اسلام اور آج کا انسان
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : اسلام اور آج کا انسان

مؤلف: علامہ طبا طبائی (صاحب تفسیر المیزان)

متر جم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح: سید حمید الحسن زیدی

نظر ثانی: فیروزحیدرفیضی

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

طبع اول : ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ ء

تعداد : ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ


عرض ناشر

بسم الله الرحمن الرحیم

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ اور موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھی، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صہ میں ہی اسلام کی عالم تاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذاہب عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیروؤں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانہ میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھیں او رگڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکر اور معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلہ کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام (عالمی اہل بیت کونسل )نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیروؤں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود ہ دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خون خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین ومصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین او رمترجمین کا ادنٰی خدمت گار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، فاضل علامہ سید محمدحسین طباطبائی کی گرانقدر کتاب ''اسلام اور آج کا انسان'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونین کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


پہلا حصہ

فطرت کی راہ

سوال:کیا موجودہ دنیا کے حالات اور روز مرہ حیرت انگیز ترقی کے پیش نظرباور کیا جاسکتا ہے کہ اسلام عالم بشریت کا نظم ونسق چلا کر موجودہ ضرورتوں کو پورا کر سکے گا؟کیا حقیقت میں وہ وقت نہیں پہنچا ہے کہ جب انسان علم کی قدرت سے آسمانوں پر کمند ڈال رہا ہے اور ستاروں کو تسخیرکرنے جا رہا ہے ،اب اسے ان کہنہ مذہبی افکار کوبالائے طاق رکھ کراپنی قابل فخرزندگی کے لئے ایک نئے اور تازہ طریقہ کارکا انتخاب کر کے اپنی فکروارادہ کی طاقت کواپنی شاندارکا میا بیوںپر متمرکزکرنا چاہئے؟

جواب:اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ایک نکتہ کی طرف توجہ مبذول کراناضروری ہے اور وہ یہ ہے :صحیح ہے کہ ہم فطری طور پر ہر نئی چیز کوپرانی چیز کی نسبت پسند کرتے ہیں اور ہر چیز کے نئے پن کو اس کے پرانے پن پر ترجیح دیتے ہیں لیکن بہر حال یہ کوئی کلی قاعدہ نہیں ہے اور اس طریقہ کار کو ہر جگہ پر لاگو نہیں کیا جاسکتا ہ ۔مثال کے طور پردو اوردوچار جو لاکھوں اورہزاروں سال سے انسان میں رائج ہے اور اس سے استفادہ کیا جاتا ہے ،اسے کہنہ سمجھ کر دور نہیں پھینکا جاسکتاہے!

یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ عالم بشریت میںرائج اجتماعی اور معاشرتی زندگی اب کہنہ ہو چکی ہے،اس سلسلہ میں ایک نیا منصوبہ مرتب کر کے انفرادی زندگی کاآغاز کیا جانا چاہئے۔یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ملکی قوانین جو کافی حد تک انسان کی انفرادی آزادی پر پابندیاںعائد کرتے ہیں ،اب کہنہ ہو چکے ہیں اور لوگ ان سے تنگ آچکے ہیں ،اس وقت جب کہ انسان فضا کو تسخیرکرنے میں لگا ہے اورستاروں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے ان کے مدار میں سٹلا ئٹ بھیج رہا ہے اس لئے ایک نئی راہ کا انتخاب کرناچاہے اور قانون ،قانون سازاور قانون لاگوکرنے والوں کے چنگل سے آزاد ہونا چاہے۔

واضح اور روشن ہے کہ یہ باتیں کس حد تک بے بنیاد اور مذاق پر مبنی ہیں ۔اصولاًکہنہ اور نئے پن کامسئلہ ایسے مواقع پر بیان کیا جاسکتا ہے کہ جو تغیر وتبدّل کے دائرہ میں آتے ہوں،جس کے نتیجہ میں کبھی بہتر اور شاداب اور کبھی نا مناسب عوامل کی وجہ سے فرسودہ اورافسردہ ہوجاتے ہیں۔

اس لئے ،حققت شناسی سے مر بوط بحثوںکے سلسلہ میں ،جو فطری تقاضوں سے متعلق ہیں اور خلقت و کائنات کے حقیقی قوانین کی تحقیق کرتے ہیں (جن میں سے ایک یہی ہمارازیر بحث مسئلہ ہے : کیا اسلام مو جودہ حالات کے پیش نظرعالم بشریت کا نظم و نسق چلا جا سکتا ہے ؟)اس کے بارے میں کہنہ اور نئے پن کا مسئلہ نہیں چھیڑ نا چاہے ۔ہر بات کی ایک خاص جگہ اور ہر نکتہ کا ایک مخصوص مکان ہوتا ہے۔

لیکن یہ کہ ''کیا اسلام موجودہ حالات میں عالم بشریت کا نظم ونسق چلاسکتا ہے؟''یہ سوال بھی اپنی جگہ پر عجیب و غریب ہے اور اسلام کے حقیقی معنی کے مطابق بھی جو قرآن مجیدکی دعوت پر مبنی ہے یہ سوال انتہائی تعجب آور ہے ۔کیونکہ ''اسلام''وہ راستہ ہے جس کی انسان اور کائنات کی خلقت کی مشینری نشاندہی کرتی ہے ۔''اسلام''یعنی وہ قواعد وضوابط جو بشریت کی خاص فطرت کے مطابق ہیں اور انسان کی فطرت کے ساتھ رکھنے والی مکمل ہم آھنگی کے پیش نظرانسان کی حقیقی ضرورتوں کو ۔۔نہ فرضی اور جذباتی ضرورتوں کو۔۔پورا کرتے ہیں۔

بدیہی بات ہے کہ انسان کے انسان ہو نے تک اس کی انسانی فطرت نہیں بدلتی اور انسان جس زمان و مکان میں ہو اور جس حالت میں بھی زندگی بسر کرتا ہووہ اپنی انسانی فطرت پر گامزن ہوگا اور فطرت نے اس کے سامنے ایک راستہ معین کیا ہے،خواہ وہ اس پرچلے یا نہ چلے۔

اس بناء پر حقیقت میں مذکورہ سوال کا معنی یہ ہے کہ اگر انسان فطرت کی معین کردہ راہ پر چلے تو کیاوہ اپنی فطری خو شحالی کو پاسکتا ہے اور اپنی فطری آرزوئوںتک پہنچ سکتا ہے ؟یامثال کے طور پر اگر کوئی درخت اپنی فطری راہ ۔۔جو مناسب وسائل سے مجہز ہے ۔۔پر چلے توکیا وہ اپنی فطری منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ؟واضح ہے کہ بدیہیات کے بارے میں اس قسم کے سوالات مسلّمات میں شک وشبہ ایجاد کرنے کے مترادف ہیں ۔

اسلام، یعنی فطرت کی راہ،ہمیشہ انسان کی حقیقی راہ ہے جواس کی زندگی کے مختلف حالات کے پیش نظرنہیں بدلتی ہے۔اسکے فطری مطالبات ۔۔نہ جذباتی اورتوہماتی خواہشات۔۔اس کے حقیقی مطالبات اور فطری منزل مقصود اور سعادت وخوشبختی تک پہنچنے کے مطالبات ہیں۔خدائے تعالی اپنے کلام میں فرماتا ہے:

( فأقم وجهک للدّین حنیفا فطرت اللَه الَتی فطر النَاس علیها لاتبدیل لخلق اللَه ذلک الدَین القیّم... ) (روم٣٠ )

''آپ اپنے رخ کودین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہٰی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے۔ یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے ۔''

اس مطلب کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ ہمارے لئے واضح اورمشہور ہے کہ عالم خلقت میں مختلف مخلو قات مو جود ہیں ،ان مخلوقات میں سے ہر ایک کی اپنی زندگی اور بقاء کے لئے ایک مخصوص طریقہ کاراور خاص راستہ معین ہے اور وہ اپنی زندگی کی راہ میں منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ایک معین راستہ پر گامزن ہیں اور ان کی سعادت و خوش قسمتی اس میں ہے کہ اپنی زندگی کی اس راہ میں کسی رکاوٹ سے دو چارہوئے بغیر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں ۔

دوسرے الفاظ میں اپنی زندگی اور بقاء کے راستے کواپنے وجود میں پائے جانے والے وسائل اور اسلحوں سے استفادہ کرتے ہوئے کسی رکا وٹ کے بغیرطے کرکے سر انجام تک پہنچ جائیں۔

گیہوں کا دانہ پنے نباتی سفر میں ایک خاص راستہ طے کرتا ہے ۔اس کے داخلی ساخت وساز کے مطابق موجودہ خاص نظم واسلحوں'مخصوص حالات وشرائط میںروبہ عمل آتے ہیں اور گندم کے پودے کی نشوونما کے لئے ضروری عنا صر کو معین مقدار اور نسبت میں جذب کر کے گندم کے پودے کی مخصوص راہ پر راہنمائی کرکے اسے منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں۔

گندم کا پودااپنی نشو ونما کی راہ میںاندرونی اوربیرونی ماحول اورعوامل کے سلسلہ میںجس خاص روش کو اپناتا ہے ،وہ کسی صورت میں قابل تغیر نہیں ہے۔مثال کے طور پر کبھی ایسا نہیں ہوتاہے کہ گندم کااپنی نشوو نما کاتھوڑاسا راستہ طے کرنے کے بعد ہی اچانک ایک سیب کے درخت میںتبدیل ہو جائے اور اس کی شاخیں،کونپلیں اور پتے نکل آئیںیا اپنی زندگی کی راہ میںایک پرندہ میں تبدیل ہوکر پرواز کرے۔یہ قاعدہ خلقت کی تمام انواع میں موجود ہے اورانسان بھی اس کلّی قاعدہ سے مستثنی نہیں ہے ۔

انسان بھی اپنی زندگی میں،ایک فطری راہ اور ایک منزل مقصود رکھتا ہے جو اس کا کمال،سعادت اورخوشبختی ہے۔اس کی بناوٹ کچھ ایسے اسلحوں سے مجہّز ہے جواس کی فطری راہ کو مشخص کرتے ہیں اور اسے حقیقی منافع کی طرف راہنمائی کرتے ہیں ۔

خدائے متعال تمام مخلوقات میں مو جود اس عمو می راہنمائی کی تعریف میں فرماتا ہے :

( ...الّذی ا عطیٰ کلّ شیٍ خلقه ثم هدی ) (طہ۔٥٠)

''...خدا وہ ہے جس نے ہر شے کواس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے ۔(یعنی نفع کی طرف)''

انسان میں موجود خصوصی راہنمائی کے بارے میں فرماتا ہے:

( ونفس وما سوٰها٭فلهمها فجورها و تقوٰها٭قد افلح مَن زکٰها٭وقد خاب مَن دسٰها ) (شمس۔٧۔١٠)

''اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے ۔پھر بدی اور تقوی کی ہدایت دی ہے ۔بیشک وہ کامیاب ہو گیا جس نے نفس کو پاکیزہ بنالیا۔اور وہ نامراد ہو گیاجس نے اسے آلودہ کر دیاہے۔''

مذکورہ بیان سے واضح ہوتا ہے انسان کی زندگی کا حقیقی راستہ ـکہ جس میں اس کی حقیقی سعادت وخو شبختی ہے ـوہ راستہ ہے جس کی طر ف فطرت اس کی راہنمائی کرتی ہے اور یہ انسان اور کائنات کی خلقت کے تقاضوں کے مطابق حقیقی مصلحتوںاور منفعتوں کی بنیاد پر استوار ہے ،چاہے یہ اس کے جذباتی خواہشات کے مطابق ہو یا نہ ہو ۔کیونکہ جذبات کو فطرت کی راہنمائی کی پیروی کرنی چاہئے اور اسی کے تابع ہو نا چا ہئے نہ کہ فطرت انسان کے نفسانی خواہشات اور جذ بات کے تابع ہو۔

انسانی معاشرہ کو بھی اپنی زندگی کو حقیقت پسندی پر استوار کرنا چاہئے نہ متزلزل توہّمات اور دھوکہ دینے والے جذبات کی بنیادوں پر۔اسلام کے قوانین اوردوسرے ملکی قوانین میں یہی فرق ہے۔کیونکہ عام اجتماعی قوانین معاشرہ کے افراد کی اکثریت (نصف ۔١)کی خواہشات کے مطابق ہو تے ہیں۔لیکن اسلام کے قوانین فطرت کی ہدایت کے موافق ہوتے ہیںجوارادئہ الٰہی کی علامت ہے اوراسی لئے قرآن مجیدتشریعی حکم کو خدائے متعال سے مخصوص جانتا ہے ،جیسا کہ فرماتا ہے:

( ان الحکم الّا للّٰه ) (یوسف٤٠)

''...حکم کرنے کا حق صرف خدا کو ہے۔''

( ومن حسن من اللّٰه حکما لقوم یوقنون ) (مائدہ٥٠)

''... صاحبان یقین کے لئے اللہ کے فیصلہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے؟''

اسی طرح جو کچھ ایک عام معاشرہ میں حکم فرماہوتا ہے وہ یا لوگوں کی اکثریت کی خواہش اور مرضی یاایک طاقتور مطلق العنان شخص کی خواہش کے مطابق ہو تا ہے ، چاہے یہ حکمرانی حق و حقیقت کے مطابق ہو اور معا شرہ کی حقیقی مصلحتوںکو پورا کرتی ہویا اس کے بر خلاف ہو ۔لیکن حقیقی اسلامی معاشرہ میں حق و حقیقت کی حکو مت ہو تی ہے اور لوگوں کو ا س کی اطاعت وپیروی کر نی چاہئے۔

یہاں پرایک اور شبہ کاجواب بھی واضح ہو تا ہے اور وہ یہ کی ''اسلام انسانی معاشرہ کے مزاج کے مطابق نہیں ہے ۔جو انسا نی معاشرے ا ج کل مکمل آزاد ی سے مالا مال اور ہر قسم کی کامیابی وکامرانی سے بہرہ مند ہیں ،ہر گز تیار نہیں ہیں کہ اسلام کی اتنی پابند یوں کے تحت ر ہیں۔''

البتہ اگر ہم بشریت کو موجودہ حالات میں' جبکہ اخلاقی زوال نے انسانی زندگی کے ہر پہلو پر اثر کیا ہے اور ہر قسم کی بے راہ روی اور ظلم واستبداد نے اپنا سایہ ڈالا ہے اور ہر لمحہ فنا وزوال کے بادل منڈلا رہے ہیں ،فرض کریں اور پھر اسلام کا اس کے ساتھ مواز نہ کریں تو ہم واضح اورروشن اسلام اورتاریکی میں ڈوبی بشریت کے درمیان کسی بھی قسم کی مطا بقت کو نہیں پائیں گے اور ہمیں توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے کہ اسلام کی موجودہ حالت کو جاری رکھتے ہوئے ،یعنی جزئی طور پراسلامی احکام کی ظاہری صورت عالم بشریت کی مکمل سعادت کو پورا کرے گی یہ تو قع بالکل اس امر کے مانند ہے کہ ہم جمہوریت کا صرف دم بھر نے والی ایک استبدادی اور مطلق العنان حکومت سے حقیقی جمہوریت کے نتائج اور فوائد کی تو قع رکھیں یا یہ کہ بیمار ڈاکڑ کے نسخہ لکھنے پر ہی اکتفا کرکے صحت یاب ہونے کی امید میں بیٹھے رہیں ۔

لیکن اگر ہم صرف لوگوں کی خدا داد فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام ـ جودین فطرت ہے ـسے مواز نہ کریں تو ہم اس میں مکمل موافقت اور ہم آہنگی پائیں گے۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ فطرت نے جس راستہ کو خود تشخیص دے کر معین کیا ہے اور اس کی طرف ہدایت کرتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور راستہ کو قبول نہیں کرتی ہے ،اس کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو؟

البتہ لوگوں کی لا ابالی اوربے راہ روی کی وجہ سے پیدا ہوئی گمراہیوںاور کج فہمیوںسے جو آج کل فطرت دو چار ہے اس کی وجہ سے کسی حدتک فطرت اور اس کی معین کردہ طریقہ کار کی شناسائی میں شگاف پیدا ہوا ہے ۔لیکن ان ناگفتہ بہ حالات میں عاقلانہ روش یہ ہے کہ ان ناموافق حالات سے مقا بلہ کیا جائے تاکہ زمینہ ہموار ہو جائے نہ یہ کہ منحرف کی گئی فطرت پر خط بطلان کھینچ کر انسانی سعادت وخوشبختی سے ناامید ہو کرچشم پو شی کریں ۔تاریخ گواہ ہے کہ تمام نئی روشیں اور نظام اپنے قیام کی ابتداء میں گزشتہ روشوں اور پرانے حالات سے سختی کے ساتھ نبرد آزما ہوتے ہیں اور بہت سی کشمکشوں ـجو اکثر خوںریزی پر مشتمل ہوتی ہیں ـکے بعد معاشرہ میں اپنے قدم جماکر اپنے سابقہ دشمنوں کی یاد کولوگوں کے ذہنوں سے محو کر سکتے ہیں ۔

جمہوریت کے تمام نظام جو ان کے طرفداروںکے عقیدہ کے مطابق لوگوں کی مر ضی پر مبنی کامیاب ترین نظام ہیں،نے اپنے استحکام کے لئے فرانس اور دنیا کے دوسرے ممالک میں کئی خونیں انقلاب بر پا کرنے کے بعداستحکام پایا ہے۔اسی طرح کمیونسٹ نظام ـجو اپنے طرفداروں کی نظر میں بشر کی ترقی یافتہ تحریک اورتاریخ کا عظیم تحفہ ہے ـنے بھی اپنی پیدائش کی ابتداء میں سویت یونین میں پھرایشیا،یورپ اور لاطینی امریکہ میں لاکھوںاور کروڑوں انسانوںکو خاک وخون میں غلطاںکرنے کے بعد استحکام پایا ہے۔

مجموعی طور پرایک معاشرہ کی ابتدائی مرحلہ میںناراضگی اور مزاحمت ایک روش کے نا مناسب یا بے بنیادہو نے کی دلیل نہیں ہوسکتی ہے۔لہذا اسلام ہر حالت میں زندہ ہے اور معاشرے میں رائج ہونے کی قابلیت و صلاحیت رکھتا ہے ۔

ہم اس موضوع پر آنے والی بحثوںمیں وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالیں گے۔


اسلام اورہر زمانہ کی حقیقی ضرورتیں

بحث وتحقیق کے بارے میںپیش آنے والے اور نفی واثبات قرار پانے والے علمی مسائل میں سے ہر مسئلہ کی اہمیت اور اس کی حقیقی قدر وقیمت ایک حقیقت کی اہمیت اورقدروقیمت کے تابع ہے جو ان میں پائی جاتی ہے اور یہ ایسے آثار و نتائج کے تابع ہوتے ہیں جو عمل و نفاذ کے مقام پر ان کی تطبیق اور زندگی کے نشیب و فراز میں ان سے استفادہ کرتے وقت وجود میں آتے ہیں ۔

انسان کو کھانا پینا سکھانے والا ایک انتہائی ابتدائی تصور،قدر وقیمت کے لحاظ سے انسان کی زندگی کے برابر ہے ۔یعنی اس کی قدر وقیمت وہی زندگی کی قدر وقیمت ہے جو انسان کی نظر میں ایک گراں بہا سرمایہ ہے ،اور ایک تصورجو ظاہرًا انتہائی معمو لی اور مختصر ہے ـجوانسان کے دماغ میں اجتماعی زندگی کی ضرورت کو ایجاد کرتا ہے ـاس کی قیمت وہی ہے جو انسان کے حیرت انگیز نظام کی قیمت ہے جو ہر لمحہ انسان کے لاکھوں عمل وحرکات سکنات کو ایک دوسرے سے ربط دے کرہر روز کروڑوںمطلوب او رنامطلوب اثرات کو پیدا کر کے گونا گوںبرُے اور اچھے نتائج کو وجود میں لاتا ہے ۔

البتہ اس بات سے ہر گز انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایک مقدس دین ـجیسے دین اسلام ـکا انسان کی ضرورتوں کو ہر زمانہ میں پورا کرنا،اہمیت کے لحاظ سے اول درجہ رکھتا ہے اور یہ انسان کی زندگی کی اہمیت کے برابر ہے کہ ہم اس سے قیمتی تر سرمایہ کا تصور نہیں کر سکتے ہیں۔

البتہ دین اسلام کے بنیادی اصو لوں سے کم ازکم آگاہی اور دلچسپی رکھنے والا ہر مسلمان اس مسئلہ کو اسلام سے یاد کئے گئے مسا ئل کی فہرست میں درج کرتا ہے ۔

حقیقت میں یہ فکری مادّہ بھی اسلام کے وجود میں لائے گئے دوسرے دینی فکری مادّوں کے مانند صدیوں سے ہم ،اسلام کے پیروکاروں کے ذہنوں میں موجود ہے اور وراثت کے طور پر ایک فکر سے دوسری فکرمیں منتقل ہوتا رہتا ہے اور اپنی خاموش زندگی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ہمیشہ دیگر مذہبی مقدسات کے مانند بحث و تمحیص سے دامن بچاتے ہوئے انسانوں کی سرشت میں منتقل ہوا ہے اور اس سے استفادہ نہیں کیا گیا ہے۔

ہم مشرقی ہیں اور جہاں تک ہمیں اپنے اسلاف اور آباواجداد کی تاریخ کے بارے میں یاد ہے،شایدہزاروں سال گزر چکے ہوں گے،گزشتہ اجتماعی ماحول میں ـہم پر حکومت کی گئی ـ ہر گز ہمیں فکری ،خاص کر سماجی مسائل سے مربوط علمی مسائل میں آزادی نہیں دی گئی اور صدراسلام میں ایک مختصرمدت میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ جو ایک کرن نمودار ہوئی تھی اور طلوع فجر کے مانند ایک نورانی دن کی نوید دیتی تھی چند خود پرستوں اور منافع خوروں کے تاریک حوادث طبیعی اورمصنوعی طوفان کے نتیجہ میں دوبارہ تاریکی کے پردہ میں چلی گئی اور اس کے بعد ہم رہے اور اسیری و غلامی ،ہم رہے اورتازیانے ،تلواریں،پھانسی کے پھندے ،زندانوں کی کالی کو ٹھریاں ،اذیت خانے اور مرگ آورماحول، ہم رہے اورقدیمی فریضہ''ہاںہاں ''''لبیک ''و''سعدیک''!

جو بہت چالاک تھا وہ اسی حدتک اپنے مذہبی مقدسات کے مادّوں کو محفوظ کر سکتا تھا اور اتفاق سے وقت کی حکومتیں اور معاشرہ کا نظم و انتظام چلانے والے بھی اس رویّہ کے بارے میں آزاد بحث کرنے میں رکاوٹ ڈالنے میں زیادہ بے غرض نہیں تھے ۔وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ اپنے کام میں مشغول رہیںاوردوسرے امور میںدخل نہ دیں،یعنی وہ صرف اپنے کام میںلگے رہیں،حکومتی اورعمومی امورمیں مداخلت نہ کریں کیونکہ ان کی نظر میںیہ امورصرف حکومتوںاورمعاشرہ کا نظم وانتظام چلانے والوں کاحق تھا !

وہ لوگوں کے اغلب دینی امور اورنسبتًا سادہ دینی امور کے پابند ہونے میں اپنے لئے کسی قسم کا نقصان نہیں دیکھتے تھے اس لئے اس حالت سے نہیں ڈرتے تھے،وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ لوگ تجسّس اور تنقیدپر نہ اتر آئیں اور وہ خود لوگوں کے مفکّربن کے رہیں ۔کیونکہ انہوں نے اس حقیقت کو اچھی طرح سے درک کیا تھا کہ زندگی میں طاقتور ترین وسائل افراد کے ارادہ کی طاقت ہے اور افراد کا ارادہ قیدوشرط کے بغیران کے مفکرانہ مغز کے تابع رہے اورمفکروںکے مغز پرتسلّط جماکر ان کے ارادوں پرتسلط جماسکیں ،اس لئے وہ لوگوں کے افکار پر تسلط جمانے کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے تھے تاکہ ہماری اصطلاح میں خود لوگوں کے مفکر بن کے رہیں۔

یہ حقائق کا ایک ایسا سلسلہ ہے جیسے اپنے اسلاف کی تاریخ کامطالعہ کرنے والا ہر فرد بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے اور اس کے لئے کسی قسم کا شک وشبہ باقی نہیں رہے گا ۔

حال ہی میں یورپ کی آزادی مغرب کوسیراب کرنے کے بعدہم مشرق زمین کے باسیوں کے ہاں آئی ہے ،اس نے ابتداء میں ایک محترم مہمان کی حیثیت سے اور اس کے بعد ایک طاقتور گھر کے مالک کی حیثیت سے ہمارے براعظم میں قدم جمائے ہے ۔اگر چہ اس آزادی نے افکار کے گھٹن کا بوریا بسترہ گول کر دیا اور آزادی کا نعرہ بلند کیا،یہ ایک بہترین وسیلہ اور مناسب ترین فرصت تھی جو ہمیں اپنی کھوئی ہوئی نعمت کودوبارہ حاصل کرکے ایک نئی زندگی کی داغ بیل ڈال کر علم وعمل کو حاصل کرنے میں مدد کرتی ،لیکن افسوس یورپ کی یہی آزادی، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دلائی ،ان ہی ظالموں کی جانشین بن کر ہمارے دل ودماغ پر سوار ہوگئی!

ہم نہ سمجھ سکے کہ کیا ہوا؟جب ہم ہوش میں آئے تو دیکھا کہ وہ دن گزر گئے تھے جب ہم اپنی حیثیت کے مالک تھے اب خدا اور گزشتہ آسمانی طاقتوں کی باتوں پر توجہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ ہمیں صرف اسی طرح عمل کرنا چاہئے جو کچھ یورپی انجام دیتے ہیں اور جس راہ پروہ چلتے ہیں ،اسی راہ پر ہمیں بھی چلنا چاہئے !

ایک ہزار سال سے سرزمین ایران ''بو علی سینا''کو اپنی آغوش میں لئے ہوئی تھی اور اس کی فلسفی اورطبّی تالیفات ہماری لائبریریوں میں موجود تھیں اور اس کے علمی نظریات ورد زبان تھے اور کوئی خاص خبر نہیں تھی ۔

سات سو سال سے ''خواجہ نصیرالدین طوسی ''کی ریاضی کی کتابیں اور ان کے ثقافتی خدمات ہمارا نصب العین تھا اور کہیں اس کی خبر تک نہیں تھی ،لیکن ہم نے یورپیوں کے ان کے دانشوروں کے سلسلے میں یاد گار منانے کی تقلید کرتے ہوئے ''بوعلی سینا''کے لئے ہزار سالہ یادگار اور'' خواجہ نصیرالدین طوسی ''کے لئے سات سو سالہ یاد گاری تقریبیں منعقدکیں۔

تین صدیوں سے زیادہ عرصہ سے ''صدرالمتالہین ''کافلسفی نظریہ ایران میں رائج تھا اور انھیںکے فلسفی نظریہ سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔ایک طرف سے برسوں پہلے تہران یونیورسٹی کی داغ بیل ڈالی گئی ہے اور اس میں قابل توجہ صورت میں فلسفہ پڑھایا جاتا ہے ،لیکن جب چند برس پہلے ایک مستشرق نے اس یونیورسٹی میں اپنی تقریر میں ''ملاصدر''کی تمجید وتعظیم کی اور اس کے فلسفی نظریہ کی تعریفیں کیں تو یونیورسٹی میں اس کی شخصیت اور اس کے فلسفی نظریہ کے بارے میں ایک بے مثال ہلچل مچ گئی۔

یہ اوران جیسے دوسرے واقعات ایسے نمونے ہیں جو عالمی سطح پر ہماری اجتماعی حیثیت اور ہماری فکری شخصیت کی ہویت کوواضح کرکے بتاتے ہیں کہ ہماری فکری شخصیت طفیلی ہے اور ہمارے فکری سرمایہ میں سے جو کچھ چوروں سے بچا ہے وہ جوتشیوں کے حصہ میں آیا ہے۔

ہم میں سے اکثرلو گوں کے فہم وادراک کا یہی حال ہے ۔اور لوگوں کی جو اقلیت کسی حدتک اپنی فکری آزادی کو محفوظ کرسکی ہے اور اپنے دماغ کے سرمایہ کو مکمل طور پر اغیار کے ہاتھوں لوٹنے سے محفوظ رکھا ہے وہ بھی تعدّد شخصیت کے شکار ہوئے ہیں ۔یہ لوگ ایک طرف سے مغربی افکار کے دلدادہ اور دوسری طرف سے اپنے مشرقی اورموروثی افکار کے غلام بن گئے ہیں اور کھلم کھلا کوشش کر رہے ہیں کہ ان دو متضادشخصیتوں کوآپس میں ملادیں ۔

ہمارا ایک دانشور مؤلف ''اسلامی ڈیمو کریسی ''کے عنوان سے اسلام کی روش کو ڈیمو کریسی کی روش سے تطبیق کرتا ہے تودوسرا''اسلامی کمیونزم ''کے عنوان سے کمیونزم کی روش اور طبقاتی اختلافات کو دور کرنے کے طریقہ کار کودین سے نکال کرپیش کرتا ہے۔

ایک عجیب داستان ہے !اگر حقیقت میں اسلام کی فطانت اور حقیقت پسندی صرف اسی میں ہے کہ واضح اور روشن ترین ظاہرداری کے ساتھ ہمارے پاس آئی ہوئی ڈیمو کریسی اورکمیونزم کی زندہ روح اس میں ہونی چاہئے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ ہم چودہ سو سال پرانے چند افکار کو انتہائی رنج ومحنت کے ساتھ ان سے تطبیق کرکے اپنے سینہ پر لٹکادیں !

اگر اسلام ایک مستقل حقیقت رکھتا ہے اور یہ حقیقت ایک جدا،زندہ اور گراں بہا حقیقت ہے توکیا ضرورت ہے ہم اس کے خداداد حسن کو بناوٹی سجاوٹ سے پردہ پوشی کریں اورمصنوعی صورت میں اسے خریداروں کے سامنے پیش کریں !

حالیہ چند برسوں کے دوراں ،یعنی دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی دانشوروں نے ادیان ومذاہب کے بارے میں ایک خاص جوش و جذبہ کے ساتھ بحث وتحقیق کرنی شروع کی ہے اور اپنی تحقیق کے نتائج کو ہر روز منتشر کرتے ہیں اور بے شک ہم بھی ،مذکورہ تقلید و تبعیت کے پیش نظر،کم وبیش اسی راہ پر چلتے ہوئے دین مقدس اسلام کے بارے میں چند سوالات کو اپنی گفتگو کا موضوع قراردیتے ہیں :

کیادین ومذہب سب حق ہے ؟کیا آسمانی ادیان اجتماعی اصطلا حات کی ایک کڑی کے علاوہ کچھ اور ہے ؟کیادین روح کی پاکی اور اخلاقی اصلاح کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد رکھتا ہے ؟کیا مذہبی احکام اسی شکل وصورت میں ہمیشہ باقی رہیں گے؟کیا دین کا عملی احکام کے علاوہ کوئی اور مقصد بھی ہے؟کیا اسلام ہر زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے ؟کیا اورکیا...

البتہ جب ایک محقق دانشورایک مسئلہ سے نمٹتا ہے تو وہ سب سے پہلے مسئلہ کو مسلّم علمی معیاروں سے تطبیق دے کر اس کی تفسیر کرتا ہے پھر اس کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں بحث کرکے اپنا نظریہ پیش کرتا ہے ۔

مغربی دانشور ،دین کو ایک اجتماعی مظہر جانتے ہیں ،جو خود معاشرہ کے مانند بعض فطری عوامل کا ایک معلول ہے ۔

مغربی دانشوروں کی نظر میں تمام ادیان من جملہ اسلام ـاگر دین کے موضوع کے بارے میں خوش فہم ہوں تو ـچند غیر معمولی ذہانت رکھنے والے افراد کے آثارہیں ،جنہوں نے اپنے نفس کی پاکی، انتہائی ذہانت اور ناقابل شکست ارادہ کے نتیجہ میں اپنے معاشرہ کے اخلاق واعمال کی اصلاح کے لئے کچھ قوانین وضع کرکے لوگوں کی زندگی کی سعادت کی راہ پرراہنمائی کرتے تھے۔ یہ قوانین انسانی معا شروں کے تدریجی ارتقائ کے ساتھ ساتھ تغیر پیدا کر کے ارتقاء کی آخری منزل تک پہنچتے ہیں ۔

حس،تجربہ اور یہی تاریخ ثابت کرتی ہے کی انسانی معاشرہ تدریجی طور پر ارتقاء کی طرف بڑھتا ہے اور عالم بشریت تہذیب و تمدن کے میدان میں ہر روز ایک نیا قدم اٹھاتی ہے اور نفسیاتی ،قانونی اور اجتماعی ،حتی فلسفی ،خاص کر''ڈیالٹیک میٹریالزم ''فلسفہ کے نتائج کے پیش نظر چونکہ معاشرے ایک ثابت حالت میں نہیں رہتے ہیں اس لئے معاشروں میں قابل نفاذ قوانین بھی ایک حالت میں باقی نہیں رہ سکتے۔

جنگلی میوے کھاکر غاروں میں زندگی بسر کرنے والے ابتدائی انسانوں کی سعاد ت مند زندگی کی ضرورتوں کوپورا کرنے والے قوانین،ہرگز آج کی تکلفاتی زندگی کے لئے کافی نہیں ہوسکتے۔

ڈنڈوںاور کلہاڑیوںسے جنگ کرنے والے زمانہ سے مر بوط قوانین،آج کل کے ایٹمی دور کے لئے کسی صورت میں فائدہ مند نہیںہو سکتے۔

گھوڑوںاورگدھوںپر سفر کرنے والے زمانے سے مربوط قوانین،آج کل کے جٹ ہوائی جہاز اور آب دوز کشتیوں سے سفر کرنے کے زمانے کے کس دردکا علاج کر سکتے ہیں ؟

مختصر یہ کی آج کی دنیا نہ اپنے اسلاف کے قوانین کو قبول کرتی ہے اور نہ اس سے ان کو قبول کر نے کی تو قع کی جاسکتی ہے ۔ نتیجہ کے طور پر انسانی معاشروں میں نافذ ہونے والے قوا نین مسلسل قابل تغیر ہیں اور عالم بشریت کے گونا گوں تحّولات کے مطابق مکمل ہوتے ہیں اور اعمال کے قوانین میں تبدیلیوں کے پیش نظر اخلاق بھی قابل تغیر ہے ،کیونکہ اخلاق وہی ثابت نفسانی صورتیں اور ملکہ ہے جو عمل کے تکرار سے وجود میں آتا ہے ۔

دوہزار یا تین ہزار سال قبل خاموش اور سادہ زندگی کو آج کی باریک اور پیچیدہ زندگی کی سیاست قبول نہیں کرتی ،آج کے معاشرہ کی خواتین دو ہزار سال پرانی خواتین کی عفت پر عمل نہیں کر سکتی ہیں !

عصر حاضر کے مزدور،کسان اور دوسرے محنت کش طبقے قدیم زمانے کے مظلوم طبقات جیسا صبرو تحمل نہیں رکھ سکتے ہیں ۔فضا کو تسخیر کرنے والے زمانہ سے مربوط انقلابی مغز والے انسان کو سورج گہن ،چاندگہن اور سیاہ طوفان سے نہیں ڈرایاجا سکتا اور انھیں توکّل اورقضاپر تسلیم ورضا سے قانع نہیں کیا جا سکتا ۔

مختصر یہ کہ ہر زمانہ کا انسانی معاشرہ اسی زمانہ کے مطابق و مناسب قوانین اور اخلاق چاہتاہے۔

دوسری جانب سے اسلام کی دعوت نے ایک روش اور قوانین کے ایک سلسلہ کو مد نظر رکھا ہے ،جو انسانی معاشرہ کی سعادت کی بہترین صورت میں ضمانت دیتے ہوئے انسانی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں اور ''اسلام '' اسی واضح ،روشن اورمقدس قوانین کا نام ہے ۔جیسا کہ ''اسلامی تحقیقات'' کے عنوان سے ہمارے پہلے مجموعہ میں ''قرآن کی نظر میں دین ''کے موضوع میں مفصل بحث ہوئی ہے ۔

بدیہی ہے کہ اس قسم کی روش اور قوانین ہر زمانہ میں مختلف مظاہر رکھتے ہیں ان میں خود پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روش اور قوانین بھی ہیں جنھیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے زمانہ میں نافذ فرماتے تھے ۔دوسرے زمانوں میں بھی اسلام کے مظاہر بہترین اور مقدس ترین روش اور قوانین ہوں گے جواس زمانے کے انسانی معاشرہ کی ضرورتوںکو پورا کرسکیں ۔

اس بیان سے واضح ہوا کہ اس بحث میں مسلّم علمی معیاروں پر تکیہ کرنے کے ضمن میں مغربی دانشورکا جواب مثبت ہوگا ،لیکن مذکورہ تفسیر کے ضمن میں اس کی نظر میں اسلام ایک ابدی دین الہی ہے جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کے معاشرہ کی سعادت کوضمانت بخشنے کے لئے بعض قوانین کی صورت میں رونما ہوتا ہے ۔

لیکن دیکھنا چاہئے کہ کیا اسلام کی آسمانی کتاب اور اس مقدس دین کے مقاصد کا بہترین ترجمان قرآن مجید بھی ،نبوت کو مذ کورہ معنی میں اور آسمانی دین کو اسی ترتیب سے ـجیسے اجتماعی،نفسیاتی ،فلسفی اور مادی بنیادوں پر تکیہ کر کے تعبیر کی گئی ہے ـتفسیر کرتا ہے کہ ہر زمانہ میں اس زمانہ کے مطابق اس سے مخصوص کچھ جدا قوانین کو قبول کرتا ہے اور اگر اس کے بر عکس کچھ ثابت اور نا قابل تغیر عقائد اخلاق اور قوانین کو وضع کرکے انسانی معاشرہ کو ان پر عمل کر نے کے لئے مکلف کرتا ہے ،تو انھیں کیسے مختلف زمانوں کے لوگوں کی ضرورتوں سے تطبیق کیا جاسکتا ہے؟

کیا قرآن مجید یہ چاہتا ہے کہ انسانی معاشرہ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک ثابت حالت میں رہے اور تہذیب وتمدن پر ترقی کے راستے مکمل طور پر بندرہیں اور انسان کی روز مرہ فعالیت مکمل طور پر سر بستہ رہے ؟یہ رواں فطرت اور عالم بشریت کے فطری نظام ،سے مقابلہ کے مقام پر ،جو اس کی حکومت کے قلمرو سے خارج نہیں ہے ،کیسے نکلا ہے؟

یہ امر مسلّم ہے کہ قرآن مجید اپنے بنیادی بیان سے آسمانی دین کے موضوع اور عالم غیب سے سر چشمہ حاصل کر نے ،نظام خلقت اور اس مشہوردنیا سے رابطہ دینی احکام کے دائمی اور ثابت ہونے،انسانی اخلاق،ایک فرد یا انسانی معاشرہ کی خوشبختی وبدبختی کے بارے میں اس طرح وضاحت کرتا ہے جو ایک مغربی دانشور کی مذکورہ وضاحت سے مختلف ہے ،ان مطالب کو قرآن مجید کی نظر سے دوسری صورت میں دیکھا جاتا ہے جبکہ بصری وسائل ،مادی بحثوں کو دکھا تے ہیں ۔

قرآن مجید دین اسلام کے طریقہ کار اورقوانین کو مسائل و احکام کا ایک ایسا سلسلہ جانتا ہے جو نظام خلقت،خاص کر انسان کی خلقت کواسی اپنی متحول فطرت سےـجو عالم فطرت کا جز تھا اور لمحہ بہ لمحہ اپنے وجود میں تغیر پیدا کرتا ہے ـاپنی طرف راہنمائی کرتاہے ۔

دوسرے الفاظ میں قرآن مجید ،اسلام کو قوانین کا ایک ایسا سلسلہ جانتا ہے کہ نظام خلقت کا تقا ضا اس کے مطابق ہے اور اپنی بنیاد کی طرح نا قا بل تغیر ہے اور کسی کی نفسانی خواہشات کے تابع نہیں ہے ، اسلام کے یہ قوانین ،حق کو مجسّم جاننے والے قوانین ،جیسے استبدادی اور مطلق العنان ممالک کے قواعد وضوابط ، جو ایک ڈیکٹیڑ اور حاکم کی مرضی یا اکثریت کے مرضی کے مطابق اشتراکی ممالک کے قوانین کی طرح متغیر نہیں ہوئے ہیں ،اور صرف ان کے وضع اور تشریع کی زمام نظام خلقت کے ہاتھ میں ہے اور دوسرے الفاظ میں ،خالق کائنات کے ارادہ کے تابع ہے ۔ہم اس مطلب کی تفصیلی وضاحت اس بحث کے دوسرے حصہ میں پیش کریں گے ۔

اسلام،ہر زمانہ کی ضرورتوں کوکیسے پورا کرسکتا ہے ؟

اجتماعی بحثوں کے دوران اس نکتہ کا کافی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ انسان اپنے اردگرد مو جودہ حیاتی ضرورتوں کے پیش نظر ان کو تنہا پورا نہیں کر سکا ہے اور اپنی زندگی کی ضرورتوں کو یکہ وتنہاپورا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا تھا ،اس لئے اس نے مجبو رًا اجتماعی اور معا شرتی زندگی کا انتخاب کیا ہے ،جس کے نتیجہ میں ایک شہر یا معاشرہ وجود میں آتا ہے۔اسی طرح ہم نے قانو نی بحثوں میں بھی بہت سنا ہے کہ معاشرہ اپنے افراد کی زندگی کی ضرورتوں کو حقیقت میں اسی وقت پورا کرسکتا ہے جب ان کی ضرورتوں کے متناسب کچھ قوانین وجود میں آکر حکمرانی کریں تاکہ ان کے سایہ میں معاشرہ کا ہر فرد اپنے حقوق کو حاصل کر سکے اور زندگی کی سہو لتوں اور امکانات سے استفادہ کرسکے اورافراد کی اجتماعی کار کردگی کے نتائج سے معاشرہ کے منعقدہونے اور قوانین کی پیدائش کے سبب اپنا حصہ حاصل کرے۔

چنانچہ ان ہی دو نکتوں سے استفادہ کیا جاتا ہے کہ،اجتماعی قوانین کے اصلی عامل وہی انسان کی حیاتی ضرورتیں ہیں کہ انسان ان کو پورا کئے بغیرایک لمحہ کے لئے زندگی گزانے کی طاقت نہیں رکھتا ۔معاشرہ کی تشکیل اور قانون کی پیدائش اور اس کے بر وقت نفاذکا براہ راست نتیجہ انہی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے ۔بدیہی ہے کہ جو معاشرہ اجتماعی طور پر کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اقدام نہ کرے ،یعنی اس معاشرہ میں انفرادی کام دوسرے افراد سے کوئی ربط نہ رکھتے ہوں ،تو اسے معاشرہ کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے ۔

اسی طرح جن قوانین کا وجود میں آنا یا ان کا نفاذ ،لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور ان کی خوشبختی اور سعادت کا سبب بننے میں کوئی اثر نہ رکھتے ہوں ،وہ حقیقی قوانین یعنی لوگوں کی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے والے قوانین نہیں کہلاتے ۔ایسے قوانین وضوابط کا وجود ضروری ہے جو کم وبیش ،مکمل طور پر یاناقص صورت میں معاشرہ کی ضرورتوں کو پوراکر سکیں اور لوگوں کے لئے قابل قبول ہوں۔ان قوانین کی ہر انسانی معاشرہ میں حتی وحشی اور پسماندہ معاشروں میں بھی ضرورت ہوتی ہے ۔منتہی پسماندہ معاشروںکے قوانین اورقومی ضوابط عادات اور رسوم کی صورت میں غیر منظم تصادم کے نتیجہ میں تدریجًا وجود میں آتے ہیں ،یا ایک آدمی کے بیہودہ ارادوں کے ذریعہ یا چند طاقتور لوگوں کی طرف سے لوگوں پر ٹھونسے جاتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر اجتماعی زندگی کا اغلب حصہ تمام یا اکثرلو گوں کے لئے ایک واضح اور قابل قبول اصول پر مستحکم ہوتا ہے ۔اس وقت دنیا کے گوشہ وکنار میں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو قومی آداب ورسوم پر زندگی بسر کرتے ہیں بدون اس کے کہ ان کی اجتماعی زندگی کاشیرازہ بکھرجائے۔

ترقی یافتہ معاشرے میں ،اگر معاشرہ دینی ہو تو آسمانی شریعت حکومت کرتی ہے اور اگر معاشرہ غیر دینی ہو تو ان قوانین پر عمل در آمد ہوتا ہے جنھیں معاشرہ کے اکثر لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ وجود میں لاتے ہیں ۔بہر حال ایک ایسے معاشرہ کا سراغ نہیں مل سکتا ہے جس کے افراد کسی نہ کسی قسم کے قوانین وضوابط کے پا بند نہ ہوں اور ایسا معاشرہ پیدا کرنا مشکل ہے ۔


اجتماعی اورانسانی ضرورتوں کی تشخیص کا وسیلہ

چنا نچہ معلوم ہوا کہ قوانین اور ضوابط کا اصلی عامل زندگی کی ضرورتیں ہیں۔ لیکن دیکھنا چاہئے ان ضرورتوں ـجو در حقیقت وہی اجتماعی اور انسانی ضرورتیں ہیں ـکو کس طرح تشخیص دی جائے ۔

البتہ یہ ضرورتیں انسان کے لئے بالواسطہ یابلاواسطہ قابل تشخیص ہونی چاہئیں اگر چہ اجمالی اور کلّی طور پر ضمنًا یہ سوال پید ہوتا ہے کی کیا انسان اپنی زندگی اور اجتماع کی تکا لیف کی تشخیص میں بھی کبھی خطا سے دوچار ہوتا ہے یا جس چیز کو بھی تشخیص دیدے اسی میں اس کی سعادت وخوشبختی ہوتی ہے اور اسے چون چرا کے بغیر قبول اور نافذ کرنا چاہئے ؟یعنی انسان کی وہی چاہت ،اس کے حقیقی ہو نے کی صورت میں ،اسے ضروری طور پر قبول اور نافذ کرنے کی لیبل لگا دے گی ۔

لیکن آج کی ترقی یافتہ دنیا کی اصطلاح میں دنیا کے اکثر لوگ انسان کی چاہت کو قانون کی تشخیص دینے والی چیز بتاتے ہیں ،لیکن اس کے پیش نظرکہ ایک ملت کے تمام افراد کی چاہت یا باکل یکساں نہیں ہوتی یا اگر کہیں توافق پیدا ہو جائے تو وہ بہت کم اور اختلافی موارد کے مقا بلہ میں نا چیز ہوتا ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے ،لہذا مجبورًا لوگوں کی اکثریت(نصف بعلاوہ ایک) کو قابل اعتبار جان کر اقلیت (نصف منہای ایک)کو مسترد کرکے اقلیت کی آزادی کو پائمال کیا جاتا ہے ۔

البتہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ انسان کے ارادہ اور چاہت کا اس کی زندگی کے حالات سے براہ راست ربط ہوتا ہے ۔ایک امیرآدمی ،جو اپنی ضروریات کو پورا کرتا ہے ،اپنے دماغ میں ہزاروں آرزوئیں رکھتا ہے کہ ایک مفلس و حاجتمند کے ذہن میں یہ آرزوئیں پیدا بھی نہیں ہو سکتی ہیں ۔یا بھوک کی وجہ سے جس شخص نے اپنا تاب وتحمل کھو دیا ہو ،وہ ہر لذیذ اور غیر لذیذ کھانے کو کھا لیتا ہے ،اگر چہ وہ کسی اور کا مال بھی ہو ۔جب کہ امیر آدمی ناز ونخروں سے صرف لذٰیذ کھانوں کی طرف ہاتھ بڑھا تا ہے ۔انسان آرام و آسائش کی حالت میں اپنے ذہن میںبہت سے خیا لات کو پاتا ہے جن کا سختی اور مشکلات میں تصور تک نہیں کرتا !

اس لحاظ سے اجتماعی زندگی کی ترقی کے پیش نظر انسان کی ضرورتیں تدریجاًبدل جاتی ہیں اور ان کی جگہ پر دوسری ضرورتیں جانشین ہو تی ہیں اور انسان قوانین کے ایک سلسلہ کے اعتبار اور نفاذ سے بے نیاز ہو کر نئے اور دوسرے قوانین وضع اورنا فذ کرنے یا پرانے قوانین میں تبدیلی لانے پر مجبور ہوتا ہے ۔اس لئے زندہ قو موں میں پرانے قوانین مسلسل بدلتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے قوانین لیتے ہیں ۔یہ بات واضح ہوئی کہ اس کی حقیقی علت یہ ہے کہ قوانین کو وجود میں لانے والااوراس کی حمایت کرنے والا سبب ملت کے افراد کی اکثریت کی چاہت ہے اور یہی اکثریت کی مرضی قوم کے قواعدو ضوابط کو قانونی شکل دے کر ان پر حقیقت کی مہر لگا دیتی ہے ، حتی اگر ان کے معاشرہ کی حقیقی مصلحت ان قوانین میں نہ ہو،کیونکہ مثال کے طور پر فرانس کا ایک شخص فرانسیسی معاشرہ میں اس معاشرہ کا رکن اورجز اور اکثریت کے موافق ہونے کے ناطے محترم ہے اور مثال کے طور پر فرانس کا قانون جو چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک فرانسیسی فرد کو تحفظ بخشے اور وہ بھی بیسویں صدی میں نہ یہ کہ ایک برطانوی فرد کی یا ایک فرانسیسی فرد کی دسویں صدی میں (قابل غوربات ہے!) اس سلسلہ میں بیشترغور وخوض کر نے کی ضرورت ہے کہ کیا مذکورہ عامل انسان کی خواہشات میں مؤثر ہے اور تہذیب وتمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان میں ہر لحاظ سے تبدیلی آتی رہتی ہے۔؟

اور یا پوری تاریخ بشریت میں انسانی معاشروں کے درمیان کوئی مشترک پہلو باقی نہیں رہتا ہے ؟

یا اصل انسانیت ـجبکہ فطر تًازندگی کی چند ضرورتیں اس سے مربوط ہیں (چنانچہ کچھ دوسری ضرورتیں مختلف علا قوں اور زندگی کے مراکز کے حالات اور ماحول کے مختلف ہونے سے مر بوط ہوتی ہیں ) ـتدریجاًبدل گئی ہے ؟اور پہلا انسان مثلاًآنکھ، کان ،ہاتھ پائوں ،دماغ ،دل ،گردے ،پھیپھڑے ،جگر اور نظام ہاضمہ کے اعضا ء ـو ہم میں پائے جاتے ہیں ـنہیں رکھتا تھا یا ان اعضاء کی سر گرمی ایک دن ایسی نہیں تھی جیسی آج پائی جاتی ہے ؟

کیا گزرے ہوئے لوگوں کو پیش آنے والے حالات ،جیسے جنگ و خون ریزی اور صلح وآشتی کے معنی انسان کو نابود کرنے یا اسے محفوظ رکھنے کے علاوہ کچھ اور تھے ؟

کیا شراب پینے کی صورت میں پیدا ہونے والی مستی ،مثلاً(شراب کے افسانہ کے موجد)''جمشید'' کے زمانہ میں آج کے زمانہ میں رکھنے والے مفہوم کے علاوہ کچھ اور مفہوم رکھتی تھی ؟اور اسی طرح کیا،''نکسیا''اور ''باربد ''جیسے موسیقی کاروں کی مو سیقی کی لذت آج کی موسیقی کی لذتوں کے علاوہ کچھ اور تھی ؟

مختصر یہ کہ کیا گزشتہ انسان کے وجود کی پوری بناوٹ آج کے انسان کی بناوٹ سے بالکل مختلف تھی ؟یا قدیم انسان کے اندرونی اور بیرونی حالات آثار،عمل اور ردعمل ،آج کے انسان کے علاوہ کچھ اور تھے ؟

البتہ ان تمام سوالات کے جوابات منفی ہیں ۔کسی بھی صورت میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ انسانیت تدریجاًنابود ہو گئی ہے اور کوئی اورچیز اس کی جانشین بن گئی ہے یا جانشین ہوگی ،یا یہ کہ اصل انسانیت جو سیاہ فام وسفیدفام، بوڑھے جوان، عقلمند اوربیوقوف ،قطب میں رہنے والے اور خط استواپر رہنے والے اور پرانے زمانے کے انسان اور آج کے انسان میں مشترک ہے ،مشترک ضروریات نہیں رکھتی ۔یا اگریہ ضروریات مشترک بھی ہوں تو انسان کی خواہش اورارادہ ان کو پورا کرنے سے مربوط نہیں ہے۔

جی ہاں ،حقیقت میں یہ ضرورتیں موجود ہیں اورکچھ ثابت اور دائمی قوانین کی متقاضی بھی ہیں جن کا بدلنے والے قوانین سے کوئی ربط نہیں ہے ،کوئی بھی قوم کسی بھی زمانہ میں اس کی زندگی کے لئے قطعی طور پر خطرہ بننے والے دشمن سے ممکن صورت میں جنگ کرنے سے گریز نہیں کرتی اور اگر ایسے دشمن سے نجات پانے کے لئے اسے قتل کرنے کے علاوہ کوئی اورچارہ نظر نہ آئے تو خوں ریزی برپا کرنے سے پیچھے نہیں رہتی ۔

مثلاً کوئی معاشرہ اپنے افراد کی زندگی کے لئے ضروری تغذیہ کو نہیں روک سکتا ہے ،یا ان کے جنسی تمایلات پر پابندی نہیں لگا سکتا ہے ۔اس قسم کے بہت سے نمونے موجود ہیں جو نا قابل تغیراحکام کی نشاندہی کرتے ہیں اور قابل تغیراحکام سے ان کا کوئی ربط نہیں ہوتا ۔

مذکورہ بیانات سے چند موضوع واضح ہو جاتے ہیں :

١۔معاشرہ اور اجتماعی قوانین و ضوابط کی پیدائش کااصلی عامل زندگی کی ضروریات ہیں ۔

٢۔تمام اقوام حتی وحشی قومیں بھی اپنے لئے کچھ قوانین اورضوابط رکھتی ہیں ۔

٣۔موجودہ دنیا کی نظر میں زندگی کی ضرورتوں کو تشخیص دینے والا وسیلہ معاشرہ کے لوگوں کی اکثریت کی مر ضی ہے ۔

٤۔ اکثریت کی رائے ہمیشہ حقیقت کے مطابق نہیں ہوتی ۔

٥۔زمانہ کے گزر نے اور تہذیب وتمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ کچھ قوانین بدلتے رہتے ہیں اور یہ قوانین خاص حالات سے مر بوط ہوتے ہیں ،لیکن قوانین کا ایک اور سلسلہ جو ''انسانیت''کی بنیاد سے مربوط اور تمام ادوار کے انسانوں اور تمام شرائط اور ماحول میں مشترک ہیں ،ناقابل تغیر ہیں ۔اب جبکہ یہ مو ضو عات واضح ہوگئے،ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کا نظریہ کیا ہے ؟

تربیت کے بارے میں اسلام کا نظریہ

اسلام ،چونکہ ایک عالمی دین ہے اور ایک خاص جماعت اورایک معین زمان ومکان کو مد نظرنہیں رکھتا ہے ،اس لئے اس نے اپنی تعلیم وتر بیت میں ''فطری انسان'' کو مد نظر رکھا ہے ،یعنی اس نے اپنی نظر کو صرف انسانیت کی مخصوص بناوٹ پر متوجہ کیا ہے ،جس میں ایک عادی اور عمومی انسان کے شرائط جمع ہو کرانسان کا مصداق بنتا ہے ،اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ عرب ہو یا عجم ،سیاہ فام ہو یاسفید فام ،فقیر ہو یاامیر،طاقتور ہو یا کمزور،عورت ہو یا مرد،بوڑھا ہو یا جوان اور دانا ہو یانادان ۔

''فطری انسان ''یعنی جو انسان خداداد فطرت کا مالک ہو اور اس کا شعوروارادہ پاک ہوو توہمات اور خرافات سے آلودہ نہ ہواہو،اسے ہم ''فطری انسان کہتے ہیں ''

اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ انسان کا دوسرے حیوانوں سے صرف یہ امتیاز ہے کہ انسان اپنی طاقت سے مسلح ہے اورزندگی کی راہ طے کرنے میں ''عقل وشعور''سے کام لیتا ہے ،جبکہ دوسرے حیوانات اس خداداد نعمت سے محروم ہیں ۔

ہر جاندار کی سر گرمی ـبجز انسان کے ـیک ایسے شعور ارادہ پر منحصر ہے کہ جس کا عامل صرف اس حیوان کے جذبات ہیں جو اپنے ظہور اور جوش سے اسے اس کے مقاصد کی طرف راہنمائی کرتے ہیں اور اسے فیصلہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور اس ارادہ کے نتیجہ میں وہ اپنی زندگی کی سر گرمیوں کو بروئے کار لا کر آب و غذااور زندگی کی دوسری ضروریات کے پیچھے جاتا ہے ۔

یہ صرف انسان ہے ،جو مہر ومحبت ،کینہ وعداوت دوستی ودشمنی اور خوف وامید کے شدید جوش وجذبہ اورجذب ودفع کے بارے میں ہر قسم کے دوسرے جذبات کے علاوہ ایک عدالتی نظام سے بھی مسلح ہے ،جو مختلف جذ بات اور طاقتوں اور حقیقی مصلحتوں کے درمیان دعوی کی تحقیق کرکے عمل کی تشخیص دے کر اس کے مطابق فیصلہ دیتا ہے ۔کبھی جذبات کی شدید خواہش کے باوجود اس کے بر خلاف فیصلہ سناتا ہے اور کبھی قدرت اور جذبات کی کراہت کے باوجود حق میں فیصلہ سناتا ہے اور انسان کو سر گرمی پر مجبور کرتا ہے اور کبھی ان جذبات اور طاقت کی مصلحتوں پر توا فق اور ان کی خواہش سے موافقت کا اعلان کرتا ہے ۔


اسلام میں تعلیم وتربیت کی بنیاد

اسی اصول پر کہ ہر نوع کی مکمل تر بیت اس نوع کی امتیازات اور مشخصات کی پر ورش سے انجام پانی چاہئے ،اسلام نے اپنی تعلیم وتربیت کی بنیاد کو جذبات و احساسات کے بجائے ''تعقل'' کے اصول پر استوار کیا ہے ۔اسی لئے اسلام میں دین کی دعوت، مقدس عقائد کے ایک سلسلہ ،اعلی اخلاق اور عملی قوانین کی طرف ہے،فطری انسان اپنی،بے لاگ اور توہمات وخرافات سے خالی اپنی خداداد عقل سے، اسی کی حقیقت اور صحیح ہونے کی تائید کرتا ہے ۔

فطری انسان کی قوّت فہم

فطری انسان اپنی خداداد قدرت سے سمجھتا ہے کہ یہ عظیم اور وسیع کائنات ایٹم جیسے سب سے چھو ٹے ذرّات سے لے کر عظیم کہکشا نوں تک ،ایک حیرت انگیز نظام اور اپنے دقیق ترین قوانین کے تحت خدائے واحد کی طرف پلٹتی ہے اور اس کائنات کی پیدائش اور اس کی پیدائش کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے آثار ،خاصیتیں اور ان کی بے شمارسر گرمیاں سب کی سب خدائے متعال کی مخلوق ہیں ۔

فطری انسان سمجھتا ہے کہ کائنات ، ان تمام پرا کندہ اور منتشر اجزاء کے باوجود ایک عظیم اکائی کو تشکیل دیتی ہے ،جس میں تمام اجزاء ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور تمام چیزیں (قطعی طور پر)دوسری تمام چیزوں میں دخل دیتی ہیں اور ان کے درمیان مکمل ہم بستگی ہماری فکر کے مطابق ہے ۔

عالم بشریت ـجو کائنات کا ایک چھو ٹا جز اوراس بحربیکراں کا ایک معمو لی قطرہ ہے ـایک ایسا مظہر ہے ،جس کی تخلیق میں پوری کائنات کا رول ہے اور حقیقت میں پوری کائنات انکی بناوٹ خالق کائنات کے ارادہ کی تخلیق ہے ۔

چنانچہ انسان خالق کائنات کی مخلوق ہے اور خالق کائنات کی رہنمائی و تربیت کے سایہ میں زندگی بسر کرتا ہے ،یہ خالق کائنات ہی ہے ،جس نے بے انتہا عوامل کو بروئے کار لا کر انسان کو اس صورت میں پیدا کیا ہے ۔اور یہ وہی پر وردگار ہے جس نے انسان کو خاص اندرونی او ربیرونی قوتوں اور وسائل سے مسلح کیا ہے اور یہ وہی ہے جو انسان کو گونا گوں وسائل ،قوتوں ،جذبات، عقل اور آخر کار شعور وارادہ کے ذریعہ اس کی حقیقی سعادت کی ضمانت دینے والے مقاصد کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔

حقیقت میں انسان ایک با شعوراور با ارادہ مخلوق ہے ، جو نیک وبد اور نفع ونقصا ن میں تمیز کر سکتا ہے ،نتیجہ کے طور پر یہ ''فاعل مختار'' ہے ، لیکن اس نکتہ سے غافل نہیں رہنا چاہئے کہ کائنات کی خلقت خالق کائنات کا ارادہ ہے ،جس نے یہ سب نقش ونگارانسان کے اندرا ور باہر کھینچ لئے ہیں اور اسے ایک صاحب اختیار مطہر کے طور پر خلق کرکے آزاد بنا دیا ہے ۔

بیشک ان ہی افکار کے پیش نظرمادی انسان عقل وشعور کے ذریعہ سمجھتا ہے کہ اس کی سعادت و خوشبختی ،دوسرے الفاظ میں اس کی زندگی کا حقیقی مقصد، وہی منزل ہے ،جسے اس کو پیدا کرنے والے خالق کائنات نے اس کے لئے تشخیص دی ہے اور اسے خلقت کے وسائل کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یہ مقصد بھی وہی چیز ہے جسے خدائے واحد اور کائنات وانسان کے خالق نے اس کے لئے مصلحت سمجھی ہے ۔(غور کیا جائے)

ان تمہیدات کے بعد مادی انسان کو فیصلہ کرناہو گا کہ زندگی کی راہ میں تنہا خوشبختی اور سعادت اسی میں ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی خلقت کی حالت کو مدنظررکھتے ہوئے اپنے آ پ کو کائنا ت کے خالق حقیقی یعنی خدائے متعال کی حکو مت کے تحت جان لے اور اس حالت سے ہر گز غفلت نہ کرے اور ہر حرکت وآرام اور ہر سرگرمی کے مقابلہ میں خلقت کی کتاب سے واجب العمل احکام کو پڑھ کرانھیں وقت پر نافذ کرے۔

مختصریہ کہ اس کتاب کے بے شمار احکام یہ ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں خدائے یکتا کے علاوہ کسی کے سامنے خضوع اور اپنے آپ کو حقیر نہ بنائے اور انسانی جذبات و خواہشات کے تقاضوں کو عقل کی تائید کی شرط پر انجام دے ۔

ثابت اور متغیرّ قوانین

انسان کی نظر میں احکام و قوانین کی صورت میں مجسم ہونے والے تقاضے دو مختلف حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں :

١۔انسان کے حیاتی منافع کا تحفظ کرنے والے احکام و ضوابط(اس لحاظ سے کہ وہ انسان ہے اورہر زمان ومکان میں جن حالات کے ساتھ بھی اجتماعی صورت میں زندگی بسر کرتا ہے ۔) ہر عقائد وقوانین کے ایک حصہ کے مانند جو انسان کی عبودیت اور خضوع کو اس کے پروردگار کی نسبت (جس میں کسی قسم کا تغیر یا زوال ممکن نہیں ہے )مجسم کرتا ہے ۔اور قوانین کے ان کلیّات کے مانند جن کے بارے میں انسان اپنی اجتماعی زندگی کے اصول، جیسے کھانا،گھر ،ازدواج اوردفاع کے سلسلہ میں ان کا نیاز مند ہے۔

٢۔وہ احکام اور قوانین جو عارضی ،مقامی یا دوسری خصوصیت رکھتے ہوں اور زندگی کے طورطریقوں میں اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں البتہ یہ حصہ، تہذیب و تمدن کی تر قی ، معاشروں کی صورت میں تغیر و تبدیلی رونما ہونے اور نئی اور پرانی روشوں کے وجود میں آنے اور نابود ہونے کے پیش نظر قابل تغیر ہے ۔

مثال کے طور پر ،انسان ایک زمانہ میں پیدل اور گھو ڑے ،گدھے اور خچر پر سفر کرکے ہر راستے کو طے کرکے ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جاتاتھا اور سادہ راستوں کے علاوہ اسے کسی قسم کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ،جبکہ موجودہ زمانہ کے وسیلے ہزاروں باریک اور پیچیدہ شہری ،بیابانی ،سمندری اور ہوائی قوانین کے متقاضی ہیں ۔

ابتدائی انسان ،جو سادہ زندگی بسر کرتا تھا اور اس کا سرو کار تقریباً ابتدائی چیزوں اور سادہ قوانین سے تھا ،جن سے وہ اپنی ضرورت ،جیسے خوراک ،لباس، گھر اور جنسی خواہشات کو پورا کرتا تھا ،اگر چہ وہ اپنا پورا وقت کم نتیجہ اور پر محنت کام میں صرف کرتا تھا ،لیکن آج تیز رفتار طریقہ پر اپنی زندگی کی راہ کو طے کرتا ہے اور کام کی عجیب کثرت اور فشردگی کی وجہ سے وہ کام کو مختلف اور خصوصی شعبوں میں تقسیم کر نے پر مجبور ہوا ہے اور اس کے ہزاروں زاویے پیدا ہوئے ہیں جو روزانہ ہزاروں قوانین کے ساتھ رونما ہوتے ہیں ۔

اسلام نے اپنے تر بیتی نظریہ کو فطری انسان سے منحصر کیا ہے اور اپنی دعوت سے انسانی معاشرہ کو پاک فطری اعتقاد ،پاک فطری عمل اور پاک فطری مقصد رکھنے والے پاک فطری معاشرہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، اور اعتقاد وعمل میں اس کے بے داغ افکارنے ،فطری انسان کو اپنے واجب العمل پرو گرام کے تحت قرار دیا ہے ۔اور نتیجہ کے طور پر اپنے قوانین کو ثابت اور متغیر،دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا حصہ جو انسان کی خلقت اور اس کے خصوصی مشخصات کی بنیاد پر مستحکم ہے اسے''دین وشریعت اسلامی ''کہا جاتا ہے اور اس کی شعائیں انسان کو انسانی سعادت کی طرف راہنمائی کرتی ہیں:

( فاقم وجهک للدّین حنیفاً فطرت اللّٰه الّت فطر النّاس علیها لا تبدیل لخلق اللّٰه ذلک الدّین القیّم )

(روم ٣٠)

''آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہٰی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے ،یقینًایہی سیدھا اور مستحکم دین ہے ...''

اس کے ضمن میں جاننا چاہئے کہ دوسرا حصہ ،جو قابل تغیرقوانین پر مشتمل ہے ،اس میں مختلف زمان ومکان کی مصلحتوں کے مطابق تبدیلی پیدا ہوتی ہے ،اور ولایت عامہ کے آثارکے عنوان سے ،جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کے منصوب شدہ جانشینوں کے نظریہ پر پابند ہیں ۔ دین کے ثابت اور ناقابل تغیرقوانین کے سائے میں زمان ومکان کی مصلحتوں اورتقاضوں کے مطابق قابل تغیرقوانین کو تشخیص دے کرانھیں نافذ کرتے ہیں ۔

البتہ اس قسم کے قوانین دینی اصطلاح میں آسمانی احکام اور شریعتیں شمار نہیں ہوتے اور انھیں دین نہیں کہا جاتاہے :

( یا یّها الّذین آمنوا اطیعوا اللّٰه و اطیعوالرّسول وول المر منکم ) (نسائ٥٩)

''ایمان والو ،اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے ہیں ...''

