یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب نامہ: اصول دین سے آشنائی
حضرت آیة الله العظمیٰ حاج شیخ حسین وحید خراسانی مدظلہ العالی کی توضیح المسائل کا مقدمہ
ناشر: مدرسة الامام الباقر العلوم علیہ السلام
دوسرا ایڈیشن: ۱ ۴ ۲۸ ھ، مطابق ۲۰۰۷ ء
پریس: نگارش
ملنے کا پتہ:
قم، صفائیہ روڈ، گلی نمبر ۳۷ ، مکان نمبر ۲۱ ، ٹیلیفون: ۷۷ ۴ ۳۲ ۵۶ ۔ ۰۲ ۵ ۱
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن، وَصَلَّی اللّٰهُ عَلیٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِهِ الطَّاهِرِيْنَ، لاَ سِيِّمَا بَقِيَّةِ اللّٰهِ فِی اْلا رََٔضِيْن
پیش گفتار
یہ کتا ب فروع دین سے متعلق ہے،لیکن یہ مقدمہ اصول دین سے آگاہی کی غرض سے لکها گیاہے۔جس طرح نور کے مراتب ہیں اور سورج وشمع کا نور بھی حقیقی نور کے مراتب میں سے ہیں، اسیطرح اصول دین کی معرفت کے بھی مراتب ہیں۔یہ مقدمہ کوئی عمیق تحقیق نہیں، بلکہ اس راہ میں قدم رکھنے والوں کے لئے اصول دین سے آشنائی کی حد تک ایک شمع کی مانند ہے۔
اس مقدمے میں عقلی اعتبار سے نهایت آسان تمهیدات پر مبنی دلائل سے استدلال کیا گیا ہے اورروائی اعتبار سے ان منقولات پر مشتمل ہے جو سنی اور شیعہ کی کتبِ احادیث اور مشہور تواریخ میں مذکور ہیں اور اس بارے میں خبر دینے کے لئے،اگر چہ راوی ثقہ ہے یا جو بات نقل کی گئی ہے موردوثوق ہے،ہمارا مستند وہی کتب ہیں جهاں سے ہم نے انہیں نقل کیا ہے۔
مبانیِ دین میں انوار آیات وروایات سے پر تو افشانی اس لئے کی گئی ہے کہ قرآن وسنت، فطرت کو بیدار کرنے والے اور حکمت کے دقیق ترین قواعد پر مشتمل ہیں۔
روایات کے ترجمے میں مضمون حدیث کے تقریباًمطابق، مختصر مضمون کو پیش کیا گیا ہے،عمومی جہت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض دقیق علمی نکات سے صرف نظر کی گئی ہے اور اختصار کے پیش نظر مطالب سے مربوط تمام جهات کو پیش نہیں کیا گیا ہے۔
اصول دین کی مقدماتی بحثیں
اصول دین کے بیان سے پهلے چند امور کی جانب توجہ ضروری ہے:
۱۔تحصیل معرفت کا ضروری ہونا :
مبدا ومعاد کے وجود کا احتمال، معرفت دین اور اس سلسلے میں تلاش و جستجو کو ضروری قرار دیتا ہے، کیونکہ اگر خالقِ جهاں، علیم وحکیم ہو،زندگی کا اختتام موت نہ ہو،خالق انسان نے اسے کسی مقصد و ہدف کے تحت خلق کیا ہو اور اس کے لئے ایک ایسا نظام معین کیا ہو جس کی مخالفت ابدی بد بختی کاسبب ہو تو انسانی جبلت وفطرت اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ چاہے یہ احتمال کم ہی کیوں نہ ہو، لیکن جس چیز کا احتمال دیا جارہا ہے اس کی عظمت واہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے، تاکہ تحقیق کے ذریعے منفی یا مثبت نتیجے تک پهنچا جا سکے۔جیسا کہ اگر بجلی کے تار میں شارٹ سرکٹ کا احتمال ہو اور طے ہو کہ اس صورت میں زندگی آگ کا لقمہ بن سکتی ہے تو انسان اس وقت تک آرام وچین سے نہیں بیٹھتا جب تک اسے خطرہ ٹلنے کا یقین نہ ہوجائے۔
۲۔انسان کو دینِ حق کی ضرورت :
انسان کا وجودجسم وروح اور عقل وہوس کا مرکب ہے اور اسی کا اثر ہے کہ اس کی فطرت مادی ومعنوی سعادت اور کمال مقصد تخلیق کو پانے کی جستجو میں ہے۔
ادہر انسان کی زندگی کے دو پهلو ہیں، فردی او ر اجتماعی،بالکل ایسے ہی جیسے انسانی بدن کا ہر عضو اپنی ذاتی زندگی سے قطع نظر دوسرے اعضاء کے ساته بھی متقا بلاًتاثیر و تا ثر رکھتا ہے۔
لہٰذا ، انسان کو ایسے قانون وآئین کی ضرورت ہے جو اسے مادی ومعنوی سعادت اور پاک وپاکیزہ انفرادی اوراجتماعی زندگی کی ضمانت دے اور ایسا آئین، دین حق ہے کہ جس کی انسان کو فطری طور پر ضرورت ہے( فَا قَِٔمْ وَجْهَکَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ) (۱)
____________________
۱ سورہ روم، آیت ۳۰ ۔ ”پس (اے نبی!) تم خالص دل سے دین کی طرف اپنا رخ کئے رہو خدا کی بنائی ہوئی سرشت جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے “۔
هر موجود کے لئے ایک کمال ہے جس تک رسائی،اس کے مربوطہ تکامل وتربیت کے لئے معین کردہ قاعدے و قانون کی اتباع کے بغیر ناممکن ہے اور انسان بھی اس عمومی قاعدے و قانون سے مستشنیٰ نہیں( قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْ ا عَْٔطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَه ثُمَّ هَدیٰ ) (۱)
۳۔انفرادی زندگی میں دین کا کردار
انسان کی زندگی متن وحاشیہ اور اصل وفرع پر مشتمل ہے۔متن واصل، خود اس کا اپنا وجود ہے اور حواشی وفروع وہ چیزیںہیں جو اس انسان سے تعلق رکھتی ہیں جیسے مال،مقام،شریک حیات،اولاد اور رشتہ دار۔
اپنی ذات اور اس سے متعلق اشیاء کی محبت نے انسانی زندگی کو دو آفتوں،غم واندوہ اور خوف وپریشانی کا آمیزہ بنا رکھا ہے۔جوکچھ اس کے پاس نہیں ہے اسے حاصل کرنے کا غم واندوہ اورجوکچھ اس کے پاس ہے،حوادث زمانہ کے تحت اسے کهو دینے کا خوف و اضطراب۔
خداوندِ متعال پر ایمان ان دونوں آفتوں کو جڑ سے اکهاڑ پهینکتا ہے،کیونکہ عالم وقادر اور حکیم ورحیم پروردگار پر ایمان، اسے اپنی مقررہ ذمہ داریوں سے عهدہ بر آہونے پر ابهارتا ہے اور فرائض بندگی پر عمل پیرا ہو کر وہ جان لیتا ہے کہ خداوندِمتعال اپنی حکمت ورحمت کے وسیلے سے، خیر وسعادت کا باعث بننے والی چیزیں اسے عنایت فرمائے گا اور اسبابِ شر و شقاوت کو اس سے دور فرمائے گا۔
بلکہ، اس حقیقت مطلق کو پا لینے کے بعد، کہ جس کے مقابلے میں ہر حقیقت مجاز ہے اور جس کے علاوہ باقی سب بظاہر پانی دکهائی دینے والے سراب ہیں،اس نےکچھ کهویا ہی نہیں اور اس امر پر یقین و ایمان رکھتے ہوئے کہ( مَا عِنْدَکُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَاللّٰهِ بَاقٍ ) (۲)
کسی بھی فانی وناپائدار چیز میں اس کے لئے جاذبیت ہی نہیں کہ اس کے نہ ہونے سے غمگین اور چهن جانے سے مضطرب ہو( ا لَٔاَ إِنَّ ا ؤَْلِيَاءَ اللّٰهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُوْنَة الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ کَانُوْا يَتَّقُوْنَةلَهُمُ الْبُشْریٰ فِی الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ فِی اْلآخِرَةِ لاَ تَبْدِيْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰهِ ذٰلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ) (۳)
اس زندگی میں انسانی اعصاب کو کهوکهلا کر دینے والی چیز، مادی خواہشات کو پانے کی خوشی اور انہیں نہ پانے کے دکه سے حاصل ہونے والی اضطرابی وہیجانی کیفیت ہے اور لنگر ایمان ہی ان طوفانی امواج میں مومن کو آرام واطمینان عطا کیا کرتاہے( لِکَيَلاَ تَا سَْٔوْا عَلیٰ مَا فَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَا ا تََٔاکُمْ ) (۴)
( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِکْرِ اللّٰهِ ا لَٔاَ بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (۵)
۴ ۔اجتماعی زندگی میں دین کا کردار
زیادہ سے زیادہ پانے کی ہوس کے غریزئہ افزون طلبی کی بدولت انسان میں موجود شہوت وغضب کسی حد تک محدود نہیں۔اگر مال کی شہوت اس پر غلبہ کر لے تو زمین کے خزانے بھی اسےقانع نہیں کر سکتے اور اگر مقام کی شہوت اس پر سوار ہو جائے تو روئے زمین کی حکومت و بادشاہی
____________________
۱ سورہ طہٰ، آیت ۵۰ ۔”موسیٰ نے کها ہمارارب وہ ہے جس نے ہر شئے کو اس کی خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے“۔
۲ سورہ نحل، آیت ۹۶ ۔”جوکچھ تمهارے پاس ہے وہ سب تمام ہو جائے گا اور جوکچھ الله کے پاس ہے وہی باقیرہنے والا ہے“۔
۶۴ ۔۶۳ ، ۳ سور ہ یونس ، آیت ۶۲” آگاہ ہو جاو کہ اولیاء خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ محزون اور ،زنجیدہ ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور خدا سے ڈرتے رہے ۔ان کے لئے زندگانی دنیا اور آخرت دونوں مقاماتپر بشارت اور خوشخبری ہے اور کلمات خدا میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے اور یهی در حقیقت عظیم کامیابی ہے“۔
۴ سورہ حدید ، آیت ۲۳ ۔ ”جو چیز تم سے جاتی رہی تو تم اس کا رنج نہ کیا کرو اور جب کوئی چیز (نعمت) تم کو خدادے تو اس پر نہ اِتریا کرو“۔
۵ سورہ رعد ، آیت ۲۸ ۔”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہو تاہے اور آگاہ ہو جاو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہو تا ہے“۔
اس کے لئے ناکافی ثابت ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسرے سیاروں پر اپنی قدرت و حاکمیت کا پرچم لهرائے( وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَاهَامَانُ ابْنِ لِیْ صَرْحاً لَعَلِّیْ ا بَْٔلُغُ اْلا سَْٔبَابَة ا سَْٔبَابَ السَّمَاوَاتِ ) (۱)
انسان کا سر کش نفس، شکم ودامن، مال و مقام کی شہوت اور کبھی ختم نہ ہونے والی اندہی ہوس کے لئے قوتِ غضب کو کام میں لانے کے بعد کسی حدو حدود کو خاطر میں نہیں لاتا اور کسی بھی حق کو پامال کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ ایسی نفسانی شہوت کا نتیجہ بربادی اور ایسے غضب کا انجام خونریزی اور خاندانوں کے اجڑنے کے علاوہکچھ اور نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسان اپنی قوتِ فکر کے ذریعے اسرار طبیعت کے طلسم کو توڑنے اور اس کی قوتو ں کو اپنا غلام بنا کر اپنی نامحدود نفسانی خواہشات کو پا نے کے لئے حیات، بلکہ کرہ ارض کو جو انسانی حیات کا گہوارہ ہے،نابودی کی طرف لے جا رہا ہے( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ ا ئَْدِی النَّاسِ ) (۲)
مبدا ومعاد اور ثواب وعقاب پر ایمان کی طاقت ہی اس سر کش نفس کو مهار،انسانی شہوت وغضب کو تعادل اور فردی واجتماعی حقوق کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے،کہ ایسے خدا پر اعتقاد جو( وَهُوَ مَعَکُمْ ا ئَْنَ مَا کُنْتُمْ ) (۳)
اور اعمال کی ایسی جزا وسزا جو( فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهة وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه ) (۴) پر ایمان کی وجہ سے، انسان ہر خیر کی جانب گامزن اور ہر شر سے دور ہو گا اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جس کی بنیاد بقاء کے لئے ٹکراو کے بجائے بقاء کے لئے مصالحت کے فلسفے پر ہوگی۔
۵ ۔اصول دین سے آگاہی کی فضیلت و عظمت
فطری طور پر انسان علم کا پیاسا ہے، اس لئے کہ جو چیز انسان کو انسان بناتی ہے،عقل ہے اور عقل کا پهل علم ہے۔ یهی وجہ ہے کہ جب کسی جاہل کو جاہل کها جائے تو یہ جاننے کے باوجود بھی کہ جاہل ہے غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اسے علم سے نسبت دیں تو خوش ہوجاتا ہے۔
اسلام نے، جو دین فطرت ہے،علم کے مقابلے میں جهالت کو وہی مقام دیا ہے جو نور کے مقابلے میں ظلمت اور زندگی کے مقابلے میں موت کو حاصل ہے ((إنما هو نور یقع فی قلب من یرید اللّٰه تبارک وتعالی ا نٔ یهدیه ))(۵) ((العالم بین الجهال کا لحی بین الا مٔوات ))(۶)
لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ علم ذاتی طور پربا فضیلت ہونے کے باوجود مختلف مراتب کا حامل ہے،مثال کے طور پر علم کی فضیلت میں اس کے موضوع،نتیجے اور اس علم سے متعلق استدلال کی روش کے لحاظ سے تفاوت پایا جاتا ہے، جیسا کہ نباتات شناسی کی نسبت انسان شناسی اسی قدر افضل ہے جس قدر نباتات پر انسان کو فوقیت و فضیلت حاصل ہے۔انسانی زندگی کو سلامتی عطا کرنے والا علم اس کے مال کی حفاظت کرنے والے علم سے اتنا ہی اشرف و با فضیلت ہے جتنا انسانی زندگی کو اس کے مال پر برتری وفضیلت حاصل ہے اور وہ علم جس کی بنیاد دلیل و برہان پر قائم ہے فرضی نظریات کی بنیاد پر قائم شدہ علم سے اتنا ہی زیادہ باشرف ہے جتنا گمان کے مقابلے میں یقین کو برتری وشرافت حاصل ہے۔
لہٰذا، تمام علوم میں وہ علم اشرف وافضل ہے جس کا موضوع خالقِ کائنات کی ذات ہے، لیکن یہ بات مدّنظر رہے کہ غیرِ خدا کو خدا کے مقابلے میں وہ نسبت بھی حاصل نہیں ہے جو قطرے کو اقیانوس اور ذرے کو سورج کے مقابلے میں حاصل ہے۔ ان کے درمیان لا متناہی او رمتناہی کی نسبت ہے،بلکہ
____________________
۱ سورہ غافر، آیت ۳۶ ۔۳۷”اور فرعون نے کها کہ (هامان) میرے لئے ایک قلعہ تیار کر کہ میں اس کے اسباب تک ، پهنچ جاو ںٔ۔ اور جو آسمان کے راستے ہیں“۔
۲ سورہ روم ، آیت ۴۱ ۔”خود لوگوں ہی کے اپنے هاتهوں کی کارستانیوں کی بدولت خشک و تر میں فساد پهیل گیا“۔
۳ سورہ حدید ، آیت ۴ ۔”اور وہ تمهارے ساته ہے تم جهاں بھی رہو“۔
۴ سورہ زلزلة ، آیت ۷،۸ ۔”پھر جس شخص نے ذرہ بهر برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا۔اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا“۔
۵ بحار الانوار،جلد ۱، صفحہ ۲۲۵ ۔”بے شک صرف وہ ”علم “نور ہے کہ خدای متعال جس کی ہدایت چاہتا ہے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے“۔
۶ بحارالانوار جلد ۱، صفحہ ۱۷۲ ۔”جاہلوں کے درمیان ایک عالم ایسا ہے جیسے مردوں میں زندہ“۔
دقیق نظر سے دیکھیں تولا شئی اور فقیر بالذات کا غنی بالذات سے کوئی مقابلہ ہی نہیں( وَعَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَيُّوْمِ ) (۱)
اور اس علم کا ثمر ونتیجہ ایمان وعملِ صالح ہیں جن کی بدولت انسان کو دنیوی اور اخروی سعادت کے علاوہ انفردی و اجتماعی حقوق حاصل ہوتے ہیں( مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَکَرٍ ا ؤًْ اُنْثٰی وَهُوَ مُو مِْٔنٌ فَلَنُحْيِيَنَّه حَيَاةً طَيِّبَةً ) (۲) اور اس علم کی بنیاد،یقین و برہان پرہے،ظن وگمان کی پیروی پر نہیں۔( اُدْعُ إِلیٰ سَبِيْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ ) (۳) ( وَلاَ تَقْفُ مَالَيْسَ لَکَ بِه عِلْمٌ ) (۴) ( إِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ) (۵)
اب تک کی گفتگوسے اس حدیث کے معنی واضح ہو جاتے ہیں کہ ((إن ا فٔضل الفرائض وا ؤجبها علی الإنسان معرفة الرّب والإقرار له بالعبودیة ))(۶)
۶ ۔ایمان ومعرفتِ پر وردگار تک رسائی کی شرط
انسان، ہر اثر کے مؤثر کی تلاش وجستجو میں ہے اور فطرتِ انسانی، سر چشمہ وجود کو پانے کی پیاسی ہے۔
لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ گوہرِ ایمان اور معرفت پر وردگارِعالم، جو گنجینہ علم ومعرفت کے انمول جواہر ہیں، عدل وحکمت کے قاعدے وقانون کے مطابق کسی ایسے شخص کو نصیب نہیں ہو سکتے جو ایمان و معرفتِ پروردگار عالم کے حق میںظلم سے آلودہ ہو، کیونکہ نا اہل کو حکمت عطاکرنا حکمت کے ساته ظلم ہے اور اہل سے دریغ کرنا اہل حکمت کے ساته ظلم وزیادتی ہے۔
اور یہ جاننا نهایت ضروری ہے کہ خدا اور قیامت کا انکار اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان تمام هستی کا احاطہ کر نے اورعلل ومعلولات کے تمام سلسلوں تک پهنچنے کے بعد بھی مبدا ومعادکو نہ پا سکے اور جب تک مذکورہ امور پر محیط فهم وادراک پیدا نہ ہوگا، مبدا ومعا د کے نہ ہونے کا یقین محال ہے، بلکہ جو ممکن ہے وہ مبدا ومعاد کو نہ جاننا ہے۔
لہٰذا، عدل وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جس کسی کو بھی الله کے وجود کے بارے میں شک ہے اسے چاہئے کہ قولی اور عملی طور پر مقتضائے شک پر عمل کرے۔مثال کے طورپر اگر کوئی شخص ایسے خدا کے وجود کا احتمال دے کہ جس پر ایمان کی بدولت ابدی سعادت اور ایمان نہ ہونے کی صورت میں ابدی شقاوت اسے نصیب ہو سکتی ہے،عقلی نکتہ نظر سے اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دل وزبان سے اس کے وجود کا انکار نہ کرے اور عملی میدان میں جس قدر ممکن ہو اس حقیقت کی تلاش و جستجو میں کوشاں رہے اور منزلِ عمل میں احتیاط کا دامن نہ چهوڑے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس پروردگا رکی ذات موجود ہو جس کے احکامات سے سر تابی ابدی شقاوت کا باعث ہو، بالکل اسی طرح جیسے لذیذ ترین کهانے میں زهر کا احتمال دینے پربحکم عقل اس کهانے سے پرہیز ضروری ہے۔
خدا کے وجود میں شک کرنے والا ہر شخص، اگرعقل کے اس منصفانہ حکم کے مطابق عمل کرے تو بغیر کسی شک وتردید کے، معرفت وایمانِ خدا کو پالے گا( وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) (۷)
ورنہ اس حقیقت کی ظلم سے آلودگی کے ساته اس قدوس و متعال ذات کی معرفت حاصل نہ ہوگی( يُو تِْٔی الْحِکْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّو تَْٔ الْحِکْمَةَ فَقَدْ ا ؤُْتِیَ خَيْرًا کًثِيْراً ) (۸)
____________________
۱ سورہ طہ ، آیت ۱۱۱ ۔”اس دن سار ے چهرے خدائے حی وقیوم کے سامنے جهکے ہوں گے“۔
۲ سورہ نحل ، آیت ۹۷ ۔” جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہوہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے“۔
۳ سورہ نحل، آیت ۱۲۵ ۔”آپ دعوت دیں اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت سے“۔
۴ سورہ اسراء، آیت ۳۶ ۔”اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی پیروی مت کرنا“۔
۵ سورہ یونس، آیت ۳۶ ۔”بے شک گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پهنچا سکتا“۔
۶ بحارالانوار، جلد ۴،صفحہ ۵۵ٔ ۔”سب بڑا واجب انسان پر یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے اور اس کی عبودیت (بندگی) کا اقرار کرے“۔
۷ سورہ عنکبوت، آیت ۶۹ ۔”اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جهاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے“ ۔
۸ سورہ بقرة، آیت ۲۶۹ ۔”وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کردیتا ہے اور جسے حکمت عطا کردی جائے اسے گویاخیر کثیر عطا کردیا گیا “۔
( وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظَّالِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ ) (۱)
مذکورہ بالا نکات کی وضاحت کے بعد اب ہم اصول دین کی بحث شروع کرتے ہیں:
خدا پر ایمان لانے کا راستہ :
خدا پر ایمان لانے کی راہیں متعدد ہیں :
اہل الله کے لئے اس کی دلیل ومعرفت کا ذریعہ خود اس کی ذات ہے( ا ؤََ لَمْ يَکْفِ بِرَبِّکَ ا نََّٔه عَلیٰ کُلِّ شَیْء شَهِيْد ) (۲) ((یا من دل علی ذاته بذاته ))(۳) ،((بک عرفتک وا نٔت دللتنی علیک ))(۴)
اوراہل الله کے علاوہ بقیہ افراد کے لئے چند راہوں کی طرف مختصر طور پر اشارہ کرتے ہیں :
الف):انسان جب بھی خود اپنے یا اپنے حیطہ ادراک میں موجود، موجودات کے کسی بھی جزء کے متعلق غور کرے تو اس نتیجے پر پهنچے گا کہ اس جزء کا نہ ہونا محال نہیں ہے اور اس کا ہونا یا نہ ہونا ممکن ہے۔اس کی ذات عدم کی متقاضی ہے اور نہ ہی وجود کی۔اور مذکورہ صفت کی حامل ہر ذات کوموجود ہونے کے لئے ایک سبب کی ضرورت ہے، اسی طرح جس طرح ترازو کے دو مساوی پلڑوں میں سے کسی ایک پلڑے کی دوسرے پر ترجیح بغیرکسی بیرونی عامل وسبب کے ناممکن ہے، اس فرق کے ساته کہ ممکن الوجود اپنے سبب کے ذریعے موجود ہے اور سبب نہ ہونے کی صورت میں عدم کا شکار ہے اور چونکہ اجزاء عالم میں سے ہر جزء کا وجود اپنے سبب کا محتاج ہے، لہٰذااس نے یا توخود اپنے آپ کو وجود عطا کیا ہے یا موجودات میں سے اسی جیسے موجود نے اسے وجود بخشا ہے۔
لیکن جب اس کا اپنا وجود ہی نہ تھا تو خود کو کیسے وجود عطا کرسکتا ہے او راس جیساممکن الوجودجس چیز پر خود قادر نہیں غیر کو کیا دے گا۔اور یہ حکم وقاعدہ جوکائنات کے ہر جزء میں جاری ہے، کل کائنات پر بھی جاری وساری ہے۔
جیسا کہ ایک روشن فضاکا وجود،جس کی اپنی ذاتی روشنی کوئی نہیں اس بات کی دلیل ہے کہ اس روشنی کامبدا ضرور ہے جو اپنے ہی نور سے روشن ومنور ہے ورنہ ایسے مبدا کی غیر موجودگی میں فضا کا روشن ومنور ہونا ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ ذاتی طور پر تاریک موجو د کا غیر ، تو درکنار خود کو روشن کرنا بھی محال ہے۔
اسی لئے وجود کائنات اور اس کے کمالات ،مثال کے طورپر حیات، علم اور قدرت، ایک ایسی حقیقت کے وجود کی دلیل ہیں جس کا وجود، حیات، علم اورقدرت کسی غیر کے مرہون منت نہیں( ا مَْٔخُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَیْءٍ ا مَْٔ هُمُ الْخَالِقُوْنَ ) (۵) ((عن ابی الحسن بن موسی الرضا (ع) ا نٔه دخل علیه رجل فقال له: یا ابن رسول اللّٰه! ما الدلیل علی حدوث العالم؟ فقال (ع): ا نٔت لم تکن ثم کنت وقد علمت ا نٔک لم تکوّن نفسک ولا کوّنک من هو مثلک ))(۶)
ابو شاکر دیصانی نے چھٹے امام (ع) سے پوچها: اس بات کی کیا دلیل ہے کہ آپ (ع) کو کوئی خلق کرنے والا ہے؟ امام نے فرمایا: ((وجدت نفسی لا تخلو من إحدی الجهتین، إما ا نٔ ا کٔون صنعتها ا نٔا ا ؤ صنعها غیری، فإن کنت صنعتها ا نٔا فلا ا خٔلو من ا حٔد المعنیین،إما ا نٔ ا کٔون صنعتها وکانت موجودة، ا ؤ صنعتها وکانت معدومة فإن کنت صنعتها وکانت موجودة فقد استغنیت بوجودها عن صنعتها، و إن کانت معدومة فإنک تعلم ا نٔ المعدوم لا یحدث شیئًا، فقد ثبت المعنی الثالث ا نٔ لی صانعاً وهو اللّٰه رب العالمین ))(۷)
____________________
۱ سورہ ابراہیم، آیت ۲۷ ۔”اور ظالمین کو گمراہی میں چهوڑ دیتا ہے اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے‘ ‘۔
۲ سورہ فصلت، آیت ۵۳ ۔”اور کیا پروردگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر شئے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والا ہے“۔
۳ بحار الانوار،جلد ۸۴ ، صفحہ ۳۳۹ ، بیان مولی الموحدین علیہ السلام۔”اے وہ کہ جس کی ذات دلالت کرتی ہے اس کی ذات پر (اپنی شناخت میں کسی کا محتاج نہیں)
۴ بحارالانوار، جلد ۹۵ ، صفحہ ۸۲ ، بیان حضرت امام زین العابدین علیہ السلام۔”تجه کو تیرے ہی ذریعہ پہچانا ہے اور تو خوداپنی ذات پر دلالت کرتا ہے“۔
۵ سورہ طور، آیت ۳۵ ۔”کیایہ بغیر کسی چیز کے از خود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خودہی پیدا کرنے والے ہیں“۔
۶ بحارالانوار جلد ۳، صفحہ ۳۶ ۔حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک شخص آپ کے پاس آکر پوچهتا ہے : ”یابن رسول الله عالَم کے حادث ہونے پر کیا دلیل ہے؟حضرت فرماتے ہیں:تم پهلے نہیں تھے پھر تم ہوگئے باتحقیق تم جانتے ہو کہ تم نے اپنے آپ کو نہیں پیدا کیا(اور یہ بھی جانتے ہو کہ)جس نے تم کو وجود بخشا ہے وہ تمهارے جیسا نہیں ہے“۔
. ۷ سورہ توحید، صحفه ۲۹۰
جو چیز نہ تھی اور موجود ہوئی یا تو خود اس نے خود کو وجود عطاکیا یا کسی غیر نے۔ اگرخود اس نے خود کو موجود کیا، یا تو وہ خودپهلے سے موجود تھی اور اس نے خود کو موجود کیا یا پهلے سے موجود نہ تھی،پهلی صورت میں موجود کو وجود عطا کرنا ہے جو محال ہے اور دوسری صورت میں معدوم کو وجود کی علت وسبب قرار دینا ہے اور یہ بھی محال ہے۔ اگر کسی دوسرے نے اسے وجود عطا کیا ہے اور وہ بھی پهلے نہ تھا اور بعد میں موجود ہوا ہے تو وہ اسی کی مانند ہے۔
لہٰذا، بحکم عقل جو بھی چیز پهلے نہ تھی اور بعد میں موجود ہوئی اس کے لئے ایسے خالق کا ہونا ضروری ہے جس کی ذات میں عدم ونابودی کا سرے سے کوئی عمل دخل نہ ہو۔
اسی لئے، کائنات میں رونما ہونے والی تمام تبدیلیاں اور موجودات اس خالق کے وجود پر دلیل ہیں جسے کسی دوسرے نے خلق نہیں کیا ہے اور وہ مصنوعات ومخلوقات کا ایسا خالق ہے جو خود مصنوع و مخلوق نہیں ہے۔
ب):اگر کسی بیابان میںکوئی ایسا ورق پڑا ملے جس پر الف سے یاء تک تمام حروف تهجی ترتیب سے لکہے ہوں،هر انسان کا ضمیر یہ گواہی دے گا کہ ان حروف کی لکهائی اور ترتیب، فهم وادراک کا نتیجہ ہیں اور اگر انهی حروف سے کلمہ اور کلمات سے لکها ہوا کلام دیکھے تو اس کلام کی بناوٹ و ترکیب میں موجود دقّت نظر کے ذریعے مو لٔف کے علم وحکمت پر استدلال کرے گانیز اگر کسی کی گفتار میں انهی خصوصیات کا مشاہدہ کرے گا تو مقرر کے علم وحکمت کا معترف ہو جائے گا۔کیا ایک پودے میں موجود عناصر اولیہ کی ترکیب،کتاب کی ایک سطر کی جملہ بندی سے کم تر ہے، جولکھنے والے کے علم پر نا قابل انکار دلیل ہے؟!
وہ کونسا علم اور کیسی حکمت ہے جس نے پانی اور مٹی میں بیج کے چهلکے کے لئے موت اور بوسیدگی کا مادہ فراہم کیا ہے اور اس بیج کے مغز کو پودے کی شکل میں زندگی عطا کی ہے ؟!
جڑ کو وہ قدرت وطاقت عطا کی ہے کہ زمین کے دل کو چیرکر مٹی کی تاریک تہوں سے پودے کے لئے خوراک جذب کرتی ہے اور مٹی کے حصوں سے مختلف درختوں کے لئے خوراک فراہم کی ہے، تاکہ ہر پودا اور ہر درخت اپنی مخصوص خوراک حاصل کر سکے اور درختوں کی جڑوں کو ایسا بنا یا ہے کہ وہ اپنی مخصوص خوراک کے علاوہ جو ا س درخت کے مخصوص پهل کو جاملتی ہے،
کوئی اور خوراک جذب نہ کریں اور زمین کی کشش ثقل کا مقابلہ کرتے ہوئے پانی اور خوراک درخت کے تنے اور شاخوں تک پهنچائیں۔جس وقت جڑیں زمین سے پانی اور خوراک لے کر درخت کے تنے اور شاخوں تک پهنچانے میں مصروف عمل ہوتی ہیں، اسی دوران تنا بھی فضا سے ہوا اور روشنی لینے کے عمل کو انجام دے رہا ہوتا ہے ((کلّ میسّر لما خلق له ))(۱) ،جس قدر بھی کوشش کی جائے کہ جڑ، جسے مٹی کے اعماق تک جانے اور تنا جسے فضا میں سر بلند کرنے کے لئے بنا یا گیا ہے،کو اس حکیمانہ سنت سے روکیں اور اس کے برعکس جڑ کو فضا اور تنے کو مٹی میں قرار دیں تو یہ دونوں قانون کی اس خلاف ورزی کا مقابلہ کرتے ہوئے طبیعی طریقہ کار کے مطابق اپنی نشونما جاری رکہیں گے( وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلاً ) (۲)
فقط ایک درخت اور ان رگوں کی جو اس کی جڑوں سے ہزار ها پتوں تک حیرت انگیز نظام کے ساته پهنچائی گئی ہیں، بناوٹ اور پتوں کے ہر خلیے کو دی جانے والی قدرت وتوانائی میں غور وفکر، جس کے ذریعے وہ جڑو ں سے اپنی خوراک اورپانی کوجذب کرتے ہیں، اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان لا متناہی علم وحکمت پر ایمان لے آئے( ا مََّٔنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ وَ ا نَْٔزَلَ لَکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَا نَْٔبَتْنَا بِه حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا کَانَ لَکُمْ ا نَْٔ تُنْبِتُوْا شَجَرَهَا ا إِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ ) (۳) ( ا ا نَْٔتُمْ ا نَْٔشُا تُْٔمْ شَجَرَتَهَا ا مَْٔ نَحْنُ الْمُنْشِو نَُٔ ) (۴) ( وَ ا نَْٔبَتْنَا فِيْهَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ ) (۵)
____________________
۱ بحارالانور،جلد ۴، صفحہ ۲۸۲ ۔”جو چیز جس امر کے لئے پیدا کی گئی ہے اس کے لئے سهل وآسان ہے“۔
۲ سورہ احزاب ، آیت ۶۲ ۔”اور خدائی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے“۔
۳ سورہ نمل ، آیت ۶۰ ۔”بهلا وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور تمهارے لئے آسمان سے پانی برسایا ہے پھر ہم نے اس سے خوشنما باغ اگائے ہیں کہ تم ان کے درختوں کو نہیں اگا سکتے تھے کیا خدا کے ساته کوئی اور خدا ہے نہیں بلکہ یہ قوم وہ ہے جس نے حق سے عدول کیا ہے۔
۴ سورہ واقعہ، آیت ۷۲ ۔”اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں“۔
۵ سورہ حجر، آیت ۱۹ ۔”اور ہر چیز کو معینہ مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے “۔
نیز جس پودے اوردرخت کو دیکھیں، جڑ سے لے کر پهل تک حق تعالی کے علم،قدرت اور حکمت کی آیت ونشانی ہے اور ان کی نشونما کے لئے جو آئین مقرر کیا گیا ہے اس کے سامنے سر جهکائے ہوئے ہے( وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدْانِ ) (۱)
جیسا کہ کسی بھی جاندار کی زندگی میں غوروفکر، انسان کے لئے خدا کی طرف رہنماہے۔
ابو شاکر دیصانی نے چھٹے امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر کها :اے جعفر بن محمد (علیہما السلام)! مجھے میرے معبود کی جانب رہنمائی فرمائیں۔ ایک چهوٹا بچہ مرغی کے انڈے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
امام (ع) نے اس بچے سے انڈا لے کر فرمایا :”اے دیصانی!اس انڈے کے گرد محکم حصار ہے، اس کا چهلکا سخت ہے اور اس چهلکے کے نیچے باریک جهلی ہے۔ اس باریک جهلی کے نیچے پگهلا ہوا سونا اور سیال چاندی موجود ہے جو آپس میں نہیں ملتے۔نہ تو اندر سے کوئی مصلح باہر آیا ہے جو اس کے بارے میں اصلاح کی خبر دے اور نہ ہی کوئی مفسد باہر سے اندر گیا ہے جو فساد کی اطلاع دے اور نہ ہی کوئی یہ جانتا ہے کہ انڈا نر کے لئے بنا یا گیا ہے یا مادہ کے لئے۔“(۲)
آیا تصفیہ شدہ چونے کے ذریعے محکم حصار کو، جس میں بے انتها اسرار پوشیدہ ہیں، کس صاحب تدبیر نے مرغی کے کهائے ہوئے دانوں سے جدا کر کے اس کے تخم دان میں چوزے کی پرورش کے لئے ایسا مقام امن بنایا اور اس کے اندر نطفے کو، صدف میں گوہر کی مانند جگہ دی۔ چونکہ چوزہ اس دوران ماں سے دور ہے اور رحم مادر میں نہیں ہے جهاں سے اپنی خوراک حاصل کر سکے، لہٰذا اس کے لئے اسی محکم حصار کے اندر اس کے قریب ہی خوراک کا انتظام کیا۔چونے کی سخت دیوار اور چوزے اور اس کی خوراک کے درمیان نرم ونازک جهلی بنا ئی تاکہ چوزہ اور اس کی خوراک حصار کی سختی سے محفوظ رہیں۔ اس اندہیری اور تاریک فضا میں اس کے اعضاء وجوارح کو ہڈیوں، پٹهوں،رگوں، اعصاب اور حواس، جن میں سے فقط اس کی آنکه کا دقیق مطالعہ محيّرا لعقول ہے، کے ذریعے پایہ تکمیل تک پهنچا کر ہر ایک کو مناسب جگہ قرار دیا۔
اورچونکہ اس چوزے کو اپنی خوراک کے لئے مٹی اور پتهروں کے درمیان سے دانے چننے ہیں، لہٰذا اس کی چونچ ہڈی کی ایک خاص قسم سے بنائی تاکہ زمین پر موجود پتهر وں کے ساته ٹکرانے سے اسے کوئی نقصان نہ پهنچے۔ اورکہیں اپنی خوراک سے محروم نہ ہوجائے، لہٰذااسے سنگدانہ عطا کیا تاکہ جو بھی دانہ ملے اسے کهاکر اس میں محفوظ کر لے اور پھر اسے بتدریج نظامِ ہضم کے حوالے کرے۔اس کی نازک کهال کو پروں کے ذریعے ڈهانپ کر سردی،گرمی، چوٹ اور جانوروں کے آزار سے محفوظ کیا۔ ضروریات وواجباتِ زندگی عطا کرنے کے علاوہ ظاہری خوبصورتی جیسے مستحبات سے غفلت نہیں برتی اور اس کے پروں کو دل موہ لینے والے رنگوں سے رنگ دیا، جیسا کہ امام (ع) نے فرمایا :((تنفلق عن مثل ا لٔوان الطواویس ))(۳)
اور چونکہ چوزے کے تکامل کے لئے مرغی کے سینے کی مناسب حرارت کی ضرورت ہے،
وہ مرغی جسے فقط رات کی تاریکی ہی سعی و کوشش اورحرکت سے روک سکتی ہے اچانک اس کی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ تلاش وجستجو کو چهوڑ کر جب تک حرارت کی ضرورت ہو، اس انڈے پر بیٹھی رہتی ہے۔
وہ کونسی حکمت ہے جس نے مرغی پر خمار جیسی کیفیت طاری کر دی ہے تاکہ وہ چوزے میں زندگی کی حرکت کو وجود میں لاسکے؟! اور وہ کونسا استاد ہے جس نے اسے دن رات انڈوں کے رخ تبدیل کرنا سکهایا ہے تاکہ چوزے کے اعضاء میں تعادل برقرار رہے،جو چوزے کی راہنمائی کرتا ہے کہ خلقت مکمل ہونے کے بعد انڈے کے اس محکم حصار کو چونچ سے توڑدے اور اس میدانِ زندگی میں قدم رکہے جس کے لئے اسے یہ اعضاء وجوارح عطا کئے گئے ہیں۔اور وہ مرغی جو اپنی حیوانی جبلّت کے تحت، فقط اپنی زندگی سے نقصان دہ چیزوں کو دور اورفائدہ مند چیزوں کو انتخاب کرنے کے
____________________
۱ سورہ الرحمن، آیت ۶۔”اور ستارے اور درخت سب اسی کا سجدہ کررہے ہیں“۔
۲ بحارالانوار، جلد ۳، صفحہ ۳۱ ۔
۳ بحارالانوار، جلد ۳، صفحہ ۳۲ ۔ ”اور موروں کے رنگ کی طرح مختلف رنگ پهوٹیں گے“۔
علاوہ کوئی دوسرا عمل انجام ہی نہ دیتی تھی، اچانک اس میں ایسا انقلاب برپا ہوجاتا ہے کہ اس ناتوان اور کمزور چوزے کی حفاظت کی خاطر سینہ سپر ہو جاتی ہے اور جب تک چوزے کے لئے محافظ کی ضرورت ہے، اس میں یہ محبت باقی رہتی ہے ؟!
کیا مرغی کے ایک انڈے کے متعلق غوروفکر، اس خالق کائنات کی رہنمائی کے لئے کافی نہیں ہے کہ( خَلَقَ فَسَوّٰیة وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدیٰ ) (۱)
اسی لئے امام (ع) نے فرمایا :((ا تٔرا لها مدبر اً؟ قال: فا طٔرق ملیاً، ثم قال: ا شٔهد ا نٔ لا إله إلا اللّٰه وحده لا شریک له وا شٔهد ا نٔ محمداً عبده ورسوله، وا نٔک إمام وحجة من اللّٰه علی خلقه وا نٔا تائب ممّا کنت فیه ))(۲)
هاں، وہی علم و قدرت اور حکمت جو مٹی کے گهپ اندہیرے میں بیج اور انڈے کے چهلکے کی تاریکی میں چوزے کو کسی ہدف اور مقصد کے لئے پروان چڑهاتا ہے، ماں کے پیٹ اور اس کے رحم کی تاریکیوں میں انسانی نطفے کو، جو ابتداء میں خوردبین سے نظر آنے والے جاندار سے بڑه کر نہیں ہوتا اور اس میں انسانی اعضاء و جوارح کے آثار تک نہیں ہوتے، رحمِ مادر سے باہرزندگی بسر کرنے کے لئے تمام ضروریات زندگی سے لیس کرتا ہے۔
مثال کے طور پر جنین میں، ہڈیوں کو اپنی ذمہ داری نبهانے کے لئے مختلف شکل اور حجم میں بنایا، مختلف حرکات کے لئے عضلات کو قرار دیا،دماغ کی حیرت انگیز بناوٹ کے ذریعے مشعلِ ادراک کو روشن کیا اور دل کی فعالیت کے ذریعے جو هرسال کروڑوں بار دہڑکتا ہے، حرارتِ حیات کو زندگی کے اس مرکز میں محفوظ فرمایا۔
انسانی جسم کی اس سادہ ترین ترکیب میں غوروفکر، عزیز و علیم خدا کی تقدیر پر ایمان لانے کے لئے کافی ہے۔ مثال کے طور پر انسان کے منہ میں تین قسم کے دانت بنائے، پهلے ثنایا اس کے بعد انیاب، پھر اس کے بعد چهوٹے طواحن اور آخر میں بڑے طواحن کو قرار دیا ۳۔اگر ثنایا، انیاب اور چهوٹے طواحن کو بڑے طواحن کی جگہ قرار دیا جاتا تو دانتوں کی ترتیب میں یہ بگاڑ، غذا توڑنے اور چبانے سے لے کر اس چهرے کی بد صورتی اور خوبصورتی میں کیا کردار ادا کرتا ؟!
اگر بهنویں جو آنکهوں کے اوپر ہیں، نیچے اور ناک کے سوراخ، نیچے کے بجائے اوپر کی سمت ہوتے تو کیا ہوتا؟!
زمین کی آبادی اور اس پر آبا د کاری، چاہے کاشتکاری ہو یا مضبوط ترین عمارت یانازک و دقیق ترین صنعت ، سب کے سب، انگلی کی پوروں اور اس پر ناخنوں کے اگنے سے وابستہ ہیں۔
وہ کونسی حکمت ہے جس نے ناخن بنانے والا مادّہ، انسان کی غذا میں فراہم کیا، اسے حیرت انگیز طریقے سے ہضم کے مرحلے سے گزارا اورپھر رگوں میں داخل کر کے انگلیوں کی پوروں تک پهنچایا اور اس تخلیق کی غرض کو مکمل کرنے کے لئے گوشت اور ناخن میں پیوند کے ذریعے ان دونوں کے درمیان ایسا رابطہ بر قرار کیا کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا نهایت طاقت فرسا کام ہے،
لیکن غرض ومقصد حاصل ہونے کے بعد ان کو اس طرح ایک دوسرے سے جدا کر دیا کہ ناخن آسانی کے ساته کاٹے جاسکیں؟!
تعجب آور تو یہ ہے کہ جس غذا سے ناخن کا مادّہ اس سختی کے ساته تیار ہوا ہے، اسی غذا سے کمالِ لطافت کے ساته ایک صاف اورشفاف مادّہ، بینائی کے لئے بھی تیا رہوا ہے جو ہضم وجذب کے مراحل کو طے کرنے کے بعد آنکه تک جا پهنچتا ہے۔
اگر ان دونوں کے طے شدہ تقسیمِ رزق میں کام الٹ جاتا اورناخن آنکه سے نکل آتا، جب کہ وہ صاف شفاف مادّہ آنکهوں کی بجائے انگلیوں کی پوروں تک جا پهنچتا، تو انسانی نظامِ زندگی میں کتنا بڑا خلل واقع ہوجاتا ؟!
____________________
۱ سورہ اعلی، آیت ۲و ۳۔”پیدا کیا اور درست بنا یاہے۔جس نے تقدیر معین کی ہے اور پھر ہدایت دی ہے“۔
۲ بحارالانوار، جلد ۳، صفحہ ۳۲ ۔”حضرت فرماتے ہیں:کیا اس کے لئے کسی مدبر کو دیکھتے ہو:تهوڑی دیر سکوت کے بعد خدا کی وحدانیت ومحمد کی رسالت وآنحضرت کی امامت پر ایمان لے آیا اور اپنے گذشتہ عمل کی توبہ کی“۔
۳ ثنایا: اوپر کے دو دانت جو سامنے کی طرف ہوتے ہیں، انیاب: اوپر کے دو نوک دار دانت، طواحن: ڈاڑہیں۔
یہ علم وحکمت کے آثار کا سادہ ترین نمونہ ہے جو کسی دقّت نظر کا محتاج نہیں( وَفِیْ ا نَْٔفُسِکُمْ ا فََٔلاَ تُبْصِرُوْنَ ) (۱) تو انسانی خلقت کے ان عمیق ترین اسرار کے بارے میں کیا کہئے گا کہ جن کی تہہ تک رسائی کے لئے انسان کو اپنے علم کو جدید ترین آلات کی مدد سے کام میں لاتے ہوئے،سرجری اور اعضائے انسانی کی خصوصیات و کردار جیسے شعبوں میں اعلیٰ مهارت بھی حاصل کرنی پڑے۔( ا ؤََلَم يَتَفَکَّرُوْا فِیْ ا نَْٔفُسِهِمْ ) (۲)
جی هاں، اتنی زیادہ علمی کاوشوں کے بعد اب تک جس موجود کی جلد کی حکمت ہی واضح نہ ہوسکی ہو، اس کے باطن اور مغز میں کیسے عظیم اسرار پنهاں ہیں، جیسے ملائمات کو جذب کرنے والی شہوت اور ان کی حفاظت ونا ملائمات کو دفع کرنے والے غضب سے لے کر، ان دو کے عملی تعادل کے لئے عقل اور نظری تعادل کے لئے حواس کی ہدایت سے سرفراز کیا گیا ہے( وَ إِنْ تَعُدُّّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لاَ تُحْصُوْهَا ) (۳)
حکمت کی ایسی کتاب کو علم وقدرت کے کون سے قلم سے پانی کے ایک قطرے پر لکهاگیاہے؟!( فَلْيَنْظُرِ اْلإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَةخُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ ) (۴) ( يَخْلُقُکُمْ فِی بُطُوْنِ ا مَُّٔهَاتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِی ظُلُمَاتٍ ثَلاَثٍ ) (۵)
یہ کیسا علم اور کیسی قدرت وحکمت ہے کہ جس نے غلیظ وپست پانی میں تیرنے والے خوردبینی حیوان سے ایسا انسان خلق کیا ہے جس کی مشعلِ ادراک، اعماقِ آفاق وانفس کی جستجو کرے اِقْرَا وَرَبُّکَ اْلاَکْرَمَةالَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِةعَلَّمَ اْلإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمْ(۶) اور زمین وآسمان کو اپنی قدرت وجولان فکر کا میدان قرار دے؟( ا لَمْ تَرَوا ا نََّٔ اللّٰهَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی اْلا رَْٔضِ وَ ا سَْٔبَغَ عَلَيْکُمْ نِعَمَه ظَاهِرَةً وَّبَاطِنَةً وَّمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلاَ هُدًی وَّلاَ کِتَابٍ مُّنِيْرٍ ) (۷)
اس علم وقدرت اور رحمت وحکمت کے سامنے انسان، خود پروردگار عالم کے اس فرمان کے علاوہ کیا کہہ سکتا ہے کہ( فَتَبَارَکَ اللّٰهُ ا حَْٔسَنُ الْخَالِقِيْنَ ) (۸) اور اس کے سوا کیا کر سکتا ہے کہ خاک پر گر کر اس کے آستانہ جلال پر ماتها رگڑ کر کہے:((سبحن ربی الا عٔلی وبحمده ))
اس آیت کریمہ( سَنُرِيْهِمْ آيَاتِنَا فِی اْلآفَاقِ وَفِی ا نَْٔفُسِهِمْ حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ) (۹) کے مطابق، آفاق جهاں میں بھی دقّت نظر ضروری ہے کہ لاکهوں سورج،چاند وستارے جن میں سے بعض کا نور ہزاروں نوری سالوںکے بعد زمین تک پهنچتا ہے، جب کہ نور ہر سیکنڈ میں تقریبا تین لاکه کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے، اور جن میں سے بعض کا حجم،زمین کے حجم سے کروڑوں گنا زیادہ ہے، ان سب کے درمیان اتنا گهرا انتظام اتنے دقیق حساب کے ساته بر قرار کیا گیا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اس طرح اپنے معین مدار میںرکھا گیا ہے اور قوتِ جاذبہ ودافعہ کے درمیان ایسا عمومی تعادل برقرار ہے کہ ان
____________________
۱ سورہ ذاریات، آیت ۲۱ ۔”اور خود تمهارے اندر بھی ۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو“۔
۲ سورہ روم، آیت ۸۔”کیا ان لوگوں نے اپنے اندر فکر نہیں کی ہے“۔
۳ سورہ نحل، آیت ۱۸ ۔”اور تم الله کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے ہو“۔
سورہ نحل، آیت ۱۸ ۔”اور تم الله کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے ہو“۔
۴ سورہ طارق ، آیت ۵،۶ ۔”پھر انسان دیکھے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔وہ ایک اچهلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے“۔
۵ سورہ زمر، آیت ۶۔ ”وہ تم کو تمهاری ماو ںٔ کے شکم میں خلق کرتا ہے ایک کے بعد ایک خلقت جو تین تاریکیوں کے درمیان ہے“۔
۶ سورہ علق، آیت ۳،۴،۵ ۔ ”پڑهو! اور تمهارا پروردگار بزگوار ہے، جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ہے۔ اور انسان کو وہ سبکچھ بتا دیا ہے جو اسے نہیں معلوم تھا“۔
۷ سورہ لقمان، آیت ۲۰ ۔”کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ الله نے زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو تمهارے لئے مسخر کردیا ہے اور تمهارے لئے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو مکمل کر دیا ہے اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو علم وہدایت اور روشن کتاب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث کرتے ہیں“۔
۸ سورہ م ؤمنون، آیت ۱۴ ۔”وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے“۔
۹ سورہ فصلت، آیت ۵۳ ۔”هم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکهلائیں گے تاکہ ان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ حق ہے“۔
تمام سیاروں کے درمیان کسی قسم کے ٹکراؤ یاتصادم کا واقع ہونا، ناممکن ہے( لاَ الشَّمْسُ يَنْبَغِی لَهَا ا نَْٔ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ يَّسْبَحُوْنَ ) (۱)
زمین کو،جو انسانی زندگی کا مرکز ہے، اس پر محیط ایک کروی فضاء کے ذریعے محفوظ کیا جس سے دن رات ہزاروں شهاب ٹکرا کر ختم ہو جاتے ہیں۔
سورج اورزمین کے درمیان اتنا مناسب فاصلہ برقرار کیا کہ معادن، نباتات، حیوانات اور انسانی زندگی کی نشو نما کے اعتبار سے، روشنی وحرارت تما م شرائط کے مطابق موجود رہے۔
زمین کی اپنے مدار اور محور دونوں پر حرکت کو اس طرح منظّم کیا کہ زمین کے زیادہ تر حصے میں طلوع وغروب اور دن ورات ہر آن موجود رہیں، آفتاب طلوع ہوتے ہی سورج کی روشنی وحرارت سے نظامِ زندگی کو روشنی اور گرمی ملے اور حصولِ رزق ومعاش کا بازار گرم ہوجائے اور غروب آفتاب کے ساته ہی آرام وسکون کے لئے رات کا اندہیرا، جو بقاءِ زندگی اور تجدید نشاط کے لئے ضروری ہے، اپنے ڈیرے ڈال دے تاکہ سورج کی مستقل حرارت یا اس کے مکمل انقطاع سے نظامِ حیات میں کوئی خلل واقع نہ ہو( وَ هُوَ الَّذِی جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ ا رََٔادَ ا نَْٔ يَّذَّکَّرَ ) (۲) ( وَ مِنْ رَّحْمَتِه جَعَلَ لَکُم الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْکُنُوْا فِيْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِه ) (۳) ( قُلْ ا رََٔا ئًْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْکُمُ اللَّيْلَ سَرْمَداً إِلَی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ إِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَا تِْٔيْکُمْ بِضِيَاءٍ ا فًَٔلاَ تَسْمَعُوْنَ ) (۴)
نوروظلمت اور روز و شب دونوں، آپس کے انتها درجے کے تضادّ و اختلاف کے باوجود، مل کر ایک ہی ہدف ومقصد پورا کرنے میں مصروفِ عمل ہیں اور دوسری جانب جوکچھ زمین میں ہے اسے دن اور جوکچھ آسمانوں میں ہے اسے رات کے وقت انسان کی نظروں کے سامنے رکھا گیا ہے تاکہ دن رات آسمانوں اور زمین کے ملک وملکوت انسان کی بصارت اور بصیرت کے سامنے موجود رہیں۔
انسان کے لئے کتابِ وجود کی دن رات ورق گردانی کی تاکہ وہ زمین وآسمان کے صفحے سے آیاتِ خدا کا مطالعہ کر سکے( ا ؤََلَمْ يَنْظُرُوْا فِی مَلَکُوْتِ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِن شَیْءٍ ) (۵) ( وَکَذٰلِکَ نُرِی إِبْرَاهِيْمَ مَلَکُوْتَ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ وَ لِيَکُوْنَ مِنَ الْمُوقِنِيْنَ ) (۶)
وہ انسان جو ذهنِ بشر میں قوانین واسرارِ کا ئنات کے انعکاس کو علم وحکمت کا معیار و ملاک سمجهتا ہو،کس طرح ممکن ہے کہ وہ مغز،ذهن اوردانشوروں کے تفکر کو بنانے والے، کائنات پر حکم فرما قوانین کو نافذ کرنے والے اور اسرارِ نظام هستی کو وجود عطا کرنے والی هستی کو فاقدِ علم وحکمت سمجھے، حالانکہ تمام مفکرین کے اذهان میں منعکس ہوجانے والے قوانین کا ئنات کی نسبت ان قوانین کے مقابلے میں جو اب تک مجهول ہیں، ایسی ہے جیسے قطرے کے مقابلے میں ایک سمندر( وَمَا ا ؤُْتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيْلاً ) (۷)
اس بات پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ کتاب هستی سے چند سطروں کی نقول تیار کرلینے والا تو علیم وحکیم ہو لیکن خود کتابِ وجود کا مصنف، اس نقل تیار کرنے والے کا خالق اور نقل کے وسیلے کو فراہم کرنے والا ہی بے شعور و بے ادراک ہو؟!یهی وجہ ہے کہ منکر کی فطرت بھی دانا وتوانا خالق کے وجود کی گواہی و شهادت دیتی ہے( وَلَئِنْ سَا لَْٔتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ وَسَخَّر
____________________
۱ سورہ یس، آیت ۴۰ ۔”نہ آفتاب کے بس میں ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات کے لئے ممکن ہے کہ وہ دن سے آگے بڑه جائے ۔ اور یہ سب کے سب اپنے اپنے فلک اور مدار میں تیرتے رہتے ہیں“۔
۲ سورہ فرقان، آیت ۶۲ ۔”اور وہی ہے جس نے رات اور دن میں ایک کو دوسرے کا جانشین بنایا ہے اس کے لئے جو عبرت حاصل کرنا چاہتا ہے“۔
۳ سورہ قصص، آیت ۷۳ ۔”یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ اس نے تمهارے لئے رات لے آئے گا رات اور دن دونوں بنائے ہیں تاکہ آرام بھی کر سکو اور رزق بھی تلاش کر سکو“۔
۴ سورہ قصص، آیت ۷۱ ۔”آپ کہئے کہ تمهارا کیا خیال ہے اگرخدا تمهارے لئے رات کو قیامت تک کے لئے ابدی بنادے تو کیا اس کے علاوہ اور کوئی معبود ہے جو تمهارے لئے روشنی کو لے آسکے تو کیا تم بات سنتے نہیں ہو“۔
۵ سورہ اعراف، آیت ۱۸۵ ۔”اور کیا ان لوگوں نے زمین وآسمان کی حکومت اور خدا کی تمام مخلوقات میں غور نہیں کیا“۔
۶ سورہ انعام، آیت ۷۵ ۔”اور اسی طرح ہم ابراہیم کو ملکوت آسمان و زمین دکهلائیں گے، اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہو جائیں“۔
۷ سورہ اسراء، آیت ۸۵ ۔”اورتمہیں بہت تهوڑا سا علم دیا گیا ہے“۔
الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَا نَٔیّٰ يُو فَْٔکُوْنَ ) (۱) ( وَلَئِنْ سَا لَْٔتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰواتِ وَاْلا رًْٔضَ لَيَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيْزُالْعَلِيْمُ ) (۲)
منکرین خدا میں سے ایک شخص آٹهویں امام(ع) کے پاس آیا تو امام (ع) نے اس سے فرمایا:اگر تمهارا عقیدہ صحیح ہو، جب کہ ایسا نہیں ہے، تب بھی ہمیں نماز،روزہ،زکات اور اقرار سے کوئی نقصان نہیں پهنچا۔ (کیونکہ دینی فرائض جو ایمان لانا،عمل صالح کرنا اور منکرات کو ترک کرنا ہے،روح کے اطمینا ن اور معاشرے کی اصلاح کا سبب ہیں اور اگر بالفرض عبث اور بے کار ہوں تب بھی،مبدا ومعاد کے احتمالی وجود کے مقابلے میں ان اعمال کے مطابق عمل کی تکلیف اور نقصان نهایت کم ہے،کیونکہ دفع شر اور بے انتها خیر کثیر کو جلب کرنا،جو محتمل ہو، عقلاًضروری ہے)۔
اس شخص نے کها : جس خدا کے تم لوگ قائل ہو وہ کیسا ہے اور کهاں ہے؟
امام (ع) نے فرمایا :اس نے اَین کو اَینیت اور کیف کو کیفیت عطا کی ہے۔ (وہی اَین و مکان اور کیف و کیفیت کا خلق کرنے والا ہے، جب کہ مخلوق کبھی بھی خالق کے اوصاف و احوال کا حصہ نہیں بن سکتی، کیوں کہ خالق میں مخلوق کے اوصاف موجود ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ خالق مخلوق کا محتاج ہوجائے، اسی لئے خداوند متعال کو نہ کسی کیفیت یا مکانیت سے محدود کیا جاسکتا ہے، نہ کسی حس کے ذریعے محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی چیز کے ساته پرکھا جا سکتاہے)۔
اس شخص نے کها:بنا برایں اگراسے کسی حس کے ذریعے محسوس نہیں کیا جاسکتا، تو اس کا وجود نہیں ہے۔
امام (ع) نے فرمایا : جب تیری حس اس کے ادراک سے عاجز ہوئی تو تو ا س کا منکر ہوا اور جب ہم نے حواس کو اس کے ادراک سے عاجز پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ وہ ہمارا پروردگا ر ہے۔(موجودات کو محسوسات تک منحصر سمجهنے والا اس بات سے غافل ہے کہ حس موجود ہے لیکن محسوس نہیں، بینائی اور شنوائی موجود ہے لیکن دیکھی اور سنی نہیں جاسکتی ہے، انسان ادراک کرتا ہے کہ غیر متناہی محدود نہیں ہے جب کہ ہر محسوس ہونے والی چیز محدود ومتناہی ہے -؛کتنے ہی ذهنی وخارجی موجودات ایسے ہیں جو حس ومحسوسات سے ماوراء ہیں، جب کہ وہ شخص موجود کو محسوس تک محدود خیال کرنے کی وجہ سے خالق حس ومحسوس کا منکر ہو ا اور امام (ع) نے اس شخص کی اسی حقیقت کی جانب ہدایت کی کہ حس ومحسوس،وہم وموہوم اور عقل ومعقول کا خالق حس، وہم اورعقل میں نہیں سما سکتا،کیونکہ حواس خمسہ جس چیزکا ادراک کرتے ہیں اس پر محیط ہوتے ہیں جب کہ یہ حواس خد اکی مخلوق ہیں اور خالق اپنی مخلوق پر مکمل احاطہ رکھتاہے،
لہٰذا خالقِ حس ووہم وعقل کا خودان کے دائرہ ادراک میں آجانا،جبکہ وہ ان پر محیط ہے اور محیط کا محاط میں تبدیل ہونا ممکن ہی نہیں ہے اور اگر خداوندِ متعال محسوس یا موہوم یا معقول ہو تو حواس سے درک ہونے والی اشیاء کے ساته شبیہ وشریک قرار پائے گااور اشتراک کا لازمہ اختصاص ہے، جب کہ ترکیب مخلوق کی خصوصیت ہے، لہٰذا اگر خداوندِمتعال حس ووہم وعقل میں سما جائے تو مخلوق ہوا نہ کہ خالق)۔
اس نے پوچها :خدا کب سے ہے ؟
امام (ع) نے فرمایا : تم یہ بتاو کہ کب نہ تھا؟ (خداوندِ متعال جو زمان وزمانیات اور مجردات ومادیات کے لئے قیوم ہے، اس کی ذات اقدس عدم، نابودی اور زمان ومکان سے مبراہے)
پھر اس نے امام (ع) سے پوچها : پس اس کے وجودکی دلیل کیا ہے ؟
امام (ع) نے آفاق و انفس میں موجود آیاتِ خد ا کی ہدایت کی اور جسم کی بناوٹ میں تفکروتدبر کے ذریعے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ اپنے وجود کی اس بناوٹ میں جن باریک نکات اور لطا ئف حکمت کا خیال رکھا گیا ہے، ان کے ذریعے اس خالق کے علم وحکمت کا اندازہ لگائے۔ اسے بادلوں،هوا، سورج،چاند اور ستاروں کی حرکت میں غوروفکر کرنے کو کها تاکہ اجرام فلکی میں موجود عجائب
____________________
۱ سورہ عنکبوت، آیت ۶۱ ۔”اور اگر آپ ان سے پوچہیں گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور آفتاب وماہتاب کو کس نے مسخر کیا ہے تو فوراً کہیں گے کہ الله، تو یہ کدہر بہکے چلے جارہے ہیں“۔
۲ سورہ زخرف، آیت ۹۔”اور آپ ان سے سوال کریں گے کہ زمین وآسمان کو کس نے پیدا کیا ہے تو یقینا یهی کہیں گے کہ ایک زبردست طاقت والی اور ذی علم هستی نے خلق کیا ہے“۔
قِدرت وغرائب حکمت میں تفکر وتدبر کے ذریعے عزیز و علیم کی قدرت تک پهنچ سکے اور متحرکات آسمانی کی حرکت کے ذریعے تغیر وحرکت سے منزہ محرّک پر ایمان لے آئے۔(۱)
ج): مادّے و طبیعت میں موجود تغیر وتحول، اس مادّے وطبیعت سے برتر قدرت کی دلیل ہیں،کیونکہ مادّہ یا اس سے منسوب کسی بھی مادّی شے میں تاثیر،وضع ومحاذات کی محتاج ہے۔مثال کے طور پر آگ جو حرارت جسم میں تاثیر رکھتی ہے یا چراغ جس کی شعاع فضا کوروشن ومنور کرتی ہے،
جب تک آگ یا چراغ کی اس جسم یا فضا کے ساته خاص نسبت پیدا نہ ہو، ممکن ہی نہیں ہے کہ جسم ا س آگ کی حرارت سے گرم یا فضا اس چراغ کے نور سے روشن و منور ہوجائے، اورچونکہ معدوم کے ساته وضع اورنسبت کا برقرار ہونا محال ہے، لہٰذ ا ایسے موجودات جو پهلے مادہ و طبیعت میں نہ تھے اور بعد میں وجودپایا یا پائےں گے، ان موجودات میں مادہ وطبیعت کی تاثیر ممکن نہیں ہے۔آسمان و زمین میں موجود ہونے والا ہر معدوم ایسی قدرت کے وجود کی دلیل ہے جس کو تاثیر کے لئے وضع ومحاذات کی ضرورت نہیں ہے اوروہ ماورائے جسم وجسمانیات ہے( إِنَّمَا ا مَْٔرُه إِذَا ا رََٔادَ شَيْا ا نَْٔ يَّقُوْ لَ لَه کُن فَيَکُوْنُ ) (۲)
د):خدا پر ایمان انسان کی سرشت میں موجود ہے، کیونکہ فطری اعتبار سے انسان اپنے آپ کو ایک مرکز سے وابستہ اور محتاج پاتا ہے، لیکن اسبابِ معیشت کی مصروفیت اور خواہشات نفسانی سے لگاؤ اس وابستگی کے مرکز کو پانے میں رکاوٹ ہیں۔
جب بے چارگی اور ناامیدی اسے چاروں طرف سے گهیر لیتی ہے اور فکر کے تمام چراغوں کو بجها ہو ا اور تمام صاحبان قدرت کو عاجز پاتا ہے، اس کا سویا ہوا ضمیر جاگ اٹهتا ہے اور جس غنی بالذات پر فطرتاً بهروسا کئے ہوئے ہے، اس سے بے اختیار مدد طلب کرتا ہے( قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْکُمْ مِنْ ظُلُمَات الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَه تَضَرُّعاً وَّ خُفْيَةً لَّئِنْ ا نَْٔجَاْنَا مِنْ هٰذِه لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشَّاکِرِيْنَ ) (۳) ( وَ إِذَا مَسَّ اْلإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّه مُنِيْبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَه نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا کَانَ يَدْعُوْا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ ا نَْٔدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِه ) (۴) ( هُوَ الَّذِی يُسَيِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتّٰی إِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَائَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَ جَائَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوا ا نََّٔهُمْ ا حُِٔيْطَ بِهِمْ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ لَئِنْ ا نَْٔجَيْتَنَا مِنْ هٰذِه لَنَکُوْنَنَّ مِن الشّٰکِرِيْنَ ) (۵)
ایک شخص نے امام صادق (ع) سے عرض کی : ((یا ابن رسول اللّٰه! دلّنی علی اللّٰه ما هو، فقد ا کٔثر علیّ المجادلون و حیرونی فقال له: یا عبد اللّٰه ، هل رکبت سفینة قط؟ قال: نعم قال: فهل کسر بک حیث لا سفینة تنجیک و لا سباحة تغنیک؟ قال: نعم، قال: فهل تعلق قلبک هنالک ا نٔ شیئاً من الا شٔیاء قادر علی ا نٔ یخلصک من ورطتک؟ قال: نعم، قال الصَّادق (ع): فذلک الشی هو اللّٰه القادر علی الإنجاء حیث لا منجی وعلی الإغاثة حیث لا مغیث ))(۶)
جیسا کہ بے چارگی کے عالم میں دوسروں سے انقطاع مطلق کے دوران خداوندِ متعال کی یہ معرفت اور فطری ارتباط حاصل ہو جاتا ہے، اختیاری حالت میں بھی اسے علم وعمل جیسے دو پروں کے ذریعے پرواز کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے:
____________________
۱ توحید، صفحہ ۲۵۰ ۔
۲ سورہ یس،آیت ۸۲ ۔”اس کا صرف امر یہ ہے کہ کسی شئے کے بارے میں یہ کهنے کا ارادہ کر لے کہ ہو جااور وہ شئے ہو جاتی ہے“۔
۳ سورہ انعام، آیت ۶۳ ۔”ان سے کہہ دیجئے کہ خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جب تم گڑا گڑا کر اور خفیہ طریقہ سے آواز دیتے ہو کہ اگر اس مصیبت سے نجات دے دے گا تو ہم شکر گذار بن جائیں گے“۔
۴ سورہ زمر، آیت ۸۔”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پهنچتی ہے تو پوری توجہ کے ساته پروردگار کو آواز دیتا ہے پھر جب وہ اسے کوئی نعمت دیدیتا ہے تو جس بات کے لئے اس کو پکاررہا تھا اسے یکسر نظر انداز کردیتا ہے اور خدا کے لئے مثل قرار دیتا ہے تاکہ اس کے راستے سے بہکا سکے“۔
۵ سورہ یونس، آیت ۲۲ ۔”وہ خدا وہ ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں سیرکراتا ہے یهاں تک کہ جب تم کشتی میں تھے اور پاکیزہ ہوائیں چلیں اور سارے مسافر خوش ہوگئے تو اچانک ایک تیز ہواچل گئی اور موجوں نے ہر طرف سے گهیرے میں لے لیا اور یہ خیال پیدا ہو گیا کہ چاروں طرف سے گهر گئے ہیں تو دین خالص کے ساته الله سے دعا طلب کرنے لگے کہ اگر اس مصیبت سے نجات مل گئی تو ہم یقینا شکر گذار وں میں ہو جائیں گے“۔
۶ بحارالانوارجلد ۳،صفحہ ۴۱ ، ترجمہ: ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: یابن رسول الله ! مجه کو خداکے بارے میں بتایں کہ وہ کیا ہے؟میں نے بہت زیادہ مجادلہ کرنے والوں کو دیکھا لیکن ان سب کی بحثوں نے مجه کو پریشان کردیا ہے۔
حضرت فرماتے ہیں:کیا کبھی کشتی پر سوار ہوئے ہو؟کہتا ہے :هاں حضرت فرماتے ہیں :کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کشتی ٹوٹ گئی ہو اور وہاں پر کوئی اور کشتی نہ جس پر سوار ہو جاو اور نجات مل جائے اور نہ تیرنا آتا ہو جس سے تم نجات پاجاو جوا ب دیتا ہے :هاں حضرت نے فرمایا:
ایسے حال میں تمهارے دل میں کسی قادر توانا کا خیال آیا جو تم کو ابھی بھی نجات دلا سکتا ہے؟کہتا ہے :هاں حضرت نے فرمایا:بس وہی خدا ہے جو ایسے حالات میں بھی تم کو نجات دے سکتا ہے جب کوئی تمهاری مدد نہ کرسکے۔
اول)یہ کہ نور عقل کے ذریعے انسان، جهالت وغفلت کے پردوں کو پاراکرے اور دیکھے کہ موجودات کا وجود اور ان کے کمالات ذاتی نہیں، بلکہ سب کے سب ذات قدوس کی جانب منتهی ہوتے ہیں( هُوَ اْلا ؤََّلُ وَاْلآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِيْمٌ ) (۱) ( هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِی الْمُصَوِّرُ لَه اْلا سَْٔمَاءُالْحُسْنٰی ) (۲)
دوم)یہ کہ طهارت وتقویٰ کے ذریعے آلودگی او ر رذایل نفسانی کی کدورت کو گوہرِوجود سے دور کرے، کیونکہ خدا اور اس کے بندے کے درمیان جهالت وغفلت اور کدورت گناہ کے علاوہ کوئی دوسرا پر دہ نہیں ہے کہ جسے علمی وعملی جهاد کے ذریعے پارا کرنا ضروری ہے( وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) (۳)
چھٹے امام (ع) نے ابن ابی العوجا ء سے فرمایا :
((ویلک وکیف احتجب عنک من ا رٔاک قدرته فی نفسک؟ نشؤک ولم تکن و کبرک بعد صغرک و قوتک بعد ضعفک و ضعفک بعد قوتک و سقمک بعد صحتک و صحتک بعد سقمک و رضاک بعد غضبک و غضبک بعد رضاک و حزنک بعد فرحک، و فرحک بعد حزنک و حبک بعد بغضک و بغضک بعد حبک و عزمک بعد إبائک و إباو کٔ بعد عزمک و شهوتک بعد کراهتک وکراهتک بعد شهوتک و رغبتک بعد رهبتک و رهبتک بعد رغبتک ورجائک بعد یا سٔک و یا سٔک بعد رجائک و خاطرک بما لم یکن فی وهمک و عزوب ما ا نٔت معتقده عن ذهنک و مازال یعد علی قدرته التی فی نفسی التی لا ا دٔفعها حتی ظننت ا نٔه سیظهر فیما بینی وبینه ))(۴)
____________________
۱ سورہ حدید، آیت ۳۔”وہی اول ہے وہی آخر وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے اور وہی ہر شئے کا جاننے والا ہے“۔
۲ سورہ حشر، آیت ۲۴ ۔”وہ ایسا خدا ہے جوپیدا کرنے والا، ایجاد کرنے والا اور صورتیں بنانے ولا ہے اس کے لئے بہترین نام ہیں“۔
۳ سورہ عنکبوت، آیت ۶۹ ۔”اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جهاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریںگے “۔
۴ بحارالانوارجلد ۳، صفحہ ۴۳ٔ ۔ترجمہ: حضرت ابن ابی العوجاء سے فرماتے ہیں:وای تجه پر وہ ذات کیسے تجه سے چهپ سکتی جس نے خود تیرے نفس میں اپنے وجود کا اظهار کیا ہے تو نہیں تھا تجه کو پید اکیا خود تیرا چهوٹے سے بڑا ہونا ، تیری قدرت و توانائی تیری عاجزی کے بعد، تیری ناتوانی قدرت کے با وجود، تیرا مریض ہو نا تیری صحت مندی کے بعد،
بیماری کے بعد پھر تیراصحتیاب ہونا ، تیرا غصہ خوشی کے یا پھر تیری خوشی غصہ کے بعد غم شادی کے بعد و سرور غم و حزن کے بعد تیری دوستی دشمنی کے بعد یا پھر دشمنی دوستی کے بعد، تیرا عزم وارادہ انکار کے بعدیا پھر تیرا انکار کرنا عزم و ارادہ کے بعد تیرا اشتیاق تیری ناراحتی کے بعد یا پھر تیری کراہت شوق کے بعد۔
تیرا شوق و علاقہ خوف وحراس کے بعد یا تیرا ڈرنا رغبت کے بعد تیری امیدی نا امیدی کے بعد یا ناامیدی امیدی کے بعد، جس کو تونے سوچا بھی نہ وہ تمهارے خیال میں آجائے اور جو تمهارے ذهن پر سوار تھا ایک دم غائب ہو جائے ۔
ابن ابی العوجا ء کہتا ہے:اس طرح کی قدرت کے آثار کو میرے وجود میں گنوارہے تھے کہ جس کا انکار و چشم پوشی ممکن نہیں تھا یهاں تک مجه کو احساس ہوا کہ عنقریب خدائے وحدہ لاشریک میرے و امام کے درمیان ظاہر ہو جائے گا
توحید
توحید سے مراد ایسے خداوند عالم پر اعتقاد ہے جو یکتا ہے اور اجزاء وصفات کی ترکیب سے مبرا ہے، اس لئے کہ ہر مرکب، وجود کو اجزاء اور ان اجزاء کو ترکیب دینے والے کا محتاج ہے اور محال ہے کہ جو محتاج ہو وہ اپنے آپ یا کسی غیر کو وجود عطا کرسکے۔ خداوندمتعال کی ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔(۱)
۱ توحید کے چند مرتبہ ہیں:
توحید ذات:
هر موجود مرکّب ہے سوائے خداوندعالم کی ذات کے، وہ ایسا واحد ہے جس کی یکتائی عین ذات ہے۔
اس کے علاوہ ہر موجود جز جز ہونے کے قابل ہے جس طرح جسم مادہ اور صورت دو جز پر تقسیم ہوتا ہے، قوہ وہم میں زمان کو لحظات پر تقسیم کیا جاتا ہے، عقل انسان کو انسانیت و وجود اور ہر متناہی موجود کو محدود اور حد پر منقسم کرتی ہے۔
جنگ جمل کے موقع پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے سوال ہوا: یا امیر المومنین! (علیہ السلام) کیا آپ فرماتے ہیں: کہ بے شک خدا ایک ہے؟ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، تیرے سوال کا اس حالت میں موقع نہیں ہے۔
حضرت نے جواب دیا: اس کو چهوڑ دو، یہ جو سوال مجه سے پوچه رہا ہے، میں وہی اس قوم سے خواہاں ہوں، میری مراد توحید ہے، اس کے بعد حضرت نے فرمایا: یہ جملہ کہ خدا ایک ہے، چار قسموں پر تقسیم ہوتا ہے۔
اس میں سے دو قسمیں خدا کے سلسلے میں جائز نہیں لیکن دوسری دو قسمیں اس کی ذات کے لئے ثابت ہیں، اور وہ دو قسمیں جو جائز نہیں ہیں یہ ہیں:
۳) اس کی واحدانیت، عددی وحدانیت نہیں ہے،کیونکہ اپنا ثانی ،۲ ، ۱) وہ ایک جو دعدد میں آتا ہے (جیسے(۱) رکھنے والے واحد، اور اپنا ثانی نہ رکھنے والے واحد پر بطور یکساں واحد کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا،( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا اِن اللهَ ثَالِثُ ثَلاَثَةٍ ) (سورہ مائدہ آیت ۷۳ ، ”بے شک وہ لوگ کافر ہوگئے جنهوں کها :الله ان تین میں سے تیسرا ہے“۔
۲) ایسا واحد جو کسی جنس کی ایک قسم پر اطلاق ہوتا ہو، مثلاً کها جائے: ”وہ لوگوں میں سے ایک ہے“، ایسا واحد جو کسی نوع و صنف کی ایک فرد پر اطلاق ہوتا ہے، خداوندعالم پر اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اس اطلاق و ا ستعمال میں
تشبیہ پائی جاتی ہے، حالانکہ خدا کوئی شبیہ نہیں رکھتا۔
لیکن وہ قسمیں جو خدا کی ذات پر اطلاق کرنا جائز ہے:
____________________
۱)وہ ایسا واحد ہے جس کی کوئی شبیہ نہیں ہے۔
۲) خداوندعالم ایسا واحد جس کی تقسیم عقل و وہم میں بھی ممکن نہیں ہے، (بحار الانوار، ج ۳، ص ۲۰۶ ۔)
تو حید ذات و صفات:
یعنی خدا کے صفات ذاتی ہیں، جیسے حیات، علم، قدرت عین ذات ہیں، و گرنہ ذات و صفت جدا جدا ہونا تجزیہ و ترکیب کا باعث ہوگا، وہ جو اجزاء سے مرّکب ہوگا وہ جو اجزاء سے مرکب ہو وہ اپنے اجزا کا محتاج ہوگا، (اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا)
اسی طرح اگر صفات کو ذات سے جدا مان لیں تو لازم یہ آتا ہے وہ مرتبہ ذات میں فاقد صفات کمال ہو، اور اس کی ذات ان صفات کے امکان کی جہت پائی جائے، بلکہ خود ذات کا ممکن ہونا لازم آئے گا، کیونکہ جو ذات صفات کمال سے خالی ہو اور امکان صفات کی حامل ہو وہ ایسی ذات کی محتاج ہے جو غنی بالذات ہو۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کی سب سے پهلی عبادت اس کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اور اصل معرفت خدا کی وحدانیت کا اقرار ہے، اور نظام توحید یہ ہے کہ اس کی صفات سے صفات کی نفی و انکار کرنا ہے،
(زائد بر ذات) اس لئے کہ عقل گواہی دیتی ہے کہ ہر صفت اور موصوف مخلوق ہوتے ہیں، اور ہر مخلوق کا وجود اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے، جو نہ صفت ہے اور نہ موصوف۔ (بحار الانوار، ج ۵۴ ، ص ۴۳)
توحید در الوہیت:
( وَإِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ ) (سورہ بقرہ، آیت ۱۶۳)
”تمهارا خدا خدائے واحد ہے کوئی خدا نہیں جز اس کے جو رحمن و رحیم ہے“۔
توحید در ربوبیت:
خداوندعالم کا ارشاد ہے:
( قُلْ ا غََٔيْرَ اللهِ ا بَْٔغِی رَبًّا وَهُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ) (سورہ انعام، آیت ۱۶۴)
”کہو کیا الله کے علاوہ کسی دوسرے کو رب بنائیں حالانکہ کہ وہ ہر چیز کا پروردگار ہے“۔
( ا ا رَْٔبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ ا مَْٔ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ یوسف، آیت ۳۹)
”آیا متفرق و جدا جدا ربّ کا ہونا بہتر ہے یا الله سبحانہ کا جو واحد اور قهار ہے“۔
توحید در خلق:
( قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) (سورہ رعد، آیت ۱۶)
”کہہ دیجئے کہ الله ہر چیز کا خالق ہے اور وہ یکتاقهار ہے“۔
( وَالَّذِینَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لاَيَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ) (سورہ نحل، آیت ۲۰)
”اور وہ لوگ جن کو خدا کے علاوہ پکارا جاتا ہے وہ کسی کو خلق نہیں کرتے بلکہ وہ خلق کئے جاتے ہیں“۔
توحید در عبادت:
یعنی عبادت صرف اسی کی ذات کے لئے منحصر ہے۔
( قُلْ ا تََٔعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَيَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلاَنَفْعًا ) (سورہ مائدہ، آیت ۷۶ ۔)”کہ کیا تم خدا کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو تمهارے لئے نہ نفع رکھتے ہیں نہ نقصان ؟)
توحید در ا مٔر وحکم خدا:
( ا لَٔاَلَهُ الْخَلْقُ وَالْا مَْٔرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ ) (سورہ اعراف ، آیت ۵۴ ۔)
”آگاہ ہو جاو صرف خدا کے لئے حکم کرنے و خلق کرنے کا حق ہے بالا مرتبہ ہے خدا کی ذات جو عالمین کا رب ہے“۔
( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّه ) (سورہ یوسف، آیت ۱۰ ۔)”کوئی حکم نہیں مگر خدا کا حکم“۔
توحید در خوف وخشیت:
(یعنی صرف خدا سے ڈرنا)
( فَلاَتَخَافُوهُمْ وَخَافُونِی إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) (سورہ آ ل عمران، آیت ۱۷۵ ۔)”پس ان سے نہ ڈرو اگر صاحبان ایمان ہو تو مجه سے ڈرو“۔
اس سے متعلق بعض دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔تعدد الٰہ سے خداوند متعال میں اشتراک ضروری قرار پاتا ہے اس لئے کہ دونوں خدا ہیں، اور اسی طرح دونوں میں نقطہ امتیاز کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ دوگانگی تحقق پیدا کرے اور وہ مرکب جو بعض نکات اشتراک اور بعض نکات امتیاز سے مل کر بنا ہو، ممکن ومحتاج ہے۔
۲۔تعدد الہ کا کسی نقطہ امتیاز کے بغیر ہونا محال ہے اور امتیاز، فقدانِ کمال کا سبب ہے۔ فاقد کمال محتاج ہوتا ہے اور سلسلہ احتیاج کا ایک ایسے نکتے پر جاکر ختم ہونا ضروری ہے جو ہر اعتبار سے غنی بالذات ہو، ورنہ محال ہے کہ جو خود وجود کا محتاج وضرور ت مند ہو کسی دوسرے کو وجود عطا کرسکے۔
۳۔خدا ایسا موجود ہے جس کے لئے کسی قسم کی کوئی حد مقرر نہیں کیونکہ ہر محدود، دو چیزوں سے مل کر بنا ہے ، ایک اس کا وجوداور دوسرے اس کے وجود کی حد اور کسی بھی وجود کی حد اس وجود میں فقدان اور اس کے منزلِ کمال تک نہ پہچنے کی دلیل ہے اور یہ ترکیب، اقسامِ ترکیب کی بد ترین قسم ہے، کیونکہ ترکیب کی باقی اقسام میں یا تو دو وجودوں کے درمیان ترکیب ہے یا بود ونمود کے درمیان ترکیب ہے، جب کہ ترکیب کی اس قسم میں بود ونبود کے درمیان ترکیب ہے!! جب کہ خد ا کے حق میں ہر قسم کی ترکیب محال ہے۔وہ ایسا واحد وجود ہے جس کے لئے کسی ثانی کا تصور نہیں،
( فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ) (سورہ مائدہ، آیت ۴۴ ۔)”لوگوں سے مٹ ڈرو مجه سے ڈرو(خشیت خدا حاصل کرو“۔
توحید در مُلک:
(یعنی کائنات میں صرف اس کی حکومت ہے)
( وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ ) (سورہ اسراء ، آیت ۱۱۱ ۔)”کہو ساری تعریفیں ہیں اس خدا کی جس کا کوئی فرزند نہیں اور ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں“۔
توحید در ملک نفع وضرر:
یعنی نفع و نقصان کا مالک وہ ہے)
( قُلْ لاَا مَْٔلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلاَضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ ) (سورہ اعراف، آیت ۱۸۸ ۔)”کہو بس اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں مگر وہ جو الله سبحانہ چاہے“۔
( قُلْ فَمَنْ يَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللهِ شَيْئًا إِنْ ا رََٔادَ بِکُمْ ضَرًّا ا ؤَْ ا رََٔادَ بِکُمْ نَفْعًا ) (سورہ فتح، آیت ۱۱ ۔)”کہو بس کون ہے تمهارے لئے خدا کے مقابل میں کوئی دوسرا اگر وہ تمهارے لئے نفع و نقصان کا ارادہ کرے“۔
توحید در رزق:
(رزاق صرف خدا ہے)
( قُلْ مَنْ يَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضِ قُلْ اللهُ ) (سورہ سباء، آیت ۲ ۴ ۔)”کہو کون ہے جو زمین وآسمان سے تم کو روزی عطاء کرتا ہے کہوخدائے متعال)
( ا مََّٔنْ هَذَا الَّذِی يَرْزُقُکُمْ إِنْ ا مَْٔسَکَ رِزْقَهُ ) (سورہ ملک ، آیت ۲۱ ۔)”آیا کون ہے تم کو روزی دینے والا اگر وہ تمهارے رزق کو روک لے“۔
توحید در توکل:
(بهروسہ صرف خدا کی ذات پر)
( وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلاً ) (سورہ احزاب، آیت ۳۔)”اور الله پر بهروسہ کرو اس کو وکیل بنانا دوسرے سے بے نیاز کردیتا ہے“۔
( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هو وَعَلَی اللهِ فَلْيَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) (سورہ ،تغابن آیت ۱۳ ۔)”کوئی خدا نہیں سوائے الله سبحانہ تعالیٰ کے بس مومنوں کو چاہئے خدا پر توکل کریں“۔
توحید در عمل:
(عمل صرف خدا کے لئے)
( وَمَا لِا حََٔدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَی ز إِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْا عَْٔلَی ) (سورہ لیل، آیت ۔ ۲۰ ۔ ۱۹ ۔)”اور لطف الٰهی یہ ہے کہ)کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا اسے بدلہ دیا جاتا ہے بلکہ (وہ تو)صرف اپنے عالیشان پروردگار کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے (دیتاہے)
توحید در توجہ :
(انسان کی توجہ صرف خدا کی طرف ہونی چاہئے)
( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْا رَْٔضَ ) (سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔)”بے شک میں نے اپنے رخ اس کی طرف
موڑ لیا جس نے زمین وآسمان کو خلق کیا“۔
یہ ان لوگوں کا مقام ہے جو اس راز کو سمجه چکے ہیں کہ دنیا و مافیها سبکچھ هلاک ہوجائے گا۔
( کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلاَّ وَجْهَهُ ) (سورہ قصص، آیت ۸۸ ۔)(کائنات میں)هر چیز هلا ک ہو جائے گی جز اس ذات والاکے“( کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ز وَيَبْقَی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ ) (سورہ رحمن، آیت ۲۷ ۔ ۲ ۶ ۔)”هر وہ چیز جو روئے زمین پر ہے سبکچھ فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی (صرف)تیرے پروردگار کی ذات ہے جو صاحب جلالت وکرامت ہے“۔
فطرت میں جو توحید خدا پنهاں ہے اس کی طرف توجہ سے انسان کے ارادہ میں توحید جلوہ نمائی کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ( وَعَنَتْ الْوُجُوهُ لِلْحَیِّ الْقَيُّومِ ) (سورہ طہ، آیت ۱۱۱)”اور ساری خدائی کے منه زندہ وپائندہ خدا کے سامنے جهک جائیں گے“۔ (فطرت توحیدی کی طرف توجہ انسان کے ارادہ کو توحید کا جلوہ بنا دیتی ہے)
کیونکہ ثانی کا تصور اس کے لئے محدودیت اور متناہی ہونے کا حکم رکھتا ہے، لہٰذا وہ ایسا یکتاہے کہ جس کے لئے کوئی ثانی نہ قابل تحقق ہے اور نہ ہی قابل تصور۔
۴ ۔ کائنات کے ہر جزء وکل میں وحدتِ نظم برقرار ہونے سے وحدت ناظم ثابت ہو جاتی ہے،
کیونکہ جزئیاتِ انواع کائنات میں موجود تمام اجزاء کے ہر هر جزء میںموجود نظم وترکیب اور پوری کائنات کے آپس کے ارتباط کے تفصیلی مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جزء و کل سب ایک ہی علیم ،قدیر اورحکیم خالق کی مخلوق ہیں۔ جیسا کہ ایک درخت کے اجزاء کی ترکیب، ایک حیوان کے اعضاء و قوتوں کی ترکیب اور ان کا ایک دوسرے نیز چاند اور سورج سے ارتباط، اسی طرح منظومہ شمسی کا دوسرے منظومات اور کہکشاؤں سے ارتباط، ان سب کے خالق کی وحدانیت کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ایٹم کے مرکزی حصے اور اس کے مدار کے گردگردش کرنے والے اجزاء سے لے کر سورج و منظومہ شمسی کے سیارات اور کہکشاؤں تک، سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایٹم،سورج اور کہکشاو ںٔ
کا خالق ایک ہی ہے( و هُوْ الَّذِی فِی السَّمَاءِ ا لِٰٔهٌ وَّ فِی اْلا رَْٔضِ إِلٰهٌ وَّ هُوَ الْحَکِيْمُ الْعَلِيْم ) (۱) ( يَا ا ئَُّهَا النَّاس اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَةالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ اْلا رَْٔضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّ ا نَْٔزَلَ مِن السَّمَاءِ مَاءً فَا خَْٔرَجَ بِه مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ ا نَْٔدَادًا وَّ ا نَْٔتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (۲)
۵ ۔چھٹے امام (ع) سے سوال کیا گیا: صانع وخالقِ کائنات کا ایک سے زیادہ ہونا کیوں ممکن نہیں ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا : اگر دعوٰی کرو کہ دو ہیں تو ان کے درمیان شگاف کا ہونا ضروری ہے تاکہ دو بن سکیں، پس یہ شگاف تیسرا ہوا اور اگر تین ہو گئے تو پھر ان کے درمیان دو شگافوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ تین محقق ہوسکیں،بس یہ تین پانچ ہوجائیں گے او راس طرح عدد بے نهایت اعداد تک بڑهتا چلا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگر خدا ایک سے زیادہ ہوئے تو اعداد میں خداؤں کی نا متناہی تعداد کا ہونا ضروری ہے۔(۳)
۶ ۔امیر المو مٔنین (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) سے فرمایا:((واعلم یابنی ا نٔه لو کان لربک شریک لا تٔتک رسله ولرا ئت آثار ملکه وسلطانه ولعرفت ا فٔعاله وصفاته ))(۴)
اور وحدانیت پروردگارپر ایمان کا نتیجہ، عبادت میں توحیدِ ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، چونکہ اس کے علاوہ سب عبد اور بندے ہیں( إِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ إِلاَّ آتِی الرَّحْمٰن عَبْداً ) (۵) غیر خد اکی عبودیت وعبادت کرنا ذلیل سے ذلت اٹهانا،فقیر سے بھیک مانگنا بلکہ ذلت سے ذلت اٹهانا اور گداگر سے گداگری کرناہے( يَا ا ئََُهَا النَّاسُ ا نَْٔتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلیَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ) (۶)
وحدانیت خداوندمتعال پر ایمان،اور یہ کہ جوکچھ ہے اسی سے اور اسی کی وجہ سے ہے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے، کو تین جملوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ((لا إله إلا اللّٰه))،((لا حول ولا قوة إلا باللّٰه ))،( وَ إِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ اْلا مُُٔوْرُ ) (۷)
سعادت مند وہ ہے جس کی زبان پر یہ تین مقدّس جملے ہر وقت جاری رہیں، انهی تین جملات کے ساته جاگے،سوئے،زندگی بسر کرے، مرے اور یهاں تک کہ( إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ) (۸) کی حقیقت کو پالے۔
____________________
۱ سورہ زخرف، آیت ۸۴ ۔”اور وہی وہ ہے جو آسمان میں بھی خد اہے اور زمین میں بھی خدا ہے اور وہ صاحب حکمت بھی ہے“۔
۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۱ ۔ ۲۲ ۔”اے انسانو!پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پهلے والوں کو بھی خلق کیا ہے شاید کہ تم اسی طرح متقی اور پرہیزگار بن جاو ۔ٔاس پروردگار نے تمهارے لئے زمین کا فرش اور آسمان کا شامیانہ بنایا ہے اور پھر آسمان سے پانی برسا کر تمهاری روزی کے لئے زمین سے پهل نکالے ہیں لہٰذا اس کے لئے کسی کو ہمسراور مثل نہ بناو اور تم جانتے ہو“۔۲۳۰ ۔ / ۳ بحار الانوار، ج ۳
۴ نهج البلاغہ خطوط ۳۱ ۔ حضرت کی وصیت امام حسن علیہ السلام کے نام۔ترجمہ:(جان لو اے میرے لال!اگر خدا کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے بھیجے ہوئے پیامبر بھی تمهارے پاس آتے اور اس کی قدرت وحکومت کے آثار دیکھتے اور اس کی صفات کو پہچانتے)
۵ سورہ مریم،آیت ۹۳ ۔”زمین وآسمان میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی بارگاہ میں بندہ ہو کر حاضر ہونے والا نہ ہو“۔
۶ سورہ فاطر، آیت ۱۵ ۔”انسانو! تم سب الله کی بارگاہ کے فقیر ہو اور الله غنی (بے نیاز) اور قابل حمد و ثنا ہے“۔
۷ سورہ آل عمران، آیت ۱۰۹ ۔”اور الله کی طرف پلٹتے ہیں سارے امور“۔
۸ سورہ بقرہ،ا یت ۱۵۶ ۔”هم الله ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں“۔
اور توحید پر ایمان کا اثر یہ ہے کہ فرد ومعاشرے کی فکر و ارادہ ایک ہی مقصد وہدف پرمرتکز رہیں کہ جس سے بڑه کر، بلکہ اس کے سوا کوئی دوسرا ہدف و مقصد ہے ہی نہیں( قُلْ إِنَّمَا ا عَِٔظُکُمْ بِوَاحِدَةٍ ا نَْٔ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰی وَ فُرَادٰی ) (۱) ۔ اس توجہ کے ساته کہ اشعہ نفسِ انسانی میں تمرکزسے انسان کو ایسی قدرت مل جاتی ہے کہ وہ خیالی نقطے میں مشق کے ذریعے حیرت انگیز توانائیاں دکها سکتا ہے، اگر انسانی فکر اور ارادے کی شعاعیں اسی حقیقت کی جانب مرتکز ہو ں جومبدا ومنتهی اور( نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ ) (۲) ہے تو کس بلند واعلیٰ مقام تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ؟!
