‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم)- جلد 2
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف ‏آيت اللہ ابراهیم امینی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب تعلیم دین - ساده زبان میں؛جلد دوم

تالیف آیة اللہ ابراہیم امینی

ترجمه شیخ الجامعہ مولانا الحاج اختر عباس صاحب

نظرثانی حجة الاسلام مولانا نثار احمد صاحب

کتابت جعفرخان سلطانپور

ناشر انصاریان پبلیکیشنز قم ایران

طبع صدر قم

تعداد سه ہزار

تاریخ ۱۴۱۴ ھ


عرض ناشر

کتاب تعلیم دین سادہ زبان میں حوزہ علمیہ قم کی ایک بلند پایہ علمی شخصیت حضرت آیة اللہ ابراہیم امینی کی گرامی مایہ تالیفات میں سے ایک سلسلہ ''آموزش دین در زبان سادہ'' کا اردو ترجمہ ہے_

اس کتاب کو خصوصیت کے ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے لئے تحریر کیا گیا ہے_ لیکن اس کے مطالب اعلی علمی پیمانہ کے حامل ہیں اس بناپر اعلی تعلیم یافتہ اور پختہ عمر کے افراد بھی اسی سے استفادہ کرسکتے ہیں_

بچوں اور جوانوں کی مختلف ذہنی سطحوں کے پیش نظر اس سلسلہ کتب کو چارجلدوں میں تیار کیا گیا ہے_ کتاب خدا اس سلسلہ کتب کی چوتھی جلد کے ایک حصّہ پر مشتمل ہے جسے کتاب کی ضخامت کے پیش نظر علیحدہ شائع کیا جارہا ہے_

اس سلسلہ کتب کی امتیازی خصوصیات درج ذیل ہے_

___ کتاب کے مضامین گوکہ اعلی مطالب پر مشتمل ہیں لیکن انھیں دل نشین پیرائے اور سادہ زبان میں پیش کیا گیا ہے تا کہ یہ بچّوں کے لئے قابل


فہم اور دلچسپ ہوں_

___ اصول عقائد کے بیان کے وقت فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے ہوئے اتنا سادہ استدلالی طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ نوعمر طلباء اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں_

___ مطالب و معانی کے بیان کے وقت یہ کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے والوں کی فطرت خداجوئی بیدار کی جائے تا کہ وہ از خود مطالب و مفاہیم سے آگاہ ہوکر انھیں دل کی گہرائیوں سے قبول کریں اور ان کا ایمان استوار پائیدار ہوجائے_

___ ہماری درخواست پر حضرت حجة الاسلام و المسلمین شیخ الجامعہ الحاج مولانا اختر عباس صاحب قبلہ دام ظلہ نے ان چاروں کتابوں کا ترجمہ کیا_

ان کتابوں کو پہلا ایڈیشن پاکستان میں شائع ہوا تھا اور اب اصل متن مؤلف محترم کی نظر ثانی کے بعد اور اردو ترجمہ حجة الاسلام جناب مولانا نثار احمد ہندی کی نظر ثانی اور بازنویسی کے بعد دوبارہ شائع کیا جارہا ہے اپنی اس ناچیز سعی کو حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں

___ ہماری دلی آرزو ہے کہ قارئین گرامی کتاب سے متعلق اپنی آراء اور قیمتی مشوروں سے مطلع فرمائیں

والسلام ناشر محمد تقی انصاریان


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

نام کتاب تعلیم دین _ سادہ زبان میں

تالیف آیة اللہ ابراہیم امینی

ترجمہ شیخ الجامعہ مولانا الحاج اختر عباس صاحب

نظر ثانی حجة الاسلام مولانا نثار احمد صاحب

کتابت جعفر خان سلطانپوری

ناشر انصاریان پبلیکشنزقم ایران

طبع صدر قم

تعداد سہ ہزار

تاریخ ۱۴۱۴ ھ


حصّہ اوّل

خداشناسی


پہلا سبق

خدا خالق کائنات

جب میرے ابّا جان نے کھانے کا آخری لقمہ کھایا تو کہا الحمد اللہ رب العالمین_ میں نے کہا: ابا جان الحمد اللہ رب العلمین کا کیا مطلب ہے کیوں آپ ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد یہ جملہ کہتے ہیں؟

میرے ابا نے کہا: بیٹے میں اس جملے سے خداوند عالم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں کا شکر بجالاتا ہوں وہ خدا جس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور پرورش کرتا ہے یہ تمام نعمتیں خدا نے ہمیں دی ہیں جب ہم ان سے استفادہ کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ نعمتوں کے مالک کا شکریہ ادا کریں_

اسی غذا او رکھانے میں ذرا غور کرو کہ خدا نے ہمیں کتنی نعمتیں بخشی ہیں آنکھ سے غذا کو دیکھتے ہیں، ہاتھ سے لقمہ اٹھاتے ہیں اور منہ میں ڈالتے ہیں


اور لبوں کے ذریعہ کو بند کرتے ہیں او رزبان کے ذریعہ لقمے کو منہ کے اندر پھیرتے ہیں اور دانتوں سے چباتے ہیں اور پھر اندر نگل لیتے ہیں لیکن یہی کام جو بظاہر سادہ نظر آتے ہیں بہت دقیق اور حیرت انگیز ہیں_ انگلیوں اور ہاتھوں کو کتنا خوبصورت اور مناسب خلق کیا گیا ہے_ انگلیاں خواہش کے مطابق کھلتی اور بند ہوجاتی ہیں اور جس قدر ضروری ہوتا ہے کھل جاتی ہیں ہاتھ کو جس طرح چاہیں پھیر سکتے ہیں انگلیاں ہماری ضرورت کو پورا کرتی ہیں کبھی تم نے سوچا ہے کہ اگر ہمارے ہاتھ اس طرح ہمارے اختیار میں نہ ہوتے تو ہم کیا کرتے_

دانتوں کی تخلیق کس قدر دلچسپ اور مشکل ہے_ آئینے میں اپنے دانتوں کو دیکھوان میں سے بعض تیز اور غذا کو چبانے کے لئے ہیں اگر ہمارے دانت نہ ہوتے تو ہم کیسے غذا کھاتے اور اگرتمام دانت ایک ہی طرح کے ہوتے تو بھی غذا کو صحیح طریقے سے نہیں چبا سکتے تھے_

بیٹا سب سے بڑھ کر تعجب خیز لعاب دہن ہے لعاب غذا کو ہضم ہونے کے لئے لازمی ہے اسی لئے نوالہ جتنا چبایا جائے جلدی اور بہتر ہضم ہوتا ہے اس کے علاوہ لعاب لقمے کو تر کرتا ہے تا کہ آسانی سے گلے سے اتر سکے لعاب تین چھوٹے غدوں سے ترشح کرتا ہے ان غدّوں کو لعابی غدّہ کہا جاتا ہے_ دیکھنے اگر ہمارا منہ خشک ہوتا تو ہم کیا کرتے کیا غذا کھاسکتے تھے؟ کیا کلام کرسکتے تھے؟ دیکھو یہی لعاب دہن کتنی بڑی نعمت ہے_ لعابی غدّے کتنے مفید اور اہم کام انجام دیتے ہیں اب بیٹے بتاؤ کس کو ہماری فکر تھی اور کون جانتا تھا کہ ہمارا منہ تر ہونا چاہیے کون ہماری فکر میں تھا اور جانتا تھا کہ غذا کے ہضم ہونے کیلئے اور بات کرنے کے لئے لعاب ضروری ہے اسی لئے لعابی غدّے ہمارے منہ


میں خلق کردیئےاس کو ہماری فکر تھی اور جانتا تھا کہ ہم کو لب چاہیں؟ کسکو ہماری فکر تھی اور جانتا تھا کہ ہمیں ہاتھ اور انگلیاں در کار ہیں_ میں باپ کی بات غور سے سن رہا تھا_ میں نے جواب دیا ابا جان مجھے معلوم ہے کہ خدا کو ہماری فکر تھی وہ ہماری ضروریات سے باخبر تھا_ جس کی ہمیں ضرورت تھی اس نے بنادیا_ میرے باپ نے کہا: شاباش بیٹا تم نے درست کہا ہے، لعابی غدّے خودبخود وجود میں نہیں آئے دانت اور لب اور انگلیاں خودبخود بغیر حساب کئے پیدا نہیں ہوئیں یہ تمام نظم و ترتیب اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی خلقت ایک دانا ذات سے وابستہ ہے اور پیدائشے کا سرچشمہ اور منبع خدا ہے_ میرے بیٹے: جب انسان اللہ تعالی کی بخشش کو دیکھتا ہے تو بے اختیار اس کا خوبصورت نام لیتا ہے اور اس کی ستائشے اور تعریف کرتا ہے اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے_ احمد جان الحمد اللہ رب العلمین یعنی تمام تعریفیں اس خدا کے ساتھ مخصوص ہیں جو ساری کائنات کا پروردگار ہے_

سوچو ا ور جواب دو

۱)___ احمد نے باپ سے کیا پوچھا؟

۲)___ احمد کا باپ کھانے کے بعد کیا کرتا تھا کس کا شکریہ ادا کرتا تھا؟

۳)___ کیا اللہ کی نعمتوں کو شمار کرسکتے ہیں؟

۴)___ احمد کے باپ کن نعمتوں کا تذکرہ اپنے بیٹے کے سامنے کیا؟

۵)___ لعابی غدے پیدا کرنے کی غرض کیا ہے؟


۶)___ جب باپ نے احمد سے کہا دیکھو اور بتلاؤ تو احمد سے کیا تو پوچھا تھا اور احمد نے اس کا کیا جواب دیا تھا؟

۷)___ یہ نظم اور ترتیب جو ہمارے بدن میں ہے کس چیز کی دلیل ہے

۸)___ الحمد اللہ رب العلمین کا کیا مطلب ہے؟

۹)___ آپ غذا کے بعد کس طرح

تجزیہ کیجئے اور غور کیجئے

اپنی انگلیوں کو بند کیجئے اور مٹھی بنایئےسی حالت میں کہ جب انگلیاں بند ہیں ایک ہاتھ میں پنسل لیجئے اور لکھیئے؟

چمچہ اٹھایئےور غذا کھایئے

اگر ہم انگلیاں نہ رکھتے ہوتے تو کس طرح لکھتے؟ کس طرح غذا کھاتے اگر انگلیاں ہمارے ارادے کے ما تحت کھلتی اور بند نہ ہوتیں تو ہم کیسے کام کرتے_

اب آپ انگلیاں کھولیئے اور پھر انہیں حرکت نہ دیجئے اسی حالت میں ان انگلیوں سے پنسل اٹھایئےور اپنا نام لکھئے_

چمچہ اٹھایئےور اس سے غذا کھایئےکیا ایسا کرسکتے ہیں پس ہمارا خدا بہت علیم اور حکیم ہے کہ جس نے انگلیوں کو ہمارے اختیار میں قرار دیا ہے تا کہ وہ ہمارے ارادے اور خواہش پر کھلیں


اور بند ہوں: سوائے ذات الہی کے کون اتنا عالم اور قادر ہے کہ انگلیوں کو اس طرح بنائے_

تجزیہ کیجئے اور غور کیجئے

لبوں کو بغیر حرکت کے رکیھے اور پھر کلام کیجئے_ کیا ایسا کرسکتے ہیں کیا تم کلمات ادا کرسکتے ہیں؟ جب لبوں کو کھولے رکھیں تو کیا خوراک چبا سکتے ہیں_ کیا خوراک آپ کے منہ سے نہیں گرجائے گی؟ ہم زبان سے کون سے کام انجام دیتے ہیں بات کرتے ہیں غذا کا مزا چھکتے ہیں اور کیا؟ کیا غذا چباتے وقت زبان کو حرکت نہ دینے پر قادر ہیں_ تجربہ کیجئے_

زبان غذا کھانے کے وقت جاری کیا مدد کرتی ہے؟ اگر زبان نہ رکھتے تو کس طرح غذا کھاتے؟ کس طرح باتیں کرتے؟ کس نے سوائے ذات الہی کے جو دانا اور توانا ہے ہمارے لئے لب اور زبان خلق کی ہے_

تجربہ کیجئے اور فکر کیجئے

زبان کو منہ میں پھیریئےپ کیا چیز محسوس کرتے ہیں؟

دانت تالو اور کیا


اب لعاب کو نگلیئےور پھر اندر کے حصّہ میں زبان پھیریئےکیا آپ کا پورا منہ خشک ہوتا ہے: یہ تازہ لعاب کہاں سے پیدا ہوگیا؟ کیا جانتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہو تو کیا ہوجائے گا_

آپ بات نہیں کرسکیں گے غذا نہیں کھاسکیں گے اور آپ کا منہ خشک ہوجائے گا_

کس ذات نے دانتوں کو آپ کے لئے پیش بینی کر کے خلق کیا ہے سوائے ذات الہی حکیم اور دانا کے کون یہ ہمارے لئے بنا سکتا ہے_


دوسرا سبق

خدا کی بہترین تخلیق_ پانی

جب پیاسے ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں_ پانی پیتے ہیں_ جی ہاں ہم سب پانی کے محتاج ہیں حیوانات جب پیاسے ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ پانی پیتے ہیں_ جی ہاں حیوانات بھی پانی کے محتاج ہیں_ کیا نباتات بھی پیاسے ہوتے ہیں_ جی ہاں نباتات بھی پیاسے ہوتے ہیں وہ بھی پانی کے محتاج ہیں لیکن وہ ہماری طرح پانی نہیں پیتے بلکہ پانی کو اپنی جڑوں کے ذریعہ زمین سے حاصل کرتے ہیں_

اگر نباتات کو پانی نہ پہنچے تو خشک ہوجائیں گے_

اگر حیوانات پانی نہ پئیں تو پیاس سے مرجائیں گے_

اگر پانی نہ ہو تو ہم بھی پیاس سے مرجائیں گے_

اگر پانی نہ ہو تو گندم اور جو پیدا نہ ہوں گے اور اس وقت ہمارے


پاس روٹی نہ ہوگی کہ کھاسکیں: اگر پانی نہ ہو تو تمام حیوانات مرجائیں گے تو پھر ہمارے پاس نہ گوشت ہوگا اور نہ دودھ نہ پنیر اور نہ دہی ہوگا کہ انہیں کھا سکیں_ لیکن خدا بہت مہربان ہے میٹھا اور مزے دار پانی پیدا کیا ہے اور ہمارے اختیار میں رکھا ہے تا کہ پی سکیں اور اپنے آپ کو اس سے صاف کرسکیں اور اس سے کاشت کاری کرسکیں_ اس کو حیوانات پئیں اور ہمارے لئے دودھ اور گوشت مہیا کریں_ خدا ہم کو دوست رکھتا ہے اسی لئے مزے دار اور میٹھا پانی اوردوسری سیکڑوں نعمتیں ہمارے لئے پیدا کی ہیں ہم بھی مہربان خدا کو دوست رکھتے ہیں اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کو خدا کے حکم کے مطابق صرف کرتے ہیں_

تجربہ کر کے غور کیجئے

تھوڑا سا نمک گلاس میں ڈالیئے تو پانی نمکین ہوجائے گا کیا اسے پیاس دور کرنے کے لئے پی سکتے ہیں_ نہیں _ نمکین پانی سے پیاس میں اضافہ ہوتا ہے_ نمکین پانی کا شتکاری کے لئے بھی اچھا نہیں ہے_

جی ہاں_ اگر تمام پانی نمکین اور کڑوے ہوتے تو ہم کیا کرتے؟ روٹی نہ ہوتی دودھ اور گوشت و پنیر نہ ہوتا اس وقت کیا کرتے؟

اگر تمام پانی زمین میں چلا جائے اور ختم ہوجائے تو ہم کیا کریں گے کس طرح زندگی گذاریں گے؟ کیا پھر بھی زندہ رہ سکیں گے؟ پس خدا بہت مہربان ہے کہ جس نے مزے دار پانی پیدا کیا اور ہمارے اختیار میں دیا_


اگر نباتات کو پانی نہ ملے تو خشک ہوجائیں_ اگر حیوانات پانی نہ پئیں تو پیاس سے مرجائیں_ اگر پانی نہ ہو تو ہم بھی پیاس سے مرجائیں_ خدا بہت مہربان ہے کہ جس نے میٹھا اور مزے دار پانی پیدا کیا اور ہمارے اختیار میں دے دیا تا کہ ہم پئیں اور اپنے آپ کو اس سے دھوئیں اور اس سے کھیتی باڑی کریں حیوانات پئیں اور ہمارے لئے دودھ اور گوشت مہيّا کریں_

سوچئے اور خالی جگہیں پر کیجئے

۱)___ اگر پانی___ تو اس وقت___ روٹی نہ ہوگی اگر پانی نہ___ تو ہمارے پاس___ میوے ___اگر پانی ___نہ ہو تو اس وقت ہم گوشت دودھ اور پنیر نہ رکھتے ہوں گے ___خدا ہم کو دوست رکھتا ہے اور دوسری سیکڑوں نعمتیں ہمارے لئے ___ہم بھی مہربان خدا___ اور اس کی نعمتوں ___اور ان کو ___صرف کرتے ہیں_


تیسرا سبق

سیب کا درخت خداشناسی کا سبق دیتا ہے

سیب مفید اور خوش ذائقہ میوہ ہے شاید آپ نے بھی یہ عمدہ میوہ کھایا ہو سیب میں بہت سے وٹامن ہیں ہمارا جسم ان کا محتاج ہے خدا نے سیب کا درخت پیدا کیا تا کہ ہماری ضروریات کو پورا کرے سیب کے درخت پر پھل لگنے کے لئے ان چند چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے_

۱) ___ پانی

۲)___ معدنی اجزاء جو مٹی میں موجود ہیں

۳)___ کاربن ڈائی آکسائیڈ جو ہوا میں موجود ہے_

۴)___ روشنائی اور طاقت جو سورج میں ہے_

سیب کے درخت کی جٹریں پانی اور معدنی اجزاء زمین سے لیتی ہیں سیب کے درخت کا جسم اور اس کی شاخیں بہت باریک رگوں سے


پانی او رمعدنی اجزاء کو اوپر لے جاتی ہیں اور پتوں تک پہنچاتی ہیں کاربن ڈائی آکسائیڈ پتّوں کے باریک سوراخوں سے پتوں کے اندر جاتی ہے سورج کی روشنی بھی پتّوں پر پڑتی ہے_ پتّے سورج کی روشنی کی مدد سے پانی اور معدنی اجزاء اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بہت خوش ذائقہ شربت تیار کرتے ہیں اور اس خوش ذائقہ شربت کو بہت باریک رگوں سے درخت کے تمام جسم میں پھیلا دیتے ہیں_ سیب کا درخت اس شربت کی کچھ مقدار تو خود ہضم کر کے بڑھتا جاتا ہے اور باقی کو خوبصورت اور خوش ذائقہ میوے کی شکل میں باہر نکلتا ہے ہم اس مزے دار پھل کو کھا کر لذت حاصل کرتے ہیں خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ یہ خوبصورت میوے ہمارے بدن میں طاقت پیدا کرتے ہیں_ خدائے علیم و قدیر نے اس نظم اور ترتیب کو درخت کی خلقت میں قرار دیا ہے تا کہ ہمارے لئے سیب بنائے اور ہم خوش ذائقہ میوے سے استفادہ کرسکیں تا کہ ہمیشہ آزاد اور سعادت مند زندگی گذاریں_

فکر کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ سیب کا درخت سیب کے بنانے میں کن چیزوں کا محتاج ہے

۲)___ پانی اور معدنی اجزاء کس طرح پتوں میں جاتے ہیں

۳)___ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن کہاں موجود ہے اور کس طرح پتوں میں داخل ہوتی ہے_

۴)___ پتّے کس طاقت کے ذریعہ سیب بناتے ہیں؟


۵)___ کس ذات نے یہ ارتباط اور نظم اور ترتیب سیب کے درخت میں ایجاد کیا ہے تا کہ سیب کا درخت ہمارے لئے سیب کا پھل بنائے_

۶)___ اگر زندگی میں ہمیشہ سعادت مند اور آزاد رہنا چاہیں تو کس کے فرمان کی پیروی کریں_

۷)___ اللہ کی نعتوں کو کس طرح اور کس راستے میں خرچ کریں_


چوتھا سبق

نباتات کے سبز پتے یا خداشناسی کی عمدہ کتابیں

ہم سب کو غذا کی ضرورت ہے بغیر غذا کے زندہ نہیں رہ سکتے درخت اور نباتات ہمارے لئے غذا تیار کرتے ہیں تا کہ کام کرسکیں درختوں کے سبز پتّے غذا بنانے کے چھوٹے چھوٹے کارخانے ہیں جو کام میں مشغول ہیں اور ہمارے لئے غذا بناتے ہیں_ نباتات اور درخت بھی سیب کے درخت کی طرح پانی اور معدنی اجزاء جٹروں کے ذریعے زمین سے لیتے ہیں اور چھوٹی نالیوں کے ذریعے پتوں تک پہنچاتے ہیں کاربن ڈائی آکسائڈ ہوا ہیں موجود پتوں کے بہت باریک سوراخوں سے داخل ہوتی ہے سورج کی روشنی اور شعاعیں (انرجی) بھی پتوں پر پڑتی ہیں اس وقت سبز پتّوں والا کارخانہ اپنا کام شروع کردیتا ہے اور سورج کی روشنی کی مدد سے غذا بناتا ہے نباتات اپنی ضرورت سے زیادہ غذا بناتے ہیں البتہ کچھ مقدار خود ہضم کرلیتے ہیں تا کہ زندہ رہ سکیں اور


زائد مقدار کو ہمارے لیئے ذخیرہ کرلیتے ہیں_ گائے بھیڑ بکریاں بھی غذا کی محتاج ہیں وہ دانے اور سبز گھاس کھاتی ہیں اور ہمیں دودھ مکھن دہی گوشت اور پنیر دیتی ہیں مرغیاں بھی دانہ کھاتی ہیں اور ہمارے لئے گوشت اور انڈے بناتی ہیں_ تمام حیوانات اور جانور غذا کے محتاج ہیں_

ان تمام کی غذا سبز نباتات کے ذریعے بنتی ہے_ کوئی انسان او رحیوان نباتات کے بغیر اپنی غذا تیار نہیں کرسکتا_ بلکہ تمام نباتات کے محتاج ہیں_ انسان نباتات اور حیوانات کا محتاج ہے اور حیوانات نباتات کے محتاج ہیں اور نباتات غذا تیار کرنے میں پانی مٹی اور ہوا اور سورج کی روشنی کے محتاج ہیں_

اب دیکھیں کہ کس ذات نے سورج کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ دنیا پر چمکے اور روشنی اور طاقت (انرجی) دے تا کہ نباتات ہمارے لئے غذا تیار کرسکیں؟ کس ذات نے درختوں اور نباتات کو اس نظم اور ترتیب اور ارتباط سے پیدا کیا اور خوبصورت سبز پتّوں کو غذا بنانے کی طاقت عنایت فرمائی ہے_

وہ دانا اور توانا ذات خدا ہے کہ جو تمام چیزوں کا عالم ہے اور ہر کام پر قدرت رکھتا ہے_

وہ عالم اور توانا ذات ہمیں دوست رکھتی ہے کہ ہماری تمام ضروریات کو پیش بینی کرتے ہوئے پیدا کردیا ہے_ ہم بھی اسے دوست رکھتی ہیں اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اس کے فرمان کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں_ خدا سے بہتر کون ہے جو ہماری زندگی کے لئے راہنما ہوسکتا ہے؟


غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ روٹی کس چیز سے بناتے ہیں

۲)___ گندم کا پودا گندم اگانے میں کس چیز کا محتاج ہے_

۳)___ اگر سورج کی روشنی گندم کے پودے پر نہ پڑے تو کیا گندم وجود میں آسکتا ہے_

۴)___ اگر سبز پتے گندم کا پودا اور دوسری غذا نہ بنائیں تو کیا ہم غذا حاصل کرسکتے ہیں

۵)___ کس ذات نے ہماری ضروریات کی پیش بینی کی ہے اور جہاں کو اس نظم و ارتباط سے خلق کیا ہے؟

۶)___ ہمارا فریضہ ان نعمتوں کے مقابل کیا ہے؟

تجربہ اور تحقیق کیجئے

بڑے سبز پتّے ہوا کو بھی صاف کرنے کا کام کرتے ہیں: جانتے ہو کس طرح

مشق

۱)___ سبق کو ایک دفعہ بلند آواز سے پڑھیں_

۲)___ اس سبق میں کئی اور سوال بنائیں اور ان کے جواب اپنے دوست سے پوچھیں

۳)___ سبق کا خلاصہ بیان کریں اور اس سبق کی غرض و غایت کو بھی بیان کر یں

۴)___ اوپر کے سوالوں کا جواب خوبصورت خط سے اپنی کاپی میں لکھیں


پانچواں سبق

تجربے کی روش خداشناسی کا سبق دیتی ہے

جب میں گھر آئی تو میری ماں نے کہا مریم آج عصر کے وقت کون سا سبق پڑھا ہے؟ میں نے علم حیاتات ''بیالوجی'' اور بحث نظام ہاضمہ کا سبق پڑھا ہے استاد نے پوچھا جانتی ہو کہ غذا کی نالی کیا ہے: معدہ کہاں ہے؟ آنتوں کا کیا کام ہے_ غذا کس طرح ہضم ہوتی ہے؟ شاگرد اس کا جو جواب دے رہے تھے وہ درست نہ تھا استاد نے کہا ان سوالوں کے متعلق تحقیق کرو ان کا صحیح اور کامل جواب یاد کرو اور کل اپنے دوستوں سے بیان کرنا میں حیاتیات کی کتاب لائی تا کہ آپ کی مدد سے ان سوالوں کے متعلق تحقیق کروں میری امّی بھی اپنی لائبریری سے ایک کتاب لائیں جس میں مختلف اور بہت زیادہ شکلیں موجود تھیں ایک شکل مجھے دکھلائی اور کہا اس تھیلی کو دیکھ رہی ہو ہم جب غذا کھاتے ہیں تو غذا اس تحصیلی میں جاتی ہے اس کا نام معدہ ہے


کیا بتلا سکتی ہو کہ غذا کسے راستے سے معدہ میں جاتی ہے؟

میں نے شکل کو دیکھا اور کہا یقینا اس نالی کے ذریعہ جاتی ہوگی ماں نے کہا ہاں بالکل ٹھیک ہے اس کا نام غذا کی نالی ہے یہ نالی حلق کو معدہ سے ملاتی ہے_

ایک اور نالی حلق کو پھیپھڑوں سے ملاتی ہے جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہو اس نالی سے پھیھپڑوں میں جاتی ہے_ ا س کا نام جانتی ہو میں نے شکل کو دیکھا اور کہا یہ ہوا کی نالی ہے_ میری امّی نے کہا یہ نالی غذا کے گذرنے کے لئے ہے اور یہ نالی ہوا کے گذرنے کے لئے ہے_ میں نے کہا کہ اگر غذا ہوا کی نالی سے جائے تو کیا ہوگا؟ امّی نے کہا غذا کو اس نالی سے نہیں جانا چاہتے ورنہ ہوا کے جانے کا راستہ بند ہوجائے گا اور ہمارا دم گھٹ جائے گا_ میں نے کہا پس کس لئے میرا دم ابھی تک نہیں گھٹا مجھے تو علم نہ تھا کہ غذا کو اس نالی سے نہ نگلوں امّی نے کہا: بیٹی: غذا نگلنا بہت عمدہ ہے اس شکل کودیکھو_ دیکھو حلق میں چار راستے ہیں ایک راستہ ناک کی طرف اور ایک راستہ منہ کی طرف اور ایک راستہ پھیھڑوں کی طرف اور ایک راستہ معدہ کی طرف_

جب ہم غذا کو نگلنا چاہتے ہیں تو صرف غذا والی نالی کھلتی ہے اسی لئے حلق میں دو دروازے ہماری ضرورت کے لئے حلق کئے گئے ہیں پس ایک دروازہ ہوا کی نالی کو بند کرتا ہے اور دوسرا دروازہ ناک والی نالی کو بند کرتا ہے ہوا کا دروازہ کہلاتا ہے اور وہ دروازہ جو ناک کی نالی کو بند کرتا ہے اسے چھوٹی زبان کہا جاتا ہے ہمیں ان دونوں دروازوں کی ضرورت ہے اگر یہ


نہ ہوں تو پہلے لقمے کے نگلتے وقت گھٹ کر مرجائیں_ میں نے کہا_ کیا خوب: میں بھی ایک دوازہ ہوا والا دوسری چھوٹی زبان رکھتی ہوں ورنہ گھٹ کر مرجاتی_

امّی نے کہا مریم جان: کیا تو یہ خیال کرتی ہے کہ چھوٹی زبان اور دوسرا دروازہ خودبخود بے صرف و غرض وجود میں آگئے ہیں میں نے کہا: نہیں چونکہ ان کی غرض و غایت بالکل واضح اور معلوم ہے: ایک ناک کے راستے کو بند کرتی ہے اور دوسرا پھیھپڑوں کو جانے والی نالی کو ان کے کام اور غرض معین اور معلوم ہیں بغیر علّت کے وجود میں نہیں آئے واضح ہے کہ کس ذات عالم نے ان کو ہمارے لئے خلق کیا ہے_ امّی نے کہا_ شاباش_ بالکل ٹھیک کہا تو نے: جس نے ہم کو پیدا کیا ہے ہماری ضروریات کو جانتا تھا اور تمام چیزوں کو جانتا ہے اسے علم تھا کہ ہمیںاس دروازے کی ضرورت ہے چونکہ ہم کو سانس بھی لینا ہے اور غذا بھی کہانا ہے وہ جانتا تھا کہ غذا کو ہوا کی نالی میں نہیں جانا چاہیئے اسی غرض کے ماتحت ہوا کا دروازہ خلق کردیا ہے_ جب تک لقمے نگلتے رہیں گے ہوا کی نالی کا دروازہ بند رہے گا اور غذا اس میں نہیں جائے گی_ ہمیں پیدا کرنے والا خدا عالم اور قادر ہے اسے ہماری تمام ضروریات کا علم تھا اسی لئے ان کو ہماری ضرورت کے تحت خلق کیا_ مثلاً معدہ کی دیوار میں ہزاروں غدّے خلق فرمائے ہیں تا کہ مخصوص لعاب پیدا ہوکر غذا پر


پڑے تا کہ غذا ہضم ہو اور مائع میں تبدیل ہوجائے_ ہمارے لئے آنتیں خلق فرمائی ہیں تا کہ مائع شدہ غذا معدہ سے آنتوں میں داخل ہو اور وہاں ہضم او رجذب ہو صفراوی پتا اور تلی کو خلق فرمایا ہے تا کہ مخصوص لعاب غذا پر پڑے تا کہ غذا مکمل طور پر ہضم ہوجائے_ جب غذا پوری طرح ہضم ہوجائے تو ضروری مواد کو آنتوں کی دیوار سے جذب کرتا ہے اور خون میں داخل ہوجاتا ہے اور تمام بدن تک پہنچتا رہتا ہے_ پیاری مریم_ ایک منظم کارخانہ جو نظام ہضم کہلاتا ہے خودبخود بغیر علت اور فائدہ ہے کے وجود میں نہیں آیا بلکہ مہربان اور دانا خدا نے ہمارے لئے ہماری ضرورت کے تحت اسے خلق کیا ہے_ غذا کھانے سے طاقت اور انرجی بنتی ہے اور پھر ہم زندہ رہ سکتے ہیں_ خداوند عالم کی مہربانی سے ہمیں توانائی حاصل ہوتی ہے جس کی بدولت ہم زندہ ہیں اور دیگر امور انجام دیتے ہیں_ ہم بھی اس کے شکر کے لئے اس طاقت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتے ہیں اس کے فرمان اور احکام کو قبول کرتے ہیں او رگناہ و نافرمانی اور برے اخلاق سے دور رہتے ہیں تا کہ خدا ہم سے خوش ہو اور دنیا و آخرت میں بہت اعلی اور بہترین نعمتیں عنایت فرمائے_

یہ شکل اس عظیم کارخانے کی ہے جو منظم اور مرتبط غذا کے ہضم کے لئے بنایا گیا ہے اور نظام ہضم کہلاتا ہے_ مہربان خدا نے ہماری ضرورت کے تحت اسے خلق کیا_

کیا سوائے خدا علیم و قادر کے کوئی اتنا بڑا کارخانہ ہمارے لئے بنا سکتا ہے؟

غور کریں اور جواب دیں

۱)___ ہوا کی نالی کے لئے دروازہ بنانے کی غرض کیا ہے؟


۲)___ چھوٹی زبان کے خلق کرنے کی غرض کیا ہے؟

۳)___ اگر یہ دروازے نہ ہوں تو ہم کیسے غذا کھاسکتے ہیں؟

۴)___ کیا یہ دروازے خودبخود بے غرض و غایت کے وجود میں آئے ہیں اور کیوں؟

۵)___ ہمارا نظام ہضم کن چیزوں سے بنا ہے؟

۶)___ ہمارے بدن میں غذا کس طرح ہضم ہوتی ہے؟

۷)___ کیا نظام ہضم بے ربط اور بے غرض ہے؟

۸)___ کیا ہم نے اس منظّم و مرتبط کارخانہ کو بنایا ہے؟

۹)___ نظام ہضم کے منظم اور مرتبط ہونے سے کیا نتیجہ لیتے ہیں؟

۱۰)___ اللہ تعالی کی اعلی اور عمدہ نعمتوں سے نوازے جائیں تو کیا کریں؟

۱۱)___ کیا آپ جانتے ہیں کہ غذا کے نگلنے کے وقت منہ کا راستہ کس طرح بند ہوجاتا ہے؟

ان سوالوں اور اس کے جوابوں کو خوبصورت خط کے ساتھ اپنی کاپی میں لکھیں


چھٹا سبق

خدا کی قدرت کے آثار اور اس کی علامتیں

جب میں صبح اسکول پہنچا تو بچّے میرے ارد گرد اکٹھے ہوگئے گویا کہ انہیں کل رات کے حادثے کا علم تھا گھنٹی بجی اور ہم کلاس میں جا بیٹھے استاد کلاس میں آئے میں نے اپنے آنسو صاف کئے اور کھڑا ہوگیا لیکن میری آنکھیں اشک آلود تھیں لڑکوں نے کل رات کے متعلق جتنا انہیں علم تھا استاد کو بتلایا جب میرے بھائی احمد کو ہسپتال لے جا رہے تھے تو اس کا ہاتھ اور منہ سیاہ ہوگیا تھا شاگردوں نے پوچھا کہ کیوں احمد کا ہاتھ اور منہ سیاہ تھا_ سانس کا گھٹنا کیا ہے؟ کیوں احمد کے بھائی کا دم گھٹتا ہے کیا وہ ٹھیک ہوجائے گا؟ اس کا کس طرح علاج کریں گے؟ استاد نے کہا بچّوں جب تم ان سوالوں کا جواب چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ خون کی حرکت اور تنفس کا درس جلدی شروع کردیا جائے کل حیاتیات کا علم ایک دوسرے کی مدد سے شروع


کریں گے تم میں سے کون ہے جو کل ای بکرے کا دل اور پھیھپڑا اسکول لائے دو طالب علموں نے وعدہ کیا کہ ہم کسی بکرے کا دل اور پھیھپڑا اسکول لائیں گے دوسرے دن بکرے کا دل اور پھیھپڑا اسکول لے آئے استاد نے چھری سے دل کو چیرا اور اس کے مختلف حصّے شاگردوں کو دکھلائے اور دل و پھیھپڑے کا کام طالب علموں کو بتلایا تمام طالب علم دل اور پھیھپڑے کے عمل سے آگاہ ہوئے اور اپنے سوالوں کے جوابات سمجھے پھر استاد نے اس درس کا خلاصہ اس طرح لکھا اور شاگردوں کے سامنے رکھا

نظام تنفس اور دوران خون

اس درس سے ہم اپنے جسم کے بعض حالات سے باخبر ہوجائیں گے اور بدن کے کارخانے کی غرض و غایت اور ارتباط کو اچھی طرح جان لیں گے اور قدرت خدا کے آثار کا مشاہدہ کرنے سے خدا کو پہنچانیں گے_

آپ کو علم ہے کہ خون بدن کی رگوں میں ہمیشہ گردش میں رہتا ہے کیا آپ خون کی گردش کے فوائد کو بھی جانتے ہیں؟ خون بدن کے تمام خلیوں کے پہلو سے گزرتا ہے اور انھیں غذا و آکسیجن دیتا ہے_ خون کے کاموں میں سے ایک اہم کام بدن کے تمام خلیوں میں آکسیجن کو پہنچانا ہے خلیوں میں آکسیجن نہ پہنچے تو ہماری موت فوراً ہوجائے_ بدن میں حرارت اور انرجی


آکسیجن کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہے آکسیجن کو پہنچانے میں سرخ خلیے حصّہ دار ہیں سرخ خلیے جو خون میں تیرتے ہیں اور بدن میں پھرتے رہتے ہیں وہ بدن کے تمام خلیوں کو آکسیجن پہنچاتے رہتے ہیں_

لیکن آپ کو علم ہے کہ خون خودبخود حرکت نہیں کرتا بلکہ ایک طاقتور پمپ اس کام کو انجام دیتا ہے طاقت ور پمپ جو برابر یہ کام کرتا ہے اور خون کو تمام بدن میں گردش دیتا ہے کیا اس طاقتور پمپ کو پہچانتے ہیں اس کا نام جانتے ہیں کہ سرخ خلیے کہ جن کے ساتھ آکسیجن ہوتا ہے دل کی دھڑکن سے بدن کی بڑی شریان میں وارد ہوتے ہیں یہ شریان بدن میں جگہ جگہ تقسیم ہوجاتی ہے اور ہر شاخ پھر چھوٹی شاخوں میں تبدیل ہوجاتی ہے ان تمام میں سے باریک تر قسم کی رگیں کیلپری کہلاتی ہیں_

خون کیلپری سے خلیوں کے پہلو میں سے گزرتا ہے سرخ خلیے جو شاداب ہیں اپنے ساتھ آکسیجن رکھتے ہیں اور خلیوں کو دیتے ہیں اور خلیوں کو سالم و زندہ رکھتے ہیں اور کاربن ڈائی اکسائڈ جو ایک ہوا کی زہریلی قسم ہے اس سے لے لیتے ہیں سرخ خلیے اس ہوا کے لینے سے آدھے سیاہ ہو جاتے ہیں اور اگر چند منٹ ایسے رہیں تو تمام مرجائیں گے جسکے نتیجے میں ہماری موت بھی واقع ہوجائے گی خلیوں کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ دوبارہ سرخ اور شاداب ہوجائیں اور اپنے کام کو پھر سے شروع کرسکیں لیکن کہاں سے آکسیجن لیں؟ اور کس طرح اپنا کام دوبارہ شروع کریں اور دل کی طرف لوٹیں ان نیم سیاہ خلیوں کا دل کی طرف لوٹنا دوسری رگوں کا محتاج ہے تا کہ نیم سیاہ خلیے ان رگوں کے ذریعہ دل کی طرف لوٹ سکیں_


خداوند عالم اس ضرورت کو جانتا تھا لہذا دوسری رگیں خلیوں کو دل کی طرف لوٹانے کے لئے ہمارے بدن میں بنائی ہیں_

تعجب ہے کہ ان رگوں میں دروازے بھی بنے ہیں جو خون کی حرکت کو صرف دل کی طرف ممکن قرار دیتے ہیں دل گندے خون اور: سفید خلیوں کو ان سیاہ رگوں کے ذریعہ اپنی طرف کھینچتا ہے سیاہ اور گنہ خون دل کے پاس پہنچ کرکیا تازہ اور شاداب خون کے ساتھ مخلوط ہوجاتا ہے؟ نہیں_ مخلوط نہیں ہوتا کیونکہ خالق دانا نے دل کے وسط میں ایک قسم کی مضبوط دیوار بنائی ہے تا کہ تازہ خون اس گندے اور سیاہ خون سے مخلوط ہوسکے اور ہر ایک اپنی مخصوص جگہ پر رہے اب جب کہ نیم سیاہ خلیے دل کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب دل میں بھی آکسیجن کی ضرورت ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو آزاد ہوا میں پہنجائیں اور آزاد ہوا سے آکسیجن حاصل کریں خالق بزرگ اور دانا نے دل سے ایک راستہ پھیھپڑوں کی طرف بنایا ہے تا کہ خلیے اس راستے سے آزاد ہوا ہیں اپنے آپ کو پہنچائیں اور آزاد ہوا سے جو پھیھپڑوں میں سے، استفادہ کریں دل اپنی ایک دھڑکن سے سیاہ خون اور سفید خلیوں کو اس راستے سے پھیھپڑے تک پہنچا دیتا ہے وہ آکسیجن لیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو خارج کردیتے ہیں_ کیا آپ کو علم ہے کہ سرخ خلیوں کی تعداد خون میں کتنی زیادہ ہے؟ کیا خلیوں کی تعداد کے مطابق پھیھپڑوں میں ہوا کی مقدار ان تمام کے لئے کا فی ہے؟ کیا یہ تمام آزاد ہوا کے نزدیک آسکتے ہیں کہ آکسیجن لے لیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کردیں_

جی ہاں اہمارے بزرگ اور دانا خالق نے جو ہماری تمام ضروریات


سے باخبر تھا لاکھول ہوائی کیسوں کے ذریعہ پھیھپڑوں میں ہمارے لئے پیش گوئی کی تھی اور خلق فرما دیا تھا یہ تھیلیاں ہر سانس لینے سے تازہ ہوا سے بھر جاتی ہیں اور وہی خلیے تازہ ہوا سے نزدیک ہوتے ہیں آکسیجن لے لیتے ہیں اور دل کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اپنا کام پھر سے شروع کردیتے ہیں بدن کے خلیے جو آکسیجن کے انتظار میں ہوتے ہیں آکسیجن حاصل کرتے ہیں اور بدن کی حرارت اور انرجی کو پورا کردیتے ہیں_ کون ذات ہے سوائے خدائے مہربان اور دانا کے جو خلیوں کی تعداد کو جانتی ہو؟ اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لاکھوں ہوائی کیسوں کو پھیھپڑوں میں خلق کیا ہے_ نظام تنفس اور نظام دوران خون آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہیں اور یہ ایک ہی غرض و غایت کے ساتھ وجود میں آئے ہیں کیا یہ دقیق اور منظم کارخانہ خودبخود بغیر کسی غرض و غایت کے پیدا ہوا ہے_ کیا بے شعور اور نادان مادہ اس قسم کا کارخانہ جو دقیق اور با مقصد ہے پیدا کرسکتا ہے؟ کون ہے سوائے ذات الہی حکیم اور قادر کے جو اس قسم کا دقیق اور عمدہ کارخانہ وجود میں لاسکے؟ ہم تنفس اور خون کی گردش کے اس عظیم منظم کارخانے کے دیکھنے اور مشاہدے سے پیدا کرنے والے خدا کی عظمت کو سمجھ سکتے ہیں اور اس کی بے شمار نعمتوں سے زیادہ واقف ہوسکتے ہیں_

اس کو بہتر پہچانتے ہیں اور اس کی بہتر عبادت اور شکر ادا کرتے ہیں:

بہت غور سے ان سوالوں کا جواب دیجئے

۱)___ خون کی گردش بدن میں کیا فائدہ رکھتی ہے؟


۲)___ سرخ خلیے بدن میں کیا فائدہ دیتے ہیں؟

۳)___ خون کس ذریعے سے بدن میں حرکت کرتا ہے؟

۴)___ جب سرخ خلیے نیم سیاہ ہوجاتے ہیں تو کس راستے سے دل کی طرف لوٹ آتے ہیں؟

۵)___ کیا گندہ اور سیاہ خون دل میں تازہ خون سے مخلوط ہوجاتا ہے؟

۶)___ خلیے کہاں سے آکسیجن لیتے ہیں؟

۷)___ کیاتمام خلیے پھیھپڑوں کی تازہ ہوا سے استفادہ کرسکتے ہیں؟ اور کس طرح؟

۸)___ اگر خلیوں کو آکسیجن نہ ملے تو کیا ہوگا_

۹)___ اگر سرخ خلیوں کا دل کی طرف لوٹ آنے کا راستہ نہ ہو تو کیا ہوگا ...؟ خلیے کس راستے سے دل کی طرف لوٹ جاتے ہیں؟

۱۰)___ آکسیجن کس طرح پھیھپڑوں میں داخل ہوتی ہے؟

۱۱)___ اگر پھیھپڑے اور سانس لینے کا نظام نہ ہوتا تو کیسے صاف ہوا کرتا؟

۱۲)___ اگر ہوا میں آکسیجن نہ ہوتی تو کیا ہوتا خلیے کہاں سے آکسیجن لیتے اور کس طرح زندہ رہتے_

۱۳)___ کیا خون کی گردش اور نظام تنفس اس ارتباط اور نظم کے ساتھ خودبخود وجود میں آیا ہے؟

۱۴)___ یہ ہم آہنگی اور دقیق ربط جو بدن کے کارخانہ میں وجود ہے


اس سے کیا سمجھتے ہیں؟

۱۵)___ اللہ تعالی کی ان تمام نعمتوں کے مقابل جو اس نے ہمیں عنایت کی ہیں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟


ساتواں سبق

عالم و قادر خدا

سبزیاں اور نباتات ہمارے لے بہت مفید اور کارآمد ہیں اپنی ضرورت سے زائد غذا بناتی ہیں اور ہمارے لئے ذخیرہ کرلیتی ہیں_ درختوں میں سے سب آم گلاب، مالٹے ضرورت سے زائد ہمارے لئے میوہ بناتے ہیں گاجر آلو اور پیاز کے پودے اضافی غذا کو اپنی جڑوں میں ذخیرہ کرتے ہیں_

جی ہاں اگر نباتات کے سبز پتے نہ ہوتے تو کس طرح غذا بناتے اور اگر سبز پتوں میں باریک سوراخ نہ ہوتے تو ہوا کہاں سے داخل ہوتی لیکن مہربان خدا نے نباتات میں سبز پتے خلق کئے اور پتوں میں چھوٹے چھوٹے خانے اور سوراخ بنائے_ تا کہ سبز پتّے غذا بناسکیں اور اگر نباتات اپنی ضرورت کے لئے غذا بناتے تو ہم کیا کھاتے؟ حیوانات کیا کھاتے


لیکن احسان کرنے والے خدا ے نباتات کو اس طرح خلق کیا ہے کہ وہ اپنے مصرف سے زیادہ غذا بناسکیں اور اگر سوراخ کی روشنی نباتات تک نہ پہنچی تو پودے کس طاقت سے غذا درست کرسکتے تھے؟ لیکن خدائے علیم اور قدیر نے سوراخ کو ایسا پیدا کیا ہے کہ اس کی روشنی ضرورت کے مطابق نباتات تک پہنچ سکے تا کہ پتے سورج کی روشنی اور توانائی کی مدد سے غذا حاصل کرسکیں پس خدا تمام چیزوں کو جانتا ہے اور اس پر قادر ہے اسے علم تھا کہ ہمیں غذا کی ضرورت ہے اورہم خود نہیں بناسکتے اسی لئے نباتات کے سبز پتّے خلق کئے اور ان میں سوراخ رکھے تا کہ ہمارے لئے غذاسازی کا کارخانہ بن سکے_

اسے علم تھا کہ ہی چھوٹا کارخانہ سورج کی روشنی اور توانائی کا محتاج ہے لہذا سورج کو اس طرح خلق کیا کہ سورج کی توانائی اور روشنی جس قدر پتّوں کے لئے ضروری ہے اس چھوٹے کارخانے تک پہنچ سکے اگر خدا قادر نہ ہوتا تو ان کو نہ بناپاتا جو ہمارے لئے ضروری تھیں_