یہ ہے اسلام کا ہر زمانہ کی حقیقی ضرورتوں کے بارے میں ایک اجمالی جواب پھر بھی اس مسئلہ کے بارے میں بیشتر وضاحت اور مزید تحقیق اورتجسس کی ضرورت ہے ۔ ہم آئندہ بحث میں اس کی مزید وضاحت کرکے مسئلہ کو واضح تر کریں گے۔


اسلام میں ثابت اور متغیّر قوانین

''اسلام ہر زمانہ کی واقعی ضرورت کو پورا کرتا ہے '' کے عنوان سے گزشتہ بحث میں ہم نے اجمالی طور پر جان لیا کہ اسلام اپنے قوانین کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے :ثابت اور متغیّرقوانین ۔

ثابت قوانین

ثابت قوانین ،وہ قواعد وضوابط ہیں ،جن کو وضع کرنے میں مادی انسان کی حقیقت کو مدنظررکھا گیا ہے ،یعنی انسانی فطرت خواہ شہری ہو یا بیابانی ،سیاہ فام ہو یا سفید فام،طاقتورہو یاکمزور،ہر علاقہ اور ہر زمانہ میں اپنی زندگی کی بساط کو پھیلاتی ہے ۔چونکہ انسانی فطرت انسانی بناوٹ سے بنی ہوئی ہے اور انسان کی اندرونی اور بیرونی قو ّتوں اورآلات سے مسلّح ہے ،اس لئے جب دو افراد یا اس سے زیادہ آپس میں جمع ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے اجتماعی زندگی شروع کرتے ہیں ،تو خواہ نخواہ ضرورتوں کے ایک سلسلہ سے دوچار ہوتے ہیں کہ جنھیں پوراکر نے کے لئے انھیں اقدام کرنا چاہئے ،چونکہ ان کے وجود کی عمارت یکساںہے اور وہ انسانیت کی خصوصیت میں بھی یکساں ہیں ، بیشک ان کی ضرورتیں بھی مشترک اور یکساں فطرت رکھتی ہیں ،اس لئے انھیں یکساں قوانین کی ضرورت ہوتی ہے ۔

انسان کے استدلالی ادراک تمام افراد میں (جیسا کہ ہم جانتے ہیں ) یکساں ہیں اور ان کا عقلی فیصلہ ـ ان کے افکار میں توہمات اور خرافات داخل نہ ہونے کی صورت میں ـیکساں ہوتا ہے ،اور تمام افراد میں ادراک کی طاقت کو تصدیق و اعتقاد سے مطمئن کر نا چاہئے ۔

اسی طرح ،محبت وکینہ ،ترس وامید،روٹی اور پانی کی ضرورت ،جنسی خواہشات اور لباس ومسکن جیسے گوناگوں جذبات تمام لوگوں میں موجود ہیں ،جس صورت میں ایک شخص کے لئے ان ضرورتوں کو پورا کیا جاناچاہئے ،اسی صورت میں دوسرے لوگوں کی ان ضرورتوں کو بھی پوراکیا جانا چاہئے

انسان کی مشترک فطرت کے پیش نظریہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ایک شخص کی بھوک کو دور کرنا جائز ہے اور دوسرے کی بھوک کو دور کرنا منع ہے ۔یا یہ کہ ایک شخص کو اپنی عقل کے اضطراری فیصلہ کے سامنے تسلیم ہونا چاہئے لیکن دوسرے فرد کو اپنے ضمیر کے فیصلہ پر توجہ نہیں کرنی چاہئے ؟ یایہ کہ انسانی فطرت کو اپنی خصوصیت اور مخصوص آثار ـکہ ہزاروں برسوں سے قو توں ، جذبات اورشعور کے لحاظ سے ایک مشابہ روش پر چلتے ہیں ـ کو ایک زمانہ میں اپنے ضروری ادراک وضمیر پر اعتماد کرنا چاہئے اور دوسرے زمانہ میں انھیں باطل قراردینا چاہئے۔

انسان ایک دن اجتماعی زندگی بسر کرے اور دوسرے دن انفرادی زندگی اختیار کرے ،ایک وقت اپنے مقدسات کادفاع کرے اور دوسرے وقت اپنی پوری ہستی کو دشمن کے حوالے کردے ،ایک زمانہ میں اپنی زندگی کی سر گرمیوں میں لگ جائے اور دوسرے وقت ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنا رہے اور اسی طرح...اس سے ظاہر ہے کہ فطری انسان کو ہمیشہ ایک قسم کے ثابت اور یکساں قوانین اور قواعدو ضوابط کی ضرورت ہے ۔

اسلام نے بھی اپنی مقدس دعوت میں لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہاہے ۔اسلام کہتا ہے :انسان کی زندگی کو انسان کی خلقت کے عام ا ورخاص سسٹم سے قابل تطبیق کچھ قوانین اور قواعد وضوابط کے علاوہ کوئی اور چیز تحفظ نہیں بخش سکتی ہے ۔

اور کہتا ہے: ہمیں اپنی خداداد ادراک اور ضمیر کے شعورکی طرف رجوع کرناچاہئے اور ہر قسم کی ہوس رانی اور بے راہ روی سے دوری اختیارکرنی چاہئے اور جس چیز کو حق تشخیص دے دیںاس کی پیروی کریں، ہمیں چند حقائق کی پیروی کرنے کو تقلید کا نام نہیں دینا چاہئے اور ہمیں'' قومی غرور''اور اپنے اسلاف کے ''قدیمی رسومات''کی تقلید نہیں کرنی چاہئے ہمیں خداشناسی کو کہنہ پرستی کا نام دے کر کچھ طاقتور ہوس رانوں کے پیرو بن کر ان کے آلہ کار نہیں بننا چاہئے ، جس کے نتیجہ میں ہر گوشہ وکنار میں سیکڑوں پتھر کے خدا بنا کران کی تعظیم کریں ۔بنیادی طور پر اسلام نے ''اسلام ''کے لفظ کا اس لئے انتخاب کیا ہے تاکہ اپنی دعوت میں اس نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرے کہ وہ صرف خدائے یکتااور خالق کائنات کی پرستش اور دوسرے الفاظ میں حق کی پیروی کی دعوت کرتے ہوئے اس کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔اسلام نے اس نظریہ کی تفصیلی تشخیص کے مرحلہ میں اعتقادات ،اخلاق اور قوانین کا ایک سلسلہ عالم بشریت کے سا منے پیش کیا ہے اور انھیں واجب الاطاعت حق کے طور پر معرفی کیا ہے اور اس کا نام نا قابل تغیر دین آسمانی رکھا ہے ۔

البتہ ،ان تین مرحلوں ۔اعتقاد ،اخلاق اوراحکام۔ میں سے ہر ایک کے اجزا دوسرے اجزا اور دوسرے مرحلوں کے ساتھ مکمل طور پر رابطہ رکھتے ہیں اور کائنات کی خلقت کے ساتھ بھی مکمل مطا بقت رکھتے ہیں ۔ اس مقالہ میں ان کے بارے میں تفصیلی بحث نہیں کی جاسکتی ہے ،اس لئے ہم ان کی تفصیل کے پیش نظران کے بارے میں اجمالی بحث پر اکتفا کرتے ہیں ۔اور ہمارا مقصد بھی اس سے زیادہ نہیں ہے کہ اسلام میں موجود نا قابل تغیر قوانین کے ایک سلسلہ کو ثابت کریں ۔

متغیّر قوانین

جس طرح انسان کو ثابت اور مستقل احکام و قوانین کے ایک سلسلہ ـ جو ثابت اور یکساں فطری ضرورتوں کے تقاضوں کے مطابق وضع ہوں ـ کی ضرورت ہے ،اسی طرح وہ قابل تغیر قوانین کے ایک سلسلہ کا بھی محتا ج ہے اور انسا نی معاشروں میں سے کوئی معاشرہ ہر گز اس قسم کے قوانین کے بغیر استحکام اور بقاء کی حالت حاصل نہیں کر سکتا ہے، کیو نکہ واضح ہے کہ اسی فطری انسان کی زندگی جو اپنی خصوصی بناوٹ کے پیش نظرثابت اور یکساں ہے ،زمان ومکان کے تقاضوںکے مطابق مسلسل تغیر و ارتقا سے بھی روبرو ہے اور انقلابی عوامل اور زمان ومکان کے گوناگوں شرائط سے بھی مکمل طور پر دوچار ہے اور اپنی صورت کو تدریجاًبدلتے ہوئے اسے نئے ماحول کے ساتھ مطابق بنا تا رہتا ہے ،ان حالات کا بدلنا قوانین میں تغیر وتبدیل کا تقاضا کرتے ہیں ۔

اسلام کے اس قسم کے قوانین و احکام میں ،ایک اصول ہے ،اس بحث میں ہم ''حاکم اختیارات ''کے طورپر وضاحت کریں گے ۔یہ اسلام میں وہ اصول ہے ہر زمان و مکان میں لوگوں کے قابل تغیر ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اسلام کے ثابت قوانین کو منسوخ اور باطل کئے بغیر انسا نی معاشرہ کی ضرورتوں کا بھی جواب دہ ہے ۔

مطالب کی وضاحت

اسلامی معاشرہ کا ایک فرد دینی قوانین کی رو سے حاصل کئے گئے اختیارات کے مطابق اپنی خصوصی زندگی کے محیط میں (تقویٰ کے سائے میں قانون کی رعایت کرتے ہوئے) ہر قسم کا اقدام کر سکتا ہے ،جیسے، اپنے مال سے مصلحت کے پیش نظر اور اپنی مر ضی کے مطابق اپنی زندگی کے حالات کو بہتر بناتے ہوئے بہترین خوراک ،لباس،گھر اور سرمایہ سے استفادہ کر سکتا ہے ،یا ان میں سے بعض چیزوں سے صرف نظر کرسکتا ہے ۔اور اسی طرح اپنے بر حق حقوق کا ہر ظلم اور حملہ کے مقا بلہ میں دفاع کر کے اپنی زندگی کے وجود کا تحفظ کر سکتا ہے ،یا وقت کی مصلحت کے پیش نظر دفاع سے پر ہیز کرکے اپنے بعض حقوق سے چشم پو شی کرسکتا ہے ۔اور اس کے علاوہ اپنے شخصی کسب وکار میں سر گرمی انجام دے سکتا ہے ،حتی رات دن کام کر سکتا ہے یا اپنی صواب دید کے مطابق کسی دن ایک کام کو تعطیل کر کے کسی دوسرے اہم کام کو انجام دے سکتا ہے ۔

اسی طرح ولی امر مسلمین ـجو اسلامی نظریہ کے مطابق معیّن ہو چکا ہو گا ـاپنی حکمرانی کے علاقہ میں رکھنے والی عمومی ولایت کے مطابق،حقیقت میں اسلامی معاشرہ کے افکار کا ہدایت کار اور عام لوگوں کے ارادہ و شعور کا مر کز ہو تا ہے ،جس تصرف کا حق ایک فرد کواپنی زندگی کے محیط میں ہو تا ہے ،ولی امر کوبھی اسی تصرف کا حق معاشرہ کی عام زندگی میں ہوتا ہے ۔

وہ تقویٰ کے سایہ میں ،اور دین کے ثابت احکام کی رعایت کرتے ہوئے مثال کے طور پر سڑکوں ،گزرگاہوں،مکانات ،بازار،کسب وکاراور لوگوں کے مختلف طبقات کے بارے میں ضروری قوانین وضع کر سکتا ہے ،وہ کسی دن دفاع کا حکم صادر کرکے فوج کو مسلح کرنے کے سلسلہ میں ہر قسم کے ضروری اقدامات کا فیصلہ کر کے بر وقت ان کو نافذ کر سکتا ہے ،یا کبھی مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر دفاع سے پرہیز کرکے مناسب معاہدے منعقد کرسکتا ہے ۔

وہ دین سے مربوط ثقافتی ترقی یا لوگوں کی خوشحال زندگی کے بارے میں فیصلہ کر کے وسیع پیمانہ پر کارروائی کرسکتا ہے یا کسی وقت معلومات کے چند سلسلوں کو منسوخ کرکے دوسری معلومات کو رائج کرسکتا ہے ۔

مختصر یہ کہ معاشرہ کی اجتماعی زندگی کی تر قی کے لئے ہر قسم کے مفید قوانین کو وضع کرنا ۔جو اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت میں ہوں ۔ولی امر مسلمین کے اختیارات سے مر بوط ہیں اور ان کے وضع اور نفاذ کے بارے میں اس کے لئے کسی قسم کی ممنو عیت نہیں ہے ۔ البتہ اسلام میں اس قسم کے قوانین کا نفاذ اگر چہ لازم ہے اور ان قوا نین کو نافذ کرنے کا پابند ''ولی امر مسلمین ''واجب الاطاعت ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ قوانین شریعت اور حکم خدا شمار نہیں ہو تے ۔اس قسم کے قوانین کا اعتبار قدرتی طور پر ایک ایسی مصلحتوں کے تابع ہوتا ہے ،جواس کی متقاضی ہوتی ہیں اور اسے وجود میں لاتی ہیں اور مصلحت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ قانون ختم ہو تا ہے ،اس صورت میں گزشتہ ولی امر یا جدید ولی امر گزشتہ حکم کے ختم ہونے اور نئے حکم کے وجود میں آنے کا لوگوں میں اعلان کرتے ہوئے گزشتہ حکم کو منسوخ کرتا ہے ۔

لیکن احکام الٰہی ،جو شریعت کے متن ہیں ہمیشہ کے لئے ثابت اور پائیدار ہیں اور کسی کو ،حتی ولی امر کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ ان میں وقت کی مصلحتوں کے پیش نظر تبدیلی لاکر ،ان کے ایک حصہ کے ختم ہونے کے پیش نظر انھیں منسوخ کرے ۔

ایک غلطی کا ازالہ

اسلام کے ثابت اور متغیّر احکام اور قوانین کے بارے میں مذکورہ بیان سے ،اسلام پر ہو نے والے اعتراضات کا بے بنیا د ہو نا واضح اور ثابت ہو جاتا ہے ۔

جو یہ کہتے ہیں : انسان کی اجتماعی زندگی کا دامن ایسا وسیع ہو چکا ہے کہ اس کا چودہ سو سال پہلی زندگی سے کسی قسم کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے ،جو قواعد وضوابط صرف آج کل کے نقل و حمل کے سسٹم کے لئے ضروری ہیں ،قطعاً،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں لازم تمام قوانین اور قواعدو ضوابط سے وسیع تر ہیں اسی طرح آج کی انسانی زندگی کے تمام ابعاد میں اتنے بے شمار قواعد وضوابط موجود ہیں ،جن کی گزشتہ زمانہ میں وضع اور نافذ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ، چونکہ اسلام کے قوانین میںاس قسم کے احکام کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے ،اس لئے اسلام آج کل کی دنیا کے لئے کار آمد نہیں ہے

البتہ یہ حضرات اسلام کے مقدس دین کے بارے میں کافی معلومات نہیں رکھتے ہیں اور اس کے متغیّر قوانین سے بے خبر ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ آسمانی دین چند ثابت اور یکساں احکام کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے متغیّراور پیشرفت دنیا کا نظم ونسق چلانا چاہتا ہے یا خلقت کے اس غیرقابل مقابلہ سسٹم سے تلوار کے ذریعہ جنگ کر کے انسانی تمدن کی جبری ترقی کو روکنا چاہتا ہے ...جہالت کی حد ہے ! کچھ دوسرے لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں : انسان کی اجتماعی زندگی میں جبری تبدیلی اور ارتقا،معاشرہ میں موجود ہ ثابت قوانین میں تدریجی تغیر وتبدل کے متقاضی ہیں ،اسی لئے اسلام کے ثابت قوانین کے صحیح اور سنجیدہ ہونے کی صورت میں یہ قوانین صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے شرائط اور عوامل کے مطابق قابل نفاذ ہوں گے ،نہ ہمیشہ۔

ان حضرات نے قانونی مباحث میں بھی کافی توجہ نہیں کی ہے اور اس نکتہ سے غافل رہے ہیں کہ دنیا میں موجود ہ تمام شہری قوانین میں کچھ ایسے دفعات موجود ہیں جو اجمالی طور پر قابل تغیر نہیں ہیں ۔اس میں شک وشبہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ عصر جدید کے قوانین اور ضوابط قدیم زمانے کے قوانین کے ساتھ سو فیصدی اختلاف نہیں رکھتے اور آنے والے زمانوں کے قوانین سے بھی کلی طور پر اختلاف نہیں رکھیں گے ،بلکہ ان میں کچھ مشترک ابعاد موجود ہیں جو کبھی پرانے اور نابود نہیں ہو تے ـ جیسا کہ گزشتہ بحث کے بعض حصوں میں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ـاگر چہ اسلام ، قوانین الہٰی کے وضع کرنے میں منبع وحی سے سر چشمہ حاصل کرتا ہے ،اور اسی طرح متغیر قوانین کے وضع اورنفاذ میں ولی امر کے اختیارات سے سر چشمہ حا صل کرتا ہے ۔جو شوریٰ کے ذریعہ وضع ہو کر ولایت کے ذریعہ نافذ ہو تے ہیں ـبہر حال اسلا م کا یہ طریقہ کار عقل کی بناء پر استوار ہے نہ اکثریت کے جذباتی خواہشات پر ،لیکن اس کے باوجود بھی اشتراکی اجتماعی حکومتوں سے عدم شباہت نہیں رکھتا،اسلام ''آسمانی شریعت'' کے نام پر کچھ ثابت احکام رکھتا ہے جن میں تبدیلی لانا اولیائے امور اور مسلمان کے بس میں نہیں ہے ۔یہ احکام ہمیشہ کے لئے تمام حالات اور شرائط میں واجب العمل ہیں ۔اس کے علاوہ اسلام میں کچھ قابل تغیر احکام بھی ہیں جو انسان کی اجتماعی زندگی کے تحول اور ارتقاء کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں اور معاشرہ کے تدریجی سعادت کے ضامن ہیں ۔

اجتماعی حکومتوں میں بھی ''آئین '' کے نام سے ایک قانون موجود ہے جس میں تبدیلی ایجاد کرنا حکومتوں ،پارلیمنٹ کے اراکین اور سینٹ کے اختیارات میں نہیں ہو تا ۔اس کے علاوہ ان حکومتوں میں کچھ اور قوانین و ضوابط ہوتے ہیں جو پارلیمنٹ یاکیبنٹ کے پاس کئے ہوئے قوانین ہوتے ہیں ،یہ وہی قوانین ہیں جو ملک اور معاشرے میں تغیرات اورتحولات کے نتیجہ میں وضع ہوتے ہیں اور قابل تغیر ہیں ۔جس طرح ایک ملک کے '' آئین ''سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ مثلا دارالخلافہ میں گاڑی چلانے اور ٹریفک کے قوانین کی تفصیلات کو فوری طور پر بیان کرے اورہرسال یا ہر مہینے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے تقاضوں کے مطابق ان میں تبدیلی لائے ،اسی طرح بنیادی احکام کے ضامن آسمانی شریعت سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ ولایت کے قابل تغیر جزئیات کی حامل ہو

(پہلے اعتراض کاجواب)

اسی طرح کسی ملک کے آئین سے بھی تو قع نہیں کی جاسکتی کہ وہ تمام متغیرّدفعات کا حاصل ہو کر متغیرّ بن جائے ،حتیٰ ملک کی آزادی اور اس کے لئے صدارت کے عہدہ کی ضرورت جیسے مسائل بھی متزلزل اور ناپائدارہوں ۔اسی طرح شریعت ـجو آئین کے ناقابل تغیر احکام کے مانند ہے ـسے بھی متغیرّہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے

(دوسرے اعتراض کا جواب )

لہذا پہلا اعتراض (اسلام کا قانون ناقص ہے اور اس میں آج کے زمانہ کے مطابق قوانین کا ایک سلسلہ موجود نہیں ہے ) بے بنیا دہے اور اسی طرح دوسرا اعتراض (اسلام کے احکام ثابت اور جامد ہیں جبکہ قوانین قابل تغیرہونے چاہئے )بھی بے بنیاد ہے ۔ جی ہاں ،اس باب میں دوسرے اعتراض سے متعلق ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے:

یہ بات صحیح ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں رائج قوانین میں ایسے دفعات بھی پائے جاتے ہیں جو اجمالی طور پر قابل تغیر نہیں ہیں،لیکن کیا شریعت اسلام میں وضع ہوئے تمام قوانین اور ضوابط ،جن سے اسلامی فقہ تشکیل پاتی ہے ،ہمیشہ کے لئے انسانی معاشرہ کی سعادت کی ضمانت دے سکتے ہیں ؟

کیا آج کے تمدن کا قافلہ ،نماز ،روزہ حج اور زکوٰةغیرہ کے ذریعہ اپنی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ؟کیا اسلام کے ،غلامی ،عورت ،ازدواج ،بیع ،سودجیسے مسائل کے بارے میں وضع کئے گئے احکام آج کی دنیا میں اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں ؟

اس قسم کے مسائل طولانی ہیں جن کے بارے میں طویل بحث کی ضرورت ہے ،اس لئے ان کے بارے میں مناسب جگہ پر بحث وتحقیق کی جانی چاہئے۔

خاتمیت کا مسئلہ

کیاانسان عصر جدید میں وحی کا محتاج ہے؟

سوال :اگر کوئی شخص اس سوال کے جواب میںکہے کہ ہر مخلوق کے لئے ارتقاء ضروری ہے ،پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیوں یہ فرمایا :''میں آخری پیغمبر ہوں؟''یہ کہہ کر گو یا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :''خاتم انبیاء میں ہوں''،آپ یہ کہنا نہیں چاہتے ہیں :جو کچھ میں نے کہا ہے وہ انسان کے لئے ابدی طور پر کافی ہے ،بلکہ خاتمیت یہ کہنا چاہتی ہے کہ انسان اب تک اس کا محتاج تھا کہ اس کی زندگی کے لئے ماورائے عقل وتربیت بشری راہنمائی کی جائے ،اب اس زمانہ (ساتویں صدی عیسوی ) میں ،یونانی ،رومی اور اسلامی تمدن اور قرآن ،انجیل وتوریت کے آنے کے بعدانسان کی مذہبی تربیت ضرورت کی حدتک انجام پائی ہے اور اس کے بعد انسان اس طرز تربیت کی بنیاد پر وحی اور نئی نبوت کے بغیر اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر اپنی زندگی کو جاری رکھتے ہوئے اسے پائے تکمیل تک پہنچا سکتا ہے ،اس لئے اب نبوت ختم ہوئی ہے !انسان راستہ کو خود طے کرسکتا ہے ۔پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام فرماتے ہیں : اس کے بعد تم لوگ تر بیت یافتہ ہو اور تم لوگوں کا شعور مصلحت ،سعادت ،ارتقاء اور آرام وآسائش کو برقرار کرنے کی حد تک پہنچ گیاہے ،تم میںتوانائی ہے اور سمجھتے ہو یعنی تمہارا شعوراور تفکر، ارتقاء کے ایک ایسے مر حلہ تک پہنچ گیا ہے کہ اب تمہیں وحی کی دستگیری کی ضرورت نہیں ہے جو تمھیں قدم قدم پر راہنمائی کرے ،اس کے بعد عقل وحی کی جانشین ہو گی!...

کیا اس قسم کی تعبیر ،''خاتمیت''کے منافی ہے یا نہیں ؟

جواب :مذکورہ استدلال کا خلاصہ یہ ہے :انسان دوسری مخلوقات کے مانند ارتقاء کی گزر گاہ پر قرار پایا ہے ،اس راہ سے انسانی معاشرہ زمانہ ا ور وقت کے گزر نے کے ساتھ ساتھ اپنی خلقت میں خاص حالات پیدا کر کے نئے شرائط میں قرار پاتا ہے ،جس کے لئے مزید اور تازہ تر بیت کی ضرورت ہو تی ہے اس بنا پر ا نسان اپنی زندگی کی روش کے مراحل میں سے ہر مر حلہ پر ،دوسرے الفاظ میں اس مر حلہ سے مر بوط ضرورتوں کے مطابق تازہ اور مناسب دینی احکام اور قوانین کا محتاج ہو تا ہے ،اس لئے وہ ہر گز دین یا زندگی کی ایک روش کو ابدی اور ہمیشہ کے لئے فرض نہیں کر سکتا ہے ۔من جملہ شریعت مقدس اسلام بھی ایک واقعی دین اور بشر کا حقیقی راہنما ہے ، یہ ابدی دین نہیں ہو سکتا ہے ! اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النّبیّین ہو نے کا مطلب ،کہ آپ فرماتے ہیں :''میں خاتم النبیین ہوں ''یہ ہے کہ عقل کی کمزوری کی وجہ سے اب تک انسا ن اپنی زندگی کے لئے تعقل او ربشریٰ تربیت سے ماورٰ راہنمائی کا محتا ج تھا ،لیکن اس زمانہ(ساتویں صدی ہجری) میں یونانی ، رومی اور اسلامی تمدن کے آنے اور آسمانی کتابوں جیسے توریت،انجیل اور قرآن مجید کے نزول کے بعد انسان کی مافوق بشری تر بیت ضرورت کی حد تک پوری ہو چکی ہے ،اب وہ وحی کی راہنمائی کا محتاج نہیں ہے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی طاقت رکھتا ہے ،اس لئے نبوت اور وحی کا خاتمہ ہو اہے ،انسان کو اب اپنی عقل سے زندگی کو جاری رکھنا چاہئے اور وہ اس کے بعد وحی ونبوت سے بے نیاز ہے ۔یہ استد لال کا خلاصہ ہے ،لیکن قابل ذکر بات ہے کہ یہ بیان مختلف جہات سے مخدوش ہے :

پہلااعتراض : اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ انسان (فرد ہو یا اجتماع ) ارتقاء کی گزرگاہ پر قرار پایا ہے ،اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ انسان ایک محدود حقیقت ہے اور اس کا ارتقاء بھی کیفیت اورکمیّت کے لحاظ سے محدود ہے نہ لا محدود اور اس کا ارتقاء جس قدر وسیع تر فرض کیا جائے بالآخر ایک مر حلہ پر رک جائے گا اور نتیجہ کے طور پر اس وقت عالم بشریت پر حکو مت کرنے والی روش اور قوانین ثابت اور غیر متغیرّ ہوں گے ،لہذا انسان کے ارتقاء کی گزرگاہ پر ہو نا بذات خود ایک ثابت او رابدی دین کے تحقق کی دلیل ہے نہ اس کی نفی ۔

دوسرا اعتراض :یونانی اور رومی تمدن ـجو بت پرستی اور اس کے وضع کردہ قوانین کی پیدا وار تھے ـ کو انسانی عقل کے ماوریٰ سمجھنا قرآن مجید کے واضح نص کے خلاف ہے کہ بہت سی آیتوں میں ان کے رسم و رسوم کو گمراہی اور ہلاکت کی راہ شمار کیا گیا ہے اور ان کے اعمال کو ـاگر چہ نیک اعمال کی صورت میں بھی ہوں ـبرباد،باطل اور مکمل طور پر بے اثراور بے اعتبار شمار کرتا ہے اور جو راستہ گمراہ،بے اثراور بے اعتبار ہو ،ہر گز راہنمائی کرنے والااور سعادت تک پہنچانے والا راستہ نہیں ہوگا (اس سلسلہ میں آیات اس حد تک زیادہ ہیں کہ ان کو نقل کر نے کی ضرورت نہیں ہے )

تیسرا اعتراض :اس بات کا اعلان کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے زمانہ،یعنی ساتویں صدی عیسوی کے بعد لوگوں کی عقلیں چونکہ مکمل ہوئی ہیںاور شریعت آسمانی کی اب ضرودرت نہیں ہے اور انسان وحی کی راہنمائی سے بے نیاز ہے ،کیا یہ نظریہ نئی آسمانی شریعت کے لانے اور لوگوں کواس کی طرف دعوت دینے کے ساتھ واضح تضاد نہیں رکھتا ؟اور وہ بھی ایک ایسی شریعت کے بارے میں جو قرآن مجید کی نص کے مطابق تمام گزشتہ شریعتوں کی جامع ہے ،چنانچہ فرماتا ہے :

( شرع لکم من الدّین ماوصّی به نوحاً والّذ اوحینا الیک وما وصّینا به ابراهیم و موسیٰ وعیسیٰ... ) (شوریٰ١٣)

''اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی پیغمبر !تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراھیم ،موسی ٰ اورعیسیٰ کو بھی کی ہے ...''

ایک ایسا دین ، جیسے خداوندمتعال نے اپنے کلام میں واضح طور پر اسلام کہا ہے اور اس کی شریعت ابراھیم علیہ السلام کے طور پر تفسیر کی ہے اور فرمایا : لوگوں سے اس کے علاوہ کسی اور چیز کو قبول نہیں کرتا اور کسی کو اس کی مخالفت کرنے کا حق نہیں ہے :

( إنّ الدّین عند اللّه الاسلام ) (آل عمران ١٩)

''دین،اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے ''

( ومَن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یُقبلَ منه... )

(آل عمران ٨٥)

''اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا ...''

( ملّة ابیکم ابراهیم هو سمّیٰکم المسلمین ) (حج٧٨)

''یہی تمہارے بابا ابراھیم کادین ہے اس نے تمہارا نام پہلے بھی اور اس قرآن میں بھی مسلم اور اطاعت گزار رکھا ہے''

( وما کان لمؤمن ولامؤمنة اذا قضیٰ اللّه ورسوله مراً ان یکون لهم الخیرة من مرهم... ) (احزاب ٣٦)

''اور کسی مومن مرد یامومنہ عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خداورسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کریں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے...''

یا ہم یہ کہیں کہ تمام آسمانی تکالیف خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت سے متعلق تھیں اور دوسرے لوگ وحی اورآسمانی احکام کے بارے میں آزاد تھے ،اس صورت میں قرآن مجید کے یہ سب خطاب : ( یا یھا الناس) (یا یھاالذین آمنوا) وغیرہ کا معنی کیا ہے ؟وحی کے پیروکاروں کو یہ سب بشارتیں کیا معنی رکھتی ہیں ؟اور مخالفت کرنے والوں کو یہ سب انتباہ کس لئے ؟ یا ہم یہ کہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی طرف آپ کی دعوت،دین اسلام کو پہنچانے کے بعد خودبخود تجویزی صورت اختیار کر گئی ،اس طرح( ولکن رسول اللّه وخاتم النبیین ....) (احزاب ٤٠) کا لازمی معنی یہ ہے کہ تم انسان اس تاریخ کے بعد ہدایت ،وحی اور آسمانی شریعت سے آزاد ہو اور اب تم اپنی ـکامل ہوئی ـعقلوں کے مطابق اپنی زندگی کی راہ وروش کو تشخیص دے کر قدم بڑھاؤاور میں قوانین کے ان دفعات کو مرتب کرکے تمہارے لئے لایا ہوں،تمہیں تجویز کرتا ہوں کہ انھیں اپنی عقل سے مواز نہ کرو ،اگر عقل نے ان کی تصدیق کی تو انھیں قبول کر نا اور ان پر عمل کر نا ۔حقیقت میں یہی جمہو ریت کے تمدن کا معنی ہے ،جس کے مطابق اس تمدن میں اجتماعی قوانین لوگوں کی اکثریت کی مر ضی کے مطابق ہوتے ہیں ،لیکن دیکھنا چاہئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز،روزہ ،زکواة وحج و جہاد وغیرہ جیسے ان احکام اور قوانین میں سے کس قانون کو نزول کے بعد شوریٰ میں قراردیا ہے اور اکثریت کی رائے اور مرضی حا صل کرنے کے بعد اسے نافذ کیا ہے ؟یہ ایک ایسا مطلب ہے جس کا تاریخ اور سیرت میں ایک نمونہ تک پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

جی ہاں ،بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اصلی حکم کو عملی جامہ پہنانے کی کیفیت اور حکم الہیٰ کی اطاعت کے لئے اجتماعی کاموں کے بارے میں صلاح ومشورہ فرماتے تھے ،جیسا کہ ''جنگ احد ''میں شہر کے اندر دفاع کیا جائے یا شہر کے باہر جیسے مسائل میں صلاح ومشورہ فرمایا ۔البتہ اصلی حکم پر عمل کر نے اور حکم کے طریقہ کار پر عمل کرنے میں فرق ہے ۔

یاہم یہ کہیں کہ اس آیہ کریمہ :( ولکن رسول الله وخاتم النبیین ) (احزاب ٤٠)کامعنی یہ ہے کہ اس کے پیش نظر کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول ہیں جو دین لائے وہ سنجیدہ اور متین دین ہے ،لیکن چونکہ نبوت آپ کے ساتھ ختم ہو گئی ،اگر اس زمانہ کے بعد دینی احکام میں سے کوئی حکم وقت کی مصلحت کے مطابق نہ ہو بلکہ مخالف ہو تو اسے عقل کی کسوٹی پرپرکھنے کے بعدبدل کر مصلحت کے مطابق اس کی جگہ پر ایک نیا حکم جانشین کرنا چاہئے ۔

اس بحث کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت اسلام بھی زمانوں کے اختلاف اور تقاضوں میں تبدیلی کے پیش نظر دوسرے اجتماعی قوانین کی طرح متغیرّ ہے ۔صدراسلام کے خلفائ نے بھی اسی ذوق کے پیش نظراسلامی احکام کے بعض حصوں ـجو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نافذ تھے ـپر پابندی لگادی یا ان میں تبدیلی لائی ۔اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان کرنے والی احادیث کو نقل کر نے اور ان کی نسخہ برداری کو، قرآن مجید کی حرمت کے تحفظ کے نام پر،پہلی صدی ہجری میں شدیداً ممنوع قرار دیاگیا اور صرف قرآن مجید کی نسخہ برداری کی اجازت تھی ۔

یہ طریقہ کار،یعنی زمانوں کے بدلنے کے ساتھ دینی احکام اور قوانین کا بدلنا۔۔اگرچہ بعض دانشوروں خاص کر اہل سنت والجماعت کے مصنفوں کے رجحان کا سبب بنا،لیکن یہ طریقہ کارواضح طور پر قرآن مجید کے منافی ہے اور اسلام کا مقدس دین اس قسم کی تبدیلی کو ہر گز قبول نہیں کرتا ہے ۔قرآن مجید اپنے بیانات میں اس بات پر تاکید فرماتا ہے اور انسان کی بے داغ فطرت اور ضمیر کا بھی یہی حکم ہے ،کہ حق کی اطاعت و پیروی کی جانی چاہئے اور حق کی مخالفت گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

( فماذا بعد الحق الا الضلٰل ) (یونس ٣٢)

''...اور حق کے بعد ضلالت کے سوا کچھ نہیں ہے ...''

قرآن مجید حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور باطل کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہیں ہو گی :

( وانه لکتاب عزیز٭لایا تیه الباطل من بین یدیه ولا من خلفه تنزیل من حکیم حمید ) (فصلت٤١۔٤٢)

''...بیشک یہ ایک عالی مرتبہ کتاب ہے ۔جس کے قریب ،سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدائے حکیم وحمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے ۔''

قرآن مجید ناقابل بطلان اور منسوخ کتا ب ہے ،اس کے بعض مطالب میں تبدیلی پیدا ہونابے معنیٰ ہے ۔

بلکہ قرآن مجید واضح الفاظ میں شریعت کے حکم اور تشریع کو خدائے متعال کا خصوصی امر جانتا ہے اور حکم جاری کرنے میں کسی کو خدا کا شریک نہیں ٹھہراتا ،جیسا کہ فرماتا ہے :

( إن الحکم إلّا للّه أمرَ لاّ تعبدوا إلاّ ایّاه ) (یوسف٤٠)

''...حکم کرنے کاحق صرف خد ا کو ہے اور اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے ...''

مزید فرماتا ہے :

( وما اختلفتم فیه من شيء فحکمه الی اللّٰه ) (شوریٰ١٠)

''اور تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو گے اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھوں میں ہے ..''

جب خدائے متعال کے علاوہ کسی کو حکم جاری کرنے کا حق نہیں ہے ،تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنی عقل پر بھروسہ کرکے حکم جاری کرے اور آسمانی حکم سے بے نیاز ہو ؟

جی ہاں ،اسلام میں کچھ ایسے قوانین اور ضوابط ضروری ہیں جو قا بل تنسیخ و تغیر ہیں اور وہ ایسے قوانین ہیں جنھیں ولی امر (اسلامی حکومت ) مختلف حالات میں وقت کی مصلحتوں کے پیش نظرشرع کے سایہ میں وضع کرتا ہے ۔

اس کی وضاحت یوں ہے کہ ولی امر کی معاشرہ سے نسبت ایک چھوٹے گھرانے سے اس کے مالک اور سر براہ کی نسبت کے مانند ہے ۔گھر کا مالک مصلحت کے پیش نظر اپنے گھر میں ہر قسم کا اقدام کرسکتا ہے اور گھر کے افراد کو ان کی مصلحتوں کے مطابق ان کے نفع میں ہر قسم کا حکم جاری کرسکتا ہے اور اگر ان کے گھریلو حقوق پر ظلم و ستم ہو جائے تودفاع کر سکتا ہے ،یا اگر مصلحت نہ سمجھے تو خاموش بیٹھ سکتا ہے !لیکن وہ جس قسم کے بھی اقدام کرے یا کوئی قانون جاری کرے تو وہ دین کے مطابق ہو نا چاہئے ،وہ کسی ایسے اقدام یاحکم کو انجام نہیںدے سکتاجو دین کے مخالف ہو ۔ولی امر بھی ،مصلحت کے تقاضوں کے مطابق ،اسلامی سر حدوں کی حفاظت کے لئے دفاع اور جہاد کا حکم دے سکتا ہے یا کسی حکومت کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر سکتا ہے یاجنگ یا صلح کی ضرورتوں کے مطابق نئے ٹیکس لگا سکتا ہے اور اسی طرح ...یہ قوانین دین اور وقت کی مصلحتوں کے مطابق ہو نے چاہئے اور ضرورت پوری ہوتے ہی یہ قوانین خودبخود ختم ہو جاتے ہیں ۔

نتیجہ کے طور پر،اسلام کے پاس دوقسم کے قوانین ہیں :ثابت اور غیر متغیرّقوانین اور یہ آسمان شریعت ہے ،جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :

( ولقد آ تینا بنی اسرائیل الکتاب والحکم والنبوة...٭ثم جعلنک علی شریعة من الامرفتبعها و لا تتّبع اهواء الّذین لا یعلمون٭ انّهم لن یغنواعنک من اللّٰه شیاوانّ الظٰلمین بعضهم اولیاء بعض واللّٰه ولّ الّمتقین ) (جاثیہ١٦۔١٩)

''اور یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب ،حکومت اور نبوت عطا کی ہے ...پھر ہم نے آپ کو اپنے حکم کے واضح راستہ پر لگا دیا لہذا آپ اسی کا اتباع کریں اور خبردارجاہلوں کی خواہشات کا اتباع نہ کریں ۔یہ لوگ خدا کے مقا بلہ میں ذرہ برابر کام آنے والے نہیں ہیں اور ظالمین آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تو اللہ صاحبان تقویٰ کا سر پرست ہے ''

اس قسم کے قوانین کو شریعت کہا جاتا ہے ۔اور قابل تغیر قوانین ،جنھیں اقتضائے مصلحت و زمان کے مطابق ولی امر وضع کرکے نافذ کرتا ہے ،ضرورت پوری ہونے پر خودبخود ختم ہو جاتے ہیں ۔


دوسرا حصہ:

علمی ،فلسفی مسائل

حدوث عالم پر برہان

سوال :امام علیہ السلام سے سوال کیاگیا کہ آپ کے پاس حدوث عالم کے بارے میں کونسی دلیل ہے ؟

امام فرماتے ہیں :انڈے پر توجہ کیجئے کہ دو مختلف رقیق چیزوں سے بنا ہے اور اس سے نر ومادہ کی صورت میں مختلف چوزے پیدا ہو تے ہیں اور حدوث عالم پریہی دلیل ہے ۔سائل خاموش ہوتا ہے ۔امام کا یہ بیان حدوث عالم پر کونسی دلیل رکھتا ہے؟(۱)

جواب: انڈا دومختلف رقیق چیزوں کا مرکب ہے اور اس سے نرو مادہ اور مختلف چوزوں کی پیدائش کائنات کے حادث ،یعنی مخلوق ہونے اوراس کے کسی مافوق علت کی طرف مستند ہونے پردلیل ہے کیو نکہ ان مختلف (چیزوں کی) صورتوں اورشکلوں میں گونا گوں آثارکے ظاہر ہو نے کو وہم وگمان اور جھوٹا فرض کر کے غلط نہیں بتایا جاسکتا ہے یاکہا جائے یہ سب سفسطہ ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقتیں ہیں جوہرایک اپنے طور پر مختلف انفرادیتوں ،آثاراور خصو صیتوں پر مشتمل ہیں اور ان کے درمیان موجود جو انتہائی منظم رابطہ اور حیرت انگیز نظام کے پیش نظر ان کی پیدائش کو اتفاقی حادثہ اور بدون سبب وعلّت فرض نہیں کیا جاسکتا ہے ،بلکہ یہ ایسی حقیقتیں ہیں جو سبب کے موجودہونے کے لئے استناد رکھتی ہیں اور ان میںاختلاف کے حقیقی ہونے کے سبب انھیں کسی یکساں اور کسی قسم کا اختلاف نہ رکھنے والے مادّہ کا معلول نہیں جاننا چاہئے ۔اور اگر مادہ میں اختلاف ترکیب یا اختلاف حرکت فرض کریں،تواب یہ سوال پیداہوتا ہے کہ یہ اختلاف ترکیب یا اختلاف حرکت کہاں سے پیدا ہوئی ہیں ؟

لہذا ناچار ،ان شکل و صورتوں اورآثار کے ذاتی اختلاف کو مادہ اور مادی دنیا سے بلند تر علّت وسبب سے نسبت دینی چاہئے اور نتیجہ کے طور پر انڈے کواور اس پر مرتب ہونے والے تمام آثار اوراس کی مختلف ترکیبوں کو حادث اورکسی دوسری علّت کا نتیجہ جاننا چاہئے ۔اور یہی خصوصیت جو ہم انڈے میں پاتے ہیں کائنات کی دوسری تمام مخلو قات میں پائی جاتی ہے اورحتیٰ کہ،مادّہ جو وجودمیںآنے کے لئے شکل و صورت کا محتاج ہے اورنتیجةً وسیع تر نظام کے ساتھ حادث ہے اور علت کی محتاج ہے ۔

دوسرے انبیاء علیہم السلام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت

سوال :کیا قرآن مجید میں آیہ خاتم کے علاوہ کوئی دوسری آیت موجود ہے جس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت اور دوسرے پیغمبروں پر آپ کی فضلیت ثابت ہوتی ہو ؟

جواب :جس طرح آیہ شریفہ :

( ولکن رسول اللّٰه وخاتم النبیین ) (احزاب ٤٠)

خاتمیت پر دلالت کرتی ہے ،اسی طرح کچھ آیتیں دین اسلام کے عام اور ابدی ہونے پردلالت کرتی ہیں ،جیسے :

( وُوحی الیِّ هذاالقرآن لنذرکم به ومن بَلغ ) (انعام ١٩)

''اور میری طرف اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میں تمہیں اور جس شخص تک یہ پیغام پہنچے سب کو ڈرائوں ...''

اور آیہ شریفہ :

( وانه لکتاب عزیزلیتیه الباطل من بین یدیه ولامن خلفه ) (فصلّت٤١۔٤٢)

''...اوریہ ایک عالی مرتبہ کتا ب ہے ،جس کے قریب ،سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آنہیں سکتا ہے ۔''

کیونکہ کسی دین کی عمر اور دوام ،مذکورہ دین کو لانے والے کی خاتمیت کے بغیر قابل تصور نہیں ہے ۔

اسی طرح جو آیتیں دوسری آسمانی کتا بوں کی نسبت قرآن مجید کی افضیلت کی دلالت پیش کرتی ہیں ،حسب ذیل ہیں :

( ونزّلنا علیک الکتب تبیاناًلکل شئ ) (نحل٨٩)

''...اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے ...''

اورآیہ شریفہ :

( ونزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقاً لما بین یدیه من الکتاب ومهیمناً علیه ) (مائدہ٤٨)

''اور اے پیغمبر!ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے جو اپنے پہلے کی توریت اور انجیل کی مصدق اورمحافظ ہے لہذا آپ ان کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں ...''

اورآیہ شریفہ :

( شرع لکم من الدّین ماوصّی به نوحاًوالّذی اوحینا الیک وما وصّینا به ابراهیم وموسیٰ وعیسیٰ ) (شوریٰ١٣)

''اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اورجس کی وحی پیغمبر!تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراھیم ،موسی اور عیسی کو بھی کی ہے ...''

مذکورہ آیتیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افضلیت پر بھی دلالت کرتی ہیں ،کیونکہ قرآن مجید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا حصہ ہو نے کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے ،اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر ومنزلت کا توازن آپ کی دعوت کی قدر وقیمت ہے ۔

اہل توحید کی شفاعت

سوال:علاّمہ مجلسی کی کتاب ''توحید''میں ،مو حدین کے حالات کے ضمن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ عبارت نقل کی گئی ہے:( وان اهل التوحید لیشفعون فیشفعون ) (زخرف٨٦)

بیان فرمایئے کہ اہل توحیدکن لوگوں کی شفاعت کرتے ہیں ،غیر موحدین کی شفاعت کرنا تو ممکن نہیں ہے اور خود موحدین کی شفاعت کرنا صحیح نہیں ہے،کیونکہ موحدین خود شفاعت کرنے والے ہیں ،پس یہ کن کی شفاعت کرتے ہیں ؟

جواب روایت (وان اهل التوحید لیشفعون فیشفعون )(۲)

کے مند رجہ ذیل دو معنی میں سے کوئی ایک ہو سکتا ہے :

یا اہل توحید سے مقصودموحدّین میںسے سب سے کامل اور سب سے بڑے علماء ہیں ،اس کی دلالت مندرجہ ذیل دوآیات کریمہ پیش کرتی ہیں :

( ولا یملک الّذین یدعون من دونه الشفاعة الّامن شهد بالحق وهم یعلمون ) (زخرف٨٦)

''اور اس کے علاوہ جنھیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سفارش کابھی اختیار نہیں رکھتے ہیں مگر وہ جو سمجھ بوجھ کر حق کی گواہی دینے والے ہیں ۔''

اور آیہ شریفہ :

( لّا من ذن له الرّحمٰن وقال صوابا ) (نباء ٣٨)

''...علاوہ اس کے جسے رحمان اجازت دیدے اور ٹھیک ٹھیک بات کرے ۔''

یا اس کا معنی یہ ہے کہ، موحدین، مستضف لوگوں کی شفاعت کرین گے، موحدین،جن کے حق میں خدائے متعال فرماتا ہے :

( وآخرون مرجون لمراللّه امّا یعذّبهم و امّا یتوب علیهم )

(توبہ ١٠٦)

''اور کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں حکم خداکی امید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ یا خدا ان پر عذاب کرے گا یا ان کی توبہ کو قبول کر لے گا ...''

اور بظاہروکمزورطبقہ لوگوںکی اکثریت کو تشکیل دیتا ہے۔

اسلام میں غلامی کی توجیہ

سوال:گزشتہ سوالات میں اسلام میں غلامی وبندگی کے جاری رہنے کے بارے میں سوال ہوا تھا جس کا آپ نے مختصر اور اجمالی جوا ب دے دیا اور مکمل جواب کے لئے تفسیرالمیزان کی چھٹی جلد کی طرف رجوع کر نے کو فرمایا تھا ،جبکہ تفسیر المیزان میں حقیر کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے ۔

میں نے سوال کیاہے کہ اگر اسلام کے اوائل میں کچھ مصلحتوں کی بناپر غلامی کو جائز قرار دیا گیا ہے ،لیکن یہ جانتے ہو ئے کہ انسان کی فکر ترقی اور ارتقاء کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایک دن ایسا آئے گا جب بشریت غلامی کو قبیح سمجھ لے گی اور عقل کی روسے بھی قابل قبول نہیں ہے کہ کچھ لوگ کچھ دوسرے لو گوں کو اپنا استعمار بنا کران کی ہر قسم کی آزادی کوچھین لیں اور بعض عبادی مسا ئل یا دوسرے جوانب سے کیوں غلام کو پست اور حقیرقرار دیا گیا ہے ؟اسی طرح اگر کفار کو اس لئے غلام بناتے تھے تاکہ اسلام کے ماحول میں تربیت حا صل کریں ،تو ان کی اولاد کیوں ان کے والدین کی تبعیت میں غلام بن گئیں ،اگر چہ وہ مسلمان بھی ہو تے ؟

اگر آپ فرمائیں گے کہ اسلام نے ان کی آزادی کے لئے بہت سے راستے بتائے ہیں ،تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہ موضوع غلامی کے اصل جواز کے بارے میں اعتراض کو دور نہیں کرتا؟

جواب :آپ نے لکھا ہے کہ اسلام میں غلامی کے اعتراض کے جواب کے بارے میں المیزان کی چٹھی جلد کی طرف رجوع کرنے کو کہا تھا جبکہ مذکورہ تفسیر میں اس اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا ہے ،مختصر یہ کہ انسان کو مکمل ہونے والی عقل کسی کو غلا م بنانے اور اس کی مطلق آزادی کو سلب کرنے کو قبیح جانتی ہے اور عقل کی روسے بھی یہ قابل قبول نہیں ہے ،اگر یہ کہا جائے کہ اسلام کفار کو اس لئے غلام بناتاتھا تاکہ اسلام کے ماحول میں ان کی تربیت کی جائے تو ہم یہ کہیں گے :ان کی اولاد کا کیا قصور اور گناہ ہے کہ اسلام قبول کر نے کے بعد بھی غلامی کی حالت میں باقی رہیں ؟اور اگر یہ کہا جائے کہ اسلام نے ان کی آزادی کے لئے ایک طریقہ کار معین کیا ہے تو ہم کہیں گے :اعتراض اس کے غلام بننے کے بعداس کی اصلی غلامی کے جاری رہنے میں ہے

لگتا ہے کہ تفسیر میں درج کی گئی بحث پر مکمل توجہ نہیں کی گئی ہے ،لہذا ناچار ہم پھر سے اس کی وضاحت کرتے ہیں :

سب سے پہلے اصولاً جانناچاہئے کہ : اگر چہ انسا ن اختیار کی صفت کے مطابق آزادخلق کیا گیا ہے ،لیکن اس کے لئے مطلق آزادی کا ہر گز تصور نہیں کیا جا سکتا ہے ۔جو انسان فطری طور پر سماج میں ، معاشرہ کے تحفظ کے قوانین وضوابط کی قہراًرعایت کرتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہو ،وہ مطلق العنان اور ہر خواہش کے سلسلہ میں سر گرم عمل نہیں ہو سکتا ہے ۔لہذا انسان کی آزادی بہر حال قوانین اور ضوابط کے دائرہ میں محدود ہوتی ہے

دوسرے الفاظ میں انسان فی الجملہ آزاد ہے نہ بالجملہ یعنی مکمل طور پر آزادنہیں ہے ۔معاشرہ کے عام اور متوسط افراد بعض مواقع اور قوانین کے مطابق ہر قسم کا کام انجام دینے کی آزادی نہیں رکھتے ہیں اور کچھ افراد کی آزادی بعض شرائط کے تحت سلب کی جاتی ہے ۔

دیوانہ ،بیوقوف اور بچوں کو ہر کام انجام دینے کی آزادی نہیں دی جا سکتی ہے ،جانی دشمن اور لاابالی مجرم کو ہر قسم کی آزادی نہیں دی جا سکتی ہے ۔

دوسرے یہ:حقیقت میں غلامی ،بندگی اور ان کے مانند مسائل پر جھگڑا نہیں ہے بلکہ ان کے معنی میں نزاع ہے ،خواہ ان کے ساتھ غلامی کا نام ہو یا نہ ہو ۔

غلامی کی حقیقت کا مطلب ارادہ وعمل کی آزادی کا سلب کرنا ہے اور واضح ہے کہ جسے ارادہ و عمل میں آزادی نہ ہو ،اس کا ارادہ و عمل کسی دوسرے کے اختیار میں ہو گا ،اسی لئے غلاموں کو خرید و فروخت کیا جاتا تھا ۔

گزشتہ اقوام میں غلامی مندرجہ ذیل چار صورتوں میں رائج تھی:

١۔خاندان کا سر پرست اپنے ماتحت لڑکی اور لڑکے کو بیچ سکتا تھا ۔

٢۔مرد،کبھی اپنی بیوی کو بیچتا تھا،اور کبھی کرایہ یا ادھار دیتا تھا یا اسے کسی کو بخش دیتا تھا۔

٣۔ایک قبیلہ کا سردار ،اپنی قدرت کے بل بوتے اور استناد پر جسے بھی چاہتا اسے اپنا غلام وبندہ بنا سکتا تھا ،چنانچہ پادشاہوں کو ''مالک الرقاب''(غلاموں کے مالک)کہا جاتا تھا ۔

٤۔ دومتخاصم گروہوں میں سے جنگ میں فتح حاصل کر نے والا گروہ اگر اپنے جانی دشمن کو زندہ پکڑتا تھا ،وہ اسے اپنا غلام بنا سکتا تھا اور اسے مار سکتا تھا یا بیچ سکتا تھا ۔

اسلام نے غلام کی مذکورہ چار قسموں میں سے پہلے تین قسموں کو منسوخ کر دیا ہے اور اولاد کی نسبت والدین کے حقوق کو محدود کر کے اور اسی طرح شوہر کے حقوق کو بیوی کی نسبت محدود کر کے یا عادل اسلامی حکومت کی طاقت سے اس قسم کی غلامی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے ،لیکن غلامی کی چوتھی قسم کی تصدیق کی ہے اور اس کی تائید نہ کر نا ممکن نہیں تھا ،کیو نکہ اسلام ایک فطری دین ہے اور یہ عین فطرت کے حکم کے مطابق ہے ۔کسی ایسے فردیا معاشرہ کو نہیں پایا جاسکتا ہے ،جو اس کی ہستی اور وجودیا اس کے مقدسات کو نیست و نا بود کر نے والے دشمن کے مقا بلہ میں خاموش تما شائی بن کر بیٹھے اور اپنی ہستی کا دفاع نہ کرے جو اس کے دشمن کی نابودی پر منحصر ہے یا دشمن پر فتح پانے کے بعدصرف اسی فتحیابی کے نام پر اکتفا کر کے اپنے دشمن کو دوبارہ اس کے ارادہ وعمل پر آزاد رکھے اور اس کے ارادہ و عمل کو سلب نہ کر ے (جو وہی غلامی ہے )،مگر یہ کہ عفو و بخشش کے لئے کچھ تقاضے اور عوامل پیدا ہو ں ،جہاں تک انسان ہے اور ہو گا اس کی خداداد فطرت یہی حکم کرے گی ۔

لیکن جو آپ نے لکھا ہے کہ عقل کے مطابق یہ قابل قبول نہیں ہے کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان کو استعمار کر کے اس کی ہر قسم کی آزادی کو سلب کرے ۔یہ بیان صرف غلامی کی پہلی تین قسموں پر لاگو ہے اور مذکورہ وضاحت کے پیش نظر چوتھی قسم پر لا گو نہیں ہو سکتا ہے ۔

لیکن جو آپ نے لکھا ہے کہ آج کی ترقی یافتہ فکر ،غلامی کو قبیح جانتی ہے ،اس بیان کا معنی (اگر چہ جنا ب عالی نے ارادہ بھی نہ کیا ہوگا )یہ ہے کہ متمدن دنیا یعنی مغربی دنیا سلب آزادی کو قبیح جانتی ہے ،چنانچہ تقریباًاسی سال پہلے بڑی کوششوں اور جدو جہد کے بعد انہوں نے عام غلامی کو منسوخ کر نے کا اعلان کیا ہے اور اس طرح ان کے بقول: عالم بشریت کو ایک ننگ سے نجات دے کر دنیا کے لوگوں ،حتی مسلمانوں پر ـجن کا دین اس کی اجازت دیتا تھا ـمنت رکھی ہے ،لیکن دقّت اور صحیح طور پر توجہ کر نی چاہئے کہ ان انسان دوست مترقی حکومتوں نے غلامی کو منسوخ کر نے کے اس قانون کو کس قدر نافذ کیا ہے ؟!

جی ہاں ! انہوں نے غلامی کی پہلی قسم (فرزند فروشی اور عورت فروشی ) کو منسوخ کیا ہے ،جو افریقہ اور اس کے بعض اطراف میں رائج تھی جبکہ اسلام نے بارہ سو سال پہلے اسے منسوخ کیا تھا ،لیکن کیا غلامی کی تیسری قسم کو بھی ان ترقی یافتہ حکومتوں نے منسوخ کیا ہے ،جسے اسلام نے منسوخ کیا تھا ؟اور کیا ایشیا اور افریقہ وغیرہ میں رہنے والے کروڑوں اقوام ا ور ملتیں جو صدیوں سے ان کے استعمار اور تسلط میں ہیں ان کے غلام (ارادہ وعمل کے احساس سے محروم )نہیں ہیں ؟صرف اس فرق کے ساتھ کہ غلامی کا نام نہیں لیا جاتا ہے ،بلکہ جو برتائو گزشتہ زما نے میں ایک فرد سے کیا جاتا تھا وہ آج مجموعی طور پر ایک سماج سے کیا جا تا ہے !جی ہاں! حقیقت یہ ہے کہ ترقی یافتہ حکومتیں ،دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی بعض نو آبادیوں کو تدریجاً۔۔ان کے اپنے بقول :سیاسی شعور پیدا کرتے ہیں ۔۔آزادی دے رہے ہیں ۔لیکن کیا یہی آزادی اور استقلال بخشنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ متمدن انسان آزادی کو اپنی ملکیت جانتے ہیں ؟اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ، جو قومیں ان کے بقول وحشی اور پسماندہ ہیں ارادہ وعمل کی آزادی کا حق نہیں رکھتی ہیں ،یعنی جب تک زندہ ہیں اپنے آقائوں اورتہذیب کے قافلہ سالاروں کے غلام اور بندے ہیں ۔

اس کے علاوہ کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس استقلال وآزادی کا کیا معنی ہے اور یہ نام اور شکل وصورت کے بدلنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ،ان ترقی یافتہ انسانوں کی غلامی کو سات سمندر کے پانی سے بھی دھویا نہیں جاسکتا ۔

اسی طرح غلامی کی چوتھی قسم (جنگی قیدیوں اور جنگ میں شکست کھانے والوں کی آزادی کو سلب کر نے) کے بارے میں ان لوگوں نے کیا رویّے اختیارکئے ہیں دوسری عالمی جنگ کے بعد پیش آنے والے حالات پر تھوڑی سی تحقیق اور غور کر نے سے یہ عقدہ حل ہو تا ہے ۔

حریف کے شکست کھانے اور بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے بعد، اتحادی ،دشمن کے ملک میں داخل ہو ئے اور ان کی بھاری صنعتوں سے لے کر ہر کار آمد چیز کو لوٹ لیا اوردشمن کے معروف افراد اور شخصیات میں سے جسے چاہا پکڑ کر اسے قتل کر ڈالا اوردشمن کے ملک کو جس طرح چاہا اپنے تسلط میں قراردیا اور اب تک کہ اس جنگ کے خاتمہ کو بیس سال گزر چکے ہیں ،ابھی تک ان کی مکمل آزادی کے بارے میں کو ئی خبر تک نہیں ہے اور ابھی تک مشرقی جر منی کی مشکل اپنی جگہ پر باقی ہے ،اور ابھی بھی (سننے کے مطابق )جرمنی کے دانشوروں کی ایک بڑی تعدادسویت یو نین کے زندانوں میں پڑی ہے ۔اتحادیوں نے یہ سب محرو میتیں اور سختیاں صرف جنگ میں شرکت کرنے والے اپنے طاقتور دشمنوں سے روا نہیں رکھیں :بلکہ دشمن کے بچوں اوراس جنگ کے بعد پیدا ہونے والے اطفال جوتدریجاً اب تک نشوونما پارہے ہیں کو بھی پنا غلام قراردیا ہے اور ابھی بھی یہی حالت جاری ہے اورہر گز یہ نہیں کہہ رہے ہیںکہ بڑوں کا گناہ تھا اور بچے اس سلسلہ میں کوئی قصور نہیں رکھتے ہیں ۔

اتحادیوں کا اس سلسلہ میں صرف یہ استدلال ہے کہ،اس رویہ سے وہ اپنی ہستی اور بقاء کی حفاظت کرتے ہیں اورصرف استثنائی شرائط کے پیش نظر دشمن کے بلا شرط ہتھیار ڈالنے پر اس سے صرف نظر کرکے اسے اپنے حال پر چھوڑا جا سکتا ہے !اور ان کے فرزندوں کو اپنے والدین سے اور ان کی آنے والی نسل کو ان کے اسلاف سے جدا فرض نہیں کیا جاسکتا ہے ،مگر استثنائی شرائط کے پیش نظر۔

یہ ایک ایسا استدلال ہے جو ہمیشہ عالم بشریت میں رائج تھا اور اس کے استناد سے فاتح اپنے شکست خوردہ دشمن سے ارادہ وعمل کی آزادی کو سلب کرتا تھا اور اب بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے اور قطعاًآئندہ بھی ایسا ہی ہو تا رہے گا ،کیو نکہ جانی دشمن کو آزاد نہیں رکھا جا سکتا ،دشمن کو حقیر اوربے چارہ نہیں سمجھا جاسکتا ہے ۔اب اگر اسلامی قوانین پر توجہ مر کوز کر کے غور کروگے تو دیکھ پائو گے کہ انہی انسانی قوانین اور فطری معاملوں کو اسلام نے بھی جنگی قیدیوں کے بارے میں استعمال کیا ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہ لوگ اس کام کو سیاسی زوروزبردستی اور انتہائی بے رحمی اور بز دلانہ صورت میں انجام دیتے ہیں جبکہ اسلام اسے انتہائی صاف گوئی ،صداقت،ہمدردی اور بہادری سے نافذ کرتا ہے ۔

اگراسلام کافرحربی کو قیدی بنانے کے بعدغلام بناتا ہے ،اگر اسلام قیدی بنانے کے بعد غلامی کو منسوخ کر نے کا سبب نہیں جا نتا ہے اور اگر غلاموں کے فرزندوں کو (یہی فرزند کہ آج بیسویں صدی میں بھی اپنے آبء واجداداور ان کے قومی رسو مات کا دم بھر تے ہیں )ان کے والدین کے تابع جانتا ہے ،تو یہ انصاف کے خلاف نہیں ہے ۔اس کے باوجود کہ اسلام نے ان کی آرام وآسائش اور جلدی آزاد کر نے کے لئے ہر ممکن وسائل مہیا کئے ہیں ۔

____________________

١۔تفسیرابوالفتوح رازی ج ٢ص٣٠١

۲۔صدوق توحید : ٢٩ح٣١


انسان کا آدم و ہواسے پیدا ہو نا

سوال :مہم ترین سوالات میں سے ایک مسئلہ یہ ہے جس کے بارے میں تعلیم یافتہ طبقہ سخت اعتراض کرتا ہے اور یہ مسئلہ متدیّن طبقہ کے لئے سب سے بڑی مشکل بنا ہوا ہے اور وہ اصل خلقت کا قضیہ ہے ۔

قرآن مجید واضح طور پر انسان کے جد کو حضرت آدم اور ان کی خلقت کو مٹی سے جانتا ہے ،جبکہ بعض انسان شناس دانشوروں نے ،برسوں کی تحقیق وتجر بہ کے بعداس مسئلہ میںمختلف نظریہ پیش کیا ہے جو کلی طور پرقرآن مجید کے نظریہ سے متفاوت ہے ۔چونکہ ان دانشوروں نے انسانوں اور حیوانوں کے مختلف انواع پر مدتوں آزمائش اور تجربہ کے بعد اپنا یہ نظریہ پیش کیا ہے ،بہر حال امید ہے کہ آپ اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں گے ۔

جواب :موجودہ انسان کی نسل کے شجرئہ نسب کی ابتداء کے بارے میں دوافرادآدم اور ان کی بیوی کے بارے میں قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے اور قرآن مجید کی آیتیں اس مطلب کے بارے میں صراحت کے نزدیک قوی ظہور رکھتی ہیں ،ایسے کہ قطعی برہان کے بغیرمذکورہ ظہور سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ہم نے اس کے بارے میں تفسیرالمیزان میں سورئہ نساء کی ابتداء میں بحث کی ہے ۔

خلاصہ یہ کہ مربوط علوم سے متعلق دانشوروں نے نوع انسان کی پیدائش کے سلسلہ میں جو اپنا نظریہ پیش کیا ہے کہ،جس سے انسان کی اصل بندر یامچھلی تک پہنچتی ہے ایک علمی فرضیہ (علمی مسائل کی تو جیہ کے لئے فرض کیا جاتا ہے )کے علاوہ کچھ نہیں انہوں نے جن دلائل کو پیش کیا ہے وہ اس سے زیادہ استدلال نہیں کرتی ہیں کہ انسان اور اس کی فرض کی گئی اصل دو طبیعی مخلو قات ہیں ،جو وجوداور وجود کے آثار کی جہت سے آپس میں کامل و ناقص نسبت رکھتے ہیں اور یہ ایک کے دوسرے سے استخراج یا ایک کے دوسرے میں تبدیل ہو نے کے علاوہ ہے ،جس کا دعویٰ تبدّل انواع کے مدعی کرتے ہیں ۔

خاص کر اس لحاظ سے کہ اسلام میں دین کے بیانات فطری منطق کے مطابق ہیں اور علوم مادی کے دانشوراپنے بیانات میں غالباً''آلگوریزم'' ریاضی منطق کی پیروی کرتے ہیں ،چنانچہ وہ کہتے ہیں :بجلی خاص شرائط میں حرکت یا حرارت یامقناطیس میں تبدیل ہوتی ہے اور پانی جب ایک سودرجہ پر ابلتا ہے تو اپنی کمیت کو کیفیت میں تبدیل کرکے بخار بن جاتا ہے مثلاًمساوات کے ایک طرف قرار پایا ہوامثبت عدد دوسری طرف منتقل ہو جانے پرمنفی عدد بن جاتا ہے ۔جو آپ نے لکھا ہے کہ یہ دانشورانسان کے لئے لاکھوں سال عمر فرض کرتے ہیں ،یہ کسی بھی دین کے منافی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ لاکھوں سال پرانے فُسیل اور زمین کے آثار،پیدا ہو نا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتے ہیں کہ اس زمانہ کے انسان اورآج کے انسان ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ،کیو نکہ ممکن ہے اسی زمین پر مختلف ادوارگزرچکے ہوں اور ان میں سے ہر دور میں انسان کی ایک جدانسل وجود میں آئی ہو گی اور ایک عمر گزار نے کے بعدوہ نوع نیست و نابودہوئی ہو گی اور کچھ مدت کے بعدانسان کی ایک اور نسل وجود میں آئی ہوگی ۔چنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ زمین پر انسان کی موجودہ نسل انسا نیت کے ادوار کا آٹھواں دور ہے ۔

علم نفس اور معرفت نفس میں فرق

سوال:علم نفس اور معرفت نفس میں فرق بیان فرمائیے ؟

جواب : عام طور پرعلم نفس اس فن کو کہتے ہیں جس میں نفس اور اس سے مر بو ط مسائل اور اس کی خصوصیتوں کی بحث ہو تی ہے اور معرفت نفس،مشاہدہ کے ذریعہ نفس کی حقیقت کی پہچان کر نے کو کہتے ہیں ۔علم نفس کے ذریعہ نفس کی پہچان ''فکری پہچان ''ہے اور معرفت نفس کے ذریعہ ''شہودی پہچان ''ہے...

معرفت نفس کا مطلب

سوال:کیا معرفت نفس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے نفس''روح''کومادّہ اور عینی صورت سے ''مجرّد ''مشاہدہ کرے یایہ کہ اس کے علاوہ کوئی اور مطلب ہے ؟بہرحال استدعا ہے کہ شناخت نفس کے بارے میں آیات و روایا ت میں بیان ہو ئے مطلب کی وضاحت فرمائیے ؟

جواب: ''معرفت نفس''کا مطلب وہی پہلا معنی ہے ،یعنی مادّہ سے مجرد نفس کی شہودی شناخت ۔اور جو یہ لکھا گیا ہے کہ ''مادّہ وصورت سے مجردنفس''غلط ہے کیونکہ انسان کا نفس اس کی اپنی صورت ہے اور معرفت نفس کا مطلب وہی ''رب ّ''ہے جو روایتوں میں آیا ہے ۔

عرفان نفس اور معرفت پر وردگارکا رابطہ

سوال :معروف حدیث:''من عرف نفسه فقد عرف ربه'' (۱)

''جس نے اپنے نفس کو پہچان لیایقینا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔''کے معنی میں (مرحو م سیدعبداللہ شبّرکی کتاب مصابیح الانوار میں )بارہ قول بیان ہوئے ہیں ،عرفان نفس اورربّ کی شناسائی کے درمیان کو ن سا رابطہ ہے ،رابطہ کا سبب بیان فرمائیے؟

جواب:اصل روایت اس طرح ہے :(من عرف نفسه عرف ربه ) اس روایت کے بارے میںجو بارہ معنی بیان ہوئے ہیں ،جیسا کہ مجھے یاد ہے ،ان میں سے کوئی بھی معنی روایت کا دقیق معنی نہیں ہے ،صرف جس صورت کی ''فقد''کی راہ سے توجیہ کی گئی ہے اسے روایت کے ظاہری معنی قرار دیا جا سکتا ہے اور عرفان نفس اور رب کی شناسائی کا رابطہ اس راہ میں ہے کہ نفس مخلوق اور معلول حق تعالےٰ ہے اور حق تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی قسم کی آزادی نہیں رکھتا ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہے خدا کی طرف سے ہے ،اور اس قسم کی مخلوق کا مشاہدہ حق تعالےٰ کے مشاہدہ کے بغیرممکن نہیں ہے ۔

معرفت اور لقاء ا للہ کا مطلب

سوال: ''اصول کافی ''اور''بصائرالدرجات ''میں ائمہ اطہار علیہم السلام اور ان کے نورانی مقام کے بارے میں بہت سی روایتیں نقل ہو ئی ہیں ،ان میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ پر وردگار کی پہلی مخلوقات وہی ہیں ۔اسی طرح دوسری روایتوں اور زیارت جامعہ سے یوں استفادہ ہو تا ہے کہ وہ حضرات علیہم السلام اسما ء اللہ ،وجہ اللہ، یدا للہ،جنب اللہ ہیں ،ان احادیث کے پیش نظرکیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ معرفت اور لقاء اللہ کا مطلب وہی معصومین علیہم السلام کی معرفت ہے ؟ جیسا کہ فرمایا ہے :(معرفتی بالنورانیة معرفة اللّه (۲) استدعا ہے کہ ان احادیث اور معرفت پروردگار کے بارے میں واضح احادیث کو کیسے جمع کیا جاسکتا ہے؟

جواب :معصومین علیہم السلام کی نورایت کا مقام ان کا کمال ہے اور یہ بلند ترین ممکن کمال ہے اور یہ جو بیان ہوا ہے کہ وہ حضرات علیہم السلام اسماء اللہ،وجہ اللہ ،یداللہ جنب اللہ ہیں یہ توحید کی عمیق ترین بحثوں میں سے ایک بحث ہے اور اس کا تفصیلی بیان یہاں پر ممکن نہیں ہے ۔جو کچھ خلاصہ کے طور پر علمی اصطلاح میں پیش کیا جا سکتا ہے ،وہ یہ ہے کہ وہ حضرات علیہم السلام اسماء اور صفات خداوند ی کے مکمل مظہر ہیں، وہ صاحب ولایت کلیہّ اور فیض الہیٰ کے چشمے ہیں ،ان کی شناخت خدائے متعال کی شناخت ہے ۔

نفس کی معرفت خدا کی معرفت کی کنجی ہے

سوال:چنانچہ مرحوم مرزا جواد آقا ملکی کے ''رسالئہ لقائیہّ''میں درج ہے کہ معرفت نفس میں فکر،معرفت خدا کی کلید ہے ۔اس کے پیش نظر کہ نفس مجردات میں سے ہے کیا فکر مجرّدات تک پہنچ سکتی ہے یا نہیں ؟اس کے امکان کی صورت میں ،استدعا ہے کہ فکر کی راہ کے بارے میں اس رسالہ میں جو کچھ درج ہوا ہے ،اس سے واضح تربیان فرمائیے ؟

جواب :فکر مجرّدات تک پہنچ سکتی ہے جیسے مادیات میں پہنچتی ہے ۔فلسفہ مجرّدات کے بارے میں بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں ،لیکن یہاں پر فکر کا مطلب اس کے معروف معنی کے علاوہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک خلوت اور شوروشر سے دور جگہ پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے اپنی صورت پر توجہ کیا جائے ،اس شخص کے مانند جو شیشہ میں اپنی صورت کو دیکھتا ہے اور وہ اس کے ذہن میں پیداہو نے والی ہر شکل وصورت سے ہٹ کرصرف اپنی صورت کو دیکھتا ہے ۔

دومطالب کی وضاحت

سوال :''رسالہ لقائیہ'' میں دو مطالب ذکر ہوئے ہیں پہلامطلب:''معرفت نفس''میں فکر کے بارے میں فرماتا ہے :

''اشتغل المتفکر تارة لتجزیة نفسه،واخریٰ لتجزیة العالم حتی یتحقق له ان ما یعلمه من العالم لیس الا نفسه وعالمه لا العالم الخارجی وان هذه العوالم المعلومة له انمّا هو مر تبة من نفس''

اس عبارت کے کیا معنی ہیں اور اس کا مقصود کیا ہے ؟

دوسرامطلب:بعد میں فرماتے ہیں :''ہر صورت و خیال کو جب اس کادل نفی کرے توپھر عدم میں فکر کرے ''نفی اور عدم میں فکر کا مقصود کیا ہے ؟استدعا ہے کہ ان دونوں عبارتوں کے مقصود کو واضح تر بیان فرمائیے ؟

جواب:عربی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ قائم ہوئے برہان کے مطابق انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تلقین کرے اور جان لے جو کچھ اپنے اور اپنے بیرونی عالم کے بارے میں درک کرتا ہے ،اسے اپنے اندر درک کر کے پاتا ہے ،نہ یہ کہ بیرونی عالم نے خود پایا ہو۔خیالی صورتوں کی نفی کا مطلب ،ان سے اجتناب کر کے صرف اپنی صورت پر اپنے دل کی نظر ڈالتا ہے اور عدم میں فکر کا مطلب اپنی صورت کی طرف فکر کرنا ہے کہ جس کا وجود مجازی ہے اور حقیقت میں عدم ہے ۔

خود شناسی کے مقام پر فائز ہونا

سوال : کیا غیر شیعہ اور غیر مسلم ،اپنے مذہب سے مربوط عبادتوں اور ریاضتوں کے نتیجہ میں ''خودشناسی'' کے مقام تک پہنچ سکتے ہیں ؟ممکن ہو نے کی صورت میں مسلّم ہے کہ جس نے اپنے آپ کو پہچانا ،اس نے خدا کو پہچانا اور نتیجہ کے طور پر دین مقدس اسلام کے مقصد یعنی توحید تک پہنچا ہے اور اس طرح اسلام کے علاوہ دوسرے راستہ سے مقصد تک پہنچاہے ،کیا یہ فرض ممکن ہے یا نہیں ؟

جواب:بعض دانشوراس فرض کو ممکن جانتے ہیں ،لیکن کتاب وسنت کے اصلی مدارک و اسناد کے ظواہر ،اس فرض کے بارے میں موافق نہیں ہیں ،مگر یہ کہ مقدمات میں جیسا کمزورفرضی مجاہد فرض کریں ۔

خداکی یاد کا مقصود کیا ہے ؟

سوال: قرآن مجید کی آیات میں امر کئے گئے ''خدا کی یادمیں ہونے''کا مقصود کیاہ ہے ؟کیا خداکی یاد ،اولیائے خدا کی یاد اور خدا کی نعمتوں کی یاد ہے یا نہیں ؟''ذکراللہ'' کے مقصود کو بیان فرمائیے؟

جواب: یاد کرنے کا معنی واضح ہے اور خدا کو یاد کر نے کا مقصودہر کام کے انجا م دینے اور اسے ترک کر نے کی ابتداء میں خداکی مرضی کے مطابق اسے یاد کر نا ہے ،اس سے بڑھ کر ہمیشہ خدا کے حضورمیں اپنے آپ کو دیکھناہے اور اس سے بلند تراپنے سامنے خدا کو اس طرح دیکھنا ہے جو ذات اقدس خدا کو دیکھنے کا حق ہے

____________________

١۔مصباح١لشریعہ١٣

۲۔(بحارالانوار١٢٦)


کسی چیز سے محروم شخص وہ چیز عطا نہیں کر سکتا

سوال : جیسا کہ واضح ہے ''کسی چیز سے محروم شخص وہ چیزدوسروںکو عطا نہیں کر سکتا ہے ''اگر یہ قاعدہ کلی ہو اور قابل استثناء نہ ہو ،تو پر وردگار عالم نے کس طرح اشیاء کو جسم بخشا ہے جبکہ وہ خودجسم سے منزّہ ہے ؟

جواب : قاعدئہ ''کسی چیز سے محروم شخص وہ چیزعطا نہیں کرسکتا ہے ''ایک فلسفی قاعدہ اور ناقابل استثناء ہے اور اس قاعدہ کے مطابق ہر علت اسی معلول کی حامل ہوتی ہے جس نے اسے ایجاد کیا ہے جیسا کہ ''جعل ''کی بحث میں طے ہوا۔علت جو اثر معلول پر ڈالتی ہے وہ وجود میں ہے اور علت کا معلول کی ماہیت کے سا تھ کوئی ربط نہیں ہے۔اس بناء پر ،علّت،جو کمال معلول کو بخشتی ہے ،وہ وجود کمال ہے لیکن ماہیت کے سلسلہ میںنہ علت اس کی خالق ہے اورنہ اس پرکوئی اثر کرتی ہے۔ جو کچھ موجودات کوبخشتاہے وہ ان کے وجودی کمالات ہیں ،لیکن جسم کا مفہوم اس کی ما ہیّت ہوتی ہے اور خدائے متعال نہ ماہیّت رکھتا ہے اور نہ ہی ماہیت عطاکرتا ہے ۔

عالم ،تغییر وتحوّل کی حالت میں

سوال: کیااسلام کی نظر میں کائنات تغییروتحول کی حالت میں ہے ؟

جواب:کائنات کے اجزاء میں تغییروتحوّل کا وجودمشہود،بدیہی اور ناقابل انکار ہے اور قرآن مجید کائنات کے تمام اجزاء میں تغییر وتحوّل کو ثابت کرتا ہے :

( ما خلقنا السّموات والارض وما بینهما لّابالحق وجل مُسمّیٰ ) (احقاف٣)

''ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوقات کو حق کے ساتھ اور ایک مقررمدت کے ساتھ پید کیا ہے ...''

