اصول عقائد (چالیس اسباق میں )
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف شیخ علی اصغر قائمی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

مولف: شیخ علی اصغر قائمی

مترجم: سید مبین حیدررضوی

نظر ثانی: مرغوب عالم عسکری

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

کمپوزنگ : سید مظہر علی رضوی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیھم السلام

طبع اول : ۱۴۲۷ھ ۲۰۰۶ ء

تعداد : ۳۰۰۰

مطبع : اعتماد


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودارہوتاہے کائنات کی ہر چیزاپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ وکلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ وراہ اجالوں سے پرنور ہوجا تے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلا م کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہرفرد اور ہر قوم نے قوت وقابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلا م کے مبلغ وموسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم وآگہی کی پیاسی اس دنیاکو چشمہء و حق وحقیقت سے سیراب کردیا ،آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا ،اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران وروم کی قدیم تہذیبیںاسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑ گئیں ،وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت وعمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ ،ولولہ اور شعورنہ رکھتے تو مذہب عقل وآگہی سے رو برو


ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایک چھوتھا ئی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان ومذاہب اور تہذیب وروایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگرچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گرانبہامیراث کہ جس کی اہل بیت اور ان کے پیروں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت وپاسبانی کی ہے وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنکنائیوںکا شکا ر ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کر دی گئی تھی ،پھر بھی حکومت وسیاست کے عتاب کی پرواکئے بغیر مکتب اہل بیت نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء ودانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنہوں نے بیرونی افکار ونظریات سے متاثر اسلا م وقرآن مخالف فکری ونظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروںاور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دوراور ہر زمانے میں ہرقسم کے شکوک وشبہات کا ازالہ کیاہے ،خاص طورپر عصرحاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگا ہیں ایک بارپھر اسلا م و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلا م کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ،دشمنان اسلام اس فکری ومعنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اورثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کا میاب وکا مراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشرواشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل وشعورکو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا ،وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا ۔

(عالمی اہل بیت کونسل )مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلا م نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت وطہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری ویکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھا یا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے ،تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن وعترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق ومعنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان وولایت سے سیراب ہو سکے ،ہمیں یقین ہے عقل وخرد پر استوار ماہر انہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت وطہارت کی ثقافت کو عام کیاجائے اور حریت وبیداری کے علمبردار خاندان نبوت ورسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدوخال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلا ق وانسانیت کے دشمن ،انانیت کے شکا ر ،سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب وثقافت اور عصرحاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے ۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کو ششوں کے لئے محققین ومصنفین کے شکر گزارہیں اور خود کو مؤلفین ومترجمین کا ادنی خدمتگارتصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب مکتب اہل بیت کے ترویج واشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ،فاضل علام آقای شیخ علی اصغر قائمی کی گرانقدر کتاب'' اصول عقائد'' کوجناب مولانا سید مبین حیدر رضوی نے اردو زبا ن میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کابھی صمیم قلب سے شکریہ اداکرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھا ئی ہے ،خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کاباعث قرار پائے ۔

والسلام مع الا کرام

مدیر امور ثقافت ،مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


انتساب

میں اپنی اس ادنیٰ کو شش کو مُکمِل مقصد حسینی ، بطلۂ کربلا

ثانی زہرا، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی پاک

بارگاہ میں پیش کر کے شرف قبولیت کامتمنی ہو ں۔

سید مبین حیدر رضوی


مقدمہ

بسم الله الرّحمٰن الرّحیم

وَبهِ نَستعین الحمدُ للّهِ رَبِّ العالمینَ و صلیٰ اللّه علیٰ سیّدنا وآله الطیبین الطاهرین لا سیّما بقیة اللّه فی الأرضین و لعنة اللّه علیٰ أعدائهم و مخالفیهم أجمعین من الان الیٰ قیام یوم الدّین

اصول عقائد دین اسلا م کی اساس اور بنیاد ہے ، ہرمسلمان کے عقیدہ کودلیل و برہان پر مبنی ہو نا چاہئے ۔ اسی لئے اسلام کی عظیم دانشمند ہستیوں نے صدیوں پہلے سے ہی عقیدتی مسائل کی تبیین و تشریح کی ہے اور آج بھی ان کے قیمتی آثار و خدمات ہمارے درمیان موجود ہیں ۔

تقریباً دس سال کا عرصہ گذر چکا ہے کہ حقیر ،مدیریت حوزہ علمیہ قم کے پروگراموں کے تحت اصول عقائد کے تدریسی فرائض کو انجام دے رہا ہے۔ اسی دوران ایک کتابچہ تیار کیا جو (توحید تا معاد )عقائد پر مشتمل تھا اور طلاب کی خدمت میں پیش کیا ، اس کتابچہ کی تیاری کے لئے میں نے عقائد کی متعدد جدید و قدیم کتب کا بغور مطالعہ کیا اور وہ مسائل جو جوان طلاب کے لئے مفید و موثر تھے ان کا انتخاب کیا۔

اس کتابچہ پہ میں نے بارہا تجدید نظر کی اور حد امکا ن اس کی خا میوں کو دور کیا، بات یہا ں تک آ پہنچی کہ بعض مسئولین و اساتید و طلاب نے اس بات کی رائے دی کہ یہ چھپ جا ئے تو بہتر ہو گا ، خدا کا شکر ہے کہ ان کے آرا ء نے عملی جا مہ پہنا اور یہ کتاب جو چالیس اسباق پر مشتمل ہے حسب ذیل خصوصیات کے ساتھ آپ کے ہا تھو ں میں ہے ،ہم اس بات کی امید کرتے ہیںکہ یہ خدمت حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ کی تائید سے شرفیاب ہوسکے ۔

۱۔چونکہ اس کتاب کی تدوین کے لئے دسیوں جدید و قدیم عقائد ی کتب کا مطالعہ کیا گیا ہے اور ان سے خاطر خواہ استفادہ کیا گیا ہے نیزاس بات کی سعی پیہم کی گئی ہے کہ ہر کتاب کی خصوصیت کا خیال کرتے ہوئے اس کے پیچیدہ مسائل اور مشکل عبا رتوں سے پر ہیز کیا جائے ۔


۲۔باوجود یکہ اس کتاب کے اسباق نہا یت سادہ و سلیس اور عام فہم زبان میں عام لو گو ں کے لئے مرتب کئے ہیں ، اس میں عقلی و نقلی دلا ئل کا بھر پور سہا را لیا گیا ہے نیز وہ نوجوان و جو ان جو عقیدتی مسائل کو تقلید سے ہٹ کر تحقیق کی رو سے ماننا اور سمجھنا چاہتے ہیں ان کے لئے نہا یت تسلی بخش اسلو ب کو اپنایا گیا ہے اور ثقل و سنگینی سے قطعی پر ہیز کیا گیا ہے ۔

۳۔یہ کتاب جوان طلاب کے درمیان کئی برسوں کے تجربہ کے بعد وجو د میں آئی ہے لہٰذا ایّام تبلیغ میں مبلغین کے لئے کلا س داری نیز دیگر امور میں نفع بخش ثابت ہو گی ۔

۴۔اس کتاب میں اس بات کی کو شش کی گئی ہے کہ عقیدتی پنجگا نہ اصولوں سے متعلق جو سوال پیدا ہوتے ہیں ان کا مدلّل جواب دیا جا سکے ۔

۵۔ آخرمیں یہ با ت قابل ذکر ہے کہ اس کتاب میں متعدد کتب سے استفادہ کیا گیا ہے جن کا تذکرہ حسب ضرورت کیا گیا ہے ،بعض مواقع پر ان کتابوں کی عین عبارت کو بھی نقل کیا گیا ہے ہم ان مؤلفین کی زحمات و خدمات کے مرہو ن و مدیو ن ہیں۔

اساتید و علم دوست افراد سے اس بات کی توقع ہے کہ اپنے مفید مشوروں سے ہم کو ضرور آگا ہ فرمائیں گے تاکہ آئندہ طباعت میں اس کی اصلا ح ہو سکے ۔

وما توفیقی الّا باللّه توکلت علیه وألیه أنیب

اصغر قائمی حوزہ علمیہ قم


کچھ اپنی بات

تمام تعریف اس خدا کے لئے جس نے ہادیوں کو خلق کیا تاکہ لوگ صراط مستقیم پر گامزن رہ سکیں ،درود پاک رسول وآل رسول پر جو امت وسطیٰ ،خیرالبریة، ائمہ ہدیٰ اور کا ئنا ت کے لئے مایۂ رحمت اور سبب ہدایت ہیں ، جن کی کرم فرمائیوں کے سبب آج دنیا میں خدا کادین باقی ہے دنیاکے کسی گوشہ وکنار کارہنے والاہو کسی طبقہ سے اس کا تعلق ہو ، ایک چیز جوبلا تفریق ہر انسان میں پائی جاتی ہے وہ ہے فطرت اور فطری تقاضے ،جس کا پہلا قدم ،ضرورت مذہب ہے ۔ اس کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتاہے مذہب در حقیقت انسانی کامیاب زندگی کے لا ئحہ عمل کا نام ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ دین ،یا دھرم یا مذہب ،خدا ساختہ ہے یا خود ساختہ مسئلہ کی وضاحت لفظوں سے واضح ہے :

آج کی ترقی یافتہ دنیا میں ،نظریہ وعقیدہ کی جنگ ہے اب جنگ اسلحوں کی کم، نظریات وعقائد کی زیادہ ہے ،اس جنگ میں ہر شخص اپنے حریف پر اپنے عقائد کی تبیین نہیں تحمیل چاہتاہے ، لیکن عدل وانصاف کاتقاضایہ ہے کہ اگر آپ کے نظریات صحیح اورمعقول ہیں تو اس کو دلیل وبرہان کے ذریعہ پیش کریں نہ کہ سر تھوپیں...

اور یہ حقیقت ہے کہ حق کا جادو ہمیشہ سر چڑھ کر بولتاہے کہا جا تاہے کہ ''انسان کے عمل میں اس کاعقیدہ دخیل ہو تاہے ''۔اگر انسان کا عقیدہ اس کے جذبات او راحساسات وذہنی اپج کی بنا پر ہے تو اس کے اعمال کا رنگ ڈھنگ دوسرا ہوگا ،لیکن اگر اس کے عقائد آسمانی تائیدا ت کے تحت ہوںگے تواس کے اعمال ورفتار وکردار میں الٰہی رنگ جلوہ نما ہوگا ،اس دورمیں تو ہر شخص یہ کہہ کر اپنا قد اونچا کرنا چاہتاہے کہ '' صاحب !ہم تو کتاب ،حدیث اور مجتہد کچھ نہیں جانتے ہمارا عقیدہ یہ کہتا ہے!! '' ،''ایسا ہے جناب، میں روایت وتاریخ کی بات نہیں جانتا ،میری نظر میں اور میرے عقیدہ کے حساب سے تویوں ہے!! ''۔

ظاہر سی بات ہے جہاں الٰہی نظام میں ، میں ،ہم ،کا دخل ہوجائے گا وہاں للہیت کتنی باقی رہے گی اس کا فیصلہ تو صاحبان عقل ہی کر سکتے ہیں، ضروری ہے کہ دین میں ''میں اور ہم ''نہ آئے اور خالص رہے ،تو خالص دین کہا ں تلا ش کریں؟۔

خالص دین،انبیاء ومرسلین واوصیاء الٰہی سے لیں، خدا نے اپنے دین اسلام کو صاحبان کتاب وشریعت رسولوں کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ہے اماموں نے اس کو بچایا ،اور اس کی مکمل تشریح وتفسیر کی ہے ، اور زمانہ غیبت میں ،علماء کرام نہایت ہی جانفشانی سے اس کو نسلاًبعد نسل ٍ منتقل کرتے رہے ہیں ،خدا ان کی ارواح طیبہ پر نزول رحمت فرمائے آمین۔

یہ کتاب جو آپ کے ہاتھوں میں ہے اس کو حجةالاسلام والمسلمین جناب اصغر قائمی استا د حو زہ علمیہ قم نے مرتب فرمایا ہے جس کانام (اصول عقائدہے) ہم نے بھی اس کا اردو ترجمہ ''اصول عقائد '' ہی کیاہے ۔


عقائدکے عنوان سے سر دست متعدد علماء کی کتابیں موجودومقبول ہیںلیکن جو بات اس کتاب کو دیگرکتب سے ممتاز کر دیتی ہے وہ اس کی سلاست وعام فہم دلیل اورطرز بیان ہے ،جس کو ہر طبقہ اور ہر فکر کاانسان پڑھ اورسمجھ سکتا ہے ۔

اس کتاب میں نہ ہی پیچیدہ فلسفی اصطلاحیں استعمال کی گئیں ہیں اور نہ ہی بے جاغرب اور غرب زدہ افراد کے نظریات کا کھوکھلاسہارا لے کر خود کو بہت ہی روشن فکر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔عقیدئہ،معاد ،برزخ ،حقیقت روح ،جیسے پیچیدہ مسائل کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے دلیلوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ نیز اختلافی عقائد کو بہت برملا بیان کیاہے اس کی افادیت کا علم تو اس کے مطالعہ کے بعد ہی ہوگا ۔

میں عزیزالقلب حجة الاسلام والمسلمین جنا ب مولانا سید مظہر علی رضوی کا تہہ دل سے شکر گذار ہو ں کہ جنہو ں نے میری عدیم الفرصتی کے سبب اس کتاب کے ترجمہ میں مددکی ،خداان کے قلم وزبان میں استحکام اور اثرپیداکرے تاکہ دین آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مدافع ووکیل بن سکیں ،آمین ۔

صاحبان علم وادب سے مفید مشوروں کا متمنی

خاکپائے اولاد زہرا

سید مبین حیدر رضوی(پپروی )


پہلا سبق

اعتقادی مبا حث کی اہمیت

علم عقائد

ہر علم کی اہمیت اور قدر و قیمت کا دار و مدار اس کے موضوع پہ ہو تا ہے اور تمام علوم کے درمیان علم عقائد کا موضوع سب سے بہتر اور بیش قیمت ہے ۔

ہر انسان کی جملہ مادی ومعنوی افکا ر و افعال کی بنیاد در اصل اس کے عقائد ہیں ، اگر وہ صحیح و سالم، قوی اور بے عیب ہو ں تو اس کے اعمال و افکا ر اور مختلف نظریات سبھی صحیح اور شائستہ ہو ں گے ،اسی بنیاد پر فروع دین (جو کہ اسلام کے عملی احکام ہیں ) کی جا نب ہر انسان کی کمی و کیفی توجہ اس بات پر موقوف ہو تی ہے کہ اصول دین کے سلسلہ میں اس کا عقیدہ کس معیار پر کھرا اترتا ہے ۔

دوسرے یہ کہ اعتقاد ی مسائل میں خدا شناسی ( معرفت خدا ) کا ایک خاص مقام ہے کیونکہ ایک موحد انسان کے تمام عقائد اور دنیا پر طرز نگاہ کی اصل بنیاد اور نقطۂ مرکزی اس کی خدا شناسی ہے !

قال الصادق علیه السلا م: لو یعلم الناس ما فی فضل معرفة اللّٰه ما مدوا أعینهم الیٰ ما متع به الأعداء من زهرة الحیاة الدنیا و نعیمها وکا نت دنیاهم ،أقل عندهم مما یطئونه بأرجلهم ( ۱ )

اگر لوگ معرفت خدا کی حقیقت سے آگاہ ہوجا تے تو دنیاجس سے دشمنان خدا نے زیادہ استفادہ کیا ہے اس کی رنگینیوں کی جانب کبھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے اور دنیا ان کی نگا ہوں میں پیروں سے روندی ہوئی خاک سے بھی زیادہ کم قیمت ہوتی ۔

اس چھوٹے سے مقدمہ کے بعد اصول عقائد کی بحث، خاص طور توحید الٰہی کی اہمیت بالکل روشن اور واضح ہو جا تی ہے، لیکن اس سے پہلے کہ توحید کی بحث شروع کی جائے بہتر یہ ہو گا کہ دین پر اعتقاد رکھنے کے جو فوائد اور نتائج ہیں ان کو بیان کردیا جائے ۔

____________________

(۱)وافی جلد ۱۰،ص ۴۲


دینی عقیدے کے آثار

۱۔ دین، زندگی کو وزنی بناتاہے ،اگر دین کو زندگی سے جدا کرلیں تو کھوکھلاپن اور حیرانی کے سوا کچھ بھی نہیں رہ جائے گا ۔

۲۔ دین حیرت و استعجاب کو دور کرتا ہے .یعنی اس حیرانی کو دورکرتاہے کہ کہاں تھے؟ کہا ں ہیں ؟کس لئے ہیں اور کہاں جا ئیں گے ؟

مولا امیرالمومنین ں فرماتے ہیں:''رحم اللّه امرء علم من أین وفی أین و الی أین ''خدا رحمت نازل کرے اس شخص پر جو یہ جا نتاہے کہ کہا ں سے آیا ہے ،کہاں ہے اور کہا ں جا نا ہے!

۳۔ انسان ذاتی طور پر ترقی اور کمال کا تشنہ اور اس کا فدائی ہو تا ہے اور صرف دین وہ شی ٔہے جو انسان کو حقیقی کمال کی جا نب ہدایت کر سکتا ہے۔

امام با قر ںفرماتے ہیں :''الکمال کل الکمال التفقه فی الدین والصبر علی النائبة و تقدیر المعیشة'' تمام کے تمام کمالا ت کا خلاصہ دین میں بصیرت ،مشکلا ت میں صبر اور زندگی میں میانہ روی اختیار کرنا ہے۔( ۱ )

۴۔ فکری سکو ن صرف آغوش دین میں ہے ،بے دین ہمیشہ مضطرب خائف اورپریشان رہتا ہے ، اگر دنیا کی فیصدی آبادی کو ملا حظہ کیا جا ئے تو ذہنی او ر اعصابی نیز نفسانی بیماریاں ان معاشروں میں زیادہ ہیں جہا ں دین نام کی کسی چیز کا وجود نہیں ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :( الّذینَ آمَنُوا ولم یَلبسُوا اِیمانهِم بظلمٍ اُولئِکَ لَهُم الأمنُ وَ هُم مُهتَدُونَ ) ( ۲ )

''جو لوگ ایمان لا ئے او ر ایمان کو ظلم سے آلو دہ نہیں کیا وہ وہی لوگ ہیں جن کے لئے امن و سکو ن ہے اور وہ سالکین راہ ہدایت ہیں ''۔

۵۔ کو شش اور امید صرف دامن دین میں ہے جب کبھی حوادث روزگا ر اور زندگی کے پیچیدہ مسائل انسان کی زندگی میں سر اٹھا تے ہیں اور اس کو تمام راہیں مسدود نظر آتی ہیں اور وہ ان مشکلا ت کے سامنے اپنے آپ کو بے بس ،مجبور و کمزور محسوس کرتاہے تو ایسے وقت میں صرف مبداء و معاد، توحید و قیامت پر ایمان ہی وہ

____________________

(۱) منتھی الامال ،کلمات امام باقر

(۲) انعام آیة: ۸۲


مرکز ہے جو بے تکان اس کی مدد کو دوڑتا ہے اور اس کو قوت عطا کرتا ہے،ایسے وقت میں و ہ ا پنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرتا بلکہ اس با ت کا احساس کرتاہے کہ ایک بہت بڑی طاقت اس کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔

پھر امید اور حوصلہ کے ساتھ اپنی محنت اور کو شش کو جا ری رکھتا ہے او رسختیوں کا گلا گھونٹ دیتاہے لہٰذا تو حید او رقیامت پر ایمان رکھنا انسان کے لئے پشت پناہ نیز استقامت و جواں مردی کا سر چشمہ ہے ۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :''المُؤمنُ کالجبلِ الراسخِ لا تحرّکه العواصف''

''مومن اس پہا ڑکی مانند ہے جس کو آندھیاں ہلا بھی نہیں سکتی ہیں ''

دین کے فوائد کے با رے میں حضرت علی کے چند اقوال :

۱۔الدین أقویٰ عماد '' دین سب سے مستحکم پایگاہ ہے''۔

۲۔صیانة المرء علی قدر دیانته' 'انسان کی حفاظت اس کی دیانت داری کی مطابق ہو تی ہے ''۔

۳۔الدّین أفضل مطلوب ''دین بہترین مطلوب و مقصود ہے ''۔

۴۔اجعل دینک کهفک '' دین کو اپنی پنا ہ گا ہ قرار دو'' ۔

۵۔الدّین یصدّ عن المحارم ''انسان کو گنا ہوںسے بچائے رکھتاہے ''۔

۶۔سبب الورع صحة الدین دین کی سلا متی پرہیز گاری کا سبب ہے ۔

۷۔یسیر الدّین خیر من کثیر الدنیا '' تھوڑا سا دین بہت ساری دنیا سے بہتر ہے ''۔


۸۔من رزق الدّین فقد رزق خیر الدنیا و الاخرة ''جوکوئی بھی دیندار ہو گیا گو یا خیر دنیا و آخرت اس کو عطا کر دی گئی ''۔

۹۔الدّین نور ''دین نو ر ہے''۔

۱۰۔نعم القرین الدّین ''بہترین ساتھی او ردوست دین ہے''۔( ۱ )

دین او رمعاشرتی عدالت کی حفاظت

کسی نے امام رضا ںسے سوال کیا کہ خدا ، رسول اور امام پر ایمان لانے کا فلسفہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا :لعلل کثیرة منها ان من لم یقرّ باللّه عزّو جلّ لم یجتنب معاصیه ولم ینته عن ارتکاب الکبائر ولم یراقب أحداً فیما یشتهی و یستلذّ مِن الفساد والظلم ( ۲ )

''ممکن ہے اس کی بہت ساری علتیں ہو ں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں رکھتا و ہ گنا ہوں سے پر ہیز نہیں کرتا اور گنا ہان کبیرہ کا مرتکب ہو تا ہے او ر وہ فساد و ظلم جو اس کے لئے باعث لذت ہے اس کو انجام دینے میں کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا ''۔

یہ بالکل عام سی بات ہے کہ جو شخص خدا و قیامت پر یقین نہیں رکھتا اسی کے

____________________

(۱)تمام احادیث ،غرر ودرر جلد ۷، باب دین،

(۲) میزان الحکمة، با ب معرفت ۔


لئے عدالت مساوات ،ایثار، عفو ودر گذشت بلکہ تمام اخلا قی مسا ئل بالکل کھو کھلے بے معنی اور بے قیمت ہیں ۔

اور ایسے شخص کی نظر میں عادل ،ظالم ،صالح اور مجرم کے درمیان کو ئی فرق نہیں ہے کیونکہ اس کی نظر میں مرنے کے بعد سب ایک مساوی نقطہ پر پہنچیں گے۔

لہٰذا پھر کو نسی ایسی چیز ہے جو اس انسان کو فتنہ و فساد اور ہو س رانی سے روک سکے ۔

نتیجةًخدا اور قیامت پر ایمان اس بات کا باعث ہو تا ہے کہ انسان اپنے ہر فعل پر خو د کو خدا کے سامنے جو اب دہ و ذمہ دار قرار دے ۔

