‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم)- جلد 3
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف ‏آيت اللہ ابراهیم امینی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : تعلیم دین ساده زبان میں (جلد سوم)

تصنیف : آیت اللہ ابراہیم امینی

ترجمه : علامه اختر عباس صاحب

نظرثانی : حجة الاسلام نثار احمد خان

ناشر : انصاریان پبلیکیشنز قم ایران

تعداد : سه ہزار

کتابت : جعفرخان سلطانپور


عرض ناشر

کتاب تعلیم دین سادہ زبان میں حوزہ علمیہ قم کی ایک بلند پایہ علمی شخصیت حضرت آیہ اللہ ابراہیم امینی کی گراں مایہ تالیفات میں سے ایک سلسلہ ''آموزش دین در زبان سادہ'' کا اردو ترجمہ ہے_

اس کتاب کو خصوصیت کے ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے لئے تحریر کیا گیا ہے_ لیکن اس کے مطالب اعلی علمی پیمانہ کے حامل ہیں اس بناپر اعلی تعلیم یافتہ اور پختہ عمر کے افراد بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں_

بچوں اور جوانوں کی مختلف ذہنی سطحوں کے پیش نظر اس سلسلہ کتب کو چار جلدوں میں تیار کیا گیا ہے_ کتاب ہذا اس سلسلہ کتب کی چوتھی جلد کے ایک حصّہ پر مشتمل ہے جسے کتاب کی ضخامت کے پیش نظر علیحدہ شائع کیا جارہا ہے_

کتاب کے مضامین گو کہ اعلی مطالب پر مشتمل ہیں لیکن انھیں دل نشین پیرائے اور سادہ زبان میں پیش کیا گیا ہے تا کہ یہ بچّوں کے لئے قابل


فہم اوردلچسپ ہوں_

اصول عقائد کے بیان کے وقت فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے ہوئے اتنا سادہ استدلالی طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ نوعمر طلباء اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں_

مطالب و معانی کے بیان کے وقت یہ کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے والوں کی فطرت خداجوئی بیدار کی جائے تا کہ وہ از خود مطالب و مفاہیم سے آگاہ ہوکر انھیں دل کی گہرائیوں سے قبول کریں اور ان کا ایمان استوار پائیدار ہوجائے_

ہماری درخواست پر حضرت حجة الاسلام و المسلمین شیخ الجامعہ الحاج مولانا اختر عباس صاحب قبلہ دام ظلہ نے ان چاروں کتابوں کا ترجمہ کیا_

ان کتابوں کو پہلا ایڈیشن پاکستان میں شائع ہوا تھا اور اب اصل متن مؤلف محترم کی نظرثانی کے بعد اردو ترجمہ حجة الاسلام جناب مولانا نثار احم د ہندی کی نظرثانی اور بازنویسی کے بعد دوبارہ شائع کیا جارہا ہے اپنی اس ناچیز سعی کو حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں

ہماری دلی آرزو ہے کہ قارئین گرامی کتاب سے متعلق اپنی آراء اور قیمتی مشوروں سے مطلع فرمائیں

والسلام ناشر محمد تقی انصاریان


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اہداء

پروردگار شہید اور شہادت کے بلند مرتبہ سے تو ہی واقف ہے، جن پاکبازوں نے اپنی ہستی کو تیری راہ میں قربان کر کے انسانیت پر جو عظیم احسان کیا ہے اس کا عوض تیر سوا کوئی نہیں دے سکتا، تیرا لطف ہی ان کے شایان شان ہے_

اے اللہ اگر اس ناچیز کی تیرے نزدیک کوئی قدر و قیمت ہے تو میں اس کا ثواب ایران کے اسلامی انقلاب کے عظیم رہبر نائب امام زمانہ امام خمینی رضو اللہ تعالی علیہ اور ایران کے اسلامی انقلاب کے جاں نثاروں اور تمام شہدائے اسلام کو ہدیہ کرتا ہوں امید ہے کہ وہ اپنے پرودگار کے سامنے نگاہ لطف فرمائیںگے_

مولف

اگر اس ترجمہ کا کوئی ثواب ہے

تو میری نیت بھی مولف کے ساتھ ہے


پہلا حصّہ

جہاں کا خالق خدا


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس حصہ کے آغاز میں ہم چند طالب علموں کی اپنے چچا سے اس دنیا کی پیدائشے کے متعلق اور اس کے نظم و ضبط سے مربوط سادہ اور آسان گفتگو پیش کریں گے اور اسی حصہ میں پھر اس موضوع پر بھر پور روشنی ڈالیں گے_

کائنات کی تخلیق میں ہم آہنگی کس بات کا ثبوت ہے؟

میرے چچا ایک خوش سلیقہ اور محنتی زمیندار ہیں، اپنی دن رات کی کوشش اور محنت سے ایک بہت عمدہ اور خوبصورت باغ اور فارخم بنا رکھا ہے_ وہ دیہات کی زندگی اور زراعت کے پیشے کو بہت دوست رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زراعت بہت عمدہ پیشہ ہے_

بہار کے موسم میں ایک دن انھوں نے ہمیں اپنے باغ میں دعوت دی تھی وہ ایک بہت زیبا اور باصفا باغ تھا اس کے درخت پھولوں سے لدے ہوئے تھے باغ کے وسط میں ایک مکان تھا ہمارے ماں، باپ اور چچا اس مکان میں چلے گئے اور ہم باغ کی سیز میں مشغول ہوگئے وہ دن بہت ہی پر کیف تھا ہم کھیل کھود میں مشغول تھے کہ اتنے میں بادل چھاگئے اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی کہ جس نے ہمارے کھیل کود کو ختم کردیا_


ہم دوڑتے ہوئے مکان کی طرف گئے جب ہم مکان تک پہنچے تو بالکل تر ہوچکے تھے میں نے کہا کہ بارش نے ہمارے کھیل کو ختم کردیا ہے کاش بارش نہ آتی اور ہم کھیل کود میں مشغول رہتے_

میرے چچا نے تبسم کیا اور مجھے جب کہ وہ میرے لئے گرم دودھ ڈال رہے تھے کہا کہ بہت زیادہ پریشان نہ ہو، اگر بارش نہ آئے تو ایک مدّت کے بعد پیاس اور بھوک سے گائے مرجائیں گی اس صورت میں تم کیسے دودھ پی سکو گے؟ کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہماری اور تمام موجودات کی زندگی کا بارش سے تعلق ہوتا ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اگر بارش نہ آئے تو یہ سر سبز اور خرم درخت اور نباتات خشک اور پمردہ ہوجائیں گے؟ اگر بارش نہ آئے تو ہم بھی زندہ نہ رہ سکیں گے کیونکہ ہم حیوانات کے گوشت اور دودھ سے استفاہ کرتے ہیں اور میوہ جات اور سبزیاں اور اناج سے استفادہ کرتے ہیں؟

اس وقت ایک بچہ نے پوچھا: چچا جان باراش کس طرح بنتی ہے؟ چچا نے کہا: تم نے بہت اچھا اور عمدہ سوال کیا ہے_ کون حسن کا جواب دے سکتا ہے؟ میں جب کہ کھڑکی سے بارش کی موٹی موٹی بوندیں دیکھ رہا تھا اور بارش کے ختم ہوجانے کا انتظار کر رہا تھا_ یہ کتنا عام سوال ہے_ معلوم ہے کہ آسمان کے بادلوں سے بارش ہوتی ہے_

کاش کہ یہ بادل چھٹ جاتے اور بارش ختم ہوجاتی اور ہم پھر سے باغ میں جاتے اور کھیلتے_ چچا ہنسے اور مجھ سے کہا: بیٹے تمہیں کتنا کھیل کود کا خیال ہے_ حسن نے دوبارہ پوچھا کہ آسمان پر بادل کیسے آجاتے ہیں؟

چچا نے کہا کہ بادل دریا اور سمندر سے آسمان پر آجاتے ہیں_ حسن نے پھر پوچھا کہ بادل،


آسمان پر کیسے آتے ہیں؟ یہاں تو کوئی دریا اور سمندر موجود نہیں ہے میں نے کہا: حسن کتنے سوال کر رہے ہو؟ آج تو ان سوالوں کا وقت نہیں، تم پوچھو کہ بارش کب ختم ہوگی؟ چچا ہنسے اور کہا کہ آج ہی تو ان سوالوں کا وقت ہے تم جس چیز کو نہیں جانتے اس کا سوال کرو اگر سوال نہیں کروگے تو اسے معلوم نہیں کرسکوگے_

پھر انھوں نے حسن بھائی کے لباس کی طرف اشارہ کیا اورکہا:

'' تم اپنے بھائی کے لباس پر نگاہ کرو کہ کس طرح اس سے بخارات اٹھ رہے ہیں، پانی کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ گرمی کی درجہ سے وہ بخار بن جاتا ہے اور پھر بخار اوپر اٹھتا ہے، دیکھو اکتیلی سے کس طرح بخار نکل رہے ہیں اور اوپر جارہے ہیں سمندر کا پانی بھی سورج کی تمازت سے بخار بن کر اوپر جاتا ہے اور بخارات ہوا کے چلنے سے چلنے لگتے ہیں اور ادھر ادھر حرکت کرنے لگتے ہیں اور آپس میں اکٹھے ہونے لگتے ہیں اور بادل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور بارش برسانے کے لئے مہیا ہوجاتے ہیں اور زمین پر بارش برساتے ہیں تا کہ درخت پانی سے سیراب ہوکر پھول اور کونپلیں نکالنے لگیں_

بارش کے قطرے تدریجاً زمین پر پڑتے ہیں اور زمین میں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور پھر پہاڑوں کے دامن سے چشموں کی شکل میں پھوٹ پڑتے ہیں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پائے جاتے ہیں اور بالآخر پھر سے دریا یا سمندر کی طرف لوٹ جاتے ہیں_


بارش کے قطرات سخت سردی میں برف کی شکل اختیار کرلیتے اور بہت نرم و خوبصورت ہوکر زمین پر گرپڑتے ہیں_

بچّو سوچو اگر پانی نہ ہوتا اور بارش نہ ہوتی تو کیا ہم زندہ رہ سکتے؟ سوچو اور دیکھو کہ اگر پانی بخارات نہ بنتا تو کیا ہوتا___؟ اور اگر بخارات، آسمان کی طرف جاتے لیکن برف اور بارش کی شکل میں دوبارہ نہ لوٹتے تو بیابان او رجنگل و زراعت اور صحرا کس طرح سیراب ہوتے___؟

____ غور کرو اور بتاؤ کہ ____؟

اگر بارش قطرہ قطرہ ہوکر نیچے نہ آتی تو کیا ہوجاتا____؟

مثلا اگربارش ایک بہت بڑی نہر کی صورت میں نیچے آتی تو کیا ہوتا؟ آیا تدریجاً زمین پر گرسکتی___ ؟ یا تمام چیزوں کو بہاکر اپنے ساتھ لے جاتی___؟

کیا تم خوب سمجھ چکے ہو کہ بارش کس طرح بنتی ہے___؟ کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ یہ زندگی بخش مادّہ پانی کس حیران کن ضبط اور ترتیب سے مادّہ میں گردش کرتا ہے___؟ اب سمجھ گئے ہو کہ سوال کرنا کتنا فائدہ رکھتا ہے_

''فرشتہ'' نامی لڑکی جواب تک غور سے گفتگو سن رہی تھی، یکدم بولی: کتنا عمدہ اور بہتر سورج، سمندر پر چمکتا ہے اور پانی بخارات بنتا ہے اور پھر اوپر چلاجاتا ہے اور بادل بن جاتا ہے اور ہوائیں اسے ادھر ادھر لے جاتی ہے اور بادل بارش کے قطرات کی


صورت میں زمین پر گرتے ہیں اور بیابان و جنگل و زراعت و صحراء کو سیراب کردیتے ہیں_ کتنے دقیق و منظم اور بہتر طریقے سے ایکدوسرے سے ملتے ہیں_

کیا تم بتاسکتے ہو کہ یہ تمام نظم اور ایک دوسرے سے ربط کس ذات نے مختلف اشیاء میں قرار دیا ہے___؟

اس عمدہ اور دقیق ربط کو کس نے ایجاد کیا ہے؟ چچا نے کہا کہ اگر تم مجھے اجازت دو تو اس کے متعلق اپنا نظر یہ بیان کروں اس کے بعد تم بھی اپنے نظریات کا اظہار کرنا_

میرا خیال ہے کہ یہ تمام دقیق ربط اور ضبط اس چیز کی نشاندہی اور گواہی دیتا ہے کہ اسے پیدا کرنے والا بہت دانا اور قدرت رکھنے والا ہے کہ جس نے اس جہاں کو اس مستحکم نظام سے پیدا کیا ہے اور اسے چلا رہا ہے_ میری فکر یہ ہے کہ اس نے اس عمدہ اور دقیق نظام کو اس لئے بنایا ہے تا کہ جڑی، بوٹیاں، درخت و حیوان اور انسان زندہ رہ سکیں_ تمھارا کیا نظریہ ہے____؟

تمام بچّوں نے کہا: چچا جان

''آپ کی بات بالکل صحیح ہے اور درست فرما رہے ہیں_ یہ دنیا اور اس کا نظم و ضبط ایک واضح نشانی ہے کہ کوئی عالم و قادر اور خالق موجود ہے''_

درست ہے کہ بارش کس عمدہ طریقہ سے برستی ہے، بارش کتنی خوبصورت اور فائدہ مند ہے میں نے کہا: یہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن بارش نے ہمارے کھیل کو دکو


تو ختم کر کے رکھ دیا ہے اگر اسے ختم نہ کرتی تو کتنا اچھا ہوتا_ فرشتہ نامی لڑکی نے تبسّم کیا اور کہا:

'' اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بارش کے برسنے ، ہواؤں کے چلنے، زندہ موجودات اور ان میں محکم نظم و ضبط کو جو موجود ہے خالق جہان کے علم اور قدرت پر ایک واضح علامت اور نشانی قرار دیا ہے''

دیکھو قرآن کیا کہہ رہا ہے ( کہ وہ بارش کہ جسے خدا آسمان سے برساتا ہے اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے اور حرکت کرنے والے موجودات کو زمین پر پھیلا د یتا ہے_ ہواؤں کے چلنے اور وہ بادل کہ جو زمین اور آسمان کے درمیان موجود ہیں ان سب چیزوں میں ایک واضح نشانی موجود ہے کہ خدا عالم اور قادر ہے البتہ یہ سب ان کے لئے جو عقل اور سوچ رکھتے ہوں اور غور کریں) ہم سب نے چچا اور فرشتہ کا شکریہ ادا کیا_ چچا نے کہا:

شاباش اس پر کہ تم نے یہ تمام گفتگو سنی اور اس کا نتیجہ بھی برآمد کیا''

پھر کمرے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ دیکھو کس طرح بادل ادھر جارہے ہیں شاید چند منٹ کے بعد بارش ختم ہوجائے گی کہ باغ کی طرف جانے اور بہار کی عمدہ ہوا میں کھیل کود اور اللہ تعالی کی اس نعمت پر اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ _ تمام ہنسے اور خوشحال وہاں سے اٹھے اور کھڑکی کے نزدیک بارش کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے_


سوالات

ان سوالات کے جوابات دیجئے

۱)___ جب نرگس نے کہا تھا کہ کاش بارش نہ آتی تو چچا علی نے اسے کیا جواب دیا تھا؟

۲)___ بادل آسمان پر کیسے آتے ہیں؟ یہ سوال کس نے کیا تھا؟ اور چچا علی نے اس کا کیا جواب دیا تھا؟

۳)___ ''فرشتہ'' نامی لڑکی نے کون سے سوال پوچھے تھے اور اس کا کس نے اور کیا جواب دیا تھا؟

۴)___ دنیا میں نظم و ضبط کا موجود ہونا کس چیز کی علامت ہے کوئی ایک نظم اور ربط بیان کرو_


دنیا میں پانی کی گردش

ہم آہنگی کی ایک عمدہ اور واضح مثال ہے_ موجودات میں پانی کی تقسیم کا نظام بہت تعجب آور ہے پانی کا اصلی مرکز دریا، نہریں اور سمندر ہیں_ ان پر برکت اور مستغنی مراکز سے پانی زمین میں تقسیم ہوتا ہے_ سمندروں اور دریا کا پانی سورج کی تمازت سے آہستہ آہستہ بخارات میں تبدیل ہوتا ہے اور آسمان کی طرف چلاجاتا ہے اور ہواؤں کی وجہ سے بخارات ادھر ادھر جات ہیں او ر حب ایک خاص حد تک دباؤ پڑتا ہے تو بخارات بادل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں یعنی بخارات اکٹھے ہوتے ہیں اور تیز اور سست ہوا کے چلنے سے حرکت میں آجاتے ہیں اور زمین کے مختلف گوشوں میں اکٹھے ہوکر بارش برسانے کے لئے مہیا ہوجاتے ہیں اور بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر درختوں، نباتات اور دور دراز جنگلوں کو سیراب کردیتے ہیں_

بارش کا پانی بالتدریج زمین پر آتا ہے اور زمین میں ضرورت کے ایام کے لئے ذخیرہ ہوجاتا ہے یہ ذخیرہ شدہ پانی کبھی چشموں کی صورت میں پہاڑوں کے دامن سے ابل پڑتا ہے اور کبھی انسان اپنی کوشش اور محنت سے کنویں اور نہرین بنالیتا ہے_

انسان، زمین میں چھپے ہوئے بہترین منابع ہے استفادہ کرتے ہیں_ بارش کے قطرات، خاص حالات کے تحت برف کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور گردش کرتے


ہوئے بہت نرمی اور خوبصورتی سے زمین پر گرنے لگتے ہیں_ برف، نباتات کے لئے بہت فائدہ مند ہوتی ہے جو کہ آہستہ آہستہ پانی بن جاتی ہے اور زمین کے منابع میں ذخیرہ ہوجاتی ہے یا نہر اور دریاؤں میں جاگرتی ہے ضرورت مند لوگوں کے کام آجاتی ہے پھر سمندروں میں چلی جاتی ہے_ پانی کا بخارات بننے، اوپر چلاجانے اور ادھر ا دھر پھیل جانے کی خاصیت بھی قابل غور اور لائق توجہ ہے_

اگر ہوا میں طاقت نہ ہوتی تو بادل کیسے ہوا میں پھیلتے اور کیسے ادھر ادھر جاتے؟ اگر سورج میں گرمی اور تمازت نہ ہوتی تو کیا سمندر کے پانی بخارات میں تبدیل ہوجاتے؟ اور اگر سمندر کا پانی سوڈ گری تک گرم ہوجاتا تو کیا تمام موجودات کی ضروریات کے مطابق قرار پاتا___؟ کیا اس صورت میں انسان زندہ رہ سکتا تھا؟ اور اگر بارش قطرات کی صورت میں نہ برستی تو پھر کون سی مشکلات پیدا ہوجاتیں؟ مثلاً اگربارش اکٹھے نہر کی صورت میں زمین پر برستی تو کیا ہوتا___؟ کیا ہوسکتا کہ تدریجاً زمین پر آتی اور زمین میں ذخیرہ ہوجاتی___؟

بارش اور برف کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ ہوا کو صاف اور ستھرا کردیتی ہے اگر بارش ہوا میں زہر اور کثافت کو صاف اور پاک نہ کرتی تو کیا ہم اچھی طرح سانس لے سکتے؟ اب آپ خوب سمجھ گئے ہوں گے کہ پانی و برف اور بارش میں کتنی قیمتی خصوصیات موجود ہیں_

سمندر، سورج، ہوا، بادل اور بارش کس طرح دقیق نظم و ضبط سے ایک دوسرے سے ربط کے ساتھ کام انجام دے رہے ہیں ؟ یہ کام انجام دیتے ہیں تا کہ ہماری اور حیوانات و موجودات کی زندگی کے وسائل فراہم کریں_ یہ نظم و ضبط اور ترتیب و ہماہنگی اور ہمکاری کس بات کی گواہ ہے___؟ کیا اس کا بہترین گواہ نہیں کہ اس باعظمت جہاں


کی خلقت میں عقل اور تدبیر کو دخل ہے؟ کیا یہ نظم و ضبط اور ترتیب و ہماہنگی ہمیں یہ نہیں بتا رہی ہے کہ ایک عالم اور قادر کے وجود نے اس کی نقشہ کشی کی ہے اور یہ وہ ذات ہے کہ جس نے انسان اور تمام موجودات کو خلق فرمایا ہے اور جس چیز کی انھیں ضرورت تھی وہ بھی خلق کردی ہے_

اب جب کہ تم پانی کے خواص اور اہمیت سے اچھی طرح باخبر ہوچکے ہو تو اب دیکھنا ہے کہ اللہ تعالی نے اس نعمت کے مقابلے میں ہمارے لئے کون سا وظیفہ معین کیا ہے؟ اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس پر برکت نعمت سے استفادہ کریں اور اس ذات کی اطاعت و شکریہ ادا کریں اور متوجہ رہیں کہ اسے بیہودہ ضائع نہ کریں اور اسراف نہ کریں بالخصوص نہروں و غیرہ کو آلودہ نہ کریں اور زیرزمین منابع کی حفاظت کریں تا کہ دوسرے بھی اس سے استفادہ کرسکیں_

اس بارے میں قرآن کی آیت ہے:

الله الذی یرسل الرّیاح فتثیر سحابا فیبسطه فی السّماء کیف یشاء و یجعله کسفا فتری الودق من خلاله فاذا اصاب به من یشاء من عباده اذا هم یستبشرون

''خدا ہے کہ جس نے ہوائیں بھیجی ہیں تا کہ بادلوں کو حرکت دیں اور آسمان میں پھیلادیں اور انھیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بدلیں اور اکٹھا کریں بارش کے قطرات کو دیکھتے ہو کہ جو بادلوں سے نازل ہوتے ہیں_ خدا بارش کو جس کے متعلق چاہتا ہے نازل کرتا ہے تا کہ اللہ کے بندے شاد ہوں''(۱)

____________________

سورہ روم آیت نمبر ۴۸


سوالات

ان سوالوں کے جوابات کے سوچو اور بحث کرو

۱)___ موجودات اور مادہ میں پانی کی گردش کس طرح ہوتی ہے؟

۲)___ تم پانی کے فوائد بیان کرسکتے ہو اور کتنے؟

۳)___ جانتے ہو کہ بارش کے آنے کے بعد کیوں ہوالطیف ہوجاتی ہے؟

۴)___ چشمے کس طرح بنتے ہیں؟ نہریں کس طرح وجود میں آتی ہیں، چشموں اور نہروں کا پانی کس طرح وجود میں آتا ہے؟

۵)___ ربط، ایک دوسرے کی مدد، ہم آہنگی، دقیق نظام جو جہاں میں موجود ہے اس کا تعلق طبیعت میں پانی کی گردش سے کیسے ہے؟ اسے بیان کرو_

۶)___ یہ نظم و ترتیب اور ہم آہنگی کس چیز کی گواہ ہے؟

۷)___اس حیات بخش نعمت کے مقابل ہمارا کیا وظیفہ ہے؟ اللہ تعالی نے ہمارے لئے کون سا وظیفہ معین کیا ہے؟


ایمان او رعمل

ہماری کلاس کے استا د بہترین استادوں میں سے ہیں_ آپ پوچھیں گے کہ کیوں؟ خوش سلیقہ، بامقصد، مہربان و بردبار اور خوش اخلاق ہیں، وہ ہمیشہ نئی اور فائدہ مند چیزیں بیان کرنا چاہتے ہیں_ سبق پڑھانے میں بہت پسندیدہ طریقہ انتخاب کرتے ہیں_ شاید تمھارے استاد بھی ایسے ہی ہوں تو پھر وہ بھی ایک بہترین استاد ہوں گے_

ایک دن وہ کلاس میں آئے تو ہم ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے_ انھوں نے ہمیں سلام کیا اور ہم سب نے ان کے سلام کا جواب دیا پھر انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر درس دینا شروع کردیا اور فرمایا:

''بچّو آج ہم چاہتے ہیں کہ اپنے بدن کے متعلق تازہ اور عمدہ مطالب معلوم کریں_ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ مدد سے کے صحن میں ان اینٹوں کے نزدیک بیٹھ کر درس پڑھیں جو مدرسہ کے ایک گوشہ میں نامکمل عمارت کے پاس پڑی ہیں''؟

آپ کہ یہ خواہش عمدہ تھی اور ہمیں ان کی بات سے بہت خوشی ہوئی اور ہم سب اس طرف چلے گئے مستری اور مزدوروں کو سلام کیا اور اس درس کی کلاس اس نامکمل عمارت کے پاس لگادی_ استاد نے درس دینا شروع کردیا اور فرمایا:

'' جیسے کہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ عمارت مختلف چیزوں سے یعنی


اینٹوں، سیمنٹ اور لوے و غیرہ سے بنائی گئی ہے، تم ذرا نزدیک جاکر دیکھو کہ مستری کس طرح اس نقشہ کے مطابق کہ جسے پہلے سے بنا رکھا ہے_ تمام اجزا کو پہلے سے سوچے ہوئے مقامات پر رکھ رہا ہے اور اس کام میں ایک خاص نظم اور تربیت کی مراعات کر رہا ہے_

اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی اس سے کوئی نہ کوئی غرض وابستہ ہے آیا تم نے کبھی اپنے بدن کی عمارت میں غور کیا ہے؟ آیا تم اپنے بدن کے چھوٹے اجزاء کو جانتے ہو___؟ ہمارے بدن کی عمارت کے چھوٹے سے چھوٹے جز کو خلیہ کہا جاتا ہے ہمارے بدن کی عمارت ان اینٹوں کی عمارت کی طرح بہت چھوٹے اجزاء سے کہ جسے خلیہ کہا جاتا ہے بنی ہوئی ہے_

تمھیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ذرّہ بین کی اختراع سے پہلے لوگ ان خلیوں سے بے خبر تھے_ علماء نے ذرہ بین کے ذریعہ خلیوں کا پتہ چلایا جس سے معلوم ہوا کہ پورا بدن بہت باریک اور چھوٹے زندہ اجزاء سے بنایا گیا ہے اور ان کا نام خلیفہ رکھا_ بہت سے اتنے چھوٹے ہیں کہ بغیر ذرّہ بین کے نظر نہیں آتے کچھ بغیر ذرہ بین کے بھی دیکھے جاسکتے ہیں_

خلیوں کی مختلف شکلیں ہوا کرتی ہیں اور ہر ایک قسم ایک خاص کام انجام دیتی ہے مثلا معدہ کے خلیے، بدن کے اجزاء کو حرکت میں لاتے ہیں_ بینائی کے خلیے جن چیزوں کو حاصل کرتے ہیں


اعصاب کے ذریعہ مغز تک منتقل کردیتے ہیں_

ہاضمہ کے خلیے اس کے لیس دار پانی کے ساتھ مل کر غذا کے ہضم کرنے کے نظام کو انجام دیتے ہیں_ یہاں تک کہ بدن کی ہڈیوں کے لئے بھی زندہ خلیے موجود ہوا کرتے ہیں_ بدن کے خلیے ایک خاص نظم و ضبط اور ترتیب سے بدن میں رکھے گئے ہیں ان کے درمیان تعجب آور ہماہنگی اور ہمکاری موجود ہے یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام اور ضرورت کو انجام دیتے ہیں_

یوں نہیں ہوتا کہ معدہ کے ہاضمہ کے خلیے صرف اپنے لئے غذا مہیا کریں بلکہ تمام بدن کے دوسرے خلیے کی بھی خدمات انجام دیتے ہیں اور تمام اعضاء کے لئے غذا بناتے ہیں اگر کسی عضو پر تکلیف وارد ہو تو تمام خلیے اکٹھے ہوکر اس عضو کی تکلیف کو درست کرنا شروع کردیتے ہیں_

ہاں بچو اس نظم و ضبط اور تعجب و ہمکاری سے جو ہمارے بدن میں رکھ دی گئی ہے اس سے ہم کیا سمجھتے ہیں___؟

کیا یہ نہیں سمجھ لیتے کہ ان کو پیدا کرنے والا عالم اور قادر ہے کہ جس نے ہمارے بدن میں ایک خاص نظام اور ہماہنگی کو خلق کیا ہے اور وہ عالم اور قادر ذات ''خدا'' ہے_

بچو تم جان چکے ہو کہ خلیے کس تعجب و نظم اور ترتیب سے ایک دوسرے کی ہمکاری کرتے ہیں___؟


اور ایک دوسرے کی مدد و کمک کرتے ہیں اسی وجہ سے خلیے زندہ رہتے ہیں اور زندگی کرتے ہیں_

ہم انسان بھی خالق مہربان کے حکم اور اس کے برگزیدہ بندوں کی رہبری میں انھیں بدن کے خلیوں کی طرح ایک دوسرے کی مدد و ہمکاری اور کمک کریں اگر ہم ایک دوسرے کی مدد کیا کریں تو اس جہاں میں آزاد و کامیاب اور سربلند زندگی کرسکیں گے اور آخرت میں سعادت مند اور خوش و خرم ہوا کریں گے اور اللہ تعالی ہمیں بہت نیک جزا عنایت فرمائے گا_

میں تم سب سے خواہش کرتا ہوں کہ راستے میں جو انیٹیں پڑی ہوئی ہیں سب ملکر انھیں راستے سے ہٹاکر اس مکان کے اندر داخل کردو تا کہ ان مزدوروں کی مدد کرسکو''_

تمام بچوں نے اپنے استاد کی اس پیش کش کو خوش و خرم قبول کرتے ہوئے تھوڑی مدت میں ان تمام اینٹوں کو مکان کے اندر رکھ دیا جو باہر بکھری پڑی ہوئی تھیں_ استاد نے آخر میں فرمایا:

''آج کا سبق ایمان اور عمل کا درس تھا ہم اپنے بدن کی ساخت کے مطالعہ سے اپنے خدا سے بہتر آشنا ہوگئے ہیں اور مزدوروں کی مدد کرنے سے ایک نیک عمل بھی بجالائے ہیں اور اپنے خدا کو خوشنود کیا ہے''_


سوالات

ان سوالات کے جوابات دیجئے

۱)___ ہمارے بدن کی ساختمان کے چھوٹے سے چھوٹے جز کا کیا نام ہے؟ تم کو کتنے خلیوں کے نام یاد ہیں___؟

۲)___ معدہ کے ہاضمہ کے خلیہ کا دوسرے خلیوں سے کیا ربط ہے___؟

۳)___ جب کسی خلیہ کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کی ترمیم کردینے سے ہم کیا سمجھتے ہیں، خلی کے ایک دوسرے سے ربط رکھنے سے کیا سمجھا جاتا ہے___؟

۴)___ اگر ہمارے بدن کے خلیے ایک دوسرے سے ہماہنگی نہ کرتے تو کیا ہم زندگی کرسکتے___؟

۵)___ ہمارے بدن میں تعجب آور جو ہماہنگی اور ہمکاری پائی جاتی ہے اس سے ہم کیا سمجھتے ہیں___؟

۶)___ ہم انسان کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کریں___؟

۷)___ استاد نے آخر میں کیا خواہش ظاہر کی، تمھارے خیال میں استاد نے وہ خواہش کیوں ظاہر کی___؟

۸)___ کیا بتاسکتے ہو کہ استاد نے اس سبق کو کیوں ایمان اور عمل کا نام دیا___؟


بہترین سبق

دوسرے دن وہی استاد کلاس میں آئے اور کل والی بحث کو پھر سے شروع کردیا اور فرمایا: ''پیارے بچو تم نے کل کے سبق میں پڑھا تھا کہ ہمارے بدن کی ساخت چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر ہوئی ہے کہ جنھیں خلیے کہا جاتا ہے یہ خلیے ایک خاص نظم اور ترتیب سے رکھے گئے ہیں اور خلیے کی ہر ایک قسم اپنے کام سے خو ب آشنا ہے اور اسے بخوبی انجام دیتی ہے_

آج بھی میں اسی کے متعلق گفتگو کروں گا جانتے ہو کہ خلیہ کو کس طرح بنایا گیا ہے، خلیہ ایک خاص مادہ سے بنایا گیا ہے کو جو انڈے کی سفیدی کی طرح ہوتا ہے اور اس کا نام پروٹو پلازم رکھا گیا ہے اور پھر یہی پروٹو پلازم کئی مواد اور اجزاء سے مرکب ہوتا ہے_ تمھیں معلوم ہے کہ ایک سل میں کتنے اجزاء ہیں اور اس میں کام کرنے والے اجزاء کون سے ہیں عمدہ کام کرنے والا جزو وہی پروٹوپلازم ہے یہ حرکت کرتا ہے اور اکسیجن لیتا ہے اور کاربن خارج کرتا ہے، غذا حاصل کرتا ہے تا کہ زندہ رہ سکے پروٹوپلازم غذا کی کچھ مقدار کو دوسرے نئے پروٹوپلازم بنانے میں


صرف کرکے تولید مثل کرتا ہے اسی وجہ سے زندہ موجودات رشد کرتے ہوئے اپنی زندگی کو دوام بخشتے ہیں جو اجزاء کو جو بے کار ہوجاتے ہیں ان کی جگہ دوسرے اس قسم کے اجزاء بناتا ہے اور خراب شدہ کی ترمیم کردیتا ہے_

ہر سل کے اندر بہت چھوٹے چھوٹے دانے ہوتے ہیں کہ جنھیں سل کا حصہ یعنی مغز یا گٹھلی کہاجاتا ہے کیا تم جانتے ہو کہ سیلز ( CELLS ) کے یہ مغز کیا کام انجام دیتے ہیں___؟ کیا تم ایک سیل اور ایک اینٹ کا فرق بتاسکتے ہو؟ کیا تم بتاسکتے ہو کہ ان دونوں کی ساخت میں کیا فرق ہے___؟ بچوں نے ان سوالوں کے جوابات دیئے اور ان کے کئی فرق بیان کئے_ اس کے بعد استاد نے پھر سے اسی بحث کو شروع کیا اور پوچھا کہ:

'' کیا تم اپنے بدن میں سیلز کی تعداد کو جانتے ہو؟ کیا جانتے ہو کہ صرف انسان کے مغز میں تقریباً دس میلیارد سیلز موجود ہیں_ کیا تمھیں علم ہے کہ انسان کے خون میں تقریباً پندرہ تریلیوں سیلز موجود ہوتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام سیلز زندہ ہوتے ہیں اور اپنا کام بہت دقت سے ایک خاص نظم و ترتیب سے بخوبی انجام دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام کو پایہ تکمیل پہنچاتے ہیں_

غذا اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں اور کاربن باہر خارج کردیتے ہیں، تولید مثل کرتے رہتے ہیں_ بعض دیکھنے کے لئے


اور بعض سننے کے لئے، بعض ذائقہ اور شامہ کے لئے وسیلہ بنتے ہیں، بعض سے گرمی و سردی اور سختی محسوس کیا جاتا ہے اور یہ بدن کے تمام کاموں کو انجام دیتے ہیں_

انسان کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں_ میرے عزیز طالب علمو ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک منظم عمارت کا بنانے والا کوئی نہ ہو بغیر نقشے اور غرض و غایت کے موجود ہوجائے_ تم ایک عمارت کی ترتیب اور نظم سے سمجھ جاتے ہو کہ اس کے بنانے میں عقل اور شعور کو دخل ہے اور یہ از خود بغیر غرض و غایت کے وجود میں نہیں آئی بالخصوص ایسی عمارت کہ جس کے تمام اجزاء آپس میں ایک خاص ارتباط و ہم آہنگی اور ہمکاری رکھتے ہوں_

بچو تم اپنے بدن کی عمارت کی ساخت کے بارے میں کیا کہتے ہو___؟ تم اپنے بدن کے بہت دقیق اور ہم آہنگ سیلز کے متعلق کیا سوچتے ہو___؟ تم ایک ایسی عمارت کے متعلق کہ جو کئی ہزار اینٹوں اور دوسرے ازجزاء سے بنائی گئی ہو کبھی یہ احتمال نہیں دیتے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ہوگی بلکہ اس میں کوئی شک اورتردید نہیں کرتے کہ اس کے بنانے والے نے اسے علم سے ایک خاص نقشے کو سامنے رکھ کر ایک خاص غرض کے لئے بنایا ہے___؟ اپنے بدن کے متعلق جو کئی ملیارد سیلز سے جو ایک خاص نظم اور ترتیب و تعجب آور ہمکاری اور اپنے فرائض کو انجام دیتے ہیں


بنایا گیا ہے_ تم اس کے متعلق کیا نظر رکھتے ہو؟ کیا یہ احتمال دے سکتے ہو کہ یہ از خود بن گیا ہوگا___؟ کیا یہ احتمال دے سکتے ہو کہ اس کا بنانے والا اور نقشہ کشی کرنے والا کوئی بھی نہ ہوگا؟ کیا یہ احتمال دے سکتے ہو کہ اس کا بنانے والا عالم اور قادر نہ ہوگا___؟

کیا احتمال دے سکتے ہو کہ اس کے بنانے میں کوئی غرض و غایت مقصود نہ ہوگی تم کیا کہتے ہو___؟ بتلاؤ

کیا نہیں کہوگے کہ پیدا کرنے والا ایک بہت بڑا عالم اور قادر ہے اور سب کا پہلے سے حساب کر کے انسان کے بدن کو ملیارد سیلز سے اس طرح منظم اور زیبا خلق فرما ہے_ سچ کہہ رہے ہو کہ ہم اس دقیق و زیبا نظم سے جو تعجب آور ہے سمجھ جاتے ہیں کہ اسے خلق کرنے والا عالم اور قادر ہے کہ جس نے اسے اس طرح خلق فرمایا ہے اور اس کو چلا رہا ہے_

سوچو اگر بدن کے سیلز کو غذا اور آکسیجن نہ پہنچے تو وہ کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں اور کام کرسکتے ہیں ؟ اگر غذا کو ہضم کرنے کے لئے سیلز غذا کو جذب اور ہضم نہ کرتے تو بدن کے دوسرے سیلز کہاں سے غذا حاصل کرتے، کس طرح بڑھتے اور رشد کرتے؟ کس طرح تولید مثل کرتے؟

اگر ہاتھ کے اعصاب کے سیلز مدد نہ کریں تو کس طرح غذا کو منھ تک لے جایا جاسکتا ہے؟ اگر پانی و غذا اور آکسیجن موجود نہ ہوتے تو کہاں سے غذا حاصل کی جاتی؟ اگر بدن کے سیلز میں تعاون اور ہمکاری موجود نہ ہوتی تو کیا ہمارا زندگی کو باقی رکھنا ممکن ہوتا؟


کیا ان تمام ربط اور ہم آہنگی کے دیکھنے سے خالق کے دانا اور توانا ہونے تک نہیں پہنچا جاسکتا؟ ہم بہت اشتیاق سے کوشش کر رہے ہیں کہ اس ذات کو بہتر پہچانیں اور اس کا زیادہ شکریہ ادا کریں ہمارے وظائف میں داخل ہے کہ دستورات اور احکام کو معلوم کریں اور ان کی پیروی کریں تا کہ دنیا میں آزاد و کامیاب اور سربلند ہوں اور آخرت میں سعادت مند اور خوش و خرم بنیں_

بچو میں بہت خوش ہوں کہ آج میں نے تمھیں بہترین سبق پڑھایا ہے یہ ''خداشناسی'' کا سبق ہے جو میں نے تمھیں بتلایا ہے_ ''خداشناسی'' کا سبق تمام علوم طبعی اور جہاں شناسی کی کتابوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے''

قرآن مجید کی ایک آیت:

( و فی الارض ایات للموقنین و فی انفسکم افلا تبصرون ) (۱)

'' زمین میں خداوند عالم کے وجود کے لئے یقین رکھنے والوں کے لئے نشانیاں موجود ہیں اور خود تمھارے وجود میں بھی اس کے وجود کے لئے علامتیں موجود ہیں کیا تم دیکھتے نہیں ہو___؟

____________________

۱) سورہ ذاریات آیت نمبر ۲۱


سوالات

ان سوالات کے جواب دیجئے

۱) ___ ایک سیل کی تصویر بنایئےور اس کے مختلف اجزاء کے نام بتلایئے

۲)___ تم کن کن سیل کو جانتے ہو، کیا ان کی تصویریں بناسکتے ہو___؟ ایک ایسی تصویر بنایئےو کتاب میں موجود نہ ہو_

۳)___ اپنے بدن کے سیلز کی تعداد کو جانتے ہو___؟ حروف میں لکھو

۴)___ کیا تم بدن کے سیل کا فرق ایک اینٹ سے بتلاسکتے ہو____؟

۵)___ تمام اعضاء کے ربط اور ہم آہنگی سے تم کیا سمجھتے ہو، کیا اس قسم کی مخلوق بغیر کسی غرض اور غایت کے وجود میں آسکتی ہے___؟

۶)___ اگر سیلز کے درمیان تعاون و ربط اور ہم آہنگی نہ ہوتی تو کیا زندگی باقی رکھنا ممکن ہوتا___؟

۷)___ بدن کے سیلز اور ان کے درمیان ربط و ہم آہنگی سے تم کیا سمجھتے ہو_

۸)___ اپنے خالق کے بارے میں ہمارا کیا فریضہ ہے، اگر اس کے احکام کو معلوم کرلیں اور ان کی پیروی کریں تو کس طرح کی زندگی بسر کریں گے___؟

۹)___ کیا تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ استاد نے اس سبق میں کتنے سوال بیان کئے ہیں سبق کو غور سے پڑھو اور دیکھو کہ تمھارا اندازہ ٹھیک ہے؟ سوالوں کو لکھو_

۱۰)___ اس سبق میں اور پہلے دوسبقوں میں تم نے کچھ خالق جہاں کے صفات معلوم کئے ہیں کیا ان کو بیان کرسکتے ہو___؟


آپ ربط و ہم آہنگی کے مشاہدے سے کیا سمجھتے ہیں؟

تم یہاں دو قسم کی شکلیں دیکھ رہے ہو ان میں سے کون سی شکل منظم اور مرتبط ہے اور کون سی شکل غیر منظم اور غیر مرتبط ہے؟ کیا بتلاسکتے ہو کہ منظم شکل اور غیر منظم شکل میں کیا فرق موجود ہے___؟


ایک منظم اورمرتبط شکل میں ایک خاص غرض اور غایت ہے اس کے تمام اجزاء اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ ان کے ارتباط سے اسی غرض اور غایت تک پہنچنا ممکن ہے اسی بناپر اس شکل کو منظم اور مرتبط کہا جاسکتا ہے کہ جس کے تمام اجزاء بطور کامل ایک دوسرے سے ہم آہنگی او رہمکاری رکھتے ہوں اور ان تمام سے ایک خاص غرض اور غایت حاصل کی جاسکتی ہو مثلا شکل نمبر دو کو ایک منظم اور مرتبط شکل کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے تمام اجزاء اس طرح بنائے گئے ہیں کہ جن سے ایک خاص غرض اور غایت مراد ہے اور وہ ہے ''سوار ہونا'' اور راستہ طے کرنا_

کسی منظم شکل میں ہر ایک جزء کو اس کی مخصوص جگہ پر رکھا جاتا ہے اور وہ دوسرے اجزاء کے ساتھ مل کر ایک مخصوص کام انجام دیتی ہے اگر اسی اس جگہ نہ رکھا جائے تو اس سے پورا کام حاصل نہ کیا جاسکے گا اور وہ کام ناقص انجام پائے گا_

جب ہم دیکھ رہے ہوں کہ کوئی چیز منظم اور مرتبط ہے اور اس کے مختلف اجزاء کسی خاص حساب سے ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور اس کا ہر جزء ایک مخصوص کام اور ایک خاص اندازے سے انجام دے رہا ہو مثلا شکل نمبر دو میں پہئے ایک خاص مقدار سے بنائے اور ایک خاص جنس سے بنائے گئے ہیں_ گدی بیٹھنے کے لئے، بریک روکنے کے لئے، گھنٹی ہوشیار کرنے کے لئے، بتیاں اور پیٹروں کی جگہ ایک خاص جنس سے بنائی گئی ہے اور یہ ایک خاص اندازے اور حساب سے ایک دوسرے سے مرتبط کر کے رکھے گئے ہیں کہ اگر وہ اس طرح منظم اور حساب کے ساتھ رکھے نہ جاتے تو وہ کسی کام نہ آتے اور وہ اس غرض و غایت کی بجاآوری نکے لئے بے فائدہ ہوتے کہ جوان سے مقصود تھی_

اب تم ان سوالوں کے جوابات دو_


ایک منظم اور مرتبط شکل کے مشاہدے سے کہ جو وقت اور حساب سے کسی خاص جنس سے کسی خاص ہیئت میں بنائی گئی ہو اور اس کے اجزاء کے ایک دوسرے سے اور ایک دوسرے کے کام میں تعاون سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا ایسی شکل اور چیز کے بنانے والے کے متعلق یہ نہ سمجھیں گے کہ وہ باشعور و عالم و دانا اور اس قسم کی چیز کے بنانے پر قادر تھا اور ایسی ذات کا ہونا اس صورت میں ضروری نہ ہوگا؟ اگر کوئی عالم اور قادر نہ ہو تو کیا شکل نمبر ایک کو شکل نمبر دو میں تبدیل کرسکتا ہے___؟ حالانکہ شکل نمبر ایک بھی خاص اجزاء متفرق کا مجموعہ ہے کہ جسے ایک خاص جنس او رکسی خاص شکل و اندازے کے مطابق بنایا گیا ہے جس کے بنانے میں بھی ایک عالم اور قادر کی ضرورت ہے_ کیا تم یہ بتاسکتے ہو کہ ایک منظم شکل کے دیکھنے سے اس کے بنانے والے کے متعلق اس کے قادر، عالم و دانا ہونے اور آیندہ نگری کو معلوم نہیں کیا جاسکتا ___؟

دنیا اور اپنے خالق کے قادر و عالم ہونے کے متعلق اس سے زیادہ معرفت حاصل کرنے کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے بدن کے بنانے اور اس میں حیرت انگیز نظم و ربط اور دنیا کی دوسری اشیاء کو دیکھیں اور سوچیں کہ بدن کے جس حصہ کو دیکھیں اس میں حیران کن ہم آہنگی او رتعجب انگیز نظم و ربط کو دیکھ سکتے ہیں؟

بینائی اور سماعت کے حصے کو غور سے دیکھیں یا دل کے کام کو ملاحظہ کریں یا پھیھپڑے اور جکر کو غور سے دیکھیں تو ان میں سے ہر ایک میں سوائے ایک خاص نظم اور ربط کے کچھ اور دیکھ سکیں گے___؟

(اس کے بعد والے سبق میں ہم کلیہ اور پیشاب کے باہر پھینکنے والے حصّے کو بیان کریں گے)


اپنے آپ کو دیکھیں

آپ نے ابھی گردے دیکھے ہیں اگر نہیں دیکھے تو ایک گوسفند کے گردے لے آئیں اور انھیں غور سے، قریب سے دیکھیں_ انسان کے بھی دو گردے ہوتے ہیں_ تم بھی یقینا دو گردے رکھتے ہو_ کیا تم دو عدد عمدہ اور چھوٹے عضو کے کام اور اہمیت کو جانتے ہو؟ کیا تم جانتے ہو کہ اگر تمھآرے بدن میں یہ چھوٹے دو عضو نہ رکھے جاتے تو کیا ہوتا___؟ آپ کے پیدا ہونے کے دن ہی آپ کے تمام بدن میں زہریلا مواد پیدا ہوجاتا اور زیادہ مواد اکٹھا ہوکر تمام بدن پر چھا جاتا اور پھر تمھاری موت یقینی ہوجاتی_

کیا تم جانتے ہو کہ پیشاب کے خارج کرنے والا عضو اور حصہ کن کن چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے___؟ کیا تم جانتے ہو کہ خود پیشاب کن کن چیزوں سے بنتا ہے اور کس طرح بدن سے خارج ہوتا ہے؟ انسان کے بدن میں کچھ زائد مواد اکٹھا ہوجاتا ہے کہ جس کا بدن میں باقی رہنا انسان کی سلامتی اور زندگی کے لئے خطرناک ہوتا ہے ضروری ہے کہ وہ انسانی بدن سے خارج ہوجائے اس زائد مواد میں سے ایک سفید رنگ کا ماہ ہے کہ جسے (اورہ) کہاجاتا ہے یہ حیوانی غذا اور ان پروٹین سے جو بدن کے سیلز کے کام آتے ہیں پیدا ہوجاتا ہے یہ اور دوسرے مواد جو مضر ہوتے ہیں ایک عمدہ اور شائستہ حصہ کے ذریعہ جو خون سے پیشاب کو حاصل کرتا ہے اور بدن سے باہر نکال دیتا ہے وہ حصہ جو پیشاب بناتا اور باہر پھینکتا ہے ایک بہت منظم و دقیق عضو اور حصّہ


ہے کہ جس میں سیکڑوں دقیق اور عمدہ اجزاء رکھے گئے ہیں کہ جس سے بہت زیادہ تعجب اور حیرت ہوتی ہے_

درج ذیل شکل کو دیکھئے اور غور سے دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ پیشاب والا عضو اور مقام کن کن چیزوں سے بنایاگیا ہے_

مثانہ گردےونیرنالی وگردے:

گردے لوبیا کی شکل کے ہوتے ہیں سرخ رنگ معدے اور جگر کے پیچھے دو عضو ہوتے ہیں اور انسان کے مہروں کے ستون کے دونوں طرف واقع ہوتے ہیں_ ہر انسان کے دو گردے ہوتے ہیں، گردوں کی ساخت کئی نالیوں سے ہوتی ہے _ تم جانتے ہو کہ گردے کتنی نالیوں سے بنائے گئے ہیں___؟

ہر ایک گردے میں ایک ملیون کے قریب نالیاں ہوتی ہیں ان کے اطراف میں مو ہرگیا سے جالی نے گھیر رکھا ہے، خون ایک بڑی سرخ رگ کے ذریعہ ان میں داخل ہوتا ہے اور ان میں گردش کرنے کے بعد ایک سیاہ رگ سے خارج ہوجاتا ہے، اس سرخ رگ کو بڑے اہتمام سے بنایا گیا ہے کہ جس کی تفصیل تم علوم طبعی کی کتابوں میں پڑھا کرتے ہو_

۲)نیرنالی :

ہر ایک گردے سے ایک نالی باہر نکلی ہوتی ہے جو مثانہ سے گردے کو ملائے رکھتی ہے اس نالی کا نام ''نیرنالی'' ہے انھیں میں خون سے زائد مواد اکٹھا ہوجاتا ہے او رپیشاب گردے سے مثانہ میں وارد ہوجاتا ہے_

۳) مثانہ:

یہ ایک چھوٹاسا کیسہ ہے کہ جن کی کیفیت پلاسٹیک کی طرح ہوتی ہے کہ جو کہ پھیل سکتا ہے یہ انسان کے پیٹ کے نیچے کی طرف واقع


ہوتا ہے_ جب مثانہ کی دیوار خالی ہو تو یہ تقریبا پندرہ ملی میٹر تک کا ضخیم ہوتا ہے اور جب یہ پیشاب سے پر ہوجائے تو پھیل جاتا ہے اور اس کی دیوار کی ضخامت تین سے چار ملی میٹر تک ہوجاتی ہے_ مثانہ کی دیوار میں تین عدد مسل ماہیچہ رکھے ہوئے ہیں کہ جو پیشاب کے خارج ہونے کے وقت اس کے منقبض ہونے میں مدد دیتے ہیں_

۴) پیشاب کے خارج ہونے کا راستہ:

یہ مثانہ کو باہر کی طرف مرتبط کرتا ہے، ابتداء میں اس میں دو ماہیچہ ہوتے ہیں کہ جو عام حالات میں پیشاب کو خارج ہونے سے روکے رکھتے ہیں، بدن میں گردے ایک صاف کرنے والی چھلنی کی طرح ہوتے ہیں_ سرخ رگ کے ذریعہ خون گردے میں وارد ہوتاہے_


اور وہ مویرگ میں تقسیم ہوجاتا ہے اور جب ان سے عبور کرتا ہے تو اپنے ہمراہ معمولی پانی اور اورہ، آسیدہ، اوریک، نمک اور گلوگز جالیوں سے ترشح کرتے ہوئے پیشاب کی نالیوں میں وارد ہوتا ہے_ اس وقت معمولی پانی، نمک اور گلوگز ان نالیوں کی دیواروں میں جذب ہوکر دوبارہ خون میں لوٹ جاتا ہے_

تعجب اس ہوتا ہے کہ اگر بدن میں پانی ضرورت کے مطابق نہ ہو تو پھر زائد پانی گردوں سے مثانہ میں وارد نہیں ہوتا اور صرف اورہ، آسید، اوریک اور معمولی پانی پیشاب کی نالیوں سے نیرنالیوں میں وارد ہوتا ہے اور وہاں سے قطرہ قطرہ ہوکر مثانہ میں جمع ہوتا رہتا ہے_

گردے نہ صرف کمال وقت سے اورہ، رسید، اوریک کو خون سے لیتے ہیں اور اسے صاف کرتے ہیں بلکہ بدن کے مختلف مواد کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں مثلاً اگر خون میں شوگر یا نمک ضرورت سے زائد ہوجائے تو زائد مقدار کو لے کر بدن سے باہر پھینک دیتے ہیں_

مثانہ کافی مقدار میں پیشاب کو محفوظ رکرسکتا ہے اور جب پیشاب کی مقدار بہت زیادہ ہوجائے اور مثانہ کی ظرفیت پر ہوجائے تو پھر وہی ماہیچہ حرکت کرتے ہیں اور اس صورت میں وہی دو ماہیچے پیشاب کے مجری کو کھولتے اور بند کرتے ہیں اور پیشاب کی ایک مقدار مثانہ میں وارد ہوجاتی ہے اور اس میں سوزش پیدا کردیتی ہے اگر اسے اپنے اختیار سے باہر نہ نکالا گیا تو پھر مثانہ کا منھ قہراً کھل جاتا ہے اور پیشاب باہر نکل آتا ہے_

آپ اس وقت اور تعجب آور صنعت کے بارے میں جو اس عضو کے کام میں لائی گئی ہے خوب سوچیں اور اس نظم، مزید ہم آہنگی کو جو خون کی گردش گردوں میں اور گردوں


کا ارتباط ینرنالی سے اور اس کا مثانہ سے موجود ہے_ تامّل اور غور سے دیکھیں تو کیا یہ ایک ایسا حصہ نہ ہوگا جو منظم اور کسی خاص غرض کے لئے بنایا گیا ہو___؟

یا یہ ایک ایسا حصہ اور عضو ہوگا کہ جس میں کوئی غرض اور غایت مد نظر نہ رکھی گئی ہو بلکہ اسے ایک غیر منظم حصہ مانا جائے___؟ کیا گردوں کی کوئی خاص غرض ہوگی کہ جس کا اسے ذمہ دار اور پابند سمجھا جائے___؟ کیا ہم اس خون کے باوجود جو زہر سے اور زائد مواد سے پر ہو زندہ رہ سکتے تھے___؟ اگر یہ عضو مرتبط اور ہم آہنگ نہ ہوتا اور نیرنالی کی نالیاں نہ ہوتیں تو گردے زائد مواد کو خون سے لے کر کہاں پہنچاتے___؟

اگر ہمارا مثانہ نہ ہوتا کہ جس میں پیشاب جمع ہوجاتا ہے تو مجبوراً پیشاب قطرہ قطرہ ہوکر باہر نکلتا رہتا تو اس وقت کیا کرتے___؟ اگر پیشاب کے خارج کرنے کے دروازے ہمارے اختیار میں نہ ہوتے تو پھر کیا ہوتا___؟

اس دقیق اور مہم عضو اور حساس حصّہ کے دیکھنے سے ہم کیا سمجھتے ہیں؟ اس منظم اور دقیق حساب سے جو اس عضو میں رکھا گیا ہے اور اس حصہ کی اس طرح کی شکل ہے جو بنائی گئی ہے اور اس میں جو نظام ربط اور ہم آہنگی رکھی گئی ہے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا ہمیں یہ یقین نہیں ہوجاتا کہ یہ منظم اور دقیق حساب جو اس عضو اور بدن کے دوسرے اعضاء میں موجود ہے از خود، بغیر کسی غرض اور حساب کے موجود نہیں ہوا___؟

کیا یہ کسی عاقل اور صاحب بصیرت کے لئے ممکن ہے کہ وہ قبول کر لے کہ سیاہ اور خاموش، بے شعور طبیعت و مادّہ سے یہ تعجب آور اور حیران کن نظم، وجود میں آیا ہے؟ صاحب عقل اور سمجھدار اناسان کو یقین ہوجائے گا کہ کسی عالم اور قادر ذات نے اسے خلق فرمایا ہے کہ جس میں اس نے ایک خاص غرض و غایت، مد نظر رکھی ہے اس سوچ کے بعد ہر عقلمند کا ان تمام اسرار اور مصالح کے دیکھنے کے بعد خالق جہاں جو ''عالم اور توانا'' ہے


کے متعلق یقین زیادہ محکم اور مضبوط ہوجائے گا، اس کی اس عظیم قدرت اور فراوانی نعمت کے سامنے سر تسلیم خم کردے گا_

قرآن کی آیت :

( قل انظروا ماذا فی السّموات و الارض ) ___(۱)

'' کہہ دیجئے کہ جو کچھ زمین اور آسمان میں موجود ہے اسے دیکھو''

____________________

۱) سورہ یونس آیت نمبر ۱۰۱


سوالات

جواب دیجئے

۱) ___ایک منظم و مرتبط شکل میں اور ایک غیر منظم و غیر مرتبط شکل میں کیا فرق ہے؟

۲)___ ایک ایسے حصہ سے جو منظم اور مرتبط ہوگیا سمجھاتا جاتا ہے___؟

۳)___ ایک حصہ کے بنانے میں جو منظم اور پناتلا ہو اس کے بنانے والے کے لئے عالم اور قادر ہونا ضروری سمجھتے ہو اور کیوں___؟ وضاحت کرو_

۴)___ تمھارے گردے کتنے ہیںاور بدن کے کس حصہ میں واقع ہیں؟ بیان کرو اور گردوں کی شکل بناؤ

۵)___ گردوں کی ساخت کس طرح ہوتی ہے اور ان کا کام کی ہے؟ کیا گوسفند کا گردہ کلاس میں لاسکتے ہو؟ وضاحت کرو_

۶)___ رنیرنالی کا کیا کام ہے؟ مثانہ کی دیوار کس طرح ہوتی ہے اور مثانہ کا کیا کام ہے___؟

۷)___ گردوں کے بعض تعجب آور کام کو بتایئے

۸)___ گردوں کے کام اور دوسرے اعضاء سے ان کے ارتباط کو دیکھنے سے کیا سمجھاجاتا ہے؟ کیا تمھیں یہ ایک بے غرض اور غیر منظم حصہ نظر آتا ہے یا یہ ایک منظم اور بامقصد عضو معلوم ہوتا ہے؟

۹)___ ہم جہان عالم کی پر اسرار اور مصالح کی پیدائشے و خلقت سے کیا سمجھتے ہیں اور اس سے کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں___؟


خالق جہان کے صفات کمالیہ

۱) ___ تم چل سکتے ہو، فکر کرسکتے ہو، کھاپی سکتے ہو اور کتاب پڑھ سکتے ہو؟ لیکن کیا یہی کام پتھر کا ایک ٹکڑا انجام دے سکتا ہے؟

یقینا جواب دوگے کہ نہیں یہ کام پتھر انجام نہیں دے سکتا پس تم ان کاموں کے بجالانے پر قدرت رکھتے ہو لیکن پتھر ایسی قدرت نہیں رکھتا_ کیا تم ان امور کے لحاظ سے پتھر پر کوئی خصوصیت رکھتے ہو___؟ کون سی خصوصیت___؟ تم کامل ہو یا پتھر کا ٹکڑا___؟ کیا جواب دوگے___؟

یقینا تمھارا یہ جواب ٹھیک ہوگا کہ تم یہ کام کرسکتے ہو لیکن پتھر یہ کام نہیں کرسکتا پس تم کامل تر ہوگئے کیونکہ ان کاموں کے بجالانے پر قدرت رکھتے ہو تو پھر قدرت کو ایک کمال کی صفت قرار دیا جاسکتا ہے یعنی قدرت، کمال کی صفت ہے_

۲)___ تم بہت سی چیزوں کو جانتے ہو یعنی تمھیں ان کا علم ہے، تمھارے دوست بھی بہت سی چیزوں کو جانتے ہیں اور انھیں بھی ان کا علم ہے_ مخلوقات میں سے بعض کو علم ہوتا ہے اور بعض کو علم نہیں ہوتا_ انسان ان میں سے کون سی قسم میں داخل ہے؟ پتھر، لکڑی اور لوہا ان میں سے کون سی قسم میں داخل ہیں؟


ان دو میں سے کون سی قسم کامل تر اور قیمتی ہے؟ علم رکھنے والی مخلوقات اہم ہیں یا وہ جو بے علم ہیں___؟ اس کا کیا جواب دوگے___؟

یقینا تم ٹھیک اور درست جواب دوگے کہ انسان، علم رکھتا ہے اور پتھر، لکڑی و لوہا و غیرہ علم نہیں رکھتے، یقینا وہ مخلوق جو علم رکھتی ہے وہ کامل تر اور اس سے بہتر ہے جو مخلوق بے علم ہے_ تم نے جواب ٹھیک دیا لہذا علم ایک کمال والی صفت ہے جو شخص یہ کمال رکھتا ہو وہ بغیر شک کے اس سے کامل تر ہوگا جو یہ کمال والی صفت نہ رکھتا ہو_

