یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
النص و الاجتہاد
سید شرف الدین العاملی
(اردو ٹائپنگ ولایت ڈاٹ نیٹ)
مقدمہ
بسم الله الرحمن الرحیم
""ساری تعریف معبود حقیقی اور خدائے برحق کے لیے""
وہ خدا کہ جس نے اپنےحبیب محمد مصطفیٰصلىاللهعليهوآلهوسلم کو علم ماکان و مایکون دے کر جامع السعادات بنا دیا۔
وہ خدا کہ جس نے اپنے رسول کو خاتم الانبیاء اور ان کی شریعت کو خاتم الشرائع قرار دے کر اس کے حلال و حرام کو اس طرح دائمی و ابدی بنا دیا کہ پھر باجماع مسلمین کسی کو تعبیر و تبدیل کا کوئی حق باقی نہ رہا۔
وہ خدا کہ جس کے اصول محکم، قوانین مستحکم اور احکام مستقیم ہیں۔
وہ خدا کہ جس نے اپنے الطاف و مراحم سے امت اسلامیہ کے لیے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد کے لیے نجات کا سامان یوں مہیاں کر دیا کہ انہیں ثقلین کے حوالے کرکے ابدی ضلالت و جہالت سے بچا لیا۔
وہ خدا کہ جس نے امت کو قوانی و اصول کا دستور دینے کے بعد انہیں یہ طریقہ تعلیم کیا کہ الفاظ کے ظاہری معنی پر اعتماد کریں اور اپنی عقل و رائے کے مطابق تاویل و تفسیر نہ کریں
""حیف صد حیف مسلمانوں پر""
وہ مسلمان کہ جنہوں نے خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیان کئے ہوئے طریقے کو ترک کرکے اپنی رائے سے اجتہاد و تاویل کے دروازے کھول دیے ۔
وہ مسلمان کہ جنہوں نے قرآن و سنت کے ظاہری معنی سمجھتے ہوئے صرف اپنے ذاتی بغض و عناد کی بنا پر ان کے مفاہیم کا انکار کر دیا اور اس طرح اپنی گمراہی کے ساتھ امت کی بربادی کا بھی انتظام کر دیا۔
اما بعد۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری یہ کتاب صرف ان موارد کو بیان کرے گی کہ جہاں صدر اسلام کے بعض بزرگوں نے اپنی ذاتی خواہش اور طبعی رجحا کی بنا پر قرآن و سنت کی بے محل تاویل کی ہے تاکہ اس کے ذریعہ آج کی مسلم اکثریت کو اس کے اسلاف کے بعض کارناموں سے روشناس کرایا جائے، اس کے بعد فیصلہ کی توقع ناظرین کرام سے ہے اور توفیق کی التجا خدائے کریم سے ۔
تاویلات حضرت ابی بکر
مورد سقیفہ
آہ! وہ وقت جب کہ حضرت ابی بکر نے خلافت کے لیے ہاتھ بڑھایا اور ایک جماعت نے ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کرلی اور اس طرح حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے اس صریحی حق کا انکار کر دیا گیا جسے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ے ابتداء تبلیغ سے آخر عمر تک بیان کیا تھا (میں نے ان تمام روایات و نصوص کو اپنی کتاب مراجعات میں ذکر کر دیا ہےجس میں مصر کے جامعہ ازہر کے رئیس سلیم شیخ سلیم سے مباحثہ کیا گیا ہے اور اس طرح ۱۱۲ مرتبہ خط و کتاب کی نوبت آئی میری خواہش ہے کہ اہل نظر کلام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نبض قرآن سند و دلیل تصور کریں)
انکار حدیث :۔
شاید ہی دنیا میں کسی حدیث کا اس طرح انکار کیا گیا ہو جس طرح کہ احادیث خلافت امیرالمومنین کا انکار کر دیا گیا۔ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابتداءے تبلیغ سے تاحیات بلکہ آخری وقت میں بھی حدیث ثقلین کے ذریعہ اہل بیت کی عظمت اور ان کی قرآن سے ہم آہنگی کا اعلان کیا ۔ لیکن امت نے سقیفہ میں ان سب کو نظر انداز کر دیا۔
نبی ہاشم سے اعراض:۔
وہ اہل بیت کہ جن میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے باب حطہ سفینہ ، حبل ممدود، ثقل اکبر، باب العلم اور معدن نبوت قرار دیا تھا ان کے افکار کے ساتھ ساتھ نبی ہاشم کے ان ارباب فکر کو بھی نظر انداز کر دیا گیا جو ان افراد سے یقیناً بہتر تھے کہ جن میں اس وقت کی خود ساختہ اصطلاح میں اہل حل و عقد قرار دیا گیا تھا۔
بیعت پر اصرار:۔
اپنے احباب و اتباع سے بیعت لیے کے بعد حکومت وقت کی نظر بنی ہاشم کی طرف مڑ گئی اور ان سے جبریہ بیعت لینے کے منصوبے بننے لگے، یہاں تک کہ ان کے گھر کو آگ لگانے کا ارادہ کر لیا گیا ۔ ہم نے یہ مان لیا کہ اہل بیت کی شان میں کوئی نص وارد نہ ہوئی تھی انہیں علم و ادب ، شجاعت و سخاوت، اخلاق و اکرام کے میدان میں سبقت حاصل نہ تھی لیکن کم از کم ان کا مرتبہ ایک صحابی کا تو ضرورت تھا پھر کیا اتنا ممکن نہ تھا کہ اس قدر خلافت میں تاخیر کی جاتی کہ وہ دفن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے فارغ ہوکر واپس آجاتے؟ کیا اس طرح ان کے دکھے ہوئے دلوں کا علاج اور زخم جگر کا مداوانہ ہوجاتا؟ کیا اس طرح نبوی تعلیمات اور اسلام اخلاقیات کے اقدار کا اظہار نہ ہوتا؟ یقیناً سب کچھ ہوتا لیکن وہاں تو خطرہ صلاحیتوں سے تھا ۔ اس لئے فکر تھی کہ مطلب کو جلد ختم کیا جائے۔ اور موقع سے فاءدہ اٹھالیا جائے ایسا نہ ہو کہ بنی ہاشم دفن سے فارغ ہوکر واپس آجائیں اور ہمارے منصوبوں میں داخل اندازی کریں ۔ ادھر سعد بن عبادہ سے بشیر و عویم و معن کا حسد کام آگیا اور انہوں نے صرف سعد کی مخالفت کرنے کے لیے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھا دیا اور اس طرح تین آدمیوں کا قدیم منصوبہ وقتی طور سے کامیاب ہوتا نظر آیا۔
نزاع مہاجری و انصار:۔
یہ تو ہم نہ ہونا چاہیئے کہ بیعت کا کام جلدی مکمل ہوگیا نہیں نہیں فضاوں میں آج تک کچھ شور و شغب کی صداءیں اور کچھ مخالف نعرے محفوظ ہیں جنہیں مصلحت وقت نے ہر امکانی قوت سے دبانا چاہا پہلے انصار کی مدح سراءی کی گئی پھر ان کی رائے میں افتراق ڈالا گیا۔ اور جب کام کسی حد تک روبراہ ہوگیا تو حرب و ضرب قتل و احتراق کی نوبت آگئی ، اور اس طرح پہلی بیعت کا معاملہ طے ہوا اور لوگ مسجد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف یوں چلے جیسے کسی عروس کو گھر لے جاتےہیں۔
امام ؑ کی قربانی:۔
حضر امیرالمونین ؑ کو ان خفیہ ریشہ دوانیوں کا بھی علم تھا جو حیات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ہورہی تھیں اور ان واضح اقدامات کا بھی علم تھا جو وفات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غنیمت موقع پر کیئے جارہے تھے امام کے لئے ممکن تھا کہ جہاد کرکے اپنے جاءز حق کو حاصل کرلیں لیکن آپ نے بقاء اسلام اور حفظ احکام کی خاطر اپنی ذات کو قربان کر دیا۔
امام ؑ کا احتجاج:۔
حضرت امیر المومنین ؑ نے نزاکت وقت کا خیال کرتے ہوءے یہ مناسب خیال کیا کہ حکومت وقت کو کسی حد تک محسوس کرادیا جائے کہ وہ قطعی حق پر نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ میری خاموشی سے وہ مکمل طریقہ پر ناجائز فائدہ اٹھالے اور آئندہ آنے والی سلوں کو صحیح مرکز کا پتہ نہ چل سکے۔ اس لئے آپ نے حضر ابو بکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہاری دلیل قرابت ہے۔ تو میرا تقریب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے زیادہ ہے اور اگر تمہارا برہان ابرہان شوری ہے تو یہ کیسا مشورہ تھا کہ جس می اہل راءے و فکر موجود نہ تھے۔
ناگہانی بیعت:۔
ظاہر ہے کہ یہ بیعت ایسی ناگہانی تھی جس سے بقول حضرت عمر سوائے شرو فساد کے کوئی اور توقع نہ تھی ۔ اس لیئے انہوں نے دوبارہ ایسے اقدام سے منع کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس بیعت کے شروفساد سے بچا لیا۔ حالانکہ انصاف یہ تھا کہ شکریہ اسی امام کا ادا کیا جاءے جس کی خاموشی سے یہ شرو فساد ظاہر نہ ہوسکا اسلام ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ ہوگیا اور اسے دوام و ثبات کی سند حاصل ہوگئی۔
مورد استخلاف :۔
آہ آہ وہ نامسعود ساعت کہ جس میں حضرت ابوبکر نے خلافت حضرت عمر کے سپرد کی۔ تعجب بالائے تعجب ! انسان زندگی بھر استغنا ظاہر کرے اور چلتے وقت اس طرح دوسرے کے حوالے کر جائے کہ گویا اس کی ذاتی ملکیت یا پدری میراث ہے حیف صد حیف! اس ثقل اکبر، سفینہ نجاب، باب حطہ، امان اہل ارض سہیم قرآن کے حق کو نظر انداز کر دیا گیا جس کے لیئے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تصریح کی تھی جس کے اتباع کو نجات کا ضامن قرار دیا تھا۔
مورد جنگ موتہ:۔
۸ جمادی الاولی میں رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لشکر بھیجا اور یہ ترتیب معین کی کہ پہلے امارت لشکر زید کے ہاتھوں ہوگی پھر جعفر کے پھر عبداللہ بن رواحہ یا بنا بر روایات امامیہ پہلے جعفر پھر زید پھر عبداللہ بہرحال یہ مسلم ہے کہ حضرت رسول اکرم نے زید کی صلاحیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی لہذا اب اگر زید کی امارت کی مخالفت کی جائیگی تو یہ اجتہاد مقابل نص صریح ہوگا۔ اس جنگ کا سبب یہ تھا کہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے صحابی حرث بن عمر ازدی کو بادشاہ بصری کے پاس دعوت اسلام کے لیے روانہ کیا راستہ میں سر جبل بن عمر نے روک کر سوال کیا کیا تم محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قاصد ہو؟انہوں نے اعتراف کرتے ہوءے بتایا کہ شام کا قصد ہے اس بنیاد پر اس نے گرفتار کرکے قتل کرادیا۔تب حضرت رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ فوج روانہ کی۔ اس کے علاوہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک فوج فتح شام کے لیئے اسامہ بن زید کے ساتھ روانہ کی تھی۔ اور ان دونوں کا یہ اثر ہوا کہ شام و روم کے قلوب پر اسلامی ہیبت چھا گءی۔
موقف جعفر:۔
کیا کہنا اس اطمینان نفس کا کہ انسان تین ہزار کا لشکر لے کر دو لاکھ فوج سے ٹکرا جائے اور وہ بھی اس طرح کہ اپنے گھوڑے کے یپر قطع کر دے اور خود اپنے دونوں ہاتھ کٹا دے لیکن سکون و اطمینان میں فرق نہ آنے پائے ۔ یہاں تک کہ خود پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم خبر دیں کہ میں نے جعفر کو کل رات ملائکہ کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
موقف زید و عبداللہ:۔
قابل صد تحسین ہے زید کا وہ اقدام کہ جس میں لاکھوں نیزوں کی پرواہ کیئے بغیر مجاہد آتش جنگ میں کود پڑا اور اسلام پر جان قربان کر دی۔ اور حیرت انگیز ہے عبداللہ کا وہ اطمینان نفس کہ جس میں دو لاکھ افراد سے ایسا مقابلہ کیا کہ جب ایک عزیز نے زخم کے علاج کا سامان مہیا کیا اور دفعتاً فوج میں غل پڑگیا تو تلوار لے کر اٹھ کھڑے ہوءے۔ فرمایا افسوس کہ میں ابھی زندہ ہوں! کسی شخص نے مشورہ دیا کہ دشمن کی کثرت کی اطلاع حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دے دی جائے۔تو فرمایا کہ ہم کثرت وقلت کے تابع نہیں ہیں۔ ہم اپنے ایمان و عقیدہ کی قوت سے جنگ کر رہے ہیں، ""فیالیتنا کنا معهم فنفوز فوزا عطیما ""۔
مورد سریہ اسامہ بن زید
۶ صفر ۱۱ ھ کو حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک فوج تیار کرکے اسامہ بن زید کہ اس کا رئیس قرار دے کر مسلمانوں کو حکم دیا کہ شام جاکر جنگ کریں اور تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیں یہ وہ اہم لشکر تھا جس میں اعیان مہاجری و انصار مثل حضرت ابوبکر و عمر و ابوعبیدہ و سعد سب شریک تھے اور حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خود تمام اسباب مہیا کءے تھے ابھی دو د گزرے تھے کہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مرض الموت میں مبتلا ہوگئے ایسی حالت میں آپ نے اصحاب کی سستی کا احساس کیا اور باہر تشریف لاکر دوبارہ حکم صادر فرمایا کہ سفر میں عجلت سے کام لینا چاہیے یہاں تک کہ اسامہ سے فرمایا کہ صبح سویرے یہاں سے سفر کرکے اہل انبی تک پہنچ جاؤ۔ اور اتنی تیز رفتاری سے چلو کہ تمہاری جگ کی خبریں تمہارے بعد پہنچیں لیکن افسوس کہ ان تمام تاکیدات کے باوجود لوگوں نے اسامہ کی امارت میں طعن و طنز شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ حالت مرض میں حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو باہر آنا پڑا اور مکرر یہ حکم دینا پڑا کہ تم لوگوں کو جانا چاہیے تم نے ایک د زید کی امارت پر اعتراض کیا تھا اور آج اسامہ کی امارت میں شک کر رہے ہو۔ خدا کی قسم اسامہ اس کا اہل ہے ۔ یہ فرما کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسامہ کو روانہ کیا، یہ لوگ روانہ ہوءے اور دو شنبہ بارہ ربیع الاول کہ جب بقول جمہور حضرت نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وقت آخر تھا واپس آگئے ۔ رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے انتقال پر سارا لشکر مدینہ واپس آگیا اور اب یہ سر گوشیاں ہونے لگیں کہ اس تحریک کو ختم کر دیا جائے ۔ لیکن جب حضرت ابوبکر سے مشورہ ہوا تو انہوں نے شدت سے انکار کیا یہاں تک کہ حضرت عمر کی ریش پکڑ کر یہ کہا کہ ""تیری ماں تیرے ماتم پر بیٹھے۔ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کی صریحی مخالفت کرنا چاہتا ہے ""؟ آخر کار اسامہ تین ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے جس میں ایک ہزار گھوڑے تھے لیکن وہ حضرات نہ گئے جن کے لیے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خاص اصرار تھا۔ یہاں تک کہ بقول صاحب ملل و نحل آپ نے نہ جانے والوں پر لعنت بھی فرماءی تھی اور ظاہر ہے کہ اس انکار کی وجہ اور کیا ہوسکتی ہے سواءے اس کے کہ ان حضرات نے کلام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی صریحی مخالفت کی اور نص نبوی کے مقابلی میں اجتہاد سے کام لے کر یہ طے کر لیا۔ کہ ہمارا نہ جانا ہی اولی ہے اور وہ اس لئے کہ جنگ تو بغیر ہمارے بھی فتح ہوسکتی ہے لیکن خلافت میں اگر ہم نہ رہے تو وہ دوسرے خاندانوں میں منتقل ہوجائے گی اور اس طرح طمع وہ حرص نے اہیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی صریحی مخالفت پر آمادہ کر دیا۔
مقصد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم :۔
حقیقت امر یہ ہے کہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایسے غیر مناسب حضرات مدینہ سے باہر چلے جاءیں کہ جو میرے بعد خلافت کے مدعی ہونے والے ہیں تاکہ امر خلافت باطمیان و سکون اپنی منزل حقیقی تک منتہی ہوسکے۔ اور اسی لیئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس قوم پر ایک سترہ برس کے جوان کو امیر بنا دیا تھا تاکہ ا کی انانیت کا بھی علاج ہوسکے۔ لیکن قوم نے فوراً تاڑلیا اور پہلے تو امارت ہی پر اشکال کیا پھر جانے میں سستی برتی۔ اور جب یہ سب بیکار ثابت ہوگیا تو بعد وفات نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم لشکر کو معطل کرنے کی فکر کی اور پھر اسامہ کو معزول کرنے کی ٹھان لی۔ یہی وہ مقامات تھے جہاں ذاتی عقائد و افکار کو نصوص صریحہ پر مقدم کیا جارہا تھا تاکہ خلافت کو حکومت کا جامعہ پہنا کر اس پر قبضہ کر لیا جائے۔
معاذیر:۔
شیخ الاسلام بشری نے ہمارے بعض مراسلات میں ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوءے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اگرچہ سرعت سیر اور تندی رفتار کا حکم دیا تھا لیکن افسوس کہ لشکر کی روانگی کے فورا بعد ہی آپ مرض الموت میں مبتلا ہوگئے ۔ اس لیئے صحابہ کرام نے کمال محبت کی بنا پر آپ کو اس وقت تک کے لیئے چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا جب تک کہ آپ کی موت و حیات کا فیصلہ نہ ہوجائے اور ظاہر ہے کہ رموزالفت اور رموز محبت سے ہر شخص آشنا ہی نہیں ہوتا نہ یہ باتیں قابل اعتراض ہوتی ہیں۔
اسامہ کی امارت پر اعتراض در حقیقت فطرت بشری کی ترجمانی تھی۔ اس لیئے کہ انسان طبعاً کسی کم سن کی حکومت کو قبول نہیں کرتا اگر وہ خود بزرگ ہو۔ اس میں قول رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی کوءی توہین نہیں ہے ۔ وفات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد معزولی کے مطالبہ کی بھی بعض لوگوں نے یہ توجہیہ کی ہے کہ صحابہ کرام کو یہ توقع تھی کہ شاید حضرت صدیق بھی ہمارے راءے پسند فرمالیں (اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں) در حقیقت حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مرض کی حالت میں وہ اہتمام اس امر سے سازگار نہیں ہے کہ صحابہ کرام اس قسم کے اقدامات کریں، لہذا اس مطالبہ کی مصلحت کا علم خدا کو ہے ۔
صحابہ کا اس امر پر اصرار کہ اب لشکر نہ بھیجا جائے صرف اس بنا پر تھا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے انتقال کے بعد مدینہ کو کفار و مشرکین سے شدید خطرہ تھا اس لیئے ان حضرات نے نہ چاہا کہ اسلامی قوت کو دوسری طرف متوجہ کر دیا جائے اور اس طرح کفار کے لیئے راستہ ہموار ہوجائے ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت صدیق نے اس مطالبہ کو ٹھکرادیا۔ لہذا وہ محل اعتراض سے خارج ہیں۔ باقی حضرات حسن احتیاط کی بنا پر ممدوح ہیں حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے تخلف کا راز یہ تھا کہ اسلامی شوکت کا سارا دارومدار انہیں حضرات کی ذات پر تھا ۔ تو پھر ظاہر ہے کہ ایسے افراد کی امت اسلامیہ کو ایسے وقت میں کتنی ضرورت تھی ۔ جہاں تک شہرستانی کی نقل کا تعلق ہے اس کا جواب واضح ہے ۔ اس لیئے کہ یہ روایت مرسلہ(۱) ہے اور احلانی و حلبی وغیرہ نے اس کا انکار بھی کیا ہے لہذا یہ محل اعتبار سے ساقط ہے۔
____________________
(۱):(مرسلہ وہ روایت ہے کہ جس کے راویوں کا سلسلہ معصوم تک نہ پہنچتا ہو جیسے کہ راوی زمانہ معصوم میں موجود ہی نہ رہا ہو اور اس کے مقابلہ میں روایت مسند ہے جس کا سلسلہ سند مذکور یا معلوم ہوتا ہے ) (مترجم)
میں نے موصوف کے جواب میں یہ تحریر کیا تھا کہ خدا آپ کو سلامت رکھے۔ آپ نے ہمارے تمام اعتراضات کو تسلیم کر لیا ہے ۔ اور ان کا یہ جواب دیا ہے کہ صحابہ نے مصلحت وقت کی بنا پر ایسے اقدامات کیئے تھے اور یہی ہمارا مدعی ہے کہ صحابہ اپنے افکار و آراء کو نص رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر مقدم کر دیا کرتے تھے ۔ اور جب اسامہ کے بارے میں اپنی خواہش کو مقدم کر سکتے ہیں تو کیا مانع ہے کہ خلافت کے بارے میں بھی ایسا ہی کریں۔ جب اسامہ کی کمسنی کو مانع حکومت قرار دے سکتے ہیں تو کیا عذر ہے ۔ اگر حضرت علی ؑ کی کمسنی کو بھی مانع قرار دیں۔ پھر آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ بڈھوں کی فطرت ہی کہ بچوں کی حکومت اور اطاعت سے انکار کریں حالانکہ قرآن کریم نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت ہر شخص پر فرض کی ہے ۔ اور ایسی ناقص فطرت کو باعث عذاب اور موجب عقاب قرار دیا ہے ۔ جہاں تک روایت کے ارسال و اسناد کا تعلق ہے اس کے متعلق عرض ہے کہ شہرستانی نے اس روایت کے اسناد کو صرف اس لیئے ترک کر دیا تھا کہ یہ ایک مسلم مسئلہ تھا ورنہ جوہری کی کتاب سقیفہ ملاحظہ کریں۔ اس میں یہ روایت مفصل بااسناد درج کی گئی ہے اور پھر ابی ابن ابی الحدید نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح نہج البلاغہ ج ۲ ص ۲۰ طبع مصر۔
مورد سہم مولفتہ القلوب :۔
ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے زکوۃ کے مصرف میں ایک حصہ مولفتہ کا بھی قرار دیا ہے ۔ اور حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس ترتیب پر عمل بھی فرمایا ہے ۔ چنانچہ ایک جماعت کو مال اس لیئے دیا تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ اسلام قبول کریں ۔ ایک طائفہ کو اس لیئے عطافرمایا تاکہ اس کے اسلام میں قرار پیدا ہو جیسے ابوسفیان ، معاویہ ، عینیہ بن حصن، اقرعہ بن حابس، عباس بن مرواس وغیرہ ۔
بعض لوگوں کو اس لیے عطا کیا کہ اس کی وجہ سے دوسرے افراد اسلام لائیں اگرچہ ممکن ہے کہ پہلے جماعت کو حضرت رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خمس کے ۶/۱ سے عطا کیا ہو جو آپ کا حق خاص تھا بہر حال یہ مسلم ہے کہ یہ آپ کی سیرت تھی جسے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تادم مرگ ترک نہیں کیا۔ وفات آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد جب یہ لوگ حضرت ابوبکر کے پاس آئے تو آپ نے انہیں ایک کاغذ لکھ کر دے دیا۔ وہ اسے لے کر حضرت عمر کے پاس گءے۔ حضرت عمر نے کاغذ کو پارہ پارہ کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ اسلام قوی ہوگیا ہے ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے
(فجر الاسلام ص ۲۳۸)
وہ لوگ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ خلیفہ ہیں یا حضرت عمر ؟ انہوں نے جواب دیا۔ انشاء اللہ عمر۔
پھر اس نظریہ کے بعد یہ حصہ زکوۃ ختم کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ اجتہاد در مقابل نص ہے لیکن ہم اس وقت علامہ دوالیی کے بعض معاذیر نقل کرتے ہیں تاکہ حضرات ناظرین محظوظ ہوسکیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا اجہتاد حکم آیت کے مقابلہ میں نہیں تھا۔ اس لیئے کہ حکم شریعت ناقابل تغیر ہے ۔ بلکہ اس اجتہاد کا تعلق مقدمات حکم سے تھا گویا آپ نے یہ طے کر لیا تھا کہ یہ حکم اس دور کے لیئے تھا جب اسلام ضعیف تھا اور آج جبکہ وہ علت ختم ہوگئی تو حکم کی بقاء یعنی چہ! اس کے بعد انہوں نے اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آج کی حکومت کا بھی یہی دستور ہے کہ اپنی قوت حاصل کرنے کے لیے غریب اور مخالف طبقہ پر رقمیں صرف کرتی ہیں اور جب کام نکل جاتا ہے تو انہیں نظر انداز کر دیتی ہے ۔ ان حالات سے حضرت عمر نے یہ اندازہ لگالیا کہ اس سہم کا تعلق زمانہ غربت و ضعف سے ہے اس لیئے آپ نے اسے بند کر دیا۔ بنا برین یہ حکم شریعت کی مخالفت نہیں ہے۔ بلکہ یہ اندازہ ہے کہ واقعاً حکم انہیں حالات سے مخصوص تھا۔
اقول :۔
علامہ موصوف نے بار بار اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ حضرت عمر نے اسی سہم کو روک لیا تھا اور یہ طے کر لیا تھا کہ اس کے مدت گزر چکی ہے ہمارا مدعی بھی صرف اتنا تھا کہ صحابہ اپنی راءے سے کچھ باتیں پیدا کرکے حکم شریعت کو باطل کر دیتے تھے ۔ ورنہ قرآن کریم میں تو آیت غیر معطل ہے۔ یعی اس میں اس حکم کی کوءی توجیہہ نہیں کی گئی۔ پھر اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ ہم ان لوگوں کے شر سے محفوظ ہوگئے (حالانکہ خلاف مشاہدہ ہے) تو یہ حقیقت تو ناقابل انکار ہے کہ ان کے اسلام کی امیدیں اب بھی باقی تھیں اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جہاں اہل شر کو اس سہم سے عطا کیا کرتے تھے وہاں کفر پر بھی صرف کرتے تھے تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوسکیں اس جواب کے بعد ہم موصوف کے اصل مسئلہ کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔
ہم شیعہ اثنا عشری حکم خدا کے اطلاق و عموم کے مقابلہ میں کسی مصلحت کی کوئی قیمت اس وقت تک نہیں لگاتے جب تک کہ اس کے متعلق خود شریعت میں کوئی نص نہ وارد ہوئی ہو اور یہی شافعی و حنفی حضرات کا قول ہے ۔ لیکن حنبلی حضرات ایسی مصلحتوں کو بھی معول بہ تصور کرتے ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ یہ نص کہ مقابلہ میں ان مصالح(۱) مرسلہ کو مقدم کر دیتے ہیں۔ البتہ صرف اس وقت جب نص کا تعلق خبرت واحد(۲) سے ہو اور یا ان عمومات سے جو قابل تخصیص ہیں، اس بیان سے معلوم ہوگیا کہ اس کے پانچویں فرقے اس امر پر متفق ہیں کہ یہ آیت قابل تخصیص و تغیر نہیں ہے۔ بلکہ اگر مسلمانوں کو اجماع اس امر پر نہ ہوتا کہ حضرت عمر و حضرت ابوبکر نے اس حکم کو ختم کر دیا تھا تو ہم بطور حسن ظن یہ کہتے کہ آیت زکوۃ نے آٹھ قسموں کو زکوۃ کا مصرف قرار دیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ مال زکوۃ کو تمام اضاف پر تقسیم کر دیا جائے تو فریضہ ادا ہوجاتا ہے ۔ اور یہ مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے خود ہی بالاتفاق طے کر لیا ہے کہ دونوں نے حکم شرعیت کی مخالفت کی اور اسی لیے تاویل کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آخر کلام میں ہم علامہ موصوف کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ شیعہ امامیہ کسی وقت بھی مصالح کو نص پر مقدم نہیں کرتے اور نہ ان کے مذہب میں اس قسم کی خرافات کا وجود ہے ۔
___________________
(وہ مصالح کہ جو مجہتد اپنی نظر سے پیدا کرتا ہے اور انکا کوئی ضابطہ مقرر نہیں ہے)۔
(خبر واحد ہر اس روایت کو کہتے ہیں کہ جس کے راویوں کی بنا پر روایت کے معصوم سے صادر ہونے کا یقین نہ ہوسکے)
(آیت زکوۃ نے آٹھ قسم کے افراد کا ذکر کیا ہے کہ جن پر زکوۃ تقسیم کی جاسکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرمال آٹھویں قسموں پر تقسیم کیا جائے بلکہ تمام مال ایک قسم کو دے دینا بھی جائز ہے ۔ اس لیئے کہ یہ اضاف مصرف ہیں مالک نہیں ہیں) (مترجم)
مورد سہم ذوی القربی :۔
آیت خمس میں بالصراحت ذوی القربی کا ذکر موجود ہے اور اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اپنی زندگی میں ان حضرات کو خمس سے ایک سہم دیا ہے ۔ لیکن حضرت ابوبکر کی حکومت کے بعد اس آیت میں تاویل ہوئی اور سہم نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم و ذوی القربی کو ساقط کر دیا گیا۔
(کشاف)
حضرت صدیقہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا نے حضرت ابوبکر کے پاس فدک اور خمس خیبر کے مطالبہ کے لیئے بھیجا۔ لیکن حضرت ابوبکر نے انکار کر دیا تو آپ اس قدر ناراض ہوئیں کہ تادم وفات تکلم نہیں فرمایا (بخاری و مسلم) غرض روایات صحیحہ سے یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ اہل بیت ؑ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سہم قرابت زمانہ حیات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تک ملتا رہا۔ لیک افسوس کہ اکثر آئمہ مسلمین نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر کا اتباع کر لیا اور نص رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پرواہ نہ کی۔ مالک نے تمام خمس کا مالک والئی وقت اور امام کو قرار دیا۔ ابو حنیفہ نے سہم رسالت و قرابت کو ختم کرکے اہل قرابت کو باقی مسلمانوں کا ردیف بنا دیا۔ مالک نے پانچ حصوں پر تقسیم کرکے ایک رسول کے لیے ہے اور ایک قرابت داروں کے لیئے جو ان پر اثلاثاً تقسیم ہوگا باقی تین حصے اپنے محل میں تقسیم ہوں گے اور اس طرح نص صریح کی مخالفت کے مرتکب ہوئے ۔ ہم شعیہ امامیہ کا مذہب یہ ہے کہ خمس کے چھ حصے ہونگے سہم اللہ، سہم الرسول ، اور سہم ذوی القربی کا حقدار امام وقت نائب رسول ہوگا، باقی تین سہم فقراء و مساکین تیامی و ابناء السبیل(۱) پر صرف ہوں گے ۔
مورد وراثت ابنیاء:۔
قرآن کریم کی آیات سے صراحتاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دین اسلام نے وراثت کا حکم اس طریقہ سے عام قرار دیا ہے جس طرح کہ صلوۃ و صوم کا حکم ہے۔ آیات وراثت، آیات ارث، اولوالارحام، آیات ارث حضرت زکریا اس امر پر شاہد عادل ہیں کہ قرآن کریم نے اس حکم کو نبی غیر نبی ہر ایک کے لیے عام طریقہ پر وضع کیا ہے ۔ یہی وہ آیات تھیں جن سے حضرت فاطمہ زہراؑ نے میراث انبیاء پر استدلال کیا تھا۔ اور ان کے ماننے والے آج تک استدلال کر رہے ہیں۔ اس لیے میراث ( ۲) کا تعلق اموال سے ہوتا ہے نہ کہ علم و حکمت سے علم و حکمت حقیقتاً قابل نقل و انتقال نہیں ہیں ۔ کہ انہیں میراث قرار دیا جائے ۔ پھر اگر نبوت میراث ہوتی تو زکریا فرزند نبی کے خوش اخلاق ہونے کی دعا نہ کرتے۔ اس لیئے کہ یہ دعا ایسے انسان کے لیئے لغو ہے ۔ اس کے علاوہ حضرت زکریا کا خوف بتاتا ہے کہ آپ کو خطرہ اموال سے تھا ورنہ نبوت قابل خطرہ نہیں، اس کا ذمہ دار اخلاق عالم ہے ۔
اگر کوئی یہ کہہے کہ اموال کا خطرہ نبی کے بخل پر دلالت کرتا ہے اور یہ قبیح ہے تو ہم کہیں گے کہ اہل شر سے مال کی حفاظت بخل نہیں ہے بلکہ کار خیر ہے اور اس کے خلاف عقلاًء کے نزدیک مذموم ہے ، خلاصہ کلام یہ ہے کہ میراث کے حقیقی معنی
____________________
(۱) ابن سبیل ہر اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو عالم مسافرت میں ایسا پریشان ہوجائے کہ اس کے لیئے تمام وسائل معیشت مسدود ہوجائیں ۔ اور پھر اپنے وط تک بھی نہ پہنچ سکے۔
(۲) اس مطلب کی تفصیل اور اسکی علمی بحث میری کتاب ""فدک"" میں دیکھی جاسکتی ہے۔ (مترجم)
کا تعلق اموال سے ہوتا ہے ۔ یہ لفظ علم و حکمت و میں مجازا استعمال ہوتی ہے ۔ اور وہ اس وقت بے محل ہے۔ اب ہم حضرت صدیقہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے موقف کو واضح کرتے ہیں۔ آپ ے مطالبہ میراث کیا۔ حضرت ابوبکر نے انکار کر دیا تو آپ بے حد غضبناک ہوئیں۔ یہاں تک کہ جنازہ میں شرکت کی ممانعت کر دی۔ پھر آپ ؑ کا تاریخی خطبہ آپ کے رنگ استدلال اور غیظ و ملال کا شاہد عادل ہے۔ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ کیا تم نے عمدا حکم خدا کو ترک کر دیا ہے۔ کہ وہ تو انبیاء میں میراث قرار دیتا ہے ۔ یا تم عموم و خصوص سے میری اور میرے پدر بزرگوار کی نسبت سے زیادہ واقف ہو۔ یا تم میرے اور میرے باپ کی مذہب کو جدا جدا تصور کرتے ہو؟ ذرا ملاحظہ کریں بنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پہلے آیات ارث انبیاء سے استدلال کیا اس کے بعد عموم میراث سے استدلال کیا۔ اس کے بعد قوم کی حمیت و غیرت کو چیلنج کیا جو حکم خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت پر آمادہ تھی۔ اہل انصاف بتاءیں کیا یہ ممکن تھا کہ ایسا واضح حکم (یعنی عدم وراثت اولاد انبیاء) بنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو معلوم نہ ہو جبکہ اس کا براہ راست تعلق آپ ہی سے تھا۔ کیا رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم احکام کو چھپا لیا کرتے تھے ۔ اور مکمل طور پر تبلیغ نہ فرماتے تھے؟ کیا امیرالمومنین علی السلام جن کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے باب العلم اقضی امت باب حطہ سفینہ نجات قرار دیا تھا اس حکم سے واقت نہ تھے؟ کیا امہات المومنین کو یہ حکم معلوم نہ تھا کہ حضرت عثمان سے میراث کا مطالبہ کر بیٹھیں؟ معلوم ہوا کہ معاملہ احکام سے متعلق نہ تھا بلکہ سیاست سے متعلق تھا۔ اور سیاست کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کو ان کے حق سے محروم کردیا جائے ۔ اسی لیے آپ نے ایک کلمہ سے تمام امات اسلامیہ کی غیرت و حمیت کو چیلنج کر دیا۔ اور وہ اس وقت کہ جب آپ کی زبان اقدس سے یہ الفاظ نکل رہے تھے۔
""اے ابو بکر کیا ہمیں ہمارے باپ کے دین سے الگ تصور کر لیا ہے جو ہمیں ان کا وارث نہیں قرار دیتا؟ حیف صد حیف بنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم باپ کے انتقال کے فوراً بعد ایسے دلخراش اور جگر سوز نالوں پر مجبور ہوجائے"" انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مورد عطیئہ زہرا :۔
جب پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خیر کے قلعے فتح کئے اور اہل فدک نے مرعوب ہوکر نصف اراضی پر آپ سے مصالحت کرلی تو آپ نے اپنی خاص ملکیت ہونے کی بنا پر آیت حق ذوی القربی کے مطابق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو عطا کر دیا۔ اور پھر یہ مال آپ کے زیر تصرف رہا۔ یہاں تک کہ غصب کر لیا گیا ہے ۔ یہ ہے امت اسلامیہ کا وہ اجماعی مسئلہ جسے تمام علماء نے نقل کیا ہے۔
امام رازی کہتے ہیں کہ حضرت زہرا علیہا السلام نے عطیہ کا دعوے کیا۔ تو حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ مجھے تمہاری صداقت کا اعتبار نہیں۔ آپ نے گواہ پیش کیئے لیکن نصاب ناتمام کہا گیا ۔ ابن حجر کہتا ہے کہ دعوی عطیہ میں حضرت فاطمہ کا نصاب شہادت نا تمام تھا یہ ہی بیان ابن تیمیہ اور ابن قیم وغیرہ کا بھی ہے۔
اقول :۔
خدا مجھے معاف کرے اور حضرت ابوبکر سے حضرت فاطمہ ؑ اور ان کے آباو اولاد کو راضی کرے کاش انہوں نے ایسا اقدام نہ کیا ہوتا کہ جس سے امت اسلامیہ کے دل مجروح ہوگئے اور حکایت پر از حز والم ہوگئی ۔ کاش حضرت فاطمہ ؑ کو مال دے دیا ہوتا اور اس طرح اپنی نرم دلی اور شدت احتیاط کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا۔ کاش حق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کا خیال کیا ہوتا۔ اور حضرت فاطمہ ؑ کو مایوس نہ پلٹایا ہوتا۔
یہی وہ امور ہیں کہ جن کی تمنا خلیفہ سے ان کے قدیم و معاصر معتقدین نے بھی کی ہے۔ چنانچہ اس مقام پر استاد ابو ریاح کا قول بھی خالی از لطف نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خبرواحد سے کتاب کریم کے عمومات(۱) کی تخصیص ہوسکتی ہے اور حدیث لانرث ولانورث صحیح ہے تو اتنا تو بہر حال کہہ سکتے ہیں کہ حق ولایت کی بنا پر حضرت ابوبکر کے لیے ممکن تھا کہ ایک حصہ حضرت فاطمہ زہرا ؑ کو بھی دے دیتے جس طرح کہ زبیر اور محمد ابن مسلمہ کو متروکات رسالت می حصہ دیا۔ یا جس طرح کہ حضرت عثمان نے خود فدک کو مردان کے حوالہ کیا۔
ابن ابی الحدید نے بعض بزرگوں سے یہ کلام نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر کا یہ اقدام دین سے قطع نظر شرافت و کرامت کے بھی خلاف تھا اور اس کے بعد کہا ہے کہ یہ اعتراض لاجواب ہے۔
____________________
(۱) عصر حاضر میں یہ علم الرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر روایت معتبر ہو اور اس کے مقابلہ میں قرآن کریم کا کوئی عمومی حکم ہو تو اس روایت کا خیال کرتے ہوئے قرآ کی عمومیت سے دستبردار ہوجائیں گے لیکن جناب فاطمہ کا ابوبکر کی روایت پر اعتماد نہ کرنا اور آیت سے استدلال پر مصر رہنا ہمیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہر روایت یا راوی کے اعتبار غور کریں۔(مترجم)
تنقید:۔
ہمیں کسی کے رحم و کرم کی ضروری نہیں ہے ۔ ہمارا سوال تو یہ ہے کہ کیا واقعا انصاب حکم نا تمام تھا ؟ کیا خود حاکم کا حضرت فاطمہ ؑ کی صداقت کے متعلق یقین حکم کے لیے ناکافی تھا؟ جسے روز مباہلہ کے لیے متخب کیا تھا جس کے جلال و جمال سے متاثر ہوکر نصاری نے مباہلہ کا خیال ترک کیا تھا جس کو وحی الہٰی نے مرکز تطہیر قرار دیا تھا جس کی محبت کو قرآ نے واجب کیا تھا اور جس پر صلوات شافعی کی نزدیک شرط صحت و قبولیت نماز ہے جس کی شان میں سورہ دہر قصیدہ بن کر نازل ہوا تھا۔ یقیناً ایسی ذات مقدس کا کلام شہادت دبینہ سے مافوق ہونا چاہئے تھا۔ لیکن حقیقتاً معاملہ وہ تھا جو علی ب فاروقی نے اس وقت ظاہر کیا کہ جب ابن ابی الحدید نے پوچھا کہ اگر حضرت فاطمہ ؑ صادقہ تھیں تو حضرت ابوبکر نے فدک کیوں نہ دے دیا۔ اور انہوں نے جواب دیا کہ اگر آج ان کے قول کا اعتبار کر لیئے تو کل اپنے شوہر کے لیئے خلافت کا دعوی کرتیں اور حضرت ابوبکر لاجواب رہ جاتے۔
شاید یہی فلسفہ تھا جس نے حضرت علی کی گواہی مانتے سے روک دیا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ حضرت علی کی ذات وہ ہے جسے یہود خیبر بھی عادل و معتبر جانتے تھے۔ پھر طرفہ تماشایہ ہے کہ صاحب یدیعنی قابض سے گواہ مانگے گئے پھر گواہوں میں حضرت علی جیسے صادق القول کے کلام کو ٹھکرا دیا گیا ۔ جبکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فقط خزیمہ کے قول کا اعتبار فرما لیا تھا۔ اور حضرت علی خزیمہ سے قطعاً افضل تھے۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت فاطمہ ؑ کی گواہی کی ضرورت تھی اور حضرت علی ؑ کی گواہی ناکافی تھی تو خلیفہ نے حضرت فاطمہ ؑ سے قسم کیوں نہ لی۔ جیسا کہ قانون شریعت ہے اور پھر جبکہ حضرت فاطمہ ؑ کی وہ شخصیت ہے کہ بضعتہ النبی اور حضرت علی ؑ کی ذات وہ ہے کہ جسے آیت مباہلہ نے نفس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم قرار دیا ہے ۔ یہ وہ مصیبت ہے کہ جس پر اہل اسلام کو اناللہ و انا الیہ راجعون کی تلاوت کرنا چاہیے۔
مورد ایذاء زہراسلام اللہ علیہا:۔
یہ یاد رہے کہ تمام اسباب و علل سے قطع نظر یہ امر قبیح خود بھی نصوص صریحہ کے مخالف ہے اس لیے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حکم بعض لوازم کی بنا پر بدل جاتا ہے ۔ مثلاً فعل مباح اگر موجب عقوق والدین ہوجائے تو خود ہی حرام ہوجائیگا اب ذرا وہ نصوص ملاحظہ کریں کہ جن میں نبوت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عظمت بیان کی گئی ہے۔
اصابہ میں ابن ابی اعسم سے اور ""شرف موید"" میں طبرانی سے روایت ہے کہ اللہ تو حضرت فاطمہ ؑ کے غضب سے غضبناک ہوتا ہے ۔ بخاری و مسلم نے بھی یہ روایت نقل کی ہے نبہانی نے بھی تصریح کی ہے اور جامع صغیر میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ خود بنت رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی حضرت ابوبکر و حضرت عمر کو گواہ بنا کر اس روایت کو بیان کیا تھا۔ ""الامت و السیاست""
اقول :۔
ان احادیث کے انداز پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اخبار میں حضرت صدیقہ طاہرہ کی عصمت عظمت کا صراحتا اعلان کیا گیا ہے آپ ہی کی رضا و غضب پر خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے رضا و غضب کا دارو مدار ہے امام احمد حاکم طبرانی ترمذی اصابہ استاد عقاد وغیرہ نے حدیث غضب لمن حاربکم وسلم لمن سالمکم کو بھی نقل کیا ہے۔
ان تمام احادیث کے پیش نظر امت کے اہل حل و عقد کا فریضہ تھا کہ ایسے غمناک موقع پر اہل بیت کا احترام کرتے اور ان کو تسکین دیتے لیکن حیف کہ بجائے تعظیم و تکریم کے مصائیب کا پورا رخ انہیں کی طرف موڑ دیا گیا۔
(قصہ احراق بیت الشرف العقد الفرید ۵ ص ۱۲ )
یہاں تک کہ اہل بیت کی آواز کو صدا بصحرا بنا دیا گیا۔اور ان کے ابدی وقار کو ظاہرا ان سے سلب کر لیا گیا۔ اناللہ و اناللہ راجعون۔
مورد قتل ذوالثدیہ:۔
حرقوس بن زہیر جو ایک خارجی محض آدمی تھا اور ذوالثدیہ کے لقب سے مشہور تھا ایک مرتبہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر کو اس کے قتل کا حکم دیا لیکن دونوں نے اس کو حالت نماز میں دیکھ کر چھوڑ دیا۔ اور اس طرح فتنہ کی جڑ باقی رہ گئی۔ اس روایت کی مفصل طریقہ سے ابو لیلی نے اپی مسند میں انس سے نقل کیا ہے اور حافظ محمد ب موسی شیرازی نے اپنی کتاب میں بعض تفاسیر سے ابن عبدربہ نے اسے ارسال مسلمات کے طور پر بیان کیا ہے ۔ جس میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ قول بھی درج ہے کہ اگر یہ شخص قتل ہوجاتا تو اسلام فتنوں سے محفوظ رہ جاتا۔ مگر افسوس کہ جب حضرت علی ؑ کو حکم قتل ملا تو یہ ظالم فرار کر چکا تھا۔