اگر خدا بخشش کرنے والا اور مہربان نہ ہوتا تو یہ تمام نعمتیں ہمیں عطا نہ کرتا پس معلوم ہوا کہ خدا عالم ہے، خدا قادر ہے، خدا رحمان یعنی بخشنے والا ہے''

خدا رحیم یعنی مہربان ہے:

اس سبق کے متعلق آپ خود سوال بنائیں

۱)


۳)

اور مشقیں بھی آپ خود بتلائیں

۱)

۲)

۳)


آٹھواں سبق

خدا جسم نہیں رکھتا

کیا آپ جانتے ہیں جسم کیا ہے؟

کتاب، قلم، میز، پتھر، درخت، زمین، سورج، اور وہ چیزیں جو ان کی طرح ہوں اور جگہ گھیرتی ہوں انہیں جسم کہا جاتا ہے یہاں تک کہ ہوا بھی جسم ہے اور جسم کو مادہ بھی کہاجاتا ہے ہر جسم مکان کا محتاج یعنی ایک جگہ چاہتا ہے کہ جس میں مستقر ہو کیونکہ بغیر مکان کے جسم وجود میں نہیں آسکتا_ ہر جسم ایک وقت میں ایک مکان سے زیادہ میں نہیں ہوتا جب وہ ایک مکان میں ہو گا تو اسی وقت دوسرے مکان میں نہیں ہوگا ہم جب مدرسہ میں ہوتے ہیں توگھر میں نہیں ہوتے اور جب گھر میں ہوتے ہیں تو مدرسہ میں نہیں ہوتے اور جب مدرسہ میں ہوتے ہیں تو وہ کام جو گھر میں ہو رہے ہوتے ہیں


انہیں نہیں دیکھ سکتے اور جب گھر میں ہوتے ہیں تو وہ کام جو مدرسہ میں ہو رہے ہوتے ہیں انہیں نہیں دیکھ سکتے جسم کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے اور ہاتھ سے چھواجا سکتا ہے وہ چیزیں جو آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسرے کسی عضو سے مس کرتے ہیں تمام کے تمام جسم اور جسمانی ہیں یہاں تک ہوا اور روشنی بھی؟

اب ان دو سوالوں کے متعلق فکر کریں_

کیا خدا جسم رکھتا ہے؟

کیا خدا کو آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں؟

چونکہ خدا ہر چیز سے بے نیاز ہے اور اس کی قدرت او ردانائی کی کوئی انتہا نہیں اور کسی چیز اور کسی شخص کا محتاج نہیں _ پس خدا کا جسم نہیں ہے کیونکہ اگر جسم ہوتا تو مکان کا محتاج ہوتا اور چونکہ خدا کسی کا محتاج نہیں ہے کیونکہ اس نے خود مکان خلق کیا ہے لہذا جسم نہیں رکھتا کیونکہ خدا اگر جسم رکھتا ہوتا تو یہاں ہوتا اور وہاں نہ ہوتا اور پھر جو چیزیں وہاں ہوتیں انہیں خلق نہ کرسکتا اور نہ دیکھتا_ خدا جسم نہیں رکھتا اور نہ ہی ایک مخصوص جگہ پر مستقر ہے تا کہ دوسری جگہیں اس سے خالی ہوں ہر ایک شخص اور ہر ایک چیز کو اس نے پیدا کیا ہے خدا یہاں وہاں یہ مکان وہ مکان نہیں رکھتا اس کے سامنے تمام مکان برابر ہیں تمام کے ساتھ ہے او رتمام جگہوں سے مطلع ہے خدا چونکہ جسم نہیں رکھتا لہذا مکان نہیں رکھتا نہ زمین میں نہ آسمان میں خدا چونکہ جسم نہیں ہے آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا اور ہاتھوں سے نہیں چھواجا سکتا خدا یہاں کے نور سے بھی نہیں چوں کہ یہ نور جسمانی ہیں اور مکان کے محتاج ہیں لیکن خدا محتاج نہیں اس نے مکان کو پیدا کیا ہے اس نے آنکھ اور ہاتھ کو خلق کیا ہے اس نے نور کو پیدا کیا ہے


اللہ کی بے پایاں قدرت ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے وہ تمام چیزوں اور تمام لوگوں سے باخبر ہے _

''فکر کیجئے اور جواب دیجئے''

۱)___ جو تمہارے اطراف میں اجسام ہیں انہیں شمار کرو؟

۲)___ میز جسم ہے یہ کس چیز کی محتاج ہے کیا یہ ممکن ہے کہ یہ کسی مکان میں نہ ہو؟

۳)___ کرسی جسم ہے کیا ہوسکتا ہے کہ ایک وقت میں دو مکان میں ہو؟

۴)__ _ کوئی ایسا جسم جانتے ہو کہ مکان کا محتاج نہ ہو؟ اور کیوں؟

۵)___ کیا خدا جسم رکھتا ہے؟ کیا خدا مکان کا محتاج ہے؟

۶)___ کیا خدا کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے؟

یہ سوال اور ان کے جواب خوبصورت خط سے اپنی کاپی میں لکھیں

مشقیں

۱)___ اس سبق کو ایک دفعہ بلند آواز سے پڑھیں

۲)___ سبق کو اپنے دوستوں سے بیان کریں

۳)___ اس درس کا خلاصہ لکھیں اور دوستوں کو پڑھ کر سنائیں

۴)___ کئی اور سوال بھی بنائیں اور ان کے جواب دوستوں سے پوچھیں


نواں سبق

کیا خدا غیر مرئی ہے

محمود نقاشی کر رہا تھا اس نے کتنا خوبصورت کبوتر بنایا کیا محمود عقل و فہم رکھتا ہے؟ کیا آپ اس کی عقل و فہم کو دیکھ سکتے ہیں_ کیا کہہ سکتے ہیں کہ جب محمود کی عقل اور فہم کو نہیں دیکھ پائے لہذا وہ عقل اور فہم ہی نہیں رکھتا؟

لازماً جواب دیں گے کہ عقل اور فہم آنکھ سے نہیں دیکھی جاسکتی لیکن اس کی علامتیں اور نشانیاں آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ان ہی علامات اور آثار کے دیکھنے سے درک کرتے ہیں کہ وہ عقل اور فہم رکھتا ہے_ جی ہاں یہ آپ کا جواب بالکل درست ہے عقل اور فہم کو آنکھ سے نہیں دیکھا جاتا کیوں کہ عقل اور فہم جسم نہیں ہے کہ آنکھ سے دیکھا جائے آنکھ اور دوسرے حواس صرف جسم کے آثار اور نشانیوں کو درک کرسکتے ہیں_ بہت سی چیزیں


ایسی موجود ہیں کہ جنھیں آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے لیکن ان کو آثار سے دیکھ لیتے ہیں اور ان کے وجود کا علم حاصل کرلیتے ہیں خدا بھی چونکہ جسم نہیں ہے لہذا آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا اور دوسرے حواس سے بھی درک نہیں کیا جاسکتا لیکن اس جہان پر عظمت کی خلقت جو خود اس کی قدرت کے آثار اور علائم میں سے ہے اس سے اس کے وجود کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس عظیم جہان کا خالق او رانتظام کرنے والا موجود ہے_

فکر کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ اپنے دوست کودیکھیں کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے؟

۲)___ کیا اس کی عقل اور فہم کو آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں؟

۳)___ کس طرح جانتے ہیں کہ وہ عقل و فہم رکھتا ہے؟

۴)___کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ اسکی عقل اور فہم کو نہیں دیکھ سکتے لہذا وہ عقل و فہم نہیں رکھتا؟

۵)___ ہمارے ظاہری حواس کس چیز کو درک کرسکتے ہیں؟

۶)___ کیا خدا کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے

۷)___ کیا خدا کو دوسرے کسی حواس سے محسوس کیا جاسکتا ہے اور کیا بتلا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟

۸)___ کیا اب بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ چوں کہ خدا نہیں دیکھا جاسکتا لہذا موجود نہیں ہے؟


دسواں سبق

موحّدین کے پیشوا حضرت ابراہیم (ع)

حضرت ابراہیم (ع) علیہ السلام کے زمانے میں لوگ نادان اور جاہل تھے پہلے پیغمبروں کے دستور کو بھلاچکے تھے خداپرستی کے طور طریقے نہیں جانتے خدا کی پرستش کی جگہ بت پرستی کرتے تھے یعنی پتھر یا لکڑی سونا یا چاندی کے مجسمے انسانی یا حیوانی شکل میں بناتے تھے اور ان بے زبان اور عاجز بتوں کے سامنے سجدہ کرتے تھے اور ان کے سامنے زمین پر گرپڑتے اور ان کے لئے نذر و نیاز مانتے اور قربانی دیا کرتے تھے بعض لوگ سورج کی پرستش کرتے تھے اور بعض لوگ چاند یا ستاروں کی پرستش کرتے تھے_ جاہلوں کا ایک گروہ اس زمانہ میںطاقتور اور ظالموں کی پرستش کرتا تھا اور ان کی اطاعت واجب و لازم سمجھتا تھا اور بغیر سوچے سمجھے ظالموں کے دستور پر عمل کرتا تھا اپنے آپ کو ذلیل کر کے ان کے سامنے زمین پر گرتے تھے اور ان


کے لئے بندگی کا اظہار کرتے تھے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم (ع) کو چنا اور انھیں زندگی کا صحیح راستہ بتلایا اور حکم دیا کہ لوگوں کی تبلیغ کریں اور انھیں خداپرستی کے طور طریقے بتلائیں_

حضرت ابراہیم (ع) نے لوگوں سے فرمایا کہ بتوں میں کونسی قدرت ہے کہ تم ان سے محبت کرتے ہو اور ان کی پرستش کرتے ہو یہ مجسمے کیا کرسکتے ہیں یہ نہ تو دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں یہ نہ تو تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی تمہیں ضرر پہنچانے پر قدرت رکھتے ہیں_ تم کیوں اپنے اپ کو ان کے سامنے ذلیل کرتے ہو؟ تم کیوں ان کے سامنے زمین پر گرتے ہو؟ کیوں ان کی عبادت و اطاعت کرتے ہو؟ جو لوگ حضرت ابراہیم (ع) کی گفتگو سنتے اور اس کے متعلق فکر نہ کرتے تھے وہ آپ کے جواب میں کہتے کہ ہمارے آباؤ اجداد بت پرست تھے ہمارے دوست اور رفقاء بھی بت پرست تھے اور ہم اپنے گزرے ہوئے آباؤ اجداد کی پیروی کریں گے اور ان کے دین پر باقی رہیں گے_

حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے تھے کہ تمہارے آباؤ اجداد نے اشتباہ کیا کہ وہ بت پرست بنے کیا تم میں عقل و شعور نہیں؟ کیا تم خود کچھ نہیں سمجھتے؟ کیا دیکھ نہیں رہے ہو کہ ان بتوں سے کچھ بھی تو نہیں ہوسکتا_ کس لئے تم اپنے آپ کو طاقتوروں اور ظالموں کے سامنے ذلیل کرتے ہو وہ بھی تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں_

لوگو میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور اس کی طرف سے آ زادی اور سعادتمند ی کا پیغام لایا ہوں_ میری بات سنو تا کہ دنیا اور آخرت میں سعادت


مند بن جاؤ: لوگو تمہارا پروردگار اور مالک وہ ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا ہے، زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے، کائنات اور اس میں رہنے والوں کے لئے انتظام کرتا ہے تمام قدرت اس کی طرف سے ہے دنیا کا نظام چلانا کسی کے سپرد نہیں کیا اور اس کے چلانے میں کس سے مدد نہیں لی وہ ایک ہے اور قادر مطلق ہے_ میں ان بتوں سے جن کی تم پرستش کرتے ہو بیزار ہوں اور ان کو دوست نہیں رکھتا اور ان کی اطاعت نہیں کرتا

خدا کو دوست رکھتا ہوں اور صرف اس کی پرستش کرتا ہوں کیوں کہ خدا نے مجھے پیدا کیا ہے_

بیماری سے شفا اور زندگی اور موت دنیا اور آخرت سب اس کے ہاتھ میں ہے_

میں امیدوار ہوں کہ قیامت کے دن بھی خداوند عالم مجھ پر مہربان ہوگا اور مجھ پر رحم کرے گا_

لوگو ایک خدا کی پرستش کرو کیوں کہ تمام قدرت خدا سے ہے، خدا ہے اور ہمیشہ رہے گا تمہاری مدد کرنے والا صرف خدا ہے تمہارا راہنما خدا کا پیغام ہے اسی کی طرف توجہ کرو اور صرف اسی کی پرستش کرو پرستش صرف ذات خدا کے ساتھ مخصوص ہے اس کے سواء اور کوئی لائق اطاعت اور پرستش نہیں ہے_


غور کریں اور جواب دیں

۱)___ حضرت ابراہیم (ع) کے زمانے میں جاہل لوگ کن چیزوں اور کن لوگوں کی پرستش کرتے تھے؟ اور کن لوگوں کی اطاعت کو ضروری سمجھتے تھے؟

۲)___ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم (ع) کو کیا فرمان دیا؟

۳)___ حضرت ابراہیم (ع) نے لوگوں سے کیا فرمایا اور کس طرح وضاحت کی کہ بت قابل پرستش نہیں ہیں؟

۴)___ کیا لوگ حضرت ابراہیم (ع) کی گفتگو پرغور کرتے تھے؟ اور آپ سے کیا کہتے تھے؟

۵)___ لوگوں نے حضرت ابراہیم (ع) کو کیا جواب دیا تھا وہ ٹھیک تھا یا غلط اور کیوں؟

۶)___ کیا یہ جائز ہے کہ ایک انسان دوسرے کے سامنے بندگی کا اظہار کرے؟

۷)___ آپ نے بت پرست دیکھا ہے؟

۸)___ حضرت ابراہیم (ع) کی توحید پر کیا دلیل تھی کیوں صرف خدا کو دوست رکھتے تھے اور صرف اسی کی پرستش کرتے تھے؟

۹)___ سوائے خدا کے اور کوئی کیوں قابل پرستش اور اطاعت نہیں؟

۱۰)___ کیا جو کسی ظالم کی اطاعت کرتا ہے وہ موحّد ہے؟

۱۱)___ کس کو موحّد کہتے ہیں موحّد آدمی کی امید کس سے ہوتی ہے؟


۱۲)___ اس سبق سے ایک اور سوال بنائیں اوراپنے دوست سے کہیں کہ وہ اس کا جواب دے_


حصّہ دوم معاد


پہلا سبق

کیا اچھائی اور برائی برابر ہیں

آپ اچھے اور برے کے معنی سمجھتے ہیں اچھے اور برے انسان میں فرق کرسکتے ہیں جو انسان عدل چاہنے والا سچا، نیک کردار، صحیح با ادب، اور امین ہوا سے اچھا انسان شمار کرتے ہیں، لیکن بد اخلاق، جھوٹا، بدکردار، ظالم بے ادب خائن انسان کو برا انسان سمجھتے ہیں کیا آپ کے نزدیک برے اور اچھے انسان مساوی اور برابر ہیں_ کیا آپ اور تمام لوگ اچھے انسانوں کو دوست رکھتے ہیں اور برے آدمیوں سے بیزار ہیں خدا بھی اچھے کردار والے آدمیوں کو دوست رکھتا ہے اور برے انسانوں سے وہ بیزار ہے اسی لئے اللہ تعالی نے پیغمبر(ص) بھیجے ہیں تا کہ اچھے کاموں کی دعوت دیں اور برے کاموں سے روکیں

اب ان سوالوں کے جواب دیں_


کیا اچھے لوگوں کے لئے کوئی جزا ہوگی اور برے لوگ اپنے اعمال بد کی سزا پائیں گے؟

کیا اچھے اور برے لوگ اس جہاں میں اپنے اعمال کی پوری اور کامل جزا اور سزا پالیتے ہیں؟

پس اچھے اور برے کہاں ایک دوسرے سے جدا ہوں گے اور کہاں اپنے اعمال کا پورا اور کامل نتیجہ دیکھ سکیں گے؟

اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہے جسے آخرت کہا جاتا ہے کہ جہاں اچھے اور برے لوگ ایک دوسرے سے جدا ہوں گے اور اپنے اعمال کا ثمرہ پائیں گے اگر آخرت نہ ہو تو اچھے لوگ کس امید میں اچھا کام کریں اور کس لئے گناہ اور برائی سے دور ہیں_ اگر آخرت نہ ہو تو پیغمبروں کی دعوت بے مقصد اور بیہودہ ہوگی اچھائی اور برائی کے کوئی معنی نہ ہوں گے اگر آخرت ہمارے سامنے نہ ہو تو ہماری زندگی بے نتیجہ اور ہماری خلقت بھی بے معنی ہوگی_ کیا علیم و قادر خدا نے ا س لئے ہمیں پیدا کیا ہے کہ چند دن اس دنیا میں زندہ رہیں؟ یعنی کھائیں پئیں، پہنیں، سوئیں اور پھر مرجائیں اور اس کے بعد کچھ بھی نہیں یہ تو ایک بے نتیجہ اور بے معنی کام ہے اور اللہ تعالی بے معنی اور بے فائدہ کام انجام نہیں دیتا_ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ''ہم نے تمہیں عبث خلق نہیں کیا ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تا کہ اس دنیا میں زندگی گزار و اچھے کام انجام دو اور لائق و کامل بن جاؤ اس کے بعد ہم تم کو اس دنیا سے ایک دوسری دنیا کی طرف لے جائیں گے تا کہ اس دنیا میں اپنے کاموں کا کامل نتیجہ پاؤ''

آخرت میں اچھے بروں سے جدا ہوجائیں گے جو لوگ نیک کام


انجام دیتے رہے اور دین دار تھے وہ بہشت میں جائیں گے اور خوشی کی زندگی بسر کریں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ بھی اپنی اچھی زندگی اور اللہ کی بے پایاں نعمتوں سے خوشنود اور راضی ہیں بے دین اور بد کردار لوگ دوزخ میں جائیں گے اور اپنے برے کاموں کی سزا پائیں گے اللہ ان پر ناراض ہے اور وہ دردناک عذاب کی زندگی بسر کریں گے اور ان کے لئے بہت سخت زندگی ہوگی

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ کون لوگ اچھے ہیں او رکون لوگ برے، ان صفات کو شمار کیجئے

۲)___ کیا برے اور اچھے لوگ آپ کے نزدیک مساوی ہیں؟

۳)___ کیا برے اور اچھے لوگ خدا کی نزدیک برابر ہیں؟

۴)___ پیغمبر(ص) لوگوں کو کن کاموں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور کن کاموں سے روکتے ہیں؟

۵)___ کیا لوگ اس دنیا میں اپنے اعمال کی کامل جزاء پاتے ہیں؟

۶)___ کہاں اپنے اعمال کا کامل نتیجہ دیکھیں گے؟

۷)___ اگر آخرت نہ ہو تو اچھائی اور برائی کا کوئی معقول اور درست معنی ہوگا

۸)___ اگر آخرت نہ ہو تو ہماری زندگی کا کیا فائدہ ہوگا؟

۹)___ جب ہم سمجھ گئے کہ اس دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا ہے تو ہم کس طرح زندگی گزاریں؟


دوسرا سبق

پھول کی تلاش

ہمارے خاندان کے کچھ لوگ مری کے اطراف میں ایک دیہات میں رہتے ہیں وہ دیہات بہت خوبصورت ہے وہاں کی آب و ہوا معتدل ہے اس کے نزدیک ایک پہاڑ ہے کہ جس کا دامن سرخ اور زرد پھولوں سے بھرا ہوا ہے_

ایک دن میرے رشتہ دار بچّے میرے چچا کے گھر بیٹھے تھے عید الاضحی کا دن تھا_ ہم چاہتے تھے کہ کمرے کو پھولوں سے سجائیں میرے والد نے مجھ سے کہا کہ چلیں پھول ڈھونڈ لائیں اور اس کام میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں_

میں نے پوچھا کس طرح؟

والد نے کہا کہ تم تمام کے تمام پہاڑ کے دامن میں جاؤ وہاں بہت


زیادہ پھول موجود ہیں پھول توڑو اور لوٹ آؤ لیکن خیال کرنا کہ پھولوں کی جڑوں کو ضرر نہ پہنچے مقابلہ کا وقت ایک گھنٹہ ہے تمام اس مقابلہ میں شریک ہو جاؤ پھول توڑو اور لوٹ آو جو زیادہ پھول لائے گا وہ زیادہ انعام پائے گا تمام بچّے مقابلہ میں شریک ہونے کے لئے آمادہ ہوگئے_

صبح کو ٹھیک سات بجے مقابلہ شروع ہوا کچھ بچے تو اس دیہات کے اطراف میں ہی رہ گئے اور کہنے لگے کہ راستہ دور ہے اور ہم تھک جائیں گے تم بھی یہیں رک جاؤ اور ہم ہمیں مل کر کھیلیں لیکن ہم نے ان کی باتوں پر کان نہ دھرا اور چلے گئے راستے میں دوڑتے اور ایک دوسرے سے آگے نکلتے تھے تا کہ پھولوں تک جلدی پہنچ جائیں راستہ دشوار آگیا بعض بچّے ٹھہر گئے آگے نہ بڑھے او رکہنے لگے کہ ہم یہیں سے پھول توڑیں گے_

میں میرا بھائی اور چچا کا بیٹا سب سے پہلے پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے کتنی بہترین اور خوبصورت جگہ تھی زرد اور سرخ پھولوں سے بھری پڑی تھی_ ہم تینوں نے فیصلہ کیا کہ ایک دوسرے کی مدد کریں اور اکھٹے پھول توڑیں میں اور چچا کا لڑکا پھول توڑنے تھے اور اپنے بھائی کے دامن میں ڈال دیتے تھے اس کا دامن پھولوں سے بھر گیا گھڑی دیکھی تو مقابلہ کا وقت ختم ہونے کے قریب تھا گھر کی طرف لوٹے دوسرے بچّے بھی لوٹ آئے تھے اور جانتے تھے کہ انہیں بہترین انعام ملے گا اور جو تھوڑے پھول توڑ لائے تھے خوش نہ تھے کیوں کہ جانتے تھے کہ مقابلہ میں بہتر مقام نہیں لے سکیں گے اور بہترین انعام حاصل نہیں کرسکیں گے اور جو خالی ہاتھ لوٹ آئے تھے شرمسار اور سرجھکائے ہوئے تھے والد کے پاس پہنچے جس نے جتنے پھول توڑے


تھے انہیں دے دیئے اور انعام لیا لیکن جنہوں نے سستی کی تھی اور والد کے فرمان پر عمل نہیں کیا تھا انہوں نے انعام حاصل نہیں کیا بلکہ شرمسار تھے ان سے والد صاحب بھی خوش نہیں ہوئے اور ان کی کوئی پرواہ نہ کی وہ سرجھکائے اپنے آپ کو کہہ رہے تھے کاش ہم بھی کوشش کرتے کاش دوبارہ مقابلہ شروع ہو لیکن مقابلہ ختم ہوچکا تھا

جزاء کا دن

مقابلہ کے ختم ہوجانے کے بعد ہمارے والد نے ہم سے گفتگو کرنا شروع کی او رکہا '' میرے عزیز اور پیارے بچّو مقابلہ کے انعقاد کے لئے میرا نظریہ کچھ اور تھا میں اس سے تمہیں سمجھنا چاہتا تھا کہ یہ جہان مقابلہ کا جہان ہے_ ہم تمام اس جہان میں مقابلہ کرنے آئے ہیں اور قیامت کے دن اس کا انعام اور جازء حاصل کریں گے ہمارا مقابلہ نیک کاموں اور اچھے اعمال میں ہے_ اچھے اور برے کام کی جزاء اور سزا ہے اچھے اور برے لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں _ ہماری خلقت اور کام و کوشش کرنا بے معنی اور بے فائدہ نہیں لوگوں کا ایک گروہ اللہ تعالی کے فرمان کا مطیع اور فرمانبردار ہے نیک کاموں کا بجالانے میں کوشش کرتا ہے وہ ہمیشہ اللہ کی یاد میں ہے اچھے اور صالح لوگوں سے دوستی کرتا ہے ان کی راہنمائی میں بہت زیادہ اچھے


کام انجام دیتا ہے نیک کاموں میں سبقت لے جاتا ہے اپنے دوستوں اور ہمسایوں کی مدد کرتا ہے مظلوموں کی حمایت کرتا ہے

یہ لوگ آخرت میں بہترین انعام اور جزاء پائیں گے خدا ان سے خوش ہوگا اور وہ بھی خدا سے انعام لے کر خوش ہوں گے سب سے پہلے بہشت میں جائیں گے اور بہشت کے بہترین باغ میں اپنے دوستوں کے ساتھ خوش و خرّم زندگی بسر کرین گے ہمیشہ اللہ تعالی کی تازہ نعمتوں اور اس کی پاک محبت سے مستفید ہوں گے، اور لذت اٹھائیں گے_ ایک اور گروہ اس جہان میں اچھے کام انجام دیتا ہے وہ اچھے کاموں میں مدد بھی کرتا ہے اور اللہ کو یاد بھی کرتا ہے لیکن پہلے گروہ کی طرح کوشش نہیں کرتا اور سبقت لے جانے کے درپے نہیں ہوتا یہ بھی قیامت کے دن انعام او رجزاء پائیں گے اور بہشت میں جائیں گے لیکن ان کا انعام او رجزاء پہلے گروہ کی طرح نہیں ہوگا_ تیسرا گروہ ظالم اور بے دنیوں کا ہے وہ اللہ اور اس کے پیغمبر(ص) کے فرمان کو قبول نہیں کرتا اور اس پر عمل نہیں کرتا_ وہ خدا کو بھول گیا ہے، اچھے کام انجام نہیں دیتا، گناہ گار اور بداخلاق، اور بدکردار ہے لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور یہ گروہ خالی ہاتھ آخرت میں سامنے آئے گا اچھے کام اپنے ساتھ نہیں لائے گا اپنے برے افعال اور ناپسندیدہ اعمال سے شرمندہ ہوگا_

جب اچھے لوگ انعام پائیں گے تو یہ افسوس کرے گا اور پشیمان ہوگا اور کہے گا_ کاش دنیا میں پھر بھیجا جائے تا کہ وہ نیک کام بجالائے لیکن افسوس کہ دوبارہ لوٹ جانا ممکن نہیں ہوگا اس گروہ کے لوگ جہنم میں جائیں گے اور اپنے برے کاموں کی سزا پائیں گے_


غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ کیا ہماری خلقت و کوشش بغیر کسی غرض اور غایت کے ہے اور کیا ہم ان کاموں اور کوششوں سے کوئی نتیجہ بھی لیں گے؟

۲)___ یہ جہان مقابلہ کی جگہ ہے، سے کیا مراد ہے؟

۳)___ متوجہ اور آگاہ انسان اس دنیا میں کن کاموں کی تلاش میں اور کن کاموں میں مقابلہ کر رہا ہے؟

۴)___ کون لوگ آخرت میں بہترین انعام پائیں گے؟

۵)___ ان لوگوں نے دنیا میں کیا کیا ہے؟

۶)___ ان کے اعمال اور کردار کیسے تھے، ان کے دوست کیسے تھے کن کاموں میں مقابلہ کرتے تھے؟

۷)___ آپ کی رفتار اور آپ کا کردار کیسے ہے، آپ کے دوستوں کا کردار کیسا ہے، کن کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اگر آپ کا کوئی دوست آپکو کسی ناپسندیدہ کام کی دعوت دے تو پھر بھی اس سے دوستی رکھتے ہیں؟

۸)___ کون لوگ قیامت کے دن شرمندہ ہوں گے کیوں افسوس کریں گے یہ لوگ اس دنیا میں کیسا کردار تھے ہیں؟

۹)___ دوسرے گروہ کا انعام اور جزاء کا پہلے گروہ کے انعام اور جزائ


سے کیا فرق ہے اور کیوں؟

ان سوالوں کے جواب خوش خط لکھیں


تیسرا سبق

جہان آخرت عالم برزخ اور قیامت

مرنے کے بعد فنا نہیں ہوتے بلکہ اس جہان سے دوسری دنیا کی طرف جاتے ہیں کہ جس کا نام جہان آخرت ہے، آخرت سے پہلے عالم برزخ ہے اور اس کے بعد قیامت ہے عالم برزخ ایک دنیا ہے جو دنیا و آخرت کے درمیان میں واقع ہے_خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ان کے سامنے بزرخ ہے قیامت تک'' اور ایک جگہ فرماتا ہے ''گمان نہ کرو کہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں قتل ہوجاتے ہیں وہ مرگئے ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے روزی پاتے ہیں'' خداوند عالم نے ہمیں پیغمبر(ص) اسلام کے ذریعہ خبر دی ہے کہ جب انسان مرجاتا ہے اور دنیا کو ترک کرتا ہے_ اور برزخ


میں جاتا ہے تو عالم برزخ میں اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ کتنے خدا کا عقیدہ رکھتے ہو_ کس کے فرمان کے مطیع تھے خدا کے یا غیر خدا کے، تیرا پیغمبر کون ہے، تیرا دن کیا ہے، تیرا رہبر و امام کون ہے، جس نے دنیا میں خداپرستی او ردینداری اور با ایمان زندگی گزاری ہوگی وہ آسانی سے جواب دے گا اور اس کا ایمان ظاہر ہوجائے گا اس مختصر سوال و جواب کے بعد برزخ میں آرام سے اور خوشی سے قیامت تک زندگی گزاریں گے اور عمدہ نعمتیں جو بہشتی نعمتوں کا نمونہ ہوں گی اسے دی جائیگی لیکن وہ لوگ جو خدا اور اس کے پیغمبر(ص) کو قبول نہ کرتے تھے اور اس کے فرمان کے مطیع نہ تھے بے دین اور ظالم تھے برزخ میں بھی خدا اور اس کے پیغمبر(ص) کا اقرار نہیں کریں گے ان کا کفر اور ان کے بے دینی ظاہر ہوگی اس قسم کے لوگ برزخ میں سختی اور عذاب میں مبتلا ہوں گے برزخ کا عذاب ان کے لئے جہنّم کے عذاب کا نمونہ ہوگا_ برزخ میں انسان کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی اور اس کا ایمان اور کفر واضح ہوجائے گا جو شخص دنیا میں خدا و قیامت کے دن پیغمبروں(ص) پر واقعاً ایمان رکھتا تھا اور نیکوکار تھا برزخ میں اس کا ایمان ظاہر ہوجائے گا_ وہ صحیح اور صاف صاف جواب دے گا لیکن جو شخص واقعی ایمان نہیں رکھتا تھا اور ظالم و بدکار تھا برزخ میں اس کا کفر ظاہر ہوجائے گا اور وہ صحیح جواب نہیں دے سکے گا_

گناہ گار انسان جہنم کے عذاب کا نمونہ برزخ میں دیکھے گا اور اس کے اعمال کی سزا یہیں سے شروع ہوجائے گی پیغمبر اسلام حضرت محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ جو لوگ گھر مین بداخلاقی کرتے ہیں برزخ میں عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ


جو لوگ خچل خوری کرتے ہیں اور جو لوگ شراب سے پرہیز نہیں کرتے برزخ میں عذاب میں مبتلا ہوں گے_

برزخ میں سوال و جواب

برزخ میں سوال و جواب حقیقی ہوگا جو لوگ برزخ میں جائیں گے ان سے حقیقتاً سوال ہوگا وہ یقینا ان سوال کا جواب دیں گے لیکن برزخ کا سوال و جواب دنیا کے سوال و جواب کی طرح نہیں_ جو لوگ برزخ میں ہیں سوال کو سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں لیکن اس کان اور زبان سے نہیں جس کے ذریعہ دنیا میں سنتے اور جواب دیتے تھے بلکہ برزخی زبان اور کان سے، ضروری نہیں کو بولنا اور سنتا ہمیشہ انہی لبوں، زبان اور انہی کانوں سے ہو_ مثلاً آپ خواب میں اپنے دوست سے کلام کرتے ہیں اس کی باتیں سنتے ہیں اور اس سے گفتگو کرتے ہیں کیا اسی کان اور زبان سے؟ یقینا نہیں_ کبھی خواب میں کسی ایسی جگہ جاتے ہیں کہ جہاں کبھی نہ گئے تھے لیکن بیدار ہونے کے بعد وہاں جائیں تو سمجھ جائیں گے کہ خواب میں اس جگہ کو دیکھا تھا خواب میں کس جسم کے ساتھ ادھر ادھر جاتے ہیں خواب میں کس آنکھ سے دیکھتے ہیں اور کس کان سے سنتے ہیں کیا اسی کان اور آنکھ سے؟ کیا اسی جسم سے، یقینا نہیں کیوں کہ یہ جسم بستر پر پڑا آرام


کر رہا ہے اور آنکھیں بند کی ہوئی ہیں_

اس قسم کے خواب ممکن ہے کہ آپ نے دیکھے ہوں یا آپ کے کسی دوست نے دیکھے ہوں، برزخ کی دنیا واقعی اور حقیقی دنیا ہے اور اس میں سوال و جواب بھی حقیقی ہیں_ ہم نے خواب کو بطور مثال ذکر کیا ہے_

غور کیجئے او رجواب دیجئے

۱)___ آیا ہماری محنت اور کام بے فائدہ ہیں ہم اپنی کوشش کا نتیجہ کہاں دیکھیں گے؟

۲)___ آخرت سے پہلے کس دنیا میں جائیں گے؟

۳)___ خدا نے برزخ کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۴)___ جو شخص دنیا میں خدا اور پیغمبروں پر واقعی ایمان رکھتا ہے برزخ میں کیسی زندگی گذارے گا؟ اس دنیا کے سوالوں کا کس طرح جواب دے گا؟

۵)___ برزخ میں انسان سے کیا پوچھا جائے گا؟

۶)___ برزخ میں کن لوگوں کا ایمان ظاہر ہوگا؟

۷)___ کفر ا ور برائی کسکی ظاہر ہوگی؟

۸)___ آیا آخرت میں جھوٹ بولا جاسکتا ہے؟ اور کیوں؟

۹)___ کون سے لوگ برزخ میں عذاب میں مبتلا ہوں گے؟

۱۰)___ آیا برزخ کا سوال اور جواب اسی دنیاوی زبان اور کان سے ہوگا؟


چوتھا سبق

مردے کیسے زندہ ہونگے

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے پیغمبر(ص) تھے وہ آخرت اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے تھے انہیں علم تھا کہ آخرت میں مردے زندہ ہوں گے اور حساب و کتاب کے لئے حاضر ہوں گے لیکن اس غرض کے لئے کہ ان کا یقین کامل ہوجائے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ مردوں کا زندہ کرنا انہیں دکھلائے انہوں نے خدا سے کہا معبود تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے اللہ نے ان سے کہا کیا تم مردوں کو زندہ ہونے پر ایما نہیں رکھتے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ خدا یا ایمان رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل اطمینان حاصل کرے، اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی درخواست قبول کرلی اور حکم دیا کہ چار پرندے انتخاب کرو اور انکو ذبح کرو اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردو اور انہیں اچھی طرح کوٹ دو پھر انکو


قیمہ شدہ گوشت اور پروں اور ہڈیوں کو کئی حصّوں میں تقسیم کردو اور ہر ایک حصّہ کو پہاڑ پر رکھ دو اسکے بعد پہاڑ کے وسط میں کھڑے ہوجاؤ اور ہر ایک پرندے کو اس کے نام کے ساتھ پکارو و ہ اللہ کے حکم سے تیرے حکم پر زندہ ہوں گے اور تیری طرف ڈورے آئیں گے اور تم جان لوگے کہ اللہ تعالی عالم و قادر ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کے اس حکم پر عمل کیا چار پرندے لئے ایک کبوتر دوسرا کوّا تیسرا مرغ اور چوتھا مور تھا، ان کو ذبح کیا اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں کوٹ کو قیمہ بنادیا اور آپس میں ملادیا پھر ان کاگوشت تقسیم کر کے ہر ایک حصّہ کو پہاڑ پر رکھا اور اس پہاڑ کے وسط میں کھڑے ہوکر پہاڑ کی طرف دیکھا اور بلند آواز سے مور کو بلایا اور کہا اے مور ہماری طرف آؤ: مور کے ٹکڑے پہاڑ سے آنحضرت کی طرف آئے اور آپس میں ملتے گئے اور مور کی گردن، سر، پاؤں اور اس کے پرو ہیںبن گئے اور مور زندہ ہوگیا، اپنے پروں کو ہلایا اور حضرت ابراہیم کے سامنے چلنے لگا اسی طرح کبوتر، کوّا، اور مرغ بھی زندہ ہوگئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مردہ پرندوں کا اپنے اپنے جسم کے ساتھ زندہ ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھا_

آپ(ع) کا ایمان اور یقین کامل تر ہوگیا اور اللہ تعالی کی قدرت کا مشاہدہ کیا اور آپ کا دل مطمئن ہوگیا اور آپ نے سمجھ لیا کہ قیامت کے دن مردے کس طرح زندہ ہوں گے_


غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ حضرت ابراہیم (ع) نے اللہ تعالی سے کونسی درخواست کی تھی

۲)___ اس درخواست کی غرض کیاتھی؟

۳)___ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم (ع) کی درخواست کا کیا جواب دیا؟ اور انہیں کیا حکم دیا؟

۴)___ حضرت ابراہیم (ع) نے اللہ تعالی کے فرمان پر کس طرح عمل کیا؟

۵)___ کس طرح پرندوں کو زندہ کیا؟

۶)___ کس ذات نے پرندوں کے زندہ کرنے کی قدرت حضرت ابراہیم (ع) کو دی تھی؟

۷)___ حضرت ابراہیم (ع) نے اس تجربہ سے کیا نتیجہ لیا؟


پانچواں سبق

کس طرح

آپ کس طرح کام کو یاد کرتے ہیں؟ اور کس طرح کام کرنے کے عادی بنتے ہیں؟ ایک کام کا بار بار کرنا آپ کی جان اور روح پر کیا اثر کرتا ہے، جب ایک کام کو بار بار انجام دیں تو وہ آپ کی روح پر کیا اثر کرتا ہے آہستہ آہستہ آپ اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور پھر اس کام کو ٹھیک بجالاسکتے ہیں مثلا جب کچھ لکھتے ہیں تو یہ لکھنا آپ پر اثرانداز ہوتا ہے اگر لکھنے میں ذرا محنت کریں صاف اور اچھی طرح لکھیں تو یہ محنت کرنا آپ کی روح پر اثرانداز ہوگا کہ جس کے نتیجہ میں آپ کا خط خوشنما اور خوبصورت ہوجائے گا لیکن اگر لکھنے میں محنت نہ کریں تو یہ بے اعتنائی بر اثر چھوڑے گی جس کے نتیجے میں آپ کاخط بدنما ہو جائے گا ہم جتنے کام کرتے ہیں وہ بھی اسی طرح ہماری روح پر اثرانداز


ہوتے ہیں اچھے کام اچھے اثر اور برے کام برا اثر چھوڑتے ہیں_

ہماری زندگی کے کام

جب ہم اچھے کام کرتے ہیں تو وہ ہماری روح پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ہمیں پاک اور نورانی کردتے ہیں ہم نیک کام بجالانے سے ہمیشہ اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالی سے انس و محبت کرتے ہیں اور نیک کام بجالانے کے انجام سے لذّت اٹھاتے ہیں صحیح عقیدہ ہے اور ہمیں نورانی اور خوش رو کردیتا ہے_ برے کردار اور ناپسندیدہ اطوار بھی انسان پر اثر چھوڑتے ہیں انسان کی روح کی پلید اور مردہ کردیتے ہیں پلید روح خدا کی یاد سے غافل ہوا کرتی ہے وہ برے کاموں کی عادی ہونے کی وجہ سے سیاہ اور مردہ ہوجاتی ہے اور انسان کو ترقی سے روک دیتی ہے ہماری خلقت بیکار نہیں ہے اور ہمارے کام بھی بیہودہ اور بے فائدہ نہیں ہیں ہمارے تمام کام خواہ اچھے ہوں یا برے ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ اثر باقی رہتا ہے ہم اپنے تمام کاموں کے اثرات آخرت میں دیکھیں گے بہشت اور اس کی عمدہ نعمتیں صحیح عقیدہ رکھنے اور اچھے کاموں کے کرنے سے ملتی


ہیں اور جہنّم اور اس کے سخت عذاب باطل عقیدہ اور ناپسندیدہ کاموں کے نتیجے میں ہمارے تمام کام خواہ اچھے ہوں یا برے ہوں ہماری زندگی کے حساب میں لکھے جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ باقی رہتے ہیں ممکن ہے کہ ہم اپنے کاموں سے غافل ہوجائیں لیکن وہ ہرگز فنا نہیں ہوتے اور تمام کے تمام علم خدا میں محفوظ ہیں آخرت میں ہم جب کہ غفلت کے پردے ہت چکے ہوں گے اپنے کاموں کا مشاہدہ کریں گے_

خدا قرآن میں فرماتا ہے_ کہ جب انسان کو حساب کے لئے لایا جائے گا اور وہ نامہ اعمال کو دیکھے گا اور اپنے اعمال کا مشاہدہ کرے گا تو تعجب سے کہے گا یہ کیسا نامہ اعمال ہے کہ جس میں میرے تمام کام درج ہیں کس طرح میرا کوئی بھی کام قلم سے نہیں چھوٹا_ اللہ تعالی کی طرف سے خطاب ہوگا تیرے کام دنیا میں تیرے ساتھ تھے لیکن تو ان سے غافل تھا اب جب کہ تیری روح بینا ہوئی ہے تو تو اس کو دیکھ رہا ہے ''دوسری جگہ ارشاد الہی ہوتا ہے''

جو شخص اچھے کام انجام دیتا ہے قیامت کے دن اسے دیکھے گا'' اور جو شخص برے کام انجام دیتا ہے معدہ ان کو قیامت کے دن مشاہدہ کرے گا_

اب جب کہ معلوم ہوگیا ہمارے تمام کام خواہ اچھے یا برے فنا نہیں ہوتے بلکہ وہ تمام کے تمام ہماری زندگی کے نامہ اعمال میں درج ہوجاتے ہیں اور آخرت میں ان کا کامل نتیجہ ہمیں ملے گا تو کیا ہمیں اپنے اخلاق اور کردار سے بے پرواہ ہونا چاہیئے؟


کیا ہماری عقل نہیں کہتی؟ کہ خداوند عالم کی اطاعت کریں اور اس کے فرمان او رحکم پر عمل کریں؟

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ اچھے کام اور اچھا اخلاق ہماری روح پر کیا اثر چھوڑتے ہیں؟

۲)___ برے کام اور برے اخلاق کیا اثر چھوڑتے ہیں؟

۳)___ کیا ہمارے برے اور اچھے کام فنا ہوجاتے ہیں؟

۴)___ کن چیزوں کے ذریعہ سعادت اور کمال حاصل ہوتا ہے؟

۵)___ بہشت کی نعمتیں کن چیزوں سے ملتی ہیں؟

۶)___ جہنم کا عذاب کن چیزوں سے ملتا ہے؟

۷)___ ہمارے کام کہاں درج کئے جاتے ہیں؟

۸)___ کیا ہم اپنے کاموں کو دیکھ سکیں گے؟

۹)___ خداوند عالم ہمارے اعمال کے بارے میں کیا فرماتا ہے؟

۱۰)___ اب جب کہ سمجھ لیا ہے کہ ہمارے تمام کام محفوظ کر لئے جاتے ہیں تو ہمیں کون سے کام انجام دیتے چاہیئےور کسی طرح زندگی بسر کرنی چاہیئے


حصّہ سوم

نبوّت


پہلا سبق

صراط مستقیم

اگر زندگی میں کامیاب ہونا چاہیں تو کون سا راستہ اختیار کریں گے؟ دونوں جہانوں میں سعادت مند ہونے کے لئے کون سا منصوبہ آپ کے پاس موجود ہے؟ کیا آپ نے اس کے متعلق فکر کی ہے؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کامل اور اچھا انسان بن جائیں تو کیا آپ کے پاس ہے؟

کیا آپ دوسروں کو دیکھ رہے ہیں جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے آپ بھی اسی پر چلیں گے؟

جو پروگرام انہوں نے منتخب کیا ہے آپ بھی وہی انتخاب کریں گے؟

کیا راست کے انتخاب اورمقصود زندگی کے متعلق فکر نہیں کرتے کیا درست پروگرام کے انتخاب میںکبھی نہیں سوچتے؟


شاید آپ کہیں کہ میں خود اچھا پروگرام بنا سکتا ہو کیا آپ اس جہان اور آخرت کی تمام ضروریات سے باخبر ہیں یا بے خبر؟ تو پھر کس طرح اچھا اور مکمل آپ خود بناسکتے ہیں؟

آپ شاید یہ کہیں کہ اہل عقل اور دانشور اور علماء میرے لئے زندگی کا پروگرام مہيّا کرسکتے ہیں لیکن کیا یہ حضرات آپ کی دنیا اور آخرت کی احتیاجات سے مطلع ہیں کیا یہ لوگ آخرت سے باخبر ہیں؟

پس کون ذات انسان کے کامل اور سعادت مند ہونے کاپروگرام بناسکتی ہے؟

انسان؟ یا انسان کا خالق؟ البتہ انسان کا خالق کیوں کہ اس نے انسان کوپیدا کیاہے وہ خلقت کے اسرار سے آگاہ ہے صرف وہی انسان کی دنیا اور آخرت میں زندگی کے شرائط سے باخبر ہے اسی لئے صرف وہی انسان کی زندگی کے باکمال اور سعادتمند ہونے کا پروگرام منظّم کرنے کا اہل ہے پس سعادت اور کمال کا بہترین پروگرام وہی ہوگا جو اللہ تعالی نے منظم کیا ہو اور اسے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسان تک پہنچاتا ہو کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟ کہ زندگی کے لئے کونسا راستہ انتخاب کریں گے؟

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ کیا آپ خود دنیا اور آخرت کے لئے پروگرام بناسکتے ہیں


اور کیوں وضاحت کیجئے؟

۲)___ کیا کوئی دوسرا ایسا کرسکتا ہے اور کیوں؟

۳)___ پس ایسا کون کرسکتا ہے اور کیوں؟

۴)___ خداوند عالم نے انسان کی سعادت کا پروگرام کس کے ذریعہ بھیجا ہے؟

۵)___ اگر چاہیں کہ دنیا اور آخرت میںکامیاب اور سعادتمند ہوں تو کس پروگرام کا انتخاب کریں اور کیوں؟


دوسرا سبق

کمال انسان

جب گیہوں کے دانے کو زمین میں ڈالیں اور اسے پانی دیں تو اس میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے؟ کیا کوئی خاص ہدف اور غرض اس کے سامنے ہے اور کس مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے گیہوں کا دانا ابتداء ہی سے ایک معین ہدف کی طرف حرکت شروع کردیتا ہے اس مقصد اور غرض تک پہنچنے کے لئے بڑھتا ہے یعنی ابتداء میں گیہوں کا دانہ زمین میں جڑیں پھیلاتا ہے پھرتنا، اور پھر سبز ہوجاتا ہے او ربتدریج بڑا ہونے لگتا ہے اور خوش نکالتا ہے گیہوں کا ایک دانہ کئی خوشے بناتا ہے اور پھر یہی خوشے انبار بن جاتے ہیں اور اس انبار سے ہزاروں انسان استفادہ کرتے ہیں تمام نباتات گیہوں کے دانے کی طرح کمال کا راستہ طے کرتے ہیں اور معین اور معلوم غرض و غائت