۳)___ بعض مخلوقات زندہ ہیں جیسے حیوانات، نباتات اور انسان لیکن بعض دوسرے زندہ نہیں ہیں جیسے پتھر، لکڑی اور لوہا و غیرہ_ ان دو میں سے کون کامل تر ہے؟ زندہ مخلوقات زندگی رکھتے ہیں یا وہ مخلوقات جو زندہ نہیں ہیں زندگی رکھتے ہیں؟ اس کا کیا جواب دوگے؟

یقینا تم درست جواب دوگے اور زندگی و حیات بھی ایک صفت کمال ہے اب تک ہم نے معلوم کرلیا کہ علم، قدرت اور حیات یہ تینوں صفت کمال ہیں اور مخلوقات میں سے بہت سے ان تینوں صفات کے حامل ہوتے ہیں یعنی دانا، توانا اور زندہ ہوتے ہیں ان زندہ و دانا اور توانا مخلوقات کو اللہ تعالی نے خلق فرمایا ہے اور اللہ تعالی نے یہ کمالات انھیں عنایت فرمایا ہے جس خدا نے انھیں یہ کمالات دیئے ہیں وہ خود بھی ان کمالات کو بہتر اور بالاتر رکھتا ہے یعنی وہ ذات بھی ان صفات کمالیہ سے متصف ہے_


تم نے سابقہ درس میں کائنات میں دقیق نظام اور تعجب آور ارتباط کو اجمالی طور پر معلوم کرلیا ہے اور تم جان چکے ہو کہ کتنی عمدہ اور بارک کا دیگری خلقت عالم میں رکھی گئی ہے اور کس دقیق ہم آہنگی و ارتباط سے یہ جہان خلق کیا گیا ہے اور تمھیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ساری مخلوقات کو اللہ تعالی نے اسی طرح خلق فرمایا ہے ایسا دقیق اور تعجب آور جہان کس چیز کا گواہ ہے___؟ ہمیں اس جہاں کی ترتیب اور عمدہ ہم آہنگی کیا سبق دیتی ہے؟ اس دقیق اور پر شکوہ نظام سے کیا سمجھتے ہیں____؟

مخلوقات کے مطالعے سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اس جہان کو ایک زندہ و عالم اور قادر ذات نے پیدا کیا ہے اور اس کے پیدا کرنے میں اس کی کوئی نہ کوئی غرض و غایت ہے کہ جس سے وہ مطلع تھا_

جہان کی مخلوقات کو ایک خاص قانون اور نظام کے ماتحت پیدا کر کے اسے چلا رہا ہے اور اسے اسی غرض و غایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے_ اب تک ہم نے سمجھ لیا کہ جہان کا پیدا کرنے والا خدا مہربان اور تمام اشیاء کا عالم ہے، تمام کو دیکھتا ہے اور کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ و مخفی نہیں ہے، معمولی سے معمولی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ذات ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور تمام بندوں کے اعمال سے مطلع ہے اور انھیں ان کی جزا دے گا_

ہم نے جان لیا کہ خدا قادر ہے یعنی ہر کام کے انجام دینے پر قدرت رکھتا ہے، اس کی قدرت اور توانائی محدود نہیں ہے، تمام مخلوقات کو اس نے ہی پیدا کیا ہے اور انھیں چلا رہا ہے_

ہم نے جان لیا کہ خدا حی و زندہ ہے اور تمام امور کو علم و دانائی سے انجام دیتا ہے ہمیں سوچنا چاہیئے کہ اس عظیم خالق و عالم اور قادر کے سامنے ہمارا فریضہ کیا ہے؟


قرآن مجید کی آیت:

( یخلق ما یشاء و هو العلیم القدیر ) ___(۱)

'' خدا جسے چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے اور وہ دانا و توانا ہے''

____________________

۱) سورہ روم آیت نمبر ۵۳


توحید اور شرک

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خداوند عالم کی طرف سے ایسے زمانے میں پیغمبری کے لئے مبعوث ہوئے جس زمانے کے اکثر لوگ جاہل، مشرک اور بت پرست تھے اور ان کا گمان تھا کہ اس عالم کو چلانے میں خدا کے علاوہ دوسروں کو بھی دخل ہے_ خدا کا شریک قرار دیتے تھے_ خدائے حيّ و عالم او رقادر یکتا کی پرستش اور اطاعت کرنے کے بجائے عاجز و بے جان بتوں کی پرستش کی کرتے تھے اور ان کے لئے نذر و قربانی کرتے اور ان سے طلب حاجت کرتے تھے_

ظالم و جابر اور طاغوت قسم کے لوگوں کو برگزیدہ افراد جانتے تھے اور انھیں بالاتر اور واجب الاطاعت گمان کرتے تھے ان کی حکومت اور سلطنت کو قبول کرتے تھے_ اپنی سعادت و شقاوت، خوش بختی و بدبختی، موت اور زندگی کو ان کے ارادے میں منحصر جانتے تھے اور عبادت کی حد تک ان کی اطاعت کرتے تھے اور ان کے سامنے عاجزی اور اظہار بندگی کیا کرتے تھے_ جاہل اور مشرک انسان اپنی خدا داد استقلال کو فراموش کرچکے تھے اور غلامانہ روش کی طرف ظالموں اور طاغوتوں کے مطیع و فرمانبردار تھے اور ان کے سامنے عبادت کرتے تھے اور ان کا سجدہ کیا کرتے تھے لوگ بت پرستی میں مشغول تھے اور اسی میں خوش تھے اور استحصال کرنے والے لوگوں کے جان و مال پر مسلط تھے اور ان کی محنت کو غارت کر رہے تھے لوگوں کی اکثریت فقر اور فاقہ میں زندگی بسر کرتی تھی اور وہ جرات نہیں کرسکتے کہ وہ


اپنے زمانے کے طاغتوں سے اپنے حقوق لے سکیں_ بت پرستی، شخصیت پرستی، قوم پرستی، وطن پرستی اور خود پرسنی نے لوگوں کو متفرق اور پراگندہ کر رکھا تھا اور استحصال کرنے والے اس اختلاف کو وسیع کر رہے تھے_

اس قسم کی تمام پرستش شرک کا پرتو اور مظاہرہ تھا اور لوگوں کی بدبختی کا سب سے بڑا عامل یہی شرک تھا_ ان تمام مصائب کا علاج کیا تھا___؟ ایسے لوگوں کی نجات جو بدبختی میں جل رہے تھے کس میں تھی؟ کس طرح ان تمام مظالم اور ستم سے نجات حاصل کرسکتے تھے؟ انھیں ایسے رہبر کی ضرورت تھی جو روشن فکر اور بدار و ہوشیار ہو جو انھیں بت پرستی اور شرک سے نجات دلائے اور توحید و خداپرستی کی طرف لے جائے ایسے زمانے میں خداوند عالم کی طرف سے حضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو پیغمبری اور رہبری کے لئے چناگیا_ آپ(ص) نے اپنا پہلا اور اہم کام شرک و بت پرستی سے مقابلہ کرنا قرار دیا_ آپ (ص) نے لوگوں کو پہلی دعوت میں فرمایا کہ کہو:

''قولوا لا اله الّا الله تفلحوا''

''یعنی کلمہ توحید پڑھو اور نجات حاصل کرو_ اس پر ایمان لے آؤ کہ سوائے خدائے ذوالجلال کے اور کوئی معبود نہیں تا کہ نجات حاصل کرسکو''

اس کلام سے کیا مراد ہے سمجھتے ہو؟ یعنی مختلف خدا اور جھوٹے خداؤں کو دور پھینکو اور دنیا کے حقیقی خالق کی اطاعت اور عبادت کرو_ ظالموں کی حکومت سے باہر نکلو اور اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے رہبر اور پیغمبر کی حکومت اور ولایت کو قبول کرو تا کہ آزاد اور سربلند اور سعادت مند ہوجاؤ_ پیغمبر اسلام (ص) لوگوں سے فرمایا کرتے تھے کہ لوگو

''کائنات کا خالق اورچلانے والا صرف خدا ہے _جو قادر مطلق


ہے_ خداوند عالم کی ذات ہی تو ہے جس نے خلقت اور نظام جہان کا قانون مقرر کیا ہے اور اسے چلا رہا ہے اس کی ذات اور اس کے ارادے سے دن رات بنتے اور آتے جاتے ہیں_ آسمان سے زمین پر بارش اور برف گرتی ہے_ درخت اور نباتات میوے اور پھول دیتے ہیں، انسان اور حیوان روزی حاصل کرتے ہیں، اللہ ہی نے جو حّی و قيّوم اور عالم و قادر ہے تمام موجودات کو خلق فرمایا اور وہ ان سے بے نیاز ہے، تمام موجودات اس کے محتاج اور نیازمند ہیں، اللہ تعالی کی مدد کے بغیر کسی بھی موجود سے کوئی بھی کام نہیں ہوسکتا جان لو کہ اللہ تعالی نے دنیا کا نظام کسی کے سپرد نہیں کیا_

پیغمبر اسلام(ص) لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے لوگو جان لو کہ تمام انسان اللہ تعالی کی مخلوق ہیں تمام کے ساتھ عادلانہ سلوک ہونا چاہیئے سیاہ، سفید، زرد، سرخ، مرد، عورت، عرب، غیر عرب تمام بشر کے افراد ہیں اور انھیں آزادی و زندگی کا حق حاصل ہے، اللہ تعالی کے نزدیک مقرّب انسان وہ ہے جو متقی ہو_ اللہ تعالی نے زمین اور تمام طبعی منابع اور خزانوں کو انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے اور تمام انسانوں کو حق حاصل ہے کہ ان فائدے حاصل کرے ہر ایک انسان کو حق حاصل ہے کہ اپنی محنت اور کوشش سے زمین کو آباد کرے اور اپنی ضرورت کے


مطابق اس کے منابع طبعی سے استفادہ کرے اور لوگوں کو فائدے پہنچائے_ پیغمبر اسلام(ص) فرمایا کرتے تھے: لوگو ظالموں کے مطیع اور غلام نہ بنو خداوند عالم نے تمھیں آزاد خلق فرمایا ہے، تمھارا ولی اور صاحب اختیار خدا ہے، خداوند عالم تمھارا مالک اور مختار ہے کہ جس نے تمھیں خلق فرمایا ہے، تمھاری رہبری اور ولایت کا حق اسی کو حاصل ہے_ اللہ تعالی اور ان حضرات کے علاوہ جو اس کی طرف سے اس کا پیغام بندوں تک پہنچاتے اور اس کے احکام سے مطلع کرتے ہیں اور کوئی واجب الاطاعت نہیں ہے، پرہیزگاری اختیار کرو اور میری اطاعت کرو تا کہ میں تمھیں ان ظالموں کے شر سے نجات دلاؤں، تم سب آزاد ہو اور ظالموں و ستمگروں کے غلام اور قیدی نہ بنو، خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرو اور اس کے علاوہ کسی سے امید وابستہ نہ رکھو صرف اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس کی رضا کے لئے کام بجالاؤ اور ایک دل ہوکر ایک غرض اور ہدف کو بجالاؤ، جھوٹے معبودوں اور اختلاف ڈالنے والوں کو دور پھینک دو، تمام کے تمام توحید کے علم کے سایہ میں اکٹھے ہوجاؤ تا کہ آزاد و سربلند اور سعادتمند بن جاؤ، تمام کاموں کو صرف خدا کے لئے اور خدا کی یاد کے لئے بجالاؤ صرف اللہ تعالی سے مدد اور کمک طلب کرو تا کہ اس مبارزہ میں کامیاب ہوجاؤ''

قرآن مجید کی آیت:

( من یشرک بالله فقد ضل ضلالا بعیدا ) ___(۱)

''جس شخص نے اللہ کے ساتھ شریک قرار دیا وہ سخت گمراہی میں پڑا''

____________________

۱) سوره نساء / ۱۱۶


سوالات

سوچنے، مباحثہ کرنے اور جواب دینے کیلئے ہیں

۱)___ بت پرستی اور شرک کے مظاہرات کون سے ہوتے ہیں؟

۲)___استحصال کرنے والے کیوں لوگوں کے درمیان اختلاف ایجاد کرتے ہیں؟

۳)___ توحید سے کیا مراد ہے اور شرک کا کیا مطلب ہے؟

۴)___ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مہم کام او رپروگرام کیا تھا؟

۵)___ اسلام کے فلاح اور نجات دینے کے لئے کون سا پیغام ہے اور اس کا معنی کیا ہے؟

۶)___ اللہ تعالی کے نزدیک کون سا انسان مقرب ہے، اللہ تعالی کے نزدیک برتری کس میں ہے؟

۷)___ ظالموں کے لئے دوسروں پر حق ولایت اور حکومت ہوا کرتا ہے، انسان کا حقیقی مالک اور مختار کرون ہے؟

۸)___ مستکبرین پر کامیابی کا صحیح راستہ کون سا ہے؟


عدل خدا

خداوند عالم نے اس جہاں کو ایک خاص نظم اور دقیق حساب پر پیدا کیا ہے اور ہر ایک مخلوق میں ایک خاص خاصیت عنایت فرمائی ہے، دن کو سورج کے نکلتے سے گرم اور روشن کیا ہے تا کہ لوگ اس میں سخت اور کوشش کر کے روزی کما سکیں رات کو تاریک اور خاموش قرار دیا ہے تا کہ لوگ اس میں راحت اور آرام کرسکیں ہر ایک چیز کی خلقت میں ایک اندازہ اور حساب قرار دیا ہے_

انھیں خصوصیات اور لوازمات کے نتیجے میں جہاں کی اشیاء خلقت کے لحاظ سے بہت عمدہ قسم کی زیبائی سے مزيّن ہیں_ سوچئے اگر آگ اپنی ان خصوصیات کے ساتھ موجود نہ ہوتی تو اس عالم کا رخ کیسا ہوتا___؟

فکر کیجئے اگر پانی اپنے ان خواص کے ساتھ جو اس میں موجود ہیں نہ ہوتا تو کیا زمین پر زندگی حاصل ہوسکتی___؟ غور کیجئے اگر زمین میں قوت جاذبہ نہ ہوتی تو کیا کچھ سامنے آتا؟ کیا تم اس صورت میں یہاں بیٹھ سکتے اور درس پڑھ سکتے تھے؟

ہرگز نہیں کیونکہ اس صورت میں زمین اس سرعت کی وجہ سے جو زمین اپنے ارد گرد اور سورج کے اردگرد کر رہی ہے تمام چیزوں کو یہاں تک کہ تمھیں اور تمھارے دوستوں کو فضا میں پھینک دیتی، ہمارا موجودہ زمانے میں زندہ رہنے کا نظم اور قانون ان خواص اور قوانین کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالی نے طبع اور مادّہ کے اندر رکھ چھوڑا ہے اگر یہ قوانین اس دنیا میں موجود نہ ہوتے تو زندگی کرنا حاصل نہ ہوتا گرچہ اس عالم


کے موجودہ قوانین کبھی ہمارے لئے پریشانی کو بھی فراہم کردیتے ہیں مثلاً ہوئی جہاز کو ان قوانین طبعی کے ما تحت اڑایا جاتا ہے اور آسمان پر لے جاتا ہے جو ان مواد اور طبائع میں موجود ہیں اور انھیں قوانین سے استفادہ کرتے ہوئے ہوئے اسے آسمان پرتیز اور سرعت سے حرکت میں لایا جاتا ہے_

قانون جاذبہ اور اصطلاک و ٹکراؤ سے ہوائی جہاز کو زمین پر اتارا جاتا ہے ہوائی جہاز کے مسافر اسی قانون سے استفادہ کرتے ہوئے ہوائی جہاز سے نیچے اترتے ہیں اور زمین پر چلتے ہیں اور اپنی اپنی منزل تک جا پہنچتے ہیں لیکن یہی ہوائی جہاز جب اس کا ایندھن اور پیٹرول فضا میں ختم ہوجائے تو زمین کا قانون جاذبہ فوراً سے زمین کی طرف کھینچتا ہے اور ہوائی جہاز زمین پر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا کہ جس سے اس میں سوار بعض فوراً دم توڑ دیتے ہیں اور کچھ زخمی اور بیکار ہوکر رہ جاتے ہیں اس صورت میں قصور کس کا ہے___؟

ٹھیک ہے کہ ہم اس صورت میں تمّنا کریں گے کہ کاش زمین میں قوت جاذبہ نہ ہوتی اور اس صورت میں قوت جاذبہ اپنا کام اور عمل انجام نہ دیتی___؟ کیا یہ ٹھیک ہے کہ ہم یہ آرزو کریں کہ کاش زمین اس ہوائی جہاز کو جس کا ایندھن ختم ہوگیا ہے اپنی طرف نہ کھینچتی___؟ سمجھتے ہوکہ اس آرزو کے معنی اور نتائج کیا ہوں گے___؟ اس خواہش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خلقت کا قانون ہماری پسند کے مطابق ہوجائے کہ اگر ہم چاہیں اور پسند کریں تو قانون عمل کرے اور جب ہم نہ چاہیں اور پسند نہ کریں تو قانون عمل نہ کرے کیا اس صورت میں اسے قانون کہنا اور قانون کا نام دینا درست ہوگا___؟ اور پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کس شخص کی خواہش اور تمنا پر قانون عمل کرے___؟


اس صورت میں سوچئے کہ ہر ج و مرج لازم نہ آ تا___ ؟ ممکن ہے کہ آپ اس شخص کو جو ہوائی جہاز کے گرجانے کی صورت میں بیکار ہوگیا ہے دیکھیں اور یہ دیکھیں کہ وہ اس کی وجہ سے اندھا ہوگیا ہے اور اس کا ایک ہاتھ کٹ چکا ہے اور پاؤں سے معذور ہوگی ہے اور یہ کہیں اور سوچیں کہ کس نے اس پر ظلم کیا ہے___؟ اور کس نے اسے اس طرح ہاتھ، پاؤں اور آنکھوں سے محروم کردیا ہے___؟

کیا ت م خدا کی عدالت میں شک کروگے کہ جس نے زمین کو قوت جاذبہ عنایت فرمائی ہے___؟ یا اس شخص کی عدالت اور قابليّت میں شک کروگے کہ جس نے زمین کے اس قوت جاذبہ کے قانون اور دوسرے طبائع کے قوانین سے صحیح طور سے استفادہ نہیں کیا ہے___؟ اس شخص کی قابليّت اور لیاقت میں شک کروگے کہ جس نے ہوائی جہاز میں بقدر ضرورت ایندھین نہیں ڈالا تھا___؟

اللہ تعالی نے ہر ایک موجود کو ایک خاص استعداد اور کمال سے پیدا کیا ہے اور دنیا پر کچھ عمومی قوانین اور طریقے معین کردیئے ہیں اور ہر چیز کے لئے ایک خاص حساب اور نظم قرار دیا ہے_ ہم انسانوں پر ضروری ہے کہ ہم ان قوانین سے صحیح طریقے سے استفادہ کریں تا کہ اللہ تعالی کے فیض و کرم اور رحمت و عدل سے صحیح طور سے مستفید ہوسکیں مثلا ماں کے رحم میں جو بچہ بڑھتا اور رشد کرتا ہے تو وہ اس عالم پر تمام مسلّط قوانین سے پیروی کرتا ہے اگر ماں، باپ یا دوسرے مخيّر حضرات خلقت کے قوانین کو صحیح طور پر استعمال کریں گے تو بچہ صحیح و سالم انھیں مل سکے گا بخلاف اگر وہ سگریٹ نوش یا شراب خور ہوئے تو سگریٹ یا شراب کے زہر سے یقینا بچے کے بدن میں نقص پیدا ہوجائے گا جس طرح کہ ہوائی جہاز کے گرنے نے نقص ایجاد کردیا تھا اور کسی کو آنکھ یا ہاتھ سے


محروم کردیتا تھا_ شرابی ماں کا بچہ دنیا میں بیماری لے کر پیدا ہوتا ہے وہ ماں جو ضرر رساں دوائیں استعمال کریں ہے اس کا بچّہ دنیا میں معیوب پیدا ہوتا ہے، بچے کی ماں یا باپ یا اس کے لواحقین، قوانین صحت کی مراعات نہیں کرتے تو بچہ خلقت کے لحاظ سے ناقص پیدا ہوتا ہے یہ اور دوسرے نقائص ان قوانین کا نتیجہ ہیں جو اللہ تعالی نے دنیا پر مسلط کر رکھا ہے اور یہ تمام قوانین، اللہ تعالی کے عدل سے صادر ہوتے ہیں_

ہم تب کیا کہیں گے جب کوئی ماں باپ کہ جو قوانین صحت کی رعایت کرتے ہیں اور بچہ سالم دنیا میں آتا ہے اور وہ ماں باپ جو قوانین صحت کی رعایت نہ کریں اور ان کا بچہ بھی سالم دنیا میں آتا ہے کیا یہ کہ دنیا بے نظم اور بے قانون ہے اور اس پر کوئی قانون حکم فرما نہیں ہے_ کیا یہ نہیں سوچیں گے کہ جہاں میں ہرج اور مرج اور گربڑ ہے کہ جس میں کوئی خاص نظم اور حساب نہیںہے اور کوئی قانون اس پر حکم فرما نہیں ہے؟ کیا یہ نہیں کہیں

ے کہ جہاں کا خلق کرنے والا ظلم کو جائز قرار دیتا ہے____؟ کیوں کہ ان ماں باپ کو جو قانون کے پوری طرح پابند ہیں انھیں ایک سالم بچہ عنایت فرماتا ہے اور ان ماں باپ کو بھی جو کسی قانون کی پابندی نہیں کرتے سالم بچہ عنایت کرتا ہے تو پھر ان دونوں میں کیا فرق ہوگا___؟ جس نے کام کیا ہو اور قانون کی پابندی کی ہو وہ اس شخص کے ساتھ مساوی اور برابر ہو کہ جس نے قانون کی پابندی نہ کی ہو___؟ کیا دونوں ایک جیسے منزل مقصود تک پہنچیں گے، گیا آپ اس طرح سوچ سکتے ہیں___؟ ہرگز نہیں کیونکہ تمھیں لم ہے کہ دنیا ایک قانون اور نظم کے ساتھ چلائی جا رہی ہے اور اسے لاقونی اور ہرج و مرج سے نہیں چلایا جارہا ہے _

تمھیں علم ہے کہ اللہ تعالی نے ہر ایک موجود کے لئے علّت قرار دی ہے_ طبائع


اور مواد عالم میں قوانین اللہ تعالی کے ارادے سے رکھے گئے ہیں، وہ اپنا عمل انجام دے رہے ہیں اور کسی کی خواہش و تمنّا کے مطابق نہیں بدلتے ہیں البتہ کبھی ایک یا کئی قانون ایک جگہ اکٹھے ہوجاتے ہیں اور ان سے بعض چیزیں وجود میں آجاتی ہیں جو ہماری پسند کے مطابق نہیں ہوتیں لیکن دنیا کے نظام میں اس قسم کے وجود سے فرار ممکن نہیں ہوسکتا یہی اللہ تعالی کا عدل نہیں ہے کہ جن قوانین کو اس نے عالم پر مسطل کردیا ہے انھیں خراب کردے اور لاقانونيّت اور ہرج و مرج کا موجب بنے بلکہ اللہ تعالی کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مخلوق کو اس کی خاص استعداد کی روسے وجود عنایت فرمائے اور اسے کمال تک پہنچائے_ خداوند عالم تمام حالات میں عادل ہوتا ہے یہ انسان ہی ہے جو اپنے اعمال اور نادانی و جہالت کی وجہ سے اپنے اور دوسروں پر ظلم اور مشکلیں کھڑی کرتا ہے_

ایک سوال

ہوسکتا ہے آپ کہیں کہ ماں باپ نے قانون کی لاپرواہی کرتے ہوئے شراب یا دوسری ضرر رساں دوائیں استعمال کر کے بچے کو غیر سالم اور بے کار وجود میں لائے اور اس قسم کے نقصان کے سبب بنے کہ جس کے نتیجے میں ایک بیکار اور ناقص فرد دینا میں آیا اور یہ ٹھیک ان قوانین کے ماتحت ہوا ہے جو اللہ تعالی نے خلقت کے لئے بر بناء عدل معین کر رکھا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں بچے کا کیا قصور ہے کہ وہ دنیا میں ناقص پیدا ہو اور تمام عمر بیکار زندگی بسر کرے____

جواب

اس کا جواب یہ ہے کہ بچے کا کوئی بھی قصور نہیں ہے خداوند عالم بھی اس پر اس کی


طاقت اور قدرت سے زیادہ حکم اور تکلیف نہیں دے گا اور وہ اس امکانی حد میں جو اس میں موجود ہے اپنے وظائف شرعی پر عمل کرے تو وہ اللہ تعالی سے بہترین جزا کا مستحق ہوگا اس قسم کے افراد اگر متقی اور مومن ہوں تو وہ دوسرے مومنین کی طرح اللہ تعالی کے نزدیک محترم اور عزیز ہونگے اور اپنے وظائف پر ٹھیک طرح سے عمل پیراہوں تو آخرت میں ایک بلند درجے پر فائز ہوں گے_

اس بحث کا خلاصہ اور تکمیل

سابقہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ خداوند عالم عادل ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے خاص قوانین اس دنیا کے لئے وضع کئے ہیں اور ہر ایک مخلوق میں ایک خاص استعداد اور ودیعت کر رکھی ہے_ اگر ہم ان قوانین اور خصوصیات کی جو اللہ تعالی نے معین کی ہیں رعایت کریں تو پھر ہم اس کے فیض اور رحمت سے مستفید ہوں گے اور اس کے عدل و فضل کے سایہ میں اس نتیجے تک جا پہنچیں گے جو مدّ نظر ہوگا اور ان قوانین عالم سے جو اللہ تعالی کے ارادے سے معین کئے گئے ہیں لاپروائی کریں تو ہم خود اپنے اوپر ظلم کریں گے اور اس بے اعتنائی کا نتیجہ یقینا دیکھیں گے_

خداوند عالم کا آخرت میں عادل ہونے سے بھی یہی مراد ہے یعنی اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ لوگوں کو اچھائی اور برائی سے آگاہ کردیا ہے اچھے کاموں کے لئے اچھی جزاء اور برے کاموں کے لئے بری سزا معین کر رکھی ہے_ خداوند عالم آخرت میں کسی پر ظلم نہ کرے گا ہر ایک کو ان کے اعمال کے مطابق جزاء اور سزا دے گا جس نے نیکوکاری، خداپرستی کا راستہ اختیار کیا ہوگا تو وہ اللہ تعالی کی نعمتوں سے مستفید ہوگا اور


اگر باطل اور مادہ پرستی کا شیوہ اپنا یا ہوگا اور دوسروں پر ظلم و تعدّی روا رکھی ہوگی تو آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوگا اور اپنے برے کاموں کی سزا پائے گا_

قرآن مجید کی آیت:

( و ما کان الله لیظلمهم و لکن کانوا انفسهم یظلمون ) (۱)

''خداوند عالم کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں''

____________________

۱) سورہ عنکبوت آیت نمبر ۴۰


سوچئے اور جواب دیجئے

۱)___ کچھ طبعی قوانین بتلایئے

۲)___ کیا یہ درست ہے کہ ہم یہ آرزو کرں کہ کاش زمین میں قوت جاذبہ موجود نہ ہوتی کیوں؟ توضیح کیجئے

۳)___ جب ہم کہتے ہیں کہ خدا عادل ہے تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے؟ کیا اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ تمام کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے خواہ اس نے کہ جس نے کام کیا ہے اور اس نے کہ جس نے کوئی کام نہیں کیا؟

۴)___ اللہ تعالی کے عادل ہونے کا کیا تقاضہ ہے؟ کیا یہ مراد ہے کہ اللہ تعالی اپنے قوانین طبعی کو ہوا اور ہوس کے مطابق بدل دیتا ہے یا یہ مراد ہے کہ اللہ تعالی اپنے معین کردہ قوانین کے مطابق ہر ایک انسان کو نعمت اور کمال عنایت کرتا ہے_

۵)___ بعض انسان جو ناقص عنصر والے ہوتے ہیں یہ کن عوامل کے نتیجے میں ہوا کرتا ہے؟ کیا اس سے اللہ تعالی کی عدالت یا قوانین طبعی کے خلاف ہونے پر اعتراض کیا جاسکتا ہے؟

۶)___ اگر کوئی بچہ ماں کے پیٹ میں اس کی شراب خوری کی وجہ سے اس بچے کی طرح رشد کرے کہ جس کی ماں سالم اور متقی ہو اگر ایسی مساوات ہوجائے تو یہ کس کا نتیجہ ہوگا، کیا یہ عدل الہی کی نشانی ہوگی؟


دوسرا حصّہ

آخرت کے مسائل کے بارے میں


ہم ان دو درسوں میں چند طالب علموں سے گفتگو کریں گے اورخلقت کی غرض بیان کر کے جہان آخرت کی طرف متوجہ کریں گےاس کے بعد انھیں مطالب کو دلیل سے بطور جدّی بیان کریں گے

(۱) عمل کا ثمر

گرمی کا موسم نزدیک آرہا ہے فصل کاٹنے کا وقت پہنچنے والا ہے_ ''علی'' چچا نے ہمیں دعوت دی ہے تا کہ فصل کاٹنے اور میوے چننے میں اس کی مدد کریں_ ہم نے صبح سویرے جلدی میں حرکت کی جب ہم اپنے چچا کے باغ تک پہنچے تو سورج نکل چکا تھا باغ کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا، موٹے اور سرخ سیب درختوں کی ٹہنیوں اور پتوں کے درمیان سے نظر آرہے تھے_

میں اور میری بہت نے جب چاہا کہ باغ کے اندر داخل ہوں تو ہمارے باپ نے کہا ٹھہرو تا کہ دروازہ کھٹکھٹائیں اور باغ میں اندر جانے کے لئے اجازت لیں اور تب باغ کے اندر داخل ہوں_ ابّا نے پتھر کے ساتھ دروازے کے باہر لگی میخوں کو مارا چچا کی آواز سننے کے بعد ہم باغ کے اندر داخل ہوگئے_ تمھاری جگہ خالی تھی یعنی کاش کہ تم بھی وہاں ہوتے اور دیکھتے کہ کتنی بہترین اور پر لطف ہوا اور عمدہ ماحول تھا، سرخ اور موٹے سیب درختوں پر لٹک رہے تھے اور ہوا کے چلنے سے آہستہ آہستہ


حرکت کر رہے تھے اور کبھی کوئی نہ کوئی زمین پر بھی گرپڑتا تھا اور دور تک جاپہنچتا تھا جب باغ کے وسط میں بنے ہوئے کمرے تک پہنچے تو چچا علی دوڑتے ہوئے ہمارے استقبال کے لئے آرہے تھے ہم نے انھیں سلام کیا اور انھوں نے ہمیں خوش روئی اور خوشی سے خوش آمد کہا اور ہمیں اس کمرے میں لے گئے جہاں ناشتہ و غیرہ رکھا ہوا تھا ایک بہت بڑی ٹرے کمرے کے وسط میں پڑی ہوئی تھی کمرے کے وسط میں سیب بھی موجود تھے_

چچا نے سیبوں کی طرف اشارہ کیا اور مجھے اور دوسرے بچوں سے فرمایا کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ میں اب دن رات کی محنت اور اس کے نتیجے تک پہنچ چکا ہوں درختوں نے بہت اچھا پھل دیا ہے، ان عمدہ اور خوش ذائقہ سیبوں کو اللہ تعالی نے تمھارے لئے پیدا کیا ہے تمھیں دیا ہوگا کہ جب تم بہار کے موسم میں یہاں آئے تھے اور معمولی بارش کے باعث تمھیں یاد ہوگا کہ جب تم بہار کے موسم میں یہاں آئے تھے اور معمولی بارش کے باعث تمھیں کچھ تکلیف بھی اٹھانی پڑی تھی اگر بارش نہ ہوتی اور پانی موجود نہ ہوتا تو میری کوشش اور محنت بے فائدہ اور بے نتیجہ ہوتی، درخت پانی نہ ہونے سے خشک ہوجاتے اور پھر ایسے عمدہ اور خوش مزہ سیب کیسے ہاتھ آتے؟

حسن نے کہا: ہاں چچا وہ دن کیسا عمدہ تھا ہم یہاں کھیلتے تھے اور کچھ کام بھی کیا کرتے تھے اور کچھ نئی معلومات بھی حاصل کیا کرتے تھے_ چچا نے جواب دیا اب تم ناشتہ کروں اس کے بعد اس دن کی گفتگو کو دوبارہ دہرائیں گے اس سے نیا نتیجہ نکالیں گے اس کے بعد سیب چننے اور اپنی محنت کا ثمرہ لینے کے لئے باغ میں جائیں گے_

ناشتہ کرنے کے بعد چچا علی نے زہراء سے کہا: بیٹی زہرائ تمھیں یاد ہے کہ اس دن پانی کی گردش کے متعلق کیا کہا تھا___؟ ننھی زہراء نے کہا ہاں مجھے یاد ہے آپ نے احمد کے لباس کی طرف اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بارش


بادلوں سے برستی ہے_ ہم زہراء کے اس عمدہ اور مختصر جواب سے ہنسے_ ابّا نے کہا: کیوں ہسنتے ہو؟ زہراء سچ تو کہہ رہی ہے سورج کی روشنی سمندر پر پڑتی ہے اور سمندر کا پانی سورج کی حرارت سے بخار بنتا ے اور اوپر کی طرف چلا جاتا ہے ہوائیں ان بخارات کو ادھر ادھر لے جاتی ہیں ہوا کی سردی اوپر والے بخارات کو بادلوں میں تبدیل کردیتی ہے_

یہ گھنے بادل اور بخارات زمین کی قوت جاذبہ کے واسطے سے زمین کی طرف کھچے آتے ہیں اور بارش کی صورت میں قطرہ قطرہ ہوکر زمین پر برسنے لگتے ہیں، بارش کا پانی نہروں اور ندیوں میں جاری ہونے لگتا ہے تا کہ اسے حیوانات اور انسان پئیں اور سیراب ہوں اور کچھ پانی آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہونے لگتا ہے اور انسانوں کی ضروریات کے لئے وہاں ذخیرہ ہوجاتا ہے یہی ذخیرہ شدہ پانی کبھی چشموں کی صورت میں باہر نکل آتا ہے اور انسانوں کے ہاتھوں آتا ہے یا وہیں زمین کے اندر ہی رہ جاتا ہے اور انسان اپنی محنت و کوشش کے ذریعے سے کنویں، ٹیوب دیل و غیرہ بنا کر اس سے استفادہ کرتا ہے_

چچا ہنسے اور کہا: تم نے کتنا عمدہ درس حاضر کر رکھا ہے ابا نے چچا کی طرف دیکھا او رکہا کہ چونکہ آپ نے ایک عمدہ اور اچھا سبق پڑھایا ہے او رکہا ہے کہ تمام موجودات اسی طرح ایک پائیدار قوانین اور دقیق نظام پر خلق کئے گئے ہیں اور ایک معین غرض اور ہدف کی طرف جا رہے ہیں_ ماد ی دنیا اللہ تعالی کے ارادے اور فرمان کے ماتحت ہمیشہ بدلتی او رحرکت کر رہی ہے تا کہ انسانوں کی خدمت انجام دے پائے انسانوں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور ان کی کوششوں کو نتیجہ آور قرار دیا جاتا ہے درخت اور نباتات، آب و ہوا اور سورج کی روشنی اور معدنی مواد جو زمین کے اندر


موجود ہیں، سے استفادہ کرتے ہیں اور انسانوں کے لئے غذا اور پوشاک مہيّا کرتے ہیں، حیوان چارہ کھاتے ہیں اور انسانوں کے لئے خوراک اور پوشاک مہیا کرتے ہیں_

خلاصہ

ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکارند

تا تو نانی بہ کف آری و بہ غفلت نخوری

جب ابّا کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو فرشتہ خانم نے سیب سے بھری ہوئی ٹرے اٹھائی اور ماں کے سامنے پیش کی اور کہا اس سے کچھ لیجیئے کیونکہ آپ نے نہیں سنا

ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکارند

تا تو نانی بہ کف آری و بہ غفلت نخوری

اس کے بعد ٹرے اس نے چچا کے سامنے پیش کی اور چچا نے وہ سیب سے بھری ٹرے ابّا اور ہمارے سامنے پیش کی اور ہنستے ہوئے فرمایا بچّو تم بھی سیب اٹھاؤ اور اسکے کھاؤ اور کہیں غفلت میں کھانا شروع نہ کردینا پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لینا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا_ ہم چاہتے ہیں کہ تمام اکٹھے باغ میں چلیں اور سیب چینیں کیونکہ آج عصر کے وقت کچھ سیب مجاہدین کی بس کے ذریعے فوجیوں اور ملک کے حفاظت کرنے والے پاسداروں کو بھیجنے ہیں تا کہ وہ بھی اللہ تعالی کی اس نعمت سے استفادہ کریں کیونکہ وہ اسلام کے سپاہی اور قرآن کے محافظ ہیں اور دین و وطن اور اسلامی انقلاب کی پاسداری کرتے ہیں_ اٹھو اور باغ چلیں اور باقی گفتگو کو کل اور اس کے بعد کے لئے چھوڑ دیتے ہیں_


سوالات:

یہ سوالات، بحث اور گفتگو کرنے کے لئے بیان کئے گئے ہیں

۱)___ جب نرگس اور اس کے بہن بھائی چچا کے باغ تک پہنچے تو باغ کا دروازہ بند تھا یا کھلا ہوا تھا؟ کیا نظارہ اور ماحول تھا؟ بچے کیا چاہتے تھے؟ کہ باپ نے انھیں کہا کہ ٹھہرو تا کہ دروازہ کھٹکھٹائیں_

۲)___جب ان کے چچا علی نے دیکھا کہ دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں تو اس نے کیا کہا تھا؟ تمھاری نگاہ میں چچا علی خوش اخلاق تھے؟ اس کے ثابت کرنے کے لئے اس سبق اور سابقہ سبق سے کچھ دلائل بیان کرسکتے ہو؟

۳)___ جب چچا علی نے نرگس اور دوسرے بچوں کو سیب دیئے تو کیا کہا؟ حسن نے اس وقت کیا کہا؟ آپ کی نگاہ میں حسن کیسا بچہ ہے؟ آیا غور و فکر کرنے والا لڑکا ہے اور کیوں؟

۴)___ جب چچا علی ہنسے اور اپنے بھائی سے کہا کہ تم نے بہت اچھا درس حاضر کردیا ہے تو اس کے بھائی نے اس کا کیا جواب دیا؟ کیا تم اس کی طرح پانی کی گردش اور دنیا کی خلقت کی غرض و غایت کی توضیح بیان کرسکتے ہو؟ یقینا ایسا کرسکو گے؟ تجربہ کرو_

۵)___ نرگس کے باپ نے اپنی گفتگو کو بطور خلاصہ ایک شعر میں بیان کیا، کیا تمھیں وہ شعر یاد ہے؟ فرشتہ خانم نے اس شعر کو کس طرح پڑھا تھا؟ تمھاری نگاہ میں فرشتہ خانم خوش سلیقہ اور خوش ذوق لڑکی ہے اور کیوں؟


۶)___ اللہ تعالی کی نعمتوں کو غفلت کی حالت میں نہ کھا بیٹھنے کے لئے ہمیں کون سا کام انجام دینا چاہئے؟ علی نے اس بارے میں کیا کہاتھا؟

۷)___ چچا علی نے کہا تھا کہ وہ اللہ تعالی کی نعمتوں سے استفادہ کریں گے، اس سے ان کا قصد کن لوگوں کے متعلق تھا_ وہ کیوں پسند کرتا تھا کہ وہ لوگ بھی اس سے استفادہ کریں وہ اللہ تعالی کا شکریہ کون سے اعمال کر کے بجالاتے ہیں؟


(۲) عمل کا ثمر

ہم جمعرات کو صبح جلدی میں اٹھے باغ کے وسط میں بہنے والی نہر سے وضو کیا اور کمرے میں جا کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے_ چچا علی نے نماز کے بعد بلند آواز سے قرآن اور دعا پڑھنی شروع کردی ہم بھی ان کے ہمراہ دعا اور قرآن پڑھنے لگے، کاش تم بھی ہوتے کیسی عمدہ نماز اور با اخلاص دعا پڑھی گئی، کتنی بہترین صبح تھی، بہت اچھی ہوا اور باصفا ماحول تھا_ کاش تم بھی وہاں ہوتے اور سورج بلند پہاڑوں اور خوش و خرم اور سبزہ زار جنگلوں سے خوبصورتی کے ساتھ نکلنے کا نظارہ کرتے، ابّا کھڑکی کے پیچھے کھڑے تھے اور سورج کے طلوع کا حسین منظر دیکھ رہے تھے اور کل والے شعر کو گنگنا رہے تھے:

ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکارند

تا تو نانی بہ کف آری و بہ غفلت نخوری

چچا علی کی بیوی فرشتہ خانم نے سماور کو جلایا_ میں نے اور حسن نے طاقچے سے ایک رسالہ اٹھایا اور اس کے ورق الٹنے لگا اس کے ایک صفحہ پر ایک شہید کا وصیت نامہ نظر سے گذرا_ فرشتہ خانم نے پوچھا کہ کیا پڑھ رہے ہو؟ تھوڑا آواز سے پڑھو کہ میں بھی سن سکوں_ صفحہ کی ابتداء میں ایک آیت کا یہ ترجمہ لکھا ہوا تھا:


''جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جاتے ہیں انھیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں''

اس کے بعد اس شہید کا یہ وصیت نامہ درج تھا_

''اللہ کے راستے میں شہید ہونا کتنا اچھا ہے یہ پھول کی خوشبو کی طرح ہے میں اس سرزمین میں دشمن سے اتنا لڑوں گا کہ یا فتح ہمارے نصیب ہوگی اور یا درجہ شہادت پر فائز ہوجاؤںگا_

اگر اسلام اور قرآن کی راہ میں شہید ہونے کی لیاقت نصیب ہوگی تو اس وقت میری ماں کو اس کی مبارکباد دینا کیونکہ میں اللہ کا مہمان ہوگیا ہوں واقعاً خدا کی راہ میں مرنا کتنا اچھا ہے''

حسن نے پوچھا چچا جان شہید کیسے اللہ کی مہمان کے لئے جاتا ہے، موت کیا ہے اور شہادت کیا ہے___؟ چچا بولے ''ناشتہ کے بعد ان سوالات کے بارے میں گفتگو کروں گا اب تم ناشتہ کرلو''_ جب ہم ناشتہ کرچکے تو میری ماں کی مدد سے فرشتہ خانم نے دسترخوان اکٹھا کیا اور اس وقت چچا بولے:

''تمھیں یاد ہے کہ آبا نے کل کیا کہا تھا؟ تمھیں یاد ہے کہ کائنات کی خلقت اور اس کے اغراض و مقاصد کے سلسلے میں انھوں نے مطالب بیان کئے تھے ____؟ جیسے کہ ابّا نے بیان کیا تھا کہ عالم مادی، اللہ تعالی کے ارادے او رحکم سے ہمیشہ تغیر و تبدل میں ہے تا کہ اس سے وہ انسانوں کی خدمت بجالائے اور ہماری کوشش و محنت کو بار آور قرار دے اپنی زندگی میں غور کرو_


انسان ابتداء میں کمزور اور ایک چھوٹا سا وجود تھا، سرعت کے ساتھ اس عمدہ ہدف کی طرف جو اس کے لئے اللہ تعالی نے معین کر رکھا تھا حرکت کر رہا تھا، دودھ پیتا تھا اور بڑھ رہا تھا، غذا کھاتا تھا اور بڑا ہو رہا تھا اور رشد کر رہا تھا، کام کرتا تھا اور تجربہ حاصل کر رہا تھا اور خارجی دنیا سے وابستگی حاصل کر رہا تھا، علم حاصل کرتا تھا اور مادّی دنیا کی طبعی ثروت سے اور اپنے کام کے نتائج اور حیوانات و نباتات اور درختوں کی کوشش سے ا ستفادہ کر رہا تھا، اپنے جسم اور جان کی پرورش کر رہا تھا مختصر یہ کہ تمام موجودات عالم کوشش اور محنت کر رہے ہیں تا کہ وہ انسان کی خدمت بجالائیں اور انسان کی زندگی کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے اسے کمال تک پہنچائیں لیکن اسی حالت میں اسے موت آپہنچتی ہے اور انسان کا جسم حرکت کرنا بند کردیتا ہے''_

آپ کیا فکر کرتے ہیں___؟ کیا انسان موت کے آجانے سے فنا اور نابود ہوجاتا ہے___؟ اس صورت میں تمام عالم کے موجودات کی تلاش اور کوشش جو انسان کی زندگی کے لئے کر رہے تھے بے کار نہ ہوگی___؟ اور تمام عالم کے موجودات کی کوشش اور حرکت لغو اور بے فائدہ نہ ہوگی___؟ کیا انسان اپنی کوشش اور محنت کا کوئی صحیح اور مثبت نتیجہ حاصل نہیں کرتا___؟ کیا انسان اور تمام عالم کی کوشش اور تلاش بے کار نہ ہوجائے گی___؟

نہیں اور بالکل نہیں انسان اور تمام عالم اور جہاں کی خلقت، لغو اور بے غرض


نہیں ہے_ خداوند عالم نے اس منظم کائنات کو فنا اور نابود ہونے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ انسان ایک ایسا موجود ہے جو ہمیشگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اس جہاں سے عالم آخرت کی طرف جو باقی اور ہمیشہ رہنے والا ہے منتقل ہوجاتا ہے اور آخرت میں ان تمام کاموں کا ثمرہ پائے گا جو اس مادّی عالم میں انجام دیئے ہوتے ہیں اور پھر اس عالم آخرت میں ہمیشہ کے لئے زندگی گذارے گا_

موت ایک پل ہے جو نیک بندوں کو آخرت اور اللہ تعالی کی محبت و شفقت کی طرف منتقل کردیتا ہے_ اللہ تعالی کی یہ محبت اور نعمتیں اس کے نیک کاموں کا ثمرہ ہوا کرتی ہیں_ یہ پل گناہگار انسنوں کو ان کے برے کردار کی سزا اور جہنم کے سخت عذاب تک جا پہونچاتا ہے_

اب تم سمجھے کہ موت کیا ہوتی ہے___؟ موت ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام ہے جس طرح تم اپنے گھر سے پھل چننے کے لئے اس باغ میں آئے ہو اسی طرح نیک بندے اللہ تعالی کی خوبصورت بہشت میں اللہ اور اس کے نیک اچھے بندوں کی مہمانی میں جائیں گے_ اللہ کے نیک بندے جو اللہ اور اس کے پیغمبر(ص) کے احکام کو بجالاتے ہیں اور اپنی روح اور جان کو اللہ تعالی کے اولیاء کی محبت سے پرورش کرتے ہیں وہ آخرت میں اپنے کاموں کا ثمرہ اٹھائیں گے اور بہت میں جائیں گے اور اللہ تعالی کی عمدہ بہشت کی نعمتوں سے جو انھیں اپنے اچھے کردار اور ایمان کی وجہ سے ملیں گی استفادہ کریں گے_ اس وقت میری بہن مریم نے پوچھا:

چچا جان شہادت کیا ہوتی ہے___؟ شہادت یعنی ہم اللہ کے راستے میں اللہ تعالی کے رہبر کے حکم سے کافروں اور ظالموں سے جنگ کریں


تا کہ مارے جائیں_ شہید بھی اس دنیا میں عزت و شرافت اور وقار پاتا ہے اور آخرت میں سب سے بلند و بالا مقامات پر فائز ہوتا ہے وہ پیغمبروں و نیک اور صالح انسانوں کا ہمنشین ہوتا ہے اور اللہ تعالی کی خاص نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا ہے_ بہشت میں رہنے والے شہید کے مقام اور رتبے سے غبطہ کریں گے_

میرے پیارے بچو جان لو کہ آخرت کی نعمتیں اسے ملیں گی جو اس دنیا کی نعمتوں سے صحیح طریقے سے استفادہ کرتا ہے، اللہ کی یاد اور اطاعت سے غفلت نہیں کرتا یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ہم انی کوشش اور محنت کا کامل نتیجہ آخرت میں حاصل کریں گے_

یہ دنیا زراعت، محنت و کوشش اور عبادت کرنے کا زمانہ ہے اور آخرت اس زراعت کے کاٹنے اور ثمرہ حاصل کرنے کے زمانے کا نام ہے_ اب اٹھو اور باغ میں چلیں اور باقی ماندہ سیب چنیں کل جمعہ ہے اور کچھ افراد خدمت خلق کرنے والے ادارے کہ جس کا نام ''جہاد سازندگی'' ہے کل ہماری مدد کے لئے آئیں گے_ جب ہم ان درختوں کی طرف جو سیبوں سے لدے ہوئے تھے جا رہے تھے تا کہ باقی ماندہ سیب چنیں تو سب کے سب یہ پڑھ رہے تھے _

ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکارند

تا تو نانی بہ کف آری و بہ غفلت نخوری


سوالات

یہ اس لئے کئے گئے ہیں تا کہ تم سوچ سکو، بحث کرو اور جواب دو

۱)___ حسن نے اپنے چچا سے موت اور شہادت کے متعلق کیا پوچھا___؟

۲)___اللہ تعالی ان لوگوں کے متعلق جو راہ خدا میں مارے جاتے ہیں کیا فرماتا ہے؟

۳)___ آخرت کی نعمتیں کسے ملیں گی؟


آخرت کی طرف منتقل ہونا

ہمارے بے پایاں درود و سلام ہوں انقلاب اسلامی ایران کے شہیدوں پر کہ جنھوں نے اپنی رفتار سے ہمیں شجاعت و دلیری اور دینداری کا درس دیا ہے اور اپنی روش سے عزت اور بزرگی ہمیں سمجھائی ہے_

شہید احمد رضا جن کی یاد باعظمت رہے اور ان کا آخرت میں مقام، بہشت جاویداں ہو کہ جنھوں نے ایک بلند مقام شہید کی طرح اپنے مہم وصیت نامہ میں یوں لکھا ہے:

''انسان ایک دن دنیا میں آتا ہے اور ایک دن دنیا سے چلاجاتا ہے صرف اس کا کردار اور عمل دنیا میں رہ جاتا ہے موت ہمارا انجام ہے، کتنا اچھا ہو کہ انسان کسی غرض و ہدف اور خاص مکتب کے لئے مارا جائے_

میری موت سے پریشان نہ ہونا کیونکہ میں اللہ تعالی کے نزدیک زندہ ہوں اور زرق پاتا ہوں، صرف میرا جسم تمھارے درمیان سے چلاگیا ہے، میرے مرنے سے پریشان نہ ہونا اور میرے لئے سیاہ لباس نہ پہننا یعنی عزاداری نہ کرنا_ میری


پیاری اماں میں جانتا ہوں کہ تم میری موت سے پریشان ہوگی لیکن یہ تمھیں معلوم ہونا چاہیئے کہ جو لوگ راہ خدا میں مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے نزدیک بہرہ مند ہوتے ہیں_

میں امید رکھتا ہوں کہ خداوند عالم مجھے انھیں شہیدوں میں سے قرار دے گا''_

اس محترم شہید نے دوسرے آگاہ شہیدوں کی طرح حق کے راستے کو پہچان لیا ہے اور بالکل درست کہا ہے کہ موت، زندگی کی انتہا نہیں ہے بلکہ موت، زندگی کے گذرنے کا وسیلہ ہے اور ایک قسم کی زندگی کے تبدیل ہوجانے کا نام ہے، موت ایک طبعی اور کامل عادی امر ہے یہ خوف اور وحشت کا موجب قرار نہ پانا چاہیئے_

''موت ہر انسان کے لئے مساوی نہیں ہوا کرتی بلکہ بعض انسانوں کے لئے موت سخت ہوا کرتی ہے اور بعض انسانوں کے لئے بہت زیادہ آسان اور سہل ہوا کرتی ہے بلکہ لذت بخش اور مدہ دینے والی ہواکرتی ہے _ ان لوگوں کے لئے موت، سخت اور دشوار ہوتی ہے جو دنیا اور مال و ثروت اور مقام و اقتدار و لذائذ دنیا کے عاشق و شیفتہ ہوں اور خداوند عالم کو فراموش کرچکے ہوں اور کفر و نافرمانی کا راستہ اختیار کرلیا ہو اور اللہ کی مخلوق پر ظلم کرتے ہوں''_


اس قسم کے مادّی دنیا کے دوست انسان نے دنیا کے اقتدار اور زر و زیور اور جاہ و مقام کے محبت کر رکھی ہوتی ہے_ اللہ و آخرت اور خداپرست انسانوں سے محبت نہیں رکھتے ان لوگوں کے لئے اس عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونا بہت سخت ہوتا ہے اس قسم کے لوگ اخروی دنیا کو آباد نہیں کرتے اور اس کے سفر کے لئے کوئی زاد راہ نہیں رکھتے یہ لوگ کس طرح اس دنیا سے قطع روابط کرسکتے ہیں___؟ کس طرح وہ آخرت کے ویران اور دردناک گھر کی طرف کوچ کرسکتے ہیں___؟ اس لحاظ سے موت کی سختی اور جان کا سخت نکلنا دنیاوی اور مادّی امور سے دلبستگی کے معیار اور گناہوں کی مقدار پر مبنی ہوگا_

لیکن انسانوں کا دوسرا گروہ جو اللہ تعالی اور پیغمبروں کے دستور کے پیروکار اور اہل آخرت اور ہمیشہ اللہ کی یاد میں رہنے والے ہوتے ہیں اور اللہ سے محبت و انس رکھتے ہیں اور ان کے دل کی گہرائیوں میں اللہ تعالی کی محبت اور ولایت نے نفوذ کیا ہوا ہوتا ہے، اللہ کی اطاعت اور اس کے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہیں اور جنھوں نے اپنے نیک اعمال اور بندگان خدا کی خدمت سے اپنی آخرت کو آباد کیا ہوتا ہے ان لوگوں کے لئے اس مادی دنیا سے قطع روابط صرف مشکل ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کا استقبال بھی کرتے ہیں_

ایسے لوگ موت سے کیوں کبھرائیوں___ ؟ انھوں نے دنیاوی لذات سے دلبستگی نہیں کی ہوتی تا کہ مرنا ان کے لئے سخت ہو یہ محبت اور رغبت سے اپنی پاک روح اور جان کو اللہ تعالی کے فرشتوں کے سپرد کر کے بہشت کی طرف چلے جاتے ہیں_

جنت کی نعمتیں اور کتنے عمدہ ہدایا اللہ تعالی کے نیک اور حب دار بندوں


کے لئے آخرت کے جہاں میں موجود ہیں_

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے وفادار ساتھیوں سے جو شہادت کے انتظار میں تھے شب عاشوریوں فرمایا:

''اے میرے وفادار ساتھیو دشمن سے جہاد کرنے اور دین سے دفاع کرنے میں پائیدار بنو اور جان لو کہ موت ایک پل کی طرح ہے جو تمھیں سختیوں اور دشواریوں سے نجات دلائے گی اور عالم آخرت کی طرف منتقل کردے گی_ ایسا کوئی ہوسکتا ہے جو ایک سخت اور دردناک قیدخانے آباد اور بہترین باغ کی طرف منتقل نہ ہو___؟ لیکن تمھارے دشمنوں کے لئے موت ایک ایسا پل ہے جو ایک خوبصورت محل سے سخت اور دردناک زندوان کی طرف منتقل کردیتی ہے''_

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے موت کی یوں توصیف کی ہے:

''مرد مومن کے لئے موت ایک میلا اور کثیف اذیت وہ لباس کا اتارنا، ہاتھ، پاؤں اور گردن سے غل و زنجیر کا نکالنا اور اس کے عوض میں عمدہ اور معطر لباس پہننا اور بہترین سواری پر سوار ہوکر بہترین جگہ کی طرف جانے کا نام ہے_

کافر اور بدکردار کے لئے موت، عمدہ اور راحت دہ لباس کا اتارنا اور بہترین و راحت دہ مکان سے نکل کر بدترین و کثیف ترین لباس پہن کر وحشتناک اور دردناک ترین جگہ کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے''_


حضرت امام حسین اور حضرت امام زین العابدین علیہما السلام کی موت کے بارے میں یوں تعریف اور توصیف کے بعد کون مومن اور نیک انسان موت اور شہادت سے ڈرے گا اور ذلت و خواری کو برداشت کرے گا___؟

آیت قرآن مجید:

( کل نفس ذائقة الموت ثم الینا ترجعون ) (۱)

''ہر انسان، موت کا ذائقہ چھکے گا اور پھر ہماری طرف لوٹ آئے گا''_

____________________

۱) سورہ عنکبوت آیت نمبر ۵۷


سوالات

سوچنے، بحث کرنے اور بہتر یاد کرنے کے لئے کئے گئے ہیں

۱)___ ایران میں انقلاب اسلامی کے شہداء نے اپنی رفتار اور کردار سے کون درس دیا ہے___؟

۲)___ احمد رضا خادم شہید نے اپنے وصیت نامے میں کیا لکھا تھا اور اپنی ماں کو کیا پیغام دیا تھا___؟

۳)___ کیا موت تمام انسانوں کے لئے برابر ہے بعض کے لئے کیوں سخت اور تکلیف دہ ہے اور دوسرے بعض کے لئے کیوں آسان اور خوشی کا باعث ہے___؟

۴)___ حضرت امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور اپنے وفادار ساتھیوں سے کیا فرمایا___؟

۵)___ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے موت کی کیا تعریف کی ہے؟

۶)___ مسلمان انسان، موت اور شہادت سے کیوں نہیں ڈرتا اور کیوں ذلت اور خواری کو برداشت نہیں کرتا___؟

تذكّر:

ہم تمام شہیدوں کے وصیت نامے نقل نہیں کرسکے آپ درس میں شہیدوں کے وصیت نامے نقل کرسکتے ہیں اور اس کے لئے ان کے خاندان کی طرف رجوع کر کے معلومات حاصل کرسکتے ہیں_


تکامل انسان یا خلقت عالم کی آخری غرض و غایت سورج نکلتا ہے، بادل برستے ہیں، درخت گل اور شگوفے نکالتے ہیں اور میوے دیتے ہیں، صاف و شفاف چشمے پتھروں کے درمیان سے پھوٹتے ہیں تا کہ انسان ان کے پاک پانی کو پیئے_ رات جاتی ہے اور دن آتا ہے تا کہ ہم انسان دن کی روشنی اور گرمی میں محنت کریں اور اللہ تعالی کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوں_

دن چلاجاتا ہے اور رات آتی ہے تا کہ ہم تاریکی میں راحت اور آرام کریں اور دوسرے دن نشاط و خوشی سے عبادت کرسکیں_ سورج، چاند، بادل، ہوا، آسمان و زمین تمام کے تمام کوشش کر رہے ہیں تا کہ انسان کی پرورش کریں اور نادانی و ناتوانی سے دانائی اور توانائی تک پہنچائیں اور اس کے حجم و روح کی پرورش کریں_

نباتات و حیوانات سب کے سب انسان کی خدمت کے لئے ہیں اور وہ انسان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور اس کی رشد و پرورش کا وظیفہ انجام دے رہے ہیں تمام


کوشش کر رہے ہیں تا کہ ا نسان زندگی گزار سکے لیکن اسی درمیان انسان کو موت آجاتی ہے اور انسان کا جسم حرکت کرنے سے رک جاتا ہے تم کیا فکر کرتے ہو___؟

کیا تمام جہاں کے موجودات اس لئے کوشش کر رہے ہیں کہ انسان چند ایک دن زندہ رہ سکے اور اس کے بعد مرکر فنا ہوجائے____؟

اس صورت میں تمام جہاں کی کوشش بے کار اور بے ہدف نہ ہوگی___؟ کیا یقین کرسکتے ہو کہ جہاں کی خلقت میں کوئی غرض و غایت نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالی نے اتنی بڑی کائنات کو بے کار اور بے ہدف پیدا کیا ہے ؟ کیا خداوند عالم نے اس جہاں کو پیدا کیا ہے کہ وہ ایک مدت کے بعد اس عظیم کوشش او رتلاش کے بعد نابود ہوجائے؟

اگر خداوند عالم نے اسے فنا کے لئے پیدا کیا ہو تا تو کیا اس کا ابتداء میں پیدا کرنا ممکن بھی ہوتا___ ؟ خداوند عالم نے ان سوالات کا چند آیتوں میں جواب دیا ہے:

آیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تم کو عبث خلق کیا ہے اور تم ہمارے پاس آخرت میں لوٹ نہیں آؤگے؟ اس طرح ہرگز نہیں ہے وہ خدا جو تمام جہاں کا حاکم اور اسے چلانے والا ہے کبھی بھی عبث اور بلافائدہ کام انجام نہیں دیتا_ (سورہ مومنوں آیت نمبر ۱۱۵)

ہم نے انسان کو معزز قرار دیا ہے_ (سورہ اسراء آیت نمبر ۷۰)

آیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ بیہودہ اور باطل چھوڑ دیا گیا ہے؟ (سورہ قیامت آیت نمبر ۳۶)

تم تمام انسان اللہ کی طرف لوٹ آؤگے اس وقت اللہ تعالی تمھیں


تمھارے کردار سے مطلع کرے گا کیونکہ اللہ تعالی جو کچھ تمھارے دل میں ہے آگاہ ہے (زمر آیت ۳۹) _