اس مضمون کی آیات بہت ہیں اور عام طور پر اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کائنات کی ہرایک چیز بعض آثار کی حامل ہے اورکسی ایک مقصد کے تعاقب میں ہے جو اس کا کمال ہے اوراس کی ایک نہایت اور خاتمہ ہے جو اس تک پہنچنے سے اس کی ترکیب منحل ہو کر اپنے اصلی اجزاء کی طرف تجزیہ ہو کر مرکب معدوم ہو تا ہے ۔

ثابت قوانین

سوال: کیا کائنات کے تحوّلات مشخص اصول کے مطابق اور ناقابل تغییر ہیں ؟یایہ کہ خود قوانین کے حالات میں شامل ہوتے ہیں ؟

جواب :قرآن مجید کے نظریہ کے مطابق ،جو نظام کائنات میں حکم فرماہے اور جن قوانین کی خلقت کے اجزاء پیروی کرتے ہیں ،ایک خدائی روش اور سنت ہے اور خدائی سنّتیں میں یکساں اور نا قابل تغیر ہیں اور ان میں موجود قوانین نا قابل استثناہیں :

( فلن تجد لسُنة اللّه تبدیلا ولن تجد لسُنة اللّه تحویلا ) (فاطر٤٣)

''...اور خداکا طریقہ کاربھی نہ بدلنے والاہے اور نہ اس میں کسی قسم کا تغیر ہو سکتا ہے ۔''

( انّ ربّی علی صراط مستقیم ) (ہود٥٦)

''...میرے پروردگار کاراستہ بالکل سیدھا ہے ۔''

کائنات کا ارتقائی سفر

سوال: کیا،کائنات کی پیدائش کے آغاز سے ،کائنات کی حرکت ارتقائی تھی ؟چنانچہ سائنس کہتا ہے : تقریباًدس ارب سا ل پہلے ہائیڈروجن کے نام پر کائنات کا پہلا ایٹم پیدا ہوا ،اس سے پہلے کائنات منتشرگیس کی حالت میں تھی ،لیکن دن بدن پیچیدہ تر اور اکٹھاہوئی ،یہاں تک کہکشاں ،سیاّرے ،نظام شمسی ،زمین کے چار مراحل ،زندگی زندگی کی ارتقاء اور انسان وجود میں آئے ؟

جواب: دوسرے سوال کے جواب میں جو آیہ کریمہ بیان ہو ئی وہ اس سوال کے بارے میں بھی مطابقت رکھتی ہے ۔جب سے کائنات تھی اور جہاں تک رہے گی پوری کائنات ایک خاص حرکت اوراپنے خاص نظم کے ساتھ اپنے مقصدکی طرف تکامل وترقی کا راستہ طے کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔

حقیقت میں کائنات کی پیدائش کے لئے دس ارب سا ل کا فرض کرنا غفلت سے خالی نہیں ہے ،کیونکہ زمان کا تعلق ایک کمیّت اورامتدادکے مقولہ سے ہے جو حرکت کے ساتھ قائم ہے اور اس لحاظ سے ہر حرکت اپنے لئے ایک مخصوص زمان رکھتی ہے اور ہم اہل زمین کی ّنظر میں زمان ایک ایسا امتداد ہے جو دن رات کی حرکت پر قائم ہے اور اس کے پیش نظرکہ یہ تمام انسانوں کے لئے مشہود ہے اس لئے پیمائش کا ایک اندازہ مقرر کیا گیا ہے جس کے ذریعہ ہم جزئی حرکتوں کی پیمائش کرتے ہیں اور حوادث کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ہر زمانہ کے قبل اور بعد ایسی حالتیں ہیں کہ اسی زمانہ کے اجزاء سے موازنہ کے نتیجہ میں وجود میں آتی ہیں اور اس زمانہ سے باہر ہر گز وجودنہیں رکھتی ہیں،اس لئے کائنات کی عمر کے لئے اس زمانہ سے اندازہ لینا جو زمین کی دوری اور انتقال حرکت کے نتیجہ میں وجود میںآتا ہے ،غفلت اور سہل انگاری سے خالی نہیں ہو گا ۔

تکامل و ارتقاء کے مراحل اورجدید قوانین

سوال :کیا کائنات میں تکامل کے ہر مرحلہ کے بعد نئے قوانین کا اضافہ ہوا ہے جس طرح کیمسٹری کے قوانین کے نامیاتی مادّہ کے پیدا ہو نے کے بعد وجود میں آئے ہیں یا حیات سے مربوط قوانین کے مانند جو حیات کے بعدپیدا ہو تے ہیں ؟

جواب:البتہ ہر نئے حادثہ اور مظہر کی پیدائش کے مطابق کائنات میں کچھ نئے قوانین کے مصداق پید اہو تے ہیں لیکن نہ اس صورت میں کہ خدائے متعال کی جاری سنت میں تغیر وتجزیہ پید اہو جائے ،جیسا کہ فرماتا ہے :

( ماننسخ من آیة او ننسها نت بخیر منها و مثلها )

(بقرہ ١٠٦)

''اوراے رسول ہم جب بھی کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یادلوں سے محو کر دیتے ہیں تو اس سے بہتریا اس کی جیسی آیت ضرور لے آتے ہیں...''

اور اسی طرح کائنات کی توسیع کے بارے میں فرماتا ہے :

( والسماء بنیناها بید و انا لموسعون )

(ذرایات٤٧)

''اورآسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں''

کائنات میں تکامل وارتقاء کا عامل

سوال : کیا ایٹم سے لے کر انسان تک پوری کائنات کا ارتقاء کے عامل تضاد ہے ؟

جواب:اشیاء کی تخلیق کے بارے میں تو صیف کر نے والی قرآن مجید کی آیتوں سے جو کچھ معلوم ہو تا ہے ،وہ یہ ہے کہ ایٹم سے لے کر انسان تک اشیاء کے ارتقاء کے عامل، اشیاء کیاپنی طبیعی اور ذاتی حرکات ہیں چنانچہ انسان کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے :

( الّذی احسن کل شیء خلقه وبداخلق الانسان من طین٭ثم جعل نسله من سلالةٍ من مائٍ مهین٭ثم سوّ یٰه ونفخ فیه من روحه وجعل لکم السّمع والبصار والفئدة )

(سجدہ ٧۔٩)

'' اس نے ہرچیزکو حسن کے ساتھ بنایا اور انسا ن کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ہے ۔اس کے بعد اس کی نسل ایک ذلیل پانی سے قرار دی ہے اس کے بعداسے برابر کر کے اس میں اپنی روح پھونک دی ہے اور تمہارے لئے کان ،آنکھ اوردل بنادئے ہیں ...''

قرآن مجید میں اسی مو ضوع ،انسان اور کائنات کے دوسرے مظاہر کے بارے میں بہت سی دوسری آیتیں موجود ہیں ۔اور بعض آیتوں میں اس حرکت کی انتہا کو خدا کی طرف پلٹنے اور اس سے ملاقی ہو نے کی تعبیر کی گئی ہے :

( یا یّها الانسان انّک کادح الیٰ ربّک کدحاً فملاقیه )

(انشقاق ٦)

''اے انسان !تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کو شش کر رہا ہے ،تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا ۔''

( وللّٰه ملک السّموات والارض والی اللّه المصیر )

(نور٤٢)

''اور اللہ ہی کے لئے زمین وآسمان کی ملکیت ہے اوراسی کی طرف سب کی باز گشت ہے ''

مجموعی طور پر اشیاء کی پیدا ئش کا آغاز خدا سے ہے اور ارتقاء کے ساتھ ان کی باز گشت خدا کی طرف ہے :

( اللّٰه یبدوا الخلق ثم یعیده ثم الیه ترجعون )

(روم ١١)

''اللہ ہی تخلیق کی ابتداء کرتا ہے اور پھر پلٹابھی دیتا ہے اور پھر تم سب اسی کی بار گاہ میں واپس لے جائے جائو گے ۔''

انسانی معاشرے اورتکامل و ارتقاء کا آہنگ

سوال: کیا انسانی معاشرے پیدائش سے آج تک ارتقاء کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

جواب:گزشتہ سوالوں کے جواب میں مذکورہ آیتوں کا اقتضایہ ہے کہ انسان اپنی انسانی فطرت انسانی کے مطابق ہمیشہ ارتقاء کی طرف چل رہا ہے اور یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہے گا

انسانی معاشروے کے تکامل و ارتقاء کے اہم عوامل

سوال :انسانی معاشروں کے ارتقاء کے اہم عوامل کیا ہیں ؟

جواب: دین کے نظریہ کے مطابق ،انسان ابدی حیات رکھنے والا موجود ہے (جو موت سے نابود نہیں ہو تا ) اور اس کی ابدی سعادت ـجو اس کے ارتقائی وجود کی صورت ہے ـایمان اور عمل صالح میں ہے جو اس کی حقیقی نشوونما اور نفس کی ارتقائی حرکت میں شامل ہے :

( انّ الانسان لف خسر٭الّاالّذین آمنوا وعملواالصّلحات )

(عصر٢۔٣)

''بیشک انسان خسارہ میں ہے۔علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ...''

ضدوسرے الفاظ میں ،برحق اعتقادات کو قبول کرنا، قرب الہیٰ کا سبب بنتا ہے اور نیک کام اعتقاد کو استحکام اور تحفّظ بخشتے ہیں :

( الیه یصعد الکلم الطیّب والعمل الصلح یرفعه )

(فاطر١٠)

'' ...پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح انھیں بلند کرتا ہے ...''


علم وغیرہ میں انسان کا تکامل و ارتقاء

سوال : کیا انسان کا ارتقاء صرف علم میں تھا یا تمام زمینوں میں ؟

جواب :دین کے نظریہ کے مطابق انسان کامل کا کمال اس کے وجود میں ہے اور تمام زمینوں میں اس کے وجود کی خصوصیتیں ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے علم کے ہمراہ بھی ہے ۔قرآن مجید کی آیتوں میں اس کے ارتقاء کے آخری مرحلہ کی توصیف مفصل طور پر آئی ہے اور اس کی حالت کی توصیف میں جامع ترین کلمہ آیہ کریمہ ہے :

( لهم ما یشاء ون فیها ولدینا مزید )

(ق٣٥)

''وہاں ان کے لئے جو کچھ بھی چاہیں گے سب حاضر رہے گا اور ہمارے پاس مزید بھی ہے ۔''

ان بحثوں کے دوران جن آیا ت کریمہ کا ہم نے ذکر کیا ،مزکورہ مطالب کو ثابت کر نے میں کافی ہیں ،لیکن چونکہ حقیر کی صحت ٹھیک نہیں تھی ،اس لئے آیات کو مفصل وضاحت سے پر ہیز کیا گیا ۔آیات کی کیفیت کی دلالت واضح ہو نے کے لئے تفسیر ''المیزان'' کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ۔

مجّردات کے وجود کو اثبات کے دلائل

سوال:امکان اشرف کے علاوہ مجّردات کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دوسری عقلی دلیل کیا ہے؟

جواب :اس سلسلہ میںشیخ کی کتابوں کی طرف رجوع کر نا چاہئے ،جو امکان اشرف کا قائل نہیں ہے ۔اس کے علاوہ مجّردکے وجود کو (ذات اور فعل میں مجرد کے معنی میں)دوسرے مختلف طریقوں سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً ہم کہیں کہ ابتدائی طور پر صادرکومجّرد ہونا چاہئے ، تاکہ اس میںارتقاکی قدرت بھی ہو،لیکن فعلیت کی صورت میںکمال رکھتی ہو(اور اس میںمزید فعلیت اورکمال نہیں آسکتا)اوراگرفرض کیا جائے کہ اس میں تکامل کی قوت بھی موجود ہوتو یہ صادرمادی اورمادہ اورصورت کامرکب ہوگااور اس صورت میںکسی چیزکے اجزاء خود اس چیزپروجودی صورت میں مقد م ہونے لگیںگے اور مادہ وصورت اس صادر سے قبل موجودہوںگے،حالانکہ ہمارافرض یہ ہے کہ صادراب وجودمیں آرہاہے۔

اسی طرح ثابت شدہ صور علمیہ کے تجرد سے نفس کاذاتی تجرداورنفس کے تجردکے ذریعہ اس کی علت فاعلی کے تجردتام کوثابت کیاجاسکتا ہے۔

ختم نبوت کی عقلی دلیل

سوال :ختم نبوت کے بارے میں عقلی دلیل کیا ہے ؟

جواب :کتاب ''برہان از منطق'' میں ثابت ہوا ہے کہ جزئی اور شخصی حکم کی عقلی دلیل نتیجہ بخش نہیں ہے ،لہذا نبوت عامہ کے مقابلہ میں نبوت خاصّہ کو عقلی دلیل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔وضاہت یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ انسان کے ارتقاء کے لئے اور اس کی ہدایت وراہنما ئی کے لئے ہے ،کمال کے مراتب اور آسمانی شریعتوں کا تعدّد تدریجی ارتقاء کے لئے ہے ،جیسے انسان نے زمانہ کے گزرنے کے ساتھ اسے حاصل کیا ہے کہ ہر شریعت گزشتہ شریعت کو کامل کر نے کا درجہ رکھتی ہے اور اس کو منسوخ کر نے والی ہو تی ہے اور واضح ہے کہ انسان لامتنا ہی کمالات کا مالک نہیں ہے ،جن کمالات کی صلاحیت رکھتا ہے ،جتنے بھی زیادہ ہوں ،بالآخر ایک مرحلہ پر ختم ہو تے ہیں ،نتیجہ کے طور پر جو نبوت اس مرحلہ کی ضامن ہے، وہ خاتم نبوت ہے اور جونبوت شریعت کو لائی ہے وہ قیامت تک مستحکم اور واجب العمل ہے ۔اس بیان سے یہ ثابت ہو تا ہے آسمانی شریعتوں میں ایک ایسی شریعت ہو گی جو شریعتوں کو خاتمہ بخشنے والی ہو گی ۔

روایتوں کے مطابق بھی اسلام کی مقدس شریعت ،ایک آسمانی اور بر حق شریعت کو خاتم النبیین اور قرآن مجید کو نا قابل تنسیخ کتاب کے طورپرتعا رف کرا گیا ہے:

( ولکن رسول اللّٰه وخاتم النبیین )

(احزاب ٤٠)

( وانّه لکتاب عزیز٭لا یاتیه الباطل من بین یدیه ولامن خلفه تنزیل من حکیمٍ حمید )

(فصلّت٤١۔٤٢)

''اور یہ ایک عالی مرتبہ کتا ب ہے ۔جس کے قریب سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدا ئے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے ۔''

پیغمبروں کی نسبت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت اور آسمانی شریعتوں کی نسبت شریعت اسلام کی خا تمیت ثابت ہو تی ہے ۔

گزشتہ بحث سے یہ مطلب بھی واضح ہو تا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ کی تشریف آوری سے نبوت کا باب بند ہوا ہے اس لئے لوگوں کی عقلیں مکمل ہو چکی ہے اور اب وحی اور آسمانی احکام کی ضرورت ہی نہیں ہے اس صورت میں اسلام کی وسیع شریعت اوراحکام کے لئے کوئی معنی باقی نہیں رہتا ۔

عدالت اور عصمت میں فرق

سوال: عدالت اورانبیاء کی عصمت ـنہ ملائکہ کہ قوئہ غضبیہ اورقوئہ شہوانیت نہیں رکھتے ـکے درمیان کیافرق ہے ؟

جواب :عدالت ایک طاقت اور ملکہ ہے جس سے انسان عملی طور پر گناہان کبیرہ اور گناہان صغیرہ پر اصرار کر نے سے اجتناب کرتا ہے اور ممکن ہے اصرار کے بغیر گناہان صغیرہ کا مرتکب ہو جائے ۔اور''عصمت''ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان کے لئے مطلق معصیّت ، خواہ گناہان کبیرہ ہو یا صغیرہ کا انجام دینا محال ہوتا ہے ۔اور قرآن مجید کی آیات سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ عصمت علم کی ایک قسم ہے ۔یہ معصیّت کے قبیح ہونے کا علم ہے جس کے ہوتے ہوئے معصیّت ہر گز انجام نہیں پاتی ،ایک شخص کے مانند جیسے ایک مایع کے بارے میں قطعی علم ہو کہ وہ ایک مہلک زہر ہے وہ ہرگز اسے نہیں کھائے گا اور نتیجہ کے طور پر معصیّت کا مرتکب ہو نا ایک عادل کے لئے ممکن ہے لیکن ایک معصوم کے لئے ممکن نہیں ہے ۔

تکوین کا تغییر نا پذیر ہونا

سوال: باوجود یکہ عصمت انبیاء پر عقلی دلیل کو مسلّمات بلکہ مذہب شیعہ کی ضرورت میںشمارکیاگیاہے،لیکن مذکورہ ادلّہ میں ''عیال کے ساتھ ایک غیرحاضری''مثلاًشامل نہیں ہوتی اور فرض کریں شامل ہو جائے ،تو عدالت کافی ہے اور فرض کریں ادلّہ تمام ہو ،رسالت سے نسبت بیان احکام ہے ،جو سہو ونسیان سے محفوظ ہے اور دوسرے گناہوں کی نسبت تمام نہیں ہے اور بنیادی طورپر اس موضوع کے اثبات پر اصرار کرنے والاداعی کون ہے ؟اگر ایک شخص عادل خطاونسیان سے محفوظ،پیغمبر ہو تواس کا فاسد کیا ہے ؟

جواب:نبوت عامہ کو ثبت کرنے والی عقلی دلیل کے مطابق ،وحی آسمانی کے ذریعہ بشر کی ہدایت خلقت تکوینی کا جزو ہے ،اورتکوین میں خطا اور تخلف معقول نہیں ہے تاکہ وحی کے مضامین کے نتائج جو مصدر وحی سے صاد ہوتے ہیں ،ہو بہو لوگوں تک پہنچ جائیں ،یعنی نبی وحی کے قبول کر نے ،اس کے ضبط و تحفّظ اوراسے لوگوں تک پہنچانے میں کسی قسم کی خطا وخیانت نہیں کرنی چاہئے ،اس کی بات محفوظ ہونی چاہئے اور اس کا فعل بھی ہر قسم کے تخلف و معصیت سے پاک ہونا چاہئے ،کیو نکہ اس کا فعل تبلیغ کے مصادیق میں سے ہوتا ہے ،یعنی نبوت سے قبل اور بعد اس کا قول وفعل معصیت ،اعم از گناہان کبیرہ وصغیرہ ،سے منزّہ اور پاک ہو نا چاہئے ،کیونکہ یہ سب مراحل بیان احکام سے مربوط ہیں اور احکام سے باہر کوئی معصیت نہیں ہے ۔اس بحث کے بہت سے ابعاد ہیں ،مزید وضاحت کے لئے ''المیزان'' کی تیسری جلد یاکتاب ''اسلام میں شیعہ''یارسالہ ''وحی وشعورمرموز'' کی طرف رجوع کریں ۔

تشہد میں (ارفع درجتہ)کا مقصود

سوال: فلسفیوں کی تعریف کے مطابق انسان کامل وہ ہے جس کے لئے''کل ما یمکن لہ بالامکان العالم''فعلی ہوچکاہو گا اورہر ایک کے اتفاق کے مطابق حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا منحصر مصداق ہیں یا افراد انسان کامل میں سے ہیں ،اس صورت میں تشہد میں پڑھی جانی والی دعا''ارفع درجتہ'' یا یہ کہ ''بلنددرجہ پر پہنچا ہے ''کا سبب کیا ہے ؟

جواب: مذکورہ دعااوراسی طرح صلوات اس عطیہ کا سوال ہے جوخدائے متعال کی طرف سے قطعی طور پر ملنے والا ہے اور حقیقت میں خدائے تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حبیب پر کی گئی عنایت کے سلسلہ میں راضی ہونے اور دلی خوشحالی کا اظہار ہے ۔

گز شتہ سوالات کے مجدد جواب

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

آپ کا دوسراخط ملا۔یاد آوری کے لئے بہت بہت شکریہ ۔ارسال کئے گئے جوابات کے بارے میں فرمایاہے کہ وہ نامکمل ہیں ،لگتا ہے جواب کے متن پر دقت سے غور نہیں کیا گیا ہے :

١۔آپ نے لکھا ہے :''مجّردات کا ثبوت گمراہ جوانوں کے لئے چاہتے ہیں جو خدا کے منکر ہیں اور ماورائے طبیعت کے قائل نہیں ہیں اور خط میں جو دلیل ذکر کی گئی ہے وہ وجود خدا کی فرعی دلیل ہے اور کارآمد نہیں ہے ۔''

یہ مسئلہ ،ایک فلسفی مسئلہ ہے اور مختلف طریقوں سے ثابت ہوا ہے اور جو کچھ خط میں ذ کر کیا گیا تھا یہ ہے کہ صورت علمیہ ّکے تجرّدکو اس راہ سے کہ عمومی مادہ کی خصوصتیں(تغیر،زمان اور مکان )نہیں رکھتا ہے ثابت کریں اور اس کے بعد انسانی نفس کے تجرّدکو اس راہ سے کہ بدون تغیّرانسان کے لئے مشہود ہے اور یہ کہ علمیہ صورت اس سے قائم ہے ،ثابت کریں اور اس کے بعدنفس مجرّدہ کی علّت فاعلی کے تجرّدکو اس راہ سے ثابت کریں کہ علت کو وجود کی حالت میں قوی طورپر معلول سے ہو نا چاہئے اور اضعف امر مادی وجوداًمجرّد ہے ۔

مذکورہ برہان ایک مکمل برہان ہے اور واجب الوجود کو ثابت کر نے میں کسی قسم کی کمی نہیں رکھتا ہے ،چونکہ مقصد یہ ہے یہ مسئلہ ناواقف افراد کو سمجھایا جائے ،اس لئے اس کا بیان کسی حدتک سادہ اور عام فہم ہو نا چاہئے ۔

٢۔آپ نے لکھاہے :''خط میں ،ختم نبوت کے بارے میں ذکر کیا گیا عقلی برہان اچھا ہے ،لیکن مذکورہ ذکر کی گئی قرآنی آیات دلالت نہیں کرتی ہیں شریعت ناسخ ''یاتیہ الحق من خلفہ''ہے نہ''یاتیہ الباطل''۔

باطل کا مطلب ایک قرآنی حکم ہے کہ جو ناسخ شریعت کے ذریعہ منسوخ اور باطل ہو تا ہے اور نتیجہ کے طورپر ایک باطل حکم قرآن مجید میں داخل ہوتا ہے نہ ناسخ شریعت جوبالفرض حق ہوگی نہ باطل ۔

٣۔آپ نے لکھاہے :''تشریع''کامطلب ،معصیت و خطا کے بغیرحکم پہنچانا ہے اور یہ امر مبلغ کی عدالت سے بھی انجام پاتا ہے ،اور عصمت کی ضرورت نہیں ہے اور جوکچھ تکوینی ہے اصل شریعت کو جعل کرنا اور تبلیغ ہے نہ اس کے جزئیات اور رات کے وقت پیغمبر کی اپنے عیال کے ساتھ یک مخفیانہ غیبت ہر گز جزء تکوینی اور احکام کی تبلیغ نہیں ہے ۔

تکوین کا مطلب مر حلہ ایجاد اور وجود خارجی ہے ۔اگر خارج میں موجودانسان خدائے متعا ل کے اردائہ تکوینی سے متعلق ہو ،توضروری طور پر اس کے وجودی آثار،اس کا وجودی مقصد اور مقصد کی طرف اس کا راستہ سب کے سب تکوینی ہوںگے ،پھر یہ کہنا معقول نہیں ہے کہ اصل خلقت تکوینی ہے اوراصل شریعت تکوینی ہے ،لیکن حکم پہنچنے کے مصادیق اور اس کی تبلیغ وضعی اورقراردادی اور غیر تکوینی ہیں اس کے مانند کہ کہا جائے اصل تغذیہ انسان کے لئے تکوینی طورپر مقدر ہوا ہے ،لیکن تغذیہ کے مصادیق اورغذا سب وہمی اور خیالی ہیں ۔یایہ کہا جائے کہ مبلغ کا قول و فعل اور تبلیغ اصل ہے ،لیکن اس کے مصادیق تبلیغ نہیں ہیں اور ممکن ہے مبلغ تمام ان احکام میں خلاف ورزی کر کے گناہان کبیرہ وصغیرہ کا مر تکب ہو جائے جن کے بارے میں اسے تبلیغ کرنی چاہئے ،کیو نکہ عدالت،معصیت انجام پانے کو محال نہیں بناتی ۔

اوریہ جو آپ نے خط میں لکھا ہے :''پیغمبر کی اپنے عیال کے ساتھ شبانہ غیبت تبلیغ نہیں ہے،مضر بھی نہیں ہے ۔''بہت عجیب ہے!کیا پیغمبر کی بیوی پیغمبر کی امت کا جزو نہیں ہے اور اسے تبلیغ کی ضرورت نہیں ہے یا پیغمبر کی بیوی اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق ہے ؟یا یہ کہ اگر بڑی معصیت کا مخفیانہ ارتکاب ایک یا دوافراد سے انجام پائے تو تبلیغ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر علنی انجام پائے تو تبلیغ ہے ؟مختصریہ کہ نبی میں عصمت کے بجائے عدالت کا اعتبار لازم وملزوم ہے ۔قولاًاورفعلاًنبی سے کبیرہ وصغیرہ معصیت کا انجام پانا جائز ہو نے کی صورت میں تمام احکام میں خلاف ورزی جائز ہو گی اور یہ مطلب تکوین کی بنیاد سے اختلاف رکھتا ہے ۔

٤۔آپ نے لکھا ہے :تشہد میں ''ارفع درجتہ''کا لفظ واضح طور پر دعااور ارتقاء کے خلاف ہے ۔

خدائے متعال نے کمال امکان کا آخری درجہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کر کے ا سے ختم فرمایا ہے ،اس کے باوجود اس کی لامتنا ہی قدرت محدود نہیں ہوئی ہے اور اگر وہ چاہے تو عطا کی ہوئی چیز کو واپس بھی لے سکتا ہے ۔

( قل فمن یملک من اللّه شیئاً ان اراد ان یهلک المسیح ابن مریم وامّه ومَن في الارض جمیعا )

(مائدہ ١٧)

'' ...پیغمبر!آپ ان سے کہئے کہ پھر خدا کے مقابلہ میں کون کسی امر کا صاحب اختیار ہو گا اگر وہ مسیح ابن مر یم اور ان کی ماں اورسارے اہل زمین کو مار ڈالنا چاہے ...''

اس بناء پر، ،دعا فیض کو جاری ر کھنے کے لئے ہے اور حتمی امر کے پھیلائوکے لئے دعاکرنا مناسب ہے اور دعا واضح طور پر عیب اور کوتاہی میں ہے لیکن ہماری بحث میں عیب وہی ذاتی امکان فقر وحاجت ہے نہ بالفعل عیب ۔

٥۔ولایت کی شہادت''علی ول الٰلّہ''میں لفظی اضافہ نہیں ہے اور اس کا یہ معنی ہے کہ وہ ایک ایسا ولی ہے کہ خدا نے اسے ولی قراردیا ہے ۔


یونانی فلسفہ کے ترجمہ کا مقصد

سوال:کیا یونانی فلسفہ ''الٰھیات''جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی چند صدیاں گزرنے کے بعد یونانی کتا بوں کے عربی میں ترجمہ کئے جانے کے نتیجہ میں مسلمانوں کے معاشرہ میں داخل ہوا ،صرف اس لئے تھا کہ مسلمان بیرونی ممالک کے علوم سے آشنا ہو جائیں یایہ کہ لوگوں کو اہل بیت رسولکی طرف رجوع کرنے سے روکنے کا ایک بہانہ تھا ؟

جواب:دوسری اورتیسری صدی ہجری میں نہ صرف یونانی الٰہیات کا عربی میں تر جمہ ہوا ہے بلکہ بہت سے علوم ،جیسے :منطق، علوم طبیعی ،علوم ریاضی اور طب وغیرہ بھی یونانی ،سر یانی اور دوسری زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ہیں ،لہذا جبکہ پہلی صدی ہجری میں خلفائے وقت کے حکم سے قرآن مجید کے لکھے جانے کے علاوہ ہر چیز،حتی حدیث اورتفسیر لکھنے پر بھی زبردست ممانعت تھی ،تاریخ شاہد ہے کہ،بہت سی کتابیں (اطلاع کے مطابق تقریباًدوسو کتابیں )ا س وقت کی دنیا میں مختلف علوم کے بارے میں رائج تھیں ،تر جمہ ہوئی ہیں ۔ظاہراً یہ کام ملت اسلامیہ کی بنیادوں کو مستحکم بنانے اور دینی مقاصد کو عملی صورت دینے کی غرض سے انجام پایا ہے ،چنانچہ قرآن مجید خلقت کے تمام ابعاد،آسمانی اورزمینی مخلوقات اور انسان و حیوان کے بارے میں تعقل وتفکرکرنے کی تاکید کرتا ہے اور اس کے مطابق مسلمانوں کو مختلف علوم کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئے ۔

اسی دوران ،وقت کی حکومتیں ائمہ ھدیٰ کو ـ جن سے وہ دوری اختیارکر چکے تھے ـ ہر طریقے سے سر کوب کرنے اور لوگوں کو ان کے علوم سے استفادہ نہ کرنے اور ان کی طرف رجوع کرنے سے روکنے کے لئے کوئی کسر باقی نہ رکھی ہے اس کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ الٰہیات کا ترجمہ اہل بیت علیہم السلام کے گھر کو بند کر نے کے لئے انجام دیا گیا تھا ۔

لیکن کیا وقت کی حکومتوں کے الٰہیات کے ترجمہ اور ترویج سے نا جائز فائدہ اٹھانے کا یہ مقصود،ہمیں ان بحثوں سے بے نیاز کر کے اس امر کا سبب بن سکتا ہے کہ ہم اس کام سے پرہیز کریں ؟

خودالٰہیات ،محض عقلی بحثوں کا ایک مجمو عہ ہے جن کا نتیجہ صانع ،اس کا واجب الوجود ،وحدانیت اور اس کے دیگر صفات کمال کو ثابت کرنا اور نبوت ومعادسے اس کے وجود کی ضرورت کو ثابت کرنا ہے ۔اور یہ ایسے مسائل ہیں جو ''اصول دین '' کے نام پر ابتدا ء میں عقل کی راہ سے ثابت ہونے چاہئیں جب تک کتاب وسنت کی تفصیلی دلیل حاصل ہو جائے ،ورنہ کتاب وسنت کی حجت کا کتاب وسنت سے ہی استدلال کرنا گردشی اور باطل ہے ۔حتی جو مسائل اصول دین کے بارے میں ،جیسے وجود خدا ،وحدانیت اور اس کی ربوبیت کے سلسلہ میں کتاب وسنت میں بیان ہوئے ہیں ،ان سب کاعقل سے استدلال کیاگیا ہے ۔

یونانی فلسفہ سے اسلامی معارف کی بے نیازی

سوال: کیا یونانی فلسفہ (الٰہیات)جو کچھ اپنے ہمراہ لایا ہے ،اسلام کے متن اورمعصومین علیہم السلام کی فرمائشات میں موجودہے یانہیں ؟چنانچہ اگر وہ مطالب موجودہیں توفلسفہ کی کیا ضرورت ہے اور اگر موجود نہیں ہیں تو معلوم ہواکہ یونانی فلسفہ معارف اسلامی کے مکمل ہونے کا سبب بناہے ؟!

جواب:دینی بیانات اور کتاب وسنت کے مشتملات میں تمام ا عتقادی و عملی معارف اجمالاًیا تفصیلاًموجود ہیں ،لیکن اس کے پیش نظر کہ دین کے مخاطب دنیا کے تمام لوگ ،مشمول عالم وجاہل ،ذہین اور کندذہن ،شہری اور دیہاتی اور مردو زن ہیں اس لئے دین ایک ایسی زبان سے گفتگو کرتا ہے تاکہ ہر ذہن ـان کے درمیان موجوداختلاف کے باوجود ـاپنی ظرفیت کے مطابق اس سے استفادہ کرسکے ۔اس صورت میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ان ہی معارف کے بارے میں بلند سطح میں بحث کر کے ،ان کے عالی افہام سے مخصوص مطالب کو حاصل کر کے انھیں استخراج کر سکتے ہیں اور مطالب کو تر تیب دینے اور مسائل کو منظم کر کے اصطلاحات کے ایک سلسلہ کو وضع کر نے کے علاوہ کوئی چارہ اور گریز نہیں ہے ۔

لہذاکتاب وسنت کے متن میں الٰہیات کے مسائل اور معارف کا موجودہو نا، ان مسائل کے بارے میں عالی سطح پر ایک خاص علم کو وضع کر نے سے بے نیاز نہیں بن سکتا ہے ،کیونکہ دوسرے علوم میں بھی یہی حالت ہے ،مثلاًعلم کلام ایک ایسا علم ہے کہ اس کے مسائل کتاب وسنت میں موجود ہیں ،جبکہ مستقل طور پر اور الگ سے بھی منظم کئے گئے ہیں اور ان مسائل کا کتاب وسنت میں موجود ہونا انھیں الگ سے منظم کئے جانے سے بے نیاز نہیں کرتا ۔

اوریہ کہ سوال میں کہا گیا ہے :''اگر الٰہیات کے بعض مسائل کتاب وسنت کے متن میں موجود نہ ہوں تومعلوم ہوتا ہے کہ یونانی فلسفہ معارف اسلامی کو مکمل کرتا ہے !''یعنی اسلام ناقص ہے اور اس کے نواقص کو فلسفہ دور کرتا ہے ،یہ ایک اشتباہ ہے ،اس دلیل سے کہ ہم اسلام کے حقیقی معارف میں سے حتی ایک مسئلہ کو بھی منطق کی مدد کے بغیر ثابت نہیں کرسکتے ہیں ،جب کہ کتاب وسنت کے متن میں منطقی مسائل ذکر نہیں ہوئے ہیں اور اسی طرح دین کے فرعی مسائل (احکام) میں سے حتی ایک مسئلہ کو بھی علم اصول سے استفادہ کئے بغیر استنباط نہیں کرسکتے ہیں ،جبکہ کتاب وسنت کے متن میں اس وسیع علم کا کہیں نام ونشان تک نہیں ہے ،معارف اسلامی کے سلسلہ میں منطق اور فقہی مسائل کے بارے میں علم اصول کاطریقہ ہے اور طریقہ ،مکمل اورتکمیل میں فرق ہے ۔

عصر ملاصدرا میں فلسفہ کا عروج

سوال:صدیوں بعد شیعوں کی پائدار کوششوںکے نتیجہ میں فلسفہ(ملاصدراشیرازی کے زمانہ میں)عروج تک پہنچا ،کیا جوکچھ مرحوم ملاصدرا نے اپنی کتاب ''اسفار''میں لکھا ہے ،اسے آیات وروایات کے متون سے ثابت کیا جا سکتا ہے یایہ کہ آیات وروایات کو صرف اس پر منطبق کیا جاسکتا ہے ؟

جواب :یہ جو ہم کہتے ہیں :فلسفہ اپنے عروج تک پہنچا ہے ،اس کا یہ معنی ہے کہ حا لیہ فلسفی مباحث گزشتہ بحثوں کے مقابلہ میں حقیقت کے معارف کے مناسب ایک عالی سطح پرقرار پائے ہیں ،نہ یہ کہ فلسفی کتابوں کے مضامین جیسے ''اسفار''''منظومہ'' وغیرہ حقیقی متن ،وحی منزل اور ہر خطا اور اشتباہ سے پاک ہوں ،ایسا نہیں ہے بلکہ مذکورہ کتابیں چونکہ صحیح ہیں ممکن ہے ان میں غلطی بھی ہو ۔بہر حال محقّق برہان ہے نہ صاحبان سخن کی شخصیت۔

قرآن مجیداورکلام معصومین (ع)سے حکماء اورفلاسفہ کے بیان کارابطہ

سوال: اگرفلسفہ،(الٰہیات)کاآیات اورروایات سے تعبیر میں اختلاف کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے تو پروردگاراورائمہ اطہارعلیہم السلام نے جو کچھ تعبیر کے طور پرفرمایا ہے وہ کامل واکمل ہے ،پھرحکماء اورفلا سفہ کی تعبیرات کی کیاضرورت ہے؟

جواب:اگرہم یہ کہیں کہ فلسفہ اورآیات وروایات میں تعبیر میں اختلاف کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے ،تومطلب (جیسا کہ دوسرے سوال کے جواب میںکہا گیا )یہ ہے کہ کتاب وسنت میں پائے جانے والے حقیقی معارف فنّی اور علمی اصطلاحات کی زبان میں عقلی بحثوں کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں اور ان دومرحلوں کے درمیان فرق وہی عمومی اور سادہ زبان اور فنّی اور خصوصی زبان کا فرق ہے ،نہ یہ کہ دینی بیانات فصیح وبلیغ ترہیں ۔

فلاسفہ کی مذمت میں موجودہ روایتوں کی توجیہ

سوال: جوروایتیں اہل فلسفہ کی مذمت میں خاص کر آخرالزمان کے دورہ کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ،چنانچہ احادیث کی کتابوں،جیسے ''بحارالانوار''،اور''حدیقة الشیعہ'' میں لکھاگیا ہے ،کن لوگوںکے بارے میں ہیںاور ان روایتوں کا مقصودکیا ہے؟

جواب:دو تین روایتیں جو بعض کتابوں میں آخری الزمان میں اہل فلسفہ کی مذ مت میں نقل ہوئی ہیں،صحیح ہو نے کی صورت میں اہل فلسفہ کی مذمت میں ہیں نہ خودفلسفہ کی مذمت میں ۔چنانچہ بعض روایتیں آخر الزمان کے فقہا کی مذمت میں بھی نقل ہوئی ہیں وہ فقہا کی مذمت میں ہیں نہ فقہ اسلامی کی مذمت میں ۔اسی طرح بعض روایتیں آخر الزمان کے اہل اسلام اور اہل قرآن کی مذمت میں نقل ہوئی ہیں:

''لایبقیٰ من الاسلام الا اسمه ولا من القرآن الا اسمه'' (۱)

یہ روایت خود اسلام اور قرآن کی مذمت میں نہیں ہے ۔

اگر یہ روایتیں خبر واحدظنّی ہو تیں تو خود فلسفہ کے بارے میں ہو تیں ،اور فلسفی مسائل (جیسا کہ دوسرے سوال کے جواب میں بیان ہوا)مضمون کے لحاظ سے وہی مسائل ہیں جو کتاب وسنت میں درج ہیں ،یہ مذمت بالکل کتاب وسنت کی مذمت کے مانند تھی ،اس لئے ان مسا ئل کو جبری طور پرتسلیم کئے بغیر آزاد استدلال میں شامل کیاگیا ہے ۔اصولاً کیسے ممکن ہے کہ ایک خبر ظنّی ایک قطعی و یقینی بر ہان کے مقا بلہ میں آکر اسے باطل کرے ؟!

تہذیب اخلاق کا شیوہ

سوال :امیرلمومنین علیہ السلام کے زمانہ میں اجتماعی ردعمل کی بنا پر حضرت کے شیعہ دوگرہوں میں تقسیم ہوئے ہیں:

پہلاگروہ ،وہ لوگ ہیں جواجتماعی شور وغوغا اور کشمکشوں سے دور رہ کرصرف اپنی

اصلاح اور تہذیب نفس میں لگ گئے (اویس قرنی اور کمیل وغیرہ کے مانند)یہاں تک حضرت کے رکاب میں شہید ہوئے یاکسی دوسرے کے ہاتھوں قتل ہوئے اور بالآخراس دنیا سے رخصت ہوئے ۔

دوسراگروہ،وہ لوگ تھے جو پہلے گروہ کے بر خلاف ،اجتماعی پکڑ دھکڑ اور کشمکشوں میں داخل ہوئے اور ہر جگہ سر گرم تھے،جیسے: مالک اشتر وغیرہ۔

حالیہ صدیوں کے دوران بھی یہ دو گروہ موجود تھے ۔پہلے گروہ سے مرحوم حاج ملا حسین علی ہمدانی اور اس کے خاص شاگرد وں اور دوسرے گروہ سے مرحوم آقاشیخ محمدحسین کاشف الغطا اور سید شرف الدین جبلی عاملی کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا تہذیب اخلاق معاشرہ کے اندر ممکن ہے یااس کے لئے گوشہ نشینی اور تنہائی اختیار کرنا ضروری ہے ؟ان دو روشوں میں سے کس روش کی اسلام اور اس کے پیشوا تائید کرتے ہیں اور اسلام کے بلند مقاصد کی ترقی کے لئے موثرہے؟

جواب:جو کچھ کتاب وسنت سے حاصل ہوتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اسلام مکمل خداشناسی اور مخلصانہ بندگی چاہتا ہے ،اس طرح کہ انسان خدائے متعال کے علاوہ کسی سے تعلق نہ رکھتا ہو۔اس کمال اور ارتقاء سے جو کچھ ممکن ہے وہ مطلوب ہے ،کم ہو یا زیاد:

( اتّقوّااللّه حق تقاته )

(آل عمران ١٠٢)

''...اس طرح ڈرو جو ڈرنے کاحق ہے...''

اور:

( ففرّوا الی اللّٰه انى لکم منه نذیر مبین )

(ذاریات٥٠)

'' لہذااب خدا کی طرف دوڑ پڑو کہ میں کھلا ہوا ڈرا نے والا ہوں ۔''

اسلام ایک اجتماعی دین ہے جس نے رہبانیت اور گوشہ نشینی کو منسوخ کردیا ہے جو لوگ تہذیب نفس ،ایمان کی تکمیل اور خداشناسی میں مشغول ہیں ،انھیں کمال کو اجتماع کے متن میں دوسروں کی مشارکت سے حاصل کرنا چاہئے ۔ائمہ ھدی ٰعلیہم السلام کی تر بیت یافتہ لوگ بھی صدر اسلام میں اسی رویہ پر کار بند تھے ۔سلمان ،جو ایمان کے دسویں درجہ پر فائز تھے ،مدائن میں حکومت کرتے تھے اور اویس قر نی ،جو کمال وتقویٰ کی ضرب المثل بن چکے تھے ،نے جنگ صفین میں شرکت کی اور امیرالمومنین کے رکاب میں شہید ہوئے۔

خلقت عالم کی کیفیت

سوال:چونکہ خدائے متعال کا وجودلامحدود ہے اور عالم محدود کو خلق کر نے سے پہلے ہر جگہ موجود تھا ،پس کائنات کو کیسے پیدا کیا ؟کیا اپنے وجود کے اندر کہ نا ممکن ہے؟اور اگر اپنے وجوداقدس سے باہر تھا تو اس صورت میں لازم ہوتا ہے کہ خود اس کائنات کے ساتھ نہ ہو یا یہ کہ خود ـ نعوذ باللہ ـ ععین مخلو قات ہے ، یہ وہی فاسد عقیدہ (وحدت وجود)ہے ،پس خدائے متعال نے کائنات کو کیسے پیدا کیا تا کہ اس کے مقدس وجود کے ساتھ تضاد نہ ہو ؟

جواب :بنیادی طور پر سوال کو غلط صورت میں پیش کیاگیا ہے ۔مثلاً سوال کے مقدمہ میں کہا گیا ہے :''خدائے متعا ل کا وجود لامحدود ہے اور ہر جگہ پر تھا''،جبکہ سب سے پہلے:خلق کر نے سے پہلے نہ''جگہ''کا کوئی معنی ہے اور نہ ''ہر جگہ'' کا دوسرے یہ کہ خدا کا ہر جگہ پر ہو نا ،اس کے وجودکے لامحدودہو نے سے ماخوذ ہوا ہے ،یعنی خداکا وجودایک لامتناہی جسم فرض کیاگیا ہے جو مطلق مکان میں پھیل گیا ہے اور دوسروں کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رکھی ہے ،جبکہ خدائے متعال کا وجود مادّہ ،جسم اور حجم سے منّزہ و پاک ہے ۔

لہذا ،اس کے لئے نہ کسی مکان کا فرض کیا جاسکتا ہے اور نہ زمان کا ۔اس کاوجود داخل اور خارج سے بھی منّزہ ہے ...نہ کسی چیز میں داخل ہو تا ہے اور نہ کسی چیز سے خارج ،کیونکہ یہ سب چیزیں جسمانی عوارض سے مر بوط ہیں اس لحاظ سے مخلو قات نہ خدا کے داخل اور نہ خارج ہیں اور نہ خدا عین مخلوقات ہے ،کیونکہ وہ پروردگار ہے اورمخلوقات اس کی پیدا کی گئی ہیں اور پروردگارغیر از مخلوق ہے اور خدا کے وجود کا لامحددودہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی بھی قید وشرط کے بغیر اور ہر فرض وقدرت میں موجودہے ۔خد ا کا مخلوق کے ساتھ ہو نے کا معنی اس کے علم ،قدرت اور مشیت کا مخلوق پر احاطہ ہے ،نہ قرب مکانی

نبوت پرامامت کی برتری کا معیار

سوال: مقام امامت کو رسالت اور نبوت پر کیا فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابرھیم علیہ السلام پر منت رکھتا ہے کہ امتحان کے ختم ہونے پر انھیں امام قرار دیا؟اور اگر مقام امامت نبوت سے برتر ہے تو حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام ،مسلمانوں کے اتفاق نظر کے مطابق کیسے مفضول اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاضل ہیں؟مختصر یہ کہ ''امامت''کی ''نبوت''پر برتری کو بیان فرمایئے؟

جواب:خدائے متعال نے یہ جملہ :( انى جاعلک للناس اماماً ) (بقرہ ١٢٤)

''ہم تم کو لوگوں کاامام اور قائد بنا رہے ہیں ''

اس وقت حضرت ابراھیم علیہ السلام کو فرمایا جبکہ وہ مسلّم نبی ، رسول اور اولوالعزم نبیوں میں سے صاحب شریعت ا ورصاحب کتاب تھے مزید قدرتی طور پر نبوّت ورسالت کے ہمراہ ہدایت و دعوت کی ذمہ داری بھی رکھتے تھے اور خدائے متعال نے چند جگہوں پر اپنے کلام میں امام کی توصیف میں فرمایا:( ائمة یهدون بامرنا ) (انبیاء ٧٣)

''...پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں ''

اور ہدایت کی صفت کو ''امام''کا معرّف قرار دیاہے ۔

یہاں پر معلوم ہوتاہے کہ امام کی ہدایت،نبی کی ہدایت کے علاوہ ہے اور مسلّم طور پر نبی کی ہدایت دعوت اور تبلیغ ہے اور ہدایت کی اصطلاح راستہ دکھانے اور راہنمائی کر نے کا معنی ہے ۔اس لئے ہدایت کو امام میں مطلوب تک پہنچانے کے معنی میں لینا چاہئے۔پس امام،چونکہ معارف اور احکام کو بیان کرنے کی ذمہ داری رکھتا ہے اور اعمال کو ادارہ کرنے کی مسئولیت بھی رکھتا ہے ،اور اشخاص کی باطنی نشو ونما ،اعمال کو خدا کی طرف ہدایت کرنا اور انھیں مقاصد تک پہنچانا بھی امام کا کام ہے ۔چنانچہ لوگوں کے اعمال امام کے سامنے پیش کرنے،ہر شخص کے موت کے وقت امام کے پہنچنے،قیامت کے دن لوگوں کو اپنے امام کے ساتھ بلانے،نامہ اعمال کی تقسیم اور حساب کا امام کی طر ف رجوع سے متعلق روایتیں اس مطلب کی دلالت کرتی ہیں ۔

شیعوں کے عقیدہ کے مطابق،زمین کسی بھی وقت امام سے خالی نہیں ہوتی ہے اور اس لحاظ سے ،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی اور رسول ہو نے کے علاوہ اپنے زمانہ میں امام بھی تھے اور نبوت،رسالت اور امامت کے نتیجہ میں حضرت علی علیہ السلام سے افضل ہیں ،چنانچہ امت کا اجماع و اتفاق بھی اسی کی دلالت کرتا ہے ۔

__________________

١۔بحارالانوار٣٨٤٣٦،ترجمہ :اسلام کے نام کے بغیراور قرآن کے نام کے بغیرکچھ باقی نہ بچے گا


خدائے متعال،خالق موجودات

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں :تمام موجودات اورہستی نے خدائے متعال سے سرچشمہ لیا ہے ،لہذا کلی طور پرسب مخلو قات خدا کی وحدت وجودکے زمینہ میں ہیں ،لیکن ہم ہستی کو مختلف صورتوں میں پاتے ہیں ،مثلاً بعض کو درخت،پتھرآدم وغیرہ کی صورت میں دیکھتے ہیں ،اس مسئلہ کے بارے میں آپ کا جواب کیا ہے ؟

جواب: جو برہان واستدلال کا ئنات کے لئے خدا کو ثابت کرتے ہیں ،وہ کائنات کو خدا کا ''فعل''اور خدا کو کائنات کا ''فاعل''کے طور پرتعارف کراتے ہیں اور بدیہی ہے کہ فعل فاعل کے علاوہ ہوناچاہئے اور اگرفعل عین فاعل ہو تو،شئے''فاعل''اپنے وجود''فعل''سے پہلے موجود ہونی چاہے ،لہذاکائنات خد اکے علاوہ ہے اور اس بناء پر یہ جو کہا گیا ہے :''کلی طور پر سب چیزیں خدا کی و حدت وجود کے زمینہ میں ہیں ''...غلط ہے

کیا مخلوقات،وہم وخیال ہیں ؟

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم دیکھتے اور تصور کرتے ہیں جیسے: پتھر،درخت اور انسان،یہ سب وہم وگمان ہیں بلکہ خود ہماراوجودبھی ایک خیال ہے ،مہر بانی کر کے اس سوال کا جواب بیان فرمائیے ۔

جواب:جو یہ کہتا ہے : جو کچھ ہم دیکھتے یا تصور کرتے ہیں وہ وہم وخیال ہیں اگر وہ اس بات کو سجیدگی کے ساتھ کہتا ہے ،تو اس کے بقول ،خود اس کی یہ بات کہ''سب چیزیں خیال ہیں''وہم وخیال ہے اور اس کی کوئی قدر ومنزلت نہیں ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے ۔

جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں انھیں سوفسطائی کہا جاتا ہے یہ لوگ یا تو نفسیاتی بیمار ہیں یابد نیتی کی بنا پر مغالطہ کرتے ہیں ورنہ جس انسان کی فکر صحیح وسالم ہو اور بدنیتی بھی نہ رکھتا ہو اور کائنات کی خلقت کے بارے میں حقیقت پسند ہو تو وہ حقیقت کا قائل ہو گا ۔یہی کائنات کو وہم وخیال جاننے والے لوگ اپنے لئے اچھی زندگی کو تر تیب دے کر بھوک کے وقت روٹی کے پیچھے دوڑتے ہیں اور پیاس کے وقت پانی کی تلاش کرتے ہیں اور اس وقت یہ نہیں کہتے ہیں کہ روٹی اور پانی وہم وخیال ہے ۔

سوال:فرض کریں اگر یہ سب خیال نہ ہو ،تو خدا ان سب کے اندر داخل ہوا ہے !

آپ کا جواب کیا ہو گا؟

جواب:جس طرح پہلے سوا ل کے جواب میں بتایا گیا ہے یہ بات بھی استدلال کے خلاف ہے اور کوئی منطقی دلیل نہیں رکھتی ہے ۔

ذات باری تعالےٰ کاکنہ کیا ہے ؟

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں :ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ذات خدا کی کنہ اوراصلی خودہم ہیں اور یہ عبارت :''خدانے ہمیں عدم سے وجودمیں لایا ہے '' کوئی مفہوم و دلیل نہیں رکھتی ،اصلاًپوراوجودصرف وہی ہے اور اس کی دوسری کوئی صورت نہیں ہے اگر چہ ہم اشیاء کو ظاہری طور پر متنوّع اور متغیّردیکھتے ہیں ؟آپ کاجواب کیا ہے ؟

جواب: یہ بات بھی ایک بے دلیل بات اور فاقد برہان دعویٰ ہے ۔ایسے لوگوں کا فہم جو بھی ہو انہی کے لئے حجت ہے دوسروں کے لئے نہیں اور دلیل کے بغیردعویٰ کی کوئی قیمت واہمیت نہیں ہے ۔

ہوالاوّل والآخر کے بارے میں صوفیوں کانظریہ

سوال:صوفی کہتے ہیں:سورہ حدیدمیں ''ھوالاول والآخر'' کا مقصودحضرت علی علیہ السلام ہیں ،چنانچہ مر حوم علامہ مجلسی نے بھی بحارالانور کی آٹھویں جلد میں ایسا ہی نقل کیاہے اور یہی زمینہ اشتباہات کو وسیع تر کرتا ہے ۔اس بنا پر اگر ہم مذکورہ دعویٰ کو جھٹلا دیں تو ہم نے علامہ مجلسی کی بات کو ردکیا ہے ،کیونکہ خداکی طرف پلٹنے والے ضمائر قرآن مجید میں بہت ہیں ،مثلاً:

( فهو یهدین ) (شعرائ٧٨)

( فهویشفین ) (شعرائ٨٠)

( وهو الّذی فالسّماء الٰه وفى الارض الٰه وهو الحکیم العلیم ) (زخرف٦٤)

( هوالعلّ الکبیر ) (حج٦٢)

( الحّي الّذی لایموت ) (فرقان٥٨)

اور اس طرح کے ضمائر قرآن مجید میں بسیار ہیں ،ہم کیسے سمجھ لیں گے کہ ان ضمائر کا مرجع علی علیہ السلام نہیں ہوں گے جبکہ ان آیات کا سیاق، ان ضمائر کے مر جع کو خدا بتاتا ہے ۔

جواب:جو کچھ روایت میں آیا ہے یہ ہے کہ علی علیہ السلام اول وآخر ہیں اور ایک دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ علی علیہ السلام کے اول وآخرہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے اورآخری شخص ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوئے اور یہ وہ وقت تھا جب آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر کوقبر شریف میں رکھ کر باہر آئے ۔

سورہ حدید کے اول کے بارے میں ظاہر سیاق یہ بتاتا ہے کہ ''اوّل''سے مراد وہ ہے جس کا وجودعدم سے مسبوق نہ ہو اور''آخر''سے مراد یہ ہے کہ جس کا وجودعدم سے ملحق نہ ہو اور وہ خدائے متعال ہے ،جیسا کہ فرماتا ہے:

( وانّ إلی ربّک المنتهیٰ ) (نجم٤٢)

''اور بیشک سب کی آخری منزل پروردگارکی بارگاہ ہے ''

ممکنات کی نسبت علیّت واجب

استاد اکبر،میزان المفسرین ،علامہ طباطبائی دام بقائ

عرض خدمت ہے کہ'' المیزان'' کی پندرھویں جلد کے صفحہ نمبر ١٤٩اور١٥٠ پر ''فلسفی بحث''کے عنوان سے ،بعض مسائل بیان ہوئے ہیں جن کی وجہ سے حقیر کے ذہن میں مندرجہ ذیل سوال پیدا ہوا:

سوال:واجب تعالیٰ کے ''جزء العلة''ہونے کا معنی کیسے تصور کیا جاسکتا ہے جبکہ قرآن مجید فرماتا ہے :

( لیس کمثله شیئ ) (شوریٰ١١)

''اس کاجیسا کوئی نہیں ہے ....''

جواب:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

''المیزان ''کی پندرھویں جلد طبع تہران کے صفحہ ١٤٩اور١٥٠پر کی گئی فلسفی بحث کے بارے میں آپ کاخط ملا۔اس میں واجب تعا لی کی علیّت کے ممکنات کے بارے میں دو مختلف نظریہ بیان کئے گئے ہیں کہ پہلے نظریہ کے مطابق ،واجب تعا لی علت تامہ کا جزاور دوسرے نظریہ کے اقتضا کے مطابق علت تامہ قرار پایاہے ۔

یہ دو صورتیں آپس میں متقا بل اور متنافی نہیں ہیںجس طرح عام طورپرتصور کیا جاتا ہے بلکہ دوسری صورت پہلی صورت سے د قیق تراور مکمل تر ہے ۔

انسان ابتدائی نظریہ میں ایک ضروری ادراک سے ،ممکنہ موجودات میں کثرت اور مغایرت کو درک کرتا ہے اور اس کے بعد اس کثرت کے آحاد میں وجودی وابستگی کو درک کرتا ہے جو عمومی علیّت ومعلو لیت کے قانون کی بنیاد ہے اور اس کی وجہ سے ہر ممکن الوجود موجود علّت کی ضرورت ہے اور اس کی علّت بھی اگر ممکن الوجودہو تو دوسری علّت چاہتا ہے یہاںتک کہ ایک ایسی علّت تک پہنچے جو ذاتاًواجب الوجود ہو اور علّت سے بے نیاز ہو ،بلکہ تمام ممکن علتیں بلا واسطہ (مثل صدر اول )یا بالواسطہ (مثل باقی ممکنات ) اس کی معلول ہیں، اگر چہ علّت قریب اور مباشر کے معنی میں یہ علّت تامہ اور علّت فاعلی کا جزء بھی ہے ۔

یہ ہے پہلے اورابتدائی نظریہ کے لحاظ سے اور دوسرے نظریہ کے مطابق ممکنات میں حکم فرمااوساط علّیت اور توقف وجودی کی بناپر ،ممکنات کا پورا مجموعہ واحد ہوتا ہے جس کی علت تامہ واجب تعالیٰ ہے اور ممکنات میں سے ہر ایک کا ایجاد ان سب کی ایجاد ہے ،جیسے ، تفسیر میںاس کی وضاحت کی گئی ہے ۔

البتہ واضح ہے کہ دوسرا نظریہ پہلے نظریہ کی بنیاد پر مستحکم ہے، کیونکہ پہلے نظریہ کے باطل ہو نے کی صورت میں قانون علت ومعلول کا باطل ہو نا لازم ہو گا اور نتیجہ کے طور پر اثبات صانع کا طریقہ بالکل بند ہو گا ۔واجب تعالیٰ کو علت کا جزء شمار کرنا آئیہ کریمہ :( لیس کمثله شی ) کے منافی نہیں ہے ،کیونکہ علّت کی صداقت اورغیر واجب تعالیٰ کاسبب، جب فیض کے واسطہ سے اور واجب تعالیٰ کا جعل ہو تو،امکانی علل کو واجب کے مثل ـجبکہ اس کی علّیت ذاتی واستقلال کی صورت میں ہو ـ نہیں بناتا ہے ۔چنانچہ سائر صفات کمال مانند ،حیّ ،عالم ،قادر ،سمیع،بصیر وغیرہ کی صداقت غیر واجب کی شرکت کی مستلزم نہیں ہے ، کیو نکہ ممکن میں موجودہ صفت کمالی جعل اوراضافہ واجب پر منحصر ہے اورمستقل نہیں ہے ،اس کے بر خلاف واجب تعالیٰ اپنی صفات کمال میں ذاتی طور پر مستقل اور دوسرے سے بے نیاز ہے ۔

اسی طرح آیہ کریمہ :( هل من خالق غیر الله ) (فاطر٣)کے منافی نہیں ہے اورآیہ کریمہ میں خالق سے مراد خالقیت سے مستقل خالق ہے جو خالقیت کی توصیف میں دوسروں کا محتاج نہ ہو ،کیونکہ قرآن مجید کی آیتیں خدا کے علاوہ دوسرے خالقوں کو ثابت کرتی ہیں :

( فتبارک اللّه احسن الخالقین ) (مؤمنون١٤)

( واذتخلق من الطین کهیئته الطیر بذن فتنفخ فیها فتکون طیراًبإذن ) (٣مائدہہ١١)

اور اس سیاق کے بارے میں موجود دوسری آیات۔

اس کے علاوہ قرآن مجید بہت سی آیات میں عمومی علیّت کے قانون کی تصدیق فرماتا ہے ،جیسے :

( وبدا خلق الانسٰان من طین٠ثم جعل نسله من سلا لة من ما ء مهین ) (سجدہ ٧۔٨)

''...اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ہے ۔اس کے بعد اس کی نسل کو ایک ذلیل پانی سے قراردیا ہے ۔''

اور:

( الّذی خلقکم من نفس واحدةٍ وخلق منها زوجها وبثّ منهما رجالا کثیراً ونساء ) (نسائ١)

''...جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور اس کا جو ڑا بھی اس کی جنس سے پید اکیا ہے اور پھر دونوںسے بکثرت مردوعورت دنیا میں پھیلا دئے ہیں ''

یہ تصدیق مادی ہے اور مطلقاًممکنات سے علیّت کی نفی اور واجب تعالیٰ سے اس کا حصر اشاعرہ سے منسوب ہے کہ اس کے ثبوت کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔

آپ کی خدمت میں سلام واخلاص کے ساتھ اپنے عرائض کو خاتمہ بخشتا ہوں ۔

عدم زمانی سے مسبوق مادہ کی پیدائش

سوال : مادہ کی ازلیّت ذاتی اور ذاتی طورپر سابقہ ہونے کو کس دلیل سے نفی کیا جاسکتا ہے؟

جواب: ذاتی ازلیّت اور ذاتی خدمت کی اصطلاح ایسی جگہ پر استعمال ہوتی ہے جہاں شئے کی ذات عین ہستی وجود ہو اور ایسی چیز محال ہے کہ عدم اسے قبول کرے اور نتیجہ کے طور پر شئے اپنے صفات اور حالات میں کسی قسم کی تغیر قبول نہیں کرے گی ،اور بدیہی ہے کہ مادّہ ایسا نہیں ہے ۔لیکن ظاہراًسوال میں ذاتی ازلیّت اور ذاتی خدمت وہی زمانہ کے لحاظ سے قدیم ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا مادہ (ایٹم )اپنی پیدائش میں مسبوق بہ عدم زمانی ہے یا نہیں ؟

اس سوال کا جواب مثبت ہے ،کیونکہ علوم مادی کے نظریہ کے مطابق، ایٹم انرژی میں تبدیل ہو نے اور بر عکس کی قابلیت رکھتا ہے اور ہر ایٹم انرجی کے دبے ہوئے ذرّات کا ایک مجموعہ ہے جو ایٹم کو تشکیل دیتے ہیں اور اسے وجود میں لاتے ہیں اور قہراًایٹم مسبوق بہ عدم ہو تا ہے اور اس صورت میں ،ایٹم اور انرژی کے درمیان ایک مشترک مادّہ فرض کیا جانا چاہئے جس کی خاصیت صرف صورت وفعلیّت کو قبول کرنا ہو گی اور اس بناء پر ،یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ:فعلیّت کو انجام دینے والا (صورت فاعل اور فعلیّت) فرض مادّہ ہے بلکہ یہ ایک ماورائے مادہ امر ہے اورمادہ اس فعلیت کے سایہ میں ،فعلیّت اورتحقق پاتا ہے ،لہذاہستی کا مشہود عالم ،ایک ایسے فاعل کا فعل ہے جوازلی اورثابت ورائے عالم ہے اور وہ خدائے متعال ہے ۔

ظلم کا وجود کیوں ہے ؟

سوال: سلام علیکم ،آپ کا خط ملا ،امید رکھتا ہوں آپ اس علمی جدوجہد میں کامیاب رہیں گے۔

آپ نے مرقوم فرمایا تھا:

''جس دنیا میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں ،اس میں چاروں طرف ظلم پھیلا ہوا ہے ۔انسان اور حیوان سے جس قدر ممکن ہو سکتا ہے مظلوم کو زدوکوب کرتے ہیں یا بعض افراد ظالم کے بغیر بھی مظلوم ہیں ،جیسے ایک بچے کا بیمار ہو نا ۔ہم ایک حیوا ن کو دیکھتے ہیں کہ کسی گناہ کے بغیر اپنے سے قوی تر حیوان کا شکار ہوا ہے اور اس کے ذریعہ بدترین صورت میں جان دیتا ہے ''۔

جواب : بحث میں داخل ہونے سے پہلے تمہید کے طور پر جاننا چاہئے کہ خلقت کی بنیاد علیّت ومعلولیّت پر ہے اور مادّی دنیا ایک ناقابل استثناصول کی بنا پر ادارہ ہوتا ہے نہ کہ جذبات اور احساسات پر،مثلاًآگ کی خاصیت جلانا ہے خواہ کسی پیغمبر کادامن ہو یا کسی ظالم کا لباس ۔درندہ حیوانات اور شکاری پرندے گوشت خوا ہیں جو اگر گوشت نہ کھائیں تومر جائیں گے اور یہ حق انہیں تخلیق سے ہی بدن کی ساخت اور بناوٹ کے مطابق دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی ذمہ درای نہیں رکھتے ،چنانچہ انسان بھی حیوانوں کے گوشت سے تغذیہ ہوتا ہے اور نفسیاتی طور پر کسی قسم کی مسئو لیت کا احساس نہیں کرتا ہے ۔

مذکورہ بیان کے مطابق ،ظلم (دوسروں کے حق پر تجاوز کرنے یا قوا نین کے نفاذمیں امتیاز بر تنے کے معنی میں )انسانی معاشرہ سے باہر وجود نہیں رکھتا ہے اور جن ناخوشگوار حوادث کا مشاہدہ ہو تا ہے انہیں ظلم نہیں کہنا چاہئے بلکہ یہ ایسے'' شرور''ہیں جو اپنی پیدائش کی علّت کی نسبت ''خیر'' ہوتے ہیں اور عمل کے موقع کی نسبت سے شراورعلّت ،اپنے وجودی اقتضا کے مطابق اپنی کارکردگی کا حق رکھتے ہیں ۔ایک چھ مہینے کے بچہ کی بیماری ظلم نہیں ہے بلکہ شر اور ایک محرومیت ہے جو اسباب کی پیدائش کے نتیجہ میں بیمار ی کی صورت میں پیدا ہوئی ہے، بلّی جو کتّے کے پنجوں میں پھنس کر نا گوشگوار حالت سے دوچار ہوتی ہے ،وہ شر ہے نہ کہ ظلم اور یہی بلّی چوہے کے بارے میں یہی عمل انجام دیتی ہے اور اسے جائز جانتی ہے ۔

جی ہاں !انسان اپنی زندگی کی فعالیت کو اپنی نفسانی خواہشات کے سایہ میں جذبات کی بناء پر اختیاری طور پر انجام دیتا ہے ، اسی وجہ سے وہ اپنی زندگی میں بے شماراور گونا گوں نیاز مندیاں رکھتا ہے اور تنہا زندگی بسر نہیں کرسکتا ،اس لئے وہ اجتماعی زندگی بسرکرنے پرمجبور ہے اور فطری طور پر اپنے اجتماع کو استحکام بخشنے کے لئے اس نے کچھ واجب الاطاعت قوانین کو قبول کیا ہے ،جن کی رو سے معاشر ہ کے ہر فرد کے منافع کا ،اجتماعی توازن کے مطابق، تحفظ کیا گیا ہے اور اس کے واجب الاطاعت حقوق ثبت کئے گئے ہیں ،کہ قوانین کے مطابق ان کا تحفظ ضروری اور ان قوانین کی خلاف ورزی ممنوع ہے ۔ان ہی وضعی اور قراردادی حقوق کی پائمالی کو ظلم کہا جاتا ہے اور اسے جرم شمار کیا گیا ہے ۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی شخص ناحق طور پر کسی کے ثابت حق پر جارحیت کرکے اسے پائمال کرے۔

اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کے اجتماعی ماحول سے باہر ظلم کا کوئی مصداق نہیں ہے اور بہر حال ظالم کو ظلم کر نے کا حق نہیں ہونا چاہئے ۔اس بناء پر تکوینی علّتوں کے نا خوشگوار اثرات ،جنھیں خلقت نے مجہز کر کے حق دیا ہے ،شرّ ہیں نہ ظلم۔ اور اسی طرح جب انسان ایک اہم تر حق کے لئے کسی غیر اہم حق کو پائمال کرتا ہے وہ بھی شر ہے نہ ظلم اور اسی طرح ظلم کے مقابلہ میں ظالم سے لئے جا نے والا قصاص ظالم کے لئے شرّ ہے نہ ظلم ۔

( فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیه بمثل مااعتدیٰ علیکم ) (بقرہ١٩٤)

''...لہذا جو تم پر زیادتی کرے تم بھی ویساہی برتائو کرو جیسی زیادتی اس نے کی ہے...''

اسی طرح خدا سے نسبت دی جانے والی مصیبتیںاور ناخوشگوار حوادث بھی ایسے ہی ہیں ،ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔

آپ نے لکھاتھا :ایک صاحب کہتا تھا :جب ایک چھوٹے حیوان کو ایک قوی اور بڑاحیوا ن کھاتا ہے ،تو بڑا حیوان ارتقاء پیدا کرتا ہے (یعنی کمزور حیوان کا گوشت بڑے حیوان کا جزو بن کر اسے مکمل تر کرتا ہے )بلی کا گوشت کتّے کا جزوبننا کونسا ارتقاء ہے ؟

یہ بیان ،نظری ہے فلسفی اورصحیح اوریہ نظریہ ''حرکت جوہری'' کے فروعات میں سے ہے ،لیکن چونکہ یہ مسئلہ فنّی اور وسیع ہے ،اس کو ایک یادوخطوط میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔

آپ نے مرقوم فرمایا تھا :''کہتے ہیں تمام چیزوں کا مالک خدا ہے سب اسی کی ملکیت ہے ،وہ خود جانتا ہے ،میں بھی جانتا ہوں کہ وہ خودجانتا ہے ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قرآن مجید واضح طور پر فرماتا ہے کہ خدا ہر گز ظلم نہیں کرتا ہے ''

اس مطلب کا صحیح بیان یہ ہے کہ عالم خلقت میں جو کچھ ہے اور فرض کیا جانے والاہر کمال، پروردگار عالم کی مطلق ملکیت ہے ،جزئی سے لے کرکلی تک اس کا تحفہ اوربخشش ہے ،اس کے بغیر کہ کسی بھی مخلوق کا استحقاق کی راہ سے خدا پر کوئی حق ہو جو اسے عطیہ وبخشش کے لئے مجبور کرے اور نہ کسی ایسی علت کے بارے میں فرض کیاجاسکتا ہے جس نے خدائے متعال پر اثرڈال کر اسے کسی کام کو انجام دینے یاترک کرنے پر مجبور کیا ہو اور جس حق کا بھی فرض کیا جائے اس کو جعل کرنے والا اور مالک خدا ہے ،اسی طرح خدا کی طرف سے کسی بھی مخلوق کو پہنچنے والی ہر مصیبت اور ناخوشگواری خدا کا حق ہے اور وہ مخلوق اس سلسلہ میں خدا پرکوئی حق نہیں رکھتی:

( ویفعل اللّٰه مایشاء ) (ابراھیم٢٧)

''..اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے ۔''

لہذا اصولی طور پر وہ امر ظلم نہیں ہو گا نہ یہ کہ وہ ظلم ہے اورخداسے ظلم قابل مذمت نہیں ہے ۔منتہی یہ کہ خدا کی نعمت و عطیہ ایک ایسی رحمت ہے جسے خدانازل فرماتا ہے اور عذاب ومصیبت،رحمت نازل نہ کرنا ہے جو امرعدمی ہے ،جیسا کہ فرماتا ہے:

( مایفتح اللّٰه من رحمة فلا ممسک لها وما یمسک فلا مرسل له من بعده ) ..)(فاطر٢)

''اللہ انسانوں کے لئے جو رحمت کا دروازہ کھول دے ،اس کا کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جس کو روک دے اس کا کوئی بھیجنے والا نہیں ہے۔''

بعض اوقات انسان کا ظلم اس کی اولاد میں منعکس ہو کر ظاہر ہو تاہے ،لیکن اس صورت میں بچہ کی مصیبت وہی اس کے باپ کا ظلم ہے نہ باپ کے ظلم کی سزا ۔لیکن قیامت کے دن گرفتار ہوئے حیوانات کی پاداش کے بارے میں قرآن مجید کے مطابق حیوانات کے لئے بھی روز محشر ہے :

( ومامن دابّة فی الارض ولاطٰیریطیر بجناحیه إلّا امم امثالکم ما فرّطنا فی الکتٰاب من شیٍ ثم الی ربّهم یحشرون ) (انعام٣٨)

''اورزمین میں کوئی بھی رینگنے والا یادونوں پروں سے پرواز کرنے والا طائر ایسا نہیں ہے جو اپنی جگہ پر تمہاری طرح کی جماعت نہ رکھتا ہو۔ہم نے کتا ب میں کسی شے کے بارے میںکوئی کمی نہیں کی ہے اس کے بعد سب اپنے پروردگارکی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔''

لیکن ان کے روز قیامت کے بارے میں تفصیلات بیان نہیں ہوئے ہیں۔بعض روایتوں میں ہے کہ خدائے متعال قیامت کے دن سینگ رکھنے والے حیوانوں سے بغیر سینگ والے حیوانوں کا قصاص لے گا ۔کلی طورپرکتاب وسنت سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ کائنات اور اس میں جاری نظام میں کوئی بھی واقعہ مصلحت کے بغیر نہیں ہے خواہ ہم جانیں یا نہ جانیں ۔آپ نے لکھاتھا :میرے عرائض اور ناراحتی کا خلاصہ یہ ہے ۔

١۔دنیا میں ظلم ہے اور اکثر قصاص بھی نہیں ہو تا۔

٢۔کہیں قیامت کے دن بھی ایساہی نہ ہو اور ان(حیوانات) کے لئے،جو مظلوم واقع ہوتے ہیں ،قیامت کے دن کوئی جزا نہ ہو ۔ظلم کیوں ہوتا ہے ،جبکہ اول سے ہی ظلم ایک غلط کام ہے ؟

لیکن آپ نے جو یہ فرمایا ہے : ''اکثرظلم میں قصاص نہیں ہوتا ہے ''حقیقت میں اکثر جس کو آپ نے ظلم کہا ہے ،وہ شر ہے نہ ظلم اور قصاص ظلم میں ہو تا ہے نہ مطلق شر میں ۔شرور کے بارے میں کوئی مصلحت اور حکمت ہے ۔نظام خلقت کے بارے میں عموماًیاخصوصاً اور جن مواقع میں واقعاً ظلم ہو تا ہے اور کوئی حق پائمال ہو تا ہے اگر اس کا دنیا میں قصاص ہوا تو بہتر اور اگر دنیا میں قصاص نہ ہوا توخد اکے واضح وعدوں کے مطابق آخرت میں ضرور ہو گا:

( ان اللّه لا یخلف المیعاد ) (رعد٣١)

''بیشک اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے ۔''

لیکن یہ کہ مظلوم حیوانات کے لئے قیا مت کے دن جزا ہے یا نہیں ؟خدائے متعال نے آخرت کا (یوم الّدین)(حمد٤) روز جزا نام رکھاہے اور حیوانات کے روز محشرکے بارے میں واضح طور پر ذکر فرمایا ہے اس کا ضروری پاداش ہو گا ،لیکن یہ کیسے انجام پائے گا ہمارے لئے بیان نہیں فرمایا ہے ،اسی قدرفرمایا ہے :

( لاظلم الیوم ) (غافر١٧)

''...آج کسی طرح کاظلم نہ ہو سکے گا ۔''

انسان کی شخصیت اور قیامت کادن

سوال:سائنس کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرنے اوردفن ہو نے کے بعد انسان کا بدن بعض عوامل کے تحت نائٹریٹ اور نائٹروجن میں تبدیل ہو تا ہے ،اس میں سے ایک حصہ مٹی میں جذب ہو تا ہے ،اور زراعت کے بعد یہی مواد کاشت کی گئی چیزوں میں جذب ہوتا ہے اورانسانوں کے ذریعہ انھیں استعمال کرنے کے بعد ،یہی مواد زندہ انسانوں کے نشو ونما کا سبب بنتا ہے اور اس طرح ایک نئے انسان کے بدن کے خلیوں کی بناوٹ کا سبب بنتا ہے ۔

قیامت کے دن انسان کے دوبارہ زندہ ہو نے کی صورت میں ، پہلے انسان کے بدن کو بنانے میں اس کے مواد کو کیسے پورا کیا جائے گا ؟اگر اسے اپنے پہلے مواد سے مکمل کیا جائے تو، دوسرے شخص کا بدن نقص سے دوچار ہوجائے گا ،اگر مکمل نہ ہو جائے تو پہلے شخص کا بدن نا مکمل رہے گا!

