سبھي كے جاننے كي باتيں
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف ‏آيت اللہ ابراهیم امینی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب:سبھی کے جاننے کی باتیں

مؤلف:ابراہیم امینی


دیباچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم؛

ہم آپ سے سوال کریں گے کہ کیا اس دنیا کا پیدا کرنے والا کوئی ہے؟ یا یہ دنیا خود بخود وجود میں آ گئی ہے اگر خدا ہے تو اس کے صفات اور اس کے یہ کام کیسے ہیں؟ کیا خدا نے ہمارے لئے دنیا میں رہنے کے طریقے اور قانون و احکام وضع کئے ہیں کہ ہم اس کے مطابق عمل کریں یا نھیں؟ کیا خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء اپنے وعدے اور دعوے میں سچے تھے یا نھیں؟ کیا اس دنیا کے بعد کوئی دنیا موجود ہے یا نھیں؟ یعنی کیا انسان اپنے کئے ہوئے کاموں کی جزایا سزا پائے گا؟

انسان کی عقل ہمیشہ اور ہر وقت ان سوالات کے جواب کی تلاش میں رہتی ہے،اگر یہ سوالات واضح اور حل ہوجائیں تو اس کے ضمن میں سیکڑوں سوالات سے خود بخود نجات مل جائے گی، انسان کی عقل اچھے اور برے، غلط اور صحیح، حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے پر قادر ہے اور جب تک ان سوالات کو حل نہ کرلے، اس وقت تک اپنی جگہ پر آرام و اطمینان سے نہیں بیٹھ سکتی، لہٰذا ان کا حل دل و دماغ کے لئے سکون کا باعث ہے ۔

اس طرح کے موضوعات اور سوالات کو اصول دین کہتے ہیں، اصول دین ان چیزوں کو کہاجاتا ہے جس کا تعلق انسان کی روح اورعقل و فکر سے ہوتا ہے، اور اس میں عقلی دلیلوں ہی کافقط گذر ہوتا ہے، اور تا حد نظر ثابت ہونے کے بعد اس کے اثرات اور اعمال انسان کے اعضا و جوارح سے رونما ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اصول دین میں تقلید کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ہر بالغ وعاقل کے لئے ضروری ہے کہ ان چیزوں کو دلیلوں کے ذریعہ حاصل کرے، اگر انسان نے اپنے عقائد کو اساسی اور بنیادی دلیلوں کے ذریعہ حاصل کیا ہے تو اس کا دل اور اس کی عقل مطمئن ہوجائے گی اور اندرونی حیرانی و سرگردانی اور پریشانی سے نجات پاجائے گا، اس وقت انسان اپنی من پسند زندگی بسر کرسکتاہے ۔

بچے اور نوجوان صغر سنی اور نوجوانی کے ایام ہی تہذیب و تربیت کے لئے بھترین دن ہوتے ہیں، ان دنوں میں بچوں اور نوجوانوں کے دل و دماغ اور غلط افکارسے پاک و صاف رہتے ہیں یعنی ان کی ذھنیت کثافتوں سے محفوظ مثل کیمرہ کی فلم کے ہوتی ہے کہ جیسی چاہیں تصویریں اتار لیں ۔

اگر ان بچوں کی تعلیم و تربیت صحیح ڈھنگ اور عقائد کو دلیل و برہان کے ذریعہ بتائی جائیں تو ان کی عقل و روح میں وہ بات راسخ ہو جائے گی، اور ان کے بدن کا جزء لا ینفک ہو جائے گا، پس ایسے افراد جہاں کھیں بھی رہیں اور جیسے افراد کے ساتھ رہیں اٹھیں بیٹھیں معاشرت کریں، ہر گز گمراہ نہیں ہو نگے لہذا اگر ایسے افراد غیر مہذب معاشرہ اور سوسائٹی میں پروان چڑھیں تو بھی اس ماحول میں ڈھل نہیں سکتے، بلکہ یہ چاہیں تو پورے سماج و معاشرہ کو اپنے رنگ میں ڈھال دیں ۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا معاشرہ صحیح تربیت و تعلیم سے محروم ہے کیونکہ انھوں نے اپنے والدین سے بھی عقائد کو اسی طریقے سے حاصل کیا ہے لہذا اس کے مطابق اپنے بچوں کو بغیر دلیل و برہان کے عقائد کی تعلیم دیتے ہیں، لہذا ان کا عقیدہ محکم و مستحکم نہیں ہوپاتا، دوسرے ایسے بعض خرافاتی اور بے بنیاد مسائل کو دین اسلام کا جز اور عقائد کی مہم کڑی کے عنوان سے فکر کرتے ہیں اور انھیں باطل عقیدوں کے ساتھ پرائمری پہر ہائی اسکول اور انٹر کالج اور اس کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے جاتے ہیں اور یہاں پروہ مختلف افراد، متفرق عقائد کے لوگوں سے سروکار رکھتے ہیں، چونکہ ان کے عقیدہ کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی اور خرافاتی چیزوں کو مذھب کا رکن سمجھتے ہیں اس لئے مختصر سے ہی اعتراضات اور شبہات میں پریشان و متحیر ہوجاتے ہیں، علمی معیار و عقائدی معلومات کی کمی کی وجہ سے حق و باطل، اچھے اور برے، غلط و صحیح میں تمیز دے نہیں پاتے جس کے نتیجہ میں اصل دین اور روح اسلام سے بد ظن ہو جاتے ہیں، حیران و سرگردان زندگی بسر کرتے ہیں، یا کلی طور پر اسلام سے منھ موڑ لیتے ہیں، یا کم از کم ان کے اخلاق و رفتار اور اعمال پر اتنا گہر ا اثر پڑتا ہے کہ اب ان کے اعمال کی پہلی کیفیت باقی نہیں رہتی ہے اور احکام و عقائد سے لاپروا ہو جاتے ہیں ۔

اس طرح کی غلط تربیت اور اس کے اثر کو آپ معاشرے میں بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو ان بے چاروں کو ذلت و گمراہی کے اندھیرے سے نکالنے کی فکر کرے ۔

ہماری ذمہ داری

عقیدہ کی کمزوری، اور بے دینی، آنے والی نسلوں کو ایک بڑے خطرے سے دوچار ہونے کی دہمکی دی ہی ہے، سماج کا ہر فرد اور خصوصا دین کے لیڈران، مولوی، ذاکرین، والدین، مربی، استاد، مصنفین و مولفین اور مالدار یہاں تک کہ سبھی حضرات اس عظیم فاجعہ اور بڑی مصیبت کے ذمہ دار ہیں ۔

ہمیں چاہیے کہ ایک منظم اور صحیح پروگرام کے تحت عقائد و اخلاق کی تعلیم، دلیلوں کے ذریعہ سیدھے سادے افراد اور بچوں کے ذھن نشین کرائیں اور بے بنیاد، غلط ماحول اور رسم و رسومات کے خرافاتی عقائد کی بیخ کنی اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں، ان کے لئے آسان اور علمی کتابیں فراہم کریں، لائبریری بنائیں اور کم قیمت یا بغیر قیمت کے کتابیں ان کے اختیار میں قرار دیں، ہر ممکن طریقہ سے پڑھنے لکھنے کی طرف شوق و رغبت دلائیں ۔

سر دست یہ کتاب حاضر جوانوں اور نوجوانوں کی دینی معلومات میں اضافہ کےلئے ترتیب دی گئی ہے، اور اس کے لکھنے میں مندرجہ ذیل نکات کی طرف بہر پور توجہ رکھی گئی ہے ۔

۔ کتاب کے مطالب دلیل و برہان کی روشنی میں نہایت سادہ اور آسان انداز میں بیان کئے گئے ہیں اور عقلی و عقائدی مطالب کے لئے عقلی دلیلوں کا ہی سہارا لیا گیا ہے اور جو چیزیں تقلیدی اور ضروریاتِ اسلام سے ہیں جیسے فروع دین وغیرہ تو ان میں آیات اور روایات کو مد نظر رکھا گیا ہے اور ضروری مقامات پر حوالے کو حاشیہ میں لکھ دیا گیا ہے، اور بعض جگھوں پر اختصار کے سبب حوالے سے دوری اختیار کی گئی ہے ۔

۔ رسول خدا (ص) اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کی ولادت اور وفات کی تاریخوں میں چونکہ اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے اختصار کے طور پر فقط ایک قول کو منتخب کیا گیا ہے اور باقی اقوال سے چشم پوشی کی گئی ہے ۔

۔ مولفین کو چاہیے کہ اپنے علمی مطالب کو آسان اور سادہ انداز میں بیان کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد استفادہ کر سکیں اور حتيٰ المقدور لکھنے میں اصولی و فلسفی اصطلاحوں سے گریز کیا جائے تاکہ کتاب لوگوں کو تھکانے اور مغز ماری کا سبب نہ بنے ۔

۔ مشکوک و مخدوش، بے فائدہ اور ضعیف مطالب سے اجتناب کیا گیا ہے ۔

۔ اس کتاب میں ان مہم مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا جاننا ہر مسلمان پر واجب ہے اور دین اسلام کے مفھوم کو خلاصہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاکہ قارئین دلچسپی کے ساتھ پڑھیں اور پہر تفصیلی کتابوں کی طرف مائل ہوں۔ قارئین کرام اس مختصر سی کتاب میں فروع دین اور عقائد و اخلاق کے تمام مسائل کو بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ نہایت اختصار ملحوظ خاطر تھا تاکہ آپ حضرات دوسری تفصیلی کتابوں کی طرف رجوع کریں ۔

موجودہ کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے

پہلا حصہ، عقائد:

یعنی ایسے مطالب کو شامل ہے جو انسان کی عقل و فکر اور اعتقاد سے مربوط ہیں اور اصلاً اس میں کسی کی تقلید و پیروی کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ ان کو فقط عقلی دلیلوں سے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔

دوسرا حصہ، اخلاق:

اس میں وہ چیزیں بیان ہوئی ہیں جو انسان کی باطنی حالت اور خواہشات سے تعلق رکھتی ہیں، اس کے راہ حل اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ۔

تیسرا حصہ، فروع دین:

یعنی احکام و قوانین جو انسان کے اعضا و جوارح سے تعلق رکھتے ہیں، کہ ان پر عمل کرنا ضروری و واجب ہے ۔

آخر میں ہم قارئین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ کوئی اچھی تجویز ہو یا کوئی کمی نظر آئے تو مولف کی خدمت میں پیش کریں، تاکہ دوسرے اڈیشن میں اس کی اصلاح کی جا سکے ۔

قم ۔ حوزہ علمیہ ۔ابراہیم امینی

خرداد ۱۳۴۹/۱۹۷۰


پهلی فصل؛ خدا کی پہچان

علم کی اہمیت

اسلام علم و عقل کا دین ہے مسلمانوں سے دلچسپی کے ساتھ علم حاصل کرنے کو چاہتا ہے، اسلام لوگوں کی اہمیت علم و دانش سے دیتا ہے اور حصول علم کو تمام لوگوں پر واجب و لازم جانتا ہے، خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا: اے رسول (ص) پوچھو! بھلا جاننے والے اور نہ جاننے والے کھیں برابر ہو سکتے ہیں؟(۱) اور خدا قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: خدا مومنین کے مقام کو بلند کرتا ہے اور علماء کو سب سے بلند درجہ تک پھنچاتا ہے(۲) رسول (ص) خدا فرماتے ہیں: علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے(۳) آنحضرت (ص) نے فرمایا: عالم وہ ہے جو دوسروں کی معلومات اور اطلاعات سے فائدہ حاصل کرے اور اپنے علم میں اضافہ کرے ۔۔۔۔پُر اہمیت شخص وھی ہے جس کے اعمال و حسنات زیادہ ہوں، اور لوگوں میں بے اہمیت وہ ہے جس کے پاس علم و آگھی نہ ہو(۴) حضرت علی امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں: علم سے بھتر کوئی خزانہ نہیں ہے(۵)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: میں تمھارے جوانوں کو دو حال میں پسند کرتا ہویا علم حاصل کرنے والے یا تعلیم دینے والے ہوں اگر ایسا نہیں ہے تو انھوں نے کوتاہی کی ہے، اور ہر کوتاہی کرنے والا عمر ضائع کرتا ہے اور عمر کو برباد کرنے والا گنھگار ہے اور گنھگار کا ٹھکانہ جھنم ہے۔(۶) حضرت باقر العلوم (ع) فرماتے ہیں: جو شخص حصول علم میں رات و دن سرگرم رہے وہ اللہ کی رحمت میں شریک ہے۔(۷) حضرت سرورکائنات (ص) نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! علمی گفتگو میں ایک گھنٹہ رہنا، اللہ کے نزدیک ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے، جس کی ہر رات میں ہزار رکعت نماز پڑھی گئی ہو۔(۸)

خدا کی پہچان

خدا وند عالم نے دنیا کو پیدا کیا اور اسے منظم طریقہ سے چلا رہاہے، کوئی بھی چیز بغیر سبب کے وجود میں نہیں آتی ہے مثال کے طور پر اگر ہم کسی نئے گہر کو دیکھیں تو یقین کریں گے کہ اس کا بنانے والا، کار گر و مزدور اور نقشہ کھینچنے والا انجینیرکوئی ضرور ہوگا، یعنی یہ گہر انھیں افراد کی زحمات کا نتیجہ ہے کسی کے خیال میں بھی نہیں آئے گا کہ یہ خودبخود تیار ہو گیا ہوگا ۔

اگر ہم ٹیبل پر قلم اور سفید کاغذ رکھ کر چلے جائیں اور واپسی پر دیکھیں کہ اس پر کسی نے لکھا ہے تو دیکھ کر ہمیں اطمینان سا ہوجائے گا کہ ہماری غیر موجودگی میں کوئی آیا تھا، اور اس پر اپنے آثار چھوڑ گیا ہے اگر کوئی کھے بھائی صاحب آپ کی غیر موجودگی میں یہ قلم خود ہی اس پر رواں ہو گیا اوراس نے یہ تمام چیزیں لکھ دی ہے تو ہم اس کی باتوں پر تعجب کریں گے اور اس کی بات غیر معقول قرار دینگے، اگر ہم کسی مقام پر خوبصورت تصویر بھترین پارک میں بنی ہوئی دیکھیں جو ہر ایک کا دل اپنی طرف لبھا رہی ہو تو کیا ہمارے ذھن میں یہ بات آئے گی کہ ہو نہ ہو یہ خود بخود بن گئی ہو گی ۔

ہم گاڑی میں باتیں کرتے ہوئے چلے جا رہے تھے اتفاق سے گاڑی رک گئی ڈرائیور کو اطمینان ہے کہ گاڑی بغیر وجہ کے نہیں رکے گی، کوئی نہ کوئی ضرور موٹر میں خرابی آئی ہے، اور بنانے کے لئے تمام کوششیں کر رہاہے ہم کھیں بھائی ٹھہر و ابھی گاڑی خود بخود صحیح ہوکر چلنے لگے گی !

ہمارے ہاتھ کی گھڑی چلتے چلتے رک گئی ہم نے بنانے والے کو دیا، کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ابھی خود ہی سے ٹھیک ہوجائے گی ۔

آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز کا وجود بغیر علت کے نہیں ہوتا ہے، اور اس کی تلاش ہر شخص کو ہوتی ہے، اب میں آپ سے سوال کروں یہ اتنی بڑی طویل و عریض دنیا بغیر کسی پیدا (بنانے والے) کرنے والے کے پیدا ہوگئی ہے؟ ہر گز ایسا نہیں ہے، اتنی بڑی اور منظم دنیا پھیلے ہوئے دریا، چمکتے ہوئے ستارے اور دمکتا ہوا سورج یہ رات دن کا آنا جانا، فصلوں کی تبدیلی، درختوں کے شباب، گلوں کے نکھار بغیر کسی بنانے والے کے نہیں ہو سکتا ۔

دنیا میں نظم و ترتیب

اگر ہم ایک ایسی عمارت دیکھیں جو نہایت منظم اور با ترتیب بنی ہوئی ہو کہ اس کے اجزاآپس میں اچھی طرح خوب ملے ہوئے ہوںاوراس میںرہنے والوں کیلئے تمام ممکن ضروریات کی چیزیںبھی باقاعدہ اپنی اپنی جگہ پرفراہم ہو یعنی اس میںکسی طرح کا کوئی عیب ونقص نظرنہ آرہاہواُجالے کے لئے بجلی، پینے کے لئے بھترین پانی، سونے کے لئے کمرہ، کچن، مہمان خانہ، حمام، پیشاب خانہ اورجاڑے میں گرم کرنے کے لئے ہیٹر، گرمی میں سرد کرنے کے لئے ( AC ) اورکولربھت ہی نظافت سے پانی کے پائپ اوربجلی کے تار پھےلے ہوئے ہوں، اور اس کی بناوٹ میں ڈاکٹری پھلوؤں پر خاص توجہ دی گئی ہو، سورج کی ٹکیا پورے طور پر اس گہر میں نور چھڑک رہی ہو، جبہم یہ ملاحظہ کرتے ہیں تو ہماری عقل فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ یہ ہر لحاظ سے منظم گہر خود بخود نہیں بنا ہوگا، بلکہ اس کے بنانے اور سنوارنے والا کوئی با ہوش مدبر، دقت بیں، نہایت ظرافت سے نقشہ کے مطابق بنایا ہے ۔

اس مثال کے ذکر کے بعد چاہتا ہوں کہ اپنی روزانہ کی زندگی پر آپ لوگوں کی توجہ مبذول کراؤں انسان اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے پانی اور کہانے کا محتاج ہے کہ کہانا کہائے اور پانی پئے اور بدن کے خلیوں ( CELLES ) کی ضروریات کو پورا کرے تاکہ بدن کے تمام خلیہ زندہ اور اپنے کاموں میں مشغول رہکر ہماری زندگی کو اچھی طرح قائم و دائم رکھیں، ضروری ہے کہ مختلف انواع کے کہانے کہائیں اور ان کو فوت ہونے سے بچائیں ورنہ انھیں کے ساتھ زندگی کے چراغ مدہم ہونا شروع ہوجائیں گے ۔

انسان اپنی زندگی کے لئے مفید ہوا کا نیاز مند ہے تاکہ اس کو جذب کرے اور داخلی جراثیم کو باہر نکال کر حیات کو تازگی بخشے، آپ ملاحظہ کریں، کس طرح ہماری زندگی کو بھترین بنانے کے لئے ضروریات کی تمام چیزیں خارج میں موجود ہیں اگر کہانا تلاش کریں تو مختلف انواع و اقسام کے کہانے موجود ہیں اگر زندگی کے لئے گیھوں، چاول، سبزی، پھل اور گوشت وغیرہ کی تلاش ہوتو تمام کی تمام چیزیں خارج میں موجود ہیں، اگر پانی یا ہوا کی ضرورت ہوتو باہر موجود ہے پاؤں ہوں تو کہانے کی تلاش میں نکل سکتے ہیں آنکھیں ہوں تو مناسب اچھی غذائیں دیکھ سکتی ہیں اور ہاتھ ہوں تو اٹھا سکتے ہیں، اور پیدا کرنے والے نے ہاتھ کو بھی کیا خلق کیا ہے کہ پورے طور پر ہمارے اختیار اور ہماری ضروریات کو مختلف انداز میں پورا کرنے کے لئے تیار ہے جس طرح اور جس وقت چاہیں اٹھائیں بیٹھائیں فقط ہمارے ارادہ کے محتاج ہیں، جیسا ارادہ ہو ویسا کریں، بند کرنا چاہیں تو کھلے نہ، اور کھولنا چاہیں تو بند نہ ہو، کس قدر تعجب خیز ہے ہاتھوں کی بناوٹ اور اس میں انگلیوں اور ھتھیلیوں کی ظرافت، ہونٹوں کو پیدا کیا تاکہ منھ کو بند رکھیں لقمہ باہر آنے سے محفوظ رہے ۔

مشکل ترین مسئلہ یہ ہے کہ بدن کی ضروری غذائیں جو رنگ برنگ اور مختلف اقسام کے ساتھ پائی جاتی ہیں کیا یہ اتنی آسانی سے بدن کے خلیوں کے لئے لائقِ استفادہ ہو سکتی ہیں؟ ہر شخص کہہ سکتا ہے، نہیں بلکہ اس میں بھترین طریقہ سے تغیر و تبدیلی واقع ہو، تاکہ وہ بدن کے استفادہ کے مطابق ہو سکے، انسان کی داخلی مشینری ( Machinery ) غذا کو چار مرحلہ کے بعد ہضم کے لائق بناتی ہے لہذا (بطور عبرت) خلاصة ً قارئین کے پیش خدمت ہے ۔

پہلا مرحلہ:

خدا وند عالم نے ہمارے منھ میں دانت جیسی نعمت دی جو غذا کے مطابق لقمہ کو چبا کر ریزہ ریزہ کرنے کے کام آتے ہیں، اور زبان میں حرکت عطا کی تاکہ لقمہ کو مناسب دانتوں کی طرف ھدایت کرے اور منھ کے اندر بعض حصوں کو ایسا منزہ بنایا جو کہانے کے ذائقہ اور اس کی اچھائی و خرابی، مٹھاس اور تلخی کو دماغ کی طرف منتقل کرتے ہیں، اور اسی لقمہ (غذا) کے مطابق، مرطوب اور نرم کرنے کے لئے مخصوص پانی چھوڑتے ہیں، تاکہ وہ لقمہ آسانی سے چبانے اور نگلنے کے لائق ہو جائے اس کے علاوہ یہ منھ کے پانی غذا کو ہضم کرنے میں کافی مدد کرتے ہیں اور خود اس کے اندر شیمیائی اور کیمیائی طاقتیں بہر پور پائی جاتی ہیں ۔

دوسرا مرحلہ:

جب دانت اپنے کام سے فارغ ہوجائے یعنی لقمہ نگلنے کے لائق ہو جائے تو غذا منھ کے راستہ کے ذریعہ معدہ میں پھونچ جاتی ہے، لقمہ کو نیچے جاتے وقت چھوٹی زبان (کوا) ناک اور سانس کے سوراخ کو بند کر دیتی ہے اور اس مخصوص پردہ کے ذریعہ ناک و سانس کے راستے کو بن کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کہانا ناک کے سوراخ میں نہ چلا جائے ۔

تیسرا مرحلہ:

کھانا کچھ دیر معدہ میں رہتا ہے تاکہ وہ ہضم کی صلاحیت پیدا کر لے، معدہ کی دیواروں میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے غدود پائے جاتے ہیں جس سے خاص قسم کا سیال پانی نکلتا ہے لہذا اس کے ذریعہ کہانا ہضم اور بھنے والے پانی کے مانند ہوجاتا ہے ۔

چوتھا مرحلہ:

غذا پتلی نالیوں کے ذریعہ (آنت) پت کی تھیلی میں جاتی ہے اور وہاں پر بڑا غدود جس کو (لوزالمعدہ) کہتے ہیں، جس سے مخصوص قسم کا، سیال اور غلیظ پانی نکلتا ہے جو غذا کو ہضم کرنے کے لئے نہایت ہی ضروری ہے، کہانا آنت میں بھنے والی چیزوں کی طرح رہتا ہے، اور اس آنت کی دیواروں پر لگے ہوئے غدود اس سے غذائی مواد حاصل کرتے ہیں، اور اس مواد کو خون کی صورت میں تبدیل کر کے تمام بدن میں پھنچاتے ہیں اور دل جو برابر حرکت میں رہتا ہے، ان قیمتی مواد کو خون کے ذریعہ بدن کے تمام حصوںمیں بھیجتا ہے اور اس طریقہ سے انسان کے بدن کے تمام خلیے اپنی اپنی غذائیں حاصل کرتے ہیں ۔

توجہ کی بات ہے کہ انسان کے عضلات اور دنیا کی چیزوں میں کس قدر ارتباط اور رابطہ پایا جاتا ہے، کیا اب بھی کسی میں ہمت ہے جو کھے یہ دنیا خود بخود پیدا ہوگئی ہے !

اگر ہم اپنے بدن کی ساخت پر نظر ڈالیں اور اعضائے بدن کے اندر جو دقیق و عمیق ریزہ کاری اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا گیا ہے غور و فکر کریں تو تعجب کی انتھاباقی نہ رہے گی کہ اس بدن کے اجزا اور دنیاوی چیزوں کے درمیان کیسا گہر ا تعلق اور رابطہ پایا جاتا ہے جس سے ہمارے لئے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ انسان اور دوسری تمام چیزیں، خود بخود وجود میں نہیں آئی ہیں ۔

بلکہ پیدا کرنے والے نے بھت ہی تدبیر اور ذرہ بینی اور تمام ضروریات کو مد نظر رکھنے کے بعد خلق فرمایا ہے، کیا خدا کے علاوہ کوئی ہو سکتا ہے جو انسان اور دنیا کے درمیان اتنا گہر ا رابطہ پیدا کر سکے؟ کیا طبیعت جس میں کوئی شعور نہیں ہے انسان کے ہاتھوں کو اس طرح موزوں اورمناسب خلق کر سکتی ہے؟ کیا طبیعت کے بس کا ہے جو انسان کے منھ میں ایسا غدود رکھے جس سے انسان کا منھ ہمیشہ تروتازہ بنا رہے؟ کیا چھوٹی زبان (کوا) جو سانس اور ناک کے مقام کو ہر لقمہ اور ہر قطرہ پانی سے محفوظ رکھتی ہے خود بخود بن جائے گی؟ کیا یہ معدہ کے غدود جو غذا کے لئے ہاضم بنتے ہیں خود بخود خلق ہوئے ہیں ؟وہ کونسی چیز ہے (لوزالمعدہ) جو بڑے غدود کو حکم دیتی ہے کہ وہ سیال اور غلیظ پانی کا غذا پر چھڑکاؤ کرے؟ کیا انسان کے دو عضو اپنے فائدہ کا خود خیال رکھتے ہیں ؟وہ کیا چیز ہے جو دل کو مجبور کرتی ہے کہ وہ رات ودن اپنے وظائف کو انجام دے اور پروٹین ( Protein ) حیاتی ذرّات کو بدن کے تمام حصوں میں پھنچائے؟ ہاں، خداوند عالم کی ذات ہے جو انسان کے عضلاتی مجموعے کو صحیح طریقہ اور اصول پر منظم رکھتے ہیں۔

بچپنے کا زمانہ

اب ہم اپنی زندگی کے دوسرے پھلوؤں پر بھی نظر ڈالیں، جب ہم نے دنیا میں آنکھیں کھولیں، تو اتنے لاغر و کمزور تھے کہ بات کرنے کی بھی تاب نہیں رکھتے تھے چل کر معاش فراہم کرنا کیسا؟ ہمارے ہاتھوں میں تو لقمہ اٹھانے کی طاقت نہیں تھی جو اٹھاتے اور منھ میں رکھتے، منھ میں کیا رکھتے کہ چبانے کے لئے دانت نہیں تھا، معدہ میں ہضم کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی، اس حال میں سب سے بھترین غذا خداوند عالم نے دودھ کو ہمارے لئے قرار دیا ۔

جب ہم نے دنیا میں آنکھیں کھولی تو خدا نے اس سے پھلے ہی ماں کے سینہ میں ہماری غذارکھ چھوڑی تھی، اس کے دل میں ہماری محبت اور الفت کی جگہ دی تاکہ رات و دن کے ہر لمحات میں ہمارے لئے زحمت و مشقت برداشت کرے، ہماری زندگی کو اپنی زندگی ہمارے آرام کو اپنے لئے آرام سمجھے جب تھوڑا بڑے ہوئے ہاتھ پاؤں آنکھ کان اور معدہ کی قوت کے سبب سنگین غذاؤں کی طرف ہاتھ بڑھانا اور معمولی دانتوں سے کہانا شروع کیا۔

انصاف کریں

کس نے ہمارے لئے محبت پیدا کی؟ اور ہمارے بچپنے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ماں جیسی شفیق و مہر بان خاتون بنایا؟ کس نے اس وسیع و عریض دنیا، چمکنے والے ستارے سورج اور چاند کو خلق کیا؟ کس نے اس دنیا کو منظم و مرتب پیدا کیا؟ کس نے زمین اور چاند کو عمیق حسابوں سے رواں دواں کیا؟ یہ جاڑے، گرمی، برسات اور خزاں کو کس نے معین فرمایا؟ !

آنکھ، کان، زبان، معدہ، دل، کلیجہ، آنت، پھیپھڑا، ہاتھ، پاؤں، دماغ اور دوسرے تمام بدن کے عضلات اس مہارت سے کام کرنے والے کس نے بنائے ہیں؟

کیا ممکن ہے بے شعور و بے ارادہ طبیعت، حیوان و انسان کے اعضا کو پیدا کرنے کی علت بن سکتی ہے؟ جب کی آنکھ جیسا حصہ، نہات دقت و باریک بینی کو گھیرے ہوئے ہے نہیں ہر گز ایسا ممکن نہیں ہے بلکہ خدائے مہر بان نے ان کو پیدا کیا ہے وھی ہے، جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے، خدا ہی ہے جو بندوں کو دوست رکھتا ہے اور ان کے لئے تمام نعمتوں کو پیدا کرتا ہے ہم خدا کو چاہتے ہیں اور اس کے سامنے عاجزی و فروتنی سے سر جھکاتے ہیں، اس کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں، اور اس کے علاوہ کسی کو مستحق عبادت و اطاعت نہیں جانتے، اور اپنے سر کو دوسروں کے سامنے عاجزی و ذلت سے نہیں جھکاتے ہیں ۔

ہر موجود کے لئے علت کا ہونا ضروری ہے

ہم جن چیزوں کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں اس کے وجود اور موجود ہونے میں کیسے فکر کریں؟ اس مطلب کو ہم اپنے وجدان سے درک کر سکتے ہیں کہ یہ موجود خود بخود وجود میں نہیں آئی ہے موجود کے لئے وجود، عینِ ذات نہیں ہے مقام ذات میں وجود و عدم سے خالی ہے اور وجود و عدم دونوں ہی اس کو چاہتے اور یہ دونوں کی قابلیت رکھتے ہیں ایسے موجود کو ممکن کہتے ہیں مثلا پانی پر توجہ کریں ہم وجداناً کھیں گے کہ پانی در حقیقت نہ وجود ہے اور نہ ہی عدم، نہ بالذات وجود چاہتا ہے اور نہ عدم بلکہ دونوں کی نسبت مقام اقتضا اور خواہش ہے وہ چاہے وجود کو لے کر موجود ہوجائے اور چاہے تو عدم ہی رہے۔ پانی کی طرح دنیا کی تمام چیزیں مقام ذات میں اپنے وجود و عدم سے خالی ہیں یہاں پر ہماری عقل کھتی ہے موجودات چونکہ مقام ذات میں خود یہ وجود نہیں رکھتی ہیں، اگر چاہیں تو وجود میں آجائیں تو چاہیے کہ ایک دوسرا عامل ہو جو اس کے نقائص اور کمی کو دور کرے تاکہ وہ چیز موجود اور ظاہر ہوسکے ۔

مقام ذات میں تمام موجودات فقیر اور ضرورت مند ہیں جب تک کہ ان کی احتیاج پوری نہ ہو ان پر وجود کا لباس نہیں آسکتا ہے اور وہ چیز موجود نہیں ہو سکتی ہے، تمام دنیا چونکہ اپنی ذات میں کمی و نقص رکھتی ہے اور خود مستقل اور اپنے پیروں پر نہیں ہے لہٰذا ممکن ہے، تو چاہیے ایک کامل مستقل اور بے نیاز وجود رکھنے والا جس کا وجود خود عین ذات ہو، اور اس کے لئے ممکن ہونے کا تصور بھی محال ہو، آئے اور اس کو وجود کا لباس پھنائے ایسے وجود کامل کو واجب الوجود اور خدا کہتے ہیں، خدا کی ذات عین وجود ہے اور اس کے لئے عدم و نابودی اصلاً متصور نہیں ہے، یعنی خود اس کا وجود عین ذات اور مستقل ہے (جیسے دال نمکین ہے نمک کی وجہ سے اور نمک خود اپنی وجہ سے نمکین ہے) اور تمام دنیا اور موجودات اس کے ضرورت مند و محتاج ہیں اور اسی سے اپنا وجود حاصل کرتے ہیں۔


خدا کے صفات

اللہ کے صفات کو کلی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے(۹) صفات ثبوتیہ یا جمالیہ(۱۰) صفات سلبیہ یا جلالیہ ۔

صفات ثبوتیہ

ہر وہ صفت جو اصل وجود کے کمال اور اس کی اہمیت میں اضافہ اور اس کی ذات کو کامل کرنے کے لئے لائی جائے اس شرط کے ساتھ کہ موصوف اور ذات میں کوئی تغیر و تبدیلی لازم نہ آئے، ان صفات کو جمالیہ یا صفات ثبوتیہ کہتے ہیں جیسے علم و قدرت حیات و تکلم ۔

ان صفات کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے آسان سی مثال دیتے ہیں، اگر ہم دو آدمیوں میں علم و جھل کے عنوان سے تقابل کریں تو اس مطلب کو بخوبی درک کر سکتے ہیں کہ جاہل کے مقابلے میں عالم پُر اہمیت اور فائدہ بخش ہے، لہٰذا یہ عالم جاہل کے مقابلے میں برتری و فضیلت کا پھلو رکھتا ہے لہذا ہم فیصلہ کریں گے کہ کمالات کے صفات میں ایک علم بھی ہے، اور ایسے ہی دوسری صفتوں کو مقایسہ کرنے پر حقیقت و برتری صفات جمالیہ کی کھل کر روشن ہوجائیگی اور یہ تمام صفات اس کے لئے ثابت ہیں، اس مطلب کو مزید واضح کرنے کے لئے ہم دو دلیلوں پر اکتفا کرتے ہیں ۔

پہلی دلیل:

خداوند عالم نے خیر و خوبی اور اچھائیوں کو لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے کیونکہ انسان اپنے وجود میں خدا کا محتاج ہے ایسے ہی اپنے صفات اور وجودی کمالات میں بھی اسی کا محتاج ہوتا ہے، خداوند عالم نے انسان کو پیدا کیا، لیکن اپنی بقا میں انسان مستقل وجود نہیں رکھتا ہے، تمام خیر و خوبیوں کو خدا نے انسان کے لئے پیدا کیا، مگر خود یہ خوبیاں اپنی بقا میں مستقل وجود نہیں رکھتی ہیں معلوم ہوا خواہ ذات ہوں اور خواہ صفات ہر حال میں اسی کی محتاج ہیں (بے نیاز نہیں ہیں) لہٰذا خدا ہی ان صفات کمال و جمال کا پیدا کرنے والا ہے ۔

اگر ہم تھوڑا دھیان دیں تو یہ حقیقت کھل کر آشکار ہوجائے گی کہ خدا نے انسان کے لئے تمام کمالات کو پیدا کیا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کمالات سے اپنے کو خالی رکھے، یا اس کے پاس موجود نہ ہو اگر اس کے پاس نہ ہوگا تو دوسروں کو کیسے دے سکتا ہے (فاقد الشیء لا یعطی الشی ء) لہذا ماننا پڑے گا کہ خدا کے پاس تمام کمالات و خوبیاں موجود ہیں، اور اسی نے لوگوں کے لئے ان صفات کو قرار دیا ہے، جب تک چراغ روشن نہ ہو، دوسروں کو روشن نہیں کر سکتا جب تک پانی خود تر نہ ہو دوسری چیزوں کو تر نہیں کر سکتا ہے ۔

دوسری دلیل:

ذات پروردگار عالم مطلق ہے یعنی اس کی ذات میں کسی طرح کی قید و حد اور نقص نہیں پایا جاتا ہے جب وہ محدود و ممکن نہیں ہے تو وہ کسی کا محتاج بھی نہیں اور نہ ہی اپنے وجود کو کسی دوسرے سے لیا ہے اس لئے کہ محتاج و ضرورت مند وہ ہوتا ہے جو محدود ہو یا جس میں کمی پائی جاتی ہو لیکن خدا کی ذاتِ مطلق تام و کامل و واجب الوجود ہے لہٰذا جو صفت بھی کمال کے اوپر دلالت کرے گی خدا وند عالم کے لئے ثابت ہے اس سے خدا کی ذات محدود یا مقید نہیں ہوتی، بلکہ اس صفات کا خدا میں نہ پایا جانا اس کی ذات میں نقص کا باعث ہے کیونکہ ان صفات کمالیہ کا خداوندعالم میںنہ پایا جانا ضرورت اور احتیاج کا سبب ہے، جب کہ خدا کی ذات واجب الوجود اوربالذات بے نیاز ہے ۔

صفات ثبوتیہ:

خداوند عالم میں پائی جانے والی صفتیں یہ ہیں:

۔ قدرت:

خدا قادر ہے یعنی جس کام کو انجام دینا چاہے انجام دیتا ہے کسی کام کے کرنے پر مجبور اور عاجز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی قدرت کے لئے کوئی جگہ مخصوص ہے بلکہ اس کی قدرت حد بندی سے خالی ہر جگہ موجود ہے ۔

۔ علم:

خدا عالم ہے یعنی تمام چیزوں کو جاننے والا اور تمام موجودات پر احاطہ و قدرت رکھنے والا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے یہاں تک کہ بندوں کے افکار و خیالات سے بھی واقف ہے اور ہر چیز اس کے سامنے ہے ۔

۔ حیات:

خدا حی ہے خداوند عالم اپنے کاموں کو علم و ارادہ و قدرت سے انجام دیتا ہے خدا انسانوں کی طرح سانس کے آنے اور جانے کے مثل زندہ نہیں ہے وہ چونکہ اپنے کام کو علم و اراد ہ اور قدرت سے انجام دیتا ہے اس لئے اس کو حی کہتے ہیں۔

۔ ارادہ:

خدا مرید ہے اپنے کاموں کو قصد و ارادہ سے انجام دیتا ہے آگ کی طرح نہیں کہ بغیر ارادہ جلادے خداوند عالم کا وجود، وجودِ کامل ہے جو اپنے ارادہ سے کام کو انجام دیتا ہے، مثلِ فاعل مجبور اور بے ارادہ نہیں ہے ۔

۔ بصیر ہے:

خداوند عالم دیکھنے والا ہے تما م پیدا ہونے والی چیزوں کو دیکھنے والا ہے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔

۔ سمیع ہے:

خدا سننے والا ہے تمام سننے والی چیزوں کو سنتا ہے کسی چیز سے غافل نہیں ہے۔

۔ قدیم و ابدی ہے:

قدیم یعنی ہمیشہ سے ہے اس کی کوئی ابتدا نہیں ہے ابدی یعنی ہمیشہ رہے گا اس کی کوئی انتھانھیں ہے ۔

۔ متکلم ہے:

حقیقت کو دوسروں کے لئے اظہار اور اپنے مقصد کو دوسروں تک پھنچاتا ہے۔

ان صفات کو صفات ثبوتیہ یا جمالیہ کہتے ہیں جو خداوند عالم میں موجود اور اس کی عین ذات ہیں ۔

یاد دہانی

چونکہ ہم ناقص ہیںاس لئے ہم اپنے کام کو بغیر کسی آلات، کے انجام نہیں دے سکتے قدرت و طاقت کے باوجود بھی اپنے اعضا و جوارح کے محتاج ہیں سننے کی طاقت کے باوجود کان کے ضرورت مند ہیں دیکھنے کی طاقت کے ہوتے ہوئے آنکھ کے محتاج ہیں، چلنے کی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی پاؤں کے نیازمند ہیں ۔ خداوند عالم کی ذات جو کمال مطلق کی حامل ہے وہ کسی کام میں دوسروں کی محتاج نہیں ہے، لہذا خداوند عالم قادر مطلق بغیر آنکھ کے دیکھتا ہے، بغیر کان کے سنتا ہے، بغیر اعضا وجوارح (جسم و جسمانیت سے خالی) کے تمام کام کو انجام دیتا ہے، ہر ایک کی بگڑی بناتا ہے ۔

ہمارے خیال میں دیکھنے اور سننے کے لئے فقط آنکھ، کان ہی کی راہ پائی جاتی ہے، لہذا جس کا کان صحیح اور آنکھ دیکھنے والی ہے تو کہتے ہیں کہ وہ دیکھتا اور سنتا ہے، ورنہ اندھا و بہر ہ ہے ۔

لیکن دیکھنے اور سننے کی اس کے علاوہ بھی راہ پائی جاتی ہے اور در حقیقت وھی اصل دیکھنا اور سننا ہے اگر آنکھ کے وسیلہ سے دیکھا تو کیا دیکھا، کان کے ذریعہ سے سنا تو کیا سنا، خدا کسی بھی وسیلہ و اسباب کا محتاج نہیں ہے، لہذا بغیر وسیلہ کے سنتا اور دیکھتا ہے کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔

ہم محدود و محتاج ہیں لہذا ہر کام میں کسی کے محتاج ہیں اگر اس دائرہ سے باہر ہوں یعنی محدود و ناقص نہ ہوتے تو ہم بھی بغیر آنکھ کے تمام چیزیں دیکھتے، اور بغیر کان کے تمام آوازیں سنتے اور کہاجائے کہ سننے اور دیکھنے کی حقیقت در اصل اس پر صادق آتی ہے، جیسے ہم خواب میں بغیر آنکھ و کان کے دیکھتے اور سنتے اور تمام کام انجام دیتے ہیں ۔

مگر خداوند عالم کی ذات والا صفات جو نہایت درجہ کمال اپنے وجود میں رکھتا ہے، اس کی بنائی ہوئی تمام چیزیں، اس کا ہر ایک کام، بے عیب و نقص ہے کیونکہ وہ کامل ہے اس کے افعال بھی حد درجہ کمال رکھتے ہیں ۔

خدا کی صفات ذاتیہ اور فعلیہ

صفات ثبوتیہ کی دو قسمیں ہیں:(۱۱)

صفات ذاتیہ(۱۲) صفات فعلیہ

صفات ذاتیہ:

ان صفات کو کہاجاتا ہے جو ہمیشہ خدا کی ذات کے لئے ثابت ہیں اور اس کی ذات کے علاوہ کسی چیز پر موقوف نہیں ہے، ان کو صفات ذاتیہ کہتے ہیں جسے علم و قدرت وغیرہ ۔

یہ صفات ذاتیہ ہمیشہ خدا کے ساتھ ہیں بلکہ اس کی عین ذات ہیں ان کا ثبوت کسی دوسرے وجود پر موقوف نہیں ہے خدا کی ذات عالم تھی دنیا کو خلق کرنے سے پھلے قادر ہے چاہے کسی چیز کو نہ پیدا کرے، ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا موجودات رہیں یا نہ رہیں، اس کا علم و قدرت و حیات وغیرہ سب عینِ ذات ہیں، کبھی بھی اس کی ذات ان صفات کمالیہ سے خالی نہیں ہو سکتی ہے، اس لئے کہ وہ عین ذات ہے، ورنہ خدا کی ذات کا محدود و ناقص اور محتاج ہونا لازم آئے گا جو خدا کی ذات سے بعید ہے ۔

صفات فعلیہ:

ان صفات کو کہتے ہیںجو خداوند عالم کے بعض کاموں سے اخذ کی جاتی ہیں جیسے رازق و خالق اور جواد وغیرہ، جب اس نے موجودات کو خلق کیا تو خالق پکارا گیا، جب مخلوقات کو رزق عطا کیا تو رازق کہاگیا، جب بخشش و کرم کا عمل انجام دیا تو جواد ہوا، جب بندوں کے گناہوں اور عیبوں کو پوشیدہ اور معاف کیا تو غفور کھلایا،اس طرح کے صفات خدا اور بندوں کے درمیان ایک خاص قسم کے رابطہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

ایک حدیث

حسین بن خالد بیان کرتے ہیں:

میں نے امام علی بن موسيٰ الرضا (ع) کو فرماتے ہوئے سنا: آپ ارشاد فرمارہے تھے: خدا ہمیشہ سے قادر اور عالم و حی ہے، میں نے عرض کی یا بن رسول (ص) اللہ ! بعض لوگوں کا خیال ہے کہ علم خدا زائد بر ذات ہے، قادر ہے مگر زائد بر ذات ہے، زندہ ہے مگر زائد بر ذات ہے، قدیم ہے مگر قدیم زائد بر ذات ہے، ایسے ہی سمیع و بصیر دیکھنے اور سننے والا ہے، مگر دیکھنا اور سننا زائد برذات ہے؟ امام (ع) نے فرمایا: جس شخص نے خدا کے ان صفات کو زائد بر ذات جانا وہ مشرک ہے اور وہ ہمارا پیرو کار اور شیعہ نہیں ہے، خدا ہمیشہ سے عالم و قدیم حی قادر اور سمیع و بصیر ہے (اور رہے گا) لیکن اس کی ذات اور یہ صفات عین ذات ہیں ۔(۱۳)

صفات سلبیہ

ہر وہ صفات جو یہ بیان کرے کہ اس کی ذات نقص و عیب سے پاک و مبرا ہے اسے صفات سلبیہ کہتے ہیں، خداوند عالم کی ذات کامل اور اس میں کوئی عیب و نقص نہیں پایا جاتا ہے، لہذا ہر وہ صفات جو نقص یا عیب خداوند عالم پر دلالت کرے ان صفات کو سلب اور جدا کرنا ضروری ہے ۔

صفات سلبیہ یا جلالیہ یہ ہیں

۱) خدا مرکب نہیں ہے:

ہر وہ چیز جود و جز یا اس سے زائد اجزا سے مل کر بنے اسے مرکب کہتے ہیں، اور خدا مرکب نہیں ہے اور نہ اس میں اجزا کا تصور پایا جاتا ہے، کیونکہ ہر مرکب اپنے اجزا کا محتاج ہے اور بغیر اس اجزا کے اس کا وجود میں آنا محال ہے، اگر اللہ کی ذات بھی مرکب ہو تو، مجبوراً اس کی ذات ان اجزا کی ضرورتمند ہوگی، اور ہر وہ ذات جو محتاج، ناقص اور بہت سے اجزا کا مجموعہ ہو، وہ واجب الوجودا ورخدا نہیں ہو سکتی ۔

دوسرے:

ہر مرکب علت کا محتاج ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اجزائے ترکیبیہ ملیں اور اس کو تشکیل دیں، پہر علت آکر اس کو وجود میں لائے اگر خدا ایسا ہے تو اس کو اپنے وجود میں علت اور اجزائے ترکیبیہ کا محتاج ہونا لازم آئے گا، لہٰذا جو ذات ناقص اور اپنے وجود میں علت کی محتاج ہو، وہ واجب الوجود خدا نہیں ہو سکتی ۔

۲) خدا جسم نہیں رکھتا:

اجزا سے مرکب چیز کو جسم کہتے ہیں، اور اوپر بیان ہوا کہ خدا مرکب نہیں ہے، لہذا وہ جسم بھی نہیں رکھتا ہے ۔

دوسرے:

ہر جسم کے لئے ایک جگہ و مکان کا ہونا ضروری ہے، اور بغیر مکان کے جسم نہیں رہ سکتا، جب کہ خداوند عالم خود مکان کو پیدا کرنے والا ہے اس کا ضرورتمند و محتاج نہیں ہے اگر خدا جسم رکھے اور مکان کا محتاج ہو تو وہ خدا واجب الوجود نہیں ہو سکتا ہے ۔

۳) خدا مرئی نہیں:

خدا دکھائی نہیں دے سکتا ہے، یعنی اس کو آنکھ کے ذریعہ کوئی دیکھنا چاہے تو ممکن نہیں، اس لئے کہ دکھائی وہ چیز دیتی ہے جو جسم رکھے اور خدا جسم نہیں رکھتا ہے لہذا اس کو نہیں دیکھا جا سکتا ۔

۴) خدا جاہل نہیں ہے:

جیسا کہ صفات ثبوتیہ میں بیان ہوا، خدا ہر چیز کا عالم ہے، اور اس کے علم کے لئے کسی طرح کی قید و شرط و حد بندی نہیں ہے، اور جہالت و نادانی عیب و نقص ہے اور خداوند عالم وجود مطلق عیب و نقص سے پاک ہے۔

۵) خدا عاجز و مجبور نھیں:

پھلے بھی صفات ثبوتیہ میں گذر چکا ہے کہ خدا ہر کام کے کرنے پر قادر اور کسی بھی ممکن کام پر مجبور و عاجز نہیں ہے اور اس کی قدرت کے لئے کسی طرح کی کوئی مجبوری نہیں ہے اسلئے کہ عاجزی و مجبوری نقص ہے اور خدا کی ذات تمام نقائص سے مبراو منزہ ہے۔

۶) خدا کیلئے محل حوادث نھیں:

خداوند عالم کی ذات میں کسی طرح کی تبدیلی و تغییر ممکن نہیں ہے جیسے کمزوری، پیری، جوانی اس میں نہیں پائی جاتی ہے، اس کو بھوک، پیاس، غفلت اور نیند نیز خستگی وغیرہ کا احساس نہیں ہوتا، اسلئے یہ تمام چیزیں جسم و مادہ کے لئے ضروری ہیں اور پھلے گذر چکا ہے کہ خدا جسم و جسمانیات سے پاک ہے لہٰذا خدا کی ذات محل حوادث یعنی تغیر و تبدیلی کی حامل نہیں ہے ۔

۷) خدا کا شریک نھیں:

اس مطلب کی دلیلیں توحید کی بحث میں ذکر کی جائیں گی ۔

۸) خدا مکان نہیں رکھتا:

خدا وند عالم کسی جگہ پر مستقر نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ ہی آسمان میں کیونکہ وہ جسم نہیں رکھتا، اس لئے مکان کا محتاج نہیں ہے ۔

خدا نے مکان کو پیدا کیا،اور خود ان مکانات سے افضل و برتر،نیز تمام موجودات پر احاطہ کئے ہوئے ہے، کوئی جگہ اس کے وجود کو نہیں گھیر سکتی وہ تمام جگہ اور ہر چیز پر تسلط رکھتا ہے، اس کا ہر گز یہ مفھوم نہیں ہوتا کہ اس کا اتنا بڑا جسم ہے، جو اس طرف سے لے کر اس طرف تک پورا گھیرے ہوئے ہے، بلکہ اس کا وجود، وجود مطلق ہے یعنی اس میں جسم و جسمانیات کا گذر نہیں ہے، اور نہ اس کے لئے کوئی قید و شرط (یہاں رہے یا اس وقت وہاں رہے) پائی جاتی ہے لہذا کسی جگہ کا وہ پابند نہیں تمام موجودات پر احاطہ رکھتا ہے، کوئی چیز اس کے دست قدرت سے خارج نہیں ہے، لہذا اس کے لئے یہاں اور وہاں کھنا درست نہیں ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہر دعا کے وقت ہاتھوں کو کیوں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آسمان کی طرف ہاتھوں کے اٹھانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خداوند عالم کی ذات والا صفات آسمان پر ہے، بلکہ ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرنے سے مراد درگاہ خدا میں فروتنی و انکساری و عاجزی و پریشانی کے ساتھ سوال کرنا ہے ۔

مسجد اور خانہ کعبہ کو خدا کا گہر کیوں کہتے ہیں؟ اس لئے کہ وہاں پر خدا کی عبادت ہوتی ہے، اور خدا نے اس مقام کو اور زمینوں سے بلند و برتر و مقدس بنایا ہے (جیسے خداوند عالم نے مومن کے دل (قلب) کو اپنا گہر کہاہے اور کھتا ہے خدا ہر جگہ و ہر طرف موجود ہے،( فَاَینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجهُ اللّٰهِ ) (۱۴)

۹) خدا محتاج نھیں:

خداوند عالم کسی شی کا محتاج نہیں ہے، اس لئے کہ اس کی ذات ہر جھت سے کامل و تام ہے اس میں نقص اور کمی موجود نہیں ہے جو کسی چیز کا محتاج ہو اور اگر محتاج ہے تو پہر واجب الوجود خدا نہیں ہو سکتا ہے ۔

پہر خداوند عالم نے ہمارے لئے روزہ و نماز جیسے فریضہ کو کیوں واجب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ خدا کی ذات ناقص ہے اور ان عبادتوں کے ذریعہ اپنی کمی کو پورا کرنا چاہتا ہے، بلکہ خدا کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ انسان عبادت کرے اور اپنے نفس کو نورانی اور کامل کرکے اس کی ہمیشہ آباد رہنے والی جنت کے لائق ہو جائے ۔

خدا جو ہم سے چاہتا ہے کہ ہم خمس و زکواة و صدقہ دیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا غریب و فقیر، ضرورتمندوں کی مدد اور ان پر احسان کرنا چاہتا ہے، تاکہ لوگ نیکی و احسان میں آگے آگے رہیں، اس وجہ سے نہیں کہ ہماری معمولی اور مادی مدد سے وہ خود اپنی ضرورت کو پورا کرے کیونکہ خود یہ خمس و زکات اور صدقات ہمارے سماج کی اپنی ضرورت ہے اور لوگوں کے فائدے کے مدنظر بعض کو واجب قرار دیا اور بعض کو مستحب، لیکن ہر ایک کا مصرف انھیں ضرورتمند افراد کو قرار دیا ہے، قطع نظران چیزوں کے، اگر ہم غور و فکر کریں کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا مجبوروں اور غریبوں پر احسان و مدد کرنا اور سماج کی ضروریات کو پورا کرنا (جیسے مسجد و امام بارگاہ و مدرسہ کی تعمیر کرنا) خود ایک بھترین عبادت اور نفس کو منزل کمال پر پھنچانے اور آخرت میں منزل مقصود تک پھونچنے کا بھترین راستہ ہے ۔

۱۰) خدا ظالم نھیں:

اس کی دلیل عدل کی بحث میں ذکر کی جائیگی ۔

توحید

الله تبارک و تعاليٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اس نے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے، اس کے علاوہ کوئی خالق اور پیدا کرنے والا نہیں اور نہ ہی اس نے کسی کی مدد سے خلق کیا ہے اسی سلسلہ میں چند دلیلوں کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہاہے ۔

پہلی دلیل

اگر دو خدا (یا اس سے زیادہ) ہوتے تو چند حالتیں ممکن ہیں ۔

پہلی حالت یہ کہ دونوں نے (دنیا) موجودات کو مستقل علیحدہ علیحدہ خلق کیا ہے، دوسری حالت یہ کہ ایک دوسرے کی مدد سے دنیا کو خلق کیا ہے، تیسری حالت یہ کہ دونوں نے دنیا کو دو حصوں میں خلق کیا ہے لیکن ایک دوسرے کی خدائی میں دخالت کرتے ہیں ۔

پہلی حالت

دونوں نے دنیا کو مستقل علیحدہ علیحدہ خلق کیا ہے (یعنی ہر چیز دو دفعہ خلق ہوئی ہے) اس کا باطل ہونا واضح ہے ۔

الف) چونکہ ہر ایک شخص میں ایک وجود سے زیادہ وجود نہیں پایا جاتا ہے اس لئے ایک سے زیادہ خدا کا تصور نہیں ہے ۔

ب) ایک خدا نے کسی چیز کو پیدا کیا اور پہر دوسرا خدا اگر دو بارہ اس کو خلق کرے اس کو علماء کی اصطلاح میں تحصیل حاصل کہتے ہیں، (کہ ایک چیز موجود ہو پہر اس کو حاصل کیا جائے) ۔

ج) یا حکماء اور فلاسفر کی اصطلاح میں ایک معلول (موجود) میں دو علت تامہ اثر گذاری کریں محال ہے یعنی ایک موجود کو خلق کرنے میں دو علت ایک وقت میں کار فرما ہو محال و باطل ہے۔

دوسری حالت

ان دونوں خدا نے ایک دوسرے کی مدد (شرکت) سے موجودات کو خلق کیا ہے، یعنی ہر موجود دو خدا کی مخلوق ہو اور دونوں آدھے آدھے برابر کے شریک ہوں یہ احتمال بھی باطل ہے ۔

الف: دونوںخدا ایک دوسرے کے محتاج تھے یعنی تنھاموجودات کو خلق کرنے سے عاجز و مجبور تھے تو یہ بحث پھلے گذرچکی ہے کہ خدا عاجز و محتاج نہیں ہے ۔

ھو سکتا ہے کوئی کھے دونوں خلق پر قادر ہیں لیکن پہر بھی دونوں شریک ہو کر موجودات کو وجود میں لاتے ہیں یہ بھی باطل ہے کیونکہ دو فاعل کسی کام پر قادر ہوتے ہوئے پہر بھی تنھاکسی کام کو انجام نہ دیں اس میں چند صورتیں ممکن ہیں:

الف) یا دونوں بخل کر رہے ہیں جو کہ نصف نصف پر کام کرتے ہیں یعنی چاہتے ہیں کہ زیادہ خرچ نہ ہو ۔

ب) یا دونوں آپس میں ڈرتے ہیں اور اس ڈر کی بنا پر کم خرچ کر رہے ہیں۔

ج) یا دونوں مجبوراً آپس میں شریک ہیں ۔

جواب یہ ہے:

الف) خداوند عالم محتاج و نیاز مند نہیں ہے ۔

ب) دونوں دنیا کے خلق کرنے کی مصلحت اور اس کا علم رکھتے ہیں اور اس کی پیدائش پر قدرت بھی رکھتے ہیں اور ان کی قدرت و علم عین ذات بھی ہے، اور اسی کے ساتھ بخل و کنجوسی بھی پائی جاتی ہے جو خدا کی ذات کے لئے اور مناسب نہیں ہے۔

ج) کوئی کام ایک دوسرے کے تحت خوف سے کرتے ہیں تو یہ، شانِ خدا کے بر خلاف ہے کیونکہ جو خدا ہوتا ہے وہ متاثر و عاجز نہیں ہو سکتا ہے ۔

د) دونوں عالم و قادر اور بخیل و عاجز نہیں ہیں تو چاہے موجود میں فقط ایک علت ہو اپنی مرضی کے مطابق کوئی ایک دنیا اور بنائیں ۔

ان باتوں سے سمجھ میں آتا ہے دونوں کو چاہیے اپنی قدرت و علم کے تحت دو دنیا بنائیں اور اس سے پھلے ثابت ہوچکا ہے کہ ایک معلول میں دو علت کااثر اندازھونا باطل و محال ہے ۔

تیسری حالت

دونوں (مفروض) خدا دنیا کو نصف نصف تقسیم کر کے اپنے اپنے حصہ میں مستقلا موجودات کو خلق کرے (اورمثل بادشاہوں کے اپنے حصہ میں حاکم بنے رہیں، ایسا فرض ہی باطل ہے اس لئے کہ دو خدا نہیں ہو سکتے اور نہ دنیا کے دو حصے ہوسکتے ہیں) اور ایک دوسرے کے حصے میں دخالت کرے یہ احتمال بھی باطل ہے، اس لئے کہ ہر وہ فرضی خدا آپس میں مستقلاً ایک دوسرے کے حصہ میں دخالت (خلق) کی صلاحیت رکھتے ہیں تو چاہیے کہ جدا اور اسے الگ خلق کرے ورنہ اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ دو علت ایک معلول میں موثرہوگی، جب کہ اس کا بطلان پھلے گذر گیا ہے یا اگرصلاحیت و استعداد نہیں رکھتا یا خلق پر قادر نہیں ہے یا کنجوسی کر رہاہے تو وہ ناقص ہے اور ناقص، خدائی کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے ۔

دوسری دلیل

اگر خدا کسی موجود کو پیدا کرے اور دوسرا اس موجود کو تباہ کرنے کا ارادہ کرے تو کیا پہلا خدا اپنی خلق کی ہوئی چیز کا دفاع کر سکتا ہے؟ اور دوسرے کے شر سے اس کو محفوظ رکھ سکتا ہے؟ اگر پہلا اپنی موجودہ چیز کی حفاظت نہیں کر سکتا تو عاجز ہے اور عاجز خدا نہیں ہو سکتا، اور اگر یہ دفاع کر سکتا ہے تو دوسرا خدا نہیں ہو سکتا اس لئے کہ عاجز ہے اور عاجز خدا نہیں ہو سکتا ہے ۔

نتیجہ

ہم خدا کو ایک اور لا شریک موجودات کو خلق کرنے والا جانتے ہیں اور اس کے علاوہ جو بھی ہو اس کو ناتوان، مجبور و عاجز اور مخلوق شمار کرتے ہیں، ہم فقط اللہ تبارک و تعاليٰ کو لائق عبادت جانتے ہیں کسی دوسرے کے لئے سجدہ نہیں کرتے اور نہ ہی کسی اور کے لئے جھکتے ہیں ہم آزاد ہیں اپنی آزادی کو کسی کے حوالے نہیں کرتے اور کسی کی بے حد و انتھاتعریف نہیں کرتے اور چاپلوسی کو عیب جانتے ہیں ۔

ہم انبیاء اور ائمہ (ع) کا احترام اور ان کے بیان کئے گئے احکام کی پیروی اس لئے کرتے ہیں کہ خدا نے ان کو واجب الاحترام اور واجب الاطاعت قرار دیا ہے، یعنی ان کے احترام و اتباع کو واجب قرار دیا ہے، ان کے احکام و قوانین ہمیشہ خدا کے احکام کی روشنی میں رہے ہیں اور ان لوگوں نے کبھی بھی زیادتی اور اپنے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے، ہم انبیاء و ائمہ (ع) کے مرقد پر جاتے ہیں اور ان کے مزار و روضہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ پرستش اور ان کی بندگی کے عنوان سے نہیں بلکہ خدا کی بارگاہ میں بلند مقام اور پاکیزگی و بزرگی کا خیال رکھکران کی تکریم کرتے ہیں اور ان کے روضہ کی تعمیر اور ان کی فداکاری و جانثاری و قربانیوں کی قدر دانی کرتے ہیں، اور دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زحمت و مشقت کو برداشت کرے اور اس کے احکام و پیغام و ارشاد کو لوگوں تک پھنچائے، تو نہ اس دنیا میں بھلایا جائے گا اور نہ آخرت میں، ہم ان مقدس اللہ کے بندوں،پاک سیرت نمائندوں اور اس کے خاص چاہنے والوں کے حرم میں خداوند ذوالجلال کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی بخشش اور اپنی حاجت کی قبولیت اور رازونیاز کرتے ہیں، اور اپنی دعا و مناجات میں ان مقدس بزرگوں کی ارواح طیباہ کو خدا کے حضور میں واسطہ و وسیلہ قرار دیتے ہیں ۔

عدل

خداوند عالم عادل ہے یعنی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس سے کوئی بُرا کام صادر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے تمام کام میں حکمت اور مصلحت پائی جاتی ہے اچھے کام کرنے والوں کو بھترین جزا دے گا کسی چیز میں جھوٹ اور وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے، کسی کو بے گناہ اور بے قصور جھنم میں نہیں ڈالے گا، اس مطلب پر دو دلیل پیش خدمت ہے ۔

پہلی دلیل

جو شخص ظلم کرتا ہے یا برے کام کو انجام دیتا ہے اس کی صرف تین صورتیں پائی جاتی ہیں(۱۵) یا وہ اس کام کی اچھائی اور برائی سے واقف نہیں ہے اس وجہ سے ظلم و زیادتی انجام دیتا ہے(۱۶) یاوہ اس کام کی اچھائی اور برائی سے واقف و آگاہ ہے لیکن جو چیزیں دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتا ہے چونکہ اس کے پاس وہ شی نہیں ہوتی اس لئے اس کو لینے کے لئے ان پر ظلم کرتا ہے تا کہ ان کے اموال کو لے کر فائدہ اٹھائے اپنے عیب و نقص (کمی) کو پورا کرے اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کام کرنے والوں (کارگروں) پر ستم کرتا ہے اور ان کے حقوق کو ضائع و برباد کرتا ہے اور خود قوی ہے اس لئے کمزوروں اور مجبوروں پر ظلم کرتا ہے، اور ان کے اموال و اسباب سے چاہتا ہے کہ اپنی کمی کو برطرف اور اپنے نقص کو پورا کرے(۱۷) یا ظلم و زیادتی سے آگاہی رکھتا ہے اس کو ان کی ضرورت بھی نہیں ہے، بلکہ انتقام اور بدلہ یا لھو و لعب کے لئے ایسا کام انجام دیتا ہے۔

عموما ًہر ظلم و ستم کرنے والے انھیں اسباب کی وجہ سے ان کاموں کے مرتکب ہوتے ہیں، لیکن خداوند عالم کی ذات اس سے منزہ اور پاکیزہ ہے، وہ ظلم و ستم نہیں کرتا اس لئے کہ جہالت و نادانی اس کے لئے قابل تصور نہیں ہے، اور وہ تمام چیزوں کی اچھائی اور برائی کی مصلحتوں سے خوب واقف ہے وہ ہر چیز سے مطلقا بے نیاز ہے، اس کو کسی کام اور کسی چیز کی ضرورت و حاجت نہیں ہے، اس سے لغو و بےھودہ کام بھی صادر نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ حکیم ہے در نتیجہ اس کے پاس صرف عدالت ہی عدالت موجود ہے ظلم و ستم کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا ہے ۔

دوسری دلیل

ہماری عقل، ظلم و ستم کو ناپسند اور برا کھتی ہے اور تمام عقلمندوں کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ خداوند عالم نے اپنے بھیجے ہوئے انبیاء کو بھی لوگوں پر ظلم و ستم نیز برے کاموں کے انجام دینے سے منع فرمایا ہے، اس بنا پر کیسے ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو تمام عقلمندافراد برا اور ناپسند کریں اور خدا اپنے بھیجے ہوئے خاص بندوں کو ان کاموں سے منع کرے اور خود ان غلط کاموں کو انجام دے ؟!