پس آپ کو علم ہوگیا ہوگا کہ انسان ایک ایسا موجود ہے جو ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور موت اسے نابود اور فنا نہیں کرتی بلکہ انسان مرنے سے ایک دنیا سے دوسری دنیا کی طرف منتقل ہوجاتا ہے_ انسان اس عالم مادی میں اپنے جسم اور روح دونوں کو پرورش دیتا ہے تا کہ دوسری دنیا کی طرف منتقل ہوکر اپنے اعمال اور کردار کا ثمرہ اور نتیجہ دیکھ سکے اس دوسری دنیا کو آخرت کہتے ہیں کہ جس میں انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے گا_

اگر انسان اپنی زندگی کو پیغمبروں کی تعلیم کے مطابق سنوارے، اللہ تعالی اور اس کے اولیاء کی ولایت کو قبول کرے اور نیک و صالح ہوجائے تو پھر آخرت میں خوش و خرم اور آسودگی کی زندگی بسر کرے گا اور پیغمبروں اور اماموں کے ساتھ زندگی بسر کرے گا لیکن اگر دستور الہی اور پیغمبروں اور ائمہ کی ولایت و رہبری سے انحراف کرے اور سیدھے راستے سے منحرف ہوجائے تو سخت خطرناک وادیوں میں جاگرے گا اور آخرت میں سوائے بدبختی اور عذاب کے کچھ بھی نہ دیکھے گا_

قرآن کی آیت:

( افحسبتم انّما خلقناکم عبثا و انّکم الینا لا ترجعون ) (۱)

کی تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمھیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہاری بارگاہ میں لوٹائے نہ جاؤگے؟

___________________

سورہ مومنون آیت نمبر ۱۱۵


سوالات

سوالات یہ اس لئے کئے جار ہے ہیں تا کہ غور کرو اور اس پر بحث کرو

۱)___ کیا انسان عبث خلق کیا گیا ہے خداوند عالم نے اس سوال کا کیا جواب دیا ہے؟

۲)___ انسان، حیوانات اور نباتات سے کس طرح بہرہ مند ہوتا ہے؟

۳)___ انسان اپنے کام کا نتیجہ کس دنیا میں دیکھے گا؟

۴)___ انسان کون سے کاموں کے بجالانے سے آخرت میں سعادت مند ہوگا؟

۵)___ جو انسان اللہ تعالی اور اس کے اولیاء اور پیغمبروں کی ولایت کو قبول نہ کرے تو اس کا انجام کیا ہوگا؟


نامہ اعمال

کبھی تم نے اپنے گذرے ہوئے زمانے کے متعلق سوچا ہے اور ان گذرے ہوئے اعمال کو سامنے لائے ہو___؟ نمونے کے طور پر اپنے گذرے ہوئے کاموں میں سے کسی کام کے متعلق سوچ سکتے ہو اور اسے یاد کرسکتے ہو___؟ ممکن ہے تمھیں اپنے بعض کاموں کے یاد کرنے پر خوشی ہو اور ممکن ہے بعض دوسرے کاموں پر پشیمانی ہو_

ہمارے تمام کام اور گذری باتیں اسی طرح روح اور ضمیر کی تختی پر ثبت ہیں اگر چہ ممکن ہے کہ ہم ان میں سے بعض کاموں کو بظاہر فراموش کرچکے ہوں لیکن اس کے باوجود تمام کے تمام اعمال ہماری روح میں ثبت ہیں_ ہماری روح اور جان ایک دقیق فیلم کے نیگیٹوں کی طرح ہے بلکہ اس بھی دقیق اور حساس ہے جس طرح فیلم کے نیگٹیو موجو ات کی تصویروں کو لے لیتی ہے اور محفوظ رکھتی ہے اسی طرح ہماری جان اور روح ہمارے تمام کاموں اور اخلاق و اعتقادات کو ضبط کر کے اپنے آپ میں محفوظ کرلیتی ہے روح انھیں اعمال کے واسطے سے یا ارتقاء کی طرف بڑھتی ہے یا سقوط اور نزول کا راستہ اختیار کرلیتی ہے_

ہمارے عمدہ اور اچھے اخلاق ہماری روح کو با صفا اور نورانی کردیتے ہیں نیک اعمال اور اچھے اخلاق، عمدہ آثار اور خوشی انسان کی روح میں چھوڑتے ہیں


کو جو باقی اور ثابت رہ جاتے ہیں_

اچھا انسان اللہ تعالی کی رضا اور محبت کے حاصل کرنے کے لئے اعمال انجام دیتا اور ہمیشہ اللہ کی یاد اور اس سے انس و محبت رکھتا ہے، اپنے آپ کو اچھے اخلاق اور نیک اعمال سے پرورش کرتا ہے اور خدائے قادر سے تقرب حاصل کرتا ہے اپنے ایمان سے خدا اور اس کی طرف توجہ سے اپنی روح اور جان کو نورانی اور باصفا بناتا ہے اور ہمیشہ ترقی کے لئے قدم اٹھاتا رہتا ہے اور اپنے انسانی کی قیمتی گوہر کی پرورش کرتا ہے_

اس کے برعکس غلط و باطل اور برے اخلاق و کردار انسان کی پاک اور حسّاس روح پر انداز ہوتے ہیں اور انسان کی ذات اور باطن کو سیاہ اور آلودہ کردیتے ہیں اور غمگینی اور افسردگی کا موجب ہوتے ہیں_ بے دین اور بدکردار دنیاوی اور حیوانی لذات میں مست ہوتا ہے اس طرح کا انسان صراط مستقیم اور ارتقاء سے دور رہتا ہے اور پستی کی طرف چلاجاتا ہے_ حیوانی اور وحشت زدہ تاری وادیوں میں گرفتار ہوکر رہ جاتا ہے ایسا انسان اپنے اس طرح کے افکار اور پلید اعمال کی وجہ سے حیوانیت اور درندگی کی عادت کو اپنے آپ میں اپنا لیتا ہے اور انسانیت کے نورانی گوہر کو اپنے آپ میں کمزور اور کم نور کردیتا ہے_

اس حقیقت کی جو ہر آگاہ او رہوشیار انسان کے سامنے واضح او رنظر آرہی ہے بہت سادہ مگر اچھے انداز میںہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام نے تصویر کشی کی ہے فرماتے ہیں کہ:

'' ہر انسان کی روح ایک صاف اور سفید تختی کی طرح ہے کہ


جسے نیک کام اس کو زیادہ صاف و نورانی اور زیبا بلکہ زیباتر کردیتے ہیں اس کے برعکس برے کام اور گناہ اس پر سیاہ داغ ڈال دیتے ہیں کہ جس سے انسان روح کثیف اور پلید ہوجاتی ہے_

اگر کوئی انسان گناہ کرنے پر اصرار کرتا ہے تو یہ سیاہ داغ اس نورانی اور سفید روح کی تختی پر چھا جاتے ہیں اور گناہگار انسان کے تمام وجود کو سیاہ اور کثیف کردیتے ہیں_ ایسا سیاہ دل اور پلید انسان کہ جس نے خود سیاہی اور پلیدی کو اپنے اعمال سے اپنے آپ میں فراہم کیا ہے_ اس دنیا میں غم زدہ اور حسرت میں مبتلا رہتا ہے اور آخرت میں جہنم کی آگ میں کہ جس کو خود اس نے اپنے کاموں سے فراہم کیا ہے جلتا رہے گا''_

الحاصل:

انسان کے تمام اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے ہوں انسان کی ذات اور روح اور نامہ اعمال میں محفوظ ہوجاتے ہیں اور اس کے علاوہ اللہ تعالی کے فرشتے جو کہ دن رات ہمارے نگراں اور محافظ ہیں اور ان کے اوپر ذات الہی جو کہ ہمارے اعمال کی ناظر اور حاضر ہے ہمارے اعمال کو محفوظ رکھتی ہے ہمارا کوئی بھی کام نابود اور ختم نہیں ہوجاتا بلکہ تمام کے تمام اعمال ہمارے حساب کے لئے باقی ہیں_ خداوند عالم قرآن میں یوں ارشاد فرماتا ہے_

ہر انسان کے نامہ اعمال کو اس کی گردن میں ڈالیں گے تا کہ


اسے قیامت کے دن کھول کر دیکھ سکے، آج اپنے نامہ اعمال کو پڑھ اور اپنا حساب خود کر لے کہ تیرا نفس اپنے حساب کرنے کے لئے کافی ہے_ (سورہ اسراء آیت نمبر ۱۳)

۲)___ قیامت کے دن لوگ گروہ گروہ اٹھائے جائیں گے پس جس نے بھی ذرّہ برابر نیک کام انجام دیا ہوگا اسے دیکھے گا اور جس نے ذرّہ برابر برا کام انجام دیا ہوگا اس کو دیکھے گا_ (سورہ زلزال آیات ۶، ۸)

ہمارے کام اس دنیا میں فنا نہیں ہوتے بلکہ نامہ اعمال میں ثبت اور ضبط ہوجاتے ہیں اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن کبھی ہم ان سے غافل ہوجاتے ہیں_ موت کے بعد اور آخرت میں منتقل ہوجانے کے بعد قیامت کے دن غفلت کے پردے ہٹادیئےائیں گے اور انسان پر اپنا باطن اور اس کی اصلی ذات ظاہر ہوجائے گی اور اس کا حیران کن نامہ عمل اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا اس وقت اپنے تمام اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوگا جیسے اس نے ابھی انجام دیا ہے_

۳)___ قیامت کے دن انسان کا باطن ظاہر ہو کر رہ جائے گا اور انسان کا نامہ عمل ظاہر کر کے کھول دیا جائے گا گناہگاروں کو دیکھے گا کہ وہ اپنے برے نامہ عمل کے دیکھنے کی وجہ سے سخت خوف و ہراس میں غرق ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم پر ویل ہو کہ جس طرح کا حیرت انگیز ہمارا نامہ عمل ہے کسی چھوٹے اور بڑے کاموں کو ضبط و ثبت کرنے سے اس نے صرف نظر نہیں کیا اور تمام کے تمام کو لکھ لیا جائے گا_ اس دن تمام بندے اپنے اعمال کو حاضر دیکھیں گے تیرا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا_ (سورہ طارق آیت نمبر۹)


ان آیات کی روسے انسان اس جہاں سے رخصت ہوکر آخرت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے_ قیامت کے دن اپنے نامہ عمل کو دیکھے گا اور تمام کے تمام کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرے گا اس وقت خداوند عالم کی طرف سے خطاب ہوگا_

۴)___ اے انسان تو اپنے اعمال سے دنیا میں غافل تھا لیکن اب ہم نے تیرے دل سے غفلت کے پردے ہٹا دیئے ہیں اور تیری آنکھوں کو بینا کردیا ہے_ (سورہ ق آیت نمبر ۲۲)

قیامت کے دن جب انسان حساب و کتاب کے لئے اٹھایا جائے گا تو وہ اپنی حقیقت اور واقعیت سے مطلع ہوجائے گا_ ہر ایک انسان اپنے نامہ عمل کو کھولے گا اور واضح دیکھ لے گا اور اسے دقّت سے نگاہ کرے گا اپنے تام گزرے ہوئے اعمال کو ایک دفعہ اپنے سامنے حاضر پائے گا_ اللہ تعالی نامہ عمل کے دریافت کرنے کے بارے میں یوں فرماتا ہے:

۵)___ '' نیک لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے (اور اسی لئے ایسے انسانوں کو ''اصحاب یمین'' کہا گیا ہے ایسے لوگ خوش اور شاہدوں گے کیونکہ جان رہے ہیں کہ ن کا حساب و کتاب آسان ہے اور انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آرہی ہے وہ کہیں گے آؤ اور ہمارے نامہ اعمال کو پڑھو_ ہمیں علم تھا کہ ایک دن حساب و کتاب کا آنے والا ہے ایسے لوگ خوشگوار زندگی بہشت میں گذاریں گے_

بے دین اور بدکردار انسانوں کو نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (اسی لئے ایسے انسانوں کو ''اصحاب شمال'' کہا جاتا


ہے) ایسے لوگ غمگین اور ناخوش ہوں گے کیونکہ وہ جان چکے ہونگے کہ ان کا حساب و کتاب بہت سخت اور دشوار ہے_ وہ کہیں گے کہ کاش یہ نامہ عمل ہمارے ہاتھ میں نہ دیا جاتا اور ہم اپنے اعمال و کردار اور حساب سے بے اطلاع اور غافل رہتے، کاش موت آجاتی_

ایسے انسانوں کی زندگی سخت اور غم انگیز ہوگی اور وہ جہنم کے بلند اور جلانے والے شعلوں میں ڈالے جائیں گے ( یہ سب کچھ ان کے برے اعمال کا نتیجہ ہوگا''_

آیت قرآن کریم

( ووضع الکتاب فتری المجرمین منفقین ممّا فیه و یقولوا یا ویلتنا ما لهذا الکتاب لا یغادر صغیرة و لا کبیرة الّا احصیها و وجدوا ما عملوا حاضرا و لا یظلم ربّک احدا ) (۱) _

نامہ عمل رکھا جائے گا پس گناہگار لوگ بسبب اس کے جوان میں پایا جاتا ہے اسے خوف زدہ دیکھے گا اور وہ کہے گا دائے ہو ہم پر یہ کیسا نامہ عمل ہے؟ کہ کوئی چھوٹی اور بڑی چیز ہماری نہیں چھوڑتا جو کچھ ہم نے انجام دیا ہے وہ اس میں موجود ہے_ تیرا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا_

____________________

۱) سورہ کہف آیت نمبر ۴۰


سوالات

سوچئے اور جواب دیجئے

۱)___ اچھے اور پسندیدہ اخلاق اور اعمال انسان کی ذات پر کیا اثر چھوڑتے ہیں؟

۲)___ نیک انسان کس طرح اپنی روح اور جان کو نورانی اور باصفا قرار دیتا ہے؟

۳)___ کن اعمال اور عقائد سے انسانی روح کثیف و پلید اور سیاہ ہوتی ہے؟ انسان کس طرح مستقیم اور نورانی راستے اور تقرب الہی سے دور ہوجاتا ہے؟

۴)____ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام نے انسانی نفس اور روح پر اعمال کے اثرانداز ہونے کی کس طرح تصویر کشی کی ہے؟

۵)___ انسانی اعمال جو انسانی روح اور نفس میں ثبت ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ کون سی ذوات ہمارے اعمال کے مراتب اور محافظ ہیں؟

۶)___ قیامت کے دن جب گناہگار اپنے نامہ اعمال دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟

۷)___جب انسان قیامت کے دن اپنے نامہ عمل دیکھے گا اور اپنے تمام اعمال کا مشاہدہ کر رہا ہوگا تو اس وقت اللہ تعالی اس سے کیا خطاب کرے گا؟

۸)___ انسان کو اپنی ذات اور واقعیت کس دنیا میں پوری طرح ظاہر ہوگی؟

۹)___ قرآنی اصطلاح میں ''اصحاب یمین'' کسے کہا جاتا ہے اور جب انھیں نامہ عمل


دیا جائے گا تو وہ کیا کہیں گے؟

۱۰)___ قرآنی اصطلاح میں ''اصحاب شمال'' کسے کہا جاتا ہے جب انھیں اپنا نامہ عمل دیا جائے گا تو وہ کیا کہیں گے؟ اور آخرت میں کس طرح زندگی بسر کریں گے؟


قیامت کا منظر

لوگوں کو بتایا گیا کہ امیرالمومنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک صحابی فوت ہوگئے ہیں ان کے دوست اور احباب اس خبر سے بہت رنجیدہ ہوئے اور ان کے لئے طلب مغفرت کی ایک مدت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی اور وہ آدمی نہیں مرا تھا اس کی اولاد رشتہ دار اور دوست و احباب بہت خوش ہوئے_ امیرالمومنین علیہ السلام نے ان دو خبروں کے معلوم کرنے پر اس شخص کو یہ خط تحریر فرمایا:

'' بسم اللہ الرّحمن الرحیم

ایک اطلاع ہمیں تمھارے بارے میں ملی کو جو دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے افسوس کا باعث تھی جس نے ان کو عمزدہ کردیا_ ایک مدت کے بعد دوسری اطلاع ملی کہ پہلی خبر جھوٹی تھی اور اس نے دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کو خوش کردیا_

ان دو خبروں کے متعلق تم کیا سوچتے ہو؟ کیا تم سوچتے ہو کہ یہ خوشحالی اور خوشی پائیدار و دائمی ہے یا یہ خوشی ایک دفعہ پھر حزن و ملال میں تبدیل ہوجائے گی؟ واقعاً اگر پہلی خبر درست ہوتی تو اب تک تم آخرت کی طرف منتقل ہوگئے ہوتے، کیا تم پسند کرتے ہو کہ خداوند عالم تمھیں دوبارہ دنیا کی طرف لوٹا دیتا اور نیک کاموں کے بجالانے


کی فرصت عنایت فرماتا؟ تم یوں فکر کرو کہ پہلی خبر درست تھی اور تم آخرت کی طرف چلے گئے ہو اور موت کے مزہ کو چکھ چکے ہو اور پھر دوبارہ اس دنیا کی طرف لوٹائے گئے ہو تا کہ اعمال صالحہ بجالاؤ_

اس طرح گمان کرو کہ اللہ تعالی نے تمھیں اس دنیا میں واپس تمھاری خواہش کو قبول کرتے ہوئے لوٹا دیا ہے، اب کیا کروگے؟ آیا جلدی میں حقیقی زندگی کے لئے زاد و توشہ جمع کروگے؟ آیا ہمیشہ رہنے والی جگہ کے لئے کوئی پیشگی بھیجوگے؟

نیک کام، عمل صالح، لوگوں کی دستگیری، دعا اور عبادت ان میں سے کیا روانہ کروگے؟ جان لو کہ اگر اس سے آخرت کی طرف خالی ہاتھ کوچ کر گئے تو پھر دوبارہ واپس لوٹ کر نہیں آؤگے؟ اور سوائے افسوس و حسرت اور رنج و غم کے اور کوئی چیز نہ پاؤگے_

یہ جان لو کہ دن، رات ایک دوسرے کے پیچھے آجا رہے ہیں اور وہ تمھاری عمر کو کوتا ہ کر رہے ہیں اور موت کو تم سے قریب کر رہے ہیں اور انسان کو زندگی کے آخری نقطہ تک پہنچا رہے ہیں_ یقینا یہ آخری لحظہ بھی انسان کو آپہنچے گا اور حق کی طرف بلانے والا آخرت کی طرف لے جاکر رہے گا_ پست اور کمتر اور ہوی و ہوس اور لذائذ مادی کو کم کرو، اللہ کی طرف اور حقائق الہی کی طرف لوٹو اور آخرت کے سفر کا بار تقوی اور اعمال صالح کے ساتھ باندھو


آئیں گے کہ جن سے گذرنا ضروری ہے_ جان لو کہ آخرت کے راستے کا توشہ، تقوی ہے ورنہ تم لڑکھڑاؤگے اور جہنم کے گہرے گڑہے ہیں جاگرو گے_ گناہوں اور اللہ کی معصیت سے بچو تا کہ بہشت میں نیک لوگوں کے ساتھ جاملو''

امیرالمومنین علیہ السلام نے اس گفتگو میںسخت موڑوں ، گزرگاہوں اور خوفناک منازل کا ارشادتا ذکر فرمایا ہے، آپ کی گفتگو میں صرف ایک اشارہ ہی کیا گیا ہے کیونکہ آخرت کی عظیم حقیقت اور قیامت کے حوادث کو سوائے اشارے کے بیان نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی سنا جا سکتا ہے_

آخرت کے واقعات اور حوادث کو ذرا زیادہ عظمت کے ساتھ معلوم کرنے کے لئے قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں، قیات ک شگفت آور مناظر کو قرآن کریم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی اس عظیم واقعہ کی حقیقت کو اس طرح کہ جس طرح وہ ہے معلوم نہیں کرسکتے صرف مختصر اشارے سنے ہیں تا کہ جان لیں کہ ایک بہت سخت اور غیر قابل توصیف دن آگے آنے والا ہے اور ہمیں اپنے آپ کو تقوی اور عمل صالح سے متصف کرنا چاہیئے تا کہ ان سخت خطرناک موڑوں اور نشیب و فراز سے ہمارے لئے گذرنا آسان ہوجائے اور پروردگار کی بہشت اور رضوان پہنچتا میسّر ہوجائے_


برزخ اور قیامت

جب کوئی گناہگار اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو عذاب اور رنج کا عالم برزخ میں مشاہدہ کرتا ہے اور کہتا ہے:

۱)___ ''خدایا مجھے دنیا کی طرف واپس لوٹا دے تا کہ اعمال صالحہ بجالا سکوں اور اپنے گذشتہ گناہوں کا جبران کرسکوں، لوٹنے کی خواہش کرے گا لیکن ہرگز دنیا کی طرف لوٹایا نہیں جائے گا اور قیامت و روز بعث تک عذاب میں مبتلا رہے گا''(۱)

۲)___ ''قیامت کے دن سورج تاریک اور لپیٹ لیا جائے گا، ستارے بے نور ہوجائیں گے، پہاڑ حرکت کریں گے اور لرزنے لگیں گے حاملہ اونٹنیاں بغیر ساربان کے رہ جائیں گی، وحوش محشور ہوں گے اور دریا جلانے والے اور شعلہ خیز ہوجائیں گے''(۲)

۳)___ ''جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے منتشر ہوجائیں گے اور دریا چیر دیئے جائیں گے اور دریاؤں کے پانی پراگندہ ہوجائیں گے جب کہ قبریں اوپر نیچے، ہوجائیں گی یعنی دہنس جائیں گی، اس وقت زمین لزرے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہوگا اسے باہر پھینک دے گی''(۳)

____________________

۱)___ سورہ مومنون آیات ۹۹_ ۱۰۰

۲)___ سورہ تکویر آیات ۱_ ۶

۳)___ سورہ زلزال آیات ۱_۹


۴)___ ''جب پہاڑوئی کی طرح دھنے جائیں گے اور پاش پاش ہوجائیں گے''(۱)

۵)___ ''جب چاند کو گرہن لگے گا اور تاریک ہوجائے گا اور سورج و چاند اکٹھے ہوں گے''(۲)

۶)___ ''جب زمین بہت سخت لرزے گی اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں گے اور غبار بن کر چھاجائیں گے''(۳)

۷)___ ''جب زمین اور پہاڑ سخت لزریں گے اور پہاڑ خوفناک ٹیلے کی صورت میں بدل جائے گا''(۴)

۸)___ ''جب آسمان سخت حرکت کرے گا اور پہاڑ چلنے لگے گا''(۵)

۹)___ '' جب آسمان کے دروازے کھول دیئےائیں گے اور پہاڑ سخت حرکت کریں گے اور سراب کی طرح بے فائدہ ہوں گے'' (۶)

۱۰)___ ''جب زمین غیر زمین میں تبدیل ہوجائے گی اور آسمان متغیر ہوجائے گا اور لوگ خدائے قادر کے سامنے حاضر ہوں گے ''_ (۷)

۱۱) ___ ''جب دن تیرے پروردگار کے نور س روشن اور منور ہوجائے گا''(۸)

____________________

۱) سورہ قاعد آیت۳

۲) سورہ قیامت آیات ۸_۹

۳) سورہ واقعہ آیات ۴_۶

۴)سورہ مزمل آیت ۱۴

۵)سورہ طور آیات ۹-۱۰

۶) سورہ نبا آیات ۱۹، ۲۰

۷)سورہ ابراہیم آیت ۴۸

۸) سورہ زمر آیت ۶۹


ان آیتوں سے اجمالی طور سے جو معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اس دنیا کا موجودہ نظام خلقت تبدیل ہوجائے گا، سورج تاریک اور بے نور ہوجائے گا، چاند خاموش اور بے رونق ہوگا، ستارے پراگندہ اور پہاڑ اس عظمت کے باوجود لرزاں ہوں گے، چلنے لگیں گے اور خوفناک ٹیلوں میں تبدیل ہوجائیں گے، گرد و غبار کی صورت میں پراگندہ اور بے فائدہ ہوجائیں گے، زمین کسی اور زمین میں تبدیل ہوجائے گی اور ایک وسیع میدان وجود میں آجائے گا کہ جہاں تمام لوگ حساب و کتاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے_

یہ تمام قیامت کے عظیم مناظر کے مختصر اشارے تھے اس کے باوجود اس عظیم واقعیت کا ہم تصور نہیں کرسکتے صرف قرآن مجید کے ان اشارات سے اتنا سمجھتے ہیں کہ ایک بہت سخت دن آنے والا ہے ہم ایمان و عمل صالح سے اپنے آپ کو لطف الہی اور اس کے خوف سے محفوظ رکھ سکتے ہیں_

آیت:

( یوم تبدّل الارض غیر الارض و السّموات و برزوا لله الواحد القهار ) (۱)

''جس دن زمین غیر زمین میں تبدیل کی جائے گی اور آسمان بھی اور سب خدائے واحد و قہّار کے سامنے حاضر ہوں گے''

____________________

۱) سورہ ابراہیم آیت نمبر ۴۸


سوالات

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ جب گناہگار انسان، عالم برزخ میں جاتا ہے اور عذاب و رنج کو دیکھتا ہے تو کون سی آرزو کرتا ہے، کیا کہتا ہے، اس کی یہ آرزو پوری کی جائے گی ؟

۲)___ امیرالمومنین علیہ السلام نے اس صحابی کو اس جہاں میں دوبارہ آجانے کے بعد کیا لکھا تھا اور اسے کس بیان سے نصیحت کی تھی؟

۳)___ قرآن مجید میں قیامت کو کن خصوصیات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے؟

۴)___ قیامت کے سخت ہنگامے اور خوف و ہراس سے کس طرح امان میں رہ سکتے ہیں؟

۵)___ امیرالمومنین علیہ السلام کے خط میں نصرت کے لئے کس زاد اور توشے کو بیان کیا گیا ہے؟

۶)___ کون سی چیزیں انسان کو بہشت میں جانے سے روک لیتی ہیں اور کس طرح قیامت کے خطرناک اور پر پیچ راستے کو طے کرسکتے ہیں؟


تیسرا حصّہ

پیغمبری اور پیغمبروں کے مسائل کے بارے میں


پہاڑ کی چوٹی پر درس

ہم پہاڑ پر جانا چاہتے تھے چند ایک دوستوں سے کل پہاڑ پر جانے کے پروگرام کے متعلق گفتگو کر رہے تھے کہ کون سے وقت جائیں؟ کون سی چیزیں اپنے ساتھ لے جائیں، کہاں سے جائیں؟

ان سوالات کے بارے میں بحث کر رہے تھے لیکن کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ رہے تھے دوستوں میں سے ہر ایک کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا تھا_

آخر میں باقر نے کہا:

'' دوستو میری نگاہ میں ایک راہنما کی ضرورت ہے جو پہاڑ کے سر کرنے کا ماہر ہو وہ ہم کو بتلائے کہ کون سی چیزیں اس کے لئے ضروری ہیں اور کون سے راستے سے ہم پہاڑ کی چوٹی پر جائیں اور اسے سر کریں؟

میں نے باقر سے کہا کہ راہنما کی کیا ضرورت ہے؟ ہمیں کسی راہنما کی ضرورت نہیں ہے ہم میں فکر کرنے کی قوت موجود ہے، ہم آنکھیں رکھتے ہیں سوچیں گے اور راستہ طے کرتے جائیں گے یہاں تک کہ اوپر پہنچ جائیں گے_

باقر نے جواب دیا:

''غلطی کر رہے ہو پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ہمیں پہاڑ کے حدود سے واقفیت نہیں ہے اور ہم کو جن چیزوں


کی ضرورت ہوگی ان کی کوئی اطلاع نہیں رکھتے، ہمیں علم نہیں ہے کہ کہاں سے اوپر چڑھیں اور کون سی چیزیں اپنے ہمراہ لے جائیں مثلاً بتاؤ کہ اگر طوفان آگیا اور سخت اندھیرا چھاگیا تو کیا کریںگے، اور گر راستہ بھول گئے تو کی کریں گے؟ ''

میں جب باقر کے ان سوالات کا جواب نہ دے سکا تو مجبوراً ان کی رائے سے موافقت کرلی کہ ایک راہنما کی ضرورت ہے جو مورد اعتماد ہو اور راستوں سے واقف بھی ہوا اور اسے راہنمائی کے لئے لے جانا چاہیئے_

اس کے ایک دن ایک دوست نے بتلایا کہ دوستو میرے باپ کے دوستوں میں سے ایک ماہر کوہ نورد ہے میرے باپ نے اس سے خواہش کی ہے کہ وہ ہماری راہنمئی کا کام انجام دے وہ آج رات ہمارے گھر آئے گا تم بھی وہاں آجانا تا کہ کل چلنے کے متعلق اس سے گفتگو کریں_

ہم اس رات سعید کے گھر گئے سعید کے باپ اور اس کے دوست وہاں موجود تھے جب تمام احباب اکٹھے تو داؤدی صاحب نے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ:

''دوستو میں نے سنا ہے کہ کل تم پہاڑ کے اوپر جانا چاہتے ہو کتنا عمدہ پروگرام تم نے بنایا ہے لیکن جانتے ہو کہ شاید یہ سفر خطرے اور دشواریوں سے خالی نہ ہو، خطروں سے بچنے کے لئے کی کروگے؟''

لڑکوں نے جواب دیا آپ سے مدد اور راہنمائی حاصل کریں گے_

داؤدی صاحب نے کہا:

''بہت اچھا کل چار بجے صبح چلنے کے لئے تیار ہوجانا، گرم لباس پیٹھ پر ڈالنے والا تھیلا، معمولی غذا اور اگر ہوسکے تو تھوڑی کھجور اور


کشمکش کبھی ساتھ لے لینا میں ابتدائی مرحلے کی چیزیں ساتھ لے آؤں گا''

ہم نے راہنما کے دستور کے مطابق تمام وسائل فراہم کرلئے اور دوسرے دن صبح کے وقت خوشی سعید کے گھر پہنچ گئے تمام لڑکے وقت پر وہاں آگئے اور چلنے کے لئے تیار ہوگئے_ ایک دو لڑکے باپ کے ہمراہ آئے تھے_ تھوڑاسا راستہ بس پر طے کیا اور پہاڑ کے دامن میں پہونچ گئے_ بس سے اترے اور پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹی مسجد میں صبح کی نماز ادا کی _ نماز کے بعد راہنما نے ضروری ہدایات جاری کیں اور بالخصوص یہ یاد دلایا کہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں آگے جلدی میں نہ جانا اور پیچھے بھی نہ رہ جانا_ ہم نے چلنا شروع کیا پہاڑ بہت اونچا تھا، بہت خوشنما اور زیبا تھا، چپ چاپ، سیدھا، مستحکم و متین اور باوقار اللہ تعالی کی عظمت اور قدرت کو یاد دلا رہا تھا_

راہنما آگے جارہا تھا ہم اس کے پیچھے باتیں کرتے جار ہے تھے، ہنس رہے تھے اور آگے بڑھ رہے تھے وہ ہر جگہ ہماری نگرانی کرتا تھا اور سخت مقام میں ہماری مدد و راہنمائی کرتا تھا_ کبھی خود بڑے پتھر سے اوپر جاتا اور ہم سب کا ہاتھ پکڑ کر اوپر کھینچ لیتا کبھی راستہ کھلا آجاتا اور تمام لڑکے اس کی اجازت سے دوڑتے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے تھے اور جب راستہ تنگ ہوجاتا تو ہم مجبور ہوجاتے تھے کہ ایک دوسرے کے پیچھے چلیں اور بہت احتیاط سے راستہ طے کریں، اس حالت میں راہنما ہمیں خبردار کرتا اور خود اس پھلنے والی جگہ کے کنارے کھڑا ہوجاتا اور ہر ایک کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے گذارتا بہت سخت پھلنے والی جگہیں راستے میں موجود تھیں ان میں سے ایک جگہ میرا پاؤں کہ اگر راہنما میرا ہاتھ نہ پکڑتا تو میں کئی سوفٹ نیچے جاگرتا_

اب میں سمجھا کہ راہنما اور رہبر کا ہونا بہت ضروری ہے راستے میں کبھی ہم ایسے راستوں پر پہونچے جہاں پتہ نہ چلتا کہ کہاں سے جائیں راہنما تھا جو ہمیں راستہ بتلاتا اور اس کی راہنمائی


کرتا، راستے میں ہم کئی جگہوں پر بیٹھے، آرام کیا اور کچھ کھایا پیا_ یہ سفر سخت دشوار لیکن زیبا اور سبق آموز تھا بہت زیادہ مشقت برداشت کرنے کے بعد غروب کے نزدیک پہاڑ کی چوٹی کے قریب پہنچ گئے، سبحا ن اللہ کتنی زیبا اور خوبصورت تھی وہ چوٹی کتنی عمدہ اور لطیف تھی آب و ہوا، تمام جگہیں وہاں سے نظر آرہی تھیں گویا ہم کسی دوسرے عالم میں آگئے تھے، خوش و خرم ہم نے پیٹھ والے تھیلے اتارے اور تھوڑی سی سادہ غذا جسے ہم اپنے ساتھ لے آئے تھے نکال کر کھائی کاش تم بھی ہوتے، واقعی اس وقت تک ہم نے اتنی مزے دار غذا نہیں کھائی تھی_ رات کو وہاں ٹھہرجانے پر اتفاق ہوگیا اور چونکہ ہم نے اپنے راہنما کے دستورات کے مطابق عمل کیا تھا لہذا تمام چیزیں ہمارے پاس موجود تھی رات ہوگئی مغرب اور عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد ہم گفتگو میں مشغول ہوگئے_

راہنما نے کہا: پیارے بچو

'' خدا کا شکر ہے کہ ہم سلامتی کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں اب تم نے مان لیا ہوگا کہ پہاڑ کی چوٹی سر کرنا اور کوہ نوردی کوئی معمولی کام نہیں ہوا کرتا کیا تم تنہا پہاڑ کی چوٹی سر کر سکتے تھے ؟ ''

میں نے کہا کہ آپ نے میرا ہاتھ نہ پکڑا ہوتا تو میں پہاڑ کے درے میں گرگیا ہوتا_ میں اس وقت متوجہ ہوگیا تھا ک ایک صحیح راہنما اور راہبر کے ہم محتاج ہیں_

جناب داؤدی نے کہا:

''صرف کوہ پیمائی ہی راہنمائی کی محتاج نہیں ہوا کرتی بلکہ ہر سخت اور دشوار سفر راہنما اور راہبر کا محتاج ہوتا ہے مثلاً فضا میں سفر تو بہت سخت دشوار ہے جس میں بہت زیادہ راہنما کی ضرورت ہوا کرتی ہے_ لڑکوجانتے ہو کہ سب سے اہم اور پر اسرار سفر جو


ہم کو در پیش ہے وہ کون سا سفر ہے،

لڑکوں میں سے ہر ایک نے کوئی نہ کوئی جواب دیا_ آخر میں باقر کے باپ نے کہا کہ

''میری نگاہ میں وہ سفر جو سب ہے اہم ہے وہ آخرت کا سفر ہے یہ اس جہاں سے منتقل ہوکر دوسرے جہاں میں جانے والا سفر ہے، واقعاً یہ سفر بہت پیچیدہ اور دشوار سفروں میں سے ایک ہے''_

راہنما نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تم نے درست کہا ہے میرا مقصد بھی یہی سفر تھا لڑکو اس سفر کے متعلق کیا فکر کرتے ہو؟ ہم اس سفر کا راستہ کس طرح طے کریں گے اور کون سا زاد راہ اور توشہ ساتھ لے جائیں گے، اس جہاں میں راحت و آرام کے لئے کیا کریں گے؟ کون سے افراد ہمارے اس سفر میں راہنمائی کریں گے، کون ہمیں بتلائے گا کہ اس سفر کے لئے کون سا زاد راہ ساتھ لے جائیں؟ باقر کے باپ نے اجازت لیتے ہوئے کہا کہ اگر لڑکو تم موافقت کرو تو میں اس سفر کی مزید وضاحت کروں:

''آخرت کے سفر کے راہنما پیغمبر ہوا کرتے ہیں جو مخلوق اور خالق کے درمیان واسطہ اور پیغام لانے والے ہوتے ہیں، اللہ تعالی کے پیغام کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں، زندگی کی عمدہ اور بہترین راہ و رسم کی لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں او رسعادت کی چوٹی پر چڑھنے کے لئے انسان کو راستہ بتلاتے ہیں، برے اخلاق اور اخلاقی پستیوں میں گرجانے والی وادیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، خداپرستی اور عمدہ اخلاق کے راستے بیان کرتے ہیں_


پیغمبر انسانوں کی اس سفر میں مدد دیتے ہیں، ان کی راہنمائی کرتے ہیں_ اگر ہم پیغمبروں کے کلام اور ان کی راہنمائی کی اطاعت کریں تو آخرت کے سفر کے راستے کو سلامتی اور کامیابی سے طے کرلیں گے اور اپنے مقصد تک پہونچ جائیں گے''_

اس کے سننے کے بعد دوبارہ میرے دل میں وہ خطرہ یاد آیا جو مجھے راستے میں پیش آیا تھا داؤدی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے کہ کہ یہ سفر ہم نے اس راہنما کی راہنمائی اور مدد سے سلامتی کے ساتھ طے کیا ہے اور ہم اپنے مقصد تک پہنچ گئے ہیں_ جناب داؤدی نے ہماری طرح اپنے اوپر کمبل اوڑھ رکھا تھا میری طرف شکریہ کی نگاہ کی اور کہا کہ

''یقینا ہم مقصد تک پہنچ جائیں گے بشرطیکہ ہم پیغمبروں کی راہنمائی پر عمل کریں اور آخرت کے سفر کے لوازمات اور اسباب مہیا کریں''_

اس کے بعد ایک نگاہ لڑکوں پر ڈالی اور پوچھا: ''لڑکو کیا جانتے ہو کہ پیغمبروں نے آخرت کے سفر کے لئے زاد راہ اور توشہ کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

''پیغمبروں نے فرمایا ہے کہ آخرت کے سفر کا زاد راہ ایمان و تقوی اور عمل ہے، ہر انسان کی سعادت اس کے عمل اور رفتار سے وابستہ ہے، انسان جو بھی اس دنیا میں بوئے گا اسے آخرت میں کائے گا اگر اس دنیا میں خوبی کرے گا تو آخرت میں خوبی دیکھے گا اور بدی کرے گا تو آخرت میں بدی دیکھے گا_

ہر ایک انسان کا سعادتمند ہونا یا شقی ہونا، بلند و بالا یا پست و ذلیل ہونا اس کے کاموں اور اعمال سے وابستہ ہے، جو انسان پیغمبروں کی راہنمائی پر عمل کرتا ہے آخرت کے سفر کو سلامتی کے


ساتھ طے کرے گا اور بلندترین مقام و سعادت کو پالے گا''_

جناب داؤدی کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو انھوں نے اپنی نگاہ ستاروں سے پر آسمان کی طرف اٹھائی اور کافی دیر تک چپ چاپ آسمان کی طرف دیکھتے رہے تھوڑی دیر بعد لمبی سانس لی اور کہا:

''لڑکو تم تھک گئے ہو ہوجاؤ میں اور تمھارے باپ باری باری جاگتے اور پہرہ دیتے ہیں گے، تم میں سے جو بھی چاہے باری باری پہرہ دے سکتا ہے_ اللہ کی یاد کے ساتھ ہوجاؤ اور صبح جلدی بیدار ہوجانا کہ کل ایک بہت عمدہ پروگرام سامنے ہے''_


سوالات

غور سے مندرجہ ذیل سوالات کو پڑھو، بحث کرو اور یاد کرلو

۱) ___ باقر نے یہ کیوں کہا کہ کوہ پیمائی کے لئے ایک راہنما انتخاب کرو، آخر کون سی مشکلات کا سامنا تھا؟

۲)___ کس نے کہا تھا کہ راہنما کی کیا ضرورت ہے؟ اس نے اپنے اس مطلب کے لئے کیا دلیل دی تھی؟ اس کی دلیل درست تھی؟ اور اس میں کیا نقص تھا؟

۳)___ باقر نے اسے کس طرح سمجھایا کہ راہنما کی ضرورت ہے اسے اس مطلب کے سمجھانے کے لئے کون سے سوالات کئے؟

۴)___ کیا اس نے باقر کی گفتگو کے بعد راہنما کی ضرورت کو قبول کرلیا تھا؟ واقعا اس نے کس وقت اسے قبول کیا تھا؟ خود اسی درس سے اس کی دلیل بیان کرو_

۵)___ کس نے لڑکوں کی راہنمائی اور راہبری کو قبول کیا؟ اس نے چلنے کے لئے کون سے دستورات دیئے؟ کون سے وسائل کا ذکر کیا کہ انھیں ساتھ لے آئیں اس نے خود اپنے ساتھ کن چیزوں کے لے آنے کا وعدہ کیا تھا؟

۶)___ جب صبح کی نماز پڑھ چکے اور پہاڑ پر چڑھنے کے لئے تیار ہوگئے تو راہنما نے کون سے دستورات کی یادآوری کی؟ وہ کون سے دستور تھے؟ تمھاری نگاہ میں اس دستورات میں سے کس کو اہمیت دی گئی تھی؟

۷)___ جب کبھی راستہ سخت اور دشوار آجاتا تو راہنما لڑکوں کو کیا ہدایت دیتا؟

۸)___ ہادی نے کیسے قبول کرلیا کہ راہنما اور راہبر کا وجود ضروری اور لازمی ہوتا ہے؟


۹)___ جناب داؤدی کی نگاہ میں مہم ترین اور پر اسرارترین سفر کون سا تھا؟

۱۰)___ جناب داؤدی نے اس مہم اور اسرار آمیز سفر کے بارے میں لڑکوں سے کون سے سوالات کئے تھے؟

۱۱)___ باقر کے باپ نے جناب داؤدی کے سوالات کا کیا جواب دیا تھا؟ پیغمبر جو آخرت کے سفر کے راہنما ہیں کون سی ذمہ داری ان کے ذمّے ہوا کرتی ہے؟ کس صورت میں ہم سلامتی اور کامیابی کے ساتھ مقصد تک پہنچ سکتے ہیں؟

۱۲)___ پیغمبروں نے آخرت کے سفر کے لئے کون سا توشہ اور زادہ راہ بیان کیا ہے ہر انسان کا بلند مقام یا پست مقام پر جانے کو کس سے مربوط جانا ہے؟

۱۳)___ جب تمام لڑکے سوگئے تو جناب داؤدی نے رہبری کا کون سا وظیفہ انجام دیا؟

۱۴)___ کیا بتلا سکتے ہو کہ لڑکوں کے کل کا بہترین پروگرام کیا تھا؟


پیغمبر یا آخرت کے سفر کے راہنما

انسان کی روح اور جان بہت سے مخفی راز رکھتی ہے_ کیا انسان اپنی روح و جان کے رموز سے پوری طرح واقف ہے؟ انسان کے سامنے بہت زیادہ ایسے سفر کہ جو اسرار آمیز ہیں موجود ہیں_ کیا انسان ایسے سفروں اور زندگی سے پوری اطلاع رکھتا ہے؟ کیا آخرت کے زاد راہ سے جو ضروری ہیں آگاہ ہے؟ کیا انسان، ارتقاء اور سعادت تک پہونچنے کے راستوں کو پہچانتا ہے؟ کیا راستوں کی دشواریوں اور ایسے موڑوں سے کہ جن سے انسان گرسکتا ہے خبردار ہے؟

ان سوالوں کا جواب کون سے افراد دے سکتے ہیں؟ کون سے حضرات سیدھے راستے اور کج راستے واقف ہیں؟ کون سے حضرات انسان کا راستہ بتلا سکتے ہیں ؟ کون سے حضرات انسانوں کو ان راستوں کی راہنمائی اور مدد دے سکتے ہیں؟ خدا کے فرستادہ پیغمبر ہی اس کام کو انجام دے سکتے ہیں پس انسان ہمیشہ پیغمبروں اور راہنماؤں کے وجود کا محتاج رہا ہے اور رہے گا_

خداوند عالم کہ جس نے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے اور ان کی ضروریات کو ان کے لئے فراہم کیا ہے اور انھیں ارتقاء کی راہ تک پہونچا دیا ہے_ انسان کو یعنی موجودات عالم میں سے


کامل ترین اور اہم ترین موجود کو زندگی کے پر خطر آخرت کے سفر کے لئے رہبر اور راہنما کے بغیر نہیں چھوڑا بلکہ اسے ا رتقاء و ہدایت اور تمام قسم کی مدد کے لئے راہنما چنا اور انھیں مبعوث کیا ہے صرف ذات الہی ہے کہ جو انسان کے جسم اور روح کے رموز اور اسرار اور اس کے گذشتہ اور آئندہ سے آگاہ ہے اور اس کی دنیاوی اور اخروی زندگی سے پوری طرح واقف ہے_

کون اللہ تعالی سے زیادہ اور بہتر انسان کی خلقت کے رموز سے آگاہ ہے؟ کون سی ذات سوائے اللہ کے انسان کی سعادت اور ارتقاء کا آئین اس کے اختیار میں دے سکتی ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ جس خدائے مہربان نے انسان کو پیدا کیا ہے اسے اس قسم کے دشوار راستے کے طے کرنے کے لئے بغیر رہبر، آئین اور راہنما کے چھوڑ دیا ہو؟ نہیں اور ہرگز نہیں اللہ تعالی نے انسان کو اس مشکل اور پیچیدہ سفر کے طے کرنے کے لئے تنہا نہیں چھوڑ رکھا بلکہ اس کے لئے راہنما اور راہبر بھیجا ہے_

پیغمبروں کو اللہ تعالی نے انسانوں میں سے چنا ہے اور ضروری علوم انھیں بتایا ہے تا کہ وہ لوگوں کی مدد کریں اور انھیں ارتقاء کی منزلوں تک پہونچنے کے لئے ہدایات فرمائیں_ پیغمبر صحیح راستے اور غیر صحیح راستے کو پہچانتے ہیں اور وہ ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہوا کرتے ہیں، اللہ تعالی کا پیغام لیتے ہیں اور اسے بغیر زیادتی و کمی کے لوگوں تک پہونچاتے ہیں پیغمبر چنے ہوئے لائق انسان ہوتے ہیں کہ دین کا آئین انھیں دیا جاتا ہے اور اپنی گفتار و کردار سے لوگوں کے لئے نمونہ ہوا کرتے ہیں_ جب سے انسان پیدا کیا گیا ہے اور اس نے اس کرہ ارض پر زندگی شروع کی ہے تب سے ہمیشہ اس کے لئے پیغمبر موجود رہے ہیں_

پیغمبر لوگوں کی طرح ہوتے تھے اور انھیں جیسی زندگی بسر کرتے تھے اور لوگوں


کو دین سے مطلع کرتے تھے، لوگوں کے اخلاق و ایمان اور فکر کی پرورش اور رشد کے لئے کوشش کرتے تھے، لوگوں کو خدا اور آخرت کی طرف جو ہمیشہ رہنے والا ہے متوجہ کرتے تھے_

خداپرستی، خیرخواہی، خوبی اور پاکیزگی کی طرف ان کی روح میں جذبہ اجاگر کرتے تھے، شرک و کفر اور مادہ پرستی سے مقابلہ کرتے رہتے تھے اور ہمیشہ ظلم و تجاوزگری سے جنگ کرتے تھے، پیغمبر لوگوں کو اچھے اخلاق اورنیک کاموں کی طرف دعوت دیتے تھے اور برے اخلاق ، پلید و ناپسندیدہ کردار سے روکتے تھے، سعی و کوشش، پیغمبروں اور ان کے ماننے والوں کی راہنمائی سے بشر کے لئے ارتقاء کی منزل تک پہونچنا ممکن ہوا ہے_

سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری پیغمبر جناب محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ہیں اور دو کے درمیان بہت سے پیغمبر آئے ہیں کہ جن کو پیغمبر اسلام(ص) نے ایک حدیث کی روسے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بتلایا ہے_ پیغمبر قبیلوں، دیہاتوں، شہروں او رملکوں میں بھیجے جاتے تھے اور وہ لوگوں کی راہنمائی، تعلیم و تربیت میں مشغول رہتے تھے_

کبھی ایک زمانہ میں کئی ایک پیغمبر مختلف مراکز میں تبلیغ کرتے تھے، پیغمبروں کی رسالت اور ذمہ داری کا دائرہ ایک جیسا نہیں ہوا کرتا تھا بعض پیغمبر صرف قبیلہ یا دیہات یا ایک شہر یا کئی شہروں اور دیہاتوں کے لئے مبعوث ہوا کرتے تھے لیکن ان میں سے بعض کی ماموریت کا دائرہ وسیع ہوتا یہاں تک کہ بعض کے لئے عالمی ماموریت ہوا کرتی تھی_

پیغمبروں کا ایک گروہ کتاب آسمانی رکھتا تھا لیکن بہت سے پیغمبر آسمانی کتب نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسرے پیغمبروں کی شریعت کی تبلیغ کرتے تھے، آسمانی تمام


کی تمام کتابیں اب موجود نہیں رہیں ایک سو چار آسمانی کتابیں تھیں_ بعض پیغمبر صاحب شریعت ہوا کرتے تھے لیکن بعض دوسرے پیغمبر شریعت نہیں لائے تھے بلکہ دوسرے پیغمبروں کی شریعت کی ترویج کیا کرتے تھے_

حضرت نوح (ع) ، حضرت ابراہیم (ع) ، حضرت موسی (ع) و حضرت عیسی (ع) اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم ممتاز و بزرگ پیغمبروں میں سے تھے ان پانچ پیغمبروں کو اولوالعزم پیغمبر کہا جاتا ہے کہ ان میں ہر ایک صاحب شریعت تھا_

ہم مسلمان اللہ تعالی کے تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں، ان کا احترام کرتے ہیں، اور سبھی کو اللہ تعالی کا بھیجا ہوا پیغمبر مانتے ہیں، ان کی محنت اور کوشش کا شکریہ ادا کرتے ہیں_ ہمارا وظیفہ ہے کہ حضرت موسی (ع) اور حضرت عیسی (ع) کے پیروکاروں کو کہ جنھیں یہودی اور عیسائی کہا جاتا ہے اور زردشتیوں سے بھی نیکی اور مہربانی سے پیش آئیں اور اسلام کی روسے جوان کے اجتماعی حقق ہیں ان کا احترام کریں_


سوالات

فکر کیجئے، بحث کیجئے اور صحیح جواب تلاش کیجئے

۱)___ انسانوں کا پیغمبروں اور راہنماؤں کے محتاج ہونے کی علت کیا ہے؟

۲)___ انسانوں کے رہبر اور راہنما انسان کی پر خطر زندگی اور آخرت کے سفر کے لئے کون سے حضرات ہونے چائیں؟

۳)___کون زیادہ اور بہتر طور پر انسان کی خلقت کے راز سے آگاہ ہے اور کیوں؟

۴)___ پیغمبروں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ضروری معلومات کو پیغمبروں کے لئے کون فراہم کرتا ہے اور پیغمبروں کی ذمہ داریوں کون معین کرتا ہے؟

۵)___ کون سے ہدف کے لئے پیغمبروں کی دعوت اور کوشش ہوا کرتی تھی،

۶)___ پیغمبر اسلام(ص) نے پیغمبروں کی تعداد کتنی بتلائی ہے، آسمانی کتابوں کی تعداد کتنی ہے؟

۷)___ کیا پیغمبروں کی ماموریت کا دائر اور حدود ایک جیسے تھے اور کس طرح تھے؟

۸)___ اولوالعزم پیغمبر کون تھے، ان کی خصوصیت کیا تھی؟

۹)___ دوسرے پیغمبروں کے پیروکاروں کے متعلق ہمارا وظیفہ کیا ہے؟

۱۰)___ ہم مسلمانوں کا دوسرے پیغمبروں کے متعلق کیا عقیدہ ہے، ہم کیوں ان کا احترام کرتے ہیں؟


پیغمبروں کی انسان کو ضرورت

انسان کا ہر فرد اس دنیا میں راستے کو ڈھونڈتا اور سعادت مندی طلب کرتا ہے پیاسا پانی کی طلب میں ادھر ادھر دوڑتا ہے کبھی ایک خوبصورت چمک کہ جو میدان میں نظر آتی ہے پانی سمجھ کر اس کی طرف جلدی سے دوڑتا ہے لیکن جب اس کے نزدیک پہونچتا ہے تو پانی نہیں پاتا اور اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ سراب کے پیچھے دوڑتا رہا تھا_

ایک مہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کی اس دنیا وی زندگی کے علاوہ ایک اور زندگی بھی ہے، آج کے دن کے علاوہ ایک اور دن بھی آنے والا ہے، انسان اس جہاں کے علاوہ ایک اور ابدی دنیا (آخرت) میں بھی جانے والا ہے اور اس جہاں میں ہمیشہ کے لئے زندگی بسر کرے گا، کل آخرت میں اس دنیاوی جہان میں جو بویا ہوگا کاٹے گا_ انسان آخرت میں یا سعادت مند اور نجات پانے والا ہوگا یا شقی و بدبخت ہوگا_ انسان کے آخرت میں سعادت و شقاوت کا سرچشمہ اس دنیا کے اعمال ہیں اور یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے_

آج کون سا بیج بویا جائے تا کہ کل اس کا اچھا محصول حاصل کیا جائے؟ کون سا عمل انجام دیا جائے تا کہ آخرت میں سعادت مند ہوجائے؟ کس راستہ پر چلا جائے تا کہ آخرت میں اللہ تعالی کی عمدہ نعمتوں تک رسائی حاصل ہوسکے؟ کون سے برنامہ پر عمل کرے؟ کس طرح صحیح راستے کو غلط راستے سے پہچانے؟ کون راہنما ہو؟

انسان کا عمل اور کردار سعادت و کمال یا شقاوت و بدبختی کا موجب ہوا کرتا ہے


لہذا انسان اپنے اعمال اور زندگی کے لئے ایک دقیق و جامع پروگرام کا محتاج ہے، ایسا پروگرام کہ جس میں انسان کی دنیاوی مصالح اور اخروی مصالح کی رعایت کی گئی ہو جس میں انسان کے جسم کا بھی لحاظ کیا گیا ہو اور اس کی روح و جان کا بھی لحاظ کیا گیا ہو_ زندگی کے اصول کو ایسا بنایا گیا ہو کہ اس کی زندگی اور آخرت پر اس کی روح کے لئے اس طرح پروگرام مرتب کیا گیا ہو کہ اسے حقیقی ارتقاء اور سعادت کے راستے پر ڈال دے تا کہ امن و قرب اور رضوان کی منزل تک فائز ہوسکے_

چند ایک سوال

کیا انسان اپنی عقل اور تدبیر سے اس قسم کا دقیق اور کامل آئین اپنے لئے منظم کرسکتا ہے؟ کیا وہ اپنی نفسانی اور آخرت کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے؟ کیا وہ اپنی اور جہان کی خلقت کے اسرار و رموز سے مطلع ہے؟ کیا انسان، روح کا جسم ہے کس طرح کا ارتباط ہے اور دنیاوی زندگی کس طرح اخروی زندگی سے مربوط ہے، سے مطلع ہے؟ کیا انسان تشخیص دے سکتا ہے کہ کون سے امور موجب ہلاکت و سقوط اور کون سے امور انسان کے نفس کو تاریک، سیاہ و آلودہ اور کثیف کردیتے ہیں؟ کیا انسان تنہا سعادت کے راستے کو غیر سعادت کے راستے سے تمیز دے سکتا ہے؟ ایسا نہیں کرسکتا، ہرگز نہیں کرسکتا اور اس قسم کی وسیع اطلاع نہیں رکھتا_

انسان اپنی کوتاہ عمر اور محدود فکر کے ذریعہ اپنی اخروی اور نفسانی سعادت اور ارتقاء کا آئین منظم نہیں کرسکتا_ پس کون شخص ایسا کرسکتا ہے؟


سوائے ذات خدا کے ایسا اور کوئی نہیں کرسکتا وہ ذات ہے کہ جس نے انسان اور تمام جہان کو پیدا کیا ہے اور اس کے اسرار و رموز سے پوری طرح آشنا و آگاہ ہے اور سعادت و شقاوت کے اسباب وعوامل کو اچھی طرح جانتا ہے_ وہ ذات ہے جو انسان کی سعادت اور ارتقاء کے آئین کو منظم و مدوّن کرسکتی ہے اپنے بہترین بندوں کو اس قسم کا برنامہ دے کر انسانوں تک پہونچاتی ہے تا کہ انسان خدا کے نزدیک کوئی عذر نہ پیش کرسکے_

زندگی کے آئین اور اصول کا نام دین ہے کہ جسے خدا پیغمبروں کے ذریعے جو راہنما اور راہ شناس ہیں انسانوں تک پہونچاتا ہے، پیغمبر ممتاز اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں کہ جو اللہ تعالی سے خاص ربط رکھتے ہیں، انسان کو جاودانی زندگی دینے والا آئین خدا سے لیتے ہیں اور انسانوں تک اسے پہونچاتے ہیں_ پیغمبر انسان کی اس فطرت کو کہ جس میں جستجوئے خدا اور خدا دوستی موجود ہے کون اجاگر کرتے ہیں اور اس کے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں اور س تک پہونچنے کے راستے کو طے کرنے میں مدد دیتے ہیں تاکہ انسان اپنے خالق و خدا کو بہتر پہچانے اور اس سے آشنا ہو_ اچھے اور برے اخلاق کی شناخت میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں، تذکیہ نفوس، دین کے حیات بخش قوانین کے اجراء اور معاشرہ کی دیکھ بھال میں کوشش کرتے ہیں، انھیں کامل عزت اور عظمت تک پہونچاتے ہیں_

ان انسانوں کو خوشخبری ہو جو پیغمبروں کے نقش قدم پر چلتے اور اپنی دنیا کو آزادی سے سنوارتے ہیں اور آخرت میں بھی کمال سعادت و خوشنودی اور اللہ تعالی کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں اور پیغمبروں کے جوار میں با عزت سکونت اختیار کرتے ہیں_

قرآن کی آیت:

انا ارسلناک بالحق بشیرا و نذیراً و ان من امّة الّا خلافیها نذیر


''ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گذرا ہو''_(۱)

____________________

سورہ فاطر آیت نمبر ۲۴


سوالات

سوچیئےور جواب دیجئے

۱)___ اس دنیا کے اعمال کا نتیجہ آخرت میں کس طرح ملے گا؟

۲)___ آخرت میں انسان کی دو حالتیں ہوں گی وہ دو حالتیں کیا ہیں؟

۳)___ انسان کی زندگی کے آئین میں کن چیزوں کا لحاظ کیا جانا چاہیئے؟

۴)___ کیا انسان اپنی زندگی کے لئے ایک جامع اور کامل قانون خود بنا سکتا ہے؟

۵)___ انسان کی سعادت اور ارتقاء کے آئین کو کون منظم کرتا ہے اور اسے کس کے ذریعہ پہونچاتا ہے؟

۶)___ خدا کے پیغمبر پر انسان کی ہدایت کے لئے کون سی ذمہ داری ہے؟

۷)___ دین کیا چیز ہے، دین کا فائدہ انسان کی دنیا اور آخرت میں کیا ہوتا ہے؟


پیغمبری میں عصمت ، شرط ہے

خداوند عالم نے پیغمبروں کو چنا ہے اور انھیں بھیجا ہے تا کہ وہ ان قوانین کو لوگوں تک پہونچائیں جو دینی زندگی کا موجب ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کی سرپرستی و راہنمائی کریں، ارتقاء کے سیدھے راستے اور اللہ تعالی تک پہونچنے کے لئے جو صرف ایک ہی سیدھا راستہ ہے، لوگوں کو بتلائیں، ان کی ہدایت کریں اور انھیں مقصد تک پہونچائیں، سعادت آور آسمانی آئین پر عمل کرنے اور دنیوی و اخروی راہ کو طے کرنے میں قول و فعل سے لوگوں کی مدد کریں، اللہ تعالیی کے قوانی کو جاری کر کے ایک اجتماعی نظام وجود میں لائیں اور اس کے ذریعہ انسانی کمالات کی پرورش کریں اور رشد کے لئے زمین ہموار کریں_

پیغمبروں کی ذمہ داریوں کو تین حصول میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱)___ قوانین الہی کو وحی کے ذریعہ حاصل کریں_

۲)___ اللہ تعالی سے حاصل شدہ قوانین اور آئین کو بغیر کسی اضافہ و کمی کے لوگوں تک پہونچائیں_

۳)___ ان قوانین اور الہی آئین کو عملی جامہ پہنانے میں لوگوں کی قولی اور عملی مدد کریں_


سوالات

اس کے بعد اب ان سوالات میں خوب غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ کیا ممکن ہے کہ خداوند عالم کسی انسان کو پیغام الہی کے لینے کے لئے معین کرے اور وہ اس میں خطا کا مرتکب ہو؟ خطا کرنے والا انسان کسی طرح اللہ تعالی کے واضح پیغام کو بغیر کسی اضافہ اور کمی کے پوری طرح لوگوں تک پہونچا سکتا ہے؟

۲)___ کیا ممکن ہے کہ خداوند عالم کسی کو پیغمبری کے لئے چنے اور وہ اللہ تعالی کے پیغام پہونچانے میں خطا مرتکب ہوجائے؟ کیا ممکن ہے کہ خداوند عالم کسی کو پیغمبری کے لئے انتخاب کرے اور وہ آسمانی آئین و احکام میں تحریف کردے؟ کیا اس صورت میں اللہ تعالی کی غرض پیغمبر کے بھیجنے میں حاصل ہوجائے گی؟ کیا اللہ کا دین اور پیغام لوگوں تک صحیح پہونچ جائے گا؟