مورد قتل ذوالثدیہ:۔
علامہ نوری نے مجھ سے یہ بیان کیا تھا کہ اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ حضرت ابوبکر نے اسے ایک وادی میں مشغول نماز دیکھا اور آکر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سفارش کی تو آپ نے دوبارہ قتل کا حکم دیا۔ لیکن انہوں نے مثل حضرت عمر دوبارہ پر پھر حکم سے سرتابی کی اور اس کی نماز کو حکم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر مقدم کیا جب کہ رسول عالم الغیب بھی تھا۔ میں اس روایت کے ماخذ کی تلاش میں تھا کہ دفعتاً مسند ابن حنبل کے جزو سوم میں سے یہ روایت یونہی نظر پڑی۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دوسرا حکم باقاعدہ شناخت کے بعد تھا لیکن صحابہ نے اپنی رائے و فکر کو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر مقدم کر دیا۔ اور اس طرح نص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا۔
مورد قتال اہل قبلہ:۔
تاریخ سے باخبر افراد پریہ امر واضح ہے کہ وفات رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد مسئلہ خلافت میں شدید اختلاف واقع ہوا۔ مسلمانوں نے ایک کمیٹی کرکے حضرت ابوبکر کا خلیفہ بنالیا لیکن عرب کے مختلف قبائل ایسے تھے جنہوں نے اس خلافت کو قبول نہیں کیا اور اسی نظریہ کے زیر اثر حضرت ابوبکر کو مال زکوہ دینے سے انکار کر دیا۔ خلیفہ نے اپنی خصوصی میٹنگ میں ان افراد کے متعلق مشورہ کیا حضرت عمر نے شدت سے اصرار کیا کہ ان سے جنگ نہ ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ یہ سب مسلمان ہیں۔ لیکن حضرت ابوبکر نے یہ اہتمام رکھا کہ یہ سب زکوۃ کے منکر ہیں لہذا ان سے جہاد ضروری ہے ۔ چنانچہ اسی بناء پر مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور اس طرح حضرت عمر کے مشورے کو نظر انداز کر دیا گیا۔
اقول :۔
خدا بھلا کرے خلیفہ کا ماشاء اللہ کتنی ذہانت اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے منکر زکوہ بنا دیا حالانکہ وہ بیچارے امر ولایت و امامت میں مشکوک تھے اور ایسی حالت میں زکوہ دینا ناجاءز تھا۔ لیکن ظاہر ہے کہ حاکم ناگہانی کو انصاف سے کیا مطلب ؟ ہم نے یہ مان لیا کہ زکوہ حق مال ہے لہذا اس کی اہمیت زیادہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مانع زکوۃ کو کافر بنا دیا جائے جبکہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کلمہ توحید کو باعث حفظ جان و مال قرار دیا ہے ۔ چنانچہ صحیح مسلم میں یہ روایت ہے کہ جنگ خیبر کے موقع پر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب امیر ؑ سے یہ فرمایا تھا کہ بعد قبول اسلام جنگ جاءز نہیں ہے ۔ اسی نے مجروح کر دیا تھا تو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اتنی نفرت کا اظہار فرمایا کہ میں نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ کاش میں آج کے بعد اسلام لاتا تو یہ دن دیکھنے میں نہ آتے بخاری ہی نے ایک روایت میں خالد کے متعلق نقل کیا ہے کہ ایک جسور آدمی کے قتل کی اجازت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مانگی تو آپ نے نماز گزار کہہ کر روک دیا۔ انہیں دونوں کتابوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت نے مقام منی میں نفس مسلم کو شہر حرام بلد حرام اور روز حرام کے مانند محترم قرار دیا ہے غرض کتب احادیث میں احترام مسلم کی روایات بے شمار موجود ہیں جن کی صریحی مخالفت اس وقت کی گئی جب انکار ادائے زکوہ سے خلافت کی بنیادیں متزلزل نظر آنے لگیں۔ حالانکہ واضح ہے کہ ناگہانی خلافت اور فسادی حکومت میں تشکیک بلکہ اس کا انکار ہر مرد مسلم کا فطری حق تھا۔
مورد یوم سطاح:۔
وہ قیامت خیز دن جب حضرت ابوبکر کے جرنیل حضر خالد نے مالک اور ان کی قوم پر حملہ کرکے آزادانہ طور پر قتل و غارت قید و بند فسق و فجور سے کام لیا تھا۔
مالک؟ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی نویرہ کا فرزند بنی یربوع کی آبرو بنی تمیم کا تاج اور اسلامی زکوہ کا والی جسے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس عہدہ پر فاءز کیا تھا۔
مالک کا جرم؟ مالک کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے حضرت ابوبکر کے پاس مال زکوٰۃ بھیجنے سے انکار کر دیا اور اس کا تاریخی راز یہ تھا کہ وفات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد مدینہ میں ہنگامی حالت نے تمام عالم اسلام کو مدہوش و متحیر کر دیا تھا کہی بن رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اموال کو غصب کرکے ان کے پسلیاں توڑی جارہی ہیں، کہیں شاہد رسالت کی گواہی مشکوک بنائی جارہی ہے کہیں بیت رسالت کی توہین کی جارہی ہے اور ایسے حالات میں ایک ایسی خلافت تیار ہوتی ہے کہ جس میں ایک طرف فخر عرب بنی ہاشم اور ایک طرف انصار و مہاجرین ظاہر ہے کہ ایسے حالات طبعی طور پر انسان کو اقدام سے اس وقت تک روک دیتے ہیں جب تک کوئی قطعی فیصلہ نہ ہوجائے لیکن افسوس کہ مالک کے لیے تحقیق و تفتیش بھی جرم عظیم و باعث قتل و غارت بن گئی ۔ ورنہ مالک کا قصد نہ جنگ کا تھا نہ جہاد کا وہ نماز کے منکر تھے نہ روزہ کے ہاں بنیادی طور پر خلافت حضرت ابوبکر کے منکر ضرور تھے۔
خالد اور سطاح:۔
اسد و غطفان کے قتل و غارت سے فراغت کے بعد جب خالد نے سطاح کا قصد کیا تو انصار نے روکا اور یہ کہ خلیفہ کی اجازت کے بغیر یہ اقدام کیسا؟ خالد نے جواب دیا کہ میں ولی امر ہوں تمہیں اعتراض کا حق نہیں ہے اور یہ کہہ کر روانہ ہوگیا۔ جب یہ لوگ وارد سطاح ہوئے تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ اس لیے کہ مالک نے قوم کو اس خوف سے منتشر کر دیا تھا کہ مبادہ حضرت ابوبکر ارادہ قتل و غارت کا الزام رکھ دیں۔ (الصدیق ابوبکر ہیکل ص ۱۴۴)
تلاش مالک :۔
خالد نے اپنے لشکر کو قوم کی تلاش میں روانہ کر دیا۔ چنانچہ مالک کو مع افراد قوم کے گرفتار کیا گیا۔ رات بھر انہیں نگرانی میں رکھا گیا۔ ان لوگوں نے اپنے اسلحہ سنبھال لیے۔ ابو قتادہ رئیس لشکر خالد نے اعتراض کیا انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم سے جہاد جاءز ہے تو تم سے بھی جائز ہے تو تم سے بھی جائز ہوگا ہم دونوں ہی مسلمان ہیں۔ غرض دونوں نے اسلحے رکھ کر نماز ادا کی۔ نماز کے بعد لشکر سے اسلحے سنبھال لیے ۔ اور اب خالد و مالک میں بات چیت شروع ہوگئی ۔ مالک کے پہلو میں ان کی زوجہ بھی تھیں کہ جو ""بقول استاد عقاد"" اپنے وقت کی حسین ترین خاتون تھیں۔ مالک نے پوچھا کہ حضرت ابوبکر نے ہمارے قتل کا حکم دیا ہے؟ خالد نے کہا ہم بہر حال قتل کریں گے۔ مالک نے مطالبہ کیا کہ ہمیں دیگر مجرمین کی طرح حضرت ابوبکر کے پاس لے چلو۔ وہاں فیصلہ ہوجائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور ابو قتادہ نے سفارش بھی کی لیکن حضرت خالد نے ایک نہ سنی اور قتل کا حکم دیدیا۔ اس وقت مالک نے اپنی زوجہ کے متعلق کہا کہ باعث قتل اس کا حسن و جمال ہے خالد نے جواب دیا کہ باعث قتل کفرو ارتداد ہے۔ مالک نے کلمہ اسلام زبان پر جاری کیا اور جاں بحق تسلیم ہوگئے ۔ خالد نے قوم کو گرفتار کرکے رات بھر سردی میں رکھا۔ اور اس کے بعد اپنی قوم کو حکم دیا کہ گرم کرو۔ اس کلمہ کے معنی ان کی زبان میں قتل کے تھے۔ چنانچہ اس بہانہ سے پوری قوم مالک کا خون حلال کر دیا گیا۔ مالک کی زوجہ سے اسی شب میں ۔۔۔۔۔۔ بالجبر کیا گیا ۔ یہ ہے یہ قضیہ مالک کی حقیقت جو محقق بصیر تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم کرسکتا ہے۔
اس کے علاوہ باقی افسانے حکومت وقت کے خوشامدی اور نمک خوار افراد کے افکار کی پیداوار ہیں۔
ابو قتادہ و حضرت عمر کے حملات :۔ استاد ہیکل کا بیان ہے کہ اس حادثہ کو دیکھ کر ابو قتادہ اس قدر متاثر ہوئے کہ مالک کے بھائی کو لےکر مدینہ کی طرف یہ کہہ کر روانہ ہوگئے کہ ایسے شخص کے زیر علم رہنا ننگ و عار ہے۔ اور یہاں آخر حضرت ابوبکر سے شکایت کی۔ حضرت ابوبکر نے کوئی توجہ نہ کی تو حضرت عمر کے پاس گئے اور خالد کی بیحد مذمت کی۔ حضرت عمر متاثر ہوکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے ۔ اور انہوں نے زور دیا کہ خالد سے مواخذہ کیا جائے ۔ حضرت ابوبکر نے ٹال دیا۔ پھر اصرار کیا تو کہہ دیا۔ کہ وہ سیف اللہ ہے ۔ پھر تاکید کی تو بلایا ۔ خالد نے عمامہ میں تیر پیوست کرلیے حضرت عمر نے نکال کر پھینک دیے لیکن حضرت خالد نے ایسی باتیں بنائیں کہ حضرت ابوبکر نے خطائے اجتہادی قرار دے کر معاف کر دیا۔ اور یہ کہا کہ مالک کی زوجہ سے تعلق قانون عرب میں مناسب نہ تھا۔
اقول :۔
قانون اسلام میں بھی بیوہ سے قبل عدہ عقد حرام ہے۔ اور اگر فرض کر لیا جائے کہ مالک کی زوجہ گرفتار کے حکم میں تھی تو کنیزہ کا استبراء(۱) بھی شرعاً واجب ہے
____________________
(۱) اس مقام پر استبراء کے معنی یہ ہیں کہ کنیز کے ہاتھ آنے کے بعد انسان کا فریضہ ہے کہ ۴۵ دن تک اس سے مجامعت نہ کرے مگر یہ کہ پہلے یہ استبراء ہوچکا ہو یا کسی عورت سے خریدا ہو۔ (مترجم)
""استاد ہیکل"" کا بیان ہے کہ حضرت عمر کے تاثرات اپنی حالت پر باقی رہے یہاں تک کہ جب انہیں خلافت ملی تو پہلا کام یہ کیا کہ خالد کو معزول کر دیا۔
یا للعجب خلاف اولی ہی کے زمانہ میں اس طرح خونریزی آبرو ریزی اور توہین شریعت اسلامیہ ہو اور پھر ایسے فاسق و فاجر انسان سے کوئے مواخذہ بھی نہ ہو یہاں تک کہ خلیفہ دوم کو معزول کرنا پڑے۔ شاید تاریخ انسانیت کا پہلا واقعہ ہے کہ جس میں کتاب و سنت کا باقاعدہ مذاق اڑایا گیا ہے۔
تاویل استاد ہیکل نے حضرت ابوبکر کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ زمانہ کے ناگفتہ بہ حالات اسی امر کے مقتضی تھے کہ اس اسلامی فاتح کی آزادیوں پر پابندی نہ لگائی جائے۔ اور اس کی صلاحیتو کو محدود نہ بنایا جائے۔ اسلام پر چار طرف سے حملے ہورہے تھے۔ اگر اس چہیتے جرنیل کو معزول کر دیا جاتا تو آج اسلام کا نام نہ ہوتا دوسری بات یہ ہے کہ ایک عورت سے خلاف قانون عرب تعلقات پیدا کر لینا کوئی اتنا اہم امر نہیں ہے کہ اس پر خالد جیسے افراد سے مواخذہ کیا جائے ۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ قوانین شرع پر عمل ہی ضروری ہے اور زنا کار پر سنگ ساری کرنا ہی فریضہ ہے تو ایسے افراد کی ذات عالی پر ایسے قوانین نافذ نہیں کیے جاسکتے اسلام پر ایسا وقت آگیا تھا کہ حضرت ابوبکر کو خالد کی تلوار کی بے حد ضرورت تھی۔ سطاح کے قریب ہی یمامہ تھا وہاں مسیلمہ نے ۴۰ ہزار افراد میں فتنہ نبوت برپا کر رکھا تھا۔ اب اگر اس فاتح اعظم کو مفرول کر دیا جائے تو اسلام کا کیا حشر ہوگا اور وہ بھی صرف ایک صحابی کے قتل کی بناء پر یا اس کی عورت سے زنا کی وجہ سے ۔ بڑی عمیق فکر سے کام لیا حضرت ابوبکر نے اس وقت کہ جب مطالبہ معزولی کو نظر انداز کر کے خالد کو یمامہ کی فتح کے لیے روانہ کر دیا اور شاید یہ قیادت صرف اس لیے تھی کہ اہل مدینہ کو خالد کی عظمت کا اندازہ ہوجائے ۔ اور یہ خیال کر لیں کہ خالد ایسے سخت مواقف کا انسان ہے اور دوسرا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اگر خالد قتل ہوگیا تو اس کے سابق جرم کی پاداش ہوجائے گی۔ اور اگر بچ گیا تو اسلام کا فاتح قرار پائے گا۔ لیکن حضرت عمر نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا ان کی نظر میں خون مسلم عرض مسلمان کی قیمت تھی وہ کتاب و سنت کو قابل عمل سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے خالد کے وجود کو گوارا نہ کیا۔ ایسا نہ ہو کہ فاتح اسلام زانی کے لقب سے مشہور ہوجائے کسی کا سیف اللہ ہوجاا اس کے جرم کو سبک نہیں بنا سکتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زمانہ خلافت میں خالد کو نکال باہر کیا۔
اقول :۔
استاد کے بیان سے واضح ہوگیا کہ خلفاء کرام اپنے مصالح کو نصوص رسالت پر بے تحاشہ مقدم کر دیا کرتے تھے۔ اور یہی نظریہ آج بھی علماء ازہر کا ہے جیسا کہ اہوں نے مجھ سے بالمشافہ ۱۳۲۹ ء میں بیان کیا تھا جب میں وہاں وارد ہوا تھا اور ان لوگوں سے مشغول مناظرہ تھا۔
انصاف :۔ استاد عقاد نے خالد کے متعلق جملہ اقوال نقل کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر تاریخ اسلام سے قضیہ ۔ سطاح کو حذف کر دیا جائے تو شاید یہ امر خالد کے حق میں زیادہ مناسب ہوگا بہ نسبت اس جوانمردی اور شان فاتحانہ کے جس میں بلاوجہ شرعی مسلمانوں کا خون بہایا جائے اورمخدرات عصمت کی آبروریزی کی جائے۔
خاتمہ کلام :۔
آخر کلام میں ہم ان مورخین و علماء کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے مالک کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شرافت و بزرگی بلندی نفس اور عزم قوی کا تزکرہ کیا ہے۔ ان حضرات میں سے طبری جمہرہ النسب کامل الروہ والفتوح موفقیات اغافی الدلائل نزہتہ المناظر مختصر شرح النہج وغیرہ کے مصنفین ہیں۔
ابن خلکان نے وثمیہ کے حالات میں مالک کی شرافت و کرامت عظمت و بزرگی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی عظمت کو ضرب المظل قرار دیا ہے ۔ انہیں اپنی قوم کا رئیس رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا والئی صدقات تسلیم کیا ہے ۔ اور اس کے بعد مالک اور خالد کی گفتگو کو تفصیلا بیان کیا ہے جس میں خالد نے مالک کے اسلام کی پرواہ کئے بغیر لیلی کے عشق میں مالک کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ اسی ذیل میں حضرت عمر کے اعتراض اور حضرت ابوبکر کے عذر خطائے اجتہادی کا ذکر بھی موجود ہے۔
ابن حجر عسقلانی نے بھی مالک کی عظمت کا اعتراف کیا ہے ۔ مرزبانی نے بھی کی قومی بزرگی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی ولایت کا ذکر کیا ہے اور اس طرح مالک کے موقف کو واضح کیا ہے۔
مگر افسوس کہ اللہ کی برہنہ شمشیر نے نہ صحابیت کا خیال کیا اور نہ حدود الہیہ کا قتل کی حرمت کو قابل توجہ قرار دیا اور نہ زنا کی رذالت کو اور اس طرح خطائے اجتہادی کا گزر نصوص صریحہ تک ہوگیا۔انالله و اناالیه راجعون
مورد منع کتابت حدیث :۔
حاکم نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کا ذکر کیا ہے کہ خود حضرت ابوبکر نے حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو میری حدیث لکھے گا اللہ اس کے لیے بقائے حدیث تک اجر لکھتا رہیگا لیکن افسوس کہ اس حدیث کے باوجود دور شیخین میں تالیف کا کام نظر نہیں آتا بلکہ حضرت ابوبک نے ایک مرتبہ قصد کرکے چند احادیث کو جمع کیا اور پھر رات بھر کی فکر کے بعد انہیں نذر آتش کر دیا۔ (حاکم نیشاپوری کنزالعمال ج ۵ حدیث ۴۸۴۵)
زہری نے عروہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے کتابت احادیث کا قصد کرکے اصحاب سے مشورہ کیا اور اس کے بعد ایک مہینہ فکر کرکے یہ نتیجیہ نکالا کہ کام غلط ہے اس طرح کتاب خدا کی عظمت خاک میں مل جائیگی (کنرل العمال)
ابو وہب نے مالک سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے چند حدیثیں لکھیں اور پھر یہ کہہ دیا کہ کتاب خدا کے ساتھ دوسری کتاب ناجائز ہے (کنر العمال حدیث ۴۸۶۱)
بلکہ بقول یحیی تمام شہرو میں محو کرا دینے کا حکم جاری کرادیا (جامع ابن عبدالبر) قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت عمر نے اپنے عہد میں تمام احادیث کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا (طبقات ۵ ص ۱۴۰)
ابن ابی الحدیدہ وغیرہ نے یہاں تک نقل کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس کچھ کتابیں لایا اور اس نے کہا کہ یہ علوم فتح مدائن سے حاصل ہوئے ہیں انہوں نے ان کتابوں پر اتنے درے لگائے کہ پارہ پارہ ہوگئیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصحاب سیرکا اتفاق ہے کہ حضرت عمر نے کتاب احادیث سے شدت کے ساتھ روک دیا تاکہ یہ لوگ احادیث نشر نہ کرسکیں۔ (کنز العمال ج ۵)
کاش خلفاء وقت نے اس قدر دور اندیشی سے کام نہ لیا ہوتا۔ اور اگر خود کم استعداد تھے تو خاندان رسالت ہی کو اتا موقع دیا ہوتا کہ وہ علوم رسالت کو ایک مفصل کتاب کی شکل میں جمع کرکے امت کے سامنے پیش کرتے اور اس طرح امت اسلامیہ قرآن کے دقیق مطالب اور مشکل مسائل حل کر سکتی اور آج دنیائے اسلام میں یہ ابتری نہ ہوتی۔
پھر اگر اسی عہد میں یہ تمام حدیثیں ایک مقام پر جمع ہوجائیں تو کذابین اور وضاعین کو اتنا موقع نہ مل سکتا کہ وہ روایات وضع کرکے ان میں بانی اسلام کی طرف منسوب کرسکیں۔ مگر افسوس کہ خلفاء کی شدت احتیاط سے اسلام کو اس خسارہ سے بھی دوچار ہونا پڑا۔
آہ ! کچھ ایسے اغراض سد راہ ہورہے تھے کہ جن کا ذکر اس مقام پر مناسب نہیں ہے ان حضرات کا ذوق تو اسی دن معلوم ہوگیا تھا جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خود کچھ لکھنے کی فکر میں تھے لیکن اغراض و خواہشات نے آنے والی نسلوں کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
یہ یاد رہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے فریضہ سے غافل نہ تھے آپ نے اپنی تمام روایتوں کو حضرت علی بن ابی طالب ؑکے پاس بعنوان کتاب محفوظ کر دیا تھا لیکن اس وصیت کے ساتھ کہ ناگزیر حالات کی بنا پر ان کا اظہار اس وقت تک نہ ہو جب تک عالمی حالات روبہ اصلاح نہ ہوجائیں۔
مورد شفاعت مشرکین :۔
احمد بن حنبل نے اپنی مسند (ص ۱۵۵) میں اس واقعہ کو درج کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس چند مشرکین آئے اور کہنے لگے کہ بعض لوگوں نے آپ کے دین کو قبول کر لیا ہے ۔ حالانکہ انہیں دین و دیانت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ صرف قبضہ و اختیار سے نکلنے کی فکر می ہیں لہذا آپ انہیں واپس کر دیجئیے۔ حضرت نے حضرت ابوبکر کی طرف اشارہ کیا کہ ان لوگوں کو سمجھا دو۔ حضرت ابوبکر ے حضرت سے کہہ دیا کہ یہ لوگ حق پر ہیں آپ واپس کر دیجئیے آپ نے غصہ میں آکر حضرت عمر کی طرف رجوع کیا۔ حضرت عمر نے مزید سفارش کر دی تو آپ کا رنگ غیظ و غضب سے متغیر ہوگیا۔ بلکہ بقول نسائی آپ نے فرمایا اے گروہ قریش عنقریب وہ شخص تم پر مسلط ہوگا کہ جس کے قلب کی آزمائش ایمان کے لیے ہوچکی ہوگی۔ وہ تمہیں دین کے بارے میں مار مار کر درست کرے گا۔ یہ سنکر حضرت ابوبکر تڑپ اٹھے عرض کی یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم وہ میں ہوں؟ آپ نے فرمایا نہیں حضرت عمر بول اٹھے تو حقیر ہوگا فرمایا ہرگز نہیں بلکہ وہ شخص ہے کہ جو اس وقت میری جوتیو کی مرمت کر رہا ہے علی ""خاصف النعل""
تاویلات حضرت عمر
مورد حادثہ یوم خمس
یہ وہ قیامت خیز حادثہ تھا کہ جو وفات پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے چند روز قبل ۱۱ ھ میں پیش آیا۔ (امام بخاری نے اس واقعہ کو یوں نقل کیا ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مرض الموت میں اصحاب سے تقاضا کیا کہ قلم و دوات لاو تاکہ میں ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہوسکو۔
حضرت عمر نے جواب دیا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر مرض کا غلبہ ہے اس تحریر کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اصحاب میں بعض نے موافقت کی اور بعض نے مخالفت ، نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نے سب کو گھر سے نکال دیا یہی حدیث مسلم اور احمد ے بھی نقل کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس روایت میں حضرت عمر کے صحیح الفاظ نقل نہیں کیے گئے ۔ بلکہ بلحاظ ادب ان کی معنوی ترجمای کی گئی ہے ورنہ حضرت عمر کے الفاظ میں ہذیان بھی داخل تھا اور اس کا شاہد یہ ہے کہ جوہری نے کتاب سقیفہ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر نے ایک ایسا کلمہ کہا کہ جس کے معنی غلبہ مرض کے تھے اور اسی طرح بخاری و مسند احمد وغیرہ میں جب صحیح لفظ کا ذکر ہوا ہے تو حضرت عمر کا نام حذف کرکے لوگوں کی طرف قول کی نسبت دی گئی ہے ورنہ حضرت عمر کے الفاظ میں ہذیان بھی داخل تھا اور اس کا شاہد یہ ہے کہ جوہری نے کتاب سقیفہ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر نے ایک ایسا کلمہ کہا کہ جس کے معنی غلبہ مرض کے تھے اور اسی طرح بخاری و مسند احمد وغیرہ میں جب صحیح لفظ کا ذکر ہوا ہے تو حضرت عمر کا نام حذف کرکے لوگوں کی طرف قول کی نسبت دی گئی ہے بہر حال روایت کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ ایک جماعت حضرت عمر کی ہم آواز تھی تو اگر یہ قول اس جماعت کا ہے تو بھی عمر اس قول میں مقدم ہے ۔ ابن عباس اس حادثہ پر مدتوں رویا کیے ۔ ہر صاحب عمل اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس اہم موقعہ پر اصحاب نے نص رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی کیونکہ مخالفت کی اور کس طرح اپنے ذاتی مصالح کو پیش نظر رکھ کر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہذیان والا قرار دے دیا۔ حالانکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے ما انا کم الرسول فخذوہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اتباع فرض ہے یہ مجنون ساحر کاہن وغیرہ نہیں ہے ۔ لیکن افسوس ۔۔۔۔ باوجودیکہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عصمت پر عقلی دلائل قائم تھے ۔ حضرت عمر نے اپنی سیاست کے ماتحت تمام تعلیمات کو نظر انداز کر دیا۔ اس سیاست کا نتیجہ شاید وہ کلام ہے جو انہوں نے ابن عباس سے کہا تھا اور جسے ابن ابی الحدید نے بھی نقل کیا ہے۔
یہ بات ادنی تامل ہے واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت نے اپنی تحریر کے وہی اوصاف بیان فرمائے ہیں جو حدیث ثقلین میں بیان فرما چکے تھے۔ لہذا حتما یہ کہا جاسکتا ہے کہ آخری وقت میں بھی اسی حدیث کی تفسیر فرمانا چاہتے تھے۔ چنانچہ اسی نکتہ پر نظر کرکے حضرت عمر نے مقابلہ کیا۔ یہاں تک صاحب خلق عظیم کو نکال دینا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ قوم کے ان ہذیانات پر آپ نے اپنی تحریر کو کیوں چھپا لیا؟ لیکن اس کا جوب بالکل واضح ہے اس لیے کہ اولاد تو اس تحریر کا پیش کرنا اس فتنہ کو ابھارنا تھا جس کا اندازہ صرف اعلان سے کر لیا گیا تھا۔ ثانیا یہ کہ اس تحریر سے دو جماعتیں قاءم ہو جائیں ایک اسے نتیجہ ہذیان قرار دیتی اور ایک اس پر بلا چون و چرا ایمان لاتی۔ ظاہر ہے کہ اب یہ تحریر دونوں کے لیے بیکار ہے اتمام حجت ہوہی چکا ہے پہلی جماعت بھی اپنے نظریہ پر ائل ہے اور دوسری جماعت بھی غائبانہ ایمان لائے ہوئے ہے اور مفاد حدیث ثقلین سے متمسک ہے۔
معاذ شیخ ازہر:۔
شیخ سلیم نے مجھ سے گفتگو کے دوران اس سخت حادثہ کے معاذیر کا ذکر کرتے ہوئے ان کا جواب دیا تھا اور پھر اپنا عذر پیش کیا تھا ظاہر اس تفصیل کا نقل کرنا خالی از لطف نہ ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے یہ عذر کیا ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قصد واقعاً تحیر کا نہ تھا بلکہ آپ اصحاب کا امتحان کرنا چاہتے تھے۔ حضرت عمر چونکہ اس نکتہ سے واقف تھے اس لیے انہوں نے منع کر دیا اور یہ ان کی الہامی صلاحیت کی واضح دلیل ہے لیکن ظاہر ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قول ""تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے"" امتحان پر حمل نہیں ہوسکتا، ورنہ کذب صریح کا ارتکاب لازم آئے گا پھر فرماتے ہیں بعض حضرات نے یہ عذر کیا ہے کہ یہ حکم واجبی نہ تھا ۔ بلکہ اصحاب سے ایک مشورہ تھا ۔ حضرت عمر نے یہ سوچ کر روک دیا کہ لکھنے میں آپ کو زحمت ہوگی اور یہ عالم مرض الموت کا ہے یا یہ خیال کیا ہو کہ ممکن ہے کہ عالم مرض میں ایسی باتیں لکھ دیں کہ امت ان پر عمل نہ کر سکے اور اس طرح جہنم کی مستحق ہوجائے ۔ پھر منافقین اس تحریر کو دیکھ کر قرآ کریم کی جامعیت میں بھی اشکال کریں گے۔ لیکن ظاہر ہے کہ عدم گمراہی کا ذکر ان تمام معاذیر کو باطن کر دیتا ہے پھر قومواعنی کہنا یہ بتایا ہے کہ یہ رائے اصحاب رسول کی نظریں نہایت درجہ مذموم تھی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ فعل واجب کسی کی مخالفت سے ترک نہیں کیا جاسکتا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کیوں ترک کر دیا تو اس کا جواب واضع ہے کہ قلم و دوات کا لانا اصحاب پر فرض تھا نہ کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر حضرت کا فریضہ تو اس فریضہ کی ادائیگی پر موقوف تھا جب اصحاب نے انکار کر دیا تو آپ کا فریضہ بھی ساقط ہوگیا اور حجت تمام ہوگئی ہے ۔ اب تحریر کا اثر غیر از فتنہ نہیں ہوسکتا۔ پھر فرماتے ہیں ""بعض لوگوں نے یہ عذر کیا کہ اس میں ہر شخص کو گمراہی سے بچانے کی ضمانت ہوگی بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ تمام امت گمراہ نہ ہو گی اور ظاہر ہے کہ قرآن کے ہوتے ہوئے یہ بات غیر معقول تھی اسی لیے انہوں نے عدم حاجت کا اعلان کر دیا گویا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ ارشاد کمال احتیاط اور شدت لطف و کرم کی با پر تھا لیکن ظاہر ہے کہ لن تضلوا کے ہوتے ہوئے یہ عذر انتہائی مہمل ہے اس کلام کا ظاہری یہ ہے کہ ہر ہر فرد کی ہدایت کی ضمانت ہے اور پھر قومواعنی تمام معاذیر کو باطل کرنے کے لیے موجود ہے ان تمام اشکلات کے پیش نظر ہماری نظر میں بہترین عذر یہ ہے کہ اس ایک واقعہ میں اصحاب سے غلطی ہو گئی ہے اور ظاہر ہے کہ انسان سے غلطی ہوتی رہتی ہے اب اس غلطی کی وجہ صحت کیا ہے ؟ اس کا علم صرف اللہ کے لیے ہے ۔ ہمیں زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
شیخ ازہر کے پورے کلام سے ناظرین نے اندازہ لگالیا ہوگا کہ موصوف کس قدر سلیم الطبع اور مصنف مزاج واقع ہوئے تھے ۔ خدا ا پر رحمت نازل کرے۔ انہوں نے تاریخی حقاءق کو پوشیدہ کرنے کی فکر ہیں کی بلکہ صحاب کے معاذیر پر آزادانہ تبصرہ فرمایا ۔ لیکن ہم اب اپنے اعتراضات پیش کر رہے ہیں جو ہم موصوف کے سامنے پیش کیے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصود امتحا تھا! آپ کے جواب کے علاوہ ہمیں یہ کہنا ہے کہ وقت آخر وصیت و تبلیغ کا وقت ہوتا ہے نہ کہ امتحا و مزاح کا، اگر حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پوری مدت حیات امتحا ن کے لیے کافی نہ ہوئی تو حالت مرض الموت کا زمانہ کس طرح کافی ہوگا؟ پھر یہ کہ اگر واقعتاً امتحان ہوتا تو قومواعنی سے خطاب نہ ہوتا۔ امتحان میں کامیاب ہونے پر قومواعنی کی سند نہیں ملتی۔ ممتحن کو ہذیان گو نہیں کہا جاتا اور صحابی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تا عمر گریہ نہیں کرتا۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت کا مقصود مشورہ تھا اور حضرت عمر اپنی نظر میں زیادہ صائب الرائے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا رسالت انہیں کی طرف منتقل ہوگئی تھی ؟ یا مرکز وحی سے غلطی کی امکانات پیدا ہوگئے تھے؟
کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کتابت کی زحمت سے بچالیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کوئی زحمت تھی تو ارادہ ہی کیوں فرمایا تھا؟ پھر آپ کے ارادہ کے مقابلے میں حضرت عمر کے ارادہ کی کیا قیمت ہے ؟ جبکہ قرآن نے عمومی ممانعت کر دی ہے ہے ۔ پھر کیا ہذیان و نعم کے الفاظ سے آپ کی زحمتوں میں تخفیف ہوگی یا درد دل میں اور بھی اضافہ ہوگیا؟
کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر کی نظر میں قلم دوات نہ دینا ہی اولی تھا پھر یہ اندیشہ تھا کہ کوئی ناممکن حکم نہ تحریر کردیں۔ مزید یہ کہ منافقین کے اعتراض کا بھی خیال تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا حضرت عمر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نسبت زیادہ صائب الرائے تھے؟ کیا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ناممکن امر کا حکم دے سکتے تھے؟ کیا امت پر آپ کی مہربانیاں زائل ہوگئی تھیں؟ کیا لا تضلوا میں منافقین کے فتنوں سے بچنے کی ضمانت نہ تھی؟ اور اگر منافقین ہی کا خطرہ تھا تو ایسا سوال ہی کیوں اٹھایا؟ جس پر غیر منافق حضرات کو ہذیان کہنا پڑا۔
کہا جاتا ہے کہ حسبنا کتاب اللہ کی ضرورت ان آیات کے پیش نظر پڑی جن میں کتاب کی جامعیت کا ذکر ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ غلط ہے اس لیے کہ کتاب میں ہدایت کا ذکر ہے ضلالت سے حفاظت کی ضمانت نہیں ہے۔ اور آج کی تحریر میں یہ ضمانت بھی تھی۔ لہذا کتاب کے بعد بھی اسکی ضرورت تھی بلکہ اگر یہ تحریر سامنے آگئی ہوتی تو اصحاب کو ہذیان گو کہنے کی نوبت نہ آتی۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر نے اس کلام سے یہ استفادہ نہیں کیا تھا کہ اس میں ہر ہر فرد کی ہدایت کی ضمانت ہے سوال یہ ہے کہ حضرت عمر اس قدر کمزور دماغ کے آدمی نہ تھے کہ ان کی سمجھ میں وہ بات بھی نہ آئے جو ایک بدو عرب سمجھ سکتا ہے پھر لانجتمع امتی علی ضلال وغیرہ جیسی احادیث کے باوجود حضرت عمر نے یہ احتمام ہی کیسے دیا کہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام امت کی گمراہی کا احتمال دے کر اسے دفع کرنا چاہا ہے پھر اگر سو فہم ہی کی بات ہوتی تو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ بتا دیتے کہ مفہوم وہ نہیں ہے جو تم لوگوں نے خیال کیا ہے ایسے آدمی کو نکال دینا تو مناسب نہ تھا ابن عباس کا گریہ بے وجہ تو نہ تھا بلکہ انصاف یہ ہے کہ بقول شمایہ ایک اتفاقی واقعہ تھا اگرچہ اسی ایک واقعہ نے اسلام کو تباہ کر دیا اور مسلمانوں میں داءمی افتراق پیدا کر دیا۔ اور بقول شیعہ یہ صحابہ کرام کا اجتہاد تھا جو نص رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقابلہ میں پیش کیا گیا اور اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ایک مسئلہ ہے ایک طرف اللہ کی رائے ہے اور ایک طرف حضرت عمر کی ۔
پسندیدگی :۔
ہمارے ان بیانات کو سن کر شیخ ازہر نے امتحا کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے تمام اہل عذر کے عذر کو بالکل باطل کر دیا ہے اور ان کے مذاہب کو ""صباءا"" ""منشورا"" بنا دیا ہے ۔ اب کسی شخص کو نہ عذر و معذرت کا حق ہے اور نہ حقائق میں تشکیک و تاویل کا۔
مورد صلح حدیبیہ :۔
رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بعض مصالح اسلامیہ کی بنا پر روز حدیبیہ صلح کو جنگ پر ترجیح دی اور اس طرح بعض مسلمانوں کو اپنی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر موقع مل گیا کہ وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اعتراض کریں لیکن حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے اقوال کی طرف توجہ کئے بغیر اپنے عمل کو انجام دیا اور اسلام کو فتح مبین سے آشنا بنا دیا۔
تفصیل واقعہ :۔
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم دو شنبہ کے دن ۔ عقد عمرہ مدینہ روانہ ہوئے چونکہ آپ کے دل میں خیال تھا کہ کفار مزاحمت کریں گے ۔ اس لیئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اصحاب کو بھی ساتھ چلنے کا حکم دے دیا۔ چنانچہ تقریبا ۱۴۰۰ افراد پر مشتمل ایک قافلہ روانہ ہوا۔ جس میں ۷۰ اونٹ تھے۔ مقام ذوالحلیفہ پر پہنچنے کے بعد آپ نے عمل تقلید(۱) کے ذریعہ احرام باندھ لیا۔
____________________
(۱) حج کی بعض قسموں میں یہ عمل بھی ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ان جوتیوں کا کہ جن میں نماز ادا کر چکا ہے قلادہ اور ہار بنا کراونٹ کی گردن میں لٹکا دے اور پھر اسے لیکر حج کے لیے روانہ ہو۔(مترجم)
تاکہ کفار یہ تصور نہ کریں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی حرب و ضرب کے ارادے سے آرہے ہیں۔ جب کچھ راستہ طے ہوگیا تو آپ کو اطلاع ملی کہ خالد بن ولید ایک لشکر لیئے آمادہ جنگ ہے جس میں ۲۰۰ سوار بھی ہیں اور ان کا لیڈر عکرمہ بن ابی جہل ہے ۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اصحاب کو حکم دیا کہ راستہ بدل دیں تاکہ مزاحمت نہ ہونے پائے ۔ لیکن یہ دیکھ کر خالد خود آگے بڑھ آیا۔ تو پھر آپ نے بھی عبادہ بن بشر کو لشکر ساتھ نماز ادا فرمائی ۔ خالد کی قوم نے اس سے کہ نماز کے درمیان ان کو ختم کر دینے کا سنہرا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ یہ بہت ہی برا ہوا۔ اس نے کہا کہ ابھی ان کی ایک نماز باقی ہے جو ان کی نظر میں زیادہ محبوب ہے ۔ اس وقت ہم ان کی عبادت سے فائدہ اٹھائیں گے۔
ادھر خالق حکیم نے وحی نازل فرمائی کہ جب ایسا موقع ہو تو مسلمان دو حصو میں تقسیم ہوجائیں ایک جماعت نماز پڑھے اور جب وہ رخصت ہوجائے تو دوسری جماعت آکر شریک ہوجائے ۔ سب مسلح وہشیار رہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ دشمن موقع پاکر حملہ آور ہوجائے۔ چنانچہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسی قانون کی بنا پر نماز عصر بطور صلوۃ خوف ادا فرمائی۔
قریش کی شدت اور نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حکمت
حدیبیہ پہنچ کر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قریش کی طرف سے کافی مصاءب و شداءد کا سامنا کیا۔ اور مشرکین نے بھی آپ کے اصحاب کے ہاتھوں کافی تکالیف برداشت کیں۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود آپ نے اپنے خلق عظیم اور کرم عام کی بنا پر ان سے ایسی نرم گفتگو کی کہ ان کے آہنی قلوب بھی موم ہوگئے آپ کے چند کلمات یہ تھے۔ ""آخر قریش کو کیا ہوگیا ہے کہ جنگ کے اتنے مصائب برداشت کرنے کے باوجود بھی اس امر پر تیار نہیں کہ عرب کو میرے حوالے کر دیں۔ اور اس طرح اگر انہوں نے مجھے مغلوب کر لیا تو ان کا مقصد حاصل ہوجائے گا اور اگر میں نے ان پر غلبہ پالیا تو وہ سب مسلمان ہوجائیں گے۔ آخر یہ قریش اپنے کو کیا خیال کرتے ہیں، خدائے وحد لاشریک کی قسم میں ان سے اس وقت تک مقابلہ کرتا رہوں گا جب تک کہ دین غالب نہ ہوجائے یا میری گردن جدا نہ ہوجائے ۔ ""اس کے بعد آپ نے قریش کی طبعیت کے مطابق انداز کلام کو بدل کر انہیں طمع دلاتے ہوئے فرمایا۔ ""اگر قریش مجھ سے صلہ رحم کے طالب ہوں گے تو میں ان کے کسی بھی مطالبہ سے انکار نہ کروں گا"" اس خطاب کے بعد آپ نے اصحاب سے مشورہ کیا تو اکثریت نے جنگ پر آمادگی ظاہر کی۔ یہاں تک کہ جناب مقداد نے قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے عرض کی یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم قوم موسی نہیں ہیں جو کہہ دیں کہ آپ لڑیں ہم آرام سے تماشہ دیکھیں گے بلکہ ہم تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر آپ برک الغماء (آخری قلعہ عرب) کو بھی فتح کرنا چاہیں تو ہم آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور آپ کے پسینے پر اپنا خون بہا دیں گے "" یہ سنکر آپ کی چہرے پر تبسم کی لہریں دوڑنے لگیں۔ اس کے بعد آپنے مسلمانوں سے موت کے لیے بیعت لی۔ اور سب ہی نے علاوہ الجد بن قیس کے بیعت کر لی۔ اگرچہ ان میں ان سلول جیسے منافقین بھی تھے۔
مطالبہ صلح :۔
جب قریش کو اس بیعت کا علم ہوا تو فطری طور پر ا کے قلوب پر عرب چھا گیا ۔ اور اس پر مزید یہ کہ عکرمہ کا ۵۰۰ کا لشکر بھی اس طرح پسپا ہوا کہ اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں ان کے گھروں تک بھگا دیا ۔ ان ناکام حالات کو دیکھتے ہوئے اہل حل و عقد نے یہ رائے پیش کی کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے صلح کرلی جائے۔ حضرت نے اس صلح کا نہایت ہی خندہ پیشانی سے استقبل کیا جبکہ اس کا پیغام لے کر سہیل بن عمرو آپ کے پاس آیا۔ اگرچہ یہ بات مسلمانوں کو ناگوار گزری اور بعض لوگوں نے زیادتی سے بھی کام لیا۔ لیکن آپ مصلحت شناس اور تابع وحی الہٰی تھے ۔ پھر جب کہ آپ کفار سے وعدہ بھی کر چکے تھے تو اسکی مخالفت کا شرعی عقلی یا اخلاقی اختیار آپ کو حاصل نہ تھا۔
انکار حضرت عمر :۔
ادھر صلحنامہ کی تکمیل ہوئی اور ادھر حضرت عمر کی رگ غیرت و حمیت پھڑکنے لگی تو تڑپ کر حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور ان سے سوال کیا کہ کیا یہ خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہیں ! سوال کیا تو کیا ہم مسلمان نہیں ہیں ؟ جواب دیا ہیں ! پھر پوچھا تو کیا یہ سب مشرکین نہیں ہیں؟ جواب دیا ہیں ۔ یہ سننا تھا کہ تڑپ کر بولے پھر ہم ان سے کیوں دب رہے ہیں اور یہ صلح کیوں ہورہی ہے؟ یہ سنکر آپ نے انہیں سمجھایا کہ وہ حکم خدا کے تابع ہیں وہ تمہاری باتو پر کوئی توجہ نہ کریں گے۔
صحیح مسلم میں یہ روایت یوں نقل ہوئی ہے کہ پہلے آپ خود رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ اور ان سے سول کیا کہ کیا ہم اہل حق اور یہ اہل باطل نہیں ہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنتی اور ان کے کشتگان جہنمی نہیں ہیں؟ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب کی تائید کی تو اکڑ کر بولے پھر کیوں صلح کریں اور کیوں ان سے مرعوب ہوں۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم الہٰی سے مجبوری کا اظہار کیا لیکن غصہ فرو نہیں ہوا تو حضرت ابوبکر کے پاس آکر یہی گفتگو شروع کر دی۔ آخر کار انہوں نے بھی یہ سمجھایا تو خاموش ہوگئے ۔ دیگر کتب میں یہ مکالمہ اور بھی سخت لہجہ میں پایا جاتا ہے چنانچہ بخاری میں حضرت عمر کی زبانی ہے کہ میں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جواب پر پھر یہ اعتراض کیا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ ہم طواف کریں گے ۔ پھر اب اپنی بات سے پلٹنا کیسا؟ تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ میں نے امسال کا وعدہ نہیں کیا ہے ۔ یہ سنکر مجھے اور بھی حیرت ہوئی اور میں حضرت ابوبکر کے پاس آیا ان سے گفتگو کی تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