البتہ سماج اور معاشرے میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ تمام لوگ ہر جھت سے برابر نہیں ہیں، بلکہ بعض ان میں فقیر اور بعض غنی، بد صورت و خوبصورت، خوش فہم و نا فہم، سلامت و بیمار وغیرہ ان کے درمیان فرق پایا جاتا ہے ۔

بعض اشخاص پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں یہ تمام کی تمام چیزیں بعض اسباب اور علتوں کی بنا پر انسان کے اوپر عارض ہوتی ہیں جس سے فرار اور چھٹکارا ممکن ہے، کبھی یہ اسباب طبعی علتوں کی بنیاد پر اور کبھی خود انسان ان میں دخالت رکھتا ہے لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود خدا کے فیض کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور ہر شخص اپنی استعداد و استطاعت کے مطابق اس سے فیض حاصل کرتا ہے خداوند عالم کسی بھی شخص کو اس کی قدرت و طاقت سے زیادہ تکلیف و ذمہ داری نہیں دیتا، انسان کی کوشش اور محنت کبھی رائگاں نہیں ہوتی، ہر فرد بشر کی ترقی کے لئے تمام حالات و شرائط میں راستے کھلے ہوئے ہیں ۔


دوسری فصل؛ نبوت

نبوت

خداوند عالم کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کی ھدایت کے لئے احکام کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرے اس مطلب پر تین دلائل پیش کررہے ہیں ۔

پہلی دلیل

اس لئے کہ انسان کی پیدائش کا ھدف یہ نہیں ہے کہ ایک مدت تک اس دنیا میں رہے، اور اللہ کی نعمتوں کو استعمال کرے اور ہر طرح کی عیش و عشرت یا دنیاوی ہزاروں دکھ درد اور پریشانیوں کے داغ کو اپنے سینہ پر برداشت کرکے رخت سفر باندھ کر فنا کے گھاٹ اتر جائے، اگر ایسا ہے تو انسان کی خلقت عبث و بے فائدہ ہوگی!(۱۸)

جب کہ خدائے تبارک و تعاليٰ کی ذات ایسے کاموں سے پاک اور مبرا ہے۔

انسان، خداوند عالم کی بھترین و افضل ترین مخلوق ہے اور اس کو پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کے ذریعہ کمالات و فضائل کے اعليٰ مرتبہ پر پھونچ جائے تاکہ قیامت کے دن بھترین ثواب و جزا کا مستحق قرار پائے۔

لہٰذا پروردگار عالم کی ذات نے انسان کو نظم و قانون کا محتاج پایا تو ان کے لئے انبیاء (ع) کے دستور العمل بھی بھیجا تاکہ انسان کو تعلیم دیں اور انسان کو ضلالت و گمراہی کی تاریکی سے نکالیں، یہ وھی احکام ہیں جو ساتھ قوانین اور انسان کی زندگی اور آخرت دونوں کو سدھارتے ہیں، لوگوں کو

زیادتی اور زور و زبردستی سے روکتے ہیں اور انسان کی آزادی کے حقوق کے محافظ ہیں نیز انسان کو کمال و صراط مستقیم اور اللہ تک پھونچاتے ہیں ۔ کیا انسان کی ناقص عقل ایسا جامع دستور العمل اور منظم پروگرام لوگوں کے حوالے کر سکتی ہے؟ ہر گز ممکن نھیں، اس لئے کہ انسان کی عقل اور اس کی معلومات ناقص و محدود ہے،لوگوں کی عقل اچھے، برے جلوت و خلوت انفرادیت و اجتماعیت کے حالات پر کافی اور کامل معلومات نہیں رکھتی ہے ۔

اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے ابتدائے خلقت سے لیکر آج تک ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور بے حد دولتوں کا سیلاب بہاد یا کہ محکم و کامل اور جامع انسانیت کے لئے قانون بنائے لیکن ابھی تک نہ بنا سکا، قانون تو بے شمار بنتے رہتے ہیں، لیکن کچھ ہی دنوں میں اس کی خامیاں اور غلطیاں کھل کر سامنے آجاتی ہیں لہذا یا تو لوگ اس کو پورے طور پر ختم کر دیتے ہیں یا اس میں تبدیلی اور نظر ثانی کے در پے ہو جاتے ہیں ۔

دوسری دلیل

خود انسان کی طبیعت میں خود خواہی اور خود غرضی کے میلان پائے جاتے ہیں لہذا وہ ہر طرح کے فوائد کو اپنے اور اپنے اقارب کے لئے سب سے زیادہ پسند کرنے لگتا ہے لہذا نتیجتاً یہ عادت و فطرت مساوات کا قانون بنانے سے مانع ہوتی ہے ۔

جب بھی انسان ارادہ کرتا ہے کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس میں ہوائے نفس اور خود خواہی نیز خود پسندی کا کوئی دخل نہ ہو، اپنے اور پرائے ایک صف میں کھڑے ہوں اور ہر ایک کو ایک نگاہ سے دیکھا جا رہاہو لیکن کھیں نہ کھیں طبیعت اور خواہش نفسانی تو غلبہ کر ہی لیتی ہے لہذا عدل و انصاف پر مبنی قانون کا سد باب ہو جاتاہے ۔

تیسری دلیل

قانون بنانے والے حضرات انسان کے فضائل اور روحانی کمالات کا علم نہیں رکھتے اور اس کی معنوی زندگی سے بے خبر ہیں وہ انسان کی فلاح اور بھبود، مادیات کے زرق و برق اور دنیا کی رنگینیوں میں تلاش کرتے ہیں جب کی انسان کی روحانی اور دنیاوی زندگی کے درمیان ایک خاص اور محکم رابطہ پایا جاتا ہے فقط خداوند عالم کی ذات والا صفات ہے جو اس دنیا و ما فیھاکا پیدا کرنے والا ہے اور انسان کی اچھائی و برائی سے خوب واقف اور با خبر ہے،نیزتمام موجودات پر احاطہ کئے ہوئے ہے کوئی بھی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نھیں، وھی ہے جو بلندی کی راہ اور ھلاکت کے اجتناب سے بخوبی واقف ہے لہذا اپنے قانون و احکام بلکہ انسانیت کی باگ ڈور ایسے حضرات کے حوالے کرتا ہے جو لوگوں کے لئے نمونہ اور اس کی زندگی آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے ۔

اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں خداوند عالم حکیم ہے کبھی بھی انسان کو حیرانی اور جہالت و گمراہی کے اتھاہ سمندر میں نہیں چھوڑ سکتا بلکہ اس کی مصلحت و لطف کا تقاضا یہ ہے کہ انبیاء کو قواعد و قانون کے ساتھ لوگوں کی ھدایت کے لئے مبعوث کرے ۔

انبیا، اللہ کے خاص بندے اور بساط بشر کی ممتاز فرد ہوتے ہیں جو خدا سے جس وقت چاہیں رابطہ پیدا کر سکتے ہیں اور جس چیز کی حقیقت معلوم کرنا چاہیں اسے معلوم کر کے لوگوں تک پھنچا سکتے ہیں اس طرح کے رابطے کو ”وحی“ کہتے ہیں وحی یعنی اللہ اور اس کے خاص بندے کے درمیان رابطے کو کہتے ہیں، انبیاء اپنی باطنی بصیرت سے دنیا کی حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں اور دل کے کانوں سے غیبی باتیں سنتے اور لوگوں تک پھنچاتے ہیں ۔

نبی کے شرائط

۔عصمت:

نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے یعنی نبی کے پاس ایسی قدرت و طاقت موجود ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے گناہ کے ارتکاب اور ہر طرح کی خطا و غلطی اور نسیان سے محفوظ رہ سکیں تاکہ خداوند عالم کے احکام جو انسان کی ھدایت کے لئے بنائے گئے ہیں بغیر کسی کمی اور زیادتی کے لوگوں تک پھونچا سکیں ۔

اگرنبی خود گناہ کا مرتکب ہو جائے اور اپنے قول کے برخلاف عمل کرنے لگے تو اس کی بات اپنے اعتبار و اعتماد سے گر جائے گی یعنی وہ اپنے اس فعل سے اپنی ہی باتوں کا قلع قمع اور اپنے عمل کے ذریعہ لوگوں کو برائی اور خدا کی نافرمانی کی طرف راہنمائی کر نے لگے گا، جب کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عملی تبلیغ زبان سے زیادہ موثر ہے اگر نبی غلطی و نسیان کا پلندا ہوجائے تو لوگوں کے دلوں سے محبوبیت اور اس کا بہر وسہ ختم ہوجائے گا اور اس کی باتوں کی معاشرے کے سامنے کوئی اہمیت و عزت نہ ہوگی ۔

۔علم:

نبی کے لئے ضروری ہے کہ ہر وہ قوانین جو انسان کی سعادت اور نیک بختی کے لئے لازم و ضروری ہیں اس سے خوب واقف ہو، اور ہر وہ مطالب و موضوع جو راہنمائی و تبلیغ کے لئے کارساز ہیں اس کا کماحقہ علم رکھتا ہو تاکہ انسان کی فلاح اور بلندی کے حصول کے لئے خاص پروگرام لوگوں کے اختیار میں دے سکے اور راہ مستقیم (سیدھا راستہ) جو فقط ایک راستہ ہے اس کے سوا کوئی راستہ نھیں، اس راہ کے عظیم اجزا کو باہم اور دقیق ملاکر لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔

۔ معجزہ:

خارق عادت کام کو کہتے ہیں یعنی نبی کا اپنے دعويٰ نبوت کے اثبات میں ایسے کام کا انجام دینا جس سے تمام لوگ عاجز ہوں چونکہ نبی عادت کے خلاف کسی چیز کا دعويٰ کرتا ہے اور نظروں سے اوجھل دنیا اور اللہ کی ذات سے رابطہ رکھتا ہے اور معارف و علوم کو اسی سے حاصل کرتا ہے اور تمام احکام کو اسی کی طرف نسبت دیتا ہے تو ضروری ہے کہ نبی ایسے کام کو اپنے مدعيٰ کے لئے انجام دے جس سے اس زمانے کے تمام افراد عاجز و حیران ہوں اور دعويٰ چونکہ غیبی ہے لہذا معجزہ بھی عادت کے بر خلاف ہونا چاہیے تاکہ اس امر غیبی کو ثابت کر سکے ایسے کام کو معجزہ کہتے ہیں۔

خلاصہ چونکہ نبی خدا سے رابطے کا دعويٰ کرتا ہے تو ضروری ہے کہ خدا کے ہم مثل کام کو انجام دے تاکہ لوگ اس کی بات پر یقین کریں مخفی نہ رہے کہ انبیاء کے تمام پروگرام اسباب و علل کے دائرے ہی میں انجام پاتے ہیں، مگر بعض مقامات پر جہاں وہ اس کی ضرورت سمجھتے ہیں، معجزہ سے کام لیتے ہیں ۔

نبی کو پہچاننے کا طریقہ

یہ مسلم ہے کہ نبی ایک عظیم مقام و رتبے پر فائز ہوتا ہے جب چاہے خدا سے رابطہ پیدا کر سکتا ہے اور وحی کے ذریعہ حقائق کو حاصل کر سکتا ہے پیغمبر اور نبی میںما فوق العادت عصمت جیسی طاقت بھی موجود ہوتی ہے، (کہ جسکی وجہ سے گناہ اور نسیان وغیرہ سے محفوظ رہتے ہیں) اور یہ بھی معلوم ہے کہ ایسا مقام اور راز پنہانی ہر کسی کے بس کا نہیں ہے لہذا انسان ان دو راستوں کے ذریعہ نبی کی حقانیت و صداقت کو بخوبی معلوم کر سکتا ہے اور تشخیص دے سکتا ہے ۔

پہلا راستہ:

ایک نبی دوسرے (آنے والے) نبی کی خبر دے یا اس کی تصدیق کرے یا اس کے علائم اور قرائن کو بیان کرے ۔

دوسرا راستہ:

وہ اپنے دعوے کی صداقت اور حق گوئی کے لئے معجزہ پیش کرے، یعنی ایسے کام کو انجام دے کہ انسان اس جیسے کام انجام دینے سے عاجز ہو جب انسان دیکھے کہ کوئی پیغمبری کا دعويٰ کرتا ہے اور کھتا ہے کہ میں خد اکی طرف سے تمھاری ھدایت کے لئے مامور کیا گیا ہوں اور اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے ایسے کام کو انجام دے رہاہو جو انسان کے اختیار سے باہر ہے، پس یقین ہو جائیگا کہ یہ شخص سچا ہے اس لئے کہ اگر یہ جھوٹا ہوتا تو خدا اس کی معجزہ کے ذریعہ تائید نہ کرتا چونکہ جھوٹے کی تائید کرنا لوگوں کو جہالت میں ڈالنا ہے ایک امر قبیح ہے اور خدا کوئی قبیح امر انجام نہیں دیتا ہے مقام عصمت و نبوت کو پہچاننے کے لئے ان دو عمومی قاعدے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں پایا جاتا ہے ۔

لیکن جاننا چاہیے کہ عقلمندوں اور تحقیق کرنے والوں کے لئے دوسرا راستہ بھی کھلا ہوا ہے کہ لوگ قانونِ شریعت اور احکام اسلام کا بہ نظر غائر مطالعہ کریں،اور قانون اسلام کو دنیا کے اور دوسرے قوانین سے تقابل کریں اور اس کے امتیازات اور مصلحتوں کو خوب درک کریں، اس وقت نبی کی سیرت اور طور طریقہ نیز رفتار و گفتار کو اس کے آئینے میں تلاش کریں اور اس طریقے سے ان کے دعوے کی سچائی کی تائید اور تصدیق کر کے اپنے ایمان کو مضبوط کرسکتے ہیں، لیکن اس راہ سے آنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے یا یہ کہ خدا کا لطف خاص شامل حال ہو اور انسان ایمان کی قوت سے مالامال ہو، قرآن مجید نے انبیاء کے لئے معجزات کو بیان کیا ہے جو شخص قرآن کے آسمانی اور خدا کی کتاب ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے اس کو لامحالہ انبیاء کے معجزات پر بھی اعتقاد رکھنا پڑے گا جیسے حضرت موسيٰ علیہ السلام کے عصا کا اژدھاہونااور حضرت عیسيٰ علیہ السلام کا مردے کو زندہ کرنا وغیرہ کسی کے لئے قابل انکار نہیں ہے، جناب عیسيٰ علیہ السلام کا گھوارے میں باتیں کرنا قرآن کی نص ہے ۔

انبیاء کی تعداد

حدیثوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ انبیاء کی تعدادایک لاکھ چوبیس ہزار ہے جو لوگوں کی ھدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں جس میں سب سے پھلے حضرت آدم (ع) اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ابن عبد الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں(۱۹)

انبیاء کے اقسام: بعض انبیاء اپنے فرائض کو وحی کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں لیکن تبلیغ پر مامور نہیں ہوتے ۔بعض تبلیغ پر بھی مامور تھے ۔بعض صاحب دین اور شریعت تھے ۔ بعض انبیاء مخصوص شریعت لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ دوسرے نبی کی شریعت کی تبلیغ و ترویج کرتے تھے اور ایسا بھی ہوا ہے کہ متعدد انبیاء مختلف شہر وں میں تبلیغ و ھدایت کے لئے مامور کئے گئے ہیں ۔

اولو العزم انبیاء:

حضرت نوحعلیہ السلام، حضرت ابراہیمعلیہ السلام، حضرت موسيٰ علیہ السلام، حضرت عیسيٰ علیہ السلاماور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، یہ صاحب شریعت تھے اور تمام انبیاء میں سب سے افضل ہیں، ان کو اولو العزم پیغمبر (ع) بھی کہاجاتا ہے۔

بعض انبیاء صاحب کتاب تھے: حضرت نوح (ع)، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت موسيٰ علیہ السلام، حضرت عیسيٰ علیہ السلامحضرت محمد (ص)، اور باقی انبیاء صاحب کتاب نہیں تھے بعض انبیاء تمام لوگوں کیلئے مبعو ث کئے گئے تھے اور بعض مخصوص جمعیت و گروہ کیلئے مبعوث کئے گئے تھے ۔(۲۰)

حضرت محمد (ص) آخری نبی ہیں

اولو العزم انبیاء میں سے ہمارے نبی حضرت محمد ابن عبد اللہ (ص) ہیں آپ کی امت مسلمان کھلاتی ہے۔ آنحضرت (ص) اس وقت مبعوث برسالت ہوئے جب گذشتہ انبیاء کی کوششیں اور ان کی قربانیاں اور طولانی زحمات اپنا ثمرہ دکھا رہی تھیں، لوگوں کی دینی سوجھ بوجھ اس حد تک پھنچ چکی تھی کہ چاہتے تو بھترین اور کامل ترین قوانین کو اخذ کرتے اور بلند ترین معارف کو سمجھتے نیز گذشتہ انبیاء کے علمی آثار کو ہمیشہ باقی رکھ سکتے تھے، اس وقت حضرت محمد مصطفی (ص) مبعوث ہوئے، اور لوگوں کے اختیار میں ایک جامع اور مکمل دستور العمل قرار دیا ۔

اگر اسلامی قوانین اور اس کے احکام پر پابندی سے عمل کیا جائے تو انسان کی دنیوی و اخروی سعادت کو اسکے ذریعہ سے تامین کیا جا سکتا ہے اور اسی طریقے سے اس زمانہ اور آنے والی نسلوں کی خیر و صلاح کے لئے کافی ہیں۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ قواعد و قوانین اور معارف اسلامی میں تلاش و جستجو کرے اور اسلام کے قوانین کا دنیا کے اور قوانین سے تقابل کرے تو اسلام کے قوانین کی برتری اس کے اوپر روز روشن کی طرح واضح و ظاہر ہوجائے گی یھی علت ہے کہ آنحضرت (ص) آخری پیغمبر اور خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا قرآن مجید نے آپ کو خاتم النبیین سے تعبیر کیا ہے(۲۱) حضرت محمد کے آخری نبی ہونے کا اعتقاد رکھنا، دین کی ضروریات میں سے ہے اور اس سے انکار کرنے والا مسلمان نہیں ہے ۔

ہمیشہ رہنے والا معجزہ

حضرت محمد مصطفی (ص) آپ صاحب معجزہ تھے اور اپنی زندگی کے مختلف ایام میں لوگوں کو معجزہ سے روشناس کرایا ہے اور کثرت سے حدیث اور تاریخی کتابوں میں اس کی طرف اشارہ ملتا ہے، ان سب کے علاوہ قرآن مجید ہمیشہ رہنے والا معجزہ اور آپ کی نبوت پر قطعی ثبوت ہے قرآن کریم خود اپنے کو معجزہ سے تعبیر کرتا ہے اور خدالوگوں سے کھتا ہے جو ہم نے قرآن مجید اپنے بندے (محمدمصطفی (ص) ) پر نازل کیا ہے اس پر شک کرتے ہو تو اس کے مثل ایک سورہ ہی لے آؤ ۔(۲۲) اورقرآن کھتا ہے اگر تمام جن و انس قرآن کا مثل لانے پر اتفاق کرلیں تب بھی نہیں لا سکتے ۔(۲۳)

اسلام کے دشمن اسلام سے ہر طریقے سے لڑنے کے لئے آمادہ ہو گئے کسی راہ کو باقی نہیں چھوڑا، اور خطرناک سے خطرناک جنگوں سے سامنا کرنے سے منھ تک نہ موڑا اور جانی و مالی بے انتھانقصان برداشت کئے لیکن قرآن سے جنگ کرنے کے لئے اصلاً آمادہ نہ ہوئے، ہاں اگر ان کے بس کا ہوتا تو قرآن کے سورہ کی طرح کسی ایک سورہ کا جواب لاکر رکھ دیتے! اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو اتنی بڑی بڑی جنگوں کے مقابل سورہ لانے کو زیادہ ترجیح دیتے اور ہزارہازحمت و پریشانی سے سبکدوش ہوجاتے مثلِ سورہ قرآن کوئی سورہ پیش کرنے پر اصلاً قدرت ہی نہیں رکھتے تھے ۔(۲۴)

قرآن مجید آنحضرت (ص) کی تیئیس سال کی زندگی میں رفتہ رفتہ نازل ہوا ہے آںحضرت (ص) کے اصحاب ِکرام ان آیات کو حفظ کرتے تھے اس کے بعد جمع آوری ہوئی اور کتاب کی صورت میں لوگوں کے سامنے آگیا، قرآن مجید پہلی آسمانی کتاب ہے جس میں کسی طرح کی کوئی تغییر و تحریف نہیں پائی جاتی ہے، اور بغیر کسی کمی اور زیادتی کے لوگوں کے سامنے موجود ہے ۔

قرآن کتاب عمل ہے:

اگر مسلمان دارین کی سر بلندی چاہتے ہیں اور انکی چھنی ہوئی شان و شوکت، جاہ و حشم واپس آجائے تو چاہیے کہ قرآن کے بیان کردہ محکم قوانین اور دستور کی پیروی و اتباع کریں ا ور اپنے تمام کاموں نیز تمام لا علاج امراض میں قرآن سے تمسک و توسل کر کے ان اجتماعی و انفرادی مشکلوں کو حل کریں ۔

حضرت رسول خدا (ص) کے حالاتِ زندگی

آپ (ص) کے والد عبد اللہ اور ماں کا نام آمنہ تھا سترہ ربیع الاول سن ایک عام الفیل کو مکہ معظمہ میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی، ستائیس رجب المرجب کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے، تیرہ سال مکہ میں رہکر لوگوں کو پوشیدہ اور ظاہری طور پر اسلام کی دعوت دیتے رہے اسی مدت میں ایک گروہ مسلمان ہوا اور آپ پر ایمان لے آیا۔ لیکن کفار اور بت پرست افراد ہر طرف سے اسلام کی تبلیغ کے لئے موانع اور رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے اور آںحضرت (ص) کو اذیت مسلمانوں پر سختی و عذاب سے کوئی لمحہ فرو گذاشت نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ آنحضرت (ص) کی جان ایک دن خطرے میںآ گئی لہٰذا مجبور ہو کر مدینہ کی طرف ھجرت فرمائی اور آھستہ آھستہ مسلمان بھی آپ سے آملے اور مدینہ شہر سب سے پھلے اسلامی حکومت کا پائے تخت اور فوجی اڈا بن گیا ۔ آںحضرت (ص) اس مقدس شہر میں دس سال تک احکام کی تبلیغ لوگوں کی راہنمائی اور اجتماعی امور کے سنبھالنے میں مشغول رہے اور اسلامی لشکر ہر وقت حریم اسلام کے دفاع کے لئے آمادہ رہتا ۔

ہمارے نبی (ص) ترسٹھ سال اس دار فانی میں رہ کر اٹھائیس صفر ھجرت کے گیارہویں سال دار بقا کی طرف رحلت فرماگئے اور اسی شہر مقدس (یثرب) مدینہ میں مدفون ہوئے ۔

آں حضرت (ص) بچپنے سے ہی با ادب سچے اور امانتدار تھے اسی وجہ سے لوگ آپ کو محمد امین (ص) کہتے تھے، اخلاقی لحاظ سے نیک، اپنے زمانہ کے لئے نمونہ تھے کبھی آپ (ص) سے جھوٹ اور خیانت دیکھی نہیں گئی کسی پر ظلم و ستم نہیں کرتے اور برے کاموں سے دوری، لوگوں کا احترام، خوش اخلاق و متواضع و بردبار تھے مجبور و بے سہاروں کے ساتھ احسان و مہر بانی سے پیش آتے آپ جو کہتے اس پر عمل کرتے تھے اسی پسندیدہ اخلاق کا نتیجہ تھا کہ لوگ ہر طرف سے اسلام کے گرویدہ ہونے لگے اور آزادی و اختیار کے ساتھ اسلام قبول کرتے تھے، امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: ایک فقیر نے آنحضرت (ص) کے قریب آکر آپ (ص) سے سوال کیا حضرت نے ایک انصاری سے کھجور قرض لے کرسائل کو عطا کیا کافی دن گذر گئے مگر آپ اس کا قرض نہ چکا سکے پہر ایک دن طلبگار آیا اور اس نے اپنی کھجور کا مطالبہ کیا حضرت نے فرمایا: ابھی میرے پاس نہیں ہے جب ہو جائے گا تو میں انشاء الله دے دونگا، دوسری دفعہ آیا اور پہر وھی جواب سنا، تیسری مرتبہ جب اس نے اِس جواب کو سنا تو کھنے لگا: یا رسول اللہ ! کب تک یہ کہتے رہیں گے انشاء اللہ دونگا؟ پہر وہ آں حضرت (ص) کی شان میں گستاخی کرنے لگا حضرت اس کے نا زیبا کلمات سن کر مسکرانے لگے اور اصحاب سے فرمایا: کیا تم میں کوئی ہے جو مجھے کھجور قرض کے طور پر دے؟ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میں آپ کو دونگا فرمایا: اس مقدار میں (خرما) کھجور اس شخص کو دے دو، طلبگار نے کہامیں تو اس کے نصف کا طلبگار ہوں حضرت (ص) نے فرمایا اس نصف کو میں نے تجھے بخش دیا ۔(۲۵)

اسلامی احکام

دین اسلام کے قوانین فقط فردی عبادت اورظائف پرمشتمل نہیں ہیں بلکہ نظام اجتماعی کو بھی اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے انسان کی زندگی کے ہر ایک لمحات کے لئے دین اسلام، احکام اور دستور العمل رکھتا ہے جیسے اجتماعی سیاسی اور حقوقی زندگی کے مسائل، پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت علی (ع) انھیں قوانین کو اجرا کرنے کے لئے مسلمانوں پر حکومت کی انھیں پروگرام کے نافذ ہونے کی وجہ سے صدر اسلام کے مسلمانوں نے حیرت انگیز ترقیاں حاصل کیں اور محکم طاقتور حکومت کا قیام وجود میں آیا ۔ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام کے احکام (دنیا کے) تمام قوانین سے افضل و اکمل ہیں ۔ اگر بطور کامل اس کو اجرا اور اجتماعات میں اس سے استفادہ کیا جائے تو انسان سعادت و خوشبختی کے مراتب پر فائز ہو سکتا ہے، ظلم و زیادتی اپنی بنیاد سے ختم ہو جائے گی جنگ وجدال کی جگہ صلح و صفائی لے لے گی، اور فقر و بیکاری کا بوریہ بستر بندھ جائے گا ۔

ہمارا عقیدہ ہے، اسلام کے قوانین ناقص نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کے کامل اور اصلاح کرنے کے محتاج ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ آنحضرت (ص) انسان کے واقعی مسائل و مصالح سے بخوبی واقف تھے اس لئے بھترین قوانین کو انسان کے اختیار میں دئے ہیں ۔

ہم عقیدہ رکھتے ہیں، جو بھی قانون قرآن مجید کے مخالف ہو وہ لوگوں کی مصلحت و مفاد کے لئے نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی حقیقت ہے، ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں، ہماری سعادت مندی کا صرف ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ ہم اپنی زندگی کے تمام حالات میں دین اسلام کے احکام کی پابندی کریں ۔

ہمیں اطلاع ہے اسلامی فرقوں کی زبوں حالی اسلام کی وجہ سے نھیں، بلکہ یہ تمام بد بختی کا سر چشمہ قوانین اور احکام اسلامی سے سر پیچی اور رو گردانی کا نتیجہ ہے، جب ہم نے اسلامی احکام کو پس پشت ڈال کر اپنے اجتماعی درد کا مداوا دوسروں سے مانگنے لگے یعنی ہم نے اسلام کے فقط نام پر اکتفا کیا جس کے نتیجہ میں بد بختی کے یہ سیاہ بادل ہمارے اوپر منڈلانے لگے ۔

ہم اعتقاد رکھتے ہیں، اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ اپنی عزت و بزرگی، شان و شوکت مثلِ سابق واپس آجائے اور دنیا کے ترقی پزیر ملکوں کی فہر ست میں ہمارا بھی شمار ہونے لگے تو ہمیں چاہیے کہ ہم حقیقی اور صحیح معنی میں مسلمان بن جائیں، اور تمام اسلامی قوانین کو اپنے اوپر نافذ کریں اپنے اجتماعی پروگراموں میں احکام قرآن کو حاکم قرار دیں جب تک قانون اسلام صفحہ قرطاس پر جملہ مرکبہ کی صورت میں رہے گا اور اس پر کوئی عمل در آمد نہ ہوگا تو ہمیں ترقی اور عظمت کے لئے سوچنا اپنے کو خواب غفلت میں ڈالنے کے مترادف ہوگا ۔


تیسری فصل؛ امامت

امامت

نبی کی بحث میں بیان ہوا خداوند عالم پر انبیاء کا لوگوں کی سعادت و نیک بختی کے لئے قانون کے ساتھ بھیجنا واجب ہے، اور جس طریقہ سے نبی نے امانت و دیانت کے ساتھ اسلام کے احکام کو بغیر کمی و زیادتی کے لوگوں تک پھنچانے میں کوشش کی ایسے ہی رسول کے بعد ایسے شخص کا ہونا ضروری ہے جو احکام کو بغیر کمی و زیادتی کے لوگوں تک پھنچائے، یعنی دین کی حفاظت اور لوگوں کے دینی و دنیاوی امور کو انجام دے تاکہ انسان کے لئے کمال و سعادت کی راہیں وا رہیں، اللہ اور اس کے بندوںکے درمیان ایک لمحہ کے لئے فاصلہ و جدائی نہ ہو سکے ایسے شخص کو امام اور خلیفہ رسول (ص) کہتے ہیں۔

تمام ائمہ اطہار (ع) نبی کے علوم کے محافظ اور انسان کی کامل ترین فرد اور نمونہ عمل اور اسلام کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں خود کامل اور سعادت کی راہوں میں سیر کرتے ہوئے لوگوں کی ھدایت کرتے ہیں ۔

امام کے صفات

عصمت

نبی کی طرح امام کو بھی احکام دین اور اس کی تبلیغ و ترویج میں خطا و غلطی، سھو و نسیان سے منزہ ہونا ضروری ہے، تاکہ دینی احکام کسی کمی اور زیادتی کے بغیر کامل طور پر اس کے پاس موجود رہے اور لوگوں کو سیدھے راستے پر چلنے اور حق تک پھنچنے کا جو فقط ایک راستہ ہے اس کو مخدوش نہ ہونے دے، پس امام کا گناہوں سے محفوظ رہنا اور جو کچھ کھے اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کے قول کی اہمیت اور، بات کا بہر م باقی رہے اور لوگوں کا اعتماد اس سے زائل نہ ہو اگر امام گناہ کا مرتکب ہوگا تو اس کی یہ سیرت لوگوں کے لئے سر مشق عمل ہوگی جس سے نبی اور امام کے بھیجنے کا مقصد فوت ہوجائے گا نیز ان کا یہ کردار لوگوں کو اللہ کی معصیت پر ابھارنے کا باعث بنے گا، لہذا امام کے لئے ضروری ہے احکام اسلام پر سختی سے عمل کرے اپنے ظاہر و باطن کو اسلام کے سانچے میں ڈھالے تاکہ اس سے خطا اور غلطی کا امکان نہ رہ جائے ۔

مختصر یہ کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے نیز امام کا دین کے تمام احکام سے واقفیت اور ہر وہ مطالب جو لوگوں کی راہنمائی اور رہبری کے لئے سزاوار ہیں اس کا جاننا ضروری ہے تاکہ انسان کے لئے سعادت و ھدایت کی شاہ راہ ہمیشہ کھلی رہے ۔

کمال اور فضیلت

پہلی بحث میں ذکر ہوا، امام بھی نبی کی طرح دین کے تمام احکام پر عمل اور اس کے جملہ اصول پر چل کر ایک نمایاں فرد اور کامل انسان ہوتے ہیں، لہذا وہ سیدھے راستے پر خود بھی چلتے اور دوسروں کو بھی ساتھ میں راہنمائی و ھدایت کرتے ہیں، یہ الٰھی معارف و حقائق کی گھٹیوں کو بخوبی درک کرتے ہیں دین کا شاہکار اور کامل ترین نمونہ ہوتے ہیں ۔

معجزہ

اخبار و احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ ائمہ طاہرین (ع) بھی تمام انبیاء کی طرح صاحب اعجاز ہوتے ہیں، فرد بشر جس کام سے عاجز ہو اس کو یہ با آسانی انجام دے سکتے ہیں، نبی کی طرح ان کے لئے بھی امکان پایا جاتا ہے کہ اپنی عصمت و امامت کو ثابت کرنے کے لئے معجزہ کو بروئے کار لائیں اور اپنی حجت لوگوں پر تمام کریں ۔

ہاں اگر کوئی مزید تحقیق کرنا چاہے تو حدیث اور تاریخی کتابوں کی طرف رجوع کرے، اس پر حقیقت کھل کر آشکار ہو جائے گی کہ ائمہ اطہار (ع) نے کتنے مقامات پر معجزہ سے کام لیا ہے، البتہ جتنے معجزات و مطالب ائمہ (ع) کی طرف منسوب کئے گئے ہیں ہم ان سب کی حقیقت کا دعويٰ نہیں کرتے کیونکہ مجھول مطالب کا بھی امکان پایا جاتا ہے ۔

امام کی پہچان

امام کو دو راستوں سے پہچانا جا سکتا ہے:

پہلا راستہ:

نبی یا امام خود اپنے بعد آنے والے امام کی پہچان بیان کرے اور لوگوں کے درمیان اپنے جانشین کے عنوان سے مشخص کرے، اگر خود امام یا نبی اس فریضہ کو انجام نہ دیں تو لوگ امام کو معین نہیں کر سکتے اس لئے کہ عصمت اور اعلمیت کے مصداق کو فقط خدا یا اس کے نمائندے ہی جانتے ہیں اور دوسروں کو اس کی خبر نہیں دی گئی ہے ۔

دوسرا راستہ:

(معجزہ) اگر امام اپنی امامت کو ثابت کرنے کے لئے معجزہ اور (خارق عادت) چیزوں کی نشان دھی کرے تو اس کی امامت ثابت ہو جائے گی کیونکہ اگر وہ اپنے امامت کے دعوے میں جھوٹا ہے تو سوال یہ ہے کہ خدا نے معجزہ سے اس کی مدد کیوں فرمائی ؟

امام اور نبی میں فرق

امام اور نبی میں چند جہات سے فرق پایا جاتا ہے ۔

پہلا :

نبی دین اور اس کے احکام کو لانے والے ہوتے ہیں، لیکن امام اس کا محافظ اور معاشرے میں اس کو اجرا کرنے والا ہوتا ہے ۔

دوسرا:

نبی یا پیغمبر (ص) شریعت،اور احکام کو وحی کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں نیز نبی کا رابطہ خدا سے براہ راست ہوتا ہے، لیکن امام چونکہ شریعت لانے والے نھیںھوتے اس لئے احکام ان کے لئے وحی کی صورت میں نہیں آتے،بلکہ وہ احکام کو نبی سے دریافت کرتے ہیں اور نبی کے علم میں ھدایت و راہنمائی کے عنوان سے دخالت رکھتے ہیں ۔

تشخیصِ امام اور امام کی تعداد

جو شخص کسی قوم یا معاشرے میں نفوذ رکھتا ہو یعنی صاحب منصب و سرپرستی کے عنوان سے لوگوں کی راہنمائی کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں رکھتا ہو اگر وہ کچھ دنوں کے لئے جانا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی کو اپنا نائب مقرر کرے اور اس نائب و جانشین میں ساری وھی ذمہ داریاں پائی جانی چاہیے جو اس سے پھلے اصل شخص میں موجود تھیں، یعنی پورے معاشرے کی سرپرستی اس کے ہاتھ میں ہو، اس طرح کا کوئی بھی شخص بغیر کسی جانشین کے نہیں جاتا ہے، جس سے لوگوں کے تمام کام مفلوج ہو کر رہ جائیں چہ جائیکہ پیغمبر اسلام (ص) کہ آپ کو اس کا بخوبی علم تھا اور آپ اس کی اہمیت کے بھی زیادہ قائل تھے کیونکہ جب بھی کوئی دیہات یا شہر فتح ہوتا تو آپ فورا ً وہاں پر ایک گورنر معین فرماتے تھے ۔ اور جب بھی کھیں،جنگ کے لئے لشکر بھیجتے تو اس کے لئے کمانڈر اور یکے بعد دیگرے کئی فرد کو معین فرماتے تاکہ ایک شھید ہوجائے تو اس کی جگہ پر دوسرا رہے، اور آپ بھی کھیں سفر کے لئے جاتے تو اپنا جانشین کسی کو معین فرماتے جس پر مدینہ کے تمام کاموں کی ذمہ داریاں ہوتی تھیں ۔