۳)___ ان قوانین اور الہی آئین کو عملی جامہ پہنانے میں لوگوں کی قولی اور عملی مدد کریں_


ہرگز نہیں خداوند عالم ایسے افراد کو جو غلطیوں کے مرتکب ہوتے ہیں پیغام الہی کے لینے اور لوگوں تک پہونچانے کے لئے ہرگز انتخاب نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اپنا پیغام اپنے بندوں تک پہونچائے اور حق قبول کرنے والے لوگوں کو مقصد تک پہونچائے اس غرض کے حصول کے لئے اللہ تعالی ایسے افراد کا انتخاب کرے گا جو معصوم ہوں یعنی:

۱)___ قوانین اور دین الہی کے لینے میں غلطی نہ کریں_

۲)___ اللہ تعالی کے قوانین اور آئین کو لوگوں تک بغیر کسی اضافہ اور کمی کے پہونچائیں اور کسی قسم کی خطا و تحریف اور نافرمانی کو جائز نہ سمجھیں_

۳)___ دین کے واضح احکام پر عملکرانے میں لوگوں کی عملی و قولی مدد کریں اور خود پورے طور پر اس پر عمل کریں اور لوگوں کو اس پر عمل کرائیں _

خداوند عالم کے پیغمبر قوی اور ملکوتی ارادے کے مالک اور روحانی بصیرت رکھن والے افراد ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے کامل پیغام پر ایمان رکھتے ہیں، وفادار ہوتے ہیں اور جو کچھ پہونچاتے اور کہتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں ایسے افراد اپنی بصیرت اور ہنرمندی کے لحاظ سے تمام انسانوں کے لئے کامل نمونہ ہوتے ہیں لوگ ان کی رفتار و گفتار کی پیروی کرتے ہیں_

''عصمت'' یعنی وہ عظیم طاقت وبصارت جو پیغمبر کے وجود سے مختص ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے دی ہوئی ذمہ داری کے بجالانے میں اس کی مدد کرتی ہے اورانھیں خطا سے محفوظ رکھتی ہے_

قرآن کی آیت:

( و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن الله ) (نساء آیہ ۴۳)

'' ہم نے کوئی بھی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ لوگ اس کی حکم الہی سے اطاعت کریں''


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱)___ پیغمبروں کی وہ ذمہ داری جو تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے اسے بیان کیجئے_

۲)___ کیا ممکن ہے کہ خداوند عالم ایسے انسان کو اپنے پیغام لینے کے لئے انتخاب کرے جو خطا کا مرتکب ہوسکے، کیوں؟ وضاحت کیجئے _

۳)___ کیا ممکن ہے کہ خداوند عالم ایسے کو پیغمبری کے لئے چنے کہ جو اللہ تعالی کے پیغام کو ناقص اور تحریف شدہ لوگوں تک پہونچائے، کیوں؟ وضاحت کیجئے

۴)___ کیا ممکن ہے خداوند عالم ایسے شخص کو پیغمبری کے لئے منتخب کرے کہ جو اللہ تعالی کے احکام اور دستور پر عمل کرانے میں غلطی کرے ، کیوں؟ وضاحت کیجئے_

۵)___ خداوند عالم جسے پیغمبری کے لئے منتخب کرتا ہے وہ معصوم ہوتا ہے، معصوم کی تین صفات کو بیان کیجئے_

۶)___ عصمت سے کیا مراد ہے؟

۷)___ پیغمبر کن لوگوں کو حقیقی سعادت اور مقصد تک پہونچاتے ہیں؟

۸)___ معاشرہ میں فضائل انسانی کس طرح رشد اور پرورش پاسکتے ہیں؟


پیغمبروں کا ایک برنامہ اور پروگرام اللہ تعالی پر ایمان کا لانا ہے

پیغمبر اسلام(ص) نے صبح کی نماز مسجد میں پڑھی نماز کے بعد لوگوں کی طرف منھ کیا تا کہ ان کی احوال پرسی کریں اور ان کے حالات کو جانیں لوگوں کی صف میں ایک نوجوان کو آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد، بدن لاغر اور آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں نمازیوں کی صف میں بیٹھا ہوا تھا اور کبھی بے اختیار اپنی پلکوں کو بند کرتا اور اونگھ رہا تھا ایسا ظاہر کر رہا تھا کہ گویا ساری رات نہیں سویا اور عبادت و نماز میں مشغول رہا ہے_ پیغمبر اسلام(ص) نے اسے آواز دی اور پوچھا کہ ''تو نے صبح کیسے کی؟ '' جواب دیا: ''یا رسول اللہ (ص) یقین اور خدائے وحدہ پر ایمان کی حالت میں''

''ہر ایک چیز کی کوئی نہ کوئی علامت اور نشانی ہوا کرتی ہے تیرے ایمان اور یقین کی کیا علامت ہے؟ '' یا رسول اللہ (ص) ایمان اور یقین آخرت کے عذاب سے خوف و ہراس کا موجب ہوا ہے، خوراک اور خواب کو کم کردیا ہے دنیاوی امور میں بے رغبت ہوگیا ہوں گویا اپنی آنکھوں سے قیامت برپا ہونے کو دیکھ رہا ہوں اوردیکھ رہا ہوں کہ لوگ حساب و کتاب کے لئے محشور ہوگئے ہیں اور میں بھی ان میں موجود ہوں گویا بہشت والوں کو بہشتی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا


دیکھ رہا ہوں کہ بہشتی بہترین مسند پر بیٹھے شرین گفتگ میں مشغول ہیں_

یا رسول اللہ (ص) جہنمیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ عذاب میں گریہ و نالہ اور استغاثہ کر رہے ہیں گویا ابھی دوزخ کی آگ اور عذاب کی آواز سن رہا ہوں''

پیغمبر اسلام (ص) نے اصحاب کی طرف جو حیرت سے اس جوان کی گفتگو سن رہے تھے متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ:

'' یہ جوان ایسا اللہ کا بندہ ہے کہ خداوند عالم نے ایمان کے وسیلہ سے اس کے دل کو روشن اور نورانی کردیا ہے''

آپ نے اس کے بعد اس جوان کی طرف نگاہ کی اور فرمایا کہ ''اے جوان تو نے بہت عمدہ حالت پیدا کی ہوئی ہے اور اس حالت کو ہاتھ سے نہ جانے دینا''_

یا رسول اللہ (ص) شہادت کی تمنا اور آرزو رکھتا ہوں دعا کیجیئے کہ راہ خدا میں شہید ہوجاؤں''_ پیغمبر اسلام(ص) نے اس کے لئے شہادت کی دعا کی تھوڑی مدت گذری تھی کہ ایک جنگ واقع ہوئی اس جوان نے مشتاقانہ طور سے فوجی لباس پہنا، اسلام کے پاسداروں اور جہاد کرنے والوں کے ساتھ اس جنگ کی طرف روانہ ہوگیا، بپھرے ہوئے شیر کی طرح دشمن پر حملہ آور ہوا اور شمشیر سے پے در پے دشمن پر حملہ کرنے لگا اور بالآخر اپنی قدیم امید تک پہونچا اور میدان جنگ میں راہ خدا میں شہید ہوگیا_

خداوند عالم اور فرشتوں کا درود و سلام ہو اس پر، تمام شہیدوں اور غیور اسلام پہ قران ہونے والوں پر_

تمام پیغمبروں کو امر کیاگیا ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالی پر ایمان لے آنے کی دعوت دیں، یقین کے درجہ تک پہونچائیں، واضح و روشن خدائی پیغام اور سعادت بخش آئین کو ان کے اختیار میں قرار دیں اور اللہ تعالی کے تقرّب کے راستے


بتلائیں_

اللہ تعالی کے واضح پیغام کے علم کے بغیر لوگ کس طرح صحیح زندگی کو درک کرسکتے ہیں___؟ کس طرح ایمان اور یقین کے بغیر دنیاوی و اخروی سعادت کو حاصل کرسکتے ہیں؟ واقعا کون سی ذات سوائے خداوند عالم کے لوگوں کی زندگی اور آزادی کے لئے رہنما ہوسکتی ہے؟

پیغمبروں کا سب سے اہم کام لوگوں کو ایمان کی دعوت دینا ہوتا ہے، ایک انسان کے لئے سب سے قیمتی اور عظیم ترین چیز خدائے وحدہ اور اس کے درست دعؤوں پر ایمان لانا، اس کی عبادت و پرستش کرنا اور اس ذات سے انس و محبت کرنا ہوتا ہے کیونکہ خدا کی معرفت، اس سے محبت کرنا، اس پر ایمان لے آنا اور اس کی اطاعت ہی وہ تنہا ہدف و غایت ہے کہ جس کیلئے تمام جہاں کو خلق کیا گیا اور یہی انسان کے حقیقی ارتقاء کا تنہا راستہ ہے_

پیغمبر دلائل، براہین، اسرار و رموز کے بیان کرنے اور دنیا کے عجائب کے اظہار کرنے سے انسان کی فطرت کو کہ جس میں جستجوئے خدا اور حق موجود ہوتا ہے بیدار کرتے ہیں اور زیباترین و عظیم ترین ارزش تک پہونچنے کے لئے حرکت کی راہ اور وہاں تک پہونچنے کے راستے بتلاتے ہیں_ دنیا میں نظم، ہم آہنگی و زیبائی اور شگفتی جو عالم کی خلقت میں موجود ہے، کی وضاحت کرتے ہیں تا کہ لوگ اللہ تعالی کی قدرت عظمت، حکمت و دانائی اور توانائی تک رسائی حاصل کرسکیں_

اللہ تعالی کی نعمتوں کو لوگوں سے بیان کرتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے راہنمائی کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ لوگوں کی خوابیدہ عقل کو بیدار و ہوشیار کرتے ہیں_


پیغمبر اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ لوگوں کی بدبختی کا سب سے بڑا عامل اور سبب خدائے مہربان کو فراموش کردینا اور اللہ تعالی سے کفر، انکار، بے ایمانی اور مادی گری ہوا کرتا ہے_ لوگوں کا سعادت مند ہونے کا تنہا سبب اللہ تعالی پر ایمان لے آنا اور خدا کی طرف توجہ کرنا ہوتا ہے_

واقعاً جو انسان خداپر ایمان نہیں رکھتا وہ کس امید پر زندگی بسر کرتا ہے___؟ جو شخص خداوند عالم کے پیغام پر ایمان نہیں رکھتا وہ کس کے پیغام پر ایمان لاتا ہے___؟ کون سے پیغام کے سننے سے اپنے آپ کو حیرت اور سرگردانی سے نجات دیتا ہے؟ کون سے مدہ کے سننے سے اپنے اندرونی اضطراب اور مخفی پریشانی کو سکون دے سکتا ہے؟

صرف خدا پر ایمان ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کا اندرونی نوری چشمہ پھوٹ سکتا ہے اور باطنی کثافت و روحی تاریکیوں کو برطرف کرسکتا ہے اور یہی مومن کے دل کو اطمینان اور صفا بخشا ہے_ واقعا مومن اللہ کی سب سے بہترین مخلوق ہے وہ خدا اور ارتقاء کی راہ کوپالیتا ہے اور اس پر ثابت قدم رہتا ہے_ مومن اپنی زندگی کا آئین پیغمبروں سے حاصل کرتا ہے اور اللہ تعالی کے دستور کے سامنے سر نیاز خم کردیتا ہے وہ اللہ سے محبت کرتا ہے، ہمیشہ اسی کی یاد میں رہتا ہے، خدا پر اعتماد کرنے میں خوش اور دل گرم رہتا ہے اور اس کی رضا کے حاصل کرنے میں دن رات کو شاں رہتا ہے_

خلاصہ خدا کے علاوہ دوسروں سے امیدوں کو قطع کر کے صرف خدا ہی سے اپنی امیدیں وابستہ رکھتا ہے، دل کی گہرائی سے خدا سے راز و نیاز کرتا رہتا ہے ، مشکلات اور احتیاجات کے دور رکرنے میں اسی سے پناہ لیتا اور اسی سے مدد مانگتا ہے_

خداوند عالم بھی ایسے مومن کو دوست رکھتا ہے، اپنی غیبی قوت اور امداد سے اس کی مدد کرتا ہے لہذا مومن کہ جس کا محبوب خدا اور خدا کا محبوب وہ خود ہے، کسی سے نہیں


ڈرتا کیونکہ اس کا حامی خدا ہے لہذا تمام طوفان اورحوادث کے مقابل پہاڑوں کی طرح ثابت قدمی سے مقاومت کرتا رہتا ہے، مومن ایک آزاد انسان ہوتا ہے جو اللہ کی بندگی کو قبول کر کے طاغوتوں اور ظالمں کی بندگی، زر و جواہر اور جادہ و مقام کی پرستش سے آزاد ہوجاتا ہے، کائنات اور اس میں موجود مخلوق کو خدا کی نشانی جانتا ہے، تمام جہاں کا مدبر اور مدیر خدا کو مانتا ہے_

اس کے ارادہ کو تمام جگہوں پر نافذ مانتا ہے صرف اور صرف اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور کسی دوسرے کے سامنے سر ذلت نہیں جھکاتا اور ایک جوان کی طرح ظالموں پر حملہ آور ہوتا ہے، شہادت کی آرزو کرتا ہے اور درجہ شہادت پر فائز ہوجاتا ہے_ پیغمبر، خدائی نظام اور آئین سے ایسے بزرگوار اور آزاد انسان کی جو طالب شہادت ہوتے ہیں تربیت کرتے ہیں_

قرآن کی آیت:

( الا بذکر الله تطمئن القلوب ) ____(۱)

''آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان، یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے''

____________________

۱) سورہ رعد آیت نمبر ۲۸


سوالات

سوچیئےور جواب دیجیئے

۱) ___اس جوان کا جس نے پیغمبر اسلام (ص) کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا اس درس میں کیسے ذکر کیا گیا ہے؟

۲)___ جب پیغمبر (ص) نے اس جوان سے پوچھا کہ تونے صبح کیسے کی تو اس نے کیا جواب دیا تھا؟

۳)___ اس جوان نے اپنے ایمان اور یقین کی علامتیں کون سی بیان کی تھیں؟

۴)___ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنے اصحاب سے اس جوان کے با رے میں کیا فرمایا تھا؟

۵)___ پیغمبر اسلام(ص) نے اس جوان کو کس چیز کی وصیت اور سفارش کی تھی؟

۶)___ اس جوان کی کون سی آرزو تھی کہ جس کے لئے پیغمبر اسلام(ص) سے دعا کرنے کی خواہش کی تھی؟

۷)___ پیغمبروں کا سب سے اہم کام کون سا ہوا کرتا تھا؟

۸)___ ایک انسان کی عظیم ترین اور بہترین ارزش کون سی ہوتی ہے؟

۹)____ پیغمبر، انسان کی خداجوئی والی فطرت کو کس طرح بیدار کرتا ہے؟

۱۰)___ انسان اور جہان کی خلقت کی غرض و غایت کیا ہوتی ہے؟

۱۱)___ پیغمبروں کی نگاہ میں لوگوں کی بدبختی کا اہم عامل اور سبب کیا ہوتا ہے، اور سعادت کا تنہا سبب کون سا ہوتا ہے؟

۱۲)___ مومن انسان کی خصوصیات جو اللہ تعالی کے پیغمبروں کے دستور کے مطابق ترتیب یافتہ ہوتے ہیں کون سی ہوتی ہیں؟


اللہ تعالی کے لئے کام کرنا پیغمبروں کے برنامے میں سے ایک ہے

انسانوں کوطاغتوں سے آزاد کرنا اور ظالم کے زور کو توڑنا استقامت اور قیام کئے بغیر ممکن نہیں، لیٹروں اور طاغتوں کا ہاتھ محروم و مستضعفین کے جان و مال سے اس وقت تک روکا نہیں جاسکتا جب تک لوگ آزادی اور رہائی کے خواستگار نہ ہوں اور اس کے لئے قیام نہ کریں، اپنی تمام قوت و کوشش کو کام میں نہ لائیں اور اس ہدف و غرض کے لئے جہاد و پائیداری سے کام نہ لیں_

فقر، محرومیت، ظلم، بے عدالتی، جہل، نادانی، تجاوز، سلب امنیت، قانون شکنی اور فساد سے مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ یہ بہت مشکل اور اہم کام ہے کہ جسے سارے افراد کی کوششوں اور عمومی جہاد کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے شناخت، تمایل، حرکت اور کوشش ضروری ہے اس لئے تمام پیغمبروں کا اصل کام اور سب سے پہلا اقدام ظالموں، مستکبروں اور مفسدوں کے خلاف جہاد کرنا ہوا کرتا تھا_

خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

'' ہم نے پیغمبروں کو واضح دلیلیں دے کر بھیجا ہے، ان پر کتاب اور میزان نازل کی ہے تا کہ لوگ عدالت و انصاف کے لئے قیام کریں''_ (حدید آیہ ۲۵)


'' اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو تم خدا کے لئے قیام کرو اور انصاف کی گواہی دو''_ (سورہ مائدہ آیت نمبر ۸)

''اے پیغمبر(ص) لوگوں سے کہہ دو کہ میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم دو دو آدمی اور ایک ایک اللہ تعالی کے لئے قیام کرو'' (سبا ۲۶)

تمام پیغمبروں نے مادی گری، شرک و فساد کے خلاف، مستضعف لوگوں کو نجات دینے، عدل و انصاف قائم کرنے اور خداپرستی کو عام کرنے کے لئے جہاد و قیام کیا ہے لوگوں کے خوابیدہ افکار کو بیدار کیا ہے اور انھیں قیام و حرکت کرنے کی دعوت دی ہے:

_ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی اور ستمگر سے مقابلہ کرنے کے لئے قیام کیا اور نمرود و نمرودیوں سے جنگ کی_

حضرت موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی قوم کو فرعون سے نجات دینے کے لئے فرعون سے مقابلہ کیا اور لوگوں کی متفرق طاقت کو آزادی کے لئے یکجا کیا اور ایک ہدف و غرض کے لئے اکٹھا کیا_

_ حضرت عیسی علیہ السلام نے جابر لوگوں کے خلاف اور تحریف شدہ قوانین کو زندہ کرنے کے لئے قیام کیا_

_ پیغمبر اسلام (ص) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بت پرستی، ظلم اور بے عدالتی سے مقابلہ کرنے کے لئے قیام فرمایا اور اپنے ماننے والوں سے چاہا کہ ہمیشہ ظلم اور ظالم کے دشمن بن کر رہیں اور مظلوم و ستم رسیدہ انسانوں کے یار و مددگار ہوں_

اسلام کے حیات بخش قوانین کے اجراء اور جہان کے محرومین کو نجات دینے کے لئے جہاد، قیام اور کوشش کرتے رہیں_


تحقیق اور تکمیل:

قرآن مجید کی آیات سے اور ان آیات سے کہ جن کا ترجمہ یہاں کیا گیا ہے یوں نتیجہ نکلتا ہے:

۱)___ قیام اور جہاد، اللہ تعالی کے قوانین کے اجراء اور ظالموں کے ہاتھ کو لوگوں کے جان مال سے روکنا، ہر قسم کے ظلم و فساد، شرک و بے عدالتی کو ختم کرنا فرائض دینی اور دستور مذہبی کا اہم و اصلی جزء ہے اور اسے دین کے سر فہرست ہونے کا درجہ حاصل ہے_

۲)___ مفسد و متجاوز کا مقابلہ کرنا تمام انسانوں کا عمومی فریضہ ہے اور تمام کے تمام لوگ اس کے ذمہ دار ہیں اور انھیں ایک دوسرے کی مدد و تعاون کر کے اس کے لئے قیام اور تحریک کو آگے بڑھانا چاہیئے_

۳)___ اگر کچھ لوگ اس کی انجام دہی میں کوتاہی و سستی کریں تو دوسرے لوگوں سے یہ فریضہ ساقط نہیں ہوگا بلکہ ہر آدمی کا فریضہ ہے کہ وہ یک و تنہا قیام کرے اور اپنی طاقت کے مطابق اس فریضہ کو انجام دے اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنی مدد کرنے کی دعوت دے_

۴)___ اس قیام و جہاد میں غرض و ہدف خدا کی ذات اور اس کی رضا ہونی چاہیئے اور اس سے غرض خودخواہی اور حکومت طلبی نہ ہو_ قرآن مجید خاص طور سے حکم دیتا ہے کہ قیام اور جہاد کی غرض اللہ تعالی کی خوشنودی، قوانین و احکام الہی کا جاری کرنا اور مخلوق خدا کی سعادت، نجات اور عدل الہی کے پھیلاؤ کے علاوہ اور کچھ نہ ہو_

۵)___ قیام اور جہاد میں عدالت کی رعایت کی جانی چاہیئےور جہاد کرنے


والوں کو حدود عدالت سے خارج نہیں ہونا چاہیئے اور خود انھیں ظلم کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیئے_

یہ ہمارا فریضہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے پھیلاؤ اور باقی رکھنے کے لئے اپنی پوری طاقت و قوت سے ظالموں اور مستکبروں پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے قیام و جہاد کریں اور جب تک تمام اسلامی احکام اور نجات دینے والا یہ پیغام '' لا الہ الا اللہ'' دنیا کے کونے کونے تک نہ پھیل جائے اپنی کوشش اور سعی کو ختم نہ کریں_

قرآن کی آیت:

( قل انّما اعظکم بواحدة ان تقوموا لله مثنی و فرادی ) ____(۱)

''کہہ دو کہ میں ایک چیز کی تمھیں نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ دو دو اور ایک ایک اللہ کے لئے قیام کرو''

____________________

۱) سورہ سبا آیت ۴۶


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجیئے

۱)___ خداوند عالم نے قرآن مجید میں لوگوں کو راہ خدا میں جہاد کرنے، عدالت اور انصاف کو پھیلانے کی دعوت دی ہے_ اس درس میں سے تین آیات کا اس بارے میں ترجمہ پیش کیجیئے _

۲)___ جہاد کی غرض کیا ہونی چاہیئے؟ وہ شرائط جو جہاد اور قیام الہی کے لئے ضروری ہیں انھیں بیان کیجیئے

۳)___ ظالم اور مفسد کا مقابلہ کرنا کس کا فریضہ ہے، اگر ایک گروہ اس فریضہ کی ادائیگی میں سستی کرے تو دوسروں کا کیا فریضہ ہوتا ہے؟

۴)___ اسلامی انقلاب کو وسعت دینے کے لئے ہمارا کیا فریضہ ہے، کب تک ہم اس کی کوشش کرتے رہیں؟


مرکز توحید (۱)

حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا پرستوں اور توحید کے پیغمبر تھے، آپ اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبری کے لئے چنے گئے تھے، آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ پورے عالم میں خداپرستی کا پیغام پہونچائیں اور اسے عام کریں، آپ نے توحید کی دعوت ایک متمدن شہر بابل سے شروع کی اور اپنے زمانہ کے طاغوت نمرود سے مقابلہ کیا ایک زمانہ تک آپ بت پرستی اور شرک سے مقابلہ کرتے رہے لوگوں کو خدا کی عبادت اور اللہ تعالی کے حیات بخش فرامین کی اطاعت کرنے کی طرف دعوت دیتے رہے_

پاکباز لوگوں کا ایک گروہ آپ پر ایمان لے آیا آپ توحید کی دعوت کو عام کرنے کے لئے مصر، شام اور فلسطین کی طرف ہجرت کرتے رہے تا کہ توحید پرستی کا پیغام دوسرے انسانوں تک بھی پہونچاسکیں اور انقلاب توحید کو تمام ممالک میں صادر کرسکیں، آپ نے اس کے لئے بہت کوشش کی اور بہت زیادہ تکالیف اٹھائیں_ تمام جگہوں میں اس زمانہ کے ظالموں اور طاغتوں کی شدید مخالفت کا آپ کو سامنا کرنا پڑا_

ایک گروہ کی جہالت و نادانی اور غفلت نے آپ کے اس کام کو دشوارتر کردیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو زیادہ کامیابی نہ مل سکی لیکن یہ عظیم پیغمبر اللہ تعالی کے اس حکم کی بجاآوری میں پكّے ارادے سے ثابت قدم رہے اور کبھی دلسرد اور نہ تھکے_ آپ کے ارادہ کا اہم فیصلہ ایک جگہ کو توحید کا مرکز بنانا تھا آپ نے اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت


پكّا ارادہ کرلیا تھا کہ توحید اور خداپرستی کا ایک مضبوط مرکز بنائیں گے تا کہ خداپرست معتقد حضرات وہاں اکٹھے ہوں ایک دوسرے سے آشنائی و شناسائی پیدا کریں اور توحید و خداپرستی کا حیات بخش پیغام وہاں سے لے کر تمام عالم کے کانوں تک پہونچائیں اور غافل انسان کو بیدار کریں اور انھیں ظلم و ستم سے نجات دلائیں اور خداپرستی کی طرف بلائیں اس کا مرکز کہاں بنائیں؟ اس غرض کے لئے بہترین نقطہ کون کون سا ہوسکتا ہے اور وہ کون سی خصوصیات کا حامل ہو؟

اللہ تعالی نے اس غرض کے لئے خانہ کعبہ کو منتخب کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کی نشاندہی کی کیونکہ خانہ کعبہ قدیم زمانہ سے توحیدپرستوں کا معبد تھا، خانہ کعبہ کو سابقہ پیغمبروں نے بنایا تھا اسی لئے خداپرستوں کے لئے مورد توجہ تھا اور کبھی نہ کبھی لوگ وہاں جایا کرتے تھے_

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے اپنی بیوی اور بیٹے جناب اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ روانہ ہوئے جب مکہ پہونچے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جبرئیل کی راہنمائی میں مخصوص اعمال ''مناسک حج'' بجالائے جب اعمال بجالا چکے تو اپنی بیوی اور بیٹے سے کہا کہ ''اللہ تعالی کی طرف سے مجھے حکم ملا ہے کہ تمھیں کعبہ کے قریب رکھوں اور میں خود حکم الہی کی تعمیل کے لئے فلسطین چلا جاؤں ، تم یہیں رہ جاؤ خانہ کعبہ کے زائرین کی مہمان نوازی کرو، اس کے آباد کرنے اورپاکیزہ بنانے میں کوشش کرو، خدا چاہتا ہے کہ یہ توحید، خداپرستی کا معبد و مرکز قرار پائے اور تم بھی توحید کے محافظ اور پاسدار رہنا، بردبار و فداکار ہونا، مسافرت، تنہائی و مشکلات سے نہ کھبرانا کیونکہ یہ تمام اللہ کے راستے اور خلق خدا کی خدمت کے مقابلہ آسان ہیں خدا تمھارا مددگار اور محافظ ہے''_

حضرت ابراہیم (ع) نے بیوی اور اپنے فرزند جناب اسماعیل (ع) کو الوداع کہا اور فلسطین کی طرف روانہ ہوگئے، آہستہ آہستہ چل رہے تھے اور ان سے دور ہوتے جا رہے تھے


اور دور سے انھیں دیکھتے جا رہے تھے ایک چھوٹے سے بچّے کو اس کی ماں کے ساتھ ایک دّرے میں اور شاید ایک درخت کے نیچے تنہا چھوڑ کر جا رہے تھے_ آخری وقت جب کہ پھر انھیں دیکھ نہ سکتے تھے کھڑے ہوگئے، ان کی طرف نگاہ کی، اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا:

''پروردگار تیری امید اور سہارے پر اپنے خانوادے کو اس خشک پہاڑ کے دامن میں تیرے گھر کے قریب چھوڑ کر جا رہا ہوں تا کہ یہ تیری عبادت و پرستش اور نماز کو برپا کریں_

خدایا لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف متوجہ کر اور زمین کے دانوں اور میووں کو ان کا نصیب قرار دے_ پروردگار اس جگہ کو امن کا حرم قرار دے مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے دور رکھ_

خدایا بت پرستی اور شرک نے بہت سے لوگوں کو گمراہی اور بدبختی میں ڈال رکھا ہے_ پروردگار مجھے، میری اولاد اور خاندان کو نماز برپا کرنے والوں میں سے قرار دے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرما''

اس کے بعد آپ نے آخری نگاہ بیوی اور چھوٹے فرزند پر ڈالی اور یک و تنہا فلسطین کی طرف روانہ ہوگئے_

قرآن کی آیت

ربّنا انی اسکنت من ذريّتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربّنا لیقیموا الصّلاةفاجعل افئدة من الناس تهوی الیهم و ارزقهم من الثّمرات لعلّهم یشکرون

''پرودگار میں نے اپنے خانوادہ کو ایک بے آباد وادی تیرے گھر کے ہمسایہ میں سکونت دی ہے، ہمارے پروردگار اس لئے کہ نماز کو برپا کریں ، لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف متوجہ کرو اور زمین کے میوہ جات ان کی روزی قرار دے تا کہ تیرا شکر ادا کریں''(۱)

____________________

۱) سورہ ابراہیم آیت ۳۷


مرکز توحید (۲)

تنہا بوڑھا انسان ایک عصا اور تھوڑا سا سامان پشت پر ڈالے راستے کے پیچ و خم کو طے کرتے ہوئے فلسطین کی طرف جا رہا ہے تا کہ وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالی کی عبادت و اطاعت کی طرف بلائے اور ظالموں کی اطاعت و فرمانبرداری سے روکے_

فداکار خاتون ہاجرہ اپنے چھوٹے فرزند کے ساتھ ایک پتھر کے کنارے بیٹھی سورج کے غروب ہونے کا انتظار کر رہی تھی_ کیا اس خشک و خالی درّے میں زندگی کی جاسکتی ہے؟ کیا اس بلند و بالا پہاڑ کے دامن میں رات کو صبح تک کاٹا جاسکتا ہے؟ کیا کوئی یہاں ہمسایہ ڈھونڈا جاسکتا ہے؟

اس قسم کے افکار سے اضطراب و پریشانی میں پڑ گئیں وہ اٹھیں اور جلدی سے پہاڑ کے اوپر گئیں اور ادھر ادھر نگاہ کی کسی کو نہ دیکھا سوائے چھوٹے بڑے خاموش اور خوف اور پہاڑ کے جو اپنی جگہ کھڑے تھے، انھوں نے مدد کے لئے آواز دی لیکن کسی سے جواب نہ سنا دوڑتے و دوڑتے نیچے اتریں اور ایک نگاہ اپنے چھوٹے فرزند پر ڈالی_

سورج جلدی میں ڈوب رہا تھا، درّہ تاریک اور خوفناک ہو رہا تھا، سامنے والے پہاڑ پر مشکل سے اوپر گئیں اور اپنے آپ کو پہاڑ کی چوٹی پر پہونچایا، اطراف میں نگاہ دوڑائی کسی کو نہ دیکھا سوائے پہاڑ کے گھبرا کر مدد کے لئے پکارا کسی نے لبّیک نہ کہا چنانچہ نیچے اتریں اس وقت سورج نظر نہیں آرہا تھا پھر سامنے والے پہاڑ پر چڑھیں سورج کو دیکھا


اور خوشحال ہوگئیں اور مدد کے لئے آواز دی لیکن کسی نے جواب نہ دیا_

ان دو پہاڑوں کے درمیان سات دفعہ فاصلہ طے کیا یہاں تک کہ رات ہوگئی اور جناب ہاجرہ تھک گئیں وہ اپنے چھوٹے فرزند کے پاس گئیں اور نیم تاریک و خاموش فضا میں بچے کو گود میں لیا اپنے کو اور اپنے فرزند کو اللہ کے سپرد کر کے درخت کے کنارے پتھر پر لیٹ گئیں_

روزانہ جناب ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (ع) خانہ کعبہ کی خدمت کرتے اور اسے پاکیزہ رکھنے میں مشغول رہتے تھے، خانہ کعبہ کی دیوار گرگئی تھی مٹی اور کوڑا و غیرہ صاف کیا اور اس چھوٹے گھر میں عبادت و نماز میں مشغول رہنے لگے_ تھوڑے دنوں کے بعد کئی ایک لوگ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مكّہ آئے ایک عورت اور چھوٹے بچے کو دیکھ کر تعجب کیا اور ان سے ان کے حالات پوچے جناب ہاجرہ نے جواب دیا کہ:

''ہم اولالعزم پیغمبر حضرت ابراہیم (ع) کے گھرانے سے ہیں انھوں نے حکم خدا سے ہمیں یہاں رہنے کو کہا ہے تا کہ خانہ کعبہ کی خدمت کرتے رہیں اور اسے زیارت کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا اور آباد کئے رکھیں''_

اس قدیم خانہ کعبہ سے علاقہ رکھنے والے زائرین نے مختلف ہدیئے انھیں دیئےور آہستہ آہستہ کعبہ کے زائرین زیادہ ہونے لگے، خداپرست اور موحّد لوگ گروہ در گروہ کعبہ کی زیارت کو آتے اور جناب ہاجرہ حضرت اسماعیل (ع) کی خدمتوں کے صلہ میں ہدیہ پیش کرتے تھے_

حضرت اسماعیل (ع) اور آپ کی والدہ ماجدہ زائرین کعبہ کی خدمت کرتی تھیں آپ کی زندگی کا سہارا چند گوسفند تھے جناب اسماعیل (ع) گوسفندوں کو چراتے اور ان کے گوشت


و پوست سے غذا و لباس مہیا کرتے تھے _ انھیں ایام میں عربوں کے کئی گروہ جو مكّہ سے کچھ فاصلہ پر رہتے تھے جناب اسماعیل (ع) اور حضرت ہاجرہ سے اجازت لے کر وہاں آباد ہوگئے_

جناب ابراہیم علیہ السلام بھی خانہ کعبہ کی زیارت کرنے اور اپنے اہل و عیال کے دیدار کے لئے مكّہ معظمہ آیا کرتے تھے اور خانہ کعبہ کی رونق، آبادی اور روز بروز زائرین کی زیادتی سے خوشحال ہوا کرتے تھے_ ایک سفر میں جب آپ مكّہ آئے ہوئے تھے تو اللہ تعالی کے حکم سے ارادہ کیا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں_ اس بارے میں آپ نے جناب اسماعیل علیہ السلام سے گفتگو کی اس وقت جناب اسماعیل (ع) جوان ہوچکے تھے آپ نے اپنے والد کی پیش کش کو سراہا اور وعدہ کیا کہ باپ کی اس میں مدد کریں گے_

کام شروع ہوگیا جناب اسماعیل (ع) پتھر اور گارا لاتے اور جناب ابراہیم (ع) کعبہ کی دیوار کو بلند کرتے_ دوسرے لوگ بھی اس میں آپ کی مدد کرتے اور تعمیر کا سامان لے آتے، ایک سیاہ پتھر جو آثار قدیمہ کے طور پر باقی رہ گیا تھا اور سابقہ انبیاء (ع) کی نشانی و یادگار تھا اسے آپ نے دیوار کی ایک خاص جگہ پر نصب کردیا_ جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا:

''پروردگارا توحید اور خداپرستی کے گھر کی تعمیر کردی تا کہ یہ دنیا کے لوگوں کی عبادت و آزادی کا مرکز ہو، پروردگارا ہمارا یہ عمل قبول فرما اور ہمیں اپنے حکم کی اطاعت کرنے کی توفیق عنایت فرما_ میری اولاد سے مسلمانوں کی ایسی جماعت پیدا کر جو تیرے دستور کے ماننے والے اور فرمانبردار ہوں اور میری اولاد میں سے ایک پیغمبر مبعوث فرماتا کہ تیری کتاب کی آیتوں کو لوگوں کے لئے پڑھے


اور انھیں حکمت و کتاب کا درس دے، ان کے نفوس کا تذکیہ و تکمیل اور پرورش کرے_

پروردگار اس مقدس مکان کو امن کا حرم قرار دے، مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے دور رکھ اور اپنی برکت و نعمت کو اس مقدس مکان کے رہنے والوں کے لئے زیادہ فرما''

اس کے بعد آپ ایک بلند پہاڑ پر جو یہاں سے نزدیک تھا اور اسے کوہ ابوقیس کہا جاتا ہے_ گئے اور اپنے ہاتھوں کو کانوں پر رکھ کر بلند آواز سے یوں پکارا:

'' اے حجاز کے لوگو اے ساری دنیا کے لوگو توحید اور خداپرستی کے مرکز کی طرف آؤ شرک و ذلت اور بت پرستی سے ہاتھ اٹھالو''

اسی زمانہ سے خانہ خداپرستوں کی عبادت و اجتماع کا مرکز بن گیا ہے اور جو چاہے جناب ابراہیم علیہ السلام کی آواز پر لبيّک کہے، خانہ کعبہ کی طرف جائے، خدا کی عبادت کرے وہاں موحّد مومنین کو دیکھے، مشکلات کے حل کے لئے ان سے گفتگو کرے، تمام لوگوں کی ظلم و ستم اور ذلت و شرک سے رہائی کے لئے مدد کرے، ایک دوسرے سے ہمکاری و اتحاد کا عہد و پیمان باندھے اور سب مل کر کوشش کریں کہ اس مقدس خانہ کعبہ کو ہمیشہ کے لئے آباد اور آزاد رکھیں_

قرآن کی آیت :

( و اذا یرفع ابراهیم القواعد من البیت و اسماعیل ربّنا تقبّل منّا انّک انت السمیع العلیم ) ____(۱)

''جب حضرت ابراہیم (ع) خانہ کعبہ کی دیواریں حضرت اسماعیل (ع) کے ساتھ مل کر بلند کر رہے تھے تو کہا اے پروردگار ہمارے اس عمل کو قبول فرما تو سننے والا اور دانا ہے''

____________________

۱) سورہ بقرہ آیت ۱۲۷


سوالات

۱)___ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد توحید کا مرکز بنانے سے کیا تھا؟

۲)___ سب سے قدیم عبادت گاہ کہاں ہے، ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کن حضرات نے اسے بنایا تھا؟

۳)___ حضرت ابراہیم علیہ السلام کن کے ساتھ مکہ معظمہ آئے تھے، حج کے اعمال کس کی راہنمائی میں بجالائے تھے؟

۴)___ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آخری وقت کہ جس کے بعد وہ بیوی اور بچّہ کو نہ دیکھ سکتے تھے کیا دعا کی تھی، آپ کی دعاؤں میں کن مطالب کا ذکر تھا؟

۵)___ حضرت ہاجرہ (ع) دو پہاڑوں کا فاصلہ کس حالت میں طے کر رہی تھیں اور یہ کتنی دفعہ طے کیا تھا؟

۶)___ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ خانہ کعبہ کو تعمیر کریں تو یہ کس کے سامنے گفتگو کی اور اس نے اس کا کیا جواب دیا؟

۷)___ جب خانہ کعبہ کی تعمیر میں کس نے آپ کی مدد کی اور وہ کیا کام انجام دیتے تھے؟

۸)___جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تھی تو حضرت ابراہیم (ع) نے دعا کی تھی اس دعا میں آپ نے کیا کہا تھا اور آپ نے خداوند عالم سے کیا طلب کیا تھا؟

۹)___ آپ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد کون سے پہاڑ پر گئے تھے اور لوگوں کو کس چیز کی دعوت دی تھی؟

۱۰)___ جو لوگ جناب ابراہیم (ع) کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خانہ کعبہ جاتے ہیں ان کے وہاں کیا فریضے ہوتے ہیں، ہر سال حج میں مسلمانوں کا کیا فریضہ ہوتا ہے؟


دین یہود

حضرت موسی (ع) یہودی نامی دین لائے، حضرت موسی (ع) جناب عیسی (ع) سے ۱۵۰۰ سال پہلے مصر کی سرزمین میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام حضرات عمران تھا_ حضرت موسی (ع) اولوالعزم پیغمبر تھے قرآن مجید میں آپ کا متعدد جگہ ذکر ہوا ہے آپ کی بنی اسرائیل قوم جو مستضعف اور مظلوم تھی کی مدد اور حمایت کرنے کا قصہ اور بالخصوص آپ کا فرعون جیسے ظالم و مغرور سے مقابلہ کرنے کا قصہ قرآن مجید میں متعدد جگہ ذکر ہوا ہے_

حضرت موسی (ع) چالیس سال کے تھے کہ آپ کو خداوند عالم نے پیغمبری کے لئے مبعوث کیا اور آپ کو حکم دیا کہ اپنے زمانہ کے طاغوت سے مقابلہ کریں اور بنی اسرائیل کی مظلوم قوم کو فرعون کی غلامی اور قید و بند سے آزاد کرائیں،خداوند عالم کی عبادت اور بندگی کی طرف لوگوں کو بلائیں حضرت موسی (ع) نے اپنے اس آسمانی فریضہ کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی_

ابتداء میں آپ نے فرعون سے وعظ و نصیحت اور نرمی سے کام لیا اس کے بعد آپ نے اس سے گفتگو کی اور پروردگار عالم کی خدائی کی اور اس کی ربوبیت اور اپنی رسالت کے لئے دلیل و شاہد سے کام لیا اپنی رسالت کے لئے فرعون اور اس کے اطرافیوں کے لئے معجزہ و کھلایا اور اپنے عصا کو خدا کے اذن سے ایک بہت بڑے غضبناک ادہا کی صورت میں پیش کیا جادوگروں کے سامنے ایک واضح معجزہ بیان کیا، آپ کا عصا ایک بڑے سانپ کی صورت میں ظاہر ہو اور جن چیزوں کو جادوگروں نے زمین پر ڈالا تھا انھیں نگل لیا لیکن نہ نصیحت، نہ موعظہ، نہ گفتگو، نہ مباحثہ، نہ دلیل، نہ برہان اور نہ واضح و روشن معجزہ نے فرعون


کے سخت اور تاریک دل پر اثر کیا اور وہ اپنے ظلم و ستم پر باقی رہا_

حضرت موسی (ع) نے ایک بہت طویل مدت تک بنی اسرائیل کے لئے خداپرستی کی ترویج اور تبلیغ کی لیکن ظالم فرعون اپنے ظلم و ستم ڈھانے پر باقی رہا_ بنی اسرائیل کی ذلیل و مظلوم قوم کی تمام امیدیں جناب موسی (ع) سے وابستہ تھیں اور آپ بنی اسرائیل کے متعلق راہ حل سوچ رہے تھے تا کہ اس محروم اور مظلوم قوم کو ہمیشہ کے لئے اس زمانہ کے طاغوت و ظالم سے نجات دیں_

اس زمانہ کے سخت حالات میںاس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل کی قوم کو مصر سے نکال لیا جائے اور انھیں طاغوت زمانہ کے قید و بند سے آزاد کرایا جائے چنانچہ حضرت موسی (ع) نے خدا کے حکم سے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا اور آپ نے بنی اسرائیل کے سرداروں سے بھی ہجرت کرنے کے بارے میں مشورہ کیا انھوں نے آپ کے اس ارادہ سے اتفاق کیا اور مخفی طور سے انھوں نے اپنی زندگی کے اسباب و اثاثے کو اکٹھا کیا اور ہجرت کرنے کے لئے تیار ہوگئے_

بنی اسرائیل ایک تاریک رات میں بغیر اطلاع دیئےضرت موسی (ع) کی رہبری میں مصر سے نکل پڑے اور جلدی سے صحرائے سینا کی طرف بڑعنے لگے ہزاروں مرد اور عورتیں، چھوٹے بڑے، سوار اور پیادہ تیزی سے تمام رات اور دوسرے دن راستہ طے کرتے رہے جب صبح کے وقت فرعونی جاگے اور اپنے کار و بار پر گئے تو کافی انتظار کے بعد بھی بنی اسرائیل مزدور کام پر حاضر نہ ہوئے یہ خبر شہر میں پھیل گئی لوگ ان کی جستجو میں نکلے بعد میں معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کے وقت شہر سے نکل کر بھاگ گئے ہیں_

یہ خبر فرعون تک پہونچی اس نے ایک لشکر کے ہمراہ بنی اسرائیل کو پکڑنے کے لئے ان کام پیچھا کیا_ حضرت موسی (ع) کے حکم سے بنی اسرائیل دریا کی طرف جلدی میں بڑھ رہے تھے اور فرعون


اور اس کا لشکر ان کا پیچھا کر رہا تھا جب بنی اسرائیل دریا کے نزدیک پہونچے تو راستہ کو بند پایا اور فرعون کا لشکر ان کے پیچھے آرہا تھا_

فرعون کے لشکر کے نزدیک پہونچنے سے بنی اسرائیل وحشت زدہ اور مضطرب ہوگئے خدا نے بند راستے کو ان کے لئے کھول دیا اور جناب موسی (ع) کو حکم دیا کہ اپنے عصا کو دریا پر ماریں حضرت موسی (ع) نے اپنا عصا دریا پر مارا دریا شگافتہ ہوگیا اور بارہ وسیع راستے دریا کے وسط میں بن گئے بنی اسرائیل دریا میں داخل ہوگئے جب بنی اسرائیل کا آخری فرد دریا سے باہر نکل آیا اور فرعون کے لشکر کا آ خری فرد دریا میں داخل ہوگیا تو اللہ تعالی کے حکم سے یکدم پانی آپس میں مل گیا فرعون اور اس کے تمام لشکر کو دریا نے اپن لیپٹ میں لے لیا فرعون اور اس کے تمام لشکر کو غرق کردیا اور رہتی دنیا کے لئے فرعون کی ذلت و شکست عبرت کے طور پر تاریخ میں باقی رہ گئی وہ اس کے علاوہ آخرت میں اپنے مظالم کی سزا پائے گا_

بنی اسرائیل اس کا دور سے تماشا دیکھ رہے تھے اور فرعونیوں کی ہلاکت سے خوشحال تھے اور اپنے آپ کو فرعونیوں کے قید و بند سے آزاد پا رہے تھے اب وہ اللہ تعالی کے دستور اور اس کے قوانین کے مطابق ایک جدید معاشرہ تشکیل دینے کے پابند تھے لیکن اس وقت تک ان کے لئے نہ کوئی قانون اور نہ ہی عبادات کی رسومات موجود تھیں اس لئے کہ ابھی تک نہ توان کے لئے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی تھی اور نہ ہی کوئی احکام و قوانین نازل ہوئے تھے_


بنی اسرائیل کی طرف واپس لوٹ آئیں_

حضرت موسی (ع) نے یہ قصہ بنی اسرائیل سے بیان کیا اور اپنے بھائی جناب ہارون کو اپنا جانشین مقرر کیا جناب موسی (ع) بنی اسرائیل کی حکومت اور انتظام کو ان کے سپرد کر کے کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے_ آپ تیس دن تک وہاں راز و نیاز اور عبادت میں مشغول رہے اور اللہ تعالی کے حکم سے مزید دس دن رہے_

آپ نے اللہ تعالی کی طرف سے دین یہود کے احکام و قوانین کو لوح کی صورت میں حاصل کیا اور چالیس دن ختم ہونے کے بعد بنی اسرائیل کے پاس واپس لوٹ آئے_ ان الواح کو کتابی صورت میں جمع کیا کہ جسے توریت کا نام دیا گیا (اگر چہ اب یہ اصلی توریت باقی نہیں رہی اور اب ایک تحریف شدہ توریت موجود ہے) جب بنی اسرائیل صاحب کتاب ہوگئے تو ان کواستقلال حاصل ہوگیا اور انھیں اجتماعی و مذہبی تشخیص حاصل ہو اب ان کے پاس قانون موجود تھا فداکار و آگاہ رہبر حضرت موسی (ع) جیسا موجود تھا کہ جسے اللہ تعالی کی طرف سے رہبری اور ولایت دی گئی تھی_

خداوند عالم نے ان کے لئے د نیا و آخرت کی ترقی کے اسباب مہیا کردیئےھے لیکن افسوس کہ انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور بہانے و خود خواہی او رناشکری کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ ایک د ن گوسالہ پرستی شروع کردی اور کبھی حضرت موسی علیہ السلام سے کہتے کہ ہمیں اللہ تعالی کامشاہدہ کراؤ تا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں حالانکہ خداوند عالم جسم و جسمانیت نہیں رکھتا کہ جسے آنکھوں سے دیکھا جاسکے_

ایک دن حضرت موسی (ع) سے کہتے کہ ہمارے لئے بھونے ہوئے مرغے آسمان سے لاکر دو_ ایک دن کہتے کہ ہم مرغ اور کباب نہیں چاہتے بلکہ ہم دال اور پیاز چاہتے ہیں_

الحاصل بنی اسرائیل اعتراض کرتے اور اپنے پیغمبر و رہبر کے احکام و دستور سے سرپیچی اور بے اعتنائی کرتے اس ناشکری اور بلاوجہ اعتراض کی وجہ سے چالیس سال تک انھیں بیابانوں میں سرگرداں کیا_


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱) ___ ابتداء میں حضرت موسی (ع) کی ذمہ داری کیا تھی، آپ نے اس ذمہ داری کو کس طرح ادا کیا اور فرعون سے کس طرح کا سلوک کیا؟

۲)___ حضرت موسی (ع) کا معجزہ کیا تھا، فرعون کے نزدیک کیوں یہ معجزہ ظاہر کیا؟

۳)___ بنی اسرائیل کی قوم کو نجات دینے کے لئے جناب موسی (ع) نے کیا سوچا اور کس طرح آنحضرت نے بنی اسرائیل کی قوم کو فرعون سے نجات دلوائی؟

۴)___ بنی اسرائیل دریا سے کیسے گذرے، دریا نے فرعون اور اس کے لشکر کو کس طرح ڈوبایا؟

۵)___ حضرت موسی (ع) کی کتاب کا کیا نام ہے، ان الواح کو حضرت موسی (ع) نے کہاں سے اور کتنی مدت کی عبادت اور راز و نیاز کے بعد اللہ تعالی سے حاصل کیا تھا؟

۶)___ بنی اسرائیل کس وجہ سے چالیس سال تک بیابانوں میں سرگرداں رہے؟

۷)___ ہم مسلمانوں کا حضرت موسی (ع) اور دوسرے انبیاء کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟


دین عیسی علیہ السلام

عیسوی اور نصرانی دین کو حضرت عیسی علیہ السلام خداوند عالم کی طرف سے لائے حضرت عیسی (ع) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ایک تھے پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت سے ۵۷۰ سال پہلے بیت اللّحم جو فلسطین کے شہروں میں سے ایک شہر ہے متولد ہوئے آپ کی والدہ حضرت مریم (ع) اللہ تعالی کے نیک بندوں میں سے ایک اور دنیا کی عورتوں میں سے ایک ممتاز خاتون تھیں_ آپ بیت المقدس میں دن رات اللہ تعالی کی نماز اور عبادت میں مشغول رہتیں_

آپ ایک لائق، پاکدامن اور پرہیزگار خاتون تھیں آپ کے بیٹے حضرت عیسی علیہ السلام نے گہوارہ میں لوگوں سے بات کی، اپنی نبوت و پیغمبری کی خبر دری اور کہا:

''میں اللہ کا بندہ ہوں خداوند عالم نے مجھے پیغمبر قرار دیا ہے اور مجھے نماز قائم کرنے اور زکوة دینے کے لئے کہا ہے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک اور مہربان بنوں، اللہ نہیں چاہتا کہ میں ظالم، شقی اور بدبخت بنوں''

آپ نے بچپن کا زمانہ پاکیزگی سے کاٹا اور جب سن بلوغ تک پہونچے تو آپ کو رسمی طور سے حکم دیا گیا کہ لوگوں کی ہدایت اور تبلیغ کریں حضرت عیسی علیہ السلام یہودیوں کے درمیان مبعوث ہوئے اور یہودیوں کے احکام و قوانین اور توریت کی ترویج کرتے تھے اور ان لغویات و فضولیات اور خرافات سے جویہودیوں کے دین میں جاہلوں و مفسدوں کی طرف سے داخل کردی گئی تھیں مقابلہ کیا کرتے تھے، اصلی توریت لوگوں کے سامنے پڑھا کرتے تھے اور


اس کی تفسیر و معنی بیان کیا کرتے تھے اور اس کے علاوہ اپنی کتاب سے جو آپ پر نازل ہوئی تھی جس کا نام انجیل تھا وہ بھی لوگوں کے سامنے پڑھا کرتے تھے_

حضرت موسی (ع) کی آسمانی کتاب توریت، زمانے کی طوالت اور گوناگون واقعات کے پیش آنے کی وجہ سے تحریف کردی گئی اور ناروا قسم کے افکار و عادات دین کے نام پر یہودی قوم کے درمیان رائج ہوگئے حضرت عیسی علیہ السلام کی کوشش ہوتی تھی کہ وہی اصلی حضرت موسی کے صحیح احکام و قوانین کی ترویج و تبلیغ کریں اور ان خرافات و اوہام باطلہ کا مقابلہ کریں جو موسی (ع) کے دین میں د اخل ہوگئے تھے_

حضرت عیسی علیہ السلام اپنے کو پیغمبر خدا ثابت کرنے کے لئے اذن الہی سے لوگوں کو معجزے دکھلاتے تھے، مردہ کو زندہ کرتے تھے، مادر زاد اندھوں کو بینا کرتے تھے، لولے اور مفلوج کو شفا دیتے تھے، مٹی سے پرندہ کا مجسمہ بناتے اس میں پھونک مارتے وہ مجسمہ زندہ ہوجاتا اور پر مار کر ہوا میں پرواز کر جاتا تھا اور لوگ جو کچھ کھاتے اور گھر میں ذخیرہ کرتے اس کی خبر دیتے تھے_

حضرت عیسی (ع) بہت ہی سعی و کوشش سے اپنی رسالت کے ادا کرنے میں مشغول تھے پند و نصیحت اور موعظہ بیان کرتے تھے دیہاتوں اور شہروں میں جاتے اور لوگوں کو نہایت صبر و حوصلہ سے ہدایت کرتھے تھے اس کے نتیجہ میں ایک گروہ آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کو دعوت کو قبول کیا اور آہستہ آہستہ ان میں اضافہ ہوتا گیا_ آپ پر ایمان لانے والوں میں سے ایک گروہ بہت سخت آپ کا معتقد تھا ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا اور نہایت خلوص و فداکاری سے آپ کی حمایت اور اطاعت کرتا تھا_

یہ بارہ آدمی تھے کہ جن کو حواریيّن کا لقب دیا گیا یہی بارہ آدمی حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد اطراف عالم میں گئے اور جناب عیسی علیہ السلام کے دین کو پھیلا یا حضرت عیسی علیہ السلام بہت


سادہ زندگی بسر کرتے تھے، سادہ لباس پہنتے اور بہت تھوڑی و سادہ غذا کھاتے تھے، آپ مظلوموں کی مدد کرتے اور محروم طبقہ پر بہت مہربان تھے لیکن ظالموں اور مستکبروں کے ساتھ سخت ناروا سلوک کرتے اور ان سے مقابلہ کیا کرتے تھے، کمزوروں کے ساتھ بیٹھتے اور ان سے دلسوزی و خلوص سے پیش آتے تھے اور لوگوں کو بھی مہربان و احسان کرنے کی دعوت دیتے تھے_

آپ متواضع و خوش اخلاق تھے اور اپنے حوايّین سے بھی کہتے تھے کہ لوگوں سے مہربان اور متواضع بنین آپ نے ایک دن اپنے حوایيّن سے فرمایا کہ:

''تم سے میری ایک خواہش ہے_ انھوں نے جواب دیا کہ آپ بیان کیجیئےپ جو کچھ چاہیں گے ہم اسے پورا کریں گے_ کیا تم بالکل نافرمانی نہیں کروگے؟ ہرگز نافرمانی اور سرکشی نہیں کریں گے_ آپ نے فرمایا پس یہاں آؤ اور بیٹھ جاؤ_ جب تمام لوگ بیٹھ چکے تو آپ نے پانی کا برتن لیا اور فرمایا کہ تم مجھے اجازت دو کہ میں تمھارے پاؤں دھوؤں_

آپ نے نہایت تواضع سے تمام حواريّین کے پاؤں دھوئے حواریيّن نے کہا کہ اس کام کو بجالانا ہمیں لائق اور سزاوار تھا حق تو یہ تھا کہ ہم آپ کے پاؤں دھوتے_ آپ نے فرمایا نہیں ہیں اس کام کے بجالانے کا حق دار اور سزاوار ہوں علماء اور دانشمندوں کو چاہیئے کہ وہ لوگوں کے سامنے تواضع بجالائیں ان کی خدمت کریں اور ان کی پلیدی و کثافت کو دور کریں_ میں نے تمھارے پاؤں دھوئے ہیں تا کہ تم اور دوسرے علماء اسی طرح لوگوں کے سامنے تواضع کریں اور سمجھ لیں کہ دین و دانش تواضع و فروتنی سے ترویج پاتا ہے نہ کہ تکبّر


اور خود خواہی سے جس طرح گھاس اور نباتات نرم زمین میں سے اگتے ہیں دین اور دانش بھی پاک اور متواضع سے پرورش پاتا ہے''

اللہ تعالی کے نزدیک اس قسم کی پسندیدہ رفتار کی وجہ سے آپ کے مریدوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا اور آپ کی قدرت و نفوذ میں بھی اضافہ ہو رہا تھا_ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہودیوں کے بعض علماء جو خود خواہ اور متکبر تھے حضرت عیسی علیہ السلام کی قدرت و نفوذ سے وحشت زدہ ہوچکے تھے اور اپنے منافع، جاہ و جلال اور مقام کو خطرے میں دیکھ رہے تھے لہذا انھوں نے بیت المقدس میں ایک جلسہ کیا اور جناب عیسی علیہ السلام کو جو اللہ تعالی کے پاک و بزرگ پیغمبر تھے جادوگر و فتنہ پرداز انسان قرار دیا اور شہر کے حاکم کو آپ کے خلاف ابھارا_

حضرت عیسی علیہ السلام کی جان خطرے میں پڑگئی آپ نے مجبور ہو کر تبلیغ کو مخفی طور پر انجام دینا شروع کیا_ بہت سے عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بعض یہودیوں کے واسطے سے سولی پر چڑھایا گیا ہے اسی لئے سولی کی صورت و شکل ان کے نزدیک ایک مقدس شکل شمار ہوتی ہے لیکن عیسائی کا دوسرا گروہ حضرت عیسی (ع) کے سولی پر چڑھائے جانے کو قبول نہیں کرتا وہ کہتے ہیں کہ:

'' وہ حضرت عیسی (ع) کو سولی پر چڑھانا تو چاہتے تھے لیکن ایک اور آدمی کو جو حضرت عیسی (ع) کے ہمشکل و ہم صورت تھا پکڑا اور اسے سولی پر غلطی سے چڑھا دیا لہذا حضرت عیسی قتل ہونے سے بچ گئے''

قرآن مجید بھی اسی عقیدہ و نظریہ کی تائید کرتا ہے کہ حضرت عیسی (ع) کو سولی پر نہیں چڑھایا گیا_ عیسائیوں کا ایک گروہ حضرت عیسی (ع) کو اللہ تعالی کا فرزند مانتا ہے اور کہتا ہے کہ حضرت عیسی (ع) خدا کے بیٹے تھے سولی پر چڑھنے کو اس لئے اختیار کیا تا کہ گناہگاروں کو نجات دلواسکیں لیکن


قرآن مجید اس وہم و نظریہ کی رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ:

''حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے بندہ تھے وہ خدا کے بیٹانہ تھے کیونکہ تو خدا کا کوئی بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے وہ ایک ہے کوئی اس کامثل اور شریک نہیں ہے''

قرآن کہتا ہے:

'' ہر انسان کی سعادت و نجات اس کے اعمال پر مبنی ہوا کرتی ہے اور کوئی بھی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھاتا''

قرآن کہتا ہے کہ:

''حضرت عیسی علیہ السلام لوگوں کو نجات دلانے والے میں لیکن نہ موہوم نظریہ کے مطابق بلکہ اس بناپر کہ وہ اللہ کے پیغمبر، لوگوں کے ہمدرد و راہنما اور رہبر ہیں جو شخص بھی آپ کے نجات دینے والے دستوروں پر عمل کرے گا وہ نجات پائے گا اور اللہ تعالی کی بخشش و مغفرت اور رحمت کا مستحق ہوگا''_

حضرت عیسی علیہ السلام کا دین اور آپ کی فرمائشےات بھی لوگوں کی ناجائز مداخلت کی وجہ سے تبدیل کردی گئیں_ کئی ایک مذہب اور فرقے اس دین میں پیدا ہوگئے، اصلی اور واقعی انجیل اس وقت نہیں ہے البتہ انجیل کے نام پر کئی متضاد کتابیں پائی جاتی ہیں_

عیسائیوں کے اہم فرقے کہ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے کا تو لیک، ارتدوکس اور پروتستان ہیں_

قرآن مجید کی آیت:

قال انّی عبدالله اتانی الکتاب و جعلنی نبیا و جعلنی مبارکا این ما کنت و اوصانی بالصّلوة و الزّکوة مادمت حيّا و بّراً بوالدتی و لم یجعلنی جبّاراً شقيّاً

حضرت عیسی علیہ السلام نے کہ : میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں مجھے نماز و زکوة کی وصیت کی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بد نصیب نہیں بنایا ہے''(۱)

____________________

۱) سورہ مریم آیت ۳۰ تا ۳۲


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجیئے

۱)___ حضرت عیسی (ع) کون ہیں، کس سال اور کہاں پیدا ہوئے؟

۲)___ حضرت عیسی (ع) کی ماں کون ہیں اور وہ کس طرح کی عورت تھیں؟

۳)___ حضرت عیسی (ع) نے لوگوں سے گہوارہ میں کیا کہا؟

۴)___ حضرت عیسی (ع) کس کتاب اور کس دین کی ترویج کرتے تھے؟

۵)___ حضرت عیسی (ع) کس کتاب اور کس دین کی ترویج کرتے تھے؟

۶)___ حضرت عیسی (ع) کے ان پیروکاروں کو جو بہت مخلص اور مومن تھے کس نام سے یاد کیا جاتا ہے؟