جواب: سائنسی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انسان کے بدن کے اجزاء اس کی پوری عمر کے دوران تجزیہ وتغیرات کے نتیجہ میں ہر چند سال کے بعد ایک بار سر تا پا مکمل طور پر تبدیل ہو کر پہلے اجزاء کی جگہ لیتے ہیں وراس کے باوجود یہ شخص بالکل وہی سابقہ انسان ہو تا ہے اور اس کے بدن کے اجزاء کا بدل جانا اس کی شخصیت کے بدلنے میں کوئی اثرنہیں ڈالتا ہے ۔

صاف ظاہر ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کم وبیش پچاس ،ساٹھ سال عمر کرنے کے بعد واضح طور پر مشاہدہ کرتا ہے کہ وہی انسا ن ہے جو کبھی بچہ تھا ،کبھی جوان اور اب بوڑھا ہو چکا ہے ،اور جس حقیقت کا وہ لفظ میں سے تعبیر کرتا ہے ،ہم اسے ''نفس'' کہتے ہیں ،اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے اور اپنی جگہ پر پائداراورثابت ہے اور اسی طرح جوشخص جن جرائم کو بچپن میں انجام دیتا ہے ،ان کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اسے بوڑھا پے میں سزادی جاتی ہے ۔

اس نظریہ کے مطابق انسان کی شخصیت اس کے نفس سے ہے نہ بدن سے انسان کے بدن کے مادّہ میں سے کچھ حصہ کے نابود ہو نے سے ، اسی نفس کے ساتھ تعلق کے فر ض کی بناء پر انسان کی شخصیت تبدیل نہیں ہو تی اوراگر قیامت کے دن انسان کا نفس اس کے بدن کے تغیر یافتہ اور نا بود ہو ئے اجزاء میں سے جن اجزاء سے بھی تعلق پید اکرے ،یاان میں کسی بھی قسم کی کمی ہو اور دوسرے اجزاء سے مکمل ہو جائے ،تو انسان کا بدن وہی دنیا کا بدن ہو گا اور شخص انسان وہی دنیوی انسان ہو گا ۔

محمد حسین طباطبائی


تیسراحصہ:

خلقت اورقیامت کا مسئلہ

خلقت کا مقصد کیا ہے ؟

کچھ مجہو لات ایسے ہیں جن کے وجود کے بارے میں انسان کو اپنی پیدائش اور زندگی کے ابتدائی دنوں سے اپنی خدادادعقل سے خواہ نخواہ معلوم ہوا ہے اور اپنے فطری تجسس سے ان کا حل طلب کرتے ہوئے اپنے آپ سے پو چھتا ہے :کیا اس مشہود عالم ہستی کا پیدا کرنے والا کوئی خدا ہے ؟اس کے خالق ہو نے کی صورت میں ، اس خلقت سے اس کا مقصد کیا ہے ؟کیا اس صورت میں ہم پر کوئی فریضہ اورتکلیف عائد ہو تی ہے ؟

بدیہی ہے کہ مذکورہ سوالات میں سے ہر ایک کا مثبت جواب ہو گا ۔سوال کے مشخصات ،اس کے وجود کی کیفیت ،آثار اور اس کے تحقق کی ضرورت کے بارے میں کچھ فرعی سوالات پیدا ہوں گے ـ جیسا کہ بیان ہوا ـانسان کی خداداد فطرت،فکر مند ہے اور ان کے قطعی اور منطقی حلّ کی خواہاں ہے ۔

یہ بھی واضح ہے کہ مورد سوال مسئلہ ،ابتدائی ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے جو انسانی فطرت کی توجہ کا سبب بنا ہے اور انسان کی فطرت اس کے قطعی اور منطقی حل کی ضرورت کوزندگی کے ابتدائی مر حلہ میں درک کرتی ہے ۔

سوال کی تحقیق اور اس کا تجزیہ

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ جو چیز ہمیں خلقت کے مقصد کے بارے میں سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے ،وہ یہ ہے کہ ہم ـ چنانچہ مشاہدہ کرتے ہیں ـاپنے اجتماعی اور عقلی کاموں کو اپنے ان مقاصداور آرزوئوں کوحاصل کر نے کے لئے انجام دیتے ہیں ،جو طبیعی طور پر مناسب ہوں اور ہمارے کام آئیں ۔ہم کھاتے ہیں ،تاکہ سیر ہو جائیں ،پانی پیتے ہیں تاکہ پیاس بجھے ،لباس پہنتے ہیں تاکہ سردی ور گرمی سے اپنے بدن کو محفوظ رکھ سکیں،گھر بناتے ہیں تاکہ اس میں رہائش حاصل کریں ،گفتگو کرتے ہیں تاکہ اپنے دل کی بات کو سمجھادیں

انسان، بلکہ ہر ذی شعور،جو کام عقل وشعور سے انجام دیتا ہے ،کبھی غرض اور مقصدکے بغیر نہیں ہو تا ہے اور جس کام کا کوئی فائدہ نہ ہو ،اسے انجام نہیں دیتا ہے ہمارے ارادی افعال میں اسی مقصدکا مشاہدہ اورہر فا عل کی حالت کے بارے میں اس کا قیاس، ہماری حالت کے لئے ایک اور علم ہے جو ہمیں یہ پوچھنے پر مجبور کرتا ہے :''خالق کائنات (جوایک علمی فاعل کا مصداق ہے )کا خلقت سے کیا مقصد ہے؟ '' لیکن کیا مشاہدہ کا یہی اندازہ اور قیاس اس سوال کے صحیح ہونے کی ضمانت دے سکتا ہے ؟اور کیا بعض موارد میں پائے گئے حکم اورخاصیت سے تمام موارد کو وسعت اور عمومیت دی جا سکتی ہے ؟ان سوالات کا جواب منفی ہے اور تنہا راہ حل مقصد کے معنی کا قطعی تجزیہ و تحقیق ہے ،کیونکہ استحکام اورتحقیق کے لئے اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے ۔

تغذیہ کی مثال میں بیان ہواکہ،سیر ہونے کا مقصدہمیں تغذیہ کے ذریعہ حاصل ہو تا ہے ،سیری کا تغذیہ سے ایک رابطہ ہے ،کیونکہ یہ اسی کام کا نتیجہ اور پیداوار ہے اور کھانا معدہ میں داخل ہونے کے ساتھ نظام ہاضمہ کو سر گرم کرتا ہے اوراسے نئی غذاداخل کرنے سے بے نیاز کرتا ہے اور اس کی چاہت کو پورا کرتا ہے ۔بہر حال ''سیری''تغذیہ کی ایک قسم کا اثراورمعلول ہے اور تغذیہ بھی ایک مخصوص کام اور حرکت ہے جو ہم سے شروع ہو کر اپنے اثر یعنی ''سیری'' پر منتہیٰ ہو کر خود نا بود ہو تا ہے یہی تغذیہ ہمارے ساتھ (جو فاعل ہیں )ایک اور رابطہ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے وجود کے اندر اپنی بقاء اور زندگی کو جاری رکھنے کے لئے ذخیرہ کے طور پر کوئی مواد نہیں رکھتے ہیں ،بلکہ صرف اپنی بقاء کے تحفظ کے لئے بعض سلاح،مسائل اور توانائیوں سے مسلح ہیں جن کے ذریعہ بقاء کے لئے مفید غذائیں تدریجاً حاصل کر کے انھیں اپنے وجود سے ملاکر اپنی زندگی کو جاری رکھتے ہیں ۔

یہی ہماری اندورونی توانائیاں ،جو عقل وشعور کی اٹوٹ انگ ہیں ،نیاز مندی کا احساس کرکے اپنے فطری جوش و جذبہ سے ہمیں اپنے بدن کے وسائل اور توانائیوں کو سر گرم کرنے پر مجبو رکرتی ہیں تاکہ ہم اپنی خاص حرکتوں کو انجام دے کر ضروری غذا اور مواد تک پہنچ جائیں اور اپنے وجود کی کمیوں کو پورا کریں ۔پس''سیری''جس کا تغذیہ سے ایک رابطہ تھا،ہمارے ساتھ بھی ایک رابطہ رکھتی ہے ،کیو نکہ یہ ایک کمال ہے جو ہمارے وجود کی کمی اور ہماری ضروریات کو پورا کر تا ہے اور ہماری اندرونی توانائیوں کے ساتھ جو ظہور کرتا ہے ،وہ ہمیں اسے حاصل کر نے اور اپنے آپ کو اس سے مکمل کر نے پر مجبور کر تا ہے ۔

اگر ہم اپنی بے شمار ارادی اور اختیاری سر گرمیوں ،جیسے:کھانے، پینے ،اٹھنے بیٹھنے،باتیں کرنے،سننے اورآنے جانے ....کی تحقیق کریں ،تو وہی خاصیتیں حاصل ہوںگی جو تغذیہ کی مثال کی تحقیق سے حاصل ہو ئیں ۔حتی اگر ہم ظاہراًبالکل بے غرضی میں انجام دینے والے کاموں پر توجہ کریں ،تو واضح ہوگا کہ اگر اس کام میں کوئی منافع نہ ہوتو ہم اسے انجام نہیں دیں گے ،جیسے ،صرف انسان دوستی کی وجہ سے انجام دی جانے والی نیکیاں جن میں اور کوئی مقصدنہیں ہوتا ہے اور مدد کے مانند کہ ایک بے نیاز دو لت مند ،ایک محتاج فقیر کی مدد کر تا ہے اور....ان مواقع پر ہم حقیقت میں اپنے جذباتی آرزوئوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور فقیر کی حالت کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے اندرونی جذبات کو پورا کر کے اپنے نفس کو مطمئن کرتے ہیں اور اسی طرح...

اس تحقیق سے عام ا ور کلی طور پر یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اختیاری کاموں میں ''فعل کا مقصد''ایک مناسب اثر ہے جو فعل کے آخر (فاعل کی مخصوص حر کت)میں قرار پایا ہے اور یہ فعل کی سرحد ہے اور یہ کمال ہے جو فاعل کے نقص کو دور کرکے اسے مکمل کرتا ہے ۔

البتہ ـ جیسا کہ واضح ہوا ـہم موضوع کی ابتدا ء میں غرض اور مقصدکو اختیاری فاعلوں ـجو عقل وشعور سے مسلح ہوں ـسے مخصوص اور ان کے اختیاری کام جانتے ہیں لیکن اگر تھوڑا اور سنجیدہ ہو جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ جن تمام آثار اور خاصیتوںکو ہم نے ان کے ذریعہ افعال اوراختیاری فاعلوں یعنی ''غرض'' کے لئے ثابت کیا ،کسی کمی بیشی کے بغیر طبیعی عاملوں اور ان کے طبیعی کاموں میں موجود ہیں کیونکہ ہر طبیعی عامل اور ہر مادی مرکّب بھی ایک اختیاری فاعل کے مانند کچھ توانائیوں سے مسلح ہو تا ہے جو ضرورت پوری کر نے اور اپنی طبیعت کے اقتضا کے لئے ان سے کام لیتا ہے اور اپنی مخصوص حرکت ـجو اس کا عمل ہے ـ کو انجام دے کر اپنی ضرورت کو پورا اور اپنی کمی کو دور کرتا ہے ،اور وہی چیز جو اس کی فعالیت کا اثر ہے بھی اس کی فعالیت کے ساتھ بھی بلاواسطہ اور منظم رابطہ رکھتی ہے اور خود اس کر ساتھ بھی ۔چنانچہ اختیاری فعالیتوں کے بارے میں بھی ایسا ہی تھا اور عقل وشعور کا نہ ہونا اس مقصد کے تحقق یا عدم تحقق اوراس کے فاعل سے رابطہ میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا ہے ۔

اگر چہ ہم اس موضوع کو افعال اختیار ی کے بارے میں ،جو زندہ اور باشعور فاعلوں کے ارادہ سے انجام پاتے ہیں ،''غرض ''نام رکھتے ہیں اور دوسرے طبیعی افعال میں ''غرض''کے نام سے پرہیز کر کے اسے ''غایت ''کہتے ہیں اور لفظ ''غرض''کے اطلاق کو مجازی اطلاق تصور کرتے ہیں،لیکن ان دونوں میں حقیقت امر ایک ہی ہے ،اور جوکام ایک طبیعی عامل طبیعت کے تاریک خانہ میں انجام دیتا ہے اسی کام کو ایک زندہ فاعل علم کے چراغ کی روشنی میں انجام دیتاہے ،بغیر اس کے کہ مذکورہ رابطوں میں کوئی تبدیلی آئے ۔

غرض اورآرزوکی عمومیت

مذکورہ بیان سے واضح ہوتاہے کہ عالم خلقت کے تمام اجزاء میں ''غرض''عمومیّت رکھتی ہے اور جہاںتک علیّت ،معلولیت اور دیگر کلّی قوانین حکم فرما ہیں ،ہر گزکوئی کام مقصد اور غرض کے بغیر انجام نہیں پاتا ہے اور کوئی عامل اپنی سر گرمی اور عمل میں غایت اور آرزو سے بے نیاز نہیں ہے ۔

ہر نوع سے ایک فرد کو لے لیں ،جیسے ایک انسان ،ایک کیڑا ،سیب کا ایک درخت،گندم کا ایک پودا ،لوہے کا ایک ٹکڑا ،آکسیجن کی ایک اکائی ...ہم دیکھ لیں گے کہ یہ سب چیزیں اپنے اندر سر گرم توانائیوں کی موجودگی کے ذریعہ اپنے اردگرد ماحول سے ہم آہنگ ہو کر اور اپنے ماحول کے سر گرم اجزاء سے ہم آہنگی کرکے اپنے ارتقائی مقاصدکو اپنے فائدہ میں حاصل کر نے کے لئے خصوصی حرکات انجام دیتے ہیں ،جوں ہی یہ خصوصی حرکت تمام ہوتی ہے ،حرکت کا نتیجہ ''غر ض وغایت'' کی صورت میں حرکت کی جگہ لیتا ہے ،اور متحرّک کی فطری آرزو پوری ہوتی ہے اور اس کا مطلوب کمال اس کے وجود سے ملحق ہوجاتا ہے ۔

تمام انواع، جو دنیا کے گوشہ وکنار میں بڑے بڑے خاندان کو تشکیل دے کر زندگی کر رہے ہیں ،جیسے :انسان کی نوع،گھوڑے کی نوع ،سیب کے درخت کی نوع...کی بھی یہی حالت ہے اور ہمیشہ اپنی نوع کی خصوصی سر گرمی سے اپنے مقاصداورآرزوؤں کو حاصل کر نے کی کو شش کرتے رہتے ہیں اور انھیں حاصل کر کے اپنے تکوینی نواقص کو دور کرکے اپنی بقا ء کے لئے مدد لیتے ہیں ۔

کائنات کے تمام اجزاء ـجن کے درمیان ناقابل انکار رابطہ موجود ہے ـ کے بارے میں بھی یہی حالت جاری ہے ۔

بنیادی طور پر تحقّق پانے والی حرکت ،ایک طرف سے دوسری طرف ہو تی ہے ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے ہمیشہ واسطہ کی حالت میں ہو تی ہے اورایک چیزکو دوسری چیز سے اور ایک طرف کو دوسری طرف سے ملاتی ہے ،جس جہت اور طرف کواس کی حرکت چاہتی ہے ،وہی غرض اور غایت ہے ،جو متحرک کی کمی اور اس کی چاہت کو پورا کرتی ہے ،پھر اس حالت میں منقطع ہوتی ہے یعنی ایک ایسی حالت میں تبدیل ہو تی ہے جو اس کی نسبت آرام وسکون شمار ہو تا ہے ،یہی آرام وسکون دوسری صورت میں دوسرے کی حرکت ہے جو خود بھی ایک دوسری غرض وغایت کی تلاش میں ہے ۔

کبھی یہ تصور نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کوئی حرکت محقق ہو جائے اور کسی طرف متوجہ نہ ہو یا کسی طرف متوجہ ہو لیکن مذکورہ ''طرف''حرکت سے کوئی رابطہ نہ رکھتی ہو اورصرف اتفاق سے ظاہر ہوئی ہو یاکسی محرّک کی طاقت کوئی حر کت وجود میں لائی ہو لیکن اس حر کت سے علیّت کا رابطہ نہ ہو یا حرکت کے ساتھ رابطہ ہو نے کے باوجود قوئہ محرکہ کا ''حرکت کی غایت ''سے اتفاقی رابطہ ہو ۔

علل وعوامل کی سر گرمی کے نتیجہ میںاس کائنات میں مشاہدہ ہونے والاعجیب وغریب نظم اور اس عالم ہستی میں یکساں طور پر حکم فرما ناقابل تغیر عمومی قوانین اتفاقی حدوث کو ناقابل قبول بناتے ہیں ۔

بقول ایک دانشور ایک ایٹم کے صرف دس جزء سے ایک خاص ترکیب میں تشکیل پائی ایک چیزکا اتفاقی طور سے پیدا ہو نے کا فرض ،دس عرب فرضوں میں سے ایک فرض ہے ،لیکن منہائے ایک،دس ارب فرضوں کے مقابلہ میں صرف ایک فرض کی پیروی کرنا ایک بیوقوفانہ اور بے بنیاد تصور کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

انسان کے علمی افکار اور فطری شعور ہر گز اس کی اجازت نہیں دیتے کہ کائنات کی بے ا نتہا فعالیتوں میں فعل و فاعل اور غایت فعل کے رابطہ سے انکار کرکے تمام علمی فیصلوں اور ناقابل انکار انسانی افکار کی بیخ کنی کی جائے ۔

کائنات کو خلق کرنے میں خدا کامقصد

وسیع عالم خلقت ،چھوٹے اور حقیر ذرّہ سے لے کر ایک عظیم ثابت اور متحرّک اجرام فلکی کے مجموعہ اور حیرت انگیز کہکشاں ،آپس میں رکھنے والے حقیقی رابطہ کے ذریعہ ایک عظیم اکائی تشکیل دیتے ہیں جو اپنی تمام ہوّیت،حقیقت اورحیثیت کے ساتھ (نہ صرف اپنی مکانی نسبیت کے لحاظ سے ) تغیر وتحول کی صورت میں ایک کلی اور عمومی حرکت کو وجود میں لاتے ہوئے (علمی وفلسفی نظریہ کے مطابق ) ایک مقصد اور آرزو کی طرف گامزن ہیں (مذکورہ قطعی نظریہ کے مطابق ) ان کے ایک مشترک

سر حد پر پہنچنے کے بعد، مذکو رہ مقصد اور غرض ،اس حرکت کا جانشین بن کر اس شور وغوغل سے بھری کائنات کو ایک ثابت وآرام عالم میں تبدیل کر تا ہے ۔

ہماری آئندہ دنیا ایک آنے وا لے کل کی دنیا ہے ،جو آج کی دنیا کے پیچھے ہے بیشک یہ گزشتہ روز کے مقابلہ میں ثبات وآرام کی حالت میں ہو گی اور اس دنیا کے نواقص اور کمی بیشی کو دور کر کے اسے مکمل کرکے ہر توا نائی کو سر گرم عمل کرے گی ۔

لیکن کیا یہ ثبات اور کمال نسبی ہو گا اور یہ صفت صرف آج کی دنیا کی حالت کے موازنہ میں ہو گی ،یا ثبات وآرام نفسی پیدا کر کے کسی قسم کا تحوّل اور تبدیلی پیدا نہیں ہو گی ۔؟

اور کیا دوسرے تغیر سے کائنات کی کلی حرکت ـجو اپنے مقصد اور غرض تک پہنچنے کے بعد اسی مقصد اور غرض میں تبدیل ہو کر آرام پیدا کرتی ہے ـ آج کی جزئی حرکتوں کے مقصد اور غرض کے مانند نسبی پائداری اور آرام کی حامل ہو گی ؟ اگر چہ دوسری جہات سے حرکت میں دوڑ دھوپ اورنشیب وفراز کی حالت میں ہے یا یہ کہ آئندہ دنیا کا اپنا حقیقی کمال وثبات ہو گا اور اس دنیا میں ہر مظہر کی حقیقی پیدائش کا رول اداکر نے والا تغیر وتحول کا حساب بالکل بند ہو کر روز گار کا پر کاراپنے ابتدائی نقطہ پر پہنچ کر اپنی گردش کو خاتمہ بخش کر ایک ثابت اور مکمل دائرہ کو اپنی جگہ پر چھوڑدے گا اورآج کے ادراک میں تغیر پیدا کر کے ،اسے چار بعدی بناکر دوسرے دن کے مظاہر گزشتہ اور آنے والے دن کے گرد نہیں ہوں گے ؟

جو کچھ مذکورہ اجمالی بیان میں واضح ہوتا ہے ،ایک ایسا سر بستہ نتیجہ اورمطلب ہے جو مکمل طور پر پیچیدہ اور مشکل ہے ،اس روان اور ناقص دنیا کے پیچھے ایک ثابت اور مکمل دنیا ہے ،ایک با آرام منزل مقصود ہے جس کی طرف کاروان خلقت انتہائی تلاش وکوشش سے رواں دواں ہے او ر اس راہ کے تمام راہی ایک دن اپنی کوششوں کے نتیجہ کو فعلیّت کی صورت میں وہاں پر حاصل کریں گے ۔

البتہ انسان اس نتیجہ کو قبول کر نے کی راہ میں ،مذکورہ سوال اور دسیوں اور سیکڑوں دوسرے سوالات سے روبرو ہے جو مجہو لات کے ایک سلسلہ کی تاریکی کو ظاہر کر تے ہیں اور حقیقت میں کچھ مباحث کو تشکیل دیتے ہیں ،جنھیں پیچیدہ ترین اور عمیق ترین کلی اور فلسفی بحث شمار کی جا سکتی ہے کیو نکہ حس کا سہارا نہ رکھنے والے کلی نظرئیے ہمارے لئے قابل فہم نہیں ہیں ۔جہاں تک ہم اپنی آنکھیں کھول کر اس مادی دنیا کے مناظر کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جو کچھ ہمیں اس کے گوشہ وکنار سے دکھائی دیتاہے حرکت ،نقل و انتقال اور زوال کی حالت میں ہے اور ہم خود بھی اس کاروان اور اس راہ کے راہی ہیں اور ہم میں سے جو بھی اس دنیا سے آنکھ بند کر کے چلا جاتا ہے ،پھر اس کی ہمیں کوئی خبر نہیں ہو تی (اور جو خبردار ہوا اس سے کوئی خبر لوٹ کے نہیں آتی )

اس کے باوجودمنطقی مقدمات اور ناقا بل انکار اور یقینی استدلالوں پر مبنی دقیق فلسفی بحثیں تالیف ہو ئی ہیں ،جو ان سوالات میں سے اکثر کا جواب دیتی ہیں اور یہ نظریہ (یہ رواں اور متحرک دنیا ایک پائیدار اور ثابت مقصد کی حامل ہے ) معاد کے موضوع کے مطابق ہے جس کو اولیائے دین نے وحی سے حاصل کر کے خبر د ی ہے ۔

مقالہ کی ابتداء میں جو بحث ہم نے کی ،اس سے واضح ہوا کہ''غرض''کا مو ضوع فعل سے ایک رابطہ ہے جو حرکت فعلی کو سکون وآرام میں تبدیل کرتا ہے اور فاعل کے ساتھ ایک رابطہ ہے جو اس کے وجود میں پائے جانے والے نقص کو کمال میں تبدیل کر تا ہے ۔خالق کائنات کے بارے میں کی گئی استدلالی بحثوں کے مطابق ،اس کی مقدس ذات کمال محض کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور اس میں کسی قسم کے نقص ونیاز مندی کو نہیں پایا جاسکتا ہے ۔

مذکورہ دونظریوں کے پیش نظر خالق کائنات کے فعل کی نسبت مقصد واثبات کا فرض کیا جاسکتا ہے جیسا کہ تفصیلی طور پر بیان ہوا،لیکن اس کی ذات مقدس کے بارے میں منفی جواب دینا چاہئے ،اور دوسرے الفاظ میں یہ جو کہاجاتا ہے کہ اصل خلقت کا مقصوداورغرض کیا ہے ؟اور کیوں خدائے متعال نے اپنے علاوہ کسی مخلوق کو پیدا کیا ہے ؟اگر اس کا مقصود یہ ہے کہ خدائے متعا ل کے فعل کا مقصد کیا ہے اور اس کی توجہ کس غایت اور انتہاکی طرف ہے (فعل کی غرض ) اس کا جوا ب یہ ہے کہ اس نا پائیدار دنیا کا مقصد ایک مکمل ترین دنیا ہے ،اور اگر مراد یہ ہے کہ خدائے متعال خلقت کے ذریعہ اپنی کسی کمی کو پورا کرتا ہے اور کونسا کمال یا فائدہ اپنے لئے حاصل کرتا ہے تو یہ سوال غلط ہے اور اس کا جواب منفی ہے ۔

مقصد خلقت کے سوال کے بارے میں جو جواب دینی زبان میں دیا جاتا ہے :''کائنات کو پیدا کر نے کا خداکا مقصد دوسروں کو نفع پہنچانا ہے نہ خود کو ''اس کا مطلب وہی معنی ہے جو بیان ہوا ۔

آخر میںاس نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری ہے کہ،جس طرح بحث وتحقیق میں ''مقصد''کا معنی بیان کیا گیا ،ا س کا نتیجہ یہ ہے کہ مقصد اس جگہ پر محقق ہو تا ہے جہاں فعل اور فاعل یا صرف فعل میں کو ئی نقص ہو جو مقصد سے دور ہو جائے ۔اس بناپر، اگر کسی فعل ،یعنی کسی خالق کے بارے میں فرض کیا جائے جس میں کسی قسم کا قابل رفع نقص نہ پایا جاتا ہو(فلسفی اصطلاح میں مجرّد عقلی کے مانند)تو مذکورہ معنی میں کوئی مقصد نہیں ہو گا ۔

جی ہاں !فلا سفہ نے دقیق ترین تجزیہ وتحقیق سے ثابت کیا ہے کہ فعل کا مقصد حقیقت میں فعل کا کمال اور فاعل کا مقصد فاعل کا کمال ہے ۔منتہیٰ یہ کہ فعل کبھی تدریجی ہے اور اس کا کمال آخر کار اس سے جا ملتا ہے اور کبھی اچانک مادّہ اور حرکت سے مجرّد ہے اور اس صورت میں فعل کا وجود بھی اورکمال ومقصد فعل بھی خود فعل ہے ۔

اس طرح کبھی فاعل ناقص ہے اور فعل کے بعد اپنے کمال کو پاتا ہے اور کبھی فاعل مکمل ہے اور اس صورت میں وہ فاعل بھی ہے اورغایت وغرض بھی اور اس لحاظ سے خالق کائنات کا کائنات کو خلق کرنے کا مقصد اپنی ذات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اس کے فعل کا مقصد یہ ناقص دنیا ہو نا،(در حقیقت ) ایک مکمل تر دنیا ہے اور کامل تر دنیا کا مقصد،خود وہی کامل تر دنیا ہو گا ۔

اور اسی طرح ہر فرض کئے جانے والے کامل تر خالق کے بارے میں اس کی خلقت کا مقصدخود وہی ہو گا ۔والسلام

خدا کو کیا ضرورت ہے کہ انسان کی آزمائش کرے ؟

سوال :اگر ایک شخص دو لوٹے بنائے ایک پر ایک دستہ او ر دوسرے لوٹے پر دو دستے نصب کرے،خود وہ شخص ایک دستہ والے لوٹے سے اعتراض نہیں کر سکتا ہے کہ تم کیوں ایک دستہ رکھتے ہو ،چونکہ وہ لوٹوں کا صانع ہے اگر لوٹوں کو اس کی آنکھوں سے اوجھل بھی کیا جائے پھر بھی وہ ان کے حالات سے واقف ہے اور ان کی بناوٹ،رنگ اور صورت کو بخوبی جانتا ہے ۔

یا مثال کے طور پراگر ایک آرٹسٹ نے ایک منظر کی نقاشی کر کے اول سے آخر تک اپنی پسند سے اس میں رنگ بھر دئے ہوں ،تووہ منظر کی کیفیت سے واقف ہے اور وہ خودنہیں کہہ سکتا ہے کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ منظر اچھا ہے یا برا ،کیونکہ جو اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو بنائے اس کے لئے لازم نہیں ہے اس کے بارے میں تجسس اورتحقیق کرے ۔

لیکن اصلی مطلب یہ کہ خدائے متعال نے تمام زمینی وآسمانی مادیات و معنویات کو خلق کیا ہے اور اول سے آخرتک کا ئنات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے ،کیونکہ سب سے پہلے وہ خود اس کا صانع ہے اور دوسرے یہ کہ اگر نہ جانتا ہو ،تو عاجز ہے اور اس صورت میں خدا عاجز نہیں ہو سکتا کیونکہ خدائے متعال عجز سے مبرّا ہے ۔لہذا اس کی کیا ضرورت ہے کہ خدائے متعال بشر کو خود خلق کرکے اس کی خودحق ارادیت اور تقدیر اس کے ہاتھ میں سونپنے کے بعد خود اس کا امتحان لے لے ؟!

جواب: بشر کی آزما ئش اور خدائے متعال کے امتحان کے بارے میں ذکر کرکے آخر میں خط کے ذیل میں آپ نے اس عبارت پر خلاصہ کیا ہے :''اس کی کیاضرورت ہے کہ خدائے متعال بشر کو خودخلق کرکے اس کے اختیارات اور تقدیر اس کے ہاتھ میں سونپنے کے بعد خود اس کا امتحان لے لے ؟''

یہ جاننا چاہئے کی خدائے متعال اپنے قرآنی تعلیمات میں خلقت کے راز کے بارے میں دوطریقوں سے بحث کرتا ہے :

١۔اجتماعی منطق کے طریقہ سے لوگوں کے متوسط طبقہ سے ان ہی کی زبان میں ان سے گفتگو کرکے تعلیم دیتا ہے ۔اس منطق کے مطابق خالق کائنات مطلق حکم فرما مطلقہ سلطنت رکھنے والا اور بندوں کا مالک ہے کہ سب اس کے بندے ہیں ۔لوگوں کی دنیوی زندگی جو ان کی اخروی اور ابدی زندگی کا مقدمہ ہے، اس کی مشیت ،ارادہ، احکام اور تکالیف کے مطابق ہونی چاہئے اور آخرت میں وہ اپنے اعمال کی جزا پائیں گے اور اس لحاظ سے ان کی دنیوی زندگی ایک آزمائشی اورامتحانی زندگی ہو گی ان کا امتحان لینے والاخدا ہے اور قرآن مجید کی آیات اس نظریہ کے مطابق بحث کرتی ہیں چنانچہ فرماتا ہے :

( کل نفس ذائقةالموت ونبلوکم بالشروالخیر فتنة ) (انبیائ٣٥)

''ہرنفس موت کا مزہ چکھنے والاہے اور ہم تو اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے ...''

٢۔ خالص منطق عقلی کے طریقہ اور حقیقت بینی اور حقیقی عالم شناسی سے یہ نظریہ خدااور خلقت عالم اور اس کے نیک وبد حوادث کے مانند ہے اور ان کی مثال اس آٹسٹ کی جیسی ہے جو ایک خوبصورت اور بدصورت اور نیک وبد منظر کو ایک بورڈ پر تصویر کشی کرتا ہے اورپھر اس مصوّر اور اس کے چہرے کی طرف کسی قسم کی توجہ نہیں کی جاتی اور آمائش کا معنی پیش نہیں آتا ہے ۔صرف ایک بنیادی نکتہ کے بارے میں غفلت نہیں کی جانی چاہئے ،اور وہ یہ ہے کہ فرض کیا جانا چاہئے بورڈ پر جو انسانی تصویریں موجود ہیں وہ اپنے اختیار سے کام کرتی ہیں ،یعنی اس طرح تصویر کشی کی گئی ہے ،اور ان کا کام خوبصورت وبد صورت ہے اور ان کے آئندہ کے خوب وبد نقشے ان کے کام کے ساتھ بلا واسطہ رابطہ رکھتے ہیں ۔(دقت کی جائے )

چھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کی خلقت

سوال:خدا کا ارادہ فوری ہے ،جوں ہی ارادہ کرتاہے معدوم ،موجود بن جاتا ہے اس مطلب کے باوجود کیا آسمانوں کی خلقت چھ دن میں انجام پائی ہے ؟

جواب: خط میں جو اعتراض ذکر ہوا ہے وہ ایک فلسفی اعتراض ہے کہ فلسفہ کی کتابوں میں اس کی وضاحت کی گئی ہے اور مناسب جواب دیا گیا ہے اور مذکورہ اعتراض صرف چھ دنوں میں آسما ن کی خلقت سے مربوط نہیں ہے ۔بلکہ اس کے پیش نظر کہ عالم مشہود کے تمام مظہر نظام حرکت کے تحت ہیں اورہر چیز کی پیدائش خاص حر کتوں سے ہوتی ہے اور اس کی تخلیق تدریجی ہو تی ہے اور شے کے وجود کا تدریجی ہونا موثر کے دفعتہ ہونے کے منافی ہے ۔ اس عالم کے تمام اجزاء میں یہ اشکال موجودہے اور یہ آسمانوں کے چھ دن میں پیدا ہونے سے مخصوص نہیں ہے ،کیو نکہ خدائے متعال کا ارادہ ذات کی صفت نہیں ہے بلکہ صفت فعل ہے جو ذات سے خارج ہے اور فعل کے مقام سے الگ ہوتا ہے اور جو ہم یہ کہتے ہیں :''خدائے تعالیٰ نے فلاںچیز کا ارادہ کیا ''کا معنی یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس چیز کے وجود کے علل واسباب مہیا کئے ہیں (عالم ،عالم اسباب اور حکومت قانون علیّت کے تحت ہے ) اس بناء پر اموردفعی الوجود یں ، مطابقت ارادہ اور مرادارادئہ خدا ،دفعتہ ہے اور امور تدریجی میں تدریجی ہے اور کسی قسم کا مانع بھی نہیں ہے ،کیو نکہ یہ ایک ایسی صفت ہے جو فعل سے قائم ہے نہ ذات سے تا کہ ذات میں تغیر لازم آئے ۔

لیکن اصلی اعتراض،وہی حادث کا قدیم سے رابطہ،یعنی متغیّر کا ثابت سے رابطہ اور دوسرے الفاظ میں ،معلول زمانی کا خارج از زمان کی علّت سے رابطہ ہے ۔یہ فلسفہ اور کلام کی کتابوں میں بیان کیاگیا ہے اور مزید تفصیلات اور وضاحت کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے ۔

جس چیز کی طرف اس خط میں مختصر طور پر اشارہ کیا جاسکتا ہے ،وہ یہ ہے کہ تدریج وتغیّر کی صفت اور زمان کا معنی جیسے بڑاپن اور چھوٹا پن ،نسبی اور قیاسی معنی میں سے ہے کہ اس دنیا کی موجودات توازن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور اشیا ء کی خدائے متعال سے نسبت ایک ثابت اور پائیدار نسبت ہے اوروہ ان صفتوں سے منزّہ ہے۔ قرآن مجیدنے اس مطلب کو مندرجہ ذیل دوآیتوں میں بیان فرمایا ہے :

( انمّا امره اذا اراد شیئا ان یقول له کن ...) (یس٨٢)

''اس کاامر صر ف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کر لے کہ ہو جائو...''

( وماامرنا الّا واحدة کلمح بالبصر ) (قمر٥٠)

''اور ہمارا حکم پلک جھپکنے کی طرح کی ایک بات ہے ۔''

پہلی آیہ شریفہ کے مطابق، جو کام خدائے متعال کسی چیز کے ارادہ کے وقت انجام دیتا ہے اس کا پیداہو نا ،یعنی اس کا وجود خارجی ہے ۔اور دوسری آیت کے مطابق اشیاء کا وجود خارجی خدا کی نسبت ثابت وپائدار اور زمان سے خارج ہے ،یعنی اشیاء ایک دوسرے کی نسبت زمانی، متغیّر اور تدریجی ہیں اور خدا کی نسبت ثابت ،غیر متغیّر اور غیر تدریجی ہیں ۔

قیامت پر اعتقاد رکھنے کے اثرات

سوال: قیامت پر ایمان ،انسان کے اخلاق و اعمال پر کیا اثر رکھتا ہے ؟اور اس سے انسانی معاشر ہ کے کس حصہ کی اصلاح ہو تی ہے ؟کیو نکہ اس میں شک وشبہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ انسانی معاشرہ افراد کی سر گرمی سے زندہ ہے اور افراد کی سر گرمی بھی احتیاج کی حس اور زندگی کی ضرورتوں سے آگاہ ہو نے کے اثر میں وجود میں آتی ہے۔ انسان اپنی بقاء اور اس بقاء کی ضروریات کے بارے میں شدید دلچسپی رکھتا ہے۔ اس لئے اس آرزو کو حاصل کر نے کے لئے ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لاکر عزم وارادہ کے ساتھ اپنی انتھک سر گرمیوں کو جاری رکھتا ہے ۔ان اعمال میں سے جو بھی عمل مقصد تک پہنچ جائے ،انسان کی سر گرمی کو شدت بخش کر اس کت عزم وارادہ کو تقویت بخشتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشرہ جوں ہی اپنے عادی راستہ پر گامزن ہو تا ہے تو ایک قسم کی تر قی حاصل کرکے ہردن اور ہر ساعت اپنی پیش رفت کی حر کت میں تیزتر ہو تا ہے اور اس میں ایک عمیق اورتازہ جوش وجذبہ ظاہر ہو تا ہے اور واضح ہے کہ موت کی یاد،موت کے بعد آخرت کی زندگی کی فکرکو دماغ میں پرورش دینا ،اگر انسان کے عزم وارادہ کو مفلوج نہ کرتے ہوئے معاشرہ کے روز افزوں سر گرمیوں کے پہیئے کو گھومنے سے نہ روکتا ،تو انسان کی سیر وسلوک کی اس زندگی میں کسی قسم کا اثر نہ ہو تا اور اس کے قالب میں ایک نئی روح نہیں پھونکی جاسکتی ۔

جواب : اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ آسمانی ادیان نے اپنی دعوت کے پروگرام کو کسی حدتک تکلیف کی مسئو لیت اور اعمال کی پاداش (یعنی روزجزا) پر رکھا ہے اور خاص طور پر (ان میں ) دین مقدس اسلام نے اپنی دعوت کی بنیاد کو تین اصولوں پر استوار کیا ہے ان میں سے تیسرااصول معاد پر اعتقاد ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کو معاد پر شک ہو تو ،اس کی مثال اس شخص کی جیسی ہے جو توحید یا نبوت کا منکر ہو ،وہ دین کے حدودو میں داخل نہیں ہوا ہے اور مسلمانوں کے زمرہ سے خارج ہے ۔یہاں اسلامی معاد کے اعتقاد کو دی جانے والی اہمیت ـتوحید ونبوت کے اعتقاد کے مانند ـ واضح ہو تی ہے ۔

اس نکتہ کے پیش نظر کہ اسلام نے اپنی تعلیم وتر بیت کی آرزو کو انسانی فطرت (فطری انسان کو پیدا کر نے کے لئے ) کو احیاء کر نا قرار دیا ہے ، اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام معاد کے اعتقاد کو فطری انسان کے حیاتی ارکان میں سے ایک رکن قرار دیتا ہے کہ اس کے بغیر حقیقی انسان کی شکل ایک بے روح جسم کے مانند ہے جس نے ہر انسانی سعادت وفضیلت کی بنیاد کو کھو دیا ہے ۔

اس میں بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اسلام کے معارف اور قوانین خشک وبے روح مواد نہیں ہیں ،جو لوگوں کی سر گرمی کی غرض سے یا خشک اورخالی تعبداورتقلید کے مقصد سے مرتب ہوئے ہوں بلکہ یہ اعتقادی ،رو حی اور عملی مواد کا ایک مجموعہ ہے جو اپنے اجزا ء میں پائے جانے والے تشکلّ کے کمال اور رابطہ سے انسان کی زندگی کے پرو گرام کے عنوان سے اور انسان کی خلقت کی ضروریات کے پیش نظر مر تب ہوا ہے ،چنانچہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات اس مطلب کی بہترین گواہ ہیں :

( یاأیّها الّذین منو ااستجیبوا للّٰه وللرّسول اذا دعاکم لما یحییکم ) (انفال٢٤)

''اے ایمان والو!اللہ ورسول کی آوازپر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے ...''

( فأقم وجهک للدّین حنیفاً فطرت اللّٰه الّتى فطرالنّاس علیها ) (روم ٣٠)

''آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارکش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہٰی ہے جس پر اس نے انسان کو پید اکیا ہے ...''

اس بناء پر ،دین اسلام تر قی یافتہ معاشروں کے ان ملکی قوانین سے کوئی فرق نہیں رکھتا ،جو معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنیاور اس کے حیاتی منافع کی حفاظت کے لئے وضع کئے گئے ہیں ۔منتہٰی خدائی دین اور انسان کے وضع کئے گئے قوانین کے درمیان پایا جانے والا بنیادی فرق یہ ہے کہ ملکی قوانین ،انسان کی زندگی کے پروگرام کے قانونی ضوابط ہیں ،صرف اس کی چند روز ہ مادی زندگی کو مد نظر رکھتے ہیں اور مشخص قانونی دفعات کو صرف معاشرہ کی اکثریت کی جذباتی ضرورتوں کو قراردیتے ہیں ۔لیکن دین آسمانی ،انسانی زندگی کو ایک ایسی ابدیاور لامتناہی زندگی تشخیص دیتا ہے جو موت سے ہرگز ختم نہیں ہوتی اور ہمیشہ کے لئے ایسے باقی اور پائدار رہتی ہے کہ اس کی دوسری دنیا کی بدبختی اور خوشبختی اس دنیا کے اعمال کی برائیوں اور بھلائیوں کے تناسب سے ہوتی ہے ۔اس لئے دین اسلام انسان کے لئے عاقلانہ زندگی کا پروگرام مرتب کرتا ہے نہ جذباتی زندگی کا ۔

ملکی قوانین کی نظر میں ،معاشرہ میں لوگوں کی اکثریت کی رائے کا نفاذ ضروری ہوتا ہے اور یہ قوانین کے دفعات میں سے ایک دفعہ ہوتی ہے ۔لیکن دین اسلام کی نظر میں معاشرہ میں ایسے قوانین قابل اجرا ہیں جو حق اور عقل کی کسوٹی کے مطابق ہوں ،خواہ اکثریت کی رائے کے مطابق ہوں یا نہ ۔

دین اسلام بیان کرتا ہے کہ فطری انسان (خرافات اورہوس رانیوں سے پاک ) اپنے فطری شعور سے معاد کو ثابت کرتا ہے اور نتیجہ کے طور پر اپنے آپ کو ایک ابدی زندگی کا مالک سمجھتا ہے کہ اسے صرف انسانیت کی خصوصی نعمت یعنی عقل سے زندگی بسر کرنا چاہئے ،اس کو ایک مادّی شخص کی طرح اپنی بنیاد اور معاد سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے ،کہ یہ منطق حیوانی منطق میں مشترک ہے اور اس حالت میں انسان مادی لذتوں پر تسلط جمانے کے علاوہ کوئی آرزو نہیں رکھتا ۔قیامت پر ایمان اور معاد پر اعتقاد ایک حقیقت پسند انسان کی فکری،اخلاقی،روحی اور اس کے اجتماعی اور انفرادی اعمال کے تمام ابعاد پر واضح اثر ڈالتا ہے ۔

لیکن اس کی فکر پر اثر ،اس طریقہ سے ہے کہ وہ اپنے آپ کو اورتمام چیزوں کو ـ جیسے وہ ہیں ـ حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھے ۔وہ اپنے آپ کو چند روز کے لئے محدود ایک انسانی موجود مشاہدہ کرتا ہے جو اس ناپائدار دنیا کا ایک جزو ہے ۔وہ اور عا لم ہستی کے دیگراجزا مجموعاًایک ایسے قافلہ کو تشکیل دیتے ہیں جو شب وروز ایک پائدار اورابدی دنیا کی حرکت میں ہے اور خلقت ''علت فاعلی '' کے ''رفع''اور خلقت کی غرض وغایت (قیامت)کے ''جذب''کے درمیان ہمیشہ مسافرت میں ہو تا ہے ،لیکن اس کے روحی اخلاق میں اس صورت میں اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنی واقع بینی اوراپنے اندورونی جذ باتی طرز تفکر کو بدل کر انھیں مقصد کے مناسب اسلوب سے محدود کرے ۔

جو شخص اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خود کو اس ناپائدار عالم ہستی کے تمام اجزاء سے وابستہ جانتے ہوئے اپنے آپ کو طوفان کی خطر ناک لہروں کے پنجوں میں ایک تنکہ کے مانند گرتے اٹھتے عام مقصد کی طرف بڑھتا ہوا پائے ،تو وہ اس خود پسندی ،غرور اور جاہلانہ بغاوتوں کو اپنے دماغ میں پنپنے نہیں دے گا ، وہ خود کو شہوت پرستی ،نفسانی خواہشات اور ہوس رانی کاغلام نہیں بنائے گا ،اوروہ ایک چندروزہ انسانی زندگی کے لئے ضروری چیزوں کے علاوہ بے مقصد تلاش اورکوششوں کا اسیر وگرفتار بن کر خود کو ایک خود کار اور بے ارادہ مشین میں تبدیل نہیں کرے گا ۔اس کے نتیجہ میں انسانی زندگی کے فردی اور اجتماعی بلوائوں میں کافی حدتک کمی واقع ہوتی ہے ،پھر وہ اپنی تلاش و کوششوں کو ایسے کاموں میں ضائع نہیں کرے گا جن کے لئے قربانی دے کر جان ومال سے ہاتھ دھونا پڑ تا ہے ،کیونکہ اگر نیک کام انجام دینے کی راہ میں اس کی جان بھی قربان ہو جائے تو اس نے اس غمناک دنیوی زندگی کو کھو دیا ہے ،لیکن وہ اس طرح اپنی ابدی زندگی اور جانثاری کے نیک نتائج کو پاتا ہے اور ان سے خوشحال ہو گا ،اب اس سے ایک مادی اور معاد سے بے خبر شخص کے مانند اپنی دنیوی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے فریب دینے والے اور گمراہ کر نے والے خرافات کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔اب وہ نہیں چاہتا ہے کہ اسے اس بات کی تلقین کی جائے کہ معاشرے کے مقدسات ۔آزادی ،قانون اور وطن کے مانند ـ انسان کے لئے نیک نامی اور پائندگی لاتے ہیں جن کے ذریعہ وہ ایک ابدی اور فخر ومباہات کی زندگی پاسکتا ہے ،جبکہ اگر حقیقتاًانسان مر نے کے بعد نابود ہوتا ہے ،تو مرنے کے بعد زندگی اور فخر،خرافات کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں رکھتے!!

یہاں پر،سوال کے آخر پر بیان کی گئی بات کا بے بنیاد ہونا واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ موت اور موت کے بعد والی دنیا کا تصور ،انسان سے نشاط کار اور زندگی کی سر گرمی کو سلب نہیں کرتا ،کیونکہ نشاط کار اور انسان کی سر گرمی احتیاج کی معلول حسّی ہے اور معاد کے تصور سے احتیاج کی حس نابود نہیں ہو تی ہے ۔اس مطلب کا گواہ یہ ہے کہ صدر اسلام کے مسلمان دینی تعلیمات کی بیشتر پیروی کرتے تھے اور ان کے دلوں میں معاد کا تصور دیگر توانائیوں سے زیادہ جلو گر تھا،وہ لاجواب اور حیرت انگیز اجتماعی سر گرمی میں مشغول تھے ۔

معاد پر ایمان کے روحی فوائد میں سے یہ ہے کہ انسان کی روح ہمیشہ اس ایمان سے زندہ ہے وہ جانتا ہے کہ اگر وہ کبھی کسی مظلومیت یا محرومیت سے دوچار ہو ا تو ایک دن آنے والا ہے جب انتقا م لیا جائے گا اور اس کا حق اس سے واپس ملے گا اور وہ جو بھی نیک کام انجام دے گا ایک دن اس کی بہترین صورت میں تجلیل وتعظیم کی جائے گی ۔

لیکن انسان کے فردی اور اجتماعی اعمال میں اس کا اثر اس طرح ہے کہ معاد کا معتقد انسان جانتا ہے کہ اس کے اعمال ہمیشہ تحت نظر اور کنٹرول میں ہیں اورا س کے ظاہر وباطن (مخفی وآشکار )اعمال خدائے داناو بینا کے سامنے واضح ہیں ایک دن آنے والا ہے جب پوری دقت سے اس کا حساب وکتاب کیا جائے گا ۔اور یہ عقیدہ انسان میں ایک ایسا کام انجام دیتا ہے جو ہزاروں مخفی پو لیس کے اہل کار اور مامورین سے انجام نہیں پا سکتا ہے ،کیونکہ وہ سب باہر سے کام کرتے ہیں اور یہ ایک داخلی چوکی دارہے جس سے کوئی رازچھپایا نہیں جاسکتا ہے۔


چوتھاحصہ:

کچھ سوالات اورجوابات(١)

مرداورعورت کے مساوی ہونے کی کیفیت اور عورتوں کی سیاست میں مداخلت:

سوال:کیا اسلام کے قانون میں مرداورعورت مساوی ہیں ؟اور کیا عورت سیاست اور ملکی معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے اور مرد کے ساتھ مساوی ہو سکتی ہے؟

جواب:اسلام کے آغاز پر ،انسانی معاشرہ عورت کے بارے میں درج ذیل دو عقیدوں میں سے ایک عقیدہ رکھتاتھا:ایک گروہ عورتوں کے ساتھ پالتو جانوروں جیسا سلوک کرتاتھا، اس کی نظر میں عورت معاشرہ کار کن نہیں تھی لیکن اس سے تسلّط اور معاشرہ کی نفع میں خدمت، جیسے استفادے کئے جاسکتے تھے ۔دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والے افرادمہذّب ترتھے اورعورت کے ساتھ ایک ناقص رکن جیسا سلوک کرتے تھے ۔ان کے سامنے عورت ایک بچہ یا اسیر کے مانند معاشرہ کی طفیلی تھی اور اپنی حالت کے مطابق کچھ حقوق رکھتی تھی اور مردوں کے ذریعہ ادارہ ہو تی تھی ۔یہ دین اسلام تھا جس نے عالم بشریت میںپہلی بارمعاشرہ میں عورت کی مکمل رکنیت کا اعلا ن کیااور اس کے کام کو محترم جانا:''میں تم میں سے کسی بھی عمل کرنے والے کو ضائع نہیں کروں گا چاہے وہ مردہو یا عورت،تم سب ایک خلقت رکھتے ہو ۔''(۲)

اجتماعی موضوعات میں سے صرف تین موضوعات میں عورت کو،اسلام نے مداخلت کی اجازت نہیں دی ہے :حکومت،فیصلہ دینا اور جنگ ،قتل کے معنی، میں نہ جنگ سے مربوط دیگر حصوں کے معنی میں ـ اس کا فلسفہ ۔جیسادینی محور سے معلوم ہو تا ہے ـ یہ ہے کہ عورت ذات ایک جذباتی اور احساساتی مخلوق ہے، مرد کے بر خلاف کہ ایک استدلالی مخلوق ہے اور یہ تین مو ضوع استدلال سے مربوط ہیں نہ جذبات سے اور بدیہی ہے کہ ایک جذباتی مخلوق کو سو فیصدی استدلی امور میں کسی قسم کا دخل نہیں دینا چاہئے اور فطری طور پر وہ اس میں نشو ونما نہیں پا سکتی ہے ۔

اس نظریہ کے لئے بہترین گواہ وہ مشترک کوشش ہے جس سے مغربی دنیا نے مرداور عورت کی مشترک تعلیم وتر بیت میں استفادہ کیا ہے ،لیکن اس کے باوجود آج تک معاشرہ کے ان تین شعبوں میں سے کسی ایک شعبہ میں بھی عورتوں کی کوئی قابل توجہ تعداد کو پیش نہیں کر سکے ہیں عدلیہ ،سیاست یا جنگی سرداروں کے نا بغوں کی فہرست میں ( مثلاً،نرسوں ،رقاص ،فلمی ستاروں،نقاشی اور موسیقی کے برخلاف)مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کا تناسب بہت ناچیز ہے ،مساوی کی بات ہی نہیں ۔

مرداورعورت کی وراثت کی کیفیت

سوال:عورت کو مرد کی نسبت کیوں وراثت کم ملتی ہے ؟

جواب:اسلام میں عورت،میراث میں سے مجموعی طورپر ایک حصہ اور مرددوحصے لیتا ہے ( جیسا کہ روایت میں ہے)اس کا سبب یہ ہے کہ عورت کی زندگی کا خرچہ مرد(شوہر) کے ذمہ ہے اور اس حکم کا سر چشمہ بھی عورت کا جذباتی ہو اور مرد کا استدلالی ہونا ہے ۔

وضاحت:ہر زمانہ میں زمین پر موجود سرمایہ ایک نسل سے متعلق ہو تا ہے جو اس زمانہ میں زندگی کرتی ہے اور بعد والی نسل پہلی نسل کی جا نشین بن کر اس سرمایہ کو میراث کے طورپر حاصل کرتی ہے اور چونکہ مجموعی طور پر عورتوں اورمردوں کی آبادی ہمیشہ متفاوت رہی ہے اور اسلام کی نظر میں عمومی ثروت کا ٤٣حصہ مرد کا اور١٣حصہ عورت کا ہوتا ہے اوردوسری طرف سے مردکے عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے عورت اپنے خرچ میں مرد کے حصہ میں شریک ہوتی ہے جبکہ ١٣حصہ اپناحصہ رکھتی ہے اور نتیجہ کے طورپر سرمایہ کا ٢٣ حصہ خرچ کے طور پر عورت کے اختیار میں اور١٣حصہ مرد کے اختیار میں قرار پاتا ہے ،نتیجہ کے طورپر خرچ کے لحاظ سے سرمایہ کا ٢٣ حصہ جذبات کا اور ١٣حصہ استدلال کا ہوگا اور یہ بذات خود ایک بہترین اور عادلانہ تقسیم ہے ،اس کے علاوہ یہ ترتیب خاندان کی تشکیل میں گہرے اور نفع بخش اثرات رکھتی ہے ،چنانچہ بندئ١١کے جواب میں اشارہ کیا جائے گا(۳)

مرد اور طلاق کا حق

سوال:طلاق کا حق صرف مرد کو کیوں ہے ؟

جواب:دینی بیانات کے لہجہ سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ مسئلہ بھی مرد کے استدلالی اور عورت کے جذباتی ہونے سے مربوط ہے ۔اس کے علاوہ اسلام کی شرع میں ایسے راستے بھی موجود ہیں ،جن کے ذریعہ عورت ازدواج کے وقت مرد کے اختیارات کو کسی حد تک محدود کرسکتی ہے یا اپنے لئے طلاق کے کچھ اختیارات حاصل کرسکتی ہے

اقتصادی امور میں عورت کی آزادی

سوال : کیا عورت اقتصادی اور مالی امور میں آزاد ہو سکتی ہے ؟

جواب : اسلام میں عورت اپنے بارے میں اقتصادی اور مالی امور میں مکمل او ہرقسم کی آزادی رکھتی ہے ۔

مرداور تعدّدازدواج

سوال :مرد کیوں کئی بیویاں رکھ سکتا ہے ؟

جواب :البتہ معلوم ہے کہ اسلام نے تعدّدازدواج کو واجب قرارنہیں دیا ہے بلکہ صرف اجازت دی ہے کہ مرد ایک سے زیادہ چار عورتوں تک ازدواج کر سکتا ہے وہ بھی صرف اس شرط پر کہ ان کے درمیان مساوات اور عدالت سے پیش آسکے ۔اور اس کا حکم صرف ماحول کے مطابق ہے ،یعنی یہ اس طرح ہونا چاہئے کہ عورتوں کی کمی اور مردوں کی فراوانی کی وجہ سے معاشرہ کا نظم ونسق اس عمل (تعدّدازدواج ) سے درہم برہم ہو کر ہرج ومرج سے دوچار نہ ہو جا ئے ۔لیکن مردوں کی طرف سے واضح ہے ،کیو نکہ عورت اور اولاد کی رہائش اور زندگی کا خرچہ مرد کے ذمہ ہے اور عدالت کی بھی شرط ہے ،لہذا اس کے نتیجہ میں ایسا اقدام کرنا معدودمردوں کے لئے ممکن ہے نہ ہر ممکن کے لئے ۔دوسری طرف سے فطرت اور خارجی حوادث ہمیشہ قابل ازدواج عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ مہیا کر تے ہیں ۔

اگرہم ایک معیّن سا ل کو ابتداء قرار د ے کر ،زن ومرد کی مسا وی پیدائش کا موازنہ کریں تو سولھویں سال قابل ازدواج عورتوں کی تعدادسے سات گناہ زیادہ ہوگی اوربیسویں سال عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت گیارہ اور پانچ(١ا۔٥)ہوگی اور پچیسویں سال ، جو تقریباًعام طور پر ازدواج کا سال ہو تا ہے یہ نسبت ''١٦۔١٠''ہو گی اور اگر اس صورت میں تعدد ازدواج والے مردوں کو ١٥فرض کریں تو آٹھ فیصد مرد ایک بیوی والے ہو ں گے اور بیس فیصد مرد چار بیویوں والے ہوں گے اور تیسویں سال بیس فیصد مرد تین بیویوں والے ہوں گے ۔

اس کے علاوہ ،عورت کی عمر مرد سے زیادہ ہو تی ہے اور معاشرہ میں ہمیشہ بیوہ عورتوںکی تعداد بیوہ سے مردوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ مردوں میں جانی نقصان قابل توجہ حد تک عورتوں سے زیادہ ہو تا ہے اور خاص کر اہم اورعام جنگیں اس مطلب کے بہترین گواہ ہیں ۔ہم نے ،حالیہ چند برسوں کے دوران روزناموں اور مجلات میں مکرر پڑھا ہے کہ جر منی کی عورتوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اسلام کے تعدّدازدواج کے قانون کو جرمنی میں رائج کریں اور اس طرح بے شوہر عورتوں کی ضرورت کو پورا کریں ، لیکن حکومت نے کلیسائی مخالفت کی وجہ سے اس درخواست کو منظور نہیں کیا ۔

دوسری طرف سے تعدّد ازدواج سے عورتوں کی مخالفت فطری جبلّت کے احساس پر مستند نہیں ہے ،کیونکہ دوسری ،تیسری اور چوتھی بیوی رکھنے والے مرد زبردستی یہ کام انجام نہیں دیتے اور جو عورتیں کسی مردکی دوسری ،تیسری یا چوتھی بیوی بن جاتی ہیں ،وہ آسمان سے نہیں اتری ہیں اور نہ زمین سے اگی ہیں بلکہ ان ہی عام عورتوں میں سے ہیں اور یہی رسم بہت سے اقوام اورملتوں میں سیکڑوں اور ہزاروں سال سے رائج تھی۔ نہ کوئی جبلّتی برائی رونما ہوئی اور نہ عورت ذات کی میں کوئی کمی محسوس کی گئی ہے

دین اسلام کا بے عیب ہو نا

سوال: کیاآپ ا سے قبول کرتے ہیں کہ دین اسلام زمانہ کے گزرنے کو درک نہیں کرسکا ہے تاکہ دین زمان ومکان کے مطابق ہو تا ؟

جواب :یہ ''اسلام زمانہ کے گزرنے کو درک نہیں کرسکا ہے تا کہ زمان ومکان کے مطابق ایک دین ہوتا ''ایک ایسی بات ہے جو فلسفی تفکر کے بجائے شعری تفکّر کے مشابہ ہے ۔زمان ومکان نے تغیر نہیں کیا ہے تاکہ انسان کے اجتماعی قوانین میں تبدیلی کا موجب بنیں ،دن اوررات وہی دن اور رات ہیں اور زمین اور ہوا وغیرہ ہزاروں سال قبل کے مانند ہیں ،صرف انسان کی طرز زندگی اپنی روزافزوں ترقی کے پیش نظر تبدیل ہوئی ہے اور دن بدن انسان کے توقعات اور مطالبات بڑھتے یا تبدیل ہوتے رہتے ہیں انسان کی فعاّل توانائی اپنی حیرت انگیز افزائش کے نتیجہ میں اسے یہ جرئت بخشتی ہے کہ عیش وعشرت کے جن انواع واقسام کے بارے میں کل کے پادشاہ تصور نہیں کرتے تھے آج کے فقیران کی فکر میں پڑ کر ان کا مطالبہ کریں ۔

معاشرہ میں یہ فکری تبدیلی بالکل ایک فرد میں فکری تبدیلی کے مانند ہے جو اسے زندگی کے مختلف حالات کی وجہ سے پیش آتی ہے ۔ایک مفلس خالی ہاتھ والاشخص صرف اپنے شکم کی فکر میں ہو تا ہے اور ہر چیز کو فراموش کر ڈالتا ہے ،جوں ہی اس کی روزمرہ کی روٹی مہیا ہو تی ہے ،لباس کی فکر میں پڑتا ہے ،اس کے بعد اولاد ،اور سرمایہ کو وسعت دینے، فخر ومباہات ،تکلفات اور گوناگوں عیاشیوں کو بڑھاوادینے کی فکر میں پڑتا ہے اور اسی طرح

آج کے اجتماعی قوانین معاشرہ کے اکثرلوگوں کے مطالبات کو اپنے لئے تحفظ قرار دیتے ہیں ،اگر چہ معاشرہ کی حقیقی مصلحت کے مطابق بھی نہ ہوں ،لیکن اسلامی طرز تفکر اس کے علاوہ ہے ،اسلام اپنی تشریعیات میں طبیعی انسان کا (قرآن مجیدکی اصطلاح میں انسانی فطرت کو ) تحفّظ قراردیتا ہے ،یعنی انسان کی وجودی عمارت کو اسلحوںسے مسلح صورت میں مد نظر رکھتا ہے اور جن ضروریات کی یہ مسلح عمارت نشان دہی کرتی ہے ان کے برابر مربوط قوانین وضع کرتی ہے ۔نتیجہ کے طور پر ،اسلام کا نظریہ اپنے وضع کئے گئے قوانین سے معاشرہ کی حقیقی مصلحت کو پورا کرتا ہے ،خواہ اکثریت کی مرضی کے مطابق ہو یا نہ ۔اور یہی قوانین ہیں کہ اسلام نے انھیں شریعت کانام رکھاہے اور انھیں قابل تغیر و تبدیلی نہیں جانتا ہے ،کیونکہ ان کا محافظ انسان کی فطری خلقت ہے جو قابل تغیر نہیں ہے ،اور جب تک انسان ،انسان ہے اس کی فطری ضرورتیں ثابت اور پائیدار ہوں گی ۔اسلام اپنے ثابت قوانین (شریعت) کے علاوہ قابل تغیر ضوابط بھی رکھتا ہے اور وہ ایسے قوانین ہیں جو زندگی کی تبدیلیوں سے مربوط ہیں ،تہذیب وتمدن کی پیشرفت کے اثر میں اور ان قابل تغیر قوانین کی شریعت کے قوانین سے نسبت ،پارلیمنٹ کے قابل تنسیخ قوانین کی ناقابل تغیر آئین سے نسبت کے مانند ہے ۔

اسلام نے دینی حکومت کے حاکم کو اختیار دیا ہے کہ شریعت کے قوانین کے سایہ میں ،ضرورت کے وقت زمان اور شوریٰ کی مصلحت کے تحت ضروری فیصلے لے کر انھیں نافذ کرے اور یہ قوانین مصلحت کے تقاضوں کے مطابق اعتبار رکھتے ہیں اور مصلحت کے رفع ہو نے پر منسوخ ہو تے ہیں ۔اس کے برخلاف شریعت کے قوانین قابل تنسیخ نہیں ہو تے ۔

اس بناء پر مذکورہ بیان کے مطابق اسلام دو قسم کے قوانین رکھتا ہے :پہلے ثابت اور پائدارقوانین ہیں ،جن کاضا من انسان کی ثابت فطرت ہے اور انھیں شریعت کہا جاتا ہے ۔

اوردوسرے وہ قوانین ہیں جو قابل تغیر ہو تے ہیں اور وقت کی مصلحت ان کی ضامن ہے ۔یہ قوانین مصلحت کے بدلنے کے ساتھ قابل تغیر ہو تے ہیں ،اس کے مانند کہ انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو نے سے بے نیاز نہیں ہے ،لیکن قدیم زمانے میں مسافرت کے لئے یاپیدل چلتے تھے یا گھوڑے اور گدھے پر سوار ہو کر سفر کرتے تھے ،ان کے لئے زیادہ قوانین اورضوابط وضع کر نے کی ضرورت نہیں تھی لیکن آج وسائل میں ترقی پیدا ہو نے کی وجہ سے صحرائی ،سمندری ،زمین دوز اور ہوائی راستے نکلے ہیں اور بہت دقیق قوانین وضع کر نے کی ضرورت پیدا ہوئی ہے ،یہاں پر واضح ہو تا ہے کہ یہ کہنا :''اسلام نے زمانہ کے گزر نے کو درک نہیں کیا ہے ''انتہائی بے بنیادبات ہے ۔

جن بات کو صاحب اعتراض کہہ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کے ان احکام کی نشاندہی کر کے ثابت کرے جو اس زمانہ کی حقیقی مصلحت کے موافق نہ ہوں یاحکم کی مصلحت کے بارے میں سوال کرے ۔یہ ایک وسیع بحث ہے ہم نے گنجائش کے مطابق اس کی وضاحت کی ، اگر اس کے باوجود اس بحث کے بارے میں مزید کوئی ابہام باقی ہو یا کوئی اعتراض ہوتو تذکر دینا تا کہ بحث کو جاری رکھیں ۔

دین اسلام کا فطری ہو نا

سوال: کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کے بہت سے قوانین جو زمان ومکان کے مطابق آج سے ١٤٠٠سال پہلے وجود میں آئے ہیں ،انھیں بدلنا چاہئے ؟

جواب : اس سوال کا جواب گزشتہ جواب میں واضح ہو اہے ۔ شریعت اسلام کے قوانین کی بنیاد انسان کی مخصوص فطرت و خلقت ہے نہ اکثریت( نصف اور ایک) کی رائے اور پسند۔خدائے متعال فرماتا ہے :

( فأقّم وجهک للدّین حنیفافطرت اللّٰه الّتى فطرالنّاس علیها لا تبدیل لخلق اللّٰه ) (روم ٣٠)

''آپ اپنے رخ کو دین (اسلام) کی طرف رکھیں اور باطل سے کنار کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہٰی ہے جس پر اس نے انسان کو پید اکیا ہے اور خلقت الہٰی میں کو ئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے ...''