کیا یہ ہوسکتا ہے کہ چھوٹے اور معمولی سفر کے لئے اپنا جانشین معین کرےں لیکن جب ہمیشہ کے لئے جا رہے ہوں تو کسی کو اپنا جانشین مقرر نہ فرمائیں؟ اور نئے مسلمان کہ جن کی بنیاد ابھی مضبوط بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ آپ ان کو اس حالت پر چھوڑ کر چلے جائیں، کیا یہ کوئی سونچ سکتا ہے کہ آں حضرت (ص) اپنی پوری زحمت کو بے سہارا چھوڑ کر چلے جائیں گے؟ جب کہ آپ کو پھلے سے معلوم تھا کہ مسلمان بغیر معصوم راہنما کے زندہ اور اسلام تابندہ نہیں رہ سکتا ہے ۔

اس لئے قطعی طور پر کہاجا سکتا ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) نے اپنی زندگی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنے میں ایک پَل کے لئے بھی فروگذاشت نہیں فرمائی اور جو بھی موقع آپ کو حاصل ہوا، دامے درمے، قدمے سخنے ہر طرح سے بخشش کرتے رہے، جو رسول (ص) اپنی زندگی کے ایک لمحہ کو اسلام اور مسلمین کے لئے تشنہ نہ چھوڑے ہمیشہ کے لئے اتنا بڑا داغ اپنے سینہ پر رکھ کر کیسے سو سکتا ہے؟ ! ۔

ہم نے اس سے پھلے ثابت کیا تھا رسول (ص) کے لئے امام کا معین کرنا نہایت ضروری ہے اس لئے کہ خدا اور رسول (ص) کے علاوہ عصمتِ باطنی سے کوئی واقفیت نہیں رکھتا ہے اگر ایسا نہیں کرتا تو گویا دین اسلام کو ناقص چھوڑ کر جارہاہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول خدا (ص) نے مسلمانوں کے لئے اپنا جانشین معین فرمایا ہے، حضرت نے نہ صرف اپنے بعد خلیفہ بلا فصل کو معین کیا ہے بلکہ اماموں کی تعداد (بارہ ہوں گی) اور بعض روایات میں ان کے اسمائے گرامی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے ۔

حضور اکرم (ص) کا ارشاد گرامی ہے: میرے بعد قریش سے بارہ خلیفہ ہونگے ان کا پہلا شخص علی (ع) اور آخری مھدی (ع) موعود ہوگا، اور جابر کی روایت میں نام بہ نام اماموں کی تصریح موجود ہے ۔(۲۶)

پھلے امام حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۳ رجب المرجب ھجرت سے ۲۳ سال پھلے ۔

محل ولادت: خانہ کعبہ ۔

والد کا نام: عمران، ابو طالب (ع) ۔

والدہ کا نام: فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیھا۔

سن مبارک: ۶۳ سال ۔

شہادت: ۱۹ رمضان کو ضربت اور ۲۱ رمضان سن ۴۰ ھجری ۔

محل: مسجد کوفہ ۔

مدفن: نجف اشرف ۔

رسول خدا (ص) نے آغاز بعثت سے لے کر اپنی وفات کے آخری لمحات تک نہ معلوم کتنی مرتبہ حضرت علی ابن ابیطالب (ع) کو اپنا جانشین اور مسلمانوں کے لئے امام و خلیفہ کے عنوان سے تعارف کرایا ۔

اپنی عمر کے آخری سال میں حج کے مناسک کو انجام دینے کے لئے مکہ تشریف لے گئے اور حج سے واپسی کے وقت مقام غدیر خم پر خداوند عالم کی طرف سے آیت نازل ہوئی، اے رسول (ص) ! جو حکم تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے پھنچادو، اور تم نے ایسا نہ کیا (تو سمجھ لو کہ) تو تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پھونچایا اور (تم ڈرو نھیں) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا، خدا ہر گز کافروں کی قوم کو منزل مقصود تک نہیں پھونچاتا۔(۲۶)

حضرت اس مقام پر ٹھہر گئے اور لوگوں کو بھی وھیں قیام کا حکم دیا اس وقت حضرت کے چاروں طرف ستر ہزار کا مجمع تھا حکم ہوا منبر بنایا جائے، فوراً اونٹوں کے کجاوہ کا منبر بنایا گیا، لوگوں سے آشنائی کرانے کے لئے حضرت (ص) منبر پر اپنے ساتھ علی بن ابی طالب (ع) کو بھی لے گئے اور ایک تفصیلی خطبہ کے بعد فرمایا، (لوگوں آگاہ رہو) میں جس کا موليٰ ہوں علی (ع) اس کے موليٰ ہیں اے خدا! جو علی (ع) کو دوست رکھے تو اسے دوست رکھ اور جو ان سے بغض رکھے تو اس کو دشمن رکھ ۔

لوگوں میں سب سے پھلے حضرت عمر نے آپ کے ہاتھوں پر بیعت کی اور کہا: اے علی (ع) !آپ کو مبارک آپ ہمارے اور جملہ مومنین و مومنات کے سر پرست اور اولی بالتصرف ہوگئے اس کے بعد لوگوں نے آپ کی بیعت کرنی شروع کردی پہر تین دن تک بیعت ہوتی رہی ۔حضور سرورکائنات نے شدید گرم ہوا جلانے والے سورج اور تپتی ہوئی زمین حجاز پر اسلام کے اس مہم کام کو انجام دیا اور آں حضرت (ص) نے علی ابن ابی طالب (ع) کی رسمی طور پر تاج پوشی فرمائی اور علی (ع) خلافت و امامت کے عظیم عھدہ پر فائز ہوئے(۲۷)

یہ پر اہمیت واقعہ اٹھارہ ذی الحجہ سن دس ھجری میں واقع ہوا، شیعیان اہلبیت (ع) اس دن کو عید زہر ا اور جشن و مسرت کا دن جانتے ہیں اور اس دن جشن ولایت اور محافل کے عنوان سے بہ کثرت پروگرام منعقد کرتے ہیں ۔

حضرت رسول خدا (ص) نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکی شادی آپ سے کی اوراصحاب کبار کے ایک گروہ نے غدیر خم کے واقعہ کی روایت کی ہے، اور یہ روایت متواتر و قطعی ہے، اور سنی و شیعہ کی معتبر کتابوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے، اور مذکورہ حدیث غایة المرام میں اہلسنت کے ۸۹ طریقوں سے نقل ہوئی ہے اور شیعوں کی کتابوں میں ۴۳ طریقوں سے منقول ہے۔آپ (ع) آں حضرت (ص) کے داماد ہو گئے، حضرت علی (ع) کے کمالات اور آپ کی خدمات، اسلام میں اس قدرزیادہ ہیں جن کو اس کتاب میں بیان کرنا محال ہے بلکہ دریا کو کوزے میں سمونے کے مترادف ہے آپ اسلام کی مدد، خدا کی عبادت، ترویج دین کے لئے جہاد کرتے آپ تمام جنگوں میں آگے آگے کسی دشمن خدا سے نہیں ڈرتے تھے حتيٰ سخت مواقع، خطرناک حوادث میں فداکاری و جانثاری سے ایک پل کے لئے بھی دریغ نہیں کرتے تھے، شجاعت و مردانگی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھاعبادت پروردگار میں خود اپنی مثال اور یگانہ روزگار تھے علم و فہم میں بے مثال، خازن علوم نبی (ص) تھے حضرت (ع) زراعت اور کھیتی کو پسند فرماتے تھے نیز زمین کو زندہ کرنے اور اس پر درخت لگانے اور جگہ جگہ پانی کے کنویں کھودنے کو بھت دوست رکھتے تھے ۔

اس جہان فانی سے آنحضرت (ص) کی آنکھ بندھوتے ہی منافقوں کی گندی سیاست آپ کے فضائل و کمالات سے چشم پوشی آنحضرت (ص) کے حکم کی صریح مخالفت کے بعد کھنے کو رہ گیا، علی (ع) جوان ہیں اور حکومت کے امور بھت مشکل! اور علی (ع) نے دشمنان اسلام کے سر براہوں کا قلع قمع کیا ہے لہذا وہ آپ سے حسد کرتے ہیں، اور آپ کو حکومت کے لئے پسند نہیں کرتے، ایسے ہی بے بنیاد مضحکہ آمیز بہانے کی آڑ میں حضرت کو خلافت سے سبکدوش کر دیا ۔

حضرت علی (ع) پچیش سال خلفا کے دور حکومت کی تنہائی اور گوشہ نشین زندگی میں اپنے لائق چاہنے والوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہے، عثمان کے قتل ہوتے ہی لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور چار سال نو مھینے ظاہری خلافت پر فائز رہے ۔

حضرت علی (ع) ترسٹھ سال اس دنیا میں رہے اور انیس رمضان سن ۴۰ ھجری ابن ملجم کی ضربت سے مجروح ہوئے اور ۲۱ رمضان المبارک کو جام شہادت نوش فرمایا:

پہلا واقعہ

حضرت علی (ع) کے دور حکومت کا واقعہ ہے، آپ کے خزانہ دار بیان کرتے ہیں خزانہ میں ایک مروارید کا ہار تھا آپ کی ایک بچی عید الاضحی (بقرہ عید) کے دن پھننے کے لئے عاریتاً لے گئی اس شرط کے ساتھ کہ تین دن میں واپس اور اگر گم ہوگیا تو اس کی قیمت ادا کرے گی ۔ حضرت علی (ع) بچی کے گلے میں ہار دیکھ کر پہچان گئے اور میرے پاس آکر کھنے لگے مسلمانوں کے مال میں تم نے خیانت کیوں کی ہے؟ میں نے پوری تفصیل آپ کے سامنے بیان کردی اور کہاکہ آپ کی بیٹی نے واپس کرنے کی ضمانت لی ہے، اور میں خود بھی اس کا ذمہ دار ہوں۔فرمایا: ابھی اسے واپس لے لو اور آ ئندہ تم نے ایسا کام کیا تو میں تجھے سزا دونگا، آپ (ع) کی بیٹی نے کہا: بابا جان !کیا بیت المال سے ہمیں اتنا بھی حق نہیں پھونچتا کہ ایک ہار چند دن کے لئے عاریہ کے طور پر لے سکیں؟!

حضرت علی (ع) نے فرمایا: بیٹی اپنے حق سے تجاوز نہ کرو ! کیا عید کے دن زینت کے لئے مہاجرین کی عورتیں ایسا ہی ہار رکھتی ہیں؟(۲۸)

دوسرا واقعہ

حضرت امیر المومنین (ع) نے ایک عورت کو دیکھا جو سر پر مشکیزہ لئے چلی جارہی ہے آپ (ع) نے فرمایا: مشک مجھے دیدے تاکہ میں تیرے گہر تک پھونچادوں اس سے مشک لیا اور راستہ میں احوال پرسی کرنے لگے اسی اثنا میں اس نے کہا: علی بن ابی طالب (ع) نے میرے شوہر کو ملک کی فلاں سرحد پر بھیجا تھا اور وہ وہاں قتل ہوگیا اس نے وارث میں چھوٹے چھوٹے یتیم بچے چھوڑے ہیں جو کہانے اور پھننے کے بھی محتاج ہیں لہذا میں مجبور ہو کر ان کے لئے محنت و مزدوری کر کے کہانے کا بندوبست کرتی ہوں، حضرت مشک اس کے گہر پھونچا کر بیت الشرف تشریف لائے اور نہایت کرب و پریشانی کی حالت میں رات بسر فرمائی ۔

صبح ہوتے ہی کہانے کی بوری اٹھا کر اس بیوہ کے گہر لے گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا عورت دیکھ کر پہچان گئی اور کہاخدا تم سے راضی و خوش ہو اور اللہ میرے اور علی (ع) کے درمیان فیصلہ کرے،آپ نے اس عورت سے فرمایا: کیا تو روٹی بنائے گی میں بچوں کو بھلاؤں اگر تو بچوں کو بھلائے تو میں روٹی بناؤں، عورت نے کہا: تم لاؤ میں روٹی بناتی ہوں، حضرت یتیم بچوں کو بھلانے اور خوش کرنے میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ اس نے کہانا پکا کر تیار کر دیا، تو آپ اپنے ہاتھوں سے بچوں کے منھ میں روٹی اور گوشت و کھجور کے لقموں کو ڈالتے اور کہتے جاتے تھے، اے میری آنکھوں کے نور نظر کہاؤ اور علی (ع) سے راضی ہو جاؤ پڑوس کی عورت نے حضرت کو دیکھ کر پہچان لیا اور بیوہ عورت سے کہایہ شخص امیر المومنین (ع) ہیں وہ بیوہ عورت دوڑی ہوئی حضرت کی خدمت میں آئی اور معذرت کے ساتھ کھنے لگی: یا امیر المومنین (ع) !میں آپ سے شرمندہ ہوں، حضرت (ع) نے فرمایا: تم علی (ع) کو معاف کردو کہ میں نے تیری خبر گیری نہیں کی علی (ع) تم سے بھت شرمندہ ہے ۔(۲۹)

دوسرے امام حسن بن علی علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۵ رمضان المبارک سن ۳ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

والد کا نام: حضرت علی ابن ابی طالب (ع)

والدہ کا نام: فاطمہ بنت رسول خدا (ص)

سن مبارک: ۴۷ سال

شہادت: ۲۷ صفر المظفر سن ۵۰ ھجری

محل شہادت: مدینہ

مدفن: قبرستان بقیع (جنت البقیع)

حضرت علی (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) کو خدا کے حکم سے منصب امامت کے لئے معین فرمایا ۔(۳۰)

حضرت رسول خدا (ص) (امام حسن و حسین (ع) ) کو بھت چاہتے اور ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے یہ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔(۳۱)

حضرت امام حسن (ع) اپنے والد ماجد کی شہادت کے بعد مسند خلافت و حکومت پر جلوہ افروزھوئے لیکن معاویہ کی شدید مخالفت اور اس کے حیلہ و فریب کے سبب جنگ کی نوبت آگئی اور وہ وقت یہاں تک آ پھونچا کہ معاویہ کی فوج حضرت امام حسن (ع) کے روبرو کھڑی ہو گئی جب امام حسن (ع) نے اپنے سپاہیوں کے حالات اور ان کی کارکردگی کا معاینہ کیا تو ان میں اکثر کو خیانت کے جال میں پھنسا ہوا پایا لہذا آپ (ع) جنگ سے منصرف ہوکر معاویہ سے صلح کرنے پر مجبور ہوگئے ۔

امام حسن (ع) کے صلح کی بنیادی دو وجھیں تھیں:

پہلی وجہ

الف) حضرت کے فوجیوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن متفرق اور غیر منظم تھے اور ان میں اکثر یت ایسے افراد کی تھی جو ظاہر میں آپ کے ساتھ اور باطن میں معاویہ کے طرفدار تھے، معاویہ سے یہاں تک طے ہوچکا تھا کہ” ہم امام حسن (ع) کو پکڑ کر تمہارے حوالے کر دیں گے “ حضرت امام حسن (ع) نے دیکھا اگر اس حال میں ان سپاہیوں کے ساتھ جنگ کی جائے تو شکست یقینی ہے ۔

ب) اگر ان سے جنگ کا ارادہ کریں تو ان منافقوں سے داخلی جنگ اور آپس ہی میں خون خرابہ شروع ہوجائے گا اور اس اختلاف میں علی (ع) کے چاہنے والے کثرت سے شھید ہو جائیں گے نتیجہ میں مسلمانوں کی طاقت کمزور ہوجائے گی ۔

دوسری وجہ

معاویہ لوگوں کو فریب اور دھوکہ دینے کے لئے اپنے کو دین کا حامی و مددگار مظلوموں سے دفاع کرنے کا نعرہ بلند کرتا تھا اور کھتا تھا میرا مقصد اس جنگ سے اسلام کی ترویج اور قرآن کا بول بالا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

حضرت کو اطلاع تھی کہ معاویہ جھوٹ بولتا ہے، اور اس کو حکومت اور ریاست کے علاوہ کسی چیز سے سروکار نہیں ہے مگر اس مطلب کو آسانی سے لوگوں کو سمجھایا نہیں جا سکتا تھا۔

ان دو وجوہ کے علاوہ اور دوسرے اسباب کی بنا پر صلح کے لئے آمادہ ہوگئے، تاکہ معاویہ کی مکاری اور اس کی خباثت لوگوں پر آشکار ہوجائے اور تمام لوگ معاویہ اور سیرت بنی امیہ کو خوب پہچان لیں تاکہ آنے والے انقلاب کے لئے ایک بھترین راہ فراہم ہوسکے ۔

حضرت نے روح اسلام اور اصل دین کی بقا کے لئے صلح کا اقدام فرمایا اور صلح نامہ میں اپنے تمام شرائط کو اس سے باور کرایا تھا لیکن معاویہ نے ایک شرط کو بھی پورا نہ کیا، سن پچاس ھجری میں معاویہ کے حکم سے جعدہ بنت اشعث نے حضرت امام حسن (ع) کو زہر دے کر شھید کر ڈالا۔

امام حسن (ع) کا واقعہ

ایک شامی نے حضرت کو دیکھ کر گالیاں دینا شروع کر دیا جب وہ خاموش ہوا تو آپ اس کی طرف متوجہ ہو کر سلام کر کے مسکرا دئے اور فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ تو مسافر ہے اور میری حقیقت تجھ پر روشن نہیں ہے، اگر تو معافی مانگے گا تو تجھ سے راضی ہو جاؤنگا، اگر کوئی چیز طلب کرے گا تو عطا کرونگا، اگر راہنمائی چاہتا ہے تو راہنمائی کرونگا، اگر بھوکا ہے تو تجھے سیر کرونگا، اگر لباس نہیں رکھتا ہے تو لباس دونگا، اگر فقیر ہے تو غنی کردونگا، اگر بھاگ کر آیا ہے تو تجھے پناہ دونگا، اگر کوئی حاجت ہے تو حاجت روائی کرونگا، میرا گہر وسیع اور میرے پاس بھت مال ہے اگر تو میرا مہمان ہوگا تو تیرے لئے بھتر ہے ۔

جب شامی نے حضرت (ع) سے یہ تمام باتیں سنیں، گریہ کرنے لگا اور رو کر کھنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے خلیفہ اور لوگوں کے امام ہیں بیشک خدا بھتر جانتا ہے خلافت و امامت کو کہاں قرار دے، یابن رسول (ص) اللہ !آپ کی ملاقات سے پھلے میں آپ کا اور آپ کے والد کا سخت ترین دشمن تھا، اور آپ کو تمام لوگوں میں پست ترین آدمی سمجھتا تھا، لیکن اب آپ (ع) سے بے انتھامحبت کرتا ہوں اور آپ کو لوگوں میں بھترین شخص جانتا ہوں پہر وہ شخص حضرت کے بیت الشرف آیا اور جب تک مدینہ میں تھا حضرت کا مہمان رہا(۳۲)

تیسرے امام حضرت حسین ابن علی (ع)

ولادت با سعادت: ۳ شعبان سن ۴ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

والد کا نام: حضرت علی ابن ابی طالب (ع)

والدہ کا نام: حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص)

سن مبارک: ۵۷ سال

شہادت: ۱۰ محرم الحرام سن ۶۱ ھجری

محل شہادت: کربلائے معلی

مدفن: کربلائے معلی

حضرت امام حسن (ع) نے خداوند عالم کے حکم سے اپنے بھائی امام حسین (ع) کو منصب امامت و خلافت کے لئے منتخب فرمایا:(۳۳)

حضرت امام حسن (ع) معاویہ کے زمانے میں نہایت سختیوں اور مشکلات کی زندگی بسر کر رہے تھے اس لئے کہ معاویہ دین اسلام کے احکام کو اپنے پیروں تلے روند رہاتھا اللہ اور اس کے رسول (ص) کے حکم پر اپنا حکم مقدم کئے ہوئے تھا، دوسرے معاویہ حضرت (ع) کے چاہنے والوں کو بلا عذر قتل، اور آپ کو اور آپ کے دوستوں کی ھلاکت کے لئے کسی بھی کام سے دریغ نہیں کرتا تھا ۔

یہاں تک کہ معاویہ فوت ہوا یزید اس کا جانشین تخت حکومت پر آتے ہی مدینہ کے گورنر (ولید) کو حکم دیا کہ حسین (ع) سے میری بیعت لے لی جائے اور اگر بیعت نہ کریں تو ان کا سر میرے پاس بھیجدو، اس حکم کو پاتے ہی ولید نے آپ کو طلب کیا اور یزید کا یہ پیغام آپ کے گوش گذار کیا، آپ (ع) نے غور و فکر کرنے کے لئے ایک شب کی مھلت مانگی حضرت نے یزید کی بیعت اور اس کی تصدیق میں اسلام کی بھلائی نہ دیکھی اپنی جان کو خطرہ میں دیکھ کر مدینہ سے کوچ کرنے کا ارادہ فرمایا، خدا کے حرم مکہ معظمہ میں پناہ لینے کے لئے اٹھائیس رجب کو روانہ ہوئے اور تین شعبان کو مکہ پھنچ گئے۔

امام حسین (ع) کے ساتھ یزید کے برتاؤ کی خبر عراق میں پھیلی اور کوفہ کے مع افراد جو حکومت معاویہ و یزید سے تنگ آچکے تھے حضرت کے لئے کثیر تعداد میں خط لکھا اور اس میں آپ کو عراق آنے کی دعوت دی اور ادہر حضرت بھی دیکھ رہے تھے کہ یزید دین اسلام کے ساتھ کیا بد سلوکی سے پیش آرہاہے، اپنی حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے اللہ و رسول (ص) کی مخالفت سے کوئی لمحہ فرو گزاشت نہیں کیا، اور اس بات کا پورا پورا خوف موجود ہے قانون اسلام کو مسخ کر کے اپنے گندے افعال کو اس کی جگہ پر رکھے، اور یہ وقت بھی آگیا ہے کہ فرزند رسول (ص) سے اپنی حکومت و سلطنت کی تصدیق چاہے اور ادہر یزید نے حاجیوں کے لباس میں منافقین کو بیت اللہ حضرت کو قتل یا اسیر کرنے کے لئے بھیج رکھا ہے، لہذا حضرت (ع) نے حج کو عمرہ سے بدل کر حرم خدا کی عزت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے وہاں سے کوفہ کے لئے روانہ ہو گئے (یہ کوفہ وھی جگہ ہے جہاں حضرت نے پھلے مسلم بن عقیل کو بھیجا تھا اور اس میں آپ کے چاہنے والوں کی تعداد زیادہ تھی اور انھیں لوگوں نے آپ کو کوفہ آنے کی دعوت اور مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا) یزیدی فوج نے کربلا کے مقام پر آپ کو گھیر لیا آپ نے کوفہ کے لئے کہاتو ادہر سے یزید کا حکم آپھونچا جہاں ہیں وھیں روک لو، ان سے بیعت لے لو، اگر بیعت کرتے ہیں تو ٹھیک ہم آئندہ کے لئے غور و فکر کریں گے اور اگر بیعت نہیں کرتے تو ان سے جنگ کر کے ان کا سر میرے پاس بھیج دو، حضرت نے ذلت و رسوائی کے مقابلے میں شہادت کو ترجیح دی، اور اپنی مختصر سی فوج لے کر ٹڈی دل لشکر کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوئے اور کمال شجاعت کے ساتھ بھت سے دشمنوں کو جھنم کے حوالے کیا۔

آخر کار آپ، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں انصار و اصحاب کے ساتھ جام شہادت نوش فرما کر ابدی نیند سو گئے ہم اہل بیت (ع) کے دوست دار اس دن کو غم و اندوہ کا دن قرار دیتے ہیں، حضرت (ع) اور ان شھیدوں کے غم کو تازہ رکھنے کے لئے مجلس عزا اور عزاداری برپا کرتے ہیں، تاکہ ہم میں اور ہماری نسلوں میں فداکاری ظلم کے سامنے استقلال اور حریمِ اسلام کے دفاع کے جذبات زندہ اور باقی رہیں کیونکہ حضرت نے اپنی شہادت انھیں مقاصد کے لئے دی ہے لہذا ہم بھی اس کو کبھی نہیں بھولیں گے، حضرت امام حسین (ع) نے ذلت سے سر بہ تسلیم ہونے کے بجائے مسلمانوں کو فداکاری، جانثاری، دشمنوں کے مقابل قیام، دین سے دفاع، اور عزت کے ساتھ مرنے کا عملی درس دیا ہے۔

بنی امیہ اور یزید جو جانشینِ رسول (ص) کے نام پر حکومت کرتے تھے ان کو ذلیل اور گھناؤنا کردار ذلیل کثیف اعمال پر خط بطلان کھینچ دیا، حکومت بنی امیہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا نیز ان کے برے ارادہ کو نقش بر آب کر دیا ۔

مجلس و عزاداری نوحہ و ماتم گریہ و زاری حضرت کے عظیم ھدف کو پورا کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے اور ہم کو ان کے ھدف و مقصد پر چلنے کی دعوت دیتے ہیں ۔

چوتھے امام حضرت علی بن حسین زین العابدین علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۵ جمادی الثانی سن ۳۸ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

ماں کا نام: شہر بانو سلام اللہ علیھابنت یزد جرد (بادشاہ ایران)

والد کانام: امام حسین (ع)

سن مبارک: ۵۷ سال

وفات: ۲۵ محرم سنہ ۹۵ ھجری

محل وفات: مدینہ منورہ

مدفن: قبرستان بقیع (جنت البقیع)

حضرت امام حسین (ع) نے خدا وند عالم کے حکم سے اپنے فرزند حضرت علی بن الحسین زین العابدین (ع) کو منصب خلافت و امامت کے لئے منتخب فرمایا(۳۴)

حضرت امام سجاد (ع) عبادت خدا میں اس قدر سجدہ کرتے تھے کہ آپ کا لقب سجاد (ع) اور زین العابدین (ع) ہو گیاآپ واقعہ کربلا میں موجود تھے لیکن بیماری کے سبب جنگ میں شرکت نہ کر سکے ۔

کربلا کی واپسی پر کوفہ و شام میں آپ (ع) نے اپنے خطبہ کے درمیان اپنے والد کی حقانیت اور ان کے مقدس ھدف کی وضاحت فرمائی ہے اور ان شھیدوں کے راستہ کو حقانیت و دیانت کا راستہ بتایا ہے ۔ حضرت امام زین العابدین (ع) چونکہ ہمیشہ سختی اور عملی آزادی نہ ہونے کی وجہ سے علوم اور معارف اسلام کو لوگوں تک نہ پھونچا سکے اس لئے مجبوراً گوشہ نشین اور عبادت میں مشغول ہوگئے نیز دین اسلام کی ترویج اور تعلیم و تربیت کا ایک دوسرا راستہ اختیار فرمایا، اور وہ دعا ہے کہ جس میں دین اسلام کی تمام مہم چیزوں کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے، اور معارف علوم اسلامی کا ایک دریا صحیفہ سجادیہ کی صورت میں لوگوں کے اختیار میں قرار دیا ہے جو آپ کی دعاؤں کا مجموعہ ہے کہ جسے زبور آل محمد (ص) بھی کہاجاتا ہے ۔

حضرت کا پسندیدہ مشغلہ یتیم و مسکین و نادار و مجبور اور بے سرپرست افراد کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر کہانا کہانا تھا اور گاہے اوقات تو خود اپنے ہاتھوں سے ان کو کھلاتے تھے مدینہ کے بھت سے ضرورتمند گہر انوں میں کہانا اور لباس دینا آپ کا خاص وطیرہ تھا، اور اکثر جب لوگ سوجاتے تو آپ رات کی تاریکی میں چہر ے کو ڈھاکے ہوئے دوش پر کہانوں کا گٹہر اٹھائے غریبوں اور فقیروں میں تقسیم کیا کرتے تھے، جس دن دیر ہوجاتی فقرا و مساکین آپ کے انتظار میں بیدار رہتے جب آپ کی زیارت ہوتی تو آپس میں کہتے تمھیں مبارک ہو وہ شخص آگیا ان کو نہیں معلوم تھا کہ یہ کہانا پھونچانے والا کون شخص ہے؟ جب حضرت کی وفات ہوئی اور کئی دن گذر گئے (اور کہانا ان کو نہ ملا) تو سمجھے کہ راتوں میں کہانا پھونچانے والے امام زین العابدین (ع) کے سوا کوئی اور نہ تھا، بس رونا اور پیٹنا شروع کر دیا(۳۵)

پانچویں امام حضرت محمد بن علی الباقر علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۳ صفر ۵۷ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

والد کا نام: علی بن الحسین (ع)

والدہ کا نام: فاطمہ بنت امام حسن (ع)

سن مبارک: ۵۷ سال

شہادت: ۷ ذی الحجہ سن ۱۱۴ ھجری

محل وفات: مدینہ منورہ

مدفن: قبرستان بقیع

حضرت امام زین العابدین (ع) نے خدا کے حکم سے اپنے فرزند امام محمد باقر (ع) کو منصب امامت و حکومت کے لئے منتخب فرمایا(۳۶)

آپ کی علمی قابلیت اس قدر زیادہ تھی کہ لوگ آپ کو باقر العلوم (ع) کے لقب سے پہچانتےتھے۔ تمام علمی طبقوں میں آپ کو قابل قدر نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اور تمام حضرات آپ کے سامنے نہایت فروتنی اور انکساری کے ساتھ مثل طفلِ مکتب دوزانوں ہو کر بیٹھتے تھے اور اپنی مشکلات کو بیان کرتے اور کافی و شافی جواب لے کر رخصت ہوتے تھے، حضرت کو وہ فرصت حاصل ہوئی جو آپ سے پھلے اماموں کے لئے فراہم نہ تھی لہذا اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسلامی معارف و شریعت کے احکام اور علمی مطالب کا دریا بھادیا اس دور میں کثرت سے حدیثیں اور مفید اقوال لوگوں تک پھونچے کہ جس طرف سنتے ”قال الباقر“ اور” قال الصادق“ کی صدا ہی سنائی دیتی تھی، اپنے ہاتھوں زراعت اور حصول رزق میں زحمت کرنا آپ کا خاص مشغلہ تھا ۔

محمد بن منکدر کہتے ہیں:

میں ایک دن اطراف مدینہ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو زراعت کرنے کی حالت میں پورا بدن پسینہ سے تر دیکھا میں نے سوچا محترم اور مع شخصیت، فرزند رسول کو کھیتی کرتے ہوئے زیب نہیں دیتا کہ حصول دنیا میں اس قدر عرق ریزی اور اس گرمی میں گہر سے باہر کھیت کی سختی کو برداشت کریں لہذا میں ابھی چل کر ان کو نصیحت کرتا ہوں، آپ کے نزدیک جا کر سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا میں نے عرض کی: یابن رسول اللہ! آپ کو اس وقت اور اتنی شدید گرمی میں حصول دنیا کے لئے عرق ریزی کرنا زیب نہیں دیتا ہے، اگر اس وقت آپ کو موت آجائے تو پہر کیا کریں گے؟ حضرت ٹیک لگا کر کھنے لگے: خدا کی قسم اگر اس وقت مجھے موت آجائے تو یہ موت بھی عبادت کی موت ہوگی، اور پہر خدا کی معصیت میں مشغول رہوں تو موت سے ڈروں، میں اس لئے یہ زحمت برداشت کر رہاہوں تاکہ تم اور تمہارے جیسے دوسرے لوگوں کا محتاج نہ رہوں ۔میں نے کہا: یابن رسول اللہ ! میں آیا تھاآپ کو نصیحت کرنے کے لئے، لیکن خود آپ سے نصیحت لے کر جا رہاہوں(۳۷)

چھٹے امام حضرت جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۷ ربیع الاول سن ۸۳ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

والد کا نام: امام محمد باقر (ع)

والدہ کا نام: ام فروہ سلام اللہ علیھابنت قاسم بن محمد بن ابی بکر

سن مبارک: ۶۵ سال

شہادت: ۱۵ رجب یا ۲۵ شوال ۱۴۸ ھجری

محل شہادت: مدینہ

مدفن: مدینہ، قبرستان بقیع

حضرت امام محمد باقر (ع) نے خدا کے حکم سے اپنے فرزند امام جعفر صادق (ع) کو اس منصب امامت و خلافت کے لئے معین فرمایا(۳۸)

حضرت امام جعفر صادق (ع) کے زمانہ میں بنی امیہ و بنی عباس کے درمیان اختلاف اور باہمی کشمکش پورے شباب پر تھی چونکہ بنی امیہ کی موجودہ حکومت کمزوری اور تزلزل کا شکار تھی بنی عباس، بنی امیہ کی مخالفت اور اہل بیت (ع) کی طرفداری کا دعويٰ کرتے تھے ۔

حضرت امام صادق (ع) نے اس فرصت کے موقع سے خوب استفادہ کیا اور معارف دین کی تعلیم اور احکام شریعت کے پھیلانے میں بہر پور کوشش کی، کلاس کی صورت میں اچھے اور لائق شاگردوں کی تربیت فرمائی اور لوگوں کے درمیان حلال و حرام کے مسائل اور ان کی تعلیم و تعلم کو خوب فروغ دیا ۔

مکتب امام جعفر صادق (ع) میں تقریباً چار ہزار ( ۴۰۰۰) شاگردوں نے تربیت و پرورش حاصل کی تھی(۳۹) جس کی برکت سے عظیم کتابیں اور حدیثوں کا خزانہ عالم اسلام کے ہاتھ آیا اور آپ ہی کی وجہ سے مذھب شیعہ مذھب جعفری کے نام سے مشھور ہوا ۔

سفیان ثوری کہتے ہیں:

ایک دن امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا دیکھا آپ کے چہر ے کا رنگ متغیر ہے میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو حضرت نے فرمایا: میں نے گہر والوں کو منع کیا تھا کہ کوئی چھت پر نہ جائے لیکن جب میں گہر آیا تو دیکھا ایک کنیز بچے کو لئے ہوئے سیڑھی کے اوپر ہے، جب اس کی نگاہ مجھ پر پڑی بھت حیران و پریشان ہوئی اور لرزتے ہوئے ہاتھوں سے بچہ چھوٹ کر زمین پر گر گیا اور مر گیا، اب اس کنیز کے بے انتھاخوف و دھشت کی وجہ سے غمگین ہوں، اس وقت آپ (ع) نے کنیز سے فرمایا: میں نے خدا کی راہ میں تجھے آزاد کیا تم جہاں چاہو جا سکتی ہو(۴۰)