ایک متدین انسان اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ اس کا معمولی سا عمل چاہے نیک ہو یا بد اس کا حساب ضرور ہوگا ۔

( فَمَنْ یَعمل مِثقالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَهُ وَمَنْ یَعمل مِثقالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَهُ ) ( ۱ ) ''جو کو ئی بھی ذرہ برابرنیک عمل کرے گا اس کو( روز محشر) دیکھے گا اور جو ذرہ برابر براعمل انجام دے گا اس کو (روزمحشر ) دیکھے گا ''۔

بیشمار مسلمان دین کے والا مقام تک کیو ں نہیں پہونچ سکے؟

گذشتہ بحثوں میں دین پر اعتقادرکھنے کے جو نتائج و فوائدبیان کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اگر دین زندگی کو قیمتی اور بھاری بھر کم بناتا

____________________

(۱) سو رہ زلزال ۷۔۸


انسان کو حیرانی و سر گردانی سے نکا لتانیز انسان کے لئے کمال و سعادت کا باعث ہوتااور اگردین سکو ن قلب کاسبب او رقوم وملت میں عدل وانصاف کے پھیلنے کا باعث ہوتا تو مسلمانو ں کی اکثریت ان مقامات کو کیوں نہ پاسکی ؟اس سوال کا جو اب امیرالمومنین کے کلا م کی روشنی میں ملا حظہ فرمائیں ۔

قال علی ''الیمانُ اِقرار باللسان ومعرفة بالقلبِ و عمل بالجو ارح ''

''ایمان زبان سے اقرار ،دل سے معرفت اور اعضا ء و جوارح سے عمل کرنے کا نام ہے ''۔ اور یہ بات بالکل روز روشن کی مانند واضح ہے کہ مسلمانوں کی اکثرتعداد پہلے مرحلہ سے آگے نہ بڑھ سکی'' ۔( ۱ )

نتیجہ یہ ہو ا کہ معرفت وعمل کے بغیر صر ف زبانی ایمان کا کو ئی اثراور فائدہ نہیں ہو ا ۔

قال الصادق علیه السلام : لا معرفة الاّ بالعمل فَمَنْ عرف دلته المعرفة علیٰ العمل و من لم یعمل فلا معرفة له ( ۲ )

''معرفت، عمل کے سو ا کچھ بھی نہیں اور جس نے بھی معرفت حاصل کی معرفت نے اسی کو عمل کی راہ پر گا مزن کردیا لہٰذا جو شخص با عمل نہیں وہ با معرفت بھی نہیں ''۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے اس نورانی قول کی روشنی میں یہ با ت ثابت

____________________

(۱) بحا رالانوار جلد ۶۹، ص ۶۸ (۲)اول کا فی .باب جو نادانستہ عمل کرے (حدیث دوم )


ہو جا تی ہے کہ ایمان کے آثار و فوائد اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب ایمان دل کی تہوں میں اترجا ئے اور دل کے توسط سے اعضا ء و جو ارح کے ذریعہ عمل ظہو رپذیر ہو جا ئے ۔

سوالا ت

۱۔ اصول دین میں بحث کیوں اہمیت رکھتی ہے ؟

۲۔دین پر اعتقاد رکھنے کے آثارخلا صہ کے طور پر بیان کیجئے ؟

۳۔ خدا اور رسول و امام پر عقیدہ رکھنے کا فلسفہ کیا ہے ؟

۴۔ مذہبی معاشرہ ،دین کے فوائد اور اس کے آثار سے کیو ں بہرمندنہیں ہوسکا؟


دوسراسبق

توحید فطری

فطرت کے لغوی معنی سرشت و طبیعت سے عبارت ہے اور اصطلا ح میں ہر انسان کے معنوی جذبہ او ر خو اہش کو فطرت کہا جا تاہے، انسان کے اندر دو طرح کے خو اہشات پا ئے جا تے ہیں ۔

۱۔ما دی خو اہشات :جو مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے انسانی وجو د میں پوشیدہ ہو تی ہیں جیسے حب ذات ،بھوک ،پیا س ، خو ف، امید و غیرہ ۔

۲۔ معنوی خو اہشات : جیسے ترقی ،دوستی ، ایثارو قربانی ، احسان و شفقت اور اخلا قی ضمیر ،یہ خو اہشات انسانی وجو د میں اس لئے رکھی گئی ہیں تاکہ وہ حیو انیت کے حدود سے نکل کر واقعی او رحقیقی کمالا ت تک پہو نچ سکے ۔

فطرت یا معنوی خو اہشات

معنوی خو اہشا ت یا فطرت اسے کہتے ہیں کہ جس کو انسان خود بخودپالیتا ہے اور اس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی فطرت ،معرفت و شناخت کے سر چشموں میں سے ایک سر چشمہ ہے، کبھی اس سر چشمہ شناخت کو قلب سے بھی تعبیر کیا جا تا ہے اور عقل جوکہ تفکرو ادراکا ت نظری کا مرکز ہے اس سے بہت جداہے اور یہ سب کے سب انسانی روح کے ایک ہی درخت کے پھل اور اس کی شاخیں ہیں یہ معنوی معرفت ہر انسان کے اندر موجو د ہے۔


البتہ کبھی کبھی سیاہ پردے بیچ میں حائل ہو جا تے ہیں اور یہ فطرت آشکا ر نہیں ہو پاتی .انبیاء کی بعثت نیز اماموں کا سلسلہ انہیں پردوں کو ہٹانے او رفطرت الٰہی کے رشد کے لئے تھا انسان فطرت توحید کے ساتھ دنیا میں آتا ہے ۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے( : ( فَأَقِم وَجهکَ للدّین حَنِیفًا فِطرَتَ اللّٰهِ التِی فَطرَ النّاسَ عَلَیها لا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللّٰه ذلک الدّینُ القَیّمُ ولَکنّ أَکثَرُ النّاسِ لَا یَعلَمُونَ ) ( ۱ ) ''آ پ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین فطرت الٰہی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیاہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ،یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگو ں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے'' ۔

فطرت، روایا ت کی روشنی میں

قال رسول اللّہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :''کُلُّ مولودٍ یُولدُ علیٰ الفِطرة ِحتیٰ یکون أبواه یهّودانه أوینصّرانه'' ( ۲ ) ہر بچہ فطرت (توحید و اسلا م ) پر پیدا ہو تا ہے مگر یہ کہ اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔

____________________

(۱)سو رہ روم آیت :۳۰ (۲) بحارالانوار جلد ۳،ص۲۸۱


عن زراره سالت أبا عبد اللّهِ علیه السلام عن قول اللّه عزََّوجلَّ فطرةُ اللّهِ التی فطرالنّاس علیها قال: فطرهم جمیعاً علیٰ التوحید ( ۱ )

جنا ب زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق سے خدا کے اس قول ( فطرة اللہ ) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا :کہ خدا نے سب کو فطرت توحید پر پیدا کیا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آیت کریمہ میں فطرت سے کیا مراد ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسلا م مراد ہے کیونکہ خدا نے جب انسانوں سے توحید اور معرفت خدا کا عہد لیا تھا اسی وقت ضرورت دین کو بھی ان کے وجو د میں جا گزیں کر دیا تھا( ۲ ) عن علیّ ابن مو سی الرِّضا صلوات اللّه علیه عن أبیه عن جده محمّد بن علیِّ بن الحسین علیهم السلام فی قوله فطرة اللّه التیِ فطر النّاس علیها:قال هولاأله اِلّا اللّه مُحمّد رسول اللّه علیِّ امیرالمومنین الیٰ هٰهنا التوحید ( ۳ )

امام رضا ںاپنے والد بزرگو ار سے انہوں نے اپنے جدامام باقر ں سے نقل کیا ( فطرةاللہ ) کے معنی لا الہ الا اللّہ محمد رسول اللّہ ۔

____________________

(۱) بحارالانوار جلد ۳،ص،۲۷۸

(۲)بحارالانوار جلد۳،ص ۲۷۸

(۳)بحارالانوار جلد۳،ص۲۷۷


علی امیر المومنین ںہیں یعنی خداکی وحدانیت کے اقرار میں رسالت محمدی کا یقین اور ولایت امیر المومنین کا اقرار بھی شامل ہے ۔

ابو بصیر نے امام محمد با قرںسے نقل کیا ہے کہ( فَأقِم وَجهک للدِّینِ حَنیفًا ) سے مراد ولا یت ہے۔( ۱ ) حقیقت امر یہ ہے کہ ہر انسان اپنے آپ میں ایک پیدا کرنے والے کا احساس کرتاہے اور یہ وہ کیفیت ہے جس کو خدانے انسانوں کی سرشت و فطرت میں ودیعت کردیا ہے ۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو غیر مسلم دانشوروں نے بھی قبول کیا ہے جن کے چند نمونوں کی جا نب ہم اشارہ کریں گے

مذہبی فطرت اور دانشوروں کے نظریات !

بغیر کسی استثناکے عقیدہ او رمذہب سب میں پایا جاتاہے اور میں اس کو پیدائشی مذہبی احساس کا نام دیتاہو ں،اس مذہب میں انسان آرزوں اور مقاصد کے کم ہو نے اور عظمت وجلا ل جو ان امور کے ماوراء اور مخلو قات میں پوشیدہ ہوتے ہیں انکا احساس کرتاہے۔( ۲ ) ''انسٹن''

''دل کے پاس کچھ ایسی دلیلیں ہیں کہ جہا ں تک عقل کی رسائی نہیں ہے''( ۳ )

''پاسکال''

میں بالکل کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کرتا ہو ںکہ مذہبی زندگی کا سرچشمہ دل ہے۔( ۴ ) ''ویلیم جیمز''

____________________

(۱)بحارالانوار جلد۳،ص۲۷۷

(۲)دنیا ی کہ من می بینم ص۵۳

(۳)سیر حکمت دراروپاص،۱۴

(۴)سیر حکمت دراروپاص ۳۲۱


ہمارے اسلا ف نے با رگا ہ خدا وندی میں اس وقت سر کو جھکا دیا تھا جب وہ خدا کو کوئی نام بھی نہ دے سکے تھے ۔( ۱ ) ''ماکس مولر''

جو حقیقت کھل کر ہما رے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عرفانی احساس ایک ایسی لہر ہے جو ہماری فطرتوںکے تہہ سے اٹھتی ہے اور در حقیقت وہی اصل فطرت ہے جس طرح انسان پانی اور آکسیجن کا محتاج ہے اسی طرح خدا کی ضرورت بھی ہے۔( ۲ )

''الکسس کا رل''

انسان اس بات کا احساس کرتاہے کہ اسے آب و دانہ کی ضرورت ہے اسی طرح ہماری روح کو بھی بہترین روحا نی غذائوں کی ضرورت ہے ۔اسی احساس کا نام ہے دین، جس کی جانب پہلے ہی انسان کی ہدایت کر دی گئی تھی ،گو یا یہ کہ اگر دنیا کی وحشی ترین قوم سے ایک بچہ کولے لیں اور اس کو آزاد چھوڑ دیں کہ وہ جیسے چاہے ویسے زندگی گزارے اور اس کو کسی بھی دین سے آشنا نہ کرائیں وہ جس وقت بڑا ہوگا اورجس قدر اس کا شعور و ادراک کامل ہوگاہم اس بات کو محسوس کریں گے کہ وہ کسی گمشدہ شی ٔکی تلا ش میں ہے اور ہر دم اور ہمیشہ اصل فطرت و سرشت کی بنا پر ادھر ادھر ہا تھ پیر مارے گا تاکہ اپنے دماغ میں کسی چیز کا تصور کر سکے او رہم اس کی اس تگ ودواور فکر کو دین کہتے ہیں۔ ''سقراط حکیم''

____________________

(۱) مقدمہ نیایش ص ۳۱

(۲) نیایش ص ۲۴،۱۶


امیدوں کا ٹوٹنا اور ظہو ر فطرت

ہر انسان ا ضطراب اور غیر خدا سے قطع تعلقات کے وقت اللہ سے لو لگاتا

ہے اور فطرتاً اپنے کو اس بے نیاز کا محتاج محسوس کرتاہے۔ اگر ہر وقت یہی کیفیت برقرار رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اس کے معبود سے نا تہ ٹوٹا نہیں ہے( ۱ )

امیرالمومنین ں کلمہ(اللہ) کی تفسیر یوں فرماتے ہیں کہ..هوالّذی یتأله الیه عند الحوائج والشّدائد کل مخلوق عند انقطاع الرجاء من جمیع من هودونه وتقطع الاسباب من کل من سواه ( ۲ ) خدا اس ذات کا نام ہے کہ سختی اور حاجات کے وقت جب دنیا کی ہر مخلوق کے ناتے ٹوٹ جاتے ہیں اور امیدیں غیر خدا سے منقطع ہوجاتی ہیں تو اس کی پنا ہ میں آتے ہیں ۔

ایک شخص نے امام جعفر صادق سے عرض کیا یا بن رسول اللہ! خدا کی معرفت عطاکریں کیونکہ اہل مجا دلہ ( بحث کرنے والوں ) نے ہم سے بہت ساری باتیںکی ہیں اور ہمیں پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔

آپ نے فرمایا کہ :کیا تم کبھی کشتی پر سوار ہو ئے ہو ؟اس نے کہا ہا ں۔ آپ نے فر مایا :کیا کبھی ایسا نہیں ہو اکہ تمہاری کشتی بھنور میں پھنس گئی ہو اور اس وقت نہ کوئی دوسری کشتی اور نہ ہی کوئی شناگر (تیراک) ہو جو تم کو نجا ت دے سکے اس نے عرض کی جی ہاں ۔

آپ نے فرمایا :کیا اس وقت تم نے اس بات کا احساس نہیں کیا کہ اب بھی کوئی ایسی طاقت ہے جو تم کو اس خطرناک موجوںسے نجات دلا سکتی ہے .اس نے

____________________

(۱) آیات قران بہ ترتیب ۱۲،۸،۶۵،۳۳،۳۲، سورہ ،یو نس ،زمر ، عنکبوت ،روم ،لقمان ،

(۲) میزان الحکمةج ا ، ص۷۸۲ با ب صانع


کہا: ہاں ۔ آپ نے فرمایا :وہی خدا ہے جو تم کو اس جگہ نجا ت دے سکتا ہے جس جگہ کوئی نجات دینے والا نہیں اور نہ ہی کو ئی فریاد رس ہے( ۱ )

گویا یہ خدا شنا سی کی فطرت وجو د انسان کے بنیادی سرمایہ میں سے ہے جو کہ آئین ساز حقیقت کی رہنمائی کرتی ہے ۔مگر بسا اوقات دنیا سے بہت زیادہ وابستگی فاسد ماحول بلکہ ایک لفظ میں یو ں کہا جائے کہ گنا ہ، فطرت کی حقیقت نمائی سے روک دیتا ہے اور صاف و شفاف آئینہ کو دھندھلا اور غبار آلو د کردیتاہے۔

( ثُمَّ کَا نَ عَاقبةَ الَّذینَ أَسآؤا السُّوایٰ أَن کَذَّبوا بآیاتِ اللّهِ وَکَانُوا بِها یَستهزؤنَ ) ( ۲ ) جن افراد نے بہت زیادہ گناہ کیا اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ انھو ں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا اور مسخر ہ بنا یا ۔

____________________

(۱) بحار الانوار ج ۳، ص ،۴۱

(۲) سورۂ روم ۱۰۔


سوالا ت

۱۔ لغت اور اصطلا ح میں فطرت کے کیا معنی ہیں ؟

۲۔ آیت میں (( فطرة اللّه التی فطرالناس علیها ) آیا ہے اس سے مراد کیا ہے ؟

۳۔ سقراط نے فطرت توحیدی کے بارے میں کیا کہا ہے ؟

۴۔امام جعفر صادق نے اس کو کیا جو اب دیا جو خدا کی معرفت چاہتا تھا ؟


تیسرا سبق

وجو د انسان میں خدا کی نشانیاں

( سَنُرِیهِم آیاتِنَا فیِ الافاقِ وَ فِی أَنفُسِهم حتیٰ یَتبیَّن لَهُم أَنَّهُ الحَقُّ ) ( ۱ ) ہم اپنی نشانیو ں کو دنیامیں اورانسان کے وجو د میں لوگوں کو دکھلا ئیں گے تا کہ وہ جا ن لیں کہ خدا حق ہے ۔

( وَفِی خَلقِکُم وَمَا یَبُثُّ مِن دَا بّةٍ آیا تُ لقومٍ یُوقنُونَ ) ( ۲ ) اور خو د تمہا ری خلقت میں بھی اور جن جانوروں کو وہ پیداکرتا رہتا ہے ، ان میں بھی صاحبان یقین کے لئے بہت ساری نشانیاں ہیں ۔( وَمِن آیاتِه أَن خَلقَلکُم مِّن تُرابٍ ثُمّ اِذا أَنتُم بَشَرُ تَنتَشِرُون ) ( ۳ ) اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں خاک سے پیدا کیا اور انسان بنایاپھر تم زمین پر پھیل گئے ۔

جب کہ دنیا کے چوٹی کے دانشورا ور مفکرین ،مختلف النوع اشیاء کا مختلف انداز میں معائنہ کر رہے ہیں لیکن خود وجود انسان ایک نا شناختہ وجو د بنا ہو ا ہے اور برسوں درکا ر ہیں اس بات کے لئے کہ دنیا کے دانشور حضرات دنیا کے اس سب سے بڑے معمہ کی گتھی کو سلجھا سکیں اور اسکے زاویئے کو آشکا ر کر سکیں اور شاید یہ حل نہ ہو نے والی پہیلی ہے۔

____________________

(۱)سورہ فصلت آیہ :۵۳

(۲) سو رہ جا ثیہ آیہ:۴

(۳) سورہ روم آیة: ۲۰


انسان کا جسم

اصحاب امام صادق میں سے ایک کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکم (امام جعفر صادق کے شاگرد ) سے پوچھا کہ اگر کو ئی مجھ سے یہ سوال کرلے کہ تم نے خدا کو کیسے پہچانا تواس کا کیا جواب ہوگا؟ ہشام کہتے ہیں ہم اس کے جو اب میں یہ کہیں گے کہ خدا کوہم نے اپنی ہی ذات کے ذریعہ پہچانااس لئے کہ وہ تمام چیزوں میں سب سے زیادہ نزدیک ہے، میں یہ دیکھ رہا ہو ں کہ میرے جسم کی اتنی عظیم عمارت مختلف اجزاء پر مشتمل ہے اور ہر کو ئی اپنے مخصوص اندازومقام پر رواں دواں ہے ان اجزاء کا نظم و ضبط اس بات کا غماز ہے کہ ان کا خالق بہت ہی متین اور دقیق ہے۔ اور(یہ جسم) مختلف اقسام کے رنگ و روغن سے آراستہ ہے ،میں اس با ت کا قطعی مشا ہدہ کر رہا ہوں کہ میرے مختلف النوع حواس ،طرح طرح کے اعضا ء و جوارح جیسے آنکھ کا ن ، شامہ ، ذائقہ ، لا مسہ ، خلق کئے ، او رتمام عقلا ء کی عقل اس بات کو محال جا نتی ہے کہ ایک منظم پروگرام کسی ناظم کے بغیر یا کوئی اچھوتی اور نفیس تصویر کسی ماہر نقاش کے بغیر وجو د میں آجا ئے لہٰذامیں نے اس سے اس بات کا پتہ لگا یا کہ میرے جسم کا نظام میرے بدن کی نقاشی اس قانون سے مستثنی (جدا ) نہیں ہے بلکہ کسی خالق کی محتاج ہے۔( ۱ )

ایک شخص نے امام رضا ںسے وجو د خدا پر دلیل طلب کی تو آپنے فرمایا :

____________________

( ۱) بحار الا نوار ج ۳، ص ،۵۰


''علَمتُ اَنَّ لهذا البنیان بانیاً فأقررتُ به''

میں نے اپنے وجو د ہستی پر نظر کی تو اس بات کا انکشاف کیا کہ کو ئی اس کا خالق ہے لہٰذا میں نے اس کے وجو د کااقرار کرلیا۔( ۱ )

صادق آل محمد فرماتے ہیں : مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو یہ تصور کرتا ہے کہ خدا بندوں کی نظروں سے پو شیدہ ہے جبکہ اس کی خلقت کے آثار خو د اپنے آپ میں دیکھتاہے اور وہ ایسے آثار ہیں جو عقلوں کو مبہوت اور غلط افکا ر کو باطل کر دیتے ہیں ۔

میرے جا ن کی قسم! اگر نظام خلقت میں غور کر لیتے تو یقینا خالق کا ئنات کی جانب مدلل ثبو توں کے ذریعہ پہنچ جاتے۔( ۲ )

جسم انسان ایک پر اسرار عمارت

دا نشور و مفکرین حضرات نے خصوصیات انسان کو جاننے کے لئے کچھ علوم کی بنیا د رکھی ہے او راس کے توسط سے کچھ رازوں کو جان سکے ہیں۔

کیو نکہ انسان کے اعضا ء میں سے ہر عضو اسرار توحید کی ایک دنیا چھپائے ہو ئے ہے ، ان اسرار کو حسب ذیل امور میں تلا ش کیا جا سکتا ہے ۔

۱۔جسم انسان کے پر اسرار انگ : انسان کا بدن ایک عمارت کی مانند مختلف خلیوںسے مل کر بنتاہے جس کا ہر ایک خلیہ مستقل زندہ وجود ہے او ردیگر جاندار کی طرح ہضم ،جذب ، دفع ، اور تولید مثل رکھتاہے انسان کے جسم میں معمولاوہ خلیہ جو

____________________

(۱) اصول کا فی کتاب التوحید ۔ با ب :۱ حدیث۔۳

(۲)بحار الانوار ج۳،ص ۱۵۲


مستقل دل کی مدد سے خون کے سہارے غذا حاصل کرتے ہیں کروروں کی تعداد میں ہیں ان میں سے ہر ایک خلیہ خاص اندازمیں مرتب اور کا رفرما ہیں ۔ کبھی گو شت کی صورت میں کبھی پو ست کی شکل میں کبھی دانت کے مثانے کبھی اشک چشم کی صورت میں متشکل ہو تے ہیں ، یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ ان میں سے ہر ایک خاص غذا کا محتاج ہوتاہے جو خون کے ذریعہ دل کے فرمان کے تحت ان تک پہنچایاجا تا ہے ۔

۲۔ مرکز ہضم، جسم کے باورچی خانہ کی حیثیت رکھتاہے ۔

۳۔ مرکز گردش خو ن ،پورے بدن میں غذا رسانی کاکام کرتاہے۔

۴۔ مرکز تنفس بدن انسانی میں تصفیۂ خون کا کام انجام دیتاہے۔

۵۔ مرکز مغز و اعصاب تمام انسانی قوا کا فرمانروا ہے ۔

۶۔ کان، آنکھ ، ناک، یہ سب مغز کے مواصلا تی مراکز ہیں ۔

۷۔تمام اعضاء بدن مرکزی حیرت انگیز مشینری ہیںجو دانااو رتواناخالق کی جانب راہنمائی کرتی ہیں ۔( ۱ )

تمام اعضا ء بدن کی فعالیت اور ان کی فیزیکی نشوء ونما کے بارے میں ہزاروں دانشوروں نے مطالعہ کر کے ہزاروں کتابیں لکھی ہیں، کیا کوئی بھی اس بات پر یقین کرے گا کہ ان اعضاء میں ہرایک کی شناخت کے لئے اتنے عقول ،ذکا وت و درایت کی ضرورت ہے لیکن ا س کی تخلیق کے لئے کسی بھی علم و عقل کی قطعی ضرورت نہیں ہے !

