كیا "حی علیٰ خیر العمل" اذان كا جزء ہے؟
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف عبداللہ الامير سلطانى
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کیا حی علیٰ خیر العمل اذان کا جزء ہے؟

مؤلف : سلطانى، عبداللہ الامير

مترجم / مصحح : علی قمر

ناشر : مجمع جهانی اہل بیت (ع)

نشر کی جگہ : قم (ایران)

نشر کا سال : ۲۰۰۶

زبان : اردو


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ھر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے ہیں اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کر لیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں۔

چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ھر فرد اور ھر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگھی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل،فطرت انسانی سے ہم آھنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا،اس لئے تیئیس برس کے مختصر سے عرصے میں ہی اسلام کی عالم تاب شعاعیں ھر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تھذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑ گئیں، وہ تھذیبی اصنام صرف جو دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے ہوں تو مذھب عقل و آگاہی سے رو برو ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاھب اور تھذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گران بھا میراث کہ جس کی اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروؤں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرندان اسلام کی بے توجھی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء اور دانشور دنیائے اسلام کو پیش کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناھی کی ہے اور ھر دور اور ھر زمانے میں ھر قسم کے شکوک و شبھات کا ازالہ کیا ہے،خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذھبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بیتاب ہیں،یہ زمانہ علمی و فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت (ع) کونسل) مجمع جھانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت (ع) عصمت وطھارت کے پیروؤں کے درمیان ہم فکری و یکجھتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے،ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماھرانہ انداز میں اگر اہل بیت (ع) عصمت و طھارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علم بردار خاندان نبوت (ص) و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کی دشمن، انانیت کی شکار، سامرا جی خوں خواروں کی نام نھاد تھذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جھالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنٰی خدمت گار تصور کرتے ہیں،زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای شیخ عبد الامیر سلطانی کی گرانقدر کتاب تفسیر کو فاضل جلیل مولانا علی قمر نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزو مند ہیں،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنٰی جھاد رضائے مولٰی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جھانی اہل بیت علیہم السلام


انتساب

"کلمۂ حق کی سر بلندی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردینے والے ابوطالب علیہ السلام کے فرزند مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام کے نام۔


مقدمہ

عرصہ دراز سے مسلمانوں میں یہ اختلاف چلا آرھا ہے کہ "حی علی الفلاح" کے بعد "حی علی خیر العمل " اذان کا جز ہے یا نہیں۔

اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ "حی علی خیر العمل " کا اذان میں ذکر کرنا صحیح نہیں ہے۔ جب کہ ان میں سے بعض اس کو صرف مکروہ جانتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ فقرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہے (لھذا یہ اضافہ ہوا) اور اذان میں اضافہ مکروہ ہے۔(۱) اہل بیت علیہم السلام اور شیعیان اہل بیت (ع) کی نظر میں یہ جملہ اذان و اقامت کا جزء ہے اور اس کے بغیر اذان و اقامت درست نھیں۔ اور یہ حکم (شیعوں کے مطابق) اجماعی ہے،(۲) اور کوئی بھی اس کا مخالف نظر نہیں آتا اپنے اس دعویٰ پر یہ لوگ اجماع سے استدلال کرتے ہیں اور بہت سی روایات کو بھی اپنے مدعا کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، مثلاً علی، محمد بن حنفیہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، ابی الربیع، زرارہ، فضیل بن یسار، محمد بن مھران نے امام محمد باقر علیہ السلام سے، آٹھویں امام علیہ السلام کی روایت فقہ الرضا، ابن سنان ، معلیٰ بن خنیس ابی الخصرمی، وکلیب الاسدی نے چھٹے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ابو بصیر نے پانچویں یا چھٹے امام علیہ السلام سے، محمد بن ابی عمیر نے ابوالحسن اور عکرمہ نے ابن عباس سے اس سلسلہ میں روایتیں نقل کی ہیں۔(۳)

اس اختلاف کے پیش نظر ہمارے پاس اہل بیت علیہم السلام کے نظریہ کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، اور اس سلسلہ میں ہماری دلیل صرف اجماعی ہی نہیں ہے بلکہ ہمارا مبنیٰ اہل بیت علیہم السلام، جو حدیث ثقلین اور آیۂ تطھیر کے مصداق ہیں، سے مروی روایتیں ہیں۔

اور اس کے علاوہ اور بہت سی دلیلیں ہیں جو اہل سنت کی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔

لیکن اس موضوع کی تفصیلات میں غور کرنے اور اس کے سلسلہ میں دلائل و شواھد پیش کرنے سے پہلے فریقین کے نزدیک اذان کی شرعی حیثیت کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ بحث، "حی علی خیر العمل " کے جزء اذان ہونے یا نہ ہونے کے مسئلہ سے بہت مربوط ہے جو ہمارا اصل موضوع ہے۔

اور اسی کے ضمن میں اس موضوع سے متعلق دوسرے بہت سے حقائق بھی روشن ہوجائیں گے۔

ترویج اذان: اہل سنت کی نظر میں

۱) ابو داؤود راوی ہیں کہ مجھ سے عباد بن موسیٰ ختلی اور زیاد بن ایوب نے روایت کی ہے (جب کہ ان دونوں میں سےعباد کی روایت زیادہ مکمل ہے)یہ دونوں کھتے ہیں کہ ہم سے ھشیم نےابو بشیر سے روایت نقل کی ہے کہ زیاد راوی ہیں کہ ہم سے ابو عمیر بن انس نے اور ان سے انصار کے ایک گروہ نے روایت کی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فکر ہوئی کہ نماز کے وقت لوگوں کو کیسے جمع کیا جائے۔ بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ نماز کے وقت ایک پرچم بلند کردیا جائے۔ جب لوگ اس کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو نماز کے لئے متوجہ کردیں گے۔ آپ کو یہ مشورہ پسند نہیں آیا۔ بعض صحابہ نے کہا کہ سنکھ بجایا جائے۔ آپ کو یہ بات بھی پسند نہیں آئی، اور فرمایا کہ یہ یھودیوں کا طریقۂ کار ہے۔ کچھ لوگوں نے عرض کیا: گھنٹیاں بجائی جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ نصاریٰ کی روش ہے۔

اس کے بعد عبد اللہ بن زید (بن عبداللہ) اپنے گھر چلے گئے در حالیکہ ان کو وہی فکر لاحق تھی جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھی۔ پس ان کو خواب میں اذان کی تعلیم دی گئی؟۔

راوی کھتا ہے کہ وہ اگلے دن صبح کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میں خواب و بیداری کے عالم میں تھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور مجھے اذان سکھائی۔ راوی کھتا ہے کہ عمر بن خطاب، ان سے پہلے خواب میں اذان دیکھ چکے تھے لیکن بیس دن تک انھوں نے کسی کو اس کی خبر نہیں کی، اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا، تو آپ (ص) نے فرمایا کہ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ تو کھنے لگے کہ عبد اللہ بن زید نے مجھ سے پہلے آپ کو بتا دیا لھذا مجھے ذکر کرنے میں شرم محسوس ہوئی۔ اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! کھڑے ہوجاؤ اور جو تم سے عبد اللہ بن زید کھیں اس کو انجام دو۔ اس طرح بلال (رض) نے اذان دی۔ ابو بشیر کھتے ہیں: مجھے ابو عمیر نے خبر دی ہے کہ انصار یہ گمان کرتے تھے کہ اس دن اگر عبد اللہ بن زید مریض نہ ہوتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انھیں کو مؤذن بناتے۔

۲) محمد بن منصور طوسی نے یعقوب سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے محمد بن اسحاق سے، انھوں نے محمد بن ابراھیم بن حارث تیمی سے، انھوں نے محمد بن عبداللہ بن زید بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن زید نے کہا کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناقوس (گھنٹی) بجانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ نماز کے وقت ناقوس بجایا کرو تاکہ لوگ جمع ہوجائیں تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ھاتھ میں ناقوس لئے ہوئے میرے گرد چکر لگا رھا ہے، میں نے اس سے کہا :اے بندۂ خدا! یہ ناقوس بیچتے ہو؟ اس نے کہا کہ تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے لئے مطلع کروں گا۔ وہ کھنے لگا: کیا میں اس سے اچھی چیز بتاؤں؟ میں نے کہا :ھاں، بتاؤ۔ اس نے کہا کہ (نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لئے) یہ کلمات کہا کرو:

"الله اکبر، الله اکبر، الله اکبر، الله اکبر، اشهد ان لا الٰه الا الله، اشهد ان لا الٰه الا الله، اشهد ان محمداً رسول الله، اشهد ان محمداً رسول الله، حی علی الصلاة، حی علی الصلاة، حی علی الفلاح، حی علی الفلاح، الله اکبر، الله اکبر، لا الٰه الا الله، "

راوی کھتا ہے کہ پھر وہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوا اور کہا :جب نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ تو یہ کھو:

" الله اکبر، الله اکبر، اشهد ان لا الٰه الا الله، اشهد ان لا الٰه الا الله، اشهد ان محمداً رسول الله، اشهد ان محمداً رسول الله، حی علی الصلاة، حی علی الصلاة، حی علی الفلاح، حی الفلاح، قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، الله اکبر، الله اکبر، لا الٰه الا الله "

جب صبح ہوئی تو میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنا خواب سنایا۔

آپ (ص) نے فرمایا: "انشاء اللہ یہ خواب سچا ہے۔ بلال کے ساتھ جاؤ اور جو کچھ خواب میں دیکھا ہے وہ ان کو سکھاؤ تاکہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے لئے بلائیں۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ خوش لحن ہیں۔" میں بلال کے ساتھ گیا، اور ان کو بتاتا گیا وہ اذان دیتے گئے۔ عمر بن خطاب اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے، جیسے ہی انھوں نے اس آواز کو سنا، دوڑے ہوئے آئے۔ وہ اتنی عجلت میں تھے کہ ان کی ردا زمین پر گھسٹ رھی تھی، وہ آئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا :"اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں نے بھی یھی خواب دیکھا ہے، جو عبد اللہ بن زید نے دیکھا تھا۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فللّٰہ الحمد (تمام تعریفیں خدا سے مخصوص ہیں۔)(۴)

یہی روایت ابن ماجہ نے مندرجہ ذیل دو سندوں سے ذکر کی ہے۔

۳) ہم سے ابو عبید محمد بن میمون مدنی نے، ان سے محمد بن سلمہ الحرانی نے، ان سے محمد بن ابراھیم تیمی نے، انھوں نے محمد بن عبداللہ بن زید سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے وقت لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے ناقوس کے بارے میں حکم دینے کے لئے سوچ رھے تھے، اور اسی کی طرف مائل تھے کہ عبد اللہ بن زید کو خواب میں اذان سکھائی گئی الخ۔

۴) ہم سے محمد بن خالد بن عبد اللہ واسطی نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبد الرحمان بن اسحاق نے، ان سے زھری نے، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے مشورہ کیا کہ نماز کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کے لئے کیا کیا جائے؟ کچھ لوگوں نے "سنکھ" کی پیشکش کی۔ آپ کو یہ رائے پسند نہ آئی۔ کیو نکہ سنکھ یھودیوں سے مخصوص ہے۔ بعض نے "ناقوس" کا تذکرہ کیا۔ مگر ناقوس نصاریٰ کی روش ہونے کی وجہ سے آپ کو یہ مشورہ بھی مناسب نہیں لگا۔ اسی رات عمر بن خطاب اور انصار کے ایک شخص عبد اللہ بن زید کو خواب میں اذان کی تعلیم دی گئی۔

زھری کا بیان ہے کہ صبح کی اذان میں بلال نے "الصلاة خیر من النوم " کا اضافہ کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنی رضا مندی کا اظھار بھی فرما دیا۔