جو ہر ایک کے لئے معین ہوئی ہے کی طرف حرکت کرتے ہیں آپ اگر سیب کا دانہ کاشت کریں اور اسے پانی دیں اس کی ابتداء ہی سے آپکو معلوم ہوجائے گا کہ چھوٹا دانہ ایک معین غرض و ہدف رکھتا ہے اور اسی کی طرف حرکت شروع کرتا ہے اور اپنے کمال کو پہنچتا ہے یعنی چھوٹا دانہ جڑیں پھیلاتا ہے تنا اور شاخ نباتا ہے سبز ہوتا ہے اور بڑا ہوتا جاتا ہے ہر دن پہلے دن سے زیادہ کمال کی طرف ہوتا ہے بالآخر اس میں شگوفہ پھوٹتا ہے اور یہ خوبصورت شگوفہ سیب بن جاتا ہے اسی ترتیب سے وہ چھوٹا دانہ تکمیل کو پہنچتا ہے اور اپنی حرکت اور کوشش کے نتیجے کو انسان کے اختیار میں دے دیتا ہے اللہ تعالی جو عالم اور قادر ہے اور جس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور تکامل کا راستہ بھی انھیں ودیت کردیا ہے اور اس کے پہنچنے تک وسائل اور اسباب بھی ان کے لئے فراہم کردیئے ہیں مثلاً دوسرے پودے گیہوں اور سیب کے دانے کی طرح اپنے کمال کے لئے پانی، مٹی، ہوا، اور روشنی کے محتاج ہیں اللہ تعالی نے پانی، مٹی، روشنی اور ہوا، ان کے لئے پیدا کردی ہے تا کہ پودے ان سے استفادہ کریں اور مکمل ہوکر مقصد کو پالیں_

انسان کو بھی اپنے مقصد خلقت کوحاصل کرنا چاہیے کس طرح اور کس کے ماتحت؟

کون جانتا ہے کہ انسان کا جسم اور روح کن چیزوں کے محتاج ہیں اور کس طرح کمال حاصل کریں گی، البتہ صرف خدا جانتا ہے کیوں کہ تنہا وہی ذات ہے جو انسان کی خلقت کے اسرار سے آگاہ ہے اور وہی ذات


ہے جو آخرت میں انسان کی ضرورت سے باخبر ہے اسی لئے خالق اور مالک نے تمام دنیا کی چیزوں کو اکمل بنایا ہے اور انسانیت کی معراج کے لئے پروگرام بنائے ہیں اور پیغمبروں کے وسیلے اور ذریعہ سے انسان تک پہنچائے ہیں_ آخری اور اہم ترین پروگرام آخری پیغمبر جو حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں کے وسیلے سے تمام لوگوں کے لئے بھیجا ہے اس پروگرام کا نام تکامل دین اسلام ہے

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ تھوڑا سا گیہوں کسی برتن میں ڈالیں اور اسے پانی دیں دیکھیں گیہوں کا یہ دانہ کس طرح اپنے لئے راستہ معین کرلیتا ہے او رکس غرض کی طرف حرکت کرتا ہے؟

۲)___ سیب اور تمام پودے اور نباتات کے لئے غرض اور ہدف ہے، اس جملے کے کیا معنی ہیں؟

۳)___ نباتات کو کامل ہونے کے لئے کن کن چیزوں کی ضرورت ہے؟

۴)___ انسان کی معراج کا پروگرام کون بنا سکتا ہے؟ اور کیوں

۵)___ خدا نے انسان کی معراج کا پروگرام کنکے وسیلے ان تک پہنچایا ہے

۶)___ آخری اور مکمل ترین پروگرام ہمارے لئے کون لایا ہے؟

۷)___ اس آخری پروگرام کا کیا نام ہے؟


تیسرا سبق

راہنما کیسا ہونا چاہیئے

جو بچّہ اپنا گھر بھول گیا ہو اسے کسکے سپرد کریں گے کون اس کی راہنمائی کر سکتا ہے اور اسے اس کے گھر پہنچا سکتا ہے؟ کیا وہ آدمی جو امین نہ ہو اس پر اعتماد کر کے بچّے کو اس کے سپرد کریں گے اور کیوں؟ اس کو جو اس کے گھر کو نہیں جانتا یا راستوں سے بھٹک جاتا ہے اسکی رہنمائی کے لئے انتخاب کریں گے؟ اور کیوں پس راہنما کو چاہئے کہ راستے کو ٹھیک جانتا ہو نیک اور امین ہو اور غلط راہنمائی نہ کرتا ہو پیغمبر وہ انسان ہوتا ہے جو امین اور نیک ہوتا ہے اللہ تعالی نے اسے لوگوں کی راہنمائی کے لئے چنا ہے اور اسے دنیا اور آخرت کی زندگی کا راستہ بتلایا ہے اور انسانوں کی رہبری اس کے سپرد کی ہے_


چوتھا سبق

پیغمبر کو کیسا ہونا چاہیے

جب آپ کسی دوست کی طرف پیغام بھیجنا چاہتے ہوں تو یہ پیغام کس کے سپرد کرتے ہیں اس کے سپرد کرتے ہیں جو آپ کے دوست تک پہنچا دے یا جھوٹے اور غلط آدمی کو پیغام پہنچانے کے لئے منتخب کرتے ہیں یا کمزور حافظی اور غلطی کرنے والے کو ان میں سے کس کو پیغام پہنچاتے کے لئے انتخاب کرتے ہیں؟

جی ہاں پیغام پہنچانے کے لئے سچّا اور صحیح آدمی ہونا چاہیئے تا کہ پیغام کو بھول نہ جائے اسکے سننے اور پہنچانے میں غلطی نہ کرے خدا بھی اپنا پیغام پہنچانے کے لئے سچّے اور صحیح آدمی کو چنتا ہے اور اس کو پیغام دیتا ہے پیغمبر خدا کے پیغام کو صحیح حاصل کرتا ہے اور اس پیغام کو لوگوں تک پہنچاتا ہے _


پانچواں سبق

اجتناب گناہ کا فلسفہ

میلے کچیلے کپڑوں کو ایک طشت میںدھویا ہو تو کون ہے جو اس میلے پانی کو پیئے گا؟ اگر وہی پانی کسی اندھے یا بے خبر انسان کو دیں تو ممکن ہے کہ وہ اسے پی لے_ لیکن آنکھوں والا اور انسان کیسے جو شخص اس کی گندگی اور خرابی کودیکھ رہا ہو اور اس کے باخبر اثرات کو جانتا ہو ایسے پانی کو دیکھ تو کیا اسے پیئے گا؟ جی ہاں ہر وہ شخص جو بینا اور آگاہ ہو وہ کوئی گندی اور خراب چیز سے اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرے گا بلکہ اس سے نفرت اور بیزاری کرے گا اسی طرح پیغمبر بھی گناہ سے نفرت کرتے تھے وہ گناہ کے بجالانے پر قدرت رکھتے تھے لیکن کبھی گناہ نہیں کیا کیونکہ وہ گناہ کی پلیدی اور برائی کو دیکھ رہے تھے یہ اطلاع اور آگاہی ان کو خداوند عالم نے عطا فرمائی تھی_


چھٹا سبق

پیغمبر آگاہ اورمعصوم راہنما ہیں

خداوند عالم نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے ایسے انسان کا انتخاب کیا جو امین ہیں انہیں دین کا کامل نمونہ قرار دیا ہے تا کہ ان کا کردار اور گفتار لوگوں کو خدا کی طرف راہنمائی کرے پیغمبر انسانوں میں بہترین اور کامل ترین فرد ہوتا ہے علم و اخلاق اور کردار میں تمام مردوں سے افضل ہوتا ہے خدا اس کی تربیت کرتا ہے اور پھر اس کا انتخاب کرتا ہے تا کہ لوگوں کا پیشوا اور نمونہ ہو_ پیغمبر دنیا اور آخرت کی سعادت کے راستے اچھی طرح جانتا ہے یعنی اللہ تعالی نے اسے جو بتلایا ہے پیغمبر خود ان راستوں پر چلتا ہے اور لوگوں کو ان راستوں پرچلنے کی راہنمائی اور اس کی طرف دعوت دیتا ہے پیغمبر خدا کو اچھی طرح پہنچانتا ہے اور اسے بہت دوست رکھتا ہے، دنیا اور آخرت جہنم اور بہشت سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے


اچھے اور برے اخلاق کو اچھی طرح پہنچانتا ہے وہ گناہ کی پلیدی اور بدنمائی کو دیکھتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ گناہ انسان کی روح کو آلودہ اور کثیف کردیتا ہے_ اللہ تعالی جو عالم اور قادر ہے اس نے یہ علم پیغمبر کے اختیار میں دیا ہے پیغمبر اس آگاہی اور علم سے گناہ کی گندگی اور بدنمائی کا مشاہدہ کرتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا گناہ گار انسان کو دوست نہیں رکھتا اور اس سے ناراض ہوتا ہے اسی لئے پیغمبر ہرگز گناہ نہیں کرتا بلکہ گناہ سے نفرت کرتا ہے_

پیغمبر خدا کے پیغام کو بغیر کسی کمی و بیشی کے لوگوں تک پہنچاتا ہے اور اس سے غلطی اور نسیان نہیں ہوتا_ اور چونکہ گناہ اور غلطی نہیں کرتا لوگ بھی اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کے کردار اور گفتار کو نمونہ قرار دیتے ہیں_ ایسے ہی انسان کو معصوم کہتے ہیں اور اللہ تعالی کے تمام پیغمبر معصوم ہوتے ہیں یعنی گناہ نہیں کرتے اور ان سے غلطی اورنسیان نہیں ہوتا وہ نیک اور امین ہوتے ہیں_

پیغمبر لوگوں میں سے عالم اور معصوم ہوتے ہیں اللہ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں اور ان کی راہنمائی کرتے ہیں اور اللہ کی طرف اور دائمی سعادت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ راہنما کے لئے کون سی حفاظت صفات ہونی چاہئیں؟


۲)___ خدا کسے، انسان کی راہنمائی کے لئے انتخاب کرتا ہے؟

۳)___ خداوند عالم کیسے انسانوں کو پیغام پہنچانے کے لئے انتخاب کرتا ہے؟

۵)___ پیغمبر کیوں گناہ سے آلودہ نہیں ہوتے اور گناہوں سے دور رہتے ہیں؟

۶)___ یہ فہم اور فراست پیغمبروں کو کس نے عطا کی ہے؟

۷)___ یہ علم و فراست کیسے پیغمبروں کے لئے عصمت کا موجب ہوجاتی ہے؟

۸)___ دین کا کامل نمونہ کا کیا مطلب ہے؟

۹)___ دین کا کامل نمونہ کون انسان ہے؟

۱۰)___ جو شخص گناہ سے آلودہ ہوجاتا ہے کیا وہ دین کا کامل نمونہ ہوسکتا ہے؟

۱۱)___ کب پیغمبر گفتار اور رفتار میں لوگوں کے لئے کامل نمونہ بن سکتا ہے؟

۱۲)___ اگر پیغمبر غلطی اور نسیان کرتا ہو تو کیالوگ اس پر پورا اعتماد کرسکتے ہیں؟

۱۳)___ معصوم کیسے کہتے ہیں؟


ساتواں سبق

اسے کیسے پہنچانتے ہیں اور اس سے کیا چاہتے ہیں

آپ کے دوست محمود کا بیگ آپ کے گھر میں ہے ایک شخص کہتا ہے کہ میں محمود کی طرف سے آیا ہوں اور اس نے مجھے بھیجا ہے تا کہ اس کا بیگ آپ سے لے لوں اگر آپ اس انسان کو نہ جانتے ہوں تو اس صورت میں آپ کیا کریں گے فوراً اعتماد کر کے اسے بیگ دے دیں گے؟ یا اسے کیسے پہچانیں گے؟ کیا معلوم کریں گے کہ واقعاً اس کو محمود نے آپ کے پاس بھیجا ہے کیا اس کے پہچاننے کے لئے آپ اس سے خاص علامت کا مطالبہ نہیں کریں گے؟

یقینا آپ اس سے کہیں گے کہ نشانی بتلا دو اور بیگ لے جاؤ وہ اگر نشانی بتلائے اور مثلاً کہے کہ محمود نے کہا تھا کہ میرا بیگ مہمان خانے والے کمرہ میں پڑا ہے اور اس کے اندر ایک حساب کی کتاب ہے اور دوسری دینی علوم کی کتاب ایک اس میں آبی رنگ کاپن ہے اور ایک سرخ رنگ کی پنسل اور گھڑی


ہے اگر اس کی یہ نشانیاں اور علامتیں درست ہوئیں تو آپ اسے کیا سمجھیں گے اور کیا کریں گے؟

اگر اس کی نشانیاں ٹھیک ہوئیں تو آپ سمجھیں گے کہ واقعی اسے محمود نے بھیجا ہے اور یہ اس کا معتمد ہے آپ بھی اس پر عمل کریں گے اور اس کا بیگ اسے دے دیں گے اس مثال پر توجہ کرنے کے بعد آپ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر کو کیسے پہچانا جائے پیغمبر بھی خدا کا بھیجا ہوا ہوتا ہے اپنے تعرف کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے مخصوص نشانیاں اور علامتیں لاتا ہے تا کہ لوگ اسے پہچان جائیں اور اس کی دعوت کو قبول کرلیں اگر پیغمبر اللہ تعالی کی طرف سے خاص علامتیں نہ لائیں تو لوگ اسے کیسے پہچانیں گے ؟ کس طرح جانیں گے کہ واقعہ خدا کا پیغمبر اور اسی کا بھیجا ہوا ہے اگر خدا مخصوص علامتیں جو معجزے کے نام سے موسوم ہیں پیغمبروں کے اختیار میں نہ دے تو لوگ اسے کس طرح پہچانیں گے؟ اور کس طرح سمجھیں گے کہ ان کا خدا کے ساتھ خاص ربط ہے؟ اور کس طرح ان پر اعتماد کرسکیں گے کس طرح ان کی دعوت کو قبول کرلیں گے؟ پیغمبری کی مخصوص علامت اور نشانی کا نام معجزہ ہے یعنی ایسا کام انجام دینا کہ جس کے بجالانے سے عام لوگ عاجز ہوں اور اسے نہ کرسکیں_ وہ کام خدا اور اس کے مخصوص بھیجے ہوئے انسان کے سوا اور کوئی اس طرح انجام نہ دے سکے جب دعوی کرے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں اور خدا سے خاص ربط رکھتا ہوں اور پھر معجزہ بھی لے آیا ہوں تو حق طلب انسان سمجھ جائے گا کہ وہ واقعی پیغمبر اور خدا کا بھیجا ہوا ہے اور خدا سے خاص ربط رکھتا ہے امین ہے اور اللہ کا مورد اعتماد ہے حق طلب


لوگ بھی اس پر اعتماد کریں گے اور اس کی دعوت اور حکم کو قبول کرلیں گے اور کہیں گے چونکہ یہ وہ کام کرتا ةے جو صرف خدا کرسکتا ہے یعنی اس کے پاس معجزہ ہے لہذا وقعی پیغمبر ہے اور خدا کے ساتھ خاص ربط رکھتا ہے آگاہ اور حق طلب لوگ پیغمبروں کو معجزہ کی وجہ سے پہچانتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں_


آٹھواں سبق

رسالت کی نشانیاں

آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ پیغمبروں کے معجزات کیسے ہوتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہوں گے کہ حضرت موسی علیہ السلام اپنے ہاتھ کو گریبان میں لے جاتے اور جب اسے باہر نکالتے تو وہ ایک خوبصورت ستارے کی طرح چمکتا تھا_ حضرت موسی علیہ السلام کا عصی اللہ کے حکم سے ایک زبردست سانپ بن جاتا اور اسی عصا نے اللہ کے حکم سے دریا کے پانی کو اسی طرح چیردیا کہ اس کی زمین ظاہر ہوگئی_

خداوند عالم نے ان کا اور دیگر کئی ایک معجزات کا ذکر قرآن میں کیا ہے_ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے کہ مادر زاد اندھوں کو اللہ کے حکم سے بغیر کوئی دواء استعمال کئے شفا دے دیتے تھے_

مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرتے تھے مٹی سے پرندے


کی صورت بناتے اور اللہ تعالی کے اذن سے اس میں پھونک مارتے تو اس میں روح آجاتی تھی او روہ پرندہ ہوجاتا تھا، اور اڑجاتا تھا_

حضرت عیسی علیہ السلام اسرار سے واقف تھے مثلا جس شخص نے گھر میں کوئی چیز کھائی ہو یا اس نے گھر میں کوئی چیز چھیا کر رکھی ہو تو آپ اس کی خبر دیتے تھے آپ جب گہوارے میں تھے تو لوگوں سے باتیں کرتے تھے نمرود کی جلائی ہوئی آگ اللہ کے اذن اور حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے سرد ہوگئی اور آپ سالم رہے اور کوئی خراش آپ کو نہ پہنچی ہمارے پیغمبر علیہ السلام کے بھی بے شمار معجزے تھے آپ کے معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے آگے چل کر پیغمبر اسلام(ص) کے معجزات کے بارے میں بیان کیا جائے گا_

اب ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ معجزہ کس طرح اور کس کی قدرت سے انجام پاتا ہے_

اللہ تعالی اپنی بے پناہ قدرت سے جو کام انجام دیتا چاہئے بجالا سکتا ہے خدا کے سواء کون ہے جو خشک لکڑی کو سانپ بنادے_ خدا کے سوا کون ہے جو ایک اشارے سے دریا چیردے_ خدا کے سواء کون ہے جو مادر زاد اندھے کو شفا دے دے اور وہ بینا ہوجائے_ خدا کے سوا کون ہے جو ایک بے جان مجسمہ کو زندہ کردے اور اس کو پر و بال آنکھ اور کان عطا کردے خدا کے سوا کون ہے جو غیب سے مطلع ہوسکتا ہے پیغمبر اس قدرت اور طاقت کے ذریعے جو اللہ تعالی نے انہیں عنایت فرمائی ہے ا للہ تعالی کے اذن سے ایسے کام انجام دیتے ہیں تا کہ حق طلب لوگ ان امور کے


دیکھنے اور مشاہدہ کرنے سے سمجھ جائیں کہ ان تعلق اور خاص ربط خدا سے ہے اور اسی کے چنے ہوئے ہیں اور اسی کی طرف سے پیغام لائے ہیں_ اس قسم کے کاموں کو معجزہ کہاجاتا ہے معجزہ ایسا کام ہے کہ جسے خدا کے علاوہ یا اس کے خاص بھیجے ہوئے بندوں کے علاوہ کوئی بھی انجام نہیں دے سکتا جب خدا کسی کو پیغمبر بنا کر بھیجتا ہے تو کوئی نشانی اور معجزہ اسے دے دیتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ پہچانا جائے اگر پیغمبر اللہ تعالی کی طرف سے واضح نشانی نہ لائیں تو لوگ انہیں کس طرح پہچانیں اور کس طرح جانیں کہ واقعی یہ خدا کا پیغمبر ہے_

سوالات

۱)___ کیا پیغمبر کے پہچاننے کے لئے کسی خاص نشانی کی ضرورت ہے اور کیوں؟

۲)___ پیغمبر کی نشانی کا کیا نام ہے؟

۳)___ حق طلب لوگ کس ذریعہ سے پیغمبر کو پہچانتے ہیں؟

۴)___ معجزہ کسے کہا جاتا ہے؟

۵)___ مشاہدہ معجزہ کے بعد کس طرح سمجھا جاتا ہے کہ اس کے لانے والے اللہ تعالی کے پیغمبر ہیں؟

۶)___ معجزہ کس کی قدرت سے انجام پاتا ہے؟

۷)___ پیغمبروں کو یہ قدرت کون عنایت کرتا ہے؟


نواں سبق

نوجوان بت شکن

حضرت ابراہیم علیہ السلام جس دن کے انتظار میں تھے وہ دن آپہنچا کلہاڑ اٹھا کر بت خانہ کی طرف روانہ ہوئے اور مصمم ارادہ کرلیا کہ تمام بتوں کو توڑ ڈالیں گے_ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم تھا کہ یہ کام بہت خطرناک ہے اور انہیں علم تھا اگر انہیں بت توڑنے دیکھ لیں یا بت توڑنے کی آواز سن لیں تو اس وقت لوگ ان پر ہجوم کریں گے اور انہیں ختم کردیں گے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام وقت شناس تھے اور جانتے تھے کہ کون سا وقت بت توڑنے کے لئے منتخب کریں لہذا جس دن شہر کے تمام لوگ عید مانے کے لئے بیابان میں جانے لگے تو انہوں نے چاہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں لیکن آپ ان کے ساتھ نہ گئے اور کہا کہ میں مریض ہوں لہذا شہر ہی میں رہوں گا_


جب تمام لوگ بیابان کی طرف جاچکے تو حضرت ابراہیم (ع) ایک تیز کلھاڑے کو لے کر بت خانہ کی طرف گئے اور آہستہ سے اس میں داخل ہوئے وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا بت اور چھوٹے بڑے مختلف اشکال کے مجسمے بت خانہ میں رکھے ہوئے تھے جاہل لوگوں نے ان کے سامنے غذا رکھی ہوئی تھی تا کہ بتوں کی نذر کی ہوئی غذا با برکت ہوجائے اور جب وہ بیابان سے واپس آئیں تو اس غذا کو کھائیں تا کہ بیمار نہ ہوں_

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک نگاہ بتوں پر ڈالی اور جاہل لوگوں کی اس حالت پر افسوس کیا اور اپنے آپ سے کہا کہ یہ لوگ کس قدر نادان ہیں کہ پتھر اور لکڑی سے بت بناتے ہیں اور پھر جنہیں انہوں نے خود بنایا ہے اس کی پرستش کرتے ہیں اس کے بعد آپ نے بتوں کی طرف نگاہ کی او رفرمایا کہ کیوں غذا نہیں کھاتے؟ کیوں کلام نہیں کرتے؟ یہ جملہ کہا اور طاقتور ہاتھ سے کلہاڑ اٹھایا اور بتوں کی طرف گئے اور جلدی جلدی بتوں کو زمین پر گرانا شروع کیا صرف ایک بڑے بت کو باقی رہنے دیا اور کلہاڑے کو اس کے کندھے پر ڈال کر بت خانہ سے باہر نکل آئے غروب آفتاب کے قریب لوگ بیابان سے واپس آئے اور بت خانے کی طرف گئے پہلے تو وحشت زدہ مبہوت اور متحیر کھڑے بتوں کو دیکھتے رہے اس کے بعد بے اختیار چیخے روئے اور اشک بہائے اور ایک دوسرے سے پوچھتے کہ کس نے ان بتوں کو توڑا ہے؟ کس نے اتنا بڑا گناہ کیا ہے؟ بت غضب ناک ہوں گے اور ہماری زندگی بد نصیبی سے ہم کنار کردیں گے بت خانہ کے بچاری نے یہ تمام رپورٹ نمرود تک پہنچائی نمرود غضب


ناک ہوا اور حکم دیا کہ اس واقعہ کی تحقیق کی جائے اور مجرم کو پکڑا جائے حکومت کے عملے نے تحقیق و تفتیش کی او رخبر دی کہ ایک نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے ایک زمانے سے بتوں کی بے حرمتی کی جسارت کرتا رہا ہے ممکن ہے کہ یہ بھی اسی نے کیا ہوا اور وہی مجرم او رگناہ گار ہو نمرود نے حکم دیا کہ اسے پکڑا جائے جناب ابراہیم علیہ السلام پکڑ کر نمرود کی عدالت میں لائے گئے

حضرت ابراہیم (ع) نمرود کی عدالت میں

عدالت لگائی گئی حج اور دوسرے ارکان اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عدالت میں لایا گیا_ جج اٹھا اور کہا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ تہوار کے دن بڑے بت خانہ کے بت توڑ دیئےئے ہیں اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوکر کہا اے ابراہیم (ع) تمہیں اس واقعہ کے متعلق کیا علم ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک گہری نگاہ اس کی طرف کی او رکہا کہ یہ سوال مجھ سے کیوں کر رہے ہو_ جج نے کہا کہ میں یہ کس سے پوچھوں ابراہیم علیہ السلام نے بڑے ٹھنڈے انداز میں فرمایا کہ بتوں سے پوچھو؟ جج نے تعجب سے کہا کہ بتوں سے پوچھوں؟ ٹوٹے ہوئے بت تو جواب نہیں دیتے؟ ابراہیم علیہ السلام نے جج کی بات کو سنا اور تھوڑی دیر کے بعد کہا کہ دیکھو کہ بتوں کو کس چیز سے توڑا گیا ہے


جج کو غصّہ آیااوراپنی جگہ سے اٹھا اور غصّہ کے عالم میں کہا کہ بتوں کو کلہاڑے سے توڑا گیا ہے لیکن اس کا کیا فائدہ ہم تو چاہتے ہیں کہ معلوم کریں کہ بتوں کو کسنے توڑاغ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آرام و سکون سے فرمایا کہ سمجھنا چاہتے ہو کہ کسنے بتوں کو کلہاڑے سے توڑا ہے دیکھو کہ کلہاڑا کس کے ہاتھ میں ہے او رکس کے کندھے پر ہے؟ جج نے کہا کہ کلہاڑا تو برے بت کے کندھے پر ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بات کو کاٹتے ہوئے فرمایا کہ جتنا جلدی ہوسکے بڑے بت کو عدالت میں حاضر کرو کیونکہ وہ خود تو ٹوٹا نہیں ہے جج غصّہ میں آکر کہنے لگا اے ابراہیم کیا کہہ رہے ہو کتنے نادان ہو؟ بت تو بات نہیں کرتے نہ ہی کوئی چیز سنتے ہیں؟ پتھر سے تو کوئی تحقیق نہیں کی جاسکتی _

حضرت ابراہیم علیہ السلام اس نتیجے کے منتظر تھے_ کہا کہ تم نے اعتراف کرلیا ہے کہ بت بات نہیں کرتے اور نہ کوئی چیز سنتے ہیں پس کیوں ایسے نادان اور کمزور بتوں کی پرستش کرتے ہو؟ جج کے پاس حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بات کا کوئی جواب نہ تھا تھوڑا سا صبر کیا اور کہا کہ اب ان باتوں کا وقت نہیں بہرحال بت توڑے گئے ہیں اور ہم تمہیں اس کا مجرم سمجھتے ہیں کیونکہ تم اس سے پہلے بھی بتوں کی بے حرمتی کی جسارت کرتے رہتے تھے لہذا تمہارا مجرم ہونا عدالت کے لئے ثابت ہے؟ سزا کے لئے تیار ہوجاؤ_

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک پر اسرار نگاہ جج کی طرف ڈالی اور فرمایا کہ تم میرے خلاف کوئی دلیل نہیں رکھتے میں بھی تمہاری سزا سے


خوف زدہ نہیں ہوں_ خدائے قدیر میرا محافظ ہے میری نگاہ میں جس نے بھی بت توڑے ہیں وہ تمہارا خیر خواہ تھا اور اس نے اچھا کام انجام دیا ہے وہ چاہتاتھا کہ تمہیں سمجھائے کہ بت اس لائق نہیں کہ ان کی پرستش کی جائے اور میں بھی تمہیں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ میں بت پرست نہیں ہوں اور بتوں کے ساتھ عقیدہ نہیں رکھتا اور بت پرستی کو اچھا کام نہیں جانتا میں ایک خدا کی پرستش کرتا ہوں وہ ایک خدا جو مہربان ہے اور جس نے زمین اور آسمان اور تمام جہان اور اس میں موجود ہر چیز کو خلق کیا ہے اور وہی اسے منظم کرتا ہے تمام کام اس کے ہاتھ میں ہیں_ خدا کے سواء کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں ہیں اس کے حکم کو مانتا ہوں اور صرف اس کی عبادت کرتا ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو بعض سا معین پر اثر انداز ہوئی انہوں نے کہا کہ حق حضرت ابراہیم (ع) کے ساتھ ہے ہم ضلالت و گمراہی میں تھے_ اس طرح حضرت ابراہیم (ع) نے ایک عام مجلس میں لوگوں کے سامنے اپنا مدعی بیان کیا_ جج باوجود یکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کوئی دلیل نہیں رکھتا تھآ اس نے ابراہیم علیہ السلام کے خلاف حکم دیا کہ ابراہیم (ع) نے ہمارے بتوں کی بے حرمتی کی ہے اور بتوں کو توڑا ہے بتوں کو توڑنے کے جرم میں انہیں آگ میں ڈالیں گے اور ان کو جلادیں گے تا کہ راکھ ہوجائیں اور ان کا اور ان کے ہاتھوں کا کہ جنہوں نے بت توڑے ہیں نشان تک باقی نہ رہے اس نے یہ فیصلہ لکھا اور اس پر دستخط کئے اور اس حکم کے اجراء کو شہر کے بڑے بچاری کے سپرد کردیا_


حضرت ابراہیم (ع) اور اتش نمرود

شہر کے بڑے بچاری نے نمرود کی عدالت کے جج کا حکم پڑھا اور کہا کہ ابراہیم (ع) نے ہمارے بتوں کی بے حرمتی کی ہے بتوں کو توڑا ہے اسے بتوں کے توڑنے کے جرم میں آگ میں ڈالیں گے اور جلا دیں گے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منہ موڑا اور کہا ہم تھوڑی دیر بعد تمہیں بتوں کے توڑنے کے جرم میں آگ میں ڈالیں گے اس آخری وقت میں اگر کوئی وصیت ہو تو کہو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے نورانی چہرے کے ساتھ بہت ہی سکون و آرام سے بلند آواز میں فرمایا_

لوگو میری نصیحت اور وصیت یہ ہے کہ ایک خدا پر ایمان لاؤ اور بت پرستی چھوڑوو_ ظالموں اور طاقتوروں کی اطاعت نہ کرو صرف خدا کی پرستش کرو اس کے فرمان کو قبول کرو بڑے بچاری نے حضرت ابراہیم (ع) کی بات کاٹ دی اور بہت غصّہ کے عالم میں کہنے لگا_

اے ابراہیم تم اب بھی ان باتوں سے دست بردار نہیں ہوتے ابھی تم جلادیئے جاؤگے_ اس کے بعد حکم دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دو

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا گیا جاہلوں نے


نعرہ لگایا بت زندہ باد_ ابراہیم (ع) بت شکن مردہ باد_ حضرت ابراہیم (ع) کہ جن کا دل عشق الہی سے پرتھا آسمان اور زمین کے وسط میں دعا کرتے تھے اور فرماتے تھے اے میرے واحد پروردگار_ اے مہربان پروردگار اے میری پناہ، اے وہ ذات کہ جس کا کوئی فرزند نہیں اور تو کسی کا فرزند نہیں، اے بے مثل خدا میں فتح اور کامرانی کے لئے تجھ سے مدد چاہتا ہوں_

حضرت ابراہیم علیہ السلام اس طریقہ سے آگ میں ڈالے گئے اور بڑے بچاری نے لوگوں سے کہا اے بابل کے شہریوں دیکھا ہم نے کس طرح حضرت ابراہیم(ع) کو جلادیا تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ بت محترم اور ہر ایک کو بتوں کی پرستش کرنی چاہیئے اور نمرود کے حکم کی اطاعت کرنی چاہیئے_

اب نمرود کے حکم سے آگ کے بلند شعلے ابراہیم علیہ السلام کو راکھ کردیں گے لیکن اسے علم نہ تھا کہ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مدد کی اور نمرود کی آگ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم (ع) پر ٹھنڈی ہوگئی اور ان کے لئے سلامتی کا گہوارہ بن گئی کافی وقت گذر گیا لوگوں نے حیرت کے عالم میں ایک طرف اشارہ کیا اور کہا کہ حضرت ابراہیم (ع) آگ میں چل پھر رہے ہیں انہیں آگ نے نہیں جلایا_ ابراہیم علیہ السلام زندہ باد بڑا بچاری متحيّر ادھر ادھر دوڑتا تھا اور فریاد کرتا تھا اور نمرود بھی غصّہ اور تعجب سے فریاد کرتا تھا اور زمین پر پاؤں مارتا تھا_

حضرت ابراہیم (ع) جن کا دل ایمان سے پرتھا آہستہ آہستہ نیم جلی


لکڑیوں اور آگ کے معمولی شعلوں پر پاؤں رکھتے ہوئے باہر آرہے تھے لوگ تعجب اور وحشت کے عالم میں آپ کی طرف دوڑے اور آپ کو دیکھنے لگے حضرت ابراہیم علیہ السلام کافی دیر چپ کھڑے رہے اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا تم نے اللہ تعالی کی قدرت کودیکھا اور اس کے ارادے کامشاہدہ کیا اب سمجھ لو کہ کوئی بھی اللہ تعالی کی قدرت سے مقابلہ نہیں کرسکتا کوئی بھی ارادہ سوائے ذات الہی کے ارادے کے غالب اور فتح یاب نہیں ہوسکتا ضعیف اور نادان بتوں کی عبادت سے ہاتھ اٹھا لو بت نہ پوجو، صرف خدائے وحدہ، لا شریک کی عبادت کرو''

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ حضرت ابراہیم (ع) لوگوں کے ساتھ بیابان کیوں نہ گئے تھے؟

۲)___ بتوں کو کیوں توڑا تھا اور بڑے بت کو سالم کیوں رہنے دیا تھا؟

۳)___ حضرت ابراہیم (ع) نے کسطرح ثابت کیا تھا کہ بت قابل پرستش نہیں ہیں؟

۴)___ حضرت ابراہیم (ع) نے نمرود کی عدالت میں کس طرح بت پرستوں کو مغلوب کیا؟

۵)___ حضرت ابراہیم (ع) کی آخری بات نمرود کی عدالت میں کیا تھی؟

۶)___ حضرت ابراہیم (ع) کی نصیحت کیا تھی؟


۷)___ حضرت ابراہیم (ع) کے بت توڑنے اور عدالت میں گفتگو کرنے کی کیا غرض تھی اور اس سے کیا نتیجہ لیا؟

۸)___ حضرت ابراہیم (ع) کو آگ میں انہوں نے کیوں ڈالا اور کیا وہ اپنی غرض کو پہنچے؟

۹)___ جب حضرت ابراہیم (ع) کو آگ میں پھینکا گیا تو آپ نے اللہ تعالی سے کیا کہا؟

۱۰)___ جب آپ آگ سے باہر نکلے تو لوگوں سے کیا پوچھا اور ا ن سے کیا فرمایا؟

۱۱)___ کیا صرف حضرت ابراہیم (ع) کا مقصد تھا کہ نمرود اور بت پرستی کا مقابلہ کریں؟ یا ہر آگاہ ا نسان کا یہی مقصد حیات ہے؟

۱۲)___ کیا آپ بھی حضرت ابراہیم (ع) کی طرح بت پرستی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں؟

۱۳)___ کیا ہمارے زمانے میں بت پرستوں کا وجود ہے اور کس طرح؟

۱۴)___ حضرت ابراہیم (ع) کی داستاں سے کیا درس آپ نے حاصل کیا ہے؟ اور کس طرح آپ اسے عملی طور سے انجام دیں گے اور اس بزرگ پیغمبر کے کردار پر کیسے عمل کریں گے؟


دسواں سبق

حضرت موسی (ع) خدا کے پیغمبر تھے

پہلے زمانے میں ایک ظالم انسان مصر پر حکومت کرتاتھا کہ جسے فرعون کہا جاتا ہے فرعون ایک خودپسند اور مغرور انسان تھا لوگوں سے جھوٹ کہتا تھا کہ میں تمہارا بڑا خدا اورپروردگار ہوں تمہاری زندگی اورموت میرے ہاتھ میں ہے مصر کی وسیع زمین اور یہ نہریں سب میری ہیں تم بیغر سوچے سمجھے اور بیغر چوں و چرا کئے میری اطاعت کرو_ مصر کے نادان لوگ اس کے محکوم تھے اور اس کے حکم کو بغیر چوں و چرا کے قبول کرتے تھے اور اس کے سامنے زمین پر گرتے تھے صرف حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد جو مصر میں رہتی تھی او رخداپرست تھی فرعون کے سامنے زمین پر نہیں گرتی تھی یعنی اسے سجدہ نہیں کرتی تھی اسی لئے فرعون انہیں بہت سخت کاموں پر مامور کرتا اور یعقوب کی اولاد


مجبور تھی کہ بغیر کوئی مزدوری لئے فرعون اور فرعونیوں کے لئے زراع کریں، کام کریں ان کے بہترین محل بنائیں لیکن اس تمام محنت اور کام کرنے کے باوجود بھی فرعون ان پر رحم نہیں کیا کرتا تھا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹتا اور پھانسی پر لٹکاتا تھا ایسے زمانے میں خداوند عالم نے حضرت موسی (ع) کو پیغمبری کے لئے چنا_ خداوند عالم حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ کلام کرتاتھا اور جناب موسی (ع) اللہ تعالی کا کلام سنتے تھے اے موسی (ع) میںنے تمہیں لوگوں میں سے پیغام پہنچانے کے لئے چنا ہے میری بات کو سنو میں تیرا پروردگار ہوں، میرے سوا کوئی اور خدا نہیں، نماز پڑھو اور مجھے اپنی نماز میں یاد کرو اس کے بعد اللہ تعالی نے جب حضرت موسی علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا ہے جو تو نے ہاتھ میں لے رکھا ہے_

حضرت موسی علیہ السلام نے جواب میں کہا یہ میرا عصا ہے جب تھک جاتا ہوں اس کا سہارا لے کر آرام کرتا ہوں بھیڑ بکریوں کو ہاکتا ہوں اور دوسرے فوائد بھی میرے اس میں موجود ہیں اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اسے اپنے ہاتھ سے پھینکو حضرت موسی نے اپنے عصا کو زمین پر ڈالا بہت زیادہ تعجب سے دیکھا کہ عصا ایک بپھرا ہوا سانپ بن گیا ہے اور منہ کھول رکھا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے حضرت موسی علیہ السلام ڈرے اللہ کا حکم ہوا کہ اسے پکڑو اور نہ ڈرو ہم اسے اپنی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے اور پھر یہ عصا بن جائے گا حضرت موسی علیہ السلام نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اسے پکڑا وہ دوبارہ بن گیا خداوند عالم نے حکم دیا اے موسی (ع) اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان


میں ڈالو_ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالا اور جب اسے باہر نکالا تو آپ کا ہاتھ ایک انڈے کی طرح سفید تھا اور چمک رہا تھا اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوا کہ اے موسی ان دو نشانیوں او رگمراہوں سے (یعنی ان دو معجزوں کے ساتھ) فرعون کی طرف جاؤ اور اسے دعوت دو کیوں کہ وہ بہت مغرور اور سرکش ہوگیا ہے پہلے اسے نرمی اور ملائمت کے ساتھ دعوت دنیا شاید نصیحت قبول کرلے یا ہمارے عذاب سے ڈرجائے اگر کوئی نشانی یا معجزہ طلب کرے تو اپنے عصا کو زمین پر ڈالو اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر اسے دکھلاؤ_

حضرت موسی (ع) فرعون کے قصر میں

فرعون اور اہلیان مصر قصر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت موسی (ع) وارد ہوئے فرعون جناب موسی علیہ السلام کو پہلے سے پہچانتا تھا ان کی طرف تھوڑی دیر متوجہ رہا پھر پوچھا کہ تم موسی (ع) ہو_ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا ہاں: میں موسی ہوں میں خدا کی طرف سے آیا ہوں تا کہ تمہیں ہدایت خواہی اور سرکشی کو ترک کرو اللہ تعالی کے فرمان کی اطاعت کرو تا کہ سعادتمند بن جاؤ اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ بنی اسرائیل کو ذلّت و خواری سے نجاد دلاؤں_


فرعون نے غصّہ اور تکبّر سے کہا اے موسی آخر تمہارا خدا کون ہے حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا خدا وہ ہے کہ جس نے زمین اور آسمان کوپیدا کیا ہے تجھے اور تیرے باپ دادا کو پیدا کیا ہے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے وہی سب کو روزی دینے والا اور ہدایت کرنے والا ہے فرعون حضرت موسی (ع) کی بات کو اچھی طرح سمجھتا تھا اپنے آپ کو نادانی میں ڈالا بجائے اس کے کہ حضرت موسی علیہ السلام کو جواب دیتا قصر میں بیٹھے لوگوں کی طرف رخ کر کے کہا_

کیا مصر کی بڑی سلطنت میری نہیں، کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں کیا تمہاری زندگی اورموت میرے ہاتھ میں نہیں کیا میں تمہیں روزی دینے والا نہیں ہوں اپنے سواء تمہارے لئے میں کوئی پروردگار نہیں جانتا ہمیں حضرت موسی کے خدا کی کیا ضرورت ہے؟

حضرت موسی علیہ السلام نے بڑے اطمینان سے کہا اے لوگو تم اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا کی طرف جاؤ گے وہاں ایک اوردنیا کی طرف جاؤ گے وہاں ایک اور زندگی ہے تمہیں چاہیے کہ ایسے کام کرو کہ جس سے آخرت میں بھی سعادتمند رہو اللہ تعالی کے علاوہ آخرت اور اس دنیا کی بدبختی اور سعادت کے اسباب کو کوئی نہیں جانتا وہ دنیا اور آخرت کا پیدا کرنے والا ہے میں اسی کی طرف سے آیا ہوں اور اسی کا پیغام لایا ہوں، میں اللہ کا رسول ہوں میں اسی لئے آیا ہوں تا کہ تمہیں زندگی کا بہترین دستور دوں اور تم دنیا وآخرت میں اچھی زندگی بسر کرو اور سعادتمند ہوجاؤ_

فرعون نے بے اعتنائی او رتکبّر سے کہا_ کیاتم اپنی پیغمبری پر کوئی


گواہ بھی رکھتے ہو کوئی معجزہ ہے تمہارے پاس؟

حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا ہاں اس وقت آپ نے اپنا عصا فرعون کے سامنے ڈالا فرعون اور فرعونیوں نے اچانک اپنے سامنے ایک بپھرا ہوا سانپ دیکھا کہ ان کی طرف آرہا ہے فریاد کرنے لگے حضرت موسی علیہ السلام جھکے اور اس بپھرے ہوئے سانپ کو پکڑ لیا اور وہ دوبارہ عصا ہوگیا حضرت موسی علیہ السلام سے انہوں نے مہلت مانگی_

آخری فیصلہ

حضرت موسی علیہ السلام بہت کوشش کے باوجود فرعون اور فرعونیوں کے ایمان لانے سے نا امید ہوگئے اور اللہ کے حکم سے آخری فیصلہ کیا کہ جیسے بھی ہو بنی اسرائیل کو فرعون اور فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائیں اور پھر بنی اسرائیل کو خفیہ طور پر حکم دیا کہ اپنے اموال کو جمع کریں اور بھاگ جائیں بنی اسرائیل ایک تاریک رات میں حضرت موسی (ع) کے ساتھ مصر سے بھاگ گئے صبح اس کی خبر فرعون کو ملی وہ غضبناک ہوا اور ایک بہت بڑا لشکر بنی اسرائیل کے پیچھے بھیجا تا کہ انہیں گرفتار کر کے تمام کو قتل اور نیست و نابود کردے بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام کے حکم سے ایک راستہ اختیار کیا اور جلدی سے آگے بڑھنے لگے چلتے چلتے دریا تک پہنچ گئے جب انہوں نے راستہ بند


دیکھا کہ آگے دریا ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، تو بہت پریشان ہوئے اور حضرت موسی علیہ السلام پر اعتراض کرنے لگے ہمیں کیوں اس دن کے لئے لے آئے ہو کیوں ہمیں مصر سے باہر نکالا ہے ابھی فرعون کا لشکر پہنچ جائے گا او رہمیں قتل کردے گا چوں کہ حضرت موسی کو اللہ تعالی کے حکم پر مکمل یقین تھا اس لئے فرمایا ہمیں کوئی قتل نہیں کرے گا خدا ہمارے ساتھ ہے ہماری رہنمائی کرے گا اور نجات دے گا_

فرعون کا لشکر بہت نزدیک پہنچ گیا تھا اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام پر وحی کی کہ اے موسی (ع) اپنے عصا کو دریا پر مارو حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے اپنا عصا بلند کیا اور پانی پر مارا اللہ کے حکم سے پانی دو پاٹ ہوگیا اور دریا کی تہہ ظاہر ہوگئی بنی اسرائیل خوشی خوشی دریا میں داخل ہوگئے اور اس کی تھوڑی دیر بعد فرعون اور اس کا لشکر بھی آپہنچا بہت زیادہ تعجب سے دیکھا کہ اولاد یعفوب زمین پر جا رہی ہے تھوڑی دیر دریا کے کنارے ٹھہرے اور اس عجیب منظر کو دیکھتے رہے پھر وہ بھی دریا میں داخل ہوگئے_

جب بنی اسرائیل کا آخری فرد دریا سے نکل رہا تھا تو فرعون کی فوج دریا میں داخل ہوچکی تھی دونوں طرف کا پانی بہت مہیب آواز سے ایک دوسرے پر پڑا اور فرعون اور اس کے پیروکار دریا میں ڈوب گئے اور دریا نے اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق تمام سرکشی اور ظلم کا خاتمہ کردیا وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ گئے تا کہ آخرت میں اپنے ظلم و ستم کی سزا پائیں اور اپنے برے اعمال کی وجہ سے عذاب میںمبتلا کر


دیئےائیں ''ظالموں کا انجام یہی ہوتا ہے''

حضرت موسی (ع) اور تمام پیغمبر خدا کی طر ف سے آئے ہیں تا کہ لوگوں کو خدائے وحدہ، لاشریک کی طرف دعوت دیں اور آخرت سے آگاہ کریں پیغمبر لوگوں کی آزادی اور عدالت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ظلم و ستم کا مقابلہ کرتے ہیں_

سوالات

۱)___ حضرت موسی (ع) کا آخری فیصلہ کیا تھا؟

۲)___ اولاد یعقوب نے کیوں حضرت موسی (ع) پر اعتراض کیا تھا اور کیا کہا تھا؟ اور کیا ان کا اعتراض درست تھا؟

۳)___ کیا حضرت موسی (ع) بھی اولاد یعقوب کی طرح پریشان ہوئے تھے؟

۴)___ حضرت موسی (ع) نے اولاد یعقوب (ع) کے اعتراض کے جواب میں کیا کہا تھا؟

۵)___ سمندر کس کے ارادے اور کس کی قدرت سے دوپاٹ ہوگیا تھا اور کس کے حکم اور قدرت سے دوبارہ مل گیا تھا دنیا کا مالک اور اس کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہے؟

۶)___ فرعون اور اس کے پیروکار کس کی طرف گئے اور آخرت میں کس طرح زندگی بسر کریں گے؟


۷)___ حضرت موسی علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کی غرض اور ہدف کیا تھا؟

۸)___ اس غرض او رہدف پر آپ کس طرح عمل کریں گے؟


گیارہواں سبق

پیغمبر اسلام (ص) قریش کے قافلے میں

حضرت محمدمصطفی (ص) آٹھ سال کے بچّے ہی تھے کہ آپ(ص) کے دادا جناب عبدالمطلب (ع) دنیا سے رخصت ہوگئے جناب عبدالمطلب نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے جناب ابوطالب (ع) سے وصیت کی کہ پیغمبر اسلام(ص) کی حفاظت اور حمایت کریں اور ان سے کہا کہ محمد(ص) یتیم ہے یہ اپنے ماں باپ کی نعمت سے محروم ہے اسے تمہراے سپرد کرتا ہوں تا کہ تم اس کی خوب حفاظت اور حمایت کرو اس کا مستقبل روشن ہے اور یہ بہت بڑے مقام پر پہنچے گا_

حضرت ابوطالب (ع) نے اپنے باپ کی وصیت کو قبول کیا اور پیغمبر اسلام(ص) کی سرپرستی اپنے ذمہ لے لی اور مہربان باپ کی طرح آپ(ص) کی حفاظت کرتے رہے_ پیغمبر اسلام (ص) تقریباً بارہ سال کے تھے کہ