____________________

(۱) راہ خدا شنا سی ۔ استاد سبحانی


یہ کیسے ممکن ہے کہ اعضاء انسانی کی فعالیت اور کیفیت کا رکے لئے برسوں مطالعہ کی ضرورت ہے، مگر ان کی خلقت بے شعور عوامل کے توسط سے ہوجائے آخر دنیا کی کو ن سی عقل اس بات کو قبول کرے گی ؟۔

دماغ کی حیرت انگیز خلقت

جسم انسان کا اہم ترین اور دقیق ترین مرکز انسان کا دماغ ہے دماغ تمام قوائے بدن کا فرمانروا اور وجود انسان کے تمام اعصابی مراکز کا اصلی مرکز ہے ،دماغ ضروری اطلاعات کی فراہمی ،اعضاء کے احتیاجا ت نیز بدن تک اپنے تمام فرامین کے پہچانے کے لئے جسم کے تمام باریک اجزاء جو جسم بھر میں پھیلے ہو ئے ہیں ان کا سہارا لیتا ہے او ران اجزاء کو ( سلسلۂ اعصاب ) کہتے ہیں ۔

انسان کی چھو ٹی سی کھوپڑی میں اتنا عظیم الشان مرکز کس طرح فعالیت کرتا ہے، اگر اس جا نب توجہ کریں تو ہم کو اس کا ئنات کے خالق کی عظمت و قدرت و حکمت کی جانب راہنمائی کرتا ہے ۔

روح انسان مخلوقات عالم کی عجیب ترین شی ٔ

وجو د انسان کے ابعاد میں سے ایک روح ہے، روح کا ئنا ت کی عجیب ترین اورپر اسرار موجودات میں شمار ہو تی ہے جبکہ تمام چیزوں سے زیادہ ہم سے نزدیک ہے پھر بھی اس کی معرفت سے قاصر ہیں ۔ ہر چند دانشمند وں نے اس کی شناخت کے لئے انتھک کو شش کر ڈالی ہے، مگر اب بھی روح کااسرار آمیز وجود جوں کاتوں ہے اور اس کے رخ سے رموز کے پردے ہٹائے نہیں جاسکے ہیں ۔


قال اللہ:( یَسئلُونَک عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِن أَمرَ رَبّی وَما أُوتِیتُم مِنَ العِلمِ اِلاّ قلیلاً ) ( ۱ ) یہ تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دوکہ روح فرمان الٰہی میں سے ہے اور تم کو تھو ڑے سے علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا ہے یہ سر بمہرجواب اس بات کی جا نب اشارہ ہے کہ روح کا ئنات کے موجودات میں سے نہا یت ہی سرّی وجود ہے اور اس سے لا علمی وعدم آگا ہی کم تعجب کی بات نہیں ہے کہ اسرار روح سے آگا ہ نہ ہو سکے ۔

یہ عجوبہ قادر ومتعال خدا کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے ۔

روح انسان کی سرگرمیاں

ہم بے شمار روحی اور فکری سر گرمیاں رکھتے ہیں چاہے خود آگا ہ طور پر یا ناخود آگا ہ طور پر ، اور ہر ایک ان میں سے ایک مستقل موضوع بحث ہے نیز متعدد کتابوں میں اس کے بارے میں بحث ہو چکی ہے ان سرگرمیوںمیں سے کچھ حسب ذیل ہیں ۔

۱۔تفکر : مجہو لا ت کا حصول او رحل مشکلا ت ۔

۲۔ تجدد :( نیاپن ) ۔ متعدد حاجات کوپورا کرنا ، مختلف حو ادث کا مقابلہ کرنا ایجاد ات وانکشافات ۔

____________________

(۱) سورہ اسرار آیة :۸۵


۳۔ حافظہ ، ان معلومات کو محفوظ رکھنے کے لئے جو حس ، تفکر کے ذریعہ انسان کو حاصل ہو ئی ہے ،پھر ان کی درجہ بندی و حفاظت اور وقت ضرورت ان کی یا د آوری ۔

۴۔ مسائل کا تجزیہ اور ان کی تحلیل :حادثات کے علل و اسباب کو معلوم کرنے کے لئے مفاہیم ذہنی کو ایک دوسرے سے جدا کرنا پھر انہیں مرتب کرنا تاکہ حادثہ کے علل و اسباب کو بخوبی معلوم کیاجاسکے ۔

۵۔ تخیل: یعنی ذہنوں شکلوں کا ایجاد کرنا جو بسا اوقات خارج میں موجود نہیں ہوتیں اور وہ نئے مسائل کے سمجھنے کو مقدمہ ثابت ہو تی ہیں ۔

۶۔ قصد و ارادہ : امور کی انجام دہی ، ان کو متوقف کرنا یا ان کو اتھل پتھل کرنا

۷۔ محبت و دوستی ، دشمنی و نفرت: اور ان کے مانند دسیوں احساسات جو انسانی اعمال میں مثبت و منفی اثرات رکھتے ہیں۔( ۱ )

اپنی پہچان

خدا کی حکمت اور اس کی اہم ترین تدبیری نشانیوں میں سے ایک شیء خلقت انسان ہے اس کی شنا خت ، شنا خت خدا وند کامقدمہ ہے ۔

قال علیِّ ں:مَن عرفَ نفسه فقد عرف ربّه ( ۲ ) ''جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے گویا خدا کو پہچان لیا'' ۔

قال أمیرُ المومنینَ علیه السلام: عَجبتُ لِمن یجهل نفسه

____________________

(۱)پیام قرآن جلد ۲،بحث روح

(۲) غرر و درر ۔ با ب معرفت


کیف یعرف ربّه ( ۱ ) '' میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پرجو خو د اپنے آپ سے جاہل ہے وہ خدا کو کیسے پہچانے گا ''.

قال علی علیه السلام :مَن عرف نفسه فقد انتهیٰ الیٰ غایة کلّ معرفة و علم ( ۲ ) ''جن نے خدا کو پہچان لیا گو یا اس نے ہر علم ودانش کو پالیا ''۔

قال علیّ علیه السلام : معرفة النفس أنفع المعارف ( ۳ ) ''نفس کی پہچان بہترین معرفت ہے ''۔

قال امیر المومنین علیه السلام : عجبت لمن ینشد ضالته وقد أضلَّ نفس هفلا یطلب ها ( ۴ )

''میں حیران اس شخص پر جو کسی گمشدہ شیء کو تلا ش کر رہا ہے جبکہ وہ خو د کوگم کر بیٹھا ہے اور اس کو تلا ش نہیں کررہا ہے'' ۔

____________________

(۱) (۲)(۳)(۴)غرر و درر ۔ با ب معرفت


سوالا ت

۱۔معرفت نفس کے سلسلہ میں حضرت علی کی ایک حدیث بیان کریں ؟

۲۔ شناخت خدا کے بارے میں ہشام کی کیا دلیل تھی ؟

۳۔ بطور خلا صہ بیان فرمائیں کہ جسم انسان کن چیزوں سے بنا ہے ؟

۴۔ روح کی سر گرمیوں کو بطور خلا صہ بیان کریں ؟


چوتھا سبق

آفاق میں خدا کی نشانیاں (فصل اول )

زمین:

( وَفِی الأرضِ آیاتُ لِلمُوقنینَ ) ( ۱ ) زمین ہی اہل یقین کے لئے نشانیاں ہیں۔قرآن میں تقریباً اسّی مقامات پر خلقت زمین کے سلسلہ میں بحث کی گئی ہے او رعشاق و فدائیان قران کو عظمت و خلقت زمین کی معرفت کی دعوت دی گئی ۔

امام جعفر صادق نے مفضل کو مخاطب کر کے فرمایا :اس زمین کی خصوصیات پر غور کرو ، اس کی خلقت کچھ یوں کی گئی ہے کہ مستحکم واستوار ہے اور مختلف النوع اشیاء کا مستقر و پناہ گاہ ہے او رتمام فرزندان آدم اپنی حاجا ت بر آنے کیلئے اس پر تلاش و کوشش کر سکتے ہیں سکون و آرام کے وقت اس پر بیٹھ سکتے ہیں اور لذت خو اب سے بہرہ امند بھی ہو سکتے ہیں لہٰذا عبرت حاصل کرو اس وقت سے جب زلزلہ کے جھٹکے لگتے ہیں اور زمین کو قرار نہیں رہتا اور لوگ ناچار ہو کر گھروں کو چھوڑ کر فرار کی راہ لیتے ہیں( ۲ )

تعجب خیز بات تویہ ہے کہ یہ کشتی فضا ان تمام عظمتوں کے ہمراہ کروڑوں لوگوں کو اپنے دوش پر اٹھا ئے ہو ئے نہا یت ہی سرعت کے ساتھ ایک گہوارے کی

مانند متمکن ومستقر۔

____________________

(۱) سورہ ذاریات آیة: ۲۰

(۲) بحار الانوار ج۳ ،ص ۱۲۱


علی دعائے صبا ح میں فرماتے ہیں : یاَ من أَرقَدنِی فِی مھاد أمنہ و أمانہ''اے وہ !جس نے امن وامان کے گہوارے میں لذت خو اب عطاکیا'' زمین کے بہترین حصہ دریائوں او رسمندروں کی نذر ہو گئے اور ان میں ایسے ایسے عجا ئبات پائے جاتے ہیں جن کی تفصیل کے لئے مستقل بحث کی ضرورت ہے ، یا من فی البحار عجا ئبہ ، اے وہ ذات! جس کے عجا ئبا ت کے مظہر دریا ئوں میں اٹے پڑے ہیں۔( ۱ )

مولا ئے متقیان کی دوسری منا جات میں آیا ہے : أنت الذیِ فی السمائِ عظمتک و فی الأرضِ قُدرتک وفیِ البحار عجا ئبک( ۲ ) تو خدا وہ ہے جس کی عظمت کے شاہکار آسمان میں ، قدرت کے نمونے زمین میں اور حیرت انگیز تخلیقات دریا ئوں میں بکھری پڑی ہیں ۔

امام جعفر صادق نے مفضل سے فرمایا : اگر تم خالق کی حکمتوں اور مخلوقات کی کم مائیگی علم کو جاننا چاہتے ہو تو پھر سمندروں کی مچھلیوں اور آبی جا نوروں اور اصداف کو دیکھو یہ اتنی تعدادمیں ہیں کہ ان کا محاسبہ نہیں کیا جا سکتا اور ان کی منفعت کا علم بشریت پر دھیرے دھیرے روشن ہوگا ۔( ۳ )

____________________

(۱)جو شن کبیر

(۲) بحار الانوار ج۹۷ ،ص

۹۷(۳) بحار الانوار ج۳، ص ۱۰۳


چاند اور سورج

( قال اللّه تعالیٰ :ومِن آیا تِهِ اللَیلُ و النَّهارُ وَ الشَّمسُ والقَمَرُ ) ( ۱ ) اور خدا کی نشانیا ں میں سے دن ، رات ، اور چاند وسورج ہیں۔

سورہ یونس میں ارشاد ہو ا کہ وہ خدا ہے جس نے سورج کو چمک عطا کی اور چاند کو چاندنی سے نوازا او ران کے مستقر کو معین کیا تاکہ برسوں اور صدیوں کے حساب کو جا ن سکو اور خدا نے ان سب کو بجز حق خلق نہیں کیا ہے اور وہ اہل علم و فکر کے لئے اپنی نشانیوں کو بیان کرتاہے ۔

سورج اپنی تابناکیو ں کے ذریعہ صرف بستر موجودات کا ئنات ہی کو گرم اور منور نہیں کرتا، بلکہ حیوانات و نباتات کو حیات عطا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتاہے۔ آج دنیا کے سامنے یہ حقیقت کھل کرآگئی ہے کہ کرۂ زمین کی تمام حرکات خورشید کی ضیاء باریوں کا صدقہ ہے ،خورشید کا حجم دنیا کے حجم کے ۱۳ تیرہ لا کھ ہزار کے برابر بڑا ہے برج آسمانی میں سورج کا منظم حرکت کرنا اس کا دقیق طلوع و غروب کرنے کے علا وہ مختلف فصلو ں کا تعین او رزمان کی تعیین انسانوں کی اجتماعی زندگی میں بہت ہی مفید اور بے حد معاون ہے ۔

چاند ہر گھنٹہ میں تین ہزار چھ سو کیلو میٹر زمین کے اطراف میں اپنی مسافت طے کرتا ہے اور قمری مہینوں میں چاند کم و بیش ۲۹ روز کے اندر زمین کا مکمل چکر لگاتا ہے اور زمین کے ساتھ سال میں ایک بار سورج کا چکر لگا تا ہے چاند ، سورج ، ان میں سے ہر ایک کی گردش ایک خاص نہج پر ہے جس کو فکر بشر درک کرنے سے عاجز ہے ، جو کچھ ہم درک کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ منظم و مرتب طریقہ سے گردش کرنا ،زمان کی

____________________

( ۱)سو رہ فصلت آیة: ۳۷


ترتیب او رشب و روز اور ماہ و سال کی پیدائش کا سبب ہے ۔

امام صادقنے مفضل سے روایت کردہ حدیث میں فرمایا: سورج کے طلوع اورغروب میں تدبر کرو خدا نے دن و رات کی حاکمیت کو سورج کے حوالے سے معین کیاہے اگر سورج طلوع نہ ہو تا تو نظام دنیا درہم برہم ہو جاتا ،اگر اس کا نور نہ ہو تا تو حیات کا ئنات بے نور ہوجا تی ، اور وہ غروب نہ ہو تا تو لوگوں کا چین حرام ہوجا تا کیو نکہ روح وجسم کو آرام و سکو ن کی شدید ضرورت ہو تی ہے سورج کا نشیب و فراز میں جا نا چار فصلو ں کے وجو د کا سبب ہے اور جو کچھ اس کے منافع و آثار ہیں، ان کے بارے میں غور و فکر کرو ،چاند کے ذریعہ خدا کو پہچانو کیونکہ لوگ اسی کے مخصوص نظام کے ذریعہ مہینو ں کو پہنچانتے ہیں اور سال کے حساب کو مرتب کرتے ہیں ، ذرا دیکھ تو سہی کہ کس طرح اندھیرے کے سینے کو چاک کرکے رات کو روشنی بخشتا ہے اور اس میں کتنے فوائد پو شیدہ ہیں۔( ۱ )

ستارے : قال اللّہ:( اِنَّا زَیَّنَّا ألسَّمَآئَ الدُّنیَا بِزِینَة الکَوَاکِبِ ) ( ۲ ) ہم نے دنیاوی آسمان کو ستاروں کی محفل سے سجا یا ہے، مولائے کا ئنا ت فرماتے ہیں : آسمانوں میں بکھرے ہو ئے ستارے زمینوں پر بسے ہوئے شہروں کے مانند ہیں اور ان میں سے ایک شہر دوسرے شہر سے نورانی ستون سے متصل ہیں ۔( ۳ )

____________________

(۱) بحا رالانوارج، ۵ ۵ ص ۱۷۵

(۲) سو ر ہ صافات آیة ،

۶(۳) بحا الانوار ج۵۵ص ۹۱


سوالات

۱۔ امام جعفرصادق نے خلقت زمین کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟

۲۔ امام جعفرصادق نے سورج کے با رے میں کیا فرمایا ہے ؟


پانچواں سبق

آفاق میں خدا کی نشانیاں (فصل دوم )

آسمانوں کی خلقت میں غور وخوض

قال اللّہ :( اِنَّ فِی السَّمٰوَاتِ والأَرضِ لأیاتٍ للمُؤمنِینَ ) ( ۱ ) بے شک زمین وآسمان میں اہل ایما ن کے لئے بے شمار نشانیاں ہیں ۔

قال اللّہ تعالیٰ:( اِنَّ فِی خَلقِ السَّمٰواتِ والأَرضِ وَ اختِلافِ اللَّیلِ والنَّهارِ لآیاتٍ لأولِی الألبابِ ) ( ۲ ) بے شک زمین و آسمان کی مخلو ق او ر روز و شب کی آمد ورفت میں صاحبان عقل کے لئے نشانیاں ہیں ۔( قَالَت رُسُلُهُم أَ فِی اللّهِ شکُ فَاطِرالسَّمواتِ والأرضِ ) ( ۳ ) ان کے رسولو ں نے کہا : کیا وجو د خدامیں شک ہے جو زمین و آسمان کا خالق ہے ؟

آل عمران کی آیت۱۹۰کی تفسیر کے سلسلے میں حدیث میں وارد ہو اہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک تھوڑی سی استراحت کے بعد اٹھے وضو فرمایا اور مشغول نماز ہوگئے اور اتناگریہ فرمایا کہ آپ کے لباس کا سامنے کاحصہ تر ہو گیا اس کے بعد سجدے میں جاکر

____________________

(۱) سورہ جا ثیہ آیة:۳

(۲) سورہ آل عمران آیة: ۱۹۰

(۳) سورہ ابراہیم آیة: ۱۰


اتنا گریہ کیا کہ اشک سے زمین نم ہو گئی ، اور گریہ و ندبہ کی یہ کیفیت اذان صبح تک جاری رہی جب موذن رسول عربی بلا ل نے آپ کو نماز صبح کے لئے آواز دی تو کیا دیکھاکہ آپ کی آنکھیں گریا ں کنا ں ہیں بلا ل نے پوچھ ہی لیا یا رسول اللہ ! گریہ کا سبب کیا ہے ؟جبکہ الطاف و اکرام الٰہی آپ کے گرد حلقہ کئے ہوئے ہیں۔

آپ نے فرمایا : کہ کیا میں خدا کا شاکر بندہ نہ رہو ں ؟اور گریہ کیوں نہ کروں ؟آج رات مجھ پر دل ہلا دینے والی آیات کا نزول ہو اہے پھر مولا نے آل عمران کی مذکورہ آیت کے بعد کی چار آیتوں کی تلا وت فرمائی اور آخرمیں فرمایا :''وَیلُ لِمَن قرأها ولم یتفکر فیها'' ویل (جہنم کا ایک کنواں) ہے اس شخص کے لئے جو اس آیت کو پڑھے اور اس میں تفکر و تدبر نہ کرے ۔( ۱)

فضا کا تحقیقی مطالعہ کرنے کے بعد دائرہ حیرت میں جو چیز وسعت کا سبب بنتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو اور آسمان پر چاند بھی نہ چمک رہا ہو ایسے میں آسمان کی جانب دیکھیں تو جو ایک طولانی علاقہ کمان کی مانند ایک افق سے دوسرے افق تک دیکھا ئی دے رہا ہے وہ سیا ہی زمین،میں ایک سفید نہرکے مانند دیکھا ئی دے گاوہی کہکشاں ہے ہر کہکشاں میں بے شمار ستارے ہوتے ہیں ہماری کہکشاں کی مسافت ایک ( جو کہ ہمارا شمسی نظام اس میں پایا جاتا ہے ) ہزار نوری سال ہے ، سورج جوکہ از حد سرعت کے ساتھ اس کہکشاں کا چکر لگا رہا ہے ڈھائی کروڑ سال میں اس کہکشاں کا مکمل چکر لگاتا ہے۔( ۲ )

____________________

(۱)پیام قرآن ج۲،ص ۱۶۲( متعدد تفاسیر کے حوالے سے )

(۲) راہ تکامل ج۶،ص ۱۰۳


آخری تحقیقات کے مطابق کم سے کم ایک کروڑ کہکشاں اس عالم میں ہیں اورصرف ہماری کہکشاں میں ایک ارب ستارے پائے جاتے ہیں۔( ۱ )

خدا وند متعال کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی خلقت آسمان ہے جس کو قرآن نے نہایت ہی اہتمام سے بیان کیا ہے ، اورتین سو تیرہ مرتبہ مفرد وجمع ملا کر آیات قرآنی میں لفظ آسمان کو ذکر کیا ہے، اور علی الاعلان بشریت کو خلقت آسمان میں تدبر کی دعوت دی ہے تاکہ اس کی معرفت میں اضافہ ہوسکے ۔

سورہ ق کی آیة ۶ میں ارشاد ہو ا ۔( أَفَلَم یَنظُرُوا اِلیٰ السَّمائِ فَوقَهُم کَیفَ بَنیناَهَا وَ زَّینَّاها وَمَالَها مِن فُروُجٍ ) کیا انھو ںنے اپنے سر پہ سایہ فگن آسمان کو نہیں دیکھا ( اس میں تفکر نہیں کیا ) کہ ہم نے اس کو کیسے بنایا اس کو (ستاروں ) کے ذریعہ سجا یا سنوارا اور اس میں ( بال برابر ) شگاف نہیں ہے ۔

روایا ت میں آیا ہے کہ شب زندہ دار افراد جب سحر کے وقت نمازشب کے لئے اٹھیں تو پہلے آسمان کی جانب دیکھیں اور سورہ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کریں ۔

____________________

(۱) پیام قرآن ج۲،ص ۱۷۶


خلقت آسمان اور معصومین کے نظریات واقوال

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب نما ز شب کے لئے اٹھتے تھے ،پہلے مسواک کرتے تھے پھر آسمان کی جانب دیکھتے تھے اور اس آیت( اِنّ َفِی خَلقِ السَّمٰواتِ وَ الأرضِ ) ( ۱ ) کی تلاوت کرتے تھے ۔

مطالعہ آسمانی کے وقت امیر المومنین کی منا جات

امیر المومنین علیہ السلام کے ایک صحابی جن کا نام حبَّہ عرنی ہے کہتے ہیں کہ ایک رات میں نو ف کے ساتھ دارالامارہ میں سویا ہوا تھا، رات کے آخری حصہ میں کیا دیکھاکہ امیر المومنین دارالا مارہ کے صحن میں ایک حیران اور مضطرب شخص کی طرح دیوار پر ہاتھ رکھ کر ان آیا ت کی تلا وت فرمارہے ہیں ۔