ترمذی نے یہ روایت مندرجہ ذیل سند کے ذریعہ نقل کی ہے:

۵) ہم سے سعد بن یحییٰ بن سعید اموی نے، ان سے ان کے والد نے، انھوں نے محمد بن اسحاق سے، انھوں نے محمد بن حارث تیمی سے، انھوں نے محمد بن عبد اللہ بن زید سے، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جب صبح ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، اور خواب کے بارے میں آپ سے بتایا الخ۔

۶) ترمذی کھتے ہیں: اس حدیث کو ابراھیم بن سعد نے محمد بن اسحاق سے، زیادہ بہتر اور کامل طور پر نقل کیا ہے۔ اس کے بعد ترمذی کھتے ہیں: عبد اللہ ابن زید سے مراد ابن عبدر بہ ہیں، اور ہمارے نزدیک اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بھی روایت نقل کی ہیں، ان میں سے صرف یھی ایک حدیث، جو اذان کے بارے میں ہے، صحیح ہے۔

یہ روایتیں ہم نے "صحاح ستہ" اور بعض مخصوص "سبب صحاح" جیسے سنن دارمی یا دارقطنی، سے نقل کی ہیں، کیونکہ ان کتابوں کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی دوسری سنن کو حاصل نھیں۔ مثلاً سنن دارمی یا دارقطنی یا وہ روایتیں جو ابن سعد نے اپنی طبقات یا بیھقی نے اپنی سنن میں نقل کی ہیں۔ ان کتابوں کی خاص اہمیت اور منزلت کی وجہ سے ہم نے ان کو دوسری مشھور سنن سے جدا رکھا ہے۔

اب ہم حقیقت کو واضح کرنے کے لئے ان روایات کے بارے میں متن اور سند کے اعتبار سے گفتگو کریں گے، اس کے بعد اس سلسلہ کی باقی روایات کا تذکرہ کریں گے۔

ہمارے نزدیک یہ تمام روایات کئی وجھوں سے اپنے مدعا پر دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

پہلی وجہ: ان روایات کا منصب رسالت سے سازگار نہ ہونا

خداوند عالم نے اپنے رسول کو مبعوث کیا تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ نماز کو اس کے وقت میں قائم کریں اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم اس کو انجام دینے کی کیفیت سے بھی آگاہ کرے۔

لھٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس سلسلہ میں بہت دنوں (یا ایک روایت کے مطابق بیس دن) تک حیران و پریشان رھنا کیا معنیٰ رکھتا ہے، کہ وہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے طریقے سے نا واقف ہوں جو ان کے کاندھوں پر آچکی ہے؟؟ اور اپنے مقصود کو حاصل کرنے کے لئے ھر کس و ناکس سے مدد مانگتے پھریں۔ جب کہ نص قرآنی( کان فضل الله علیک عظیماً ) (۵) کے مطابق سب پر آپ کی فوقیت مسلم ہے۔ یھاں پر فضل سے مراد علمی برتری ہے جو سیاق آیت( و علّمک ما لم تکن تعلم ) (۶) سے واضح ہے۔ اور پھر نماز و روزہ عبادتی امور ہیں، جنگ و جدال کی طرح نہیں کہ جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض اصحاب سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ اور یہ مشورہ بھی اس لئے نہیں ہوتا تھا کہ آپ بہتر طریقہ نہیں جانتے تھے، بلکہ یہ لوگوں کو متوجہ کرنے اور ان کی تشویق کے لئے ہوتا تھا۔ جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے( ولو کنت فظّاً غلیظ القلب لا نفضوا من حولک فاعف عنهم واستغفرلهم وشاورهم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی الله ) (۷) "اے رسول اگر تم بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ لھذا اب انھیں معاف کردو، اور ان کے لئے استغفار کرو اور جنگی امور میں ان سے مشورہ کرو اور جب ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔"

کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ دینی امور میں عوام کے خواب و خیالات کو مصدر قرار دیا جائے؟ اور وہ بھی اذان و اقامت جیسی اہم عبادتوں کے لئے!! کیا یہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ان پر بہتان نہیں ہے؟

معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت عبداللہ بن زید کے قبیلہ والوں نے گڑھی ہے، اور اس خواب کو خوب مشھور کیا، تاکہ فضیلت ان کے قبیلہ کے نام ہوجائے۔ لھذا ہم بعض مسندات میں دیکھتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی وہی ہیں۔ اور اس سلسلہ میں جس نے بھی ان پر اعتماد کیا، وہ ان سے حسن ظن کی بنیاد پر کیا ہے۔

دوسری وجہ: روایات میں بنیادی اختلاف

وہ روایتیں جو اذان کی تشریع اور آغاز کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، ان میں سرے سے ہی اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہے:

الف) پہلی یعنی "سنن ابو داؤد" کی روایت کے مطابق عمر ابن خطاب نے عبد اللہ ابن زید سے بیس دن پہلے خواب دیکھا، لیکن چوتھی یعنی "ابن ماجہ" کی روایت کے مطابق انھوں نے اسی رات خواب دیکھا جس رات عبد اللہ بن زید نے دیکھا تھا۔

ب) اذان، عبداللہ ابن زید کے خواب کے ذریعہ شروع ہوئی۔ اور عمر ابن خطاب نے جب اذان کو سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا :میں نے بھی یھی خواب دیکھا تھا، لیکن شرم کی وجہ سے آپ سے تذکرہ نہیں کیا۔

ج) اذان کو عمر ابن خطاب نے رواج دیا، نہ کہ ان کے خواب نے۔ اس لئے کہ انھوں نے خود اذان کو ایجاد کیا جیسا کہ ترمذی نے اپنی سنن میں ذکر کیا ہے: مسلمان جب مدینہ آئے (یھاں تک کہ وہ کھتے ہیں) اور بعض لوگوں نے کہا :سنکھ سے استفادہ کیا جائے۔ جیسا کہ یھودی کرتے ہیں۔ عمر ابن خطاب نے کہا کہ کسی سے اذان دینے کے لئے کیوں نہیں کھتے؟ لھذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا بلال!قم فناد بالصلاة " اے بلال! اٹھو اور نماز کے لئے دعوت دو یعنی اذان کھو۔

ھاں ابن حجر نے "نداء بالصلاة " (نماز کے لئے اذان دینا)(۸) سے اذان نہیں بلکہ "الصلاة جامعة " کی تکرار مراد لی ہے۔ لیکن ابن حجر کی اس بات پر کوئی واضح دلیل نہیں پائی جاتی ہے۔

د) اذان کو خود رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع کیا۔ بیھقی کی روایت ہے: لوگوں نے ناقوس بجانے یا آگ روشن کرنے (کے ذریعہ نماز کی طرف بلانے) کا مشورہ دیا تو حضور (ص) نے بلال کو حکم دیا کہ اذان کو شفعاً (ھر فقرہ کو دوبار) اور اقامت کو وتراً (ھر فقرہ کو ایک بار) کھو۔ بیھقی کا بیان ہے کہ بخاری نے محمد بن عبد الوہاب اور مسلم نے اسحاق بن عمار سے یھی روایت نقل کی ہے۔(۹)

ان تعارضات اور اختلافات کے ہوتے ہوئے بھلا ان روایات پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟

تیسری وجہ: خواب: ایک نہیں بلکہ چودہ اشخاص نے دیکھا

حلبی کی روایت سے یہ ظاھر ہوتا ہے کہ اذان کا خواب صرف عبد اللہ ابن زید یا عمر بن خطاب سے ہی مخصوص نھیں، بلکہ عبد اللہ بن ابوبکر نے بھی اسی طرح کے خواب دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انصار میں سے سات آدمیوں، اور ایک دوسرے قول کے مطابق چودہ لوگوں نے اذان خواب میں دیکھنے کا ادعا کیا ہے۔(۱۰)

کیا کوئی صاحب عقل ان روایات، بلکہ خرافات کو قبول کرسکتا ہے؟؟ ارے بھائی! شریعت اور اسلامی احکام کوئی بازیچہ اطفال نھیں! جو خوابوں اور خیالوں سے تیار کر لئے جائیں۔ اور اگر اسلام کی یھی حقیقت ہے تو پھر ایسے اسلام کو سلام ہے۔ اس سلسلہ میں حقیقت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احکام شریعت کو وحی کے ذریعہ حاصل فرمایا کرتے تھے، نہ کہ ھر کس و ناکس کے خواب سے۔

چوتھی وجہ: بخاری سے منقول روایت اور دوسری روایات کے درمیان تعارض

بخاری نے صراحت کے ساتھ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجلس مشاورت میں بلال (رض) کو یہ حکم دیا کہ نماز کے لئے لوگوں کو بلاؤ، اور حضرت عمر اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ خود ابن عمر راوی ہیں کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو نماز کے وقت، نماز کے لئے متوجہ کرنے اور اس کی طرف بلانے والے کی ضرورت کا احساس کر رھے تھے۔

ایک دن اس سلسلہ میں گفتگو کرنے لگے۔ بعض افراد نے "نصاریٰ" کی طرح ناقوس بجانے کا مشورہ دیا۔ بعض نے کہا کہ یھودیوں کی طرح قرن یا سینگ سے استفادہ کیا جائے۔ عمر بولے: کسی کو نماز کی دعوت دینے کے لئے کیوں نہیں بھیجتے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! اٹھو اور لوگوں کو نماز کے لئے بلاؤ۔(۱۱)

اور وہ صریحی روایت جو خواب کے بارے میں ہیں ان کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال (رض) کو اذان کا حکم، فجر کے ھنگام اس وقت دیا جب کہ ابن زید نے اذان کے سلسلہ میں اپنا خواب حضور سے بیان کیا۔ اور عبد اللہ بن زید کا خواب مجلس مشاورت کے کم از کم ایک رات بعد قابل تصور ہے۔

اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال (رض) کو اذان کا حکم دے رھے تھے تو حضرت عمر وہاں موجود نہیں تھے، بلکہ جب اذان دی گئی تو وہ اپنے گھر میں تھے۔ وہ دوڑتے ہوئے آئے اس حالت میں، کہ ان کے کپڑے زمین پر گھسٹ رھے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھنے لگے کہ یا رسول اللہ! قسم ہے اس پروردگار کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا، یھی خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔

اور ہمارے پاس ایسا کوئی قرینہ نہیں جس کی روشنی میں یہ کہا جاسکے کہ بخاری کی روایت میں "نداء بالصلاة" سے مراد "الصلاة جامعہ" کی تکرار ہے اور خواب کی روایتیں اذان کے سلسلہ میں ہیں۔ اور اگر کوئی اس طرح کی بات کھے بھی تو یہ بغیر کسی دلیل کے ہوگا۔

دوسرے یہ کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب بلال (رض) کو یہ حکم دیتے کہ الصلاة جامعہ کو با آواز بلند کھو تو مسئلہ ہی حل ہوجاتا، اور خصوصاً اگر اس کی تکرار کا حکم دیتے، تو حیرانی و پریشانی کی بات ہی نہ رہ جاتی۔

لھذا یہ اس بات کی دلیل ہے، کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی دعوت دینے کا جو حکم دیا اس سے مراد یھی معروف اذان شرعی تھی۔(۱۲)

یہ چار مذکورہ وجوہات، احادیث کے مضمون کی تحقیق کا تقاضہ کرتی ہیں۔ اور یہ اشکالات مذکورہ، احادیث کے غیر قابل قبول ہونے کے لئے کافی ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم ان کی اسناد کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ (تاکہ ہماری بات کی اور وضاحت ہوجائے) ان میں سے بعض کی سندیں موقوف ہیں، اور ان کا سلسلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نہیں پھونچتا۔ اور بعض، مسند تو ہیں مگر ان کے راوی یا تو مجھول ہیں یا غیر موثق ہیں یا ضعیف۔ اور اسی وجہ سے علم رجال میں انھیں کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ اب ہم ان تمام چیزوں کو آپ کے سامنے ترتیب وار، وضاحت کے ساتھ بیان کر رھے ہیں۔

