‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد اول)- جلد 1
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف ‏آيت اللہ ابراهیم امینی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : ‏تعلیم دین - ساده زبان میں-جلد اول

تالیف : آیة الله ابراهیم امینی

ترجمه :شیخ الجامعه مولانا الحاج اختر عباس صاحب

نظرثانی : حجة الاسلام مولانا نثار احمد صاحب

کتابت : جعفرخان سلطانپوری

ناشر : انصاریان پبلیکیشنز قم ایران

طبع : صدر قم

تعداد : سه هزار

تاریخ : ۱۴۱۴ ھ


عرض ناشر

کتاب تعلیم دین سادہ زبان میں حوزہ علمیہ قم کی ایک بلند پایہ علمی شخصیت حضرت آیة اللہ ابراہیم امینی کی گران مایہ تالیفات میں سے ایک سلسلہ ''آموزش دین در زبان سادہ کا اردو ترجمہ ہے _

اس کتاب کو خصوصیت کے ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے لئے تحریر کیا گیا ہے _ لیکن اس کے مطالب اعلی علمی پیمانہ کے حامل ہیں اس بناپر اعلی تعلیم یافتہ اور پختہ عمر کے افراد بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں _

بچوں اور جوانوں کی مختلف ذہنی سطحوں کے پیش نظر اس سلسلہ کتب کو چار جلدوں میں تیار کیا گیا ہے _ کتاب ہذا اس سلسلہ کتب کی چوتھی جلد کے ایک حصّہ پر مشتمل ہے جسے کتاب کی ضخامت کے پیش نظر علیحدہ شائع کیا جارہا ہے _

اس سلسلہ کتب کی امتیازی خصوصیات درج ذیل ہے _

_کتاب کے مضامین گوکہ اعلی مطالب پر مشتمل ہیں لیکن انھیں دل نشین پیرائے اور سادہ زبان میں پیش کیا گیا ہے تا کہ یہ بچّوں کے لئے قابل


فہم اور دلچسپ ہوں _

_اصول عقائد کے بیان کے وقت فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے ہوئے اتنا سادہ استدلالی طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ نو عمر طلبا اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں _

_مطالب و معانی کے بیان کے وقت یہ کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے والوں کی فطرت خداجوئی بیدار کی جائے تا کہ وہ از خود مطالب و مفاہیم سے آگاہ ہوکر انھیں دل کی گہرائیوں سے قبول کریں اور ان کا ایمان استوار پائیدار ہوجائے _

_ہماری درخواست پر حضرت حجة الاسلام و المسلمین شیخ الجامعہ الحاج مولانا اختر عباس صاحب قبلہ دام ظلہ نے ان چاروں کتابوں کا ترجمہ کیا _

ان کتابوں کا پہلا ایڈیشن پاکستان میں شائع ہواتھا اور اب اصل متن مؤلف محترم کی نظر ثانی کے بعد اور اردو ترجمہ حجة الاسلام جناب مولانا نثار احمد ہندی کی نظر ثانی اور بازنویسی کے بعد دوبارہ شائع کیا جارہاہے اپنی اس ناچیز سعی کو حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں _

_ ہماری دلی آرزو ہے کہ قارئین گرامی کتاب سے متعلق اپنی آراء اور قیمتی مشوروں سے مطلع فرمائیں _

والسلام ناشر محمد تقی انصاریان


بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

یہ کتاب جس کا نام تعلیم دین سادہ زبان میں رکھا گیا ہے '' آموزش دین '' نامی کتاب کا اردو ترجمہ ہے _ جو معارف اسلامی کے مبتدی طلبا کے لئے تدوین اور ترتیب دی گئی ہے _ اس کتاب کے پڑھنے سے اصول عقائد کے ایک کامل باب اور اخلاق و آداب اور احکام اسلامی کے ضروری حصّہ سے واقفیت حاصل کی جا سکتی ہے _ اس میں کسی استاد کی بھی ضرورت نہیں رہتی _ اس کتاب کو خود آموز بھی کہا جا سکتا ہے _ اگر چہ یہ کتاب سادہ زبان میں معارف اسلامی کے مبتدی طلبا کے لئے تدوین اور ترتیب دی گئی ہے لیکن اس کے مطالب بہت گہرے اور بلند پایہ ہیں کہ اس سے بڑے اور زیادہ استعداد رکھنے والے بھی مستفید ہوسکتے ہیں یہ کتاب چھ حصوں پر مشتمل ہے _

پہلا حصّہ خداشناسی _ دوسرا حصّہ معاد_ تیسرا حصّہ نبوت _ چوتھا حصّہ امامت پانچواں حصّہ احکام اور فروع دین اور چھٹا حصّہ اخلاق اور آداب کے بارے میں ہے اس کے ابتدائی حصّہ میں عقائد کا ایک پورا باب نہایت سادہ اور عام فہم ہے اور کچھ مطالب اخلاق و آداب اور ضروری احکام کے بارے میں ہیں_ اس کے حصّہ میں بھی اصول عقائد اور معارف اسلامی بیان کئے گئے ہیں لیکن طرز بیان ذرا


اونچی سطح پر رکھا گیا ہے دیگر وہ اسلامی احکام اور اخلاق و آداب بھی بیان کئے گئے ہیں جن کا جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے _ گویا اس کتاب کے دونوں حصوں کے مطالب ایک دوسرے سے مربوط اور جڑے ہوئے ہیں _ جیسے ایک بدن کے اعضاء اور جوارح ہر طرح ہم آہنگ اور جڑے ہوئے ہوتے ہیں _

اس کتاب میں مندرجہ ذیل امور کا لحاظ رکھا گیا ہے :

۱_ کتاب کے مطالب کو قصہ کے طور پر سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے تا کہ تمام لوگوں کے لئے موجب توجہ اور عام فہم ہوں اور ان کے اذہان میں بہتر طریقے سے اثر انداز ہوکر ان کے ایمان کے لئے موجب تقویت نہیں _

۲_ عقائد کا بیان استدلالی طور سے کیا گیا ہے اور اس کے دلائل سادہ اور مضبوط طریقے سے اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ جسکو ہر چھوٹا اور بڑا سمجھ سکے _

۳_ اس میں فلسفیانہ اور علم کلام کے مشکل طرز کے دلائل سے اجتناب کیا گیا ہے _

۴_ اللہ تعالی اور اس کے صفات کے اثبات کے لئے قرآنی طرز استدلالی کو اپنا یا گیا ہے _ یعنی جہان عالم اور نفوس انسانیہ کے مطالعے کو محور بنایا گیا ہے کہ جسے در حقیقت برہان نظم اور پیدائشے جہان کی غرض کے مشاہدہ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے _

۵_ مطالب کے بیان کرنے میں کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے والے کی جستجو اور خدا کی فطرت کو اجاگر کیا جائے تا کہ وہ ان مطالب کو سمجھ سکے اور اس کے اندر نور ایمان پیدا ہوجائے کہ اس قسم کا ایمان مضبوط اور مستحکم اور پائیدار ہوتا ہے _

۶_ اخلاق اور آداب کے بیان کرنے میں بھی یہی کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے


والے کی اس فطرت کو بیدار کیا جائے جو اچھائی کی طرف میلان رکھتی ہے اور کمال کو حاصل کرنے کی خواہشمند ہوتی ہے تا کہ اچھے اور بری صفات کا خود مشاہدہ کرتے ہوئے تکمیل کے راستے کو پالے اور اس کو اپنائے

۷_ ہر سبق کے آخر میں اس سبق کا خلاصہ اور ضروری مطالب کو سوال اور جواب کی صورت میں بیان کیا گیا ہے تا کہ پڑھنے والا ان کے جوابات دینے کے لئے دوبارہ اس سبق کو دیکھے اور پڑھے اور اپنی کوشش اور سعی سے اسے حل کرے

آخر میں یہ بتلانا ضروری ہے کہ یہ کتاب اگر چہ نئی اور حیرت انگیز ہے لیکن یہ کوئی نئی تالیف نہیں بلکہ وہی کتاب ہے کہ جس کا نام آموزش دین تھا جسے پانچ جلدوں میں چھاپا جا چکا ہے لیکن اب اسے'' انصاریان پیبلیشرز'' کی خواہش پر انہیں مطالب کو اس طرز بیان کے ساتھ تبدیل کرکے منظم کردیا گیا ہے _ اور یہ بتلانا بھی ضروری ہے کہ اس کے پہلے اور دوسرے حصّہ میں مسئلہ عدل اور دیگر فروعات دین سے بحث اس لئے انہیں کی گئی کہ اس کا سمجھنا اکثر پڑھنے والوں کے لئے مشکل تھا _ انشاء اللہ یہ مطالب اس کتاب کے تیسرے اور چوتھے حصّہ میں بیان کئے جائیں گے _ امید ہے کہ یہ کاوش بارگاہ خدا میں مقبول اور پڑھنے والوں کے لئے فائدہ مند اور قابل توجہ قرار پائے

ابراہیم امینی

قم _ حوزہ علمیہ

بہمن ماہ سنہ ۱۳۶۱ شمسی


پہلا حصّہ

خداشناسی


پہلا سبق

۱ مچھلی

کیا آپ کے گھر میں مچھلی ہے ؟

کیا آپ مچھلی کو پسند کرتے ہیں؟

مچھلی کہاں زندگی گزارتی ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ مچھلی کس ذریعہ سے پانی میں تیرتی ہے؟

اگر مچھلی کے پر نہ ہوں تو کیا وہ پانی میں تیر سکے گی ؟

کیا مچھلی نے اپنے لئے پر خود بنا لے ہیں؟

نہیں مچھلی نے اپنے پر خود نہیں بنالے اور نہ ہی کسی انسان نے اس کے پر بنائے ہیں بلکہ خداوند قادر و مہربان جانتا تھا کہ اس خوبصورت حیوان کے لئے پر ضرور ی ہیں اس لئے اسے پر عطا کئے تا کہ وہ پانی میں تیر سکے

گھر میں کسی برتن میں مچھلی ڈالٹے اور اپنے دوست کے ساتھ مل کر دیکھئے اور دیکھئے کہ مچھلی کس طرح سانس لیتی ہے ؟ کس طرح تیرتی ہے ؟ کس طرح پانی میں اوپر نیچے جاتے ہیں؟ کس وقت اپنی دم ہلا تی ہے ؟ اس وقت اپنے دوست سے پوچھئے _ کہ مچھلی کو کس نے پیدا کیا ہے _


دوسرا سبق

پانی میں مچھلی کا دم کیوں نہیں گھٹتا

ایک دن احمد بچوں کے ساتھ گر میں کھیل رہا تھا_ اس کی ماں نے کہا _ بیٹا احمد ہوشیار حوض کے نزدیک نہ جانا _ ڈرتی ہوں کہ تم حوض میں نہ گرپڑو کیا تم نے ہمسائے کے لڑکے حسن کو نہیں دیکھا تھا کہ وہ حوض میں گر کر مرگیا تھا؟ احمد نے کہا اماں جان ہم اگر حوض میں گر جائیں تو مرجاتے ہیں _ اور مچھلیاں پانی کے نیچے رہتے ہوئے کیوں نہیں مرجاتیں؟ دیکھئے وہ پانی میں کتنا عمدہ تیر رہے ہیں ؟ اس کی ماں نے جواب دیا _ انسان کے لئے سانس لینا ضروری ہے تا کہ وہ زندہ رہ سکے _ اسی لئے ہم پانی کے نیچے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن مچھلی کے اندر ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے ذریعے پانی میں سانس لے سکتی ہے اور جو تھوڑی بہت ہوا پانی کے اندر موجود ہے اس سے استفادہ کرتی رہتی ہے_ اسی لئے وہ پانی کے اندر زندہ رہ سکتی

کون مچھلی کیلئے فکرکررہا تھا

احمد نے ماں سے پوچھا: اماں جان کون مچھلی کے لئے ایسا فکر کررہا تھا _ مچھلی از خود تو نہیں جانتی تھی کہ کہاں اسے زندہ رہنا چاہی ے اور کون سی


چیز اس کے لئے ضروری ہے _

اس کی ماں نے جواب دیا : بیٹا خدائے علیم اور مہربان مچھلی کے لئے فکر کررہا تھا _ اللہ تعالی جانتا تھا کہ اس خوبصورت جانور کو پانی کے اندر زندگی گزارنا ہے _ اس لئے اس نے مچھلی کے اندر ایسا وسیلہ رکھ دیا کہ جس کے ذریعہ سے وہ سانس لے سکے مچھلی پانی میں آبی پھپیھڑوں کے ذریعہ سانس لیتی ہے _

سوالات

۱_ احمد کی ماں کو کس چیز کا خوف تھا؟

۲_ ہمسائے کے لڑکے کا کیا نام تھا؟

۳_ وہ کیوں ڈوب گیا ؟

۴_ کیا وہ تیرنا جانتا تھا؟

۵_ کیا انسان پانی میں زندہ رہ سکتا ہے؟

۶_ پانی میں مچھلی کیوں نہیں مرتی؟

۷_ کون سی ذات مچھلی کے فکر میں تھی؟

۸_ کسی نے مچھلی کو پیدا کیا ؟

درج ذیل جملے مکمل کیجئے

اللہ _ جانتا _ کہ اس خوبصورت جانور کو پانی کے اندر زندگی گزارنی ہے اس کے لئے _ کہ جس کے ذریعے وہ وہاں سانس لے سکے


تیسرا سبق

۳ داؤد اور سعید سیر کو گئے

داؤد اور سعید باپ کے ساتھ باغ میں سیر کرنے گئے _ باغ بہت خوبصورت تھا درخت سرسبز اور بلند تھے _ رنگارنگ عمدہ پھول تھے _ باغ کے وسط میں ایک نہر گزرتی تھی کہ جس میں بطخیں تیر رہی تھیں _ بطخیں بہت آرام سے پانی میں تیر رہی تھیں وہ پانی میں اپنا سرڈبوکرکوئی چیز پکڑکرکھارہی تھیں _ اچانک سعید نے ایک چڑیا دیکھی کہ جس کے پر تر ہو چکے تھے اور وہ نہیں اڑ سکتی تھی اس نے داؤد سے کہا:

بھائی جان دیکھئے : اس بیچاری چڑیا کہ پر پھیگ چکے ہیں اور وہ نہیں اڑ سکتی داؤد نے ایک نگاہ چڑیا پر او دوسری نگاہ بطخوں پر ڈالی اور تعجب سے کہا کہ بطخوں کے پر کیوں نہیں بھیگتے کتنی آرام سے پانی میں تیر رہی ہیں اور جب پانی سے باہر آتی ہیں تو اس کے پر اس طرح خشک ہوتے ہیں _ جیسے وہ پانی میں گئی ہی نہیں _ سعید نے ایک نظر بطخوں پر ڈالی اور کہا آپ سچ کہہ رہے ہیں _ لیکن مجھے یہ علم نہیں کہ ایسا کیوں ہے ؟ بہتر یہی ہے کہ یہ بات اپنے والد سے پوچھیں کہ بطخوں کے پر کیوں نہیں بھیگتے اور چھڑیوں کے پر کیوں بھیگ جاتے ہیں

بطخوں کے پر کیوں نہیں بھیگتے

سعید اور داود ڈرتے ہوئے والد کے پاس گئے اور ان سے کہا _ ابا جان آیئےطخوں کو پانی میں تیرتے دیکھئے کہ ان کے پر بالکل نہیں بھیگتے _ ابا جان بطخوں کے پر کیوں


نہیں بھیگتے ؟ یہ سب نہر کے کنارے آئے _ والد نے کہا: شاباش ابھی سے ان چیزوں کو سمجھنے کی فکر میں ہو انسان کو چاہیئے کہ وہ جس چیز کو دیکھے اس میں غور و فکر کرے اور جسے نہیں جانتا وہ اس سے پوچھے کہ جواسے جانتا ہے _ تا کہ یہ بھی اس سے آگاہ ہوجائے _

خوبصورت بطخوں کو خدا نے پیدا کیا ہے

چونکہ بطخوں کے پر چکنے ہوتے ہیں اس لئے پانی کا ان پر اثر نہیں ہوتا ہے اگر بطخوں کے پر چکنے نہ ہوتے تو پانی میں بھیگ جاتے اور بھاری ہوجاتے اور مرغابی پانی میں نہ تیر سکتی اور نہ ہوا میں اڑسکتی _

سعید نہ کہا: ابا جان یہ حکمت کس ذات کی تھی؟ بطخیں خود تو نہیں جانتی تھیں کہ کس طرح اور کس ذریعے سے وہ اپنے پروں کو چکنا بنائیں _ باپ نے جواب دیا : عالم اور مہربان خدا کہ جس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے _ وہ جانتا تھا کہ بطخوں کو پانی میں تیرنا ہے انہیں اس طرح پیدا کیا کہ ان کے پر ہمیشہ چکنے رہیں تا کہ وہ آسانی کے ساتھ پانی میں تیرسکیں _ اور ہوامیں اڑسکیں _

سوالات

۱_ سعید اور داؤد باغ میں کس لئے گئے تھے؟

۲_ انہوں نے باغ میں کیا دیکھا؟


۳_ نہر کے کنارے چڑیا کیوں گری پڑی تھی اور اڑنہیں سکتی تھی؟

۴_ سعید کو کس چیز سے تعجب ہوا؟

۵_ انسان کو جب کسی چیز کا علم نہ ہو تو کیا کرے ؟

۶_ سوال کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟

۷_ جب کسی چیز کو نہ جانے تو کس سے پوچھے؟

۸_ اگر بطخ کے پر چکنے نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟

۹_ کیا بطخیں جانتی تھیں کہ اس کے پروں کو چکنا ہونا چاہیئے؟

۱۰_ کس نے بطخ کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کے پر ہمیشہ کیلئے چکنے ہوتے ہیں؟

۱۱_ ان چیزوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟

یہ جملے مکمل کیجئے

۱_ خوبصورت بطخوں کو ... ... کسے پیدا کیا ہے

۲_ شاباش ابھی سے تم ... ... کے سمجھنے کی فکر میں ہو

۳_ ہم جن چیزوں کو دیکھتے ہیں اس میں ... ... کریں

۴_ اور جسے نہیں جانتے وہ اس سے ... ... جو اسے جانتا ہے

۵_ چونکہ بطخوں کے پر ... ... ... پانی کو وہاں تک نہیں پہونچنے دیتے

۶_ اگر بطخوں کے پر چکنے نہ ہوتے تو ... ... ... جاتے

۷_ اللہ تعالی کی ... ... ... مہربان ذات کہ جسے تمام چیزوں کو پید اکیا ہے ... ... کہ بطخوں کو ... میں تیرنا ہے انہیں ... ... کہ انکے پر ہمیشہ چکنے رہیں

۸_ تاکہ وہ آسانی ... پانی میں ... اور ہوا میں ... سکے

۹_ اللہ تعالی کی ... ... مہربان ذات ... ... ... بطخوں کی فکر میں بھی تھی


چوتھاسبق

۴ خوبصورت نو مولود بچہ

زہرا کا ایک بھائی پیدا ہوا جس کا نام مجید تھا _ زہرا بہت خوش تھی اور اسے اپنے نو مولود بھائی سے بہت محبت تھی _ ایک دن اپنے بھائی کے گہوارے کے پاس کھڑی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی تھوڑی دیر بعد اپنی ماں سے کہنے لگی اماں جان مجید کب بڑا ہوگا تا کہ وہ مجھ سے کھیل سکے : میں اپنے بھائی کو بہت چاہتی ہوں اس کی ماں نے کہا: پیاری زہرا صبرکرو _ انشاء اللہ مجید بڑا ہوگا اور تم آپس میں کھیلوگی اچانک مجید جاگ اٹھا اور اپنی نحیف آواز سے رونا شروع کردیا _ زہرا بے تاب ہوکر ماں سے کہنے لگی : اماں جان مجید کیوں رورہا ہے _ اس کی ماں نے جواب دیا _ شاید یہ بھوکا ہے _ زہرا دوڑی اور تھوڑی سی مٹھائی لے کر اس کے منھ میں ڈالنے لگی : جلدی سے ماں نے کہا پیاری زہرا مجید مٹھائی نہیں کھا سکتا _ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اس کے دانت نہیں ہیں خبردار کوئی چیز اس کے منہ میں نہ ڈالنا _ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ گلے میں پھنس جائے اور اس کا دم گھٹ جائے _ زہرا نے پوچھا پھر مجید کی غذا کون سی ہے _ ماں نے کہا: بیٹی مجید کی غذا دودھ ہے _ وہ دودھ پی کر یسر ہو تا ہے _ ماں اٹھی اور اس نے نو مولود کو دامن میں لے کر اپنے پستان اس کے منہ میں دے دیئے مجید نے ماں کے پستان منہ میں لے کر اپنے نازک لبوں سے انہیں چومنا شروع کردیا _ زہرا نے تھوڑی دیر مجید کو اور ماں کو دیکھا: اور پھر تعجب سے بولی اماں جان


کیا آپ کے پستانوں میں اسے سے پہلے بھی دودھ تھا ؟ ماں نے کہا : نہیں ان میں پہلے دودھ نہ تھا : لیکن جس دن سے مجید نے دنیا میں قدم رکھا ہے میرے پستانوں میں دودھ بھر گیا ہے _ زہرا بولی اماں جان آپ کیسے مجید کے لئے دودھ بناتی ہیں ماں نے کہا کہ دودھ کا بن جانا میرے ہاتھ میں نہیں ہے میں غذا کھاتی ہوں : غذا سے دودھ بن جاتا ہے _ زہرا بولی کہ آپ اس سے پہلے بھی تو غذا کھاتی تھیں تو اس وقت یہ دودھ کیوں نہیں بنتا تھا؟ ماں نے جواب دیا صحیح ہے : میں اس سے پہلے بھی ہی غذا کی فکر تھی_ خدا جانتا تھا کہ جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو اسے غذا کی ضرورت ہوتی ہے _ اور خدا یہ بھی جانتا تھا کہ مجید کے دانت نہیں ہیں اور وہ ہماری طرح غذا نہیں کھا سکتا اسی لئے خدا نے اس کی ماں کے پستانوں کو دودھ سے بھردیا ہے تا کہ ناتواں بچہ بہتر اور سالم غذا کھا سکے _ پیاری زہرا دودھ ایک مکمل غذا ہے جس میں بچے کے بدن کی تمام ضروریات موجود ہیں _ اور بچہ آسانی سے اسے ہضم بھی کر سکتا ہے _ زہرا نے کہا اماں جان ہمارا خدا کتنا مہربان اور جاننے والا ہے _ اگر دودھ نہ ہوتا تو چھوٹا بچہ کیا کھاتا _ ماں نے کہا جی ہاں بیٹا خدا ہی تو ہے جس نے بچہ کو پیدا کیا ہے اور اسے غذا دیتا ہے _ خدائے مہربان ہی صحیح اور سالم دودھ بچے کے لئے بناتا ہے _ خداوند عالم کو بچے کی کمزوری کا علم تھا اسی لئے اسنے بچہ کی محبت ماں کے دل میں ڈالی تا کہ وہ اس کی نگہداشت اور پرورش کرے


خداوند عالم نے کمزور اور بے زبان بچے کو یہ سکھایا ہے کہ جب وہ بھوکا ہو تو وہ رونا شروع کردے تا کہ ماں اس کی مدد کرے_

سوچ کران سوالوں کا جواب دیجئے

۱_ جب زہرا نے مجید کو دیکھا تھا تو اس نے اپنی ماں سے کیا کہا؟

۲_ کیا زہرا اپنے بھائی سے محبت کرتی تھی؟ اس کی دلیل دیجئے؟

۳_ کیا دودھ کا بنانا ماں کی قدرت میں ہے _ اورکیوں؟

۴_ یہ بات تمہیں کہاں سے معلوم ہوئی کہ خداوند عالم کو مجید کے مستقبل کا علم تھا ؟

۵_ کیسے علم ہوا ہے کہ خداوند : عالم اور مہربان ہے ؟

۶_ اگر دودھ نہ ہوتا تو نو مولود بچے کیا کھاتے ؟

۷_ اگر ماں کو بچے سے محبت نہ ہوتی تو کیا ہوتا ؟

۸_ کس نے بچے کی محبت ماں کے دل میں ڈالی ہے ؟

۹_ اگر بچہ بھوک کے وقت نہ روتا تو کیا ہوتا ؟

۱۰_ اگر بچہ چو سنا نہ جانتا تو ماں اسے کیسے دودھ دیتی ؟

۱۱_ رونا اور چوسنا کس نے بچہ کی فطرت میں رکھا ہے ؟


پانچو سبق

۵ چروا ہے نے درس دیا

اکبر اور حسین چھٹی کے دن علی آباد نامی گاؤں میں گئے _ علے آباد بہت خوبصورت اور آباد گاؤں ہے اس میں بڑے بڑے باغ اور سبز کھیت ہیں گائے اور بھیڑوں کے گلے آبادی کے اطراف میں چرر ہے تھے _ بکریوں اوربھیڑوں کے بچے اپنی ماؤں کے ساتھ کھیل کودرہے تھے _ اکبر اور حسین ان کا تماشا دیکھ کر لطف اندوز ہورہے تھے _ اچانک اکبر کی نگاہ ایک خوبصورت بھیڑ پر پڑی جس نے ابھی بچہ جنا تھا اور وہ اسے چاٹ رہی تھی _ اکبر نے چروا ہے سے کہا کہ یہ بھیڑ کیوں اپنے بچے کو چاٹ رہی ہے ؟ چروا ہے نے کہا : اس بھیڑنے ابھی بچہ جنا ہے _ بچے کو دوست رکھتی ہے اور اسے صاف کرنا چاہتی ہے _ بچہ صاف ستھرا ہوگیا اور ماں کے تھنوں کی طرف لپکا _ تھن کو منہ میں لیا اور دودھ پینا شروع کردیا _ اکبر نے حسین سے کہا: اس بچے کو دیکھو ابھی دنیا میں آیا ہے لیکن فوراماں کے تھن معلوم کرلئے ہیں اسے کہاں سے معلوم ہوگیا کہ تھنوں میں دودھ ہے اور تھین ماں کے پیٹ کے نیچے ہے ؟ کس نے اسے یہ بتلایا ہے _ اس چوٹے بچے نے اس فہم اور دانائی کو کس سے سیکھا ہے ؟

چرواہا اکبر اور حسین کی یہ گفتگو سن رہا تھا _ اس نے کہا : پیارے بچو اللہ تعالی جو مہربان اور علیم ہے اس نے ایسی سمجھ چھوٹے بچے کو عطا کردی ہے یہ بچہ بھوکا ہے اور علم ہے کہ ماں کے تھنوں میں دودھ ہے اور وہ ماں کے پیٹ کے نیچے ہیں


اور وہ بھی جانتا ہے اسکے علاوہ اور غذا اس کے لئے اچھی نہیں ہے _ یہ تمام چیزیں اللہ تعالی نے اسے سکھائی ہیں اگر بچے کو ان چیزوں کا علم نہ ہو تو ممکن ہے کہ یہ مرجائے حسین نہ کہا: اچھا ہے کہ دودھ اس کے گلے میں نہیں پھنستا ور نا یہ مرجاتا _ چرواہے نے کہا : پیارے بچو اللہ بہت دانا اور بہت مہربان ہے اس نے تھنوں میں بڑا سوراخ نہیں رکھاتا کہ اس سے زیادہ دودھ نہ نکل آئے اور بچے کے گلے میں پھنس جائے تھنوں کے سرپر کئی ایک چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں کہ بچے کو چوسنے سے اس سے دودھ باہر آتا ہے _ اس کے علاوہ تھنوں کے سرے کو اس طرح بنا دیا گیا ہے کہ بچہ بہت آسانی سے اس کو منہ میں لے کر دودھ پی لیتا ہے _