جس فرد ومعاشرے کی( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیْ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ حَنِيْفاً وَّمَا ا نََٔا مِن الْمُشْرِکِيْنَ ) (۳) کے مقام تک رسائی ہو، خیر وسعادت وکمال کا ایسا مرکز بن جائے گا جو تقریر وبیان سے بہت بلند ہے۔
عن ا بٔی حمزة عن ا بٔی جعفر (ع) :((قال سمعته یقول: ما من شیء ا عٔظم ثواباً من شهادة ا نٔ لا إله إلا اللّٰه، لا نٔ اللّٰه عزوجل لا یعدله شی ولا یشرکه فی الا مٔر ا حٔد ))(۴)
اس روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسا کہ کوئی بھی چیز خداوند متعال کی مثل وہمسر نہیں، اس ذات قدوس کے امرمیں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ کوئی عمل اس حقیقت کی گواہی کا مثل و ہمسر نہیں جو کلمہ طیبہ ((لا إله إلااللّٰه ))کا مضمون ہے اورعمل کے ساته شایان شان جزاکے ثواب میںبھی اس کا کوئی شریک نہیں۔
زبان سے ((لا إله إلااللّٰه )) کی گواہی، دنیا میں جان ومال کی حفاظت کا سبب ہے اور دل سے اس کی گواہی آتش جهنم کے عذاب سے نجات کا باعث ہے اور اس کی جزا بهشت بریںہے۔ یہ کلمہ طیبّہ رحمت رحمانیہ ورحیمیہ کا مظهر ہے۔
چھٹے امام (ع) سے روایت ہے کہ: خداوند تبارک وتعالی نے اپنی عزت وجلال کی قسم کهائی ہے کہ اہل توحید کو آگ کے عذاب میں ہر گز مبتلا نہ کرے گا۔(۵)
اوررسول خدا (ص)سے منقول ہے: ((ماجزاء من ا نٔعم عزوجل علیه بالتوحید إلا الجنة ))(۶)
جو اس کلمہ طیبہ کا ہر وقت ورد کرتاہے ، وہ حوادث کی جان لیوا امواج، وسواس اور خواہشات نفسانی کے مقابلے میں کشتی دٔل کو لنگرِ ((لا إله إلا اللّٰه )) کے ذریعے هلاکتوں کی گرداب سے نجات دلاتا ہے( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوَبُهُمْ بِذِکْرِ اللّٰهِ ا لَٔاَ بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (۷)
کلمہ طیبہ کے حروف کوبالجهر اور بالاخفات دونوں طریقوں سے ادا کیا جاسکتا ہے کہ جامع ذکرِ جلی وخفی ہے اور اسم مقدس ((اللّٰہ))پر مشتمل ہے، کہ امیرالمو مٔنین (ع) سے منقول ہے کہ:
((اللّٰہ)) اسماء خدا میں سے بزرگترین اسم ہے اور ایسا اسم ہے جو کسی مخلوق کے لئے نہیں رکھا گیا۔
اس کی تفسیر یہ ہے کہ غیر خدا سے امید ٹوٹ جانے کے وقت ہر ایک اس کو پکارتا ہے( قُلْ ا رََٔا ئَْتَکُم إِنْ ا تََٔاکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ ا ؤَْ ا تََٔتْکُمُ السَّاعَةُ ا غَيْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَةبَلْ إِيَّاهُ تَدْعُوْنَ فَيَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ إِلَيْه إِنْ شَاءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ) (۸)
____________________
۱ سورہ سباء،ا یت ۴۶ ۔”پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں صرف اس بات کی نصیحت کرتا ہوںکہ الله کے لئے دو دو اور ایک ایک کرکے قیام کرو“۔
۲ سورہ نور،آ یت ۳۵ ۔”الله آسمانوں اورزمین کا نور ہے“۔
۳ سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔” میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف سے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں استقامت کے ساته توحید میں ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں“۔
۴ توحید صدوق ص ۱۹ ۔
۵ توحید ص ۲۰ ۔
۶ توحید ص ۲۲ ۔ اس شخص کی جزا اس کو خدا نے نعمت توحید سے نوازا ہے جز بهشت کچھ نہیں ۔
۷ سورہ رعد، آیت ۲۸ ۔”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہو جاو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتاہے“۔
۸ سور ہ انعام، آیت ۴۰ ۔ ۴۱ ۔”آپ ان سے کہئے کہ تمهارا کیا خیال ہے کہ اگر تمهارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاو گٔے۔ تم خدا ہی کو پکاروگے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ہے۔اور تم اپنے مشرکانہ خداو ںٔ کو بهول جاو گٔے“۔
ابو سعید خدری نے رسول خدا (ص)سے روایت کی ہے کہ خداوند جل جلالہ نے حضرت موسی (ع) سے فرمایا :
اے موسی! اگر آسمانوں، ان کے آباد کرنے والوں (جو امر کی تدبیر کرنے والے ہیں)اور ساتوں زمینوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور((لا إله إلا اللّٰه )) کو دوسرے پلڑے میں تو یہ دوسرا پلڑا بهاری ہوگا۔(۱) (یعنی اس کلمے کے مقابلے میں تمام مادّیات ومجرّدات سبک وزن ہیں)۔
عدل
خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل ہیں جن میں سے ہم بعض کاتذکرہ کریں گے:
۱۔هر انسان، چاہے کسی بھی دین ومذهب پر اعتقاد نہ رکھتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ہے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت دیں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کہیں تو خوشی کا اظهار کرتا ہے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا، جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواہشات کا حصول ہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کے حق میں فیصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فیصلہ اس کے لئے باعث مسرت وخوشنودی ہے لیکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائیں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر میں نہ آئے اور حق وعدل کا خیال کرے، ظالم اس سے ناراض تو ہو گا لیکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فیصلے کو احترام کی نظر سے دیکھے گا۔
تو کس طرح ممکن ہے کہ جس خدا نے فطرت انسانی میں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچها قرار دیا ہو تاکہ اسے عدل کے زیور سے مزین اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو( إِنَّ اللّٰهَ يَا مُْٔر بِالْعَدْل وَاْلإِحْسَانِ ) (۲) ،( قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ ) (۳) ،( يَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ فَاحْکُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَق وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوٰی ) ٤جیسی آیات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم میں ظالم ہو؟!
۲۔ظلم کی بنیاد یا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، یا مقصد و ہدف تک پهنچنے میں عجز یا لغووعبث کام ہے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جهل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ ہے۔
لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناہی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ خداوند متعال عادل ہو اور ہر ظلم و قبیح سے منزہ ہو۔
۳۔ ظلم نقص ہے اور خداوندِمتعال کے ظالم ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ اس کی ترکیب میں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بیک وقت شامل ہوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ترکیب کی بدترین قسم ہے، کمال ونقص سے مرکب ہونے والا موجود محتاج اور محدود ہوتا ہے اور یہ دونوں صفات مخلوق میں پائی جاتی ہیں نہ کہ خالق میں۔
لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تخلیق کائنات( شَهِدَ اللّٰهُ ا نََّٔه لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ ا ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْط لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ ) (۵) ،
قوانین واحکام
( لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْم النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) (۶) اور قیامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب میں عادل ہے۔( وَقُضِیَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ ) (۱)
عن الصادق (ع) :((إنه سا لٔه رجل فقال له :إن ا سٔاس الدین التوحید والعدل، وعلمه کثیر، ولا بد لعاقل منه، فا ذٔکر ما یسهل الوقوف علیه ویتهیا حفظه، فقال: ا مٔا التوحید فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز علیک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک علیه ))(۲) اور هشام بن حکم سے فرمایا: ((ا لٔا ا عٔطیک جملة فی العدل والتوحید ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمه ومن التوحید ا نٔ لا تتوهّمه ))(۳)
اور امیر المومنین (ع) نے فرمایا:((کل ما استغفرت اللّٰه منه فهومنک،وکل ما حمدت اللّٰه علیه فهومنه ))(۴)
____________________
۱ توحید، ص ۳۰ ۔
۲ سورہ نحل، آیت ۹۰ ۔”باتحقیق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا ہے“۔
۳ سورہ اعراف، آیت ۲۹ ۔ ”کہو میرے رب نے انصاف کے ساته حکم کیا ہے“۔
۴ سورہ ص، آیت ۲۶ ۔ ”اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمین پر خلیفہ بنایا ہے تو تم لوگوں کے درمیان بالکل ٹهیک فیصلہ کرو اور ہویٰ وہوس کی پیروی مت کرو“۔
۵ سورہ آل عمران ، آیت ۱۸ ۔”خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ہیں (یهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نہیں ہے“۔
۶ سورہ حدید ، آیت ۲۵ ۔ ”هم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساته کتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رہیں“۔
نبوت خاصّہ
چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت رہتی دنیا تک کے لئے ہے اور آپ (ص) خاتم النبیین ہیں،لہٰذا ضروری ہے کہ آنحضرت (ص) کا معجزہ بھی ہمیشہ باقی رہے۔
دوسرے یہ کہ آپ (ص) کی بعثت کا دور کلام میں فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے مقابلے کا دور تھا اور اس معاشرے میں شخصیات کی عظمت و منزلت، نظم و نثر میں فصاحت و بلاغت کے مراتب کی بنیاد پر طے ہوتی تھی۔
ان ہی دو خصوصیات کے سبب قرآن مجید، مختلف لفظی اور معنوی اعتبارات سے حضور اکرم (ص) کی نبوت و رسالت کی دلیل قرار پایا۔ جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں:
۱۔قرآن کی مثل لانے سے انسانی عجز:
پیغمبر اکرم (ص) نے ایسے زمانے اور ماحول میں ظہور فرمایا جهاں مختلف اقوام کے لوگ گوناگوں عقائد کے ساته زندگی بسر کر رہے تھے۔کچھ تو سرے سے مبدا متعال کے منکر اور مادہ پرست تھے اور جو ماوراء مادہ و طبیعت کے قائل بھی تھے تو، ان میں سے بھی بعض بت پرستی اور بعض ستارہ پرستی میں مشغول تھے۔ باقی جو ان بتوںاور ستاروں سے دور تھے وہ مجوسیت، یہودیت، یا عیسائیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
دوسری جانب شهنشاہ ایران اور هرقل روم کمزور اقوام کی گردنوں میں استعمار و استحصال کے طوق ڈالے ہوئے تھے یا پھر جنگ و خونریزی میں سرگرم تھے۔
ایسے دور میں پیغمبر اسلام (ص) نے غیب پر ایمان اور توحید کے پرچم کو بلند کرکے کائنات کے تمام انسانوںکو پروردگار عالم کی عبادت اور کفر و ظلم کی زنجیریں توڑنے کی دعوت دی۔ ایران کے کسریٰ اور قیصرروم سے لے کر غسان و حیرہ کے بادشاہوں تک، ظالموں اور متکبروں کو پروردگار عالم کی عبودیت، قبولِ اسلام، قوانین الٰهی کے سامنے تسلیم اور خود کو حق و عدالت کے سپرد کرنے کی دعوت دی۔
مجوس کی ثنویت، نصاریٰ کی تثلیث، یہود کی خدا اور انبیاء علیهم السلام سے ناروا نسبتوں اور جاہلیت کی ان غلط عادات ورسوم سے، جو آباء و اجداد سے وراثت میں پانے کے سبب جزیرة العرب کے لوگوں کے ر گ وپے میں سما چکی تہیں، مقابلہ کیا اور تمام اقوام و امم کے مدمقابل اکیلے قیام فرمایا۔
باقی معجزات کو چهوڑ کر معجزہ قرآن کو اثبات نبوت کی قاطع دلیل قرار دیا اور قرآن کو چیلنج بناتے ہوئے بادشاہوں، سلاطین، نیز علمائے یہود اورعیسائی راہبوں جیسی طاقتوں اور تمام بت پرستوں کو مقابلے کی دعوت دی( وَإِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا فَا تُْٔوا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِه وَادْعُوْا شُهَدَآئَکُمْ مِن دُوْنِ اللّٰهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَ ) (۲)
____________________
۱ بحار الانوار ج ۶ ص ۵۹ ۔”امام نے اس حدیث میں پیغمبران خدا کی معرفت اور ان کی رسالت کا اقرار اور ان کی اطاعت کے واجب ہونے کے سلسلے میں فرمایا:کیونکہ مخلوق خلقت کے اعتبار سے اپنی مصلحتوں تک نہیں پہونچ سکتے تھے، دوسرے طرف خالق عالی ومتعالی ہے مخلوق اپنے ضعف و نقص کے ساته خدا کا ادراک نہیں کرسکتے لہٰذا کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے درمیان ایک معصوم رسول وسیلہ بنے جو خدا کے امر و نهی کو اس کمزور مخلوق تک پہونچا سکے ۔
اور ان کے مصالح و مفاسد سے آگاہ کرے کیونکہ ان کی خلقت میں اپنی حاجتوں کے مطابق مصلحتوں اور نقصان دینے والی چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں ہے“۔
۲ سورہ بقرہ ، آیت ۲۳ ۔”اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آو اور الله کے علاوہ جتنے تمهارے مددگار ہیں سب کو بلا لو اگر تم اپنے دعوے میںاور خیال میں سچے ہو“۔
واضح ہے کہ عوام الناس کا اپنے عقائد میں تعصب، علماء مذاہب کی اپنے پیروکاروں کے ثابت قدم رہنے پر سختی اور سلاطین کے لئے رعایا کی بیداری کا خطرہ ہوتے ہوئے اگر ان کے بس میں ہوتا تو قرآن کا جواب لانے میں هرگز سستی نہ کرتے۔
دانشوروں، شعراء، اور اہل سخن کے ہوتے ہوئے جو فصاحت و بلاغت کے ماہرین تھے اور بازار عکاظ کو ان کے مقابلوں کا میدان قرار دیا جاتا تھا اور ان مقابلوں میں جیتنے والوں کے اشعارکو خانہ کعبہ کی دیوار پر بطور افتخار آویزاں کیاجاتا تھا، اگر ان میں مقابلے کی قدرت ہوتی تو آیا اس مقابلے میں، جس میں ان کے دین و دنیا کی هار جیت کا سوال تھا، کیاکچھ نہ کرتے؟
آخر کار آپ (ص) کی گفتار کو جادو سے تعبیر کرنے کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہ کر سکے( إِنْ هٰذَا إِلاَّ سَحْرٌ مُّبِيْنٌ ) (۱)
اور یهی وجه تهی که جب ابو جهل نے فصحاء عرب کے ملجا و مرجع، ولید بن مغیرہ سے قرآن کے متعلق رائے دینے کی درخواست کی تو کهنے لگا :((فما ا قٔول فیه فواللّه ما منکم رجل ا عٔلم بالا شٔعار منی ولا ا عٔلم برجزه منی ولا بقصیده ولا با شٔعار الجن، واللّٰه ما یشبه الذی یقول شیئاً من هذا، و واللّٰه إن لقوله لحلاوة و إنه لیحطم ما تحته و ا نٔه لیعلو و لا یعلی قال ابوجهل: واللّٰه لا یرضی قومک حتی تقول فیه، قال:فدعنی حتی ا فٔکرّ فیه، فلمّا فکّر، قال: هذا سحر یا ثٔره عن غیره))(۲)
ولید بن مغیرہ کا یہ بیان اعجاز قرآن کے مقابلے میں شکست تسلیم کرنے کی دلیل ہے، کیونکہ جادو کی انتها بھی عادی اسباب پر ہے جو انسان کی قدرت سے باہر نہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ اس زمانے میں جزیرة العرب اور اس کے ہمسایہ ممالک میں جادوگروں اور کاہنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو جادو اور علم نجوم میں کمال کی مهارت رکھتے تھے۔ اس کے باوجود پیغمبر اکرم (ص)
کا قرآن کے ذریعے چیلنج کرنا اور ان سب کا قرآن کے مقابلے میں عاجز ہونا تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے، لہٰذا قرآن سے مقابلے کے بجائے آنحضرت (ص) کو مال و مقام کا لالچ دیا گیا اور جب ان کی اس سعی و کوشش نے بھی اپنا اثر نہ دکهایا تو آپ (ص) کی جان کے درپے ہوگئے۔
۲۔هدایت قرآن
ایسے دور میں جب ایک گروہ کا ماوراء الطبیعت پر اعتقاد ہی نہ تھا بلکہ ادارک سے عاری اور بے شعور مادّے کو عالمِ وجود کے حیرت انگیز نظام کے انتظام وانصرام کا مالک سمجهتے تھے، جب کہ ماوراء الطبیعت پر اعتقاد رکھنے والے گوناگوں بتوں کی صورت میں اپنے اپنے معبودوں کی پوجا کرتے تھے اور آسمانی ادیان کے معتقد، تحریف شدہ کتب کے مطابق، خالق کو اوصاف خلق سے متصف خیال کرتے تھے۔ ایسا ماحول جهاں تاریخ، عوام کے شدیدفکری، اخلاقی اور عملی انحطاط کی گواہ ہے، وہاں ایک ایسے فرد نے قیام کیا جس نے نہ کہیں سے پڑها اور نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا تھا، لیکن گمراہی کی هرتاریک کهائی کے مقابلے میں ہدایت کی عظیم شاہراہ ترسیم کی۔ انسان کو ایسے پروردگار عالم کی عبادت کی دعوت دی جو ہر قسم کے نقص سے پاک و منزہ اور تمام کمال و جمال اسی کے وجود سے ہیں، ساری تعریفیں اسی کے لئے مخصوص ہیں، جس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں،
اس کی ذات اس سے کہیں بڑه کر ہے کہ اس کے لئے کوئی حد معین کی جائے یا اوصاف میں سے کوئی صفت بیان کی جا سکے ((سبحان اللّٰه والحمد للّٰه ولا إله إلا اللّٰه واللّٰه ا کٔبر )(۳)
____________________
۱ سورہ مائدہ، آیت ۱۱۰ ۔”یہ سب کهلا ہواجادو ہے“۔
۲ تفسیر طبری ج ۲۹ ص ۱۵۶ ۔سورہ مدثر کی، آیت ۲۴ ۔ (کها اس بارے میں کہیں؟بس خدا کی قسم تم میں سے کوئی ایک بھی مجه سے زیادہ شعر میں معلومات نہیں رکھتا اس طرح رجز خوانی و قصیدہ واشعار میں بھی مجه سے زیادہ عالم نہیں
خدا کی قسم جو وہ (پیغمبر)کہہ رہا ہے ان میں سے کسی ایک کے طرح نہیں خدا کی قسم بس اس کے کلام میں ایسی مٹهاس ہے جو ہر کلام کو بے مزہ بنا دے گی بے شک سب سے برتر ہے اور اس پر کوئی کلام برتری نہیں رکھتا۔
ابو جهل نے کها:خدا کی قسم تمهاری قوم اس وقت تک راضی نہ ہوگی جب تک اس کلام کی برائی میںکچھ نہ کہہ دو ۔
ولید بن مغیرہ نے جواب دیا:مجه کوکچھ مهلت دو تاکہ اس بارہ میں غور وفکر کرویں پھر کچھ فکر کرنے کے بعد کہتا ہے یہ جادو ہے جو دوسروں کی بارہ میں خبر رکھتا ہے“۔
۳ ”پاک ومنزہ خدا کی ذات جو ہر نقص و صفات مخلوق سے بری ہے ساری تعریفیں خدا کے لئے ہیں کوئی بھی لائق پرستش نہیں جز الله سبحانہ تعالیٰ کے ، خدابالا وبرتر ہے اس سے کہ اس کی توصیف کی جائے“۔
ان ایام میں جب عدد ومعدود کے خالق او ر اولاد و ازواج سے پاک ومنزہ ذات کو ترکیب،تثلیث،احتیاج اور تولید نسل سے نسبت دینے کے ساته ساته اس کا ہمسر بھی تصور کیا جاتا تھا، قرآن نے اس کی ذات کو ان تمام اوہام سے پاک ومنزہ قرار دیتے ہوئے پروردگار عالم کی وحدانیت کا اعلان فرمایا کہ خدا کی ذات ہر قسم کی عقلی، وہمی اور حسی ترکیب سے منزہ ہے، وہ ہر شخص اور ہر شے سے بے نیاز ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ ہر چیز وہر شخص محتاج ہے ، اس کی مقدس ذات میں تولیدِ نسل کو عقلاً وحسا کسی بھی معنی کے اعتبار سے گنجائش نہیں، تمام موجودات اس کی قدرت وارادے سے موجود ومخلوق ہیں۔ذات، صفات اور افعال میں اس کی کوئی مثا ل نہیں ۔
اگر چہ قرآن میں پروردگار عالم کی معرفت، اعلیٰ صفات اور اسماء حسنی سے متعلق ایک ہزار سے زیادہ آیات موجود ہیں، لیکن ان میں سے ایک سطر میں تدبر وتفکر ہی ہدایت کی عظمت کو وا ضح وروشن کر دیتا ہے( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌخاللّٰهُ الصَّمَدُخلَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْخوَلَمْ يَکُنْ لَه کُفُو أً ا حََٔدٌ )
کلام اہل بیت علیهم السلام، جو معرفت کے خزانوں کی کنجی ہے،یهاں ان میں سے دوحد یثیں نقل کرتے ہیں :
۱۔امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں : ((إن اللّٰه تبارک وتعالی خلو من خلقه وخلقه خلو منه وکل ما وقع علیه اسم شیء ما خلا اللّٰه عزوجل فهو مخلوق، واللّٰه خالق کل شیء، تبارک الذی لیس کمثله شی )ٔ)(۱)
۲۔امام باقر(ع) فرماتے ہیں :((کلما میزتموه با ؤهامکم فی ا دٔق معانیه، مخلوق مصنوع مثلکم مردود إلیکم) )(۲)
آسمانی کتاب، جن پر کروڑوں یہود ونصاٰری کے عقائد کی بنیاد ہے، کے عهدِ عتیق وجدید کا مطالعہ کرنے کے بعد معارفِ الهیہ سے متعلق ہدایت قر آن کی عظمت آشکار ہوتی ہے۔ اس مقدمے میں نمونے کے طور پر چند ایک کا ذکر کرتے ہیں:
یهودیوں کے بعض عقیدے سفر تکوین (پیدائش)باب دوم :”اور ساتویں دن اسے اپنے تمام کاموں سے فراغت ملی ۔ اس نے ساتویں دن اپنے تمام کاموں کو انجام دینے کے بعد فرصت پائی ۔ پھر خدا نے ساتویں دن کو مبارک اور پاکیزہ قرار دیا کیونکہ اس دن اس نے اپنے تمام امور سے فراغت کے بعد فرصت پائی ۔۔۔۔
خداوند خدا نے آدم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا : بغیر کسی روک ٹوک کے باغ کے تمام درختو ں سے کها سکتے ہو، لیکن نیک وبد کی معرفت کے درخت سے ہر گزنہ کهانا، کیونکہ جس دن اس سے کهاؤ گے یقیناً مر جاؤ گے۔“
سفر تکوین (پیدائش ) باب سوم :”خداوند خدا کے خلق شدہ صحرائی حیوانات میں سے سانپ سب سے زیادہ ہوشیار تھا، اس نے عورت سے کها :کیا واقعی خدا نے تمہیں باغ کے تمام درختوں سے کهانے سے منع کیا ہے؟ عورت نے سانپ سے کها : ہم باغ کے باقی درختوںسے تو پهل کها سکتے ہیں سوائے اس درخت کے جو باغ کے درمیان میں ہے، خدا نے فرمایا ہے کہ اس درخت سے نہ کهانا اور اسے چهونا بھی نہیں ورنہ مر جاؤگے ۔ سانپ نے کها : ہر گز نہ مرو گے،بلکہ خد اجانتا ہے جس دن تم نے اس سے کها لیا تمها ری آنکهوں کے سامنے سے پردے ہٹ جائیں گے اور خدا کی طرح تمہیں بھی نیک وبد کی معرفت حاصل ہوجائے گی ۔ جب عورت نے دیکھا کہ اس درخت سے کهانا اچها ہے جس کی دید خوش نما و دلپذیر ہے اور جو معرفت بڑهانے والا ہے، پس اس درخت سے پهل توڑ کر خود بھی کهایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا، جو اس نے کها لیا ۔ جب وہ کها چکا، اس وقت دونوں کی آنکهوں کے سامنے سے پردے ہٹ گئے دونوں نے دیکھا کہ ان کے جسم عریاں ہیں انہوں نے انجیر کے پتوں کو آپس میں جوڑ کر اپنے جسم کو ڈهانپنے کا سامان فراہم کیا اور انہوں نے خدا وند خدا کی آواز سنی جو نسیمِ صبح کے چلنے کے وقت باغ میں خراماں خراماں ٹهل رہا تھا۔ آدم اور ا س کی بیوی نے خود کو خداوند خدا کی
____________________
۱ بحار الانوار ج ۴ ص ۱۴۹ ۔”چھٹے امام ارشاد فرماتے ہیں:بے شک خدا وند متعال کی ذات والامیں مخلوق کی کوئی صفت نہیں اور مخلوق میں کوئی خداکی صفت نہیں بلکہ خدا اور مخلوق میں ذات وصفات کے اعتبار سے تبائن ہے ایک واجب ہے تو دوسرا ممکن کسی طرح کی مشابہت خالق و مخلوق میں نہیں پائی جاتی ہر وہ چیز جس پر اسم خدا کے علاوہ کسی چیز کا اطلاق ہو وہ مخلوق ہے اور خدا ہر چیز کا خالق ہے بابرکت ہے وہ ذات جس کا مثل کوئی نہیں “۔
۲ بحار الانوار ج ۶۶ ص ۲۹۳ ۔پانچویں امام کا ارشاد ہے:”هر وہ چیز جس کو تم اپنے خیال خام میں اس کے دقیق ترین معنی میں دوسروں سے جدا جانو وہ تمهاری طرح ایک مخلوق و مصنوع ہے جس کی باز گشت تمهاری طرف ہے“۔
نظروں سے اوجهل کر کے خود کو باغ کے درختوں کے درمیان چهپا لیا ۔ خداوند خدا نے آدم کو آواز دی اور کها: تم کهاں ہو؟آدم نے کها : میں باغ میں تمهاری آواز سن کر چوں کہ عریاںہوں، ڈر گیا ہوں اور خود کو چهپا لیا ہے۔ کها: کس نے تمہیں آگاہ کیا کہ تم عریاں ہو ؟آیا تمہیں جس درخت سے کهانے کو منع کیا تھا، تم نے اس سے کها لیا ؟“
اسی باب کی بائیسویں آیت میں ہے:”اور خداوند خدا نے کها: بے شک انسان نیک وبد کی معرفت کے بعد ہماری مانند ہوگیاہے ۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ هاته بڑها کر درختِ حیات سے بھی کها لے اور ہمیشہ باقی رہے۔“
باب ششم کی چھٹی اور ساتویں آیت میں یہ مذکور ہے: ”اور خداوند زمین پر انسان کی خلقت سے پشیمان اور اپنے دل میں غمگین ہوا، خداوند نے کها : انسان کو جو خلق کیا ہے اس زمین کو انسان،حیوانات، حشرات الارض اور پرندوں کے وجود سے پاک کردوں، کیونکہ انہیں خلق کر کے پشیمان ہوں۔“
اب ہم ان آیات میں سے بعض نکات کی جانب اشارہ کرتے ہیں:
۱۔پروردگار عالم نے انسان کو خلق کیا ہے اور اسے عقل عطا کی ہے تاکہ وہ اچہے اور برے کی پہچان کر سکے۔ اس نے عقل کو علم و معرفت کے لئے پیدا کیا ہے، کیسے ممکن ہے کہ وہ اسے اچہے اور برے کی پہچان سے روک دے؟!
جب کہ ہدایت قرآن یہ ہے( قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لاَ يَعْلَمُوْنَ إِنَّمَا يَتَذَکَّرُ ا ؤُْلُواْلا لَْٔبَاب ) (۱) ، ( إِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِيْنَ لاَ يَعْقِلُوْنَ ) (۲)
علم، معرفت،تعقل، تفکر، اور تدبر کے بارے میں آیات قرآن اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر مقدمے میں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے ۔
۲۔جو یہ کہے کہ اگر اس نیک وبد کے درخت سے کهایا تو مر جاؤگے جب کہ آدم اور اس کی زوجہ کهاتے ہیں اور نہیں مرتے، یا تو جانتا تھا کہ نہیں مریں گے، لہٰذا جھوٹا ہے، یا نہیں جانتا تھا پس جاہل ہوا ۔ کیا جھوٹا اور جاہل، ”خداوند“ کے نام کا حق دار ہوسکتاہے ؟!
اس سے زیادہ عجیب یہ کہ سانپ، آدم اور اس کی زوجہ کو نیک وبد کی معرفت کے درخت سے کهانے کے لئے ہدایت کر کے، خدا کے جھوٹ کو ان پر آشکار اور بناوٹی خد ا کے فریب اوردہوکے بازی کو نمایاںکرتا ہے ؟!
لیکن خدا کے علم سے متعلق قرآن کا نمونہ یہ ہے( يَعْلَمُ مَا بَيْنَ ا ئَْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيْطُوْن بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِه إِلاَّ بِمَا شَاءَ ) (۳) ،( وَلاَ يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ ) (۴) ،( إِنَّمَا إِلٰهُکُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ وَسِعَ کُل شَیْءٍ عِلْماً ) (۵) ،( قُلْ ا نَْٔزَلَهُ الَّذِیْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ إِنَّه کَانَ غَفُوْراً رَّحِيْماً ) (۶) ،( لاَ جَرَمَ ا نََّٔ اللّٰه يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ) (۷) ،( هُوْ اللّٰهُ الَّذِیْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ ) (۸)
____________________
۱ سورہ زمر ، آیت ۹۔”کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے ہیں ،اس بات سے نصیحت صرف صاحبان عقل حاصل کرتے ہیں“۔
۲ سورہ انفال ، آیت ۲۲ ۔”الله کے نزدیک بد ترین زمین پر چلنے والے وہ بهرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ہیں“۔
۳ سورہ ،بقرہ آیت ۲۵۵ ۔”وہ جوکچھ ان کے سامنے ہے اور جو پس پشت ہے سب کو جانتا ہے اور لوگ اس کے علم سے کسی چیز پر بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر وہ جس قدر چاہے“۔
۴ سورہ سباء، آیت ۳۔”اس کے علم سے زمین وآسمان کا کوئی ذرہ دور نہیں ہے“۔
۵ سورہ طہ، آیت ۹۸ ۔”یقینا تم سب کا خدا صرف الله ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہی ہر شئے کا وسیع علم رکھنے والا ہے“۔
۶ سورہ فرقان، آیت ۶۔”آپ کہہ دیجئے کہ اس نے قرآن کو نازل کیا ہے جو آسمان اور زمین کے رازوں سے باخبر ہے اور یقینا بڑا بخشنے والا ہے“۔
۷ سورہ نحل، آیت ۲۳ ۔”یقینا الله ان تمام باتوں کو جانتا ہے جنہیں یہ چهپاتے ہیں یا جن کا اظهار کرتے ہیں“۔
۸ سورہ حشر، آیت ۲۲ ۔”خدا وہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ ہی بڑا مهربان اور نهایت رحم والا ہے “۔
۳۔ایسا موجود جو خود محدودہو اور جو آدم کو باغ کے درختوں میں گم کردے اور کہے :کهاں ہو؟ تاکہ آدم کی آواز سن کر اسے ڈهونڈے، باغ کے درخت جس کے دیکھنے میں مانع ہوں، وہ رب العالمین، عالمِ السر والخفیات، خالق کون ومکان اور زمین وآسمان پر محیط کیسے ہوسکتاہے ؟!
جب کہ اس کے مقابلے میں ہدایتِ قرآن کا نمونہ یہ ہے( وَعِنْدَه مَفَاتِيْحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِی ظُلُمَاتِ اْلا رَْٔضِ وَلاَ رَطْبٍ وَّلاَيَابِسٍ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُّبِيْنٍ ) (۱)
۴ ۔انجیل کی مذکورہ بالا آیات خدا کی توحید اور تقدیس کی جانب ہدایت کرنے کے بجائے کہ( لَيْس کَمِثْلِه شَیْءٌ وَّهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) (۲) اس کی ذات میںشرک اور تشبیہ پر دلالت کرتی ہیں اور کہتی ہیں :”خدا نے کها :نیک وبد کی معرفت حاصل کر کے انسان یقینا ہماری طرح ہوگیا ہے۔“
۵ ۔پروردگار عالم کا تخلیق آدم سے پشیمان ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کے انجام سے جاہل تھا۔ کیا پروردگار عالم کو جاہل سمجهنا، کہ جس کا لازمہ محدودیت ذات ومخلوقیت خالق اور نورِ علم وظلمت جهل کی حق متعال کے ساته ترکیب ہے، انسان کو خدا کی جانب ہدایت کرنے والی آسمانی کتاب سے ممکن ہے؟!
جب کہ ہدایت قرآن یہ ہے کہ( ا لَٔاَ يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) (۳) ( وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی اْلا رَْٔضِ خَلِيْفَةً قَالُوْا ا تَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِکُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَال إِنِّیْ ا عَْٔلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ ) (۴)
۶ ۔پروردگا ر عالم سے حزن وملال کو منسوب کیا جو جسم، جهل اور عجز کا لازمہ ہیں اور اس بارے میں ہدایت قرآن یہ ہے( سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَاْلاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُخ لَه مُلْکُ السَّمَاوَات وَاْلا رَْٔضِ يُحْی وَيُمِيْتُ وَهُو عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌخ هُوَ اْلا ؤََّلُ وَاْلآخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیَءٍ عَلِيْمٌ ) (۵)
عیسائیوں کے بعض مخصوص عقائد
۱۔رسالہ اول یوحنا رسول باب پنجم: ”جس کا عقیدہ یہ ہوکہ عیسیٰ مسیح ہے، خدا کابیٹا ہے اور جو والد سے محبت کرے اس کے بیٹے سے بھی محبت کرتاہے کون ہے جو دنیا پر غلبہ حاصل کرے مگر وہ جس کا عقیدہ یہ ہو کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے۔ یہ وہی ہے جو پانی اور خون سے آیا یعنی عیسیٰفقط پانی سے نہیں بلکہ پانی، خون اور روح سے ہے، جو گواہی دیتی ہے، کیونکہ روح حق ہے ۔ تین ہیں جو گواہی دیتے ہیں یعنی روح، پانی اور خون اور یہ تینوں ایک ہیں ۔“
۲۔انجیل یوحنا، باب اول، پهلی آیت سے :”ابتدا میں کلمہ تھا اور کلمہ خدا کے پاس تھا اور کلمہ خدا تھا، وہی ابتدا میں خدا کے پاس تھا ۔ تمام چیزیں اسی کے لئے خلق کی گئیں۔ موجودات نے اس کے سوا کسی اور سے وجود نہیں پایا۔ اس میں زندگی تھی اور زندگی انسان کا نور تھی، نور کی درخشش تاریکی میں ہوتی ہے، اور تاریکی اس کو نہ پاسکی ۔ خدا کی جانب سے یحییٰ نامی ایک شخص بھیجا گیا،
وہ گواہی دینے آیا تاکہ نور پر گواہی دے اور سب اس کے وسیلے سے ایمان لائیں ۔ وہ خود نور نہ تھا بلکہ نور پر گواہی دینے آیاتها ۔ وہ حقیقی نور تھا جو ہر انسان کو منور کر دیتا ہے اور اسے دنیا میں آنا تھا، وہ کائنات میں تھا اور کائنات کو اسی کے لئے خلق کیا گیا اور کائنات نے اسے نہ پہچانا، اپنے خواص کے پاس گیا، اس کے خواص نے بھی اسے قبول نہ کیا، لیکن جنہوں نے اسے قبول کیا انہیں قدرت عطا
____________________
۱ سورہ انعام، آیت ۵۹ ۔”اور اس کے پاس غیب کے خزانے ہیں جنہیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے اور وہ خشک و تر سب کا جاننے والا ہے کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو اسے اس کا علم ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک و تر ایسا نہیں ہے جو کتاب مبین کے اندر محفوظ نہ ہو“۔
۲ سورہ شوریٰ، آیت ۱۱ ۔”اس کا جیسا کوئی نہیں ہے وہ سب کی سننے والا ہے اور ہر چیز کا دیکھنے والا ہے“۔
۳ سورہ ملک، آیت ۱۴ ۔”اور کیا پیدا کرنے والا نہیں جانتا ہے جب کہ وہ لطیف بھی ہے اورخبیر بھی ہے“۔
۴ سورہ بقرہ، آیت ۳۰ ۔”اے رسول! اس وقت کو یاد کرو جب تمهارے پروردگار نے ملائکہ سے کها کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں اور انهوں نے کها کہ کیا اسے بنائے گا جو زمین میں فساد برپا کرے اور خونریزی کرے جب کہ ہم تیری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں تو ارشاد ہوا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو“۔
۵۔”محو تسبیح پروردگار ہے ہر وہ چیز جو زمین وآسمان میں ہے اور وہ پروردگار صاحب /۲/ ۵ سورہ حدید ، آیت ۳
عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے۔آسمان و زمین کا کل اختیار اسی کے پاس ہے اور وہی حیات و موت کا دینے والا ہے اور ہر شئے پر اختیار رکھنے والا ہے۔وہی اول ہے وہی آخر وہی ظاہرہے وہی باطن اور وہی ہر شئے کا جاننے والا ہے“۔
کی کہ خدا کے فرزند بن سکیں۔ یعنی جوکوئی اس کے نام پر ایمان لایا جو نہ تو خون، نہ جسمانی خواہش اور نہ ہی لوگوں کی خواہش سے ہے، بلکہ خدا سے متولد ہوئے ہیں۔کلمہ جسم میں تبدیل ہوا اور ہمارے درمیان سکونت اختیار کی ۔اسے فیض،سچائی اور جلال سے پُر دیکھا، ایسا جلال جو بے مثال باپ کے بیٹے کے شایان شان تھا۔“
۳۔انجیل یوحنا، باب ششم،اکیاونویں آیت سے :”میں آسمان سے نازل ہونے والی زندہ روٹی ہوں ۔
اگر کوئی اس روٹی سے کها لے تاابد زندہ رہے گا ۔اور جو روٹی میں عطا کر رہا ہوں وہ میرا جسم ہے،جسے میں کائنات کی زندگی کے لئے عطا کررہا ہوں، یہود ایک دوسرے سے جهگڑ کر کها کرتے تھے کہ یہ شخص اپنے جسم کو ہمیں کهانے کے لئے کس طرح دے سکتا ہے۔ عیسیٰ نے ان سے کها :آمین آمین، میں تمہیں کہہ رہا ہوں کہ اگر تم نے انسان کے بیٹے کا جسم نہ کهایا اور اس کا خون نہ پیا، تو تم لوگ اپنے اندر زندگی نہ پاؤگے ۔ اور جو کوئی میرا جسم کهائے اور میرا خون پئیے وہ جاودانہ زندگی پائے گا ۔اور روزِقیامت اسے میں اٹها ؤں گا کیونکہ میرا جسم حقیقی کهانا اور میرا خون حقیقی پینے کی شے ہیں۔ بس جو بھی میر اجسم کهائے گا اور میرا خون پئے گا وہ مجه میں اور میں اس میں رہوں گا ۔
جیسا کہ مجھے زندہ باپ نے بھیجا ہے اور میں اس کی وجہ سے زندہ ہوں، اسی طرح جو مجھے کهائے گا وہ بھی میری وجہ سے زندہ رہے گا ۔“
۴ ۔انجیل یوحنا، باب دوم، تیسری آیت سے :”اور شراب ختم ہوئی تو عیسیٰ کی ماں نے اس سے کها : ان کے پاس شراب نہیں ہے ۔عیسیٰ نے جواب دیا: اے عورت مجھے تم سے کیا کام ہے، ابھی میرا وقت نہیں ہوا۔ اس کی ماں نے نوکروں سے کها :تم سے یہ جو کہے انجام دو ۔ اس جگہ تطهیر یہود کے حساب سے چه سنگی ساغر رکہے ہوئے تھے، جن میں سے ہر ایک میں دو سے تین کیل تک کی گنجائش تھی عیسیٰ نے ان سے کها: ساغروں کو پانی سے پر کرو۔ انہیں پر کیا گیا تو عیسیٰ نے کها: اب انہیں اٹها کر صدر مجلس کے پاس لے جاؤ۔ وہ لے گئے، جب صدر مجلس نے اس پانی کو جو شراب میں تبدیل ہوچکاتها، چکها ، لیکن اسے معلوم نہ ہوا کہ کهاں سے آیا ہے، البتہ پانی نکالنے والے نوکر جانتے تھے۔ صدر مجلس نے دولها سے مخاطب ہوکر کها: ہر ایک پهلے اچهی شراب لاتاہے اور جب نشہ چها جائے تو اس سے بدتر، لیکن تم نے ابھی تک اچهی شراب بچا کر رکھی ہوئی ہے۔اور یہ وہ ا بتدائی معجزات ہیں جو عیسیٰ سے قانائے جلیل میں صادر ہوئے ۔ اوراپنے جلال کو ظاہر کیا اور اس کے شاگرد اس پر ایمان لائے ۔“
اور اب ان آیات کے متعلق بعض نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
الف۔نصاریٰ کے اصول وعقائد میں جو بات مورد اتفاق ہے وہ تثلیث پر اعتقاد ہے ۔ جب کہ انجیل یوحنا کے سترہویں باب کی تیسری آیت یہ کہتی ہے :”جاودانہ زندگی یہ ہے کہ تیری، حقیقی خدائے واحد کے طور پراور تیرے بھیجے ہوئے عیسیٰ مسیح کی معرفت حاصل کریں ۔“
لہٰذا جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے نزدیک تثلیث پر اعتقاد ایک اصلِ مسلم ہے اور انجیل یوحنا نے خدا کو وحدت حقیقی سے توصیف کیا ہے تو جیسا کہ جز اول یوحنا میں بھی مذکور ہے کہ”تینوں ایک ہیں “،ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ توحید اور تثلیث کو جمع کریں اور کہیں کہ یہ حقیقتاً جدا بھی ہیں اور حقیقتاً متحد بھی ۔
کئی دلائل کی بنیاد پر یہ عقیدہ باطل ہے جن میں سے بعض یہ ہیں :
۱۔اعداد کے مراتب، مثال کے طور پر ایک اور تین، ایک دوسرے کی ضد ہیں اورضدین(دو متضاد اشیاء) کا آپس میں اجتماع محال ہے،یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں وہ تینوں ایک ہوں اور وہی ایک تین ہوں ۔
۲۔جیسا کہ توحید کی بحث میں بیان ہو چکا ہے ،عقیدہ تثلیث کا لازمہ یہ ہے کہ پانچ خداو ںٔ پر اعتقاد ہو اور اسی طرح اس عدد کی تعداد لا متنا ہی حد تک پهنچ جائے گی، لہٰذا عیسایوں کے پاس لامتناہی خداؤں پر ایمان لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔
۳۔تثلیث کا لازمہ ترکیب ہے اور ترکیب کا لازمہ اجزاء اور ان اجزاء کو ترکیب دینے والے کی ضرورت ہے ۔
۴ ۔عقیدہ تثلیث کا لازمہ، خالقِ عددکو مخلوق سے توصیف کرنا ہے، کیونکہ عدد و معدود، دونوں مخلوق ہیں اور خداوند ہر قسم کی معدود یت سے یهاں تک کہ وحدت عددی سے پاک ومنزہ ہے( لَقَدْ کَفَر الَّذِيْنَ قَالُوْا إِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ وَّمَا مِنْ إِلٰهٍ إِلاَّ إِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ إِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَاب ا لَِٔيْمٌ ) (۱) اور انہوں نے صراحت کے ساته حضرت عیسیٰ (ع) کو فرزند خدا کها، جب کہ قرآن کہتا ہے( مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلاَّ رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَا مُُّٔه صِدِّيْقَةٌ کَانَا يَا کُْٔلاَنِ الطَّعَامَ انْظُرْ کَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الآيَات ثُمَّ انْظُرْ ا نَٔیّٰ يُو فَْٔکُوْنَ ) (۲) اور یہ جملہ( کَانَا يَا کُْٔلاَنِ الطَّعَامَ ) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے طعام کی محتاج موجود، جو انسانی بدن میں جذب بھی ہوتا ہے اور اس سے خارج بھی ہوتا ہے، عبادت کے لائق نہیں ہوسکتی۔
ب۔ان باتوں پر عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کلمہ تھے، کلمہ خدا تھا اور وہ کلمہ جو خدا تھا اس کائنات میں آیا اور جسم میں تبدیل ہوگیا، روٹی بن گیا، اپنے پیروکاروں کے گوشت اور خون کے ساتھ متحد ہوگیا اور اس کاپهلا معجزہ یہ تھا کہ پانی کو شراب میں تبدیل کیااور جو رسول عقول کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہو اس کا معجزہ نشے میں مدہوش ہونا اور زوال عقل کا باعث ہو، کس عقل ومنطق سے مطابقت رکھتا ہے؟!