( اِنَّ فِی خَلقِ السَّمواتِ والأَرضِ وَ اختِلَافِ اللَّیلِ والنَّهارِ لآیاتٍ لأولِی الأَلبابِ الَّذینَ یَذکروُنَ اللّهَ قِیامًا وَ قُعُوداً وعلیٰ جُنُوبِهِم وَ یتفَکَّرُونَ فِی خلقِ السَّمواتِ والأَرضِ رَبَّنا ماخَلقتَ هذا بَاطِلاً سُبحاَنک فَقِنا عَذَابَ النَّارِ رَبّنا اِنَّک مَنْ تُدخِل النَّارِ فَقَد أَخزَیتهُ وَما للِظَّالمِینَ مِن أنصارٍ رَبَّنا اِنّنَا سَمِعنا مُنادیًا یُنادیِ للایمانِ أَنْ آمِنوا بِرَبِّکُم فأمَنَّا رَبَّنا فَاغفِرلَنَا ذُنُوبَنا وَ کَفِّر عَنا سَیئاتَنا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الأَبرارِ رَبَّنا وآتِنا مَا وَعَدتنا علیٰ رُسُلِک ولا تُخزِنَا یَومَ القِیَامةِ اِنَّک لَا تُخلِفُ المِیعَادَ ) ( ۲ ) بیشک زمین و آسمان کی خلقت لیل و نہا ر کی آمد ورفت میں صاحبان عقل کے لئے قدرت کی نشانیاں ہیں ۔ جولوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے،خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی خلقت میں غور وفکر کرتے ہیں کہ خدا یا تونے یہ

____________________

(۱) مجمع البیا ن۔ مذکورہ آیة کے ذیل میں

(۲)سو رہ آل عمران آیة ۱۹۰سے۱۹۴تک۔


سب بیکا ر نہیں پیدا کیا ،توپاک وبے نیازہے ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔

پرور دگار !تو جسے جہنم میں ڈالے گا گویا اس کو ذلیل ورسوا کردیا اور ظالمین کاکوئی مدد گار نہیں ہے پرور دگا ر! ہم نے اس منا دی کوسنا جو ایمان کی آواز لگا رہا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آئو تو ہم ایمان لے آئے ،پرور دگار!اب ہما رے گنا ہو ں کو معاف فرما اور ہماری برائیوں کی پردہ پوشی فرما اورہمیں نیک بندوں کے ساتھ محشور فرما ،پروردگار! جو تونے اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے اسے عطا فرمااور روز قیامت ہمیں رسوا نہ کرنا کہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔

حبہ کہتے ہیں کہ حضرت ان آیا ت کی بار بار تلا وت فرما تے تھے اور خوبصورت آسمان اور اس کے خوبصورت خالق کے تدبر میں کچھ یوں غرق تھے کہ جیسے آپ کھوئے ہوئے ہوں اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے میرے پاس آئے اور فرمایا: حبّہ جگ رہے ہو یا سورہے ہو؟ میں نے کہا آقا،جگ رہا ہو ں،لیکن میرے سید و سردار!آپ نے اتنے جہاد کئے اتنا روشن وتابناک آپ کا ماضی ہے اس قدر آپ کا زہد و تقوی ہے اورآپ گریہ فرمارہے ہیں، مولا نے آنکھو ں کو جھکالیا اور ہچکیاں لینے لگے پھر فرمایا : اے حبّہ ! ہم سب پیش پروردگا ر حاضر ہیں ،اور ہما را کوئی عمل اس پر پوشیدہ نہیں ہے، حبہ یہ بات بالکل قطعی ہے کہ خدا ہماری او رتمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور کو ئی چیز ہم کو او رتم کو خدا سے چھپا نہیں سکتی ۔


اس کے بعد مولا ،میرے ساتھی نوف کی جا نب متوجہ ہو ئے اور فرمایا: نوف سو رہے ہو ؟ انھو ں نے کہا :نہیں مولا آپ کی حیرت انگیز کیفیت کی وجہ سے آج کی رات بہت رویا ہو ں ۔آپ نے فرمایا :اے نوف اگر آج رات خو ف خداسے گریہ کروگے توکل پیش پروردگار تمہاری آنکھیں روشن ومنو ر ہوںگی ۔اے نوف ! کسی کی آنکھ سے ایک قطرہ بھی آنسو کا نہیں گرتا مگر یہ کہ ایک آگ کے دریا کو بجھا دیتا ہے (نوف کہتے ہیں ) آقا کا آخری جملہ یہ تھا کہ ترک ذمہ داری پر خدا سے ڈرو ، اور زمزمہ کرتے ہوئے ہمارے سامنے سے گذر ے اور فرمایا : اے میرے پروردگا ر ! اے کا ش میں یہ جا ن سکتا کہ جس وقت میں غافل ہو ں تونے مجھ سے منھ مو ڑ لیا ہے یا میری جانب متوجہ ہے ! اے کا ش میں جان سکتا کہ اتنی طویل ترین غفلت اور تیری شکرگزار ی میں کوتاہیوں کے باوجو د تیرے نزدیک میر اکیا وقار ہے نوف کہتے ہیں خدا کی قسم صبح تک آقا کی یہی کیفیت تھی۔( ۱ )

امام سید سجا د ں نماز شب کے لئے اٹھے پانی میں ہاتھ ڈالا تاکہ وضو فرمالیں اس بیچ آسمان کی جا نب دیکھا اور اس میں تفکر کرتے ہو ئے اس قدر مشغول ہو گئے کہ صبح ہو گئی اور موذن نے اذان کہہ دی اور آپ کا دست مبارک ابھی تک وضو کے پا نی میں ڈوبا ہواتھا ۔

امیر المومنین ں فرماتے ہیں :سُبحانک ما اعظم ما نریٰ من خَلقک وما أصغر کلّ عظیمة فی جنب قدرتک وما اهول ما نریٰ

____________________

(۱) سفینہ البحار ج۔۱ ص ۹۵ بحار الانوار ج،۴۱ ص ۲۲


مِن ملکو تک و ما احقر ذلک فیما غاب عنا من سلطانک وما أسبغ نعمک فی الدنیا وما أصغرها فی نعم الآخرة ( ۱ )

اے پاک وپاکیزہ پروردگار تو کتنا عظیم ہے ان چیزوں سے جو تیری مخلوقات میں مشاہدہ کرتے ہیں تیری قدرت کے سامنے سارے بلند قامت کس قدر (بونے دکھا ئے دیتے ہیں اور ) چھو ٹے ہیں ، ملکو ت کتنا حیرت انگیز (شاہکا ر ) ہے او رکتنی ایسی چھوٹی چیزیں ہیں جو تیری سلطنت میں ہما ری نگا ہو ں سے اوجھل ہیں دنیا میں تیری نعمتیں کتنی بے شمار ہیں اور آخرت کی نعمتوں کے مقابل یہ کتنی تھوڑی سی معلوم ہوتی ہیں ۔

____________________

(۱) نہج البلاغہ


سوالا ت

۱۔ پیغمبر کے گریہ کا سبب کیا تھا اور بلا ل سے کیا فرمایا ؟

۲۔ کہکشاں کیا ہے ؟اور ہماری کہکشاں کا دائرہ کتناہے ؟

۳۔ منا جا ت امیرالمومنین کے سلسلہ میں حبہ کی داستان کا خلا صہ بیان کریں؟


چھٹا سبق

برہا ن نظم

پچھلے سبق سے یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں ایک خاص قسم کا نظام پایا جاتا ہے اور اس بات کا امکا ن بھی نہیں ہے کہ موجودات عالم میں پائے جانے والے نظم ونسوق کی تردید کو ئی بھی عاقل انسان کر سکے ، کا ئنا ت کے مادی ذرات میں سے سب سے چھوٹی شی (ایٹم ) او ربڑی سے بڑی چیز ،کہکشاں ہے سب جگہ اور ہر چیز میں ایک خاص نظم وضبط پایا جاتا ہے اور دقیق حساب کے تحت گردش کرتے ہیں ۔

انسان ،حیوان ، نباتات وجمادات او رزمین وآسمان کی دوسری تمام موجودات ایک مقصد کے پیش نظر پیدا کی گئی ہیں اور ان پر ایک خاص قانون ہے جو حکمرانی کرتا ہے اور ان کی ہدایت کر رہا ہے یہ بات بالکل مسلّم ہے کہ اگر دنیاپر نظم و تنظیم کی حکمرانی نہ ہو تی تو دنیا کے بارے میں معلومات بھی حاصل نہ ہوتی،کیونکہ علم کے معنی ہی یہ ہیں کہ ان عمومی نظام و قوانین کی دریافت ہو جودنیاپر حکم فرما ہیں ۔

اگر جسم انسان کے خلیہ کی نقل و حرکت اور جسمانی نظم کی رد و بدل ایک خاص راہ و روش پر مشتمل نہ ہو تی تو فیزیو لوزی اور علم طب کا وجو د کیسے آتا ؟

اگر سیارات وکو اکب ایک خاص نظام کے تحت گردش نہ کرتے ہو تے توعلم نجو م ( ستارہ شناسی ) کا وجو د کیو نکر ہو تا؟اور اگر ان میں خاص نظم و ضبط نہ ہو تا تو ستارہ شنا س افراد چاند گہن اور سورج گہن کو کیسے معین کرسکتے ؟ اور سورج کے طلوع و غروب کو ہمیشہ کیسے معین کرسکتے ؟

اور یہی نظم جو کائنات پر کار فرماہے اسی بات کا سبب بنا ہے کہ دانشمند افراد ریاضی اور فیزیکی طریقہ سے اندازہ لگا کر بغیر کسی ذمہ دار (کنٹرولر ) کے ایک خاص سفینہ تیار کر کے کو اکب کی سیر کو بھیج دیتے ہیں۔

خلا صہ یہ کہ علم نظام، اشیاء کا مفسّر ہے جو دوسری چیزوں میں پایا جاتاہے اور علم ونظم کا رشتہ بالکل واضح و روشن ہے ۔

قرآن مجیدنے خدا کو پہچاننے کے لئے برہان نظم سے بہت استفادہ کیا ہے اوراس جا نب ہم پہلے ہی اشارہ کر چکے ہیں ، یا یو ں کہا جا ئے کہ قرانی نظرئے کے تحت خدا کو پہچاننے کا بہترین اور واضح راستہ نظام خلقت اورآثار موجودات کا مطالعہ ہے ۔


برہان نظم کی بنیا د

یہ دلیل دو بنیادوں ( صغری و کبری) اورایک نتیجہ پر مشتمل ہے

۱۔ یہ دنیا ایک خاص نظام او ردقیق حساب کے تحت خلق ہو ئی ہے اور موجودات کے ہر ذرے میں ایک خاص قسم کا قانون کار فرما ہے جس میں تبدیلی نا ممکن ہے ۔

۲۔ جہاں بھی نظم وتدبیر کا دقیق خیال رکھا گیا ہو وہاں اضافات و اتفاقات کا امکان نہیں ہے اور یہ کیفیت یقینا کسی علم و قدرت سے منسلک ہے ۔

نتیجہ: اس دنیا کا نظم وضبط اور اس کی تدبیربہ نحو احسن اس بات پر گواہ ہے کہ ایک علیم و خبیر خالق نے نہایت خو ش اسلو بی سے اس کا نقشہ تیار کیا ہے اس کے بعد عالم ہستی کو انہیں بنیادوں پر قائم کیا۔

خلقت، خالق کا پتہ دیتی ہے

اگر ایک گاڑی کا وجو د اس کے بنانے والے او رایک کتاب کا وجو د اس کے لکھنے والے، ایک مکان کا وجود اس کے معمار کا پتہ دیتاہے تویہ عظیم خلقت یہ دقیق نظام ،حکیم وعلیم ،قادر یعنی خدا وند متعال کے وجو د کا جیتا جا گتا ثبوت ہے ۔

ایک سیٹ لائٹ بنا نے کے لئے سیکڑوں سائنس داں، دن رات سرجو ڑ کر تحقیق کرتے ہیں اور دقیق ریاضی اور علم حساب کے تحت ا س کو فضا میں چھوڑتے ہیں اور اس میں حرکت پیدا کرتے ہیں ۔

کروڑوں کہکشائیں جس میں کروڑوں منظومۂ شمسی ہیں او ر ان میں سے ہر ایک میں کروڑوں سیارات وکو اکب پائے جا تے ہیں اور سب کے سب فضا میں بغیر کسی تھوڑی سی غلطی کے گردش کرتے ہیں کیاقادر مطلق خدا کے وجود پر دلیل نہیں ہیں ؟۔


نیوٹن اورایک مادی دانشمند کا دلچسپ مباحثہ

مشہو ر ستارہ شناس اور ریاضی داں نیوٹن نے ایک ماہر مکینک سے کہا کہ ایک چھوٹا سا سانچہ ،منظومہ شمسی کے لئے تیار کرو اس منظومہ کے سیارات چھوٹے چھوٹے گیند تھے جو ایک تسمہ سے بندھے ہو ئے تھے اوران کے لئے ایک ہینڈل بنایاگیا تھا جب اس کو چلاتے تھے تو نہایت ہی دلکش کیفیت میں وہ سارے گیند اپنے اپنے مدار پر گردش کرتے تھے اور اپنے مرکز کے ارد گرد چکر لگا تے تھے ۔

ایک دن نیوٹن اپنے مطالعہ کی میز کے پاس بیٹھا تھا او ریہ سا نچہ بھی وہیں رکھاتھا ۔ اس کا ایک قریبی دوست جو میٹر یالیزم کا مفکر ودانشمند تھا آیا جیسے ہی اس کی نگا ہ اس خوبصورت سانچہ پر پڑی وہ ششدر رہ گیا اورجب نیوٹن نے اس ہینڈل کو گھمایا اور وہ سارے سیارا ت بہت ہی آہستہ او ردلکش انداز میں اپنے مرکز کے گرد چکر لگانے لگے تو اس کی حیرانی میں اور اضا فہ ہو گیا او رچیخ پڑا ،ارے واہ ،یہ تو بہت ہی حیرت انگیز چیزہے اس کو کس نے بنایا ہے ،نیو ٹن نے کہا کسی نے نہیں ،یہ یک بیک بن کر تیار ہوگیاہے ،اس مادی مفکر نے کہا:نیوٹن صاحب آپ کیاسمجھتے ہیں کہ میں نراپاگل ہو ں یہ سانچہ خو د بخود کیسے بن سکتا ہے کیا یہ ممکن ہے !۔

نہ صرف یہ کہ اس کا بنا نے والا کو ئی ہے بلکہ اس کا بنانے والا عصر حاضر کا نا بغہ ہے نیوٹن آہستہ سے اٹھا اوراس مفکر کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر بولا میرے اچھے دوست جو تم دیکھ رہے ہو وہ صرف ایک سانچہ ہے جو ایک عظیم نظام شمسی کے تحت بنایا گیا ہے ! اور تم اس بات پر بالکل راضی نہیں ہوکہ یہ خو د بخود بن گیا ہے توتم اس بات کو کیسے مان لیتے ہو کہ خود نظام شمسی اپنی تمام تر وسعت و پیچیدگی کے ساتھ بغیر کسی عاقل وقادر کے وجو دمیں آگیا ؟!مادی مفکر بہت شرمندہ ہو ااور لا جواب ہو کر رہ گیا جی ہاں


یہ وہی برہان نظم ہے جو قادر و توانا خدا کے وجود پر دلیل ہے( ۱ )

مو حد وزیر کی دلیل منکر بادشاہ کے لئے

ایک خدا کے منکر بادشاہ کا ایک توحید پرست وزیر تھا وزیر جو بھی دلیل پیش کرتا وہ قبول نہ کرتا .یہاں تک کہ وزیر نے بادشاہ کو اطلاع دئے بغیر ایک بہترین محل بنوایا ،جو آب وہوا کے حساب سے بھی بہت منا سب تھا اور اس میں انواع و اقسام کے پھل اورپھول لگے ہو ئے تھے ایک دن وزیر نے بادشاہ کو اس محل کے دیدار کی دعوت دی، بادشاہ کو وہ محل بہت پسند آیا اس نے پوچھا اس کا معمار و انجینئرکو ن تھا؟وزیر نے فوراً جو اب دیا بادشاہ سلا مت نہ ہی اس کا کو ئی انجینئر ہے اور نہ معمار ، ہم نے دیکھا کہ اچانک ایک محل تیار ہو گیا بادشاہ آگ بگو لہ ہو گیا او ربولا کہ تم میرا مذاق اڑا رہے ہو کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی چیز خودبخود پید ا ہو جا ئے ؟وزیر نے کہا : بادشاہ سلا مت اگر یہ چھوٹا سا قصر بغیر کسی بنا نے والے کے نہیں بن سکتا تو اتنی بڑی دنیا اپنی تمام ترعظمتوں کے ساتھ یہ زمین وآسمان یہ دریا و سمندر اور اس کے تما م موجودات بغیر خالق کے کیسے وجود میں آگئے؟بادشاہ سمجھ گیا اس نے وزیر کو سراہا اور خدا شناسی کی راہ پرآگیا ۔

____________________

(۱) ہستی بخش ص ۱۴۹ شہید ھا شمی نژاد


برہا ن نظم کا خلا صہ اور نتیجہ

تما م مخلو قات منجملہ:

۱ ۔کہکشاں ،سیارات وکواکب

۲۔انسان او ر اس کے تمام رموز و اسرار جو اس کی خلقت میں پوشیدہ ہیں ۔

۳۔ ایٹمس ، خلیہ اور اعصاب

۴۔حیوانات اور ان کے مختلف اقسام

۵۔ نبا تات اور ان کے خو اص

۶۔دریا ،سمندر اور ان کے عجائبات و مخلو قات

۷۔ جہا ن خلقت کا دقیق نظم وضبط

۸۔اس دنیا کی وہ ساری چیزیں جو ابھی عقل بشر میں نہیں آئی ہیں سب کی سب حکیم و دانا اور قادر خداوند عالم کے وجود پر دلیل ہے۔

سوالا ت

۱۔نظمِ جہان کے علم کی پیدا وار کیسے ہو ئی ؟

۲۔ برہا ن نظم کی اساس و بنیاد کیا ہے ؟

۳۔ نیو ٹن اور مادی مفکر کے مباحثہ کا خلا صہ بیا ن کریں ؟

۴۔ موحد وزیر کی دلیل منکر بادشاہ کے لئے کیا تھی ؟


ساتواں سبق

توحید اور خدا کی یکتائی

قال اللّہ تعا لیٰ:( فَاِلٰهُکُم اِلهُ وَاحدُ فَلَهُ أَسلِمُوا ) ( ۱ ) تم سب کا خد اایک ہے لہٰذا اس کے سامنے سر تسلیم خم کردو ۔( لا تَجعل مَعَ اللّٰهِ اِلهًا آخَر ) ( ۲ ) خدا کے ساتھ کو ئی دوسرا معبود قرار نہ دو( لَوکانَ فِیهِماَ أَلِهةُ اِلّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ) ( ۳ ) اگر زمین و آسمان میں دو خدا ہوتے تو زمین و آسمان ختم ہوجا ئے ۔

تمام الٰہی رسولوں کا اصلی نعرہ توحید تھا اور پیغمبر عربی کو ہ حرا سے''قولوا لا الہ الا اللّٰہ تفلحوا'' کہتے ہو ئے آئے اور آپ نے حدیث میں فرمایا کہ :افضل العبادة قول لااله الا اللّٰه بہترین عبادت لا الہ الا اللّٰہ کہنا ہے ۔

توحید اور یکتائی پر دلیلیں

۱۔ وہ خدا جوکما ل مطلق ہے اور اس کے لئے کو ئی حد اور مقدار نہیں ہے وہ پروردگارجو ازلی و ابدی ہے، وہ پرور دگار کہ زمان و مکا ن جس کی پیداکی ہوئی مخلوق

____________________

(۱)سورہ حج آیہ: ۳۴

(۲) سورہ اسراء آیة: ۲۲

(۳) سورہ انبیاء آیة:۲۲


ہے اور وہ ایک ہی ہے ۔ اگر خدا کے لا محدود و لا متناہی ہو نے کے بارے میں غور و فکر کریں تو بات یہ کھل کر سامنے آئے گی کہ ایک کے علاوہ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ تعدّد محدودیت کا سبب ہے ۔

۲۔ دنیا میں ایک نظام کا بول بالا ہے اور ایک نظام کسی ایک ناظم کے وجو د کا متقاضی ہے ستارہ شناس ،دا نشور جن قوانین و نظام کا مشاہدہ کہکشاں وکرات میں کرتے ہیںاورا یٹمی ماہرین بھی ایٹمی ذرات میں انہیں قوانین کامشاہدہ کرتے ہیںنیز یہی قوانین جسم انسان میں بھی کا ر فرما ہیں، او راگر ایک کے سوا دوسراحاکم و ناظم ہو تا تو عالمی نظام درہم برہم ہو جا تا ، یہی معنی ہیں( لَو کَانَ فِیهِمَا آلِهةُ اِلاّ اللّٰهُ لَفَسدَتَا ) ( ۱ ) کے۔

۳۔ وحدانیت خدا پر تمام انبیا ء کی خبریں اس کی وحدانیت پر ٹھوس دلیل ہیں وہ تمام انبیاء و مرسلین جو خدا کی جانب سے احکام الٰہی کو پہچانے پر متعین تھے سب نے خدا کو واحد بتایا ہے .حضرت امیرالمومنین مام حسن سے وصیت کرتے وقت فرماتے ہیں :واعلمْ یا بُنی أَنه لو کان لربک شریک لأتتک رسله و لرأت آثار ملکه و سلطانه و معرفة أفعاله وصفاته و لکنَّه اللّٰه واحد کما وصف نفسه ( ۲ ) میرے لا ل جان لو کہ اگر خداکاکوئی شریک ہو تا تو اس (شریک)کا کو ئی رسول تم تک ضرور آتا اور اس کی قدرت و ملوکیت

____________________

(۱) سو رہ انبیا ء آیة: ۲۲

(۲) نہج البلا غہ مکتوب، ۳۱۔امام حسن سے وصیت سے متعلق


کے آثار تم ضرور دیکھتے ، اس کے افعال و صفات سے ضرور آگا ہ ہو تے لیکن وہ واحد ویکتا ہے جیسا کہ خو د اس نے اپنی توصیف میں کہاہے( وَمَا أَرسَلنا مِن قَبلِک مِنْ رَسُولٍ اِلَّا نُوحِی اِلیه أنَّهُ لا اِله اِلَّا أَنا فَاعبُدُون ) ( ۱ ) میرے حبیب ہم نے تم سے پہلے کسی نبی کو نہیں مبعوث کیا مگر یہ کہ ہم نے اس تک وحی کی کہ میرے علاوہ کو ئی معبود نہیں ، لہٰذا میری عبادت کرو ۔

مسئلہ توحید تمام اوصاف الہیہ کی شنا خت کا بنیا دی مسئلہ ہے کیونکہ اس کی یکتائی اس کے لا محدود ہو نے پر دلا لت کر تی ہے اور یہی وجو د (وحدا نیت ) ہے جو تمام کمالا ت کا مجموعہ ہے او رہر طرح کے عیب سے پاک ومنزہ ہے خلا صہ کلا م یہ کہ اگر ہم نے خد اکو حقیقی معنوں میں واحد ویکتا مان لیا تو گویا اس کے سا رے صفات سے آشنا ہو گئے ۔

عَن أَبیِ عبد اللّٰهں قال : مَن قال لا اِله الَّا اللّه مُخلِصاً دخل الجنَّة و اِخلاصه أن تحجزه لا اِله الّا اللّه عمّا حرّم اللّه عزّوجلَّ ( ۲ )