پہلی روایت

جس کو ابو داؤد نے نقل کیا ہے، ضعیف ہے۔کیونکہ :

۱) یہ روایت ایک، بلکہ کئی نا معلوم افراد سے منقول ہے، کیونکہ اس کی سند میں بعض راویوں کے نام کے بجائے اس طرح کے کلمات آئے ہیں: "انصار میں سے ان کے بعض خاندان والے" یا "یا انصار کے ایک گروہ نے ان سے روایت کی ہے۔"

۲) یہ روایت ابو عمیر بن انس کے کچھ خاندانی رشتہ داروں سے منقول ہے۔ جیسا کہ ابن حجر کھتے ہیں: "روایت ھلال اور اذان کی روایت" کو ابو عمیر کے خاندانی رشتہ داروں نے، جن کا تعلق انصار و اصحاب نبی (ص) سے تھا، نقل کیا ہے۔

اور ابن سعد کھتے ہیں کہ یہ موثق راوی تھا، لیکن اس سے کم احادیث نقل ہوئی ہیں۔ ابن عبد البر رقمطراز ہیں: یہ مجھول اور غیر معروف ہے، اور اس کا قول دلیل نہیں بن سکتا۔(۱۳) مروی کا بیان ہے کہ اس نے صرف دو عنوان کے تحت احادیث بیان کی ہیں۔ یا چاند دیکھنے کے سلسلہ میں یا اذان کے بارے میں۔

دوسری روایت

اس روایت کی سند میں ایسے راویوں کا تذکرہ ہے جن کا قول قابل قبول نھیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

الف) محمد بن ابراھیم بن حارث خالد تیمی، ابو عبداللہ (سن وفات تقریباً ۱۲۰ ھجری): ابو جعفر عقیلی نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کھتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا (انھوں نے محمد بن ابراھیم تیمی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا) کہ اس کی احادیث میں اشکال ہے، اس نے بہت سی غیر قابل قبول احادیث نقل کی ہیں۔(۱۴)

ب) محمد بن اسحاق بن یسار بن خیار: اہل سنت اس کی روایت پر اعتماد نہیں کرتے۔ (اگر چہ سیرۂ ابن ھشام کی اساس یھی ہے)

احمد بن ابی خیثمہ کھتے ہیں کہ یحییٰ بن معین سے اس (محمد بن اسحاق) کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ میرے نزدیک ضعیف اور غیر قابل قبول ہے۔

ابوالحسن میمونی کا بیان ہے کہ میں نے یحییٰ بن معین کو کھتے ہوئے سنا ہے کہ محمد بن اسحاق ضعیف ہے۔ اور نسائی کھتے ہیں کہ وہ قوی نہیں ہے۔(۱۵)

ج) عبد اللہ بن زید: اس کے بارے میں اتنا ہی کھنا کافی ہے کہ اس نے بہت کم احادیث کی روایت کی ہے۔ ترمذی اس کے بارے میں رقمطراز ہیں: حدیث اذان کے علاوہ جو بھی حدیث اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ حاکم کھتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ وہ جنگ احد میں قتل کردیا گیا تھا۔

اور اس کی تمام روایات منقطعہ (جس کی سند نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نہیں پھونچتی) ہیں۔ ابن عدی کا بیان ہے: حدیث اذان کے علاوہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بھی حدیث بیان کی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔(۱۶) ترمذی نے بخاری سے روایت کی ہے کہ حدیث اذان کے علاوہ اس سے مروی اور کسی حدیث کے بارے میں ہم نہیں جانتے۔(۱۷)

حاکم کا بیان ہے: عبداللہ بن زید وہ شخصیت ہیں، جنھیں خواب میں اذان سکھائی گئی۔ اور یکے بعد دیگرے فقھاء اسلام اسے قبول کرتے رھے لیکن صحیحین میں اس کو نقل نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اس کی سند میں اختلاف پایا جاتا ہے۔(۱۸)

تیسری روایت

اس کی سند "محمد بن اسحاق بن یسار، اور محمد بن ابراھیم تیمی، پر مشتمل ہے۔ اور آپ ان کے حالات سے واقف ہوچکے ہیں۔ نیز یہ بھی جان چکے ہیں کہ عبداللہ بن زید بہت کم روایت بیان کرنے والا تھا۔ اور اس کی تمام روایات منقطعہ ہیں۔

چوتھی روایت

اس کی سند میں مندرجہ ذیل راوی پائے جاتے ہیں:

۱۔ عبد الرحمٰن بن اسحاق بن عبد اللہ مدنی: یحییٰ بن سعید قطان کھتے ہیں: میں نے مدینہ میں اس کے (عبدالرحمٰن بن اسحاق) کے بارے میں معلوم کیا تو مجھ سے کسی نے بھی اس کی تعریف نہیں کی۔ اس بارے میں علی بن مدنی کا بھی یھی کھنا ہے۔

بلکہ علی تو یھاں تک کھتے ہیں کہ جب سفیان سے عبدالرحمٰن بن اسحاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے اس کو یہ کھتے ہوئے سنا کہ وہ فرقۂ قدریہ(۱۹) میں سے تھا۔ مدینہ والوں نے اسے مدینہ سے باھر نکال دیا تھا، وہ ہمارے پاس "مقتل ولید" میں آیا تو ہم نے اس کو اپنا ہم نشین بنایا۔ ابوطالب کھتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اس نے ابو زناد سے بہت سی غیر قابل قبول روایات نقل کی ہیں۔

احمد بن عبداللہ العجلی کا بیان ہے: وہ ضعیف احادیث نقل کرتا تھا۔ ابو حاتم کا قول ہے: وہ ایسی احادیث نقل کرتا تھا جن کے اوپر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ بخاری تحریر کرتے ہیں: اس کے حافظہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ اور مدینہ میں موسیٰ زمعی کے علاوہ اس کا کوئی شاگرد بھی نہیں تھا۔ موسیٰ زمعی نے اس سے ایسی روایت بھی نقل کی ہیں جن میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

دارقطنی رقمطراز ہیں: وہ ضعیف ہے اور اس پر "قدری" ہونے کا الزام ہے۔

ابن عدی کھتے ہیں: اس کی احادیث میں بعض ایسی چیزیں ہیں جو نادرست ہیں۔ اور غلط بیانی پر مشتمل ہیں۔(۲۰)

۲۔ محمد بن عبداللہ واسطی: جمال الدین مزی اس کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ ابن معین نے اس کو "لاشی" (جس کی کوئی اہمیت نھیں) سے تعبیر کیا ہے۔ اور اس کی ان روایتوں کا انکار کیا ہے جو اس نے اپنے باپ سے نقل کی ہیں۔ ابو حاتم کا بیان ہے کہ میں نے یحییٰ بن معین سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا :وہ بہت برا اور جھوٹا آدمی ہے۔ اس نے بہت سی ناقابل قبول اور جھوٹی روایتیں نقل کی ہیں۔ ابو عثمان سعید بن عمر بردعی کھتے ہیں کہ میں نے "ابازرعہ" سے محمد بن خالد کے بارے میں سوال کیا۔ وہ بولے: برا انسان ہے۔ ابن حیان نے کتاب "الثقاة" میں ذکر کیا ہے: وہ خطا کار اور مخالف حق تھا۔(۲۱)

شوکانی نے اس کی روایت کو نقل کرنے کے بعد تحریر کیا ہے کہ اس روایت کی اسناد بہت ضعیف ہیں(۲۲)

پانچویں روایت

اس کی سند میں مندرجہ ذیل راوی ہیں:

۱) محمد بن اسحاق بن یسار۔

۲) محمد بن حارث تیمی۔

۳) عبد اللہ بن زید۔

ان میں سے پہلے اور دوسرے راوی کے بارے میں بحث گزر چکی ہے کہ وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں۔ اور ان دونوں نے جو روایت بھی تیسرے راوی (عبد اللہ بن زید) سے نقل کی ہے اس کی سند منقطعہ ہے۔ اور یھیں سے چھٹی روایت کا ضعف بھی ثابت ہوجاتا ہے۔ (چونکہ اس کاراوی محمد بن اسحاق ہے۔)

یہ وہ روایتیں ہیں جو بعض صحاح میں وارد ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ اس (اذان کے) سلسلہ میں امام احمد، دارمی، دارقطنی نے اپنی مسانید، امام مالک نے اپنی موطاء، ابن سعد نے طبقات اور بیھقی نے اپنی سنن میں روایات نقل کی ہیں۔ جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جارھا ہے:

الف) امام احمد کی روایت جو انھوں نے اپنی مسند میں ذکر کی ہے

امام احمد نے اذان کے خواب کی روایت اپنی مسند میں عبداللہ بن زید سے تین سندوں کے ذریعہ نقل کی ہے۔(۲۳)

پہلی سند میں زید بن حباب بن ریان تمیمی (م/ ۲۰۳ ھجری) موجود ہے۔ اس کو علماء نے بہت زیادہ خطا کرنے والا کہا ہے۔ اس نے سفیان بن ثوری سے ایسی احادیث نقل کی ہیں جو سند کے لحاظ سے عجیب و غریب ہیں۔

ابن معین کھتے ہیں: اس کی ثوری سے نقل کردہ احادیث تحریف شدہ ہیں۔(۲۴) اسی طرح اس روایت کے راویوں میں سے ایک عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ ہے۔ اور تمام صحاح اور مسندوں میں اس کی صرف یھی ایک روایت ہے اور اس میں بھی اس کے قبیلہ کی فضیلت کا تذکرہ ہے، اسی وجہ سے اس پر اعتماد اور بھی کم ہوجاتا ہے۔

دوسری روایت محمد بن اسحاق بن یسار سے مروی ہے۔ اس کے بارے میں آپ گذشتہ بحث میں جان چکے ہیں۔

تیسری حدیث کا راوی محمد بن ابراھیم حارث تیمی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ محمد بن اسحاق بھی۔ اور روایت کی سند، عبداللہ بن زید پر منتھی ہوتی ہے، جس نے بہت کم روایتیں بیان کی ہیں۔

جب کہ دوسری روایت میں اذان کے خواب، اور پھر جناب بلال کو اذان سکھائے جانے کے تذکرہ کے بعد مذکور ہے کہ جناب بلال (رض) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے۔ آپ (ص) سو رھے تھے۔ تو جناب بلال (رض) نے چلا کر "الصلاة خیر من النوم " کھا۔ لھذا یہ کلمہ نماز صبح کی اذان میں داخل کردیا گیا۔

ب) وہ روایت جس کو دارمی نے اپنی مسند میں ذکر کیا

دارمی نے اپنی مسند میں اذان کے خواب کی روایت کو ایسی سندوں سے ذکر کیا ہے جو سب کی سب ضعیف ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

۱) ہمیں محمد بن حمید نے خبر دی ہے کہ ہم سے مسلم نے حدیث بیان کی کہ مجھ سے محمد بن اسحاق نے روایت کی ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے الخ۔

۲) یہ روایت بھی مندرجہ بالا سند کے ساتھ ہے۔ محمد بن اسحاق کے بعد یہ اضافہ ہے: ہم سے یہ حدیث محمد بن ابراھیم بن حارث تیمی نے، محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ سے اور انھوں نے اپنے باپ سے نقل کی ہے۔

۳) ہمیں محمد بن یحییٰ نے خبر دی کہ ہم سے یعقوب بن ابراھیم بن سعد نے ابن اسحاق سے حدیث بیان کی ہے بقیہ وہی راوی ہیں جو دوسری حدیث کی سند میں مذکور ہیں۔(۲۵)

