۲۸۲۔۲۸۳.
اہل بیت :۲۵۶. جلددوم:۲۔۵۔۶۔۷۔۸۔۱۴۔۱۱۵۔۲۱۹۔۲۲۵۔۲۲۶۔۲۲۷۔ ۲۳۰۔۳۲۱۔۲۳۲۔
۲۳۳۔ ۲۳۴۔ ۲۳۵۔۲۳۶۔۲۳۷۔۲۳۹۔۲۴۰۔
اے۔ کر یسی مر سیون :۳۴۔
ایوب : ۱۴۸۔ ۲۲۵۔۲۳۸.
(ب)
بحرا نی :۱۲ ۔
بخاری : ۲۲۔ ۲۱۰۔
بشربن مروان : جلد دوم :۱۳۲۔
بطلیمو س : ۹۱۔
بلقیس :۱۱۱ ۔۲۲۹۔
یوارد :۲۲۰۔
بیگ با نگ : جلددوم : ۲۴۷۔
بیہقی : جلد دوم : ۲۱۹۔
(پ)
پطرس :۲۲۴ ۔
پیغمبرصلی ﷲ علیہ و الہ وسلم :۵۲۔۱۲۵۔۱۲۶۔۲۶۵۔۲۷۷۔۲۷۹۔۲۸۴۔
جلددوم:۱۴۔۱۶۔۲۲۔۲۳۔۲۴۔۲۶۔۲۷۔۲۸۔۳۰۔۴۱۔۵۵۔۸۰۔۹۰۔۹۲۔۱۰۷۔۱۲۶۔۱۲۹۔
۱۳۳۔ ۱۳۴۔۱۳۶۔ ۱۴۲۔۱۵۶۔۱۶۲۔۱۷۴۔۱۸۵۔۱۹۶۔۲۰۳۔۲۰۹۔۲۱۰۔۲۱۱۔۲۱۵۔۲۱۷۔ ۲۱۸ ۔
(ت)
تا بعین :۲۶۱ ۔ جلددوم :۱۸۱ ۔
تر مذ ی :۱۲۹۔ جلددوم :۱۱۴۔۵ ۱۸۔
تمیم داری :۲۶۱ ۔
(ث)
ثقفی : ۱۳۴۔
(ج)
جا حظ؛ جلد: دوم :۲۲۰ ۔
جبا ئیا ن :جلد دوم: ۲۲۰۔
جبرا ئیل : ۶۴۔۶۶۔۶۷۔۳ ۱۳۔۱۳۴۔۱۳۶۔۱۳۷۔۱۵۶۔۲۵۲۔ جلد دوم :۱۷۔۹۰۔
جعفر سبحانی جلد:دوم :۲۲۲۔
جمال الدین اسد آبادی جلد :دوم :۲۲۵۔
ڈاکٹرجواد علی :۲۵۳۔
جورج لا میتر : جلد دوم :۲۴۷۔
جوہری : جلددوم : ۱۵۶۔
جو ینی : جلددوم :۲۱۸۔
(ح)
حا رث محا سبی : جلددوم :۲۲۷۔
حا فظ محمد سیلم : جلددوم :۲۴۶۔
حام : ۲۲۱۔
حجا ج ابن یو سف :۳ ۲۵۔
حر عا ملی : جلددوم :۲۳۷ ۔
حسن بصری : ۲۵۱۔۲۵۳۔۲۵۴۔۲۵۵۔۲۶۰۔ ۲۶۱۔۲۶۲۔۲۶۳۔
حمیری :۲۵۳۔
حوا : ۱۲۳۔۱۲۵۔ ۱۲۷۔۱۲۹۔ ۱۳۶۔ ۱۳۷۔ ۱۳۸۔۱۹۲۔ ۱۹۳۔۲۱۹۔جلد دوم :۱۸۔
حواری ؛حواریوں ؛ حواریین: ۱۸۸۔۲۲۴۔۲۲۵۔
(خ)
خاتم الانبیائ؛خاتم المرسلین؛خاتم النبیین:۱۳۔۲۶۔۲۸۔۳۰۔۷۰۔۸۸۔۹۰۔۹۱۔۹۸۔ ۹۹۔ ۱۱۲۔۱۲۶۔
۱۵۳۔۱۵۶۔۱۷۴۔۱۸۲۔۲۰۸۔۲۱۶۔۲۳۵۔۲۴۷۔ جلد دوم :۱۳۔۱۵ ۔۲۵ ۔۲۶۔۲۹۔ ۳۸۔۴۰۔ ۴۱۔ ۴۴۔۴۵۔۵۹۔۶۰۔۶۲۔۶۳۔۶۵۔۶۶۔ ۶۸۔۷۰۔۸۳۔۱۱۲۔۱۴۰۔
خازن : ۲۶۳۔۲۸۳۔
خدیجہ ام المومنین علیہا السلام : ۲۶۶۔
حضرت خضر ـ: ۲۶۳۔
خنوخ : ۲۱۹۔۲۲۰۔
(د)
دارمی : جلد دوم :۲۔۸۹۔
داود :۱۰۸۔۱۴۷۔۹ ۱۸۔۲۳۵۔۲۳۸۔ ۲۴۷۔۲۴۸۔۲۴۹۔۲۵۰۔۲۵۱۔۲۵۲۔۲۷۶۔ ۲۸۰۔ ۲۸۲۔ ۲۸۹۔ جلددوم :۵۸۔۶ ۱۸۔۱۸۸ ۔۱۹۹۔
ڈیکارٹ: جلد دوم :۲۱۸۔
(ذ)
ذوالکفل : ۲۲۵۔ ۲۳۸۔
ذوالنو ن : ۲۸۰ ۔۲۸۱۔
(ر)
راغب اصفہا نی : ۱۴۳۔۱۴۴۔۱۵۷۔۲۷۸ ۔ جلد دوم :۴۷۔۲۲۷۔۲۴۸۔
ربیعة بن الحرث بن عبد المطلب :۵ ۲۸۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم :۱۰۔۱۱۔ ۵۶۔ ۷۵۔ ۱۲۹۔ ۱۳۷۔۱۶۱۔۱۷۷۔۲۱۰۔ ۲۴۴۔ ۲۴۵۔۲۶۱۔۲۶۲۔۲۶۳۔ ۲۶۵۔۲۶۶۔ ۲۶۷۔۲۷۹۔۲۸۲۔۲۸۴۔۲۸۵۔ جلددوم : ۱۱۔۵ ۲۔ ۶۶۔ ۶۷۔۷۸۔ ۹۵۔ ۱۰۰۔۱۰۲۔ ۱۰۳۔۱۰۶۔۱۱۳۔۱۱۴۔ ۱۱۷۔ ۱۱۸۔ ۱۱۹۔ ۱۵۳۔۱۵۵۔ ۱۸۰۔۱۸۶۔۲۲۶۔۲۳۷۔
روح الا مین :۱۱۔۶۴۔۶۹۔۷۱۔ ۱۳۴۔
روح القدس :۶ ۵۔۵۷۔ ۶۴۔ ۶۹۔۷۰۔۷۱۔ ۱۳۴۔۱۹۳۔ جلددوم :۳۲۔۳۶۔۴۳۔۴۴۔
ریچرڈ واٹس :۱۲۴۔ جلددوم :۳۸۔
(ز)
زعفرا نی : جلددوم :۲۱۶ ۔
زکریا : ۵۴۔ ۱۵۶۔۲۳۸۔ جلددوم :۱۶۹ ۔
زلیخا :۲۳۷۔ ۲۴۱۔
زھدی حسن جار ﷲ : جلددوم :۲۲۱۔
زھیر بن ابی سلمی : ۲۶۲۔
زیاد ابن ابیہ : جلددوم :۲۰۸۔
زید بن ثا بت ؛ ۲۵۳۔
زید بن حارثہ : ۲۱۰۔۲۶۵۔۲۶۶۔
زید بن محمد :۲۶۶۔
زین العا بدین امام علی بن الحسین :۲۶۳ ۔ جلددوم :۱۰۶۔
زینب بنت جحش :۲۶۳۔ ۲۶۵۔
(س)
سام : ۲۲۲۔
سا مری : ۱۲۴۔ جلددوم :۴۸۔۱۵۲۔
سا می البدری :۴ ۱۲۔
السبکی : جلد دوم :۲۲۲ ۔
سعد بن ابی وقا ص: جلددوم :۴۱ ۔
سفیان بن عیینہ : ۲۶۳۔
سکا کی : ۳۰۰ ۔
سیلما ن : ۹۷ ۔۹۸ ۔۱۰۸ ۔۱۰۹ ۔۱۱۱۔۱۱۲ ۔۱۴۷۔۱۴۸۔۱۷۵۔۱۸۷۔۲۲۴۔۲۲۵۔۲۲۹۔ ۲۳۸۔
جلددوم :۵۸۔۱۵۳۔
ڈاکٹرسلیمان دنیا : جلددوم :۲۲۳۔
سمعون :۲۲۴۔
سمو ئیل : ۲۵۶۔۲۶۰۔
سمیع عا طف الز ین : جلد دوم :۲۲۴۔
سوا ع :۲۲۱ ۔ جلددوم :۱۸۔
سیو طی :۱۲۔۱۰۷۔ ۲۵۱۔۲۵۲۔۲۶۲۔ جلددوم :۵۸۔
(ش)
شافعی :۲۶۲ ۔ جلددوم : ۲۱۶۔
شعبہ :۲۵۵۔
شعیب :۲۱۷۔ ۲۲۵۔ جلد دوم :۱۷۔۲۷۔
شفیق بن سلمہ : جلددوم :۱۸۱۔
شمعون :۲۲۴۔
شوکا نی : جلد دوم :۲۱۷۔۲۱۹۔
شہر ستا نی : جلددوم :۱۹۳۔۱۹۴۔
شیخ صدوق : ۱۱۱۔ ۱۲۹۔ ۲۸۳۔ جلددوم :۷۹۔۸۷۔ ۸۹۔۹۸۔۱۰۱۔۱۰۷۔۱۰۹۔۱۱۰۔۱۱۸۔۱۱۹۔ ۱۵۳۔۱۸۶۔۱۸۷۔۲۰۱۔
شیخ مفید : جلد دوم :۲۳۴۔۲۳۶۔
شیث: ۱۲۵۔۲۱۹۔۲۲۰۔۲۲۱۔
( ص)
صابونی : جلددوم :۲۱۷۔
صالح : ۴۲۔۲۳۱۔ جلددوم : ۱۷۔
(ط)
طبری : ۲۲۰۔۲۴۸۔۲۵۱۔۲۵۲۔۲۶۱۔۲۶۴۔جلددوم :۱۱۴۔۱۵۲۔۱۸۱۔۱۸۳۔۱۸۴۔
طیا لسی : جلددوم :۱۸۔۱۸۶۔
( ع)
عبا س بن عبد المطلب : ۲۸۵ ۔
عبا س علی براتی : جلددوم :۲۱۳۔
عبد الجباربن احمدہمدانی : جلد دوم :۲۲۰۔
عبد الحلیم محمود : جلد دوم :۲۱۸۔
عبد الر زاق نو فل : جلددوم :۲۲۴۔
عبد ﷲ بن عباس : ۲۶۲۔
عبد ﷲ بن عمر وعاص :۲۶۱۔
عبد المطلب :۲۶۶
عبد الوھا ب بن احمد : جلددوم :۲۲۴۔
عبید ﷲ بن حسن عنبری : جلددوم : ۲۱۷۔
عثما ن (خلیفہ ) :۲۶۱۔
عزرائیل : جلد دوم :۹۰
عزّیٰ :۴۹۔
عز یر: ۔۵۰۔
علی بن ابرا ہیم :۲۸۳۔ جلددوم :۱۸۸۔
علی بن ابی طالب علیہ السلام : یہ امام علی ـ میں گزر چکا ہے.