روایت کہتی ہے کہ اس کے بعد آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ سر تر شوا لیں اور انٹوں کو نحر کر دیں لیکن کسی نے کوئی التفات نہ کیا۔ آپ نے تی مرتبہ حکم دیا اور جب قوم کی بے رخی دیکھی تو خیمہ کے اندر تشریف لے گئے ۔ اور پھر اپنے دست مبارک سے اونٹ کو نحر کیا۔ اور حجام کو بلا کر سر ترشوا لیا، یہ دیکھ کر اصحاب بھی اس عمل پر مجبور ہوگئے۔
اس حدیث کو احمد نے اپنی سند میں سعد بن مخزمہ سے نقل کیا ہے حلبی نے سیرت میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس قدر تکرار کی کہ ابو عبیدہ کو ٹوکنے کی نوبت آگئی۔ خود حضرت نے بھی فرمایا کہ میری رضامندی کے بعد تمہارا انکار کیسا؟ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عمر تاحیات صوم و صلوٰہ عتق و صدقات جیسے اعمال انجام دیتے رہے تاکہ ان کی گفتگو کا کفارہ ہوسکے۔
تکمیل صلح :۔
صحابہ کرام کے روکنے اور ٹوکنے کے باوجود پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کریں جس کا عنوان یہ ہو۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم آپ نے لکھنے کا قصد کیا تھا کہ سہیل بول پڑا۔ ہم اس طریقہ تحریر سے آشنا نہیں ہیں۔ لہذا باسمک اللھم لکھ جائے۔ آپ نے اسے قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ لکھا جائے۔ کہ یہ محمد رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صلحنامہ ہے، سہیل ہے سہیل نے تڑپ کر کہا کہ اگر ہم رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قائل ہوتے تو جھگڑا ہی نہ ہوتا لہذا محمد ابن عبداللہ لکھا جائے بعض مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوگئے۔ لیکن آپ نے تحریر کو یہ کہہ کر مٹا دیا کہ تمہارے انکار سے رسالت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ امیرالمومنینصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ تحریر بڑے ہی صابرانہ اندا زمیں تمام کی۔ اس وقت رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا یا علیؑ ! تمہیں بھی ایسی ہی بلا میں مبتلا ہونا ہے۔
صلح کے شراءط یہ تھے :۔
کہ اس سال رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم مع اصحاب کے واپس جائیں اور اگلے سال آئیں ۔ اس وقت قریش تین دن کے لیے مکہ کو خالی کر دیں گے۔
دس سال کے لیے جنگ موقوف کر دی جائے ۔ جو جس دین کو اختیار کرنا چاہے اسے آزاد رکھا جائے ۔ عداوتوں کا ظہور نہ ہو باہمی خیانت پر پابندی لگائی جائے۔
اگر کوئی دین قریش سے نکل کر ذمہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں آجائے تو اسے واپس کر دیا جائے۔ اور اگر کوئی دین رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مرتد ہوکر قریش کے پاس چلا جائے تو اس کی واپسی نہ ہو۔
یہ وہ شرط تھی جس پر مسلمانوں سے تحمل نہ ہوسکا اور ایک ہنگامہ برپا ہوگا، لیکن خلق مجسم اور حلم کمل رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جو دین سے مرتد ہوگیا اسے رحمت الہٰی سے قرب میسر ہیں ہوسکتا۔ اور جو کفر سے علیحدہ ہوگیا ہے اس کی فلاح و نجات کے لیے اللہ کوئی نہ کوئی انتظام ضرور کردے گا۔
ابھی صلحنامہ مکمل نہ ہوسکا تھا کہ سہیل کا بیٹا ابو جندل زنجیروں میں جکڑا ہوا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ابو جندل نے چونکہ اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لئے سہیل نے اسے مار پیٹ کر مقید کر رکھا تھا ۔ جب اسے رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آمد کی اطلاع ملی تو کسی صورت سے حبس سے نکل کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچ گیا مسلمان بہت خوش ہوئے لیکن سہیل نے کہا کہ یہ ہمارے معاہدہ کے خلاف ہے اور یہ کہہ بیٹے کہ مارنا شروع کر دیا۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمیا کہ ابھی تو صلح کی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ پھر ہم صلح پرتیار نہیں ہیں۔ حضرت اس کے لیے پناہ مانگی سہیل نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے صلح کرلی۔ آخر میں مکرو حو یقب نے مل کر اس کو پناہ دی اور حضرت ابو جندل کو صبر کی تلقین فرمائی۔
یہی وہ موقع تھا کہ جب حضرت عمر نے اپنی دینی غیرت کا مظاہرہ کیا اور ابو جندل کے سامنے تلوار پیش کی کہ اپنے باپ کو قتل کر دے۔ اور پھر باپ کے قتل کی داستانیں سنا سنا کر اسے کافی ترغیب بھی دلائی لیکن اس نے حکم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا احترام کرتے ہوئے انکار کر دیا۔ اور یہ کہا کہ اگر اتنی ہی ہمدردی ہے تو آپ قتل کر دیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منع کیا ہے ابو جندل نے بے ساختہ کہا۔ خود را فضیحت و دیگراں را نصیحت ۔ غرض ابو جندل اپنے باپ کے ساتھ مکہ واپس ہوا۔ اور مکرز و حویقب کی پناہ میں رہا۔ یہاں تک کہ اللہ نے کمزور مسلمانوں کے کشائش احوال کے اسباب مہیا کر دیئے اور مسلمانوں کو فتح مبین نصیب ہوئی۔
فوائد صلح :۔
صلح کے فوائد و منافع یہ بات کچھ کم نہیں ہے کہ اس طرح مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ اختلاط کا موقع مل گیا۔ جس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ جب مشرکین مدینہ آتے تو انہیں رسول کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اخلاقیات قرآن کے آیات بینات اور دین مبین کے تعلیمات کا علم ہوتا اور اس طرح ان کے دلوں میں اسلام کی محبت رفتہ رفتہ جاگزین ہونے لگتی۔ اس طرح جب مسلمان اپنے اعزہ و اقرباء کے پاس مکہ جائے تو ان سے ان اخلاقیات اجتماعیات اور اقتصادیات کا تذکرہ کرتے جن میں وہ خود زندگی بسر کر رہے تھے اور اس طرح کفار کے عناد میں کمی اور ان کے قلوب میں نرمی پید اہوتی۔
اس کے علاوہ حدیبیہ میں کفار کا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ساتھ اجتماع ایک اہم فائدہ کی غمازی کر رہا ہے اس لیئے بدر واحد کی لڑائی کے بعد اہل مکہ کے قلوب و اذہان میں یہ بات راسخ ہوگئی تھی کہ (معاذ اللہ ) مسلمانوں کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک سفاک اور مفسد انسان ہے ۔ ابو جہل و ابوسفیان وغیرہ نے ان کے دماغوں میں ایسے گزرے خیالات بری طرح اتار دیئے تھے۔ قدرت نے یہ چاہا کہ آج اخلاق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اسطرح مظاہرہ ہوجائے کہ ان بچارے ناواقف عوام کو بھی معلوم ہو جائے کہ ان تمام خونوں کی ذمہ داری انہیں کے بزرگوں پر ہے نہ کہ بانی اسلام پر ۔
قرآنی نصوص اور تاریخی شواہد سے اس امر کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اگر رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جہاد فرماتے تو مسلمانوں ہی کو فتح نصیب ہوتی بلکہ کفار کے دل میں بھی اس بات کا احساس تھا۔ لیکن اس کے باوجود آپ کا جہاد سے صرف نظر کرکے ان تمام مصائب کا تحمل کر لینا جو تکمیل صلحنامہ میں پیش آئے اس امر کا واضح ثبوت تھا کہ یہ پیغمبر امن اور رسول صلح و سلامصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے۔ اس کے قانون حیات میں جنگ و جدل قتل و غارت کا نام تک نہیں، کفار کے دلوں کا یہ تاثر اسلام کی طرف سے ا کے ذہن کے یہ پاکیزہ خیالات ہی وہ تھے کہ جنہیں قرآن کریم نے اسلام کی کھلی ہوئی فتح قرار دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں اس وقت ہرگز حاصل نہ ہوسکتیں اگر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم صحابہ کے کہنے میں آخر جنگ پر آمادہ ہوجاتے اور اس طرح اسلام قیامت تک کے لیے بدنام ہوجاتا۔
سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی واپسی :۔
حدیبیہ میں ۱۹ روز قیام کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قافلہ مدینہ کی طرف واپس ہوا۔ ابھی اثناء راہ ہی میں تھے کہ سورہ فتح نازل ہوا۔ آپ نے حضرت عمر جیسے افراد کی ذہنیت کو درست کرنے کے خیال سے اصحاب کو روک کر سورہ فتح سنایا لیکن بقول بخاری ایک صحابی نے کہہ دیا کہ یہ بھی اچھی فتح ہے مکہ سے نکالے گئے اذیتیں برداشت کیں اپنے آدمیوں کو پناہ نہ دے سکےاور پھر فتح بنی رہ گئی ۔ آپ نے جھلا کر فرمایا کہ یہ کیا بکواس ہے آج اسلام کو حقیقی فتح نصیب ہوئی ہے کیا وہ دن بھول گئے جب میں احد میں پکار رہا تھا اور تمہاری گرد قدم نہ ملتی تھی کیا احزاب کی جنگ ذہن سے نکل گئی کہ آج اعتراض کرنے بیٹھے ہو۔ یہ سن کر اصحاب نے تائید کی اور اظہار مسرت کیا لیکن حضرت عمر نے پھر اعتراض کیا کہ آپ نے تو دخول مکہ کی خبر دی تھی۔ پھر ایسا کیوں ہوا؟ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ میں نے اسی سال کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ (سیرت و حلانی)
سعید ابن منصور نے شعبی کا قول نقل کیا ہے کہ اسلام کو اس سے بہتر کوئی فتح نصیب نہ ہوئی ۔ جس کا طبعی اثر یہ ہوا کہ ہر صاحب عقل و بصیرت اسلام میں داخل ہونے لگا اور حدیبیہ کے بعد دو سال میں اتنے افراد مسلمان ہوئے کہ جتنے صدر تبلیغ سے لے کر اس وقت تک نہ ہوئے تھے۔ اس امر کا تاریخی شاہد یہ بھی ہے کہ حدیبیہ میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم صرف ۱۴۰۰ افراد لے کر گئے تھے اور دو سال کے بعد فتح مکہ میں آپ کے ساتھ دس ہزار لشکر تھا گویا کہ آج کی صلح کل کی فتح کا مقدمہ بن گئی ۔ اور ظاہر ہے کہ فتح کے مقدمہ کو کو بھی فتح ہی کہا جاتا ہے۔
کشائش حال :۔
یہ پہلے بیا کیا جاچکا ہے کہ اثناء صلح مین ابو جندل نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پناہ طلب کی تھی ۔ تو آپ نے اپنے وعدہ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے تلقین صبر کرکے پلٹا دیا تھا اسی طرح کا دوسرا واقعہ ابوبصیر یعنی عتبہ ابن اسید کا ہے کہ وہ بھی قید خاہ سے نکل کر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں مدینہ پہنچ ئے ادھر قریش نے آپ کو لکھ بھیجا کہ یہ ہمارے معاہدہ کے خلاف ہے لہذا واپس کیجئے۔ آپ نے ابو بصیر کو ان دونوں آدمیوں کے حوالہ کر دیا یہ خط لے کر آئے تھے ۔ ابو بصیرہ چلے گئے جب ایک منزل پر قیام کیا تو بہانہ سے ایک کی تلوار لے کر اس کا خاتمہ کر دیا اور دوسرے کو بھی مارنا چاہا۔ مگر اس نے فرار کیا۔ انہوں نے پیچھا کیا، یہاں تک کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خدمت میں پہنچ گئے ۔ آپ نے حالت دریافت کی قاصد نے شکایت کی ۔ آپ نے ابو بصیرہ کی ہمدردی سے انکار کر دیا وہ وہاں سے نکل کر ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں سے قریش کے قافلے گزار کرتے تھے۔ ان کے پاس کچھ لوگ جمع ہوگٹے۔ ادھر ابو جندل بھی کسی طریقہ سے ۷۰ سواروں کا لشکر لے کر ان کے پاس پہنچ گئے۔ اور اب ان لوگوں کا کاروبار ہوگیا کہ قریش کے ہر قافلے کو اذیت کرتے اور اس کے افراد کو قتل کر دیتے۔ یہ حالت دیکھ کر قریش نے ابو سفیان کے ذریعہ بھیجا کہ ہم اس شرط کو ساقط کیئے دیتے ہیں جو مسلمان ہوجائے ۔ آپ اس کو پناہ دیں۔ آپ نے یہ دیکھ کر ابو جندل اور بوبصیرہ کو بلابھیجا۔ جس وقت قاصد پہنچا۔ ابوبصیرہ کا وقت آخر تھا۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو ابوجندل نے ان کی قبربنائی اور وہیں ایک مسجد کی بنیاد ڈالدی۔ پھر اس کے بعد اپنے ساتھیوں کو لیئے ہوئے خدمت سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم میں حاضر ہوگئے یہی وہ سنہرا موقع تھا کہ جب مسلمانوں کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دور اندیشی اور انجام بینی اور حکمت عملی کا اندازہ ہوا۔ آج سمجھے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کلام بغیر وحی نہیں ہوتا۔ آج ان پر انکشاف ہوا کہ وقت صلح داءمی فتح کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے آج اس امر پشیمانی ہوئی کہ ہم نے اپنی ناقص عقل کے مطابق کیوں اعتراض کیا تھا اور رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کیوں الجھے تھے۔ آج تو آپ مشرکین کو بھی حضرت کی دور رس نگاہوں کا انداز نظر معلوم ہوگیا اور وہ آپ کے صدق و صفا حس سیرت صلہ رحم اور ایفائے عہد پر ایمان لے آئے۔
مورد نماز بر جنازہ ابن ابی منافق :۔
یہ وہ سخت موقف تھا جب کہ حضرت عمر نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نہایت شدت کے ساتھ مخالفت کی اور آ پ کا دامن پکڑ کر کھینچ لیا۔ چنانچہ بخاری (ج ۴ ص ۳۵ بخاری معہ حاشیہ السندی) نے عبداللہ ابن عمر سے روایت کی ہے کہ جب عبداللہ ابن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے نے آکر حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مطالبہ کیا کہ کفن کے لیے اپنی قمیص دے دیجئیے ۔ اور اس کے نماز جنازہ پڑھ کر اس کے لیئے استغفار فرمایئے ۔ حضرت نے قمیص دے کر اطلاع کرنے کا حکم دیا۔ اس نے کفن دینے کے بعد مطلع کیا آپ تشریف لے گئے ۔ ادھر نماز کے لیئے کھڑے ہوئے ادھر حضرت عمر نے دامن پکڑ کر کھینچ لیا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہی اور خدا کا حکم ہے کہ منافقین کے لیئے استغفار مفید نہیں ہے خواہ وہ ستر مرتبہ کیوں نہ ہو۔ اس واقعہ کے بعد آیت نازل ہوئی کہ آئندہ سے ایسے لوگوں کی نماز جنازہ مت پڑھاکیجئے اور ان کی قبر پر قیام مت کیا کیجئے۔
روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے آیت عدم افادیت استغفار سے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ نماز جنازہ حرام ہے۔ اسی لیئے اس شدت سے مقابلہ کیا۔ حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ یہ استغفار غلط ہے ۔ آیت کا مفہوم عدم افادیت استغفار ہے نہ کہ حرمت صلوۃ بلکہ امت کا اجماع اس امر پر واقع ہے کہ حرمت نماز کا حکم اس واقعہ کے بعد نازل ہوا ہے جیسا کہ خود اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے ۔ (بخاری و مسلم ج ۳۵۷۲ طبع مکہ) کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کی باتوں کو تحمل کرتے ہوئے نماز ادا کی اور قبر تک تشریف بھی لے گئے ۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار بھی مفید ہوتا تو میں ضرور دعا کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس معاملہ میں ظاہر شریعت کی بنا پر نہایت ہی صحیح اقدام کیا تھا۔ اس لیئے کہ مرنے والا کافر نہ تھا۔ کہ اس کی نماز جنازہ حرام ہوتی۔ بلکہ بظاہر مسلمان تھا۔ اور ظاہری مسلمانوں کے جنازہ میں شرکت یہ اسلامی آئین ہے بلکہ حضرت کے اس اقدام سے ایک ایسی فتح بھی نصیب ہوئی جو حضرت عمر جیسے جنگجو افراد کے لیئے ناگوار خاطر تھی۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس طرز عمل سے قبیلہ خزرج کے ایک ہزار افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے اور یہ وقت تھا جب حضرت عمر کو اپنے کئے پر ندامت رہی اور یہ اندازہ ہوا کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اقدامات مطابق شریعت و مصلحت ہوا کرتے ہیں، چنانچہ بقول (کنزالعمال ج ۱ ص ۲۴۷) خود انہوں نے بھی اپنی سخت کلامی پر ندامت کا اظہار کیا۔
مورد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے تکرار
حضرت عمر کا یہ مقابلہ تاریخی اعتبار سے کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ انہوں نے اس کے قبل و بعد بھی ایسے سلوک کئے ہیں چنانچہ ابن حجر عسقلانی نے ابو عطیہ کے حالات میں (اصابہ ج ۴ ص ۱۳۵ ) ان سے روایت کی ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوگیا تو حضرت عمر نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا کہ آپ نماز نہ پڑھیں۔ آپ نے صحابہ سے سوال کیا کہ کسی نے اس کو کار خیر کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ایک شخص نے جواب دیا کہ فلاں شب میں ہمارے ساتھ سرحدی محافظین میں سے تھا۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ سنکر نماز پڑھی اور قبر تک تشریف لے گئے ۔ مٹی دینے کے بعد فرمایا کہ لوگ تجھے جہنمی خیال کرتے ہیں۔ اور میں تیرے جنتی ہونے کی گواہی دیتا ہوں پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت عمر کو ڈانٹا۔
اس واقعہ کو (اصابہ ج ۴ ص ۱۸۵) می مصنف نے ابو منذر کے حالات میں بھی نقل کیا ہے ۔ طبرانی نے بھی ہشام بن سعد سے تقریباًء یہی روایت نقل کی ہے۔ اور اس کے آخر میں حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ قول بھی درج کیا ہے کہ جو راہ خدا میں جہاد کرے اس پر جنت واجب ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل کتاب اصابہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔
مورد بشارت پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم
حکمت الیہ اور مصلحت خداوندی کا تقاضا یہ تھا کہ سرکار رسالت امت اسلامیہ میں امر کا اعلان فرماءیں کہ جو شخص اللہ کی بارگاہ میں باایمان بلاشک و شبہ حاضر ہوگا اسے جنت عطا کی جائے گی ۔ چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوہریرہ کو اس بشارت کے اعلان کا حکم دے کر روانہ کیا۔ راستہ میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے یہ اعلا سنکر ابوہریہ کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ زمین پر الٹ گئے اور روتے پیٹتے خدمت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں حاضر ہوئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے استفسار حال کیا۔ انہوں نے قصہ بیان کیا۔ اتنے میں حضرت عمر پہنچ گئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ا ن سے مواخذہ کیا تو کہا ایسے اعلانات مت کیا کیجئے۔ اس طرح امت عمل کو ترک کرکے بیٹھ جائے گی۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس مشورہ کی صحت کا اندازہ کرکے اپنی رائے بدل دی۔ (شرح مسلم نودی ج ۱ ص ۲۳۷)
علامہ نودی (شرح مسلم ۱ ص ۲۴۱) نے اس واقعہ کی توجہیہ قاضی عیاض وغیرہ سے یوں نقل کی ہے کہ در حقیقت حضرت عمر نے سرکار رسالت پر کوئی اور اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس اعلان سے امت میں فساد پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اس لیئے اسے سینوں میں محفوظ رہنا چاہیے۔ چنانچہ آپ نے حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بالمشافہ یہی نصیحت کی کہ یہ اعلان خلاف مصلحت ہے۔
تنقید :۔
یہ عذر در حقیقت میرے دعوی کی واضح دلیل ہے کہ یہ حضرات اپنی رائے کو حکم خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر قدم کر دیا کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ بات اسی حد تک نہ رہی، بلکہ حضرت ابوہریرہ کی مرمت بھی ہوگئی اور رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تنبہیہ بھی ۔ لیکن کیا کہنا مجسم اخلاق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کہ ان تمام ہفوات و خرافات کو سنتے ہوئے بھی نہایت ہی نرم دلی سے بات ٹال گئے اور حزب مخالف کو اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ وہ کتنی بڑی جرات سے کام لے رہا ہے۔ جس کا قہری اثر یہ ہوا کہ یہ بشارت عام ہوکر عمر، عثمان، معاذ، عبادہ اور عتبہ بن مالک تک پہنچ گئی۔ اور اس روایت کو سجد تواتر تمام مسلمانوں نے قبول کر لیا اور آج بھی مسلمانوں میں اس پر عمل ہورہا ہے ۔ سب سے زیادہ تعجب خیز اور حیرت انگیز بات اس مقام پر یہ ہے کہ علامہ نودی اور قاضی عیاض جیسے افراد نے اس واقعہ میں حق حضرت عمر کے ساتھ قرار دیا ہے ۔ بلکہ نودی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر رعیت کو حاکم کی رائے میں اعتراض ہو تو بے دھڑک اس کا اظہار کر دینا چاہئے ۔ تاکہ حاکم کو غور کرنے کا موقع ملے۔ اگر صحیح ہو تو وہ اپنی رائے بدل دے اور اگر غلط ہو تو غلطی سے مطلع کر دے۔
ایک نظر مجھے یہ تمام باتیں منظور ہیں اگر میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھی باقی حکام کی طرح فرض کرلوں لیکن اگر قرآن کریم نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت مطلقہ کا حکم دیا ہو تو میں ایسے معاذیر کو کیونکر قبول کروں اور حضرت عمر کو کس طرح معذور قرار دوں میری نظر میں تو اگر حق حضرت عمر کے ساتھ ہے تو پھر حق سے پرہیز لازم ہے اور ایسے باطل پر عمل لازم ہے جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مسلک و مشرب ہو۔
مورد متعہ حج :۔
یہ وہ عمل ہے جس کو خود سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بحکم الہٰی انجام دیا ہےاور قرآن کریم نے بصراحت بیان کیا ہے ۔ فمن تمتع بالعمرہ الی الحج۔
طریقہ تمتع :۔
اس حج کا طریقہ یہ ہے کہ انسان حج کے مہینوں میں میقات سے احرام باندھ کر مکہ آئے اور طواف وسعی سے فراغت کرکے تقصیر کرے۔ اور اس طرح جملہ قیود احرام سے آزاد ہوجائے۔ اور پھر اس کے بعد بروقت حج کا احرام مکہ سے باندھ کر عرفات جائے وہاں سے مشعر اور پھر اس کے بعد باقی افعال و ارکان حج بجالائے۔ اور اس طرح فریضہ حج سے سبکدوشی حاصل کرے۔
علامہ قرطبی (تفسیر قرطبی ج ۲ ص ۳۵۰) کا کہنا ہے کہ علماء میں یہ بات مسلم ہے کہ حج تمتع میں عمرہ حج سے سے پہلے ہوتا ہے لیکن صرف حج کے مہینوں میں۔
اقول :۔
یہ فریضہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو مکہ کے ۴۸ میل سے باہر رہتے ہوں۔ اس حج کو حج تمتع اس لیے کہتے ہیں کہ تمتع کے معنی لذت اندوزی کے ہیں۔ اور اس حج میں اتنا موقع مل جاتا ہے کہ انسان عمرہ حج کے درمیان اپنےعیال سے لذت اندوز ہوسکے۔ اور یہی وہ فریضہ تھا کہ جس کی حضرت عمر اور اس کے اتباع نے مخالفت کی ۔ یہاں تک کہ معنوں نے کہہ دیا کہ یہ بھی کوئی طریقہ ہے کہ ہم واپسی حالت میں جائیں کہ ہمارے ۔۔۔۔۔ سے قطرات ٹپک رہے ہوں۔ (حاشیہ زرقانی ۲ ص ۲۶۵ طبع قاہرہ )
مجمع البیان نے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے یہی عذر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بیان کیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اس پر ایمان نہیں لاسکتے۔
مسند احمد ج ۱ ص ۵۰ میں یہ روایت ہے کہ ابو موسیٰ اشعری نے حج تمتع کے جواز کا فتوے دیا تو لوگوں نے کہا کہ حضرت عمر نے منع کیا ہے۔ چنانچہ اس نے حضرت عمر سے ملاقات کی تو انہوں نے یہ عذر بیان کیا کہ اس طرح لوگ عورتوں سے تعلقات پیدا کریں گے اور پانی ٹپکاتے ہوئے حج کو جائینگے۔
ابو نقرہ ناقل ہے کہ ابن عباس اس فریضہ کا حکم دیتے تھے اور ابن زبیر اس سے روکتے تھے۔ تو میں نے اس کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے خود حج رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ کیا ہے۔ لیکن حضرت عمر نے اپنے زمانہ میں اعلان کرادیا کہ اللہ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیےجو چاہا مباح کر دیا۔ اب تمہارا فریضہ ہے کہ بحکم قرآن حج و عمرہ کو تمام کرو اور اگر شخص درمیان میں عورتوں سے تعلق پیدا کرے گا تو میں پتھر سے سنگسار کروں گا۔ (مسلم ج ۸صلىاللهعليهوآلهوسلم ۱۶۸ شرح نودی) (مسند احمد ۱ ص ۵۲ و ۱۷)
بلکہ انہوں نے ایک دن تو منبر پر آزادی کے ساتھ اعلان کر دیا کہ دو متعہ زمانہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں حلال تھے اور میں دونوں کو حرام کرتا ہوں۔ متعہ حج، متعہ نساء، تفسیر رازی وغیرہ۔
بعض روایات میں تین چیزوں کا ذکر ہے جن میں ایک حی علی خیرالعمل بھی ہے ۔ اس مطلب کو علامہ قوشجی نے ارسال مسلمات کے طور پر بیان کیا ہے حالانکہ وہ بڑے متعصب سنی ہیں۔
فصل :۔
حضرت عمر کی یہ وہ حرکت ہے جس کی اءمہ اہل بیت ؑ نے صراحتاً مخالفت کی ہے۔ بلکہ بعض صحابہ نے بھی اس کے خلاف آوازیں بلند کی ہیں۔ چنانچہ شرح مسلم ۸ ص ۱۶۸ میں یہ روایت ہے کہ حضرت عثمان نے اس متعہ سے روکا اور حضرت علی ؑ نے جاءز قرار دیا ۔ آخر کار دونوں میں گفتگو ہوئی۔ تو حضرت علی ؑ نےحضرت عثمان کو زمانہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یاد دلائی ۔ حضرت عثمان نے کہہ دیا کہ ہم خائف تھے۔
سعید بن مسیب راوی ہے کہ جب دونوں میں گفتگو ہوئی تو حضرت عثمان نے کہا آپ سے کیا مطلب ہم منع کرتےہیں۔ آپ نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا۔ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جاءز قرار دیا ہے ۔ مسلم ہی میں غنیم بن قصیر سے روایت ہی کہ سعد بن ابی وقاص سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ بخدا ہم نے اور اس کافر دونوں نے یہ عمل کیا ہے (مراد معاویہ ہے)۔
ابو العلاء کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین نے کہا کہ میں ایک بات بتائے دیتا ہوں جو تمہارے کام آئے گی۔ رسول اکرم نے سنہ ۱۰ ہجری بعض لوگوں کو عمرہ کا حکم دیا ہےاس کے بعد یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی۔ اب لوگ جو چاہیں کریں انہیں اختیار ہے۔
ایسی ہی روایت حمید بن ہلال سے مروی ہے ۔ قتادہ بن مطرف نے بھی بیان کیا ہے۔ کہ عمران نے مجھے یہ مطلب بتایا تھا انہیں سے دوسری سند سے بھی یہ روایت وارد ہوئی ہے۔ عمران بن مسلم کی مسند میں بھی یہ روایت منقول ہے۔ مسلم کے علاوہ بخاری نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب (زرقانی ۲ ص ۲۶۵ ترمذی ۳ ص ۳۹)
مسند احمد میں مروی ہے کہ ابن عباس نے متعہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذکر کیا تو عروہ نے کہا کہ حضرت ابوبکرو عمر نے منع کیا ہے ۔ ابن عباس نے اس کو نظر انداز کرتے ہوئےکہا کہ یہ عروہ کا بچہ کیا کہتا ہے ؟ کہا گیا کہ حضرت ابوبکر و عمر نے منع کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے ۔ میں حکم خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بیان کرتا ہوں اور یہ حضرت ابوبکر و عمر کا ذکر کرتے ہیں ۔ (الطرق الحکمتیہ ص ۱۸)
ایوب کہتے ہیں کہ عروہ نے ابن عباس کو ٹوکا۔ تم خدا سے نہیں ڈرتے متعہ جاءز کرتےہو۔ ابن عباس نے کہا کہ اپنی اماں سےپوچھو عروہ نے کہا کہ حضرت ابوبکر و عمر نےکیا ہے ۔ ابن عباس نے جواب دیا کہ تم لوگ بغیر عذاب الہٰی کے باز نہیں آو گے ۔ میں حکم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نقل کرتا ہوں اور تم طریقہ شیخین (الطرق الحکمتیہ ص ۱۸ )
صحیح ترمذی میں منقول ہے کہ ابن عمر سے سوال ہوا تو انہوں نے حلال بتایا لوگوں نے کہا کہ تمہارے باپ نے حرام کیا ہے ؟ انہوں نے کہا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کہا تو حضرت نےجاءز کیا تھا (ترمذی جلد ۳ ص ۳۹)
اس کے علاوہ صحاح میں متعدد روایات ایسے ہیں جن کا انکار ناممکن ہے بلکہ صحیح مسلم سے تو یہاں تک اندازہ ہوتاہے کہ حضرت نےحجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ آدمیوں کے درمیان اس حکم کا اعلان کیا تو سرافہ بن مالک نے پوچھ لیا کہ یہ حکم ۱ سال کا ہے یا دائمی ہے تو آپ نے فرمایا یہ حکم ہمیشہ ہمیشہ کا ہے (شرح مسلم ج ۸ ص ۱۶۵)
یہ روایت بھی نقل ہے کہ حضرت علی ؑ یمن سےرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے اونٹ لے کر آئے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا محل ہوکر کر رنگین لباس پہنے ہیں۔ آپ نےسبب پوچھا انہوں نے حکم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے (سنن ابی داود ج ۱ ص ۴۱۷) ( مسلم ج ۱ ص ۵۱۱)
مورد متعہ نساء:۔
یہ وہ محبوب عمل ہے جسے خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مباح قرار دیا اور مسلمانوں نےاس پر زمانہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور دور حضرت ابوبکر بلکہ ابتدائے دور خلافت حضرت عمر میں عمل بھی کیا۔ لیکن اس کےبعد حضرت عمر نےیہ اعلان کر دیا کہ دو متعہ زمانہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں حلال تھےاور میں ان کو حرام کرتا ہوں۔ بلکہ اس کےعامل پر عقاب بھی کروں گا۔ (تاریخ الخلفاء ص ۵۳ طبع مصر)
جہاں تک اس مسئلہ کے متعلق روایات کا سوال ہے تو وہ جملہ اصحاب صحابہ نے نقل کی ہیں جیسا کہ ہم نےسابق میں صحیح مسلم سے نقل کیا ہے اور حدیث سے یہ واضح کیا ہے کہ حضرت عمر نے اس عمل کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا۔ حالانکہ واضح ہے کہ حلال و حرام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ابدی حیثیت رکھتےہیں ۔ قرآن کریم میں اس عمل کا صریحی ذکر موجود ہے ۔ جس کا اعتراف خود فخر رازی نے کیا ہے ۔ اگرچہ حضرت عمر کی طرف سے تاویل بھی لے۔
ہم نے موسی جاء اللہ کے جواب میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے ، لہذا اس رسالہ کا مطالعہ کیا جائے۔ ہمارا مقصد اظہار حق اور اعلان واقع ہے کسی مسلمان کے جذبات کو مجروح کرنا ہمارا کام نہیں ہے ہمارے رسالہ میں آٹھ موضوعات ہیں ( ۱) حقیقت و لوازم عقد متعہ ( ۲) اجماع امت اسلامیہ براصل جواز ( ۳) دلالت کتاب کریم ( ۴) دلالت نصوص احادیث ( ۵) ادلہ نسخ ( ۶) روایات دالہ برانتساب نسخ ، معمر ( ۷) مخالفین رائےحضرت عمر از صحابہ وتابعین ( ۸) رائے شیعہ امامیہ جو حضرات اس موضوع سے دلچسپی رکھتےہوں اور تحقیق کرنا چاہتے ہوں وہ ہمارے رسالہ کا بخلوص و رقت مطالعہ کریں۔ اور پھر فیصلہ کریں کہ آیا اس عمل کو حلال ہونا چاہیے یا نہیں؟
مورد تصرف دراذان :۔
ہم نے اپنےامکان بھر شیعہ و سنی دونوں قسم کی کتابوں کی چھان بین کی لیکن ہمیں کسی مقام پر یہ نہ مل سکا کہ زمانہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم یا زمانہ حضرت ابوبکر میں اذان میں ""اصلوہ خیر من النوم"" رہا ہو۔ بلکہ صراحتاً نقل کیا گیا ہےکہ اس کا اضافہ حضرت عمر نےاپنے زمانہ خلافت میں کرایا جس کے خلاف آئمہ عترت ؑ کی احادیث بکثرت موجود ہیں، بلکہ اہل سنت کے علماء نےبھی اس امر کا اظہار کیا ہے مالک نے (موطاء ج ۱ ص ۱۴۹) میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر نے سونے کی بناء پر موذن نےاس کلمہ کا اضافہ کردیا تو انہوں نےپسند کر لیا ۔زرقانی نے اس کی شرح میں بیان کیا ہے کہ یہ روایت دار قطنی نےدو مسندوں میں نقل کی ہے ۔ (شرح زرقانی ج ۱ ص ۱۴۹ و ج ۱ ص ۷ ) میں کہتا ہوں کہ اسے ابن ابی شیبہ وغیرہ نےبھی بیان کیا ہے اور ظاہر ہے کہ ان صریح روایات کےہوتے ہوئے خالد بن عبداللہ واسطی کی اس روایت کی کوئی قیمت رہتی ہی نہیں ہےکہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اعلان نماز میں تردد تھا تو ایک مرد انصاری اور حضرت عمر نےخواب دیکھ کر فصول اذان بیان کئے اور حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نےاسی کا حکم حضرت بلال کو دےدیا۔ یا حضرت بلال نےاپنےپاس سے اس کلمہ کا اضافہ کر دیا تو آپ نے پسند فرمالیا۔ اس لیےکہ خاندان عبداللہ کو یحیی مرہ ابن عدی ابو زرعہ وغیرہ نےضعیف حقیر ناچیز بلکہ کذاب قرار دیا ہے اور ذہبی نےمیزان میں اس روایت کےرواہ پر نقدکیا ہےاس طریقہ سے وہ روایت بھی ہے جو ابو مخدورہ ے نقل کی ہے کہ میں نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اذان کا سول کیا۔ تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام فصول کو تعلیم دے کر فرمایا کہ صبح کی اذان میں اس کلمہ کا اضافہ کر دیا کرو۔ اس روایت کو ابو داود نے محمد بن عبدالملک کے واسطہ سے نقل کیا ہے جس کو ذہبی نے ناقابل استدلال قرار دیا ہے اس کا دوسرا واسطہ عثمان بن سائب اور اس کا باپ ہے جو دونوں کے دونوں ضعیف ہیں بلکہ اسی روایت کو مسلم نے بعینہ نقل کیاہے ۔ اور اس می اس کلمہ کا ذکر نہیں ہے ۔ خود ابو داود کی دوسری روایت میں یہ کلمہ مذکور نہیں ہے ۔ علاوہ اس کے کہ ابو مخدورہ طلقاء اور مئولفہ القلوب میں سے ہے یہ فتح مکہ اور جنگ حنین کے بعد اسلام لایا ہے اس وقت یہ حضرت سے بے حد متنفر تھا۔ اور آپ کے موذن کی نقل کرکے اس کا مذاق اڑاتا تھا لیکن وہ چاندی کی تھییلیاں جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تقسیم فرماءی تھی اور وہ مال غنیمت جو کہ تقسم ہوا تھا وہ کفار کا اسلام میں بے تحاشا داخلہ اور وہ اسلام کی روز افزوں شوکت اس امر کی سبب بن گئی کہ یہ شخص بھی اسلام میں داخل ہوگیا اور پھر مکہ ہی میں مرگیا۔ (اصابہ ترجمہ ابو مخدورہ ج ۴ ص ۱۷۵) خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی ابو مخدورہ ابوہریرہ اور سمرہ سے یہ کہہ دیا تھا کہ تمہار آخری مرنے والا جہنمی ہے (اصابہ استیعاب ترجمہ سمرہ) اصابہ جلد ۴ ص ۷۸) اور یہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وہ بلیغ انداز بیان تھا کہ جس پر ہماری جانیں قربان ہیں اس اجمال کے ذریعہ حضرت نے مسلمانوں کو ان تینوں کے باطن کی طرف متوجہ کر دیا تاکہ شبہ اور اجمال کی بناء پر ان میں سی کسی کی روایت پر اعتبار نہ کیا جائے ۔ ورنہ یہ موقع پاکر دین کو تباہ برباد کر دیں گے ۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ضرور واضح فرما دیتے سچ ہے (فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمہ) اگر کوئی یہ احتمال دے کہ شائد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیان فرمایا تھا جو ہم تک نہیں پہنچ سکا تو ہم یہ کہیں گے کہ اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو علماء سب سے خوف ہ کرتے حالانکہ ان کی حالات سے ایسا ہی اندازہ ہوتا ہے علاوہ اس کے کہ ہمارے لیے تو بہر حال عمل مشکل ہے اس لیے کہ ہمارے اعتبار سے تو یہ تینوں اب تک مشکوک بنے ہوئے ہیں ۔ چاہے بیان صادر ہوکر غائب ہی کیوں نہ ہوگیا ہو۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ دو کے مرجانے کے بعد تو روایت کا مفہوم واضح ہوگیا تو ہم یہ کہیں گے کہ قانون عقل کی بنا پر ضرورت کے وقت مقصد کا بیان کر دینا ضروری ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کی نماز شہادت فتوی وغیرہ میں محل ابتلاء بن گئے تھے ۔ لہذا اگر کوئی بھی قابل اعتبار ہوتا تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ضرور بیان فرمادیتے ۔ لیکن آپ کا سکوت یہ بتارہا ہے کہ اس ابہام و اجمال سے تینوں کے اعتبار کو ساقط فرمانا چاہتے تھے۔ ورنہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک معتبر و معقول آدمی کو آپ متہم بنا دیں۔ صرف اس لیے کہ اس کے رفقاء میں کوئی ایک غیر معتبر ہے دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے اپنےامکان بھر تاریخوں میں تفتیش کی کہ آخر ا میں کا آخری کون ہے لیکن خدا شاہد ہے کہ ہم کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرسکے۔ بعض نے (اصابہ ج ۲ ص ۷۸) سمرہ کو آخر کہا ہے اور بعض نے ابوہریرہ کو بعض نے تینوں کو ایک سال میں لکھا ہے اور روز و ماہ کی تعین نہیں کی۔ اس لیئے ہم تو بہرحال ان پر اعتبار کرنے سے معذور ہیں تیسری بات یہ بھی ہے کہ کسی کا بلاوجہ متہم کردینا اس خلق عظیم کے بھی منافی ہے جس پر قدرت نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فائز کیا تھا ۔ لہذا میرا یقین ہے کہ اگر یہ حکم نہ ہوتا تو حضرت ہرگز اس ابہام و اجمال سے معتبر صحابہ کو متہم نہ بتاتے۔
تنبہیہ :۔
اگر کوئی شخص ہمارے برادران اہل سنت کے مذہب سے واقفیت رکھتا ہے تو اسے امر سے قطعا تعجب نہ ہوگا کہ اذان میں کمی یا زیادتی کیونکر ہوسکتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک اذان کی ایجاد کسی آسمانی وحی کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کی بنیاد عبداللہ بن زید کے خواب پر تھی جو انہوں نے دیکھ کر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بتایا تھا اور یہ روایت ان حضرات کے نزدیک اس قدر معتبر ہے کہ اس پر دعوی اجماع و تواتر بھی کیا گیا ہے چنانچہ ابو داود (شرح زرقانی ۱ ص ۱۳۵) نے اپنے سنن میں یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اعلان نماز کے لیے اظہار تردد فرمایا تو بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ ایک پرچم نصب کرادیا کیجئے۔ اس کے ذریعہ تدریجا اطلاع ہو جائے گی۔ آپ نے اس رائے کو ناپسند کیا تو کہا گیا کہ سنکھ بجایا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ یہودیوں کا طریقہ ہے کسی نے کہا کہ ناقوس بجایا جائے فرمایا یہ نصاری کا انداز ہے لیکن پھر بھی فی الحال اس پر عمل کیا جائے ۔ چنانچہ تیار کیا گیا ۔ ادھر عبداللہ نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے اذان کو تعلیم دی اور صبح کو آکر حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بیان کیا۔ آپ نے بلال کو حکم دیا کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے پہلے کیوں نہ بیان کیا۔ تو کہا کہ عبداللہ کے بعد شرم محسوس ہوئی۔ دوسری روایت اسی انداز کی محمد بن عبداللہ نے اپنے باب سے نقل کی ہے جس میں فصول اذان و اقامت دونوں کا ذکر ہے ۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ عبداللہ بتاتے جاتے تھے اور بلال کہتے جاتے تھے۔
امام مالک نے موطاج ۱ ص ۷۳۵ میں اس روایت کومختصر طور پر نقل کیا ہے ۔ اس مقام پر یہ بات یاد رہے کہ یہ واقعہ نماز صبح کا ہے لیکن اس اذان میں الصلوۃ خیر من النوم کا ذکر نہیں ہے ۔ خدا جانے مسلمان اس کی کیا تاویل کریں گے۔
علامہ عبدالبر نے اس قصہ کے تواتر کا دعوی کیا ہے (شرح زرقانی ۱ ص ۱۳۵) گویا کہ تمام اہلسنت میں یہ واقعہ مسلم حیثیت رکھتا ہے
اقول ان احادیث کے ثبوت میں چند اشکالات ہیں :۔
۱ ۔ قرآن کریم کے نصوص سے واضح ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم احکام الہیہ عوام کے مشورہ سے وضع نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ آپکا صریحی اعلان ہے کہ میں وحی الہٰی کا تابع ہوں۔ (سورہ احقاف) قرآن نے بھی یہی تعلیم دی تھی۔ کہ جب تک تنزیل ختم نہ ہوجائے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بولنے کا حق نہیں ہے۔(سورہ قیامت) اور یہی صفت امتیاز رسالت ہے کہ بغیر وحی تکلم نہ کرے۔ (النجم) حیف کہ مسلمانوں نے اپنے اغراض و مقاصد کے لیے قرآ ن پو پس پشت ڈال دیا۔