پہلی روایت کی سند منقطع ہے، دوسری اور تیسری روایت محمد بن ابراھیم بن حارث تیمی پر مشتمل ہے۔ اور قارئین گذشتہ صفحات میں اس کی حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں۔

اسی طرح ابن اسحاق کی حقیقت بھی واضح ہوچکی ہے۔

ج) وہ روایت جس کو امام مالک نے موطاء میں ذکر کیا ہے

امام مالک نے اپنی موطاء میں اذان کے خواب کی روایت یحییٰ سے، انھوں نے مالک سے اور انھوں نے یحییٰ بن سعید سے نقل کی ہے۔ وہ کھتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارادہ رکھتے تھے کہ دو لکڑیوں سے استفادہ کیا جائے۔(۲۶)

اس کی سند منقطع ہے اور یھاں پر اس سے یحییٰ بن سعید بن قیس مراد ہے جو ۷۰ ھجری میں پیدا ہوئے اور ھاشمیہ میں ۱۴۳ ھجری کو انتقال کرگئے۔(۲۷)

د) وہ روایت جس کو ابن سعد نے طبقات میں ذکر کیا ہے

محمد بن سعد نے اپنی طبقات میں ایسی سندوں سے یہ روایت کی ہے جو موقوفہ ہیں اور ان کے ذریعہ حجت قائم کرنا ممکن نھیں۔

پہلی روایت نافع بن جبیر تک پھونچتی ہے، جو نوے کی دھائی میں اس دنیا سے اٹھ گیا اور ایک قول کے مطابق اس نے ۹۹ ھجری میں وفات پائی۔

دوسری روایت عروہ بن زبیر پر منتھی ہوتی ہے، جو ۲۹ ھجری میں پیدا ہوا اور ۹۳ ھجری میں فوت ہوگیا۔

تیسری روایت زید بن اسلم پر ختم ہوتی ہے، جس کی وفات ۱۳۶ ھجری میں ہوئی۔

چوتھی روایت سعید بن مسیّب، جس نے ۹۴ ھجری میں انتقال کیا اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ جو ۸۲ ھجری یا ۸۳ ھجری میں فوت ہوا، پر تمام ہوتی ہے۔

ذھبی نے عبداللہ بن زید کے سلسلہ میں کہا ہے کہ اس سے سعید بن مسیّب اور عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے احادیث بیان کی ہیں لیکن اس نے کبھی راوی کو دیکھا بھی نہیں ہے۔(۲۸)

ابن سعد نے مندرجہ ذیل سند کے ذریعہ بھی یہ روایت نقل کی ہے:

احمد بن محمد بن ولید ازرقی نے مسلم بن خالد سے، انھوں نے عبدالرحمٰن بن عمر سے، انھوں نے ابن شھاب سے، انھوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انھوں نے عبد ابن عمر سے روایت کی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ کیا کہ ایسا راستہ نکالا جائے جس سے لوگوں کو اکٹھا کیا جاسکے یھاں تک کہ انصار میں سے عبداللہ بن زید نامی ایک شخص کو خواب میں اذان کی تعلیم دی گئی اور اسی رات عمر بن خطاب کو بھی خواب ہی میں اذان سکھائی گئی اس کے بعد وہ کھتے ہیں: پھر بلال (رض) نے نماز صبح کی اذان میں "الصلاة خیر من النوم " کا اضافہ کردیا۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اذان میں شامل کرلیا۔ یہ سند مندرجہ ذیل راویوں پر مشتمل ہے:

الف) مسلم بن خالد بن قرة: جس کو ابن جرحہ بھی کہا جاتا تھا۔

یحیٰی بن معین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ علی بن مدینی نے اسے لاشی (کچھ بھی نھیں) کہا ہے۔ بخاری نے اسے حدیث کا انکار کرنے والال بتایا ہے۔ نسائی کا کھنا ہے کہ یہ قوی نہیں ہے۔ ابو حاتم نے بھی کہا ہے کہ یہ قوی نہیں ہے حدیث کا انکار کرنے والا ہے اور یہ ایسی حدیثیں نقل کرتا ہے جو دلیل بننے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ اچھی بری سبھی باتیں نقل کرتا رھا ہے۔(۲۹)

ب) محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبداللہ بن شھاب زھری مدنی (۵۱۔ ۱۲۳ ھجری)۔

انس بن عیاض، عبیداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے بارھا دیکھا کہ زھری کو کتاب دی جاتی تھی تو وہ اس کو نہ تو خود پڑھتے تھے اور نہ ہی کوئی دوسرا پڑھ کر سناتا تھا۔ پھر بھی جب کبھی ان سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا ہم تمھارے حوالے سے یہ روایت نقل کردیں؟ تو وہ کہہ دیتے تھے: "ھاں"۔

ابراھیم بن ابی سفیان القیسر انی نے فریابی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو کھتے ہوئے سنا ہے: میں زھری کے پاس گیا۔ وہ میرے ساتھ اس طرح پیش آیا جیسے میرا آنا اس پر گراں گذرا ہو۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر تم ہمارے بزرگوں کے پاس آتے اور وہ تمھارے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کرتے تو تم پر کیا گذرتی؟ وہ بولا: تمھاری بات صحیح ہے۔ پھر وہ اندر گیا اور کتاب لاکر مجھے دی اور کہا کہ اس کو لے لو اور اس کی روایتوں کو میرے نام سے نقل کرو۔ ثوری کھتے ہیں: میں نے اس میں سے ایک حرف بھی نقل نہیں کیا ہے۔(۳۰)

ھ۔) وہ روایت جو بیھقی نےا پنی سنن میں نقل کی ہے

بیھقی نے اذان کے خواب کی روایت ایسی اسناد کے ذریعہ نقل کی ہے جن میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ضعف کی طرف ہم یھاں اشارہ کر رھے ہیں۔

اول) روایت، ابو عمیر بن انس پر مشتمل ہے، جنھوں نے انصار میں سے اپنے خاندان کے لوگوں سے روایت کی ہے۔ اور آپ ابو عمیر بن انس کے بارے میں یہ جان ہی چکے ہیں کہ ابن عبدالبر نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ مجھول ہے، اس کی روایت قابل استفادہ نھیں۔ انھوں نے اپنی روایت، گمنام اور نامعلوم اشخاص سے نقل کی ہے اور انھیں "عمومہ" سے تعبیر کیا ہے(۳۱) ۔ اگر ہم تمام صحابہ کی عدالت کے قائل بھی ہوجائیں تو اس پر کوئی دلیل نہیں کہ یہ افراد صحابی تھے۔ اور اگر یہ بھی فرض کرلیں کہ یہ اصحاب تھے تب بھی اصحاب کی موقوفہ روایات حجت نہیں ہیں، اس لئے کہ یہ نہیں معلوم کہ اس صحابی نے بھی یہ روایت کسی صحابی ہی سے نقل کی ہے یا نھیں۔

دوم) یہ روایت ایسے افراد پر مشتمل ہے جو قابل اعتماد نہیں ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل میں:

۱)محمد بن اسحاق بن یسار۔

۲) محمد بن ابراھیم بن حارث تیمی۔

۳) عبداللہ بن زید۔

ان تمام افرا دکے ضعیف ہونے کے بارے میں بحث کی جاچکی ہے۔

سوم: روایت، ابن شھاب زھری پر مشتمل ہے۔ جس نے سعید بن مسیّب (م/ ۹۴ھجری)، اور اس نے عبداللہ بن زید سے روایت کی ہے۔ اور آپ جان چکے ہیں کہ اس نے عبداللہ بن زید کو دیکھا بھی نہیں تھا(۳۲)

و) دارقطنی کی روایت

دارقطنی نے اذان کے خواب کی روایت مندرجہ ذیل اسناد سے کی ہے:

۱) ہمیں محمد بن یحییٰ بن مراد نے، ان سے ابوداؤد نے، ان سے عثمان بن ابی شیبہ نے، ان سے حماد بن خالد نے، ان سے محمد بن عمرو نے، ان سے محمد بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید نے بیان کیا ہے

۲) ہم سے محمد بن یحییٰ نے، ان سے ابوداؤد نے، ان سے عبید اللہ ابن عمر نے، ان سے عبدالرحمان بن مھدی نے اور ان سے محمد بن عمرو نے روایت کی ہے کہ میں نے عبداللہ بن محمد کو کھتے ہوئے سنا: میرے جد عبداللہ بن زید اس خبر کے بارے میں۔(۳۳)

یہ دونوں سندیں محمد بن عمرو پر مشتمل ہیں، جس کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ آیا یہ وہ انصاری ہے، جس سے مسانید اور صحاح میں صرف یھی ایک روایت منقول ہے اور اس کے بارے میں ذھبی کھتا ہے کہ یہ پھچانا نہیں جاسکا، یعنی یہ مجھول الحال ہے، یا وہ محمد بن عمر و ابو سھل انصاری ہے جس کو یحییٰ قطان، ابن معین اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے۔(۳۴)

۳) ہم سے ابو محمد بن ساعد نے، ان سے حسن بن یونس نے، ان سے اسود بن عامر نے، ان سے ابوبکر بن عیاش نے، ان سے اعمش نے، ان سے عمر و بن مرہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے، اور ان سے معاذ بن جبل نے روایت کی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی (عبداللہ بن زید) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا :میں نے خواب میں دیکھا ہے ۔(۳۵)

یہ سند منقطع ہے۔ کیونکہ معاذ بن جبل ۲۰ ھجری یا ۱۸ ھجری میں فوت ہوئے اور عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ ۱۷ ھجری میں پیدا ہوئے۔ یھی نہیں بلکہ دارقطنی نے عبدالرحمٰن کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ضعیف الحدیث اور برے حافظہ والا ہے۔ اور یہ ثابت نہیں کہ ابن ابی لیلیٰ نے یہ روایت عبداللہ بن زید سے سنی ہے۔(۳۶)

ھاں تک کہ بحث سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اذان کی مشروعیت کی بنیاد عبداللہ بن زید، عمر بن خطاب یا کسی اور کے خواب کو کسی بھی صورت میں نہیں قرار دیا جاسکتا اس کے علاوہ ان احادیث میں تعارض بھی پایا جاتا ہے اور ان کی سند بھی کامل نہیں ہے۔ لھذا ان سے کوئی بھی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اور ان کے علاوہ یہ باتیں عقل قبول نہیں کرتی۔ جیسا کہ ہم اول بحث میں عرض کرچکے ہیں۔

اہل بیت اور ترویج اذان کی کیفیت

جب ہم اذان کی مشروعیت کے بارے میں اہل بیت علیہم السلام کی روایتوں کو دیکھتے ہیں تو وہ مقام و منزلت نبوت سے سازگار نظر آتی ہیں۔ جب کہ گذشتہ احادیث، مقام رسالت سے میل نہیں کھاتی تھیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "جب جبرئیل علیہ السلام اذان لے کر نازل ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر اقدس علی علیہ السلام کی آغوش میں تھا۔ جبرئیل نے اذان اور اقامت کھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے تو امیر المومنین علیہ السلام سے فرمایا: "اے علی (ع)! تم نے سنا؟ آپ نے فرمایا: جی ھاں، یا رسول اللہ! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے حفظ کرلیا؟ فرمایا: جی ھاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال (رض) کو بلاؤ اور ان کو سکھاؤ۔ آپ نے بلال (رض) کو بلایا اور اذان و اقامت کی تعلیم دی۔"(۳۷)

مذکورہ روایت اور وسائل الشیعہ کی پہلی روایت (عن ابی جعفر علیہ السلام قال لما اسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی السماء فبلغ البیت المعمور و حضرت الصلاة فاذن جبرئیل علیہ السلام واقام فتقدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصف الملائکة والنبیون خلف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(۳۸) میں اختلاف صرف یہ ہے کہ پہلی روایت میں جبرئیل علیہ السلام نافلہ بجا لانا چاھتے تھے لیکن دوسری روایت کے مطابق جبرئیل علیہ السلام نافلہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرنا چاھتے تھے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ بلال کو بلاؤ اور اذان و اقامت کی تعلیم دو۔