علی بن حسین علیہ السلام : یہ امام زین العابدین ـمیں گزر چکا ہے۔
علی بن حسین المو سوی : جلددوم :۲۲۹۔
علی بن جد عان : ۲۶۳
علی بن جہم : ۲۷۶۔۲۸۱۔
علی بن زید : ۲۵۴۔
علی بن طا ووس : جلددوم :۲۲۶۔
علی حسین الجا بری : جلددوم :۲۱۹۔
علی سامی النشا ر ؛ جلددوم :۲۱۹۔
عمر بن خطاب( خلیفہ):۲۶۱۔جلددوم :۱۸۱۔
عمر بن عبد العزیز : جلددوم :۱۸۱۔
عمرو بن شعیب : جلددوم :۲۱۴۔
عمر و بن عبید : جلددوم :۲۲۰۔
عیسیٰ علیہ السلا م : ۱۳۔۵۱۔۵۲۔ ۵۴۔ ۵۶۔۵۸۔۶۴۔ ۶۸۔۱۴۷۔۱۷۲۔۱۷۳۔۱۸۲۔۱۸۸۔ ۱۹۴۔
جلد دوم :۱۳۔۱۷۔ ۶۳۔
عیسیٰ نا صری :۱۸۹۔
( غ)
غزا لی : جلددوم :۲۱۸۔۲۱۹۔۲۲۳۔
( ف)
فا رابی : جلد دوم :۲۱۸ ۔
فخر رازی :۲۸۳۔ جلددوم :۲۱۷۔
فرعون:۲۳۔۲۴۔۲۵۔۳۷۔۳۸۔۴۴۔۱۵۳۔۱۲۷۔۲۱۷۔۲۳۵۔۲۷۳۔۲۸۹۔۲۹۰۔۲۹۱۔ ۲۹۲۔
جلددوم :۲۶۔ ۲۷ ۔۲۹۔۳۰۔۴۷۔ ۵۴۔۶۲۔۱۰۳ ۔۱۰۴۔
فرید وجدی : جلددوم :۲۲۴ ۔
فروز آبا دی : جلددوم :۱۵۶۔
(ق)
قابیل : ۲۲۰۔۲۲۱۔
قا سم رسّی : جلددوم :۔۲۲۰۔۲۲۱۔
قا سمی : جلددوم :۲۱۹۔
قرطبی : ۲۸۴۔ جلددوم :۱۰۰ ۔۱۱۴۔۱۸۳۔
قمی : ۱۳۶۔۲۱۰۔۲۸۳۔
قینان : ۲۱۹۔۲۲۰۔
( ک)
کسر یٰ : ۲۵۳۔
کعب الا حبار :۲۶۱
کلینی : جلددوم :۲۲۷۔
کند ی : جلددوم : ۲۱۸۔
( ل)
لا ت ۔۱۸۹۔
لقمان : ۲۶۔۲۴۰۔۲۸۹۔
لمک :۲۲۰۔۲۲۱۔
لوط علیہ السلا م : ۲۳۔۲۵۔ ۶۲۔۶۳۔ ۱۸۷۔
جلددوم :۲۷۔۱۳۴۔۷ ۱۹۔۱۹۹۔
(م)
مک میلا ن : جلددوم :۲۴۶ ۔
ما لک : ۶۱۔
ما مون خلیفہ عبا سی : ۱۳۷۔۲۷۹۔ جلددوم :۲۲۰۔۲۲۱۔
متو شلخ ؛ ۲۲۰۔۲۲۱۔
متو کل خلیفہ عبا سی : جلددوم :۲۲۰۔
مجلسی : ۹۲۔۹۳۔ جلددوم :۱۹۔۱۸۶۔۱۸۸۔
محمد صلی ﷲ علیہ والہ وسلم : ۷۔۹۔۱۸۲۔ ۲۲۵۔ ۱ ۲۳۔ ۲۶۵۔۲۶۸۔
جلددوم :۷۔۱۳۔۱۷۔۲۰۔۳۹۔۴۴۔۵۶۔۵۹۔۶۰۔۶۳۔۱۰۷۔۱۱۷ ۔۱۴۰۔۱۶۷۔۲۳۷۔۲۴۱۔
محمد ابو زھرہ : جلددوم :۲۲۲۔
محمد بن علی الباقر علیہ السلام :۱۰۸۔۱۳۶۔ جلددوم :۱۰۷۔
محمد بن با بو یہ : جلددوم :۲۳۴۔
محمد حمید حمد ﷲ : جلدجلددوم :۲۱۵۔
محمد سلیم حا فظ : جلددوم: ۲۴۶۔
محمود شلتوت : جلددوم :۲۲۵۔
مخنف بن سلیم : ۲۴۵۔
مرتضی ( الشریف ) : جلد دوم:۲۲۹۔
حضرت مریم علیہ السلام :۲۳۔۲۴۔۲۵۔۵۱۔۵۲۔۵۴۔۵۶۔۶۲۔۶۸۔۷۰۔۱۳۴۔۱۹۴۔۱۹۹۔ ۲۰۲۔
جلددوم :۵۱۔۶ ۵۔۵۷۔۵۸۔۱۱۱۔۱۴۳ ۔۱۶۷۔۱۶۹۔
مزّ ی :۲۵۵۔
مسعودی : ۲۲۰۔جلددوم :۲۴۱۔
مسلم :۵۱۔جلددوم :۲۔۱۸۲۔
مسیح علیہ السلام :۵۰۔۵۱۔۵۲۔۵۴۔ ۵۶۔ ۵۸۔۱۸۹۔۱۹۳۔۱۹۴۔۲۱۱۔ جلددوم :۲۱۸ ۔
معتصم خلیفہ عباسی : جلددوم :۲۲۰ ۔
معروف بن خر ّبو ذ : جلددوم : ۱۰۱۔
مقاتل بن سلیمان : ۲۶۲۔
ملک الموت : ۶۵۔۷۱۔ ۱۰۸۔ جلددوم :۸۶۔ ۸۸۔ ۹۰۔۹۱۔
منات : ۴۹۔
منصور حلا ج : جلددوم :۲۲۳۔
منصور دوانقی : جلددوم :۲۲۰ ۔
مو ریس بو کیل : جلددوم :۲۵۰۔۲۵۲۔
موسیٰ علیہ السلام : ۲۶۔۲۷۔۳۷۔۱۴۷۔ ۱۴۸۔۱۵۳۔۱۵۷۔۱۶۱۔۱۷۲۔۱۷۴۔۱۹۰۔ ۲۰۵۔۲۱۰۔ ۲۱۸۔ ۲۱۳۔ ۲۲۴۔ ۲۲۵۔۲۲۹۔ ۲۳۴۔ ۲۷۲۔۲۷۴۔۲۷۵۔ ۲۷۹۔۲۸۹۔۲۹۰۔۲۹۱۔۳۰۱۔
جلد دوم :۱۳۔۱۹۔۲۲۔۲۷۔ ۲۹۔ ۳۲۔ ۳۳۔۳۸۔۳۹۔ ۴۰۔۴۴۔ ۴۶۔ ۴۸۔۵۰۔۵۲۔۵۵۔۵۶۔۵۹۔۶۰۔۶۲۔۱۰۹۔۱۳۹۔۱۴۱۔۱۵۲۔۱۵۶۔۱۶۹۔۱۷۱۔
مھا جر ین : جلد دوم :۲۹
مھلا ئیل : ۲۲۱۔
میر جلا ل الدین حسینی ؛۱۳۴ ۔
میر داماد :۹۲۔
میکا ئیل :۶۷۔ جلددوم :۹۰۔
(ن)
نا تان : ۲۵۸۔۲۵۹ ۔
الندیم : ۳۰۰ ۔
نسا ئی : جلددوم :۱۸۲۔
نسر : جلددوم :۱۸۔
نسنا س :۱۳۲۔
نصر بن مزا حم : ۲۴۵۔
نظّا م : جلددوم :۲۲۰ ۔
نمرود ؛ جلددوم : ۲۶۔
نو ح علیہ السلا م : ۲۳۔۲۴۔۲۵۔۴۰۔۸۰۔۸۹۔۹۰۔۱۲۵۔۱۴۷۔۱۴۸۔۱۶۱۔۱۷۲۔۱۷۳۔۱۸۲۔
۱۸۸۔۲۱۶۔۲۱۷۔۲۲۱۔۲۲۲۔
جلد دوم :۱۳۔۱۵۔۱۷۔۱۸۔۲۰۔۲۶۔۲۷۔۶۱۔۱۳۹۔۱۴۲۔۱۷۸۔
( و)
واصل بن عطا ء :۲۵۴۔ جلد دوم:۲۲۰ ۔
واقدی : ۲۷۸۔ ۲۶۹۔
ودّ : ۲۲۱۔ جلددوم : ۱۸۔
وھب بن منبہ : ۲۴۸۔ ۲۵۳۔۲۵۶۔۲۶۰۔۲۶۲۔۲۶۴۔
( ھ)
ہا بل : جلددوم : ۲۴۷۔
ہا رون علیہ السلام :۱۴۸۔۱۶۱۔۲۲۳۔۲۲۹۔۲۳۴۔۲۷۴۔۲۹۰۔۲۹۴۔۲۹۶۔۲۹۷۔
جلددوم : ۴۸۔ ۵۸۔۵۳۔
ہا شم : ۲۶۶۔
ہبة ﷲ : ۲۱۹۔
ہود علیہ السلام :۱۷۶۔۲۱۷۔ جلددوم :۱۷۔۱۲۱۔۱۳۰۔ ۱۳۹۔۱۷۹۔
( ی)
الیا فعی : جلددوم :۲۲۲۔
یا فث : ۲۲۱۔
یا قو ت حمو ی :۱۲۴۔
یتشبع دختر الیعا م : ۲۵۶ ۔
یحییٰ ٰ علیہ السلا م : ۵۴۔ جلددوم : ۱۶۹۔
یز ید بن معا ویہ : ۲۸۵ ۔
یزید رقا شی : ۲۵۲۔۲۵۵۔۲۶۱۔ ۲۸۴۔
یسع : ۲۱۸۔
یعقوب علیہ السلام :۱۴۷۔۱۸۶۔۱۹۹۔ جلددوم :۲۷۔۳۸۔۳۹۔۴۴۔۴۷۔۵۶۔۶۲۔
یعقو بی :۲۲۰ ۔
یعوق : ۲۲۱ ۔ جلد دوم :۱۸ ۔۱۹۔
یغو ث : ۲۲۱۔ جلد دوم :۱۸ ۔۱۹۔
یو آب :۲۵۷۔
یوسف علیہ السلام :۱۸۱۔۲۳۷۔۲۴۱۔۲۴۲۔۲۵۳۔۲۷۰۔۲۷۱۔۲۷۷۔۲۷۸۔۲۸۰۔۲۸۱۔
یو شع بن نو ن :۲۲۳۔ ۲۲۴۔۲۲۵۔
یو نس علیہ السلام :۱۴۷۔۱۵۹۔۲۸۰۔۲۸۱۔ جلددوم :۱۸۳۔۱۸۴.
یھو د ا :۲۵۷ ۔۲۵۹۔جلددوم : ۵۸۔
کتاب کے صفحات کی ترتیب کے اعتبار سے آیات کریمہ کی فہر ست
جلد اول
ردیف............. آیۂ کریمہ............ ............ سورہ.......... صفحہ
۱ ِانّا أنز لنا ه قرا ناً عر بيًا............ یو سف: ۱ ۱
۲ نزل به الروح الا ٔمین............ .... شعرائ: ۱۱
۳ کلّ الطعا م کا ن حلا ً لبنیِ اسرا ئیل ... آل عمر ان: ۱۳
۴ و اِذ قا ل عیسی بن مریم یا بنی اِسرا ئیل............ صف: ۱۴
۵ و اِذا اَخذ ربک من بنی آدم من............ اعر ف: ۱۹
۶ انِّما أشر ک آبا ؤ نا من قبل............ .....اعرا ف: ۱۹
۷ ضرب ﷲ مثلاً للذین کفروا امرأة نو ح............ ....تحریم : ۲۳
۸ و هی تجریِ بهم فی موج کا لجبا ل هو د: ۲۵
۹ و لقد آتینا اِبرا هیم رشده انبیا ئ: ۲۵
۱۰ و اتل علیهم بنا اِبرا هیم اِذ قال لأ بیه شعرائ: ۲۵
۱۱ قال موسیٰ أتقو لون للحقّ لمّا جاء کم أ سحر یو نس: ۲۶
۱۲ و اِذا قیل لهم تعا لوا اِلی ما أنزل ﷲ ما ئده: ۲۶
۱۳ و من النا س من یجا دل فی ﷲ بغیر علم لقما ن: ۲۶
۱۴ و جعلوا الملا ئکة الذین هم عباد الر حمن زخرف: ۲۷
۱۵ وکذ لک ما أرسلناک من قبلک فی قر ية زخرف: ۲۷
۱۶ فذکر اِنّما أنت مذ کر لست علیهم غا شیه: ۳۰
۱۷ و أنزلنا اِلیک الذ کر لتبین للنا س نخل: ۳۰
۱۸ و لقد جعلنا فی السما ء برو جا ً و............ حجر: ۳۴
۱۹ و الٔارض مدد نا ها وألقینا ............ حجر: ۳۴
۲۰ اِن ّ فی خلق السّموا ت و الٔا رض و اختلا ف............ بقره: ۳۵
۲۱ أرایت من اتخذ اِلهه هوا ه أفأ نت تکو ن و أضله ﷲ.......... فرقان: ۳۷
۲۲ أرایت من اتخذ اِلهه هواه أفأنت تکون و اضله ﷲ......... جا ثیه: ۳۷
۲۳ و من أضل ممّن اتبع هواه بغیر هدیً من ﷲ .. قصص: ۳۷
۲۴ لئن اتخذت اِلهًا غیریِ............ ...... اعرا ف: ۳۷
۲۵ و قال الملٔا من قوم فرعون اتذ ر موسی و............ شعرا ئ: ۳۷
۲۶ الذین یجعلون مع ﷲ اِلها ً آخر............ حجر: ۳۸
۲۷ و لقد خلقنا الِانسان من سلا لة من طین مؤ منو ن: ۳۹
۲۸ و لقد أرسلنا نو حا ً اِلی قو مه مؤ منو ن: ۴۰
۲۹ ما اتخذ ﷲ من و لد و ما کان معه من اِله مؤ منو ن: ۴۱
۳۰ أم جعلوا ﷲ شر کا ء خلقوا کخلقه فتشا به رعد: ۴۱
۳۱ أفمن یخلق کمن لا یخلق نحل: ۴۱
۳۲ ذلکم ﷲ ربکم لا اِله الِاّ هو خا لق کل شیئ انعا م : ۴۲
۳۳ یا قوم اعبدوا ﷲ ما لکم من اِله غیره هود ۴۲
۳۴ من خالق غیر ﷲ یر زقکم............ ......فا طر: ۴۳
۳۵ و اتخذو ا من دو نه آ لهةً لا یخلقو نفر قان: ۴۳
۳۶ یا ٔايّها النا س ضرب مثل فا ستمعوا له............ حج : ۴۳
۳۷ قل أ ر أ یتم اِن أخذ ﷲ سمعکم............. انعا م: ۴۴
۳۸ الذی له ملک السموات والٔا رض............ اعرا ف: ۴۴
۳۹ من اله غیر ﷲ یا تیکم بضیائ............ قصص: ۴۴
۴۰ ذلکم ﷲ ربکم له الملک لا الاله الاّ هو............ زمر: ۴۴
۴۱ لا اِله اِلاّ هو یحیی و یمیت ربکم و............ دخا ن: ۴۵
۴۲ اِنّما الهکم ﷲ الذی لا اِله اِلا ّ هو............ طه: ۴۵
۴۳ قل لو کا ن معه آ لهة کما یقو لو ن............ اسرا ئ: ۴۵
۴۴ واتخذ وا من دون ﷲ آلهة لیکون............ مریم : ۴۵
۴۵ ء أتخذ من دونه آ لهة أن یردن............ یس: ۴۵
۴۶ أم لهم آ لهة تمنعهم من دوننا............ انبیا ئ: ۴۵
۴۷ واتخذ وا من دون ﷲ آلهة لعلهم............ یس: ۴۵
۴۸ فما أغنت عنهم آ لهتهم التی............ هود: ۴۵
۴۹ اِنّما ﷲ اِله وا حد ............ .............نسائ: ۴۶
۵۰ لقد کفر الذین قالوا اِنّ ﷲ ثا لث............ ما ئد: ۴۶
۵۱ و قال ﷲ لا تتخذ وا اِلٰهین اثنین............ نحل: ۴۶
۵۲ اِنّنی ِانا لله لا اِله اِلا أنا فا عبد نی............ طه: ۴۶
۵۳ و ما أرسلنا من قبلک من رسول............ .............انبیا ئ: ۴۶
۵۴ أ مَن خلق السموا ت و الٔارض و أنزل .........نحل: ۴۶
۵۵ فا سفتهم الر بک البنا ت و............ صا فا ت: ۴۸
۵۶ أم اتخذ ممّا یخلق بنات و............ ... زخرف: ۴۸
۵۷ و اِذا بشر أحد هم بما ضرب للر حمن............ زخرف: ۴۹
۵۸ أ فر أ یتم اللا ت و العزی............ .......نجم: ۴۹
۵۹ اِنّ الذین لا یؤ منو ن با لا خرهِ لیسمّون............ نجم : ۴۹
۶۰ و جعلو ا لله شر کا ء الجن و خلقهم............ انعا م: ۵۰
۶۱ و یوم یحشر هم جمیعا ً ثم یقول............ . سبا : ۵۰
۶۲ و قالت الیهو د عز یز ابن ﷲ............ .....توبه: ۵۰
۶۳ یا أهل الکتاب لا تغلو أفی دینکم............ نسا ئ: ۵۱
۶۴ لقد کفر الذین قالوا اِنّ ﷲ هو المسیح............ مائده: ۵۱
۶۵ اِنّ مثل عیسی عند ﷲ کمثل آدم............ ........آل عمرا ن: ۵۲
۶۶ وقالوا اتخذ الرّحمن ولدًا............ ...... مریم: ۵۲
۶۷ قل هو ﷲ أحد ﷲ الصمد............ . اخلا ص : ۵۳
۶۹ اِنّ ﷲ یبشرک بکلٰمة منه اسمه............ آل عمرا ن: ۵۴
۷۱ و الملا ئکه یسبحون بحمد ربهم............ .........شوری: ۶۲
۷۲ یخا فون ربهم من فو قهم............ .......نحل: ۶۲
۷۳ فأ رسلنا اِلیها روحنا فتمثّل لها............ . مریم: ۶۲
۷۴ و لقد جاء ت رسلنا اِبرا هیم با لبشری............ .........هود : ۶۲
۷۵ اِذ تستغیثو ن ربکم............ ............انفال: ۶۳
۷۶ اذ یوحی ربک اِلی الملا ئکه............ ..انفا ل: ۶۳
۷۷ اِذ تقول للمؤ منین أ لن یکفیکم............ .........آل عمرا ن: ۶۳
۷۸ ﷲ یصطفی من الملا ئکة رسلاً............ ...حج: ۶۴
۷۹ اِنّه لقو ل رسول کریم............ .........تکویر: ۶۴