ج۔ایک طرف عیسیٰ کو خدا قرار دیا دوسری طرف سموئیل کی کتاب دوم کے گیارہویں باب میں داو دٔ پیغمبر (ع) کو شادی شدہ عورت سے زنا کی نسبت دی کہ داو دٔ نے اس عورت سے ز نا کیا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی، اس کے بعد اس کے شوہر کو جنگ پر بھیج دیا او رفوج کے سپہ سالار سے کها کہ اسے جنگ کے دور ان لشکر کی اگلی صفوف میں رکھو اور اس کے پیچہے سے ہٹ جاؤتاکہ مارا جائے اور اس طرح اس کی بیوی اپنے گهر لے آیا، جب کہ انجیل متی کے باب اول میں عیسیٰ کا شجرہ نسب اس شادی تک پهنچاتے ہیں اور صاحب کتاب زبور داو دٔ پیغمبر پر اس گناہ کی تهمت لگاتے ہیں ۔
یہ ہدایت قرآن ہی تھی جس نے خداوند عالم کو ان اوہام سے پاک ومنزہ اورا بن مریم پر اعتقاد کو، انہیں (نعوذ بالله)زنا زادہ سمجهنے والوں کی تفریط اور خدا کا بیٹا قرار دینے والوں کے افراط سے پاک ومنزہ قرار دیا اور فرمایا( وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ ا هَْٔلِهَا مَکَاناً شَرْقِيًّا ) (۳) یهاں تک کہ فرمایا( قَالَ إِنِّی عَبْدُاللّٰهِ آتَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِيًّا ) (۴) اور داو دٔ کو پاکیزگی کی وہ منزلت عطا کی کہ فرمایا :
( يَادَاو دُُٔ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ ) (۵) اور پیغمبر خاتم(ص) سے مخاطب ہو کر فرمایا( اِصْبِرْ عَلیٰ مَا يَقُوْلُوْنَ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاو دَُٔ ذَا الا ئَْدِ إِنَّه ا ؤََّابٌ ) (۶)
یہ معرفتِ خدا کے سلسلے میں ہدایت قرآن کا ایک نمونہ تھا۔
جب کہ تعلیمات قرآن مجید میں انسان کی سعادت کا نمونہ یہ ہے :
طاقت، دولت، قبیلے اور رنگ جیسے امتیازات کے مقابلے میں انسانی کمالات کو فضیلت کا معیار قرار دیا اور فرمایا( يَا ا ئَُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّا نُْٔثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْباً وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ ا کَْٔرَمَکُمْ عِنْد اللّٰهِ ا تَْٔقَاکُمْ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ ) (۷)
نشہ آور چیزوں کے استعمال سے فاسد شدہ افکار اور وسیع پیمانے پر پهیلے ہوئے جوئے اور سود خوری کی وجہ سے بیمار اقتصاد کا ان آیات کے ذریعہ اصلاح ومعالجہ کیا( يَا ا ئَُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا إِنَّمَا
____________________
۱ سورہ مائدہ ، آیت ۷۳ ۔”یقینا وہ لوگ کافر ہیں جن کا کهنا یہ ہے کہ الله تین میں کا تیسرا ہے ۔حالانکہ الله کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اگر یہ لوگ اپنے قول سے باز نہ آئیں گے تو ان میں سے کفر اختیار کرنے والوں پر دردناک عذاب نازل ہو جائے گا“۔
۲ سورہ مائدہ، آیت ۷۵ ۔”مسیح بن مریمکچھ نہیں ہیں صرف ہمارے رسول ہیں جن سے پهلے بہت سے رسول گذرچکے ہیں اور ان کی ماں صدیقہ تہیں اور وہ دونوں کها نا کهایا کرتے تھے ۔ دیکھو ہم اپنی نشانیوں کو کس طرح واضح کر کے بیان کرتے ہیں اور پھر دیکھو کہ یہ لوگ کس طرح بہکے جا رہے ہیں“۔
۳ سورہ مریم ، آیت ۱۶ ۔”اور پیغمبر اپنی کتاب میں مریم کا ذکر کرو کہ جب وہ اپنے گهر والوں سے الگ مشرقی سمت کی طرف چلی گئیں“۔
۴ سورہ مریم ، آیت ۳۰ ۔”بچہ نے آواز دی کہ میں الله کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے“۔
۵ سورہ ص ، آیت ۲۶ ۔”اے داو دٔ! ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنا یاہے“۔
۶ سورہ ص ، آیت ۱۷ ۔”آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داو دٔ کو یاد کریں جو صاحب طاقت بھی تھے اور بیحد رجوع کرنے والے بھی تھے“۔
۷ سورہ حجرات ، آیت ۱۳ ۔”انسانو!هم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں
اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پر هیزگار ہے اور الله ہر شئے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے “۔
الَخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَاْلا نَْٔصَابُ وَاْلا زَْٔلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) (۱) ( وَا حََٔلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّم الرِّبَا ) (۲) ، ( وَلاَ تَا کُْٔلُوا ا مَْٔوَالَکُمْ بَيْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ ) (۳)
، انسانی جانوں کو ان آیات کے ذریعے تحفظ فراہم کیا( وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ) (۴) ( وَمَنْ ا حَْٔيَاهَا فَکَا نََّٔمَا ا حَْٔيَا النَّاسَ جَمِيْعاً ) (۵)
کمزوروں پر طاقتوروں کے ظلم وتعدی کے باب کوبند کیا اور لوگوں پر عدل واحسان کے دروازے کهول کر فرمایا( فَمَنِ اعْتَدیٰ عَلَيْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدیٰ عَلَيْکُمْ ) (۶) ،( وَا حَْٔسِنْ کَمَا ا حَْٔسَنَ اللّٰه إِلَيْکَ وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِی اْلا رَْٔضِ ) (۷) ،( إِنَّ اللّٰهَ يَا مُْٔرُ بِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ ) (۸)
اور اس دور میں جب عورتوں کے ساته حیوانوں جیسا برتاو کیا جاتا تھا فرمایا( وَعَاشِرُوْهُن بِالْمَعْرُوْفِ ) (۹) ،( وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ) (۱۰)
هر قسم کی خیانت سے روکا اور فرمایا( إِنَّ اللّٰهَ يَا مُْٔرُکُمْ ا نَْٔ تُو دَُّٔوا اْلا مََٔانَاتِ إِلیٰ ا هَْٔلِهَا وَ إِذَا حَکَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ ا نَْٔ تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِ ) (۱۱)
عهد وپیمان کے پورا کرنے کو ایمان کی نشانیوں سے قرار دیتے ہوئے فرمایا:( وَالَّذِيْنَ هُم لِا مََٔانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُوْنَ ) (۱۲) ،( وَ ا ؤَْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ کَانَ مَسْئُوْلاً ) (۱۳)
اور امت کو آیہ( ٔيُو تِْٔی الْحِکْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّو تَْٔ الْحِکْمَةَ فَقَدْ ا ؤُْتِیَ خَيْراً کَثِيْراً ) (۱۴) کے ذریعے جهالت ونادانی کی ذلت سے اس طرح نجات دی کہ دنیا میں علم وحکمت کے علمبردار بن کر سامنے آئے ۔
اپنے پیروکاروں کو ہر اچهائی کا حکم دیا اور ہر قسم کی برائی سے روکا، طیب وپاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال اور خبیث اشیاء کو ان کے لئے حرام قرار دیا اور ان تمام قیود سے جن کا انہوں نے خود کو فطرت کے اصولوں کے برخلاف پابند کر رکھا تھا، نجات دلائی ۔
( اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ اْلا مُِّٔیَّ الَّذِیْ يَجِدُوْنَه مَکْتُوْبًاعِنْدَهُمْ فِی التَّوْريٰةِ وَاْلا نِْٔجِيْلِ يَا مُْٔرُهُم بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحْرِّمُ عَلَيْهِمُ الَخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَاْلا غَْٔلَاَلَ الَّتِی کَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِيْنَ آمَنُوْا بِه وَ عَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْ ا نُْٔزِلَ مَعَه ا ؤُْلٰئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (۱۵)
____________________
۱ سورہ مائدہ، آیت ۹۰ ۔”ایمان والو!شراب ، جوا، بت، پانسہ یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہٰذا ان سے پر هیز کرو تاکہ کامیابی حاصل کر سکو“۔
۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۷۵ ۔”جب کہ خدا نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام“۔
۳ سورہ بقرہ، آیت ۱۸۸ ۔”اور خبردار ایک دوسرے کامال ناجائز طریقہ سے نہ کهانا“۔
۴ سورہ انعام، آیت ۱۵۱ ۔”اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنامگر یہ کہ تمهار ا کوئی حق ہو“۔
۵ سورہ مائدہ، آیت ۳۲ ۔”اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دیدی“۔
۶ سورہ بقرہ ، آیت ۱۹۴ ۔”لہٰذا جو تم پر زیادتی کرے تم بھی ویسا ہی برتاو کرو جیسی زیادتی اس نے کی ہے“۔
۷ سورہ قصص ، آیت ۷۷ ۔”اور نیکی کرو جس طرح الله نے تمهارے ساته نیک برتاو کیا ہے اور زمین میں فساد کی کوشش نہ کرو“۔
۸ سورہ نحل، آیت ۹۰ ۔”بے شک الله عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“۔
۹ سورہ نساء، آیت ۱۹ ۔”اور ان کے ساته نیک بر تاو کرو“۔
۱۰ سورہ بقرہ ، آیت ۲۲۸ ۔”اور عورتیں کے لئے ویسے ہی حقوق بھی ہیں جیسی ذمہ داریاں ہیں شریعت کے موافق“۔
۱۱ سورہ نساء ، آیت ۵۸ ۔”بے شک الله تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پهنچا دو اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساته کرو“۔
۱۲ سورہ مومنون، آیت ۸۔”اور جو مومنین اپنی امانتوں اور وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں“۔
۱۳ سورہ اسراء ، آیت ۳۴ ۔”اور اپنے عهدوں کو پورا کرنا کہ عهدکے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔
۱۴ سورہ بقرہ، آیت ۲۶۹ ۔”وہ جس کو بھی چاہتا ہے حکمت عطا کردیتا ہے ۔ اور جسے حکمت عطاکردی جائے اسے گویا خیر کثیر عطا کر دی ۱۵ سورہ اعراف ، آیت ۱۵۷ ۔”جو لوگ کہ رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکها ہو پاتے ہیں کہ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور ان پر سے سنگین بوجه اور قید و بند کو اٹها دیتا ہے پس جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کا احترام کیا اس کی امدادکی اور اس نور کا اتباع کیا جو اس کے ساته نازل ہوا ہے وہی درحقیقت فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں“۔
نیک افعال کے دائرے کو عقائد حقہ ،اخلاق حمیدہ اور اعمال صالحہ تک وسعت دی،نیز برے اعمال کو باطل عقائد،اخلاق رذیلہ اور فاسد کردار تک بڑها کر امر بالمعروف ونهی عن المنکر کو تمام مومنین و مومنات کی ذمہ داری قرار دیا اور فرمایا:
(
وَالْمُو مِْٔنُوْنَ وَالْمُو مِْٔنَاتُ بَعْضُهُمْ ا ؤَْلِيَاءُ بَعْضٍ يَّا مُْٔرُوْن بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَيُو تُْٔوْنَ الزَّکوٰةَ وَ يُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه ا ؤُْلٰئِکَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰه إِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَکِيْمٌ
)
(۱)
اور دوسرے مقام پر فرمایا(
يَا ا ئَُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالاَ تَفْعَلُوْنَخکَبُرَ مَقْتاً عِنْدَاللّٰه ا نَْٔ تَقُوْلُوْا مَالاَ تَفْعَلُوْنَ
)
(۲)
ان دو آیات کے ذریعے ہر فرد کے لئے اپنے تمام امور زندگی میں حکمت، عفت،شجاعت اور عدالت تک رسائی اور تمام فضائل انسانیت سے مزین مدینہ فاضلہ کی تشکیل کا راستہ دکهایا ۔
اور یہ سب کے سب نمونے آفتاب ہدایت قرآن کی ایک کرن تھے وگرنہ تمام معارف الهیہ نیز دِنیوی اور اخروی سعادت سے متعلق رہنمائی کے لئے ضروری ہے کہ انسان عقائد، اخلاق،عبادات،معاملات اور سیاست سے متعلق، قرآنی آیات کے اسرار و رموز کا مطالعہ کرے، جس کے لئے مفصل کتب تحریر کرنا ہوں گی ۔
۳۔قرآ ن کی غیب سے متعلق خبریں :
پروردگار عالم کی جانب سے رسالت کے حامل نیز تا قیامت انسانی ہدایت کے دعویدار کے لئے سب سے زیادہ دشوار کام آئندہ کی خبریں دینا ہے، کیونکہ اگر اس کے غلط ہونے کا رتی برابر ایک موہوم سا اندیشہ بھی ہو تو اس محتمل کی عظمت کے باعث جو اس کے آئین کی بنیاد کے منهدم ہونے کا سبب بن سکتی ہے، ضروری ہے کہ احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے اپنے لبوں کو سی لے ۔اب اگر ہم دیکھیں کہ وہ یقین اور نهایت اطمینا ن خاطر کے ساته آئندہ واقع ہونے والے امور سے متعلق اطلاع دے رہا ہے اور وہ خبریں بھی سچ ثابت ہو رہی ہیں، تو اس کی ان خبروں سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ وہ ایسے علم سے متصل ہے جوزمان اور زمانیات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
قرآن کی غیب سے متعلق بعض خبریں یہ ہیں :
الف۔ مغلوب ہونے کے بعد دوبارہ روم کے غالب آنے کی خبر دینا( الٓمٓخ غُلِبَتِ الرُّوْمُخ فِی ا دَْٔنَی اْلا رَْٔضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ ) (۳) اور یہ خبر اس وقت دی گئی جب کوئی شخص ایران کی شکست اور روم کی فتح کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، جس کی کتب تاریخ گواہ ہیں۔
ب۔آنحضرت (ص) کے دوبارہ مکہ آنے کی خبر دینا( إِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَيْکَ الْقُرْآنَ لَرَادُّکَ إِلیٰ مَعَادٍ ) (۴)
ج۔منافقین کی پیغمبر (ص) کو قتل کرنے کی سازش اور پروردگار عالم کا آپ کی حفاظت کی خبر دینا( يَاا ئَُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا ا نُْٔزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ إِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَه وَاللّٰهُ يَعْصِمُکَ مِن النَّاسِ ) (۵)
د۔فتح مکہ،کے موقع پر مسلمانوں کے مسجدالحرام میں داخل ہونے، نیز اس موقع پران کے روحی وجسمانی حالات و احساسا ت کی خبر دینا( لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ آمِنِيْنَ مُحْلِقِيْنَ رُوُ سَٔکُم وَمُقَصِّرِيْنَ لاَ تَخَافُوْنَ ) (۶)
____________________
۱ سورہ توبہ، آیت ۷۱ ۔”مومن مرد اور عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں یہ سب ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ۔ زکوة ادا کرتے ہیں الله اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یهی وہ لوگ ہیں جن پر عنقریب خدا رحمت نازل کرے گا کہ وہ ہر شئے پر غالب اور صاحب حکمت ہے“۔
۲۔”ایمان والو! آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو۔بے شک الله کے نزدیک / ۲ سورہ صف، آیت ۳یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو“۔
۱۔ ”الٓمٓ۔روم والے مغلوب ہوگئے۔قریب ترین علاقہ میں لیکن یہ مغلوب ہو جانے کے بعد /۲/ ۳ سورہ روم ، آیت ۳عنقریب پھر غالب ہو جائیں گے“۔
۴ سورہ قصص ، آیت ۸۵ ۔”بے شک جس نے آپ پر قرآن کا فریضہ عائد کیا ہے وہ آپ کو آپ کی منزل تک ضرور پهنچا ئے گا“۔
۵ سورہ مائدہ ، آیت ۶۷ ۔”اے پیغمبر آپ اس حکم کو پهنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پهنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکہے گا“۔
۶ سورہ فتح ، آیت ۲۷ ۔”تو تم لوگ مسجد الحرام میں امن وسکون کے ساته سر کے بال منڈا کر اور تهوڑے سے بال کاٹ کر داخل ہوگے اور تمہیں کسی طرح کا خوف نہ ہوگا “۔
ه۔غزوہ تبوک سے لوٹنے کے بعد منافقین کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی( فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِی ا بََٔداً وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا ) (۱) اور ویسے ہی ہو اجس کی آیت نے پهلے خبر دی تھی۔
و۔جنگ بدر میں کفار کو اپنی تعداد پراس قدر غرور تھا کہ وہ اپنی جیت کو یقینی سمجهتے تھے،تو یہ آیت نازل ہوئی( ا مَْٔ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌخ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ) (۲)
ز۔فتح خیبر اور مسلمانوں کو غنیمت ملنے سے پهلے اور ان دنوں جب ایران اور دیگر ممالک کے خزائن پر تسلط کا خیال بھی کسی کے ذهن میںنہیں آسکتا تھا یہ آیات نازل ہوئیں( لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَن الْمُو مِْٔنِيْنَ إِذْ يُبَايِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوْبِهِمْ فَا نَْٔزَلَ السَّکِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَ ا ثََٔابَهُمْ فَتْحاً قَرِيْباًخ وَّ مَغَانِمَ کَثِيْرَةً يَّا خُْٔذُوْنَهَا وَ کَانَ اللّٰهُ عَزِيْزاً حَکِيْماًخ وَّعَدَکُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ کَثِيْرَةً تَا خُْٔذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَکُمْ هٰذِه وَ کَفَّ ا ئَْدِی النَّاسِ عَنْکُم وَ لِتَکُوْنَ آيَةً لِّلْمُو مِْٔنِيْنَ وَ يَهْدِيَکُمْ صِرَاطاً مُّسْتَقِيْماًخ وّ ا خُْٔریٰ لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ ا حََٔاطَ اللّٰهُ بِهَا وَ کَانَ اللّٰهُ عَلیٰ کُل شَیْءٍ قَدِيْرًا ) (۳)
ح)جب رسول الله (ص) کے فرزند کے انتقال پر عاص بن وائل نے کها : بے شک محمد ابتر ہے۔ اس کا بیٹا نہیں رہا جو اس کا قائم مقام ہو، لہٰذا اس کی موت کے ساته لوگ اسے بھی بهلا دیں گے،تو یہ سورہ نازل ہوئی( إِنَّا ا عَْٔطَيْنٰکَ الْکَوْثَرَخ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْخ إِنَّ شَا نِْٔئَکَ هُوَ اْلا بَْٔتَرُ ) (۴) اور ساته ساتھ یہ بھی خبر دی کہ آپ (ص) کی نسل باقی رہے گی اور ابتر کهنے والوں کی اپنی نسلیں منقطع ہوجائیں گی ۔(۵)
۴ ۔اسرار خلقت سے مکمل آگاہی :
جس زمانے میں انسانی علم ودانش کے مطابق اجرام فلکی کو بسیط خیال کیا جاتا تھا اور ان میں حرکت کا تصور تک نہ تھا اس وقت کو اکب کی خاص مداروں میں حرکت کی خبر دی( لاَ الشَّمْسُ يَنْبَغِی لَهَا ا نْٔ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَ لاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ يَّسْبَحُوْنَ ) (۶)
جس زمانے میں اشیاء کے درمیان قانونِ زوجیت کے عمومی ہونے کی خبر تک نہ تھی فرمایا( وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) (۷)
اور جس وقت دوسرے سیاروں پر جانداروںکے وجود کا احتمال تک نہ تھا فرمایا:( وَمَابَثَّ فِيْهِمَا مِنْ دَابَّةٍ ) (۸)
اور اسی طرح نباتات کے درمیان ہوا کے ذریعے تلقیح کی خبر دی( وَا رَْٔسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ ) (۹)
____________________
۱ سورہ توبہ، آیت ۸۳ ۔”تو آپ کہہ دیجئے تم لوگ کبھی میرے ساته نہیں نکل سکتے اور کسی دشمن سے جهاد نہیں کر سکتے“۔
۲ سورہ قمر ، آیت ۴۴،۴۵ ۔”یا ان کا کهنا یہ ہے کہ ہمارے پاس بڑی جماعت ہے جو ایک دوسرے کی مدد کرنے والی ہے۔عنقریب یہ جماعت شکست کها جائے گی اور سب پیٹه پهیر کر بها گ جائیں گے“۔
۱۸ ۔”یقینا خدا صاحبان ایمان سے اس وقت راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ /۱۹/۲۰/ ۳ سورہ فتح ، آیت ۲۱
کی بیعت کر رہے تھے پھر اس نے وہ سبکچھ دیکھ لیا جو ان کے دلوں میں تھا تو ان پر سکون نازل کر دیا اور انہیں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کردی۔اور بہت سے منافع بھی دیدیئے جنہیں وہ حاصل کریں گے اور الله ہر ایک پر غالب آنے والا اور صاحب حکمت ہے۔اس نے تم سے بہت سے فوائد کا وعدہ کیا ہے جنہیں تم حاصل کروگے پھر اس غنیمت (خیبر) کو فوراً عطا کر دیا اور لوگوں کے هاتهوں کو تم سے رو ک دیا اور تاکہ یہ صاحبان ایمان کے لئے ایک قدرت کے نشانی بنے اور وہ تمہیں سیدہے راستہ کی ہدایت دے دے۔اور دوسری غنیمتیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے خدا ان پر محیط ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے“۔
۱۔”بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیاہے۔لہٰذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑہیں اور /۲/ ۴ سورہ کوثر ، آیت ۳
قربانی دیں۔یقینا آپ کا دشمن ہی بے اولاد رہے گا“۔
۵ تفسیر کبیر فخر رازی ج ۳۲ ، ص ۱۲۴ ، تفسیر مجمع البیان، ج ۱۰ ، ص ۴۵۹ ۔
۶ سورہ یس، آیت ۴۰ ۔”نہ آفتاب کے بس میں ہے کہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات کے لئے ممکن ہے کہ وہ دن سے آگے بڑه جائے ۔ اور یہ سب کے سب اپنے اپنے فلک ومدار میں تیرتے رہتے ہیں“۔
۷ سورہ ذاریات، آیت ۴۹ ۔”اور ہر شئے میں سے ہم نے جوڑا بنا یا ہے کہ شاید تم نصیحت حاصل کرسکو“۔
۸ سور ہ شوریٰ ، آیت ۲۹ ۔”ان کے اندر چلنے والے تمام جاندار ہیں“۔
۹ سورہ حجر ، آیت ۲۲ ۔”اور ہم نے ہواو ںٔ کو بادلوں کا بوجه اٹهانے والا بنا کر چلایا ہے“۔
جس زمانے میں اجرام فلکی کو بسیط اور ان کی خلقت کواجرام ارضی سے جدا اور مختلف خیال کیا جاتا تھا اور کسی کو ان کے رتق وفتق(۱) کے بارے میں خبر تک نہ تھی فرمایا( ا ؤََلَمْ يَرَالَّذِيْنَ کَفَرُوَا ا نََّٔالسَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ) (۲)
اور جس وقت انسان کائنات کی گستردگی سے بے خبر تھا فرمایا( وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَابِا ئَْد وَّإِنَّالَمُوْسِعُوْنَ ) (۳)
اور جب آسمانی سیاروں کے بارے میں ماہرین فلکیات خرق(۴) والتیام کے قائل نہ تھے یعنی کسی بھی جسم کو ان سیاروں کے مدار کے درمیان سے عبور کرنے کو ناممکن سمجهتے تھے۔اور جب کوئی ان میں انسان کے عبور کرنے کا تصور بھی نہ کرتا تھا، یہ آیت نازل ہوئی( يَا مَعْشَرَالْجِنِّ وَاْلإِنْسِ إِن اسْتَطَعْتُمْ ا نَْٔ تَنْفُذُوْا مِنْ ا قَْٔطَارِ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ فَانْفُذُوْا لاَ تَنْفُذُوْنَ إِلاَّ بِسُلْطَانٍ ) (۵)
اسرارکائنات کے بارے میںآیات کا نزول ،کہ جن کی جانب مختصراً اشارہ کیا گیا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کتاب حق تعالی کی جانب سے نازل کردہ ہے۔
۵ ۔قرآن کی جذابیت
هر باانصاف انسان جو قرآن کریم کے اسلوب بیان کو اچهی طرح جانتا ہو اس بات کا معترف ہے کہ چاہے کوئی بھی کلام فصاحت وبلاغت کے معیار کے مطابق بلند ترین درجے کا حامل ہی کیوں نہ ہو،
پھر بھی قرآن کی روح اور جذابیت کے مقابلے میں اس کی حیثیت اصلی پهول کے مقابلے میں کاغذی اور حقیقی انسان کی نسبت مجسمے کی ہے۔
۶ ۔قرآن میں عدم اختلاف:
اس بات میں شک وتردید کی گنجائش نہیں کہ انسان میں موجود فکری تکامل کے وجہ سے اس کے اعمال واقوال کبھی یکساں نہیں رہتے خواہ کسی ایک فن میں ماہر ہونے کے ساته ساته تمرکز افکار کے لئے تمام وسائل بھی اسے مهیا کر دیئے گئے ہوں تب بھی ہر ماہر فن کی زندگی کے مختلف مراحل میں اس کے علمی آثار میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ،کیونکہ فکری تحول کے نتیجے میں اس فکر کے تحت رونما ہونے والے آثار وافعال میں تحول ایک ضروری امر ہے۔
قرآن ایسی کتاب ہے جومعرفت مبدا ومعاد، آیات آفاق وانفس، خالق وخلق کے ساته انسان کے روابط، فردی واجتماعی ذمہ داریاں، گذشتہ امم کے قصوں اور انبیاء کے حالات جیسے مختلف امور پر مشتمل ہوتے ہوئے ایک ایسے شخص کی زبان پر جاری ہوئی جس نے نہ تو کہیں سے پڑها اور نہ ہی کوئی اس کا استاد تھا اور جس کے لئے مکہ میں مشرکین کے شر اور مدینہ میں کفار سے جنگوں اور منافقین کے مکر وحیلوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پریشانی افکار کے تمام اسباب موجودتہے۔
ان پر آشوب حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے طبیعی ہے کہ ایسے شخص کی زبان سے بیان شدہ کتاب کو بہت ہی زیادہ اختلافات پر مشتمل ہونا چاہیے تھا، لیکن قرآن میں عدم اختلاف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کا نزول فکرِ انسانی کے افق سے کہیں بلند تر ہے، کیونکہ یہ مقام وحی ہے جو جهالت اور غفلت سے منزہ ہے( ا فَلاَ يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلاَفاً کَثِيْراً ) (۶)
____________________
۱ رتق :بند ہونا فتق:شگاف ڈالنا۔
۲ سورہ انبیاء، آیت ۳۰ ۔”کیا ان کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ زمین وآسمان آپس میں جڑے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو الگ کیا ہے“۔
۳ سورہ ذاریات، آیت ۴۷ ۔”اور آسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا ہے اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں“۔
۴ خرق والتیام :کسی شئے کے پهٹ جانے کو خرق اور ان دونوں پهٹے ہوئے کناروں کو دوبارہ جڑجانے کو التیام کهاجاتا ہے۔ ماضی میں ستارہ شناس اور ماہرین فلکیات کا خیال تھا کہ زمین کے اوپر خلاء میں مختلف افلاک ہیں جو تہہ در تہہ پیاز کی تہوں کی مانند ہیں بنابر این ماہرین ان افلاک کی تہوں سے عبور کرنے کو ناممکن سمجهتے تھے اور اس امر کے ناممکن ہونے کی دلیل ان افلاک میں خرق و التیام کا ناممکن ہونا تھی ۔
۵ سورہ رحمن ، آیت ۳۳ ۔”اے گروہ جن وانس اگر تم میں قدرت ہو کہ آسمان وز مین کے اطراف سے باہر نکل جاو تو نکل جاو مگر یاد رکھو کہ تم قوت وغلبہ کے بغیر نہیں نکل سکتے ہو“۔
۶ سورہ نساء، آیت ۸۲ ۔”کیا یہ لوگ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے ہیں کہ اگر غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا“۔
۷۔قرآن کی علمی اور عملی تربیت :
اگر کسی کا دعوٰی ہو کہ وہ تمام اطباء جهان سے بڑا ہے تو یہ دعوٰی ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس دو راستے ہیں :
یا تو علم طب سے متعلق ایسی کتاب پیش کرے کہ اس کی طرح امراض کے اسباب، دواؤں اور علاج کو پهلے کسی نے ذکر نہ کیا ہو۔
یا پھر ایسے مریض کو جس کے تمام اعضاء وجوارح بیماریوں میں مبتلا ہوں، تمام اطباء اس کے علاج سے عاجز آچکے ہوں اور وہ مرنے کے قریب ہو، اگر اس کے سپرد کردیا جائے تو وہ ایسے مریض کو صحت وسلامتی کا لباس پهنا دے۔
انبیاء علیهم السلام، افکار وروح کے طبیب اور امراض انسانیت کے معالج ہیں۔
ان میں سرفهرست پیغمبر اسلام (ص) کی ذات اطهر ہے، جس کی علمی دلیل قرآن جیسی کتاب ہے جو انسان کے فکری، اخلاقی اور عملی امراض کے اسباب وعلاج میں بے مثال ہے اورہدایت قرآن کی بحث میں مختصر طور پر جس کے چند نمونے ذکر کئے گئے ہیں اور عملی دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) بد ترین امراضِ انسانیت میں مبتلا ایک معاشرے میں مبعوث ہوئے جن کے افراد فکری اعتبار سے اس حد تک گر چکے تھے کہ ہر قبیلے کے پاس اپنا ایک مخصوص بت تھا، بلکہ گهروں میں افراد اپنے لئے کجهور اور حلوے سے معبود بناتے تھے، صبح سویرے ان کے سامنے سجدہ بجا لاتے اور بهوک کے وقت ان ہی معبودوں کو کها لیا کرتے تھے۔
معرفت اور ایمان کے مرہم کے ذریعے ناسور زدہ افکار کا ایسا علاج کیا کہ وہ لوگ خالق جهاں کی تعریف ان الفاظ میں کرنے لگے( اَللّٰهُ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ هُوَالْحَیُّ الْقَيُّوْمُ لاَ تَا خُْٔذُه سِنَةٌ وَّلاَ نَوْمٌ لَّه مَافِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی اْلا رَْٔضِ مَنْ ذَا الَّذِی يَشْفَعُ عِنْدَه إِلاَّ بِإِذْنِه يَعْلَمُ مَا بَيْنَ ا ئَْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِنْ عِلْمِه إِلاَّ بِمَا شَاءَ وَسِعَ کُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ وَلاَ يَو دُُٔه حِفْظُهُمَا وَ هو الْعَلِیُّ الْعَظِيْمُ ) (۱) اور اس خالق حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہوکر کهنے لگے ((سبحا ن ربی الاعلی وبحمده ))
باہمی الفت کے اعتبار سے حیوانات سے زیادہ پست تھے کہ باپ اپنے ہی هاتهوں اپنی بیٹی کو نهایت ہی سنگدلی سے زندہ دفن کردیتا تھا۔(۲) اس درندہ صفت قوم میں باہمی الفت کو اس طرح زندہ کیا کہ مصر کی فتح کے بعد جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک خیمے میں پرندے نے گهونسلا بنایا ہوا ہے تو واپس پلٹتے وقت اس خیمے کو وہیں پر رہنے دیا کہ کہیں پرندے کے بچے اور گهونسلا ویران نہ ہوجائیں اور اسی لئے وہاں آباد ہونے والے شهر کا نام ”فسطاط“ رکھا گیا۔(۳)
فقراء کے مقابلے میں اغنیاء کے اظهارِ قدرت وگستاخی کو اس طرح دور کیا کہ ایک دن جب آنحضرت (ص) کی خدمت میں ایک مالدار شخص بیٹها تھا، ایسے میں ایک نادار شخص آکر اس کے ساتھ بیٹه گیا، اس مالدار شخص نے اپنا دامن ہٹا لیا اور جب متوجہ ہوا کہ آنحضرت (ص) یہ سب دیکھ رہے ہیں، کهنے لگا : یا رسول الله (ص) !میں نے اپنی آدہی ثروت اس غریب کو دی، اس غریب نے کها :
مجھے قبول نہیں ہے،کہیں میں بھی اس مرض میں مبتلا نہ ہوجاؤں جس میں یہ مبتلا ہے ۔(۴)
یہ کیسی تربیت تھی کہ مالدار کو ایسی بخشش اور نادار کو اتنی بلند نظری عطا کی اور امیر کے تکبر کو تواضع اور غریب کی ذلت کو عزت میں تبدیل کر دیا ۔کمزور پر طاقتور کے مظالم کا اس طرح قلع قمع کیا کہ امیر المومنین (ع) کی حکومت کے زمانے میں جس وقت مسلمانوں کے خلیفہ کے پاس ایران اور روم کے شهنشاہوں جیسی عظیم فوجی طاقتیں موجود تہیں اور مالک اشتر سپہ سالار تھے، ایک دن جب مالک اشتر ایک سادہ اور عام انسان کی طرح بازار سے گزر رہے تھے تو کسی نے ان کا مذاق
____________________
۱ سورہ بقرہ، آیت ۲۵۵ ۔”الله جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے زندہ بھی ہے اور اسی سے کل کائنات قائم ہے اسے نہ نیند آتی ہے نہ اُنگه آسمانوں اور زمین میں جوکچھ بھی ہے سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کر سکے ۔ وہ جوکچھ ان کے سامنے ہے اور جو پس پشت ہے سب کو جانتا ہے اور یہ اس کے علم کے ایک حصہ کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر وہ جس قدر چاہے ۔ اس کی کرسی علم واقتدار زمین وآسمان سے وسیع تر ہے اور اسے ان کے تحفظ میں کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی وہ عالی مرتبہ بھی ہے اور صاحب عظمت بھی“۔
۲ کافی ج ۲ ص ۱۶۲ ، کتاب الایمان و الکفر ، باب البر بالوالدین، ح ۱۸ ، الجامع لاحکام القرآن، ج ۷، ص ۹۷ ، آیت ۱۴۰
سورہ انعام، اور دوسری کتابیں۔
۳ معجم البلدان ج ۴ ص ۲۶۳ ۔
۴ کافی ج ۲ ص ۲۶۲ ۔
اڑایا۔لوگوں نے کها جس کا تم نے مذاق اڑایا، جانتے ہو وہ شخص کون ہے؟ اس نے کها: نہیں ؛جب اسے بتایا گیا کہ کون تھاتو پریشان ہوا کہ مالک اشتر کے پاس اس قدرت مطلقہ کے ہوتے ہوئے اب اس کا کیا حشرہوگا، مالک کی تلاش میں نکلا، اسے بتایا گیا کہ مالک اشتر مسجد کی طرف گئے ہیں، سر جهکائے مالک کے پاس گیا تاکہ اپنے کئے کی معافی مانگے، مالک نے کها :”تیرے عمل کی وجہ سے میں نے مسجد میں آکر دو رکعت نما زادا کی ہے تاکہ خدا سے تیری مغفرت کی درخواست کر سکوں ۔“(۱)
یہ تربیت ہی کا اثر تھا کہ طاقت وقدرت کا غرور اسے حی قیوم کے سامنے پیشانی رگڑنے سے نہ روک سکا اور اہانت کرنے والا جب سزا پانے کے خوف واضطراب میں مبتلا تھا، اسے سزا دینے کے بجائے خدا سے طلبِ مغفرت جیسا بہترین تحفہ عطا کیا ۔
قومی فاصلے اس طرح مٹا ئے کہ عجم کی نسبت عرب قومیت کے رسوخ کے باوجود، سلمان فارسی کو اس آیت کے حکم کے مطابق(۲) ( وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاوَةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْن وَجْهَه وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاکَ عَنْهُمْ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ لاَ تُطِعْ مَنْ ا غَْٔفَلْنَا قَلْبَه عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ هواهُ وَکَانَ ا مَْٔرُه فُرُطاً ) (۳) اپنے پهلو میں بٹهایا ٤ کہ جس کے نتیجے میں مدائن کی امارت ان کے حوالے کی گئی۔
رنگ ونسل کے امتیازات کو جڑ سے یوں اکهاڑا کہ بلال حبشی جیسے غلام کو اپنا مو ذٔن قرار دیا، اس وقت جب آنحضرت (ص) سے کها گیا کہ آپ نے جو بھی حکم دیا ہم نے قبول کیا لیکن اس کالے کوے کی آواز سننے کو تیار نہیں، تو آپ (ص) کا جواب یہ تھا،( يَا ا ئَُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقنَْاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّ ا نُْٔثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْباً وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ ا کَْٔرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ ا تَْٔقَاکُمْ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ ) (۵)
ایسا پاک و پاکیزہ درخت کاشت کیا کہ علم ومعرفت جس کی جڑیں،مبدا ومعاد پر اعتقاد اس کا تنا،
ملکاتِ حمیدہ واخلاقِ فاضلہ اس کی شاخیں، تقویٰ وپرہیزگاری اس کی کلیاں، محکم وسنجیدہ گفتار اور پسندیدہ کردار جس کے پهل تھے( ا لََٔمْ تَرَ کَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً کَلِمَةً طَيِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ا صَْٔلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَائِخ تُو تِْٔیْ ا کُُٔلَهَا کُلَّ حِيْنٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ) (۶)
انسانیت کے درخت کو اس تعلیم و تربیت کے ساته پروان چڑهایا او رعلی ابن ابی طالب (ع) کی شکل میں اس درخت کا بہترین ثمرعالم بشریت کے حوالے کیا کہ جس کے علمی و عملی فضائل کے عظیم الشان مجموعے میں سے یهی چند سطریں بہت ہیں کہ حیات رسول خدا (ص) میں جس کے ادب کا تقاضہ یہ تھا کہ اپنے علم و عرفان کا اظهار نہ کرتے ، لہٰذا آفتاب کی شعاع کے تحت ماہتاب کی طرح رہے اور آنحضرت (ص)کے بعد بھی استبداد کی گهٹا چها جانے کے باعث نور افشانی نہ کر پائے اور تقریباً پانچ سال کی مدت میں جمل، صفین و نهروان جیسی فتنہ انگیز اور تباہ کن جنگوں میں مبتلا ہونے کے باوجود،
نهایت ہی کم فرصت میں جب منبر خطابت پر بیٹهنے کا موقع ملا تو گفتار کا یہ عالم تھا کہ ابن ابی الحدید معتزلی کے بقول آپ (ع) کا کلام خالق کے کلام سے نیچے اورمخلوق کے کلام سے بلند قرار پایا۔(۷) معرفت خدا، تربیت نفس اور مضبوط معاشرتی نظام کے لئے فقط نهج البلاغہ کے بالترتیب خطبہ اول، خطبہ متقین اور عهد مالک اشتر کا مطالعہ ہی یہ بات واضح اور روشن کرنے کے لئے کافی ہے کہ علمی و عملی حکمت کا وہ کیسا بحرِ بے کراں ہے کہ یہ تمام نمونے جس کے قطروں کی مانند ہیں۔
____________________
۱ بحار الانوارج ۴۲ ص ۱۵۷ ۔
۲ مجمع البیان ج ۶، ص ۳۳۷ مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں ۔
۳ سورہ کہف ، آیت ۲۸ ۔”اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساته صبر پر آمادہ کرو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اسی کی مرضی کے طلب گار ہیں اور خبردار تمهاری نگاہیں ان کی طرف سے پھر نہ جائیں کہ زندگانی دنیا کی زینت کے طلب گار بن جاو اور ہر گز اس کی اطاعت نہ کرنا جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے محروم کر دیا ہے اور وہ اپنے خواہشات کا پیروکار ہے اور اس کا کام سراسر زیادتی کرناہے“۔
۴ مجمع البیان ج ۹، ص ۲۲۶ ، مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں۔
۵ سورہ حجرات ، آیت ۱۳ ۔”انسانو!هم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں
اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پر هیزگار ہے اور الله ہر شئے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے “۔
۶ سورہ ابراہیم، آیت ۲۴،۲۵ ۔”کیاتم نے نہیں دیکھا کہ الله نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پهنچی ہوئی ہے۔یہ شجرہ ہر زمانہ میں حکم پروردگار سے پهل دیتا ہے “۔
۷ شرح نهج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۲۴ ۔
جب میدان جنگ میں قدم رکھا تو تاریخ اس جیسا دلاور نہ دکها سکی، جس کی پیٹه زرہ سے خالی ہوا کرتی تھی اور جس نے ایک ہی رات میں پانچ سو تیئیس بار صدائے تکبیر بلند کی اور ہر تکبیر پر ایک دشمنِ اسلام کو واصل جهنم کیا۔(۱) اسی رات باوجود اس کے کہ چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہورہی تھی اور دائیں بائیں تیر گر رہے تھے، بغیرکسی کمترین اضطراب و پریشانی کے ہمیشہ کی طرح بندگی و عبادت خدا سے غافل نہ ہوئے اور نهایت سکون و اطمینان کے ساته میدان جنگ میں دونوںلشکروں کے درمیان نماز شب ادا کی(۲) ، اور عمرو بن عبدودّ جیسے تنو مند اور دیو هیکل سوار کو زمین پر پٹخ دیا۔ سنی و شیعہ محدثین نے رسول خدا (ص)سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: ((لمبارزة علی بن ا بٔی طالب لعمرو بن عبدودّ یوم الخندق ا فٔضل من عمل ا مٔتی إلی یوم القیامة ))(۳)
فتح خیبرکے روز ایک ہی وار میں یہود کے یکّہ تازدلاور، مرحب کے دو حصّے کردیئے اس کے بعد ستر سواروں پر تن تنها حملہ کرکے انہیں اس طرح هلاک کیا کہ مسلمان و یہود سب کے سب متحیر رہ گئے(۴) اور اس شجاعت کے ساته خوف خدا کا ایسا امتزاج پیش کیا کہ نماز کا وقت آتے ہی چهرے کا رنگ زرد پڑ جاتا اور بدن لرزنے لگتا تھا، لوگ پوچهتے تھے: کیا ہوا؟ آپ کی ایسی حالت کیوں ہورہی ہے؟ تو فرماتے:”اُس امانت کا وقت آ پهنچا ہے کہ اسے جب آسمان و زمین اور پهاڑوں کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا اور انسان نے وہ امانت لے لی۔“(۵)
وہ، کہ جس کی هیبت سے دن کے وقت میدان جنگ میں بڑے بڑے بهادروں کے بدن کانپ اٹهتے تھے، راتوں کو محراب عبادت میں مار گزیدہ انسان کی مانند، تڑپتے ہوئے اشکبار آنکهوں کے ساته اس طرح فریاد کرتا تھا: ”اے دنیا! اے دنیا! کیا تو میرے پاس آئی ہے؟! کیا تو میری مشتاق ہے؟! هیهات!
هیهات! کسی اور کو دہوکہ دے، مجھے تیری کوئی حاجت نہیں، میں نے تجہے تین طلاقیں دیں ،آہ! آہ!
زاد راہ کتنا کم ہے اور راہ کتنی طویل ہے؟“(۶)
سائل کے سوال کرنے پر حکم دیا: اسے ایک ہزار دے دو۔ جسے حکم دیا تھا اس نے پوچها:
سونے کے ہزار سکے دوں یا چاندی کے؟ فرمایا : میرے نزدیک دونوں پتهر ہیں، جس سے سائل کو زیادہ فائدہ پهنچے وہ دے دو(۷) شجاعت اور سخاوت کا ایسا امتزاج کس امت و ملت میں پایا جاتا ہے کہ میدان جنگ میں لڑائی کے دوران جب ایک مشرک نے کها: یا ابن ابی طالب! هبنی سیفک، تو آپ (ع) نے تلوار اس کی جانب پهینک دی۔ جب مشرک نے کها:وا عجبا!اے فرزند ابی طالب!ایسے سخت وقت میں تم نے ا پنی تلوار مجھے دے دی؟ تو آپ (ع)نے فرمایا: تم نے میری طرف دست سوال دراز کیا تھا اور سائل کو رد کرنا کرم کے خلاف ہے۔ اس مشرک نے اپنے آپ کو زمین پر گرا کر کها: یہ اہل دین کی سیرت ہے!!، پھر آپ کے قدموں کا بوسہ لیا اور مسلمان ہوگیا(۸) ابن زبیر نے آپ (ع)کے پاس آکر کها: میں نے اپنے والد کے حساب کتاب میں دیکھا ہے کہ آپ (ع) کے والدمیرے والد کے اسّی ہزار درہم کے مقروض تھے ۔ آپ (ع) نے وہ رقم اسے دے دی۔ اس کے بعد دوبارہ پلٹ کر واپس آیا اور کهنے لگا مجه سے غلطی ہوئی ہے، آپ کے والد نہیں بلکہ میرے والدآپ کے والد کے مقروض تھے۔ آپ نے فرمایاوہ رقم تمهارے والد کے لئے حلال اور جو رقم تم نے مجه سے لی وہ بھی تمهاری ہوئی(۹) زمانہ ایسے صاحب منصب کی مثال کهاں پیش کر سکتا ہے جس کی حکومت مصر سے خراسان تک پهیلی ہوئی ہو اور عورت کے کاندہے پر پانی کی مشک دیکھ کر اس سے لے اور منزل تک پهنچا آئے۔ اس سے احوال پرسی کرنے کے بعد، صبح تک اضطراب کی وجہ سے سو نہ سکے کہ اس بیوہ
____________________
۱ مناقب آل ابی طالب، ج ۲ص ۸۴ ۔
۲ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۱۷ ۔
۳ المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۳۲ ؛ تاریخ بغداد ج ۱۳ ص ۱۹ ۔بحار الانوار ج ۴۱ ص ۹۶ ۔
۴ بحار الانوار ج ۴۲ ص ۳۳ ۔
۵ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۱۷ ۔
۶ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۱۲۱ ۔
۷ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۳۲ ۔
۸ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۶۹ ۔
۹ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۳۲ ۔
عورت اور اس کے بچوں کا خیال کیوں نہ رکھا گیا۔ اگلے دن صبح سویرے یتیموں کے لئے اشیاء خوردنی لے جائے، کهانا پکا کر اپنے هاتهوں سے بچوں کو کهلائے اور عورت امیر المومنین (ع) کو پہچاننے کے بعد جب شرمندگی کا اظهار کرے تو اس کے جواب میں کہے: اے کنیز خدا! تم سے شرمندہ تو میں ہوں(۱) اپنی خلافت کے زمانے میںاپنے نوکر کے ساته کپڑے کے بازار سے گزرتے ہوئے لٹہے کی دو قمیضیں خریدے اور ان میں سے اچهی قمیض اپنے نوکر کو عطا کردے تاکہ نوجوان کی خواہشِ آرائش کی تسکین ہوتی رہے اور کم قیمت لباس خود پهنے(۲) زر و جواہر کے خزانے اختیار میں ہونے کے باوجود فرمایا: ((واللّٰه لقد رقعت مدرعتی هذه حتی استحییت من راقعها ))(۳)
آپ(ع) کی خدمت میں مال غنیمت لایا گیا جس پر ایک روٹی بھی رکھی تھی۔ کوفہ کے سات محلّے تھے۔ اس غنیمت اور روٹی کے سات حصے کئے، ہر محلے کے منتظم کو بلا کر اسے غنیمت اور روٹی کا ایک حصہ دیا(۴) ۔ غنیمت کو تقسیم کرنے کے بعد ہمیشہ دو رکعت نماز بجا لاتے اور فرماتے:((الحمد للّٰه الذی ا خٔرجنی منه کما دخلته ))(۵)
ایام حکومت میں اپنی تلوار بیچنے کی غرض سے بازار میں رکھوائی اور فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں علی کی جان ہے! اگر ایک لنگ خریدنے کے بھی پیسے میرے پاس ہوتے تو اپنی تلوار هرگز نہ بیچتا۔(۶)
جب کبھی آپ (ع) پر کوئی مصیبت وارد ہوتی اس دن ہزار رکعت نماز بجالاتے، ساٹه مسکینوں کو صدقہ دیتے اور تین دن روزہ رکھتے تھے(۷) خون پسینے کی کمائی سے ہزار غلام آزاد کئے(۸) ، اور دنیا سے رخصت ہوئے تو آٹه لاکه درہم کے مقروض تھے(۹) جس رات افطار کے لئے اپنی بےٹی کے هاں مہمان تھے، اس وسیع ملک کے فرمانروا کی بیٹی کے دستر خواں پر جَو کی روٹی، نمک اوردودہ کے ایک پیالے کے سواکچھ بھی نہ تھا۔ آپ (ع) نے جَو کی روٹی اور نمک سے افطار فرمایا اور دودہ چهوا تک نہیں کہ کہیں آپ (ع) کا دستر خوان رعایا کے دستر خوان سے زیادہ رنگین نہ ہوجائے۔(۱۰)
تاریخ کو اس جیسی کوئی دوسری شخصیت دیکھنا نصیب ہی نہ ہوئی کہ مصر سے خراسان تک سلطنت ہونے کے باوجود خود اس کے اورا س کے گورنروں کے لئے حکومت کا منشور ایسا ہو جسے امیرالمو مٔنین (ع) نے عثمان بن حنیف کے خط میں منعکس کیا ہے۔ اس خط کا مضمون و مفہوم تقریباً یہ ہے:
”اے ابن حنیف! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے بڑے لوگوں میں سے ایک شخص نے تمہیں کهانے پر بلایا اور تم لپک کر پهنچ گئے۔ رنگا رنگ کهانے اور بڑے بڑے پیالے تمهارے لئے لائے گئے۔ امید نہ تھی کہ تم ان لوگوں کی دعوت قبول کر لو گے کہ جن میں فقیر و نادار دہتکاردیئے گئے ہوںاور جن میں دولت مند مدعو ہوں۔ جو لقمے چباتے ہوانہیں دیکھ لیا کرو اور جس کے متعلق شبہ ہوا سے چهوڑ دو اور جس کے پاک وپاکیزہ راہ سے حاصل ہونے کا یقین ہو اس میں سے کهاؤ۔
____________________
۱ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۵۲ ۔
۲ بحار الانوار، ج ۴۰ ، ص ۳۲۴ ۔
۳ نهج البلاغہ خطبہ ۱۶۰ (خدا کی قسم اپنی قبا میں اتنے پیوند لگائے کہ درزی سے شرم آنے لگی)
۴ حلیة الاولیاء ج ۷ ص ۳۰۰ ۔
۵ بحار الانوار، ج ۴۰ ، ص ۳۲۱ ۔(حمد ہے اس خدا کی جس نے مجه کو اس سے اسی طرح نکالا جیسے اس میں داخل ہواتها)
۶ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۴۳ ۔
۷ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۱۳۲ ۔
۸ بحار الانوار، ج ۴۱ ، ص ۴۳ ۔
۹ بحار الانوار، ج ۴۰ ، ص ۳۳۸ ۔
۱۰ بحار الانوار، ج ۴۲ ، ص ۲۷۶ ۔
جان لو کہ ہر مقتدی کا ایک پیشوا ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور جس کے نورعلم سے کسب نور کرتا ہے۔دیکھو تمهارے امام کی حالت تو یہ ہے کہ اس نے دنیا کے سازوسامان میں سے دو بوسیدہ چادروں اور دو روٹیوں پر قناعت کرلی ہے۔ یہ تمهارے بس کی بات نہیںہے لیکن اتنا تو کرو کہ پرہیزگاری، سعی وکوشش ، پاکدامنی اور امور میں مضبوطی سے میرا ساته دو ، خدا کی قسم میں نے تمهاری دنیا سے سونا سمیٹ کر نہیں رکھا ،نہ اس کے مال و متاع میں سے انبار جمع کر رکہے ہیں ، نہ اپنے اس بوسیدہ لباس کی جگہ کوئی اور لباس تیار کیا ہے اور نہ ہی اس دنیا کی زمین سے ایک بالشت پر بھی قبضہ جمایا ہے۔“
یهاں تک کہ فرماتے ہیں :”اگر میں چاہتا تو صاف ستهرے شهد ، عمدہ گیہوں اور ریشم کے بنے ہوئے کپڑوں کو اپنے لئے مهیا کر سکتاتها، لیکن یہ کیسے ہو سکتاہے کہ خواہشات مجه پر غلبہ حاصل کرلیں اور حرص مجھے اچہے اچہے کهانے چن لینے کی دعوت دے، جب کہ حجاز اور یمامہ میں شاید ایسے لوگ ہوں کہ جنہیں ایک روٹی ملنے کی آس بھی نہ ہو اور نہ ہی کبھی انہیں پیٹ بهر کر کهانا نصیب ہوا ہو۔“(۱)
اسلامی حکومت کی حقیقت کو ایسے شخص کے آئینے میں دیکھنا چاہئے جو خود کوفہ میں ہوتے ہوئے لذیذ کهانے کی طرف اس احتمال کی بنا پر هاته تک نہیں بڑهاتا کہ کہیں حجاز یا یمامہ میں کوئی بهوکے پیٹ نہ ہو ،جو لٹہے کے ایک پرانے پیوند لگے کرتے کے ہوتے ہوئے دوسرے پرانے کرتے کے بارے میں سوچتا بھی نہیں اور اپنے لئے ایک بالشت زمین تک تیار نہیں کرتا ۔اس دنیا سے اس کی روٹی ،کپڑے اور مکان کی حدیہیں تک ہے کہ کہیں اس کا معیارِ زندگی اس کی رعایا کے فقیر ترین فرد سے بہتر نہ ہوجائے ۔
اس کی سلطنت میں عدالت اس طرح حکم فرما تھی کہ ایک دن اپنی زرہ یہودی کے پاس دیکھی تو اس سے کها:”یہ زرہ میری ہے“ ۔اسلام کی پناہ میں زندگی بسر کرنے والے یہودی نے کمالِ جرات کے ساته جواب دیتے ہوئے کها : ”یہ زرہ میری ہے اور میرے هاته میں ہے ،میرے اور تمهارے درمیان مسلمانوں کا قاضی فیصلہ کرے گا“۔
یہ جاننے کے باوجود کہ یہودی نے خیانت کی ہے اور زرہ چرائی ہے اس کے ساته قاضی کے پاس گئے اور جب قاضی، حضرت (ع)کے احترام میں کهڑا ہوا تو قاضی کے اس امتیاز برتنے پر اس سے ناراضگی کا اظهار کیا اور فرمایا:اگر یہ مسلمان ہوتا تو ضرور اس کے ساته ہی تمهارے سامنے بیٹهتا۔
آخر کار اس عدلِ مطلق کو دیکھ کر یہودی نے اعتراف کر لیا اور اسلام لے آیا۔آپ (ع) زرہ کے ساته اپنا مرکب بھی اس یہودی کو بخش دیتے ہیں ۔یہودی مسلمان ہونے کے بعد آپ (ع) سے جدا نہ ہوا یهاں تک کہ جنگ صفین میں شهادت کے مقام پر فائز ہوا(۲) جب آپ(ع) کو خبر ملی کہ اسلام کی پناہ میں زندگی گزارنے والی غیر مسلم عورت کے پاؤں سے پازیب چهین لی گئی ہے تو اس قانون شکنی کا تحمل نہ کرپائے اور فرمایا:((فلو إن إمرا مسلما مات من بعد هذا ا سٔفا ماکان به ملوما،بل کان به عندی جدیرا ))(۳)
راستے میں ایک بوڑہے کو دستِ سوال دراز کرتے ہوئے دیکھ کر جستجو شروع کی کہ اس کے بھیک مانگنے کا سبب کیا ہے ۔آپ (ع) کو تسلی دیتے ہوئے کها گیا یہ بوڑها نصرانی ہے۔ آپ (ع) نے ناراضگی کا اظهار کرتے ہوئے فرمایا:جوانی میں اس سے کام لیتے رہے اور بڑهاپے میں بھیک مانگنے کے لئے چهوڑ دیاہے ؟!اور حکم دیا کہ اس کے مخارج زندگی بیت المال سے دیئے جائیں ۔(۴)
خلق کو حقوق مهیا کرنے کا یہ حال تھا کہ چیونٹی کے منہ سے اس کی محنت سے حاصل کیا ہوا جوکا چهلکا چهیننے کے بدلے میں ہفت اقلیم بمع ان اشیاء کے جو ان کے آسمانوں کے نیچے ہیں لینے کو
____________________
۱ نهج البلاغہ خطوط ۴۵ ۔
۲ حلیة الاولیاء ج ۴ ص ۱۳۹ ۔
۳ نهج البلاغہ خطبہ ۲۷ (اگر ایک مسلمان اس واقعہ کو سننے کے بعد افسوس میں مر جائے تو کوئی ملامت کا مقام نہیں بلکہ میرے نزدیک اس پرمر ناہی مناسب ہے)
۴ وسائل الشیعہ ج ۱۵ ص ۶۶ ، کتاب الجهاد، ابواب جهاد العدو، باب ۱۹ ۔
تیار نہ تھے،(۱) اور خالق کے حقوق نبهانے میں یہ کیفیت تھی کہ نہ جنت کے شوق،نہ جهنم کے خوف ،
بلکہ اسی کو اہل عبادت جان کر اس کی عبادت وبندگی میں ہمہ تن مصروف تھے(۲) جیسا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا:((ا نٔا ا دٔیب اللّٰه وعلی ا دٔیبی ))،(۳) ایسے انسان کی تربیت کر کے بشریت کو مقامِ کمال پر پهنچا دیا، کہ جس نے میدان جنگ کی ایسی پامردی واستقامت دکهائی کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور ایسی رقت قلبی کا امتزاج پیش کیا کہ اگر یتیم کے چهرے پر نظر پڑ جاتی تو رخسار پر آنسو جاری ہوجاتے اور جگر سوز فریاد بلند ہوتی اور اس تربیت سے اسے آزادی وحریت کی اس منزل تک پهنچا دیا کہ پھر وہ دنیا کے محدود اور آخرت کے نامحدود تمام مصالح ومنافع سے بلند وبالا ہو کر صرف بندگی وعبادت پروردگار عالم کے طوق غلامی کو ،وہ بھی اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ اس کی اہلیت کی وجہ سے اپنی گردن میں ڈال لیا۔اور آزادی کے ساته ایسی بندگی کا امتزاج پیش کیا جو خلقت جهان وانسان کا اصل مقصد ہے اور اپنی رضا وغضب کو خالق کی رضا وغضب میں اس طرح فنا کیا کہ جس پر لیلة المبیت(۴) میں رسول الله (ص) کے بستر پر نیند اور خندق کے دن ثقلین کی عبادت سے افضل ضربت،(۵) گواہ ہیں ۔
یقینا، ایسا باغبان جو سیم زدہ جزیرة العرب میں چند محدود سالوں کے عرصے میں سخت ترین مشکلات میں مبتلا ہونے کے باوجود، دنیا کے سامنے ایک ایسی امت اور درختِ آدمیت کا ایسا بہترین پهل پیش کرے ،یہ کهنے کا حق رکھتا ہے کہ بوستان انسانیت کا سب سے بڑا باغبان میں ہوں ۔
آیا عقل وانصاف یہ تقاضا نہیں کرتے کہ ان معجزات سے قطع نظرکرتے ہوئے کہ جنہیں اس مختصر مقدمے میں ذکر کرنا ممکن نہیں ، صرف اس ایک علمی وعملی نمونے کی بنیاد پر کہ جس کا نهایت ہی مختصر الفاظ میں ذکر کیاگیا ، انسان تعصب اور ہوا وہوس کو خود سے دور کرتے ہوئے اس بات پر ایمان لے آئے کہ فقط آئین اسلام ہی بشریت کو کمال کے آخری درجے تک پهنچا سکتا ہے ؟!اور آیا فطرت وعقل انسانی جس چیز کا دین سے علماً وعملاً تقاضا کرتی ہے، کیا اس دین میں کماحقہ موجود نہیں ؟!
آیا انسان سازی کے لئے انفرادی واجتماعی نقطہ نظر سے اس سے بڑه کر کوئی اور تعلیم وتربیت بھی ہے؟!
یهی چیز پیغمبر اسلام (ص) کی خاتمیت اور ان کی شریعت کے ابدی ہونے پر ایمان ہے( مَا کَانَ مُحَمَّدٌ ا بََٔا ا حََٔدٍ مِّنْ رِجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ وَکاَنَ اللّٰهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِيْماً ) (۶)
آنحضرت (ص) کی آفتاب زندگی کی کرن آخر میں آنحضرت (ص) کے خورشید زندگی کی ایک شعاع پر ، جو اِن کی رسالت کی گواہ بھی ہے ،نظر ڈالتے ہیں :
جس دور میں دعوت اسلام کے اظهار پر مال ومقام کی پیشکش اور دہمکیاں اپنی آخری حد کو پهنچ گئیں، قریش نے ابو طالب (ع) کے پاس آکر کها: تمهارے بهتیجے نے ہمارے خداؤں کو برا کها ،
ہمارے جوانوں کو تباہ اور جماعت کو منتشر کردیا۔اگر اسے مال چاہیے تو ہم اتنا مال ودولت جمع کریںگے کہ تمام قریش میں بے نیاز ترین شخص بن جائے اور جس عورت سے چاہے اس سے شادی کردیںگے، یهاں تک کہ سلطنت وبادشاہی کا وعدہ بھی دیا گیا، لیکن آنحضرت کا جواب یہ تھا : اگرمیرے داہنے هاته پر سورج اوربائیں هاته پر چاند لا کر رکھ دیں پھر بھی میںاس دعوت سے باز نہیں آؤں گایہ دیکھ کر کہ اس لالچ دلانے کا بھی اثر نہ ہوا تو انہوں نے دہمکیوں اور اذیتوں کا سهارا لیا
____________________
۱ نهج البلاغہ خطہ ۲۲۴ ۔
۲ عوالی اللئالی ج ۱ ص ۴۰۴ ۔
۳ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۳۱ (میں خدا کا تربیت شدہ ہوں اور علی (ع) میرے تربیت شدہ ہیں)
۴ بحار الانوار ج ۳۶ ص ۴۰ ۔
۵ بحار الانوار ج ۳۹ ص ۲۔
۶ سورہ احزاب ، آیت ۴۰ ۔”محمد تم میں سے کسی کا باپ نہیں ہے بلکہ خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر اور خاتم النبیین ہے اور خدا ہر چیز کا جاننے والا ہے“۔
، ۷ بحار الانوارج ۱۸ ص ۱۸۰-۱۸۲ ۔
جن کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ (ص) مسجد الحرام میں نماز شروع کرتے بائیں جانب سے دوشخص سیٹی اور دائیں طرف سے دو شخص تالیاں بجاتے، تاکہ نماز میں خلل ڈالیں۔(۱) راستہ چلتے وقت آپ (ص) کے سرِمبارک پر خاک پهینکا کرتے اور سجدے کی حالت میں آپ (ص)پر بھیڑ کی اوجهڑی پھینکتے(۲) حضرت ابوطالب(ع) کی رحلت کے بعد آپ نے قبیلہ ثقیف کے بزرگوں سے تبلیغ دین کے سلسلے میں مدد لینے کے لئے طائف کی جانب سفر کیا، لیکن انہوں نے دیوانوں اور غلاموں کواس بات پر اکسایا کہ آنحضرت(ص) کا پیچها کر کے آپ کو آزار پهنچائیں۔ آنحضرت (ص)نے ایک باغ میں پناہ لی اور انگور کی بیل کے سائے میں بیٹه گئے۔ آنحضرت (ص)کی حالت اتنی رقت بار تھی کہ مشرک دشمن کو بھی آپ (ص)کی حالت پر رحم آگیا اور عداس نامی نصرانی غلام سے کها: انگور توڑ کر اس کے پاس لے جاؤ۔جب غلام نے انگوروں کا طبق آپ (ص) کے پاس لا کررکھا، آپ (ص)نے هاته آگے بڑهاتے ہوئے کها: بسم الله ۔
غلام نے کها: اس شهر کے لوگ تویہ کلمات نہیں بولتے ۔
فرمایا:کس شهر سے ہو؟اور تمهارا دین کیاہے؟اس نے کها: نصرانی ہوں اور میرا تعلق نینوا سے ہے ۔
فرمایا :یونس بن متی کے شهرسے ؟
عداس نے کها: یونس کو کهاں سے جانتے ہو؟
فرمایا: وہ میرا بهائی اور پیغمبر تھا، میں بھی پیغمبر ہوں۔ یہ سنتے ہی عداس نے آنحضرت (ص) کے هاته پاؤں کا بوسہ لیا(۳) آنحضرت (ص) کے پیروکاروں کو سخت ترین تشدد کے ذریعے تکالیف میں مبتلا کیا جاتا اور ان میں سے بعض کوجلتی دہوپ میں ڈال کر ان کے سینوں پر بهاری بهر کم پتهر رکہے جاتے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوتے:”احد، احد۔“(۴)
عمار یاسر کی ضعیف العمر اور ناتواں ماں سمیہ کو نهایت شدید اذیتوں میں رکھا گیا تاکہ دین خدا کو چهوڑ دے، آخر کا ر جب وہ بوڑهی خاتون نہ مانی تو اسے دردناک طریقے سے قتل کردیا گیا(۵) اس قوم سے اتنی زیادہ تکالیف کا سامنا کرنے کے بعد جب آپ (ص) سے ان کے خلاف بد دعا کرنے کو کها گیا تو فرمایا:((إنما بعثت رحمة للعالمین ))(۶) اور ان مظالم کے مقابلے میں اس قوم پر عنایت ومهربانی کا یہ عالم تھا کہ یہ دعا فرماتے : ”اے پروردگار!میری قوم کو ہدایت فرما کہ یہ نادان ہیں۔ “(۷)
عذاب مانگنے کے بجائے رحمت کی دعا کیا کرتے۔ رحمت بھی وہ کہ جس سے بڑی رحمت کا تصور نہیں کیا جاسکتا، یعنی نعمت ہدایت۔”قومی“ (میری قوم)کا لفظ استعمال کر کے اس قوم کو خود سے منسوب کردیا کہ اس نسبت سے ان کو عذاب خدا سے بچاؤ کا تحفہ عطا کردیں، خدا کی بارگاہ میں ان کی شکایت کرنے کے بجائے شفاعت کرتے اور ان کی جانب سے یہ عذر پیش کرتے کہ یہ نادان ہیں۔
زندگی گزارنے کا انداز یہ تھا کہ جوکی روٹی خوراک تھی،اس کو بھی کبھی سیرہو کر تناول نہ کیا(۸) غزوہ خندق میں آپ (ص) کی بیٹی صدیقہ کبریٰ علیها السلام، آپ (ص) کے لئے روٹی کا ایک ٹکڑا لائی جو تین دن کے فاقے کے بعد پهلی غذا تھی، جسے آپ (ص) نے تناول فرمایا(۹) اور زندگی کا یہ اندازتنگدستی کی وجہ سے نہ تھا ، اس لئے کہ اسی زمانے میں آپ (ص) کی بخشش و عطا سو اونٹوں تک بھی پهنچتی تھی۔(۱۰)
____________________
۱ بحارالانوار ج ۱۸ ص ۱۶۰ ۔
۲ بحار الانوارج ۱۸ ص ۲۰۵ ؛بحار الانوار ج ۱۹ ص ۱۷ ؛الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۶۳ ۔
۳ مناقب آل ابی طالب ج ۱ ص ۶۸ ۔
۴ حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۸ ۔
۵ بحار الانوار ج ۱۸ ص ۲۱۰ ۔
۶ بحار الانوار ج ۱۸ ص ۲۴۳ (بے شک میں فقط عالمین کے رحمت بن کر مبعوث ہوا ہوں)
۷ الخرائج والجرائح ج ۱ ص ۱۶۴ ۔
۸ بحار الانوارج ۱۶ ص ۲۴۳ ۔
۹ بحار الانوارج ۱۶ ص ۲۲۵ ۔
۱۰ بحار الانوار،ج ۲۱ ، ص ۱۷۰ ۔
دنیا سے جاتے وقت نہ آپ (ص) نے درہم و دینار چهوڑے، نہ غلام و کنیز اور نہ ہی کوئی بھیڑ اوراونٹ، بلکہ آپ کی زرہ بھی مدینہ کے ایک یہودی کے پاس تھی، جسے آپ (ص) نے گهر والوں کی غذا کے انتظام کے لئے خریدے گئے بیس صاع جو کے بدلے گروی رکھوایا تھا(۱) دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے :
۱۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت (ص) کے مقام ومنزلت اور بے نظیر امانت داری کے ہوتے ہوئے کوئی بھی آپ سے گروی رکھنے کا تقاضا نہیں کرتا تھا، لیکن یہ سمجهانا مقصود تھا کہ قرض کی تحریری دستاویز نہ ہونے کی صورت میں، اسلام کی عظیم ترین شخصیت تک، ایک یہودی کے حق میں بھی قانونِ رہن کا خیال رکہے، جو صاحبِ مال کے لئے وثیقہ ہے ۔
۲۔لذیذ ترین غذائیں فراہم ہونے کے باوجود پوری زندگی جو کی روٹی سے اس لئے سیر نہ ہوئے کہ کہیں آنحضرت کی غذا رعایا کے نادار ترین فرد کی غذاسے بہتر نہ ہو۔
آپ (ص) کے ایثار کا نمونہ یہ ہے کہ وہ بیٹی جس کے فضائل سنی اور شیعہ کتب میں بکثرت ذکر کئے گئے ہیں، قرآن مجید میں مباہلہ(۲) اور تطهیر(۳) جیسی آیات اور حدیث کساء(۴) و عنوان ((سیدة نساء ا هٔل الجنة ))(۵) جیسے بلند مرتبہ مضمون پر مشتمل احادیث جو اس انسان کامل میں ممکنہ کمال انسانی کے مکمل تحقق کی دلیل ہیں، ایسی بیٹی جس کے توسط سے رسول خدا (ص) کی نسل تاقیات باقی رہے گی،
وہ جس کی آغوش میں مطلعِ نجومِ ہدایت اور ائمہ اطهار پروان چڑهتے رہے اور پیغمبر اسلام(ص)کے نزدیک جس کے احترام کا عالم یہ تھا کہ جب بھی آنحضرت (ص)کی خدمت میں تشریف لاتیں آنحضرت(ص) اپنی جگہ پر بٹهاتے اور هاتهوں کا بوسہ لیا کرتے تھے۔(۶) وہ بیٹی جووالد گرامی کی اقتداءمیں محراب عبادت میں اتنا قیام کرتیں کہ دونوں پاؤں پر ورم آجاتا(۷) اور اتنا زیادہ محو عبادت ہونے کے باوجود امیر المومنین(ع)کے گهر اس طرح خانہ داری کرتیں کہ ایک دن جب پیغمبر اسلام(ص)تشریف لائے تو آپ بچے کو دودہ پلانے کے ساته ساته چکی بھی چلا رہی تہیں، آنحضرت (ص) نے آنسوؤں سے تر آنکهوں کے ساته یہ رقت بار منظر دیکھا اور فرمایا:((تعجلی(تجرئی)مرارة الدنیا بحلاوة الآخرة ))(۸)
تو آنحضرت کے جواب میں کها:((یا رسول اللّٰه(ص))! الحمد للّٰه علی نعمائه والشکر للّٰه علی آلائه ))۔ ایسی بیٹی اپنے چکی چلانے کی وجہ سے گٹے پڑے ہوئے هاتهو ں کولے کر والد گرامی کے پاس کنیز مانگنے کے لئے تو آئی لیکن اپنی حاجت بیان کئے بغیرلوٹ گئی اور وہ باپ جو اگر چاہتا تو بیٹی کے گهر میں رزو جواہر کا انبار لگا سکتا تھا، خدمت گزاری کے لئے غلام اور کنیزیں دے سکتا تھا، اس نے خدمت گزارکے بجائے چونتیس مرتبہ تکبیر، تینتیس مرتبہ تحمید اور تینتیس مرتبہ تسبیح تعلیم فرمائی(۹) یہ ہے کردار حضرت ختمی مرتبت(ص) ،کہ اتنے سخت حالات میں زندگی بسر کرنے والی ایسی بیٹی کے مقابلے میں ناداروں کے ساته کس طرح ایثار فرماتے ہیں اور وہ ہے والد گرامی کی صبر کی تلقین کے جواب میں مادی ومعنوی نعمتوں کا شکر بجا لانے والی صدیقہ کبریٰ، جو رضا بقضائے الٰهی میںفنا اور الطاف الهیہ میں استغراق کا ایسا نمونہ پیش کرتی ہے کہ کڑواہٹ کو مٹهاس اور مصیبت
____________________
۱ بحار الانوارج ۱۶ ص ۲۱۹ ۔
۲ سورہ آل عمران، آیت ۶۱ ۔
۳ سورہ احزاب، آیت ۳۳ ۔
۴ الاصابة فی تمییز الصحابة،ج ۴، ص ۴۶۷ ؛ تفسیر الطبری ج ۲۲ ص ۹، آیہ تطهیر کے ذیل میں؛مستدرک صحیحین ؛ ۳۲۳ ، اور دوسری کتب اہل سنت؛کافی ج ۱ ص ۲۸۷ ، ج ۲ ص ۴۱۶ ؛تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۱۸۳ ؛مسند احمد حنبل ج ۶ ص ۲۹۸
الخصال ص ۵۵۰ ودوسری کتب خاصہ۔
۵ صحیح بخاری، ج ۴، ص ۱۸۳ ، باب علامات البنوة فی الاسلام اور اس کتاب کے دوسرے مقامات؛ صحیح ابن حبان ج ۱۵ ، ص ۴۰۲ ،حدیث نمبر ۶۹۵۲ ، اور اہل سنت کی دوسری کتابیں؛ بحار الانوارج ۲۲ ص ۴۸۴ ، اور شیعوں کی دوسری کتابیں ۔
۶ بحار الانوار ج ۴۳ ص ۲۵ ۔
۷ بحار الانوارج ۴۳ ص ۷۶ ۔
۸ بحار الانوار ج ۴۳ ص ۸۶ ۔(اے میری بیٹی دنیا کی سختیوں کو آخرت کی مٹهاس کے مقابل میں جلدی کرو(برداشت کرو)
۹ بحار الانوارج ۴۳ ص ۸۵ ۔
وپریشانی کو اس کی نعمت قرار دیتے ہوئے ا س پر صبر کے بجائے حمد وشکر کو اپنی ذمہ داری سمجهتی ہے ۔
آپ (ص)کے اخلاق وکردار کا نمونہ یہ ہے کہ خاک پر بیٹهتے(۱) غلاموں کے ساته کهانا کهاتے اور بچوں کوسلام کرتے تھے(۲) ایک صحرانشین عورت آپ (ص) کے پاس سے گزری تو دیکھا آ پ (ص) خاک پر بیٹہے کهانا کها رہے ہیں۔ ا س عورت نے کها:اے محمد (ص)!تمهاری غذا غلاموں جیسی ہے اور بیٹهنے کا انداز بھی غلامو ں جیسا ہے۔ آپ (ص) نے فرمایا :مجه سے بڑه کر غلام کون ہوگا(۳) اپنے لباس کو اپنے هاتهوں سے پیوند لگاتے ٤،بھیڑ کا دودہ نکالتے ۵اور غلام وآزاد دونوں کی دعوت قبول کرتے تھے ۔ ٦
اگر مدینہ کے آخری کونے میں بھی کوئی مریض ہوتا اس کی عیادت کو جاتے(۷) فقراء کے ساته ہم نشینی فرماتے اور مساکین کے ساته دسترخوان پر بیٹه جاتے(۸) آپ (ص) غلاموں کی طرح کهاتے اور غلاموں کی مانند بیٹهتے تھے(۹) جو کوئی آپ (ص) سے هاته ملاتا ،جب تک وہ خود نہ چهوڑتا آپ اپنا هاته نہیں کهینچتے تھے ۔(۱۰)
جب کسی مجلس میں تشریف لاتے تو آنے والے جهاںتک بیٹه چکے ہوتے ان کے بعد بیٹہ جاتے(۱۱) اور کسی کی طرف ٹکٹکی باندہ کر نہیںدیکھتے ۔(۲)
پوری زندگی میں سوائے خدا کی خاطر کسی پر غضب نہ کیا ۔(۱۳)
ایک عورت آنحضرت (ص) کے ساته گفتگو کر رہی تھی ،بات کرتے وقت اس کے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی تو آپ نے فرمایا :آرام واطمینان سے بات کرو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں اس عورت کا بیٹا ہوں جو سوکها گوشت کهایا کرتا تھی۔(۱۴)
انس ابن مالک نے کها: میں نو سال آنحضرت (ص) کی خدمت میں تھا آپ (ص) نے کبھی نہ کها :”ایسا کام کیوں کیا؟“ اور کبھی عیب جوئی نہ فرمائی۔(۱۵)
ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے، انصار کے بچوں میں سے ایک بچی نے آکر آپ (ص)کے لباس کا ایک کونا پکڑا ۔آپ (ص) اس کی حاجت روائی کے لئے اٹہے، لیکن نہ تو اس بچی نے کچہ کها اور نہ آپ (ص) نے پوچها کہ تمہیں کیا چاہیے ؟یهاں تک کہ یہ عمل چار مرتبہ تکرار ہوا۔چوتهی مرتبہ اس نے حضرت (ص)کے لباس سے دہاگہ توڑ لیا اور چلی گئی۔اس بچی سے پوچها گیا: یہ تم نے کیا کام کیا؟
____________________
۱ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۲ ۔
۲ بحار الانوار ج ۱۶
۳ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۵ ۔
۴ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۷ ۔
۵ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۷ ۔
۶ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۷ ۔
۷ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۸ ۔
۸ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۸ ۔
۹ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۵ ۔
۱۰ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۸ ۔
۱۱ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۸ ۔(پوری عمر میں خدا کے علاہ کسی اور چیز کے خاطر غضب ناک نہیں ہوا)
۱۲ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۷ ۔
۱۳ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۷ ۔
۱۴ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۲۹ ۔
۱۵ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۳۰ ۔
اس بچی نے کها: ہمارے یهاں ایک شخص مریض ہے۔مجھے بھیجا گیا کہ میں اس کی شفا کے لئے آنحضرت (ص) کے لباس سے دہاگہ توڑ کر آؤں ۔جب بھی میں دہاگہ لینا چاہتی تھی میں دیکھتی تھی کہ آنحضرت (ص) مجھے دیکھ رہے ہیں اور اجازت لینے میں مجھے شرم آتی تھی، یهاں تک کہ چوتهی بار دہاگہ نکالنے میں کامیاب ہوگئی(۱) احترامِ انسان کے سلسلے میں، یہ واقعہ آنحضرت (ص)کی خاص توجہ کی نشاندہی کرتا ہے،کیونکہ اپنی فراست سے بچی کی حاجت اور سوال سے کراہت کو سمجه کر اس کی حاجت روائی کے لئے چار مرتبہ اپنی جگہ سے اٹه کهڑے ہوئے، لیکن یہ نہ پوچهاکہ اسے کیا چاہئے، تاکہ اس کےلئے ذهنی پریشانی وذلتِ سوال کا باعث نہ ہو۔
اس باریکی اوردقت نظری سے بچی کی حرمت وعزت کا پاس رکھنے والے کی نظر مبارک میں بڑوں کے مقام ومنزلت کی کیا حد ہوگی ۔
جن دنوں یہودی،کافر ذمی کے عنوان سے اسلام کے زیر سایہ زندگی بسر کررہے تھے اور آنحضرت (ص) کا اقتدار اپنے عروج پر تھا۔ ایک یہودی کے چند دینار آپ (ص) پر قرض تھے ۔جب اس یہودی نے واپسی کا مطالبہ کیا،آپ(ص)نے فرمایا: ”اس وقت میرے پاس تمہیں دینے کوکچھ نہیں ہے۔“
یہودی نے کها:” میں اپنے دینار لئے بغیر آپ (ص) کو بالکل نہیں چهوڑوں گا ۔“
فرمایا:”اچها میں تمهارے پاس بیٹها ہوں۔ “ ظهر ،عصر ،مغرب ، عشاء اور صبح کی نماز وہیں ادا کی، صحابہ نے اس یہودی کو دہمکی دی، تو آپ (ص) نے فرمایا:”اس کے ساته ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو ؟“
اصحاب نے کها :”یا رسول الله (ص)! اس یہودی کی یہ جرا تٔ کہ آ پ (ص) کو محبوس کرے؟“
فرمایا:”پروردگا ر عالم نے مجھے اس لئے مبعوث نہیں کیا کہ ظلم کروں“ ۔جیسے ہی دن چڑها اس یہودی نے کها:”اشهد ان لا الہ الله واشهد ان محمداًعبدہ ورسولہ، میں اپنے مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیتا ہوں ،خدا کی قسم! میں نے آپ (ص)کے ساته ایسا سلوک صرف اس لئے کیا تاکہ تورات میں آپ سے متعلق درج شدہ صفات کو عملی طور پر آپ (ص)میں دیکھ سکوں۔“(۲)
عقبہ بن علقمہ کہتا ہے:میں علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ(ع) کے سامنے سوکهی روٹی رکھی تھی، پوچها:اے امیرالمومنین (ع) ! کیا آ پ (ع) کی غذا یهی ہے ؟
فرمایا:رسول خدا (ص) کی روٹی اس سے زیادہ خشک اور لباس میرے لباس سے زیادہ کهردرا تھا۔اگر میں آنحضرت (ص) کی طرح زندگی بسر نہ کروں تو مجھے ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ (ص) سے ملحق نہ ہوسکوں۔“(۳)
جب امام زین العابدین علی ابن الحسین (ع)سے پوچها گیا کہ آ پ (ع) کی عبادت کو امیرالمومنین(ع)کی عبادت سے کیا نسبت ہے ؟آ پ (ع) نے فرمایا: ”میری عبادت کو میرے جد کی عبادت سے وہی نسبت حاصل ہے جو میرے جد کی عبادت کو رسول خدا (ص) کی عبادت سے نسبت تھی۔“(۴)
زندگی کے آخری لمحات میں بھی اپنے قاتل سے درگزر کرتے ہوئے صفاتِ الٰهی کواپنانے کا ایسا نمونہ پیش کیا جو خدا کی رحمت رحمانیہ کے ظہور کا عملی نمونہ ہے ۔(۵) ( وَمَا ا رَْٔسَلْنَاکَ إِلاَّ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ) (۶) اور فقط اسی کو یہ کهنے کا حق ہے کہ((إنما بعثت لا تٔمم مکارم الا خٔلاق ))(۷)
____________________
۱ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۶۴ ۔
۲ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۱۶ ۔
۳ بحار الانوار ج ۴۰ ص ۳۳۱ ۔
۴ بحار الانوار ج ۴۱ ص ۱۴۹ ۔
۵ اصول کافی ج ۲ ص ۱۰۸ کتاب الایمان والکفر باب العفو ح نمبر ۹۔
۶ سورہ انبیاء ، آیت ۱۰۷ ۔” نہیں بھیجا تم کو مگر عالمین کے لئے رحمت بنا کر“۔
۷ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۱۰ ۔(میں مبعوث ہوا ہوں تاکہ اخلاق کو پایہ تکمیل تک پہونچا سکوں)
ایسی شخصیت کے اخلاقی فضائل کی شرح کهاں ممکن ہے جس کے بارے میں خداوند عظیم نے یہ فرمایا ہوکہ( وَإِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيْمٍ ) (۱)
آپ (ص) کی زندگی سے اخلاق وکردار کا مطالعہ وتحقیق، ہر باانصاف شخص کے لئے آپ (ص) کی نبوت پر ایمان کے لئے کافی ہے( يَا ا ئَُّهَا النَّبِیُّ إِنَّا ا رَْٔسَلْنَاکَ شَاهِداً وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًاخ وَّدَاعِیاً إِلی اللّٰهِ بِإِذْنِه وَسِرَاجاً مُّنِيْرًا ) (۲)
اور یہ آسمانی کتب کی ان بشارتوں کا ظہور ہے جن کی سابقہ انبیاء علیهم السلام نے خبر دی تھی۔ اگر چہ تحریف کے ذریعے انہیں مٹانے کی مکمل کوشش کی گئی لیکن باقی ماندہ اثرات میں غور وفکر ،اہلِ نظر کو حقائق تک پهنچانے کے لئے مشعل راہ ہے ۔هم ان میں سے دو نمونوں پر اکتفا کرتے ہیں :
۱۔تورات ،سفر تثنیہ ، تینتیسویں باب میں ذکر ہوا ہے :”اور یہ ہے وہ برکت جو موسی جیسے مرد خدا نے اپنی وفات سے پهلے بنی اسرائیل کو عطا کی اور کها: یهوہ سیناسے آیا اور سعیرسے ان پر طلوع کیا اور جبل فاران سے چمکااور لاکهوں مقدسین کے ساته آیا اور اس کے دائیں هاته سے ان کے لئے آتشیں شریعت ظاہر ہوئی ۔“
”سینا“وہ جگہ ہے جهاں حضرت موسیٰ بن عمران پر وحی نازل ہوئی ۔”سعیر “عیسیٰ بن مریم کے مبعوث ہونے کی جگہ اور ”فاران“کا پهاڑ جهاں یهوہ چمکا،تورات کی گواہی کے مطابق ”مکہ“کا پهاڑ ہے۔
کیونکہ سفر تکوین کے اکیسویں باب میں حضرت هاجرہ اور اسماعیل سے مربوط آیات میں مذکور ہے کہ :”خدا اس بچے کے ساته تھا اور وہ پروان چڑه کر،صحرا کا ساکن ہوا اور تیر اندازی میں بڑا ہوا اور فاران کے صحرا میں سکونت اختیار کی، اس کی ماںنے اس کے لئے مصر سے بیوی کا انتخاب کیا۔“
”فاران “مکہ معظمہ ہے، جهاں حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد رہائش پذیر تھے اور کوہ حرا سے آتشیں شریعت اور فرمان( يَا ا ئَُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِيْنَ ) (۳) کے ساته آنے والا پیغمبر آنحضرت (ص) کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟
اور کتاب حبقّوق(حیقوق)نبی کے تیسرے باب میں نقل ہوا ہے کہ :”خدا تیمان سے آیا اور قدوس فاران سلاہ کے پهاڑ سے ، اس کے جلال نے آسمانوں کو ڈهانپ لیا اور زمین اس کی تسبیح سے لبریز ہوگئی ، اس کا پر تو نور کی مثل تھا اور اس کے هاتهوں سے شعاع پهیلی۔ “
مکہ معظمہ کے پهاڑ سے آنحضرت (ص)کے ظہور کی بدولت ہی یہ ہوا کہ ساری زمین ((سبحان اللّٰه والحمد للّٰه ولا اله الا اللّٰه واللّٰه اکبر ))کی صداو ںٔ سے گونج اٹهی اور ((سبحان ربی العظیم وبحمده ))و ((سبحان ربی الا عٔلی وبحمده )) ساری دنیا کے مسلمانوں کے رکوع وسجود میں منتشر ہوئے۔
۲۔انجیل یوحنا کے چودہویں باب میں مذکور ہے کہ :”اور میں اپنے والد سے چاہوں گا اور وہ تمہیں ایک اور تسلی دینے والا عطا کرے گا جو ہمیشہ کے لئے تمهارے ساته رہے۔“
اور پندرہویں باب میں مذکور ہے کہ :”اور جب وہ تسلی دینے والا آئے ، جسے والد کی جانب سے تمهارے لئے بھیجوں گا یعنی حقیقی روح جو والد سے صادر ہوگی ، وہ میری گواہی دے گی ۔“
اصلی نسخے کے مطابق ، عیسیٰ جس کے متعلق خدا سے سوال کریں گے، کو ”پار قلیطا“کے نام سے یاد کیا گیا ہے جو ”پر یکلیطوس “ہے اور اس کاترجمہ ”تعریف کیا گیا“ ،”احمد“اور”محمد“کے موافق ہے،لیکن ”انجیل “لکھنے والوں نے اسے ”پاراکلیطوس“میں تبدیل کر کے ”تسلی دینے والا“کے معنی میں بیان کیا ہے ۔
اوریہ حقیقت انجیل برنابا کے ذریعے واضح وآشکار ہوگئی کہ اس میں ”فصل ۱۱۲ “ میں نقل ہوا ہے کہ: ”-( ۱۳) اور اے برنابا !جان لوکہ اس لئے میرے اوپر اپنی نگهداری واجب ہے اور نزدیک ہے کہ (عنقریب )میر اایک شاگرد مجھے تیس کپڑوں کے عوض نقد بیچ دے گا (۱ ۴ ) اور لہٰذا مجھے یقین ہے کہ مجھے بیچنے والا میرے نام پر ماراجائے گا(۱ ۵) کیونکہ خدا مجھے زمین سے اٹها لے گا اور اس خائن کی صورت اس طرح بدل دے گا کہ ہر شخص گمان کرے گا کہ میں ہوں (۱ ۶ ) اور اس کے
____________________
۱ سورہ قلم ، آیت ۴۔”یقینا اے محمد ! آپ خلق عظیم پر فائز ہیں“
۲ سورہ احزاب ، آیت ۴۵،۴۶ ۔”اے پیغمبر ! ہم نے تم کو لوگوں پر گواہ، بشارت دہندہ اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے الله کے اذن سے اس کی طرف دعوت دینے والا ، اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے“۔
۳ سورہ توبہ، آیت ۷۳ ۔”اے پیغمبر ! کفار و منافقین کے ساته جهاد کرو“۔
ساته جو وہ بدترین موت مرے گا میں بچ جاو ںٔ گا اور دنیا میں دراز مدت تک رہوں گا ((۱۷))لیکن جب محمد پیغمبر خدا ((محمد رسول اللّٰہ))آئے گا مجه سے یہ عیب اٹها لیا جائے گا “۔
اور محمد رسول الله (ص) کی بشارت انجیل کی فصول میں ذکر ہوئی ہیں ۔
اور اس انجیل کی بعض فصول میں((محمد رسول اللّٰہ))کے عنوان سے بشارتیں مذکور ہیں ،جیسا کہ انتالیسویں فصل میں ہے: ”اور جب آدم اپنے قدموں پرکھڑا ہوا تو اس نے فضا میں کلمات لکہے ہوئے دیکھے جو سورج کی طرح چمک رہے تھے کہ جن کی صریح نص یہ تھی ((لا الہ الااللّٰہ))اور ((محمد رسول اللّٰہ))((۱۵) ) پس اس وقت آدم نے لب کهولے اور کها : اے پروردگار !میرے خدا میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کیونکہ مجھے زندگی عطا کر کے تو نے اپنا تفضل فرمایا ((۱۶) ) لیکن تیری بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں کہ تو مجھے ان کلمات ((محمد رسول اللّٰہ)) کے معنی بتا دے ((۱۷))پس خدا نے جواب دیا :مرحبا!اے میرے عبد آدم((۱۸))بے شک میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم پهلے شخص ہو جسے میں نے خلق کیا ہے۔“
اور اکتالیسویں فصل میں ہے: ”((۳۳))جب آدم نے توجہ کی تو دروازے کے اوپر((لا الہ الا اللّٰہ ،محمد رسول اللّٰہ)) لکها ہوا دیکھا۔ “
اور چهیانویں فصل میں ہے: ”((۱۱))اس وقت خد اجهان پر رحم فرمائے گا اور اپنے پیغمبر کوبھیجے گا، جس کے لئے ساری دنیا خلق کی ہے ۔((۱۲))جو قوت کے ساته جنوب کی جانب سے آئے گا اور بتوں اور بت پرستوں کو هلاک کردے گا ۔((۱۳))اور شیطان کے انسان پرتسلط کو جڑ سے اکهاڑ
پهنیکے گا((۱۴) ) اور خدا کی رحمت سے خود پر ایمان لانے والوں کی خلاصی کے لئے آئے گا ۱ ۵)) اور جو اس کے سخن پر ایمان لائے گا بابرکت ہوگا۔“))
اور ستانویں فصل میں ہے:”((۱))اور اس کے باوجود کے میں اس کے جوتوں کے تسمے کهولنے کے قابل نہیں ہوں، خدا کی رحمت سے اس کی زیارت سے شرفیاب ہوا ہوں۔ “
تورات اور انجیل کی بشارتوں کو ثابت کرنے کے لئے یهی بات کافی ہے کہ رسول خدا(ص) نے یہودیوں، نصاریٰ او ر ان کے احبار ،قسیسین اور سلاطین کو اسلام کی دعوت دی۔ یہود کے اس اعتقاد کہ ( عُزَيْرٌ ابْنُ اللّٰهِ) (۱) اور نصاریٰ کے اعتقاد ( إِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلاثَةٍ) (۲) کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کے مقابلے میں قیام کیااور مکمل صراحت کے ساته اعلان کیا کہ میں وہی ہوں جس کی بشارت تورات وانجیل میں دی گئی ہے ( اَلَّذِيَْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَبِیَّ اْلا مُِّٔیَّ الَّذِیْ يَجِدُوْنَه مَکْتُوْباً عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ اْلإِنْجِيْلِ) (۳) ( وَإِذْقَالَ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِیْ إِسْرَائِيْلَ إِنیِّ رَسوُْلُ اللّٰهِ إِلَيْکُمْ مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبْشِّراً بِّرَسُوْلٍ يَّا تِْٔی مِنْ بَعْدِی اسْمُه ا حَْٔمَدُ) (۴)
اگر آپ(ص)کا دعوی سچا نہ ہوتا تو کیا ان دشمنوں کے سامنے جو اپنی معنوی اور مادی سلطنت کو خطرے میں دیکھ رہے تھے اور ہر کمزور پهلو کی تلاش وجستجو میں تھے ، پیغمبر اکرم(ص) کا اس قاطعیت سے اعلان کرنا ممکن تھا؟!