اس نظریہ کی تائید وہ روایتیں بھی کرتی ہیں جن کو عسقلانی نے ذکر کیا ہے۔ اور ان کی سندوں کے بارے میں مناقشہ کیا ہے۔ وہ کھتا ہے: ان احادیث کے مطابق، اذان مکہ میں ھجرت سے پہلے شروع ہوئی۔ انھیں روایتوں میں سے طبرانی کی روایت بھی ہے جو سالم بن عبداللہ بن عمر بن ابیہ کی سند سے مروی ہے۔ انھوں نے کہا :جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج ہوئی تو خدا نے آپ (ص) پر کلمات اذان کی وحی کی۔ جب آپ (ص) معراج سے واپس آئے تو بلال کو اس کی تعلیم دی۔ اس کی سند میں طلحہ بن زید ہے جو کہ متروک ہے۔ وہ روایات جنھیں عسقلانی نے نقل کیا ہے، اذان کی تشریع کے سلسلہ میں اہل بیت علیہم السلام کے موقف (نظریہ) کے صحیح ہونے اور اذان کی بنیاد عبداللہ بن زید یا عمر بن خطاب کے خواب کو قرار دیئے جانے کے نادرست ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ جیسا کہ چھٹے امام علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ (ع) نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان عبداللہ بن زید سے لی۔ آپ (ع) نے فرمایا کہ وحی، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتی تھی پھر بھی تم یہ گمان کرتے ہوکہ آپ (ص) نے اذان کو عبداللہ بن زید سے لیا ہے؟(۳۹)

الف) عسقلانی نے بزار کے حوالہ سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: جس وقت خداوند عالم نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذان کی تعلیم دے تو جناب جبرئیل علیہ السلام ایک سواری کے ذریعہ آپ (ص) کے پاس آئے، جس کو براق کہا جاتا ہے۔ آپ (ص) اس پر سوار ہوئے ۔(۴۰)

ب) ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام سے حدیث معراج کے سلسلہ میں روایت ہے کہ پھر آپ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا اور انھوں نے اذان اقامت کھی۔ اور اذان میں "حی علٰی خیر العمل " پڑھا۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور قوم کے ساتھ نماز پڑھی۔(۴۱)

ج) امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج ہوئی اور اذان کا وقت ہوا تو جناب جبرئیل علیہ السلام نے اذان کھی۔(۴۲)

د) عبد الرزاق نے معمر سے، انھوں نے ابن حماد سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے اپنے دادا سے اور انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث معراج کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ پھر جبرئیل کھڑے ہوئے اور اپنے داھنے ھاتھ کی انگشت شھادت کو اپنے کان پر رکھ کر دو دو فقرے کر کے اذان کھی۔ آخر میں دوبار "حی علیٰ خیر العمل" کھا۔(۴۳)


"حی علٰی خیر العمل " کے جزء اذان ہونے کی دلیل

وہ دلیلیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ "حی علٰی خیر العمل " اذان و اقامت کا جزء ہے، اور اس کے بغیر اذان و اقامت درست نھیں، مندرجہ ذیل ہیں:

اول: وہ روایتیں جو اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہیں۔

ان احادیث میں سے بطور مثال ہم وہ چند حدیثیں جن کو مندرجہ ذیل اصحاب نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے، پیش کر رھے ہیں:

۱) عبداللہ بن عمر

۲) سھل بن حنیف

۳) بلال

۴) ابی محذورہ

۵) ابن ابی محذورہ

۶) زید بن ارقم

عبد اللہ ابن عمر سے مروی احادیث

الف) نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر کبھی کبھی "حی علی الفلاح" کے بعد "حی علی خیر العمل " بھی کھتے تھے۔(۴۴)

ب) لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی ہے کہ ابن عمر اپنے سفر میں اذان نہیں کھتے تھے۔ اور اپنی اذان میں "حی علی الفلاح" اور کبھی کبھی "حی علی خیر العمل " بھی کھتے تھے۔(۴۵)

ج) لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی ہے کہ کبھی کبھی ابن عمر اپنی اذان میں "حی علی خیر العمل " کا اضافہ کیا کرتے تھے۔(۴۶)

د: اسی طرح کی روایت نسیر بن ذعلوق نے ابن عمر سے کی ہے کہ وہ سفر میں ایسا کیا کرتے تھے۔(۴۷)

ھ) عبدالرزاق نے معمر سے، انھوں نے یحییٰ سے، انھوں نے ابی کثیر سے، اور انھوں نے ایک شخص سے روایت کی ہے کہ ابن عمر جب اذان میں "حی علی الفلاح" کھتے تھے تو اس کے بعد "حی علی خیر العمل " بھی کھتے تھے اور اس کے بعد "اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الااللہ" کھتے تھے۔(۴۸) اور یھی روایت ابن ابی شیبہ(۴۹) نے ابن عجلان اور عبید اللہ کے توسط سے اور انھوں نے بحوالہ نافع ابن عمر بیان کی ہے۔

سھل بن حنیف کی بیان کردہ احادیث

الف: بیھقی نے روایت کی ہے کہ "حی علیٰ خیر العمل" کے اذان میں ذکر کرنے کی روایت ابی امامہ، سھل بن حنیف سے نقل کی گئی ہے۔(۵۰)

ب: ابن وزیر نے محبّ طبری شافعی کی کتاب احکام الاحکام کے حوالہ سے ان الفاظ میں نقل کیا ہے: صدقہ بن یسار نے ابی امامہ سھل بن حنیف سے روایت کی کہ جب وہ اذان دیتے تھے تو "حی علیٰ خیر العمل" کھتے تھے۔

یہ روایت سعید بن منصور نے بیان کی ہے۔(۵۱)

بلال (رض) سے مروی احادیث

الف) عبداللہ بن محمد بن عمار نے، عمار بن حفص بن عمر اور عمر بن حفص ابن عمر سے اور انھوں نے اپنے آباء و اجداد سے، اور انھوں نے بلال (رض) سے روایت کی ہے کہ بلال (رض) صبح کی اذان دیتے تھے اور اس میں "حی علی خیر العمل " کھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ "حی علیٰ خیر العمل" کو ھٹا کر اس کی جگہ پر "الصلاة خیر من النوم " کہا کرو۔(۵۲)

روایت کا آخری حصہ قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ "الصلاة خیر من النوم " کا اذان میں اضافہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد (عمر بن خطاب کے زمانہ میں) ہوا ہے۔ جس پر بہت سی روایات گواہ ہیں جن کا تذکرہ ہم آئندہ کریں گے۔(۵۳)

ب) بلال (رض) صبح کی اذان دیتے تھے، اور اس میں "حی علی خیر العمل " کھتے تھے۔(۵۴)

ابی محزورہ سے منقول روایات

الف) محمد بن منصور نے اپنی کتاب "الجامع" میں اپنی اسناد کے ساتھ رجال مریضیین (پسندیدہ راوی) کے حوالہ سے ابی محزورہ، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک مؤذن تھے، سے روایت کی ہے، کہ وہ کھتے ہیں: مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان میں "حی علی خیر العمل " کھنے کا حکم دیا۔(۵۵)

ب) عبد العزیز بن رفیع سے مروی ہے کہ ابی محذورہ نے کہا :میں نوجوان تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنی اذان کے آخر میں "حی علیٰ خیر العمل" کہا کرو۔(۵۶)

ابن ابی محذورہ کی روایت

"شفاء" میں ھذیل بن بلال المدائنی سے روایت ہے کہ میں نے ابن ابی محذورہ کو "حی علیٰ الفلاح، حی علیٰ خیر العمل " کھتے ہوئے سنا۔(۵۷)

زید بن ارقم سے مروی حدیث

روایت ہے کہ انھوں نے اپنی اذان میں "حی علی خیر العمل " کھا۔(۵۸)

حلبی کھتے ہیں ابن عمر اور علی بن الحسین علیہما السلام کے بارے میں منقول ہے کہ یہ دونوں اپنی اذان میں "حی علی الفلاح" کے بعد "حی علیٰ خیر العمل" کھتے تھے۔(۵۹)

علاء الدین حنفی نے اپنی کتاب "التلویح فی شرح الجامع الصحیح" میں کہا ہے: "حی علی خیر العمل " کی روایت کے بارے میں ابن حزم کھتا ہے کہ یہ صحیح ہے، کہ عبد اللہ بن عمر اور ابی امامہ سھل بن حنیف "حی علٰی خیر العمل " کہا کرتے تھے۔ مصنف پھر کھتے ہیں: "علی بن الحسین" (ع) بھی یھی کیا کرتے تھے۔(۶۰)

اور ابن نباح اپنی اذان میں "حی علی خیر العمل " کہا کرتے تھے۔(۶۱)

دوم: وہ روایتیں جو صحیح سندوں کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں

حضرت علی علیہ السلام سے مروی حدیث روایت میں ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھتے ہوئے سنا ہے کہ جان لو! تمھارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے۔ اور بلال (رض) کو "حی علی خیر العمل " کے ساتھ اذان کھنے کا حکم دیا۔ یہ روایت شفا میں منقول ہے۔(۶۲)

حضرت علی بن الحسین علیہما السلام سے منقول روایات

الف) حاتم بن اسماعیل نے جعفر بن محمد سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے: علی ابن الحسین علیہما السلام جب اذان میں "حی علی الفلاح" کھتے تھے تو اس کے بعد "حی علٰی خیر العمل " بھی کھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یھی اذان اول ہے۔(۶۳)

ھاں پر "اذان اول" کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذان کے علاوہ اور کسی اذان پر حمل کرنا صحیح نہیں ہے۔(۶۴)

ب) اسی روایت کو حلبی، ابن حزم اور دوسرے راویوں نے بھی امام علی بن الحسین زین العابدین علیہما السلام سے نقل کیا ہے۔

ج) علی بن الحسین علیہما السلام سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب موذن کی اذان سنتے تھے تو اس کو دھراتے تھے۔ اور جب موذن "حی علی الصلاة، حی علی الفلاح،حی علٰی خیر العمل " کھتا تو آپ (ص) "لا حول ولا قوة الا باللہ" کھتے تھے الخ۔(۶۵)

د) امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے پدر بزرگوار علی بن الحسین علیہما السلام سے روایت کی ہے کہ جب آپ "حی علی الفلاح" کھتے تھے تو اس کے بعد "حی علٰی خیر العمل " ضرور کھتے تھے۔(۶۶)

حضرت محمد باقر علیہ السلام سے مروی احادیث

الف) امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: کلمہ "حی علی خیر العمل " اذان کا جز تھا۔ عمر بن خطاب نے حکم دیا کہ اس کے کھنے سے پرھیز کیا جائے۔ کھیں ایسا نہ ہو کہ لوگ جھاد سے رک جائیں اور نماز ہی پر اکتفا کرنے لگیں۔(۶۷)

ب) حضرت ابی جعفر (امام محمد باقر) علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اذان "حی علی خیر العمل " کے ساتھ کھی جاتی تھی۔ اور ابوبکر کے زمانہ خلافت اور عمر کی خلافت کے اوائل میں بھی اذان میں یہ فقرہ رائج تھا۔ پھر عمر نے "حی علٰی خیر العمل " کے چھوڑنے اور اذان و اقامت سے حذف کرنے کا حکم دیا۔ لوگوں نے اس سے اس کی وجہ درہافت کی تو اس نے کہا :جب لوگ یہ سنیں گے کہ نماز "خیر العمل" (سب سے بہترین عمل) ہے تو جھاد کی بابت سستی اور اس سے روگردانی کرنے لگیں گے۔(۶۸)