۲ ۔ قرآن کریم سے قطع نظر کرنے کے بعد بھی عقل کا مستقل فیصلہ ہے کہ اس قسم کے مشورے رسول کے لیے محال ہیں، وہ اللہ پر اہتمام نہیں لاسکتا۔ وہ اپنے پاس سے بلاوحی سمادی کوئی حکم وضع نہیں کرسکتا۔ یہ ضرور ہے کہ بعض امور دنیا میں رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بحکم قرآنی مشوہ کیا کرتے تھے لیکن اس کا مقصد صرف تالیف قلوب تھا ورنہ عزم رسالت اور حکم ربوبی ان تمام مشوروں سے مافوق تھا جیسا کہ قرآ ن کریم نے بھی بیان کیا ہے۔
۳ ۔ ان روایات میں صراحت کے ساتھ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تحیرو پریشانی کا ذکر ہے ۔ حالانکہ ایسی باتیں اللہ کے وابستگان سے محال ہیں۔ بھلا یہ کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے ناقوس کا حکم دیں۔ اس کے بعد اذان پر اعتماد کرلیں۔ حالانکہ وقت عمل بھی نہ آیا تھا اور یہ وہ بداء ہے کہ جو باجماع مسلمین محال ہے۔ بعد وقت عمل حکم کا منسوخ ہوجانا تو ممکن ہے لیکن قبل عمل حکم کا ختم ہوجانا غیر ممکن ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ شریعت اسلام میں باجماع امت غیر رسول کے خواب کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اس پر احکام کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔
۴ ۔ ان روایات میں اس شدت سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ ان پر اعتماد ناممکن ہے چنانچہ ابو داود ہی کی دو روایتیں آپس میں مختلف ہیں جیسا کہ وقت نظر سے واضح ہوتا ہے ۔پھر ان دونوں کا مفہوم یہ ہے کہ خواب عبداللہ اور حضرت عمر میں منحصر تھا حالانکہ طبرانی نے حضرت ابوبکر کی طرف نسبت دی ہے ۔ (زرقانی ۱ ص ۱۳۶) بلکی حلبی نے ( ۲ ص ۱۰۲) اپنی سیرت میں تو اور بھی غضب کر دیا اس نے یہ اقول بھی نقل کے ہیں کہ یہ خواب ۱۴ یا ۱۸ افراد نے دیکھا ہے بلکہ بعض روایات میں حضرت بلال کا بھی ذکر ہے (زرقانی ۱ ص ۱۳۶) حلبی نے ان تمام اقوال کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ غریب کیا کرتا جب بات ہی بے ربط تھی۔
۵ ۔ بخاری و مسلم (زرقانی ج ۱ ص ۱۳۵) نے اپنی کتابوں میں ان روایتوں کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا جس سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں یہ روایات بالکل مہمل تھیں۔ بلکہ ان کی روایات کی بناء پر جب رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مشورہ کیا تو بعض نے سنکھ اور بعض نے ناقوس کا مشورہ دیا۔ حضرت عمر نے رائی دی کہ آواز لگائی جائے چنانچہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا اور انہوں نے اذان شروع کردی۔ بخاری و مسلم میں صرف اتنا ہی ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ روایت ان روایات سے بالکل مختلف ہے ۔ ان میں تشریع کا تعلق میں اس کا کوئی دخل ہی نہیں ہے۔ اس روایت میں یہ مضمون ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجلس مشورہ ہی میں حکم اذان دے دیا تھا اور ان میں یہ مفہوم ہے کہ صبح کے وقت عبداللہ کے خواب کے بعد حکم صادر ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ مشورہ سے کم از کم ایک رات کے بعد اذان ہوئی ہے اس کے علاوہ اس روایت می حضرت عمر کا وجود مذکورہ ہے ۔اور ان روایت میں حضرت عمر کی غیبت کا ذکر ہے یہاں تک کہ اذان کی آواز سننے کے بعد آئے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے خواب کی بھی خبر دی۔ کوئی صاحب انصاف بتائے کہ کیا ایسے مختلف روایات بھی قابل جمع ہوتے ہیں یہ بھی یاد رہے کہ ان خواب آور احادیث کا ذکر حاکم نے بھی مستدرک میں ترک کر دیا ہے ۔ حالانکہ اس کی بنا پر تھی کہ بخاری و مسلم سے ترک شدہ صحیح روایات کو جمع کیا جائے اور اس میں کوئی شک نہی ہے کہ اس نے اپنے موضوع میں کافی محنت کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اعراض کرنا یقیناً دلیل بطلان ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ حاکم نے (زرقانی ۱ ص ۱۳۵) یہ فقرہ بھی درج کیا ہے کہ عبداللہ کے روایات کو ہم نے اس لیئے ترک کر دیا ہے کہ وہ وقت ایجاد موت کے گھاٹ اتر چکا تھا۔
اقول :۔
اس کا موید یہ ہے کہ جمہور مسلمین کے یہاں اذان کی ابتدا جنگ احد کے بعد ہوئی ہے۔ اور عبداللہ کے متعلق اس کی لڑکی کا یہ بیان ہے کہ میرا باپ جنگ بدر میں شریک ہوا اور احد میں مارا گیا ۔ حلیتہ الاولیاء ( ۱ صابہ ج ۲ ص ۳۰۴) نے اس روایت کو سند صحیح سے نقل کیا ہے ظاہر ہے کہ اگر روایت خواب صحیح ہوتی تو بیٹی اپنے باپ کے فضائل میں یہ کارنامہ بھی عمر بن العزیز سے بیان کرتی ۔ تاکہ انعام و اکرام کا زیادہ استحقاق پیدا ہوتا۔
۶ ۔ قرآن حکیم نے صریحی طور پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر تقدیم سے منع کیا ہے۔ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر تقدم حبط اعمال کا باعث ہوجاتا ہے ۔ اور بقول بخاری ( ۳ ص ۱۹۱) یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب نبی تمیم کی ایک جماعت نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک حاکم کا مطالبہ کیا تھا اور حضرت ابوبکر نے فوراً کہہ دیا تھا کہ قعقع بن معبد کو بنا دیجیئے اور عمر نے ٹوک کر کہا تھا کہ اقرع بن حابس کو بنائیے اور پھر دونوں میں جھگڑا شروع ہوگیا تھا قدرت نے فوراً ان آیات کے ذریعہ کو تنبہیہ کی اور یہ بتایا اب اگر کبھی مجھ (رسول) پر تقدم کیا اور میرے سامنے آواز بلند کی تو تمہاے اعمال حبط ہوکر رہ جائیں گے۔
ظاہر ہے کہ آواز بلند کرے کے معنی شور مچانے کے نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے مقصد یہ ہے کہ رسول کے سامنے اپنی بھی کوئی حیثیت خیال کی جائے۔ اور ان کی رائے سے پہلے اپنی رائے بیا کر دی جائے اور ظاہر ہے کہ ان روایات میں یہ بات صراحت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ کہ ان خواب زدہ افراد نے اپنی رائے فورا پیش کردی اور اس کا انتظار نہ کیا کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم وحی سماوی کی بنا پر کوئی حکم صادر فرمائیں ۔اور مسلمان اس پر عمل کرکے سعادت دارین حاصل کریں۔ اور حبط اعمال سے محفوظ رہیں۔
۷ ۔ ہر ذی فہم انسان اس امر کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ اذان و اقامت در حقیقت معدن نماز کے دو گوہر ہیں۔ ان کی نسبت اسی ذات کی طرف ہوسکتی ہے کہ جس کی طرف اصل نماز منسوب ہے۔ یہی وہ عمل ہے کہ جس کے ذریعہ اسلام کا امتیاز اس کا اعلان حق اور اس کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ۔ اور یہی وہ نعمت ہے جو اسلام کے علاوہ کسی مذہب کو حاصل نہیں ہے۔ درحقیقت رات سناٹے میں موذن کی اذان واعئی حق کی ایک پکار ہے۔ جو جسم کی ساتھ روح کو بھی بیدار کر دیتی ہے۔ انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس میں فطری تڑپ پید ا ہوگئی ہے ۔ پھر کلمات کی ترتیب نماز کا پورا نقشہ نظروں میں کھینچ دیتی ہے۔ ایک طرف عظمت الہٰی اور توحید ربوبی کے جلو سے اور دوسری طرف رسالت کا اعلان حق اور اس کی جلالت کا بیانگ دہل اظہار مرد مسلم میں وہ روحانی قوت پیدا کرتا ہے ۔ کہ جو عام تصورات سے مافوق ہے۔ اس کے بعد نماز فلاح کی دعوت انسان کو اس کے انجام کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اور آخر میں تکبیر و تہلیل کی تکرار انسان کو پھر اصلی مقصد کی طرف موڑ دیتی ہے۔
زرا انصاف کیجئے ایسی اہم ترتیب اور اتنے بامعنی کلمات ایسا موثر انداز کیا کسی غیر ربانی قوت سے حاصل ہوسکتا ہے ؟ کلا ول
مجھے حیرت ہے ان عقلوں پر جو ایسے اہم نکات کو جو گوہر نماز اور جوہر نماز ہیں انہیں عبداللہ و حضرت عمر جیسے افراد کی طرف منسوب کریں۔ اگر انسان ناقد بصیر ہے تو اس کی درایت ان روایات کی ابطال کے لیے کافی ہے۔
۸ ۔ تشریح اذان کے سلسلے میں اہل سنت کے جملہ روایات ان روایات کے مخالف ہیں۔ کہ جو ائمہ عترت سے ہم تک پہنچے ہیں اور ظاہر ہے کہ مرد مسلم ائمہ طاہرین کے مقابلہ میں کسی انسان کے قول کو محل اعتبار نہیں قرار دے سکتا۔ صاحب وسائل شیعہ نے امام صادق سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جبرئیل نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے اذان و اقامت کہی تو آپ نے حضرت بلال کو بلا کر تعلیم دی اور اس کے بعد سے یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہی روایت شیخ کلینی شیخ صدوق اور شیخ طوسی جیسے مقدس اور محتاط افراد نے نقل کی ہے کہ جن پر اعتماد کرنا ہر ذی ہوش انسان کا فرض ہے ۔ اس کے علاوہ سیرت حلیہ ج ۲ ص ۱۰۳ نے ابوالعلاء سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے محمد بن حنفیہ سے خواب کی روایت ذکر کی تو آپ کو غصہ آگیا ۔ اور فرمانے لگے کہ اب جرات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اذان کو خواب کا نتیجہ کہتے ہیں جبکہ اکثر خواب غلط اور اوہام کے نتائج ہوتے ہیں۔ خدا کی یہ قسم یہ قول باطل ہے۔
سفیان بن لیل کہتے ہیں کہ میں امام حسن کے پاس مدینہ میں حاضر ہوا اور حضرت سے اذان کا ذکر چھیڑ دیا۔ بعض لوگوں نے خواب کی روایت نقل کی تو آپ نے فرمایا کہ اذان کی شان ان خرافات سے اجل وارفع ہے اس کو جبرئیل امین آسمان سے لائے ہیں (مستدرک حاکم ۳ ص ۱۷۱)
ہارون بن سعید نے زید شہید کے سلسلے سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی کے بیان کی بناء پر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اذان کی تعلیم شب معراج دی گئی ہے اور اسی وقت نماز بھی واجب کی گئی ہے۔ (مشکل الاثار طحاوی کنزل العمال ج ۶ ص ۲۷۷)
مورد ""حی علی خیرالعمل"
اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ عصر رسالت میں یہ فقرہ جز اذان و اقامت کی حیثیت سے استعمال ہوتا تھا لیکن بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم زمانہ خلافت دوم میں اولیاء امر نے مصلحت وقت کو دیکھتے ہوئے اس فقرہ کو اذان سے ساقط کر دیا۔ جس کا واضح سبب یہ تھا کہ اگر مسلمانوں کو یہ اندازہ ہوگیا کہ بہترین عمل نماز ہے تو وہ ثواب خدائی کو اس پر سکون عمل میں تلاش کریں گے اور اس طرح جنگ و جدل قتل و غارت کو جو اس وقت اسلامی شوکت کے لیے بے حد ضروری ہے اس کا سد باب ہوجائے گا اور مسلمان اس سے اعراض کرلیں گے ۔ انہیں مصالح کے پیش نظر (بقول علامہ قوشجی اشعری) حضرت عمر نے برسر منبر یہ اعلان کیا کہ تین چیزی عہد رسالت میں راءج تھیں میں انہیں حرام کیئے دیتا ہوں۔ اور اب ان کے عامل پر عقاب بھی کروں گا۔ حج تمتع متعہ حی علی خیر العمل ۔ حضرت عمر کے بعد ان کے جملہ اتباع نے علاوہ اہل بیت رسالت کے اس عمل میں ان کا اتباع کیا کہ ان حضرات نے اس فقرہ کو اپنا شعار قرار دے کر اپنے اسلام کی ترویج کو اسی نماز کے ذریعہ ضروری تصور کیا چنانچہ حسین بن علی الحسین شہید فخ نے زمانہ ہادی خلیفہ عباسی میں اس فقرہ کو راءج کیا تھا جیسا کہ مقاتل الطالسیبن ص ۱۵۶ طبع تہران میں مذکور ہے۔ اس کے علاوہ حلبی نے سیرت میں ذکر کیا ہے کہ ابن عمر اور حضرت سجاد دونوں اپنی اذانوں میں اس فقرہ کا ذکر فرماتے تھے۔ (سیرت حلبیہ ج ۲ ص ۱۰۵)
اقول علماء امامیہ کی کتابوں میں تویہ احادیث بتواتر نقل کیے گئے ہیں جس سے بالوضاحت ظاہر ہوتا ہے کہ ائمہ عترت کا مسلک یہی فقرہ تھا اور ان کی ترویج اسی عمل پر موقوف تھی۔
""فصیل ""
علماء امامیہ کے نزدیک اذان میں اٹھارہ فصلیں ہیں ۴ ۔ تکبیریں، ۲ شہادتیں، ۲ حی علی الصلوہ، ۲ حی علی الفلاح ، ۲ حی علی الخیرالعمل ، ۲ تکبیر ، ۲ تہلیل ، اقامت میں دو تکبیریں ابتداء سے کم ہوجائی ہیں۔اور ایک تہلیل آخر سے جس کے بدلے میں دو قدقامت الصلوہ کا اضافہ ہوجاتا ہے اور اس طرح ۱۷ فصلیں تیار ہوجاتی ہیں یہ اور بات ہے کہ ان فصول تیار ہو جاتی ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ ان فصول کے علاوہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نام پر صلوات مستحب ہے۔ جس طرح کہ حضرت کے بعد ذکر امیر المومنین مستحب ہے۔ مگر افسوس ہے۔ کہ بعض بدعتی افراد اس فقرہ شہادت کو بدعت قرار دے کر حرام بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ اسلام میں شاید ہی کوئی موذن ایسا ہو جو اذان کے ساتھ ابتدا میں چند کلمات اور پھر وسط میں سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات نہ بھیجتا ہو۔ حالانکہ یہ سب اذان میں داخل نہیں ہیں بلکہ ان کا ذکر تبر کا ہوتا ہے۔ علاوہ اس کے کہ اگر اس فقرہ کو اذان سے کوئی ربط ہو بلکہ یہ مستحب بھی نہ ہو تو سوال یہ ہے کہ اثناء اذان میں یہ بات کرنا ہی کب حرام ہے۔ ایسے افراد یہی فرض کرلیں کہ یہ ایک تکلم ہے آخر یہ حرام و بدعت کا سوال کہاں سے پیدا ہوا؟ کیا آج کی دنیا میں بھی افتراق بین المسلمین محبوب عمل ہے؟
مورد سہ طلاق :۔
اس مسئلہ کی حقیقت یہ ہے کہ شرح اسلام نے اجتماع ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے طلاق کا قاون وضع کرکے اس کی ترتیب یوں قرار دی کہ اگر کوئی اپنی زوجہ کو طلاق دے تو اسے دوبارہ بلا عقد رجوع کرنے کا حق ہے۔ اگر رجوع کرکے دوبارہ پھر طلاق دے دی تو پھر رجوع کرنے کا حق ہے لیکن اگر اب رجوع کے طلاق دے دی تو جب تک دوسرے کے عقد میں جاکر پھر خارج نہ ہو اس کے لیے اس عورت سے عقد جاءز نہیں ہے۔ قرآ ن کریم نے اس کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔
علامہ زمحشری (کشاف ۱ ص ۲۰۷) نے بھی آیت کی تفسیر میں یہی لکھا ہے کہ طلاق کو دو مرتبہ الگ الگ ہونا چاہیے۔ پھر عورت کو روک لے یا آزاد کر دے۔ اب اگر اس کو زوجیت سے آزاد کرے کے لیے تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو پھر انسا کو رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس خدائی ترتیب کو بدل کر یہ انداز اختیار کر لیا ہے کہ ایک ہی مجلس میں ایک ساتھ تین طلاق دے دیتے تھے اور عورت کو اپنے سے بے تعلق فرض کرلیتے تھے۔ حضرت عمر کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے اسی انداز کو پسند کر لیا اور اسی کے مطابق حکم بھی صادر کر بیٹھے جیسا کہ حسب ذیل اخبار سے اندازہ ہوتا ہے۔
صحیح مسلم ۱۰ ص ۷۱ میں یہ روایت ہے کہ ابوالصبہاء نے ابن عباس سے دریافت کیا رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت ابوبکر کے زمانہ میں ۳ طلاق کا ایک مفہوم نہیں تھا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ صحیح ہے لیکن حضرت عمر نے لوگوں کی طبیعت کے مطابق اس قانون کو بدل دیا (مسلم ج ۱۷۱۰ ) اس کتاب میں چند صحیح طریقوں سے ابن عباس کو قول مروی ہے کہ طلاق الہٰی دستور کے مطابق زمانہ رسالت اور خلافت اول بلکہ دوم کے دو سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضرت عمر نے لوگوں کی تنبیہہ کے لیے بدل دیا (المنارج ۲ ص ۳۸۶) حاکم نے اس واقعہ کو مستدرک میں اور ذہبی نے اس کی تلخیص میں درج کیا ہے امام احمد نے اس روایت کو اپنی مسند ج ۱ ص ۳۱۴ میں اور اس کے علاوہ بہیقی نے ج ۷ ص ۳۳۶ اور قرطبی نے اپنی تفسیر کے ج ۳ ص ۱۳۰ میں درج کیا ہے۔
علامہ شیخ رشید رضا نے ""المنار کے ج ۲ ص ۳۸۴"" پر ان روایات کو نقل کرنے کے بعد یہ روایت بھی نقل کی ہے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا طرز عمل اس کے خلاف تھا آپ نے رکانہ کو باوجود تین طلاق کے رجوع کا حکم دے دیا۔ چونکہ وہ تینوں ایک مجلس میں تھیں۔ نسائی نے اپنی کتاب ج ۲ ص ۱۴۲ میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ایک شخص نے مجلس واحد میں تین طلاق دے دی تو جب حضرت کو معلوم ہوا تو غصہ میں اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا میری زندگی میں قرآن کے ساتھ یہ کھیل ہورہا ہے ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا حضرت اسے قتل کردیں؟ (الطرق الحکمتیہ ص ۱۷)
مختصر یہ ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا طرز عمل جملہ اسلامی کتابوں سے بالکل واضح ہے۔ یہاں تک کہ علامہ دہر محمد خالد بصری نے اپنی کتاب و بمقراطیہ ص ۱۵۰ میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب نے اپنے مصالح کی بناء پر بہت سے صریحی نصوص کو ٹھکرایا بلکہ بہت سے آیات کو ناقابل عمل تصور کرلیا۔ چنانچہ قرآن نے زکوہ میں مولفہ القلوب کا حصہ قرار دیا انہوں نے ترک کر دیا۔ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت ابوبکر نے ام ولد کی تجارت کو جائز رکھا اور انہوں نے حرام کر دیا۔ سنت رسول کی بناء پر طلاق کا شمار ایک ہوتا تھا۔ انہوں نے تین تصور کرکے حکم کر دیا۔ وغیرہ وغیرہ ۔
علامہ دوالیسی نے اپنی کتاب اصول فقہ ص ۲۴۶ میں تحریر کیا ہے کہ احکام زمانہ کے تغیرات سے بدلتے رہتے ہیں چنانچہ اس سلسلہ سے حضرت عمر نے ایک مجلس کے ۳ طلاق کو ۳ قرار دے کر حکم فرمادیا تھا حالانکہ زمانہ رسالت بلکہ زمانہ خلافت اولی اور ابتدائے خلافت دوم میں ایسا ہرگز نہ تھا جیسا کہ ابن عباس کے روایات سے معلوم ہوتا ہے لیکن حضرت عمر نے یہ دیکھا کہ لوگ طلاق کو مذاق سمجھے ہوتے ہیں اور اس طرح ایک ساتھ تین طلاق دے دیتےہیں۔ تو انہوں نے اس پر اکتفا کرنا شروع کر دیا تاکہ ان کی تنبیہہ ہوجائے۔ جیسا کہ علامہ ابن قیم نے بیان فرمایا ہے ۔ ص ۱۶ صحابہ کرام چونکہ حضرت عمر کی سیاست و ہوش مندی سے واقف تھے اس لیے انہوں نے بھی اس کا اتباع کیا۔ اور اسی کے مطابق حکم کرنے لگے۔ اور اس طرح زمانہ کے ساتھ حکم بدل گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ خود ابن قیم نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ عصر حاضر کے لحاظ سے قانون رسالت کو پھر جاری ہونا چاہیے اس لیے کہ سلسلہ عمریہ سے محلل(۱) کا رواج ہوجائے گا حالانکہ یہ عہد صحابہ میں نہ تھا اور ظاہر ہے کہ عقاب
____________________
(۱) تین طلاقوں کے بعد جس شخص کو آئیندہ عقد کرنے کے لیے واسطہ بنایا جاتا ہے اسے اصطلاح شریعت میں محلل (حلالہ) کہتے ہیں۔ اس کا یہ مصرف ہے کہ مطلقہ عورت سے عقد کرکے مباشرت کرے اور پھر طلاق دیدے تاکہ عورت اپنے سابق شوہر کے لیے حلال ہوجائے۔ (مترجم)
اگر خود ہی مفسدہ کو مستلزم ہوجائے تو اس کا بدل دینا ہی خدا اور رسول کے نزدیک محبوب و مرغوب ہے۔ ابن تیمیہ کا کہنا تھا کہ اگر خود حضرت عمر نے یہ منظر دیکھ لیا ہوتا کہ لوگ محلل کے بارے میں کس قدر کثافت کاریوں سے کام لے رہے ہیں تو وہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے عہد سے اتفاق کرلیتے۔ بظاہرین ابن قیم اور اب تیمیہ کے ان بیانات کا مقصد یہ تھا کہ مصر کے تازہ محکموں کو پھر سے عہد رسالت کے قوانین کی طرف پلٹا دیں۔ تاکہ وہ قانو اپنی جگہ پر رہے کہ زمانہ کے تغیر کے ساتھ احکام کا تغیر ناگزیر ہے
(اقول )
تاکہ یہ قانون مسلم رہے کہ نصوص قرآن و سنت کی مخالفت حرام اور موجب ندامت ہے۔ (چراکارے کند عاقل الخ)
مورد صلوہ تراویح :۔
یہ بات تاریخی اعتبار سے مسلم ہے کہ تراویح کا کوئی ذکر عہد رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم بلکہ زمانہ خلافت اول میں نہ تھا۔ سرکار رسالت نے علاوہ نماز استقاء کے باقی سنتی نمازوں میں جماعت کو غیر مشروع قرار دیا تھا اور یہی طرز عمل عہد حضرت ابوبکر میں ہا۔ ۱۳ ہجری میں حضرت ابوبکر کا انتقال ہوا۔ اس سال بھی سنت رسول ہی پر عمل رہا لیکن ۱۴ ہجری (موطاء ۱ ص ۱۵۴) کے رمضان میں حضرت عمر نے اپنی خلافت کی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مسجد کی سیر کی تو دیکھا کہ لوگ مختلف حالات میں مشغول عبادات ہیں۔ انہیں یہ شان پسند نہ آئی ۔ اور انہوں نے فوراً نماز تراویح کی ایجاد کردی۔ (حیوہ الحیوان ۱ ص ۳۴۶) دو امام مدینہ میں مقرر کر دیئے ۔ ایک مردوں کے لیے اور ایک عورتوں کے لیے ۔ اور باقی کے لیے دیگر شہروں میں حکم فرما دیا صحیح بخاری و مسلم میں (مسلم ج ۶ ص ۳۹) اگرچہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے ادائے مستجبات کی تاکید مذکور ہے لیکن ماہ رمضان کی راتوں میں تراویح کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ بخاری کی کتاب تراویح میں تو عبد قاری سے یہ روایت درج ہے کہ وہ حضرت عمر کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے سب کے لیے ابی بن کعب کو امام مقرر کر دیا۔ اور دوسری رات میں اس اجتماعی منظر کو دیکھ کر کمال مسرت سے اعلان کیا کہ یہ بہترین بدعت ہے ۔
علامہ قسطلانی نے شرح بخاری ج و پر اس حدیث کی شرح میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عمر نے اس کو بدعت سے اس لیے تعبیر کیا کہ عہد رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم یا عہد حضرت ابوبکر میں نہ اس قسم کا کوئی اجتماع تھا نہ یہ ترتیب نہ ایسی نماز تھی اور نہ اتنی تعداد اس کے علاوہ دیگر شرحوں میں بھی اس قسم کے کلمات پائے جاتے ہیں۔
علامہ ابن شحنہ نے روضتہ المناظر میں سنہ ۲۳ کے حوادث کے ذکر میں حضرت عمر کے ان خصوصیات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ام ولد کے بیع سے منع کیا۔ نماز میت میں چار تکبیریں کردی اور نماز تراویح کی ایجاد کی سیوطی نے تاریخ الخلفاء ص ۵۳ میں عسکری کی کتاب اوائل سے حضرت عمر کے اولیات کو نقل کیا ہے کہ انہوں نے متعہ کو حرام کیا تراویح کی ایجاد کی ۔ نماز میت میں چار تکبیریں قرار دیں اور پہلے پہل امیرالمومنین کا لقب پایا ابن سعد نے طبقات ج ۳ میں حضرت عمر کے خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ انہوں نے سنہ ۱۴ میں نماز تراویح ایجاد کرکے مدینہ میں اس کے لیے دو امام مقرر کئے اور باقی شہروں میں اس کا حکم بھیج دیا ۔ ابن عبدالبر نے استیعاب میں تحریر کیا ہے کہ حضرت عمر نے ماہ رمضان کو اس نماز سے روشن کر دیا ج ۲ ص ۴۵۲ ہامش اصابہ۔
اقول :۔
ان علماء کا خیال ہے کہ حضرت عمر نے اپنے تدبیر سے ایک ایسی حکمت کی ایجاد کر دی کہ جس سے خود سرکار سالتصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی غافل تھے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ خود حضرت عمر بھی سرکار رسالت کے حکام کی حکمت سے بے بہرہ تھے۔ دین اسلام نے نماز مستحب میں جماعت کو اس لیے غیر مشروع قرار دیا ہے کہ نماز مستحب انسان اپنے رب سے مناجات کے لیے اختیاری طور پر ادا کرتا ہے لہذا اسے ایسی خلوت حاصل ہونی چاہیے کہ وہ باقاعدہ اپنے رب سے تضرع و زاری گریہ و بکا امید و بیم رغبت اور رہبت اناتبہ و توبہ کے ساتھ مناجات کرسکے۔ پھر اس کا دوسرا اجتماعی فائدہ یہ ہو کہ گھر کے بچے نماز کے عادی بنیں۔ اس لیے کہ وہ گھر میں ماں باپ کے افعال کی پیروی کرتے ہیں اور پھر انہیں سے اعمال کا درس حاصل کرتے ہیں۔ علاوہ اس کے کہ انسان کا گھر ماز کی برکت سے بالکل محروم نہ رہ سکے گا۔ اور شاید یہی راز تھا کہ جب عبداللہ ب مسعود نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا کہ نماز گھر میں افضل ہے یا مسجد میں تو آپ نے فرمایا کہ میرا مکان مسجد سے بے حد قریب ہے لیکن میں غیر واجب نماز کو گھر میں زیادہ پسند کرتا ہوں (احمد ج ۱ ص ۹۰) و (مسلم ج ۱ ص ۳۱۳) میں روایت نقل کی گئی کہ ہے کہ حضرت نے بیت با نماز و بیت بے نماز کو مردہ اور زندہ سے تثبیہہ دی ہے۔ جابر ناقل ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ جب نماز واجب ہوجائے تو کچھ نمازیں گھر میں پڑھا کرو کہ اس میں خبر ہے ۔ (موطاء شرح سیوطی ج ۱ ص ۱۴۰ بخاری ابوداؤد)
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود خلیفہ وقت نے اپنی تدبیر و تنظیم سے مرد مسلم کو ان تمام اجتماعی مذہبی اور تربیتی فوائد سے محروم کردیا جن کے لیے سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز مستحب کو فرادی قرار دیا تھا۔
مورد "نماز جنازہ "
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا طرز عمل یہ تھا کہ نماز جنازہ میں پانچ تکبیری فرمایا کرتے تھے لیکن عمر کو یہی اچھا معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک تکبیر کم کر دی جیسا کہ سیوطی نے تاریخ الخلفاء ص ۳۵ میں اور ابن شحنہ نے روضتہ المناظر میں درج کیا ہے ۔ علامہ محمد خالد کا بیان طلاق کے بارے میں گزر چکا ہے امام احمد نے عبدالاعلی سے روایت کی ہے کہ زید بن ارقم نے ایک جنازہ پر ۵ تکبیریں کہی تو ایک شخص نے ٹوک دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ یونہی پڑھی ہے میں اسے ابدا ترک نہ کروں گا۔ ج ۴ ص ۳۷۰ ۔
اس طرح زید بن ارقم نے سعد بن بحیر کے جنازہ پر بھی نماز ادا کی تھی۔ اصابہ ترجمہ سعد ص ۳۱ ۔ معارف بن قنیبہ احوال ابو یوسف۔ امام احمد نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ یحیی نے عیسی غلام حذیفہ کے ساتھ نماز پڑھی انہوں نے ۵ تکبیریں کہہ کر یہ اعلان کیا کہ میں نے سہود نسیان نہیں کیا ہے بلکہ میرے مولا حذیفہ نے بھی یونہی پڑھی تھی ۔ اور اعلان کیا تھا کہ میں نے سنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر عمل کیا ہے ۔ ج ۵ ص ۴۰۶ ۔ میزان الاعتدال ترجمہ یحیی بن عبداللہ۔
مورد ""میراث خواہر و برادر ""
قرآ کا صریحیی حکم ہے کہ میت کے برادر و خواہر کو اسی وقت میراث مل سکتی ہے جبکہ خود مرنے والے کے اولاد نہ ہو۔ لیکن حضرت عمر نے اولاد سے صرف لڑکے کو مراد لے کر یہ حکم کر دیا کہ میت کی لڑکی کے ساتھ بہن کو میراث مل سکتی ہے۔ اور اسی پر مذاہب اربعہ نے ان کا اتباع بھی کر لیا ہے لیکن ائمہ اہل بیت کا یہ اتفاق حکم ہے کہ اولاد کے ہوتے ہوئے ان قرابتداروں کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآ نے بعض اقرباء کو بعض پر مقدم کیا ہے بلکہ بعض روایات سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حضرات اس مسئلہ کے شدت سے مخالف تھے حتیٰ کہ ابن عباس سے جب اس مسئلہ عمر یہ کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ بہتر واقف ہویا خدا۔ راوی کہتا ہے کہ میں اس کا مطلب نہ سمجھ سکا تو میں نے ابن طاوس سے سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا ہے کہ وہ ابن عباس سے نقل کر رہے تھے کہ اس سے مراد آیت قرآنی ہے کہ جس میں بہن کی میراث کو عدم اولاد پر معلق کیا گیا ہے ۔ (مستدرک ج ۴ ص ۳۹)
مورد عول فرائض :۔
مسلمانوں میں یہ اختلاف ہے کہ آیا عول فرائض میں ممکن ہے یا نہیں اور عول کی معنی یہ ہیں کہ ترکہ حقداروں کے حق سے کم ہوجائے۔ مثلاً کسی مرنے والی ورثہ میں دو بہنیں ہوں اور شوہر ۔ تو قرآن کی رو سے دونوں کو دو ثلث ( ۳ ۔ ۲) مل گئے اور شوہر کو نصف ( ۲ ۔ ۱) حالانکہ یہ غیر معقول ہے حضرت عمر کے سامنے جب یہ مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے ناسمجھی کی بناء پر یہ حکم دیا کہ سب کا حق تھوڑا تھوڑا کم کر دیا جائے۔ لیکن ائمہ اہل بیت ؑ نے یہ بتایا ہے کہ مقدم کو مقدم کیا جائے اور موخر کر موخر ۔ چنانچہ امام باقر فرمایا کرتے تھے کہ ریگزار کے ذرات کا حساب جاننے والا اس امر سے بھی واقف ہے کہ حق میں زیادتی نہیں ہوسکتی مگر تم نہیں جانتے ابن عباس تو یہاں تک کہتے تھے کہ میں حجر اسود کے پاس مباہلہ کرسکتا ہوں کہ یہ حکم خدا کے خلاف ہے۔ سارے ذرات کا عالم اس سے واقف نہیں ہے کہ ایک مال میں دو ثلث اور ایک نصف کیسے ہوگا؟ در حقیقت یہ قوم کی جہالت کا نتیجہ ہے ۔
حضرت عمر کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا تھا (تاریخ الخلفاء ص ۵۳) ( مختصر کنزل العمال حاشیہ مسند احمد ج ۴ ص ۲۰۸) تو انہوں نے سب کے حق کو کم کر دیا۔ حالانکہ اگر انہیں موخر و مقدم کا علم ہوتا تو یہ بات نہ ہوتی۔ یاد رکھو مقدم وہ ہوگا جس کے حق کو دو مرتبہ بیان کیا گیا ہو۔ پہلے ایک درجہ پھر اگر غیر ممکن ہو تو دوسرا درجہ اورموخر وہ ہے جس کے لیے دوسرے درجہ کی تعین نہ مثلا شوہر کو اس کا حق نصف ہے اگر اولاد بھی ہو تو ۴ ۔ ۱ اس سے کم نہ ہوگا برخلاف دختران و خواہران ان کا حق ۳ ۔ ۲ ہے۔ اس سے کم کی مقدار معی نہیں ہے۔ اب اگر مقدم کو مقدم کر دیا ص ۳۵۳ حاکم نے اسی روایت کے آخری اجز کو مستدرک ج ۴ ص ۳۴۰ پر نقل کیا ہے اور پھر اس کی صحیح بھی کی ہے۔ اس قانون کی بناء پر اگر ورثہ میں شوہر مادر اور دو دختر ہوں تو شوہر کو ۴ ۔ ۱ مادر کو ۶ ۔ ۱ اور باقی دختران کو دیا جائے گا۔ لیکن اس مسئلہ میں اگر بجائے دختران خواہران پر تقسیم ہوتی ہے۔ اہل بیت ؑ کے نزدیک میراث کے تین طبقات ہیں ( ۱) ماں باپ اور اولاد ( ۲) براردران و خواہاران و اجداد ( ۳) اعمام و اخوال ! طبقہ مقدم کی ہوتے ہوئے طبقہ موخر میراث سے محروم رہے گا۔ یہی مذہب ائمہ عترت کا ہے ۔ اور اسی پر اجماع امامیہ ہے اور یہی ازروئے قرآن حکم خداو رسول ہے واللہ اعلم۔
مورد میراث جد و اخوت :۔
بہیقی نے اپنے سنن اور شعب الایمان (مختصر کنز العمال ج ۴صلىاللهعليهوآلهوسلم ۲۲۱ حاثیہ مسند احمد) میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس میراث کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ سوال بے فائدہ ہے۔ تم اس کے علم سے پہلے مرجاؤ گے ۔ سعید بن مسیب راوی حدیث کا قول ہے کہ ایسا ہی واقعہ بھی ہوا۔
اقول :۔ اس مسئلہ میں حضرت عمر کی رائے بے حد مضطرب تھی۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں کا قول ہے کہ انہوں نے ستر مختلف حکم صادر کیے ۔ عبیدہ سلمانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے سو مختلف حکم یاد کیے ہیں (طبقات بن سعد سنن بیہقی ج ۶ ص ۲۴۵) خود حضرت عمر کا قول ہے کہ میں نے جدہ کے بارے میں مختلف حکم کیے ہیں لیکن کسی میں کوتاہی نہیں کی (کنز العمال ج ۶ ص ۱۵) زہری کا کہنا ہے کہ حضرت عمر نے اس مسئلہ میں مختلف حکم کے۔ آخر کار ایک دن صحابہ کو جمع کرکے یہ طے کر لیا کہ جد کو باپ کے حکم میں درج کیا جائے۔ کہ اتنے میں ایک سانپ نکل آیا اور سب بھاگ گئے ۔ حضرت عمر نے کہا یہ خدا کو منظور نہ تھا۔ یہ کہہ کر زید بن ثابت کے پاس آئے اور اپنی خواہش بیان کی انہوں نے کہا کہ وہ باپ نہیں بن سکتا یہ بگڑ کر چلے آئے اور پھر آدمی بھیجا زید نے اپنی رائے لکھ کر بھیج دی انہوں نے مجمع میں اعلان کر دیا کہ مجھے زید کی رائے پسند ہے۔ (حیواہ الحیوان مادہ حیہ ۱ ص ۲۸۱)
مورد فریضہ حماریہ :۔
اس واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ عہد حضرت عمر میں ایک عورت نے انتقال کیا جس کے ورثاء میں شوہر ماں دو مادری بھائی اور دو حقیقی بھائی تھے۔ حضرت عمر شوہر کو نصف ماں کو ۶ ۔ ۱۱ اور مادری بھائیوں کو ۳ ۔ ۱ دے کر حقیقی بھائیوں کو محروم کر دیا اتفاقا دوسری مرتبہ پھر یہی مسئلہ آیا اور انہوں نے یہی حکم کیا تو ایک بھائی نے کہا کہ فرض کرو میرا باپ گدھا تھا یا پتھر تھا تو بہر حال ماں میں تو ہم سب شریک ہیں۔ یہ سنکر انہوں نے ۳ ۔ ۱ میں چاروں کو شریک کر دیا۔ یہ مسئلہ علماء اسلام میں بے حد مشہور ہے ۔ چنانچہ ابوحنیفہ حنبل زفر ابن ابی لیلی وغیرہ نے حضرت عمر کی پہلی رائے کو اختیار کیا ہے۔ اور مالک و شافعی نے دوسری رائے کو اس مقام پر ائمہ اہل بیت کا مسلک واضح ہوچکا ہے۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک میراث طبقاتی حیثیت رکھتی ہے اور ظاہر ہے کہ چونکہ ماں پہلے طبقہ میں ہے اس لیے اس کے ہوتے ہوئے کسی بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہوسکتا بلکہ میراث یوں تقسیم ہوگی۔ شوہر ۲ ۔ ۱ اور ماں باقی مال یہ واقعہ اسی انداز سے بہیقی اور ابن ابی کے سنن میں درج ہے (کنز العمال ج ۶ ص ۷) پر بھی یہ واقعہ مندرج ہے احمد امین نے (فجر الاسلام ج ۲ ص ۲۳۷) میں بھی نقل کیا ہے۔
مورد قومیت درمیراث :۔
قرآن مجید کے جملہ آیات میراث میں یہ بات واضح طور پر پائی جاتی ہے کہ ان احکام میں کسی قسم کا قومیاتی تفرقہ نہیں ہے۔ اور یہی مذہب سارے علماء اسلام کا بھی ہے۔
چنانچہ امام صادق نے فرمایا کہ اسلام شہادتیں کا نام ہے اور اس پر حفظ نفس نکاح اور میراث کا دارومدار ہے اور یہی تفصیل تقریباً امام باقر سے بھی مروی ہے ۔ کو یہ کہتے سنا تھا کہ حضرت عمر نے عجم کو میراث دینے سے منع کیا تھا جب تک کہ اس کی ولادت عرب میں نہ ہو خود مالک نے یہ تحریر کیا ہے کہ اگر کوئی حاملہ عورت عجم سے گرفتار ہوکر آئے اور اس کا بچہ عرب میں پیدا ہو تو وہ وارث ہوگا ۔ ورنہ وہ اس کا بیٹا شمار نہ ہوگا۔ (موطاء مالک ج ۱ ص ۳۴۰ مطبوعہ مصر ۱۳۶۵ ھ )
مورد میراث خال
سعید بن منصور نے اپنی سنن میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے گرفتار شدگان میں سے ایک عورت کو دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ اس کی بہن ہے ۔ اس کے بعد اس کی ساتھ ایک لڑکا دیکھا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اس کا باپ کون ہے ۔ چنانچہ اس نے دونوں کو خرید کر آزاد کر دیا اور پھر لڑکے نے کچھ مال بھی پیدا کرلیا اور مرگیا۔ ابن مسعود کی پاس یہ شخص میراث کا سوال کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر سے پوچھو اور جواب مجھ سے بیان کرو۔ وہ حضرت عمر کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ تم پدری قرابتدار نہیں ہو تمہارا کوئی حق نہیں ہے ۔ اس نے پلٹ کر ابن مسعود سے بیان کیا وہ اسے لے کر حضرت عمر کی پاس آئے اور بتایا کہ یہ قرابتدار بھی ہے۔ چونکہ ماموں ہے اور محسن بھی ہے اس لئے کہ آزاد کیا ہے ۔ لہذا اس کا حق ہے حضرت عمر نے اپنی رائے بدل دی (صاحب مختصر کنزل العمال نے اس واقعہ کو ج ۴ ص ۲۱۰) پر نقل کیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ اس وقت صحیح ہوگا جبکہ اس کی ماں پہلے مرچکی ہو ورنہ اس کے ہوتے ہوئے ماموں وارث نہیں ہوسکتا۔
مورد عدہ حاملہ :۔
بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر سے ایک عورت نے یہ سوال کیا کہ میرا شوہر مرگیا ہے میں حاملہ تھی اب بچہ پیدا ہوگیا ہے میرا فریضہ کیا ہے حضرت عمر نے کہا کہ ابھی چار مہینوں تک انتظار کرو۔ ابی بن کعب نے اس مقام پر اعتراض کر دیا کہ اس کا عدہ وضع حمل ہے۔ انہوں نے کچھ سوچ کر اسی رائے کو اختیار کر لیا اور اسے دوسرے عقد کی اجازت دے دی اور یہی تمام علماء اسلام کا مذہب بن گیا۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ قرآن کریم میں اس مسئلہ میں ایک ظاہری اختلاف ہے۔ ایک آیت میں مدت عدہ کی انتہا وضع حمل کو قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں چار مہینہ دس دن کا حکم ہے۔ بنا بریں بہتر اور احوط یہی ہے کہ وہ زیادہ مدت تک انتظار کرے تاکہ دونوں آیتوں پر عمل ہوجائے۔ اور یہی مذہب ائمہ اہل بیت ؑ کا بھی ہے جیسا کہ صاحب کشاف نے بیان کیا ہے۔
یہ واضح رہے کہ عام مسلمین عدہ وفات کی ابتداء اصل وفات سے قرار دیتے ہیں۔ لیکن ہم علماء امامیہ اس کی ابتداء اس وقت سے قرار دیتے ہیں کہ جب عورت کو شوہر کے مرنے کا علم ہوجائے۔ تاکہ اس پر وہ انتظار صادق آسکے جس کا قرآن کریم نے حکم دیا ہے۔ اور وہ سوگ بھی مناسکے کہ جس کو شرع اسلام نے واجب کیاہے۔
مورد تزویج زوجہ غائب :۔
فاضل دوالیسی نے اصول فقہ ص ۲۴۱ پر اس واقعہ کی نقل کیا ہے ۔ کہ حضرت عمر نے ایک ایسی عوت کے بارے میں جس کا شوہر غائب تھا۔ یہ حکم دیا کہ وہ چار سال گزرنے کے بعد اپنا دوسرا عقد کرلے۔ اس لیے کہ بیکار بیٹھنے میں ضرر ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ حنفی اور شافعی حضرات اسکے مخالفین ہیں ان کی نظر میں اتنا انتظار لازم ہے۔ کہ اس کی موت ہوجائے۔ یا اس کے ہم سن مرجائیں لیکن حضرت عمر کی رائے بہتر ہے اس لیے کہ احکام حالات زمانہ سے بدلتے رہتے ہیں اور در حقیقت حضرت عمر کا یہ فتوی خلاف قرآ ن و حدیث نہیں ہے۔ بلکہ قرآن و حدیث کی زمانی اصلاح ہے ۔ قرآن نے بھی ہرج و ضرر کو باطل قرار دیا ہے ہم شیعوں کا مذہب یہ ہے کہ ایسی عورت اگرلاوارث ہو تو حاکم شرع سے درخواست کرے وہ چار سال تحقیقات کرے گا۔ اور اس کے بعد طلاق دے دے گا عورت عدہ وفات رکھے گی۔ اگر زمانہ عدہ میں وہ آگیا تو خیر ورنہ اسے حق رجوع نہ ہوگا۔ عورت جس سے چاہے گی اپنا عقد کرلے گی، یہی مذہب ائمہ اہل بیت کا بھی ہے۔
مور بیع ام ولد :۔ جمہور مسلمین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ام ولد کی بیع و شرا کو حضرت عمر نے حرام قرار دیا ہے ۔ ورنہ یہ چیز زمانہ رسالت اور عہد خلافت اول بلکہ عہدہ ثانی کی ابتداء تک مباح تھی بعض حضرات نے تو اس امر کو حضرت عمر کے فضاءل میں بھی شمار کیا ہے ۔ (دیمقراطیہ خالد) (الطرق الحکیمہ ص ۱۷ تاریخ الخلفاء ص ۵۳)
اگر کوئی شخص(۱) احادیث بویہ میں چھان بین کرے گا تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ شئے زمانہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم می بھی حرام تھی اور حضرت عمر نے انہیں روایات کا لحاظ کرتے ہوئے حرام کیا تھا یہ کوئی خاص ایجاد طبع نہ تھی چنانچہ خود ابن عمر راوی ہے کہ حضرت نے ام ولد کی بیع، ہبہ ، وقف، میراث سب سے منع فرمایا تھا۔ آپکا حکم تھا کہ زندگی بھر آقا کے تصرف میں رہے اور اس کے بعد آزاد ہوجائے یہی بات ابن عباس کی روایت سے ظاہر ہوتی ہے ۔ ان دونوں روایتوں کو شیخ طوسی نے کتاب خلاف میں نقل فرمایا ہے ۔ اور فرمایا ہے کہ یہ حجرت عمرکا فعل ایجادی نہ تھا لیک اس کے باوجود شیخ نے آئمہ اہل بیت ؑ کے روایات کے پیش نظر ان دونوں روایتوں کی تاویل اس طرح فرمائی ہے کہ ان روایات سے مراد وہ صورت ہے کہ جب لڑکا زندہ رہے ورنہ اس کے مرجانے پر تو خرید و فروخت وقطعا جائز ہے۔
____________________
(۱) ہمارا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ حضرت عمر کے ماننے والوں ہی نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ وہ حکم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف حکم فرمایا کرتے تھے خواہ ان کا یہ اعتراف تاریخ کے موافق ہو یا مخالف (مترجم)