احبار،(۵) قسیسین،(۶) علماء یہود ونصاریٰ اور سلاطین، جنہوں نے آپ(ص)کے مقابلے میں ہر حربے کا سهارا لیا، یهاں تک کہ جنگ اور مباہلہ سے عاجز ہو کر جزیہ دینا قبول کر لیا،پیغمبر اسلام (ص)کے اس دعوے کے مقابلے میں کس طرح لا چار ہوکر رہ گئے اور ان کے لئے ممکن نہ رہا کہ آنحضرت(ص) کے اس دعوے کا انکار کر کے ،آپ کی تمام باتوں کو سرے سے غلط ثابت کردیں !آنحضرت(ص) کا صریح دعوی او رعلماء وامراء یہود و نصاریٰ کا حیرت انگیز سکوت، آپ(ص)کے عصرِ ظہور میں ان بشارتوں کے ثبوت پر برہانِ قاطع ہے۔
____________________
۱ سورہ توبہ ، آیت ۳۰ ۔”عزیز الله کے بیٹے ہیں“۔
۲ سورہ مائدہ ، آیت ۷۳ ۔”خدا ان تین میں کا تیسرا ہے“۔
۳ سورہ اعراف ، آیت ۱۵۷ ۔”جو لوگ کہ رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکها ہوا پاتے ہیں“۔
۴ سورہ صف، آیت ۶۔”اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کها کہ اے بنی اسرائیل میں تمهاری طرف الله کا رسول ہوں اپنے پهلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا اور اپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والاہوں جس کا نام احمد ہے“۔
۵ احبار:علمائے یہود۔
۶ قسیسین:علمائے نصاریٰ۔
اگرچہ اس کے بعد حب جاہ ومقام اورمال ومتاع کی وجہ سے انہیںتحریف کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہ سوجهی کہ جس کا نمونہ فخرالاسلام نے اپنی کتاب ”انیس الاعلام“ میں اپنے ذاتی حالات کا تذکرہ کرتے وقت پیش کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :میں ارومیہ کے گرجا گهر میں متولد ہوا اور تحصیل علم کے آخری ایام میں کیتهولک فرقے کے ایک بڑے عالم سے استفادہ کرنے کا موقع میسر ہوا۔
اس کے درس میں تقریبا چار سو سے پانچ سو افراد شرکت کرتے تھے۔ ایک دن استاد کی غیر موجودگی میں شاگردوں کے درمیان بحث چهڑ گئی۔ جب استاد کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے پوچها بحث کیا تھی؟ میں نے کها:”فارقلیط“کے معنی کے بارے میں۔ استاد نے اس بحث میں شاگردوں کے نظریات معلوم کرنے کے بعد کها:” حقیقتکچھ اور ہے “، پھر اس مخزن کی جسے میں اس کا خزانہ تصور کرتا تھا،
چابی مجھے دی اور کها :”اس صندوق میں سے دو کتابیں جن میں سے ایک سریانی اور دوسری یونانی زبان میں جو حضرت خاتم الانبیاء کے ظہور سے پهلے کهال پر لکهی ہوئی ہے ،لے کر آؤ۔“
پھر مجھے دکهایا کہ اس لفظ کے معنی ”احمد“اور ”محمد“ لکہے ہوئے تھے اور مجه سے کها:”حضرت محمد (ص)کے ظہور سے پهلے عیسائی علماء میں اس کے معنی میں کوئی اختلاف نہ تھا اور آنحضرت (ص) کے ظہور کے بعد تحریف کی“۔ میں نے نصاریٰ کے دین سے متعلق اس کا نظریہ دریافت کیا۔اس نے کها: ”منسوخ ہوچکاہے ۔اور نجات کا طریقہ محمد (ص) کی پیروی میں منحصر ہے۔“ میں نے اس سے پوچها: ”اس بات کا تم اظهار کیوں نہیں کرتے ؟“
اس نے عذر یہ بیان کیا تھا کہ اگر اظهار کروں مجھے مار ڈالیں گے اور اس کے بعد ہم دونوں روئے اور میں نے استاد سے یہ استفادہ کرنے کے بعد اسلامی ممالک کی طرف هجرت کی(۱) ان دو کتابوں کا مطالعہ اس عالی مقام راہب کے روحی انقلاب کا سبب بنا اور اسلام لانے کے بعد عیسائیت کے بطلان اور حقانیت اسلام کے بارے میں کتاب انیس الاعلام لکهی جو عهد قدیم(۲) وجدید(۳) میں اس کے تتبع اور تحقیق کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
معاد
معاد پر اعتقاد دو راہوں سے حاصل ہوتا ہے :دلیلِ عقلی اور عقل پر مبنی دلیل نقلی
دلیل عقلی:
۱۔هر عاقل کی عقل یہ درک کرتی ہے کہ عالم وجاہل ، اخلاق فاضلہ مثال کے طورپر بخشش وکرم سے آراستہ اور اخلاق رذیلہ مثال کے طور پر بخل وحسد سے آلودہ اور نیک وبد انسان برابر نہیں ہیں اور کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا وسزا نہ دینا ظلم ہے ۔
اور جیسا کہ اس زندگی میں اچہے اعمال بجالانے والوں کو اچهائی کی جزا اور برے اعمال بجا لانے والوں کو برائی کی سزا ملنا چاہیے نہیں ملتی، لہٰذا اگر اس کے علاوہ عقائد ،اخلاق اور اعمال سے متناسب عذاب وثواب پر مشتمل کوئی دوسری زندگی نہ ہو تو یہ ظلم ہوگا اور اسی بناء بر حشر ونشر ،حساب و کتاب اور ثواب و عقاب کا ہونا عدل پروردگار کا عین تقاضا ہے( ا مَْٔ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَالْمُفْسِدِيْنَ فِی اْلا رَْٔضِ ا مَْٔ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ کَالْفُجَّارِ ) (۴)
۲۔خداوند متعال حکیم ہے لہٰذا عبث ولغو عمل اس سے صادر نہیں ہوتا ،اس نے انسان کو خلق کیا اور اسے نباتات وحیوانات کے لئے ضروری صفات، مثال کے طور پر دفع وجذب اور شہوت وغضب،کے ساته ساته ایسی صفات سے مزین کیا کہ جو اسے علمی کمالات ، اخلاقی فضائل اور شائستہ گفتار ورفتار کی جانب دعوت دیتی ہے۔ کمالات تک پهنچنے کے لئے کسی حد پر نہیں ٹههرتی اور علم وقدرت کے کسی بھی مرتبے تک پهنچنے کے باوجود اگلے مراحل کی پیاس باقی رہتی ہے ۔پھر انبیاء علیهم السلام کو اسی فطرت کی تربیت کے لئے بھیجا تاکہ اسے نامتناہی کمال کی ابتداء کی جانب ہدایت کریں
____________________
۱ انیس الاعلام ج ۱ ص ۶۔
۲ عهد قدیم :حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پهلے نازل ہونے والی وحی اور احکامات۔
۳ عهد جدید :وحی و الهام کا وہ مجموعہ جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تالیف کیا گیا۔
۴ سورہ ص ، آیت ۲۸ ۔”کیا ہم ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والوں جیسا قرار دیدیں یا صاحبان تقویٰ کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دیدیں“۔
۔اگر انسان کی زندگی اسی دنیا تک محدود ہوتی تو اس فطرت کا وجود اور ہدایت کے لئے انبیاء کی بعثت لغو وعبث قرار پاتی ۔
لہٰذا ،حکمت خداوندِ متعال کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی زندگی اسی حیات مادی وحیوانی تک ختم نہ ہو بلکہ اس کمال کو پانے کے لئے جو خلقت کا مقصد ہے آئندہ بھی جاری ہے( ا فََٔحَسِبْتُمْ ا نََّٔمَا خَلَقْنَاکُم عَبَثاً وَّ ا نََّٔکُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ ) (۱)
۳۔فطرت انسانی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر صاحب حق کواس کا حق اور ظالم کے مقابلے میں ہر مظلوم کو انصاف ملنا چاہیے اور یهی فطرت ہے جو ہر دین ومسلک سے تعلق رکھنے والے انسان کو، عدل وانصاف فراہم کرنے کے لئے، قوا نین اور عدالتیں بنانے پر مجبور کرتی ہے۔
نیز یہ بات بھی واضح وروشن ہے کہ دنیاوی زندگی میں بہت سے ظالم ،مسند عزت واقتدار پر زندگی بسر کرتے ہیں اور مظلوم تازیانوں اور شکنجوں میں سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں ۔حکمت ،عدل ،عزت اور رحمت خداوند متعال کا تقاضا یہ ہے کہ ظالموں سے ان مظلوموں کا بدلہ لیا جائے( وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُوْنَ إِنَّمَا يُو خَِّٔرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ اْلا بَْٔصَارُ ) (۲)
۴ ۔حکمت خداوند متعال کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی غرضِ خلقت اور مقصد وجود تک رسائی کے لئے ،اسے وسائل فراہم کرے ، جو اسباب سعادت کے حکم اور اسباب شقاوت سے نهی کئے بغیر میسر نہیں۔ اسی طرح انسانی ہویٰ وہوس کے مخالف قوانینِ الٰهی کا اجراء بغیرخوف ورجاء کے ممکن نہیںاور یہ دونوں بشارت وانذار کے بغیر متحقق نہیں ہوسکتے ، اُدہر بشارت وانذار کا لازمہ یہ ہے کہ اس زندگی کے بعد ثواب وعقاب اور نقمت ونعمت ملے ورنہ بشارت وانداز کو جھوٹ ماننا پڑے گا، جب کہ خداوندِ متعال ہر قبیح سے منزہ ہے ۔
دلیل نقلی :
تمام ادیان آسمانی معاد کے معتقد ہیں اور اس اعتقاد کی بنیاد پیغمبرانِ الٰهی کا خبر دینا ہے ۔ ان کا خبر دینا وحی الٰهی سے مستند ہے ، جب کہ عصمت انبیاء علیهم السلام اوروحی کا ہر خطاولغزش سے محفوظ ہونا معاد پر ایمان اور اعتقاد کو ضروری و واجب قرار دیتا ہے ۔
معاد اور حشر ونشر کے منکرین کے پاس پیغمبروں کی اس خبر کے مقابلے میں اسے بعید الوقوع کهنے کے علاوہ کوئی دوسرا بهانہ نہ تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں ؟بوسیدہ وخاک ہونے کے بعد یہ مردہ و پراگندہ ذرات آپس میں مل کر نئی زندگی کیسے پا سکتے ہیں ؟
جب کہ وہ اس بات سے غافل ہیں کہ بے جان و پراگندہ اجزاء ہی سے تو زندہ موجود ات کو بنایا گیا ہے ۔وہی علم، قدرت اور حکمت جس نے بے جان ومردہ مادّے کو خاص ترکیب اور مخصوص نظام کے ساته حیات وزندگی قبول کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے اور جو انسان جیسے ان تمام اعضاء
وقوتوں کے مجموعے کو بغیر کسی سابقہ مثال ونمونے کی موجودگی کے بنا سکتا ہے وہ انسان کے مرنے اور منتشر ہونے کے بعد اس کے تمام ذرات کو ،چاہے کہیں بھی ہوں اور کسی بھی حالت میں ہوں،جو اس کے احاطہ علم ونظروں سے اوجهل نہیں،جمع کر سکتا ہے اور جس قدرت کے ساته پهلی مرتبہ بغیر کسی مثال ونمونے کے خلق فرمایا تھا دوسری بار نمونے اور سابقہ تجربے کے ہوتے ہوئے جو اور بھی زیادہ آسان ہے، انجام دے سکتا ہے( قَالُوا ا إِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَاباً وَّعِظَامًا ا إِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ) (۳)
( ا ؤََلَيْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ بِقَادِرٍ عًلیٰ ا نَْٔ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلیٰ وَهُوَ الخَلاَّقُ الَعَلِيْمُ ) (۴)
وہ قدرت جو سر سبز درختوں سے آگ کو روشن اور خزاں کی موت کے بعد مردہ زمین کو ہر بهار میں زندگی عطا کرتی ہے، اس کے لئے موت کے بعد زندگی عطا کرنا ہر گز مشکل کام نہیں( اَلّذِی
____________________
۱ سورہ مومنون، آیت ۱۱۵ ۔”کیا تمهارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جاو گٔے“۔
۲ سورہ ابراہیم ، آیت ۴۲ ۔”اور خبردار خدا کو ظالمین کے اعمال سے غافل نہ سمجه لینا کہ وہ انہیں اس دن کے لئے مهلت دے رہا ہے جس دن آنکہیں (خوف سے )پتهرا جائیں گی“۔
۳ سورہ مومنون ، آیت ۸۲ ۔”کیا اگر ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈی ہو گئے تو کیا ہم دوبارہ اٹهائے جانے والے ہیں“۔
۴ سورہ یس ، آیت ۸۱ ۔”تو کیا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کی ہے وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کامثل دوبارہ پیدا کردے یقینا ہے اور وہ بہترین پیدا کرنے والا اور جاننے والاہے“۔
جَعَلَ لَکُمْ مِنَ الشَّجَرِ اْلا خَْٔضَرِ نَارًا فَإِذَا ا نَْٔتُمْ مِنْهُ تُوْقِدُوْنَ ) (۱) ( اِعْلَمُوْا ا نََّٔ اللّٰهَ يُحْیِ اْلا رَْٔضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَکُم اْلآيَاتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ) (۲)
وہ قدرت جو ہر رات، انسان کے ادراک کی مشعل کو نیند کے ذریعے بجهاتی اور اس سے علم واختیار کو سلب کرلیتی ہے ، موت کے ذریعے بجهنے کے بعد بھی اسے دوبارہ ادراک کی روشنی عطا کرنے اور فراموش شدہ معلومات کو پلٹانے پر قادر ہے ((لتموتن کما تنامون ولتبعثن کما تستیقظون ))(۳)
امامت
شیعہ وسنی کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں خلیفہ پیغمبر (ص) کا ہونا ضروری ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آیا پیغمبر اسلام (ص) کے خلیفہ کی خلافت انتصابی ہے یا انتخابی۔
اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ خدا اور رسول (ص) کی جانب سے کسی کے معین کئے جانے کی ضرورت نہیں بلکہ خلیفہ رسول امت کے انتخاب سے معین ہوجاتا ہے جب کہ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کے انتخاب کے بغیر جو درحقیقت خدا کی جانب سے انتخاب ہے ، کوئی بھی فرد خلافت کے لئے معین نہیں ہوسکتا۔اس اختلاف میں حاکمیت عقل، قرآن اور سنت کے هاته ہے۔
الف۔قضاوتِ عقل
اور اس کے لئے تین دلیلیں کافی ہیں:
۱۔ اگر ایک موجد ایسا کارخانہ بنائے جس کی پیداوار قیمتی ترین گوہر ہو اور اس ایجاد کا مقصد پیدا وار کے اس سلسلے کو ہمیشہ باقی رکھنا ہو، یهاں تک کہ موجد کے حضوروغیاب اور زندگی وموت،
غرض ہر صورت میں اس کام کو جاری رکھنا نهایت ضروری ہو، جب کہ اس پیداوار کے حصول کے لئے، اس کارخانے کے آلات کی بناوٹ اور ان کے طریقہ کار میں ایسی ظرافتوں اور باریکیوں کا خیال رکھا گیا ہو جن کے بارے میں اطلاع حاصل کرنا، اس موجد کی رہنمائی کے بغیر نا ممکن ہو، کیا یہ بات قابل یقین ہے کہ وہ موجد اس کام کے لئے ایک ایسے دانا شخص کومعین نہ کرے جو اس کارخانے کے آلات کے تمام رازوں سے باخبر ہو اور ان کے صحیح استعمال سے واقف ہو ؟! بلکہ اس کارخانے کے انجینئیر کے انتخاب کا حق مزدوروں کو دے دے جو ان آلات سے نا آشنا اور ان دقتوں اور باریکیوں سے نا واقف ہیں ؟!
وہ باریک بینی جس کا انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں جاری ہونے والے الٰهی قوانین، سنن اور تعلیمات میں خیال رکھا گیا ہے جو کارخانہ دین خدا کے آلات واوزار ہیں، کہ جس کارخانے کی پیدا وار ، خزانہ وجود کا قیمتی ترین گوہر، یعنی انسانیت کو معرفت وعبادتِ پروردگار کے کمال تک پہچانا اور شہوت انسانی کو عفت، غضب کو شجاعت اور فکر کو حکمت کے ذریعے توازن دے کر، انصاف
وعدالت پر مبنی معاشرے کا قیام ہے، کیامذکورہ موجد کے ایجادکردہ کار خانے میں جاری ہونے والی باریکی اور دقت نظری سے کم ہے ؟!
جس کتاب کی تعریف میں خداوند متعال نے فرمایا( وَنَزَّلْنَا عَلَيْکَ الْکِتَابَ تِبْيَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَّهُدًی وَّرَحْمَةً ) (۵) اور( کِتَابٌ ا نَْٔزَلْنٰهُ إِلَيْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلیَ النُّوْر ) (۵) اور( وَمَا ا نَْٔزَلْنَا عَلَيْکَ الْکِتَابَ ا لِٔاَّ
____________________
۱ سورہ یس، آیت ۸۰ ۔”اس نے تمهارے لئے هرے درخت سے آگ پیدا کردی ہے تو تم اس سے اور آگ سلگا لیتے ہو“۔
۲ سورہ حدید ، آیت ۱۷ ۔”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوں کو واضح کر کے بیان کر دیا تاکہ تم عقل سے کام لے سکو“۔
۳ بحار الانوارج ۷ ص ۴۷ (یقینا تم موت کے گهاٹ اتروگے جیسے تم سوتے ہو اور دوبارہ زندہ کئے جاو گٔے جیسا کہ تم سوکر دوبارہ جاگتے ہو)
۴ سورہ نحل، آیت ۸۹ ۔”اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے “۔
۵ سورہ ابراہیم، آیت ۱۔”کتاب جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں“۔
لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُوْافِيْهِ ) (۱) اس کتاب کے لئے ایسے مبيّن کا ہونا ضروری ہے جو اس کتاب میں موجود ہر اس چیز کا استخراج کر سکے جس کے لئے یہ کتا ب تبیان بن کر آئی ہے، ایک ایسا فردجو انسان کے فکری، اخلاقی اور عملی ظلمات پر احاطہ رکھتے ہوئے، عالم نور کی جانب انسان کی رہنمائی کر سکے،
جو نوع انسان کے تمام تر اختلافات میں حق و باطل کو بیان کر سکتا ہو، کہ جن اختلافات کی حدود مبداءومعاد سے مربوط وجود کے عمیق ترین ایسے مسائل، جنہوں نے نابغہ ترین مفکرین کو اپنے حل میں الجها رکھا ہے، سے لے کر مثال کے طور پر ایک بچے کے بارے میں دو عورتوں کے جهگڑے تک ہے جو اس بچے کی ماں ہونے کی دعویدار ہیں۔
کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ عمومی ہدایت، انسانی تربیت، مشکلات کے حل اور اختلافات کے مٹانے کے لئے قرآن کی افادیت، پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے ساته ختم ہو گئی ہو؟!
آیا خدا اور اس کے رسول (ص) نے اس قانون اور تعلیم وتربیت کے لئے کسی مفسر ومعلم اور مربی کا انتظام نہیں کیا؟! اور کیا اس مفسر ومعلم ومربی کو معین کرنے کا اختیار، قران کے علوم ومعارف سے بے بهرہ لوگوں کو دے دیا ہے؟!
۲۔ انسان کی امامت ورہبری یعنی عقلِ انسان کی پیشوائی وامامت، کیونکہ امامت کی بحث کا موضوع ”انسان کا امام ہے“اور انسان کی انسانیت اس کی عقل وفکر سے ہے ((دعامة الإنسان العقل ))(۲)
خلقت انسانی کے نظام میں بدن کی قوتیں اور اعضاء، حواس کی رہنمائی کے محتاج ہیں،اعصاب حرکت کواعصا ب حس کی پیروی کی ضرورت ہے اور خطا ودرستگی میں حواس کی رہبری عقلِ انسانی کے هاته ہے، جب کہ محدود ادراک اور خواہشاتِ نفسانی سے متاثر ہونے کی وجہ سے خود عقلِ انسان کو ایسی عقلِ کامل کی رہبری کی ضرورت ہے جو بیماری وعلاج اور انسانی نقص وکمال کے عوامل پر مکمل احاطہ رکھتی ہواور خطاو ہویٰ سے محفوظ ہو، تاکہ اس کی امامت میں انسانی عقل کی ہدایت تحقق پیدا کر سکے اور ایسی کامل عقل کی معرفت کا راستہ یهی ہے کہ خدا اس کی شناخت کروائے۔ اس لحاظ سے امامت کی حقیقت کا تصور، خدا کی جانب سے نصب امام کی تصدیق سے جدا نہیں۔
۳۔ چونکہ امامت قوانین خدا کی حفاظت، تفسیر اور ان کا اجراء ہے، لہٰذا جس دلیل کے تحت قوانین الٰهی کے مبلغ کا معصوم ہونا ضروری ہے اسی دلیل سے محافظ، مفسر اور قوانین الٰهی کے اجراءکنندہ کی عصمت بھی ضروری ہے اور جس طرح ہدایت، جو کہ غرض بعثت ہے، اس وقت باطل ہوجاتی ہے جب مبلّغ میں خطا وہویٰ آجاتی ہے، اسی طرح مفسر ومجری قوانین الٰهی کا خطا کار ہونا اور خواہشات کے زیر اثر آجانا،اضلال وگمراہی کا سبب ہے اور معصوم کی پہچان خداوندِ متعال کی رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔
ب۔ قضاوت قرآن :
اختصار کی وجہ سے تین آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
پهلی آیت :
( وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ ا ئَِٔمَّةً يَّهْدُوْنَ بِا مَْٔرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَکَانُوْا بِآيَاتِنَا يُوْقِنُوْنَ ) (۳)
هر درخت کی شناخت اس کی اصل وفرع، جڑ اور پهل سے ہوتی ہے۔شجر امامت کی اصل وفرع، قرآن مجید کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔
صبر اور آیات خداوند کریم پر یقین، امامت کی اصل ہے اور یہ دو لفظ انسان کے بلند ترین مرتبہ کمال کو بیان کرتے ہیں کہ کمال عقلی کی بناء پر ضروری ہے کہ امام معرفت الٰهی اور آیات ربانی ۔ کہ جن آیات کوصیغہ جمع کے ساته ذات قدوس الٰهیہ کی جانب نسبت دی ہے۔کے لحاظ سے یقین کے مرتبہ پر
____________________
۱ سورہ نحل ، آیت ۶۴ ۔”اور ہم نے آپ پر کتاب صرف اس لئے نازل کی ہے کہ آپ ان مسائل کی وضاحت کردیں جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں“۔
۲ بحار الانوارج ۱ ص ۹۰ (انسان کا ستون اس کی عقل ہے)
۳ سورہ سجدہ ، آیت ۲۴ ۔”اور ہم نے ان میں سےکچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اس لئے کہ انهوں نے صبر کیا ہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے“۔
اور ارادے کے اعتبار سے مقام صبر پر، جو نفس کو مکروہات خدا سے دور اور اس کے پسندیدہ اعمال پر پابند کردینے کا نام ہے، فائز ہو اور یہ دو جملے امام کے علم اور اس کی عصمت کے بیان گر ہیں۔
فرعِ امامت، امرِ خدا کے ذریعے ہدایت کرنا ہے اور امرِ الٰهی کے ذریعے ہدایت سے عالَم خلق اور عالَم امر کے مابین وساطتِ امام ثابت ہوتی ہے اورخود یهی فرع جو اس اصل کا ظہور ہے، امام کے علم وعصمت کی آئینہ دار ہے۔
وہ شجرہ طیبہ جس کی اصل وفرع یہ ہوں، اس کی پرورش قدرت خدا کے بغیر ناممکن ہے،
اسی لئے فرمایا:( وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ ا ئَِٔمَّةً يَّهْدُوْنَ بِا مَْٔرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوْا بِآيَاتِنَا يُوْقِنُوْنَ )
دوسری آیت :
( وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاهِيْمَ رَبُّه بِکَلِمَاتٍ فَا تََٔمَّهُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی قَالَ لاَ يَنَال عَهْدِی الظَّالِمِيْنَ ) (۱)
امامت وہ بلند مقام ومنصب ہے جو حضرت ابراہیم (ع) کو کٹهن آزمائشوں، مثال کے طور پر خدا کی راہ میں بیوی اور بچے کو بے آب و گیاہ بیابا ن میں تنها چهوڑنے، حضرت اسماعیل کی قربانی اور آتش نمرود میں جلنے کے لئے تیار ہونے، اور نبوت ورسالت وخلت جیسے عظیم مراتب طے کرنے کے بعد نصیب ہوا اور خداوند متعال نے فرمایا( إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ) اس مقام کی عظمت نے آپ علیہ السلام کی توجہ کو اتنا زیادہ مبذول کیا کہ اپنی ذریت کے لئے بھی اس مقام کی درخواست کی تو خداوند متعال نے فرمایا( لاَ يَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِيْن )
اس جملے میں امامت کو خداوند متعال کے عهد سے تعبیر کیا گیا ہے جس پر صاحب عصمت کے علاوہ کوئی دوسرا فائز نہیں ہو سکتا اور اس میں بھی شک وتردید نہیں کہ حضرت ابراہیم(ع) نے اپنی پوری کی پوری نسل کے لئے امامت نہیں چاہی ہو گی کیونکہ یہ بات ممکن ہی نہیں کہ خلیل الله نے عادل پرودرگار سے کسی غیر عادل کے لئے انسانیت کی امامت کو طلب کیا ہو، لیکن چونکہ حضرت ابراہیم (ع) نے اپنی عادل ذریت کے لئے جو درخواست کی تھی،اس کی عمومیت کا دائرہ ذریت کے اس فرد کو بھی شامل کررہا تھا جس سے گذشتہ زمانے میں ظلم سرزد ہوچکا ہو۔لہٰذا خدا کی جانب سے دئے گئے جواب کا مقصد یہ تھا کہ ایسے عادل کے حق میں آپ کی یہ دعا مستجاب نہیں جن سے پهلے گناہ سرزد ہو چکے ہیں بلکہ حکم عقل وشرع کے مطابق امامت مطلقہ کے لئے عصمت وطهارت مطلقہ شرط ہیں۔
تیسری آیت :
( يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا ا طَِٔيْعُو اللّٰهَ وَا طَِٔيْعُوا لرَّسُوْلَ وَا ؤُْلِی اْلا مَْٔرِ مِنْکُمْ ) (۲)
اس آیت کریمہ میں اولی الامر کو رسول پر عطف لیا گیا ہے اور دونوں میں ایک( اطیعوا ) پر اکتفا کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اطاعت اولی الامر اور اطاعت رسول (ص)کے وجوب کی سنخ وحقیقت ایک ہی ہے اور اطاعت رسول (ص)کی طرح، جو وجوب میں بغیر کسی قید وشر ط اور واجب میں بغیر کسی حد کے، لازم وضروری ہے اور اس طرح کا وجوب ولی امر کی عصمت کے بغیر نا ممکن ہے، کیونکہ کسی کی بھی اطاعت اس بات سے مقید ہے کہ اس کا حکم، الله تعالی کے حکم کا مخالف نہ ہو اور عصمت کی وجہ سے معصوم کا فرمان، خد اکے فرمان کے مخالف نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس کی اطاعت بھی تمام قیود وشرائط سے آزاد ہے۔
اس اعتراف کے بعد کہ امامت، در حقیقت دین کے قیام اور مرکزِ ملت کی حفاظت کے لئے،رسول (ص)کی ایسی جا نشینی کا نام ہے کہ جس کی اطاعت وپیروی پوری امت پر واجب ہے(۳) اور( إِن
____________________
۱ سورہ بقرہ، آیت ۱۲۴ ۔”اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے کلمات کے ذریعہ ابراہیم کا امتحان لیا اور انهوں نے پورا کر دیا تو اس نے کها کہ ہم تم کو لوگوں کا امام بنا تے ہیں ۔ انهوں نے عرض کیا کہ میری ذریت ؟ارشاد ہوا کہ یہ میر اعهدہ (امامت) ظالمین تک نہیں جائے گا“۔
۲ سورہ نساء، آیت ۵۹ ۔”ایمان لانے والو! الله کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تم میں سے ہیں“۔
۳ شرح المواقف ج ۸ ص ۳۴۵ ۔
اللّٰهَ يَا مُْٔرُ بِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ ) (۱) ( يَا مُْٔرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ ) (۲) کے مطابق اگر ولی امر معصوم نہ ہو تو اس کی اطاعت مطلقہ کا لازمہ یہ ہے کہ خدا ظلم ومنکر کا امر کرے اور عدل ومعروف سے نهی کرے۔
اس کے علاوہ، ولی امر کے غیر معصوم ہونے کی صورت میں عین ممکن ہے کہ اس کا حکم خدا اور رسول کے فرمان سے ٹکرائے اور اس صورت میں اطاعتِ خدا و رسول (ص)اور اطاعت ولی امر کا حکم، اجتماع ضدین اور ایک امر محال ہو گا۔
لہٰذا، نتیجہ یہ ہوا کہ کسی قید وشرط کے بغیر اولی الامر کی اطاعت کا حکم، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا حکم خدا اور رسول کے فرمان کے مخالف نہیں ہے اور خود اسی سے عصمت ولی امر بھی ثابت ہو جاتی ہے۔
اور یہ کہ معصوم کا تعین عالم السر و الخفیات کے علاوہ کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے۔
ج۔قضاوت سنت:
(اہل سنت کے سلسلوں سے مروی روایات کے ذریعے امامت امیر المو مٔنین (علیہ السلام) پر استدلال کا مقصد اتمام حجت اور جدال احسن ہے۔ ورنہ متواتر احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہونے کے بعد کہ قرآن و سنت میں بیان کردہ امامت کی شرائط، آپ کے نفس قدسی میں موجود ہیں، مذکورہ بالا طریقہ استدلال کی قطعاً ضرورت نہیں۔اہل سنت سے منقول روایات پر ”صحیح“ کا اطلاق انهی کے معیار و میزان کے مطابق کیا گیا ہے، اور شیعہ سلسلوں سے منقول روایات پر صحیح کا اطلاق اہل تشیع کے مطابق روایت کے معتبر ہونے کی بناء پر ہے۔ اب خواہ یہ روایات اصطلاحاً صحیح ہوں یا موثق، اور اس کا انحصار شیعہ علم رجال کے معیار و میزان پر ہے۔)
سنت رسول کی پیروی، ادراکِ عقل کے تقاضے اور حکم کتاب خدا کے مطابق ہے کہ معصوم کی پیروی کرنا ضروری ہے( وَمَا ا تََٔاکُمُ الرَّسُوَلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ) (۳)
اور ہم سنت میں سے فقط ایسی حدیثیں بیان کریں گے جس کا صحیح ہونا مسلّم اور فرمان خدا کے مطابق ان کا قبول کرنا واجب ہے۔ اس حدیث کو فریقین نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے اور آنحضرت (ص) سے صادر ہونے کی تصدیق بھی کی ہے۔ اگر چہ اس حدیث کو متعدد سلسلہ هائے اسناد کے ساته نقل کیا گیا ہے، لیکن ہم اسی ایک پر اکتفا کرتے ہیں جس کا سلسلہ سند زیادہ معتبر ہے۔ اور وہ روایت زید بن ارقم سے منقول ہے:
((قال:لما رجع رسول اللّٰه (ص) من حجة الوداع ونزل غدیر خم ا مٔر بدوحات فقممن، فقال:کا نٔی قد دعیت فا جٔبت، إنی قد ترکت فیکم الثقلین ا حٔدهما ا کٔبر من الآخر کتاب اللّٰه و عترتی فانظروا کیف تخلفونی فیهما، فإنهما لن یتفرقا حتی یردا علیّ الحوض، ثم قال: إن اللّٰه عزّ و جلّ مولای و ا نٔا مولی کل مو مٔن، ثم ا خٔذ بید علی رضی اللّٰه عنه فقال: من کنت مولاه فهذا ولیه، اللّهم وال من والاه و عاد من عاداه، وذکر الحدیث بطوله ))(۴)
امت کی امامت آنخضرت (ص) کی نگاہ میں اتنی زیادہ اہمیت کی حامل تھی کہ آپ (ص) نے نہ صرف حجة الوداع سے لوٹتے وقت بلکہ مختلف مواقع پر، حتی زندگی کے آخری لمحات میں موت کے بستر پر، جب اصحاب بھی آپ کے کمرے میں موجود تھے، کتاب وعترت کے بارے میں وصیت فرمائی،
____________________
۱ سورہ نحل، آیت ۹۰ ۔”بے شک خدا وند متعال عدل اور احسان کا حکم کرتا ہے“۔
۲ سورہ اعراف، آیت ۱۵۷ ۔”ان کو نیکوں کا امر کہتا ہے اور ان کو برائیوں سے روکتا ہے“۔
۳ سورہ حشر، آیت ۷۔”جوکچھ رسول نے تم کو دے اس کو لے لو اور جن چیزوں سے روکے اس سے رک جاؤ“۔
۴ مستدرک صحیحین ج ۳ ص ۱۰۹ ۔”زید ابن ارقم سے روایت ہے کہ جب رسول خدا (ص) آخری حج سے لوٹ رہے تھے تو غدیر خم پہونچ کر آپ نے سائبان لگانے کا حکم دیا پھر فرمایا:گویا مجھے بلایا گیا ہے اور میں نے بھی اس پر لبیک کہہ دیا ہے، میں تمهارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چهوڑ رہا ہوں ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ،ایک کتاب خدا دوسرے میرے اہل بیت پس نگاہ کرو تم ان دونوں کے ساته میرے بعد کیسا برتاو کروگے یہ دونوں ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یهاں تک کہ حوض کوثر پر مجه سے ملاقات کریں پھر فرمایا الله تعالیٰ میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا مولا ہوں پھر علی کا هاته پکڑ کر فرمایا:جس کا میں مولا اس کے علی (ع)ولی ہیں، پھر دعا فرمائی: بار الٰها! اس کو دوست رکھنا جو علی کو دوست رکہے اور اس کو دشمن رکھنا جو علی کو دشمن رکہے“، اسی طرح کمال الدین و تمام النعمة ص ۲۳۴ و ۲۳۸ ، اور شیعوں کی دوسری کتابوں میں۔
کبھی ((انی قد ترکت فیکم الثقلین ))(۱) اور کبھی ((انی تارک فیکم خلیفتین ))،(۲) بعض اوقات ((انی تارک فیکم الثقلین ))(۳) کے عنوان سے اور کسی وقت ((لن یفترقا ))(۴) اور کبھی((لن یتفرقا ))(۵) کی عبارت کے اضافے کے ساته اور بعض مناسبتوں پر ((لا تقدموهما فتهلکوا ولا تعلموهما فإنهما ا عٔلم منکم ))(۶) اور کبھی اس طرح گویا ہوئے ((إنی تارک فیکم ا مٔرین لن تضلوا إن اتبعتموهما ))(۷)
اگرچہ کلام رسول خدا (ص) میں موجود تمام نکات کو بیان کرنا تو میسر نہیں، لیکن چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔جملہ ((انی قد ترکت ))اس بات کو بیان کرتاہے کہ امت کے لئے آنحضرت (ص) کی طرف سے قرآن وعترت بطور ترکہ ومیراث ہیں، کیونکہ پیغمبر اسلام (ص) کو امت کی نسبت باپ کا درجہ حاصل ہے، اس لئے کہ انسان جسم وجان کا مجموعہ ہے اور روح کو جسم سے وہی نسبت ہے جو معنی کو لفظ او ر مغز کو چهلکے سے ہے۔ اعضاء اور جسمانی قوتیں انسان کو اپنے جسمانی باپ سے ملی ہیں اور عقائد حقہ، اخلاق فاضلہ واعمال صالحہ کے ذریعے میسر ہونے والے روحانی اعضاء وقوتیں، پیغمبر (ص)کے طفیل نصیب ہوئی ہیں،جو انسان کے روحانی باپ ہیں۔روحانی سیرت وعقلانی صورت کے افاضے کا وسیلہ اور مادی صورت وجسمانی هیئت کے افاضے کا واسطہ، آپس میں قابل قیاس نہیںہیں،جس طرح مغز کاچهلکے سے، معنی کا لفظ سے اور موتی کا سیپ سے کوئی مقابلہ نہیں۔
____________________
۱ مسند احمد ج ۳ ص ۲۶ ، السنن کبری للنسائی، ج ۵،ص ۱۴۵ ، رقم ۸۱۴۸ ؛ سیرة ابن کثیر، ج ۴، ص ۴۱۶ اور اہل سنت کی دیگر کتابیں۔ ؛ ۲۳۸ ؛ المناقب، ۱۵۴ ، بصائر الدرجات، ص ۴۳۴ ، جز ثامن، باب ۱۷ ، حدیث ۴؛ کمال الدین و تمام النعمة، ص ۲۳۶ ۱۲۲ ، اور اہل شیعوں کی دیگر کتابوں میں۔ ،۱۱۶ ، العمدہ، ص ۷۱ ، الطرائف، ص ۱۱۴
۲ مسند احمدج ۵ ص ۱۸۱ و ۱۸۹ فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، ج ۲ ، ص ۶۰۳ ، رقم ۱۰۳۲ ؛ المصنف ابن ابی شیبہ، ج ۷، ص ۴۱۸ (الخلیفتین)، الجامع الصغیر، ج ۱، ص ۴۰۲ ، اور دیگر کتابیں۔ کمال الدین و تمام النعمة، ص ۲۴۰ ؛ العمدة، ص ۶۹ ؛ سعد السعود ، ص ۲۲۸ ، اور شیعوں کے دیگر منابع و مآخذ۔
۳ فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، ج ۱ ،ص ۵۷۲ حدیث ۹۶۸ ، مسند احمد ،ج ۴ ، ص ۳۷۱ ، المستدرک علی الصحیحین، ج ۳ ، ص ۱۴۸ ؛ المعجم الکبیر، ج ۵ ،ص ۱۶۶ ،اور دوسری کتابیں۔ بصائر الدرجات، ص ۴۳۲ ، جز ثامن، باب ۱۷ ، حدیث ۳ و حدیث ۵، و حدیث ۶؛ دعائم الاسلام، ج ۱، ص ۲۸ ؛ الامالی للصدوق، ص ۵۰۰ ، مجلس ۶۴ ، حدیث ۱۵ ؛ کمال الدین و تمام النعمة، ص ۲۳۴ ، وغیرہ، معانی الاخبار، ص ۹۰ ، اور شیعوں کے دیگر منابع۔
، ۴ البدایةوالنهایة،ج ۵، ص ۲۲۸ ،وج ۷، ص ۳۸۶ ،الطبقات الکبریٰ، ج ۲، ص ۱۹۴ ، مسند ابی یعلی، ج ۲، ص ۲۹۷ رقم ۴۸ ، جواہر العقدین ،ص ۲۳۱ و ۲۳۲ و ۲۳۳ ، مسند ابن الجعد، ص ۳۹۷ ، رقم ۲۷۱۱ ، رقم ۲۸۰۵ ، خصائص امیر المومنین، ص ۹۳ مسند احمد، ج ۳ ، ص ۱۴ ، اور دوسری کتابیں۔ ۴۳۴ ، جز ثامن، باب ۱۷ ؛ الکافی، ج ۲، ص ۴۱۵ ؛ الخصال، ۶۵ ؛ الامالی للصدوق، ص ، بصائر الدرجات، ص ۴۳۳ ،۲۱۷ ، ۲۳۴ وغیرہ؛ کفایة الاثر، ص ۹۲ ؛ الاحتجاج، ج ۱، ص ۷۵ ،۹۴ ، ۶۱۶ ، مجلس ۷۹ ، ح ۱؛ کمال الدین و تمام النعمة، ص ۶۴ ۸۳ وغیرہ؛ تفسیر قمی، ج ۱، ص ۱۷۲ ، التبیان، ج ۱، ص ۳، اور شیعوں کے ،۷۱ ، ۲۵۲ ؛ العمدة، ص ۶۸ ، ۳۹۱ ، و ج ۲، ص ۱۴۷ دیگر منابع۔
۵ مسند احمد، ج ۵، ص ۱۸۲ ؛ السنن الکبری للنسائی، ج ۵، ص ۴۵ وغیرہ؛ کتاب السنة ابن ابی عاصم، ص ۶۲۹ رقم ۱۵۴۹ و ص ۶۳۰ رقم ۱۵۵۳ ، المستدرک علی الصحیحین، ج ۳ ص ۱۰۹ ، اور دوسری کتابیں۔ روضة الواعظین، ص ۹۴ ؛ المناقب، ص ۱۵۴ ؛ تفسیر القمی، ج ۲، ص ۴۴۷ ، سورہ فتح کی تفسیر میں، تفسیر فرات الکوفی، ۱۷ ، اور شیعوں کے دیگر منابع ۔
۶ مذکورہ عبارت یا اس جیسی عبارتیں مجمع الزوائد، ج ۹، ص ۱۶۴ ؛الصواعق المحرقة، ص ۱۵۰ و ۲۲۸ ؛ جواہر العقدین ص ۲۳۳ و ۲۳۷ ، الدر المنثور، ج ۲ ،ص ۶۰ ، اور دوسری کتب۔
۲۵۰ ؛ تفسیر القمی، ج ۱، ص ۴، تفسیر فرات الکوفی، ص ۱۱۰ ؛ الامامة و التبصرة، ص ، تفسیر العیاشی، ج ۱، ص ۴ ۲۹۴ ؛ الامالی للصدوق، ص ۶۱۶ ، مجلس ۷۹ ، ح ۱؛ کفایة الاثر، ص ۱۶۳ ؛ مناقب امیر المومنین ،۲۸۷ ، ۴۴ ؛ کافی، ج ۱، ص ۲۰۹ ۴۶۷ ؛ الارشاد، ج ۱، ص ۱۸۰ ، اور شیعوں کے دیگر منابع۔ ، علیہ السلام، ج ۲، ص ۳۷۶ ؛ المسترشد، ص ۴۰۱
، ۷ المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۱۱۰ ، جامع الاحادیث ،ج ۳، ص ۴۳۰ حدیث ۹۵۹۱ ؛ینابیع المودة ، ج ۱ ص ۱۶۶ ، تاریخ مدینة دمشق ،ج ۴۲ ،ص ۲۱۶ ۔ اور دوسری کتابیں۔ ۲۳۷ وغیرہ؛ کفایة الاثر، ص ۲۶۵ ،تحف العقول، ص ۴۵۸ ؛ مناقب امیر المومنین ، کمال الدین و تمام النعمة، ص ۲۳۵ علیہ السلام، ج ۲، ص ۱۰۵ وغیرہ، ص ۱۴۱ ، و ۱۷۷ ؛ شرح الاخبار، ج ۱، ص ۱۰۵ اور شیعوں کے دیگر منابع۔
ایسا باپ اپنے اس جملے ((کا نٔی قددعیت فاجبت ))سے اپنی رحلت کی خبر دینے کے ساته ساته اپنی اولاد کے لئے میراث وترکہ معین فرما رہا ہے کہ امت کے لئے میرے وجود کا حاصل اور باقی دو چیزیں ہیں ((کتاب اللّٰه وعترتی ))
قرآن امت کے ساته خدا، اور عترت امت کے ساته رسول (ص)کا رابطہ ہیں۔ قرآن سے قطع رابطہ خدا کے ساته قطع رابطہ او ر عترت سے قطع رابطہ پیغمبر اکرم (ص) کے ساته قطع رابطہ ہے اور پیغمبر خدا سے قطع رابطہ خود خدا سے قطع رابطہ ہے۔
اضافہ کی خصوصیت یہ ہے کہ مضاف، مضاف الیہ سے کسب حیثیت کرتا ہے۔ اگرچہ قرآن کا خدا کی جانب اور عترت کا پیغمبر خاتم (ص)،جو کائنات کے شخص اول ہیں، کی طرف اضافہ، قرآن وعترت کے مقام و منزلت کو واضح وروشن کر رہا ہے لیکن مطلب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے آنحضرت (ص) نے ان دو کو ثقلین سے تعبیر کیاہے جس سے پیغمبر اکر م (ص) کی اس میراث کی اہمیت اور سنگینی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
قرآن کے معنوی وزن کی سنگینی اور نفاست،ادراک عقول سے بالاتر ہے، اس لئے کہ قرآن مخلوق کے لئے خالق کی تجلی ہے اور عظمت قرآن کو درک کرنے کے لئے یہ چند آیات کافی ہیں( يٰسٓةوَالْقُرآنِ الْحَکِيْمِ ) (۱) ( قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ ) (۲) ، إِنَّہ لَقُرْآنٌ کَرِيْمٌة فِی کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍةلاَ يَمَسُّہ إِلاَّالْمُطَہَّرُوْن ۳( لَوْ ا نَْٔزَلْنَا هٰذَا القُرْآنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَا ئََتَه خَاشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ وَ تِلْکَ اْلا مَْٔثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ ( يَتَفَکَّرُوْنَ ) (۴)
اور عترت وقرآن کو ایک ہی وصف سے توصیف کرنا اس بات کا کهلا ثبوت ہے کہ کلام رسول الله (ص) کے مطابق عترت، قرآن کی ہم پلہ وشریک وحی ہے۔
پیغمبر خاتم (ص)کے کلام میں، جو میزان حقیقت ہے، عترت کا ہمسرِ قرآن ہونا ممکن نہیں مگر یہ کہ عترت( تِبْيَاناً لِِّکُلِّ شَیْءٍ ) (۵) میں شریک علم اور( لاَ يَا تِْٔيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلاَ مِنْ خَلْفِه ) (۶) میں شریک عصمت قرآن ہو۔
۲۔جملہ ((فإنهما لن یتفرقا )) قرآن وعترت کے لازم وملزوم اور ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی ان دونوں میں جدائی ہو ہی نہیں سکتی، اس لئے کہ قرآن ایسی کتاب ہے جو تمام بنی نوع انسان کی مختلف ظرفیتوں اور قابلیتوں کے حساب سے نازل ہوئی ہے جس میں عوام کے لئے عبارات، علماء کے لئے اشارات، اولیاء کے لئے لطیف نکات اور انبیاء کے لئے حقائق بیان ہوئے ہیں اور بنی نوع انسان کے پست ترین افراد، جن کا کام فقط مادی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے، سے لے کر بلند مرتبہ افراد، جن کے روحی اضطراب کو ذکر خد ا کے بغیر اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور جو ہمیشہ اسمائے حسنی،امثال علیا اور تحمل اسم اعظم کی تلاش میں ہیں، کو اس کی ہدایت سے بهرہ مند ہونا ہے۔
اور یہ کتا ب سورج کی مانند ہے کہ ٹهنڈک محسوس کرنے والا اس کی حرارت سے خود کو گرم کرتا ہے، کاشتکار اس کے ذریعے اپنی زراعت کی پرورش چاہتا ہے، ماہر طبیعیات اس کی شعاعوں کا تجزیہ اور معادن ونباتات کی پرورش میں اس کے آثار کی جستجو کرتاہے اور عالم ربانی دنیاومافیها میں سورج کی تاثیر، طلوع وغروب اور قرب وبعد میں موجود سنن وقوانین کے ذریعے اپنے گمشدہ کوپاتاہے،جو سورج کا خالق ومدبر ہے۔
ایسی کتاب کے لئے، جو تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے اور دنیا وبرزخ وآخرت میں انسانیت کی تمام ضرورتوں کوپوراکرتی ہے، ایسے معلم کی ضرورت ہے جو ان تمام ضرورتوں کا علم رکھتا
____________________
۱ سورہ یس ، آیت ۱،۲ ۔”یس قرآن حکیم کی قسم“۔
۲ سورہ ق، آیت ۱۔”ق قرآن مجید کی قسم“۔
۳ سورہ واقعہ، آیت ۷۷،۷۸،۷۹ ۔”یہ بڑا محترم قرآن ہے۔ جسے ایک پوشیدہ کتاب میں رکھا گیا ہے۔ اسے پاک پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی چهو بھی نہیں سکتا ہے“۔
۴ سورہ حشر ، آیت ۲۱ ۔”هم اگر اس قرآن کو کسی پهاڑ پر نازل کردیتے تو تم دیکھتے کہ پهاڑ خوف خدا سے لرزاں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے اور ہم ان مثالوں کو انسانوں کے لئے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ شاید وہکچھ غور وفکر سکیں“۔
۵ سورہ نحل، آیت ۸۹ ۔”جس میں ہر شئے کی وضاحت موجود ہے“۔
۶ سورہ فصلت، آیت ۴۲ ۔”قرآن کے نہ سامنے سے اور نہ پیچہے سے جھوٹ و باطل کو راستہ نہیں ہے“۔
هو، کیونکہ طبیب کے بغیر طب، معلم کے بغیر علم اور مفسر کے بغیر زندگی ومعاد کو منظم کرنے والا الٰهی قانون ناقص ہیں اور نہ فقط یہ بات( اَلْيَوْمَ ا کَْٔمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ ) (۱) کے ساته سازگار نہیں بلکہ قرآن کے نزول سے نقضِ غرض لازم آتی ہے اور( وَنَزَّلْنَا عَلَيْکَ الْکِتَابَ تِبْيَاناً لِّکُلِّ شَیْءٍ ) (۲) کے ساته قابل جمع نہیں ہے۔ جب کہ حکیم وکامل علی الاطلاق سے قبیح ہے کہ دین کو ناقص بیان کرے اورمحال ہے کہ نقص غرض کرے،اسی لئے فرمایا((لن یتفرقا ))
۳۔ایک روایت کے مطابق فرمایا((یا ا ئها الناس إنی تارک فیکم ا مٔرین لن تضلوا إن اتبعتموهما ))
اور جیسا کہ سابقہ مباحث میں اشارہ کیا جاچکا ہے کہ خلقت کے اعتبار سے انسان، جو موجودات جهان کا نچوڑ اور دینوی، برزخی، اخروی، ملکی وملکوتی موجود ہونے کی وجہ سے عالم خلق وامر سے وابستہ ہے اور ایسی مخلوق ہے جو بقا کے لئے ہے نہ کہ فنا کے لئے، ایسے انسان کی ہدایت، سعادت ابدی اوراس کی گمراہی شقاوت ابدی کا باعث ہو سکتی ہے اور یہ تعلیم وتربیت، وحی الٰهی کی ہدایت کے بغیر نا ممکن ہے،جو ظلمات کے مقابلے میں نور مقدس ہے( قَدْ جَائَکُمْ مِنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِيْنٌ ) (۳) اور قانون تناسب وسنخیت کے مطابق، معلمِ قرآن کا بھی خطا سے معصوم ہونا ضروری ہے، کیونکہ انسان، با عصمت ہدایت اور معصوم هادی کے ساته تمسک کے ذریعے ہی فکری، اخلاقی وعملی گمراہیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، لہٰذا آپ (ص) نے فرمایا ((لن تضلوا إن اتبعتموہما))۔
۴ ۔اور آپ (ص) کے اس جملے ((ولا تعلموهما فإنهما ا عٔلم منکم ))کے بارے میں ایک انتهائی متعصب سنی عالم کا یہ قول ہی کافی ہے کہ ((وتمیزوا بذلک عن بقیة العلماء لا نٔ اللّٰه ا ذٔهب عنهم الرجس وطهرهم تطهیرا )) یهاں تک کہ کہتا ہے ((ثم ا حٔق من یتمسک به منهم إمامهم و عالمهم علیّ بن ا بٔی طالب کرّم اللّٰه وجهه لما قدمناه من مزید علمه ودقائق مستنبطاته ومن ثم قال ا بٔوبکر: علیّ عترة رسول اللّٰه ا یٔ الذین حث علی التمسک بهم، فخصه لما قلنا، وکذلک خصه بما مر یوم غدیر خم ))(۴)
اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس تصدیق کے باوجود کہ آیت تطهیر کی وجہ سے علی (ع) باقی تمام علماء سے افضل ہیں، کیونکہ اس آیت کے مطابق رجس سے بطورمطلق پاک ہیں،
اور اس اقرار کے باوجود کہ پیغمبر اکرم (ص) علی(ع) کو باقی تمام امت سے اعلم شمار فرماتے تھے اور خدا بھی فرماتا ہے( قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لاَ يَعْلَمُوْنَ إِنَّمَا يَتَذَکَّرُ ا ؤُْلُو اْلا لَْٔبَابِ ) (۵) اور( ا فََٔمَن يَّهْدِیْ إِلَی الْحَقِّ ا حََٔقُّ ا نَْٔ يُّتَّبَعَ ا مََّٔنْ لاَّ يَهِدِّیْ إِلاَّ ا نَْٔ يُّهْدٰی فَمَا لَکُمْ کَيْفَ تَحْکُمُوْنَ ) (۶) اور اس حدیث ((إنی تارک فیکم ا مٔرین لن تضلوا إن اتبعتموہما وہما کتاب اللّٰہ و ا هٔل بیتی عترتی)) کے صحیح ہونے کے اعتراف
کے ساته، ضلالت وگمراہی سے نجات پانے کے لئے پوری امت کو علی (ع) کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور اس طرح علی (ع)کی متبوعیت وعموم امت کی تابعیت کے بارے میں بغیر کسی استثناء کے حجت قائم ہے( قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ) (۷)
۵ ۔قانون کو بیان کرنے کے بعد مصداق کو معین کرنے کی غرض سے حضرت علی (ع) کا هاته پکڑ کر آپ کا تعارف کروایا کہ یہ وہی ثقل ہے جو قرآن سے ہر گز جدا نہ ہوگا اور اس کی عصمت، ہدایت امت کی ضامن ہے اور جس طرح پیغمبر (ص) تمام مومنین کے مولاہیں اسی طرح
____________________
۱ سورہ مائدہ ، آیت ۳۔”آج ہم نے تمهارے دین کو مکمل کردیا“۔
۲ سورہ نحل، آیت ۸۹ ۔” ہم نے تم پر ایسی کتاب کو نازل کیا جو ہر چیز کو بیان کرنے والی ہے“۔
۳ سورہ مائدہ، آیت ۱۵ ۔”بتحقیق الله کی طرف سے تمهارے پاس نورآیا اور کهلی ہوئی کتاب آئی“۔
۴ صواعق محرقہ ص ۱۵۱ (اہل بیت اطهار (ع) کتاب خداو سنت رسول کے ذریعہ دوسرے علماء سے جدا ہیں کیونکہ الله تعالیٰ نے ان سے ہر رجس کو دور رکھا اور ان کو ایسا پاک پاکیزہ رکھا جو پاکیزگی کا حق ہے)یهاں تک کہ فرماتا ہے کہ ان میں تمسک و اتباع کے لئے سزاوار ترین شخص ان کے امام علی بن ابی طالب ہیں،کیونکہ ان کا علم دوسروں سے زیادہ ہے اور استنباط احکام میں دقیق ہیں اسی وجہ سے ابو بکر نے کها علی عترت رسول ہیں وہ عترت کہ جس سے تمسک کے لئے خدا نے حکم دیا ہے ، تو ان کو مخصوص کیا ان باتوں سے جو ہم نے بیان کیں، اور اسی طرح ان امور سے مخصوص کیا جو کہ غدیر خم کے دن میں ذکر کیا جاچکا ہے۔
۵ سورہ زمر ، آیت ۹۔”کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے ہیں ،اس بات سے نصیحت صرف صاحبان عقل حاصل کرتے ہیں“۔
۶ سورہ یونس، آیت ۳۵ ۔”اور جو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعاً قابل ابتاع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے تو آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے اور تم کیسے فیصلے کر رہے ہو“۔
۷ سورہ انعام، آیت ۱۴۹ ۔”کہہ دیجئے کہ سب سے بڑی حجت خدا ہی کی ہے“۔
علی (ع) کا مولاہونا بھی ثابت ہے( إِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَيُو تُْٔوْنَ الزَّکوٰةَ وَهُمْ رَاکِعُوْنَ ) (۱)
اگر چہ خلافت، امامت عامہ اور امامت خاصہ کا مسئلہ عقل،کتاب اور سنت کے حکم سے روشن ہو چکا ہے اور امام کے لئے ضروری اوصاف، ائمہ معصومین علیهم السلام کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائے جاتے، لیکن اتمام حجت کے پیش نظر، حدیث ثقلین کے علاوہ، حضرت سید الوصیيّن امیر المو مٔنین (ع) کی شان میں چند اور احادیث کو پیش کیا جارہا ہے جن کا صحیح ہونا محدثین کے نزدیک ثابت ومسلم ہے۔
پهلی حدیث
عن ابی ذر رضی اللّٰه عنه قال:قال رسول اللّٰه (ص):((من اطاعنی فقد اطاع اللّٰه ومن عصانی فقد عصی اللّٰه ومن اطاع علیا فقد اطاعنی ومن عصی علیا فقد عصانی ))(۲)
اس حدیث میں، جس کے صحیح ہونے کی اکابر اہل سنت تصدیق کرتے ہیںہے، بحکم فرمان رسول (ص)، جن کی عصمت گفتارکا تذکرہ خداوند متعال نے قرآن میں کیا ہے اور اس بات پر عقلی دلیل بھی قائم ہوچکی ہے، علی (ع) کی اطاعت وعصیان دراصل اطاعت وعصیان پیغمبر (ص)ہے اور اطاعت وعصیان پیغمبر (ص) دراصل خدا کی اطاعت وعصیان قرار پاتی ہے۔
اس توجہ کے ساته کہ اطاعت و عصیان کا تعلق امر ونهی سے ہے اور امر ونهی کی وجہ ارادہ وکراہت ہے،لہٰذا علی (ع) کی اطاعت وعصیان کا خدا کی اطاعت وعصیان قرار پانا اسی وقت ممکن ہے جب علی (ع) کا ارادہ و کراہت، خدا کے ارادے وکراہت کا مظهرہو۔
اور جس کا ارادہ وکراہت، خدا کے ارادے وکراہت کا مظهر ہو اس کے لئے مقام عصمت کا ہونا ضروری ہے، تاکہ اس کی رضا وغضب، باری تعالی کی رضا وغضب ہو اور کلمہ ((مَنْ))کی عمومیت کا تقاضا یہ ہے کہ جو بھی خدا وپیغمبر (ص) کی اطاعت کے دائرے میں ہے علی (ع) کے فرمان کے آگے سر تسلیم خم کردے، اور اگر ایسا نہ کرے تو اس نے خدا و رسول کی نافرمانی کی ہے:( وَمَنْ يَعْص اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِینًا ) (۳) ( وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیهَا ا بََٔدًا ) (۴)
اور جس نے حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت کی اس نے خدا اور اس کے ر سول کی اطاعت کی ہے:( وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْا نَْٔهَارُ ) (۵) ( وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَاز فَوْزًا عَظِیمًا ) (۶) ( وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُولَ فَا ؤُْلَئِکَ مَعَ الَّذِینَ ا نَْٔعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ ) (۷)
____________________
۱ سورہ مائدہ ، آیت ۵۵ ۔”بے شک فقط تمهاراولی خدا ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میںزکوة اداء کرتے ہیں“۔
۲ ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:جس نے میری اطاعت کی اس نے الله کی اطاعت کی اور جس نے میرا عصیان کیا اس نے خدا کا گناہ کیا اور جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی ہے ۔مستدرک صحیحین ج ۳ کتاب معرفة صحابہ، ص ۱۲۱ ، بحار الانوارج ۳۸ص ۱۲۹ ۔
۳ سورہ احزاب، آیت ۳۶ ، ترجمہ: جو کوئی بھی خدا کی نافرمانی اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ آشکار گمراہی میں ہے۔
۴ سورہ جن، آیت ۲۳ ، ترجمہ: جو کوئی خدا اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے جهنم کی آگ ہمیشہ کے لئے ہے۔
۵ سورہ نساء، آیت ۱۳ ، ترجمہ: جس نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس کو جنت میں داخل کیا جائے گا جس کے نیچے نهریں جاری ہیں۔
۶ سورہ احزاب، آیت ۷۱ ، ترجمہ: جس نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ عظیم کامیابی پاگیا۔
۷ سورہ نساء، آیت ۶۹ ، ترجمہ: جس نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ان کے ساته ہے جس پر خدا نے نعمت نازل کی ہے۔ ۔
دوسری حدیث
((إن رسول اللّٰه (ص) خرج إلی تبوک واستخلف علیا فقال ا تٔخلفنی فی الصبیان والنساء، قال:ا لٔاترضی ا نٔ تکون منی بمنزلة هارون من موسی إلا ا نٔه لیس نبی بعدی ))(۱)
یہ روایت، اہل سنت کی معتبر کتب صحاح اور مسانید میں ذکر ہوئی ہے۔ اکابراہل سنت نے اس حدیث کے صحیح ہونے پر اتفاق کو بھی نقل کیا ہے۔ ان کی گفتار کا نمونہ یہ ہے ((هذا حدیث متفق علی صحته رواه الائمة الحفاظ، کا بٔی عبد اللّٰه البخاری فی صحیحه، ومسلم ابن الحجاج فی صحیحه، وا بٔی داود فی سننه، وا بٔی عیسی الترمذی فی جامعه، و ا بٔی عبد الرحمان النسائی فی سننه، وابن ماجة القزوینی فی سننه،واتفق الجمیع علی صحته حتی صار ذلک اجماعا منهم، قال الحاکم النیسابوری هذا حدیث دخل فی حد التواتر))(۲)
اس روایت میں منزلت کے عمومی بیان کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت موسی (ع) کی نسبت جناب هارون (ع) کو جو مقام حاصل تھا پیغمبر (ص) کی نسبت حضرت علی (ع) کے لئے بھی وہ مقام ثابت ہے اور استثناء مقام نبوت اس عموم کی تاکید ہے۔
قرآن مجید میں حضرت هارون (ع) کی نسبت، حضرت موسیٰ (ع) سے اس طرح بیان فرمائی گئی ہے( وَاجْعَلْ لِیْ وَزِيْرًا مِّنْ ا هَْٔلِيْةهَارُوْنَ ا خَِٔيْةاشْدُدْ بِه ا زَْٔرِيْةوَا شَْٔرِکْهُ فِیْ ا مَْٔرِیْ ) ،(۳) ( وَقَالَ مُوْسٰی لِا خَِٔيْه هَارُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ ا صَْٔلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ ) (۴)
اور یہ مقام ومنزلت پانچ امور کا خلاصہ ہے:
۱۔وزارت :
وزیر وہ ہے جو بادشاہ کی ذمہ داریوں کا بوجه اپنے کاندہوں پر لیتا ہے اور ان امور کو انجام دیتا ہے، اور حضرت علی(ع) کے لئے یہ مقام نہ فقط اس حدیث منزلت، بلکہ اہل سنت کی دیگر معتبر کتب حدیث وتفاسیر میں بھی ذکر ہوا ہے(۵)
____________________
۱ صحیح بخاری باب غزوہ تبوک ،ج ۵، ص ۱۲۹ ، حدیث نمبر ۲(رسول خدا جنگ تبوک تشریف لے گئے اور علی کوا پنا خلیفہ بنایا علی نے حضرت سے فرمایا:آیا آپ ہم کو عوتوں اور بچوں میں چهوڑ کے جارہے ہیں حضرت نے جواب دیا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ویسے ہی ہو جیسے هارون موسیٰ کے لئے تھے فرق فقط اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔مذکورہ حدیث ، حدیث منزلت کے نام سے مختصر سے فرق کے ساته اکثر سنی اور شیعہ کتابوں میں موجود ہے۔صحیح بخاری ج ۴، ص ۲۰۸ ،، صحیح مسلم ج ۷، ص ۱۲۰،۱۲۱ ، الجامع الصحیح ترمذی، ج ۵، ص ۳۰۲ ، سنن ابن ۵۰ ، اور اسی کتاب میں دوسرے مقامات پر،المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ، ماجہ ، ج ۱، ص ۴۵ ، خصائص نسائی، ص ۴۸ ۳۳۸ ، ج ۶، ص ۳۶۹ ، اور اہل سنت کے دیگر منابع۔ ، ۱۷۳ ، ج ۳، ص ۳۲ ، ۱۰۸ ، مسند احمد، ج ۱، ص ۱۷۰ المحاسن للبرقی، ج ۱ ،ص ۱۵۹ ، کافی ،ج ۸ ،ص ۱۰۷ ، دعائم الاسلام ،ج ۱ ،ص ۱۶ ، علل الشریع، ج ۱، ص ۶۶ ، عیون الاخبار الرضا، ج ۲ ،ص ۱۲۲ ، باب ۳۵ دوسری شیعہ کتب۔
۲ کفایة الطالب ص ۲۸۳ (یہ وہ حدیث ہے جس کے صحت پر علماء اہل سنت کا اتفاق ہے اور اس حدیث کو نقل کیا ہے جیسے بخاری مسلم ابن دادو ،ٔ ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ، اس حدیث کی صحت پر سب کا اتفاق ہے، یهاں تک اس پر اجماع ہے، یهاں تک نیشاپوری نے کها کہ یہ حدیث تو اتر کی حد تک نقل ہوئی ہے۔ بعض بزرگ علماء اہل سنت اس حدیث کے سلسلے میں فرماتے ہیں: ۱۰۹۸ میں نقل کرتے ہیں کہ اے علی ! تمهارے نسبت میرے نزدیک ، الف:ابن عبد البر استیعاب قسم سوم ص ۱۰۹۷ ویسے ہی ہے جو هارون کو موسیٰ سے تھی۔
ب:جزری اسنی المطالب ص ۵۳ میں لکهتے ہیں اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے جس کو رسول سے صحابہ کے ایک گروہ نے نقل کیا ہے ان میں عمر خود بھی، ابن عباس عبد الله بن جعفر ، معاذ معاویہ، جابر بن عبد الله ،وجابر بن سمرة ، ابو سعید، وبراء بن عازب،، وزید بن ارقم ، وزیدبن ابی اوفی، ونبیط بن شرایط ، وحبشی بن جنادہ، وماہر بن الحویرث، وانس بن مالک ،وابی الطفیل، وام سلمہ، واسماء بنت عمیس ، وفاطمہ بنت حمزہ۔
ج:شرح السنة بغوی ج ۱۴ ص ۱۱۳ (هذا حدیث متفق علی صحة)اس حدیث کے صحت پر اتفاق ہے۔
د:شواہد التنزیل حاکم حسکانی ج ۱ ص ۱۹۵ ۔”هذا هو حدیث المنزلة الذی کان شیخنا ابو حازم الحافظ یقول خرجته بخمسة الاف اسناد ۔“(یہ وہ حدیث منزلت ہے جس کے بارے میں میرے استاد فرماتے تھے کہ میں پانچ ہزار سند کے ساته استخراج کیا ہے)
۳ سورہ طہ ، آیت ۲۹،۳۰،۳۱،۳۲ ۔”اور میرے اہل سے میرا وزیر قرار دیدے۔هارون کو جومیرابهائی بھی ہے۔اس سے میری پشت کو مضبوط کر دے۔اور میرے کام میں شریک بنادے“۔
۴ سورہ اعراف، آیت ۱۴۲ ۔”اور انهوں نے اپنے بهائی هارون سے کها کہ تم قوم میں میری نیابت کرو اور اصلاح کرتے رہو اور خبردار مفسدوں کے راستہ کا اتباع نہ کرنا“۔
۵ تفسیر کبیر فخر رازی ج ۱۲ ص ۳۶( انما ولیکم الله ورسوله ) کے ذیل میں طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۲۳ ۔
۲۔اخوت وبرادری :
چونکہ حضرت موسی اور هارون علیہما السلام کے درمیان نسب کے اعتبار سے برادری تھی،
رسول خدا(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ساته اس منزلت کو عقد اخوت کے ذریعے قائم فرمایا، کہ اس بارے میں شیعہ اور سنی روایات کثرت سے موجود ہیں، جن میں سے ایک روایت کا پیش کردینا کافی ہے :
عبدالله بن عمرکاکهنا ہے: مدینہ میں داخل ہونے کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے اصحاب کے درمیان اخوت وبرادری کا رشتہ برقرار کیا۔ حضرت علی(ع) آبدیدہ ہو کر آپ (ص) کی خدمت میں حاضر ہو کر گویا ہوئے: یارسول الله!آپ نے تمام اصحاب کو اخوت اور برادری کے رشتے میں پرو دیا لیکن مجھے کسی کا بهائی قرار نہیں دیا، آپ (ص) نے فرمایا((یا علی ا نٔت ا خٔی فی الدنیا و الآخرة ))(۱)
یہ اخوت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَة ) (۲) کے نزول کے وقت حضرت علی علیہ السلام کی منزلت ہر مومن سے اعلی و ارفع تھی۔ کیونکہ فریقین کے منابع و مآخذ کے مطابق آنحضرت نے اصحاب کے مقام و منزلت کے مطابق انہیں ایک دوسرے کا بهائی قرار دیا تھا۔
جیسے کہ ابوبکر و عمر، عثمان و عبدالرحمن اور ابوعبیدہ و سعد بن معاذ و غیرہ کو ایک دوسرے کا بهائی قرار دیا تھا۔(۳) جبکہ حضرت علی علیہ السلام کو اپنی اخوت کے لئے چنا تھا۔ لہٰذا حضرت علی علیہ السلام بنی آدم کے درمیان سب سے افضل و اشرف کیوں نہ ہوں؟ جبکہ رسول اکرم (ص) نے دنیا و آخرت میں آپ کے ساته اپنی اخوت کا صراحتاً اعلان بھی فرما دیا ہو۔ یہ اخوت اس امر کو واضح کردیتی ہے کہ حضرت علی اور کائنات کی افضل ترین مخلوق یعنی رسول اکرم (ص) کے درمیان روحی، علمی، عملی اور اخلاقی مشابہت و مساوات وجود میں آچکی تھی( وَلِکُلٍّ دَرَجَاتُ مِمَّا عَمِلُوْا ) (۴)
جبکہ دنیا و آخرت کے مراتب انسان کی سعی و کوشش اور کسب و اکتساب ہی کے مرہون منت ہیں:( وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَومِ الْقِيَامَةِ فَلاَ تَظْلَمُ نَفْسُ شَيْئاً ) (۵)
یقینا خداوند متعال علی بن ابی طالب علیہ السلام کے اس حق جهاد کو بہتر جانتا ہے جو آپ علیہ السلام نے خداوند متعال کے لئے انجام دیا۔ یهاں تک کہ آپ علیہ السلام اس دنیا میں اس هستی کے ہم مرتبہ ہوگئے کہ جس کے لئے خداوند تعالیٰ نے یہ فرمایا:( وَ عَسٰی اَنْ يَبْعَثَکَ رَبّکَ مَقَاماً مَحْمُوداً ) (۶)
اس مقام و منزلت کو بجز آنحضرت کے الفاظ کے علاوہ کسی اور الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا کہ جن میں آپ (ص)نے فرمایا: (انت اخی فی الدنیا والآخرة ) اور حضرت امیر علیہ السلام، عبودیت الٰهی کے بعد اسی اخوت کے مرتبے پر افتخار کیا کرتے تھے، جیسا کہ خود آپ نے فرمایا:”انا عبد الله واخی رسوله “(۷) میں خدا کا بندہ اور رسول خدا (ص) کا بهائی ہوں۔
____________________
، ۱ (اے علی ! تم دنیا وآخرت میں میرے بهائی ہو)، مستدرک صحیحین ج ۳ ص ۱۴ ؛ سنن الترمذی، ج ۵، ص ۳۰۰ ؛ نمبر ۳۸۰۴ ؛ اسد الغابة، ج ۴، ص ۲۹ ؛ البدایة و النهایة، ج ۷، ص ۳۷۱ ؛ مجمع الزوائد، ج ۹، ص ۱۱۲ ؛ فتح الباری، ج ۷، ص ۲۱۱ تحفة الاحوذی، ج ۱۰ ، ص ۱۵۲ ؛ تاریخ بغداد، ج ۱۲ ، ص ۲۶۳ ؛ نظم درر السمطین، ص ۹۵ ؛ کنزل العمال، ج ۱۳ ، ص ۱۴۰ ؛ تاریخ مدینة دمشق، ج ۴۲ ، ص ۱۸ و ۵۳ و ۶۱ ؛ ا نٔساب الاشراف، ص ۱۴۵ ؛ ینابیع المودة، ج ۲، ص ۳۹۲ ، اور اہل سنت کے دیگر مآخذ۔ مناقب آل ا بٔی طالب، ج ۲، ص ۱۵۸ ؛ اور اسی سے ملتی جلتی عبارت خصال ، ص ۴۲۹ ؛ باب ۱۰ ، ح ۶، مناقب ا مٔیر ۳۴۳ و ۳۵۷ ؛ شرح الاخبار، ج ۲، ص ۱۷۸ و ۴۷۷ و ۵۳۹ ؛ العمدة، ص ۱۶۷ ،۳۲۵ ،۳۱۹ ، المومنین علیہ السلام، ج ۱، ص ۳۰۶ و ۱۷۲ ، اور شیعوں کے دیگر منابع۔
۲ سورہ حجرات آیہ ۱۰ ترجمہ: مومنین آپس میں بهائی بهائی ہیں۔
۳ المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۱۴ ، و ۳۰۳ ، الدرّ المنثور، ج ۳، ص ۲۰۵ ، اور اہل سنت کے دیگر منابع، الا مٔالی شیخ طوسی، ص ۵۸۷ ؛ مناقب آل ابی طالب، ج ۲، ص ۱۸۵ ؛ العمدة، ص ۱۶۶ ، اور شیعوں کے دیگر منابع۔
۴ سورہ انعام آیہ ۱۳۲ ، اور جس نے جیسا (بهلا یا برا) کیا ہے اسی کے موافق ہر ایک کے درجات ہیں۔
۵ سورہ انبیاء ۴۷ ، قیامت کے دن تو ہم (بندوں کے برے بهلے اعمال تولنے کے لیے) انصاف کی ترازوئیں کهڑی کردیں گے تو پھر کسی شخص پرکچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔
۶ سورہ اسراء، آیہ ۷۹ ۔ ترجمہ: خدا تم کو مقام محمود تک پهنچائے۔
۷ سنن ابن ماجہ ، ج ۱، ص ۴۴ ؛المستدرک علی الصحیحینج ۳، ص ۱۱۲ ؛ ذخائر العقبیٰ، ص ۶۰ ؛منصف ابن ابی شیبہ، ج ۷، ص ۴۹۷ و ۴۹۸ ؛ الآحاد والمثانی، ج ۱، ص ۱۴۸ ؛ کتاب السنة، ص ۵۸۴ ؛السنن الکبریٰ للنسائی، ج ۵، ص ۱۰۷ و ۱۲۶ ؛خصائص ، امیر المومنین علیہ السلام ، ص ۸۷ ؛ مسند ابی حنیفہ، ص ۲۱۱ ؛ شرح نهج البلاغہ لابن ابی الحدید، ج ۲، ص ۲۸۷ وج ۱۳ ؛ ص ۲۰۰ و ۲۲۸ ؛نظم درر السمطین،ص ۹۵ و۔۔۔کنزالعمال، ج ۱۱ ، ص ۶۰۸ وج ۱۳ ، ص ۱۲۲ و ۱۲۹ ؛ الطبقات الکبریٰ، ج ۲، ص ۲۳ ، تاریخ مدینةدمشق، ج ۴۲ ، ص ۵۹ و ۶۰ و ۶۱ ؛ میزان الاعتدال، ج ۱، ص ۴۳۲ ؛ تہذیب التہذیب، ج ۷، ص ۲۹۶ ؛ تاریخ الطبری، ج ۲ ص ۵۶ ؛ البدایة والنهایة، ج ۳، ص ۳۶ ، وج ۷، ص ۳۷۱ ؛ ینابیع المودة ج ۱، ص ۱۹۳ ؛اور دوسرے حوالاجات اہل سنت عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج ۲، ص ۶۳ ، باب ۳۱ ، ح ۲۶۲ ؛ مناقب امیرالمومنین علیہ السلام ، ج ۱، ص ۳۰۵ وغیرہ؛ المسترشد، ، ص ۲۶۳ و۔۔۔و ۳۷۸ ؛ شرح الاخبار، ج ۱، ص ۱۹۲ ؛ الامالی للمفید، ص ۶؛ الامالی للطوسی، ص ۶۲۶ و ۷۲۶ ؛ مجمع البیان، ج ۵ ۲۲۰ ، الخصال، ص ۴۰۲ اور ، ص ۱۱۳ ؛ اعلام الوریٰ، ج ۱، ص ۲۹۸ ؛ کشف الغمة، ج ۱، ص ۸۹ و ج ۱، ص ۴۱۲ ، العمدة، ص ۶۴ دوسرے شیعہ حوالہ جات ۔
اور بروز شوری آپ(ع)نے فرمایا: کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے رسول خدا (ص) نے اپنا بهائی قرار دیا ہوں(۱)
پشت پناہی بعض دیگر مروی احادیث کے مطابق رسول اکرم(ص) نے اپنی پشت کو حضرت علی(ع) کے ذریعے مضبوط و مستحکم قرار دینے کی خدا سے درخواست کی۔ خداوند متعال نے بھی نیز حضور کی دعا کو مستجاب فرمایا(۲) بلا شبہ خداوند متعال کی جانب سے عائد کردہ فرائض میں سے ختم نبوت کا فریضہ سب سے زیادہ کٹهن اور پر خطر ہے، خاتم المرسلین کے علاوہ، جو خود بھی پشت و پناہِ انبیاء ہیں، کوئی اور اس خطیر و سنگین ذمہ داری کا بوجه نہیں اٹها سکتا۔
لہٰذا خداوند متعال کی جانب سے اس سنگین ذمہ داری کو صبر و تحمل سے سنبهالنے کے بعد آپ(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ذریعے اپنی پشت و بازو اور طاقت و قوت کو مستحکم و مضبوط بنانے کی خداوند تعالی سے دعا کی۔ خدا نے حضرت موسی کی دعا کی مانند آپ کی دعا کو بھی مستجاب فرمایا۔( سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِيْکَ ) (۳)
رسول خدا(ص) کی یہ دعا اور خدا کی جانب سے استجابت اس امر کا ثبوت ہے کہ امر رسالت کا پایہ تکمیل تک پهنچا صرف اس علی بن ابی طالب کے دست و زبان کے ذریعے ہی ممکن ہے کہ جس کا هاته قدرت الٰهی کے ذریعے ہر شئے پر غالب اور جس کی زبان حکمت خداوندی کے سبب ناطق ہے۔
کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ رسول اکرم(ص)کے بعد اس هستی کے علاوہ کوئی اور اس امت کا حامی و مددگار قرار پائے کہ جو خود رسول اکرم(ص) کا بھی حامی و مددگار تھا۔
نیز کیا یہ ممکن ہے کہ رسول اکرم(ص) کے یارو مددگار کے علاوہ امت کسی اور کو اپنا یارو مددگار قرار دے سکے؟
اصلاح امر:
( وَقَالَ مُوسیٰ لِاَخِيْهِ هَارُوْنَ ا خْٔلُفْنِی فِی قَومِی وَاَصْلِحْ ) (۴)
جس طرح سے جناب هارون، حضرت موسیٰ کی قوم کے مصلح اور اصلاح امت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ کے جانشین تھے، اسی طرح سے اس امت میں یہ مقام و منزلت حضرت امیر علیہ السلام سے مخصوص ہے۔ اور بغیر کسی قید و شرط کے ہر قسم کی اصلاح کرنا اسی شخص کی شان ہوسکتی ہے جو خود ”هر قسم“ کی صلاح و کمال سے متصف ہو۔ لہٰذا کسی بھی قسم کی صلاح کے کسی بھی مرتبے و درجے پر فائز شخص مذکورہ بالا منزلت پر فائز نہیں ہوسکتا۔ وہی صلاح جو قرآن مجید میں حضرت یحیی( وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنْ الصَّلِحِینَ ) (۵)
اور حضرت عیسی کے لئے( وَيُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَکَهْلًا وَمِنْ الصَّلِحِینَ ) ٦ بیان کی گئی ہے۔
____________________
۱ لسان المیزان ، ج ۲، ص ۱۵۷ ؛ الاحتجاج ؛لطبرسی، ج ۱، ص ۱۹۷ اور دوسرے حوالاجات شیعہ۔
۲ الدر المنثور اس آیت کے ذیل میں ، ج ۴، ص ۲۹۵ ؛ التفسیر الکبیر، ج ۱۲ ، ص ۲۶ اس آیت کے ذیل میں( انما ولیکم ، الله ) ؛ شواہد التنزیل ، ج ۱، ص ۲۳۰ و ۴۸۲ ؛ المعیار والموازنة، ص ۷۱ و ۳۲۲ ؛ نظم دررر السمطین ، ص ۸۷ ؛ ینابیع المودة، ج ۱ ص ۲۵۸ ، ج ۲، ص ۱۵۳ اور اہل سنت کے دوسرے حوالہ جات ۔ ، ۲۴۸ و ۲۵۵ ، و ۲۵۶ ، شرح الاخبار، ج ۱ ، مناقب امیر المومنین (ع)، ج ۱، ص ۳۴۸ ؛ تفسیر فرات کوفی، ص ۹۵ ۱۹۲ ، کنز الفوائد، ص ۱۳۶ ، مجمع البیان، ج ۳، ص ۳۶۱ ، نیز شیعوں کے دیگر منابع۔
۳ سورہ قصص آیہ ۳۵ ، عنقریب تمهارے بهائی کی وجہ سے تمهارے بازو قوی کردیں گے۔
۴ سورہ اعراف آیت ۱۴۲ ۔ موسی نے اپنے بهائی هارون سے کها: میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہو اور اصلاح کرتے رہو۔
۵ سورہ آل عمران ۳۹ ترجمہ: سردار اور پارسا اور نیکو کار بنی ہوگا۔
۶ سورہ آل عمران ۴۶ ،ترجمہ: اور جهولے میں اور بڑی عمر کا ہوکر (دونوں حالتوں میں یکساں) لوگوں سے باتیں کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا۔
شرکت در امر:
جس طرح سے حضرت هارون، حضرت موسی کے شریک تھے، مذکورہ حدیث کے مطابق سوائے نبوت کے یهی مقام و منزلت حضرت علی علیہ السلام کے لئے بھی ثابت ہے۔
پیامبر اکرم(ص) کے مناصب میں سے ایک منصب اس کتاب کی تعلیم ہے جس میں تمام چیزیں بیان کردی گئی ہیں۔ نیز اس حکمت کی تعلیم بھی آپ(ص)هی کی ذمہ داری ہے جس کے بارے میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے۔( يُؤْتِی الْحِکْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِکْمَةَ فَقَدْ ا ؤُتِیَ خَيْرًا کَثِیرًا ) (۱)
( وَا نَٔزَلَ اللهُ عَلَيْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْکَ عَظِیمًا ) (۲)
بلا شبہ خداوند متعال کی جانب سے حضور اکرم(ص) پر نازل کردہ کتاب و حکمت کے علوم صرف سابقہ انبیاء و مرسلین پر نازل کردہ علوم کے ہی حامل نہیں بلکہ مزید علوم کے بھی حامل ہیں اور یہ از دیاد و اضافہ آنحضرت(ص)کی نبوت عامہ رسالت خاتمیت نیز تمام انبیاء اور دیگر تمام مخلوقات الٰهی پر آپ کی برتری و بزرگی کے سبب ہے۔
اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں ان کے درمیان حکم صادر کرنا بھی آنحضرت کے فرائض رسالت میں سے ہے۔( لِيُبَيِّنَ لَهُمْ الَّذِی يَخْتَلِفُونَ فِیهِ ) (۳)
( إِنَّا ا نَٔزَلْنَا إِلَيْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا ا رََٔاکَ اللهُ ) (۴)
مزید برآں حضرت ختمی مرتبت کی شان رسالت میں مومنین پر خود ان سے زیادہ باختیار اور اولی ہونا بھی شامل ہے۔ بنا برایں حضرت علی علیہ السلام اس هستی کے شریک کار ہیں جس کے هاتہ نظام تکوین و تشریع کی ولایت ہے۔
خلافت:
جس طرح سے جانب هارون، حضرت موسی کے خلیفہ تھے، مذکورہ، حدیث کے ذریعے جناب امیر علیہ السلام کی خلافت بلا فصل بھی ثابت ہوجاتی ہے۔
خلیفہ اور جانشین اس شخص کا وجود تنزیلی اور قائم مقام ہے جس کے مقام پر وہ خلیفہ مسند نشیں ہوا ہے، اس کی غیبت اور عدم موجودگی کے ذریعے پیدا ہونے والے خلاء کو خلیفہ ہی پر کرتاتها۔
جناب خاتم الانبیاء کا جانشین کسی بھی نبی کے جانشین، بلکہ تمام کے تمام انبیاء کی بیک وقت جانشینی کے ساته بھی قابل مقایسہ و موازنہ نہیں۔ کیونکہ ختمی مرتبت کا جانشین اس هستی کا جانشین ہے کہ آدم سے عیسیٰ بن مریم (ع)تک تمام انبیاء اس کے لواء و علم تلے ہیں۔ عرش کے سائے سے کس طرح اس شئے کا موازنہ کیا جاسکتا ہے جو عرش کے سائے سے بھی ادنی ہو۔
جی هاں جناب هارون، حضرت موسی کے خلیفہ ہیں، اس کے جانشین ہیں کہ جس کی منزلت کے بارے میں خداوند متعال نے یوں فرمایا ہے:( وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْا ئَْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا ) (۵)
لیکن علی بن ابی طالب، خاتم النبیین کا خلیفہ ہے۔ اس کا جانشین ہے کہ جس کی منزلت کو خدا نے قرآن میں یوں بیان فرمایا ہے( ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ ا ؤَْ ا دَْٔنَی ) (۶)
ابان احمر سے روایت صحیحہ میں منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے ابان!لوگ کس طرح سے امیر المومنین کی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ آپ(ع)نے فرمایا: اگر میں چاہوں تو اپنے پیر کو دراز کرکے شام میں پسر ابوسفیان کے سینے پردے ماروں اور اسے اس کے تخت سے نیچے
____________________
۱ سورہ بقرہ آیہ ۲۶۹ ، ترجمہ: وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے جس کو خدائی کی طرف سے حکمت عطا کی گئی تو اس میں شک ہی نہیں کہ اسے خیر کثیر عطاء کیا گیا۔
۲ سورہ نساء آیہ ۱۱۳ ، ترجمہ: اور خدا نے تم پر اپنی کتاب اور حکمت نازل کی اور جو باتیں تم نہ جانتے تھے تمہیں سکهادیں اور تم پر تو خدا کا بڑا فضل ہے۔
۳ سورہ نحل آیت ۳۹ ، اس لئے ان کے سامنے صاف اور واضح کردے گا جب باتوں پر یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں۔
۴ سورہ نساء ۱۰۵ ، ہم نے تم پر برحق کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ تم کو جیسا کہ خدا نے دکهلایا ہے لوگوں کے درمیان حکم کرو۔
۵ سورہ مریم ۵۲ ، ہم نے ان کو وادی مقدس طور سے آواز دی اور اپنے مقام قرب کے لئے انتخاب کیا۔
۶ سورہ نجم آیہ ۸۔ ۹،پھر قریب آئے اور ان پر وحی حق نازل ہوئی۔ ایسا قریب ہوئے دو کمان سے اس سے بھی قریب فاصلہ رہ گیا۔
لاکهینچوں لیکن اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ آصف، وصی سلیمان، سلیمان کے دربار میں سلیمان کی پلک جهپکنے سے قبل تخت بلقیس کو لانے کی طاقت رکھتاتها!