سوچ کر جواب دیجئے

۱_ تم نے جب بچہ پیدا ہوتا دیکھا تو وہ کیا کرتا ہے ؟

۲_ اگر بچہ کو علم نہ ہوتا کہ دودھ کے تھن کہاں ہیں تو کیا ہوتا؟

۳_ اگر بچہ سنا نہ چانتا تو کیا ہوتا؟

۴_ جب بچہ بھوکا ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے ؟

۵_ کس نے یہ ہوش اور دانانی بھیڑ کے بچے کو عنایت کی ہے ؟

۶_ آیا تم نے کبھی بھیڑ کے بچے کو بغل میں لیا ہے کیا تم نے کبھی اسے بوتل سے دودھ پلایا ہے؟

۷_ اگر تھنوں کا سوراخ بڑا ہوتا تو کیا ہوتا؟

۸_ چروا ہے نے اکبر اور حسین کو کون سا درس دیا ؟


چھٹا سبق

۶ہوشیار لڑکا

حسن تیسری جماعت میں پڑھتا تھا وہ بہت ہوشیار اور چالاک تھا _

وہ اپنا سبق اچھی طرح سمجھنا چاہتا تھا اور ہر چیز میں غور و فکر کرتا تھا _ اگر اسے کوئی چیز سمجھ نہ آتی تو پوچھا کرتا تھا ایک دن استاد کلاس میں کہہ رہا تھا کہ ہمارے بدن کے لئے مختلف اقسام کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے _ غذا ہماری بھوک کو دور کرنے کے علاوہ ہمارے بدن کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے _ ہر ایک غذا کی علیحدہ خاصیت ہوتی ہے _ ہم کو دوڑ نے اور کھیلنے کو دنے کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے _ بدن کی طاقت ہمیں گرم رکھنے کے ساتھ ہمیں کام کرنے اور کھیلنے کی طاقت بھی پہنچاتی ہے _ بعض غذائیں ہمیں طاقت ہم پہنچاتی ہیں جیسے آلو _ چاول_ مٹھاس_ روغن_ کھجور _ سیب _ کشمش _ بادام و غیرہ ہر آدمی کو ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جو لوگ زیادہ کام کرتے ہیں انہیں ان کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے _ بعض غذائیں بدن کے بڑا ہونے اور طاقت پیدا کرنے کے لئے بہت ضروری ہیں _ جیسے گوشت _ انڈا _ دودھ و غیرہ ہمارا بدن وٹامن اور معدنی اجزاء کا بھی محتاج ہے _پھل فروٹ اور سبزیوں میں وٹامن ہوتی ہے _ گوشت _ دودھ _ جگر _ انڈے اور دوسری بعض سبزیوں میں معدنی اجزا ہوتے ہیں _ ہمارے بدن کو سالم رہنے اور غور کرنے کے لئے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے اور جن چیزوں کی بھی اسے ضرورت ہوتی ہے وہ تمام کی تمام


مختلف غذاؤں میں پائی جاتی ہیں _ ہمیں مختلف قسم کے میوے اور غذائیں کھانی چاہیئےا کہ پڑھ سکیں اور صحیح و سالم رہ سکیں _ حسن نے استاد سے اجازت لیتے ہوئے کہا: میرا خیال تھا کہ غذا صرف بھوک کو ختم کرتی ہے _ لیکن اب سمجھ میں آیا کہ ہمارے بدن کی طاقت اور سلامتی میں بھی مختلف غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے _ اب میں متوجہ ہوا کہ ہمیں بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے _ استاد نے کہا کہ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ جن چیزوں کی ہمارے بدن کو ضرورت ہوتی ہے وہ اس دنیا میں موجود ہیں _ مختلف قسم کے میوے _ مختلف قسم کی سبزیاں _ چاول _ گیہوں _ چنے _ دلیں _ بادام یہ تمام چیزیں موجود ہیں _ درخت ہم کو میوے دیتے ہیں _ حیوانات ہمیں دودھ اور گوشت دیتے ہیں _ بچو کون ذات ہے جو ہمارے لئے ان چیزوں کو فراہم کرتی ہے _ اور ہماری تمام ضروریات سے واقف ہے _ جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی اسے پہلے پیدا کردیا ہے _ تمام شاگردوں نے بیک آواز کہا _ خدا خداخدا _ استاد کہنے لگا _ ہاں _ وہی خدا دانا اور قادر ہے

سوالات

۱_ جب ہمیں کوئی چیز سمجھ نہ آئے تو کیا کریں اور کس سے پوچھیں؟

۲_ آج تم نے صبح کیا غذا کھائی تھی کیا اس غذا کے فوائد بتلاسکتے ہو؟

۳_اگر کچھ دن غذا نہ کھائیں تو کیا حالت ہوجائے گی اور کیوں؟

۴_ تم اپنے بدن کی ضروریات کو گنوا سکتے ہو؟

۵_ اپنے بدن کی ضروریات کو کس طرح پورا کروگے ؟


۶_ حیوان اور سبزیاں ہمارے کس کام آتی ہیں؟

۷_ کون سی ذات ہمارے ان چیزوں کو فراہم کرتی ہے ؟

۸_ اس عالم میں ہمارے ذمّے کون سی خدمت انجام دینی لازم قرار دی گئی ہے؟


ساتواں سبق

۷ اس کی نعمتیں

ہم منہ رکھتے ہیں کہ جس سے غذا کھاتے ہیں اور اس سے باتیں کرتے ہیں

ہم ہاتھ رکھتے ہیں کہ جس سے غذا اٹھاتے ہیں اور کام کرتے ہیں

ہم آنکھ رکھتے ہیں کہ جس سے دیکھتے ہیں

ہم کان رکھتے ہیں کہ جس سے سنتے ہیں

ہم پاؤں رکھتے ہیں کہ جس سے چلتے اور دوڑتے اور کھیلتے ہیں آیا تمہیں علم ہے کہ

کون سی ذات ہے کہ جو ہماری تمام ضروریات کو جانتی تھی اور انکو ہمارے لئے ضرورت جانتے ہوئے خلق کیا ہے

جو چیز بھی ہماری زندگی کے لئے ضروری تھی اس نے ہمیں عنایت کی ہے اب ان تمام نعمتوں کے عوض ہمارا فرض کیا ہے ؟

مہربان خدا

خدا ہمیں دوست رکھتا ہے _ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور یہ تمام نعمتیں ہمیں عنایت کی ہیں _ آنکھ دی ہے تا کہ ہم دیکھ سکیں _ کان دیئےیں تا کہ ہم سن سکیں _ زبان دی ہے تا کہ ہم بول سکیں اور غذا کا مزا چکھ سکیں _ پاؤں


دیئےیں تا کہ چل سکیں _ ہاتھ دیئےیں تا کہ کام کرسکیں اور دوسروں کی مدد کرسکیں عقل دی ہے تا کہ اچھائی او ر برائی کو سمجھ سکیں _ اگر ہم آنکھ _ کان _ زبان _ ہاتھ پاؤں اور عقل نہ رکھتے تو کس طرح زندگی بسر کرسکتے تھے ؟؟

سوالات

۱_ آنکھ سے کیا کام لیتے ہیں؟

۲_ کان سے کیاکام لیتے ہیں؟

۳_ زبان سے کیا کام لیتے ہیں؟

۴_ ہاتھ سے کیا کام لیتے ہیں؟

۵_ پاؤں سے کیا کام لیتے ہیں؟

۶_ عقل سے کیا کام لیتے ہیں؟

۷_ یہ تمام نعمتیں کس نے ہمیں دی ہیں؟

۸_ کیاخدا ہمیں دوست رکھتا ہے ؟

۹_ کہاں سے معلوم ہوا ہے کہ خدا ہمیں دوست رکھتا ہے ؟

۱۰_ اگر آنکھ نہ ہوتی تو کیا ہوتا ؟

۱۱_ اگر کان نہ ہوتے تو کیا ہوتا ؟

۱۲_ اگر زبان نہ ہوتی تو کیا ہوتا ؟

۱۳_ اگر ہاتھ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

۱۴_ اگر پاؤں نہ ہوتے تو کیا ہوتا ؟


۱۵_اگر عقل نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟

ان جملوں کو مکمل کیجئے

۱_ خدا ہمیں ... رکھتا ہے اسنے ہمیں پیدا کیا ہے اور ... کی ہیں

۲_ زبان دی ہے تا کہ ... سکیں اور غذا کا مزا چکھ سکیں

۳_ ہاتھ دیئےیں تا کہ ... اور دوسروں کی ... کرسکیں

۴_ عقل دی ہے تا کہ ... سمجھ سکیں


آٹھواں سبق

۸ اللہ کی نعمتیں

خدا مہربان ہے اس نے ہمیں بہت کی نعمتیں دی ہیں _ ہوا پیدا کی تا کہ سانس لے سکیں _ پانی پیدا کیا تا کہ اسے پیئں اور اپنے آپ کو دھوئیں _ درخت اور جڑی بوٹیاں پیدا کیں _تا کہ میھٹے اور خوش ذائقہ میوے کھائیں اور عمدہ غذائیں بنائیں _ اگر ہوا پانی درخت نہ ہوتے تو ہم کیسے زندہ رہتے _ خدا ہم پر بہت مہربان ہے کہ جس نے ہمیں یہ نعمتیں فائدہ حاصل کرنے کے لئے عنایت کیں _ ہم بھی شفیق اور مہربان خدا سے محبت کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں _ خدا ہم پر مہربان ہے اور ہماری اچھائی اور ترقی چاہتا ہے _ ہم بھی اللہ تعالی کے دستور کی پیروی کرتے ہیں تا کہ ہمیشہ کے لئے سعادت مند زندگی بسر کرتے رہیں _

سوالات

۱_ کس طرح ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خدا ہم پر مہربان ہے ؟

۲_ خدا کا شکر کیوں ادا کریں؟

۳_ اللہ تعالی کی پانچ نعمتوں کا نام بتایئے

۴_ اگر سعادتمند ہونا چاہیں تو کس کے دستور پر عمل کریں؟


مندرجہ ذیل جملوں کو مکمل کیجئے

۱_ خدا ... ہے اس نے ہمیں بہت ... دی ہیں

۲_ ہوا پیدا کی تا ... ... پانی پیدا کیا تا

۳_ ہم بھی شفیق اور مہربان خدا ...

۴_ خدا ہم پر مہربان اور ہماری ... چاہتا ہے

۵_ ہم بھی اللہ تعالی کے ... کرتے ہیں تا کہ ... زندگی بسر کرتے ہیں


نواں سبق

۹ علیم اور قادر خدا

ہمارا جسم مختلف قسم کی غذاؤں کا محتاج ہے_ اگر مختلف غذائیں نہ ہو تیں تو ہم کیا کرتے؟

بدن کی سلامتی کے لئے کچھ مقدار پانی پیتے ہیں اگر پانی نہ ہوتا تو ہم کیا کرتے ؟

اگر منہ نہ ہوتا : کہ جس سے پانی پیتے ہیں : تو کیا کرتے ؟

اگر دانت نہ ہوتے : کہ جس سے غذائیں چباتے ہیں تو کیا کرتے ؟ لیکن خوش بختی سے ہماری زندگی کی تمام وسائل اور ضروریات اس دنیا میں موجود ہیں _ مختلف قسم کے میوے کہ جن کی ضرورت ہے موجو د ہیں _ مختلف قسم کی سبزیاں کہ جن کی ضرورت ہے موجود ہیں _ پیاسے ہوتے ہیں تو پانی موجود ہے _ منہ موجود ہے کہ جس سے غذا کھاتے ہیں _ ہاتھ ہیں کہ جس سے غذا اٹھا کر منہ میں رکھتے ہیں _ معدہ اور آنتیں موجود ہیں جو غذا کو ہضم کرتی ہیں _ آنکھیں ہیں جس سے دیکھتے ہیں _ کان ہیں جس سے سنتے ہیں _ زبان رکھتے ہیں جس سے بولتے اور غذا کامزالیتے ہیں _ جو چیز بھی ہماری سلامتی اور رشد کے لئے ضروری تھی اس دنیا میں موجود ہے _

ان روابط اور ترتیب اور نظم سے جو ہمارے اور دوسرے جہاں میں موجودات کے ساتھ برقرار ہے اس سے ہم سمجھتے ہیں کہ

کوئی ذات عالم اور قادر ہے کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے اور وہ ذات ہماری فکر


میں پہلے سے تھے اور ہماری تمام ضروریات کو جانتی تھی اور وہ ذات خداوند عالم کی ہے کہ جو دانا اور توانا ہے اگر دانا اور عالم نہ ہوتا تو اسے معلوم نہ ہوتا کہ ہمیں کن چیزوں کی ضرورت ہے _ اور اگر توانا اور قادر نہ ہوتا تو ان چیزوں کو کہ جن کی ہمیں ضرورت تھی پیدا نہیں کر سکتا تھا _ اب ہم سمجھے کہ خدا عالم ہے یعنی دانا ہے اور خدا قادر ہے یعنی توانا ہے _

نظم و ترتیب

سورج نکلتا ہے گھاس اگتی ہے _ حیوانات گھاس کھاتے ہیں اور ہم انکے دودھ اور گوشت سے استفادہ کرتے ہیں _ پس سورج _گھاس _ حیوان اور انسان کے درمیان ایک ربط ہے

اگر سورج نہ نکلتے تو کیا ہوگا؟

اگر گھاس نہ اگے تو کیا ہوگا؟

اگر حیوانات نہ ہوں تو کیا ہوگا؟

یہ ربط جو ہمارے اور دنیا کے دوسرے موجودات کے درمیان ہے اس سے کیا سمجھتے ہیں:

کون سی ذات ہماری ضروریات کو جانتی تھی اور ان کو ہمارے لئے خلق کیا ہے _

کیا وہ ذات عالم و قادر ہے


کیسے جانا کہ وہ دانا اور توانا ہے؟

اگر وہ دانا نہ ہوتا تو اسے معلوم نہ ہوتا کہ

اگر توانا اور قادر نہ ہوتا تو وہ قدرت نہ ...

جی ہاں: وہ ذات دانا بھی ہے اور توانا بھی اور وہ ذات خدا کی ہے :

وہ مہربان ہے اور عطا کرنے والا ہے

ہم بھی اسے بہت دوست رکھتے ہیں اور اس کے حکم اور فرمان کو مانتے ہیں تا کہ ہمیشہ زندگی با سعادت بسر کرسکیں_


دسواں سبق

۱۰ میرا بہترین دوست

اس عنوان سے فارسی نظم پیش خدمت ہے

بارالہا دوست می دارم ترا ---- ای با جان و دل من آشنا

ای خدای بے شریک و بے قرین ---- درمیان دوستانم بہترین

نام زیبائے ترا دارم بہ لب ---- شکر می گویم ترا ہر روز و شب

آفریدی آسمانہا را چہ خوب ---- اختران و کہکشانہا را چہ خوب

آفریدی شب چراغ ماہتاب ---- از تو گرما بخش ماشد آفتاب

آفریدی بس شگوفان و قشنگ --- بوتہ ہا گلہا بہ صدہا شکل و رنگ

از برایم آفریدی رایگان ---- ہم پدر ہم مادری بس مہربان

این زبان و چشم و گوش و پا و دست ---- دارم از لطف تو ہر نعمت کہ ہست

مہربانااے خدائے خوب من! ---- دادہ ای تو این ہمہ نعمت بہ من

پس تو ہم بسیار داری دوستم ---- ای خدا اے مہربانتر دوستم

دادگر یارتوانائی منی؟؟ ---- بہترین ہمراہ دانای منی

ای کہ ہستی برتر از افکار من ---- آشناتر کن مرابا خویشتن

(حسان)

حبیب اللہ چایچیان


دوسرا حصّہ

معاد ''یعنی'' قیامت


پہلا سبق

بطخیں کب واپس لوٹیں گی

داؤد اور سعید اپنے باپ کے ساتھ باغ میں گئے _ سردی کا زمانہ تھا درختوں کے پتے خشک اور بے جان ہو کر زمین پر گرے پڑے تھے _ باپ نے کہا پیارے بیٹو درختوں کو دیکھو یہ سرسبز نہیں ہیں _ ان کے سرسبز پتے تمام خشک ہوچکے ہیں _ اور بے جان ہوکرزمین پر گر پڑے ہیں _ وہ خوبصورت بطخیں بھی یہاں سے چلی گئی ہیں _ داؤد نے پوچھا _ ابا جان کیا بطخیں اب پھر یہاں نہیں آئیں گی ہم بطخوں کو نہیں دیکھ سکیں گے باپ نے جواب دیا کیوں نہیں جب بہار کا موسم آئے گا اور خدا اس باغ کو دوبارہ شاداب کرے گا اوریہ سرسبز ہوجائے گا تو بطخیں بھی دوبارہ لوٹ آئیں گی _ سعید نے پوچھا ابا جان : ہم بھی جب مرجائیں گے تو خدا ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا ؟ باپ نے کہا_ جی ہاں_ ہم بھی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے اور اپنے کئے کا نتیجہ دیکھیں گے _ نیک لوگ جنت میں اور برے لوگ جہنم میں جائیں گے _

سوالات

۱_ داؤد اور سعید باپ کے ساتھ کس موسم باغ میںگئے ؟

۲_کیا سردی کے موسم میں باغ سرسبز اور شاداب تھا؟


۳_ درختوں کے پتے کس موسم میں بے جان ہوکر گر پڑتے ہیں؟

۴_ باپ نے درختوں کے بارے میں داؤد اور سعید سے کیا کہا؟

۵_ اس باغ سے بطخیں کیوں چلی گئی تھیں؟

۶_ باغ کس موسم میں سرسبز ہوتا ہے ؟

۷_ کیا بطخیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی ؟

۸_ کون سی ذات باغ کو دوبارہ سرسبز و شاداب کرتی ہے؟

۹_ جب ہم مرجائیں گے تو دوبارہ کون زندہ کرے گا؟

۱۰_ جب خدا ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا تو ہم کہاں جائیں گے ؟

ان جملوں کو مکمل کیجئے

۱_ سردی کا زمانہ تھا درختوں کے ہو کر زمین پر گر پڑے تھے

۲_ ان کے سرسبز ... گر چکے ہیں

۳_ جب بہار کا ... آئے گا تو وہ اس باغ کو ... کرے گا

۴_ باپ نے کہا جی ہاں ہم بھی ... ہوں گے اوراپنے کئے کا نتیجہ دیکھیں گے

۵_ نیک لوگ ...اور برے لوگ ... جائیں گے


دوسرا سبق

دو قسم کے لوگ

۱_ بعض لوگ خدا کو دوست رکھتے ہیں اور دیندار ہیں _ سچ بولتے ہیں اچھے کام بجالاتے ہیں _ لوگوں کے ساتھ مہربانی کرتے ہیں ضعیفوں کی مدد کرتے ہیں _ کسی کو آزار نہیں پہونچاتے _ ظالموں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں _ خدا ان کو دوست رکھتا ہے

۲_ بعض لوگ بے دین اور جھوٹے ہوتے ہیں _ لوگوں کو آزار پہونچاتے ہیں _ برے کام انجام دیتے ہیں_ لوگوں کو مال زبردستی چھیں لیتے ہیں مظلوموں اور بیچاروں کی مدد نہیں کرتے

خدا ان کو دوست نہیں رکھتا


تیسرا سبق

معاد یا جہان آخرت

لوگ دو قسم کے ہیں _ ایک گروہ دیندار اور نیکوکاروں کا ہی اور دوسرا بے دین اور بدکاروں کا ہے

کیا نیکوکار لوگ اور بدکار لوگ اللہ کے نزدیک برابر ہیں اور اپنے کاموں کی سزا نہ پائیں گے ؟ نہیں ایسا ہرگز نہ ہوگا _ اللہ تعالی فرماتا ہے _ خدا کے نزدیک برے اور اچھے لوگ مساوی نہیں ہیں _ ہاں _ خدا ئے قادر مطلق نے ایک اور دنیا خلق کی ہے _ جسے '' جہان آخرت'' کہا جاتا ہے _ جب انسان مرجائے گا تو وہ اس جہاں میں منتقل کردیا جائے گا اگر ہم نیک بنے اور ہم نے اللہ تعالی کے فرمان اور دستور پر عمل کیا تو آخرت میں ہمیں اس کی اچھی جزا ملے گی اور بہشت میں جائیں گے اور خوشی اور آرام سے زندگی وہاں بسر کریں گے اور اگر ہم برے بنے اور ہمنے اللہ تعالی کی نافرمانی کی اور اس کے احکام پر عمل نہ کیا تو برے کاموں کی سزا پائیں گے اور آخرت میں سخت زندگی بسر کریں گے

سوالات

۱_ کیا نیک لوگ اور برے لوگ اللہ کے نزدیک مساوی ہیں ؟

۲_ خدا ہمارے کاموں کی سزا کہاں دے گا؟


۳_ نیک لوگ آخرت میں کیسی زندگی بسر کریں گے ؟

۴_ برے لوگ کیسی زندگی بسر کریں گے ؟

۵_ جو لوگ نیک کام کرتے ہیں انہیںخدا کیسا اجر دے گا؟

۶_ جو برا کام کرتا ہے اورلوگوں کو آزار پہونچاتا ہے اس کی سزا کیا ہوگی؟

۷_ اگر ہم اللہ تعالی کے تمام دستور کے مطابق عمل کریں تو آخرت میں ہماری کیا کیفیت ہوگی؟

۸_ کون سے لوگ بہشت میں جائیں گے؟

۹_ جہنم کن لوگوں کا ٹھکانا ہے ؟

ان جملوں کو مکمل کیجئے

۱_ لوگ دو قسم کے ہیں ایک ... ہے اور ... ہے

۲_ کیا نیکوکار اور بدکار لوگ اللہ کے ... ہیں

۳_ خدائے قادر مطلق نے ایک ... کہا جاتا ہے

۴_ اگر ہم نیک بنے اور اللہ تعالی کے فرمان اور دستور پر عمل کیا تو آخرت ... ملے گی

۵_ اگر ہم برے بنے اور اللہ تعالی کی نافرمانی کی اور اس کے احکام پر عمل نہ کیا تو ... گے


چوتھا سبق

ردّ عمل

مسعود نے پہاڑے کے سامنے چیخ کر کہا اچھا اچھا _ مسعود کی آواز پہاڑ سے ٹکرائی اور لوٹ آئی اور جب وہ آواز لوٹی تو گویا پہاڑ بھی کہہ رہا تھا _ اچھا _ اچھا ہمارے تمام کام اسی طرح واپس لوٹتے ہیں _ اور لا محالہ ہماری طرف ہی واپس لوٹتے ہیں اگر ہم نے اچھے کام کئے تو ہماری طرف اچھے کام لوئیں گے اور اگر ہم نے برے کام کئے تو ہماری طرف برے کام لوٹیں گے _ اس کو اردو کے محاورے میں استعمال کریں تو یوں ہوگا _ جیسا کروگے ویسا پاؤگے

تمام کاموں کے اپنی طرف لوٹ آنے کو ہم آخرت میں دیکھیں گے


پانچواں سبق

آخرت کی زندگی

آخرت میں ہم زندہ ہوجائیں گے

سعیدہ کی عمر نوسال کی تھی تیسری کلاس میں پڑھتی تھی بہت ہوشیار لڑکی تھی وہ ہمیشہ سوال کرتی اور جواب چاہتی تھی _ ایک دن ماں سے پوچھنے لگی _ اماں جان یہ کیا ہوا صبح ہوتی ہے ناشتہ کرتے ہیں _ باپ کام پر چلے جاتے ہیں _ میں مدرسہ چلی جاتی ہوں _ آپ رات تک کام کرنے میں مشغول ہوجاتی ہیں _ باپ گھر واپس آجاتے ہیں _ رات کا کھانا کھاتے ہیں _ اور دستر خوان لپیٹ کر اس کے بعدسوجاتے ہیں _ کل پھر اسی طرح _ اور پر سوں بھی اسی طرح_ بلکہ پوری عمر اسی طرح : یہ کس لئے اور اس کا فائدہ کیا ہے؟ امان جان؟ ہم کس لئے بڑے ہوتے ہیں _ لڑکیاں عورت بن جاتی ہیں _ لڑکے مرد ہوجاتے ہیں ؟ اور بعد میں بوڑھے ہوجاتے ہیں اور ہماری زندگی ختم ہوجاتی ہے _ یہ تمام کام اس لئے کرتے ہیں تا کہ ہم مرجائیں _ جیسے ہماری دادی مرگئی ہیں _

یہ بے فائدہ اور بے نتیجہ زندگی

ماں نے کہا بیٹی سعیدہ ہماری زندگی اور ہمارے کام بغیر نتیجہ کے نہیں ہیں _ ہم مرجانے سے بالکل فنا نہیں ہوجاتے اور ہماری زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف جاتے ہیں اور وہاں


اپنے کاموں کا نتیجہ پاتے ہیں _ سعیدہ بیٹی ہم آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اچھے کام کرنے والے لوگ بہشت میں جائیں گے اور بہت راحت و آرام کی زندگی بسرکریں گے _ اور گنہکار جہنم میں جائیں گے _ اور عذاب اور سختی میں رہیں گے _

آخرت کی نعمتیں اور لذتیں دنیا کی لذتوں اور نعمتوں سے بہتر اور برتر ہیں ان میں کوئی عیب اور نقص نہیں ہوگا _ اہل بہشت ہمیشہ اللہ تعالی کی خاص توجہ اور محبت کا مرکز رہتے ہیں _ خدا انہیںہمیشہ تازہ نعمتوں سے نوازتا ہے اہل بہشت اللہ تعالی کی تازہ نعمتوں اور اس کی پاک محبت سے مستفید ہوتے ہیں اور ان نعمتوں اور محبت سے خوش و خرم رہتے ہیں _

سوچ کر جواب دیجئے

۱_ سعیدہ کس چیز کو بے فائدہ اور بے نتیجہ سمجھتی تھی او رکیوں؟

۲_ اس کی ماں نے اسے کیا جواب دیا؟

۳_ کیا ہم مرجانے سے فنا ہوجاتے ہیں اگر مرنے سے ہم فنا ہوجاتے ہوں تو پھر ہمارے کاموں اور کوششوں کا کیا نتیجہ ہوگا؟