مورد تیمم :۔
قرآن مجید میں دو آیتوں میں صریحی طور پر یہ حکم موجود ہے کہ اگر کسی محدث کو پانی نہ مل سکے تو اس کا فریضہ ہے کہ وہ تیمم کرکے نماز ادا کرے اس کے علاوہ اس باب میں بکثرت روایات بھی موجود ہیں بلکہ تمام امت اسلامیہ کا اجماع و اتفاق ہے لیکن اس کے باوجود قسطلانی نے ارشاد الساری میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے ایسے شخص کو ترک صلوہ کا حکم دیا تھا ۔ بخاری و مسلم دونوں میں یہ روایات موجود ہے ۔ کہ ایک شخص نے حضرت عمر سے اس مسئلہ کا سوال کیا تو انہوں نے ترک صلوۃ کا حکم دے دیا۔ عمار یاسر موجود تھے ۔ انہوں نے ٹوک دیا ۔ کیا یاد نہیں ہے کہ ایسے ہی موقع پر ہم نے زمین پر لوٹ کر نماز پڑھ لی تھی ۔ اور تم نے ترک کر دی تھی۔ تو حضرت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہماری بات پسند فرما کر تیمم کا طریقہ تعلیم فرمایا تھا ۔ حضرت عمر نے کہا عمار خدا سے ڈرو انہوں نے فرمایا کہ اگر تمہاری مرضی نہیں تو میں نہیں بیان کروں گا۔ حضرت عمر نے دھمکی دی ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ابن مسعود حضرت عمر کی رائے سے متفق تھے۔ چنانچہ بخاری وغیرہ نے شفیق سے روایت کی ہے وہ کہتا ہے کہ میں ابن مسعود اور ابو موسی کے پاس تھا کہ ایک مرتبہ ابو موسی نے یہی مسئلہ چھیڑ دیا ابن مسعود نے ترک نماز کا فتوی دیا تو اس نے کہا کہ پھر عمار کی روایت کا کیا حشر ہوگا انہوں نے کہا کہ عمر نے قبول نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ اچھا آیت کا کیا انجام ہوگا۔ یہ سنکر ابن مسعود چپ ہوگئے! میرا خیال ہے کہ ابن مسعود اس اس فتوی میں حضرت عمر سے خائف تھے۔
مورد ""نافلہ بعد عصر""
(صحیح مسلم سنن نسائی ج ۱ ص ۲۸۱ مختصر کنزالعمال ج ۳ ص ۱۵۹ بخاری ج ۱ ص ۱۱۸ طبع مکہ) میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عصر کے بعد دو رکعت نماز زندگی بھر ترک نہیں کی دوسری روایت میں ہے کہ دو رکعت قبل فجر اور دو بعد عصر تیسری روایت میں حضرت عائشہ کی گواہی مذکور ہے لیکن ان تمام روایات کے باوجود حضرت عمر نے اسے ممنوع کر دیا۔ اور اس پر لوگوں کی مرمت شروع کر دی۔ امام مالک نے موطاء میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے مکندر کو اسی نماز پر مارا عبدالرزاق کی روایت کی بنا پر حضرت عمر نے زید بن خالد کو مارا تو اس نے حدیث پیش کی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس لیے مارتا ہوں کہ کہیں یہ سلسلہ نماز شب تک نہ پہنچ جائے۔ (زرقانی) تمیم رازی کی روایت میں یہ علت مذکور ہے۔ کہ اس طرح لوگ عصر سے مغرب تک نماز پڑھیں گے جس کا نتیجہ ہو ہوگا کہ اس ساعت میں نماز ہونے لگے گی جس سے سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منع فرمایا ہے ۔ یعنی وقت غروب۔
کاش خلیفہ نے اس احتیاط کو منع تک محدود رکھا ہوتا اور اس طرح نماز گزار مسلمان آپ کے تازیانہ سے محفوظ رہ سکتے۔
کاش خلیفہ نے اس احتیاط کو منع تک محدود رکھا ہوتا اور اس طرح نماز گزار مسلمان آپ کے تازیانہ سے محفوظ رہ سکتے۔
مورد تاخیر مقام ابراہیم:۔
قرآن حکیم کا صریحی حکم ہے کہ مقام ابراہیم مصلی بناؤ۔ جس کی بنا پر حاجی حضرات آج تک اس کی قریب ہی نماز ادا کرتے ہیں ، مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر آپ کعبہ کی دیواریں بلند کر رہے تھے آپ کے زمانہ میں یہ پتھر دیوار سے متصل تھا لیکن بعد میں عرب نے اسے الگ کر دیا۔ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پھر ملادیا۔ لیکن حضرت عمر نے زمانہ خلافت میں الگ کرکے پھر وہیں رکھ دیا۔ جہاں آج تک موجود ہے۔ (طبقات ابن سعد تاریخ الخلفاء ص ۵۳ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۱۳) ( دمیری مادہ دیک ۱ ص ۳۴۶ ابن جوزی تاریخ عمر ص ۶۰)
۱۷ ہجری میں حضرت عمر نے مسجد حرام میں توسیع کرائی اور اس سلسلے میں کچھ مکانات خریدنے کا قصد کیا۔ ان لوگوں نے بیچنے سے انکار کر دیا۔ تو آپ نے مکانات گروائے اور قیمت بیت المال میں جمع کرادی ۔ آخر کار وہ لوگ آکر لے گئے۔
مورد گریہ برمیت :۔
کسی عزیز کی ومت پر گریہ وزاری ان لوازم بشریت اور متقضیات رحمت میں ہے کہ جن سے ممانعت کرنا عقلا غیر مناسب ہے۔ جب تک کہ ان میں کوئی ناپسندیدہ فعل یا غیر مناسب قول کی آمیزش نہ ہو چنانچہ خود سرکارسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ فرمایا کہ چشم و دل کے آثار کا تعلق اللہ سے ہے اور دست و زبان کی فریاد کا تعلق شیطان سے (مسند احمد ج ۱ ص ۳۳۵) مسلمانوں کی سیرت مستمرہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل اسلام میں مرنے والے پر گریہ ایک عام امر تھا یہاں تک کہ خود حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی مختلف مواقع پرگریہ فرمایا ہے ۔ ابن عبدالبر نے استیعاب میں تحریر کیا ہے کہ حضراتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت حمزہ کی لاش کی بے حرمتی دیکھ کر اتنا گریہ فرمایا کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔
واقدی نے نقل کیا ہے کہ جیسے جیسے حضرت صفیہ کا گریہ بڑھتا تھا حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حالت متغیر ہوتی جاتی تھی۔ حضرت فاطمہ ؑ کا گریہ دیکھ کر حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم مسلم روتے تھے۔
انس راوی ہیں کہ جب جنگ موتہ میں اسلامی علمدار شہید ہورہے تھے تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اس خبر کو مسلمانوں میں اس حالت سے نقل کر رہے تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے (بخاری ج ۲ ص ۱۱ طبع مکہ)
(استیعاب ج ۱ ص ۵۲۹) میں زید کے حالات میں یہ فقرہ درج ہے ہے کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے زید و جعفر پر گریہ فرما کر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دونوں میرے بھائی اور میرے مونس تھے۔ بخاری جلد ۲ ص ۸۳ میں انس سے دوسری روایت ہے کہ ہم لوگ حضرت کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب ابراہیم کا دم اکھڑا ہو ا تھا ۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ابن عوف نے عرض کیا یا حضرت آپ اور یہ حالت ؟ فرمایا کہ یہ لازمہ انسانیت ہے! آنکھ گریاں ہوگی دل محزون ہوگا یہ اور بات ہے کہ ہماری زبان شکایت سے آشنا نہ ہوگی۔ اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایک صاحبزادی نے یہ کہلا بھیجا کہ میرا فرزند عالم احتضار میں ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ معاذ بن جبل ابی بن کعب اور زیب بن ثابت کے ہمراہ تشریف لائے کیا دیکھا کہ بچہ ایڑیاں رگڑ رہا ہے ۔ یہ دیکھ کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی چشم مبارک سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت سعد نے ٹوک دیا۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا یہ علامت رحمت ہے۔ اور اللہ بھی رحم دلوں ہی پر رحم کرتا ہے۔ (بخاری ج ۲ ص ۸۴ مسلم ج ۱ ص ۳۶۷)
ابن عمر راوی ہے کہ سعد بن عبادہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے ۔ جب حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی عیادت کو تشریف لے گئے تو آپ کے ہمراہ ابن عوف ابن وقاص اور ابن مسعود بھی تھے ۔ حالات کو دیکھ کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سوال کیا کیا سعد کا انتقال ہوگیا؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے گریہ شروع کر دیا۔ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ سب رونے لگے ۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا دیکھو آنکھوں کے آنسو اور دلوں کے حزن والم پر کوئی عتاب نہیں ہوسکتا ۔ عذاب تو صرف زبان کی زیادتی پر ہوتا ہے۔
استیعاب ج ۱ ص ۱۱۲ میں حضرت جعفر کے حالات میں مذکور ہے کہ جب حضرت جعفر کی شہادت کی اطلاع آئی تو حضرت اسماء کو تعزیت دینے تشریف لے گئے۔ ادھر حضرت فاطمہ زہراؑ بھی آگئیں اور آکر انہوں نے رونا شروع کر دیا ۔ ابن اثیر جلدصلىاللهعليهوآلهوسلم ۱۱۳ ابن کثیر ابن عبدربہ ج ۳ ص ۱۶۸ وغیرہ نے اس روایت کا ذکر کیا ہے کہ جنگ احد کے بعد تمام عورتوں نے اپنے وارثوں پر گریہ شروع کیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا ہائے افسوس حمزہ کا رونے والا کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ اس کے بعد یہ عالم تھا کہ ہر رونے والی عورت پہلے حضرت حمزہ ؑ کا ذکر کرتی تھی تب اپنے وارثوں پر روتی تھی ۔ استیعاب ج ۱ ص ۲۷۴ نے واقدی سے نقل کیا ہے کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان کے بعد سے کوئی عورت حضرت حمزہ ؓ پر روئے بغیر کسی دوسرے پر نہیں روئی۔ (البدایہ والنہایہ ج ۴ ص ۴۷ )
نقد و نظر :۔
ان تمام اقوال کی روشنی میں یہ بات بڑی حد تک واضح ہوجاتی ہے کہ گریہ و بکا مسلمانوں میں ایک سنت جاریہ اور سیرت مستمرہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں تک کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نہ رونے پر تنبہیہ کی ہے اور اظہار افسوس فرمایا ہے کہ بلکہ حضرت جعفر کی شہادت پر رونے کا حکم بھی دیا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ان تمام روایات کے باوجود خلیفہ ثانی کو رائے یہی تھی کہ مردہ پر گریہ نہ کیا جائے۔ یہاں تک کہ وہ رونے والوں کو عصا اور پتھر سے تنبہیہ فرماتے تھے۔ (بخاری ج ۲ ص ۸۴)
امام احمد نے ابن عباس کے حوالے سے حضرت رقیہ کے انتقال کا ذکر کیا ہے اور اس میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر رونے والوں کی تنبہیہ تازیانہ سے فرما رہے تھے تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا انہیں رونے دو اور پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے ادھر حضرت فاطمہ ؑ نے رونا شروع کر دیا ۔ آپ اپنے رومال سے آنسو خشک کرتے جاتے تھے ۔ دوسری روایت میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کےسامنے سے ایک جنازہ گزرا جس میں عورتیں رو رہی تھیں۔ حضرت عمر نے انہیں جھڑک دیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ٹوک کر فرمایا ''رونے دو! ان پر مصیبت پڑی ہے لہذا آنکھ سے آنسو ضرور جاری ہوں گے""
اس مسئلہ میں حضرت عاءشہ اور حضرت عمر متضاد رائے کے حامل تھے۔ حضرت عمر اور ابن عمر کی رائے تھی کہ رونے سے مرنے والے پر عذاب ہوتا ہے ۔ اور حضرت عائشہ کا خیال تھا کہ ان دونوں نے اشتباہ کیا ہے خود قرآن کریم کا اعلان ہے ایک شخص کا بار دوسرا نہیں اٹھائے گا۔ تو کیا وجہ ہے کہ زندہ کے رونے سے مردہ پر عذاب ہو۔ ان دونوں کا یہ اختلاف شدت پکڑتا گیا۔ یہاں تک کہ جب حضرت ابوبکر کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ نے حسب دستور عرب رونے والیاں مقرر کر دیں ۔ جب حضرت عمر کو معلوم ہوا تو انہوں نے دروازہ پر آکر روکا ۔جب کسی نے سماعت نہ کی تو ہشام بن ولید کو حکم دیا کہ تم منع کرو۔ حضرت عائشہ نے اسے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ زبردستی گھر میں گھس جاو۔ چنانچہ وہ گھس کر ام فروہ کو پکڑ لایا اور حضرت عمر نے تازیانہ سے ان کی مرمت کر دی (طبری ج ۲ ص ۱۶۴) ۔
ہمارا دل چاہتا ہے کہ اس مقام پر ناظرین کو اس نکتہ کی طرف بھی متوجہ کردیں جس کی بنا پر حضرت فاطمہ ؑ کے انتقال کے بعد آبادی سے باہر بقیع می جاکر گریہ فرمایا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ جب لوگوں نے درخت کاٹ ڈالا تو جناب امیر ؑ نے آپ کے لیے ایک بیت الحزان تعمیر کر دیا اور آپ نے اسی میں تا عمر گریہ فرمایا اور یہ عمارت مسلمانوں کے لیے جائے زیارت بنی رہی ۔ یہاں تک کہ ۸ شول سنہ ۱۳۴۴ ہجری کو ابن مسعود نے اسے منہدم کرادیا۔ اور اس طرح صدر اسلام کا مدعی حاصل ہوگیا۔
مورد قضیہ حاطب :۔
بخاری ج ۵ ص ۷۷ نے روایت کی ہے کہ ابو عبدالرحمن اور حبان ب عطیہ میں نزاح واقع ہوئی۔ ابو عبدالرحمن نے حبان سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ خونریزی پر اتنے جری کیوں تھے؟ اس نے کہا خدا تمہیں غارت کرے وہ کیا ہے ؟ جواب دیا کہ ایک بات ہے جو کہ میں نے ان سے سنی ہے ۔ پوچھا وہ کیا؟ اس نے کہا واقعہ یہ ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے زیبر ابو مرشد اور مجھے حکم دیا کہ فلاں باغ میں جاکر ایک عورت کے پاس حاطب کا خطہ ہے اسے لے آؤ ۔ چنانچہ ہم لوگ پہنچے۔ ہم نے اس عورت سے سوال کی جب اس نے انکار کیا تو ہم نے تلاشی بھی لی لیکن جب کچھ برآمد نہ ہوا تو اس کو برہنہ کرنے کی دھمکی دی۔ اس نے وہ کاغذ دے دیا۔ ہم اسے لیے ہوئے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خدمت میں پہنچے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حاطب سے مواخذہ کیا اس نے جواب دیا کہ میں نے یہ خط صرف اس لیے لکھا تھا کہ مشرکین پر میرا احسان ہوجائے اور وہ مجھے اذیت نہ کریں۔ حضرت عمر نے کہا کہ یہ خیانت ہے ہم اسے قتل کریں گے۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حاطب کے عذر کو قبول فرمالیا۔ لیکن حضرت عمر نے دوبارہ قتل کی دھمکی دی (البدیہ و النہایہ ۴ ص ۲۸۳)
سوال صرف یہ ہے کہ کیا رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ارشاد کے بعد بھی قتل کی دھمکی ضروری تھی؟ کیا فیصلہ رسالت پر سکوت لازم نہ تھا؟
مورد شرائط قاصد :۔
امام مالک اور بزاز نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت نے اپنے امراء کو دستور عنایت فرمایا کہ جب کوئی قاصد روانہ کیا کریں تو ایسا شخص ہو جس کا نام اچھا ہو اور صورت کے لحاظ سے بھی وجیہہ ہو۔ حضرت عمر کو غصہ آگیا بولے کہہ دوں کہ نہ کہوں۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہو ۔ کہنے لگے ہم کو فعال سے منع کرتے ہیں اور خود بد شگونی کے قائل ہیں ۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا یہ بدشگونی کی بات نہیں ہے حسن انتخاب کی بات ہے۔ (حیوہ الحیوا دمیری مادہ ج ۲ ص ۳۱۸)
مورد تقسیم صدقہ :۔
امام احمد نے سلمان بن ربیعہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے حضرت عمر سے یہ سنا ہے کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک موقع پر صدقہ تقسیم کیا تو میں نے ٹوکا کہ ان لوگوں سے زیادہ حقدار افراد موجود ہیں۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا مجھے بخل و تعدی سے متہم نہ کرو۔ میں بخیل نہیں ہوں پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی مثبت اور الہٰی مصلحت کے مطابق تقسیم فرمایا۔
مور ستر اسلام :۔
ابن عربی نے نقل کیا ہے کہ جب حضرت عمر اسلام لائے تو سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں اطہار سے منع کیا۔ لیکن انہوں نے زبردستی اعلان کر دیا۔ (تاریخ فلسفہ اسلام لطفی ص ۳۰۱) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس دور میں اسلام کا پوشیدہ رکھنا ہی زیادہ مناسب تھا اور مخفی دعوت ہی اسلام کے حق میں زیادہ مفید تھی لیکن اسے کیا کیا جائے کہ حضرت عمر کی شجاعت اس سے راضی نہ تھی۔
مورد حلیت مباشرت :۔
اسلام میں روزہ کے متعلق یہ حکم تھا کہ غروب کے بعد تمام مضطرات حلال ہوجاتے تھے۔ یہاں تک کہ نماز عشا ادا کرلی جائے یا اسان سوجائے اس کے بعد پھر تمام چیزیں دوسری شام تک کے لیے حرام ہوجاتی تھی لیکن حضرت عمر نے نماز عشا کے بعد اپنی محترمہ سے جماع کرکے غسل کیا اور پھر پشیمان ہوکر حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب واقعہ بیان کیا تو بہت سے اصحاب نے ایسی ہی حرکت کا اعتراف کیا۔ اس وقت حکم نازل ہوا کہ اس امر میں کوئی مضائقہ ہیں ہے۔ عورتی تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ طلوع فجر تک جملہ لذات مباح ہیں۔ اس کے قبل کی خطاوں کو معاف کیا جاتا ہے اگرچہ آیت نے معافی کا ذکر کر دیا ہے لیکن ہمارا موضوع تو مخالفت حکم الہٰی کا بیان کرنا ہے۔
(اسباب النزول ص ۳۳)
مورد تحریم خمر :۔
قرآن حکیم نے شراب کی حرمت کا ذکر تین مرتبہ نافذ کیا ہے پہلے پہل یہ آیت نازل ہوئی ۔ ""اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ان سے کہہ دو کہ شراب میں منافع ہیں لیکن اس کا گناہ زیادہ ہے"" اس کے بعد مسلمانوں نے شراب ترک کر دی لیکن بعض پیتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے حالت نشہ میں نماز می بکواس شروع کر دی تو دوسری ایک آیت نازل ہوئی کہ حالت نشہ میں نماز جائز نہیں ہے۔ اس کے بعد بھی بعض لوگ اپنی عادت پر باقی رہے چنانچہ بعض اخبار میں وارد ہوا ہے کہ حضرت عمر نے شراب پی اور حالت نشہ میں ابن عوف کو زخمی کر دیا۔ اور اس کے بعد کفار بدر کا نوحہ پڑھنا شروع کر دیا۔ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر حضرت عمر نے رسالت کے غصہ سے پناہ مانگی اور آیت نازل ہوئی کہ شیطان شراب و قمار کے ذریعہ مسلمانوں میں عداوت پھیلانا چاہتا ہے ۔ اور اس کا مقصد ہے کہ لوگ ذکر خدا سے غافل ہوجائیں کیا واقعتاً تم لوگ غافل ہوجاو گے یہ سنکر حضرت عمر نے کہا بس بس (مستطرف ج ۲ ربیع الابرار ز فحشری تفسیر رازی اشارہ )
مورد قتل عباس :۔
جنگ بدر کے موقع پر عین عالم حرب میں رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اشارہ فرمایا کہ بہت سے لوگ کفار کی ساتھ مجبوراً شریک ہوگئے ہیں لہذا تم لوگ بنی ہاشم ابوالجنتری اور عباس کو قتل مت کرنا یہ لوگ مجبور کرکے میدان میں لائے گئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ بنی ہاشم کے ذکر کے بعد حضرت عباس کا تذکرہ اس امر کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عباس بالکل مجبور تھے۔ جب حضرت گرفتار ہوکر آئے تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نیند اڑ گئی۔ لوگوں نے سوال کیا۔ فرمایا کہ چچا قید میں رہے اور میں سو جاوں۔ یہ سنکر لوگوں نے حضرت عباس کو رہا کر دیا۔ کنزالعمال سے یہ روایت نقل ہے کہ جب حضرت عباس گرفتار ہوئے تو حضرت عمر نے انہیں باقاعدہ کس کر باندھنا چاہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس طمانچہ کا جواب ہے جو تم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں کھا چکے ہو۔ لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی۔ جب حضرت کو حضرت عباس کے کراہنے کی آواز پہنچی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سونا ترک کر دیا یہاں تک کہ حضرت عباس کو چھوڑ دیا گیا۔ اصحاب رسول پر یہ بات بالکل واضح تھی کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت عباس کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب ابو حذیفہ کی یہ گفتگو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم تک پہنچی کہ ہم اپنے آباو اقرباء کو قتل کریں اور حضرت عباس کو چھوڑ دیں یہ نہیں ہوسکتا تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو غیظ آگیا۔ اور آپ نے حضرت عمر کو غیرت دلائی کہ تمہاری موجودگی میں میرا چچا قتل ہوگا۔ (البدیہ النہایہ ج ۳ ص ۲۸۵) ادھر جنگ کا خاتمہ ہوا ادھر ستر آدمی گرفتار کرکے لائے گئے ۔ یہ دیکھنا تھا کہ حضرت عمر کو غیظ آگیا اور کہنے لگے یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم انہیں قتل کریں گے۔ انہوں نے آپ کی مخالفت کی ہے۔ آپ مجھے فلاں شخص کے بارے میں اور حضرت علی ؑ کو عقیل کے بارے میں اور حضرت حمزہ کو حضرت عباس کے بارے میں اجازت دیجے کہ ہم ان سب کو قتل کردیں۔
اقول :۔
اے سبحان اللہ ! ابھی تو مخالفین کے قتل کی تحریک تھی اور اب حضرت عقیل و باس کی نوبت آگئی جنہوں نے حضرت ص کے ساتھ شعب ابوطالب کی زحمتیں برداشت کیں اور میدان بدر میں زبردستی لائے گئے۔ تعجب تو یہ ہے کہ حالت حرب میں ان کے قتل کی ممانعت ہوگئی تھی ۔ اور اب بعد جنگ ان کے قتل کا تقاضا ہورہا ہے جبکہ حضرت عباس کا اسلام قبل ہجرت تاریخی مسلمات میں سے ہے۔
مورد ""فدیہ بدر""
جب اسلام جنگ بدر میں فتحیاب ہوا اور کفار گرفتار کئے گئے تو لوگوں نے حضرت کی طرف سے یہ محسوس کیا کہ آپ ان نتائج کے پیش نظر جو بعد کو ظاہر ہونے والے ہیں انہیں معاف کردیں گے لیکن حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے معاف کرنے کے ساتھ ان پر فدیہ مقرر کر دیا تاکہ ان کی جان بچ جائیگی اور ان کا ایمان حضرت عمر کا خیال تو یہی تھا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ اس لیے کہ ان لوگوں حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تکذیب کی اور مخالفت کی ہے۔ لیکن حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کہہ کر ٹال دیا کہ ہم تابع وحی الہٰی ہیں۔ ہمارا کوئی اختیار نہی ہے ۔ اس کے بعد حضرت نے فدیہ لے کر ان سب کو آزاد کر دیا۔ تو جاہل مسلمانوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ یہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اجتہاد تھا۔ ورنہ حضرت عمر کی رائے حالت کی پیش نظر زیادہ بہترتھی ۔ چنانچہ اس پر یہ روایت حضرت عمر کی طرف سے وضع کی گئی کہ جب حضرت عمر کے پاس آئے تو کیا دیکھا کہ آپ اور حضرت ابوبکر رو رہے ہیں سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں عمر کی مخالفت کی بنا پر عذاب نہ نازل ہوجائے تو ان پر یہ آیت نازل ہوئی ""رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بغیر جہاد کے اسیروں کا اختیار ہیں ہے تم دنیا کو آخرت پر مقدم کرتے ہو اور اللہ صد افسوس صاحب ""مالیطق عن الہوی"' کی طرف اجتہاد کی نسبت اور اس اہتمام کے ساتھ کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بغیر جہاد کئے اسیروں پر اپنا حکم چلا دیا۔ تاکہ فدیہ مل جائے اور اس طرح دنیا کو آخرت پر مقدم کردیا۔ لا حول ولا قوۃ الا بااللہ ۔
کیا اتنا عظیم معرکہ بدر جہاد نہ تھا ؟ کہ ستر روسا قریش کا قتل جنگ میں شمار نہیں کہ جسکے بعد مسلمان یہ کہتے ہیں کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بغیر جگ و جدل اسیرو پر حکم نافذ کر دیا۔ اے کاش یہ مسلمان اسلام کی لاج رکھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت ا ن لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ کہ جو اونٹوں کو جہاد پر مقدم کرتے تھے۔ جس کا مشہور واقعہ یہ ہے کہ حضرت نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ وہ لوگ مختلف اونٹوں پر سوار ہوکر نکلے ہیں۔ اب تمہارا کیا خیال ہے؟ اونٹ چاہتے ہو یا جنگ لوگوں نے اونٹ کو مقدم کیا بلکہ بعض لوگوں نے تو جنگ پر اصرار دیکھ کر یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں پہلے کیوں نہ بتایا تھا ہم جنگ کے لیے تیار ہرکر آتے ہیم تو اونٹ کی فکر میں آئے تھے نہ کہ لڑنے کے فکر میں چنانچہ اس وقت آیت شریفہ نازل ہوئی۔۔۔ جس طرح کہ تمہارے رب نے تمہیں گھر سے نکال دیا اس وقت جبکہ مومنین کی ایک جماعت اسے ناپسند کرتی تھی۔ گویا کہ یہ لوگ موت کی طرف زبردستی لے جائے جارہے ہیں۔
اس وقت خالق عالم نے چاہا کہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے عذر کو واضح کر دے چنانچہ اس نے فرمایا کہ کسی نبی کو بھی اس وقت تک اسیروں پر تسلط نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ شدید جنگ نہ کرے اس لیے نبی جہاد پر مجبور ہے۔ لیکن تم لوگ مال دنیا کے طالب ہو اور اللہ آخرت کا خواہاں ہے اور وہی عزیز و حکیم ہے۔ یاد رکھو کہ اگر اللہ نے اپنے علم ازلی کی بنا پر تم کو منع نہ کر دیا ہوتا اور تم اونٹوں پر قبضہ کرلیتے تو عذاب عظیم میں گرفتار ہوجاتے۔ یہ ہے آیت کا صحیح و صریح مفہوم جس کو بظاہر مجھ سے پہلے آج تک کسی نے نہیں بیان کیا اور نہ اس صریح مطلب کے بعد کسی انسان کو مزید تاویل کا حق ہے۔
مورد قضیہ حنین :۔
جب جنگ حنین میں رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ہوا زن پر فتح حاصل ہوئی۔ تو آپ نے اعلان فرمادیا کہ ان کے گرفتار شدگان کو قتل نہ کیا جائے۔ لیکن حضرت عمر کی نظر ابن اکوع پر پڑگئی جو سابقا بنی ہذیل کی طرف سی جاسوسی کر رہا تھا۔ تو انہوںنے حکم دے دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے مسلمانوں نے قتل کر دیا جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خبر ملی تو بہت ناراض ہوئے اور لوگوں کی مذمت فرمائی (ارشاد مفید)
اس کے بعد جمیل بن معمر کو قتل کر دیا گیا تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مزید غیظ و غضب کا اظہار فرمایا۔ انصار نے معذرت کی کہ ہم نے یہ سب حضرت عمر کے حکم سے انجام دیا ہے ۔ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ سنکر منہ پھیر لیا یہاں تک کہ عمیر بن وہب نے معافی طلب کی اس کے علاوہ ایک عورت کو خالد بن ولید نے قتل کر دیا تو حضرت نے فرمایا کہ خالد کو اطلاع کر دو کہ کسی عورت بچہ یا مزدور کو قتل کرنے کا حق نہیں ہے۔ (ابن اسحاق)
اسی روایت کو ایک معمولی فرق کے ساتھ امام احمد (البدایہ و النہایہ ج ۴ ص ۳۳۷) ابو داود نسائی اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے۔
مورد فرار :۔
قرآن مجید کا صریحی حکم ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد کسی مسلمان کو میدان جنگ سے علیحدہ ہونے کا حق نہیں ہے لیکن مسلمانوں نے اپنے مصالح کی بنا پر آیت میں تاویل کرلی اور صرف ایک جنگ میں نہیں بلکہ مختلف معرکوں میں جنکی تفصیل یہ ہے :۔
احد :۔
جبکہ ابن قمہ نے معصب بن عمیر پر حملہ کرکے انہیں رسول تصور کرکے قتل کر دیا اور یہ اعلان کر دیا کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم قتل ہوگئے تو اصحاب نے فرار شروع کر دیا یہاں تک کہ قرآن کو کہنا پڑا۔۔۔ تم لوگ پہاڑ پر بھاگ رہے تھے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تمہیں پکار رہے تھے لیکن تم مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے طبری ج ۲ ص ۱۹۴ کامل ج ۲ ص ۱۱۰ نے نقل کیا ہے کہ بھاگنے والوں میں حضرت عثمان بھی تھے۔ یہ مقام اعوص تک بھاگ کرگئے اور تین روز کے بعد پلٹے توآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دیکھ کر فرمایا اچھی دوڑ لگائی انہیں تاریخوں میں یہ واقعہ بھی ہے کہ انس بن نفر نے مہاجرین کی ایک جماعت جن میں حضرت عمر و طلحہ بھی تھے ان کو سپر انداختہ دیکھ کر پوچھا کہ یہ سستی کیوں ہے ۔ تو انہوں جواب دیا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تو قتل ہوگئے۔ یہ سن کر حضرت انس نے کہا تو پھر اب زندگی کا کیا لطف؟ اور یہ کہہ کر حملہ کر دیا یہاں تک کہ ستر زخم کھا کر شہید ہوگئے ۔ آپ کے زخموں کا یہ عالم تھا کہ آپ کی لاش کو بہن نے انگلیوں کے ذریعہ پہچانا۔
بعض لوگوں کا کہنا ہی کہ اس جماعت کے لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ کاش ہمارے لیے کوئی ابو سفیا سے امان لے لیتا۔ اور وہ ہمیں قتل نہ کرتے۔ چنانچہ یہ سنکر انس کو غیظ آگیا اور فرمایا کہ اگر حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہوگئے ہیں تو رب محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم زندہ ہے اور یہ کہہ کر بارگاہ احدیت میں ان خرافات سے اظہار نفرت کیا اور پھر جہاد کرکے شہید ہوئے۔
حنین :۔
جبکہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز تھا لیکن یہ کثرت کا نہ آئی اور سب بھاگ گئے (البدایہ و النہایہ ج ۴ ص ۳۳۲) تو اللہ نے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اس کے سچے اصحاب کے لیے سکون نازل کیا ۔ بخاری کا کہنا ہے کہ بھاگنے والوں میں حضرت عمر بھی تھے۔ اور جب ان سے پوچھا گیا کہ انجام کیا ہوگا تو فرمایا کہ اللہ جانے۔
خیبر :۔
جبکہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوبکر کو روانہ کیا اور وہ سلامتی واپس چلے آئے (مستدرک حاکم) پھر حضرت عمر کو بھیجا اور وہ بھی بھاگ آئے اس طرح کہ وہ قوم کو بزدل بتا رہے تھے اور قوم انہیں (مستدرک حاکم) بردایت جابر تب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اعلان فرمادیا کہ کل علم دوں گا۔ پھر جب تمام قوم جمع ہوگئی تو آپ نے حضرت علی کو بلا کر حکم جہاد دیا۔ انہوں نے آشوب چشم کا ذکر کیا آپ نے لعاب دہن سے علاج فرمایا انہوں نے سوال کیا یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کب تک جنگ کروں؟ فرمایا جب تک کلمہ نہ پڑھیں ۔ غرض اس طرح آپ تشریف لے گئے اور فاتح بن کر واپس آئے۔ حاکم کا کہنا ہے کہ شیخین بخاری و مسلم نے اس طریقہ حدیث کو ترک کر دیا ہے ۔ حالانہ یہ طریق صحیح ہے۔
ایاس کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پدر بزگوار نے بیان کیا کہ جب حضرت علی کو روانہ کیا ہے تو میں موجود تھا ادھر مرحب نے رجز پڑھا کہ اہل خیبر مجھے خوب پہچانتے ہیں، میں ایک تجربہ کار اور جنگ آزما بہادرر ہوں اور ادھر حضرت علی نے جواب دیا کہ میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے اور پھر اس کے بعد وار کرکے مرحب کا سرشگافتہ کر دیا اور اس طرح اسلام فاتح و مظفر قرار پایا۔ (مستدرک حاکم)
غزوہ سلسلہ :۔
جبکہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت ابوبکر و عمر کو مثل خیبر روانہ کیا اور دونوں حضرات بھاگ آئے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی کو بھیجا اور وہ فتح کرکے مال غنیمت سمیت واپس آئے اس جنگ کے تفصیلی حالات شیخ مفید نے ارشاد نقل کیے ہیں یہ یاد رہے کہ یہ جنگ سنہ ۷ ہجری کی جنگ ذات السلاسل نہیں ہے جس میں سردار لشکر عمروبن عاص تھا اور لشکری حضرت عمرو ابوبکر و ابو عبیدہ وغیرہ ۔
جس کا مشہورہ واقعہ ہے کہ عمرو نے آگ روشن کرنے سے منع کیا تو حضرت عمر کو غصہ آگیا اور قریب تھا کہ وہ سردار ہی پر حملہ کر بیٹھتے کہ دفعتاً حضرت ابوبکر نے روک دیا اور فرمایا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کچھ سوچ کر عمر کر سردار بنایا ہے (مستدرک حاکم روایت صحیحہ)
تنبیہ
(رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی کے فضائل و مناقب بیان کرنے میں ایسے دقیق و لطیف اختیار فرمائے ہیں ۔ جنہیں ایک ذی ہوش اور باشعور انسان ہی سمجھ سکتا ہے ۔ چنانچہ آپ کسی شخص کو بھی حضرت علی پر حاکم نہیں بنایا ۔ جبکہ حضرت ابوبکر و عمر وغیرہ پر عمرو بن عاص اور اسامہ جیسے اصحاب کو حاکم بنایا ہے پھر اگر کسی جنگ میں دو سردار بناتے تو حضرت علی کو الگ کر دیا اور ان کی فوج الگ ترتیب دی۔ جیسا کہ یمن میں ہوا یا انہیں بعد میں روانہ کیا جیسا کہ خیبر میں ہوا۔ کبھی ایسا ہوا کہ پہلے دوسرے افراد کو بھیج دیا اور جب وہ ناکام پلٹے تو حضرت علیؑ کو روانہ کیا تاکہ دونوں کا معیار شجاعت نمایاں ہوجائے ۔ اس طرح کہ اگر وہ لوگ پہلے نہ جاتے تو ان کا کمال شجاعت تشنہ اطہار رہ جاتا۔ انتہا یہ ہے کہ اگر کبھی کسی کو مصلحت روانہ بھی کر دیا تو بعد میں نبص ظاہری پھر واپس بلالیا۔ تاکہ دنیا پر تبلیغی ذمہ داریوں کے حامل کا تعارف واضح طریقہ پر ہوجائے۔
مورد جواب ابو سفیان :۔
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے روز احد ۷۰۰ مجاہدین کے ساتھ جن میں ۲۰۰ زرہ پوش اور ۲۰۰ سوار تھے پہاڑ کی طرف پشت کرکے وادی میں قیام فرمایا۔ ادھر مشرکین تین ہزار کی تعداد میں تھے۔ جن میں ۷۰۰ زرہ پوش ۲۰۰ سوار اور ۱۵ عورتیں بھی تھیں۔ جب طرفین آمادہ جنگ ہوئے تو حضرت نے پہاڑ کی طرف ۵۰ تیر انداز فوجیوں کو عبداللہ بن جبیر کی سر کوردگی میں یہ کہہ کر معین کر دیا کہ ہم فتح کریں تاکہ شکست کھائیں تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا اس لے کہ خطرہ اسی راہ سے ہے۔ ادھر طلحہ بن عثمان سردار لشکر کی حیثیت سے نکل کر رجز خواں ہوا کون ہے جو اپنی تلوار سے مجھے واصل جہنم کرے یا میری تلوار سے خود جنت حاصل کرے۔
ابن اثیر لکھتا ہے کہ یہ سنکر حضرت علی ؑ نے حملہ کیا اور اس کے پیر کاٹ دیے۔ وہ گر کہ برہنہ ہوگیا اور طلب رحم کرنے لگا۔ آپ اسے چھوڑ کر ہٹ آئے۔ ادھر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نعرہ تکبیر بلند کرکے مسلمانوں میں نعروں کی بنیاد ڈال دی۔ یہاں تک کہ میدان تکبیر سے گونجنے گا۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب امیر ؑ سے سوال کیا کہ اس کو قتل کیوں نہیں کیا؟ عرض کیا کہ اس نے طلب مرحمت کی۔ اس کے بعد آپ نے تمام علمداروں کو نہ تیغ کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ پرچم کفر کا حامل کوئی نہ رہا۔ اور ایک عورت نے اسے بلند کیا یہ دیکھ کر صواب نے علم لے لیا اور اس کے زیر سایہ قتل ہوگیا۔ ابو رافع کا قول ہے کہ جملہ علمداروں کے قاتل حضرت علیؑ تھے۔ اس کے علاوہ حضرت حمزہ حضرت علیؑ اور حضرت ابودجانہ کی پامردی اور شجاعت کا اثر یہ تھا کہ مشرکین شکست کھا کر بھاگ نکلے اور مسلمان لوٹ مار میں مشغول ہوگئے ۔ ادھر کمانداروں نے یہ منظر دیکھا تو ان کے منہ میں پانی آگیا۔ اور محاذ چھوڑ کر ٹوٹ پڑے اور اس طرح مشرکین کو موقع مل گیا۔ خالد بن ولید نے سب کو جمع کرکے دوبارہ حملہ کر دیا اور اس قدر شدید مقابلہ ہوا کہ خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا رخسار مبارک مع پیشانی زخمی ہوگیا۔ دندان مبارک شہید ہوگئے۔ حضرت حمزہ قتل ہوگئے لیکن اس کے باوجود جناب امیرؑ پانچ انصار کے ساتھ مصروف جہاد رہے۔ حضرت ابودجانہ اپنے کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سپر بنائے رہے۔ یہاں تک کہ ابن قمسہ نے مصعب کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شبہ میں قتل کرکے آپ کے قتل کا اعلان کر دیا۔ اور مسلمانوں میں پھوٹ پڑگئی۔ کعب بن مالک نے آپ کو پہچان کر اعلان کر دیا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم صحیح و سالم ہیں۔آپ نے اشارے سے منع کر دیا۔ حضرت علیؑ نے آپ کو بحفاظت سعب تک پہنچادیا۔ طبری ج ۲ ص ۱۹۷ کامل ج ۲ ص ۱۰۷ میں یہ واقعہ درج ہے کہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک جماعت کو دیکھ کر حضرت علی کو حکم جہاد دیا ۔انہوں نے اس کا خاتمہ کر دیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دوسری جماعت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے اسے بھی ختم کیا تو جبرئیل ؑ نے مبارکباد دی کہ واقعا یہ مواسات و ہمدردی ہے آنحضرت نے فرمایا کیوں نہ ہو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ حضرت جبرئیل نے کمال مسرت سے عرض کیا اور میں آپ دونوں سے ہوں۔ اس وقت یہ آواز غیبی سنی گئی۔ ""لاسیف الا ذوالفقار ولا فتی الا علی ""
حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زخموں کو دیکھ کر جناب امیرؑ نے پانی لالا کر انہیں دھونا شروع کیا اور جب خون منقطع نہ ہو اتو حضرت فاطمہ الیہا السلام نے ٹاٹ کا ٹکڑا جلا کر اس کی راکھ سے خون کس سلسلہ بند کیا اسی عالم میں ہند اپنی ہم جولیوں کو لے کر شہداء کی لاشوں پر ٹوٹ پڑی اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا شروع کردیئے ۔ یہاں تک کہ حضرت حمزہ کے اجزاء بدن کا ہار بلایا اور آ پ کا کلیجہ نکال کر چبایا ادھر ابوسفیا نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تلاش جاری کردی ۔ حضرت نے اصحاب کو منع فرمایا کہ کوئی پتہ نہ بتائے لیک جب اس نے حضرت عمر سے سوال کیا تو انہوں نے بتادیا (طبری ج ۲ ص ۲۰۵ کامل ج ۲ ص ۱۱۱ طبقات، سیرت حلبی، دحلانی، البدایہ والنہایہ ج ۴ ص ۲۵)
یہی وہ منزل تھی کہ جہاں حضرت عمر نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رائے کو اپنے مخصوص مصالح و نظریات کی بنا پر ٹھکرا دیا اور ابوسفیان کو آپ کی حیات کی اطلاع دے دی۔
مورد تجسس:۔
قرآن مجید اور سنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صریحی حکم ہے کہ مسلمانوں کے لیے عیب جوئی بدظنی اور غیبت جیسے افعال حرام و ناجاءز ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں اپنے لیے ان تمام عیوب کو جائز و حسن بنالیا۔ چنانچہ ایک شب آپ اسلامی جاسوسی میں نکلے تو ایک مکان سے گانے کی آواز سنی آپ دیوار پر چڑھ گئے تو کیا دیکھا کہ ایک عورت بھی ہے اور شراب بھی ۔ آپ نے فوراً تحدید کی کیا سمجھتے ہو کہ معصیت چھپ جائی گی؟ اس نے جواب دیا ہرگز نہیں میں نے ایک گناہ کیا اور آپ نے تین۔ قرآن نے تجس سے منع کیا ہے دروازے سے آنے کا حکم دیا۔ داخلہ کے وقت سلام مقرر کیا۔ اور آپ نے سب کی خلاف ورزی کی۔ یہ سن کر آپ اسے معاف کرکے باہر نکل آئے۔ (مکارم الخلاق خراطی۔ کنزالعمال ج ۲ ص ۱۶۷ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۹۶ احیاء العلوم)
سدی نے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ابن مسعود کے ساتھ رات کے وقت کلے تو ایک روشنی نظر آئی۔ اس کے سراغ میں چلے یہاں تک کہ ایک گھر میں داخل ہوگئے تو معلوم ہوا کہ ایک چراغ جس کے زیر سایہ ایک ضعیف العمر انسان ایک مغیہ اور جام شراب ہے۔ وہ متوجہ نہ تھا کہ آپ نے اعتراضات کی بھرمار کردی ۔ اس نے عرض کیا اور حضور کے لیے تجس کب جائز تھا کہ آپ بلا اجازت گھس آئے۔ آ پ روتے ہوئے باہر نکل آئے۔ اس نے ایک عرصہ تک آپ کے یہاں حاضر ہونا ترک کر دیا اور ایک د چھپ کر آیا اور گوشہ میں بیٹھ گیا آپ کی نظر پڑگئی۔ تو آپ نے قریب بلایا اور فرمایا کہ میں نے تیرے واقعہ کو ابن مسعود تک سے نہیں بیان کیا ہے۔ کہ جو اس وقت میرے ساتھ تھے۔ (القطع والسرقہ کنرالعمال ج ۲ ص ۱۴۱)
شعبی کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک دن اپنے ایک صحابی کو نہیں دیکھا تو ابن عوف سے فرمایا کہ چلو اس کے گھر چلیں۔ جب دونوں وہاں پہنچے تو کیا دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا ہے اور اس کی عورت ایک برتن میں کچھ انڈیل رہی ہے۔ آپ نے فرمایا انہیں چیزوں نے حاضری سے غافل کر دیا ہے ابن عوف نے کہا آپ کو کیا معلوم کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا تو کیا میں نے تجس کیا عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا پھر توبہ ۔ لیکن اب کسی کو اطلاع نہ ہو۔ (کنر العمال ج ۲ حدیث نمبر ۳۶۹۴)