کیا ہمارے پیغمبر افضل الانبیاء اور ان کا وصی افضل الاوصیاء نہیں ہیں؟
کیا خاتم النبیین کے وصی کوسلیمان کے وصی کی مانند بھی نہیں سمجهتے؟!
ہمارے اور ہمارے حق کے منکروں اور ہماری فضیلت کے جهٹلانے والوں کے درمیان اب خدا ہی فیصلہ کرے“ ۱۔
بنا برایں رسول اکرم(ص) کی وزارت، آپ کی پشت کی مضبوطی، آپ کے امر میں شرکت، آپ سے اخوت و برادری، امر امت کی اصلاح اور آپ کی خلافت هرگز اس شخص سے قابل مقایسہ ہوہی نہیں سکتی کہ جس نے رسول اکرم(ص) کے علاوہ کسی اور سے ان فضیلتوں کو پایا ہو۔
جو شخص بھی حدیث منزلت میں عمیق غور کرے نیز کتاب میں تدبر اور سنت میں تفقہ کا حامل ہو تو وہ یقینا اسی نتیجے پر پهنچے گا کہ آنحضرت(ص)کے هاتهوں آنحضرت(ص)کی زندگی ہی میں جانشین رسول قرار پانے والی هستی اور آنحضرت(ص)کے درمیان فصل و جدائی، خلافِ حکم عقل اور قرآن و سنت سے متضاد ہے۔
بکیر بن مسمار سے منقول روایت میں کہ جس کی صحتِ سند کے خود اہل سنت بھی متعرف ہیں، بکیر نے کهاہے: میں نے عامر بن سعد سے سنا کہ معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے پوچها:
ابوطالب کے بیٹے پر سب و شتم کرنے سے تجہے کیا چیز روکتی ہے؟
جواب دیا: جب بھی مجھے وہ تین چیزیں یاد آتی ہیں جو رسول اکرم(ص) نے علی کے بارے میں کہیں تو میں علی پر سب و شتم نہیں کرپاتا اور ان میں سے ہر شئے ایسی ہے جو میرے لئے ”حمر نعم“
(هر قیمتی شئے) سے بھی زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے۔
معاویہ نے پوچها: اے ابو اسحاق! وہ تین چیزیں کونسی ہیں؟
ابو اسحاق نے کها: میں علی پر سب و شتم نہیں کرسکتا کہ جب مجھے یاد آتا ہے کہ رسول خدا(ص) پر وحی نازل ہوئی جس کے بعد آپ نے علی ان کے دونوں فرزندوں اور فاطمہ کا هاته تھام کر اپنی عبا کے نیچے جمع کیا اور پھر فرمایا: بار الٰها! یهی ہیں میرے اہل بیت (علیهم السلام)۔
اور میں سب و شتم نہیں کرونگا کہ جب مجھے یہ یاد آتا ہے کہ آنحضرت نے علی کو غزوہ تبوک کے موقع پر (مدینے میں هی) باقی رکھا، جس پر علی نے عرض کی: کیا مجھے بچوں اور عورتوں کے ساته چهوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ(ص)نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجه سے وہی نسبت ہے جو هارون کو موسی سے تھی فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اور میں علی پر سب و شتم نہیں کرسکتا کہ جب مجھے روز خیبر یاد آتا ہے کہ جب رسول خدا(ص) نے فرمایا: یقینا اس پرچم کو میں اسے دونگا جو خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور خدا اسی کے هاتهوں فتح نصیب کرے گا لہٰذا ہم سب اسی سوچ میں تھے کہ دیکھیں رسول اکرم(ص) کی نگاہ انتخاب کس پر ہے؟ کہ آنحضرت نے فرمایا: علی کهاں ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: ان کی آنکهوں میں تکلیف ہے۔ فرمایا علی کو بلاو ،ٔ علی کو بلایا گیا، آنحضرت(ص)نے اپنے لعاب دہن کو علی کے چهرے پر ملا اور اپنا علم سونپا، خداوند متعال نے علی کے هاتهوں ہی مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔
راوی کہتا ہے: خدا کی قسم جب تک سعد بن ابی وقاص مدینے میں رہے معاویہ نے ان سے کچہ نہ کها(۲) حاکم نیشا پوری کا کهنا ہے: حدیث مو أخاة اور حدیث رایت (علم) پر بخاری و مسلم دونوں متفق ہیں(۳) بخاری نے سهل بن سعد سے نقل کیا ہے کہ: رسول اکرم(ص) نے بروز خیبر فرمایا: یقینا کل میں یہ علم اسے دونگا کہ جس کے هاتهوں خدا فتح و کامرانی نصیب کرے گا وہ خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے نیز خدا اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔
____________________
۱ الاختصاص، ص ۲۱۲ ۔
۲ المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۱۰۸ ؛نیز اس کے خلاصہ میں بھی ہے، صحیح مسلم، ج ۷، ص ۱۲۰ ، سنن ترمذی، ج ۵، ص ۳۰۱ ، وغیرہ
۳ المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۱۰۹
لہٰذا تمام لوگوں نے وہ رات اضطراب و پریشانی کے عالم میں بسر کی کہ دیکھیںرسول خدا یہ علم کس کو عطا کرتے ہیں۔
جب صبح ہوئی تو ہم لوگ علم پانے کی امید لے کر رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
آنحضرت نے فرمایا: علی بن ابی طالب کهاں ہیں؟ جواب دیا گیا: آنکهوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں فرمایا: علی کو لاو ۔ٔ
علی آئے اور آنحضرت نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکهوں پر ملا اور دعا فرمائی، درد اس طرح سے دور ہوا گویا علی کی آنکهوں میں کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔
پھر انہیں علم دیا۔ علی نے عرض کی: یا رسول الله! ان لوگوں کے ساته اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک کہ یہ لوگ ہماری طرح نہ ہوجائیں (ایمان لے آئیں)۔ جس کے بعد آنحضرت نے فرمایا: نرمی اور ثبات کے ساته بنا کسی عجلت کے میدان جنگ میں داخل ہونا، یهاں تک کہ ان کے لشکر کے مد مقابل پهنچ جاو ،ٔ اس کے بعد انہیں اسلام کی دعوت دے کر ان پر واجب حق الله کی انہیں خبر دینا۔ پس خدا کی قسم! یقینا اگر خدا تمهارے هاتهوں ایک انسان کی بھی ہدایت کردے تو یہ تمهارے لئے حمر نعم اور ہر قیمتی شئے سے زیادہ بہتر ہے(۱) یہ بات مخفی نہیں کہ آنحضرت کا یہ فرمانا: علم اسے دونگا جو خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور خدا اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس راز سے پردہ اٹهاتا ہے کہ اصحاب رسول میں سوائے حضرت علی (ع)کے کوئی بھی شخص مذکورہ بالا صفت سے متصف نہ تھا،
ورنہ رسول اکرم(ص)کی جانب سے صرف علی سے اس صفت کو مختص کرنا بغیر ترجیح و سبب کے ہوگا اور بارگاہ قدسی رسول اکرم(ص) عقلی و شرعی باطل امور سے مبرّا و منزہ ہے۔
علم کا عطاء کرنا اور علی کے هاتهوں فتح، حدیث منزلت ہی کی تفسیر ہے اس کے معنی یهی ہیں کہ علی ہی وہ هستی ہے کہ جس کے ذریعے خداوند تعالی نے اپنے پیغمبر کی پشت کو مستحکم فرمایا اور اپنے نبی کے دست و بازو کی مدد عطا فرمائی۔
____________________
۱ صحیح البخاری، ج ۵، ص ۷۶ ، و ج ۴، ص ۱۲ ، و ص ۲۰ ، و ص ۲۰۷ ، نیل الاوطار، ج ۸، ص ۵۵ ، و ۵۹ ، فضائل الصحابہ، ص ۱۶ ، مسند احمد، ج ۱، ص ۹۹ ، وص ۱۸۵ ،و ج ۴، ص ۵۲ ، صحیح مسلم، ج ۵، ص ۱۹۵ ، و ج ۷، ص ۱۲۰ ، و ۱۲۲ ، سنن ابن ماجہ، ج ۱، ص ۴۵ ؛سنن الترمذی، ج ۵، ص ۳۰۲ ، السنن الکبری للبیہقی، ج ۶، ص ۳۶۲ ، و ج ۹، ص ۱۰۷ ، و ۵۲۲ ، مسند سعد بن ابی ، ۱۳۱ ؛ مجمع الزوائد، ج ۶، ص ۱۵۰ ، و ج ۹، ص ۱۲۳ ، وغیرہ، مصنف ابن ابی شیبہ، ج ۸، ص ۵۲۰ ؛ ۱۰۸ و۔۔۔ و ص ۱۴۵ ، وقاص، ص ۵۱ ، بغیة الباحث، ص ۲۱۸ ، کتاب السنة، ص ۵۹۴ ، وغیرہ، السنن الکبریٰ، ج ۵، ص ۴۶ ،۵۳۱ ، ۱۱۶ ، مسند ابی یعلی، ج ۱، ص ۲۹۱ ، و ج ۱۳ ، ص ۵۲۲ ، خصائص امیر المومنین (علیہ السلام) ص ۴۹ وغیرہ، و ۸۲ ، ۱۹۸ ، و ج ۷ ،۱۸۷ ، صحیح ابن حبان، ج ۱۵ ، ص ۳۷۷ ، و ۳۸۲ ، المعجم الاوسط، ج ۶، ص ۵۹ ، المعجم الکبیر، ج ۶، ص ۱۶۷ ۲۳۸ ، مسند الشامین، ج ۳، ص ۳۴۸ ؛ دلائل النبوة، ص ۱۰۹۲ ، الفائق فی ، ۷۷ ، و ج ۱۸ ، ص ۲۳۷ ،۳۶ ،۳۵ ، ۱۷ و ۳۱ ، ص ۱۳ غریب الحدیث، ج ۱، ص ۳۸۳ ، الاستیعاب، ج ۳، ص ۱۰۹۹ ، شرح نهج البلاغہ لابن ابی الحدید، ج ۱۱ ، ص ۲۳۴ ، و ج ۱۳ ، ص ؛ ۱۲۳ و ۱۶۳ ، ۱۸۶ ؛ النظم الدرر السمطین، ص ۹۸ ، و ۱۰۷ ؛ کنز العمال، ج ۱۰ ، ص ۴۶۶ ، و ص ۴۶۸ ، و ج ۱۳ ، ص ۱۲۱ ، ۲۶۷ ، شرح السنة للبغوی، ج ۱۴ ، الطبقات الکبریٰ، ج ۲، ص ۱۱۱ ؛ التاریخ الکبیر، ج ۲، ص ۱۱۵ ؛ الثقات لابن حبان، ج ۲، ص ۱۲ ؛ ۸۱ و۔۔۔، و ۴۳۲ ، ص ۱۱۱ ، تاریخ بغداد، ج ۸، ص ۵، تاریخ مدینةدمشق، ج ۱۳ ، ص ۲۸۸ ، و ج ۴۱ ، ص ۲۱۹ ، و ج ۴۲ ، ص ۱۶ اُسد الغابة، ج ۴، ص ۲۶ ، و ۲۸ ، ذیل تاریخ بغداد، ج ۲، ص ۷۸ ، البدایة و النهایة، ج ۴، ص ۲۱۱ و۔۔۔، و ج ۷، ص ۲۵۱ و ۳۷۲ ، وغیرہ، السیرة النبویة، ج ۳، ص ۷۹۷ ، سبل الهدیٰ و الر شاد، ج ۲، ص ۳۲ ، و ج ۵، ص ۱۲۴ ، و ج ۱۰ ، ص ۶۲ ، ینابیع المودة ج ۱ ص ۱۶۱ ، ج ۲، ص ۱۲۰ ، و ۲۳۱ ، و ۳۹۰ ؛اور اہل سنت کے دوسرے حوالہ جات ۔ ، رسائل المرتضیٰ، ج ۴، ص ۱۰۴ ، الدعوات، ص ۶۳ ، زبدة البیان، ص ۱۱ ، کشف الغطاء، ج ۱، ص ۱۱ ، الکافی، ج ۸ ، ص ۳۵۱ ، علل الشرائع، ج ۱، ص ۱۶۲ ، باب ۱۳۰ ، ح ۱، الخصال، ص ۲۱۱ ، و ص ۳۱۱ ، و ۵۵۵ ،الامالی للصدوق، ص ۶۰۴ ۸۹ و ۴۹۶ ، ۵۳۷ ، و ج ۲ ، المجلس السابع والسبعون، ح ۱۰ ، روضة الواعظین، ص ۱۲۷ ، مناقب امیرالمومنین (ع) ، ج ۱، ص ۳۴۵ ۱۹۵ و ، وغیرہ؛ المسترشد، ص ۲۹۹ ، و ۳۰۰ ، و ۳۴۱ ، و ۴۹۱ ، و ۵۹۰ ، شرح الاخبار، ج ۱، ص ۳۰۲ ، و ج ۲، ص ۱۷۸،۱۹۲ ، ۱۹۷ ؛ النکت الاعتقادیہ، ص ۴۲ ، الارشاد، ج ۱، ص ۶۴ ، الاختصاص، ص ۱۵۰ ،۱۵۷ ،۸۶ ،۶۸ ، ۲۰۹ ؛ الافصاح، ص ۳۴ ؛ ۳۸ ، و ۵۴۶ ، و ۵۹۹ ، الاحتجاج، ج ۱، ص ۴۰۶ ، و ج ۲، ص ۶۴ ۳۰۷ ، و ۰ ، الامالی للفمید، ص ۵۶ ، الامالی للطوسی، ص ۱۷۱ ، ۱۳۹ و۔۔۔، و ۱۸۸ ، و ۱۸۹ و ۲۱۹ ؛ الفضائل، ص ۱۵۲ ؛ التبیان، ج ۳ ، الخرائج الجرائح، ج ۱، ص ۱۵۹ ، العمدة، ص ۹۷ ، و ۱۳۱ ۲۰۱ ، نیز شیعوں کے بہت سے منابع۔ ، ص ۵۵۵ ، و ج ۹، ص ۳۲۹ ، مجمع البیان، ج ۳، ص ۳۵۸ ، و ج ۹
مزید برآں، آنحضرت(ص)کا یہ فرمانا کہ خداوند تعالی علی کے هاتهوں کا فتح عطافرمائے گا،
اس امر کا بیانگر ہے کہ فعل الٰهی علی کے هاتهوں اسی طرح جاری ہوتا ہے جس طرح پیامبر کے هاتهوں جاری ہوا جس کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا:( وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ رَمٰی ) (۱)
اور خود جناب امیر سے بھی یہ نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے در خیبر کو جسمانی طاقت سے نہیں اکهاڑا تھا(۲) ۔ جی هاں، جس کے هاتهوں خداوند متعال در خیبر کو فتح کروائے وہی یدالله ہے، کیا خدا کی افضل ترین مخلوق کے دست و بازو بجز یدالله کے کسی اور وسیلے سے مستحکم ہوسکتے ہیں:
( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَذِکْرَی لِمَنْ کَانَ لَهُ قَلْبٌ ا ؤَْ ا لَْٔقَی السَّمْعَ وَهو شَهِیدٌ ) (۳)
تیسری حدیث
اس حدیث کو حاکم نیشابوری نے مستدرک(۴) اور ذهبی نے تلخیص(۵) میں بریدہ اسلمی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کها:”میںایک غزوہ میں علی(ع) کے ساته یمن گیا اور آپ(ع) کا ایک عمل مجه پرناگوار گذرا۔ رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہو کرمیں نے علی(ع) پر نکتہ چینی شروع کی۔ میں نے دیکھا رسول خدا(ص) کے چهرے کا رنگ متغیر ہوگیااور آپ(ص) نے فرمایا: اے بریدہ! آیا میں مومنین کی نسبت ان پر خود ان سے زیادہ اختیار نہیں رکھتا ؟ میں نے کها : هاں، یا رسول الله(ص)، آپ نے فرمایا:
جس جس کا میں مولا ہوں علی(ع) اس کے مولاہیں۔“
اوریہ وہی غدیر خم والا بیان ہے جسے آنحضرت(ص) نے بریدہ سے بھی فرمایاہے،اور واقعہ غدیر خم کو اکابر محدثین، مو رٔخین اور مفسرین ٦ نے اپنے اپنے فن میں موضوع کی مناسبت سے ذکر کیا
____________________
۱ سورہ انفال آیت ۱۱۱ ،، ترجمہ: تم نے نہیں پهینکا جس وقت تم نے پهینکا بلکہ خدا نے پهینکا.
۲ دیکھئے: کتاب بہ یاد اول مظلوم روزگار، ص ۱۲۷ ۔
۳ سورہ ق آیہ ۳۷ ،ترجمہ: اس میں شک نہیں کہ جو شخص (آگاہ) دل رکھتا ہے یا کان لگا کر حضور قلب سے سنتا ہے اس کے لئے اس میں کافی نصیحت ہے۔
۴ مستدرک صحیحین ج ۳ ص ۱۱۰ ،مناقب امیر المومنین علیہ السلام ج ۲ ص ۴۲۵ ، کشف الغمہ فی معرفة الائمة، ج ۱ص ۲۹۲ اور دوسری کتب۔
۵ ذیل المستدرک، ج ۳، ص ۱۰۹ ۔، ۳۷۲ ، ج ۵ ،۳۷۰ ،۳۶۸ ، ۳۳۱ و ج ۴، ص ۲۸۱ ،۱۵۲ ،۱۱۹ ، ۸۴ و ۱۱۸ ، ۶ فضائل الصحابہ، ۱۴ ، مسند احمد، ج ۱ ۴۵ ، المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۱۱۶ ، اور اس کی تلخیص میں بھی ، ۴۱۹ ؛ سنن ابن ماجہ، ج ۱ ،۳۷۰ ،۳۶۶ ،۳۴۷ ۵۳۳ ، اور اس کی تلخیص میں بھی موجود ہے؛ ، موجود ہے، ص ۱۳۴ ، اور اس کی تلخیص میں بھی موجود ہے، ص ۳۷۱ ۱۶۴ ؛ فتح الباری، ج ۷، ص ۶۱ ؛ المصنف لعبد الرزّاق، ج ۱۱ ، ص ، مجمع الزوائد، ج ۷، ص ۱۷ ، ج ۹، ص ۱۰۳ وغیرہ، ص ۱۲۰ ۲۱۰ وغیرہ، ۳۲۲ ، مصنف ابن ابی شیبة، ج ۷، ص ۴۹۵ وغیرہ، الاحاد والمثانی، ج ۴، ص ۳۲۵ ، ۲۲۵ ، معیار الموازنة ۷۲ ۱۳۰ وغیرہ؛ خصائص امیر المومنین علیہ ،۱۰۸ ، ۵۹۰ وغیرہ، السنن الکبری للنسائی، ج ۵، ص ۴۵ ، وغیرہ، کتاب السنة، ۵۵۲ ۳۷۶ ، المعجم ، ۹۴ وغیرہ؛ المسند ابی یعلی، ج ۱، ص ۴۲۹ ، ج ۱۱ ، ص ۳۰۷ ؛ صحیح ابن حبان، ج ۱۵ ،۶۴ ، السلام، ص ۵۰ ، ۷۰ ، ج ۸ ، ۳۶۹ ، ج ۶، ص ۲۱۸ ، ج ۷ ،۳۲۴ ،۲۷۵ ، ۷۱ ؛ المعجم الاوسط، ج ۱، ص ۱۱۲ ، ج ۲، ص ۲۴ ، الصغیر، ج ۱، ص ۶۵ ۱۷۱ وغیرہ، ص ۱۹۴ ،۱۷۰ ، ۱۷۳ وغیرہ، ج ۵، ص ۱۶۶ ، ۱۸۰ ، ج ۴، ص ۱۷ ، ص ۲۱۳ ؛ المعجم الکبیر، ج ۳، ص ۱۷۹ ۲۱۲ و ج ۱۲ ، ص ۷۸ ، ج ۱۹ ، ص ۲۹۱ ؛ مسند الشامین، ج ۳، ص ۲۲۳ ، شرح نهج البلاغہ لابن ابی الحدید، ،۲۰۴ ، وغیرہ، ۲۰۳ ،۱۰۹ ، ج ۳، ص ۲۰۸ ، ج ۴، ص ۷۴ ، ج ۶، ص ۱۶۸ ، ج ۸، ص ۲۱ ؛ اور اس کتاب کے دیگر موارد؛ نظم الدر السمطین، ص ۹۳ ، ۶۴۳ ؛ کنز العمال، ج ۱، ص ۱۸۷ وغیرہ، ج ۵، ص ۲۹۰ ، ج ۱۱ ، ص ۳۳۲ ، ۱۱۲ ؛ موارد الظمان، ص ۵۴۳ ، الجامع الصغیر، ج ۲ ، ۲۵۱ وغیرہ، ۳۵۲ ، ۱۳۱ ، اور اس کتاب کے دیگر موارد، شواہد التنزیل، ج ۱، ص ۲۰۰ ، ۶۰۸ وغیرہ، ج ۱۳ ، ص ۱۰۵ ،۶۰۳ ، ۲۹۳ ، ج ۵، ص ۱۸۲ ؛ تاریخ بغداد، ج ۷، ص ۳۸۹ ، ۳۸۱ وغیرہ ۳۹۱ ؛ تفسیر ابن کثیر، ج ۲، ص ۱۵ ، الدرّ المنثور، ج ۲، ص ۲۵۹ ،۳۲۱ ،۳۰۷ ،۲۷۴ ، ۲۳۳ ، ج ۳، ص ۹۲ ، ۳۶۹ ، ج ۲ ، ۲۸۴ ، ج ۱۲ ، ص ۳۴۰ ، ج ۱۴ ، ص ۲۳۹ ؛ اُسد الغابہ، ج ۱، ص ۳۶۷ ، ج ۸ ۲۸۳ ؛ ذیل تاریخ بغداد، ج ۳، ص ۱۰ ، اور اہل سنت کے بہت سی دیگر کتابیں۔ ،۲۷۶ ،۲۰۸ ،۲۰۵ ، ج ۴، ص ۲۸ ، ج ۵، ص ۶ ؛ ۱۳۰ ؛ الاقتصاد للشیخ الطوسی، ص ۲۱۶ ، الهدایة للشیخ الصدوق، ص ۱۴۹ ، ص ۱۵۰ ؛ رسائل المرتضیٰ، ج ۳، ص ۲۰ ۲۹۴ ، ج ۴، ص ۵۶۷ ، ج ۸، ص ۲۷ ؛ دعائم الاسلام، ج ۱، ص ، الرسائل العشر للشیخ الطوسی، ص ۱۳۳ ، الکافی، ج ۱، ص ۲۸۷، ۱۴۸ ، ح ۶۸۶ ، ج ۲، ص ۳۳۵ ، حدیث ۱۵۵۸ ، الصلاة فی مسجد غدیر خم؛علل الشرائع، ج ۱ ، ۱۹ ؛ من لایحضرہ الفقیہ، ج ۱ ،۱۶ ،۴۷۹ ،۳۱۱ ،۲۱۹ ،۲۱۱ ، ۱۶۴ ، ج ۲، ص ۵۸ ؛ الخصال، ص ۶۶ ،۶۴ ، ص ۱۴۳ ، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج ۱، ص ۵۲ ؛۳۳۷ ، ۶۷۰ ؛ کمال الدین و تمام النعمة، ص ۲۷۶ ،۴۲۸ ،۱۸۶ ،۱۸۵ ،۱۸۴ ،۱۴۹ ، ۵۷۸ ؛ الامالی للصدوق، ص ۴۹ ،۴۹۶ ۶۷ ؛ المجازات النبویة للشریف الرضی، ص ۲۱۷ ؛ خصائص الائمہ، ص ۴۲ ؛ تہذیب ،۶۶ ، التوحید، ص ۲۱۲ ؛ معانی الاخبار، ۶۵ ۵۳۶ ؛ مناقب امیر المومنین علیہ السلام، ، ۳۵۰ ؛ الایضاح، ص ۹۹ ،۱۰۳ ، الاحکام، ج ۳، ص ۲۶۳ ؛ الروضة الواعظین، ص ۹۴ ؛۶۳۲ ، ۳۶۲ ، ج ۲، ص ۳۶۵ ؛ اور اس کتاب کے دیگر مقامات، المسترشد، ص ۴۶۸ وغیرہ، ۶۲۰ ،۱۷۱ ،۱۳۷ ، ج ۱، ص ۱۱۸ ۲۶۰ ؛ اور اس کتاب کے ، دلائل الامامة، ص ۱۸ ؛ شرح الاخبار، ج ۱، ص ۹۹ وغیرہ، ۲۲۸ وغیرہ، ۲۴۰ وغیرہ، ج ۲، ص ۲۵۵ ۳۵۱ ؛ الاختصاص، ص ۷۹ ؛ امالی شیخ مفید، ، ۴۸۵ ؛ کتاب الغیبة، ص ۶۸ ؛ الارشاد، ج ۱، ص ۱۷۶ ، دیگر موارد، ج ۳، ص ۴۹۶ ، ۳۳۳ وغیرہ، ۳۴۳ ،۳۳۲ ،۲۷۲ ،۲۵۵ ،۲۵۴ ،۲۴۷ ،۲۲۷ ، ۲۲۳ ؛ کنز الفوائد، ص ۲۲۵ وغیرہ؛ الامالی للطوسی، ص ۹ ،۸۵ ۹۲ وغیرہ، ۲۷۱ ، اور اس ، ۲۰۷ ؛ العمدة، ۸۵ ، ۱۵۵ ؛ الخرائج و الجرائج، ج ۱ ،۹۶ ، ۵۵۵ وغیرہ؛ الاحتجاج، ج ۱، ص ۷۵ ،۵۴۶ ۳۲۰ ؛ تفسیر ،۳۰۷ ،۱۰۰ ،۹۸ ، ۳۳۲ وغیرہ، ج ۲ ،۳۲۹ ،۳۲۷ ،۳۸۱ ،۲۵۰ ، کتاب کے دیگر موارد، تفسیر العیاشی، ج ۱، ص ۴ ۴۹۵ وغیرہ، ،۴۹۰ ، ۳۴۵ وغیرہ، ۴۵۱ ،۱۳۰ ،۱۲۴ ،۱۱۰ ، ۲۰۱ ؛ تفسیر فرات الکوفی، ۵۶ ، ۳۰۱ ، ج ۲ ، القمّی، ج ۱، ص ۱۷۴ ۱۱۹ اور شیعوں کی بہت سی ،۵۹ ، ۳۸۳ ، ج ۸، ص ۱۲۵ ، ج ۱۰ ،۳۸۲ ، ۵۷۴ ؛ مجمع البیان، ج ۳، ص ۲۷۴ ، ۵۰۳ وغیرہ، ۵۱۶ دیگر کتابیں۔
ہے، بلکہ بزرگا ن اہل لغت نے اس واقعہ کو لغت کی کتابوں میں بھی نقل کیا ہے، مثال کے طور پر ابن درید نے جمهرة اللغة میں کها ہے :((غدیر معروف وهوالموضع الذی قام فیه رسول اللّٰه(ص)خطیبا یفضّل ا مٔیر المو مٔنین علی ابن ابی طالب (ع) (۱)
اور تاج العروس میں کلمہ ((ولی ))کے ضمن میں کها کہ :((الذی یلی علیک ا مٔرکومنه الحدیث : من کنت مولاه فعلی مولاه ))اور ابن اثیر، ”نهایہ“ میں کلمہ ((ولی ))کے ضمن میں کہتا ہے ((وقول عمر لعلیّ: ا صٔحبت مولی کل مومن، ا یٔ ولی کل مومن ))
اور حدیث غدیر اہل سنت کے نزدیک صحیح سلسلہ اسناد کے ساته نقل ہوئی ہے، اگرچہ سلسلہ هائے اسناد اتنے زیادہ ہیں کہ صحت سند کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
حافط سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی نے ینابیع المودة میں کها ہے :” مشهور و معروف مو رٔخ جریر طبری نے حدیث غدیر خم کو پچهتر مختلف سلسلہ اسناد کے ساته نقل کیا ہے اور اس موضوع پر ((الولایة ))کے نام سے مستقل کتاب بھی لکهی ہے۔ اسی طرح حدیث غدیرکو ابوالعباس احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس موضوع پر ((الموالاة ))کے نام سے مستقل کتاب لکهی ہے اور اس حدیث کو ایک سو پچاس مختلف سلسلہ اسناد کے ساته ذکر کیا ہے۔“
اور اس کے بعد لکها ہے کہ :”علامہ علی بن موسی اور ابو حامد غزالی کے استاد امام الحرمین علی ابن محمد ابی المعالی الجوینی تعجب کرتے ہو ئے کها کرتے تھے : میں نے بغداد میں ایک جلد ساز کے پاس روایات غدیر کے موضوع پر ایک جلد دیکھی کہ اس پر لکها تھا :یہ پیغمبر اکرم(ص) کے اس قول ((من کنت مولاه فعلی مولاه ))کے سلسلہ هائے اسناد کے سلسلے میں اٹهائیسویں جلد ہے۔ انتیسویں جلد اس کے بعد آئے گی۔“(۲)
ابن حجر اپنی کتاب تہذیب التہذیب(۳) میں حضرت علی(ع) کے حالات زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے، ابن عبد البر سے اس حدیث کو حضرت علی(ع)، ابوہریرہ، جابر، براء بن عازب اور زید ابن ارقم کے واسطوں سے نقل کرنے کے بعدکہتا ہے:”اس حدیث کے ذکر شدہ سلسلہ هائے اسناد کے کئی گنا دوسرے سلسلہ هائے اسناد، ابن جریر طبری نے اپنی کتاب میں جمع کیے ہیں۔اور ابوالعباس بن عقدہ نے سلسلہ اسناد کو جمع کرنے میں خاص توجہ کی ہے اور حدیث کو ستّر یا اس سے زیادہ اصحاب سے نقل کیا ہے۔“
امیر المومنین(ع) کی ولایت اور خلافت بلا فصل پر اس حدیث کی دلالت واضح و روشن ہے۔
اگرچہ لفظ ((مولیٰ )) متعدد معنی میں استعمال ہوا ہے، لیکن جن قرائن سے یہ بات ثابت ہے کہ اس حدیث میں مولیٰ سے ولایت امر مراد ہے ان میں سے بعض کو ہم یهاں ذکر کرتے ہیں :
۱۔ اس مطلب کوبیان کرنے سے پهلے حضرت رسول خدا(ص) نے اپنی رحلت کی خبر دی اور قرآن وعترت کی پیروی کی تاکید فرمائی اور فرمایا کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد اس عنوان کے ساته کہ جس جس کامیں مولاہوں علی (ع)اس کے مولاہیں، حضرت علی(ع) کا تعارف کروانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے آنحضرت(ص) کا مقصد ایسے شخص کی پہچان کروانا ہے کہ جس شخص اور قرآن سے تمسک رکھتے ہوئے امت، آپ(ص)کے بعد ضلالت وگمراہی سے نجات پا سکتی ہے۔
____________________
۱ جمهرة اللغة، جزء اول ص ۱۰۸ ۔
۲ ینابیع المو دة، ج ۱ص ۱۱۳ ۔
۳ تہذیب التہذیب، ج ۷، ص ۲۹۷ ۔
۲۔اس عظیم اجتماع کو حج سے واپسی کے دوران فقط یہ بتانے کے لئے کہ علی(ع) اہل ایمان کا دوست، اور مددگار ہے، تپتے ہوئے صحراء میں روکنا اور پالان شتر سے منبر بنانا، آپ(ص) کے مقام خاتمیت کے ساته تناسب نہیں رکھتا، بلکہ یہ خصوصیات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کوئی اہم اعلان کرنا مقصود تھا اور لفظ مولا سے ولایت امرہی مراد ہو سکتی ہے۔
۳۔واحدی نے اسباب النزول میں ابی سعید خدری سے نقل کیا ہے کہ( يَا ا ئَُّهَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا ا نُْٔزِل إِلَيْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَه وَاللّٰهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) (۱) غدیر خم کے روز، علی بن ابی طالب(ع) کی شان میں نازل ہوئی(۲) ۔
آیت کریمہ کے شان نزول سے معلوم ہوتاہے کہ جس مطلب کی تبلیغ کے لئے رسول خدا(ص)مامور تھے اس کی دو خصوصیات تہیں:
اول۔مرتبے کے اعتبار سے اس کی تبلیغ اتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ خداوند متعال فرما رہا ہے :”اگر اسے انجام نہ دیا تو تبلیغ رسالت ہی کو انجام نہ دیا۔“
دوم۔یہ کہ اس تبلیغ میں خدا تمہیں بچانے والا ہے، یعنی معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلان کے بعد منافقین کی سازشوں کا سلسلہ چل پڑے گاجو آپ(ص)کے ظهور اورتوسیع حکومت کے بارے میں اہل کتاب سے سن کر اس حکومت کو حاصل کرنے کے لئے آنحضرت(ص) سے آملے تھے، لہٰذا ((مولیٰ))کے معنی، ولایت امرکے علاوہ اورکچھ نہیں ہوسکتے۔
۴ ۔خطیب بغدادی نے ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ:”جو اٹهارہ ذی الحجہ کو روزہ رکہے اس کے لئے ساٹه ماہ کے روزے لکہے جاتے ہیں اور یہ غدیر خم کا دن ہے، جب نبی اکرم(ص) نے علی بن ابی طالب(ع) کا هاته پکڑ کر فرمایا : آیا میں مومنین کا مولاہوں ؟سب نے کها :هاں، یا رسول الله(ص)،تو فرمایا: جس جس کا میں مولاہوں علی(ع) بھی اس کے مولاہیں۔
یہ سن کر عمر بن خطاب نے کها :بخٍّ بخٍّ یا ابن ابی طالب ، آپ میرے اور تمام مسلمانوں کے مولا قرار پائے ، پھر خدا نے یہ آیت نازل فرمائی( اَلْيَوْمَ ا کَْٔمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ ) (۳)
وہ چیز جس کے ذریعے اکمال دین واتمام نعمت خدا ہے اور جس کی وجہ سے دین اسلام خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے، وہ احکامِ خدا کے معلم اور انہیں عملی جامہ پهنانے والے کا تعین ہے۔
۵ ۔نور الابصار میں شبلنجی نے لکهاہے(۴) :”امام ابو اسحاق ثعلبی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ: سفیان بن عیینہ سے پوچها گیا کہ
____________________
۱ سورہ مائدہ ، آیت ۶۷ ۔”اے پیغمبر آپ اس حکم کو پهنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور آگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پهنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکہے گا“۔۲۵۷ و ۴۰۲ ، و ج ۲، ص ۳۹۱ و ۴۵۱ ؛ الدرّ ،۲۵۵ ،۲۵۴ ، ۲ اسباب النزول ص ۱۳۵ ؛ شواہد التنزیل، ج ۱، ص ۲۴۹ المنثور، ج ۲، ص ۲۹۸ ؛ الفتح الغدیر، ج ۲، ص ۶۰ ؛ المعیار و الموازنة، ص ۲۱۴ ، تاریخ مدینة دمشق، ج ۴۲ ، ص ۲۳۷ ؛ ینابع ۲۸۵ ، و ج ۳، ص ۲۷۹ ۔ ، المودة، ج ۱، ص ۳۵۹ ، و ج ۲، ص ۲۴۸ ؛ دعائم الاسلام، ج ۱، ص ۱۵ ؛ رسائل المرتضیٰ، ج ۳، ص ۲۰ ، و ج ۴، ص ۱۳۰ ؛ الکافی، ج ۱، ص ۲۸۹ ، و ۲۹۰ ؛ الامالی، للصدوق، ص ۴۳۵ ، مجلس نمبر ۵۶ ، ح ۱۰ ، و ص ۵۸۴ ؛ کشف الغطاء، ج ۱، ص ۱۰ ؛ التوحید، ص ۲۵۴ ، و ۲۵۶ ۳۸۲ ؛ المسترشد، ص ، ۹۲ ؛ مناقب امیر المومنین (ع)، ج ۱، ص ۱۴۰ ، و ۱۷۱ ، و ج ۲، ص ۳۸۰ ، روضة الواعظین، ص ۹۰ ۴۶۵ ، و ۴۷۰ ، و ۶۰۶ ؛ شرح اخبار، ج ۱، ص ۱۰۴ ، و ج ۲، ص ۲۷۶ ، و ۳۷۴ ؛ الارشاد، ج ۱، ص ۱۷۵ ؛ الاحتجاج، ج ۱، ص ۱۵۲ ؛ تفسیر ابی حمزة الثمالی، ص ، ۷۰ ؛ مناقب آل ابی طالب، ج ۳، ص ۲۱ ، و ۲۳ ؛ العمدة، ص ۹۹ ؛ الطرائف، ص ۱۲۱ و ۱۴۹ ۱۷۴ ، و ج ۲، ص ۲۰۱ ؛ تفسیر ، ۳۳۱ وغیرہ، و ج ۲، ص ۹۷ ؛ تفسیر القمّی، ج ۱، ص ۱۷۱ ، ۱۶۰ ، تفسیر عیاشی، ج ۱، ص ۳۲۸ ۱۲۹ وغیرہ، إعلام الوری، ج ۱، ص ۲۶۱ ، اور شیعوں کے دیگر منابع و مدارک۔ ، فرات الکوفی، ص ۱۲۴ ۳ تاریخ بغداد ج ۸ ص ۲۸۴ ؛ شواہد التنزیل، ج ۱، ص ۲۰۰ وغیرہ، و ج ۲، ص ۳۹۱ ؛ تاریخ مدینة دمشق، ج ۴۲ ، ص ۲۳۴ ؛ البدایة و النهایة، ج ۷، ص ۳۸۶ ، المعیار و الموازنة، ص ۲۱۲ ، ینابیع المودة، ج ۲، ص ۲۴۹ ؛ نیز اہل سنت کے ،۲۳۳ دیگر منابع۔ ۲۴۴ ؛ الطرائف، ص ۱۴۷ ؛ رسائل المرتضیٰ، ج ۴، ص ۱۳۱ ؛ الاقتصاد، ص ۲۲۰ ؛ الامالی ، العمدة، ص ۱۰۶ و ۱۷۰ للصدوق، ص ۵۰ ، مجلس نمبر ۱، ح ۲؛ روضة الواعظین، ص ۳۵۰ ؛ تفسیر فرات کوفی، ص ۵۱۶ ؛ خصائص الوحی المبین، ص ۹۷ ؛ اور شیعوں کے دیگر منابع و مآخذ۔
۴ نور الابصار، ص ۸۷ ۔(فصل مناقب سیدنا علی بن ابی طالب ابن عم الرسول و سیف الله المسلول میں ذکر کیا ہے)۳۷۰ ، شواہد ، اسی طرح رجوع فرمائی، نظم درر السمطین، ص ۹۳ ، الجامع لاحکام القرآن، ج ۱۸ ، ص ۲۷۹ ، ینابع المودة، ج ۲التنزیل، ج ۲، ص ۳۸۱ ، اور اہل سنت کے دیگر منابع۔
آیت( سَا لََٔ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ) (۱) کس کی شان میں نازل ہوئی ہے؟
اس _______نے کها:مجه سے تم نے ایسے مسئلے کے بارے میں سوال کیا ہے جسے تم سے پهلے کسی اور نے نہیں پوچها۔ میرے لئے میرے والد نے جعفر بن محمد اورانهوں نے اپنے اجداد سے حدیث بیان کی ہے کہ غدیر خم کے مقام پر جب رسول خدا(ص) نے لوگوں کو بلایا اور سب جمع ہوچکے تو آپ(ص)نے علی علیہ السلام کا هاته پکڑکر فرمایا:((من کنت مولاه فَعلیّ مولاه ))،اس طرح یہ بات شهروں میں مشهور ہونے لگی اور جب یہ خبر حارث بن نعمان فهری تک پهنچی تو وہ رسول خدا(ص) کے پاس آیا اور کها: اے محمد(ص)! تو نے حکم دیا تھا کہ خدا کی وحدانیت اور تیری رسالت کااقرار کریں، سو ہم نے اقرار کیا، تو نے حکم دیا کہ پانچ وقت کی نمازیں پڑہیں، ہم نے قبول کیا، زکات دینے کو کها، ہم نے قبول کیا، حکم دیا کہ رمضان کے روزے رکہیں ہم نے قبول کیا، حج کرنے کا حکم دیا، ہم نے یہ بھی مان لیا،لیکن تم اس پر بھی راضی نہ ہوئے اور اپنے چچا زاد بهائی کا هاته پکڑکر اسے ہم پر فضیلت دینا چاہی اور کها ((من کنت مولاه فعلیّ مولاه ))،آیا یہ تمهارا فیصلہ ہے یا خداوند عزوجل کا حکم ہے ؟
پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:والذی لا إله إلا هو ، یقینا یہ خداوند عزوجل کا حکم ہے۔
حارث بن نعمان سوار ہونے کے لئے اپنی سواری کی طرف بڑهااور کها:بار الها! جو کچہ محمد(ص) کہہ رہا ہے اگر یہ سچ ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ یا دردناک عذاب نازل فرما۔
ابھی وہ اپنی سواری تک نہ پهنچا تھا کہ خدا وند عزوجل نے پتهر نازل فرمایا جو اس کے سر پر آیااور دوسری طرف سے نکل گیا او ر وہ وہیں مر گیا۔ اس موقع پرخداوند عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی( سَا لََٔ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِع ة لِّلْکَافِرِيْنَ لَيْسَ لَه دَافِعٌة مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِ ) (۲)
اس میں کسی قسم کے شک وتردید کی گنجائش نہیں کہ علی(ع) کے بارے میں، لوگوں نے رسول خدا(ص) سے فضائل سن رکہے تھے۔ وہ بات جو حارث بن نعمان جیسے افراد کے لئے نئی،شهروں میں منتشر شدہ اور نا قابل یقین فضیلت تھی، وہ رسول خد ا(ص) کی جانب سے، علی(ع) کے لئے،مولیٰ اور ولی ہونے کا اعلان تھا، جو اس جیسے افراد برداشت نہ کر سکتے تھے، نہ یہ کہ مولی کے کوئی دوسرے معنی ہوں۔
۶ ۔احمد بن حنبل نے مسند میں(۳) ، فخر رازی نے تفسیرمیں(۴) ،خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں(۵) اور ان کے علاوہ دوسروں(۶) نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے، لیکن ہم فقط مسند احمد کی روایت پر اکتفا کرتے ہیں :
احمد نے براء بن عازب سے نقل کیا ہے کہ اس نے کها: ہم رسول خدا(ص) کے ساته ہمسفر تھے۔ غدیر خم کے مقام پر رکے، نماز جماعت کے لئے بلایا گیا، رسول خدا(ص) کے لئے دو درختوں کے نیچے جهاڑو دی گئی،آپ(ص) نے نماز ظهر ادا کی اور علی(ع) کا هاته پکڑ کر فرمایا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ میں مومنین سے ان کی اپنی نسبت اولی ہوں؟ سب نے کها:ها ں، فرمایا:کیا تم نہیںجانتے ہو کہ میںهر مومن سے خود اس کی نسبت اولی ہوں ؟سب نے کها:هاں، پھر آپ نے علی(ع) کا هاته بلند کر کے فرمایا ((من کنت مولاه فعلی مولاه اللّٰهم وال من والاه وعاد من عاداه ))۔براء بن عازب کہتا ہے: اس کے بعد عمر نے علی (ع)کے ساته ملاقات کی اور آپ سے کها((هنیئاً یا ابن ابی طالب، اصحبت وامسیت مولی کل مومن ومومنة ))۔
شرح الاخبار، ج ۱، ص ۲۳۰ ؛ مناقب آل ابی طالب، ج ۳، ص ۴ ۰ ، تفسیر فرات کوفی، ص ۵ ۰ ۵ ؛ الطرائف، ص ۱ ۵ ۲ ؛ مناقب آل ابی طالب، ج ۳، ص ۴ ۰ ، اور شیعوں کے دیگر منابع۔
____________________
۱ سورہ معارج، آیت ۱۔”ایک مانگنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا“۔
۲ سورہ معارج، آیت ۱،۲،۳ ۔”ایک مانگنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا۔جس کا کافروں کے حق میں کوئی واقع کرنے والا نہیں ہے۔ بلندیوں والے خدا کی طرف سے ہے“۔
۳ مسند احمد بن حنبل ، ج ۴، ص ۲۸۱ ۔
۴ تفسیر کبیر ، ج ۱۲ ، ص ۴۹ ،آیہ( ٔیا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک ) کی تفسیر کے ذیل میں۔
۵ تاریخ بغداد، ج ۸، ص ۲۸۴ ۔
۶ نظم درر السمطین، ص ۱۰۹ ؛ ذخائر العقبیٰ، ص ۶۷ ؛ تاریخ مدینة دمشق، ج ۴۲ ، ص ۲۲۰ وغیرہ؛ البدایة و النهایة،۲۸۵ ؛ اور اہل سنت کے دیگر منابع و مآخذ۔ ، ۱۰۱ ، ج ۲، ص ۱۵۸ ،۹۸ ، ج ۷،ص ۳۸۶ ؛ ینابیع المودة، ج ۱اور شیعہ منابع میں بھی ذکر ہے: مناقب امیر المومنین علیہ السلام، ج ۱، ص ۴۴۳ ، ج ۲، ص ۴۴۱ ؛ المسترشد، ص ۴۵ ؛ الطرائف، ص ۱۵۰ ؛ اختیار معرفة الرجال، ج ۱، ص ۸۷ ، اور شیعوں کے دیگر منابع و ، ۴۷۲ ؛ مناقب آل ابی طالب، ج ۳ مآخذ۔
عمر جیسے شخص سے اس طرح کی مبارک باد، ایک ایسی چیز کے لئے جس میں حضرت علی(ع) کے ساته دوسرے مومنین بھی شریک ہوں، دوستی کے معنی میں نہیں، بلکہ بلا شبہ مبارک باد کا یہ انداز کسی خاص فضیلت کے لئے ہی ہوسکتا ہے اور وہ فضلیت زعامت امت ومنصب خلافت رسول خدا(ص) کے سواکچھ نہیں۔
۷۔اکابر اہل سنت کی ایک جماعت مثلاابن حجر عسقلانی نے الا صابة میں(۱) ، ابن اثیر نےاسد الغابةمیں(۲) اور دیگر علماء نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔هم ابن اثیر کی روایت پر اکتفا کرتے ہیں :
”ابو اسحاق کہتا ہے :میرے لئے اس حدیث کو بیان کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ میں بیان نہیں کرسکتا، کہ علی(ع) نے رحبہ کے مقام پر رسول خدا(ص) کے اس قول ((من کنت مولاه فعلی مولاه اللّٰهم وال من والاه وعاد من عاداه ))کو سننے والوں کو طلب کیا، ایک گروہ نے اٹه کر گواہی دی کہ انهوں نے اسے رسول خدا(ص) سے سنا ہے،جب کہکچھ لوگوںنے اسے چهپایا اور جنهوں نے وہاں گواہی نہ دی تھی،اندہے ہونے اور آفت میں گرفتار ہونے سے پهلے نہ مرے۔“
حضرت علی(ع) کا اس روایت کے ذریعے اتمام حجت کرنا اور گواہی کے لئے لوگوں کو طلب کرنا اس بات کا کهلا ثبوت ہے کہ حدیث میں، منصب ولایت امر اور زعامت امت ہی مراد ہے۔
۸۔ولایت علی ابن ابی طالب(ع) کو بیان کرنے سے پهلے آنحضرت(ص) نے فرمایا: ”خدا میر ا مولاہے اور میں ہر مومن کا مولاہوں۔“ خدا آپ(ص)کا مولاہے یعنی خدا کے علاوہ کسی اور کو آنحضرت(ص) پر ولایت حاصل نہیں اور جس طرح سے خدا آپ(ص) کا مولاہے، آپ بھی اسی طرح ہر مومن کے مولاہیں اور اہل ایمان پر جو ولایت آنحضرت(ص) کو حاصل ہے حضرت علی(ع) کو بھی وہی ولایت حاصل ہے۔ اور واضح وروشن ہے کہ اس ولایت سے رسول خدا(ص) کی خلافت مراد ہے۔
۹۔حضرت علی(ع) کا اس طرح تعارف کرانے سے پهلے آپ(ص)نے اس جملے کے ذریعے اعتراف واقرار لیا کہ ((ا لٔست ا ؤلی بکم)) سب نے کها:هاں یارسول الله، اور یہ وہی اولویت ہے جسے خداوند متعال نے قرآن میں فرمایا ہے( اَلنَّبِیُّ ا ؤَْلیٰ بِالْمُو مِْٔنِيْنَ مِنْ ا نَْٔفُسِهِمْ ) (۳)
اور اس کے بعد یہ فرمایا: ”جس جس کا میں مولاہوں، علی بھی اس کے مولاہیں“،اور جملہ ((ا لٔست ا ؤلی بکم ))کو پهلے ذکر فرما کر کلمہ ولی کے بارے میں تمام شبهات کو برطرف کر دیا، اور اس طرح یہ مطلب واضح کر دیا کہ مومنین کی نسبت جو اولیت آپ(ص) کو حاصل ہے، حضرت علی علیہ السلام کے لئے بھی وہی الوہیت ثابت ہے۔
حدیث چهارم:
چوتهی حدیث جناب ختمی مرتبت(ص) کا وہ فرمان ہے جس میں آپ نے جناب امیرعلیہ السلام سے یوں فرمایا: ”انت منی وانا منک“ ٤ اس حدیث کو بخاری کے علاوہ دیگر اکابر ائمہ حدیث نے بھی نقل کیا ہے۔
____________________
۱ الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج ۴، ص ۳۰۰ ،پهلی قسم عبد الرحمن بن مد لج۔
۱۰۷ ، السنن الکبری ، ۲ اسد الغابہ ، ج ۳، ص ۳۲۱ ، مسند احمد بن حنبل، ج ۱، ص ۱۱۹ ، مجمع الزوائد، ج ۹، ص ۱۰۵، للنسائی، ج ۵، ص ۱۳۱ وغیرہ، مسند ابی یعلی، ج ۱، ص ۴۲۸ ؛ البدایة والنهایة، ج ۵، ص ۲۲۹ ؛ السیرة النبویة، ابن کثیر، ج ۴،۱۷۱ ، ۱۰۰ وغیرہ، ۱۳۲ ؛ المعجم الاوسط، ج ۷، ص ۷۰ ، المعجم الکبیر، ج ۵ ، ۴۱۸ ، خصائص امیرالمومنین علیہ السلام، ص ۹۶شرح نهج البلاغہ لابن ابی الحدید، ج ۱۹ ، ص ۲۱۷ ؛ تاریخ مدینة دمشق، ج ۴۲ ، ص ۲۰۵ اور اہل سنت کے دیگر منابع۔۳۳۴ وغیرہ؛ ، ۱۰۰ ؛ الامالی للطوسی، ص ۲۷۲ ، مناقب امیر المومنین علیہ السلام، ج ۲، ص ۳۷۲ ، شرح الاخبار، ج ۱العمدة، ۹۳ ؛ الطرائف، ص ۱۵۱ اور شیعوں کی دیگر کتابیں۔
۳ سورہ احزاب ، آیت ۶۔”بے شک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیادہ اولیٰ ہے“۔
۴ صحیح بخاری ، ج ۳، ص ۱۶۸ ، کتاب الصلح باب کیف یکتب هذا۔۔۔، وج ۴، ص ۲۰۷ ، باب مناقب علی بن ابی طالب،
ج ۵، ص ۸۵ ، باب عمرة القضاء؛ مسند احمد بن حنبل ،ج ۱، ص ۹۸ و ۱۱۵ ، وج ۵، ص ۲۰۴ ؛وصحیح ابن حبان، ج ۱۱ ، ص ۲۲۹ و ۲۳۰ ؛ سنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۸، ص ۵؛ مجمع الزوائد، ج ۹، ص ۲۷۵ ؛ المنصف لعبد الرزاق، ج ۱۱ ، ص ۲۲۷ ؛ مصنف ابن ابی شیبہ، ج ۷، ص ۴۹۹ ؛ سنن الکبریٰ للنسائی، ج ۵، ص ۱۲۷ و ۱۴۸ و ۱۶۸ و ۱۶۹ ؛ خصائص امیر المومنین علیہ السلام ، ص ۸۸ و ۸۹و ۱۲۲ و ۱۵۱ ؛ کنز العمال، ج ۵، ص ۵۷۹ ، وج ۱۱ ، ص ۵۹۹ و ۶۳۹ و ۷۵۵ و ج ۱۳ ص ۲۵۵ ،معانی قرآن، ج ۵، ص ۴۰ ، شواہد التنزیل، ج ۲، ص ۱۴۳ ، الجامع لاحکام القرآن، ج ۱۳ ، ص ۶۰ ، وج ۱۵ ، ص ۲۱۵ ؛ تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۴۷۵ و ج ۴؛ ص ۲۱۸ ؛تاریخ بغداد، ج ۴، ص ۳۶۴ ؛ تاریخ مدینة دمشق، ج ۱۹ ، ص ۳۶۲ ،وج ۴۲ ، ص ۵۳ و ۶۳ و ۱۷۹ ؛تہذیب الکمال، ج ۵، ص ۵۴ البدایة االنهایة،ج ۴، ص ۲۶۷ ؛ اور اہل سنت کے دوسرے حوالہ جات ۔؛ مناقب امیر المومنین علیہ السلام ، ص ۴۷۳ ؛ مناقب آل ابی طالب، ج ۱، س ۳۹۶ ؛ الخصال ، ص ۴۹۶ و ۵۷۳ و ۶۵۲عیون اخبار الرضا علیہ السلام ،ج ۲، ص ۵۸ ،، باب ۳۱ ، ح ۲۲۴ ؛ الامالی للصدوق، ص ۶۶ المجلس الرابع، ح ۲، ص ۱۵۶ ، المجلس الحادی والعشرون، ج ۱، ص ۳۴۲ ، المجلس الخامس والاربعون، ح ۲،اس کتاب سے دوسرے مورد ؛ کمال الدین وتمام النعمة،، ص ۲۴۱ ؛ کفایة الاثر، ص ۱۵۸ ؛ روضة الواعظین، ص ۱۱۲ ،و ۲۹۶ ؛ المسترشد ، ص ۶۲۱ و ۶۳۴ و۔۔۔شرح الاخبار، ج ۱، ص ۹۳وج ۲، ص ۲۵۰ ؛ الارشاد، ج ۱، ص ۴۶ ؛ الامالی للمفید، ص ۲۱۳ ؛ الامالی للطوسی، ص ۲۰۰ و ۳۵۱ ؛ العمدة ، ص ۱۴۶ و ۲۰۱ ؛ اور دوسرے حوالاجات شیعہ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کمال عالم هستی، عقل ،علم، عبودیت اور اپنے اختیار سے اطاعت الٰهی کی بنا ء پر ہے۔ اور انسان کی خلقت کا امتیازی پهلو بھی اسی عقل اور اپنے اختیار سے اطاعت الٰهی کے سبب ہے۔ نیز انسان کی خلقت کا ہدف و مقصد بھی یهی ہے۔
بنا بر ایں انسان کا کمال عالم غیب سے اس کے مرتبہ اتصال اور نور وحی کے ذریعے اس کی عقل کے نورانی ہونے سے وابستہ ہے اور یهی مرتبہ نبوت ہے۔
اور کمال مرتبہ نبوت، خالق کی جانب سے مخلوق کے لئے سفارت الٰهی کے عهدے پر فائز ہوکر، ان کی عقول کو نور حکمت الٰهی سے منور کرنے سے وابستہ ہے اور یہ مرتبہ رسالت ہے اور کمال مرتبہ رسالت، مرتبہ خاتمیت تک رسائی ہے جو تا ابد زندہ رہنے والی شریعت کے ساته مبعوث ہونے کا مقام ہے اور انسانی کمال کی آخری حد بھی یهی ہے۔ اور اس مرتبے کا مالک خاتم ماسبق اور فاتح مااستقبل ،صاحب اسم اعظم اور مثل اعلی یعنی حضرت محمد مصطفی(ص) ہیں ۔
امیر المومنین علیہ السلام اس هستی کے مرتبے پر فائز ہیں کہ جن کے بارے میں خداوند تعالی نے فرمایا:( وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی ) (۱)
اور اس هستی نے آپ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ”علیّ منی“ (علی مجه سے ہے) یعنی عالم امکان کے اس گوہر یکتا سے علی کا اشتقاق ہوا ہے جو نفس قدسی بھی ہے نینر تخلیق کائنات اور خلافت آدم کی علت غائیہ بھی۔
اور آنحضرت(ص)نے صرف اسی جملے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کے بعد فرمایا: - ” وانا منہ“ تا کہ اس نکتے کو سمجها سکیں کہ ختمی مرتبت کے وجود اور ان کی بعثت کا مقصد و ہدف اور اس بعثت کی حفاظت کی بنیاد (یعنی دین قویم و صراط مستقیم کی جانب ابتداء اً و استمراراً ہدایت بجز علی اور ان کی معصوم اولاد کے علاوہ کسی اور کے ذریعے ممکن ہی نہیں۔
بنا بر ایں یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص پیغمبر سے اور پیغمبر اس سے ہوں اس کے اور پیغمبر کے درمیان کوئی اور خلافت حد فاصل واقع ہوجائے ۔
پانچویں حدیث:
فریقین کے اکابر ائمہ حدیث ، اس حدیث کی صحت پر متفق ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا:
علی مع القرآن والقرآن مع علی لن یتفرقا حتی یردا علی الحوض (۲) اس حدیث کے معنی، قرآن مجید کی شناخت کے بعد ہی واضح ہوسکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل سطور میں بطور اختصار چند نکات ذکر کئے جارہے ہیں۔
۱۔ آسمانی کتب میں قرآن مجید سے افضل کتاب موجود نہیں( اللهُ نَزَّلَ ا حَْٔسَنَ الْحَدِیثِ کِتَابًا مُتَشَابِهًا ) (۳)
____________________
۱ سورہ نجم آیت ۳: وہ تو اپنی نفسانی خواہش سےکچھ بولتے نہیں ہیں۔
۲ علی(ع) قرآن کے ساته ہیں اور قرآن علی(ع) کے ساته جو کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، یهاںتک حوض کوثر پر میرے پاس پهنچ جائیں۔المستدرک علی الصحیحین، ج ۳، ص ۱۲۴ ، نیز اس کتاب کے خلاصہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے، المعجم الصغیر،، ج ۱، ص ۲۵۵ ، المعجم الاوسط، ج ۵، ص ۱۳۵ ، الجامع الصغیر، ج ۲، ص ۱۷۷ ، کنز العمال، ج ۱۱ ، ص ۶۰۳ ، فیض القدیر، ج ۴ص ۴۷۰ ، سبل الهدیٰ و الرشاد، ج ۱۱ ، ص ۲۹۷ ، ینابیع المودة، ج ۱، ص ۱۲۴ و ۲۶۹ ، نیز اہل سنت کے دیگر منابع۔
، ۲۹۷ ، الطرائف، ص، ۱۰۳ ، الاربعون حدیثاً، ص ۷۳ ، کشف الغمّہ، ج ۱، ص ۱۴۸ ، الاحتجاج، ج ۱، ص ۲۱۴،۲۲۵الامالی شیخ طوسی، ص ۴۶۰ ، المجلس السادس عشر، ح ۳۴ ، و ص ۴۷۹ ، و ۵۰۶ ، نیز شیعوں کے دیگر منابع۔۳ سورہ زمر آیہ ۲۳ ، خدا نے قرآن کو نازل فرمایا جو کہ بہترین حدیث ہے ایسی کتاب جس کی آیات متشابہ ہیں۔
( إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِی لِلَّتِی هِیَ ا قَْٔوَمُ ) (۱)
۲۔ خداوند متعال نے قرآن کریم کو ایسے اوصاف سے متصف فرمایا ہے کہ زبان ان کے بیان سے اور قلم ان کی تحریر سے عاجز ہے ۔
( بَلْ هو قُرْآنٌ مَجِیدٌ فِی لَوْحٍ مَحْفُوظٍ ) (۲)
( إِنَّهُ لَقُرْآنٌ کَرِیمٌ فِی کِتَابٍ مَکْنُونٍ ) (۳)
( وَلَقَدْ آتَيْنَاکَ سَبْعًا مِنْ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنَ الْعَظِیمَ ) (۴)
( يَس وَالقُرْآنِ الْحَکِيْمِ ) (۵)
۳۔ خداوند تعالی نے اپنے آپ کو معلم قرآن قرار دیا ہے۔( اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ) (۶)
۴ ۔ جبروت الٰهی سے جب امور نے اس کتاب میں تجلی کی ہے ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد پروردگار ہے۔( لَوْ ا نَْٔزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَی جَبَلٍ لَرَا ئَْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ) (۷)
۵ ۔ اسراز و رموز کے پردے میں مخفی، خداوند تعالیٰ کے قدرت نے آیات قرآن میں تجلّی کی ہے۔ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے خداوند تعالی نے فرمایا:( وَلَوْ ا نََّٔ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ ا ؤَْ قُطِّعَتْ بِه الْا رَْٔضُ ا ؤَْ کُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَی ) (۸)
۶ ۔ یہ کتاب، مظهر علم و حکمت الٰهی ہے( وَإِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ عَلِیمٍ ) (۹)
( وَنَزَّلْنَا عَلَيْکَ الْکِتَابَ تِبْيَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَهُدًی وَرَحْمَةً ) (۱۰)
۷۔ اس کتاب کے نازل کرنے پر خداوند تعالی نے خود اپنی تعریف و تمجید فرمائی ہے۔( اَلْحَمْد لِلَّهِ الَّذِی ا نَٔزَلَ عَلَی عَبْدِهِ الْکِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجَا ) (۱۱)
۸۔ اس کتاب عزیز سے تمسک رکھنے کے سلسلے میں آنحضرت فرماتے ہیں: پس جب بھی فتنے اور آشوب تم پر مشتبہ ہوکر تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیں تو قرآن کا رخ کرو کیونکہ قرآن یقینا ایسا شفیع ہے کہ جس کی شفاعت قبول کرلی گئی ہے، برائیوں کی خبر دینے والا ایسا مخبر ہے جس کی خبر مصدقہ ہے ۔ جو بھی اسے اپنا رہبر بنائے گا یہ جنت کی جانب اس کی رہبری کرے گا جو بھی اسے پس پشت رکہے گا یہ اسے جهنم کی جانب لے جائے گا قرآن بہترین راہوں کی جانب راہنمائی کرنے والا راہنما ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں تفصیل و بیان ہے اور حصول حقائق کا طریقہ یہ حق کو باطل سے جدا کرتی ہے اس کا کلام قطعی اور نپا تلا ہے۔ شوخی و مزاح نہیں۔ اس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ ا س کا ظاہرحکم اور باطن علم ہے۔ اس کے ظاہر حسین و جمیل اور باطن عمیق اور گهرا ہے ۔
اس کی حدود ہیں اور ان حدود کی بھی حدود ہیں۔ اس کی محيّر العقول باتیں نا قابل شمار ہیں اور اس کے عجائب و جدتیں کبھی پرانی نہ ہونگی۔ اس میں ہدایت کے چراغ ہیں۔ نور حکمت کے پرتو اسی سے نکلتے ہیں جو اسے سمجه لے تو یہ کتاب طریق معرفت کے لئے اس کی دلیل و راہنما ہے-“۔(۱۲)
____________________
۱ سورہ اسراء آیہ ۹ ، بے شک قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے، جو سب سے زیادہ سیدہی ہے۔
۲ سورہ بروج آیہ ۲۰ ۔ ۲۱ ،بلکہ یہ قرآن مجید جو لوح محفوظ میں لکها ہوا ہے۔
۳ سورہ واقعہ آیہ ۷۷ ۔ ۷۸ ،بے شک یہ بڑے رتبہ کا قرآن ہے جو کتا ب (لوح) محفوظ میں لکها ہوا ہے۔
۴ سورہ حجر آیہ ۸۷ ، اور ہم نے تم کو سبع مثانی (سورہ حمد) اور قرآن عظیم عطاء کیا ہے۔
۵ سورہ یس ۱۔ ۲، یس (اس) پر از حکمت قرآن کی قسم۔
۶ سورہ رحمن۔ ۱۔ ۲۔، خدای مهربان۔ تعلیم دی قرآن کی۔
۷ سورہ حشر آیہ ۲۱ ، اگر نازل کرتے قرآن کو پهاڑ پر تو تم دیکھتے کہ کس طرح پهاڑ خشیت خدا سے ریزہ ریزہ ہوجاتے۔
۸ سورہ رعد۔ آیہ ۳۱ ، ترجمہ: اور اگر کوئی ایسا قرآن (بھی نازل ہوا) ہوتا جس کی برکت سے پهاڑ (اپنی جگہ سے)چل کهڑے ہوتے یا اس کی وجہ سے زمین (کی مسافت) طے کی جاتی اور اس کی برکت سے مردے بول اٹهتے۔
۹ سورہ نمل آیہ ۶۔، اے رسول آیات قرآن عظیم از طرف خدای حکیم و دانا آپ پر وحی القاء ہوتی ہے۔
۱۰ سورہ نحل آیہ ۸۹ ، ہم نے اس قرآن عظیم کو تم پر نازل کیا جو کہ ہر چیز کی حقیقت کو روشن کرتا ہے اور ہدایت و رحمت ہے۔
۱۱ سورہ کہف آیت ۱۔ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے اپنے بندے محمد ((ص)) پر کتاب (قرآن) نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (خرابی) نہ رکھی۔
۱۲ الکافی، ج ۲، ص ۵۹۹ ۔
جی هاں، خداوند متعال نے اس کتاب میں اپنی مخلوق کے لئے تجلی کی ہے۔ جس ذات نے اس کتاب کو نازل کیا ہے اسی نے قرآنی آیات میں اور جس پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے اس نے اپنی بالائی سطور میں اس قرآن کی تعریف کی ہے۔ کیا عظیم قدر و منزلت ہے اس شخص کی جسے ختمی مرتبت نے قرآن کے ہمراہ اور قرآن کو اس کے ہمراہ قرار دیا ہے۔
حامل حکمت قرآن ہونے کی بناء پر وہ ظاہر قرآن کے ہمراہ اور علم قرآن کا حامل ہونے کی بناء پر وہ باطن قرآن کے ہمراہ ہے ۔ یہ هستی شمار نہ کئے جانے والے عجائبات اور کبھی ختم نہ ہونے والے محيّر العقول غرائبات کے ساته ہے۔ اور اس معیت و ہمراہی کی بنا ء پر گذشتہ تمام انیباء پر نازل ہونے والی حکمت و کتاب، اس کے پاس ہے۔
فریقین کے اکابر مفسرین و محدثین(۱) سے منقول روایات کے مطابق کلام مجید میں مذکور ”اُذُن واعیہ“ (تمام چیزوں کو اچهی طرح سے سننے والا کان) علی ہی ہے۔ جهاں ارشاد قدرت ہے:( وَ تَعِیهَا اُذُنٌ وَاعِيَةٌ ) (۲)
وہی جس نے کها: (سلونی فوالله لاتسا لٔونی عن شی یکون إلی یوم القیامة الاَّ حدثتکم به و سلونی عن کتاب الله، فو الله ما من آیة إلاَّ و ا نٔا ا عٔلم ا بٔلیل نزلت ا مٔ بنهار (۳) اس هستی کی کیا عظیم منزلت ہوگی کہ جسے رسول اکرم(ص) نے قرآن کے ہمراہ قرار دیا ہو۔
واضح ہے کہ ہمراہی اور معیت ہمیشہ دو طرفہ ہوا کرتی ہے یعنی جب علی قرآن کے ساته ہیں تو قرآن بھی یقینا علی کے ساته ہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت نے علی مع القرآن فرما نے پر اکتفا ء نہ کیا بلکہ آپ علیہ السلام کی عظمت میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: والقرآن مع علی، اور اس نکتے کو صرف اولوالالباب ہی درک کرسکتے ہیں۔
اس حدیث کے پهلے جملے میں علی سے کلام کی ابتداء کرنا اور قرآن پر ختم کرنا نیز دوسرے جملے میں قرآن سے ابتداء اور علی پر جملے کا اختتام کرنا وہ بھی فصیح و بلیغ ترین هستی کی زبان سے، ایسے باریک و دقیق نکات پر مشتمل ہے کہ جس کی تشریح و تفسیر اس مختصر کتاب میں نہیں کی جاسکتی۔
المختصر یہ کہ انبیاء و مرسلین کے درمیان رسول امین سے افضل کوئی نہیں اور کیونکہ علی
____________________
۱-علیہ السلام آنحضرت(ص)سے اور آنحضرت(ص)علی علیہ السلام سے ہیں (انت منی و انا منک) لہٰذا خدا کی افضل ترین مخلوق کے بعد بلا فصل آپ علیہ السلام ہی کا رتبہ ہے۔ادہر دوسری طرف تمام آسمانی کتب میں قرآن مبین سے اعلی و ارفع کوئی کتاب نہیں، اور کیونکہ علی قرآن کے اور قرآن علی کے ساته ہے (علیّ مع القرآن والقرآن مع علی ) لہٰذا قلب علی بن ابی ؛۱۷۷ ، ۱ شرح نهج البلاغہ لابن ابی الحدید، ج ۷، ص ۲۲۰ ؛ نظم درر السمطین، ص ۹۲ ؛ کنز العمّال، ج ۱۳ ، ص ۱۳۵ ، ۳۶۲ وغیرہ؛ الجامع لاحکام القرآن، ج ۱۸ ، جامع البیان، ج ۲۹ ، ص ۶۹ ؛ اسباب النزول، ص ۲۹۴ ؛ شواہد التنزیل، ج ۲، ص ۳۶۱ ، ص ۲۶۴ ؛ تفسیر ابن کثیر، ج ۴، ص ۴۴۱ ؛ الدر المنثور، ج ۶، ص ۲۶۰ ؛ تاریخ مدینة دمشق، ج ۳۸ ، ص ۳۴۹ ، ج ۴۱ ، ص ۴۵۵ ج ۴۲ ، ص ۳۶۱ ، اور اہل سنت کی دیگر کتابیں۔ بصائر الدرجات، ص ۵۳۷ ، الجزء العاشر، باب ۱۷ ، ح ۴۸ ؛ الکافی، ج ۱، ص ۴۲۳ ؛ عیون اخبار الرضا (علیہ السلام)، ج ۲، ص ۶۲ ، باب ۳۱ ، ح ۲۵۶ ؛ روضة الواعظین، ص ۱۰۵ ؛ مناقب امیر المومنین علیہ السلام، ج ۱، ص ۱۴۲ وغیرہ؛ دلائل الامامة،
ص ۲۳۵ ؛ تفسیر العیاشی، ج ۱، ص ۱۴ ؛ تفسیر فرات الکوفی، ص ۴۹۹ ؛ التبیان، ج ۱۰ ، ص ۹۸ ؛ مجمع البیان، ج ۱۰ ، ص ۱۰۷ اور شیعوں کی دیگر کتابیں۔ ۲ سورہ حاقہ، آیت ۱۲ ، اور اسے یاد رکھنے والے کان سن کر یاد رکہیں۔
۳ مجه سے سوال کرو، خدا کی قسم مجه سے کوئی چیز نہیں پوچهوگے قیامت تک مگر یہ کہ میں اس کے بارے میں خبر دوں گا، قرآن کے بارے میں سوال کرو، خدا کی قسم کوئی بھی آیت ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں میں نہ جانتا ہوں کہ یہ رات میں نازل ہوئی ہے یا دن میں۔ ، فتح الباری، ج ۸، ص ۴۵۹ ، کنز العمال، ج ۳، ص ۵۶۵ ، اور تهوڑے سے فرق کے ساته شواہد التنزیل، ج ۱، ص ۴۲ تفسیر ثعالبی، ج ۱، ص ۵۲ ، الجامع لاحکام القرآن، ج ۱، ص ۳۵ ، الجرح و التعدیل، ج ۶، ص ۱۹۲ ، تہذیب الکمال، ج ۲۰ ، ص ، ۴۸۷ ، تہذیب التہذیب، ج ۷، ص ۲۹۷ ، ا نٔساب الاشراف، ص ۹۹ ، ینابیع المودة، ج ۲، ص ۱۷۳ ، و ۴۰۸ ، ذخائر العقبیٰ، ص ۸۳ تفسیر القرآن عبد الرزاق، ج ۳، ص ۲۴۱ ، الطبقات الکبری، ج ۲، ص ۳۳۸ ، تاریخ مدینة دمشق، ج ۴۲ ، ص ۳۹۸ میں، اور اہل سنت کے دیگر مصادر۔ مناقب آل ابی طالب، ج ۱، ص ۶۴ ؛ وصول الاخیار الی اصول الاخبار، ص ۴؛ المناقب، ص ۹۴ ؛ کشف الغمة، ج ۱، ص ۱۱۷ ؛ سعد السعود، ص ۲۸۴ ، تفسیر العيّاشی، ج ۲، ص ۲۸۳ ، اور شیعوں کے دیگر منابع و مآخذ۔
طالب علیہ السلام خداوند تعالی کی جانب سے نازل کردہ تمام امور کا آئینہ ہے اب خواہ وہ امر ہدایت ہو،نور ہو، حکمت ہو یا کوئی بھی اور شئے۔
کیا ان تمام صفات سے متصف ہونے کے بعد بھی کوئی شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ رسول اکرم(ص) کی خلافت اور قرآن عظیم کی تفسیر کے لئے علی علیہ السلام کی ذات شائستہ ترین ہے؟
کیا اس بات میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے کہ علی علیہ السلام خدا پر ایمان رکھنے والے ہر انسان کے مولا ہیں کہ جس نے فرمایا:( وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ ) (۱) ( وَمَا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ ) (۲)
حدیث ششم:
وہ حدیث ہے جس کی سند کے صحیح ہونے کا محدثین اور رجالِ اہل سنت نے اعتراف کیا ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہکچھ لوگ ابن عباس کے پاس آئے جو امیر المومنین(ع) کے بارے میں ناروا الفاظ استعمال کر رہے تھے، تو ابن عباس نے کها:ایسے شخص کے بارے میں ناروا کہہ رہے ہو جو ایسی دس فضیلتوں کا مالک ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں ہیں۔
۱۔جنگ خیبر میں (جب دوسرے گئے اور عاجز ہو کر پلٹ آئے تو) رسول خدا(ص) نے فرمایا:
ایسے شخص کو بھیجوں گا جسے خدانے ہر گز ذلیل ورسوا نہیں کیا وہ خدا ورسول(ص)سے محبت کرتا ہے اور خدا اور رسول(ص) اس سے محبت کرتے ہیں۔
سب گردنیں اٹها اٹها کر دیکھنے لگے کہ وہ کون ہے ؟ آنحضرت(ص) نے فرمایا: علی(ع) کهاں ہیں؟ آپ دکهتی آنکهوں کے ساته آئے، رسول خدا سے شفا پانے کے بعد، آنحضرت(ص)نے علم کو تین مرتبہ لهرانے کے بعد علم علی(ع) کو دیا۔
۲۔فلاں کو رسول خدا(ص) نے سورہ توبہ کے ساته مشرکین کی جانب روانہ کیا، پھر اس کے پیچہے علی(ع) کو بھیجا اور اس سے سورہ لے کر فرمایا: یہ سورہ اس فرد کے علاوہ کوئی نہیں لے جاسکتا جو مجه سے ہے اور میں اس سے ہوں۔
۳۔رسول خد ا(ص) نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو دنیا او رآخرت میں میرا ولی ہو؟ کسی نے قبول نہ کیا، علی(ع)سے فرمایا:دنیا وآخرت میں تم میرے ولی ہو۔
۴ ۔ خدیجہ کے بعد علی(ع) سب سے پهلے ایمان لائے۔
۵ ۔ رسول خدا(ص) نے چار افراد علی و فاطمہ وحسن وحسین علیهم السلام پر اپنی چادر اوڑها کر فرمایا:( إِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ ا هَْٔلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيْرًا )
۶ ۔ علی(ع) وہ ہے جس نے اپنی جان کو رسول خدا(ص) پر فدا کیا، آنحضرت(ص) کا لباس پهن کر رات بهر آپ(ص) کے بستر پر سوئے اور صبح ہونے تک مشرکین آپ(ع) کو پیغمبر سمجه کر پتهر برساتے رہے۔
۷۔ غروہ تبوک میں علی(ع) کو اپنا نائب بنا کر مدینہ میں رہنے کو کها۔ جب علی(ع) رسول خدا(ص) کے فراق کی وجہ سے آبدیدہ ہوئے تو آپ(ص) نے فرمایا:آیا تم راضی نہیں ہوکہ تمهاری نسبت مجه سے وہی ہو، جوہارون کو موسی سے تھی،سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔
یقینامیرا جانا اسی وقت سزاوار ہے جب تم میرے خلیفہ ہو۔
۸۔رسول خدا(ص) نے علی(ع) سے فرمایا:میرے بعد تم ہر مومن ومومنہ کے ولی ہو۔
۹۔رسول خدا(ص) نے علی(ع) کے گهر کے دروازے کے علاوہ مسجد نبوی میں کهلنے والے تمام دروازوں کو بند کیا۔
۱۰ ۔رسو ل خدا(ص) نے فرمایا :((من کنت مولاہ فعلی مولاہ))(۳)
____________________
۱ سورہ حشر آیہ ۷، اور جو تم کو رسول دے دیں وہ لے لیا کرو۔
۲ سورہ نور آیہ ۵۴ ، اور رسول پر رسالت کامل کے ابلاغ کے علاوہکچھ فرض نہیں ہے۔
۳ مستدرک صحیحین، ج ۳، ص ۱۳۲ ،مسند احمد بن حنبل، ج ۱، ص ۳۳۰ ؛ سنن کبریٰ، ج ۵، ص ۱۱۲ ، معجم کبیر،ج ۱۲ ، ص ۷۷ ، فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، ج ۲، ص ۶۸۲ ، حدیث نمبر ۱۱۶۸ ، اور اہل سنت کی دوسری کتابیں۔تفسیر فرات الکوفی، ص ۳۴۱ ؛ شرح الاخبار، ج ۲، ص ۲۹۹ ، العمدة، ص ۸۵ و ص ۲۳۸ ، کشف الغمةفی معرفة الائمة،ج ۱، ص ۸۰ اور شیعوں کی دوسری کتابیں۔
آیا پیغمبر(ص) کی اس نص کے باوجود کہ تمام اصحاب کے ہوتے ہوئے فتح کاعلم علی(ع) کو دیا،صرف اس کو خدا اور رسول(ص)کا حبیب و محبوب کها، خدا کے پیغام کو دوسروں سے لے کراسے دیا کہ ضروری ہے کہ علی(ع) مبلّغ کلام خدا ہو، کیونکہ وہ مجه سے او رمیں اس سے ہوں، اسی طرح آنحضرت(ص) کی یہ تصریح کہ میرا جانا اس وقت تک سزاوار نہیں جب تک کہ تم میرے خلیفہ نہ ہو،
علی(ع) کی ولایت مطلقہ و کلیہ کا بیان ((ا نٔت ولی کل مومن بعدی ومومنة )) اور ((من کنت مولاه فعلی مولاه ))۔کیا اس سنت صحیحہ کے باوجود علی(ع) کی خلافت بلا فصل میں اہل نظر وانصاف کے لئے کسی قسم کے شک و تردید کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟!