اسی طرح کی روایت حضرت جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام سے بھی منقول ہے۔(۶۹)

اور پھر گردش لیل و نھار کے ساتھ ساتھ "حی علی خیر العمل " صرف علویین، اہل بیت (ع) اور ان کے شیعوں کا شعار بن کر رہ گیا۔ یھاں تک کہ حسین بن علی جو "صاحب فتح" کے نام سے مشھور ہیں، کے انقلاب کا آغاز ہی اسی طرح ہوا کہ عبد اللہ بن حسین افطس گلدستۂ اذان پر چڑھ گئے جو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مطھر کے سرھانے واقع تھا، اور موذن سے کہا کہ "حی علٰی خیر العمل " کے ساتھ اذان کھو۔ موذن نے جب ان کے ھاتھ میں تلوار دیکھی تو ایسا ہی کیا۔ اور جب عمری (منصور کی طرف سے مدینہ کا گورنر) نے اذان میں "حی علٰی خیر العمل " سنا تو ماحول اپنے خلاف محسوس کیا، وہ دھشت زدہ ہوگیا اور چلایا: "دروازے بند کرو اور مجھے پانی پلاؤ"(۷۰)

تنوخی نے ذکر کیا ہے کہ ابو الفرج نے خبر دی ہے کہ اس نے اپنے زمانہ میں لوگوں کو اپنی اذان میں "حی علٰی خیر العمل " کھتے ہوئے سنا ہے۔(۷۱)

حلبی کا بیان ہے کہ بعض نے ذکر کیا ہے: آل بویہ کی حکومت میں رافضی حیعلات (حی علی الصلاة، و حی علی الفلاح) کے بعد "حی علی خیر العمل " کھتے تھے۔ جب سلجوقیہ کی حکومت آئی تو انھوں نے موذن سے "حی علٰی خیر العمل " کھنے کو منع کردیا، اور حکم دیا کہ صبح کی اذان میں اس کی جگہ پر دو مرتبہ "الصلاة خیر من النوم" کہا جائے۔ یہ ۴۴۸ ھجری کی بات ہے۔(۷۲)


"حی علیٰ خیر العمل " کے جزء اذان ہونے کے سلسلہ میں علماء کے نظریات

شیعہ علماء اور فقھاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام سے وارد روایتوں پر عمل کرتے ہوئے قائل ہیں کہ "حی علی خیر العمل " اذان و اقامت کا جز ہے اور اس کے بغیر اذان و اقامت صحیح نہیں ہے۔

انھیں علماء میں سے شیخ مفید (رح)(۷۳) ور سید مرتضیٰ (رح) بھی ہیں۔ سید مرتضیٰ (رح) اپنی کتاب 'الانتصار" میں یوں رقمطراز ہیں: "ومما انفردت به الا مامیه ان تقول فی الاذان والاقامة بعد قول "حی علٰی الفلاح" "حی علیٰ خیر العمل "والوجه فی ذلک اجماع الفرقه المحقة علیه "

ترجمہ: "امامیہ کا دوسرے فرقوں سے ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ اذان اور اقامت میں "حی علی الفلاح" کے بعد "حی علٰی خیر العمل " کھتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقہ حقہ کا اس پر اجماع ہے"۔

اس کے بعد سید مرتضیٰ (رح) فرماتے ہیں: اہل سنت نے یہ روایت کی ہے کہ یہ فقرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کے کچھ دنوں بعد تک اذان میں شامل تھا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور یہ فقرہ ھٹا دیا گیا۔(۷۴)

(مندرجہ بالا روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل سنت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کے اوائل میں "حی علٰی خیر العمل " کے وجود کے قائل ہیں لیکن بعد میں اس کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔) اور جو بھی اس کے نسخ کا دعویٰ کرتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے سلسلہ میں دلیل پیش کرے۔ لیکن ان لوگوں کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔(۷۵)

انھیں علماء میں شیخ طوسی (رح)(۷۶) قاضی عبد العزیز بن براج، طرابلسی (رح)(۷۷) ابن ادریس حلی (رح)(۷۸) علامہ حلی (رح)(۷۹) محقق اردبیلی (رح)(۸۰) شیخ یوسف بحرینی (رح)(۸۱) اور شیخ محمد حسن نجفی رح وغیرہ بھی شامل ہیں۔

شیخ محمد حسن نجفی رح فرماتے ہیں:"وکیف کان، فا لاذان علی الاشهر الخ" بھر حال ہمارے نزدیک مشھور ترین قول کی بنیاد پر اذان، فتویٰ ہے۔ اور اگر اس کی دلیل میں کوئی ایسی روایت نہ بھی ہو جو بہت مشھور ہو تب بھی ہم اس پر اجماع کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ بلکہ "مدارک" میں آیا ہے کہ "اس پر فقھاء کا اجماع ہے اور اس میں ہمارا کوئی مخالف نہیں ہے۔" علامہ حلی (رح) نے "تذکرہ" اور نھایة الاحکام" سے حکایت شدہ قول میں اس کی نسبت "فقھاء شیعہ" کی طرف دی ہے۔ اور شھید اول نے "ذکریٰ" میں کہا ہے کہ اصحاب اس پر عمل کرتے چلے آرھے ہیں۔ اور مسالک میں ہے کہ شیعہ اور فقھاء شیعہ سب اس سلسلہ میں متحد ہیں۔ بلکہ "غنیة" کی عبارت سے ظاھر ہوتا ہے کہ اذان کی اٹھارہ فصلوں پر اجماع قائم ہے یعنی اس کی فصلیں نہ اٹھارہ سے کم ہیں اور نہ زیادہ۔

چار مرتبہ تکبیر، توحید کی گواھی، پھر رسالت کی گواھی، پھر حی علی الصلاة، پھر حی علی الفلاح، پھرحی علی خیر العمل ، پھر تکبیر اور اسکے بعد تھلیل (لا الٰہ الا اللہ)۔ ان میں سے ھر فصل دو دو بار۔ بلکہ "معتبر" اور "تذکرہ" میں اس کے علاوہ "ناصریات" سے حکایت کئے گئے قول کی بنیاد پر، نیز بحار اور "منتھی" میں اذان کے آخر میں دو مرتبہ "لا الٰہ الا اللہ" ہونے پر اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اور "منتھی" میں اذان کے شروع میں چار مرتبہ تکبیر پر بھی اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اقامت کی فصلوں کے سلسلہ میں فقھاء کے درمیان عظیم شھرت یہ ہے، بلکہ "تذکرہ" میں شھرت کی نسبت فرقۂ امامیہ، اور منتھی و نھایہ میں اس کی نسبت علماء شیعہ کی طرف دی گئی ہے، "مھذب" سے حکایت شدہ قول کے مطابق فقھاء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اور شھید نے "ذکریٰ" میں کہا ہے کہ فقھاء اسی پر عمل کرتے چلے آرھے ہیں۔ اور صاحب مسالک نے کہا ہے کہ ایک گروہ اس پر عمل پیرا رھا ہے کہ اقامت کی تمام فصلیں دو دو مرتبہ ہیں۔ "حی علٰی خیر العمل " اور تکبیر کے درمیان دو مرتبہ "قدقامت الصلاة " کا اضافہ ہے۔ اور آخر سے ایک مرتبہ "لا الٰہ الا اللہ" ساقط ہے۔ اس طرح اس کی سترہ فصلیں گوگئیں۔(۸۲)

"حی علی خیر العمل " کے اذان سے نکالنے کی وجہ

اب تک کی بحث سے یہ ثابت ہوگیا کہ "حی علی خیر العمل " پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اذان و اقامت کا جز تھا۔ خلیفہ ثانی نے اپنی خلافت کے دوران لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ خیر عمل، راہ خدا میں جھاد ہے۔ تاکہ لوگ جھاد کی طرف راغب ہوں اور اپنی پوری کوشش اسی میں صرف کریں۔ اور انھوں نے یہ گمان کیا کہ پانچوں وقت، نماز کے خیر عمل ہونے کی صدا ان کے مشن کے منافی ہے۔

بلکہ انھیں خوف پیدا ہوگیا کہ اگر یہ فقرہ اذان میں باقی رہ گیا تو لوگ جھاد سے رو گردانی کریں گے۔ کیونکہ جب لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ نماز خیر عمل (سب سے اچھا عمل) ہے جب کہ اس میں سلامتی و سکون بھی ہے تو حصول ثواب کے لئے صرف اسی پر اکتفا کریں گے اور جھاد، جو کہ نماز سے کمتر درجہ رکھتا ہے، کا خطرہ مول لینے سے پرھیز کریں گے۔

لھذا انھوں نے مقدس، شرعی قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اس (خود ساختہ) مصلحت کو مقدم کرتے ہوئے اس فقرہ کو اذان سے نکال دیا۔ (جیسا کہ قوشجی، جو کہ فرقۂ اشاعرہ کے علماء کلام کے ائمہ میں سے ہیں، نے شرح تجرید کی بحث امامت کے آخر میں وضاحت کی ہے۔)

چنانچہ خلیفہ ثانی نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا :تین چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں رائج تھیں اور میں ان سے منع کرتا ہوں، اور ان کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اگر کوئی ان کو انجام دے گا تو میں اسے سزادوں گا "عورتوں سے متعہ کرنا، حج تمتع انجام دینا اور اذان میں "حی علی خیر العمل " کھنا۔

قوشجی نے اس کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ اجتھادی مسائل میں ایک مجتھد کی دوسرے سے مخالفت کرنا بدعت نہیں ہے۔(۸۳)

ابن شاذان اہل سنت و الجماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اور ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں نیز خلافت عمر کے اوائل تک اذان میں "حی علٰی خیر العمل " کہا جاتا تھا عمر بن خطاب نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ "حی علی خیر العمل " کو سن کر لوگ نماز پر تکیہ کرلیں گے اور جھاد کو چھوڑ دیں گے۔ لٰھذا انھوں نے اذان سے "حی علی خیر العمل " کو نکالنے کا حکم دے دیا۔(۸۴)

عکرمہ سے روایت ہے: حضرت عمر نے "حی علٰی خیر العمل " کو اذان سے خارج کرنے کا ارادہ اس احتمال کے تحت کیا کہ لوگ نماز پر اکتفا کرتے ہوئے جھاد کو ترک کردیں گے۔ اسی وجہ سے اس کو انھوں نے اذان سے حذف کردیا۔(۸۵)

"ابن حاجب" کی کتاب "مختصر الاصول" کی شرح کے حاشیہ میں سعد الدین تفتا زانی نے ذکر کیا ہے کہ "حی علٰی خیر العمل " رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں رائج تھا، حضرت عمر نے لوگوں کو حکم دیا کہ اسے اذان میں نہ کھیں، اس خوف سے کہ کھیں لوگ جھاد سے رو گردان ہوکر صرف نماز ہی پر اکتفا نہ کر بیٹھیں۔(۸۶)

اس سلسلہ میں پھلا اشکال تو یہ ہے کہ اگر یہ فقرہ لوگوں کی جھاد سے سستی کا سبب تھا تو اصلاً شروع ہی سے نہیں ہونا چاھئے تھا اس لئے کہ یہ خطرہ دائمی تھا۔ اور اسی بنیاد پر اہل سنت نے اس کو آج تک چھوڑ رکھا ہے۔

دوسرے یہ کہ قیصر و کسریٰ کی سوپر پاور طاقتوں کے نیست و نابود ہونے کی بشارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی۔ لھذا اگر اس جملہ سے کوئی خطرہ تھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہونا چاھئے تھا، نہ کہ ان کے بعد کسی کو۔

تیسرے یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں میدان جنگ میں صحابہ کی بلند ہمتی اس گمان کو باطل کردیتی ہے کہ اس سے خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکاب میں جنگ کیا کرتے تھے۔ اور "حی علی خیر العمل " نے ان کے اندر سستی پیدا نہیں ہونے دی۔ اس کی وضاحت خود قرآن کریم نے فرمائی ہے۔(۸۷)