مسور بن مخزمہ ابن عوف سے ناقل ہیں کہ وہ ایک دن حضرت عمر کے ساتھ شب گردی میں نکلے تو ایک چراغ نظر آیا جب اس کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک گھر سے آوازیں بلند ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ رابعیہ بن امیہ کا مکان ہے اور سب شراب میں مشغول ہیں۔ ابن عوف نے کہا اور تو تجس ہے فرمایا واپس چلو۔ (مکارم الاخلاق)
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کو یہ خبرپہنچی کہ ابو محجن اپنے گھر میں شراب پی رہا ہے۔ آپ فوراً وہاں پہنچے اور کچھ کہنا چاہتے تھے کہ اس نے اعتراض کر دیا یہ تو تجس ہے آپ نے زید بن ثابت اور عبدالرحمن ابن ارقم سے تصدیق چاہی انہوں نے تصدیق کردی اور آپ پلٹ آئے۔ (کنز العمال ج ۲ ص ۱۴۱)
اقول :۔
ان تمام روایات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت عمر سیاسیات میں کس قدر ماہر تھے اور آپ تنظیم امت کے لیے کس قدر زحمتی برداشت کیا کرتے تھے اور گویا کہ آپ کی نظر میں حاکم کا گناہ مجرم کی سزا کو ساقط کر دیا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی ندامت کے بعد کسی پر حد جاری نہیں فرمائی اور میرا خیال ہے کہ اس کمال تنظیم کا اتنا اثر تو ضرور ہوا ہوگا کہ مسلمان معصیت پر بڑی حد تک جری ہوگئے ہوں گے ۔ جیسا کہ واقعات کی کثرت سے اندازہ ہوتا ہے۔
مورد مغالات مہر :۔
مہر کا مشہور اسلامی قانون یہ ہےکہ اسے مرد مسلم کی ملکیت کے قابل ہونا چاہیے خواہ مال ہو یا منفعت مقدار کی تعیین کا اختیار خود طرفین کو ہے۔ البتہ مستحب یہ ہےکہ مہر سنت سے زائد نہ ہو۔ اور لازم یہ ہے کہ اتنا کم نہ ہو کہ مالیت سے خارج ہوجائے۔
لیکن حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں ازدواجی زندگی کی سہولت اور نسل مسلم کی کثرت کا لحاظ کرتے ہوئے منبر پر یہ اعلان کیا کہ آج کے بعد سے جس کا مہر ازواج(۱)
(میرا خیال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی کا یہ نظر یہ بھی عقدام کلثوم کے افسانہ کو باطل قرار دیتا ہے کہ جس میں مہر کی مقدار ہزاروں درہم بیان کیا گئی ہے۔)
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے زیادہ ہوگا اس کا مہر چھین لیا جائے گا۔ اتفاقا درمیان سے ایک ضعیفہ کھڑی ہوکر عرض کرنے لگی کہ جناب کو یہ حق نہیں ہے ۔ قرآن کا حکم ہے کہ جو مال دے دیا ہے اسے واپس نہ لو یہ سنکر آپ نادم ہوئے اور قوم سے مخاطب ہوکر فرمانے لگے تمہیں تعجب نہیں ہوتا ہے کہ امام خطا کرے اور عورت اس کی اصلاح کرے۔ (ابن ابی الحدید وغیرہ)
کثاف کے الفاظ یہ ہیں ""تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میری باتیں سن کر خاموش رہتے ہو اور عورتیں ٹوک دیتی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ سب ہی عمر سے بہتر ہیں""۔
امام رازی کا بیان ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تمام انسان عمر سے زیادہ واقف ہیں اور یہ کہہ کر اپنا حکم واپس لے لیا۔
____________________
(۱) (جائے حیرت ہے خود خلیفہ ثای تو قرابت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بیکار تصور فرماتے ہیں اور ان کے چاہتنے والے قرابت قائم کرنے کے لیے عقدام کلثوم کی داستان واضح کرتے ہیں)
اقول :۔
آپ کے عدل و انصاف اور عدم تشدد کے ایسے واقعات تاریخ میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جہاں آپ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا ہو بلکہ بسا اوقات اس پر اظہار مسرت بھی فرمایا ہے چنانچہ بخاری ج ۹ ص ۹۵ میں یہ واقعہ درج ہے کہ ایک مرتبہ سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بڑے بے ربط سوالات کئے گئے ۔ تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا۔ کہ اچھا اب پوچھو۔ ابن حذافہ نے سول کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا حذافہ۔ ابن سالم نے بھی یہی سوال کیا۔ فرمایا سالم ۔ بظاہر ان لوگوں کا مقصد دوسروں پر تعریض کرنا تھا۔ چنانچہ حضرت عمر بھانپ گئے۔ اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غصہ سے توبہ کرنے لگے اور ان لوگوں کے نسب کی صحت پر خوش بھی ہوئے۔
صحیح مسلم میں یہ ہے کہ ابن حذافہ کسی دوسرے کی طرف منسوب تھا ۔ اس کی ماں کو اس سوال کی اطلاع ملی تو بگڑ کر بولی کہ تو مجھے سر دربار رسوا کرنا چاہتا تھا۔ یہ سنکر حضرت عمر نے خدا کا شکر کیا کہ اس نے بہت سی عورتوں کا پردہ رکھ لیا۔
مورد تبدیل حد شرعی :۔
فجر الاسلام ص ۲۳۸ میں یہ واقعہ اعلام الموقعین کے حوالہ سے اس طرح درج کیا گیا ہے کہ حاطب بن بلتعہ کے غلاموں نے مزینہ کے ایک شخص کے ناقہ کو چرالیا۔ جب ان لوگوں کو گرفتار کرکے حضرت عمر کے پاس حاضر کیا گیا تو آپ نے ان کے اقرار کی بنا پر کثیر بن الصلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ قطع کردے۔ لیکن اس کے بعد انہیں واپس بلالیا اور حاطب کے فرزند کو بلا کر تنبہیہ کی کہ اگر تم نے ان بیچاروں کو بھوکا نہ مارا ہوتا تو ہرگز سرقہ نہ کرتے خیراب ان کا تاوان تم سے وصول کروں گا۔
اقول :۔ یہ بات کسی حد تک صحیح ہے کہ قحط و فاقہ کے حالات میں سرقہ کا شرعی اثر ختم ہوجاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خلیفہ کے پاس اس کا کیا ثبوت تھا! جبکہ خود مجرم اقرار کر رہا تھا کہ یہ تنبہیہ و جرمانہ مجرم کے جرم کو سبک بنا سکتے ہیں؟
مورد دیہ غیر مشروع :۔
واقعہ یہ ہے کہ ابو خرہش بذلی کی پاس یمن کے کچھ مہمان وارد ہوگئے وہ مشک لے کر تیزی سے گیا کہ ان کے لیے پانی لے آئے۔ اتفاقا راستہ میں ایک سانپ نے ڈس لیا لیکن اس کے باوجود اس نے پانی پہنچادیا اور اس واقعہ کا اظہار نہیں کیا۔ جب وہ لوگ سوگئے اور صبح کو اٹھے تو دیکھا کہ ابو خرہش زہر کے اثر سے انتقال کر چکا ہے ۔ حضرت عمر کو یہ خبر پہنچائی گئی ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مہمانی سنت نہ ہوتی تو میں اہل یمن کی مہمانی کو ممنوع کر دیتا اور اور سارے عالم میں اس کا اعلان کرادیتا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے عامل کو حکم دیا کہ مہمانوں سے ابو خرہش کی دیت وصول کرے اور ان کو سخت سزا دے ( استیعاب ج ۴ ص ۵۸ احوال ابو خرہش حیوہ الحیوان ج ۱ ص ۲۸۱ مادہ حیہ)
مورد حد غیر مشروع :۔
ابن سعد نے طبقات میں یہ واقعہ سند معتبر سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ برید حضرت عمر کے پاس آئے تو ان کے سامان سے ایک پرچہ گرگیا ۔ آپ نے اٹھا کر پڑھاتو اس میں چند اشعار درج تھے جن کا مفہوم یہ تھا کہ کوئی ابو حفص کو خبر کردے کہ جعدہ ہماری لڑکیوں سے خوش فعلیاں کرتا ہے ۔ اور اس طرح ان کی آبرو ریزی کرنا چاہتا ہے آپ نے یہ دیکھ کر جعدہ کو طلب کیا اور اس کو سو کوڑے لگا دیئے۔
اقول :۔ کیا صرف ایسے اشعار جن کا شاعر تک نامعلوم ہو حد شرعی کا باعث بن سکتے ہیں؟ اور کیا تنہا خوش فعلی و مزاح زنا کے احکام میں داخل ہوسکتے ہیں؟ ان سوالات کی ذمہ داری خلیفہ وقت کی گردن پر ہے کاش اسی قانون کو مغیرہ بن شعبہ پر نافذ کیا ہوتا۔
مورد احسان برمغیرہ :۔
غالبا کوئی تاریخ ایسی نہیں ہے کہ جس نے سنہ ۱۷ ہجری کے واقعات میں مغیرہ کا واقعہ نقل نہ کیا ہو۔ لیکن ہم اس واقعہ کو ابن خلکان کی زبانی نقل کرتے ہیں:۔
""حضرت عمر بن خطاب نے مغیرہ کو بصرہ کاامیر قرار دیا ۔ تو اس کا دستور یہ تھا کہ روزانہ دوپہر کے وقت باہر نکلتا تھا ایک مرتبہ ابوبکر نے ٹوکا کہ یہ شان امیر کے خلاف ہے تو ایک ضرورت کا بہانہ کر دیا اور اس سلسلہ کو جاری رکھا اتفاقاً ایک دن ابوبکر اپنے بھائیوں کے ساتھ حجرہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کے سامنے ام جمیل کا حجرہ تھا ہوا سے دروازہ کا پردہ ہٹ گیا تو کیا دیکھا کہ ام جمیل مغیرہ کے نیچے ہے۔ اس نے ان بھائیوں کو گواہ بنالیا اور جب وہ باہر نکلا تو اسے اپنے مشاہدہ کی اطلاع دی وہ مسجد کی طرف چلاگیا۔ ابوبکر نے اعلان کیا کہ یہ امامت کی لائق نہیں ہے لیکن قوم نے اس کی اقتداء کرلی اور حضرت عمر کو اطلاع دی۔ انہوں نے لوگوں کو طلب کیا اور شہادت چاہی۔ ابوبکر نے بیان کیا کہ میں نے واقعہ یوں دیکھا ہے کہ سرمہ دانی میں سلائی۔ آپ نے قبول کر لیا اس کے بعد نافع کو بلایا۔ اور ان سے جرح کی لیکن انہوں نے اصرار کے ساتھ یہی شہادت دی پھر شبل کو بلایا۔ اس نے بھی صراحتاً یہی بیان کیا اتفاقاً زیاد وہاں موجود تھا۔ جب وہ بلایا گیا تو مغیرہ نے اس سے فریاد کی اور اسے کچھ اشارات بھی مل گئے۔ چنانچہ اس نے کہا میں صرف اتنے کا شاہد ہوں کہ یہ اوپر تھا اور وہ نیچے۔ سانس کے چڑھنے اور ٹانگوں کے اٹھنے کا منظر نگاہوں کے سامنے تھا اس کے بعد کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ بس یہ سننا تھا کہ آپ نےمغیرہ کو حکم دے دیا کہ تینوں کو تازیانے لگائے۔ چنانچہ اس نے سب کو ۸۰ ۔ ۸۰ کوڑے لگائے ۔ ابوبکر نے اس کے بعد پھر کہا میں زناہ کا شاہد ہو آپ نے چاہا کہ پھر کوڑے لگائیں لیکن حضرت امیر نے ٹوک کر فرمایا کہ اب مغیرہ کا نمبر ہے۔ حضرت عمر نے ابوبکر کو توبہ کا حکم دیا اس نے کہا کہ توبہ گواہی کی قبولیت کے لیے ہوتی ہے اور اب میں گواہی نہ دوں گا۔ عمر بن شیبہ نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر کی ماں نے ایک بکری ذبح کرکے ان کی پشت پر اس کی کھال باندھ دی اس لیے کہ بے حد زخمی ہوگئے تھے عبدالرحمن ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ میرے باپ نے زیادہ سے بات نہ کرنے کی قسم کھالی تھی۔ یہاں تک کہ وصیت بھی کر دی کہ ابوہریرہ نماز جنازہ پڑھی وہ بصرہ سے کوفہ چلا گیا اور مغیرہ نے شکریہ کے ساتھ اس کا احترام کیا۔ ایک دن اتفاقاً ام جمیل حضرت عمر کے پاس آئی اس وقت جبکہ مغیرہ بھی موجود تھا آپ نے پوچھا اسے جانتے ہو؟ کہا یہ ام کلثوم ہے۔ فرمایا جھوٹ بولتا ہے ۔ خدا کی قسم ابوبکر نے غلط نہیں کہا تھا اورمجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں آسما سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے۔ ابواسحق رازی نے بھی اس واقعہ کو مجمل طور پر نقل کیا ہے اس کے بعد فرماتے ہیں کہ فقہاء کے درمیان حضرت علی ؑ کا قول محل اختلاف ہے۔ ابو نصر بن صباغ کا کہنا ہے کہ حضرت کا مطلب یہ تھا کہ ابوبکر کا دوسرا قول اگر تکرار ہے تو حد جاری ہوچکی اور اگر قول جدید ہے تو مغیرہ پر حد جاری ہونے کا نصاب پورا ہوگیا۔
اقول :۔
اس واقعہ کو حاکم نے مستدرک میں ذہبی نے تلخیص میں اور دیگر اہل تراجم نے حضرت مذکورین کے حالات میں اجمالاً یا تفصیلاً ضرور نقل کیا ہے۔
مورد تشدد برجبلہ بن ایہم :۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمر کے پاس قبیلہ مک و جفنہ کے ۵۰۰ سوار جبلہ کی سرکردگی میں سبک رو گھوڑوں پر سوار ہوکر آئے جن پر زر ہفت کے زین کسے ہوئے تھے ۔ اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے اسلام سے مسلمانو ںمیں مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پھر وہ لوگ اسی سال حج کے لیے گئے۔ اتفاقاً اثناء طواف میں ایک شخص کا یپر جبلہ کی چادر پر پڑگیا اور وہ کھل گئی۔ انہوں نے ایک طمانچہ مار دیا تو اس نے حضرت عمر سے فریاد کی ۔ آپ نے حکم دیا کہ یا تو اسے راضی کرو یا قصاص پر تیار ہوجاؤ ۔ اور پھر اس حکم پر اتنی شدت سے کام لیا کہ رات ہوتے ہی وہ سب بھاگ کر قسطنطنیہ ہر قل کی پناہ میں چلے گئے ۔ اور اسلام سے مرتد ہوگئے۔ جبلہ اس امر پر گریاں تھے کہ مجھ سے اسلام ترک ہوگیا۔ لیکن حالات نے اسے مجبور کردیا تھا۔
اقول :۔
کاش خلیفہ نے اس شخص کو خود ہی راضی کرلیا ہوتا اور اتنی شدت نہ فرماتے۔ کہ قوم کو اسلام سے روگردانی کرنا پڑے۔ لیکن آپ کا واضح مقصد یہ تو تھا کہ ہر صاحب عزت کو ذلیل کر دیا جائے اور اس طرح اپنا وقار قائم کیا جائے ۔ چنانچہ خالد کے سلسلے میں آپ کا موقف واضح ہوچکا ہے ۔ البتہ یہ ضرورت ہے کہ جوآپ کے تابع رہا اس پر آپ نے یہ سختیاں نہیں فرمائیں۔ جیسا کہ مغیرہ کے واقعہ میں ذکر کیا جاچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے سیاست کا اعلیٰ نمونہ یہی حرکات تھے جن سے آپ نے قلوب عامہ میں جگہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کبھی ابو ثمہ و ام فردہ کی مرمت کردی اور کبھی جعدہ و منبیلح و نصر و ابوذدیب و ابوہریرہ جیسے مساکین پر ہاتھ صاف کر دیا تاکہ عوام کے دلوں پر رعب چھا جائے اور کسی کو دم مارنے کی جرات نہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ طعام و شرب لباس و مکان میں اتنی سادگی سے کام لیا کہ دنیا آج تک آپ کے زہد کاکلمہ پڑھ رہی ہے حالانکہ اس زہد کے باوجود معاویہ کو اس کے افعال و کردار میں مکمل آزادی دے رکھی تھی جس کا سبب اہل نظر پر واضح ہے۔ اس واقعہ کو عقدالفرید ج ۱ ص ۲۶۰ اور اغانی میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
مورد تشدد بر ابوہریرہ :۔
سنہ ۲۱ ہجری میں ابوہریرہ کو آپ نے والی بحرین بنایا۔ اور پھر سنہ ۲۳ ہجری میں معزول کرکے حضرت عثمان بن ابوالعاس کو حاکم بنایا۔ ابوہریرہ سے مزید دس ہزار کا مطالبہ اس بنیاد پر کیا کہ یہ تم نے بیت المال سے چرائے ہیں ۔ چنانچہ بقول عقدالفرید ج ۱ ص ۳۴ ان کو بلا کر کہا میں نے تم کو اس وقت والی بنایا تھا جب تمہارے پیر میں جوتیاں نہ تھیں اور اب سنا ہے کہ ۱۶۰۰ دینار کے گھوڑے خرید لیے ہیں یہ سب کہاں سے آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ کچھ جانورو ںکی پیدائش کا نتیجہ ہے اور کچھ مومین کا عطیہ فرمایا تمہیں یہ سب رکھنے کا حق نہیں ہے واپس کرو۔ انہوں عرض کیا کہ جناب کو مانگنے کا بھی حق نہیں ہے ۔ آپ کو غصہ آگیا۔ اور تازیانہ سے اس زور سے مارا کہ خون نکل آیا۔ اور اس کے علاوہ ماں کی گالی سے بھی سرفراز فرمایا۔ دوسری روایت کی بنا پر آپ نے دشمن خدا و قرآن کے لقب سے بھی نوازا ۔ اور ان تمام حوادث کے بعد بھی ابوہریرہ نے آپ کے لیے نماز میں استغفار کیا۔ (ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۰۴ طبقات ج ۴ ص ۹۰ اصابہ ج ۴ ص ۲۰۷ حالات ابوہریرہ )
مورد تشدد برسعد بن ابی وقاص :۔
آپ نے حضرت سعد کو کوفہ کا حاکم بنایا اور جب آپ کو اطلاع ملی کہ وہ عوام سے الگ رہتا ہے تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو بلا کر حکم دیا کہ سعد کے گھر کو آگ لگا دو اور اسے گرفتار کرکے لاو ۔ محمد نے ایسا ہی کیا سعد نے گھر سے نکل کر پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا یہ امیرالمومنین کی احتیاط و دانشمندی ہے۔ (الطرق الحکمتیہ ص ۱۶)
مورد تشدد بر خالد :۔
جس زمانہ میں حضرت خالد تنسرین کا حکم تھا اشعت بن قیس نے اس سے رقم کا مطالبہ کیا۔ اس نے ۱۰ ہزار کی اجازت دے دی جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ نے ابو عبیدہ حاکم حمص کو لکھا کہ خالد کو معزول کردو اور اسے ایک پیر پر کھڑا کرکے مجمع میں اس سے رقم کے بارے میں سوال کرو۔ اگر اس نے یہ رقم اپنے پاس سے دی تو اسراف ہے اور اگر بیت المال سے ہے تو خیانت۔ دونوں صورتوں میں وہ مستحق عتاب ہے ابوعبیدہ نے حضرت خالد کو بلا کر جامع مسجد میں یہ عمل انجام دیا۔ جب اس نے اپنے ذاتی مال کا حوالہ دیا تو اس کی ٹوپی واپس کر دی پیر کھول دیئے اور اس کا احترام کیا۔ لیکن اسے معزولی کا حکم نہیں سنایا وہ چند روز متحیر رہا آخر کار حضرت عمر کا خط پہنچا کہ تم معزول کردے گئے ہو لہذا وہاں سے ہٹ جاؤ ( عبقریتہ عمر عقاد ص ۲۴۵)
مورد ضرب ضییع تمیمی :۔
ایک شخص نے آپ کو خبر دی کہ ضییع تمیمی لوگوں سے آیات قرآن کی تفیسر پوچھتا ہے آپ نے دعا کی خدایا مجھ سے ملادے اتفاقاً وہ آگیا اور اس نے آپ سے بھی والذاریات ذروا کی تفسیر معلوم کرلی ۔ آپ نے تازیانہ سے اتنی مرمت کی کہ اس کا عمامہ گرگیا ۔ اس کے بعد گرفتار کرایا اور روزانہ اس کو ۱۰۰ تازیانہ لگائے کا دستور قائم کر دیا۔ یہا تک کہ ان دن اونٹ بٹھا کر بصرہ روانہ کردیا اور ابو موسی کو حکم دیا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ اس کا بائیکاٹ کردیں۔ یہ غلط طریقہ سے علم طلب کرتا ہے چنانچہ وہ تمام عمر اسی قوم میں ذلیل رہا جس کا پہلے سردار تھا۔ (ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۲۲ الطرق الحکمتیہ ص ۱۶)
مورد شہر بدری نصر بن حجاج
عبداللہ برید راوی ہے کہ ایک شب حضرت عمر نے اثناء گردش میں ایک گھر سے کسی مغنیہ کی آواز سنی جو اپنے خاص لہجہ میں گنگنارہی تھی ""اے کاش شراب کا رسائی ہوجاتی یا نصر بن حجاج تک "" آپ نے فرمایا کہ یہ تو زندگی بھر نہ ہوسکے گا۔ اور صبح ہوتے ہی نصر کو طلب کرلیا۔ کیا دیکھا کہ نہایت ہی شکیل و جمیل انسان ہے ۔فرمایا کہ اس کے بال سر پر الٹ دیے جائیں۔ بالوں کے الٹنے سے پیشانی کھل گئی تو چہرہ اور باوجاہت ہوگیا۔ اب فرمایا کہ سر پر عمامہ رکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس عمل سے رونق اور بڑھ گئی ۔ تو فرمایا کہ اسی حسن پر عورتیں مرتی ہیں ۔ تو اب تمجھے اس شہر میں رہنے ہی نہ دوں گا۔ یہ کہہ کر اس کو بصرہ کی طرف روانہ کردیا۔ اس نے وہاں سے خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا ""کہ اس کے شعر کا ذمہ دار میں نہیں ہوسکتا میرے آباد اجداد بزرگ اور میں ایک پاکباز انسان ہوں"" لیکن آپ نے کوئی عذر قبول نہ فرمایا۔ یہاں تک کہ جب آپ نے رحلت فرمائی تب وہ دوبارہ مدینہ میں داخل ہوا۔ (اب ابی الحدید ۳ ص ۹۹ الطرق الحکمتیہ ص ۱۶)
مورد ضرب ابو ثمہ :۔
آپ کی بیٹے ابو ثمہ نے عمرو بن العاص کے زمانہ حکومت میں شراب پی انہوں نے بلاکر بال ترشوا کر حد جاری کرائی جس کے شاہد خود عبداللہ بن عمر تھے۔ اس کے بعد حضرت عمر کو لکھا کہ میں نے بلا رعایت تمام شرائط کے ساتھ عبداللہ کے سامنے حد جاری کر دی ہے لیکن حسب الحکم ابو ثمہ کو بلا کجاوہ اونٹ پر بٹھا کر روانہ کر رہا ہوں چنانچہ ابن عمر بھائی کو لے کرباپ کے پاس پہنچے اب ابو ثمہ کی حالت مرض تازیانہ اور تکان سفر سے غیر ہوچکی تھی۔ لیکن آپ نے دیکھتے ہی بگڑنا شروع کردیا اور تازیانہ طلب کر لیا۔ ابن عوف نے عرض کیا کہ حضور اس پر حد جاری ہوچکی ہے۔ آپ نے اس کی ایک نہ سنی اور تازیانوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ابو ثمہ نے فریاد کی ابا ! آپ تو مجھے مارے ڈال رہے ہی۔ میں بیمار ہوں آپ نے بلاتامل و اتمام کرکے اسے ایک مہینہ تک قید کر دیا یہاں تک کہ وہ راہی عدم ہوگیا۔
سوال یہ ہے کہ عمروعاص اگر احکام خداوندی کے بارے میں قابل و ثوق و اعتماد شخص تھا تو آنجناب نے دوبارہ کیوں رحمت فرمائی اور اگر اس کی بات یا قسم کا اعتبار نہ تھا تو اسے اتنے مسلمانوں کا حاکم اور حدود الہیہ کا مالک و مختار کیسے بنا دیا۔ کیا شریعت اسلامیہ میں مریض پر حد جاری ہوسکتی ہے؟ کیا حد جاری ہونے کے بعد بھی انسان مستحق قید رہتا ہے ۔ ہیہات ہیہات
درحقیقت یہ ہے خدا پرستی کے مقابلے میں نفس پرستی (شرح الہج ج ۳ ص ۱۲۳ و ۱۲۷ استیعاب ج ۲ ص ۳۹۵ حیوہ الحیوا ج ۱ ص ۳۴۶ ابن الجوزی باب ۷۷)
مورد قطع شجر حدیبیہ :۔
یہ وہ درخت تھا جس کے نیچے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں سے وہ بیعت رضواں لی تھی کہ جس کے اثر سے اسلام کو فتح مبین نصیب ہوئی تھی۔ چنانچہ اسی بنا پر اکثر مسلمان تبر کا اس مقام پر نماز پڑھنے لگے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کو خبر لگ گئی فرمانے لگے اب اگر کوئی نماز پڑھے گا تو اس کی گرد قلم کردوں گا۔
سبحا اللہ ! کل جب رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ذوالخو بصرہ کے قتل کا حکم دیا تھاتوآپ نے فرمایا تھا کہ نمازی کا قتل جائز نہیں ہے اور آج نمازیوں پر تلوار علم ہو رہی ہے ۔ آہ ! آہ یہی وہ تخم ریزی تھی جس کا نتیجہ آج اہل نجد حاصل کر رہے ہیں۔ چنانچہ اب ہر جگہ نماز حرام ہورہی ہے کل آپ نے حجر اسود سے فرمایا تھا کہ تیرے بو سے کوئی فائدہ نہیں ہے آج اہل حجاز ضریحوں کے بو سے کو حرام کر رہے ہیں اور اس طرح شعائر اللہ کی تعظیم کا عظیم ثواب مسلمانوں کے ہاتھوں سے جارہا ہے ۔ کاش آپ کی نظر اس شعر پر ہوتی۔
فماحب الدیار شغفن قلبی
ولکن حب من سکن الدیار
(شرح النہج جلد ۱ ص ۵۹)
مورد شکایت ام ہانی :۔
طبرانی نے کبیر میں نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ جناب ام ہانی نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے شکایت کی کہ حضرت عمر کہتے ہیں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تمہارے کام نہ آئیں گے تو آپ غصہ میں بھر آئے اور بااعلان فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ میری شفاعت کا میرے اقرباء کے بارے میں انکار کرتے ہیں، حالانکہ میری شفاعت صاء و حکم کو جو مجھ سے بعید النسب قبائل ہیں انہیں بھی فائدہ دے گی۔ بعیہنہ یہی واقعہ جناب صفیہ کا بھی ہے ان سے بھی حضرت عمر نے یہی کہہ دیا تھا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز کے اجتماع میں لوگوں کو تنبیہہ کی تھی اور فرمایا تھا کہ میری قرابت دنیا و آخرت دونوں میں کام آئے گی۔ (ذخائر العقبی الطبری)
مورد یوم نجوی :۔
یہ وہ فضیلت ہے کہ جس میں امیرالمومنین کا شریک نہ کوئی فاروق ہے نہ صدیق نہ فقیر ہے نہ غنی جس کا اعتراض تمام مفسرین نے کیا ہے چنانچہ حاکم نے مستدرک میں بھی حضرت امیر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس آیت نجوی پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا ہے اور نہ میرے بعد انداز آیت بتایا ہے کہ لوگ صدرقہ سے ڈر گئے تھے اور اس طرح آیت کو ان کے گاہ کی معافی دینا پڑی۔ مگر افسوس کہ فخر رازی نے امیرالمومنین ؑ کی عداوت میں یہاں تک لکھ ڈالا کہ صدقہ دینے سے غرب کی دل شکنی تھی اور امیر کے لیے مشقت پھر باہمی چشمک کا بھی اندیشہ تھا اس لیے صدقہ نہ دینا ہی بہتر تھا۔ تاکہ اسلامی اتحاد و مساوات برقرار رہ سکے۔
اے کاش یہی معیار زکوہ و حج کے بارے میں بھی فرمایا ہوتا تاکہ تمام مسلمانوں کو فرصت مل جاتی بلکہ کاش یہ بھی فرما دیا ہوتا کہ دین سے انسانوں میں اختلاف عقائد پھیلتا ہے۔ لہذا بے دین ہونا ہی بہتر ہے ۔لاحول ولا قوه الا بالله العلی العظیم
مورد امارت معاویہ :۔
یہی وہ رعایت تھی کہ جس نے دین خدا کو تماشہ اور بندگان خد کو غلام بنا دیا۔ اسلام کو قیصریت و کسرویت کا دوسرا روپ اور شریعت محمدی کو بازیچہ اطفال قرار دے دیا۔ آزادی اور ایسی آزادی کہ کسروی جارہ و جلال کو بھی دیکھ کر فرما دیا کہ میں کوئی امرونہی نہیں کرتا ہوں تجھے اختیار ہے چنانچہ اسی اختیاط کا نتیجہ تھا کہ بنی امیہ حکام اسلام بنے اور امیرالمومنین ؑ نفس رسول پر حملہ کیا گیا اناالله و انا الیه راجعون
مورد غفلت و جہالت رجم حاملہ :۔
محمد بن مخلد عطار نے موائد میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک زن حاملہ کو زنا کے جرم میں سنگسار کا حکم دیدیا۔ تو معاذ نے ٹوکا کہ اگر اس نے خطا کی ہے تو اسکے بچہ کی کیا خطا ہے ؟ چنانچہ آپ نے اپنے حکم کو باطل کر دیا اور فرمایا کہ عورتیں معاذ کا مثل پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
۲ ۔ مستدرک حاکم میں یہ واقعہ درج ہے کہ حضرت عمر نے ایک مجنون عورت کے سنگسار کا حکم دے دیا۔ تو حضرت علی ؑ نے ٹوکا کہ شرع اسلام میں مجنون و نابالغ و نائم سے احکام مرتفع ہیں چنانچہ انہوں نے حکم ترک کر دیا ظاہر ہے کہ یہ واقعہ پہلے حادثہ سے مختلف ہے ۔ اس لیے کہ وہاں جنون کا کوئی ذکر نہ تھا اور یہاں سارا اعتراض جنون ہی پر ہے۔ اس موضوع پر قاضی عبدالجبار ""صاحب المغنی اور علم الہدی سید مرتضیٰ ""صاحب الشافی"" میں کافی بحثیں ہوئی ہیں۔ جنہیں ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ ج ۳ ص ۵۰ پر نقل کیا ہے۔
۳ ۔ امام احمد نے مسند میں یہ واقعہ نقل کیا ہےکہ حضرت عمر کے پاس ایک زاینہ عورت لائی گئی۔ تو آپ نے سنگسار کا حکم دے دیا۔ جناب امیر نے لوگوں سے چھڑالیا حضرت عمر کے پاس شکایت گئی تو آپ کو طلب کیا۔ آپ غصے میں تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا بقول رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم صغیر و مجنون و نائم احکام سے مستثنیٰ نہیں ہیں؟ انہوں نے اعتراف کیا۔ فرمایا کہ اس کا جنون تو مشہور ہے۔ ممکن ہے کہ وقت عمل بھی رہا ہوتو حد کیسے جاءز ہوگی؟
۴ ۔ ابن قیم نے ""الطریق الحکمیہ فی السیاستہ الشرعیہ "" میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک زانیہ کو لایا گیا تو انہوں نے سنگسار کا حکم دے دیا۔ جناب امیر ؑ نے ٹوکا کہ شائد اس کے پاس کوئی عذر ہو لہذا تحقیق کرو۔ چنانچہ اس سے سوال کیا گیا تو اس نے بیان کیا کہ میں پیاسی تھی۔ ایک شخص سے پانی طلب کیا۔ اس نے بدنیتی کا مظاہرہ کیا میں نے حتی الامکان صبر کیا جب صبر سے مجبور ہوگئی تو اس عمل پر تیار ہوگئی۔ آپ نے فرمایا ۔ اللہ اکبر تو تو بنص قرآن مستثنیٰ ہے۔ اسی واقعہ کو بہیقی نے سنن میں درج کیا ہے۔
۵ ۔ ابن قیم نے یہ واقعہ بھی درج کیا ہے کہ ایک عورت حضرت عمر کے پاس آئی اور اس نے زنا کا اقرار کیا پھر اس کے شواہد ذکر کئے اور پھر اقرار کیا۔ یہ سنتے ہی حضرت امیر نے فرمایا کہ اس کا انداز بیان ظاہر کر رہا ہے ۔ کہ یہ حرمت زنا سے واقف نہ تھی۔ چنانچہ اس بیان پر حد ختم کر دی گئی۔ (انب قیم کہتے ہیں کہ یہ حضرت علی کی کمال فراست و دانش مندی پر دال ہے)
۶ ۔ احمد امین نے فجر الاسلام ص ۲۳۷ میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص کے قتل کا معاملہ پیش ہوا کہ جس میں ایک عورت اور ایک مرد کا ہاتھ تھا انہوں نے اظہار تردد کا ۔ حضرت علی نے فرمایا کہ اگر ایک سرقہ میں دو شریک ہوں تو کیا ہاتھ قطع نہ ہوں گے؟ بولے ہاں ۔ فرمایا۔ بس یہی حکم یہاں بھی جاری ہوگا چنانچہ حضرت عمر نے اپنے عامل کو یہ حکم لکھ کر روانہ کردیا۔
۷ ۔ ابن ابی الحدیدہ وغیرہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک عورت کو بعض سوالات کے لیے طلب کیا تو شدت رعب سے اس کےیہاں اسقاط ہوگیا۔ آپ کو تردد پیدا ہوا۔ اور آپ نے فقہاء سے مسئلہ پوچھا سب نے کہہ دیا کہ کوئی حرج نہیں ہے ۔ جناب امیر نے فرمایا کہ اگر یہ حکم رعایتا صادر ہوا ہے تو دھوکا ہے ۔ اور اگر اجتہادی ہے تو غلط ہے لہذا ایک غلام آزاد کرنا فرض ہے ۔ چنانچہ سب نے اس پر عمل کیا۔ (شاید صدر اسلام میں وضع حمل کا اس سے بہتر نسخہ نہ رہا ہوگامترجم)
۸ ۔حاکم نے مستدرک میں نقل کیا ہے کہ قدامہ بن مظعون نے شراب پی تو اسے حضرت عمر کے پاس حاضر کیا گیا ۔ انہوں نے حد جاری کرنے کا قصد کیا اس نے کہا کہ یہ خلاف قرآن ہے وہاں تو یہ حکم ہے کہ ایمان و عمل صالح والوں کے لیے کھانے میں کوئی روک ٹوک نہیں ہے میں مومن متقی اور مجاہد ہوں یہ سن کر حضرت عمر خاموش ہوگئے اور لوگوں سے مشورہ کرنے لگے۔ ابن عباس نے حرمت شراب کی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ کیا مرتکب حرام متقی ہوسکتا ہے؟ اس پر حضرت عمر نے استفتاء کیا انہوں نے ۸۰ کوڑوں کو فتوی دیا اور وہ لگائے گئے۔
۹ ۔ ابن قیم نے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک عورت کو انصار کے ایک جوان سے عشق ہوگیا۔ اس نے ہزار سعی کی لیکن وہ راضی نہ ہوا۔ اس عورت نے ایک انڈا لے کر اس کی زردی نکال کر سفیدی اپنے جسم و لباس پر مل لی اور حضرت عمر کے پاس فریاد لیکر آئی کہ فلاں نے میری آبروریزی کی ہے۔ حضرت عمر نے اس پر حد جاری کرنے کا قصد کیا۔ اس نے فریاد شروع کر دی اور تفتیش حال کی خواہش کی۔ مسئلہ حضرت علی کے پاس پیش ہوا۔ آپ نے گرم پانی منگا کر لباس کو اس میں ڈال دیا سفیدی جم گئی اور بدبو سے اندازہ لگالیا گیا کہ انڈا ہے پھر اس کی تنبہیہ پر اس نے خو بھی اعتراف کرلیا (الطرق الحکمیہ ص ۴۸)
۱۰ ۔ ابن قیم ہی نے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ دو آدمیوں نے ایک عورت کے پاس ۱۰۰ دینار امانت اس شرط پر رکھے کہ کسی ایک کو تنہا واپس نہ کرے۔ ایک سال کے بعد ان سے ایک آیا اور اس نے دوسرے کی موت کا بہانہ کرکے رقم طلب کی اس نے حسب شرائط انکار کیا لیکن اس شخص نے مختلف وسائل و ذرائع سے حیلہ حوالہ کرکے حاصل کرلیا۔ دوسرے سال دوسرا آیا۔ اس نے واقعہ بیان کر دیا تو اس شخص نے حضرت عمر کے پاس محاکمہ کی درخواست دے دی۔ انہوں نے حکم کرنا چاہا۔ عورت نے عرض کیا کہ مجھے حضرت علی کے پاس لے چلو۔ چنانچہ وہاں پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ تیری شرط یہ تھی کہ مال تنہا نہ لے گا۔ لہذا اپنے ساتھی کو لے آ اور مال واپس لے لے۔
۱۱ ۔ امام احمد نے مسند میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر کو شکیات نماز کے مسئلہ میں شک ہوگیا۔ انہوں نے اپنے غلام سے سوال کیا۔ ابھی یہ گفتگو ہوہی رہی تھی کہ ابن عوف آگئے آپ نے ان سے بھی دریافت کرلیا۔ انہوں نے برجستہ ایک فتوی دے دیا۔ (جس کا شریعت اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا)
اقول :۔
تاریخ اسلام میں اس قسم کے بے شمار واقعات موجود ہیں کہ جن سے آپ کی نرم دلی کا اندازہ ہوتا ہے کہ جب آپ کو اپنی غلطی کا علم ہوگیا تو فوراً بات بدل دی اور کبھی ضد سے کام نہیں لیا۔ لیکن افسوس یہ ہےکہ اسی کے ساتھ سیاست میں آپ کی روشن اسقدر متشددانہ تھا کہ جس سے تمام صحابہ لرزاں رہتے تھے ۔ چنانچہ کبھی آپ نے سعد بن ابی وقاص کے قصر میں آگ لگادی کبھی اپنے والیوں کی تذلیل و تحقیر کی ۔ اور ان سے سخت محاسبہ کیا اور کبھی ابی ب کعب کو چند آدمیوں کے ساتھ کیوں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ لوگ آپ کے تازیانہ کو حجاج کی تلوار سے کم نہ سمجھتے تھے ۔ (شرح حمیدی ج ۱ ص ۶۰)
یہی وہ تازیانہ تھا جس سےجناب امر فروہ خواہر ابوبکر کو زخمی کیا گیا۔ صرف اس بات پر کہ وہ اپنے بھائی کو کیوں روتی ہیں۔ اور یہی وہ تازیانہ تھا کہ جس کے آگے نہ ام المومنین کا لحاظ کیا گیا نہ خلیفہ وقت کا اور نہ خلیفہ وقت کی خواہر کی عزت و آبرو کا۔
آپ کی زندگی اس قسم کے حوادث کا ایک شاہکار ہے ۔ حد ہوگئی کہ آپ کی یہ تشدد آمیز روشن بیت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم تک پہنچ گئی۔ اور آپ نے اہل بیت رسالت سے یہ کہہ کر مطالبہ بیعت کیا کہ اگر بیعت کے لیے نہ نکلے تو گھر میں آگ لگا دی جائے گی۔
حقیقت امر یہ ہے کہ آپ کے طبیعت کی صحیح اور جامع تعریف وہی ہے کہ جو جناب امیر ؑ نے نہج البلاغہ کے خطبہ شقشقیہ میں فرماءی ہے۔
مورد شوری :۔
جب زخم کھانے کے بعد حضرت عمر اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے تو ان سے خواہش کی گئی کہ اے کاش آپ کسی کو خلیفہ بنا دیتے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو انہیں بنا دیتا۔ اس لیے کہ وہ امین امت تھے اور اگر سالم ہوتے تو انہیں ہی بنا دیتا۔ اس لیے کہ وہ بے حد خدا دوست تھے۔ لوگوںنے عبداللہ کے متعلق ذکر کیا تو آپ نے انکار کر دیا لوگ باہر چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ فرمائش کی گئی تو فرمایا کہ میری بھی خواہش یہ تھی کہ ایک ایسے آدمی کو حاکم بنا دوں کے جو تمہیں سیدھے راستہ پر چلائے (یعنی حضرت علی) لوگوں نے عرض کیا پھر حضور مانع کیا ہے ؟ فرمایا میں اس منصب کا بار مرنے کے بعد نہیں اٹھا سکتا۔ البتہ تم لوگ علی ؑ، عثمان، عبدالرحمن ، سعد، زبیر اور طلحہ کی طرف رجوع کرو یہ کسی ہ کسی کو مقرر کردیں گے تو تم اسی کی اطاعت کرنا۔ پھر فرمایا کہ میرے بعد امام جماعت کے فرائض صہیب انجام دیں گے اور تین دن مشورہ ہوگا۔ چوتھے روز حاکم کا تعین لازمی ہے۔ اس کے بعد ابو طلحہ انصاری کو حکم دیا کہ پچاس افراد کو لے کر ان چھ افراد کے سر پر مسلط ہوجائیں یہاں تک کہ تین دن کے اندر خلافت کا فیصلہ ہوجائے۔ حضرت صہیب کو حکم دیا کہ خود نماز جماعت پڑھائیں اور اس جماعت کو ایک گھر میں بند کر دیں۔ تلواریں ان کے سروں پر علم رہیں۔ اگر پانچ افراد متفق ہوجائیں اور ایک مخالفت کرے تو اس کا قتل کر دیا جائے۔ اور اگر چار متفق ہوں اور دو مخالف ہوں تو بھی اسی طرح ، ہاں اگر برابر کا معاملہ و تو اسے مقدم کیا جائے جس کی طف عبدالرحمن ہوں۔ پھر اگر باقی افراد مخالفت کریں تو ان کی سزا بھی قتل ہے۔ بلکہ اگر تین دن میں فیصلہ نہ ہوسکے تو سب کی گردن زدنی۔ پھر معاملہ مسلمانوں کے حوالے ہوگا وہ جسے چاہیں گے انتخاب کرلیں گے۔ اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ کامل ج ۳ ص ۴۳ طبری ج ۳ ص ۲۹۲ ابن ابی الحدید ج ۱ ص ۶۱ شرح خطبہ شقشقیہ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
نقط و نظر :۔
سوال یہ ہے کہ اگر اس بار کو اٹھانے سے خائف تھے تو پھر دوبارہ کیو اٹھالیا؟ اور پھر وہ بھی اس طرح کی زعماء ملت کے خون بہانے کا بھی سامان ہوگیا؟ پھر ان چھ افراد کو کیونکہ منتخب کیا گیا کہ جن میں اکثریت کو چند لمحہ قبل بڑے معقول مناسب اوصاف سے متصف کرچکے تھے (شرح النہج ج ۱ ص ۶۳ ) پھر اس ترتیب کا مقصد کیا تھا؟ کہ جس کا نتیجہ آخر کار خلافت حضرت عثما تھی۔ کاش شروع سے انہی بنا دیتے تو کم از کم مسلمانوں کا خون تو محفوظ رہ جاتا۔
کاش حضرت صہیب جیسے غلام کو امام نہ بنایا ہوتا؟ کاش ابو طلحہ کی تلوار سروں پر علم نہ ہوتی کاش ابو عبیدہ و سالم کا تذکرہ کرکے اپنے نمائندوں کی توہین نہ کی ہوتی! کاش ابن عم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہارو امت باب حکمت و علم کو ان افراد کے برابر قرار نہ دیا ہوتا پھر طرہ یہ ہے کہ سالم نہ قریش سے تھا نہ عرب وہ ایک عجمی غلام تھا کہ جو حذیفہ کی زوجہ کی ملکیت تھا ایسے شخص کو خلیفہ بنانا اجماع مسلمین کے خلاف ہے اس لیے کہ مسلمانوں میں خلیفہ کے لیے عربیت وضعی شرط ہے۔
شوری کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ان چھ افراد میں بامہی چشمک کی بنیاد پڑگئی اور ہر شخص اپنے کو منصب کا اہل تصور کرنے لگا۔ وہ عبدالحمن کو جو تابع عثمان اور وہ سعد کہ جو تابع عبدالرحمن تھا سب برابر ہوگئے حد ہوگئی کہ وہ حضرت زبیر کو جو کل حضرت علیؑ کے فدائیوں میں سے تھے جس نے جناب فاطمہ ؑ کے جنازہ میں شرکت کی جس نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر حضرت عمر مرگئے تو میں حضرت علی ؑ کی بیعت کرلوں گا اب اپنے آپ کو حضرت علی کا ہمسر تصور کرنے لگے جس کا نتیجہ روز جمل واضح ہوا۔ پھر حضرت عبدالرحمن کو اپنے انتخاب پر شرمندہ ہونا پڑا ۔ اور انہوں نے حضرت عثمان کو معزولی کی فکریں شروع کر دیں۔ ادھر حضرت طلحہ و زبیر نے ان کے خلاف آواز بلند کرکے حضرت عائشہ کی تائید حاصل کرلی۔ اور انہوں نے بھی اسے نقل کہہ کر ان کے قتل کا فتوی دے دیا۔
قتل حضرت عثمان کے بعد طلحہ و زبیر نے حضرت علی ؑ کی بیعت تو کرلی لیکن اس توہم کے ساتھ کہ ہم بحکم حضرت عمر ان کے برابر ہیں۔ چنانچہ اس کے اثر میں ان لوگوں نے بغاوت پھیلا دی۔ اور حضرت کو جمل و صفین کے میدانوں سے دوچار ہونا پڑا۔
اس شوری اور اس کے امیدواروں کی ترتیب کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ حضرت معاویہ جیسے افراد کو بھی خلافت کی طمع پیداہوگئی۔ اور یہ لوگ حضرت علی کی راہ میں یوں حائل ہوگئے کہ آپ امت کو صراط مستقیم پر نہ چلاسکے۔
پھر اس شوری میں قتل حضرت عثمان کے جراثیم بھی پوشیدہ تھے۔ جیسا کہ حضرت عمر نے حضرت عثمان سے اشارتا کہا تھا کہ خلافت ملنے کے بعد تم بنی امیہ کو غلبہ و اقتدار دو گے اور اس طرح عرب تمہی قتل کردیں گے۔ جس کا ذکر ابن ابی الحدیہ نے حضرت عمر کی دو اندیشی میں کیا ہے۔ ج ۱ ص ۶۲ ۔
میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس واقعہ سے جہا حضرت عمر کی دور اندیشی کا اندازہ ہوتا ہے وہاں ان کا حقیقی مقصد بھی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔
""فصل""
بخاری و مسلم کے روایات معتبرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امامت صرف قریش کا حق ہے چنانچہ علامہ نودی نے شرح مسلم ج ۱۲ ص ۱۹۹ میں تحریر فرمایا ہے کہ ""احادیث مذکورہ سے واضح ہوتا ہے کہ امارت قریش کا حق ہے اب جو اہل بدعت اس سے اختلاف کرے گا اس کا جواب اجماع امت سے دیا جائیگا قاضی عیاض نے اس شرط کو تمام علماء رائے کا مذہب قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر و عمر نے سقیفہ میں ذکر کیا اور سب نے سکوت اختیار کیا۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سوائے نظام اور خوارج کے کوئی اور مخالف نہیں ہے۔ اور ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ بلکہ ضرار بن عمرو کا یہ قول کہ غیر قریش قریش سے اس لیے بہتر ہے کہ اسے جلدی معزول کرسکتے ہیں خلاف اجماع المسلمی اور خراجات ہے""۔
مذہب اثناء عشریہ کا مسلک یہ ہے کہ امامت قریش کو بارہ معین افراد کا حق ہے جس کا تعداد کی طرف احادیث میں اشارہ موجود ہے۔ (شرح مسلم ۱۲ ۱۹۹ بخاری ابوداؤد، احمد بن حنبل ، بزاز ، حاکم طبرانی وغیرہ )
تاویلات حضرت عثمان