ساتویں امام حضرت موسيٰ بن جعفر الکاظم علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۷ صفر سن ۱۲۸ ھجری

محل ولادت: ابواء (مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ہے)

والد کا نام: امام جعفر صادق (ع)

والدہ کا نام: حمیدہ سلام اللہ علیھا

سن مبارک: ۵۵ سال

شہادت: ۲۵ رجب سن ۱۳۸ ھجری

محل شہادت: زندان سندی بن شاہک

مدفن: کاظمین، بغداد

حضرت امام جعفر صادق (ع) نے خدا کے حکم سے اپنے فرزند امام کاظم (ع) کو منصب امامت و خلافت کے لئے منتخب فرمایا(۴۱)

آپ اس قدر عبادت گذار اور پرہیز گار تھے کہ لوگ آپ کو عبد صالح سے خطاب کرتے تھے، بھت بردبار و حلیم تھے کبھی کسی غیر پسندیدہ چیز پر غصہ اور ناراض نہیں ہوتے تھے اس لئے آپ کا نام کاظم ہو گیا تھا ۔

امام (ع) اپنے زمانہ میں ہمیشہ سختیوں اور دشواریوں سے دوچار رہے اس لئے اسلامی علوم پھیلانے اور اسکی نشر و اشاعت کا مناسب موقع ہاتھ نہ آیا پہر بھی بھت زیادہ لوگوں نے آپ سے کسب علم و فیض کیا، اور کثرت سے آپ سے منقول احادیث کتابوں میں موجود ہے ۔

ہارون نے ۱۷۹ ھجری میں حضرت کو مدینہ سے عراق بلانے کا حکم دیا اور بصرہ و بغداد کے زندان میں بیشتر مدت تک قید رکھا آخر کار زندان سندی بن شاہک میں آپ کو زہر دے کر شھید کر ڈالا ۔

واقعہ

مدینہ میں ایک شخص امام موسيٰ کاظم (ع) کو اذیت اور حضرت علی (ع) کو گالیاں دیا کرتا تھا آپکے بعض اصحاب نے عرض کی کہ اگر آپ کا حکم ہو تو اس کو قتل کر ڈالیں، حضرت نے ان کو منع کرتے ہوئے فرمایا: وہ کہاں ہے؟ جواب دیا کہ وہ مدینہ کے اطراف میں زراعت کرتا ہے، حضرت اس کے کھیت کی طرف گئے جب اس کے نزدیک پھونچے خندہ پیشانی کے ساتھ اس کے پاس بیٹھ کر بغیر کسی تکلف کے باتیں کرنا شروع کیں آپ نے اس سے دریافت کیا اس زراعت میں تو نے کس قدر خرچ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: سو اشرفی، اور اسے فائدہ کی تجھے کس قدر امید ہے؟ اس نے کہا: دو سو اشرفی، پس حضرت نے اشرفی کی تھیلی نکالی جس میں تین سو اشرفی تھی اس شخص کو دیا اور فرمایا: یہ زراعت بھی تیری ہی ہے، وہ شخص ان تمام اذیت کے مقابلے میں اس احسان کو دیکھ کر اٹھااور حضرت (ع) کے سر کا بوسہ لینے لگا اور بھت زیادہ آپ سے معذرت خواہی کی، امام (ع) نے اسے معاف فرمایا اور مدینہ کی طرف واپس چلے آئے، میں نے دوسرے دن اس شخص کو مسجد میں دیکھا کہ اس کی نگاہ جب امام کاظم (ع) پر پڑی تو کھنے لگا: خدا بھتر جانتا ہے کہ رسالت و امامت کو کہاں قرار دے، لوگ تعجب کرتے ہوئے اس کے اس رویہ کے متعلق پوچھنے لگے تو وہ شخص حضرت کے فضائل و مناقب اور آپ کے حق میں دعا ئے خیر کرنے لگا، اس وقت امام کاظم (ع) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: یہ کام اچھا ہوا یا جو تم لوگ پسند کرتے تھے؟ میں نے تھوڑے پیسہ سے اس کی برائی ختم کر دی اور اس کو اہل بیت (ع) کا چاہنے والا بنا دیا(۴۲)

آٹھویں امام حضرت علی بن موسيٰ الرضا علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۱ ذیقعدہ ۱۴۸ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

والد کا نام: امام موسيٰ کاظم (ع)

والدہ کا نام: جناب نجمہ خاتون خاتون سلام اللہ علیہا

سنِ مبارک: ۵۰ سال

شہادت: ۲۹ صفر ۲۰۳ ھجری

محل شہادت: طوس

مدفن: مشھد (خراسان)

حضرت امام موسيٰ کاظم (ع) نے خدا کے حکم سے اپنے فرزند امام علی رضا (ع) کو منصب امامت و حکومت کے لئے منتخب فرمایا(۴۳)

حضرت امام علی رضا (ع) دنیا کے تمام افراد میں سب سے افضل اور میدان علم و عمل میں آپ کا کوئی نظیر نہ تھا، لہذا اس زمانے کے علماء و عقلا آپ سے احکام دینی و معارف اور دوسرے مختلف علوم کے متعلق دریافت کرتے تو آپ ہر ایک کو ان کے متعلق جواب عنایت فرماتے تھے ۔ آپ نے مختلف طبقات فکر سے مباحثہ اور مناظرہ بھت ہی دلچسپ انداز سے کیا ہے جو اسلامی کتابوں میں مذکور ہے، آپ کا ایک خاصہ یہ تھا کبھی بھی مباحثہ و مناظرہ کی میز پر کسی مسئلہ میں عاجز و حیران نہیں ہوتے تھے بلکہ ہر ایک کے سوال کا جواب انھیں کے مطابق عنایت فرماتے تھے ۔

آپ لوگوں کے درمیان بھت زیادہ محترم اور (عالم آل محمد (ص) ) آل محمد (ص) کے عالم کے نام سے پہچانے جاتے تھے، مامون عباسی نے سن ۲۰۰ ھجری میں حضرت کو مدینہ سے ”مر و “ بلایا جب آپ تشریف لائے تو اس نے زمام حکومت آپ کے سپرد کرنے کی کوشش کی لیکن حضرت نے قبول نہ فرمایا، جب اس کا اسرار حد سے زیادہ ہوا تو آپ نے ولی عھدی کا عھدہ قبول فرمایا، اور اس کی ولی عھدی قبول کرنے کا دو راز تھا ۔

پہلا :

حضرت چاہتے تھے کہ اس ولی عھدی کے ذریعہ مامون کی حکومت میں دینی اور اسلامی رنگ سادات اور شیعہ حضرات کو اپنی طرف متوجہ اور اس طرح ان کے آپسی اختلاف اور افتراق کو دور کیا جا سکتا ہے ۔

دوسرا:

مامون چالاکی کرنا چاہتا تھا کہ امام کو اپنے سے قریب کر کے حکومت کے کاموں میں لگا دے جس سے آپ کے چاہنے والے بد ظن اور آپ سے دوری اختیار کرنے لگیں، لیکن امام تو مامون کے شکم کی چیزوں سے بھی باخبر تھے کہ جو حکومت کے لئے اپنے بھائی کو نہ چھوڑے وہ اتنی آسانی سے کسی کو حکومت و ولی عھدی کیسے دے سکتا ہے، لہذآپ نے ولی عھدی سے بھی انکار کیا لیکن مامون کے شدید اصرار کی بنا پر مجبوراً قبول کرنے کے لئے شرائط کے ساتھ راضی ہوگئے اور فرمایا: ولی عھدی کی شرط یہ ہوگی کہ میں حکومت کے کسی کام میں اور حکام کے رکھنے اور معزول کرنے میں دخالت نہیں کرونگا ۔

امام کی اس شرط کا مطلب مامون سمجھ گیا میں نے تو ان کو خوار کرنے کے لئے یہ کام سپرد کیا تھا لیکن یہ تو مزید عزت اور توقیر کا باعث ہوجائے گا، لہذا اب دوسری فکر میں پڑ گیا کہ کیسے امام کو قتل کیا جائے آخر کار آپ کو زہر دے کر شھید کر ڈالا ۔

واقعہ

ایک شخص بیان کرتا ہے میں نے حضرت امام رضا (ع) کو دسترخوان پر سفید و سیاہ غلاموں کے ساتھ بیٹھے غذا تناول فرماتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا: یابن رسول اللہ !کاش آپ نے غلاموں کو دسترخوان سے الگ اور جدا بیٹھایا ہوتا امام غضبناک ہوگئے اور فرمایا: خاموش ہوجا، ہمارا خدا ایک، دین ایک، اور ہمارے ماں باپ ایک ہیں ہر شخص قیامت میں اپنے اعمال کا بدلہ پائے گا(۴۴)

نویں امام حضرت محمد ابن علی التقی علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۰ رجب یا ۱۹ رمضان سن ۱۹۵ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

والد کا نام: امام علی رضا (ع)

والدہ کا نام: جناب سبیکہ خاتون سلام اللہ علیھا

سن مبارک: ۲۵ سال

شہادت: آخر ذیقعدہ سنہ ۲۲۰ ھجری

محل شہادت: بغداد

مدفن: کاظمین

حضرت امام علی رضا (ع) نے خدا کے حکم سے اپنے فرزند امام محمد تقی (ع) کو منصب امامت کے لئے معین فرمایا:(۴۵)

حضرت امام محمد تقی (ع) اپنے والد ماجد کے بعد منصب امامت پر جلوہ افروز ہوئے اس وقت آپ کی عمر مبارک بھت کم تھی اور بلوغ کے حدود میں بھی قدم نہیں رکھا تھا، چونکہ علم و فہم خدا کی طرف سے تھا لہذا لوگوں کی تمام دینی مشکلات، کو بآسانی حل کرنے پر قادر تھے بسا اوقات آپ سے امتحان کے طور پر دین اسلام کے مشکل مسائل کو دریافت کیا گیا تو آپ نے اس کا جواب کافی و شافی عنایت فرمایا، آپ کی علمی صلاحیت ہر طبقے کے تعلیم یافتہ حضرات کے لئے زباں زد تھی وہ آپ پر تعجب و حیرت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے، اور عبادت و پرہیزگاری میں اس مقام پر فائز تھے کہ آپ کا لقب ہی تقی ہوگیا تھا اور کثرت جود و سخا کی بنا پر لوگ جواد بھی کہتے تھے ۔

دسویں امام حضرت علی بن محمد النقی علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۵ ذی الحجہ ۲۱۲ ھجری یا ۲ رجب سنہ ۲۱۲ ھجری

محل ولادت: صریا (مدینہ)

والد کا نام: محمد تقی (ع)

والدہ کا نام: سمانہ سلام اللہ علیہا

سن مبارک: ۴۲ سال

وفات: ۲۷ جمادی الثانی یا ۳ رجب ۲۵۴ ھجری

محل شہادت: سامرہ (سر من رای)

مدفن: سامرہ (سر من رای)

امام محمد تقی (ع) نے خدا کے حکم کے مطابق اپنے فرزند امام علی نقی (ع) کو منصب امامت کے لئے منتخب فرمایا(۴۶)

والد ماجد کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال تھی اس کم سنی کے عالم میں آپ منصب امامت و خلافت پر رونق افروز ہوئے، اسی کے ساتھ الٰھی علوم سے کاملاً بہر ہ مند تھے ۔

علم و ذکاوت کے اعتبار سے آپ کا کوئی نظیر نہ تھا، حسن اخلاق کثرت علم اور پرہیزگاری اور حددرجہ عبادت کی وجہ سے آپ لوگوں میں بھت زیادہ محبوب تھے ۔

متوکل عباسی کو خطرہ محسوس ہوا کہ ایسا نہ ہو کھیں لوگ حضرت امام نقی (ع) کے یہاں زیادہ رفت و آمد اور آپ کے اطراف جمع ہو کر حکومت کے لئے کسی دشواری اور خطرے کا باعث بنیں ۔

اس وجہ سے آپ کو سن ۲۴۳ ھجری میں مدینہ سے سامرہ بلایا اور اپنے زیر نگرانی قرار دیا حضرت امام علی نقی (ع) خلفاء بنی عباس کی سختیوں اور ان کی مصیبتوں پر تحمل و صبر کرتے ہو ئے زندگی کے آخری لمحات کو پورا کیا، اور ستائیس جمادی الثانی سن ۲۵۴ ھجری سامرہ میں وفات پاگئے ۔

گیارہویں امام حضرت حسن بن علی العسکری علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۸ یا ۴ ربیع الثانی سن ۲۳۲ ھجری

محل ولادت: مدینہ منورہ

والد کا نام: امام علی نقی (ع)

والدہ کا نام: حُدیث سلام اللہ علیہا

وفات: ۸ ربیع الاول سن ۲۶۰ ھجری

محل وفات: سامرہ (سر من رای)

سن مبارک: ۲۸ سال

مدفن: سامرہ (سر من رای)

حضرت امام علی نقی (ع) نے خداوندعالم کے حکم سے اپنے فرزند امام حسن عسکری (ع) کو منصب امامت کے لئے معین فرمایا(۴۷)

امام حسن عسکری (ع) بھی اپنے والد ماجد علی نقی (ع) کی طرح سامرہ شہر میں زیر نظر، زندانی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے، لوگ آپ سے آزاد ملاقات نہیں کر سکتے، آپ کے علم سے فیض نہیں اٹھا سکتے تھے، ان سختیوں کے باوجود آپ نے اپنی یادگار کے طور پر بھت ساری حدیثوں اور مفید مطالب کو لوگوں کے درمیان چھوڑا جو کتابوں کی زینت بنے ہوئے ہیں، اہل فہم رجوع کر کے اس سے استفادہ کرتے ہیں، آپ کے اخلاق حمیدہ پاک سیرت علم و فضل و پرہیزگاری اور عبادت خدا کسی پر مخفی نہیں ہے۔

بارہویں امام حضرت محمد بن حسن (صاحب الزمان) علیہما السلام

ولادت با سعادت: ۱۵ شعبان سن ۲۵۵ ھجری

محل ولادت: سامرہ (سر من رای)

والد کا نام: امام حسن عسکری (ع)

والدہ کا نام: نرجس سلام اللہ علیہا

حضرت امام حسن عسکری (ع) نے خدا اور اس کے رسول (ص) کے حکم سے خلافت و امامت کے لئے اپنے فرزند مھدی (ع) کو منتخب فرمایا۔(۴۸)

مھدی (ع)، قائم (ع)، صاحب الزمان (ع)، امام عصر (ع)، اور حجة (ع) اللہ و بقیة (ع) اللہ وغیرہ آپ کے القاب ہیں ۔

بھت زیادہ روایتوں میں حضرت رسول خدا (ص) سے منقول ہے کہ آںحضرت (ص) نے فرمایا: امام حسین (ع) کی نسل کی نویں فرد میرا ہمنام، مھدی (ع) موعود ہوگا، ہر ایک امام نے اپنے زمانہ میں خبر دی ہے کہ ہمارا کونسا فرزند مھدی (ع) موعود ہوگا آنحضرت (ص) اور آپ کے اہل بیت (ع) نے خبر دی ہے کہ امام حسن عسکری (ع) کے فرزند مھدی (ع) موعود ہیں ۔

اور اس کی غیبت بھت طولانی ہوگی جب خدا چاہے گا ان کو ظاہر کرے گا، وہ دنیا کی اصلاح کرینگے اور عدل و انصاف سے دنیا کو بہر دینگے پوری زمین پر انھیں کی حکومت ہوگی، اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے دین اسلام کو دین حقیقت کے عنوان سے دنیا والوں کے لئے ثابت کرینگے ۔

رسول خدا (ص) اور ائمہ طاہرین (ع) کے فرمان کے مطابق اللہ تبارک و تعاليٰ، امام حسن عسکری (ع) کو ایک فرزند عطا کرے گا، جس کا نام آنحضرت (ص) کے نام پر محمد (ص) ہوگا معتبر و معتمد اصحاب نے اس فرزند کو دیکھ کر گواہی دی ہے ۔

امام زمانہ (ع) اپنے والد ماجد کی وفات کے وقت پانچ سال کے تھے، اور امام (ع) کے بعد آپ (ع) کے جانشین و امام ہوئے بنی عباس کے خلفا نے جو روایات آنحضرت (ص) اور ائمہ طاہرین (ع) سے سنا اور پڑھا تھا کہ ایک فرزند امام حسن (ع) سے پیدا ہوگا جو مھدی موعود دنیا سے ظلم و جور کو ختم کر کے عدل و انصاف سے بہر دے گا، یعنی ظالموں اور سرکش افراد سے جنگ نیز ظالم حکومتوں کو نیست و نابود کر دے گا، فقط خدا کا دین اور اس کا عدل و انصاف ہوگا ان لوگوں نے جب امام کے مذکورہ تمام علائم اور آثار و نشانیاں دیکھیں تو آپ کے سخت ترین دشمن ہو گئے اور قطعی طور پر فیصلہ کیا کہ حضرت امام مھدی (ع) کو قتل کر ڈالیں اور اس خطرہ کو راستہ سے دور کردیں، انھیں اسباب کے تحت امام لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہو گئے اور پوشیدہ زندگی گذارنے لگے لیکن لوگوں سے آپ کا رابطہ بالکل منقطع نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ کے خاص نائبین ہوتے تھے جن کے ذریعہ رابطہ برقرار ہوتا، اور وہ ان لوگوں کی مشکلات کو حل فرماتے تھے ۔

حضرت امام زمانہ (ع) کے خاص نواب چار تھے:

۔ عثمان بن سعید

۔ محمد بن عثمان

۔حسین بن روح

۔ علی بن محمد سمری ۔

ان چاروں حضرات میں سے یکے بعد دیگرے امام (ع) کی نیابت کے لئے منصوب ہوئے یہاں تک کہ غیبت صغريٰ کے دن تمام ہوئے اور امام زمانہ (ع) سے ملاقات کے روابط منقطع ہوئے اور غیبت کبريٰ کا آغاز ہوا ۔

ابھی امام زمانہ (ع) غیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں لوگوں کے رفت و آمد ان کے اجتماع اور جلسہ میں شرکت کرتے لیکن خود اپنی آشنائی نہیں کراتے ہیں یھی حال باقی رہے گا یہاں تک کہ آپ کے ظھور کے حالات مساعد اور اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے کے لئے تمام راہیں ہموار ہوجائیں، اور پوری دنیا کے افراد اس نظام کائنات اور وقتی حکومتوں سے تنگ آکر بس خدا کی حاکمیت اور اس کی حکومت کو چاہنے لگیں، دنیاوی پریشانیوں اور ظلم و ستم و برائیوں سے لوگ تنگ آکر فقط خدائی قانون کو سائباں اور اپنی مشکلات کا حل سمجھیں، اس وقت امام زمانہ عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشریف، ظھور فرمائیں گے احکام الٰھی کو نافذ کرنے کے لئے اپنے ساتھ طاقت و قدرت لائیں گے اس کے تحت ظلم و بربریت اور فساد کو نیست و نابود اور پورے جہان کو عدل و انصاف سے بہر دیں گے ۔

ہم شیعیان حیدر کرّار کی اس غیبت کبريٰ کے زمانہ میں ذمہ داری ہے کہ ولی ّبرحق کے ظھور کا انتظار اور آپ کے تعجیلِ ظھور کے لئے دعائیں کریں، قرآن مجید کے اجتماعی احکام اور اس کے پروگرام کو دنیا کے تمام افراد کو سنائیں، اور اس احکام و قوانین کی بلندی و امتیازات اور اس کے فائدہ کو لوگوں کے سامنے پیش کریں، لوگوں کے ذھن اوران کے دل و دماغ کو ان احکام کی طرف متوجہ، اور باطل و بے سود خرافاتی عقائد کا ڈٹ کر مقابلہ اور اسلامی و جہانی امام کی حکومت کے لئے (حتی المقدور) تمام اسباب کو فراہم کریں اور دنیاوی مشکلات کو حل کرنے کے لئے قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے بھترین لائحہ عمل اور پروگرام تیار کریں اور اس کو مبلغین اور صلح و مصالحت کرنے والوں کے ہاتھوں میں دیں تاکہ وہ فکروں کو اندھیرے سے روشنائی کی طرف موڑیں، اور ہم اپنے امام (ع) کے ظھور اور آپ کی عدل و انصاف سے پُر حکومت کے لئے آمادہ رہیں ۔

ائمہ طاہرین (ع) کے متعلق ہمارا عقیدہ

۱) بارہ امام علیہم السلام، ہر طرح کے گناہ اور نسیان (بھو ل چوک) سے معصوم ہیں ۔

۲) وہ حضرات خداوند عالم کے تمام احکام و قوانین کو جانتے ہیں اور جتنی چیزیں (علوم اور اطلاعات) لوگوں کی ھدایت اور انکی راہنمائی کے لئے ضروری ہے خداوندعالم نے ان کے اختیار میں دے رکھا ہے ۔

۳) دین اسلام میں کوئی بھی حکم اپنی طرف سے نہیں دیتے اور نہیں کسی نئی چیز کو دین میں شامل کرتے ہیں ۔

۴) دین اسلام کے تمام احکام پر عمل کرتے ہیں اور ہر صحیح عقیدہ کا اعتقاد رکھتے ہیں، اخلاق حسنہ سے مزین لوگوں میں بھترین افراد اور اسلام کے کامل شاہکار اور بھترین نمونہ ہوتے ہیں ۔

۵) لوگوں کی طرحوہ بھی انسان اور اللہ کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں ان کو بھی موت اور بیماری لاحق ہوتی ہے، وہ خدا کی طرح موجودہ چیزوں کو پیدا کرنے والے نہیں ہیں ۔

۶) ان میں سے گیارہ افراد کو موت آچکی ہے بارہویں امام، یعنی امام حسن عسکری (ع) کے فرزند امام مھدی (ع) ابھی زندہ ہیں، ہم ان کے ظھور کا انتظار کر رہے ہیں ۔

شیعہ

جو لوگ حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کو رسول خدا (ص) کا بلا فصل جانشین و خلیفہ مانتے ہیں ان کو شیعہ کہاجاتا ہے ۔

شیعہ امامیہ حضرت علی (ع) اور آپ کے گیارہ معصوم فرزندوں کو امام اور راہنما و رہبر مانتے ہیں اور ان کی رفتار و گفتار میں پیروی کرتے ہیں، اور واقعی شیعہ وھی شخص ہے جو حضرت علی (ع) اور آپ کے معصوم فرزندوں کی اتباع و فرمانبرداری کرے اور ان کے طور طریقے اخلاق و اعمال کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام جابر سے ارشاد فرماتے ہیں:

اے جابر! فقط اتنا کہہ دینا کہ ہم اہل بیت (ع) سے دوستی و محبت رکھتے ہیں کیا شیعہ ہونے کے لئے کافی ہے؟ خدا کی قسم وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے، مگر جو پرہیزگار اور خدا کی اطاعت کرنے والا ہو، اے جابر ! پھلے ہمارے شیعہ ان صفات سے پہچانے جاتے تھے تواضع، امانتداری، خدا کا ذکر، روزہ، نماز، والدین کے ساتھ احسان، پڑوسی، اور ناتوان یتیم و قرضدار (اور بے چاروں) کی رکھوالی اور ان کی مدد، صداقت، قرآن کی تلاوت، لوگوں کے متعلق اچھائی کے سوا کچھ نہیں کھتے، اور لوگوں کے لئے امین تھے جابر نے عرض کی یابن رسول اللہ ! اس زمانہ میں کسی کو ان صفات کا حامل نہیں پاتا ہوں فرمایا: اے جابر مختلف راہیں تمھیں حیران و سرگرداں نہ کر دیں اور تم کسی غلطی میں گرفتار نہ ہوجاؤ ۔

انسان کی نجات اور چھٹکارے کے لئے کیا بس یھی کھنا کافی ہے کہ میں علی (ع) کو دوست اور ان سے محبت کرتا ہوں اور اللہ کے فرمان پر عمل پیرا نہ ہو؟ اگر کوئی کھے، میں حضرت رسول (ص) خدا سے محبت کرتا ہوں اور آںحضرت (ص) کے دستور و اخلاق کی پیروی نہ کرے تو کیا رسول خدا (ص) کی یہ دوستی اس کو چھٹکارا دلا سکتی ہے ؟” نہیں “ جب کہ مسلّم ہے آنحضرت (ص) حضرت علی (ع) سے افضل تھے ۔

اے شیعو ! اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام کی اتباع کرو اللہ تعاليٰ کسی سے قرابتداری و رشتہ داری نہیں رکھتا ہے، خداوند عالم کے نزدیک با عزت اور سب سے محترم شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار اور اس کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنے والا ہو، اے جابر !خدا کی قسم ! اللہ سے نزدیکی اور تقرب کے لئے اطاعت و فرماں برداری کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے جھنم سے آزادی دلانا ہمارے اختیار میں نہیں ہے، جو اللہ کا مطیع ہے وہ ہمارا دوست ہے اور جو اللہ کے حکم سے روگردانی و سر پیچی کرے وہ ہمارا دشمن ہے، ہماری ولایت و محبت سوائے عمل صالح اور پرہیز گاری کے حاصل نہیں ہوتی ہے(۴۹)

امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا: (اے شیعو) پرہیزگار اور صاحب تقويٰ بنو، اپنے نفس کی اصلاح اور نیک کام (عمل صالح) کی کوشش کرو، حق کھو، امانتدار اور خوش اخلاق ہوجاؤ، پڑوسیوں سے اچھا برتاؤ کرو، اپنے اخلاق و عمل سے لوگوں کو دین حق کی طرف دعوت دو، ہماری عزت اور سربلندی کا باعث بنو، گندے کاموں کے ذریعہ ہماری شرمندگی اور پشیمانی کا سامان فراہم نہ کرو، اپنے رکوع اور سجود کو طول دو اس لئے جب خدا کا بندہ رکوع اور سجدہ کو طولانی کرتا ہے تو شیطان ناراحت ہوتا ہے اور اس حال میں فریاد کرتا ہے اے، وای یہ لو گ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، لیکن میں نے اللہ کی نافرمانی کی یہ لوگ سجدہ کرتے ہیں اور میں نے سجدہ سے روگردانی کی(۵۰)

امام صادق (ع) فرماتے ہیں: حضرت عیسيٰ (ع) کے شیعہ اور حواری لوگ ان کے دوستدار تھے، لیکن ان کے دوستدار ہمارے شیعوں سے بھتر و افضل نہیں تھے اس لئے کہ ان لوگوں نے مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر ان کی مدد نہیں کی اور اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کیا، لیکن ہمارے شیعوں نے حضور اکرم (ص) کی وفات کے وقت سے آہماری مددکرنے سے انکار نہیں کیا ہے، ہمارے لئے فداکاری و جانثاری کرتے ہیں، آگ میں جلائے گئے، قید و زندان کی سخت سے سخت مصیبتیں برداشت کیں اپنے گہر وں سے نکال دئے گئے (شہر بدر کیا) لیکن پہر بھی ہماری مدد و نصرت کرنے سے دریغ نہیں کیا(۵۱)

مسلمانوں کے متعلق ہمارا عقیدہ

اس حال میں کہ ہم اہل سنت سے مسئلہ خلافت و جانشینی میں اختلاف نظر رکھتے ہیں اس کے باوجود تمام مسلمانوں کو اپنا بھائی اور ہم مسلک سمجھتے ہیں، اس لئے کہ ہمارا خدا ایک، ہمارا دین، ایک قرآن اللہ کی کتاب ایک، اور ہمارا قبلہ بھی ایک ہے ۔

ان کی عزت و ترقی کو ہم اپنی ترقی اور سربلندی جانتے ہیں ان کی کامیابی اور غلبہ کو ہم اپنی کامیابی و تسلط سمجھتے ہیں، ان کے مغلوب اور ذلت و شکست کہانے کو ہم اپنی شکست اور پستی مانتے ہیں، ہم سب زندہ و مردہ، خوشی و غم اور شادی و بیاہ میں باہم شریک ہیں، اس مسئلہ میں ہم اپنے پھلے امام حضرت علی (ع) کی اتباع و فرمانبرداری کرتے ہیں، کہ اگر آپ اپنے شرعی حق کا دفاع اور خلافت کو لینا چاہتے تو لے سکتے تھے لیکن دین اسلام کی مصلحت اور اپنی اصل خودداری اور دیانتداری کو ان پر ترجیح دی، نہ فقط خلفا سے جنگ نہ کی بلکہ حساس اور سخت وقت میںنیز ضرورت و مجبوری میں ان کی مدد بھی کرتے رہے اور مسلمانوں کو فائدہ پھونچانے سے کبھی بھی دریغ نہیں فرمایا، ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ دنیائے اسلام اس صورت میں ایک زندہ اور طاقتور ملت کے عنوان سے اپنی گذری ہوئی عظمت و شان و شوکت، بزرگی و برتری اور اجنبیوں کے تحت تسلط رہنے سے نجات حاصل کر سکتی ہے شرط یہ ہے کہتمام مسلمان اپنے اختلافات و پراگندگی اور انفرادیت سے دوری اختیار کریں، اور پوری طاقت ایک طرف صرف کردیں اور سب کی سب دین اسلام کی راہ میں اس کی عظمت و ترقی کے لئے قدم جمادیں ۔


چوتھی فصل؛ قیامت

انبیاء و اولیاء اور تمام آسمانی کتابوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انسان کی زندگی فقط مرنے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ اس دنیا کے بعد بھی دنیا پائی جاتی ہے جہاں پر انسان کو اپنے کئے (اعمال و کردار) کا بدلہ ملے گا ۔

اچھے لوگ وہاں پر تمام نعمتوں کے ساتھ خوشی خوشی زندگی بسر کریں گے اور بدکردار اور خطاکار افراد سخت دردناک عذاب میں گرفتار رہیں گے قیامت آسمانی تمام ادیان کی ضروریات میں سے ہے اور اصل قیامت مرنے کے بعد کی دنیا کو کہاجاتا ہے جو شخص بھی انبیاء کو مانتا اور ان کی بتائی ہوئی چیزوں پر ایمان رکھتا ہے اس کو معاد پر یقین و اعتقاد رکھنا ضروری ہے، ہم اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے دو آسان دلیلوں کو بیان کرتے ہیں ۔

پہلی دلیل

اگر مندرجہ ذیل مطالب پر توجہ کریں گے، تو آپ کے لئے قیامت کی حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی ۔

۱) دنیا میں کوئی بھی کام بغیر مقصد کے نہیں ہوتا ہے اور جو شخص بھی کسی کام کو انجام دے اس کا بھی ایک ھدف ہوتا ہے اور ھدف و مقصد وہ چیز ہے جو انسان کو اس کام کی طرف آمادہ اور چلنے کے لئے تیار کرتا ہے لہذا انسان اس مقصد کے حصول کے لئے دل جمعی کے ساتھ پوری کوشش صرف کر دیتا ہے ۔

۲) یہ صحیح ہے کہ کوئی کام بغیر ھدف و مقصد کے نہیں ہوتا، لیکن تمام مقاصد و اہداف بھی تو برابر نہیں ہوتے ہیں بلکہ کرنے والے اور خود اس کام کی موقعیت ھدف میں تفریق و جدائی کا باعث بنتی ہے ۔

پس جس قدر فاعل صاحب علم و کمال اور با تدبیر ہوگا ویساہی اس کا ھدف بھی بلند اور پر اہمیت ہوگا لہذا جو بچہ کھیلتے وقت اپنا ھدف رکھتا ہے ویسا ھدف عالم و انجینیراور سمجھدار نہیں رکھ سکتا ہے۔

۳) جب بھی انسان کوئی کام انجام دیتا ہے تو اس کی پوری کوشش و توجہ نتیجہ کے کمال پر ہوتی ہے، کہ کسی طرف سے اس نتیجہ پر حرف نہ آئے اگر وہ غرض و غایت نقائص سے محفوظ ہے تو یھی اس کا کمال ہے، مثال کے طور پر ہم بھوک کے احساس پر کہانا کہاتے ہیں اور بھوک کا احساس جو نقص ہے کہانے سے ہم اس نقص کو بر طرف کرتے ہیں، لیکن خدا کے کاموں میں یہ مطلب درست نہیں ہے اس لئے کہ یہاں پر فعل کے انجام کا فائدہ خود اس کی ذات کی طرف لوٹ کر نہیں آتا ہے، بلکہ خدا کے خلق و پیدا کرنے کا فائدہ خود اس کی مخلوق کی طرف پلٹ کر جاتا ہے جیسے خدا نے ہم کو پیدا کیا اور ہم نے نماز پڑھی نماز کا فائدہ خود ہماری ہی طرف واپس آتا ہے نہ کہ خدا کی طرف لوٹ کر جاتا ہو، اس لئے کہ خدا کی ذات میں کمی و نقص نہیں پایا جاتا کہ وہ اپنی کمی کو بر طرف اور اپنے نقص کو دور کرنے کے لئے کسی کام کو انجام دے اس بنا پر ہمارا یہ کھنا درست ہے کہ انسان کے اپنے اعمال کا فائدہ خود اس کی طرف واپس آتا ہے کیونکہ یہاں پر کام اور عمل سے مراد مقصد کو پورا کرنا یا فائدہ اٹھانا نہیں ہے بلکہ فائدہ پھونچانا اور کامل کرنا ہے ۔

شاعر کھتا ہے:

من نکردم خلق تا سودی کنم

بلکہ تا بر بندگان جودی کنم

میں نے فائدہ حاصل کرنے کے لئے تمام چیزوں کو پیدا نہیں کیا ہے بلکہ ان کو فائدہ پھنچانے کے لئے پیدا کیا ہے خداوند عالم نے انسان کے جسم کو بھترین طریقے اور بھت ہی نظاقت اور نہایت باریک بینی سے خلق فرمایا ہے ۔