۴_ اپنے کاموں کا پورا نتیجہ کس دنیا میں دیکھیں گے ؟

۵_ نیک لوگ آخرت میں کیسے رہیں گے اور گناہ کار کیسے رہیں گے ؟

۶_ '' دنیا آخرت کی کھیتی ہے '' سے کیا مراد ہے ؟


چھٹا سبق

آخرت میں بہتر مستقبل

اس جہان کے علاوہ ایک جہان اور ہے جسے جہان آخرت کہا جاتا ہے _ خدانے ہمیں جہان آخرت کے لئے پیدا کیا ہے _ جب ہم مرتے ہیں تو فنا نہیں بلکہ اس جہان سے جہان آخرت کی طرف چلے جاتی ہیں ہم صرف کھا نے پینے سونے کے لئے اس جہاں میں نہیں آئے بلکہ ہم یہاں اس لئے آئے ہیں تا کہ خداوند عالم کی عبادت اور پرستش کریں _ اچھے اور مناسب کام انجام دیں تا کہ کامل ہوجائیں اور جہان آخرت میں اللہ کی ان نعمتوں سے جو اللہ نے ہمارے لئے پیدا کی ہیں _ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں _

جو کام بھی ہم اس دنیا انجام دیتے ہیں اس کا نتیجہ آخرت میں دیکھیں گے _

اگر ہم نے خدا کی عبادت کی اور نیک کام کرنے والے قرار پائے تو ہمارا مستقبل روشن ہو گا اور بہترین زندگی شروع کرینگے اور اگر ہم نے خدا کے فرمان کی پیروی نہ کی اور برے کام انجام دیئے تو آخرت میں بدبخت قرار پائیں گے اور اپنے کئے کی سزاپائیں گے اور سختی اور عذاب میں زندگی بسر کریں گے


سوچ کر جواب دیجئے

۱_ اس جہاں میں ہمارا فرض کیا ہے _ کامل بنے کے لئے ہمیں کیا کام انجام دینے چاہیئے ؟

۲_ اللہ کی بڑی اور اعلی نعمتیں کس جہان میں ہیں ؟

۳_ روشن مستقبل کن لوگوں کے لئے ہے ؟

۴_ آخرت میں سخت عذاب کن لوگوں کے لئے ہے ؟

۵_ کیا تمہیں معلوم ہے کہ کون سے کام اچھے اور مناسب ہیں اور کوں لوگ ہمیں اچھے اور مناسب کاموں کی تعلیم دیتے ہیں ؟


تیسرا حصّہ

نبوت


پہلا سبق

اللہ نے پیغمبڑ بھیجے ہیں

خدا چونکہ بندوں پر مہربان ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے بند ے اس دنیا میں اچھی اور آرام دہ زندگی بسر کریں اور آخرت میں خوش بخت اور سعادتمند ہوں وہ دستور جوان کی دنیا اور آخرت کے لئے فائدہ مند ہیں _ پیغمبروں کے ذریعہ ان تک پہنچا ئے چونکہ پیغمبروں کی شخصیت عظیم ہوتی ہے اسی لئے خدا نے انہیں لوگوں کی رہنمائی کیلئےچنا_ پیغمبر لوگوں کو نیک کام اور خدائے مہربان کی پرستش کی طرف راہنمائی کرتے تھے _ پیغمبر ظالموں کے دشمن تھے اور کوشش کرتے تھے کہ لوگوں کے درمیان مساوات و برابری قائم کریں _

سوالات

۱_ خدانے کیوں لوگوں کے لئے پیغمبر بھیجا ہے ؟

۲_ پیغمبر خدا سے کیا چیز لیکرآئے؟

۳_ پیغمبر کیا کرتے تھے؟

۴_ پیغمبر کس قسم کے لوگ ہوتے تھے؟

۵_ اگر ہم پیغمبروں کے دستور کے مطابق عمل کریں تو کیا ہوگا؟


دوسرا سبق

انسانوں کے معلّم

پیغمبرانسانوں کے معلّم ہوتے ہیں _ ابتداء آفرینش سے لوگوں کے ساتھ _ اور ہمیشہ ان کی تعلیم و تربیت میں کوشاں رہے _ وہ بنی نوع انسان کو معاشرتی زندگی اور زندگی کے اچھے اصولوں کی تعلیم دیتے رہے _ مہربان خدا اور اس کی نعمتوں کو لوگوں کو بتلاتے تھے اور آخرت اور اس جہاں کی عمدہ نعمتوں کا تذکرہ لوگوں سے کرتے رہے _ پیغمبر ایک ہمدرد اور مخلص استاد کے مانند ہوتے تھے جو انسانوں کی تربیت کرتے تھے_ اللہ کی پرستش کا راستہ انہیں بتلاتے تھے پیغمبر نیکی اور اچھائی کا منبع تھے وہ نیک اور برے اخلاق کی وضاحت کرتے تھے_ مدد اور مہربانی خیرخواہی اور انسان دوستی کی ان میں ترویج کرتے تھے تمام انسانوں میں پہلے دور کے انسان بے لوث اور سادہ لوح تھے پیغمبروں نے ان کی رہنمائی کے لئے بہت کوشش کی اور بہت زحمت اور تکلیفیں برداشت کیں پیغمبروں کی محنت و کوشش اور رہنمائی کے نتیجے میں انسانوں نے بتدریج ترقی کی اور اچھے اخلاق سے واقف ہوئے _

سوچ کر جواب دیجئے

۱_ زندگی کے اصول اور بہتر زندگی بسر کرنے کا درس انسانوں کو کس نے دیا ؟


۲_ پیغمبر لوگوں کون سے تعلیم دیتے تھے؟

۳_ پیغمبروں نے کن لوگوں کے لئے سب سے زیادہ محنت اور کوشش کی ؟

۴_ پیغمبروں نے کس قسم کے لوگوں کے درمیان کن چیزوں کا رواج دیا ؟


تیسرا سبق

خدا کے عظیم پیغمبر ابراہیم علیہ السلام

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کا کیا دین تھا اور وہ کس طرح زندگی گزارتے تھے_ انہوں نے گذشتہ پیغمبروں کی تعلیم کو فراموش کردیا تھا وہ نہیں جانتے تھے کہ اس دنیا میں کس طرح زندگی گذار کر آخرت میں سعادت مند ہوسکتے ہیں وہ صحیح قانون اور نظم و ضبط سے ناواقف تھے اور خدا کی پرستش کے طریقے نہیں جانتے تھے _ چونکہ خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے اسلئے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی پیغمبری کے لئے منتخب فرمایا تا کہ لوگوں کو نیکی اور اللہ تعالی کی عبادت کی طرف راہنمائی فرمائیں

خدا کو علم تھا کہ لوگ تشخیص نہیں کر سکتے کہ کون سے کام آخرت کے لئے فائدہ مند اور کون سے کام نقصان دہ ہیں _ خدا جانتا تھا کہ لوگوں کے لئے راہنما اور استاد ضروری ہے اسی لئے جناب ابراہیم علیہ السلام کو چنا اور انہیں عبادت اور خدا پرستی کے طریقہ بتائے _ خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتلاتا تھا کہ کون سے کام لوگوں کی دنیا اور آخرت کے لئے بہتر ہیں اور کون سے کام مضر ہیں _

حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اللہ تعالی کے پیغام اور احکام کو لوگوں تک پہنچاتے اور ان کی رہنمائی فرماتے تھے _

حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کے پیغمبر اور لوگوں کے استاد اور معلّم تھے _


سوچ کر جواب دیجئے

۱_ پیغمبروں کو کون منتخب کرتا ہے ؟

۲_ پہلے انسانوں کا کردار کیا تھا؟

۳_ کون سے حضرات زندگی کا بہتر راستہ بتاتے ہیں؟

۴_ کیا لوگ خود سمجھ سکتے ہیں کہ کون سے کام آخرت کے لئے بہتر اور کون سے مضر ہیں ؟

۵_ حضرت ابراہیم (ع) لوگوں کو کیا تعلیم دیتے تھے ؟

۶_ حضرت ابراہیم (ع) کا پیغام اور احکام کس کی طرف سے تھے؟


چوتھا سبق

لوگوں کا رہبر اور استاد

پیغمبر لوگوں کا رہبر اور استاد ہوتا ہے _ رہبری کے لئے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے _ اسے جانتا ہے _ دین کے تمام احکام جانتا ہے _ اچھے اور برے سب کاموں سے واقف ہوتا ہے _ وہ جانتا ہے کہ کون سے احکام آخرت کی سعادت کا موجب ہوتے ہیں اور کون سے کام آخرت کی بدبختی کا سبب بنتے ہیں _ پیغمبر خدا کو بہتر جانتا ہے _ آخرت اور بہشت اور جہنم سے آگاہ ہوتا ہے _ اچھے اور برے اخلاق سے پوری طرح با خبر ہوتا ہے _ علم اور دانش میں تمام لوگوں کا سردار ہوتا ہے اس کے اس مرتبہ کو کوئی نہیں پہنچانتا _ خداوند عالم تمام علوم پیغمبر کو عنایت فرما دیتا ہے تا کہ وہ لوگو۱ں کی اچھے طریقے سے رہبری کر سکے _چونکہ پیغمبررہبر کامل اور لوگوں کا معلم اور استاد ہوتا ہے _ اسلئے اسے دنیا اور آخرت کی سعادت کا علم ہونا چاہیے تا کہ سعادت کی طرف لوگوں کی رہبری کر سکے _

سوچ کر جواب دیجئے

۱_ لوگوں کا رہبر اور استاد کون ہے اور ان کو کون سی چیزیں بتلاتا ہے ؟


۲_ پیغمبر کا علم کیسا ہوتا ہے کیا کوئی علم میں اس کا ہم مرتبہ ہوسکتا ہے؟

۳_ پیغمبر کا علوم سے کون نواز تا ہے ؟

۴_ رہبر کامل کون ہوتا ہے؟


پانچوان سبق

پیغمبر لوگوں کے رہبر ہوتے ہیں

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمام پیغمبران خدا انسان تھے _ اور اانہیں میں زندگی گذار تے تھے خدا کے حکم اور راہنمائی مطابق لوگوں کی سعادت اور ترقی میں کوشاں رہتے تھے _ پیغمبر ابتدائے آفرینش سے لوگوں کے ساتھ ہوتے تھے اور انہیں زندگی بہترین را ستے بتا تے تھے _ خدا شناسی آخرت اور اچھے کاموں کے بارے میں لوگوں سے گفتگو کرتے تھے _ بے دینی اور ظلم کے ساتھ مقابلہ کیا کرتے تھے اور مظلوموں کی حمایت کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ لوگوں کے درمیان محبت اور مساوات کو بر قرار رکھیں پیغمبروں نے ہزاروں سال کوشش کی کہ عبادت کے طریقے خدا شناسی اور اچھی زندگی بسر کرنا لوگوں پر واضح کریں _آج پیغمبروں اور ان کے پیرو کاروں کی محنت اور مشقت سے استفادہ کررہے ہیں _ اس لئے ان کے شکر گزار ہیں اور ان پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں ;

... ...اللہ کے تمام پیغمبروں پر ہمارا سلام

... اللہ کے بڑ ے پیغمبر جناب ابراہیم پر ہمارا سلام

... جناب ابراہیم کے پیرو کاروں پر ہمارا سلام


چھٹا سبق

اولوا لعزم پیغمبر

اللہ تعالی نے لوگوں کی راہنمائی کے لئے بہت زیادہ پیغمبر بھیجے ہیں کہ ان میں سب سے بڑ ے پیغمبر پانچ ہیں

____ حضرت نوح علیہ السلام

____ حضرت ابراہیم علیہ السلام

____ حضرت موسی علیہ السلام

____ حضرت عیسی علیہ السلام

____ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

جناب موسی علیہ السلام کے ماننے والوں کو یہودی کہا جاتا ہے اور جناب عیسی علیہ السلام کے ماننے والوں کو مسیحی یا عیسائی کہا جاتا ہے اور جناب محمڈ کے ماننے والوں کو مسلمان کہا جاتا ہے

تمام پیغمبر خدا کی طرف سے آئے ہیں اور ہم ان سب کا احترام کرتے ہیں

لیکن تمام پیغمبروں سے بزرگ و برتر آخری پیغمبر جناب محمد مصطفی (ص) ہیں آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر نہیں آئے گا _


سوالات

۱_ بڑے پیغمبرکتنے ہیں اور ان کے نام کیا ہیں ؟

۲_ یہودی کسے کہا جاتا ہے ؟

۳_ مسیحی یا عیسائی کسے کہا جاتا ہے ؟

۴_ جناب محمد مصطفی (ص) کے ماننے والوں کو کیا کہا جاتا ہے ؟

۵_ سب سے بڑ ے اور بہتر اللہ کے پیغمبروں کون ہیں ؟

ان جملوں کو مکمل کیجئے

۱_ تمام پیغمبر ... آئے ہیں اور ہم ان ... کرتے ہیں

۲_ لیکن جناب محمد مصطفی (ص) تمام پیغمبروں سے ... و ...ہیں

۳_ آپ کے بعد نہیں آئے گا


ساتواں سبق

حضرت محمد مصطفے (ص) کا بچپن

جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ مکہّ میں پیدا ہوئے _ آپ کے والد جناب عبد اللہ علیہ السلام تھے اور والدہ ماجدہ جناب آمنہ تھیں _ بچین ہی سے آپ نیک اور صحیح انسان تھے دستر خوان پر با ادب بیھٹتے تھے_ اپنی غذا کھا تے اور دوسرے بچوں کے ہاتھ سے ان غذا نہیں چھینتے تھے _ غذا کھا تے وقت بسم اللہ کہتے تھے _ بچوں کو آزار نہ دیتے تھے بلکہ ان سے اچھا سلوک اور محبت کرتے تھے _ ہر روز زنبیل خرما سے پر کر کے بچوں کے در میان تقسیم کرتے تھے _

سوالات

۱_ جناب محمد مصطفی کس شہر میں پیدا ہوئے ؟

۲_ غذا کھا تے وقت کیا کہتے تھے اور کس طرح بیٹھتے تھے ؟

۳_ دوسرے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے ؟

۴_ تمہارا دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک ہے ؟


آٹھواں سبق

آخری نبی حضرت محمد مصطفے (ص)

آپ کے والد کا نام جناب عبداللہ اور والدہ کانام آمنہ تھا _ عام الفیل میں سترہ ربیع الاوّل کو مکہّ میں پیدا ہوئے _ آپ کی پیدائشے سے قبل ہی آپ کے والد جناب عبداللہ کا انتقال ہو گیا _ جناب آمنہ نے آپکی چھ سال تک پرورش کی _ جب آپ چھ سال کے ہوئے تو آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا _ والدہ کے فوت ہونے کے بعد آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ کی _ جناب عبد المطلب آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور آپ پر بہت مہربان تھے پیغمبر اسلام کے مستقبل کا آپ کو علم تھا عیسائی اور یہودی علماء سے آپ نے سن رکھا تھا کہ مکہّ سے ایک پیغمبر مبعوث ہو گا _ جناب عبد المطلب عربوں کے سردار تھے _ کعبہ کے نزدیک آپ کے لئے مخصوص جگہ تھی کہ جس پراور کوئی نہیں بیٹھ سکتا تھا _ صرف پیغمبر اسلام اس مخصوص جگہ پراپنے دادا کے پہلو میں بیٹھا کرتے تھے _ اگر آپ کو وہاں بیٹھنے سے کبھی کوئی منع کرتا تو جناب عبد المطلب فرماتے کہ میرے بیٹے کو آنے دو _ بخدا اس کے چہرے پر بزرگی کے آثار موجود ہیں _ میں دیکھ رہاہوں کہ ایک دن محمڈ تم سب کا سردار ہو گا _ جناب عبدالمطلب پیغمبر اسلام کو اپنے نزدیک بٹھا تے اور اپنے دست شفقت کو آپ کے سر پر پھیر تے تھے چونکہ حضوڑ کے مستقبل سے آگاہ تھے اسلئے انہیں کے ساتھ غذا تناول کرتے تھے اور اپنے سے کبھی آپ کو جدا نہیں کرتے تھے _


پیغمبر اسلام کا بچپن

پیغمبر اسلام بچپنے میں بھی با ادب تھے _ آپ کے چچا جناب ابو طالب علیہ السلام فرما تے ہیں کہ محمڈ غذا کھا تے وقت بسم اللہ کہتے تھے اور غذا کے بعد الحمدللہ فرماتے _ میں نے محمڈ کونہ تو جھوٹ بولتے دیکھا اور نہ ہی برا اور نارو ا کام کرتے دیکھا _ آپ(ص) او نچی آواز سے نہیں ہنستے تھے بلکہ مسکراتے تھے _

جواب دیجئے

۱_ پیغمبر اسلام (ص) کس سال اور کس مہینہ اور کس دن پیدا ہوئے ؟

۲_ آپ کی والدہ آور آپ کے والدکا کیا نام تھا ؟

۳_ جناب عبدالمطلب کا پیغمبر اسلام (ص) سے کیارشتہ تھا اور آپ کے متعلق وہ کیا فرما تے تھے ؟

۴_ یہودی اور عیسائی علماء کیا کہا کرتے تھے؟

۵_ بچپن میں آپ (ص) کا کردار کیسا تھا اور آپ کے متعلق آپ کے چچا کیا فرمایا کرتے تھے ؟


نواں سبق

پیغمبر (ص) کا بچوّں کے ساتھ سلوک

پیغمبر(ص) اسلام بچّوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ان کو سلام کرتے تھے _ آپ(ص) مسلمانوں سے کہتے تھے کہ بچوں کا احترام کیا کرو اور ان سے محبت کیا کرو اور جو بچوں سے محبت نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے _

ایک مسلمان کہتا ہے کہ میں نے رسول (ص) کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ گھر تک گیا تو میں نے دیکھا کہ بچے گروہ در گروہ آپ کا استقبال کرنے کے لئے دوڑ کر آرہے تھے _ آپ نے انہیں پیار کیا اور اپنا دست مبارک ان کے سر اور چہرے پرپھیرا

سوالات:

۱_ پیغمبر اسلام(ص) کے والد کا نام کیا تھا؟

۲_ آپ کی والدہ کا کیا نام تھا؟

۳_ بچوں کو کیوں سلام کیا کرتے تھے؟

۴_ اپنے اصحاب سے بچوں کے متعلق کیا فرماتے تھے؟

۵_ بچّے کیوں آپ(ص) کے استقبال کیلئے دوڑ پڑتے تھے؟

۶_ کیا تم اپنے دوستوں کو سلام کرتے ہو؟


دسواں سبق

امین

ایک زمانے میں مکہ کے لوگ خانہ کعبہ کو از سر نو بنارہے تھے _ تمام لوگ خانہ کعبہ بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے _ جب کعبہ کی دیوار ایک خاص اونچائی تک پہنچی کہ جہان حجر اسود رکھا جانا تھا'' حجر اسود ایک محترم پتھر ہے'' مكّہ کے سرداروں میں سے ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ اس پتھر کو صرف وہی اس کی بناپر رکھے اوراس کام سے اپنے آپ اور اپنے قبیلے کی سربلندی کا موجب بنے _ اسی وجہ سے ان کے درمیان جھگڑا شروع ہوا _ ہر ایک یہی کہتا تھا کہ صرف میں حجر اسود کو اس کی جگہ نصب کروں گا ان کا اختلاف بہت بڑھ گیا تھا اور ایک خطرناک موڑ تک پہنچ گیا تھا قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہوجائے _ جنگ کے لئے تیار بھی ہوچکے تھے اسے اثناء میں ایک دانا اور خیرخواہ آدمی نے کہا _ لوگو جنگ اوراختلاف سے بچو کیونکہ جنگ شہر اور گھروں کو ویران کردیتی ہے _ اور اختلاف لوگوں کو متفرق اور بدبخت کردیتا ہے _ جہالت سے کام نہ لو اور کوئی معقول حل تلاش کرو_ مكّہ کے سردار کہنے لگے کیا کریں _ اس دانا آدمی نے کہا تم اپنے درمیان میں سے ایک ایسے آدمی کا انتخاب کرلو جو تمہارے اختلاف کو دور کردے _ سب نے کہا یہ ہمیں قبول ہے یہ مفید مشورہ ہے _ لیکن ہر قبیلہ کہتا تھا کہ وہ قاضی ہم میں سے ہو _ پھر بھی اختلاف اور نزاع برطرف نہ ہوا _ اسی خیرخواہ اور دانا آدمی نے کہا _ جب تم قاضی کے انتخاب میں بھی اتفاق نہیں کرپائے تو سب سے پہلا شخص جو


اس مسجد کے دروازے سے اندر آئے اسے قاضی مان لو _ سب نے کہا یہ ہمیں قبول ہے تمام کی آنکھیں مسجد کے دروازے پر لگی ہوئی تھیں اور دل دھڑک رہے تھے کہ کون پہلے اس مسجد سے اندر آتا ہے اور فیصلہ کس قبیلے کے حق میں ہوتا ہے ؟ ایک جوان اندر داخل ہوا _ سب میں خوشی کی امید دوڑگئی اور سب نے بیک زبان کہا بہت اچھا ہو کہ محمد (ص) ہی آیا ہے _ محمد (ص) امین محمد(ص) امین _ منصف اور صحیح فیصلہ دینے والا ہے اس کا فیصلہ ہم سب کو قبول ہے حضرت محمد (ص) وارد ہوئے انہوں نے اپنے اختلاف کی کہانی انہیں سنائی: آپ نے تھوڑا ساتامل کیا پھر فرمایا کہ اس کام میں تمام مكّہ کے سرداروں کو شریک ہونا چاہیے لوگوں نے پوچھا کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ اور کس طرح _ حضرت نے فرمایا کہ ہر قبیلے کا سردار یہاں حاضر ہو تمام سردار آپ کے پاس آئے _ آنحضرت (ص) نے اپنی عبا بچھائی پھر آپ نے فرمایا تمام سردار عبا کے کناروں کو پکڑیں اور حجر اسود کو لے چلیں _ تمام سردار نے حجر اسود اٹھایا اور اسے اسکی مخصوص جگہ تک لے آئے اس وقت آپ نے حجر اسود کو اٹھایا اور اسے اس کی جگہ نصب کردیا_ مكّہ کے تمام لوگ آپ کی اس حکمت عملی سے راضی اور خوش ہوگئے _ آپ کے اس فیصلے پر شاباش اور آفرین کہنے لگے _

ہمارے پیغمبر(ص) اس وقت جوان تھے اور ابھی اعلان رسالت نہیں فرمایا تھا لیکن اس قدر امین اور صحیح کام انجام دیتے تھے کہ آپ کا نام محمد(ص) امین پڑچکا تھا _

لوگ آپ پر اعتماد کرتے تھے اور قیمتی چیزیں آپ کے پاس امانت رکھتے تھے اور آپ ان کے امانتوں کی حفاظت کرتے تھے آپ صحیح و سالم انہیں واپس لوٹا دیتے تھے _ سبھی لوگ اپنے اختلاف دور کرنے میں آپ کی طرف


رجوع کیا کرتے تھے اور آپ کے فیصلے کو قبول کرتے تھے _

پیغمبر(ص) امین اور راست بازپر

بہت زیادہ درود و سلام ہو

جواب دیجئے

۱_ ہمارے پیغمبر (ص) جوانی میں کس نام سے مشہور ہوگئے تھے اورکیوں ؟

۲_ جب آپ(ص) مسجد کے دروازے سے داخل ہوئے تو لوگوں نے کیا کہا؟

۳_ تم دوستوںمیں سے کون سا آدمی امانت کی زیادہ حفاظت کرتا ہے؟

۴_ تم دوستوں میں سے کون سا آدمی زیادہ اعتماد کے لائق ہے ؟

۵_ آیا تمہارے دوست تم پر اعتماد کرتے ہیں اور کیا تمہارے فیصلے کو قبول کرتے ہیں؟

۶_ کیا تم امانت داری میں آنحضرت(ص) کی پیروی کرتے ہو؟


گیارہواں سبق

دین اسلام آسمانی ادیاں میں سب سے بہتر اور آخری دین ہے

دین اسلام بہترین اور کامل ترین دین ہے _ خدائے مہربان نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے وسیلے سے ہمارے لئے دین اسلام بھیجا تا کہ ہم اللہ کی پرستش کریں اور ہمیں زندگی کے بہترین طریقے بتلائے ہیں _ خداوند عالم فرماتا ہے جو دین اسلام کو قبول نہ کرے بلکہ کسی اور دین کو اپنے لئے انتخاب کرے تو وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں بیچارہ اور نقصان میں رہے گا دین اسلام ہمیں بتلاتا ہے کہ:

____ کس طرح خدا کو پہچانیں

____ ماں باپ سے کیسا سلوک کریں

____ کون سے کام انجام دیں کہ دنیا اور آخرت میں سعادت مند ہوجائیں_

دین اسلام ہمیں بتلاتا ہے کہ:

____ کون سے کام حلال ہیں کہ جنکو ہم انجام دے سکتے ہیں


____ اور کون سے حرام ہیں جو ہمیں انجام نہیں دینے چاہئیں

مسلمان کون ہے :

۱_ مسلمان وہ ہے جو خدائے وحدہ لا شریک اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو

۲_ حضرت محمد (ص) کو آخری پیغمبر مانتا ہو

۳_ تمام کاموں میں اللہ اور محمد (ص) کے دستور کو تسلیم کرتا ہو


بارہواں سبق

قرآن اللہ کا پیغام ہے

قرآن میں خدا کا پیغام اوراس کے قوانین ہیں قرآن کو خدانے پیغمبر اسلام (ص) کے واسطے سے ہمارے لئے اور تمام جہاں کے لوگوں کے لئے نازل کیا ہے مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن پڑھنا سیکھے اور اس کے معانی کو سمجھے اور دوسروں کو بتلالے اور زندگی کے صحیح راستے کو قرآن سے سیکھے

قرآن مسلمانوں کو زندگی کا بہترین اصول بتلاتا ہے _ خداشناسی اوراس کی عبادت کے راستے بتلاتا ہے

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ تمام کاموں میں قرآن کی پیروی کریں اور اس آسمانی کتاب سے زندگی کا درس لیں جو قرآن کا پیرو کار ہوگا وہ اس دنیا میں بھی با عزت اور آزاد زندگی بسر کرے گا اور آخرت میں بھی اور بہترین زندگی گذارے گا ہمارے پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے : تم میں بہترین انسان وہ ہے جو قرآن کو یاد کرے اور دوسروں کو یادلائے _ نیز فرمایا جو شخص قرآن پر عمل کرے گا بہشت میں جائے گا اور جو قرآن سے روگردانی کرے گا جہنم میں جائے گا

جواب دیجئے

۱_ دین اسلام کسے کہتے ہیں اور دین اسلا م ہمیں کیا سکھایا ہے ؟


۲_ آخرت میںکون نقصان میں ہوگا؟

۳_ کن کاموں کو حلال کہتے ہیں اور کن کاموں کو حرام کہتے ہیں ؟

۴_ مسلمان کون ہے اور مسلمان کس چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے ؟

۵_ قرآن کس کا کلام ہے ؟

۶_ تم نے قرآن سیکھنے کیلئے کون سا پروگرام بنایا ہے؟

۷_ جو شخص قرآن پر عمل کرے وہ کیسے زندگی بسر کرے گا ؟

۸_ لوگوں میں سے بہترین لوگ کون ہیں؟


قرآن

فارسی نظم

قرآن کہ کتاب آسمانی است

روشن گر راہ زندگانی است

قرآن کہ نشان دہد رہ راست

برنامہ زندگانی ماست

خیر دو جہان برای انسان

حاصل شود از عمل بہ قرآن

فرمودہ پیغمبر: ای مسلمان:

ہر کس کہ عمل کند بہ قرآن

قرآن ہمہ جا مقابل اوست

گلزار بہشت ،منزل اوست

امّا بہ جنہم است ، جایش

آنکس کہ نکرد اعتنایش

این است کتابی دینی ما

برنامہ جاودانی ما ...:

ماییم ہمہ مطیع قرآن

ماییم نگاہدارش از جان

حبیب اللہ چایچیان


تیرہواں سبق

باغ جل گیا اور کیوں جلا؟

چند بھائی ایک جگھ بیٹھے ہوے آپس میں گفتگو کررہے تھے کہ کل صبح سویرے باغ جائیں گے تا کہ باغ سے میوے لائیں اور اس میں کسی کو کچھ بھی نہ دیں _ ان بھائیوں میں ایک بھائی جو نیک تھا کہنے لگا : بھائیو اللہ کے حکم کو نہ بھولو اور محتاجوں کی مدد کرو_ دوسرا بھائی کہنے لگا _ پھر تم بول اٹھے اگر پھر تم بولو گے تو تمہیںماریں گے _ تم کیوں ان کاموں میں دخل دیتے ہو؟ جب سب بھائی سوگئے تو آسمان سے یک بجلی چمکی اور آسمانی بجلی نے تمام میوے اور درختوں کو جلا کر خاک کردیا _ جب صبح ہوئی اور وہ جاگے تو کہنے لگے کہ جلدی کروچل کر میوہ چنیں اور آواز بلند نہ کرو کہ کہیں کوئی خبر دار ہوجائے _ وہ جب باغ تک پہنچے تو ایک کہنے لگا عجیب بات ہے یہ باغ ہمارا تو نہیں لگتا _ دوسرے نے کہا نہیں یہی ہمارا باغ ہے _ اس نیک آدمی نے کہا میں نے نہیں کہا تھا کہ خدا کو نہ بھولو اوراس کے دستور پر عمل کرو _ یہ تمہاری سزا ہے اور آخرت کا عذاب تمہارے لئے اس سے سخت تر ہے _


چودھواں سبق

اصحاب فیل

قدیم زمانے سے کعبہ عبادت گاہ رہا ہے _ لوگ دور اور نزدیک سے عبادت اور کعبہ کی زیارت کے لئے آیا کرتے تھے _ مكّہ محترم اور آباد شہر رہا ہے یمن کا حاکم ابرہہ نامی ایک عیسائی تھا اسے حسد لاحق ہوا اور اس نے حسد کی وجہ سے ایک بہت عمدہ معبد یمن میں بنانے کا حکم دیا _ اس کے درودیوار کو سونے اور چاندی اور بہت قیمتی پتھروں سے بنایا گیا اور بہت قیمتی فرش اس میں بچھائے گئے _ بہت زیبا پردے اسے پر لٹکائے گئے خوبصورت چراغ اس میں جلائے گئے _ اس کے بعد اس نے اعلان کیا کہ یہ معبد سب سے بڑا اور خوبصورت ہے اس کی زیارت کا ثواب سب سے زیادہ ہے _ اب تمام لوگوں کو اس کی زیارت کو آنا چاہیئے اب کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ مکہ کی زیارت کے لئے جائے لیکن لوگوں میں ان باتوں کا کوئی خاص اثر نہ ہو اور لوگ اس کے بنائے ہوئے معبد کی طرف متوجہ نہ ہوئے بلکہ اس کی بے حرمتی بھی کی ابرہہ اس کی وجہ سے برانگیختہ ہوا اور کہنے لگا کہ جب تک کعبہ موجود ہے ہمارے معبد کی زیارت کو کوئی نہیں آئے گا ضروری ہے کہ خانہ کعبہ کو گرادیا جائے تا کہ لوگ ناامید ہوجائیں اور گروہ در گروہ پھر لوگ ہمارے معبد کی طرف آنے لگیں _ لوگوں نے اس سے کہا کہ تم لوگوں کے دین اور عقیدہ سے سروکار


نہ رکھو _ خانہ کعبہ اللہ تعالی کے حکم سے جناب ابراہیم علیہ السلام کے دست مبارک سے بنا ہے _ لوگوں کو اس کی عبادت اور زیارت کیلئے آزاد رہنے دو _ لیکن لوگوں کی نصیحت ابرہہ کہ دل پر اثر انداز نہ ہوئی _ ابرہہ نے کہا کہ میرا معبد بڑا اور اچھا ہے لوگوں کو چاہیے کہ وہ یہاں عبادت کے لئے آئیں اسے سوائے خانہ کعبہ کے خراب کرنے کے اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا تھا _ ایک بہت بڑا لشکر تیا رکیا _ لشکر کا ایک حصّہ جنگی ہاتھیوں پر سوار ہوا اور خود ابرہہ بھی ایک جنگی ہاتھی پر سوار ہوا اور مكّہ کی طرف روانہ ہوا _ لوگوں کے ایک گروہ نے خانہ کعبہ کے دفاع کی کوشش کی لیکن ابرہہ کی فوج سے شکست کھا گئے _ مكّہ والوں نے دیکھا کہ وہ ابرہہ کی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتے لہذا پہاڑوں اور بیابانوں کی طرف فرار کرگئے جب ابرہہ کی فوج مكّہ کے نزدیک پہنچی تو ابرہہ کا ہاتھی زمین پر لیٹ گیا انتہائی کوشش کے بعد بھی ہاتھی زمین سے نہ اٹھا _ اسی حالت میں بہت زیادہ پرندے آسمان پر ظاہر ہوئے مکہ کی فضا ان سے سیاہ ہوگئی _ ہر ایک پرندے لئے ایک بھاری اور گرم پتھر چونچ میں اور دو پتھر پنجے میں لے رکھے تھے _ پرندوں کا یہ ٹڈی دل آہستہ آہستہ ابرہہ کی فوج کے اوپر آپہنچا اور ایک دفعہ سب نے ابرہہ کی فوچ پر حملہ کردیا _ اور ان کو سنگسارکرنا شروع کردیا _ ابرہہ کی فوج کو شکست ہوئی اور وہ سب کے سب ہلاک ہوگئے _ تمام فوج سے صرف ایک آدمی زندہ بچا اور اس نے اپنے آپ کو بہت جلدی نجاشی بادشاہ تک پہنچایا اور فوج کے تباہ ہونے کی داستان اسے سنائی _ نجاشی نے تعجب سے کہا یہ کیسے پرندے تھے _ کہ انہوں نے تمام فوج کو ہلاک کردیا _ اسی حالت میں ان پرندوں میں سے ایک پرندہ ظاہرہوا _ اس شخص نے نجاشی سے کہا کہ اس قسم کے پرندے تھے وہ پرندہ نزدیک


آیا اور اس شخص کے سر کے اوپر اپنی چونچ کا پتھر گرادیا ان ظالموں کا یہ آخری فرد بھی نجاشی کے سامنے زمین پر گرا اور ہلا ک ہوگیا _ ابرہہ خدا پرستی اور توحید کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا تھا لیکن خدا نے چاہا کہ خانہ کعبہ ہمیشہ کے لئے باقی رہے اور پیغمبر وہاں سے توحید کی آواز ساری دنیا کے کانوں تک پہنچائیں ابرہہ اور اس کی فوج اپنی سزا کو پہنچے اور وہ دنیا کے لئے عبرت قرار پائے _

خداوند عالم نے اصحاب فیل کا قصّہ ایک چھوٹے سورے میں بیان فرمایا ہے یہ قصّہ اتنا مشہور ہوا کہ اس سال کا نام عام الفیل رکھا گیا _ ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ بھی اسی سال متولد ہوئے تھے _

جواب دیجئے

۱_ ابرہہ کا کون سا مذہب تھا اور وہ خانہ کعبہ کو کیوں ویران کرنا چاہتا تھا؟

۲_ جب ابرہہ مکہ کی طرف حرکت کرنا چاہتا تھا تو لوگوں نے اسے کیا کہا؟

۳_ ہم مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ کس نے بنایا اور کس کے حکم سے بنایا؟

۴_ حبشہ کے بادشاہ کا کیا نام تھا اور اس کے ایک فوجی پر کیا گذری؟

۵_ ہمارے پیغمبر (ص) کس سال متولد ہوئے ؟

۶_ قرآن سے سورہ فیل نکال کر پڑھئے؟

۷_ اس قصہ سے جو عبرت حاصل ہوتی ہے اسے اپنے دوستوں کو بیان کیجئے ؟


پندرہواں سبق

دین کیا ہے؟

مہربان و حکیم او رعلیم خدا نے ہماری سعادت کے لئے دستور بھیجے ہیں _ اور یہ دستور پیغمبر (ص) اسلام ہمارے لئے لائے ہیں _ پیغمبر اسلام(ص) نے خداشناسی کے راستے اور اچھی زندگی کے طریقے ہمیں بتلائے ہیں:

پیغمبروں نے ہمیں بتایا :

کہ اپنے دوستوں سے کس قسم کا سلوک کریں _

ماں باپ کا کس طرح احترام کریں _

اپنے استاد کا کس طرح شکریہ ادا کریں _

پیغمبروں نے ہمیں بتایا کہ :

اپنے محبوب خدا سے کیسے گفتگو کریں _

کون سے کام انجام دیں کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اپنی اخروی زندگی کے لئے کیا چیزیں ضروری ہیں _

دین کیا ہے :

وہ دستور ... جو پیغمبر (ص) ہماری زندگی کیلئے


لائے ہیں اسے دین کہا جاتا ہے _

دین دار کون ہے :

جو شخص خدا اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبروں کے دستور و احکام پر عمل کرتا ہو اسے دیندار کہا جاتا ہے خدا دیندار لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور انہیں اچھی جزا دیتا ہے دیندار لوگ اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرتے ہیں اور آخرت میں بھی خوش بخت ہوں گے _

سوالات

۱_ اللہ کا اپنے دستور کو بھیجنا کس لئے ہوتا ہے ؟

۲_ یہ دستور کون حضرات ہمارے لئے لاتے ہیں؟

۳_ پیغمبروں نے ہمیں کیا کیا بتایا ہے؟

۴_ دین کسے کہتے ہیں؟

۵_ کس شخص کو دیندار کہا جاتا ہے ؟

۶_ دیندار لوگ اس دنیا میں اور آخرت میں کس طرح کی زندگی بسر کرتے تھے؟

۷_ خداوند عالم دیندار لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے ؟


سولہواں سبق

دین اسلام بہترین زندگی کیلئے بہترین دین ہے

ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ _ لوگوں سے فرمایا کرتے تھے کہ میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائی تمہارے لئے لایا ہوں _ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ دنیا کے تمام لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلاؤں _

دین اسلام کیا ہے؟

وہ تمام دستور جو محمد (ص) مصطفی اللہ کے حکم سے لائے ہیں اسے '' دین اسلام'' کہا جاتا ہے _ دین اسلام بہترین اور کامل ترین دین ہے _

مسلمان کون ہے ؟

مسلمان وہ ہے جو تمام کاموں کو پیغمبر اسلام(ص) کے لائے ہوئے الہی حکم کے مطابق بجا لائے


ہماری دینی کتاب کا کیا نام ہے

ہماری دینی کتاب کا نام قرآن ہے _ قرآن زندگی کا وہ لائحہ عمل ہے جسے اللہ نے ہمارے لئے بھیجا ہے _ ہم مسلمان قرآن کااحترام کرتے ہیں یعنی اس کے دستور پر عمل کرتے ہیں _

قرآن اللہ کی آخری آسمانی کتاب ہے

سوالات

۱_ پیغمبر اسلام (ص) لوگوں سے کیا فرمایا کرتے تھے؟

۲_ اللہ نے پیغمبر اسلام (ص) کو کیا حکم دیا تھا؟

۳_ کیا دین اسلام دنیا کے بعض لوگوں کے لئے ہے؟

۴_ دین اسلام کسے کہا جاتا ہے؟

۵_ دین اسلام کس طرح کا دین ہے؟

۶_ مسلمان کون ہے؟

۷_ ہم مسلمانوں کی کتاب کا کیا نام ہے؟

۸_ ہم کس طرح قرآن کا احترام کرتے ہیں؟

یہ جملے مکمل کیجئے

۱_ دین اسلام تمام لوگوں ... ہے


۲_ وہ دستور کہ جسے حضرت محمد (ص) لائے ہیں ... کہتے ہیں

۳_ قرآن ... ہے اور زندگی کا ... ہے

۴_ مسلمان وہ ہے جو تمام کام ... ... سے لے

۵_ ہم مسلمان قرآن ... احترام کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اللہ ... پر عمل کریں


چوتھا حصّہ

امامت


پہلا سبق

امام

پیغمبر خدا کی طرف سے آتے ہیں تا کہ لوگوں کی رہبری کریں اور اللہ کے دستور و احکام کو لوگوں تک پہنچائیں _ چونکہ پیغمبر ہمیشہ لوگوں کے درمیان نہیں رہے _ لہذا ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے بعد اپنے جانشین مقرر کریں جو لوگوں کی رہبری کرے اور دین کے احکام اور دستور کی حفاظت کرے اور اسے لوگوں تک پہنچاتا رہے _ جو شخص اللہ کی طرف سے لوگوں کی رہبری کے لئے منتخب کیا جائے اسے '' امام'' کہا جاتا ہے _ امام لوگوں کا رہبر اور دین کا محافظ ہوتا ہے

سوالات

۱_ امام کسے کہتے ہیں؟

۲_ امام کیا کرتا ہے؟

۳_ امام کس کا جانشین ہوتا ہے؟

۴_ ہمیں امام کی ضرورت کیوں ہے ؟

۵_ امام کو کون منتخب کرتا ہے؟


دوسرا سبق

امام دین کا رہبر اور پیغمبر (ص) کا جانشین ہوتا ہے

امام دین کا رہبر اور پیغمبر (ص) کاجانشین ہوتا ہے _ پیغمبر کے بعد اس کے کام انجام دیتا ہے امام لوگوں کا پیشوا ہوتا ہے _ امام دین کے قانون اور اس کے دستور کا عالم ہوتا ہے _ اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے _ امام بھی پیغمبر (ص) کی طرح کامل رہبر ہوتا ہے اور ان تمام امور کو جانتا ہے جو ایک رہبر کے لئے ضروری ہیں _ اسکو خدا کی مکمل معرفت ہوتی ہے وہ دین کے حلال و حرام اور _ بری اور اچھے اخلاق کو جانتا ہے _ قیامت اور جنّت و جہنم کے حالات سے آگاہ ہوتا ہے _ اللہ تعالی کی پرستش اور نجات کے راستوں کو جانتا ہے علم و دانش میں تمام لوگوں سے بالاتر ہوتا ہے _ کوئی بھی اس کے مرتبے کو نہیں پہنچتا اگر امام جاہل ہو یا بعض احکام الہی کو نہ جانتا ہو تو وہ نہ تو ایک کامل رہبر بن سکتا ہے اور نہ ہی پیغمبر کے کاموں کا ذمہ دار بن سکتا ہے خداوند عالم نے پیغمبر کے ذریعہ تمام علوم امام کو عطا کئے ہیں _

امام دین کا محافظ اور نگہبان ہوتا ہے

امام پیغمبر (ص) کا جانشین ہوتا ہے اور پیغمبر (ص) کے بعد پیغمبر(ص) کے تمام کام انجام دیتا ہے _


تیسرا سبق

بارہ امام

ہمارے پیغمبر کے بعد بارہ امام ہیں جو ایک دوسرے کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے

۱____ پہلے امام ____ حضرت علی علیہ السلام

۲____ دوسرے امام ____ حضرت حسن علیہ السلام

۳____ تیسرے امام ____ حضرت حسین علیہ السلام

۴____چوتھے امام ____ حضرت زین العابدین علیہ السلام

۵____ پانچویں امام ____ حضرت محمد باقر علیہ السلام

۶____ چھٹے امام ____ حضرت جعفر صادق علیہ السلام

۷____ ساتویں امام ____ حضرت موسی کاظم علیہ السلام

۸____آٹھویں امام ____ حضرت علی رضا علیہ السلام

۹____ نویں امام ____ حضرت محمد تقی علیہ السلام

۱۰____ دسویں امام ____ حضرت علی نقی علیہ السلام

۱۱____ گیارہویں امام ____ حضرت حسن عسکری علیہ السلام

۱۲____ بارہویں امام ____ حضرت حجت علیہ السلام


پہلاسبق

پہلے امام

حضرت علی علیہ السلام

پہلے امام حضرت علی علیہ السلام ہیں _ ہمارے پیغمبر نے حکم خدا کے تحت اپنے بعد حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں کا امام اور پیشوا معین فرمایاہے _ حضرت علی (ع) رجب کی تیرہ ''۱۳'' کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے _ آپ(ص) کے والد کا نام ابوطالب '' علیہ السلام'' اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے _ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر(ص) اسلام کے چچازاد بھائی ہیں _ بچپن میں پیغمبر کے گھر میں آئے اور وہیں پرورش پائی _ پیغمبر کے زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی _ اور زندگی کے آداب کو آپ سے سیکھا _ حضرت علی علیہ السلام عقلمند اور ہوشیار فرزند تھے _ پیغمبر اسلام (ص) کے فرمان کو اچھی طرح سمجھتے تھے _ اور اس پر عمل کرتے تھے _ کبھی جھوٹ نے بولتے تھے _ گالیاں نہیں دیتے تھے _ مؤدب اور شیرین کلام تھے _ لوگوں کا احترام کرتے تھے _ پاکیزہ اور صحیح انسان تھے _ پیغمبر کے کاموں میں مدد کرتے تھے_ بہادر اور قوی جوان تھے _ بچوں کے دوست اور ان پر مہربان تھے _ ان کو آزار نہیں پہنچاتے تھے _ لیکن کسی کو بھی جرات نہ ہوتی کہ آپ کو کوئی اذیت دے سکے _ پیغمبر اسلام سال میں ایک مہینہ کوہ حراء پر جاتے تھے اور وہاں عبادت کرتے تھے حضرت علی (ع) ان دنوں آپ کے لئے پانی اور غذا لے جاتے _ حضرت علی (ع) فرمایا کرتے تھے کہ میں کوہ حراء میں پیغمبر (ص) کے ساتھ رہتا تھا اور پیغمبری کی علامتیں آپ میں دیکھا تھا _ حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا _آپ کی عمر


اس وقت تقریبا دس سال تھی لیکن اس قدر سمجھ دار اور زود فہم تھے کہ اچھائی اور برائی کو پوری طرح پہچان لیتے تھے آپ جانتے تھے کہ پیغمبراسلام(ص) سچ کہتے ہیں اور خدا کی طرف سے پیغمبر معيّن ہوئے ہیں _

جواب دیجئے

۱_ ہمارے پہلے امام کا کیا نام ہے کس نے انہیں امامت کیلئے معین کیا ہے؟

۲_ حضرت علی (ص) کس شہر میں متولد ہوئے اور کس مہینے اور کس دن پیدا ہوئے ؟

۳_ آپ کے والد اور والدہ کا کیا نام تھا اور پیغمبر کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ تھا؟

۴_ آپ کیسے جوان تھے_ کیا بچوں کو اذیت دیتے تھے؟

۵_ حضرت علی (ص) کی کس نے تربیت کی اور آپ نے کس عمر میں اظہاراسلام کیا ؟

۶_ پہلا مسلمان مرد کون تھا؟

۷_ تمہاری تربیت کرنے والا کون ہے ؟

۸_ کیا تم حضرت علی (ع) کے صحیح پیروکارہو؟


دوسرا سبق

یتیم نوازی

ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ پانی کی مشک کندھے پر اٹھائے گھر جارہی ہے _ عورت تک چکی تھی _ حضرت علی (ع) کو اس عورت پر رحم آیا اور اس سے مشک لے لی _ تا کہ اسے گھر تک پہنچا دیں _ آپ نے راستے میں اس عورت کے حالات دریافت کئے _ عورت نے کہا کہ میرا شوہر ملک کی حفاظت کے لئے سرحد پرگیا ہوا تھا اور وہاں قتل ہوگیا _ چند یتیم چھوڑ گیا ہے اور ان کے لئے مصارف نہیں ہیں _ میں مجبور ہوں کہ کام کروں _ حضرت علی علیہ السلام اس واقعہ سے بہت غمگین ہوئے _ اس عورت سے خداحافظ کہا اور اپنے گھر لوٹ آئے تمام رات غم وغصّہ میں کائی _ حضرت علی علیہ السلام نے صبح سویرے ایک زنبیل آٹے اور گوشت و خرما سے پرکی اور اٹھا کر اس عورت کے گھر کی طرف روانہ ہوئے _ دروازہ کھٹکٹایا اس کی اجازت سے گھر میں داخل ہوئے بچے بھوکے تھے ان کی ماں سے فرمایا کہ تم اٹا گوندھو اور روٹی پکاؤ میں بچوں کو بہلاتا ہوں _ حضرت علی علیہ السلام بچّوں کو بہلاتے رہے اور پیار کرتے رہے _ جب غذا تیار ہوگئی تو گوشت اور خرما لے کر بچوں کو کھلاتے اور فرماتے اے میرے پیارے بچو مجھے معاف کردو کہ مجھے تمہاری خبر نہ ہو سکی _ بچوں نے سیر ہوکر کھانا کھایا اور وہ خوش حال ہوگئے _ حضرت علی علیہ السلام نے ان کو خداحافظ کہا اور باہر


نکل آئے _ اس کے بعد آپ وقتا ًفوقتاًان کے گھر جاتے اور ان کے لئے غذا لے جاتے تھے _

سوالات

۱_ حضرت علی (ع) نے عورت سے کیوں مشک لے لی ؟

۲_ اگر تم کسی دوست کو دیکھوکہ کسی چیز کیلئے جانے سے تھک گیا ہے تو کیا کروگے ؟

۳_ وہ عورت بچّوں کا خرچ کہاں سے پورا کرتی تھی؟ اس کا شوہر کہاں قتل ہوا تھا؟

۴_ حضرت علی (ع) کیوں غمگین ہوئے ؟

۵_ حضرت علی (ع) کون سی چیز ان بچوں کیلئے لے گئے تھے؟

۶_ جب تم کسی کے گھر یا کمرے میں داخل ہونا چاہو گے تو کیا کروگے ؟

۷_ آٹا کس نے گوندھا؟ بچّوں کو کس نے بہلایا؟

۸_ یتیموں کے منہ کس نے لقمے دیئے

۹_ یتیم بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیتے؟

۱۰_ کیا تم یتیم بچوں کے دیکھنے کے لئے جاتے ہو ، اور کیا انکیلئے ہدیہ کے کر جاتے ہو؟

یہ جملہ مکمل کیجئے

۱_ حضرت علی (ع) نے بچون کو اور کرتے رہے

۲_ جب غذا تیار ہوگئی تو گوشت اور خرما لیکر میں دیتے

۳_ اور فرماتے مجھے معاف کردو کہ ... نہ ہوسکی


تیسرا سبق

حضرت علی (ع) بچون کو دوست رکھتے تھے

حضرت علی (ع) تمام بچوں کودوست رکھتے اوران سے محبت کرتے تھے بالخصوص یتیم بچوں پر بہت زیادہ مہربان تھے اپنے گھر ان کی دعوت کرتے اور انہیں منھائی اور شہد دیتے تھے آپ (ع) یتیم بچوں سے اس قدر پیار کرتے تھے کہ آپ (ص) کے ایک صحابی کہتے ہیں کہ کاش میں یتیم بچہ ہوتا _ تا کہ حضرت علی (ع) مجھ پر نوازشیں کرتے _

سوالات

۱_ حضرت علی (ع) کا رويّہ بچوں کے ساتھ کیسا تھا؟

۲_ یتیم بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے؟

۳_ کیا تم نے آج تک کسی یتیم بچّے کو اپنے گھر دعوت دی ہے ؟

۴_ وہ صحابی کیوں کہتا تھا کہ کاش میں یتیم ہوتا ؟


چوتھا سبق

کام او رسخاوت

حضرت علی علیہ السلام محنتی اور خوش سلیقہ انسان تھے _ زراعت اور باغ لگانے میں کوشاں رہتے تھے آپ نے کئی کھیت اور باغ آباد کئے اور سب کو راہ خدا میں خرچ کردیا _ آپ نے کچھ زمین مدینہ کے اطراف میں خریدی تا کہ اسے آباد کریں حضرت علی علیہ السلام نے اس زمین کے آباد کرنے کے لئے کنواں کھودنے کیلئے ایک مناسب جگہ تجویز کی اور خدا پر توکل کرتے ہوئے کنواں کھودنے میں مشغول ہوگئے _ کئی دن گذر گئے لیکن پانی تک نہ پہونچے _ مالی کہتا ہے کہ ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے کلنگ اٹھایا اور کنویں کے اندر گئے کانی دیر تک کوشش کرتے رہے لیکن پانی نہ نکلا_ تھک کر کنوئیں سے باہر آئے _ پیشانی کا پسینہ ہاتھ سے صاف کیا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد دوبارہ کنویں میں جا کھر کھودنے میں مشغول ہوگئے آپ اس طرح کلنگ مارتے تھے کہ آپ کی سانس کی آواز باہر تک سنائی دیتی تھی پھر بھی پانی تک نہ پہنچ پائے _ آپ نے ایک زبردست ضرب لگائی جس سے زمین میں شگاف پڑگیا اور پانی جوش مارکر نکل آیا _ حضرت علی (ع) جلدی سے کنوئیں سے باہر آئے بہت عجیب ساکنواں کھداتھا _ لوگ اسے دیکھنے اکٹھے ہوگئے ہر ایک کوئی نہ کوئی بات کہتا تھا_ ایک کہتا تھا علی علیہ السلام ایک محنتی اور خوش سلیقہ انسان ہیں _ دوسرا کہتا علی (ع) اور ان کی اولاد ثروت مند ہیں _ کوئی حسد کرتا تھا _ حضرت علی علیہ السلام نے مالی سے فرمایا ذرا قلم اور کاغذلے آؤ_ مالی قلم اور کاغذ لے آیا _ حضرت علی علیہ السلام ایک کنارے پر بیٹھ


گئے اور یوں تحریر فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم میں نے اس کنوئیں اور اس کے اطراف کی زمین کو وقف کردیا ہے کہ جس کی آمدنی کو ان مصارف میں خرچ کیا جائے

۱_ بے نوا اور درماندہ انسانوں پر

۲_ ان حضرات پر جو مسافرت میں تہی دست ہوگئے ہیں

۳_ یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر

۴_ ان بیماروں پر جو فقیر ہوں

۵_ ایسے نیک کاموں پر کہ جن افادیت عمومی ہو

اس کنویں کو اللہ کی رضاء اور آخرت کے ثواب کے لئے وقف کرتا ہوں _ تا کہ جہنم کی آگ سے نجات پا سکوں

دستخط

علی(ع) ابن ابی طالب (ع)

جواب دیجئے

۱_ حضر ت علی (ع) نے کنویں اور اس کے اطراف کی زمین کی آمدنی کو کس کام کے لئے وقف قرار دیا ؟

۲_ کئی ایسے کام کہ جن کی افادیت عمومی ہو بتلایئے


۳_ ایسے نیک کام جو تمہارے دوستوں کیلئے فائدہ مند ہوں اور تم اسے بجالا سکتے ہوں شمار کیجئے ؟