مورد کنبہ پروری :۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کنبہ پروری میں اس طرح استاد تھے کہ اپنی رائے کے آگے کسی انقلاب و ملامت بلکہ کسی آیت اور روایت و سیرت کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید کا کہنا ہے کہ حضرت عمر کی دور اندیشی اس وقت ظاہر ہوگئی ۔ جب حضرت عثمان نے بنی امیہ کو حکومتیں ریاستیں اور جائیدادیں تقسیم کیں بلکہ خمس کا سارا مال مروان کو دے دیا۔ جن میں عبدالرحمن بن حنبل نے احتجاجی اشعار بھی کہے۔ ابن ابی الحدید کے منقولات کی با پر آپ سے خالد بن اسید کے بیٹے عبداللہ نے صلہ رحم کی درخواست کی تو آپ نے چار لاکھ درہم دے دے ۔ حکم طرید رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو واپس بلا کر ایک لاکھ درہم عطا فرمائے۔ صدقہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بازار مدینہ کو حارث بن حکم کے حوالہ کردیا۔ فدک کو مردان کی جائیداد بنادیا۔ چراگاہوں کو نبی امیہ کے ساتھ مخصوص کر دیا۔ عبداللہ بن ابی سرح کو فتح افریقہ کی جملہ آمدنی عطا فرمادی ۔ ابوسفیان کو دو لاکھ درہم اس دن عطا کئے جس د مروا کے لیے ایک لاکھ کا آرڈر صادر فرمایا۔ چونکہ مروان آپ کا داماد تھا۔ اس لیئے داروغنہ بیت المال زید بن ارقم نے اگر فریاد کی کہ آپ ان تمام اموال کو واپس لے رہے ہیں جو حیات رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم میں صرف کئے تھے۔ مروان کے لیے ایک سو درہم کافی ہیں۔ آپ نے حکم دیا کہ کنجی رکھ دو۔ مجھے دوسرا آدمی مل جائے گا۔ ابو موسی عراق سے کافی اموال لے آیا سب کو بنی امیہ پر تقسیم کردیا۔ حارث بن حکم کو اپنی لڑکی عائشہ دے کر ایک لاکھ اور بھی عطا کیے۔ ان عطایا کے علاوہ آ پ کے کارناموں میں حسب ذیل امور بھی ہیں۔ ابوذر کا شہر بدر کرانا ابن مسعود کی پسلیاں توڑ دینا، غلط حدود جاری کرنا۔ ظالم کی روک تھام میں خلاف سیرت حضرت عمر اختیار کرنا وغیرہ۔ ان کارناموں کی انہتا اس وقت ہوگئی جب آپ نے معاویہ کو بعض مسلمانوں کے قتل کا حکم بھیجا اور اس کے نتیجہ میں خود قتل ہوگئے۔ ابن ابی الحدید کا قول ہے کہ اس واقعہ سے امیرالمومنی کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ان وقائع کی تفصیل الملل والنحل شہرستانی میں بھی مل سکتی ہے۔
اقول :۔
آپ کے کارنامے ایسی متواتر حیثیت رکھتے ہیں جن کو تماما یا اجمالا مورخ نے اپنی کتاب میں جگہ دی ہے۔ اور آپ کے ان اعمال و افعال کی شہادت حضرت علی کے اس خطبہ سے بھی ہوئی ہے کہ جو خطبہ شقشقیہ کے نام سے معروف ہے۔
مورد ""اتمام در سفر""
کتاب و سنت اجماع سے یہ امر ثابت ہے کہ سفر میں نماز قصر ہوجاتی ہے خواہ خوف ہو یا اطمینان چنانچہ قرآن کے علاوہ حسب ذیل احادیث بھی اس امر پر دلالت کرتی ہیں ، یعلی بن امیہ نے حضرت عمر سے پوچھا کہ ہم لوگ امن میں کیوں قصر کریں انہوں نے فرمایا کہ مجھے بھی یہ تعجب تھا لیکن میں نے سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ قصر صدقہ خدائی ہے اسے قبول کرو۔ ""مسلم""
ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت ابوبکر و عمر و عثمان سب کے ساتھ سفر کیا۔ لیکن کسی نے تمام نماز نہیں پڑھی۔ (یہ واقعہ ابتداء خلافت حضرت عثمان کا ہے)
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ حضرت نے اخیار امت کے علائم میں قصر کو بھی ذکر فرمایا ہے انس کہتے ہیں کہ میں مدینہ سے مکہ اور مکمہ سے مدینہ تک حضرت کے ساتھ رہا۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم برابر قصر پڑھتے رہے (بخاری و مسلم) حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مکہ میں ۱۹ دن تک قصر نماز پڑھی (بظاہر قصد اقامت عشرہ نہ تھا)
یہ بھی روایت ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بعد ہجرت اہل مکہ کے کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو سلام دے کر انہیں اتمام کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر تمام اور ذی الحلیفہ میں عصر قصر پڑھی۔ (مسلم)
اقول :۔ آیت کریمہ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حالت خوف میں قصر رکھا گیا ہے لیکن روایات کثیرہ سے مطلق سفر میں بھی قصر ثابت ہوتا ہے بلکہ اسی طرح اجماع امت بھی ہے ۔ اور اس میں سوائے حضرت عثمان و حضرت عائشہ کے کوئی تیسرا مخالفت نہیں ہے۔
یہی وہ مسئلہ ہے کہ جس سے حضرت عثمان کی مخالفت کا آغاز سنہ ۲۹ ہجری سے ہوا۔ چنانچہ ابن عمر کہتے ہیں کہ منی میں رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم و حضرت ابوبکر و حضرت عمر سب نے قصر کیا اور حضرت عثمان نے اتمام کیا (مسلم ) عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے منی میں نماز تمام پڑھی تو اس کی اطلاع ابن مسعود کو کی گئی۔ انہوں نے نے اناللہ کہا اور فرمایا کہ یہ خلاف عمل رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم و شیخین ہے۔ (بخاری و مسلم) حارثہ ب وہب کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ منی میں انتہائی سکون کے عالم میں نماز پڑھی ہے۔ (بخاری و مسلم) عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ نماز شروع میں دو رکعت تھی۔ بعد میں حضرت کے لیے دو رکعت کا اضافہ ہوگیا ۔ زہری کہتے ہیں کہ عروہ سے پوچھا کہ پھر خود حضرت عائشہ کیوں اتمام کرتی تھیں۔ اس نے کہا کہ انہوں نے حضرت عثمان کی طرح تاویل کرلی ہے۔ (مسلم ) فاضل نودی نے اس مقام پر اس تاویل کے معافی بیان کئے ہیں کہ بعض کا خیال ہے کہ حضرت عثمان مکہ میں مع اہل و عیال آئے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ حضرت نے ایسی حالت میں بھی قصر فرمایا ہے بعض کا قول ہے کہ حضرت عثمان نےعربوں کو بتانے کے لیے ایسا کیا تھا کہ نماز چار رکعت ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کی ضرورت عصر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں زیادہ تھی بعض کا کہنا ہے کہ حضرت عثمان و حضرت عائشہ نے قصد اقامہ کر لیا تھا۔ لیکن ظاہر ہے کہ مہاجر پر مکہ میں تین دن سے زیادہ اقامہ حرام ہے ۔ بعض کا اندازہ ہے کہ کہ منی میں حضرت عثمان کی اراضیات تھیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا اقامہ سے کیا رابطہ ہے؟ خلاصہ یہ ہے کہ حضرات کی نظر میں قصر و اتمام دونوں جائز تھے۔ انہوں نے ایک ایک کو اختیار کرلیا۔
اقول :۔
حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات کی تاویل اسی حد تک محدود نہ تھی بلکہ اس کا دائرہ بہت زیادہ وسیع تھا۔ ہم اس موضوع میں زیادہ محاسبہ اس لیے نہیں کرتے کہ اس سے کسی مسلمان کا خون نہیں بہایا گیا۔ کسی کی ہتک حرمت نہیں ہوئی ۔ یہ حضرات تو ایسے مقامات پر بھی تاویل کے قائل تھے یہ بھی یاد رہے کہ امام احمد کی روایت کے مطابق معاویہ نے نماز ظہر قصر پڑھی تھی لیکن جب اسے اطلاع ملی کہ حضرت عثما نے حکم بدل دیا تو اس نے نماز عصر تمام پڑھادی۔
تاویلات حضرت عائشہ
مورد قصاص حضرت عثمان :۔
قرآن مجید کا صریحی حکم ازواج رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے یہ تھا کہ گھروں میں بیٹھی رہیں۔ لیکن جناب عائشہ نے امام وقت کیخلاف خروج کرکے گھر چھوڑ دیا جبکہ طلحہ و زبیر جیسے بزرگ بیعت کرچکے تھے ۔ آپ بیت الشرف سے اس حالت میں برآمد ہوئیں کہ خود ناقہ پر مادر ملت کی حیثیت سے ساتھ ساتھ طلحہ و زیبر اور پیچھے پیچھے تقریباً تین ہزار عرب اس شامن سے آپ بصرہ پہنچیں۔ وہاں جناب امیر کی طرف سے عثمان بن حنیف عامل تھے۔ آپ نے وہاں انتہائی سفا کی و خون ریزی سے کام لیکر اسے فتح کیا جو تاریخ میں جمل اصغر کے نام سے مشہور ہے، یہ واقعہ ۲۵ ربیع الثانی ۳۶ سنہ ہجری کا ہے چند دنوں کے بعد جب جاب امیر بصرہ پہنچے تو حضرت عائشہ نے آپ پر حملہ کا قصد کیا۔ آپ نے نرم لہجہ میں معاملہ فہمی کی کوشش کی لیکن انہوں نے قبول نہ کیا اور جنگ پر آمادگی ظاہر کی تو آپ نےبمقتضائے حکم بغاوت جہاد کا قصد کیا۔ اور اسی طرح متعدد مسلمانوں کی جان دے کر ام المومنین مغلوب قرار پائیں۔ یہ واقعہ جمل اکبر کے نام سے مشہور ہے۔ جو کہ ۱۰ جمادی الاخر سنہ ۳۶ ہجری کو پیش آیا۔ کوئی مورخ سیرت نگار ایسا نہیں ہے جس نے اس واقعہ کو درج نہ کیا ہو اس لیے حوالہ کی ضرورت نہیں۔
واقعہ پر ایک نظر :۔
ابن ابی الحدید کے بیان کے مطابق ہر مورخ و سیرت نگار نے یہ نقل کیا ہےکہ حضرت عائشہ حضرت عثمان کے سخت ترین مخالفین میں تھیں حتیٰ کہ آپ نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیراہین کو اپنے مکان میں نصب کر دیا تھا۔ اور ہر آنے والے سے کہتی تھیں کہ یہ پیراہین پرانا نہیں ہوا لیکن حضرت عثمان نے سنت رسول کر برباد کر دیا۔ آپ برابر حضرت عثمان کو نقل سے تعیبر کرتی تھیں اور ان کے کفر کا حکم فرماتی تھیں۔ آپ کے ہم آواز اس وقت طلحہ و زبیر تھے۔ مدائنی نے کتاب جمل میں نقل کیا ہے کہ وقت قتل حضرت عثمان جناب عائشہ مکہ میں تشریف فرما تھیں۔ آپ کا خیال تھا کہ خلافت طلحہ کو ملے گی۔ چنانچہ آپ نے اس امر پر اظہار مسرت بھی فرمایا۔ طلحہ نے بھی بیت المال کی کنجیاں حاصل کرلی تھیں، لیکن آخر جب مقصد حاصل نہ ہوسکا تو حضرت علی کے حوالہ کر دیا۔ طبری وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ مکہ واپس ہورہی تھیں کہ راستہ میں عبدالبن ام کلاب سے ملاقات ہوگئی۔ آپ نے اس سے حالات معلوم کئے اس نے قتل عثمان کی خبردی۔ آپ نے خلافت کا سوال اٹھایا۔ اس نے بتایا کہ بڑا اچھا ہوا کہ خلافت حضرت علیؑ کو مل گئی، یہ سننا تھا کہ آپ نے رخ موڑ دیا۔ اور فرمایا عثمان مظلوم تھا میں اس کا قصاص لونگی اس نے کہا کہ آپ ہی نے تو مخالف کی تھی۔ اب یہ کیا ؟ فرمایا کہ اس نے توبہ کرلی تھی۔ اور پھر دوسرا قول پہلے سے بہتر ہے۔ اس نے اس موقع پر اشعار بھی پڑھے۔ آپ پلٹ کر مکہ پہنچیں در مسجد پر اتر کر حجر اسود کے قریب آئیں اور مجمع کو خطاب کیا کہ حضرت عثمان مظلوم تھے میں ان کا انتقام لوں گے۔ عبد کہتے ہیں کہ اس کلام سے آپ نے حضرت علی کےخلاف فتنہ برپا کرنا چاہا تھا ورنہ آپ کو اس واقعہ سے کوئی ربط نہ تھا تاریخ کامل میں آپ کی تقریر کے یہ فقرات درج ہیں کہ ""اہل مدینہ کے غلاموں اور بعض اجنبیوں نے مل کر مظلوم کو قتل کر دیا اور اسے پر بے ربط اعتراضات کر دیئے جو اس کے قبل بھی رائج تھے۔ اس نے توبہ بھی کرلی کلیکن جب کوئی دوسرا عذر نہ مل سکا تو اس پر ہجوم کرکے اسے قتل کر دیا۔ اور اس طرح نفس حرام مال حرام شہر حرام اور بلد حرام سب کو ہتک حرمت کی۔ خدا کی قسم عثمان کی ایک انگلی پورے طبقہ ارض سے بہتر ہے خیر اگر وہ ان کے خیال میں گناہگار بھی تھا تو اب پاک ہوگیا۔ اس لیے کہ ان لوگوں نے اسے چوس لیا ""یہ سنکر عبداللہ عامر حضرمی نے کہ جو حضرت عثمان کا عامل تھالبیک کہی اور اس طرح بنی امیہ کو جو مدینہ سے بھاگ کر آئے تھے ہم آواز ہوگئے اور جنگ کی مہم شروع ہوگئی۔
موقف حضرت ام مسلمہ :۔
شرح الہنج وغیرہ میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عائشہ جناب ام سلمہ کے پاس آئیں اور ان سے خوشامد کرکے ان کے فضائل شروع کردے انہوں نے مقصد پوچھا۔ فرمایا کہ حضرت عثمان کو لوگوں نے توبہ کے باوجود روزہ کی حالت میں قتل کر ڈالا ۔ اب میں انتقام کے لیے طلحہ و زبیر کو لے کر بصرہ جارہی ہوں آپ بھی چلئے۔ انہوں نے فرمایا کہ کل تک تو نقل سے تعیبر کرتی تھیں یہ کیا ہوا کیا تمہیں حضرت علی کے فضائل معلوم نہیں؟ کیا میں یاد دلاوں ؟ پولیس ہاں! فرمایا کیا یاد نہیں ہے وہ دن جب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی سے مناجات کر رہے تھے اور تم نے طول کلام کو دیکھ کر ٹوکنے کا قصد کیا میں نے روکا لیکن ہم نے ٹوک دیا کہ یا علی ۹ دن میں ایک دن ملتا ہے اس میں بھی تم باتیں کرتے رہتے ہو ۔ تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ فرمایا کہ جو علی دشمن ہے وہ ایمان سے خارج ہے اور اس پر تم نادم ہوکر واپس آئیں؟ بولیں ہاں یاد ہے فرمایا کیا یاد نہیں ہے جب حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہم لوگوں سے کلاب حواب کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ عورت دین حق سے برگشتہ ہوگی اور اس کے بعد تمہاری پشت پر ہاتھ رکھ کر یہ فرمایا تھا کہ حمیرا کہیں تم نہ ہو؟ بولیں یاد ہے۔ فرمایا کیا یاد نہیں ہے کہ ایک سفر میں حضرت علی حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تمام خدمت کر رہے تھے۔ کہ ایک دن اتفاق سے آپ کی نعلین شکستہ ہوگئی وہ مرمت کر رہے تھے کہ اتنے میں تمہارے باپ حضرت عمر کے ساتھ آگئے اور حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہنے لگے کہ ہمیں آپ کی زندگی کا اعتبار نہیں لہذا اپنے بعد کے لیے بتا دیجیے ۔ تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ اگربتادوں گا تو تم لوگ یونہی مخالفت کرو گے ۔ جس طرح بنی اسرائیل نے ہارون کی مخالفت کی ۔ پھر ان کے چلے جانے کے بعد ہم اور تم گئے اور حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ یہی جوتیاں ٹانکنے والا خلیفہ ہے پھر ہم نے دیکھا تو حضرت علی تھے۔ تم نے حضرت سے تصدیق چاہی تو آپ نےتصدیق کردی۔ بولیں یاد ہے۔
فرمایا کہ پھر اس خروج کا محؒ کیا ہے؟ بولیں کہ مجھے اصلاح مردم منظور ہے۔ ابن قنیبہ نے غریب الحدیث میں یہاں تک نقل کیا ہے کہ اس کے بعد جناب ام سلمہ نے بڑی شدت سے عائشہ کو روکا اور فرمایا کہ اسلام کی اصلاح عورتوں سے نہیں ہوسکتی۔ عورتوں کا کام عصمت و عفت کا تحفظ ہے نہ کہ مسافرت و مجاہدہ ، خدا کی قسم اگر میں تمہاری طرح نکل پڑوں اور کل مجھ سے جنت میں جانے کے لیے کہا جائے تو مجھے حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے شرم آئے گی کہ انکی پردہ داری پر حرف آگیا۔ (ابن البی الحدید ج ۲ ص ۷۹)
اس کے بعد جناب ام سلمہ نے امیرالمومنین کو خط لکھا کہ طلحہ و زبیر جیسے گمراہ افراد حضرت عائشہ و عبداللہ بن عامر کو لے کر آپ کے خلاف خروج کر رہے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ حضرت عثمان مظلوم قتل ہوا ہے خیر خدا ان کو دفع کرے گا لیکن اگر حکم خدا نہ ہوتا اور آپ کی ناراضگی کا خیال نہ ہوتا تو میں آپ کی مدد کے لیے آتی۔ اب میں اپنے بیٹے عمر ابن ابی سلمہ کو بھیج رہی ہوں۔ اس کو ہدایت فرمائیں چنانچہ جب عمر ابن ابی سلمہ آئے تو آپ نے ان کا کمال احترام فرمایا۔ اور پھر وہ تمام وقائع میں حضرت کے ہمرکاب رہے۔
موقف حضرت حفصہ :۔ اکثر اہل تاریخ نے نقل کیا ہے کہ جناب عائشہ نے حضرت حفصہ کو بھی دعوت دی کہ وہ بصرہ جنگ کے لیے چلیں۔ اور انہوں نے آمادگی بھی ظاہر کی۔ لیکن ان کے بھائی حضرت عبداللہ نے آکر روک دیا۔ (شرح النہج ج ۲ ص ۰۸)
موقف اشتر :۔ جناب اشتر نے مدینہ سے ایک خط حضرت عائشہ کو لکھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ سنا ہے کہ تم گھر سے نکل کر مسلمانوں کو اپنے محاسن دکھانا چاہتی ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خلاف حکم خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے۔ لہذا تم گھر میں بیٹھو ورنہ اگر تم باہر نکلیں تو یاد رکھو کہ میں اس وقت تک تم سے جہاد کروں گی جب تک تم کو گھر واپس نہ کردوں۔
قیادت عامہ :۔
اس لشکر کی قیادت خود جناب عائشہ کے ہاتھوں میں تھی۔ آپ خود ہی تنظیم لشکر فرماتی تھیں اور خود ہی اوامر و احکام صادر کرتی تھیں۔ نصب و عزل کے فرائض بھی آپ کے ہی ذمہ تھے۔ چنانچہ آپ نے اکثر لوگوں کو جنگ کی دعوت دی جن میں سے اہل بصیرت افراد نے انکار کر دیا اور بنی امیہ جیسے طماع اشخاص نے لبیک کہی۔ آپ کے لشکر میں ایک مردان بھی تھا جس کے حملے دونوں طرف ہوتے تھے تاکہ جس کی فتح ہوجائے اسی سے ملحق ہوجائے چنانچہ بعض کا کہنا ہے کہ طلحہ اسی کے تیر کا نشانہ بنے تھے۔
مکہ سے بصرہ تک :۔
جب جناب عائشہ نے روانگی کا قصد کیا تو بنی امیہ وغیرہ سے مشورہ کیا ۔ بعض نے کہا کہ براہ راست مدینہ چلیں۔ آپ نے جواب دیا کہ وہاں حضرت علی ؑ سے مقابلہ مشکل ہے۔ بعض نے عرض کیا پھر شام چلیں فرمایا کہ وہاں معاویہ کافی ہے لہذا ہمیں بصرہ جانا چاہیے وہاں طلحہ و زبیر کے اثرات زیادہ ہیں لہذا فتح کی امید زیادہ ہے چنانچہ اسی پر اتفاق ہوگیا اور آپ نے کوچ کا حکم دیا۔ عبداللہ بن عامر نے بے حد و انتہا مال و دولت اور ناقوں سے مدد کی یعلی بن امیہ نے چار لاکھ دے دی اور اس طرح کافی مطمئن ہوکر لشکر روانہ ہوا۔ آپ کے لیے ایک بہترین اونٹ جس کا نام عسکر تھا چھانٹا گیا جسے دیکھ کر آپ محفوظ ہوئیں۔ لیکن جب ساربان نے اس کے فضائل میں اس کا نام ذکر کیا تو آپ نے تڑپ کر واپسی کا قصد کیا۔ اور فرمایا کہ یہ رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیشین گوئی ہے ۔ لوگوں نے اونٹ تبدیل کرنا چاہا لیکن جب دوسرا نہ مل سکا تو اس کی پوشش بدل کر لے آئے اور آپ اس پر سوار ہوگئیں ۔ (شرح النہج ج ۳ ص ۸۰)
چشمہ حواب :۔
اکثر اہل اخبار و احادیث نے نقل کیا ہے کہ ایک دن سرکار رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے ازواج سے خطاب کرکے چشمہ حواب سے ڈراتے ہوئے انہیں وہاں تک جانے سے روکا تھا ۔ چنانچہ جس وقت آپ وہاں پہنچیں اور کتوں نے شور مچایا تو لوگوں نے حواب کے کتوں کی شکایت کی۔ آپ یہ سن کر بے چین ہوگئیں اور فرمایا کہ مجھے واپس کر دو۔ ایک شخص نے کہا یہ غلط ہے حواب گزر چکا ہےاس پر پچاس اشخاص نے گوہی بھی دے دی۔آپ ان کی قسم پر اعتبار کرکے آگے بڑھ گئیں۔
موقف ابوالاسود :۔
جب یہ قافلہ بصرہ کے قریب پہنچا تو استخبار حال کے لیے عثمان بن حنیف نے ابو الاسود کو بھیجا۔ انہوں نے حضرت عائشہ سے ارادہ معلوم کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں خون عثمان کا قصاص لینے آئی ہوں۔ انہوں نے عرض کیا کہ یہاں تو کوئی قاتل نہیں ہے ۔ فرمایا کہ قاتل حضرت علی ؑ کے ساتھ مدینہ میں ہیں ۔ میں فوج جمع کرنے آئی ہوں۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کا فریضہ گھر میں بیٹھنا ہے آپ واپس جائیں۔ حضرت علی ؑ امام ہیں وہ خود قصاص کا انتظام کرینگے۔ آپ نے غصہ میں فرمایا میں ہرگز واپس نہ ہوں گی۔ کون ہے جو میرا مقابلہ کرے انہوں نے کہا کہ پھر میں ایسا جہاد کروں گا کہ آپ بھی دیکھیں گی۔ یہ کہہ کر حضرت زبیر کے پاس گئے اور کہا کہ کل تو تم حضرت علی ؑ کے ساتھ تھے اور آج یہ سرکشی؟ انہوں نے قصاص کا عذر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں نے تو حضرت علی ؑ کو خلیفہ بنایا اور پھر اب یہ کیا؟ وہ خاموش ہوگیا۔ آپ طلحہ کے پاس گئے۔ لیکن اسے بھی گمراہی پر ثابت قدم پایا تو آکر عثما کو خبر دے دی کہ آپ بھی تیار ہوجائیں۔
موقف ابن صوحان :۔
بصرہ سے ایک خط حضرت عائشہ نے زید ب صوحا کو لکھا اے میرے خالص فرزند تمہاری روحانی ماں کا حکم ہے کہ تم وہی رہو اور لوگوں کو حضرت علی کے خلاف ابھارتے رہو پھر مجھے مسرت آمیز خبیریں بھیجتے رہو۔ انہوں نے جواب دیا آپ کے اور ہمارے فریضہ میں فرق ہے آپ کا فریضہ ہے گھر میں بیٹھنا ہمارا فریضہ ہے جہاد اب آپ مجھے حکم خدا کے خلاف حکم دے رہی ہیں تو میں جواب سے قاصر ہوں ۔
موقف جاریہ ب قدامہ :۔
طبری نے نقل کیا ہے کہ یہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہنے لگے خدا کی قسم عثمان کا قتل ہوجانا آپ کے اس ناقہ پر سوار ہوکر جنگ کرنے سے بدر جہاسبک ترہے۔ لہذا اگر آپ خود آئی ہیں تو واپس جائیں اور اگر مجبوراً لائی گئی ہیں تو لوگوں کی کمک و امداد سے واپس ہوجائیں۔
جوان بنی سعد :۔
اس مرد غیور نے طلحہ و زبیر سے خطاب کرکے کہا ""افسوس کہ تم نے اپنی عورتوں کو گھر میں محفوظ رکھا ہے اور اماں جان کو میدان میں لے آئے ہو ان کا فریضہ تھا کہ گھر میں رہیں۔ یہ اپنی ہتک کرنے نکل آئیں اور صد حیف کہ تم بھی اس پر راضی ہوگئے۔
غلام بنی جہینہ و محمد بن طلحہ :۔
اس شخص نے ابن طلحہ سے دریافت کیا کہ آخر عثمان کا قاتل کون تھا؟ اس نے کہا ان کا خون تین آدمیوں کی گردن پر ہے۔ طلحہ، علیؑ اور یہ پردہ نشین مغطمہ یہ سنکر وہ ام المومنین سے پھر حضرت علی ؑ کے ساتھ ہوگیا اور کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے کہ دو صحیح ہیں اور ایک غلط ۔
موقف احنف ب قیس :۔
بہیقی نے المحاس و المساوی ج ۱ ص ۳۵ میں حسن بصری سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ روز جمل احنف حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہنے لگ کیا یہ حکم رسول تھا کہ آپ جنگ کریں؟ فرمایا نہیں ۔ پوچھا کیا پھر قرآن کی کوئی آیت ہے؟ فرمایا کہ قرآن تو ہمارا تمہارا ایک ہے۔ سوال کیا تو کیا رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کفار کے مقابلہ میں کبھی آپ سے مدد مانگی تھی؟ فرمایا نہیں، عرض کیا پھر ہم غریبوں کا کیا قصور ہے؟ دوسری روایات کی بنا رپ سوالات اور زیادہ سخت تھے۔ جس کے نتیجہ میں آپ نے صلح کی پیش کش کر دی تو انہوں نے جواب دیا کہ اب تلواروں کے بعد اور وہ بھی آپ کےہاتھوں پر ؟ چنانچہ آپ نے غصہ میں فرمایا ۔ اللہ یہ اولاد کس قدر نافرمان ہوگئی ہے۔
موقف عبداللہ بن حکیم :۔
آپ حضرت طلحہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ یہ تمہارے خطوط موجود ہیں کہ جن میں قتل حضرت عثمان کا حکم مذکور ہے ۔ یہ آج کیا ہوگیا؟ آخر تم نے حضرت علی ؑ کی بیعت ہی کیوں کی تھی کہ آج یہ نوبت آگئی ؟ یہ سنکر حضرت طلحہ نے جواب دیا کہ اگر اس دین بیعت نہ کرتے تو آج یہ موقع نہ ملتا۔
موقف جشمی :۔
جس وقت یہ لشکر بصرہ کے قریب پہنچا اور لوگ جمع ہوئے تو جشمی نے قوم سے خطاب کیا۔ ""اگر یہ لوگ پناہ گزیں ہیں تو مکہ جائی پناہ وہاں ہے اور اگر طالب انتقام ہیں تو ہم لوگ حضرت عثمان کے وارث نہیں ہیں لہذا انہیں واپس کردو۔ ورنہ بڑی عظیم لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن قوم نے آپ کی ایک نہ سنی۔
خطبہ حضرت عائشہ :۔
اس کے بعد آپ نے اہل بصرہ سے خطاب کیا۔ اے قوم حضرت عثمان نے یقیناً غلطیاں کی تھیں لیکن بعد میں رفتہ رفتہ توبہ بھی کرلی تھی۔ پھر اس کے بعد بھی انہیں شہر حرام میں مظلوم ذبح کر ڈالا گیا یاد رکھو قریش نے اپنی تباہی خود مول لی ہے۔ عنقریب ان کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ حضرت عثمان نے کوئی ایسا گناہ نہیں کیا تھا کہ جس سے ان کا خون حلال ہوجاتا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اس کے تازیانے کی مخالفت کی جائے۔ اور ان پر علم ہونے والی تلواروں کی مخالفت نہ کی جائے۔ اس قوم نے ان پر ظلم کرکے انہیں بے گناہ قتل کر دیا اور پھر بلامشورہ حضرت علی ؑ کی بیعت کرلی ہے لہذا تم لوگ حضرت عثمان کے قاتلوں سے انتقام لو اور انہیں قتل کرنے کے بعد خلافت اس جماعت میں قرار دو کہ جس میں حضرت عمر نے مقرر کیا تھا""۔
تاریخوں میں ہے کہ اس خطبہ کے بعد شدید اختلا ف پھیل گیا بعض نے تائید کی اور بعض نے کہا کہ اس عورت کو گھر میں بیٹھنا چاہیے یہاں تک کہ طرفین میں جوتے چل گئے اور جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی فریق حضرت عائشہ اور فریق عثمان بن حنیف ۔
آغاز جنگ :۔
صبح ہوتے ہی طرفین سے جنگ کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ ادھر عثمان بن حنیف حضرت عائشہ کے پاس گئے اور انہیں خدا و اسلام کا واسطہ دیا پھر حضرت طلحہ و زبیر کے پاس گئے اور ان سے ذکر کیا کہ تم تو حضرت عثمان کے مخالفین میں تھے تم نے حضرت علیؑ کی بیعت کی تھی۔ اب کیا ہوگیا؟ اب لوگوں نے قصاص کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ اصل یہ ہے کہ تم طالب خلافت تھے۔ وہ تمہیں نہیں ملی ۔ اس لیے تم نے یہ صورت اختیار کی ہے۔ ان لوگوں نے ماں کی گالی دے دی۔ آپ نے فرمایا کہ زبیر کی ماں تو حضرت صفیہ ہے اس لیے میں مجبور ہوں البتہ طلحہ کی ماں تو وہ ۔۔۔۔۔ ہے۔ یہ کہہ کر آپ نے حملہ کر دیا اور اس طرح ایک شدید مقابلہ کے بعد طرفین میں صلح ہوگئی۔ اور یہ طے پایا۔ کہ جب تک امیرالمومنین نہ آجائیں اس وقت تک کوئی جنگ نہ ہو۔ لیکن حضرت طلحہ و زبیر اور حضرت عائشہ نے خفیہ طو رپر شیوخ عرب سے گفتگو اور مراسلت شروع کردی۔ اور اس طرح جب ایک لشکر کو اپنا ہم خیال بنا لیا تو ایک اندھیری رات میں سب اندر سے زرہ پہن کر دروازہ مسجد پر پہنچ گئے۔ جناب عثمان نماز صبح کے لیے کھڑے ہوئے تو قوم نے انہیں ہٹا کر حضرت زبیر کو آگے بڑھا دیا۔ پولیس نے اسے ہٹا دیا اور اس طرح نزاع شروع ہوگئی ۔ یہاں تک کہ طلوع آفتاب کا وقت ہوگیا تو حضرت زبیر کو قمدم کر دیا گیا اور نماز ہوگئ۔ اس کے بعد عثمان اور ان کے ۷۰ سپاہی گرفتار کرکے حضرت عائشہ کے پاس لائے گئے حالت یہ تھی کہ ان جانوروں نے حضرت عثمان کے تمام جسم کے بال نوچ ڈالے تھے۔ حضرت عائشہ نے دیکھر سب کے قتل کا حکم سنا دیا۔ عثمان نے کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میرا بھائی مدینہ میں ہے اگر میں قتل ہوگیا تو آپ کے خاندان کی خیر نہیں ہے۔ یہ سنکر لوگوں نے آپ کو چھوڑ دیا۔ لیکن سپاہیوں کو بری طرح ذبح کر دیا۔ یہ کام عبداللہ بن زبیر نے بحکم حضرت عائشہ سرانجام دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے بیت المال کا رخ کیا۔ وہاں کے معین سپاہیوں نے مدافعت کی لیکن آخر کار انہیں بھی گرفتار کیا گیا ااور وہ ۵۰ افراد بھی تہ تیغ کر دے گئے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام میں غداری اور بیدردی سے قتل کا یہ پہلا واقعہ تھا جس میں بقول ابن ابی الحدیہ ۴۰۰ مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ عثمان کو شہر بدر کر دیا گیا ۔ آپ حضرت علی ؑ کی خدمت میں روتے ہوئے پہنچے اورشکایت کی ۔ حضرت کلمہ استرجاع پڑھ کر بارگاہ الہٰی میں قوم کی حالت کا شکور کرتے ہوئے عرض کیا۔ مالک ! یہ قریش میری مخالف پر آمادہ ہوئے۔ میرا حق غصب کیا اور اب حرم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو لے کر میدان تک آگئے ہیں اپنے ازواج کو گھر میں رکھا ہے اور زوجہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میدان جنگ میں ان امور کی فریاد کرتا ہوں۔ اور تیری مدد کا طالب ہوں۔ افسوس کہ ان دونوں نے کل بخوشی میری بیعت کی تھی اور آج اس طرح میری مخالفت کر رہے ہیں کہ میرے سپاہیوں اور میرے چاہنے والوں کو بیدردی سے قتل کر رہے ہیں۔
موقف حکیم بن جبلہ :۔
جب آپ کو ان مظالم کی خبر ملی تو آپ ۳۰۰ آدمیوں کو لے کر نکل پڑے ۔ادھر سے حضرت عائشہ کی فوج نے مقابلہ کیا۔ اور طرفی میں شدید جنگ ہوئی اتفاقاً ایک ازدی نے آپ کا ایک پیر قطع کر دیا۔ آپ نے اسے اٹھا کر ازدی کو مار دیا وہ گرا اور آپ کھسکتے ہوئے اس کے قریب پہنچ گئے اور اسے دبا کر ختم کر دیا۔ ایک شخص نے یہ عالم دیکھ کر آپ سے سوال کیا یہ کس نے کیا ؟ فرمایا کہ میرے تکیہ نے ! اس نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ آپ ازدی کو دبائے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کےبعد آپ مع پوری جماعت کے شہید کردیئے گئے اور بصرہ کا میدان صاف ہوگیا۔ یہ واقعہ جمل اصغر کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کے بعد طلحہ و زبیر میں امامت جماعت کا اختلاف پھیلا تو حضرت عائشہ نے یہ حکم دیا کہ ایک ایک دن امامت کریں۔ پھر جب بیت المال کا مال ہاتھ ایا تو زبیر نے آیت پڑھی۔ اللہ نے تم سے مال غنیمت کا وعدہ کیا تھا۔ اور یہ جلدی ہی عطا کر دیا اور کہا کہ اہل بصرہ سے زیادہ اس مال کے حقدار ہم ہیں ۔ (شرح النہج ج ۲ ص ۵۰۱)
اس کے بعد حضرت علی ؑ وارد بصرہ ہوئے ۔ آپ کے پہنچتے ہی حضرت عائشہ ے یہ کوشش کی کہ آپ کو روک دیں۔ لیکن آپ نے نہایت ہی خندہ پیشانی سے ان لوگوں سے گفتگو فرمائی۔ اور اس طرح داخل بصرہ ہوگئے۔ آپ کی نرم کلامی کا منظر طبری نے کھینچا ہے۔ کہ آپ نے حضرت زبیر کو بلا کر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وہ حدیث یاد دلائی جس میں آپ نے حضرت زبیر سے کہا تھا کہ تم اپنے بھائی سے جنگ کرکے اس پر ظلم کرو گے تو زبیر نے قسم کھالی کہ جنگ نہ کروں گا۔ اور پھرپلٹ کر اپنےبیٹے سے ذکر کیا۔ کہ اس جنگ میں کوئی عقلمندی نہیں ہے اس نے کہا کہ مگہ سے بصیرت تھی اور اب ڈر گئے اس کو غصہ آگیا اور کہنے لگا کہ میں نے قسم کھالی ہے ۔ بیٹے نے جواب دیا کہ کفارہ میں اپنے غلام سر جس کو آزاد کر دیجیے ۔ اس نے غلام ٓازاد کر دیا۔ اور مقابلہ کے لیے آمادہ ہوگیا آپ نے زبیر سے یہ بھی فرمایا تھا کہ خون حضرت عثمان کا قصاص لینا چاہتا ہے حالانکہ واقعی قاتل تو ہے ۔ پھر آپ نے حضرت طلحہ کو نصیحت فرمائی کہ زوجہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سر میدان لے آیا اور اپنے ناموس کو گھر میں چھوڑ آیا۔ آخر تو نے کل تو میری بیعت کی تھی۔ لیکن اس نے کوئی سماعت نہ کی۔ پھر آپ نے اپنی قوم سے خطاب فرمایا۔ کوئی ایسا ہے جو قرآن کو ان کے سامنے پیش کرے۔ اور اگر ایک ہاتھ قلم ہوجائے تو اسے دوسرے ہاتھ سے اٹھائے اور اگر دونوں ہاتھ قلم ہوجائیں تو اسے دانت سے سنبھاے۔ ایک نوجوان تیار ہوگیا۔ اور قرآن کریم لے کر گیا۔ ان لوگوں کو قرآن سے دعوت فیصلہ دی۔ انہوں نے اس کے دونوں ہاتھ قلم کردیئے۔ اس مجاہد نے دانت سے قرآن سنبھالا ۔ لیکن آخر کار شہید ہوگیا۔ اس وقت آپ نے اپنی فوج سے اعلان کر دیا۔ کہ اب جنگ جائز ہوگئی ہے۔ اس نوجوان کی ماں کی مرثیہ بھی طبری میں مذکور ہے۔
اس کے بعد خود نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پردہ نشین محترمہ میدان جنگ میں آئیں تیور بدلے ہوئے شیرانہ حملوں کا قصد دل میں لئے ہوئے۔ جوانوں کو جوش دلاتی ہوئیں صفوں کے درمیان کھڑی ہوئیں بائیں طرف خطاب کیا یہ کون ہیں ؟ سب نے جواب دیا بنوازد آپ نے داد شجاعت دی۔ ان لوگوں نے اونٹ کی مینگنی کو سونگھ کر مشک سے بہتر بتایا ۔ پھر دائیں جانب رخ کیا۔ یہ کون ؟ سب نے کہا قبیلہ بکر بن وائل فرمایا تمہاری شجاعت تو شہرہ آفاق ہے پھر سامنے نظر کی ۔ یہ کون؟ سب نے عرض کیا بنوناہیہ ! فرمایا تمہاری تلواروں کا لوہا تو دنیا مانے ہوئے ہے۔ اس کے بعد آپ نے جگن پر سب کو بھینٹ چڑھادیا۔ لیکن اسطرح کہ مہارناقہ کی حفاظت ہوتی رہے چنانچہ ۴۰ پہلوا اسی حفاظت میں ختم ہوگئے۔ اور آخر کار ناقہ پے ہوگیا۔ اب اس کے بعد آپ لاوارث ہوگئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر آج حضرت علی ؑ کی غیرت نے آپ کا تحفظ نہ کیا ہوتا تو کیا ہوتا؟ یہ تو خدا کو معلوم ہے ہاں اتنا ضرور ہوا کہ آپ کے اس جہاد کے زیر اثر صفی و نہروان و کربلا کے حوادث رونما ہوگئے۔ جناب امیر نے گرتے ہوئے ہودج کے تحفظ کا انتظام کیا۔ محمد بن ابی بکر کو چند محترم عورتوں کے ساتھ متعین فرمایا اور اس طرح اپنی مکمل روحانی عظمت و شرافت کو دشمن کے سامنے ظاہر کردیا۔ مزید یہ کہ آپ نے تمام گرفتار شدگان کو بھی رہا فرما دیا۔
یہی واقعہ وہ ہے جسے جمل اکبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ ۱۰ جمادی الاخری سنہ ۳۶ ہجری کو رونما ہوا تھا۔ اس واقعہ میں ۱۳ ہزار حضرت عائشہ کے سپاہی اور تقریباًایک ہزار علوی مجاہد کام آئے۔
نقد و نظر :۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت عائشہ کو امیرالمومنی ؑ کی شخصیت کا مکمل علم تھا آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ برادر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم وصی بنی اور ہارون محمدی ہیں۔ پھر حجتہ الوداع میں آپ نے یہ بھی سن لیا تھا کہ یہ عدیل قرآن اور مولائے امت ہیں آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان سے جنگ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جنگ اور ان سے صلح رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے صلح ہےجس کے شاہد امام احمد حاکم طبرانی ترمذی اصابہ وغیرہ ہیں۔ خود آپ کے باپ کی روایت ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان حضرات سے جنگ کو اپنی جنگ سے تعبیر فرمایا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ ان کا دوست حلالی اور ان کا دشمن ۔۔۔۔۔۔ ہے۔ (عبقریتہ محمد عقاد)
کیا ان حقائق و معارف کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت عائشہ اس اجر آخرت اور ثواب کی طلب میں گھر سے نکلی تھیں۔ جسے اللہ نے صالح زوجات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے مہیا کیا ہے یا یہ کہا جائے کہ انہوں نے اللہ سے کوئی قرار داد کرلی تھی۔ کہ وہ ان سے اس عذاب کو اٹھالے گا۔ جس سے ازواج رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تہدید و تخویف کی ہے؟ یا یہ تصور کیا جائے کہ آپ نے اپنے خروج کو اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کا درجہ دیا تھا ۔ جس پر اللہ نے ازواج سے رزق کریم کا وعدہ کیا ہے۔ یا آپ اس تقوی کی تمثیل پیش کرنے آئی تھیں کہ جس پر زوجہ رسول کی عظمت کا دارو مدار تھا؟ یا اللہ نے آپ کو ابن صبہ کے گھر ہی میں قرار کا حکم دیا تھا یا لشکر کی سرداری ہی کو بناو سنگار کی مخالفت اور اطاعت کی مصروفیت کہتے ہیں یا یہ ادائے اوامر و نواہی کا کوئی انوکھا انداز تھا جو آپ نے اختیار کیا تھا؟ مسلمانوں کا کیا خیال ہے اس خطاب کے بارے میں جس میں قرآن نے آپ کو کج دل کجرو سے تعبیر کیا ہے اور یہ تہدید کی ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تمہارے طلاق کے بعد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو معقول ازواج عطا کر دے۔ کیا زوجہ نوح و لوط کی مثالیں عبرت کے لیے کافی نہیں ہیں کہ جہاں صرف خیانت پر زوجیت کے فوائد منقطع کر دیئے گئے ہیں۔
مورد نماز قصر :۔
سابق میں آیات محکمات و روایات و اضحات سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ سفر میں نماز قصر ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے نماز تمام پڑھی مزید لطف یہ ہے کہ مسلم میں قصر کی روایت آپ کی طرف بھی منسوب ہے۔
مورد تزویج اسماء بنت النعمان :۔
مستدرک حاکم طبقات ابن سعد وغیرہ میں یہ روایت ہے کہ حضرت اسماء سے عقد کرنے کے بعد ابی اسید سے کہا کہ انہیں لے آو۔ وہ رخصت کراکر لے آئے ۔ اب حضرت عائشہ و حفصہ نے ان کے بالوں میں کنگھی کی خضاب لگایا اور پھر ان سے کہہ دیا کہ وقت قرابت کلمہ اعوذ بااللہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بہت پسند ہے ۔ چنانچہ جب آپ قریب تشریف لے گئے تو انہوں نے کئی مرتبہ یہی کلمہ جاری کیا۔ آپ غصہ میں باہر نکل آئے اور ابواسید سے کہہ کر انہیں واپس کردیا۔ وہ زندگی بھر اپنے آپ کو بدبخت کہتی رہیں۔
مورد اتہام بر ابراہیم و حضرت ماریہ :۔
ایک دن حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت ابراہیم کو لئے ہوئے حضرت عائشہ کے پاس گئے۔ حضرت ابراہیم حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بہت مشابہ تھے۔ حضرت عائشہ نے آپ کو بدظن کرنے کے لیے کہہ دیا کہ ان کو آپ سے کوئی مشابہت حاصل نہیں ہے لیکن جناب امیر نے اس قول کو رد کر دیا۔ (مستدرک ۔ تلخیص )
مورد یوم المغافیر :۔
حضرت عائشہ راوی ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت زینب بنت حجش کے پاس بیٹھ کر شہد نوش فرمایا کرتے تھے۔ ایک د ہم نے اور حضرت حفصہ نے طے کیا کہ جب آپ باہر آئیں تو کہہ دیں کہ آپ نے گوند کھائی ہے۔ چنانچہ حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا گیا آپ نے فرمایا میں شہد کھایا ہے لیکن اب آئیندہ ترک کردوں گا لہذا کسی کو اطلاع نہ ہونے پائے۔
مورد حکم توبہ :۔
ظاہر ہے کہ خود حکم توبہ ان کے گناہوں پر دلیل ہے پھر قرآن کریم نے کھلے لفظوں میں ان کی کجروی اور کجدلی پر نص کردی ہے۔
مورد مقابلہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم :۔
قرآن کریم کا حکم ہے کہ اگر یہ دونوں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مقابلہ کریں گی تو رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ناصر اللہ و جبرئیل اور صالح المومنین ہیں۔ عبیدبن حنین کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن عباس نے بیان کیا کہ میں ایک آیت کے لیے سال بھر فکر کرتا رہا۔ کہ حضرت عمر سے پوچھ لوں۔ لیکن موقع نہ مل سکا۔ اتفاقاً ایک مرتبہ حج کے دوران موقع مل گیا۔ تو پہلے ہی میں نے یہ پوچھا۔ کہ ان دونوں سے مراد کون ہیں؟ فرمایا عائشہ و حفصہ ۔ صحیح البخاری ۱ ص ۳۳ ۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کا اتنا عظیم انتظام کسی مقام پر نہیں کیا ہے ۔ خواہ تمام عالمین ہی مقابلہ پر کیوں نہ آجائیں۔ اس اہتمام سے مقابل کی نفسانی کیفیت کا صاف اندازہ ہوتا ہے۔
مورد تمثیل قرآنی :۔
قرآن کریم نے آخر سورہ تحریم میں زوجہ نوح و لوط اور زوجہ فرعون کی مثال دے کر واضح کر دیا ہے کہ زوجیت کسی وقت بھی مفید نہیں ہوسکتی جب تک کہ عمل صالح ساتھ نہ ہو۔ بلکہ نفس کی کجی اور خیانت تو جملہ شرافتوں کو ختم کر دینے والی چیز ہے۔
مورد نسبت شرافت :۔
حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وحیہ کلبی کی بہن شراف سے عقد کرنا چاہا تو حضرت عائشہ کو دیکھنے کے لیے بھیجا۔ آپ پلٹ کر آئیں تو فرمایا کہ کوئی نتیجہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم ان سے جلتی ہو۔ تم نے غلط بیانی کی ہے انہوں نے عرض کیا کہ آپ سے تو کوئی بات چھپتی ہی نہیں (کنزالعمال ج ۶ ص ۲۹۴ طبقات ابن سعد)
مورد مخالفت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم :۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے باپ کے بارے میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بحث کی۔ اور کہہ دیا کہ آپ انصاف کریں تو میرے باپ نے ایک طمانچے مار کر مجھے تنبہیہ کی اس طرح کی میری ناک سے خون جاری ہوگیا۔ (کنرالعمال احیاء القلوب)
مورد جسارت :۔
ایک دن حضرت عائشہ کو غصہ آگیا ۔ تو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے فرمانے لگیں کہ آپ کو خیال ہے کہ آپ نبی ہیں (احیاء القلوب ج ۲ ص ۳۵ مکاشفقہ القلوب ص ۲۳۸)
مورد زم عثمان :۔
کسی مورخ و سیرت نگار کو اس میں شک نہیں ہے کہ قتل عثمان کے سلسلے میں آپ نے بڑے جہاد کئے ہیں بڑی زحمتیں برداشت کی ہیں چنانچہ ابن ابی الحدید کہتا ہے کہ ہر مصنف نے اس بات کو ذکر کیا ہے کہ آپ حضرت عثمان کی سخت مخالفت تھیں۔ یہاں تک کہ آپ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پیراہین نکال کر فریاد کی اور ان کو نقل و کافر کہہ کر لوگوں کو ان کے قتل کی دعوت دی۔ مدائنی نے کتاب الجمل میں نقل کیا ہے کہ وقت قتل حضرت عثمان آپ مکہ میں تھیں۔ جب آپ کو خبر ملی تو خوش ہوئیں ۔ لیکن جب اطلاع ہوئی کہ خلافت طلحہ کو نہیں ملی تو حضرت عثمان کا نوحہ شروع کردیا۔ آپ کے اقدامات کی تفصیل گزر چکی ہے آپ کے کلمات میں ایک جملہ یہ بھی ہے کہ اب خلافت بنی تیم میں نہ جاسکے گی ۔ آہ !