کیا حضرت زینب (س)ولایت عہدی کے مقام پرفائز تھیں ؟

سوال:کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا ولی عہدی کا مقام رکھتی تھیں ؟اور اگر رکھتی تھیں ،تو کیا ان کے ذمہ دوسرے کاموں کے علاوہ اس کام کی ذمہ داری اس بات کی علامت نہیں ہے کہ اسلام میں عورت صلاحیت رکھنے کی صورت میں مرد کے قدم بہ قدم بڑھ سکتی ہے ؟

جواب:اس مسئلہ کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور بنیادی طور پر اسلام میں ولی عہدی کے نام پر کوئی عنوان موجود نہیں ہے ۔اگر ولی عہد کا مقصود جانشینی ہو تو مستند مدارک کے مطابق تیسرے امام کے جا نشین چوتھے امام ہیں نہ آپ کی خواہر گرامی حضرت زینب سلام اللہ علیہا ۔

جی ہاں !روایتوں سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ یزید اور بنی امیہ کی ظالمانہ او ر استبدادی حکومت کے خلاف امام حسین علیہ السلام کی تحریک میں حضرت سیدالشہداء کی وصیت کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے دوش مبارک پر بھاری ذمہ داریاں تھیں اور ان ذمہ داریوں کو نبھا نے میں آپ نے علمی ا ور عملی لیاقت اور غیر معمولی دینی شخصیت کا مظاہرہ کیا ۔اصولی طور پر جاننا چاہئے کہ اسلام کی نظر میں ،معاشرہ میں انسان کی قدر وقیمت علم وتقویٰ (دین کے انفرادی اور اجتماعی خدمات) پر ہے ۔اور معاشر ہ میںدوسرے امور جو امتیاز اور نفوذ کا وسیلہ ہو تے ہیں ،جیسے سرمایہ اورعظمت ،خاندان اورخاندانی شرافت ،حکومت اورعدلیہ کے عہدے اور فوجی عہدے کسی قسم کی قدر ومنزلت اور امتیاز نہیں رکھتے ہیں، جو ان کے لئے فخر ومباہات کا سبب بن کر ان کو دوسروں پر افضل قرار دیں ۔اسلام میں طاقت کا نفوذ جتلا نے کو کسی امتیاز کا معیار قرار نہیں دیا جانا چاہئے ،اس بناء پر ایک مسلمان خاتون اپنے دینی امتیازات میں مرد کے قدم بہ قدم بڑھ سکتی ہے اور اگر لیاقت رکھتی ہو تو تمام مردوں سے آگے بڑھ سکتی ہے اور تین مسائل ـ حکومت ،عدلیہ اور جنگ ـکے علاوہ تمام اجتماعی مشاغل میں مردوں کے دوش بدوش شرکت کرسکتی ہے ۔خدائے تعا لٰی فرماتا ہے :

''بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار رہے(۴) '' اورفرماتا ہے :

''کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے ہیں؟(۵)

____________________

١۔١٣٨٣ھ(١٩٦٢ئ)نیو یارک (امریکہ)میں ایرانی مقیم دانشوروں میں سے ہر ایک نے استاد علامہ طباطبائی سے اسلام کے مختلف موضوعات پر گوناگوں سوالات کئے تھے کہ علامہ نے تمام سوالات کے جوابات لکھ کر ایک ساتھ انھیں روانہ کئے تھے ۔

ہم اس کتاب میں ان سوالات اور ان کے جوابات کو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں تا کہ ان موضوعات سے دلچسپی رکھنے والے محققین ان سے استفادہ کریں (ادارہ)

۲۔(...انیّ لا اضیع عمل عامل منکم من ذکراو انثی بعضکم من بعض ...)(آل عمران ١٩٥)

۳۔ص١٤٣۔ص١٤٥ کی طرف رجوع کیا جائے۔

۴۔(...انّ اکرمکم عنداللّه اتقکم ...)(حجرات١٣)

۵۔(...هل یستوی الّذین یعلمون والّذین لا یعلمون )(زمر٩)


ازدواج اور خاندان کی تشکیل

سوال :ازدواج اور خاندان کی تشکیل کے بارے میں اسلام کا کیا نظریہ ہے؟

جواب : ازدواج اور خاندان کی تشکیل اور اس کی بارے میں قوانین کے کلیات کو مدارک کے ساتھ بیان کرنے کی تفصیل وضاحت ، اس مقالہ کی گنجائش سے باہر جو کچھ یہاں پر اس سلسلہ میں اختصار اوراجمال کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام ازدواج اور خاندان کی تشکیل کو انسانی معاشرہ کی پیدائش اور اس کی بقاء کا اصلی عامل جانتا ہے۔اس کا معنی یہ ہے کہ تخلیق نے انسان کے افراد کے در میان اجتماع بر قرار کرنے کے لئے ،انسان کو مردانہ اور زنانہ آلہ تناسل اور اس کے بعد جبلّی خواہشات سے مسلح کیا

ہے تا کہ یہ دونوں آپس میں نزدیکی پیدا کر کے دونوں کے مادہ میں موجود بچہ کو جنم دیں ۔اور اپنے لخت جگر کے بارے میں رکھنے والے جذبات اور ہمدردیوں کے پیش نظر حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد اس نو مولود بچہ کی پرورش کرتے ہیں اور ان کے رنج وغم اورجذبات سے بھرے یہ احساسات اور ہمدردیاں روزبروزبڑھتی ہیں ۔اس نومولودکی تر بیت کر کے اسے بلوغ کے مرحلہ تک پہنچاتے ہیں ۔ماں باپ کے ان جذبات اور ہمدردیوں کے ردعمل کے طور پر بچہ بھی جذبات کا مظاہرہ کر کے اپنے ماں باپ سے رجحان دکھاتا ہے ۔اس طرح پہلے خاندانی اجتماع، پھر قومی اجتماع اور اس کے بعد شہری اور ملکی اجتماعات اور معاشرہ وجود میں آتے ہیں ۔بدیہی ہے کہ اس صورت میں معاشرہ کی بقاء اور اس کو نابود ہو نے سے بچانے کے لئے جبلّی خواہشات محدود ہو نی چاہئیں اور مرد کو اپنی قانونی بیوی اور عورت کو اپنے قانونی شوہر کے حدود سے تجاوز نہیں کر نا چاہئے تا کہ نو مولود بچے کا باپ مشخص ہو (چونکہ عورت ماں ہونے کا فطری ضامن ،رکھتی ہے اور وہ وضع حمل ہے )اگر یہ صورت نہ ہو تو ہرجوان اپنی مرضی سے اپنی جنسی خواہشات سے غیر قانونی طور پر استفادہ کر کے تشکیل خاندان کی محنت اور تکلیف سے پہلوتہی کریں گے اور اس طرح باپ اور فرزند اپنے نسبی روابط کے اطمینان کو کھودیں گے،نتیجہ کے طور پر خاندانی ہمدردیاں کمزورپڑیں گی ۔آخرکارزنارائج ہو نے کے نتیجہ میں قہری طور پر حفظان صحت ،اجتماعی ،اخلاقی ،قطع نسل اور دوسری بے شمارخیانتوں جیسی برائیوں ـ جو اس فحاشی کی پیداوار ہیں ـسے خاندانی ہمدردیاں بالکل نابود ہو کر رہیں گی۔ جیسا کہ آپ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جن ملکوں میں جنسی آزادی ہے ، وہاں پر خاندانی ہمدردیاں روز بروزنابود ہوتی جارہی ہیں اور یہ حالت انسان کے مستقبل کے لئے ایک خطرہ کی الارم ہے ۔

چندسال پہلے ہم نے روز ناموں اور مجلات میں پڑھاہے کہ امریکہ میں مرد اور عورتوں کے ناجائز تعلقات کے نتیجہ میں سالانہ تین لاکھ بے باپ بچے متولد ہوئے ہیں،اس حالت کے پیش نظرایک سوسال کے بعد معلوم نہیں انسا نی معاشرہ کہاں پہنچ جائے گا!اسی لئے ،اسلام نے زن ومرد کے جنسی تعلقات کو ازدواج کے علاوہ کسی اور راہ سے قطعی طور پر ممنوع کیا ہے اور بچہ کے اخراجات کی ذمہ داری مرد پر ڈال دی ہے اوراسے بچہ کی زندگی کا ذمہ داراور مسئول جانا ہے ۔اسلام میں قریبی رشتہ داروں کے درمیان ازدواج ممنوع ہے :جیسے ماں ،پھپھی ،خالہ ،بہن ،بیٹی اور بھائی اوربہن کی بیٹی مرد پر حرام ہے۔اسی طرح بہو ،ساس ،بیوی کی بیٹی (ماں کے ساتھ آمیزش کرنے کی شرط پر)بیوی کی بہن (بہن کے عقد میں ہونے کی صورت میں )مرد پر حرام ہیں ۔اسی طرح ہر شوہردارعورت اور رضاعی رشتہ دار بھی نسبی رشتہ داروں کے مانند حرام ہوتے ہیں ۔عورت کے لئے بھی اسی نسبت سے مرد حرام ہوتے ہیں ۔مذکورہ بیان کے مدارک قرآن مجید کی وہ آیات ہیں جو سورہ نساء میں ذکر ہوئی ہیں اور اسی طرح وہ روایتیں بھی ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل کی گئی ہیں اور احادیث کی کتابوں میں درج ہیں ۔

اسلام اور مسئلہ طلاق

سوال: اسلام کی نظر میں طلاق کیسی ہے ؟

جواب:طلاق،اسلام کی مجلس قانون ساز کے فخر ومباہات میں سے ہے اور یہ ابدی بدبختی کو خاتمہ بخشنے والی چیزہے کہ میاں بیوی کے درمیان عدم توافق کے نتیجہ میں رونما ہوتی ہے ۔اس قانون کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ غیر اسلامی حکومتیں بھی تدریجاًیکے بعد دیگرے اسے قبول کر رہی ہیں ۔اس کا ایک خلاصہ سوالات کے چوتھے حصہ کے جواب میں بیان کیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو ص۔١٧٥

طلاق ،ضروریات اسلام میں سے ایک ہے اوراس کا مصدر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔طلاق کے قوانین کی تفصیل اور ان کے مصادربیان کر نے کی یہاں پر گنجائش نہیں ہے۔

عورت اورہمسر کے انتخاب کا حق

سوال: کیا اسلام میں عورت،مرد کی طرح اپنے شریک حیات کو انتخاب کرنے کا حق رکھتی ہے یا نہیں ؟

جواب: اسلام میں عورت اپنے شریک حیات کاانتخاب کرنے میں آزاد ہے ۔

فرزند کا مردسے متعلق ہو نا

سوال:میاں بیوی کے درمیان طلاق کی صورت میں فرزند کس کا ہو تا ہے ؟

جواب:مطلّقہ عورت حق رکھتی ہے کہ وہ اپنے بچہ کو سات سال تک خودپرورش کرے اور اس مدت کے دوران بچہ کی زندگی کا خرچ مرد کے ذمہ ہے ۔اس حکم کے مصدرکے بارے میں فقہ اسلام کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔

حضرت علی علیہ السلام کی ایک فرمائش

سوال: کیا اسے مانتے ہو کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے : اپنے فرزندوں کو مستقبل کے لئے تر بیت کرنا ؟اس صورت میں کیا اس فرمائش کا یہ معنی نہیں ہے کہ قوانین اسلام زمان ومکان کے مطابق بدلنے چاہئیں ؟

جواب: یہ ایک مرسل حدیث ہے ،کتاب نہج البلاغہ میں حضرت سے منسوب کی گئی ہے ،اس کا مقصود یہ ہے کہ بچوں کی تربیت کو آداب ورسوم کی بنیاد پر انجام نہیں دینا چاہئے ،کیونکہ روزمرہ کے آداب ورسوم کا جمود انسان کو زندگی کی ترقی سے روکتا ہے ،جیسے کوئی شخص گھوڑے گدھے یاپیدل سفر کرنے کا عادی ہو اوراسی پر اکتفا کرے وہ کبھی گاڑی کو ایجاد کرنے اورسڑک کے اتار چڑھائو کو ہموار کرنے کی فکر میں نہیں پڑے گا۔

اس کا مقصود یہ نہیں ہے کہ اپنے فرزندوں کو شرعی قوانین (جونص کے مطابق قابل تغیرنہیں ہیں ) کا پابند نہ کریں اور اگر حقیقت میں یہی مقصود ہوتا توہم حدیث کو مسترد کر نے کے لئے ناگزیرتھے ۔ کیونکہ ہمارے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام ائمہ اطہارعلیہم السلام کا واضح اور قطعی حکم موجود ہے کہ جو بھی حدیث قرآن مجید کے مخالف ہو اسے مسترد کر کے قبول نہ کریں اور اس لحاظ سے ہر حدیث کا پہلے قرآن مجید سے موازنہ کر نا چاہئے اور اس کے بعد اسے قبول کرنا چاہئے ۔

شریعت کے احکام و قوانین میں خدا کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا ہے

سوال:قوانین اسلام میںزمان ومکان کے مطابق تبدیلی لانے میں کیوں ہمیشہ کوتاہی کی ہے؟

جواب: دینی امور کے اولیاء خدائی قوانین (شریعت) میں تبدیلی لانے کا کسی قسم کا اختیار نہیں رکھتے ہیں اور ان کا فرض صرف دینی مسائل کے بارے میں کتاب وسنت سے استنباط کرنا ہے ،ایک وکیل کے مانند جو قانونی مسائل کو ملک کے آئین سے استنباط کرتا ہے نہ یہ کہ آئین کے کسی دفعہ میں تبدیلی لائے ۔

شرعی قوانین کے بارے میں علمائے دین کی بات ہی نہیں ،خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ـجو شریعت کے لانے والے ہیں ـاورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین ۔جو امام اور شریعت کے محافظ اور معلم ہیں ۔بھی تبدیلی لانے کا اختیار نہیں رکھتے ۔اس قسم کے سوالات اور اعتراضات کا سرچشمہ مغربی عمرانیات کے ماہروں کا طرز تفکر ہے ، جو یہ کہتے ہیں : صاحب شریعت انبیاء چند نوابغ اور اجتماعی مفکرین تھے ،جنہوںنے معاشرہ کے حق میں انقلاب برپا کرکے لو گوں کی سیدھے راستہ کی طرف دعوت کی ہے اور اقتضائے زمان کے مطابق اپنی فکر سے کچھ قوانین کو وضع کر کے لوگوں کو سکھایا ہے اور خود کو خدا کے رسول، اپنے مقدس افکار کوآسمانی وحی اور خدا کا کلام اور شریعت وخدا کا دین اور اپنے بے لاگ افکار کے سرچشمہ کو فرشتہ وحی ،جبرئیل بیان کیا ہے ۔

بدیہی ہے کہ اس قسم کے نظریہ کے مطابق،ادیان آسمانی کے قوانین من جملہ شریعت اسلام اقتضائے زمان کے مطابق مرتب ہونے چاہئیں اور ان چالیس سوالات ١کے دوران پیداہونے والے اعتراضات بجا ہونے چاہئیں ۔

لیکن یہ صاحبان نظر اپنے نظریہ میں خطا کے مر تکب ہوئے ہیں ۔اوربجائے اس کے بغیر کہ پیغمبروں کے دعویٰ کی تحقیق کریں ،بے بنیاد فرض پر فیصلہ سنادیا ہے ۔اگر چہ دوسری آسمانی کتابوں کی سند اورگزشتہ پیغمبروں کی زندگی کی تاریخ ابہام اور تاریکی

سے مبرّا نہیں ہے ،لیکن قرآن مجید کا متن،جو اسلام کی آسمانی کتاب ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی تاریخ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے

١۔ جدید طبع میں سوالات کو مرتب کرنے کے بعد ان کی تعدادکم ہو کر ٣٣رہ جاتی ہے ۔

جانشینوں کے موجودہ قطعی الصدور بیانات اس نظریہ کو جھٹلاکر مسترد کرتے ہیں ۔

ہم اس وقت اسلام کی طرفداری یا اس کی حقانیت کا دفاع کرنا نہیں چاہتے ،لیکن جو شخص اس دین کے مصادرکے بارے میں تھوڑی سی آشنائی بھی رکھتا ہو ،قرآن مجید اور اولیائے دین خاص کر اس کتا ب کو لانے والے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیانات پر سر سر ی نگاہ ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ اس نظریہ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں ۔

قرآن مجید واضح الفاظ میں فرماتا ہے :

'' پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین خدا میں کسی قسم کا اختیار اور عمل کی آزادی نہیں رکھتے ہیں اور وہ صرف خداکا پیغام پہنچانے والے ہیں۔''(مائدہ ٩٢،٩٩)

واضح طور پر فرماتا ہے :

''دین خدا بشر ی فکر کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ ایسے احکام وقوانین ہیں جنھیں پروردگار عالم نے اسے پیغمبروں کے توسط سے اپنے بندوں پر نازل فرمایا ہے'' (حاقہ٤٠۔٤٣)

جو لوگ یہ کہتے تھے کہ قرآن مجید پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کلام ہے اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے خداسے نسبت دیتے ہیں ،ان کے جواب میں قرآن مجید واضح طور پر فرماتا ہے :

'' بیشک قرآن خدا کا کلام ہے اور انسان کا کلام نہیںہے اور نہ اس کے مضامین انسانی فکر کی پیداوار ہیں ۔(۱) ''

مزید فرماتا ہے :

''پیغمبر اکرم( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آسمانی وحی اورنبوت نے خاتمہ پایا ہے

اور قرآ ن کے احکام قیامت تک معتبر اور ناقابل تنسیخ ہیں(۲) ''

گزشتہ مطالب کے پیش نظر جو شخص اسلام کے قوانین کے ایک حصہ کو روزمرہ زندگی سے ناقابل تطبیق تشخیص قراردے ،اسے اسلام کی حقانیت کی بنیاد ـجو ابدی احکام اور قوانین کوبیان کر تا ہے ـ پر اعتراض کرنا چاہئے اور ان میں تبدیلی لانے کی چارہ جوئی کر نی چاہئے ۔

اسلام اور ترقی یافتہ قوانین

سوال: کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ تعلیم یافتہ مسلمان نو جوانوں کے دین سے منہ موڑ نے کی ذمہ داری ان پس ماندہ قوانین پر ہے جو موجودہ زمانہ میں دنیا کی صنعت وعلم کے مطابق نہیں ؟

جواب: بہتر تھا اگر آپ ان بے بنیادد عاوی کے بجائے اسلام کے پس ماندہ قوانین کے چند نمونے پیش کرتے تاکہ اس پر مدلّل بحث کی جاتی ۔اسلام میں پس

ماندے قوانین نہیں ہیں لیکن قوانین سے پیچھے رہ جانے والے مسلمان بہت ہیں !

آسمانی ادیان،خاص کر دین اسلام انسان کی ایک ابدی ازلی زندگی اور انسانی زندگی کے ماورائے طبیعت سے رابطہ کی بحث کرتے ہیں اور اس طرز کی بحث کا آج کے علم وصنعت سے کیا رابطہ ہے ؟ آج کل کے علم کی بحث کا موضوع مادّہ اور مادّہ کی خصوصیات ہے اور آج کی صنعت بھی مادہ کے بارے میں سر گرم ہے ۔اس لحاظ سے ماوراء کے بارے میں اسے مسترد یا قبول کرنے کے سلسلہ میں اظہار نظر کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے ۔

ہمارے تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کے دین سے منہ موڑ نے کا گناہ دینی قوانین پر نہیں ہے اور اس مطلب کا گواہ کہ انسان نے نہ صرف دین سے رو گردانی کی ہے بلکہ واضح ہے کہ ضمیر اور انسانیت کے قوانین کو بھی پائمال کر رہا ہے ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں جھوٹ،خیانت ،چاپلوسی ،بے حیائی اور بے راہ روی کاس ہو ناہے کہ وہ ہر قسم کی پاکی ،سچائی اور حق کے دشمن ہیں ،نہ صرف دین کے ۔

دوسری طرف سے ،تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد (اگر چہ دوسروں کی نسبت کم ہے ) پسندیدہ اخلاق سے آراستہ اور معارف سے آشنا اور ان ہی (بقول آپ کے) پسماندہ قوانین ! کے پابند اوران پر عمل کرتے ہیں اور چونکہ اسلام ہر گز علم وصنعت کے منا فی نہیں ہے ،اس لئے یہ لوگ اپنی زندگی میں رنج وناراحتی کا ہر گزاحساس نہیں کرتے ۔لہذا حقیقت میں ہمارے نوجوانوں کی دین سے روگردانی کی ذمہ داری ہمارے فریضہ ناشناس ثقافتی مسئو لین کی ثقافتی تعلیم وتر بیت کے طریقہ کار پر ہے نہ دینی قوانین پر اورنہ انسانی فضائل اور اخلاقی قوانین پر ۔

فحاشی اورمنکرات کا قبیح ہونا

سوال: فحاشی ـجس میں مرد اور عورتیں برابر شریک ہیں ـ کے بارے میں عورتوں کی کیوں زیادہ ملامت کی جاتی ہے ؟ اور اگر آپ قبول کرتے ہیں کہ مرد، ایک بہتر اور طاقتورترمخلوق ہے ،اس صورت میں وہ اپنے اعمال کو بہتر کنٹرول کرسکتا ہے اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کی زیادہ سر زنش کی جانی چاہئے ؟

جواب:اسلام میں ایسے کسی حکم کا وجود ہی نہیں ہے ۔

ایک ناشائستہ بات

سوال: کہا جاتا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے : اگر کسی کو اپنامنہ بولا بیٹابنادوگے تواس کے ساتھ اپنے حقیقی بیٹے کا جیسا برتائو کرناچاہئے کیا یہ بات صحیح ہے یا نہیں ؟صحیح ہونے کی صورت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے منہ بولے بیٹے کی طلاق دی گئی بیوی سے شادی کرنے پر کیوں آمادہ ہوئے ؟

جواب:آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہرگز ایسی کوئی تاکید نہیں کی گئی ہے ،بلکہ یہ ایک تہمت ہے جو اسلام کے دشمن خاص کر مغربی عیسائی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لگاتے ہیں ۔اپنے منہ بولے بیٹے کی طلاق دی گئی بیوی سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادی اسی اصول پر تھی کہ اس ناپسند رسم کو باطل کر کے اس کا اعلان فرمائیں ،کیو نکہ اس زمانہ میں اکثر ممالک میں ایک خاندان کے کسی فرزند کو دوسرے خاندان سے ملحق کر کے اس کے ساتھ حقیقی رشتہ کا برتائو کیا جاتا تھا ۔اس سلسلہ میں قرآن مجید کے سورہ احزاب میں کئی آیتیں موجود ہیں ۔

ازدواج میں عمر معیار نہیں ہے

سوال: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،بشر کی تربیت کے لئے ایک عظیم مقام پر فائز تھے اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اعمال دوسروں کے لئے نمونے ہونے چاہئیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیوں تقریباًبوڑھاپے میں ایک نوسالہ لڑکی (عائشہ )سے شادی کی؟

جواب:اگر جوان عورت کی ایک بوڑھے مرد سے شادی کر نے میں کوئی عیب ہو تو ،یہی ہو گا کہ ایک جوان عورت کے لئے ایک بوڑھے مردسے مباشرت کرنی لذت بخش نہیں ہو تی یا یہ کہ عمر کے عدم تعادل اور تقارب کی وجہ سے عام طور پر شوہر عورت سے پہلے مرجاتا ہے اور عورت جوانی میں بیوہ ہوتی ہے ۔لیکن واضح ہے کہ ازدواج کے مقاصد صرف ان دو مقاصد تک محدود نہیں ہیں اس لئے ہمارے پاس اس رویہ کے ممنوع ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ممکن ہے مذکورہ مقاصد سے بہت اہم دوسرے مقاصدبھی ہوں جو اس قسم کی شادی کے لئے ترجیح کا سبب بنیں ۔

جیسا کہ ہم نے اخباروں میں پڑھا ہے کہ چند سال پہلے ،امریکہ کے صدرجمہوریہ مسٹرآئزن ہاور نے امریکہ کے کثیرالاشاعت اخباروں میں یہ ایک سوال پیش کیاتھا اور ملک کی دوشیزگان سے پو چھاتھا کہ تم کس سے شادی کرنا پسند کرتی ہو ؟امریکہ کی اکثر دوشیزگان نے اپنے جواب میں خود مسٹر آئزن ہاورکا نام لیا تھا ،جبکہ نہ وہ جوان تھا اور نہ خوبصورت ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کے بارے میں ،جوشخص آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کی تاریخ کے بارے میں کم وبیش اطلاع رکھتا ہے ، بخوبی جانتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک شہوت پرست اور عیّاش مرد نہیں تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہر کام استدلال کی بنیاد پر ہوا کرتے تھے نہ جذبات کی بنا پر ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس قسم کاکام جواز کے بیان کے لئے انجام پایا ہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت اسلام کی پیشرفت میں اس کے نمایاں اثرات رونما ہوئے ہیں ۔

__________________

١۔ (مدثر٢٥)

۲۔(احزاب ٤٠)


اسلام میں متعہ کا مشروع وجائزہونا

سوال:''متعہ '' کے حکم کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ،جبکہ اہل سنت اس کے مخالف ہیں اور اس عمل کا مقصود کیاہے ؟ کیاآپ نہیں سمجھتے کہ یہ امرانسانی قوانین کے خلاف ہے اور عورت کو (اگرانسان کی حیثیت سے قبول کرتے ہو )ایک ایسی چیز بناتا ہے تاکہ آسانی کے ساتھ اس کا ناجائز فائدہ اٹھایاجائے ؟

جواب: نکاح متعہ کی مشروعیت و شرعی جواز قرآن مجید کے سورئہ نساء کی آیت نمبر ٢٤ میں ثابت ہو چکاہے اور شیعہ اس کے بارے میں اہل سنّت کی مخالفت پر اعتنا نہیں کرتے ، کیونکہ یہ عمل قرآن مجید میں ثابت ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پو ری زندگی میں ،خلیفہ اول کی خلافت کے دوران اور خلیفہ دوم کی خلافت میں بھی ایک مدت تک معمول کے مطابق رائج تھا اور اس کے بعد خلیفئہ دوم نے اس کو منع کیا اور واضح ہے کہ قرآن مجید کے حکم کو صرف قرآن مجید ہی تنسیخ کر سکتا ہے اور اسلامی حکومت کو یہ حق نہیں ہے کہ موزون (شریعت کے)قوانین کے بارے میں اظہار نظر کرے ۔

نکاح متعہ کا مقصود ،موقت ازدواج ہے اور اسلام کی نظر میں اس کی مشروعیت وشرعی جواز مذکورہ بیانات کے مطابق ناقابل انکار ہے ۔فلسفہ احکام کے نقطہ نظر کے مطابق طلاق کی مشروعیت وشرعی جوازاس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ازدواج،موقت بھی انجام دیا جاسکتا ہے ،اس صورت میں کہ موقّت ازدواج آثار کے لحاظ سے اس طرح مرتب ہو جائے کہ نقصانات اور مضر نتائج کا سبب نہ بنے ،تو اس کو ممنوع کر نے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

اور یہ جو کہا گیا ہے کہ''یہ عمل عورت کو ایک ایسی چیزبنا دیتی ہے جس سے مردآسانی کے ساتھ ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے '' ایک زبردستی اور ظلم ہے ،کیو نکہ عورت اس عمل کو اپنے اختیار سے قبول کرتی ہے نہ جبر واکراہ سے اور اس عمل میں جو مقاصد مرد کے لئے فرض کئے جا سکتے ہیں اور وہ مقاصد اگر مصاحبت ،لذت ،اولاد پید اکرنا اور زندگی کے دوسرے فوائد ہیں تو یہ دونوں طرف موجود ہیں ،اس لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ دو میں سے کسی ایک کو دوسرے کا کھلو نا شمار کیا جائے ۔

اس کے علاوہ اگر آپ عالم بشریت پر عام اور وسیع نظر ڈال کر سنجیدگی سے غور کریں گے تو واضح طور پر مشاہدہ کریں گے کہ انسانی معاشرہ کی جنسی آمیزش کو نکاح اور دائمی ازدواج تک محدود کر کے ہر قسم کی دوسری آمیزش کو غیر قانونی شمار نہیں کیا جاسکتا ہے اور ازدواج دائمی کا رواج ہر گز اس جنسی جبلّت کو پورا کر کے مناسب جو اب نہیں دے سکتا ہے ۔

مہذب دنیا کے کسی بھی ملک میں قانونی حکومتیں کسی بھی ذریعہ سے مو قت آمیزشوں کے پھیلائو پر کنٹرول نہیں کر سکی ہیں اور تمام بڑے اور مرکزی شہروں میں آشکار یا مخفیانہ صورت میں یہ عمل انجام پاتا ہے ۔اس صورت میں جو مذہب جنسی آمیزش کو ازدواج تک محدود کر کے مکمل طور پر زنا کو روکنا چاہے ،تو اس کے لئے ناگزیر ہے کہ موقت ازدواج کو زنا کے مفاسد کو رفع کر نے کے خاص شرائط سے قانون میں جگہ دے تاکہ اس عمومی جبلّت کا خاطر خواہ طریقہ سے کنٹرول کر سکے ۔

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: ''اگر خلیفہ دوم اس نکاح متعہ(موقعت ازدواج) کو ممنوع نہ کرتے تو صرف وہ لوگ زنا میںگرفتار ہو تے جو گمراہی سے ہلا کت تک پہنچ گئے ہوں )اور یہاں پر واضح ہو تا ہے کہ اس امر کو انسانی قوانین کے خلاف شمار کرنا کس قدر حقیقت سے دوری ہے ۔

البتہ انسانی قوانین کا مقصود قبل از اسلام قدیم قوانین ،جیسے قدیم رومی اور حمورابی کے قوانین نہیں ہیں،کیو نکہ ان قوانین میں عورت سے حیوانوں یا اسیروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا ،بلکہ ان سے مراد مغربی قوانین ہیںاسی عالم غرب کو انسانی دنیا، مغربی معاشرے کو انسانی معاشرہ اور غریبوں کو انسان جانتے ہیں اور ہر قسم کے اوامر سے متاثر ہو کر (حقیقت ذہنی ،تلقین ،تقلید ،تبلیغ،خطا)فی الحال یہی فکر کسی قید وشرط کے بغیر ہمارے ذہنوں پر حکمراں ہے ۔لیکن دیکھنا چاہئے کہ ان فخر کر نے والے انسانوں نے ازدواج کے ماحول سے باہر ،عمومی اور مخلوط معاشرتوں میں اس (انسانی قوانین کے خلاف )کی جگہ پر کیا رکھا ہے اور مہذّب ممالک خاص کر سب سے مہذب ممالک میں مردوں اوعورتوں ،لڑکوں اور کنواری لڑکیوں اور خود مردوں اور جوانوں کے درمیان کیا گزر رہی ہے ؟اور دائمی ازدواج کی راہ سے جو کمی واقع ہو رہی ہے اسے کس طریقہ سے پو را کرتے ہیں ؟اور اس سلسلہ میں شائع ہو نے والے حیرت انگیز اعداد وشمار کس بات کی غماّزی کرتے ہیں ؟

مسلمانوں کی کمزوری کا اسلام سے کوئی ربط نہیں ہے

سوال: غریبوں کا اعتقاد ہے کہ اسلام صرف سادہ لوگوں جیسے کسان ،صحرانشین اور آج کل کی مشینی تمدن سے پیچھے رہ جانے والوں کادین ہے ،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان ممالک میں سے ایک ملک بھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نہیں ہے اور اسلام نے صنعتی اور متمدن ممالک میں اصلاً کسی قسم کی پیشرفت نہیںکی ہے ۔اس کا سبب کیا ہے ؟کیا آپ سوچتے ہیں کہ اسلامی قوانین کو اس طرح تبدیل کیا جائے یاترجمہ کیا جائے جو تعلیم یافتہ افراد کے لئے قابل قبول ہوں اور علم کے موافق ہوں؟

جواب : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی ممالک ترقی یافتہ اور پیشرفتہ ممالک کی فہرست میں نہیں ہیں ۔لیکن دیکھنا چاہئے اسلامی ملک کا نام رکھنے والے ممالک میں سے کس ملک میں اسلامی قوانین نافذہیں ؟اس کے علاوہ یہ کہ ان پر دین اسلام کا نام لگایاگیا ہے اور اس نام کا انہیں کیا فائدہ مل رہا ہے ؟بجز اس کے ان ممالک میں کچھ لوگ بعض اسلامی عبادتوں ،جیسے نماز،روزہ اورحج کو دیرینہ عادت کے طور پر بجا لاتے ہیں ،یہ لوگ اسلام کے انفرادی ،اجتماعی، تغیراتی اور عدلیہ کے کن قوانین پر عمل کرتے ہیں ؟اس صورت میں کیا یہ مذاق نہیں ہے کہ اسلامی ممالک کے تنزّل کا ذمہ دار اسلام کو ٹھہرایا جائے؟

ممکن ہے یہ کہا جائے کہ اگر اسلام ایک ترقی یافتہ دین ہو تا اور اس کے قوانین معاشرے کی اصلاح اور ادارہ کر نے کی لیاقت رکھتے ،تو اس نے معاشرے میں اپنے لئے کوئی جگہ بنالی ہو تی اور اس طرح متروک نہ ہو چکا ہو تا!

لیکن یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اگر معاشرہ میں عدم ترقی اور تنزل کا سبب اسلامی قوانین ہیں تو، مغربی ترقی یافتہ ڈیمو کریسی کی روش،جو نصف صدی سے ان ممالک میں رائج ہے ،نے اپنے لئے کیوںکوئی جگہ نہیں بنائی ہے اور اپنی پیشرفت میں کسی قسم کا اثر نہیں دکھایا ہے اور ظاہر نمائی کے علاوہ کوئی اثر نہیں رکھتی ؟اور مشرقی لوگ غریبوں کے مانند اس ترقی یافتہ روش سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاسکتے ہیں ؟اور کیوں یہی انسانی نظام ''ڈیمو کریسی ''جو برسوں سے انسانیت کے گہوارہ ''مغرب'' میں اپنے لئے جگہ بنا سکا تھا اور معاشرہ کی رگوں میں خون کی جگہ جاری تھا ،کمیو نزم کی آوازکو خاموش نہ کر ساکا ہے ،یہاں تک نصف صدی سے کم عرصہ میں کمیو نسٹ نظام نے کرئہ ارض کی تقریباًنصف آبادی پر اپنا تسلط جمایا اور حتی یورپ اور امریکا کے مرکز میںبھی نفوذ کیا اور ہر روز ایک نئے مورچہ کو ان ہی تر قی یافتہ انسانوں (غریبوں) سے فتح کر تا جارہا ہے کیا اسی دستاویز کی بناپر یہ نظریہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ کیمو نزم کے ترقی یافتہ قوانین اور اس کا نظام یا ڈیمو کریسی کے قوانین اور اس کا نظام ،بدبختو ں اور صحرا نشینوں کی روش ہے ؟

اس کے علاوہ ،زوال اور پس ماند گی سے صرف مسلمان ممالک دوچار نہیں ہیں تاکہ اسے اسلام کی گردن پر ڈال دیا جائے بلکہ ایشیاء اور افریقہ کے تمام ممالک، من جملہ بر ہمن اوربدھ مذہب سے لے کر مسحیت اور اسلام سے تعلق رہنے والے لوگ رہتے ہیں، اسی بد قسمتی سے دوچار ہیں ۔یقینا ایشیا اور افریقہ کے قدرتی دولت سے مالامال ان دو بر اعظموں کا گناہ یہ ہے کہ مغربی دنیا اور ان کے بے حد طمع ولالچ کے شکار ہوئے ہیں تا کہ یہ دو بے نیاز بر اعظم اپنے منابع سے مغربی صنعتوں اور ان کے بازار کے لئے خام مال کا ذخیرہ مہیا کر سکیں اور غلاموں کی یہ دنیابدون چون وچرا مغرب کی محتاج رہے ۔ان حالات کے پیش نظر یہ ممالک کبھی ترقی یافتہ ممالک (یعنی مغربی ممالک) کا جز نہیں بن سکتے ہیں اور ان ممالک کے باشندے ،خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان ،کبھی اپنے آقائوں سے ملحق نہیں ہوں گے جیسا کہ آج تک ہم نے دیکھا ہے ،یہ لوگ ''غربی'' کبھی ''استعمار''کبھی ''استملاک '' کبھی ''اشتراک منافع''اور کبھی ''اقتصادی امداد''کے نام پر ہم پر سوار ہوتے رہیں گے ۔

سوال کے ذیل میں جو یہ کہا گیا ہے کہ کیا اسلام کو اس طرح تبدیل کیا جاسکتا ہے یا توجیہ کی جاسکتی ہے تاکہ تعلیم یافتہ لو گوں کے لئے قابل قبول ہو اور علم کے موافق ہو ؟چنانچہ بیان ہوا ،معارف اسلامی ـ جن کی ضمانت کتاب وسنت دیتی ہے ـ واضح طور پرہر گز قابل تغیر نہیں ہے چنانچہ اسلام دین حق ہے اس لئے اسے ضرورت ہی نہیں کہ تعلیم یافتہ طبقہ اسے قبول کرے ،بلکہ مذکو رہ طبقہ ہی حق اور حقیقت پسندی کا محتاج ہے ،

خدائے متعال فرماتا ہے :

''دین میں کسی قسم کا جبر واکراہ نہیں ہے اور سیدھا راستہ واضح ہے(۱) ''

ہم پھر یہی بات کہتے ہیں کہ ''اسلام کی علم سے مخالفت ''کو ثابت کرنے کے لئے چند نمو نے پیش کئے جاتے تاکہ ''اسلام علم کا مخالف ہے ''کے صرف دعویٰ کی دلیل بھی پیش کی جاتی اور اسی خالی دعویٰ پر اکتفانہ کرتے ۔

قانون اور عدالت کے سامنے سب مساوی ہیں

سوال: کیا آپ یہ بات مانتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے : ایک انسان کی قدر ومنزلت اس کے اعمال اور کردارپر منحصر ہے نہ اس پر کہ وہ کس کا فرزند ہے یا کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے یاکس رنگ کا ہے ؟اس بنا ء پر شیعہ حضرات کیوں حضرت علی علیہ السلام یا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کو نسل در نسل دوسروں سے بہتر و پاک تر جانتے ہیں ؟

جواب: اسلام کی نظر میں قانون اور عدالت کے سا منے سب برابر ہیں اور اس جہت سے شاہ وگدا ،امیر وغریب ،طاقت وراورکمزور ،مرداورعورت،سیاہ فام اورسفیدفام ،حتی پیغمبر وامام ـ کہ معصوم ہیں ـ اور تمام لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور کسی بھی استثناء اور امتیاز سے کسی پر دبائو ڈال کر اس کی قانونی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی ہے ۔سادات کے احترام کی بنیاد قرآن مجید کی ایک آیہ شریفہ ہے جس کے موجب خدائے متعال اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حکم فرماتا ہے کہ لوگوں سے تقاضا کریں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رشتہ داروں سے دوستی اور مودّت کا معاملہ کریں(۲)

اس تقاضا کا راز پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد واضح ہوا اور لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اولاد سے ایک ایسا برتاؤکیا کہ تاریخ میں کسی رہبر اور پیشوا کی نسل کے ساتھ نہیں کیا گیا ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد صدیوں تک سلسلئہ سادات کسی صورت میں محفوظ نہیں تھا ،وہ قتل کئے جاتے تھے ،ان کے تن سے جدا کئے گئے اوران سروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں تحفہ کے طور پربھیجا جا تا تھا ،انھیں زندہ زمین میں دفناتے تھے ،گروہ گروہ کی صورت میں عمارتوں اوردیواروں میں چنے جاتے تھے ،سالہا سال تک زندان کی کالی کو ٹھہریوں میں انھیں جسمانی اذیتیں پہنچائی جاتی تھیں ،اور انھیں زہر دیا جاتا تھا ۔ہجرت کے بعد صدیاں گزر کر شیعوں نے تھوڑی سی آزادی حاصل کی اور اولاد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے دوستوں پر ہو نے والے مظالم کے مقابلہ میں ردعمل دکھا کر سادات کا احترام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اسلام میں سور کے گوشت کے حرام ہونے کا فلسفہ

سوال :سور کا گوشت کھانا اسلام میں کیوں حرام ہے ؟

جواب: سور کا گوشت صرف اسلام میں ہی حرام نہیں ہے بلکہ جیسا کہ انجیل اور تورات سے معلوم ہو تا ہے کہ سور کا گوشت اسلام سے پہلے آسمانی ادیان میں بھی حرام تھا ۔اس کے گوشت کے حرام ہونے کے بارے میں جو فلسفہ بیان کیا گیا ہے وہ حفظان صحت کے لئے نقصانات اور اس کا نجاست خوار ہونا ہے ۔

اسلام میں مست کرنیوالی چیزوں کے حرام ہونے کافلسفہ

سوال: اسلام میں شراب کیوں حرام ہے؟

جواب: اسلام نے اپنی تعلیم وتربیت کی بنیاد استدلال پر رکھی ہے جو تمام حیوانات پر انسان کا امتیاز ہے اور واضح ہے کہ شراب اور دوسری مست کرنے والی چیزیں انسان کی زندگی کے اس بنیاد ی امتیاز کو ضائع کر دیتی ہیں اور استثنا کے بغیر دینی تعلیم وتربیت کے مقاصد کو نابود کر کے رکھتی ہیں ۔

مختلف قسم کے ظلم وتعدّی ،قانون کی خلاف ورزیوں اور بے راہ رویوں کا، شراب تنہا عامل یا ان میں شریک ہے اور اسی طرح حفظان صحت ،روح اور جسم کوپہنچنے والے نقصانات اور موروثی برے اثرات جو روز مرہ دنیا میں پیدا ہوتے ہیں ، شراب کے سبب سے ہیں ،ان سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے ١

مرد اور عورت کے درمیان جائز اور ناجائز تعلقات

سوال: اسلام عشق اور زن و مرد کے درمیان جنسی تعلقات کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے ؟

١۔( یاایّها الّذین امنوا انّما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوه لعلکم تفلحون٭انّما یرید الشیطان ان یو قع بینکم العداوةوالبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکراللّه وعن الصلوة فهل انتم منتهون ) (مائدہ ٩٠۔٩١)

ایمان والو !شراب ،جوا ،بت ،پانسہ ،یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہذا ان سے پرہیز کرو تاکہ کامیابی حاصل کر سکو ۔شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جو ے کے بارے میں تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرے اور تمھیں یاد خدا اور نماز سے روک دے توکیا تم واقعاًرک جائو گے؟

جواب:ازدواج کے ماحول سے باہر ،(جیسا کہ بیان ہوا) عاشقانہ تعلقات، خواہ آمیزش کے لئے ہوں یا اس کے مقدمات کے طور پر ، اسلام میں ممنوع اور حرام ہیں ۔اور بنیادی طور پر جاننا چاہئے کہ اسلام میں حرام کا فلسفہ طبقات کی آزادی کو سلب کر نے کا مسئلہ یا دوسروں کا حق چھیننا اور ظلم کر نا نہیں ہے ۔البتہ اگر زن ومردکو اپنی مر ضی سے کسی کے حقوق میں رکاوٹ اور ظلم کئے بغیر بھی آزادی کے ساتھ ہر کام انجام دینے کی اجازت ہو تو اس میں اور زنا کے اقسام میں کوئی فرق نہیں ہے، ایسے اعمال ممنوع ہیں اور اس حساب سے لواط بھی زنا کے مانند ہے ۔

اسلامی احکام کا نا قابل تغیر ہو نا

سوال: کیا کلّی طور پر آپ اس بات کے معتقد ہیں کہ قوانین اسلام قابل تغیر و تبدیل ہیں یا نہیں ؟ اور کیا ان تغیرات کے بارے میں آپ معتقدہیں کہ اس سلسلہ میں دینی قائدین کو پیش قدم ہو نا چاہئے یا تغیرات رونما ہو نے کی صورت میں ان کے ساتھ ہم آہنگی کریں ؟

جواب: چنانچہ پہلے بیان ہو اکہ شریعت کے قوانین (خدا کے ثابت احکام) کسی صورت میں قابل تغیر نہیں ہیں اور دین کے قائدین کو پیش قدم ہونے یا پیچھے ہٹنے یا کسی مورد میں موقت یا غیر موقت سازش کرنے کے لئے کسی قسم کا اختیار نہیں دیا گیا ہے ۔خدائے متعال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے :

''اور اگر ہماری توفیق خاص نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہو تا توآپ (بشری طور پر) کچھ نہ کچھ ان کی طرف ضرورمائل ہو جاتے ۔اور پھر ہم زندگا نی دنیا اور موت دونوں مر حلوں پر دہرا مزہ چکھاتے اور آپ ہمارے خلاف کوئی مدد گاراورکمک کرنے والا بھی نہ پاتے١ ۔''

دین کے احکام کا قرآن وسنّت کی بنیاد پر قابل قبول ہونا

سوال:کیاآپ ذاتی طورپراسلام کے تمام قوانین اوررسومات پرکسی قسم کے چون وچراکے بغیراعتقاد رکھتے ہیں؟

جواب:مسلمانوںمیںپیداہوئے آداب ورسوم اگرکتاب وسنت سے کوئی ماخذنہ رکھتے ہوںتوان کی کوئی قدروقیمت نہیںہے۔لیکن شریعت کے قوانین جوکتاب وسنت میںقطعی مدرک رکھتے ہیں،انھیں قبول کرناواجب ہے اور ان کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے۔

مولا علی علیہ السلام کے کلام کی وضاحت

سوال : حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے :''اپنے ماں باپ کے لئے مسلمان نہ ہو جائو ،بلکہ اس لئے مسلمان ہو جائو کہ تم خود اس کا ایمان پیدا کر کے اسے قبول کرو گے جتنا ہو سکے اپنی عقل سے قبول کرو ۔''اس صورت میں کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ہر مسلمان اس حق کی آزادی رکھتا ہے کہ قوانین اسلام میں سے جسے پسند کرے اسے قبول کرے اور باقی قوانین کو اگر عقل سے قبول نہیں کر سکتا ہو تو انھیں چھوڑ دے ؟

جواب :حضرت علی علیہ السلام کا یہ کلام اسلام کے اعتقادی معارف کے بارے میں ہے

١۔( ولولاان ثبتناک لقد کدتّ ترکن الیهم شیئاً قلیلا ٭اذاً لذ قناک ضعف الحیاة وضعف الممات ثم لا تجد لک علینا نصیرا ) (اسراء ٧٤۔٧٥)

کہ ان پر عقل کی راہ سے ایمان لا نا چاہئے ،نہ عملی قوانین کے بارے میںکہ ان پر عمل کر نا ضروری ہے قوانین پر عمل کرنے میں امتیاز بر تنا بے معنیٰ ہے ۔

صرف قوانین اسلام میں ہی امتیاز بر تنا جائز نہیں ہے بلکہ دوسرے اجتماعی قوانین کی بھی یہی حالت ہے ان میں امتیاز بر تنا ایک تشکیل یافتہ معاشرہ کو نابود کر نے کے علاوہ کو ئی نتیجہ نہیں دیتا ۔مثلاً جس ملک میں ڈیمو کریسی کانظام حکم فر ما ہو تو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ اعلیٰ طبقہ کے لو گوں کو اس بات کی آزادی ہوگی کہ قوانین کے ان دفعات کو قبول نہ کریں جو ان کی عقل کے ساتھ ساز گار نہ ہوں اور نتیجہ کے طور پر لو گوں کا ایک گروہ مالیات سے مربوط قوانین کے دفعات پرعمل نہیںکرے گااورکچھ لوگ تجارت سے مربوط قوانین کو،کچھ لوگ تعزیراتی قوانین کواورکچھ لوگ انتظامات سے مربوط قوانین کوچھوڑ دیںگے تو بدیہی ہے اس قسم کے حالات معاشرہ میں ہرج ومرج پیدا کر کے اسے نابود کر نے کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا ۔اس کے برعکس ، ہرفرد ڈیمو کریسی کا نظام کو قبول کر تا ہے اورمجلس قانون ساز کے نمائندہ کو انتخاب کر کے قانون کے تمام دفعات کو قبول کر تا ہے اور قانون کے ہر دفعہ کو ناقابل تردید جانتا ہے ۔

اسی طرح اسلام میں جس شخص نے عقل کی راہ سے اسلام کے اعتقادی معارف کو قبول کیا، اس نے اس کے ضمن میں نبوت کی حقانیت کی تصدیق کر کے ایمان لایا ہے کہ جو قوانین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہیں اور ان کی خداسے نسبت دی ہے ،وہ ایسے قوانین ہیں جن کو وضع کر نے والا حقیقت میں خدائے متعال ہے اور خدائے متعال ہر گز اپنے قوانین میں غلطی اور خطا نہیں کرتا ہے اوراپنے بندوں کے منافع کے تحفظ اور ان کی مصلحت کی رعایت کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رکھتا ہے، البتہ جو شخص اس قسم کا اجمالی ایمان پید اکرتا ہے وہ اسلام کے تمام قوانین کے صحیح اور معتبر ہو نے کی اجمالاًتصدیق کرتا ہے اور انھیں ناقابل تردید جانتا ہے اگر چہ ان سب قوانین کے بارے میں اور ان کی مصلحتوں کے بارے میں تفصیلی علم پیدا نہ کرسکے ۔اس بنا پر بعض قوانین کو قبول کرنے اوربعض کو مسترد کر نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ہے ۔

دین اسلام ،خدائے متعال کا دین ہے

سوال: گزشتہ سوا ل کے پیش نظر ،کیا آپ نہیں سوچتے کہ یہ اس چیز کی علامت ہے کہ ہرانسان آزادی رکھتا ہے تاکہ جس دین کو پسند کرے اسے قبول کرے اور ایک مسلمان کو تمام ادیان کا احترام کرنا چاہئے ؟

جواب: دین کی حقیقت سے مرادیہ ہے: عبارت ہے کائنات اور انسان کی خلقت کے بارے میں اعتقادات اور عملی فرائض کا ایک سلسلہ، جوانسان کو ان اعتقادات سے تطبیق کرے۔اس بناپر یہ انسان کے اختیار میں ایک تکلفاتی امر نہیں ہے کہ انسان جس دین کو پسند کرے اسے قبول کرے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جس کے تابع انسان اور اس کا اختیار ہے اور اسے اس کی پیروی کر نی چاہئے ۔چنانچہ مثلاًیہ مسئلہ''ہم سورج کی روشنی سے استفادہ کرتے ہیں ''ایک حقیقت و واقعیت ہے کہ آزاد انسان ہر گز اس کے مقابلہ میں مختار نہیں ہے کہ ہر روز ایک نظریہ پیش کرے بلکہ اس کے ثبوت کو قبول کرنے اوراپنی زندگی کے مسائل کو اس پر استوار کرنے پر مجبور ہے ۔حقیقت میں اگر کوئی دین یہ نظریہ پیش کرے :''ہر انسان یہ آزادی رکھتا ہے کہ مختلف ادیان میں سے کسی ایک کو اپنی پسند کے مطابق قبول کرے''تو اس دین نے اس نظریہ سے اپنے تکلفاتی اور غیر واقعی ہونے کا اعتراف کیا ہے اور اپنے کو باطل ثابت کیا ہے ۔

خدائے متعال فرماتا ہے :

''خداکے پاس دین، اسلام ہے ''(۳)

مزیدفرماتا ہے:

''جو کوئی شخص اسلام کے علاوہ کسی اوردین کا انتخاب کرے اسے قبول نہیں کیا جائے گا(۴) ''

اسلام نے ادیان میں سے تین ادیان کو محترم جاناہے :نصرانیت ،یہودیت اور مجوسیّت اوراس احترام کا معنی یہ ہے کہ(جیساکہ قرآن مجید کی آیات سے واضح ہوا)ان تین ادیان کے ماننے والے اپنے دین پر باقی رہ سکتے ہیں نہ یہ کہ وہ حق پر ہیں ۔

ہلال ،اسلام کی علامت نہیں ہے

سوال: ہلال کیوں اسلام کی علامت ہے ؟

جواب: اسلام ''ہلال'' کے نام پر کوئی علامت نہیں رکھتا ہے ۔لیکن ''چاند اورستار ہ ''صلیبی جنگوں کے بعد عیسائیوں کے صلیب کے مقابلہ میں ،اسلامی ملکوں میں مسلمانوں کی مشخص علامت کے طورپر رائج ہو اہے اوراس وقت بھی اکثر اسلامی ممالک کے پرچم پریہ علامت موجود ہے ۔

چاند، آیات الہیٰ سے ایک آیت ہے

سوال:چاند پر سفرکے بارے میں (یہ سفرانسان کے لئے جلدی ہی ممکن ہو گا)آپ کا کیا نظریہ ہے ؟

جواب: اسلام کے مطابق چاند وغیرہ پر سفر کے بارے میں کوئی نظریہ موجود نہیں ہے صرف قرآن مجید نے ان آسمانی کرّات کے بارے میںبیان کیاہے کہ یہ آیات الہٰی ہیں اوراپنے حیرت انگیز نظم سے توحید کے گواہ اوردلائل ہیں اور انسان کے لئے مسخر کئے گئے ہیں ۔

اسلام میں عربی زبان کا مقام

سوال: عربی زبان کو کیوں اسلامی ایمان اور اعتقاد کے جز اورضرورت کے طور پر قرار دیا گیا ہے اورکہا گیاہے :''قرآن اورنماز و غیرہ عربی زبان میں ہونا چاہئے؟ ''

جواب: چونکہ قرآن مجید لغت کے لحاظ سے معجزہ ہے (چنانچہ معنی کے لحاظ سے بھی معجزہ ہے ) اس لئے اس کا عربی لغت محفوظ رہنا چاہئے اور نماز کا عربی میں ہونا اسی جہت سے ہے کہ قرآن مجید کے کچھ حصہ کی (سورئہ حمداورایک سورہ )ہررکعت میں قرائت کی جانی چاہئے اور دوسری طرف سے آیات وروایات جو دین کے اصلی مصادر ہیں عربی لغت میں ہیں ،مسلمانوں کی عربی زبان کی نسبت عنایت اورتوجہ کا سبب یہی ہے ۔

دنیا میں یہودیوں کی ذلت وپستی

سوال: بعض مسلمان معتقد تھے کہ یہودی کبھی اپنا ایک آزاد ملک نہیں رکھ سکتے ہیں ،البتہ اسرائیل جواس مختصرمدت میں ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ملک کی صورت میں ابھرا ہے ،اس عقیدہ کے غلط ہونے کی علامت ہے ،کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بہت ساری دوسری احادیث اور روایتیں بھی اسی غلط اعتقاد کے مانند ممکن ہے سیاسی نفوذ کے اثر میں وجودآئی میں ہوں کہ گزشتہ زمانے میں دنیا کے اس علاقہ کے لوگوں کو جہل ونفاق اور دشمنی کی حالت میں رکھنا چاہتے تھے ؟

جواب :جی ہاں !ایک بندر گاہ اور ایک فوجی چھاونی پرمشتمل فلسطین کاایک چھوٹاحصہ انگلستان ، فرانس اور امریکہ کے لئے ہے ۔اور اسرائیل کے نام پر ایک کٹھ پتلی اورآلہ کار حکو مت وہاں پر حکم رانی کر رہی ہے اور اس مختصر مدت کے دوران اس حکومت کی پشت پناہی اور اسے مسلح کر نے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے اور پوری توانائی کے ساتھ اسلامی ممالک کو اس حکومت کے خلاف متحد ہونے نہیں دیاگیا ہے (چنانچہ ان تمام حقائق کو گزشتہ چند سالوں کے واقعات نے واضح کر دیا ہے )

یہ غلط تصور (کہ یہودیوں کی حکومت ایک آزاد اور ترقی یافتہ ہے اور اسلام میں نقل کی گئی روایتوں کے باوجود ،کہ یہود کبھی ایک آزاد ملک کے مالک نہیں بن سکتے ،اس حکومت نے نشو ونما پائی ہے ) سیاسی نفوذ کا اثر ہے کہ گزشتہ زمانے میں اور آج بھی دنیا کے اس حصہ کے لوگوں کو جہل ،نفاق ،دشمنی اور دین مقدس اسلام کی نسبت بدظنی کے عالم میں رکھنا چاہتے ہیں ،کیو نکہ یہ فکر روایت سے مربوط نہیں ہے تا کہ ہم کہیں کہ یہ جعلی ہے ،بلکہ یہ قرآن مجید سے متعلق ہے اور جو کچھ قرآن مجید میں ہے وہ اس صورت میں نہیں ہے کہ بیان ہوا بلکہ اس صورت میں ہے کہ اسے قرآن مجید کی پیشین گوئیوں میں سے ایک شمار کیا جائے ۔

خدائے متعال یہودیوں کے مسلمانوں کے خلاف کئے گئے مظالم ،جرائم خیانتوں، مہم جوئیوں اور عہد شکنیوں کو گننے کے بعد مسلمانوں کو اتحاد واتفاق ،دینی قوانین کے تحفّظ ،اجنبیوں سے دوستی نہ کرنے اور ان کی اطاعت نہ کرنے کی نصیحت کرتا ہے اور فرماتا ہے :

''ان (یہودیوں )پرذلّت کے نشان لگا دئے گئے ہیں یہ جہاں بھی رہیں مگر یہ کہ خدائی عہد یالوگوں کے معاہدہ کی پناہ مل جائے ۔یہ غضب الٰہی میں رہیں گے اور ان پر مسکنت کی مار رہے گی ۔یہ اس لئے ہے کہ یہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق ،انبیاء کو قتل کرتے تھے ۔یہ اس لئے ہے کہ یہ نافرمان تھے اورزیادتیاں کیا کرتے تھے(۵) ''

ایک دوسری آیت میں یہ سبب لوگوں اور خداسے مربوط بیان ہوا ہے ۔

فرماتا ہے :

''ایمان والو !یہودیوں اورعیسائیوں کو اپنادوست اورسر پرست نہ بنائو کہ یہ خودآپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے کوئی انھیں دوست بنائے گا توانھیں میں شمار ہو جائے گا ۔بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے(۶) ''

اورمزید فرماتا ہے :

''آج کفار تمہارے دین سے مایوس ہو گئے ہیں ،لہذا تم ان سے نہ ڈرو اورمجھ سے ڈرو..(۷) ''

چنانچہ ملاحظہ ہوا کہ خدائے متعال اسلام کی پیش رفت اوریہودیوں کو کچلنے کا ان مسلمانوں کوو عدہ دیتا ہے جو قوانین اسلام اور اتفاق کلمہ کا تحفظ کرتے ہیں ،نہ ان ممالک کو جو اسلام کے نام کے علاوہ کچھ نہیں رکھتے ہیں اوراسی طرح آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اس حالت میں قرار پایا ہے کہ ایک دن مسلمان اجنبیوں کے ساتھ دوستی کا منصوبہ بنائیں گے اور ان کے آلہ کار بن جائیں گے ،اس صورت میں خدا کامعاملہ ان کے ساتھ بر عکس ہو گا اور وہ سلطہ وغلبہ کو ہاتھ سے دے دیں گے اور ان کی عزت وسیادت دوسروں کو نصیب ہو گی ۔

لیکن یہ کہ احادیث اور روایتوں میں ممکن ہے جعلی اوربناوٹی روایتیں موجود ہوں اس مسئلہ کو علمائے اسلام بخوبی جانتے ہیں اور اس کے ثبوت کے لئے اس قسم کے بے بنیاد مصادرکی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسلّم ہے کہ صدراسلام میں کچھ منافقین اوریہودی مسلمانوں کے لباس میں آکر جھوٹی روایتیں جعل اورنقل کرتے تھے ۔اسجہت سے علمائے اسلام پرروایت کو جس صورت میں بھی ہو نقل نہیں کرتے بلکہ ماہرانہ جانچ پڑتال کے بعدموثق روایت کو تشخیص دے کر قبول کرتے ہیں ان حالات کے پیش نظر(چنانچہ روایتوں میں زیادہ ہے )رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

'' میرے بعد مجھ سے بہت سی چیزیں نقل کی جائیں گی ،ان میں سے جو قرآن مجید سے مطابقت رکھتی ہوں ،انھیں قبول کرنا اورجو قرآن مجید کے مخالف ہوں ،انھیں مسترد کریں(۸)

_________________

١۔(لااکراه فی الّدین قدتّبیّن الرّشد من الغی ...)(بقرہ ٢٥٦)

٢۔(...قل لا اسئلکم علیه اجرا ًالا المودّة فی القربی )(شوریٰ٢٣)

۳۔(انّ الّدین عند اللّه الاسلام ...)(آل عمران ١٩)

۴۔(ومن یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منه ...)(آل عمران ٨٥)

۵۔(ضربت علیهم الذّلة این ماثقفوا الا بحبل من اللّٰه وحبل من النّاس وباء وابغضب من اللّٰه وضربت علیهم الذلّة و المسکنة ذٰلک بانهم کانوا یکفرون بیات اللّه ویقتلون الانبیاء بغیرحق ذلک بماعصوا وکانوایعتدون )(آل عمران ١١٢)

۶۔(یاایّهاالّذین آمنوا لاتتّخذواالیهود والنصاری اولیا ء بعضهم اولیا ء بعض ومن یتولّهم منکم فانه منهم ان اللّه لا یهدی القوم الظالمین )(مائدہ ٥١)

۷۔(الیوم یئس الّذین کفروا من دینکم فلا تخشوهم واخشون ...)(مائدہ ٣)

۸۔مجمع البیان فی تفسیرالقرآن ١٣١


پانچواں حصہ :

آواگون اورارواح کا پلٹنا

حق کیا ہے ؟

سوال: بیس سال قبل ،تبریز میں ایک ادبی محفل میں ایک دوست نے جبر وتفویض اورانسان کی تقدیر کی تعیین کی کیفیت پرکرتے ہوئے کہا :''انسان اسّی سے سوباراس دنیا میں آتا ہے اور چلاجاتا ہے ،البتہ اجمادات اورحیوانات کی صورت میں نہیں بلکہ انسان کی صورت میں،تاکہ اس کا مقدّراس کے سابقہ اعمال نامہ کے مطابق معیّن ہو جائے ورنہ یہ صحیح نہیں تھا انسان کو ایک مرتبہ اس کرّئہ خاکی پر لاتے اوریہ سب رنج ومصیبت برداشت کرتا ۔انسان ایک بار (قضیہ آدم میں ) گناہ کامرتکب ہوا اورزمین پر بھیجا گیا ، دنیاسے چلاگیا ،پھرپلٹادیا گیا تاکہ اپنے گزشتہ اعمال کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کیا جائے اوراسی طرح یہ حالت جاری رہتی ہے یہاں تک اسّی یاسو مرتبہ اس کی تکرار ہو تی ہے اور یہ انسان ہر بارایک نوع میں ہوگا :جاہل ،عالم ،حاکم،محکوم ،مریض ،صحت مند ،بدصورت ،خوبصورت...اور مختلف مراحل ا ورامتحانات کو طے کرنے کے بعد جس چیزکا مستحق ہے، مکمل طور پر وہ حق حاصل نہیں کرتا ہے اوراسی بنیاد پر ،جس طرح قرآن مجید فرماتاہے :قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال نامہ پر اعتراض نہیں کرے گا۔اصولاًاگراس کے علاوہ اور کچھ ہوتا ،تو وہ عین ظلم ہو تا کہ ایک پیغمبر ہو اوردوسراشمر،ایک صالح ہو اوردوسراقاتل'' وغیرہ ۔یہ تھا ہمارے دوست کے موضوع''حق'' کے بارے میں بیان کا خلاصہ ۔

دوسراموضوع جو ہمارے دوست نے پیش کیا یہ تھا :آدم ،ہمارے اورتمھارے مانند صرف ایک انسان نہیں تھے،بلکہ ایک کلّی مخلوق اورتمام انسانوں پر مشتمل تھے،یعنی تمام افراد ،اول سے آخرتک فرد بشری ،آدم کے ساتھ تھے ،انگور کے گچھّے کے مانند کہ اس میں بہت سے دانے ہوتے ہیں ،لیکن چونکہ ہم نے نافرمانی کی ،اس لئے ہم سب کو بہشت سے نکال باہر کیا گیا ۔اوراگرآدم صرف ایک فرد تھے ،تو دوسروں کا کیا گناہ ہے کہ وہ زمین پر ہوتے ؟اس کے علاوہ، خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے :''ہم نے تمام افراد بشراورتمام پیغمبروں سے عہدوپیمان لیا ہے'' پس،سب لوگ آدم کی خلقت کے وقت خلق ہوئے ہیں ۔''

تیسراموضوع جو دوبارہ پہلے موضوع کی طرف پلٹتا ہے ،کے بارے میں وہ دوبارہ کہتا ہے :اگرموت اورزندگی ایک مرتبہ ہو ،تو لوگوں کی اکثریت بہشت کی حق دار نہیں ہو گی اور اغلب لوگ درمیان میں قرارپائیں گے اورعملی طور پر نہ اہل بہشت ہوں گے اور نہ اہل جہنّم ،جبکہ قرآن مجید لوگوں کو صرف دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے :بہشتی اورجہنّمی ۔لیکن اگر انسان اسّی یاسومرتبہ دنیا میں آئے اور اعمال کا مرتکب ہو جائے ،تو اعمال انجام دینے کے لئے مساوی شرائط اور کافی وقت رکھنے کے سبب یک طرفہ ہوں گے اوراس وقت بہشت اورجہنّم کا یہ حق عادلانہ ہو گا ۔''استدعاہے کہ اس موضوع کے بارے میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب : سلام علیکم ۔آپ کا خط ملا ۔تفصیلی جواب چاہتے ہیں ،لیکن افسوس! اس کے علاوہ کہ بالکل فرصت نہیں تھی ،میں بیمار بھی تھا جو فطری طور پر کام میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے ،لہذامطلب کے سلسلہ میں مختصر جواب ارسال کیا جاتا ہے ۔اگراتفاق سے پھر بھی کوئی اشکال پید اہوا ،تو لکھئے تاکہ انشاء اللہ تدریجی طور پر تمام اشکالات حل ہو جائیں گے ۔

روح کا بدن سے جدا ہونے کے بعد دوبارہ دنیا میں پلٹنے کا مسئلہ ،''تناسخ'' کے نام سے معروف ہے اور اس کے اصلی معتقد بت پرست ہیں ۔وہ کہتے ہیں :انسان اگر دنیوی زندگی میں دنیوی تعلقات سے پاک ہو جائے توخدا کے اندرفانی ہو جاتا ہے اور خدائوں کی صف میں قرار پاتاہے اور اس کے علاوہ اگر کوئی شخص صالح ہو ،تو اس کی روح بدن سے جدا ہونے کے بعد ،دوسرے بدن سے متعلق ہوتی ہے جو کامیاب اور نعمتوںسے بھری زندگی کا مالک ہو تا ہے اور اس کے صالح اعمال کا ثواب وہی نعمتوں کے اقسام ہیں کہ دوسرے بدن میں پائے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے بدن سے تیسرے اور تیسرے سے چوتھے ....اورہربدن میں روح کی زندگی کے حالات ،اس کے گزشتہ بدن میں انجام پائے گئے اعمال کی پاداش ہے''۔

اگر کوئی شخص سرکش اورگناہ کار ہو تو، اس کی روح بدن سے جدا ہونے کے بعد دوسرے بدن سے متعلق ہوتی ہے اور اپنے برے اعمال کی سزا کو دوسرے بدن میں پاتی ہے اوراسی طرح دوسرے بدن سے جدا ہونے کے بعد تیسرے اورپھر چوتھے...اور یہ حالت (ہربدن کے بعد دوسرے بدن سے روح کا تعلق اورگزشتہ بدن کی اعمال کا جزا اگلے بدن میں چکھنے کی حالت)روح کے لئے لامتناہی صورت میں جاری رہتی ہے ...اس لحاظ سے وہ روز قیامت اوراخروی جزا وسزاکے منکر ہیں اور اس قول کی بنیاد پر منکر ہونا چاہئے ،کیونکہ تناسخ کی بنیاد پر روح کا ذاتی اقتضایہ ہے کہ ہر بدن کے اعمال کے جزااسے دوسرے بدن میں ملے ،اس لئے قیا مت کے دن جزا کے لئے کوئی زمینہ ہی باقی نہیں رہتا ہے ۔ اس قول کا دوسرالازمہ یہ ہے کہ وہ انسان کی دنیا کو ''دائمی ''جانتے ہیں اور اس عالم موجود کے لئے لامتناہی عمر کے قائل ہیں ۔اس کے علاوہ یہ کہ ان کے نظریہ کے مطابق انسان کی روح کبھی تنزّل کرکے حیوانی بدن میں اور اس کے بعد نباتی بدن میں اورپھر جمادی بدن سے تعلق پیدا کرتی ہے ۔لیکن آپ کا یہ دوست تناسخی بدنوں کو اسّی سے سو بدن تک محدود کرتا ہے اور قیامت و حشرکا بھی قائل ہے اور روح کا دوسرے بدن سے تعلق پیدا کرنے کو ''حق '' جانتا ہے ،نہ گزشتہ اعمال کی پاداش وجزا۔ اس کے باوجود انسان کی نوع کے لئے ابتدائے تاریخ ،یعنی مشخص باپ کا قائل نہیں ہے اور قرآن کابھی معتقد ہے ۔اپنے قول کی جو اس نے توجیہ کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر انسان کو مرنے کے بعداسّی سے سو مرتبہ دوبارہ دنیا میں آکر زندگی کرنی چاہئے تاکہ ہر مرتبہ نئی زندگی کے حالات نئے شرائط کے ساتھ اس کے لئے پیدا ہو جائیں اور ان کے مطابق اطاعت یا معصیت کرے ،جب اس کے لئے تمام شرائط پیش آئیں گے تو ثواب وعقاب کے لحاظ سے اس کی تقدیرات معیّن ہوتی ہیں تاکہ قیامت کے دن''حق'' کے مطابق اپنے عمل کی جزا پائے ورنہ صرف جبر وتفویض سے ہاتھ نہیں آتاہے اوربشرکی اخروی تقدیر ات معیّن نہیں ہوتی ہیں ،کیونکہ :

سب سے پہلے:لازم ہو تا ہے کہ خدائے متعال ظالم ہو کہ ایک کو( پیغمبر ) اور دوسرے کو ''شمر'' خلق کیا ہے ،ایک کو ''خوشبخت '' اوردوسرے کو ''بدبخت''..خلق کیا ہے اورخدا ظلم سے منزّہ وپاک ہے ۔

دوسرے یہ کہ:افراد بشرکی نوع دنیا میں اپنی زندگی سے شاکی اور ناراض ہیں ،لیکن قیامت کے دن جب ہر ایک کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دیں گے ،تو کسی کے منہ سے شکا یت کی آوازنہیں نکلے گی ،یہ خدا کے خوف سے نہیں ہے ،کیونکہ اگر خدائے متعال قہر سے انسان کو خاموش کردے اور بات کرنے کی اجازت نہ دے تو یہ ظلم ہو گا ،بلکہ یہ اس جہت سے ہے کہ جب انسان اپنے نامہ اعمال کو دیکھتا ہے تو اپنے اعمال کا مشاہدہ کرتا ہے کہ جب ہر دفعہ ہر شرائط میں آیا ہے ،دوبارہ نا فرمانی کی ہے ،اس لئے خاموش رہتا ہے اور قرآن مجید بھی اس موضوع کا گواہ ہے کہ کسی سے کوئی آواز نہیں نکلتی ہے ۔

تیسرے یہ کہ:قیامت کے دن انسان دو حصوں میں تقسیم ہوں گے ،اہل بہشت اور اہل جہنّم کااگر دنیا میں ایک مرتبہ آنا ہو تاتو اکثرلوگ بہشت وجہنّم کے حق کو نہیں پا سکیں گے ،کیونکہ ایک مرتبہ آنے میں تمام لوگوں کے لئے شرائط مساوی نہیں ہیں فقیر چورکہہ سکتاہے ،اگر میں دولتمند ہو تا تو چوری نہیں کرتا اورزناکار مردکہے گا: اگر میری بیوی ہو تی تومیں زنا نہیں کرتا ،صرف سو سے اسّی مرتبہ رفت وآمدکرنا اور تمام شرائط کو دیکھنا ہے جس سے ''حق''تمام ہو تا ہے ،اس کے باوجود لوگوں کا دوگروہ سے زیادہ ہو نا قرآن مجید کے روسے دوگروہ ہونے کے واضح خلاف ہے ۔

یہ تھا اس شخص کے قول کا خلاصہ جسے آپ نے نقل فرمایا ہے ،لیکن یہ ہر جہت سے باطل قول ہے :

سب سے پہلے:اسّی سے سو مرتبہ تک دنیا میں آنے کی عدد ایک ایسا قول ہے جس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔اس کے علاوہ قرآن مجید میں ـ دنیا کی زندگی ،اور انسان کے عمل اور اس کی جزا کے بارے میں بے شمار آیتیں موجود ہیں ـ تناسخ اور اس کے اسّی مرتبہ ہونے کی خبر نہیں ہے ،بلکہ قرآن مجید دنیاکی زندگی کو ایک بارشمار کرتا ہے ،چنانچہ فرماتا ہے :

( وکنتم امواتاً ) (جماد)( فاحیاکم ) (دنیامیں )( ثمّ یمیتکم ) (دنیاسے)( ثمّ یحییکم ) (برزخ میں )( ثمّ الیه ترجعون ) (قیامت))(بقرہ٢٨)

''...جب کہ تم بے جان تھے (جماد) اورخدا نے تمھیں زندگی دی ہے (دنیامیں) اور پھرموت بھی دے گا (دنیاسے )اورپھر زندہ بھی کرے گا (برزخ میں ) اورپھر اس کی بارگاہ میں پلٹا کر لے جائے جائو گے(قیامت)''

دوسری آیت میں:

( قالوا ربنّا امتّنا اثنتین واحییتنا اثنتین فاعترفنا بذنوبنا فهل الی خروج من سبیل ) (مو من ١١)

اہل جہنّم کی زبان سے نقل ہوا ہے کہ ایک مرتبہ دنیا کے لئے مارنے اوردوسری مرتبہ برزخ کے لئے ثابت کرتا ہے ۔

اس کے علاوہ ،آپ کے دوست کے بیان کے برعکس ،اگر مسئلہ جبر واختیارحل نہ ہو جائے ،تو اسّی سے سو مرتبہ دنیا میں آنے سے ،انسان کی تقدیر معیّن نہیں ہوتی اور فرض کریں انسان سو مرتبہ دنیا میں لوٹ کر آیا ہے اور تمام شرائط قتل نفس جیسے گناہ کا مرتکب ہوا ہے تو ،اگر ہم جبر کے قائل ہوں تو کوئی جرم ثابت نہیں ہو تا ہے ،سو مرتبہ لوٹنا جرم کے ثبوت میں کوئی اثر نہیں رکھتا ،پھر بھی اس شخص کا کیفر اور عذاب ظلم ہے ،لیکن اگر ہم اختیار کے قائل ہوں گے ،تو اپنے استدلالی ذوق سے سمجھتے ہیں کہ جو عقل وبالغ اگر اپنے اختیار سے کوئی ناشائستہ کام انجام دے تومجرم اورمسئول رہے اور اس کے لئے ایک مرتبہ معصیت کا تحقق ہو نا جرم کے ثبوت کے لئے کافی ہے اور مختلف شرائط میں سو یا اسّی مرتبہ اس کا تحقق ہونا ضروری نہیں ہے ،اسی طرح معصیت کا تحقق بھی پہلی زندگی میں کافی ہے اور اس کے ساتھ بعدوالی زندگیوں کا ضمیمہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔

اور یہ جو کہا ہے :خدا نے ایک کو ''پیغمبر''اور دوسرے کو ''شمر''خلق کیا ہے ،شمر کو عذاب کرنا ظلم ہے ۔ایک اشتباہ ہے ۔خدا نے شمر کو ایک عام انسان خلق کیاہے لیکن وہ اپنے اختیار سے خود ''شمرظالم ''بنا ہے ۔اس کی خلقت میں ظلم نہیں ہے ،لیکن اس کا ظالم بننا خود اس سے مربوط ہے نہ خدا سے ۔

اور یہ کہنا :اگر زندگی ایک مرتبہ ہوتی ،توانسان،اس کے پیش نظر زندگی سے ناراض ہوتا اور قیامت کے دن اعتراض کرے گا ۔بھی ایک اشتباہ ہے ،کیونکہ زندگی سے ناراض ہونا ،خود ایک اور جرم ہے ،البتہ کوئی انسان نہیں چاہتا ہے کہ قیا مت کے دن اس کے جرائم سے پردہ اٹھا یا جائے ،جو کچھ خدا نے انسان کو اپنی نعمت سے دیا ہے ،وہ فضل ورحمت ہے اور جو کچھ نہیں دیا ہے ،صاحب اختیار ہے ،ہم خالق کائنات سے نہ متقاضی ہیں نہ قانونی سندحاصل کی ہے کہ جو ہمارا دل چاہے ،ہمیں دے دیا جائے ۔

اور جو یہ کہا ہے :اگر زندگی ایک مرتبہ ہو تی ،تو لوگ قیامت کے دن دوقسم سے بیشتر ہو تے ،کیو نکہ اکثرلوگوں کے خیر وشر کے اعمال مساوی ہیں اور اس وقت نہ اہل بہشت ہو تے اور نہ اہل جہنّم اور یہ واضح طور پر قرآن مجید کے خلاف ہے ۔یہ ایک اور غلطی ہے گویا اس کی مراد یہ ہے کہ چونکہ اکثر لوگ مساوی شرائط میں قرار نہیں پاتے ہیں ،اس لئے جرم انجام دینے والے کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور اسی طرح اطاعت کر نے والے کو نیک انسان محسوب نہیں کیا جاسکتا ہے ،نتیجہ کے طور پر اکثر لوگ نیک ہیں نہ بد کار اور یہ نہیں کہا جاسکتا ہے وہ بہشتی ہیں یا جہنّمی ،ناگزیر وہ تیسری قسم ہیں ،جبکہ تیسری قسم کا وجود ہی نہیں ہے ۔

اس امر کا اعتقاد رکھنے والے نے اس نکتہ سے غفلت کی ہے کہ عقل کے واضح حکم سے ،یہ شرائط کہ فعل، اطاعت یا معصیت محسوب ہوتا ہے اوراچھے اوربرے کی پاداش ہو نی چاہئے ۔بلوغ،عقل ، عمد اور اختیار ہے ،جوں ہی فعل معصیت ،مثلاًان شرائط کے ساتھ انجام پائے تو پہلی بار جرم کی پاداش شمار کی جاتی ہے، اس میں زندگی کی دوسری شرطیں ہرگز مداخلت نہیں کرتی ہیں ،یہ عقل کا حکم ہے اور عقلمند انسان بھی اپنی زندگی کے محیط میں اس کی تبعیت کرتے ہیں ۔اسلام کی مقدس شریعت میں ہی شرائط معتبر ہیں اور قرآن مجید میں بھی ہر اطاعت اورمعصیت کے تحقق کو میزان قراردیا گیا ہے اور مختلف شرائط میں سو مرتبہ یااسّی مرتبہ کی قید نہیں ہوئی ہے معصیت سے توبہ کی آیات بھی پہلی مرتبہ معصیت انجام پانے سے مربوط ہیں اور اسی طرح احکام کی آیات بدون اس کے کہ تمام شرائط سے مفید ہوں اور ان سب سے واضح تر حدود سے متعلق آیات ہیں ۔اسلام میں کچھ معصیتیں جو قتل وقصاص اورتازیانہ جیسے حدود رکھتے ہیں ،اگر پہلی بار جرم نہ ہو تے ،تو حدود کا اجرا معنی نہیں رکھتا۔کیا یہ ممکن ہے کہ فعل پہلی بار جرم ہو اور اس کے لئے خدا کی حجت قائم ہو جائے لیکن آخرت میں جرم ثابت نہ ہوکر حجت گر جائے ؟

ان تمہیدات سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت کو پہلی زندگی میں تیسری قسم کے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ـنہ بہشتی اور نہ جہنمی ـ اور اگر فرض کریں کچھ لوگ ایسے پیدا ہو جائیں جن کے گناہ وثواب مساوی ہوں اور ان کا بہشتی یا جہنمی ہو نا ثابت نہ ہو جائے ،پھر بھی وہ مومن ہیں اور ان کا اعتقاد پسندیدہ ہے ، ورنہ اہل جہنم ہو تے ،قطعاً(قرآن مجید کی بہت سی آیات کے مطابق جو کفار کو ہمیشہ کے لئے آگ میںرہنے کاتعارف کراتی ہیں )یہ لوگ آیہ کریمہ :( ولایشفعون الا لمن ارتضی ) (۱) کے مطابق شفاعت کرنے والوں سے شفاعت پائیں گے۔

لیکن قرآن مجید کی تقسیم بندی :قرآن کریم انسانوں کو عاقبت امر کے نقطہ نظر سے،دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے ،اہل سعادت وبہشت اوراہل شقاوت وجہنّم ّ( فاماالذین شقوا...واماالذین سعدوا ) (۲)

حساب اور روزقیامت کے تمام حالات کے پیش نظرانسانوں کی تین قسم بیان فرمائی ہے:اہل عمل صالح وپسندیدہ اعتقادات والے ،ان کے بر عکس اور '' مستضعفین'' کی جماعت جن پر دنیا میں حجّت تمام نہیں ہوئی ہے ،یہ اہل حساب وسوال ہیں ان کا کام خدا کے ہاتھ میں ہے تا کہ ان کے حق میں کیا حکم فرمائے:

( وآخرون مرجون لمراللّٰه اما یعذّبهم واما یتوب علیهم ) (توبہ ١٠٦)

''اورکچھ ایسے بھی ہیںجنھیں حکم خدا کی امید پر چھوڑدیا گیا ہے کہ یا خدا ان پرعذاب کرے گا یا ان کی توبہ قبول کر لے گا ...''