امام صادق نے فرمایا:جو کو ئی خلو ص کے ساتھ لا اِلہ الّا اللّہ کہے گا وہ داخل بہشت ہو گا اور اس کا خلو ص اس بات کا متقاضی ہے کہ''لا اِلہ الّا اللّہ'' کو ہر اس چیز سے دور رکھے جس کو خد انے حرام قرار دیا ہے ۔

____________________

(۱) سو رہ انبیاء آیة۲۵

(۲) توحید صدوق باب ثواب المو حدین حدیث ۲۶


قال ابو عبد اللّه علیه السلام : مَن قال لا اله اِلاّ اللّه مائة مرّة کان أَفضل النّاس ذلک الیوم عملاً اِلّا من زاد ۔

امام جعفر صادق نے فرمایا : جو شخص سو مرتبہ خلوص کے ساتھ لا الہ الا اللّہ کہے تو روز محشر (اس) عمل کے باعث افضل ناس میں شمار ہو گا مگر یہ کہ کو ئی اس سے زیادہ کہے ہو( ۱ )

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ : پیش پروردگار لا اِلہ اِلّا اللّہ سے بہتر کو ئی کلا م نہیں ہے جو شخص لا اِلہ اِلّا اللّہ کی تکرار کرے گا اس کے گنا ہ یوں ختم ہوں گے جیسے درخت سے سو کھے پتے جھڑجاتے ہیں۔( ۲ )

مراتب توحید

۱۔توحید ذاتی: یعنی ہر جہت سے بے نظیر اور تمام جہات سے کا مل ہو۔ (لَیسَ کَمِثلهِ شَیئُ وَهُوَ السَّمِیعُ البَصیرُ )( ۳ )

اس کی مانند کو ئی شیٔ نہیں ہے وہ سننے اور دیکھنے والا ہے(ولَم یَکن لَهُ کُفواً أَحد )( ۴ ) اس کا کو ئی ہمسرو ہم پلہ نہیں ہے ۔

۲۔ توحید صفاتی : یعنی اس کے تمام صفات کی بازگشت صرف ایک طرف ہے اس کے صفا ت اس کی عین ذات ہے یعنی وہی خدا ہے جو عالم ،قادر ،حی ،... ہے ایک

____________________

(۱) توحید صدوق باب ثواب المو حدین ۔۱ حدیث ،۳۳

(۲)سابق حوالہ حدیث ،۱۵

(۳) سورہ شوری آیة ۱۱

(۴) توحید۴۔


شخص رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا اور عرض کی بنیاد علم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : معرفة اللّہ حقُّ معرفتہ (خدا کے شایان شان اس کی معرفت حاصل کرنا ہے )اس نے عرض

کیا حق معرفت کیا ہے ؟آپ نے فرمایا :'' اِن تعرفه بلا مثال ولا شبه وتعرفه اِلها واحداً خالقاً قادراً اوّلاً وآخراً وظاهرأً وباطناً لا کفو له ولا مثل له فذاک معرفة اللّه حقّ معرفته'' اس کو بلا شبیہ وبلا مثل جانو، اس کو ایسا خدا جانو جو واحد ،خالق ، قادر ، اول ،آخر ،ظاہر وباطن ہے، نہ ہی ا س کا کوئی ہم پلہ ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مثل ہے ، خدا کو اس طرح جاننا اور ماننا حق معرفت خدا وندی ہے۔( ۱ )

۳۔ توحید افعالی :توحید افعال کا مطلب دونوں عالم کے تمام امور فعل خداوند سے متعلق ہیںتمام موجو دات جس خاصیت کے بھی حامل ہو ںذات الٰہی کی مرہون منت ہیں،گلوں کی شگفتگی ،سورج کی ضیا ء باری ، مشکلات کا حل، سب کا سب اس کی ذات سے متعلق ہے. یعنی کا ئنات ہستی کی کسی شئی میں استقلا ل نہیں، اس دنیا میں مستقل و موثر صرف ذات خداوندی ہے ،دوسرے لفظوں میں یو ں کہا جائے کہ موجودات عالم جس طرح اپنے وجو د میں ذات الٰہی سے وابستگی پر مجبور ہیں اپنے تاثیر و فعل میں بھی مجبور ہیں البتہ اس کے معنی یہ ہرگزنہیں ہیں کہ قانو ن علیت وعالمِ اسبا ب کی نفی کردی جا ئے ۔

امام صادق کے فرمان کے مطابق کہ :أبی اللّه أن یجری الأشیاء اِلّا بأَسبابٍ ( ۲ ) خدااس بات سے پر ہیز کرتا ہے کہ کوئی چیز حرکت نہ

____________________

(۱) بحاالا نوار ج۳ ص ۱۴ ۔

(۲)اصول کا فی باب معرفة الامام حدیث ۷۔


کرے مگر اپنے اسبا ب کے تحت، توحید افعالی کا اعتقاد ہرگزانسان کے لئے جبرا ور سلب اختیار کاموجب نہیں ہو گا ؛انشاء اللہ آئندہ بحثوں میں اس بات کی جانب اشارہ کریں گے کہ انسان اپنے افعال میں خو د مختار ہے لیکن تمام قوت و قدرت حتی ارادہ انسا ن بھی خدا کے ہاتھوں ہے( قُلِ اللّهُ خَالِقُ کُلِّ شَیئٍ وَهُوَ الوَاحدُ القَهّارُ ) ( ۱ ) اے نبی! کہہ دیجئے کے خدا تمام اشیاء کا خالق ہے وہ ایک او رقہا ر ہے.( ذَلکُمُ اللّهُ رَبَّکُم لا اِله اِلّا هُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیئٍ فَاعبُدوُهُ وَ هُو علیٰ کُلِّ شییئٍ وَکِیلٍ ) ( ۲ ) اللہ ہی تمہارا خدا ہے اس کے سو ا کو ئی معبود نہیں وہ ہر شی ٔکا خالق ہے لہٰذا اس کی عبادت کرو وہ ہر شی ٔ کا محافظ و مدبر ہے ۔

۴۔ توحید در عبادت :توحید کی قسمو ںمیں حساس ترین قسم توحید در عبادت ہے وہ یہ ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں او راس کے علاوہ کسی کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں ،توحید در عبادت ، توحید در ذات اور توحید در صفات کا لا زمہ ہے جب یہ بات مسلم ہو گئی کہ وہ واجب الوجو د ہے او راس کے سو ا سبھی ممکن و محتاج ہیں لہٰذا عبادت صرف اسی سے مخصوص ہے اور وہ کمال مطلق ہے اس کے علا وہ کسی کمال مطلق کا وجو د نہیں ہے ۔عبادت کا مقصد بھی کمال طلبی ہے لہٰذا عبادت صرف ذات پروردگا ر سے مخصوص ہے تمام انبیاء و مرسلین کی تبلیغ کا عنوان کلی ،توحید در عبادت تھا آیات قرآنی بھی اس سلسلہ میں موجود ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ رعد آیة: ۱۶

(۲)انعام آیة ۱۰۲


قرآن او رتوحید در عبادت

۱۔( وَ لَقَد بَعثَنَا فِی کُلِّ أُمةٍ رَسُولاً أَن اعبُدُوا اللّه واجَتنِبوا الطَّاغُوتَ ) ( ۱ ) ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا تاکہ خدا ئے یکتا کی عبادت کریں او رطاغوت سے پر ہیز کریں ۔

۲۔( وَماَ أَرسَلنَا مِنْ قَبلِک مِنْ رَسُولٍ اِلّا نُوحِی اِلیه أَنّهُ لا اِله اِلَّا أَنَا فَاعبُدُونِ ) ( ۲ ) ہم نے آپ سے قبل کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ اس پر وحی کی کہ میرے علاوہ کو ئی معبود نہیں لہٰذا میری عبادت کرو ۔

۳۔( وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّی وَ رَبُّکُم فَاعبُدُوه هذا صِراطُ مُستقِیمُ ) ( ۳ ) بیشک اللہ ہمارا او رتم سب کا پر ور دگا رہے لہٰذا اس کی عبادت کرو اوریہی سیدھا راستہ ہے۔

اس نکتہ کی جانب توجہ ضروری ہے کہ احترام، تواضع او رخشوع کے مراتب و درجات ہیں اور سب سے آخری اور اعلی درجہ پرستش و عبودیت ہے .اوریہ مرحلہ صرف ذات خدا وند سے مخصوص ہے جس کا بین ثبوت سجدہ ہے ۔

اسی بناء پر غیر خداکا سجدہ کرنا جائز نہیں ہے. او ریہ بات مسلّم ہے کہ اگر انسان عبودیت کے اس مرحلہ پر پہنچ جائے اور پیش پرور دگا ر اپنی پیشانی کو خاک پر رکھ دے تو گویا اس نے اطاعت خدا کی راہ اور اپنے تکامل میں بہت زیادہ پیش قدمی

____________________

(۱) سورہ نحل آیة: ۳۶

(۲) سورہ انبیا ء آیة: ۲۵

(۳) سورہ مریم آیة:۳۶


کی ہے ایسی خالص عبادت، عشق محبوب سے مکمل لبریز ہے اور اس محبت کا اثر خدا کی جانب پیش قدمی کا بہت اہم سبب ہے، کمال مطلق کی جانب پیش قدمی گناہو ں اور تمام آلودگیو ں سے کنارہ کشی کا پیش خیمہ ہے ۔

حقیقی عبادت گذار اس بات کی سعی پیہم کرتا ہے کہ خود کو محبوب کے جیسا قراردے اور ا سی طرح سے خود کو صفات جمال و جلا ل الٰہیہ کا پر توقرار دیتا ہے اور یہ امور انسان کے تربیت وتکامل میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

سوالات

۱۔خدا کی وحدانیت پر دلیل پیش کریں ؟

۲۔ مراتب توحید کیا ہیں ؟

۳۔ توحید افعال سے مراد کیاہے ؟

۴۔ توحید در عبادت کی وضاحت کیجئے ؟


آٹھواں سبق

صفات خدا (فصل اول )

جس طرح سے شناخت خدا وندمتعال اور اس کے اصل وجو د کو جا ننا آسان ہے اسی طرح اس کے صفات سے آگاہی چنداں آسان نہیں ہے .کیونکہ خد اکی شنا خت کے لئے آسمان کے ستارے، درختوں کے پتے ،متنوع برگ وگیاہ ، جاندار اشیاء بلکہ ایٹمی ذرات کی تعداد یہ سب اس کے وجود پر دلیل ہیں یہ سب کے سب اس کے عظمت کی نشانیاں ہیں، لیکن اس کی صفات کی پہچان کے لئے غوروخو ض او ر دقت نظر کی ضرورت ہے تاکہ تشبیہ اور قیا س آرائی سے دور رہیں صفات خدا کی شناخت کی پہلی شرط ،صفات مخلو قات کی خدا سے نفی کرنا او رخدا کاکسی مخلوق سے تشبیہ نہ دینا ہے کیو نکہ خدا کی کسی صفت کا مخلوقات کی صفت سے کسی طرح موازنہ ہو ہی نہیں سکتا ،مادی صفات میں سے کو ئی صفت اس کی پاک ذات میں دخیل نہیں ہے کیو نکہ مادی صفت محدودیت کا سبب ہے اور وہ لا محدود ہے اور تمام مراتب کمال کا مجموعہ ہے لہٰذا ہم اس کی ذات کوکماحقہ درک نہیں کر سکتے اور اس طرح کی کو ئی امید بھی نہیں رکھنی چاہئے ۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ عقل، خد اکی حقیقت ذات اور اس کے صفات کو کیوں نہیں درک کر سکتی ؟ تو اس کاجواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ اس کی ذات اقدس ہررخ سے بے نظیر و لا محدود ہے ،علم ،قدرت اور اس کے تمام صفات اس کی ذات کی طرح لا محدود ہیں ، اور دوسری طرف ہم او رجو کچھ ہم سے مربوط ہے ، علم ،قدرت ،حیات ،فرمان ،مکا ن، سب محدود ومتناہی ہے ۔تو ان تمام تر محدودیت کے ساتھ اس کی حقیقت ذات کو کہ جولامحدود ہے کیسے درک کر سکتے ہیں ؟!اس کی حقیقت ذات کو آخر کیسے درک کریں جس کی کو ئی شبیہ ومثیل نہیں ؟۔


صفات ثبوتیہ و سلبیہ :

صفات خدا کو دو قسموںمیں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ ثبوتیہ و سلبیہ

صفات ثبوتیہ یا جمالیہ

''عالم ،قادر ، حی، مرید ، مدرک ، سمیع ، بصیر ، متکلم و صادق ''۔خدا وند کمال مطلق ہے جو کچھ صفات ثبوتیہ کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے وہ اصول صفات ہیں نہ یہ کہ خدا ان میں منحصر و محدود ہے ۔

صفات سلبیہ یا جلالیہ

''وہ مرکب ومجسم نہیں ، قابل دید و محلول نہیں ،اس کا کوئی شریک نہیں ''

صفات ذات و صفات فعل

صفات ثبوتیہ کی دوقسمیں ہیں ۔ صفات ذات و صفات فعل

صفات ذات: جو اس کی عین ذات ہیں انہیں کو ذات خدا وندی سے جدا نہیں کرسکتے جیسے علم ،قدرت،حیات ،اور جن کی بھی ان تینوں صفات کی طرف بازگشت ہو جیسے سمیع ، بصیر، قدیم، ازلی، ابدی، مدرک، حکیم، غنی، کریم ،عزیز و غیرہ ۔

صفات فعل : وہ صفات جو افعال خدا وندسے متعلق ہیں یعنی جب تک وہ افعال اس سے صادر نہ ہو ں وہ صفات اس سے متصف نہیں ہو ںگے جیسے خالق رازق یااس کے ماننددوسرے صفات اور کبھی اس سے یہ صفات سلب بھی ہو جا تے ہیں جیسے''کان اللّٰهُ ولمْ یُخلق شیئاً ثُم خَلَق ۔أراد اللّه شیئاً ولم یرد شیئاً آخر شاء ولم یشائ''وه خدا تھا جس نے خلق نہیں کیا تھا پھراس نے خلق کیا، خدا نے ایک چیز کا ارادہ، کیا دوسری چیز کا ارادہ نہیں کیا ، چاہا اور نہیں چاہا ۔''تکلم مع موسیٰ ولم یتکلم مع فرعون یُحب مَن أطاعہُ ولا یُحب مَنْ عصاہ'' حضرت موسی سے ہم کلام ہوا فرعون سے کلام نہیںکیا ،جو اس کی اطاعت کرتا ہے اس کو دوست رکھتا ہے اور جو اس کی نا فرمانی کرتاہے اس کو دوست نہیں رکھتا ، اس کے صفات فعل میں ''اذا '' اور ''اِن'' کا لفظ داخل و شامل ہو تا ہے جیسے '' اِذا أراد شیئاً و اِن شائَ اللّه'' اس کی صفات ذات میں ''اِذا عَلِم اللّه ''اور''اِن عَلِم ''نہیں کہہ سکتے۔


علم خداوند

وہ واجب الوجود جو عالم علم کل ہے اس کی حیرت انگیز نظم و ہماہنگی پوری کائنات پر محیط ہے ،جو اس کے لا متناہی علم کا بیّن ثبوت ہے اس کے علم کے لئے ماضی حال ،مستقبل سب برابر ہے ، اس کا علم ازل و ابد پر محیط ہے کروڑوں سال قبل و بعد کاعلم اس کے نزدیک آج کے علم کے برابر ہے جس طرح سے کل کا ئنا ت کا خالق ہے اسی طرح تمام ذرات کی تعداد اور ان کے اسرار مکنونہ کا مکمل عالم ہے انسان کے نیک و بد اعمال نیز ان کی نیات ومقاصد سے آگا ہ و باخبر ہے ،علم خداوند اس کی عین ذات ہے اور اس کی ذات سے جدا نہیں ۔

( وَ اعلموا أَنَّ اللّهَ بِکلِّ شَیئٍ عَلِیمُ ) ( ۱ ) جان لو کہ خد اہر شی ٔسے آگا ہ ہے۔( وَهَوَ اللّهُ فیِ السَّمٰواتِ وَ فیِ الأَرضِ یَعلَمُ سرَّکُم وَجَهَرَکُم وَ یَعلمُ ما تََکسِبُونَ ) ( ۲ ) ''وہ خد اوہ ہے جو زمینو ں و آسمانو ں میں تمہارے ظاہر و باطن کا عالم ہے او رجو کچھ تم انجام دیتے ہو اس کا عالم ہے'' ۔

____________________

(۱) سورہ بقرہ آیة ۲۳۱

(۲)سورہ انعام آیة ،۳


سوالات

۱۔عقل، خد اکی حقیقت ذات اور ا س کے صفات تک کیو ں نہیں پہنچ سکتی ؟

۲۔صفات ثبوتیہ وصفات سلبیہ کی تعریف کریں ؟

۳۔ صفات ذات و صفا ت فعل میں کیافرق ہے ؟


نواں سبق

صفات خدا وند (فصل دوم )

خد اوند متعال بے پنا ہ قوتوں کامالک ہے اتنی بڑی کا ئنا ت اپنی تمام عظمتوں او روسعتوں کے ساتھ سیارات وکواکب ،کہکشائیں، بے کراں سمندر ، دریا اور ان میں مختلف النوع مخلو قات و موجودات سب کے سب اس کی قدرتوں کے کرشمہ ہیں ! خدا ہر چیز پر قادر ہے اور ہر شی ٔپر اس کی قدرت یکساں و مساوی ہے۔

( تَبَارَک الّذیِ بِیَدِهِ المُلک وَهُوعلیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدیرُ ) ( ۱ ) ''بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں کا ئنا ت کی باگ ڈور ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے'' ۔

( لِلّه مُلک السَّمٰواتِ والأَرضِ وَماَ فِیهنَّ وَ هُو علیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدیرُ ) ( ۲ ) ''زمین وآسمان اورجوکچھ اس کے درمیان ہے ان سب کی حکومت خدا سے مخصوص ہے او روہ ہرچیز پرقادر ہے'' ۔

( فلَا أُقسِمُ بِربِّ المَشَارقِ وَالمَغَاربِ اِنَّا لَقَادِرُونَ ) ( ۳ ) میں

____________________

(۱) سورہ ملک آیة ۱

(۲) مائدہ آیة ۱۲۰

(۳) معارج آیة ۴۰


تمام مشرق و مغرب کے پروردگا ر کی قسم کھا کر کہتا ہو ں کہ ہم قدرت رکھنے والے ہیں۔

قران کی متعدد آیات جوقدرت خداوندعالم کو بیا ن کرتی ہیں اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ قدرت خد الئے کو ئی حدو قید نہیں ہے بلکہ جس وقت وہ چاہے انجام دے دیتا ہے او رجب کسی چیز کی نا بودی کا ارادہ کرے تواس چیز کومٹ ہی جا نا ہے ۔

خلا صہ یہ کہ کسی قسم کی ناتوانی او رضعف کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔آسمان، عظیم ترین سیارات اور ذرات سب اس کے لئے یکساںاور برابر ہیں ۔

عن علیٍّ علیه السلام :وما الجلیل واللطیف والثقیل والخفیف والقوی والضعیف من خلقه اِلّا سواء

امیر المومنین فرماتے ہیں:'' آشکا ر وپوشیدہ، وزنی او ر ہلکا ،قوی وضعیف یہ سب کے سب خلقت میں اس کے نزدیک برابر ہیں''( ۱ )

امام جعفر صادق نے فرمایا : جس وقت حضرت موسیٰ طور پر تشریف لے گئے عرض کی ! خدا یا ! اپنے خزانے کا نظارہ کرادے تو خدا نے فرمایا : میراخزانہ یوں ہے کہ جس وقت میں کسی چیز کا ارادہ کرکے کسی چیز کو کہو ںکہ ہو جا تو وہ وجو د میں آجائے گی( ۲ )

____________________

(۱) نہج البلاغہ خ :۸۰

(۲)توحید صدوق باب ۹ حدیث ۱۷


قدرت خداکے متعلق ایک سوال

کبھی کبھی یہ سوال اٹھا یا جا تا ہے کہ کیا خدا اپنا جیسا ایک خدا پیدا کرسکتا ہے؟

اگر یہ جواب دیا جا ئے کہ کیو ں نہیں ؟تو دو خداہو جا ئیں گے ! اوراگر کہا جائے کہ نہیں کرسکتا تو ایسی صورت میں قدرت خدا محدود ہو جا ئے گی ۔ یا یہ کہ کیا خدا اتنی بڑی کائنات کو ایک مرغی کے انڈے کے اندر دنیا کو چھوٹی اور انڈے کو بڑ ا کئے بغیر سمو سکتاہے۔؟

اس کے جو اب میں یہ کہا جا ئے گا کہ ایسے مواقع کے لئے (نہیں ہو سکتا ) یا (نہیں کرسکتا ) کی لفظیں استعمال نہیں کریں گے ،یا واضح لفظوں میں یہ کہا جا ئے کہ یہ سوال ہی نامعقول ہے کیو نکہ جب ہم یہ کہیں گے کہ کیا خدا اپنے جیسا دوسرا بنا سکتا ہے تو خود لفظ (خلقت) کے یہ معنی ہیں کہ وہ شیء ممکن الوجود و مخلو ق ہے اور جب ہم یہ کہیں گے (خدا وند ) کے معنی وہ شی ٔہے جو واجب الوجود ہے ۔

تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کیا خدا اس با ت پر قادر ہے کہ ایسی چیز کو خلق کرے جو ایک ہی وقت میں واجب الوجو د بھی ہو اور نہ بھی ہو، ممکن الوجود بھی ہو اور غیر ممکن الوجود بھی ، خالق بھی ہو اور مخلوق بھی یہ سوال غلط ہے خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

اسی طرح سے جب یہ کہا جا ئے کہ کیا خدا اس بات پر قادر ہے کہ کل کا ئنا ت کو ایک مرغی کے انڈے میں سمودے اس طرح سے کہ نہ دنیا چھوٹی ہو اور نہ انڈا بڑا تو اس کے معنی یہ ہو ئے کہ دنیا اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ بڑی بھی ہے اور چھوٹی بھی اس سوال کے بے تکے ہو نے کی وجہ سے جواب کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیو نکہ محال سے قدرت کا تعلق خود محال ہے ۔

اسی سوال کو ایک شخص نے حضرت امیرںسے پوچھا تھا آپ نے فرمایا:

____________________

(۱) نہج البلاغہ خ :۸۰

(۲)توحید صدوق باب ۹ حدیث ۱۷


اِنَّ اللّه تبارک وتعالیٰ لا ینسب اِلیٰ العجز والّذیِ سألتنیِ لا یکون ''خدا کی جا نب عجز و ناتوانی کی نسبت نہیں دی جاسکتی ؛لیکن تم نے جو سوال کیا وہ انہونی ہے''( ۱ )