اس مختصر مقدمے میں اس موضوع سے متعلق آیات واحادیث کی گنجائش نہیں، جیسا کہ پانچویں صدی هجری کے نامور افراد میں سے حسکانی حنفی نے مجاہد جیسے بزرگ تابعین اور اعلام مفسرین سے نقل کیا ہے کہ علی(ع) کے لئے ستر فضیلتیں ایسی ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی، پیغمبر اکرم(ص) کی کسی صحابی کو حاصل نہیں ہے، جب کہ اصحاب پیغمبر(ص) کے تمام فضائل میں علی(ع)
ان کے شریک ہیں(۱) اور ابن عبا س سے روایت کی ہے کہ قرآن کی( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ) جیسی تمام آیا ت کے مصادیق میں علی(ع) سب کے سید وسردار ہیں اور اصحاب محمد(ص)میں سے کوئی ایسا نہیں جس پر خدا نے ناراضگی کا اظهار نہ کیا ہو، جب کہ علی(ع) کو اچهائی کے علاوہ یاد نہیںکیا(۲) علی(ع) میں اٹهارہ فضیلتیں ایسی ہیں کہ اس امت کے کسی فرد کے پاس اس جیسی ایک فضیلت بھی ہو تو اس کے ذریعے نجات یافتہ ہوجائے اور بارہ فضیلتیں ایسی ہیں جو اس امت میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ہیں(۳) ابن ابی الحدید کہتا ہے:”ہمارے استاد ابوالہذیل سے پوچها گیا:خدا کے نزدیک علی(ع) کا مقام زیادہ بلند ہے یا ابو بکر کا ؟“
جواب دیا:” خدا کی قسم! خندق کے دن علی(ع) کا عمرو سے مقابلہ، تمام مهاجرین وانصار کے اعمال واطاعت کے برابر ہے، تم تنهاابو بکر کی بات کرتے ہو“(۴)
حنبلی مذهب کے امام، احمد کا کهنا ہے:((ماجاء لا حٔد من ا صٔحاب رسول اللّٰه من الفضائل ماجاءلعلیّ بن ا بٔی طالب ))(۵)
لغت وادب کے ماہر اور علم عروض کے بانی، خلیل بن احمد کے بقول:”کسی کے بھی فضائل یا دوستوں کے ذریعہ نشر ہوتے ہیں یا دشمنوں کے ذریعے۔ علی بن ابی طالب(ع) کے فضائل کو دوستوں نے خوف اور دشمنوں نے حسد کی وجہ سے چهپایا، اس کے باوجود آپ کے فضائل اس طرح سے نشر ہوگئے“(۶)
اگر دشمنوں کا حسد اور دوستوں کو خوف نہ ہوتا اور حکومتِ بنو امیہ و بنی عباس کی اندہیری راتوں کی تاریکیاں اس سورج پر پردے نہ ڈالتیں تو علی(ع) کی فضیلتوں کا نور آفاق کو کس طرح روشن و منور کر دیتا؟!
اس مقدس گفتگو کو آپ(ع) کی شان میں دو آیتوں کے ذکر پر ختم کرتے ہیں:
۱۔( إِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَيُو تُْٔوْنَ الزَّکوٰةَ وَهُمْ رَاکِعُوْنَ ) (۷)
اکابر علمائے اہل سنت نے، اس آیت کے امیر المومنین(ع)کی شان میں نازل ہونے کا اعتراف کیا ہے،فخر رازی کی نقل کردہ حدیث کو بطور خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:
____________________
۱ شواہد التنریل، ج ۱، ص ۲۴ ۔
۲ شواہد التنریل، ج ۱، ص ۳۲ ۔
۳ شواہد التنریل، ج ۱، ص ۲۲ ۔
۴ شرح نهج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۹ ، ص ۶۰ ۔
۵ مستدرک صحیحین ،ج ۳، ص ۱۰۷ ۔”جیسے فضائل علی کے لئے وارد ہوئے ہیں کسی دوسری صحابی کے لئے نہیں ہیں“۔
۶ تنقیح المقال، ج ۱، ص ۴۰۲ ۔
۷ سورہ مائدہ، آیت ۵۵ ۔”بے شک فقط تمهاراولی خدا ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میںزکوة اداء کرتے ہیں“۔
”ابو ذر کہتے ہیں:میں نے ظهر کی نماز رسول خدا(ص) کے ساته ادا کی، ایک سائل نے مسجد میں آکر بھیک مانگی۔ کسی نے اسےکچھ نہ دیا، علی(ع) رکوع کی حالت میں تھے، آپ (ع)نے اس انگلی سے، جس میں انگوٹهی تھی،سائل کو اشارہ کیا، سائل نے آپ کے هاته سے وہ انگوٹهی لے لی۔ پیغمبر اکرم(ص) نے خدا سے التجا کی اور فرمایا:خدایا! میرے بهائی موسی پیغمبر نے تجه سے سوال کیا اور کها :( رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ) تو نے اس پر نازل کیا( سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِا خَِٔيْکَ وَنَجْعَلُ لَکُمْا سِلْطَاناً ) ، بار الها!
میں محمد تیرا بندہ ہوں، مجھے شرح صدر عطا فرما، میرا کام آسان فرما اور میرے اہل سے علی کو میرا وزیر قرار دے۔اس کے ذریعے میری پشت کومضبوط فرما۔ ابو ذر کہتے ہیں: خدا کی قسم! ابھی رسول خدا(ص) کے کلمات ختم نہ ہوئے تھے کہ جبرئیل اس آیت کے ساته نازل ہوئے۔“(۱)
رسول خدا(ص) کی دعا کے بعد اس آیت کا نازل ہونا آپ(ص) کی دعا کا اثر ہے،کہ جو مقام هارون کو موسی کی نسبت حاصل تھا وہی مقام و مرتبہ علی(ع) کو رسول خدا(ص) کی نسبت عطا کیا گیا۔
اور اس آیت میں حرف عطف کی بنا پر جو الٰهی ولایت، رسول خدا(ص) کے لئے ہے، علی(ع) کے لئے بھی ثابت ہے۔اور لفظ ((إنما)) انحصار پر دلالت کی وجہ سے اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس آیت میں خدا، رسول اور علی کی ولایت ایسی ولایت ہے جو صرف ان تین میں منحصر ہے اور ” ولی“ کے معانی میں سے اس کا معنی، ولایت امر کے علاوہکچھ نہیں ہوسکتا۔
۲۔( فَمَنْ حَآجَّکَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ ا بَْٔنَائَنَا وَا بَْٔنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُم وَا نَْٔفُسَنَا وَ ا نَْٔفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللّٰهِ عَلیَ الْکَاذِبِيْنَ ) (۲)
اس آیت کریمہ میں اہل نظر کے لئے چند نکات ہیں، جن میں سے تین نکات کی طرف،طویل تشریح سے گریز کرتے ہوئے اشارہ کرتے ہیں۔
رسو ل خدا(ص)کامباہلہ کے لئے دعوت دینا آپ(ص)کی رسالت کی دلیل وبرہان ہے، جب کہ نصاریٰ کا مباہلہ سے گریزنصرانیت کے بطلان اور آئین محمدی کی حقانیت کا اعتراف ہے۔ لفظ ((ا نٔفسنا ))امیر المومنین علی(ع) کی خلافت بلا فصل کی دلیل ہے، کیونکہ نص قرآن کے مطابق نفس تنزیلی کے ہوتے ہوئے، جو در حقیقت وجودِ ختمی مرتبت(ص)کا تسلسل ہے،کسی اور کی جانشینی ہی نہیں۔
تمام جيّد مفسرین ومحدثین کا جس بات پر اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ((ا بٔنائنا ))سے مراد حسن وحسین علیہما السلام، ((نسائن ا))سے مراد فاطمة الزهر اسلام الله علیها اور((ا نٔفسنا ))سے مراد علی ابن ابی طالب(ع) ہیں۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کا مضمون بطور خلاصہ ملاحظہ ہو، جسے فخر رازی نے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے:
”رسول خدا(ص) نے جب نجران کے نصاریٰ کے سامنے اپنے دلائل پیش کر دئے اور وہ اپنی جهالت پر قائم رہے تو آپ(ص) نے فرمایا: ”خدا نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ اگر تم دلیل نہیں مانتے ہو تو میں تمهارے ساته مباہلہ کروں۔“ یہ سن کر انهوں نے کها:”اے ابو القاسم! ہم جا رہے ہیں، اپنے امور میں سوچ بچار کے بعد دوبارہ لوٹ کر آئیں گے۔“جب وہ پلٹ کر گئے تو انهوں نے اپنے صاحب رائے،
عاقب سے پوچها:”اے عبد المسیح! تیرا کیا مشورہ ہے؟“ تو اس نے کها: اے نصاریٰ تم جان چکے ہو کہ محمد خد اکے فرستادہ نبی ہیں اور تمهارے لئے، عیسیٰ کے بارے میں کلامِ حق لائے ہیں۔خدا کی قسم!
کسی ایسی قوم نے پیغمبر کے ساته مباہلہ نہیں جس کے بڑے زندہ بچے ہوں اور چهوٹے پرورش پاسکے ہوں، اگر تم نے اس کام کو انجام دیا تو جڑ سے اکهڑ جاؤگے۔ اگر اپنے دین پر باقی رہنا ہی چاہتے ہو تو اس سے رخصت ہو کر اپنے شهروں کو لوٹ جاؤ۔“
ادہر رسول خدا اس حالت میں باہر آئے کہ حسین کو آغوش میں لئے ہیں، حسن کا هاته تھامے ہوئے ہیں، فاطمہ (سلام الله علیها) آنحضرت کے پیچہے اور ان کے پیچہے پیچہے علی علیہ السلام آرہے ہیں۔ آنحضرت(ص) نے ان سے فرمایا: ”جب میں دعا کروں، تم آمین کهنا۔“
نجران کے راہب نے کها:”اے گروہ نصاریٰ،میں ایسے چهرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر خدا سے چاہیں کہ پهاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دے تو ان صورتوں اور رخساروں کے لئے پهاڑوں کو اپنی جگہ
____________________
۱ تفسیر کبیر، فخررازی، ج ۱۲ ، ص ۲۶ ۔
۲ سورہ آل عمران، آیت ۶۱ ۔”پیغمبر علم آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آو هٔم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اوراپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعاکریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قراردیں“۔
سے ہٹا دے گا،مباہلہ نہ کرنا کہ هلاک ہوجاو گے اور قیامت تک روئے زمین پر ایک بھی نصرانی باقی نہیں رہے گا۔“
مباہلہ سے جان چهڑا کر صلح پر راضی ہوگئے، مصالحت کے بعد رسول خدا(ص) نے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! هلاکت اہل نجران کے نزدیک تھی۔
اگر مباہلہ وملاعنہ کرتے تو بندر اور سور کی شکلوں میں مسخ ہوجاتے، یہ وادی ان کے لئے آگ بن جاتی اور ایک سال کے اندر اندر تمام نصاری هلاک ہوجاتے۔“
اورروایت ہے کہ جب آنحضر ت(ص) سیاہ کساء میں باہر آئے تو سب سے پهلے حسن کو اس کساء میں داخل کیا، پھر اس کے بعد حسین، پھر جناب سیدہ اور اس کے بعد علی کو اور فرمایا( إِنَّمَا يُرِيْد اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ ا هَْٔلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيْرًا )
اس کے بعد فخر رازی کہتا ہے:((واعلم ا نٔ هذه الروایة کالمتفق علی صحتها بین ا هٔل التفسیر والحدیث ))(۱)
اگر چہ اس آیت اور مورد اتفاق حدیث کی تشریح کی گنجائش تو نہیں، لیکن صرف دو نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔باہر آتے وقت ان هستیوں کو کساء تلے جمع کرکے یہ ثابت کرنے کے لئے آیت تطهیر کی تلاوت فرمائی کہ ایسی مافوق العادہ دعاجو اسباب طبیعی کو ناکارہ بنا کر بلا واسطہ طور پر خد ا کے ارادے سے تحقق پیدا کرے، ضروری ہے کہ ہر رجس سے پاک روح کی جانب سے سبوح وقدوس کی بارگاہ تک پهنچے کہ( إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّيِّبُ ) (۲) اور جس طهارت کا پروردگا ر عالم نے ارادہ کیا ہے وہ ان هستیوں میں ہی پائی جاتی ہے۔
۲۔نجران کے نصاری کے ساته رسول خدا(ص) کا مباہلہ، اس قوم کے لئے رحمت خدا سے دوری کی درخواست تھی اور وہ دعا جس کی قبولیت سے انسان حیوان کی شکل میں منقلب ہوجائے،خاک اپنی حالت تبدیل کرکے آگ بن جائے اور ایک امت صفحہ هستی سے مٹ جائے،( إِنَّمَا ا مَُٔرُه إِذَا ا رََٔادَ شَيْئًا ا نَْٔ يَّقُوْلَ لِه کُنْ فَيَکُوْنُ ) (۳) کے ارادے سے متصل ہوئے بغیر نا ممکن ہے۔ یہ انسان کامل کی منزلت ہے کہ اس کی رضا وغضب خدا کی رضا وغضب کا مظهر ہو اوریہ مقام حضرت خاتم(ص) اوران کے جانشین کا مقام ہے۔وہ واحد خاتون جو اس مقام پر فائز ہوئیں، صدیقہ کبری کی هستی ہے، جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عصمت کبریٰ جو ولایت کلیہ اورامامت عامہ کی روح ہے، فاطمہ زهرا علیها السلام میں موجود ہے۔
اور یہ حدیث بھی، کہ علماء اہل سنت جس کے صحیح ہونے کے معترف ہیں، اسی امر کو بیان کر رہی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:((فاطمة بضعة منی فمن ا غٔضبها ا غٔضبنی ))(۴) اورباوجود اس کے کہ قرآن وسنت کے حکم کے مطابق پیغمبر(ص) کا غضب، خدا کا غضب ہے،علماء اہل سنت نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے: قال رسول اللّٰہ لفاطمة: ((إن اللّٰه یغضب لغضبک ویرضی لرضاک ))(۵)
جس کی رضا پر خدا بغیر کسی قید وشرط کے راضی اور جس کے غضب پر غضبناک ہو، عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی رضا وغضب، خطا اور ہویٰ وہوس سے پاک ہواور یهی عصمت کبریٰ ہے۔
____________________
۱ تفسیر کبیر، فخر رازی، ج ۸، ص ۸۵ ۔”جان لوکہ یہ وہ روایت ہے جس کے صحیح ہونے پر اہل تفسیر وحدیث نے اتفاق کیا ہے“۔
۲ سورہ فاطر ، آیت ۱۰ ۔”پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں“۔
۳ سورہ یس، آیت ۸۲ ۔”اس کا صرف امر یہ ہے کہ کسی شئے کے بارے میں یہ کهنے کا ارادہ کر لے کہ ہو جااور وہ شئے ہو جاتی ہے“۔
۴ صحیح بخاری باب مناقب فاطمہ سلام الله علیها، ج ۵، ص ۲۹ ۔”فاطمہ میرے بدن کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضبناک کیا اس نے مجه کو غضبناک کیا۔“
۵ مستدرک صحیحین، ج ۳، ص ۱۵۴ ومعجم کبیر، ج ۱، ص ۱۰۸ والاحاد والمثانی، ج ۵، ص ۳۶۳ ۔”رسول خدا(ص)نے جناب فاطمہ زهرا سلام الله علیها کے لئے فرمایا:بے شک خدا وند عالم تمهارے غضب سے غضبناک ہوتا ہے اور تمهاری رضایت سے راضی ہوتا ہے“۔
ائمہ اثنا عشر
جوکچھ بیان ہو ا وہ مسئلہ امامت کے سلسلے میں مذهب حقہ کے مختصر دلائل تھے۔ ائمہ معصوم کی تعداد کے بارے میں اثنا عشری شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ امام بارہ ہیں۔ پهلے: علی ابن ابی طالب ،دوسرے :حسن بن علی ، تیسرے: حسین بن علی ، چوتہے :علی بن الحسین ، پانچویں :محمد بن علی ،چھٹے : جعفر بن محمد ، ساتویں: موسی بن جعفر ، آٹهویں: علی بن موسی ، نویں: محمد بن علی ، دسویں: علی بن محمد ، گیارہویں:حسن بن علی ، بارہویں:حضرت محمد مهدی علیهم السلام۔علم، اجابت دعوت اور نصّ معصوم کے اعتبار سے، ان میں سے ہر ایک کی امامت کے تفصیلی دلائل، علیحدہ فرصت کے طلبگار ہیں۔
البتہ اہل سنت کی معتبر و قابل اعتماد کتب میں موجود، بعض ان روایات کی طرف اشارہ ضروری ہے، جن میں خود حضرت رسول خد ا(ص) نے اپنے بارہ خلفاء اور بارہ سربراہوں کا ذکر کیا ہے۔
۱۔صحیح بخاری: ((عن جابر بن سمرة قال:سمعت النبی(ص) یقول:یکون اثنا عشرا مٔیرا فقال کلمة لم ا سٔمعها، فقال ا بٔی:إنه قال:کلهم من قریش ))(۱)
۲۔صحیح مسلم :((عن جابر بن سمرة قال:دخلت مع ا بٔی علی النبی(ص) فسمعته یقول:إن هذا الا مٔر لا ینقضی حتی یمضی فیهم اثنا عشر خلیفة، قال:ثم تکلم بکلام خفی علی، قال:فقلت لا بٔی:ماقال؟ قال:کلهم من قریش ))(۲)
۳۔صحیح مسلم:((عن جابر بن سمرة قال:سمعت النبی(ص) یقول:لایزال ا مٔرالناس ماضیا ما ولیهم اثنا عشر رجلا، ثم تکلم النبی(ص) بکلمة خفیت علی، فسئلت ا بٔی:ماذا قال رسول اللّٰه صلی الله علیه و سلم؟ فقال:کلهم من قریش ))(۳)
۴ ۔صحیح ابن حبان :((سمعت رسول اللّٰه(ص) یقول:یکون بعدی اثنا عشر خلیفة کلهم من قریش ))(۴) ٤
۵ ۔جامع ترمذی:((یکون من بعدی إثنا عشر ا مٔیرا، قال :تم تکلم بشی لم ا فٔهمه، فسا لٔت الذی یلینی،فقال: قال: کلهم من قریش ))(۵)
۶ ۔مسند احمد بن حنبل:((یکون بعدی إثنا عشر خلیفة،کلهم من قریش ))(۶)
۷۔مسند احمد بن حنبل:((یکون بعدی إثنا عشر ا مٔیرا، ثم لا ا دٔری ماقال بعد ذلک، فسا لٔت القوم کلهم،فقالوا: قال:کلهم من قریش ))(۷)
۸۔مسند احمد بن حنبل :((یکون بعدی إثنا عشر ا مٔیرا، فتکلم فخفی علیّ، فسا لٔت الذی یلینی ا ؤ إلی جنبی، فقال:کلهم من قری ش))(۸)
۹۔مسند احمد بن حنبل :((یکون بعدی إثنا عشر ا مٔیرا،قال:ثم تکلم فخفی علیّ ما قال، قال:فسا لٔت بعض القوم ا ؤ الذی یلینی ماقال؟ قال:کلهم من قریش ))(۹)
۱۰ ۔مسند ابن الجعد:((یکون بعدی اثنا عشر امیرا، غیرا نٔ حصینًا قال فی حدیثه: ثم تکلم بشی لم ا فٔهمه، وقال بعضهم: فسا لٔت ا بٔی، وقال بعضهم: فسا لٔت القوم فقال:کلهم من قریش ))(۱۰)
____________________
۱ صحیح بخاری ،کتاب احکام کے آخر میں، ج ۸۹ ص ۱۲۷ ، ومسند احمد حنبل، ج ۵، ص ۹۳ ۔
۲ صحیح مسلم ، ج ۶، ص ۳،(کتاب الامارة، الخلافة فی قریش)
۳ صحیح مسلم ، ج ۶، ص ۳،و مسند احمد حنبل، ج ۵، ص ۹۸ ۔
۴ صحیح مسلم ، ج ۱۵ ، ص ۴۳ ۔
۵ صحیح مسلم ، ج ۳، ص ۳۴۰ ۔
۶ صحیح مسلم ، ج ۵، ص ۹۲ ۔
۷ صحیح مسلم ، ج ۵، ص ۹۲ ۔
۸ صحیح مسلم ، ج ۵، ص ۹۹ ۔
۹ صحیح مسلم ، ج ۵، ص ۱۰۸ ۔
۱۰ صحیح مسلم ، ص ۳۹۰ ، نمبر ۲۶۶۰ ۔
۱۱ ۔مسند ابی یعلی:((یقول:لا یزال الدین قائما حتی تقوم الساعة ویکون علیکم إثنا عشر خلیفة کلهم من قریش ))(۱)
۱۲ ۔مسند احمد بن حنبل :((عن جابر بن سمرة قال: خطبنا رسول اللّٰه(ص) بعرفات فقال:لا یزال هذا الا مٔر عزیزا منیعا ظاهرا علی من ناواه حتی یملک اثنا عشر کلهم، قال:فلم ا فٔهم ما بعد، قال:فقلت لا بٔی ما قال بعد ما قال:کلهم، قال:کلهم من قریش ))(۲)
۱۳ ۔مستدرک حاکم :((عن مسروق قال:کنا جلوسا لیلة عند عبد اللّٰه یقرئنا القرآن فسا لٔه رجل فقال:یا ا بٔا عبدالرحمن هل سا لٔتم رسول اللّٰه(ص) کم یملک هذه الا مٔة من خلیفة؟ فقال عبد اللّٰه:ماسئلنی هذا ا حٔد منذ قدمت العراق قبلک، قال: سئلناه، فقال:اثنا عشر عدة نقباء بنی اسرائیل ))(۳)
اس موضوع سے متعلق روایات صرف ان مذکورہ کتب میں ذکر نہیں ہوئیں بلکہ ان کتب میں بھی ذکر شدہ روایات سے کہیں زیادہ روایات ذکر ہوئی ہیں،لیکن اختصار کی وجہ سے اس تعداد پر اکتفا کیا گیاہے۔(۴)
بارہ اماموں کے بارے میں رسول خدا(ص) سے منقول نصوص جنہیں عبدالله بن عباس، عبدالله بن مسعود، سلمان فارسی،ابی سعید خدری، ابی ذر غفاری، جابر بن سمرة،جابر بن عبدالله،انس بن مالک،زید بن ثابت، زید بن ارقم،ابی عمامہ، واصلة بن اسقع،ابی ایوب انصاری، عمار بن یاسر، حذیفہ بن اسید، عمران بن حصین، سعد بن مالک، حذیفہ بن یمان اور ابی قتادہ انصاری جیسے بزرگ وجلیل القدر اصحاب کے علاوہ دوسرے بزرگان نے بھی روایت کیا ہے، کہ اختصار کے پیش نظر جن کے ذکر سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔
اس روایت میں بعض خصوصیات کا تذکرہ ہے ،جیسے :
۱۔خلفاء کا فقط بارہ افراد پر مشتمل ہونا۔
۲۔ان بارہ افراد کی خلافت کا قیامت تک باقی رہنا۔
۳۔دین کی عزت واستقامت کا ان سے وابستہ ہونا۔
۴ ۔علمی وعملی اعتبار سے ان کے ذریعے دین کا قائم ہونا،کیونکہ قیامِ دین ان خلفاء کے ذریعے ہی ممکن ہے جو علمی اعتبارسے معارف وحقائقِ دین کو بیان کریں اور عملی اعتبار سے حق و قوانین عادلہ کو جاری کرنے والے ہوں اور ان دو اہم اجزاء کا میسر ہونا ان شرائط کے بغیر نا ممکن ہے،
جس کے شیعہ، بارہ اماموں کے بارے میں قائل ہیں۔
۵ ۔نقباء بنی اسرائیل کی نظیر قرار دینے سے کشف ہوتا ہے کہ منصوب من الله ہیں، جیسا کہ اس آیتِ کریمہ میں بیان کیا گیا ہے( وَبَعَثْنَا مِنْهُمْ إِثْنیٰ عَشَرَ نَقِيْبًا ) (۵)
۶ ۔ا ن سب کا قریش سے ہونا۔
آیا یہ خصوصیات رکھنے والے خلفاء طریقہ حقہ اثنا عشری اور بارہ اماموں کے علاوہ کہیں اور قابل انطباق ہیں؟!
____________________
۱ صحیح مسلم ، ج ۱۳ ، ص ۴۵۶ ۔
۲ صحیح مسلم ، ج ۵، ص ۹۳ ۔
۳ صحیح مسلم ، ج ۴، ص ۵۰۱ ۔
۴ مستدرک صحیحین، ج ۳، ص ۶۱۸ ، سنن ابی داو دٔ، ج ۴، ص ۱۰۶ ، نمبر ۴۲۸۰ مسند احمد حنبل، ج ۱، ص ۳۹۸ ، نمبر ۱۰۸ ؛ مسند ابی یعلی، ،۱۰۷ ،۱۰۶ ،۱۰۱ ،۹۷،۱۰۰ ،۹۵ ،۹۴ ،۹۰ ،۸۹ ،۸۸ ،۸۷ ، ۳۷۸۱ وص ۴۰۶ ، نمبر ۳۸۵۹ ۔ ج ۵، ص ۸۶ ،۲۱۵ ،۲۱۴ ،۲۰۸ ،۲۰۷ ،۲۰۶ ،۱۹۹ ،۱۹۷ ، ج ۸، ص ۴۴۴ ، نمبر ۵۰۳۱ وج ۹، ص ۲۲۲ ، نمبر ۵۳۲۲ ، معجم کبیر، ج ۲، ص ۱۹۶ ، ۱، نمبر ۱۰۳۱۰ وج ۲۲ ، ص ۱۲۰ ،الاحاد المثانی، ج ۳ ۲۵۵ ، وج ۱۰ ، ص ۵۷ ،۲۵۴ ،۲۵۳ ،۲۴۰،۲۴۸ ،۲۲۶ ،۲۲۳ ،۲۱۸ ، ص ۱۲۸ ، التاریخ الکبیر، ج ۳، ص ۱۸۵ ، نمبر ۶۲۷ وج ۸، ص ۴۱۰ ، تہذیب الکمال،ج ۳، ص ۲۲۳ ، ج ۳۳ ، ص ۲۷۲ ، نمبر ۷۳۳۵ الثقات،ج ۷، ص ۲۴۱ ، طبقات المحدثین باصبهان والواردین علیها، ج ۲، ص ۸۹ ، مسند ابی داو دٔ الطیالسی، ص ۱۰۵ ، نمبر ۷۶۷ و ص ۱۸۰ ، نمبر ۱۲۷۸ ، المعجم الاوسط، ج ۱، ص ۲۶۳ ، نمبر ۸۶۳ ، تعجیل المنفعہ بزوائد رجال الائمة الاربعة، ص ۵۳۸ ، اور اہل سنت کے دیگر منابع۔کشف الغطاء، ج ۱، ص ۷، عیون الاخبار الرضا علیہ السلام، ج ۱، ص ۴۹ ، باب ۶، ح ۹؛ الخصال ، ص ۴۶۷ وغیرہ؛ الامالی للصدوق، ص ۳۸۶ ، مجلس ۵۱ ، ح ۴، ص ۳۸۷ ، وغیرہ؛ کمال الدین و تمام النعمة، ص ۶۸ ، وغیرہ، ۲۷۱ ،وغیرہ؛ کفایة؛ ۲۶۲ ، دلائل الامامة، ص ۲۰ ؛ شرح الاخبار ، ج ۳، ص ۳۵۰ و ۴۰۰ ، ۴۹ وغیرہ، روضة الواعظین، ص ۲۶۱ ، الاثر، ص ۳۵۱۲۰ وغیرہ؛ الغیبة للطوسی، ۱۲۸ وغیرہ؛ مناقب آل ابی طالب، ج ۱، ص ۲۹۵ ؛ العمدة، ص ، کتاب الغیبة، ص ۱۰۳ وغیرہ،، ۱۱۸۴۱۶ وغیرہ؛ الطرائف، ص ۱۶۹ وغیرہ، اور شیعوں کے دیگر منابع۔
۵ سورہ مائدہ، آیت ۱۲ ۔”اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب بھیجے“۔
کیا یزید اور یزید جیسوں کی خلافت میں، نقباء بنی اسرائیل جیسی اسلام کی عزت، امت کی نگهداشت اور ویسی حکومت میسر آسکتی ہے ؟!
اور اہل سنت کے بعض محققین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ حدیث نہ تو پیغمبر کے بعد کے خلفاء پر قابل انطباق ہے،اس لئے کہ ان کی تعداد بارہ سے کم ہے، نہ سلاطین نبی امیہ پر حمل کی جاسکتی ہے، ان کے مظالم اور تعداد میں بارہ سے زیادہ ہونے کی وجہ سے،اور نہ ہی ملوک بنی عباس پر قابلِ تطبیق ہے، کیونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ ہے اور انهوں نے بھی آیت( قُلْ لاَّ ا سَْٔئَلُکُمْ عَلَيْهِ ا جَْٔرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ ) (۱) کا حق ادا نہیںکیا۔ یہ احادیث آنحضرت(ص) کی آل وعترت کے علاوہ کسی اورمقام پر منطبق نہیں ہو سکتیں کیونکہ وہ اپنے اپنے زمانے میں باقی تمام بنی نوع انسان سے اعلم، اجل، اورع اور اتقی ہونے کے ساته ساته حسب ونسب کے اعتبار سے بھی افضل واعلی اور دوسروں کی نسبت خدا کے نزدیک زیادہ صاحب اکرام تھے۔ اہل علم وتحقیق اور اہل کشف وتوفیق نے ان هستیوں کو اسی مقام ومنزلت پر فائز پایا ہے(۲) اور سدی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے :”چونکہ سارہ کو هاجرہ کے ساته رہنا ناپسند تھا خداوند کریم نے حضرت ابراہیم(ع) پر وحی نازل کی اور فرمایا: اسماعیل او ران کی والدہ کو یهاں سے سے ”نبی تھامی کے گهر“ یعنی مکہ لے جاؤ، میں تمهاری نسل کو پهیلاؤں گا اور میرے بارے میں کفر کرنے والوں پر انہیں قدرت عطا کروں گا اور اس کی نسل سے بارہ کو عظیم قرار دوں گا۔“(۳)
اور یہ بات تورات میں سفر تکوین کے سترہویں باب میں موجو داس عبارت کے موافق ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیم سے فرمایا:”میں نے تمهاری دعا کو اسماعیل کے بارے میں بطور خاص قبول کیا، اب اپنی برکت سے اسے صاحب اولاد بنا ؤں گا اور اس کو بہت کثرت عطا کروں گا،اس سے بارہ سردار بنیں گے اور اس سے عظیم امت پیدا کروں گا۔“
اور بارہ ائمہ کی امامت، صحیح روایات اور معصوم سے مروی متواتر نصوص جو سند کی بحث سے بے نیاز ہوتی ہیں، کے ذریعہ ثابت ہے۔ ہم اس مقدمے میں ”حدیثِ لوح“ پر اکتفا کرتے ہیں، جسے متعدد اسناد کے ساته، جن میں سے بعض معتبر ہیں، بزرگ محدثین نے نقل کیا ہے۔ ہم ان میں سے دو روایات کو یهاں ذکر کرتے ہیں :
پهلی روایت:
یہ وہ روایت ہے جسے شیخ صدوق نے پانچویں امام(ع) اور انهوںنے جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل کیا کہ جابر بن عبد الله انصاری نے کها: میں حضرت فاطمہ زهرا علیها السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے سامنے ایک لوح رکھی تھی جس پر اوصیا ء کے نام تھے۔میں نے انہیں گنا تو بارہ تھے جن میں سے آخری قائم تھے، تین محمد اور چار علی تھے۔(۴)
دوسری روایت:
یہ حدیث اخبار غیبی پر مشتمل ہے اور خود اس کا متن اس کے مقام عصمت سے صادر ہونے پر گواہ ہے۔ اسے شیعہ اکابر محدثین جیسے شیخ مفید، شیخ کلینی،شیخ صدوق اور شیخ طوسی اعلی اللہ مقامهم نے عبد الرحمن بن سالم، انهوںنے ابی بصیر اور انهوں نے چھٹے امام (ع)سے نقل کیا ہے اور مضمون روایت تقریباً یہ ہے کہ:
”میرے والد گرامی نے جابر بن عبدا لله انصاری سے فرمایا: ”مجھے تم سے ایک کام ہے،
تمهارے لئے کس وقت آسانی ہے کہ تم سے اکیلے میں ملوں او راس بارے میں سوال کروں ؟“
جابر نے کها: ”جس وقت آپ پسند فرمائیں ۔“
____________________
۱ سورہ شوریٰ، آیت ۲۳ ۔”تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو“۔
۲ ینابیع المودة، ج ۳،ص ۲۹۲ ۔
۳ کشف الغطاء،ج ۱، ص ۷۔
۴ کمال الدین وتمام النعمة، ص ۲۶۹ ۔
پھر ایک دن جابر سے تنهائی میں ملاقات کی اور فرمایا:”اے جابر! جو لوح تم نے میری والد ہ گرامی حضرت فاطمہ بنت رسول الله(ص) کے هاته دیکھی تھی اور لوح پر لکہے ہوئے کے بارے میں جو میری مادر گرامی نے بتایا تھا، مجھے اس کے بارے میں بتاؤ۔“
جابر نے کها:”خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ رسول خدا(ص) کی زندگی میں آپ کی والدہ گرامی فاطمہ زهر ا سلام الله علیها کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے نہیں ولادتِ امامِ حسین(ع) کی مبارک باد دی۔ان کے هاتهوں میں سبز رنگ کی ایسی لوح دیکھی کہ جس کی بارے میں مجھے گمان ہوا کہ زمرد کی ہے اور اس میں سورج کے رنگ کی مانند سفید لکهائی دیکھی، ان سے کها: ” میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اے دختر رسول خدا(ص) ! یہ لوح کیا ہے ؟“
تو آپ نے فرمایا: ”یہ لوح خدا نے اپنے رسول کو تحفہ دی ہے، اس میں میرے بابا، میرے شوہر،میرے دوبیٹوں اور میری اولاد میں سے اوصیاء کے نام ہیں اور بابانے یہ لوح مجھے عطا فرمائی ہے تاکہ اس کے ذریعے مجھے بشارت دیں۔“
جابر نے کها:” آپ کی والدہ گرامی حضرت فاطمہ (سلام الله علیها) نے وہ لوح مجھے دی، میں نے اسے پڑها اور اس سے ایک نسخہ اتارا۔“
میرے والد نے فرمایا:” اے جابر، کیا وہ نسخہ مجھے دکها سکتے ہو؟“
جابر نے کها:”هاں“،پھر میرے والد اس کے ساته اس کے گهر گئے، وہاں پهنچ کر نازک کهال پر لکها ہوا ایک صحیفہ نکالا اور فرمایا: ”اے جابر!جو میں بول رہاہوں تم اپنے نوشتے سے ملاتے جاو ۔ٔ“
جابر نے اپنے نسخہ پر نظر کی اور میرے والد نے اس کی قرائت کی، کسی ایک حرف میں بھی اختلاف نہ تھا۔ جابر کہتے ہیں:”خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ لوح میں اس طرح لکها ہوا دیکھا:
بسم الله الرحمن الرحیم۔
یہ تحریر خداوند عزیز وحکیم کی طرف سے محمد کے لئے ہے جو اس کا پیغمبر، اس کا نور، اس کا سفیر، اس کا حجاب اور اس کی دلیل ہے، کہ جسے روح الامین نے رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہے۔ اے محمد! میرے ناموں کی تنظیم کرو، میری نعمتوں کا شکر بجا لاؤاور میرے الطاف باطنی کا انکار نہ کرو، بے شک میں وہ خدا ہوں جس کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں،ظالموں کو توڑ دینے والا، مظلوموں کو حکومت عطا کرنے والا، جزا کے دن جزا دینے والا۔ بے شک میں ہی وہ خدا ہوں جس کے سوا کوئی دوسرا خدانہیں ہے، جو کوئی بھی میرے فضل کے علاوہ کسی چیز کا امیدوار ہو یا میرے عدل کے علاوہ کسی چیز کا خوف کهائے اسے ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا والوں میں سے کسی کو اس طرح کا عذاب نہ دیا ہوگا۔ بس میری عبادت کرو اور مجه پر توکل کرو۔ بے شک ابھی تک میں نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا کہ اس کے دن پورے ہونے اور مدت گزرنے سے پهلے اس کا وصی مقرر نہ کردیا ہو۔بے شک میں نے تمہیں انبیاء پر اور تمهارے وصی کواوصیاء پر فضیلت دی ہے، حسن اور حسین جیسے دو سبط و شبل عطا کر کے تمہیں احترام بخشا ہے۔
پس حسن کو اس کے والدکی مدت پوری ہونے کے بعد اپنے علم کی معدن قرار دیاہے اور حسین کو میں نے اپنی وحی کا خزینہ دار قرار دیا ہے، اسے شهادت کے ذریعے عزت عطا کی، اس کا اختتام سعادت پرکیا، پس وہ تمام شهیدوں سے افضل ہے اور اس کا درجہ تمام شهداء سے بڑه کر ہے۔
اپنے کلمہ تامہ کو اس کے ساته اور اپنی حجت بالغہ کو اس کے پاس رکھا،اس کی عترت کے وسیلے سے ثواب دوں گا اور عقاب کروں گا۔ ان میں پهلا علی ہے جو سید العابدین اور میرے سابقہ اولیاء کی زینت ہے۔ اس کا فرزند محمد اپنے جد محمود کی شبیہ ہے، باقر، جو میرے علم کو شگافتہ کرنے والاہے اور میری حکمت کا معدن ہے۔ جعفر میں شک وتردید کرنے والے جلد ہی هلاک ہو جائیں گے اس کی بات ٹهکرانے والا ایسا ہے جیسے میری بات کو ٹهکرائے۔ میرا یہ قول حق ہے کہ جعفرکے مقام کو گرامی رکھتاہوں اوراسے،اس کے پیروکاروں، انصاراور دوستوں کے درمیان مسرور کروںگا۔اس کے بعد موسیٰ ہے کہ اس کے زمانے میں اندہا وتاریک فتنہ چها جائے گا، چونکہ میرے فرض کا رشتہ منقطع نہیں ہوتا اور میری حجت مخفی نہیں ہوتی، بے شک میرے اولیاء سر شار جام سے سیراب ہوں گے، جو کوئی ان میں سے کسی ایک کا انکار کرے اس نے میری نعمت کا انکار کیا ہے اور جو کوئی میری کتاب میں سے ایک آیت میں بھی رد و بدل کرے اس نے مجه پر بہتان باندہا ہے۔ میرے عبد، میرے حبیب اور میرے مختار، موسیٰ کی مدت تمام ہونے کے بعد وائے ہو علی کا انکار کرنے والوں اور اس پر بہتان باندہنے والوں پرجو میرا ولی،میرا مددگا ر ہے، نبوت کے سنگین بوجهوں کو اس کے کاندہوں پر رکھوں گا اور اس کی انجام دہی میں شدت وقوت سے آزماؤں گا، اسے ایک مستکبر عفریت قتل کرے گا اور جس شهر کی بنیاد، عبد صالح نے رکھی ہے اس میں بد ترین مخلوق کے پهلو میں دفن ہو گا۔ میرا یہ قول حق ہے کہ اسے اس کے فرزند محمد کے ذریعے مسرور کروں گا جو اس کے بعد اس کا خلیفہ اور اس کے علم کا وارث ہوگا، پس وہ میرے علم کا معدن، میرا رازداں اور خلق پر میری حجت ہے۔کوئی بھی اس پر ایمان نہیں لائے گا مگر یہ کہ بهشت کو اس کا مسکن بنادوںگا۔ اس کی شفاعت اس کے ستر اہل خانہ کے حق میں قبول کروں گا، جو آتش جهنم کے مستحق ہوچکے ہوں گے۔ اور سعادت کے ساته ختم کروں گا اس کے فرزند علی کے لئے جو میرا ولی،میرا مددگا ر، خلق کے درمیان میرا گواہ او رمیری وحی میں میرا امین ہے۔ اس سے اپنی راہ کی جانب دعوت دینے والا حَسن نکالوں گا، جو میرے علم کا خزینہ دار ہوگا اور اسے اس کے فرزند م ح م د سے کامل کروں گا ،جو رحمة للعالمین ہے، جس میں موسیٰ کا کمال،عیسیٰ کی هیبت اور صبر ایوب ہے۔ ا س کے زمانے میں میرے اولیاء ذلیل ہوں گے اور ان کے سر، ترک ودیلم کے سروں کی طرح لوگ ایک دوسرے کو تحفے کے طور پر دیںگے۔ وہ مارے جائیں گے، جلائے جائیں گے، خوف زدہ، ڈرے ہوئے اور سهمے ہوئے ہوں گے، ان کے خون سے زمین رنگین ہوگی،ان کی عورتوں کی فریاد بلند ہوگی، حقا کہ وہ میرے اولیاء ہیں، ان کے ذریعے ہر اندہے فتنے کی تاریکی وسختی کو دور کروں گا۔ ان کے ذریعے زلزلوں کو کشف کردوںگا، بوجهوں اور زنجیروں کو دور کروں گا۔ یہ وہ ہیں جن پر ان کے پروردگا ر کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور یهی ہدایت پانے والے ہیں۔“(۱)
حدیث مکمل کرنے کے بعد ابو بصیر نے عبد الرحمن بن سالم سے کها:” اگر ساری زندگی اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہ بھی سنو تویهی ایک حدیث تمهارے لئے کافی ہے، اسے نا اہل سے چهپا کر رکھنا۔“
اور ائمہ معصومین کی امامت پر اس سے کہیں زیادہ دلائل موجود ہیں، جنہیں ا س مختصر مقدمے میں نہیں سمویا جا سکتا، لیکن امامت کے اعلیٰ مقام کی معرفت کی غرض سے ایک روایت ذکر کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیںاور یہ روایت وہ ہے جسے شیخ المحدثین محمد بن یعقوب کلینی نے محمد بن یحیی سے (کہ نجاشی جس کی شان بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: شیخ ا صٔحابنا فی زمانہ، ثقة،عین،اور ان سے چه ہزار کے قریب روایات نقل کی ہیں)، انهوں نے احمد بن محمد بن عیسٰی سے (جو شیخ القمیین ووجههم وفقیههم غیر مدافع اور امام رضا، امام تقی وامام نقی علیهم السلام کے صحابی تھے)،انهوں نے حسن بن محبوب سے (جو اپنے زمانے کے ارکان اربعہ میں سے ایک اور ان فقهاء میں سے ہیں کہ جن تک صحیح سند اگر پهنچ جائے تو ان کی منقولہ روایت کی صحت پر اجماع ہے۔)، انهوں نے اسحاق بن غالب سے (بطور خاص توثیق کے علاوہ جن کی شان یہ ہے کہ صفوان بن یحیی جیسی عظیم شخصیت نے ان سے روایات نقل کی ہیں)، انهوں نے ابی عبد الله(ع) کے خطبے سے روایت نقل کی ہے، جس میں حضرت نے احوال وصفات ائمہ کو بیان کیا ہے۔ چونکہ کلام امام میں موجود خاص لطافت قابل توصیف نہیں ہے لہٰذا یهاں پر خود متن کاکچھ حصہ ذکر کرتے ہیں:
((عن ا بٔی عبداللّٰه علیه السلام فی خطبة له یذکر فیها حال الا ئٔمة علیهم السلام و صفاتهم: إنّ اللّٰه عز و جل ا ؤضح با ئٔمة الهدی من ا هٔل بیت نبینا عن دینه، و ا بٔلج بهم عن سبیل منهاجه، و فتح بهم عن باطن ینابیع علمه، فمن عرف من ا مُٔة محمد(ص) واجب حق امامه، وجد طعم حلاوة ایمانه، و علم فضل طلاوة اسلامه، لا نٔ اللّٰه تبارک و تعالی نصب الامام علماً لخلقه، و جعله حجة علی ا هٔل مواده و عالمه، و ا لٔبسه اللّٰه تاج الوقار، و غشاه من نور الجبار، یمد بسبب الی السماء، لا ینقطع عنه مواده، و لا ینال ما عند اللّٰه الا بجهة اسبابه، و لا یقبل اللّٰه ا عٔمال العباد إلاّ بمعرفته، فهو عالم بما یرد علیه من ملتبسات الدجی، و معميّات السنن، و مشبّهات الفتن، فلم یزل اللّٰه تبارک و تعالی یختارهم لخلقه من ولد الحسین(ع) من عقب کل إمام یصطفیهم لذلک و یجتبیهم، و یرضی بهم لخلقه و یرتضیهم، کلّ ما مضی منهم إمام نصب لخلقه من عقبه إماماً علما بيّناً، و هادیاً نيّراً و إماماً قيّماً، و حجة عالماً، ا ئٔمة من اللّٰه، یهدون بالحق و به یعدلون، حجج اللّٰه و دعاته و رعاته علی خلقه، یدین بهدیهم العباد و تستهل بنورهم البلاد، و ینمو ببرکتهم التلاد، جعلهم اللّٰه حیاة للا نٔام، و مصابیح للظلام، و مفاتیح للکلام، و دعائم للإسلام، جرت بذلک فیهم مقادیر اللّٰه علی محتومها ۔
فالإمام هو المنتجب المرتضی، و الهادی المنتجی، و القائم المرتجی، اصطفاه اللّٰه بذلک و اصطنعه علی عینه فی الذرّ حین ذرا هٔ، و فی البریة حین برا هٔ، ظلا قبل خلق نسمة عن یمین عرشه، محبوّاً بالحکمة فی علم الغیب عنده، اختاره بعلمه، و انتجبه لطهره، بقیة من آدم (ع)و خیرة من ذریة نوح، و مصطفی من آل
____________________
۱ اصول کافی، ج ۱، ص ۵۲۷ (ماجاء فی الاثنا عشر)
إبراهیم، و سلالة من إسماعیل، و صفوة من عترةمحمد(ص) لم یزل مرعيّاً بعین اللّٰه، یحفظه و یکلئه بستره، مطروداً عنه حبائل إبلیس و جنوده، مدفوعاً عنه وقوب الغواسق و نفوث کل فاسق، مصروفاً عنه قوارف السوء، مبرّئاً من العاهات، محجوباً عن الآفات، معصوماً من الزّلات، مصوناً عن الفواحش کلها، معروفاً بالحلم و البرّ فی یفاعه، منسوباً إلی العفاف و العلم و الفضل عند انتهائه، مسنداً إلیه ا مٔر والده، صامتاً عن المنطق فی حیاته فإذا انقضت مدّة والده، إلی ا نٔ انتهت به مقادیر اللّٰه إلی مشیئته، و جائت الإرادة من اللّٰه فیه إلی محبته، و بلغ منتهی مدة والده(ع) فمضی و صار ا مٔر اللّٰه إلیه من بعده، و قلده دینه، و جعله الحجة علی عباده، و قیمه فی بلاده، و ا ئّده بروحه، و آتاه علمه، و ا نٔبا هٔ فصل بیانه، و استودعه سرّه، و انتدبه لعظیم ا مٔره، و ا نٔبا هٔ فضل بیان علمه، و نصبه علماً لخلقه، و جعله حجة علی ا هٔل عالمه، و ضیاء لا هٔل دینه، و القیم علی عباده، رضی اللّٰه به إماماً لهم ))(۱)
____________________
۱ اصول کافی، ج ۱، ص ۲۰۳ ، کتاب الحجة، باب نادر جامع فی فضل الامام و صفاتہ، حدیث ۲۔
(بے شک خداوندعالم نے ہم اہل بیت میں سے رہبران ہدایت کے ذریعہ اپنے دین کو واضح اور اپنی راہ کو روشن کیا ہے، اور اپنے علم کے باطنی چشموں کو ان کے ذریعہ جاری کئے ہیں، لہٰذا امت محمدی میں سے جو شخص اپنے امام کے واجب حق کو پہچانے تو ایسا شخص اپنے ایمان کی شیرینی کا مزہ حاصل کرے گا، اپنے اسلام کی فضیلت کی مسرت تک پهنچ جائے گا، کیونکہ خداوندعالم نے امام کو اپنی مخلوق کے لئے نشانی قرار دیا ہے اور اس کو کائنات اور اہل فیض پر حجت قرار دیا ہے، وقار کا تاج ان کے سر پر رکھا اور اس پر نورِ جبّار کا سایہ کیا ہے۔
وہ ایک سبب کے ذریعہ آسمان کی طرف پرواز کرتا ہے، اس سے فیض و کرم کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، اور خداوندعالم کے پاس موجود چیزوں کو اس کے وسیلہ کے علاوہ حاصل نہیں کیا جاسکتا، نیز خداوندعالم اپنے بندوں کے اعمال کو اس کی معرفت کے بغیر قبول نہیں کرتا۔
پس وہ تاریکی کی مشکلات کا عالم ہے اور سنت کے معمّوںاور فتنوں کی مشتبہ چیزوں کو جانتا ہے۔
خداوندعالم نے ہمیشہ مخلوق کے لئے امام حسین علیہ السلام کی نسل سے یکے بعد دیگرے امام کو انتخاب کیا ہے،
اور ان کو مخلوق کے امور کے لئے انتخاب کیا ہے نیز خداوندعالم ان کے ذریعہ سے اپنی مخلوق سے راضی اور اپنی مخلوق کو قبول کرتا ہے۔
جب ان میں سے کوئی ایک رحلت کرتا ہے تو اس امام کی اولاد میں سے ایک بزرگوار امام ظاہر ، نور بخش رہبر،سرپرست پیشوا اور عالم کو مخلوق کے لئے حجت معین فرماتا ہے، ایسے رہبر جو خدا کی طرف سے حق کی طرف ہدایت کرنے والے ہیں، اور حق و انصاف کے ساته فیصلے کرتے ہیں، اور لوگوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھتے ہیں، خدا کی حجتیں، اس کی طرف دعوت دینے والے اور مخلوق کی تدبیر کرنے والے خدا کی طرف سے معین ہوتے ہیں، خدا کے بندے ان کی ہدایت کے ذریعہ دیندار ہوتے ہیں اور ان کے نور سے شهر روشن و منور ہوتے ہیں، اور ان کی برکت سے پرانی دولت رشد و نمو کرتی ہے۔
خداوندعالم نے ان حضرات کو لوگوں کے لئے (باعث) حیات، اندہیروں میں چراغ، کلام کی کنجی، اور اسلام کی بنیاد قرار دیا ہے، خداوندعالم کے حتمی مقدرات انہیں حضرات کے ذریعہ جاری ہوتے ہیں۔
لہٰذا امام ، وہی پسندیدہ منتخب ، اسرار الٰهی کی طرف ہدایت کرنے والا اور ایسا قائم ہے جس کی طرف امیدیں لگی ہوئی ہیں، خداوندعالم نے اس کے ذریعہ ان کو منتخب کیا ہے، اور جب خداوندعالم نے اس کو عالم ذرّ میں خلق فرمایا تو اپنی (خاص) نظر سے خلق فرمایا، اور مخلوق اور جاندار کو خلق کرنے سے پهلے عرش یمین کے زیر سایہ ان کو اس حال میں خلق فرمایاکہ ان کو اپنے علم غیب کی حکمت سے نوازا، اور ان کو اپنے علم کے لئے اختیار کیا اور ان کی طهارت کی وجہ سے انتخاب کیا، اس حال میں کہ وہ حضرت آدم کی نسل سے باقی رہنے والا اور ذریت نوح سے انتخاب شدہ اور آل ابراہیم سے منتخب شدہ نسل اسماعیل سے اور عترت محمد(ص) سے منتخب شدہ ہے۔
همیشہ خداوندعالم ان کی حفاظت کرتا ہے، اور اپنے پردہ سے حفاظت کرتا ہے، حالانکہ شیطانی جال اور اس کے لشکر کو ان سے دور رکھا گیا ہے، ہر فاسق کے خطرہ اور دیگر خطرات سے ان کی حفاظت کی گئی ہے، اور بری نیت والوں کے ارادوں کو دفع کیا گیا ہے، فتنہ و فساد سے پاک، آفتوں سے دور، خطاؤں سے معصوم اور تمام برائیوں سے محفوظ ہے۔
امام اپنی جوانی میں حلم اور نیک کام میں مشهور، اور بوڑهاپے میں عفت و علم اور فضیلت سے منسوب ہوتا ہے،اس کی طرف اس کے والد کی طرف سے مستند اور ان کی حیات میں گفتگو کرنے سے خاموش رہتے ہیں، اور جب ان کے والد کی امامت کی مدت ختم ہوتی ہے، یهاں تک کہ اس کی نسبت تقدیر الٰهی تمام ہوجائے، اور خدا کا ارادہ ان کو ان کی محبت کی طرف کهینچتا ہے، اور جب ان کے پدر گرامی کی مدت (امامت) ختم ہوجاتی ہے، اور ان کی رحلت ہوجاتی ہے،
جن کے بعد خدا کا امر اس کی طرف منتقل ہوتا ہے، اور خدا اپنے دین کی باگ ڈور ان کے حوالہ کردیتا ہے، اور اس کو بندوں پر اپنی حجت اور اپنے ملک پر سرپرست قرار دیتا ہے، اور اپنی روح سے اس کی تائید کرتا ہے، اور اپنا علم اس کو عطا کرتا ہے، اور اس کو اپنے بیان فصل (جو حق کو باطل سے الگ کردیتا ہے) کی خبر دیتا ہے، اور اپنے اسرار سے آگاہ کرتا ہے، اور اس کو اپنے عظیم امر کے لئے دعوت دیتا ہے، اور اپنے بیان علم کی فضیلت سے آگاہ کرتا ہے، اور اس کو اپنی مخلوق کے نشانی قرار دیا ہے، اہل کائنات کے لئے حجت، اپنے دین والوں کے نور، اور اپنے بندوں کا سرپرست قرار دیا ہے، اور اس کو امت کی امامت کے لئے پسند کرتا ہے۔
اگر چہ اس حدیث کا ہر جملہ مفصل تشریح کا طالب ہے، لیکن ہم یهاں بعض جملوں سے متعلق چند نکات ذکر کرتے ہیں:
الف۔پهلے جملے میں امام(ع) نے ائمہ ہدیٰ کو خطبے کا موضوع قرار دیا،کیونکہ امت کے لئے وجود امام کی ضرورت واضح ہے( يَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ ا نَُٔاسٍ بِإِمَامِهِمْ ) (۱) اور امت کے امام کا امامِ ہدایت ہونا ضروری ہے جیسا کہ خداوند متعال نے فرمایا:( وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ ا ئَِٔمَّةً يَّهْدُوْنَ بِا مَْٔرِنَا ) (۲) ،( إِنَّمَا ا نَْٔتَ مُنْذِرٌ وَّلِکُل قَوْمٍ هَادٍ ) (۳) اور امامِ ہدایت کی معرفت، معرفتِ ہدایت پر متوقف ہے۔معرفتِ ہدایت کے لئے اس موضوع سے متعلق قرآن مجید میں موجود ان آیات میں تدبر وتفکر ضروری ہے جن کی تعداد تقریبا دو سونوے ہے۔ اس مقدمے میں ان کی تشریح کرنا مشکل ہے، اس لئے کہ ہدایت، کمالِ خلقت ہے( قَالَ رَبُّنَا الَّذِی ا عَْٔطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَه ثُمَّ هَدیٰ ) (۴) ،( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ اْلا عَْٔلیٰ ة اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ة وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدیٰ ) (۵) اور مخلوق میں ہر ایک کی ہدایت اس کی خلقت کے تناسب سے ہے۔ اب چونکہ خلقتِ انسان کی اساس احسن تقویم ہے،لہٰذا اس کی ہدایت بھی عالم امکان کا سب سے بڑا کمال اور اشرف المخلوقات کو عنایت کی جانے والی بزرگترین نعمت ہے۔( وَيُتِمَّ نِعْمَتَه عَلَيْکَ وَيَهْدِيَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا ) (۶) امام(ع)نے ((ائمہ ہدی))فرما کر مقام امامت کی عظمت کو بیان فرمایا، بلکہ اہل نظر کے لئے تو امام کی خصوصیات کو واضح کردیا کہ ایسے ملزوم کے لئے کن لوازم کی ضرورت ہے۔ پھر اس اجمال کے بعد تفصیل بیان کی، دین میں امام کے کردار پر روشنی ڈالی کہ خداوند متعال نے اپنے قانون کی تفسیر کا حق ایسی مخلوق کو عطا نہیں کیا جن کی آراء میں خطا اور اختلاف پایا جاتا ہے، اس لئے کہ ان دو آفتوںسے تشریع دین کی غرض نقض ہو جائے گی اور امت، نورِ ہدایت کی بجائے گمراہی کی تاریک وادیوں میں بهٹک جائے گی، بلکہ پروردگا رعالم نے اصول وفروع دین میں، انسان کے لئے پیش آنے والے مبهم نقاط کو ائمہ ہدیٰ کے ذریعے دور کیا ہے ((ا نٔ اللّٰه عزوجل ا ؤضح با ئٔمة الهدی من ا هٔل بیت نبینا عن دینه ))
ب۔چونکہ فطری تقاضے کے مطابق انسان اپنے خالق اورپروردگا ر عالم کی تلاش وجستجو میں ہے اور یہ فطرت راہ خداتک،جوکہ دین خدا ہے، پهنچے اور اس پر ثابت قدم رہے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی( قُلْ هٰذِه سَبِيْلِی ا دَْٔعُوْا إِلَی اللّٰهِ عَلیٰ بَصِيْرَةٍ ا نََٔا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ ) (۷) اور چونکہ اشتباہات اور خواہشاتِ نفسانی جیسے راہ خدا سے منحرف کرنے والے اسباب او ر شیاطینِ جن وانس جیسے لٹیرے،هر وقت موجود ہیں( وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِيْلِه ) (۸) ،( اِشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللّٰه ثَمَنًا قَلِيْلاً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِه إِنَّهُمْ سَآءَ مَاکَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) (۹) لہٰذا تکوین فطرت کی غرض یعنی خدا تک رسائی کے حصول اور دین کی سیدہی راہ، جو خدا تک رسائی کی راہ ہے، کی تشریع کے لئے، ایک ایسے هادی ورہبر کی ضرورت ہے جس کے نور سے یہ ہدف ومقصد پایہ تکمیل تک پهنچ سکے ((وابلج عن سبیل منهاجه ))۔
____________________
۱ سورہ اسراء، آیت ۷۱ ۔”قیامت کا دن وہ ہوگا جب ہم ہر گروہ انسانی کو اس کے امام کے ساته بلائیں گے“۔
۲ سورہ سجدہ، آیت ۲۴ ۔”اور ہم نے ان میں سےکچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں“۔
۳ سورہ رعد، آیت ۷۔”آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لئے ایک هادی اور رہبر ہے“۔
۴ سورہ طہ، آیت ۵۰ ۔”موسیٰ نے کها کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شئے کو اس کی خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے“۔
۵ سورہ اعلیٰ، آیت ۱تا ۳۔”اپنے بلند ترین رب کے نام کی تسبیح کرو۔جس نے پیدا کیا ہے اور درست بنایا ہے ۔ جس نے تقدیر معین کی ہے اور پھر ہدایت دی ہے“۔
۶ سورہ فتح، آیت ۲۔”اور آپ پر اپنی نعمت کو تمام کر ے اور آپ کو سیدہے راستہ پر ثابت قدم رکہے“۔
۷ سورہ یوسف، آیت ۱۰۸ ۔”آپ کہہ دیجئے کہ یهی میرا راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساته خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں میں اور میری اتباع کرنے والا“۔
۸ سورہ انعام، آیت ۱۵۳ ۔”اور دوسرے راستوں کے پیچہے نہ جاو کٔہ راہ خدا سے الگ ہو جاو گٔے“۔
۹ سورہ توبہ، آیت ۹۔”انهوں نے آیات الٰهیہ کے بدلے بہت تهوڑی سی منفعت کو لے لیا ہے اور اب راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ یہ بہت براکام کر رہے ہیں“۔
ج۔انسان میں خلقتِ عقل کی غرض، علم ومعرفت کی حقیقت تک پهنچنا ہے اور ذاتِ انسان کی،خالقِ عقل وادراک سے یہ استدعا ہے کہ پروردگارا! ہر چیز کی حقیقت کو جیسی ہے ویسی ہی مجه پر نمایاں کر دے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کهاں سے آیا ہے ؟ کهاں ہے؟ کس طرف جارہا ہے؟ اس کے وجود اور کائنات کا آغاز وانجام کیا ہے؟اور ادراکِ انسان کی یہ پیاس، علمِ الٰهی جیسے آبِ حیات کو حاصل کئے بغیر نہیں بجه سکتی، ور نہ حکمت کا آخری مرحلہ بھی جو حیرةالکمل(کامل ترین افراد کے لئے مقام تحیر ہے) کا مقام ہے،اس کے سواکچھ نہیںہے کہ انسان یہ جان لے کہ میںنہیں جانتا۔یهی وجہ ہے کہ ایک ایسے الٰهی انسان کے وجود کی ضرورت ہے جو علومِ الٰهی کے سرچشموں کا وارث ہو،تاکہ تشنگانِ حقیقت اس کے هاتهوں سیراب ہوں اور خلقتِ عقل وادراک کی غرض حاصل ہو، جیسا کہ امام نے ایک معتبر نص میں فرمایا ہے :((من زعم ا نٔ اللّٰه یحتج بعبد فی بلاده ثم یستر عنه جمیع ما یحتاج إلیه فقد افتری علی اللّٰه ))(۱)
یقینا یہ سمجهنا کہ خداوند متعال کسی کو اپنے بندے پرحجت قرار دے اوروہ تمام چیزیں جن کی اسے ضرورت ہے، اپنی حجت سے چهپالے اور ان کا علم اسے عطا نہ کرے تو یہ ایک ایسی تهمت ہے جو لامتناہی علم،قدرت اور حکمت کی عدم شناخت کی بنا پر لگائی گئی ہے ۔ اسی لئے فرمایا:((و فتح بهم عن باطن ینا بیع علمه ))۔
د۔((والبسه تاج الوقار ))علم اور قدرت ہے جو امام کے سر پر وقار کا تاج ہے،((فدلالة الامام فیما هی؟ قال:فی العلم واستجابة الدعوة ))(۲) اس لئے کہ انسان کے اضطراب اور پستی کی وجہ اس کا عجز اور اس کی جهالت ہے اور چوںکہ امام، کتاب خدا کا معلم ہے، جب کہ حدیث ثقلین کی صریح نص کے مطابق، کتاب خدا اور امام ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہو سکتے اور اس آیت( وَنَزَّلْنَا عَلَيْکَ الْکِتَاب تِبْيَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ ) (۳) کے مطابق، قرآن ہر چیز کو بیان کرنے والا ہے،لہٰذا ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ قرآن میں موجود تمام علوم پر احاطہ نہ رکھتا ہو اور یہ بات اس معتبر حدیث سے ثابت ہے ((عن ابن بکیر عن ابی عبد اللّٰه(ع) قال:کنت عنده فذکرواسلیمان وما ا عٔطی من العلم وما ا ؤتی من الملک، فقال(ع) لی:وما ا عٔطی سلیمان ابن داود إنما کان عنده حرف واحد من الإسم الا عٔظم، وصا حبکم الذی قال اللّٰه قل کفی باللّٰه شهیدا بینی وبینکم ومن عنده علم الکتاب، وکان واللّٰه عند علیٍّ علم الکتاب، فقلت:صدقت واللّٰه، جعلت فداک ))امر الله سے مرتبط ہونے کی بنا پر امام(۴) مستجاب الدعوہ ہے اوراسی علم وقدرت کی وجہ سے تاج وقا ر، امام کے سر مبارک کی زینت ہے۔
ہ۔((وغشاه من نور الجبار )) لفظ نور،اسم مقدس جبار کی طرف اضافہ ہواہے۔اسماء الٰهی کی جانب اضافہ ہونے والا ہر اسم اضافے کی وجہ سے اسی اسم کی خصوصیات کسب کرلیتاہے اور خداوند عالم جبار ہونے کے ناطے ہر ٹوٹ پهوٹ کا مداوا کرنے والا ہے ((یا جابر العظم الکسیر ))(۵) ، امام کے وجود کو نورِ جبار کے نور سے منور کیا گیا ہے تاکہ پیکرِ اسلام ومسلمین میں پڑنے والی دراڑوں کا اس نور کے ذریعے مداوا و ازالہ کرسکے۔
و۔((ائمة من اللّٰه یهدون بالحق وبه یعدلون )) امام وہ ہے جو خدا کے اختیار سے مختار، اس کے برگزیدہ کرنے سے مصطفی اور اس کے انتخاب سے امامت ورہبری کے لئے مجتبی ہے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ایک امام کی رحلت کے بعد پروردگار عالم دوسرا امام نصب کرے جو واضح علامت،راہِ دین کو روشن کرنے والا هادی، سرپرستی کرنے والا رہبر اور صاحب علم حجت ہو تاکہ خلقتِ انسان اور بعثتِ انبیاء کی غرض جو دو کلموںمیں خلاصہ ہوتی ہے، حاصل ہوسکے اور وہ دو کلمے،حق کی جانب ہدایت اور حق کے ساته عدالت کا برقرار کرنا ہے جو نظری اور عملی حکمت کا لب لباب اور انسان کے ارادے وعقل کا نقطہ کمال ہے اور ان دو کا تحقق سوائے ایسی عقل، جو ہر چیز کو اس کی
____________________
۱ بحار الانوار، ج ۲۶ ، ص ۱۳۹ ۔
۲ بحار الانوار، ج ۲۵ ، ص ۱۲۴ ۔”امام کی پہچان کس چیز میں ہے فرمایا:علم اور دوسروں کی مشکل کو حل کرنے میں“۔
۳ سورہ نحل، آیت ۸۹ ۔”اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں ہر شئے کی وضاحت موجود ہے“۔
۴ بحار الانوار، ج ۲۶ ، ص ۱۷۰ ۔”ابن بکیر سے روایت ہے کہ میں چھٹے امام کے پاس تھا کہ سلیمان پیغمبر اور ان کو عطا شدہ علم وملک کا تذکرہ نکل آیا تو حضرت نے فرمایا جوکچھ ان کو عطا ہوا تھا وہ صرف اسم اعظم کا ایک حرف تھا اور تمهارے مولا کے بارے میں خدا فرماتا ہے( قل کفیٰ بالله شهیداً بینی و بینکم ومن عند ه علم الکتاب ) خدا کی قسم علی علیہ السلام کے پاس پوری کتاب کا علم تھا۔ میں نے جواب دیا خدا کی قسم سچ فرمایا میری جان فدا ہو آپ پر“۔
۵ بحار الانوار، ج ۱۲ ، ص ۳۱۹ ۔”وہ ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑنے والے“۔
حقیقت کے ساته جان لے، اور ایسے ارادے، جو ہر کام کو اس کی اصل وحقیقت کے مطابق انجام دے،کے بغیر نا ممکن ہے جو علمی اور عملی عصمت کا منصب ہے، لہٰذا فرمایا((ا ئٔمة من اللّٰه یهدون بالحق وبه یعدلون ))
ز۔((اصطفاه اللّٰه بذلک واصطنعه علی عینه فی الذرحین ذرا هٔ)) امام وہ ہے جس کے گوہرِ وجود کو خود پروردگار عالم نے عالم ذرّ میں عرش کے دائیں بنایا، اپنی نگرانی میں اس کی تربیت فرمائی اور علم غیب کے ذریعے جو اس ذات مقدس کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں( إِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِن رَّسُوْلٍ ) (۱) اسے حکمت عطا کی ہے۔خلقت میں نسب کے اعتبار سے ذریت نوح کا بہترین، آل ابراہیم کا برگزیدہ، سلالہ اسماعیل اور عترت محمد سے منتخب شدہ ہے۔
اس کا جسم تمام عیوب سے منزہ، جب کہ روح ہر قسم کی لغزش سے معصوم اور ہر گناہ سے محفوظ ہے۔
ابلیس، جس نے کها تھا کہ( فَبِعِزَّتِکَ لَا غُْٔوِيَنَّهُمْ ا جَْٔمَعِيْنَ ة إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ ) (۲) امام کی مقدس ذات سے اس قدرت کی وجہ سے دور ہے کہ( إِنَّ عِبَادِیْ لَيْسَ لَکَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ) (۳)
((وصار ا مٔر اللّٰه إلیه من بعد ))،وہ امر الله کو جو ایک امام کے بعد دوسرے کو نصیب ہوتا ہے،
چھٹے امام (ع)نے حدیث صحیحہ میں یوں بیان فرمایاہے :((إن اللّٰه واحد متوحد بالواحدانیة، متفرد بامره فخلق خلقا فقدره لذلک الامر، فنحن هم یابن ابی یعفور، فنحن حجج اللّٰه فی عباده وخزانه علی علمه والقائمون بذلک ))(۴)
ح۔((وا ئده بروحه )) جس روح کے ساته خدا نے امام کی تائید فرمائی ہے یہ وہ روح ہے جسے ابو بصیر نے حدیث صحیحہ میں بیان کیا ہے :”میں نے ابی عبد الله(ع) کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
( وَيَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قَلِ الرُّوْحُ مِنْ ا مَْٔرِ رَبِّی ) (۵) جو جبرئیل ومکائیل سے بھی اعظم مخلوق ہے۔ گذشتگان میں سے محمد(ص) کے علاوہ کسی اور کو عطانہیں کی گئی اور وہ روح اب ائمہ کے پاس ہے جو استقامت وثابت قدمی میں ان کی مدد کرتی ہے۔“(۶)
((وآتاه علمه ))اور اسے اپنا علم عطا فرمایا ہے۔امام محمد باقر(ع) سے مروی صحیح نص کے مطابق خدا کے دو علم ہیں، ایک علم وہ ہے جسے اس کی ذات کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا اور دوسرا علم وہ ہے جسے اس ذات اقدس نے ملائکہ وپیغمبران علیهم السلام کو تعلیم فرمایا ہے اور جس علم کی ملائکہ وانبیاء علیهم السلام کو تعلیم دی ہے، امام اس سے آگاہ ہے(۷)
____________________
۱ سورہ جن ، آیت ۲۷ ۔”مگر جس کو پیغمبر پسند فرمائے“۔
۲ سورہ ص، آیت ۸۲ ۔ ۸۳ ۔”اس نے کها تو پھر تیری عزت کی قسم ، ان میں سے تیرے خالص بندوں کے سوا سب کو ضرور گمراہ کروں گا۔
۳ سورہ حجر، آیت ۴۲ ۔”میرے بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہیں ہے“۔
۴ کافی ج ۱ ص ۱۹۳ ۔(چھٹے امام ایک حدیث میں فرماتے ہیں خدا ایک ہے اپنی وحدانیت کے ساته اپنے امر وحکم کے سبب تک و تنها ہے تو اس نے خلق کیا ایک مخلوق کو پھر اپنے امر کی خاطر ان کو معین کیا اب ہم لوگ وہی لوگ ہیں اے ابن ابی یعفور !هم خدا کی حجت ہیں ہم اس کے بندوں کے درمیان اور ہم اس کے علم کے خزانہ دار ہیں اور ہمارا قیام و ثبات اسی کی ذات پر ہے ۔
۵ سورہ اسراء، آیت ۸۵ ۔ ”اور پیغمبر یہ آپ سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ یہ میرے پروردگار کا ایک امر ہے“۔
۶ اصول کافی،ج ۱، ص ۲۷۳ ۔
۷ بحار الانوار، ج ۲۶ ، ص ۱۶۳ ۔
((واستودعه سره ))اور اپنا راز اس کے سپرد کیا ہے۔ صحیح حدیث کے مطابق امام ابوالحسن (ع)نے فرمایا:”خدا نے اپنا راز جبرئیل(ع) کے سپرد کیا، جبرئیل نے محمد(ص) کے سپرد کیا اور محمد(ص)نے اس کے سپرد کیا جس کے بارے میں خود خدا نے چاہا۔“(۱)
ط۔((رضی اللّٰه به إماما لهم ))اس میں کسی قسم کے شک وتردید کی گنجائش نہیں کہ امت کو امام کی ضرورت ہے اور امت کے امام کا خدا کا مورد پسند ہونا ضروری ہے۔ وہ خدا جو علم وجهل میں سے علم کو پسند فرماتا ہے( قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لاَ يَعْلَمُوْنَ ) (۲) ،سلامتی وآفت میں سے سلامتی کو پسند فرماتا ہے( يَهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَه سُبُلَ السَّلَامِ ) (۳) ، حکمت وسفاہت میں سے حکمت کو پسند فرماتا ہے( يُو تِْٔی الْحِکْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ وَمَنْ يُّو تَْٔ الْحِکْمَةَ فَقَدْ ا ؤُْتِیَ خَيْراً کَثِيْرًا ) ٤، عدل وفسق میںسے عدل کو پسند فرماتا ہے( إِنَّ اللّٰهَ يَا مُْٔرُ بِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ ) (۵) ، حق وباطل میں سے حق کو پسند فرماتا ہے( وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقاً ) (۶) ، اورصواب وخطا میں سے صواب کو پسند فرماتا ہے( لَاَ يَتَکَلَّمُوْنَ إِلاَّ مَنْ ا ذَِٔنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ) (۷) ، امت کی اطاعت کے لئے بھی یقینا اس کو پسند فرمائے گا جس کی امامت علم، عدل، سلامتی، حکمت، صواب، حق او رہدایت کی امامت ہو۔ ساته اس کے کہ بہترین کا انتخاب کرنا خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے( اَلَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبُعُوْنَ ا حَْٔسَنَه ) (۸) ، بہترین کو ہی حاصل کرنے کاحکم فرمایاہے( وَا مُْٔرْ قَوْمَکَ يَا خُْٔذُوْا بِا حَْٔسَنِهَا ) (۹) اور بہترین قول کا حکم دیا ہے( قُلْ لِّعُبَادِی يَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ ا حَْٔسَنُ ) (۱۰) اور مجادلے کے وقت بہترین طریقے سے گفتگو کرنے کا حکم فرمایا ہے( وَجَادِلْهُم بِالَّتِیْ هِیَ ا حَْٔسَنُ ) (۱۱) اور رد کرتے وقت، بہترین طریقے سے رد کرنے کی تلقین فرمائی ہے( اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِی ا حَْٔسَنُ ) (۱۲) اور جو خود ہی احسن جزا دینے والا ہے( وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ ا جَْٔرَهُمْ بِا حَْٔسَنِ مَا کَانُوا يَعْمَلُوْنَ ) (۱۳) اور جو خود بہترین حدیث نازل کرنے والا ہے( اَللّٰهُ نَزَّلَ ا حَْٔسَنَ الَحَدِيْثِ ) (۱۴) ، کیا ممکن ہے امت کی امامت کے لئے اکمل، افضل، اعلم،اعدل اوراس احسن حدیث میں موجود تمام صفات کے مالک کے علاوہ کسی او ر کو پسند فرمائے؟!