لہٰذا عقلا اس میں جتنا غور و خوض کرتے ہیں اتنے ہی عجیب و غریب چیزوں سے دوچار، اور متحیر رہ جاتے ہیں، ہاں یہ کھنا درست ہے کہ خداوند عالم حکیم ہے کہ جس نے انسان کے معمولی بدن میں پوری دنیا کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے (یعنی کوزے میں دریا کے مانند انسان کے چھوٹے سے بدن میں وسیع و عریض دنیا کے نظام سے زیادہ باریک نظام کو محدود، محال کو ممکن، کر دیا ہے جس کی تعبیر حضرت علی (ع) یوں فرماتے ہیں:

اتزعم انک جرم صغیر

و فیک انطوی العالم الاکبر

پانی، مٹی، گھانس، حیوان، سورج، ستارے، چاند اور تمام موجودا کو انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اور ان کے علاوہ انسان کو فائدہ پھنچانے کے لئے ہزاروں تعجب آمیز رازوں کو دنیا میں پوشیدہ کر رکھا ہے تاکہ اپنی فلاح و بھبود کے لئے اس تک دست رسی پیدا کرے اور اس عظیم ترین پروردگار کے خزانہ سے استفادہ کرتے ہوئے حقیقت دنیا پر حکمرانی کرے ۔

مذکورہ مطالب سے سمجھ میں آتا ہے کہ خداوند حکیم نے انسان کے جسم کو نہایت تعجب آمیز رازوں پر مشتمل شریف ترین مخلوق قرار دیا ہے اور اسی انسان کے لئے نظام کائنات کو مسخر کر رکھا ہے، فقط اس لئے کہ انسان ایک معمولی موت کے لئے یہاں پر رہے! اور اس کی بے انتھانعمتوں سے استفادہ کرے اور مر کر فنا ہوجائے؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا خدا کا پیدا کرنا غیر عاقلانہ اور حکیمانہ کام نہ ہوگا ؟

آپ کی عقل اصلاً ایسا فیصلہ اور ایسی چیزوں پر بہر وسہ نہیں کر سکتی ہے، بلکہ عقل تو خدائے حکیم کو بے غرض اور عبث کاموں سے منزہ و مبرا سمجھتی ہے، پس نتیجہ میں انسان کا مر کر فنا ہونا اس کے پیدائش کا مقصد و ھدف نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ انسان کی تخلیق کا مقصد کمال ہے اگر موت کے بعد انسان کامل نہ ہو بلکہ فنا ہوجائے تو فنا خود بھی تو ایک نقص ہے پہر انسان کی اپنی آخری منزل کمال کیا ہوگی ؟کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی تنک یا راحت اچھی یا خراب زندگی آرام یا مصیبت میں گذار دے اور سب کا ایک ہی حشر نابودی اور فنا ہو ۔

ہماری عقل کھتی ہے خداوند عالم کی ذات لوگوں کی محتاج نہیں ہے اور کسی فائدہ کے تحت ان کو نہیں پیدا کیا ہے اور اس سے کوئی لغو و بے فائدہ کام بھی صادر نہیں ہوتا ہے مجبوراً کھنا پڑے گا کہ خدا نے انسان کو کسی بلند ھدف اور قیمتی مقصد کے لئے خلق فرمایا ہے، اور اس انسان کی زندگی کو چار دن میں منحصر نہیں کر رکھا ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد انسان کی زندگی تمام ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے اعمال ختم ہوتے ہیں، بلکہ سب خدا کے نزدیک محفوظ ہے ۔

ہماری عقل کھتی ہے: (اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہونی چاہیے) اس چھوٹی اور مصیبت و رنج و الم سے بہر ی ہوئی دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا ہونی چاہیے تاکہ انسان کے لئے آرام و آسائش کا پیش خیمہ ہو، خدا کا مقصد (انسان کے خلق کرنے کا) یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں ترقی اور معنوی کمالات اور سعادتمندی کے تمام وسائل کو فراہم کرے تاکہ مرنے کے بعد ہمیشہ رہنے والی زندگی آخرت میں تمام ناز و نعمت کے ساتھ خوشی خوشی گذارے ۔(۵۲)

دوسری دلیل

بعض افراد (انسان) نیک اور صالح ہیں، لوگوں کے لئے خیر خواہ اور بھلائی چاہتے ہیں، اور کمزوروں کی مدد کرتے ہیں، اور یتیموں کے ساتھ مہر بانی اور ناچار و مجبور افراد پر احسان کرتے ہیں، ان کے اخلاق اچھے، جھوٹ نہیں بولتے، ملاوٹ نہیں کرتے، اور کسی کے ساتھ ظلم و ستم کو جائز نہیں سمجھتے، لوگوں کے مال کو ناحق نہیں لیتے، نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں اپنے واجبات پر عمل کرتے ہیں، اور گناہوں سے خودداری کرتے ہیں۔

دوسرے افراد:

برے اور نالائق ہیں اپنے جیسے افراد پر ظلم و ستم دوسروں کے حقوق کو غصب، بد اخلاق، چھوٹے اور ہر ایک کی امانت میں خیانت کرتے ہیں،خدا کے واجب امور کو انجام نہیں دیتے، نماز و روزہ سے کوئی مطلب نہیں رکھتے ہیں اور گندے برے کاموں (یعنی حرام کے ارتکاب) سے نہیں ڈرتے حیوانوں کی طرح رات و دن ظلم و زیادتی اور شھوت پرستی میں مشغول رہتے ہیں ۔

یہ دو طرح کے افراد قطعی طور پر موجود ہیں، لیکن دنیا میں اپنے اعمال کی اصلا کوئی سزا یا جزا نہیں پاتے۔ معصیت کار ہیں ہر طرح کی ناز و نعمت میں زندگی بسر کر کے دنیا سے چلے گئے اور اپنے اعمال کی کوئی سزا نہیں پائی۔۔۔ اور بھت سے لوگوں کو نیک و صالح پاتے ہیں لیکن وہ بےچارے نہایت سختی پریشانی، تنگی اور مصیبت میں زندگی بسر کرتے ہیں، مگر اپنے کئے اعمال کی کوئی جزا نہیں دیکھتے ۔

کیا اس دنیا کے علاوہ کوئی دوسری دنیا نہیں ہونی چاہیے کہ جہاں پر اچھے اور برے کاموں کا حساب اور اس پر جزا و سزا مرتب ہو نیک افراد کو اچھا بدلہ اور بد کردار کو اپنے کئے کی سزا دی جائے؟ اگر انسان کی عمر اس دنیا میں یوں ہی ختم ہوجائے اور اس کے نامہ اعمال یھیں ضائع ہو جائیں، تو کیا انسان کا پیدا کیا جانا عبث اور عدالت کے خلاف اور حکمت خدا کے مخالف نہیں ہوگا؟

کیا آپ کی عقل قبول کرے گی کہ اچھے فرمانبردار اور بد کردار و تباہ کار مساوی و برابر ہوجائیں اور ان کے درمیان حساب و کتاب کے ذریعہ تفریق و جدائی نہ ہو؟(۵۳) کیا ایسے فضول کام کو اللہ کی طرف نسبت دینا درست ہوگا؟

اگر قیامت نہ ہو، انبیاء کا بھیجنا اور اللہ کا امر ونھی کرنا، نا معقول اور بے بنیاد نہیں ہوگا ان کاموں کا حساب و کتاب اور ثواب و عقاب نہ ہو تو لوگ کیونکر اللہ اور رسول (ص) کی اطاعت و فرباں برداری کرینگے؟

موت

موت یعنی جسم اور روح کی جدائی و مفارقت کا نام ہے، اسلام ہم سے کھتا ہے انسان فقط موت سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ موت کے ذریعہ انسان ایک دنیا سے دوسری دنیا کی طرف منتقل ہوتا ہے یعنی (موت) ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف لوٹنا ہے، پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: تم فنا ہونے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے بلکہ حیات جاودانی، یعنی ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف منتقل ہونا ہے(۵۴)

اسلامی نکتہ نظر سے ہر ایک روح، جسم سے مساوی اعتبار سے جدا نہیں ہوتی ہے بلکہ جو لوگ گنھگار ہیں اور اس دنیا سے زیادہ دل لگا رکھا ہے، اور اُس دنیا سے (آخرت) غافل اور غیر مانوس ہیں ان کی روح بھت سختی اور دشواری سے نکلتی ہے، لیکن جو حضرات اچھا کام (عمل صالح) کرتے ہیں اور خاص کر موجودہ دنیا کی

طرف رجحان و میلان نہیں رکھتے اُس دنیا (آخرت) کیلئے اللہ اور اس کے رسول (ص) سے انسیت اور الفت زیادہ رکھتے ہیں وہ لوگ بھت ہی آرام و اطمینان سے اس زندگی سے نجات پاجاتے ہیں(۵۵)

برزخ

مرنے کے بعد کی زندگی کو ہماری عقل تصدیق کرتی ہے لیکن وہاں پر کیسی اور کس طرح کی زندگی ہوگی اس چیز کو ہماری عقل راہنمائی (درک) نہیں کرتی، یہاں پر ہم مجبور ہیں کہ قرآن پاک اور پیغمبر (ص) کے ارشادات اور ائمہ اہل بیت (ع) کی حدیثوں سے استفادہ کریں ۔

قرآن مجید اور حضوراکرم (ص) اور آپ کے اہل بیت (ع) کی حدیثوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ قیامت سے پھلے (تمام لوگوں کے اٹھائے جانے سے پھلے) ایک دوسری دنیا موجود ہے جس کانام ”برزخ“ ہے جو کہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک واسطہ اور رابطہ کی حیثیت سے موجود ہے، جب انسان کی موت آتی ہے تو برزخ کے ابتدائی مرحلہ میں داخل ہوجاتا ہے یہاں پر ایک مخصوص طرح کی زندگی بسر کرتا ہے اس معنوی اور پوشیدہ زندگی کی ابتدا قبر ہے کہ جو معمولی سوال و جواب سے شروع ہوتی ہے جس میں کلی اعتقادات اور اعمال کے مسائل پوچھے جاتے ہیں اگر عقیدہ صحیح اور عمل و کردار اچھے ہیں تو جنت کا ایک دروازہ اس پر کھول دیا جاتا ہے تاکہ وہ جنت کی نعمتوں سے استفادہ کرتا رہے قیامت آنے کے انتظار اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کے شوق میں منتظر رہتا ہے ۔

اگر کوئی بد کردار اور باطل عقیدہ رکھنے والا ہو تو اس پر جھنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور قیامت تک وہ اسی طرح عذاب میں نا گوار و تلخ زندگی بسر کرتا رہتا ہے اور دوزخ کے سخت عذاب اور قیامت آنے کے خوف سے ہر وقت ہر اساں ر ھتاہے۔(۵۶)

( وَلَا تَقُولُوا لِمَن یقتَلُ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ اَموَاتٌ بَل اَحیاءٌ وَلٰكِن لَا تَشعُرُونَ )(۵۷)

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انھیں کبھی مردہ نہ کھنا بلکہ (وہ لوگ) زندہ ہیں مگر تم (ان کی زندگی کی حقیقت کا) کچھ بھی شعور نہیں رکھتے ۔

( ”وَلَا تَحسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللّٰهِ اَموَاتاً بَل اَحیاءٌ عِندَ رَبِّهم یرزَقُونَ )(۵۸)

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شھید ہو گئے ہیں انھیں ہر گز مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے یہاں سے روزی پاتے ہیں۔

قال النبی (ص) :” اِنَّ القَبرَ اَوَّلُ مَنَازِلِ الاٰخِرَةِ فَاِن نَجَا مِنهُ فَمَا بَعدَه اَیسَرُ و اِن لَم ینجِ مِنهُ فَمَا بَعدَه لَیسَ اَقَلَّ مِنهُ(۵۹)

آخرت کی پہلی منزل قبر ہے جو شخص یہاں نجات پا جائے اس کے لئے بعد کا کام آسان ہو جائے گا اور جو شخص یہاں نجات نہ پاسکے پس تو عذاب اس کے بعد اتنا آسان نہیں ۔

قال علی ابن الحسین (ع) : ” اِنَّ القَبرَ رَوضَةٌ مِن رِیاضِ الجَنَّةِ اَو حَفَرَةٌ مِن حَفَرَالنِّیرَانِ(۶۰)

حضرت علی ابن حسین (ع) نے فرمایا: قبر بھشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا جھنم کے گڈھوں میں سے ایک گڈھا ہے ۔

قیامت اور لوگوں کا قبروں سے نکلنا

قرآن مجیداور پیغمبر اسلام نیز آپ کے اہل بیت (ع) کی حدیثوں میں قیامت کی اس طرح توصیف و تعریف بیان کی گئی ہے چاند، سورج تاریک ہوجائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بکہر جائیں گے، دریا بغیر پانی کے جلنے لگے گا، منظومہ نظام شمسی درہم برہم ہو جائے گا، زمین و آسمان بدل کر دوسری صورت اختیار کر لیں گے اس وقت تمام مردے زندہ کئے جائیں گے، پس لوگ حساب و کتاب کے لئے حاضر ہونگے، لوگوں کے تمام اعمال و حرکات خدا کے نزدیک محفوظ کتابوں میں لکھا موجود ہے، ان کے معمولی کردار و افعال غفلت و فراموشی کا شکار نہیں ہوں گے، قیامت کے دن لوگوں کی آنکھوں سے پردے ہٹا دئے جائیں گے، لوگ اپنے اعمال اور کردار کو حضوراً مشاہدہ کریں گے، اس وقت اعمال کا حساب شروع ہوگا اور بھت گہر ائی اور نہایت دقت سے اس کی پوچھ تاچھ کی جائے گی کافر اور گنھگار جو بخشش کے لائق نہیں ہیں، ان کو جھنم میں بھیجا جائے گا اور نیک و صالح افراد جنت کی طرف جائیں گے اور وہ گنھگار جن میں بخشش کی صلاحیت موجود ہوگی، یعنی انھوں نے برزخ میں جھنم کا عذاب برداشت اور اپنے برے اعمال کا مزہ چکھا ہے انبیاء اور ائمہ اطہار (ع) کی شفاعت کے نتیجہ میں مورد عفو و بخشش قرار پائیں گے،یعنی نور جلال پروردگار عالم ان کے گناہوں کی تاریکی کو ختم کر کے جنت میں بھیج دے گا۔

صاحب ایمان اور نیک کام کرنے والوں کا حساب آسانی سے لیا جائے گا اور بھت جلدی وہ جنت میں چلے جائیں گے لیکن کفار اور بھت سارے گنھگار افراد کا سخت حساب اور چھوٹی سے چھوٹی چیزوں کے متعلق سختی سے پوچھا جائے گا، تاکہ زیادہ دیر وہ محشر میں کھڑے رہیں، اور نہایت سختی اور ناراحتی کے ساتھ حساب کے متعدد موارد کو سر کرتے رہیں ۔(۶۱)

جنت

وہ جگہ ہے جہاں پر نیک و لائق افراد کو لے جائیں گے، مختلف انواع و اقسام کی نعمتیں عیش و آرام کے ساتھ رہنے کے تمام اسباب و وسائل وہاں پر موجود ہونگے ۔

جس چیز کا بھی انسان تصور (خیال میں لائے) کرے اور اس کو چاہیے موجود ہوگی(۶۲) جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بھتر و عالی ہیں ان جیسی چیزوں کے متعلق انسان نے کبھی دیکھا اور نہ سنا ہے، کسی طرح کی کوئی سختی اور پریشانی وہاں نہیں ہے، جو شخص بھی جنت میں داخل ہوا ہمیشہ رہنے والی زندگی سے سرفراز ہوگا جنت کے بھی مختلف مراتب ہیں، جو جس طرح کے عمل خیر اور فضائل و کمالات کا حامل ہوگا ویسے ہی جنت کے درجے میں رہے گا۔(۶۳)

جھنم:

وہ جگہ ہے جہاں کفار، گنھگار اور خطاکار رہیں گے ہر طرح کی سختی و عذاب وہاں پر ہے، جو لوگ وہاں جائیں گے بھت زیادہ سختی و عذاب میں گرفتار ہونگے، جھنم کا عذاب اس قدر مشکل ہے کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا، جھنم کی آگ صرف جسم کو نہیں جلاتی ہے بلکہ روح اور اس کے دل کو بھی جلا ڈالے گی، انسان کے اندر سے ہی پھوٹے گی اور پورے بدن میں پھیل جائے گی۔(۶۴)

اہل دوزخ کے دو گروہ ہیں پہلا گروہ: اُن کفار کا ہے جو ایمان اور عبادت سے بالکل عاری ہیں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ اس جھنم میں عذاب کو برداشت کریں گے ان کے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا ۔دوسرا گروہ: وہ لوگ جو خدا کی عبادت کرتے ہیں اپنے ایمان کی کمزوری کی بنا پر معصیت کے مرتکب ہوئے اور جھنم کے مستحق قرار پائے، یہ گروہ چند مدت کے لئے جھنم میں رہے گا اور آخر کار نور خدا تاریکی گناہ کوکر خاکستر کر دے گا، اس کے بعد ائمہ (ع) اور پیغمبر (ص) کی شفاعت کے طفیل بھشت میں داخل ہونگے ۔

جھنم کے بھی مراتب پائے جاتے ہیں جہاں پر ہر مرتبہ کے مطابق عذاب کی صورت پائی جاتی ہے ہر شخص کو اس کے گناہ کے مطابق جھنم کے طبقہ میں قرار دیں گے کہ جس میں وہ اس عذاب کا مزہ چکھے گا ۔(۶۵)

شفاعت

شفاعت کا مسئلہ قرآن مجید میں بھی نازل ہوا ہے اور نبی اکرم (ص) و اہل بیت (ع) سے کثرت سے روایتیں اس ضمن میں وارد ہوئی ہیں، اور وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ کسی صورت سے شفاعت کے مسئلہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے، روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) اور ائمہ (ع) بعض گنھگاروں کی شفاعت کرائیں گے اور کھیں گے پروردگار درست ہے کہ یہ شخص گنھگار اور مستحق عذاب ہے لیکن فلاں خوبی کی وجہ سے تو خود اپنی بزرگواری اور جو عزت کرامت ہم تیری بارگاہ میں رکھتے ہیں آرزومند ہیں کہ اس کے گناہوں سے چشم پوشی فرما اور بخشش کے قلم سے اس کے گناہ کے عمل کو محو کردے، ان کی درخواست قبول کی جائے گی اور وہ شخص خدا کی رحمت اور اس کی نعمت میں شامل ہوجائے گا، روایت و آیات کی رو سے شفاعت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن چند نکات کی طرف توجہ رکھنا ضروری ہے ۔

۱) شفاعت کرنے والے بغیر خدا کی مرضی اور اس کے حکم کے شفاعت نہیں کریں گے ۔

۲) قیامت میں حساب و کتاب کے بعد شفاعت کی منزل ہے، یہ تو اس وقت کا معاملہ ہے، جب حساب و کتاب تمام ہوجائے اور نامہ اعمال دیکھ کر اُس طرف یا اِس طرف بھیجنے کا موقع آپھنچا ہو تو شفاعت کرنے والے کھیں گے کہ اس کو معاف کردو خداوند عالم قبول کر لے گا اور یہ جنت میںچلے جائیں گے لیکن برزخی دنیا میں شفاعت کی دور دور تک کوئی خبر نہیں ہے ۔

۳) خود شفاعت کرنے والوں نے فرمایا: تم کوشش کر کے محشر میں انسان کی صورت میں آنا تاکہ ہم تمھاری شفاعت کرسکیں، اس بنا پر اگر گناہوں کے سبب اس کی یہ صورت بدل کر حیوانوں کی صورت میں وارد محشر ہوئے تو اس کے لئے شفاعت کا دروازہ بند ہے، بہر حال ضروری ہے کہ حدّ اقل شفاعت کی صلاحیت و لیاقت لے کر محشر میں پھونچے ۔

۔ شفاعت کرنے والے (ائمہ اطہار (ع) ) نے بعض معصیت کے متعلق خاص طور پر فرمایا ہے جیسے نماز کو ترک کرنے والوں کو میری شفاعت شامل نہیں ہو گی ۔

۴) مذکورہ مطالب سے سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کو فقط شفاعت کے وعدہ پر مغرور ہو کر گناہوں کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ جو شخص شفاعت کی امید میں گناہ کو انجام دے وہ اس شخص کے مانند ہے جو دوا اور ڈاکٹر پر بہر وسہ کر کے زہر کہا لے اور اپنے کو ھلاکت کے گھاٹ اتار دے ۔

توبہ

قرآن کی آیات اور اہل بیت اطہار (ع) کے اقوال سے استفادہ ہوتا ہے کہ گناہ گار اپنے مرنے سے پھلے توبہ کر لے اور اپنے کئے پر شرمندہ اور نادم ہوجائے تو اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور پہر ان گناہوں کے متعلق اس سے باز پرس نہیں کی جائے گی ۔(۶۶)

اس بنا پر تمام گنھگاروں کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے کسی کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے لیکن ہر گز یہ خیال نہ کرنا کہ (اَستَغفِرُاللّٰہ) زبان پر آیا اور آنکھ مَل کر ایک قطرہ آنسو ٹپکایا سمجھ گئے توبہ قبول ہوگئی اور خدا کی رحمت و نعمت میں شریک ہو گئے ۔

مگر معلوم ہونا چاہیے کہ حقیقی توبہ کے اپنے خاص شرائط پائے جاتے ہیں، حضرت علی (ع) نے اپنی فرمائشات میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔

حضرت (ع) فرماتے ہیں: توبہ میں چھ چیزیں ضروری ہیں ۔

۔ اپنے گذشتہ گناہوں پر واقعاً پشیمان و شرمندہ ہو ۔

۔ قطعی ارادہ کرے کہ کبھی اس گناہ کو دوبارہ انجام نہیں دے گا ۔

۔ اگر تم پر لوگوں کا حق ہے تو پھلے اسے ادا کرو ۔

۔ جن واجبات کو چھوڑ رکھا ہے اس کو انجام دو ۔

۔ اور جو تمھارے بدن میں حرام کہانے سے گوشت وغیرہ بنا ہے پھلے غم و الم کی وجہ سے اسے پگھلاؤ ۔

۔ جس طرح گناہوں سے لذت اٹھائی ہے ویسے ہی عبادت کی تلخی اور دشواری کو برداشت کرو۔(۶۷) اس وقت کلمہ ” اَستَغفِرُ اللّٰہ “ کو اپنی زبان پر جاری کرو ۔


پانچویں فصل؛ اخلاق

اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں

اچھے صفات:

ان صفات کو کہاجاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں، جیسے عدالت، تواضع، خدا پر بہر وسہ، برد باری، لوگوں کے لئے اچھائی چاہنا، لوگوں کے ساتھ اچھا گمان رکھنا، سچ بولنا، امانتداری خدا کی مرضی پر راضی رہنا، خدا کا شکر، خوش اخلاقی، قناعت، سخاوت، بہادری، دین میں غیرت، ناموس میں غیرتانصاف، صلہ رحم، والدین کے ساتھ احسان، پڑوسیوں سے اچھا برتاؤ، لوگوں کے ساتھ میل محبت، اپنے کو لئے دئے رہنا، اللہ سے محبت رکھنا، ہر مسلمان پر واجب ہے، اچھے صفات نیک اخلاق کو پہچانے اور ان صفات کو حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔

برے صفات:

ان صفات کو کہتے ہیں جو انسان کی پستی اور ذلت کا سبب واقع ہوتے ہیں جیسے تکبر (اپنے کو بڑا سمجھنا) فقط اپنے کو چاہنا صرف اپنی تعریف کرنا، ظلم و ستم، اللہ پر بہر وسہ نہ رکھنا، صبر نہ ہونا، لوگوں کو پست شمار کرنا، لوگوں کیلئے برا چاہنا، خدا سے راضی نہ رہنا، کینہ و حسد، ناشکری، نمّامی و چغلخوری، غصب کرنا، غصہ کرنا، لالچ، جس چیز کا مستحق نہیں اس کی خواہش کرنا، طمع، کنجوسی، دیکھاوے کے لئے کام کرنا، منافقت، دوسرے کے مال میں خیانت، فضول خرچی کرنا، دین اور ناموس میں بے حیائی، بے غیرتی، صلہ رحم کا ترک کرنا، والدین کو اذیت و رنج پھنچانا، پڑوسیوں کو تنگ کرنا، لوگوں کے ساتھ برا سلوک، بد گوئی، چاپلوسی، منصب کی خواہش، عیب تلاش کرنا، لمبی خواہش ۔

ہر مسلمان کیلئے بری خصلتوں کا جاننا ضروری ہے اگر سعادتمندی و نیک بختی چاہتا ہے تو کوشش کرے ان صفات سے اپنے نفس کو دور رکھے، اچھے طریقہ سے اپنے نفس کی اصلاح اور حفاظت کرے کہ کھیں یہ گندے صفات اس میں داخل نہ ہو جائیں، اسلام کے احکام کی پابندی اور اچھے اخلاق سے اپنے کو مزین کرے اخلاقیات، دین اسلام کا ایک جز ہے اور اسلام نے اخلاقی مسائل پر بھت توجہ دی ہے، حضرت رسول (ص) خدا نے نفس کے ساتھ جہاد (جنگ) کرنے کو سب سے بڑا جہاد کہاہے(۶۸) آنحضرت (ص) نے فرمایا: میں مبعوث برسالت ہوا ہوں تاکہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں(۶۹) کیونکہ انسان کے تمام کام خود اس کے نفس ہی سے صادر ہوتے ہیں اس لئے سب سے پھلے اس کی اصلاح اور پاک کرنے کی کوشش کرے ۔


چھٹی فصل؛ فروع دین

خدا وند عالم نے ہماری زندگی کو صحیح راہ پر لگانے کے لئے خاص دستور العمل کو معین فرمایا ہے کہ اگر ہم اس پر عملی اعتبار سے پابند ہو جائیں تو ہماری دنیاوی زندگی بھترین اور بوجہ احسن گذرے گی، نیز آخرت میں بھی سعادت مند اور نجات یافتہ رہیں گے، ایسے احکام و قوانین کو فروع دین کہتے ہیں، فروع دین تو بھت زیادہ ہیں لیکن جن کا جاننا نہایت ضروری ہے ہم ان کو یہاں پر اجمالاً بیان کر رہے ہیں ۔ان میں سے مہم ترین فروع دین آٹھ ہیں: نماز، روزہ، زکوٰة، خمس، حج، جہاد، امر بالمعروف ونھی عن المنکر ۔

نماز

واجب نمازیں چھ ہیں:

۱۔ نماز پنجگانہ ۔

۲۔ نماز آیات (سورج گھن و چاند گھن)

۳۔ نماز میت۔

۴۔ نماز طواف۔

۵۔ وہ نمازیں جو قسم و نذر وغیرہ کی وجہ سے انسان اپنے اوپر واجب کرلے۔

۶۔ نماز قضاء والدین (جو نمازیں نافرمانی کی وجہ سے ترک نہ کی ہو بلکہ قضا کرنا چاہتا تھا لیکن اس کو انجام نہ دے سکا ہو) اس کی قضا انجام دینا بڑے فرزند پر واجب ہے ۔

نماز پنجگانہ

نماز دین کا ستون ہے، بندے کو خدا سے نزدیک کرتی ہے آنحضرت (ص) نے فرمایا: خدا کی قسم میری شفاعت نماز کو (حقیر) معمولی سمجھنے والے اور ترک کرنے والے کو نہیں پھونچے گی۔(۷۰)

تمام مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز پڑھنا واجب ہے، صبح کی دورکعت، ظہر کی چار رکعت، عصر کی چار رکعت، مغرب کی تین رکعت، اور عشا کی چار رکعت ۔

اوقات نماز

نماز صبح کا وقت، صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے کے وقت تک ہے ۔

نمازظہر و عصر کا وقت سورج کے زوال سے لے کر غروب آفتاب تک ہے۔

نماز مغرب و عشا سورج ڈوبنے (مغرب) سے لے کر آدھی رات تک ہے آدھی رات جو تقریباً گیارہ بجکر ۱۵ منٹ پر ہوتی ہے ۔

وضو

وضو کا طریقہ

۱۔ پھلے نیت کرے کہ خدا کی خوشنودی کے لئے وضو انجام دیتا ہوں قربةً الی اللہ۔

۲۔ چہر ے پر بال اگنے کی جگہ سے ٹھڈی کے آخری حصے تک ۔

۳۔ داہنے ہاتھ کو کھنی سے لے کر انگلیوں کے آخری سرے تک (یعنی اوپر سے نیچے کی طرف) دھوئے ۔

۴۔ بائیں ہاتھ کو کھنی سے لے کر انگلیوں کے آخری سرے تک یعنی اوپر سے نیچے کی طرف دھوئے ۔

۵۔ داہنے ہاتھ کی تری سے، سر کے اگلے حصہ پر اوپر سے نیچے کی طرف کھینچے۔

۶۔ اور داہنے ہاتھ کی بچی ہوئی تری سے داہنے پیر کی انگلیوں سے لے کر پیر کے ابھار تک کھینچے ۔

۷۔ بائیں ہاتھ سے بائیں پیر کی انگلیوں سے لے کر پیر کے ابھار کی جگہ تک کھینچے ۔

اذان

نماز سے پھلے اذان کھنا مستحب ہے، اس کی ترتیب یہ ہے:

اَللّٰهُ اَکبَرُ ۴ مرتبہ

اللہ سب سے بڑا ہے ۔

اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُُ ۲ مرتبہ

میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔

اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ ۲ مرتبہ

میں گواہی دیتا ہوں کی محمد (ص) بن عبد اللہ، اللہ کے رسول ہیں۔

حَی عَليٰ الصَّلٰوةِ ۲ مرتبہ

نماز کے لئے جلدی کرو ۔

حَی عَليٰ الفَلَاحِ ۲ مرتبہ

کامیابی کے لئے جلدی کرو ۔

حَی عَليٰ خَیرِ العَمَلِ ۲ مرتبہ

بھترین عمل کے لئے جلدی کر و

اَللّٰهُ اَکبَرُ ۲ مرتبہ

خدا اس سے بزرگ و برتر ہے کہ اس کی توصیف کی جائے ۔

لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ۲ مرتبہ

خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔

اقامت

نماز کے لئے اذان کے بعداقامت کھنا مستحب ہے،اس کی ترتیب یہ ہے:

اَللّٰهُ اَکبَرُ ۲ مرتبہ

خدا اس سے بزرگ و برتر ہے کہ اس کی توصیف کی جائے ۔

اَشهَدُ اَن لاَّ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ۲ مرتبہ

میں گواہی دیتا ہوں کہ خداکے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔

اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداًرَسُولُ اللّٰهِ ۲ مرتبہ

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) خدا کے بھیجے ہوئے رسول (ص) ہیں۔

حَی عَليٰ الصَّلٰوةِ ۲ مرتبہ

نماز کے لئے جلدی کرو

حَی عَلَيٰ الفَلاَحِ ۲ مرتبہ

کامیابی کے لئے جلدی کرو

حَی عَلَيٰ خَیرِ العَمَلِ ۲ مرتبہ

بھترین عمل کے لئے جلدی کرو ۔

قَد قَامَتِ الصَّلَوٰةُ ۲ مرتبہ

نماز قائم ہوگئی ۔

اَللّٰهُ اَکبَرُ ۲ مرتبہ

اللہ سب سے بڑا ہے۔

لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ۱ مرتبہ

خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔

نماز پڑھنے کا طریقہ

نماز میں چند چیزوں کا انجام دینا ضروری ہے:

۱۔ نیت:

قبلہ رخ کھڑے ہونے کے بعد (قصد) نیت کریں میں دو رکعت نماز صبح پڑھتا ہوں واجب قربة ً الی اللہ ۔

۲۔ تکبیرة الاحرام:

نیت کے بعد ہاتھوں کو کان کی لو تک لیجا کر کھیں” اللہ اکبر“ پہر ہاتھوں کو نیچے لائیں ۔

۳۔ قرائت:

تکبیرة الاحرام کے بعد سورہ حمد کو شروع کریں:

( بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ اَلحَمدُ لِلّٰهِ رَبِّ العٰالَمِینَ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ مَالِكِ یومِ الدِّینِ اِیاكَ نَعبُدُ وَاِیاكَ نَستَعِینُ اهدِنَاالصِّرَاطَ المُستَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیهم غَیرِ المَغضُوبِ عَلَیهم وَلَا الضَّالِّینَ ) ۔

ترجمہ:

خداوند رحمن و رحیم کے نام سے (شروع کرتا ہوں) ساری تعریفیں اس خدا کے لئے مخصوص ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے، جو دنیا میں سب پر رحم، اور آخرت میں صرف مومنین پر رحم کرنے والا ہے، قیامت اور جزا کے دن کا مالک ہے، پروردگار صرف تیری عبادت کرتے ہیں، اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں، ہم کو صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ، ایسے لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنی نعمتیں نازل کی ہیں، ان لوگوں کا راستہ نھیں، جن پر تو نے غصب نازل کیا ہے اور گمراہوں کا راستہ ۔

نکتہ ۱) سورہ حمد پڑھنے کے بعد قرآن مجید سے کوئی ایک سورہ پڑھیں مثلا سورہ توحید اس طرح:

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ قُل هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اَللّٰهُ الصَّمَدُ لَم یلِد وَلَم یولَد وَلَم یكُن لَّه كُفُواً اَحَدٌ

ترجمہ:

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن و رحیم ہے، اے پیغمبر ! کہہ دیجئے وہ خدا یکتا ہے، وہ خدا سب سے بے نیاز ہے مگر سب اس کے نیاز مند ہیں، کوئی اس سے نہیں پیدا ہواہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہےاور کوئی اس کا مثل و نظیر نہیں ہے ۔

نکتہ ۲) مردوں پر واجب ہے کہ نماز صبح و مغرب و عشا میں سورہ حمد اور دوسرا سورہ بلند آواز سے پڑھیں ۔

نکتہ ۳) تکبیرة الاحرام (اللہ اکبر) کہتے وقت ہاتھوں کا کان کی لو تک اٹھانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ۔

۴۔ رکوع:

سورہ حمد اور دوسرے سورہ کے بعد رکوع میں جائیں، یعنی اس انداز میں جھک جائیں کہ ہاتھ دونوں گھٹنوں تک پھنچ جائے اور پہر پڑھیں:

سُبحَانَ رَبِّی العَظِیمِ وَ بِحَمدِه

یا تین مرتبہ کھیں ”سُبحَانَ اللّٰہ“ِیعنی میرا عظیم پروردگار ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں، رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوجائیں اور کھڑے ہو کر کھیں:”سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہ “ (خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے) پڑھنا مستحب ہے ۔

۵۔ سجدہ:

رکوع کے بعد سجدہ میں جائیں یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کہانے اور پھننے والی نہ ہو) اس پر رکھیں اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ھتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھیں پہر پڑھیں: ”سُبحَانَ رَبِّی الاَعلَيٰ وَبِحَمدِه “یا تین مرتبہ ”سبحَانَ اللّٰه ِ “ (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں) پڑھیں ۔ پہر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پہر دوبارہ سجدہ میں جائیں اور سجدہ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھیں اور دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں اور کھڑے ہوتے وقت پڑھیں ” بِحَولِ للّٰہِ وَقُوَّتِہ اَقُومُ وَاَقعُدُ“میں اللہ تبارک وتعاليٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں، کھنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑے ہوگئے تو مطمئن ہو کر الحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھیں ۔

۶۔ قنوت:

سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہر ے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھیں: ”( رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) “ (اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جھنم کے عذاب سے بچا) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائیں اور مثل سابق رکوع کریں۔

توجہ:

قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔

۷۔ تشھد:

تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائیں اور اس طریقے سے تشھد پڑھیں: ”اَلحَمدُ لِلّٰهِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیكَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه اَللّٰهم صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ “ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی پرستش کے قابل نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند عالم محمد (ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

توجہ:

نماز مغرب میں پھلے تشھد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائیں اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کریں پہر رکوع و سجود و تشھد کے بعد سلام پڑھیں، اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پھلے تشھد کے بعد سلام نہیں پڑھیں گے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت انجام دینے کے بعد بیٹھ کر تشھد و سلام پڑھا جائے گا ۔

۸۔ سلام:

نماز صبح میں تشھد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھیں:

اَلسَّلَامُ عَلَیكَ اَیهَا النَّبِی وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُه

اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ

اَلسَّلاَمُ عَلَیكُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُه

اے نبی (ص)! آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، اے نماز تم پر سلام اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

۹۔ تسبیحات اربعہ:

نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھیں گے:

سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ

خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کھیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

توجہ:

نماز پڑھنے والے کا جسم و لباس پاک ہونا چاہیے اور لباس کے پاک ہونے کے ساتھ مباح اور حرام گوشت رکھنے والے جانور یا مردار کی جلد اور کہال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

توجہ:

نماز پڑھنے والی عورت، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

نماز کے ارکان

نماز کے پانچ ارکان ہیں:

۱۔ نیت۔

۲۔ تکبیرة الاحرام۔

۳۔ قیام، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پھلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہاجاتا ہے یعنی رکوع سے پھلے کھڑے ہونا ۔

۴۔ رکوع۔

۵۔ دونوں سجدے عمداً و سھواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے:

۱۔ چاہے عمداً ہو یا سھواً وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

۲۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

۳۔ عمداًقہقہ کے ساتھ ھنسنا ۔

۴۔ جان بوجھ کر کہانا اور پینا ۔

۵۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

۶۔ حمد کے بعد آمین کھنا ۔

۷۔ سھواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

۸۔ بات کرنا ۔

۹۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا، کودنا وغیرہ۔

۱۰۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا (اہل سنت کی طرح) ۔

۱۱۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز

ان شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے:

۱۔ آٹھ فرسخ جانے کا ارادہ رکھتا ہو ( ۴۳ کلو میٹر) یا چار فرسخ جائے اور واپس آئے ۔

۲۔ کثیر السفر نہ ہو، یعنی ڈرائیور یا ملاح (ناؤ چلانے والے) کے مانند نہ ہو کہ اس کا کام ہی سفر میں رہتا ہے ۔

۳۔ تاجر نہ ہو کہ سفر کی حالت میں تجارت کرتا ہو ۔

۵۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گہر سے باہر نکلے یا بیٹا اور بیٹی اپنے والدین کی اجازت کے بغیر فرار کریں ۔

۶۔ آٹھ فرسخ سے پھلے اس کا وطن یا دس دن قیام نہ کرے ۔

نکتہ ۱) جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہاہو تیسویں دن کے بعد چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

نکتہ ۲) جو شخص سفر کا ارادہ رکھتا ہے اپنے وطن سے یا رہنے کی جگہ سے اس کو چاہیے کہ حد ترخص کے بعد نماز کو قصر اور روزہ کو افطار کرلے اس سے پھلے نماز قصر اور روزہ باطل نہیں کرنا چاہیے (حدِّ ترخص) مسافر اپنے گہر سے اس قدر دور نکل جائے کہ شہر کی آوازِ آذان سنائی نہ دے اور نہ ہی

شہر کی دیوار دکھائی دے، اس سے پھلے وہ شخص شرعی مسافر نہیں ہے ۔

نماز آیات

نماز آیات پڑھنے کا وقت سورج گھن، چاند گھن، زلزلہ اور غیر عادی حادثہ جس سے اکثر لوگ خوف محسوس کریں مثلاً سیاہ و سرخ آندھی اس وقت ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ نماز آیات بجالائے ۔

نماز آیات کا طریقہ

۱۔ وضو کے بعد قبلہ رخ کھڑا ہوکر نیت کرے کہ میں نماز آیات پڑھتا ہوں (قُربَةً اِلَی اللّٰہِ)

۲۔ نیت کے بعد دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر لے جا کر کھے ” اللہ اکبر“۔

۳۔ سورہ حمد اور دوسرا سورہ پڑھے پہر رکوع میں جائے اور ذکر رکوع کو بجا لائے ۔

۴۔ رکوع سے سر اٹھا کر سورہ حمد اور دوسرا سورہ پڑھے پہر رکوع میں جائے اسی طرح انجام دے یہاں تک کہ پانچ سورہ حمد اور پانچ رکوع تمام ہوجائے ۔

۵۔ پانچویں رکوع کے بعد سجدہ میں جائے اور نماز پنجگانہ کی طرح دو سجدہ بجالائے ۔

۶۔ دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے اور رکعت اول کی طرح اس کو بھی بجا لائے اور پانچویں رکوع کے بعد سجدہ بجالائے ۔

۷۔ دونوں سجدہ کے بعد تشھد اور سلام پڑھکر نماز تمام کرے ۔

توجہ:

نماز آیات کا وقت سورج اور چاند گھن کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ یہ گھن ختم ہوجائے لیکن اور دوسری نماز آیات (جیسے زلزلہ و سیاہ و سرخ آندھی) جس وقت بھی پڑھیں، ادا ہے ۔

روزہ

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا: روزہ جھنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(۷۲)

خدا وند تبارک و تعاليٰ فرماتا ہے: روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کا اجر دوںگا ۔(۷۳) یہ عظیم عبادت اپنے دامن میں بھت زیادہ فوائد رکھے ہوئے ہے، ڈاکٹری تحقیق کے مطابق پیٹ کی مشینوں کے لئے آرام کا باعث ہے، اور انسان کی سلامتی کے لئے مفید ہے اور اخلاقی اعتبار سے دشواری اور سختی کے وقت صبر و استقامت بخشتا ہے اور امیروں کو ناتواں اور مفلوک الحال افراد کے بارے میں غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔

امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا: روزہ واجب ہے تاکہ پیسے والے، بھوک کا مزہ چکھیں،

مجبوروں اورغریبوں کے حال پر غور و فکر کریں (نیز) ان کے ساتھ احسان و بخشش کریں ۔(۷۴)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مھینے کا روزہ کھنا واجب ہے، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے اور روزہ کو باطل کرنے والے امور یہ ہیں:

۱۔ کہانا اور پینا۔

۲۔ غلیظ گرد و غبار کا حلق تک پھنچانا ۔

۳۔ قے کرنا۔

۴۔ جماع (عورت سے ہمبستری کرنا)

۵۔ حقنہ کرنا۔

۶۔ پانی میں سر ڈبونا۔

۷۔ اللہ اور اس کے رسول (ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

۸۔ استمناء (منی نکالنا)

۹- صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

نکتہ:

اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے، کہ اگر سھواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں ۱۔ بیمار: جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

۲۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

۳۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں) یا نفاس میں ہو ۔

نکتہ:

ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

۴۔ حاملہ عورتیں جن کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

۵۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورتیں جسکو روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

۶۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

نکتہ ۱) یہ عورتیں عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پاؤ گیھوں فقیر کو دیں گی ۔

نکتہ ۲) اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں، لیکن اگر ان پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہے تو قضا واجب نہیں ہے، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پاؤ گیھوں فقیر کو دیں۔

نکتہ ۳) جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ کو توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کہانا کھلائے ۔

زکوٰة

اسلام کی واجب چیزوں میں سے زکواة ہے، حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(۷۵)

اور امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: خداوندعالم نے قرآن مجید میں زکواة کو نماز کے ساتھ ذکر کیا ہے، جو شخص نماز پڑھے مگر زکواة نہ دے اس کی نماز قبول نہیں ہے(۷۶)

حضرت امام رضا (ع) فرماتے ہیں: اگر تمام لوگ اپنے مال کی زکواة ادا کرتے تو (دنیا) میں کوئی فقیر نہ ہوتا(۷۷)

زکوٰة ( ۹) چیزوں پر واجب ہے ( ۱) گیھوں ( ۲) جو ( ۳) کھجور ( ۴) کشمش ( ۵) گائے بھینس ( ۶) بھیڑ بکری ( ۷) اونٹ ( ۸) سونا ( ۹) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پھنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پھونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیھوں، جو، کھجور اور کشمش: ان چار چیزوں کا نصاب ۲۸۸ من تبریزی ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذھن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پھنچے تو زکوٰة واجب ہو گی،

زکوٰة کی مقدار

گیھوں، جو، کھجور و کشمش کی آب پاشی اگر بارش، نہر ، زمین کی تری سے ہوئیھو تو اس کی زکوٰة دسواں حصہ ہے اور اگر کنویں کے پانی یا ڈول وغیرہ سے کھینچ کر ہوئی ہے تو اس کی زکوٰة بیسواں حصہ ہوگی ۔

بھیڑ بکری کا نصاب:

اس کا پانچ نصاب ہے:

پہلا :

۴۰ بھیڑوں پر ایک بھیڑ کی زکوٰة ہوگی (اس سے کم پر زکوٰة واجب نہیں ہے)

دوسرا:

۱۲۱ بھیڑوں کی زکوٰة دو بھیڑ ہوگی ۔

تیسرا:

۲۰۱ بھیڑوں کی زکوٰة تین بھیڑ ہوگی

چوتھے:

۳۰۱ بھیڑوں کی زکوٰة چار بھیڑ ہوگی ۔

پانچویں:

چار سو سے زیادہ بھیڑوں میں ہر سو پر ایک بھیڑ بطور زکوٰة ادا کرے ۔

نکتہ:

کوئی گیارہ مھینے بھیڑوں کا مالک رہاہو تو اس کو بارہویں مھینے میں زکوٰة دینا واجب ہے بھیڑ بکریوں پر اس وقت زکوٰة واجب ہوتی ہے جب وہ پورے سال بیابانوں میں چری ہوں اگر تمام سال یا کچھ مھینہ چراگاہ کی گھانس یا خریدی ہوئی گھانس کہائے ہوں تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی ۔

گائے کا نصاب:

گائے کے دونصاب ہیں:

(پہلا )

تیس گائے کی زکوٰة، گائے کا ایسا بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہوا ہو۔

(دوسرا)

چالیس گائے کی زکوٰة، گائے کا ایسا بچہ (جومادہ ہو) جو تیسرے سال میں داخل ہو۔

اگر چالیس سے زیادہ گائے ہوتو ان دو نصابوں میں سے جو حساب میں بھتر تطبیق ہو اس کی زکوٰة ادا کرنا چاہیے یا تو تیس تیس عدد کا حساب کرے یا چالیس چالیس عدد کا حساب کرے یا دونوں کو ملا کر حساب کرے مثلاً کسی کے پاس ساٹھ گائے ہے تو چاہیے کہ تیس کا حساب کرے اور اگر ستر گائے ہے تو ایک تیس اور ایک چالیس کا حساب کرے اور اگر اسّی گائے ہے تو چاہیے کہ دو چالیس کا حساب کرے ۔

نکتہ ۱:

گائے کی زکوٰة اس وقت واجب ہوتی ہے جب پورے سال بے کار رہی ہو بیابانوں میں چری ہو ۔(۷۸)

سونے کا نصاب:

سونے کا دو نصاب ہے:

پہلا ۔

بیس مثقال شرعی جو ۱۵ مثقال معمولی کے برابر ہوتا ہے اس مقدار کے برابر ہو اس کا چالیسواں حصہ بہ عنوان زکوٰة ادا کرے ۔

(دوسرا)

چار مثقال شرعی جو تین مثقال معمولی کے برابر ہوتا ہے، یعنی اگر ۱۵ مثقال معمولی پر تین مثقال معمولی کا اضافہ ہوجائے تو پورے ۱۸ مثقال معمولی (یعنی ۲۴ مثقال شرعی) کی زکوٰة ڈھائی فیصد کے حساب سے دے اور اگر تین مثقال معمولی (چار مثقال شرعی) سے کم کا اضافہ ہوتو صرف ۱۵ مثقال معمولی کی زکواة ہوگی باقی پر زکوٰة واجب نہ ہوگی ۔

اسی حساب سے چاہے جس قدر اضافہ ہوتا جائے زکوٰة واجب ہوگی، اگر تین مثقال معمولی ( ۴ مثقال شرعی) کا اضافہ ہوجائے تو پورے کی زکوٰة دے اور اگر تین مثقال معمولی سے کم اضافہ ہوتو اس اضافہ پر زکوٰة نہ ہوگی ۔

چاندی کا نصاب

چاندی کے دو نصاب ہیں:

پہلا نصاب:

جب چاندی ۱۰۵ مثقال معمولی کے برابر ہوجائے تو ڈھائی فیصد کے حساب سے اس پر زکوٰة واجب ہوگی اور اگر ۱۰۵ مثقال سے کم ہے تو زکوٰة واجب نہیں ہوگی ۔

دوسرا نصاب:

( ۲۱ مثقال پر ہے) اگر ۱۰۵ مثقال پر ۲۱ مثقال زیادہ ہوجائے تو پورے ۱۲۶ مثقال کی زکوٰة واجب ہوگی اور اگر ۲۱ سے کم کا اضافہ ہوتو صرف ۱۰۵ مثقال پر زکوٰة ہوگی اور باقی پر نھیںاسی طرح چاہے جسقدر اضافہ ہوجائے اسی حساب سے زکوٰة واجب ہوگی ۔

نکتہ ۱:

سونا چاندی سکہ دار، رائج الوقت، اور گیارہ مھینے مالک کے اختیار میں رہاہو، اس پر زکوٰة واجب ہوگی ۔

نکتہ ۲:

اگر سونا، چاندی حد نصاب سے خارج نہ ہوا ہو، تو ہر سال زکوٰة دینا چاہیے چاہیے اس سے پھلے سال زکوٰة ادا کی ہو ۔

نکتہ ۳:

شاید زکوٰة میں اسلام کا فلسفہ یہ ہوکہ سونا چاندی سکہ دار ذخیرہ نہ ہو بلکہ اقتصادی حالات کو صحیح کرنے کے لئے اس کو مصرف اور خرچ میں لانا چاہیے ۔

زکواة کا مصرف

درج ذیل آٹھ مقامات میں سے کسی ایک مقام پر زکوٰة صرف کرنا چاہیے:

۱

۔ فقیر:

یعنی جو شخص اپنے اور اپنے عیال کے سال بہر کے اخراجات نہ رکھتا ہو ۔ ۲۔ مسکین:

یعنی جس شخص کی مالی حالت فقیر کی حالت سے بھی زیادہ بدتر ہو۔

۳۔ فی سبیل اللہ:

یعنی ایسے کاموں میں صرف کرنا جس سے عام طور سے دینی منفعت ہو جیسے مسجد و مدرسہ بنانے میں پل، ہاسپیٹل وغیرہ ۔

۴۔ ابن سبیل:

یعنی جو شخص سفر میں درماندہ و محتاج ہوگیا ہو اس کو زکوٰة سے بقدر ضرورت دیا جائے گا کہ اپنے شہر پھونچ جائے ۔

۵۔ جو مقروض اپنے قرض کو ادا نہ کر سکتے ہوں ان کے قرض کی ادائیگی میں صرف کریں گے ۔

۶۔ غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے میں ۔

۷۔ اس کافر کو دیں گے کہ جس کیلئے امکان ہے احسان کے توسط سے اسلام کی طرف مائل ہوجائے گا ۔

۸۔ جو شخص حاکم شرع کی طرف سے زکوٰة اصول کرنے پر مامور ہو ۔

نکتہ:

اگر لوگ زکوٰة کا پیسہ ادا کریں تو حاکم شرع کو چاہیے کہ فقر و بےکاری کے ختم کرنے کی کوشش اور شہر وں اور دیہاتوں کے آباد کرنے میں سعی کرے اور امور خیریہ کی بنیاد ڈالے ۔

خمس

اسلام کے مالی حقوق میں سے خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے:

۱۔ کاروبار کے منافع، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کہانا، لباس، گہر کا برتن، گہر خریدنا، شادی، مہمان نوازی، مسافرت کے خرچ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

۲۔ کان سے جو سونا، چاندی، لوھا، تانبہ، پیتل، تیل، نمک، پتہر کا کوئلہ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

۳۔ خزانے ۔

۴۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

۵۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

۶۔ جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

۷۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کی حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کوپہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

نکتہ ۱) جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتھد جامع الشرائط یا اس کے کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور فقیر سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

نکتہ ۲) خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ ریکھ کی جا سکتی ہے اور لوگوں کی ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاً ہاسپیٹل، مدرسہ، مسجد، راستہ، پل اور عمومی حمام وغیرہ ۔

حج

جو شخص مالی اور جسمانی قدرت رکھتا ہو پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا اور دنیا کے سب سے بڑے اجتماع اور تمام مسلمانوں کے جاہ و جلال کے ساتھ شرکت کرنا واجب ہے ۔

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا: جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کیا ہے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یھود و نصاريٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔(۷۹)

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے اور اپنے دامن میں بڑے فوائد کو رکھے ہوئے ہے مسلمان چاہے تواس حج کے مراسم و مناسک میں اپنے ایمان کی تقویت اور خدا سے اپنے رابطہ کو محکم و استوار کرلے خدا پرستی و فروتنی، برادری و بھائی چارگی اور بخشش و درگذر کرنے کا عملی شاہکار اس بڑی اسلامی درس گاہ میں سیکھ دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلہ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور جہاں پر مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں جہاں اسلام کے عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں اتحاد، ہم فکری نیز آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

نکتہ:

حج ہر مالی استطاعت رکھنے والے شخص پر واجب ہے یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بےچارہ حیران و سرگرداں نہ پہر ے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکتا ہو ۔

جہاد

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید کھتا ہے:( اِنَّ اللّٰهَ یحِبُّ الَّذِینَ یقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا كَاَنَّهم بُنیانٌ مَرصُوصٌ ) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(۸۰)

اور دوسرے مقام پر اس طرح تشویق کرتا ہے( وَقَاتِلُ المُشرِكِینَ كَافَّةً كَمَا یقَاتِلُونَكُم كَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(۸۱)

اور ایک مقام پر قرآن کھتا ہے ان کے رہنماؤں کے پیر اکھاڑدو( فَقَاتِلُوا اَئِمَّةَ الكُفرِ ِلانَّهم لَا اَیمَانَ لَهم لَعَلَّهم ینتَهُونَ ) کفار کے سربرآوردہ لوگوں سے خوب لڑائی کرو، ان کی قسموں کا ہر گز کوئی اعتبار نہیں ہے تاکہ یہ لوگ (اپنی شرارت) سے باز آجائیں۔(۸۲)

اسی طرح ارشاد باری ہے:( وَقَاتِلُوهم حَتَّی لَا تَكُونَ فِتنَةٌ وَیكُونَ الدِّینُ لِلّٰهِ ) کفار سے اس قدر جنگ کرو کہ فتنہ و فساد بر طرف ہوجائے اور (فقط) خدا کا دین (باقی) رہے ۔(۸۳)

اور ایک مقام پر ارشاد رب العزت ہے، ان کو مرعوب کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ طاقتیں فراہم کرو( فَثَبِّتُوا الَّذِینَ آمَنُوا سَاُلقِی فِی قُلُوبِ الَّذِینَ كَفَرُوا الرُّعبَ فَاضرِبُوا فَوقَ الاَعنَاقِ وَاضرِبُوا مِنهم كُلَّ بَنَانٍ ) تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو میں بھت جلد کافروں کے دلوں میں تمھارا رعب ڈال دونگا (پس پہر کیا ہے اب) تو ان کفار کی گردنوں پر مارو اور ان کی پور پور چٹیلی کر دو ۔(۸۴)

( وَاَعِدُّوا لَهم مَااستَطَعتُم مِن قُوَّةٍ وَمِن رِبَاطِ الخَیلِ تُرهبُونَ بِه عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُم وَآخَرِینَ مِن دُونِهم ) (۸۵)

اور (مسلمانو) کفار کے (مقابلہ کے) واسطے جہاں تک ہوسکے (اپنے بازو کے) زور سے اور بدھے ہوئے گھوڑوں سے (لڑائی کا) سامان مھیا کرو اسے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن اور اس کے سوا دوسرے لوگوں کے اوپربھی اپنی دھاک بٹھالوگے ۔ (مترجم)

حضرت علی (ع) ارشاد فرماتے ہیں: جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ۔(۸۶)

اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کہائے اور اس کے ذھن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات ہوا ہوجائیں، اگر کفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تھس نھس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرات و ہمت نہ کر سکیں ۔

جب تک مسلمان جہاد کو اپنا مقدس دینی وظیفہ سمجھتے تھے اور دشمن کے مد مقابل اسلحہ سے لیس آمادہ اور تمام تیاری کے ساتھ ایک صف میں محاز آرائی کے لئے کھڑے تھے، اس وقت تک کسی دشمن اسلام کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ تھی، اس وقت دشمنان اسلام خوفزدہ اور اپنی قدرت و طاقت کی کمزوری کو درک کرتے تھے ۔

لیکن جب مسلمان (مجاہدین) پراگندہ ہو گئے اور بکہر گئے (بجائے اس کے کہ دشمن کے مقابلہ میں صف بستہ ہوتے) بلکہ اپنی عزت و عظمت کو خود ہی تباہ کر بیٹھے اور دوسروں کے دست نگر اور محتاج ہوکر استعمال ہونے لگے، لہذا اپنی حفاظت و استقلال کے لئے مجبور ہوگئے کہ غیروں کا سہارا لیں، تاکہ وہاں کاسہ لیسی اور خوشامدی کر کے اپنی حفاظت کی بھیک مانگیں لیکن نتیجہ اس کے بر خلاف نکلا (خود ابریشم کے کیڑے کی طرح) روز بروز اس کے فریب کے جال میں گہر تے گئے ۔

نکتہ: جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

امر بالمعروف و نھی عن المنکر

اسلام کے واجبات میں سے امر بالمعروف و نھی عن المنکر ہے، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ جو منع کئے ہوئے کاموں (منکرات) کو انجام دیتا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نھی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نھی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہیں رہے گا جیسا کہ اسلام تمام احکام و قوانین دینی کو مسلمانوں کے اجرا کا مسئول سمجھتا ہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز مسلمانوں پر واجب ہے دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہر ہ مند ہوسکیں، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے، خود بھی برے اور گندے کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰھی سے روکے ۔

مذکورہ دستور العمل سرنامہ اسلام اور قرآن کا مخصوص پروگرام شمار ہوتا ہے قرآن مجید اس دستور العمل کو انجام دینے میں مسلمانوں کی کامیابی و کامرانی شمار کرتا ہے ۔

خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے:( كُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَتُوٴمِنُونَ بِاللّٰهِ ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ھدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم (لوگوں) کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(۸۷)

اور ایک جگہ پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَكُن مِنكُم اُمَّةٌ یدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَینهَونَ عَنِ المُنكَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ (ایسے لوگوں کا بھی) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائیں اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکیں۔(۸۸)

حضرت امام علی رضا (ع) فرماتے ہیں: امر بالمعروف نھی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں ان کی دعا محل اجابت میں قبول نہیں کی جائے گی ۔(۸۹)

پیغمبر (ص) اسلام نے فرمایا: جب بھی میری امت امر بالمعروف اور نھی از منکر کو ترک کردے گویا خدا سے اعلان جنگ کر رہی ہے(۹۰)

رسول (ص) خدا نے ارشاد فرمایا: جب بھی میری امت نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کے کام میں مشغول رہے گی معاشرہ اور سماج آبرومنداور بھتر رہے گا، لیکن جس وقت اس ذمہ داری کو ترک کردے ان کے ہاتھوں سے برکت اٹھ جائے گی، اور ان میں سے بعض (شریر) افراد تمام لوگوں پرغالب آجائیں گے اس وقت یہ فریاد اور مدد کے لئے پکارتے رہیں زمین و آسمان سے کوئی ان کی مدد کے لئے نہیں آئے گا ۔(۹۱)

امام حسن عسکری (ع) فرماتے ہیں: نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کو ترک نہ کرنا ورنہ تم سب پر (خدا کی طرف سے) عذاب نازل ہوگا اور تم گرفتارِ عذاب ہوجاؤگے جب بھی کوئی تم میں سے کسی کو برا کام کرتے ہوئے دیکھے تو فوراً اس کے روک تھام کے لئے قدم بڑھائے، اگر ایسا نہیں کر سکتا تو اپنی زبان سے منع کرے اگر زبان سے منع کرنے پر قادر نہیں ہے تو چاہیے اس برے کام کے انجام پانے پر دل سے ناراض و غمگین ہو۔(۹۲)

حضرت علی بن ابی طالب (ع) اپنے اصحاب سے فرماتے ہیں: اگر تم پر کوئی خطرہ اور مصیبت آجائے تو تم اپنے اموال کو اپنے نفس پر فدا کردو، اگر تمھارے دین کے لئے خطرہ اور ھلاکت کا باعث ہوتو اپنی جان کو دین کی مدد و نصرت کے لئے فدا کردو، جان لو کہ بد بخت اور شقی وہ شخص ہے جو اپنے دین کو کھو بیٹھے اور چوری اس کی ہوئی ہے جس کے دین کی چوری ہو جائے ۔(۹۳)

امر بالمعروف اور نھی از منکر کے چند مراحل ہیں

پہلا مرحلہ:

زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ:

اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پھنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ:

سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک، اگر قدرت رکھتا ہے یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ:

اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

حرام و باطل معاملات

۱۔عین نجس (جو چیز ذاتا ً نجس ہو) جیسے پیشاب، پاخانہ، خون اور میت۔

۲۔ غصبی مال کی خرید و فروخت حرام و باطل ہے ۔

۳۔ ایسے اسباب و آلات کی خرید و فروخت جو صرف حرام میں استعمال ہوتے ہیں جیسے موسیقی، جوئے کے آلات ۔

۴۔ سودی معاملہ بھی حرام ہے ۔

۵۔ شراب اور ہر مست کرنے والی چیزو ں کی خرید و فروخت ۔

۶۔ ایسی چیزوں کی خرید و فروخت جو اسلام کی نگاہ میں مالیت نہیں رکھتی ہے ۔

۷۔ ان ملاوٹ والی چیزوں کا بیچنا جس کے بارے میں خریدار کو کچھ پتہ نہ ہو جیسے گھی میں چربی یا کوئی اور چیز ملا کر بیچنا ۔

۸۔ انگور و کشمش و کھجور کو ایسے شخص کو بیچنا جو اس سے شراب بناتا ہے (یا بنائے گا)

نجس چیزیں

اسلام کچھ چیزوں کو نجس جانتا، اور مسلمانوں کو اس سے اجتناب کا حکم دیتا ہے:

۱۔۲۔ پیشاب و پاخانہ خواہ انسان کا ہو یا ہر حرام گوشت حیوان جو خون جھندہ رکھتا ہے یعنی اگر اس کی رگ کو کاٹ دیں تو خون بڑی سرعت کے ساتھ نکلے ۔

۳۔اسی طرح خون جھندہ رکھنے والے حیوان کی منی نجس ہے ۔

۴۔ خون جھندہ رکھنے والے حیوان کا مردہ نجس ہے ۔

۵۔ خون جھندہ رکھنے والے حیوان کا خون نجس ہے ۔

۶۔ خشکی کے کتے ۔

۷۔ خشکی کی سور۔

۸۔ کافر جو خدا و رسول (ص) کا منکر ہے ۔

۹۔ شراب ۔

۱۰۔ فقاع (بیئر) جو، جو سے بنائی جاتی ہے ۔

مطہر ات

۱۔ پانی:

مطلق اور پاک پانی ہر چیز کی نجاست کو پاک کر تا ہے ۔

۲۔ زمین:

اگر زمین پاک اور خشک ہے تو انسان کا پیر، جوتے کا تلا، چھڑی کی نوک، گاڑی کا پھیہ وغیرہ کو پاک کرتی ہے شرط یہ ہے کہ چلنے کی وجہ سے ان چیزوں کی نجاست زائل ہو گئی ہو ۔

۳۔ آفتاب:

(سورج) آفتاب کی گرمی زمین، چھت، دیوار، دروازہ، کھڑکی اور درخت وغیرہ کو پاک کرتا ہے شرط یہ ہے کہ عین نجاست بر طرف ہوگئی ہو اور نجاست کی تری آفتاب کی گرمی سے خشک ہو جائے ۔

۴۔ عین نجاست کا دور ہونا:

اگر حیوان کا بدن نجس ہوجائے تو عین نجاست کے دور ہوتے ہی اس کا بدن پاک ہوجاتا ہے، اور پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

۵۔ استحالہ:

اگر عین نجس اس طرح متغیر ہوجائے کہ اس پر اس کے سابقہ نام کا اطلاق نہ ہو بلکہ اسے کچھ اور کہاجانے لگے تو وہ نجاست پاک ہوجاتی ہے، جیسے کتا نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے تو پاک ہو جائے گا یا نجس لکڑی کو آگ جلا کر خاکستر کر دے (تو وہ خاکستر پاک ہوجائیگی)

واجب غسل

چھ غسل واجب ہیں:

( ۱) غسل جنابت ( ۲) غسل حیض ( ۳) غسل نفاس ( ۴) غسل استحاضہ ( ۵) غسل میت ( ۶) غسل مس میت ۔

جنابت: انسان دو چیزوں سے مجنب ہوجاتا ہے، ۱ ۔ جماع (جنسی آمیزش) ۲ ۔ منی کا نکلنا

غسل کا طریقہ

غسل میں چند چیزیں واجب ہیں:

۱۔ نیت: غسل کو خدا کے لئے بجالائے اور معلوم ہونا چاہیے کہ کون سا غسل انجام دے رہاہے (یا دے رہی ہے)

۲۔ نیت کے بعد پورے سر و گردن کو دھوئے اس طریقے سے کہ ایک ذرہ کھیں چھوٹنے نہ پائے ۔

۳۔ سر و گردن کے بعد داہنے طرف کے پورے بدن کو دھوئے ۔

۴۔ اس کے بعد بائیں طرف کے پورے بدن کو دھوئے ۔

نکتہ ۱) مجنب پر چند چیزیں حرام ہیں:

۱۔ خط قرآن، اسم خدا، اور اسماء انبیاء، اسماء ائمہ طاہرین (ع) کو بدن کے کسی حصہ سے مس کرنا

۲۔ مساجد اور ائمہ علیہم السلام کے حرم میں ٹھہر نا ۔

۳۔ کسی چیز کو رکھنے کے لئے مسجد میں داخل ہونا ۔

۴۔ وہ سورہ جن میں سجدہ واجب ہے ان میں سے کسی ایک آیت کا پڑھنا (عزائم کا پڑھنا)

۵۔ مسجد الحرام میں جانا ۔

نکتہ ۲) مجنب کے لئے ضروری ہے کہ نماز اور روزہ کے لئے غسل کرے، اسی طرح وہ عورت جو خون حیض و نفاس سے فارغ ہوئی ہے، نماز و روزہ کے لئے غسل کرنا واجب ہے ۔

تیمم کا طریقہ

تیمم میں پانچ چیزیں واجب ہیں:

۱۔ نیت ۔

۲۔ دونوں ہاتھوں کو ملا کر ھتھیلیوں کو زمین پر مارے ۔

۳۔ دونوں ہاتھوں کی ھتھیلیوں کوپوری پیشانی اور اس کے دونوں طرف جہاں سے سر کے بال اُگتے ہیں ابرو ؤں تک (اور ناک کے اوپر تک کھینچے)

۴۔ بائیں ہاتھ کی ھتھیلی کو داہنے ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے ۔

۵۔ داہنے ہاتھ کی ھتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے ۔

نکتہ ۱:

جب انسان کے لئے پانی ضرر رکھتا ہو یا پانی تک رسائی ممکن نہ ہو یا نماز کا وقت تنگ ہو تو چاہیے کہ نماز کے لئے تیمم کرے ۔

نکتہ ۲:

مٹی، کنکر، ریت، ڈھیلہ، پتہر ، پر تیمم کرنا صحیح ہے ۔

نکتہ ۳:

اگر تیمم غسل کے بدلے ہوتو پیشانی کے مسح کے بعد ایک مرتبہ پہر دونوں ہاتھوں کو ملا کر زمین پر مار ے، بائیں ہاتھ کی ھتھیلی سے داہنے ہاتھ کی پشت کا اور داہنے ہاتھ کی ھتھیلی سے بائیں ہاتھ کی پشت کا مسح کرنا چاہیے۔