دوسری نظر میں اہل سعادت کو اصحاب میمنہ اورسابقین میں تقسیم فرمایا ہے اور اقسام کو تین قسموں میں معرفی فرمایا ہے :

( وکنتم ازواجا ثلٰثة٭فاصحب المیمنة ما اصحب المیمنة٭والسّابقون السّابقون ٭اولئک المقرّبون ) (واقعہ٧۔١١)

''اورتم تین گروہ ہو جائو گے ۔پھرداہنے ہاتھ والے اورکیا کہنا داہنے ہاتھ والوں کا ۔اوربائیں ہاتھ والے اورکیا پوچھنا ہے بائیں ہاتھ والوں کا ۔ اور سبقت کرنے والے توسبقت کرنے والے ہی ہیں ۔وہی اللہ کی بارگاہ کے مقرب ہیں ۔''

اورجو یہ کہا ہے :'' آدم علیہ السلام سے قرآن مجید کا مقصود کلّی آدم ہے نہ ا یک نفر اورجزئی ،کیونکہ سب سے پہلے:خداآدم سے فرماتاہے: بہشت سے تم سب نیچے چلے جانا جب کہ تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کے دشمن ہیں '' معلوم ہوتا ہے کہ تمام انسان آدم کی خلقت کے ساتھ ہی پیدا ہوئے ہیں ،بہشت میں تھے ،ہر ایک نے گناہ کیا حتی پیغمبروں نے بھی ،اگر آدم ایک بشر ہو تے اور انھوں نے گناہ کیا ہو تا تو دوسروں کو بہشت سے نکال باہر کرنا ظلم ہو تا اورخدا ظلم سے منزّہ وپاک ہے ۔

دوسرے یہ کہ:خدافرماتا ہے :ہم نے تمام انسانوں سے عہد وپیمان لیاہے، پس سب آدم علیہ السلام کے ساتھ خلق ہوئے تھے ،گناہ کر چکے تھے کہ بعد میں ان سب سے پیمان لیا گیا ہے ۔

تیسرے یہ کہ:اگر سب پیغمبروں نے آدم کی خلقت کے ساتھ خلق ہو کر گناہ نہ کیا ہو تا تو انھیں اس دنیا میں بھیج کر اس رنج وغم میں گرفتار کرنا بھی ظلم تھا ۔

یہ بیان ایک اور مغالطہ ہے ،کیونکہ سب سے پہلے:ہم نے آدم کے قصہ کو تورات،انجیل یا قدیم افسانوں سے نہیں لیا ہے ،یہ امر قرآن مجید سے لیا گیا ہے اور قرآن مجیدانتہائی واضح صورت میں آدم کو ایک بشری فرد ـکہ بعد کے انسانوں کے باپ ہیں ـ بیان کرتا ہے اورفرماتا ہے:

( یا ایّها النّاس اتّقوا ربّکم الّذی خلقکم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبثّ منهمارجالاکثیراونسائ ) (نسائ١)

''انسانو!اس پر وردگارسے ڈرو جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اس کی جنس سے پیدا کیا اورپھردونوں سے بکثرت مردوعورت دنیامیں پھیلادئے ہیں ...''

قرآن مجید ''عربی مبین'' ـ یعنی آشکار ـ عربی میں ہے ،لہذاعربی جاننے والوں سے پوچھنا چاہئے کہ ''رجالا کثیراونسائ''کے مقابلہ میں ''نفس واحدة''کامعنی ،ایک فرد بشر ہے کہ سب انسانوں کاباپ اوراس کی بیوی تمام انسانوںکی ماں ہے ،یا ایک کلّی معنی ہے ۔یہ وہ کلمات ہیں جنھیں قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے اورآدم کی خلقت سے مربوط دوسری آیتوں کا بھی یہی حال ہے ۔

دوسرے یہ کہ:یہ جو کہتاہے کہ''تمام انسان آدم کے ساتھ تھے اور ہر ایک نے گناہ کیا ہے ''اصل قصہ(زمین پر خلیفہ ہونے)میں آدم کے ساتھ شریک ہونا صحیح ہے لیکن اس ترتیب سے نہیں کہ سب آدم کے ساتھ الگ سے خلق ہوئے ہوں ،بلکہ حضرت آدم ،بشر کا نمونہ اور نمائندہ تھے کہ تمام بشر فطری طور پر آدم کے حکم میں تھے ۔

لیکن یہ دوست ،جس گناہ کو مکرّرآدم اورتمام پیغمبروں بلکہ تمام بشر سے نسبت دیتا ہے ،ایک اشتباہ ہے ،کیونکہ:

سب سے پہلے نص قرآن کے مطابق:

( قلنا اهبطوا منها جمیعا فاما یاتینّکم من هدی ) (بقرہ٣٨)

''اور ہم نے یہ بھی کہا کہ یہاں سے اتر پڑو پھراگر ہماری طرف سے ہدایت آجائے...''

تشریع دین سقوط آدم کے بعد ہو اہے اور دین سے قبل معصیت کا معنی نہیں ہے پس جب تک آدم اور اس کی اولادگناہ کریں معصیت اورگناہ کا وجود نہیں تھا بلکہ درخت سے نہ کھانے کی نہی ایک خیرخواہی اور راہنمائی تھی کہ اگر اس پر کان دھرتے تو نتیجہ حاصل کرتے ،یہ نہی ہر گزحکم دین والی نہیں تھی کہ جس کی مخالفت کرنے میں عذاب ضروری ہے ۔

دوسرے یہ کہ:کہا ہے:''تمام انسانوں سے پیمان لیا گیا ہے ،پس سب آدم کے ساتھ موجود تھے اورگناہ میں شریک تھے کہ اس کے بعد ان سے پیمان لیاگیاہے'' یہ ایک اور اشتباہ ہے اور ہرگز پیمان لینے میں گزشتہ خلاف ورزی اورگناہ کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔

تیسرے:یہ کہ اس نے کہاہے :''اگر پیغمبروں نے گناہ نہیں کیا ہوتا توان کو اس دنیا میں بھیجنااورزندگی کے رنج وزحمت میں مبتلا کرنا ظلم تھا ''۔ایک اور مغالطہ ہے ،کیونکہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت کے مطابق :

( واذ قال ر بّک للملائکة انّجاعل فی الارض خلیفة ) (بقرہ٣٠)

''اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے کہا میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں ''

آدم کو زمین میں زندگی کرنے اورنسل کو جاری رکھنے کے لئے خلق کیا گیا تھا اور ملائکہ نے اس معنی کو سمجھ کر عرض کی :

( اتجعل فیها مَن یفسد فیها ویسفک الدّمائ ) (بقرہ ٣٠)

''...اور انہوں نے کہا کہ کیا اسے بنائے گا جو زمین میں فساد برپا کرے اورخونریزی کرے''

حتی شیطان نے بھی سمجھ لیا اور سجدہ سے نافرمانی کرتے ہوئے کہا:

(رایتک هذاالّذی کرّمت عل لئن اخّرتن الی یوم القیٰمة لا حتنکنّ ذریته الاقلیلا)(اسرائ٦٢)

''کیا تو نے دیکھا کہ یہ کیا شے ہے جسے میرے اوپر فضیلت دے دی ہے اب اگر تو نے مجھے قیامت تک کی مہلت دے دی تو میں ان کی ذریت میں چند افراد کے علاوہ سب کا گلا گھونٹتا رہوں گا''

اورحتی آدم اور ان کی زوجہ کو نکال باہر کر انے کے لئے ان کی شرم گاہیں دکھاتا تھا چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن مجید فرماتا ہے :

( فوسوس لهما الشیطٰن لیُبد لهماماوَری عنهما من سُوئَ لااتهما ) (اعراف٢٠)

''پھر شیطان نے ان دونوں میں وسوسہ پیدا کرایا کہ جن شرم کے مقامات کو چھپا رکھا ہے وہ نمایاں ہو جائیں ...''

پس بہشت میں داخل ہونا زمین پر تنزّل،دین کی تشریع اور دینی تر بیت کے طریقہ کا مقدمہ تھا ۔انسان اس دنیوی زندگی میں دین کے سایہ میں مقام قرب پاتا ہے اورکمال میں عروج پیدا کرتا ہے ۔دینی تربیت کے بغیراس کے لئے بہشتی حالت پید اہونا ممکن نہیں ہے ۔دنیوی زندگی اگر چہ رنج و محنت سے بھری ہوتی ہے ،چنانچہ خدائے متعال نے آدم سے فرمایا :

( فلا یخر جنکما من الجنة فتشقی ) (طہ١١٧)

''...کہیں تمھیں جنت سے نکال نہ دے کہ تم زحمت میں پڑجائو''

اورفرمایا:

( لقد خلقنا الانسٰن فى کبد ) (بلد٤)

''ہم نے انسان کو مشقّت میں رہنے والا بنایا ہے ''

لیکن آخرت کی ابدی زندگی اورانسان کے سرمایہ کا مقدمہ بالآخر ایک امتحان زندگی ہے ،چنانچہ فرماتا ہے :

( کلّ نفس ذائقة الموت ونبلوکم بالشر والخیر فتنة ) (انبیائ٣٥)

''ہرنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے اورہم تو اچھائی اوربرائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے ...''

اورانسان اس امتحانی زندگی کے دورہ میں ،دین کے سایہ میں قرب وکمال کے ایک ایسے مقام تک پہنچ سکتا ہے کہ ہرگز اس وسیلہ کے بغیر یہ مقام حاصل نہیں کرسکتا ہے ۔

__________________

١۔انبیائ٢٨

٢۔ھود١٠٦۔١٠٨


چھٹا حصہ:

علم امام علیہ السلام

امام حسین علیہ السلام کا اپنی شہادت کے بارے میں آگاہ ہونا

سوال :کیا حضرت سید الشہداء علیہ السلام مکہ سے کوفہ کی طرف اپنے سفر میں آگاہ تھے کہ وہ شہید ہو جائیں گے؟دوسرے الفاظ میں ،کیا حضرت امام حسین علیہ السلام شہادت کی غرض سے عراق کی طرف روانہ ہوئے تھے یاسو فیصدی ایک عادلانہ اسلامی حکومت تشکیل دینے کی غرض سے؟

جواب: شیعہ امامیہ کے عقیدے کے مطابق حضرت سید الشہداء ،واجب الاطاعت امام اورپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے جانشین ،ولایت کلیہّ کے مالک تھے ۔دلائل نقلیہ اور عقلی استدلال کے مطابق خارجی حقایق،حوادث اور واقعات کے بارے میں علم امام کے مندرجہ ذیل دوقسم اور دوراہیں ہیں :

امام علیہ السلام عالم ہستی کے حقائق کے بارے میں ہر قسم کے شرائط میں اذن الہٰی سے آگاہ ہیں ،خواہ یہ حقائق اورحوادث حسی ہوں یا غیر حسی ،جیسے :آسمانی مخلو قات ،گزرے ہو ئے حوادث اور مستقبل کے واقعا ت ،اس مطلب کی دلیل روایات کے مطابق متواترہے کہ شیعوں کی حدیث کی کتابوں جیسے کافی ،بصائر ،صدوق کی کتابوں اور کتاب بحار وغیرہ میں درج ہیں ۔ان روایات کے مطابق، جن کی کوئی حد نہیں،امام علیہ السلام خدا کی عنایت سے سب چیزوں کے بارے میں آگاہ ہیں نہ اکتساب سے ۔اور جس چیز کو چاہیں اسے خدا کے اذن سے تھوڑی سی توجہ کے نتیجہ میں جانتے ہیں ۔

البتہ قرآن مجید میں چند آیتیں ہیں ،جو علم غیب کو خدائے متعال سے مخصوص اور اس کی مقدس ذات میں منحصر قرار دیتی ہیں ،لیکن جو استثناء آیہ کریمہ :

( عالم الغیب فلا یظهر علی غیبه احداً ٭الّا مَن ارتضی من رسول ) (جن٢٦۔٢٧)

''وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ،مگر جس رسول کو پسند کر لے ۔''

میں موجود ہے ،اس سے معلوم ہو تا ہے کہ علم غیب کا خدائے متعال سے مخصوص ہونا اس معنی میں ہے کہ غیب کو آزادی کے ساتھ بذات خود ،خدا کے علاوہ کو ئی نہیں جانتا ہے ۔لیکن ممکن ہے پسندیدہ پیغمبر خدائے متعال کی تعلیم سے اسے جان لیں اورممکن ہے دوسرے پسندیدہ اشخاص بھی پیغمبروں کی تعلیم سے اسے جان لیں ۔چنانچہ بہت ساری ان روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نیز ہر امام اپنی زندگی کے آخری لمحات میں علم امامت کو اپنے بعد والے امام کے حوالہ کرتے تھے ۔

اور عقلی بعض استدلال موجود ہیں جن کے مطابق امام علیہ السلام اپنے نورانی مقام کے توسط سے اپنے زمانہ کے کامل ترین انسان اور خد اکے اسماء وصفات کے مکمل مظہر اور دنیا کی تمام چیزوں اورہر شخصی واقعہ کے بارے میں واقف ہیں اور اپنے وجود عنصری کے مطابق ہر جہت میں توجّہ کریں ،توان کے لئے حقائق روشن ہو تے ہیں ۔(ہم ان استدلالوں کی تفسیر کو اپنی خاص جگہ پر چھوڑتے ہیں ،کیونکہ یہ پیچیدہ استدلالی مسائل کا ایک سلسلہ ہے اور ان کی سطح اس مقالہ سے بلند تر ہے )

جس نقطہ کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے ،وہ یہ ہے کہ اس قسم کا علم عطیہ الٰہی ہے اور عقلی ونقلی دلائل کے موجب ،جو اسے ثابت کرتے ہیں ،ہر قسم کی خلاف ورزی سے منزّہ اور نا قابل تغیر ہے اور اس میں ایک ذرّہ بھی خطا نہیں ہو تی اور اصطلاح میں جو کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہے اس کا علم ہے ،اور جو کچھ خدائے متعال کی حتمی قضا ہے اس کی آگاہی ہے ۔

اور اس مطلب کا لازمہ یہ ہے کہ اس قسم کے علم سے کسی طرح کی تکلیف اور فریضہ تعلق نہیں رکھتا (اس جہت سے کہ اس قسم کے علم سے متعلّق ہے اور قطعی واقع ہونے والا ہے ) اور اسی طرح انسان کا قصد اور تقاضا اس کے ساتھ رابطہ پید انہیں کرتا کیونکہ تکلیف ہمیشہ امکان کی راہ سے فعل سے متعلق ہے اور اس جہت سے کہ فعل اور اس کا ترک دونوں مکلف کے اختیار میں ہیں ،فعل یاترک مطلوب ہوتا ہے ،لیکن ضروری الوقوع اور حتمی قضاء کی جہت سے اس کا حتمی ہو نا مورد تکلیف قرار پانا کمال ہے ،مثلاًیہ صحیح ہے کہ خدا اپنے بندہ سے فرمائے فلاں کام ،جس کا انجام دینا یا ترک کر نا تیرے لئے ممکن ہے اور تیرے اختیار میں ہے ،اسے انجام دیدو لیکن محال ہے کہ خدا یہ فرمائے کہ فلاں کام جو میری مشیت تکوینی اور حتمی قضا ہے ،بیشک تحقق پائے گا اور اس میں کسی قسم کا پس وپیش نہیں ہو گا ،اسے انجام دو یا نہ دو ،کیونکہ اس قسم کا امرونہی ،لغو اور بے معنی ہے ۔

اسی طرح انسان ایک ایسے امر کے بارے میں ارادہ کرکے اپنے لئے مقصد اور ہدف قرار دے سکتا ہے اور اس کے تحقق کے لئے جستجو کر سکتا ہے جس میں ہونے یا نہ ہو نے کا امکان موجود ہو ،لیکن ہر گزایک ایسے امر کے بارے میں ارادہ کر کے اسے اپنا مقصد قرار نہیں دے سکتا ہے ،جو یقین (ناقابل تغیروخلاف ورزی )اور حتمی قضا کے طور پر ہونے والاہو ،کیونکہ جو امر بہر حال ہونے والا ہو اس میں انسان کا ارادہ وعدم ارادہ اور قصدوعدم قصدکسی قسم کا اثر نہیں رکھتا ہے کیونکہ یہ ہونے والا ہوتا ہے (توجہ کی جائے!)

اس بیان سے واضح ہوتا ہے :

١۔امام علیہ السلام کو عطیہ کے طور پر عطاکیا گیا یہ علم ان کے اعمال میں کوئی اثر نہیں رکھتا ہے اور ان کی خاص تکلیف سے اس کا کوئی ربط نہیں ہو تا ہے ۔اوراصولی طورپر ہر فرض کیا گیا امر جو قضائے حتمی اور حتمی الوقوع سے متعلق ہو ،وہ انسان کے امرونہی یا قصدوارادہ سے متعلق نہیں ہو تا ہے ۔

جی ہاں !قضائے حتمی اور خدائے متعال کی قطعی مشیت سے متعلق اموررضابہ قضا سے مربوط ہیں ،چنانچہ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ،خاک وخون میں لت پت ہو کر فرماتے تھے :

''رضا بقضائک و تسلیما لمرک لا معبود سواک'' (۱)

اسی طرح مکہ سے خارج ہوتے ہوئے اپنے خطبہ میں فرمایا :

''رضا اللّٰه رضانا اهل البیت'' (۲)

ہم اہل بیت کی رضایت اللہ تعالی کی رضایت ہے

٢۔انسان کے فعل کا قضائے الٰہی سے متعلق ہونے کے لحاظ سے حتمی ہونا اس کے اختیاری فعالیت کی نظر میں اس کے صاحب اختیار ہونے سے منافی نہیں ہے ،کیونکہ قضائے الٰہی فعل کی تمام کیفیتوں کے باوجود ا س سے تعلق پیدا کر چکی ہے نہ مطلق فعل سے ،مثلاًخدائے متعال نے چاہا ہے کہ انسان فلاں اختیاری فعل کو اپنے اختیار سے انجام دے اور اس صورت میں اس فعل اختیاری کا خارج میں واقع ہو نا ،اس جہت سے کہ خدا کی مرضی سے متعلق ہے ،حتمی اور ناقابل اجتناب ہے اور اسی حالت میں اختیاری بھی ہے اور انسان سے نسبت امکانی صفت رکھتا ہے ۔(قابل توجہ!)

٣۔ یہ کہ امام علیہ السلام کے ظاہری علل واسباب سے قابل تطبیق ظاہری اعمال کو اس عطا شدہ علم کے فقدان کی دلیل اور واقعات کے بارے میں جہل کا گواہ قرار نہیں دینا چاہئے ،جیسے کہ کہا جائے :اگر سیدالشہداء علیہ السلام حادثہ کے بارے میں آگاہ تھے توآپ نے کیوں حضرت مسلم کو کو فہ بھیجا ؟صیداوی کے توسط سے اہل کوفہ کو کیوں خط لکھا ؟کیوں خود مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ؟آپ نے کیوں اپنے آ پ کو ہلاکت میں ڈال دیا ؟جبکہ خدا فرماتا ہے :

( ولاتلقوا بیدیکم الی التهلکة ) (بقرہ١٩٥)

''...اپنے نفس کو ہلا کت میں نہ ڈالو ...''

کیوں ؟کیوں ؟..

ان تمام سوالات کا جواب ہمارے بیان کئے گئے مذکورہ نکتہ کے پیش نظر واضح ہے اوراس کی تکرار کی ضرورت نہیں ہے ۔

قرآن مجید کی نص کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسی طرح (آپ کی پاک عترت سے)امام علیہ السلام دیگر افرادبشر کے مانند بشر ہیں اور اپنی زندگی کی راہ میں جو اعمال انجام دیتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کی طرح اختیاری اورعادی علم کی بنیاد پر ہو تے ہیں ۔امام علیہ السلام بھی دوسروں کی طرح کام کے خیر وشر سے اور نفع ونقصان کو عادی علم سے تشخیص دے کر ،جس کام کو انجام دینے کے لائق اورشائستہ جانتے ہیں ،اس کا ارادہ کر کے اس پر عمل کرنے کی جستجو کرتے ہیں جہاں پر علل و عوامل اورخارجی حالا ت موافق ہوں مقصد تک پہنچتے ہیں اور جہاں پر اسباب اورشرائط موافق نہ ہوں آگے نہیں بڑھتے ۔(یہ کہ امام علیہ السلام خدا کے اذن سے تمام حوادث کے جزئیات ،گزشتہ اورآئندہ ،کے بارے میں واقف ہیں ان کے اختیاری اعمال پر کسی قسم کا اثرنہیں ڈالتے ،جیسا کہ بیان ہوا)

امام علیہ السلام بھی دوسرے تمام انسانوں کی طرح بندئہ خدا ہیں اوردینی تکالیف و قوانین کے پابند ہیں اورخد اکی طرف سے رکھنے والی سرپرستی اور پیشوائی کے لحاظ سے عام انسانی معیاروں کے مطابق انھیں اعمال کو انجام دینا چاہئے اور کلمئہ حق اوردین کو احیاء کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرناچاہیے ۔

اس ظمانہ کی اجمالی حالت کا ایک سرسری جائزہ لینے کے بعد حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کے مقصد کے بارے میں فیصلہ کو سمجھا جا سکتا ہے ۔

تاریخ اسلام میں خاندان رسالت اور ان کے شیعوں پر جو تاریک ترین ایام گزرے وہ معاویہ کی بیس سالہ حکومت کا دور تھا ۔

معاویہ نے خلافت اسلامیہ کو ہر نیرنگ سے اپنے قبضہ میں لے لیا اور وسیع اسلامی مملکت کا بے قید وشرط فرماں روابن گیا ۔اس نے اپنی تمام حیرت انگیز توانائیوں کو اپنی حکومت کو استحکام بخشنے اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کو نابود کرنے میں صرف کیا ،نہ صرف یہ کہ انھیں نابود کرے بلکہ وہ چاہتا تھا لوگوں کی زبانوںاوردلوں سے ان کے نام ونشان تک کو محوکردے ۔

اس نے لوگوں کی نظروں میں محترم اورقابل اعتماد چند اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر قیمت پر اپنا حامی بنا کر ان کے ذریعہ صحابیوں کے حق میں اور اہل بیت علیہم السلام کی مخالفت میں احادیث جعل کرائیں ۔اس کے حکم سے اسلامی مملکت کے تما م شہروں کے منبروں سے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام پر (ایک دینی فریضہ کے مانند )لعنت بھیجی جاتی تھی ۔

وہ اپنے آلہ کار اورجاسوسوں ،جیسے زیادبن ابیہ ،سمرةا بن جندب ،بسربن ارطاةوغیرہ کے ذریعہ محبان اہل بیت کا ہر جگہ سراغ لگا کر انھیں نابود کرتا تھا اور اس راہ میں زر،زور،لالچ ،ترغیب اور ڈرانے دھمکانے کی توانائیوں سے آخری حدتک استفادہ کرتا تھا ۔

ایسے ماحول میں قدرتی طور پریہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عام لوگ حضرت علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کازبان پر نام لینے سے نفرت کریں ،اور جو لوگ اہل بیت علیہم السلام کی دوستی کا شائبہ تک دل میں رکھتے ہوں اپنی جان ،مال اور آبرو پر آنچ آنے کے خوف سے اہل بیت علیہم السلام سے اپنا رابطہ منقطع کریں ۔

حقیقت حال کو یہاں سے پایا جاسکتا ہے کہ سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی امامت کی مدت تقریباًدس سال جاری رہی اور یہ پوری مدت (آخری کے چند ماہ کے علاوہ )معاویہ کی معاصر تھی ۔باوجود اس کے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام وقت کے امام اور تمام فقہ اسلامی میں معارف واحکام دین بیان کرنے والے تھے ۔لیکن اس پوری مدت میں آپ سے ایک حدیث بھی نقل نہیں کی گئی ہے ۔ (اس کا مقصودوہ روایت ہے جسے لوگوں نے حضرت سے نقل کی ہو ،نہ وہ روایت جو حضرت کے خاندان کے اندر حضرت سے بعد والے ائمہ تک پہنچی ہو )اور یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں اہل بیت اطہار علیہم السلام کے گھر کا دروازہ بالکل بند کیا گیا تھا اور اس گھرانے سے لوگوں کی رفت وآمدنہ ہونے کی حدتک پہنچی تھی ۔روز افزون گھٹن اور دبائو کے بادل اسلامی ماحول پر ایسے چھائے تھے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے یا اس کے خلاف انقلاب کر نے کی اجازت نہیں دی ،اور اس کا کم ترین فائدہ بھی نہیں تھا ،کیونکہ:سب سے پہلے:معاویہ نے آپ سے بیعت لے لی تھی ،بیعت کے باوجودکوئی آپ کاساتھ نہیں دیتا تھا ۔

دوسرے یہ کہ:معاویہ نے اپنے آپ کو لوگوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک بڑے صحابی ،کاتب وحی اور خلفائے راشدین میں سے تین افراد کے مورداعتماد اور دست راست کے عنوان سے پہچنوایا تھا اور''خال المومنین ''جیسے مقدس لقب کو اپنے آپ سے منسوب کر چکاتھا ۔

تیسرے یہ کہ:اپنے مخصوص نیرنگ سے آسانی کے ساتھ اپنے کسی کارندہ کے ہاتھوںامام حسن علیہ السلام کو قتل کرا سکتا تھا اور اس کے بعد آپ کی خونخواہی کا پر چم بلند کر کے آپ کے قاتلوں سے انتقام لے کر آپ کے لئے مجلس عزا بھی منعقد کر سکتا تھا اورآپ کا عزادار بھی بن سکتا تھا !

معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کی زندگی کے حالات یہاں تک پہنچائے تھے کہ آپ کسی صورت میں ،حتی اپنے گھر کے اندر محفوظ نہیں تھے ،بالآخر(جب لوگوں سے یزید کے لئے بیعت لینا چاہتا تھا )حضرت کو آپ کی بیوی کے ہاتھوں زہر دلاکر شہید کرایا ۔

وہی امام حسین علیہ السلام ،جس نے معاویہ کے مرنے کے بعد فوری طور پر یزید کے خلاف انقلاب کیابرپا اورخود اور اپنے ساتھیوں ،حتی اپنے شیر خوارفرزند کو بھی اس راہ میں قربان کیا ،معاویہ کے زمانہ میں اپنی امامت کی پوری مدت کے دوران یہ قربانی پیش کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے ،کیونکہ معاویہ کے ظاہر اًحق بجا نب نیرنگوں کے مقابلہ میں آپ کی شہادت کسی قسم کا اثر نہیں رکھتی ۔

یہ تھا ان ناخوشگوار حالات کا ایک خلاصہ جسے معاویہ نے اسلامی ماحول میں پیدا کرکے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا دروازہ بالکل بند کردیاتھا اور اس طرح اہل بیت اطہار علیہم السلام کو ہر قسم کے اثر ورسوخ سے محروم کرکے رکھ دیا تھا ۔

آخری،کاری ضرب جو اس نے اسلام ومسلمین کے پیکر پر لگائی،وہ یہ تھی کہ اس نے خلافت اسلامیہ کو ظالمانہ اور موروثی سلطنت میں تبدیل کیا اور اپنے بیٹے یزید کو اپناجانشین مقرر کیا ،جبکہ یزید کسی قسم کی د ینی شخصیت (حتی ظاہر میںبھی )کا مالک نہیں تھا اورہمیشہ علنی طور پر موسیقی ،شراب نوشی اور بندر کے ساتھ کھیلنے میں وقت گزارتا تھا اوردینی قوانین کا کسی قسم کا احترام نہیں کرتا تھا ،اور ان سب کے علاوہ دین پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا ،چنانچہ جب اہل بیت علیہم السلام کے اسیروں اور کربلا کے شہیدوں کے سروں کو دمشق میں داخل کر رہے تھے ،یزید ان کے تماشا کے لئے باہر آیا تھا ،ایک کوّے کی آواز اس کے کان میں پہنچی اور اس نے کہا :

نعب الغراب قل اولاتقل

فقد اقتضیت من الرسول دیونی(۳)

کوے نے آوازدی تم کہو یانہ کہویقییناًمیں نے(آل )رسول سے اپنے قرضے پورے کرلئے۔

اوراسی طرح جب اہل بیت علیہم السلام کے اسیروں اور حضرت سید الشہداء کے سر اقدس کو اس کے سامنے لایاگیا تو اس نے کچھ اشعار کہے اور ان اشعارمیں سے ایک یہ تھا:

لعبت هاشم بالملک فلا

خبرجاء ولاوح نزل

بنی ہاشم نے ملک حاصل کرنے کے لئے ایک کھیل کھیلاتھانہ کوئی فرشتہ ان کے پاس آیاتھانہ وحی نازل ہوئی تھی۔

یزید کی حکمرانی ،جو معاویہ کی سیاست کو جاری رکھنے کی پالیسی پر مبنی تھی ،اسلام اور مسلمین کی تکلیف کو واضح کرتی تھی اور اہل بیت رسول علیہم السلام کے مسلمانوں اور شیعوں سے رابطہ کی حالت (جسے مکمل طور پر فراموش کرانا تھا )کو عیاں کرتی تھی ۔

ایسے شرائط میں اہل بیت علیہم السلام کی نابودی قطعی بنانے اور حق و حقیقت کی بنیادوں کو جڑسے اکھاڑپھینکنے کاتنہا وسیلہ اور موثرترین عامل یہ تھا کہ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام یزید کی بیعت کریں اور اسے خلیفہ اورپیغمبراسلام کا واجب الاطاعت جانشین مان لیں ۔

حضرت سید الشہداء علیہ السلام حقیقی پیشوا اور قیادت کے مالک ہونے کے پیش نظر ہر گز یزید کی بیعت نہیں کر سکتے تھے اور دین اسلام کو پائمال کر نے کے لئے ایسا موثر قدم نہیں اٹھا سکتے تھے ،لہذا امام علیہ السلام کے لئے بیعت سے انکار کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا اور خدائے متعال بھی اس کے علاوہ کوئی چیز آپ سے نہیں چاہتا تھا ۔

دوسری طرف سے بیعت کاا نکار تلخ اور ناخوشگوار نتائج رکھتا تھا ،کیونکہ وقت کی خطرناک اور مخالفت کو برداشت نہ کرنے والی حکومت اپنی پوری طاقت اور ھستی سے بیعت کا مطالبہ کرتی تھی (بیعت سرچاہتی تھی )اور اس کے علاوہ کسی بھی چیز پر تیار نہیں تھی اس لحاظ سے ،بیعت سے انکار کرنے کی صورت میں امام علیہ السلام کا قتل ہو نا قطعی اور انکار بیعت کا اٹوٹ لازمہ تھا ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسلام ومسلمین کی مصلحت کے پیش نظر بیعت سے انکار کرنے اور قتل ہونے کا قطعی فیصلہ کیا اور کسی خوف کے بغیر موت کو زندگی پر ترجیح دی اورمشیت الہٰی بھی آپ کا بیعت سے انکار اور شہید ہوناتھا۔(اور یہ ہے اس امر کا معنی جو بعض روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں آپ سے فرمایا تھا :''خدا تجھے قتل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے ''اورحضرت نے بھی اس تحریک سے منع کرنے والے بعض افراد کو فرمایاتھا :''خدامجھے قتل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے ''اور بہر صورت اس کا مقصود،مشیت تشریعی ہے نہ مشیت تکوینی ،کیونکہ ہم نے اس سے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ خدا کی تکوینی مشیت ارادہ ا ورفعل میں کوئی اثر نہیں کرتی )

جی ہاں !امام حسین علیہ السلام نے بیعت کا انکار اور (نتیجہ کے طور پر) اپنے قتل ہونے کا فیصلہ کیا اور موت کو زندگی پر ترجیح دی اورحوادث کے رونما ہو نے سے حضرت کا صحیح نظریہ ثابت ہو گیا ،کیونکہ اس دل خراش حالت میں آپ کی شہادت نے اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اورحقانیت کو ثابت کردیا ۔آپ کی شہادت کے بعد بارہ سال تک تحریکوں اور خونریزیوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے بعد وہی گھر،جس کے دروازہ کو حضرت کے زمانہ میں کوئی نہیں پہچانتا تھا ،پانچویں امام کے زمانہ میں رونما ہو ئے مختصرآرام کے نتیجہ میں اطراف واکناف سے شیعہ سیلاب کے مانند اسی حقانیت ونورانیت کے دروازہ کی طرف دوڑپڑے اور اس حقانیت اور نورانیت کی چمک دمک کو دنیاکے کونے کونے میں پھیلانے کا سبب بنے۔ اس حقانیت کی مستحکم بنیاد اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت ہے اوراس میدان کے پیش رو سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام تھے ۔آج،امام حسین علیہ السلام کے زمانہ میں خاندان رسالتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حالت اورلوگوں کی ان کی طرف توجہ کا،آپ کی شہادت کے بعد چودہ صدیوں کے دوران رونما ہوئے حالات کا موازنہ ،جو روزبروزتازہ اورعمیق ترہورہے ہیں ،کرنے پر حضرت کا صحیح نظریہ اظہرمن الشمس ہو رہا ہے اوراس سلسلہ میں حضرت نے بعض روایات کے مطابق جو شعر انشا ء فرمایا ہے وہ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے :

وماان طبنا جبن ولکن

منایا نا و دولت آخرینا

بزدلی اورخوف ہماری طبیعت میںشامل نہیںبلکہ ایساہے کہ ہمیںاس دنیاسے جاناچاہیے تاکہ دوسروں کی حکومت پا برجا ہو۔

اسی لئے معاویہ نے یزید کو تاکید کی تھی کہ اگرحسین ابن علی علیہ السلام اس کی بیعت کرنے سے اجتناب کریں توانھیں اپنے حال پر چھوڑنا اور کسی قسم کی مداخلت نہ کرنا معاویہ یہ وصیت اخلاص اور محبت کی بناپر نہیں کررہا تھا ،بلکہ وہ جانتا تھا کہ حسین ابن علی علیہ السلام بیعت کرنے والے نہیں ہیں اوراگروہ یزیدکے ہاتھوں قتل ہو جائیں تو اہل بیت علیہم السلام پر مظلومیت کا نشان لگ جائے گا اوریہ اموی سلطنت کے لئے خطر ناک اوراہل بیت علیہم السلام کے لئے تبلیغ اور پیش رفت کا بہترین وسیلہ ہو گا ۔

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام ،بیعت سے انکار کر نے کے لئے اپنے الہٰی فریضہ سے آگاہ تھے اوربنی امیہ کی بے حد اور نا قابل مزاحمت قدرت اوریزید کی ذہنیت کے بارے میں سب سے بہتر آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ بیعت سے انکارکا اٹوٹ لازمہ ،ان کا قتل ہونا ہے اور فریضہ الہٰی کی انجام دہی کا نتیجہ شہادت ہے ۔اس معنی کے بارے میں مختلف مقامات پر گوناگوں تعبیرات سے انکشاف فرماتے تھے ۔

مدینہ کے گورنر کی مجلس میں جب آپ سے بیعت کا مطالبہ کیاگیا توآپ نے ''فرمایا :''مجھ جیسا''یزیدجیسے کی بیعت نہیں کرتا ۔''

مدینہ منورہ سے رات کی تاریکی میں نکلتے وقت اپنے نانا رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ خواب میں آپ سے فرمایا ''خدا نے چاہا ہے (یعنی تکلیف کے عنوان سے )قتل ہو جائو گے ''

مکہ سے عزیمت کے وقت کی گئی اپنی تقریر کے دوران کچھ لوگوں کی طرف سے آپ کو عراق کی طرف عزیمت سے منصرف ہونے کی تجویز کے جواب میں بھی مکرّریہی مطلب بیان فرمایا ۔

راستہ میں ایک عرب شخصیت نے حضرت کو کوفہ جانے کے اپنے ارادہ سے منصرف ہونے پر اصرارکیا اورکہا کہ منصرف نہ ہونے کی صورت میں حتماًقتل کئے جائو گے ،آپ نے جواب میں فرمایا :''یہ حقیقت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن یہ لوگ مجھ کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور جہاں بھی جائوں اورجہاں پر رہوں مجھے مار ڈالیں گے''

(اگر چہ ان میں سے بعض روایتیں قابل تردید یاسند کے لحاظ سے ضعیفف ہیں لیکن وقت کے حالات اور قضایا کا تجزیہ وتحلیل ان کی مکمل طورپر تائید کرتے ہیں )

البتہ ہم جو کہتے ہیں کہ ''اپنے انقلاب سے امام علیہ السلام کا مقصد شہادت تھا اورخدائے متعال آپ کی شہادت چاہتا تھا ''اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدانے آپ سے چاہا تھا کہ یزید کی بیعت سے انکارکریں اور اس کے بعدہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر یزید کے کارندوں کو اطلاع دے کہ آکر انھیں قتل کر ڈالیں اوراس مضحکہ خیز طریقہ سے اپنافریضہ انجام دیں اور اسے انقلاب کا نام رکھیں ،بلکہ امام کا فریضہ یہ تھا کہ یزید کی منحوس خلافت کے خلا ف انقلاب قائم کریں ،اس کی بیعت سے انکار کریں اور اپنے اس انکار کوہر ممکن راہ سے آخر تک پہنچائیں جو شہادت پر منتہی ہو گی ۔

یہاں پر ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اپنے قیام کے دوران بدلتے حالات کے مطابق امام کی روش مختلف تھی ۔ابتدائی مرحلہ میں جب مدینہ کے گور نر کے دبائو میں قرار پائے تو رات کو مدینہ سے حرکت کی اورمکہ،حرم خدا اور جائے امن ،میں پناہ لے لی اور مکہ میں کئی مہینے تک پناہ گزینی کی زندگی گزاری ،آپ مکہ میں خلافت کے ماموروںاورجاسوسوں کے تحت نظرتھے یہاں تک فیصلہ لیا گیا کہ موسم حج میں ایک گروہ کے ذریعہ قتل کئے جائیں یا پکڑ کر شام بھیج دئے جائیں اور دوسری طرف عراق سے حضرت کے نام خطوط کا ایک بڑا سلسلہ آنے لگا اورسیکڑوں اورہزاروں خطوط میں آپ سے حمایت کا وعدہ دے کر عراق آنے کی دعوت دی گئی ۔جب اہل کوفہ کی طرف سے آخری خط بعنوان اتمام حجت (جیساکہ بعض مورخین نے لکھا ہے پہنچا ،توحضرت نے روانہ ہو نے اور خونین انقلاب کا فیصلہ لیا ۔اوّل اتمام حجت کے طورپر اپنے نمائندہ حضرت مسلم ابن عقیل کو بھیجا۔ کچھ مدت کے بعد حضرت مسلم کی طرف سے انقلاب کے لئے حالات مناسب ہو نے کا خط ملا ۔

امام علیہ السلام نے مذکورہ دوعوامل ،یعنی شام کے جاسوسوں کے آپ کو قتل کرنے یاپکڑ نے کے لئے مکہ میں داخل ہونے کے پیش نظر ،خانہ خدا کے احترام کے تحفظ اور عراقیوں کے انقلاب کے لئے آمادہ ہو نے کی وجہ سے کوفہ کی طرف عزیمت فرمائی ۔اس کے بعد جب راستہ میں مسلم اورہانی کے بے دردی سے قتل کئے جانے کی خبر ملی توحضرت نے اپنے انقلاب اور جنگ کو دفاعی انقلاب میں تبدیل فرمایا اور اپنے ساتھیوں کی چھان بین کرنے لگے اورصرف ان افراد کو اپنے ساتھ رکھا جو اپنے خون کے آخری قطرہ تک وفا کرنے اورپیچھے نہ ہٹنے پر آمادہ تھے ۔(۴)

محمدحسین طباطبائی

قم ۔ر بیع الاول١٣٩١ھ

__________________

١۔ معالی السبطین :٢١٢(مختصر فرق کے ساتھ)

٢۔(لہوف٢٦)

۳۔ تفسیر روح المعانی ،آلوسی ،ص٦٦ ،بہ نقل تاریخ ابن الوردی کتاب وافی الوفیات

۴۔مذکورہ بحث ،چندسال پیش استاد علامہ طباطبائی کے توسط سے ،ایک گروہ کے سوالات کے جواب کے طورپرلکھی گئی ہے۔


ساتواں حصہ:

وہابی عقائد کا باطل ہو نا

کیا انبیاء اوراولیاء سے توسّل کرنا شرک کی ایک قسم ہے ؟

سوال:کیا عقلی استدلال اور قرآن مجید کی آیا ت کے دلائل اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واضح سیرت کے پیش نظرانبیائ،ائمہ اور صالحین سے توسّل کرنا شرک اور کفر کا سبب نہیں ہو گا؟اس لئے کہ :

سب سے پہلے:عقلی استدلال کے مطابق ،خلقت صرف خد اسے مخصوص ہے اور ہر قسم کی تاثیر اسی سے ہے اور قرآن مجید بھی اسی معنی کی تصدیق کرتا ہے اورمکرّر فرماتا ہے :

( اللّٰه خلق کل شئ ) ....)(رعد١٦)

'' ...اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے''

اس بناء پر اسباب اورمسّببات کے درمیان کسی قسم کے ایجاد کا رابطہ اور تاثیر نہیں ہے بلکہ مشیت الہٰی یہ ہے کہ مسّببات کو اسباب کے پیچھے اورآثار کو صاحبان آثار کے بعد خلق کرتا ہے بدون اس کے کہ ان کے درمیان ہو ،مثلاًلکڑی جلنے کو آگ کے پہنچنے کے بعد ایجاد کرے بدون اس کے کہ ان کے درمیان رابطہ موجود ہو اور اس بناپر انبیاء اوراولیاء کو ذاتی قدرت کا مالک اوراثر کا آغاز جاننا اور ان سے توسّل کرنا اور حاجت طلب کرنا انھیں خدا کا شریک قراردینا ہے ۔

دوسرے یہ کہ:خدائے متعال اپنے کلام میں فرماتا ہے :

( وقال ربّکم ادعون استجب لکم انّ الّذین یستکبرون عن عبادتی سید خلون جهنم داخرین ) (غافر٦٠)

'' اورتمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعاکرو میں قبول کروںگا اور یقیناجو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کے ساتھ جہنّم میں داخل ہوں گے ''

چنانچہ آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ خدائے متعال دعاکو عبادت شمارکرتا ہے اورعبادت اوردعاسے نافرما نی کر نے والے کو واضح طورپر جہنّم کا وعدہ دیتا ہے اورغیرخداسے دعامانگنا ، عبادت اورخداسے دعاکی نافرمانی قراردیتا ہے اور یہ واضح طور پر غیر خدا کو خدا کا شریک قراردیناہے ۔

تیسرے یہ کہ: رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر مسلمانوں ،یعنی بت پرستوں اور اہل کتا ب کو اپنی دعوت میں عملاً کافر جانتے تھے اور ان سے جنگ کرتے تھے ،جبکہ بت پرست خدائے متعال کو خالق ورزّاق اورعالم کا مدبرّجانتے تھے ،ان کے شرک کی تنہا علت یہ تھی کہ گزشتہ انبیاء کی وفات کے بعد ان کی ارواح سے حاجت طلب کرتے تھے اور انھیں شفیع قراردیتے تھے اور ان کا پاس رکھتے تھے ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،اہل کتاب اوربت پرستوں کے درمیان کسی قسم کا فرق کئے بغیر ان سب سے جنگ کرتے تھے اور ان سب کو کافراورمشرک جانتے تھے ۔

چوتھے یہ کہ:بہت سی آیات جیسے:

( قل لا یعلم من ف السموات والارض الغیب الاّ اللّه ) (نمل٦٥)

''کہ دیجئے کہ آسمان وزمین میں غیب کا جاننے والااللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے ..''

اور:

( وعنده مفاتح الغیب لا یعلمها الّاهو ) (انعام٥٩)

'' اور اس کے پاس غیب کے خزانے ہیں جنھیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے ...''

کے سبب علم غیب خداکی خصوصیات میں سے ہے اور اس کے علاوہ کوئی علم غیب نہیں جانتا ۔انبیاء ،اولیاء وغیرہ،جو بھی ہو علم غیب نہیں رکھتے اوربدیہی ہے کہ دنیا اہل آخرت کے لئے غیب ہے اورہر انسان حتی انبیاء اور اولیاء بھی مرنے کے بعد دنیا کے حالات سے بے خبر ہوتے ہیں ،پس انبیا ء اوراولیاء سے ان کے مرنے کے بعد حاجت طلب کرنا اورشفاعت مانگنا ،شرک ہو نے کے علاوہ بیہودہ بھی ہے اور اسی طرح یہ آیت :

( یوم یجمعا اللّٰه الرسل فیقول ،ماذااجبتم قالوا لا علم لنا انّک انت علمّٰ الغیوب ) (مائدہ ١٠٩)

''جس دن خد اتمام مرسلین کو جمع کرکے سوال کرے گا کہ تمھیں قوم کی طرف سے تبلیغ کا کیا جواب ملا تو وہ کہیں گے کہ ہم کیا بتائیں توخود ہی غیب کا جاننے والاہے ''

اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ قیامت کے دن انبیاء ان کی امت کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں بتائیں گے مرنے کے بعد ہم ان کے حالات سے بے خبر ہیں ۔

خلاصہ یہ کہ ان وجوہات کی بناء پر ،اولیاء اورانبیاء سے ان کے مرنے کے بعددعامانگنا اور ان سے حاجت طلب کرنا بلکہ مطلق خضوع اوران کی قبروں کی تعظیم کرنا حتٰی ان کی ضریحوں اورقبروں کا بوسہ لینا شرک ہے !

جواب :

بسمہ تعالٰی

اماپہلی حجت:اس قول کالازمہ یہ ہے کہ عالم ہستی میں تاثیر میں نہ کوئی مستقل موثروجودرکھتا ہے اورنہ تاثیرمیں غیر مستقل واسطہ ہے بلکہ تاثیر مطلق طورپر خداسے مربوط ہے اوردوسرے الفاظ میں ،موجودات میں علّیت ومعلولیت کا انکار اورعلّیت کا خدائے متعال سے مخصوص ہونے کی بات،اس کے علاوہ کہ انسان کی فطری عقل کے واضح طور پر خلاف ہے ،ناقابل رفع دورکاوٹیں بھی اس میں موجود ہیں :

١۔اس بات کو قبول کرنے سے خالق کائنات کے اثبات کا راستہ مکمل طورپر مسدود ہوتا ہے ،کیونکہ ہم خالق کائنات کے وجود کو عالم ہستی سے حاصل کی گئی معلومات کی بناپر ثابت کرتے ہیں اور جب خارجی مخلوقات اور اسی طرح نظری وفکری معلومات میں ،توقف وجودی اورعلّیت ومعلولیت موجود نہ ہو ،تو ہم کہاں سے سمجھ سکتے ہیںکہ عالم کے مظاہر،عالم سے باہر (خالق کائنات کے نام )کسی چیز سے توقف وجودی اور رابطہ ہستی رکھتے ہیں اورکیایہ مضحکہ خیز نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ مشیت الہٰی اس پر جاری ہے کہ آثار کو صاحبان آثار کے بعد خلق کرے اورخدا کو ثابت کئے بغیر ہم اس کی مشیت کے بارے میں بات کریں ؟

٢۔یہ کہ جب توقف وجودی اورہرچیز کا دوسری چیز سے رابطہ منقطع ہو جائے ،توہر دلیل اوراس کے نتیجہ کے درمیان بھی رابطہ منقطع ہوتا ہے اور کوئی دلیل اپنے نتیجہ کا لازمہ نہیں ہوگی ،کیونکہ اس صورت میں کسی دلیل اوراس کے نتیجہ کے درمیان کوئی رابطہ موجود نہیں ہوگا اوریہ معنی نتیجہ کے علم سے جوڑ نہیں کھاتا ہے اور اس کالازمہ ہر چیز میں شک ہے ،یعنی مغالطہ !

لیکن ہم انسانی فطرت کے مطابق ،علیّت ومعلو لیّت کے قانون کو عام اور قابل استثناء جانتے ہیں ۔ہر مظہر اورحادثہ جس کا سابق عدم ہے ،اس کا وجود اپنے آپ سے نہیں ہے ،بلکہ اس کے اوپر ایک علت ہوتی ہے اور اس طرح ان کی علّت اور اس کی علّت کی علّت اور سب علتیں (دور اور تسلسل کے باطل ہونے کی بنیاد پر اور دوسری عقلی دلیل کی وجہ سے''واجب الوجود''نام کی ایک علّت پر ختم ہوجاتی ہے،کہ وہ خدائے متعال ہے ۔اور نتیجہ کے طورپر عالم،عالم اسباب ہے اور تاثیر میں مستقل علت ،تمام مخلو قات کے لئے خدائے متعال ہے اورخدائے متعال اورایک ''امکانی معلول''کے درمیان جو دوسری علتیں قرار پائی ہیں ،وہ واسطہ ہیں اور ان کا فعل اور اثر بالکل خدا کا فعل واثر ہے ۔

وجود کے فیض کا معلول تک پہنچنے میں کسی چیز کا واسطہ ہونا تاثیر میں شرکت اور استقلال کے علاوہ ہے ۔واسطہ اور ذی واسطہ سے ایک فعل کے استثناء کی مثال انسان کے مانند ہے کہ ہاتھ میں ایک قلم لیا ہوا کوئی چیزلکھتا ہے ،اس فرض کے مطابق قلم لکھتا ہے ،ہاتھ لکھتا ہے ،انسان لکھتا ہے اورہر تین چیزیں صحیح ہیں جبکہ لکھنا ایک فعل سے زیادہ نہیں ہے اور تین موضوع سے اس کی نسبت دی جاتی ہے ،لیکن تاثیر میں مستقل لکھنے والا''انسان''ہے اورہاتھ اور قلم واسطہ ہیں نہ شریک اورآگ اور اس کے جلانے کی مثال میں ، خدائے متعال نے جلانے والی آگ کو خلق فرمایا نہ آگ کو الگ سے اور جلانے کو الگ سے ،یعنی جلانے کو آگ کی راہ سے خلق فرمایا ہے نہ مستقل طور پر اور الگ سے ۔

مذکورہ بیان کے پیش نظر ،علیّت اورمعلولیّت جو مخلوقات میں امکانی ہیں ،خدائے متعال کے استقلال خلقت اورپیدا کرنے میں اس کی وحدانیت سے کسی قسم کا تضادنہیں رکھتیں بلکہ اشیاء کی وساطت اوران کی تائید اور تاکید کرنے والی ہیں ،اور قرآن مجید بھی مخلوقات کو نسبت دینے والے اور احتیاجات میں انجام دینے والے تمام افعال وآثار میں ،عام قانون علیّت ومعلولیّت کی تصدیق کرتا ہے ،اوراسی اثناء میں تاثیر میں استقلال کو خدائے متعال کے لئے محفوظ رکھتا ہے اوراس سلسلہ میں قرآن مجید کی آیتیں بہت ہیں ،جیسے :

( ومارمیت اذرمیت ولکنّ اللّٰه رمیٰ ) (انفال ١٧)

''... آپ نے سنگریزے نہیں پھینکے ہیں بلکہ خدا نے پھینکے ہیں ...''

( قتّلوهم یعذٰبهم اللّٰه بیدیکم ) (توبہ١٤)

''ان سے جنگ کرو اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے سزادے گا ...''

( انّمایرید اللّٰه لیعذّبهم بها ) (توبہ ٥٥)

''...بس اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انھیں کے ذریعہ ان پر عذاب کرے...''

اورایسی ہی دوسری آیتیں ۔

لیکن دوسری حجّت:جو دعاکو عبادت بیان کرتی ہے ۔ہم نے پہلی حجّت کے جواب میں واضح کردیا ہے کہ غیر خدا سے دعاکرنا اور حاجت طلب کرنا ،دوصورتوں میں قابل تصورہے :

طرف کی تاثیراور ذاتی قدرت کے ادعاسے حاجت طلب کرنا اوراس کے واسطہ سے حاجت طلب کر نے اوردعاکرنے کا اس کے ذی الواسطہ سے شریک ہونے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہے ،اس بناپر آیہ کریمہ :

( ادعونى استجب لکم ان الّذین یستکبرون عن عبادتى سید خلون جهنّم داخرین ) (غافر٦٠)

''... مجھ سے دعاکرو میں قبول کروں گا اوریقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے''

صرف اس دعاکی نہی کرتی ہے جوطرف مقا بل کے تاثیر میں استقلال کے اعتقاد سے مربوط ہو ،نہ کلی طور پر حاجت طلب کر نے کی ،حتی واسطہ اور طریقہ جو صاحب واسطہ کا فعل ا وراثر ہے اس سے حاجت طلب کرنا ،مستقل سے حاجت طلب کرنا منظور ہو تا ہے ،اس کے علاوہ آیہ کریمہ میں مطلق معنی لینا ایسے مواقع پیدا کرتا ہے کہ ان کا شرک نہ ہونا بدیہی ہے ،اس کے مانند کہ مثلاًہم ہر روز نانوائی سے کہیں کہ جناب!ان پیسوں کے برابر روٹی د ے دیجئے اور اسی طرح قصاب سے گوشت ،اپنے نو کر سے خدمت ،اپنے مخدوم سے نظر عنایت اور اپنے دوست سے دوستی سے مربوط ایک کام کا مطالبہ کرتے ہیں ۔کیونکہ ان مطالبات کا دعاہونا بدیہی ہے اور مطلق دعاکے شرک ہونے کی صورت میں مشکل واضح ہے ۔اور یہ کہ بعضوں نے کہا ہے :چونکہ یہ زندہ ہیں اور مطالبہ کو سنتے ہیں ،لیکن انبیاء اور اولیاء کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعدجو دعاان سے کی جاتی ہے وہ اس سے غافل ہیں ،یہ صرف ان دعائوں کے بیہودہ ہونے کی مشکل کو حل کرتا ہے نہ آیت میں دعا کے مطلق ہونے کی صورت میں شرک ہونے کی مشکل کو دور کرتا ہے ۔اس بات کے باطل ہو نے کی دلیل چوتھے سوال کے جواب میں بیان کی جائے گی ۔

اسی طرح آیہ کریمہ :

( یا یّها الّذین آمنوا اتّقوا اللّٰه وابتغوا الیه الوسیلة وجاهدوا فسبیله لعلکم تفلحون ) (مائدہ ٣٥)

''ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہو جائو ''

میں خدائے متعال اپنی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا حکم فرماتا ہے اور اسے کامیابی کے سبب کے طور پر بیان فرماتا ہے ۔یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس روایت کے مانندہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایمان اور نماز کو اپنا وسیلہ قرار دیتے ہیں اور واضح ہے کہ وسیلہ کا مقصود یا ایمان و عبادت کے توسط سے تقرّب ہے یاخود ایمان وعبادت ہے ۔اوربدیہی طور پر ایمان ایک نفسانی صفت اور عبادت انسان کی حرکت ہے اورجو بھی ہو غیر خدائے متعال ہے کہ اس کی سببیّت تصدیق ہوئی ہے جبکہ گزشتہ حجّت کی بناپر یہ شرک ہے اور شرک کا خدا کے تقرّب کا سبب بننا محال ہے ۔

لیکن تیسری حجّت: جو کچھ بت پرستوں کے مشرک ہونے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بت پرست شہادت دیتے تھے خدائے وحدہ لا شریک خالق اور رازق ہے اور اس کے علاوہ نہ کوئی زندہ کرتا ہے ،نہ کوئی مارتا ہے نہ کوئی تدبیر کرتا ہے ۔اور تمام آسمان اورزمین اور ان کے اندر موجود ہ مخلوقات اس کے بندے اوراس کے کنٹرول اور قدرت کے تحت ہیں ،یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو حقیقت کے ساتھ میل نہیں کھاتا ،کیونکہ ادیان اور مذاہب کی کتا بوں کی نص کے مطابق اورکروڑوں کی تعداد میں چین ،ھندوستان ،جاپان اور دوسرے ممالک میں زندگی کرنے والے بت پرستوں کی گواہی کے مطابق بت پرست کا دین اس بنیاد پر ہے کہ وہ کہتے ہیں خلقت اور تمام کائنات کی پیدائش،حتی جن خدائوں کی وہ پرستش کرتے ہیں ،خدائے متعال کی طرف سے ہے لیکن اس کی مقدس اورلامتناہی ذات ہمارے لئے حس ،خیال اور عقلی طور پر قابل درک نہیں ہے اورکسی بھی صورت میں ہمارا ادراک اس کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف توجہ کرسکیں ،اس لحاظ سے کہ اس کی عبادت اور پرستش توجہ کے ساتھ ہونی چاہئے ،ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور ہم ناچارہیں اس کے بعض مقرّب اور قدرت مند بندوں کی پرستش کریں جو ملائکہ ،جن، اور عالم بشریت کے مقدس افراد پر مشتمل ہیں تاکہ وہ ہمیں خدا کے نزدیک تر کرکے اس کے پاس ہماری شفاعت کریں ۔

بت پرستوں کی نظر میں ملائکہ ایک پاک ومقرّب مخلوق ہیں ،جن کو عالم کے امور کا ایک حصہ ادارہ کرنے کے لئے سونپا گیا ہے اور مستقل اورمکمل اختیار کے مدبّر ہیں جیسے ،سمندروں ،صحرا ،جنگ ،صلح ،زیبائی زمین اورآسمان کے خداوند ۔ان میں سے ہرایک خدا ایک حصہ کا مکمل اورمستقل اختیار رکھنے والا مقرر ہوتا ہے اورتدبیر کرتا ہے۔ یہ خدائوں کا خدا ،رب الارباب اورالہٰ الالھٰہ ہے اور امور عالم کی تدبیر سے کوئی چیز اس سے مربوط نہیں ہے ۔قرآن مجید میں بھی چند آیات اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں ،جیسے آیہ شریفہ :

( ولئن سلتهم مَن خلق السموات والارض لیقولنّ اللّٰه ) (لقمان ٢٥)

'' اور اگر ان سے سوال کریں کہ زمین وآسمان کا خالق کون ہے تو کہیں گے کہ اللہ''

( ولئن سلتهم مَن خلقهم لیقولنّ الله ) (زخرف٨٧)

''اور اگرآپ ان سے سوال کریں گے کہ خود ان کا خالق کون ہے تو کہیں گے اللہ ،اوراسی طرح کی دوسری آیتیں جن میں بت پرستوں کے خدا کے خالق ہونے کا اعتراف ہے ۔''

اورجیسے:

( لوکان فیهما آلهةً الااللّٰه لفسدتا ) (انبیاء ٢٢)

''یادرکھو اگر زمین وآسمان میں اللہ کے علاوہ اورخدابھی ہوتے توزمین وآسمان دونوں برباد ہو جاتے۔''

اورآیہ:

( وما کان معه من اله ذاً لذهب کل اله بما خلق ولعلابعضهم علی بعض ) (مومنون ٩١)

''...اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسراخد اہے ورنہ ہرخدااپنی مخلوقات کو لے کر الگ ہو جاتا اور ہر ایک دوسرے پر برتری کی فکر کرتا ...''

اس آیت کا استدلال یہ ہے کہ اگر متعدد خدا ہو تے ،تو تدبیر میں اختلاف نظرپیدا ہوتا اور مختلف نظریات کو نافذ کرنے کے نتیجہ میں عالم میں اختلاف اور فساد پیدا ہو

جا تا ۔واضح ہے کہ اگر خدائوں کو تدبیر میں استقلال حاصل نہ ہو تا اورصرف خدا ئے واحد کے ارادہ سے واسطہ اورنافذ کرنے والے ہوتے تو اختلاف نظروجودنہیں رکھتا تاکہ تدبیر میں اختلاف پیش آئے۔

مذکورہ بیان سے واضح ہو گیا کہ بت پرست ،خواہ ستاروں اورستاروں کی روحانیت کی پرستش کرتے ہیں یا وہ جو اصنام اوراصنام کے ارباب کی پرستش کرتے ہیں وہ ہر گز خدائے متعال کی پرستش نہیں کرتے ہیں اورعبادت اورتقرّب کے سلسلہ میں جو خاص مراسم اورقربانی انجام دیتے ہیں ،وہ ان کے خدائوں سے مربوط ہیں اورخدائے متعال کے پاس صرف شفاعت کی امید رکھتے ہیں اور وہ بھی دنیوی زندگی کے امور کے بار ے میں نہ آخرت میں شفاعت کے لئے ،کیونکہ وہ معاد کے منکر ہیں اور قرآن مجید جو جواب انھیں اس آیت:

( مَن ذا الّذ یشفع عنده الّا باذنه ) (بقرہ٢٥٥)

'' ..کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے...''

میں دیتا ہے ،وہ مطلق شفاعت سے مربوط ہے نہ قیامت کے دن کی شفاعت سے جس کے وہ منکر ہیں ۔

جی ہاں !اعراب ،جاہلیت کے دوران جہالت میں غرق تھے،کبھی بت پرستی کے اصول کے خلاف خدائے متعال کی بھی عبادت کرتے تھے ،من جملہ حج،جو حضرت ابراھیم علیہ السلام کے زمانہ سے ان کے درمیان رائج تھا ،اس کے بعد جب عمروبن یحیٰ نے حجاز میں بت پرستی کو رواج بخشا تو سب لوگ بت پرست ہو ئے ۔پھر بھی حج کو بجا لاتے تھے ،اس عمل کو انجام دینے کے ضمن میں کعبہ کے اوپر واقع'' ھبل'' اور صفاومروہ پر موجود''اساف ''و''نائلہ'' جیسے اپنے خدائوں کی زیارت کرتے تھے اور انھیں کی قربانی پیش کرتے تھے اور ان کا یہ جاہلانہ عمل عام بت پرستوں کے جاہلانہ عمل کے مانند تھا کہ بت کو قبلہ ا ورمظہر قراردے کر صاحب بت ،کہ مثلاًملک ہے ،کی پرستش کرنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے بت کی پرستش کرتے تھے ،چنانچہ خدائے متعال حضرت ابراھیم کے کلام کو نقل کرتا ہے :

( اتعبدون ماتنحتون ) (صافات٩٥)

''کیا تم لوگ اپنے ہاتھوں کے تراشیدہ بتوں کی پرستش کرتے ہو ؟''

خلاصہ،بت پرستی کے اصول کے مطابق ،اور اس تیسری حجت میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کے بر عکس ،خدائے متعال نہ امور عالم کا مدبر ہے اور نہ ملائکہ سے نسبت دی جانے والا معبود اورشفاعت ہے ،شفاعت دینوی امورزندگی سے مربوط ہے اورایک ایسی تدبیر کا جزء ہے کہ ملائکہ اس میں مستقل اورخودمختارہیں نہ مذکورہ مثال کے مطابق واسطہ اوروسیلہ ،ملائکہ اپنی تدبیر میں معمار کی حیثیت رکھتے ہیں کہ عمارت کا مالک ایک عمارت کی تعمیر کو اس کے حوالہ کرتاہے ،اس فرض میں عمارت کا ابتدائی مواد مالک مکان کے ذمہ ہے ،جس چیزکی معمار کو عمارت کی تعمیر میں ضرورت ہو ،جیسے ،چونا ،پتھر،اینٹ وغیرہ مالک مکان کو یہ چیزیں فراہم کرنا ہوں گی اور ان کی ترتیب اوربناوٹ معمار کے ذمہ ہوتی ہے ۔ہماری بحث میں شفاعت،معمار کے مطالبات کی حیثیت رکھتی ہے اور اسی طرح تدبیر کابھی جزو ہے، جو خدائوں کے ذمہ ہے ۔

لیکن، جو کچھ اس تیسری حجت میں اہل کتاب کے بارے میں کہاگیا ہے کہ وہ انبیاء اورصالح بندوں کو مرنے کے بعد خدا کاشریک قراردیتے تھے اور ان سے حاجت طلب کرتے تھے اور اس طرح مشرک ہوتے تھے ،یہ ایک اوربے دلیل دعویٰ ہے ...حقیقت میں اہل کتاب ،یعنی یہود اورعیسائی وغیرہ عموماًرسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو مسترد کرنے کی وجہ سے کافر تھے ،چنانچہ فرماتا ہے :

( انّ الّذین یکفرون باللّٰه ورسوله ویریدون ان یفرّقوا بین اللّٰه ورسوله ویقولون نؤمن ببعض ونکفرببعض ویریدون ان یتّخذوا بین ذلک سبیلا٭اولئک هم الکافرون حقاّ )

(نساء ١٥٠۔١٥١)

''بیشک جو لوگ اللہ اوررسول کا انکار کرتے ہیں اورخدا اوررسول کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اوربعض کا انکار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ ایمان وکفر کے درمیان سے کوئی نیا راستہ نکال لیں ۔تودرحقیقت یہی لوگ کافر ہیں ...''

اسی طرح اپنے علماء کے بارے میں مطلق اطاعت کرتے تھے اورانھیں اپنا ارباب جانتے تھے ،اورخدائے تعالیٰ اطاعت کو عبادت اورپرستش شمارکرتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے :

( الم عهد الیکم یابنی آدم ان لا تعبدوا الشیاطن انّه لکم عدوّ مبین ٭وان اعبدون ) (یسین ٦٠۔٦١)

''اولادآدم !کیا ہم نے تم سے اس بات کاعہد نہیں لیا تھا کہ خبردارشیطان کی عبادت نہ کرنا کہ وہ تمھارا کھلاہوادشمن ہے ۔اور میری عبادت کرنا ...''

مزید فرماتا ہے :

( افر یت مَن اتَّخذالٰهه هویٰه وضلّه اللّٰه علی علم )

(جاثیہ ٢٣)

''کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنالیا ہے اورخدانے اسی حالت کودیکھ کر اسے گمراہی میں چھوڑدیا ہے ''

چنانچہ واضح ہے کہ ان آیات میں اطاعت کو عبادت شمار کیا گیا ہے ۔اوران دوطائفوں میں سے ہر ایک انحراف کی وجہ سے دین حق کی راہ سے ایک خاص کفرمیں مبتلا ہوا تھا ،چنانچہ یہود کہتے تھے :''عزیرابن اللہ''اورعیسائی کہتے تھے :''المسیح ابن اللہ''اورمسیح اورمریم کی پرستش کرتے تھے ،چنانچہ فرماتا ہے :

( واذ قال اللّٰه یعیسیٰ ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذون وام الهین من دون اللّٰه ) (مائدہ ١١٦)

''اورجب اللہ نے کہا کہ اے عیسی ٰبن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہدیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اورمیری ماں کو خدا مان لو؟..''

اورخدائے متعال مندرجہ ذیل آیہ شریفہ میں مجموعی طور پر ان جہتوں کی طرف اشارہ فرماتا ہے :

( وقالت الیهود عزیر ابن اللّٰه و قالت النصٰریٰ المسیح ابن اللّٰه ذلک قو لهم بافواههم یضٰهئون قول الّذین کفروا من قبل قتّٰلهم اللّه نّی یوفکون ٭ اتّخذوااحبارهم ورهبٰنهم ارباباً من دون اللّه والمسیح ابن مریم ومامروا الّا لیعبدوا الها واحداً لااله الّاهو ) (توبہ٣٠۔٣١)

''اور یہودیوں کا کہناہے عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اورنصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ سب ان کی زبانی باتیں ہیں ۔ان باتوں میں یہ بالکل ان کے مثل ہیں جو ان کے پہلے کفار کہا کرتے تھے ،اللہ ان سب کو قتل کرے یہ کہاں بہکے چلے جا رہے ہیں ۔ان لوگوں نے اپنے عالموں اور راہبوں اورمسیح بن مریم کوخداکو چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا ہے حالانکہ انھیں صرف خدائے یکتا کی عبادت کا حکم دیاگیا تھا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ...''