اپنے چچا جناب ابوطالب (ع) کے ساتھ قریش کے تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کا سفر کیا یہ سفر بارہ سال کے لڑکے جناب مصطفی (ص) کے لئے بہت مشکل اور دشوار تھا لیکن قدرتی مناظر پہاڑوں اور بیابانوں کا دیکھنا راستے کی سختی اور سفر کی تھکان کو کم کر رہا تھا آپ(ص) کے لئے وسیع بیابانوں اور اونچے اونچے شہروں اور دیہاتوں کا دیکھنا لذت بخش تھا_

کاروان بصرہ شہر کے نزدیک پہنچا وہاں قدیم زمانے سے ایک عبادت گاہ بنائی گئی تھی اور ہمیشہ عیسائی علماء میں سے کوئی ایک عالم اس عبادت گاہ میں عبادت میں مشغول رہتا تھا کیوں کہ حضرت عیسی اور دوسرے سابقہ انبیاء نے آخری پیغمبر (ص) کے آنے اور ان کی مخصوص علامتوں اور نشانیوں کی خبر دی تھی اس عبادتگاہ کا نام دیر تھا اس زمانے میں بحیرانا می پادری اس دیر میں رہتا تھا اور اس میں عبادت کرتا تھا_

جب قریش کا قافلہ دور سے کھائی دیا تو بحیرا دیر سے باہر آیا اور ایک تعجب انگیز چیز دیکھی قافلے نے آرام کرنے کے لئے اپنا سامان وہاں اتارا کا رواں والوں نے ادھر ادھر آگ جلائی اور کھانا پکانے میں مشغول ہوگئے بحیرا بڑی دقیق نگاہ سے کاروان کے افراد کو دیکھ رہا تھا_ تعجب انگیز چیز نے اس کی توجّہ کو مکمل جذب کرلیا تھا_ سابقہ روش کے خلاف کہ وہ کبھی بھی کسی قافلے کی پرواہ نہیں کرتا تھا اس دفعہ قافلہ والوں کی دعوت کی جب قافلے والے دیر میں داخل ہو رہے تھے تو وہ ہر ایک کو خوش آمدید کہہ رہا تھا اور غور سے ہر ایک کے چہرے کو دیکھتا تھا کہ گویا کسی گم شدہ کی تلاش میں ہے اچانک بلند آواز سے کہا بیٹا آگے آو تا کہ میں


تجھے اچھی طرح دیکھ سکوں، آگے آؤ آگے آؤ، چھوٹے بچے نے اس کی توجّہ کو اپنی طرف مبذول کرلیا اسے اپنے سامنے کھڑا کیا اور جھکا اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور کافی دیر تک نزدیک سے آپ(ص) کے چہرے کو دیکھتا رہا، آپ(ص) کا نام پوچھا تو کہا گیا، محمد(ص) کافی دیر خاموش کھڑا رہا اور ترچھی آنکھوں سے آپ(ص) کو بار بار دیکھتا رہا اس کے بعد بہت احترا سے جناب محمد مصطفی (ص) کے سامنے بیٹھا اور آپ کا ہاتھ پکڑا اور کئی ایک سوال کئے اچھی طرح تحقیق اور جستجو کی آپ(ص) کے چچا سے بات کی اور دوسروں سے بھی کئی ایک سوال کئے، اس نے اپنی گمشدہ چیز کو حاصل کرلیا تھا وہ بہت خوش دکھائی دیتا تھا

ابوطالب (ع) کی طرف متوجہ ہوا اور کہا یہ بچّہ روشن مستقبل رکھتا ہے اور بہت بڑے رتبے پر پہنچے گا یہ بچّہ وہی پیغمبر (ص) ہے جس کی سابقہ انبیاء نے آنے کی خبر دی ہے میں نے کتابوں میں اس کی نشانیاں پڑھی ہیں اور یہ اللہ کا آخری پیغمبر ہے بہت جلد پیغمبری کے لئے مبعوث ہوگا اور اس کا دین تمام عالم پر پھیل جائے گا اس بچّے کی قدر کرنا اور اس کی حفاظت اور نگہداشت میں احتیاط کرنا_

قافلہ والوں نے آرام کرنے کے بعد اپنے اسباب کو باندھا اور وہ چل پڑے بحیرا دیر کے باہر کھڑا تھا اور جناب محمد مصطفی (ص) کو دیکھ رہا تھا اور اشک بہا رہا تھا تھوڑی دیر بعد قافلہ آنکھوں سے غائب ہوگیا بحیرا اپنے کمرے میں واپس لوٹا اور اکیلے بیٹھے غور و فکر میں ڈوب گیا_


سوالات

۱)___ جناب ابوطالب (ع) کا حضرت محمد مصطفی (ص) سے کیا رشتہ تھا اور جناب عبدالمطلب (ع) کے بعد کون سی ذمہ داری انہوں نے سنبھالی تھی؟

۲)___ جناب عبدالمطلب(ع) نے وفات کے وقت اپنے بیٹے ابوطالب (ع) سے کیا کہا؟ اور ان سے کیا وصیت کی؟

۳)__ _ بحیرا کس کا منتظر تھا؟ کس شخص کو دیکھنا چاہتا تھا؟ کہاں سے وہ آپ(ص) کو پہچانتا تھا؟

۴)___ بحیرا نے قافلے کی کیوں دعوت کی؟

۵)___ بحیرا پیغمبر اسلام(ص) کو کیوں دوست رکھتا تھا جب وہ تنہا ہوا تو کیا فکر کر رہا تھا؟


بارہواں سبق

مظلوموں کی حمایت کا معاہدہ

ایک دن قریش کے سردار مسجد الحرام میں اکٹھے تھے اتنے میں ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور فریاد کی اے لوگو اے جوانو، اے سردارو، تمام چپ ہوگئے تا کہ اس مسافر کی بات کو اچھی طرح سن سکیں اس نے کہا_ اے مكّہ کے لوگو کیاتم میں کوئی جواں مرد نہیں؟ کیوں میری فریاد کو کوئی بھی نہیں آتا؟ کیوں کوئی میری مدد نہیں کرتا_

میں دور سے تمہارے شہر مین جنس لایا ہوں تا کہ اسے فروخت کر کے اس کے پیسے سے اپنے خاندان کی زندگی کے وسائل اور خوراک مہيّا کروں میری اولاد میرے انتظار میں ہے تا کہ ان کے لئے لباس اور خوراک لے جاؤں کل تمہارے سرداروں میں سے ایک کی اولاد نے مجھ سے نجس خریدی میں نے جنس اس کے گھر لے جا کر اس کی تحویل میں دی


جب جنس کے پیسے کا مطالبہ کیا تو اس نے جواب دیا چپ رہو اور بات نہ کرو_

میں اس شہر کے سرداورں میں سے ہوں اگر تو چاہتا ہے کہ اس شہر میں آمد و رفت رکھے اور امن سے رہے تو مجھ سے اس کے پیسے نہ لے میں نے جب اصرار کیا تو اس نے مجھے گالیاں دیں اور مارا پیٹا کیا یہ درست ہے کہ طاقتور کمزورں کا حق پائمال کرے_ کیا یہ درست ہے کہ ایک طاقتور آدمی میری محنت کی حاصل کردہ کمائی کو لے لے اور میری اولاد کو بھوکا رکھے میری فریاد رسی کوئی نہیں کرتا؟

کسی میں جرات نہ تھی کہ اس مسافر کی مدد کرسکے کیونکہ طاقتور اسے بھی مارتے پیٹے تھے اور اس زمانے میں مكّہ کسی حکومت کے ماتحت بھی نہ تھا بلکہ ہر ایک اپنے قبیلے کی حمایت اور دفاع کیا کرتا تھا لہذا مسافروں کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا ظالم اور طاقتور ان پر ظلم کرتے اور ان کے حق کو پامال کیا کرتے تھے_

اس قریش کے اجتماع میں سے پیغمبر اسلام (ص) کے چچا زبیر اٹھے اور اس مظلوم کی بات کی حمایت کی اور کہا کہ ہمیں مظلوموں کے لئے کوئی فکر کرنی چاہیئے اور ان کی مدد کے لئے کھڑا ہونا چاہیے ہر آدمی اس حالت سے بیزار ہے اور چاہتا ہے کہ کمزور اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرے آج عصر کے وقت عبداللہ کے گھر اکھٹے ہوں_

اس دن وقت عصر لوگوں کا ایک گروہ جو انصاف پسند اور سمجھدار تھے عبداللہ کے گھر اکٹھے ہوگئے انہوں نے طاقتوروں کے ظلم کے


بارے میں بات چیت کی او رظلم و ستم کے روکنے کے لئے ایک معاہدہ طے کیا تا کہ ایک دوسرے کی مدد سے کمزور اور بے سہارا لوگوں کی حمایت کریں معاہدہ لکھا گیا اور تمام نے دستخط کئے اس کے بعد تمام کے تمام اس طاقتور سردار کے گھر گئے اور اس سے اس مسافر کی جنس کی قیمت وصول کی اور اسے دے دی وہ آدمی خوشحال ہوگیا اور اپنے اہل و عیال کے لئے لباس اور خوراک خریدی اور اپنے گھر واپس لوٹ گیا ہمارے پیغمبر اسلام(ص) ان افراد میں سے ایک موثر اور فعال رکن تھے کہ جنہوں نے وہ معاہدہ طے کیاتھا اور آخر عمر تک اس معاہدے کے وفادار رہے پیغمبر اسلام (ص) اس معاہدے کی تعریف کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے مظلوموں کی حمایت کے معاہدے میں شرکت کی تھی اور جب تک زندہ ہوں گا اس کا وفادار رہوں گے بہت قیمتی اور روزنی معاہدہ تھا میں اسے بہت دوست رکھتا ہوں اور اس معاہدہ کی اہمیت کو مال و زر سے زیادہ قیمتی جانتا ہوں اور اس معاہدے کو وسیع و عریض میدان سے پر قیمتی اونٹوں کے عوض بھی توڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں ہمارے پیغمبر اس وقت بیس سال کے جوان تھے اور ابھی تک اعلان رسالت نہیں کیا تھا_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ مظلوموں کی حمایت کا معاہدہ کس کی تحریک پر تشکیل پایا

۲)___ اس سردار زادہ نے کون سا ظلم کیا تھا جنس کے فروخت


کرنے والے نے اپنا روپیہ وصول کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا؟

۳)___ طاقت کا کیا مطلب ہے اگر کوئی آپ پر ظلم کرے تو آپ کیا کریں گے کوئی مثال یاد ہو تو بیان کریں؟

۴)___ کبھی آپ نے کسی مظلوم کی حمایت کی ہے؟

۵)___ ہمارے پیغمبر اسلام(ص) کی عمر اس وقت کتنی تھی اور اس معاہدے کے متعلق کیا فرمایا کرتے تھے؟

۶)___ اگر کسی بچّے پر ظلم ہوتے دیکھیں تو آپ کیا کریں گے اور کس طرح اس کی مدد کریں گے؟

۷)___ اگر دیکھیں کہ بچّے کسی حیوان کو تکلیف دے رہے ہیں تو کیا کریں گے اور اس حیوان کی کس طرح مدد کریں گے؟

۹)___ اس واقعہ سے کیا درس ملتا ہے ہم پیغمبر اسلام (ص) کی کس طرح پیروی کریں؟


تیرہواں سبق

پیغمبر اسلام (ص) کی بعثت

شہر مكّہ کے نزدیک ایک بلند اور خوبصورت پہاڑ ہے جس کا نام حراء ہے حراء میں ایک چھوٹا غار ہے جو اس بلند پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے_

پیغمبر اسلام(ص) اعلان رسالت سے قبل کبھی کبھی اس غار میں جاتے تھے اور اس پر سکون جگہ پر خلوت میں عبادت اور غور و فکر کیا کرتے تھے رات کو غار کے نزدیک ایک چٹان پر کھڑے ہوجاتے اور بہت دیر تک مكّہ کے صاف آسمان اور خوبصورت ستاروں کے جھر مٹ کو دیکھتے رہتے اور ان مخلوقات کی عظمت و جلالت کا تماشا کیا کرتے اس کے بعد غار میں جاتے اور اس وسیع کائنات کے خالق کے ساتھ راز و نیاز کیا کرتے تھے اور کہتے تھے پروردگارا اس وسیع کائنات اور سورج اور خوبصورت ستاروں کو تونے بلاوجہ پیدا نہیں کیا ان کی خلقت سے کسی غرض و غایت


کو نظر میں رکھا ہے_

ایک دن بہت سہانا سحری کا وقت تھا پیغمبر اسلام (ص) اس غار میں عبادت کر رہے تھے کہ پیغمبر کی عظمت کو اپنے تمام کمال کے ساتھ مشاہدہ کیا اللہ کا فرشتہ جبرائیل آپ(ص) کی خدمت میںحاضر ہوئے اور کہا

اے محمد(ص) آپ(ص) اللہ کے پیغمبر (ص) ہیں میرے اللہ نے حکم دیا ہے کہ لوگوں کو شرک اور بت پرستی اور ذلت و خواری سے نجات دیں اور ان کو آزادی اور خداپرستی کی عظمت او رتوحید کی دعوت دیں اے محمد(ص) آپ(ص) خدا کے پیغمبر ہیں لوگوں کودین اسلام کی طرف بلائیں_

حضرت محمد مصطفی (ص) نے جناب جبرائیل کو دیکھا او رجو اللہ تعالی کی طرف سے پیغام آیا تھا اسے قبول کیا_

اس کے بعد ایمان سے لبریز دل کے ساتھ کو ہ حراء سے نیچے اترے او راپنے گھر روانہ ہوئے آپ کی شفیق اور مہربان بیوی جناب خدیجہ (ص) خندہ پیشانی سے آپ(ص) کے نورانی اور ہشّاش بشّاش چہرے کو دیکھ کر خوشحال ہوگئیں حضرت محمد مصطفی (ص) خدا کے پیغمبر ہوچکے تھے اپنی رفیقہ حیات سے فرمایا

میں کوہ حراء پر تھا وہاں خدا کا عظیم فرشتہ جبرائیل کو دیکھا ہے کہ وہ آسمانی صدا میں مجھ سے کہہ رہے تھے اے محمد(ص) تو اللہ کا پیغمبر ہے اللہ نے تجھے حکم دیا ہے کہ لوگوں کو شرک اور بت پرستی اور ذلت و خواری سے نجات دے اوران کو آزادی اور یگانہ پرستی اور توحید کی دعوت دے_


جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اپنے سچے اور امین شوہر سے کہا مجھے اس سے پہلے علم تھا کہ آپ(ص) اللہ تعالی کے پیغمبر ہیں اور میں اس عظیم دن کے انتظار میں تھی حضرت عیسی علیہ السلام نے آپ(ص) کی پیغمبری کی بشارت دی ہے ٹھیک ہے اللہ تعالی نے آپ کے ذمّہ بہت اہم ذمّہ داری دی ہے میں اللہ تعالی کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہوں اور آپ(ص) کی پیغمبری پر ایمان لاتی ہوں اور تمام حالات میں آپ(ص) کی مددگار اور حامی رہوں گی

حضرت علی (ع) جو ایک ذہین نوجوان تھے انہوں نے پیغمبر اسلام(ص) کی پیغمبری پر ایمان کا اظہار کیا اور یہ پہلے شخص تھے کہ جنہوں نے اسلام اور ایمان کا اظہار کیا_ ایک مدّت تک مسلمانوں کی تعداد ان تین افراد سے زیادہ نہ تھی لیکن ان تینوں افراد نے جو بلند ہمّت اور آہنی ارادے کے مالک تھے پورے بت پرستی اور بے دینی کے ماحول سے مقابلہ کیا ابتدائی دور میں صرف یہی تینوں افراد نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور لوگوں کی حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے خدائے وحدہ لا شریک سے گفتگو اور راز و نیاز کیا کرتے تھے_

ایک شخص کہتا ہے کہ ایک دن میں مسجد الحرام میں بیٹھا تھا میں نے دیکھا کہ ایک خوبصورت انسان مسجد میں وارد ہوا اس نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور کھڑا ہوگیا ایک نوجوان اس کے دائیں طرف کھڑا ہوگیا اور اس کے بعد ایک عورت آئی اور اس کی پشت پر کھڑی ہوگئی کچھ دیر کھڑے رہے اور کچھ کلمات کہتے


رہے اس کے بعد جھکے اور پھر کھڑے ہوگئے اور پھر بیٹھ گئے اور اپنے سرزمین کی طرف نیچے کئے رہے میں نے بہت تعجب کیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھا، عباس، یہ کون ہیں؟ اور کیا کر رہے ہیں_

عباس نے کہا کہ وہ خوبصورت انسان جو آگے کھڑا ہے محمد(ص) میرے بھائی کا لڑکا ہے وہ عورت خدیجہ (ص) اس کی باوفا بیوی ہے اور وہ نوجوان علی (ع) ہیں جو میرے دوسرے بھائی کا لڑکا ہے محمد(ص) کہتا ہے کہ خدا نے اسے پیغمبری کے لئے چنا ہے یہ عورت اور وہ نوجوان اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اس کے دین کو قبول کرلیا ہے ان تین آدمیوں کے علاوہ اس کے دین پر اور کوئی نہیں ہے محمد کہتا ہے کہ دین اسلام تمام جہان کے لوگوں کے لئے ہے اور بہت جلدی لوگ اس دین کو قبول کرلیں گے اور بہت سارے لوگ مسلمان ہوجائیں گے ہمارے پیغمبر اسلام(ص) ستائس رجب کو پیغمبری کے لئے مبعوث ہوئے اس دن کو مبعث کا دن کہا جاتا ہے ہمارے پیغمبر اسلام(ص) کی عمر اس وقت چالیس سال کی تھی_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ ہمارے پیغمبر اسلام(ص) مبعوث ہونے سے پہلے عبادت اورغور و فکر کے لئے کہاں جایا کرتے تھے؟ اور کن چیزوں کو دیکھا کرتے تھے اور خدا سے کیا کہا کرتے تھے؟


۲)___ کبھی آپ نے ستاروں سے پرے آسمان کو دیکھا ہے اور پھر کیا غور فکر کیا ہے؟

۳)___ جو فرشتہ پیغمبر اسلام(ص) کے لئے پیغام لایا تھا اس کا کیا نام تھا؟

۴)___ پیغمبر اسلام (ص) کس حالت میں حراء پہاڑی سے نیچے اترے اور اپنی رفیقہ حیات جناب خدیجہ سے کیا کہا؟

۵)___ آپ (ص) کی بیوی نے آپ (ص) کی بات سننے کے بعد کیا کہا؟

۶)___ پیغمبر اسلام (ص) کس عمر میں پیغمبری کے لئے چنے گئے تھے_

۷)___ مبعث کا دن کا نسا دن ہے کیا آپ نے اس عظیم دن کو کبھی جشن منایا ہے اس کی مناسب سے کسی جشن میں شریک ہوئے ہیں؟


چودہواں سبق

اپنے رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت

جب پیغمبر اسلام (ص) حضرت محمد بن عبداللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم پیغمبری کے لئے مبعوث ہوئے تو تین سال تک مخفی طور سے دین اسلام کی دعوت دیتے رہے آپ اطراف مکہ مسجدالحرام کے گوشہ و کنار میں بعض لوگوں سے اسلام کی گفتگو فرماتے اور انہیں دین اسلام سمجھاتے اور اس کی تبلیغ کرتے رہتے تھے جہاں بھی کسی لائق اور سمجھ دار آدمی کو دیکھتے اس کے سامنے اپنی پیغمبری کا اظہار کرتے اور اسے بت پرستی اور ظلم و ستم کرنے سے روکتے اور ظالموں کے ظلم و ستم کی برائی ان سے بیان کرتے آپ محروم اور پسماندہ لوگوں کے لئے دلسوزی اور چارہ جوئی کرتے آپ لوگوں سے فرماتے تھے_

میں خدا کا آخری پیغمبر ہوں مجھے اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ


تمہاری راہنمائی کروں اور اس ناگوار حالات سے تمہیں نجات دلواؤں اور تمہیں آزادی اور خداپرستی اور توحید کی طرف دعوت دوں اور تمہاری رہبری کروں تم اس عظیم مقصد میں میری مدد کرو،

پیغمبر اسلام(ص) کیاس تین سال کی کوشش سے مکہ کے لوگوں میں سے بعض لوگوں نے دین اسلام کو قبول کیا اور مخفی طور سے مسلمان ہوگئے اس کے بعد اللہ تعالی سے آپ(ص) کو حکم ملا کہ اب آپ اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دین اسلام کی دعوت دیں پیغمبر اسلام (ص) نے اللہ تعالی کے اس فرمان کے مطابق اپنے قریبی رشتہ داروں کو جو تقریباً چالیس ادمی تھے اپنے گھر بالایا اس معین دن میں تمام مہمان آپ(ص) کے گھر آئے_

آنحضرت (ص) نے خندہ پیشانی سے انہیں خوش آمدید کہا اور بہت محبت سے ان کی پذیرائی کی کھانا کھانے کے بعد پیغمبر اسلام (ص) چاہتے تھے کہ کوئی بات کریں لیکن ابولہب نے مہلت نہ دی اور لوگوں سے کہا ہوشیار رہنا کہیں محمد(ص) تمہیں فریب نے دے دے یہ کہا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تمام لوگ بھی کھڑے ہوگئے اور اس سے مجلس کا شیرازہ بکھر گیا جب مہمان آپ(ص) کے گھر سے باہر نکلے تو ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے دیکھا محمد(ص) نے کس طرح ہماری مہمان نوازی کی بہت عجیب تھا کہ تھوڑی خوراک بنائی تھی لیکن اس معمولی غذا سے ہم تمام سیر ہوگئے واقعی کتنا بہترین اور خوش مزہ کھانا بنایا تھا ایک کہتا کہ کیسے اس معمولی خوراک سے ہم تمام سیر ہو گئے دوسرا ابولہب سے غصّے کے عالم میں کہتا کہ کیوں تم نے مجلس کا شیرازہ بکھیر دیا کیوں تو نے محمد(ص) کی بات نہ سننے دی اور کیوں غذا کھانے کے


فوراً بعد اٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت محمد(ص) کے گھر سے باہر نکل آئے_

دوسرے دن پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ اس دن مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تا کہ میں اللہ کا پیغام سناؤں تم دوبارہ غذا بناؤ اور تمام رشتہ داروں کو مہمانی کے لئے بلاؤ شاید اللہ کا پیغام ان تک پہنچا سکوں اور آزادی و سعادت مندی کی طرف ان کی رہبری کرسکوں_ مہمانی کا دوسرا دن آپہنچا مہمان پہنچ گئے پیغمبر اسلام (ص) نے پہلے دن کی طرح انھیں مہربانی اور محبت سے خوش آمدید کہا اور خوش روئی سے ان کی پذیرائی کی کھانا کھانے کے بعد پیغمبر اسلام(ص) نے مہمانوں سے اصرار کے ساتھ تقاضہ کیا کہ بیٹھے رہیں اور میری بات کو سنیں ایک گروہ آرام سے بیٹھ رہا لیکن دوسرا گروہ (جیسے ابولہب و غیرہ) نے شور و غل شروع کردیا پیغمبر اسلام (ص) نے ان سے فرمایا توجہ کرو اللہ تعالی کی طرف سے میں اللہ کا آخری پیغمبر ہوں اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے اور پوری دنیا کے لئے پیغام لایا ہوں آزادی کا پیغام سعادتمندی کا پیغام ، اے میرے رشتہ دارو تم آخرت میں اچھے کاموں کے عوض جزاء پاؤگے اور برے کاموں کے عوض سزا پاؤ گے خوبصورت بہشت نیک لوگوں کے لئے ہمیشہ کے لئے ہے اور برے لوگوں کے لئے ابدی جہنّم کا عذاب ہے اے میرے رشتہ داروں میں دنیا اور آخرت کی تمام خوبیوں کو تمہارے لئے لایا ہوں کوئی بھی اس سے بہتر پیغام تمہارے لئے نہیں لایا کون ہے کہ میری اس راستے میںمدد کرے تا کہ میرا بھائی ، وصی، وزیر اور میرا جانشین و خلیفہ قرار پائے_


تمام مہمان چپ بیٹھے تھے کسی نے بھی اس آسمانی دعوت کو جواب نہیں دیا: صرف حضرت علی (ع) کہ جن کی عمر تقریباً چودہ سال کی تھی اٹھے اور کہا اے خدا کے رسول(ص) : میں حاضر ہوں کہ آپ(ص) کی نصرت و مدد کروں_ پیغمبر اسلام (ص) نے محبت کے انداز میں حضرت علی علیہ السلام کو دیکھا اور پھر اپنی گفتگو کو دوبارہ حاضرین کے لئے دہرایا اور آخر میں دوبارہ پوچھا کون میرے اس کام میں مدد کرنے کے لئے تیار ہے تا کہ میرا بھائی اور وزیر اور وصی او رجانشین اور خلیفہ ہو؟ اس دفعہ بھی پیغمبر اسلام (ص) کی آسمانی دعوت کا کسی نے جواب نہیں دیا تمام چپ بیٹھے رہے_

حضرت علی علیہ السلام نے اس سکوت کوتوڑتے ہوئے محکم ارادے اور جذبے بھرے انداز میں کہا یا رسول اللہ میں حاضر ہوں کہ آپ(ص) کی مدد کروں میں حاضر ہوں کہ آپ(ص) کی اعانت کروں پیغمبر اسلام (ص) نے محبت بھری نگاہ اس فداکار نوجوان پر ڈالی اور اپنی بات کا تیسری بار پھر تکرار کیا اور کہا_ اے میرے رشتہ دارو میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں تمہارے لئے لایا ہوں مجھے محکم ہوا ہے کہ تمہیں خداپرستی اور توحید کی دعوت دوں کون ہے کہ اس کام میں میری مدد کرے تا کہ وہ میرا بھائی اور وزیر، وصی، اور جانشین و خلیفہ ہو اس دفعہ بھی تمام خاموش تھے فقط حضرت علی علیہ السلام ان کے درمیان سے اٹھے اور محکم ارادے سے کہا یا رسول اللہ(ص) میں حاضر ہوں کہ آپ(ص) کی مدد کروں میں آپ(ص) کے تمام کاموں میں مدد کروں گا اس وقت مہمانوں کی حیرت زدگی کے عالم میں پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا


اور ان کے مدد کے معاہدہ اور پیمان کو قبول فرمایا اور مہمانوں میں اعلان کیا_ کہ یہ نوجوان میرا بھائی میرا وزیر میرا وصی اور میرا خلیفہ ہے اس کی بات کو سنو اور اس پر عمل کرو بہت سے مہمان ناراض ہوئے وہ وہاں سے اٹھے اور پیغمبر اسلام(ص) کی باتوں کا مزاق اڑانے لگے اور ابوطالب (ع) سے کہنے لگے کہ آج سے علی علیہ السلام تمہارا حاکم ہوگیا ہے_ محمد(ص) نے حکم دیا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی باتوں کو سنوں اور اس پر عمل کرو اور اس کی پیروی کرو_

سوالات

۱)___ پیغمبر اسلام(ص) لوگوں کو ابتداء میں اسلام کے لئے کیسے مدعو کرتے تھے اور کتنے عرصہ تک ایسا کرتے رہے؟

۲)___ پیغمبر اسلام(ص) لوگوں کو کس غرض اور ہدف کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان سے کیا چاہتے تھے؟

۳)___ تین سال کے بعد اللہ تعالی کا آپ(ص) کو کیا حکم ملا؟

۴)___ پیغمبر اسلام (ص) نے حکم کی تعمیل کے لئے کیا کیا ؟

۵)___ جب مہمان گھر سے باہر نکلتے تھے تو ایک دوسرے سے کیا کہتے تھے نیز انہوں نے ابولہب سے کیا کہا؟

۶)___ دوسرے دن کی مجلس میں پیغمبر (ص) نے اپنے رشتہ داروں سے کیا فرمایا تھا اور ان سے کس چیز کا مطالبہ کیا تھا ؟


۷)___ کس نے پیغمبر اسلام(ص) کی دعو کا مثبت جواب دیا اور کیا کہا؟

۸)___ پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) کا تعارف کس عنوان سے کرایا؟

۹)___ مہمانوں نے حضرت رسول (ص) کی بات کا کیا مطلب سمجھا اور اسے جناب ابوطالب (ع) سے کس انداز میں کہنا شروع کیا؟

اپنے دوستوں کو بلایئےہ واقعہ کو سنایئےور اس موضوع پر ان سے گفتگو کیجئے تا کہ اس پیغام کے پہنچانے میں آپ اپنی ذمہ داری کو ادا کرسکیں؟


پندرہواں سبق

صبر و استقامت

ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور جو تھے بھی ان کی اکثریت فقیر، کا رکن اور مزدور قسم کے لوگوں کی تھی لیکن اللہ اور اس کے پیغمبر(ص) پر صحیح اور پختہ ایمان لاچکے تھے_ اللہ پر ایمان کو قیمتی سرمایہ جانتے تھے دین اسلام کی عظمت کے قائل تھے اور اس عظیم دین اسلام کی حفاظت کے لئے کوشش کرتے تھے اور اسلام کی ترقی کے لئے جان کی قربانی تک پیش کردیتے اور استقامت دکھلاتے تھے وہ صحیح بامراد، مستقل مزاج اور فدا ہونے والے انسان تھے_

مكّہ کے طاقتور اور بت پرست نئے نئے مسلمان ہونے والوں کا مذاق اڑاتے اور گالیاں دیتے اور ناروا کلمات کہتے تھے ان کو بہت سخت کاموں پر لگاتے اور انہیں تکلیفیں پہنچاتے تا کہ دین اسلام


سے دست بردار اور کافر ہوجائیں_ لوہے کی زرہ ان کے بدن پر پہناتے اور پہاڑ اور میدان کے درمیان تپتے سورج کے سامنے کھڑا کئے رکھتے زرہ گرم ہوجاتی اور ان کے جسم کو جلا ڈالتی پھر ان کو اسی حالت میں پتھروں اور گرم ریت پر گھیسٹتے اور کہتے کہ دین اسلام کو چھوڑ دو اور محمد(ص) کو ناروا اور ناسزا کلمات کہو تا کہ ہم تمہیں ایسے شکنجہ میں نہ ڈالیں لیکن وہ فداکار مسلمان تھے لہذا وہ سخت شکنجوں کو برداشت کرتے تھے اور اللہ پر ایمان اور حضرت محمد(ص) کی پیروی سے دست بردار نہ ہوتے تھے اور اللہ پر ایمان اور حضرت محمد(ص) کی پیروی سے دست بردار نہ ہوتے تھے انہوں نے اتنا صبر اور استقامت کا ثبوت دیا کہ مكّہ کے بہانہ باز بت پرست تھک گئے اور اپنی کمزوری اور پریشانی کا اظہار کیا ان بہادر مسلمانوں کا ایمان اور ان کی استقامت تھی کہ جس نے اسلام کو نابود ہونے سے محفوظ رکھا عمّار ایسے ہی بہادر مسلمانوں میں ایک تھے ظالم بت پرست انہیں اور ان کے باپ یاسر اور ان کی ماں سميّہ کو پکڑ کر شہر سے باہر لے جاتے اور گرم و جلا دینے والی ریت پر مكّہ کے اطراف میں دوپہر کے وقت مختلف اذیتیں دیتے عمّار کی ماں کہ جس پر ہمارے بہت درود و سلام ہوں پہلی عورت ہیں جو اسلام کے راستے میں شہید ہوئیں جب پیغمبر(ص) ان کی دردناک اذیتوں سے مطلع ہوتے اور ان فداکار مسلمانوں کا دفاع نہ کرسکتے تھے تو ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور فرماتے کہ صبر و استقامت سے کام لو اپنے ایمان اور عقیدہ کو محفوظ رکھو کیونکہ سب کو آخرت ہی کی طرف لوٹنا ہے اور تمہارے لئے اللہ کا وعدہ بہشت بریں ہے یہ تمہیں معلوم ہونا چاہیئے آخر کار تم ہی کامیاب


ہوگے بلال بھی ان بہادر اور فداکار مسلمانوں میں سے ایک تھے وہ دین اسلام کو اپی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے ظالم انسان انھیں دوپہر کے وقت جلتی دھوپ میں ریت پر لٹاتے اور بہت بڑا پتھر ان کے سینے پر رکھ دیتے تھے اور ان سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ دین اسلام سے پھر جائیں اور خدا و پیغمبر اسلام (ص) کو ناسزا کلمات کہیں اور بتوں کی عظمت بیان کریں لیکن وہ بجائے اس کے کہ اسلام کا انکار کرتے اور بتوں کی تعریف کرتے ہمیشہ یہی کہتے تھے، احد، احد، یعنی ایک خدا، ایک خدا، صمد، صمد، یعنی بے نیاز اور محتاجوں کی پناہ گاہ خدا_

اسلام کے فدائیوں نے تکلیفیں اٹھائیں اور مصیبتیں برداشت کیں اور اس طرح دین اسلام کی حفاظت کی اور اسے ہم تک پہنچایا_ اب دین اسلام کے راستے میں ہماری فداکاری اور جہاد کاوقت ہے دیکھیں کس طرح ہم اتنی بڑی ذمہ داری سے عہدہ براء ہوتے ہیں_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ وہ مسلمانوں جو صحیح ایمان لائے تھے ان کی صفات کیسی تھیں؟

۲)___ بت پرست مسلمانوں کو کیوں تکلیفیں اور اذیتیں پہنچاتے تھے؟


۳)___ صبر کا کیا مطلب ہے ان سچّے مسلمانوں کا دین کے راستے میں صبر کس طرح تھا؟

۴)___ اسلام میں پہلے شہدی کا نام کیا ہے اور وہ کس طرح شہید ہوا؟

۴)___ ہمارے پیغمبر(ص) نے ان فداکار مسلمانوں سے کیا فرمایا اور ان کی کیسے دلجوئی کی؟

۵)___ بلال کون تھے بت پرست ان سے کیا چاہتے تھے اور وہ جواب میں کیا کہتے تھے؟

۷)___ دین اسلام کو صحیح مسلمانوں نے کس طرح حفاظت کی؟

۸)___ اسلام کے قوانین کی حفاظت اور اس کے دفاع کے بارے میں ہماری کیا ذمّہ داری ہے؟


سولہواں سبق

دین اسلام کا تعارف

ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی مكّہ کے بت پرست ان مسلمانوں سے دشمنی اور مخالفت کرتے تھے اور انھیں تکلیف پہنچاتے تھے مسلمانوں کے پاس چونکہ قدرت اور طاقت نہ تھی وہ ان بت پرستوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے انہوںیہی بہتر سمجھا کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرجائیں تا کہ ملک میں دین اسلام پر آزادانہ عمل کرسکیں اسی نظریہ کے تحت گروہ در گروہ کشتی پر سوار ہوتے اور مخفی طور پر حبشہ کی طرف ہجرت کرجاتے_

حبشہ کا بادشاہ نجّاشی تھا (نجّاشی حبشہ کے چند ایک بادشاہوں کا لقب تھا) یہ عیسائی تھا مسلمانوں کے وہاں پہنچنے سے باخبر ہوا تو ان کو مہربانی اور خوش اخلاقی سے پناہ دی_ جب مكّہ کے بت پرستوں کو


مسلمانوں کے ہجرت کرجانے کی اطلاع ملی تو بہت ناراض اور غضبناک ہوئے دو آدمیوں کو بہت قیمتی تحائف دے کر حبشہ روانہ کیا تا کہ مسلمانوں کو وہاں سے پکڑ کر مكّہ واپس لے آئیں_ وہ دو آدمی حبشہ آئے اور نجاشی کے پاس گئے اور اس کی تعظیم بجالائے اور اسے تحائف پیش کئے نجّاشی نے پوچھا کہاں سے آئے ہو اور کیا کام ہے انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے دیدار کے لئے شہر مكّہ سے آئے ہیں ہمارے نادان جوانوں میں سے ایک تعداد ہمارے دین سے خارج ہوگئی ہے اور ہمارے بتوں کی پرستش سے ہاتھ اٹھایا ہے یہ آپ کے ملک میں بھاگ کر آگئے ہیںمكّہ کے اشراف اور سردار آپ سے تقاضہ کرتے ہیں کہ ان کو پکڑ کر ہمارے حوالے کردیں تا کہ ان کو ہم اپنے شہر لے جائیں اور انہیں سزا و تنبیہ کریں، نجّاشی نے ان دونوں سے کہا کہ مجھے تحقیق کرنی ہوگی اس کے بعد نجّاشی نے مسلمانوں کو اپنے محل میں دعوت دی اور عیسائی علماء کے سامنے ان سے سوالات کئے نجّاشی نے مسلمانوں سے پوچھا کہ تمہارا اس سے پہلے کیا دین تھا اب تمہارا کیا دین ہے کیوں ہمارے ملک میں ہجرت کی ہے جناب جعفر ابن ابی طالب (ع) نے جو ایک فداکار او رمومن جو ان تھے جواب دیا کہ ہمارے شہر میں طاقت ور کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں وہاں کے لوگ بت پرست ہیں مردار گوشت کھاتے ہیں برے اور ناپسندیدہ کام انجام دیتے ہیں اپنوں کے ساتھ باوفا اور مہربان نہیں ہیں_ ہمسایوں کو تکلیف دیتے ہیں ان حالات میں اللہ تعالی نے ہمارے لئے ایک پیغمبر جو ہمارے در میان سچائی اور امانت میں مشہور ہے بھیجا ہے وہ ہمارے لئے


اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام لایا ہے، دین اسلام اس وقت نجّاشی نے اپنی جگہ س حرکت اور تھوڑاسا آگے بڑھا تا کہ غور سے سنے کہ دین اسلام کیا ہے اور کیا کہتا ہے_

جناب جعفر تھوڑی دیر کے لئے چپ ہوگئے اور ایک نگاہ عیسائی علماء کی طرف کی اور کہا کہ دین اسلام ہمیں کہتا ہے کہ بت پرستی نہ کرو اور ایک خدا کی عبادت کرو اور صرف اسی کے حکم کو قبول کرو دین اسلام ہمیں کہتا ہے: سچّے بنو_ امانت دار بنو وفادار ہوجاؤ رشتہ داروں کے ساتھ مہربانی کرو_ ہمسایوں سے اچھائی کرو_ کسی کا رشتہ داروں کے ساتھ مہربانی کرو_ ہمسایوں سے اچھائی نہ کرو، کسی کو گالیاں نہ دو، لغو اور بیہودہ کلام نہ کرو، یتیم کا مال ظلم سے نہ کھاؤ نماز پڑھو، اور اپنے مال کا کچھ حصّہ اچھے کاموں میں خرچ کرو نجاشی اور عیسائی علماء خوب غور سے سن رہے تھے اور آپ کی گفتگو سے لذّت حاصل کر رہے تھے لیکن وہ دو آدمی غصّے سے اپنے ہونٹوں کو چبا رہے تھے اور غصّے کے عالم میں مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے_

جناب جعفر نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا_ اے حبشہ کے بادشاہ دین اسلام کو حضرت محمد(ص) اللہ کی طرف سے لائے ہیں ہم نے اسے قبول کیا ہے اور خدا و اس کے پیغمبر(ص) پر ایمان لائے ہیں اور مسلمان ہوگئے ہیں مكّہ کے بت پرست اس سے ناراض ہوئے اور جتنا ہوسکتا تھا انہوں نے ہمیں تکلیف پہنچائی اور اذیتیں دیں_ ہم مجبور ہوئے کہ اپنے شہر سے ہجرت کر کے اس ملک میں پناہ لیں تا


کہ اللہ تعالی کی عبادت کرسکیں اور اپنے مذہب کے اعمال اور عبادات کو آزادنہ طور پر بجالاسکیں_

نجاشی حضرت جعفر کی گفتگو سن کر خوش ہوا اور کہا کہ تمہارے پیغمبر(ص) کے کلام اور جناب عیسی علیہ السلام کے کلام کا سرچشمہ ایک ہے دونوں اللہ کے کلام ہیں تم اس ملک میں آزاد ہو تو اپنے دین کے اعمال کو اور عبادت کو آزادانہ طور سے انجام دے سکتے ہو اور دین اسلام پر باقی رہو واقعی کتنا اچھا دین ہے_

اس کے بعد ان دو بت پرستوں کو آوازدی اور کہا کہ میں رشوت نہیں لیتا جو چیزیں تم لائے تھے انھیں اٹھا لو اور جلدی یہاں سے چلے جاؤ_

یقین جانو کہ میں مسلمانوں کو تمہارے حوالہ نہیں کروں گا جتنا جلدی ہو مكّہ لوٹ جاؤ_

وہ دو آدمی تحائف کو لیکر شرمندہ باہر نکلے اور مكّہ کی طرف چلے گئے_

سوالات

۱)___ ہجرت کے کیا معنی ہیں مسلمانوں نے کیوں ہجرت کی_

۲)___ حبشہ کے بادشاہ کیا دین تھا اور مسلمانوں کو کیوں واپس نہ کیا؟


۳)___ جعفر کون تھے انہوں نے عیسائی علماء کے سامنے پیغمبر(ص) اور دین اسلام کے متعلق کیا گفتگو کی؟

۴)___ اگر آپ سے دین اسلام اور پیغمبر(ص) کے بارے میں سوال کیا جائے تو کیا جواب دیں گے؟ اسلام اور پیغمبر(ص) کا کیسے تعارف کروائیں گے؟

۵)___ نجّاشی نے جناب جعفر کی گفتگو سننے کے بعد کیا کہا_ بت پرستوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور کیا ان کے تحائف کو قبول کرلیا_ اور کیوں؟


سترہواں سبق

مظلوم کا دفاع

ایک بوڑھا آدمی کسی بیابان میں رہتا تھا اونٹوں کی پرورش اور نگہبانی کرتا تھا اونٹوں کو شہروں میں لے جا کر بیجتا اور اس سے اپنے گھر بار اور بچّوں کی ضروریات خریدتا تھا ایک دفعہ اونٹوں کو لیکر مکہ گیا_ لوگ اس کے اردگرد جمع تھے اور اونٹوں کی قیمت کے متعلق گفتگو کر رہے تھے اچانک ابوجہل آیا اور دوسروں کی پرواہ کئے بغیر اس بوڑھے آدمی سے کہا کہ اونٹ صرف مجھے فروخت کرنا صرف مجھے سمجھ گئے دوسروں نے جب ابوجہل کی سخت لہجے میں بات سنی تو سب وہاں سے چلے گئے اور اسے اس بوڑھے اونٹ فروش کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا ابوجہل نے کہا کہ اونٹ میرے گھر لے آؤ اس بوڑھے آدمی نے اس کے حکم کی تعمیل کی اور اونٹ اس کے گھر پہنچا دیئےور روپیہ کا تقاضہ کیا ابوجہل نے بلند آواز سے


کہا کون سا روپیہ میں اس شہر کا سردار ہوں اگر چاہتے ہو پھر مكّہ آؤ اور اونٹ فروخت کرو تو پھر تمہیں چاہیے کہ اونٹوں کا روپیہ مجھ سے نہ لو سمجھ گئے بوڑھے آدمی نے کہا کہ یہی اونٹ میرا سارا سرمایہ ہے میں نے اس کی پرورش اور حفاظت میں بہت مصیبتیں اٹھائی ہیں اس سرمایہ سے چاہتا تھا کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے روزی مہيّا کروں اس لئے تمہیں زیب نہیں دیتا کہ میں خالی ہاتھ لوٹ جاؤں اور تمام زندگی اور کام سے رہ جاؤں چونکہ ابوجہل ایک ظالم اورخودپسند آدمی تھا بجائے اس کے کہ اس کا حق ادا کرتا غضبناک ہو کر کہا کہ تم نے وہ نہیں سنا جو میں نے کہا ہے بہت جلدی یہاں سے دفع ہوجاؤ ورنہ کوڑوں سے تیرا جواب دوں گا سمجھ گئے اس بوڑھے آدمی نے دیکھا کہ اگر تھوڑی دیر اور بیٹھتا ہوں تو ممکن ہے کہ مار بھی کھاؤں مجبور ہوکر وہ اس ظالم بے رحم کے گھر سے اٹھ کر چلا گیا راستے میں اپنے واقعہ کو چند گزرنے والوں سے بیان کیا اور ان سے مدد مانگی لیکن کوئی بھی اس کی مدد کرنے کو تیار نہ ہوا بلکہ وہ جواب دیتے کہ ابوجہل ہمارا شہری ہے وہ قریش میں سے طاقت ور آدمی ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اسے کوئی بھی روک نہیں سکتا وہ بوڑھا آدمی گلی کوچہ میں سرگردان جارہا تھا کہ مسجد الحرام تک پہنچ گیا وہاں قریش کی عمومی مجلس میں ابوجہل کی شکایت کی دو آدمیوں نے از راہ مذاق اس بوڑھے آدمی سے کہا اس آدمی کو دیکھو_ یہ محمد(ص) ہے اس نے کہنا شروع کیا ہے کہ میں خدا کا آخری پیغمبر ہوں وہ ابوجہل کا دوست ہے وہ تیرا حق ابوجہل سے لے سکتا ہے جاؤ اس کے پاس وہ جھوٹ


بول رہے تھے ہمارے پیغمبر(ص) ابوجہل کے دوست نہ تھے بلکہ اس کے اور اس کے کاموں کے دشمن تھے خدا نے حضرت محمد(ص) کو پیغمبری کے لئے چنا تھا تا کہ وہ ظالموں کے دشمن رہیں اور ان کے ساتھ مقابلہ کریں اور بہادر نیک لوگوں کی مدد سے ظالموں اور خودپسندوں کو ختم کریں خدا نے حضرت محمد(ص) کو لوگوں کی رہبری کے لئے بھیجا تھا تا کہ اجتماع میں عدل اور انصاف کو برقرار رکھیں اور لوگ آزادانہ خدا کی پرستش کریں وہ جھوٹ بول رہے تھے لیکن بوڑھا مظلوم انسان ان کی باتوں کو صحیح خیال کر رہا تھا وہ سمجھتا تھا کہ واقعی حضرت محمد(ص) ابوجہل کے دوست ہیں لہذا وہ بوڑھا آدمی حضرت محمد(ص) کے پاس آیا تا کہ آپ(ص) سے مدد کرنے کی درخواست کرے جو لوگ قریش کی عمومی مجلس میں بیٹھے ہوے تھے ہنس رہے تھے اور مذاق کر رہے تھے اور کہتے تھے کون ہے جو ابوجہل سے بات کرسکتا ہے وہ قریش کا طاقتور انسان ہے کسی میں جرات نہیںکہ اس کی مخالفت کرے ابوجہل محمد(ص) کو بھی مارے گا اور وہ شرمندہ واپس لوٹیں گے وہ بوڑھا آدمی حضرت محمد(ص) کے پاس پہنچا اور اپنی سرگزست بیان کی اور آپ سے مدد چاہی حضرت محمد(ص) نے اس کی شکایت کو غور سے سنا اور فرمایا کہ میرے ساتھ آو وہ بوڑھا آدمی پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ ابوجہل کے گھر پہنچا کچھ آڈمی تھوڑے فاصلے پر ان کے پیچھے ہولئے تا کہ دیکھیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ابوجہل کے گھر پہنچے اونٹوں کی آواز اوبجہل کے گھر سے سنائی دے رہی تھی پیغمبر اسلام (ص) نے دروازہ کھٹکھٹایا ابوجہل نے سخت لہجے میں کہا کہ