فرقۂ اشاعرہ میں سے علم کلام کے جانے مانے عالم قوشجی کی یہ توجیہ کہ "اجتھادی مسائل میں ایک مجتھد کی دوسرے سے مخالفت، بدعت نہیں ہے(۸۸) ، قطعاً نادرست ہے۔ کیونکہ در حقیقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مرضی سے گفتگو نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ وحی کے اشاروں پر گفتگو فرماتے تھے( وما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحی ) (۸۹)

سید شرف الدین اس کلام کی توجیہ میں کھتے ہیں:

"اس کلام کی توجیہ یہ ہے کہ خلیفۂ ثانی نے یہ گمان کیا کہ لوگ جب نماز کے بہترین عمل ہونے کی صدا سنیں گے تو نماز پر اکتفا کرلیں گے اور جھاد کو ترک کردیں گے۔ جیسا کہ خود خلیفۂ ثانی نے بھی اس سلسلہ میں تصریح کی تھی۔ اور قوشجی کا یہ بیان کہ "اجتھادی مسائل میں ایک مجتھد کی دوسرے سے مخالفت بدعت نہیں ہے" بالکل نادرست ہے۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں نص فرمائی ہے نا کہ اپنا اجتھاد پیش کیا ہے۔ اور نص کی مخالفت جائز نہیں ہے اس لئے کہ مکلفین کے افعال سے متعلق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے صادر ہونے والے احکام کی مخالفت جائز نہیں ہے۔ کیونکہ حلال محمدی قیامت تک کے لئے حلال ہے اور حرام محمدی قیامت تک کے لئے حرام۔ اور اسی طرح دوسرے تمام احکام قیامت تک کے لئے ثابت ہیں چاھے وہ احکام وضعی(۹۰) ہوں یا تکلیفی۔(۹۱) اور اس پر تمام مسلمانوں کا اسی طرح اجماع ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر۔ اور اس کے خلاف کسی نے ایک حرف بھی کھنے کی ہمت نہیں کی ہے۔

اور قرآن کریم نے اس حقیقت کی وضاحت کی ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاکم عنه فانتهوا واتقوا الله ان الله شدید العقاب ) (۹۲)

ترجمہ: اور جو کچھ بھی رسول تمھیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کردیں اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( وما کان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضیٰ الله ورسوله امرا ان یکون لهم الخیرة من امرهم ومن یعص الله ورسوله فقد ضل ضلالا مبیناً ) (۹۳)

ترجمہ: اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا اور رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی ہوئی گمراھی میں مبتلا ہوگا۔

ایک اور جگہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینهم ثم لا یجدوا فی انفسهم حرجاً ممّا قضیت ویسلموا تسلیماً ) (۹۴)

ترجمہ: پس آپ کے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ ھرگز صاحب ایمان نہ بن سکیں گے جب تک کہ آپ کو اپنے اختلاف میں حکم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں۔

یہ بھی ارشاد ہے:

( انه لقول رسول کریم ذی قوة عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین ) (۹۵)

ترجمہ: بے شک یہ ایک معزز فرشتہ کا بیان ہے۔ وہ صاحب قوت ہے اور صاحب عرش کی بارگاہ کا مکین ہے۔ وہ وہاں قابل اطاعت اور پھر امانتدار ہے۔

پھر یوں ارشاد ہوتا ہے:

( انه لقول رسول کریم وما هو بقول شاعر قلیلا ما تؤمنون ولا بقول کاهن قلیلا ما تذکرون تنزیل من رب العالمین ) (۹۶)

ترجمہ: یہ ایک محترم فرشتہ کا بیان ہے۔ اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔ ھاں تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔ اور کسی کاھن کا کلام نہیں ہے جس پر تم بہت غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔

خدا کا یہ بھی قول ہے:

( وما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحی علمه شدید القویٰ ) (۹۷)

ترجمہ: اور وہ اپنی خواھش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے۔ اس کا کلام وحی ہے، جو مسلسل نازل ہوتی رھتی ہے۔ اسے نھایت طاقت والے نے تعلیم دی ہے۔

پروردگار کا یہ بھی بیان ہے:

( لا یاتیه الباطل من بین یدیه ولا من خلفه تنزیل من حکیم حمید ) (۹۸)

ترجمہ: جس کے قریب، سامنے یا پیچھے، کسی بھی طرف سے باطل کا گذر بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ خدائے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے۔

جو بھی ان آیات پر ایمان رکھتا ہے یا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرتا ہے اس کو یہ حق نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ نصوص سے بال برابر بھی رو گردانی کرے۔ اور ایسے لوگوں سے خدا کی پناہ جو حد سے گذر جاتے ہیں اور تاویلوں کا سھارا لیتے ہیں۔(۹۹)

"حی علی خیر العمل " کے جزء اذان ہونے پر مزید تاکید

زرکشی نے بحر المحیط میں رقم کیا ہے: اس میں اسی طرح اختلاف ہے جس طرح اور دوسروی چیزوں میں۔ ابن عمر جو اہل مدینہ کا سردار تھا، اذان کو جدا جدا کھنے کا قائل تھا اور اذان میں "حی علی خیر العمل " کھتا تھا۔(۱۰۰)

کتاب سنان کے الفاظ یہ ہیں: "الصحیح ان الاذان شرع بحی علٰی خیر العمل " درست یہ ہے کہ شریعت اسلامی میں اذان "حی علی خیر العمل " کے ساتھ شروع ہے۔(۱۰۱)

روض النضیر میں ہے: بہت سے مالکی، حنفی اور شافعی علماء کھتے ہیں کہ "حی علی خیر العمل " اذان کا جز تھا۔(۱۰۲)

شوکانی "کتاب الاحکام" سے نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ہمارے لئے یہ ثابت ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں "حی علی خیر العمل " اذان کا جز تھا اور اسی کے ساتھ اذان کھی جاتی تھی۔ اور یہ سلسلہ حضرت عمر کے زمانہ تک جاری رھا انھوں نے اس کو حذف کردیا۔(۱۰۳)

گذشتہ گفتگو سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ "حی علٰی خیر العمل " کا فقرہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر کی خلافت کے دوران اور حضرت عمر کی خلافت کے شروع میں اذان میں موجود تھا یھاں تک کہ حضرت عمر نے اپنے اجتھاد سے اس کو حذف کردیا۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس فقرہ کو حذف کرنے میں مصلحت تھی تو اب، جب کہ وہ مصلحت باقی نہیں رھی، کس جواز کے تحت اس کو ترک کیا جارھا ہے!!

اور ہم سب، رسول وآل رسول علیہم السلام کی سنت کی طرف کیوں نہیں پلٹ جاتے؟!

نتیجہ

گزشتہ دلیلوں اور تمام شواھد کے ذریعہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ "حی علی خیر العمل " اذان و اقامت کا جز تھا۔ اس کی یہ جزئیت خلیفۂ اول اور خلیفۂ دوم کی خلافت کے ابتدائی دور تک بھی رائج رھی۔

پھر خلیفۂ ثانی نے بیجا دلیلوں کا سھارا لیتے ہوئے اس کو حذف کرنے کا حکم دے دیا جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو تثبیت فرما چکے تھے۔

____________________

۱. سنن بیھقی: ۱/ ۶۲۵ - البحر الرائق: ۱/ ۲۷۵، عن شرح المھذب

۲. الانتصار، سید مرتضیٰ (رح) : ۱۳۷

۳. وسائل الشیعہ، جامع احادیث شیعہ، بحار الانوار و مستدرک الوسائل: باب اذان

۴. السنن، ابو داؤد: ۱/ ۱۳۴، حدیث نمبر ۴۹۸ و ۴۹۹

۵. آپ پر خدا کا بہت بڑا فضل ہے۔ (سورۂ نساء: ۱۱۳)

۶. اور آپ کو ان تمام باتوں کا علم دے دیا ہے جن کا علم نہ تھا۔ (سورۂ نساء: ۱۱۳)

۷. سورۂ آل عمران: ۱۵۹

۸. فتح الباری، ابن حجر: ج/۲، ص۱۸۱، دار المعرفہ

۹. السنن، بیھقی: ۱/ ۶۰۸

۱۰. السیرة النبویہ؛ حلبی: ۲/ ۹۵

۱۱. صحیح بخاری: ۱/ ۳۰۶، باب اذان کی ابتداء، مطبع: دار القلم لبنان۔

۱۲. النص و الاجتھاد، شرف الدین عاملی: ص ۲۰۰، مطبع: اسوہ

۱۳. تھذیب التھذیب، ابن حجر: ۱۳/ ۸۸، حدیث نمبر: ۸۶۷

۱۴. تھذیب الکمال، جمال الدین المزی: ۲۴/ ۳۰۴

۱۵. تھذیب الکمال، جمال الدین المزی: ۲۴/ ۴۲۳، اس کے علاوہ ملاحظہ ہو تاریخ بغداد: ۱/ ۳۲۱، ۲۲۴

۱۶. السنن، ترمذی: ۱/ ۳۶۱۔ تھذیب التھذیب، ابن حجر: ۵/ ۲۲۴

۱۷. تھذیب الکمال، جمال الدین المزی: ۱۴/ ۵۴۱، مطبع: موسسہ رسالت

۱۸. مستدرک الحاکم، حاکم نبشابوری: ۳/ ۳۳۶

۱۹. وہ فرقہ جو تقدیر کا منکر ہے اور ھر شخص کے مختار ہونے کا قائل ہے۔ المنجد اردو، ص/۷۸۲ (مترجم).

۲۰. تھذیب الکمال، جمال الدین المزی: ۱۶/ ۵۱۵، حدیث نمبر: ۳۷۵۵

۲۱. تھذیب الکمال، جمال الدین المزی: ۲۵/ ۱۳۸، حدیث نمبر: ۵۱۷۷

۲۲. نیل الاوطار، الشوکانی: ۲/ ۴۲

۲۳. المسند، امام احمد: ۴/ ۶۳۲، ۶۳۳، حدیث نمبر: ۱۶۰۴۱، ۱۶۰۴۲، ۱۶۰۴۳۔

۲۴. میزان الاعتدال، ذھبی: ۲/ ۱۰۰، حدیث نمبر: ۲۹۹۷

۲۵. السنن، دارمی: ۱/ ۲۸۷، باب: بدء اذان (اذان کی ابتدا).