۷)___ حضرت عیسی (ع) نے اپنے حواريّین کی تواضع کا درس کس طرح دیا اور اس کے بعد حواریيّن سے کیا فرمایا؟

۸)___ یہودیوں کے بعض علماء نے حضرت عیسی (ع) کی کیوں مخالفت کی اور اس کا انجام کیا ہوا؟

۹)___ حضرت عیسی (ع) کے سولی پر چڑھائے جانے یا نہ چڑھائے جانے کے متعلق قرآن کا کیا نظریہ ہے؟

۱۰)___ قرآن مجید حضرت عیسی (ع) کی کون سی صفات اور خصوصیات کو بیان کرتا ہے؟


قرآن اللہ تعالی کی ہمیشہ رہنے والی کتاب ہے

ہم مسلمانوں کی دینی کتاب قرآن مجید ہے جو اللہ تعالی کی طرف پیغمبر اسلام(ص) پر انسانوں کی تربیت اور راہنمائی کے لئے نازل ہوئی ہے قرآن مجید کے ایک سو چودہ سورے ہیں_ جانتے ہو کہ کتنی آیات کی مقدار کا نام سورہ ہے؟

جو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہو اور پھر آگے اس کے بسم اللہ الرحمن الرحیم آجائے اس کو سورہ کہتے ہیں اور یہ بھی معلوم رہے کہ سوائے سورہ توبہ کے کہ جس کا آغاز اس معاہدہ کے ختم کردینے کے اعلان سے ہوا کہ جو مشرکین سے کر رکھا تھا باقی تمام سورورں کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتی ہے_

سب سے چھوٹا سورہ کہ جس کی صرف چار آئتیں ہیں سورہ کوثر ہے اور سب سے بڑا سورہ، سورہ بقرہ ہے کہ جس کی ۲۸۶ آئتیں ہیں، سب سے پہلا سورہ جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوا وہ سورہ علق ہے اور آخری سورہ جو آنحضرت (ص) پر نازل ہو اور وہ سورہ نصر ہے_

قرآن مجید کی آئتیں پیغمبر اسلام(ص) پر ایکدم نازل نہیں ہوئیں بلکہ آپ کی پیغمبری کے تیس سال کے عرصے میں مختلف مناسبتوں اور حوادث کے لحاظ سے تدریجاً نازل ہوئی ہیں مثلاً کبھی صرف ایک آیت، کبھی کئی آئتیں اور کبھی ایک کامل سورہ نازل ہوا ہے_ جانتے ہو کہ ہمارے پیغمبر اسلام(ص) تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں لوگوں کی ہدایت کرتے رہے ہیں پس جو سورے اس زمانہ میں آپ پر نازل ہوئے انھیں مکی سورے کہا جاتا ہے اور وہ سورے


جو پیغمبر اسلام(ص) کے مدینہ کے دس سال کے عرصے میں نازل ہوئے ہیں انھیں مدنی سورے کہاجاتا ہے_

قرآن مجید جبرئیل کے ذریعہ نازل ہوتا تھا جناب جبرئیل عین ان الفاظ اور کلمات کو جو قرآن مجید کے ہیں پیغمبر اسلام(ص) کے پاس لے کر آتے تھے جب کوئی آیت نازل ہوتی تو پیغمبر اسلام(ص) اسے لوگوں کے سامنے پڑھ دیتے اور ایک جماعت جو لکھنا جانتی تھی بعینہ ا س آیت کو لکھ لیتی اور اسے اکٹھا کرتی رہتی تھی_

ان میں سے ایک حضرت علی علیہ السلام تھے کہ قرآن کی تمام آیات کو بڑی دقّت سے اور اسی ترتیب سے کہ جس طرح نازل ہوئی تھیں لکھ لیتے تھے اور اگر کبھی آپ کسی آیت کے نازل ہونے کے وقت موجودنہ ہوتے تھے تو جب آپ حاضر ہوتے پیغمبر اسلام(ص) آپ کے لئے پڑھ دیتے تھے_ بہت سے مسلمانوں نے اس وقت تک جو آیات نازل ہوچکی تھیں حفظ کرلیا تھا اور انھیں حافظ قرآن کہا جاتا تھا البتہ مسلمانوں ک ایک گروہ قرآن کے بعض حصہ کا حافظ تھا_

پیغمبر اسلام (ص) قرآن کے حفظ کرنے کی تشویق و ترغیب دیا کرتے تھے یہاں تک کہ قرآن کا حفظ کرنا مسلمانوں میں ایک قابل فخر اور صاحب امتیاز شمار ہونے لگا تھا_ حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام (ص) کی وفات کے بعد جس طرح قرآں لکھا تھا سب کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور اس کو اسی نزول ترتیب سے جمع کر کے منظم اور محفوظ کرلیا تھا_ پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے چند مہینے کے بعد کہا جانے لگا کہ اگر قرآں کے حافظ تدریجاً مرگئے یا جنگوں میں شہید ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

لہذا یہ طے پایا کہ لکھے ہوئے قرآن کی حفاظت کی جائے اس غرض کے لئے جناب ابوبکر کے حکم کے مطابق کئی ایک افراد کو قرآن کے مختلف نسخوں کو اکٹھا کرنے کا حکم دیا گیا


تا کہ ان نسخوں کو ایک دوسروے سے ملا کر اور قرآن کے حافظوں سے تطبیق کر کے ایک نسخہ قرآن مجید کا ترتیب دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ایسے کئی ایک نسخے مرتب کئے گئے جو مورد اعتماد تھے اور پھر انھیں سے دوسرے قرآن مجید لکھ کر تمام ممالک اسلامی میں بھیج دیئے گئے_

یہ بھی آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اس زمانہ میں عربی رسم الخط میں نقطے اور اعراب کا لگانا مرسوم نہ تھا یہ تمام قرآن مجید بغیر نقطے اور اعراب کے لکھے گئے تھے_ تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں اسلام کافی پھیل چکا تھا قرآن کا بغیر نقطے اور اعراب کا ہونا اور لوگوں میں لہجہ و غیرہ کے اختلاف کی وجہ سے بعض قرآن کے کلمات میں اختلاف پیدا ہوگیا تھا لہذا تیسرے خلیفہ نے پیغمبر(ص) کے بعض اصحاب کے مشورے سے حکم دیا کہ لکھنے والی جماعت میں سے ایک جماعت آیات اور قرآن مجید کے سوروں کو پیغمبر(ص) کے لہجہ میں جو حجازی لہجہ تھا تمام موجودہ نسخوں سے لکھیں اور قرآن مجید کے حفاظ سے مل کر صرف ایک کامل نسخہ مرتب کریں تا کہ اس نسخہ کو رسمی قرار دیتے ہوئے قابل اعتماد قرار دیا جائے اور پھر اسی نسخہ سے متعدد قرآن مجید لکھ کر سرزمین اسلام کے اہم مراکز کی طرف روانہ کردیئے گئے لیکن یہ نسخہ بھی بغیر اعراب اورنقطوں کے مرتب کیا گیا تھا کہ جس کا پڑھا جانا مشکل تھا ۵۳_ ۵۰ ھ میں قراں پر اعراب ڈال گئے اس کے بعد عبدالملک کے زمانہ میں قرآن مجید پر نقطے ڈالے گئے_

مسلمان تمام زمانوں میں قرآن مجید کی بہت اہمیت اور فداکاری سے سابقہ زمانے کی طرح حفاظت کرتے رہے اور یہ موجودہ قرآن مجید اسی اصلی نسخہ سے لیا گیا ہے اور بغیر کسی کمی و زیارتی کے ہم تک پہونچا ہے_ اس عظیم کتاب میں ارادہ الہی، مسلمانوں کی ہمّت و فداکاری سے نہ تو معمولی تغیر ہو اور نہ ہی تحریف ہوئی_

قرآن مجید ایک کامل و جامع کتاب ہے جو کچھ انسان کی تربیت اورہدایت کے لئے


ضروری ہے وہ اس میں بطور کلّی موجود ہے، جو انسان قرآن کے دستور و احکام پر عمل کرے گا قرآن اس کے لئے دنیاوری اور اخروی سعادت کا ضامن ہے_ جو کچھ قرآن مجید میں موجود ہے اسے بطور فہرست یوں بیان کیا جاسکتا ہے:

۱)____ خلقت و پیدائشے کے اسرار و رموز میں تفكّر اور تدبّر کی دعوت_

۲)___ خداشناسی، صفات خدا، شرک سے مقابلہ، معاد، جنّت و جہنّم کی تعریف، نبوت، امامت، شفاعت، ملائکہ اور پیغمبروں کے معجزا ت کا بیان_

۳)___ پیغمبروں کی دعوت کا طریقہ، لوگوں کی ہدایت اور ارشاد کرنے کے طریقوں میں پیغمبروں کی جد و جہد و فداکاری کا ذکر، پیغمبروں کا ظالموں و طاغتوں سے طویل مقابلہ، مستکبرین کے حالات اور ان کی تاریخ_

۴)___ اسلام کی طرف دعوت اور شرک و نفاق سے مقابلہ_

۵)___ عبادات اور احکام کا بیان جیسے نماز، روزہ، وضو، غسل، تیمّم، حج و ز کوة اور جہاد_

۶)___اجتماعی احکام اور قوانین_ _

۷)___ اچّھے و برے اخلاق اور نیک اخلاق اپنا نے کی دعوت_

اب جب کہ اللہ تعالی کی خاص عنایت،مسلمانوں کی کوشش و فداکاری اور اس کی حفاظت سے یہ عظیم کتاب ہم تک بغیر کسی تغیر و تبدیلی کے پہونچی ہے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اللہ کے اس مہم پیغام کی قدر کریں اور اس کی حفاظت کریں، اس کے مطالب کے سمجھنے اور اس کے دستورات، احکام و رہنمائی پر عمل کرنے میں کوشش کریں اور کوشش کریں کہ اسے درست و صحیح پڑھیں اور اس کے علوم سے بہرہ مند و مستفید ہوں_


قرآن کے حیات بخش و نورانی آئین کو اپنے معاشرے میں بہتر طور سے اوردقّت سے جاری کریں اور اس پر عمل کریں تا کہ اس دنیا میں سربلندی و عزت سے زندگی بسر کرسکیں اور آخرت میں ایک انسان کے بلندترین مقام تک پہونچ سکیں اور اللہ تعالی کی رضایت اور اجر عظیم سے نوازے جائیں_

قرآن مجید کی آیت:

( انّ هذا القرآن یهدی للّتی هی اقوم و یبشر المومنین الّذین یعملون الصّالحات انّ لهم اجر کبیرا ) (۱)

''بیشک یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان صاحبان ایمان کو بشارت دیتا ہے جو نیک اعمال بجالاتے ہیں کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے''

____________________

۱) سورہ اسراء آیت ۹


سوالات سوچیئے اور جواب دیجیئے

۱)___ قرآن کی نظر میں انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

۲)___ کتنی آئتوں کو سورہ کہا جاتا ہے اور قرآن کے کتنے سورے ہیں؟

۳)___ قرآن کا کون سا سورہ بسم اللہ سے شروع نہیں ہوتا اس سورہ کی ابتداء کی بات سے ہوتی ہے؟

۴)___ سب سے چھوٹا، سب سے بڑا اور سب سے آخری سورہ جو پیغمبر اسلام (ص) پر نازل ہوا کون سا ہے؟

۵)___ مكّی اور مدنی کن سوروں کو کہا جاتا ہے؟

۶)___ جب قرآن مجید کی آئتیں نازل ہوتی تھیں تو مسلمان اسے کس طرح محفوظ کرتے تھے؟

۷)___ پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے اس قرآن کو کہ جسے بڑی محنت و دقّت سے لکھا تھا کیسے اور کس ترتیب سے جمع کیا تھا؟

۸)___ تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں اصلی قرآن کے لہجے کو باقی رکھنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے تھے؟

۹)___ قرآن کے مطالب کو کتنی اقسام میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے؟ ان قسموں کو بیان کیجئے؟

۱۰)___ ہم مسلمانوں کا قرآن کے متعلق کیا فریضہ ہے اور اس کے سمجھنے اور حفاظت میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟

۱۱)___ قرآن لوگوں کو کس طرح بلاتا ہے اور کن کن لوگوں کو خوشخبری دیتا ہے؟


اگر نعمت کی قدرت نہ کریں

کیا تم نے یمن کا نام سنا ہے؟ جانتے ہو کہ یہ کہاں واقع ہے؟ سابقہ زمانے میں ''سبا'' نامی قوم اس شہر اور سرزمین میں آباد تھی یہ بہت خوبصورت اور آباد شہر تھا اس کے اطراف میں باغ ہی باغ تھے کہ جس میں مختلف اقسام کے درخت پائے جاتے تھے جیسے سیب، گلابی، زرد آلود، البالو، انجیر، انگور و انار اور مالٹے و غیرہ کے درخت تھے ان کے علاوہ دوسرے سرسبز اور خوبصورت درخت بھی موجود تھے_

صاف و شفاف پانی کی نہریں ان باغات اور درختوں سے گذرتی تھیں_ مختلف قسم کے میوے، سرخ سیب، زرد گلابی، سرخ البالو، بڑے اور صاف انگور کے گچھّے، بڑے انار اور سبز و ترش ٹماٹر تھے جو دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا جیسے چھوٹے بڑے بجلی کے قمقمے درختوں کی شاخوں پر لٹک رہے ہوں_

جب نسیم چلتی تو درختوں کی شاخوں او رٹہنیوں سے ٹکراتی ہوئی شہر کی فضا کو اس طرح معطر کردیتی کہ گویا بہشت کی زیبائی اور خوشبو یاد آنے لگتی ہو یہ تمام خوبصورتی اور یہ پھول و پھل یہ درخت اور ان کے نہاں تمام کی تمام پروردگار کی قدرت نمائی تھی_

قوم سبا ان تمام خوشنما مناظر کے دیکھنے کے بعد کیا کہتی تھی؟ اہل قوم خدا کی ان تمام نعمتوں اور الطاف کا کس طرح شکریہ ادا کرتے تھے اور کیا کہتے تھے؟ بہترین مکانات میں زندگی بسر کرتے تھے اور انواع و اقسام کی نعمتوں سے استفادہ کرتے تھے_


اطراف کے دیہات بھی آباد اور سرسبز تھے گویا پہاڑ کے دامن میں پھولوں، عطر اور سبزے کا بیابان موجود ہے یہ نعمتیں اور آبادی تمام کی تمام زیادہ پانی اور زخیز زمین کی برکت اور لوگوں کی محنت و کوشش سے تھیں_ سبا کی قوم کا شتکاری میں ماہر تھی پہاڑوں میں بہت بڑے بند باندھ رکھے تھے کہ جس میں بارش و غیرہ کے پانی کو ذخیرہ کرلیتے تھے جو دریا کی صورت میں موجزن نظر آتا تھا_

زراعت کے موسم میں دریاؤں کے پانی کو استعمال کرتے تھے اور اپنے کھیتوں اور باغوں کو اس سے سیراب کرتے تھے، سبا کی قوم محنتی، دیانت دار اور مہربان قسم کے لوگ تھے، عدالت، فداکاری اور چشم پوشی سے کام لیتے تھے، خدائے مہربان کی پرستش کرتے تھے اور نعمت سے اٹی ہوئی اور سرسبز زمین پر خوشی ونشاظ سے زندگی بسر کرتے تھے اور خداوند عالم کا اس نعمت پر شکریہ ادا کرتے تھے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس قوم کا ایک گروہ گناہ و معصیت اور ہوس پرستی میں مشغول تھا وہ آہستہ آہستہ خدا کو فراموش کرچکا تھا اور اس کی نعمتوں کا کفران کرتا تھا گویا وہ یوں سمجھتے تھے کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہتے والی ہیں اور قیامت و آ خرت آنے والی نہیں ہے_

دوسرے لوگ اپنے کاموں میں مشغول تھے ان سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے اور انھیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں کرتے تھے ان کے درمیان جو پیغمبر تھے وہ دن رات لوگوں کی ہدایت میں کوشاں تھے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور فرماتے تھے:

'' لوگو ان تمام نعمتوں کی قدر کرو، خدا کے احکام کی پیروری کرو تقوی اختیار کرو، میری رہبری و رہنمائی کی اطاعت و پیروی کرو، عادل و صحیح انسان بنو_ لوگو اگر تم نے عدالت و خداپرستی سے روگردانی کی اور اپنے کو ہوس پرستی، شکم پر دری اور گناہ سے


پر کردیا تو اللہ تعالی کا تم پر غضب ہوگا اور تمھیں ان نعمتوں سے محروم کردے گا_

لوگو تم صرف کھانے اور پینے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ہو بلکہ تمھاری خلقت میں ایک نہایت اعلی غرض مقصود ہے اپنی خلقت کی غرض کو نہ بھولو، عیش و آرام و شکم پروری اور گناہ سے پرہیز کرو تا کہ دنیا و آخرت میں کامیاب رہو، انسانی اخلاق کو اپناؤ، بے کاری و سستی اور تجاوزگری سے اپنے کو رو کو تا کہ خداوند عالم پر نعمتوں کو زیادہ کرے اور آخرت میں ان نعمتوں سے بھی بہتر تھیں عنایت فرمائے_

لوگو گناہ گاروں کو گناہ و معصیت سے کیوں نہیں روکتے؟ اور اللہ تعالی کے دین کی حفاظت کیوں نہیں کرتے؟ اور گناہگاروں کے سامنے غضبناک کیوں نہیں ہوتے؟

لیکن بہت افسوس کہ وہ لوگ گناہوں سے دستبردار نہ ہوئے اور نہ دوسرے لوگ ان گناہگاروں کے خلاف کوئی کار روائی کرتے تھے، ان کے دل سخت و تاریک ہوچکے تھے پیغمبری کی حق بات ان میں اثر نہیں کرتی تھی، ان کے اصلاح کی امید ختم ہوگئی تھی یہاں تک کہ ان پر خدا کا غضب نازل ہوا اور خدا و رسول کے ا حکام کی نافرمانی کا مزہ چکھا اور آنے والوں کے لئے عبرت بنے_

اللہ تعالی کے حکم سے دریا کا کنارہ ٹوٹ گیا ایک خطرناک و عظیم سیلاب آیا اور ادھر پہاڑ پھٹا اس نے تمام باغات او رگھروں کو ویران کردیا اور جو کچھ اس کے سامنے آیا اسے بہا کے لے گیا اس خوبصرت و پر نعمت شہر اور ان عظیم الشان عمارتوں سے سوائے ویرانے کے جو خاک اور پتھروں کے اندر دب چکی تھیں کچھ باقی نہ رہا صرف ان کا قصہ و نام باقی رہ گیا تا کہ آئندہ نسلوں کے لئے اللہ تعالی کے غضب اور قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دوسروں کے


لئے بیدار ہونے کا درس عبرت باقی رہ جائے_ سبا کی قوم نے اپنی ناشکری و کفران نعمت کی سزا دنیا میں دیکھ لی اور ہر ناشکرے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے_

اب ذرا ہمیں بھی سوچنا چاہیئے کہ ہم اللہ تعالی کی نعمتوں کا کس طرح شکریہ ادا کر رہے ہیں، آیا ہم خداوند عالم کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں؟ اللہ کی نعمتوں کو کس طرح خرچ کرتے ہیں کیا اسراف اور فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہیں؟ کیا ہم خدا کی خوشنودی کے لئے اللہ کی مخلوق او راپنے وطن کی خدمت کرتے ہیں؟ کس طرح ہمیں دنیا کے محروم اور مستضعف طبقہ کی خدمت کرنی چاہیئے اور کس طرح دو بڑے واجبات یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنا چاہیئے ؟

آیت قرآن:

( لقد کان لسبا فی مسکنهم آیة جنّتان عن یمین و شمال کلوا من رزق ربّکم و اشکرو له بلده طيّبه و ربّ غفور ) (۱)

''قوم سبا کے لئے تو یقینا خود انھیں کے گھروں میں قدرت خدا کی ایک بڑی نشانی تھی کہ ان کے شہر کے دونوں طرف داہنے بائیں ہرے بھرے باغات تھے اور ان کو حکم تھا کہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی روزی کھاؤ (پیو) او راس کا شکر ادا کرو دنیا میں ایسا پاکیزہ شہر اور آخرت میں پروردگار سا بخشنے والا''

____________________

۱) سورہ سبا آیت ۱۵


سوالات

یہ سوالات سوچنے اور جواب دینے کے لئے ہیں

۱)___ قوم سبا کا شہر اور وطن کیسا تھا؟ اس کی خوبیوں کو بیان کیجئے _

۲)___ کیا اللہ نے اپنی نعمتوں کو بغیر ان کی سعی و کوشش کے دیا تھا؟

۳)___ قوم سبا کے افراد کیسے تھے؟

۴)___ خدا کا قوم سبا سے اپنی نعمتوں کو چھین لینے کی علت کیا تھی، کیا تم کے تمام ہوا و ہوس کے شکار تھے؟

۵)___ قوم سبا میں موجود پیغمبران سے کیا کہا کرتے تھے، انھیں کن چیزوں کی طرف متوجہ کرتے تھے اور کن کاموں کے بجالانے کی دعت دیتے تھے؟

۶)___ قوم سبا پر کیوں اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا، کیا سبھی گناہگار تھے؟

۷)___ قوم سبا کے واقعہ کو پڑھنے اور سننے سے دوسرے انسانوں کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

۸)___ ہم اللہ کی نعمتوں کا کس طرح شکریہ ادا کریں اور اپنے ملک کی تعمیر کے لئے کیا کریں؟

۹)___ اللہ کے دو اہم واجبات پر کس طرح عمل کریں اور وہ کون سے دو فریضے ہیں؟


چوتھا حصّہ

پیغمبر اسلام (ص) اور آپ کے اصحاب کے بارے میں


پیغمبر اسلام(ص) کی مخفی تبلیغ

ابتداء ہی سے پیغمبر اسلام (ص) کی رسالت عالمی تھی خداوند عالم نے انھیں پوری دنیا کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا آپ کا یہ عزم تھا کہ پوری دنیا کے کفر و شرک او رمادی گری سے مقابلہ کریں_ دنیا کے مظلوم و محروم طبقے کو ظالموں کے پنجے سے نجات دلوائیں اور سبھی کو اسلام کے مقدس قانون اور خداپرستی کی طرف دعوت دیں_

پیغمبر اسلام (ص) ابتداء ہی سے اتنی بڑی ذمہ داری سے آگاہ تھے مشکلات و دشواریوں کی طرف پوری طرح متوجہ تھے آپ کو اچھی طرح علم تھا کہ اس قسم کا کام آسان اور معمولی نہیں ہے بہت سی مشکلات سامنے آئیں گی آپ مشکلات کا خندہ پیشانی سے استقبال کر رہے تھے اور اللہ تعالی کے فرمان کے بجالانے کے لئے آمادہ تھے_ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی دعوت کو اللہ کے حکم سے بغیر عجلت پسندی کے شروع کیا اور صبر و استقامت اور عاقبت اندیشی سے پوری احتیاط کے ساتھ حالات کو دیکھتے ہوئے تبلیغ میں مشغول ہوگئے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اس کام میں جلدبازی مضرثابت ہوسکتی ہے اسی لئے آپ نے اللہ کے حکم سے اپنی تبلیغ کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا اور پہلے اس طریقہ سے ابتداء کی جو ممکن ہوسکتا تھا_

پیغمبر اسلام(ص) نے بعثت کی ابتداء میں اپنی دعوت کو اپنی دعوت کو اپنی باوفا بیوی جناب خدیجہ (ع) اور فداکار چچازاد بھائی حضرت علی علیہ السلام سے جو آپ کے گھر میں رہتے تھے شروع کیا_ اللہ تعالی کی طرف سے اپنی اہم ذمہ داری کو انھیں دو کے درمیان ذکر کیا_ فداکاری و باوفا خاتون


جناب خدیجہ (ع) اور طاقتور و مہربان جوان حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام (ص) کی بات سنی اور اسلام کا اظہار کردیا اور وعدہ کیا کہ آپ کے اس کام میں مدد کریں گے_

پیغمبر اسلام (ص) اپنی پہلی دعوت میں ہی کامیاب ہوگئے آپ انھیں دو فداکاروں اور صحیح مددگاروں سے اپنی آسمانی دعوت کی تبلیغ میں مدد طلب کرتے تھے آپ نے ایک طاقتور تبلیغی مرکز اپنے گھر میں بنالیا تھا_ پیغمبر اسلام(ص) ان دو کے ساتھ کبھی گھر میں اور کبھی مسجدالحرام میں اکٹھے نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے_ تھوڑے ونوں کے بعد زید کہ جو پیغمبر اسلام (ص) کے گھر میں رہتے تھے دین مقدس اسلام پر ایمان لے آئے اور پیغمبر اسلام (ص) کی فکر داخلی لحاظ کے کاملاً مطمئن اور آرام ہوگئی یہاں مناسب ہے کہ تھوڑی سی جناب زید سے واقفیت حاصل کریں_

جناب زید حضرت خدیجہ (ع) کے غلام تھے جناب خدیجہ (ع) نے انھیں پیغمبر اسلام (ص) کو بخش دیا تھا اور آنحضرت (ص) نے انھیں آزاد کردیا تھا وہ باپ کے گھر واپس جاسکتے تھے اور ماں باپ کے ساتھ زندگی بسر کرسکتے تھے لیکن وہ پیغمبر اسلام (ص) کے اخلاق و صداقت کے اتنا شیفتہ ہوچکے تھے کہ وہ پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ رہنے اور زندگی گذارنے کو ترجیح دیتے تھے اور آنحضرت (ص) کے گھر ہی رہ رہے تھے_

پیغمبر اسلام (ص) نے اسلام کی دعوت کو پوری طرح مخفی شروع کیا تھا جب بھی کسی سمجھدار اور روشن دل، آگاہ اور آمادہ انسان کو دیکھتے تو اس سے اپنے مدعا کو بیان کرتے اور قرآن کی آیات اس کے سامنے پڑھتے اس کی وضاحت کرتے اور اسے اسلام لانے کی دعوت دیتے تھے کبھی یہ کام مسجد الحرام کے کسی گوشہ میں، کبھی صفا و مروہ کے کنارے اور کبھی اپنے گھر میں انجام دیتے تھے_

آپ نے تین سال تک اسی روش سے اپنی دعوت کی تبلیغ کی اس مدت میں آپ


بہت استقلال اور صبر سے فرد فرد سے علیحدہ گفتگو کرتے یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیتے اور مسلمانوں سے ملحق ہوجاتے تھے_ اس تین سال کے عرصے میں مسلمان اسلام کو ظاہر نہیں کرتے تھے اور اپنی نماز ادھر ادھر مخفی طور سے پڑھا کرتے تھے کا فر و شرک بھی چونکہ اسلام کے نفوذ اور وسعت سے زیادہ مطلع نہیں ہوا کرتے تھے لہذا وہ بھی اپنا ردّ عمل ظاہر نہیں کیا کرتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی دعوت تبلیغ بے نتیجہ و بے اثر اورپھر چونکہ پیغمبر اسلام(ص) لوگوں کو خداپرستی و توحید کی دعوت دیا کرتے تھے اور واضح طور سے بتوں کی مذمت نہیں کیا کرتے تھے لہذا وہ اس سے کوئی خطرہ کا احساس نہیں کیا کرتے تھے_ ان تین سالوں میں خود پیغمبر اسلام(ص) اورمسلمانوں مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے کوئی بھی ان کو پریشان نہیں کرتا تھا لیکن بعثت کے تیسرے سال کے آخر میں ایک واقعہ رونما ہوا کہ جس نے مسلمانوں کو دگرگوں کردیا اور واقعہ یہ تھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ مکہ کے اطراف کے پہاڑ میں مخفی طور سے نماز پڑھنے اورمناجات کرنے میں مشغول تھا_ چند بت پرستوں کا وہاں سے گذر ہوا مسلمانوں کا منظم طور سے رکوع و سجود کرنا ان کے غصہ کا موجب ہوا غصّہ میں آکر انھوں نے مسلمانوں کا برا بھلا کہنا شروع کردیا اور مسلمانوں کی نماز و دعا کا مذاق اڑایا_

مسلمان بھی ان کی بے ادبی و گستاخی سے غصہ میں آگئے ان کا جواب دینا شروع کردیا اور نتیجہ ایک دوسرے کو مارنے و جھگڑا کرنے تک جا پہونچا مسلمانوں کی ایک فرد سعد نامی کہ جنھیں بہت سخت غصہ آیا ہوا تھا اپنے قریب سے اونٹ کی ایک ہڈی اٹھائی اور دوڑتے ہوئے ایک مشرک کے قریب پہونچے اور پورے غصے کے عالم میں اس کے سرپر ماری اس کا سر پھٹ گیا اور خون جاری ہوگیا_

بت پرست مکہ واپس لوٹ آئے اور مسلمانوں کے ساتھ رونما ہونے والے حادثہ


کا اپنے لوگوں سے تذکرہ کیا مکہ کے سرداروں سے پیغمبر اسلام(ص) اور آپ کے پیروکاروں کی حالت کو بیان کیا اس وقت سے مشرکوں نے خطرے کو محسوس کرلیا_

پیغمبر اسلام(ص) جناب ارقم کے گھر مخفی طور سے گئے اور وہاں چھپ گئے انھیں دنوں جناب ارقم مسلمان ہوئے تھے مسلمان تنہائی میں پوری طرح لوگوں سے ملاقات کرتے اور اسے اسلام کی دعوت دیتے اور جب پوری طرح مطمئن ہوجاتے تو اسے مخفی طور سے پیغمبر اسلام (ص) کے گھر لے جاتے تا کہ آپ اس کے سامنے قرآن پڑھیں اور اپنی آسمانی دعوت کی وضاحت کریں اسے خداپرستی و توحید کی طرف بلائیں اور اسلام کی صحیح دعوت دیں_

انھیں دنوں ایک گروہ اسلام لے آیا اور مسلمانوں کے ساتھ ملحق ہوگیا_ پیغمبر اسلام(ص) کو ان تین سال کی دن رات کی محنت سے کافی کامیابی مل چکی تھی آپ نے زحمتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے چالیس فداکاری مسلمانوں کو ترتیب دیا اور اس کو اس زمانہ کے لحاظ سے اہم کامیابی کہی جاسکتی ہے_

اس زمانہ میں اسلام نے قدرت و طاقت حاصل کرلی تھی اور کفر و بت پرستی کی دنیا میں ایک طاقتور مرکز حاصل کرلیا تھا کیونکہ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا ان میں چالیس آدمی صحیح طور پر فداکاری و جانبازی پر آمادہ تھے اور اپنی جان ہاتھوں پر رکھ کر اسلام سے دفاع کرتے تھے_ ان تین سالوں میں اسلام کے پودے نے زمین میں اپنی جگہ بنالی تھی اور اپنی جڑیں دور دور تک پھیلادی تھیں لہذا اب اس درخت کا کاٹنا کوئی معمولی کام نہیں تھا اب پیغمبر اسلام(ص) اپنی دعوت و تبلیغ کے دوسرے مرحلہ پر اپنا کام شروع کرسکتے تھے_

قرآن مجید کی آیت:

لقد من الله علی المؤمنین اذ بعث فیهم رسولا من انفسهم یتلوا علیهم ایاته و یزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین_


'' خداوند عالم نے مومنین پر منّت کی جب کہ ان میں انھیں کا ایک رسول بھیجا تا کہ ان پر اللہ کی آیات پڑھے اور ان کا تذکیہ کرے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اگر چہ وہ اس سے پہلے واضح گمراہی میں غرق تھے''(۱)

____________________

۱) سورہ آل عمران ۱۶۲


عالمی دعوت کا اعلان

مكّہ میں مشہور ہوچکا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے اپنے آپ کو پیغمبر کہنا شروع کردیا ہے اور ایک گروہ نے آپکی دعوت کو قبول بھی کرلیا ہے اور آپ کی مدد کرنے کا وعدہ بھی کرلیا ہے_ آپ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بلایا اور ایک مجمع عمومی میںانھیں اسلام لانے کی دعوت دی اور اپنی مدد کرنے کو ان سے کہا اور تمام بزرگان قریش کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا و زیر و جانشین مقرر کیا اور تعجب اس میں ہے کہ اس مجمع میں جناب ابوطالب نے آپ سے کوئی اعتراض آمیز گفتگو نہیں کی تھی کہ جس سے گویا ظاہر ہوتا تھا کہ جناب ابوطالب(ع) بھی آپ کی حمایت و مدد کریں گے_ مكّہ کے لوگ اس واقعہ کو ایک دوسرے سے تعجب سے نقل کرتے تھے اب وقت آچکا تھا کہ پیغمبر اسلام(ص) اپنی دعوت و رسالت کو ظاہر بظاہر اور اپنے پیغمبر ہونے کا اعلان کریں اور ان کو راہ راست کی ہدایت کریں چنانچہ خداوند عالم کی طرف سے آپ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ:

'' اے محمد(ص) (ص) جو کچھ ہم نے تم کو حکم دیا ہے اسے علناً بیان کرو اور حق کو باطل سے جدا کرو و بت پرستوں اور ان کے استہزاء سے مت گھبراؤ کہ ہم انھیں سزا دیں گے''

پیغمبر اسلام(ص) اس پیغام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوہ صفا پر گئے کیونکہ عالم طور پر اہم اعلانات اسی پہاڑ پر ہوا کرتے تھے_ پیغمبر اسلام(ص) پہاڑ کے ایک پتھر کے اوپر کھڑے ہوگئے اور بلند آواز سے کہا:


'' اے مكّہ والو اے قریش والو اے جوانو اے لوگو''

پیغمبر اسلام (ص) کی یہ بلند و آسمانی آواز کہ جس میں خداوند عالم پر ایمان، اس سے عشق اور لوگوں کی ہدایت کرنے کا جذبہ پایا جاتا تھا تمام مکہ والوں کے کان تک پہونچی_ لوگ گھروں سے باہر نکلے اور اس آسمانی آواز کی طرف دوڑے تا کہ پیغمبر اسلام(ص) کی باتیں سن سکیں لوگ گروہ در گروہ آپ کے اردگرد جمع ہوتے گئے اور بے صبری سے نئے واقعہ کو جاننے کا انتظار کرنے لگے پیغمبر اسلام(ص) نے اس مجمع کی طرف نگاہ کی اور فرمایا:

'' اے مکہ والو اے قریش کے مرد و زن اگر میں تم سے کہوں کہ دشمن اس پہاڑ کے پیچھے ہے اور تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا میری تصدیق کروگے اور کیا دفاع کے لئے تیار ہوجاؤ گے؟

سب نے کہا:

'' اے محمد(ص) ہاں اے محمد(ص) ہاں ہم تمھیں امین، سچّا اور صحیح آدمی سمجھتے ہیں اب تک تم سے کوئی جھوٹ نہیں سنا''

پیغمبر اسلام (ص) نے اس طریقے سے اپنی امانت و صداقت انھیں یاد دلائی اور ان سے اس کا اقرار کرالیا اور اس کے بعد فرمایا:

'' اے لوگو میں اللہ کا پیغمبر ہوں، تمھارے اور ساری دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں_ اے لوگو جان لو کہ موت کے آجانے سے زندگی ختم نہیں ہوجاتی جیسے تم سوجاتے ہو تو مرجاتے ہو اور جب بیدار ہوتے ہوا زندہ ہوجاتے ہو، اسی طرح مرنے کے بعد بھی دوبارہ زندہ ہوگے، قیامت کے دن حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤگے اور تمھاری رفتار و گفتار کا حساب و کتاب لیا جائے گا


نیک کاموں کی جزا اور برے کاموں کی سخت سزا پاؤگے_

اے لوگو میں تمھارے لئے بہترین آئین و قانون لایا ہوں_

دینا و آخرت کی سعادت کی خوشخبری لایا ہوں کہو لا الہ الّا اللہ تا کہ نجات و فلاح پاؤ، خدا کو ایک مان کر عبادت کرو اور ایمان کے ذریعہ تمام دنیا کو عرب کو اور غیر عرب کو یگانہ پرستی کے پرچم تلے لے آو''

مكّہ کے اشراف و بت پرست پیغمبر اسلام (ص) کے اس بیان سے حیرت زدہ ہوگئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے:

'' تعجب ہے محمد(ص) کیا کہہ رہا ہے؟ کس طرح اس نے جرات کی ہے؟ کہ ہمارے سامنے ایک خدا کے ہونے کی بات کرے؟ اسے کس طرح جرات ہوئی کہ ہمارے سامنے ہمارے بتوں کی جو ہمارے خدا ہیں نفی کرے؟

کیا ابوطالب (ع) نے اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے؟ کیا طاقتور مرید اس کے ہوگئے ہیں کہ جس سے ہم بے خبر رہے ہیں؟ ''

اس وقت ابولہب نے سخت غصّہ میں کہا:

''تم پروائے ہو اسی پیغام کے لئے ہمیں اپنے گھروں سے بلایا ہے؟

لوگ اٹھ گئے اور ہر ایک کوئی نہ کوئی بات کر رہا تھا_ کچھ کہہ رہے تھے: سنا ہے تم نے کہ محمد(ص) نے کیا کہا ہے وہ کہہ رہا تھا کہ:

''میں خداوند عالم کی طرف سے پیغام لایا ہوں''

کیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک انسان اللہ کی طرف سے پیغام لے آئے ؟


کیا ہوسکتا ہے کہ انسان پیغمبر ہوجائے؟ پیغمبر کیا ہوتا ہے؟ کیا ہم اب ایک خدا کی عبادت کریں؟ کیا ہمارے باپ دادا ایک طویل مدت سے بت پرست نہ تھے؟ کیا اب ہم ان بتوں کوچھوڑدیں؟ محمد(ص) کی دعوت و تبلیغ کو کس طرح روکیں؟ کیا ابوطالب (ع) محمد(ص) کی حمایت و مدد کریں گے؟

پیغمبر اسلام(ص) پہاڑ سے نیچے اترے اور اپنے گھر واپس لوٹ آئے اس کے بعد آپ اپنی رسالت و دعوت کو علنی طور پر بیان کیا کرتے تھے اور کسی کی پروا نہیں کیا کرتے تھے لوگوں کو خداپرستی کی علنی دعوت دیا کرتے تھے_ پیغمبر اسلام(ص) اپنی دعوت میں صرف ایک خدا کی پرستش پر زور دیا کرتے تھے اور بتوں پر بہت کم تنقید کرتے تھے_ بت پرست بھی اس سے مطمئن تھے اور آپ کو زیادہ نہیں چھیڑتے تھے بلکہ کہا کرتے تھے:

'' ہم اپنے دین پر اور محمد(ص) اپنے دین پر رہیں بہتر یہی ہے کہ جناب ابوطالب (ع) کے احترام اور ان کی شخصیت کا خیال رکھتے ہوئے محمد(ص) کو اسی حالت پر چھوڑدیں اور دیکھیں کہ آگے کیا ہوتا ہے''

اس لحاظ سے پیغمبر اسلام(ص) کی تبلیغ کا یہ تیسرا مرحلہ بخوبی انجام پا رہا تھا اور آپ حالات کے انتظار میں تھے کہ موقع ملے اور آپ اپنی تبلیغ کا چوتھا مرحلہ شروع کریں_

کیا تم جانتے ہو کہ پیغمبر اسلام (ص) نے چوتھے مرحلہ کا آغاز کس سے کیا تھا؟ اس مرحلہ میں آپ کا نقطہ نظر کیا تھا اور کس چیز پر آپ اصرار کیا کرتے تھے؟

قرآن کی آیت:

فاصدع بما تومر و اعرض عن المشرکین انّا کفیناک المستهزئین

''جو کچھ آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے ظاہر کردیں اور مشرکین کی پروا نہ کریں ہم مسخرہ کرنے والوں کے شر سے آپ کو کفایت کریں گے'' (سورہ حجر ۹۵)


سوالات

ان سوالات کے بارے میں اپنے دوست سے بحث کیجئے اور درست و کامل جواب کا انتخاب کیجیئے

۱)___ پیغمبر اسلام (ص) کی تبلیغ کا تیسرا مرحلہ کس طرح شروع ہوا، اس مرحلہ کے شروع کرنے کے لئے اللہ تعالی سے آپ کو کیا حکم ملا تھا؟

۲)___ پیغمبر اسلام(ص) نے اس فرمان کے لئے کیا کام انجام دیا تھا اور کہاں؟

۳)___ ان لوگوں سے جو وہاں اکٹھے ہوئے تھے پیغمبر اسلام(ص) نے کیا اقرار لیا تھا اور آپ کا اس سے کیا مقصد تھا؟

۴)___ اپنی رسالت کا اعلان کس طرح کیا، پیغام میں کن چیزوں کا ذکر تھا؟ ان کو بیان کرو_

۵)___ پیغمبر اسلام (ص) اس مرحلہ میں کس چیز کے بیان کو اہمیت دیتے تھے_

۶)___ بزرگان مكّہ پیغمبر اسلام(ص) کے اس پیغام کو سننے کے بعد ایک دوسرے سے کیا کہتے تھے؟

۷)___ کیا مكّہ کے مشرکین اس مرحلہ میں پیغمبر اسلام(ص) سے مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے اور کیوں؟


ہر قسم کی سازش کی نفی

پیغمبر اسلام(ص) لوگوں کو اللہ کی طرف ہدایت کرتے تھے آپ دن رات لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے سخت محنت کیا کرتے تھے، اسلام کے حیات بخش آئین کی ترویج میں کو شاں رہتے تھے اب جب کہ مسلمانوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا تھا اور اسلام کی طاقت پھیلتی جارہی تھی تو آپ نے حق کو باطل سے جدا کرنے اور بتوں و بت پرستی کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے اقدام کیا تا کہ بت پرستی کا عبث فعل سارے لوگوں پر واضح ہوجائے لوگ اپنی بدبختی و ذلت کے اسباب و عوامل کو پہچانیں کیونکہ اگر لوگ اپنی ذلت و رسوائی کی علت کو نہ جانیں گے تو کس طرح اسے ختم کرسکیں گے؟ اگر لوگ بت پرستی کے رواج دینے والوں کے غلط مقصد سے آگاہ نہ ہوں گے تو کس طرح اس کا مقابلہ کرسکیں گے؟ اگر لوگ بت پرستوں کے سرداورں کی فریب کاری سے مطلع نہ ہوں گے تو کس طرح ان سے نجات حاصل کرسکیںگے؟

لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیئے اور اللہ تعالی کا واضح پیغام لوگوں کے سامنے پڑھا جانا چاہیئے اسی لئے پیغمبر اسلام(ص) نے اپنی دعوت کے چوتھے مرحلہ کو شروع کریا اور بت پرستی کی پوری طرح مذمت اور اس پر تنقید کی، بت پرستی کے رواج دینے والے سرداروں کے اندرونی اغراض کو واضح بیان کر کے ان کو ذلیل کیا اور ان کے ظلم و پلید مقاصد سے پردہ اٹھایا_

بت پرستی کے سرداروں نے اس سے زیادہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرلیا اور اپنے پلید


منافع کے خطرے میں پڑنے سے خوفناک ہوگئے اور سوچنے لگے کہ کس طرح اسلام کی طاقت کا مقابلہ کیا جائے اور کس طرح لوگوں کو خداپرستی سے دور رکھا جائے کیا محمد (ص) کو ان کی تبلیغ سے روکا جا سکتا ہے؟

پہلے پہل تو انھوں نے بات چیت اور صلح و صفائی کی خواہش کی بت پرستوں کے چند سردار جناب ابوطالب (ع) کے پاس گئے اور ان سے کہا:

'' اے ابوطالب (ع) آپ کیوں خاموش بیٹھے ہیں؟ کیوں ہمارے کام کے متعلق نہیں سوچتے؟ کیوں محمد (ص) کو کچھ نہیں کہتے؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ انھوں نے شہر کے امن کو ختم کرکے اور ہمارے درمیان تفرقہ پیدا کرکے ہمیں ایک دوسرے سے جدا کردیا ہے؟ کیا نہیں جانتے کہ وہ ہمارے غلاموں کو دھوکہ دیتے ہیں؟

اب تک ہم آپ کے احترام کی وجہ سے ان سے کچھ نہیں کہتے تھے لیکن اب انھوں نے پاؤں پھیلانا شروع کردیا ہے اورہمارے بتوں کے متعلق جسارت کرنی شروع کردی ہے کیا آپ نے سنا ہے کہ وہ بت پرستی کو ایک سفیہانہ کام بتلاتے ہیں؟ کیا جانتے ہیں کہ وہ ہمارے باپ دادا کو گمراہ و نادان بتلاتے ہیں؟ کیا ہم اب بھی اس کو برداشت کرسکتے ہیں؟ آپ انھیں بلائیں اور ان سے کہیں کہ اس قسم کی باتوں سے دست بردار ہوجائیں''_

جناب ابوطالب (ع) نے اپنے بھتیجے سے ملاقات کی اور بت پرستوں کی بات کو ان کے سامنے بیان کیا اور کہا:


'' اے میرے بھتیجے انھوں نے مجھ سے کہا کہ تم بتوں کے بارے میں جسارت کرتے ہو اور بت پرستی کو ایک غیر عاقلانہ کام بتلاتے ہو انھوں نے خواہش کی ہے کہ تم اس کام سے دست بردار ہوجاؤ صرف اسلام کے آئین و قانون کی تبلیغ و ترویج کرو بتوں اور بت پرستوں سے سرو کار نہ رکھو''_

پیغمبر اکرم (ص) نے جناب ابوطالب (ع) کے جواب میں فرمایا:

'' چچا جان لوگوں کی پوری بدبختی اسی بت پرستی میں ہے یہ سردار بت پرستی کے بہانے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے حقوق کو غصب کرتے ہیں_ ایک خدا کی طرف بلانا، بتوں کی نفی، اللہ تعالی کی بندگی اور ظالموں کے پنجے سے آزادی کے ساتھ ہی ہوسکتی ہے_ چا جان مجھے خداوند عالم کی طرف سے ایسا ہی حکم ملا ہے اور اس کام کو انجام دیتا ہوں گا''

بت پرستوں کی طرف سے صلح و صفائی اورمصالحت کی کئی دفعہ خواہش کی گئی تھی انھوں نے کئی دفعہ اس بارے میں جناب ابوطالب (ع) سے بات چیت کی لیکن اس سے کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو اور بالآخرہ انھوں نے سوچا کہ محمد(ص) کو جاہ مال کا وعدہ دے کر دھوکہ دیا جائے یا ڈرایا اور دھمکایا جائے لہذا پھر جناب ابوطالب (ع) کے پاس گئے اور ان سے یوں گفتگو کی:

'' اے ابوطالب (ع) محمد (ص) سے پوچھ کہ تمھاری اس تبلیغ کا کیا مقصد ہے اور کیا چاہتے ہو؟ کیا مال و دولت چاہتے ہو؟ کیا طاقت و قدرت اور حکومت چاہتے ہو؟ کیا بیوی اور اچھی زندگی چاہتے ہو؟ اگر مال و دولت چاہتے ہو تو ہم اسے اتنی دولت دے دیں گے


کہ وہ قریش کا ثروت مند ترین فرد ہوجائے_ اگر جاہ و جلال چاہتے تو حجاز کی حکومت و زمامداری اس کے اختیار میں دے دیں گے اور اگر ابھی زندگی و بیوی چاہتے ہو تو اس کے لئے خوبصورت ترین اور بہترین عورت انتخاب کردیتے ہیں_

جو بھی وہ چاہیں ہم اس کے پورا کرنے کے لئے حاضر ہیں لیکن صرف ایک شرط ہے کہ وہ اپنی گفتگو سے دست بردار ہوجائیں اور ہمارے بتوں سے کوئی سر و کار نہ رکھیں''

پیغمبر اسلام (ص) ان کی ان خواہشات کے جواب میں جناب ابوطالب (ع) سے کیا کہیں گے؟ کیا یہ وعدے انھیں فریب دے سکیں گے؟ کیا لوگوں کی ہدایت و نجات سے دست بردار ہوجائیں گے؟ کیا ظالموں کی خوشنودی کو اللہ تعالی کی خوشنودی اور محروم طبقے کی خوشنودی پر ترجیح دے دیں گے؟ نہیں اور ہرگز انہیں وہ اپنے راستہ سے نہیں ہٹیں گے اور یقینا یہ جواب دیں گے:

'' چچا جان یہ میری تبلیغ اپنی طرف سے نہیں ہے کہ میں اس سے دست بردار ہوجاؤں بلکہ یہ خدا کی طرف سے ہے خدا نے مجھے پیغمبری کے لئے چنا ہے کہ تا کہ اس کا پیغام لوگوں تک پہونچاؤں اور انھیں ظلم و ستم اور گمراہی سے نجات دلواؤں، خداپرستی و توحید کی دعوت دوں''_

اس وقت جناب ابوطالب (ع) آپ پر محبت بھری نگاہ کئے ہوئے تھے اور آپ کہہ رہے تھے:

'' چچا جان خدا کی قسم اگر چمکتے ہوئے سورج کو میرے دائیں ہاتھ


پر رکھ دیں اور روشن چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر (یعنی تمام ثروت و جہان کی زیبائی اور قدرت مجھے بخش دیں) تب بھی میں اس فریضہ کی ادائیگی سے دست بردار نہ ہوں گا یہاں تک کہ میں اس میں کامیاب اور فتحمند ہوجاؤں یا شہید کردیا جاؤں_

چچا جان ان لوگوں سے کہہ دیں کہ ان خواہشات کی جگہ صرف ایک کلمہ لا الہ الّا اللہ کہہ دیں تا کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوجائیں''_

جب بت پرستوں کو جاہ و جلال اور مال و دولت کی لالچ دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو پھر جناب ابوطالب (ع) کے پاس گئے اور کہا:

'' اے ابوطالب (ع) تم ہمارے شہر و قبیلہ کے سردار اور ہماری اس مشکل کو تم ہی حل کرو کہ تمھیں ایک خوبصورت بچہ دیتے ہیں تا کہ اسے تم اپنا بیٹا بنالو، محمد(ص) کی حمایت سے دست بردار ہوجاؤ اور ہم اسے قتل کردیں''_

ابوطالب (ع) ان کی اس بات کو سنتے ہی غصہ میں آگئے اور ان سے کہا:

'' اپنے بھتیجے کو تمھیں دے دوں تا کہ تم اسے قتل کردو یہ تمھاری کتنی شرمناک بات ہے قسم خدا کی ایک لحظہ کے لئے بھی محمد (ص) کی حمایت اور مدد سے ہاتھ نہ کھینچوں گا''_

اب ہم مسلمانوں کا بھی یہی فریضہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے اس راستہ پر چلیں اور کفر مادی گری، طاغوت و طاغوتوں کا مقابلہ کریں اور ان کی ہر طرح کی مدد سے پرہیز کریں تا کہ دنیا کے مظلوم اور محروم طبقے کو نجات دلاسکیں_ دیکھیں ہم کس حد تک ا س فریضہ کی انجام دہی میں کامیاب ہوتے ہیں_


قرآن کی آیت:

( فلذلک فادع واستقم کما امرت و لا تتّبع اهوائهم و قل امنت بما انزل الله من کتاب و امرت لاعدل بینکم الله ربّنا و ربّکم ) (۱)

'' آپ اسی کے لئے دعوت دیں اور اس طرح استقامت سے کام لیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان کے خواہشات کا اتباع نہ کریں اور یہ کہیں کہ میرا ایمان اس کتاب پر ہے جو خدا نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان انصاف کروں اللہ ہمارا اور تمھارا دونوں کا پروردگار ہے''_

____________________

۱) سورہ شوری آیت ۱۵


سوالات

ان سوالات کے صحیح جوابات دیجئے اوران پر اچھی طرح بحث کیجئے

۱)___ پیغمبر اسلام (ص) کے چوتھے مرحلہ کی خصوصیات کیا تھیں، آپ اس مرحلہ میں کیوں بتوں اور بت پرستوں کی مذمت کیا کرتے تھے؟

۲)___ بت پرستوں کے سردار کیوں خطرہ محسوس کرتے تھے؟ کیا تدبیریں انھوں نے سوچیں اور جناب ابوطالب (ع) سے کیا کہا تھا؟

۳)___ پیغمبر (ص) نے ان کی سازشوں کو کس طرح ٹھکرایا؟

۴)___ بت پرستوں کے سرداروں نے اپنی سازش کو کس صورت مین پیش کیا انھوں نے کون سے وعدے کئے تھے اور پیغمبر اسلام (ص) کا جواب کیا تھا؟


پیغمبر (ص) اور مستضعف

مسجد نبوی کے نزدیک ایک بر آمدہ تھا کہ جس کی دیواریں گارے اور مٹی کی انیٹوں سے بنائی گئی تھیں اور اس کی چھت خرما کے پتوں کی تھی اور اسے صفّہ کہا جاتا تھا_ مسلمانوں کا ایک نادار گروہ کہ جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا اسی صفّہ میں رہا کرتے تھے_ پیغمبر خدا (ص) ان سے بہت مانوس تھے ان کے پاس بیٹھتے اور گفتگو کیا کرتے تھے آپ انھیں دوست رکھتے تھے اور اپنے اصحاب سے کہا کرتے تھے کہ ان کی مہمان نوازی و دلجوئی کیا کریں_ آپ کبھی انھیں اپنے گھر لے آتے اور بہت احترام سے ان کی مہمان نوازی کیا کرتے تھے اور کبھی ان کے پاس کھانا لے جایا کرتے تھے_

یہ اللہ کے نیک بندے پیغمبر اسلام (ص) کے اردگرد بیٹھا کرتے تھے اور آپ سے مانوس تھے دین کے احکام پوچھتے اور قرآن و احادیث یاد کیا کرتے تھے_ جب پیغمبر اسلام (ص) مدینہ میں ہوا کرتے تھے تو اکثر یہی لوگ اور مدینہ کے دوسرے فقراء پیغمبر(ص) کے اردگرد بیٹھتے اور آپ کی باتوں کو سنتے تھے اہل وطن بھی ان کا احترام کیا کرتے تھے_

پیغمبر اسلام (ص) کی معاشرہ کے تمام محروم اور مستضعف طبقے سے اسی قسم کی رفتار ہوا کرتی تھی لیکن بعض لوگ پیغمبر اسلام (ص) کی اس رفترا کو ناپسند کرتے تھے اور کبھی کبھار آپ پر اعتراض بھی کرتے تھے اور کہتے تھے آپ کیوں اتنی اس فقیر اور چھوٹے طبقے سے آمد و رفت رکھتے ہیں اور ان سے اچھا سلوک کرتے ہیں ؟ آپ انھیں اپنے پاس بیٹھتے کی کیوں اجازت دیتے ہیں؟


فقراء کے سا تھ بیٹھنا آپ کے مقام و مرتبہ کو کم کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اشراف و مالدار لوگ آپ سے دوری کرتے ہیں کیونکہ وہ فقراء کے ساتھ زانو ملاکر بیٹھنا پسند نہیں کرتے بلکہ اس فعل کو وہ اپنے لئے کسرشان سمجھتے ہیں اگر آپ انھیں اپنے سے دور کردیں تو ثروتمند اور اشراف اسلام کی طرف زیادہ رغبت کریں گے اور ان کی توجہ و مدد سے اسلام مضبوط ہوگا لیکن اعتراض کرنے والے ایسے لوگ نہیں جانتے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کا مبعوث ہونا انھیں جاہلیت کے رسوم اور وقار کو بدلنے کے لئے ہوا کرتا ہے_

اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر(ص) کا بھیجا تا کہ آپ اپنی گفتار و رفتار سے صحیح وقار کو قائم کریں اور لوگوں سے کہیں کہ شرافت و تقوی اللہ پر ایمان لانے میں ہے_ اسلام کی نگاہ میں اسے شریف کہا جاتا ہے جو متقی و مومن ہوا اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (ص) پر ایمان لے آتے ہیں وہی در حقیقت شریف و بزرگوار ہیں_

انھیں مستضعفین میں سے ایک خدا اور رسول (ص) اور آخرت پر ایمان لانے والے جناب سلمان فارسی تھے ان کے پاس ایک اون کی عبا تھی کہ وہی ان کا دسترخوان و بستر تھا اور اسی کو رات میں اوڑھتے اور دن میں اس کو لباس بناتے تھے_ پیغمبر اسلام (ص) سلمان فارسی سے بہت محبت کرتے ت ھے اور انھیں شرافت و تقوی سے متصف بیان کرتے تھے اوراپنے اہلبیت (ع) میں شمار کیا کرتے تھے_

ایک دن جناب سلمان فارسی پیغمبر اسلام (ص) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھیں اشراف میں سے ایک آپ کے پاس آیا اور ایک نگاہ سلمان فارسی کے پھٹے لباس، آفتاب سے جلے ہوئے چہرہ اور ورم شدہ ہاتھوں پر ڈالی اور کہا:

'' یا رسول اللہ (ص) جب ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو یہ فقیر پھٹا لباس پہنے آپ کے پاس ہوتا ہے بہتر ہے کہ آپ اس کے


فرمائیں کہ وہ آپ کے پاس کم آیا کرے اور آپ سے دور بیٹھا کرے''_

جانتے ہو کہ پیغمبر اسلام (ص) نے اس قسم کے لوگوں کے جواب میں کیا فرمایا؟ آپ نے فرمایا کہ

'' کسی انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت نہیں ہوا کرتی عرب، عجم، سیا ہ و سفید سب کے سب اللہ کے بندے اور حضرت اکرم (ع) کی اولاد ہیں، فضیلت و شرافت، تقوی اور پرہیزگاری سے ہوا کرتی ہے''

یہی رسول خدا (ص) کی دوستی و دشمنی کا معیار تھا آپ متقیوں کے دوست اور ان پر مہربان تھے اگر چہ پھٹے لباس پہنے ہوئے فقیر و نادار ہی کیوں نہ ہوں اور آپ مستکبرین سے جو اللہ تعالی سے بے خبر ہوا کرتے تھے دشمنی رکھا کرتے تھے اگر چہ وہ مالدار اور طاقتور ہی کیوں نہ ہوں_

ایک دن ایک متقی انسان پیغمبر اسلام (ص) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور بات کرنے میں منہمک تھا اسی حالت میں مدینہ کے اشراف و مالدار طبقہ سے ایک آدمی حضور (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا پیغمبر اسلام (ص) نے اسے فرمایا کہ یہاں نزدیک آکر بیٹھو لیکن وہ دور ہی بیٹھ گیا_ آپ اس کے اس فعل سے بہت متاثر ہوئے اورناراضگی کے عالم میں فرمایا:

'' کیوں نزدیک آکر نہیں بیٹھتے ہو؟ کیا ڈرگئے ہو کہ اس مومن کا فقر اور نادانی تیری طرف سرایت کر جائے گی؟ تو نے سوچا کہ شاید تیری دولت سے کچھ کم ہوجائے گا؟ ''

یہ شخص بجائے اس کے کہ اپنی خودخواہی اور کبر پر نادم ہوتا بڑے غرور و تکبّر سے کہنے یہ شخص بجائے اس کے کہ اپنی خودخواہی اور کبر پر نادم ہوتا بڑے غرور و تکبّر سے کہنے لگا کہ:

'' ہم نہیں چاہتے کہ ان جیسے فقیر اور بے سر و پا انسانوں کے ساتھ بیٹھیں بہتر یہ ہوگا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ یہ یہاں کم آیا کریں اور دور ہوکر بیٹھا کریں''_


اس وقت جبرئیل اللہ تعالی کی طرف سے یہ پیغام لے کر آتے ہیں کہ:

'' اے پیغمبر (ص) ان لوگوں کو جو صبح و شام اللہ کی یاد میں ہوتے ہیں اور نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اس میں سوائے اللہ تعالی کے رضا کے اور کوئی غرض نہیں رکھتے اپنے سے دور نہ ہٹانا ان کا حساب تم سے اور تمھارا حساب ان سے نہیں لیا جائے گا (سبھی اللہ کے بندے ہیں اور خدا تمھارے اعمال و کردار سے واقف ہے) اگر تم نے انھیں اپنے سے دور کیا تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے''

رسول خدا(ص) نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد فقراء و محروم اور مستضعف طبقہ سے اپنا ربط زیادہ کردیا اور ان سے زیادہ آمد و رفت رکھتے تھے اور ان سے بہت گرمجوشی و محبت اور پیار سے گفتگو کیا کرتے تھے کیونکہ خداوند عالم نے انھیں اس آیت میں نماز قائم کرنے اور صبح و شام اللہ کی یاد میں رہنے اور رضائے خدا کے لئے کام کرنے والا شمار کیا ہے ان کی نماز و دعا کو بہت اہمیت کی نظر سے دیکھا ہے پیغمبر اسلام(ص) نے ان سے فرمایا:

'' لوگوں کی ملامت کی پروا نہ کیا کرو اور پورے اطمینان سے میرے پاس آیا کرو کہ میں تمھاری ہمنشینی پر فخر اور مباہات کرتا ہوں''_


پیغمبر(ص) کی رفتار اور اخلاق:

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم بہت خوش اخلاق اور مہربان تھے وہ ہر ایک کے خیرخواہ و دلسوز تھے اور سبھی کی ہدایت کرنے میں کو شاں رہتے تھے بالخصوص فقراء اور بے چاروں کے ساتھ زیادہ لطف و عنایت کیا کرتے تھے ان کے ساتھ مخلصانہ رویہ برتتے تھے اور ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر ان کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے_