ایک روایت میں آیا ہے کہ امام رضاںنے ( اس سوال کے جو اب میں ) فرمایا : ہا ں کیو ں نہیں انڈے سے بھی چھوٹی چیزمیں اس دنیا کو رکھ سکتا ہے خدا اس بات پر قادر ہے کہ دنیا کو تمہاری آنکھ کے اندر رکھ دے جو انڈے سے بھی چھوٹی ہے (در حقیقت یہ جو اب مولا کا نقضی جو اب تھا کیو نکہ سوال کرنے والا ایسے مسائل کے تحلیل کی طاقت نہیں رکھتا تھا)۔( ۲ )

خدا حی وقیوم ہے

خدا حیات جاوداں کا مالک ہے وہ ثابت و قائم ہے وہ اپنی ذات پر قائم ہے دوسری موجودات اس کی وجہ سے قائم ہیں حیات خدا اور حیات موجو دات میں فرق ہے کیو نکہ حیات ،خد اکی عین ذات ہے نہ عارضی ہے اور نہ ہی وقتی ۔

حیات خدا یعنی اس کا علم او راس کی قدرت ،خدا کی حیات ذاتی ،ازلی ،ابدی، نہ بدلنے والی اور ہر طرح کی محدودیت سے خالی ہے وہ قیوم ہے یعنی موجودات کے مختلف امو ر اس کے ہاتھ میں ہیں مخلوقات کی رزق ،عمر ،حیات اور موت اس کے حسن تدبیر کی وجہ سے ہے ۔

____________________

(۱) توحید صدوق باب ۹ ، حدیث ۹

(۲)پیام قرآن ج ۴، ص ۱۸۳


اسی لئے یا حی یا قیوم جا مع اذکا رمیں سے ایک ہے اس لئے کہ (حی) اس کے بہترین صفات ذات یعنی علم وقدرت میں سے ہے اور (قیوم ) اس کے صفات فعل میں سے ہے اس وجہ سے امیر المومنین سے نے ارشاد فرمایا :فلسنا نعلمُ کُنه عظمتک ِالَّا انَّا نعلم اِنَّک حیّ قیُّوم لا تاخذ ک سِنةُ ولا نوم ( ۱ )

''ہم کبھی تیری حقیقت ذات کو درک نہیں کر سکتے ہم بس اتنا جا نتے ہیں کہ حی و قیوم ہے اور کبھی بھی تجھے نینداور جھپکی نہیں آتی (اپنے بندوں کے حال سے بے خبر نہیں ہے )''

امیر المو منین سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس گیا تو دیکھا کہ آپ سجدے میں سر رکھ کر ''یا حی یا قیوم '' کا ورد کر رہے ہیں کئی دفعہ گیا اور واپس آگیا آپ مستقل اسی ذکر کا ورد فرمارہے تھے یہا ں تک جنگ بدر فتح ہو گئی ۔( ۲ )

جو کچھ اب تک ذکر کیا گیا ہے وہ صفات خد ا کے اصول تھے اور دوسری صفات بھی ہیں کہ جن کے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا جائے گا ۔

قدیم و ابدی : یعنی ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا اس کے لئے آغاز و انتہا نہیں ہے( هُوَ الأَوّلُ و الآخِرُ والظَّاهرُ والباطِنُ وَ هُوَ بِکُلِّ شَیئٍ عَلِیمُ ) ( ۳ ) ''وہ اول و آخر ہے وہ ظاہر و باطن ہے وہ ہرشی ٔکا جاننے والا ہے ''۔

____________________

(۱) نہج البلا غہ خ ،۱۶۰

(۲) تفسیر روح البیا ن آیہ الکرسی کے بیان میں۔

(۳) حدید آیة،۳


مرید : یعنی وہ صاحب ارادہ ہے وہ اپنے کاموں میں مجبو ر نہیں ہے وہ جس کام کو بھی انجام دیتا ہے اس کا ہدف اور اس کی حکمت پیش نظر ہو تی ہے (وہ حکیم ہے )

مدرک : ساری چیزوں کو درک کرتا ہے .ساری چیزوں کو دیکھتا ہے او رہر آواز کو سنتا ہے۔ ( وہ سمیع و بصیر ہے )

متکلم : خدا ہو ائوں میں آواز پیدا کر سکتا ہے وہ اپنے رسولوں سے گفتگو کرتا ہے اس کی گفتگو زبا ن و لب و حلق کی محتا ج نہیں ۔

صادق : یعنی خدا جوکچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے اور عین حقیقت ہے کیو نکہ جھوٹ جھل ونادانی کے باعث یا کسی کمزوری کے سبب ہوتا ہے او رخد اان سے پاک ومنزہ ہے۔

خلا صہ کلام یہ کہ خد اکمال مطلق ہے او رکسی قسم کا نقض و عیب اس کی ذات سے متصف نہیں اور ہم کو اس کی صفات کی شناخت میں بھی اپنے عجز کا اعتراف کرنا چاہئے ۔


ذات خد امیں تفکر منع ہے

صفات کے بارے میں جو مختصر بیا ن تھا اس کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ صفات خدا عین ذات ہیں لہٰذانہ اس کی ذات او ر نہ ہی اس کی صفات میں از حد تفکر کریں کیو نکہ از حد تفکر حیرانی او ر سر گردانی کاسبب ہے صرف اس کی مخلوقات میں غور خوض کریں ۔

قال الاما مُ البا قر علیه السلام : ''تکلموا فیِ خلق اللّه ولا تکلموا فیِ اللّٰه فأَنَّ الکلام فی اللّٰهِ لا یزاد صاحبة الا تحیّراً ''خلقت خداکے با رے میں گفتگو کرو .خدا کے با رے میں گفتگو نہ کرو اس لئے کہ خدا کے بارے میں گفتگو صاحب کلا م کے حق میں تحیّر کے سوا کچھ اضا فہ نہ کرے گا۔

علامہ مجلسی او ردیگر علما ء نے کہا ہے کہ ذات و صفات خدا میں تفکر و تکلم سے منع کرنے کا مطلب کیفیت ذات خدا وندعالم ہے ۔

قال الامام الباقر علیه السلام: اِیاکم و التفکّر فی اللّٰه لکن اِذَا أردتم أن تَنظروا اِلیٰ عظمته فانظروا اِلیٰ عظیم خلقه '' ذات خد امیں غور و خو ض سے پرہیز کرو جب جب بھی اس کی عظمتوں کودیکھنا چاہوتو اس کی عظیم خلقت (اس دنیا )کودیکھو ''۔( ۱ )

____________________

(۱) اصول کا فی باب نہی از کلام در کیفیت حدیث ،۱۔۷


سوالا ت

۱۔ خدا کے قدرت کی نشانیا ں کیا ہیں ؟

۲۔ قدیم ، ابدی ،متکلم ، صادق کے کیا معنی ہیں ؟

۳۔ ذات خد امیں غو ر و خو ض کیوں منع ہے ؟


دسواں سبق

صفات سلبیہ

ایک جملہ میں یو ں کہا جا سکتا ہے کہ صفات سلبیہ یعنی : خدا وند ہر طرح کے عیب و نقص ، عوارض نیز صفات ممکنات سے پاک ومنزہ ہے ۔ لیکن ان صفات میں بعض پر بحث کی گئی ہے جیسے وہ مرکب نہیں ہے ، جسم نہیں رکھتا ، قابل رئویت نہیں ، اس کے لئے زمان ومکا ن ،کو ئی ٹھکا نہ یا جہت معین نہیں کرسکتے .وہ ہر طرح کے نیاز و احتیاج سے دور ہے، اس کی ذات والا صفات محل حوادث نہیں اور عوارض وتغییر وتبدل کا شکا ر نہیں ہو سکتی ،صفات خدا ونداس کی عین ذات ہے اس کی ذات مقدس پر اضا فہ نہیں ہے ۔

سید الاولیاء امیرالمومنین ایک خطبہ کی ابتدا میں یو ں گویا ہیں''لا یشغله شأن ولا یغیره زمان ولا یحویه مکان ولایصفه لسان ''کو ئی چیز اس کو اپنے آپ میں مشغول نہیں کرسکتی، زما نہ کا تغییر وتبدل اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا کو ئی مکان اپنے میں سمو نہیں سکتا ،کو ئی زبا ن اس کی مدح نہیں کر سکتی۔( ۱ )

____________________

(۱)نہج البلا غہ خطبہ،۱۷۸


دوسری حدیث میں امام جعفر صادق سے نقل ہے کہ''اِنَّ اللّهَ تبارک و تعالیٰ لا یُوصف بزمان ولا مکان ولا حرکة ولا انتقال ولا سکون بل هو خالق الزمان والمکان والحرکة والانتقال تعالی اللّه عما یقول الظالمون علوًا کبیراً ''خدا وندتعالی کی تعریف وتوصیف زمان و مکا ن ،حرکت و انتقال مکان و سکو ن کے ذریعہ سے نہیں کی جا سکتی ، وہ زمان ومکا ن نیزحرکت ونقل مکا ن، ،اور سکون کا خالق ہے ،خدا اس سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے جو ظالم او رستمگر افراد تصور کرتے ہیں۔( ۱ )

صفات سلبی کی وضاحت

خدا مرکب نہیں ہے یعنی اجزاء ترکیبی نہیں رکھتا کیو نکہ ہر مرکب اپنے اجزاء کامحتاج ہو تا ہے جبکہ خدا کسی شی ٔ کا محتا ج نہیں ہے ، وحدانیت کی بحث میں ہم نے یہ بات کہی تھی کہ خدا کمال مطلق ہے ، اور ا س کے لئے کو ئی حد ومقدار نہیں ہیں ،لہٰذا اس بات کی جا نب ہماری توجہ ضروری ہے کہ جو محدودیت یا احتیا ج کا سبب ہے وہ ممکنات سے مخصوص ہے خدا ان سے پاک و منزہ ہے تعالی اللّہ عنہ ذلک علواً کبیراً۔

خدا جسم نہیں رکھتا اور دکھائی نہیں دے گا

( لاَ تُدرِکُهُ الأبصَارُ و هُوَ یُدرِک الأبصارَ وَهو اللّطِیفُ الخَبِیر ) ( ۲ ) آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتی وہ تمام آنکھوں کو دیکھتا ہے وہ لطیف وخبیر ہے

____________________

(۱) کتاب بحارالانوار ج۳ ،ص،۳۰۹

(۲) سورہ انعام آیة ۔۱۰۳


سوال : خدا کو دیکھنا کیو ں ناممکن ہے ؟

جواب : اس لئے کہ دیکھنے کے جو لوازمات ہیں ،ان میں سے کوئی ایک بھی خداکے لئے ممکن نہیں یعنی خدا کو اگردیکھنا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ جسم رکھتا ہو جہت اورسمت رکھتا ہو ،اجزاء رکھتا ہو اس لئے کہ ہر جسم اجزاء و عوارض جیسے رنگ ،حجم اور ابعاد رکھتا ہے ،نیز تمام اجسام تغییر وتبدل رکھتے ہیں اور مکا ن کے محتاج ہیں اور یہ سب ممکنات کی خصوصیات ہیں ، اورنیاز واحتیاج کے شکا رہیں خدا ان سے پاک ومنزہ ہے۔

خلا صہ کلا م یہ کہ نہ خدا جسم ہے اورنہ ہی دیکھا جاسکتا ہے ( اہل سنت کے بعض فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ خدا روز محشر مجسم ہوگا اور دکھا ئی دے گا اس کے ضمن میں ان کی جانب سے بہت ساری باتیں مضحکہ خیز ہیں اورکسی عقل و منطق سے سروکا ر نہیں رکھتیں ۔

امام علی رضا سے روایت ہے :أنّه لَیس مِنَّا مَن زعم أَنَّ اللّٰه عزَّوجلَّ جسم ونحن منه براء فی الدنیا والآخرة ( ۱ ) جو شخص اس بات کا قائل ہے کہ خدا جسم و جسمانیت رکھتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے او رہم دنیا وآخرت میں ایسے شخص سے دور و بیزار ہیں ۔

____________________

(۱)توحید صدوق باب ۶، حدیث، ۲۰


وہ لا مکاں ہے او رہر جگہ ہے

مادہ سے خالی ایک شی ٔ کی شناخت ان انسانو ں کے لئے جو ہمیشہ مادی

قیدخانہ میں اسیر رہے اور اس کے عادی ہو گئے بہت ہی مشکل کام ہے شناخت خدا کا پہلا زینہ اس (خدا ) کو صفات مخلوقات سے منزہ جاننا ہے ،جب تک ہم خداکو لا مکا ن ولا زمان نہ جا نیں گے در حقیقت اس کی معرفت ہی حاصل نہیںکر سکتے ۔محل او رمکان رکھنا جسم وجسمانیت کالازمہ ہے او رہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ وہ جسم نہیں رکھتا وہ ہر جگہ ہے ۔

وہ ہر جگہ ہے

( وَللَّهِ المَشرِقُ والمَغرِبُ فَأَینَمَا تُولُوا فَثَمَّ وَجهُ اللَّهِ اِنَّ اللّٰهَ واسِعُ عَلیمُ ) ( ۱ ) مشرق ومغرب اللہ ہی کے لئے ہے اور تم جس جانب بھی رخ کروگے خدا وہاں موجود ہے خدا بے نیاز اور صاحب علم و حکمت ہے ۔

( وَهُوَ مَعَکُم أَینَ مَا کُنتُم وَاللّهُ بِمَا تَعملُونَ بَصیرُ ) ( ۲ ) تم جس جگہ بھی ہو خدا تمہارے ہمراہ ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اس پر ناظر ہے ۔

امام موسی کا ظم ںنے فرمایا :اِنَّ اللّٰهَ تبارک وتعالیٰ کان لم ینزل بلا زمان ولا مکان وهو الآن کما کان لا یخلو منه مکان ولا یشغل به مکان ولا یحلّ فی مکان ( ۳ ) خدا ہمیشہ سے زمان ومکان کے بغیر موجود تھا اور اب بھی ہے، کو ئی جگہ اس سے خالی نہیں اور درعین حال کسی جگہ میں قید نہیںاس نے کسی مکا ن میں حلول نہیںکیا۔

____________________

(۱)سورہ بقرہ ص ۱۱۵۔

(۲) سورہ حدید آیة ،۴

(۳) توحید صدوق باب ۲۸،حدیث ۱۲


ایک شخص نے حضرت امام علی سے سوال کیا کہ مولا ہمارا خدازمین وآسمان کو پید اکرنے سے پہلے کہاں تھا ؟آپ نے فرمایا : کہاں کا لفظ مکا ن کے حوالے سے ہے جبکہ وہ اس وقت بھی تھا جب مکان نہیں تھا۔( ۱ )

____________________

(۱) سابق حوالہ حدیث،۴


خدا کہا ں ہے ؟

کتاب ارشاد واحتجاج میں ذکر ہے کہ ایک یہودی مفّکر، خلفاء میں سے ایک کے پاس آیا او رسوال کیا کہ آپ جانشین رسول ہیں ؟ انھو ں نے جو اب دیا ہاں اس نے کہا خد اکہا ں ہے ؟

انہو ں نے جواب دیا آسمان میں عرش اعظم پر بر اجمان ہے اس نے کہا پھر تو زمین اس کے حیطۂ قدرت سے خالی ہے خلیفہ ناراض ہو گئے اور چیخ کر بولے فوراً یہاں سے دفع ہو جا ئو ورنہ قتل کرادوںگا ،یہودی حیران ہوکر اسلام کا مذاق اڑا تا ہو ا باہر نکل گیا۔

جب امیرالمومنین ںکو اس بات کی اطلاع ہو ئی توآپ نے اس کو طلب کیا اور فرمایا میں تمہارے سوال اور دئے گئے جواب دونوںسے باخبر ہوں،لیکن میں بتاتا ہو ں کہ اس نے مکا ن کو خلق کیا ہے لہٰذا اس کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ خود صاحب مکان ہو اور کسی مکان میں مقید ہو۔

وہ اس سے کہیں بلند وبالا ہے کہ مکان اس کو اپنے آپ میں سمو لے ،کیاتم


نے اپنی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ ایک دن حضرت موسی بن عمران بیٹھے ہو ئے تھے۔

ایک فرشتہ مشرق سے آیا آپ نے پوچھا کہا ں سے آرہے ہو ؟اس نے جواب دیا خدا کے پاس تھا اس کے بعد ایک فرشتہ مغرب سے آیا آپ نے پوچھا کہا ں سے آرہے ہو ؟اس نے جواب دیا خدا کے پاس تھا اس کے بعد ایک فرشتہ آیاآپ نے سوال کیاکہاں سے آرہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ ساتویں آسمان میں خدا کے پاس تھا اس کے بعد ایک فرشتہ اور آیا اس سے سوال کیا کہا ں تھے؟ اس نے کہازمین کے ساتویں طبق سے خدا کے پاس تھا ،اس کے بعد حضرت موسی نے کہاپاک ہے وہ ذات جس کے وجود سے کوئی جگہ خالی نہیں ہے اور اس کے نزدیک کوئی جگہ دوسری سے نزدیک نہیں ۔

یہودی نے کہا کہ : میں اس بات کی گواہی دیتا ہو ںکہ حق مبین یہی ہے اور آپ پوری کائنات میں سب سے زیادہ وصی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اہلیت رکھتے ہیں ۔( ۱ )

ہم دعا کرتے وقت ہاتھ آسمان کی جانب کیوں بلند کرتے ہیں ؟

ہشام بن حکم کہتے ہیں کہ ایک کا فر ،حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہو ا اور'' الرحمن علی العرش استوی '' کی تفسیر جاننی چاہی امام نے دوران تفسیر وضاحت فرماتے ہو ئے ارشاد فرمایا : خدا کسی مخلوق ومکان کا محتاج نہیں بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہیں ، اس نے عرض کی تو پھر دعا کرتے وقت

____________________

(۱) پیام قرآن نقل جلد۴ ،ص ۲۷۴


چاہے ہاتھ آسمان کی جانب رکھیں یا زمین کی طرف اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،آپ نے فرمایا : یہ موضوع اس کے علم اور احاطہ قدرت میں برابر ہے لیکن خدانے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ دعا کرتے وقت ہاتھوں کو آسمان کی جانب عرش کی طرف بلند کریں کیونکہ معد ن رزق وہاں ہے ۔جو کچھ قرآن اور فرمان رسول ہے ہم اس کو پہچاتے ہیں ، اس کے بعد فرمایا : اپنے ہاتھوں کو خدا کی طرف بلند کرو اوریہ وہ موضوع ہے جس پر تمام امتوں کا اتفاق ہے ۔( ۱ )

حضرت امیر المومنین ںنے فرمایا : کہ تم میں سے کوئی بھی جب نماز تمام کرے تو دعا کے لئے ہاتھوں کوآسمان کی جانب بلند کرے پھر دعا کرے ،ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا خدا ہر جگہ نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہا ں ہے ۔ اس نے کہاپھر ہاتھو ں کو آسمان کی طرف کیوں اٹھاتے ہیں ،آپ نے فرمایا :تم نے (قرآن مجیدمیں ) نہیں پڑھا آسمان میں تمہاری روزی ہے اورجو کچھ تم سے وعدہ کیاگیا ہے۔ انسان محل رزق کے علاوہ کہا ںسے رزق طلب کرے گا محل رزق اور وعدہ الٰہی آسمان ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱) پیام قرآن از بحارالانوار ج۳،ص ۳۳۰

(۲) پیام قرآن نقل از بحارالانوار ج ۹۰،ص ۳۰۸


سوالات

۱۔ صفات سلبیہ سے مراد کیاہے ؟

۲ ۔ خدا کو دیکھنا کیوں ناممکن ہے ؟

۳ ۔ یہو دی دانشمند جس نے سوال کیا تھا کہ خدا کہا ںہے حضرت امیر نے اس کو کیا جواب دیا ؟

۴۔ دعا کے وقت ہاتھ آسمان کی جانب کیو ں اٹھا تے ہیں ؟


گیارہواں سبق

عدل الٰہی

اصول دین کی دوسری قسم عدل سے متعلق ہے ،عدل ،خداکے صفات جمالیہ میں سے ایک ہے عدالت الٰہی ایک طرف تو ایمان بہ خدا سے مربوط ہے تو دوسری طرف معاد سے، ایک طرف مسئلہ نبوت وامامت سے تودوسری طرف سے فلسفہ ٔاحکام سے کبھی ثواب و عقاب تو کبھی جبر و تفویض سے اسی بناپر اصل عدالت کا اقرار یا انکا ر ممکن ہے کہ تمام اعتقاد اور معرفت کے چہرے کو بدل دے اس کے علا وہ اجتماعی ، اخلاقی اور تربیتی مسائل میں بھی عدل الٰہی سے انکا ر نہیںکیا جاسکتاانہیں خصوصیات کی وجہ سے عدل الٰہی کو اصول دین میں شمار کیا گیاہے ۔

مولا ئے کا ئنا ت نے ایک مختصر اورمفید عبارت کے ذریعہ توحید اور عدل کو ایک جگہ رکھ کر فرمایا :''التوحید ان لا تتوھمہ والعدل ان لا تتھمہ'' توحید وہ ہے جوتمہاری واہمہ سے دور ہے (کیو نکہ جو واہمہ میں سماجائے وہ محدود ہے)اور عدل اس چیز کا نام ہے جسے تم متہم نہ کرو ( برے کام جو تم انجام دے رہے ہو اسے خدا کی طرف نسبت نہ دو )( ۱ )

____________________

(۱) کلمات قصار نہج البلا غہ حکمت ۴۷۰


عدل الٰہی پر عقلی دلیل

ظلم قبیح (ناپسند) ہے او رصاحب حکمت خدا کبھی قبیح فعل انجام نہیںدیتا کیونکہ ظلم کے کچھ اسباب ہیں اور خدا ان چیزوں سے منزہ ہے ۔

ظلم کے اسباب اور اس کی بنیاد

۱۔ضرورت :وہ شخص ظلم کرتاہے جوکسی مقصد تک پہنچنا چاہتا ہے اور وہ مقصد صرف ظلم ہی کے راستے سے ممکن ہے ۔

۲ ۔ جہالت اور نادانی: وہ شخص ظلم کرتا ہے جو ظلم کی برائیوں اور اس کی قباحت سے واقف نہیںہوتا ۔

۳۔اخلاقی برائی :وہ شخص ظلم کرتاہے جس کے اندر کینہ ،عداوت ،حسد خواہشات پرستی ہے۔

۴۔ عجز و ناتوانی : وہ شخص ظلم کرتا ہے جو خطرہ اور نقصان کو اپنے سے دور کرنے سے عاجز ہو اور اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے ظلم کے علاوہ کو ئی راستہ نہ پاتا ہو ۔

اس دنیا میں جو بھی ظلم ہو تا ہے انہیں میں سے کسی ایک کی بنا پر ہوتاہے اگر یہ اسباب نہ پائے جا ئیں تو کہیں بھی کو ئی ظلم نہ ہو او رمذکورہ اسباب میں سے کو ئی ایک بھی خداکے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ خدا وند عالم :