۸۰ قل من کان عدوا ً لجبریل فاِ نه............ .. بقره: ۶۴
۸۱ و اِنّه لتنزیل ربّ العا لمین نزل به............ شعرا ئ: ۶۴
۸۲ قل نز له روح القدس من ربک............ .. نحل: ۶۴
۸۳ و آتینا عیسی بن مریم البینا ت............ .. بقره: ۶۴
۸۴ تنزل الملا ئکة و الروح فیها باِ ذن............ قدر: ۶۵
۸۵ و لقد خلقنا الِا نسا ن و نعلم ما تو سوس............ ق: ۶۵
۸۶ قل یتو فا کم ملک الموت الذی و کلّ............ سجده: ۶۵
۸۷ حتی اِذا جا ء أحدکم الموت تو فته............ ...........انعا م: ۶۵
۸۸ الذین تتو فا کم الملا ئکة ظا لمی أنفسهم............ .....نحل: ۶۵
۸۹ تعر ج الملا ئکة و الروح اِلیه فی............ ...........معا ر ج: ۶۶
۹۰ یو م یقو م الروح و الملا ئکة صفا ً............ نباء : ۶۶
۹۱ لیس البرّ أن تو لوا وجو هکم قبل............ بقره: ۶۶
۹۲ من کان عدو ﷲ و ملا ئکته ورسله............ .............بقره: ۶۶
۹۳ فاِ ذا سو یته و نفخت فیه من ............ ...حجر: ۶۸
۹۴ و مریم ابنت عمرا ن التی............ ... تحریم: ۶۸
۹۵ ینز ل الملا ئکة با لر وح من أمره علی............ نحل : ۶۹
۹۶ و کذ لک أوحینا الیک رو حا ً من ...........حج: ۶۹
۹۷ ثمّ استو ی اِلی السما ء و هی دخا ن............ ..........فصلت : ۷۲
۹۸ و کا ن عر شه علی الما ئ............ ....... هود: ۷۲
۹۹ ألم یروا اِلی الطیر مسخرات فی............ . نحل: ۷۳
۱۰۰ و أنزل من السما ء ما ء ً فا خرج............ بقره: ۷۳
۱۰۱ ثم استوی اِلی السما ء فسوّ اهن سبع............ بقره: ۷۴
۱۰۲ و ما من غا ئبة فی السما ء و الأرض............ نحل: ۷۴
۱۰۳ یوم نطوی السما ء کطی السجل............ انبیا ئ: ۷۴
۱۰۴۔ ھو الذی خلق لکم ما فی السموا ت الٔارض جمیا ً............ بقرہ: ۷۴
۱۰۵۔ ﷲ الذی خلق سبع سموا ت و من الارٔض............ ..طلا ق: ۷۴
۱۰۶۔ و أنز لنا اِلیک الذکر لتبین للناس............ نحل: ۷۵
۱۰۷۔و ھو الذی خلق السموا ت والأ رض .......... ھود: ۷۵
۱۰۸۔ اِنّ ربکم ﷲ الذی خلق السموا ت والا رض فی........... یونس: ۷۵
۱۰۹۔الذی خلق السموا ت و الٔارض و ما بینھما فی۔...........۔ فرقا ن: ۷۶
۱۱۰۔اولم یر الذین کفروا ان السموات و الا رض کا نت............ انبیائ: ۷۶
۱۱۱۔قل أ اِنکم لتکفرون با لذی خلق............ فصلت: ۷۶
۱۱۲۔ أ أنتم أشد خلقاً أم السما ء بنا ھا............ نا ز عا ت: ۷۷
۱۱۳۔و السما ء وما بنا ھا۔ و الٔا رض و ما طحا ھ............ شمس: ۷۷
۱۱۴۔ و الٔا رض مدد نا ھا و ألقینا فیھا ....... حجر: ۷۷
۱۱۵۔ الذی جعل لکم الٔار ض مھدا ً و............ ........طہ: ۷۷
۱۱۶۔ الذی جعل لکم الٔا رض فرا شاً و............ ........بقرہ: ۷۸
۱۱۷۔ ألم تر وا کیف خلق ﷲ سبع سموا ت............ نو ح: ۷۸
۱۱۸۔ أفلا ینظرون اِلی الِا بل کیف خلقت............ غا شیہ: ۷۸
۱۱۹۔ أمّن خلق السّموات و الٔارض و أنزل لکم.............نمل: ۷۸
۱۲۰۔ و جعلنا فی الٔارض رواسیِ أن تمید بھم............ انبیا ئ: ۷۹
۱۲۱۔ ألم یجعل الٔارض کفا تا ..........مرسلا ت: ۷۹
۱۲۲۔ ھو الذی جعل الشمس ضیا ء ً و القمر............ یونس: ۷۹
۱۲۳۔ و لقد أرسلنا نو حا ً و ِابراہیم .........حدید: ۸۰
۱۲۴۔ اُذ کر وا نعمة ﷲ علیکم............ ما ئدہ: ۸۰
۱۲۵ ألم تروا أنّ ﷲ سخر لکم ما فی............ ........لقمان: ۸۴
۱۲۶ ولقد خلقنا الاِنسا ن من صلصا ل ...........حجر: ۸۴
۱۲۷ انا زینا السما ء الدنیا بز ینة............ صا فا ت: ۸۵
۱۲۸ و جعل القمر فیهن نو را ً و جعل الشمس............ ..نوح: ۸۵
۱۲۹ اِنّ عدة الشهو د عند ﷲ اثنا عشر............ توبه: ۸۵
۱۳۰ و علا مات و با لنجم هم یهتدون............ نحل: ۸۶
۱۳۱ و هو الذی جعل لکم النجو م لتهتدوا بها............ انعا م: ۸۶
۱۳۲ قل يٰأَايّها النا س اِنی رسو ل ﷲ الیکم جمیعاً......... اعراف: ۸۸
۱۳۳ و أوحی الیٰ هذا القرآن لا نذ رکم ... انعا م: ۸۸
۱۳۴ کذ بت قبلهم قوم نوح ............ ..قمر: ۸۹
۱۳۵ کذلک ماأتی الذین من قبلهم من روسو ل..........ذاریا ت: ۹۰
۱۳۶ و ﷲ خلق کلّ دابة ٍ من ما ئٍ فمنهم من یمشی.........نور: ۹۵
۱۳۷ و ما من دا بة فی الأرض ولا طا ئر ٍ یطیر............. انعام: ۹۵
۱۳۸ و لله یسجد ما فی السموا ت و ما فی الأرض........ نحل: ۹۵
۱۳۹ فلمّا جن ّ علیه اللیل............ ...... انعام: ۹۷
۱۴۰ و خلق الجان من مارج من نار ....... الرحمن: ۹۷
۱۴۱ و الجان خلقنا ه من قبل من نا رالسموم............ حجر: ۹۷
۴۲ فی أمم قد خلت من قبلهم من الجن وا لاِنس............ . فصلت: ۹۷
۱۴۳ و من الجن من یعمل بین یدیه بأ ذ ن ربّه............ سبا: ۹۷
۱۴۴ قال عفر یت من الجن أناآتیک به قبل............ ....نمل: ۹۸
۱۴۵ فلمّاقضینا علیه الموت مادلهم علی مو ته............ سبا: ۹۸
۱۴۶ وأنّه کان یقول سفیهنا علی ﷲ............ جن: ۹۸
۱۴۷ وأنهم ظنوا کما طننتم أن لن............ ............جن: ۹۸
۱۴۸ وانّه کا ن رجا ل من الاِ نس یعوذون............ جن: ۹۹
۱۴۹ و انّا لمسنا السما ء فو جد نا ها............ جن: ۹۹
۱۵۰ واِنّا کنا نقعد منها مقا عد للسمع............ ......جن: ۹۹
۱۵۱ و انا منا الصا لحو ن ومنا............ جن: ۹۹
۱۵۲ و انا منا المسلمو ن و منا القا سطون فمن............ جن: ۹۹
۱۵۳ و لقد زینا السما ء الدنیا بمصا بیح و جعلناها ملک: ۱۰۰
۱۵۴ و کذ لک جعلنا لکلّ نبی عدوا ً شیا طین............. انعام: ۱۰۰
۱۵۵ انا جعلنا الشیا طین أولیا ء للذ ین............ اعرا ف: ۱۰۱
۱۵۶ اِنّ المبذ رین کا نوا اِخوا ن الشیا طین............ اسرا ئ: ۱۰۱
۱۵۷ و لا تتبعوا خطوا ت الشیطا ن أنّه لکم عدو مبین........بقره: ۱۰۱
۱۵۸ الشیطا ن یعد کم الفقر و یأ مرکم با............ ..بقره: ۱۰۱
۱۵۹ و من یتخذ الشیطا ن و لیاً من دون ﷲ فقد...........نساء : ۱۰۱
۱۶۰ انما یرید الشیطا ن أن یو قع بینکم............ .....ما ئده: ۱۰۱
۱۶۱ یا بنی آدم لا یفتننکم الشیطا ن کما أخرج.......... اعراف: ۱۰۱
۱۶۲ و یوم تقوم السا عة یبلس المجرمون............ ...روم: ۱۰۲
۱۶۳ و اذا قلنا للملا ئکة اسجد وا لِآدم............ ..کهف: ۱۰۲
۱۶۴ و لقد صدق علیهم أبلیس ظنه............ سبا: ۱۰۲
۱۶۵ فوسوس لهما الشیطا ن لیبدی لهما ما ووری........اعراف: ۱۰۳
۱۶۶ ألم اعهد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا ا لشیطا ن........ یس: ۱۰۳
۱۶۷ اِنّ الشیطا ن لکم عدو فا تخذ وه عد واً............ فاطر: ۱۰۳
۱۶۸ و ما یکفربها الِّا الفا سقون............ .............بقره: ۱۰۶
۱۶۹ اِنّ المنا فقین هم الفا سقون............ ....توبه : ۱۰۶
۱۷۰ فمنهم مهتد وکثیر منهم فا سقون............ .حدید: ۱۰۷
۱۷۱ منهم المؤ منو ن و اَکثر هم الفا سقون...........آل عمران :۱۰۷
۱۷۲ فلما خرّ تبینت الجن أن لو کا نوا............ .....سبا:۱۰۹
۱۷۳ انا خلقنا هم من طین لا زب............ ........صافات:۱۱۳
۱۷۴ خلق الاِنسا ن من صلصا ل کا لفخا ر............ الرحمن:۱۱۳
۱۷۵ الذی أحسن کلّ شیء ٍ خلقه و بدأ خلق.......... سجده :۱۱۳
۱۷۶ یا أيّها النا س اِنْ کنتم فی ریب من البعث............ حج:۱۱۳
۱۷۷ هو الذی خلقکم من ترا ب ثم من نطفة........ مو ٔ منون:۱۱۴
۱۷۸ فلینظر الا نسا ن ممّ خلق............ طا رق:۱۱۴
۱۷۹ خلقکم من نفس واحدة ثم جعل منها زوجها......... زمر:۱۱۵
۱۸۰ و هو الذی أنشا ء کم من نفس وا حده........ انعا م:۱۱۵
۱۸۱ و لقد عهد نا اِلی آدم من قبل فنسی و لم نجد......... طه:۱۱۵
۱۸۲ و لقد خلقنا کم ثم صور نا کم ثم قلنا...... اعراف:۱۱۶
۱۸۳ قال أسجد لمن خلقت طینا............ اسرا ئ: ۱۱۷
۱۸۴ قال رب بما اغو یتنی لا ز ینن لهم......... .........حجر:۱۱۸
۱۸۵ وقالوا لن مؤ من لک حتی تفرج لنا من......... اسرا ئ: ۱۱۹
۱۸۶ لقد کان لسبائِ فی مسکنهم......... سبا :۱۱۹
۱۸۷ قل اذ لک خیر ام جنة الجلد التی............ .......فرقان:۱۲۰
۱۸۸ و الذین آمنو ا وعملوا الصا لحا ت اولآئٰک............. بقره:۱۲۰
۱۸۹ اِنا عر ضنا الا ٔ ما نة علی السموات............ .....احزاب:۱۲۸
۱۹۱ و یسئلو نک عن الروح قل الروح من............ اسرائ:۱۳۵
۱۹۲ أ أربا ب متفر قون خیر أم ﷲ الواحد........... یوسف:۱۴۴
۱۹۳ و قال للذی ظن انّه نا ج منهما...... یوسف:۱۴۴
۱۹۴ اتخذ وا أحبا ر هم و ر هبا نهم....... تو به:۱۴۵
۱۹۵ سبح اسم ربّک الأعلی ............ اعلی:۱۴۷
۱۹۶ ربنا الذی اعطی کلّ شیء ٍ خلقه ثم............ ... طه:۱۴۷
۱۹۷ خلق کلّ شیء ٍ فقدر ه تقدیرا......... فرقان:۱۴۷
۱۹۸ وعلم آدم ا لأسما ء کلّها ثم عر ضهم........... بقره: ۱۴۷
۱۹۹ شرع لکم من الذین ما وصی بی نو حاً .شوری:۱۴۷
۲۰۰ ا نّا أوحینا الیک کما أوحینا اِلی نو ح............. ...نسا ئ:۱۴۷
۲۰۱ نزل علیک الکتاب با لحقّ مصدقاً............. آل عمرا ن:۱۴۸
۲۰۲ و ما خلقت الجن و ا لاِ نس اِلّالیعبدون.............ذاریات:۱۴۸
۲۰۳ یا معشر الجن و ا لاِ نس ألم یأ تکم رسل منکم...... انعام:۱۴۸
۲۰۴ و اِذا صرفنا اِلیک نفر أ من الجن............ احقا ق:۱۴۸
۲۰۵ قل أوحی اِلی أنّه استمع نفر من الجن......... جن:۱۴۹
۲۰۶ و أوحی ربّک اِلی النخل أن اتّخذی............ ......نحل:۱۵۰ ۲۰۷
خلق الاِنسان علمه البیان .........الرحمن:۱۵۴
۲۰۸ أقرأ با سم ربّک الذی خلق............ علق :۱۵۴
۲۰۹ و سخرالشمس والقمرکلّ یجری لاجل مسمّی....... فاطر:۱۵۵
۲۱۰ و سخر الشمس والقمر و النجو م مسخرات بأِمره... اعراف: ۱۵۵
۲۱۱ لا یعصو ن ﷲ ما أمر هم و یفعلون ما.......... .....تحریم:۱۵۵
۲۱۲ فخرج علی قومه من المحراب............ مریم:۱۵۶
۲۱۳ أنّ الشیا طین لیو حو ن اِلی أولیا ئهم......... ......انعا م:۱۵۷