جب احسن کی اتباع کے حکم کا لازمہ یہ ہے کہ احسن کی پیروی ہو تو کیسے ممکن ہے کہ پروردگار عالم کسی غیر احسن کی امامت وپیروی سے راضی ہوجائے ؟!
( وَمَنْ ا حَْٔسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ ) (۱۵) اور اسی لئے فرمایا:((وانتدبه بعظیم ا مٔره وا نٔبا هٔ فضل بیان علمه ونصبه علما لخلقه وجعله حجة علی ا هٔل عالمه وضیاء لا هٔل دینه والقیم علی عباده رضی اللّٰه به إماما لهم ))۔
____________________
۱ بحار الانوار، ج ۲، ص ۱۷۵ ۔
۲ سورہ زمر، آیت ۹۔”کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے ہیں“۔
۳ سورہ مائدہ، آیت ۱۶ ۔”جس کے ذریعہ خدا پنی خوشنودی کا اتباع کرنے والوں کو سلامتی کے راستہ کی ہدایت کرتا ہے“۔
۴ سورہ بقرہ، آیت ۲۶۹ ۔”وہ جس کو بھی چاہتا ہے حکمت عطا کر دیتا ہے اور جسے حکمت عطا کر دی جائے اسے خیر کثیر عطا کر دیا گیا“۔
۵ سورہ نحل، آیت ۹۰ ۔”بے شک الله عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“۔
۶ سورہ اسراء، آیت ۸۱ ۔”اور کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل فنا ہو گیا کہ باطل بهر حال فنا ہونے والا ہے“۔
۷ سورہ نباء، آیت ۳۸ ۔”اور کوئی بات بھی نہ کر سکے گا علاوہ اس کے جسے رحمان اجازت دیدے اور صحیح بات کرے“۔
۸ سورہ زمر، آیت ۱۸ ۔”جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچهی ہوتی ہے اس کا ابتاع کرتے ہیں“۔
۹ سورہ اعراف، آیت ۱۴۵ ۔”اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کی اچهی اچهی باتوں کو لے لیں“۔
۱۰ سورہ اسراء، آیت ۵۳ ۔”اور میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ صرف اچهی باتیں کیا کریں“۔
۱۱ سورہ نحل، آیت ۱۲۵ ۔اور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے“۔
۱۲ سورہ مومنون، آیت ۹۶ ۔”اور آپ برائی کو اچهائی کے ذریعہ دفع کیجئے“۔
۱۳ سورہ نحل، آیت ۹۷ ۔”اور انہیں ان عمال سے بہتر جزادیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے“۔
۱۴ سورہ زمر، آیت ۲۳ ۔”اس نے بہترین کلام اس کتاب کی شکل میں نازل کیا ہے“۔
۱۵ سورہ مائدہ، آیت ۵۰ ۔”جب کہ صاحبان یقین کے لئے الله کے فیصلہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے“۔
امام زمانہ(عجل الله تعالی فرجه الشریف)
رسول خدا(ص) کی فریقین سے مروی اس روایت کے مطابق کہ جو شخص اس دنیا میں اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے(۱) ، اگر چہ امام زمانہ(ع) کی تفصیلی معرفت تو میسر نہیں ہے لیکن اجمالی معرفت کو اختصار کے ساته بیان کیا جارہا ہے۔
هر زمانے میں امامِ معصوم کی ضرورت، عقلی ونقلی دلائل کے ذریعہ بحث امامت میں ثابت ہو چکی ہے۔
عقلی نقطہ نگاہ سے عقلی دلائل کا اجمالی طور پر خلاصہ یہ ہے کہ نبوت ورسالت کا دروازہ پیغمبر خاتم(ص) کے بعدہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔ لیکن قرآن کو سمجهنے کے لئے، جو آ نحضرت(ص) پر نازل ہوا ہے اور ہمیشہ کے لئے انسان کی تعلیم وتربیت کا دستور العمل ہے، معلم ومربی کی ضرورت ہے۔
وہ قرآن، جس کے قوانین مدنی البطع انسان کے حقوق کے ضامن تو ہیں لیکن ایک مفسراور ان قوانین کو عملی جامہ پهنانے والے کے محتاج ہیں۔
بعثت کی غرض اس وقت تک متحقق نہیں ہو سکتی جب تک کہ تمام علوم قرآنی کا معلم موجود نہ ہو۔ایسے بلند مرتبہ اخلاقی فضائل سے آراستہ ہو کہ جو ((انما بعثت لا تٔمم مکارم الا خٔلاق ))(۲) کا مقصد ہے۔نیز ہر خطا و خواہشات نفسانی سے پاک ومنزہ ہو جس کے سائے میں انسان اس علمی و عملی کما ل تک پهنچے جو خدا وند تعالیٰ کی غرض ہے۔( إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّيِّبُ وَالَعَمَلُ الصّالِحُ يَرْفَعُه ) (۳)
مختصر یہ کہ قرآن ایسی کتاب ہے جو تمام انسانوں کو فکری، اخلاقی اور عملی ظلمات سے نکال کر عالم نور کی جانب ہدایت کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے( کِتَابٌ ا نَْٔزَلْنَاهُ إِلَيْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِن الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ ) (۴)
اس غرض کا حصول فقط ایسے انسان کے ذریعے ممکن ہے جو خود ظلمات سے دور ہو اور اس کے افکار، اخلاق و اعمال سراپا نور ہوں اور اسی کو امام معصوم کہتے ہیں۔
اور اگر ایسا انسان موجود نہ ہوتو تعلیم کتاب وحکمت اور امت کے درمیان عدل کا قیام کیسے میسر ہو سکتا ہے ؟ اور خود یهی قرآن جو اختلافات کو ختم کرنے کے لئے نازل ہوا ہے، خطاکار افکار اور ہویٰ و ہوس کے اسیر نفوس کی وجہ سے، اختلافات کا وسیلہ وآلہ بن کر رہ جائے گا۔
آیا وہ خداجو خلقت انسان میں احسن تقویم کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان کی ظاہری خوبصورتی کے لئے بهنوں تک کا خیال رکھ سکتا ہے، کیا ممکن ہے کہ مذکورہ ہدف ومقصد کے لئے کتاب تو بھیج دے لیکن بعثت انبیاء اور کتب نازل کرنے کی اصلی غرض، جو سیرت انسان کو احسن تقویم تک پہچانا ہے، باطل کر دے ؟!
اب تک کی گفتگو سے رسول خدا ا(ص) کے اس کلام کا نکتہ واضح وروشن ہو جاتا ہے کہ جسے اہل سنت کی کتابوں نے نقل کیا ہے ((من مات بغیر إمام مات میتة جاهلیة ))(۵) اور کلام معصومین علیهم السلام کا نکتہ بھی کہ جسے متعدد مضامین کے ساته شیعی کتب میں نقل کیا گیا ہے۔مثال کے طور پر حضرت امام علی بن موسی الرضا(ع) نے شرائع دین سے متعلق، مامون کو جو خط لکها اس کا مضمون
____________________
۱ رجوع کریں آئندہ صفحہ حاشیہ نمبر ۲۔
۲ بحار الانوار ج ۱۶ ص ۲۱۰ (فقط مبعوث ہوا ہوں اس لئے کہ مکارم الاخلاق کو پایہ تکمیل تک پهنچا سکوں۔
۳ سورہ فاطر، آیت ۱۰ ۔” پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح انہیں بلند کرتا ہے“۔
۴ سورہ ابراہیم، آیت ۱۔”الٓر یہ کتاب ہے جسے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں“۔
۵ ”جواس حال میں مر جائے کہ اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانے تو وہ جهالت کی موت مرے گا“۔مسند الشامیین، ج ۲، ص ۴۳۷ ، المعجم الکبیر، ج ۱۹ ، ص ۳۸۸ ۔
مسند احمد بن حنبل، ج ۴، ص ۹۶ اور دوسری کتابیں۔
یہ ہے ((وإن الارض لا تخلو من حجة اللّٰه تعالی علی خلقه فی کل عصر وا ؤان و إنهم العروة الوثقی ٰ))یهاں تک کہ آپ(ع) نے فرمایا ((ومن مات ولم یعرفهم مات میتة جاهلیة ))(۱)
اب جب کہ اکمال دین واتمام نعمت ہدایت میں ایسی شخصیت کے وجود کی تاثیر واضح ہو چکی، اگر اس کی عدم موجودگی سے خدا اپنے دین کو ناقص رکہے تو اس عمل کی وجہ یا تویہ ہو گی کہ ایسی شخصیت کا وجود ناممکن ہو یا خدا اس پر قادر نہیں اور یا پھر خدا حکیم نہیں ہے اور ان تینوں کے واضح بطلان سے امام کے وجود کی ضرورت ثابت ہے۔
حدیث تقلین جس پر فریقین کا اتفاق ہے، ایسی شخصیت کے وجود کی دلیل ہے جو قرآن سے اور قرآن جس سے، ہر گز جدا نہ ہوں گے اور چونکہ مخلوق پر خدا کی حجت، حجت بالغہ ہے، ابن حجر هیثمی جس کا شیعوں کی نسبت تعصب ڈهکاچهپا نہیں، کہتا ہے((والحاصل ا نٔ الحث وقع علی التمسک بالکتاب وبالسنة وبالعلماء بهما من ا هٔل البیت ویستفاد من مجموع ذلک بقاء الا مٔور الثلاثه إلی قیام الساعة، ثم اعلم ا نٔ لحدیث التمسک بذلک طرقاً کثیرةً وردت عن نیف وعشرین صحابیا ))(۲)
ابن حجر اعتراف کر رہا ہے کہ حدیث ثقلین کے مطابق، جسے بیس سے زیادہ اصحاب نے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کیا ہے، پوری امت کو کتاب، سنت اور علماء اہل بیت سے تمسک کا حکم دیا گیا ہے اور ان سب سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ تینوں قیامت کے دن تک باقی رہیں گے۔
اور مذهب حق یهی ہے کہ قرآن کے ہمراہ اہل بیت علیهم السلام سے ایسے عالم کا ہونا ضروری ہے جو قرآن میں موجود تمام علوم سے واقف ہو، کیوںکہ پوری امت مسلمہ کو، بغیر کسی استثناء کے، کتاب،سنت او راس کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، اور ہر ایک کی ہدایت کا دارومدار اسی تمسک پر ہے۔
روائی نقطہ نگاہ سے:
بارہویں امام(ع) کے متعلق شیعوں کا اعتقاد اور آپ کا ظهور معصومین علیهم السلام سے روایت شدہ متواتر نصوص سے ثابت ہے، جواثبات امامت کے طریقوں میں سے ایک ہے۔
قرآن مجید میں ایسی آیات موجود ہیں، جنہیں شیعہ وسنی کتب میں امام مهدی (ع)کی حکومت کے ظهور سے تفسیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کو ہم یهاں ذکر کرتے ہیں :
۱۔( هُوَالَّذِی ا رَْٔسَلَ رَسُوْلَه بِالْهُدیٰ وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَه عَلَی الدِّيْنِ کُلِّه وَلَوکَرِهَ الْمُشْرِکُوْنَ ) (۳)
ابو عبد الله گنجی کتاب ”البیان فی اخبار صاحب الزمان(ع) “ میں کہتا ہے کہ :”اور بالتحقیق، مهدی کی بقا کا تذکرہ قرآن وسنت میں ہوا ہے۔ قرآن میں یوں کہ سعید بن جبیر قرآن میں خداوند متعال کے اس فرمان( لِيُظْهِرَه عَلیَ الدِّيْنِ کُلِّه وَلَو کَرِهَ الْمُشْرِکُوْنَ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں:((هو المهدی من عترة فاطمه علیها السلام ))“(۴)
۲۔( اَلَّذِيْنَ يُو مِْٔنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُوْنَ ) (۵)
فخر رازی کہتا ہے:”بعض شیعوں کے عقیدے کے مطابق غیب سے مراد مهدی منتظر (ع)ہے،
کہ جس کا وعدہ خدا نے قرآن اور حدیث میں کیا ہے۔ قرآن میں یہ کہہ کر( وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنکُم وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی اْلا رَْٔضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) اورحدیث میں قول پیغمبر اکرم(ص) کے اس قول کے مطابق ((لو لم یبق من الدنیا إلا یوم واحد لطول اللّٰه ذلک الیوم حتی یخرج رجل من ا هٔل بیتی یواطی
____________________
۱ عیون اخبار الرضاعلیہ السلام،ج ۲، ص ۱۲۲ ۔”زمین حجت خدا سے کسی زمانہ میں خالی نہ ہوگی اور یہ حجت مستحکم وسیلہ ہیں یهاں تک کہ فرمایا جو مرجائے اور ان کو نہ پہچانتا ہو وہ جهالت کی موت مرتا ہے“۔
۲ صواعق محرقہ، ص ۱۵۰ ۔
۳ سورہ توبہ، آیت ۳۳ ۔”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساته بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔
۴ البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل الله فرجہ الشریف،ص ۵۲۸ (کتاب کفایة الطالب میں)
۵ سورہ بقرہ، آیت ۳۔”جوغیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔پابندی سے پورے اہتمام کے ساته نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں“۔
اسمه اسمی وکنیته کنیتی، یملا الا رٔض عدلا وقسطا کما ملئت جورا وظلما ))(۱) ، اس کے بعد یہ اشکال کرتا ہے کہ بغیر دلیل کے مطلق کو تخصیص دینا باطل ہے۔“(۲)
فخر رازی نے ، حضرت مهدی موعود(ع) کے بارے میں قرآن وحدیث پیغمبر خدا(ص) کی دلالت کو تسلیم کرنے اور آپ(ع) کی غیب میں شمولیت کے اعتراف کے بعد، یہ سمجها ہے کہ شیعہ، غیب کو فقط حضرت مهدی(ع) سے اختصاص دینے کے قائل ہیں، جب کہ فخر رازی اس بات سے غافل ہے کہ شیعہ امام مهدی(ع) کو مصادیقِ غیب میں سے ایک مصداق مانتے ہیں۔
۳۔( وَإِنَّه لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ ) (۳)
ابن حجر کے بقول :”مقاتل بن سلیمان اور اس کے پیروکار مفسر ین کہتے ہیں کہ یہ آیت مهدی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“(۴)
۴ ۔( وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی اْلا رَْٔضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِم وَلَيُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضیٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ ا مَْٔناً يَّعْبُدُوْنَنِی لَايُشْرِکُوْنَ بِیْ شَيْئاً وَّمَنْ کَفَرَ بَعْد ذٰلِکَ فَا ؤُْلٰئِکَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ ) (۵)
اس آیت کو امام مهدی(ع) او رآپ کی حکومت سے تفسیر کیا گیا ہے۔(۶)
۵ ۔( إِنْ نَّشَا نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ ا عَْٔنٰاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِيْنَ ) (۷)
اس آیت میں لفظِ((آیة)) کی تفسیر، حضرت مهدی(ع) کے ظهور کے وقت دی جانے والی ندا کو بتلایا گیا ہے، جسے تمام اہل زمین سنیں گے اور وہ ند ایہ ہوگی ((ا لٔا إن حجة اللّٰه قد ظهر عند بیت اللّٰه فاتبعوه فإن الحق معه وفیه ))(۸)
۶ ۔( وَنُرِيْدُ ا نَْٔ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی اْلا رَْٔضِ وَنَجْعَلَهُمْ ا ئَِٔمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِيْنَ ) (۹)
امیر المومنین(ع) فرماتے ہیں :” یہ دنیا منہ زوری دکهانے کے بعد پھر ہماری طرف جهکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جهکتی ہے۔“ اس کے بعد مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی۔(۱۰)
۷۔( وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ ا نََّٔ اْلا رَْٔضَ يَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ ) (۱۱)
____________________
۱ ” اگر دنیا کے ختم ہو جانے میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو خدا اس کو اتنا طولانی کر دے گا کہ میرے اہل بیت(ع) میں سے ایک شخص قیام کرے جو میرا ہم نام اور اس کی کنیت میری کنیت ہوگی جو زمین کو عدل وانصاف سے ویسا بهر دے گا جیسے ظلم و جور سے بهری ہوگی“۔
۲ تفسیر کبیر، فخر رازی،ج ۲، ص ۲۸ ۔
۳ سورہ زخرف، آیت ۶۱ ۔”اور بے شک یہ قیامت کی واضح دلیل ہے لہٰذا اس میں شک نہ کرو اور میرا اتباع کرو کہ یهی سیدہا راستہ ہے“۔
۴ صواعق محرقہ، ص ۱۶۲ ۔
۵ سورہ نور، آیت ۵۵ ۔”الله نے تم میں سے صاحبان ایمان وعمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اس طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پهلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کر دے گا وہ سب صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے اور اس کے بعد بھی کوئی کافر ہوجائے تو درحقیقت وہی لوگ فاسق اور بدکردار ہیں“۔
۶ تفسیر کبیر،، فخر رازی، ج ۲، ص ۲۸ ۔غیبة نعمانی، شیخ طوسی ، ص ۱۷۷ ؛ تفسیر القمی، ج ۱، ص ۱۴ ، اور دیگر منابع۔
۷ سورہ شعراء، آیت ۴۔”اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کردیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساته جهک جاتیں“۔
۸ ینابیع المودة، ج ۳، ص ۲۹۷ ۔ ”آگاہ ہو جاو کٔہ خدا کی حجت کا ظهور خانہ خدا میں ہوگیا ہے تو اس کی پیروی کرو کیونکہ حق اس کے ساته ہے اس کی ذات کے اندر ضم ہے“۔
۹ سورہ قصص، آیت ۵۔”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیاگیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرا ر دیدیں“۔
۱۰ نهج البلاغہ،شمارہ ۲۰۹ ،از حکمت امیر المومنین علیہ السلام۔
۱۱ سورہ انبیاء، آیت ۱۰۵ ۔”اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکه دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے“۔
اس آیت کو امام مهدی(ع) اور آپ (ع)کے اصحاب کے بارے میں تفسیر کیاگیا ہے۔(۱) اور اس آیت کا مضمون، یعنی زمین پر صالح افراد کی حکومت، زبور حضرت داود(ع) میں موجود ہے :
کتاب مزامیر۔ زبور حضرت داود (ع)،سینتیسویں مزمور کی انتیسویں آیت میں ہے:”اور نسل شریر منقطع ہوجائے گی اور صالح افراد زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ابد تک رہیں گے، صالح دہان حکمت کو بیان کرے گا اور اس کی زبان انصاف کا تذکرہ کرے گی۔ اس کے خدا کی شریعت اس کے دل میں ہو گی۔ لہٰذا اس کے قدم نہ لڑکهڑائیں گے۔“
کتاب مزامیر کے بہترویں مزمور کی پهلی آیت:”اے خدا بادشاہ کو اپنا انصاف اور اس کے فرزند کو اپنی عدالت عطا کر اور وہ تیری قوم کے درمیان عدالت سے فیصلہ کرے گا اور تیرے مساکین کے ساته انصاف کرے گا۔ اس وقت پهاڑ، قوم کے لئے سلامتی کا سامان مهیا کریں گے اور ٹیلے بھی۔ قوم کے مساکین کے درمیان عدالت برقرار کرے گا، فقراء کی اولاد کو نجات دلائے گا او ر ظالموں کو سرنگوں کرے گا اور جب تک سورج اور چاند اپنے سارے طبقات کے ساته باقی ہیں وہ تجه سے ڈریں گے۔ وہ کٹے ہوئے سبزہ زار وں پر برسنے والی بارش کی طرح برسے گا اور زمین کو سیراب کرنے والی بارشوں کی طرح اس کے دور میں صالح افراد خوب پهلے پهولیں گے اور سلامتی ہی سلامتی ہو گی،
یهاں تک کہ چاند نابود ہو جائے گا، ایک سمندر سے دوسرے سمندر اور نهر سے دنیا کے آخری کونے تک اس کی حکومت ہو گی، اس کے سامنے صحرا نشین گردنیں جهکائیں گے اور اس کے دشمن خاک چاٹیں گے۔“
آپ(ع) کے بارے میں فریقین کی کتابوں میں تواتر کی حد تک روایات موجود ہیں۔ ابوالحسن ابری،جو اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ہے، کا کهنا ہے :”راویوں کی کثیر تعداد نے حضرت محمد مصطفی(ص) سے مهدی کے بارے میں روایت کی ہے جو متواتر ومستفیض ہیں اور یہ کہ وہ اہل بیت پیغمبر(ص) سے ہے، سات سال حکومت کرے گا، زمین کو عدل سے پر کر دے گا، حضرت عیسی(ع)
خروج کریں گے اور دجال کو قتل کرنے میں آپ(ع) کی مدد کریں گے۔ امت کی امامت مهدی(ع) کرائیں گے جب کہ عیسیٰ(ع) آپ کے پیچہے نماز پڑہیں گے ۔“(۲)
شبلنجی نور الابصار میں کہتا ہے:”پیغمبر اکرم(ص) سے متواتر احادیث ہیں کہ مهدی(ع) آنحضرت(ص) کے اہل بیت سے ہے اور زمین کو عدل سے پر کر دے گا۔“(۳)
ابن ابی حدید معتزلی کہتا ہے :”فرقہ هائے مسلمین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا اور دینی ذمہ داریاں حضرت مهدی(ع) پر ختم ہوں گی ۔“(۴)
زینی دحلان کے بقول :”جن احادیث میں مهدی(ع) کے ظهور کا ذکر ہوا ہے وہ بہت زیادہ اور متواتر ہیں۔“(۵)
آپ(ع) کی خصوصیات اور شمائل کو تو اس مختصر مقدمے میں تحریر نہیں کیا جاسکتا، لیکن پھر بھی شیعہ اور سنی کتب میں مذکور چند خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔نماز جماعت میں افضل کو تقدم حاصل ہے، جیسا کہ یہ مطلب سنی اور شیعہ روایات میں ذکر ہوا ہے : ((امام القوم وافدهم فقدموا ا فٔضلکم ))(۶) آپ(ع) کے ظهور اور حکومت حقہ کے قیام کے وقت عیسیٰ بن مریم(ع) آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے اور سنی اور شیعہ روایات کے مطابق آپ(ع) کی امامت میں نماز ادا کریں گے(۷) وہ ایسی هستی ہیں کہ کلمة الله، روح الله اور مردوں کو حکم خدا سے زندہ کرنے والے اولوالعزم رسول سے افضل ہیں اور آپ کی وجاہت اور قرب، خدائے ذوالجلال کے نزدیک زیادہ ہے ۔وقت نماز،
____________________
۱ بحار الانوار، ج ۵۱ ، ص ۴۷ ، نمبر ۶۔
۲ تہذیب التہذیب، ج ۹،ص ۱۲۶ ، (محمد بن خالد جندی کے ترجمہ میں)
۳ نو ر الابصار، ص ۱۸۹ ۔
۴ شرح نهج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۰ ، ص ۹۶ ۔
۵ الفتوحات الاسلامیہ، ج ۲، ص ۳۳۸ ۔
۶ ”هر قوم کا امام وہ ہوتا ہے جو سب سے پهلے خدا پر وارد ہوتا ہے تو تم لوگ بھی افضل کو آگے کرو“۔ بغیة الباحث عن زوائد مسند الحارث، ص ۵۶ ، نمبر ۱۳۹ ۔ وسائل الشیعہ، کتاب الصلاة، ابواب الجماعة، باب ۲۶ ، ج ۸، ص ۳۴۷ ۔
۷ الصواعق المحرقہ، ص ۱۶۴ ، فتح الباری، ج ۶، ص ۳۵۸ ،اور اسی کے مشابہ صحیح بخاری، ج ۴، ص ۱۴۳ ؛ صحیح مسلم، ج ۱، ص ۹۴ ؛سنن ابن ماجہ، ج ۲، ص ۱۳۶۱ ؛عقد الدرر، دسواں حصہ،اور اہل سنت کی دوسری کتابیں۔ الغیبة نعمانی، ص ۷۵ ۔بحار الانوار، ج ۳۶ ، ص ۲۷۲ اور شیعوں کی دوسری کتابیں۔
جو خدا کی طرف عروج کا وقت ہے، عیسیٰ بن مریم آپ کی اقتداء کریں گے اور آپ کی زبان مبارک کے ذریعے خدا سے ہم کلام ہوں گے۔
گنجی نے البیان میں نماز وجهاد میں آپ کی امامت کے بارے میں مروی روایات کے صحیح ہونے اور اس تقدم وامامت کے اجماعی ہونے کی تصدیق کے بعد، مفصل بیان کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ اس امامت کو معیار قرار دیتے ہوئے آپ (ع)، عیسی سے افضل ہیں(۱) عقدالدرر، باب اول میں سالم اشل سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتا ہے: ”میں نے ابی جعفر محمد بن علی الباقر (علیہما السلام) کو فرماتے سنا کہ: موسی (ع)نے نظر کی تو پهلی نظر میں وہ کچہ دیکھا جو قائم آل محمد(صلی الله علیہ وآلہ وسلم) کو عطا ہونا تھا، پس موسیٰ نے کها: اے پروردگار !مجھے قائم آل محمد (صلی الله علیہ وآلہ وسلم) قرار دے۔ ان سے کها گیا : کہ وہ محمد(صلی الله علیہ وآلہ وسلم) کی ذریت سے ہے۔ دوسری بار بھی اس کی مانند دیکھا اور دوبارہ وہی درخواست کی اور وہی جواب سنا، تیسری بار بھی اسی کو دیکھا اور سوال کیا تو تیسری بار بھی وہی جواب ملا۔“(۲)
باوجود اس کے کہ حضرت موسی بن عمران(ع) خدا کے اولوالعزم پیغمبر وکلیم الله ہیں( وَکَلَّم اللّٰهُ مُوْسٰی تَکْلِيْماً ) (۳) اور خدا نے انہیں نو آیات کے ساته مبعوث فرمایا( وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوْسٰی تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ) (۴)
اور مقرب درگاہ باری تعالی ہیں( وَ نَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِالا ئَْمَنِ وَقَرَّبَنَاهُ نَجِيًّا ) (۵) ۔ حضرت مهدی(ع) کے لئے وہ کیا مقام و منزلت تھی جسے دیکھنے کے بعد پانے کی آرزو میں حضرت موسی(ع) نے خدا سے تین مرتبہ درخواست کی۔
حضرت موسی بن عمران کا آپ(ع) کے مقام کو پانے کی آرزو کرنا ایسی حقیقت ہے جس کے لئے کسی اور حدیث وروایت کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ حضرت عیسیٰ (ع)جیسے اولو العزم پیغمبر کا آپ(ع) کی اقتدا میں نماز پڑهنا اس مقام کی حسرت وآرزو کے لئے کافی ہے۔ اس کے علاوہ عالم وآدم کی خلقت کا نتیجہ اور آدم سے لے کر خاتم تک تمام انبیاء(ع) کی بعثت کا خلاصہ ان چار نکات میں مضمر ہے:
الف۔ معرفت وعبادت خدا کے نور کا ظهور، جو ساری دنیا کو منور کردے( وَا شَْٔرَقَتِ اْلا رَْٔض بِنُوْرِ رَبِّهَا ) (۶)
ب۔ کائنات کو علم وایمان سے بهر پور زندگی عطا ہونا جو( اِعْلَمُوْا ا نََّٔ اللّٰهَ يُحْیِ اْلا رَْٔضَ بَعْد مَوْتِهَا ) (۷) کا بیان ہے۔
ج ۔باطل کے زوال او رحق کی حکومت کا قائم ہونا جو( وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِل کَانَ زَهُوْقاً ) (۸) کی تجلّی ہے۔
د۔تمام انسانوں کا عدل وانصاف کو اپنانا،جو تمام انبیاء ورسل کے ارسال اور کتب کے نزول کی علت غائی ہے( لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا بِالبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) (۹)
____________________
۱ البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف، ص ۴۹۸ ۔
۲ عقد الدرر، پهلا حصہ،ص ۲۶ ، الغیبة نعمانی، ص ۲۴۰ ۔
۳ سورہ نساء، آیت ۱۶۴ ۔ ”اور موسی سے خدا نے کلام کیا جو حق کلام کرنے کا تھا“۔
۴ سورہ اسراء، آیت ۱۰۱ ۔”اور ہم نے موسیٰ کو نو کهلی ہوئی نشانیاں دی تہیں
۵ سورہ مریم، آیت ۵۲ ۔”اور ہم نے انہیںکوہ طور کے داہنے طرف سے آواز دی اور راز ونیاز کے لئے اپنے سے قریب بلا لیا“۔
۶ سورہ زمر، آیت ۶۹ ۔”اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگااٹہے گی“۔
۷ سورہ حدید، آیت ۱۷ ۔”یاد رکھو کہ خدازندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد“۔
۸ سورہ اسراء، آیت ۸۱ ۔”اورکہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل فنا ہو گیا کہ باطل ہر حال فنا ہونے والا ہے“۔
۹ سورہ حدید، آیت ۲۵ ۔”بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساته بھیجا ہے اور ان کے ساته کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ انصاف کے ساته قیام کریں“۔
ان تمام آثار کا ظهور قائم آل محمد(ص)کے هاتهوں ہوگا ((یملا اللّٰه به الا رٔض قسطا وعدلا بعد ما ملئت جورا وظلما ))(۱) اور یہ وہ مقام ہے جس کی حسرت و آرزو آدم سے لے کر عیسیٰ تک تمام انبیاء نے کی ہے۔
۲۔سنی اور شیعہ روایات میں آپ(ع) کو خلیفة الله کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے ((یخرج المهدی وعلی را سٔه غمامة فیها مناد ینادی: هذا المهدی خلیفة اللّٰه فاتبعوه ))(۲) الله جیسے مقدس اسم کی طرف اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ(ع) کا وجود تمام اسماء حسنی کی آیت ہے۔
۳۔آپ(ع) کے مقام کی عظمت وبلندی آپ کے اصحاب کے مقام ومنزلت سے روشن ہوتی ہے،
جس کا ایک نمونہ روایات اہل تشیع میں یہ ہے کہ :”آپ(ع) کے اصحاب کی مقدار، اہل بدر کی تعداد کے برابر ہے ۳اور ان پر تلواریں ہیں کہ ہر تلوار پر ایک کلمہ لکها ہوا ہے جو ہزار کلمات کی کنجی ہے ۔“(۴)
اور روایات اہل سنت میں بخاری ومسلم کی شرائط کے مطابق ایک صحیح روایت کاکچھ مربوط حصہ، جسے حاکم نیشاپوری نے مستدرک اور ذهبی نے تلخیص میں نقل کیا ہے، یہ ہے((لا یستوحشون إلی ا حٔد ولا یفرحون با حٔد یدخل فیهم علی عدة ا صٔحاب بدر لم یسبقهم الا ؤلون ولا یدرکهم الآخرون وعلی عدة ا صٔحاب طالوت الذین جاوزوا معه النهر ))(۵)
۴ ۔رسول اکرم(ص)اور حضرت مهدی میں خاتمیت کی مشترکہ خصوصیت اس بات کی متقاضی ہے کہ جس طرح نبوت آپ(ص)پر ختم ہو ئی اسی طرح امامت حضرت مهدی پر ختم ہوگی ۔نیز کار دین کا آغاز آنحضرت(ص)کے دست مبارک سے ہوا اور اختتام حضرت مهدی کے هاتهوں ہوگا۔اسی نکتے کی جانب شیعہ اور سنی روایات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ آنحضور(ص)نے فرمایا:((المهدی منا یختم الدین بنا کما فتح بنا ))(۶) آپ(ع) میں خاتم کی جسمانی، روحانی اور اسمی تمام خصوصیات جلوہ گر ہیں۔
دو مختلف شخصیات، یعنی خاتم النبین وخاتم الوصیین کا کنیت، اسم، سیرت وصورت کے اعتبار سے ایک ہونا یعنی ابوالقاسم محمد پر دین کا افتتاح واختتام، اہل نظر کے لئے ایسے مافوق ادراک مقام ومرتبے کی حکایت کرتا ہے جو ناقابل بیان ہے۔
اس بارے میں بطور خاص وارد شدہ بعض روایات ملاحظہ ہوں :
الف۔رسول خدا(ص) سے روایت ہے کہ آپ(ص)نے فرمایا:”میری امت میں ایسا فرد ظهور کرے گا کہ اس کا نام میرا نام اور اس کا اخلاق میرا اخلاق ہے، زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم وجور سے بهر چکی ہو گی۔“(۷)
ب۔ایک صحیح روایت کے مطابق جسے جعفر بن محمد علیہما السلام نے اپنے آباء واجداد اور انهوں نے رسول خد ا(ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: ” مهدی میری اولاد سے ہے جس کا نام میرا نام اور اس کی کنیت میری کنیت ہے۔ خَلق وخُلق میں مجه سے سب سے زیادہ شباہت رکھتا ہے۔
____________________
، ۱ ”خدا زمین کو اس کے ذریعہ عدل وانصاف سے بهر دے گا جیسے ظلم و جور سے پر تھی“۔ بحار الانوار، ج ۳۸ ص ۱۲۶ ۔اسی مضمون سے ملتی ہوئی عبارت البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف، ص ۵۰۵ ،(کتاب کفایة الطالب) صحیح ابن حبان، ج ۱۵ ، ص ۲۳۸ ۔ مستدرک صحیحین، ج ۴، ص ۵۱۴ ۔مسند احمد بن حنبل، ج ۳، ص ۳۶ ، مسند ابی یعلی، ج ۲، ص ۲۷۴ نمبر ۹۸۷ اور دوسری کتابیں۔
۲ بحار الانوار، ج ۵۱ ، ص ۸۱ ۔ ”مهدی اس حال میں خروج کرے گا کہ اس کے سر پر ایک ابر ہوگا جس میں ایک منادی ندا دے گا یہ مهدی ہے جو خدا کا خلیفہ ہے بس اس کی اتباع کرو“۔ عنوان خلیفة الله مستدرک صحیحین ، ج ۴، ص ۴۶۴ میں سنن ابن ماجہ، ج ۲، ص ۱۳۶۷ مسند احمد بن حنبل، ج ۵، ص ۲۷۷ نور الابصار،ص ۱۸۸ ۔ عقد الدرر الباب الخامس، ص ۱۲۵ اور دوسری کتابوں میں آیاہے۔
۳ بحار الانوار، ج ۵۱ ، ص ۱۵۷ ۔
۴ بحار الانوار، ج ۵۲ ، ص ۲۸۶ ۔
۵ مستدرک صحیحین ، ج ۴، ص ۵۵۴ (ان کو خوف نہیں کہ کسی سے مدد حاصل کریں اور نہ کسی سے خوش ہوتے ہیں کہ ان میں داخل ہوجائیں ان کی تعداد اصحاب بدر کے برابر ہیں نہ ان سے کوئی سبقت لے پایا ہے اور نہ ہوئی ان تک پهونچ سکتا ہے ان کی تعداد طالوت کے اس لشکر کے جتنی ہے جس نے طالوت کے ساته نهر کو پار کیا تھا۔
۶ صواعق محرقہ، ص ۱۶۳ ۔اسی مضمون سے ملتی ہوئی عبارت المعجم الاوسط میں، ج ۱، ص ۵۶ میں ہے۔ عقد الدرر الباب السابع، ص ۱۴۵ ، اور اہل سنت کی دوسری کتابیں۔ بحار الانوار، ۵۱ ، ص ۹۳ اور شیعوں کی دوسری کتابیں میں آیاہے۔
۷ صحیح ابن حبان، ج ۸، ص ۲۹۱ ،ح ۶۷۸۶ اور دوسری کتابیں۔
اس کے لئے ایسی غیبت اور حیرت ہے کہ لوگ دین سے گمراہ ہوجائیں گے، پھر اس کے بعد وہ شهاب ثاقب کی مانند ظهور کرے گا اور زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کردے گا جس طرح ظلم وجور سے بهر چکی ہوگی ۔“(۱)
ج۔ صحیح نص کے مطابق چھٹے امام جعفر بن محمد علیہما السلام نے اپنے آبا ء اور انهوں نے رسول خدا(ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:”جو میری اولاد میں سے قائم کا انکار کرے، یقینا اس نے میرا انکار کیا ہے۔“(۲)
د۔شیخ صدوق ا علی الله مقامہ نے دو واسطوں سے احمد بن اسحاق بن سعد الاشعری سے، جو نهایت ہی بزرگ ثقہ افراد میں سے ہیں، نقل کیا ہے کہ انهوں نے کها:”میں حسن بن علی علیہما السلام کی خدمت میں ان کے بعد ان کے جانشین کے متعلق سوال کرنے کی غرض سے حاضر ہوا۔ اس سے پهلے کہ میں سوال کرتاآپ(ع) نے فرمایا :”اے احمد بن اسحاق !خداوند تبارک وتعالیٰ نے جب سے آدم کو خلق کیا ہے زمین کو اپنی حجت سے خالی نہیں رکھا اور نہ ہی اسے قیامت تک اپنی حجت سے خالی رکہے گا۔ وہ اپنی حجت کے ذریعے اہل زمین سے بلاو ںٔ کو دور کرتا ہے، اس کے وسیلے سے بارش برساتا ہے اور اس کے وجود کی بدولت زمین سے برکات نکالتا ہے۔“
احمد بن اسحاق کہتے ہیں، میں نے پوچها : ”یا بن رسول الله ! آپ کے بعد امام وخلیفہ کون ہے؟“
حضرت امام حسن عسکری(ع) اٹہے، تیزی سے گهر میں داخل ہوئے اور جب باہر تشریف لائے تو آپ(ع) اپنے شانے پر ایک تین سالہ بچے کو لئے ہوئے تھے جس کا چهرہ چودہویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا، اس کے بعد آپ(ع) نے فرمایا :”اے احمد بن اسحاق !اگر تم خدا اور اس کی حجتوں کے لئے محترم نہ ہوتے تو تمہیں اپنے بیٹے کی زیارت نہ کراتا، یہ پیغمبر خدا(ص) کا ہمنام اور ہم کنیت ہے۔ یہ وہ ہے جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم وجور سے بهر چکی ہوگی۔
اے احمد بن اسحاق !اس امت میں اس کی مثال خضر وذوالقرنین کی ہے۔ خدا کی قسم، اس کی غیبت ایسی ہوگی کہ هلاکت سے اس کے سوا کوئی نہ بچ سکے گا جسے خدا اس فرزند کی امامت پر ثابت قدم رکہے اور جسے خدا نے دعائے تعجیل فرج کی توفیق عنایت کی ہو۔“
پھر احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے پوچها:”اے میرے آقا !کیا کوئی علامت ہے جس سے میرا دل مطمئن ہو جائے ؟ “
اس بچے نے فصیح عربی میں کها :((ا نٔا بقیةا للّٰه فی ا رٔضه والمنتقم من اعدائه )) میں اس زمین پر بقیةالله اور دشمنان خدا سے انتقام لینے والا ہوں۔ اے احمد بن اسحاق! دیکھنے کے بعد طلب اثر نہ کرو۔“
احمد بن اسحاق کہتا ہے کہ میں مسرور وخوشحال باہر آیا اور اگلے دن امام(ع) کی خدمت میں جا کر عرض کی:”یابن رسول الله! آپ(ع) نے مجه پر جو احسان فرمایا اس سے میری خوشی میں بے انتها اضافہ ہوا ہے۔ اس بچے میں خضر وذوالقرنین کی صفت کو بھی میرے لئے بیان فرمائیے ؟“
امام(ع) نے فرمایا:”غیبت کا طولانی ہونا، اے احمد۔“
عرض کی :”یا بن رسول الله !اس بچے کی غیبت طولانی ہوگی ؟“
امام(ع) نے فرمایا : هاں، خدا کی قسم ایسا ہی ہوگا۔ غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ اکثر غیبت کے ماننے والے بھی انکار کرنے لگیں گے اور سوائے ان کے کوئی نہ بچے گا جن سے خداوند متعال ہماری ولایت کا اقرار لے چکا ہے او رجن کے دلوں میں ایمان کو لکه دیا ہے اور اپنی روح کے ساته جن کی تائید فرمائی ہے۔اے احمد بن اسحاق! یہ امر خدا میں سے ایک امر، رازِ خدا میں سے ایک راز اور غیب خدا میں سے ایک غیب ہے۔
میں نے جوکچھ دیا ہے اسے لے لو، اسے چهپا کر رکھو اور شاکرین میں سے ہوجاو تاکہ قیامت کے دن ہمارے ساته علیین میں سے ہوسکو۔“(۳)
۴ ۔سنی اور شیعہ روایت کے مطابق آپ(ع) کا ظهور خانہ کعبہ سے ہوگا۔آپ(ع) کے _______دائیں جبرئیل اور بائیں میکائیل ہوں گے۔ چونکہ حضرت جبرئیل(ع) انسان کے حوائج معنوی یعنی افاضہ علوم اور ____________________
۱ کمال الدین وتمام النعمة، باب ۲۵ ، رقم ۴، ص ۲۸۷ ۔
۲ کمال الدین وتمام النعمة، باب ۳۹ ، رقم ۸، ص ۴۱۲ ۔
۳ کمال الدین وتمام النعمة، ص ۳۸۴ و ینابیع المودة،ص ۴۵۸ ۔
معارف الهیہ کا واسطہ، اور حضرت میکائیل(ع) مادی ضروریات یعنی افاضہ ارزاق کا واسطہ ہیں، بنا بر ایں علوم وارزاق کے خزائن کی کلید آپ(ع) کے اختیار میں ہے۔(۱) سنی او رشیعہ روایت میں ظهور کے وقت آپ(ع) کی صورت مبارک کو کوکب درّی سے تشبیہ دی گئی ہے(۲) اور ((له هیبة موسیٰ وبهاء عیسی وحکم داوود وصبر ایوب )) ۳،امام علی رضا(ع) کی حدیث کے مطابق ایسے لباس میں ملبوس ہوں گے کہ ((علیه جیوب النور تتوقد من شعاع ضیاء القدس ))(۴)
۵ ۔الغیبة میں شیخ طوسی اور صاحب عقدالدرر کی روایت کے مطابق آپ(ع) عاشور کے دن ظهور فرمائیں گے(۵) تاکہ( يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِا فَْٔوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِه وَلَوْ کَرِهْ الْکَافِرُوْنَ ) (۶) کی تفسیر ظاہر ہو۔ اور امام حسین علیہ السلام کے پاکیزہ خون سے آبیاری شدہ اسلام کا شجرہ طیبہ آپ کی برکت سے ثمر بخش بنے اور یہ آیت کریمہ( وَمَنْ قُتِلَ مَظُلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّه سُلْطَانًا ) (۷) اپنے عالی ترین مصداق سے منطبق ہو۔
امام زمانہ (علیہ السلام) کی طولانی عمر
ممکن ہے کہ طول عمر، سادہ لوح افراد کے اذهان میں شبهات ایجاد کرنے کا سبب ہو لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک انسان کی عمر کا ہزاروں سال تک طولانی ہونا، نہ تو عقلی طور پر محال ہے او رنہ ہی عادی اعتبار سے، کیونکہ محال عقلی یہ ہے کہ دو نقیضین کے اجتماع یا ارتفاع کا سبب ہو،مثا ل کے طورپر جیسا کہ ہم کہیں کہ کوئی بھی چیز یا ہے یا نہیں ہے، یا مثلاًعدد یا جفت ہے یا طاق،کہ ان کا اجتماع یا ارتفاع عقلا محال ہے اور محال عادی یہ ہے کہ عقلی اعتبار سے تو ممکن ہو، لیکن قوانینِ طبیعت کے مخالف ہو مثال کے طور پر انسان آگ میں گر کر بھی نہ جلے۔
انسان کا ہزار ها سال طول عمر پانا، اور اس کے بدن کے خلیات کا جوان باقی رہنا نہ تو محال عقلی ہے اور نہ محال عادی، لہٰذا اگر حضرت نوح علی نبینا وآلہ وعلیہ السلام کی عمر اگر نو سو پچاس سال یا اس سے زیادہ واقع ہوئی ہے تواس سے زیادہ بھی ممکن ہے اور سائنسدان اسی لئے بقاء حیات ونشاط جوانی کے راز کی جستجو میں تھے اور ہیں۔ جس طرح علمی قوانین وقواعد کے ذریعے مختلف
دہاتوں کے خلیات کی ترکیب میں تبدیلی سے انہیں آفات اور نابود ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور لوہے کو کہ جسے زنگ لگ جاتا ہے اور تیزاب جسے نابود کر دیتا ہے، آفت نا پذیر طلائے ناب بنایاجا سکتا ہے، اسی طرح علمی قوانین وقواعد کے ذریعے ایک انسان کی طولانی عمر بھی عقلی وعملی اعتبار سے ممکن ہے، چاہے ابھی تک اس راز سے پردے نہ اٹہے ہوں۔
اس بحث سے قطع نظر کہ امام زمان(ع) پر اعتقاد، خداوند متعال کی قدرت مطلقہ، انبیاء کی نبوت اور معجزات کے تحقق پر ایمان لانے کے بعد کا مرحلہ ہے، اسی لئے جو قدرت ابراہیم(ع) کے لئے آگ کوسرد اور سالم قرا ر دے سکتی ہے، جادوگروں کے جادو کو عصائے موسی کے دہن کے ذریعے نابود کر سکتی ہے، مردوں کو عیسیٰ کے ذریعے زندہ کر سکتی ہے اور اصحاب کہف کو صدیوں تک بغیر کهائے پیئے نیند کی حالت میں باقی رکھ سکتی ہے ، اس قدرت کے لئے ایک انسان کو ہزاروں سال تک جوانی کے نشاط کے ساته اس حکمت کے تحت سنبهال کر رکھنا نهایت ہی سهل اور آسان ہے کہ زمین پر
____________________
۱ عقدالدرر الباب الخامس وفصل اول الباب الرابع،ص ۶۵ ؛ الامالی للمفید، ص ۴۵ ۔
۲ فیض القدیر، ج ۶، ص ۳۶۲ ، نمبر ۹۲۴۵ ۔کنزالعمال، ج ۱۴ ، ص ۲۶۴ ، نمبر ۳۸۶۶۶ ۔
ینابیع المودة، ج ۲، ص ۱۰۴ ، ج ۳، ص ۲۶۳ ، اور اہل سنت کی دوسری کتابیں۲۲۲ وج ۵۱ ،ص ۸۰ اور دوسرے موارد اور شیعوں کی دوسری کتابیں۔ ، بحار الانوار، ج ۳۶ ، ص ۲۱۷
۳ بحار الانوار،ج ۳۶ ، ص ۳۰۳ ۔
۴ بحار الانوار، ج ۵۱ ، ص ۱۵۲ ۔”اس پر نور کے اس طرح لباس ہیں جو قدس کی روشنی سے روشن رہتے ہیں“۔
۵ الغیبة، ص ۴۵۲ و ۴۵۳ ، عقدالدرر الباب الرابع، فصل اول ، ص ۶۵ ۔
۶ سورہ صف، آیت ۸۔”یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منه سے بجها دیں اور الله اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے چاہے یہ بات کفار کو کتنی ناگوار کیوں نہ ہو“۔
۷ سورہ اسراء، آیت ۳۳ ۔”جو مظلوم قتل ہوتا ہے ہم اس کے ولی کو بدلہ کا اختیار دے دیتے ہیں“۔
حجت باقی رہے اور باطل پر حق کے غلبہ پانے کی مشیت نافذ ہو کر رہے( إِنَّمَا ا مَْٔرُه إِذَا ا رََٔادَ شَيْئاً ا نَْٔيَقُوْلَ لَه کُنْ فَيَکُوْنُ ) (۱)
اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ شهرری میں شیخ صدوق کی قبر ٹوٹی اور آپ کے تر وتازہ بدن کے نمایاں ہونے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آ پ کے جسم پر قوانین طبیعت کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بدن کو فاسد کرنے والے تمام اسباب وعوامل بے کار ہو کر رہ گئے۔ اگر طبیعت کا عمومی قانون امام زمانہ(ع) کی دعا سے پیدا ہونے والے شخص کے بارے میں ٹوٹ سکتا ہے، جس نے آپ(ع) کے عنوان سے ”کمال الدین وتمام النعمة “ جیسی کتاب لکهی ہے، تو خود اس امام(ع) کے بارے میں قانون کا ٹوٹناجو نائب خدا اور تمام انبیاء واوصیاء کا وارث ہے، باعثِ تعجب نہیں ہونا چاہئے۔
امام زمانہ (علیہ السلام) کےکچھ معجزات شیخ الطائفہ اپنی کتاب ”الغیبة“ میں فرماتے ہیں:”غیبت کے زمانے میں آپ(ع) کی امامت کو ثابت کرنے والے معجزات قابل شمارش نہیں“(۲) ۔ اگر شیخ طوسی کے زمانے تک، جنهوں نے ۴۶ ۰ هجری میں وفات پائی ہے، معجزات کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل تھا تو موجودہ زمانے تک معجزات میں کتنا اضافہ ہو چکاہو گا؟!
لیکن اس مقدمے میں ہم، دو مشهور روایتیں پیش کرتے ہیں، جن کا خلاصہ علی بن عیسی اربلی، ۳جو فریقین کے نزدیک ثقہ ہیں، کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ :”امام مهدی(ع) کے متعلق لوگ ما فوق العادة خبریں اور قصے نقل کرتے ہیں جن کی شرح طولانی ہے۔ میں اپنے زمانے میں واقع ہونے والے دو واقعات، جنہیں میرے دوسرے ثقہ بهائیوں کے ایک گروہ نے بھی نقل کیا ہے، ذکر کرتا ہوں:
۱۔حلہ میں فرات او ردجلہ کے درمیان آبادی میں اسماعیل بن حسن نامی شخص رہتا تھا، اس کی بائیں ران پر انسان کی مٹهی کے برابر پهوڑا نکل آیا۔ حلّہ اور بغداد کے اطباء اسے دیکھنے کے بعد لا علاج قرار دے چکے تھے۔ لہٰذاوہ سامرہ آگیا اور دو ائمہ حضرت امام هادی اور امام عسکری علیہما السلام کی زیارت کرنے کے بعد اس نے سرداب میں جاکر خدا کی بارگاہ میں دعا و گر یہ وزاری کی اور امام زمانہ(ع) کی خدمت میں استغاثہ کیا، اس کے بعد دجلہ کی طرف جاکر غسل کیا اور اپنا لباس پهنا۔
معاًاس نے دیکھا کہ چار گهڑسوار شهر کے دروازے سے باہر آئے۔ ان میں سے ایک بوڑها تھا جس کے هاته میں نیزہ تھا، ایک جوان رنگین قبا پهنے ہوئے تھا، وہ بوڑها راستے کی دائیں جانب اور دوسرے دو جوان راستے کی بائیں جانب اور وہ جوان جس نے رنگین قبا پهن رکھی تھی ان کے درمیان راستے پر تھا۔
رنگین قبا والے نے پوچها :”تم کل اپنے گهر روانہ ہو جاو گے ؟“
میں نے کها:”هاں۔“ اس نے کها:”نزدیک آو ذرا دیکھوں تو تمہیں کیا تکلیف ہے ؟“
اسماعیل آگے بڑها، اس جوان نے اس پهوڑے کو هاته سے دبایا اور دوبارہ زین پر سوار ہوگیا۔
بوڑہے نے کها:”اے اسماعیل ! تم فلاح پا گئے، یہ امام(ع) تھے۔“
وہ روانہ ہوئے تو اسماعیل بھی ان کے ساته ساته چلنے لگا، امام(ع) نے فرمایا:”پلٹ جاو ۔ٔ“
اسماعیل نے کها:” آپ سے ہر گز جدا نہیں ہوں گا۔“ امام(ع) نے فرمایا:”تمهارے پلٹ جانے میں مصلحت ہے۔“ اسماعیل نے دوبارہ کها:”آپ سے ہر گز جدا نہیں ہوسکتا۔“ بوڑہے نے کها:”اسماعیل !تمہیں شرم نہیں آتی، دو مرتبہ امام نے فرمایا، پلٹ جاو او رتم مخالفت کرتے ہو؟“
اسماعیل وہیں رک گیا، امام چند قدم آگے جانے کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
”جب بغداد پهنچو گے، ابو جعفر یعنی خلیفہ مستنصر بالله، تمہیں طلب کرے گا۔ جب اس کے پا س جاو اور تمہیں کوئی چیز دے، اس سے نہ لینا اور ہمارے فرزند رضا سے کهنا علی بن عوض کو خط لکہیں،
میں اس تک پیغام پهنچا دوں گا کہ جو تم چاہو گے تمہیں عطا کر ے گا۔“
اس کے بعد اصحاب کے ساته روانہ ہو گئے اور نظروں سے اوجهل ہونے تک اسماعیل انہیں دیکھتا رہا۔ غم وحزن اور افسوس کے ساتهکچھ دیر زمین پر بیٹه کر ان سے جدائی پر روتا رہا۔ا س کے
____________________
۱ سورہ یس، آیت ۸۲ ۔”اس کا صرف امر یہ ہے کہ کسی شئے کے بارے میں یہ کهنے کا ارادہ کر لے کہ ہو جااور وہ شئے ہوجاتی ہے“۔
۲ الغیبةشیخ طوسی، ص ۲۸۱ ۔
۳ کشف الغمة، ج ۲، ص ۴۹۳ ۔
بعد سامرہ آیا تو لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوکر پوچهنے لگے کہ تمهارے چهرے کا رنگ متغیر کیوں ہے ؟ اس نے کها: کیا تم لوگوں نے شهر سے خارج ہونے والے سواروںکو پہچانا کہ وہ کون تھے ؟
انهوں نے جواب دیا: وہ باشرافت افراد ہیں، جو بھیڑوں کے مالک ہیں۔ اسماعیل نے کها: وہ امام(ع) اور آپ (ع)کے اصحاب تھے اور امام (ع)نے میری بیماری پر دست شفا پهیردیا ہے۔
جب لوگوں نے دیکھا کہ زخم کی جگہ کوئی نشان تک باقی نہیں رہا، اس کے لباس کو بطور تبرک پهاڑ ڈالا۔ یہ خبر خلیفہ تک پهنچی، خلیفہ نے تحقیق کے لئے ایک شخص کو بھیجا۔
اسماعیل نے رات سرداب میں گزاری اور صبح کی نماز کے بعد لوگوں کے ہمراہ سامراء سے باہر آیا، لوگوں سے خدا حافظی کے بعد وہ چل دیا، جب قنطرہ عتیقہ پهنچا تو اس نے دیکھا کہ لوگوں کا هجوم جمع ہے اور ہر آنے والے سے اس کا نام ونسب پوچه رہے ہیں۔نشانیوں کی وجہ سے اسے پہچاننے کے بعد لوگ بعنوان تبرک اس کا لباس پهاڑ کر لے گئے۔
تحقیق پر مامور شخص نے خلیفہ کو تمام واقعہ لکها۔ اس خبر کی تصدیق کے لئے وزیر نے اسماعیل کے رضی الدین نامی ایک دوست کو طلب کیا۔ جب دوست نے اسماعیل کے پاس پهنچ کر دیکھا کہ اس کی ران پر پهوڑے کا اثر تک باقی نہیں ہے، وہ بے ہوش ہوگیا اور ہوش میں آنے کے بعد اسماعیل کو وزیر کو پاس لے گیا، وزیر نے اس کے معالج اطباء کو بلوایا اور جب انهوں نے بھی معائنہ کیا او رپهوڑے کا اثر تک نہ پایا تو کهنے لگے :”یہ حضرت مسیح کا کام ہے“، وزیر نے کها : ”هم جانتے ہیں کہ کس کا کام ہے۔“
وزیر اسے خلیفہ کے پاس لے گیا، خلیفہ نے اس سے حقیقت حال کے متعلق پوچها، جب واقعہ بیان کیا تو اسے ہزار دینار دئیے، اسماعیل نے کها: میں ان سے ایک ذرے کو لینے کی جرا تٔ نہیں کرسکتا۔ خلیفہ نے پوچها: کس کا ڈر ہے ؟ اس نے کها: ”اس کا جس نے مجھے شفا دی ہے، اس نے مجھ سے کها ہے کہ ابو جعفر سےکچھ نہ لینا۔“ یہ سن کر خلیفہ رونے لگا۔
علی بن عیسیٰ کہتے ہیں: میں یہ واقعہکچھ لوگوں کے لئے نقل کر رہا تھا، اسماعیل کا فرزند شمس الدین بھی اس محفل میں موجود تھا جسے میں نہیں پہچانتا تھا، اس نے کها: ”میں اس کا بیٹا ہوں۔“
میں نے اس سے پوچها :” کیا تم نے اپنے والد کی ران دیکھی تھی جب اس پر پهوڑا تھا؟“ اس نے کها:”میں اس وقت چهوٹا تھا لیکن اس واقعے کو اپنے والدین، رشتہ داروں او رہمسایوں سے سنا ہے اور جب میں نے اپنے والد کی ران کو دیکھا تو زخم کی جگہ بال بھی آچکے تھے۔“
اور علی بن عیسیٰ کہتے ہیں :”اسماعیل کے بیٹے نے بتایا کہ صحت یابی کے بعد میرے والد چالیس مرتبہ سامراء گئے کہ شاید دوبارہ ان کی زیارت کر سکیں۔“
۲۔علی بن عیسیٰ کہتے ہیں:” میرے لئے سید باقی بن عطوہ علوی حسنی نے حکایت بیان کی کہ ان کے والد عطوہ امام مهدی(ع) کے وجود مبارک پر ایمان نہ رکھتے تھے اور کها کرتے تھے :”اگر آئے اور مجھے بیماری سے شفا دے تو تصدیق کروں گا۔“ اور مسلسل یہ بات کها کرتے تھے۔
ایک مرتبہ نماز عشاء کے وقت سب گهر والے جمع تھے کہ والد کے چیخنے کی آواز سنی، تیزی سے ان کے پاس گئے۔ انهوں نے کها:”امام(ع) کی خدمت میں پهنچو کہ ابھی ابھی میرے پاس سے باہر گئے ہیں۔“
باہر آئے تو ہمیں کوئی نظر نہیں آیا، دوبارہ والد کے پاس پلٹ کر آئے تو انهوں نے کها: ”ایک شخص میرے پاس آیا اور کها: اے عطوہ، میں نے کها: لبیک، اس نے کها : میں ہوں مهدی، تمہیں اس بیماری سے شفا دینے آیا ہوں اس کے بعد اپنا دست مبارک بڑها کر میری ران کو دبایا او ر واپس چلے گئے۔“
اس واقعہ کے بعد عطوہ هرن کی طرح چلتے تھے ۔
زمانہ غیبت میں امام زمانہ (علیہ السلام) سے بهرہ مند ہونے کا طریقہ:
اگر چہ امام زمانہ(ع) ہماری نظروں سے غائب ہیں اور اس غیبت کی وجہ سے امت اسلامی آپ(ع) کے وجود کی ان برکات سے محروم ہے جو آپ(ع) کے ظهور پر متوقف ہیں، لیکن بعض فیوضات ظهور سے وابستہ نہیں ہیں۔
آپ(ع) کی مثال آفتاب کی سی ہے، کہ غیبت کے بادل پاکیزہ دلوں میں آپ(ع) کے وجود کی تاثیر میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، اسی طرح جیسے سورج کی شعاو ںٔ سے اعماق زمین میں موجود نفیس جواہر پروان چڑهتے ہیں اور سنگ و خاک کے ضخیم پردے اس گوہر کو آفتاب سے استفادہ کرنے سے نہیں روک سکتے۔
جیسا کہ خداوند متعال کے الطاف خاصّہ سے بهرہ مند ہونا دوطریقوں سے میسر ہے۔
اول۔جهاد فی الله کے ذریعے، یعنی خدا کے نور عنایت کے انعکاس میں رکاوٹ بننے والی کدورتوں سے نفس کوپاک کرنے سے۔
دوم۔اضطرار کے ذریعے جو فطرت اور مبدء فیض کے درمیان موجود پردوں کو ہٹاتا ہے( ا مََّٔن يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَ يَکْشِفُ السُّوْءَ ) (۱)
اسی طرح فیض الٰهی کے وسیلے سے استفادہ کرنا جو اسم اعظم ومَثَلِ اعلیٰ ہے، دو طریقوں سے ممکن ہے :
اول۔فکری،ا خلاقی اور عملی تزکیہ کہ ((ا مٔا تعلم ا نٔ ا مٔرنا هذا لاینال إلا بالورع ))(۲)
دوم۔اضطرار اوراسباب مادی سے قطع تعلق کے ذریعے کہ اس طریقے سے بہت سے افراد جن کے لئے کوئی چارہ کار نہ بچا تھا اور جو بالکل بے دست وپا ہو کر رہ گئے تھے، امام(ع) سے استغاثہ کرنے کے بعد نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
آخر میں ہم ساحت مقدس امام زمانہ(ع) کے حضور میں اپنے قصور وتقصیر کا اعتراف کرتے ہیں۔آپ(ع) وہ ہیں جس کے وسیلے سے خدا نے اپنے نور اور آپ(ع) ہی کے وجودِ مبارک سے اپنے کلمے کو پایہ تکمیل تک پهنچایا ہے، کمالِ دین امامت سے ہے اور کمال امامت آپ(ع) سے ہے اور آپ (ع)کی ولادت کی شب یہ دعا وارد ہوئی ہے ((اللّٰهم بحق لیلتنا هذه ومولودها وحجتک وموعودها التی قرنت إلی فضلها فضلک، فتمّت کلمتک صدقاً و عدلاً، لا مبدّل لکلماتک و لا معقّب لآیاتک، و نورک المتعلق و ضیائک المشرق و العلم النور فی طخیاء الدیجور الغائب المستور جلّ مولده و کرم محتده، و الملائکة شَهَّدَه واللّٰه ناصره و مو ئّده إذا آن میعاده، والملائکة امداده، سیف اللّٰه الذی لا ینبو، و نوره الذی لا یخبو، و ذو الحلم الذی لا یصبو ))(۳)
فروع دین
اس مقدمے میں فروع دین کے اسرار اور حکمتوں کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں، اس لئے کہ فروع دین، انسان کے ذاتی اور اجتماعی احوال سے مربوط قوانین اور خالق و مخلوق کے ساته، اس کے رابطے کا نام ہے، کہ اس سے متعلق فقہ کا ایک حصہ اڑتالیس ابواب پر مشتمل ہے، لیکن اس مجموعے میں سے ہم نماز و زکات کی حکمت کو مختصر طور پر بیان کرتے ہیں:
الف۔ نماز
نماز چند اجزا، شرائط اور موانع پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بعض کی حکمت ذکر کرتے ہیں:
نماز ادا کرنے کی جگہ مباح ہونے کی شرط انسان کو متوجہ کرتی ہے کہ کسی کے حق سے تجاوز نہ کرے اور نماز میں خبث و حدث سے پاکیزہ ہونے کی شرط اسے اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ پانی سے دہل جانے والی نجاست یا مثال کے طور پر روح کے آئینے میں بے اختیار جنابت سے پیدا ہونے والی کدورت، نماز کے باطل ہونے کا سبب اور ذوالجلال و الاکرام کی بارگاہ میں جانے سے مانع ہے، لہٰذا جھوٹ، خیانت، ظلم، جنایت اور اخلاق رذیلہ جیسے قبیح اعمال، انسان کو حقیقتِ نماز سے محروم کرنے میں، جو مومن کی معراج ہے، کتنی تا ثٔیر رکھتے ہوں گے۔اذان، جو خدا کے حضور حاضر ہونے کا اعلان ہے اور اقامت جو مقام قرب کی طرف روح کی پرواز کے لئے ایک مقدماتی عمل ہے، معارفِ دین کا خلاصہ ہیں۔
____________________
۱ سورہ نمل، آیت ۶۲ ۔”بهلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریا د کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے“۔
۲ بحار الانوار، ج ۴۷ ، ص ۷۱ ۔”کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارے امر تک نائل نہیں ہوسکتے مگر تقویٰ کے ذریعہ“۔
۳ مصباح متهجد، ص ۸۴۲ ۔
اسلام کی تعلیم و تربیت بیان کرنے کے لئے فقط اذان و اقامت میں یہ تا مٔل اور تفکر ہی کافی ہے کہ ان دونوں میں تکبیر سے ابتداء اور تهلیل پر اختتام ہوتا ہے اور چونکہ تکبیر کی ابتداء اور تهلیل کی انتها ((اللّٰہ)) ہے، لہٰذا اس مکتب نماز سے نماز گذار یہ سیکهتا ہے کہ( هُوَاْلا ؤََّلُ وَاْلآخِرُ ) (۱)
اذان و اقامت کی ابتداء و انتهاء میں لفظ ((اللّٰہ)) کا ہونا، بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت اورمحتضر کے لئے کلمہ توحید کی تلقین کا مستحب ہونا، اس بات کا اعلان ہے کہ انسان کی زندگی کی ابتداء و انتهاء خدا کے نام پر ہونا چاہیے۔
تکبیر کے بعد ((لاإله إلا اللّٰه )) کی دو بار گواہی دیئے جانے کے بعد آخر میں اس جملے کو تکرار کرنا انسان کے علمی و عملی کمال میں اس کلمہ طیبّہ کے کردار کی وضاحت کرتا ہے۔
لفظ و معنی کے اعتبار سے اس جملے میں یہ خصوصیات موجود ہیں:
اس جملے کے حروف بھی وہی کلمہ ((اللّٰہ)) والے حروف ہیں اور چونکہ اظهار کئے بغیر اسے زبان سے ادا کیا جاسکتا ہے، لہٰذا اس میں ریاکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
نفی و اثبات پر مشتمل ہے، لہٰذا اس پر راسخ اعتقاد انسان کو اعتقادات، اخلاق اور اعمال میں باطل کی نفی اور اثباتِ حق تک پهنچاتا ہے اور حدیث سلسلة الذهب کے معانی آشکار و واضح ہوتے ہیں کہ ((کلمة لاإله إلا اللّٰه حصنی فمن دخل حصنی ا مٔن من عذابی ))(۲)
اور بشریت، رسول اکرم(ص) کے بیان کی گهرائی کو درک کرسکتی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:
((قولوا لاإله إلا اللّٰه تفلحوا ))(۳) اور یهی منفی و مثبت ہیں جو انسان کی جان کو مرکز وجود کے جوہر سے متصل کر کے فلاح و رستگاری کے نور سے منور کرتے ہیں۔
((لاإله إلا اللّٰه )) میں تدّبر کے وسیلے سے، روحِ نماز گزار میں پاکیزگی آنے پر وہ اس مقام تک رسائی حاصل کرلیتا ہے کہ کہے :( إِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ وَالْا رََٔضَ حَنِيْفاً وَّ مَا ا نََٔا مِن الْمُشْرِکِيْنَ ) (۴) اور فاطر السماوات والارض کی طرف توجہ کے ذریعے زمین و آسمان سے گذر کر، سات تکبیروں کی مدد سے سات حجابوں سے بھی گذر جاتا ہے اور هاتهوں کو کانوں تک بلند کر کے خدا کے سوا باقی سب کو پیٹه پیچہے ڈال دیتا ہے۔ اس کی ہر حدّو وصف سے کبریائی کا اعلان کر کے اس کی عظمت کے سامنے سے اوہام و افکار کے پردے ہٹا دیتا ہے ((اللّٰه ا کٔبر من ا نٔ یوصف )) اور خدا سے کلام کے لئے تیار ہو جاتا ہے، کیونکہ نماز، خدا کے ساته انسان کی گفتگو ہے اور قرآن، انسان کے ساتھ خدا کی گفتگو ہے۔ لیکن خدا کے ساته انسان کی گفتگو کلام خدا ہی سے شروع ہوتی ہے، اس لئے کہ انسان نے غیر خدا سے جوکچھ سیکها ہے اس کے ذریعے خدا کی حمد و تعریف ممکن ہی نہیں ہے اور کلام خدا کی عزت و حرمت کی بدولت اس کی گفتگو سنے جانے کے قابل ہوتی ہے ((سمع اللّٰه لمن حمده ))۔
((لا صلاة له إلّا ا نٔ یقرا بها ))(۵) کے تقاضے کے مطابق نماز کا حمد پر مشتمل ہونا ضروری ہے اور جس طرح قرآن جو خالق کی مخلوق کے ساته گفتگو ہے، سورہ حمد سے شروع ہوا ہے، نماز بھی چونکہ مخلوق کی خالق کے ساته گفتگو ہے، سورہ حمد سے شروع ہوتی ہے۔
نماز گزار کے لئے ضروری ہے کہ وہ حمد و سورہ کو کلام خدا کی قرائت کی نیت سے پڑہے لیکن روحِ نماز، نماز کے اقوال و افعال میں موجود معانی، اشارات اور لطیف نکات کی طرف توجہ دینے سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا ہم سورہ حمد کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
اس سورہ مبارکہ میں مبدا و معاد کی معرفت، اسماء و صفات خداوندمتعال، خدا کا انسان اور انسان کا خدا سے عهد اور بعض روایات ٦ کے مطابق اس سورے میں الله کے اسم اعظم کو اجزاء میں تقسیم
____________________
۱ سورہ حدید، آیت ۳۔”وہی اول ہے وہی آخر“۔
۲ بحار الانوار، ج ۴۹ ، ص ۱۲۳ ۔”کلمہ لا الہ الاالله میرا قلعہ ہے جو اس میں داخل ہو گیا وہ میرے عذاب سے بچ جائے گا“۔
۳ بحار الانوار، ج ۱۸ ، ص ۲۰۲ ۔”لا الہ الا الله کهوتاکہ فلاح و بهبودی پاسکو“۔
۴ سورہ انعام، آیت ۷۹ ۔ ”میں تو سچے دل اور اطاعت گزاری کے لئے صرف اس کی طرف اپنا رخ کرتا ہوں جس نے آسمانوں کو اوز زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں“۔
۵ وسائل الشیعہ، ج ۶، ص ۳۷ ، با ب اول از ابواب قرائت حدیث ۱۔”اس کی نماز نہ ہو گی مگر سورہ حمد کے ساته“۔
۶ وسائل الشیعہ، باب اول از ابواب قرائت حدیث ۵، ج ۶، ص ۳۸ ۔
کرکے سمو دیا گیا ہے۔ اس سورہ مبارکہ کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کا نصف یعنی( مَالِکِ يَوْم الدِّيْنِ ) تک خدا کے لئے اور بقیہ حصہ یعنی( اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ) سے آخر تک انسان کے لئے اور درمیانی آیت خدا و عبد کے درمیان اس طرح تقسیم ہوئی ہے کہ عبادت خدا کے لئے اور استعانت انسان کے لئے ہے۔
سورے کی ابتداء((بِسْمِ اللّٰهِ )) سے ہے کہ صبحِ رسالت بھی اسی سے طلوع ہوئی تھی( اِقْرَءْ بِاسْم رَبَِّکَ ) (۱)
اسم الله کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ وہ اسمِ ذات ہے جس میں تمام اسماء حسنیٰ جمع ہیں( وَلِلّٰه الْا سَْٔمَاءُ الْحُسْنیٰ فَادْعُوْهُ بِهَا ) (۲)
اور اس سے مراد ایسا معبود ہے جس کے بارے میں مخلوق متحيّر اور اس کی پناہ چاہتے ہیں
((عن علی (ع): اللّٰه معناه المعبود الذی یا لٔه فیه الخلق و یوله إلیه )) ۳ اور خدا کی نسبت انسان کے لئے جو کمال معرفت ممکن ہے وہ یہ ہے کہ اس کی معرفت کو نہ پاسکنے کا ادراک رکھتا ہو۔
((اللّٰہ)) کی صفات ((رحمٰن و رحیم )) بیان کی گئی ہیں اس کی رحمتِ رحمانيّہ و رحیميّہ کی شرح اس مقدمے میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ بس فقط یہ بات مورد توجہ رہے کہ خداوندمتعال نے انسان سے اپنے کلام اور اپنے ساته انسان کے کلام کو( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ) سے شروع فرمایا، اس آسمانی جملے کو مسلمانوں کے قول وفعل کا سرچشمہ قرار دیا اور پانچ واجب نمازوں میں صبح و شام اس جملے کو تکرار کرنے کا حکم فرمایا ہے اور انسان کو یہ تعلیم دی کہ نظام آفرنیش کا دارومدار رحمت پر ہے اور کتاب تکوین و تشریع رحمت سے شروع ہوتی ہے۔
اس کی رحمتِ رحمانيّہ کی بارش ہر مومن و کافر اور متقی و فاجر پر ہوتی ہے۔ جس طرح اس کی رحمت رحیمیہ کی شعاع سے ہر پاک دل روشن ہوتا ہے( کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلیٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ) (۴)
دین خدا، دین رحمت اور اس کا رسول( رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ) (۵) ہے اور دین میں موجود حدود و تعزیرات بھی رحمت ہیں۔ یہ مطلب مراتبِ امر بہ معروف و نهی از منکر کے ذریعے واضح ہو جاتا ہے کہ اگر پیکر اجتماع کا ایک عضو، فرد و معاشرے کی مصلحت کے برخلاف عمل کرے یا فردی و نوعی فساد کا مرتکب ہو، تو سب سے پهلے ملائمت و نرمی کے ساته اس کے علاج کی کوشش کرنا ضروری ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ بن عمران (ع)، نو معجزات کے ہوتے ہوئے جب فرعون جیسے طاغوت کے زمانے میں مبعوث ہوئے تو خداوندمتعال نے آپ اور آپ کے بهائی هارون کو حکم دیا کہ اس کے ساته نرمی سے پیش آئیں کیونکہ بعثت کا مقصد تسلّط و قدرت نہیں بلکہ تذکر، خشیت اور ہدایت ہے( فَقُوْلَا لَه قَوْلًالَيِّنًا لَّعَلَّه يَتَذَکَّرُا ؤَْ يَخْشٰی ) (۶) اور جب تک طبابت کے ذریعے علاج ممکن ہو اس عضو کو نشتر نہیں لگانا چاہیے اور اگر دوا سے علاج ممکن نہ ہو تو معاشرے کے جسمانی نظام میں خلل ڈالنے والے فاسدمادے کو نشتر کے ذریعے نکال دینا چاہئے اورجهاں تک ممکن ہو اس عضو کی حفاظت ضروری ہے اور اگر نشتر کے ذریعے بھی اس کی اصلاح نہ ہو تو معاشرے کی سلامتی کے لئے اسے پیکر اجتماع سے جدا کردینا ضروری ہے۔
اسی لئے نظامِ تکوین اورقوانین دین کی تفسیر( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ) ہے۔ اس تعلیم و تربیت کے ساته خدا کے بندوں کے لئے ہر مسلمان کو رحمت کا پیام آور ہونا چاہیے۔
خدا کے نام سے شروع کرنے کے بعد نماز گذار( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ) کے جملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ تمام تعریفیں خدا کے لئے ہیں، اس لئے کہ وہ رب العالمین ہے اور ہر کمال و جمال اسی کی تربیت کا مظهر ہے۔ یہ جملہ کہتے وقت اس کی ربوبیت کے آثار کو اپنے وجود اور کائنات میں
دیکھنے کے بعد، آسمان، زمین، جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان، تمام تعریفوں کوفقط اسی کی ذات سے منسوب کرتے ہیں۔ اور چونکہ پست ترین موجودات سے لے کر کائنات کے اعلیٰ ترین وجود تک میں،
____________________
۱ سورہ علق، آیت ۱۔”اپنے پروردگار کے نام سے پڑهو“۔
۲ سورہ اعراف، آیت ۱۸۰ ۔”خدا کے اسماء حسنیٰ ہیں پس اس کو ان کے وسیلہ سے پکارو“۔
۳ بحار الانوار، ج ۳، ص ۲۲۱ ۔”حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: الله کا معنی ایسا معبود ہے کہ مخلوق جس میں متحیر و حیران ہے اور اس کی پناہ میں رہتی ہے“۔
۴ سورہ انعام، آیت ۵۴ ۔”تمهار ے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرار دے لی ہے“۔
۵ سورہ انبیاء، آیت ۱۰۷ ۔”رحمت ہے عالمین کے لئے “۔
۶ سورہ طہ، آیت ۴۴ ۔”اس کے ساته نرمی کے ساته بات کرو شاید پند ونصیحت قبول کرے یا خوف کهائے“۔
خدا کی تربیت کے آثار اس کی عمومی و خصوصی رحمت کا ظهور ہیں، لہٰذا دوبارہ( اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ) کو اپنی زبان پر جاری کرتا ہے۔
فضل و رحمتِ خدا میں مستغرق ہوتے ہوئے اس غرض سے کہ کہیں عدلِ خدا سے غافل نہ ہو جائے کہتا ہے:( مَالِکِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) اس لئے کہ معصیت، خدا کی ہتک حرمت ہے اور لامتناہی عظمت کی حرمت لامتناہی ہوتی ہے اور لامتناہی کی ہتک حرمت کسی بھی ہتک حرمت کے ساته قابل قیاس نہیں ہے اور انسان کے بارے میں جس هستی کے حق اور نعمتوں کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، اس هستی کی نافرمانی کی سزا بھی اس عمل کے تناسب سے ہوگی۔
اور ہر گناہ میں صرف ہونے والی قوت و قدرت اسی دنیا سے حاصل شدہ ہے، اس لئے کہ انسان کی زندگی اس دنیا سے وابستہ ہے۔ انسان جو گناہ انجام دیتا ہے وہ زمین و آسمان کی نعمتوں کے ساته خیانت ہے اور اسے حساب و کتاب اور روز جزاء درپیش ہیں، کہ خدا نے فرمایا ہے( يَا ا ئَُّهَا النَّاس اتَّقُوْا رَبَّکُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِيْمٌ ة يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا ا رَْٔضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْل حَمْلَهَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکَاریٰ وَ مَا هُمْ بِسُکَاریٰ وَلٰکِنْ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ ) (۱) ،اسی لئے( مَالِکِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) پر توجہ عرفاء کو لرزہ بر اندام کر دیتی ہے، کہ امام العارفین حضرت زین العابدین(ع) جب اس جملے پر پهنچتے تھے تو اتنا دہراتے تھے کہ((کاد ا نٔ یموت ))(۲)
( اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ) اور( مَالِکِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) نماز گذار کو خوف و رجا کے بال و پر عطا کرتے اور خدا کی رحمت و عزت سے آشنا کرتے ہیں۔ پهلے جملے میں انسان کی نظر مغفرت و ثواب اور دوسرے جملے میں سزا و عقاب پر ہوتی ہے۔
اور اس وقت الوہّیت، ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت، فضل اور عدل خدا کی عظمت اس کے دل کو تسخیر کر لیتی ہیں اور وہ صیغہ غائب سے خطاب کی طرف اس ادراک کے ساته متوجہ ہوتا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، لہٰذا کہتا ہے:( إِيَّاکَ نَعْبُدُ ) اور اس توجہ کے ساته کہ یہ عبادت بھی اسی کی ہدایت اور حول و قوت سے ہے، کہتا ہے:( وَإِيَّاکَ نَسْتَعِيْنُ ) ۔
( نَعْبُدُ ) میں دیکھتا ہے کہ عبادت عبد کی جانب سے ہے اور( نَسْتَعِيْنُ ) میں اسے نظر آتا ہے کہ مدد خدا کی جانب سے ہے کہ ((لاحول ولاقوة الّا باللّٰه ))
( إِيَّاکَ نَعْبُدُ ) میں نظریہ جبر اور( وَإِيَّاکَ نَسْتَعِيْنُ ) میں نظریہ تفویض کی نفی ہے اور انہیں اس لئے صیغہ جمع کے ساته بیان کیا گیا ہے تا کہ خود کو مسلمانوں سے جدا نہ سمجھے اور( إِيَّاکَ نَعْبُد وَإِيَّاکَ نَسْتَعِيْن ) میں کلمہ توحید اور توحیدِ کلمہ، دونوں کو جامہ عمل پهناتا ہے۔
فریضہ عبودیت انجام دینے کے بعد عبد کی مولا سے دعا و درخواست کی باری ہے، لہٰذا کہتا ہے:( اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ) ، انسانیت کی علوہمت اور الوہيّت کے جلال و اکرام کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے قیمتی ترین گوہر کی درخواست کی جائے اور وہ گوہر صراط مستقیم کی ہدایت ہے جو ہر طرح کی افراط و تفریط سے دور ہے اور راہ مستقیم متعدد نہیں ہیں۔ خدا ایک ہے اور اس کی راہ بھی ایک اور اس راستے کی ابتداء انسان کے نقطہ نقص سے ہوتی ہے( وَاللّٰهُ ا خَْٔرَجَکُمْ مِنْ بُطُوْنِ ا مَُّٔهَاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْن شَيْئاً ) (۳) اور کمالِ مطلق اس کی انتها قرار پاتی ہے کہ ((ماذا وجد من فقدک، وماالذی فقدمن وجدک ))(۴) اور( وَا نَّٔ إِلیٰ رَبِّکَ الْمُنْتَهیٰ ) (۵)
( صِرَاطَ الَّذِيْنَ ا نَْٔعَمْتَ عَلَيْهِمْ ) راہ مستقیم ان کا راستہ ہے جن پر خداوندعالم نے اپنی نعمتیں نازل فرمائی ہیں( وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَا ؤُْلٰئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ ا نَْٔعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّيْنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَ حَسُنَ ا ؤُْلٰئِکَ رَفِیقْاً ) (۶)
____________________
۱ سورہ حج، آیت ۱،۲ ۔”لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شئے ہے۔ جس دن تم دیکھو گے کہ دودہ پلانے والی عورتیں اپنے دودہ پیتے بچوں سے غافل ہو جائیں گی اور حاملہ عورتیں اپنے حمل کو گرادیں گی اور لوگ نشہ کی حالت میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ مست نہیں ہوں گے بلکہ الله کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا“۔
۲ بحار الانوار، ج ۴۶ ، ص ۱۰۷ ۔”نزدیک تھا کہ مرجائے“۔
۳ سورہ نحل، آیت ۷۸ ۔”خدا نے تم کو تمهارے ماو ںٔ کے پیٹ سے با ہر نکالا حالانکہ تمکچھ نہیں جانتے تھے“۔
۴ بحار الانوار، ج ۹۵ ، ص ۲۲۶ ۔”جس نے تجہے کهودیا اس کیا ملا ؟اور وہ جس نے تجہے پالیا اس نے کیا کهویا“۔
۵ سورہ نجم، آیت ۴۲ ۔”بس ہر امر کی انتها تمهارے پروردگار کی طرف ہے“۔
۶ سورہ نساء، آیت ۶۹ ۔”اور جو بھی الله اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساته رہے گاجن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں انبیاء صدیقین،شهداء اور صالحین اور یهی بہترین رفقاء ہیں“۔
مسلمان اپنے خدا سے انبیا، مرسلین، شهدا اور صدیقین کی صف میں شامل ہونے کی دعا اور غضبِ الٰهی میں گرفتار و گمراہ لوگوں سے دوری کی درخواست کرتا ہے۔ اس دعا کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان خود کو اخلاقِ انبیاء سے آراستہ اور اہل غضب و اضلال کے رويّے سے اجتناب کرے اور( اَللّٰه وَلِیُّ الَّذِيْنَ آمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلیَ النُّوْرِ ) (۱) کا تقاضا یہ ہے کہ ذات قدوس جو( نُوْرُالسَّمَاوَات وَالْا رَْٔضِ ) (۲) ہے کی طرف متوجہ رہے اور حقیقت ایمان سے منور دل کی آنکهوں سے اس کی عظمت کو جانے اور حکمِ( فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِيْمِ ) (۳) کو بجالاتے ہوئے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور کہے ((سبحان ربی العظیم و بحمدہ))
رکوع سے سر اٹهائے اور سجدے کے ذریعے حاصل ہونے والے مقام قرب کے لئے تیار ہو اور حکمِ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ اْلا عََٔلیٰ ) (۴) کی اطاعت کرتے ہوئے خاک پر سجدہ ریز ہو جائے اور پیشانی خاک پر رکھ کر اس عنایت کو یاد کرے کہ اس ناچیز خاک سے خلق کرنے کے با وجود اس کے دل کو چراغِ عقل سے روشن و منور فرمایا، خاک پر سر رکھنے سے( وَلَقَدْ خَلَقْنَا اْلإِنْسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِّنْ طِيْنٍ ) (۵) پر نظر کرے اور کہے ((سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده )) اور سر اٹهاتے وقت( ثُمَّ ا نَْٔشَا نَْٔاهُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللّٰه ا حَْٔسَنُ الْخَالِقِيْنَ ) (۶)
اور اپنی حیات دنیوی پر نظر ڈالے اور کہے ((اللّٰه ا کٔبر ))۔ دوبارہ خاک پر گر کر اس دن کو یاد کرے جب اس کی منزل اس تاریک و اندہیری خا ک میں ہوگی۔ زندگی کے بعد موت پر نظر کرے اور دوبارہ سر اٹها کر موت کے بعد کی زندگی کو دیکھے اور دو سجدوں میں( مِنْهَا خَلَقْنَاکُمْ وَ فِيْهَا نُعِيْدُکُمْ و مِنْهَا نُخْرِجُکُمْ تَارَةً ا خُْٔریٰ ) (۷) کے معنی کو سمجھے اور اپنے وجود کے مراحل کی معرفت کو طے کرے۔
جوکچھ بیان کیا گیا ہے وہ نماز میں موجود حکمت و ہدایت کے انوارِ خورشید میں سے ایک شعاع کی مانند ہے اور سورہ حمد کے بعد پڑهی جانے والی سورہ، اذکار، قیام، قعود، قنوت، تسبیحات اربعہ، تشهد، سلام اور آداب نماز کے اسرار کو اختصار کی غرض سے بیان نہیں کیا گیا ہے۔
یہ تھا اسلام میں عبادت کا نمونہ، اس کے مدمقابل عیسائیوں کی عبادت یہ ہے:”اور عبادت کرتے ہوئے سابقہ امتوں کی طرح بے کار میں تکرار نہ کرو، چونکہ وہ گمان کرتے تھے کہ زیادہ کهنے کے سبب ان کی عبادت قبول ہوگی، پس ان کی طرح نہ ہونا، کیونکہ تمهارا باپ، اس سے پهلے کہ تم سوال کرو، تمهاری حاجات سے واقف ہے، پس تم اس طرح سے دعا مانگو: اے ہمارے پدر! کہ تیرا نام آسمان پر مقدس رہے۔ تیرا ملکوت آجائے، جس طرح تیرا ارادہ آسمان میں ہے زمین میں ویسے انجام پائے۔ ہمیں
آج کے دن کافی ہو جانے والی روٹی دے دے اور ہمارے قرضے معاف فرما دے جیسا کہ ہم بھی اپنے قرض داروں کو بخش دیتے ہیں۔ ہمیں امتحان میں نہ ڈال، بلکہ ہمیں شریر سے نجات دے، کیونکہ ملکوت، قوت و جلال ابدالآباد تک تیرے لئے ہے۔ آمین“(۸)
هم اس عبادت میں بعض نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱۔ ”اے ہمارے پدر!“ خدا پر باپ کا اطلاق یا حقیقی ہے یا مجازی، اگر حقیقی ہو تو خدا کو تولید کی نسبت دینا، درحقیقت اس کے لئے مخلوق کی صفت ثابت کرنا اور خالق کو مخلوق تصور کرنا ہے اور اگر مجازی ہو تو تشبیہ ہے اور خالق کی مخلوق سے تشبیہ، مخلوق کی صفت کو خالق کے لئے ثابت کرنا ہے۔ اور ایسی عبادت مخلوق کے لئے ہوسکتی ہے، خالق کی نہیں، جبکہ اسلام میں عبادت،
ایسے خداوندمتعال کی عبادت ہے جس کی معرفت سے عقول کو رہائی نہیں اور غیر سے تشبیہ دینے کی اجازت نہیں ہے۔
____________________
۱ سورہ بقرہ، آیت ۲۵۷ ۔”الله صاحبان ایمان کا ولی ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے“۔
۲ سورہ نور، آیت ۳۵ ۔”آسمان اورزمین کا نور ہے“۔
۳ سورہ واقعہ، آیت ۷۴ ۔”اب آپ اپنے عظیم پرور دگار کے نام کی تسبیح کریں“۔
۴ سورہ اعلیٰ ، آیت ۱۔”اپنے بلند ترین رب کے نام سے تسبیح کرو“۔
۵ سورہ مومنون، آیت ۱۲ ۔”اور ہم نے انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے“۔
۶ سورہ مومنون، آیت ۱۴ ۔”پھر ہم نے اسے ایک دوسری صورت میں پیدا کیا تو کس قدر بابرکت ہے وہ خدا جو سب سے بہترخلق کرنے والا ہے“۔
۷ سورہ طہ، آیت ۵۵ ۔”تم کو اس سے پیدا کیا اور اسی میں واپس لے جائیں گے اور دوبارہ پھر اس سے نکالیںگے“۔
۸ انجیل متیٰ باب ششم۔
۲۔ ثناء پروردگار کے بعد ان کی خدا سے درخواست، اس دن کفایت کرنے والی روٹی ہے۔
عیسائی نماز میں پیٹ کی روٹی چاہتا ہے کہ جو انسان کے جسم کے لئے ایسے ہی ہے جیسے حیوان کے لئے گهاس۔ جب کہ مسلمان، صراط مستقیم کی ہدایت جیسی پسندیدہ راہ کی درخواست کرتا ہے، جو عقل کی آنکه کا نور اور جس کا مقصد خدا ہے،کہ نہ تو ہدایت سے بڑه کر،کہ جو کمال انسانیت ہے،کوئی قیمتی گوہر ہے۔ اور نہ ہی خداوند عز و جل سے بڑه کر کوئی موجود ہے۔
۳۔”ہمارے قرض معاف فرما دے، جیسا کہ ہم اپنے قرض داروں کو بخش دیتے ہیں۔“ جھوٹ، خدا کی نافرمانی و معصیت ہے اور معصیت کے ساته عبادت کرنا ممکن نہیں، کیا عیسائی اپنے قرض داروں کا قرضہ معاف کرتے ہیں جو اپنے خدا سے اس طرح کہتے ہیں؟!