کون ہے دروازہ کھولو محمد(ص) ہوں: بوڑھے آدمی نے جب ابوجہل کی سخت آواز سنی تو چند قدم پیچھے ہٹ کر علیحدہ کھڑا ہوگیا ابوجہل نے دروازہ کھولا_ حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک جائزہ لیا اور پھر تیز نگاہ سے اسے دیکھا اور سخت غصّے کی حالت میں فرمایا اے ابوجہل کیوں کیوں کھڑے ہو جلدی کرو اس کے پیسے دو ابوجہل گھر گیا جو لوگ دور کھڑے تھے انہوں نے گمان کیا کہ ابوجہل اندر گیا ہے تا کہ چابک یا تلوار اٹھالائے گا لیکن ان کی امید کے برعکس وہ پریشان حالت میں گھر سے باہر آیا اور لرزتے ہاتھ سے اشرفیوں کی ایک تھیلی بوڑھے آدمی کو دے دی بوڑھے آدمی نے وہ تھیلی لے لی_ پیغمبر اسلام(ص) نے اس سے فرمایا کہ تھیلی کو کھولو اور روپیہ گن کر دیکھو کہیں کم نہ ہوں اس بوڑھے آدمی نے روپیہ گنا اور کہا کہ پورے ہیں اس نے پیغمبر اسلام(ص) کا شکریہ ادا کیا جو لوگ دور سے اس واقعہ کا مشاہدہ کر رہے تھے انہوں نے تعجب کیا اس کے بعد جب ابوجہل کو دیکھا تو اسے ملامت کی اور کہا کہ محمد(ص) سے ڈرگیا تھا کتنا ڈرپوک ہے تو ابوجہل نے جواب میں کہا وہ جب میرے گھر آئے اور غصّے سے مجھے دیکھ کر روپیہ دینے کے لئے کہا تو اس قدر خوف اور اضطراب مجھ پر طاری ہوا کہ میں مجبور ہوگیا کہ ان کے حکم پر عمل کروں اور اونٹوں کی قیمت ادا کروں اگر تم میری جگہ ہوتے تو اس کے سوا کوئی چارہ تمہارے لئے بھی نہ ہوتا_

اس دن کے بعد جب بھی ابوجہل اور اشراف مكّہ اکٹھے مل کر


بیٹھتے اور حضرت محمد(ص) اور آپ کے اصحاب کے متعلق گفتگو کرتے تو کہتے کہ محمد(ص) کے پیروکاروں کو اتنی تکلیفیں دیں گے وہ محمد(ص) کو تنہا چھوڑدیںگے اور دین اسلام سے دست پردار ہوجائیں گے محمد(ص) کو اتنا تنگ کریں گے کہ پھر وہ ہم سے مقابلہ نہ کرسکیں گے اور کمزوروں کا حق ہم سے وصول نہ کرسکیں گے آپ کی سمجھے ہیں کیا تکلیف دینے اور اذیتیں پہنچانے سے سچے مسلمانوں نے دین اسلام کو چھوڑ دیا تھا؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام(ص) نے ان سے مقابلہ کرنا چھوڑ دیا تھا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ پھر پیغمبر اسلام(ص) نے مظلوموں کی مدد نہیں کی ...؟

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ کیاہمارے پیغمبر(ص) ابوجہل کے دوست تھے خدا نے آپ(ص) کو کس غرض کے لئے پیغمبری کے لئے چنا تھا؟

۲)___ لوگوں نے اس بوڑھے آدمی کی مدد کیوں نہ کی؟

۳)___ جب وہ آدمی لوگوں سے مدد مانگتا تھا تو اس کو کیا جواب ملتا تھا اور کیا ان کا جواب درست تھا اور اگر درست نہیں تھا تو کیوں؟

۴)___ اگر کوئی تم سے مدد طلب کرے تو اسے کیا جواب دوگے؟

۵)___ تم نے آج تک کسی مظلوم کی مدد کی ہے اور کسی طرح بیان کیجئے؟


۶)___ ہمارے پیغمبر(ص) ابوجہل سے کیسے پیش آئے اور اس سے کیا فرمایا؟

۷)___ پیغمبر اسلام(ص) کے اس کردار سے آپ کیا درس لیتے ہیں اور کس طرح پیغمبر(ص) کے اس کردار کی آپ پیروری کریں گے؟

۸)___ بت پرستوں نے کیوں مسلمانوں کو اذیتیں پہنچانے کا ارادہ کیا تھا؟


اٹھارہواں سبق

خدا کا آخری پیغمبر حضرت محمد(ص)

اللہ تعالی نے جب سے محمد مصطفی (ص) کو پیغمبری کے لئے چنا ہے انہیں اپنا آخری پیغمبر قرار دیا ہے ہمارے پیغمبر گرامی قدر نے اس ابتدائی دعوت کے وقت سے اللہ تعالی کے حکم سے خود کو آخری نبی ہونے کا اعلان کردیا تھا یعنی اعلان کیا تھا کہ میں اللہ کا آخری پیغمبر ہوں میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا تمام وہ لوگ جو ابتداء اسلام میں آنحضرت(ص) پر ایمان لائے تھے اور مسلمان ہوئے تھے جانتے تھے کہ آپ خدا کے آخری پیغمبر ہیں قرآن کریم نے بھی جو اللہ کا کلام اور پیغمبر اسلام(ص) کا دائمی معجزہ ہے_

حضرت محمد مصطفی (ص) کو آخری پیغمبر بتلایا ہے قرآن فرماتا ہے کہ محمد(ص) رسول خدا اور خاتم النبین ہیں لہذا جو مسلمان ہیں اور قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں حضرت محمد(ص) کو اللہ کا آخری پیغمبر تسلیم کرتے ہیں_


ہمارا یہ ایمان ہے کہ اسلام کا آئین اتنا دقیق اور کامل ہے کہ حق طلب انسانوں کو ہمیشہ اور ہر وقت سعادت اور کمال تک پہنچاتا ہے وہ خدا جو تمام انسانوں کی ضروریات کو تمام زبانوں میں جانتا تھا قرآن کے تربیتی پروگرام کو اس طرح دقیق اور کامل و منظّم کیا ہے کہ انسان کے کمال کی ضروریات مہيّا کردی ہیں اسی لئے جتنا بھی انسان ترقی کرجائے اور اس کے علم و کمال میں زیادتی ہوجائے پھر بھی قرآن کا جو اللہ کا کلام اور اس کی طرف سے ہدایت ہے اسی طرح محتاج ہے جس طرح اللہ کی دوسری مخلوقات جیسے پانی، سورج، ہوا، و غیرہ ہمیشہ او رہر حالت میں محتاج ہیں_

انسان کی اسلامی تربیت کا آئین قرآن میں ہے اور قرآن آسمانی کتابوں کی آخری کتاب ہے اور دین اسلام کی ہمیشہ رہنے والی کتاب ہے کہ جس کی خداوند عالم نے فداکار مسلمانوں کی مدد سے محافظت کی ہے اور ہم تک پہنچایا ہے یہ عظیم کتاب انسان کی تربیت کا کامل ترین آئین ہے اسی لئے اللہ تعالی نے دین اسلام کو آخری آسمانی دین اور ہمارے پیغمبر(ص) کو آخری پیغام لے آنے والا بتلایا ہے_

ان مطالب کو دیکھتے ہوئے مندرجہ ذیل جملے مکمل کیجئے

۱)___ اللہ تعالی نے جب سے حضرت محمد(ص) کو پیغمبری کے لئے چنا ہے انھیں___ دیا ہے


۲)___ ہمارے پیغمبر گرامی قدر نے اس کا ابتدائی___ اعلان کردیا تھا_

۳)___ قرآن کریم نے بھی جو اللہ کا کلام اور پیغمبر کا دائمی معجزہ ____ بتلایا ہے_

۴)___ لہذا ہم جو مسلمان ہیں___ شمار کرتے ہیں

نیچے دیئےوئے سوالوں کو پڑھئے اور اس درست کے مطالب کو توجہ سے پڑھنے کے بعد ان کا جواب دیجئے_

۱)___ کیا کوئی ایسی کتاب ہے کہ جو رہنمائی اور ہدایت کا تمام انسانوں کے لئے تمام زبانوں میں آئین رکھتی ہو؟ اور کس طرح؟ اس کا جواب ہاں میں ہوگا؟ کیوں_

خدا جو تمام انسانوں کی تمام زبانوں میں ضروریات کو جانتا ہے قرآن کو____؟

۲)___ کیا لوگ ہمیشہ کے لئے قرآن کی راہنمائی اور ہدایت کے محتاج ہیں؟

جواب ہاں میں ہے کیوں کہ قرآن کے ہم اسی طرح ____؟

۳)___ پیغمبر گرامی قدر(ص) نے ابتدائے اسلام سے اپنے آپ کو کس طرح پہنچوایا_


جواب: خود کو آخری پیغمبر ہونا بتلاتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں اللہ کا آخری پیغمبر ہوں میرے____

۴)___ اللہ تعالی نے دین اسلام کو آخری دین اور پیغمبر گرامی قدر کو آخری پیغمبر کیوں بتلایا ؟

جواب: کیوں کہ قرآن دین اسلام کی ہمیشہ رہنے والی کتاب ہے_


انیسواں سبق

قرآن اللہ کا کلام ہے

اگر آپ بھی وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ ایک دانشمند خانہ کعبہ کے نزدیک کھڑا تھا اور تھوڑی سی روئی ہاتھ میں لے کر کان میں دے رہا تھا اور پھر اسے دباتا تھا وہ مكّہ میں نو وارد تھا اس کے دوست اس کی ملاقات کے لیئے گئے اور مكّہ کی تازہ خبر ناراضگی اور اضطراب کے ساتھ اسے بتائی گئی تھی اور اس سے کہا کہ محمد(ص) امین کو پہچانتے ہو؟

وہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور اللہ تعالی کی طرف سے پیغام لایا ہوں محمد(ص) کہتا ہے کہ بتوں میں تو کوئی قدرت ہی نہیں کہ جنہیں تم پوجتے ہو بتوں کی پرستش کو چھوڑ دو اور ظالموں کے سامنے نہ جھکو اور عاجزی کا اظہار نہ کرو وہ کہتا ہے کہ تم اپنے آپ کو دوسروں کے اختیار میں قرار نہ دو صاحب قدرت اور ظالم لوگ تم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے آنکھ بند


کر کے ان کی اطاعت کیوں کرتے ہو اور کیوں کی غیر معقول باتوں کو سنتے اور مانتے ہو_

یہی وجہ ہے کہ اب غلام ہمارے حکم کو نہیں مانتے اور ہماری اطاعت نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور حضرت محمد(ص) کے پیروکار ہیں اور ظلم و ستم کے سامنے نہیں جھکیں گے_

اے عقلمند اور دانشمند انسان تم ہرگز اس سے بات نہ کرنا اور اس کی گفتگو نہ سننا ہمیں ڈر ہے کہ تجھے بھی گمراہ نہ کردے یہ روئی لو اور اپنے کانوں میں ڈال لو اور اس کے بعد مسجد الحرام میں جانا_ ازدی قبیلہ کے اس عالم اور دانشمند نے روئی لی اور خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مسجد الحرام کی طرف چل پڑا خانہ کعبہ کے نزدیک پہنچا و روئی اپنے کانوں میں رکھی اور طواف کرنے میں مشغول ہوگیا وہ کہتا ہے کہ طواف کی حالت میں محمد(ص) امین کو دیکھا کہ کچھ پڑھ رہے ہیں ان کے لبوں کی حرکت کو میں دیکھ رہا تھا لیکن ان کی آواز کو نہیں سن رہا تھا میں ان کے ذرا نزدیک ہوا آپ کے پاک اور زیبا چہرے کو دیکھا آپ جو کچھ پڑھ رہے تھے اس کی بھنبھناہٹ میرے کان تک پہنچی میں آپ کا مجذوب ہوگیا کہ کیوں محمد(ص) کی باتوں کو نہ سنوں کتنا اچھا ہے کہ روئی کو کانوں سے نکال دوں اور آپ کی باتوں کو سنوں اگر ٹھیک ہوئیں قبول کرلوں گا اور اگر ٹھیک نہ ہوئیں تو چھوڑدوں گا میں نے روئی کانوں سے نکالی جو کچھ محمد(ص) پڑھ رہے تھے کان دھرے عمدہ کلمات او رخوش آواز کو سننے سے متزلزل ہوا جو کچھ پڑھ رہے تھے


وہ کلام ختم ہوگیا آپ اپنی جگہ سے اٹھے اور مسجدالحرام سے باہر نکل پڑے میں بھی آپ کے ساتھ مسجد الحرام سے باہر آیا راستے میں آپ(ص) سے بات کی یہاں تک کہ آپ(ص) کے گھر پہنچ گیا گھر کے اندر آیا آپ کا ایک سادہ کمرہ تھا وہاں بیٹھ کر گفتگو میں مشغول ہوا میں نے کہا اے محمد(ص) میں نے ان کلمات کی جو آپ(ص) پڑھ رہے تھے بھنبھناہٹ تو سنی تھی لیکن میرا دل چاہتا تھا کہ اس میں سے کچھ حصّہ میرے سامنے پڑھیں واقعی کتنا اچھا کلام آپ پڑھ رہے تھے محمد(ص) امین نے جو میری بات کو غور سے سن رہے تھے مسکرائے اور کہا وہ کلام میرا نہ تھا بلکہ میرے خدا کا ہے تم بت پرست مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں نے چالیس سال تم میں گزارے ہیں اور میں امانت داری اور سچائی میں معروف تھا تم سب جانتے ہو کہ میں نے کسی سے درس نہیں پڑھا اب اس قسم کے زیبا کلمات اور پر معنی کلام تمہارے لئے لایا ہوں کیا وہ علماء اور دانشمند جنہوں نے سالہا سال درس پڑھا ہے اس قسم کا کلام لاسکتے ہیں؟ کیا تم خود اس قسم کا کلام بنا سکتے ہو اگر تھوڑا سا غور کرو تو سمجھ جاؤگے کہ یہ کلام میرا نہیں ہے بلکہ میرے خدا کا ہے کہ جس نے مجھے پیغمبری کے لئے چنا ہے یہ عمدہ اور پر مطلب کلام اللہ کا پیغام ہے اور میں صرف اس پیغام کا لانے والا ہوں تمہارے اور تمام انسانوں کے لئے یہ آزادی کا پیغام ہے اور سعادت کو خوشخبری ہے اب تم اللہ کے پیغام کو سنو محمد(ص) امین نے ان ہی عمدہ اور پر مطلب کلمات میں سے کچھ میرے لئے پڑھے عجیب کلام تھا میں نے اس قسم کا کلام ہرگز نہیں سنا تھا تھوڑا سا میں


نے فکر کی اور میں سمجھا کہ اس کلام کو محمد(ص) نے نہیں گڑھا اور کوئی بھی انسان اس قسم کا عمدہ اور پر مغز کلام نہیں کہہ سکتا میں نے یقین کے ساتھ سمجھا کہ حضرت محمد(ص) خدا کے پیغمبر(ص) ہیں میں ان پر ایمان لایا ہوں اوردین اسلام کو قبول کرلیا اور اللہ تعالی کے فرمان کو تسلیم کرلیا_

جانتے ہو کہ جب مسلمان ہوگیا تو میرے دوستوں نے مجھ سے کیا کہا اور مجھ سے کیا پوچھا اور مجھ سے کیا سلوک کیا_


بیسواں سبق

قرآن پیغمبر اسلام(ص) کا دائمی معجزہ ہے

ہمارے پیغمبر(ص) کا دائمی معجزہ قرآن ہے سمجھ دار انسان قرآنی آیات کو سنکر یہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کی آیات خود پیغمبر اسلام (ص) کا کلام نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے سمجھدار اور حق طلب لوگ قرآن کے سننے اور اس کی آیات میں غور کرنے سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے حضرت محمد(ص) اللہ تعالی سے ایک خاص ربط کی وجہ سے اس قسم کا عمدہ اور پر مغز کلام لائے ہیں خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے اگر اس قرآن میں جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے تمہیں شک ہو یعنی یہ گمان ہو کہ یہ اللہ کا نہیں ہے اور ایک معمولی انسان کا کلام ہے تو اس قسم کا ایک سورہ قرآن کی سورتوں کی طرح بنالاؤ ایک اور جگہ خدا قرآن میں فرماتا ہے اگر تمام مخلوق کٹھی ہوجائے اور ایک دوسرے کی مدد کرے کہ قرآن جیسی


کوئی کتاب بنائیں تو ہرگز ایسا نہیں کرسکیں گی کیونکہ کوئی بھی مخلوق کتنی ہی ترقی کرجائے پھر بھی ہے تو اس کی مخلوق کہ جسے ان مخصوص کاموں کی قدرت نہیں ہوسکتی کہ انھیں اللہ تعالی انجام دیتا ہے اسی لئے آج تک کوئی بھی قرآن کی مانند کوئی کتاب نہیں لاسکا اور نہ ہی آئندہ لاسکے گا اب جب کہ اتنا بڑا معجزہ پیغمبر خدا حضرت محمد(ص) کا ہمارے پاس ہے ہمیں اس کی قدر و منزلت پہچاننی چاہیئے اور اس کی قدر کرنی چاہیے اسے پڑھیں اور اس کے مطالب سے آشنا ہوں اور اس کی راہنمائی کو قبول کریں اور اس آسمانی کتاب کو اپنی زندگی کا راہنما قرار دیں تا کہ دنیا اور آخرت میں سعادتمند زندگی بسر کرسکیں_

سوالات

۱)___ وہ دانشمند انسان کیوں اپنے کان میں روئی ڈالتا تھا اس کے دوستوں نے اسے کیا کہا تھا؟

۲)___ اپنے آپ سے اس نے کیا کہا کہ جس کے بعد اس نے اپنے کانوں سے روئی نکال ڈالی؟

۳)___ وہ آدمی کیوں پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ چل پڑا؟

۴)___ پیغمبر اسلام (ص) نے اسے اپنے گھر کیا فرمایا کس طرح اس کے سامنے وضاحت کی کہ قرآن خدا کا کلام ہے؟

۵)___ اس آدمی نے کیسے سمجھا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اس کے


متعلق اس نے کیا فکر کی؟

۶)___ جب اس نے جان لیا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو اس نے کیا کیا؟

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ قرآن پیغمبر کا دائمی معجزہ ہے اس کا کیا مطلب ہے؟

۲)___ حق طلب لوگوں نے قرآن کی آیات میں فکر کرنے سے کیا سمجھا؟

۳)___ انہوں نے کس طرح سمجھا کہ قرآن کا لانے والا خدا کا پیغمبر ہے؟

۴)___ خداوند عالم قرآن کے معجزہ ہونے میں کیا فرماتا ہے؟

۵)___ خدا کس طرح واضح کرتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے؟

۶)___ کیا لوگ قرآن جیسی کتاب بناسکتے ہیں؟

۷)___ قرآن کی قدر کرنے سے کیا مراد ہے قرآن کا کس طرح احترام کریں؟


اکیسواں سبق

سبق آموز کہانی دو بھائی

ایک نیک اور مہربان دوسرا مغرور، خودپسند اور بدکردار ایک دولت مند انسان دنیا سے انتقال کر گیا اس کی وافر دولت اس کے دو لڑکوں کو ملی ان میں سے ایک دین دار اور عاقل جوان تھا وہ دانا اور عاقبت اندیش تھا دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھتا تھا اپنی دولت سے آخرت کے لئے فائدہ حاصل کرتا اپنے مال کے واجب حقوق دیا کرتا اور فقیروں اور غریبوں کی مدد کرتا ان کو سرمایہ اور کام مہيّا کیا کرتا تھا اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی اپنی دولت سے مدد کرتا نیک کاموں میں سبقت لیجاتا مسجد بناتا_

اسپتال او رمدرسہ بناتا طالب علموں کو تحصیل علم کے لئے مال دیتا اور علماء کی زندگی کے مصارف برداشت کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں یہ کام اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے لئے انجام دیتا ہوں یہ کام میرے آخرت کے لئے


ذخیرہ ہیں دوسرا لڑکا نادان اور حریص تھا جو کچھ ہوتا تھا اس کو اپنے لئے ہی رکھتا باغ اور کھیتی بناتا بہترین مکان بناتا لیکن اپنے نادار رشتہ داروں کی کبھی دعوت نہ کرتا اور ان سے میل جول نہ رکھتا اپنے مال کے واجب حقیق ادا نہ کرتا_ غریبوں کے سلام کا جواب نہ دیتا نیک کاموں میں شریک نہ ہوتا اور کہتا کہ مجھے کام ہے میرے پاس وقت نہیں ہے اس مغرور انسان کے دو بہت بڑے باغ تھے جو خرمہ اور انگور اور دوسرے میوے دار درختوں سے پرتھے پانی کی نہریں اس کے باغ کے کنارے سے گزرتی تھیں_

ان باغوں کے درمیان بڑی سرسبز کیھتی تھی کہ جس میں مختلف قسم کی سبزیاں بوئی ہوئی تھیں جب یہ دولت مند بھائی اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ اپنے باغ میں جاتا تو سر سبز میروے سے لدے ہوئے بلند درختوں کو دیکھ کر خوش ہوتا اونچی آواز میں ہنستا اور اپنے نیک بھائی کا مذاق اڑاتا اور کہتا کہ تو غلطی کرتا ہے کہ اپنی دولت دوسروں کو دے دیتا ہے لیکن میں اپنی دولت کسی کوم نہیں دیتا جس کے نتیجے میں ان باغات اور زیادہ دولت کا مالک ہوں واقعی کتنا بڑا یہ باغ اور کتنی زیادہ دولت: کیا کہنا میں ہمیشہ اچھی زندگی گزارتا ہوں یہ دولت تو ختم ہونے والی نہیں جو میرے پاس ہے_

مجھے گمان نہیں کہ قیامت بھی ہے اور جہان آخرت بھی اور اگر قیامت ہو بھی تو بھی خدا مجھے اس سے بہتر دے گا اس کا نیک بھائی اسے کہتا کہ آخرت کی نعمتیں کسی کو مفت نہیں ملتیں چاہیئے کہ اعمال صالحہ


اور کار خیر بجالائے تا کہ آخرت میں استفادہ کر کے نجات پاسکو زیادہ دولت نے تجھے خدا سے غافل کردیا ہے میرے بھائی تکبّر نہ کر غریبوں کے سلام کا جواب دیاکر فقیروں کی دستگیری کیا کر اتنی بڑی دولت سے آخرت کے لئے فائدہ اٹھا نیک کاموں میں شریک ہوا کر یہ نہ کہا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے نہیں کرسکتا: مجھے کام ہے: گناہ اور مستی نہ کیا کر اللہ کے غضب سے ڈر ممکن ہے خدا کوئی عذاب بھیجے اور یہ تمام دولت اور نعمت تجھ سے لے لے اس وقت پشیمان ہوگا لیکن اس وقت کی پشیمانی فائدہ مند نہ ہوگی_

لیکن اس کا وہ مغرور بھائی اس غافل اور نیک بھائی کی نصیحت نہ سنتا اور اپنے ناروا کاموں میں مشغول رہتا ایک دن وہ مغرور شخص اپنے باغ میں گیا جب وہاں پہنچا تو بہت دیر ساکت کھڑا رہا اور گھور گھور کردیکھتا رہا ایک چیخ ماری اور گر پڑا جی ہاں خدا کا عذاب نازل ہوچکا تھا اور باغ کو ویران کر گیا تھا باغ کی دیواریں گرچکی تھیں انچے درخت اور اس کی شاخیں اور میوے جل چکے تھے اور

جب ہوش میں آیا تو گریہ و زاری کی اور افسوس کیا اورکہنے لگا کاش کہ میں اپنے بھائی کی باتوں کو سنتا: کاش میں اپنی دولت خدا کی راہ میں خرچ کرتا کاش کہ میں نیک کاموں میں شریک ہوتا اور واجب حقوق ادا کرتا میرے ہاتھ سے دولت نکل گئی اب نہ دنیا میں میرے پاس کوئی چیز ہے اور نہ آخرت میں یہ ہے اس دولت کا انجام جو خدا کی راہ میں اور اسکے نیک بندوں پر خرچ نہ ہو یہ سب میرے تکبّر اور نادانی کا نتیجہ ہے_


ایک تربیتی کہانی ظالم حریص قارون

قارون حضرت موسی علیہ السلام کے رشتہ داروں میں سے تھا اور بظاہر اس نے آپ کا دین بھی قبول کرلیا تھا نماز پڑھتا تھا تورات پڑھتا لیکن ریا کار اور کمزور عقیدہ کا انسان تھا مکمل ایمان نہیں رکھتا تھا چاہتا تھا کہ لوگ اس سے خوش فہمی رکھیں تا کہ انہیں فریب دے سکے قارون فصلوں کو پیشگی سستا خرید لیتا اور بعد میں انہیں مہنگے داموں پر فروخت کرتا تھا معاملات میں کم تولتا دھوگا اور بے انصافی کرتا سود کھاتا اور جتنا ہوسکتا تھا لوگوں پر ظلم کیا کرتا اسی قسم کے کاموں سے بہت زیادہ دولت اکٹھی کرلی تھی اور اسے ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا تھا قارون خدا پرست نہ تھا بلکہ دولت پرست تھا اپنی دولت عیش و عشرت میں خرچ کرتا تھا بہت عمدہ محل بنایا اور ان کے در و دیوار کو سونے اور مختلف


قسم کے جواہرات سے مزيّن کیا حتّی کہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو سونے اور جواہرات سے مزّین کیا قارون کے پاس سینکڑوں غلام اور کنیزیں تھیں اور ان کے ساتھ برا سلوک کرتا اور انہیں مجبور کرتا کہ اس کے سامنے زمین پر گرپڑیں اور اس کے پاؤں کو بوسہ دیں_

بعض عقلمند مومن اسے نصیحت کرتے اور کہتے کہ اسے قارون یہ تمام باغ اور ثروت کس لئے یہ سب دولت اور مال کس لئے ذخیرہ کر رکھا ہے؟ کیوں لوگوں پر اتنے ظلم ڈھاتے ہو؟ خدا کا کیا جواب دو گے؟ لوگوں کا حق کیوں پامال کرتا ہے؟ غریبوں او رناداروں کی کیوں مدد نہیں کرتا؟ نیک کاموں میں کیوں قدم نہیں اٹھاتا؟ قارون غرور و تکبّر میں جواب دیتا کہ کسی کو ان باتوں کا حق نہیں پہنچتا میں اپنی دولت خرچ کرتا ہوں؟ مومن اسے وعظ کرتے اور کہتے کہ اتنی بڑی دولت حلال سے اکٹھی نہیں ہوتی اگر تو نے بے انصافی نہ کی ہوتی اگر تونے سود نہ کھایا ہوتا تو اتنا بڑا سرمایہ نہ رکھتا بلکہ تو بھی دوسروں کی طرح ہوتا اور ان سے کوئی خاص فرق نہ رکھتا_

قارون جواب میں کہتا نہیں میں دوسروں کی طرح نہیں میں چالاک اور محنتی ہوں میں نے کام کیا ہے او ردولت مند ہوا ہوں دوسرے بھی جائیں کام کریں زحمت اٹھائیں تا کہ وہ بھی دولت مند ہوجائیں میں کس لئے غریبوں کی مدد کروں لیکن مومن اس کی راہنمائی کے لئے پھر بھی کہتے کہ تم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے جب ہی اتنے دولت مند ہوئے ہو اگر تم مزدوروں کے حق دیتے تو اتنے ثروت مند نہ ہوتے


اور وہ اتنے فقیر اور خالی ہاتھ نہ ہوتے اب بھی اگر چاہتے ہو کہ سعادتمند اور عاقبت بخیر ہوجاؤ تو اپنی دولت کو مخلوق خدا کی آسائشے اور ترقی میں خرچ کرو دولت کا انبار لگالینا اچھا نہیں دولت کو ان راستوں میں کہ جسے خداپسند کرتا ہے خرچ کرو لیکن قارون مومنین کا مذاق اڑاتا اور ان کی باتوں پر ہنستا اور غرور اور بے اعتنائی سے انہیں کہتا کہ بے فائدہ مجھے نصیحت نہ کرو میں تم سے بہتر ہوں اور اللہ پر زیادہ ایمان رکھتا ہوں جاؤ اپنا کام کرو اور اپنی فکر کرو

خوشبختی اور سعادت کس چیز میں ہے

ایک دن قارون نے بہت عمدہ لباس پہنا اور بہت عمدہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے محل سے باہر نکلا بہت زیادہ نوکر چاکر بھی اس کے ساتھ باہر آئے لوگ قارون کی عظمت و شکوہ کو دیکھنے کے لئے راستے میں کھڑے تھے اور اس قدر سونے او رجواہرا کے دیکھنے پر حسرت کر رہے تھے بعض نادان اس کے سامنے جھکتے اور زمین پر گرپڑتے اور کہتے کتنا خوش نصیب ہے قارون کتنی ثروت کا مالک اور کتنی سعادت رکھتا ہے خوش حال قارون کتنی اچھی زندگی گزارتا ہے کتنا سعادتمند اور خوشبخت ہے کاش ہم بھی قارون کی طرح ہوتے؟


لیکن سمجھدار مومنین کا دل ان لوگوں کی حالت پر جلتا وہ انہیں سمجھاتے اور کہتے کہ سعادت اور خوش بختی زیادہ دولت میں نہیں ہوا کرتی کیوں اس کے سامنے زمین پر گرپڑتے ہو؟ ایک ظالم انسان کا اتنا احترام کیوں کرتے ہو وہ احترام کے لائق نہیں: اس نے یہ ساری دولت گراں فروشی اور بے انصافی سے کمائی ہے وہ سعادتمند نہیں سعادتمند وہ انسان ہے جو خدا پر واقعی ایمان رکھتا ہو اور اللہ کی مخلوق کی مدد کرتا ہو اور لوگوں کے حقوق سے تجاوز نہ کرتا ہو ایک دن اللہ تعالی کی طرف سے حضرت موسی (ع) کو حکم ہوا کہ دولت مندوں سے کہو کہ وہ زکاة دیں_

حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کا حکم دولت مندوں کو سنایا اور قارون کو بھی اطلاع دی کہ دوسروں کی طرح اپنے مال کی زکوة دے اس سے قارون بہت ناراض ہوا اور سخت لہجے میں حضرت موسی (ع) سے کہا زکوة کیا ہے کس دلیل سے اپنی دولت دوسروں کو دوں وہ بھی جائیں اور کام کریں اور محنت کریں تا کہ دولت کمالیں_

حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا زکوة یعنی اتنی بڑی دولت کا ایک حصّہ غریبوں اور ناداروں کو دے تا کہ وہ بھی زندگی گذارسکیں چونکہ تم شہر میں رہتے ہو اور معاشرے کی فرد ہو اور ان کی مدد سے اتنی کثیر دولت اکٹھی کی ہے اگر وہ تیری مدد نہ کرتے تو تو ہرگز اتنی دولت نہیں کماسکتا تھا مثلا اگر تو بیابان کے وسط میں تنہا زندگی بسر کرتا تو ہرگز اتنا بڑا محل نہ بنا سکتا اور باغ آباد نہ کرسکتا یہ دولت جو تونے حاصل کی ہے


ان لوگوں کی مدد سے حاصل کی ہے پس تیری دولت کا کچھ حصّہ بھی انہیں نہیں دے رہا بلکہ ان کے اپنے حق اور مال کو زکات کے نام سے انہیں واپس کر رہا ہے_

لیکن قارون نے موسی علیہ السلام کی دلیل کی طرف توجہ نہ کی اور کہا اے موسی (ع) یہ کیسی بات ہے کہ تم کہہ رہے ہو زکات کیا ہے ہم نے برا کام کیا کہ تم پر ایمان لے آئے ہیں کیا ہم نے گناہ کیا ہے کہ نماز پڑھتے ہیں اب آپ کو خراج بھی دیں_

حضرت موسی علیہ السلام نے قارون کی تندروی کو برداشت کیا اور نرمی سے اسے کہا کہ اے قارون زکات کوئی میں اپنے لئے تولے نہیں رہا ہوں بلکہ اجتماعی خدمات اور غریبوں کی مدد کے لئے چاہتا ہوں یہ اللہ کاحکم ہے کہ مالدار غریبوں اور ناداروں کا حق ادا کریں یعنی زکوة دیں تا کہ وہ بھی محتاج اور فقیر نہ رہیں اگر تو واقعی خدا پر ایمان رکھتا اور مجھے خدا کا پیغمبر مانتا ہے تو پھر اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردے اگر نماز پڑھتا ہے تو زکوت بھی دے کیونکہ نماز بغیر زکات کے فائدہ مند نہیں ہے تورات کا پڑھنا سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ہے لیکن قارون حضرت موسی علیہ السلام اور مومنین کی نصیحت اور موعظہ کی کوئی پرواہ نہ کی بلکہ اس کے علاوہ مومنین کواذيّت بھی پہنچانے لگا اور حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کرنے لگا یہاں تک تہمت لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا حضرت موسی علیہ السلام قارون کی گستاخی اور سخت دلی سے بہت ناراض ہوئے اور آپ کا دل ٹوٹا اور خداوند عالم سے درخواست


کی کہ اس حریص اور ظالم انسان کو اس کے اعمال کی سزا دے_

حضرت موسی (ع) کی دعا قبول ہوئی

اللہ کے حکم سے زمین لرزی اور ایک شدید زلزلہ آیا اور ایک لحظہ میں قارون کا محل ویران اور زمین بوس ہوگیا اور قارون کو قصر سمیت زمین نگل گئی اور اس حریص کے ظلم کا خاتمہ کردیا قارون خالی ہاتھ آخرت کی طرف روانہ ہواتا کہ وہ اپنے برے کاموں کی سزا کو دیکھے اور اسے عذاب دیا جائے کہ آخرت کا عذاب سخت اور دائمی ہے اس وقت وہ لوگ جو قارون کو سعادتمند سمجھتے تھے اور اس کی دولت کی آرزو کرتے تھے اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی اور کہا کتنی بری عاقبت اور برا انجام ہے یہ قارون نے اپنے مال کو ہاتھ سے نہ دیا اور خالی ہاتھ اور گناہ گار آخرت کی طرف روانہ ہوا تا کہ اپنے کئے کا عذاب چکھے اب ہم نے سمجھا کہ تنہا مال اور دولت کسی کو خوش بخت نہیں کرتی بلکہ خوش بختی خدا پر ایمان اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے میں ہے_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ قارون نے دولت کس طریقہ سے اکٹھی کی تھی؟


۲)___ قارون اپنی دولت کو کہاں خرچ کرتا تھا؟

۳)___ مومن اس سے کیا کہتے تھے اور کس طرح اسے نصیحت کرتے تھے؟

۴)___ زکات سے کیا مراد ہے کس دلیل کی بنا پر اپنی دولت دوسروں کو دی جائے حضرت موسی (ع) نے قارون کے دو سوالوں کا کیا جواب دیا تھا؟

۵)___ کس دلیل سے مال کا کچھ حصّہ فقراء سے تعلق رکھتا ہے؟

۶)___ جب نادان لوگوں نے قارون کا ظاہری جاہ و جلال دیکھا تو کیا کہتے تھے اور کیا آرزو کرتے تھے؟

۷)___ حضرت موسی (ع) زکات کو کن جگہوں پر خرچ کرتے تھے؟

۸)___ کیا قارون واقعاً سعادتمند تھا اور اس کا انجام کیا ہوا؟

۹)___ اپنے ظلم کی کامل سزا کہاں پائے گا؟

۱۰)___ جو لوگ اسے سعادتمند سمجھتے تھے وہ اپنی غلطی سے کیسے مطلع ہوئے اور انہوں نے کیا کہا؟

اس داستان کو اپنے خاندان کے افراد کے سامنے بیان کیجئے اور اس کے متعلق بحث اور گفتگو کیجئے_


چوتھا حصّہ

امامت


پہلا سبق

پیغمبر کا خلیفہ اور جانشین کون ہوسکتا ہے

ہوائی جہاز پر مسافر سوار ہوچکے تھے لیکن ابھی ہوائی جہاز کا پائلٹ نہیں آیا تھا اور وہ آبھی نہیں سکا تھا کسی آدمی کو اس کی جگہ لایا جائے گا کہ جو مسافر وں کو ان کی منزل تک پہنچادے کیا انہیں مسافروں میں سے کسی ایک کوا ہوائی جہاز میں کسی کام کرنے والے کو کسی راہ گیر کو آیا اسے جو ہوائی جہاز چلانے میں مہارت اور آگاہی نہ رکھتا ہو ہوئای جہا زجلانے کے لئے اس پائلٹ کی جگہ بھیج دیا جائے گا؟ کیا اس پر مسافر اعتماد کرسکیں گے اور کیا وہ ہوائی جہاز اڑاسکے گا کون آدمی ایک پائلٹ کا جانشین ہوسکتا ہے؟ یقینا وہ آدمی جو ہوائی جہاز چلانے میں مہارت رکھتا ہو اور اس فن میں کافی معلومات اور آگاہی رکھتا ہو اور خود پائلٹ ہو اس مثال کو دیکھتے ہوئے آپ یہ کہہ سکتے


ہیں کہ کو آدمی پیغمبر(ص) کا جانشین او رخلیفہ ہوسکتا ہے؟

پیغمبر(ص) کا جانشین کیسا ہونا چاہیئے

آیا وہ آدمی جو لوگوں کی ہدایت اہليّت اور اس کے متعلق کامل علم نہ رکھتا ہو وہ پیغمبر کا جانشین ہوسکتا ہے آیا وہ آدمی جو دین اسلام کے قوانین نہ جانتا ہو اور ان میں غلطیاں کرتا اور گناہ کرتا ہو پیغمبر اسلام(ص) کا جانشین اور خلیفہ ہوسکتا ہے اور اس منصب کے لائق ہوسکتا ہے_

کون بہتر جانتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی جانشینی کے لئے کون لائق اور سزاوار ہے خدا بہتر جانتا ہے یا لوگ یقینا خدا بہتر جانتا ہے لہذا خدا ہی پیغمبر اسلام(ص) کی جانشینی کے لئے کسی لائق انسان کو معین کرتا ہے اور پیغمبر(ص) کو حک۴م دیتا ہے کہ علم الہی کو جو اس کو دیا گیا ہے اسے بھی آگاہ کرے پیغمبر(ص) بھی اللہ کے حکم پر علم الہی کو جو اس کو دیا گیا ہے اسے بھی آگاہ کرے پیغمبر(ص) بھی اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہے اور اس کا اپنی جانشینی کے لئے اعلان کرتا ہے پیغمبر(ص) کے جانشین کوامام کہا جاتا ہے_


دوسرا سبق

پیغمبر کا جانشین امام معصوم ہوتا ہے

پیغمبر اللہ کے حکم سے ایک ایسے انسان کو جو امین اور معصوم ہوتا ہے اپنی جانشینی کے لئے چنتا ہے تا کہ وہ اس کا خلیفہ ہو اور اس کے کاموں کو انجام دے امام ایک امین اور معصوم انسان ہوتا ہے کہ جسے خدا لوگوں کی رہبری کے لئے انتخاب کرتا ہے اور اللہ کے فرمان اور حکم سے پیغمبر اسے لوگوں کو بتلاتا اور اعلان کرتا ہے تا کہ وہ اپنے کردار اور گفتار سے لوگوں کی اللہ تعالی کی طرف راہنمائی او رہدایت کرے اور لوگ اپنی زندگی میں اسے اپنے لئے نمونہ قرار دیں اور اس کی پیروی کریں پیغمبر(ص) اللہ تعالی کے حکم سے اپنے علم اور آگاہی کو اس کے اختیار میں قرار دیتا ہے تا کہ لوگوں کی راہنمائی اور رہبری کرسکے امام دین کے قانون اور دستور کو جانتا ہے یعنی خدا اور پیغمبر اسے اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر وہ


اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے امام پیغمبر کی طرح دین کا کامل نمونہ ہوتا ہے اور دین کے پورے احکا اور دستور پر عمل کرتا ہے_

امام پیغمبر(ص) کی طرح نگاہ کی نجاست اور قباحت کو دیکھتا ہے اور اسی علم و آگاہی کی وجہ سے ہرگز گناہ نہیں کرتا بلکہ گناہ سے دور رہتا ہے امام پیغمبر کی طرح نگاہ اور غلطی نہیں کرتا لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کے اقوال اور اعمال کی پیروی کرتے ہیں_

بارہ امام (ع) تمام کے تمام معصوم ہیں یعنی گناہ نہیں کرتے کامل طور پر امین اور صحیح انسان ہیں دین اسلام کے احکام اور قوانین کو ٹھیک اور کامل لوگوں تک پہنچاتے ہیں یعنی اس میں غلطی اور نسیان نہیں کرتے_

سوالات

۱)___کون آدمی پیغمبر کا جانشین ہوسکتا ہے؟

۲)___ کیا گناہ اور خطا کار آدمی مسلمانوں کا امام ہوسکتا ہے اور کیوں؟

۳)___ دین کا کامل نمونہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

۴)___ امام گناہوں سے کیوں دور رہتا ہے؟

۵)___ علم اور آگاہی امام کو کون د یتا ہے؟

۶)___ معصوم ہونے سے کیا مراد ہے؟

۷)___ امام پر اللہ کی کیا ذمہ اری عائد ہوتی ہے؟


تیسرا سبق

عید غدیر

پیغمبر اسلام(ص) اپنی زندگی کے آخری سال حج بجالانے کے لئے تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ بھی اس سال حج میں شریک ہوں اس کی بناپر مسلمانوں نے جو بھی حج کے لئے آسکتے تھے پیغمبر کے اس فرمان کو قبول کیا اور تھوڑی مدت میں مسلمانوں کی کافی تعداد مکہ کی طرف روانہ ہوگئی وہاں حج کی باعظمت عبادت میں شرکت کی اور حج کے پورے اعمال پیغمبر اکرم(ص) سے یاد کئے_

جب حج اور خانہ کعبہ کی زیارت کے اعمال ختم ہوگئے تو قافلے واپس لوٹنے کے لئے تیاری کر کے چل پڑے پیغمبر اسلام(ص) نے بھی قافلوں کے ساتھ مدینہ کی طرف حرکت کی اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز نے میدانوں کی خاموشی کو توڑ دیا تھا موسم بہت گرم تھا اور صحرا آگ برسا


رہا تھا کہ راستے میں پیغمبر اسلام(ص) پر اللہ تعالی کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور یہ پیغام اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبر اسلام (ص) کے لئے آیا_

اے پیغمبر(ص) وہ پیغام جو اللہ تعالی کی طرف سے آپ کی طرف اتارا جاچکا ہے لوگوں تک پہنچا دیجئے اگر اسم میں کوتاہی کی تو آپ(ص) نے کار رسالت ہی انجام نہیں ی_ اللہ آپ(ص) کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا اور کافر اپنے مقصد تک نہیں پہنچیں گے پیغمبر اسلام(ص) وہیں پر فوراً اتر گئے تا کہ اللہ تعالی کے اس حکم پر عمل کریں مسلمانوں کی ایک تعداد کو آواز دی اور فرمایا کہ جتنے قافلے آگے جاچکے ہیں ان کی خبر کرو کہ وہ واپس لوٹ آئیں اور وہ قافلے جو پیچھے رہ گئے ہیں اور ابھی یہاں نہیں پہنچے انہیں کہو کہ جلد وہ یہاں پہنچ جائیں یہ لوگ تیز رفتار اونٹوں پر سوار ہوئے اور تیزی سے ان قافلوں کو جو آگے چلے گئے تھے جا ملے اور انہیں آواز دی ٹھہرو ٹھہرو، واپس لوٹ آؤ، قافلے والوں نے اونٹوں کی مہاریں کھینچیں اور اونٹوں کی گھنٹیاں خاموش ہوگئیں برابر پوچھ رہے تھے کیوں ٹھہریں، کیا خبر ہے، اس گرمی کے عالم میں کیوں رکیں؟ اور واپس لوٹ آئیں''

اونٹ سوار کہتے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے لوٹ آؤ غدیر کے نزدیک میرے پاس اکھٹے ہوجاؤ قافلے واپس لوٹ آئے غدیر کے قریب اپنے سامان کو اتارا اور جو قافلے ابھی تک نہیں پہنچے تھے وہ بھی پہنچ گئے اس طرح ہزاروں مسلمان جو حج سے واپس آرہے تھے اٹھارہ ذی الحجہ کو جمع ہوگئے ظہر کی نماز انہوں نے پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ پڑھی


اس کھے بعد اونٹوں کے پالانوں سے منبر بنایا گیا پیغمبر اسلام(ص) اس منبر پر گئے تا کہ اللہ تعالی کے فرمان کو انجام دیں او روہ اہم پیغام لوگوں تک پہنچادیں تمام لوگ چپ اور منتظر بیٹھے تھے کہ پیغمبر اسلام(ص) کا پیغام سنیں اور دیکھیں کہ وہ اہم پیغام کیا ہے؟

پیغمبر اسلام(ص) نے چند مفید کلمات کے بعد آسمانی آواز میں جو سب تک پہنچ رہی تھی لوگوں سے پوچھا لوگو تمہارا پیشوا اور حاکم کون ہے؟ تمہارا رہبر اور صاحب اختیار کون ہے؟ کیا میں تمہارا رہبر اور پیشوا نہیں ہوں کیا میں تمہارا رہبر اور صاحب اختیار نہیں ہوں سب نے کہا یا رسول اللہ: آپ ہمارے رہبر اور صاحب اختیار ہیں آپ(ص) ہمارے پیشوا ہیں اس کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی (ع) کو آواز دی اور اپنے پہلو میں بیٹھایا اور ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بلند کیا اور لوگوں کو دکھلایا اور بلند آواز میں فرمایا کہ ''جس کا میں پیشوا اور صاحب اختیار ہوں میرے بعد علی ''علیہ السلام'' اس کے پیشوا اور صاحب اختیار ہیں_ اے لوگو اے مسلمانو میرے بعد تمہارے علی (ع) پیشوا اور رہبر ہیں اس کے بعد اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور فرمایا پروردگار علی (ع) کے دوستوں سے دوستی رکھ اور علی (ع) کے دشمنوں سے دشمن رکھ، پروردگار علی (ع) کے دوستوں سے دوستی رکھ اور علی (ع) کے بدخواہوں کو ذلیل و خوار کر ''

اس کے بعد آپ(ص) منبر سے نیچے اترے اپنی پیشانی سے پسینے کو صاف کیا اور ایک آہ بھری اور تھوڑی دیر آرام سے ٹھہرے


اور اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ میرے بھائی اور جانشین علی (ع) کے ہاتھ پر بیعت کریں او راس منصب الہی کی انھیں مبارک باد دیں وہ پیشوا اور امیرالمومنین ہیں_

مسلمان گروہ در گروہ آئے اور حضرت علی (ع) سے ہاتھ ملا کر ان کو مومنین کے منصب رہبری کی مبارک باد دی اور آپ کو امیرالمومنین (ع) کہہ کر پکارا اس لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام اٹھارہ ذی الحجہ کو رہبری اور امامت کے لئے چند گئے رہبری اور امامت کا مقام دین اسلام کا جزء ہے رہبر اور امام کے معيّن کردینے سے دین اسلام کامل طور جاودانی ہوگیا ہے ہم ہر سال اس مبارک دن کو عید مناتے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام کی امامت اور پیشوائی پر خوش ہوتے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام کو مسلمانوں کا رہبر اور امام سمجھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ آپ کی گفتار اور کردار کی پیروی کریں_

سوالات

۱)___ بیعت کا کیا مطلب ہے مسلمانوں نے حضرت علی (ع) کی کیوں بیعت کی تھی اور کیوں آپ(ع) کو مبارک باد دی تھی؟

۲)__ _ ہمارے پیغمبر (ص) نے حضرت علی (ع) کو لوگوں کے لئے امام معین کرنے سے پہلے ان سے کیا پوچھا تھا اور ان سوالوں کا حضرت علی (ع) کے تعارف اور تعيّن سے کیا تعلق تھا؟


۳)___ وہ اہم پیغام کیا تھا کہ جس کے پہنچانے کے لئے اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا؟

۴)___ پیغمبر اسلام(ص) نے اللہ کی وحی سننے کے بعد کیا کیا اور مسلمانوں سے کیا فرمایا؟