آپ لوگوں کے لئے ایک مہربان باپ کی طرح تھے، بڑوں کا احترام کیا کرتے تھے اور چھوٹوں اور جوانوں سے بڑا نرم رویہ رکھتے تھے، بچوں کو سلام کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے

'' کہ میں چاہتا ہوں کہ بچوں کو سلام کرنا عام رواج پاجائے تا کہ تمام مسلمان اس اچھی روش کی پیروی کریں اور بچوں کو سلام اور ان کا احترام کریں''

پیغمبر اسلام (ص) تمام انسانوں اور ہمارے لئے زندگی کا نمونہ اور اسوہ ہیں خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے:

'' پیغمبر خدا(ص) مومنین کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں تمام مومنین کو چاہیئے کہ آپ کی رفتار و کردار اور اخلاق سے درس حاصل کریں اور آپ کی پیروی کریں''

پیغمبر اسلام (ص) اپنے رشتہ داروں سے آمد و رفت رکھا کرتے تھے ان پر احسان کیا کرتے تھے اور مسلمانوں سے بطور تاکید فرمایا کرتے تھے کہ:

'' رشتہ داروں سے آمد و رفت، مہر و محبت اورمخلصانہ ارتباط رکھا کرو


اورمشکلات میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو''_

رسول خدا(ص) بیماروں کی عیادت کیا کرتے اور ان کے جنازوں میں شریک ہوا کرتے تھے اور مسلمانوں سے فرمایا کرتے تھے کہ:

'' وہ بھی جنازوں میں شریک ہوا کریں اور جو لوگ مرگئے ہیں ان کے لئے اللہ تعالی سے رحمت و مغفرت طلب کیا کریں، جنازے کو دیکھنے سے عبرت حاصل کریں، بیدار ہوں، جان لیں کہ ان کی زندگی بھی ختم ہوجائے گی اور آخرت کے راستہ کے لئے بہترین زاد راہ تقوی ہے''_

پیغمبر اسلام(ص) لباس و خوراک میں بہت کفایت شعاری سے کام لیتے تھے، مختلف طرح کے کھانوں سے پرہیز کیا کرتے تھے آپ کی غذا سادہ اور تھوڑی ہوا کرتی تھی، آپ کا لباس سادہ اور کم قیمت کا ہوا کرتا تھا_ معاشرہ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے اور آپ اپنے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتے، کبھی اپنے لباس کو خود اپنے ہاتھوں سے پیوند لگایا کرتے تھے اور کبھی اپنی جوتیوں کوٹا نکتے تھے_

آپ بہت متواضع او رمخلص تھے جب کسی محفل میں وارد ہوتے تو وہاں بیٹھ جاتے جہاں جگہ خالی نظر آتی کسی خاص جگہ پر بیٹھتے کے متمنی نہ ہوتے تھے تمام اہل فلس کا احترام کیا کرتے تھے اور گفتگو کرنے کے وقت سبھی کی طرف متوجہ ہوا کرتے تھے، دوسروں کی بات کو غور سے سنتے تھے کسی کی بات کو نہیں کاٹتے تھے آپ بہت با حیا اور کم گو تھے_ ضرورت سے زیادہ بات نہیں کیا کرتے تھے کبھی مزاح بھی کرلیا کرتے تھے لیکن پوری طرح متوجہ ہوتے تھے کہ اس سے کس کی دل آزاری نہ ہو اور ناحق بات بھی نہ ہو_

غیبت، تہمت ، افتراء و جھوٹ اور ہر بری بات سے اجتناب کیا کرتے تھے لوگوں


سے ہدیئے کو قبول کرتے ت ھے لیکن کوشش کرتے تھے کہ اس سے بہتر اور زیادہ اسے واپس کریں_ مسلمانوں کو تاکید کیا کرتے تھے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کریں تا کہ محبت زیادہ ہو اور کینہ دلوں سے دور ہو_ ولیمہ کی سادہ دعوت و مہمانی کو قبول کیا کرتے تھے اور فقراء و محروم طبقے کے ساتھ وہاں جایا کرتے تھے آپ اس قدر خوش اخلاق اور مہربان تھے کہ خداوند عالم آپ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

'' اے پیغمبر (ص) تیرا خلق و عادت بہت عظیم و پسندیدہ ہے اور تو مومنین کے لئے اسوہ اور نمونہ عمل ہے''_

قرآن مجید کی آیت:

( و لا تطرد الّذین یدعون ربّهم بالغداة و العشّی یریدون و جهه ما علیک من حسابهم من شییء و ما من حسابک علیهم من شییء فتطردهم فتکون من الظّالمین ) (۱)

'' خبردار جو لوگ صبح و شام اپنے خدا کو پکارتے ہیں اور خدا ہی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انھیں اپنی بزم سے الگ نہ کیجئے نہ آپ کے ذمہ ان کا حساب ہے اور نہ ان کے ذمہ آپ کا حساب ہے کہ آپ انھیں دھتکاریں اور اس طرح ظالموں میں شمار ہوجائیں''_

____________________

۱) سورہ انعام آیت ۵۲


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱)___ اصحاب صفّہ کن لوگوں کو کہا جاتا ہے، پیغمبر اسلام(ص) کا ان کے ساتھ کیسا سلوک تھا؟

۲)___ کون سے لوگ پیغمبر(ص) پر محروم طبقے کے ساتھ بیٹھنے پر اعتراض کیا کرتے تھے اور پیغمبر اسلام(ص) سے کیا کہا کرتے تھے؟

۳)___ جاہلیت کی چند رسوم کو شمار کرو اور بتلاؤ کہ اسلام میں پیغمبر (ص) کے نزدیک ان کی کیا قیمت تھی اور ان رسوم کے بدلنے میں پیغمبر اسلام(ص) کیا اقدام کرتے تھے؟

۴)___ اسلامی تہذیب میں کسے شریف انسان کہا جاتا ہے؟

۵)___ پیغمبر اسلام (ص) کا رویہ جناب مسلمان فارسی کے ساتھ کیسا تھا؟ پیغمبر (ص) سلمان فارسی کو کیوں دوست رکھتے تھے اور ان کا کیوں احترام کرتے تھے؟

۶)___ پیغمبر اسلام (ص) نے اس شخص کو کہ جس نے پیغمبر (ص) پر سلمان فارسی کے ساتھ بیٹھنے پر اعتراض کیا تھا کیاب جواب دیا تھا؟

۷)___ رسول خدا (ص) کا کسی سے دوستی اور روشنی کرنے کا کیا معیار تھا؟

۸)___ جبرئیل نے محروم طبقے کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے سلسلہ میں کیا پیغام دیا تھا؟

۹)___ ''اسوہ'' کے کہتے ہیں اور کون شخص مسلمانں کے لئے ''اسوہ'' بن سکتا ہے؟

۱۰)___ مندرجہ ذیل چیزوں میں پیغمبر اسلام (ص) کی سیرت کو بیان کرو:

فقراء اور ناداروں کے ساتھ گھر میں خوراک و غذا کے بارے میں

لوگوں کی ہدایت کرنے میں مزاح کرنے، بات سننے اور بات

بڑوں، چھوٹوں اور جوانوں کے ساتھ کرنے، ہدیہ دینے و ہدیہ لینے

رشتہ داروں، بیماروں و مردوں کے ساتھ اور مہمانی کے سلسلہ میں


پانچواں حصّہ

اسلام اور اس کے سیاسی و اجتماعی اور اخلاقی امور


اسلام کی عظیم امّت

قرآن مجید تمام مسلمانوں کو ایک امّت قرار دیتا ہے کیونکہ سبھی ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں اور ایک پیغمبر (ص) و معاد کو قبول کرتے ہیں اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو اللہ تعالی کا آخری پیغمبر مانتے ہیں ، قرآن کو آسمانی اور عملی آئین تسلیم کرتے ہیں، سبھی کا ایک ہدف ہے اور وہ ہے احکام الہی کا تمام جہاں میں جاری کرنا اورنظام توحیدی کو عمل میں لانا_ نظام توحیدی اس نظام کو کہا جانتا ہے جو خداپرستی، اللہ تعالی کی رہبری اور احکام الہی کے اجرا پر مبنی ہو_

کیا تم مسلمانوں کی تعداد کو جانتے ہو؟ کیا کبھی اتنی کثیر جمعیت کی طاقت کا اندازہ لگایا ہے؟ مسلمانوں کی تعداد پوری دنیا میں بہت زیادہ ہے (جو تقریباً ایک ارب ہے) مسلمان مختلف شہروں، قصبوں، صوبوں، ملکوں اور برّا عظموں میں رہتے ہیں، مختلف اقوام پر مشتمل ہیں، مختلف زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں، مختلف جگہوں پر مختلف گروہوں پر حکومت کرتے ہیں اور انھوں نے اپنی حکومت کے لئے سرحدین بنا رکھی ہیں_

لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ یہ تمام کے تمام اپنے ملک کے افراد کے حالات کو نظر رکھتے ہیں اور بقیہ مسلمانوں کے لئے جوان ممالک کے باہر دوسرے ممالک میں زندگی گذارتے ہیں کوئی توجہ نہیں کرتے بلکہ انھیں اجنبی و بیگانہ سمجھتے ہیں لیکن اسلام اور قرآن اس کوتاہ فکری کو قبول نہیں کرتا بلکہ تمام جہاں کے مسلمانوں کو خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور کسی


زبان میں بھی باتیں کریں ایک امّت قرار دیتا ہے_ خیالی اور وہمی سرحدیں تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکتیں اگر چہ مسلمانوں کی سرزمینیں مختلف حکومتوں سے ہی کیوں نہ چلائی جارہی ہوں_ مسلمان ایک دوسرے سے اجنبی اور بیگانہ نہیں ہیں بلکہ تمام کے تمام اسلام، مسلمان اور اس عظیم اسلامی معاشرے میں مشترک ذمہ دار ہیں_

اسلامی حکومت کے سر براہوں کو نہیں چاہیئے اور نہ ہی وہ کرسکتے ہیں کہ اسلامی حکومتوں کو ایک دوسرے سے اجنبی قرار دیں اور وہ بے خبر رہیں حالانکہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے:

'' جو بھی مسلمانوں کے امور کی صلاح کی فکر میں نہ ہو وہ مسلمان نہیں ہے''_

پیغمبر اسلام (ص) کے اس فرمان کے بعد کیا وہی سرحدیں اور خطوط مسلمانوں کو ایک دوسرے سے اجنبی قرار دے سکتی ہیں؟ کیا جغرافی حدود اسلامی برادری اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داریوں کو محدود کرسکتی ہیں؟ کیا ایک ثروت مند ملک کہ جس کی آمدنی بہت زیادہ ہو دوسری اسلامی حکومتوں سے جو فقیر ہو بے پروا رہ سکتا ہے؟ کیاایک اسلامی آزاد اور ترقی یافتہ ملک دوسرے اسلامی ملک سے جو دوسروں کے زیر تسلط ہو بے توجہ رہ سکتا ہے، کیا حکم نہیں ہے کہ ہر ایک مسلمان کو دوسرے مسلمانوں کے امور کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیئے؟

اسلامی سرزمین سے د فاع کرنا:

اگر کسی مسلمان حکومت پر کوئی ظالم حملہ کردے تو جانتے ہو کہ دوسرے اسلامی ممالک کی کیا ذمہ داری ہے؟ تمام ممالک اسلامی پر واجب اور لازم ہے کہ اپنی تمام قوت اور فوج کو لے کر اس ظالم حملہ آور پر حملہ کردیں اور اس متجاوز ظلم کو پوری طاقت سے اس ملک


سے دور کریں کہ جس پر اس نے حملہ کیا تھا اس لئے کہ ایک اسلامی حکومت پر حملہ کرنا پوری دنیائے اسلام اور پیغمبر اسلامی(ص) کی عظیم امت پر حملہ کرنا ہوتا ہے_

اگر پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں اسلامی ملک کے کسی گوشہ پر حملہ کیا جاتا تو پیغمبر اسلام (ص) کیا کرتے اور اپنا اس کے متعلق کیا ردّ عمل ظاہر کرتے؟ کیا یہ ہوسکتا تھا کہ آپ خاموش رہتے اور کوئی عملی اقدام نہ کرتے؟

ہرگز نہیں یہ ممکن ہی نہیں تھا بلکہ پیغمبر اسلام (ص) مسلمانوں کے عظیم لشکر کو اسلام کی سرزمین کے دفاع کے لئے روانہ کرتے اور جب تک دشمن کو وہاں سے نہ ہٹا دیتے آرام سے نہ بیٹھتے_ پیغمبر اکرم(ص) نے اس عظیم ذمہ داری کی بجا آوری موجودہ زمانہ میں اسلامی معاشرہ کے رہبران الہی پر ڈال رکھی ہے اور اس کی بجاآوری انھیں کی ذمہ داری ہے_

تمام مسلمانوں سے اور بالخصوص ان مذہبی رہبروں سے امید ہے کہ وہ اسلامی ممالک کی سرزمین کی اور اسلام کی اعلی و ارفع قدر و قیمت کی پوری طاقت و قوت سے حفاظت کریں اور اجنبیوں کے مظالم کو اسلامی مملک سے دور رکھیں_

مشترک دشمن کے مقابل مسلمانوں کا اتحاد:

مسلمانوں کو یہ حقیقت ماننی چاہیئے کہ تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کی برادری اور خلوص سے زندگی کرنی چاہیئے اور کفر و مادی گری جو تمام مسلمانوں کامشترک دشمن ہے اس کے مقابل متحد ہونا چاہیئے_

اسلام کے دشمن ہی نے تو مسلمانوں میں اختلاف ڈال کر یہ ملک اور وہ ملک یہ قوم اور وہ قوم یہ برا عظم اور وہ برّا عظم بنا رکھا ہے حالانکہ تمام مسلمان ایک اور صرف ایک ملّت


ہیں اور انھیں مشترک دشمن کے مقابل یعنی کفرو مادّی گری و جہان خوار اور استکبار کے سامنے متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہیئے اس صورت میں دشمن کبھی جرات نہ کرسکے گا کہ اسلامی سرزمین کے کسی گوشہ پر تجاوز کرسکے اور ان کی دولت و ثروت کو لوٹ لے جائے اور مسلمانوں کی عزت و شرف اور صحیح فرہنگ کو نابود کرسکے_

جہان اسلام کی وحدت اور استقلال کی حفاظت:

مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ کفر سے چشم پوشی کرتے ہوئے جہان اسلام کی وحدت اور ان کی داخلی طاقت کی تقویت اور اس کے کامل استقلال کے لئے کوشش کریں تا کہ وہ شرق و غرب کے شدید و خطرناک طوفان کے مقابل آزاد اور باوقار زندگی بسر کرسکیں_

مسلمان تب ہی فتحیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے جب وہ اپنی عظیم طاقت پر انحصار کرے اور اسلام کے دشمن پر سہارا نہ کرے اسلام کے دشمن کبھی مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے_ اسلام کے دشمنی دوستی کا اظہار بھی کریں تو وہ جھوٹ بولتے ہیں اور سوائے مکر و حیلہ اور ثروت کو لوٹنے کے اور کوئی ان کی غرض نہیں ہوتی اور ان کے عہد و پیمان پر کوئی اعتماد نہیں کیا جاسکتا_

خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ:

''کافروں کے ساتھ جنگ کرو کیونکہ ان کے عہد و پیمان بے اعتبار اور بے فائدہ ہوا کرتے ہیں''_

مسلمانوں کو متحد ہونا چاہیئے اور کسی بھی حکومت کو اجازت نہ دیں کہ اسلامی ممالک میں معمولی مداخلت بھی کرسکیں_


خدا قرآن میں فرماتا ہے:

( '' و الّذین معه اشدّاء علی الکفّار رحماء بینهم ) (۱)

'' یعنی مومنین کو کافروں کے مقابل میں سخت ہونا چاہیئے اور آپس میں بہت مہربان اور ہمدرد''

لہذا ساری دنیا کے مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے سر براہوں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ ایک اسلامی وسیع نظری کی بناپر تمام عالم اسلام کو ایک جانیں اور آپس میں ہمدردی، تعاون و برادری اور اتحاد کا معاہدہ کریں اور اسلامی کی اعلی ترین مصالح کی خاطر معمولی اختلافات سے صرف نظر کریں، اختلاف پیدا کرنے والے عوامل و اسباب کا مقابلہ کریں اور اپنے معمولی اختلاف و کدورتوں کو حسن نیت اور حسن اخلاق سے ححل کریں اور اپنی پوری طاقت سے کوشش کریں کہ عالم اسلام اورمسلمانوں کی صفوں میں اختلاف پیدا نہ ہو_

متجاوز سے نمٹنے کا طریقہ:

اگر مسلمانوں کی حکومت میں سے کوئی حکومت دوسروں کے ایماء پر کسی دوسری مسلمان حکومت پر حملہ کرے تو سارے مسلمانوں بالخصوص ممالک اسلامی کے سر براہوں کی ذمہ داری ہوگی کہ فوراً ان کے اختلاف کو حل کریں، ان میں صلح و صفائی کرادیں اور عالم اسلام کو بہت بڑے خطرے یعنی اختلاف و تفرقہ سے نجات دلائیں اور پوری غیر جانبداری سے متجاوز کو پہچانیں اس کا اعلان کریں اور اس کو حکم دین کہ وہ اپنے تجاوز سے دست بردار ہوجائے اور اگر اس

____________________

۱) سورہ فتح آیت ۲۹


کے باوجود بھی وہ اپنی ضد پر باقی رہے اور اپنے تجاوز سے دست بردار نہ ہو پھر فریضہ کیا ہوگا؟

تمام مسلمانوں کا فریضہ ہوگا کہ متجاوز سے اعلان جنگ کریں اور پوری طاقت سے یہاں تک کہ خونریزی و جنگ سے اسے سرکوب کریں اسے اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹادیں اور پھر ان دو جنگ کرنے والے ملکوں میں مصالحت کرائیں اور انھیں، پہلی والی حسن نیت اور خوش بینی کی طرف لوٹادیں_

اس طریقہ سے عالم اسلام کو اختلاف و تفرقہ سے محفوظ رکھیں تا کہ کافر خود اپنے منھ کی کھائے اور اسے اجازت نہ دیں کہ وہ مسلمانوں کے امو رمیں اگر چہ ان میں صلح کرانا ہی کیوں نہ ہو مداخلت کرے_ قرآن مجید نے مسلمانوں کی یہی ذمہ داری بیان کی ہے_

قرآن مجید کی آیت:

و ان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینهما فان بغت احدیهما علی الاخری فقاتلوا الّتی تبغی حتّی تفییء الی امر الله فان فانت فاصلحوا بینهما بالعدل و اقسطو انّ الله یحبّ المقسطین انّما المؤمنون اخوة فاصلحوا بین اخویکم و اتّقوا الله لعلکم ترحمون(۱)

'' اور اگر مومنین میں سے دو فرقے آپس میں لڑپڑیں تو ان دونوں میں صلح کرادو پھر اگر ان میں سے ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو جو فرقہ زیادتی کرے تم بھی اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع کرے پھر جب رجوع کرے تو فریقین میں مساوات کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف سے کام لو بیشک خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے مومنین تو آپس میں بس بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں میل جول کرادیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہوتا کہ تم پر رحم کیا جائے''_

____________________

۱) سورہ حجرات آیات ۹_ ۱۰


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱)___ مسلمان کن عقائد میں مشترک ہیں؟

۲)___ امّت واحدہ سے کیا مراد ہے؟ قرآن اور اسلام کا مسلمانوں کے متعلق کیا نظریہ ہے؟

۳)___ کیا جغرافیائی حدود مسلمانوں کی ذمّہ داریوں کو محدود کرسکتی ہیں، کیوں اور کس طرح؟

۴)___ اگر کسی مسلمانو ملک پر غیر حملہ کردے تو دوسرے اسلامی ممالک کا اور مسلمانوں عالم کا فریضہ کیا ہے؟

۵)___ تمام مسلمانوں کے مشترک دشمن کون ہیں، ان دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کیا ذمّہ داری ہے؟

۶)___ قرآں، کافروں سے کس قسم کا معاملہ انجام دینے کو کہتا ہے، کیا اس کی وضاحت کرسکتے ہو؟

۷)___ مسلمانوں کا آپس میں کیسا سلوک ہونا چاہیئے؟

۸)___ کافروں اور تجاوز کرنے والوں سے کیسا معاملہ کرنا چاہیئے اور ان سے کس قسم کا ربط رکھنا چاہیئے؟

۹)___ اگر اسلامی ممالک میں سے کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ کردے تو اس وقت تمام مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے؟

۱۰)___ اگر حملہ آور حق کو قبول نہ کرے تو پھر مسلمانوں کا کیا فریضہ ہے؟


اجتہاد اور رہبری

کسی بیماری تشخیص اور اس کے علاج میں کس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے؟ کسی لوہار یا زمیندار کی طرف جو علم طب سے واقفیت نہیں رکھتا یا ایک طبیب اور ڈاکٹر کی طرف؟

یقینا ایک ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے کیونکہ ڈاکٹر ہی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ لوہار اور زمیندار ایسی صلاحیت نہیں رکھتا_

کسی بلڈنگ یا مکان کا نقشہ بنوانے اور پھر مکان و بلڈنگ تیار کرنے میں کس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے؟

کیا کسی مدرسہ کے معلم یا نفسیاتی ماہر کی طرف؟ یا کسی انجینڑ اور معماری کی طرف؟ یقینا انجینئر اور معمار اس کام کو جانتے ہیں_ کسی کام کے سلسلہ میں اس کے ماہر کی طرف رجوع کرنا ایک ضروری اور فطری چیز ہے_ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم تمام فنون اورکاموں میں اس کے ماہر ہوجائیں؟ کیا ان سوالوں کے جواب دے سکتے ہو؟

احکام و قوانین اسلام اور دین واقعی معلوم کرنے کے لئے کس کی طرف رجوع کرنا چاہیئے؟

کیا دین واقعی معلوم کرنے کے لئے ہم ایک سائنسداں یا نفسیاتی ماہر یا ڈاکٹر کی طرف رجوع کرسکتے ہیں؟

نہیں کیونکہ ان لوگوں کو دین کے قوانین اور احکام سے پوری طرح واقفیت نہیں ہوتی لہذا دوسرے علوم و فنون کی طرح علم دین کی شناخت کے لئے بھی کسی ماہر و متخصّص کی ضرورت ہے


دین کے احکام کے استنباط کا ماہر و متخصّص مجتہد اور فقیہ ہوا کرتا ہے ہم قوانین اسلام اور احکام دین کے معلوم کرنے کے لئے مجتہدین کی طرف رجوع کرتے ہیں اور انھیں کو مراجع تقلید کہتے ہیں_

ایک فقیہ اور مجتہد احام اسلامی کے استنباط کرنے کے لئے کئی سالوں تک درس و تدریس میں مشغول رہتا ہے اور اپنی محنت و کوشش سے تمام احادیث اور قرآنی آیات سے پوری طرح آگاہی حاصل کرتا ہے_ احادیث اور آیات قرآنی کے سمجھنے کے لئے مختلف علوم کی ضرورت ہوتی ہے فقیہہ ان تمام علوم کو حاصل کرتا ہے، عربی زبان و ادب سے اچھی طرح آگاہ ہوتا ہے، عربی زبان کے قواعد اور دستور کو بخوبی جانتا ہے، عربی زبان کے جملے اور کلمات سے مطالب کو اخذ کرتا ہے_

علم اصول فقہ کہ جس پر اجتہاد موقوف ہوتا ہے اس میں پوری طرح دسترس رکھتا ہے علم حدیث اور روایت میں وہ مجتہد ہوتا ہے وہ حدیث اور قرآن شناس ہوتا ہے وہ معتبر حدیث کو غیر معتبر حدیث سے اور حدیث صحیح کو حدیث ضعیف سے تمیز دیتا ہے کیونکہ ہر حدیث معتبر اور قابل اعتماد نہیں ہوا کرتی کتب احادیث میں ایسی حدیثیں جو مجہول اور جھوٹی ہیں کہ جنھیں پیغمبر اسلام (ص) اور ائمہ معصومین (ع) نے نہیں فرمایا موجود ہیں ایسی جھوٹی اور مجہول احادیث کو واقعی اور صحیح احادیث سے تمیز دینا ایک اہم کام ہے کہ جسے صرف مجتہد انجام دے سکتا ہے_

ہر حدیث کو قرآن اور دوسرے احادیث کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے اور اس کام کو ہر شخص نہیں کرسکتا صرف مجتہد اور فقیہہ ہی اسلام کے واقعی احکام اور قوانین کو آیات اور سیکٹروں احادیث کی کتابوں میں تلاش کرتا ہے لیکن وہ شخص جو احکام اسلامی کے استنباط کی صلاحیت نہیں رکھتا اگر چہ وہ دوسرے علوم کا ماہر ہی کیوں نہ ہو اسے حق نہیں


پہونچتا کہ وہ قوانین اور احکام اسلامی کو استنباط کرے_

فقیہہ اور مجتہد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو اچھی طرح جانتا ہو اور احکام و قوانین کا خواہ وہ فردی ہوں یا اجتماعی، سیاسی ہوں یا اخلاقی اچھی طرح علم رکھتا ہو_ معاشرہ کی مختلف ضروریات سے آگاہ ہو، دنیا میں رونما ہونے والے حوادث خاص طور سے عالم اسلام کے حالات سے بخوبی واقف ہو اور معاشرہ کی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی اجتہادی قوت سے اس کامل سوچے اور شجاعت و تدبّری سے اس کی رہبری کر سکے اور اس سلسلہ میں باخبر افراد سے مشورہ بھی لے_

اجتہادی طاقت اس عظیم اسلامی معاشرہ کو حرکت میں رکھتی ہے اور مسلمانوں کی عظیم طاقت و قدرت کی رہبری کرتی ہے_ مجتہد اور فقیہہ کج فکری، تعدی و سستی اور غلط قسم کی جاہلوں کی تاویلات اور اہل باطل کی بدعات کو روکتا ہے اور مسلمانوں کو اسلام کے صحیح راستہ پر چلا کردینا و آخرت کی سعادت اور سربلندی تک پہونچاتا ہے_

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ:

'' فقہائ، پیغمبر(ص) کی طرف سے اس امّت کے امین ہوا کرتے ہیں''_

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ:

''دین کے قوانین اور امور کا اجر ان علماء کے ہاتھ سے ہوا کرتا ہے کہ جو دین کے حلال اور حرام کے امین ہوتے ہیں''

پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا ہے کہ:

'' ہمیشہ لوگوں میں ایسے علماء اور متقی پیدا ہوتے رہیں گے جو دین کی حمایت کریں گے، جاہلوں کی غلط تعریفوں اور تفسیروں کو


روکیں گے، الہ باطل کی بدعتوں کا مقابلہ کریں گے اور جذباتی انسانوں کی غلط تاویلات میں حائل ہوں گے''_

اس فقیہہ کی تقلید کرنی چاہیئے جو عادل، متقی، بقیہ تمام مجتہدوں سے زیادہ آگاہ ہو اور رہبری کی ذمہ داریوں کو ادا کرسکتا ہو_ اس قسم کا فقیہ اور مجتہد احکام دین کے استنباط کے علاوہ بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں رہبری اور حکومت کو بھی اپنے ذمہ لے سکتا ہے اور مسلمان ایسے اسلام شناس فقیہہ کی حکومت اور رہبری کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی عاقلانہ رہبری سے بہرہ مند ہوتے ہیں، اسلام کے سیدھے راستہ کو اسی سے حاصل کرتے ہیں اس کے اوامر کی اطاعت اور اس کی رہبری و حکومت کو قبول کر کے حقیقی کامیابی حاصل کرتے ہیں_


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجیئے

۱)___ دین اسلام کے قوانین اور احکام معلوم کرنے کے لئے کس شخص کی طرف رجوع کرنا چاہیئے؟

۲)___ مجتہد کو دین کے احکام استنباط کرنے میں کن کن علوم کو جاننا چاہیئے؟

۳)___ کیا ہر حدیث پر اعتماد کیا جاسکتا ہے اور کیوں؟

۴)___ احادیث کو کن علوم کی روشنی میں قبول کیا جاتا ہے؟

۵)___ پیغمبر اسلام (ص) نے فقہاء کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

۶)___ کس فقیہہ کی تقلید کرنی چاہیئے؟

۷)___ اسلام کی رہبری اور حکومت کس کے پاس ہونی چاہیئے اس کی اور لوگوں کی کیا ذمّہ داری ہوتی ہے؟


قانون میں سب مساوی ہیں

حضرت علی علیہ السلام کوفہ کے بازار سے گذر رہے تھے ایک زرہ ایک عیسائی کے ہاتھ میں دیکھی کہ وہ اسے فروخت کر رہا ہے حضرت علی علیہ السلام اس زمانہ میں تمام اسلامی مملکت کے ولی اور خلیفہ تھے آپ اس عیسائی کے نزدیک گئے اور اس زرہ کو غور سے دیکھا پھر اس بیچنے والے عیسائی سے کہا کہ:

'' زرہ تو میری ہے کافی دن ہوگئے ہیں کہ یہ گم ہوگئی تھی اب چونکہ یہ تمھارے پاس ہے لہذا یہ مجھے واپس کردو''_

عیسائی نے واپس دینے سے انکار کیا اور کہا کہ:

'' یہ زرہ میری ہے آپ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے''

زرہ کو آپ سے جھٹکے سے واپس لے لیا_ لوگ اکٹھے ہوگئے تا کہ دیکھیں کہ اتنی بڑی شخصیت کا مالک کیا کردار ادا کرتا ہے اور یہ دیکھیں کہ حضرت علی علیہ السلام اس عیسائی آدمی سے کیا کہتے ہیں اور کس طرح اپنے حق کو لیتے ہیں_ شاید چند آدمی آپ کی حمایت بھی کرنا چاہتے تھے اور اس عیسائی سے زرہ واپس لے کر حضرت علی علیہ السلام کو دینا چاہتے تھے لیکن حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ:

'' نہیں تمھیں اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے اسلام حق اور عدالت کا دین ہے اس سلسلہ میں قانون موجود ہے اور میں قانون اور قاضی کے فیصلہ کو تسلیم کروں گا''_


آپ نے اس وقت بہت نرم دلی اور خندہ پیشانی سے اس عیسائی سے فرمایا کہ:

'' مجھے یقین ہے کہ یہ زرہ میری ہے یہ مجھے دے دو ورنہ آؤ ہم قاضی کے پاس چلتے ہیں تا کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے''_

عیسائی نے امام علیہ السلام کی خواہش کو مانا اور آنحضرت کے ساتھ اپنے جگھڑے کے ختم کرنے کے لئے قاضی کے پاس گیا اور جو نہی قاضی نے امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا تو وہ آپ کے احترام میں کھڑا ہوگیا لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اس سے فرمایا کہ

''ہم فیصلہ کرانے کے لئے یہاں آئے ہیں اور قاضی کو چاہیئے کہ طرفین کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے تمھیں ایک قاضی کی حیثیت سے میرا زیادہ احترام نہیں کرنا چاہیئے_ قاضی کو نگاہ کرنے اور توجہ کرنے میں بھی طرفین کے ساتھ مساوات سے کام لینا چاہیئے_ آؤ اور ہمارے درمیان فیصلہ کرو''_

قاضی اپنی قضاوت کی مخصوص جگہ پر بیٹھا حضرت علی (ع) اور وہ عیسائی بھی قاضی کے سامنے بیٹھے_ قاضی نے اختلاف کے متعلق پوچھا_

امیرالمومنین (ع) نے فرمایا کہ:

'' یہ زرہ جو اس کے پاس ہے یہ میری ہے میں نے اسے نہ کسی کو بخشا ہے اور نہ کسی کو فروخت کیا ہے چند دین پہلے گم ہوگئی تھی اور اب یہ اس کے پاس ہے''

قاضی نے اس عیسائی سے کہا کہ:

''علی ابن ابیطالب (ع) ادعا کر رہے ہیں کہ زرہ ان کی ہے تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو؟ کیا یہ زرہ تمھاری ہے؟ لیکن مسلمانوں کے


خلیفہ کو بھی نہیں جھٹلاتا ہوں''

قاضی نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا:

'' یا علی (ع) آپ مدّعی ہیں اور مدّعی کو ایسے دو گواہ کو جو قابل قبول ہوں لانے چاہئیں اگر آپ کے پاس گواہ ہیں تو انھیں عدال میں لائیں تا کہ وہ گواہی دیں''

امیرالمومنین (ع) قاضی کو اچھی طرح پہچانتے تھے اور جانتے تھے کہ گواہی کے قبول کئے جانے کے کیا شرائط ہیں آپ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ:

'' میں اس طرح کے گواہ نہیں رکھتا''

قاضی نے کہا:

'' جب آپ کے پاس گواہ نہیں ہیں تو شریعت کی رو سے آپ کا حق ثابت نہیں ہوتا''_

چنانچہ وہ عیسائی زرہ لے کر عدالت سے باہر گیا اور تھوڑی دور چلنے کے بعد سوچنے لگا کہ کتنا بہترین دین اور کتنی عادلانہ حکومت ہے کہ ایک مسلمانوں کے پیشوا اور ایک عیسائی آدمی کو قاضی کے سامنے برابر اور مساوی قرار دیتا ہے_ مسلمانوں کا پیشوا قاضی سے کہتا ہے کہ '' بیٹھ جاؤ تمھیں ایک قاضی کی حیثیت سے قضاوت کے وقت میرا زیادہ احترام نہیں کرنا چاہیئے، قاضی کو نگاہ کرنے میں بھی طرفین میں عدالت اور مساوات برتنی چاہیئے کتنی عادلانہ قضاوت ہے کہ بغیر ثبوت کے کسی کے حق میں اگر چہ وہ مسلمانوں کا پیشوا ہی کیوں نہ ہو فیصلہ صادر نہیں کرتی_

وہ تھوڑی دیر کھڑا سوچتا رہا پھر واپس لوٹا لیکن خوشحال ہوکر نہیں بلکہ پریشانی کے عالم میں لوگوں کے سامنے قاضی سے کہتا ہے:


''مسلمانو میں اس فیصلہ سے حیرت زدہ ہوں اور یقین نہیں ہوتا کہ قاضی نے میرے حق میں فیصلہ دیا ہے اور مسلمانوں کے پیشوا کے خلاف حکم سنایا ہے، اس عدالت کا حکم بالکل غیر جانبدارانہ تھا اور اس طرح کا فیصلہ صرف پیغمبروں (ع) کے دین میں ہی دیکھا جاسکتا ہے_

مجھے تعجب ہوتا ہے کہ امیرالمومنین (ع) و رسول خدا(ص) کا خلیفہ اور میں ایک عیسائی عدالت میں قانون کی رو سے مساوی ہیں، جہاں اسلام کا پیشوا عدالت میں حاضر ہوتا ہے اور اپنے اجتماعی مقام اور رتبہ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا

کیسے یہ ہوگیا کہ وہ قاضی کہ جسے وہی پیشوا معین کرتا ہے اس کے حق میں فیصلہ نہیں دیتا؟ کس طرح مانا جائے کہ قاضی اسلام کے رہبر و امیرالمومنین کے خلاف حکم صادر کردیتا ہے اور قضاوت کے قوانین کو ہر حیثیت سے ترجیح دیتا ہے_

یہ عدالت اور یوں فیصلہ کرنا تمھارے دین و مذہب کے حق ہونے کی نشانی ہے میں تمھارے دین کو قبول کرتا ہوں اور مسلمان ہوتا ہوں''_

اس وقت اس نے کلمہ شہادتین: اشہد ان لا الہ الّا اللہ و اشہد ان محمد رسول اللہ''

زبان پر جاری کیا اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوا اور کہا کہ:

'' خدا کی قسم حق آپ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے دعوی میں سچے ہیں یہ زرہ آپ کی ہے جب آپ مسلمانوں کے لشکر کے


ساتھ صفین کی جنگ میں جا رہے تھے تو یہ زرہ اونٹ سے گرپڑی تھی اور آپ اس سے آگے نکل گئے تھے میں نے اسے اٹھایا تھا اور اسے گھر لے آیا تھا یقینا یہ زرہ آپ ہی کی ہے اور میں معافی چاہتا ہوں''_

امیرالمومنین (ع) لوگوں کو ہدایت کرنا بہت پسند کرتے تھے اس کے مسلمان ہونے سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا:

'' تمھارے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے یہ زرہ میں تمھیں بخشتا ہوں اور یہ گھوڑا بھی تمھیں دیتا ہوں''

اس مرد نے اسلامی عالت کی عادلانہ رفتار کی وجہ سے اسلام کو محبت اور عشق سے قبول کیا اور امیرالمومنین (ع) کے خاص پیرو کاروں میں سے ہوگیا اور وہ دین اسلام کا اتنا شیفتہ ہوگیا کہ اسلامی فوج سے منسلک ہوگیا اور بہت بہادری سے نہروان کی جنگ میں شرکت کی ا ور اسلام کی حفاظت کی یہاں تک کہ اپنے کو اسلام اور انسانی آزادی کے لئے قربان کردیا اور شہادت کے بلند درجہ پر فائز ہوگیا_

توضیح اور تحقیق:

معاشرہ میں عادلانہ قوانین کا ہونا اور اس پر عمل کرانا اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اگر معاشرہ میں قانون کی حکومت ہو تو لوگ امن میں رہیں گے مطمئن ہوکر کاموں میں مشغول رہیں گے اپنی اور دوسرے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں کوشا رہیں گے کیونکہ صحیح قانون کے اجراء سے ہی اختلاف اور بد نظمی کو روکا جاسکتا ہے_ لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی جاسکتی ہے_


قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور سبھی کو اللہ تعالی کے قوانین کا احترام کرنا چاہیئے اور اپنی مشکلات کو قانون کے دائرہ میں حل کرنا چاہیئےور عدالت کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے اگر چہ وہ حکم ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو_ قاضی اور قانون جاری کرنے والوں کا سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیئے حق و عدالت کی پیروی کرنا چاہیئے اور کسی بھی موقع پر غلط حمایت نہیں کرنا چاہیئے بلکہ دوستی اور دشمنی کو مدّ نظر رکھے بغیر قضاوت کرنا چاہیئے_

قرآن کی آیت:

( یا ايّها الّذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شهداء الله و لو علی انفسکم او الوالدین و الاقربین ان یکن غنیا او فقیرا فالله اولی بهما فلا تتّبعوا الهوی ان تعدلوا و ان تلوا او تعرضوا فان الله کان بما تعملون خبیرا ) (۱)

'' اے ایمان والو عدل و انصاف کے ساتھ قیامت کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور قرباء ہی کے خلاف کیوں نہ ہو جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر اللہ دونوں کے لئے تم سے اولی ہے لہذا خبردار خواہشات کا اتباع نہ کرنا تا کہ انصاف کرسکو اور اگر توڑ مروڑ سے کام لیا یا بالکل کنارہ کشی کرلی تو یاد رکھو کہ اللہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے''_

____________________

۱) سورہ نساء آیت ۱۳۵


سوالات

یہ سوالات اس لئے ہیں تا کہ زیادہ غور و فکر کرسکو

۱)___ جب حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زرہ عیسائی کے ہاتھ میں دیکھی تھی تو اس سے کیا کہا تھا؟

۲)___ کیا اس عیسائی نے حضرت علی (ع) کی بات کو مانا تھا او رجواب میں کیا کہا تھا؟

۳)___ جب اس عیسائی نے امیرالمومنین (ع) کو زرہ واپس نہ کی تھی تو امیرالمومنین (ع) نے اس سے کیا کہا تھا؟

۴)___ قاضی نے امیرالمومنین (ع) کے ساتھ کون سا سلوک کیا اور حضرت علی (ع) نے اس سے بیٹھنے کے لئے کیون کہا تھا؟

۵)___ قاضی نے آپ کے جھگڑے میں کس طرح قضاوت کی اور کس کے حق میں فیصلہ دیا اور کیوں؟

۶)___ وہ عیسائی کیوں مسلمان ہوگیا تھا؟ اس کے مسلمان ہونے کا سبب کیا تھا؟

۷)___ اس تازہ عیسائی مسلمان کا انجام کیا ہوا تھا؟ تمھاری نظر میں وہ اس مرتبہ تک کیسے پہونچا تھا؟

۹)___ کیا بتلا سکتے ہو کہ صحیح قانون کے اجر اسے امن کا کیون احساس ہوتا ہے؟

۱۰)___ صحیح قانون کے اجرا سے ظلم و جور کو کس طرح روکا جاسکتا ہے؟

۱۱)____ قاضیوں کو طرفین سے کیسا سلوک کرنا چاہیئے؟


۱۲)___ دو نزاع کرنے والوں میں سے ایک کو مدّعی کہا جاتا ہے اور جانتے ہو کہ دوسرے کو کیا کہا جاتا ہے؟

۱۳)___ خداوند عالم نے قرآن مجید میں عدالت و انصاف کے بارے میں مومنین کا کیا فریضہ معین کیا ہے؟

۱۴)___ عیسائی کے سا تھ امیرالمومنین علیہ السلام کے سلوک کو وضاحت سے بیان کرو_

۱۵)___ کبھی تم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کیا ہے؟ کیا عدالت و مساوات کی رعایت کی ہے؟ کیا تم میں فیصلہ کرنے کے شرائط موجود ہیں؟


اسلام میں برادری

ہم ساتویں امام حضرت امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے میرے دوستوں میں سے محمد نام کا ایک دوست بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا_ امام موسی کاظم علیہ السلام میرے تبسم اور اس کی طرف دیکھنے سے سمجھ رہے تھے کہ میں محمد کو بہت چاہتا ہوں آپ کافی دیر تک ہم دونوں کو دیکھتے رہے اور پھر فرمایا:

'' محمد کو تم بہت دوست رکھتے ہو''

میں نے غرض کی:

''جی ہاں اے فرزند پیغمبر(ص) چونکہ محمد ایک متقی و با ایمان انسان ہے اور آپ کے دوستوں میں سے ہے لہذا میں اسے دوست رکھتا ہوں''_

امام علیہ السلام نے فرمایا:

'' ضرور تمھں اسے دوست رکھنا چاہیئے محمد ایک مرد مومن ہے اور تمام مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان کا آپس میں سلوک دو بھائیوں جیسا ہو_

کیا جانتے ہے؟ کیا جانتے ہو کہ جو مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کرے اور اسے دوھوکہ دے خداوند عالم اسے اپنی رحمت


سے دور کردیتا ہے؟ جانتے ہو کہ بھائیوں کو ایک دوسرے کا خیرخواہ ہونا چاہیئے اور ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے؟

دیکھو کسی بھائی کو اس کی ضرورت کی چیز سے محروم نہ کرنا کیونکہ ایسا شخص خدا کی رحمت سے دور رہتا ہے_ دیکھو کبھی کسی بھائی کی غیر حاضری میں اس کی غیبت اور بدگوئی نہ کرنا یا اس کو اپنے سے دور نہ کرنا کہ خداوند عالم بھی تمھیں اپنی رحمت سے دور کردے گا_

اسلام کی رو سے مسلمان مرد اور عورت ایک دوسرے کے بھائی بہن ہیں اور اسلام نہ یہ کہ ایک دوسرے کو بھائی بہن کہہ کہ بلانے کو کہتا ہے بلکہ ان سے چاہتا ہے کہ ایک دوسرے سے بھائیوں اور بہنوں کی طرح مہربانی و صمیمیت سے مددگار ہوں_ سچّے بہن بھائی کبھی بھی ایک دوسرے سے بے تفاوت نہیں رہ سکتے اور وہ ایک دوسے کے اعضاء کی طرح ہوتے ہیں کہ اگر بدن کا ایک عضو و رد کرے تو دوسرا عضو بھی درد کرتا ہے _ مومنین بھی ایسے ہوا کرتے ہیں کہ اگر کسی مومن کو کوئی تکلیف پہونچتی ہے تو دوسرے بھی درد و رنج کا احساس کرتے ہیں اور اس مومن بھائی یا بہت کی مدد کے لئے پہونچ جاتے ہیں اور اس کے درد و رنج کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں''_

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرما ہے کہ:


'' مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک دوسرے پر برادری کا حق رکھتے ہیں اگر ایک بھائی بھوکا ہو تو کیا دوسرا بھائی اپنے پیٹ کو مختلف رنگ برنگ غذا سے پر کرسکتا ہے؟ اگر ایک بھائی پیاسا ہو تو دوسرا بھائی سیراب ہوسکتا ہے؟ اگر ایک بھائی لباس نہ رکھتا ہو تو کیا دوسرا بھائی اپنی پسند کا لباس پہن سکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر کافی حق رکھتا ہے کہ وہ اسے بجالائے''

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی چند ذمّہ داریاں میں:

۱)___ '' ملاقات کے وقت اسے سلام کرے_

۲)___ اگر بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے_

۳)___ اگر مرجائے تو اس کے جنازہ میں شرکت کرے_

۴)___ اگر اسے دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کردے_

۵)___ اور سب سے اہم یہ ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرے وہی دوسرے مسلمان اور مومن کے لئے بھی پسند کرے اور جو چیز اپنے لئے پسند نہیں کرتا وہ دوسرے کے لئے بھی پسند نہ کرے''_


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱)___ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو فرائض ہیں انھیں بتاؤ_

۲)___ مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی فرمائشے کو بیان کرو اور بتاؤ کہ مومن واقعی ایک دوسرے سے کس طرح کی رفتار کرے اور جب کوئی مومن مصیبتوں میں گرفتار ہوجائے تو دوسرے مومن کو کیا کرنا چاہیئے؟

۳)___ امام موسی کاظم علیہ السلام نے محمّد کے دوست سے جو آپ کے اصحاب میں سے تھا مومنین کے ایک دوسرے کے فرائض کے سلسلہ میں کیا فرمایا تھا؟


اسلام اور مساوات

ایک دن پیغمبر اسلام(ص) اپنے چند اصحاب سے گفتگو کر رہے تھے اسی وقت جناب سلمان فارسی جو پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں محترم تھے آگئے آنحضرت (ص) نے اپنی گفتگوختم کرتے ہوئے سلمان فارسی کو بڑے احترام اور خندہ پیشانی سے اپنے پہلو میں بٹھایا_ آپ کی اس محبت آمیز رفتار اور بہت زیادہ احترام سے آپ کے ایک صحابی کو غصہ آیا اور گستاخانہ انداز میں کہا کہ:

'' سلمان کو ہمارے درمیان ہم سے بلند جگہ نہیں بیٹھنا چاہیئے بلکہ ہم سے نیچے بیٹھنا چاہیئے کیونکہ وہ فارسی زبان ہیں اور ہم عربی زبان'' _

پیغمبر اسلام(ص) اس صحابی کی گفتگو سے غضبناک ہوئے اور فرمایا:

'' نہیں ایسا نہیں ہے فارسی یا عربی ہونا قابل امتیاز اور فخر نہیں ہوا کرتا، رنگ اور قبیلہ فضیلت کاموجب نہیں ہوا کرتا، سفید کو سیاہ پر برتری نہیں ہے بلکہ جو چیز خداوند عالم کے نزدیک برتری کا موجب ہے وہ ''تقوی'' ہے_

جو بھی تقوی میں زیادہ ہوگا وہ اللہ کے نزدیک معزز ہوگا،

اسلام برابری کا دین ہے اور دین اسلام بے اساس و خیالی امتیازات کی مخالفت کرتا ہے_ اسلام کی نگاہ میں سلمان فارسی ، صہیب رومی، حمزہ، جعفر ابن ابیطالب اور دوسرے مسلمان سب کے سب برابر


ہیں_ برتری اور فضیلت کا معیار صرف تقوی اور اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ کرنے میں ہے_ اللہ تعالی کے نزدیک ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے ہی برتری ہوا کرتی ہے کیونکہ سب کا پیدا کرنے والا خدا ہے اور خداوند عالم نے تقوی کو فضیلت و برتری کا معیار قرار دیا ہے''_

خداوند عالم انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کی ضروریات کو پہلے سے مہیا کیا ہے اور انھیں اس کے اختیار میں دیا ہے اسی طرح خدا نے زمین کو پیدا کیا ہے تا کہ انسان اس پر زندگی بسر کرے اپنی کوشش سے اسے آباد کرے اللہ کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو اپنے اور دوسروں کے لئے روزی حاصل کرے_

انسان اللہ تعالی کی نعمتوں سے استفادہ کئے بغیر اور خاص طور سے پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا_ خداوند عالم نے پانی کو انسانوں کے اختیار میں دیا ہے تا کہ اسے پیئں اور اس سے زراعت کریں اور حیوانوں کو پالیں_ زمین کے معاون اور اس کی اندرونی دولت کو انسانوں کے فائدے کے لئے خلق کیا ہے تا کہ انسان غور و فکر کے ذریعہ دنیا کے اسرار و رموز سے واقف ہو اور ان نعمتوں سے کہ جو زمین کے اندر ہیں بہرہ مند ہو اور انھیں مخلوق خدا کی سعادت و آرام اور رفاہ کے لئے استعمال میں لائے ( زمین یا پانی، ہوا اور زمین کی دوسری دولت سارے انسانوں سے متعلق ہے اور سبھی اس سے فائدہ حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں_

سارے انسان اللہ کے بندے ہیں اور وہ زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں سفید، سیاہ، زرد، سرخ، عورت، مرد، دیہاتی، شہری، عرب اور عجم سب کے سب انسان ہیں اور سب کو حق پہونچتا ہے کہ کھانے پینے اور زندگ کے دوسرے وسائل سے بہرہ مند


ہوں_ سبھی کو محنت کرنا چاہیئے اور اسلام کے قوانین کی رعایت کرتے ہوئے غیر آباد زمین کو آباد کرنا چاہیئے اور زمین کے اندر چھپی ہوئی دولت کو نکال کر اپنے معاشرہ کے فائدے کے لئے استعمال کرنا چاہیئے_

کسی انسان کو حق نہیں پہونچتا کہ وہ دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرے اور زندگی کے وسائل سے محروم کردے جس طرح خدا کے نزدیک سارے انسان برابر ہیں اسی طرح ایک اسلامی مملکت کی نظر میں بھی برابر ہیں_ اسلامی مملک کو عوام کی ضروریات کو فراہم کرنا چاہیئے اورا ن کی خوراک و پوشاک اورمسکن کا بغیر کسی جانبداری کے انتظام کرنا چاہیئے_

اسلامی حکومت کو چاہیئے کہ جہالت کو ختم کردے اور سبھی کو اسلامی تعلیم سے بہرہ مند کرے اور عوام کے علاج کے لئے ڈاکٹروں کا انتظام کرے_ اسلامی مملکت کا یہ وظیفہ ہے کہ تمام رعایا کی مدد سے مجبور اور بوڑھوں کے لئے سامان زندگی کو مہیا کرے_ اسلامی حکومت کو چاہیے کہ ذخیرہ کرنے والوں کے ظلم و تعدی کو روکے اور ان کے درمیان عدل او نصاف سے کام لے اور ان لوگوں پر زیادہ توجہ دے جو محروم و ضعیف اور سر حد و دیہات کے رہنے والے ہیں تا کہ ان کی زندگی دوسرے افراد کی زندگی کے برابر آجائے_

خلاصہ یہ ہے کہ دین اسلام عدل و انصاف، برابری اور برادری کا دین ہے_ کسی کو دوسرے پر سوائے تقوی کے کوئی امتیاز نہیں حاصل ہے صرف مومن اور پرہیزگار اپنے ایمان اورتقوی کے مراتب کے لحاظ سے ''اللہ کے نزدیک معزّز ترین وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار اور زیادہ متقی ہے''_


قرآن مجید کی آیات:

( و الارض وضعها للانام ) (۱)

'' اللہ نے زمین کو لوگوں کے لئے قرار دیا ہے''

( هو الّذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ) (۲)

'' اللہ ہی تو وہ ہے کہ جس نے زمین کی ساری چیزیں تمھارے لئے خلق کی ہیں''

( انّ اکرمکم عند الله اتقیکم ) (۳)

'' معزز ترین تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو''_

____________________

۱) سورہ رحمن آیت ۱۰

۲) سورہ بقرہ آیت ۲۹

۳) سورہ حجرات آیت ۱۳


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱) ___پیغمبر اسلام(ص) ، جناب سلمان فارسی کا کیوں زیادہ احترام کرتے تھے؟

۲)____ پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں انسان کے لئے کون سی چیز باعث فضیلت ہے؟ اور کیوں؟

۳)___ لارث زمین، معاون (کانیں) اور زمین میں موجود ثروت کس کی ملکيّت ہے؟ اوران کس کی اجازت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؟

۴)___ حکومت اسلامی کو مسلمانوں کی مدد کے لئے کون سا اقدام کرنا چاہیئے؟

۵)____ اسلامی حکومت کو اپنی منصوبہ بندیوں میں کس کو ترجیح دینی چاہیئے؟


ظالموں کی مدد مت کرو

'' بنی امیہ کی حکومت ایک غاصب اور ظالم حکومت ہے میں تمھیں اجازت نہیں دیتا کہ ظالم حکومت کی خدمت کرو اور اپنے عمل سے ان کی تائید کرو''

( امام صادق علیہ السلام)

یہ بات امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس شخص کے جواب میں کہی تھی کہ جس نے آپ سے سوال کیا تھا '' کیا میں بنی امیہ کے خلفاء کی خدمت کرسکتا ہوں؟ کیونکہ میں ایک مدت سے بنی امیہ کے دربار میں کرتا ہوں اور بہت کافی مال میں نے حاصل کیا ہے اور اس کے حصول میں بہت زیادہ احتیاط و دقّت سے بھی کام نہیں لیا ہے لہذا اب کیا کروں؟

اس مال کا جو میرے پاس موجود ہے کیا حکم ہے حلال ہے یا حرام؟ کیا میں اس کام میں مشغول رہ سکتا ہوں؟ میرا ہونا یا نہ ہونا ان کی حکومت میں کوئی اثرانداز نہیں ہوسکتا؟ اگر میں نے وہ کام انجام نہ دیا تو دوسرے موجود ہیں جو اس کام کو انجام دے دیں گے''

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:

'' اگر بنی امیہ کو مدد گار نہ ملتے تو وہ لوگوں پر ظلم نہ کرتے کیونکہ حکومت خودبخود تو نہیں چلتی بلکہ اس کے لئے وزیر، معاون، مدیر و کام کرنے والے ضروری ہوتے ہیں یہی لوگ حکوت کو چلاتے ہیں اگر تم اور تم جیسے دوسرے لوگ بنی امیہ کی مدد نہ کرتے تو


وہ کس طرح لوگوں کو ہماری الہی حکومت سے محروم کرسکتے تھے؟ کس طرح وہ فتنہ اور فساد برپا کرسکتے تھے؟ اگر لوگ ظالموں کی تائید نہ کریں اور ان کے اجتماعات و محافل میں شریک نہ ہوں تو وہ کس طرح اپنے مقاصد تک پہونچ سکتے ہیں؟

نہیں ہرگز نہیں میں کسی مسلمان کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ ظالموں کی حکومت میں نوکری کرے اور اپنے کام سے ان کی مدد کرے''

سائل نے چونکہ امام علیہ السلام کے حکم کی اطاعت کرنے کا مصمّم ارادہ کیا تھا سوچنے لگا اور اپنے سے کہا کہ کیا میں اس گناہ سے اپنے آپ کو نجات دے سکتا ہوں؟ کاش میں ظالموں کی مدد نہ کرتا اب کس طرح توبہ کروں؟

امام جعفر صادق علیہ السلام توبہ کے آثار کو اس کے چہرہ پر مشاہدہ کر رہے تھے آپ نے فرمایا:

' ' ہاں تم اس سے توبہ کرسکتے ہو اور خداوند عالم تیری توبہ قبول بھی کرے گا لیکن یہ کام بہت مشکل ہے کیا اسے انجام دے سکوگے؟

جوان نے کہا کہ:

'' ہاں میں حاضر ہوں اور خداوند عالم سے اپنے ارادہ کی تکمیل میں مدد چاہتا ہوں''

امام جعفر صادق علیہ السلام تھوڑا سا روئے اور پھر فرمایا:

'' جو مال تو نے بنی امیہ کی غاصب و ظالم حکومت سے غیر شرعی طریقہ سے حاصل کیا ہے وہ تیرا مال نہیں ہے اور اس میں تیرا تصرف


کرنا حرام ہے وہ تمام کا تمام اس کے مالکوں کو واپس کردو_

اگر مالکوں کو پہچانتے ہو تو خود انھیں کو واپس کرو اور اگر انھیں نہیں پہچانتے تو ان کی طرف سے صدقہ دے دو تو میں تمھارے لئے بہشت کی ضمانت لیتا ہوں''

وہ سوچنے لگا کیونکہ ساری دولت فقراء کو دینی ہوگی لیکن اس نے سوچا کہ دنیا کی سختیوں کو برداشت کیاجاسکتا ہے اس لئے کہ یہ ختم ہوجانے والی ہیں لیکن آخرت کی سختی اور عذاب دائمی ہے لامحالہ ان دو میں سے ایک کو اختیار کرنا ہوگا لہذا بہتر ہے دنیا کی تکلیف و رنج کو قبول کرلوں اور اپنے آپ کو آخرت کے دائمی عذاب سے چھٹکارا دے دوں اس نے اپنا سرا اوپر اٹھایا اور امام علیہ السلام سے عرض کیا کہ:

'' میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا''

اس کے بعد وہ وہاں سے اٹھا اور امام (ع) سے رخصت ہوکر چلاگیا_ علی بن حمزہ جو اس کا دوست اور ہمسفر بھی تھا وہ کہتا ہے کہ:

'' جب ہم کوفہ پہونچے تو میرا یہ دوست سیدھا گھر گیا مجھے کئی دن تک اس کی خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ مجھے اطلاع ملی کہ اس نے اپنی ساری دولت کو لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے_ جس کو پہچانتا تھا اس کا مال اسے واپس کردیا ہے اور جسے نہیں پہچانتا تھا تو اس کی طرف سے فقراء اور ناداروں کو صدقہ دے دیا ہے یہاں تک کہ اس نے اپنے بدن کے لباس کو بھی دے دیا ہے اور پہننے کے لئے کسی سے لباس عاریة لیا ہے اب تو اس کے پاس لباس ہے اور نہ خوراک_


میںنے تھوڑی خوراک و لباس اس کے لئے مہیا کیا اور اس کی ملاقات کے لئے اس کے پاس گیا اس سے مل کر بہت خوش ہو اور اس کے اس عمدہ عمل کی تعریف کی_ میری ملاقات کو تقریباً ایک مہینہ گزرا تھا کہ مجھے خبر ملی کہ وہ جوا ن بیمار ہوگیا ہے میں اس کی عیادت کے لئے گیا اور وہ جب تک بیمار رہا اس کی عیادت کو جاتا تھا اور اس کے نورانی چہرہ کو دیکھ کر خوشحال ہوتا تھا_

ایک دن میں اس کے سر ہانے بیٹھا تھا کہ اس نے میری طرف نگاہ کی اور بلند آواز میں کہا: '' بھائی امام (ع) نے اپنے عمدہ کو پورا کردیا ہے میں ابھی سے بہشت میں اپنی جگہ دیکھ رہا ہوں''

اس کے بعد اس نے کلمہ شہادتین پڑھا اوردنیا سے رخصت ہوگیا''

توضیح اور تحقیق:

خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

'' ظالم ایک دوسرے کے دوست و مددگار ہوتے ہیں اور ان کے بعض دوسرے کی مدد کرتے ہیں لیکن اللہ پرہیزگاروں کا یار و مددگار ہے''_

نیز ارشاد ہوتا ہے:

'' جو لوگ ظلم کرتے ہیں ان کی طرف ہرگز میلان نہ کرو اور ان


پر ہرگز اعتماد نہ کرو کہ وہ بالآخر دوزخ کی آگ میں ڈالے جائیں گے''_

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ:

'' قیامت کے دن اللہ تعالی کی طرف سے منادی ندا دے گا; ظالم کہاں ہیں؟ ظالموں کے مددگارکہاں ہیں؟ تمام ظالموں اور ان کے مددگاروں کو حاضر کرو یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی کہ جنھوں نے ظالموں کی حکومت میں سیاہی اور قلم سے ان کی مد کی ہے یا ان کے لئے خطوط لکھے ہیں یہ تمام لوگ حاضر ہوں گے اور خداوند عالم کے حکم سے انھیں ظالموں کے ساتھ دوزخ میں ڈالا جائے گا'' _

کیونکہ ظالم اکیلے قادر نہیںہوتا کہ وہ لوگوں کے حقوق کو غصب کرے اور ان پر ظلم و ستم کرے اپنے غیر انسانی اور پلید اہداف و اغراض تک پہونچنے کے لئے دوسروں سے مدد لیتا ہے کسی کو رشتہ اور عہدہ دے کر دھوکہ دیتا ہے اور کسی کو ما ل و دولت دے کر اپنے اردگرد اکٹھا کرتا ہے اور کسی کو ڈرا دھمکا کر اپنی طرف لاتا ہے اس طرح سے اپنی طاغوتی طاقت کو محکم و مضبوط بناتا ہے پھر خون پسینہ سے جمع کی ہوئی دولت کو غصب کرتا ہے اور دوسروں پر تجاوز کرتا ہے_