الف ): غنی ہے او رکسی کا محتاج نہیں ہے ۔

ب): اس کا علم لا محدودہے اور کبھی ختم ہو نے والا نہیں ہے۔

ج): تمام اچھے صفات کا مالک ہے اور تمام عیوب اور نواقص سے پاک اور پاکیزہ ہے ۔

د): لا محدود قدرت کامالک ہے لہٰذا وہ عادل ہے ۔


صحیفۂ سجادیہ کی دعا نمبر ۴۵ میں آیا ہے'' وعفوک تفضل وعقوبتک عدل''بارالٰہا! تیری عفو و بخشش تیرے فضل کانتیجہ ہے اور تیرا عقاب عین عدالت ہے۔

ائمہ معصومین سے نقل ہے کہ نماز شب کے اختتام پر اس دعا کو پڑھا جائے ''وقد علمت یا الهیِ أَنّه لیس فی نقمتک عجلة ولا فی حکمک ظلم واِنَّما یُعجّل من یخاف الفوت واِنَّما یحتاج اِلیٰ ظلم الضعیف وقد تعالیت یا ألهی عن ذلک علواً کبیراً'' ( ۱ ) ''بارالٰہا ! میں جانتا ہو ںکہ توعقاب میں جلدی نہیں کرتا اور تیرے حکم میں ظلم نہیں پایا جا تا، جلدی وہ کرتاہے جو ڈرتا ہے کہ کہیں وقت ہاتھ سے نکل نہ جائے اور ظلم وہ کرتا ہے جو ضعیف اور ناتواں ہوتا ہے اور اے میرے پروردگار تو ان سے کہیں زیادہ بلند و برتر ہے'' ۔

عدالت خدا کے معانی

عدل کے اس مشہور معنی کے علا وہ (کہ خدا عادل ہے اور کسی پر ظلم نہیں کرتا) دوسرے کئی معانی پائے جاتے ہیں ۔

____________________

(۱) مصباح المتہجد شیخ طوسی ص ۱۷۳ (دعاء بعد از نماز شب )


۱۔ خد اعادل ہے یعنی خالق کا ئنا ت ہر اس کا م سے دور ہے جو مصلحت اورحکمت کے خلا ف ہے ۔

۲۔ عدل یعنی : تمام لوگ خدا کی نظر میں ایک ہیں تمام جہات سے اور کو ئی بھی اس کے نزدیک بلند وبالا نہیں ہے مگر وہ شخص جو تقوی اور اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے کو فساد اور نابودی سے بچائے( اِنّ أَکرَمکُم عِند اللَّهِ أتَقاکُم اِنَّ اللّٰهَ عَلیمُ خَبیرُ ) بے شک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے اور اللہ ہر شی ٔ کا جاننے والا اور ہر بات سے با خبر ہے۔( ۱ )

۳۔ حق کے ساتھ فیصلہ او رجزا : یعنی خدا وند عالم کسی بھی عمل کو چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا اور حقیر کیو ں نہ ہو اس کے بجا لانے والے کا حق ضائع نہیں کرتا اور بغیر جزاء کے نہیں رہنے دیتا او ربغیر کسی امتیاز کے تمام لوگوں کو ان کے اعمال کی جزاملے گی

( فَمنْ یَعملْ مِثقالَ ذَرَّةٍ خَیراً یَرهُ وَمَنْ یَعمل مِثقالَ ذَرَّةٍ شَراً یَرهُ ) پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا او رجس نے ذرہ برابربرائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا ۔( ۲ )

۴۔ ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھنا'' العادل الواضع کُلّ شیئٍ موضعہ'' عادل وہ شخص ہے جوہر چیز کو اس کی جگہ پر قرار دے۔( ۳ )

خدا وند عالم نے تمام مخلوقات کو اس کی مناسبت سے خلق کیا ہے اور اس کے

____________________

(۱)سورہ حجرات آیة ۱۴

(۲) سورہ زلزال آیة ۷

(۳) مجمع البحرین کلمہ عدل


اندر کی چیزیں اسی کے لحاظ سے خلق کی ہیں تمام موجودات عالم میں تعادل وتناسب پایا جاتاہے ''( أنبتنا فیها مِن کُلّ شیئٍ موزون ) ''( ۱ ) اور ہر چیز کو معینہ مقدار کے مطابق پیدا کیاہے۔

ہرکا م مقصد کے تحت : یعنی دنیا کی تمام تخلیق کا ایک مقصدہے اور اس دنیا کو خلق کرنے میں کچھ اسرارو رموز پوشیدہ ہیں اوراس دنیامیں کو ئی چیز بیکار و عبث نہیں ہے( أ فَحَسِبتُم انَّما خَلَقنَاکُم عَبثاً وَ أَنَّکم اِلینَا لا تُرجعُون ) کیاتمہا را خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بیکا ر پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لا ئے جا ئو گے( ۲ )

ان مذکورہ عدالت کے معانی پر اعتقاد اور یقین اور ان میں سے ہر ایک معنی کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنانے کی وجہ سے بہت سے اخلاقی آثار مرتب ہو ں گے عادل عدالت کا خواہاں ہو تا ہے ۔

____________________

(۱)سورہ حجر آیة ۱۹

(۲) سورہ مومنون آیة :۱۱۵


سوالات

۱۔ کیو ں عدل کو اصول دین میں شامل کیا گیاہے ؟

۲۔ عدل خدا پر عقلی دلیل کیا ہے ؟

۳۔ ظلم کے اسباب کیاہیں ؟

۴ ۔ عدالت کے معانی بطور خلا صہ بیان کریں ؟


بارہواں سبق

مصیبتوں اور آفتوں کا راز(پہلا حصہ )

یہ ثابت ہو جا نے کے بعد کہ خدا عادل ہے او ر اس کے تمام کام حکمت کی بنیاد پر ہیں کچھ ایسے مسائل ہیں جو واضح نہیں ہو سکے لہٰذا ان کو واضح کردینا ضروری ہے یعنی آفتیں اور بلائیں ،دردورنج ،ناکامی او ر شکست ،نقائص اور بحران خد اکی عدالت سے کیسے سازگارہے ؟

تھوڑا غورکرنے پر واضح ہوجاتاہے کہ یہ تمام حالات عدل الٰہی کے موافق رہے ہیں نہ کہ مخالف ،مذکورہ سوالات کے سلسلہ میں دو بہترین جواب دئے جا سکتے ہیں۔

۱۔ مختصر اور اجمالی ۲ ۔تفصیلی

اجمالی جواب:

جب عقلی اور نقلی دلیلو ں سے ثابت ہوچکا کہ خداحکیم و عادل ہے اور اس کی تمام تخلیق ہدف اور حکمت کے ساتھ ہے اور یہ کہ خدا وند متعال کسی شخص اورکسی کاکبھی بھی محتاج نہیں اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے خلا صہ یہ کہ وہ کوئی بھی کام خلاف حکمت انجام نہیں دیتا ،ظلم جوکہ سرچشمۂ جہل اورعاجزی ہے اس کا تصور ذات اقدس کے لئے ممکن ہی نہیں اس کے باوجود اب اگر ہم مذکورہ حوادث وحالات کے فلسفہ کونہ سمجھ سکیں تو ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ یہ ہمارے علم کی محدودیت اور اس کا قصور ہے ، چونکہ جس نے بھی خدا کو اس کے صفات کی روشنی میں پہچانا اس کے لئے یہ جواب کافی ووافی ہے ۔


تفصیلی جواب :

ان مصیبتوں کے ذمہ دار خو د ہم ہی ہیں ۔انسان کی زندگی میں بہت زیادہ مصیبتیں دامن گیر ہوتی ہیں جس کی اصلی وجہ او رسبب خو د وہی ہے اگرچہ اکثر ناکامیوں کاسبب،سستی وکاہلی او رسعی وتلاش کو چھوڑ دینا ہے ۔

زیادہ تر بیماریاں شکم پرستی اورہوائے نفس کی وجہ سے آتی ہیں ،بے نظمی ہمیشہ بد بختی کا سبب رہی ہے اور اسی طرح اختلاف وجدائی ہمیشہ مصیبت اور بد بختی کا پیش خیمہ رہے ہیں اور تعجب تو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے علت ومعلول کے رابطہ کو بھلاکر ساری مصیبتوں کا ذمہ دار خداکو ٹھرایاہے۔

ان باتوں کے علا وہ بہت سے نقائص اور کمیا ںجیسے بعض بچوں کا ناقص الخلقت ہو نا (اندھا ،بہرا اور گونگا ، مفلو ج ہو نا ) والدین کی کوتاہی او ر شریعت کے اصول و قوانین کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے ہے ، اگر چہ بچہ کا کوئی قصور نہیں لیکن یہ والدین کے جہل او رظلم کا طبیعی اثر ہے (بحمد اللہ معصوم ہادیوں نے ان نقائص کو روکنے کے لئے کچھ قوانین بتائے ہیں یہاں تک کہ بچے کے خوبصورت اور با استعداد ہونے کے لئے بھی قوانین وآئین بتائے ہیں ) ۔


اگر والدین نے ان قوانین کی پیروی نہیں کی تو عا م سی بات ہے کہ اس نواقص کے ذمہ دار ہو ں گے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی خدا کی طرف منسوب نہیں کر سکتے بلکہ یہ ایسی مصیبت ہیں جسے انسان نے خود اپنے یا دوسروں کے لئے پال رکھی ہے۔ قرآن اس جانب اشارہ کرتا ہے :( مَا أَصَابَک مِن حَسنَةٍ فَمِن اللّٰه وَمَا أَصَابَک مِن سَیئَةٍ فَمِن نَفسِک ) جو بھی نیکیاں(اچھائیاں او رکا میابیاں) تم تک پہونچی ہیں وہ خدا کی جانب سے ہے اور جو بھی برائیاں( بدبختیاںاور ناکامیاں) تمہا رے دامن گیر ہو تی ہیں وہ خود تمہاری کرتوتوں کا نتیجہ ہیں۔( ۱ )

اور دوسری جگہ قرآن فرماتاہے :( ظَهَر الفَسَادُ فی البَرِّ وَالبَحرِ بِما کَسبَت أَیدیِ النَّاسِ لِیُذِیقهم بَعضَ الّذیِ عَمِلوا لَعَلَّهُم یُرجَعُونَ ) لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے دریا اور خشکی میں فساد پھیل گیا (لہٰذا ) خدا ان کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھا دینا چاہتا ہے شاید وہ بدل جا ئیں۔( ۲ )

نا پسند واقعات او رالٰہی سزائیں

حدیثوں میں بھی متعدد مقامات پر اس طرح ذکر ہو ا:انسانوں کے دامن گیر ہونے والی مصیبتوں کا زیاد ہ تر حصہ گناہو ں کی سزا کا ہو تا ہے ۔

ایک حدیث میں امام علی رضا ںسے روایت ہے :''کلّما أحدث العِباد من الذنوب ما لم یکونوا یعملون أحدث لهم من البلا ء ما لم یکونوا

____________________

(۱) سورہ نساء آیة ۷۹

(۲) سورہ روم آیة ۴۱


یعرفون ''جب بھی خدا کے بندے ایسے گناہو ںکو انجام دیتے ہیں جنہیں کبھی پہلے انجام نہیں دیا تھا توخدا انہیں نامعلوم اور نئی مصیبتوں میں گرفتار کردیتاہے ۔( ۱ )

حضرت امام صادق سے منقول ہے :''أِنَّ الرجلَ لیذنب الذنب فیحرم صلا ة اللیل واِنَّ عمل الشَّرأسرع فی صاحبه من السکین فی اللحم ''کبھی انسان ایسے گنا ہ کو انجام دیتا ہے جس کے نتیجہ میں نماز شب سے محروم ہو جا تاہے (کیونکہ ) برے عمل کا برا اثر اس کے انجام دینے والے میں اس چاقو سے زیادہ تیز ہو تا ہے جوگوشت کو کا ٹنے میں ہو تا ہے۔( ۲ )

حضرت علی ابن ابی طالب ں فرماتے ہیں : کسی قوم کی خوشی اور نشاط اسی وقت چھنتی ہے جب وہ براکام انجام دیتی ہے کیو نکہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔( ۳ )

ایک دوسری جگہ امام علی فرماتے ہیں : گناہو ںسے دوری اختیار کرو کیونکہ تمام بلا ئیں او رمصیبتیں ،روزی کا کم ہو نا ،گناہ کی وجہ سے ہے یہاںتک کہ بدن میں خراش کا آنا ،ٹھوکر کھا کر گر جانا ،مصیبتوں میں گرفتار ہو نا ،یہ سب گناہ کا نتیجہ ہے، خداوند متعال کا ارشاد ہے : جو بھی مصیبت تم تک آتی ہے وہ تمہا رے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔

____________________

(۱) سابق ، ،ص ۳۵۸

(۲) نہج البلا غہ خطبہ ۱۷۸

(۳) سورہ نساء ۷۹ ،بحارالانوار ج ۸۳ ،ص ۳۵۰(مزید معلومات کے لئے تفسیر برہان ج،۴ ص ۱۲۷ او رنور الثقلین آیة ۷۸ کے ذیل میںاو ر بحارالانوار ج، ۷۸ ،ص ۵۲ کی طرف رجوع فرمائیں


عذاب او رسزا کے عمومی ہونے پر کچھ سوال

بہت سی مصیبتیں اور بلا ئیں تاریخی شواہد ،حدیثوں او رقرآن کی روشنی میں عذاب او ر سزا کے عنوان سے ہو تی ہیں۔

لیکن یہاں پر جو سوال ذہن میں آتاہے وہ یہ ہے کہ عذاب او رسزائوں میں گرفتار ہونے والے افراد دوطرح کے ہیں ،ظالم اور مظلوم ،مومن او رکافر توآخر سبھی لوگ کیو ںعذاب میں گرفتار ہو کر ہلا ک ہوگئے ۔؟

جو اب : اسلا م کی رو سے مظلو مین یا مومنین کی مشکلا ت او رمصیبتیں نہی عن المنکر کو ترک کرنے او ر گمراہی وظالمین کامقابلہ نہ کرنے کی وجہ سے ہے( اِتقُوا فِتنةً لاتُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنکُم خَاصةً ) ایسے فتنہ سے بچو جس کے اثرات صرف ظالموں تک ہی نہیں بلکہ سبھی کو گھیرلیتے ہیں۔( ۱ )

قال رسول اللّه صلیٰ اللّه علیه وآله وسلم : لتامرنَّ بالمعروف ولتنهنَّ عن المنکر أو لیعمنکم عذاب اللّه ( ۲ ) امر بمعروف اور نہی عن المنکر ضرور انجام دو ورنہ خدا کا عمومی عذاب تم کو بھی گھیرلے گا ۔

دوسراسوال یہ ہے : کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ گنہگار وں او رظالموں کی دنیاوی زندگی بہت اچھی ہے او ر انہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں، جبکہ ان کے مقابل نیک اور مومن لوگو ں کو پریشان حال دیکھتے ہیں آخر ایسا کیوں ؟۔

جو اب:آیات و روایات کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ ظالموںاور گنہگاروں کو مہلت اور نعمتیں ان کے عذاب کی شدت کا باعث ہے ۔

____________________

(۱) سورہ انفال آیة ۲۰

(۲)وسائل الشیعہ جلد ۱۱،ص۴۰۷


( وَلَا یَحسَبَنَّ الَّذینَ کَفَروا أَنَّما نُملیِ لَهم خَیرُ لأنفُسِهِم اِنَّما نُملیِ لَهُم لِیَزدادوا ثماً وَ لَهُم عَذابُ مُهِینُ ) ( ۱ )

کفار ہر گز اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ اگر ہم نے ان کو مہلت دے دی تو اس میں ان کی بھلا ئی ہے ،ہم نے ان کو اس لئے مہلت دی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ گنا ہ کریں ، سخت عذاب ا ن کے انتظار میں ہے ۔

حضرت علی ںنے فرمایا :''یابن آدم اِذا رأیتَ ربکَ سبحانه یُتابع علیک نعمة وأَنت تعصیه فاحذره'' فرزند آدم جب تم یہ محسوس کرنا کہ خدا نا فرمانی کے باوجود تم پر نعمتوں کی بارش کر رہا ہے تو اس سے ہوشیار رہنا( ۲ )

امام صادق فرماتے ہیں :

اِذا أَراد اللّه بعبد خیراً فأذنب ذنباً تبعه بنقمة فیذکره الاستغفار واذا أراد اللّه بعبدٍ شراً فاذنب ذنبا تبعه بنعمة لینسیه الاستغفار ویتمادی به وهو قول اللّه عزَّوجلَّ ( سنستدرجهم من حیث لا یعلمون ) بالنعم عند المعاصی'' ( ۳ ) جب خدا کسی بندہ کی بھلا ئی اور خوش نصیبی چاہتا ہے تو اس کے گناہ کرنے پر کسی پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے او راسے استغفار کی طرف متوجہ کر تا ہے ،اور جب (نا فرمانی او رسر کشی کی وجہ سے ) کسی بندہ کی

____________________

(۱)سورہ آل عمران آیة ۱۷۸

(۲)شرح ابن الحدید ، ج،۱۹ ص ۲۷۵ ۔

(۳) اصول کا فی ج، ۲،باب استدراج ، حدیث ۔۱


تباہی وبربادی چاہتا ہے تو اس کے گناہ پر ایسی نعمت دیتا ہے جس سے استغفار کو بھول جائے اور اپنی عادت پر باقی رہ جائے ۔

اور یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں خد اکا ارشاد ہے ، ہم انہیں آہستہ آہستہ ایسے راستوں سے عذاب کی طرف لے جا تے ہیں کہ ان کو خبر تک نہیںہو پا تی اور وہ یہ کہ نافرمانی کے موقع پر ہم انہیں نعمت عطا کر دیتے ہیں ۔

سوالات

۱۔ ناپسندواقعات کااجمالی جواب تحریر کریں ؟

۲۔ اپنی کمائی ہو ئی مصیبتوں سے مراد کیاہے ؟

۳۔ مومنین ومظلومین مشکلا ت سے کیوں دوچار ہیں حدیث رسول بیا ن کریں ؟

۴۔ عذابِ تدریجی کی تعریف کریں ؟


تیرہواں سبق

مصائب وبلیات کا فلسفہ (حصہ دوم )

مومنین کے لئے بلا ء ومصیبت ا ن کے علو درجات کے لئے ہے او ر کبھی ان کی یاد دہانی اور بیداری کے لئے بعض وقت ان کے گناہو ں کا کفارہ ہیں اور یہ سب کی سب چیزیں خدا کی طرف سے مومنین پر لطف ہیں ۔

امام صادق فرماتے ہیں:''اِنَّ عَظیم الأجرِ لمَع عظیم البلا ء وما أحب اللّٰه قوماً الا ابتلاهم' ' اجرت کی زیادتی بلا ئوں کی کثرت پر ہے اور خدا جس قوم کو دوست رکھتا ہے اس کو بلا ئو ں میں مبتلا ء کرتا ہے۔( ۱ )

امام باقرں فرماتے ہیں:''لو یعلم المؤمن ماله فی المصائب من الاجر لتمنی أَنَّه یُقرض بالمقاریض'' اگر مومن کو اس بات کاعلم ہو جائے کہ آنے والی مصیبت کااجر کتنا ہے تو وہ اس بات کی تمنا کرے گا کہ اس کو قینچیوں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔( ۲ )

امام علی ں فرماتے ہیں:''مَن قَصَّر فی العمل ابتلیٰ بالهم ولا

____________________

(۱) بحار جلد ۶۷ ،ص۲۰۷

(۲) بحار جلد ۸۱ ،ص ۱۹۲ ۔


حاجة للّٰہ فِیمَن لیس للّہ فی نفسہ وما لہ نصیب'' جس نے اعمال میں کمی کی وہ مشکلا ت کا شکار ہو ا اور جس کے جان ومال میں کسی قسم کا نقصان نہ پایا جائے تو وہ لطف خدا کا مستحق نہیں ہے۔( ۱ )

امام صادق نے فرمایا:ساعات الأَوجاعُ یُذهبنّ بساعات الخطایا ( ۲) مصیبت کی گھڑیا ں خطا کے لمحات کو مٹادیتی ہیں۔ (بیماری گناہوں کا کفارہ ہے ) ۔دوسری جگہ امام صادق فرماتے ہیں :لا تزال الغموم والهموم بالمؤمن حتی لاتدع له ذنباًً ( ۳ ) مومن ہمیشہ مصیبت وبلا ء میں اس لئے گرفتار رہتا ہے تاکہ اس کے گنا ہ باقی نہ رہ جائیں ۔

امام رضا ںنے فرمایا :المرضُ للمؤمن تطهیرو رحمة و للکافر تعذیب ولعنة وأَن المرضَ لا یزال بالمؤمن حتیٰ لا یکون علیه ذنب ( ۴ ) مومن کی بیماری اس کی پاکیزگی او ررحمت کا سبب ہے او رکا فر کے لئے عذاب و لعنت کا سامان ہے ،مومن ہمیشہ بیماری میں مبتلارہتا ہے تاکہ اس کے سارے گناہ بخش دئیے جائیں ۔

امام باقر ںفرماتے ہیں :''أِنَّما یُبتلیٰ المؤمن فی الدنیا علیٰ قدر دینه او قال علی حسب دینه' ' مومن دنیا میں مراتب دین کے تحت مصیبت میں مبتلاہو تا ہے۔( ۵ )

____________________

(۱) بحار الانوار ج،۸۱ ص ،۱۹۱۔(۳)بحار الانوار جلد۶۷باب ابتلاء لمومن

(۲)بحار الانوار جلد،۸۱ص،۱۹۱(۴)بحار الانوار جلد۸۱، ص،۱۸۳(۵) بحار الانوار ج،۸۱ ص ،۱۹۶۔


دوسری حدیث میں امام صادق نے فرمایا :مومن کے لئے چالیس شب نہیں گذرتی کہ اس کے اوپر کو ئی بڑی مصیبت آپڑتی ہے تاکہ وہ ہو شیار ہوجائے ۔( ۱ )

قرآن مجید میں کم وبیش، بیس مقامات پر امتحان الٰہی کے حوالے سے گفتگو ہوئی ہے ۔یہ امتحان خدانے ہم سے آگا ہی کے لئے نہیں لیا ہے کیونکہ وہ ابتداء ہی سے ہم سے با خبر ہے بلکہ اس امتحان میں تربیت کاایک پہلو ہے۔ الٰہی امتحانات روح اورجسم کے لئے تکامل کاذریعہ ہیں او ردوسری طرف امتحان کے بعد جزاوسزا کا استحقاق ہے( وَلَنَبلُونَّکُم بِشَیئٍ مِن الخَوفِ والجُوعِ وَنَقصٍ مِن الأموالِ وَ الأنفُسِ والثَّمراتِ و بَشّر الصَّابِرینَ ) ( ۲ ) او رہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف، تھوڑی بھوک اور اموال ونفوس او رثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر! آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدیں ۔( وَنَبلُونَّکُم بالشَّرِّ والخَیرِ فَتنة واِلینا تُرجعَونَ ) ( ۳ ) اور ہم تو اچھائی او ربرائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے اور تم سب پلٹا کر ہماری بارگاہ میں لائے جائوگے ۔