۵)___ پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی (ع) کا لوگوں سے کس طرح تعارف کرایا اور آپ(ع) کے حق میں کیا فرمایا ؟

۶)___ غدیر کی عید کون سے دن ہوتی ہے اس عید کے جشن میں ہم کیا کرتے ہیں اور کس چیز کی کوشش کرتے ہیں اس سال غدیر کی عید کس موسم میں آئے گی اور کس مہینے میں_ یاد رکھئے گا اس دن جشن بنائیں اور اپنے دوستوں کو اس جشن میں دعوت دیں_


چوتھا سبق

شیعہ

حضرت علی علیہ السلام پہلے مسلمان ہیں اور بعد پیغمبر اسلام(ص) سب سے افضل ہیں پیغمبر اسلام(ص) کے فرمان کو اچھی طرح سنتے تھے اور پیغمبر(ص) کے احکامات کے کامل مطیع تھے ہر جگہ پیغمبر(ص) کی مدد اور اعانت کرتے تھے دینداری میں کوشش اور جہاد کرتے تھے_

پیغمبر کے زمانے میں ایک گروہ حضرت علی علیہ السلام کا دوست تھا حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ اسلام کی پیش رفت میں کوشش اور جہاد کرتا تھا یہ گروہ تمام حالات میں حضرت علی علیہ السلام کی گفتار، رفتار اور اخلاق میں پیروی کیا کرتا تھا یہ حضرت علی علیہ السلام کی طرح پیغمبر اسلام(ص) کی اطاعت کرتا تھا پیغمبر اسلام(ص) حضرت علی علیہ السلام اور اس ممتاز گروہ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اے علی (ع) آپ(ع) اور


آپ (ع) کے شیعہ روئے زمین پر بہترین انسان ہین اور جب حضرت علی (ع) کو اپنے دوستوں کے ساتھ دیکھتے تو ان کی طرف اشارہ کر کے فرماتے کہ یہ نوجوان اور اس کے شیعہ نجات پائے ہوئے ہیں پیغمبر اکرم(ص) اس ممتاز گروہ کہ جو مکمل ایمان لے آیا تھا شیعہ کے نام سے پکارتے تھے اسی دن سے جو مسلمان رفتار، گفتار اور کردار میں ممتاز تھے اور دینداری میں حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کرتے تھے شیعہ کہلاتے تھے یعنی پیروکار_

پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے بعد مسلمانوں کا وہ ممتاز گروہ جو واقعی ایمان لایاتھا اور پیغمبر اسلام(ص) کے فرمان کا مطیع تھا انہوں نے مکمل طور پر پیغمبر کے فرمان پر عمل کیا اور حضرت علی علیہ السلام کو پیشوائی اور رہبری اور امامت کے لئے قبول کیا اور ان کی مدد اور حمایت کی البتہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے پیغمبر اسلام(ص) کے فرمان کو قبول نہ کیا اور حضرت ابوبکر کو پیغمبر اسلام(ص) کا جانشین شمار کیا اور اس کے بعد حضرت عمر کو دوسرا اور حضرت عثمان کو تیسرا خلیفہ اور حضرت علی علیہ السلام کو چوتھا خلیفہ جانا اس گروہ کو اہلسنّت کہا جاتا ہے یہ دونوں گروہ مسلمان ہیں خدا اور پیغمبر اکرم(ص) اور قرآن کو قبول کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے محیت اور مہربانی کرتے ہیں اور قرآن کی تعلیم اور پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا ہے عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام(ص) کے بعد یکے بعد دیگرے بارہ امام اور رہبر ہیں پہلے امام حضرت علی علیہ السلام ہیں اور بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام ہیں


کیونکہ پیغمبر اسلام(ص) کے حکم کے مطابق آپ کے خلیفہ اورجانشین بارہ ہوں گے_

مذہب شیعہ کو جعفری مذہب بھی کہاجاتا ہے_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ شیعہ کہا کیا مطلب ہے شیعہ اسلام اور دین داری میں کسکی پیروی کرتے ہیں؟

۲)___ مسلمانوں کے کس ممتاز گروہ کا نام شیعہ ہے اور پیغمبر(ص) نے ان کے م تعلق کیا فرمایا ہے؟

۳)__ پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے بعد کن لوگوں نے پیغمبر(ص) کی تعلیمات پر عمل کیا اور کس طرح؟

۴)___ مسلمانوں کے دوسرے گروہ کو کیا کہاجاتا ہے وہ پیغمبر اکرم(ص) کی وفات کے بعد کس کو ان کا جانشین مانتے ہیں؟

۵)___ یہ دونوں گروہ آپس میں کیسے تعلقات رکھتے ہیں اور کن مسائل کی شناخت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں

۶)___ ہمارا عقیدہ پیغمبر(ص) کے جانشینوں کے متعلق کیا ہے؟ ایران کا رسمی مذہب کو ن سا ہے_

اس قسم کے دوسرے سوال بنایئےور ان کے جواب دوستوں سے پوچھئے_


پانچواں سبق

آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام

امام رضا علیہ السلام ایک سواڑ تالیس ہجری گیارہ ذیعقدہ مدینہ منورہ میں متولد ہوئے آپ کے والد حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام تھے اور آپ(ع) کا نام علی (ع) ہے اور رضا کے لقب سے معروف ہوئے اور آپ(ع) کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ تھا_

حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم اور پیغمبر اسلام(ص) کی وصیت کے مطابق اپنے بعد آپ کو لوگوں کا امام معيّن کیا اور اس سے لوگوں کو آگاہ کیا امام رضا علیہ السلام کا علم دوسرے اماموں کی طرح آسمانی اور الہی تھا اسی لئے تمام لوگوں کے علم پر آپ(ع) کے علم کو برتری حاصل تھی طالبان علم اور علماء اور دانشمند آپ(ع) سے علم حاصل کرنے کے لئے آپ (ع) کی خدمت میں آتے اور علوم سے بہرہ مند ہوتے تھے


عیسائی اور یہودی اور دوسرے ادیان کے علماء آپ (ع) کے پاس آتے اور امام علیہ السلام ان سے گفتگو اور بحث و مباحثہ کیا کرتے اور ان مشکل سوالوں کا جواب دیا کرتے تھے اور ان کی راہنمائی اور ہدایت فرمایا کرتے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ (ع) نے کسی کے سوالوں کا جواب نہ دیا ہو یا جواب صحیح نہ دیا ہو آپ (ع) کو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے کثیر علم وجہ سے عالم آل محمد(ص) کہا جاتا تھا آپ کے بہت سے قیمتی ارشادات ہمارے لئے آج بھی مشعل راہ ہیں_

امام رضا علیہ السلام کی امامت کے زمانے میں مامون مسلمانوں کا حاکم اور خلیفہ تھا اور چونکہ وہ لوگوں کو امام رضا علیہ السلام سے دور رکھنا چاہتا تھا امام کو جو مدینہ منورہ میں زندگی بسر کرتے تھے شہر طوس میں بلوایا اور امام علیہ السلام کے سامنے ولی عہد اور خلاقت کے عہدے کی پیش کش کی لیکن امام رضا علیہ السلام نے جو مامون کے مکر و فریب اور منافقت سے آگاہ تھے مامون کی اس پیش کش کو قبول نہ کیا مامون نے بہت زیادہ اصرار کیا امام رضا علیہ السلام چاہتے تھے کہ ولی عہدی کو قبول نہ کریں لیکن مامون کے بہت زیادہ اصرار کے بعد آپ (ع) نے بظاہر ولی عہدی کو قبول کرلیا لیکن شرطر لگادی کہ آپ (ع) حکومت کے کسی کام میں دخل نہیں دیں گے بالآخر مامون نے جو امام کی شخصیت سے سخت خائف تھا اور آپ (ع) کی صلاحیتوں کی وجہ سے خطرے کا احساس رکھتا تھا آپ کو زہر دے کر شہید کردیا_


حضرت امام رضا علیہ السلام نے صفر کی آخری تاریخ کو ۲۰۳ ھ میں طوس میں شہادت پائی اور آپ (ع) کے جسم مبارک کو اسی شہر کے نزدیک کہ جو آج مشہد مقدس کے نام سے مشہور ہے_ دفن کردیا گیا آپ (ع) کی قبر مبارک آج کے دور میں سارے مسلمانوں کے لئے زیارت گاہ ہے_


چھٹا سبق

اسراف کیوں؟

امام رضا علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک آدھا کھایا ہوا پھل زمین پر پڑا ہے آپ (ع) کے خادموں میں سے کسی نے پھل کا کچھ حصّہ کھایا تھا اور باقی کو زمین پر پھینک دیا تھا حضرت امام رضا علیہ السلام اس سے ناراض ہوئے اور اس کے خادم کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ کیوں اسراف کرتے ہو؟ اللہ کی نعمت کے ساتھ کیوں بے پروا ہی کرتے ہو کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ اسراف کرنے والے انسان کو دوست نہیں رکھتا کیا تم نہیں جانتے خدا اسراف کرنے والے انسان کودوست نہیں رکھتا کیا تم نہیں جانتے خدا اسراف کرنے والے کو سخت سزا دے گا اگر تمہیں کسی چیز کی حاجت نہیں تو اسے ضائع نہ کرو اور فضول خرچ نہ کرو بلکہ وہ ان کو دے دو جو اس کے محتاج ہیں_

امام رضا علیہ السلام کے فرمان سے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ خدا


کیوں اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا___؟

____ اور کیوں اسراف نہ کرنا برا ناپسندیدہ فعل ہے___؟

ان دو سوالوں کے جواب دینے کے لئے یہ سوچئے کہ ایک سیب کو تیار ہونے کے لئے کتنی قوت اورتوانائی خرچ ہوتی ہے اور کتنے کام انجام پاتے ہیں تب جاکر ایک سیب بنتا ہے مثلا سوچئے کہ سیب کے پودے کوپڑھنے کے لئے سورج کی کتنی توانائی ضروری ہے کتنی مقدار میں پانی، ہوا معدنی اجزاء خرچ ہوں گے اور کتنے لوگ محنت کریں گے تب جاکر سیب کا ایک دانہ آپ کے ہاتھ تک پہنچے گا سوچئے اس قدر کام او رتوانائی کی قیمتی ہے___؟ جب سیب کا کچھ حصّہ پھینک دیتے ہیں یا کسی اور اللہ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت کو بیجا خرچ کرتے ہیں تو در حقیقت اس تمام توانائی اور محنت کو ضائع کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک دوسرے انسان کو بھی خدا کی نعمتوں سے محروم کرتے ہیں اور اس کے حق کو ضائع کرتے ہیں کیا اسراف کرنا اللہ کی نعمتوں کی حرمت کی منافی نہیں___؟

کیا اسراف کرنا اللہ کی ناشکری نہیں ہے___؟

کیوں اللہ کی نعمتوں کو معمولی شمار کرتے ہیں اور ان کو بیجا خرچ کرتے ہیں___؟

کیا آپ راضی ہیں کہ ایک بچّہ بھوکا سوئے اور آپ اپنی غذا سے تھوڑی مقدار ضائع کردیں یا نیم میوہ کو بغیر کھائے گندگی میں ڈال دیں___؟


کیا آپ راضی ہیں کہ بچّہ جس کے پاس کاغذ اور قلم ہے تحصیل علم سے محروم رہے اور آپ اپنی کاپیاں اور کاغذ بلا وجہ پھاڑ ڈالیں یا انھیں لکھے بغیر ہی ضائع کردیں___؟

کیا یہ درست ہے کہ آپ ضرورت سے زیادہ بجلی صرف کریں اور دوسرے بقدر ضرورت بجلی اور روشنی نہ رکھتے ہوں حالانکہ خدا نے پانی سورج مٹی ہوا اور دوسری نعمتیں تمام انسانوں کے لئے پیدا کی ہیں اور ہر انسان کو حق پہنچتا ہے کہ اللہ کی ان نعمتوں سے استفادہ کرے____؟

اب جب کہ آپ سمجھ چکے ہیں کہ اسراف کرنا گناہ ہے اور بہت برا اور ناپسندیدہ کام ہے تو اس کے بعد اسراف مت کیجئے اب جب کہ آپ جان چکے ہیں کہ خداوند عالم اسراف کرنے والوں کودوست نہیں رکھتا اور سخت سزا دیتا ہے تو اس کے بعد کسی چیز کو فضول اور بیجا خرچ نہ کریں، کسی چیز کو ضائع نہ کریں اور اعتدال کے ساتھ خرچ کریں اس طریقے سے وہ روپیہ جو فضول اور بے فائدہ چیزوں پر خرچ کرتے ہیں بچا کر اپنے دوستوں کے لئے تحفے خرید سکتے ہیں یا اپنے ہمسایوں اور واقف کاروں کی اس سے مدد کرسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں خدا آپ کے اس کام سے خوش ہوگا اور آپ کو اچھی جزاء عنایت کرے گا اور لوگ بھی آپ کو زیادہ دوست رکھیں گے اور آپ کی زیادہ مدد کریں گے


غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ امام رضا (ع) اور دوسرے ائمہ کا علم کیسا ہوتا ہے اور کیوں تمام لوگوں کے علم پر برتری رکھتا ہے؟

۲)___ عالم آل محمد(ص) کسے کہا جاتا تھا اور کیوں ؟

۳)___ امام رضا (ع) خلفاء عباسی کے کس خلیفہ کے ہم عصر تھے؟

۴)___ مامون نے کیوں امام رضا (ع) کو طوس بلوایا اور امام (ع) سے کیا پیش کش کی؟

۵)___ امام رضا (ع) نے ولی عہدی کو کس شرط پر قبول کیا اور کیوں؟

۶)___ ماموں نے امام (ع) کو کیوں شہید کیا؟

۷)___ امام رضا (ع) کی شہادت کس سال او رکس دن ہوئی؟

۸)___ اسراف سے کیا مراد ہے امام رضا (ع) نے اسراف کے متعلق کیا فرمایا؟

۹)___ اسراف کیوں نہ کریں اعتدال برتنے سے کون سے کام انجام دے سکتے ہیں؟


ساتواں سبق

نویں امام ''حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

ہمارے نویں امام حضرت امام محمد تقی علیہ السلام حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرزند ہیں آپ (ع) ایک سوپچا نوے ۱۹۵ ہجری ماہ رمضان میں مدینہ منورہ میں متولد ہوئے آپ (ع) کے والد حضرت امام رضا علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اور پیغمبر اسلام (ص) کی وصیت کے تحت آپ (ع) کو اپنے بعد لوگوں کا امام معيّن فرمایا اس سے لوگوں کو آگاہ کیا امام محمد تقی علیہ السلام امام جواد کے نام سے بھی مشہور ہیں آپ (ع) بچپن ہی سے اللہ تعالی کے ساتھ خصوصی ربط رکھتے تھے اور اسی سن میں لوگوں کی دینی مشکلات کو حل کرتے تھے اور ان کی راہنمائی اور رہبری فرماتے تھے بہت بڑے بڑے علماء آپ (ع) کی خدمت میں آتے اور بہت سخت اور مشکل دینی اور عملی مسائل آپ (ع) سے پوچھتے امام جواد علیہ السلام ان کے تمام مشکل


سوالوں کا آسانی کے ساتھ جواب دیتے تھے بعض لوگ جو آپ (ع) کے اللہ کے ساتھ خاص تعلق سے مطلع نہ تھے آپ (ع) کے علمی پایہ سے تعجب کرتے اور کہتے تھے کہ اس کمسن بچّے نے کہاں سے اتنا زیادہ علم حاصل کرلیا ہے اس بچے کا علم کیسے تمام بزرگ علماء کے علم پر برتری حاصل کرگیا ہے انہیں علم نہ تھا کہ امام کو علم کسی سے پڑھ کر حاصل نہیں ہوا کرتا بلکہ امام (ع) کا علم اللہ کی طرف سے آسمانی ہوا کرتا ہے انہیں علم نہیں تھا کہ خدا جس کی روح کو چاہے اپنے سے مرتبط کردیتا ہے خواہ بچہ ہو یا بڑا اور اسے تمام لوگوں سے زیادہ علم دے دیتا ہے امام محمد تقی علیہ السلام بچپن ہی سے بہترین صفات انسانی کے مالک تھے

تقی یعنی زیادہ پرہیزگار تھے

جواد: یعنی زیادہ سخاوت اور عطاء کرنے والے تھے مطلع اور روشن فکر تھے اور لوگوں کے لئے تحصیل علم کی کوشش کرتے تھے_

معتصم عباسی ظالم خلیفہ تھا اور آپ (ع) کی روشن فکری کو اپنی قوت کے خاتمے کا سبب جانتا تھا لوگوں کے بیدار ہوجانے اور حقائق سے مطلع ہوجانے سے ڈرتا تھا اور امام جواد علیہ السلام کی سخاوت تقوی اور پرہیزگاری سے خائف تھا اسی لئے حضرت امام جواد کو شہر مدینہ سے اپنے دارالخلافہ بغداد بلایا اور چند مہینوں کے بعد شہید کردیا_

امام جواد علیہ السلام کی عمر شہادت کے وقت پچیس سال سے زیادہ نہ تھی آپکے جسم مبارک کو بغداد شہر کے نزدیک جو آج کاظمین کے نام سے مشہور ہے آپ کے جد مبارک حضرت موسی علیہ السلام


کے پہلو میں دفن کیاگیا_

آپ (ع) کی ذات پر سلام اور درود ہو''


آٹھواں سبق

گورنر کے نام خط

حج کی باعظمت عبادت کو میں امام جواد علیہ السلام کے ساتھ بجالایا اور جب حج کے اعمال اور مناسک ختم ہوگئے تو میں الوداع کے لئے امام (ع) عالی مقام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حکومت نے مجھ پر بہت زیادہ ٹیکس دیا ہے میں اس کی ادائے گی کی طاقت نہیں رکھتا آپ سے خواہاں ہوں کہ ایک خط آپ (ع) شہر کے حاکم کے نام لکھ دیجئے اور سفارش فرمایئےہ وہ مجھ سے نرمی اور خوش اسلوبی سے پیش آئے میں نے عرض کی کہ ہمارے شہر کا حاکم آپ (ع) کے دوستوں اور شیعوں سے ہے_ یقینا آپ (ع) کی سفارش اس پر اثر کرے گی امام جواد علیہ السلام نے کاغذ اور قلم لیا اور اس مضمون کا خط لکھا_

بسم اللہ الرحمن الرحیم سلام ہو تو پر اور اللہ کے لائق بندوں


پراے سیستان کے حاکم قدرت اور حکومت اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے جو تیرے اختیار میں دی گئی ہے تا کہ تو خدا کے بندوں کا خدمت گزار ہو تو اس قدرت اور توانائی سے اپنے دینی بھائیوں کی مدد کر جو چیز تیرے لئے تنہا باقی رہے گی وہ تیری نیکی اور مدد ہوگی جو تو اپنے بھائیوں اور ہم مذہبوں کے لئے کرے گا____ یاد رکھو کہ خدا قیامت کے دن تم سے تمام کاموں کا حساب لے گا اور معمولی کام بھی اللہ سے مخفی نہیں ہے

محمد بن علی الجواد (ع)

میں نے آپ (ع) سے خط لیا اور خداحافظ کہتے ہوئے اپنے شہر کی طرف لوٹ آیا اس پر عظمت خط کی اطلاع پہلے ہی سے اس حاکم کو ہوچکی تھی وہ میرے استقبال کے لئے آیا اور میں نے وہ خط اسے دیا اس نے خط لیا اور اسے چوما اور کھولا اور غور سے پڑھا میرے معاملہ میں اس نے تحقیق کی جس طرح میں چاہتا تھا اس نے میرے ساتھ نیکی اور نرمی برتی اس کے بعد اس نے تمام لوگوں سے عدل اور انصاف برتنا شروع کردیا_

غو رکیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ حضرت محمد تقی (ع) کس سال اور کس مہینے میں پیدا ہوئے؟

۲)___ لوگوں کو کس بات پر تعجب ہوتا تھا اور کیا کہتے تھے؟


۳)___ وہ کس چیز سے مطلع نہ تھے کہ اس طرح کا تعجب کرتے تھے؟

۴)___ تقی اور جواد کے معنی بیان کیجئے؟

۵)___ معتصم خلیفہ نے حضرت جواد (ع) کو بغداد کیوں بلایا؟

۶)___ حضرت امام محمد تقی (ع) نے کس عمر میں وفات پائی؟

۷)___ آپ (ع) کے جسم مبارک کو کہاں دفن کیا گیا؟

۸)___ امام جواد (ع) نے سیستان کے حاکم کو کیا لکھا اور کس طرح آپ (ع) نے اسے نصیحت کی؟

۹)___ حاکم نے امام (ع) کے خط کے احترام میں کیا کیا؟

۱۰)___ آپ نے امام (ع) کے خط سے کیا سبق لیا ہے اور اس واقعہ سے کیا درس لیا ہے؟


نواں سبق

دسویں امام حضرت امام علی نقی علیہ السلام

حضرت امام علی نقی علیہ السلام امام محمدتقی علیہ السلام کے فرزند ہیں پندرہ ذی الحجہ دو سو بارہ ہجری میںمدینہ کے نزدیک ایک دیہات میں متولد ہوئے حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اللہ کے حکم اور پیغمبر (ص) کی وصیت کے مطابق آپ (ع) کو اپنی شہادت کے بعد لوگوں کے لئے امام اور رہبر معيّن کیا امام علی نقی علیہ السلام امام ہادی (ع) کے نام سے بھی مشہور تھے اپنے والد کی طرح آپ (ع) بھی بچپن ہی سے خداوند عالم کے ساتھ خاص تعلق رکھتے تھے آپ (ع) کم عمر ہونے کے باوجود منصب امامت پر فائز ہوئے اور لوگوں کو اس مقام سے راہنمائی اور رہبری فرماتے تھے_

امام علی نقی علیہ السلام اسی چھوٹی عمر سے ایک ایسے انسان


تھے جو لوگوں کے لئے نمونہ تھے ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک تھے اور آپ (ع) انسانی صفات حسنہ سے مزيّن تھے اسی لئے آپ (ع) کو نقی یعنی پاک او رہادی یعنی ہدایت کرنے والا بھی کہاجاتا ہے امام علی نقی (ع) محنت اور بہت کوشش سے لوگوں کی ہدایت اوررہنمائی فرماتے تھے اور زندگی کے احکام انہیں بتلایا کرتے لوگ بھی آپ (ع) سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے اور آپ (ع) کی رہنمائی اور علم و بینش سے استفادہ کیا کرتے تھے متوکل عباسی ظالم اور خونخوار خلیفہ تھا وہ امام علی نقی علیہ السلام سے حسد کرتا تھا اور امام علیہ السلام کی قدرت اور مقبولیت سے خائف تھا اسی لئے آپ (ع) کو مدینہ منورہ سے سامرہ شہر کی طرف بلوایا اور ایک فوجی مرکز میں آپ (ع) کو نظر بند کردیا امام علی نقی علیہ السلام نے اس دنیا میں بیالیس سال عمر گزاری اور اس مدت میں ظالم عبّاسی خلیفہ کا ظلم و ستم آپ (ع) پر ہمیشہ رہا اور آپ (ع) اس کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرتے رہے آخر کار تیسری رجب دوسو چوّن ہجری کو سامرہ میں شہید کردیئےئے آپ کے جسم مبارک کو اسی شہر سامرہ میں دفن کردیا گیا_


دسواں سبق

نصیحت امام (ع)

متوکل شراب خوار و ظالم حاکم تھادین اسلام اور قرآن کے قوانین پر عمل نہیں کیا کرتا اپنے اقتدار اور خلاقت کی حفاظت کے لئے ہر قسم کا ظلم کا ارتکاب کرتا تھا لوگوں کی بہت زیادہ عقیدت جو امام علی نقی علیہ السلام سے تھی اس سے وہ رنج و تکلیف میں رہتا اور امام (ع) پاک کے نفوذ اور قدرت سے ڈرتا رہتا تھا ایک دفعہ آدھی رات کو اپنے خوبصورت تخت پر بیٹھا تھا اور اپنے ہم نشینوں کے ساتھ مستی اور عیش و نوش میں مشغول تھا گانے والے اس کے لئے شعر پڑھ رہے تھے اور آلات غنا سے خاص راگ بجا رہے تھے اس کے محل کی دیواریں طلائی چراغوں سے مزيّن تھیں اور محل کے اردگرد مسلح افراد کو پہرہ پر لگا رکھا تھا اچانک مستی کے عالم میں سوچا کہ کیا ممکن ہے کہ یہ تمام قدرت اور با عظمت زندگی میرے


ہاتھ سے لے لی جائے؟

آیا کوئی ایسا آدمی موجود ہے کہ یہ تمام عیش و نوش اور زیبا زندگی کو میرے ہاتھ سے لے لے پھر اپنے آپ کو خود ہی جواب دیا کہ ہاں حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو حبشے شیعہ اپنا امام مانتے ہیں وہ ایک ہے جو ایسا کرسکتا ہے کیونکہ لوگ اسے بہت زیادہ دوست رکھتے ہیں اس فکر سے پریشان ہوا اور چیخا کہ فوراً علی بن محمد(ص) کو گرفتار کر کے یہاں لے آؤ ایک گروہ جو اس کے حکم کے اجراء کے لئے معيّن تھا یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنی آزادی اور انسانیت کو فراموش کر رکھا تھا امام علی بن محمد علیہ السلام کے گھر ہجوم کر کرے آئے اور انہوں نے دیکھا کہ امام علی نقی (ع) رو بقبلہ بیٹھے آسمانی زمزمہ کے ساتھ قرآن پڑھ رہے ہیں آپ کو انہوں نے گرفتار کیا اور اس کے قصر میں لے گئے امام ہادی علیہ السلام قصر میں آہستہ سے داخل ہوئے اس وقت آپ کے چہرہ مبارک سے نور پھوٹ رہا تھا اور اپ آرام و سکون سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ رہے تھے متوکل نے خون آلود نگاہوں سے غصّے کے عالم میں امام ہادی علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر نگاہ ڈالی اور اس سابقہ فکر کا امام علیہ السلام کے متعلق اعادہ کیا اور گویا چاہتا تھا کہ اسی وقت امام علیہ السلام کو قتل کردے مگر اس نے سوچا کہ امام علیہ السلام کو خاص مہمانوں اور ہم نشینوں کی آنکھوں میں معمولی قرار دے لہذا بے ادبی سے کہا اے علی بن محمد (ص) ہماری مجلس کو گرماؤ اور ہمارے لئے کچھ شعر پرہو ہم چاہتے ہیں کہ تمہاری شعر خوانی کی آواز سے خوش اور شادمان ہوں_


امام ہادی علیہ السلام ساکت رہے اور کچھ جواب نہ دیا متوکل نے دوبارہ مذاق اور مسخرہ کے لہجے میں کہا کہ اے علی (ع) بن محمد(ص) ہماری مجلس کو گرم کرو اور ہمارے لئے اشعار پڑھو امام علی نقی علیہ السلام نے اپنا سر نیچے کیا اور متوکل کی بے حیاء آنکھوں کی طرف نہیں دیکھا اور خاموش رہے متوکل نے کہ جس میں مستی اور غصّہ آپس میں ملے ہوئے تھے بے ادبی اور بے شرمی سے پھر اسی سابقہ جملے کی تکرار کی اور آخر میں کہا کہ لازمی طور پر آپ (ع) ہمارے لئے پڑھیں اس وقت امام علیہ السلام نے ایک تند نگاہ اس ظالم ناپاک مست کے چہرے پر ڈالی اور فرمایا اب جب کہ میں مجبور ہوں کہ شعر پڑھوں تو سن اس کے بعد آپ (ع) نے عربی کے چند اشعار پڑھے کہ بعض شعروں کا ترجمہ یہ ہے_

کتنے اقتدار کے مالکوں نے اس جہان میں اپنی راحت کے لئے پہاڑوں یا میدانوں کے دامن میں محل تعمیر کیئے اور تمام کو آراستہ اور مزین کیا اور قصر کے اطراف میں اپنی جان کے خطرے کے پیش نظر مسلح محافظ اور نگہبان قرار دیئے تا کہ یہ تمام اسباب انہیں موت کے پنیجے سے بچا سکیں لیکن انہیں موت نے اچانک گھیرلیا ان پلید انسانوں کا گریبان پکڑا انہیں ذلت و خواری سے ان کے محلوں سے باہر نکالا اور وہ اپنے اعمال کے ساتھ یہاں سے آخرت کی منزل کی طرف چلے گئے ان کے ناز پروردہ جسم آنکھوں


سے اوجھل خاک میں چلے گئے لیکن ان کی روح

عالم برزخ میں عذاب میں مبتلا ہوگئی_

اسی مضمون کے اشعار امام علیہ السلام نے اور بھی پڑھے تمام مہمان خاموش بیٹھے تھے اور ان اشعار کے سننے سے لرز رہے تھے متوکل بھی باوجود سنگ دل اور بے رحمی کے دیوانوں کی طرح کھڑا ہوگیا تھا اور لرز رہا تھا_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ امام علی نقی (ع) کس سال اور کس مہینے اور کس دن متولد ہوئے ؟

۲)___ آپ (ع) کو کس نے امامت کے لئے معین کیا اور کس کے حکم سے؟

۳)___ نقی اور ہادی کے کیا معنی ہیں؟

۴)___ آپ (ع) کو متوکل نے کیوں سامرہ بلوایا؟

۵)___ سامرہ میں متوکل آپ (ع) سے کیسا سلوک کرتا تھا؟

۶)___ امام علی نقی (ع) کس سال شہید ہوئے آپ (ع) کے جسم مبارک کو کہاں دفن کیا گیا؟

۷)___ متوکل کس قسم کا حاکم تھا؟

۸)___ متوکمل امام ہادی (ع) سے کیوں دشمنی رکھتا تھا اور اس کو کس چیز کا ڈر تھا؟

۹)___ متوکل نے امام ہادی علیہ السلام سے کس چیز کا


تقاضا کیا تھا؟ اور اس سے اس کی غرض کیا تھی؟

۱۰)___ امام علی نقی علیہ السلام نے اشعار کے ذریعہ اس سے کیا کہا؟

۱۱)___ امام علیہ السلام کے اس کردار سے کیا سبق حاصل کرنا چاہیئے؟


گیارہواں سبق

گیارہوں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام آٹھ ربیع الثانی دوسو تبّیس ہجری میں مدینہ منورہ میں متولد ہوئے آپ (ع) کے والد امام علی نقی علیہ السلام نے اللہ کے حکم اور پیغمبر اسلام (ص) کی وصيّت کے تحت آپ (ع) کو اپنے بعد کے لئے لوگوں کا امام اور پیشوا معيّن کیا امام حسن عسکری علیہ السلام بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح لوگوں کی رہنمائی اور تربیت کرتے تھے اور ان کو توحید اور اللہ کی اطاعت کی طرف ہدایت فرمایا کرتے تھے اور شرک اور ظالموں کی اطاعت سے روکتے تھے عباسی ظالم خلفاء امام علیہ السلام کی تربیت کے طریقے کو اپنی خواہشات کے خلاف سمجھتے تھے لوگوں کی آگاہی اور بیداری سے خوف زدہ تھے اسی لئے امام علیہ السلام کے سا تھ دشمنی رکھتے تھے اور آپ کو مختلف قسم کے آزار دیا کرتے تھے_ حق


پسند لوگوں کو آپ سے نہ ملنے دیتے تھے اور آپ کے علم و فضل اور گراں بہا راہنمائی سے آزادنہ طریقے سے استفادہ کرنے دیتے تھے اور بالآخر آپ کو ظالم عباسی خلیفہ اپنے باپ کی طرح آپ کو سامرہ لے گیا اور وہاں قید کردیا اس نے آپ (ع) کو تکلیف دینے کے لئے بدخصلت اور سخت قسم کے لوگ معین کر رکھتے تھے لیکن امام عسکری علیہ السلام نے اپنے اچھے اخلاق سے ایسے افراد کی بھی تربیت کردی تھی اور ان میں سے بعض مومن اورمہربان انسان بن گئے تھے چونکہ امام علیہ السلام کو ایک فوجی مرکز میں نظر بند کر رکھا تھا اسی لئے آپ کے نام حسن کے ساتھ عسکری کا اضافہ کردیا گیا کیوں کہ عسکر کے مغنی لشکر کے ہیں_

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اس مدت میں کہ جب لوگوں کی نگاہ سے غائب تھے اور شیعوں کی آپ (ع) سے ملاقات ممنوع قرار دی گئی تھی ان لوگوں کو فراموش نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے لئے خطوط لکھا کرتے تھے اور ان کی ذمہ داریاں انہیں یاد دلاتے تھے_

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنی تمام عمر لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف ہدایت فرماتے رہے اور توحید پرستی کی طرف دعوت دیتے رہے اور لوگوں کو ظالم کی اطاعت سے روکتے رہے اور آخر کار خونخوار عباسی خلفاء کے ساتھ دشمنی کے نتیجے میں اٹھائیس سال کی عمر میں شہادت کے بلند مرتبہ تک پہنچے آپ کی شہادت آٹھ ربیع الاول دوسو ساٹھ ہجری میں سامرہ کے شہر میں واقع ہوئی اور آپ (ع) کے جسم مبارک کو آپ (ع) کے والد ماجد کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا بہت زیادہ سلام ہوں آپ (ع) پر اور راہ خدا کے شہیدوں پر_


بارہواں سبق

امام حسن عسکری (ع) کا خط

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے قم میں علی بن حسین قمی (ع) کو جو ایک عالم تھے اس طرح کا ایک خط لکھا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم اے ہمارے مورد اعتماد عالم فقیہ عالی مقام اے علی بن حسین قمی خداوند عالم تجھے نیک کاموں میں توفیق دے اور تیرے اولاد کو نیک اور لائق بنائے تقوی اور پرہیزگاری کو مت چوڑنا نماز اول وقت بڑھا کرو اور اپنے مال کی زکاة دیا کرو کیوں کہ جو اپنے مال کی زکاة ادا نہ کرے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی دوسروں کی لغزش اور برائی کو معاف کردیا کہ جب غصّہ آئے تو اپنا غصّہ پی جایا کرو اپنے رشتہ داروں اور


قرابتداروں پر احسان کیا کرو اور خوش اخلاقی سے پیش آیا کرو اپنے دینی بھائیوں سے ہمدردی کیا کرو ہر حالت میں لوگوں کے حوائج پورا کرنے کی کوشش کیا کرو لوگوں کی نادانی اور ناشکری پر صبر کیا کرو احکام دین اور قوانین قرآن کے سمجھنے کی کوشش کیا کرو کاموں میں اس کے انجام کو سوچا کرو زندگی میں کبھی بھی قرآن کے دستور سے نہ ہٹنا لوگوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا کرو اور خوش اخلاقی اختیار کرو لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم دیا کرو اور برے اور ناشائستہ کاموں سے روکا کرو اپنے آپ کا گناہ اور برے کاموں میں ملوث نہ کیا کرو تجہد کی نماز کو منت چوڑنا کیونکہ ہمارے پیغمبر اکرم (ص) حضرت علی (ع) سے فرمایا کرتے تھے_

اے علی (ع) کبھی تہجد کی نماز ترک نہ کرنا اے علی بن حسین قمی جو شخص بھی تہجد کی نماز سے لاپواہی کرے وہ اچھے مسلمانوں میں سے نہیں ہے خود تہجد کی نماز کو ترک نہ کرو اور ہمارے شیعوں کو بھی کہنا کہ وہ اس پر عمل کریں دین کے دستور پر عمل کرنے میں صبر کرو اور امید سے پوری کامیابی کے لئے کوشش کرنا ہمارے شیعہ موجودہ دنیا کے حالات سے ناخوش ہیں اور پوری کامیابی کے لئے کوشش کرتے ہیں تا کہ میرا فرزند مہدی (عج) کہ جس


کے ظہور کی پیغمبر اسلام (ص) نے خوش خبری دی ہے ظاہر ہوجائے اور دنیا کو لائق مومنین اور پاک شیعوں کی مدد سے عدل و انصاف سے پر کردے آگاہ رہو کہ بالآخر لائق اور پرہیزگار لوگ ہی کامیاب ہوں گے تم پراور تمام شیعوں پر سلام ہو_

حسن بن علی (ع)

سوالات

۱)___ امام حسن عسکری (ع) کس سال اور کس مہینے اور کس دن پیدا ہوئے ہیں؟

۲)___ عباسی خلیفہ نے کس لئے آپ (ع) کو سامرہ شہر میں نظر بند کردیا تھا؟

۳)___ امام (ع) کی رفتار و گفتار نے حکومت کے عملے پر کیا اثر چھوڑا تھا؟

۴)___ عسکر کے کیا معنی ہیں اور گیارہوںامام (ع) کو کیوں عسکری (ع) کہا جاتا ہے؟

۵)___ امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کہاں واقع ہوئی او رکس سال اور کس مہینے میں؟

۶)___ حضرت امام حسن عسکری (ع) نے جو خط علی بن حسین قمّی کو لکھا تھا اس میں نماز اور زکاة کے متعلق کیا لکھا تھا؟


۷)___ امام (ع) نے رشتہ داروں کے ساتھ کیسے سلوک کا حکم دیا ہے؟ اور آپ اپنے رشتہ داروں سے کیسا سلوک کرتے ہیں؟

۸)___ امام حسن عسکری (ع) نے اپنے فرزند حضرت مہدی عج کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۹)___ تہجد کی نماز کے پڑھنے کا طریقہ کسی اہل علم سے پوچھئے


تیرہواں سبق

بارہویں امام حضرت حجت امام زمانہ حضرت مہدی (عج)

امام زمانہ (ع) پندرہ شعبان دوسو بچپن ہجری سامرہ شہر میں متولد ہوئے آپ (ع) کی والدہ ماجدہ کا نام نرجس خاتون تھا اور آپ (ع) کے والد امام حسن عسکری علیہ السلام تھے آپ (ع) کے والد نے پیغمبر اسلام(ص) کے نام پر آپ (ع) کا نام محمد (ص) رکھا_

بارہویں امام مہدی (ع) ، قائم، امام زمانہ (عج) کے نام سے مشہور ہیں پیغمبر اکرم (ص) بارہویں امام (ع) کے متعلق اس طرح فرمایا ہے:

امام حسین (ع) کا نواں فرزند میرے ہم نام ہوگا اس کا لقب مہدی ہے اس کے آنے کی میں مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہوں:

ہمارے تمام ائمہ (ع) نے امام مہدی (ع) کے آنے کا مدہ اور خوشخبری


دی ہے اور فرمایا ہے: کہ

امام حسن عسکر ی(علیہ السلام) کا فرزند مہدی (ع) ہے کہ جس کے ظہور اور فتح کی تمہیں خوشخبردی دیتے ہیں

ہمارا امام مہدی (ع) بہت طویل زمانہ تک نظروں سے غائب رہے گا ایک بہت طویل غیبت کے بعد خدا اسے ظاہر کرے گا اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے پر کردے گا:

امام زمانہ پیدائشے کے وقت سے ہی ظالموں کی نگاہوں سے غائب تھے خدا و پیغمبر اسلام (ص) کے حکم سے علیحدہ زندگی بسر کرتے تھے صرف بعض دوستو کے سامنے جو با اعتماد تھے ظاہر ہوتے تھے اور ان سے گفتگو کرتے تھے حضرت امام حسن عسکری (ع) نے اللہ تعالی کے حکم اور پیغمبر اکرم (ص) کی وصيّت کے تحت آپ (ع) کو اپنے بعد کے لئے لوگوں کا امام معيّن فرمایا:

امام زمانہ (ع) اپنے والد کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے اور بچپن سے ہی اس خاص ارتباط سے جو وہ خدا سے رکھتے اور اللہ نے انہیں علم عنایت فرمایا تھا، لوگوں کی رہنمائی اور فرائض امامت کو انجام دیا کرتے تھے اللہ نے اپنی بے پناہ قدرت سے آپ (ع) کو ایک طویل عمر عنایت فرمائی ہے اور آپ (ع) کو حکم دے دیا ہے کہ غیبت اور پردے میں زندگی گزاریں اور پاک دلوں کی اللہ کی طرف رہنمائی فرمائیں اب حضرت حجت امام زمانہ (عج) نظروں سے غائب اور پوشیدہ ہیں لیکن لوگوں کے درمیان آمد و رفت کرتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور اجتماعات میں بغیر اس کے کہ کوئی آپ (ع) کو پہچان سکے شرکت


فرماتے ہیں اس لحاظ سے آپ (ع) پر جو اللہ نے ذمہ داری ڈال رکھی ہے اسے انجام دیتے ہیں اور لوگوں کو فیض پہنچاتے ہیں اور لوگ بھی اسی طرح جس طرح سورج میں آجانے کے باوجود اس سے فیض اٹھاتے ہیں آپ (ع) کے وجود گرامی سے با وجودیکہ آپ غیبت میں ہیں فائدہ اٹھاتے ہیں_

غیبت اور امام زمانہ (ع) کا ظہور

امام زمانہ (ع) کی غیبت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک دنیا کے حالات حق کی حکومت قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں اور عالمی اسلامی حکومت کی تاسیس کے لئے مقدمات فراہم نہ ہوجائیں جب اہل دنیا کثرت مصائب اور ظلم و ستم سے تھک جائیں گے اور امام زمانہ (ع) کا ظہور خداوند عالم سے تہہ دل سے چاہیں گے اور آپ (ع) کے ظہور کے مقدمات اور اسباب فراہم کردیں گے اس وقت امام زمانہ (ع) اللہ کے حکم سے ظاہر ہوں گے اور آپ (ع) اس قوت اور طاقت کے سبب سے جو اللہ نے آپ کو دے رکھی ہے ظلم کا خاتمہ کردیں گے اور امن و امان واقعی کو توحید کے نظریہ کی اساس پر دنیا میں رائج کریں گے ہم شیعہ ایسے پر عظمت دن کے انتظار میں ہیں اور اس کی یاد میں جو در حقیقت ایک امام اور رہبر کامل


کی یاد ہے اپنے رشد اور تکامل کے ساتھ تمام عالم کے لئے کوشش کرتے ہیں اور حق پذیر دل سے امام مہدی (ع) کے سعادت بخش دیدار کے متمنّی ہیں اور ایک بہت بڑے الہی ہدف میں کوشاں ہیں اپنی اور عام انسانوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور آپ کے ظہور اور فتح کے مقدمات فراہم کر ر ہے ہیں_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ بارہویں امام حضرت مہدی (ع) کس مہینے متولد ہوئے؟

۲)___ پیغمبر اسلام (ص) نے بارہویں امام (ع) کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۳)___ ہمارے دوسرے ائمہ نے امام مہدی (ع) کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۴)___ امام زمانہ (ع) کس کے حکم سے غائب ہوئے ہیں؟

۵)___ اب لوگ امام زمانہ (ع) کے وجود سے کس طرح مستفید ہو رہے ہیں؟

۶)___ امام زمانہ کی غیبت کب تک رہے گی؟

۷)___ جب امام زمانہ (ع) اللہ کے حکم سے ظاہر ہوں گے تو کیا کام انجام دیں گے؟

۸)___ ہم شیعہ کس دن کے انتظار میں ہیں امام زمانہ (ع) کے ظہور کے مقدمات کیسے فراہم کرسکتے ہیں؟


چودہواں سبق

شیعہ کی پہچان

امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے اصحاب میں سے ایک جابر نامی صحابی سے یہ فرمایا اے جابر کیا صرف اتنا ہی کافی ہے کہ کوئی کہہ دے کہ میں شیعہ ہوں اور اہل بیت (ع) پیغمبر (ص) اور ائمہ (ع) کو دوست رکھتا ہوں صرف یہ دعوی کافی نہیں ہے خدا کی قسم شیعہ وہ ہے جو پرہیزگار ہو اور اللہ کے فرمان کی مکمل اطاعت کرتا ہو اس کے خلاف کوئی دوسرا کام نہیں کرتا اگر چہ کہتا رہے کہ میں علی علیہ السلام کو دوست رکھتا ہوں اور اپنے آپ کو شیعہ سمجھے اے جابر ہمارے شیعہ ان نشانیوں سے پہچانے جاتے ہیں سچے امین با وفا ہمیشہ اللہ کی یاد میں ہوں نماز پڑھیں روزہ رکھیں قرآن پڑھیں ماں باپ سے نیکی کریں ہمسایوں کی مدد کریں یتیموں کی خبر گری کریں اور ان کی دلجوئی کریں لوگوں کے بارے میں سوائے اچھائی


کے اور کچھ نہ کہیں لوگوں کے مورد اعتماد اور امین ہوں_

جابر نے جو امام (ع) کے کلام کو بڑے غور سے سن رہے تھے تعجب کیا اور کہا: اے فرزند پیغمبر خدا (ص) مسلمانوں میں اس قسم کی صفات کے بہت تھوڑے لوگ ہم دیکھتے ہیں امام (ع) محمد باقر علیہ السلام نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فرمایا شاید خیال کرو کہ شیعہ ہونے کے لئے صرف ہماری دوستی کا ادّعا ہی کافی ہے نہیں اس طرح نہیں ہے جو یہ کہتا ہے کہ میں علی علیہ السلام کو دوست رکھتا ہوں لیکن عمل میں ان کی پیروی نہیں کرتا وہ علی (ع) کا شیعہ نہیں ہے بلکہ اگر کوئی کہے کہ میں پیغمبر (ص) کو دوست رکھتا ہوں اور آپ (ص) کی پیروی نہ کرے تو اس کا یہ ادّعا اسے کوئی فائدہ نہ دے گا حالانکہ پیغمبر (ص) علی (ع) سے بہتر ہیں اے جابر ہمارے دوست اور ہمارے شیعہ اللہ کے فرمان کے مطیع ہوتے ہیں جو شخص اللہ کے فرمان پر عمل نہیں کرتا اس نے ہم سے دشمنی کی ہے تمہیں پرہیزگار ہونا چاہیئے اور آخرت کی بہترین نعمتوں کے حاصل کرنے اورآخرت کے ثواب کو پانے کے لئے اچھے اور نیک کام انجام دینے چاہیے سب سے بہتر اوربا عزّت انسان اللہ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو_

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱)___ شیعہ کو کیسا ہونا چاہیئے وہ کن علامتوں اور نشانیوں سے پہچانا جاتا ہے؟

۲)___ کیا صرف ادّعا کرنا کہ علی علیہ السلام کو دوست


رکھتا ہوں شیعہ ہونے کے کئے کافی ہے؟

۳)___ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر اور با عزت انسان کون سا ہے؟


پندرہواں سبق

اسلام میں رہبری اور ولایت

اسلام کے ابدی اصولوں میں رہبری اور ولایت داخل ہے امت اسلامی کا رہبر اور ولی اور حاکم ہونا ایک الہی منصب ہے خداوند عالم لائق اور شائستہ انسانوں کو اس مقام اور منصب کے لئے معيّن کر کے لوگوں کو بتلایا اور اعلان کرتا ہے پیغمبر (ص) کے زمانے میں امت اسلامی کا رہبر اور ولی خود پیغمبر (ص) کی ذات گرامی تھی اور آپ (ص) ہمیشہ اس منصب کی ذمہ داریوں کو انجام دیتے تھے دین کے قوانین اور دستور کو خداوند عالم سے دریافت کرتے تھے اور لوگوں کو بتلایا کرتے تھے آپ (ص) کو اللہ کی طرف سے حکم تھا کہ سلام کے سیاسی اور اجتماعی قوانین او راحکام مسلمانوں میں نافذ اور جاری کریں اور اللہ کی رہبری سے امت کو کمال تک پہنچائیں امور سیاسی اور اجتماعی کی اسلامی معاشرے میں بجا