۴_ حضرت علی (ع) نے کس کنویں کو کیوں وقف کیا تھا؟

۵_ تم کون سے کام انجام دیتے ہو کہ جن کی وجہ سے جہنم کی آگ سے چھٹکارا حال کر سکو؟

۶_ اس واقعہ سے جو درس ملتا ہے وہ اپنے دوستوں کو بتلاؤ؟


پہلا سبق

دوسرے امام حضرت امام حسن علیہ السلام

دوسرے امام حضرت امام حسن علیہ السلام ہیں _ آپ(ع) کے والد ماجد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور والدہ ماجدہ دختر پیغمبر (ع) خدا حضرت فاطمہ زہرا (ع) ہیں _ پندرہ رمضان المبارک تیسری ہجری مدینہ منورہ میں آپ(ع) متولد ہوئے _ جناب رسول (ص) خدا امام حسن علیہ السلام کو بہت دوست رکھتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے آپ امام حسن علیہ السلام کو بوسہ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں حسن (ع) کو دوست رکھتا ہوں _ اور اس کے دوست کو بھی دوست رکھتا ہوں _ نیز فرماتے تھے کہ حسن (ع) اور حسین(ع) جوانان جنت کے سردار ہیں _ امام حسن (ع) بہت عالم و متقی تھے نماز اور عبادت میں مشغول رہتے تھے_ غریبوں اور بے نواؤں کو دوست رکھتے تھے اور ان کی مدد کرتے تھے _ خدا نے حضرت علی علیہ السلام کے بعد حضرت امام حسن علیہ السلام کولوگوں کے لئے امام معيّن فرمایا_ امام حسن علیہ السلام کے زمانے میں معاویہ شام کا حاکم تھا _ معاویہ ایک اچھا انسان نہ تھا وہ لوگوں کا امام بننا چاہتا تھا وہ کہا کرتا تھا کہ میں پیغمبر کا خلیفہ اور جانشین ہوں _ احکام اسلامی کو پامال کرتا تھا اور امام حسن علیہ السلام کی مخالفت کرتا تھا _ حضرت علی علیہ السلام اور اما م حسن علیہ السلام پر تبرا کرواتا تھا _ حضرت علی علیہ السلام کے دوستوں اور شیعوں سے دشمنی کرتا تھا اور ان میں سے بہتوں کو اسنے قید رکھا تھا اور کئی ایک کو قتل کردیا تھا _ امام حسن علیہ السلام اٹھائیس صفر پچاس


ہجری میں زہر شہید کردیئےئے _ آپ کے جسم مبارک کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا _

جواب دیجئے

۱_ حضرت امام حسن (ع) کس سال اور کس مہینے اور کس دن پیدا ہوئے ؟

۲_ آپ کے والد ماجد اور والد ہ ماجدہ کا کیا نام تھا؟

۳_ پیغمبر اسلام (ص) نے امام حسن (ع) کے حق میں کیا فرمایا؟

۴_ آپ غریبوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے؟

۵_ کس نے امام حسن (ع) کو امامت کے لئے معيّن کیا اور کسکے حکم سے معيّن کیا ؟

۶_ معاویہ کیسا انسان تھا؟

۷_ امام حسن(ع) نے کس دن شہادت پائی؟

۸_ آپ کے جسم مبارک کو کہاں دفن کیا گیا ؟


دوسرا سبق

خوش اخلاقی درگذری

ایک دن شام سے ایک آدمی آیا اس نے امام حسن علیہ السلام کو گلی میں دیکھا _ اور پہچان گیا لیکن نہ یہ کہ آپ(ع) کو سلام کیا بلکہ گالیاں دینا شروع کردیا اور جتنا اس سے ہوسکتا تھا آپ (ع) کی شان میں اس نے گستاخی کی امام حسن علیہ السلام نے اس کوئی جواب نہ دیا اور صبر کیا یہاں تک کہ وہ شامی خاموش ہوگیا _ اس وقت امام حسن علیہ السلام نے اس کو سلام کیا اور خندہ پیشانی سے اس کی احوال پرسی کی اور فرمایا کہ میرا گمان ہے کہ تم مسافر ہوا ور ہمارے حالات سے بے خبر ہو _ معاویہ کے پروپیگنڈے نے تجھے غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا ہے _ جو کچھ تم نے میرے باپ(ع) کے حق میں کہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے چونکہ تیری نیت بری نہیں ہے اور تجھے دھوکا دیا گیا ہے لہذا میں نے تجھے معاف کردیا _ اگر تجھے کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں تجھے دے دوں گا _ اگر محتاج ہو تو میں تیری احتیاج کو پورا کرنے کو تیارہوں اور اگر پناہ چاہتے ہو تو میں پناہ دینے کو تیار ہوں _ میں تم سے درخواست کرتا ہوں ، کہ میرے گھر آؤ اور میرے مہمان رہو _ جب اس مردنے آپ(ع) کا یہ اخلاق اور اپنی زیادتی دیکھی تو اپنی گفتگو پر نادم ہوا اور روکر کہنے لگا _ خدا بہتر جانتا ہے کہ کس شخص کو امام اور پیشوا قرار دے _ اے رسول (ص) خدا کے فرزند خدا کی قسم اب تک میرا خیال تھا کہ آپ(ع) اور آپ(ع) کے باپ بدترین انسان ہیں لیکن اب میں سمجھا ہوں کہ آپ


روئے زمین پر تمام لوگوں سے بہتر ہیں اس کے بعد اس نے اپنا سامان امام حسن علیہ السلام کے گھر اتارا اور آپ کا مہمان ہوا_ بہت وقت نہیں گذراتھا کہ وہ اما م حسن علیہ السلام کا پیروکار اور وفادار شیعہ بن گیا : جانتے ہو کیوں؟

جواب دیجئے

۱_ وہ مرد اپنی گفتار سے کیوں شرمند ہ ہوا ...؟

۲_ جب کوئی نادانی کی وجہ سے تمہیں برا کہے تو تم کیا جواب دوگے؟

۳_ معاف کردینے کا کیا مطلب ہے کس وقت معاف کردینا چاہیئے ؟

۴_ اپنے دوستوں میں سے کسی دوست کے معاف کردینے کا نمونہ پیش کرو؟

۵_ اس واقعہ سے جو درس ملتا ہے اسے بیان کرو؟

۶_ اس واقعہ کا خلاصہ لکھو اور دوستوں کے لئے بیان کرو؟


تیسرا سبق

امام حسن علیہ السلام کے مہمان

حضرت امام حسن علیہ السلام فقیروں سے محبت کرتے تھے اور ان پر مہربان رہتے تھے _ ایک روز آب گذررہے تھے کہ آپ نے دیکھا کئی فقیر زمین پر بیٹھے کھانا کھارہے ہیں _ ان کے پاس روٹیوں کے چند خشک ٹکڑے تھے_ انہوں نے جب امام حسن علیہ السلام کو دیکھا تو آپ کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی امام حسن علیہ السلام گھوڑے سے اترے اور ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے _ اس کے بعد آپ (ع) نے فرمایا کہ میں نے تمہاری دعوت قبول کرلی ہے _ اب میری خواہش ہے کہ تم سب میرے مہمان بنو اور میرے گھر آؤ_ انہوں نے امام حسن علیہ السلام کی دعوت قبول کی _ امام حسن علیہ السلام گھر تشریف لے گئے اور خدمت گاروں سے فرمایا میرے کچھ محترم مہمان آرہے ہیں ان کے لئے بہت اچھی غذا مہیا کرو_ وہ مہمان آپ کے گھر آئے اور امام حسن علیہ السلام نے احترام سے ان کا خیر مقدم کیا _

سوالات

۱_ امام حسن (ع) کے مہمان کون تھے


۲_ امام حسن (ع) نے ان کیلئے کیسی غذا مہیا کی؟

۳_ امام حسن (ع) فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے؟

۴_ آپ کا فقراء اور محتاجوں کے ساتھ کیسا رویہ تھا؟

۵_ اس واقعہ سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟

۶_ہم کس طرح امام حسن (ع) کی پیروی کریں؟


پہلا سبق

تیسرے امام حضرت امام حسین علیہ السلام

امام حسین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کے چھوٹے بھائی ہیں _ آپ کے والد حضرت علی علیہ السلام اور والدہ جناب فاطمة الزہرا(ع) پیغمبر اسلام(ص) کی دختر ہیں _ آپ (ع) چوتھی ہجری تین شعبان کو مدینہ میں متولد ہوئے _ امام حسن علیہ السلام کے بعد آپ(ع) رہبری اور امامت کے منصب پر فائز ہوئے _ پیغمبر اسلام(ص) اما م حسین(ع) سے بہت محبت کرتے تھے آپ ان کا بوسہ لیتے تھے اور فرماتے تھے_ کہ حسین(ع) مجھ سے ہے اور میں حسین (ع) سے ہوں _ جو شخص حسین(ع) کو دوست رکھتا ہے خدا اسے دوست رکھتا ہے _ امام حسین علیہ السلام عالم اور متقی انسان تھے _ غریبوں ، مسکینوں اور یتیم بچوں کی خبرگیری کرتے تھے وہ بہت بہادر اور طاقتور تھے _ ذلّت کے سامنے نہیں جھکتے تھے _ ظالموں سے مقابلہ کرتے تھے سچے اور اچھے انسان تھے _ منافقت اور چاپلوسی کو برا سمجھتے تھے _

امام حسین (ع) فرماتے تھے:

میں راہ خدا میں شہادت کو نیک بختی اور ظالموں کے ساتھ زندہ رہنے کو ذلّت و بدبختی سمجھتا ہوں _


دوسرا سبق

آزادی اور شہادت

امام حسین علیہ اللام صاحب ایمان اور پیکر عمل تھے _ رات کو خدا سے مناجات کرتے تھے اور دن کو کاروبار اور لوگوں کی راہنمائی فرماتے تھے _ ہمیشہ ناداروں کی فکر میں رہتے تھے اور ان سے میل میلاپ رکھتے تھے اور ان کی دلجوئی کرتے تھے _ لوگوں سے فرماتے تھے کہ غریبوں کے ساتھ بیٹھنے سے پرہیز نہ کیا کرو کیونکہ خداوند متکبروں کو دوست نہیں رکھتا جہاں تک ہوتا تھا غریبوں کی مدد کرتے تھے _ تاریک رات میں کھانے کا سامان کندھے پر اٹھا کرنا داروں کے گھر لے جاتے تھے _ امام حسین علیہ السلام کوشش کرتے تھے کہ غربت اور عدم مساوات کو ختم کردیں اور عدل و مساوات کو قائم کریں ، لوگوں کو خدا سے آشنا کریں _ امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں ظالم یزید شام کی حکومت پر بیٹھا _ یزید جوٹے طریقے سے اپنے آپ کو پیغمبر(ص) کا خلیفہ اور جانشین بتلاتا تھا _ ملک کی آمدنی شراب نوشی اور قمار بازی اور عیاشی پر خرچ کرتا تھا_ بیت المال کی دولت اور ناداروں کے مال کو اپنی حکومت کے مستحکم کرنے پر خرچ کرتا تھا _ قرآن اور اسلام کے دستور کو پامال کرتا تھا جب یزید تخت پر بیٹھا تو اس نے خواہش کی کہ امام حسین علیہ السلام اس کی امامت اور ولایت کو تسلیم کرکے اس کی بیعت کریں _ لیکن امام حسین (ع) چونکہ اپنے آپ کو اسلام کا صحیح ولی اور رہبر سمجھتے تھے اس لئے آپ ایک ظالم کی رہبری کو کیسے تسلیم کرتے _ امام حسین علیہ السلام نے اس


امر کی وضاحت شروع کردی اور لوگوں کو خبردار کیا اور فرمایا: کہ کیا نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پامال ہو رہا ہے اور باطل اور ظلم غلبہ پارہا ہے _ اس حالت میں مومن کو چاہیے کہ وہ شہادت کے لئے تیار ہوجائے _ اللہ کی راہ میں شہادت اور جان قربان کرنا فتح اور کامرانی ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا سوائے ذلّت اور خواری کے اور کچھ نہیں ہے

اس دوران کوفہ کے لوگوں نے جو معاویہ اور یزید کے ظلم سے تنگ تھے امام حسین علیہ السلام کو کوفہ آنے کی دعوت دی چونکہ امام حسین علیہ السلام مقابلہ کا عزم بالجزم کر چکے تھے لہذا ان کی دعوت کو قبول کیا اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے _ لیکن یزید کے سپاہیوں نے کوفہ کے نزدیک آپ (ع) اور آپ(ع) کے با وفا ساتھیوں کا راستہ بندکردیا تا کہ آپ کو گرفتار کرکے یزیدکے پاس لے جائیں لیکن امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

میں ہرگز ذلت و رسوائی کو قبول نہیں کروں گا _ موت کو ذلت سے بہتر سمجھتا ہوں اور اپنی شہادت تک اسلام اور مسلمانون کا دفاع کروں گا _ یزید کی فوج نے امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کا کربلا میں محاصرہ کرلیا _ امام (ع) اور آپ (ع) کے وفادار صحابیوں نے پائیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کے مقابلے میں جنگ کی اور آخر کار سب کے سب روز عاشورہ شہید ہوگئے _ امام حسین(ع) بھی شھید ہوگئے _ مگر جبر و استبداد کو تسلیم نہیں کیا اور باطل کے سامنے نہیں جھکے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کیا اپنے پاک خون سے اسلام اور قرآن کو خطرے سے نجات دلائی اور اس سے مسلمانوں کو آزادی اور دینداری کا درس دیا _ اب اسلام کی حفاظت اور دفاع کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے _ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم کس


طرح اس ذمہ داری سے عہدہ برآہوسکتے ہیں _

سوالات

۱_ امام حسین (ع) غریبوں کے ساتھ بیٹھنے کے متعلق کیا فرماتے تھے؟

۲_ امام حسین (ع) کس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے؟

۳_ یزید اسلامی مملکت کے خزانے کو کہاں خرچ کرہا تھا؟

۴_ یزید کا امام حسین (ع) سے کیا مطالبہ تھا؟

۵_ کیا امام حسین (ع) نے یزید کامطالبہ مان لیا تھا؟

۶_ مومن کس وقت شہادت کیلئے تیار ہوتا ہے؟

۷_ امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کی نگاہ میں کامیابی کیا تھی اور ذلّت و خواری کیا تھی؟

۸_ یزید کی فوج نے امام حسین (ع) کا راستہ کیوں بند کردیا تھا؟

۹_ کیا امام حسین(ع) نے یزید کی خلافت کو تسلیم کرلیا تھا؟

۱۰_ امام حسین (ع) نے ہمیں اور تمام انسانوں کو کس طرح آزادی کا درس دیا ؟

۱۱_ امام حسین (ع) اور آپ کے اصحاب نے اسلام کو کیسے خطرے سے نجات دلوائی ؟

۱۲_ اب جب کہ دین اور قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے تو ہمارا فرض کیا ہے ؟


تیسرا سبق

دستگیری اور مدد کرنا

پیغمبر(ص) اسلام کے صحابہ میں سے ایک عمر رسیدہ صحابی بیمار ہوگیا _ امام حسین(ع) اس کی عیادت کے لئے گئے دیکھا کہ وہ بہت غمگین ہے اور بہت بے چینی سے گریہ و زاری کررہا ہے امام حسین علیہ السلام کو اس پر ترس آیا آپ نے پوچھا بھائی کیوں غمگین ہو مجھے وجہ بتاؤ تا کہ میں تیرے غم کو دور کردوں _ اس بیمار نے کہا کہ میں لوگوں کا بہت مقروض ہوں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ قرض ادا کر سکوں میں اس لئے روتا ہوں کہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں _ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا بھائی غم نہ کرو میں ضامن بنتا ہوں کہ تیرا قرضہ ادا کروں گا اس مسلمان بیمار نے کہا میرا دل چاہتا ہے کہ مرتے وقت کسی کا مقروض نہ رہوں _ مجھے خوف ہے کہ قبل اس کے کہ آپ (ص) میرا قرضہ ادا فرمائیں مجھے موت آجائے اور میں مقروض ہی مرجاؤں _ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا بے چین نہ ہو مجھے امید ہے کہ تیرے مرنے سے پہلے تیرا قرضہ ادا کردوں گا _ امام حسین علیہ السلام نے اس کو خدا حافظ کہا _ اور وہاں سے باہر چلے آئے اور فوراً روپیہ مہیا کرکے اس کا قرضہ ادا کیا اور اسے اطلاع دی کہ خوشحال ہو جا کہ تیرا قرضہ ادا کردیا گیا ہے _ وہ بیمار خوشحال ہوگیا اور خدا بھی اس مدد اور دستگیری سے بہت خوش ہوا _ ہماری پیغمبر (ص) نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مومن کو خوشحال کرتا ہے گویا اس نے مجھے خوشحال کیا _ اور جو مجھے خوش کرتا ہے وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرتا ہے _


جواب دیجئے

۱_ کیا تم بیمار دوست کی عیادت کیلئے جاتے ہو؟

۲_ امام حسین(ع) نے اس بیمار سے کیا پوچھا؟ اس بیمار نے جواب میں کیا کہا؟

۳_ امام حسین(ع) نے اس بیمار کی بے چینی کو کس طرح دور کیا ؟

۴_ آیا تم کسی کے مقروض ہوکیا اچھا نہیں کہ اپنے قرض کو جلدی ادا کردو؟

۵_ کیا آج تم نے کسی مسلمان کو خوش کیا ہے؟ اور کس طرح؟

۶_ ہمارے پیغمبر(ص) نے کسی مومن کو خوش کرنے کے متعلق کیا فرمایاہے؟


پہلا سبق

چوتھے امام حضرت امام زین العابدین (ع)

آپ (ع) کا نام علی(ع) علیہ السلام ، اور لقب سجاد ہے _آپ اڑتیس ہجری پندرہ جمادی الثانی کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے _ آپ کے والد امام حسین علیہ السلام اور والدہ ماجدہ شہر بانو تھیں _ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو اللہ کے حکم کے مطابق اپنے بعد امامت کے لئے معین فرمایا _ امام سجاد علیہ السلام کربلا میں موجود تھے لیکن عاشورہ کے دن بیمار تھے اس لئے آپ (ع) یزید کی فوج سے جنگ نہیں کر سکتے تھے اسی وجہ سے آپ شہید نہیں ہوئے _ کربلا سے آپ(ع) کو نبی(ع) زادیوں کے ساتھ گرفتار کرکے کوفہ اور شام لے جایا گیا _ جہاں آپ(ع) نے خطبہ دیا اور اپنے والد کے مشن کو لوگوں کے سامنے بیان فرمایا اور ظالم یزید کو ذلیل و رسواکیا _ امام سجاد(ع) علیہ السلام کو یہ بات بہت پسند تھی کہ یتیم بچے اور نابینا اور غریب لوگ آپ(ع) کے مہمان ہوں _ بہت سے غریب گھرانوں کو خوراک اور پوشاک دیا کرتے تھے _ حضرت سجاد علیہ السلام اللہ تعالی کی اتنی عبادت کیا کرتے تھے کہ آپ (ع) کو زین العابدین یعنی عبادت گذاروں کی زینت اور سجاد یعنی بہت زیادہ سجدہ کرنے والے کا نام دیا گیا _ ستاون''۵۷'' سال زندہ رہے اور پچیس''۲۵'' محرم پچانوے ہجری کو مدینہ منورہ میں شہید کردیئےئے _ آپ کے جسم مبارک کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا _


جواب دیجئے

۱_ ہمارے چوتھے امام کا کیا نام ہے آپ(ع) کے والداور والدہ کا کیا نام ہے ؟

۲_ والد کی شہادت کے بعد انکے مشن کو کس طرح عیاں فرماتے تھے؟

۳_ زین العابدین اور سجاّد کے معنی بتلاؤ اور آپ(ع) کو ان دو ناموں سے کیوں یادکیا جاتا تھا؟

۴_ آپ کی عمر مبارک کتنی تھی کس دن اور کس سال آپ(ع) نے وفات پائی ؟

۵_ آپ کو کہاں دفن کیا گیا ؟

۶_ تم اس وقت تک چار اماموں کے حالات زندگی پڑھ چکے ہوانکے نام ترتیب وار بیان کرو؟


دوسرا سبق

اللہ سے راز و نیاز

ایک آدمی کہتا ہے کہ میں خانہ کعبہ کا طواف کررہا تھا کہ ایک خوبصورت جوان کو دیکھا کہ خانہ کعبہ کے پردے سے لپٹا ہوا رورہا ہے اور اپنے خالق سے راز و نیاز کی باتیں کررہا ہے _ اور کہہ رہا ہے _

پروردگار تمام آنکھیں سوچکی ہیں سورج غروب ہوچکا ہے _ ستارے آسمان پر ظاہر ہوچکے ہیں لیکن اے ساری دنیا کے مالک تو ہمیشہ زندہ اور پایندہ ہے_ اور جہاں اور جہان میں رہنے والوں کے لئے انتظام کررہاہے _ پرودگار: بادشاہوں نے اپنے محلوں کے دروازے مضبوطی سے بندکرلئے ہیں اور اس پر پہرہ دار بٹھادیئے ہیں لیکن تیرے گھر کا دروازہ ہمیشہ تمام لوگوں کے لئے کھلا ہوا ہے اور تو بیماروں کی شفا اور مظلوموں کی مدد کے لئے حاضر و آمادہ ہے _

اے خدائے مہربان اور تمام جہانوں کے محبوب یہ ناتوان اور کمزور بندہ رات کی تاریکی میں تیری چوکھٹ پر حاضر ہوا ہے شاید تو اس پر نگاہ کرم فرمائے _

ائے خدا تو اندھیری رات میں بیچاروں کی فریادرسی کرتا ہے _ اے خدا گرفتار لوگوں کو قید و بند سے نجات دیتا ہے _ اے خدا تو اپنے بندوں کی سختی اور دشواری میں مدد کرتا ہے _ اے خدا تو درندوں کو شفاء دیتا ہے _ پروردگار: تیرے مہمان تیرے گھر کے اطراف میں سوچکے ہیں لیکن اے قادر صرف تیری ذات ہے کہ جسے نیند نہیں آتی اور جہاں اور جہاں میں رہنے والوں کے لئے انتظام کرتا ہے : پروردگار:


میں آج رات تیرے گھر آیا ہوں اور تجھے پکارتا ہوں کیوں کہ تو نے خود فرمایا ہے کہ مجھے ہی پکارو خدایا تجھے اس محترم گھر کی قسم میری روتی آنکھوں پر رحم فرما _ پروردگار اگر تیرے گھر نہ آئیں تو کس کے گھر جائیں اور کس سے امیدوابستہ کریں _

وہ آدمی کہتا ہے کہ '' اس آدمی کی یہ گفتگو جو اپنے خدا سے وجد کی حالت میں کررہا تھا مجھے بہت پسند آئی میں اس کے نزدیک گیا کہ دیکھوں وہ کون ہے _ میں نے دیکھا کہ امام زین العابدین حضرت سجاد ہیں کہ جو اس طرح سے مناجات کر رہے ہیں'':


پہلا سبق

پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام

امام محمد باقر علیہ السلام ستاون(۵۷) ہجری تیسری صفر کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپ کے والد امام زین العابدین (ع) اور والدہ ماجدہ فاطمہ دختر امام حسن علیہ السلام تھیں امام زین العابدین(ع) نے اللہ تعالی کے حکم سے اور پیغمبر کی وصیت کے مطابق اپنے بعد امام محمد باقر علیہ السلام کو لوگوں کا امام و پیشوا معيّن کیا حضرت امام محمد باقر علیہ السلام دوسرے اماموں کی طرح علم و دانش میں بے نظیر تھے بڑے بڑے علماء اور دانشمند آپ(ع) کے علم سے استفادہ کرتے تھے اور اپنی علمی مشکلات آپ سے بیان کرتے تھے _ امام محمد باقر علیہ السلام لوگوں کو دین کے احکام کی تعلیم دیتے تھے اور ان کو زندگی کے آداب بتلاتے تھے _ لوگوں کی تعلیم و تربیت اورراہنمائی میں بہت کوشش فرماتے تھے آپ نے اپنی زندگی میں ہزاروں احادیث اور علمی مطالب لوگوں کو بتلائے جو آج ہم تک پہنچ چکے ہیں _

آپ کا علم و فضل اتنا زیادہ تھا کہ آپ (ع) کو باقر العلوم کہا جاتا تھا ، یعنی مختلف علوم کو بیان کرنے والا _

امام محمد باقر علیہ السلام ستاون '' ۵۷'' سال زندہ رہے اور ایک سو چودہ ہجری'' ۱۱۴'' سات ذی الحجہ کو مدینہ منورہ میں شہید کردیئےئے


آپ (ع) کے جسد مبارک کو بقیع میں امام حسن علیہ السلام اور امام زین العابدین (ع) کے پہلو میں دفن کیا گیا _


دوسرا سبق

امام(ع) سے سیکھیں

ایک مرد جو اپنے آپ کو زاہد اور تارک دنیا سمجھتا تھا کہتا تھا کہ میں ایک دن کھیتوں اور باغ سے گذر رہا تھا _ گرمی کا زمانہ تھا _ سورج تیزی سے چمک رہا تھا _ ہوا بہت گرم تھی میں نے ایک قومی آدمی کو دیکھا کہ وہ زراعت کے کام میں مشغول ہے اس سے پسینہ ٹپک رہا میں نے سوچا یہ کون انسان ہے جو اس گرمی میں دنیا کی طلب میں کوشش کررہا _ کون ہے جو اس قدر دنیا کے ماں کا طلب گار ہے اور خود کو تکلیف میں مبتلا کررکھا ہے _ میں اس کے نزدیک گیا لیکن وہ اپنے کام میں مشغول رہا _ مجھے یہ دیکھ کر بیحد تعجب ہوا کہ وہ امام باقر علیہ السلام ہیں یہ شریف انسان دنیا کا مال حاصل کرنے کے لئے کیوں اپنے آپ کو اتنی زحمت دے رہے ہیں _ کیوں دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں _ ضروری ہے کہ اسے نصیحت کروں اور اس روش سے اسے روکوں _ زیادہ نزدیک ہوا اور سلام کیا _ امام علیہ السلام کی سانس پھولی ہوئی تھی اسی حالت میں آپ نے سلام کا جواب دیا _ اور اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا _ میں نے کہا کہ کیا یہ آپ (ع) کی شایان شان ہے کہ اس گرمی میںدنیا کی طلب میں اپنی آپ کو زحمت میں ڈالیں _ کیا درست ہے کہ اس گرمی میں مال دنیا حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں _ اگر آپ (ع) کی موت اس حالت میں ہوجائے تو خدا کو کیا جواب دیں گے ؟ امام محمد باقر علیہ السلام نے میری طرف ایک نگاہ کی اور فرمایا اگر میری موت اس حالت میں آجائے تو میں اللہ کی اطاعت اور