ظالم حکومت کے مامورین، طاغوت انسانوں کے لئے دوسرے لوگوں پر تجاوز اور خیانت کا راستہ ہموار کرتے ہیں وہ اس طرح سے محروم و زحمت کش افراد پر ظلم کرنے کا دروازہ کھول دیتے ہیں_ مدّاح قسم کے لوگ دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں اور طاغوت کے مکروہ چہرے کو محبوب اور پسندیدہ ظاہر کرتے ہیں، روشن فکر قسم کے خائن لوگ ان طاغوتی قوانی کو مرتب کرتے ہیں اور خائن قسم کے وزیر، طاغوتی قوانین جو لوگوں کے ضرر کے لئے بنائے جاتے ہیں ان پر عمل کراتے ہیں اور مسلّح فوج کے حاکم و کمانڈر افراد


اس قسم کے طاغوتوں کی حکومت سے دفاع کرتے ہیں_

ان کی مدد کرنے والوں کی حمایت و مدد کے بغیر ظالم طاغوت کس طرح لوگوں کے حقوق کو ضائع اور ان پر ظلم کرسکتے ہیں؟ پس جتنے لوگ ظلم و ستم کی حکومت میں ان کی مدد کرتے ہیں وہ خود بھی ظالم ہوتے ہیں اور ظلم و خیانت میں شریک ہوتے ہیں اور اخروی عذاب و سزا میں بھی ان کے شریک ہوں گے_

برخلاف ان لوگوں کے جو اسلامی حکومت اور اسلام کے قوانین جاری کرنے اور عدل و انصاف قائم کرنے اور محروم طبقے کے حقوق سے دفاع کرتے ہیں تو یہ اللہ تعالی کے ثواب کی جزاء میں شریک ہوں گے_

قرآن کی آیات:

( و انّ الظّالمین بعضهم اولیاء بعض و الله وليّ المتّقین ) (۱)

'' ظالم ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ پرہیز گاروں کا ولی ہے''

( و لا ترکنوا الی الّذین ظلموا فتمسّکم النّار ) (۲)

'' خبردار تم لوگ ظالموں کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرنا کہ جہنم کی آگ تمھیں چھوئے گی ''_

____________________

۱) سورہ جاثیہ آیت ۱۹

۲) سورہ ہود آیت ۱۱۳


سوالات

یہ سوالات سوچنے، بحث کرنے اور بہتر یاد کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں

۱)___ جب اس جوان نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے (حکومت بنی امیہ میں) کام کرنے کے متعلق پوچھا تھا تو امام (ع) نے اس کا کیا جواب دیا تھا اور امام (ع) نے اس کے لئے کیا دلیل دی تھی؟

۲)___ امام (ع) نے اس جوان کو نجات کا راستہ کیا بتایا تھا اور اسے کس چیز کی ضمانت دی تھی؟

۳)___ وہ جوان توبہ کرنے سے پہلے کیا سوچ رہا تھا اور اس مدت میں اس نے کیا سوچا؟

۴)___ اس جوان نے کس طرح توبہ کی اور کس طرح اپنے آپ کو اس گناہ سے نجات دی ؟

۵)___ اس بیماری جوان نے آخری وقت میں اپنے دوست سے کیا کہا تھا؟

۶)___ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ظالموں کی مدد نہ کرنے کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

۷)___ قیامت کے دن منادی کیا ندا دے گا اور خداوند عالم کی طرف سے کیا حکم ملے گا؟ کون لوگ ظالموں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے؟


اسلام میں جہاد اوردفاع

جہاد ہر مسلمان پر واجب ہے اور یہ انسان کو آزادی دلاتا ہے_

جہاد کرنے والا آخرت میں بلند درجہ اور خدا کی خاص رحمت و مغفرت کا مستحق ہوتا ہے_

جہاد کرنے والا میدان جنگ میں آکر اپنی جان کو جنّت کے عوض فروخت کرتا ہے_

یہ معاملہ بہت سودمند ہوتا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالی کی رضا ہر جزا سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے_

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ:

'' جو لوگ خدا کی راہ میں اس کے بندوں کی آزادی کے لئے قیام و جہاد کرتے ہیں وہ قیامت میں جنّت کے اس دروازہ سے داخل ہوں گے جس کا نام '' باب مجاہدین'' ہے اور یہ دروازہ صرف مجاہد مومنین کے لئے ہی کھولا جائے گا_ مجاہدین بہت شان و شوکت اور عزّت و وقار سے ہتھار اٹھائے تمام لوگوں کے سامنے اور سب سے پہلے بہشت میں داخل ہوں گے_

اللہ تعالی کے خاص مقرّب فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور دوسرے جنّتی ان کے مقام کو دیکھ کر غبطہ کریں گے اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ و جہاد کو ترک کردے تو خداوند عالم سے ذلّت و خواری کا لباس پہنائے گا وہ زندگی میں فقیر و نادار ہوگا اور


اپنے بدن سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور آخرت کے دردناک عذاب میں مبتلا ہوگا_ خداوند عالم امت اسلامی کو اسلحہ پر تکیہ کرنے اور گھوڑوںو سواریوں کی رعبدار آواز کی جہ سے عزّت و بے نیازی تک پہونچاتا ہے''_

جو مومن مجاہدین ایسے جہاد میں جو نجات دینے والا ہوتا ہے جنگ کے میدان میں متّحد ہوکر صفین باندھتے ہوئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کر کھڑے ہوجاتے ہیں انھیں چاہیئے کہ حدود الہی کی رعایت کریں اور اس گروہ سے جس سے جنگ کر رہے ہیں پہلے یہ کہیں کہ وہ طاغوت و ظالم کی اطاعت سے دست بردار ہوجائیں اورا للہ کے بندوں کو طاغوتوں کی قیدو بند سے آزاد کرائیں اور خود بھی وہ اللہ تعالی کی اطاعت کریں، اللہ کی حکومت کو تسلیم کریں اگر وہ تسلیم نہ ہوں اور اللہ تعال کی حکومت کو قبول نہ کریں تو اس وقت ان سے امام علیہ السلام یا امّت اسلامی کے رہبر نائب امام (ع) کے اذن و اجازت سے جنگ کریں اور مستکبر و طاغوت کو نیست و نابود کردیں اور اللہ کے بندوں کو اپنی تمام قوت و طاقت سے دوسروں کی بندگی اور غلامی سے آزاد کرائیں_ اس راہ میں قتل کرنے اور قتل کئے جانے سے خوف نہ کریں کہ جس کے متعلق امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

'' سب سے بہترین موت شہادت کی موت ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر میدان جنگ میں دشمن سے لڑتے ہوئے ہزار دفعہ تلوار کی ضرب سے مارا جاؤں تو یہ مرنا میرے لئے اس موت سے زیادہ پسند ہے کہ اپنے بستروں پر مروں''_


وہ جہاد جو آزادی دلاتا ہے وہ امام (ع) یا نائب امام (ع) کے اذن سے ہوتا ہے اور اس طرح کا جہاد کرنا صرف طاقتور، توانا اور رشید مردوں کا وظیفہ ہے لیکن کس اسلامی سرزمین اور ان کی شرافت و عزّت پر کوئی دشمن حملہ کردے تو پھر تمام زن و مرد پر واجب ہے کہ جو چیز ان کے قبضہ میں ہوا سے لے کر اس کا دفاع کریں_

اس صورت میں جوانوں کو بھی دشمن پر گولہ بار کرنی ہوگی اور لڑکیوں پر بھی ضروری ہوگا کہ وہ دشمن پر گولیاں چلائیں تمام لوگ اسلحے اٹھائیں حملہ آور کو اپنی سرزمین سے باہر نکال دیں اور اگر ان کے پاس سنگین اسلحہ نہ ہو تو پھر پتھر اور لاٹھیوں سے د شمن پر ٹوٹ پڑیں اپنی جان کوقربان کردیں، پوری طاقت سے جنگ کریں اور خود شہادت کے رتبہ پر فائز ہوجائیں اور اپنی آنے والی نسلوں و جوانوں کے لئے شرافت و عزّت کو میراث میں چھوڑ جائیں_

اس قسم کا جہاد کہ جس کا نام دفاع ہے اس میں امام (ع) یا نائب امام (ع) کی اجازت ضروری نہیں ہوتی اس لئے کہ اسلامی معاشرے کی عزّت و شرافت اتنی اہم ہوتی ہے کہ اسلام نے ہر مسلمان پر واجب کیا ہے کہ بغیر امام (ع) یاا س کے نائب کی اجازت کے دفاع کرے

مندرجہ ذیل واقعہ میں کس طرح مسلمانوں نے بالخصوص عورتوں نے کفّار کے حملہ و اسلام کی عزّت اور اسلامی سرزمین کا دفاع کیا ہے مشاہدہ کرسکتے ہیں:

فداکار اور جری خاتون:

مدینہ میں یہ خبر پہونچی کہ کفّار مکہ حملہ کی غرض سے چل چکے ہیں اور وہ انقلاب اسلامی کے پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھنیکیں گے، انصار و مہاجرین کے گھروں کو تباہ کردیں گے_


پیغمبر اسلام(ص) نے فوراً جہاد کا اعلان کرادیا اور مسلمان گروہ در گروہ ان کے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے دشمن مدینہ کے نزدیک پہونچ چکے تھے اور مسلمان ان کے مقابلہ کے لئے صف آرا ہوگئے ان کا راستہ روک کر ان کی پیش قدمی کو روک دیا_

عورتوں کا ایک فداکار اور با ایمان گروہ بھی اپنے شوہروں اور اولاد کے ساتھ ایمان و شرف اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے میدان جنگ میں پہونچ گیا_ یہ اکثر افواج اسلام کی مدد کیا کرتی تھیں فوجیوں کے لئے غذا و پانی مہیا کرتیں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں اور اپنی تقریروں سے اسلام کی سپاہ کو جہاد و جاں نثاری کے لئے تشویق دلاتی تھیں_

انھیں فداکار خواتین میں سے ایک ''نسیبہ'' تھیں جواپنے شوہر اور دو جوان بیٹوں کے ساتھ احد کے میدان میں جنگ کے لئے آئی تھیں انھوں نے بہت محبت و شوق سے پانی کی ایک بڑی مشک پر کر کے اپنے کندھے پر ڈالی اور تھکے ماندہ لڑنے والے سپاہیوں کو پانی پلا رہی تھیں، دوا اور صاف ستھرے کپڑے بھی ساتھ رکھے ہوئے تھیں اور ضرورت کے وقت زخمیوں کے زخم کو اس سے باندھتی تھیں، اپنی پر جوش اور امید دلانے والی گفتگو سے اپنے شوہر، دو بیٹوں، تمام فوجیوں اور مجاہدین کو دشمن پر سخت و تابڑ توڑ حملے کرنے کی تشویق دلا رہی تھیں_

جنگ اچھے مرحلے میں تھیں اور فتح، اسلام کے سپاہیوں کے نزدیک تھی لیکن افسوس کہ پہاڑ کے درّے پر معيّن سپاہیوں کے چند آدمی کی غفلت و نافرمانی کی وجہ سے جنگ کو نوعیت بدل گئی تھی اورمسلمانوں کے سپاہی دشمن کے سخت گھیرے میں آگئے تھے مسلمانوں کی کافی تعداد شہید ہوگئی تھی اور ان کے چند افراد جن کا ایمان قوی نہ تھا اپنے لئے ننگ و عار کو برداشت کرتے ہوئے پیغمبر (ص) کو اکیلا چھوڑ کر میدان سے فرار کر گئے تھے _


پیغمبر اسلام(ص) کے پاس صرف تھوڑے سے مومن اور فداکار سپاہی رہ گئے تھے آپ (ص) کی جان خطرے میں پڑگئی تھی_ دشمن نے اپنا پورا زور پیغمبر اسلام(ص) کے قتل کرنے پر لگادیا تھا_ حضرت علی علیہ السلام اور چند دلیر سپاہی آپ کے اردگرد حلقہ باندھے ہر طرف سے حملہ کادفاع کر رہے تھے_

جنگ بہت شدید و خطرناک صورت اختیار کرچکی تھی، اسلام کے سپاہی ایک دوسرے کے بعد کینہ ور دشمن کی تلوار سے زخمی ہوکر زمین پر گر رہے تھے_ اس حالت کو دیکھنے سے جناب نسیبہ نے مشک کا تسمہ اپنے کندھے سے اتارا اور جلدی سے ایک شہید کی تلوار و ڈھال اٹھائی پیغمبر اسلام (ص) کی طرف دوڑیں اور بپھرے ہوئے شیر کی طرح دشمنوں کے گھیرے کو برق رفتاری سے اپنی تلوار کے حملے سے توڑا اپنے آپ کو پیغمبر اسلام (ص) تک پہونچا دیا اپنی تلوار کو دشمنوں کے سر اور ہاتھوں پر چلا کر انھیں پیغمبر(ص) سے دور ہٹادیا_

اسی دوران میں انھوں نے دیکھا کہ دشمن کے ایک سپاہی کے ہاتھ میں تلوار ہے اور وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے تا کہ پیغمبر اسلام (ص) پروار کرے_ نسیبہ اس کی طرف بڑھتی ہیں اور اس پر حملہ کرتی ہیں_ دشمن جو چاہتا تھا کہ اپنا وار پیغمبر اسلام (ص) کے سرپر کرے اس نے جلدی سے وہ وار نسیبہ پر کردیا جس سے نسیبہ کا کندھا زخمی ہوجاتا ہے اس سے خون نکلنے لگا ہے اور پورا جسم خون سے رنگین ہوجاتا ہے ایک سپاہی اس نیم مردہ خاتون کو میدان جنگ سے باہر لے جاتا ہے_

جب جنگ ختم ہوگئی تو پیغمبر اسلام (ص) مدینہ میں زخمیوں اور مجروحین کی ملاقات کے لئے گئے اور آپ (ص) نے اس فداکار خاتون کے بارے میں فرمایا کہ:

'' اس خوفناک ماحول میں جس طرف بھی میں دیکھتا تھا نسیبہ کو دیکھتا تھا کہ وہ اپنی تلوار سے میرا دفاع کر رہی ہے''


اس کے بعد نسیبہ جنگ احد کی داستان اورمسلمانوں کی فداکاری کو اپنے دوستوں سے بیان کرتی تھیں اور ان کے دلوں میں ایثار و قربانی کے جذبات کو ابھارتیں اور ان میں جنگ کے شوق کو پیدا کرتی تھیں اور کبھی اپنی قمیص اپنے کندھے سے ہٹا کر اس زخم کے نشان دوسری عورتوں کو دکھلاتی تھیں_ جنگ احد میں اور بھی بہت سی چیزیں پیش آئیں جن کا ذکر ہمارے لئے مفید ہے_

قرآن کی آیت:

( انّ الله یحب الّذین یقاتلون فی سبیله صفّا کانّهم بنیان مرصوص ) (۱)

'' خدا ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جنگ کرتے ہیں''

____________________

۱) سورہ صف آیت ۴


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱)___ مرد مجاہدین میں اپنی جان کو کس کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اور اس معاملہ کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

۲)___ مجاہدین کس طرح جنّت میں وارد ہوں گے؟

۳)__ _ جو لوگ راہ خدا میں جہاد نہین کرتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے؟

۴)___ خداوند عالم امّت اسلامی کو کس چیز سے عزّت بخشتا ہے؟

۵)___ میدان جنگ میں ایک مجاہد دوسرے مجاہد کے ساتھ کیسا سلوک کرے؟

۶)___ شہادت کے بارے میں امیرالمومنین علیہ السلام نے کیا فرمایا ہے؟

۸)___ دفاع کسے کہا جاتا ہے؟ مسلمانوں کی سرزمین، شرف و عزّت سے دفاع کرنا کس کا فریضہ ہے؟

۹)___ نسیبہ، میدان احد میں پہلے کیا کام کرتی تھیں اور پھر کیوں انھوں نے لڑائی میں شرکت کی؟

۱۰)___ پیغمبر اسلام (ص) نے نسیبہ کے بارے میں کیا فرمایا؟


شہادت کا ایک عاشق بوڑھا اور ایک خاتون جو شہید پرور تھی موت سے کون ڈرتا ہے اور کون نہیں ڈرتا ؟

جو موت کو فنا سمجھتا ہے اور آخرت پر اعتقاد نہیں رکھتا وہ موت سے ضرور ڈرے گا اور موت سے بچنے کے لئے ہر قسم کی ذلّت و عار کو برداشت کرے گا_ اس قسم کے لوگ دنیا کی محدود زندگی کو سوچتے ہیں اور اپنی پوری کوشش کو مادّی و زود گذر خواہشات کے لئے صرف کرتے ہیں اور زیادہ تر اپنے شخصی منافع کے بارے میں سوچتے ہیں اور حیوانوں کی طرح دن رات گذارتے ہیں پھر ذلّت و خواری سے مرجاتے ہیں اور وہ اپنی غفلتوں، کوتاہ نظریوں و برے کردار کی سزا پاتے ہیں_

لیکن جو انسان خدا و آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا کیونکہ جانتا ہے کہ موت نیست و نابود ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ بلند ہمّتی و بے نظیر بہادری کے ساتھ اپنی ا ور اپنے معاشرہ کی شرافت و عزّت کے لئے جنگ کرتا ہے راہ خدا اور اپنے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کے لئے جان و مال دینے سے دریغ نہیں کرتا اپنی پوری توانائی کو خدا کی رضا اور بندگان خدا کی فلاح میں صرف کر کے با عزّت زندگی بسر


کرتا ہے اور آخرت میں الطاف الہی سے بہر ہ مند ہوتا ہے_

قبیلہ عمر و ایسے ہی مومن انسان کا ایک مجسم نمونہ تھا جو شہادت و ایثار سے عشق رکھتا تھا چنانچہ اللہ تعالی کی ذات و آخرت پر ایمان لانے کی قدر و قیمت کو پہچاننے کے لئے اس پر افتخار گھرانے کی داستان کے ایک گوشہ بالخصوص عمرو کی داستان کو ذکر کیا جاتا ہے_

مدینہ کے مسلمانوں کو پتہ چلا کہ کفّار مکہ، مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے آر ہے ہیں، مسلمان پیغمبر اسلام(ص) کے حکم کے بعد دفاع کے لئے آمادہ ہوچکے تھے، مدینہ کی حالت بدل چکی تھی ہر جگہ جہاد و شہادت کی گفتگو ہو رہی تھی صلاح و مشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ سب شہر کے باہر جائیں اور قبل اس کے کہ دشمن میں پہونچیں شہر کے باہر ہی ان کا مقابلہ کیا جائے ج ان سپاہی اپنی ماؤں کے ہاتھ چومتے اور ان سے رخصت ہو رہے تھے اور گروہ گروہ میدان جنگ کی طرف روانہ ہو رہے تھے_

مرد اپنے بچوں اور بیویوں سے رخصت ہو کر احد کے پہاڑ کی طرف روانہ ہو رہے تھے_ عمرو بن جموح کے چار بہادر بیٹے جہاد کے لئے آمادہ ہوچکے تھے یہ چاروں بہادر اس سے پہلے بھی جنگوں میں شرکت کیا کرتے تھے اور قرآن و اسلام سے دفاع کرنے میں ہر قسم کی فداکاری کے لئے تیاررہتے تھے_

عمرو دیکھ رہا تھا کہ اس کے فرزند کس شوق و محبّت سے اسلحوں سے آراستہ ہوکر میدان جنگ میں جانے کے لئے آمادہ ہو رہے ہیں اور مسلمان پیادہ و سوار، لباس جنگ زیب تن کئے تکبیر کہتے دمشن کی طرف چلے جا رہے ہیں اسے یقین ہوگیا تھا کہ ان اسلام کے سپاہیوں کو کبھی شکست نہیں ہوسکتی، وہ جنگ کے میدان میں دلیرانہ جنگ کریں گے اپنی عزّت و شرف کا دفاع کریں گے_

اس کے نتیجہ میں یا دشمن پر فتح پالیں گے یا شہادت کے درجہ پر فائز ہوں گے


التہ اگر شہید ہوگئے تو اللہ تعالی کے فرشتے ان کی پاک روح کو بہشت تک لے جائیں گے اور وہ بہشت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں گے اور جوار الہی میں خوش و خرّم زندگی بسر کریں گے_

اس منظر کو دیکھ کر عمرو کی آنکھوں میں آنسو بھر آیا او ردل میں کہا:

'' کاش میرا پاؤں لنگڑا نہ ہوتا اور میں بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ جہاد کرنے جاتا''_

اسی حالت میں اس کے چاروں نوجوان بیٹے اس سے رخصت ہونے کے لئے آئے انھوں نے باپ کا ہاتھ چو ما عمرو نے ان کی پیشانی اور چہروں کو بوسہ دیا_ اسلام کے فداکاروں کے گرم خون کو اس نے نزدیک سے محسوس کیا اور اس کی حالت دگرگوں ہوگئی

'' صبر کرو صبر کرو میں بھی تمھارے ساتھ جہاد کے لئے آتا ہوں''

اس کے بیٹے حیرت زدہ ہوکر سوچنے لگے کہ کس طرح ہمارا با ہمارے ساتھ جہاد کرے گا؟ حالانکہ وہ بہت بوڑھا ہے اور اس کا ایک پاؤں بھی لنگڑا ہے ایسے انسان پر اسلامی قانون کے رو سے تو جہاد واجب ہی نہیں ہوا کرتا_

بیٹے اسی فکر میں کھڑے تھے کہ باپ نے لباس جنگ زیب تن کیا تلوار ہاتھ میں لی اور چلنے کے لئے تیار ہوگیا_ بیٹوں نے باپ کو منع کیا لیکن وہ اپنے ارادہ سے باز نہ آیا مجبوزا انھوں اپنی ماں اور بعض رشتہ داروں سے باپ کو روکنے کے لئے کہا بچّوں کے اصرار پر انھوں نے عمرو سے کہا کہ:

'' تم بڑھاپے و لنگڑا پن کی وجہ سے دشمن پر حملہ نہیں کرسکتے ہو نہ ہی اپنے سے دفاع کرسکتے ہو اور خداوند عالم نے بھی تم پر


جہاد واجب نہیں کیا ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ تم مدینہ میں رہ جاؤ اور یہ چار جوان بیٹے ہیں جو میدان جنگ میں جا رہے ہیں کافی ہیں''

عمرون نے جواب دیا کہ:

'' تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ کافروں کی فوج نے ہم پر حملہ کردیا ہے اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کیا اسلام و پیغمبر اسلام (ص) کا دفاع کرنا واجب نہیں ہے؟

کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ اسلام کے جانباز سپاہی کس شوق سے جہاد کے لئے جا رہے ہیں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں یہ ساری شان و شوکت، شوق کو دیکھتا رہوں اور چپ ہوکر بیٹھ جاؤں؟

کیا تم یہ کہتے ہو کہ میں بیٹھ جاؤں اور دوسرے لوگ میدان میں جائیں کافروں کے ساتھ جنگ کریں، شہادت کے فیض اور پروردگار کے دیدار سے شرف یاب ہوں اور میں محروم رہ جاؤں؟

نہیں اور ہرگز نہیں میں پسند نہیں کرتا کہ بستر پر مروں، میں باوجودیکہ بوڑھا و لنگڑا ہوں لیکن یہ چاہتا ہوں کہ شہید ہوجاؤں''_

چنانچہ انھوں نے کوشش کی کہ اس بوڑھے اور ارادے کے پكّے انسان کو جنگ سے روک دیں لیکن اس میں انھیں کامیابی نہ ملی او ربات اس پر ٹھہری کہ پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میں جائیں اور آپ سے اس کے متعلق تکلیف معلوم کریں وہ لوگ حضور کے پاس گئے اور عرض کیا:

'' یا رسول اللہ (ص) میں چاہتا ہوں کہ اپنے بیٹوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں تا کہ اسلام و مسلمانوں کی مدد کرسکوں اور آخر میں


شہا دت کے فیض سے نوازا جاؤں لیکن میرا خاندان مجھے ادھر نہیں جانے دیتا''

پیغمبر اسلام (ص) نے جواب دیا:

'' اے عمرو جانتے ہو کہ بڑھاپے اور عضو کے ناقص ہونے کی وجہ سے تم پر جہاد واجب نہیں ہے''

عمرو نے کہا:

'' یا رسول اللہ (ص) کیا میرے عضو کا یہ نقص مجھے اتنے بڑے فیض اور نیکی سے محروم کرسکتا ہے؟''

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:

'' جہاد تو تم پر واجب نہیں لیکن اگر تیرا دل چاہتا ہے کہ جہاد میں شرکت کرے تو اس سے کوئی مانع نہیں ہے''

اس وقت پیغمبر اسلام (ص) نے اس کے رشتہ داروں کی طرف نگا کی اور فرمایا کہ:

'' اس پر جہاد تو واجب نہیں ہے لیکن تم پر ضروری نہیں کہ اصرار کرو اور اسے اس نیکی سے روکو اسے اپنے اختیار پر چھوڑ دو اگر وہ چاہے تو جہاد میں شرکت کرے اور اس کے عظیم ثواب سے بہرہ مند ہو بلکہ ہوسکتا ہے کہ اسے شہادت نصیب ہوجائے''

عمرو نے خوش ہوتے ہوئے پیغمبر اسلام (ص) کا شکریہ ادا کیا اور اپنی بیوی (ہند) اور دوسرے رشتہ داروں سے رخصت ہوکر میدان جنگ کی طرف روانہ ہوگیا_ اس نے میدان جنگ میں بڑی بہادری سے جنگ لڑی اپنے بیٹوں کے ساتھ داد شجاعت لی دشمنوں کی کافی تعداد کو بلاک کیا اور آخر میں اپنے بیٹوں کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوگیا_


اس جنگ میں چند لوگوں کی دنیا ظلم و کم صبری اور نافرمانی کی وجہ سے شہداء کی تعداد زیادہ تھی جنگ کے خاتمہ پر شہر مدینہ کی عورتیں اپنے فرزندوں اور رشتہ داروں کے لئے میدان جنگ میں آئیں تا کہ اپنے رشتہ داروں کا حال معلوم کریں_ ہند سب سے پہلے میدان میں پہونچی اپنے شوہر، بھائی اور ایک فرزند کی لاش کو اونٹ پر رکھ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئی تا کہ وہاں ان کو دفن کردے لیکن جتنی وہ کوشش کرتی تھی اس کا وہ اونٹ مدینہ کی طرف نہیں جاتا تھا بہت مشکل سے کئی قدم اٹھاتا پھر ٹھہر جاتا اور واپس لوٹ جاتا گویا وہ چاہتا تھا کہ احد کی طرف ہی لوٹ جائے اسی حالت میں چند عورتوں سے اس کی ملاقات ہوگئی جو میدان جنگ کی طرف جا رہی تھیں_ ان میں پیغمبر اسلام (ص) کی ایک زوجہ بھی تھیں آپ نے ہند سے احوال پرسی کی اور سلام کیا:

کہاں سے آرہی ہو؟

احد کے میدان سے

کیا خبر ہے؟

الحمد اللہ کہ پیغمبر اسلام (ص) صحیح و سالم ہیںمسلمانوں کا ایک گروہ شہید ہوگیا ہے اور چونکہ ہمارے پیغمبر(ص) سالم ہیں لہذا دوسری مصیبتوں کو تحمّل کیا جاسکتا ہے خدا کا شکر ہے_

اونٹ پر کیا لادا ہے؟

تین شہیدوں کے جسم کو ایک میرا شوہر، ایک بیٹا اور ایک میرا بھائی ہے انھیں ہمیں لے جا رہی ہوں تا کہ مدینہ میں سپرد خاک کروں نہ جانے کیا بات ہے کہ جتنی کوشش کرتی ہوں کہ اونٹ کو مدینہ کی طرف لے چلوں اونٹ مدینہ کی طرف نہیں جاتا گویا اونٹ احد کی طرف واپس لوٹنا چاہتا ہے لہذا بہتر ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کے پاس جائیں اور اس واقعہ کو آپ سے بیان کریں اور اس کا سبب پوچھیں_


پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں گئیں اور پورے واقعہ کو آپ (ص) سے بیان کیا_ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ:

'' شاید جب تیرا شوہر جہاد میں جانے کے لئے رخصت ہو رہا تھا تو آخری کوئی بات کہی تھی اس نے کوئی دعا کی تھی؟ یا رسول اللہ (ص) کیوں نہیں آخری وقت اس نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا تھا اور کہا تھا: '' اے خدا مجھے شہادت کے فیض سے شرفیاب فرما اور پھر مجھے مدینہ واپس نہ لے آنا''

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:

''خداوند عالم نے اس کی دعا کو قبول کرلیا ہے رہنے دو کیونکہ ہم تمھارے شہیدوں کو دوسرے شہداء کے ساتھ یہیں دفن کردیں گے''

ہند نے قبول کیا پیغمبر اسلام (ص) نے ان تین شہیدوں کو دوسرے شہداء کے ساتھ وہیں دفن کردیا اور فرمایا کہ:

'' یہ بہشت میں ابھی اکھٹے ہوں گے''

ہند نے رسول خدا (ص) سے دعا کرنے کی خواہش کی اور کہا:

'' یا رسول اللہ (ص) دعا کیجئے کہ خداوند عالم مجھے بھی ان تینوں شہیدوں کے ساتھ محشور کرے''

پیغمبر اسلام (ص) نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اس صابرہ اور شہید پرور خاتون کے لئے دعا فرمائی_ خدا کرے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی یہ دعا تمام شہید پرور ماؤں کے


پیغمبر اسلام (ص) کی حدیث شریف:

و فوق کل بر بر حتّی یقتل الرّجل فی سبیل الله فاذا قتل فی سبیل الله فلیس فوقه بر

'' اور ہر نیکی کے اوپر ایک نیکی ہے یہاں تک کہ کوئی شخص راہ خدا میں قتل کردیا جائے اور جب کوئی راہ خدا میں قتل کردیا جائے تو پھر اس کے اوپر کوئی نیکی نہیں ہے''


سوالات

سوچیئےور جواب دیجئے

۱)___ کیا مسلمان ننگ و عار اورذلّت کو قبول کرسکتا ہے؟ کیا کسی ظالم سے صلح کرسکتا ہے؟

۲)___ مومن، وعدہ الہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کس امید پر میدان جنگ میں شرکت کرتا ہے؟ آخرت میں اس کی جزاء کیا ہے؟

۳)___ دو میں سے ایک کون ہے؟

۴)___ کس چیز نے عمرو کو میدان جنگ میں شریک ہونے پر ا بھارا تھا؟

۵)___ عمرو نے میدان جنگ میں شریک ہونے کے لئے کون سے دلائل دیئےھے؟

۶)___ عمرو نے جناب رسول خدا (ص) سے کیا گفتگو کی اور آخری میں اس نے کیا ارادہ کیا تھا؟

۷)___ ہند کی گفتگو ان عورتوں سے جو میدان احدم یں جا رہی تھیں کیا تھی؟

۸)____ پیغمبر اسلام (ص) نے ہند سے کیا پوچھا تھا اور اس کے جواب دینے کے بعد اس سے کیا کہا تھا؟


شہیدوں کے پیغام

'' شہاد'' کتنی اچھی چیز ہے پورے شوق اور ایثار کی دنیا اس لفظ شہادت میں مخفی ہے_ جانتے ہو ''شہید'' کون ہے؟

شہید وہ بلند پایہ انسان ہے جو اللہ پر ایمان و عشق اور انسانی قدر و قیمت کے زندہ کرنے کے لئے اپنی عزیز جان کو قربان کرے_ یہ مادّی دنیا شہید کی بزرگ روح کے لئے چھوٹی اور تنگ ہے_

شہید اپنی فداکاری و بہادری سے اپنے آپ کو دنیاوی قفس سے رہا کرتا ہے اور آخرت کی نورانی وسیع دنیا کی طرف پرواز کرجاتا ہے وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اپنے رب سے رزق پاتا ہے_

شہید کا نام، اس کی فداکاری، اس کا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اور اس کی خلق خدا کی خدمات کا سننا یہ تمام کے تمام ایک مفید درس ہیں_

شہید کی قبر کی زیارت ، اس کے پیغام کا سننا اور اس کی وصیت کو سننا کتنا جوش و خروس لاتا ہے_

شہید کے آثار کا مشاہدہ کرنا انسان کے لئے کتنا ہی بیدار انسان کی جان میں جوش پیدا کردیتا ہے اور شہید کی یاد ایک آگاہ انسان کے لئے کتنی گرمائشے پیدا کردیتی ہے یہاں تک کہ شہید پر رونا آسمانی اور روحانی گریہ


ہوتا ہے_

ذلّت و خواری کا گریہ نہیں ہوا کرتا بلکہ عشق و شوق کے آنسو ہوا کرتے ہیں_ واقعا کوئی بھی نیک عمل، شہادت سے بالاتر اور قیمتی نہیں ہوا کرتا_ پیغمبر اسلام (ص) نے شہید کی عظمت کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے آپ(ص) نے فرمایا ہے:

'' ہر نیک عمل کے اوپر کوئی نہ کوئی نیک عمل موجود ہوتا ہے مگر خدا کی راہ میں شہادت کہ جو ہر عمل سے بالاتر و قیمتی تر ہے اور کوئی عمل بھی اس سے بہتر و بالاتر نہیں ہے''

اسی عظیم مرتبہ و مقام تک پہونچنے کی علت تھی کہ جب حضرت علی علیہ السلام کے سر مبارک پر تلوار لگی تو آپ (ع) نے فرمایا کہ:

' ' مجھے ربّ کعبہ کی قسم کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں''

اب جب کہ تمھیں شہادت و شہید کے مقام و رتبہ سے کچھ آگاہی ہوگئی ہے ہو تو بہتر ہوگا کہ چند شہیدوں کے پیغام کو یہاں نقل کردیں کہ جن سے عشق اور آزادگی کا درس ملتا ہے_

۱)__ _ حضرت علی علیہ السلام جو ہمیشہ شہادت کی تمنّا رکھتے تھے جب آپ کی پیشانی تلوار سے زخمی کردی گوئی اور آپ اپنی عمر کے آخری لمحات کو طے کر رہے تھے تو آپ نے اس وقت یہ وصيّت فرمائی:

'' متقی و پرہیزگار بنو، دنیا کو اپنا مطمع نظر و ہدف قرار نہ دینا، دنیا کی دولت کی تلاش میں مت رہنا، دنیا کی دولت اور مقام تک نہ پہونچنے پر غمگین نہ ہونا، ہمیشہ حق کے طلبگار بنو، حق کہا کرو، یتیموں پر مہربان رہو، احکام الہی کے جاری کرنے میں مستعد رہنا اورکبھی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت


سے متاثر نہ ہونا''

۲)___ جب امام حسین علیہ السلام شہادت کے لئے تیار ہوگئے تو اپنے اصحاب سے یوں فرمایا:

'' کیا نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا ہے کیا نہیں دیکھ رہے ہو کہ باطل سے نہیں روکا جا رہا ہے_ اس حالت میں مومن کو چاہیئے کہ اللہ تعالی کی ملاقات اور شہادت کے لئے آمادہ ہوجائے کیونکہ میرے نزدیک راہ خدا میں مرنا سوائے سعادت و کامیابی کے کچھ نہیں ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی سوائے افسردگی، دل تنگی، رنج اور مشقت کے کچھ نہیں ہے''

کیا ان دو پیغاموں میں خوف اور ڈرکی کوئی جھلک ہے؟ کیا ظالموں کے سامنے سر نہ جھکانے میں ذلّت و خواری ہے؟ نہیں ہرگز نہیں جو شخص شہادت کو سعادت جانتا ہوگا وہ کبھی بھی ظلم و ستم کے سامنے سر نہ جھکائے گا_ نہ صرف ہمارے ائمہ علیہم السلام اس طرح کے تھے بلکہ ان کے صحیح پیروکار اور شاگرد بھی اسی طرح کے تھے ان صحیح پیروکاروں کی بعض اہم وصیتوں کی طرف توجہ کرو_

( یہ ان لوگوں کی وصیتیں نقل ہو رہی ہیں جو عراق و ایران جنگ میں ایران کی طرف سے شہید ہوئے ہیں)

۱)___ ان میں سے ایک حوزہ علمیہ قم کے طالب علم محمود صادقی کاشانی ہیں؟

اپنے وصيّت نامہ میں یوں تحریر فرماتے ہیں:

'' بسم رب الشّهداء اشهد ان لا اله الّا الله وحده لا شریک له و اشهد انّ محمدا عبده و رسوله''


خدا کا شکر ہے کہ میں نے حق کی جنگ میں جو باطل کے خلاف ہو رہی ہے شرکت کرنے کی سعادت حاصل کی ہے میرے پاس جو کچھ ہے میں نے مخلصانہ طور پر اللہ کے سامنے پیش کردیا ہے جس چیز کے اردگرد امام حسین علیہ السلام، ان کے یاران وفادار اور صدر اسلام کے شہید، پروانہ کی طرح چكّر لگا رہے تھے میں نے ھی اسے پالیا ہے یعنی وہ ہے ''شہادت''

آیا کوئی شخص یہ برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی آنکھوں کے سامنے ظالم و متجاوز اس کے اسلام و عزّت اور وطن کی طرف ہاتھ بڑھائے اور وہ خاموش دیکھتا رہے؟

اب میں جا رہا ہوں تا کہ اپنے خدا سے ملاقات کروں اس آگ کو جو میرے اندر جل رہی ہے اسے بجھا سکوں_ میں بھی اب اس باصفا جنگ کے آشیانہ کی طرف پرواز کر کے اپنے جنگجو بھائیوں کے خالی مورچوں (محاذوں) کی طرف جا رہا ہوں لیکن مجھے اپنے رہبر زمانہ، حجّت عصر نائب امام آیت اللہ خمینی ( رضوان اللہ تعالی علیہ) جو آج کے بت شکن ہیں کی قدر دانی کرنی چاہیئے کیونکہ انھوں نے مجھے دنیا کے گرداب اور تاریکیوں سے کہ جن میں گر کرہیں تباہ ہونے کے قریب تھا اور وہ میرے ہادی و رہنما ہیں_

اے میرے جنگجو ساتھیو اور دوستو تم بہتر جانتے ہو کہ یہ انقلاب جو ایران میں لایا گیا ہے کس طرح کامیاب ہوا ہے

کتنے علی اکبر (ع) ، علی اصغر (ع) اور حبیب ابن مظاہر (ع) کے نقش قدم


پر چلنے والوں کے قتل کئے جانے سے کامیباب ہوا ہے خدا نہ کرے کہ تم اس انقلاب سے بے توجہ ہوکر بیٹھ جاؤ اوردنیا کو آخرت پر ترجیح دو_ کسی غم و اندوہ کو اپنے پا سنہ آنے دو کیونکہ ہم ہی کامیاب ہیں_

اے میرے ماں باپ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کا کس طرح شکریہ ادا کروں؟ ابّا جان مجھے یاد ہے کہ جب آپ قم آئے تھے تو میںنے دوسرے لوگوں سے کہا تھا کہ باپ کی رضا (جنگ میں جانے کے لئے) ضروری ہے لہذا آپ بغیر کسی دریغ کے دفتر میں گئے اور اپنے راضی نامہ پردستخط کردیا_

اے میری ماں مجھے یاد ہے کہ تونے میرے بڑا کرنے میں بڑی زحمتیں اٹھائی ہیںاور آخری وقت جب میں تم سے جدا ہو رہا تھا تو یوں کہا تھا کہ:

'' محمود ہوشیار رہنا اور بلاوجہ قتل نہ ہوجانا''

میری پیاری ماںمیں محاذ جنگ پر تھا تو مجھے برابر تمھارا یہ جملہ یاد آتا تھا کہ بلاوجہ قتل نہ ہوجانا''_ امّاں میری موت پر کہیں بے قرار نہ ہونا، لباس نہ پھاڑنا اور آخری عمر تک ناراضگی کی آگ میں نہ جلاتے رہنا کیونکہ یہ دشمن کے طعن و تشنیع کا موجب ہوجائے گا_ میں اپنے گھروالوں اور رشتہ داروں کو وصيّت کرتا ہوں کہ اس انقلاب سے اور تمام جہان کے محروم طبقے کے رہبر انقلاب سے


کنارہ کشی نہ کرنا_ خدا تمھارا یار و مددگار ہو''

۲)___ تہران کے شہید سيّد علی اکبر میر کوزہ گرنے اپنے بہترین اورپر مغز وصیت نامہ میں یوں تحریر کیا ہے:

'' حقیقت کے ترازو میں اللہ تعالی کے نزدیک کوئی قطرہ اس خون کے قطرہ سے کہ جو راہ خدا میں بہایا جائے بہتر نہیں ہوتا اور میں چاہتا ہوں کہ اس خون کے قطرے سے اپنے معشوق تک پہونچوں کہ جو خدا ہے_

میں وصیت کرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد گریہ و زاری نہ کرنا میرے تمام دوستوں کومبارکباد دینا اور کہنا کہ وہ اس امّت اسلامی کے رہبر اور نائب امام کا ہدیہ خدا کی راہ میںہے اسی وجہ سے سيّد، جہاد کے لئے گیا ہے اور جام شہادت نوش کیا ہے''

اس شہید کے پیغام کو سنو کو ''جہاد'' دو چیزیں چاہتا ہے:

ایک وہ خون جو شہید دیتا ہے_

دوسرے شہید کا پیغام جو سب تک پہونچنا چاہیئے_

''میر باپ سے کہدینا کہ اب ہم اپنے جدّ بزرگوار کے سامنے شرمندہ نہیں ہیں کیونکہ ان کا فرزند اس راستہ پرگیا ہے کہ جس پر امام حسین علیہ السلام اوران کی اولاد گئی تھی_ ابّا جان میری وصیت آپ کو یہ ہے کہ میرے مشن کو آگے بڑھائیں''

۳)___ خرّم شہر (جسے خونین شہر بھی کہا جاتا ہے) کے ایک فداکار پاسدار شہید حسین حمزہ کہ جنھوں نے صحیح طور سے قرآن اور وطن کی شجاعانہ و فداکارانہ پاسداری


کی تھی وہ اپنی ماں کو آخری خط مں یوں لکھتے ہیں:

'' اب جب کہ تیس دنوں سے کفّار کے ساتھ جنگ کر رہا ہوں اور ہر دن اس امید پر دیکھتا ہوں کہ شہادت کے درجہ پر فائز ہوں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اتنی طویل مدّت تک کیوں شہادت کا افتخار مجھے نصیب نہیں ہوا

میری پیاری ماں

میں نے تم کو بہت ڈھونڈا تا کہ تمھاری وصیت کو سنوں لیکن تمھیں نہیں پایا_ جنگ کی ابتداء سے آج تک (یعنی ۲۳/۷/ ۵۹ شمسی) ہمیشہ تمھاری ملاقات کی فکر میں تھا لیکن کامیاب نہ ہوسکا_

امّا جان

اگر تم مجھے نہ دیکھ سکی تو مجھے بخش دینا، تم بہتر جانتی ہو کہ میں اس انقلاب کی ابتداء سے ہمیشہ چاہتا تھا کہ اس مین میرا حصّہ رہے_ مادر جان میری موت کی خبر سننے کے بعد اشک نہ بہانا اور میری بہنون سے بھی کہنا کہ میری موت پر اشک نہ بہائیں کیونکہ ہمارے موالا و آقا حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے فرزند کی موت پر اشک نہیں بہائے تھے چونکہ حضرت جانتے تھے کہ اللہ کی رضا اسی میں ہے_

مادر گرامی

شائد میرا قرآن و اسلام کی راہ میں مرنا جوانوں میں جوش پیدا کردے نہ صرف میری موت پر بلکہ تمام شہداء کی موت پر کہ جو


اللہ کی راہ میں اسلام کے مقدس ہدف کے لئے ہوتی ہے، تم بھی خوش ہونا کہ اپنے فرزند کو راہ اسلام میں قربان کیا ہے_ آخرت میں حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام تم سے کوئی گلہ اور شکوہ نہ کریں گی_

یہ خط ایسے وقت میں لکھ رہا ہوں کہ دشمن کے توپوں اور گولیوں کی آواز ہر طرف سے آرہی ہے_ میں اپنے ساتھیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ تکبیر کہتے ہوئے تو پوں کے گولے پھٹنے سے شہید ہو رہے ہیں_

اے میرے خدا تجھے تیری وحدانيّت کی قسم دیتا ہوں اسلام کی راہ میں مجھے شہادت نصیبت کر اور میرے گناہوں کو بخش دے مجھے شہداء کی صف میں قرار دے_

خدایا مجھے طاقت و قدرت عنایت فرما اور مجھ پر لطف کر کہ عمر کے آخری لمحے تک تیرا نام میری زبان پر جاری رہے_ شکر ہے اس خدائے بزرگ کا کہ جس نے مجھ پر عنایت فرمائی ہے کہ میں اپنی جان اسلام پر قربان کروں، اسلام کامیاب ہو اور اسلام و قرآن کے دشمن نابود ہوں_ سلام ہو اس امت اسلامی کے رہبر انقلاب آقائے خمینی پر_ خداحافظ''

ان شہیدوں کے پیغام کا متن دوسرے ہزاروں شہیدوں کے پیغام کی طرف انقلاب اسلامی کی کتابوں کے بہترین صفحات پر لکھا جائے گا ہمیشہ کے لئے رہ جائے گا اور یہ آزادی و جاودانی کا درس ہوگا_ اے پڑھنے والے طالب علمو تم اس ا بدی پیغام کو دوبار پڑھنا، شہیدوں و آزاد منشوں کے پیغام سے زندگی، آزادی، شجاعت، دلیری، ایثار، مہربانی، عشق، خداپرستی، اخلاص و ایمان کا درس حاصل کرنا_


سوالات

سوچویے اور جواب دیجئے

۱)___ پیغمبر اسلام (ص) نے شہید کے متعلق کیا فرمایا ہے؟

۲)____ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی عمر کے آخری لمحہ میں کیا کہا تھا؟ اس وصيّت میں کن کن چیزوں کو بیان کیا ہے؟

۳)___ امام حسین علیہ السلام نے راہ خدا میں قتل ہوجانے کے متعلق کیا فرمایا ہے؟ مومن کوکب شہادت اور فداکاری کے لئے تيّار ہوجانا چاہیئے؟

۴)___ طالب علم کاشانی نے اپنے وصیت نامہ کو کن جملوں سے شروع کیا ہے؟ درج ذیل جملوں کو اس کی وصيّت کے مطالعہ کے بعد پورا کیجئے:

۱)__ '' خدا کا شکر کہ مجھے توفیق ملی

۲)__ کیا کوئی برداشت کرسکتا ہے کہ

۳)__ میں اب اپنے ساتھیوں کے خالی مورچے

۴)__ اپنے رہبر، حجّت زمان، نائب امام (ع)

۵)__ خدا کرے کہ تم کفّار

۶)__ ابّا جان آپ کو یاد ہے جب آپ قم آئے تھے تو

۷)__ امّا جان مجھے یاد ہے

۸) میرے خاندان او ردوستوں کو


بہادر فوجیوں اور لڑنے والوں کے لئے دعا

امام زین العابدین علیہ السلام نے ''صحیفہ سجّادیہ'' میں اسلامی سرزمین کے محافظ فوجیوں کے لئے دعا فرمائی ہے کہ جس کے بعض جملوں کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے،

''بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

خدایا محمد اور آل محمد علیہم الصّلوة والسّلام کی پاک روح پر رحمت نازل کر اور مسلمانوں کے ممالک کی سرحدوں کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھ، سرحدوں کے قریب رہنے والوں کی حفاظت کر اور اپنے لطف و کرم کو ان پر زیادہ کر_

خدایا محمّد و آل محمّد علیہم السلام کی پاک روح پر درود بھیج سربازوں و پاسداروں کی تعداد میں اضافہ فرما اور ان کے ہتھیاروں کو دشمنوں کے خلاف تیزو کارگر، ان کے مورچوں کو شکست سے محفوظ رکھ_

اے میرے اللہ اسلام کے سپاہیوں کے حملوں کو دشمن کے ضرر سے محفوظ رکھ، لڑنے والوں میں اتحاد، برادری و ہمکاری کے رشتے کو مضبوط کر اور انھیں ان کے کاموں کو منظم


طور سے بجالانے کی توفیق عنایت فرما_

خدایا اپنے لطف سے ان کے خرچ کو پورا کر اور لڑائی کے وقت ان کا یار و مدددگار بن، اے میرے اللہ صبر و استقامت کے سائے میں انھیں کامیاب فرما، فوجی نقشے اور منصوبے میں ان کی راہنمائی فرما_

یا اللہ محمّد و آل محمد علیہم السلام کی پاک روح پر درود و رحمت بھیج ، خدایا ہمارے لڑنے والے فوجیوں کے دلوں کو جب وہ دشمن سے لڑ رہے ہوں دنیا کی فکر سے بے نیاز کردے ، ان کی توجہ زر و جواہر اور مال دنیا سے دور کر، انھیں اس طرح کردے کہ جنّت بریں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہوں، بہشت کی عمدہ منازل و بہشتی فرشتوں کو دیکھ رہے ہوں، بہشت میوے، بلند درخت اور نہروں کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہوں، اولیائ، ابرار و شہداء کی صحبت میں رہنے کے مشتاق ہوں تا کہ وہ ان ذرائع سے خوف کو اپن دل میں نہ آنے دیں، ان کی قوّت میں استحکام پیدا ہو وہ باقوت ہوکر بہتر جنگ کرسکیں اور ہرگز ان کے دل میں فرار کا خیال نہ پیدا ہو_

خدایا ان سربازوں کے وسیلے سے کہ جنھوںنے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر رکھی ہے دشمن کی طاقت کو شکست دے، دشمن کے درمان اختلاف پیدا کر، ان کے دلوں سے سکون و آرام کو ختم کر، ان کے ہاتھوں کو کھانے پینے کی چیزوں سے خالی کر،


حیرت و پریشانی میں مبتلا کر،انھیں مدد و حمایت کرنے والوں سے محروم کر، ہمیشہ ان کی تعداد میں کمی کر اور ان کے دلوں کو خوف و ہراس سے پر کر_

اے میرے اللہ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں کو تجاوز سے روک دے اور ان کی زبان کو گنگ کردے_ خدایا اس طرح ظالموں پر ہلاکت کو مسلّط کر کہ دوسروں کے لئے عبرت کا درس ہوجائے تا کہ دوسرے جرات نہ کرسکیں کہ وہ ہماری سرحدوں پر حملہ کرسکیں اور اسلامی مملکت پر تجاوز کرسکیں_

پروردگار

وہ فوجی جو اسلام کی عظمت اور مسلمانوں کی فتح کے لئے لڑ رہے ہیں ان کی تائید فرما، لڑائی کی مشکلات کو ان پر آسان کر، اور انھیں فتح نصیب کر_ خدایا جنگجو ساتھیوں کے ذریعہ انھیں قوی کر اور اپی نعمتوں کو ان کے لئے زیادہ کر، خدایا شوق و ذوق کے اسباب ان کے لئے فراہم کر اور اپنے رشتہ داروں کے دیدار کو ان کے دلوں سے ختم کر اور وحشت و تنہائی کے غم کو ان کے دلوں سے دور کر_

خدایا فوجیوں کے دلوں کو بیوی اور اولاد کے احساس فراق کو ختم کر، انھیں حسن نیت، سلامتی و عافيّت عنایت فرما، دشمن کا خوف ان کے دلوں سے نکال دے اور انھیں عزّ و شہادت


الہی

دشمن کے ساتھ لڑائی میں انھیں سخت مقابلہ اور مقاومت کی صلاحيّت عطا کر_ خدایا ہمارے سپاہیوں کو عمل و دینداری کا جذبہ عطا کر اور فیصلہ کرنے میں ان کی صحیح راہنمائی فرما_ پروردگارا اپنے لطف سے ان کو ریاء اور خودپسندی سے دور رکھ_ الہی انھیں اس طرح کردے کہ ان کی فکر، رفتار و گفتار اور حضر و سفر فقط تیرے راستے اور تیرے لئے ہو_

خداوندا

لڑائی کے وقت دشمنوں کو ان کی نگاہ میں ضعیف دکھا، ان کو دشمنوں کے اسرار اور بھیدوں سے مطلع کردے اور خود ان کے بھیدوں کو دشمنوں سے مخفی کر_ الہی اگر وہ شہادت کے درجہ پر فائز نہ ہوئے ہوں تو انھیں اس طرح کردے کہ وہ دشمن کی ہلاکت ، اسارت اور فتح و کامیابی کے بعد یقینا مسلمان ہوں_

خدایا

جو مسلمان بھی لڑنے والوں کی غیر حاضری میںان کے اہل و عیال کو پناہ میں لے لے اور ان کی ضرورتوں کو پوری کرتا رہے یا لڑنے والوں کے لئے جنگی ہتھیار و قوّت مہیا کرے یا وہ ان کی حوصلہ افزائی کرے تو اس قسم کے مسلمانوں کو اسلام کے سربازوں کا ثواب عطا فرما_ خدایا جو مسلمان، پاسداروں کے سامنے ان کی تعریف و ستائشے کرے یا ان کا شکریہ ادا کرے اور انکی غیر حاضری


میں ان کی تعریف کرے تو اس قسم کے مسلمان کو جو زبان سے دین کے محافظین کی تعریف اور شکریہ ادا کرے لڑنے والوں کا ثاب و جزاء عنایت فرما اور آخرت کے ثواب و جزاء سے پہلے اسی دنیا میں اسے جزائ، خوشی و شادمانی اور نشاط بخش دے_

پروردگارا

جو مسلمان، اسلام کی سربلندی کے لئے کوشاں ہے اور مسلمانوں کے مصائب سے رنجیدہ ہوتا ہے، راہ خدا میں جہاد کو دوست رکھتا ہے لیکن جسمی ناتوانی و کمزوری یا مالی فقر یا کسی دوسرے شرعی عذر کی وجہ سے خود جہاد میں شرکت نہیں کرسکتا اس کا نام بھی عبادت کرنے والوں میں درج کر، جہاد کا ثواب اس کا نامہ اعمال میں لکھ دے اور اسے شہداء و صالحین میں شمار کر''

آمین با ربّ العالمین


مندرجہ ذیل کلمات کو ملا کر ایک دعائیہ جملہ بنایئے

۱)___ خدایا اسلامی مملکت کی سرحدوں کو_ دشمن _ حملے_ پناہ میں رکھ _

۲)___ خدایا _ محافظین_ میں اضافہ فرما_

۳)___ فوجیوں_ مورچوں_ بے آسیب_ دے_

۴)___ اتحاد کو_ میں_ محکم_ دے_

۵)___ سربازان اسلام_ کو نور_ روشن کردے_

۶)___ فوجیوں کو_ کردے کہ وہ_ آنکھوں_ کو دیکھیں_

۷)___ خدایا _ ہتھیلی_ جان_ رکھنے والوں کی وجہ _ کی طاقت کو ختم کردے_

۸)___ خدایا _ جو مسلمان مجاہد_ میں_ مدد_ ہے_

۹)____ خدایا _ آخرت کی جزاء سے_ دنیاوی _ فرما_

سوالات

ان سوالات کے جوابات دیجیئے

۱)___ امام زین العابدین علیہ السلام دعا کے ضمن میں کن صفات کی اسلام کے فوجیوں کے لئے تمنّا کر رہے ہیں؟ ان میں سے پانچ صفتوں کو بیان کرو_

۲)___ امام علیہ السلام نے ''خدایا دشمن کی طاقت کو ختم کردے'' کے جملے کے بعد کون سی چیز کو دشمن کی شکست کا سبب قرار دیا ہے؟

۳)___ تین گرہوں کو بیان کر و جو مجاہدین کے ساتھ کے ثواب میں شریک ہوتے ہیں؟


اگر ماں ناراض ہو

ایک جوان بہت سخت بیمار ہوگیا اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا_ اس خبر کے سنتے ہی اس کے رشتے دار کی عیادت کے لئے گئے_ جوان موت و حیات کے عالم میں زندگی گذار رہا تھا درد و تکلیف سے نالہ و زاری کر رہا تھا، کبھی اسے آرام آتا اور کبھی تڑپنے لگتا اس کی حالت ، غیر تھی_

پیغمبر اسلام(ص) کو خبر دی گئی کہ ایک مسلمان جوان مدّت سے بستر بیماری پر پڑا ہے اور جان کنی کے عالم میں ہے_ آپ(ص) اس کی عیادت کے لئے تشریف لے آئیں شائد آپ کے آنے کی برکت سے اسے آرام ہوجائے_ پیغمبر اسلام (ص) نے ان کی دعوت قبول کی اور اس جوان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے _ اس کی حالت نے پیغمبر اسلام(ص) کو متاثر کیا_ کبھی وہ ہوش میں آتا اپنے اطراف میں دیکھتا، فریاد کرتا اور کبھی بے ہوش ہوجاتا اس کی صورت بہت خوفناک ہو رہی تھی_

وہ بات بھی نہیں کرسکتا تھا گویا کوئی اسی چیز دیکھ رہا تھا جو ددوسرے نہیں دیکھ رہے تھے اور شائد اپنی زندگی کے آخری لمحات کو کاٹ رہا تھا اور اس کے سامنے آخرت کا منظر تھا اور وہاں کی سختی و عذاب کا مشاہدہ کر رہا تھا_

پیغمبر اسلام(ص) کہ جو دونوں جہاں سے آگاہ تھے آپ نے اس سے پوچھا:

'' تم کیوں اتنے پریشان ہو؟ کیوں اتنے رنج میں ہو اور فریاد کر رہے ہو؟


جوان نے آنکھیں کھولیں اور پیغمبر اسلام(ص) کے نورانی چہرہ کی زیارت کی اور بہت زحمت و تکلیف سے کہا:

'' یا رسول اللہ (ص) مجھے معلوم ہے کہ یہ میری زندگی کے آخری لمحات ہیں میں آخرت کی طرف جا رہا ہوں اب میں دو ترسناک اور بدنما شکلیں دیکھ رہا ہوں جو میری طرف آرہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ میری روح کو اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیں گویا چاہتی ہیں کہ مجھے میرے برے کام کی سزادیں_ یا رسول اللہ (ص) میں ان دونوں سے ڈرتا ہوں آپ میری مدد کیجئے''

پیغمبر اسلام (ص) نے ایک ہی نگاہ سے سب کچھ سمجھ لیا تھا وہاں بیٹھنے والوں سے فرمایا:

'' کیا اس جوان کی ماں ہے؟ اسے یہاں بلایا جائے''

اس کی ماں نے بلند آواز سے گریہ کیا اورکہا:

'' یا رسول اللہ (ص) میں نے اپنے اس بیٹے کے لئے بہت تکلیفیں اٹھائیں کئی کئی راتیں جاگتی رہی تا یہ سوجائے کتنے دنوں میں نے کوشش کی کہ یہ آرام سے رہے، کبھی خود بھوکی رہتی اور اپنی غذا اسے دے دیتی، اپنے منھ سے لقمہ نکال کر اس کے منھ میں ڈالتی، ان سب کے باوجود جب یہ سن بلوغ و جوانی کو پہونچا تو میری تمام زحمتوں کو بھلا بیٹھا، مجھ سے سختی سے پیش آنے لگا اور کبھی مجھے گالیاں تک دیتا_ یہ میرا احترام نہیں کرتا تھا اور اس نے میرا دل بہت دکھایا ہے _ میںنے اس کے لئے بد دعا کی ہے''_


رسول خدا(ص) نے اس کی ماں سے فرمایا:

'' یقینا تیرے بیٹے کا سلوک تیرے ساتھ برا تھا اور تجھے ناراض ہونے کا حق ہوتا ہے لیکن تم پھر بھی ماں ہو، ماں مہربان اور در گذر کرنے والی ہوا کرتی ہے اس کی جہالت کو معاف کردے اور اس سے راضی ہوجاتا کہ خدا بھی تجھ سے راضی ہوجائے''

اس رنجیدہ ماں نے ایک محبت آمیز نگاہ اپنے بیٹے پر ڈالی اور کہا:

'' خدایا میںنے تیرے پیغمبر(ص) کی خاطر اپنے بیٹے کو بخش دیا ہے تو بھی اسے بخش دے'' _

پیغمبر اسلام(ص) نے اس کا شکریہ ادا کیا اوراس کے بیٹے کے حق میں دعا کی اور جوان کے لئے خدا سے مغفرت طلب کی_ خداوند عالم نے پیغمبر اسلام(ص) کی دعا اور اس کی ماں کے راضی ہونے کے سبب اس جوان کے گناہ بخش دیئے_

اس وقت جب کہ جوان اپنی عمر کے آخری لمحات کاٹ رہا تھا اس نے آنکھ کھولی، مسکرایا اور کہا:

'' یا رسول اللہ (ص) آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں وہ خوفناک دو شکلیں چلی گئی ہیں اور دو اچھے چہرے میری طرف آرہے ہیں'' _

اس وقت اس نے اللہ تعالی کی وحدانيّت اور حضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی نبوّت کی گواہی دی اور مسکراتے ہوئے ا س کی روح، قفس عنصری سے پرواز کرگئی_


خداوند عالم قرآن میں ماں باپ کے بارے میں فرماتا ہے کہ:

'' خدا نے حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے کسی کی پرستش نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو، اگر ماں باپ میں سے ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو ان کی بے احترامی ہرگز نہ کرنا اور بلند آواز سے ان سے گفتگو نہ کرنا ہمیشہ مہربانی اور ادب سے ان کے ساتھ بات کرنا''_

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ:

'' جو شخص رشتہ داروں کے ساتھ رشتہ کے پیوند کو مضبوط کرے اورماں باپ کے ساتھ خوش رفتار و مہربان ہو تو اس پر موت کی سختیاں آسان ہوجاتی ہیںاور دنیا میں بھی فقیر و تہی دست نہیں رہتا''_

قرآن کی آیت:

( وقضی ربّک الّا تعبدوا الّا ايّاه و بالوالدین احسانا اما یبلغنّ عندک الکبر احدهما او کلاهما فلا تقل لهما اف و لا تنهرهما و قل لهما قولا کریما ) (۱)

'' خدا نے حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے کسی کی پرستش مت کرم اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو، اگر ماں باپ میں سے ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو ان کی ہرگز بے احترامی نہ کرو اور بلند آواز سے ان کے س اتھ کلام نہ کرو اور ہمیشہ مہربان اور با ادب ہوکر ان کے ساتھ گفتگو کرو_

____________________

۱) سورہ بنی اسرائیل آیت ۲۳


چھٹا حصّہ

امامت اور رہبری کے بارے میں


رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت

پیغمبر اسلام(ص) کی بعثت کے تین سال گذرچکے تھے آپ کی اس مدت میں اسلام کی طرف دعوت مخفی تھی_ لوگ بلکہ پیغمبر اسلام(ص) (ص) کے رشتہ دار آپ کی دعوت سے صحیح طور سے مطلع نہ تھے لیکن اب وہ وقت آگیا تھا کہ پیغمبر اسلام(ص) کھلے عام اسلام کی طرف دعوت دیں تا کہ سبھی تک آپ کا پیغام پہونچ جائے لہذا اس عمومی پیغام کی ابتداء اپنے قبیلے اور رشتے داروں سے شروع کی کیونکہ یہ لوگ پیغمبر اسلام (ص) کو بہتر طور سے جانتے تھے اور آپ کی صداقت سے بخوبی واقف تھے_ اسی دوران اللہ تعالی کی طرف سے یہ پیغام آیا:

'' اپنے رشتے داروں و قریبیوں کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو آخرت کے عذاب سے ڈراؤ اور جو لوگ تمھاری پیروی کرتے ہیں ان سے نرمی و تواضع سے پیش آؤ'' _

تمھیں علم ہوگا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے اپنے اس حکم کو حضرت علی علیہ السلام کے درمیان رکھا اور انھیں حکم دیا کہ غذا مہیا کرو، رشتے داروں اور اپنی قوم کو دعوت دوتا کہ میں انھیں اسلام کی دعوت دوں_ حضرت علی علیہ السلام نے غذا مہيّا کیا اور اپنے رشتے داروں کو دعوت دیا_

مہمانی کاون آپہونچا، تقریبا چالیس آدمی پیغمبر(ص) کے قریبی رشتے دار اس دعوت میں شریک ہوئے_ پیغمبر اسلام (ص) نے بڑی خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کیا اورانھیں


خوش آمدید کہا_

پیغمبر اسلام (ص) اور حضرت علی علیہ السلام نے مہمانوں کی پذیرائی کی تھوڑے سے کھانے میں تمام کے تمام سیر ہوگئے_ کھانا کھانے کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے گفتگو کرنی چاہی اور جب آپ نے اپنے مقصد کو بیان کیا تو ابولہب نے آپ کی بات کو کاٹ دیا_ اپنی بیہودہ و بیکار باتوں سے مجمع کو درہم و برہم کردیا اکثر حاضرین نے شور و غل شروع کردیا اور پھر متفرق ہوگئے_ اس ترتیب سے یہ مہمانی ختم ہوگئی اورپیغمبر اسلام (ص) اپنے پیغام کو نہ پہونچا سکے_

لیکن کیا پیغمبر(ص) لوگوں کو ہدایت کرنے اور اپنا پیغام پہونچانے سے ہاتھ کھینج لیں گے؟ کیا آپ مایوس و نا امید ہوجائیں گے؟ کیا آپ ان سے غضبناک ہوجائیں گے؟ نہیں نہ تو آپ ہدایت کرنے سے دستبردار ہوں گے نہ مایوس و نا امید ہوں گے اور نہ غضبناک ہوں گے بلکہ آپ دوسری دفعہ ان کو مہمان بلاتے ہیں اور ان کی اسی خندہ پیشانی سے پذیرائی کر رہے ہیں کیونکہ آپ لوگوں کی ہدایت کرنے او رانھیں نجات دینے کے لئے آئے ہیں_

کھانا کھانے کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:

'' اے میرے رشتے دارو توجہ کرو اور میری بات کو غور سے سنو اگر بات اچھی ہو تو قبول کر لو اور اگر اچھی نہ تو قبول کرنے پر مجبور نہیں ہو اور یہ بات صحیح نہیں کہ تم شور و غل کر کے مجلس کو دگرگوں کردو_

اے ابوطالب کی اولاد خدا کی قسم کوئی بھی آج تک ایسا ہدیہ اپنی قوم کے لئے نہیں لایا جو میں اپنی قوم اور رشتے داروں کے لے لایا ہوں میں تمھارے لئے دنیا اور آخرت کی سعادت


کی خوشخبری لایا ہوں_

اے میرے معزز رشتے دارو تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو اگر میں تمھیں بتاؤں کہ دشمن اس پہاڑ کے پیچھے بیٹھا ہے اور تم پر حملہ کرناچاہتا ہے تو کیا میری اس بات کا یقین کر لو گے؟ کیا دفاع کے لئے تیار ہوجاؤ گے؟ ''

تمام حاضرین نے کہا کہ:

'' ہاں اے محمد(ص) ہم نے تمھیں سچّا اور صحیح آدمی پایا ہے''_

'' میں تمھاری بھلائی و سعادت کو چاہتا ہوں، کبھی تم سے جھوٹ نہیں بولتا اور نہ خیانت کرتا ہوں_ لوگو تم اس دنیا میں بے کار خوق نہیں کئے گئے ہو اور موت، زندگی کی انتہاء نہیں ہے تم اس جہان سے آخرت کے جہان کی طرف منتقل ہوگے تا کہ اپنے اعمال کی جزاء دیکھ سکو_

اے میرے رشتے دارو میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور تمام انسانوں کی ہدایت و نجات کے لئے بھیجا گیا ہوں، مجھے اب حکم ملا ہے کہ میں تمھیں توحید، خداپرستی و دین اسلام کی طرف بلاؤں او رعذاب الہی سے ڈراؤں_ میں اس حکم کی بجا آؤری میں استقامت سے کام لوں گا_ تم میں سے جو بھی میری اس دعوت کو قبول کرے اور میری مدد کرے وہ میرا بھائی، میراوصّی، میرا خلیفہ اور میرا جانشین ہوگا''_

مجمع پر سنّاٹا چھایا ہواتھا چنانچہ ایک کونے سے ایک نوجوان اٹھا اور اس نے کہا:


'' یا رسول اللہ (ص) میں اللہ تعالی کی وحدانيّت، روز جزاء کی حقّانیت اور آپ کی پیغمبری کی گواہی دیتا ہوں اور اس آسمانی پیغام کی کامیابی کے لئے آپ کی مدد کروں گا''_

جانتے ہو کہ یہ نوجوان کون تھا؟

پیغمبر اسلام(ص) نے ایک محبت آمیز نگاہ اس کی طرف کی اور اپنے مہمانوں کے سامنے اپنی بات کو دوبارہ بیان کیا_ اس دفعہ بھی سب خاموش بیٹھے رہے اور پھر وہی جوان اٹھا او راسی وعدہ کا تکرار کیا_ پیغمبر (ص) نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور پھر تیسری دفعہ تکرار کیا_ پھر وہی جوان اٹھا اور اپنی مدد کا ہاتھ پیغمبر اسلام(ص) کی طرف بڑھایا_ اس وقت رسول خدا (ص) نے اسے اپنے پاس بلایا اس کا ہاتھ پکڑا او رحاضرین کے سامنے فرمایا:

''انّ هذا اخی و وصیيّی و خلیفتی فیکم فاسمعوا له و اطیعوا (۱)

'' یہ نوجوان میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ ہے اس کی بات کو سنو اور اس کی اطاعت کرو''_

تمام مہان اٹھ گئے ان میں سے بعض ہنستے ہوئے اپنے غصّے کو چھپا رہے تھے اور سب نے جناب ابوطالب (ع) سے کہا:

'' سنا ہے کہ محمد(ص) کیا کہہ رہے ہیں؟ سنا ہے کہ انھوں نے تمھیں کیا حکم دیا ہے ؟ تمھیں حکم دیا ہے کہ آج کے بعد اپنے فرزند کی اطاعت کرو''_

____________________

۱) یہ واقعہ اہل سنّت کی بھی مستند کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۳۲، الکامل فی التاریخ جلد ۲ صفحہ ۶۲


پیغمبر اکرم(ص) نے اس مجلس میں اپنی دعوت کو واضح طور سے بیان کر کے اپنی ذمّہ داری کو انجام دیا اور اپنے آئندہ کے پروگرام سے بھی حاضرین کو مطلع کیا اپنا وزیر و جانشین معيّن کردیا دین اسلام و مسلمانوں کے لئے رہبر چن لیا اور رہبری کی اطاعت کو واجب و لازم قرار دے دیا_

حاضرین نے پیغمبر اسلام(ص) کی گفتگوسے کیا سمجھا ____؟ کیا انھوں نے بھی یہی سمجھا تھا؟ کیا انھوں نے سمجھ لیا تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) ، علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو اپنا وزیر اور مسلمانوں کے لئے اپنے بعد ان کا رہبر بنادیا ہے؟

اگر وہ یہ نہ سمجھے ہوتے تو کس طر ہنستے اور مزاح کرتے اور ابوطالب (ع) سے کہتے کہ محمد(ص) نے تمھیں حکم دیا ہے کہ آج کے بعد اپنے فرزند کی اطاعت کیا کرو

قرآن مجید کی آیت:

( و انذر عشیرتک الاقربین و اخفض جناحک لمن اتّبعک من المؤمنین ) (۱)

'' اپنے رشتے داروں کو خدا کے عذاب سے ڈراو اور ان مومنین کے ساتھ جو تمھاری پیروی کرتے ہیں نرمی اورملائمت سے پیش آو''_

____________________

۱) سورہ شعراء آیت ۲۱۵


سوالات

ان سوالات کے بارے میں بحث کرو

۱)___ پیغمبر اسلام (ص) کا دوسرا تبلیغی مرحلہ کس طرح شروع ہوا اور اس مرحلہ کے لئے خدا کی طرف سے کیا حکم ملا؟

۲)___ پیغمبر اسلام (ص) نے اس کو انجام دینے کے لئے کیا حکم دیا اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو کیا حکم دیا؟

۳)___ کس نے پہلے نشست کو خراب کیا تھا؟ اور کیوں؟

۴)___ کیا پیغمبر (ص) نے ان کے کہنے سے اپنے ارادے کو بدل دیا تھا؟

۵)___ پیغمبر اسلام (ص) نے دوسرے دن مہمانوں سے کیا کہا تھا اور ان سے کیا مطالبہ کیا تھا؟

۶)___ مہمانوں نے ابوطالب (ع) سے کیا کہا تھا ا ور کیوں؟

۷)___ اس دعوت کا کیا مقصد تھا؟


پیغمبر(ص) کی دو قیمتی امانتیں

پیغمبر اسلام (ص) اپنی عمر کے آخری سال مكّہ تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا کو جو بھی استطاعت رکھتا ہے وہ اس سال حج میں شریک ہو_ پیغمبر(ص) کی دعوت پر مسلمانوں کی کثیر تعداد مكّہ گئی حج کے اعمال و مناسک کو پیغمبر اسلام (ص) سے لوگوں نے یاد کئے اور وہ حج کے پر عظمت و پر شکوہ اعمال کو پیغمبر(ص) کے ساتھ بجالائے_

پیغمبر اسلام(ص) حج اور زیارت وداع کے مراسم کو ختم کرنے کے بعد دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ایک کارواں کی شکل میں روانہ ہوئے_ حجاز کی جلا دینے والی گرمی اور بے آب و گیاہ میدان کو طے کرنے کے بعد غدیرخم پہونچے_ پیغمبر اسلام (ص) اس جگہ اپنے اونٹ سے اترے اور قافلے والوں کو بھی وہیں اترنے کا حکم دیا_ وہ لوگ جو پیغمبر (ص) سے آگے نکل چکے تھے انھیں واپس بالا یاگیا اور جو ابھی پیچھے تھے ان کا انتظار کیا گیا_

ظہر کے نزدیک ہوا بہت گرم تھی، گرمی کی شدّت سے انسانوں کے سر اور پاؤں جل رہے تھے بعض لوگوں نے اپنی عبائیں سر پر ڈال رکھی تھیں، بعض نے اپنے پاؤں کپڑوں سے لیپٹ دیئے تھے اور بعض لوگ اپنے اونٹوں کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے_ سب لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ کیابات ہے؟ کیا پیغمبر اسلام(ص) کوئی اہم کام انجام دینے والے ہیں؟

جب لوگ آپ سے پوچھتے تو آپ انھیں جواب دیتے تھے کہ:

'' ظہر کی نماز کے بعد بتاؤں گا''_


ظہر کی نماز کا وقت آگیا_ پیغمبر اسلام(ص) نماز کے لئے کھڑے ہوئے لوگوں نے آپ کی اقتداء کی اور آپ کے ساتھ با جماعت نماز پڑھی_ نماز کے بعد پیغمبر (ص) ایک بلند جگہ کھڑے ہوئے اس وقت ہر طرف سکوت طاری تھا اور سبھی کی توجہ پیغمبر اسلام (ص) کی طرف تھی آپ نے ذکر الہی سے اپنے خطبہ کی ابتداء کی اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد لوگوں کو وعظ اور نصیحت کی اس کے بعد فرمایا:

'' لوگو ہر انسان کے لئے موت حتمی ہے میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح مرجاؤں گا، خدا کا فرشتہ بہت جلد میری روح قبض کرنے کے لئے آنے والا ہے، میں اور تم سب کے سب اللہ کے سامنے دین اسلام کے بارے میں جواب گوہوں گے اور ہم سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا_

میں نے اپنے وظیفہ پر عمل کردیا ہے خدا کے پیغام کو تم تک پہونچا دیا ہے تمھاری راہنمائی و رہبری انجام دے دی ہے اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ میری موت نزدیک ہے خدا نے مجھے اپنی طرف بلالیا ہے اور مجھے اس کی طرف جانا ہے_

لوگو میں تم سے رخصت ہو رہا ہوں لیکن دو گراں بہا چیزیں تمھارے درمیان بطور امانت چھوڑے جا رہا ہوں کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے اگر تم نے ان سے تمسّک کیا تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیت (ع) ہیں_

قرآن، اللہ کی کتاب اور ایک مضبوط رسّی ہے جو آسمان


سے اتری ہے اور دوسری امانت میرے اہلبیت (ع) ہیں_ اللہ تعالی نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں امانتیں آپس میں جدا نہ ہوں گی اور قیامت تک ایک رہیں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گی_ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم ان سے کیا سلوک کروگے؟ ''

اس کے بعد آپ (ص) نے علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو اپنے نزدیک بلایا اور آپ (ع) کا ہاتھ پکڑکر لوگوں کے سامنے بلند کیا اور فرمایا:

'' لوگو اب تک تمھاری رہبری میرے ذمّہ تھی_ کیا میں خدا کی طرف سے تمھارا رہبر اور صاحب اختیار نہ تھا؟ کیا میں تمھارا ولی اور رہبر نہ تھا؟''

سب نے جواب دیا:

'' ہاں یا رسول اللہ (ص) آپ ہمارے پیشوا اور رہبر تھے''_

اس وقت پیغمبر اسلام (ص) نے بلند آواز سے فرمایا:

'' جس کا میں مولا تھا اب علی (ع) اس کے مولا ہیں جس نے میری ولایت کو قبول کیا ہے اب علی (ع) اس کے ولی ہیں''_

اس کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور یوں فرمایا:

'' خدایا جس نے علی (ع) کی ولایت کو قبول کرلیا ہے اس کو تو اپنی سرپرستی اور ولایت میں رکھ، خدایا علی (ع) کی مدد کرنے والوں کی مدد فرما اور علی (ع) سے دشمنی کرنے والوں سے دشمنی رکھ''


نتیجہ:

پیغمبر اسلام(ص) کے غدیر کے تاریخی خطبہ اور اس حدیث غدیر سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱)___ پیغمبر اسلام (ص) نے اس حدیث میں اپنی عمر کے ختم ہونے کا اعلان فرمایا، انقلاب اسلامی کے ہمیشہ رہنے اورترقی کرنے کے لئے دو قیمتی چیزوں کا اعلان کیا اور لوگوں کو اس سے روشناس کرایا تا کہ دینی، اجتماعی اور سیاسی مشکلات کے حل کرنے میں لوگ ان کی طرف رجوع کریں_ ان میں سے ایک '' قرآن'' ہے اور اس کے متعلق لوگوں سے فرمایا تھا:

'' اپنی مشکلات کے حل کے لئے قرآن کی طرف رجوع کرنا اس کے پڑھنے، سمجھنے ، اس سے مانوس ہونے، اس کے آئین دوسرے میرے '' اہلبیت (ع) '' ہیں_

پیغمبر اسلام(ص) لوگوں سے یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی دینی، سیاسی اور اجتماعی ضروریات میں آپ کے اہلبیت (ع) کی طرف کہ جو پوری طرح قرآن و معارف اسلامی کے جاننے والے ہیں رجوع کریں او رقرآن کو ان کی راہنمائی میں سمجھنے کی کوشش کریں، اسلام کے فردی و اجتماعی قوانین ان سے حاصل کریں اور ان کے قول و فعل کی پیروی کریں، ان سے محبت کریں، ان کی ولایت و رہبری کہ جو در حقیقت پیغمبر(ص) کی ولایت کا دوام ہے، کو قبول کریں اور خداوند عالم کے


آئین کی روشنی میں اپنی فردی اور اجتماعی زندگی گذاریں_

۲)__ _قرآن اور عترت ایک دوسرے سے جدا ہونے والے نہیں ہیں، مسلمان اپنی دنیاوی و اخروی سعادت کے حصول کے لئے ان دو قیمتی چیزوں کے محتاج ہیں، قرآن کے محتاج اس لئے ہیں کہ زندگی کا آئین و دستور اس سے لیں اور اہلبیت (ع) کے محتاج اس لئے ہیں کہ قرآن کے معارف و احکام کو ان سے سکیھیں اہلبیت (ع) ہی ان لوگوں کی ہدایت کریں اور پیغمبر اسلام (ص) کے مقدس اہداف کو عملی جامہ پہنائیں_

۳)___جو مسلمان، قرآن کے دستور اور اہلبیت (ع) کی پیروی کرتے ہیں وہ کبھی بھی گمراہ نہ ہوں گے اور دنیا و آخرت کی سعادت کو حاصل کریں گے_

۴)___ پیغمبر اکرم (ص) نے اس حدیث میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنے اہلبیت (ع) کی ایک فرد بتایا ہے اور لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حضرت علی (ع) کی ولایت و رہبری کو قبول کریں _ پیغمبر اسلام (ص) نے جن کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے ان کی تعداد کو پوری طرح واضح کردیا ہے_

یہ حدیث کہ جس میں پیغمبر اسلام (ص) نے لوگوں کو دو قیمتی چیزوں کے متعلق وصيّت کی ہے '' حدیث ثقلین'' کے نام سے مشہور ہے اور یہ ان احادیث میں سے ہے کہ جو مسلّم اور قطعی ہے اس حدیث کے راویوں نے اسے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا ہے یہ حدیث شیعہ اور سنّی کی معتبر کتابوں میں موجود ہے_(۱)

____________________

۱) البدایہ و النہایہ جلد ۵_ صحیح مسلم جلد ۴ _ مستدرک حاکم جلد ۳_ مجمع الزوائد جلد ۹_ اور ان کے علاوہ دوسری بہت زیادہ شیعہ اور سنّی کی معتبر کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے_


پیغمبر اسلام (ص) نے ارشاد فرمایا:

قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و الہ: انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و اہل بیتی لن یفترقا حتی یردا علی الحوض

'' میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں_ ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میرے اہلبیت (ع) ، یہ دونوں جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے''_


سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱)___ پیغمبر(ص) کی دو قیمتی چیزیں کیا تھیں؟ ان کے بارے میں آپ نے مسلمانوں کو کیا حکم دیا ہے؟

۲)___ پیغمبر (ص) نے غدیر خم میں کس کو پہنچوایا تھا اس کے بارے میں کیا فرما اور کیا دعا کی تھی؟

۳)___ پہنچوانے سے پہلے آپ نے لوگوں سے کیا پوچھا تھا اور آپ کا ان سوالوں سے کیا مقصد تھا؟

۴)___ پیغمبر (ص) نے دینی ، اجتماعی اور سیاسی مشکلات کے حل کے لے کس شخص کو معيّن فرمایا ہے؟

۵)___ مسلمانوں کا ان دو چیزوں کے متعلق کیا فریضہ ہے؟

۶)___ قرآن اور عترت ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے، اس کی وضاحت کیجیئے

۷)___ مسلمان کس طرح دنیا اور آخرت کی سعادت کو حاصل کرسکتا ہے اور کس کی رہبری کو قبول کر کے؟


اسلام میں امامت

اسلام ایک مقدّس اور عالمی دین ہے جو انسان کی زندگی کی ہر ضرورت کے لئے کافی ہے چنانچہ اس نے انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین ودستور وضع کئے ہیں_

انسان کے انفرادی امور کے لئے الگ قانون وضع کئے ہیں اور اجتماعی امور کے لئے الگ، لہذا احکام اسلامی کو دو حیثیت سے دیکھنا ہوگا_ ایک وہ جن کا تعلق افراد سے ہے جیسے نماز، روزہ، حج اور طہارت و غیرہ اوردوسرے اجتماعی احکام ہیں جیسے جہاد، دفاع، قضا، حدود، دیات، قصاص، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور اقتصادی و سیاسی

اگر چہ انفرادی احکام میں بھی اجتماعی و سیاسی پہلو ہے اور اسی طرح اجتماعی احکام میں انفرادی فائدہ بھی ہے یہ دونوں تقریبا ایک ہی جیسے ہیں_ اسلام کے اجتماعی اور سیاسی احکام لوگوں میں عدل و انصاف قائم کرنے، معاشرہ میں نظم ، ضبط، امنيّت اور حفاظت کے لئے ہوتے ہیں_ اسلام کے اجتماعی و سیاسی احکام، معاشرہ میں فلاح و بہبود کی بقاء کے ضامن ہوتے ہیں تا کہ لوگ اپنے عبادی فرائض کو انجام دے سکیں لیکن اسلام کے اجتماعی و سیاسی قوانین کو جاری کرنا اور ان پر عمل کرانا شخصی طور پر ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لئے حکومت کی ضرورت ہے لہذا مسلمان، اسلامی حکومت کے ذریعہ ہی اسلام کے اجتماعی قوانین کو جاری کرسکتا ہے اور طاقت کے زور پر اسلامی قوانین کو عملی جامہ


پہنا سکتا ہے اور اسلامی سرزمین کو دشمنوں سے لے سکتا ہے_

حالانکہ اس قسم کے تشکیلات ہر ملک کے لئے ضروری ہوا کرتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اسلامی حکومت میں حکومت کے لارکان، اسلام کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور اس کی رہبری ایک دیندار، دین شناس اور پرہیزگار شخص کے ذمّہ ہوتی ہے اور اس کے لئے یہ عہدہ خود خداوند عالم کی طرف سے ہوتا ہے_

پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں اسلامی حکومت کیسے تھی؟

رسول خدا(ص) کے زمانہ میں مسلمانوں کی رہبری خود آپ کے ذمّہ تھی آپ اسلام کے اجتماعی و سیاسی قوانین کو جاری کرتے تھے اور معاشرہ کو اسلامی طریقے سے چلاتے تھے جہاد و دفاع کا حکم خود آپ دیا کرتے تھے ، فوج کا کمانڈر خود معيّن کرتے تھے لیکن حکم آپ خود دیا کرتے تھے، آپ کے زیر فیصلے ہوتے تھے_

آپ قاضی کی تربیت کرتے انھیں دور و نزدیک کے شہروں اوردیہاتوں میں روانہ کرتے تھے تا کہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کریں، اسلام کے قوانین کے مطابق لوگوں کی مشکلات کو حل کریں اور حدود الہی کو جاری کریں_ بیت المال کی تقسیم آپ کے زیر نظر ہوا کرتی تھی اور جنگ میں ہاتھ آنے والے مال کی تقسیم بھی خود آپ ہی کے ذمّہ تھی_

اس کے علاوہ پیغمبر اسلام (ص) کا خداوند عالم سے ایک خاص ربط تھا آپ قوانین الہی کو وحی کے ذریعہ حاصل کرتے تھے اور انھیں لوگوں تک پہونچاتے تھے، معاشرہ کو حکم الہی کے مطابق چلاتے تھے یہاں تک کہ آپ کی آنکھ بند ہوگئی_


رسول خدا (ص) کے بعد اسلامی حکومت:

رسول خدا (ص) کے بعد دین اسلام اور احاکم و قوانین اسلامی کی حفاظت کون کرے؟ کیا اسلامی معاشرہ کو پیغمبر اسلام(ص) کے بعد کسی رہبر کی ضرورت نہیں؟ کیا پیغمبر اسلام (ص) اسلامی معاشرہ کو بغیر کسی رہبر کے چھوڑ گئے اور آپ نے اس بارے میں کوئی وصيّت نہیں کی؟

حالانکہ پیغمبر اسلام (ص) نے دین اسلام کو ہمیشہ رہنے والا اور آخری دین بنایا ہے پس کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس آخری دین کے لئے محافظ معيّن نہ کیا ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلامی معاشرہ کو کسی رہبر کے بغیر چھوڑ کر گئے ہوں؟ حالانکہ کبھی آپ نے کسی فوج کو بغیر اس کے سردار کے جنگ کے لئے نہیں بھیجا بلکہ کبھی احتیاط کے طور پر چند سرداروں کو معيّن کرتے تھے تا کہ ایک کی شہادت سے دوسرا سردار فوج کو کنٹرول کرسکے_

یہ کس طرح ممکن ہے کہ اسلام کی نوازئیدہ مملکت کو پیغمبر(ص) کوئی ولی معيّن کئے بغیر چھوڑ کر چلے جائیں حالانکہ بعض صورتوں میں آپ اگر تھوڑے دنوں کے لئے بھی سفر پر جاتے تھے تو مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے کسی کو معيّن کرتے تھے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے نو بنیاد اسلامی معاشرہ کو بغیر سرپرست اور رہبر کے چھوڑ دیا ہو؟

حالانکہ جب بھی کسی جگہ کو فتح کرتے تو آپ فوراً کسی شخص کو اس کا سرپرست معيّن کردیتے تھے_ جو پیغمبر (ص) اتنا دور اندیش، مستقبل شناس اور امّت اسلامی کے اجتماعی و سیاسی


مسائل پر اتنی توجہ دیتا ہو تو کیا اس کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ اسلامی معاشرہ کے لئے رہبر کی ضرورت سے غافل تھا؟ نہیں ہرگز نہیں

پیغمبر اسلام (ص) ، ضرورت امام (ع) سے بخوبی واقف تھے آپ کو اچھی طرح علم تھا کہ اسلام کے قوانین و احکام کی حفاظت کے لئے ایک ایسے رہبر کا وجود ضروری ہے جو دین اسلام کے قوانین اور احکام کا عالم ہو_ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ پیغمبر(ص) کی ذمّہ داریوں کو کون بخوبی انجام دے سکتا ہے_

ہمارا عقیدہ:

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے ایسے کام سے کہ جس سے اسلام کی رگ حیات وابستہ تھی غفلت نہیں کی بلکہ بہت سے مواقع پر اس کا اظہار بھی کیا اور پیغمبر کی نظر میں یہ اتنا اہم کام تھا کہ آپ نے اسلام کی پہلی ہی دعوت میں کہ جس میں آپ نے اپنے رشتے داروں کو اپنے گھر بلایا تھا حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی و خلافت کا اعلان کردیاتھا_

مختلف مواقع پر اس یاد دہانی بھی کرتے تھے آپ کو اپنا خلیفہ اور مسلمانوں کا رہبر ولی بتاتے تھے اور آخری اعلان حکم الہی سے غدیر خم میں کیا _ پیغمبر گرامی (ص) نے حکم خدا سے کئی ہزار مسلمانوں کے سامنے جو حج سے واپس آرہے تھے رسمی طور سے علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو اپنا وصی اور لوگوں کا امام منتخب کیا_

حضرت علی علیہ السلام نے بھی حکم الہی سے اپنے بعد امام حسن علیہ السلام کو امامت کے لئے معيّن فرمایا اور لوگوں کو اس سے آگاہ کیا اسی طرح ہر امام (ع) اپنے بعد کے امام (ع)


کو معيّن کرتا اور لوگوں کو اس کی حبر دیتا تھا یہاں تک کہ نوبت بارہویں امام (ع) تک پہونچی اور وہ اب بھی زندہ ہیں تمام مسلمانوں کے ولی اور امام ہیں لیکن اس وقت آپ پردہ غیب میں ہیں_

غیبت کے زمانے میں:

امام عصر (ع) کی غیبت کے زمانے میں مسلمانوں کی رہبری ایک فقیہ عادل کے ذمہ ہوتی ہے جو بارہویں امام حضرت حجّت بن الحسن (ع) کانائب ہوتا ہے وہ دین کے قوانین و احکام کو بیان کرتا ہے اور مسلمانوں کو دنیا و آخرت کی سعادت کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور وہ بارہویں امام (ع) کے ظہور کے عقیدہ کو مستحکم کرتا ہے_

قرآن کی آیت:

( و جعلنا منهم ائمة یهدون بامرنا لمّا صبروا و کانوا بایاتنا یوقنون ) (۱)

'' اور ان ہی میں سے ہم نے کچھ لوگوں کو چونکہ انھوں نے صبر کیا تھا پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اورہماری آیتوں کا دل سے یقین رکھتے تھے''_

____________________

۱) سورہ سجدہ آیت ۲۴


سوالات

سوچیئےور جواب دیجئے

۱)___ جانتے ہو کہ ہماری حکومت کے ارکان کیا ہیں؟ حکومت اسلامی کا سب سے اہم رکن کیا ہے؟

۲)___ صدر اسلام کی حکومت میں پیغمبر اسلام (ص) کے کیا فرائض تھے؟

۳)___ کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) ، تازہ اسلامی مملکت کو بغیر رہبر کے چھوڑ کر چلے جائیں؟ اس سوال کے جواب کو جواب کو جو اس درس میں بیان ہوئے ہیں بیان کرو_

۴)___ ہمارا عقیدہ اسلامی معاشرہ کے لئے رہبر کی تعیین کے متعلق کیا ہے؟

۵)___ پیغمبر اسلام (ص) نے مختلف مواقع پر رہبری کے مسئلہ کو بیان کیا ہے ان میں سے دو مواقع کو بیان کرو_

۶)___ بارہویں امام (ع) کے غیبت کے زمانے میں مسلمانوں کی رہبری کس کے ذمّہ ہے؟

۷)___ مسلمانوں کے رہبر کو کیا کرنا چاہیئے؟


اسلام کا نمونہ مرد

حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت بے نظیر تھی، بچپن سے پیغمبر اسلام (ص) کے گھر میں رہے وہیں بڑے ہوئے اورآپ نے اسی گھر میں زندگی کے آداب و اخلاق یاد کئے_ پیغمبر اسلام (ص) بعثت سے پہلے، سال میں ایک مرتبہ غار حرا میں عبادت کے لئے جاتے تھے اور وہاں خدا سے راز و نیاز کرتے تھے_

حضرت علی علیہ السلام ان دنوں آپ کے لئے غذا لے جایا کرتے تھے اور کبھی خود بھی وہیں ورہ جاتے تھے پیغمبر (ع) کی عبادات کودیکھا کرتے تھے_ ایک دن جب پیغمبر اسلام(ص) اس پہاڑ میں عبادت میںمشغول تھے تو خداوند عالم کی طرف سے ایک فرشتہ آیا اور پیغمبری کے منصب کو آپ کے حوالہ کیا_

حضرت علی علیہ السلام اس وقت آپ ہی کے پاس تھے اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ نقل کیا کہ:

'' میں پیغمبر(ص) کے ساتھ غار حراء میں تھا اور آنحضرت میں پیغمبری کی علامتیں دیکھ رہا تھا''_

حضرت علی علیہ السلام پہلے شخص تھے کہ جنہوں نے سب سے پہلے اپنے اسلام اور پیغمبر(ص) پر ایمان کو ظاہر کیا ہے آپ کی اس وقت دس سال سے زیادہ عمر نہ تھی لیکن آپ اتنے عقلمند تھے کہ وصی اور نبوت کے حقائق کو درک کر رہے تھے اور بغیر کسی


خوف و ہراس کے پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ نما زجماعت کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے_

تبلیغ کے سلسلہ میں آپ پیغمبر (ص) کی دن رات مدد کیا کرتے تھے جیسا کہ معلوم ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) نے بعثت کے تیسرے سال اپنے رشتے داروں کو مہمانی کے لئے بلایا انھیں اسلام کی دعوت دی اور ان سے اپنی مدد کے لئے کہا_ اس مہمانی میں سوائے حضرت علی (ع) کے کسی نے بھی پیغمبر اسلام (ص) کی دعوت کو قبول نہ کیا اور نہ ہی مدد کرنے کا وعدہ کیا_

اس وقت حضرت علی علیہ السلام کی عمر مبارک تیرہ، چودہ سال کی تھی آپ نے پورے یقین سے پیغمبر اسلام(ص) کی دعوت کو قبول کیا اور آپ سے مدد کرنے کا پیمان باندھا اس قسم کا اقدام آپ کی کامل بصیرت و آگاہی کی علامت ہے اسی وجہ سے پیغمبر ا سلام (ص) نے آپ کو اپنا وزیر، خلیفہ و جانشین بنایا اور تمام حاضرین کے سامنے اس کا اظہار بھی کیا_

اسی دن سے حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام(ص) کے خلیفہ ہوئے اور اپنی اس عظیم ذمہ داری کی وجہ سے جو خدا کی طرف سے آپ پر ڈالی گئی تھی آپ پیغمبر(ص) کی مشکلات میں مدد کرتے اور آپ کی ہر طرح سے حفاظت کرتے تھے_ حضرت علی علیہ السلام کا پیغمبر اسلام(ص) سے والہا نہ محبت کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ پیغمبر (ص) کی حفاظت کی خاطر، خطرناک ترین موقعہ پر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آپ کی جان کی حفاظت کرتے تھے_

جب مكّہ کے بت پرستوں نے مصمّم ارادہ کرلیا کہ پیغمبر اسلام(ص) کو قتل کردیں تو خدا کی طرف سے حضور (ص) کو حکم ملا کہ رات کے وقت مكّہ سے نکل جائیں مدینہ کی طرف


ہجرت کرجائیں دشمنوں کو اس کا علم نہ ہو اور کسی آدمی کو اپنی جگہ پر سلادیں_ پیغمبر اسلام(ص) نے یہ بات حضرت علی علیہ السلام سے بیان کی آپ نے بڑے شوق سے اس دعوت کو قبول کیا اور رات کے وقت بستر پیغمبر(ص) پر سوگئے_ آپ زمانے کے سب سے زیادہ بہادر تھے تمام جنگوں میں شریک ہوتے تھے، اسلام کی کامیابی اورانسانوں کو کفر و ظلم سے نجات دینے کے لئے میدان جنگ میں پہلی صف میں دشمنوں کے ساتھ لڑا کرتے تھے_

آپ جہاد و شہادت کے عاشق تھے، کسی طاقت سے نہیں ڈرتے تھے بلکہ ہمیشہ میدان جنگ میں آگے آگے رہتے تھے اورکبھی میدان جنگ سے فرار نہیںکرتے تھے آپ فرماتے تھے:

'' خدا کی قسم اگر تمام عرب اکٹھے ہو کر میرے ساتھ جنگ کریں تو بھی میں ان سے جنگ کرنے سے گریز نہیںکروں گا اور ان کے سامنے تسلیم نہیں ہوں گا، خدا کی قسم کہ اگر میدان جنگ میںت لوار کی ہزار ضربتوں سے درجہ شہادت پر پہونچوں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اسے بستر پر مروں''_

جب جنگ احد میں وفادار محافظ قتل کئے جاچکے یا وہ زخمی ہوگئے اور ایک گروہ نے پیغمبر اسلام (ص) کو تنہا چھوڑ دیا تھا اور وہ فرار کر گئے تھے تو حضرت علی (ع) ہی یک و تنہا پیغمبر (ص) کی حفاظت کر رہے تھے اور آپ نے اس قدر اپنے طاقتور بازو سے تلوار چلائی کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی:

'' کوئی مرد سوائے علی (ع) کے مرد نہیں اور کوئی تلوار سوائے ان کی تلوار کے تلوار نہیں ہے'' _


عمرو بن عبدود جو بہت بڑا بہادر تھا او رتنہا ایک ہزار سوار سے جنگ کیا کرتا تھا_ جنگ احزاب (جنگ خندق) میں جب حضرت علی علیہ السلام سے لڑنے آیا تو آپ نے اس کو قتل کردیا جب کہ آپ کی عمر اس وقت تقریباً بیس سال کی تھی_ کفّار اور بت پرستوں کے اکثر سردار حضرت علی علیہ السلام کے قوی اور توانا ہاتھوں سے ہلاک ہوئے ہیں_

حضرت علی علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے، آپ رات میں نماز شب اور دعا میں مشغول رہتے، رات کی تاریکی میں خدا سے راز و نیاز کرتے اور گریہ و بکا کرتے تھے دس سال کی عمر میں پیغمبر اسلام (ص) پر ایمان لانے کا اظہار کیا اور محراب عبادت میں سحر کے وقت نماز کی حالت میں شہادت پائی_

حضرت علی علیہ السلام بچپن سے پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور پیغمبر (ص) کے علوم سے بہرہ مند ہوتے تھے، آپ پیغمبر اسلام(ص) کے بعد سب سے زیادہ علم رکھتے تھے لوگ آپ سے کسب علم کیا کرتے تھے، آپ کے فیصلے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتے تھے، آپ سے ہزاروں حدیثیں مروی ہیں اور آپ کا مجموعہ کلام نہج البلاغہ، علم و دانش اور ادب و معنویت کا ایک بیکراں دریا ہے_

پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کے بارے میں فرمایا:

'' میں علم کا شہر ہوں اور علی (ع) اس کا دروازہ ہیں جو شخص شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیئے کہ دروازہ سے داخل ہو''_

آپ کی انھیں آسمانی علوم اور معنوی صلاحیتوں کی وجہ سے پیغمبر(ص) نے آپ کو ولایت و رہبری کے منصب پر فائز ہونے کا لوگوں کے سامنے اعلان کیا اور آپ کے


حق میں فرمایا کہ:

' ' جس نے میری ولایت کو قبول کیا ہے اس کے ولی علی (ع) ہیں''_

حضرت علی علیہ السلام محنتی و فعّال اور زحمت کش انسان تھے آپ نے اپنے ہاتھ سے کافی کھجوروں کے بڑے باغ بنائے اورگہرے کنویں کھودے، آپ دن و رات محنت کرتے تھے لیکن مال و دولت کے اکٹھا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی زندگی کے معاش کے پورا کرنے اور لوگوں کی حاجت روائی کے لئے ایسا کرتے تھے_

آپ جو کچھ کماتے تھے اسے راہ خدا میں خرچ کردیتے تھے ، لذیذ اور مختلف اقسام کی غذا کھانے سے پرہیز کرتے تھے، آپ کا لباس اورخوراک عام فقراء جیسا ہوا کرتا تھا، آپ بہت سختی و تنگی میں زندگی بسر کیا کرتے تھے ،اپنی آمدنی کو یتیموں ، بیوہ عورتوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیتے تھے، ماں و دولت اورجاہ و حشم سے آپ کو ی وابستگی نہ تھی اور جو کچھ کرتے تھے وہ خلق خدا کی خدمت ل ے کرتے تھے _ حضرت علی علیہ السلام بہت خوش اخلاق اور مہربان تھے، کسی کا مذاق نہیں اڑاتے تھے، آپ کے دین مبارک سے ناروابات نہ نکلتی تھی ، آپ بہت متواضع تھے لیکن اس کے باوجود رعب و ہیبت کے مالک تھے ، ظالموں کے سامنے بہت سخت اور مظلوموں کے ل ے ہمدرد تھے_

مجرموں اور گناہکاروں کو حتی الامکان عفو کرتے تھے اسے سزا پر ترجیح دیتے تھے اور ظالموں کو اس لرے قتل کرتے تھے یا مجروں سے اس ل ے قصاص لیتے تھے تا کہ معاشرے میں امن و امان برقرار رہے _


حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت مثالی شخصیت تھی ، تمام انسانی کمالات آپ میں جمع تھے ، ایسا شخص نہ صرف مسلمانوں کے ل ے بلکہ ہر آگاہ اور روشن فکر انسان کے ل ے نمونہ عمل ہے _

پیغمبر اکرم (ص) نے آپ کے بارے میں فرمایا:

قال رسول الله صلی الله علیه و آله : انا مدینة العلم و علی بابها فمن اراد العلم فلیاته من بابه (۱)

''میں علم کا شہر ہوں اور علی (ع) اس کا دروازہ میں جو شہر میں آنا چاہتا ہے اسے چاہی ے کہ اس کے دروازہ سے آئے ''_

____________________

۱_ کتاب مجمع الزوائد جلد ۹


سوالات

مندرجہ ذیل سوالات کے متعلق سوچو اور ان کے جوابات دو اور اپنی صفات و کردار حضرت علی (ع) کے صفات و کردار سے موازنہ کرو اورارتقاء کی منزل تک پہونچنے کے لئے کوشش کرو _

۱_ حضرت علی علیہ السلام کا لباس اور آپ کی خوراک کیسی تھی؟

۲_ آپ کا اخلاق کیسا تھا؟

۳_ ستم گروں کے ساتھ کیساسلوک کیا کرتے تھے اور مظلوموں کے ساتھ آپ کا رویہ کیسا ہوتا تھا؟

۴_ پیغمبر اسلام (ص) نے آسمانی علم حاصل کرنے کے لئے کون سا راستہ معین کیا ہے ؟

۵_ حضرت علی علیہ السلام کی بہادری اور شجاعت کیسی تھی ؟ آپ کی شجاعت کے دو نمونے پیش کرو _

۶_ آپ کا جہاد سے عشق کیسا تھا؟ آپ کے اس سے متعلق دو جملے نقل کرو _

۷_ کیا کسی سے قصاص لیتے تھے ؟ مجرم کو معاف کردینا زیادہ پسند کرتے تھے یا سزادینا؟

۸_ حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام (ص) پر ایمان کا اظہار کس عمر میں کیا تھا اور کس طرح آپ نے پیغمبر (ص) کی مدد کی تھی ؟


۹_ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنے رشتے داروں کی دعوت میں حضرت علی علیہ السلام کو کیا منصب عنایت فرمایا تھا؟

۱۰_ ہجرت کی رات پیغمبر اسلام (ص) کی کس طرح مدد کی تھی ؟

۱۱_ جنگ احد میں پیغمبر اسلام (ص) کی کس طرح مدد کی تھی اور فرشتہ نے آپ کے بارے میں کیا کہا تھا؟


بارہویں امام (ع) کی غیبت اور ظہور

امام زمانہ علیہ السلام پندرہ شعبان سنہ ۲۵۵ ھ صبح کے وقت شہر سامرہ میں پیدا ہوئے آپ کا اسم مبارک محمد اور لقب مہدی ، قائم ، امام زمانہ اور ولی عصر ہے آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ہیں_

آپ کو علم ہوگا کہ ظالم خلیفہ عباسی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کو ان کے والدکے ہمراہ سامرہ لے گیا تھا اور آپ کو ایم محلہ میں جو فوجی مرکز بھی تھا زیر نظر رکھا تھا اور کبھی آپ کو قید خانہ میں بھی ڈال دیتا تھا یہاں تک کہ اٹھائیس سال کے سن میں آپ کو شہید کردیا نیز وہ ہمیشہ آپ کے جانشین کی تلاش میں رہتا تھا تا کہ انھیں بچپن میں ہی قتل کردے لہذا امام زمانہ (ع) کی ولادت بہت مخفی طور سے کوئی اور آپ خدا کے حکم سے بچپن سے ہی لوگوں کی نظروں سے غائب رہے _

پیغمبر اسلام (ص) اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے پہلے ہی سے مسلمانوں کو خبر دے دی تھی کہ مہدی (ع) گیارہویں امام کے فرزند مجبورا نظروں سے غائب رہیں گے _

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ :

'' ہمارے مہدی کے لئے دو غیبت ہیں ایک مختصر اور دوسری طویل، مختصر غیبت میں مخلص شیعوں کو آپ کی جائے سکونت کا علم ہوگا لیکن غیبت کبری میں کسی کو بھی آپ کے


محل سکونت کی اطلاع نہ ہوگی مگر چند آپ کے نزدیک ترین دوستوں کو '' _

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کو اپنے فرزند بارہویں امام (ع) کا دیدار کرایا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ :

'' خدا نے میرے بعد آپ کو امامت کے لئے معین کیا ہے ''_

بارہویں امام (ع) اپنے والد کی شہادت کے بعد بہت کم دکھائی دیتے تھے اور اکثر نظروں سے غائب رہا کرتے تھے_


غیبت صغری اور کبری :

امام مہدی علیہ السلام کے لئے دو غیبت ہیں پہلی غیبت صغری اور دوسری غیبت کبری ہے ، غیبت صغری تقریبا ۵۹ سا ل تک رہی ، آپ کے والد کی شہادت کے بعد جو سنہ ۲۶۰ میں ہوئی غیبت صغری شروع ہوئی اور اس کا سلسلہ سنہ ۲۲۹ ھ تک رہا _

امام زمانہ (ع) اس مدت میں عام لوگوں کی نگاہوں سے غائب تھے لیکن لوگوں کا ربط امام زمانہ (ع) سے چار آدمیوں کے واسطہ سے کہ جنھیں آپ نے اپنا نائب اور وکیل معین کیا تھا ، رہا کرتا تھا ، مومنین ان وکیلوں کے ذریعہ امام زمانہ (ع) سے رابطہ قائم کرتے تھے آپ کے پاس خطوط بھیجتے تھے اور آپ ان کے جواب دیتے تھے _

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے چار وکیل تھے جنھیں نواب اربعہ کہا جاتا ہے اور وہ جناب عثمان بن سعید ، محمد بن عثمان ، حسین بن روح اورعلی بن محمد تھے _

یہ چاروں ائمہ علیہم السلام کے مورد اعتماد اصحاب تھے اور یہ حضرات مذکورہ ترتیب سے ایک کے بعد وکیل ہوتے رہے _

ان حضرا ت کو نائب امام (ع) اور باب امام بھی کہا جاتا تھا _ حضرت اما م مہدی علیہ السلام ان ہی کے ذریعہ لوگوں کی مشکلات کو حل کیا کرتے تھے اور لوگوں کے خطوط کے جواب دیتے تھے اور کبھی خود بھی ان وکیلوں کو خط لکھ دیا کرتے تھے یہ سلسلہ چوتھے نائب کی وفات تک جاری رہا کہ جن کانام علی بن محمد ہے انہوں نے اپنی وفات سے کئی دن پہلے وہ خط جوان کے پاس امام زمانہ (ع) کی طرف سے آیا تھا لوگوں کو دکھلایا


اس خط میں یہ تحریر تھا:

'' اے علی بن محمد ، خداوند عالم تیرے وفات کا اجر تیرے دوستوں کے لئے زیادہ کرے تم جان لو کہ چھ دن کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوجاؤ گے لہذا اپنے کاموں کو صحیح کرلو اور اپنا جانشین کسی کو معین نہ کرنا کیونکہ اب غیبت کبری کا زمانہ آگیا ہے اس کا سلسلہ طویل رہے گا اور میں اذن الہی سے ظہور کروں گا ''_

علی بن محمد نے یہ خط شیعوں کو دکھایا اور چھ دن کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا اس وقت سے غیبت کبری کا زمانہ شروع ہوگیا _

خداوند عالم نے اپنی قدرت کاملہ سے امام زمانہ (ع) کو ایک طویل عمر عنایت فرماری ہے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ غیبت میں زندگی بسر کریں اور ضرورت کے وقت تمام مسلمانوں کی مددبھی کرتے رہیں اور پاک دلوں کی خداوند عالم کی طرف ہدایت بھی کرتے رہیں موجودہ دور میں امام زمانہ (ع) نظروں سے غائب ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں ، لوگوں کی مدد کرتے ہیں ، اپنے فرائض کو انجام دیتے رہتے ہیں اور لوگوں کو فیض پہونچاتے رہتے ہیں _

پیغمبر اسلام(ص) سے سوال کیا گیا کہ لوگ بارہویں امام (ع) کی غیبت کے زمانہ میں آپ سے کس طرح فائدہ حاصل کر سکیں گے ؟ تو آپ (ع) نے اس کا جواب دیا کہ :

'' جیسے سورج سے اس پر بادل چھا جانے کے بعد لوگ فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح امام زمانہ (ع) سے غیبت کے زمانہ میں فائدہ حاصل کریں گے ''_

اگر امام زمانہ (ع) آشکا ر طور سے لوگوں کے درمیان زندگی گذارتے تو تو ظالموں کے


ہاتھوں قتل کردیئےاتے کیونکہ پیغمبر اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے لوگوں کو پہلے ہی سے خبر دی تھی کہ :

'' مہدی موعود (ع) ، قائم آل محمد (ص) ظالموں و طاغوتوں کے سخت دشمن ہوں گے اور اپنے وفادار دوستوں کے ذریعہ ایک سخت انقلاب بر پا کرکے ظالموں کے تخت کو ساری دنیا میں الٹ دیں گے _

محروم اور مستضعف طبقے کی حکومت اس جان میں برپا کریں گے اور توحید و خداپرستی کے کامیاب پرچم کو تمام جہان پر بلند کردیں گے '' _

ظالموں اور طاغوتوں نے یہ بات سن رکھی تھی اور وہ خوف و ہراس سے ایسے شخص کی تلاش میں رہا کرتے تھے _ اگر آپ لوگوں میں آشکار طور پر زندگی گذارتے تو قبل اس کے کہ آپ اپنے وفادار ساتھی بناتے اور انقلاب جہانی کے مقدمات فراہم کرتے ، ظالموں کے ہاتھوں قتل کردیئےاتے اور زمین حجت خدا سے خالی ہوجاتی _

لیکن آج آپ پردہ غیبت میں ہیں اور شیعہ آپ کے ظہور کے منتظر ہیں ، آپ کی عالمی اسلامی حکومت کیلئے زمین ہموار کررہے ہیں اور اس امید پر کوشش کررہے ہیں کہ آپ کے نورانی چہرہ کے دیدار کے ساتھ اپنی اور پورے عالم کی اصلاح آپ کے ذریعہ سے ہوگی _

امام زمانہ (ع) کا غیبت کبری میں نائب ، فقیہ عادل ہوتا ہے جو قانون و احکام دین کو بتاتا ہے ، قرآن کے قانون اور عالم اسلام کا رہبر و محافظ ہوتا ہے لہذا تمام مسلمانوں


پر فرض ہے کہ اس کے حکم کو قبول کریں تا کہ امام زمانہ (ع) کی زیارت کرنے کے لائق ہوسکیں _

قرآن کی آیت :

( و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثین ) (۱)

'' اور ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ روئے زمین پرکمزور کردیئےئے ہیں ان پر احسان کریں اور ان ہی کو پیشوا بنائیں اور ان ہی کو اس سرزمین کا مالک بنائیں ''

____________________

۱_ سورہ قصص آیت نمبر ۵


سوالات

سوچئے اور جواب دیجئے

۱_ کیا بتا سکتے ہیں کہ کیوں امام زمانہ (ع) کی ولادت مخفی سے ہوئی ؟

۲_ امام جعفر صادق علیہ السلام نے بارہویں امام (ع) کی دو غیبت کے متعلق کیا فرمایا ہے ؟

۳_ امام زمانہ (ع) کی غیبت صغری کتنی مدت تک رہی اور اس زمانہ میں امام (ع) کا لوگوں کے ساتھ کیسے رابطہ ہوتا تھا؟ آپ کے نائب کون تھے اور ان میں آخری نائب کون تھا؟

۴ _ امام زمانہ (ع) کی غیبت میں کیا ذمہ داری ہے ؟ لوگ کس طرح غیبت کے زمانہ میں امام علیہ السلام کے وجود سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، پیغمبر اسلام (ص) نے اس سلسلہ میں کیا فرمایا ہے؟

۵_ غیبت کبری کے زمانہ میں امام زمانہ (ع) کا نائب کون ہے؟

۶___ غیبت کے زمانہ میں لوگوں کا رابطہ رہبر کے ساتھ کیسا ہونا چاہئے؟

۷___ آپ جانتے ہیں کہ امام زمانہ (ع) کی پیدائشے کے دن کو کیا کہتے ہیں اور کیوں ؟

ترجمہ ختم کیا شب پنجشنبہ سنہ ۱۴۰۵ اختر عباس


فہرست

عرض ناشر ۴

اہداء ۶

پہلا حصّہ ۷

جہاں کا خالق خدا ۷

کائنات کی تخلیق میں ہم آہنگی کس بات کا ثبوت ہے؟ ۸

سوالات ۱۴

دنیا میں پانی کی گردش ۱۵

سوالات ۱۸

ایمان او رعمل ۱۹

سوالات ۲۳

بہترین سبق ۲۴

سوالات ۲۹

اپنے آپ کو دیکھیں ۳۳

مثانہ گردےونیرنالی وگردے: ۳۴

۲)نیرنالی : ۳۴

۳) مثانہ: ۳۴

۴) پیشاب کے خارج ہونے کا راستہ: ۳۵

قرآن کی آیت : ۳۸

سوالات ۳۹


جواب دیجئے ۳۹

خالق جہان کے صفات کمالیہ ۴۰

قرآن مجید کی آیت: ۴۳

توحید اور شرک ۴۴

قرآن مجید کی آیت: ۴۷

سوالات ۴۸

عدل خدا ۴۹

ایک سوال ۵۳

جواب ۵۳

اس بحث کا خلاصہ اور تکمیل ۵۴

قرآن مجید کی آیت: ۵۵

سوچئے اور جواب دیجئے ۵۶

دوسرا حصّہ ۵۷

آخرت کے مسائل کے بارے میں ۵۷

(۱) عمل کا ثمر ۵۸

خلاصہ ۶۱

سوالات: ۶۲

(۲) عمل کا ثمر ۶۴

سوالات ۶۹

آخرت کی طرف منتقل ہونا ۷۰


آیت قرآن مجید: ۷۴

سوالات ۷۵

تذكّر: ۷۵

قرآن کی آیت: ۷۸

سوالات ۷۹

نامہ اعمال ۸۰

الحاصل: ۸۲

آیت قرآن کریم ۸۵

سوالات ۸۶

سوچئے اور جواب دیجئے ۸۶

قیامت کا منظر ۸۸

قیامت کا منظر ۸۸

برزخ اور قیامت ۹۱

برزخ اور قیامت ۹۱

آیت: ۹۳

سوالات ۹۴

غور کیجئے اور جواب دیجئے ۹۴

تیسرا حصّہ ۹۵

پیغمبری اور پیغمبروں کے مسائل کے بارے میں ۹۵

پہاڑ کی چوٹی پر درس ۹۶


سوالات ۱۰۳

پیغمبر یا آخرت کے سفر کے راہنما ۱۰۵

سوالات ۱۰۹

فکر کیجئے، بحث کیجئے اور صحیح جواب تلاش کیجئے ۱۰۹

پیغمبروں کی انسان کو ضرورت ۱۱۰

چند ایک سوال ۱۱۱

قرآن کی آیت: ۱۱۲

سوالات ۱۱۴

سوچیئےور جواب دیجئے ۱۱۴

پیغمبری میں عصمت ، شرط ہے ۱۱۵

پیغمبری میں عصمت ، شرط ہے ۱۱۵

سوالات ۱۱۶

قرآن کی آیت: ۱۱۷

سوالات ۱۱۸

سوچیئے اور جواب دیجئے ۱۱۸

قرآن کی آیت: ۱۲۳

سوالات ۱۲۴

سوچیئےور جواب دیجیئے ۱۲۴

تحقیق اور تکمیل: ۱۲۷

قرآن کی آیت: ۱۲۸


سوالات ۱۲۹

سوچیئے اور جواب دیجیئے ۱۲۹

مرکز توحید (۱) ۱۳۰

قرآن کی آیت ۱۳۲

مرکز توحید (۲) ۱۳۳

قرآن کی آیت : ۱۳۶

سوالات ۱۳۷

دین یہود ۱۳۸

سوالات ۱۴۲

سوچیئے اور جواب دیجئے ۱۴۲

دین عیسی علیہ السلام ۱۴۳

قرآن مجید کی آیت: ۱۴۷

سوالات ۱۴۸

سوچیئے اور جواب دیجیئے ۱۴۸

قرآن اللہ تعالی کی ہمیشہ رہنے والی کتاب ہے ۱۴۹

قرآن مجید کی آیت: ۱۵۳

سوالات سوچیئے اور جواب دیجیئے ۱۵۴

اگر نعمت کی قدرت نہ کریں ۱۵۵

آیت قرآن: ۱۵۸

سوالات ۱۵۹


چوتھا حصّہ ۱۶۰

پیغمبر اسلام (ص) اور آپ کے اصحاب کے بارے میں ۱۶۰

پیغمبر اسلام(ص) کی مخفی تبلیغ ۱۶۱

پیغمبر اسلام(ص) کی مخفی تبلیغ ۱۶۱

قرآن مجید کی آیت: ۱۶۴

عالمی دعوت کا اعلان ۱۶۶

قرآن کی آیت: ۱۶۹

سوالات ۱۷۰

ہر قسم کی سازش کی نفی ۱۷۱

قرآن کی آیت: ۱۷۶

سوالات ۱۷۷

پیغمبر (ص) اور مستضعف ۱۷۸

پیغمبر(ص) کی رفتار اور اخلاق: ۱۸۲

سوالات ۱۸۵

سوچیئے اور جواب دیجئے ۱۸۵

پانچواں حصّہ ۱۸۶

اسلام اور اس کے سیاسی و اجتماعی اور اخلاقی امور ۱۸۶

اسلام کی عظیم امّت ۱۸۷

اسلام کی عظیم امّت ۱۸۷

اسلامی سرزمین سے د فاع کرنا: ۱۸۸


مشترک دشمن کے مقابل مسلمانوں کا اتحاد: ۱۸۹

جہان اسلام کی وحدت اور استقلال کی حفاظت: ۱۹۰

متجاوز سے نمٹنے کا طریقہ: ۱۹۱

قرآن مجید کی آیت: ۱۹۲

سوالات ۱۹۳

سوچیئے اور جواب دیجئے ۱۹۳

اجتہاد اور رہبری ۱۹۴

سوالات ۱۹۸

سوچیئے اور جواب دیجیئے ۱۹۸

قانون میں سب مساوی ہیں ۱۹۹

توضیح اور تحقیق: ۲۰۳

قرآن کی آیت: ۲۰۴

سوالات ۲۰۵

اسلام میں برادری ۲۰۷

سوالات ۲۱۰

سوچیئے اور جواب دیجئے ۲۱۰

اسلام اور مساوات ۲۱۱

قرآن مجید کی آیات: ۲۱۴

سوالات ۲۱۵

سوچیئے اور جواب دیجئے ۲۱۵


ظالموں کی مدد مت کرو ۲۱۶

توضیح اور تحقیق: ۲۱۹

سوالات ۲۲۲

اسلام میں جہاد اوردفاع ۲۲۳

فداکار اور جری خاتون: ۲۲۵

سوالات ۲۲۹

سوچیئے اور جواب دیجئے ۲۲۹

پیغمبر اسلام (ص) کی حدیث شریف: ۲۳۷

سوالات ۲۳۸

سوچیئےور جواب دیجئے ۲۳۸

شہیدوں کے پیغام ۲۳۹

سوالات ۲۴۷

سوچویے اور جواب دیجئے ۲۴۷

پروردگار ۲۵۰

الہی ۲۵۱

خداوندا ۲۵۱

خدایا ۲۵۱

پروردگارا ۲۵۲

سوالات ۲۵۳

ان سوالات کے جوابات دیجیئے ۲۵۳


اگر ماں ناراض ہو ۲۵۴

قرآن کی آیت: ۲۵۷

چھٹا حصّہ ۲۵۸

امامت اور رہبری کے بارے میں ۲۵۸

رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت ۲۵۹

قرآن مجید کی آیت: ۲۶۳

سوالات ۲۶۴

ان سوالات کے بارے میں بحث کرو ۲۶۴

پیغمبر(ص) کی دو قیمتی امانتیں ۲۶۵

نتیجہ: ۲۶۸

سوالات ۲۷۱

سوچیئے اور جواب دیجئے ۲۷۱

اسلام میں امامت ۲۷۲

پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں اسلامی حکومت کیسے تھی؟ ۲۷۳

رسول خدا (ص) کے بعد اسلامی حکومت: ۲۷۴

ہمارا عقیدہ: ۲۷۵

غیبت کے زمانے میں: ۲۷۶

قرآن کی آیت: ۲۷۶

سوالات ۲۷۷

سوچیئےور جواب دیجئے ۲۷۷


اسلام کا نمونہ مرد ۲۷۸

سوالات ۲۸۴

بارہویں امام (ع) کی غیبت اور ظہور ۲۸۶

غیبت صغری اور کبری : ۲۸۸

قرآن کی آیت : ۲۹۱

سوالات ۲۹۲

سوچئے اور جواب دیجئے ۲۹۲