۲۱۴ و أوحینا اِلی أم مو سی............ . قصص: ۱۵۷
۲۱۵ و جعل فیها رواسی من فو قها و............ فصلت: ۱۵۸
۲۱۶ و اذ قال ربک للملا ئکة انّی جاعل فی........... ...بقره :۱۶۰
۲۱۷ و قال موسی لا خیه هارون اخلفنی فی......... ..اعراف: ۱۶۱
۲۱۸ و لله یسجد من فی السموا ت و الأرض........ ...رعد:۱۶۲
۲۱۹ سیما هم فی وجو هم من اثر السجود.......... فتح :۱۶۲
۲۲۰ أتجعل فیها من یفسد فیها و یسفک............ .......بقره:۱۶۳
۲۲۱ و سخر لکم ما فی السموات و ما فی الأرض.......جا ثیه: ۱۶۵
۲۲۲ ﷲ الذی جعل لکم ا لأرض قرارا........... مؤ من: ۱۶۵
۲۲۳ الذی جعل لکم الأرض مهداً............ زخرف:۱۶۵
۲۲۴ والأرض وضعها للأ نام........ .... الرحمن:۱۶۵
۲۲۵ هو الذی جعل لکم الأرض ذلو لافامشوا............. ملک: ۱۶۵
۲۲۶ ألم تر ان ﷲ سخر لکم ما فی الأرض.......... ......حج: ۱۶۵
۲۲۷ و لقد کرمنا بنی آدم وحملنا هم............ اسرائ:۱۶۵
۲۲۸ ﷲ الذی خلق السموات و الأرض وأنزل...........ابرا هیم: ۱۶۶
۲۲۹ وعلی ﷲ قصد السبیل و منها جا ئر و........... نحل:۱۶۶
۲۳۰ و من ثمرات النخیل و الأعناب.......... ..........نحل: ۱۶۷
۲۳۱ و الأنعام خلقها لکم فیها دفء و... نحل: ۱۶۹
۲۳۲ و ا نّ لکم فی الأنعام لعبر ة نسقیکم......... .......نحل:۱۶۹
۲۳۳ یعلمون له ما یشا ء من محا ریب و تما ثیل و........ سبائ:۱۷۵
۲۳۴ و من الشیا طین یغو صون له و........ ............انبیائ:۱۷۵
۲۳۵ ما کان لیأخذ اخاه فی دین الملک............ یوسف:۱۸۱
۲۳۶ اِنّ الدّین عند ﷲ الاِسلام......... ...........آل عمران:۱۸۳
۲۳۷ قالت الأعراب آمنا قل لم تؤ منوا....... حجرات :۱۸۴
۲۳۸ اذا جا ء ک المنا فقون قالوا نشهد أنّک........... منا فقون:۱۸۵
۲۳۹ ان المنا فقین یخاد عون ﷲ و هو......... نسائ:۱۸۵
۲۴۰ فان تو لیتم فما سأ لتکم من أجر......... یونس:۱۸۶
۲۴۱ ماکان أبراهیم یهودیا ولانصرا نیا ً.......... .....آل عمرا ن:۱۸۶
۲۴۲ و وصی بها أبرا هیم بنیه و یعقوب.......... ...........بقره:۱۸۶
۲۴۳ ما جعل لکم فی الد ین من حرج............ ........حج: ۱۸۶
۲۴۴ فأخرجنا من کان فیها من المؤ منین.......... ....ذاریا ت: ۱۸۷
۲۴۵ یا قوم أن کنتم آمنتم با لله فعلي............ ..........یونس:۱۸۷
۲۴۶ ربناأفرغ علینا صبرا ً و و تو فنا مسلمین............. اعراف :۱۸۷
۲۴۷ انّه من سلیمان و انّه بسم ﷲ الرحمن الرحیم........... نمل: ۱۸۷
۲۴۹ یا أيّها الملأ ائکم یأ تونی بعر شها........... .........نمل :۱۸۸
۲۵۰ و اذا أوحیت اِلی الحوا ریین ان ..... ما ئده:۱۸۸
۲۵۱ فلمّا أحس عیسی منهم الکفر قال من انصاریآل عمران: ۱۸۸
۲۵۲ فأقم وجهک للدین حنیفاً فطرت............ روم:۱۹۵
۲۵۳ یسئلونک ما ذا أحل لهم قل............ مائده:۱۹۶
۲۵۴ الذین یتبعون الرسول النبّی ا لأمی............ .....اعرا ف:۱۹۶
۲۵۵ فا ما الز بد فیذ هب جفا ئً ............رعد:۱۹۷
۲۵۶ و اذن فی النا س با لحج یأ توک............ ..حج: ۱۹۷
۲۵۷ یدعوا من دون ﷲ ما لا یضرّه و ل............ .......حج:۱۹۷
۲۵۸ یسئلو نک عن الخمر والمیسر قل فیهما...........بقره :۱۹۷
۲۵۹ انِّما المؤ منو ن اِخوة............ .حجرات:۱۹۸
۲۶۰ و جعلنا هم أ ئمة یهدون بأ مر نا و............ .....انبیا ئ:۱۹۹
۲۶۱ و اوصا نی با لصلا ة و الزّکا ة............ .........مریم: ۱۹۹
۲۶۲ و کان یأمر اهله با لصلا ة والز کا ة............ .....مریم:۱۹۹
۲۶۳ یا أیها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما............بقره: ۱۹۹
۲۶۴ و أخذ هم الر بّا وقد نهوا عنه............ ..........نسا ء :۲۰۰
۲۶۵ اِنّا أنز لنا التو راة فیها هدی............ .........ما ئده: ۲۰۰
۲۶۶ و الوا لدات یر ضعن أولا د هن............ بقره:۲۰۰
۲۶۷ و نفس و ما سواها ............شمس :۲۰۱
۲۶۸ فأ لهمها فجو ر ها وتقو یها............ ........شمس:۲۰۲
۲۶۹ و أمّا من خا ف مقام ربّه و نهی النفس.........نا ز عات : ۲۰۲
۲۷۰ فاما من طغی وآثر الحیو ة الدنیا............ .نا ز عات:۲۰۳
۲۷۱ اَضا عوا الصلا ة واْتبعوا............ مریم:۲۰۳
۲۷۲ وقال الشیطا ن لمّا قضی الأمر ان ﷲ............ .ابراهیم:۲۰۳
۲۷۳ فذکر انما أنت مذ کر............ ............غا شیه:۲۰۴
۲۷۴ انّاهد ینا ه السبیل اِما شا کرا ً و............ بلد:۲۰۴
۲۷۵ لاأِکرا ه فی الدین قد تبيّن............ بقره :۲۰۴
۲۷۶ فمن یعمل مثقا ل ذرة خیراً یره............ ........ز لزال:۲۰۴
۲۷۷ و اذ صرفنا اِلیک نفراً من الجن............ ......احقا ف: ۲۰۵
۲۷۸ و یوم یحشر هم جمیعاً یا معشر الجن قد استکثر تم.... انعا م: ۲۰۷
۲۷۹ ما کان لبشر ان یؤتیه ﷲ الکتاب و............. آل عمرا ن:۲۱۵
۲۸۰ یاأیها النبی اِنّاأرسلنا ک شا هدا ً و............ .....احزاب:۲۱۵
۲۸۱ ألنبّی أولی بالمؤمنین من أنفسهم............ احزاب:۲۱۵
۲۸۲ انّا أوحیناألیک کما أوحینا ............نسا ئ:۲۱۶
۲۸۳ کا ن الناس أمة واحدة فبعث ﷲ............ ..بقره: ۲۱۶
۲۸۴ و لقد فضّلنا بعض النبیبن علی............ .........اسرائ:۲۱۶
۲۸۵ و ما أرسلنا من رسو ل اِلابلسان............ ....ابراهیم:۲۱۷
۲۸۶ و اِلی عا د أخا هم هودا............ ...........اعراف:۲۱۷
۲۸۷ و اِلی ثمود اخا هم هودا............ ..........اعراف:۲۱۷
۲۸۸ و اِلی مدین اخا هم شعیبا............ اعراف:۲۱۷
۲۸۹ و رسلاً مبشر ین و منذ رین لئلا............ ........نسائ:۲۱۷
۲۹۰ و ما کنّا معذ بین حتی نبعث رسو لً............ ...اسرا ئ: ۲۱۷
۲۹۱ و لکلّ أمة رسو ل فاِذا جا ء رسول لهم............ یو نس:۲۱۷
۲۹۲ فعصوا رسول ربهم فأخذ هم............ ........حا قه:۲۱۸
۲۹۳ و من یعص ﷲ و رسوله فاِ نّ له............ جن: ۲۱۸
۲۹۴ ثم أوحینا الیک ان اتبع............ نحل:۲۱۸
۲۹۵ الیو م أکملت لکم دینکم و............ ما ئده: ۲۱۹
۲۹۶ خلق السموا ت و الأرض با لحق ان............ عنکبوت:۲۲۶
۲۹۷ هو الذی أنزل من السماء ما ئً لکم منه شراب...........نحل:۲۲۶
۲۹۸ انّ فی خلق السموات و الأرض و اختلا ف اللیل........بقره:۲۲۷
۲۹۹و رسو لا ً اِلی بنی اسرا ئیل انی قد جئتکم بآية....... .آل عمرا ن:۲۲۸
۳۰۰ ما انت الا بشر مثلنا فأ تِ بآ ية ان............ شعرا ئ:۲۳۱
۳۰۱ فعقروها فا صبحوا نا دمین............ شعرا ئ:۲۳۱
۳۰۲ فأخذ هم العذا ب انّ فی ذ لک............ ........شعرا ئ: ۲۳۱
۳۰۳ و اِن کنتم فی ریب مما نزّ لنا علی............ .......بقره:۲۳۲
۳۰۴ قل لئن اجتمعت ا لاِنس و الجن علی ان............ .اسرائ: ۲۳۲
۳۰۵ و لقد همت به و هم بها لو لا ان............ یوسف:۲۳۷
۳۰۶ و اذابتلی أبرا هیم ربّه............ بقره: ۵۳۸
۳۰۷ یا داود انّا جعلنا ک خلیفة ً فی............ ........ص: ۲۳۸
۳۰۸ یضل به کثیرا ً و یهدی به کثیرا ً و............ .......بقره:۲۳۹
۳۰۹ تا لله لقد ارسلنا اِلی امم من قبلک............ .....نحل:۲۴۱
۳۱۰ و اذ زین لهم الشیطا ن أعما لهم و............ ...انفا ل:۲۴۱
۳۱۱ یسجدون للشمس من دون ﷲ و زین............ ..نمل :۲۴۱
۳۱۲ شهر رمضا ن الذی أنزل فیه............ ...........بقره:۲۴۳
۲۱۳ انِّا أنزلنا ه فی لیلة القد............ .. قدر:۲۴۳
۳۱۴ اصبر علی ما یقو لون و اذ کر عبد نا داود............. ص:۲۴۷
۳۱۵ و ما کان لمؤ من و لا مؤ منة............ ........احزاب:۲۶۷
۳۱۶ فلما قضی زید منها وطر اً ز وّجنا کها............. احزاب:۲۶۸
۳۱۷ و ما جعل أدعیا ء کم أبنا ء کم............ احزا ب:۲۶۸
۳۱۸ فجعلکم جذا ذاً الِّا کبیرا ً لهم لعلهم............ .انبیا ئ:۲۶۹
۳۱۹ فلما جهز هم بجها ز هم جعل السقا ية فی.........یو سف:۲۷۰
۳۲۰ و ذا النو ن اذ ذهب مغا ضبا ً فظن............ انبیا ئ: ۲۷۱
۳۲۱ انّا فتحنا لک فتحا ً مبینا ً لیغفر لک............ فتح :۲۷۱
۳۲۲ ستجد نی ان شا ء ﷲ صا برا ً و لاأعصی.............کهف:۲۷۳
۳۲۳ علیها ملا ئکة غلا ظ شدا د لا یعصون............. تحریم:۲۷۳
۳۲۴ و عصی آدم ربه فغوی............ . طه: ۲۷۳
۳۲۵ و اذ نا دیٰ ربک مو سی اِن أ ئت القوم............ شعرا ئ:۲۷۳
۳۲۶ و دخل المد ینة علی حین غفلة من أهلها..........قصص:۲۷۴
۳۲۷ بل فعله کبیر هم هذا فأسالو هم............ انبیا ئ:۲۷۷
۳۲۸ خصمان بغی ٰ بعضنا علی بعض............ .........ص:۲۸۲
۳۲۹ لقد ظلمک بسؤال نعجتک اِلی............ .........ص :۲۸۲
۳۳۰ و لئن سئلتهم من خلقهم............ ...........لقمان:۲۸۹
۳۳۱ و لئن سئلتهم من خلق السموات والأرض...........زخرف: ۲۸۹
۳۳۲ و لئن سئلتهم من خلق السموات والأرض........زخرف:۲۸۹
۳۳۳ ألیس لی ملک مصر وهذه الأنها ر تجری.........زخرف: ۲۹۰
۳۳۴ أنا ربّکم الأعلی............ ...النازعات:۲۹۰
۳۳۵ اذهبا اِلی فرعون انّه طغی............ . طه:۲۹۰
۳۳۶ أجئتنا لتخرجنا من أرضنا بسحرک............ طه: ۲۹۳
۳۳۷ فأ تیا فر عون فقو لا ان رسول............ طه:۲۹۴
۳۳۸ اِنّ هذا لسا حر علیم یر ید أ ن............ شعرائ: ۲۹۴
۳۳۹ فلما ألقوا سحروا أعین النا س و أستر هبو هم........اعراف:۲۹۵
۳۴۰ انّه لکبیر کم الذی علّمکم السحر............ شعرائ: ۲۹۶
۳۴۱ لا ضیراِنّا اِلی ربنا منقلبو ن............ شعرائ:۲۹۷
۳۴۲ أ انت فعلت هذابآ لهتنا یاابراهیم............ ..انبیائ: ۲۹۸
۳۴۳ و کذ لک نری أبراهیم ملکوت السموات.............انعام:۲۹۹
۳۴۴ ألم ترالی الذی حاج أبرا هیم فی ربّه............ ..بقره: ۳۰۱
۳۴۵ فا نهم عدولی الِاّربّ العا لمین............ ........شعرائ: ۳۰۲
۳۴۶ والّذ ی هو یطعمنی ویسقین واِذا مر ضت............ ..طه:۳۰۲
جلد دوم
ردیف............. آیۂ کریمہ............ ........... سورے.......... صفحہ
۳۴۷ انّاارسلنانوحاً اِلی قو مه............ نوح:۱۸