اس کی عبادت میں دنیا سے جاؤں گا _ میں نے سخت تعجب سے کہا کہ کیا اس حالت میں موت اطاعت خدا ہوگی؟ امام(ع) نے بہت با ادب لہجے اور نرم انداز میں فرمایا _ ہاں اطاعت خدا میں _ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ کی اطاعت فقط نماز و روزہ ہے نہیں _ ایسا نہیں _ میں صاحب عیال ہوں زندگی کے لئے مصارف چاہئیں _ ضروری ہے کہ کام کروں اور محنت کروں تا کہ لوگوں کا محتاج نہ بنوں اور اپنی زندگی کو خود چلا سکوں اور غریبوں کی مدد کر سکوں اگر کام نہیں کروں گا تو میرے پاس پیسہ نہ ہوگا اور پھر اچھے کاموں میں شرکت نہیں کر سکوں گا اگر گناہ کی حالت میں دنیا سے جاؤں تو اللہ تعالی کے نزدیک شرمسار ہوں گا لیکن اب میں اللہ کی اطاعت اور بندگی کی حالت میں ہوں؟

خداوند عالم نے حکم دیا ہے کہ اپنی زندگی کا بوجھ دوسروں پرمت ڈالو_ اور حلال روزی کمانے کے لئے کوشش کرو _ لہذا یہ کام اور میری کوشش خداوند عالم کی اطاعت ہے نہ دنیا پرستی '' اور نہ دنیا کی محبّت ''

وہ آدمی کہتا ہے کہ '' میں اپنی پر نادم ہواور امام علیہ السلام سے معذرت طلب کی اور عرض کیا کہ مجھے معاف کردیجئے میں چاہتا تھا کہ آپ کو نصیحت کروں _ لیکن میں خود نصیحت اور راہنمائی کا محتاج نظر آیا _ آپ (ع) نے مجھے نصیحت کی ہے اور میری راہنمائی فرمائی ہے _ اس کے بعد ندامت سے سر جھکائے وہاں سے چل پڑا_


جواب دیجئے

۱_ امام محمد باقر (ع) کس سال کی دن او رکہاں پیدا ہوئے؟

۲_ آپ (ع) کے والد اور والدہ کا کیا نام تھا؟

۳_ کس نے آپ(ع) کو امامت کیلئے معین فرمایا؟

۴_ باقر العلوم کا کیا مطلب ہے آپ کو یہ لقب کیوں دیا گیا ؟

۵_ امام محمد باقر (ع) کتنے سال زندہ رہے اور کس سال اور کس دن وفات پائی اور کہاں دفن ہوئے ؟

۶_ وہ آدمی جو خود کو زاہد اور تارک دنیا سمجھتا تھا اسے دوسرے پر کیوں شبہ ہوا؟

۷_ امام (ع) کی تعلیم کیسی ہوتی ہے اور امام کا علم و فضل کیسا ہوتا ہے ؟ کیا کوئی دوسرا آدمی امام(ع) کو تعلیم دے سکتا ہے ؟

۸_ امام محمد باقر(ع) کس لئے کام کرتے تھے اور ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے _ اللہ تعالی کا زندگی بسر کرنے کے لئے کیا حکم ہے ؟

۹_ حلال روزی کمانے کے لئے کام کرنا کیا ہے ؟

۱۰_ اس واقعہ سے اور امام کے فرمان سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے ہم امام (ع) کے اخلاق اور کردار کی کس طرح پیروی کریں ؟


پہلا سبق

چھٹے امام حضرت امام جعفر صادق (ع)

امام جعفر صادق علیہ السلام تراسی ''۸۳'' ہجری سترہ''۱۷'' ربیع الاول کو پیدا ہوئے _ آپ(ع) کے والد گرامی امام محمد باقر علیہ السلام اور والد ماجدہ فاطمہ تھیں _ امام محمد باقر علیہ السلام نے اللہ کے حکم اور پیغمبر اسلام کی وصیت کے مطابق امام جعفر صادق علیہ السلام کو لوگوں کا امام و پیشوا معيّن کیا اور لوگوں کو آپ (ع) سے متعارف کرایا _ امام جعفر صادق علیہ السلام کو دین کی تبلیغ اور احکام قرآنی کے بیان کرنے کا زیادہ موقع ملا تھا کیونکہ آپ(ع) کے زمانے کے حاکم جنگوں میں مشغول تھے اور انہوں نے امام (ع) کی راہ میں بہت کم مزاحمت کی تھی _ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس سے فائدہ اٹھا یا _ دین کی تعلیم اوراسلام کی اشاعت میں بہت زیادہ کوشاں ہوئے _ لوگوں کو اسلام کے اعلی اخلاق اور عقائد سے آشنا کیا اور بہت سے شاگردوں کی تربیت کی _ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد مختلف علوم میں آپ(ع) سے درس لیتے تھے آپ (ع) کے شاگرد چار ہزار تھے __ انہوں نے بہت گراں مایہ کتابیں تحریر کیں ہیں _

آپ(ع) نے مسلمان ، شیعہ اور حقیقی شیعہ کی علامتیں بیان فرمائی ہیں اسی لئے مذہب شیعہ کو مذہب جعفری بھی کہا جاتا ہے _ امام جعفر صادق علیہ السلام پیسٹھ ''۶۵'' سال زندہ رہے اور ایک سو اڑتالیس ہجری پچیس '' ۲۵'' شوال کو مدینہ میں شہید


ہوئے آپ (ع) کے جسم مبارک کو بقیع میں امام محمد باقر علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا _ اللہ تعالی کا آپ(ع) پر ہمیشہ سلام ہو _


دوسرا سبق

ذخیرہ اندوزی کی مذمّت

پہلے زمانے میں ہر گھر میں تنور ہوتا تھا اور چکی بھی ہوتی تھی ہر آڈمی روٹی کیلئے گندم مہیا کرتا اور اسے گھرلاتا تھا اور عورتیں گندم چکی میں پیس کرروٹی پکاتی تھیں جو مالدار ہوتے دہ سال کے مصرف کے لئے گندم خرید کر گھر میں ذخیرہ کرلیتے تھے _ ایک سال گندم کم ہوگیا جسکے نیتجہ میں اسکی قیمت بہت بڑھ گئی _ لوگوں کو ڈر ہوا کہ کہیں گندم نایاب نہ ہوجائے اور بھوکار ہنا پڑے جس کے پاس جتنے گیہوں تھے اسے محفوظ کرلیا اور جن کے پاس گندم نہ تھے اس نے بھی سال بھر کے مصرف کے لئے مہنگے خرید کر ذخیرہ کر لئے _ صرف غریب لوگ مجبور تھے کہ اپنی ضرورت کے گندم ہر روز خرید تے اور اگر انہیں گندم نہ ملتے تو بھوکے رہ جاتے _ امام جعفر صادق علیہ السلام کے خادم کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کو گندم کی کمیابی کا علم ہوچکا تھا _ آپ نے مجھے بلایا اور مجھ سے پوچھا'' کیا اس سال گھر میں گندم موجود ہے'' میں خوش تھا کہ ایسے سال کے لئے میں نے کافی گندم خرید رکھا تھا اوراما م جعفر صادق علیہ السلام کے خانوادے کو بھوک سے نجات دلوادی ہے _ میں منتظر تھا کہ امام مجھے شاباش کہیں گے اور سوچ رہا تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مجھ سے فرمائیں گے کہ تم نے کتنا اچھا کیا _ گندم کو محفوظ رکھنا اور اگر ہوسکتے تو اور گندم خرید لینا _ لیکن میری امید کے خلاف امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: گندم کو گندم کے بازار میں لے جاؤ اور بیچ دو _ میں نے تعجب کیا اور پریشانی میں عرض کیا ، کیا گندم کو فروخت


کردوں؟ مدینہ میں گندم نایاب ہے اگر اسے فروخت کرڈالا تو پھر مہيّا نہیں کر سکوں گا اور اس وقت بھوکا رہنا ہوگا

لیکن امام علیہ السلام نے مصمم ارادے سے دوبارہ فرمایا: وہی کرو جو میں نے کہا ہے _ جتنی جلدی ہو سکے گندم کو لوگوں کے اختیار میں دے دو _ میں گندم بازار لے گیا اور بہت سستی قیمت میں لوگوں کے ہاتھ فروخت کرڈالے جب گھر واپس آکر امام علیہ السلام کو اطلاع دی تو امام علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ آج سے ہمارے گھر کے لئے روٹی آدھی گندم کی اور آدھی جوکی ہر روز بازار سے خریداکرو_ اگر گندم اور جو بازار میں موجود ہوا تو ہم روٹی پکائیں گے اور اگر موجود نہ ہوا تو غریب لوگوں کی طرح جو گندم ذخیرہ نہیں کر سکتے زندگی گذاریں گے _ ایسے زمانہ میں ہمیں زیب نہیں دیتا کہ مسلمانوں کی خوراک کو گھرمیں ذخیرہ کرلیں _ میں یہ کر سکتا تھا کہ اپنے خاندان کے لئے پورے سال کا مصرف کرلوں لیکن یہ کام میں نے نہیں کیا _ آج سے گھر کے لئے روٹی ہر روز مہيّا کریں گے تا کہ ہمارا کردار فقیروں کے لئے مدد کا باعث ہو اور زندگی بسر کرنے میں اللہ تعالی کے فرمان کی اطاعت بھی ہوجائے _

جواب دیجئے

۱_ شیعہ مذہب کو کیوں مذہب جعفری کہا جاتا ہے ؟

۲_ اما م جعفر صادق (ع) کے کتنے شاگر د تھے اور انہوں نے کیا یادگار یں چھوڑی ہیں؟

۳_ امام جعفر صادق (ع) نے کتنے سال عمر پائی اور اپنے والد کے سامنے کتنے سال زندہ رہے ؟


۴_ امام علیہ السلام کو دین اسلام کی تبلیغ کے لئے کس وجہ سے زیادہ آزادی حاصل ہوئی تھی؟

۵_ جب امام (ع) کے والد کا انتقال ہوا تو امام جعفر صادق (ع) کی کتنی عمر تھی؟

۶_ امام صادق علیہ السلام کو کہاں دفن کیا گیا _ آپ (ع) کے پہلو میں تین امام اور بھی ہیں ان کے نام بتایئے

۷_ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے خادم سے کیا فرمایا اور کیوں حکم دیا کہ گندم کو بیچ ڈالے؟

۸_ امام (ع) کے اس کردار کی ہم کیسے پیروی کر سکتے ہیں _ تنگدستی کے عالم میں مسلمانوں کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں؟


پہلا سبق

ساتویں امام حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

امام موسی کاظم (ع) ۷ صفر المظفر سنہ ۱۲۸ ھ کو پیدا ہوئے _ آپ (ع) کے والد کا نام امام جعفر صادق (ع) اور والدہ کا نام حمیدہ تھا _ امام جعفر صادق (ع) نے اللہ تعالی کے حکم اور پیغمبر (ص) کی وصیت کے مطابق اپنے بعد امام موسی کاظم (ع) کو لوگوں کا امام اور پیشوا معین کیا اور لوگوں کو اس سے آگاہ فرمایا

امام موسی کاظم (ع) عالم اور متقی انسان تھے آپ (ع) کا علم و فضل آسمانی اور اللہ کی طرف سے تھا آپ (ع) کی عبادت اور زہد اتنا تھا کہ آپ(ع) کو عبد صالح یعنی نیک بندہ کہا جاتا تھا _ آپ (ع) بہت صابر و شاکر تھے _ مصائب کو برداشت کرتے تھے اور لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کردیتے تھے اگر کوئی شخص جہالت کی وجہ سے آپ(ع) سے ایسی ناشائستہ حرکت کرتا جو غصہ کا موجب ہوتا تھا _ تو آپ (ع) غصہ کوپی جاتے تھے اور محبت و مہربانی سے اس کی رہنمائی فرماتے تھے _ اسی لئے آپ(ع) کو کاظم ''یعنی غصّہ پی جانے والا'' کہا جاتا تھا _ حضرت امام موسی کاظم (ع) پچیس سال اس دنیا میں زندہ رہے اور اپنی امامت کے زمانے کو صبر و شکر کے ساتھ گزاردیا آپ(ع) لوگوں کی دستگیری اور راہنمائی فرماتے میں مشغول رہے _ ۵ رجب سنہ ۱۸۳ ھ کو بغداد میں شہید کردیئےئے _ خدا اور فرشتوں کا آپ (ع) پر ہمیشہ سلام اور درود ہو _


دوسرا سبق

ہدایت امام

ایک فقیر و نادار شخص کاشتکاری کرتا تھا _ جب بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کو دیکھتا آپ (ع) سے گستاخی کرتا اور انکو گالیاں دیتا تھا ہر روز امام علیہ السلام اور آپ (ع) کے دوستوں کو تنگ کرتا تھا _ امام موسی کاظم علیہ السلام برابر اپنا غصہ پی جاتے تھے _ اور اس کی اذیت اور گالیوں کا جواب نہ دیتے تھے_ لیکن آپ (ع) کے دوست اس شخص کی بے ادبی اور گستاخی سے سخت آزردہ خاطر ہوتے _ ایک دن جب اس آدمی نے حسب معمول اپنی زبان بدگوئی کے لئے کھولی تو امام علیہ السلام کے دوستوں نے ارادہ کرلیا کہ اسے سزا دینگے اور اتنا ماریں گے مرجائے تا کہ اس کی بدزبانی ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے اور اس دنیا میں بھی اپنے کئے کا نتیجہ بھگت جائے امام موسی کاظم علیہ السلام کو ان کے ارادے کا علم ہو گیا _ آپ (ع) نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا _ اور فرمایا اے میرے دوستو صبرکرومیں خود اسے ادب سکھاؤں گا _ چنددن گذر گئے اور اس شخص کی ناشائستہ حرکت میں فرق نہ آیا امام علیہ السلام کے اصحاب اسکے اس رویہ سے بہت ناراض تھے لیکن جب وہ ارادے کرتے کہ اسے خاموش کریں تو آپ (ع) انہیں روک دیتے تھے اور فرماتے تھے دوستو صبر کرو: میں خود اسے نصیحت کروں گا _ ایک دن امام موسی کاظم علیہ السلام نے پوچھا کہ وہ آدمی کہاں ہے _ دوستوں نے کہا _ شہر کے باہر اپنی زمین پر زراعت کرنے میں مشغول ہے _ امام موسی کاظم علیہ السلام سوار ہوئے اور اس کی طرف چلے

اس نے جب امام کو آتے دیکھا تو اپنے بیلچے کو زمین میں گاڑکرہاتھ کمر پر رکھ کر کھڑا


ہوگیا _ وہ اپنی زبان بدگوئی کے لئے کھولنا چاہتا تھا کہ امام علیہ السلام اترے اور اس کی طرف بڑھے ، مہربانی سے سلام کیا اور نہایت نرمی سے ہنس کر اس سے گفتگو شروع کی _ آپ (ع) نے کہا تم تھک تو نہیں گے رہو _ تمہاری زمین کتنی سرسبز و شاداب ہے _ اس سے کتنی آمدنی ہوتی ہے _ اور کاشت کرنے پر کتنا خرچ ہوتا ہے _ وہ امام علیہ السلام کی تہذیب اور خوش اخلاقی سے تعجب میں پڑگیا اور کہنے لگا ایک سو طلائی سكّہ : امام علیہ السلام نے پوچھا کہ تم کو اس زمین کی پیدا وار سے کس قدر آمدنی کی توقع ہے _ اس نے سوچ کرکہا: دو سو طلائی سكّے _ امام (ع) نے ایک تھیلی نکالی اور اس کودی اور فرمایا کہ تجھے اس سے بھی زیادہ آمدنی ہوگی جب اس مرد نے اپنے برے کردار اور اذیت اور آزارکے مقابلے میں یہ اخلاق دیکھا تو بہت شرمندہ ہوا اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا : کہ میں برا انسان تھا اور آپ کو تکلیف دیتا تھا _ لیکن آپ (ع) بلند پایہ اور بزرگ انسان کے فرزند ہیں _ آپ (ع) نے مجھ سے اچھائی کی ہے اور میری مدد فرمائی ہے _ میں گذارش کرتا ہوں کہ :

آپ مجھے معاف کریں _ امام علیہ السلام نے مختصر کلام کے بعد اس کو خدا حافظ کہا اور مدینہ کی طرف پلٹ آئے اس کے بعد جب بھی وہ مرد امام علیہ السلام کو دیکھتا تھا با ادب سلام کرتا تھا امام (ع) اور آپ کے دوستوں کا احترام کرتا اور کہتا تھا : کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ کس طرح آزار اور گالیاں دینے والا انسان اس قدر باادب اور مہربان ہوگیا ہے _ شاید انہیں یہ علم ہی نہ تھا کہ امام علیہ السلام نے اس کی کس طرح تربیت کی تھی


ان سوالوں اور ان کے جوابات کو اپنی کاپیوں میں لکھو:

۱_ کاظم (ع) کے کیا معنی ہیں _ حضرت امام موسی (ع) کو کیون کاظم کہا جاتا ہے ؟

۲_ امام موسی کاظم (ع) کس دن کس مہینے اور کس سال پیدا ہوئے ؟

۳_ آپ کے والد اور والدہ کا کیا نام تھا؟

۴_ آپ کا کوئی اور لقب تھا اور وہ کیوں آپ کو دیا گیا ؟

۵_ امام (ع) نے اس کاشتکاری کی کس طرح تربیت کی؟

۶_ امام (ع) کے دوست اس مرد کی کس طرح تربیت کرنا چاہتے تھے اور امام علیہ السلام نے انہیں کیا فرمایا؟

۷_ وہ آدمی امام(ع) کے حق میں کیا کہا کرتا تھا؟

۸_ جب آپ (ع) سے کوئی برائی کرتا تھا تو آپ اس سے کیا سلوک کرتے تھے؟

۹_ اگر کوئی جہالت کی وجہ سے تم سے بد سلوکی کرے تو تم اس کی کس طرح تربیت کروگے ؟

۱۰_ جب تم کو غصّہ آتا ہے تو کیا اپنا غصہ پی جاتے ہو؟


پانچواں حصّہ

فروع دین


پہلا سبق

پاکیزگی

ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی (ص) نے ایک آدمی کو دیکھا کہاس کا سر اور چہرہ گردو غبار سے اٹا ہوا ہے بال میلے کچیلے ہیں ہاتھ منہ دھویا نہیں ہے اور لباس گنداہے پیغمبر اسلام اس سے ناراض ہوئے اور فرمایا: کہ ایسی زندگی کیوں گذارتے ہو کیا تمہیں علم نہیں کہ پاکیزگی دین کا جزو ہے _ مسلمان کو ہمیشہ صاف و ستھرارہنا چاہیئے اور اللہ کی نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہئے _

سوالات

۱_ ہمارے پیغمبر (ص) اس آدمی کو دیکھ کر کیوں ناراض ہوئے ؟

۲_ آپ (ع) نے اس سے کیا فرمایا؟

۳_ تم اپنے لباس کو دیکھو کہ کیا صاف ستھرا ہے ؟

۴_ اپنے ہاتھوں کو دیکھو کیا صاف ہیں اور ناخن کیسے ہیں؟

۵_ تم اپنے دانتوں کو کتنی بار صاف کرتے ہو ؟

۵_ تمہارے سب سے صاف ستھرے دوست کا کیا نام ہے ؟


دوسرا سبق

ہمیشہ پاکیزہ رہیں

ہم سب جانتے ہیں کہ ناپاک اور گندی چیزیں ہماری سلامتی کے لئے مضرہیں اور ہمیں ان سے دور رہنا چاہیئے _ مثلاً انسان کا پیشاب اور غلاظت کثیف اور گندی ہوتی ہیں اسلام نے ان دونوں کو نجس اور ناپاک قرار دیا ہے اسلام کہتا ہے : کہ اگر بدن یا لباس ان دو سے ملوث ہوجائے تو اسے پانی سے دھوئیںتا کہ پاک ہوجائے _ نماز پڑھنے والے کا بدن یا لباس پاک ہونا چاہیے_ نجس غذا کا کھانا حرام اور گناہ ہے _ اسلام کہتا ہے : کہ جب پائخانہ جاتے ہو تو اس طرح بیٹھو کہ پیشاب کا قطرہ بھی تمہارے لباس اور بدن پر نہ پڑسکے _ کیونکہ پیشاب کا قطرہ اگر چہ بہت ہی معمولی کیوں نہ ہو بدن اور لباس کو آلودہ اور نجس کردیتا ہے _ پیشاب کے نکلنے کی جگہ کو پانی سے دھونا چاہیتے یعنی دو یا تین دفعہ اس جگہ پانی ڈالیں تا کہ پاک ہوجائے _ پائخانہ کرنے کے بعد اس جگہ ( مقعد) کو پانی یا کاغذ یا تین عدد ڈھیلے سے دھوئیں دائیں ہاتھ سے پانی ڈالیں اور بائیں ہاتھ سے دھوئیں _ پائخانہ سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ کو پانی اور صابوں سے دھوئیں تا کہ اچھی طرح پاک و پاکیزہ ہوجائے _ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے پیشاب کرنا حرام اور گناہ ہے بیٹھ کر بیشاب کرنا چاہیئے _ ہمارے پیغمبر (ص) فرماتے ہیں کہ کھڑے ہوکر کنویں کے کنارے ، میوہ دار درخت کے نیچے پیشاب نہ کرو _ دین اسلام پاکیزگی والا دین ہے اور پاکیزگی دین کا جزو ہے _ مسلمان بچّہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے بدن اور لباس کو پاک رکھے اور خود ہمیشہ پاکیزہ رہے _


تیسرا سبق

وضوء

جو شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے اسے نماز سے پہلے اس ترتیب سے وضوء کرنا چاہیئے پہلے دونوں ہاتھوں کو ایک یا دو دفعہ دھوئے _ پھر تین مرتبہ کلی کرے پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے اور صاف کرے _ پھر وضو کی نیت اس طرح کرے _ :

وضو کرتا ہوں _ یا کرتی ہوں_ واسطے دور ہونے حدث کے اور مباح ہونے نماز کے واجب قربةً الی اللہ '' نیت کے فوراً بعد اس ترتیب سے وضو کرے _

۱_ منہ کو پیشانی کے بال سے ٹھوڑی تک اوپر سے نیچے کی طرف دھوئے _

۲_ دائیں ہاتھ کو کہنی سے انگلیوں کے سرے تک اوپر سے نیچے تک دھوئے _

۳_ بائیں ہاتھ کو بھی کہنی سے انگلیوں کے سرے تک اوپر سے نیچے تک دھوئے _

۴_ دائیں ہاتھ کی تری سے سرکے اگلے حصّہ پر اوپر سے نیچے کی طرف مسح کرے _

۵_ دائیں ہاتھ کی تری سے دائیں پاؤں کے اوپر انگلیوں کے سرے سے پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرے _

۶_ بائیں ہاتھ کی تری سے بائیں پاؤں کے اوپر انگلیوں کے سرے سے پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرے _

ماں باپ یا استاد کے سامنے وضو کرو اور ان سے پوچھ کہ کیا میرا وضو درست ہے _


چوتھا سبق:

نماز پڑھیں

ہم کو نماز پڑھنی چاہئے تا کہ اپنے مہربان خدا سے نماز میں باتین کریں _ نماز دین کا ستون ہے _ ہمارے پیغمبر (ص) فرماتے ہیں : جو شخص نماز کو سبک سمجھے اور اس کے بارے میں سستی اور کوتاہی کرے وہ میرے پیروکاروں میں سے نہیں ہے _ اسلام ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد کو نماز سکھائیں اور سات سال کی عمر میں انہیں نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں اور اولاد کو ہمیشہ نماز پڑھنے کی یاددہانی کرتے رہیں اور ان سے نماز پڑھنے کے لئے کہتے رہیں _ جو لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہوچکے ہیں انہیں لازمی طور پر نماز پڑھنی چاہیے اور اگر نماز نہیں پڑھتے ہیں تو اللہ کے نافرمان اور گناہگار ہوں گے

سوالات

۱_ ہم نماز میں کس سے کلام کرتے ہیں ؟

۲_ ہمارے پیغمبر (ص) نے ان لوگوں کے حق میں جو نماز میں سستی کرتے ہیں کیا فرمایا ہے ؟

۳_ سات سال کے بچّوں کے بارے میں ماں باپ کا کیا وظیفہ ہے ؟

۴_ کون تمہیں نماز سکھاتا ہے ؟

۵_ نماز دین کا ستون ہے کا کیا مطلب ہے ؟


پانچواں سبق

نماز آخرت کیلئے بہترین توشہ ہے

نماز بہترین عبادت ہے _ نماز ہمیں خدا سے نزدیک کرتی ہے اور آخرت کیلئے یہ بہترین توشہ ہے _ اگر صحیح نماز پڑھیں تو ہم آخرت میں خوش بخت اور سعادتمند ہوں گے _

حضرت محمد مصطفی (ص) فرماتے ہیں : میں دنیا میں نماز پڑھنے کو دوست رکھتا ہوں ، میرے دل کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے _ نیز آپ(ع) نے فرمایا نماز ایک پاکیزہ چشمے کے مانند ہے کہ نمازی ہر روز پانچ دفعہ اپنے آپ کو اس میں دھوتا ہے _ ہم نماز میں اللہ تعالی کے ساتھ ہم کلام ہوتے ہیں اور ہمارا دل اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے _ جو شخص نماز نہیں پڑھتا خدا اور اس کا رسول (ص) اسے دوست نہیں رکھتا

پیغمبر اسلام (ص) فرماتے تھے میں واجب نماز نہ پڑھنے والے سے بیزار ہوں _ خدا نماز پڑھنے والوں کو دوست رکھتا ہے بالخصوص اس بچّے کو جو بچپن سے نماز پڑھتا ہے زیادہ دوست رکھتا ہے _

ہر مسلمان دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھے

۱_ نماز صبح دو رکعت

۲_ نماز ظہر چار رکعت

۳_ نماز عصر چار رکعت

۴_ نماز مغرب تین رکعت

۵_ نماز عشاء چار رکعت


جواب دیجئے

۱_ حضرت محمد مصطفی (ص) نے نماز کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟

۲_ کیا کریں کہ آخرت میں سعادتمند ہوں ؟

۳_ ہر مسلمان دن رات میں کتنی دفعہ نماز پڑھتا ہے اور ہرایک کیلئے کتنی رکعت ہیں؟

۴_ جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کے لئے پیغمبر (ص) نے کیا فرما یا ہے ؟

۶_ کیا تم بھی انہیں میں سے ہو کہ جسے خدا بہت دوست رکھتا ہے اور کیوں؟


چھٹا سبق

طریقہ نماز

اس ترتیب سے نماز پڑھیں

۱_ قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں اور نیت کریں یعنی قصد کریں کہ کون نماز پڑھنا چاہتے ہیں _ مثلاً قصد کریں کہ چار رکعت نماز ظہر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے پڑھتا ہوں _

۲_ نیت کرنے کے بعد اللہ اکبر کہیں اور اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اوپر لے جائیں _

۳_ تکبیر کہنے کے بعد سورہ الحمد اس طرح پڑھیں

( بسم الله الرحمن الرحیمی : الحمد لله ربّ العالمین _ الرّحمن الرّحمین _ مالک یوم الدین_ ايّاک نعبد و ايّاک نستعین_ اهدنا الصّراط المستقیم_ صراط الذین انعمت علیهم_ غیر المغضوب علیهم و لا الضّالین)