بعض حرام کام

ظلم کرنا، جھوٹ، غیبت، چاپلوسی، لوگوں کے مال کا غصب کرنا، عیب جوئی، جوا کھیلنا، سود کہانا، سود لینے کے لئے گواہ بننا، سود کے لئے رسید کاٹنا، زنا، لواط، نا محرم کی طرف دیکھنا، زنا کی نسبت دینا، ملاوٹ کرنا، شہادت (گواہی) چھپانا، جھوٹی گواہی دینا، وعدہ خلافی کرنا، میدان جنگ سے بھاگنا، شراب پینا، سور کا گوشت کہانا،مردہ کہانا، انسان کے بیضتین کا کہانا، خون پینا اور کہانا، نجس چیز کا کہانا و پینا، فساد پھیلانا، برے کام کو انجام دینا، مومن کا قتل کرنا، ماں اور باپ کو اذیت پھنچانا، جھوٹی قسم کہانا، کم فروشی (ناپ و تول میں کمی کرنا)، ظالم کی مدد کرنا، خیانت کرنا، ظالم کے پاس نمامی و چغلخوری کرنا، گمراہ کرنا، دین میں بدعت ڈالنا، مسلمانوں کی توھین کرنا، خدا کی ذات سے نا امیدی، گالی دینا، تکبر کرنا، زبان سے اذیت کرنا، ریاکاری کرنا، لوگوں کو دھوکہ دینا، پڑوسی کو ستانا، لوگوں کو رنج پھنچانا (مردم آزاری) رشوت کہانا، طلبِ منی، چوری، احکام خدا کے خلاف فیصلہ کرنا، مردوں کا سونے کے زیورات سے زینت کرنا جیسے انگوٹھی اور سونے کی گھڑی پھننا سونے کے برتن کا استعمال کرنا وغیرہ ۔

بعض واجبات

نماز، روزہ، امر بہ معروف و نھی از منکر، جہاد، زکات، خمس، حج، مظلوموں کی مدد، گواہی دینا، دین کا دفاع کرنا، نفس محترم کی حفاظت، سلام کا جواب دینا، ماں و باپ کی اطاعت کرنا، احکام دین کا سیکھنا، صلہ رحم کرنا، عھد و نذر کا وفا کرنا ۔

تقلید

خداوند عالم نے ہماری سعادت اور دنیا و آخرت میں نجات کے لئے تمام احکام و قوانین کو اپنے نبی (ص) کے ذریعہ لوگوں تک پھنچایا اور آپ (ص) نے اس امانت عظميٰ کو ائمہ طاہرین (ع) کوودیعت اعطا فرمایا ہے اور حضرت کے جانشین اور خلفائے برحق نے اپنی عمر کے تمام نشیب و فراز میں اس ذمہ داری کو پھنچانے کی کوشش فرمائی ہے جو آج تک ان تمام ادوار کو طے کرتا ہوا ہمارے سامنے حدیثوں اور روایتوں کی کتابوں میں موجود ہے ۔

اس زمانہ میں چونکہ امام زمانہ (ع) تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں اور وظائف کو حضرت (ع) سے دریافت کر سکیں، لہذا مجبور ہیں کہ حدیثوں اور قرآنی آیات سے احکام کا استنباط کریں اور اگر اس پر بھی قادر اور دست رسی نہیں رکھتے تو ضروری ہے کہ کسی مجتھد اعلم (سب سے زیادہ علم رکھنے والا) کی تقلید کریں ۔

ان روایات و احادیث میں کہر ی کھوٹی، صحیح و غلط وضعی جعلی وغیرہ کے سمندر سے گوہر کا الگ کرنا ہر ایک کے بس کا میں نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایسے افراد کا انتخاب کیا جائے جو اس بحر بیکراں میں غواصی کر رہے ہوں، جو اس سمندر کی طغیان اور طوفان سے خوب واقف ہوں جنھوں نے اس کو حاصل کرنے کے لئے رات و دن نہ دیکھا، عمر کے لمحات کو نہ شمار کیا ہو، علوم کے سمندر کی تہہ میں بیٹھے ہوں اس کی راہوں سے خوب واقف ہوں اس میں سے گوہر و موتی نکالنے میں ان کے لئے کوئی مشکل کام نہ ہو، ایسے افراد کو مجتھد کہتے ہیں ۔

لہذا ہم مجبور ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو طے کرنے کے لئے ان کے دامن کو تھامیں کیونکہ اس کام کے ماہر وھی ہیں، مریض ڈاکٹر ہی کے پاس تو جائے گا، یہ ایک عقلی قاعدہ ہے جس چیز کے متعلق معلوم نہیں اس علمکے ماہر و متخصص سے پوچھو اور حضرات ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بھی دور دراز رہنے والوں کے لئے قریب کے عالم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔

البتہ تقلید میں یہ چیز ذھن نشین رہے، کہ ایسے مجتھد کی تقلید کی جائے جو تمام مجتھدین میں اعلم (جو احکام خدا کو سمجھنے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہو) عادل و پرہیز گار ہو پس اس کے حکم کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے، مجتھدین اکثر موارد میں اتفاق نظر رکھتے ہیں، سوائے بعض جزئیات کے کہ جس میں اختلاف پایا جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ ان جزئیات میں ایک دوسرے کے خلاف فتويٰ دیں ۔

اس مقام پر یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ خداوند عالم کے پاس فقط ایک حکم موجود ہے اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں پایا جاتا وھی حق ہے، اور حکم حقیقی و واقعی فتويٰ کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتا ہے، مجتھدین بھی نہیں کہتے ہیں کہ خدا کے نظریات و احکام ہمارے نظریات و خیالات کے تابع ہیں یا ہمارے حکم کی تبدیلی سے خدا کا حکم بدل جاتا ہے۔

پہر آپ ہم سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے: فتويٰ میں اختلاف کی نوعیت کیا ہے؟ فقھاآپس میں اختلاف کیوں رکھتے ہیں؟

ایسی صورت میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہوگا کہ: فتويٰ میں اختلاف ان وجوہ میںسے کسی ایک کی بنا پر ممکن ہے ۔

پہلا :

کبھی ایک مجتھد حکم واقعی کو سمجھنے میں شک کرتا ہے تو اس حال میں قطعی حکم دینا ممکن نہیں ہوتا لہذا احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے مطابق احتیاط فتويٰ دیتا ہے تاکہ حکم الٰھی محفوظ رہے، اور مصلحت واقعی بھی نہ نکلنے پائے ۔

دوسرا:

کبھی اختلاف اس جھت سے ہوتا ہے، کہ دو مجتھدین جس روایت کو دلیل بنا کر فتويٰ دیتے ہیں وہ روایت کو سمجھنے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں، ایک کھتا ہے امام اس روایت میں یہ کھنا چاہتے ہیں اور دوسرا کھتا ہے امام کا مقصود دوسری چیز ہے، اس وجہ سے ہر ایک اپنی سمجھ کے مطابق فتويٰ دیتا ہے ۔

تیسرا:

حدیث کی کتابوں میں کسی مسئلہ کے اوپر کئی حدیثیں موجود ہیں جو باہم تعارض رکھتی ہیں ہاں فقیہ کو چاہیے کہ ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دے اور اس کے مطابق فتويٰ دے۔

یہاں ممکن ہے کہ مجتھدین کا نظریہ مختلف ہو ایک کھے فلاں اور فلاں جھت سے یہ روایت اس روایت پر مقدم ہے اور دوسرا کھے، فلاں و فلاں جھت سے یہ روایت اس روایت پر ترجیح رکھتی ہے پس ہر ایک اپنے مد نظر روایت کے مطابق فتويٰ دیتا ہے ۔

البتہ اس طرح کے جزئی اختلافات کھیں پر ضرر نہیں پھونچاتے بلکہ محققین اور متخصصین و ماہرین کے نزدیک ایسے اختلافی مسائل پائے جاتے ہیں آپ کئی انجینیر، اور مہارت رکھنے والے کو نہیں پا سکتے جو تمام چیزوں میں ہم عقیدہ و اتفاق رای رکھتے ہوں ۔

ہم مذکورہ مطالب سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں:

۱) تقلید کرنا کوئی نئی بات نھیں، بلکہ ہر شخص جس فن میں مہارت نہیں رکھتا ہے اس فن میں اس کے متخصص وماہر کے پاس رجوع کرتا ہے، جیسے گہر وغیرہ بنوانے کے معاملہ میں انجینیراور بیماری میں ڈاکٹر اور بازار کی قیمت کے متعلق دلال کے پاس جاتے ہیں، پس احکام الٰھی حاصل کرنے کے لئے مرجع تقلید کی طرف رجوع کریں اس لئے کہ وہ اس فن کے متخصص و ماہر ہیں ۔

۲) مرجع تقلید:

من مانی اور ہوا و ہوس کی پیروی میں فتويٰ نہیں دیتے بلکہ تمام مسائل میں ان کا مدرک قرآن کی آیات و احادیث پیغمبر (ص) اور ائمہ طاہرین (ع) ہوتی ہے ۔

۳) تمام مجتھدین، اسلام کے کلی مسائل بلکہ اکثر مسائل جزئی میں بھی ہم عقیدہ اور نظری اختلاف نہیں رکھتے ہیں ۔

۴) بعض مسائلِ جزئیہ جس میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ مجتھدین اختلاف کرنا چاہتے ہیں بلکہ تمام مجتھدین چاہتے ہیں کہ حکم واقعی خدا جو کہ ایک ہے اس کو حاصل کریں اور مقلدین کے لئے قرار دیں، لیکن استنباط اور حکم واقعی کے سمجھنے میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے پہر چارہ ہی کوئی موجود نہیں رہتا مگر یہ کہ جو کچھ سمجھا ہوا ہے اس کو بیان کر یں ا ور لکھیں جب کہ حکم واقعی ایک حکم کے علاوہ نہیں ہے ۔ مقلدین کے لئے بھی کوئی صورت نہیں ہے مگر اعلم کے فتوے پر عمل کریں اور خدا کے نزدیک معذور ہوں ۔

۵) جیسا کہ پھلے بیان ہوا کہ دنیا کا ہر متخصص و محقق و ماہر چاہے جس فن کے بھی ہوں ان کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے، لیکن لوگ امر عادی سمجھتے ہوئے اس پر خاص توجہ نہیں دیتے ہیں اور اس سے اجتماعی امور میں کوئی رخنہ اندازی بھی نہیں ہوتی ہے ۔

مجتھدین کے بعض جزئیات میں اختلافی فتوے بھی اس طرح کے ہیں، اس کو امر غیر عادی نہیں شمار کرنا چاہیے ۔

۶) ہمیں چاہیے کہ ایسے مجتھد کی تقلید کریں جو تمام مجتھدین سے اعلم ہو، اور احکام الٰھی کے حاصل کرنے میں سب سے زیادہ تجرّ رکھتا ہو نیز عادل و پرہیز گار جو اپنے وظیفہ و ذمہ داری پر عمل کرتا ہو اور قانون و شریعت کی حفاظت کے لئے کوشاں ہو۔

اسلام میں رہبری و قیادت

جمھوریہ اسلامی ایران کے رہبر فقھاو مجتھدین صاحب شرائط سے منتخب کئے جاتے ہیں جمھوریہ اسلامی ایران کے بنیادی قانون میں رہبر کے لئے تین شرطیں بیان کی گئی ہے ۔

۱۔ علمی صلاحیت رکھتا ہو جو فقہ کے کسی باب میں فتويٰ دینا چاہے تو دے سکے ۔

۲۔ امت اسلام کی رہبری کے لئے تقويٰ و عدالت ضروری ہے ۔

۳۔ سیاسی و اجتماعی بصیرت کا حامل ہو نیز تدبیر و شجاعت و بہادری رہبری و مدیریت کے لئے کافی قدرت و طاقت رکھتا ہو ۔

سب سے پھلے رہبری کی ذمہ داری اسلامی جمھوریہ کے بانی آیة اللہ العظميٰ امام خمینی قدس سرہ کے اوپر تھی، اور پہر ان کے بعد رہبر کے انتخاب کی ذمہ داری خبرگان کے اوپر ہے (مجلس خبرگان میں مجتھدین و فقھاہیں جو رہبری کے لئے کسی کو منتخب کرتے ہیں) حضرت امام خمینی کے بعد حضرت آیة اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی میں رہبری و قیادت کے تمام شرائط موجود پاکر آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا، ولایت امر اور اس سے مربوط تمام تر مسائل کی ذمہ داری رہبر کے اوپر ہے ۔


فہر ست مصادر

۱۔ اثباة الھداة؛ محمد بن حسن حر عاملی

۲۔ ارشاد؛ شیخ مفید

۳۔ بحار الانوار؛ محمد باقر بن محمد تقی مجلسی

۴۔ البدایة و النہایة؛ ابو الفداء اسماعیل بن محمد عمر دمشقی (ابن کثیر)

۵۔ توضیح المسائل؛ مراجع تقلید

۶۔ حیاة القلوب؛ محمد باقر بن محمد تقی مجلسی

۷۔ سفینة البحار و مدینة الحکم و الآثار؛ شیخ عباس بن محمد رضا قمی

۸۔ کشف الغمہ؛ علی بن عیسی اربلی

۹۔ محجة البیضاء؛ ملا محسن فیض کاشانی

۱۰۔ مناقب آل ابی طالب؛ ابن شہر آشوب

۱۱۔ نھج البلاغہ؛ سید رضی

۱۲۔ الوافی؛ ملا محسن فیض کاشانی

۱۳۔ وسائل الشیعہ؛ محمد بن حسن حر عاملی

۱۴۔ ینابیع المودة؛ سلیمان بن ابراہیم قندوزی

____________________

۱. سورہ زمر (۳۹) آیت ۹۔

۲. سورہ مجادلہ (۵۸) آیت ۱۱ ۔

۳. بحار الانوار، ج۱، ص۱۷۷۔

۴. بحار الانوار، ج۱، ص ۱۶۴ ۔

۵. بحار الانوار، ج ۱،ص ۱۶۵ ۔

۶. بحار الانوار، ج۱، ص۱۷۰ ۔

۷. بحار الانوار، ج۱، ص ۱۷۴ ۔

۸. بحار الانوار، ج۱،ص ۲۰۳ ۔

۹. خدا مرئی نھیں: خدا دکھائی نہیں دے سکتا ہے، یعنی اس کو آنکھ کے ذریعہ کوئی دیکھنا چاہے تو ممکن نھیں، اس لئے کہ دکھائی وہ چیز دیتی ہے جو جسم رکھے اور خدا جسم نہیں رکھتا ہے لہذا اس کو نہیں دیکھا جا سکتا ۔

۱۰. خدا جاہل نہیں ہے: جیسا کہ صفات ثبوتیہ میں بیان ہوا، خدا ہر چیز کا عالم ہے، اور اس کے علم کے لئے کسی طرح کی قید و شرط و حد بندی نہیں ہے، اور جہالت و نادانی عیب و نقص ہے اور خداوند عالم وجود مطلق عیب و نقص سے پاک ہے۔

۱۱. خدا مرکب نہیں ہے: ہر وہ چیز جود و جز یا اس سے زائد اجزا سے مل کر بنے اسے مرکب کہتے ہیں، اور خدا مرکب نہیں ہے اور نہ اس میں اجزا کا تصور پایا جاتا ہے، کیونکہ ہر مرکب اپنے اجزا کا محتاج ہے اور بغیر اس اجزا کے اس کا وجود میں آنا محال ہے، اگر اللہ کی ذات بھی مرکب ہو تو، مجبوراً اس کی ذات ان اجزا کی ضرورتمند ہوگی، اور ہر وہ ذات جو محتاج، ناقص اور بھت سے اجزا کا مجموعہ ہو، وہ واجب الوجودا ورخدا نہیں ہو سکتی ۔ دوسرے: ہر مرکب علت کا محتاج ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اجزائے ترکیبیہ ملیں اور اس کو تشکیل دیں، پہر علت آکر اس کو وجود میں لائے اگر خدا ایسا ہے تو اس کو اپنے وجود میں علت اور اجزائے ترکیبیہ کا محتاج ہونا لازم آئے گا، لہٰذا جو ذات ناقص اور اپنے وجود میں علت کی محتاج ہو، وہ واجب الوجود خدا نہیں ہو سکتی ۔

۱۲. خدا جسم نہیں رکھتا: اجزا سے مرکب چیز کو جسم کہتے ہیں، اور اوپر بیان ہوا کہ خدا مرکب نہیں ہے، لہذا وہ جسم بھی نہیں رکھتا ہے ۔

۱۳. بحار الانوار، ج۴، ص ۶۲ ۔

۱۴. لہٰذا تم جس جگہ بھی قبلہ کا رخ کر لو گے سمجھووھیں خدا موجود ہے۔ سورہ بقرہ آٓیت ۱۱۵.

۱۵. سورہ مومنون

۱۶. آیت ۱۱۵<اَفَحَسِبتُم اَنَّمَا خَلَقنَاكُم عَبَثًا وَ اَنكُّم اِلَینَا لَا تُرجَعُونَ > کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہمارے حضور میں لوٹا کر نہیں لائے جاؤگے ۔

۱۷. آیت ۱۱۵<اَفَحَسِبتُم اَنَّمَا خَلَقنَاكُم عَبَثًا وَ اَنكُّم اِلَینَا لَا تُرجَعُونَ > کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہمارے حضور میں لوٹا کر نہیں لائے جاؤگے ۔

۱۸. آیت ۱۱۵<اَفَحَسِبتُم اَنَّمَا خَلَقنَاكُم عَبَثًا وَ اَنكُّم اِلَینَا لَا تُرجَعُونَ > کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہمارے حضور میں لوٹا کر نہیں لائے جاؤگے ۔

۱۹. بحار الانوار، ج۱۱، ص ۳۰ ۔

۲۰. بحار الانوار، ج۱ ص۶۱ ۔

۲۱. احزاب (۳۳) آیت ۴۰ ۔

۲۲. بقرہ (۲) آیت ۲۳ ۔

۲۳. اسراء (۱۷) آیت ۸۸ ۔

۲۴. مزید تحقیق کے لئے تفسیر و کلام اور تاریخ و حدیث کی کتابوں کی طرف رجوع کریں اس لئے کہ اس کتاب میں اختضار مد نظر ہے ۔

۲۵. غایة المرام سید ہاشم بحرانی اثباة الھداة ۔ محمد بن حسن حر عاملی ۔ بحار الانوار علامہ مجلسی ۔ ینابیع المودة سلیمان حنفی شافعی ۔ صحیح ابی داؤ د۔ مسند احمد ۔ اور دیگر تمام حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے ۔

۲۶. مائدہ (۶۷) <یا اَیهَا الرَّسُولُ بَلِّغ مَا اُنزِلَ اِلَیكَ مِن رَبِّكَ وَاِن لَم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَه وَاللّٰهُ یعصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا یهدِی القَومَ الكَافِرِینَ >

۲۷. البدایہ و النہایہ، ج۵، ص ۲۰۸۔

۲۸. مناقب ابن شہر آشوب، ج۲، ص ۱۰۸ ۔

۲۹. بحار الانوار، ج۴۱، ص ۵۲ ۔

۳۰. اثباة الھداة، ج۵، ص ۱۲۱ ۔

۳۱. ینابیع المودة، ص ۳۷۳ ۔

۳۲. مناقب شہر آشوب، ج۴، ص ۱۹ ۔

۳۳. اثباة الھداة، ج۵، ص ۱۶۹ ۔

۳۴. اثباة الھداة، ج۵، ص ۲۱۲۔ ارشاد مفید، ص ۲۳۸ ۔

۳۵. مناقب ابن شہر آشوب، ج۴، ص ۱۵۳ ۔

۳۶. اثباة الھداة، ج۵، ص ۲۶۳۔ ارشاد مفید، ص ۲۴۵ ۔

۳۷. کشف الغمہ، طبع تبریز، ج۲، ص ۳۳۷ ۔

۳۸. اثباة الھداة، ج۵، ص ۳۲۸۔ ارشاد مفید ،ص ۲۵۴ ۔

۳۹. ارشاد مفید، ص ۲۵۴۔

۴۰. مناقب ابن شہر آشوب، ج۴، ص ۲۷۴ ۔

۴۱. اثباة الھداة، ج۵، ص ۴۶۷ ا۔رشاد مفید، ص ۲۷۰ ۔

۴۲. کشف الغمہ، ج ۳، ص ۱۸ ۔

۴۳. اثباة الھداة، ج۶، ص۲ ۔ارشاد شیخ مفید، ص ۲۸۵ ۔

۴۴. وافی، ج۳، ص ۸۷ ۔

۴۵. اثباة الھداة، ج۶، ص ۱۵۵ ۔ ارشاد شیخ مفید ، ص ۲۹۷ ۔

۴۶. اثبات الھداة، ج۶، ص ۲۰۸ ۔ ارشاد مفید، ص ۳۰۸ ۔

۴۷. اثباة الھداة، ج۶، ص ۲۶۹ ۔ ارشاد مفید ، ص ۳۱۵ ۔

۴۸. اثبات الھداة، ج۶، ص ۳۵۲ ۔ ارشاد مفید ، ص ۳۲۷۔

۴۹. وافی، ج۱، تیسرا حصہ، ص۳۸۔

۵۰. وافی، ج ۱، تیسرا حصہ، ص۶۰۔

۵۱. سفینة البحار، ج ۱، ص ۷۳۔

۵۲. خداوند عالم نے قرآن میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے: <اَفَحَسِبتُم اَنَّمَا خَلَقنَاكُم عَبَثاً وَ اَنَّكُم اِلَینَا لَا تُرجَعُونَ > تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمھیں یوں ہی بے فائدہ اور بےکار پیدا کیا ہے اور تم ہمارے حضور میں لوٹائے نہیں جاؤگے ۔ مومنون (۲۳) آیت ۱۱۵۔

۵۳. ۔ خداوند عالم قرآن مجید میں اس مطلب کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے <ام نجعل المتقین کالفجار >کیا ہم پرہیزگاروں کو مثل بدکاروں کے بنادیں؟ ص ۔۳۸، آیت ۲۸ ۔

۵۴. بحار الانوار، ج۶، ص ۲۴۹ ۔

۵۵. بحار الانوار، ج۶، ص ۱۴۵ ۔

۵۶. خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے: ”وَمِن وَرَائِهم َبرزَخٌ اِليٰ َیومِ یبعَثُونَ “ سورہ مومنون (۲۳) آیت ۱۰۰ ان کے ”مرنے کے “بعد ”عالم “ برزخ ہے اس دن تک کہ دوبارہ قبروں سے اٹھائے جائےں گے۔

۵۷. سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۵۴

۵۸. سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۶۹۔

۵۹. بحار الانوار، ج۶، ص ۲۴۲ ۔

۶۰. بحار الانوار، ج۶، ص ۲۱۴اور ص ۲۰۲ ۔ ۲۸۲ ۔

۶۱. بحار الانوار، ج۷، ص۵۴ ۔ ۲۳۷ ۔

۶۲. سورہ زخرف (۴۳) آیت ۷۱

۶۳. بحار الانوار، ج۸، ص۷۱ ۔ ۳۲۲ ۔

۶۴. ہمزہ (۱۰۴) آیت ۶ ۔

۶۵. بحار الانوار، ج۸، ص ۲۲۲ ۔ ۳۷۴۔

۶۶. وافی، ج۱، تیسرا حصہ، ص ۱۸۳ ۔

۶۷. نھج البلاغہ، (طبع مصر) دوسرا جز، ص ۲۵۳ ۔

۶۸. وسائل الشیعہ، کتاب الجہاد، ص ۱۲۲ ۔

۶۹. المحجة البیضاء، فیض کاشانی، ج۲،ص ۳۱۲ ۔

۷۰. وافی، ج۲، جزء پنجم، ص ۱۳ ۔

۷۱. مراجع تقلید نے کہاہے کہ ”اَشهَدُ اَنَّ عَلِیاً وَلِی اللّٰهِ “ (میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی (ع) تمام لوگوں پر اللہ کے ولی ہیں) اذان و اقامت کا (جز) حصہ نہیں ہے، لیکن ”اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ “ کے بعد ”اَشهَدُ اَنَّ عَلِیاً وَلِی اللهِ “ بقصد تبرک و تیمن کھنا بھتر ہے ۔ (توضیح المسائل مسئلہ ۹۱۹)

۷۲. وافی، ج۲، جز ۷، ص۵ ۔

۷۳. وافی، ج۲، جز ۷، ص۵ ۔

۷۴. وافی، ج۲، جز۷، ص۵۔

۷۵. وافی، ج۲، ص۵، جز ۶ ۔

۷۶. وافی، ج۲، ص۵، جز ۶ ۔

۷۷. وافی، ج۲، ص۶ ۔

۷۸. چونکہ موجودہ صورت حال میں اونٹ کی زکواة کا اتفاق نہیں ہوتا ہے، اس لئے ہم نے اس کے نصاب کو بیان نہیں کیا ہے ۔

۷۹. وافی، ج۲، آٹھواں حصہ، ص۴۸

۸۰. سورہ صف (۶۱) آیت ۴ ۔

۸۱. سورہ توبہ (۹) آیت ۳۶ ۔

۸۲. سورہ توبہ (۹) آیت ۱۲ ۔

۸۳. سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۹۳۔

۸۴. سورہ انفال (۸) آیت ۱۲ ۔

۸۵. سورہ انفال (۸) آیت ۶۰ ۔

۸۶. وسائل الشیعہ، ج۱۱، ص ۱۱ ۔

۸۷. آل عمران (۳) آیت ۱۱۰ ۔

۸۸. آل عمران (۳) آیت ۱۰۴ ۔

۸۹. وسائل الشیعہ، ج۱۱، ص ۳۹۴

۹۰. وسائل الشیعہ، ج۱۱، ص ۳۹۴۔

۹۱. وسائل الشیعہ، ج۱۱، ص ۳۹۸۔

۹۲. وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۴۰۷ ۔

۹۳. وسائل الشیعہ، ج ۱۱، ص ۴۵۱۔


فہرست

دیباچہ ۴

ہماری ذمہ داری ۵

پهلی فصل؛ خدا کی پہچان ۸

علم کی اہمیت ۸

خدا کی پہچان ۸

دنیا میں نظم و ترتیب ۹

پہلا مرحلہ: ۱۰

دوسرا مرحلہ: ۱۱

تیسرا مرحلہ: ۱۱

چوتھا مرحلہ: ۱۱

بچپنے کا زمانہ ۱۲

انصاف کریں ۱۲

ہر موجود کے لئے علت کا ہونا ضروری ہے ۱۳

خدا کے صفات ۱۴

صفات ثبوتیہ ۱۴

پہلی دلیل: ۱۴

دوسری دلیل: ۱۵

صفات ثبوتیہ: ۱۵

۔ قدرت: ۱۵


۔ علم: ۱۵

۔ حیات: ۱۵

۔ ارادہ: ۱۵

۔ بصیر ہے: ۱۵

۔ سمیع ہے: ۱۶

۔ قدیم و ابدی ہے: ۱۶

۔ متکلم ہے: ۱۶

یاد دہانی ۱۶

صفات ذاتیہ: ۱۷

صفات فعلیہ: ۱۷

ایک حدیث ۱۷

صفات سلبیہ ۱۸

۱) خدا مرکب نہیں ہے: ۱۸

۲) خدا جسم نہیں رکھتا: ۱۸

۳) خدا مرئی نہیں: ۱۸

۴) خدا جاہل نہیں ہے: ۱۹

۵) خدا عاجز و مجبور نھیں: ۱۹

۶) خدا کیلئے محل حوادث نھیں: ۱۹

۷) خدا کا شریک نھیں: ۱۹

۸) خدا مکان نہیں رکھتا: ۱۹


۹) خدا محتاج نھیں: ۲۰

۱۰) خدا ظالم نھیں: ۲۰

توحید ۲۱

پہلی دلیل ۲۱

پہلی حالت ۲۱

دوسری حالت ۲۱

تیسری حالت ۲۲

دوسری دلیل ۲۳

نتیجہ ۲۳

عدل ۲۴

پہلی دلیل ۲۴

دوسری دلیل ۲۴

دوسری فصل؛ نبوت ۲۶

نبوت ۲۶

پہلی دلیل ۲۶

دوسری دلیل ۲۷

تیسری دلیل ۲۷

نبی کے شرائط ۲۸

۔عصمت: ۲۸

۔علم: ۲۸


۔ معجزہ: ۲۸

نبی کو پہچاننے کا طریقہ ۲۹

پہلا راستہ: ۲۹

دوسرا راستہ: ۲۹

انبیاء کی تعداد ۳۰

اولو العزم انبیاء: ۳۰

حضرت محمد (ص) آخری نبی ہیں ۳۰

ہمیشہ رہنے والا معجزہ ۳۱

قرآن کتاب عمل ہے: ۳۱

حضرت رسول خدا (ص) کے حالاتِ زندگی ۳۲

اسلامی احکام ۳۳

تیسری فصل؛ امامت ۳۴

امامت ۳۴

امام کے صفات ۳۴

عصمت ۳۴

کمال اور فضیلت ۳۵

معجزہ ۳۵

امام کی پہچان ۳۵

پہلا راستہ: ۳۵

دوسرا راستہ: ۳۵


امام اور نبی میں فرق ۳۶

پہلا : ۳۶

دوسرا: ۳۶

تشخیصِ امام اور امام کی تعداد ۳۶

پھلے امام حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام ۳۷

پہلا واقعہ ۳۹

دوسرا واقعہ ۳۹

دوسرے امام حسن بن علی علیہما السلام ۴۰

پہلی وجہ ۴۱

دوسری وجہ ۴۱

امام حسن (ع) کا واقعہ ۴۲

تیسرے امام حضرت حسین ابن علی (ع) ۴۲

چوتھے امام حضرت علی بن حسین زین العابدین علیہما السلام ۴۴

پانچویں امام حضرت محمد بن علی الباقر علیہما السلام ۴۵

چھٹے امام حضرت جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام ۴۷

ساتویں امام حضرت موسيٰ بن جعفر الکاظم علیہما السلام ۴۸

واقعہ ۴۹

آٹھویں امام حضرت علی بن موسيٰ الرضا علیہما السلام ۴۹

پہلا : ۵۰

دوسرا: ۵۰


واقعہ ۵۱

نویں امام حضرت محمد ابن علی التقی علیہما السلام ۵۱

دسویں امام حضرت علی بن محمد النقی علیہما السلام ۵۲

گیارہویں امام حضرت حسن بن علی العسکری علیہما السلام ۵۲

بارہویں امام حضرت محمد بن حسن (صاحب الزمان) علیہما السلام ۵۳

ائمہ طاہرین (ع) کے متعلق ہمارا عقیدہ ۵۵

شیعہ ۵۶

مسلمانوں کے متعلق ہمارا عقیدہ ۵۷

چوتھی فصل؛ قیامت ۵۸

پہلی دلیل ۵۸

دوسری دلیل ۶۰

دوسرے افراد: ۶۱

موت ۶۱

برزخ ۶۲

قیامت اور لوگوں کا قبروں سے نکلنا ۶۳

جنت ۶۴

جھنم: ۶۴

شفاعت ۶۵

توبہ ۶۶

پانچویں فصل؛ اخلاق ۶۷


اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں ۶۷

اچھے صفات: ۶۷

برے صفات: ۶۷

چھٹی فصل؛ فروع دین ۶۹

نماز ۶۹

نماز پنجگانہ ۶۹

اوقات نماز ۷۰

وضو ۷۰

وضو کا طریقہ ۷۰

اذان ۷۰

اقامت ۷۱

نماز پڑھنے کا طریقہ ۷۲

۱۔ نیت: ۷۲

۲۔ تکبیرة الاحرام: ۷۲

۳۔ قرائت: ۷۲

۴۔ رکوع: ۷۳

۵۔ سجدہ: ۷۳

۶۔ قنوت: ۷۴

۷۔ تشھد: ۷۴

۸۔ سلام: ۷۴


۹۔ تسبیحات اربعہ: ۷۴

نماز کے ارکان ۷۵

مسافر کی نماز ۷۶

نماز آیات ۷۶

نماز آیات کا طریقہ ۷۷

روزہ ۷۷

زکوٰة ۷۹

زکوٰة کی مقدار ۸۰

بھیڑ بکری کا نصاب: ۸۰

پہلا : ۸۰

دوسرا: ۸۰

تیسرا: ۸۰

چوتھے: ۸۰

پانچویں: ۸۰

نکتہ: ۸۰

گائے کا نصاب: ۸۰

(پہلا ) ۸۱

(دوسرا) ۸۱

نکتہ ۱: ۸۱

سونے کا نصاب: ۸۱


پہلا ۔ ۸۱

(دوسرا) ۸۱

چاندی کا نصاب ۸۱

پہلا نصاب: ۸۲

دوسرا نصاب: ۸۲

نکتہ ۱: ۸۲

نکتہ ۲: ۸۲

نکتہ ۳: ۸۲

زکواة کا مصرف ۸۲

خمس ۸۳

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے: ۸۳

حج ۸۴

جہاد ۸۵

امر بالمعروف و نھی عن المنکر ۸۶

امر بالمعروف اور نھی از منکر کے چند مراحل ہیں ۸۸

پہلا مرحلہ: ۸۸

دوسرا مرحلہ: ۸۸

تیسرا مرحلہ: ۸۸

چوتھا مرحلہ: ۸۸

حرام و باطل معاملات ۸۸


نجس چیزیں ۸۹

مطہر ات ۸۹

۱۔ پانی: ۸۹

۲۔ زمین: ۸۹

۳۔ آفتاب: ۹۰

۴۔ عین نجاست کا دور ہونا: ۹۰

۵۔ استحالہ: ۹۰

واجب غسل ۹۰

غسل کا طریقہ ۹۰

نکتہ ۱) مجنب پر چند چیزیں حرام ہیں: ۹۱

تیمم کا طریقہ ۹۱

نکتہ ۱: ۹۱

نکتہ ۲: ۹۱

نکتہ ۳: ۹۲

بعض حرام کام ۹۲

بعض واجبات ۹۲

تقلید ۹۲

پہلا : ۹۳

دوسرا: ۹۴

تیسرا: ۹۴


اسلام میں رہبری و قیادت ۹۵

فہر ست مصادر ۹۶