۳۴۸ شرع لکم من الدین ما وصی............ ...........نوح:۱۹
۳۴۹ سلام علی نوح فی العا لمین............ .......صافا ت :۲۰
۳۵۰ و اِذ بوأ نا لِابراهیم مکا ن............ ..حج:۲۱
۳۵۱ و اِذ جعلنا البیت مثا به............ بقره:۲۱
۳۵۲ و قا لو ا کو نوا هودا أو نصا ری............ ........انعا م:۲۲
۳۵۳ قل صدق ﷲ فا تبعوا ملّة اِبرا هیم............ ...آل عمرا ن:۲۲
۳۵۴ قل اِنّنی هدانی ربِّی اِلی صرا ط............ ...........انعا م:۲۳
۳۵۵ آمنا با لله و ما أنز ل اِلینا و ما............ ............بقره:۲۷
۳۵۶ ما ننسخ من آية أو ننسه............ ....قره:۲۸
۳۵۷ و اِذا بدّ لنا آية مکا ن آية............ ...نمل:۲۸
۳۵۸ و ادخل ید ک فی جبیک............ ... نمل:۲۹
۳۵۹ یا بنی اِسرا ئیل اذ کروا نعمتی............ .............بقره:۳۱
۳۶۰ و لقد آ تینا مو سی الکتاب و قضینا............ .....بقره:۳۲
۳۶۱ و لقد أنز لنا اِلیک آیا ت............ ..بقره: ۳۳
۳۶۲ ودّ کثیر من أهل الکتاب لو یردو نکم............ بقره :۳۳
۳۶۳ و اِذ یر فع اِبرا هیم القوا عد............ ...........بقره: ۳۴
۳۶۴ قد نری تقلب وجهک فی ا لسما ئ............ ........بقره۳۵
۳۶۵ وعهدنا اِلی اِبرا هیم و اِسماعیل ..........بقره :۳۵
۳۶۶ سیقول السفها ء من النا س ما............ .........بقره : ۳۵
۳۶۷ و علی الذین ها دوا حر منا کل............ ..........انعا م:۳۷
۳۶۸ الذین آتینا هم الکتاب یعر فو ن............ بقره:۴۰
۳۶۹ وجا وزنا ببنی اسرا ئیل البحر............ اعرا ف:۴۸
۳۷۰ وأضلهم السا مری............ ........ بقره:۴۸
۳۷۱ و اِذ أخذ نا میثا قکم ورفعنا............ .بقره:۴۹
۳۷۲ و آتینا مو سی الکتاب وجعلناه هدی............ اسرائ:۴۹
۳۷۳ و علی الذ ین ها دوا حر منا ما قصصنا............ نحل:۵۰
۳۷۴ یسئلک أهل الکتاب ان تننزل............ ...........نسا ئ: ۵۰
۳۷۵ و سئلهم عن القر ية التی کا نت............ ........اعراف:۵۱
۳۷۶ اِنّما جعل السبت علی الذین............ ............نحل:۵۱
۳۷۷ و قطعنا هم أثنتی عشر ة أسباطا ً............ اعرا ف: ۵۱
۳۷۸ و اِذ قال موسی لقو مه یا قوم اذ کروا............ ما ئدة: ۵۲
۳۷۹ اِنّ الذین فتنواالمؤ منین والمؤمنات............ البروج:۵۴
۳۸۰ انّی قد جئتکم بآية من ربکم............ آ ل عمران:۵۹
۳۸۱ الذین یتبعون الرسول النبی............ اعراف:۵۹
۳۸۲ یاایهاالذین آمنوا اذا نا جیتم الرسول............ ...مجا دله: ۶۰
۳۸۳ اِنّاأنزلناالتوراة فیها هدی و............ ............ما ئده :۶۴
۳۸۴ و قالوا هذه أنعام حرث............ انعا م:۶۵
۳۸۵ قل أ رأ یتم ما أنزل ﷲ لکم من رزق............ ...یو نس:۶۶
۳۸۶ افکُلَّماجاء کم رسول بما لا............ ............بقره:۶۶
۳۸۷ و اِذا قیل لهم آمنوا بما أنزل ﷲ............ .......بقره:۶۷
۳۸۸ ولن ترضی عنک الیهود............ ...بقره:۶۷
۳۸۹ فأقم وجهک للدّین حنیفا ً............ .............روم:۶۸
۳۹۰ والوالدات یرضعن أولادهن............ بقره :۶۸
۳۹۱ یا أیها الذین آمنو اکتب علیکم الصیام............ ..بقره:۶۹
۳۹۲ یاأیها الذین آمنو اکتب علیکم القصا ص............بقره :۶۹
۳۹۳ أحل ّ ﷲ البیع وحرّم الرّ با............ .............بقره :۶۹
۳۹۴ اِنّ الذین آمنو ا وهاجروا............ انفعال۶۹
۳۹۵ وأولواالأرحام بعضهم اولی ببعض............ انفعال: ۷۰
۳۹۶ وآتینا مو سی الکتاب وجعلناه............ ..........اسرائ:۷۱
۳۹۷ اِنّ هذا القرآن یهدی للتی هی............ ........اسراء :۷۱
۳۹۸ واِنّ لیس للاِ نسا ن اِلاّ ما سعی............ نجم:۷۷
۳۹۹ ومن یرد ثواب الدنیا نؤ ته منها............ ...آل عمران :۷۷
۴۰۰ من کان یرید الحیا ة الدنیا و............ هود:۷۷
۴۰۱ من کان یرید العا جلة عجلنا............ اسرائ:۷۸
۴۰۲ ولا تحسبّن الذین قتلوا فی سبیل ﷲ.............آل عمران:۷۸
۴۰۳ و من یقتل مؤ مناً متعمداً فجزا ؤ ه............ ..نساء :۷۸
۴۰۴ ِانّ ﷲ هو الر زاق ذو القو ة المتین............ ..ذاریات:۸۰
۴۰۵ ﷲ الذی خلقکم ثم ر ز قکم............ ...........روم :۸۰
۴۰۶ و لا تقتلوا أولا د کم من اِملاق............ ........انعا م:۸۰
۴۰۷ و کأيّن من دابة لا تحمل ر زقها............ عنکبوت: ۸۰
۴۰۸ وﷲ فضل بعضکم علی بعض فی............ ......نحل:۸۰
۴۰۹ و ﷲ أنزل من السما ء مائً فأحیا به............ ...نحل :۸۲
۴۱۰ یا ایها الذین آمنوا کلوا من طیبات............ ......بقره:۸۳
۴۱۱ یسئلو نک ما ذا أحل لهم قل............ ما ئده:۸۳
۴۱۲ و یحلّ لهم الطیبا ت و یحرّم علیهم............ اعرا ف:۸۳
۴۱۳ و الذین ها جروا فی سبیل ﷲ ثم............ حج:۸۳
۴۱۴ اِلّا من تاب وآمن وعمل صالحا............ مریم:۸۴
۴۱۵ فمن یعمل مثقا ل ذرة خیرا ً............ .........زلزال:۸۴
۴۱۶ فا لیوم لا تظلم نفس شیا ً و............ .............یس:۸۴
۴۱۷ و جا ء ت سکر ة الموت بالحقّ............ ق:۸۶
۴۱۸ قل یتوفا کم ملک الموت الذی وکل.............سجده :۸۶
۴۱۹ فامّا اِن کان من المقرّ بین............ ...........واقعه:۸۷
۴۲۰ یا أيّتها النفس المطمئنة ارجعی............ ........فجر:۸۷
۴۲۱ حتی اِذا جاء أحد هم الموت قال............ مؤ منون :۸۷
۴۲۲ و نفخ فی الصورفصعق من فی............ زمر:۹۰
۴۲۳ و نفخ فی الصور فجمعنا هم جمعاً.............کهف:۹۱
۳۲۴ و یوم ینفخ فی الصورففزع من فی............ نمل:۹۱
۴۲۵ و نفخ فی الصورفاِذا هم من ا لأجداث............ یس:۹۱
۴۲۶ و حشر نا هم فلم نغا در منهم أحد اً ...کهف:۹۲
۴۲۷ یوم ینفخ فی الصورو نحشرالمجرمین........ طه:۹۲
۴۲۸ یوم نحشر المتقین اِلی الرحمٰن............ ......مریم:۹۲
۴۲۹ اِنّهم مبعوثو ن لیوم عظیم............ مطففین:۹۳
۴۳۰ یوم یقوم الروح والملا ئکة صفا ً............ .....نبا ئ:۹۳
۴۳۱ و خلق ﷲ السموات والأ رض با لحقّ و............ جا ثیه :۹۳
۴۳۲ و کلّ انسا ن ألزمناه طا ئره فی............ .....اسرا ئ:۹۳
۴۳۳ کلّ أمّة تد عی الی کتا بها الیوم تجز ون......جا ثیه:۹۳
۴۳۴ فأما من أوتی کتا به بیمینه فیقول............ ...حا قه:۹۴
۴۳۵ فأمّا من أوتی کتا به بیمینه فسوف............ ....انشقا ق:۹۴
۴۳۶ و لا یحسبن الذین یبخلون بما............ .....آل عمرا ن: ۹۴
۴۳۷ و یوم نبعث فی کلّ أمة شیهدا ً علیهم............ ..نحل: ۹۵
۴۳۸ و یوم یقوم الاشها د............ .غافر: ۹۵
۴۳۹ حتی اِذا ما جاء وها شهد علیهم............فصلت: ۹۵
۴۴۰ انِّ ﷲ ید خل الذین آمنوا و............ .........حجر:۹۷
۴۴۱ و من عمل صا لحاً من ذ کراً و انثی.............مؤ من: ۹۷
۴۴۲ من یعمل سوء اً یجز به و لا یجد............ ...نسائ: ۹۷
۴۴۳ و یوم القیا مة تری الذ ین کذّ بوا علی............ ..زمر: ۹۷
۴۴۴ الذین آ منو ا بآیا تنا و کا نوا مسلمین............زخرف: ۹۸
۴۴۵ و تلک الجنة التی أورثتمو ها بما............ .....زخرف:۹۸
۴۴۶ و الذین یکنزون الذ هب والفضه............ .....تو به: ۹۸
۴۴۷ و اِنّ للمتقتن لحسن مأ ب............ ص: ۹۹
۴۴۸ اِنّ عبا دی لیس لک علیهم سلطا ن............ ...حجر: ۹۹
۴۴۹ و أور ثنا القوم الذین کا نوا مستضعفون.......... اعرا ف: ۱۰۳
۴۵۰ و لنبلو نّکم بشی ئٍ من الخو ف و الجو ع.............بقره: ۱۰۴
۴۵۱ لیس البر أن تو لوا وجو هکم قبل............ ....بقره: ۱۰۴
۴۵۲ اِنّه کان فر یق من عبادی یقو لون............ .....مؤمنون:۱۰۵
۴۵۳ الذین آتینا هم الکتاب من قبله............ ..........ص: ۱۰۵
۴۵۴ و الذ ین صبروا ابتغا ء وجه ربّهم و............ رعد: ۱۰۵
۴۵۶ فا نطلقا حتی اذا أتیا أهل قرية............ ......کهف: ۱۰۸
۴۵۷ لا یملکون الشفا عة اِلّامن اتخذ............ ......مریم: ۱۱۱
۴۵۸ عسی أن یبعثک ربّک مقا ما ً............ اسرائ: ۱۱۲
۴۵۹ لایشفعون اِلاّ لمن ارتضی............ انبیا ئ:۱۱۲
۴۶۰ الذین اتخذ وا دینهم لهواً ولعبا ً و............ اعراف: ۱۱۲
۴۶۱ و الذین کذّبوا بآیا تنا ولقاء الآخره............ اعراف: ۱۱۶
۴۶۲ ماکان للمشر کین أن یعمروا مساجد............. توبه: ۱۱۶
۴۶۳ و من یر تدد منکم عن دینه............ بقره: ۱۱۶
۴۶۴ اِنّ الذ ین کفروا وصد وا عن سبیل ﷲ............محمد:۱۱۶
۴۶۵ یا اَيّهاالذین آمنوا لا تر فعوا أصوا تکم فوق......حجرات: ۱۱۶
۴۶۶ یا اَيّها الذین آمنوا لا تبطلوا صد قا تکم............ .بقره: ۱۱۶
۴۶۷ و یوم یحشر هم جمیعاً یا معشر الجن............ انعا م: ۱۲۰
۴۶۸ و اِنّا منّاالمسلمو ن ومِنّا القا سطون............ .....جن:۱۲۱
۴۶۹ قال ادخلوا فی أمم قد خلت من قبلکم اعراف:۱۲۱
۴۷۰ و تمت کلمة ربّک لأملأ نّ جهنم............ ...هود: ۱۲۱
۴۷۱ لا تقتلوا أولا دکم خشية املا ق............ ...اسرائ: ۱۲۲
۴۷۲ یا اَيّهاالذین آمنوا کلوا من طیبات............ ....بقره:۱۲۲
۴۷۳ لقد جا ء کم رسول من أنفسکم عز یز علیه.............توبه:۱۲۸
۴۷۴ ورحمتی وسعت کلّ شی ئٍ فسا کتبها.............اعراف:۱۲۸
۴۷۵ فبأیّ آلا ء ربکما تکذ بان............ ........الر حمان:۱۲۹
۴۷۶ و لمن خاف مقا م ربّه جنتان............ .......الرحمان:۱۲۹
۴۷۷ تبارک اسم ربّک ذی الجلا ل............ .....الرحمان:۱۲۹
۴۷۸ و هوالذ ی خلق السموات والأرض............ ....هود:۱۳۰
۴۷۹ انِّ ربکم ﷲ الذی خلق السموات والأرض........ یونس:۱۳۰
۴۸۰ الذین یحملون العر ش ومن حول............ ....غا فر:۱۳۰
۴۸۱ و تری الملا ئکة حا فین من حول............ .......زمر:۱۳۱
۴۸۲ و یحمل عرش ربّک فو قهم یو مئذ ٍ ثما نية..........حا قة:۱۳۱
۴۸۳ استوی علی العرش یعلم ما یلج فی الأرض..........حدید:۱۳۳
۴۸۴ استوی علی العرش الرحمن فسئل به............ ...فرقان:۱۳۴