مجوسیوں کے بارے میں اگرچہ قرآن مجید میں تفصیلی بیان نہیں ہے لیکن ہم باہرسے جانتے ہیں وہ بت پرستوں کے مانند ،فرشتوں کی پرستش کرتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ مجوس اصنام نہیں رکھتے تھے ،بت پرستوں کے بر عکس وہ ملائکہ کے لئے تصویربناتے تھے اور''اصنام''کے نام پرانھیں ملائکہ کو دکھانے والا جانتے تھے ۔

مذکورہ بیان سے واضح ہوا کہ قرآن مجید میں انبیاء اورصالحین سے حوائج کے بارے میں واسطہ اور رابطہ کی صورت میں توسل ،نہ استقلال کی صورت میں ،ہر گز شرک بیان نہیں ہوا ہے اوریہ جو مشرکین اوراہل کتاب کہتے ہیں ،جیسا کہ تیسری حجت میں کہا گیا ہے ،نہیں تھے بلکہ واضح طور پر غیر خدا کو اپنا معبود جانتے تھے نہ شفاعت کے لحاظ سے بلکہ عبادت کے لحاظ سے اورخاص مراسم انجام دیتے تھے اور اس وقت بھی انجام دیتے ہیں ۔

اصولی طور پر کوئی بھی اپنی انسانی فطرت سے واسطہ اوروسیلہ کو شرک نہیں جانتا ہے اور وسیلہ و واسطہ ایک ایسا راستہ ہے جو انسان کو اپنی منزل مقصود تک پہنچاتا ہے اوربذات خودراستہ مقصد اورمنزل نہیں ہے ،جو کسی فقیر کے حق میں کسی مال دار کے پاس شفاعت کرتا ہے مثلاًاس سے کچھ پیسے لے کر فقیر کو دیتا ہے ،کوئی عقلمند نہیں کہتا کہ وہ پیسے مال داراورشفاعت کرنے والے کے ہیں بلکہ پیسے دینے والا مال دارہے اورشفیع واسطہ اور رابطہ ہے ،شفیع ہمیشہ نیازمند اورحاجت مند کا تتمہ ہوتا ہے نہ حاجت پوراکرنے والے کا شریک ۔

لیکن چوتھی حجّت:اس کاخلاصہ یہ ہے کہ'' علم غیب اور ہر قسم کا مشاہدہ غیبی خدائے متعال سے مخصوص ہے اورغیر خدا سے اس کی نسبت دینا شرک ہے ،اس بناء پر انبیاء واولیاء مرنے کے بعد دنیا کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں رکھتے ہیں ،کیونکہ آخرت کی نسبت دنیا غیب ہے ۔''یہ ایک ایسا مطلب ہے جو نص کے خلاف ہے ۔قرآن مجید فرماتا ہے :

( عالم الغیب فلا یُظهر علی غیبه احدا٭الّا مَن ارتضی من رسول ) (جن ٢٦۔٢٧)

''وہ عالم الغیب ہے اوراپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے ۔مگر جس رسول کو پسند کرلے ...''

خدائے متعال ،اس آیہ شریفہ میں غیب پر تسلط کو اپنے علاوہ نفی کرتا ہے اوراسی اثناء میں رسول کو استثناء قراردیتا ہے اوراستثناء کو دنیا اورغیر دنیا کے لئے مقیّد نہیں کرتا ہے ،پس ممکن ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنی زندگی میں یا اپنی موت کے بعد خد اکی مرضی اورالہٰی تعلیم کے مطابق غیب سے مطلع ہوں ،اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں پر رسول کے علم غیب سے نفی ہوئی ہے ،اس کے ہمراہ وحی کو اس کے ساتھ قرار دیا گیا ہے ،مانندآیہ :

( قل ماکنت بدعاً من الرسول وما ادری مایفعل بی ولابکم ان اتّبع الّا مایوحی الیّ ) (احقاف٩)

''آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی نئے قسم کا رسول نہیں ہوں اورمجھے نہیں معلوم کہ میرے اورتمہارے ساتھ کیا برتائو کیا جائے گا میں توصرف وحی الہٰی کا اتباع کرتا ہوں ...''

اورفرماتا ہے :

( ولو کنت اعلم الغیب لا ستکثرت من الخیر وما مسّن السوء ان انا الّا نذیر و بشیر ) (اعراف١٨٨)

''اگرمیں غیب سے باخبر ہوتا تو بہت زیادہ خیر انجام دیتااور کوئی برائی مجھ تک نہ آسکتی ۔میں توصرف صاحبان ایمان کے لئے بشارت دینے والااورعذاب الہٰی سے ڈرانے والاہوں''

اورسورئہ ابراھیم میں ان امتوں کے انکار کے جواب میں ،جو اپنے پیغمبروں سے اعتراض کرکے بتاتے تھے کہ تم بھی ہماری طرح بشرہو ،پیغمبروں کے قول سے فرماتا ہے :

( قالت لهم رسلهم ان نحن الّا بشر مثلکم ولکنّ اللّه یمّن علیٰ من یشاء من عباده ) (ابراھیم ١١)

''ان رسولوں نے کہا کہ یقینا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا جس بندہ پر چاہتا ہے مخصوص احسان بھی کرتا ہے ...''

ان تمام آیتوں سے واضح تر حضرت مسیح علیہ السلام کی زبانی اپنی قوم سے خطاب کو نقل فرماتا ہے :

( وانبّئکم بما تاکلون وما تدّخرون فی بیو تکم ان ف ذلک لایة لکم ) (آ ل عمران ٤٩)

''اورتمھیں اس بات کی خبر دوں گا کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیاگھر میں ذخیرہ کرتے ہو ،ان سب میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں ...''

اس طرح آیت:

( مبشراًبرسول یت من بعد اسمه احمد ) (صف٦)

'' اور اپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کانام احمد ہے ''

اسی طرح بہت سی روایتیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار علیہم السلام سے آخرالزمان کے حوادث کی خبر کے عنوان سے نقل ہوئی ہیں ۔

اس بناء پر جو کچھ بیان ہوا ،اس میں جو قرآنی آیات علم غیب اورمعجزات کی قدرت وغیرہ جیسے امور کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نفی کرتی ہیں ،وہ سب استقلال اورذاتی قدرت پر ناظر ہیں اور جو آیات اس کو ثابت کرتی ہیں وہ عنایت الہٰی اورخدائی تعلیم سے مربوط ہیں ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں علم غیب وحی کی راہ سے ائمہ اطہار علیہم السلام میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت اور تعلیم کی راہ سے ہو تا ہے ،چنانچہ روایتیں بھی اس معنٰی کی دلالت کرتی ہیں اورآیہ کریمہ :

( یوم یجمع اللّٰه الرسل فیقول ماذا جبتم قالوالا علم لنا انک انت علاّم الغیوب ) (مائدہ١٠٩)

''جس دن خداتمام مرسلین کو جمع کرکے سوال کرے گا کہ تمھیں قوم کی طرف سے تبلیغ کا کیا جواب ملا تو وہ کہیں گے کہ ہم کیا بتائیں توخود ہی غیب کا جاننے والا ہے ''

کا اس معنی سے استدلال ہوا ہے کہ قیامت کے دن تمام انبیاء ان کی موت کے بعد ان کی امتوں کے اعمال کے بارے میں لا علمی کا اظہار کریں گے اورکہیں گے کہ ہم تو مرنے کے بعد اپنی امت کے حالات سے آگاہی نہیں رکھتے ۔

اگراس کا معنی یہ ہو گا کہ مرنے کے بعد امت کے اعمال ہمارے لئے غیب تھے اور ہم غیب سے بے خبر ہیں ،تو امت کے اعمال کے بارے میں یہ مشکل موت سے پہلے بھی پیش آسکتی ہے ، کیونکہ ہر عمل کی حقیقت اس کی صورت کے تابع نہیں ہوتی ہے ،بلکہ خبر متواتر کے مطابق بلکہ بدیہی طور پر فاعل کی نیت کے تابع ہے ۔کہ یہ انسان کے باطن سے مربوط ایک امر ہے اورہرانسان کا باطن دوسرے انسان کے لئے غیب ہے ۔اس بناء پر ،چنانچہ مرنے کے بعد اپنی امت کے اعمال سے بے خبر ہو تے ہیں ،قبل از مرگ بھی حقیقت اعمال ، جو غیب ہیں ،سے بے خبر ہوں گے ،اس صورت میں دنیا میں ان کے اعمال کا شاہد قراردینا ،چنانچہ آیہ :

( وکنت علیهم شهیدامادمت فیهم ) (مائدہ٧اا)

''میںجب تک ان کے درمیان تہاان کاگواہ اورنگراںرہا''

اورآیہ:

( ویتّخذ من کم شهدائ ) (آل عمران ٤٠ا)

''...اور تم میں سے بعض کو شہداء قراردے ...''

اور آیہ:

( وجای ء بالنبیین والشهدائ ) (زمر٦٩)

''...اور انبیاء اورشہداء کو لایا جائے گا ''

اورآیہ :

( ویقول الاشهاد هولا ء الّذین کذّبوا علی ربّهم )

(ہود١٨)

''...ان لوگوں نے خدا کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا ہے ...''

کا اطلاق پر دلالت کرنا ،لغو اور بے معنی ہو گا ۔

لہذا،آیہ شریفہ کا لازمی معنی یہ ہوگا کہ انبیاء کہتے ہیں ہم ایک ایسا علم نہیں رکھتے ہیں ،جس کے ہم خود مالک ہوں ،جو علم ہمارے پاس ہے ،وہ ایسا علم ہے جو تیرے پاس ہے اور تو نے ہی ہمیں سکھایا ہے اور سادہ تر الفاظ میں ،تو بہتر جانتا ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہی ہے جو تیرے پاس ہے اور تونے ہی ہمیں دیاہے ۔

اورلیکن یہ جو تیسری حجت کے ذیل میں کہا گیا ہے کہ انبیائ اورائمہ کی قبروں کے سامنے خضوع اورتعظیم کرنا اور ان کی قبروں اورضریح کو چومنا شرک ہے ۔یہ ایک بے بنیاد بات ہے ،کیونکہ قبوراور ان کے آثارشعائر اورایسی نشانیاں ہیں جو خدا کی یاد دلاتی ہیں اور ان کا احترام خدائے متعال کا احترام ہے ۔ خدائے متعال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرماتا ہے :

( فالّذین آمنوا به وعزّروه ونصروه واتّبعوا النّور الّذُنزل معه اؤلئک هم المفلحون ) (اعراف١٥٧)

''...پس جو لوگ اس پر ایمان لا ئے ،اس کا احترام کیا ،اس کی امداد کی اوراس نورکا اتباع کیا جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی در حقیقت فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں ۔''

خدائے تعالیٰ مطلق شعائر اوراپنی نشانیوں کے بارے میں فرماتا ہے :

( ومَن یعظّم شعائراللّٰه فانّها من تقوی القلوب ) (حج ٣٢)

''جوبھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہو گی ''

دوسری طرف سے اہم واجبات میں سے ایک خدائے متعال کی محبت ہے اوربدیہی ہے کہ شئے کی محبت شئے کے آثاروآیات کی محبت اوراس شئے سے اظہار محبت کا لازمہ ہوتی ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورائمہ ھدی ٰعلیہم السلام خدائے متعال کے شعائر اور نشانیاں ہیں ،ان کی محبت کرنا ضروری ہے، جیسا کہ قرآن مجید کی محبت کرنا ضروری ہے اور چومنا اظہار محبت کی ضروریات میں سے ایک ہے ۔ کیا یہ کہا جاسکتا ہے ''حجر اسود''پر ہاتھ ملنا اور اس کو چومنا شرک ہے اورخدائے متعال نے شرک کے مصادیق میں سے ایک مصداق کی وضاحت کرکے اسے قبول کیا ہے ؟

اس بحث کے خاتمہ پر تعجب کرنا چاہئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اظہار محبت کو واضح شرک جاننے والے حضرات ،مسئلہ توحید میں خدائے متعال کی صفات ثبوتیہ کو سات مانتے ہیں ۔(حیات ،قدرت ،علم ،سمع،بصر،ارادہ اورکلام) و ان حضرات کے بقول یہ سات صفتیں ذات سے خارج اورذات خدائے متعال کے قدیم ہونے سے قدیم تر ہیں ،یعنی ان صفات میں سے ہرایک نہ ذات کا معلول ہے اورنہ ذات اس کا معلول ہے ،یعنی یہ ذاتاًواجب الوجودہیں اورنتیجہ کے طورپرسات صفات ثبو تیہ ،ذاتاًسات واجب الوجودبن جاتے ہیں اورذات اقدس الہٰی کے ساتھ آٹھ واجب الوجودبن جاتے ہیں اور یہ لوگ ان کے مجموعہ کی ''توحید''کے نام پر پرستش کرتے ہیں اور پھر بھی توحید کا دعویٰ کرکے ،خدائے واحداوریکتا ،اس کی نشانیوں اورشعائر کا احترام کرنے والوں کو مشرک کہتے ہیں !


آٹھواں حصہ:

وجود اورماہیت

''سوفسطائی'' یاوجود علم کے منکر

سوال:فلسفہ کی دنیا میںقدیم زمانہ سے آج تک ،ہمیشہ ایسے افراد موجود تھے جو تمام چیزوں کو خیالی اورتصوراتی فرض کرکے کسی بھی حقیقت کے معتقد نہیں تھے ،ان افراد میں سے بعض حتی اپنے شک پر بھی شک کرتے ہوئے مطلق طورپر علم کے وجود کے منکر ہوئے ہیں ۔البتہ اس گروہ کو دنیائے فلسفہ میں'' سوفسطائی'' کہتے ہیں ان کے دعوی کو باطل ثابت کرنے کے سلسلہ میں آپ سے ایک مختصر فلسفی اورعلمی جواب کا تقاضا ہے۔

جواب:ہم ایسے افراد کے مقابلہ میں قرار پائے ہیں جوسو فسطائیت کے گرویدہ ہوکر کہتے ہیں :ہمارے اورہمارے نظریہ کے علاوہ جس چیز کا بھی فرض کیا جائے حقیقت نہیں ہے بلکہ خیال کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سے بالاتر قدم بڑھا کر کہتے ہیں :میرے اور میرے نظریہ کے علاوہ سب چیزیں خیالی اورافسانوی ہیں ان میں سے بھی آگے بڑھ کر کچھ لوگ کہتے ہیں :ہم سب چیزوں میں شک کرتے ہیں حتی اسی اپنے شک میں بھی شک کرتے ہیں !

یہ وہ لوگ ہیں جو وجود علم کے منکر ہیں اور'' سوفسطائی'' کے نام سے معروف ہیں ۔علم فلسفہ کے مباحث میں ان کا مذہب مسترد ہوا ہے اور''علم'' کا وجود ثابت ہو چکا ہے اور یہ اطہر من الشمس ہے کہ انسان اپنی خداداد فطرت سے حقیقت پسند اور خارجی اورمستقل حقیقت کا معتقد ہے ۔

ہم ،سوفسطائیوں کے مقابلہ میں، کسی حقیقت کو ثابت کرنے والے ،حقیقت کے لئے بہت سے مصادیق کے قائل ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مصداق دوسرے سے ممتاز ہے اور اپنے خاص آثار کا سرچشمہ رکھتا ہے ۔خارجی اشیا ء میں سے ہر ایک کی اپنے سے غیر کی نسبت ایک ممتازحقیقت ہوتی ہے اورآثار مرتب کرنے کا اس کا اپنا ایک خاص سر چشمہ ہوتا ہے ۔اسی حالت میں خارج میں دکھائی دینے والی ہر ایک حقیقت دومفہوم کا مصداق ہوتی ہے جواس سے علٰیحدہ ہوتے ہیں اوران دو مفاہیم میں سے ہر ایک کے زائل ہونے سے فرض کی گئی حقیقت معدوم ہو کر باطل ہو تی ہے۔

ماہیت و وجود :موجود ہ انسان ایک ایسی حقیقت ہے ،کہ اگر اس سے انسانیت سلب کی جائے یاموجودیت کو اٹھا لیا جائے تو اس کی حقیقت ختم ہو جائے گی ،لیکن اسی حالت میں یہ دوبنیادی مفاہیم ایک دوسرے سے متفاوت ہوتے ہیں ،کیونکہ ''وجود'' اور''عدم''ایک دوسرے کے نقیص ہیں اور محال ہے ''وجود''،''عدم''کے ساتھ جمع ہو جائے ۔اس کے برعکس ''ماہیت''وجود اورعدم میں سے ہر ایک کے ساتھ قابل توصیف ہے ۔

اسی طرح دونوں مفاہیم کے مصداق ذاتاًاصل (یعنی ان کے آثار کے مرتب ہونے کا سرچشمہ ) نہیں ہیں ورنہ ہر خارجی حقیقت دوحقیقتیں ہو تیں ،پس ان دو مفاہیم میں سے ایک ذاتاًاصلی اورآثار کا سرچشمہ ہو گا اور دوسرا اتفاقی طورپر اصل اورحقیقت سے بہرہ مند ہو گا اوردوسرے الفاظ میں ،ان دو مفاہیم میں سے ایک کے مطابق دوسرے کی عین حقیقت اس کے ساتھ متحد ہونے کے ذریعہ ،حقیقت ہو تی ہے جب کہ اپنی ذات کی حد میں اعتباری ہے ۔

اب یہ سوال پید اہو تا ہے کہ کیا ماہیت اصل ہے یا وجود؟ اس کے پیش نظر کہ خارجی حقیقتیں موجود ماہیتیں ہو تی ہیں ،جب اصل اورآثار کے سر چشمہ سے مرتب ہو جائیں اورمفہوم (موجود)آثارکا مرتب ہونا ان سے جدا ہو جائے تو وجود وعدم کی نسبت ماہیت اپنی ذات کی حد میں مساوی ہوتی ہے ،اس صورت میں کہناچاہئے کہ اصل وجو دہے نہ ماہیت۔

ان دواستدلالوں سے وجود کی اصلیت اوراصلیت کے بارے میں بیان کئے گئے دوسرے اقوال کا باطل ہو نا واضح ہو تا ہے ،مثلاًماہیت کی اصلیت اور وجود کی اعتباریت کا قول، کیونکہ عقل کے واضح حکم کے مطابق جس ماہیت کی حقیقت اورعدم حقیقت سے نسبت مساوی ہو ،اسے عین حقیقت اوراصل نہیں کہا جاسکتا ہے ۔

اس کے مانند کہ کہا گیا ہے کہ واجب الوجودمیں ممکن ماہیت اصل ہے اورجیسے کہاگیا ہے کہ واجب الوجود میں ممکن خلقت اصل ہے ،جبکہ ہم واجب اور ممکن کی خلقت سے ایک معنی سمجھتے ہیں جو آثار کے مرتب ہو نے کا سرچشمہ ہے اور اس بناپر دولفظ وجوداورتخلیق آپس میں مترادف ہیں اور اس قول کی حقیقت ایک نام سے زیادہ نہیں ہے ۔

وجودمیں شک:ابتدائی طور پر جاننا چاہئے کہ علما ئے منطق نے ابتدائی اور سطحی طور پر کلّی کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے :''متواطی''اور''مشکک''۔متواطی: ایک ایسی ماہیت ہے کہ اس کے افراد مذکورہ ماہیت کی صداقت کی حثیت سے مساوی ہیں انسان کے مفہوم کے مانند کہ اس کے افراد انسان کے مفہوم کی صداقت کی حیثیت سے مساوی ہیں اور اگر کوئی تفاوت پیش آئے تو وہ عوارض کی وجہ سے ہوتی ہے جو انسان کے مفہوم سے خارج ہو تے ہیں ،مانند لمبائی ،چوڑائی ،وزن ،جوان اور بوڑھا وغیرہ اورمشکّک: ایک ایسی ماہیت ہے کہ اس کے افراد مذکورہ کلی کی صداقت کی حیثیت سے آپس میں متفاوت ہوتے ہیں ،جیسے ،نور، کہ اس کے افراد شدّت اور ضعف کی حیثیت سے مختلف اور متفاوت ہیں اور اس شدّت اورصعف میں اختلاف اور تفاوت ،نور کی نورانیت کی وجہ سے ہے ۔شدید نور اپنی نورانیت میں شدید ہے نہ نورانیت کے خارجی معنی میں اور اسی طرح ضعیف نور بھی ۔

عام محسوسات ،اصل میں ،مشکّک ہیں ہم قوئہ باصرہ سے نور کو درک کرتے ہیں اور مصداق کی حیثیت میں مختلف ہو تے ہیں اور اپنی حیثیت سے ان کا اختلاف نورانیت ہے جیسا کہ اشارہ ہو ا۔اوراسی طرح ،لمبائی ،چوڑائی اور دور ونزدیک میں رکھنے والے اختلاف اور خودابعاد اورکمیت میں رکھنے والے اختلاف ،کے پیش نظر ہم ابعاد اور مسافتوں کو درک کرتے ہیں ۔اور قوہ ئسامعہ ہم آوازوں کو سنتے ہیں اور انھیں شدید اورشدید تر اورضعیف اور ضعیف تر پاتے ہیں اور یہ اختلافات خودآوازمیں مسموع ہیں نہ ایک عارضی معنی میں قوئہ شامّہ سے بو کو سونگتے ہیں جبکہ ان میں معطرومعطر تر اور بدبووبدبوتراوربالآخرشدید وضعیف ہے کہ یہ اختلاف رایحہ کی ماہیت میں ہے ۔قوئہ ذائقہ سے ہم مزہ چکھتے ہیں اور ان میں شرین وشرین تراور تلخ و تلخ تراورترش و ترش ترہیںاور ان کا اختلاف خود ان کے مزّہ میں ہے نہ ماہیت سے خارج کسی امر میں قوئہ لامسہ سے ہم ملموس چیز وں کو پاتے ہیںاور ان کے درمیان گرم وگرم تراور سردوسردتراورسخت وسخت تراور نر م و نرم ترہیں اور اسی طرح تمام یہ اختلافات صرف معنای ملموس میں ہیں ۔

جی ہاں !سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے سے معلوم ہو تا ہے کہ ان مشککہ ماہیات میں ایک اختلاف اورتضاد پایا جاتا ہے ،خود ماہیت میں اس مفہوم کے معنی میں کہ ماھو کے جواب میں واقع ہوتا ہے اختلاف نہیں پایا جاتا ہے بلکہ یہ اختلاف مصداق کی صداقت میں ہو تا ہے ۔مثلاً''خواندگی ''کامفہوم ،شدید اور ضعیف میں کسی تغیر واختلاف کے بغیر وہی ''خواندگی ''کامفہوم ہے بلکہ''خواندگی''جود خارجی میں خودشدید یا ضعیف ہے،یعنی وجود میں تشکیک ہے نہ ماہیت میں مفہوم کی حیثیت سے ،ان لوگوں کا مقصود یہی ہے ،جو کہتے ہیں :تشکیک غرض میں ہے نہ عرض میں ۔

اس طرح تشکیک ثابت ہوتی ہے ،لیکن وجو دمیں نہ ماہیت میں ۔اوریہ جو بعض افراد نے کہا ہے : تشکیک معقول نہیں ہے ،کیونکہ اس کا معنی نہیں ہے کہ ایک ہی شئے شدید بھی ہواورضعیف بھی بالجملہ صفات متقابلہ سے متصف ہو ،یہ شخص کے واحدعددی اور واحد بالعموم میں خلط ہے اور شخص میں صفات متقابلہ سے توصیف ہونا محال ہے نہ واحد بالعموم میں ۔

اس بحث سے واضح ہو تا ہے کہ مشکک ایک ایسی حقیقت ہے جو ذات کی حد میں قابل اختلاف ہے اوردوسرے الفاظ میں خود مصادیق میں تفاوت رکھتے ہوئے مابہ الاختلاف سے مابہ الاتفاق کی طرف پلٹتی ہے ۔

اس مقدمہ کے بیان کے بعد ہم کہتے ہیں :اس کے پیش نظر کہ وجود کا مفہوم،جیسا کہ بیان ہوا ،ایک ایسا مفہوم اور واحد ہے جو وحدت کی بناپر تمام موجودات پر حمل ہوتا ہے ۔وجود کی حقیقت جو خارجی حقیقت کے آثار کا مرتب شدہ اس مفہوم ومرحلہ کا مصداق ہے ،منفرد حقیقت اور ایک قسم ہے اور یہی منفرد حقیقت اپنے مصادیق میں وجوب ،امکان ،علیّت ،معلولیت ،وحدت ،کثرت،قوت اورفعل وغیرہ کی حیثیت سے رکھنے والے اختلافات کے پیش نظر محقق ہے ،ایک مشکک حقیقت ہے اورذاتی شدت وضعف کے لحاظ سے اس کے مختلف مراتب ہیں ۔

یہاں پر واضح ہو تا ہے کہ ایک جماعت سے نسبت دیا گیا قول،یعنی ''وجود'' ایک مشترک لفظ ہے اور ہر ماہیت کا وجود اسی ماہیت کے معنی میں ہے ،کیونکہ ''وجود''کا مفہوم ''عدم''کا نقیض ہے اور وجود عدم سے نسبت ماہیت ایک مساوی نسبت ہے عقل کے واضح حکم سے ان دو اضدادمیں سے کسی سے ایک واضح طورپر متصف ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے اور اگر ماہیت کا وجود اس ماہیت کے معنی میں ہو ،تو اس کا لازمہ یہ ہو تا ہے کہ نقیضین میں سے ایک کے دوسرے مفہوم کے نقیض سے ملنا جائز ہے ۔اوریہ معقول نہیں ہے ۔حقیقت میں یہ قول مصداق سے مفہوم کے اشتباہ میں سے ہے اور اتحاد ماہیت و وجود کے مصداق اور اتحاد ماہیت اور وجود کے مفہوم کے درمیان خلط ہے ۔اوراسی طرح واجب اورممکن کے درمیان وجود کے مشترک لفظی کا غلط ہو نا اور یہ کہ واجب میں وجوب کامفہوم معنی کی حیثیت سے ممکن میں وجود کے مفہوم سے مختلف ہونا۔

اور یہ قول بھی اپنے عیوب کے پیش نظر مصداق کے مفہوم کی طرح اشتباہ ہے اور جو اختلاف واجب اور ممکن کے درمیان ہے وہ وجود کے مصداق (عینی حقیقت اورآثار کے مرتب ہو نے کامرحلہ )میں ہے نہ وجود کے مفہوم میں ۔

بعض نے جو یہ کہا ہے : خارجی وجود تمام الزامات کے حقائق متبا ینہ ہیں ،بھی اسی طرح ہے اور اس قول کے عیب کاسبب کثیر مصادیق سے کثیر کے مانند واحد مفہوم کے نکلنے کا لازمہ ہے جو محال ہے ۔

ماہیت کا وجود سے متصف ہونا:چنانچہ گزشتہ بحثوںسے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمیں دکھائی دینے والی موجودات میں سے ہر ایک ،ایک ایسی واحد حقیقت ہے جو دو مفاہیم ،وجوداور ماہیت سے جدا ہو نے کا سرچشمہ ہیں اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ ان دو مفاہیم بالذات میں سے ایک کا مصداق اصل اور حقیقت ہو اور دوسرا اس کے غرض میں اصلیت اور حقیقت سے بہرہ مند ہو جائے ۔اور اس کے پیش نظر کہ آثار کا مرتب ہو نا اصلیت کا معیار ہے ،وجود کے علیٰحدہ ہونے پر منحصر ہے ،اصلیت وجود سے متعلق ہے اور ماہیت اس کے عرض سے ،تحقق واصلیت سے بہرہ مند ہو تی ہے اور اپنی ذات کی حد میں اعتباری ہے ۔

البتہ اس بنا پر ماہیت کی اعتباریت کا معنی یہ نہیںہے کہ کوئی امر خیال اور وہم تھا اور مطلق سے گر کر اس کا موطن صرف خیال اور تصور ہو بلکہ ماہیت ایک خارجی موجود ہے ،جو کچھ ہے ،وہ یہ ہے کہ عین حقیقت اوربالذات اصلیت نہیں ہے بلکہ عرض سے وجود کی اصلیت ہے اور حقیقت کے مطابق ماہیت، وجود کی سر حد ہے کہ جو اپنے وجود کو دوسروں کے وجود سے جدا کرتی ہے ۔

یہیں پر ایک دوسرے قول کا باطل ہو نا واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ماہیت سے خارجی وجود میں خارجیت سے تحقق رکھتا ہے ورنہ ایک خیال کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

باطل ہو نے کا سبب یہ ہے کہ وجود ذہنی کی دلیل کی وجہ سے ماہیت ذہنی ماہیت خارجی کا وجود ذہنی ہے کہ اپنی ذات کی حیثیت سے عین ماہیت خارجی ،اورا حکام وآثار واقعی کے لئے ایک عقلی موضوع ہے اور اگر ہم ایک وہم اور خیالی ہوگا تو اصلی ماہیت خیالی ہو گی اور کلی طورپر حقیقت (حتی حقیقت بالعرض ) کو بھی کھودے گی ۔

اس کے علاوہ ،''قضایای حقیقیہ'' جو افراد'' محققتہ الوجود ''اور'' مقدرةالوجود'' میں شامل ہیں ،خیالی مفاہیم میں تبدیل ہو کر ،کلی طور پر علوم باطل ہوں گے ،مثلاًطبیب جو اپنی طبابت میں کہتا ہے: ہر انسان کا دل ہے یافلاسفر کہتا ہے: ہرانسان نفس اوربدن کا مرکب ہے ،اس سے مراد صرف انسان کے افرا دہوںگے جنھیں کہنے والے نے خارج میں مشاہد ہ کیا ہے اور کہنے والے کے گزرنے کے ساتھ ختم ہو تا ہے اور اس صورت میںعلم اپنی علمیت سے گر جائے گا ۔ان احکام کے علاوہ خود ماہیت بھی وجودذہنی اورخارجی سے صرف نظر کرتے ہوئے خود ماہیت کے عوارض ذاتی ہوتے ہیں ،ان کی جنسیت ،فصلیت ،ذاتیت اور عرضیت وغیرہ ختم ہوں گی ۔

جی ہاں !غالباًیہ لوگ ذہنی وجود میں خیالی تصویروں کے قائل ہیں ،اور جس صورت علمیّہ کو خارجی مصداق دکھائی دیتا ہے ،اسے ایک ایسی تصویر کے مانند جانتے ہیں جیسے دیوار پر ایک گھوڑے کی تصویر کھینچی گئی ہے اوراسے دیکھنا انسان کو خارج میں ایک گھوڑے کی یاد دلائے !

لیکن اس قول کا باطل ہو نا واضحات میں سے ہے،جبکہ ہمارا ادراک ایک نقشہ اورتصویر کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرتا ہے اور صاحب تصویر کو خارج میں درک کرنے میں بالکل محروم ہیں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ تصویر کودرک کرنے سے صاحب تصویرکے خارجی وجود کو حاصل کرسکیں ،جبکہ صاحب تصویر کے خارجی وجودسے کسی صورت میں کوئی خبر نہیں رکھتے ہیں ،اس لئے یہ خیالی قول،واضح طورپر مغالطہ ہے ۔


نواں حصہ:

اسلام کی ایک پہچان

مباہلہ کا عمومی ہونا

سوال:مسئلہ ''مباہلہ '' کے بارے میں آپ نے تفسیر'' المیزان'' میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے زمانہ میں بھی ہر مو من مسلمان یہ کام انجام دے سکتا ہے، یہ کیسے ممکن ہے ؟کیا ہر مسلمان جو ظاہر میں مومن ہو ایسا خطر ناک کام انجام دے سکتا ہے؟

جواب:آیہ مباہلہ کے بارے میں ،کہ مباہلہ عمومی حق رکھتا ہے اور مباہلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نجران کے نصاریٰ سے مخصوص نہیںہے ،واضح ہے اور جو روایتیں اس سلسلہ میں اہل بیت اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں ،وہ مباہلہ کے عمومی ہونے کی وضاحت کرتی ہیں ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے متعہ کی مشروعیت و شرعی جواز کے بارے میں ''عبداللہ بن عمیرلیثی '' کے ساتھ اپنے مناظرہ میں عبداللہ بن عمیر کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہیں ۔اور اسی طرح ایک اور روایت میں امام علیہ السلام بعض اہل سنت کے مذہبی مناظرہ کرنے والے ایک شیعہ کواپنے مد مقابل سے مباہلہ کرنے کا حکم فرماتے ہیں، اس بناء پر ،مباہلہ ایک عمومی آیت ہے جسے خدائے متعال نے حق کا محافظ قراردیاہے ۔

قرآن مجید کا تحریف سے پاک ہونا

سوال: قرآن مجید کی عدم تحریف کے بارے میں جناب عالی کا نظریہ کیا ہے ؟

چونکہ ایک شیعہ عالم دین نے ماضی میں تحریف قرآن کے بارے میں ایک کتا ب بھی لکھی ہے جونجف اشرف میں منتشر بھی ہوئی ہے ۔مہربانی کرکے فرمائیے :

سب سے پہلے:ہم مخالفین کو کیاجواب دیں گے ؟

دوسرے یہ کہ:مذکورہ کتاب میں موجودہ روایتوں کو ہم کیسے جھٹلائیں گے ؟

جواب:تحریف قرآن کے بارے میں بہت سی روایتیں سنّی اورشیعہ راویوں سے نقل ہوئی ہیں اور بعض روایوں نے ان پر اعتماد بھی کیا ہے لیکن خودان روایتوں کی حجیّت ان کی عدم حجیّت اور مسترد ہو نے کا لازمہ ہے ۔ کیونکہ ان روایتوں کی حجیتّ، امامت اور ان کے قول کی حجیّت پر منتہی ہوتی ہے کہ یہ روایتیں ان سے منقول ہیں اورامامت ان کے قول کی حجیّت، نبوت اورقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر منتہی ہو تی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نصوص سے امامت اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے قول کی حجیتّ ثابت ہوتی ہے اورنبوت ونبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کی حجیتّ ،قرآن مجید کی آیا ت کے ظواہرپر منتہی ہوتی ہے ،جو نبوت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کی حجیّت کی دلیل ہے ۔اوربدیہی ہے کہ تحریف قرآن کے فرض کے پیش نظر،کم یا زیادہ یا تغیر لفظ یا ایک جملہ اور حتی پورے قرآن میں ایک حرف کی کمی کے معنی میں ،قرآن مجید کا ظہور حجیّت سے گر جاتا ہے اورنتیجہ کے طورپر نبوت اور قول نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حجیّت کی بھی کوئی دلیل نہیں ہوگی۔اور اس کا لازمہ قول امام کی حجیّت کا سقوط ہو گا اور اس کا لازمہ تحریف کے بارے میں روایتوں کی حجیّت کا سقوط ہوگا۔لہذاتحریف کے بارے میںروایتوںکی حجّیت لازمہ ان کی عدم حجیّت ہوگی ۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فعل اور قول میں سہو کا نہ ہو نا

سوال: علمائے معاصر میں سے ایک شخص نے ''سہوالنبی''کے عنوان سے ایک مقالہ لکھ کر بالآخروہ کام انجام دیا ہے ،جسے مرحوم ''صدوق'' انجام دینا چاہتے تھے افسوس ہے کہ اس کی تئالیفات میں سے ایک کے آخر میں اس کے اپنے دستخط سے یہ مقالہ منتشر بھی ہوا ہے !اصولی طور پر اس موضوع کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟ اس کے علاو ہ اس قسم کے مسائل پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

جواب:بدیہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل آپ کے قول کے مانند تبلیغ کے مصادیق میں سے ہے اور سہو بھی خطا کے مصادیق میں سے ہے ،لہذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اقوال یا افعال اور اعمال میں سہو تبلیغ میں خطا ہے اور معارف واحکام الہٰی کی تبلیغ میں خطا خدائی حجّت کے نا مکمل ہونے کا امکان پید اکرتا ہے اور اس کا لازمہ کتاب وسنّت کا حجیّت سے سقوط ہے ،کیونکہ اس فرض کی بناء پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جاری ہونے والے ہر بیان میں سہو اوراس کے حقیقت کے مطابق نہ ہو نے کا امکان موجود ہے ۔

قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی سند

سوال: کیا قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی کوئی سند ہے ؟کیا قرآن مجید فال دیکھنے کی کتا ب ہے ؟یاتسبیح کے دانے انسان کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں ؟بعض مومنین ہر کام کے لئے، صلاح ومشورہ سے پہلے کیوں استخارہ کا سہارا لیتے ہیں ؟کیا یہ امر لوگوں کی مذہبی تعلیم وتر بیت میں خامی کا نتیجہ نہیں ہے ؟

جواب: قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کے بارے میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے چند روایتیں نقل ہوئی ہیں اور ان روایتوں کو مسترد کرنے کا کوئی عقلی یا نقلی مانع موجود نہیں ہے ۔ ان روایات سے قطع نظر استخارہ کا شیوہ یہ ہے کہ جب انسان ایک کام کے بارے میں اسے انجام دینے یا ترک کرنے کا فیصلہ کر نا چاہتا ہے ،تو اس کام کے اطراف میں اس کو انجام دینے اور ترک کرنے کی تر جیحات پر غور کرتا ہے اور کام کو انجام دینے یاترک کرنے کی ترجیحات میں سے ایک کو پسند کرکے اس پر عمل کرتا ہے ۔اگرغور وفکر کی راہ سے ترجیح نہ دے سکا تو اس سلسلہ میں دوسروں سے صلاح و مشورہ کر کے تر جیحات میں سے جس کے بارے میں مشورہ ملا ہو اس پر عمل کرتا ہے ۔اوراگر صلاح ومشورہ کی راہ سے بھی ترجیح نہ دے سکا اور کام کے دونوں طرف یعنی انجام اور ترک مساوی رہے اورحیرت میں پڑگیا ،تو قرآن مجید کو اٹھاکر خدا کی طرف توجہ کر کے اسے کھول کر پہلی آیت کے مضمون کو اپنے لئے ترجیح جان کر اس پر عمل کرے ،یعنی کلام اللہ کو سند قرار دے کر خد اپر توکل کرکے دومساوی ترجیحات جو دونوں اس کے لئے جائز تھے ،میں سے ایک کو تر جیح دیتا ہے ۔اور یہ کام جو توکّل کے مصادیق میں سے ہے ،نہ اس میں کسی قسم کا شرک ہے اور نہ دینی احکام میں سے کسی کو ضررپہنچاتا ہے اور نہ کسی حلال کو حرام یاحرام کو حلال کرتا ہے ۔یہ استخارہ قرآن مجید سے ہو یا تسبیح سے ،خد اکی یاد کے وسائل میں سے ایک ہے اورحقیقت میں خداپر توکّل ہے نہ قرآن یا تسبیح کو خدا کا شریک قرار دیاجاتا ہے ۔

مصحف حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں ایک بات

سوال: حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہاکے مصحف کے بارے میں ،شیعوں سے منسوب بعض افراد نے کچھ مطالب لکھ کر ''کویت'' میں منتشر کیا ہے ،جو مسلمانوں کی نفرت کا سبب بنے ہیں ،کیونکہ کتا ب کے مولف نے،مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا کو قرآن مجید کے کئی گنا بیان کیا ہے اور یوںاظہار کیا ہے کہ یہ مصحف قرآن مجید کے درجہ کاہے !اس سلسلہ میں آپ کا نظریہ کیا ہے ؟

جواب:''مصحف فاطمہ '''کے نام کی کتاب ،جسے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے املا ء فرمایا اور امیرالمو منین علی علیہ السلام نے اسے لکھا ہے ،اہل بیت علیہم السلام کی روایتوں میں اس کا ذکر ہوا ہے ۔اس قسم کی کتاب کا وجود (اس کے وجود کا اعتقاد)نہ مذہب شیعہ کی ضروریات میں سے ہے اور نہ خودیہ کتا ب دینی منابع ومصادرکی حیثیت سے بیان ہوئی ہے اورنہ ائمہ معصومین یاعلمائے امامیہ میں سے کسی نے اصول دین یامذہب یادینی احکام کے بارے میں کوئی چیز اس سے نقل کرکے اسے دینی اسناد میں سے ایک سند کے طورپر کتاب وسنت کی سطح پر قرار دیاہے ۔مذکورہ کتاب میں،جیسا کہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے ۔ خلقت کے اسراراورمستقبل کے حوادث کے بارے میںبحث ہے اورایسی کتاب کے وجود پر اعتقاد رکھنا ،خواہ قرآن مجید سے چھوٹی ہو یا بڑی ،کوئی نقصان نہیں پہنچاتا ہے ۔البتہ مصحف فاطمہ سے ،نعوذبا اللہ،ایک دوسرے قرآن کا وجود ہر گز مقصود نہیں ہے اور کوئی شیعہ اس قسم کا اعتقاد نہیں رکھتا ہے ۔

ائمہ اطہار کے بارے میں غلو کرنا جائز نہیں ہے

سوال:شیعہ فقہ میں ،ائمہ اطہار علیہ السلام کے حق میں غلوکر نا جائز نہیں ہے اور تمام فقہا کے مطابق غلو کر نے والے دین سے خارج ،کافر اور نجس ہیں،اس مضمون کا کیا معنی ہے ؟اور ہم غلو کرنے والوں کو کیسے پہچان لیں ؟کیا آپ کی نظر میں زمانہ کے گزر نے کے ساتھ ''غالی''کا مفہوم دوسرے عناوین کے تحت ظاہر نہیں ہو اہے ؟

جواب: اصطلاح میں'' غالی'' اس کو کہتے ہیں ،جو اہل بیت اطہار علیہم السلام میں سے کسی ایک کو ،مثلاً بندگی کی حد سے اوپر لے جاکر ربو بیت کی بعض خصوصیت جیسے خلقت ،تد بیر عالم اورتکوین میں بلا واسطہ تصّرف کو ان سے نسبت دے اور زمانہ گزر نے کے ساتھ یہ معنی کسی بھی صورت تحقق پید ا کرے ،تو کو ئی فرق نہیں ہے اور یہ کفر کا سبب ہے ۔جس چیز کی طرف توجہ کر نا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جو کفر کاسبب بنتا ہے وہ خدا کی خصوصیات میں بلاواسطہ اورآزادانہ طور پر اعتقاد رکھنا ہے ،جیسے اشیاء کو بلا واسطہ پیدا کر نا ،بندوں کو بلا واسطہ رزق دینا وغیرہ ۔اماّ ولایت تکوینی کے سبب سے تکو ینیات کے بعض ممکنات کے لئے فیض کا واسطہ ہونا ،جیسے میکائیل کا رزق پہنچانے میں اور جبرئیل کا وحی پہنچانے میں اورملک الموت کا ارواح کو قبض کرنے میں وغیرواسطہ قرار پانا غلو سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے ۔

''للّہ درّ فلان'' اور''کان للّہ رضاً'' کے معانی

سوال: نہج البلاغہ میں بعض مواقع پر بعض خلفاء کے بارے میں ''للّہ درفلان'' یا''للّہ بلاء فلان''جیسے جملات درج ہیں ۔اور معاویہ کے نام ایک خط میں خلفاء کے ساتھ بیعت کی کیفیت کو ''کان اللہ رضا''کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور بعض دوسرے مواقع پر ،من جملہ خطبہ''شقشقیہ'' میں انہی افراد کی مخالفت میں بعض مطالب بیان ہوئے ہیں ،جناب عالی کی نظر میں ظاہراًان دو متنا قض امور میں جمع کی صورت کیا ہے ؟

جواب:جملہ ''وکان للّٰہ رضا''کا سیاق ''وللّٰہ درفلان ''اور''للّٰہ بلاء فلان''والے جملوں سے مختلف ہے ،اوراس کامعنی اس چیز کی دشمنی کالازمہ ہے جس کا ظاہراًپابند ہو تا ہے اورامت کے اجماع کو خدا کی رضا مندی جانتا ہے اوراگر یہ جملہ خودحضرت کے بارے میں ہو،تو اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے اسلام کی مصلحت کے پیش نظر مجبور ہوکر بیعت کی ہے اوراس بیعت سے خدائے متعال راضی تھا، کیونکہ بیعت سے انکار کی صورت میں اسلام کی بنیاد نابود ہونے والی تھی ۔

لیکن،''للّہ درفلان''اور''للّہ بلاء فلان ''کے جملے بعض خلفاء اور مختلف شہروں میں مامورین کے بعض حاکم اور کارندوں پر اطلاق رکھتے ہیں ۔اوردوسرے معنی کی بناء پر کوئی مشکل نہیں ہے اورپہلے معنی کی بناء پر اس کے پیش نظرکہ شیعہ طریقہ سے حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام اور تمام ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئی سیکڑوں اورہزاروں روایتوں (جن میں سے ایک خطبہ شقشقیہ ہے) کے مطابق خلافت بلافصل امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا قطعی حق تھا ،اس لئے حضرت علیہ السلام جو خلافت کو اپناخاص حق جانتے تھے ،سے دوسروں کی روش کی تمجید میں اس قسم کے جملوں کا بیان ہونا ،صاف ظاہر ہے کہ اسلام کی بلند مصلحتوں کا لحاظ رکھنے کے لئے ہو گا ،یہ وہی مصلحتیں تھیں جن کے پیش نظر امام علیہ السلام کو٢٥سال تک صبر کرنا پڑا۔

اتحاد اورمحبت کی دعوت

سوال:تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے مسلمانوں کی مصلحتوں کے تحفظ کے لئے خلفائے ثلاثہ کی بیعت کی ہے ،اس صورت میں صدراسلام میں مقام ومنزلت پانے والے افراد پر سب اور لعن کرنے کا کیا حکم ہے ؟

کیا ہم حضرت علی علیہ السلام سے بھی دین دارتر بن کر ،علی علیہ السلام کی راہ کے برخلاف اسلام کی مصلحتوں کو نظر انداز کر کے غیرعلمی اورغیرمذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوادیں ؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم ـعالی سطح پر ـ علمی بحث کے حامی ہیں ،لیکن کینہ رکھنا اورمسلمان بھائیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں کیا فائدہ ہے اورمذہبی نقطہ نظرسے اس کی کیا صورت ہے؟

ہم نے عملی طورپر مشاہدہ کیا ہے کہ قاہرہ میں (''دارالتقریب بین المذاہب الاسلا میہ '' کی تاسیس اور مرحوم آیت اللہ العظمی بروجردی اورآیت اللہ العظمی کاشف الغطاء اوردیگر شیعہ علماء کی تائید کے درخشاں نتائج نکلے جن میں الازہراسلامی یونیورسٹی کے چانسلر''شیخ محمودشلتوت''کامذہب شیعہ پر عمل کرنے کو جائز قرار دینے کا فتویٰ قابل ذکر ہے کیا بہتر نہیں کہ ہم اسی راستہ پر آگے بڑھتے اورعلمی مباحث کو بلند سطح پر جاری رکھیں ،سنّیوںا ورشیعوں کے خودغرض اورشر پسند گروہوں کو سرگرمیوں کی اجازت نہ دیں تاکہ اسلام کے دشمن ان اختلاف سے ناجائزفائدہ نہ اٹھاسکیں ؟

جواب:اگراتحاد یااسلامی تقریب دینی معارف کی فراموشی اورمذہبی احکام کے متروک ہونے کا سبب نہ بنے اور اس میں دین کے لئے بھلائی ہو تو عقل ومنطق کے لحاظ سے اس کی ترجیح میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔

افسوس ہے کہ مسلمانوں نے صدر اسلام میں قرآن مجید کی تعلیمات کی پیروی کرنے کے نتیجہ میں جو توانائی حاصل کی تھی اورجس کے سبب ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک بڑے علاقہ پر حکومت بر قرار کی تھی ،اختلاف کلمہ اوراجتماعی فکر کو چھوڑنے کے نتیجہ میں یہ حیرت انگیز توانائی مکمل طور پر منحل ہوکر مسلمانوں کا حقیقی سرمایہ اورموجودیت نیست و نابود ہوئی ۔

البتہ اسلام کے ان دو بڑے فرقوںکو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے عوامل کے بارے میں جانناچاہئے کہ ان دوگرہوں کا اختلاف فروعات میں ہے اوراصول دین میں آپس میں کسی قسم کااختلاف نہیںرکھتے ہیںاورحتی دین کے ضروری فروعات،مانند:نماز،روزہ، حج،جہاد وغیرہ میں بھی یہ دونوں گروہ آپس میں اتفاق نظر رکھتے ہیں اور ایک ہی قرآن اورکعبہ پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔

اسی اصول پر صدراسلام کے شیعوں نے ہر گز اپنے آپ کو اکثریت سے جدا نہ کیا اور اسلام کے عمومی امور کی پیش رفت کے لئے عام مسلمانوں کے ساتھ شر کت کرنے کی کوشش اورکشادہ دلی کی نصیحت کرتے تھے ۔اس وقت بھی تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ دین مقدس اسلام کے اصولوں پر اتفاق کو مدنظر رکھتے ہوئے ،اس طولانی مدت کے دوران اجنبیوں اوراسلام دشمن عوامل کی طرف سے برداشت کئے جانے والے دبائو اور تکالیف کے پیش نظرہوش میں آئیں اور باہمی اختلاف کو چھوڑ کر ایک صف میں کھڑے ہو جائیں اور اس سے قبل کہ دوسرے اس مسئلہ کو ایک تاریخی حقیقت کے عنوان سے کشف کرکے اپنی کتا بوں میں درج کریں ،خودمسلمان اس حقیقت کو عملی طور پر ثابت کریں ۔

خوش قسمتی سے دنیائے اسلام آہستہ آہستہ اس حقیقت سے آگاہ ہوتی جارہی ہے ۔تقریب مذاہب کی فکر کی اسی غرض سے شیعہ مراجع نے تائید کی ہے اور''الازہر''کے بزرگوار شیخ شلتوت نے بھی اس حقیقت کو بالکل واضح طور پر بیان کر کے،شیعہ ا ورسنی کے مکمل دینی اتفاق کاتمام دنیا والوں کے لئے اعلان کیا ہے اور شیعوں کو اس بزر گوار شخصیت کا شکر گزار رہنا چاہئے اوراس کے اس بے لوث کام کی قدر کرنی چاہئے ۔

جیسا کہ سوال میں اشارہ ہواہے کہ یہ امرعقیدتی مسائل میں علمی ا ورتاریخی بحث سے منافات نہیں رکھتا ہے اور عالی سطح پر شیعہ وسنی علمی مباحثہ جاری رہناچاہئے تاکہ لوگوں کے لئے تاریکیاں روشن اورحقائق واضح ہو جائیں اور اس امر کا ،تعصب ،حملہ اورجھوٹ پھیلانے سے کوئی ربط نہیں ہے ۔

ہم خدائے متعال سے دعاکرتے ہیں کہ خودغرض اورشرپسند عناصر کی ہدایت اوراصلاح فرمائے اورمسلمانوں کو یہ توفیق عطاکرے کہ وہ عملی طورپر اتحاد واتفاق سے اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کریں ۔انہ سمیع مجیب ۔


مشرق وسطی میں انبیاء کی بعثت

سوال:انبیاء علیہم السلام کی بعثت کاصرف سعودی عربیہ،مصر،شامات اورانہی علاقوں تک محدود ہونا اوردنیا کے دوسرے علاقوں (یورپ۔آسٹریلیا)وغیرہ سے مربوط نہ ہونے کا سبب کیا ہے ؟

جواب:ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ انبیاء صرف مشرق وسطی اور اس سے مربوط علاقوں میں مبعوث ہوئے ہیں ۔بلکہ ظاہر آیہ( خلافیها نذیر ) (۱) عدم انحصارپر دلالت کرتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ تقریباًبیس سے زائد جن انبیاء کا قرآن مجید میں ذکر آیاہے وہ مشرق وسطی ٰاوراس کے

علاقوں سے مربوط ہیں ۔

استعدادوں میں فرق

سوال:قابلیتوں کے اختلافات کا سرچشمہ اور خلقت کے وقت مخلوقات کی استعدادآپس میں متفاوت ہیں ،مثال کے طورپر ایک نبوت یاولایت کافیض پاتا ہے اوردوسرے ایسے نہیں ہوتے ۔اسی طرح تمام مخلوقات میں بھی یہ اختلافات پائے جاتے ہیں ،ان اختلافات کی علت کیا ہے ؟

جواب:استعداد مطلق مادّہ کی ذاتی خصوصیت ہے اور یہ مختلف شرائط کے ساتھ مختلف تعینات پیدا کرتا ہے ،مثلاًمادّہ،جسمیّت اور عنصریت کے شرائط کے تحت نباتاتی استعداد رکھتا ہے اور نباتات زمین اور ہوا کے شرائط کے تحت میوہ کی قابلیت اور میوہ تغذیہ کی شرط کے تحت نشوونما کی قابلیت اور منی خاص حیوان کے رحم میں قرار پانے کی شرط کے تحت ،خاص حیوانوں کی صورت کی قابلیت پیدا کرتی ہے ۔مادّہ کی فاعلی علّت کو مادہ اورطبیعت کے ماوریٰ میں ثابت کرنا چاہئے لیکن کلی طورپر اس سوال کو اختلافات کی علت غائی کی نسبت کے طورپر بیان کرتے ہیں ۔قابلیتوں کے اختلاف ،جن کے اختلاف کا سر چشمہ فیض ہے ،کی غرض کیا ہے؟کیافرق پڑتا اگرخدائے متعال فیض کو عمومی فرماتا اوردنیامیں ،شر،فساداورکمی کا وجودنہ ہوتا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ کائنات کی خلقت کا مقصد،مکمل ترین موجودات کی پیدائش ہے جو ''انسان کامل'' ہے

( خلق لکم ماف الارض جمیعا ) (بقرہ٢٨)

''...زمین کے تمام ذخیروں کو تم ہی لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے ...''

( وسخّر لکم ما ف السماوات وماف الارض جمیعا ) (جاثیہ١٣)

''اوراسی نے تمہارے لئے زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو مسخر کردیاہے ''

انسان کا ارتقاء امتحان کی راہ میں ہوتا ہے ،لہذا دنیا میں مختلف استعدادوں کا ہونا ضروری ہے ،ورنہ امتحان کا کوئی معنی نہیں ہوگا ۔

حضرت خضراورحضرت موسیٰ علیہما السلام کے متعلق بعض شبہات

سوال: حضرت موسیٰ علیہ السلام اورجناب خضرعلیہ السلام کے قضیہ میں کشتی کوتوڑ نے میں غیر کے مال میں تصرف اورغلام کے قتل میں جرم سے پہلے قصاص معلوم ہوتا ہے اور دیوار کے نیچے خزانہ سے کیا مراد ہے ؟حضرت خضر علیہ السلام کیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معلم بن گئے ،جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس رسالت کا عہدہ تھا اوراپنے زمانہ میں معرفة اللہ کا مقام رکھتے تھے اوراسی طرح روبیل نامی چروا کا حضرت یونس علیہ السلام کو موعظہ کرنا اورھدھد کا حضرت سلیمان علیہ السلام سے گفتگو کرنا کہ( احطت بمالم تحط به ) (۲) اورچیونٹی کا یہ کہنا :( وهم لا یشعرون ) (۳)

جواب :کشتی کو توڑنے اور قتل جیسے ہزاروں حوادث قضاوقدر الہٰی کے مطابق روزانہ دنیا میں رونماہوتے ہیں اور ان میںغیرکے مال میں تصرف اور جرم سے پہلے سزا کا خدائے متعال سے ہر گز کوئی تعلق نہیں ہے ،کیونکہ خدائے متعال مطلق مالک اورمشرّع

ہے نہ متشرّع اورمکلّف ،وہ جوبھی کام انجام دے عین عدل اوربالکل مصلحت ہے چنانچہ حضرت خضر علیہ السلام کے کلام :( وما فعلته مری ) (۴) ''میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا ہے ...''سے معلوم ہو تا ہے ،کہ جو کام حضرت خضر علیہ السلام نے انجام دئے ہیں ان کا صرف تکوینی پہلو تھا نہ تشریعی پہلو یعنی خدا کے حکم سے ان تین کاموں میں ،جو انہوں نے انجام دئے ،صرف تکوینی سبب مقصود تھا اور ان کی مصلحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتادی جائے ،نہ تشریعی سبب جو حرام بن جاتا ہے ۔اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،خدائے متعال بعض امورکی مصلحتوں کی تعلیم حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کودے دی اگرچہ موسیٰ علیہ السلام ان سے افضل بھی ہوں یاروبیل چرواہے کی زبان سے حضرت یونس علیہ السلام تک کوئی موعظ پہنچادے ۔

اسی طرح ھدھد کی گفتگو جو اس کے لئے بلقیس اورملک سبا کے حالات کا مشاہدہ کرنے کا ثبوت اورحضرت سلیمان کے لئے اس کی نفی کی ہے ،کوئی حرج نہیں ہے ۔اسی طرح چیونٹی کی گفتگو میں دوسری چیونٹیوں کو حضرت سلیمان علیہ السلام اور اس کی فوج کے ذریعہ پائمال ہونے سے بچنے کی خبر دنیااور اس میں غفلت کے ثابت ہونے کی وضاحت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

تشریعی اوراعتباری ولایت

سوال:پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورامام علیہ السلام کی تشریعی اور اعتباری ولایت کا کیا مقصد ہے، جو آپ نے تفسر''المیزان'' میں آیہ شریفہ :( انّما ولیّکم اللّٰه ) (۵) کے سلسلہ میں فرمایا ہے ۔؟

جواب:اس کامقصد دینی قوانین (اسلامی حکومت) کے سایہ میں لوگوں کی سر پرستی اورامت کا نظم ونسق چلانا ہے ۔

انذار(ڈرانے)کے معنی

سوال:آیہ شریفہ :( مامن دابّة ف الارض ...الّاامم امثالکم )

اورآیہ شریفہ:( الا خلا فیها نذیر ) (۶) کے مطابق کیا حیوانات اورپرندے بھی مکلّف ہیں ؟اس انداز کا مقصود کیا ہے ؟

جواب:انذارکا مقصد عذاب الہٰی سے ڈرانا ہے اورالہٰی دعوت اسی پر مشتمل ہوتی ہے ،لیکن دوسری آیت ،میں موجودقرینہ( وان من قریة ) (۷) کے مطابق حیوانات اورپرندوں پر مشتمل نہیں ہے ۔

سوال:آیہ شریفہ( انّ عباد ) (۸) کی روسے آدم پر شیطان کا وسوسہ کرنا ،آیہ شریفہ(ان اللّٰہ اصطفیٰ آدم ...)(۹) سے ہم آہنگی نہیں رکھتا ہے !اس سلسلہ میں آپ کا جواب کیا ہے ؟

جواب :آیہ شریفہ:

( قلنا اهبطوا منها جمیعا فما یاتینّکم من هدی ) (بقرہ٣٨)

''اورہم نے یہ بھی کہا کہ یہاں سے اترپڑو پھر اگر ہماری طرف سے ہدایت آجائے ...''

کے مطابق دین کی تشریع،جنت سے نکلنے کے بعد تھی ۔اورآیہ شریفہ :(ان عبادی لیس لک علیہم سلطٰن...)١میں دین کی تشریع کے بعد دنیا میں بندوں کے حال کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح آدم کا اصطفیٰ ہونابھی آیہ شریفہ :(ثم اجتبٰہ ربہ فتاب علیہ وھدیٰ)٢کے مطابق دنیا میں اور دین کی تشریع ہو نے کے بعد تھا اور آدم علیہ السلام پر شیطان کا وسوسہ بہشت میں زمین پر بھیجنے اوردین کی تشریع سے پہلے تھا اور اس میں معصیت کا کوئی ولائی پہلو موجود نہیں تھا بلکہ ایک امر ارشادی کی مخالفت تھی ،لہذاا یات کریمہ میں کوئی منافات نہیں ہے ۔

حروف مقطعات کا مقصود

سوال: سوروں کی ابتدا میں حرو ف مقطعات کے بارے میں تفسر'' المیزان ''میں کچھ نہیں پایا ،مہربانی کرکے فرمائیے کہ یہ موضوع تفسیرکی کس جلد میں ہے اوراصولی طور پر حروف مقطعات کا مقصد کیا ہے ؟

جواب: سوروں کی ابتدامیں موجودہ حروف مقطعات کے بارے میں سورئہ شوریٰ میں بحث کی گئی ہے ،اطمینان واعتماد کے مطابق حروف مقطعات ''رمز''ہیں ۔

قطبین پر نماز گزار اور روزہ دارکافریضہ

سوال: قطبین (قطب شمالی اور قطب جنوبی ) پر نماز اور روزہ کے اوقات کا کیسے تعین کیا جائے گا ؟

جواب: فقہا کا نظریہ یہ ہے کہ قطبین کے با شندے اپنی عبادت کے اوقات کے لئے علاقہ کے وسط کی پیروی کریں ،چنانچہ اجتماعی امور اور اوقات کو معین کر نے میں اسی رویہ کو معمول جانتے ہیں ۔

شقّ القمر کے بارے میں ایک شبہ کا ازالہ

سوال:کیا قرآن مجید اور روایات کے مطابق معجزئہ ''شق القمر)''کا موضوع اور اس کا ثابت ہونا ،کرئہ چاند کی وسعت کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آستین مبارک کی وسعت سے عدم مناسبت اور منطق کے قواعداور انسانی عقل وادرا ک کی رو سے ظرف کے مظروف سے عدم مطابقت کے پیش نظر اس کا دوٹکڑے ہونا صحیح ہے؟ جواب:''شق القمر''کی داستان ایک قابل اعتماد حقیقت ہے جو قرآن مجید اور روایتوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے ،البتہ جو روایتیں اس قصہ کو بیان کرتی ہیں ان میں اختلاف ہے ۔اس لحاظ سے کہ ان روایتوں میں سے ہر ایک خبر واحد ہے اور تنہا ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے ،لہذا ان روایتوں میں سے ہر ایک میںذکر شدہ خصو صیات پر بھروسہ کر کے موضوع پر بحث نہیں کی جاسکتی ہے اور جو کچھ کلی طور پر معلوم ہو تا ہے وہ یہی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشارہ سے معجزہ کے طور پر چاند کے دوٹکڑے ہو گئے اور یہ وہی امر ہے جس کی طرف قرآن مجید بھی اشارہ فرماتا ہے :

قرآن مجید سورئہ قمر کی ابتدا میں فرماتا ہے :

( اقتربت الساعة وانشقّ القمر ) (قمر١)

''قیامت قریب آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ''

یہ ایک خارق عادت کام ہے جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (رسالت کے بعض منکرین کی درخواست پر جو آپ کی نبوت کی گواہی کے لئے معجزہ چاہتے تھے ) انجام دیا ہے ۔بدیہی ہے کہ جب ہم نے معجزہ اورغیر معمولی کام کے ممکن ہونے اور اس کے پیغمبر سے انجام پانے کو قبول کیا ،تو ایک خاص معجزہ کے انکارکی، خاص کر قرآن مجید (جو خود ایک معجزہ ہے ) کی تائید کے بعد ،کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔

اصولاً عقل کے مطابق بھی غیر معمولی کام کے بارے میں ۔۔جز عدم امکان ۔۔کوئی دلیل نہیں ہے ۔اور ممکن ہے جن عوامل واسباب کو ہم جانتے ہیں ان کے ماورائ بھی کچھ دوسرے اسباب و علل موجود ہوں جو کسی خارق عادت حادثہ کو وجود میں لائیں اور ہم ان اسباب کے بارے میں بے خبر ہوں ۔

بعض معترضین نے کہا ہے : آیہ شریفہ میں اشارہ کئے گئے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا مسئلہ در حقیقت ان حوادث کے بارے میں اشارہ ہے جو قیا مت کے دن طبیعی عالم کے تباہ ہونے کے وقت رونما ہوں گے، نہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ چاند کے دوٹکڑے ہونے کے بارے میں ۔لیکن اس احتمال کو بعد والی آیت مسترد کرتی ہے ،کیونکہ خدائے متعال مذکورہ آیت کے بعد فرماتا ہے :

( وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر ) (قمر٢)

'' اور یہ کوئی بھی نشان دیکھتے ہیں تومنہ پھیر تے ہیں اور کہتے ہیں یہ مسلسل جادو ہے ''

واضح ہے کہ اگر آیہ شریفہ سے مراد وہی قیامت کے دن کی بربادی ہوتی تو مشرکین کے اغتراض اور اس معجزہ کو سحر کی طرف نسبت دینا معنی نہیں رکھتا ۔

بعض دوسرے معترضین نے کہا ہے :اس آیت کا میں کرئہ چاند کا کرئہ آفتاب سے جدا ہونے کی طرف اشارہ ہے ،کیونکہ آج سائنس اس کی تائید کرتا ہے ۔حقیقت میں یہ قرآن مجید کی کرامتوں میں سے ایک ہے کہ اس واقعہ کے پیدا ہونے کے بارے میں صدیوں قبل خبر دیتا ہے ،لیکن لغت شناسی کے مطابق یہ نظریہ غلط اورخطا ہے ،کیو نکہ کسی جسم کا کسی دوسرے جسم سے جدا ہونا تولد یا مطلق ''انفصال'' کو لغت میں'' اشتقاق ''و ''انفصال ''کہتے ہیں نہ'' انشقاق'' جس کا معنی دوٹکڑے یادوحصے ہونا ہے ۔

بعض معترضین نے کہا ہے : اگر ایسا حادثہ رونما ہوا ہوتا تو غیر اسلامی مورخین نے اسے ضبط کر کے لکھا ہو تا ۔لیکن یہ بات قابل توجہ ہے کہ روایتی تاریخ ہمیشہ وقت کے حکاّم کی مرضی اور ان کے نفع میں لکھی گئی ہے اورہر وہ قصہ اور حادثہ ،جو وقت کے حکاّم کے خلاف ہوتا اسے احتمال اور فراموشی کے پردہ میں رکھا گیا ہے ،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں قدیمی تواریخ میں حضرت ابراھیم علیہ السلام وحضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا ،جبکہ دینی نقطہ نظر سے ان حضرات علیہم السلام سے رونما ہوئے معجزات نا قابل انکار ہیں ۔یہ حضرت ابراھیم علیہ السلام ہی تھے جو نمرود کی آگ میں نہ جلے ،حضرت موسی علیہ السلام تھے جنہوں نے عصا ،یدبیضا اور وہ سب معجزے دکھائے ،یہ حضرت عیسی علیہ السلام تھے جو مردوں کو زندہ کرتے تھے اورجب اسلام کی دعوت پیدا ہوئی ،وہ بھی دنیا کی تمام طاقتوں کی مخالف تھی ۔

اس کے علاوہ اس معجزہ کے رونما ہونے کی جگہ یعنی مکہ اور جہاں تاریخ لکھی جاتی تھی یعنی یورپ کے درمیان طلوع وغروب میں گھنٹوں کا تفاوت ہے ۔جو یہ آسمانی حادثہ کم وقت میں مکہ میں رونما ہوا اور مرئی تھا ،دوردراز مغربی ممالک کے افق،جیسے ،روم آتن وغیرہ میں قابل رویت نہیں ہو گا ،چنانچہ ان علاقوں کے آسمانی حوادث مکہ کے علاقہ کے لئے قابل رویت نہیں ہیں ۔

ایک بے بنیاد بات

سوال:کیا ستارئہ زہرہ اتر کر حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے گھر کی چھت پر بیٹھنے کی کوئی دلیل وسندہے ؟

جواب :ستارہ زہرہ کے اترنے اورحضرت علی علیہ السلام کے گھرکی چھت پر بیٹھنے کے سلسلہ میں چند روایتیں نقل ہوئی ہیں ،یہ روایتیں نہ متواتر ہیں اور نہ قطعی الصدور اس لئے علمی لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ہیں ۔

چور کا ہاتھ کاٹنے کا فلسفہ

سوال :چور کاہاتھ کیوں کاٹا جانا چاہئے ؟

جواب :چور کا ہاتھ کاٹنے کا مسئلہ ،جو اسلامی شریعت میںحدود کا جز ہے ،حقیقت کے پیش نظر دوبنیادی مسئلوں کے مطابق قابل تجزیہ ہے :

١۔یہ کہ چور نے جو ایک نامناسب کام انجام دیا ہے اسے اس کی سزاملنی چاہئے ۔

٢۔ یہ کہ یہ سزا اس کا ہاتھ کاٹنے سے انجام پانی چاہئے ۔

پہلا اور چورکی سزا کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی تشریع کے سلسلہ میں دین اسلام تنہا نہیں ہے بلکہ انسان کی زندگی میں۔۔جہاں تک ہمیں اطلاع ہے ـگوناگوںانسانی معاشروں میں (ابتدائی انسانوں کے خاندانوں اور قبائلی وطوائفی حکومتوں سے لے کر ڈکٹیٹرشپ اور جمہوری حکومتوں تک)چور کے لئے کچھ سزائوں کے قائل تھے اور ان پر عمل بھی کرتے تھے اورآج بھی ایسا ہی کیا جارہا ہے ۔

یہ امر مسلّم ہے کہ عالم بشریت میں یہ فیصلہ اس بنیاد پر لیا جاتا ہے کہ حقیقت پسندانہ نگاہ سے اہم ترین اورقیمتی ترین چیزجسے انسان درک کرتا ہے بیشک اس کی زندگی ہے اس سے واجب اور لازم تر فریضہ کو درک نہیں کرتا ہے تاکہ اسی زندگی کی سعادت کا تحفظ کرے ،یعنی اجتماعی ماحول میں او راجتماعی طور پر تلاش وکوشش کر کے اپنی زندگی کے وسائل یعنی مال وثروت کو فراہم کرکے ان سے استفادہ کرے اور حقیقت میں (معاشرہ شناسی کی دقیق نظر میں )اپنی زندگی کی آدھی موجودیت ـجس کے لئے محدود قدر وقیمت کا قائل نہیں ہو سکتا ہے ـ کو دوسرے حصہ کے لئے سرمایہ حاصل کرنے کے لئے صرف کرتا ہے ۔ اوریہ بھی مسلّم ہے کہ ہر چیز کا تحفظ اور اس کی رکھوالی اہمیت کے لحاظ سے خود اس چیز کی قدر وقیمت کے مساوی ہوتی ہے ۔اور جس مال کے فنا ہونے کے بارے میں کسی قسم کی اہمیت نہ ہو تو اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی ہے ،اور یہاں پر فیصلہ کر ناچا ہئے کہ انسان کے مال کا محفوظ رہنا کلی طور پر اس کی آدھی عمر کی قدر رکھتا ہے ۔کیو نکہ انسان کی جان کی قیمت اس کی پوری عمر کی قیمت کے برابر ہے۔اسی طرح معاشرہ کے سرمایہ کے ارد گرد کھینچی گئی دیوار کو توڑ نا اور نابود کرنا اس معاشرہ کی نصف زندگی کو نابو دکرنے کے برابر ہے ،چنانچہ ایک معاشرہ کی جانی امنیت کو ختم کرنا اس معاشرے کے تمام افراد کو نابود کرنے کے برابر ہے :

( من قتل نفساً بغیر نفس او فساد ف الارض فکنما قتل النّاس جمیعا ) (مائدہ)

''جو شخص کسی نفس کو ،کسی نفس کے بدلے یاروئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کر ڈالے گا ،اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کر دیا ''

البتہ اس صورت میں جو چور انسانی معاشرہ کی مالی امنیت کو سلب کرتا ہے اسے سخت سزا کا سامنا کرنا چاہئے تاکہ اس کے نفاذ کا تصوراسے معاشرہ کی مالی ناموس کا پردی چاک کرنے میں رکاوٹ بنے ۔

لیکن دوسرا مسئلہ ،چور کا ہاتھ کاٹنا،جس کا دین مقدس اسلام کے قانون نے حکم دیا ہے ،اس کے قصاص کے بارے میں تشریع کئے گئے احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ ،سزائوں کے بارے میں ،مجرم کے مظلوم پر وارد کئے گئے صدمہ کو اسی صورت میں مجرم پر وارد کیا جاتا ہے تاکہ اسے اس کے عمل کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے یادوسروں کے لئے عبرت کا سبب بنے ۔البتہ جس جرم کا نتیجہ حقیقت میں دوسروں کی نصف زندگی کو نابود کرنے میں تمام ہو جائے ،اس کی کم وبیش کسی رقم کے جرمانہ یا چند دن اورچند ماہ جیل بھیجے جانے سے تلافی نہیں ہو سکتی ہے ۔اس مطلب کا بہترین گواہ یہ ہے کہ اس قسم کی سزائیں نافذ کرنے کا ـجو مدتوں سے اکثرممالک میں رائج ہیں ـان جرائم کو روکنے کے سلسلہ میں کوئی نسخہ نہیں نکلا ہے ۔

اسلام میں اسی حقیقی محاسبہ کے مطابق ،چور کا ایک ہاتھ کاٹا جاتا ہے ،جو تقریباًاس کی زندگی کی تلاش کا نصف کے برابر ہو تا ہے ۔اس بیان سے ہمارے بعض روشنفکروں کے اس سلسلہ میں کئے جانے والے اعتراضات کا بے بنیاد ہونا واضح ہوگا (افسوس ہے کہ جس طرح ہمارے معاشرہ میں چوری نے ایک ُمسری والی بیماری کی طرح مالی امنیت کو مکمل طور پر نابود کرکے رکھ دیا ہے ،اسی طرح اس بلا نے ہماری فکری ماحول میں بھی جڑ پکڑ لیاہے اورصحیح اور سالم فکریں بھی آلودہ ہو رہی ہیں۔

یہ حضرات کہتے ہیں :''ایک انسان کو اپنے خداداد ہاتھ سے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اپنے حالات کی بہبودی کے لئے کو شش کرنی چاہئے تاکہ اپنی زندگی کی مشکلات کو اپنے توانا ہاتھوں سے حل کرے ،اقتصادی دبائو کے نتیجہ میں انجام دئے گئے ایک اشتباہ کے نتیجہ میں اس کا ہاتھ کاٹ کر کیوں اسے عمر بھر کے لئے بیچارہ کردیاجائے؟''

اس اعتراض کی حقیقت اصل جرم کو قبول کرنا اور رحم کی حس کے پیدا ہونے اور انسان دوستی کی بنا پر چارہ جوئی کرناہے ۔دوسرے الفاظ میں ،صحیح ہے کہ ایک چور اپنے برے کام کی وجہ سے ایک جرم کا مرتکب ہوتا ہے ،لیکن اس کے پیش نظر کہ غالباًاقتصادی دبائو ،ایک شریف انسان کو یہ جرم انجام دینے پر مجبور کرتا ہے ،ترحمّ اور انسان دوستی اس میں روکاوٹ بنتی ہے کہ اس کاہاتھ کاٹ کر اسے ہمیشہ کے لئے بیچارہ بنا دیاجائے ۔

اس منطق کا غلط ہونا صاف ظاہر ہے ،کیونکہ انفرادی حقوق کے حکم میں جذبات کی رعایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،اسلام بھی (جیسا کہ قرآن مجید کی آیا ت سے واضح ہے )انفرادی حقوق جیسے قصاص کے اقسام میں اور مالی حقوق میں صاحبا ن حقوق سے تحریک اورترغیب سے درخواست کرتا ہے کہ اپنے حقوق سے چشم پوشی کریں اور اپنے ہم نوع بھائیوں کو مشکل اور تکلیف میں نہ ڈالیں ۔

لیکن اجتماعی حقوق کے سلسلہ میں ایک مجرم کے بارے میں انسان دوستی کے جذبات سے کام لینااور اس کے جرم کی سزاسے چشم پو شی کرنا حقیقت میں ایک

معاشرہ کے ساتھ بالکل بے رحمی سے ظلم کرنے کے مترادف ہے اور ایک چور کو آزاد چھوڑنا اور ایک مجرم کی آبرو کا تحفظ کرنا لاکھوں بے گنا ہوں پر مصیبت ڈھانے اور ان کے احترام کے پردہ کو چاک کرنے کے برابر ہے ۔

ترحمّ برپلنگ تیزدندان

ستمکاری بود برگوسفندان

''تیز دانتوں والے خونخوارچیتے پر رحم کرنا بھیڑوں پر ظلم کرنا ہے ۔''

بہر حال،مسئلہ یہ ہے کہ ایک مجرم کی سزا کے لئے وضع ہونے والے حکم اور قانون کی دفعہ میں مجر م کے معاشرہ کی حالت کو مد نظر رکھنا چاہئے اور معاشرہ کے پیکر پر لگے زخم کی مرہم پٹی باندھنی چاہئے نہ یہ کہ صرف انفرادی تربیت کا مسئلہ جیسے چوریا صاحب مال کو مد نظر رکھا جائے ۔

یہاں پر ایک دوسرے اعتراض کا جواب بھی واضح ہو تا ہے اور وہ یہ ہے کہ :دال روٹی کے لئے محتاج شخص جیسے فردکو،فقر وبدبختی ایک لوٹا چرانے پر مجبور کرتی ہے ،کا اس چور سے واضح فرق ہے جو چوری اور جرم کو اپنا پیشہ بناکرایک معاشرہ کو مصیبت میں ڈال کر ہر روز ایک بے گناہ خاندان کو بدبختی اور مصیبت سے دوچار کرتا ہے ۔البتہ ان دو مواقع میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ،جبکہ اسلام نے دونوں مواقع کو ایک دوسرے کے معادل قرار دیا ہے اور ان کے درمیان سزا کی کیفیت میں کسی قسم کی

فرق کا قائل نہیں ہوا ہے !