مورد احادیث عائشہ :۔
آپ نے حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جو احادیث نقل کے ہیں وہ قابل دید ہیں ۔ بخاری وغیرہ نے آپ سے روایت کی ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر وحی کی ابتداء خواب سے ہوئی پھر آپ تخلیہ میں جاتے تھے اور ملک وحی لاتا تھا ۔ ایک دن غار حرا میں ملک نے آکر کہا اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پڑھو۔ حضرت نے اپنے ان پڑھ ہونے کا عذر کیا ۔ اس نے خوب زور سے دبایا۔ اور کہا کہ اب پڑھو۔ آپ نے پھر عذر کیا اس نے پھر دبایا ۔ یہاں تک کہ تیسری مرتبہ اقراء پڑھ لیا۔ اور ہانپتے کانپتے حضرت خدیجہ کے پاس آئے آپ نے تشقی دی۔ اور ورقہ بن نوفل نصرانی کاتب انجیل کے پاس لے گئیں اس نے سنکر کہ یہی ناموس الہٰی ہے جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوا تھا کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب تمہاری ہی قوم تم کو وطن سے نکال دے گی (بخاری مسلم ترمذی نسائی)
اقول :۔
اس روایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو رسالت قرآن ملک سب ہی میں شک تھا جس کے ازالہ کے لیے ایک مدد گار زوجہ اور تسلی دینے والے نصرانی کی ضرورت تھی (معاذ اللہ) ہم نے روایت میں بہت ہی غور کیا لیکن اس ملکوتی شدت کا کوئی سبب نظر نہیں آیا۔ جبکہ یہ حالت تاریخ میں سوائے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی اور نبی کے لیے درج نہیں کی گئی۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ملک کا مطلب سمجھنے سے بھی قاصر تھے۔ ملک کا مقصد تھا کہ ہمارے ساتھ پڑھو۔ اور آپ اس سے یہ سمجھے کہ خود سے پڑھنے کا حکم ہے جو کہ بناء برروایت محال تھا۔ کیا نبی کی یہی شان ہے؟ معلوم ہوا کہ روایت مضمون اور سند دونوں کے اعتبار سے ساقط ہے سند کے لیے لطیفہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ کی ولادت بعثت کے کم از کم ۴ برس بعد ہوئی ہے اور روایت پیدائش کے پہلے کی ہے ، یہ خیال نہ ہو کہ آپ نے کسی سے سنکر بیان کیا ہوگا۔ اس لیے کہ اس صورت میں جب تک واسطہ نہ معلوم ہو روایت بے کار ہوا کرتی ہے کیونکہ منافقین اس وقت تا بالاتفاق موجود تھے۔ یہ اور بات ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے انتقال کے ساتھ ہی صحابہ سے نفاق ختم ہوگیا۔
تاویلات حضرت خالد
مورد فتح مکہ :۔
اہل سیر و مسانید کا اتفاق ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فتح مکہ کے موقع پر قتل و غارت کی شدید ممانعت فرمادی تھی۔ بالخصوص خالد و زبیر کو آپ نے تبہیہ بھی فرمادی تھی۔ لیک اس کے باوجود حضرت خالد نے ۲۰ سے زیادہ قریش اور ۴ بنی ہذیل کو نہ تیغ کر دیا۔ چنانچہ جب حضرت داخل مکہ ہوئے اور آپ نے ایک عورت کو مقتول پایا تو آپ نے قاتل کے بارے میں سوال کیا۔ لوگوں نے حضرت خالد کا نام بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ خالد کو فوراً منع کردو کہ عورتوں اور بچوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (عبقریہ عمر عقاد ص ۲۶۶)
مورد یوم جذیمہ :۔
فتح مکہ کے بعد حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت خالد کو بنی جذیمہ کے پاس دعوت اسلام کی غرض سے روانہ کیا۔ لیکن چونکہ انہوں نے جاہلیت میں خالد کے چچا خاکہ بن مغیرہ کو قتل کر دیا تھا۔ اس لیے اس نے بلا تکلف ان لوگوں سے اسلحہ رکھوا کر انہیں زبردستی تہ تیغ کر دیا۔ جب حضرت کو اس کی خبر ملی تو آپ نے بارگاہ احدیت میں خالد کے عمل سے برات و بیزاری کا اظہار فرمایا۔ (بخاری ج ۳ ص ۴۸ مسند احمد)
اس کے بعد حضرت علی کو بھیج کر ایک مال کثیر سے ان سب کی دیت ادا کرائی ۔ آپ نے بھی صغیر و کبیر شریف و حقیر سب کی دیت ادا کی اور پھر باقی ماندہ مال بھی انہیں کے حوالہ کر دیا۔ جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے اس عمل کو اتحسان کیا، طبری کامل استیعاب۔
عقاد نے اس واقعہ کو بھی عبقریہ عمر میں نقل کیا ہے جس کا تتمہ یہ ہے کہ حضرت نے سوال کیا کہ خالد کو کسی نے اس عمل سے روکا یا نہیں ؟ تو بنی حذیمہ کے ایک مغرور آدمی نے دو شخصوں کا حوالہ دیا جس سے مراد بقول حضرت عمر عبداللہ بن عمر اور سالم تھے۔ حضرت خالد کی حکم کے مطابق جملہ اسیر قتل کئے گئے لیکن ان دونوں نے اپنے اسیروں کو رہا کر دیا۔ حضرت نے اس خبر کے بعد حضرت خالد سے برات کی اور حضرت علی ؑ کے ذریعہ سب کی دیت ادا کرائی۔
اقول :۔
دیت کی علت شاید یہ تھی کہ ان لوگوں کا اسلام بالکل واضح نہ تھا ورنہ مسلمان کے مقابلہ میں مسلمان سے قصاص ہوتا نہ کہ دیت حضرت خالد کے کارنامے بطاح کے سلسلے میں ذکر ہوچکے ہیں۔ ناظرین بغور مطالعہ کریں۔ اور یہ دیکھیں کہ خلیفہ اول نے کن بنیادوں پر اس کی موافقت کی تھی اور خلیفہ ثانی کا معیار موافقت کیا تھا؟ اور انہوں نے خلافت کے بعد فوراً ہی اسے کیوں معزول کر دیا تھا؟ حضرت عمر کی مخالفت کا تو یہ عالم تھا کہ آپ نے حضرت خالد کو کبھی کوئی درجہ نہیں دیا۔ البتہ ایک مرتبہ تنسرین پر حاکم بنا دیا تو وہاں اس نے اشعت بن قیس کو ۱۰ ہزار کی اجازت دے دی اور جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے حمص کے حاکم ابو عبیدہ کو لکھا کہ خالد کو ایک پیر پر کھڑا کرو اور دوسرا پیر عمامہ سے باندھ دو۔ اور پھر سب کے سامنے اس کی کلاہ اتار لوتا کہ اس کو اس عمل کی برائی کا اندازہ ہوسکے۔ اس لیے کہ یہ مال اگر اپنے پاس سے دیا ہے تو اسراف ہے اور اگر امت کا مال ہے تو خیانت ہے۔ ان تمام باتوں کے بعد اسے معزول کردو اور تم حکومت کرو۔ حضرت ابوعبیدہ نے حضرت خالد کو طلب کیا اور مسجد میں یہ سوال کیا،۔ اس نے سکوت اختیار کیا حضرت ابو عبیدہ بھی چپ ہوگئے۔ لیکن بلال فی جب حسب نصیحت حضرت عمر اسے باندھ دیا اور پھر سوال ہوا۔ اس نے کہا کہ میں نے اپنے مال سے دیا ہے ۔ یہ سنکر حضرت ابوعبیدہ نے اسے چھوڑ دیا۔ اور پھر اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھ دیا لیکن معزولی کی اطلاع نہ دی۔ پھر جب ایک عرصہ تک حضرت خالد واپس نہ ہوئے تو حضرت عمر نے براہ راست لکھ کر اسے معزول کر دیا اور پھر کوئی عہدہ نہیں دیا۔ اس واقعہ کو اسی طرح عقاد نے عبقریہ عمر میں نقل کیا ہے۔
اقول :۔
ایسا ہی ایک واقعہ حضرت ابوبکر کے زمانہ کا ہے ۔ جب حضرت خالد نے مرتدین کو جلادیا تھا تو حضرت عمر نے اعتراض کیا تھا کہ یہ عذاب خدا ہے ۔ تو حضرت ابوبکر نے یہ کہا تھا کہ یہ اللہ کی تلوار ہے ۔ (کنز العمال طبقات سنن ابن ابی شیبہ )
حضرت عمر کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے صاف واضح ہوجاتا ہے ۔ کہ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی باوقاری آدمی کو سر اٹھانے کی رخصت نہیں دی جس کی تفصیل سابق میں گزر چکی ہے۔
تاویلات حضرت معاویہ
موردالحاق زیاد :۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ نے زیاد کو اپنے نسب میں اس دعویٰ سے شامل کرلیا کہ میرے باپ حضرت ابوسفیان نے سمیہ کے ساتھ زنا کیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں زیاد کی ولادت ہوئی تھی اور اس پر ابو حریم نے شہادت بھی دی تھی۔ حالانکہ حدیث رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صراحتاً اس امر پر دلالت کی رہی ہے کہ لڑکا صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کی قسمت میں صرف پتھر ہیں۔
یہ وہ جاہلی عمل تھا کہ جس پر مسلم اکثریت نے اعتراض بھی کیا لیکن حضرت معاویہ نے کوئی پرواہ نہ کی۔ بلکہ اس شخص سے نفرت شروع کردی جس نے زیاد کو اس کا بھائی تسلیم نہ کیا۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے اسے معاویہ اپنے باپ کی عفت سے نالاں ہے اور اس کے زنا سے راضی۔
مورد خلافت یزید :۔
حضرت معاویہ باوجودیکہ یزید کی حیثیت اور اس کے گردار سے واقف تھا لیکن اس نے یزید کو اپنا خلیفہ بنا دیا جبکہ اس وقت سبط رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت امام حسین ؑ کے علاوہ اکثر مہاجرین و انصار علماء و قراء بھی موجود تھے ۔ کہ جو جمہوری قانون کی بناء پر مستحق خلافت تھے۔ اس استخلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ یزید نے کربلا میں وہ واقعہ ایجاد کیا کہ جس نے انبیاء مرسلین کے ساتھ پتھروں کو بھی خون کے آنسو رلایا۔ اور پھر اپنے باپ کی وصیت کی بناء پر (مسلم ) بن عقبہ کے ذریعہ مدینہ طیبہ کو تاراج کرادیا۔ یہاں تک کہ مورخین کے بیان کے مطابق ایک ہزار خو بھی حلال کر لیا گیا۔ اور بعض روایات کی بنا پر سپاہیوں نے شیر خوار بچوں کو ماں کی گود سے لے کر دیوار پر اس طرح مار دیا کہ اس کا دماغ پاش پاش ہوگیا ۔ پھر ان تمام مظالم کے بعد اہل مدینہ سے غلامی کی بیعت لیکر ان کے سر امیر کے پاس روانہ کر دیئے گئے ۔ اور جب اس نے سر دیکھے تو مارے خوشی کے اشعار گنگنانے لگا۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد مجرم نے مکہ کا رخ کیا۔ تاکہ ابن زبیر سے مقابلہ کرے ۔ اتفاقاً اثناء راہ میں واصل جہنم ہوگیا۔ تو حصین بن نمیر نے قیادت سنبھالی ۔ اور اس نے بھی مکہ معظمہ کو تباہ کرکے خانہ کعبہ کا غلاف جلادیا۔ اس پر منجنیق سے پتھراو کیا۔ یہ وہ کارنامے ہیں کہ جو صفحہ کاغذ پر لکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ بلکہ یہ تو قلب تاریخ اور سینہ گیتی پر نقش ہیں۔
افسوس کہ حضرت معاویہ نے باوجود اس علم کے یزید شراب خواد قمار باز زنا کار اور فاسق و فاجر ہے اسے تخت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وارث بنا دیا جبکہ حدیث رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صراحتا اعلان کر رہی تھی کہ جو حاکم رعیت کے ساتھ خیانت کرے گا اس پر جنت حرام ہے (بخاری ج ۴ ص ۱۵۰) جو حاکم دوسرے کو بلاوجہ شرعی حاکم بنادے گا اس پر اللہ کی لعنت اور وہ جہنمی ہے۔ (مسند احمد) جو رعیت کا نگران ہوگا اور ان کو نصحیت نہ کرے گا وہ بوئے جنت سے محروم رہے گا (بخاری)
مورد مظالم یمن :۔
سنہ ۴۰ ہجری میں حضرت معاویہ نے بسر بن ارطاہ کو یمن روانہ کیا تاکہ وہ وہاں تباہی و بربادی برپا کرے ۔ چنانچہ وہ لشکر لے کر وہاں پہنچا ۔ عبیداللہ بن عباس وہاں جناب امیر کی طرف سے حاکم تھے۔ یہ دیکھ کر انہوںنے اپنے بچو کو نانا کے سپرد کیا اور خود فرار ہوگئےء ادھر اس منحوس لشکر نے قتل و غارت کے ساتھ ہمدان کی لڑکیوں کو گرفتار کرکے انہیں سربازار فروخت کرنا شروع کیا۔ (استیعاب) اس کے بعد ابن عباس کی خسر کو قتل کرکے ان کے بچوں کو تلاش کیا ۔ وہ ایک شخص کے پاس ملے۔ ان لوگوں نے انہیں قتل کرنا چاہا۔ اس نے مدافعت کی تو پہلے اسے قتل کیا۔ اس کے بعد بچوں کو ماں کے سامنے یہ تیغ کر دیا۔ جس کے زیر اثر زوجہ ابن عباس کا دماغ مختل ہوگیا۔ (استیعاب ) یہاں تک کہ یہ منظر دیکھ کر ایک عورت نے بسر سے کہا کہ ایسا عمل تو جاہلیت میں بھی نہ تھا خدا کی قسم جس سلطنت کی بنیاد ان مظالم پر ہو وہ بدترین سلطنت ہے۔ (فصول مہمہ)
مورد قتل صالحین :۔
معاویہ کے مظالم کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس نے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو زہر سے شہید کرا دیا جیسا کہ ابوالحسن ( ۱) ( شرح النہج ج ۴ ص ۴ ) مدائینی لکھتا ہے ۔ امیر شام معاویہ نے جعدہ بنت اشعت سے یہ وعدہ کیا کہ اگر وہ امام حسن علیہ السلام کو قتل کر دے تو ایک لاکھ انعام دے گا اور یزید سے عقد بھی کر دیگا۔ اس نے آپ کو زہر دے دیا ۔ لیکن امیر شام معاویہ نے مال تو دے دیا البتہ عقد سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے یزید کی جان پیاری ہے حصین بن منذر کا کہنا ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت حسن ؑ کے ساتھ کسی ایک شرط پر بھی عمل نہیں کیا ۔چنانچہ حجر اور ان کے اصحاب کو قتل کیا۔ یزید کو خلافت دی۔ اور خود امام حسن ؑ کو زہر دلادیا۔ ابوالفرح اصفہانی مقاتل الطالسین میں لکھتا ہے کہ امیر شام معاویہ کے سامنے یزید کے مقابل دو قوتیں تھیں ۔ امام حسن ؑ سعد بن ابی وقاص اس نے دونوں کو زہر دلادیا۔
صاحب استیعاب نے لکھا ہے کہ امام حسن کو بنت اشعث نے زہر دیا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ اس کا محرک معاویہ تھا۔
اس حادثہ کے بعد دوسرا اہم حادثہ وہ ہی کہ جس میں حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو سنہ ۵۱ ہجری میں تہ تیغ کیا گیا۔ صرف اس جرم می کہ ان حضرات نے حضرت علیؑ پر لعنت نہیں کی۔ یہی وہ واقعہ تھا کہ جس پر تمام اصحاب و تابعین نے اس کی مذمت کی ہے اور تمام مورخین نے اسے نقل کیا ہے ۔ اس کے بعد ایک ظلم یہ ہوا کہ عمر بن الحمق الخزاعی کو صرف حضرت علی کی محبت کے جرم میں قتل کرکے ان کا سر نیزہ پر بلند کر دیا کہ جو تاریخ اسلام کا پہلا واقعہ تھا۔
یہ سلسلہ اسی مقام پر ختم نہیں ہوا بلکہ تاریخ میں یہاں تک موجود ہے کہ اگر کسی سے یزید کی خلافت کے سلسلہ میں اندیشہ پیدا ہوگیا تو اس کا فوراً خاتمہ کر دیا۔ خواہ وہ اپنا خاص دوست اور ہمدرد ہی کیوں نہ رہا ہو۔ جس کا شاہد عبدالرحمن بن خالد قتل ہے کہ جو تاریک میں آج تک نمایاں ہے۔
مورد افعال قبیحہ :۔
حقیقت امر یہ ہے کہ اگر معاویہ کے افعال قبیحہ اور اعمال شنیعہ کی فہرست تیار کی جائے تو شاید سمندروں کی سیاہی ختم ہوجائے انسانوں کے ہاتھ تھک جائیں اور یہ سلسلہ ختم نہ ہوسکے۔ یہی کیا کم ہے کہ اس شخص نے امت اسلامیہ کی گرد پر ابن شعبہ، ابن عاص ، ابن سعد، ابن ارطاہ ، ابن جذب ، مردا ، ابن اسمط، زیاد، ابن مرجانہ اور ولید جیسے اراذل و اوباش کو حاکم بنا دیا جس کی وجہ سے اسلامی احکام کی علی الاعلان ہتک حرمت ہوئی۔
مورد بغض علی ؑ :۔
امیر شام معاویہ کا بغض امیرالمومنین ؑ کے ساتھ اپنی شہرت و حقیقت میں وہی حیثیت رکھتا ہے کہ جو قضیہ شیطان و آدم کی ہے ۔ دنیا کا کون مورخ سیرت نگار تاریخ دان بلکہ اہل نظر ایسا ہے کہ جسے اس بغض و حسد کی خبر نہ ہو۔ حالانکہ ادھر احادیث صحیحہ میں امیر المومنین کی محبت و عداوت کے آثار و احکام صراحتا مذکور ہیں چنانچہ حضرت سلیمان فارسی پر اعتراض کیا گیا کہ آپ حضرت علی ؑ کو زیادہ دوست رکھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ارشاد ہے ۔ ان کا دوست میرا دوست اور ان کا دشمن میرا دشمن ہے ۔ حضرت عمار نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ دوست علی ؑ کے طوبی اور دشمن علی ؑ کے لیے ویل ہے ۔ (مستدرک ۳ ص ۱۳۵)
حضرت ابو سعید خدری نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے کہ ہم اہل بیت کا دشمن صرف جہنمی ہوسکتا ہے (مستدرک ) حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک منافقین کے علامات میں انکار رسول ترک نماز اور بغض علی تھا۔ (مستدرک ) ابن عباس کہتے ہی کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ؑ کو دیکھ کر فرمایا کہ تم دنیا و آخرت کے سردار ہو۔ تمہارا دوست میرا دوست اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے ۔ عمرو بن شاس اسلمی کہتا ہے کہ میں حضرت علی کے ساتھ یم جارہا تھا راستہ میں آپ نے مجھے تکلیف دی۔ میں نے پلٹ کر مسجد میں ذکر کر دیا۔ ادھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خبر مل گئی۔ آپ نے بلا کر فرمایا کہ تم نے مجھے اذیت دی ہے ۔ اس لیے کہ حضرت علیؑ کی اذیت میری اذیت ہے۔ (مستدرک ) حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا جو علی سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا اور جو مجھ سے الگ ہوا وہ اللہ سے الگ ہوگیا ۔ صاحب استیعاب نے آپ کے حالات می یہ حدیث نقل کی ہے کہ بقوول پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا محب حضرت کا محب اور آپ کا دشمن حضرت کا دشمن ہے ۔ جس نے آپ کو اذیت دی اس نے خدا و رسول کو اذیت دی۔
طبرانی وغیرہ نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قول نقل کیا ہے کہ اقوام کو کیا ہوگیا ہے کہ جو حضرت علی سے بغض رکھتے ہیں حالانکہ اس سے بغض مجھ سے بغض ہے۔ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ہم دونوں طینت ابراہمبی سے خلق ہوئے ہیں اے بریدہ یاد رکھ کہ علی میرے بعد تم سب کا ولی ہے ایک مرتبہ چند لوگوں نے آپ کی شکایت آنحضرت سے کی تو حضرت نے فرمایا کہ تم سب علی سے کیا چاہتے ہو؟ وہ مجھ سے ہے اور میں اس ہوں ۔ وہ تم سب کا ولی ہے استیعاب میں یہ بھی مذکور ہے کہ آنحضرت نے دوست علی ؑ کو مومن اور دشمن علی کو مناف سے تعبیر فرمایا ہے ۔
اقول :۔
ان روایات کے علاوہ مسلم نے بھی محبت امیر کی روایت نقل کی ہے۔جس کے تفصیلات کی گنجائش نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں من کنت ومولا کے ساتھ اللہم و ال من والا کا کلمہ اثبات مطلب کے لیے بہت کافی ہے۔
مورد لعنت معاویہ :۔
وہ اہل بیت جنہیں اللہ نے ہر رجس ظاہری و باطنی سے پاک کیا جن کی محبت و اطاعت فرض قرار دی جن کو قرآن کا عدیل قرار دیا۔ جن کا ایک محبوب و محب خدا و رسول وزیر وصی نبی تو ایک نصعتہ الرسول اور بنت النبی دو سردار جوانان جنت مگر افسوس کہ معاویہ نے اان مقدس ہستیوں کو اپنے قنوت میں مورد لغت بنادیا۔ اور ان کسیاتھ ابن عباس کو بھی شامل کر دیا۔ حالانکہ اسے ضرورتا معلوم تھا کہ یہ مرکز وحی معدن علم اہل بیت نبوت اور موضح رسالت ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ امیرالمومنین برادر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر لغت کو ایک رسمی امر بنا کر تمام اعمال پر لازم قرار دے دیا۔ اور اس کے طرح جمعہ و عیدین کے خطبوں میں لغت جاری ہوگئی۔ اور یہ سلسلہ سنہ ۹۹ ہجری تک جاری رہا یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس سلسلہ کو بند کیا اور ارواح طاہرہ کو یک گونہ سکون نصیب ہوا امام حسن ؑ نے باوجود یکہ شرائط صلح میں یہ طے کیا تھا کہ امام پر لغت کا سد باب ہوجائے۔ لیکن طبری کامل ابوالفداء ابن شحنہ سب نے نقل کیا ہے کہ حضرت معاویہ نے اس شرط پر وفا نہیں کی۔ بلکہ امام حسن ؑ کے منبر کوفہ پر موجود ہوتے ہوئے امام پر سب و شتم کیا۔ اور جب امام حسین ؑ نے روکنا چاہا تو امام حسن نے منع کیا جیسا کہ مقاتل الطالیبین وغیرہ میں مذکور ہے حد ہوگئی کہ امیر شام معاویہ نے اس سب و شم کا حکم احنف بن قیس اور عقیل کو بھی دیا۔ لیکن انہوں نے قبول نہ کیا (ابوالفداء) عامر بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہی کہ حضرت معاویہ نے میرے باپ کو سب و شتم کا حکم دیا تو انہوں نے کہا کہ اگر علی ؑ کے لیے یہ تین فضائل نہ ہوتے تو خیر اس لے کہ یہ ایک ایک فضل میری نظر میں ایک عالم سے بہتر ہے اول یہ کہ وہ نبص رسول مثل ہارو موسیٰ ہیں ۔ ثانیا یہ کہ انہیں خیبر میں ہم سب پر فوقیت حاصل ہوئی۔ اور ثالثا یہ کہ وہ مباہلہ میں نفس و اہل بیت قرار پائے۔ (مسلم) اہل نظر یہ بھی جانتے ہیں کہ معاویہ نے حجر بن عدی وغیرہ کو خون بھی اس جرم میں بہایا ہے کہ انہوں نے لغت سے انکار کر دیا تھا ۔ (آغانی طبری کامل) ان کتابوں میں یہاں تک مذکور ہے کہ عبدالرحمن بن حسان نے جب لغت سے انکار کیا تو انہیں زیاد کے پاس روانہ کرکے یہ لکھ دیا کہ ان کو اس طرح قتل کرو جس طرح آج تک کوئی قتل نہ ہوا ہو اس نے انہیں زندہ دفن کرادیا۔ ابن ابی الحدید نے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ایک اموی نے پوچھ لیا کہ اے امیر یہ سلسلہ کب تک ؟ تو کہا کہ جب تک کہ بچے جوان اور ضعیف قریب مرگ نہ ہوجائیں۔ تاکہ کسی کو حضرت علی ؑ کی فضیلت یاد نہ رہے۔ یہ تمام باتیں اس وقت تھیں جبکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی پر سہ و شتم کو اپنے سب و شتم کے برابر قرار دیا تھا۔ (حاکم احمد)
استیعاب میں بھی حضرت علی کے حالات میں اس قسم کے روایت مذکور ہیں اس کے علاوہ اسلام کا بدیہی مسئلہ ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں مذکور ہے (الالعنت اللہ علی الکافرین)
مورد حرب باعلی :۔
امیرالمومنین ؑ کے لیے بیعت تمام ہونے کے باوجود امیر شام معاویہ نے شام کے اوباشوں کا لشکر تیار کرکے آپ کے مقابلہ کا قصد کیا اور جس کے نتیجہ میں اپنی شقادت اور خباثت کا مظاہرہ کرکے لاتعداد صالحین و اصحاب و تابعین کو تہ تیغ کر دیا۔ حالانکہ قتال مسلم کفر ہے (بخاری و مسلم) تفریق جماعت مستوجب قتل ہے (مسلم) حضرت علیؑ ناکثین و قاسطین و مارقین کے جہاد پر مامود تھے (استیعاب) اور خود فرماتے تھے کہ اب سوائے جنگ یا کفر کے کوئی راہ باقی نہیں ہے ۔ امام کے لیے قرآن مجید کا صریحی حکم کافی تھا کہ اولاً مومنین میں اصلاح کی کوشش کرو اور اگر کوئی تعدی کرے تو اس سے جہاد کرو۔ پھر یہ کہ معاویہ کی بغاوت تو عصر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی سے مسلمانوں کو معلوم ہوچکی تھی۔ جب کہ براویت حضرت ابوسعید خدری حضرت عمار تعمیر مسجد میں زیادہ حصہ لے رہے تھے ۔ اور حضرت نے فرمایا تھا کہ عمار کا قاتل ایک باغی فرقہ ہوگا جو لوگوں کو جہنم کی دعوت دے رہا ہوگا۔ قرآن مجید کے دوسرے حکم کے مطابق جہنم کی دعوت دینے والا امام دار دنیا میں لعنت کا حقدار ہو جاتا ہے افسوس کہ ان بدبخت نام نہاد مسلمانوں نے ان تمام نصوص کو نظر انداز بالخصوص یا جملہ اہل بیت سے جنگ کو اپنے قتال کے برابر قرار دیا تھا۔
مورد وضع احادیث :۔
ابن ابی الحدید ابو جعفر اسکانی سے نقل کیا ہے کہ امیر شام معاویہ نے حضرت ابوہریرہ ، عمروالعاص ، مغیرہ اور عروہ بن بن زبیر کے قسم کے لوگوں کو اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ حضرت علی ؑ کی منقصت میں روایات وضع کرے اور اس طرح حضرت معاویہ کی حکومت میں یہ کاروباری جاری ہوگیا۔ چنانچہ زہری کہتا ہے کہ مجھ سے عروہ نے حضرت عائشہ کے حوالے سے بیان کیا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیؑ اور حضرت عباس ؑ کو د یکھ کر فرمایا تھا کہ یہ دونوں غیردین اسلام پر مریں گے۔ (نعوذ باللہ)
عبدالرزاق نے معمر سے نقل کیا ہے کہ عروہ کی دو روایات زہری کے پاس تھے ایک وہی جو ابھی ذکر ہوئی اور ایک کا مضمون یہ تھا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان دونوں بزرگوں کے ناری ہونیکی خبر دی ہے۔ (العباذ اللہ)
عمروالعاص نے اپنے فریضہ کے مطابق یہ روایت تیار کی کہ آل ابو طالب میرے دوست نہیں ہیں میرا دوست اللہ ہے اور عباد صالحین (بخاری و مسلم ) ابوہریرہ نے یہ روایت وضع کی کہ حضرت امیر نے ابوجہل کی لڑکی کو پیغام دیا تو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غصہ میں منبر پر اعلان فرمایا کہ میری لڑکی دشمن خدا کی لڑکی کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی ۔ فاطمہ کو اذیت دینا مجھے اذیت دینا ہے۔ اگر حضرت علی کا قصد عقد ثانی کا ہے تو میری لڑکی کو چھوڑ دیں۔ (بخاری و مسلم)
سید مرتضیٰ نے بیان کی ہے کہ یہ روایت حسین کو بیسی کی ہے جس کا بغض و حسد معروف ہے۔ ابو جعفر نے اعمش سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جب معاویہ کے ساتھ ابوہرہ عراق آیا تو مسجد کوفہ میں اس نے اعلان کیا کہ لوگ مجھے کاذب خیال کرتے ہیں حالانکہ خدا کی قسم میں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سنا ہے کہ جو شخص حرم نبی میں کوئی حادثہ واقع کرے گا اس پر خدا و رسول اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی نے ایسا کیا ہے اس کے عوض میں معاویہ نے ابوہریرہ کو انعام کثیر دے کر مدینہ کا حاکم بنادیا حضرت سفیان ثوری نے عمر بن عبدالغفار سے نقل کیا ہے کہ جب ابوہریرہ کوفہ آیا تو اس نے روزانہ شام کے وقت اپنی نشست قائم کرلی ایک دن ایک شخص ( ۱ صبغ بن نباتہ) نے اس سے پوچھا کہ خدا کو حاضرو ناظر جان کر یہ بیان کرو کہ تم نے رسول اکرم ص سے یہ سنا ہے یا نہیں کہ حضرت علی ؑ کا دوست دوست خدااور علی ؑ کا دشمن دشمن خدا ہے اس نے اعتراف کیا تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم تو حبیب کے خدا دشمن کا دوست ہے اور یہ کہہ کر روانہ ہوگئے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ معاویہ نے امیرالمومنین ؑ پر ظلم کی کوئی ترکیب باقی نہیں رکھی۔ وسیعلم الذین ظلمو ا ای منقلب ینقلبون
مورد نقص عہد :۔
جب امیر شام معاویہ نے امام حسن ؑ کو دعوت صلح دی اور آپ کی نظر میں بھی اس میں مصلحت نظر آئی تو آپ نے چند مخصوص شرائط کے ساتھ اسے منظور فرمالیا۔ جس کا واقعہ یہ ہے کہ معاویہ نے ایک سفید کاغذ مہرلگا کر روانہ کر دیا کہ آپ جو چاہیں تحریر کردیں۔ (طبری کامل) آپ نے بجائے اپنے دست مبارک سے لکھنے کے معاویہ کے قاصد عبداللہ بن عامر سے لکھوایا اور کاغذ روانہ کر دیا۔ حضرت معاویہ نے اس کی نقل امام حسن کے پاس روانہ کی جس کے آخر میں یہ ذکر تھا کہ اس قرار دار پر عمل عہد خدائی ہے کہ جس پر وفالازم ہے اس کے بعد اس امر کا تمام شام میں کبھی اعلان کرادیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ حضرت معاویہ کی نظر میں وفائے عہد سے زیادہ اہم استخلاف تھا۔ اس لیے اس نے تمام شرائط کو زیر قدم ڈال کر امام حسن کے سامنے امیرالمنومین ؑ پر سب و شتم کیا۔ جبکہ مسلمان صلح کا جشن منارہے تھے ۔ (صلح الحسن شیخ راضی آل یسین) اور اس طرح معاویہ کے مظالم قتل و غارت غصب و نہب ہتک و تذلیل وغیرہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس کے آثار اہل تاریخ سے مخفی نہیں ہیں۔ اور پھر ان مصائب و مظالم کا سلسلہ بظاہر اس دن ختم ہوا کہ جبکہ امام حسن کو زہر سے شہید کر دیا اور در پردہ اس کی خبریں اس وقت تک پھیلتی رہیں جب تک کہ سبط اصغر فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قتل نہ ہوگیا اور حرم خدا و رسول کی ہتک حرمت ظہور میں نہ آگئی۔
(یہی وہ مظالم ہیں کہ جن سے آسمان کے شگاف اور زمین کے انقلاب کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں)
تاویلات جمہور مسلمین
مورد صحابیت :۔
جمہوری مسلمین کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ صحابی کہ خبر بلا تحقیق و تفیتش عمل کرتے رہے ہیں اس لیے کہ ان کی نظر میں نبی کا ہر صحابی عادل بے گناہ ہوتا ہے ۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ بات عقل و نقل دونوں کے معیار سے ساقط ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابیت شرف ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ صحابیت دلیل عصمت نہیں ہے۔بنابریں خبر کی قبولیت کے لیے راوی کی جانچ ضروری ہے ۔ اگر وہ عادل ہے تو خبر پر عمل کیا جائے اور اگر فاسق ہے تو اس کی خبر سے اعتاض کیا جائے۔ اور اگر مجہول الحال ہے تو اس کی تفتیش کی جائے۔ عام مسلمانوں کا خیال ہے کہ صحابی کی تقدیس و تعظیم سے منزل نبوت کی تقدیس ہوتی ہے اس لیے صحابہ سے حسن ظن ضروری ہے حالانکہ یہ بات صریح قرآن و سنت کے خلاف ہے قرآن کریم نے مختلف آیات میں صحابہ کے نفاق کی خبر دی ہے بلکہ یہاں تک بیان کیا ہے کہ وفات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ان کے کفر کا احتمال قوی پایا جاتا ہے تو کیا یہ کہ جائے کہ وجود رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی وجہ نفاق تھا؟ کہ آپ کے دنیا سے اٹھتے ہی سب عادل و بے گناہ ہوگئے؟ یا یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وفات رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی منجملہ اسباب عدالت و وثاقت ہے کلا ولا۔
خود صحیح بخاری میں صحابہ کے ارتداد و کفر کی آٹھ روائتیں مختلف مقامات پر موجود ہی جس میں مشہور ترین روایت یہ ہے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم روز محشر حوض کوثر پر چند اصحاب کو دیکھ کر مسرور ہوں گے۔ تو حکم ہوگا کہ یہ سب ناری ہیں ۔ اس لیے کہ تمہارے بعد کافری ہوگئے تھے۔ کیا ان حالات میں ہر صحابی کا قول قابل عمل ہوسکتا ہے حاشاد کلا۔
مورد اعراض از عترت :۔
جمہور کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ اصول دین کو ابوالحسن اشعی اور ابوالحسن تریدی سے اور فروع دین کو فقہاء اربعہ سے اخذ کرتے ہیں ۔ ان حضرات نے عترت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کسی مقام پر کوئی جگہ نہیں دی ہے ۔ حالانکہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عترت کو امان ارض باب حطہ احدثقلین اور سفینہ نوح قرار دیا تھا ۔ اگر کوئی شخص تفتیش کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا۔ کہ جمہور نے اہل بیت ؑ کو عام خوراج و نواصب سے زیادہ اہمیت نہیں دی ۔ چنانچہ تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے ۔ کہ کتب جمہوری تمام عترت کے روایات صرف عکرمہ خارجی کے روایات کے برابر ہوں ہوں گے ۔ اور اس سے بدتر یہ ہے کہ بخاری نے اپنی کتاب میں امام صادق کاظم و رضا و جواد عسکری علیہم السلام سے کوئی روایت نقل نہیں کی بلکہ اسی طرح حسن بن حسن زید بن علیؑ یحیی بن زید نفس زکیہ محمد بن عبداللہ ابراہیم بن عبداللہ حسین فخی ہے یحی بن عبداللہ محمد بن جعفر الصادق محمد بن ابراہیم قاسم ارتسی محمد بن محمد زید بن علی محمد بن قاسم صاحب الطالقان اور دیگر اشراف عترف اور اعیان امت کے کے روایات کو ترک کر دیا ہے ۔ حالانکہ اسی کے مقابل میں عمران بن حطاں خارجی مداح ابن بلجم کے بیانات کو درج کیا ہے آہ ! آہ!
بات کسی منزل پر پہنچ گئی جمہوری کے ان اسرار کی ترجمانی ابن خلدون نے اس وقت کی ہے کہ جب اپنے مقدمہ میں علم فقہ وغیرہ کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ اہل بیت ؑ کے بعض جدید مسائل ہیں۔ جن کی بنا پر وہ صحابہ کی قدح کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ یہ سب واہیات اصول ہیں۔ پھر فرماتے ہیں۔
کہ یہ مسائل خوارج کے آراء و انکار سے مشابہ ہیں جن کو جمہور نے کوئی درجہ نہیں دیاہے ۔ اور نہ ہم نے کبھی ان کی ظرف اعتناء کی ہے ۔ چنانچہ کتب شیعہ صرف ان کے بلاوتک محدود ہیں برخلاف اس کے مذہب حنفی عراق میں اور مذہب مالک حجاز میں مذاہب احمد شام و بغداد میں اور مذاہب شافعی مصر میں مشہور ہے۔
روافض کی وجہ سے فقہ شافعی کا زوال ہوگیا اور وہاں فقہ اہل بیت علیہم السلام رائج ہوگئی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں صلاح الدین کے ہاتھوں ان کا زوال ہوگیا اور قصہ شافعی اپنی منزل پر آگئی
حیف صد حیف یہ گندہ دہن اور خاک بسر انسان اہل بیت کو اہل بدعت شاذ اور مثل خوارج قرار دے کر ان کی توہین کرے اور خدائے کریم ان کی طہارت مووت عظمت کا اعلان کرکے انہیں سفینہ نجات امان امت باب حطہ عروہ الوتقے احد الثقلین قرار دے۔ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی محبت کو وجہ مغفرت اور ان کے پروانہ کو باعث امان از عذاب جہنم قرار دیں۔
کاش ان ارباب مذہب نے اہل بیت علیہم السلام کے اقوال کو کتابوں میں شاذ و ضعیف ہی کی جگہ دی ہوتی۔ مگر افسوس ""بیس تفاوت رہ از کجا تا کجا""
مورد دعوت تصفیہ : ۔
اے برادران اسلام ! و فرزندان توحید ! آخر یہ نزاح تابہ کے ۔ اور یہ اختلاف کب تک ؟ کیا خدائے وحدہ لاشریک ہم سب کا رب اور رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم سب کے نبی ہیں ہیں؟ کیا کعبہ ہمارا قبلہ اور قرآن ہماری کتاب نہیں ہے؟ کیا فرائض اسلامیہ ہمارے فرائض اور محرمات ہمارے متروکات نہیں ہیں؟ کیا قیامت و حشر و نشر کا ایمان ہم میں ایک مشترک شئے نہیں ہے؟ تو پھر اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم میں قانون کوئی اختلاف نہیں ہے سارا اختلاف انطباقی ہے جس طرح سے ہم میں کسی شے کے وجوب و حرمت صحت و بطلان جزئیت و شرطیت کی نزاع ہوتی ہے۔ اس طرح کسی شخص کے عدالت و فسق ایمان و نفاق محبت و عداوت کا اختلاف ہے دونوں کا مرجع کتاب و سنت و اجماع و عقل کو ہونا چاہیے اگر کوئی محب خدا ثابت ہوجائے تو سب اس سے محبت کریں اور اگر دشمن اسلام ثابت ہو تو سب اس سے برات کریں ۔خود بخاری نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے کہ مجتہد اگر مطابق واقعہ کہے گا تو وہ اجر اور اگر اتفاقاً خطا کرگیا تو ایک اجرا اسے ضرور ملے گا۔ ابن حزم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ خطائے اجتہادی موجب فسق و کفر نہیں ہے ۔ وہ فروع دین میں ہو یا اصول میں اور یہی رائے ابن ابی لیلی ابو حنیفہ شافعی سفیان ثوری اور داود بن علی وغیرہ کی ہے۔
ان تصریحات کی روشنی میں آخر باہمی تکفیر و تفسیق کا سبب کیا ہے ؟ کیا مسلمان آپ میں بھائی بھائی نہیں ہیں؟ کیا اختلاف موجب ضعف نہیں ہوتا ؟ کیا تفرقہ انداز لوگوں کے لیے عذاب عظیم نہیں ہے ؟ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ حدیث متواتر و مشہور ہے کہ مسلمان آپس میں متحد ہیں اگر کوئی ان میں اختلاف پیدا کرے گا تو اس پر خدا اور رسول و ملا مکہ و جمیع انسان سب کی لعنت ہوگی
اللهم اهد قومی فانهم لایعلمون
فہرست
مقدمہ ۴
تاویلات حضرت ابی بکر ۵
مورد سقیفہ ۵
انکار حدیث :۔ ۵
نبی ہاشم سے اعراض:۔ ۵
بیعت پر اصرار:۔ ۵
نزاع مہاجری و انصار:۔ ۶
امام ؑ کی قربانی:۔ ۶
امام ؑ کا احتجاج:۔ ۶
ناگہانی بیعت:۔ ۶
مورد استخلاف :۔ ۷
مورد جنگ موتہ:۔ ۷
موقف جعفر:۔ ۷
موقف زید و عبداللہ:۔ ۷
مورد سریہ اسامہ بن زید ۸
مقصد رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم :۔ ۹
معاذیر:۔ ۹
مورد سہم مولفتہ القلوب :۔ ۱۰
اقول :۔ ۱۱
مورد سہم ذوی القربی :۔ ۱۳
مورد وراثت ابنیاء:۔ ۱۳
مورد عطیئہ زہرا :۔ ۱۵
اقول :۔ ۱۶
تنقید:۔ ۱۶
مورد ایذاء زہراسلام اللہ علیہا:۔ ۱۷
اقول :۔ ۱۷
مورد قتل ذوالثدیہ:۔ ۱۸
مورد قتل ذوالثدیہ:۔ ۱۸
مورد قتال اہل قبلہ:۔ ۱۸
اقول :۔ ۱۹
مورد یوم سطاح:۔ ۱۹
خالد اور سطاح:۔ ۲۰
تلاش مالک :۔ ۲۰
اقول :۔ ۲۱
اقول :۔ ۲۲
خاتمہ کلام :۔ ۲۲
مورد منع کتابت حدیث :۔ ۲۳
مورد شفاعت مشرکین :۔ ۲۴
تاویلات حضرت عمر ۲۵
مورد حادثہ یوم خمس ۲۵
معاذ شیخ ازہر:۔ ۲۶
پسندیدگی :۔ ۲۸
مورد صلح حدیبیہ :۔ ۲۸
تفصیل واقعہ :۔ ۲۸
قریش کی شدت اور نبی اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حکمت ۲۹
مطالبہ صلح :۔ ۳۰
انکار حضرت عمر :۔ ۳۰
تکمیل صلح :۔ ۳۱
فوائد صلح :۔ ۳۲
سرکار رسالت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی واپسی :۔ ۳۳
کشائش حال :۔ ۳۳
مورد نماز بر جنازہ ابن ابی منافق :۔ ۳۴
مورد رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم سے تکرار ۳۵
مورد بشارت پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم ۳۵
تنقید :۔ ۳۶
مورد متعہ حج :۔ ۳۷
طریقہ تمتع :۔ ۳۷
اقول :۔ ۳۷
فصل :۔ ۳۸
مورد متعہ نساء:۔ ۳۹
مورد تصرف دراذان :۔ ۴۰
تنبہیہ :۔ ۴۱
اقول ان احادیث کے ثبوت میں چند اشکالات ہیں :۔ ۴۲
اقول :۔ ۴۳
مورد ""حی علی خیرالعمل" ۴۵
""فصیل "" ۴۶
مورد سہ طلاق :۔ ۴۷
(اقول ) ۴۸
مورد صلوہ تراویح :۔ ۴۹
اقول :۔ ۴۹
مورد "نماز جنازہ " ۵۰
مورد ""میراث خواہر و برادر "" ۵۱
مورد عول فرائض :۔ ۵۱
مورد میراث جد و اخوت :۔ ۵۲
مورد فریضہ حماریہ :۔ ۵۲
مورد قومیت درمیراث :۔ ۵۳
مورد میراث خال ۵۳
مورد عدہ حاملہ :۔ ۵۴
مورد تزویج زوجہ غائب :۔ ۵۴
مورد تیمم :۔ ۵۶
مورد ""نافلہ بعد عصر"" ۵۶
مورد تاخیر مقام ابراہیم:۔ ۵۷
مورد گریہ برمیت :۔ ۵۷
نقد و نظر :۔ ۵۸
مورد قضیہ حاطب :۔ ۵۹
مورد شرائط قاصد :۔ ۶۰
مورد تقسیم صدقہ :۔ ۶۰
مور ستر اسلام :۔ ۶۰
مورد حلیت مباشرت :۔ ۶۱
مورد تحریم خمر :۔ ۶۱
مورد قتل عباس :۔ ۶۱
مورد ""فدیہ بدر"" ۶۳
مورد قضیہ حنین :۔ ۶۴
مورد فرار :۔ ۶۴
احد :۔ ۶۴
حنین :۔ ۶۵
خیبر :۔ ۶۵
غزوہ سلسلہ :۔ ۶۶
تنبیہ ۶۶
مورد جواب ابو سفیان :۔ ۶۶
مورد تجسس:۔ ۶۸
اقول :۔ ۶۹
مورد مغالات مہر :۔ ۶۹
اقول :۔ ۷۰
مورد تبدیل حد شرعی :۔ ۷۰
مورد دیہ غیر مشروع :۔ ۷۰
مورد حد غیر مشروع :۔ ۷۱
مورد احسان برمغیرہ :۔ ۷۱
اقول :۔ ۷۲
مورد تشدد برجبلہ بن ایہم :۔ ۷۳
اقول :۔ ۷۳
مورد تشدد بر ابوہریرہ :۔ ۷۳
مورد تشدد برسعد بن ابی وقاص :۔ ۷۴
مورد تشدد بر خالد :۔ ۷۴
مورد ضرب ضییع تمیمی :۔ ۷۴
مورد شہر بدری نصر بن حجاج ۷۵
مورد ضرب ابو ثمہ :۔ ۷۵
مورد قطع شجر حدیبیہ :۔ ۷۶
مورد شکایت ام ہانی :۔ ۷۶
مورد یوم نجوی :۔ ۷۷
مورد امارت معاویہ :۔ ۷۷
مورد غفلت و جہالت رجم حاملہ :۔ ۷۷
اقول :۔ ۷۹
مورد شوری :۔ ۸۰
نقط و نظر :۔ ۸۰
""فصل"" ۸۲
تاویلات حضرت عثمان ۸۳
مورد کنبہ پروری :۔ ۸۳
اقول :۔ ۸۳
مورد ""اتمام در سفر"" ۸۴
اقول :۔ ۸۵
تاویلات حضرت عائشہ ۸۶
مورد قصاص حضرت عثمان :۔ ۸۶
واقعہ پر ایک نظر :۔ ۸۶
موقف حضرت ام مسلمہ :۔ ۸۷
قیادت عامہ :۔ ۸۸
مکہ سے بصرہ تک :۔ ۸۸
چشمہ حواب :۔ ۸۹
موقف ابوالاسود :۔ ۸۹
موقف ابن صوحان :۔ ۸۹
موقف جاریہ ب قدامہ :۔ ۹۰
جوان بنی سعد :۔ ۹۰
غلام بنی جہینہ و محمد بن طلحہ :۔ ۹۰
موقف احنف ب قیس :۔ ۹۰
موقف عبداللہ بن حکیم :۔ ۹۰
موقف جشمی :۔ ۹۱
خطبہ حضرت عائشہ :۔ ۹۱
آغاز جنگ :۔ ۹۱
موقف حکیم بن جبلہ :۔ ۹۲
نقد و نظر :۔ ۹۴
مورد نماز قصر :۔ ۹۴
مورد تزویج اسماء بنت النعمان :۔ ۹۴
مورد اتہام بر ابراہیم و حضرت ماریہ :۔ ۹۵
مورد یوم المغافیر :۔ ۹۵
مورد حکم توبہ :۔ ۹۵
مورد مقابلہ رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم :۔ ۹۵
مورد تمثیل قرآنی :۔ ۹۶
مورد نسبت شرافت :۔ ۹۶
مورد مخالفت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم :۔ ۹۶
مورد جسارت :۔ ۹۶
مورد زم عثمان :۔ ۹۶
مورد احادیث عائشہ :۔ ۹۷
اقول :۔ ۹۷
تاویلات حضرت خالد ۹۸
مورد فتح مکہ :۔ ۹۸
مورد یوم جذیمہ :۔ ۹۸
اقول :۔ ۹۹
اقول :۔ ۹۹
تاویلات حضرت معاویہ ۱۰۰
موردالحاق زیاد :۔ ۱۰۰
مورد خلافت یزید :۔ ۱۰۰
مورد مظالم یمن :۔ ۱۰۱
مورد قتل صالحین :۔ ۱۰۱
مورد افعال قبیحہ :۔ ۱۰۲
مورد بغض علی ؑ :۔ ۱۰۲
اقول :۔ ۱۰۳
مورد لعنت معاویہ :۔ ۱۰۳
مورد حرب باعلی :۔ ۱۰۴
مورد وضع احادیث :۔ ۱۰۴
مورد نقص عہد :۔ ۱۰۵
تاویلات جمہور مسلمین ۱۰۷
مورد صحابیت :۔ ۱۰۷
مورد اعراض از عترت :۔ ۱۰۷
مورد دعوت تصفیہ : ۔ ۱۰۸