۴۸۵ خلق السموات و الأرض فی ستة............ .......هود:۱۳۴
۴۸۶ و هو الذی سخر البحر لتا کلوا لحماً طر یاً و....... نحل:۱۳۵
۴۸۷ و الأنعام خلقها لکم فیها دفء و............ ......نحل:۱۳۵
۴۸۸ و الذ ی خلق الأزواج کلهاوجعل............ ..زخرف:۱۳۵
۴۸۹ و سخر لکم ما فی السموات وما فی الأرض....جا ثیه:۱۳۶
۴۹۰ ألم تروا ان ﷲ سخر لکم ما فی السموات وما........لقمان:۱۳۶
۴۹۱ یا قوم لیس بی سفا هة و لکنیّ رسول...........اعرا ف:۱۳۹
۴۹۲ قل أمر ربّی با لقسط وأقیموا وجو هکم...........اعراف:۱۴۰
۴۹۳ آمن الرسول بما أنزل اِلیه............ .............بقره:۱۴۰
۴۹۴ أطیعو اﷲ وأطیعوا الر سول و لا............ ......محمد:۱۴۰
۴۹۵ فسجد وا اِلاّ ابلیس کان من............ ......کهف:۱۴۰
۴۹۶ فعقروا النا قة وعتوا............ اعراف:۱۴۰
۴۹۷ و جا ء فرعون ومن قبله............ ............حا قه:۱۴۱
۴۹۸ الذین یقولون ربّنا انّنا آمنّا............ ......آل عمرا ن:۱۴۱
۴۹۹ و ما کان قو لهم اِلّا أن قالواربّنا............ ..آل عمرا ن:۱۴۱
۵۰۰ ربّنا فاغفرلنا ذنو بنا وکفرعنا............ .....آل عمرا ن:۱۴۱
۵۰۱ ربّ انِی ظلمت نفسی فاغفرلی............ قصص:۱۴۱
۵۰۲ و الذ ین عملواالسئا ت ثم تابوا............ ...اعراف:۱۴۲
۵۰۳ فقلت استغفر وا ربّکم انّه کان غفاراً............ ...نوح:۱۴۲
۵۰۴ فتلقی آدم من ربّه کلمات فتاب............ بقره:۱۴۲
۵۰۵ قل یا عبادی الذین أسرفوا علی أنفسهم............ زمر:۱۴۲
۵۰۶ لقد کان لِسبائٍ فی مسکنهم آية جنتان............ .سبائ:۱۴۲
۵۰۷ و انّ ربّک هو یحشر هم............ ...........حجر:۱۴۳
۵۰۸ ما فرطنا فی الکتاب من شیء ثم............ .........انعام:۱۴۳
۵۰۹ اِنّ حسا بهم اِلاّ علی ربّی............ شعرائ:۱۴۳
۵۱۰ ألحمد لله ربّ العا لمین الرحمن الرحیم............فا تحه:۱۴۴
۵۱۱ اِنّ جهنم کانت مرصا داً............ نبائ:۱۴۴
۵۱۲ خلق اِنسان علمه البیان............ ...........الرحمان:۱۴۴
۵۱۳ خلق الاِنسان من علق............ ..علق:۱۴۵
۵۱۴ ذلکم ﷲربّکم لا اِلٰه اِلاّ هو............ ...........انعام:۱۴۵
۵۱۵ أﷲ لا اِلٰه اِلاّ هوله الأسماء الحسنی طه:۱۴۹
۵۱۶ أﷲ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر............ .......رعد:۱۵۰
۵۱۷ اِنّ ﷲ هو التوّاب الرّحیم............ .............توبه:۱۵۰
۵۱۸ لیجز یهم ﷲ أحسن ما کانوا یعملون............ بقره:۱۵۰
۵۱۹ أﷲ لا اِلٰه اِلاّ هوالحیّ القیوم............ ..........بقره:۱۵۰
۵۲۰ وسع ربّی کلّ شی ئٍ علما افلا .........انعام:۱۵۲
۵۲۱ و لقد فتنا سلیما ن و ٔالقینا علی............ .....ص:۱۵۳
۵۲۲ یا أيّها النا س اعبدوا ربّکم الذی............ .....بقره:۱۵۵
۵۲۳ و للّٰه یسجد ما فی ا لسموات و الأرض............ .نحل:۱۵۵
۵۲۴ ضرب ﷲ مثلا ً عبداً مملوکاًلا یقدر............ نحل:۱۵۵
۵۲۵ ان کلّ من فی السموات و الأرض............ .....مریم:۱۵۵
۵۲۶ فو جدا عبدا ً من عبا د نا آتینا ه............ ........کهف:۱۵۶
۵۲۷ انِّ هٰذه تذ کره فمن شا ئ............ ...........مز ّمل:۱۵۹
۵۲۸ ألم تر الی ر بّک کیف مد ّ الظّل و لو............ ....فرقا ن:۱۵۹
۵۲۹ فا مّا الذین شقوا ففی النار لهم............ ........هود:۱۵۹
۵۳۰ فلن تجد لسنّة ﷲ تبد یلا ًو لن............ احزاب:۱۶۰
۵۳۱ له مقا لید السموات و الأرض............ شوری:۱۶۱
۵۳۲ و کأيّن من دا ية لا تحمل رز قها ﷲ............عنکبو ت:۱۶۱
۵۳۳ قل اِنّ ربّی یبسط الرزق لمن یشائ............ سبا ئ:۱۶۲
۵۳۴ و لا تجعل یدک مغلو لة الی عنقک و............ ..اسرائ:۱۶۲
۵۳۵ قل أللّهم ما لک الملک تؤ تی الملک..........آل عمرا ن:۱۶۲
۵۳۶ و أنّک لتهدی اِلیٰ صرا ط مستقیم............ .....شوری:۱۶۴
۵۳۷ و جعلنا هم أئمة یهدون بأِمر نا............ .....انبیا ئ:۱۶۵
۵۳۸ هو الذی أرسل رسوله با لهد ی و دین............ ..توبه :۱۶۵
۵۳۹ شهر رمضا ن الذی أنزل فیه القرآن............ .....بقره:۱۶۵
۵۴۰ و أنزل التو راة و الاِنجیل من قبل............ ...آل عمران:۱۶۵
۵۴۱ الم نجعل له عینین و لسا ناً و شفتین............ ......بلد:۱۶۵
۵۴۲ و أما ثمود فهد ینا هم فا ستحبوا العمی............ فصلت:۱۶۵
۵۴۳ انما أمرت أن أعبد ربّ هذه............ ............نمل:۱۶۶
۵۴۴ قل یا أيّها النا س قد جا ء کم الحق............ یونس:۱۶۶
۵۴۵ من اهتدی فانِّما یهتدی لنفسه و............ اسرائ:۱۶۶
۵۴۶ و یز ید ﷲ الذ ین اهتدوا............ مریم:۱۶۷
۵۴۷ و الذین اهتدوازاد هم هدی............ .........محمد:۱۶۷
۵۴۸ و الذ ین جا هدوا فینا لنهد ینهم............ ....عنکبوت:۱۶۷
۵۴۹ و لقد بعثنا فی کلّ ٔامة رسولا............ نحل:۱۶۷
۵۵۰ فریقاً هدی و فر یقاًحق علیهم............ .........اعراف:۱۶۸
۵۵۱ و ﷲ یهدی من یشاء اِلیٰ صراط مستقیم............ .بقره:۱۶۸
۵۵۲ من یشاء ﷲ یضلله ومن یشائ............ ..........انعام:۱۶۸
۵۵۳ انِّک لا تهدی من أحببت ولکن ﷲ............ ....قصص:۱۶۸
۵۵۴ صراط الذین أنعمت علیهم............ ............فاتحه:۱۶۹
۵۵۵ أولآء ک الذین أنعم ﷲ علیهم من............ مریم:۱۶۹
۵۵۶ و ضربت علیهم الذ لّة والمسکنة............ ........بقره:۱۶۹
۵۵۷ و من یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن............ .....آل عمران:۱۷۰
۵۵۸ و اکتب لنا فی هذ ی الدنیا حسنة و............ اعراف:۱۷۱
۵۵۹ اِقترب للنا س حسا بهم و هم فی غفلة............ .انبیا ئ:۱۷۲
۵۶۰ اِنّ هٰئو لا ء یحبون العا جلةو............ ..........انسان:۱۷۳
۵۶۱ و یقول الذین کفروا لو لا أنزل............ ..........رعد:۱۷۷
۵۶۲ و ما کان لرسول أن یأ تی............ رعد:۱۷۸
۵۶۳ ثم أغر قنا بعد البا قین............ .. شعرائ:۱۷۸
۵۶۴ فکذبوه فا هلکنا هم ان فی............ شعرائ:۱۷۹
۵۶۵ فأرسلنا علیهم الطّو فان والجراد و............ ....اعراف:۱۷۹
۵۶۶ فمحونا آية ا للیل وجعلناآية النّهار............ اسرائ:۱۷۹
۵۶۷ و یمحق ﷲ البا طل و یحقّ الحقّ............ ....شوری:۱۷۹
۵۶۸ و قالوا لن نؤ من لک حتی تفجر لنا............ اسراء :۱۸۰
۵۶۹ یمحو ا لله ما یشا ء و یثبت و عنده............ رعد:۱۸۰
۵۷۰ و اما نر ینک بعض الذ ی نعد هم أو............ .....رعد:۱۸۰
۵۷۱ هو الذ ی خلقکم من طین ثم............ ..........انعام:۱۸۲
۵۷۲ فلو لا کانت قر ية آ منت فنفعها............ ......یونس:۱۸۳
۵۷۳ و وا عد نا مو سی ثلا ثین لیلة و............ اعرا ف:۱۸۵
۵۷۴ و اذا وعد نا موسی أربعین لیلة ثم............ ......بقره:۱۸۵
۵۷۵ و لن یؤخر ﷲ نفسا اذا جا ء أجلها............ ...منافقون:۱۸۸
۵۷۶ اِنّ ربّک یقضی بینهم یو م القیامة............ .....یو نس:۱۹۷
۵۷۷ و قضینا الیه ذلک الأمر............ ..حجر:۱۹۷
۵۷۸ و قضی ربّک الا ّ تعبدوا اِلاّ اِيّاه............ اسرائ:۱۹۷
۵۷۹ و اذا قضی أمراً فانّما یقول له کن............ ........بقره:۱۹۸
۵۸۰ أو لیس الذی خلق السموات و............ ..........یس:۱۹۸
۵۸۱ و لو شاء ﷲ لذ هب بسمعهم و............ .........بقره :۱۹۸
۵۸۲ و فجر نا الأرض عیوناً فالتقی............ ............قمر:۱۹۹
۵۸۳ فأنجینا ه و اهله اِلاّ أمرا ته قدرنا............ .........نمل:۱۹۹
۵۸۴ أ ن أعمل سا بغات و قدر فی السّرد............ .....سبائ:۱۹۹
۵۸۵ واِن من شی ء ٍ الّا عند نا خز ائنه و............ حجر:۱۹۹
۵۸۶ ألم نخلقکم من ما ئٍ مهین............ ........مر سلا ت:۲۰۰
۵۸۷ سنة ﷲ فی الذین خلوا من قبل و ....احز اب:۲۰۰
۵۸۸ کلاّ نُمدُّ هو لا ء و هولا ء من............ ..........اسرائ:۲۰۶
۵۸۹ أن تقو لوا یو م القیا مة اِنا............ .............اعراف:۲۰۸
۵۹۰ لا یکلف ﷲ نفساً الّاوسعها............ ............بقره:۲۰۸
۵۹۱ فِطرة ﷲ التی فطر النا س علیها............ ..........روم:۲۲۵
۵۹۲ یمنون علیک أن أسلموا قل............ ........حجرات:۲۲۶
۵۹۳ و لو لا فضل ﷲ علیکم و رحمة ما زکی منکم..........نور:۲۲۶
۵۹۴ و لو ردّوه الی الرسول و اِلیٰ أولی الأمر............ .نسائ:۲۲۹
۵۹۵ لیس کمثله شی ئ و هو السمیع البصیر............ شوری:۲۳۱
۵۹۶ لا تدر که الأبصار و هو یدر ک الا ٔبصا ر............ .انعا م:۲۳۱
۵۹۷ سبحا نه و تعالی عمّا یصفون............ ...........انعا م:۲۳۱
۵۹۸ سبحان ربّک رب العزّ ه عمّا یصفو ن............ صا فات:۲۳۱
۵۹۹ اِنّ ﷲ لا یظلم مثقا ل ذرّة............ .............نسائ:۲۳۲
۶۰۰ اِنّ ﷲ لا یظلم النا س شیائً و لکن............ یو نس:۲۳۲
۶۰۱ و ما کان لنبی أن یغلَّ و من یغللّ............ آل عمرا ن:۲۳۲
۶۰۲ قل اِنّی أخا ف أن عصیت ربّی............ .........انعام:۲۳۲
۶۰۳ و لو تقو ّل علینا بعض الأقا ویل............ ........حا قه :۲۳۲
۶۰۴ علیها ملا ئکة غلا ظ شدا د............ تحریم:۲۳۳
۶۰۵ و اِذ ابتلی اِبراهیم ربّه کلما ت............ ..........بقره:۲۳۳
۶۰۶ أدع اِلیٰ سبیل ربّک با لحکمة و المو عظة............نحل:۲۳۴
۶۰۷ اِنّما یرید ﷲ لیذهب عنکم الرجس............ ....احزاب:۲۳۴
۶۰۸ یا أيّها الذین آمنو ا اتّقوا ﷲ و کو نوا............ ....توبه:۲۳۴
۶۰۹ و تلک حجتنا أتینا ها ابراهیم علی قو مه............ .انعام:۲۳۷
۶۱۰ والذین آمنوا وعملو ا الصا لحا ت لا............ ..اعراف:۲۴۰
۶۱۱ بد یع السموات و الأرض و اِذا قضیٰ............ ....بقره:۲۴۸
۶۱۲ هو الذی خلق السموات و ا لأرض با لحقّ و............انعام:۲۴۸
۶۱۳ هو الذی جعل الشمس ضیا ئً وا لقمر نوراً و..........یونس:۲۴۹
۶۱۴ أولم یروا ِانّ ﷲ الذی خلق السموات............ احقاف:۲۴۹