آواری پیغمبر اسلام (ص) کے ہاتھ میں تھی دفاع اور جہاد کا حکم خود آپ (ص) دیا کرتے تھے اور فوج کے افسر اور امیر آپ (ص) خود مقرر کیا کرتے تھے اور اس میں خداوند عالم نے آپ(ص) کو کامل اختیار دے رکھا تھا آپ (ص) کے فیصلے کو لوگوں کے فیصلے پر تقدم حاصل تھا کیوں کہ آپ (ص) لوگوں کے فیصلے پر تقدم سے پوری طرح آگاہ تھے اور آپ (ص) لوگوں کی سعادت اور آزادی کی طرف رہبری کرتے تھے رہبری اور ولایت سے یہی مراد ہے اور اس کا یہی معنی ہے خداوند عالم نے یہ مقام اپنے پیغمبر(ص) کے سپرد کیا ہے جیسے خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ پیغمبر (ص) کو حق پہنچتا ہے کہ تمہارے کاموں کے بارے میں مصمم فیصلہ کریں اس کا ارادہ اور تصمیم تہارے اپنے ارادے اور تصمیم پر مقدم ہے اور تمہیں لازما پیغمبر کی اطاعت کرنا ہوگی رہبری اور ولایت صرف پیغمبر (ص) کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ لوگ ہر زمانے میں اللہ کی طرف سے کوئی رہبر اور ولی رکھتے ہوں اسی لئے پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے حق میں لوگوں کو بتلایا کہ ان کے بعد وہ تمہارے ولی اور رہبر ہوں گے اور غدیر کے عظیم اجتماع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ جس نے میری ولایت اور رہبری کو قبول کیا ہے اسے چاہیئے کہ حضرت علی علیہ السلام کی رہبری اور ولایت کو قبول کرے اس ترتیب سے حضرت علی علیہ السلام خدا کے حکم اور پیغمبر اسلام (ص) کے اعلان سے لوگوں کے رہبر اور امام اور خلیفہ ہوئے حضرت علی علیہ السلام نے بھی امت کو رہبر بتائے بغیر نہیں چھوڑا بلکہ خدا کے حکم اور پیغمبر اسلام (ص) کے دستور


کے مطابق امام حسن علیہ السلام کو رہبری کے لئے منتخب کرگئے تھے اور لوگوں میں بھی اعلان کردیا تھا اسی ترتیب سے ہر ایک امام نے اپنے بعد آنے والے امام کی رہبری کو بیان فرمایا اور اس سے لوگوں کو باخبر کیا یہاں تک کہ نوبت بارہویں امام (ع) تک آپہنچی آپ (ع) خدا کے حکم سے غائب ہوگئے بارہویں امام (ع) کی غیبت کے زمانے میں امت اسلامی کی رہبری اور راہنمائی، فقیہ عادل، کے کندھے پر ڈالی گئی ہے_

رہبر فقیہ اسلام شناس پرہیزگار ہونا چاہیئے لوگوں کے سیاسی اور اجتماعی امور اور دوسری ضروریات سے آگاہ اور واقف ہو:

مسلمانوں کو ایسے آدمی کا علم ہوجایا کرتا ہے اور اسے رہبرمان لیتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اس قسم کے رہبر کے وجود سے مسلمان ظالوں کے ظلم و ستم سے رہائی پالیتے ہیں جیسے کہ آج کل زمانے میں ایران کے شیعوں نے ایک ایسے رہبر کو مان کر موقع دیا ہے کہ وہ احکام اسلامی کو رائج کرے اور ایران کے مسلمانوں کو بلکہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو طاغوتیوں کے ظلم سے نجات دلوائے_

سوالات

۱)___ امت اسلامی کی رہبری اور ولایت پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں کس کے کندھے پر تھی؟

۲)___ کون سے کام پیغمبر (ص) خود انجام دیا کرتے تھے؟


۳)___ خداوند عالم نے پیغمبر کی ولایت کے بارے میں قرآن میں کیا فرمایا ہے؟

۴)___ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنے بعد کس شخص کو امت اسلامی کی رہبری کے لئے معيّن کیا تھا؟

۵)___ جب آپ (ص) اس کا اعلان کر رہے تھے تو کیا فرمایا تھا؟

۶)___ بارہویں امام (ع) کے غیبت کے زمانے میں امت اسلامی کی رہبری اور ولایت کس کے ذمّہ ہوتی ہے؟

۷)___ رہبر اور ولی مسلمین کو کن صفات کا حامل ہوچاہیئے؟

۸)___ مسلمان ظلم و ستم سے کس طرح رہائی پاسکتے ہیں؟

۹)___ امت اسلامی کی تمام افواج کا حاکم اور فرمانبردار کون ہوتا ہے؟


پانچواں حصّہ

فروغ دین


پہلا سبق

باپ کا خط اور مبارک بادی بیٹا محسن اور بیٹی فاطمہ:

میں خوش ہوں کہ تم نے بچپن کا زمانہ ختم کرلیا ہے اور جوانی کے زمانے میں داخل ہوگئے ہو جب تم چھوٹے تھے تو میں تمہاری نگہداشت کرتا تھا اور تمہارے کاموں اور کردار کی زیادہ سرپرستی کرتاتھا نماز کے وقت تمہیں نماز یاد دلاتا اور درس کے وقت کام اور محنت کرنے کی تلقین کرتا تھا لیکن اب تم خود ذمہّ دار ہو بیٹا اب تم بڑے ہوگئے ہو اور تمہارے پندرہ سال پورے ہوچکے ہیں بیٹی تمہارے بھی نوسال مکمل ہوچکے ہیں اور اب تم کاملاً رشیدہ ہوچکی ہو اب جب تم اس سن اور رشد کو پہنچ چکے ہو تو خداوند عالم نے تمہیں بالغ قرار دیا ہے اور تمہاری طرف خاص توجّہ فرماتا ہے اور تمہیں ایک مکلف اور ذمّہ دار انسان


سمجھتا ہے اور تمہارے لئے خاص فرض اور ذمہ داری معيّن کی ہے اب تمہاری زندگی بچپن سے جوانی اور قوت کی طرف پہنچ چکی ہے قدرت اور طاقت ہمیشہ ذمہ داری بھی ہمراہ رکھتی ہے احکام دین اور قوانین شریعت تمہاری ذمہ داری اور فرض کو معيّن کرتے ہیں تم اپنے تمام کاموں کو ان اسلام قوانین کے مطابق بجالاؤ اور ان پر ٹھیک ٹھیک عمل کرو تم پر واجب ہے کہ نماز صحیح اور وقت پر پڑھو

خبردار ہو کہ ایک رکعت نماز بھی ترک نہ کرو ورنہ گناہ گار ہوجاؤ گے واجب ہے کہ اگر ماہ مبارک کے روزے تمہارے لئے مضر نہ ہوں تو انہیں رکھو اگر تم نے بغیر شرعی عذر کے روزہ نہ رکھا تو تم نے نافرمانی اور گناہ کیا ہے اب تم اس عمر میں یہ کرسکتے ہو کہ دینی عبادات اور اچھے کام بجالا کر ایک اچھے انسان کے مقام اور مرتبے تک پہنچ جاؤ اور اخداوند عالم سے اس اور محبت کرو چونکہ میں سفر میں ہوں تمہیں ابتدائے بلوغت میں مبارک بادی پیش نہیں کرسکا اسی لئے یہ خط لکھا ہے اورمبارک باد کے ساتھ تمہارے لئے دو عدد کتابیں بھی طور تحفہ روانہ کی ہیں _

تمہیں دوست رکھنے والا:

تمہارا والد


دوسرا سبق

نجس چیزیں

جانتے ہیں ہم بیمار کیوں ہوتے ہیں؟

بہت سی بیماریاں جیسے سل یا بچّوں پر فالج کا گرنا و غیرہ یہ چھوٹے چھوٹے جراثیموں سے پیدا ہوتی ہیں اور ان جراثیم کا مرکز گندی جگہ ہوا کرتا ہے جہاں یہ پیدا ہوتے اور افزائشے نسل پاتے ہیں یہ جراثیم اپنی زندگی کی جگہ تو مفید کام انجام دیتے ہیں لیکن اگر یہ انسان کے بدن پر منتقل ہوجائیں تو اسے نقصان پہنچاتے ہیں اور بیمار کردیتے ہیں اب شاید آپ بتلاسکیں کہ ہم کیوں بیمار ہوجاتے ہیں اور ان بیماریوں کو روکنے کے لئے کون سے کام پہلے حفظ ما تقدم کے طور پر انجام دینے چاہیئیں سب سے بہترین راستہ بیماریوں کو روکنے کا صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھنا اگر ہم چاہیں کہ بیمار نہ ہوں تو ضروری ہے کہ کثافت اور گندگی کو اپنے سے دور


رکھیں اور اپنی کے ماحول کو ہمیشہ پاکیزہ رکھیں کیا آپ نجس چیزوں اور ان چیزوں کو جن میں جراثیم ہوا کرتے ہیں پہچانتے ہیں؟ کیا جانتے ہیں کہ انسان اور حرام گوشت حیوان کا پائخانہ اور گوبر نقصان دہ جراثیم کے اجتماع کامرکز ہیں___؟ کیا جانتے ہیں حرام گوشت حیوان کا پیشاب کثیف اور زہرآلودہ ہوتا ہے___؟ کیا جانتے ہیں کہ جب خون بدن سے باہر نکلتا ہے تو اس پربہت زیادہ جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں___؟ کیا جانتے ہیں کہ وہ جراثیم جو کتے اور سور کے جسم میں ہوتے ہیں وہ انسان کے جسم کی سلامتی اور جان کے لئے بہت نقصان دہ ہیں___؟ کیا جانتے ہیں کہ مردار اور حیوانات کی لاشیں جراثیم کی پرورش کا مرکز اور اس کے بڑھنے اور افزائشے نسل کی جگہ ہوا کرتی ہیں اسلام کے قوانی بنانے والا ان ساری چیزوں کو جانتا تھا اسی وجہ سے اور بعض دوسری وجوہات سے ان چیزوں اور دوسری بعض چیزوں کو نجس بتلایا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو ان چیزوں سے پاک رکھین اور یہ قاعدہ کلی ہے کہ مسلمان مرد ہر اس چیز سے کہ جو جان اور جسم کے لئے بیماری کا موجب ہو عقل اور فہم کو آلودہ اور نجس کردیتی ہو اس سے دوری اختیار کرتا ہے وہ بعض چیزیں کہ جو اسلام میں نجس بتلائی گئی ہیں یہ ہیں_

۱)___ انسان کاپیشاب اور پائخانہ اور حرام گوشت حیوان کا پیشاب اور پائخانہ_


۲)___ جس حیوان کا خون دہار مار کر نکلتا ہو اس کا خون اور مردار_

۳)___ کتّا اور سور_

۴)___ شراب اور جوکی شراب اور ہر وہ مائع جو نشہ آور ہو ایک مسلمان کا بدن اور لباس اور زندگی کا ماحول ان چیزوں سے پاک ہونا چاہیے_ کیا جانتے ہیں کہ ان چیزوں سے بدن اور لباس یا کوئی اور چیز نجس ہوجائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے___؟

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ ایک مسلمان کن چیزوں سے دوری اور اجتناب کرتا ہے؟

۲)___ بیماریوں سے حفظ ما تقدم کے طور پر کیا کرنا چاہیے

۳)___ جو چیزیں اسلام میں نجس ہیں انھیں بیان کیجئے


تیسرا سبق

نماز کی اہمیت

نماز دین کا ستون ہے اور بہترین عبادت نماز ہے نماز پڑھنے والا اللہ کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہے اورنماز میں مہربان خدا سے راز و نیاز او رگفتگو کرتا ہے اور اللہ کی بے حساب نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے_ خدا بھی نماز پڑھنے والوں کو اور بالخصوص بچّوں کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہے اور ان کو بہت اچھی اور بہترین جزاء دیتا ہے ہر مسلمان نماز سے محبت کرتا ہے نماز پڑھنے اور خدا سے باتیں کرنے کو دوست رکھتا ہے اور اسے بڑا شمار کرتا ہے_ منتظر رہتا ہے کہ نماز کا وقت ہو اور خدا کے ساتھ نماز میںحاجات اور راز و نیاز کرے جب نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو سارے کام چھوڑدیتا ہے اور اپنے آپ کو ہر قسم کی نجاست سے پاک کرتا ہے اور وضو کرتا ہے پاک


لباس پہنتا ہے خوشبو لگاتا ہے اور اوّل وقت میں نماز میں مشغول ہو جاتا ہے اپنے آپ کوتمام فکروں سے آزاد کرتا ہے اور صرف اپنے خالق سے مانوس ہوجاتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے ادب سے اللہ کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے تکبیر کہتا ہے اور خدا کو بزرگی اور عظمت سے یاد کرتا ہے سورہ الحمد اور دوسری ایک سورہ کو صحیح پڑھتا ہے اور کامل رکوع اور سجود بجالاتا ہے نماز کے تمام اعمال کو آرام اور سکون سے بجالاتا ہے اور نماز کے ختم کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا ایک دن ہمارے پیغمبر اسلام (ص) مسجد میں داخل ہوئے ایک آدمی کو دیکھا کہ بہت جلدی میں نماز پڑھ رہا ہے رکوع اور سجدے کو کامل بجا نہیں لاتا اور نماز کے اعمال کو آرام سے بجا نہیں لاتا آپ نے تعجب کیااور فرمایا کہ یہ آدمی نماز نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک مرغ ہے جو اپنی چونچ زمین پر مار رہا ہے سیدھا ٹیرھا ہوتا ہے خدا کی قسم اگر اس قسم کی نماز کے ساتھ اس دنیا سے جائے تو مسلمان بن کر نہیں جائے گا اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہوگا:

بہتر ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں جائیں اور اپنی نماز جماعت کے ساتھ بجالائیں_

نماز کے چند مسئلے

۱)___ مرد پر واجب ہے کہ مغرب اور عشاء اور صبح کی پہلی


دو رکعت میں الحمد اور سورہ کو بلند آواز سے پڑھے_

۲)___ نماز پڑھنے والے کا لباس اور بدن پاک ہونا ضروری ہے_

۳)___ ایسی جگہ نماز پڑھنا کہ جہاں اس کا مالک راضی نہ ہویا ایسے لباس میں نماز پڑھنا کہ جس کا مالک راضی نہ ہو حرام اور باطل ہے_

۴)___ سفر میں چار رکعت نماز دو رکعت ہوجاتی ہے یعنی صبح کی طرح دو رکعت نماز پڑھی جائے کیسا سفر ہو اور کتنا سفر ہو کتنے دن کا سفر ہو ان کا جواب توضیح المسائل میں دیکھئے_


چوتھا سبق

نماز آیات

جب سورج یا چاند گرہن لگے تو ایک مسلمان کو اس سے قیامت کے دن کی یاد آجاتی ہے اس قوت کی یاد میں کہ جس وقت تمام جہان زیر و زبر ہوجائے گا اور سورج اور چاند کا چہرہ تاریک ہوجائے گا اور مردے جزاء اور سزا کے لئے زندہ محشور ہوں گے سورج یا چاند گرہن یا زلزلہ کے آنے سے ایک زندہ دل مسلمان قدرت خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی دیکھتا ہے اور گویا خلقت نظام کی علامت کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس کا دل اللہ کی عظمت سے لرزجاتا ہے اور خدائے بے نیاز کی طرف احتیاج کا احساس کرتا ہے اور اللہ کے حکم کے تحت نماز آیات کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے اور مہربان خدا سے راز و نیاز کرتا ہے اور اپنے پریشان اور بے آرام دل کو اطمینان دیتا ہے کیونکہ


خدا کی یاد پریشان دل کو آرام دیتی ہے اور تاریک دلوں کو روشنی کا مدہ سناتی ہے لہذا اس سے اس کا دل آرام حاصل کرلیتا ہے اور مشکلات کے مقابلے او رحوادث کے حفظ ما تقدم کے لئے بہتر سوچتا ہے اور زندگی کے ٹھیک راستے کو پالیتا ہے_

نماز آیات کا پڑھنا جب سورج یا چاند گرہن لگے یا زلزلہ آئے ہر مسلمان پر واجب ہے نماز آیات کس طرح پڑھیں نماز آیات صبح کی نماز کی طرح دو رکعت ہوتی ہے صرف فرق یہ ہے کہ ہر ایک رکعت میں پانچ رکوع ہوتے ہیں اور ہر ایک رکوع کے لئے رکوع سے پہلے سورة الحمد اور کوئی ایک سورہ پڑھنا ہوتا ہے اور پانچویں رکوع کے بعد کھڑے ہوکر سجدے میں چلاجائے اور اس کے بعد دوسری رکعت پہلی رکعت کی طرح بجالائے اور دو سجدوں کے بعد تشہد اور سلام پڑھے اور نماز کو ختم کرے_

نماز آیات کو دوسرے طریقے سے بھی پڑھا جاسکتا ہے اس کی ترکیب اور باقی مسائل کو توضیح المسائل میںدیکھئے

سوالات

۱)___ سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت انسان کو کونسی چیز یاد آتی ہے؟

۲)___ نماز آیات کس طرح پڑھی جائے؟

۳)___ نماز آیات کا پڑھنا کیا فائدہ دیتا ہے؟

۴)___ کس وقت نماز آیات واجب ہوتی ہے؟


پانچواں سبق

قرآن کی دو سورتیں

قرآن کی چند حصّوں میںتقسم کیا گیا ہے اور ہر حصّہ کو سورہ کہا جاتا ہے اور وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتی ہے اور پھر ہر سورہ کو چند حصّوں میں تقسیم کردیا گیا ہے کہ جس کے ہر حصّے کو آیت کہاجاتا ہے سورہ الحمد اور سورہ توحید کا ترجمہ یاد کیجئے اور نماز میں اس کے ترجمے کی طرف توجہ کیجئے بہتر یہی ہے کہ قرآن مجید کی کوئی چھوٹا سورہ یاد کیجئے کہ جسے سورہ الحمد کے بعد نماز میں پڑھا کیجئے

_بسم الله الرحمن الرحیم

شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الحمد لله رب العالمین

الرّحمن الرّحیم

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے جو بہت مہربان اور رحم والا ہے


مالک یوم الدّین ايّاک نعبد و ايّاک نستعین

روز جزا کا مالک ہے ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں

اهدنا الصّراط المستقیم صراط الّذین انعمت علیهم

تو ہمیں سیدھے راستے پر قائم کرھ ان لوگوں کے راستہ پر کہ جن پر تو نے اپنی نعمتیں نازل کی

غیر المغضوب علیهم و لا الضّالین

ہیں نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر کہ جن پر تیرا عذاب نازل ہوا اور نہ گمراہ لوگوں کے راستہ کی

بسم الله الرحمن الرحیم

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قل هو الله احد الله الصّمد لم یلد و

کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے اللہ (ہر شی سے) بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا

لم یولد و لم یکن لّه کفوا احد

اور نہ ہی اسے کسی نے جنا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں


چھٹا سبق

روزہ ایک بہت بڑی عبادت ہے

روزہ رکھنا اسلام کی عبادتوں میں سے ایک بہت بڑی عبادت ہے خدا روزہ رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور انہیں بہترین جزا اور انعام دیا جائے گا ہر مسلمان کو چاہیئے کہ وہ روزہ رکھے یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک کھانے پینے اور دوسری چیزوں سے کہ جس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اجتناب کرے جب ہم روزہ رکھنا چاہیں تو پہلے نیت کریں یعنی ارادہ کریں کہ ہم اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے روزہ رکھتے ہیں خداوند عالم نے روزہ واجب کیا ہے تا کہ مسلمان خدا کی یاد میں ہوں اور خدا کو بہتر پہنچانیں اور اپنی خواہشوں پر غالب آئیں آخرت کو زیادہ یاد کریں اور اچھے کاموں کے بجالانے کے لئے آمادہ ہوں تا کہ اپنے اچھے کاموں کو آخرت کے لئے ذخیرہ کریں بھوک اور پیاس کا مزہ


لیں اور غریبوں اور بھوکوں کی فکر کریں اور ان کی مدد کریں اور صحت اور سلامتی سے زیادہ بہرہ ور ہوں

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو صرف کھانا اور پینا چھوڑدے تو وہ روزہ دار نہیں ہوجاتا یعنی روزہ کے لئے صرف اتنا کافی نہیں ہے بلکہ تم روزہ دار تب ہوگئے جب کہ تمہازے کان اور زبان بھی روزہ دار ہوں یعنی حرام کام انجام نہ دیں تمہارے ہاتھ پاؤں اور بدن کے تمام اعضاء بھی روزہ دار ہوں یعنی برے کام انجام نہ دیں تا کہ تمہارا روزہ قبول ہو_ تم تب روزہ دار ہوگے جب کہ دوسرے دنوں سے بہتر اور خوش خلق ہو زبان کو بیکار اور فضول باتوں سے روکو جھوٹ نہ بولو کسی کا مذاق نہ اڑاؤ اور آپس میں دشمنی او رجھگڑا نہ کرو، حسد نہ کرو، کسی کی عیب جوئی اور بدگوئی نہ کرو، اپنے نوکروں اور خادموں پر ہمیشہ کی نسبت زیادہ مہربانی کرو، اور ان سے تھوڑا کام لوجو لڑکے اور لڑکیاں بلوغ اور رشد کی عمر کی پہنچ گئے ہوں اور ان ک لئے روزہ رکھنا شرعاً کسی دوسری وجہ سے ممنوع نہ ہو تو ان پر واجب ہے کہ وہ ماہ رمضان المبارک کا روزہ رکھیں چھوٹے بچّے بھی سحری کے کھانے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ شرکت کریں سحری کھاکیں اور ظہر تک یا اس وقت تک کہ جہاں تک ان سے ہوسکتا ہے کوئی چیز نہ کھائیں پئیں تو اس طرح وہ بھی روزہ دار وں کے ساتھ ثواب اور انعام الہی میں شریک ہوجائیں گے جو شخص شرعی عذر کے علاوہ روزہ نہ رکھے گناہ گار ہے اور اس کے بعد اس کی


قضا بھی بجالائے اور ہر دن کے گناہ کے تدارک کے لئے توبہ کرے اور ہر دن کے روزے کے لئے جو نہیں رکھا ساٹھ روزے رکھے یا ساتھ فقیروں کو کھانا کھلائے

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ روزہ رکھنے کی غرض کیا ہے جب روزہ رکھنا چاہیں تو کیا نیت کریں؟

۲)___ جب ہم روزہ دار ہوتے ہیں تو کن کاموں کے لئے آمادگی ظاہر کرتے ہیں اور کیوں؟

۳)___ روزہ دار انسان کیسے بھوکوں اور پیاسوں کے بارے میں سوچتا ہے؟


ساتواں سبق

اسلام میں دفاع اور جہاد

ہر مسلمان کے بہترین اور اہم ترین فرائض میں سے ایک جہاد ہے جو مومن جہاد کرتا ہے وہ اخروی درجات اور اللہ کی مغفرت اور خاص رحمت الہی سے نوازا جاتا ہے مجاہد مومن میدان جہاد میں جاکر اپنی جان اور مال کو اللہ کی جاودانی بہشت کی قیمت پر فروخت کرتا ہے اور یقینا یہ معاملہ فائدہ مند اور توفیق آمیز ہے اور اس کے لئے اللہ تعالی کی رضا ہر انعام اور جزاء سے زیادہ قیمتی ہے_

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا جو لوگ اللہ کے راستے میں بندگان خدا کی آزادی کے لئے قیام اور جہاد کرتے ہیں قیامت کے دن بہشت کے اس دروازے سے داخل ہوں گے کہ جس کا نام ''باب مجاہدین ہے اور یہ دروازہ صرف مجاہد مومن کے لئے کھولا جائے گا اور وہ


نہایت شان و شوکت سے ہتھیار کندھے پر اٹھائے ہوئے سب کی آنکھوں کے سامنے اور تمام اہل جنّت سے پہلے بہشت میں داخل ہوگا اور اللہ کے مقرّب فرشتے اس پر سلام کریں گے اور اسے خوش آمدید کہیں گے اور دوسرے لوگ اس کے مرتبہ و مقام پر رشک کریں گے اور جو بھی خدا کی راہ میں جہاد اور جنگ کو چھوڑ دے گا_

خداوند عالم اس کے جسم کو ذلت و خواری کا لباس پہنائے گا وہ اپنا دین چھوڑ بیٹھتا ہے او رآخرت میں دردناک عذاب میں ہوگا خدا امت اسلامی کو ہتھیاروں کے قبضے اور ان کی سواریوں کی با رعب آواز سے بے نیاز کرتا ہے اور انہیں عزّت عطا فرماتا ہے؟

جو مومن مجاہد جہاد کے لئے منظّم صفوف اور نبیان مرصوص بن کرجاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ وہ جنگ اور جہاد کے میدان میں خداوند عالم کی حدود کا خیال کریں جو دشمن ان کے مقابل میں لڑائی کے لئے آیا ہے اس سے پہلے توبہ کا مطالبہ نہ مانیں اور اللہ کی حکومت اور ولایت قبول نہ کریں تو پھر ہر مومن امام معصوم (ع) کی اجازت سے یا اسلامی رہبر کہ جس کی رہبری از روئے اسلام صحیح اور درست ہو، کی اجازت سے ان سے جنگ کرے اور


متکبر و طاغوت کو سرنگوں کرے اور اللہ کے بندوں کو اپنی پوری طاقت و قوت سے غیر خدا کی بندگی سے آزاد کرائے اور اس راستے میں مرنے یا مرجانے سے نہ دڑے جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ شہادت کی موت بہترین موت ہے اور یہ خدا کی راہ میں ماراجاتا ہے ، خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر میدان جنگ میں دشمن کے ہزاروار سے ماراجاؤں یہ مرنا میرے لئے زیادہ خوشگوار ہے اس سے کہ اپنے بستر پر مروں، وہ جہاد کہ ظلم اور ستم ک بند سے رہائی دیتا ہے امام علیہ السلام کے اذن اور اجازت کے ساتھ یا مسلمانوں کے حقیقی رہبر اور نائب امام کی اجازت کے ساتھ مربوط ہے اور یہ ان کا فرض ہے جو طاقت اور قدرت رکھتے ہوں لیکن اگر اسلامی سرزمین اور مسلمانوں کی عزّت اور شرف اورناموس پر کوئی حملہ کرے تو پھر تمام پر خواہ مرد ہو یا عورت واجب ہے کہ جو کچھ اپنے اختیار میں رکھتے ہیں لے کر قیام کریں اور اپنی سرزمین اور عزّت و ناموس اور عظمت اسلام سے پوری طاقت سے دفاع کریں اس مقدس فرض کے بجالانے میں مرد بھی قیام کریں اور عورتیں بھی قیام کریں لڑکے بھی دشمن کے سرپر آگ کے گولے برسائیں اور لڑکیاں بھی_ ہر ایک کو چاہیئےہ ہتھیا ر اٹھائیں اور حملہ آور کو اپنی مقدس سرزمین سے باہر نکال پھینکیں اور اگر لو ہے کہ ہتھیار موجود نہ ہوں تو پھر لکڑی اور پتھر بلکہ دانتوں اور پنجوں سے بھی حملہ آور دشمن پر ہجوم کریں اور اپنی جانیں قربان کردیں اور پوری قدرت کے ساتھ جنگ کریں اور شہادت کے مرتبہ کو


حاصل کرلیں اور آنے والی نسلوں کے لئے عزّت اور شرف کو وارثت میں چھوڑ جائیں اس مقدس جہاد میں جو دفاع کہلاتا ہے امام (ع) کے اذن کا انتظار نہیں کرنا چاہیئے اوروقت کو ضائع نہ کریں کیونکہ یہ جہاد مقدس اتنا ضروری اور حتمی ہے کہ اس میں امام (ع) اور رہبر کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوا کرتی مملکت اسلامی کی سرزمین کا دفاع کرنا اتنا ضروری ہے کہ اسلام نے اس کی ذمہ داری ہر فرد پر واجب قرار دے دی ہے_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ مجاہد مومن میدان جنگ میں جاکر اپنی جان و مال کو کس کے مقابلہ میں فروخت کرتا ہے اور اس معاملے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

۲)___ مومن مجاہد کس طرح بہشت میں وارد ہوگا؟

۳)___ ان لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے جو خدا کی راہ میں جہاد کو ترک کردیتے ہیں؟

۴)___ اللہ امت اسلامی کو کس راستے سے عزّت اور شرف اور بے نیازی تک پہنچاتا ہے؟

۵)___ جو مومن مجاہد جنگ کے لئے وارد میدان ہوتے ہیں وہ دشمنوں کے ساتھ ابتداء میں کیا سلوک کرتے ہیں؟

۶)___ امیرالمومنین علیہ السلام نے شہادت کے بارے


میں کیا فرمایا ہے؟

۷)___ جہاد کس کے حکم سے کیا جاتا ہے؟

۸)___ دفاع کا کیا مطلب ہے، اسلامی سرزمین اور اسلامی شرف و عزّت کے حفظ کیلئے مسلمانوں کا فریضہ کیا ہے؟


آٹھواں سبق

امربالمعروف و نہی عن المنکر

گرمیوں ک موسم میں ایک دن ہوا بہت گرم تھی حضرت علی علیہ السلام تھکے مادے پسینہ بہاتے گھر تشریف لائے آپ (ع) ن رون کی آواز سنی آپ (ع) ٹھہر گئے اور ہر طرف نگاہ کی کسی کو نہ دیکھا چند قدم آگ بڑھے ایک جوان عورت کوچہ کی دوسری طرف سے ظاہر ہوئی بیچاری دوڑ رہی تھی اور رو رہی تھی اور آنسو بہا رہی تھی ہانپتے ہوء اس نے اپنے آپ کو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام تک پہنچایا اپنے آنسو دونوں ہاتھوں سے صاف کیا چاہتی تھی کہ بات کرے لیکن نہ کرسکی اس کا چہرہ پھر آنسؤوں سے ڈوب گیا امیرالمومنین علیہ السلام نے اس سے رون کی وجہ پوچھی عورت نے ڈوبتی ہوئی آواز میں رو کر کہا کہ میرے شوہر نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور مجھے گھر سے باہر نکال دیا ہے اور مجھے مارنا چاہتا ہے یا امیرالمومنین (ع)


آپ (ع) میری فریاد کو پہنچیں کہ آپ (ع) کے سوا میرا کوئی مددگار نہیں ہے_

امیرالمومنین علیہ السلام بہت تھکے ہوئے تھے آپ (ع) نے فرمایا تھوڑا صبر کرو ہوا ٹھنڈی ہوجائے اس وقت میں تیرے ساتھ جاؤں گا اور تیرے شوہر سے بات کروں گا اب دن بہت زیادہ گرم ہے اور میں بھی تھکا ہوا ہوں بہتر یہی ہے کہ تھوڑا صبر کرو

عورت نے جو ابھی تک رو رہی تھی کہا یا امیرالمومنین (ع) ڈرتی ہوں گہ اگر میںگھر دیر سے گئی تو میرا شوہر اور غضبناک ہوگا اور پھر معاملہ زیادہ بگڑجائے گا_

حضرت امیرالمومنین (ع) نے چند لمحے سوچا اور فرمایا نہیں: قسم بخدا امربالمعروف اور نہی عن المنکر میں کوتاہی نہیں کروں گا مجھے چاہئے کہ اس مظلوم کی مدد کروں اس کے بعد آپ (ع) اس عورت کے ساتھ اس کے گھر کو روانہ ہوگئے اور اس عورت کے گھر کے قریب پہنچے عورت نے اپناگھر دکھلایا اور تھوڑی دور ٹھہرگئی کیوں کہ آگے جانے سے ڈرتی تھی امیرالمومنین علیہ السلام نزدیک گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا اورسلام کیا ایک طاقتور اور غضبناک جوان نے دروازہ کھولا

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اس کے اپنی بیوی سے اختلاف کی تحقیق کی اور پھر بہت نرمی اور اخلاق سے فرمایا اے جوان کیوں اپنی بیوی کو اذیت دیتے ہو اور کیوں اسے گھر سے باہر نکال دیا ہے؟ خدا سے ڈر اور اپنی بیوی کو آزار نہ پہنچا میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کے ساتھ مہربان رہ اور اسے نہ مارا کر اور اگر اس نے تجھے تکلیف


دی ہے تو معاف کردے عورت گلی کے اس طرف کھڑی حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی گفتگو سن رہی تھی اور امید رکھتی تھی کہ اس کا شوہر امیرالمومنین علیہ السلام کی نصیحت قبول کرلے گا اور اپنی بری عادت کو چھوڑ د گا لیکن وہ جوان جو امیرالمومنین علیہ السلام کو نہیں پہچانتا تھا کہن لگا کہ آپ بیوی میری گھریلو زندگی میں دخل دیتے ہیں میں اگر چاہوں تو اسے قتل کردوں آپ سے کوئی واسطہ اور ربط نہیں_ ابھی اس کو آگ میں ڈالوں گا دیکھتا ہوں کہ تو کیا کرلے گا_ جب وہ بلند آواز سے یہ کہہ رہا تھا تو امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنا سر نیچے کر رکھا تھا اور آہستہ آہستہ لا الہ الا اللہ پڑھ رہے تھے وہ جوان چیختا اور کہتا رہا کہ اس کا آپ سے کوئی واسطہ نہیں ابھی اسے جلاکر رکھ دوں گا چاہتا تھا کہ اپنی بیوی پر حملہ کرے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اس پر وہ راستہ بند کر دیا اس کا ہاتھ پکڑا اور دوبارہ اسے سمجھایا اور نصیحت کی لیکن وہ جوان اپنی ضد سے باز نہ آیا گستاخی کرتے ہوئے چاہتا تھا کہ اس عورت پر حملہ کرے اور شاید واقعی چاہتاتھا کہ اسے آگ میں جلا دے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو غصّہ آیا اور فوراً اپنی تلوار میان سے نکالی اور اس جوان کے سر پرتان دی تلوار کی چمک اس جوان کی آنکھوں پر پڑی تو اس کا بدن لرزنے لگا حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے غضب ناک نگاہ اس جوا پر ڈالی اور فرمایا کہ میں تم سے اخلاق سے کہہ رہا ہوں اورتمہیں نیک کام کی طرف بلا رہا ہوں اور برے کام کی سزا سے ڈرا رہا ہوں لیکن تم ہو کہ بلاوجہ شور مچا رہے ہو اور بے ادبی اور گستاخی


کر رہے ہو میں تمہیں اس عورت پر ظلم کرنے دوں گا؟ اپنے ظلم و ستم سے توبہ کرو اور خدا سے ڈرو اور بے سہارا بیوی کو اذیت نہ دو ورنہ میں تجھے تیرے برے کام کی سزادوں گا اسی حالت میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے چند صحابہ وہاں پہنچ گئے اور آپ کو سلام کیا اس بیچارے جوان کا رنگ اڑا ہوا تھا اور تلوار کے نیچے کانپ رہا تھا اس نے اس وقت آپ (ع) کو پہچانا اپنے کام سے پشیمان ہوا معافی مانگی اور توبہ کی_

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی تلوار میان میں رکھی اور اس عورت سے فرمایا اپنے گھر جا اور شوہر کے ساتھ زیادہ موافقت اوراحترام سے زندگی بسر کراے عورت تو بھی اپنے شوہر سے مہربان اور مخلص رہ اور اسے غضبناک نہ کر

امربالمعروف اورنہی عن المنکر اسلام کے اہم واجبات میں سے ایک اجتماعی فرض اور ذمّہ داری ہے اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ خود نیک کام کریں اوردوسروں کو بھی نیک کام کی طرف بلائیں اسلام حکم دیتا ہے کہ مسلمان گناہ اور برائی سے دور رہیں اور دوسروں کو بھی برائی سے دور رکھیں خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ تم بہترین ملّت ہو کیوں کہ اچھائی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر واقعی ایمان رکھتے ہو


سوالات

۱)___ امربالمعروف کا مطلب بتائے

۲)___ نہی عن المنکر کا مطلب بیان کیجئے

۳)___ اگر کسی بچے کو اذیت کرتے دیکھیں تو کیا کریں گے؟ آپ کا فرض کیا ہے

۴)___ اگر کوئی مظلوم آپ سے مدد مانگے تو اسے کس طرح جواب دیںگے؟

۵)___ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اس جوا کو کیسے امربالمعروف کیا؟

۶)___ اس عورت کو کس طرح امربالمعروف کیا؟

۷)____ خداوند عالم نے قرآن میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۸)___ آپ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو کیسے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے اگر ہوسکے تو کوئی مثال دیجئے؟


نواں سبق

زکاة عمومی ضرورتوں کو پوری کرنے کیلئے ہوتی ہے

دین اسلام نے اجتماعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک سرمائے کا انتظام کیا ہے کہ جسے زکاة کہا جاتا ہے زکاة مالی واجبات میں سے ایک واجب ہے پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ اللہ نے فقراء کی ضروریات کے مطابق سرمایہ داروں کے مال میں ایک حق قرار دیے دیا ہے کہ اگر وہ ادا کریں تو اجتماعی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں اگر کوئی لوگوں میں بھوکا یا ننگا دیکھا جائے تو یہ اس وجہ سے ہوگا کہ سرمایہ دار اپنے اموال کے واجب حقوق ادا نہیں کرتے جو سرمایہ دار اپنے مال کی زکاة نہ دے قیامت کے دن اس بازپرس ہوگی اور بہت دردناک عذاب میں مبتلا ہوگا_

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا جو سرمایہ دار اپنے


مال کی زکاة نہ دے نہ وہ مومن ہے اور نہ مسلمان

زکاة کون حضرات دیں

۱)___ جو لوگ زراعت اور باغبانی کرنے سے فصل پیدا کرتے ہیں جیسے گندم، جو، خرما، کشمش، اوران کی پیدا اور ایک خاص نصاب تک بھی ہوجاتی ہو تو انہیں ایک مقدار زکاة کے عنوان سے دینی ہوگا_

۲)___ جو لوگ اپنے سرمایہ کہ حیوانات کی پرورش اورنگہداشت پر خرچ کرتے ہیں جیسے بھہیڑ، بکریاں، گائے، اونٹ، پالتے ہیں اور ان کی تعداد بھی ایک مخصوص حد تک ہوجائے تو انہیں بھی اس سے زکاة کے عنوان سے کچھ تعداد دینی ہوگی_

۳)___ جو لوگ سونے چاندی کی ایک خاص مقدار جمع رکھتے ہیں کہ جسے خرچ نہیں کرتے اگر ان کا جمع شدہ یہ مال سال بھر پڑا رہے تو اس میں بھی ایک معيّن مقدار زکاة کے عنوان سے دیتی ہوگی کتنی مقدار زکاة ادا کی جائے گندم اور جو کی کتنی زکاة ہوتی ہے اور کیسے جواب ہوتی ہے_ بھیہڑ بکریوں، گائے ، اونٹ و غیرہ کی زکاة میں کیا شرائط ہیں او رکتنی زکاة واجب ہے یہ تمام باتیں آئندہ کتابوں میں بیان کریں گے ( اور بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے مجتہد کی کتاب توضیح المسائل سے دیکھے اور عمل کرے)


زکاة کو کہاں خرچ کریں

زکاة مسلمانوں کے اجتماعی کاموں پر خرچ کی جائے جیسے زکاة کے روپیہ سے ہسپتال بنایا جائے اور اس کے مصارف میں خرچ کی جائے اور غریب بیماروں کا علاج کیا جائے تا کہ وہ تندرست ہوجائیں اور غریبوں کی زندگی کے لوازمات مہيّا کئے جائیں، جہالت کودور کرنے کے لئے تعلیمی اداے بنائے جائیں اور عمدہ وسائل مہيّا کر کے لوگوں کو دین اور علم سے روشناس کیا جائے زکاة سے عمدہ باغ اور پارک بنائے جاسکتے ہیں کہ جہاں لوگ اور بچّے جاکر کھیلیں کو دیں اور عمدہ لائبریریاں علمی اور دینی کتابوں کے مطالعے کے لئے بنائی جائیں، زکاة سے شہروںاوردیہات میں پانی ٹنکیاں بنائی جاسکتی ہیں تا کہ ہر ایک گھر میں بہتر اور عمدہ پانی مہیا ہوسکے زکاة سے دینی اور علمی کتابیں مہيّا کرکے سستی قیمت پر لوگوں کو شہروں اور دیہات میںمہيّا کی جائیں زکاة سے بڑی بڑی مسجدیں بنائی جائیں تا کہ تمام لوگ مسجد میں جائیں اور نماز جماعت کے ساتھ پڑھیں اور قرآن اور دین ہاں سیکھیں زکاة سے غریب طبقے کے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کرائی جاسکتی ہے اور انہیں مکان اور دیگر لوازمات زندگی خرید کردیئےاسکتے ہیں زکاة سے مسلمانوں کے تمام اجتماعی امور انجام دیئے جاسکتے ہیں اس وقت کوئی آدمی غریب، بھوکا مقروض


و غیرہ باقی نہ رہے گا تمام صحیح و سالم طاقتور با ایمان دیندار اور آرام سے زندگی بسر کریں گے اور اللہ کی عبادت کریں گے اور اپنی آخرت کے لئے اعمال صالح بجالاسکیں گے تا کہ اس دنیا میں اللہ کی بہترین نعمتوں سے اور پروردگار کی بہت زیادہ محبت سے استفاہ کرسکیں (اچھا انجام تو صرف نیک لوگوں کے لئے ہے)


دسواں سبق

خمس

دین کی تبلیغ اور اس کیلئے زمین ہموار کرنے کا سرمایہ

خداوند عالم نے ہر مسلمان پرواجب قرار دیا ہے کہ وہ دین کی تبلیغ میں کوشش کرے اور دوسرے انسانوں کو اللہ کے فرامین اور آخرت سے آگاہ کرے اور اپنی جان اور مال سے اس راستے میں مدد کرے یعنی خود دین کی تبلیغ میں کوشش کرے اور اپنی آمدنی کا خمس بھی دے_

خمس کیا ہے؟ اور کس طرح دیا جائے

جس مسلمان نے تجارت از راعت کانوں صنعت و غیرہ سے جو منفعت حاصل کی ہو یا نوکری یا مزدوری و غیرہ سے معاوضہ لیا ہو تو


اسے پہلے تو اپنی زندگی کے لوازمات سال بھی کے لئے حاصل کرلینے کا حق ہے او راگر کوئی چیز اس سے زائد ہو یا بچ جائے تو اسے اس کا خمس دینا چاہیئے یعنی ۵/۱ حصہ ادا کرے_

خمس کسے دیا جائے

خمس حاکم شرع عادل مجتہد ، کو دینا چاہیئے اور حاکم شرع اس مال کو لوگوں کو خدا اور دین خدا سے آگاہ کرنے میں اورمملکت اسلامی کے دفاع میں خرچ کرے گا لوگوں کی مشکلات دینی اور ان کے جوابات دینے کے لئے اہل علم کی تربیت کرے گا اور علماء کو شہروں اوردیہاتوں اوردوسرے ممالک میں بھیجے گا تا کہ لوگوں کو حقائق اسلامی سے روشناس کرائیں: عادل مجتہد خمس کے مال سے مفید دینی کتابیں خریدے یا چھاپے گا اور مفت یا سستی قیمت پر لوگوں میں تقسیم کردے گا اخبار اور دینی اور علمی ماہنامہ شائع کرائے گا_

نوجوان اور بچّوں کی دینی تعلیم و تربیت پر خرچ کرے گا اور ان کے لئے مفت کلاسیں جاری کرے گا اور علماء کی بھی ان علوم کی تدرس کے لئے تربیت کرے گا یعنی دینی مدارس قائم کرے گا تا کہ اس سے علماء اوردانشمند پیدا کئے جائیں_ عادل مجتہد خمس سے نادا رسادات جو کام نہیں کرسکتے یا اپنے سال بھر کے مصارف کو پورا نہیں کرسکتے ان کو زندگی بسر کرنے کے لئے بھی دے گا عادل مجتہد خمس اور زکاة سے ملّت


اسلامیہ کی تمام ضروریات پورا کرے گا اور اسلامی مملکت کا پورا انتظام کرے گا اور صحیح اسلامی طرز پر چلائے گا_

سوالات

۱)___ معاشرہ کی عام ضروریات کیا ہوتی ہیں اور انہیں کس سرمایہ سے پورا کیا جائے گا؟

۲)___ ہمارے پیغمبر(ص) نے فقراء کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کیا فرمایا ہے؟

۳)___ کون لوگ زکاة ادا کریں اور آپ کن حضرات کو پہچانتے ہیں جو زکاة دیتے ہیں اور زکاة کو کس جگہ اور کس طرح خرچ کرتے ہیں؟

۴)___ زکاة کو کن جگہوں پر خرچ کیا جائے اگر تمام سرمایہ دار اس فریضہ پر عمل شروع کردیں اور اپنے مال کے واجب حقوق ادا کریں تو پھر لوگ کس طرح کی زندگی بسر کریں گے؟

۵)___ خمس کیا ہے کس طرح دیا جائے اور کسے دیا جائے


گیارہواں سبق

حج کی پر عظمت عبادت

میں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ حج بجالانے کے لئے سعودی عرب کا سفر کیا کتنا بہترین اور پر کیف سفر تھا اے کاش آپ بھی اس سفر میں ہوتے اور حج کے اعمال اور مناسک کو نزدیک سے دیکھتے جب ہم میقات پہنچے تو اپنے خوبصورت اور مختلف رنگوں والے لباس کو اتار دیا اور سادہ و سفید لباس جو احرام کہلاتا ہے پہنا_

جب ہم نے احرام باندھ لیا تومیرے باپ نے کہا بیٹا اب تم محرم ہو کیا تمہیں علم ہے کہ احرام کی حالت میں اللہ کی یاد میں زیادہ رہنا چاہیے کیا جانتے ہو کہ احرام کی حالت میں جھوٹ نہ بولیں اور نہ ہی قسم کھائیں اور نہ ہی حیوانات کو آزار دیں اور نہ کسی سے جنگ و جدال اور لڑائی کریں اور جتنا ہوسکے اپنی خواہشات پر قابو رکھیں اور آئندہ بھی اسی طرح رہیں


بیٹا_ خانہ خدا کا حج ایک بہت بڑی عبادت ہے اور تربیت کرنے کا ایک بہت بڑا مدرسہ ہے اس مدرسہ میں ہم سادگی اور مساوات اور عاجزی اور عزت نفس کی مشق کرتے ہیں ہم نے احرام کا سادہ لباس پہنا اور دوسرے حاجیوں کی طرح لبّیک کہتے ہوئے مكّہ کی طرف روانہ ہوگئے ہزاروں آدمی مختلف نسلوں کے سادہ اور پاک لباس پہنے ہوئے تھے تمام ایک سطح اور مساوات اور برابری کے لباس میں لبیک کہتے ہوئے مكّہ کی طرف روانہ تھے ہم مكّہ معظّمہ پہنچے اور بہت اشتیاق اور شوق سے طواق کے لئے مسجد الحرام میں گئے کتنا باعظمت اور خوش نما تھا خانہ کعبہ ایک عظیم اجتماع جو انسان کو قیامت کے دن یا دلاتا تھا اور ذات الہی کی عظمت سامنے آتی تھی خانہ کعبہ کے اردگر چگر لگا کر طواف کر رہا تھا اس کے بعد ہم نے حج کے دوسرے اعمال اورمناسک اہل علم کی رہبری میں انجام دیئے حج کی پر عظمت عبادت ہمارے لئے دوسرے فوائد کی حامل بھی تھی میرے والد ان ایام میں مختلف ممالک کے لوگوں سے گفتگو کرتے رہے اور ان کے اخلاق اور آداب اور ان کے سیاسی اور اقتصادی اور فرہنگی حالات سے آگاہ ہونے کے بعد مجھ سے اور میری والدہ اور دوسرے دوستوں اورواقف کاروں سے بیان کرتے تھے اس لحاظ سے ہم دوسرے اسلامی ممالک کے مسلمانوں کے حالات سے مطلع ہوئے اورمفید اطلاعات سے آگاہ ہوئے_

ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اگر استطاعت رکھتا ہو تو ایک


مرتبہ زندگی میں خانہ کعبہ کی زیارت کو جائے اور حج کے مراسم اور اعمال بجالائے اور حج میں شریک ہو اور پختہ ایمان اورنورانی قلب کے ساتھ واپس لوٹ آئے امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ جو شخص واجب حج کو بغیر کسی عذرشرعی کے ترک کردے وہ دنیا سے مسلمان نہیں اٹھے گا اور قیامت کے دن غیر مسلم کی صف میںمحشور ہوگا

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ جو شخص احرام باندھ لیتا ہے تو اس کا کیا فریضہ ہوجاتا ہے اور اسے کن کاموں سے اجتناب کرنا چاہیئے؟

۲)___ حج کی عبادت بجالانے میں کون سے درسوں کی مشق کرنا چاہیئے؟

۳)___ ہم حج کے اعمال بجالاتے وقت کس کی یاد میں ہوتے ہیں؟

۴)___ حج کے کیا فائدے ہیں؟

۵)___ حج کن لوگوں پر واجب ہوتا ہے؟

۶)___ امام جعفر صادق (ع) نے حج کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

چند اصطلاحات کی وضاحت

میقات: وہ جگہ ہے جہاں سے احرام باندھ جاتا ہے


احرام باندھنا: اپنے سابقہ کپڑوں کی جگہ سفید سادہ لباس پہننا اور اللہ کی اطاعت کرنا_

محرم: اسے کہتے ہیں جو احرام باندھ چکا ہو

لبّیک کہنا: یعنی اللہ کی دعوت کو قبول کرنا اور خاص عبادت کا احرام باندھتے وقت پڑھنا

طواف: خانہ کعبہ کے اردگرد سات چکر لگانا


چھٹا حصّہ

اخلاق و آداب


پہلا سبق

معاہدہ توڑا نہیں جاتا

گرمی کے موسوم میں ایک دن ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی (ع) دھوپ میں ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے دن بہت گرم تھا دھوپ پیغمبر اسلام (ع) کے سر اور چہرہ مبارک پر پڑ رہی تھی پیغمبر اسلام (ص) کی پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا تھا گرمی کی شدّت سے کبھی اپنی جگہ سے اٹھتے اور پھر بیٹھ جاتے اور ایک جانب نگاہ کرتے کہ گویا کسی کے انتظار میں بیٹھے ہیں پیغمبر اسلام (ص) کے اصحاب کا ایک گروہ اس نظارے کو دور سے بیٹھ کر دیکھ رہا تھا وہ جلدی سے آئے تا کہ دیکھیں کہ کیا وجہ ہے سامنے آئے سلام کیا اور کہا یا رسول اللہ (ص) اس گرمی کے عالم میں آپ (ص) کیوں دھوپ میں بیٹھے ہوئے ہیں رسول خدا (ص) نے فرمایا صبح کے وقت جب ہوا ٹھنڈی تھی تو میں نے ایک شخص


کے ساتھ وعدہ کیا کہ میں اس کا انتظار کروں گا وہ یہاں آجائے_ اب بہت دیر ہوگئی ہے اور میں یہاں اس کی انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں_ انہوں نے کہا کہ یہاں دھوپ ہے آور آپ کو تکلیف ہو رہی ہے_ وہاں سایہ کے نیچے چل کر بیٹھے اور اس کا انتظار کیجئے پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا کہ میں نے اس آدمی سے یہاں کا وعدہ کیا ہے میں وعدہ خلافی نہیں کرتا اور اپنے پیمان کو نہیں توڑنا جب تک وہ نہ آئے میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا_

ہمارے پیغمبر اسلام (ص) عہد و پیمان کو بہت اہمیت دیتے تھے اور پیمان کو توڑنا بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اورہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص عہد و پیمان کی وفا نہ کرے دیندار نہیں ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلمان اور مومن انسان ہمیشہ اپنے عہد و پیمان کا وفادار ہوتا ہے اور کبھی اپنے پیمان کو نہیں توڑنا اور یہ بھی فرماتے تھے کہ جو انسان سچّا امانتدار اورخوش اخلاق ہو اور اپنے عہد و پیمان کی وفاکرے تو آخرت میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہوگا قرآن بھی تمام مسلمانوں کوحکم دیتا ہے کہ اپنے عہد و پیمان کی وفا کریں کیوں کہ قیامت کے دن عہداور وفاکے بارے میں سوال وجواب ہوگا_

سوالات

۱)___کون سے افراد قیامت کے دن پیغمبر اسلام (ص) کے نزدیک ہوں گے؟


۲)___ خداوندنے قرآن مجید میںعہد وپیمان کی وفا کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

۳)____ کی دیندار انسان اپنے عہد کوتوڑتاہے؟ پیغمبر اسلام (ص) نے اس کے بارے میں کیا فرمایاہے؟

۴)___ آپ کے دوستوں میں سے کون زیادہ بہتراپنے پیمان پر وفادار رہتا ہے؟

۵)___ کیا آپ اپنے پیمان کی وفاداری کرتے ہیں؟ آپ کے دوست آپ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟

۶)___ وعدہ خلافی کا کیا مطلب ہے؟


دوسراسبق

مذاق کی ممانعت

اگر آپ سے کوئی مذاق کرتے تو آپ کی کیا حالت ہوجاتی ہے کیا ناراض ہوجاتے ہیں؟

اگر آپ درس پڑھتے وقت کوئی غلطی کریں اور دوسرے آپ کا مذاق اڑائیں اورآپ کی نقل اتاریں تو کیاآپ ناراض ہوتے ہیں کیاآپ کویہ بڑا لگتا ہے کیااسے ایک بے ادب انسان شمار کرتے ہیں دوسرے بھی آپ کی طرح مذاق اڑائے جانے پرنار اض ہوتے ہیں اورتمسخر ومذاق اڑانے والے کو دوست نہیںرکھتے اورخدا بھی مذاق اڑانے والے کودوست نہیں رکھتا اور اسے سخت سزا دیتا ہے خداوند عالم قرآن مجید میں انسانوں کو مذاق اڑانے اورمسخرہ کرنے سے منع کرتا ہے اورفرماتا ہے_


اے انسانو جو خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو خبردار تم میں سے کوئی دوسرے کامذاق نہ اڑائے کیوں کہ ممکنہ ے کہ اپنے سے بہتر کامذاق اڑا رہا ہو ایک دوسرے کوبرا نہ کہو اور ایک دوسرے کو برے اوربھدے ناموں سے نہ بلاؤ ایک مسلمان کے لئے برا ہے کہ وہ کسی کی توہین کرے اور اسے معمولی شمار کرے پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے جو شخص کسی مسلمان کا تمسخر یا مذاق اڑائے اوراس کی توہین کرے یا اسے معمولی سمجھ کرتکلیف دے تو اس کا یہ فعل ایسا ہی ہے جیسے اسنے مجھ سے جنگ کی ہو_

سوالات

۱)___ خداوند عالم قرآن میں تمسخر کرنے والے کے متعلق کیافرماتا ہے اورمسلمانوں کوکس اورکس طرح روکاہے؟

۲)___ ہمارے پیغمبر(ص) نے ایک مسلمان کے تمسخر کرنے کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

۳)___ تمہارے دوستوں میں کون ایسا ہے جو کسی کامذاق نہیں اڑاتا؟

۴)___ کیاتم نے آج تک کسی کا مذاق اڑایاہے؟ کس کی توہین کی ہے؟ کیا تمہیں علم نہ تھا کہ مذاق اڑانا گناہ ہے؟


تیسرا سبق

گھر کے کاموں میں مدد کرنا

میرا نام محمود ہے فرحت و زیبا میری دوبہنیں ہیں فرحت زیبا سے چھوٹی ہے دونوں مدرسہ میں پڑھتی ہیں ہمارے گھر میں کل چھ افراد ہیں ہم نے گھر کے کام کو آپس میں تقسیم کرلیا ہے خرید وفروخت اورگھر سے باہرکے کام میرے والدکرتے ہیں اورمیں بھی ان کی ان کاموں میں مدد کرتا ہوں روٹی خریدتا ہوں دودھ خریدتا ہوں، سبزی اورپھل خریدتا ہوں_ فرحت اورزیبا گھر کے اندرونی کاموں میں میری والدہ کی مدد کرتی ہیں اورگھر کو صاف و ستھرا اور منظّم رکھنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ان میں سے بعض کام فرحت نے اور بعض دوسرے کام زیبا نے اپنے ذمّہ رکھے ہیں ہمارے گھر میں ہر ایک کے ذمّہ ایک کام ہے کہ جسے وہ اپنا فریضہ جانتا ہے اور اسے انجام دیتا


اور اسے کبھی یاد دلانا بھی نہیں پڑتا ہم گھر کے تمام کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں صرف ہمارا چھوٹا بھائی کہ جو دس مہینے کاہے کوئی کام انجام نہیں دیتا میری امّی کہتی ہیں کہ رضا سوائے رونے، دودھ پینے سونے اورہنسنے کے اورکوئی کام نہیں کرتا جب بڑا ہوگا تواس کے لئے بھی کوئی کام معيّن کردیا جائے گا میرے والدکا یہ عقیدہ ہے کہ گھر کے تمام افراد کوکوئی نہ کوئی کام قبول کرنا چاہیئے اور ہمیشہ اسے انجام دے کیونکہ گھر میں کام کرنا زندگی گزارنے کادرس لینا اورتجربہ کرنا ہوتا ہے جو کام نہیں کرتا وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا_

پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ہے کہ خدا اس آدمی کوجواپنے بوجھ کوکسی دوسرے پرڈالتاہے پسندنہیںکرتا اسے اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے بہترین مسلمان وہ ہے جو گھر کے کاموں میں مدد کرے اور مہربان ہو _

ہمارے گھر کے افراد اپنے کاموں کے انجام دینے کے علاوہ دوسرے افراد کی بھی مدد کرتے ہیں مثلاً میں ایک دن عصر کے وقت گھر میں آیا تو دیکھا کہ میرے ابّاگھر کے صحن میں جھاڑودے رہے ہیں میں نے کہا ابّا جان آپ کیوں جھاڑودے رہے ہیں ابّانے کہا کہ تم نہیں دیکھتے کہ تمہاری ماں کے پاس بہت کام ہیں ہمیں چاہیئےہ اس کی مدد کریں ہم حضرت علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں ہم دینداری میں آپ کی پیروی کرتے ہیں_

ہمارے امام اور پیشوا حضرت علی علیہ السلام اپنے گھر کے کاموں میں حضرت زہرا (س) کی مدد کرتے تھے یہاں تک کہ گھر میں


جھاڑو دیتے تھے ہاں یہ بھی بتلادوں کہ ہمارے گھر کبھی بھی کوئی جھگڑا اورشور و غل نہیں ہوتا اگر میرے اور میری بہن کے درمیان کوئی اختلاف ہوجائے توہم اسے ہنسی خوشی اورمہربانی سے حل کرلیتے ہیں اور اگر ہم اسے حل نہ کرسکیں تو ماں کے سامنے جاتے ہیں یاصبر کرتے ہیں تا کہ ابّا آجائیں اورہمارے درمیان فیصلہ کریں_

میرے ابّا رات کوجلدی گھر آجاتے ہیں ہمارے درس کے متعلق بات چیت کرتے ہیں اورہماری کاپیوں کو دیکھتے ہیں اور ہماری راہنمائی کرتے میں جب ہمارے اورامّی کے کام ختم ہوجاتے ہیں توہم سب چھوٹی سی لائبریری میں جو گھر میں بنا رکھی ہے چلے جاتے ہیں اور اچھی کتابوں کا جو ہمارے ابّونے ہمارے لئے خرید رکھی ہیں مطالعہ کرتے ہیں میرا چھوٹا بھائی رضا بھی امّی کے ساتھ لائبریری میں آتا ہے اورامّی کے دامن میں بیٹھا رہتا ہے بجائے اس کے کہ مطالعہ کرے کبھی امّی کی کتاب کوپھاڑ ڈالتا ہے میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے ماںباپ بھائی بہن ایسے اچھے ہیں اورمیں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے فرائض کو اچھی طرح بجالاؤں اورگھر کے کاموں میں زیادہ مدد کروں

میرے استاد نے میرے اس مضمون کی کاپی پر یہ نوٹ لکھا

محمود بیٹا تم نے بہت اچھا اورسادہ لکھا ہے تمہارا مضمون سب سے اچھا ہے تم مقابلہ میں پہلے نمبر پر ہوجب میں نے تمہارا مضمون پڑھا تو بہت خوش ہوا اوراللہ تعالی کا شکرا دا کیا کہ اس طرح کا اچھا طالب علم بھی ہمارے مدرسہ میں موجودہے_ تمہیں خدا کا شکر کرنا


چاہیئے ک اس طرح کے سمجھدار ماں باپ رکھتے ہو کتنا اچھا ہے کہ تمام لوگ اور گھر کے افراد تمہاری طرح ہوں ایک دوسرے کے یار ومددگارہوں اورتمام لڑکے تمہاری طرح مہربان، فداکار اور محنتی ہوں_

سوچئے اورجواب دیجئے

۱)___ ہمارے پیغمبر (ص) نے گھر میں کام کرنے کے بارے میںکیا فرمایاہے

۲)___ جو شخص اپنے بوجھ کودوسروں پر ڈالتا ہے اس کے بارے میںکیا فرمایا ہے؟

۳)___ آپ دوسروں کی مدد زیادہ کرتے ہیں یا دوسروں سے اپنے لئے زیادہ مددمانگتے ہیں؟

۴)___ کیا آپ اپنے بہن بھائی سے اختلاف کرتے ہیں اوراپنے اختلاف کوکس طر ح حل کرتے ہیں_

۵)___ کیاآپ اپنے اختلاف کو حل کرنے کے لئے کوئی بہتر حل پیداکر سکتے ہیں اوروہ کون سا ہے؟

۶)___ کیا آپ کے گھر میں کاموں کوتقسیم کیا گیا ہے اورآپ کے ذمّہ کون سا کام ہے؟

۷)___ کیا آپ کے گھر میں لائبریری ہے اورکون آپ کے لئے کتابیں انتخاب کر کے لاتاہے؟

۸)___ استاد نے محمود کے مضمون کی کاپی پرکیانوٹ لکھا


تھا اور کیوںلکھا کہ وہ خدا کا شکر ادا کرے؟

۹)___ فداکاری کا مطلب کیا ہے اپنے دوستوں میںسے کسی ایک کی فداکاری کا تذکرہ کیجئے؟

۱۰)___ آپ بھی محمود کی طرح اپنے روز کے کاموں کولکھا کیجئے اوراپنی مدد کوجو گھر میں انجام دیتے ہیں اسے بیان کیجئے_


چوتھا سبق

اپنے ماحول کوصاف ستھرارکھیں

میںحسن آبادگیا تھا میں نے اس گاؤں کے گلی کوچے دیکھ کر بہت تعجب کیاچچازادبھائی سے کہا تمہارے گاؤں میں تبدیلیاںہوئی ہیںسچ کہہ رہے ہوکئی سال ہوگئے ہیں کہ تم تمہارے گاؤںمیں نہیں آئے پہلے ہمارے گاؤں کی حالت اچھی نہ تھی تمام کوچے کثیف تھے اور گندگی سے بھرے ہوئے تھے لیکن چارسال ہوئے ہیںکہ ہمارے گاؤں کی حالت ہے بالکل بدل گئی ہے چارسال پہلے ایک عالم دین ہمارے گاؤں میں تشریف لائے اورلوگوں کی ہدایت اور راہنمائی میںمشغول ہوگئے دو تین مہینے کے بعد جب لوگوں سے واقفیت پیدا کرلی تو ایک رات لوگوں سے اس گاؤں کی حالت کے متعلق بہت اچھی گفتگو کے دوران فرمایااے لوگو دین اسلام ایک پاکیزگی


اورصفائی والا دین ہے لباس، جسم، گھر، کوچے،حمام، مسجد اور دوسری تمام جگہوں کو صاف ہونا چاہیے میرے بھائیو اور جوانو کیا یہ صحیح ہے کہ تمہاری زندگی کا یہ ماحول اس طرح کثیف اورگندگی سے بھرا ہوکیا تمہیں خبر نہیں کہ ہمارے پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا کہ کوڑاکرکٹ اورگھر کی گندگی اپنے گھروں کے دروازے کے سامنے نہ ڈالا کرو کیونکہ گندگی ایک ایسی مخفی مخلوق کی جو انسان کو ضرر پہنچاتی ہے مرکز ہوتی ہے کیوں اپنی نالیوں اورکوچوں کوکثیف کرتے ہو گندا پانی اورگندی ہوا تمہیں بیمار کردے گی یہ پانی اور ہوا تم سب سے تعلق رکھتی ہے تم سب کو حق ہے کہ پاک اور پاکیزہ پانی اورصاف ہوا سے استفادہ کرو اور تندرست اوراچھی زندگی بسر کرو کسی کوحق نہیں کہ پانی اورہوا کو گندا کرے پانی اورہوا کو گندا اور کثیف کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے اورخدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا اورانہیں اس کی سزا دیتا ہے اے گاؤں کے رہنے والو میں نے تمہارے گاؤں کوصاف ستھرا رکھنے کاپروگرام بنایا ہے میری مددکرو تا کہ حسن آباد کوصاف ستھرا پاک وپاکیزہ بنادیں اس گاؤں والوںنے اس عالم کی پیش کش کو قبو ل کرلیا اوراعانت کاوعدہ کیا دوسرے دن صبح کوہم سب اپنے گھروں سے نکل پڑے وہ عالم ہم سے بھی زیادہ کام کرنے کے لئے تیار تھے ہم تمام آپس میں مل کر کام کرنے لگے اورگلیوں کوخوبصاف ستھرا کیا عالم دین نے ہمارا شکریہ ادا کیا اورہم نے ان کی راہنمائی کا شکریہ ادا کیا اس کے بعد گاؤں والوںنے ایک


عہد وپیمان کیا کہ اپنے گھر کی گندگی اوردوسری خراب چیزوں کوکوچے یا نالی میں نہیںڈالیں گے بلکہ اکٹھا کرکے ہرروز گاؤں سے باہر لے جائیں گے اوراس کوگڑھے میںڈال کر اس پر مٹی ڈال دیں گے اورایک مدت کے بعد اسی سے کھاد کاکام لیں گے ایک اور رات اس عالم دین نے درخت لگانے کے متعلق ہم سے گفتگو کی اورکہا کہ زراعت کرنا اور درخت لگانا بہت عمدہ اورقیمتی کام ہے اسلام نے اس کے بارے میںبہت زیادہ تاکید کی ہے_ درخت ہوا کو صاف اورپاک رکھتے ہیں اورمیوے اور سایہ دیتے ہیں اور دوسرے بھی اس کے فوائدہیں_ ہمارے پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی پودا تمہارے ہاتھ میں ہوکہ اس پودے کو زمین میں کاشت کرنا چاہتے ہو اور ادہر موت تمہیں آپہنچے تواپنے کام سے ہاتھ نہ اٹھانا یہاں تک کہ اس پودے کو زمین میں گاڑدو کیوںکہ اللہ زمین کے آباد کرنے اوردرخت اگانے والے کو دوست رکھتا ہے جوشخص کوئی درخت اگانے والے کو دوست رکھتا ہے جو شخص کوئی درخت لگائے اوروہ میوہ دینے لگے تو خداوندعالم اس کے میوے کے برابر اسے انعام اور جزا دے گا لہذا کتنا اچھا ہے کہ ہم اس نہر کے اطراف میں درخت لگادیں تا کہ تمہارا گاؤں بھی خوبصورت ہوجائے اگر تم مددکرنے کا وعدہ کروتوکل سے کام شروع کردیں دیہات کے سبھی لوگوںنے اس پراتفاق کیا اور بعض نیک لوگوں نے پودے مفت فراہم کردیئےوسرے دن صبح ہم نے یہ کام شروع کردیادیہات والوں نے بہت خوشی خوشی ان پودوں کولگادیااس عالم نے سب کو اور


بالخصوص بچّوں اورنوجوانوں کو تاکید کی کہ ان درختوںکی حفاظت کریں اوردیکھتے رہیں اورفرمایا کہ یہ درخت تم سب کے ہیں کس کو حق نہیں پہنچتا کہ اس عمومی درخت کو کووئی گزند پہنچائے ہوشیار رہنا کہ کوئی اس کی شاخیں نہ کاٹے کہ یہ گناہ بھی ہے، ہوشیار رہنا کہ حیوانات ان درختوں کوضرر نہ پہنچائیں جب سے ہم نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے پیغمبر (ص) شجر کاری کو پسند فرماتے ہیںجس کے نتیجے میں ہمارا گاؤں سرسبز اورمیوے دارباغوں سے پر ہوچکا ہے اس عالم کی رہنمائی اورلوگوں کی مدد سے اب حمام بھی صاف وستھرا ہوگیا ہے اورمسجد پاک و پاکیزہ ہے ایک اچھی لائبریری اورایک ڈسنپسری تمام لوازمات کے ساتھ یہاں موجودہے اوراس گاؤں کے چھوٹے بڑے لڑکے لڑکیاں پڑھے لکھے صاف و ستھرے ہیںجب میرے چچازاد بھائی کی بات یہاں تک پہنچی تو میںنے کہا کہ میں اس عالم دین اورتم کو اور تمام گاؤں میں رہنے والوں کو آفرین اور شاباش کہتا ہوں اے کاش تمام دیہات کے لوگ اور دوسرے شہروں کے لوگ بھی تم سے دینداری اور اچھی زندگی بسر کرنے کا درس لیتے_

سوالات

۱)___ آپ اپنے گھر کی کثافت اور گندگی کو کیا کرتے ہیں؟


۲)___ جو شخص اپنے گھر کی گندگی نالی وغیرہ میں ڈالے تو اسے کیا کہتے ہیں اوراس کی کس طرح رہنمائی کریں گے؟

۳)___ جو شخص اپنے گھر کی گندگی کوچے یا سڑک پر ڈالتا ہے تو اسے کیا کہتے ہیں پیغمبر اسلام(ص) کی کونسی فرمائشے اس کے سامنے بیان کریں گے؟

۴)___ سڑک گلی کوچوں اور اپنے رہنے کی جگہ کو صاف رکھنے کیلئے کون سے کام انجام دینے چاہیں؟

۵)___ ہمارے پیغمبر اسلام(ص) نے شجرکاری کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۶)___ آپ درخت لگانے کے لئے کیا کوشش کرسکتے ہیں؟

۷)___ آپ عمومی درختوں کی حفاظت اور نگاہ دی کس طرح کرتے ہیں؟

۸)___ اب تک آپ نے کتنے درخت لگائے ہیں؟


پانچواں سبق

جھوٹ کی سزا

ہم نے ایک دن سیر کا پروگرام بنایا اورہر ایک اپنے ساتھ کچھ خوراک لے آیا ادہر کلاس کی گنھٹی بجی سب خوش خوش ہنستے کھیلتے کلاس میں گئے منتظر تھے کہ استاد کلاس میں آئیں اور سیر کو جانے کے پروگرام کو بتلائیں_ سوچ رہے تھے کہ آج کتنا اچھا دن ہوگا ایک موٹر سیر کے لئے کرائے پر لے رکھی تھی وہ بھی آگئی اور مدرسہ کے دروازے کے سامنے کھڑی ہوگئی کلاس کے مانیٹر صاحب آج غیر حاضر تھے ہم جماعت لڑکیوں میں سے ایک لڑکا کہ جس کا نام حسن مانیٹر تھا استاد کی میز کے سامنے گیا اور کہا لڑکو لڑکو، میں اب مانیٹر کی جگہ ہوں جب استاد آئیں گے تو میں کہوں گا کھڑے ہوجاؤ تو تمام منظم طریقے سے کھڑے ہوجانا اور یاد رکھنا جو منظم طریقے سے


کھڑا نہ ہوگا اسے استاد سیر کو نہیں لے جائیں گے تمام لڑکے چپ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حسن نے کہا کھڑے ہوجاؤ تمام لڑکے مؤدّب اور منظّم طریقہ سے کھڑے ہوگئے کلاس کا دروازہ کھلا ایک لڑکا جو آج دیر سے آیا تھا وہ اندر داخل ہوا_ حسن بلند آواز سے ہنسا اور اس کے کہا لڑکو میں نے مذاق کیا ہے بیٹھ جاؤ تھوڑا سا وقت گزر ا تھا تمام لڑکے استاد کے آنے کا انتظار کر رہے تھے حسن نے کلاس کے دروازے پر نگاہ کی اور چپ کھڑا ہوگیا اور اس کے بعد بلند آواز سے کہا کھڑے ہوجاؤ تمام لڑکے کھڑے ہوگئے کلاس کا دروازہ آرام سے کھلا_ تیسری کلاس کے ایک لڑکے نے جو اپنے بھائی کا بستہ لایا تھا کہ اسے یہاں دے جائے اس نے بھائی سے کہا کہ کیوں اپنا بستہ آج ساتھ نہیں لائے تھے؟بھائی نے جواب دیا کہ آج سیر کو جانا تھا بستہ کی ضرورت نہیں تھی اس دفعہ ہم پھر بیٹھ گئے لیکن بہت ناراض ہوئے حسن پہلے تو تھوڑاسا ہنسا لیکن بعد میں کہا لڑکو مجھے معاف کرنا میں نے غلطی کی تھی تم بیٹھ جاؤ میں باہر جاتا ہوں تا کہ دیکھوں کہ آج استاد کیوں نہیں آئے حسن چلاگیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس لوٹ آیا اور کہنے لگا لڑکو سنو سنو استاد نے کہا ہے کہ آج سیر کو نہیں جائیں گے لڑکوں کا شور بلند ہوا آپ نہیں سمجھ سکتے کہ لڑکے کتنے ناراض ہوئے اسی اسی حالت میں کلاس کا دروازہ کھلا حسن نے کلاس کے دروازے کی طرف دیکھا اور اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا کھڑے ہوجاؤ


کھڑے ہوجاؤ کوئی بھی نہ اٹھا سب نے کہا حسن جھوٹ بول رہا ہے جھوٹ کہہ رہے ہے لیکن اس دفعہ استاد کلاس میں داخل ہوچکا تھا اور کلاس کے دروازے کے پیچھے حسن کی گفتگو کو سن چکا تھا اس سے کہا کہ کس نے آپ کو کہا ہے کہ آج سیر کو نہیں جائیں گے کیوں میری طرف جھوٹ کی نسبت دی ہے حسن اپنا سر نیچے کئے ہوئے تھا اس نے کوئی جواب نہیں دیا استاد نے کہا لڑکو سب مدرسہ کے صحن میں چلے جاؤ اور قطار بناؤ تا کہ موٹر پر سوار ہوں ہم بہت خوش ہوئے مدرسے کے صحن میں گئے اور قطار بنائی اور اپنی اپنی باری پر موٹر میں سوار ہوگئے_ لیکن جب حسن موٹر پر سوار ہونا چاہتا تھا تو استاد نے اسے کہا___تم ہمارے ساتھ سیر کو نہیں جاسکتے ہم جھوٹے طالب علم کو ساتھ نہیں لے جاسکتے حسن نے رونا شروع کردیا استاد کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ میں نے غلطی کی ہے مجھے معاف کردیں اور بہت زیادہ اصرار کیا استاد نے کہا اے حسن میں تمہارے اس چلن سے بہت ناراض ہوں بہتر یہی ہے کہ ہمارے ساتھ سیر کولے جائیں تو اس وقت میں تمہیں اپنے ساتھ سیر کو لے جاؤں گا کیونکہ تمام لڑکے حسن کی دروغ گوئی سے ناراض ہوچکے تھے استاد سے انہوں نے کچھ نہ کہا اور کسی بچّے نے بھی استاد سے اس چیز کی درخواست نہ بلکہ بعض آہستہ سے کہہ رہے تھے کہ ہم نہیں _چاہتے کہ حسن ہمارے ساتھ سیر کو جائے


استاد بھی موٹر پر سوار ہوگئے موٹر بچّوں کی مسرّت آمیز آواز میں مدرسے سے دور نکل گئی چوتھی کلاس کے لڑکوں میں سے صرف حسن مدرسہ میں رہ گیا چونکہ جھوٹ بولتا تھا ا سی لئے اپنی عزّت اور احترام کو کھو بیٹھا اور سیر سے بھی محروم ہوگیا یہ تو تھا اس دنیا کا نتیجہ لیکن آخرت میں جھوٹوں کی سزا سخت اور دائمی ہے_

ہمارے پیغمبر (ص) نے فرمایا مسلمان اورایمان دار شخص کبھی جھوٹ نہیں بولتا_

امام سجّاد (ع) نے فرمایا ہے جھوٹ سے بچو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا خواہ مذاق میں ہو یا بالکل حقیقت ہو_

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے جھوٹ ایمان کو برباد اور ویران کردیتا ہے_

سوالات

۱)___ لڑکوں نے تمام واقعات میں حسن کی بات کوسچ سمجھا اور کیوں؟

۲)___ کیا لوگ جھوٹے کی بات پراعتماد کرتے ہیں اور کیوں؟

۳)___ کیا بتلا سکتے ہیں کہ طالب علم جو سیر کو گئے تھے کتنے تھے اور حسن کے ساتھ کتنے دوست تھے؟


۴)___ آیا کوئی آدمی جھوٹے کے ساتھ دوستی کرتا ہے اور کیوں؟

۵)___ آپ کی نگاہ میںاگر حسن کو سیر پر لے جاتے تو بہتر نہ ہوتا اور کیوں؟

۶)___ اگر کوئی مزاح میں بھی جھوٹ بولتے تو اس کی کس طرح رہنمائی کریں گے اور اس سے کیا کہیں گے؟

۷)___ کیا مزاح میں جھوٹ بولنا برا اور گناہ ہے اور کیوں ؟

۸)___ آپ کی نگاہ میں حسن کیوں جھوٹ بولتا تھا؟

۹)___ جھوٹ ایمان کو ویران کردیتا ہے_ کا کیا مطلب ہے؟


چھٹا سبق

سڑک سے کیسے گزریں

مدرسے میں چھٹی ہوئی لڑکے کی طرف روانہ ہوگئے پیدل چلنے کی جگہ پر بہت بھیڑ تھی جواد نے اپنے دوست رضا سے کہا کتنی بھیہڑ ہے یہاں تو چلنا بہت مشکل ہے آؤ سڑک کے کنارے چلیں رضا نے کہا سڑک موٹروں کے آنے جانے کی جگہ ہے پیدل چلنے والوں کے لئے نہیں سڑک پر چلنا خطرناک ہوتا ہے اور رائیوروں کے لئے بھی مشکل پیدا ہوجاتی ہے اللہ اس کو دوست نہیں رکھتا جو دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کریں جواد نے کہا یہ تم کیا کہہ رہے ہو یہاں اس بھیر میں تو نہیں چلا سکتا خدا حافظ میں چلا یعنی سڑک کے ساتھ چلنے کے لئے یہ کہا اور رضا سے علی حدہ ہوگیا اور جلدی سے سڑک کے کنارے تیزی سے دوڑ نے لگا جواد


سچ کہہ رہا تھا کہ فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کی بھیڑ تھی وہ تو اتنی جلدی سے نہیں چل سکتا ہے وہ چاہتا تھا کہ گھر جلدی پہنچ جائے_ رضا نے جب دیکھا کہ اس کا دوست بہت جلدی میں اس سے دور نکل گیا ہے تو اس نے سوچا کہ وہ بھی سڑک پر چلاجائے اور جواد سے پیچھے نہ رہ جائے لیکن اسے یاد آیا کہ اس نے تو خود جواد سے کہا تھا کہ خدا پسند نہیں کرتا کہ دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کی جائیں اور سڑک پر چلنا خطرناک ہے اور ڈرائیوروں کے لئے مشکلات اور زحمت پیدا ہوجاتی ہے_ اسی سوچ میں تھا کہ بریک کی ایک مہیب آواز سنائی دی لوگ موٹر کی طرف دوڑے لیکن تھوڑی سی دیر بعد اس موٹر نے حرکت کی اور چلی گئی لوگ کہہ رہے تھے کہ خطرناک ایکسیڈنٹ تھا شاید کوئی مرگیا ہوگا اللہ کرے کہ ہسپتال تک جائے زندہ رہے رضا نے لوگوں کی یہ باتیں سنیں اور چند منٹ کے بعد گھر پہنچ گیا تھوڑا سا وقت گزرا تھا گویا ایک گھنٹہ_ جواد کی ماں رضا کے گھرآئی اور رضا سے پوچھا کہ جواد کو تو نہیں دیکھا تھا ابھی تک وہ نہیں آیا رضا نے کہا کہ جواد کہہ رہا تھا کہ مجھے کچھ کام ہے میں چاہتا ہوں کہ گھر جلدی جاؤں مجھ سے الگ ہوگیا اور جلدی میں سڑک پر دوڑنے لگا اسے ایکسیڈنٹ یاد آیا تو کہا اوہ: شاید جواد کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے جواد کی ماں نے کہا ایکسیڈنٹ؟ تو پھر میرا لڑکا اب کہاں ہے؟ جواد نے کہا کہ میں نے کچھ نہیں دیکھا صرف سنا تھا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہسپتال لے گئے ہیں_ جواد کی ماں ہسپتال دوڑی گئی اور پوچھا کہ


میرے بیٹے جواد کو یہاں لائے ہو کہا گیا کہ تمہارے لڑک کو دوگھنٹے پہلے یہاں لائے تھے آؤ اس کو دیکھو جواد کی ماں نے اسے دیکھا جواد تھا لیکن خونی چہرے کے ساتھ بستر پر لیٹا ہوا تھا_ دو دن کے بعد رضا اپنی ماں کے ساتھ اس کی عیادت کے لئے گیا جواد بستر پر سویا ہوا تھا اسے پلستر کیا گیا تھا اور اس کا تمام جسم درد کر رہا تھا ایک مہینے کے بعد بیسا کھی کی مدد سے مدرسہ گیا اور کلاس میں شریک ہوا استاد اور تمام ہم کلاس لڑکے اسے دیکھ کر خوش ہوئے اور اس حادثہ کے متعلق سوال کیا_

استاد نے کلاس کے لڑکوں کے سامنے اسکی وضاحت کی اور کہا کہ اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لئے ٹریفک کے قواعد اور قوانین کی پابندی کی جائے کیونکہ ٹرفیک کے قوانین تمام دنیا میں خطرات کو کم کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں جواد چاہتا تھا اکہ گھر جلدی پہنچ جائے لیکن ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے ہر روز کی نسبت وہ دیر سے گھر پہنچا حالانکہ اگر پیدل چلنے والی جگہ سے جاتا تو اس سے بہت زیادہ جلدی گھر پہنچ جاتا آپ جب بھی سڑک کی دوسری طرف جانا چاہیں تووہاں سے جائیں جہاں سفید خطوط بنائے گئے ہیں یاچوک کے نزدیک احتیاط سے دوسری طر ف جائیں سڑک پر دوڑ کرنہ جائیں اورکبھی بھی سڑک کے وسط میں نہ چلیں_

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ راستے کے وسط میں جانا


سوار لوگوں کے لئے ہے سوار انسان پیدل چلنے والوں پرتقدم کاحق رکھتا ہے_

سوالات

۱)___ حق تقدم کا کیا مطلب ہے کن لوگوں کو راستہ چلتے وقت تقدم کا حق ہے ہمارے پیغمبر (ص) نے اس کے متعلق کیا فرمایا ہے پیدل چلنے والوں کا حق سڑک پر کس طرف ہے؟

۲)___ جواد کا ایکسیڈنٹ کیوں ہوا اوررضانے اس سے کیا کہا تھا اگر رضا کی بات کومان لیتا توگھر کیسے پہنچ جاتا_

۳)___ جب کسی سڑک کو عبور کرنا چاہیں تو کس طرح اور کہاں سے عبور کریں گے؟

۴)___اس قسم کے حادثہ سے بچنے کے لئے کس قسم کی احتیاط کی ضرورت ہے؟

۵)___ ٹریفک کے بعض قوانین جو آپ جانتے ہیں بیان کریں؟

۶)___ جب جواد اپنی کلاس میں گیا تو استاد نے کس موضوع کو وضاحت سے بیان کیا؟

۷)___ کیا تم پہلے سے ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرتے


تھے؟ اور اب کیسے؟ ان کی پابندی کی کوشش کریں

ہم آپ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے اور سمجھی ہے انشاء اللہ آپ اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں گے کتنا اچھا ہے کہ آپ اپنے مخلص دوستوں کو بھی کہیں اس کتاب کو حاصل کر کے پڑھیں اور اس کی مشقوں کو حل کریں اور انہیں اچھی طرح یاد کریں اور جن کو یاد کرلیا ہے اسے اپنی زندگی کے لئے آئین قرار دیں اور اس پر عمل کریں_


فہرست

عرض ناشر ۴

حصّہ اوّل ۷

خداشناسی ۷

پہلا سبق ۸

خدا خالق کائنات ۸

سوچو ا ور جواب دو ۱۰

تجزیہ کیجئے اور غور کیجئے ۱۱

تجزیہ کیجئے اور غور کیجئے ۱۲

تجربہ کیجئے اور فکر کیجئے ۱۲

دوسرا سبق ۱۴

خدا کی بہترین تخلیق_ پانی ۱۴

تجربہ کر کے غور کیجئے ۱۵

سوچئے اور خالی جگہیں پر کیجئے ۱۶

تیسرا سبق ۱۷

سیب کا درخت خداشناسی کا سبق دیتا ہے ۱۷

فکر کیجئے اور جواب دیجئے ۱۸

چوتھا سبق ۲۰

نباتات کے سبز پتے یا خداشناسی کی عمدہ کتابیں ۲۰

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۲


تجربہ اور تحقیق کیجئے ۲۲

مشق ۲۲

پانچواں سبق ۲۳

تجربے کی روش خداشناسی کا سبق دیتی ہے ۲۳

کیا بتلا سکتی ہو کہ غذا کسے راستے سے معدہ میں جاتی ہے؟ ۲۴

غور کریں اور جواب دیں ۲۶

چھٹا سبق ۲۸

خدا کی قدرت کے آثار اور اس کی علامتیں ۲۸

نظام تنفس اور دوران خون ۲۹

بہت غور سے ان سوالوں کا جواب دیجئے ۳۲

اس سے کیا سمجھتے ہیں؟ ۳۴

ساتواں سبق ۳۵

عالم و قادر خدا ۳۵

اس سبق کے متعلق آپ خود سوال بنائیں ۳۶

اور مشقیں بھی آپ خود بتلائیں ۳۷

آٹھواں سبق ۳۸

خدا جسم نہیں رکھتا ۳۸

کیا آپ جانتے ہیں جسم کیا ہے؟ ۳۸

''فکر کیجئے اور جواب دیجئے'' ۴۰

مشقیں ۴۰


نواں سبق ۴۱

کیا خدا غیر مرئی ہے ۴۱

فکر کیجئے اور جواب دیجئے ۴۲

دسواں سبق ۴۳

موحّدین کے پیشوا حضرت ابراہیم (ع) ۴۳

غور کریں اور جواب دیں ۴۶

حصّہ دوم معاد ۴۸

حصّہ دوم معاد ۴۸

پہلا سبق ۴۹

کیا اچھائی اور برائی برابر ہیں ۴۹

اب ان سوالوں کے جواب دیں_ ۴۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۵۱

دوسرا سبق ۵۲

پھول کی تلاش ۵۲

جزاء کا دن ۵۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۵۶

تیسرا سبق ۵۸

جہان آخرت عالم برزخ اور قیامت ۵۸

برزخ میں سوال و جواب ۶۰

غور کیجئے او رجواب دیجئے ۶۱


چوتھا سبق ۶۲

مردے کیسے زندہ ہونگے ۶۲

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۶۴

پانچواں سبق ۶۵

کس طرح ۶۵

ہماری زندگی کے کام ۶۶

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۶۸

حصّہ سوم ۶۹

حصّہ سوم ۶۹

نبوّت ۶۹

پہلا سبق ۷۰

صراط مستقیم ۷۰

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۷۱

اور کیوں وضاحت کیجئے؟ ۷۲

دوسرا سبق ۷۳

کمال انسان ۷۳

انسان کو بھی اپنے مقصد خلقت کوحاصل کرنا چاہیے کس طرح اور کس کے ماتحت؟ ۷۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۷۵

تیسرا سبق ۷۶

راہنما کیسا ہونا چاہیئے ۷۶


چوتھا سبق ۷۷

پیغمبر کو کیسا ہونا چاہیے ۷۷

پانچواں سبق ۷۸

اجتناب گناہ کا فلسفہ ۷۸

چھٹا سبق ۷۹

پیغمبر آگاہ اورمعصوم راہنما ہیں ۷۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۸۰

ساتواں سبق ۸۲

اسے کیسے پہنچانتے ہیں اور اس سے کیا چاہتے ہیں ۸۲

آٹھواں سبق ۸۵

رسالت کی نشانیاں ۸۵

سوالات ۸۷

نواں سبق ۸۸

نوجوان بت شکن ۸۸

حضرت ابراہیم (ع) نمرود کی عدالت میں ۹۰

حضرت ابراہیم (ع) اور اتش نمرود ۹۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۹۵

دسواں سبق ۹۷

حضرت موسی (ع) خدا کے پیغمبر تھے ۹۷

حضرت موسی (ع) فرعون کے قصر میں ۹۹


آخری فیصلہ ۱۰۱

سوالات ۱۰۳

گیارہواں سبق ۱۰۵

پیغمبر اسلام (ص) قریش کے قافلے میں ۱۰۵

سوالات ۱۰۸

بارہواں سبق ۱۰۹

مظلوموں کی حمایت کا معاہدہ ۱۰۹

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۱۱

تیرہواں سبق ۱۱۳

پیغمبر اسلام (ص) کی بعثت ۱۱۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۱۶

چودہواں سبق ۱۱۸

اپنے رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت ۱۱۸

سوالات ۱۲۲

پندرہواں سبق ۱۲۴

صبر و استقامت ۱۲۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۲۶

سولہواں سبق ۱۲۸

دین اسلام کا تعارف ۱۲۸

سوالات ۱۳۱


سترہواں سبق ۱۳۳

مظلوم کا دفاع ۱۳۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۳۷

اٹھارہواں سبق ۱۳۹

خدا کا آخری پیغمبر حضرت محمد(ص) ۱۳۹

ان مطالب کو دیکھتے ہوئے مندرجہ ذیل جملے مکمل کیجئے ۱۴۰

انیسواں سبق ۱۴۳

قرآن اللہ کا کلام ہے ۱۴۳

بیسواں سبق ۱۴۷

قرآن پیغمبر اسلام(ص) کا دائمی معجزہ ہے ۱۴۷

سوالات ۱۴۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۴۹

اکیسواں سبق ۱۵۰

سبق آموز کہانی دو بھائی ۱۵۰

ایک تربیتی کہانی ظالم حریص قارون ۱۵۳

خوشبختی اور سعادت کس چیز میں ہے ۱۵۵

حضرت موسی (ع) کی دعا قبول ہوئی ۱۵۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۵۸

چوتھا حصّہ ۱۶۰

چوتھا حصّہ ۱۶۰


امامت ۱۶۰

پہلا سبق ۱۶۱

پیغمبر کا خلیفہ اور جانشین کون ہوسکتا ہے ۱۶۱

پیغمبر(ص) کا جانشین کیسا ہونا چاہیئے ۱۶۲

دوسرا سبق ۱۶۳

پیغمبر کا جانشین امام معصوم ہوتا ہے ۱۶۳

سوالات ۱۶۴

تیسرا سبق ۱۶۵

عید غدیر ۱۶۵

سوالات ۱۶۸

چوتھا سبق ۱۷۰

شیعہ ۱۷۰

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۷۲

پانچواں سبق ۱۷۳

آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام ۱۷۳

چھٹا سبق ۱۷۶

اسراف کیوں؟ ۱۷۶

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۷۹

ساتواں سبق ۱۸۰

نویں امام ''حضرت امام محمد تقی علیہ السلام ۱۸۰


آٹھواں سبق ۱۸۳

گورنر کے نام خط ۱۸۳

محمد بن علی الجواد (ع) ۱۸۴

غو رکیجئے اور جواب دیجئے ۱۸۴

نواں سبق ۱۸۶

دسویں امام حضرت امام علی نقی علیہ السلام ۱۸۶

دسواں سبق ۱۸۸

نصیحت امام (ع) ۱۸۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۱۹۱

گیارہواں سبق ۱۹۳

گیارہوں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ۱۹۳

بارہواں سبق ۱۹۵

امام حسن عسکری (ع) کا خط ۱۹۵

سوالات ۱۹۷

تیرہواں سبق ۱۹۹

بارہویں امام حضرت حجت امام زمانہ حضرت مہدی (عج) ۱۹۹

غیبت اور امام زمانہ (ع) کا ظہور ۲۰۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۰۲

چودہواں سبق ۲۰۳

شیعہ کی پہچان ۲۰۳


پندرہواں سبق ۲۰۶

اسلام میں رہبری اور ولایت ۲۰۶

سوالات ۲۰۸

پانچواں حصّہ ۲۱۰

فروغ دین ۲۱۰

پہلا سبق ۲۱۱

دوسرا سبق ۲۱۳

نجس چیزیں ۲۱۳

جانتے ہیں ہم بیمار کیوں ہوتے ہیں؟ ۲۱۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۱۵

تیسرا سبق ۲۱۶

نماز کی اہمیت ۲۱۶

نماز کے چند مسئلے ۲۱۷

چوتھا سبق ۲۱۹

نماز آیات ۲۱۹

سوالات ۲۲۰

پانچواں سبق ۲۲۱

قرآن کی دو سورتیں ۲۲۱

چھٹا سبق ۲۲۳

روزہ ایک بہت بڑی عبادت ہے ۲۲۳


غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۲۵

ساتواں سبق ۲۲۶

اسلام میں دفاع اور جہاد ۲۲۶

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۲۹

آٹھواں سبق ۲۳۱

امربالمعروف و نہی عن المنکر ۲۳۱

سوالات ۲۳۵

نواں سبق ۲۳۶

زکاة عمومی ضرورتوں کو پوری کرنے کیلئے ہوتی ہے ۲۳۶

زکاة کون حضرات دیں ۲۳۷

زکاة کو کہاں خرچ کریں ۲۳۸

دسواں سبق ۲۴۰

خمس ۲۴۰

دین کی تبلیغ اور اس کیلئے زمین ہموار کرنے کا سرمایہ ۲۴۰

خمس کیا ہے؟ اور کس طرح دیا جائے ۲۴۰

خمس کسے دیا جائے ۲۴۱

سوالات ۲۴۲

گیارہواں سبق ۲۴۳

حج کی پر عظمت عبادت ۲۴۳

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۲۴۵


چند اصطلاحات کی وضاحت ۲۴۵

چھٹا حصّہ ۲۴۷

چھٹا حصّہ ۲۴۷

اخلاق و آداب ۲۴۷

پہلا سبق ۲۴۸

معاہدہ توڑا نہیں جاتا ۲۴۸

سوالات ۲۴۹

دوسراسبق ۲۵۱

مذاق کی ممانعت ۲۵۱

سوالات ۲۵۲

تیسرا سبق ۲۵۳

گھر کے کاموں میں مدد کرنا ۲۵۳

سوچئے اورجواب دیجئے ۲۵۶

چوتھا سبق ۲۵۸

اپنے ماحول کوصاف ستھرارکھیں ۲۵۸

سوالات ۲۶۱

پانچواں سبق ۲۶۳

جھوٹ کی سزا ۲۶۳

سوالات ۲۶۶

چھٹا سبق ۲۶۸


سڑک سے کیسے گزریں ۲۶۸

سوالات ۲۷۱