اختصار کے پیش نظر، بقیہ ادیان کی عبادتوں کے ساته مقایسے سے صرف نظر کرتے ہیں۔
ب۔ زکات:
نماز انسان کا خالق سے اور زکات انسان کا مخلوق سے رابطہ ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میںزکات کا تذکرہ نماز کے ساته کیا گیا ہے ((عن ا بٔی جعفر و ا بٔی عبداللّٰه علیهما السلام قالا:فرض اللّٰه الزکاة مع الصّلاة ))(۱)
انسان مدنی الطبع ہے۔ مال، مقام، علم و کمال میں سے جوکچھ بھی اس کے پاس ہے، سب معاشرتی روابط کی بدولت ہے اور کیونکہ جس معاشرے میں زندگی بسر کر رہا ہے وہ اس کی مادی و معنوی کمائی میں حقدار ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ معاشرے کا قرض ادا کرے۔
اور اسلام کے زکات و صدقات سے متعلق قوانین پر عمل کے ذریعے، ہر فرد معاشرے کا قرض ادا کرسکتا ہے۔
اسلام میں زکات، صدقات و انفاقات کا سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ اگر اس پر صحیح عمل ہو تو معاشرے میں کوئی ضرورت مند باقی نہ رہے، جس کے نتیجے میں دنیا آباد ہو جائے اور ضرورت مندوں و بهوکوں کی سرکشی و طغیان کے وجود سے مطمئن ہوکر امن و امان کے تمدن کا گهوارہ بن جائے۔
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں: ((إن اللّٰه عزوجل فرض للفقراء فی مال الا غٔنیاء مایسعهم،ولوعلم ا نٔ ذلک لایسعهم لزادهم ا نٔهم لم یؤتوا من قبل فریضة اللّٰه عزّوجلّ لکن ا ؤتوا من منع من منعهم حقّهم لا ممّا فرض اللّٰه لهم ولوا نّٔ الناس ا دّٔواحقوقهم لکانوا عائشین بخیرٍ ))(۲)
اور محتاجوں کو نہ ملنے کے مفسدہ کی اہمیت کے پیش نظر فرمایا( وَالَّذِيْنَ يَکْنِزُوْنَ الذَّهَب وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنْفِقُوْنَهَا فِی سَبِيْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ ا لَِٔيْمٍ ) (۳)
عطا و بخشش کے اثر کے ذریعے معاشرے سے فقر کی بنیادوں کو نابود کرنے، انسان کے سخاوت و کرم سے آراستہ ہونے اور فرد و معاشرے کی سعادت میں اس کے کردار کی اہمیت کے باعث رسول اکرم(ص) نے سخاوت مند مشرک کو امان عطا کر دی(۴) اور اسی سخاوت کی بدولت اسے اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی۔ روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) کو پروردگار عالم نے وحی فرمائی کہ سامری کو قتل نہ کرو(۵) کیونکہ وہ سخاوتمند ہے۔
____________________
۱ وسائل الشیعہ،ج ۹، ص ۱۳ ، کتاب الزکاة، ابواب ماتجب فیہ الزکاة، باب ۱، حدیث ۸۔”خدا نے زکوٰة کو نماز کے ساته واجب کیا ہے“۔
۲ وسائل ج ۹ ص ۱۰ ، کتاب الزکاة ابواب ماتجب فیہ الزکاة، باب اول ح ۲۔خدا نے مالداروں کے مال میں فقراء کا اتنا حصہ معین کردیا ہے جس سے وہ اپنی زندگی بسر کر سکیں اور اگر اس کے علم میں اس سے زیادہ ان کے لئے ضروری ہو تاتو اس کو معین کر دیتا لیکن فقیروں کا یہ حال ان مالداروں کی وجہ سے جو ان کا مال روکیں ہیں نہ کہ خدا کی طرف سے اور اگر لوگ فقراء کے حقوق کو ادا کریں تو ان کی مشیعت با خیر (اچهی) ہوگی۔
۳ سورہ توبہ، آیت ۳۴ ۔”وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی بشارت دیدو“۔
۴ وسائل الشیعہ ج ۹ ص ۱۷ ، کتاب الزکاة، ابواب ماتجب فیہ الزکاة، باب ۲، حدیث ۴۔
۵ وسائل الشیعہ ج ۹ ص ۱۷ ، کتاب الزکاة، ابواب ماتجب فیہ الزکاة، باب ۲، حدیث ۶۔
فقراء کی دیکھ بهال کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ کسی فقیر کو پیٹ بهر کر کهلانے، لباس پهنانے اور ایک خاندان کو سوال کی شرمندگی سے بچا کر ان کی آبرو کی حفاظت کرنے کو ستر بار حج بیت الله سے افضل قرار دیا گیا ہے(۱) صدقہ و احسان کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ امام محمد باقر(ع) نے فرمایا:((إن اللّٰه تبارک و تعالیٰ یحّب إبراد الکبدالحرّی و من سقی کبداً حرّی من بهیمة وغیرها ا ظٔلّه اللّٰه یوم لاظل إلّاظله ))(۲)
اسلام میں صدقات کے آداب معین ہیں۔ ان میں سے ایک ادب، صدقے کو چهپا کر دینا ہے، تا کہ صدقہ لینے والے کی حیثیت و آبرو محفوظ رہے،(۳) جتنا بھی زیادہ ہو اسے کم جانے(۴) کیونکہ صدقہ و احسان جتنا بھی زیادہ ہو، لینے والا ان سے زیادہ بڑا ہے(۵) ۔
اس پرا حسان نہ جتائے(۶) بلکہ اس کا شکر گذار ہو کہ وہ اس کے مال و جان کی طهارت کا وسیلہ بنا ہے۔ اس کے سوال و درخواست کرنے سے پهلے عطا کرنے میں جلدی کرے، کہ امام جعفر صادق(ع)فرماتے ہیں:”کسی کے سوال کرنے کے بعد جو تم نے اسے عطا کیا ہے وہ اس کی عزت و آبرو کے مقابلے میں ہے۔“(۷) ، اپنے چهرے کو اس سے مخفی رکہے(۸) صدقہ لینے والے سے التماس دعا کہے(۹) اور جس هاته میں صدقہ دے اس هاته کا بوسہ لے اس لئے کہ بظاہر لینے والے کو صدقہ دے رہا ہے اور حقیقت میں لینے والا خدا ہے(۱۰) ( ا لََٔمْ يَعْلَمُوْا ا نََّٔ اللّٰهَ هُوَيَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِه وَ يَا خُْٔذُ الصَّدَقَاتِ ) (۱۱)
اور ضرورتمندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اتنی توجہ کی کہ ایثار کا دروازہ کهول دیا اور ارشاد ہوا:( وَيُؤْثِرُوْنَ عَلیٰ ا نَْٔفُسِهِمْ وَلَوْکَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ) (۱۲) اور ایثار کو کمال کے اس درجے تک پهنچاتے ہوئے کہ جس کے بعد کوئی اور درجہ قابل تصور نہیں ،فرمایا:( وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلیٰ حُبِّه مِسْکِيْناً وَّيَتِيْماً وَّ ا سَِٔيْراًة إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لاَ نُرِيْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَاشَکُوْرًا ) (۱۳)
دین اسلام نے انفاق و صدقے کو فقط مال تک محدود نہیں کیا بلکہ کمزور کی مدد اور نابینا کی راہنمائی کو بھی صدقہ قرار دیا ہے۔ اعتبار و حیثیت کی بدولت کسی کی مشکلات حل کرنے کو جاہ و مقام کی زکات قرار دیا۔ فقط حوائج مادی پوری کرنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ فرمایا:( وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُوْنَ ) (۱۴) اور ہر وہ چیز انسان کا رزق ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہو اسی لئے فرمایا:((و ممّا علمناهم یبثون ))(۱۵) ۔
جوکچھ بیان کیا گیا وہ زکات و صدقات سے متعلق مختصر طور پر اسلام کی حکمت کا تذکرہ تھا۔
اسلام نے اس مقدس قانون کے ذریعے اغنیاء کے نفوس کو بخل، حرص اور طمع کی کدورت اور زن گ سے بچایا اور ان کے اموال کو فقراء کے حقوق، جو ان کے خون کے مترادف ہیں، کی آلودگی سے پاک
____________________
۱ وسائل الشیعہ ج ۹ ص ۱۷ ، کتاب الزکاة، ابواب صدقہ، باب ۲، حدیث ۱۔
۲ وسائل الشیعہ ج ۹ ص ۴۰۹ کتاب الزکاة ابواب صدقہ باب ۱۹ حدیث ۲۔(بے شک خدا وند تبارک تعالیٰ دوست رکھتا ہے کہ کسی مصیبت زدہ کو خوش کیا جائے اور جو شخص ایسے شخص کو سیراب کرے (مدد کرے)چهارپا جانور یا کسی اور چیز کو خدااس دن سایہ دے گا جس دن اس کے ساته کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا،اس کا ساته دے گا جب اس کے علاوہ کوئی اور ساته دینے والا نہ ہوگا۔
۳ وسائل الشیعہ، ج ۹، ص ۴۵۷ ، کتاب الزکوٰة، ابواب الصدقہ، باب ۳۹ ، حدیث ۳۔
۴ من لایحضرہ الفقیہ،ج ۲، ص ۳۱ ، ح ۱۲ ۔
۵ وسائل الشیعہ، ج ۹، ص ۴۳۳ ، کتاب الزکوٰة، ابواب الصدقہ، باب ۲۹ ۔
۶ وسائل الشیعہ، ج ۹، ص ۴۵۱ ، کتاب الزکوٰة، ابواب الصدقہ، باب ۳۷ ۔
۷ وسائل الشیعہ، ج ۹، ص ۴۵۶ ، کتاب الزکوٰة، ابواب الصدقہ، باب ۳۹ ۔ حدیث ۱۔
۸ وسائل الشیعہ، ج ۹، ص ۴۵۶ ، کتاب الزکوٰة، ابواب الصدقہ، باب ۳۹ ۔حدیث ۲۔
۹ وسائل الشیعہ، ج ۹، ص ۴۲۴ ، کتاب الزکوٰة، ابواب الصدقہ، باب ۲۵ ۔
۱۰ وسائل الشیعہ، ج ۹، ص ۴۳۳ ، کتاب الزکوٰة، ابواب الصدقہ، باب ۲۹ ۔
۱۱ سورہ توبہ، آیت ۱۰۴ ۔”کیا یہ نہیں جانتے کہ الله ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور زکوٰةوخیرات کو وصول کرتا ہے“۔
۱۲ سورہ حشر، آیت ۹۔”اور اپنے نفس پر دوسروں پر مقدم کرتے ہیں چاہے انہیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو“۔
۱۳ سورہ انسان، آیت ۸۔ ۹۔”یہ اس کی محبت میں مسکین ،یتیم اور اسیر کو کهانا کهلاتے ہیں۔ ہم صرف الله کی مرضی کی خاطر تمہیں کهلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ“۔
۱۴ سورہ بقرہ، آیت ۳۔”اس میں سے ہمارے راہ میں خرچ کرتے ہیں“۔
۱۵ بحار الانوار ، ج ۲، ص ۱۷ ۔”جوکچھ ہم نے سیکها ہے اس میں سے نشر کرتے ہیں دوسروں تک“۔
کیا ۔ اور اس طرح سے غنی و فقیر کے رشتے کو مستحکم کیا اور ان دو طبقات، جن سے معاشرے کا بنیادی ڈهانچہ تشکیل پاتا ہے، کے درمیان تمام فاصلے مٹاکر کدورت کو الفت میں تبدیل کر دیا اور ان قوانین و آداب کی برکت سے نہ صرف یہ کہ ضرورت مندوں کی حاجات کو پورا کیا بلکہ ان کی عزت نفس، آبرو، شرافت اور عظمتِ انسانی کی حفاظت فرمائی۔
غنی کو بخشش،کے بعد فقراء کا احسانمند اور شکر گذار ہونے کا حکم ،ایسی باران رحمت کی مانند ہے جس کے ذریعے خداوند تعالیٰ نے فقراء کی آتش حسد کو بجهایا، اموالِ اغنیاء کو، جن کا معاشرے کی رگوں میں خون کی مانند دوڑنا ضروری ہے تاکہ امت کے معاشی نظام کی حفاظت ہوتی رہے، زکات و صدقات کے حصار میں بیمہ کر دیا۔ امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں:((و حصّنوا ا مٔوالکم بالزکاة ))(۱)
کیا اغنیاء کے مال اور دانشوروں کے علم کی اس کميّت و کیفیت کے ساته عطا و بخشش کے ذریعے معاشرے سے مادی و معنوی فقر کی بنیادوں کو نہیںڈهایا جاسکتا؟!
یہ فرد و معاشرے کی سعادت کے لئے نماز و زکات کی حکمت و اثر کا نمونہ تھا۔ لہٰذا جس دین نے ہر حرکت وسکون اور فعل و ترک میں انسان کیکچھ ذمہ داریاں معيّن کی ہوں جو واجبات، محرمات،
مستحبات، مکروہات اور مباحات کے مجموعے کو تشکیل دیتی ہیں اور افراد کی جان، عزت و آبرو اور مال کی حفاظت کے لئے جو قوانین، حقوق اور حدود معيّن کئے گئے ہیں، ان پر عمل کرنے سے کیسا مدینہ فاضلہ تشکیل پاسکتا ہے؟
مثال کے طور پر وہ حیوان جس سے انسان کام لیتا ہے، اس کے حقوق کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح وروشن ہو جاتی ہے کہ اس دین مبین میں انسانی حقوق کی کس طرح ضمانت دی گئی ہے۔
جس جانور پر انسان سوار ہوتا ہے، اس کے حقوق یہ ہیں: منزل پر پهنچنے کے بعد، اپنے کهانے کا انتظام کرنے سے پهلے، اس کے لئے چارہ مهیا کرے، جب کہیں پانی کے پاس سے گزرے اسے پانی پلائے تا کہ پیاسا نہ رہے، اس کے منہ پر تازیانہ نہ مارے، اس کی پیٹه پر میدان جهاد میں ضرورت کے وقت کے علاوہ، کهڑا نہ ہو، اس کی طاقت سے زیادہ سنگین وزن نہ لادے اور کام نہ لے، اسے بُرا بهلا نہ کہے، اس کے چهرے کو بدصورت نہ بنائے، خشک زمین پر تیز اور علف زار میں آهستہ چلائے اور اس کی پیٹه پر گفتگو کی محفل نہ جمائے۔
اور اگر دریا کے کنارے دسترخوان لگائے، باقی بچنے والی غذا کو پانی میں ڈال دے تا کہ دریائی جانور اس کی ہمسائیگی سے بے بهرہ نہ رہیں۔
اور جس زمانے میں پانی میں موجود خوردبین سے نظر آنے والے جانداروں کی کسی کو خبر تک نہ تھی، حکم دیا کہ پانی میں پیشاب نہ کریں کہ پانی کی بھیکچھ مخلوق ہے۔
حیوانات کے بعض حقوق اور ان کے بارے میں انسانی ذمہ داریوں کو ذکر گیا گیا، جس سے اجتماعی عدالت اور انسانی حقوق کے سلسلے میں دین اسلام کا آئین واضح ہوتا ہے۔
دین اسلام کا مقصد دنیا و آخرت کو آباد کرنا اور انسان کے جسم و جان کو قوت و سلامتی عطا کرنا ہے( رَبَّنَا آتِنَا فِیِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَاعَذَابَ النَّارِ ) (۲)
دنیا و آخرت اور جسم و روح کی ایک دوسرے سے وابستگی اور عدل و حکمت کے تقاضے کے مطابق انسان کی مادی و معنوی زندگی میں سے ہر زندگی کی جتنی اہمیت و ارزش تھی ،اتنی ہی اس کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا:( وَابْتَغِ فِيْمَا آتَاکَ اللّٰهُ الدَّارَالْآخِرَةَ وَلَا تَنْسِ نَصِيْبَکَ مِنَ الدُّنْيَا ) (۳)
دنیا کو آباد کرنے اور انسان کی آسودگی و آرام پر مکمل توجہ رکھی،دنیا وآخرت کو ان کی خلقت کے تقاضے کے مطابق بالترتیب ثانوی و طفیلی اور بنیادی و مرکزی حیثیت دیتے ہوئے، دنیا و آخرت میں نیکی و حسنات کو انسان کی درخواست اور دعا قرار دیا کہ کلام امام معصوم(ع) میں دنیا کے حسنہ ک و رزق و معاش میں وسعت اور حسنِ خلق، جبکہ آخرت کے حسنہ کو رضوان خدا و بهشت بتلایا گیا
____________________
۱ نهج البلاغہ، حکمت، شمارہ، ۱۴۶ ۔”زکوٰة کے ذریعہ اپنے مال کو محفوظ کرو“۔
۲ سورہ بقرہ، آیت ۲۰۱ ۔”پروردگار ہمیں دنیا میں بھی نیکی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہم کو عذاب جهنم سے محفوظ فرما“۔
۳ سورہ قصص، آیت ۷۷ ۔”اور جوکچھ خدا نے دیا ہے اس سے آخرت میں گهر کا انتظام کرو اور دنیا میں اپنا حصہ بهول نہ جاو “ٔ۔
ہے۔اقتصادی ترقی بالخصوص زراعت و تجارت کو اہمیت دی اور( وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِه وَلِلْمُو مِْٔنِيْنَ ) (۱)
کے حکم کے مطابق مؤمن کو سخاوت اور بے نیازی کی بدولت عزیز جانا۔ امام جعفر صادق (ع)سے روایت نقل ہوئی ہے:((و ما فی الا عٔمال شی ا حٔب إلی اللّٰہ من الزراعة))(۲) ۔ امیرالمومنین علی بن ابی طالب(ع) نخلستان میں کاشتکاری و آبیاری کیا کرتے تھے۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام جعفر صادق(ع)نے بازار سے کنارہ گیری کرنے والے سے فرمایا: ((ا غٔد إلی عزّک ))(۳) اور ایک روایت میں امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں:((تعرضوا للتجارات ))(۴)
اسلام میں بازار و تجارت کی بنیاد ہوشیاری، امانت، عقل ، درایت اور احکام تجارت کا خیال رکھنے پر ہے((لایقعدن فی السوق إلامن یعقل الشراء و البیع ))(۵) ((الفقه ثم المتجر ))(۶)
لیکن دین کے لئے اسلام میں واجبات و مستحبات اور محرمات و مکروہات مقرر کئے گئے ہیں، یهاں ان کی تفصیل ذکر کرنا تو ممکن نہیں ہے، البتہ ان میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
هر قسم کے لین دین میں سود، قسم کهانا، بیچنے والے کا اپنی چیز کی تعریف کرنا، خریدار کا خریدی جانے والی چیز میں عیب نکالنا، عیب کو چهپانا، دہوکہ دینا اور ملاوٹ کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
تاجر کو چاہیے کہ حق دے اور حق لے، خیانت نہ کرے۔ اگر مد مقابل پشیمان ہو تو سودا کالعدم کردے اور اگر تنگدستی و مشکل میں گرفتار ہو جائے تو اسے مهلت دے، اگر کوئی شخص کسی چیز کے خریدنے کو کہے جوکچھ اس کے پاس ہو اس سے اسے نہ بیچے، اور اگر کسی چیز کے فروخت کرنے کو کہے اسے اپنے لئے نہ خریدے، ترازو هاته میں لینے والا کم لے اور زیادہ دے، چاہے اس کی نیت یہ ہو کہ اپنے فائدے سےکچھ کم یا زیادہ نہ کرے۔ اپنی گفتار میں سچے تاجر کے علاوہ باقی سب تاجر، فاجرہیں۔
اور جس سے یہ کہے: ”سودے اور لین دین میں تم سے احسان و اچهائی کروں گا ،“اس سے منافع نہ لے، کسی رابطے کا خیال کئے بغیر تمام خریداروں کو برابر سمجھے اور جس چیز کی قیمت معلوم و معین ہو، قیمت کم کر وانے والے اور خاموش شخص کو ایک ہی قیمت پر بیچے، حساب اور لکهنا جانتا ہو کہ حساب اورلکهائی سیکہے بغیر سودا نہ کرے، لوگوں کو جس چیز کی ضرورت ہے اسے ذخیرہ نہ کرے، لین دین میں نرمی سے پیش آئے، آسانی کے ساته خرید و فروخت کرے،سهولت کے ساته لوگوں کو ان کا حق دے اور ان سے اپنا حق لے، مقروض پر سختی نہ کرے، لین دین طے ہونے کے بعد قیمت کم کرنے کو نہ کہے، مؤذن کی آواز سن کر بازار سے مسجد کی طرف جانے میں جلدی کرے،
اپنے دل کو ذکر خدا کے ذریعے صفا عطا کرے اور نماز کے ذریعے عالم طبیعت سے ماوراء طبیعت کی جانب پرواز کرے( فِیْ بُيُوْتٍ ا ذَِٔنَ اللّٰهُ ا نَْٔ تُرْفَعَ وَ يُذْکَرَ فِيْهَا اسْمُه يُسَبِّحَ لَه فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَاْلآصَالِ ة رِجَالٌ لاَّ تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلاَ بَيْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰهِ وَ إِقَامِ الصَّلوٰةِ وَ إِيْتَاءِ الزَّکَاةِ يَخَافُوْنَ يَوْماً تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَ اْلا بََٔصَارُ ) (۷)
اگر چہ اسلام کی تعلیم و تربیت کے معجزانہ اثرات کی تلاش و جستجو، قرآن کی تمام آیات اور سنت اہل بیت عِصمت و طهارت علیهم السلام میں کرنا ضروری ہے، لیکن چونکہ آفتابِ قرآن و سنت کی ہر شعاع، علم و ہدایت کے نور کا مرکز و سرچشمہ ہے ، لہٰذا سورہ فرقان کی آخری آیات اور تین احادیث کو ذکر کرتے ہیں،جو اس مکتب سے تربیت یافتہ افراد کی عکاسی کرتی ہیں:
____________________
۱ سورہ منافقون، آیت ۸۔”عزت فقط خدا کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے ہے“۔
۲ وسائل الشیعہ، ج ۱۷ ، ص ۴۲ ، کتاب تجارت، ابواب مقدمات تجارت، باب ۱۰ ،حدیث ۳۔”خدا کے نزدیک زراعت سے محبوب تر کوئی کام نہیں ہے“۔
۳ وسائل الشیعہ، ج ۱۷ ، ص ۱۰ ، کتاب تجارت، ابواب مقدمات تجارت، باب ۱،حدیث ۲۔”اپنی عزت کے ساته سویرا کرو۔“
۴ وسائل الشیعہ، ج ۱۷ ، ص ۱۱ ، کتاب تجارت، ابواب مقدمات تجارت، باب ۱،حدیث ۶۔”تجارت کی طرف توجہ کرو“۔
۵ وسائل الشیعہ، ج ۱۷ ، ص ۳۸۲ ، کتاب تجارت، ابواب مقدمات تجارت، باب ۱،حدیث ۳۔”بازار میں نہ بیٹهو مگر یہ کہ خریدو فروش کی عقل رکھتے ہو“۔
۶ وسائل الشیعہ، ج ۱۷ ، ص ۳۸۱ ، کتاب تجارت، ابواب مقدمات تجارت، باب ۱،حدیث ۱۔”اور فقاہت بعد تجارت“۔
۷ سورہ نور ، آیت ۳۶ ۔ ۳۷ ۔ ”یہ چراغ ان گهروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے کہ ان گهروں میں صبح و شام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں“۔
آیات
۱۔( وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَی اْلا رَْٔضِ هونًا وَّ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوا سَلاَمًا ة وَّ اَّلذِيْن يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا ة وَّ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا کَانَ غَرَامًا ة إِنَّهَا سَائَت مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ة وَّ الَّذِيْنَ إِذَا ا نَْٔفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا وَ کَانَ بَيْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ة وَّ الَّذِيْنَ لاَ يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ إِلٰهًاآخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَ لاَ يَزْنُوْنَ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِکَ يَلْقَ ا ثََٔامًا ة يُّضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْم الْقِيَامَةِ وَ يَخْلُدْ فِيْهِ مُهَانًا ة إِلاَّ مَنْ تَابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَا ؤُْلٰئِکَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَّ کَانَ اللّٰه غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ة وَّ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّه يَتُوْبُ إِلَی اللّٰهِ مَتَابًا ة وَّ الَّذِيْنَ لاَ يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ وَ إِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْو مَرُّوْا کِرَامًا ة وَّ الَّذِيْنَ إِذَا ذُکِّرُوْا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّ عُمْيَانًا ة وَّ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِن ا زَْٔوَاجِنَا وَ ذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ ا عَْٔيُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ إِمَامًا ة ا ؤُْلٰئِکَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ يُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَ سَلاَماًة خَالِدِيْنَ فِيْهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَاماً ) (۱)
خداوند رحمان جس کی رحمت واسعہ سے ہر متقی و فاجر فیض یاب ہو رہا ہے، کی بندگی کااثر یہ ہے کہ عبادالرحمن کا زمین پر چلنا، جو ان کے اخلاق کا آئینہ دار ہے، نہ تو اکڑ کے ساته ہے اور نہ ہی اس میں تکبّر ہے۔
عبادالرحمن وہ لوگ ہیں جو خدا کے سامنے ذلیل اور مخلوق کے مقابل متواضع ہیں۔ نہ صرف یہ کہ کسی کو اذیت نہیں پہچاتے بلکہ دوسروں کی تکالیف کو بھی برداشت کرتے ہیں اور جهل و نادانی سے بات کرنے والوں کے ساته جیسے کو تیسا کے بجائے نہ صرف یہ کہ اپنے حلم و بردباری کی بدولت ان سے جهگڑا نہیں کرتے بلکہ ان کے لئے جهالت کی بیماری سے نجات کی بھی آرزو کرتے ہیں( وَ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوا سَلاَماً )
اجنبیوں اور مخالفین کے ساته جن کا رویہ سلام و سلامتی ہے، ان سے اپنوں اور موافق افراد کے ساته مواسات و ایثار کے علاوہ کوئی اور امید نہیں کی جاسکتی۔
یہ تو دن میں ان کی رفتار و کردار ہے اور رات میں ان کا طریقہ یہ ہے کہ آفاق آسمان پر نظریں جماکر ستاروں اور کہکشاؤںمیں موجود، خداوند متعال کے علم و قدرت اور حکمت کی نشانیوں میں تدبّر و تفکر کرتے ہیں اور ان آیات و نشانیوں میں خداوند متعال کی تجلّی کی عظمت کو دیکھ کر، رات قیام و سجود میں گزار دیتے ہیں( يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا ) اور جب غور سے دیکھتے ہیں کہ کروڑوںستارے اس کے حکم کے مطابق حرکت کر رہے ہیں اور اپنے مدار سے ذرہ برابر بھی منحرف نہیں ہوتے، دین اور قانون الٰهی میں اپنے انحراف کے خوف سے کہتے ہیں:( رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا کَان غَرَاماً )
اور اپنے اموال کی نسبت، جو خون کی طرح معاشرے کے لئے مایہ حیات ہے، اس طرح عمل کرتے ہیں کہ روک لینے کی صورت میں فشار خون اور بخشش میں اسراف سے قلت خون جیسی بیماریوں میں مبتلا نہیں ہوتے اور میانہ روی سے تجاوز نہیں کرتے تا کہ اپنی اور دوسروں کی ضروریات کو پورا کرسکیں( وَالَّذِيْنَ إِذَا ا نَْٔفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْترُوْا وَکَانَ بَيْنَ ذٰلِکَ قَوَاماً )
____________________
۱ سورہ فرقان، آیت ۶۳ ۔ ۷۶ ۔”اور الله کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آهستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں تو سلامتی کا پیغام دے دیتے ہیں۔یہ لوگ راتوں کواس طرح گذارتے ہیں کہ اپنے رب کی بارگاہ میں کبھی سر بسجود رہتے ہیں اور کبھی حالت قیام میں رہتے ہیں۔اور یہ کہتے ہیں پروردگار ہم سے عذاب جهنم کو پهیردے کہ اس کا عذاب بہت سخت اور پائیدار ہے۔وہ بد ترین منزل اور محل اقامت ہے۔اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں
اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اوسط درجہ کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔اور وہ لوگ خدا کے ساته کسی اور کو نہیں پکارتے ہیں اور کسی بھی نفس کو اگر خدا نے محترم قرار دیدیا ہے تو اسے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے ہیں اور زنا بھی نہیں کرتے ہیں کہ جو ایسا عمل کرے گا وہ اپنے عمل کی سزا بھی برداشت کرے گا۔ جسے روز قیامت دگنا کر دیا جائے گا اور وہ اسی میں ذلت کے ساته ہمیشہ ہمیشہ پڑا رہے گا۔علاوہ اس شخص کے جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل بھی کرے کہ پروردگار اس کی برائیوں کو اچهائیوں سے تبدیل کر دے گا اور خدا بہت زیادہ بخشنے والا اور مهربان ہے۔اور جو توبہ کرلے گا اور عمل صالح انجام دے گا وہ الله کی طرف واقعا رجوع کرنے والا ہے ۔اور وہ لوگ جھوٹ
اور فریب کے پاس حاضر بھی نہیں ہوتے ہیں اور جب لغو کاموں کے قریب سے گذرتے ہیں تو بزرگانہ انداز سے گذر جاتے ہیں ۔ اور ان لوگوں کو جن آیات الٰهیہ کی یاد دلائی جاتی ہے تو بهرے اندہے ہوگر گر نہیں پڑتے ہیں۔ اور وہ لوگ برابر دعا کرتے رہتے ہیںکہ خدایا ہمیں ہماری ازواج اور اولاد کی طرف سے خنکی چشم عطا فرمااور ہمیں صاحبان تقویٰ کا پیشوا بنا دے۔یهی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کی بنا پر جنت کے بالا خانے عطا کئے جائیں گے اور وہاں انہیں تعظیم اور سلام کی پیش کش کی جائے گی ۔ وہ انہیں مقامات پر ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کہ وہ بہترین مستقر اور حسین ترین محل اقامت ہے۔“
ان کی دوسری صفات یہ ہیں کہ وہ دل و زبان کو شرک، هاتهوں کو خونِ ناحق اور اپنے دامن کو زنا سے آلودہ نہیں کرتے( وَالَّذِيْنَ لاَ يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ إِلٰهاً آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَل ذٰلِکَ يَلْقَ ا ثََٔاماً )
جھوٹ اور باطل سے دوری اختیار کرتے ہیں، لغو اور عبث رفتار و گفتار کے مقابلے میں بردباری کے ساته گذر جاتے ہیں۔ ایسے افراد جو باطل و ناحق مجالس سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنی عظمت و بردباری کے سبب خود کو لغو و عبث سے آلودہ نہیں کرتے۔ ان کے درختِ وجود سے فقط علم،
حکمت، امانت، صداقت اور عدالت کے پهل حاصل ہوتے ہیں( وَ الَّذِيْنَ لاَ يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ وَ إِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْو مَرُّوْا کِرَامًا )
جب آیات خدا کے ذریعے انہیں یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو اندہوں اور بهروں کی طرح ان آیات پر نہیں گرتے بلکہ ان آیات کو دل و جان سے سنتے ہیں اور تفکر و تدبر کی نظر سے ان میں غور کرتے ہیں( وَالَّذِيْنَ إِذَا ذُکِّرُوْا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُماًّ وَّ عُمْيَانًا )
ایسے افراد کو حق حاصل ہے کہ وہ خدا سے پرہیز گاروں کی امامت کی درخواست کریں اور کہیں ( وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ إِمَاماً) فکری، اخلاقی اور عملی عواملِ انحراف کے مقابلے میں خودسازی کرنے والوں کے لئے خداوندمتعال کی جانب سے وہ حجرہ عطا ہوگا جس کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے اور اس حجرے میں سلام و تحیت جیسے بلند و بالا عطیہ الٰهی کو پائیں گے ( ا ؤُْلٰئِکَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَاصَبَرُوْاوَيُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّ سَلَاماً) ،( سَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍِّ رَّحِيْمٍ) (۱)
۲۔رسول خدا(ص) سے روایت ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: مؤمن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس میں ایک سو تین صفات جمع نہ ہوں۔ ان صفات میں سے چند ایک کے مفهوم کو ذکر کرتے ہیں:
مومن کا علم کثیر اور حلم عظیم ہے، غافل کے لئے یاد دہانی کا باعث اور جاہل کے لئے معّلم ہے، جو اسے اذیت دے وہ ا سکی جوابی ایذا رسانی سے محفوظ ہے، بے کار کے کام میں هاته نہیں ڈالتا، مصیبت میں کسی کو برا بهلا نہیں کہتا، کسی کی غیبت نہیں کرتا، پردیسی کا مددگار اور یتیموں کا غمخوار ہے، اس کی خوشی اس کے چهرے پر اور غم واندوہ اس کے دل میں ہوتا ہے۔کسی کے اسرار سے پردہ نہیں اٹهاتا، کسی کے دامن عفت پر کیچڑ نہیں اچهالتا، امانتوں کا امین اور خیانت سے دور ہے، اس کا کردار مؤدبانہ اور گفتار شگفت انگیز ہے، امور میں اعلیٰ اور اخلاق میں بہترین کا طلبگار ہے، اس کا دل باتقویٰ اور علم پاکیزہ ہے، قدرت پانے کے باوجود عفو کرتا ہے، جو وعدہ دے اسے پورا کرتا ہے، نہ تو بغض میں غرق ہوتا ہے اور نہ ہی اسے حب هلاک کرتی ہے (حب اور بغض اسے اعتدال سے خارج نہیں کرتے)، باطل کو دوست سے بھی قبول نہیں کرتا اور دشمن کے کہے ہوئے حق کو بھی رد نہیں کرتا، باخبر ہونے کے لئے سیکهتا ہے، علم حاصل نہیں کرتا مگر اس پر عمل پیرا ہونے کی غرض سے، اگر اہل دنیا کے ساته چلے تو ان میں ہوشیار ترین اور اگر اہل آخرت کے ساته ہو تو ان میں پارسا ترین ہوتا ہے(۲)
۳۔دین کے پیشواؤں کے کلمات میں کمال کا دارومدار عقل علم اور ایمان پر ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک کے لئے، امام زین العابدین(ع) سے منقول روایت کا اقتباس کافی ہے، جس کا مضمون تقریباًکچھ یوں ہے:
اگر کسی شخص کو دیکھو جو اپنی سیرت و منطق کے ذریعے خوف، عبادت و زهد اور اپنے کردار میں خضوع و فروتنی کا اظهار کرتا ہے، جلد بازی نہ کرو، اس کے چکر میں نہ آؤ، کتنے ہی افراد ایسے ہیں جو دنیا کی دسترسی سے عاجز ہیں، دین کو دلوں کے شکار کا وسیلہ بناتے ہیں، لیکن اگر ان کے لئے حرام ممکن ہو تو اس میں ڈوب جاتے ہیں۔
اور اگر دیکھو کہ حرام سے بھی پرہیز کرتے ہیں، پھر بھی دہوکہ نہ کهانا، افراد کی شهوت و ہوس مختلف ہے، کتنے ہی افراد ایسے ہیں جو مال حرام سے دور بهاگتے ہیں چاہے کتنا ہی زیادہ ہو،
لیکن شهوت کے مقابلے میں اپنا دامن آلودہ کرلیتے ہیں، اور اگر دیکھو کہ اس سے بھی اپنا دامن آلودہ نہیں کرتے تب بھی دہوکہ نہ کهانا جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کی عقل کیسی ہے؟ کیونکہ کتنے هی
____________________
۱ سورہ یس، آیت ۵۸ ۔”ان کے حق میں ان کے مهربان پروردگار کا قول صرف سلامتی ہے“۔
۲ بحار الانوار ، ج ۶۴ ، ص ۳۱۰ ۔
افراد ایسے ہیں جو ان سب کو ترک کرتے ہیں لیکن عقلِ متین کی طرف رجوع نہیں کرتے اور عقل کو بروئے کار لاکر ترقی و اصلاح کرنے سے کہیں زیادہ اپنے جهل کے ذریعہ تباہی پهیلاتے ہیں،اگر اس کی عقل کو متین پاؤ پھر بھی دہوکہ نہ کهانا بلکہ عقل و ہوائے نفس کے درمیان مقابلے کے وقت دیکھو کہ آیا عقل کے برخلاف ہونے کا ساته دیتا ہے یا ہویٰ کے خلاف عقل کا ساته دیتا ہے، جاہ طلبی کا کتنا رسیا ہے کیونکہ لوگوں میں بہت سے افراد ایسے ہیں جو دنیا کی خاطر تارکِ دنیا ہیں(۱) نتیجہ یہ ہوا کہ کمال کا معیار فریب دینے والی باتیں اور متواضعانہ اعمال، مال و شکم اور دامن کی شهوت کو ترک کرنا نہیں ہے بلکہ کمال کا معیار وہ عقل ہے جو جهالت کی کدورت سے پاک ہو کر صلاح و اصلاح کا مبدا و سرچشمہ قرار پائے اور وہ ہویٰ ہے جو الله تعالیٰ کے احکام اور فرمان کے تابع ہو کہ جسے کوئی بھی ہوس حتی شهوتِ جاہ و مقام اسے فریب نہ دے سکے اور باطل کی ہمراہی میں ملنے والی عزت کو ٹهکراتے ہوئے، حق کے سائے میں ملنے والی ذلت کو گلے لگائے۔
۴۔عنوان بصری جس کی زندگی کے چورانویں سال گذر چکے تھے اور سالها سال سے مالکی مذهب کے امام، مالک ابن انس، کے پاس تحصیل علم کے لئے جس کی آمد ورفت تھی۔ چھٹے امام(ع) کے مدینہ تشریف لانے پر اس نے آپ سے کسبِ علم کی درخواست کی، حضرت امام صادق(ع) نے فرمایا:”میں ایک مطلوب فرد ہوں، کہ میری طلب میں ہیں، اور اس کے باوجود رات و دن کی ہر گهڑی میں اوراد و اذکار میں مشغول ہوں“۔
یہ جواب سن کر عنوان نهایت غمگین ہوا، رسول خدا(ص) کے روضہ اقدس پر حاضری دی ا ور دو رکعت نماز پڑه کر امام(ع) کے قلب کو اپنی طرف معطوف کرنے اور آپ کے علم سے بهرہ مند ہو کر خدا کی راہ مستقیم کی جانب ہدایت کے لئے دعا کی اور اسی غمگین حالت میں گهر لوٹ آیا۔ دل آپ(ع) کی محبت میں اسیر تھا، تحصیل علم کے لئے مالک کے پاس جانا بھی چهوڑ دیا اور واجب نماز ادا کرنے کے علاوہ گهر سے باہر نہ آتا تھا۔
جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو ایک دن نماز عصر کے بعد آپ(ع) کے دروازے پر آیا، خادم نے پوچها: تمهاری حاجت کیا ہے؟
جواب دیا: میری حاجت شریف کی خدمت میں سلام کرنا ہے۔
خادم نے کها: اپنے مصلّے پر عبادت میں مشغول ہیں۔
عنوان چوکهٹ پر بیٹه گیا، خادم نے باہر آکر کها: برکت خدا کی خدمت میں حاضر ہو۔
عنوان کہتا ہے: داخل ہو کر میں نے سلام کیا۔ آپ (ع)نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: بیٹه
جاؤ، خدا تمهاری بخشش فرمائے۔کچھ دیر تک آپ سر جهکائے بیٹہے رہے، اس کے بعد سراٹها کر میری کنیت کے بارے میں پوچها اور دعا دی۔
میں نے خود سے کها: اس سلام و زیارت سے اگر اس دعا کے علاوہ کوئی دوسری چیز میرے نصیب میں نہ ہو تو یهی دعا بہت ہے۔
اس کے بعد سر اٹها کر فرمایا: کیا چاہتے ہو؟
میں نے کها: خدا سے التجا کی ہے کہ آپ کے دل کو میری طرف متوجہ اور آپ کے علم سے مجھے بھیکچھ نصیب کرے، امیدوار ہوں میری دعا قبول ہوچکی ہو۔
آپ (ع)نے فرمایا: اے اباعبدالله! علم تعلم سے نہیں، علم ایسا نور ہے کہ خدا جس کی ہدایت چاہتا ہے اس کے دل میں قرار دے دیتا ہے، پس اگر تمهاری مراد علم ہے تو اپنے اندر حقیقت بندگی کو طلب کرو اور علم کو اس کے استعمال و عمل کے ذریعے طلب کرو اور خدا سے فهم مانگو تاکہ تمہیں سمجهائے۔
میں نے کها: حقیقت بندگی کیا ہے؟
آپ نے فرمایا: تین چیزیں ہیں:
یہ کہ خدا کا بندہ، جوکچھ اسے خدا نے عطا کیا ہے، خود کو اس کا مالک نہ سمجھے، کیونکہ بندگان خدا کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے، مال کو خدا کا مال سمجهتے ہیں اور جس جگہ خدا حکم دے وہاں خرچ کرتے ہیں۔
____________________
۱ بحار الانوار ، ج ۲، ص ۸۴ ۔
اور یہ کہ بندہ اپنے لئے کوئی تدبیر نہ کرے۔
اور یہ کہ وہ صرف اس بات میں مصروف ہو کہ خدا نے اسے کس چیز کا حکم دیا ہے اور کن امور سے روکا ہے۔
پس جب خود کو کسی مال کا مالک نہ سمجھے گا تو خدا نے جهاں جهاں مال کے انفاق کا حکم دیا ہے اس کے لئے انفاق آسان ہو جائے گا، جب اپنی تدبیر اپنے مدبّر کو سونپ دے گا تو مصائبِ دنیا اس پر آسان ہوجائیںگے اور خدا کے امر و نهی میں مصروف عمل ہونے سے اسے لوگوں کے ساته فخر و مباہات اور ریاکارانہ بحث کی فرصت نہ ملے گی۔ پس جب خدا نے اپنے بندے کا ان تین صفات کی وجہ سے اکرام و احترام کردیا تو دنیا شیطان اور خلق اس کے لئے سهل و آسان ہو جائیں گے، مال و دولت کو جمع آوری اور فخر فروشی کے لئے طلب نہیں کرے گا اور جوکچھ لوگوں کے پاس ہے اسے اپنی عزت و برتری کے لئے نہیں چاہے گا اور اپنی زندگی کے ايّام لغوو بے کار باتوں میں نہیں گنوائے گا۔
یہ تقویٰ کا پهلا درجہ ہے، کہ خداوندتبارک و تعالیٰ نے فرمایا:( تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لاَ يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْا رَْٔضِ وَلاَ فَسَاداً ) (۱)
میں نے کها: اے ابا عبدالله !مجھے وصیت فرمائیں۔
امام (ع)نے فرمایا: تمہیں نو چیزوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں اور جن کا مقصود و مطلوب راہ خدا ہے، ان کے لئے بھی میری یهی وصیت ہے، خدا تمہیں ان پر عمل پیرا ہونے میں کامیاب فرمائے۔
تین وصیتیں ریاضت نفس، تین وصیتیں حلم اور تین وصیتیں علم کے بارے میں ہیں۔ ریاضت کے بارے میں میری وصیت یہ ہے کہ: اس چیز کے کهانے سے پرہیز کرو جسے کهانے کی طلب نہ ہو کہ یہ کم عقلی و نادانی کا سبب ہے۔ جب تک بهوک نہ ہو نہ کهاؤ۔ جب بھی کهاؤ، حلال کهاؤ، خدا کے نام سے شروع کرو اور پیغمبر اکرم(ص) کی حدیث یاد رکھو کہ آپ(ص) نے فرمایا: انسان نے اپنے شکم سے بدترظرف کو پُر نہیں کیا، پس اگر ناچار ہو تو اس کی ایک تھائی کو کهانے، ایک تھائی کو پینے اور ایک تھائی کو سانس لینے کے لئے خالی رکہے۔
حلم کے بارے میں میری وصیت یہ ہے کہ: جو کوئی تم سے کہے: اگر ایک کهی تو دس سنوگے، اس کے جواب میں کهو: اگر دس بھی کهو تو ایک نہ سنو گے۔ جو تمہیں ناروا باتیں کہے اس کے جواب میں کهو: جوکچھ تم نے کها اگر اس میں سچے ہو میری خدا سے التجا ہے کہ مجھے بخش دے اور اگر جھوٹے ہو تو خدا سے تمهاری بخشش چاہتا ہوں اور جو تمہیں نازیبا و رکیک کهنے کا وعدہ دے تم اسے نصیحت کا وعدہ دو۔
اور علم کے بارے میں میری وصیت یہ ہے کہ: جوکچھ نہیں جانتے صاحبان عقل سے پوچهو،
لیکن ان کو آزمانے یا شرمسار کرنے کی غرض سے کبھی ان سے نہ پوچهنا، جس چیز کو نہیں جانتے اس کے بارے میں اپنی ذاتی رائے اور گمان پر هرگز عمل نہ کرنا،جهاں تک ممکن ہو احتیاط پر عمل کرو،
فتویٰ دینے سے اس طرح پرہیز کرو جیسے شیر سے دور بهاگتے ہو اور اپنی گردن کو لوگوں کے گزرنے کے لئے پل قرار نہ دو۔
اٹه کهڑے ہو کہ تمہیں وصیت کرچکا اور میرے وِرد کو میرے لئے فاسد قرار نہ دو کہ میں اپنے آپ میںمشغول ہوں( وَالسَّلاَمُ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدیٰ ) (۲)
اس مختصر مقدمے میں ان آیات و روایات کی تشریح بیان کرنا ناممکن ہے۔ ان آیات میں سے ہر آیت اور روایات کے ہر جملے کو سمجهنے کے لئے مفصل بحث کی ضرورت ہے، لہٰذا جوکچھ بیان کیا
گیا اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
آخر میں دو نکات کی جانب توجہ ضروری ہے۔
____________________
۱ سورہ قصص، آیت ۸۳ ۔”یہ دار آخرت وہ ہے جسے ہم ان لوگوں کے لئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں بلندی اورفساد کے طلبگار نہیں ہوتے ہیں“۔
۲ بحار الانوار ، ج ۱، ص ۲۲۴ ۔
۱۔ دین کے سامنے سر تسلیم خم کرنا
دین اسلام کے اصول و فروع کا ملاحظہ، عبادات و معاملات میں تفکر، نفس انسانی،گهر اور شهر کی تدبیر کے بارے میں اس دین کے طور طریقوںمیں تا مّٔل اور مستحبات و مکروہات کے سلسلے میں اس دین کے بتائے ہوئے آداب میں تدبر، ان قوانین میں حکمت بالغہ کے بیان گر ہیں۔ یہ طبیعی امر ہے کہ تمام احکام کی حکمت کو درک کرنا بلکہ انسان کی سعادت پر مبنی دین میں، کسی بھی ایک حکم کی تمام حکمت کا درک سوائے اس فرد کے لئے ميّسر نہیں جو اِن عوالم اور ان میں موجود انسان کی ضروریات اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے طریقوں پر محیط ہو۔ کسی حکم کی حکمت کو نہ جاننا اس حکم میں عدمِ حکمت کی دلیل نہیں ہوسکتا۔
اور جس طرح کتابِ خلقت میں محکمات و متشابهات موجود ہیں اسی طرح کتاب تشریع میں بھی محکمات و متشابهات پائے جاتے ہیں اور متشابهات کی بنا پر محکمات سے هاته نہیں اٹهایا جاسکتا، اسی طرح متشابهات کو نظامِ خلقت و دین میں عبث و لغو قرار نہیں دیا جاسکتا( وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ آمَنَّا بِه کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ) (۱)
اور یہ جاننا ضروری ہے کہ انسان کی دنیوی زندگی، آخرت کی بہ نسبت رحم مادر میں جنین کی زندگی کے مانند ہے، کہ رحم مادر میں اسے جو اعضاء اور طاقتیں عطا کی جاتی ہیں، اگر جنین عقل و شعور رکھتا بھی ہو تو ان اعضاء کے استعمال اور ان کے فوائد کو درک کرنا اور انہیں عملی جامہ پهنانا اس کے لئے ناممکن ہے، وہ دماغ کی پیچیدہ اور پر اسرار بناوٹ کی حکمت کو نہیں جان سکتا یا اسی طرح وہ نہیں سمجه سکتا کہ دیکھنے اور سننے کی مشینری اور نظام تنفس اس کے کس کام کے ہیں۔ دنیا میں آنے کے بعد اس کے لئے ان سب کی حکمت واضح ہوگی۔
اسی طرح طبیعت کے رحم مادری میں زندگی گزارنے والے انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ وحی الٰهی کی تعلیم و تربیت کے وسیلے سے ان اعضاء و صلاحیتوں سے لیس ہو جو اس کی حیات ابدی کے سازوسامان ہیں اور اس کے لئے ان احکامات کی حکمت عالم آخرت میں قدم رکھنے کے بعد واضح و روشن ہوگی، جهاں کی اس دنیا سے وہی نسبت ہے جو دنیا کی رحم مادر سے ہے۔
لہٰذا ، دین کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، انسانی خلقت کی ضروریات میں سے، بلکہ کمالِ انسانی کی ضروریات میں سے ہے، کیونکہ عامل کی اہمیت عمل سے اور عمل کی اہمیت اس عمل کے داعی اور محرّک عامل سے ہے۔ معصوم علیہ السلام کا بیان بھی اسی حقیقت کی جانب ہماری راہنمائی کرتا ہے((إنما الا عٔمال بالنیات و لکل امرءٍ ما نوی ))(۲)
لہٰذا کسی قسم کی مصلحت و مفسدہ اور نفع و ضرر سے چشم پوشی کرتے ہوئے، صرف خدا کے لئے اطاعت خدا بجالانا، مقام مقربيّن کی علامت ہے۔
۲۔ علماء دین کی تقلید کا لازم و ضروری ہونا
ایسے افرادکے لئے علماء دین کی تقلید کرنا ضروری ہے، جو احکام خدا کے استنباط کی قدرت نہیں رکھتے۔ انسان، جس کی زندگی و سلامتی، قوانین و قواعد کے تابع ہے، اس کی حفاظت و سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ یا خود طبیب ہو یا کسی قابلِ اعتماد و ماہر طبیب کی طرف رجوع کرے اور اس کے احکامات کے مطابق عمل کرے یا احتیاط کا دامن تھام لے اور جس چیز کے بارے میں اسے یہ احتمال ہو کہ اس سے اسے نقصان پهنچ سکتا ہے اس سے پرہیز کرے، یهاں تک کہ اس کے بارے میں جان لے یا کسی صاحب علم سے پوچه لے۔
بلکہ چاہے عالم ہو یا جاہل، تقلید انسان کی ضروریاتِ زندگی میں سے ہے۔ جاہل کے لئے تقلید کی ضرورت کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ عالم کے لئے بھی اس اعتبار سے تقلید کی ضرورت ہے کہ هردانشمند کے علم کا دائرہ محدود ہے۔ مثال کے طور پر گهربنوانے کے سلسلے میں ڈاکٹر کے لئے انجینئر اور معمار کی تقلید کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ہوائی جهاز میں سوار ہونے کے بعد اس کے
____________________
۱ سورہ آل عمران، آیت ۷۔”اور انہیں جو علم کے اندر رسوخ رکھتے ہیں جن کا کهنا یہ ہے کہ ہم کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ سب کی سب محکم ومتشابہ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے“۔
۲ وسائل الشیعہ، ج ۱، ص ۴۹ ، ابواب مقدمہ عبادات، باب ۵، حدیث ۱۰ ۔”فقط اعمال کو ان کی نیتوں سے تولا جائے ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کر رکھی ہو“۔
لئے ہواباز اور بحری جهاز میں قدم رکھنے کے بعد بغیر کسی چوں و چرا کے ناخدا کی تقلید ضروری ہے۔
بلکہ علم طب میں مختلف شعبوں کے وجود میں آنے کی وجہ سے اگر کوئی ایک عضو میں مهارت حاصل کرچکا ہو تب بھی باقی اعضاء میں اس کے لئے دوسرے ڈاکٹروں کی تقلید ضروری ہے۔
نتیجے کے طور پر کسی بھی فرد کے لئے تقلید کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن ہے۔
اسی لئے دین پر ایمان رکھنے والا جانتا ہے کہ اس کے لئے دین میں جو احکام معین کئے گئے ہیں، بحکم عقل و فطرت انسان مجبور ہے کہ وہ ان احکام کو جاننے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے ان تین میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرے۔ یا ان کے بارے میں تحصیل علم کرے یا ان کا علم رکھنے والے ماہر و متخصص کی پیروی کرے اور یا احتیاط کا راستہ اختیار کرے۔ لیکن ایسی صورت میں کہ جب نہ تو ان احکام کا علم رکھتا ہو اور نہ ہی احتیاط پر عمل پیرا ہو اس کے لئے فقط ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی عالم کے نظریات کے مطابق ان احکام پر عمل کرے اور اگر ان احکام میں محققین و ماہرین کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہو تو ان میں سے اعلم کی تقلید کرے۔ جیسا کہ کسی بیماری کی تشخیص و علاج میں اگر چند ڈاکٹروں کے درمیان اختلاف نظر ہو ان میں سے اعلم کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
اور چونکہ دین اسلام دین علم ہے اور ہر عمل کی بنیاد، چاہے بالواسطہ ہی سهی، ضروری ہے کہ علم کی بنیاد پر ہو، تقلید کی بنیاد بھی علم، عقل اور فطرت پر ہے جو در حقیقت احکامِ دین میں عالم و مجتهد کی مستند رائے و نظر پر اعتماد کرنے کا نام ہے( وَلاَ تَقْفُ مَالَيْسَ لَکَ بِه عِلْمٌ إِنَّ السَّمْع وَالْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ ا ؤُْلٰئِکَ کَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلاً ) (۱)
تمت بالخیر
____________________
۱ سورہ اسراء، آیت ۳۶ ۔”اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کی پیروی مت کرنا کہ روز قیامت کان، آنکه اور قلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔
فہرست
پیش گفتار ۴
اصول دین کی مقدماتی بحثیں ۵
۱۔تحصیل معرفت کا ضروری ہونا : ۵
۲۔انسان کو دینِ حق کی ضرورت : ۶
۳۔انفرادی زندگی میں دین کا کردار ۷
۴ ۔اجتماعی زندگی میں دین کا کردار ۸
۵ ۔اصول دین سے آگاہی کی فضیلت و عظمت ۹
۶ ۔ایمان ومعرفتِ پر وردگار تک رسائی کی شرط ۱۱
خدا پر ایمان لانے کا راستہ : ۱۳
توحید ۳۱
توحید ذات: ۳۱
تو حید ذات و صفات: ۳۳
توحید در الوہیت: ۳۳
توحید در ربوبیت: ۳۳
توحید در خلق: ۳۴
توحید در عبادت: ۳۴
یعنی عبادت صرف اسی کی ذات کے لئے منحصر ہے۔ ۳۴
توحید در ا مٔر وحکم خدا: ۳۴
توحید در خوف وخشیت: ۳۴
(یعنی صرف خدا سے ڈرنا) ۳۴
توحید در مُلک: ۳۵
(یعنی کائنات میں صرف اس کی حکومت ہے) ۳۵
توحید در ملک نفع وضرر: ۳۵
یعنی نفع و نقصان کا مالک وہ ہے) ۳۵
توحید در رزق: ۳۶
(رزاق صرف خدا ہے) ۳۶
توحید در توکل: ۳۶
(بهروسہ صرف خدا کی ذات پر) ۳۶
توحید در عمل: ۳۶
(عمل صرف خدا کے لئے) ۳۶
توحید در توجہ : ۳۷
(انسان کی توجہ صرف خدا کی طرف ہونی چاہئے) ۳۷
عدل ۴۲
قوانین واحکام ۴۳
نبوت خاصّہ ۴۴
۱۔قرآن کی مثل لانے سے انسانی عجز: ۴۴
۲۔هدایت قرآن ۴۶
عیسائیوں کے بعض مخصوص عقائد ۵۲
۳۔قرآ ن کی غیب سے متعلق خبریں : ۶۰
۴ ۔اسرار خلقت سے مکمل آگاہی : ۶۲
۵ ۔قرآن کی جذابیت ۶۴
۶ ۔قرآن میں عدم اختلاف: ۶۴
۷۔قرآن کی علمی اور عملی تربیت : ۶۶
معاد ۹۰
دلیل عقلی: ۹۰
دلیل نقلی : ۹۲
امامت ۹۴
الف۔قضاوتِ عقل ۹۴
ب۔ قضاوت قرآن : ۹۶
پهلی آیت : ۹۷
دوسری آیت : ۹۸
تیسری آیت : ۹۹
ج۔قضاوت سنت: ۱۰۰
پهلی حدیث ۱۰۸
دوسری حدیث ۱۱۰
۱۔وزارت : ۱۱۰
۲۔اخوت وبرادری : ۱۱۲
اصلاح امر: ۱۱۴
شرکت در امر: ۱۱۶
خلافت: ۱۱۶
تیسری حدیث ۱۲۲
حدیث چهارم: ۱۳۱
پانچویں حدیث: ۱۳۲
حدیث ششم: ۱۳۸
ائمہ اثنا عشر ۱۴۶
پهلی روایت: ۱۵۰
دوسری روایت: ۱۵۱
امام زمانہ(عجل الله تعالی فرجه الشریف) ۱۶۷
روائی نقطہ نگاہ سے: ۱۶۹
امام زمانہ (علیہ السلام) کی طولانی عمر ۱۸۱
فروع دین ۱۸۷
الف۔ نماز ۱۸۷
ب۔ زکات: ۱۹۶
آیات ۲۰۴
۱۔ دین کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ۲۱۲
۲۔ علماء دین کی تقلید کا لازم و ضروری ہونا ۲۱۳
فہرست ۲۱۵