۶۱۵ أولم یر الذین کفروا اِنّ السموات و............ ....انبیا ء :۲۴۹
۶۱۶ ثم استوی اِلیٰ السّماء و هی دخان............ فصلت:۲۵۰
۶۱۷ و السّما ء بنینا ها بأ ید و اِنّا لموسعو ن............ ذاریات:۲۵۱
۶۱۸ و لکن ﷲ ذو فضل علی العا لمین............ .......بقره:۲۵۱
۶۱۹ قل اِنّ صلا تیِ و نُسکی ومحیا ی و............ .....انعام:۲۵۱
۶۲۰ أ لّاله الحقّ و الأمر تبارک ﷲ ربّ العا لمین...........اعراف:۲۵۲
۶۲۱ و ما أرسلناک الِّا رحمة للعا لمین............ ........انبیاء :۲۵۲
۶۲۲ قل أ انکم لتکفرون بالذی خلق............ فصلت:۲۵۳
ملل و نحل، شعوب و قبا یل اور مختلف موضو عات
جلد اول و دوم
(الف)
آ ئین حنیف ابر ا ہیم: ص۲۱۸،۲۱۹۔
آرامی : ۱۲۴۔
ابا ضیہ : جلد دوم :۲۲۰
اسرائیلی؛اسرا ئیلیات :۱۰،۱۳،۹۳،۹۴۔جلد دوم :۱۱۔
اسلام :۳،۹،۱۰،۱۳،۱۴،۱۶،۲۲،۹۳،۹۹،۱۰۴،۱۴۴،۱۵۰،۱۷۲،۱۷۳،۱۷۵،۱۷۷،۱۷۹،۱۸۲،
۱۸۳،۱۸۴،۱۸۶،۱۸۸،۱۸۹،۱۹۴،۱۹۵،۲۰۵،۲۰۶،۲۱۰،۲۱۱،۲۱۹،۲۳۳،۲۳۵،۲۶۱،۲۷۹،۲۸۳،
۲۸۵،۳۰۳۔
جلد دوم :۳،۵،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۲۵،۲۷،۳۴،۴۵،۱۱۵،۱۳۱،۱۴۵،۱۵۵،۱۶۴،۱۶۵،۱۶۹،۱۷۰،
۱۸۱،۱۸۴،۲۰۹،۲۱۴،۲۲۰،۲۲۲،۲۲۶،۲۲۷۔
اسما عیلیہ: جلد دوم : ۲۲۰۔
اشا عرہ : جلد دوم : ۱۹۳ ۔
(ب)
بنی اسرائیل :۱۳،۱۴،۵۱،۱۸۹،۱۹۳،۱۹۴،۲۰۰،۲۲۱،۲۲۳،۲۲۴،۲۴۹،۲۵۱،۲۵۲،۲۹۰،۲۹۳۔
جلد دوم :۱۳،۱۵،۳۱،۳۴،۳۷،۳۸،۴۰،۴۲،۴۳،۴۵،۴۷،۴۸،۴۹،۵۱،۵۳،۵۵،۵۷،۵۸،
۵۹،۶۱،۶۲،۶۳،۶۴،۶۶،۶۷،۶۸،۷۱،۱۰۳۔
بنی لیث:۲۸۵۔
(ت)
تا بو ت (الواح ):۱۸۹،۲۵۲،۲۵۷،۲۸۱،۲۸۳۔
تعلیمیہّ : جلد دوم : ۲۱۷۔
(ث)
ثمود : ۲۱۷،۲۳۱،۲۴۴ ۔ جلد دوم :۱۴۱،۱۶۵۔
(ج)
جا ھلیت : جلد دوم :۳۴،۴۶،۱۸۱۔
(ح)
حجة الوداع :۲۸۵۔
حشو یہ : جلد دوم :۲۱۷۔
حنبلی :جلد دوم :۲۱۵،۲۱۶۔
(ز)
زند قہ؛ زند یق؛ ز نا د قہ :۱۱۰،۱۱۱،۲۵۴۔جلد دوم :۲۱۸۔
ز یدیہ :جلد دوم :۲۲۰۔۲۳۰۔
(س)
سبا(قوم) :۱۱۹۔۱۸۹۔ جلد دوم :۱۴۳۔
سر یانی : ۲۵۳۔
(ش)
شیعہ :جلد دوم :۲۰،۲۲۰،۲۳۹۔
(ص)
صا بئین : ۲۷۹۔
صلح حد یبیہ :۲۷۸،۲۷۹۔
صو فی :جلد دوم :۲۴۰۔
(ع)
عاد : ۲۱۷۔۲۴۴۔
عبا سی : ۲۷۹۔
عبری و عبر ا نی :۵۴،۱۲۴،۲۱۹،۲۲۴۔ جلد دوم :۱۵۱
عرب: ۷۔۱۱۔۳۶۔۳۷۔۳۸۔۴۰۔۳ ۷۔ ۱۰۵ ۔۱۴۳۔۱۴۴۔۲۳۲۔۲۶۶۔۲۷۷۔ جلد دوم :۷۔ ۲۶۔۱۳۲۔۱۵۲۔۲۰۹۔
عما لقہ : جلد دوم :۴۱۔۵۵۔۵۸۔۶۲۔
(غ)
غزوہ ٔبدر : ۶۳۔۲۷۹۔
غزوہ ٔ تبوک :۲۴۴۔
غزوہ ٔخندق : ۸۰۔
(ف)
فتح مکہ : جلد دوم :۲۹۔۴۰۔۶۹۔
فرانسیسی : جلد دوم : ۲۱۸۔
(ق)
قد رےّہ :۲۵۳۔
قر یش : ۲۸۔۵۷۔۱۰۶۔ ۲۳۲۔۲۳۳۔۲۷۸۔ جلد دوم :۴۶۔۶۵۔۶۶۔۷ ۶۔۱۱۸۔۱۸۰۔
(ک)
کلدانی :۱۹۰،۲۲۴۔
(ل)
لو ح محفو ظ : جلد دوم :۱۷۸،۱۸۰۔
(م)
مجو س : ۲۲۔۷۹ ۲۔
مر جئہ :۱۱۔
مسلما ن ؛مسلمانوں: ۱۱۔۱۲۔۶۳۔۶۴۔۷۰۔۹۴۔۹۹۔۱۵۰۔۱۵۳۔۱۷۴۔۱۷۹۔۱۲۲۔۱۸۳۔
۱۸۴۔۱۸۶،۱۸۷۔۸ ۱۸۔۲۰۶۔۲۰۸۔ ۲۱۱۔ ۲۶۱۔۲۶۲۔۲۶۷۔۲۷۹۔۲۹۶۔۲۹۷۔ ۳۰۳۔
مسلمین:۶۴۔۷۰۔۱۸۶۔۱۸۷۔۱۸۸۔۲۹۷۔المسلمون : ۹۹۔ ۱۴۹۔۲۰۶۔
جلد دوم :۸۔۲۲۔۲۴۔۲۵۔۵ ۳۔۳۷۔۴۲۔۴۵۔۹۸۔۱۰۱۔۱۰۲۔۱۰۵۔۱۱۵۔۱۱۷۔۱۲۱۔۱۸۹۔۲۰۰۔ ۲۱۴۔۲۲۸۔ ۲۵۰۔مسلمین:۲۱۔۹۸۔۱۰۵۔المسلمون : ۲۲۔۲۷۔۱۲۱۔
مسیحیت :۱۸۹۔
مشبہ : جلد دوم :۲۳۰۔
مشرک؛ مشر کین ؛مشرکوں : ۱۹۔ ۲۲۔۲۳۔۲۹۔۳۹۔۴۱۔۴۲۔۴۹۔۵۰۔۵۵۔۵۷۔۸۵۔۸۶۔ ۹۰۔۱۲۸۔۱۴۳۔۱۸۶۔۲۱۱۔۲۳۳۔۲۷۷۔۲۷۹۔۲۸۱۔۲۹۹۔۳۰۲۔۳۰۳۔
معتز لہ؛اعتزال : ۱۱۔ جلد دوم :۱۹۴ ۔۲۲۰۔۲۲۱۔۲۲۲۔
مکتب اشعری : جلد دوم :۲۲۲۔
مکتب اہلبیت:۷۔۸۔۱۲۵۔۲۸۴۔جلددوم:۷۔۸۔۱۴۔۱۸۸۔۲۱۹۔۲۲۷۔۲۳۱۔۲۳۲۔ ۲۳۳۔
۲۳۴۔۲۳۷۔۲۳۸۔۲۳۹۔۲۴۰۔
مکتب جبر :۲۵۴۔
مکتب حسی و تجر بی : جلد دوم :۲۱۵۔۲۲۴۔
مکتب خلفا ئ: ۱۰۔۱۲۵۔۲۴۸۔۲۵۳۔۲۶۰۔۲۶۲۔۲۶۴۔۲۸۴۔ جلد دوم :۱۴۔۱۷۵۔۵ ۱۸۔۱۸۶۔ ۱۸۸۔۲۱۹۔
مکتب ذو قی و اشر اقی : جلد دوم :۲۱۵۔ ۲۲۲۔
مکتب سلفی : جلد دوم :۲۱۹۔
خالص عقلی مکتب : جلد دوم :۲۱۵۔۲۱۹۔
مکتب فطری: جلد دوم :۲۱۵۔
مکتب قدریہ : ۲۵۴۔
خالص نقلی مکتب: جلد دوم :۲۱۵۔
(ن)
نصرا نی : ۲۲،۱۸۶،۱۸۹،۱۹۴۔ نصاری ٰ : ۵۰۔۵ ۵۔۵۶۔ ۵۷۔ ۱۴۵۔ ۱۷۹۔۱۸۸۔۱۸۹۔۱۹۰۔ ۱۹۳۔۲۶۱۔۲۹۷۔۳۰۳۔جلد دوم : نصرا نی :۲۲۔۲۵۔۸۸۔ نصاری ٰ: ۲۲۔۳۴۔ ۴۵۔۶۷۔۷۰۔
(و )
واقعۂ صفین :۲۴۵۔
(ھ)
ھذیل :۲۸۵۔
(ی)
یونا نی: ۱۹۰،۲۲۴،۲۵۳۔
یھود ؛ یہودی :۲۲،۵۰،۵۵،۵۷،۱۴۵،۱۷۹،۱۸۶،۱۸۹،۱۹۰،۱۹۳،۱۹۴،۲۰۰،۲۵۳،۲۵۷،۲۷۹،
۲۸۹،۳۰۳۔جلد دوم :۲۲،۲۵،۳۴،۳۷،۳۸،۴۱،۴۳،۴۴،۴۵،۴۶،۵۰،۵۱،۵۶،۵۷،۶۴،۶۶،
۶۷،۷۰،۸۸،۱۶۹،۲۲۶۔
کتابوں کی فہرست
جلد اول و دوم
(الف)
اثبات الو صیتہ :۲۲۲ ۔
اثبات الھدا ة با لنصوص و المعجز ات : جلد دوم :۲۳۷۔
احیای تفکر دینی در اسلا م :جلد دوم :۲۲۵۔
اخبار الزمان : ۲۲۰۔ ۲۲۲۔
اخبار مکہ : ۱۷۔
ارشاد الفحول : جلد دوم :۲۱۷۔ ۲۱۹۔
ارغنون : جلد دوم :۲۱۸۔
اسد الغا بة ۔ ۲۶۶۔
اسرا ئیلیات و اثر آن در کتا بھا ی تفسیر :۲۸۴۔
اصول کافی ؛جلد دوم : ۱۰۱۔ ۱۵۴۔ ۲۱۷۔
ا لا حکا م فی اصول ا لا حکا م : جلد دوم :۲۱۷۔
ا لا رشاد الی قواطع ا لا د لہ :جلد دوم : ۲۱۸۔
ا لا سلام فی عصر العلم: جلد دوم :۲۲۴۔
الجام العوا م عن علم الکلا م : جلد دوم :۲۱۸۔ ۲۲۳۔
امالی شیخ مفید : جلد دوم :۱۸۸ ۔
امالی صدوق :۲۸۲۔ جلد دوم :۱۱۹۔
امتا ع ا لا سماع : ۲۴۵۔
انجیل :۱۳۔۲۸۔۱۴۸۔۱۹۶۔۲۲۲۔۲۲۴۔جلد دوم :۴۰۔۴۱۔۵۹۔۶۴۔۷۰۔۵ ۱۶۔۱۷۱۔۲۰۹۔
اوائل المقا لا ت :جلد دوم :۲۱۹۔۲۳۴۔ ۲۳۸۔۲۳۹۔
( ب)
البداےة و النھا یہ : جلد دوم :۲۲۲۔
البرھان : ۱۲۔
بحار الا نوار : ۸۳۔ ۹۳۔۱۰۹۔۱۱۰۔۱۱۱۔۱۲۹۔۱۳۰۔۱۳۳۔۱۳۶۔۱۳۷۔۱۳۸۔۲۱۰۔۲۱۸۔۲۳۰۔ ۲۴۵۔ ۲۸۲۔۲۸۴۔جلد دوم :۱۸۔۱۹۔ ۵۶۔ ۵۱۔ ۱۰۱۔۱۰۲۔ ۱۰۳۔۱۰۶۔۱۰۷۔۱۱۲۔۱۱۴۔۱۱۹۔۱۳۲۔ ۱۸۱۔
۱۸۶۔ ۱۸۷۔۱۸۸۔۲۰۴۔
بصائر الد رجات : ۲۴۵۔
(ت)
تاج العروس : جلد دوم :۱۲۸۔
تاریخ ابن اثیر: ۲۲۰۔
تاریخ ابن کثیر : ۱۸۸۔۲۲۰۔
تاریخ ابن عسا کر : جلد دوم :۱۳۲۔
تاریخ الجھمیہ و المعتز لہ : ۱۱۹۔
تاریخ العرب قبل ا لا سلام : ۲۵۳۔
تاریخ المذا ھب ا لاسلا میہ : جلد دوم :۲۲۲۔
تاریخ بغداد :۲۶۲۔
تاریخ دمشق :جلد دوم :۱۳۲۔
تاریخ طبری : ۲۲۰۔
التحقیق فی کلمات القرآن :جلد دوم :۱۳۲۔
تصحیح ا لا عتقاد : جلد دوم :۲۳۶۔
تفسیر ابن کثیر : جلد دوم :۲۹۔۵۸۔۱۱۴۔۱۵۲۔۱۸۱۔۱۸۲۔
تفسیر القرآن الکریم محمود شلتوت : جلد دوم :۲۲۵۔
تفسیر المیزان : ۲۶۵ ۔
تفسیر تبیا ن : جلد دوم :۲۰۔
تفسیر خازن : ۲۶۳۔۲۸۳۔
تفسیر سیوطی :۱۲۔ جلد دوم :۵۶۔۵۸۔۱۰۰۔
تفسیر طبری : ۲۱۹۔۲۴۸۔ ۲۵۱۔۲۵۲۔ جلد دوم :۲۹۔ ۴۱۔۵۶۔ ۵۸۔۶۰۔ ۷۰۔۱۱۴۔۱۸۱۔۱۸۳۔ ۱۸۴۔
تفسیر علی بن ابراہیم : ۲۱۰۔جلد دوم : ۱۸۸ ۔
تفسیر فخر رازی : ۱۸۳۔
تفسیر قر طبی : ۲۸۴۔ جلد دوم :۱۴۱۔۱۰۰۔۱۱۴۔ ۱۶۳۔۱۶۴۔
تفسیر قمی : ۱۳۶۔ ۲۱۰۔ ۲۸۴۔
تنز یہ الا نبیا ئ: ۲۸۳۔
التوحید الخا لص : جلد دوم :۲۱۸۔
توحید صدوق: ۱۳۶۔جلد دوم :۱۵۳۔۱۸۶۔ ۱۸۷۔۲۰۱۔۲۰۳۔ ۲۰۴۔۲۲۵۔
توریت؛تورات:۱۳۔۱۴۔۲۸۔۱۲۴۔۱۲۵۔۱۴۸۔۱۸۹۔۱۹۰۔۱۹۳۔۱۹۶۔۲۱۰۔۲۲۲۔۲۲۳۔ ۲۲۴۔
۲۵۱۔۲۵۶۔۲۶۰۔۲۶۲۔جلد دوم :۲۸۔۴۰۔۴۱۔۴۳۔ ۴۷۔۴۹۔۵۰۔ ۵۵۔تا ۶۰۔ ۶۲، ۶۳، ۶۴۔ ۶۶۔ ۶۸۔۱۶۵۔۱۷۱۔۲۰۹۔
تھا فت التھا فت : جلد دوم :۲۱۹۔
تھا فت الفلا سفہ : جلد دوم :۲۱۹۔
تھذ یب التھذ یب ۔۲۵۵۔۲۵۶۔۲۶۲۔ جلد دوم :۱۸۱۔
تھذیب الکمال مز ّی : ۲۵۵۔
(ث)
ثواب الا عما ل : جلد دوم :۷۹۔ ۸۷۔ ۸۸۔۸۹۔۹۵،۹۶، ۱۰۱۔۱۰۲۔۱۰۷۔۱۱۸۔
(ح)
الحقیقة فی نظر الغزالی : جلد دوم :۲۲۳۔
(خ)
خصا ل شیخ صدوق : ۱۱۱۔۱۲۹۔ ۲۱۸۔ جلد دوم :۱۰۹۔۱۱۰۔
(د)
دائر ة المعارف مک میلا ن: جلد دوم :۲۴۶۔
الدرالمنثور سیوطی :۱۲۔۱۰۷۔۲۶۲۔جلد دوم :۲۹۔۹۱۔۱۰۰۔
دو مکتب در اسلا م : ۲۱۹۔
رسائل الشریف المر تضی : جلد دوم :۲۲۹۔
رسائل العدل و التو حید : جلد دوم :۲۲۰۔۲۲۱۔
رسالة الرد علی المنطق : جلد دوم :۲۱۸۔
رسا لة تحریم النظر فی علم الکلام : جلد دوم :۲۱۶۔
رسالة عقیدةالسلف و اصحا ب الحدیث :جلد دوم :۲۱۷۔
(ز)
زبور (داود) : ۱۴۷۔۱۴۸۔۲۴۹۔
(س)
سفینة البحا ر : ۲۲۔جلد دوم :۸۹۔
سنن ابن ماجہ : جلد دوم :۸۹۔۱۱۴۔۱۵۶۔۱۸۳۔
سنن ابو داود :۲۲۔۱۲۹۔ جلد دوم : ۸۹۔
سنن تر مذ ی :۲۲۔۱۲۹۔جلد دوم :۱۱۴۔۱۸۶۔
سنن دار می : ۲۔
سیرہ ابن ھشا م : ۲۸۵۔جلد دوم :۲۱۵ ۔
(ش)
الشامل : جلد دوم :۲۱۷۔
الشذ رات الذ ھبیہ : جلد دوم :۲۳۷۔
شرح الا صول الخمسہ : جلد دوم :۲۲۰۔
شرح الترتیب : جلد دوم :۲۱۷۔
شرح نھج البلا غہ ابن ابی الحدید :۱۳۲۔
(ص)
صحیح بخاری :۲۲۔ ۲۱۰۔ جلد دوم :۱۹۔۸۹۔۱۰۲۔ ۱۸۳۔۲۲۶۔
صحاح جو ھری : جلد دوم :۱۵۶۔
صحیح مسلم : ۲۲۔ ۱۶۳۔۲۰۹۔ جلد دوم :۲۔۱۷۔۸۹۔۱۰۲۔۱۸۲۔۲۲۶۔
صراط الحق :جلد دوم :۲۲۶۔
الصو فیہ فی نظر ا لا سلام : جلد دوم :۲۲۴۔
صون المنطق و ا لکلا م : جلد دوم :۲۱۹۔
(ط)
طبقات ابن سعد : ۱۲۹۔۱۸۸ ۔۲۲۰۔۲۵۳۔۴ ۲۵۔ ۲۵۵۔ جلد دوم :۱۷۔۱۸۔۱۸۶۔
طبقات الشا فعیہ: جلد دوم :۲۲۲۔
(ع)
عبد ﷲ بن سباء : جلد دوم :۲۰۹۔
العروة الوثقی :جلد دوم :۲۲۵۔
عقاب الاعمال :جلد دوم :۹۹۔
علل الشر ایع: ۱۰۹۔۱۳۳۔ ۲۳۰۔۲۴۵۔ جلد دوم :۱۸۸۔
عیون اخبار الرضا علیہ السلام : ۱۰۹۔ ۱۳۷۔ ۱۳۸۔ ۲۳۰۔ ۲۸۲۔۲۸۳۔جلد دوم : ۱۱۳۔۱۵۴ ۔
( غ)
الغارات :۱۳۴۔
(ف)
الفرق الاسلا میہ فی شمال الا فر یقی : جلد دوم :۲۲۲۔
الفصل فی الملل و ا لا ھوا ء و النحل : جلد دوم : ۱۹۳۔۱۹۴۔۲۱۵۔
الفکر السلفی عند الا ثنی عشر یہ : جلد دوم :۲۱۹۔
فتو حا ت مکیہ جلد دوم :۲۲۴۔
فجر ا لا سلا م : جلد دوم :۲۱۵۔
فر ھنگ دو مکتب : ۲۱۹۔
فصل المقا ل بین الحکمة و: جلد دوم :۲۱۹۔
(ق)
قاموس قر آ ن : ۱۵۷۔
قاموس کتاب مقدس :۱۲۴۔۱۲۵۔۱۸۹۔ ۲۲۳۔۲۲۵۔جلد دوم :۵۸۔
قا موس اللغة : جلد دوم :۱۵۶۔
القرآن الکریم و روایات المد ر ستین: ۱۰۔۹۳۔ ۲۸۴۔جلد دوم :۰ ۳۔
قرآن : ۹،۱۱،۳۸،۵۶،۵۷،۶۱،۶۴،۶۹،۷۰،۷۲،۷۳،۷۴،۷۸،۸۱،۸۴،۸۷،۸۸،۹۰،۹۱۔
۹۲،۹۴،۱۰۷،۱۱۲،۱۱۳،۱۲۰،۱۴۳،۱۴۸،۱۵۰،۱۵۳،۱۶۹،۲۰۵،۲۰۶،۲۲۵،۲۲۳،۲۴۴،۲۵۶،۲۶۱۔
جلد دوم :۷،۸،۱۶۰،۲۲۵،۲۵۰۔
قصص الانبیا ء : ۱۱۹۔
(ک)
کا فی : جلد دوم :۱۰۰۔۱۰۱۔ ۱۵۴۔۲۰۴۔۲۲۷۔
کتاب مقدس عھد عتیق : ۱۲۴۔
کشف الظنون :۲۵۳۔
کشف المحجہ : جلد دوم :۲۲۶۔
کمال الدین و تمام النعمہ : جلد دوم :۲۳۴۔
الکنی و ا لا لقاب :۲۵۵۔
(ل)
لسان العرب : ۳۸۔۱۵۷ ۔جلد دوم :۲۰۔۱۳۲۔
(م)
مجمع البیان :۲۷۸۔۲۸۳ ۔ جلد دوم :۲۰۔ ۵۶۔ ۷۰۔ ۱۰۰۔۱۸۴۔
مجمع الفتا وی : جلد دوم :۲۱۸۔
مجموعة الوثائق السیاسیہ:جلد دوم :۲۱۵.