۴_ سورہ الحمد پڑھنے کے بعد قرآن مجید کا ایک پورا سورہ پڑھیں مثلاً سورہ توحید پڑھیں:

( بسم الله الرّحمن الرّحیم _ قل هو الله احد _ اللّه الصمد_ لم یلد و لم یولد _ و لم یکن له کفواً احد _)

۵_ اس کے بعد رکوع میں جائیں اور اس قدر جھکیں کہ ہاتھ زانو تک پہنچ جائے اور اس وقت پڑھیں


سبحان ربّی العظیم و بحمده

۶_ اس کے بعد رکوع سر اٹھائیں اور سیدھے کھڑے ہو کر کہیں :

سمع الله لمن حمده

اس کے بعد سجدے میں جائیں _ یعنی اپنی پیشانی مٹی یا پتھر یا لکڑی پر رکھیں اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے انگوٹھے زمین پر رکھیں اور پڑھیں:

سبحان ربّی الاعلی و بحمده

اس کے بعد سجدے سے سر اٹھاکر بیٹھ جائیں اور پڑھیں:

استغفر الله ربّی و اتوب الیه

پھر دوبارہ پہلے کی طرح سجدے میں جائیں اور وہی پڑھیں جو پہلے سجدے میں پڑھا تھا اور اس کے بعد سجدے سے اٹھا کر بیٹھ جائیں اس کے بعد پھر دوسری رکعت پڑھنے کے لئے کھڑے ہوجائیں اور اٹھتے وقت یہ پڑھتے جائیں:

بحول الله و قوته اقوم و اقعد

پہلی رکعت کی طرح پڑھیں_

۷_ دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور ایک سورہ پڑھنے کے بعد قنوت پڑھیں _ یعنی دونوں ہاتھوں کو منہ کے سامنے اٹھا کر دعا پڑھیں اور مثلاً یوں کہیں :

ربّنا اتنا فی الدنیا حسنةً و فی الآخرة حسنةً وقنا عذاب الناّر _


اس کے بعد رکوع میں جائیں اور اس کے بعد سجدے میں جائیں اور انہیں پہلی رکعت کی طرح بجالائیں

۸_ جب دو سجدے کر چکیں تو دو زانو بیٹھ جائیں اور تشہد پڑھیں :

الحمد لله _ اشهد ان لا اله الاّ الله وحده لا شریک له و اشهد انّ محمد اً عبده و رسوله _ اللهم صلّ علی محمد و آل محمد

۹_ تشہد سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہوجائیں اور تیسری رکعت بجالائیں تیسری رکعت میں سورہ الحمد کی جگہ تین مرتبہ پڑھیں :

سبحان الله و الحمد لله و لا اله الا الله والله اکبر

اس کے بعد دوسری رکعت کی طرح رکوع اور سجود کریں اور اس کے بعد پھر چوتھی رکعت کے لئے کھڑے ہوجائیں اور اسے تیسری رکعت کی طرح بجالائیں _

۱۰_ چوتھی رکعت کے دو سجدے بجالانے کے بعد بیٹھ کر تشہد پڑھیں اور اس کے بعد یوں سلام پڑھیں:

السّلام علیک ايّها النبی و رحمة الله و برکاته

السلام علینا و علی عباد الله الصالحین

السلام علیکم ورحمة الله و برکاته

یہاں ہماری ظہر کی نمازتمام ہوگئی


اوقات نماز

صبح کی نماز کا وقت صبح صادق سے سورج نکلتے تک ہے نماز ظہر اور عصر کا وقت زوال شمس سے آفتاب کے غروب ہونے تک ہے _

مغرب اور عشاء کا وقت غروب شرعی شمس سے آدھی رات یعنی تقریباً سوا گیارہ بجے رات تک ہے _

یادرکھئے کہ

۱_ عصر اور عشاء کی نماز کو ظہر کی نماز کی طرح پڑھیں لیکن نیت کریں کہ مثلاً عصر کی یا عشاء کی نماز پڑھتا ہوں ...:

۲_ مغرب کی نماز تین رکعت ہے تیسری رکعت میں تشہد اور سلام پڑھیں _

۳_ صبح کی نماز دو رکعت ہے دوسری رکعت میں تشہد کے بعد سلام پڑھیں _


ساتواں سبق

نماز پر شکوہ _ نمازجمعہ

نماز ایمان کی اعلی ترین کو نپل اور روح انسانی کا اوج ہے _ جو نماز نہیں پڑھتا وہ ایمان اور انسانیت کے بلند مقام سے بے بہرہ ہے _ نماز میں قبلہ روکھڑے ہوتے ہیں اور خدائے مہربان کے ساتھ کلام کرتے ہیں _ پیغمبر اسلام(ص) نے نماز قائم کرنے کے لئے تاکید کی ہے کہ مسجد میں جائیں اور اپنی نماز دوسرے نماز یوں کے ساتھ با جماعت ادا کریں تنہا نماز کی نسبت دریا اور قطرہ کی ہے اور ان کے ثواب اور اجر میں بھی یہی نسبت ہے جو مسجد میں با جماعت ادا کی جائے _ جو نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں _ ان میں نماز جمعہ کا خاص مقام ہے کہ جسے لازمی طور سے جماعت کے ساتھ مخصوص مراسم سے ادا کیا جاتا ہے _ کیا آپ نماز جمعہ کے مراسم جانتے ہیں ؟ کیا جانتے ہیں کہ کیوں امام جمعہ ہتھیار ہاتھ میں لے کر کھڑا ہوتا ہے ؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ امام جمعہ کو خطبوں میں کن مطالب کو ذکر کرنا ہے ؟

امام جمعہ ہتھیار ہاتھ میں اس لئے لیتا ہے تا کہ اسلام کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے خلاف اعلان کرے کہ مسلمان کو اسلامی سرزمین کے دفاع کے لئے ہمیشہ آمادہ رہنا چاہیئے _ ہتھیار ہاتھ میں لے کر ہر ساتویں دن مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ نماز کے برپا کرنے کے لائے لازمی طور پر جہاد اور مقابلہ کرنا ہوگا _ امام جمعہ ہتھیار ہاتھ میں لیکر خطبہ پڑھتا ہے تا کہ اعلان کر ے کہ نماز اور جہاد ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں _ اور مسلمانوں کو ہمیشہ ہاتھ میں ہتھیار رکھنا چاہیئےور دشمن


کی معمولی سے معمولی حرکت پر نگاہ رکھنی چاہیے _ جو امام جمعہ اسلامی معاشرہ کے ولی اور رہبر کی طرف سے معيّن کیا جاتاہے وہ ہاتھ میں ہتھیار لیتا ہے اور لوگوں کی طرف منہ کرکے دو خطبے دیتا ہے اور اجتماعی و سیاسی ضروریات سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے اور ملک کے عمومی حالات کی وضاحت کرنا ہے _ اجتماعی مشکلات اور اس کے مفید حل کے راستوں کی نشاندہی کرتا ہے _ لوگوں کو تقوی _ خداپرستی ایثار اور قربانی و فداکاری کی دعوت دیتا ہے اور انہیں نصیحت کرتا ہے _ نماز یوں کو پرہیزگاری ، سچائی ، دوستی اورایک دوسرے کی مدد کرنے کی طرف رغبت دلاتا ہے _ لوگ نماز کی منظم صفوں میں نظم و ضبط برادری اور اتحاد کی تمرین اور مشق کرتے ہیں _ اور متحد ہوکر دشمن کامقابلہ کرنے کا اظہار کرتے ہیں _ جب نماز جمعہ کے خطبے شروع ہوتے ہیں اور امام جمعہ تقریر کرنا شروع کرتا ہے تو لوگوں پر ضروری ہوجاتاہے کہ وہ خامو ش اور آرام سے بیٹھیں اور نماز جیسی حالت بناکر امام جمعہ کے خطبوں کو غور سے نہیں _

سوالات

۱_ نماز جمعہ کی منظم صفیں کس بات کی نشاندہی کرتی ہیں؟

۲_ امام جمعہ خطبہ دیتے وقت ہاتھ میں ہتھیار کیوں لیکر کھڑا ہوتا ہے ؟

۳_ امام جمعہ کو کون معيّن کرتا ہے ؟

۴_ امام جمعہ نماز جمعہ کے خطبے میں کن مطالب کو بیان کرتا ہے ؟

۵_ نماز جمعہ کے خطبے دیئےانے کے وقت نماز یوں کا فرض کیا ہوتا ہے ؟


آٹھواں سبق

روزہ

اسلام کی بزرگ ترین عبادات میں سے ایک روزہ بھی ہے

خدا روزا داروں کو دوست رکھتا ہے اور ان کو اچھی جزا دیتا ہے روزہ انسان کی تندرستی اور سلامتی میں مدد کرتا ہے

جو انسان بالغ ہوجاتا ہے اس پر ماہ مرضان کا روزہ رکھنا واجب ہوجاتا ہے اگرروزہ رکھ سکتا ہو اور روزہ نہ رکھے تو اس نے گناہ کیا ہے روزہ دار کو سحری سے لیکر مغرب تک کچھ نہیں کھانا چاہئے

ان جملوں کو مکمل کیجئے

۱_ اسلام کی بزرگ ترین ...ہے

۲_ خدا روزہ داروں ہے

۳_ روزہ انسان کی مدد کرتا ہے

۴_ روزہ دار کو نہیں کھانا چاہیئے

۵_ اگر روزہ رکھ سکتا ہو اور گناہ کیا ہے


نواں سبق

ایک بے نظیر دولہا

ایک جوان بہادر اور ہدایت یافتہ تھا _ جنگوں میں شریک ہوتا تھا _ ایمان اور عشق کے ساتھ اسلام و قرآن کی حفاظت اور پاسداری کرتا تھا _ اللہ کے راستے میں شہادت کو اپنے لئے بڑا افتخار سمجھتا تھا کہ میدان جنگ میں شہید ہوجانا اس کی دلی تمنا تھی _ یہ تھا حنظلہ جو چاہتا تھا کہ مدینہ کی اس لڑکی سے جو اس سے منسوب تھی شادی کرلے شادی کے مقدمات مہيّا کرلئے گئے تھے _ تمام رشتہ داروں کو شادی کے جشن میں مدعو کیا جا چکا تھا _ اسی دن پیغمبر اکرم (ص) کو مطلع کیا گیا کہ دشمن کی فوج مدینہ کی طرف بڑھ رہی ہے اور شہر پر حملہ کرنے والی ہے _

پیغمبر (ص) نے یہ خبر بہادر اور مومن مسلمانوں کو بتلائی اور جہاد کا اعلان فرمایا_ اسلام کے سپاہی مقابلہ اور جنگ کے لئے تیار ہوگئے _ جوان محافظ اور پاسداروں نے محبت اور شوق کے جذبے سے ماں باپ کے ہاتھ چومے خداحافظ کہا _ ماؤں نے اپنے کڑیل جوانوں کو جنگ کا لباس پہنایا اور ان کے لئے دعا کی _ چھوٹے بچے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اپنے باپ اور بھائیوں کو الوداع کررہے تھے _

اسلام کی جانباز فوج اللہ اکبر کہتے ہوئے شہر سے میدان احد کی طرف روانہ ہور ہی تھی _ اہل مدینہ اسلام کی بہادر فوج کو شہر کے باہر تک جاکر الوداع کہہ رہے تھے _ حنظلہ پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پریشانی و شرمندگی کے عالم میں عرض کیا _ یا رسول اللہ (ص) میں چاہتا ہوں کہ میں بھی میدان احد میں حاضر ہوں اور جہاد


کروں لیکن میرے ماں باپ اصرار کررہے ہیں کہ میں آج رات مدینہ رہ جاؤں _ کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آج رات مدینہ میں رہ جاؤں اور اپنی شادی میں شرکت کرلوں اور کل میں اسلامی فوج سے جا ملوں گا _ رسول خدا (ص) نے اسے اجازت دے دی کہ وہ مدینہ میں رہ جائے _ مدینہ خالی ہوچکا تھا _ حنظلہ کی شادی کا جشن شروع ہوا لیکن اس میں بہت کم لوگ شریک ہوئے _ حنظلہ تمام رات بیقرار رہا کیونکہ اس کی تمام تر توجہ جنگ کی طرف تھی وہ کبھی اپنے آپ سے کہتا کہ اے حنظلہ تو عروسی میں بیٹھا ہوا ہے لیکن تیرے فوجی بھائی اور دوست میدان جنگ میں مورچے بنارہے ہیں وہ شہادت کے راستے کی کوشش میں ہیں وہ اللہ کا دیدار کریں گے اور بہشت میں جائیں گے اور تو بستر پر آرام کررہا ہے _ شاید حنظلہ اس رات بالکل نہیں سوئے اور برابر اسی فکر میں رہے حنظلہ کی بیوی نئی دلہن کی آنکھ لگ گئی _ اس نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان پھٹ گیا ہے _ اور حنظلہ آسمان کی طرف چلا گیا ہے اور پھر آسمان کا شگاف بند ہوگیا ہے خواب سے بیدار ہوئی _ حنظلہ سحر سے پہلے بستر سے اٹھے اورجنگی لباس پہنا اور میدان احد کی طرف جانے کے لئے تیار ہوئے دلہن نے پر نم آنکھوں سے اس کی طرف نگاہ کی اور خواہش کی کہ وہ اتنی جلدی میدان جنگ میں نہ جائے اور اسے تنہا نہ چھوڑے حنظلہ اپنے آنسو پونچھ کر کہنے لگے اے میری مہربان بیوی _ میں بھی تجھے دوست رکھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تیرے ساتھ اچھی زندگی بسر کروں لیکن تجھے معلوم ہے کہ پیغمبر (ص) اسلام نے کل جہاد کا اعلان کیا تھا پیغمبر (ص) کے حکم کی اطاعت واجب ہے اور اسلامی مملکت کا دفاع ہر ایک مسلمان کا فرض ہے _ اسلام کے محافظ اور پاسدار اب میدان جنگ میں صبح کے انتظار میں قبلہ رخ بیٹھے ہیں تا کہ نماز ادا کریں اور دشمن پرحملہ کردیں میں بھی ان کی مدد کے لئے جلدی جانا چاہتا ہوں اے مہربان بیوی


میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان فتح اور نصرت سے لوٹیں گے اور آزادی و عزت کی زندگی بسر کریں گے اگر میں ماراگیا تو میں اپنی امیدوار آرزو کو پہنچا اور تجھے خدا کے سپرد کرتا ہوں کہ وہ بہترین دوست اور یاور ہے _ دولہا اور دلہن نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا اور دونوں کے پاک آنسو آپس میں ملے اور وہ ایک دوسرے سے جد ا ہوگئے _ حنظلہ نے جنگی آلات اٹھائے اور میدان احد کی طرف روانہ ہوے وہ تنہا تیزی کے ساتھ کھجوروں کے درختوں اور پتھروں سے گذرتے ہوے عین جنگ کے عروج کے وقت اپنے بھائیوں سے جاملے _ امیر لشکر کے حکم کے مطابق جو ذمہ داری ان کے سپرد ہوئی اسے قبول کیا اور دشمن کی فوج پر حملہ آور ہوئے باوجودیکہ وہ تھکے ہوئے دشمن پر سخت حملہ کیا _ چابکدستی اور پھر تی سے تلوار کا وار کرتے اور کڑکتے ہوئے بادل کی طرح حملہ آور ہوتے اور دشمنوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے دشمن کے بہت سے آدمیوں کو جنہم واصل کیا اور بالآخر تھک کر گرگئے اور زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہوگئے پیغمبر (ص) نے فرمایا کہ میں فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں کو حنظلہ کے جسم پاک کو آسمان کی طرف لے جارہے ہیں اور غسل دے رہے ہیں _ یہ خبر اس کی بیوی کو مدینہ پہنچی

سوالات

۱_ پیغمبر اسلام نے کس جنگ کے لئے اعلان جہاد کیا ؟

۲_ پیغمبر کے اعلان جہاد کے بعد اسلام کے پاسدار کس طرح آمادہ ہوگئے ؟

۳_ حنظلہ پریشانی کی حالت میں پیغمبر (ص) (ص) کی خدمت میں کیوں حاضر ہوئے اور کیا کہا؟


حنظلہ عروسی کی رات اپنے آپ سے کیا کہا رہے تھے اور ان کے ذہن میں کیسے سوالات آرہے تھے؟

۵_ دلہن نے خواب میں کیا دیکھا؟

۶_ حنظلہ نے چلتے وقت اپنی بیوی سے کیا کہا؟

۷_ حنظلہ کی بیوی نے حنظلہ سے کیا خواہش ظاہر کی؟

۸_ پیغمبر (ص) اسلام نے حنظلہ کے بارے میں کیا فرمایا؟


چھٹا حصّہ

اخلاق و آداب


پہلا سبق

والدین سے نیکی کرو

ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا کہ میرا لڑکا اسماعیل مجھ سے بہت اچھائی سے پیش آتا ہے وہ مطیع اور فرمانبردار لڑکا ہے _ ایسا کام کبھی نہیں کرتا جو مجھے گراں گذرے _ اپنے کاموں کو اچھی طرح انجام دیتا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس سے پہلے بھی اسماعیل کو دوست رکھتا تھا لیکن اب اس سے بھی زیادہ دوست رکھتا ہوں کیونکہ اب یہ معلوم ہوگیا کہ وہ ماں باپ سے اچھا سلوک روارکھتا ہے ہمارے پیغمبر(ص) ان اچھے بچوں سے جو ماں باپ سے بھلائی کرتے تھے _ محبت کرتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے

'' خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے ''

'' اپنے ماں باپ سے نیکی کرو''

سوالات

۱_ امام جعفر صاد ق (ع) نے اسماعیل کے باپ سے کیا کہا؟

۲_ اسماعیل کا عمل کیسا تھا؟

۳_ گھر میں تمہارا عمل کیسا ہے کن کاموں میں تم اپنے ماں باپ کی مدد کرتے ہو؟


دوسرا سبق

استاد کا مرتبہ

ہمارے پیغمبر حضرت محمدمصطفی (ص) فرماتے ہیں : میں لوگوں کامعلّم اور استاد ہوں _ او ر انکو دینداری کا درس دیتا ہوں _

حضرت علی (ع) نے فرمایا : کہ باپ اور استاد کے احترام کے لئے کھڑے ہوجاؤ _

چوتھے امام حضرت سجاد (ع) نے فرمایا ہے : استاد کے شاگرد پر بہت سے حقوق ہیں : پہلا حق شاگرد کو استاد کا زیادہ احترام کرنا _ دوسرا : اچھی باتوں کی طرف متوجہ ہونا _ تیسرا : اپنی نگاہ ہمیشہ استاد پر رکھنا _ چوتھا : درس یاد رکھنے کے لئے اپنے حواس جمع رکھنا _ پانچواں : کلاس میں اس کے درس کی قدر اور شکریہ ادا کرنا _

ہم آپ (ع) کے اس فرمان کی پیروی کرتے ہیں _ اور اپنے استاد کو دوست رکھتے ہیں اور انکا احترام کرتے ہیں _ اور جانتے ہیں کہ وہ ماں باپ کی طرح ہم پر بہت زیادہ حق رکھتے ہیں _

سوالات

۱_ لکھنا پڑھنا کس نے تمہیں سکھلایا؟

۲_ جن چیزوں کو تم نہیں جانتے کس سے یاد کرتے ہو؟

۳_ انسانوں کے بزرگ ترین استاد کوں ہیں؟

۴_ ہمارے پہلے امام (ع) نے باپ اور استاد کے حق میں کیا فرمایا؟

۵_ ہمارے چوتھے امام(ع) نے استاد کے حقوق کے بارے میں کیا فرمایا؟


تیسرا سبق

اسلام میں مساوات

ایک آدمی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ (ع) ایک دستر خوان پر اپنے خادموں اور سیاہ غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے میں نے کہا: کاش: آپ (ع) خادموں اور غلاموں کے لئے علیحدہ دستر خوان بچھاتے _ مناسب نہیں کہ آپ (ع) ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں _ امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا_ چپ رہو میں کیوں ان کے لئے علیحدہ دستر خوان بچھاؤں؟ ہمارا خدا ایک ہے ہم سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ہم سب کی ماں حضرت حوّا ، علیہا السلام ہیں _ ہر ایک کی اچھائی اور برائی اور جزا اس کے کام کی وجہ سے ہوتی ہے _ جب میں ان سیاہ غلاموں اور خادموں کے ساتھ کوئی فرق روا نہیں رکھتا توان کیلئے علیحدہ دستر خواہ کیوں بچھاؤں

سوالات

۱_ امام رضا علیہ السلام کن لوگوں کے ساتھ کھا ناکھارہے تھے ؟

۲_ اس آدمی نے امام رضا علیہ السلام سے کیا کہا؟

۳_ امام رضا علیہ السلام نے اسے کیا جواب دیا ؟

۴_ تم کس سے کہوگے کہ چپ رہو اور کیوں؟

۵_ ہر ایک کی اچھائی اور برائی کا تعلق کس چیز سے ہے ؟

۶_ امام رضا علیہ السلام کے اس کردار کی کس طرح پیروی کریں گے ؟


چوتھا سبق

بوڑھوں کی مدد

ایک دن امام موسی کاظم (ع) مسجد میں مناجات اورعبادت میں مشغول تھے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا کہ جس کا عصا گم ہوچکا تھا جس کی وجہ وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھ سکتا تھا آپ(ع) کا دل اس مرد کی حالت پر مغموم ہوا با وجودیکہ آپ (ع) عبادت میں مشغول تھے لیکن اس کے عصا کو اٹھا کر اس بوڑھے آدمی کے ہاتھ میں دیا اور اس کے بعد عبادت میں مشغول ہوگئے _ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ زیادہ عمر والوں اور بوڑھوں کا احترام کرو _ آپ (ع) فرماتے ہیں : کہ بوڑھوں کا احترام کرو جس نے ان کا احترام کیا ہوگیا اس نے خدا کا احترام کیا _

سوالات

۱_ بوڑھا آدمی اپنی جگہ سے کیوں نہیں اٹھ سکتا تھا؟

۲_ امام موسی کاظم (ع) نے اس بوڑھے آدمی کی کس طرح مدد کی ؟

۳_ پیغمبر (ص) بوڑھوں کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

۴_ کیا تم نے کبھی کسی بوڑھے مرد یا عورت کی مدد کی ہے ؟

۵_ بوڑھوں کے احترام سے کس کا احترام ہوتا ہے ؟


پانچواں سبق

حیوانات پر رحم کرو

ایک دن امام حسن علیہ السلام کھانا کھارہے تھے آپ(ع) کے سامنے ایک کتا کھڑا دیکھ رہا تھا _ امام حسن علیہ السلام ایک لقمہ اپنے منہ میں رکھتے اور دوسرا اس کتّے کے سامنے ڈال دیتے کتّا اسے کھاتا اور شکریہ ادا کرنے کے لئے اپنی دم ہلا تا او رغرغر کرتا پھر اپنا سر ادھر کرتا اور آپ (ص) کو دیکھنے لگتا _ امام حسن علیہ السلام پھر لقمہ اس کے سامنے ڈال دیتے ایک آدمی وہاں سے گذررہا تھا _ وہ آپ (ع) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یہ اچھا نہیں کہ یہ کتّا آپ(ع) کے سامنے کھڑا ہے اور آپ کو آرام سے کھانا نہیں کھانے دیتا _ اگر آپ اجازت دیںتو میں اسے یہاں سے بھگا دوں _ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا _ نہیں نہیں _ اس بے زبان حیوان کو خدا نے پیدا کیا ہے _ اور خدا اسے دوست رکھتا ہے یہ بھوکا ہے میں خدا سے ڈرتا ہوں کہ میں اسکی نعمت کھاؤں اور اس حیوان کو جو اسکی مخلوق ہے کچھ نہ دوں وہ بھوکا ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے _

سوالات

۱_ امام حسن (ع) اس کتے کو کس طرح غذا دے رہے تھے؟

۲_ کیا تم نے کبھی کسی حیوان کو غذا دی ہے؟

۳_ وہ کتا کس طرح شکریہ ادا کررہا تھا؟

۴_ وہ آدمی کتے کو کیوں ہٹا نا چاہتا تھا؟


چھٹا سبق

مزدور کی حمایت

چند آدمی امام صادق (ع) کے باغ میں کام کررہے تھے _ معاہدہ یہ تھا کہ وہ عصر تک کام کریں گے _ جب انکا کام ختم ہوچکا _ امام جعفر صادق (ع) نے خادم سے فرمایا کہ ان مزدوروں نے صبح سے عصر تک محنت کی ہے مزدوری حاصل کرنے کے لئے اور پسینہ بہایا ہے اپنی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے ان کی مزدوری میں تاخیر کرنا صحیح نہیں ہے _ جلدی کرو پسینہ خشک ہونے سے پہلے ان کی مزدوری ادا کرو_ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ: کام کرنے والے ک حق اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا کرو

سوالات

۱_ کاریگروں کا حق کس وقت دیا جائے؟

۲_ امام صادق (ع) نے مزدوروں کے متعلق کیا فرمایا ہے ؟

۳_ ہمارے عظیم پیغمبر(ص) نے کاری گروں کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۴_ کاریگری کس طرح حمایت کی جائے ؟


ساتواں سبق

کھانا کھانے کے آداب

اسلام نے ہمیں زندگی بسر کرنے کے لئے ایک دستور دیا ہے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو خوش بخت ہوجائیں گے یہاں تک کہ کھانے اور پینے کے آداب بھی ہمارے لئے بیان کئے ہیں _ اسلام کہتا ہے کہ :

۱_ کھانا کھانے سے پہلے پاک پانی سے اپنے ہاتھ دھوؤ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تمہارے ہاتھ میلے ہوں اور ان میں جراثیم ہوں اور وہ تمہارے جسم میں داخل ہوجائیں اور وہ بیماری کا باعث بن جائیں _

۲_ کھانا اللہ کے نام سے شروع کرو اور بسم اللہ پڑھو

۳_ چوٹھے نوالے بناکر منہ میں ڈالو اور آہستہ چباؤ کیونکہ غذا جتنی چبائی جائے بہتر اور جلدی ہضم ہوتی ہے اور انسان کی سلامتی میں مددگار ہوتی ہے _

۴_ ہمیشہ اپنے سامنے والی غذا کھاؤ اور دوسروں کے سامنے کی غذا کی طرف ہاتھ نہ بڑھاؤ_

۵_ شکم سیر ہونے سے قبل کھانا کھانا چھوڑدو اور زیادہ نہ کھاؤ:

۶_ کھانا کھانے کے بعد اللہ کا شکر اداکرو_ یعنی کہو الحمد للہ رب العالمین_


سوالات

۱_ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ کیوں دھوئیں ؟

۲_ کھانا کھانے سے قبل بسم اللہ کیوں پڑھیں؟

۳_ کھانا کھانے کے بعد خدا کا کیوں شکر کریں؟


آٹھواں سبق

حفظان صحت کا ایک مہم دستور

ایک عیسائی طبیب نے امام صادق (ع) سے پوچھا کہ کیا آپ(ع) کے قرآن اور آپ(ع) کے پیغمبر (ص) کے دستور میں صحت کے متعلق کوئی چیز وارد ہوئی ہے _ امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا ہاں _ قرآن کا ارشاد ہے کہ کھاؤ اور پیو لیکن کھانے پینے میں زیادہ جلدی نہ کرو اور ہمارے پیغمبر (ص) نے فرمایا ہے کہ : تمام بیماریوں کی جڑ زیادہ کھانا ہوتا ہے اور کم کھانا اور پرہیز کرنا ہر درد کی دوا ہے _ عیسائی طبیب اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا :

آپ (ع) کے قرآن نے کتنا بہتر اور کامل دستور صحت کیلئے پیش کیا ہے _

''خدا فرماتا ہے کھاؤ اور پیو لیکن اسراف نہ کرو''

سوالات

۱_ عیسائی طبیب نے امام جعفر صادق (ع) سے کیا پوچھا؟

۲_ امام جعفر صادق (ع) نے اس کا کیا جواب دیا ؟

۳_ حفظان صحت کا ایک ایسا دستور جو قرآن میں موجود ہے بیان کرو ؟

۴_ پیغمبر (ص) کا ایک دستور بھی بیان کرو؟

۵_ پیٹ بھر کے کھانے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے ؟

۶_ عیسائی طبیب نے امام جعفر صادق (ع) سے گفتگو کرنے کے بعد کیا کہا؟

۷_ امام جعفر صادق (ع) کے اس دستور کی ہم کیسے پیروی کریں؟


نواں سبق

سلام محبت بڑھاتا ہے

ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی (ص) اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے محو گفتگو تھے کہ ایک آدمی اجازت لئے بغیر آیا اور سلام بھی نہیں کیا _پیغمبر(ص) نے اس سے فرمایا کہ سلام کیوں نہیں کیا : اور کیوں اجازت نہیں لی؟ واپس جاؤ اور اجازت لے کر آؤ اور سلام کرو آپ (ص) نے سلام کرنے کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے کہ : مسلمانو تم بہشت میں نہیں جاؤ گے جب تک ایک دوسرے سے نیکی سے پیش نہیں آؤگے اور اس وقت تک آپس میں مہربان نہیں بن سکتے ہو جب تک کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر سلام نہ کرو_ ہمیشہ بلند آواز سے سلام کرو اور سلام کا جواب بھی بلند آواز سے دو _ جو شخص پہلے سلام کرتا ہے اللہ تعالی اسے زیادہ اور بہترین اجر عنایت فرماتا ہے اور اسے بہت دوست رکھتا ہے

''ہمیشہ پہلے سلام کرو اور پھر باتیں کرو''


دسواں سبق

ایک باادب مسلمان بچہ

ناصر با ادب اور اچھا لڑکا ہے کوشش کرتا ہے کہ اسلامی آداب کو اچھی طرح سیکھے اوران پر عمل کرے وہ دوسروں کو گرم جوشی سے سلام کرتا ہے یعنی کہتا ہے السلام علیکم _ جو شخص اسے سلام کرتا ہے اسے خندہ پیشانی سے جواب دیتا ہے اور کہتا ہے و علیکم السلام جب بھی اپنے دوستوں کو دیکھتا ہے بہت خوش ہوتا ہے _ گرم جوشی سے مصافحہ کرتا ہے اور ان سے احوال پرسی کرتا ہے _ اور جب اس سے کوئی احوال پرسی کرتا ہے تو اس کے جواب میں کہتا ہے : الحمد للہ بخیر ہوں _ جب گھر آتا ہے ماں باپ اور تمام اہل خانہ کو سلام کرتا ہے اور جب گھر سے باہر جاتا ہے تو خدا حافظ کہتا ہے _ جو بھی اس سے نیکی کرتا ہے اس کا شکریہ ادا کرتا ہے یعنی کہتا ہے کہ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اگر ممکن ہوتا ہے تو اس کا بدلہ دیتا ہے _ جب کسی محفل میں جاتا ہے تو دلنشین آواز سے سلام کرتا ہے اور جہاں بھی جگہ ہوتی ہے بیٹھ جاتا ہے کسی کے سامنے نہ اپنی ناک صاف کرتا ہے اور نہ تھوکتا ہے _ دوسروں کے سامنے پاؤں پھیلاکر نہیں بیٹھتا _ دوسروں کی گفتگو کے درمیان بات کاٹ کر کلام نہیں کرتا زیادہ باتیں نہیں کرتا بغیر کسی وجہ کے دادو فریاد نہیں کرتا ہمیشہ آہستہ اور باادب بات کرتا ہے _ چھینکتے وقت ناک اور منہ کے آگے رومال رکھتا ہے اور اس کے بعد الحمد للہ کہتا ہے _ چونکہ ناصر کا کردار اچھا ہے لہذا خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے نیک جزادے گا _ شریف اور نیک افراد اسے دوست رکھتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں _


جواب دیجئے

۱_ پیغمبر اسلام (ص) نے اس مرد سے کیا فرمایا جو بغیر اجازت کے آیا تھا اور اس نے کون سی غلطی کی تھی؟

۲_ کس طرح سلا م کرنا چاہیے اور کس طرح جواب دینا چاہیئے ؟

۳_ تمہارے دوستوں میں سے کون سے پہلے سلام کرتا ہے ؟

۴_ جب تم کسی کمرے میں داخل ہونا چاہتے ہو تو کیا کرتے ہو؟

۵_ کس کو خدا زیادہ دوست رکھتا ہے اسے جو سلام کرتا ہے یا اسے جو جواب دیتا ہے ؟


گیارہواں سبق

مال حرام

ایک دن ہمارے پیغمبر حضرت محمد (ص) مصطفی نے فرمایا کہ بعض لوگ دنیا میں بہت عجیب کام بجالاتے ہیں مثلاً نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں _ رات کو عبادت کرتے ہیں لیکن جب یہی لوگ قیامت کے دن حساب کے لئے حاضر ہوں گے توان کے یہ کام بالکل قبول نہیں ہوں گے اور ان کی ساری عبادت رائیگان اور باطل ہوگی اور اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں ضرور جہنم میں ڈالا جائے _ لوگ اس حکم سے تعجب کریں گے _ سلمان فارسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ (ص) یہ لوگ با وجودیکہ نماز پڑھتے رہے روزہ رکھتے رہے صدقہ دیتے رہے حج کرتے رہے پھر بھی جہنم میں جائیں گے ؟

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں اس عبادت کے باوجودیہ لوگ جہنم میں جائیں گے _ سلمان فارسی نے دوبارہ تعجب سے پوچھا کہ انہوں نے کون سا کام انجام دیا ہے کہ ان کے تمام نیک کام باطل ہوجائیں گے؟ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا چونکہ یہ لوگ حرام مال کھانے سے پرہیز نہیں کرتے تھے اور حرام روزی کماتے تھے _ اسی وجہ سے خدا ان کی عبادت کو قبول نہیں کرے گا اور ضرور جنہم میں ڈالے گا _ جو شخص بھی حرام مل کھاتا ہے خداوند عالم اس کے اچھے کام اورعبادت کو قبول نہیں کرتا _


جواب دیجئے

۱_ جو شخص چوری کرتا یا جو اکھیلتا ہے کیا خدا اس کے کاموں کو قبول کرے گے ؟

۲_ کون سے کام انسان عبادت کو باطل کردیتے ہیں؟

۳_ اگر مدرسہ میں کوئی قلم یا کاپی یا کوئی بھی چیز تمہیں ملے تو تم کیا کرو گے ؟

۴_ کوئی امانت تمہارے پاس ہے کیا بہتر نہیں کہ اسے اس کے مالک کو جلدواپس کردو_


بارہواں سبق

کام کی بروقت انجام دہی

حمید معمول کے خلاف آج جلدی گھر آگیا تھا وہ بہت خوش تھا باپ نے اس سے پوچھا : حمید آج کیوں جلدی آگئے ہو؟ ہر روز تم دیر سے آتے تھے_ حمید نے کہا: ابا جان بس میں سوار ہونے والوں کی قطار بہت لمبی تھی مجھے کام تھا اور تھکا ہوا بھی تھا صبر نہیں کر سکتا تھا _ چالاکی سے قطار میںسب سے آگے جاکر کھڑا ہوگیا اور سب سے پہلے سوارہوگیا اور گھر آگیا _ اب میرے پاس بہت وقت ہے _ کھیل بھی سکتا ہوں اور مدرسہ کا کام بھی انجام دے سکتا ہوں _ باپ نے کہا بیٹے تم نے اچھا کام نہیں کیا : چونکہ دوسرے لڑکے بھی گھر جاکر کام کرنا چاہتے تھے اس لئے تمہیں اپنی باری پر بس میں سوار ہونا چاہیئے تھا اور اس شخص کی باری نہیں یعنی چاہیئےھی جو بھی قطار میں پہلے کھڑا ہوگیا _ اسے سب سے پہلے سوار ہونے کا حق ہوتا ہے _ تو نے اس کا حق ضائع کیا ہے _ حمید نے آہستہ سے کہا: میں صبر نہیں کرسکتا تھا _ چالاکی کی اور جلدی سوار ہوگیا _ انسان کو چالاک ہونا چاہیئے _ باپ نے حمید کی بات ان سنی کردی _ چند دن کے بعد روٹی لینے کے لئے روٹی والے کی دکان پر گیا_ وہاں بہت بھیڑنہ تھی صرف تھوڑے سے آدمی حمید سے پہلے کھڑے تھے ان میں سے ایک دو آدمیوں نے روٹی لی اور چلے گئے اور آدمی آئے اور کھڑے ہوگئے _ ہر ایک آتا سلام کرتا اور روٹی لے کر چلا جاتا _ دوسرا جاتااور کہتا اے روٹی بیچنے والے خوش رہو سلام ہو تم پر اور روٹی لیتا اور چلا جاتا _ کافی وقت گذرگیا _ سب آتے اورروٹی لیکر چلے جاتے


لیکن حمید اور کئی دوسرے بچّے ابھی کھڑے تھے _ جتنا وہ کہتے کہ اب تو ہماری باری آگئی ہے کوئی بھی ان کی باتوں پر کان نہ دھرتا _ حمید غصّہ میں آگیا اور بلند آواز سے کہنے لگا: اے روٹی والے میری باری پہلے تھی وہ گذر گئی ہے _مجھے روٹی کیوں نہیں دیتے _ روٹی والا سامنے آیا اور سخت لہجے میں کہنے لگا: بچے کیوں شور مچاتے ہو _ تھوڑا صبر کرو ، تحمل رکھنا چاہیئے حمید پھر کھڑا رہا لیکن قریب تھا کہ رونا شروع کردے _ بالآخر بہت دیرکے بعد اس نے دور روٹیاں لیں اور گھر واپس لوٹا _ باپ گھر کے سامنے اس کا منتظر تھا پوچھا کہ کیوں دیر کی _ حمید نے رو کر کہا: سب آرہے تھے اور روٹی لیکر جارہے تھے لیکن میں کہتا رہا کہ اب میری باری ہے کسی نے میری بات نہ سنی _ باپ نے کہا : بہت اچھا: انہوں نے چالاکی سے تیری باری لے لی جیسی تم نے چالاکی کی تھی اور جلدی بس میں سوار ہوگئے تھے کیا تم نے خود نہیں کہا تھا کہ انسان کو چالاک ہونا چاہیئے _ لیکن اب تمہیں پتہ چلا کہ ایسا کام چالاکی نہیں ہے اب تم سمجھے کہ یہ کام ظلم ہے _ یہ دوسروں کے حق کو ضائع کرنا ہے بیٹا چالاکی یہ ہے کہ نہ تم کسی کی باری لو اور نہ کسی کو اپنی باری ظلم سے لینے دو _ ایک مسلمان انسان کو تمام حالات میں دوسروں کے حق اور باری کا خیال رکھنا چاہیئے پیارے حمید : دوسروں کے حق کا احترام کرو _ اگرتمہیں پسند نہیں ہے کہ دوسرے تمہاری باری لیں تو تم بھی کسی کی باری نہ لو _ جو بھی کسی کی باری لیتا ہے وہ ظلم ہے اور خدا ظالموں کا دشمن ہے او رانہیں سزادے گا _ حضرت امیر المؤمنین (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) سے فرمایا تھا: کہ بیٹا جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرو اور جو چیز اپنے لئے پسند نہیں کرتے دوسروں کے لئے بھی پسند نہ کرو _


جواب دیجئے

_ آپ بھی اس واقعہ کے متعلق کچھ لکھ سکتے ہیں ، شاید یہ واقعہ کبھی تمہیں بھی پیش آیا ہو

_ اس واقعہ کی وضاحت کیجئے اور باری کی رعایت کرنے کے فوائد بیان کیجئے _ اور اس کی رعایت نہ کرنے کے مضر اثرات کو بیان کیجئے _


تیرہواں سبق

مہربان بہن اور پشیمان بھائی

زہرا بھی مدرسہ میں داخل ہوئی تھی _ سعید تیسرے درجہ میں پڑھتا تھا سعید کا سلوک گھر میں بالکل اچھا نہ تھا _ اور ہمیشہ اپنی بہن زہرا کے ساتھ لڑتا تھا _ سعید خود کہتا ہے کہ میں اپنی بہن سے حسد کیا کرتا تھا _ زہرا جب اسکول سے واپس آتی اور استاد سے حاصل کردہ اچھے نمبر ماں کو دکھاتی تو میں کڑھ جاتا اور اپنی بہن کی کاپی پھاڑ ڈالتا تھا اگر والد میرے اور زہرا کے لئے جوتے خریدتے تو بھی میرادل چاہتا کہ زہرا کے جوتے پر انے ہوں اور میرے نئے _ ایک دن والد نے میرے لئے جراب کا جوڑا خریدا اور زہرا کے لئے سرکاپھول _ مجھے یادہے کہ میں نے اس قدر شور مچایا ، رویا اور دل گیر ہوا کہ بیمار پڑگیا _ میں یہی کہتا تھا کہ میں بھی سرکاپھول چاہتا ہوں _ ماں نے مجھے بہت سمجھایا کہ یہ پھول تمہارے لئے مناسب نہیں مگر میں نے ایک نے سنی اور رونے لگا _ آخر زہرا نے مجھے وہ پھول دے دیا اور کہا پیارے سعید مت روؤ آؤ اور یہ پھول لے لو _ سب سوگئے لیکن مجھے ناراضگی کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی _ آہستہ آہستہ اٹھا مطالعہ کے لئے چراغ جلایا_ کتاب کو ہاتھ میں لیا اور ورق الٹنے لگا _ کتاب میں ایک جگہ لکھا تھا : کہ حاسد انسان اس دنیا میں بھی رنج و غم مبتلا رہتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہوگا حاسد اپنا بھی نقصان کرتا ہے اور دوسروں کا بھی نقصان کرتا ہے _ جب بچے بہت چھوٹے ہوں تو ممکن ہے کہ وہ حسد کریں لیکن جب بڑے ہوجاتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ مہربانی خیر خواہی بہت ہی مفید ہے _ میں نے تھوڑی دیر


سوچا اور اپنے کئے پر شرمندہ ہوا اوررونا شروع کردیا _ رونے کی آواز سن کر زہرا بیدار ہوگئی _ وہ میرے سرہانے آئی اور کہا : پیارے سعید کیوں روتے ہو _ میرے آنسو پونچھنے لگی _ میری پیشانی پر بوسہ دیا میرے لئے پانی لائی اور کہا بھیا کیوں روتے ہوکیا تکلیف ہے؟ کل ماں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے _ زہرا کو علم نہ تھا کہ مجھے حسد اور دل گیری نے بیمار کررکھا ہے _

صبح مدرسہ گیا تمام دن سست رہا اور فکرمند رہا _ عصر کے وقت جب مدرسہ سے لوٹ رہا تھا تو ایک سفید بٹوا اور سرکاپھول زہرا کے لئے خریدا اور اسے بطور تحفہ دیا _ ماں بہت خوش ہوئی _ اس دن سے میری حالت بالکل ٹھیک ہے پہلے میرا چہرہ زرداور مرجھایا ہوارہتا تھا _ اب سرخ اور سفید ہوگیا _ اب میں اور زہرا آپس میں بہت مہربان تھے اور بڑی خوشی محسوس کرتے تھے _

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حاسد ہمیشہ غمناک اور غمگین رہتا ہے

جواب دیجئے

۱_ حسد کسے کہتے ہیں؟

۲_ کیا حسد بری عادت ہے اور کیوں ؟

۳_ حاسد انسان کیوں رنج میں مبتلا ہوتا ہے ؟

۴_ جو شخص حسد کی وجہ سے رنج میں ہو اس سے کیا سلوک کیا جائے زہرا کا سلوک سعید کے ساتھ کیسا تھا؟

۵_ حسد کی بیماری میں مبتلا ہونا چاہیئےو کون سے کام انجام دیں ؟

۶_ سعید نے کیا کیا کہ وہ خوش ہوگئی؟

۷_ حضرت امیر المؤمنین (ع) نے حاسدوں کے متعلق کیا فرمایا ہے؟


فہرست

عرض ناشر ۴

پیش لفظ ۶

پہلا حصّہ ۹

خداشناسی ۹

پہلا سبق ۱۰

۱ مچھلی ۱۰

دوسرا سبق ۱۱

پانی میں مچھلی کا دم کیوں نہیں گھٹتا ۱۱

کون مچھلی کیلئے فکرکررہا تھا ۱۱

سوالات ۱۲

درج ذیل جملے مکمل کیجئے ۱۲

تیسرا سبق ۱۳

۳ داؤد اور سعید سیر کو گئے ۱۳

بطخوں کے پر کیوں نہیں بھیگتے ۱۳

خوبصورت بطخوں کو خدا نے پیدا کیا ہے ۱۴

سوالات ۱۴

یہ جملے مکمل کیجئے ۱۵

چوتھاسبق ۱۶

۴ خوبصورت نو مولود بچہ ۱۶

سوچ کران سوالوں کا جواب دیجئے ۱۸

پانچو سبق ۱۹

۵ چروا ہے نے درس دیا ۱۹

سوچ کر جواب دیجئے ۲۰

چھٹا سبق ۲۱

۶ہوشیار لڑکا ۲۱

سوالات ۲۲

ساتواں سبق ۲۴

۷ اس کی نعمتیں ۲۴

مہربان خدا ۲۴

سوالات ۲۵

ان جملوں کو مکمل کیجئے ۲۶

آٹھواں سبق ۲۷

۸ اللہ کی نعمتیں ۲۷

سوالات ۲۷

مندرجہ ذیل جملوں کو مکمل کیجئے ۲۸

نواں سبق ۲۹

۹ علیم اور قادر خدا ۲۹

نظم و ترتیب ۳۰

دسواں سبق ۳۲

۱۰ میرا بہترین دوست ۳۲

دوسرا حصّہ ۳۳

معاد ''یعنی'' قیامت ۳۳

پہلا سبق ۳۴

بطخیں کب واپس لوٹیں گی ۳۴

سوالات ۳۴

ان جملوں کو مکمل کیجئے ۳۵

دوسرا سبق ۳۶

دو قسم کے لوگ ۳۶

تیسرا سبق ۳۷

معاد یا جہان آخرت ۳۷

سوالات ۳۷

ان جملوں کو مکمل کیجئے ۳۸

چوتھا سبق ۳۹

ردّ عمل ۳۹

پانچواں سبق ۴۰

آخرت کی زندگی ۴۰

آخرت میں ہم زندہ ہوجائیں گے ۴۰

سوچ کر جواب دیجئے ۴۱

چھٹا سبق ۴۲

آخرت میں بہتر مستقبل ۴۲

تیسرا حصّہ ۴۴

نبوت ۴۴

پہلا سبق ۴۵

اللہ نے پیغمبڑ بھیجے ہیں ۴۵

سوالات ۴۵

دوسرا سبق ۴۶

انسانوں کے معلّم ۴۶

سوچ کر جواب دیجئے ۴۶

تیسرا سبق ۴۸

خدا کے عظیم پیغمبر ابراہیم علیہ السلام ۴۸

سوچ کر جواب دیجئے ۴۹

چوتھا سبق ۵۰

لوگوں کا رہبر اور استاد ۵۰

سوچ کر جواب دیجئے ۵۰

پانچوان سبق ۵۲

پیغمبر لوگوں کے رہبر ہوتے ہیں ۵۲

چھٹا سبق ۵۳

اولوا لعزم پیغمبر ۵۳

سوالات ۵۴

ان جملوں کو مکمل کیجئے ۵۴

ساتواں سبق ۵۵

حضرت محمد مصطفے (ص) کا بچپن ۵۵

سوالات ۵۵

آٹھواں سبق ۵۶

آخری نبی حضرت محمد مصطفے (ص) ۵۶

پیغمبر اسلام کا بچپن ۵۷

جواب دیجئے ۵۷

نواں سبق ۵۸

پیغمبر (ص) کا بچوّں کے ساتھ سلوک ۵۸

سوالات: ۵۸

دسواں سبق ۵۹

امین ۵۹

جواب دیجئے ۶۱

گیارہواں سبق ۶۲

دین اسلام آسمانی ادیاں میں سب سے بہتر اور آخری دین ہے ۶۲

مسلمان کون ہے : ۶۳

بارہواں سبق ۶۴

قرآن اللہ کا پیغام ہے ۶۴

جواب دیجئے ۶۴

قرآن ۶۶

فارسی نظم ۶۶

تیرہواں سبق ۶۷

باغ جل گیا اور کیوں جلا؟ ۶۷

چودھواں سبق ۶۸

اصحاب فیل ۶۸

جواب دیجئے ۷۰

پندرہواں سبق ۷۱

دین کیا ہے؟ ۷۱

دین کیا ہے : ۷۱

دین دار کون ہے : ۷۲

سوالات ۷۲

سولہواں سبق ۷۳

دین اسلام بہترین زندگی کیلئے بہترین دین ہے ۷۳

دین اسلام کیا ہے؟ ۷۳

مسلمان کون ہے ؟ ۷۳

ہماری دینی کتاب کا کیا نام ہے ۷۴

سوالات ۷۴

یہ جملے مکمل کیجئے ۷۴

چوتھا حصّہ ۷۶

امامت ۷۶

پہلا سبق ۷۷

امام ۷۷

سوالات ۷۷

دوسرا سبق ۷۸

امام دین کا رہبر اور پیغمبر (ص) کا جانشین ہوتا ہے ۷۸

امام دین کا محافظ اور نگہبان ہوتا ہے ۷۸

تیسرا سبق ۷۹

بارہ امام ۷۹

پہلاسبق ۸۰

پہلے امام ۸۰

حضرت علی علیہ السلام ۸۰

جواب دیجئے ۸۱

دوسرا سبق ۸۲

یتیم نوازی ۸۲

سوالات ۸۳

یہ جملہ مکمل کیجئے ۸۳

تیسرا سبق ۸۴

حضرت علی (ع) بچون کو دوست رکھتے تھے ۸۴

سوالات ۸۴

چوتھا سبق ۸۵

کام او رسخاوت ۸۵

جواب دیجئے ۸۶

پہلا سبق ۸۸

دوسرے امام حضرت امام حسن علیہ السلام ۸۸

جواب دیجئے ۸۹

دوسرا سبق ۹۰

خوش اخلاقی درگذری ۹۰

جواب دیجئے ۹۱

تیسرا سبق ۹۲

امام حسن علیہ السلام کے مہمان ۹۲

سوالات ۹۲

پہلا سبق ۹۴

تیسرے امام حضرت امام حسین علیہ السلام ۹۴

دوسرا سبق ۹۵

آزادی اور شہادت ۹۵

سوالات ۹۷

تیسرا سبق ۹۸

دستگیری اور مدد کرنا ۹۸

جواب دیجئے ۹۹

پہلا سبق ۱۰۰

چوتھے امام حضرت امام زین العابدین (ع) ۱۰۰

جواب دیجئے ۱۰۱

دوسرا سبق ۱۰۲

اللہ سے راز و نیاز ۱۰۲

پہلا سبق ۱۰۴

پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ۱۰۴

دوسرا سبق ۱۰۶

امام(ع) سے سیکھیں ۱۰۶

جواب دیجئے ۱۰۸

پہلا سبق ۱۰۹

چھٹے امام حضرت امام جعفر صادق (ع) ۱۰۹

دوسرا سبق ۱۱۱

ذخیرہ اندوزی کی مذمّت ۱۱۱

جواب دیجئے ۱۱۲

پہلا سبق ۱۱۴

ساتویں امام حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ۱۱۴

دوسرا سبق ۱۱۵

ہدایت امام ۱۱۵

پانچواں حصّہ ۱۱۸

فروع دین ۱۱۸

پہلا سبق ۱۱۹

پاکیزگی ۱۱۹

سوالات ۱۱۹

دوسرا سبق ۱۲۰

ہمیشہ پاکیزہ رہیں ۱۲۰

تیسرا سبق ۱۲۱

وضوء ۱۲۱

چوتھا سبق: ۱۲۲

نماز پڑھیں ۱۲۲

سوالات ۱۲۲

پانچواں سبق ۱۲۳

نماز آخرت کیلئے بہترین توشہ ہے ۱۲۳

جواب دیجئے ۱۲۴

چھٹا سبق ۱۲۵

طریقہ نماز ۱۲۵

اوقات نماز ۱۲۸

یادرکھئے کہ ۱۲۸

ساتواں سبق ۱۲۹

نماز پر شکوہ _ نمازجمعہ ۱۲۹

سوالات ۱۳۰

آٹھواں سبق ۱۳۱

روزہ ۱۳۱

ان جملوں کو مکمل کیجئے ۱۳۱

نواں سبق ۱۳۲

ایک بے نظیر دولہا ۱۳۲

سوالات ۱۳۴

چھٹا حصّہ ۱۳۶

چھٹا حصّہ ۱۳۶

اخلاق و آداب ۱۳۶

پہلا سبق ۱۳۷

والدین سے نیکی کرو ۱۳۷

سوالات ۱۳۷

دوسرا سبق ۱۳۸

استاد کا مرتبہ ۱۳۸

سوالات ۱۳۸

تیسرا سبق ۱۳۹

اسلام میں مساوات ۱۳۹

سوالات ۱۳۹

چوتھا سبق ۱۴۰

بوڑھوں کی مدد ۱۴۰

سوالات ۱۴۰

پانچواں سبق ۱۴۱

حیوانات پر رحم کرو ۱۴۱

سوالات ۱۴۱

چھٹا سبق ۱۴۲

مزدور کی حمایت ۱۴۲

سوالات ۱۴۲

ساتواں سبق ۱۴۳

کھانا کھانے کے آداب ۱۴۳

سوالات ۱۴۴

آٹھواں سبق ۱۴۵

حفظان صحت کا ایک مہم دستور ۱۴۵

سوالات ۱۴۵

نواں سبق ۱۴۶

سلام محبت بڑھاتا ہے ۱۴۶

دسواں سبق ۱۴۷

ایک باادب مسلمان بچہ ۱۴۷

جواب دیجئے ۱۴۸

گیارہواں سبق ۱۴۹

مال حرام ۱۴۹

جواب دیجئے ۱۵۰

بارہواں سبق ۱۵۱

کام کی بروقت انجام دہی ۱۵۱

جواب دیجئے ۱۵۳

تیرہواں سبق ۱۵۴

مہربان بہن اور پشیمان بھائی ۱۵۴

جواب دیجئے ۱۵۵

فہرست ۱۵۶