۲۶. الموطاء، ابن مالک: ۴۴، باب: نماز کے لئے صدا دینے کے بارے میں۔ حدیث نمبر: ۱

۲۷. سیر اعلام النبلاء، ذھبی ۵/ ۴۶۸، حدیث نمبر: ۲۱۳

۲۸. طبقات الکبریٰ، ابن سعد: ۱/ ۲۴۶، ۲۴۷

۲۹. تھذیب الکمال، جمال الدین المزی: ۲۷/ ۵۰۸، حدیث نمبر: ۵۹۲۵

۳۰. تھذیب الکمال، جمال الدین المزی ۲۶/ ۴۲۹، ۴۴۰

۳۲. السنن، بیھقی: ۱/ ۵۷۵، حدیث نمبر: ۱۸۳۷

۳۳. السنن، دارقطنی: ۱/ ۲۴۵، حدیث نمبر: ۵۷

۳۴. میزان الاعتدال، ذھبی ۳/ ۶۴۷، حدیث نمبر: ۸۰۱۷، ۸۰۱۸۔ تھذیب الکمال، جمال الدین المزی: ۲۶/ ۲۲۰، حدیث نمبر: ۵۵۱۶۔ تھذیب التھذیب، ابن حجر: ۹/۳۷۸ ، حدیث نمبر: ۶۲۰، مطبع: دار صادر۔

۳۵. السنن، دارقطنی: ۱/ ۲۴۲، حدیث نمبر: ۳۱

۳۶. السنن، دارقطنی: ۱/ ۲۴۲، حدیث نمبر: ۳۱

۳۷. وسائل الشیعہ، حر عاملی: ۴/ ۶۱۲، باب اذان و اقامت، حدیث نمبر: ۲

۳۸. وسائل الشیعہ، حر عاملی: ۵/ ۳۶۹، ابواب الاذان والاقامة، حدیث نمبر: ۱ مترجم

۳۹. وسائل الشیعہ، حر عاملی: ج۴، ابواب الاذان والاقامہ، حدیث نمبر /۳

۴۰. فتح الباری فی شرح البخاری: ۲/ ۸۷، مطبع: دار المعرفہ لبنان

۴۱. وسائل الشیعہ، حر عاملی: ج۴، باب اذان و اقامت، باب /۹، ص/۳

۴۲. مصدر سابق، ج۱۰

۴۳. سعد السعود: ۱۰۰، بحار الانوار: ۸۱/ ۱۰۷، جامع الاحادیث الشیعہ: ج/۲، ص۲۲۱

۴۴. السنن، بیھقی: ۱/ ۶۲۴، حدیث نمبر: ۱۹۹۱

۴۵. السنن، بیھقی: ۱/ ۶۲۴، حدیث نمبر: ۱۹۹۱

۴۶. السنن، بیھقی: ۱/ ۲۴۴۔ دلائل الصدق: ج/۳، قسم/ ۲، ص/۱۰۰، بحوالہ مبادی الفقہ الاسلامی: ۳۸، بحوالہ شرح تجرید، جس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور "شفاء" میں اس کو نقل کیا ہے۔ جیسا کہ صعدی نے "جواھر الاخبار والآثار المستخرجة من لجة البجر الذخار"، کی جلد/۲، ص۱۹۲، پر نقل کیا ہے۔

۴۷. السنن، بیھقی: ۶۲۵، مطبع: دار الکتب العلمیہ، لبنان۔

۴۸. السنن، بیھقی:: ۱/ ۴۶۰

۴۹. السنن، بیھقی: ۱/ ۱۴۵، اور مصنف عبد الرزاق کا حاشیہ: ۱/ ۴۶۰

۵۰. السنن، بیھقی: ۱/ ۴۲۵

۵۱. دلائل الصدق: ج/۳، قسم /۲، ص/۱۰۰، بحوالہ مبادی الفقہ الاسلامی: ۳۸، سن طباعت ۱۳۵۴ ھجری۔

۵۲. مجمع الزوائد: ۱/ ۳۳۰۔ طبرانی کی کتاب الکبیر کے حوالہ سے۔ مصنف عبدالرزاق: ۱/ ۴۶۰، حدیث نمبر: ۱۷۸۶۔ سنن بیھقی: ۱/ ۶۲۵، حدیث نمبر: ۱۹۹۴۔ منتخب الکنز، حاشیہ مسند: ۳/ ۲۷۶۔ ابی شیخ کی کتاب "کتاب الاذان" کے حوالہ سے۔دلائل الصدق، ج/۳، قسم/۲، ص/۹۹

۵۳. رجوع کریں، الموطاء، مالک: ۴۶۔ سنن دارقطنی۔ مصنف عبدالرزاق: ۱/ ۴۷۴، ۵۷۴، حدیث نمبر: ۱۹۹۴۔ نمبر ۱۸۲۷، ۱۸۲۹، ۱۸۳۲۔ منتخب عبدالرزاق حاشیۂ مسند: ۳/ ۲۷۸۔ اس میں ہے کہ یہ کہا کہ یہ بدعت ہے۔ ترمذی اور ابو داؤد وغیرہ۔

۵۴. منتخب کنز العمال، حاشیۂ مسند: ۳/ ۲۷۶۔ دلائل الصدق: ج/۳، قسم/۲، ص/۹۹، بحوالہ کنز

۵۵. بحر ذخار: ۲/ ۱۹۲، جواھر الاخبار والآثار: حاشیہ/ ۱۹۲

۵۶. میزان الاعتدال، ذھبی: ۱/ ۱۳۹۔ لسان المیزان، عسقلانی ۱/ ۲۶۸

۵۷. میزان الاعتدال، ذھبی: ۱/ ۱۳۹۔ لسان المیزان، عسقلانی ۱/ ۲۶۸

۵۸. امام صادق و مذاھب اربعہ: ۵/ ۳۸۲

۵۹. السیرة الحلبیہ۔ باب الاذان: ۲/ ۹۸، مطبع: مکتبة الاسلامیہ

۶۰. دلائل الصدق: ج/۳، قسم/۲، ص/۱۰۰، بحوالہ مبادی الفقہ الاسلامی: ۳۸۔ سن طباعت ۱۳۵۴ ھجری، المحلی: ۳/ ۱۶۰

۶۱. رجوع کریں: وسائل الشیعہ: ۴/ ۲۴۵، باب کیفیت اذان، حدیث نمبر: ۱۲، جامع احادیث الشیعہ۔ قاموس الرجال

۶۲. جواھر الاخبار والآثار المسترجہ من الحجة البحر الزخار: ۲/ ۱۹۱۔ امام صادق ع. اور مذاھب اربع: ۵/۲۸۴

۶۳. سنن بیھقی: ۱/ ۶۲۵، حدیث نمبر: ۱۹۹۳، دلائل الصدق: ۳/ قسم/۲، ص/۱۰۰، بحوالہ مبادی الفقہ الاسلامی: ۳۸، بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ، جواھر الاخبار والآثار: ۲/ ۱۹۲

۶۴. دلائل الصدق: ۳، قسم/۲، ص/۱۰۰، بحوالہ مبادی الفقہ الاسلامی: ۳۸

۶۵. دعائم الاسلام: ۱/ ۱۴۵۔ بحار الانوار: ۸۴/ ۱۷۹

۶۶. جواھر الاخبار والآثار، صعدی: ۲/ ۱۹۲

۶۷. البحر الزخائر، جواھر الاخبار والآثار دونوں کے حاشیہ پر.: ۲/ ۱۹۲

۶۸. دعائم الاسلام : ۱/ ۱۴۲۔ بحار الانوار: ۸۴/ ۱۵۶

۶۹. دعائم الاسلام : ۱/ ۱۴۲۔ بحار الانوار: ۸۴/ ۱۵۶

۷۰. مقاتل الطالبین: ۱۴۴۶

۷۱. نشوار المحاضرات: ۲/ ۱۳۳

۷۲. نشوار المحاضرات: ۲/ ۱۳۳

۷۳. المقنعہ، شیخ مفید: باب فصول الاذان والاقامہ

۷۴. المدونة الکبریٰ: ۱/ ۷۵، بدایة المجتھد: ۱/ ۱۲۱

۷۵. الانتصار، سید مرتضیٰ موسوی: مسئلہ نمبر: ۳۵

۷۶. الخلاف، شیخ طوسی: ۱/ ۲۷۸، اور ۲۷۹، کتاب الصلاة، مسئلہ نمبر: ۱۹، ۲۰

۷۷. المھذب، قاضی ابن براج: ۱/ ۸۸، باب اذان و اقامت

۷۸. السرائر، ابن ادریس حلی: ۱/ ۲۱۳، کتاب الصلاة، احکام اذان و اقامت.

۷۹. تذکرة الفقھاء، علامہ حلی: ۳/ ۴۱: مسئلہ نمبر: ۱۵۶، عدد فصول اذان و اقامت

۸۰. مجمع الفائدہ والبرھان، محقق اردبیلی: ۲/ ۱۷۰، کتاب الصلاة، کیفیت اذان و اقامت

۸۱. الحدائق الناضرة، شیخ یوسف بحرانی: ۷/ ۳۶۲، فصول اذان اقامت

۸۲. جواھر الکلام، شیخ محمد حسن نجفی: ۹/ ۸۱، ۸۲، اذان و اقامت کی فصلوں کے بارے میں

۸۳. شرح التجرید، فاضل قوشجی

۸۴. الایضاح: ۲۰۱/ ۲۰۲

۸۵. بحار الانوار: ۸۴/ ۱۳۰۔ علل الشرائع: ۲/ ۵۶

۸۶. دلائل الصدق: ۳۔ قسم، /۲، ص/۱۰۰، بحوالۂ مبادی الفقہ الاسلامی: ۳۸۔ سیرة المصطفیٰ، سید ھاشم معروف: ۲۷۴، بحوالۂ الروض النضیر: ۲/ ۴۲

۸۷. سورۂ توبہ: ۱۱۱، ۱۱۲

۸۸. شرح تجرید، فاضل قوشجی: ۴۸۴

۸۹. سورۂ نجم: ۳، ۴

۹۰. جیسے صحت و بطلان، مترجم.

۹۱. جیسے وجوب و حرمت مترجم.

۹۲. سورۂ حشر:۷

۹۳. سورۂ احزاب: ۳۶

۹۴. سورۂ نساء: ۶۵

۹۵. سورۂ تکویر: ۱۹ تا ۲۱

۹۶. سورۂ حاقہ: ۴۰ تا ۴۳

۹۷. سورۂ نجم: ۳تا ۵

۹۸. سورۂ فصلت: ۴۲

۹۹. نص اور اجتھاد، سید شرف الدین عاملی: مقدمۂ کتاب

۱۰۰. الروض النضیر: ۱/ ۵۴۲

۱۰۱.الروض النضیر: ۱/ ۵۴۲

۱۰۲. الروض النضیر: ۱/ ۵۴۲

۱۰۳. نیل الاوطار: ۲/ ۳۲


فہرست

حرف اول ۴

انتساب ۶

مقدمہ ۷

ترویج اذان: اہل سنت کی نظر میں ۷

پہلی وجہ: ان روایات کا منصب رسالت سے سازگار نہ ہونا ۱۰

دوسری وجہ: روایات میں بنیادی اختلاف ۱۱

تیسری وجہ: خواب: ایک نہیں بلکہ چودہ اشخاص نے دیکھا ۱۲

چوتھی وجہ: بخاری سے منقول روایت اور دوسری روایات کے درمیان تعارض ۱۳

پہلی روایت ۱۴

دوسری روایت ۱۴

تیسری روایت ۱۵

چوتھی روایت ۱۵

پانچویں روایت ۱۶

ب) وہ روایت جس کو دارمی نے اپنی مسند میں ذکر کیا ۱۷

الف) مسلم بن خالد بن قرة: جس کو ابن جرحہ بھی کہا جاتا تھا۔ ۱۹

ب) محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبداللہ بن شھاب زھری مدنی (۵۱۔ ۱۲۳ ھجری)۔ ۱۹

ھ۔) وہ روایت جو بیھقی نےا پنی سنن میں نقل کی ہے ۱۹

و) دارقطنی کی روایت ۲۰

اہل بیت اور ترویج اذان کی کیفیت ۲۱


" حی علٰی خیر العمل " کے جزء اذان ہونے کی دلیل ۲۳

عبد اللہ ابن عمر سے مروی احادیث ۲۳

سھل بن حنیف کی بیان کردہ احادیث ۲۴

بلال (رض) سے مروی احادیث ۲۴

ابی محزورہ سے منقول روایات ۲۴

ابن ابی محذورہ کی روایت ۲۵

زید بن ارقم سے مروی حدیث ۲۵

دوم: وہ روایتیں جو صحیح سندوں کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں ۲۵

حضرت علی بن الحسین علیہما السلام سے منقول روایات ۲۶

حضرت محمد باقر علیہ السلام سے مروی احادیث ۲۶

"حی علیٰ خیر العمل " کے جزء اذان ہونے کے سلسلہ میں علماء کے نظریات ۲۸

" حی علی خیر العمل " کے اذان سے نکالنے کی وجہ ۲۹

" حی علی خیر العمل " کے جزء اذان ہونے پر مزید تاکید ۳۲

نتیجہ ۳۳