اس اعتراض کا جواب گزشتہ بحث اور اس کے ساتھ ایک مختصر مقدمہ کی یاد دہانی سے واضح ہو جاتا ہے ،اور وہ یہ ہے کہ اسلام میں جرم اورخلاف ورزی کے طور پر پہچانے گئے کام اور ان کے بارے میں سزا اورحد واجب کی گئی ہے، جرم اورخلاف ورزی کو انجام دینے کے صرف آخری مرتبہ پر ،حد جاری کی جاتی ہے ،مثلاً زنا کرنے والے پر ''حد''کے عنوان سے سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اور اگر اس نے اس عمل کو کئی مرتبہ انجام دیا ہو اور اس پر کوئی حد جاری نہ ہوئی ہو اور اس کے بعد ثابت ہو جائے تو ایک حد (سو کوڑے )سے زیادہ جاری نہیں کی جاتی ہے ۔

اس مقدمہ کے تذکر اورگزشتہ بیان کے پیش نظر معلوم ہو تا ہے کہ چوری کی حد آخری چوری کے مقابلہ میں ہے جواسلامی عدالت میں ثابت ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں چھوٹی اوربڑی چوری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور چوری کو وجود میں لانے کے عوامل اورشرائط سے کوئی ربط نہیں ہے اور ایک کہنہ مشق چوراور ایک مرغی چور یا لوٹا چرانے والے کے عمل میں اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے کہ انہوں نے معاشرہ کے ارکان میں سے ایک رکن کو صدمہ پہنچایا ہے ۔ معترضین کہتے ہیں :ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے معاشرہ کے لئے باعث زحمت بنانا ملک کی پیداوار بڑھانے والے ایک عامل کو نقصان پہنچانا کس اصول اور منطق کے مطابق صحیح ہے ۔؟

ان حضرات سے کہنا چاہئے کہ چور کا ہاتھ کاٹنا انگوٹھے کے بغیر اس کی چار انگلیاں کاٹنا ہے ۔جس ملک اور معاشرہ میں عام طور پر پورے اعضاء اور ناقص اعضاء والے گوناگون افراد موجود ہوں اور ہزاروں قسم کی احتیا جات پید ا ہوتی ہوں ،ایک ایسے فرد کے لئے کام کر نا مشکل نہیں ہو گا جس کے ایک ہاتھ کی صرف چار انگلیاں نہ ہوں اور وہ معاشرہ کے لئے ایسا بوجھ نہیں بن سکتا ہے کہ ملک کی پیداوار پر اثر ڈالنے اوراسے معطل اورسست کرنے کا سبب بن جائے ،اسی لئے دوسری بار چوری کی حد دوسرا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے بلکہ پہلی مرتبہ ہاتھ کاٹنے کے بعد اگر پھر سے چوری کا مرتکب ہوجائے تو چورکا بایاں پائوں کاٹا جاناچاہئے ۔

اگر ہم فرض کریں کہ ایک یا چند افرادکے ہاتھ کاٹے جانے سے واقعاًمعاشرہ کی مشکلات کے بوجھ کو بڑھاوامل کر ملک کے اقتصاد کے پہیئے کو سست کرنے کا سبب بنتا ہے ،توکیااس غیر محسوس اور ناقابل اہمیت بوجھ کا اضافہ ملک کی اقتصادی سلامتی کی حفاظت کی نسبت آسان ترنہیں ہے کہ اقتصادی سلامتی کی بنیاد کو نابود کر کے ایک زندہ معاشرہ کو نیم جان بنادے ؟!

کتنی مضحکہ خیز منطق ہے کہ اگر سزا کے طور پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے تو وہ معاشرہ کے لئے بوجھ بن سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ نہ چھیڑا جائے اور اسے اپنے پیشہ کو جاری رکھنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے یااسے زندان میں ڈال کر اس کی زندگی کی ضروریات کو پورا کیا جائے ،تو وہ معاشرہ کے لئے بوجھ نہیں ہوگا!

کیا تین کروڑآبادی والے ہمارے ملک میں موجودہ حالات کے پیش نظر چور اورجیب کترے معاشرہ پر بوجھ نہیں ہیں ؟باوجوداس کے کہ اتفاقاًاہم اور غیر اہم چوری کا اقدام کرنے والے افراد کی تعداد اندازہ سے باہر ہے ،اس برے کام کو پیشہ کے طورپر انجام دینے والے چوروں اورجیب کتروں کی تعداد کئی ہزارسے گزر چکی ہے ۔

ان میں سے جو آزاد ہیں اوربے باکی سے اپنے شغل کو انجام دیتے ہیں ،ان کی روز مرہ زندگی کی ضروریات دوسروں کی کوششوں اورمحنتوں کے نتیجہ سے ادارہ اور پوری ہوتی ہیں ۔اس کے علاوہ چوری کے نتیجہ میں رونما ہونے والے روزمرہ قتل اور جانی نقصانات کے حوادث کی خبروں کو ہم روز ناموں میں پڑھتے ہیں ۔

ان میں سے جو افراد حکومت کے دام میں پھنس جاتے ہیں ،اس کے علاوہ کہ ان

مجرموں کے لئے لوگوں کی محنتوں سے حاصل کی گئی بڑی رقومات خرچ ہوتی ہیں ،اور یہ لوگ حبس کے دوران بڑے آرام سے ملت کی محنتوں کے نتیجہ میں حاصل کی گئی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں ،ضمناًجیل کاٹنے کی مدت کے دوران مختلف قسم کے چوروں سے آشنا ہو کر چوری کی ٹریننگ بھی حاصل کرتے ہیں !

معترضین کہتے ہیں:اگر یہ سزا دوسروں کی عبرت کے لئے ہے تو امریکہ میں ماہر نفسیات کے دانشوروں نے ،مجرمانہ فلمیں بناکر سنیمائوں میں ان کی نمائش کی ،شاید اس طرح لوگ عبرت حاصل کریں ،لیکن نہ یہ کہ لوگوں نے اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی بلکہ جرم کی ٹریننگ بھی حاصل کرکے اسی رات کو اسی شہر میں اس فلم کے مشابہ جرائم کے مرتکب ہوئے اور آج تک کھلے میدانوں میں اتنے مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے سے کوئی عبرت حاصل نہیں ہوئی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سنیمائوں میں مجرمانہ اور عاشقانہ فلموں کی نما ئش اور اسی طرح نشریات ومطبوعات میں مجرمانہ اور عاشقانہ داستانیں شائع ہونا،جرائم اور فساد کے تبلیغاتی عوامل ہیں اور یہ چیزیں قضایا کو ایسے آراستہ کرتی ہیں کہ انسان ہمیشہ حق سے بے خبر رہ کر اپنی زندگی کی سعادت وخوش قسمتی کو عشق بازی اور بے راہ روی میں پاتا ہے ۔

لیکن ایسی حالت میں بھی ایک مفکر کا ذہن اور ایک با ضمیر انسان کا ضمیر ہرگز یہ قبول نہیں کرتا ہے کہ صحیح طور پر انجام پانے والی تعلیم وتربیت کا کوئی اثر نہیں ہوگا یا عام سزائوں کا نتیجہ عبرت بن کر کچھ لوگوں کوراہ راست قبول کرنے پر مجبور نہ کرے ۔

البتہ اجتماعی اسباب وعوامل بھی طبیعی اسباب وعوامل کے مانندہمیشہ اپنے نتیجہ و اثر کو اکثر صورت میں ظاہر کرتے ہیں نہ دائمی صورت میں ،اور جو ایک موثر قانونی سزا میں مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ جرائم کو کم کر کے استثناء کی حد تک لایا جائے نہ یہ کہ ان کی ایسی بیخ کنی کرے کہ ہرگزواقع نہ ہوں۔

__________________

١۔ ''کوئی قوم ایسی نہیںہے جس پرکوئی ڈرانے والانہیں گزراہو''(فاطر٢٤)

۲۔''مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوتی ہے جوآپ کوبھی معلوم نہیںہے''(نمل٢٢)

۳۔''اورانھیںاس کا شعوربھی نہ ہو''(نمل١٨)

۴۔(کہف ٨٢)

۵۔انعام ٣٨ ٢۔فاطر٢٤

۶۔اسرائ٥٨ ٤۔اسرائ٦٥

۷۔آل عمران ٣٣

۸۔حجر٤٢

۹۔طہ ١٢٢


دسواں حصہ:

قرآنی علوم

حروف مقطعات کس لئے ہیں ٰ؟

سوال:خدمت استاد ودانشورمحترم حجة الاسلام علامہ سید محمد حسین طباطبائی!

قرآن مجید ایک ایسی کتا ب ہے ،جسے خدائے متعال نے مختلف زمانوں اور معین اوقات میں اپنے پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تدریجاًوحی فرمائی ہے ۔ابن سیرین کے عقیدہ کے مطابق اس کی کل آیات کی تعداد''٦٢١٦''اور ابن مسعود کے مطابق''٦٢١٨''آیات ہے۔اور اس پر ہر ایک کا اتفاق نظر ہے کہ قرآن مجید کی سورتوں کی کل تعداد ١١٤ ہے ۔قرآن مجید کی ٢٨ سورتیں حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں ۔مانند:الم،الر ،المص ،حم،طس طسم،کھیعص،یس ،ص،ق اور ن وغیرہ ۔

اب سوال یہ ہے کہ ان حروف کا معنی کیا ہے ؟اور تین مدنی سورتیں اور٢٥ مکی سورتیں کیوں ان حروف سے شروع ہوئی ہیں؟اور قرآن مجید کی تمام سورتیں ان حروف سے کیوں شروع نہیں ہوئی ہیں ؟

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب جو قرآن مجید کوسن کراسے حفظ کرتے تھے،جواسے سن کرلکھتے تھے اورجو سن کر اس کے اوراق کی حفاظت کرتے تھے ،کیا وہ ان حروف کے معنی کو سمجھتے تھے ،جبکہ قرآ ن مجید عربوں کی زبان یعنی عربی میں نازل ہو اہے ۔؟

اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی اصحاب ان حروف کے معنی کو سمجھتے تھے تو کیوں ان کی تفسیر میں انہوں نے اختلاف کرکے کسی قابل قبول مطلب پر اتفاق نہیں کیا ہے ؟!چنانچہ اس سلسلہ میں ان کے عقائد میں اختلاف تفسیر کی کتابوں میں درج ہے ۔

بہر حال ،ان حروف کا نازل ہونا فضول اور بے فائدہ نہیں تھا ،ان کے ضرور کچھ معنی ہوں گے ،پس ان کے حقیقی معنی کیا ہیں ؟کیا یہ رمزی حروف ہیں یادر اصل کلمات تھے جو خلاصہ ہوئے ہیں ؟ یا کلام کے آغاز میںسننے والوں کی توجہ مبذول کرانے کے لئے ہیں یا خاص اصطلاحات ہیں ؟

میں نے جس قدر روایتوں اور اصحاب کے اقوال پر سنجیدگی سے غور کیا آج تک میرے لئے اس موضوع کے بارے میں قرآن مجید کا مقصود واضح نہیں ہو ا ہے ،مفسرین کے بیانات ،مستشرقین کی تفسیروں اور عرفا کے اقوال نے بھی اس راز کو فاش کر نے میں کوئی مدد نہیں کی ۔

لیکن چونکہ دانشوروں کے درمیان اس موضوع پر حیرت انگیز حدتک اختلافات پائے جاتے ہیں اس لئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس سلسلہ میں آپ کے علمی عقیدہ کو معلوم کروں ،شایداس میں کوئی قابل قبول مطلب کو پاکر اپنے شک اورغلط فہمی کو دورکرسکوں ۔

اس مشکل کو کشف کرکے اس معماّکو حل کرنے کے سبب راہنمائی کی فضیلت حاصل کرنا اورحقائق کو پہچنواناآپ کا حق ہے ،نہ یہ کہ آپ یہ جواب دیں :''یہ حروف رموزات میں سے رمزی اسرار کے حروف ہیں اورخدا کے علاوہ کوئی ان کے معنی سے واقف نہیں ہے ''کیونکہ ہم اس امر پر مکلّف ہیں کہ تمام آیات کے معنی کو سمجھ لیں اورخدا نے بھی اسے عربی زبان میں بشر کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے ۔

آخر میں،اطمینان بخش جواب کا انتظار کرتے ہوئے اپنے بہترین درودوسلام آپ کی خد مت میں پیش کرتا ہوں اورخدائے متعال سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کو محفوظ رکھے تاکہ آپ مسلمانوں کے لئے علم وشرف کے ذخیرہ ہوں۔(حلب ،٢٨صفر ١٣٧٩ھ مطابق ماہ ایلول١٩٥٩،ڈاکٹر عبدالرحمن الکیالی

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بخدمت استاد جناب ڈاکٹر عبد الرحمن الکیالی

آپ کی خدمت میں دردوسلام پیش کرنے کے ساتھ جواب میں تاخیر کے لئے معذرت چاہتا ہوں ،کیونکہ جس وقت آپ کاخط قم پہنچا تھا ،میں موسم گرما گزار نے کے لئے دماوند کے اطراف میں چلاگیا تھا ۔چونکہ قم اور دماوند کے درمیان کافی فاصلہ ہے ،اس لئے دستی خطوط دمجھ تک پہنچے تھے ،لہذا تاخیر سے آپ کے خط کی زیارت کرسکا ۔

تفسیرمیں ہماری روش اورطریقہ کار یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور ان کے معانی کو سمجھنے میں ہم قرآن مجید کے علاوہ کسی اور چیز سے استفاد ہ نہیں کرتے ہیں اور مشکل آیات کا صرف قرآن مجید کی دوسری آیتوں سے استفادہ کرتے ہیں لیکن اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی متواترخبر ہم تک پہنچی ہو تو وہ روایت اور صداقت کی نشانیاں رکھنے والی روایتیں بھی ہمارے لئے حجت ہیں اور تفسیر میں ان سے بھی استناد کرتے ہیں ،کیونکہ خود قرآن مجید کی نص کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودا اور دستورات حجت اور واجب العمل ہیں ۔

خاندان نبوت واہل بیت اطہار علیہم السلام کی احادیث بھی واجب الاطاعت اورحجت ہیں اور ہم ان سے بھی مدد لیتے ہیں ۔اس موضوع میں ہماری سند حدیث ثقلین ہے جو تواتر کی حد میں ہم تک پہنچی ہے اور اس کے علاوہ اوربھی احادیث موجود ہیں ۔اس مطلب کو ہم نے تفسیر المیزان کی پہلی جلد کے مقدمہ میں بیان کیا ہے اور تیسری جلد میں محکم اور متشابہ کی بحث پر مکمل طور پر روشنی ڈالی ہے ۔

لیکن اصحاب یا تابعین یامفسرین سے جو مطالب ہم تک پہنچے ہیں انھیں ہم حجت نہیں جانتے اوران سے استناد نہیں کرتے ہیں (مگر یہ کہ کوئی قول ادلہ ّکے موافق ہو) کیونکہ ان کے اقوال اجتہاد کے علاوہ کچھ نہیں ہیں اور وہ بھی خود ا ن کے لئے حجت ہونے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے ہیں ۔ہماری نظر میں ان کا اجتہاد اورغیر یقینی روایتیں مساوی ہیں اور دونوں کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے ۔ہم نے تفسیر میں ،اس روش اور طریقہ کار کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام سے نقل ہوئی بہت سی روایتوں سے استفادہ کیا ہے ، جیسے :(ان القرآن یُصدّق بعضه بعضا (۲) )''قرآن مجید کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی تصدیق کرتی ہیں ،''(ینطق بعضه ببعض (۳) )قرآن مجید کی بعض آیات جب دوسری آیت کے ساتھ قرارپاتی ہیں تو اس کے معنی کو آشکارکرتی ہیں اور(یشهد بعضه علی بعض (۴) )آیتوں کا ایک حصہ دوسرے حصوں ے لئے گواہ ہوتا ہے ۔

یہ طریقہ کار ،ایک صحیح شیوہ اورپسندیدہ طریقہ ہے جو روایتوں کی برکت سے ہمیں ملا ہے ۔بیشک قرآ ن مجید کی آیتیں کلام کا نظم اور اسلوب رکھتی ہیں اوردوسرے کلمات کے مانند قابل فہم ہونے کا ایک ظہور رکھتی ہیں ،لیکن اس کے باوجود کہ ہم اپنی فہم میں آیات کے مقاصد اورمعنی سے استفادہ کرتے ہیں ،حروف مقطعات کو ہم نے کلام کے عام اسلوب کے موافق نہیں پایا اور ان کے بارے میں واضح معنی درک نہیں کرسکے اور الم ، الر،طہ ،یس جیسے حروف ہمارے لئے مجہول ہیں ۔

یہاں پر ہم یہ نتیجہ اخذکرتے ہیں کہ حروف مقطعات دوسری آیتوں کے مانند نہیں ہیں کہ ان کے معنی کو سمجھا نے کے لئے یہ عربی ز بان کی عام روش میں نازل ہوئے ہوں ۔

اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ان حروف کا وجود ،لغو اور بے فائدہ ہے ، کیونکہ خدا کا کلام لغو سے منزّہ اور پاک ہے ،قرآ ن مجید اس کی تو صیف میں فرماتا ہے :( انّه لقول فصل٭وماهوبالهزل ) (طارق١٣۔١٤)

''بیشک یہ قول فیصل ہے ۔اور مزاق نہیں ہے ''

اس بیان سے واضح ہوا کہ قرآن مجید کی بعض سورتوں کا حروف مقطعات سے شروع ہونے میں ضرورکوئی سبب ہے اور یہ حروف ایک خاص مقصد کے لئے ذکر ہوئے ہیں۔لیکن اصحاب ،تابعین اور مفسرین کی طرف سے جو اسباب ان کے بارے میں بیان کئے گئے ہیں ،وہ حق و حقیقت کے ایک متلاشی کو مطمئن نہیں کرتے اور اسی لئے ہم نے اپنی تفسیر میں اس بحث کو سورئہ ''حم عسق'' تک تاخیر میں ڈال دیا ،تاکہ خدائے متعال تب تک اس راز سے پردہ اٹھا کر ہمیں ایک اطمینان بخش صورت عطا کرے ،البتہ اگر موت نے فرصت دی تو ہم یہ توفیق حاصل کریں گے ۔

لیکن دوسری سورتوں میں مذکورہ سورہ کو ترجیح دینے کا سبب یہ ہے کہ اس سورہ میں خدا کی وحی اور اس کے الہام کی کیفیت بیان ہوئی ہے اوریہ ہماری بحث سے متناسب ہے ۔

اب تک اس مشکل کو حل کرنے میں ہمیں اس قدر توفیق حاصل ہوئی ہے کہ اس قسم کی سورتوں میں بیان کئے گئے مضامین ،معنی اور مقصد کے ساتھ ان حروف مقطعات کا ایک مخصوص رابطہ ہے ؛ مثلاًہم حروف''الم''سے شروع ہونے والی سورتوں میں ایک خاص رابطہ پاتے ہیں ،اس کے باوجود کہ ان میں سے بعض مکی ہوں اور بعض مدنی ہوں ۔اسی طرح ۔''الر''یا'' حم ''و''طس'' کے حروف سے آغاز ہونے والی سورتوں میں ایک ایسا رابطہ پایا جاتا ہے جو ان کے علاوہ کہیں موجود نہیں ہے ۔پھر ہم سورہ اعراف ـجو''لمص''سے شروع ہوئی ہے ـمیں وہی غرض اور معنوی مناسبت پاتے ہیں جو سورہ''الم'' اور سورہ ''ص'' میں موجود ہے ۔

اس سے ہم اجمالی طورپر سمجھتے ہیں کہ حروف مقطعات کا قرآن مجید کی سورتوں کے معانی اور مقاصد کے ساتھ ایک قسم کا رابطہ ہے ،لیکن اس رابطہ کی کیفیت اور تفصیلات ابھی اچھی طرح سے واضح نہیں ہوئی ہیں ،لیکن امید ہے کہ خدائے متعال اس حقیقت کو ہمارے لئے واضح فرما کر ہماری راہنمائی فرمائے گا۔

آخرمیں اپنی طرف سے آپ کی خدمت میں بہترین دردوسلام بھیجتا ہوں اورخدائے متعال سے آپ کے لئے آرام وآسائش اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں ۔

٢١ربیع الاول١٣٨٩ھ محمد حسین طباطبائی

__________________

١۔اس بحث کو حضرت آیت اللہ طباطبائی نے حلب کے استاد محترم عبدالرحمن الکیالی کے قرآن مجید کے حروف مقطعات کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں بیان فرمایا ہے ۔

۲۔احتجاج٣٨٩١ ، ۳و۴۔ بحار الانوار٢٢٨٨


قرآن مجید کی بے احترامی

سوال: قرآن مجید کے بعض ـ اغلب ایران میں منتشر ہونے والے ـ نسخوں میں ناشرین کی طرف سے (طلسم ) کے نام پر کچھ (شکلیں) کلام اللہ کے ساتھ ضمیمہ کر کے چھاپ کر بیچی جاتی ہیں ۔کیاان ''طلسمات''اور شکلوں کے بارے میں کوئی صحیح سند موجود ہے یانہیں ؟

جواب: ان ''شکلوں''اور''طلسمات''کے بارے میں کوئی صحیح سند نہیں ہے اوردینی نقطہ نظر سے ان کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ،خواہ یہ قرآن مجید کے ساتھ شائع کی جائیں یا الگ سے۔

سوال:ان'' شکلوں ''اور''طلسما ت ''کے بارے میں عجیب وغریب چیزیں لکھتے ہیں اور ان سب چیزوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے نسبت دیتے ہیں ،ان کے آثار اور فوائد کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب:ان شکلوں میں نظر ڈالنے کے سلسلہ میں جن فوائد کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل کیا گیا ہے ان کا ایک حصہ جعلی اور باطل ہے ،جیسے ''مہر نبوت ''پر نظر ڈالنا وغیرہ...اور اس کا دوسرا حصہ فاقد سند ہے ۔

سوال:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی تصویریں بنا نا ـ جیسا کہ مشاہدہ کیا جارہا ہے ـاور انھیں قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا اوراسی طرح مذکورہ شکلوں اورطلمسات اور''محرم نامہ'' و''نوروز نامہ'' کو قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا شرعی لحاظ سے کیسا ہے ؟

جواب: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی خیالی تصویر بنانا اور انھیں قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا اور اسی طرح توہمات پر مشتمل روایات کے ایک سلسلہ کو قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا ،جیسے ،اگر کوئی'' مہر نبوت'' نامی شکل پر نگاہ کرے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزاروں حج کے ثواب اس کے نام پر لکھے جائیں گے !یا اگر فلاں شکل پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کے تمام گناہ معاف کئے جائیں گے اور امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت اس کے ہاتھ سونپی جائے گی !یہ سب چیزیں قطعاًقرآن مجید کی بے احترامی کا سبب اور حرام ہیں ۔

اسی طرح شکلوں کے ایک سلسلہ جو طلسم وغیرہ کے نام پر قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا مذکورہ بیان کے مطابق کسی قسم کی سند نہیں رکھتے اور بے احترامی کے علاوہ کچھ نہیں ہیں ۔

بنیادی طور پر ایک مسلمان کو اس بدیہی نکتہ کو فر اموش نہیں کرنا چاہئے یا اس امر سے غفلت نہیں کرنی چاہئے کہ یہ مقدس آسمانی کتاب جسے کلام اللہ کہا جاتا ہے ،اسلام کے اصلی اور فرعی معارف کی تنہا پناہ گاہ ،نبوت کی زندہ سند اور دنیا کے ساٹھ(۱) کروڑ مسلمانوں کی آبرو کا سبب ہے ۔

اس نکتہ کے پیش نظر ایک مسلمان کا دینی ضمیر ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ وہ کسی اور کتاب کو ـہر چند کہ وہ کتاب حقیقی مطالب پرہی مشتمل کیوں نہ ہو ـ قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرکے اسے اس کے برابرقرار دے کر معاشرہ میں شائع کرے ،''محرم ناموں ''،''نوروز ناموں ''اور ''کسوف وخسوف کے احکام '' جنھیں آج کل کی دنیا میں مذاق کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اوران سب سے بدتر توہمات پر مشتمل شکلوں ،نقشوں اور خیالی تصویروں کی بات ہی نہیں !ان چیزوں کو قرآن مجید کے ساتھ ضمیمہ کرنا، کلام اللہ کی شان اور حقیقت سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔

جو ناشرین محترم اولیائے دین کی تاریخ،مذہبی عقائد ،تجوید اور قرائت کی کتا بوں کو قرآن مجید کے ساتھ شائع کرنا چاہتے ہیں ،انھیں چاہئے کہ ان کتا بوں کو الگ سے شائع اورجلد سازی کر کے قرآن مجید کے ہمراہ قارئین کی خدمت میں ارسال کریں ۔

محمد حسین طباطبائی

قم ۔جمادی الثانی ١٣٨٥ھ

_________________

١۔علامہ طباطبائی کایہ بیان تقریباً٤٧ سال قبل کاہے ۔(مترجم )


گیارہواں حصّہ:

چنداعتراضات اور ان کے جواب

سلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

آپ کا خط ملا اورکتاب ''شیعہ دراسلام''اور''تفسیرالمیزان ''کے مطالب کے بارے میں کئے گئے اعتراضات کا بھی مطالعہ کیا ۔ان کتا بوں کے مطالب کے بارے میں عمیق توجہ عنایت فرمانے پر بہت بہت شکریہ۔جزاکم اللہ تعالی ٰعن الحق والحقیقة خیرالجزائ۔

ذیل میں اعتراضات کا خلاصہ اور ان کے جواب ملا حظہ فرمائیں :

اسلام میں شبہ کے معنی

پہلا اعتراض:

کتاب ''شیعہ دراسلام ''کے چوتھے صفحہ پر کہا گیا ہے :''اسلام تسلیم کے معنی میں ہے ''یہ معنی لغوی طور پر صحیح ہے ،لیکن اسلامی اصطلاح میں یہ کلمہ ایک ایسے دین کا نام ہے جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہیں ''ماجاء محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ''لیکن آپ کی تفسیرکے مطابق :

سب سے پہلے:ہم آیہ کریمہ :( ومن یبتغ غیر الاسلمٰ دینا فلن یقبل منه ) ١سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت کو ثابت نہیں کرسکتے۔

دوسرے یہ کہ:آپ کی تفسیر،اسلام کے معنی کی تفسیر میں بیان کی گئی اوراصطلاحی معنی کی تائید کرنے والی بہت ساری روایتوں کے منافی ہے ،جیسا کہ اصول کافی کی دوسری جلد میں آیا ہے ۔

١۔اورجو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تووہ دین اس سے قبول نہیں کیا جائے گا ...آل عمران٨٥

تیسرے یہ کہ:دنیا کی مختلف امتوں کے اجماع کے مطابق لفظ''اسلام''ایک ایسے دین کانام ہے جسے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کی طرف سے لاتے ہیں ۔

جواب:کتاب''شیعہ دراسلام'' کی عبارت یوں ہے :

''لغت میں''اسلام تسلیم کرنے اورگردن جھکانے کے معنی میں ہے ۔قرآن مجید جس دین کی طرف دعوت کرتا ہے اس کا نام اس لئے اسلام رکھا گیا ہے کہ اس کا کلی پروگرام انسان کا خالق کائنات کے سامنے تسلیم ہو نا ہے اور دنیا کے لوگ خدائے واحدکے علاوہ کسی کی پرستش نہ کریں اور اس کے فرمان کے علاوہ کسی کی اطاعت نہ کریں ۔''

مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ اس عبارت سے کہاں یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اسلام کا ایک سے زیادہ معنی نہیں ہے اور وہ صرف لغوی معنی ہے ،اور قرآن مجید اورحدیث میں جہاں بھی اسلام کا لفظ آیا ہے اسے صرف لغوی معنی میں لینا چاہئے ؟اور کیا یہ عبارت وجہ تسمیّہ کے علاوہ کسی اورچیز پر مشتمل ہے ؟اور جناب عالی نے خود بھی عبارت کے ضمن میں اعتراف فرمایا ہے :''اسلام، خدائے متعال کے سامنے تسلیم محض ہے ،لیکن یہ تب تک محقق اور ظاہرنہیں ہو سکتا ہے جب تک نہ شہادتین اورکچھ ضروری اعمال کو انجام دیا جائے ۔''یعنی یہ دین اسم مصدرکے معنی میں تسلیم کا مصداق ہے ۔

بہر حال،لفظ''اسلام ''اس مقدس دین کا نام ہے اور لغت کے مطابق تسلیم اور اطاعت کے معنی میں ہے اور کتاب وسنت کے بہت سارے مواقع پر ہردو معنی میں استعمال ہوا ہے ،اس آ یہ کریمہ کے مانند :

( ومن احسن دینا ممن اسلم وجهه لله وهومحسن واتبع ملته ابراهیم حنیفا ) (۱)

جواس پر دلالت کرتی ہے کہ ملت ابراھیم ،اسلام کے لغوی معنی کا مصداق ہے ۔ اسی طرح یعقوب کے فرزندوں اوراس امت کے مومنین سے یہ جملہ نقل کرتا ہے( ونحن له مسلمون ) (۲) یہاں پر مسلمون کی تعبیرکی دلیل لغوی معنی مراد ہے ۔

لیکن جو آپ نے یہ فرمایا ہے کہ :''اگراسلام اصطلاحی کے معنی میں نہ ہو تو ہم خاتمیت کو اس آیت:(ومن یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منہ...)٣سے ثابت نہیں کرسکتے ہیں ''یہ اس وقت ممکن ہے جب خاتمیت کے لئے اس آیت کے علاوہ کوئی اور دلیل نہ ہواور اس کا قبلی دشمن بھی مسلم ہو تو اسلام اس آیت میں اصطلاح کے معنی میں ہے اور دونوں مطلب ممنوع ہیں ۔

لیکن آپ نے جو یہ فرمایا :''روایتیں اصطلاحی معنی کی تائید کرتی ہیں '' اصطلاحی معنی کے وجود کا کوئی منکر نہیں ہے ،لیکن اصطلاحی معنی کا وجود لغوی معنی اور اس کا مقصودہونے کی نفی نہیں کرتا ہے ،اور روایتیں کبھی اصطلاحی معنی اور اس کے وصف کو بیان کرتی ہیں اور کبھی تسلیم کے معنی میں اسلام کے درجات اور مراتب بیان کرتی ہیں ۔

لیکن آپ نے جویہ فرمایا ہے :''اسلام دنیا کی تمام مختلف امتوں کے اجماع کے مطابق، ایک ایسے دین کا نام ہے جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم لائے ہیں ''اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ اسلام واقعاًاس دین مقدس کا نام ہے اور قرآن مجید کے

بیان کے مطابق یہ نام گزاری پہلے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے ۔

( اذقال له ربه اسلم قال اسلمت لربّ العٰلمین ) (۳) ( هو سمّٰکم المسلمین من قبل ) ...''(۴)

قرآن مجید اسلام سے آراستہ ہونے کو ابراھیم علیہ السلام اور اس کی امت کے بعد والے انبیاء سے نقل کرتا ہے ،جیسے :اسماعیل علیہ السلام ،اسحاق علیہ السلام ،یعقوب علیہ السلام ،سلیمان علیہ السلام ،یوسف علیہ السلام ،فرزندان یعقوب علیہ السلام ،فرعون کے ساحر،ملکئہ سبائ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری۔

خدا کے دین کا نام ''اسلام''رکھاجانا،اس کے پیش نظرکہ مصداق تسلیم تھا،پہلے توصیف کے عنوان سے تھانہ علم نہو کی اصطلاح میں علم تھا ،جیسے کہ اسمائے حسنیٰ سب کے سب صفات ہیں ،لیکن انھیں اسماء اللہ کہتے ہیں اور بعد میں استعمال کی کثرت کی وجہ سے غلبہ کے طور پر علم ہوئے ہیں پھر بھی اس میں ''الاسلام '' کے ''الف لام''کے لغوی معنی کا اشارہ ختم نہیں ہواہے ۔

''شیخیہ'' اور''کریم خانیہ''فرقے جسمانی معاد کے منکر ہیں :

دوسرااعتراض:

''شیخیہ''اور'' کریم خانیہ''کے دوفرقے دوسرے شیعوں سے اختلاف رکھنے کی وجوہات کی بنا پر،اس عنوان سے کہ ان کے اختلافات بعض نظریاتی مسائل کی تو جیہ میں ہیں نہ اصل مسائل کے اثبات ونفی میں ،آپ نے ان کے اختلاف کو فرقہ قرارنہیں دیا ہے ،جبکہ وہ معاد اورمعراج جسمانی کے منکر ہیں اور حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں بھی کچھ باتیں کرتے ہیں

جواب:کسی دین یا مذہب سے خارج ہونے کامعیار،اس دین یا مذہب کی بعض ضروریات سے انکار کرنا ہے ،اس معنی میں کہ کوئی شخص کسی ایسے مسئلہ سے انکار کرے ،جس کا اس دین یا مذہب میں ہو نا ضروری اوربدیہی ہو اوران مسائل میں بنیادی مسئلہ ہونا ضروری ہے اوراس کی خصو صیات نظری ہیں ۔جو شخص کتاب وسنت کے ظواہر سے ایک غیر جسمانی معاد کے وجود کو سمجھے ،باوجود اس کے کہ مذکورہ ظواہر عادی افہام کے مطابق اس کے جسمانی ہونے کی دلالت کرتے ہیں ،اس شخص کے لئے جسمانی معاد کا وجودضروری نہیں ہے تاکہ اس کا انکار،ضروریات کا انکار ہو اور دوسروں کی نظر میں اس کا ضروری ہونا اس سے کوئی ربط نہیں رکھتا ہے اوراگر اس سلسلہ میں کسی اجماع کو بھی فرض کیا جائے ،تو وہ اجماع غیر احکام فر عیہ میں ہوگا ،اس لئے وہ اس کے لئے حجّت نہیں ہے ۔

کیا عرفان اور تصّوف موردتائید ہے ؟

تیسرا اعتراض:

کتاب ''شیعہ دراسلام''میں جو آپ نے عرفان وتصوف کے بارے میں بیان فرمایا ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عرفان وتصوف کو صحیح جانتے ہیں ،جہاں پرآپ اس گروہ کی پیدائش اورنشوونماکی تاریخ اور ان کی اپنی روش کی حفاظت میں جد وجہد کا ذکر کرتے ہیں ،جبکہ ائمہ اطہار علیہم السلام اور فقہا نے انھیں کافرٹھہرایا ہے اوران کے اقوال کو کسی صورت میں صحیح اور معتبرنہیں جانتے ہیں ۔

اس کے علاوہ آپ اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں :''عارف وہ ہے جو خدا کو محبت کی راہ سے پرستش کرے نہ ثواب کی امید یا عذاب کے ڈرسے''اس کے بعد فرماتے ہیں :''خدا کی پرستش کرنے والے تمام ادیان میں کچھ ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو عرفان کا مسلک رکھتے ہیں حتی بت پرستی میں ،بت پرستی،یہودیت ،مسیحیت ،مجوسیت اوراسلام میں بھی عارف اورغیر عارف ہیں'' ۔کیا اس بیان کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ بت پرستی میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا کی محبت کی وجہ سے پرستش کرتے ہیں کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: ہم نے کتاب ''شیعہ دراسلام ''کی ابتدا میں عہد کیا تھا کہ مذہب شیعہ کا تعارف کرکے ان کی پیدائش اورنشوونما کی تاریخ اوران کے مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے اوران کے افکار کو بیان کریں گے ۔یہاں پر ہم نے اپنے وعدہ کے مطابق کسی طرفداری کے بغیرعرفان کی پیدائش اوراس کے بقاء کی تاریخ کو خلاصہ کے طورپر بیان کیا ہے اور ان کے لئے کسی عظمت کو ثابت نہیں کیاہے ۔ہم نے اجمالی طورپر ان کی عقلی ا ورنقلی دلیل (آپ کی فرمائش کے برخلاف کوئی معقول ومنقول دلیل ذکر نہیں کی ہے )کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

البتہ یہ کتاب ایک تعارفی کتاب تھی نہ فیصلہ دینے اورمذاہب کے حق وباطل کو تشخٰیص دینے والی کتاب ،اس لئے مخالفین کے نظریہ پر بحث نہ کرتے ہوئے ہم نے فقہاکے حکم کفر کو نقل نہیں کیا ہے (البتہ ان کی تاریخ پیدائش میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے)

لیکن جس بات کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ بت پرستوں میں بعض لوگ محبت کی راہ سے خدا کی پرستش کرتے ہیں ،یہ برہمن اور ارباب ریاضت ہیںجو ''خدائوں ''کی عبادت کرتے ہیں نہ خدائے واحد کی ،اور ان کے عقیدہ کے مطابق منفی ریاضتوں کے نتیجہ میں ،وہ پہلے خود کو خدائوں میں اورپھر خدائے متعال میں فانی کردیتے ہیں ۔چونکہ اس مسئلہ کی وضاحت بہت تفصیلی ہے ایک دوخطوط میں اس کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے ،اس لئے بہتر ہے اس سلسلہ میں کتاب ''سراکبر''جو ''ویدا''کے ایک حصہ کا ترجمہ ہے ،خاص کر ''اوپنشو''،کتاب ''فروغ خاور''کتاب ''تحقیق ماللھند ''اورابوریحان کی کتاب''آثارالباقیہ''کی طرف رجوع کیا جائے ،تاکہ معلوم ہوجائے کہ ھندی بت پرست بودھ اورصائبی کس قسم کا عرفان رکھتے ہیں ۔

لیکن جو آپ نے فرمایا ہے :آپ کا کلام عرفان وتصوف کے صحیح ہونے اور ان کی توصیف کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔میں عرفانی کو صحیح جانتا ہوں لیکن نہ اس عرفان کو جو اہل سنت درویشوں کے سلسلہ میں رائج اور عام ہے اورشریعت کے مقا بلہ میں ایک ایسے طریقت کے قائل ہیں جو سازوسنطور،غنارقص اور وجد کا حکم کرتا ہے اور''تکلیف ساقط''ہونے کا دم بھرتے ہیں ۔چنانچہ ہم نے اپنے کلام کے ضمن میں کہا ہے کہ اسی روش نے شیعوں میں بھی سرایت کی ہے ۔جو عرفان کتاب وسنت سے حاصل ہوتا ہے ،وہ عبودیت کے اخلاص پر مبنی ایک روش ہے اور اسلام کے شرع مقدس کے قوانین سے ذرّہ برابر جدانہیں ہے ۔چنانچہ ہم نے اسے'' تفسیرالمیزان'' میں بھی بیان کیا ہے ۔

ملائکہ کے ارادہ کی کیفیت

چوتھا اعتراض:

آپ نے تفسیرالمیزان کی ساتویں جلد کے صفحہ نمبر٩پرلکھاہے :دوسرے یہ کہ،یعنی خدائے متعال کے ملائکہ ،جس چیز کا انھیں خدائے متعال امرفرماتا ہے وہ معصیت نہیں کرتے ہیں ،پس وہ ایک مستقل ارادہ والامستقل نفس نہیں رکھتے ہیں عدم معصیت اور عدم نفس مستقل کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے ،چنانچہ انبیاء علیہم السلام اور معصومین علیہم السلام معصوم ہیں اورمستقل نفس اورارادہ بھی رکھتے ہیں ۔اگر مستقل ارادہ نہ رکھنے کی مراد یہ ہے کہ وہ ارادہ نہیں کرتے ہیں مگر جس چیز کا خدا ارادہ فرمائے( وماتشائون الا ان یشاء الله ) (۵) تو یہ معنی ملائکہ سے مخصوص نہیں ہے اورسب لوگ بلکہ خدائے متعال کے علاوہ تمام مخلوقات کی یہی حالت ہے ۔

پھر اس کے بعد والے صفحہ پر کہا ہے :''ملائکہ تدریجاًکمال حاصل کرتے ہیں اوراس طرح اپنے وجودی عنایتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں ''جب یہ نفوس ہی نہیں رکھتے تو کس چیز میں کمال حاصل کرتے ہیں ؟

جواب :کلام کے ذیل میں مستقل نفس کی وضاحت کی گئی ہے کہ استقلال سے مراد ایک وہم ہے جسے شخص اپنے اندر مشاہدہ کرتا ہے اور اس استقلال کے متفی ہونے سے ہواوہوس کی پیروی کلی طور پر متفی ہوتی ہے:

( لایسبقو نه بالقول وهم بمره یعملون ) (۶) اوراس کا مرجع نفس امّارہ ہے اور اعتراض میں بیان کئے گئے مطلب کے برعکس ،ملائکہ کے مانند انبیاء وائمہ علیہم السلام میں یہ نفس نہیں پایا جاتا ہے ۔

اور اس کے ذیل میں جو اعتراض کیاگیا ہے :''جب ملائکہ نفس نہیں رکھتے ہیں تو ان کا تدریجاًکمال حاصل کرنا معنی نہیں رکھتا ہے ''یہ ایک مغالطہ ہے اور اس جملہ کا مقصد کمال کی نفی ہے نہ کمال کا اثبات اور جملہ ''من شانھا'' جملہ ''ھی فی معرض...''پر عطف ہے اور''من شانھا ''کاضمیرمادئہ جسمانی کے بارے میں ہے نہ نفس کے بارے میں ۔

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں ایک روایت

پانچواں اعتراض :

''تفسیر المیزان '' کی سترہویں جلد کے صفحہ نمبر١٦٧پرالیاس علیہ السلام کے بارے میں جوروایت نقل کی گئی ہے ،اسے آپ نے تضعیف کردیا ہے ۔

آپ نے کافی کی روایت کو،جسے علامہ مجلسی نے بھی ''حیات القلوب''میں نقل کیا ہے ،نقل نہیں کیا ہے ۔اس کامضمون حضرت الیاس کی وہ گفتگوہے جو انہوں نے حضرت امام باقر علیہ السلام کے ساتھ انجام دی ہے ۔ممکن ہے مذکورہ روایت اعلیٰ درجہ پر صحیح نہ ہو لیکن ایک متین روایت ہے جو ظاہر قرآن مجید سے تضاد نہیں رکھتی ہے اورضروری حقائق سے بھی ٹکرائونہیں رکھتی ہے ۔یہ روایت تفسیرمیں آپ کی ذکر کی گئی دوسری روایتوں کے مانند ہے جو الیاس علیہ السلام کی حیات کوثابت کرتی ہے۔

جواب:فی الحال میرے ذہن میں نہیں ہے کہ ہم نے کیوں مذکورہ روایت کو نقل نہیں کیا ہے ،شاید روایت کے طولانی ہونے کے سبب ہو یا غفلت ہوئی ہو اور اگر ہم نے اسے نقل بھی کیا ہوتا اس کاکوئی خاص نتیجہ نہیں نکلتا چنانچہ اس کی تفصیل بعد والے سوال کے جواب میں بیان ہو گی ،اس کے علاوہ مثا ل کا احتمال بھی ہے ۔

فرعون اورمجرمین

چھٹااعتراض

آپ نے ''تفسیر المیزان''کی سترھویں جلد کے صفحہ نمبر ١٩٤پر لکھا ہے :''بعض لوگوں نے کہا ہے کہ فرعون کو ''ذوالا وتاد''کہتے تھے اس لئے کہ وہ مجرموں کو میخوں سے زمین میں ٹھوک کر عذاب کرتا تھا...''

اس کے بعد آپ نے لکھا ہے :''ان باتوں کی کوئی قابل اعتماددلیل نہیں ہے ''جبکہ مرحوم فیض نے اپنی تفسیر''صافی''میں کتاب''علل''سے''اوتاد''کی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے ۔

جواب:مذکورہ روایت مستدرکات میں سے ہے ،کسی صورت میں تفسیر میں آنی چاہئے ،لیکن قابل غورنکتہ یہ ہے کہ اصول میں ثابت ہو چکا ہے کہ روایات آحاد اگر چہ بہتر صورت میں صحیح بھی ہوں احکام کے علاوہ،موضوعات،حجت نہیں ہیں مگر یہ کی قطعی قرینہ کے ہمراہ ہوں ،مثلاًوہ حدیث جو بلاواسطہ خود امام علیہ السلام سے سنی جائے ،اس لحاظ سے ایسی حدیثوں سے قرآن مجید کی تفسیر نہیں کی جاسکتی ہے ۔اس کے علاوہ جبکہ قرآن مجید کے سلسلہ میں کثیر روایتیں موجود ہیں ،اس قسم کی روایتوں سے قرآن مجید کی تفسیر کرنا بعید ہے ۔

اس بناء پر ،غیر قطعی الصدور روایتوں کا تفسیر میں نقل کرنا قرآن مجید کے سلسلہ میں صرف روایت بیان کرنا ہے نہ قرآن مجید کی تفسیر اور معنی حاصل کرنے کا مقصود ہے ۔

قرآن مجید میں اصطلاح''حسنہ'' کے معنی

ساتواںاعتراض:

کہ یہ آیہ شریفہ:( للذین احسنوا ف هذه الدنیا حسنة ) (۷) ایک تعبیر کے ساتھ سورہ نحل اورسورہ زمر میں واقع ہوئی ہے جبکہ تفسیر میں ''حسنہ''کو سورئہ نحل میں اخروی ''حسنہ''اورسورہ زمر میں دنیوی اوراخروی دونوں کہا ہے اس کا سبب کیا ہے ؟

جواب:لفظی اتحاد کے باوجود ،آیہ شریفہ دوجگہوں پر سیاق میں اختلاف رکھتی ہے ۔سورہ نحل میں خدائے متعال کی طرف سے ایک خطاب ہے اور اس کے پیچھے اجر اخروی کی صفت ذکر ہوئی ہے اور سورہ زمر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے خطاب ہے اور اس کے پیچھے اجر صابرین کی صفت اور قرآن مجید کی زبانی صفت اخروی اور دنیوی دونوں پر اطلاق ہوئی ہے ۔

ربّیکی تعبیر میں اختلاف کی وجہ

آٹھواں اعتراض :

''المیزان ''کی سترھویں جلد کے صفحہ نمبر ٢٢٠پر آیہ شریفہ( واذکر عبدنا ایوب اذنادی ربه ) (۸) کے ذیل میں آپ نے لکھا ہے ''ایوب علیہ السلام کا خدا سے کلمئہ ربّی''سے پکارنا یہ بیان کرتا ہے کہ اس کی ایک حاجت تھی جبکہ آیت میں کلمہ ''ربہ''ہے نہ''ربیّ''۔

جواب :کلمہ (ربی)آیت کے مضمون سے اخذ کیا گیا ہے ۔

حضرت ایوب علیہ السلام کا قصّہ اوراختلافی روایتیں

نواںاعتراض:

''تفسیرالمیزان''کی سترھویں جلد کے صفحہ نمبر ٢٢٤پر حضرت ایوب علیہ السلام کی داستان میں اسرائیلی روایتیں نقل کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ترجمہ اورہمارے بندہ ایوپ کوپارکروجب انھوں نے اپنے پروردگار کو پکارا

آپ نے روایتوں کو نقل کرنے کے بعد دوسری روایتوں سے ان کو تضعیف کردیا ہے،باوجود اس کے کہ وہ سب کتا ب ایوب کے مطابق ''عہد عتیق''میں ہیں اور روایتوں کے ٹکرائو کی صورت میں ان کی عامّہ کی موافقت توہین کا سبب ہے ،یہودیوں کی موافقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔

جواب:چنانچہ ہم نے قبلاً بیان کیا کہ اس قسم کی احادیث کو نقل کرنے کا مقصد احترام ہے نہ تفسیر۔اوریہ جو آپ نے فرمایا ہے :''جب دومتضاد خبروں میں سے ایک عامّہ کے موافق ہو توتوہین ہے اس روایت کی بات ہی نہیں جو یہود کے موافق ہو''یہ صحیح نہیں ہے ،کیونکہ متضاد روایتوں میں حکم کا موضوع ،وہ روایتیں ہیں جو شرعی احکام میں بیان ہوئی ہیں نہ وہ روایتیں جو احکام سے خارج ہوں وہ اصلاًحجت نہیں رکھتی ہیں اور عامّہ کی موافقت عامّہ کے فتویٰ کے مطابق ہے روایت اوراسرائیلیات کے مطابق جو بھی ہوں احکام سے خارج ہیں اور وہ فتویٰ نہیں ہیں ۔

( قل هونباء عظیم ) کے بارے میں ایک بحث

دسواںاعتراض:

آپ نے تفسیر''المیزان''کی سترھویں جلد کے صفحہ نمبر٢٣٧میں لکھا ہے :''کہاگیا ہے:'' ''قل ھو نباء عظیم''کی ضمیر قیامت سے مربوط ہے اوریہ بعید ترین معنی کا قول ہے جوکہاگیا ہے اس بعید کی دلیل کیا ہے؟جبکہ صرف دوآیتوں کے فاصلہ پر اس سے پہلے پندرہ آیتیں قیامت کے دن اورلوگوں کے حساب کے بارے میں واقع ہوئی ہیں اورآپ نے خودسورہ''نبائ''میں ''نباء عظیم ''کو قیامت کے دن سے تعبیر کیا ہے ۔

جواب:ان ہی دو آیتوں :( قل انّما انا منذر ) (۹) نے گزشتہ پندرہ آیتوں کو نئے سیاق میں تبدیل کیا ہے اوران آیات کے ضمن میںفرماتاہے:( قل ما اسئلکم علیه من اجر وماانامن المتکلّفین٭ان هو الاذکرللعٰلمین٭ولتعلمنّ نبه بعدحین ) (۱۰) سے مراد قرآن مجید ہے ،البتہ کوئی حرج نہیں ہے کہ قرآن بھی قیامت کے مانند ''نباء عظیم ''ہو ۔

والسلام علیکم

محمد حسین طباطبائی

٥اا٣٩٧ا

__________________

١۔اور اس سے اچھادین دارکون ہو سکتا ہے جو اپنارخ خدا کی طرف رکھے اورنیک کرداربھی ہو اورملت ابراھیم کا اتباع کرے...نسائ١٢٥

٢۔بقرہ ١٣٣و١٣٦ ،٣۔آل عمران٨٥

۳۔''جب ان سے ان کے پروردگار نے کہا کہ اپنے کو میرے حوالے کردوتو انہوں نے کہا میں رب العالمین کے لئے سرپا تسلیم ہوں''بقرہ١٣١

۴۔''...اس نے تمہارانام پہلے بھی مسلم رکھاہے ...''حج٧٨

۵۔نسائ٣٠

۶۔''جوکسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اوراس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں ۔''انبیائ٢٧

۷۔نحل٣٠

۸۔ص٤١

۹۔آپ کہہ دیجئے کہ میں توصرف ڈرانے ولاہوں(ص٦٥)

۱۰۔اور پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کاکوئی اجر نہں چاہتااورنہ میںبناوٹ کرنے والاغلط بیان ہوںیہ قرآن توعالمین کے لئے ایک نصیحت ہے اورکچھ دنوںکے بعدتم سب اس کی حقیقت معلوم ہوجائے گی ''ص٨٦۔٨٨


شہیدشوشتری کے اعزاز میں منعقد کانفرنس میں علّامہ طباطبائی کا پیغام

علّامہ عالی قدر شہیدقاضی نوراللہ شو شتر،''احقاق الحق''نامی معروف کتاب کے مصنف ،کے اعزاز میں لکھنو(ھندستان)میں منعقدہ کانفرنس کے لئے علماء اورحوزئہ علمیہ قم کی عظیم شخصیتوں کی طرف سے مختلف پیغامات ارسال کئے گئے تھے۔

ذیل میں جناب استادعلّامہ سید محمد حسین طباطبائی کا وہ پیغام ملاحظہ فرمائیں جسے اس کانفرنس میں علامہ موصوف کی طرف سے پڑھاگیا:

خدائے متعال،عزّ شانہ ،اپنے کلام میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے :

( قل ما اسئلکم علیه من اجر لاّمن شاء ان یتخّذ الی ربهّ سبیلا ) (فرقان ٥٧)

''اے رسول خدا!''آپ کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوںسے کوئی اجر نہیں چاہتامگر یہ کہ جو چاہے وہ اپنے پروردگارکاراستہ اختیارکرلے۔''

اس معجزانہ کلام کے مطابق پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٢٣سالہ دعوت کا

اجر اورپھل ،دین مقدس اسلام ہے جو انسانی معاشریہ میں اپنے لئے جگہ پاکرمستقرہوا ہے ۔

اورمزید فرماتا ہے :

( قل لااسئلکم علیه اجرا الا الموده فی القربیٰ ) (شوریٰ٢٣)

''...اے رسول خدا!آپ کہہ دیجئے کہ میںتم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو...''

اس آیت کو گزشتہ آیت کے ساتھ ضمیمہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ جس دین کو خدائے متعال ہم سے چاہتا ہے اور اسے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا اجرقراردیتا ہے ،وہ ایسادین ہے جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت کی محبت سے جڑاہواہے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث متواتر ''سفینہ''میں فرماتے ہیں :

''مثل اهل بیتی کمثل سفینته نوح من رکبها نجا ومن تخلف عنها غرق'' (۱)

میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کے مانند ہے،جو اس پر سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے مخالفت کی وہ ہلاک ہوا۔

اور اسی طرح حدیث متواترثقلین میں :

(انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله وعترت اهل بیتی وانهما لن یفترقا حتی یر دا علّی الحوض،ماان تمسکتم بهما لن تضّلوابعد ابداً )(۲)

''میں تم میں دوگرانقدرچیزیں چھوڑے جاتا ہوں ،کتاب خدااورمیری عترت،اہل بیت علیہم السلام ۔یہ دونوں کبھی جدانہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثرپرمیرے پاس پہنچیں ۔اگر تم انھیں اختیارکئے رہو توکبھی گمراہ نہ ہو گے۔''

مذکورہ احادیث میںپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اوراپنے اہل بیت علیہم السلام کے درمیان چولی دامن کے ساتھ کی وضاحت فرماتے ہیں اورایک رسابیان سے سمجھاتے ہیں کہ مسلمان کو چاہئے کہ اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنا پیشوا قراردیں اوراپنے دین کو ان سے اخذ کریں ۔اور یہ وہی شیعہ مذہب ہے جسے آج دنیا کی تقریباًدس کروڑآبادی اپنارسمی مذہب جانتی ہیں ۔

جی ہاں!شیعہ مذہب وہی مقدس دین ہے جسے خدائے متعال نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تبلیغ کا اجر قراردیا ہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کاماحصل شمار کیا ہے ۔

شیعہ مذہب وہی گراں بہا دین ہے ،جس کی بقاء کے لئے اہل بیت اطہار علیہم السلام کے بارہ پیشوائوںمیں سے گیارہ نے اپنی جان کی قربانی دے کر اس کاتحفظ کیا ہے اور اس سے قبل جنگ احد میں پیغمبر اسلام کی جبین مبارک اوردہان مبارک کا مقدس خون بھی اس کی بقاء کے لئے زمین پر گراہے ۔

مذہب شیعہ وہی رنج ومصیبت دیدہ مذہب ہے ،جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران،تاریخ کی گواہی کے مطابق،مختلف مراحل میں اس کے دسیوں ہزاربلکہ لاکھوں پیروخاک وخون میں لت پت

ہوئے ہیں ،جن میں غیر معمولی ذہنیت کی شخصیتیں اور دانشوربھی شامل تھے ،جیسے شہید اوّل محمدبن مکی ،شہیدثانی زین الدین احسائی اورشہید سعیدقاضی نوراللہ شوشتری جو اس نورانی اور پر شکوہ آرام گاہ میں سوئے ہیں ...ہمیں ان آثار کا مشاہدہ کرکے اپنے اسلاف کی ان مجاہدتوں اور قربا نیوں کو یاد کرنا چاہئے ،جن کو انہوں نے خداکی راہ میں اس مذہب کے احیاء اور بقاء کے لئے پیش کی ہیں ،اوراس حق و حقیقت پر مبنی مذہب کے تحفظ ،اس کی اشاعت اورپھیلائوکے لئے پہلے مرحلہ میں اہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کے پیشوائوں نے اوردوسرے مرحلہ میں عظیم دانشوروں نے اس راہ میں جام شہادت نوش فرمایا ہے اور اس کے علاوہ لاکھوں بے گناہ پیر کاروں کے خون کی قیمت پر ہمارا یہ مذہب ہم تک پہنچا ہے ۔ہمیں اس راہ میں ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے :

( ولاتهنوا ولاتحزنوا وانتم العلون ان کنتم مؤمنین ) (۳)

محمد حسین طباطبائی

قم۔١٠رجب ١٣٩٠ھ

_________________

١۔درالمثور٣٣٤٣

٢۔احقاق الحق:٣٤١٩(عبارت میں تھوڑی سی تغیر کے ساتھ)

۳۔خبردار!سستی نہ کرنا ،مصائب پرمحزون نہ ہونا اگرتم صاحب ایمان ہوتوسربلندی تمہارے ہی لئے ہے (آل

عمران ١٣٩)


منابع اورمآخذ

١۔قرآن مجید

الف:

٢۔الاحتجاج ،احمدبن علی بن ابی طالب الطبرسی ،موسة الاعلمی للمطبوعات،موسسئہ اہل البیت علیہم السلام ،بیروت۔

٣۔احقا ق الحق ،سیدنور اللہ شوشتری،کتابفروشی اسلامیہ ،تہران۔

ب:

٤۔بحارالانوار،علامہ مجلسی ،موسستہ الوفائ،بیروت ،طبع دوم

ت:

٥۔تفسیر ابوالفتوح رازی ،شیخ ابوالفتوح رازی۔

٦۔التوحید،ابی جعفرمحمدبن علی بن الحسین ا بن بابویہ القمی ،الصدوق،دفترانتشارات اسلامی۔

د:

٧۔الدرّ المنثور،جلال الدین سیوطی ،دارالمعرفة للطباعة والنشر،بیروت۔

ر:

٨۔رسالئہ لقائیہ

٩۔روح المعانی ،آلوسی بغدادی ،داراحیاء التراث العربی، بیروت

ل:

١٠۔اللھوف فی قتلی الطفوف،علی بن موسی بن جعفر بن محمد طائوس،المطبعتہ الحیدریہ،نجف۔

م:

١١۔مجمع البیان فی تفسیر القرآن ،ابی علی الفضل بن الحسن الطبرسی،کتاب فروشی اسلامیہ۔

١٢۔مصباح الشریعہ،الامام جعفرالصادق علیہ السلام ، موسسئہ الاعلمی ،بیروت۔

١٣۔معالی السبطین ،محمد مھدی المازندرانی الحائری،تبریز۔


فہرست

عرض ناشر ۴

پہلا حصہ ۶

پہلا حصہ ۶

فطرت کی راہ ۶

اسلام اورہر زمانہ کی حقیقی ضرورتیں ۱۱

اسلام،ہر زمانہ کی ضرورتوں کوکیسے پورا کرسکتا ہے ؟ ۱۶

اجتماعی اورانسانی ضرورتوں کی تشخیص کا وسیلہ ۱۸

تربیت کے بارے میں اسلام کا نظریہ ۲۰

اسلام میں تعلیم وتربیت کی بنیاد ۲۲

فطری انسان کی قوّت فہم ۲۲

ثابت اور متغیرّ قوانین ۲۳

اسلام میں ثابت اور متغیّر قوانین ۲۵

ثابت قوانین ۲۵

متغیّر قوانین ۲۶

مطالب کی وضاحت ۲۷

ایک غلطی کا ازالہ ۲۸

خاتمیت کا مسئلہ ۳۰

کیاانسان عصر جدید میں وحی کا محتاج ہے؟ ۳۰

دوسرا حصہ: ۳۶


علمی ،فلسفی مسائل ۳۶

حدوث عالم پر برہان ۳۶

دوسرے انبیاء علیہم السلام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت ۳۷

اہل توحید کی شفاعت ۳۸

اسلام میں غلامی کی توجیہ ۳۹

انسان کا آدم و ہواسے پیدا ہو نا ۴۳

علم نفس اور معرفت نفس میں فرق ۴۴

معرفت نفس کا مطلب ۴۴

عرفان نفس اور معرفت پر وردگارکا رابطہ ۴۴

معرفت اور لقاء ا للہ کا مطلب ۴۵

نفس کی معرفت خدا کی معرفت کی کنجی ہے ۴۵

دومطالب کی وضاحت ۴۶

خود شناسی کے مقام پر فائز ہونا ۴۶

خداکی یاد کا مقصود کیا ہے ؟ ۴۶

کسی چیز سے محروم شخص وہ چیز عطا نہیں کر سکتا ۴۸

عالم ،تغییر وتحوّل کی حالت میں ۴۸

ثابت قوانین ۴۸

کائنات کا ارتقائی سفر ۴۹

تکامل و ارتقاء کے مراحل اورجدید قوانین ۵۰

کائنات میں تکامل وارتقاء کا عامل ۵۰


انسانی معاشرے اورتکامل و ارتقاء کا آہنگ ۵۱

انسانی معاشروے کے تکامل و ارتقاء کے اہم عوامل ۵۱

علم وغیرہ میں انسان کا تکامل و ارتقاء ۵۳

مجّردات کے وجود کو اثبات کے دلائل ۵۳

ختم نبوت کی عقلی دلیل ۵۴

عدالت اور عصمت میں فرق ۵۵

تکوین کا تغییر نا پذیر ہونا ۵۵

تشہد میں (ارفع درجتہ)کا مقصود ۵۶

گز شتہ سوالات کے مجدد جواب ۵۶

یونانی فلسفہ کے ترجمہ کا مقصد ۵۹

یونانی فلسفہ سے اسلامی معارف کی بے نیازی ۶۰

عصر ملاصدرا میں فلسفہ کا عروج ۶۱

قرآن مجیداورکلام معصومین (ع)سے حکماء اورفلاسفہ کے بیان کارابطہ ۶۱

فلاسفہ کی مذمت میں موجودہ روایتوں کی توجیہ ۶۱

تہذیب اخلاق کا شیوہ ۶۲

خلقت عالم کی کیفیت ۶۳

نبوت پرامامت کی برتری کا معیار ۶۴

خدائے متعال،خالق موجودات ۶۵

کیا مخلوقات،وہم وخیال ہیں ؟ ۶۵

ذات باری تعالےٰ کاکنہ کیا ہے ؟ ۶۶


ہوالاوّل والآخر کے بارے میں صوفیوں کانظریہ ۶۶

ممکنات کی نسبت علیّت واجب ۶۷

عدم زمانی سے مسبوق مادہ کی پیدائش ۶۹

ظلم کا وجود کیوں ہے ؟ ۶۹

انسان کی شخصیت اور قیامت کادن ۷۳

تیسراحصہ: ۷۴

خلقت اورقیامت کا مسئلہ ۷۴

خلقت کا مقصد کیا ہے ؟ ۷۴

سوال کی تحقیق اور اس کا تجزیہ ۷۴

غرض اورآرزوکی عمومیت ۷۶

کائنات کو خلق کرنے میں خدا کامقصد ۷۸

خدا کو کیا ضرورت ہے کہ انسان کی آزمائش کرے ؟ ۸۰

چھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کی خلقت ۸۱

قیامت پر اعتقاد رکھنے کے اثرات ۸۲

چوتھاحصہ: ۸۶

کچھ سوالات اورجوابات(١) ۸۶

مرداورعورت کے مساوی ہونے کی کیفیت اور عورتوں کی سیاست میں مداخلت: ۸۶

مرداورعورت کی وراثت کی کیفیت ۸۷

مرد اور طلاق کا حق ۸۷

اقتصادی امور میں عورت کی آزادی ۸۷


مرداور تعدّدازدواج ۸۸

دین اسلام کا بے عیب ہو نا ۸۹

دین اسلام کا فطری ہو نا ۹۰

کیا حضرت زینب (س)ولایت عہدی کے مقام پرفائز تھیں ؟ ۹۱

ازدواج اور خاندان کی تشکیل ۹۳

اسلام اور مسئلہ طلاق ۹۴

عورت اورہمسر کے انتخاب کا حق ۹۴

فرزند کا مردسے متعلق ہو نا ۹۴

حضرت علی علیہ السلام کی ایک فرمائش ۹۵

شریعت کے احکام و قوانین میں خدا کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا ہے ۹۵

اسلام اور ترقی یافتہ قوانین ۹۷

فحاشی اورمنکرات کا قبیح ہونا ۹۸

ایک ناشائستہ بات ۹۸

ازدواج میں عمر معیار نہیں ہے ۹۸

اسلام میں متعہ کا مشروع وجائزہونا ۱۰۰

مسلمانوں کی کمزوری کا اسلام سے کوئی ربط نہیں ہے ۱۰۱

قانون اور عدالت کے سامنے سب مساوی ہیں ۱۰۳

اسلام میں سور کے گوشت کے حرام ہونے کا فلسفہ ۱۰۳

اسلام میں مست کرنیوالی چیزوں کے حرام ہونے کافلسفہ ۱۰۴

مرد اور عورت کے درمیان جائز اور ناجائز تعلقات ۱۰۴


اسلامی احکام کا نا قابل تغیر ہو نا ۱۰۵

دین کے احکام کا قرآن وسنّت کی بنیاد پر قابل قبول ہونا ۱۰۵

مولا علی علیہ السلام کے کلام کی وضاحت ۱۰۵

دین اسلام ،خدائے متعال کا دین ہے ۱۰۶

ہلال ،اسلام کی علامت نہیں ہے ۱۰۷

چاند، آیات الہیٰ سے ایک آیت ہے ۱۰۷

اسلام میں عربی زبان کا مقام ۱۰۸

دنیا میں یہودیوں کی ذلت وپستی ۱۰۸

پانچواں حصہ : ۱۱۱

آواگون اورارواح کا پلٹنا ۱۱۱

حق کیا ہے ؟ ۱۱۱

چھٹا حصہ: ۱۱۹

علم امام علیہ السلام ۱۱۹

امام حسین علیہ السلام کا اپنی شہادت کے بارے میں آگاہ ہونا ۱۱۹

ساتواں حصہ: ۱۲۸

وہابی عقائد کا باطل ہو نا ۱۲۸

کیا انبیاء اوراولیاء سے توسّل کرنا شرک کی ایک قسم ہے ؟ ۱۲۸

آٹھواں حصہ: ۱۴۱

وجود اورماہیت ۱۴۱

''سوفسطائی'' یاوجود علم کے منکر ۱۴۱


نواں حصہ: ۱۴۶

اسلام کی ایک پہچان ۱۴۶

مباہلہ کا عمومی ہونا ۱۴۶

قرآن مجید کا تحریف سے پاک ہونا ۱۴۶

نبی اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فعل اور قول میں سہو کا نہ ہو نا ۱۴۷

قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی سند ۱۴۷

مصحف حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں ایک بات ۱۴۸

ائمہ اطہار کے بارے میں غلو کرنا جائز نہیں ہے ۱۴۹

''للّہ درّ فلان'' اور''کان للّہ رضاً'' کے معانی ۱۴۹

اتحاد اورمحبت کی دعوت ۱۵۰

مشرق وسطی میں انبیاء کی بعثت ۱۵۲

استعدادوں میں فرق ۱۵۲

حضرت خضراورحضرت موسیٰ علیہما السلام کے متعلق بعض شبہات ۱۵۳

تشریعی اوراعتباری ولایت ۱۵۴

انذار(ڈرانے)کے معنی ۱۵۴

حروف مقطعات کا مقصود ۱۵۵

قطبین پر نماز گزار اور روزہ دارکافریضہ ۱۵۵

شقّ القمر کے بارے میں ایک شبہ کا ازالہ ۱۵۵

ایک بے بنیاد بات ۱۵۷

چور کا ہاتھ کاٹنے کا فلسفہ ۱۵۷


دسواں حصہ: ۱۶۳

قرآنی علوم ۱۶۳

حروف مقطعات کس لئے ہیں ٰ؟ ۱۶۳

قرآن مجید کی بے احترامی ۱۶۷

گیارہواں حصّہ: ۱۶۹

چنداعتراضات اور ان کے جواب ۱۶۹

اسلام میں شبہ کے معنی ۱۶۹

پہلا اعتراض: ۱۶۹

''شیخیہ'' اور''کریم خانیہ''فرقے جسمانی معاد کے منکر ہیں : ۱۷۱

دوسرااعتراض: ۱۷۱

کیا عرفان اور تصّوف موردتائید ہے ؟ ۱۷۲

تیسرا اعتراض: ۱۷۲

ملائکہ کے ارادہ کی کیفیت ۱۷۳

چوتھا اعتراض: ۱۷۳

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں ایک روایت ۱۷۴

پانچواں اعتراض : ۱۷۴

فرعون اورمجرمین ۱۷۴

چھٹااعتراض ۱۷۴

قرآن مجید میں اصطلاح''حسنہ'' کے معنی ۱۷۵

ساتواںاعتراض: ۱۷۵


ربّیکی تعبیر میں اختلاف کی وجہ ۱۷۵

آٹھواں اعتراض : ۱۷۵

حضرت ایوب علیہ السلام کا قصّہ اوراختلافی روایتیں ۱۷۵

نواںاعتراض: ۱۷۶

( قل هونباء عظیم ) کے بارے میں ایک بحث ۱۷۶

دسواںاعتراض: ۱۷۶

شہیدشوشتری کے اعزاز میں منعقد کانفرنس میں علّامہ طباطبائی کا پیغام ۱۷۸

منابع اورمآخذ ۱۸۱