مرآة الجنان : جلد دوم :۲۲۲۔
مروج الذھب : جلد دوم :۲۴۱۔
المسا ئل الجا رود یہ؛ جلد دوم :۲۳۴۔ ۲۳۷۔
المسلمون و العلم الحدیث:جلد دوم : ۲۲۵۔
مسند احمد بن حنبل: ۲۔۲۲۔۱۲۹۔۱۶۳۔۲۱۸۔ جلد دوم :۲۔ ۱۷۔۱۸۔۸۹۔ ۱۰۲۔۱۱۳۔۱۵۵۔۱۸۲۔ ۱۸۶۔۲۱۴۔۲۲۶۔
مسند طیا لسی : جلد دوم :۱۸۔۱۸۶ ۔
معا لم المد رستین : ۱۲۔ ۲۸۴۔ جلد دوم :۷۹۔۲۰۹۔
معا نی ا لا خبار صدوق : ۱۳۶۔ ۱۶۲۔۲۱۸۔ جلد دوم :۱۰۱۔
معجم البلدان : ۱۲۴۔۱۲۵۔
معجم الفا ظ القرآن : ۱۶۱۔جلد دوم :۱۹۔ ۱۵۶۔
معجم المفھرس : جلد دوم :۱۲۹۔
معجم الو سیط : ۱۵۷ ۔ جلد دوم :۷۶۔ ۱۳۲۔
المعتز لہ(کتاب ): جلد دوم :۲۲۱۔
مغا زی و اقدی: ۲۴۵۔۲۷۸۔
مفردات الفاظ القرآن راغب :۱۵۷۔۱۶۱۔۲۷۸۔جلد دوم :۱۲۷۔ ۱۳۲۔ ۱۵۶۔
مقالا ت ا لا سلامیین : جلد دوم : ۱۱۵۔
مقتضب الا ثر فی النص علی: جلد دوم :۲۳۷۔
الملل و النحل : جلد دوم :۲۲۲۔
منا ھج البحث عن مفکری ا لا سلام: جلد دوم :۲۱۹۔
من لا یحضرہ الفقیہ : ۱۹۲۔
مو طأ ما لک : ۲۲۔
میزان الا عتد ال :۲۵۳ ۔۲۶۲۔
(ن)
نقش ا ئمہ در احیا ء دین : ۱۰۔ ۲۶۱۔
نو ر الثقلین :۱۳۷۔ ۲۸۳۔
نھج البلا غہ :۸۳۔جلد دوم : ۷۶۔۲۲۸۔
(و)
وسائل الشیعہ : جلد دوم :۱۵۴۔
وفیات ا لا عیان :۲۵۳۔ ۲۵۵۔ ۲۶۲۔
وقعة الصفین نصر بن مزاحم :۲۴۵۔
(ی)
ایک سو پچاس جعلی صحابی :۲۵۵۔ جلد دوم :۴۰ ۔
'' الیواقیت والجواہر فی بیان عقاید الاکابر '' جلد دوم:۲۲۴۔
فہرست
حرف اول ۵
مقدمہ : ۷
اسلام کے عقا ئد قرآن کریم کی رو شنی میں(۱) ۷
مباحث کی سرخیاں ۱۰
(۱) ۱۳
۱۔صاحبان شریعت پیغمبروں کے زمانے میں نسخ ۱۳
(۱) ۱۳
انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں ۱۳
حضرت آدم ، نوح ، ابراہیم اور محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعتوںمیں اتحاد و یگانگت ۱۳
اوّل: حضرت آدم ابوالبشر ۱۳
دوم : ابو الا بنیاء حضرت نوح علیہ السلام ۱۴
کلمات کی تشریح ۱۵
آیات کی مختصر تفسیر ۱۶
سوم : خلیل خدا حضرت ابرا ہیم ـ ۱۷
الف۔سورہ حج َ : ۱۷
ب ۔ سورئہ بقرہ: ۱۷
ج۔ سورئہ بقرہ : ۱۸
د۔سورئہ آل عمران: ۱۸
ہ۔ سورئہ انعام: ۱۹
ز۔سورئہ نحل: ۱۹
کلمات کی تشریح: ۱۹
آیات کی مختصر تفسیر: ۲۰
بحث کا نتیجہ ۲۱
سوال: ۲۴
جواب: ۲۴
۲ ۲۵
نسخ وآیت کی اصطلا ح اور ان کے معنی ۲۵
اوّل۔ نسخ: ۲۵
دوم ۔ آیت: ۲۵
۳ ۲۷
آیۂ نسخ اور آیۂ تبدیل کی تفسیر ۲۷
آیۂ نسخ : ۲۷
آیۂ تبدیل : ۳۲
الف:۔سورہ آل عمران کی ۹۳ ویں آیت: ۳۳
کلمات کی تشریح: ۳۴
۳۳واں باب ۳۴
''مصدقا لمامعکم''کی تفسیر میں بحث کا نتیجہ: ۳۶
تفسیر آیات ۳۸
۱۔ آیۂ تبدیل: ۳۸
۲۔آیۂ نسخ: ۴۰
۴ ۴۳
حضرت موسیٰ ـ کی شریعت بنی اسرائیل سے مخصوص ہے ۴۳
حضرت موسیٰ ـکی شریعت میں نسخ کی حقیقت ۴۳
اوّل:بنی اسرائیل کو نعمت خدا وندی کی یاد دہانی ۴۴
دوم : توریت اور اس کے بعض احکام : ۴۵
سوم:خدا وند عالم کی بنی اسرائیل پر نعمتیں اور ان کی سرکشی و نا فرمانی ۴۷
کلمات کی تشریح ۴۹
آیات کی تفسیر ۵۱
بحث کا نتیجہ ۵۴
ایک پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت میں نسخ کے معنی ۵۶
نسخ کی بحث کا خلاصہ اوراس کا نتیجہ ۵۷
آیۂ تبدیل کی شان نزول ۶۱
۲ ۶۸
ربّ العالمین اور انسان کے اعمال کی جزا ۶۸
۱۔ ۶۸
انسان اور دنیا میں اس کے عمل کی جزا ۶۸
کلمات کی تشریح ۷۲
دنیا وآخرت کی جزا ۷۲
۲۔ ۷۴
انسان اور آخرت میں ا س کی جزا ۷۴
کلمات کی تشریح ۷۶
آغاز کی جانب باز گشت: ۷۷
کلمات کی تشریح: ۸۱
۴۔ ۸۲
قبر میں انسان کی جزا ۸۲
۵۔ ۸۳
انسان اور محشر میں اس کی جزا ۸۳
الف: صور پھونکنے کے وقت ۸۳
پہلی مرتبہ: ۸۳
دوسری مرتبہ: ۸۴
کلمات کی تشریح ۸۵
ب:روز قیامت کے مناظر کے بارے میں ۸۶
کلمات کی تشریح ۸۸
۶۔ ۹۰
انسان اور جنت و جہنم میں اس کی جزا ۹۰
کلمات کی تشریح: ۹۲
روایات میں آیات کی تفسیر ۹۳
۷۔ ۹۶
صبر وتحمل کی جزا ۹۶
کلمات کی تشریح: ۹۹
روایات میں صابروں کی جزا ۹۹
۸۔ ۱۰۱
عمل کی جزا نسلوں کی میراث ہے ۱۰۱
کلمات کی تشریح: ۱۰۲
مرنے کے بعد عمل کے نتائج اور آثار ۱۰۲
۹۔ ۱۰۴
شفاعت کی لیاقت؛ بعض اعمال کی جز ۱۰۴
الف:شفاعت کی تعریف ۱۰۴
ب: شفاعت قرآن کی رو شنی میں ۱۰۴
آیات کی تفسیر ۱۰۵
ج : شفاعت روایات کی رو شنی میں ۱۰۶
بحث کا نتیجہ ۱۰۸
۱۰۔ ۱۰۹
پاداش اور جز ا کی بربادی ، بعض اعمال کی سزا ہے ۱۰۹
الف:عمل کے حبط اور برباد ہو نے کی تعریف ۱۰۹
ب: حبط عمل قرآن کریم کی رو شنی میں ۱۰۹
ج:حبط عمل روایات کی روشنی میں ۱۱۱
گزشتہ بحث کا خلاصہ ۱۱۲
۱۱۔ ۱۱۳
جزا اور سزا کے لحاظ سے جنات بھی انسان کے مانند ہیں ۱۱۳
جزا اور سزا کی بحث کا خلاصہ ۱۱۵
۳ ۱۱۷
ربّ العا لمین کے بعض اسماء اور صفات ۱۱۷
۱۔اسم کے معنی ۱۱۷
۴۔ذوالعرش اور''ربُّ العرش'' ۱۲۰
کلمات کی تشریح ۱۲۱
۱۔العرش: ۱۲۱
۲۔ استویٰ: ۱۲۲
آیات کی تفسیر ۱۲۳
بحث کاخلاصہ ۱۳۴
۴ ۱۳۶
ﷲ کے اسمائے حسنیٰ ۱۳۶
۱۔ﷲ ۱۳۶
۲۔کرسی ۱۳۹
عبد وعبادت ۱۴۱
الف: عبودیت ۱۴۱
ب: عبد ۱۴۲
۵ ۱۴۴
ربّ العالمین کی مشیت ۱۴۴
۱- لغت اور قرآن کریم میں مشیت کے معنی ۱۴۴
الف:مشیت کے لغوی معنی ۱۴۴
ب:مشیت؛ قرآنی اصطلاح میں ۱۴۵
دوم ۔ رزق وروزی میں خدا کی مشیت ۱۴۶
خدا کی مشیت کیسی اور کس طرح ہے؟ ۱۴۸
سوم :مشیت خداوندی ہدایت اور راہنمائی میں ۱۴۹
الف: تعلیمی ہدایت ۱۴۹
ب:انسان اور ہدایت یا گمراہی کاانتخاب ۱۵۱
ج: ہدایت یعنی مشیت الٰہی سے ایمان و عمل کی توفیق ۱۵۳
کلمات کی تشریح ۱۵۳
۶ ۱۵۸
بدا یا محو و اثبات ۱۵۸
اوّل: بداء کے لغوی معنی ۱۵۸
دوم: اسلامی عقائد کے علماء کی اصطلاح میں بداء کے معنی ۱۵۸
سوم: بداء قرآن کریم کی رو شنی میں ۱۵۸
کلمات کی تشریح ۱۵۹
آیات کی تفسیر ۱۶۱
کلمات کی تشریح ۱۶۵
آیت کی تفسیر ۱۶۵
چہارم : بداء مکتب خلفا ء کی روایات میں ۱۶۷
پنجم: بداء ائمہ اہل بیت کی روایات میں ۱۶۷
عقیدہ ٔ بدا کا فائدہ ۱۷۰
۷ ۱۷۱
جبر و تفویض اور اختیار ۱۷۱
الف: جبر کے لغوی معنی ۱۷۱
ب: جبر اسلامی عقائد کے علماء کی اصطلاح میں ۱۷۱
ج: تفویض کے لغوی معنی ۱۷۱
د: تفویض اسلا می عقائد کے علما ء کی اصطلاح میں ۱۷۱
ھ: اختیار کے لغو ی معنی ۱۷۲
و: اختیار اسلامی عقائدکے علماء کی اصطلاح میں ۱۷۲
(۸) ۱۷۳
قضا و قدر ۱۷۳
قضا وقدر کے معنی ۱۷۳
الف:۔ مادّۂ قضا کے بعض معانی: ۱۷۳
ب:مادہ ٔ قد ر کے بعض معا نی ۱۷۴
ج:۔ قدَّر کے معنیٰ ۱۷۵
د: ۔ قدرکے معنی ۱۷۶
قول مؤلف: ۱۷۶
قضا و قدر سے متعلق ائمہ اہل بیت کی روایات ۱۷۷
پہلی روایت: ۱۷۷
دوسری روایت ۱۷۹
تیسری روایت: ۱۷۹
روایات کی تشریح ۱۸۱
چند سوال ا و ر جو اب ۱۸۳
پہلے اور دوسرے سوال کا جو اب: ۱۸۳
تیسر ے سوال کا جو اب: ۱۸۴
چو تھے سوا ل کا جو اب: ۱۸۴
(۹) ۱۸۶
ملحقات ۱۸۶
عقید تی اختلا فا ت اور اس کی بنیاد اور تا ریخ ۱۸۷
الف ۔ خالص نقلی مکتب: ۱۸۸
ب: خالص عقلی مکتب ۱۹۲
مکتب اشعر ی :ما تر یدی یا اہل سنت میں متوسط راہ ۱۹۴
ج:۔ ذو قی و اشر اقی مکتب ۱۹۶
د: حسی و تجر بی مکتب( آج کی اصطلا ح میں علمی مکتب) ۱۹۷
ھ:اہل بیت کا مکتب راہ فطرت ۱۹۸
اسلامی عقا ئد کے بیان میں مکتب اہل بیت کے اصول و مبا نی ۲۰۰
۳۔ اسلامی عقائد دو حصّوں پر مشتمل ہیں: ضروری و نظری: ۲۰۲
ضروری اسلامی عقائد: ۲۰۲
نظری اسلامی عقائد: ۲۰۲
اہل بیت کی راہ قرآ ن کی راہ ہے ۲۰۵
۱ ۔ تو حید کے بارے میں : ۲۰۵
۲ ۔عدل کے بارے میں : ۲۰۶
۳۔ نبوت کے بارے میں : ۲۰۶
۴ ۔امامت کے بارے میں : ۲۰۷
مکتب اہل بیت میں ''عقل'' کا مقام ۲۰۸
کلا می منا ظرہ اور اہل بیت ـ کا نظریہ ۲۰۹
عقل وحی کی محتا ج ہے ۲۱۱
نقل کا مرتبہ ۲۱۲
عقائد میں خبر واحد کا بے اعتبار ہو نا ۲۱۳
روایات میں آغا ز خلقت اور مخلوقات کے بعض صفات ۲۱۵
روایات میں آغا ز خلقت اور مخلوقات کے بعض صفات ۲۱۵
۱ ۔مسعو دی کی روایت کے مطابق آغاز خلقت: ۲۱۵
۲ ۔نہج البلا غہ کے پہلے خطبہ میں خلقت و آفرینش کا آ غاز: ۲۱۶
کلمات کی تشریح ۲۱۷
قرآن کریم میں '' کَوْن و ہستی ''یا'' عا لم طبیعت ''( ۱ ) ۲۲۰
کون و ہستی قرآن کریم کی روشنی میں ۲۲۲
تخلیق کی کیفیت ۲۲۳
فہرستیں ۲۲۸
جلد اول و دوم ۲۲۸
ترتیب و پیشکش: سردارنیا ۲۲۸
اسماء کی فہرست ۲۲۸
جلد اول ودوم ۲۲۸
کتاب کے صفحات کی ترتیب کے اعتبار سے آیات کریمہ کی فہر ست ۲۴۷
جلد اول ۲۴۷
ملل و نحل، شعوب و قبا یل اور مختلف موضو عات ۲۷۸
ملل و نحل، شعوب و قبا یل اور مختلف موضو عات ۲۷۸
جلد اول و دوم ۲۷۸
کتابوں کی فہرست ۲۸۴
جلد اول و دوم ۲۸۴