مولائے کائنا ت نے فرمایا :...ولکنّ اللّهَ یختبر عباده بأنواع الشدائد ویتعبدهم بأنواع المجاهد و یبتلیهم بضروب المکاره ( ۴ )

خدا وند تعالی اپنے بندوں کو مختلف سختیوں کے ذریعہ آزماتاہے او ربندے کو مختلف مشکلوں میں عبادت کی دعوت دیتا ہے اور متعدد پریشانیوں میں مبتلا کر تا ہے ۔

____________________

(۱)بحار الانوار جلد۶۷باب ابتلاء لمومن

(۲) سورہ بقرہ آیة ۱۵۵

(۳) سورہ انبیاء آیة ۳۵(۴)نہج البلا غہ خطبہ ۱۹۲


فلسفہ مصائب کا خلا صہ اور نتیجہ

بہتیرے اعتراضات، عدل الٰہی کے سلسلہ میں جہالت او ربلا ء و مصیبت کے فلسفہ کو درک نہ کرنے کے باعث ہو ئے ہیں مثلایہ خیال کریں کہ موت فنا ہے اور اعتراض کر بیٹھیں کہ فلاں شخص کیو ں جوانی کے عالم میں مر گیا اور اپنی زندگی کا لطف نہ اٹھا سکا ؟ ہم یہ سوچتے ہیں کہ دنیا ابدی پناہ گاہ ہے لہٰذا یہ سوال کرتے ہیں کہ سیلا ب اور زلزلے کیو ں بہت سارے لوگو ں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ہے ؟ ہماری فکر کے اعتبار سے یہ دنیا آرامگاہ ہے تو پوچھتے ہیں کہ بعض لوگ بے سروسامان کیوں ہیں ؟۔

(یہ سارے سوالات ) ان لوگو ں کی مانند ہیں جو دوران درس اعتراضات کی جھڑ لگادیتے ہیں کہ چائے کیاہوئی ،کھا نا کیوں نہیں لاتے ،ہما را بستر یہاں کیوں نہیں ہے ؟ان سارے سوالوں کے جواب میں صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ درس گا ہ ہے مسافر خانہ نہیں ۔در حقیقت گزشتہ سارے اعتراضات کابہترین راہ حل اس دنیا کو پہچاننا اور موجودات عالم کے مقصد خلقت کو درک کرنا ہے ۔

سوالات

۱۔مومنین دنیا میں مصائب وآلا م کے شکا رکیو ں رہتے ہیں ؟

۲۔ خدا اپنے بندو ں کا امتحان کیو ں لیتا ہے ؟

۳۔ فلسفہ ٔمصائب کا خلا صہ او رنتیجہ بیان کریں ؟


چودہواں سبق

اختیار او ر میا نہ روی

شیعہ حضرات ائمہ معصومین کی اتباع کی بناپر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مشیت الٰہی کے باوجود انسان اپنے کام میں صاحب اختیار ہے ۔

کسی کا م میں اختیا ر ،ارادہ ،انتخاب ان سب کا ہو ناایک ناقابل انکا ر شیٔ ہے اس کے باوجود بعض لوگوںنے اپنے ضمیر اور فطرت کی مخالفت کرتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکا ر کر دیا ۔بعض افراد اس کے مقابل میں تفویض کے قائل ہو گئے ۔

آخرکار: اس بحث میں تین نظریہ قائم ہو ئے ہیں ۔

۱ ۔ جبر و بے اختیار: ا س نظریہ کے قائل افراد کہتے ہیں کہ انسان اپنے کاموںمیں ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتا ۔ او رانسان کسی ماہر فن کے ہاتھ میں بے شعور اوزار کی طرح ہے ،اور جوکچھ بھی معرض وجو د میں آتا ہے وہ مشیت خد اہے ۔

۲۔ تفویض یا آزادی:اس نظریہ کے معتقد افراد کاکہنا ہے کہ خد انے انسانوں کو خلق کر کے اور دل و دماغ کی قوت بخش کے انہیں ان کے کاموں میں مکمل اختیار دے دیا ہے لہٰذا ان کے افعال وکردار میں خد ا کا کو ئی دخل نہیں او رقضا و قدر کابھی کو ئی اثر نہیں ہے ۔

۳۔اختیار یا میانہ روی ۔ نہ جبر نہ تفویض بلکہ اختیارا ور امر بین الامرین (میانہ روی)


عقیدۂ اختیار

اہل تشیع نے اس عقیدہ کو ائمہ معصومین علیہم السلام کے ارشادات کی روشنی میں اختیار کیا ہے، یعنی انسانوں کے کام خود اس کی ذات سے مربوط ہیں اور وہ صاحب اختیار ہے لیکن خواستہ الٰہی بھی اس کے شامل حال ہے او رقضا ء وقدر الٰہی کا اثر بھی ہے۔ جس طرح تمام موجودات کاوجود خدا کے وجود کی بنا پر ہے اور ہر صاحب قدرت کی قوت اور ہر صاحب علم کا علم مرہون لطف الٰہی ہے اسی طرح سے ہر صاحب اختیار کا ارادہ اوراختیار خد ا کے ارادے اور اختیارکے سایہ میں جنم لیتا ہے ۔اسی لئے جب انسان کسی کام کاارادہ کرتاہے تویہ اختیار اور قدرت خداکی طرف سے ہے یا یوں کہاجائے کہ ارادہ وقدرت خدا وندی کے سایہ میں انسان کسی کام کا ارادہ کرکے اس کو انجام دے سکتا ہے اوریہی معنی ہیں۔( وما تشاؤن الا أن یشاء اللّه رب العالمین ) ( ۱ ) ''تم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ عالمین کاپرور دگا ر خدا چاہے''(یعنی تمہا را ارادہ خدا کی چاہت ہے نہ یہ کہ تمہارا کام خدا کی درخواست اور ارادہ کی وجہ سے ہے ۔( ۲ )

____________________

(۱) سورہ تکویر آخری آیة

(۲) گم شدہ شما ۔محمد یزدی


عقیدہ اختیار اور احادیث معصومین علیہم السلام

احمد بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے امام علی رضا علیہ السلا م کی خدمت میں عرض کیا مولا بعض لوگ جبر اور''تفویض ''اختیار مطلق کے قائل ہیں امام علیہ السلام نے فرمایا لکھو !

قال علی ابن الحسینںقال عزوجل:''یا بن آدم بمشیتی کنت انت الذی تشاء بقوتی ادیت الی فرائضی وبنعمتی قویت علی معصیتی جعلتک سمیعاً بصیراً ما أصابکَ من حسنة فمِن اللّه وما أصابکَ من سیئةٍ فمن نفسک وذلکَ أنِّی أولیٰ بحسناتکَ منکَ وأنت أولیٰ بسیئاتک منیِ وذلکَ أنِّی لاأسئل عماأفعل وهم یُسئلون قد نظمت لکَ کلّ شیئٍ تُرید''

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا وند کریم کا فرمان ہے کہ اے فرزند آدم !تم ہمارے خواہش کے تحت ارادہ کرتے ہو اور ہماری دی ہو ئی طاقت سے ہما رے واجبات پر عمل کرتے ہو اور ہماری عطا کردہ نعمتوں کے نا جائز استعمال سے گناہ ومعصیت پر قدرت حاصل کرتے ہو ہم نے تم کو سننے او ر دیکھنے والا بنایا جو بھی نیکی تم تک پہنچے وہ خدا کی جانب سے ہے اور جو بھی برائی وجود میں آئے اس کے ذمہ دار تم ہو کیونکہ میں تمہاری نیکیو ں کے سلسلہ میں تم سے زیادہ حق دار ہوں اور تم اپنی برائی کے بابت مجھے سے زیادہ مستحق ہوکیونکہ میں کچھ بھی انجام دوںگا جو اب دہ نہیں ہوںگا لیکن وہ جو اب دہ ہو ں گے تم نے جو کچھ سوچا ہم نے تمہارے لئے مہیا کر دیا۔( ۱ )

ایک صحابی نے امام جعفر صادق سے سوال کیا کہ کیا خدا نے اپنے بندوں کو ان کے اعمال پر مجبور کیا ہے ۔ اما م نے فرمایا :''اللّهُ أعدل مِن أَن یجبر عبداً علیٰ فعلٍ ثُمَّ یعذّبه علیه''خدا عادل مطلق ہے اس کے لئے یہ بات روانہیں کہ وہ بندو ں کو کسی کا م پر مجبور کرے پھر انہیں اسی کام کے باعث سزادے۔( ۲ )

دوسری حدیث میں امام رضاںنے جبر وتفویض کی تردید کی ہے اور جس صحابی نے یہ سوال کیا تھا کہ کیا خدا نے بندوں کو ان کے اعمال میں مکمل اختیار دیا ہے تو آپ نے جو اب میں فرمایا تھا ۔

''اللّه أعدلُ وأحکم من ذلک'' خدا اس سے کہیں زیادہ صاحب عدل وصاحب حکمت ہے کہ ایسا فعل انجام دے۔( ۳ )

____________________

(۱) اصول کا فی باب امربین الامرین حدیث ۱۲

(۲) بحار الانوار ج ۵ ص ۵۱

(۳) اصول کا فی باب امر بین الامرین حدیث ۳


جبر واختیار کا واضح راہ حل

عمومی فکر اور عالمی فطرت ،دونوں اختیار پر ایک واضح دلیل ہیں اور اختیار وجبر کے معتقد یں بھی ،عملی میدان میں آزادی اور اختیار ہی کو مانتے ہیںلہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ !

۱۔ تمام لوگ اچھا ئی کرنے والوں کی مدح اور تحسین کرتے ہیں اور برائی کرنے والے کی تحقیر اورتوہین کرتے ہیں ،اگر انسان مجبور ہوتا اور اس کے اعمال بے اختیار

ہو تے تو مدح وتحسین، تحقیر وتوہین کو ئی معنی نہیں رکھتی ۔

۲۔ سبھی لوگ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت میں کوشش کرتے ہیں اگر انسان مجبور ہو تا تو تعلیم و تربیت کا کوئی مقصد نہیں باقی رہتا ہے۔

۳۔ کبھی انسان اپنے ماضی سے شرمندہ ہو تاہے اور اس بات کاارادہ کرتا ہے کہ ماضی کے بحرانی آئینہ میں مستقبل کو ضرور سنوارے گا ، اگر انسان مجبور ہوتا تو ماضی سے پشیمان نہ ہو تا اور مستقبل کے لئے فکر مند نہ ہو تا ۔

۴۔ پوری دنیا میں مجرموںپر مقدمہ چلا یا جاتاہے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے اگر وہ لوگ اپنے کاموں میں مجبور تھے تو ان پر مقدمہ چلانا یاسزا دینا سراسر غلط ہے ۔

۵۔ انسان بہت سارے کاموں میں غور و خو ض کرتا ہے اور اگر اس کی پرواز فکر کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتی تو دوسرے افراد سے مشورہ کرتا ہے۔ اگر انسان مجبور ہو تا توغور وفکر او رمشورت کا کوئی فائدہ نہیں ہے( ۱ )

____________________

(۱) تفسیر نمونہ جلد ۲۶ ص ،۶۴ خلاصہ کے ساتھ۔'' عدالت کے سلسلہ میں ان کتب سے استفادہ کیاگیا ہے ۔ اصول کا فی ،نہج البلا غہ ،پیام قران ،تفیسر نمونہ ،اصول عقائد ''


سوالا ت

۱۔ جبروتفویض اور عقیدہ اختیار کی تعریف کریں ؟

۲۔ انسان کے مختار ہونے کے بارے میں شیعہ عقیدہ کیا ہے ؟

۳۔ عقیدۂ اختیار کے بارے میں سید سجا د کی حدیث پیش کریں ؟

۴۔ عقیدہ ٔجبر واختیار کاکوئی واضح راہ حل بیان کریں ؟


پندرہواں سبق

نبوت عامہ (پہلی فصل )

اصول دین کی تیسری قسم نبوت ہے توحید وعدل کی بحث کے بعد انسان کی فطرت ایک رہبر ورہنما اور معصوم پیشوا کی ضرورت محسوس کرتی ہے ۔

یہاں وحی، حاملا ن وحی ا ور جو افراد لوگوں کو سعادت وکمال تک پہنچاتے ہیں ان کی شناخت کے سلسلہ میں بحث کی جائے گی ۔

اس بحث میں سب سے پہلے انسان کووحی کی ضرورت اور بعثت انبیاء کے اغراض ومقاصد نیز ان کی صفات وخصوصیا ت بیان کئے جائیں گے جس کو علم کلام کی زبان میں نبوت عامہ کہتے ہیں۔

اس کے بعد پیغمبر اسلا مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت اور ان کی خاتمیت کی بحث ہوگی کہ جس کو نبوت خاصہ کہتے ہیں ۔

وحی اور بعثت انبیاء کی ضرورت

۱) مخلوقات کو پہچاننے کے لئے بعثت لا زم ہے ۔

اگر انسان کا ئنات کو دیکھے تو وہ اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ دنیا کی خلقت بغیر ہدف ومقصد کے ہوئی ہے گزشتہ بحث میں یہ بات گذر چکی ہے کہ خدا حکیم ہے اور عبث وبیکا ر کام نہیں کرتا ۔ کا ئنات کا نظم ،موجودات عالم کا ایک ساتھ چلنا بتاتا ہے کہ تخلیق کا کوئی معین ہدف ومقصد ہے لہٰذا یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ :

۱۔ خدا نے اس دنیا کو کس لئے پیدا کیا او رہما ری خلقت کا سبب کیا ہے ؟

۲۔ ہم کس طر ح سے اپنے مقصد تخلیق تک پہنچیں ، کامیا بی اور سعادت کا راستہ کون سا ہے اور اسے کس طرح سے طے کریں۔ ؟


۳۔ مرنے کے بعد کیا ہو گا کیا مو ت فنا ہے یا کوئی دوسری زندگی ؟ موت کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی ؟ا ن سارے سوالوں کے جواب کے لئے ضروری ہے کہ کوئی خدا کی جانب سے آئے جو سبب خلقت اور راہ سعا دت کی نشان دہی کرے اور موت کے بعد کی زندی کی کیفیت کو ہما رے سامنے اجا گر کرے، انسان اپنی عقل کے ذریعہ دنیوی زندگی کے مسائل حل کر لیتا ہے، لیکن سعادت وکمال تک پہنچنے سے مربوط مسائل اور موت کے بعد کی زندگی اور اخروی حیات جو موت کے بعد شروع ہوگی یہ سب اس کے بس کے باہر ہے ۔

لہٰذا اس حکیم خدا کے لئے ضروری ہے کہ وہ معصوم نبیوں کو ان تما م مسائل کے حل اور کمال تک پہنچنے کے لئے اس دنیا میں بھیجے ۔

ہشام بن حکم کہتے ہیں کہ ایک لا مذہب شخص نے امام صادق سے سوال کیاکہ بعثت انبیا ء کی ضرورت کو کیسے ثابت کریں گے۔ ؟

آپنے فرمایا :ہم ثابت کرچکے ہیں کہ ہمارے پاس ایساخالق ہے جوتمام مخلوقات سے افضل واعلی ،حکیم وبلند مقام والا ہے چونکہ لوگ براہ راست اس سے رابطہ نہیں رکھ سکتے لہٰذا ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ وہ ا پنی مخلوقات میں رسولو ں کو مبعوث کرتا ہے جو لوگو ں کو ان کے فائدے اور مصلحت کی چیزوں کو بتاتے ہیں اور اسی طرح ان چیزوں سے بھی آگا ہ کرتے ہیں جو انسان کی بقاء کے لئے ضروری ہیں اور ترک میں فناونابودی ہے، لہٰذایہ بات ثابت ہو چکی کہ جو خدا کی جانب سے لوگو ں کے درمیان حکم دینے والے او ربرائیو ں سے روکنے والے ہیں، انہیں کو پیغمبر کہا جا تا ہے۔( ۱ )

امام رضا فرماتے ہیں:جبکہ وجود انسان میں مختلف خواہشات اور متعدد رمزی قوتیں ہیں، مگر وہ چیز جو کما ل تک پہنچا سکے اس کے اندر نہیں پا ئی جا تی اور چونکہ خدا دکھا ئی نہیں دیتا اور لوگ اس سے براہ راست رابطہ نہیں رکھ سکتے، لہٰذا اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ خد اپیغمبروں کو مبعوث کرے جو اس کے احکا م کوبندوں تک پہنچا ئیں اور بندو ں کو اچھا ئیوں کاحکم دیں اور برائیو سے بچنا سکھائیں۔( ۲ )

____________________

(۱) اصو ل کا فی کتاب الحجة با ب اضطرار ا لی الحجة حدیث ،۱

(۲) بحارالانوار جلد ۱۱ ،ص ۴۰


۲) انسان کے لئے قانو ن تکا مل لا نے کے لئے پیغمبر کی ضرورت۔

انسان کو اپنے مقصد خلقت جوکہ کمال واقعی ہے اس تک پہنچنے کے لئے کچھ قانو ن گذار افراد کی ضرورت ہے جو ان شرائط کا حامل ہو۔

۱۔ انسان کو مکمل طریقہ سے پہچانتا ہو اور اس کے تمام جسمانی اسرار ورموز اس کے احساسات و خواہشات ارادے وشہوات سے مکمل آگاہ ہو ۔

۲۔ انسان کی تمام صلا حیت ، اس کے اندر پو شیدہ خصو صیات اور وہ کمالا ت جو امکا نی صورت میں پائے جا سکتے ہیں سب سے باخبر ہو ۔

۳ ۔انسان کو کمال تک پہنچانے والے تمام اصولو ں کو جانتاہو راہ سعادت میں آڑے آنے والی تمام رکاوٹوں سے آگاہ ہو ، اور شرائط کمال سے باخبر ہو ۔

۴۔ کبھی بھی اس سے خطا ،گناہ اور نسیا ن سرزد نہ ہو ۔ اس کے علا وہ وہ نرم دل مہربان ،شجاع ہو او ر کسی بھی قوت سے مرعوب نہ ہو ۔

۵۔ لوگو ں سے کسی قسم کی منفعت کی توقع نہ رکھتا ہو تاکہ اپنی ذاتی منفعت سے متاثر ہو کر لوگوں کے لئے خلاف مصلحت قانون تیار کردے ۔

جس کے اندر مذکورہ شرائط پائے جاتے ہو ں وہ بہترین قانون گذار ہے کیا آپ کسی ایسے شخص کی نشان دہی کر سکتے ہیں جو جرأت کے ساتھ اس بات کادعوی کر سکے کہ میں انسان کے تمام رموز واسرار سے واقف ہو ں، اس کے بر خلا ف تمام علمی شخصیتوں نے اس بات کااعتراف کیاہے کہ ہم ابھی تک انسان کے اندر پائے جا نے والے بعض رموز تک پہنچ بھی نہیں سکے ہیں ۔ اور بعض نے انسان کو لا ینحل معمہ بتایاہے کیا آپ کی نظر میں کو ئی ایسا شخص ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے انسان کے تمام کمالات کو سمجھ لیا ہے ۔اور کمال تک پہنچنے والے تمام شرائط وموانع کو جانتا ہو ں ۔کیا کوئی ایسا ہے جس سے کسی بھی خطاکا امکان نہ پایا جاتا ہو۔ ؟


یہ بات بالکل مسلّم ہے کہ اگر دنیامیں تلاش کر یں تب بھی کسی کو نہ پا ئیں گے جس میں مذکورہ تمام شرائط پائے جاتے ہوں یابعض شرطیں ہو ں ،اس کی سب سے بڑی دلیل مختلف مقامات پر متعدد قوانین کا پا یا جاناہے ۔لہٰذا ہم اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ بہترین قانون بنا نے والا صرف اور صرف خدا ہے جوانسان کی خلقت کے تمام اسرار ورموز سے واقف ہے، صرف وہ ہے جودنیا کے ماضی، حال ،مستقبل کو جانتا ہے ۔فقط وہ ہر چیز سے بے نیا زہے اور لوگو ں سے کسی چیز کی توقع نہیں رکھتا وہ خد اہے جو سب کے لئے شفیق و مہربان ہے او رانسانوں کے کمال تک پہنچنے کے تمام شرائط کو جانتا ہے ۔

لہٰذا صرف خدا یا وہ افراد جو براہ راست اس سے رابطہ میں ہیں، وہی لوگ قانون بنانے کی صلا حیت رکھتے ہیں اور اصو ل وقانون کو صرف مکتب انبیاء اور مرکز وحی سے سیکھنا چاہئے ۔

قرآن نے اسی حقیقت کی جا نب اشارہ کیا ہے :(وَلَقَد خَلَقنَا النسانَ وَنَعلمُ مَا تُوَسوِسُ بِہ نَفسُہُ)( ۱ ) اور ہم نے ہی انسان کو خلق کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کا نفس کیاکیا وسوسے پیدا کرتا ہے ۔

( وَمَا قَدرُوا اللّهَ حَقَّ قَدرِهِ اِذ قَالُوا مَا أنَزَلَ اللّهُ علیٰ بَشَرٍ مِّن

) ____________________

(۱) سورہ ق آیة: ۱۶


( شیئٍ ) ( ۱ ) اور ان لوگو ں نے واقعی خدا کی قدر نہیں کی جب کہ یہ کہہ دیاکہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نہیں نازل کیا ۔

نتیجہ بحث

( اِن الحُکم اِلّا للّهِ ) ( ۲ ) حکم صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔

____________________

(۱) سورہ انعام آیة: ۹۱

(۲) سورہ انعام آیة:۵۷


سوالات

۱۔ سبب خلقت کو سمجھنے کے لئے بعثت انبیا، کیو ں ضروری ہے ؟

۲۔ کیا انبیاء کا مبعوث ہو نا ضروری ہے حدیث امام صادق نقل کریں ؟

۳۔ بعثت کے لا زم ہونے پر امام رضاںنے کیا فرمایا ؟

۴ ۔ قانون گذار کے شرائط کو بطور خلا صہ بیان کریں ؟


سولھواں سبق

نبوت عامہ (دوسری فصل )

ہدایت تکوینی اور خواہشات کا اعتدال

انبیاء کی بعثت کا مقصد ،خو اہشات کا اعتدال اور فطرت کی جانب ہدایت کرنا ہے ،اس میں کو ئی شک نہیں کہ انسان خو اہشات اور فطرت کے روبرو ہے اور ان میں سے ہر ایک کی اپنی ضرورت ہے۔

خواہشات، انسان کے اندر مادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہو تے ہیں اور فطرت انسان کو حیوانیت سے نکال کر کمال واقعی تک پہنچاتی ہے اگر فطرت کی ہدایت کی جا ئے تو انسان کمال کی بلندیو ں تک پہنچ جائے گا ،ورنہ خو اہشات سے متاثر ہو کر ذلّت کی پاتال میں غرق ہو جا ئے گا لہٰذا ضروری ہے کہ خواہشات معتدل رہیں اور فطرت کی ہدایت ہو اور بغیر کسی شک وتردید کے اس اہم عہدہ کا ذمہ دار وہی ہوسکتا ہے جو انسان کے اندر کے اسرار ورموز سے مکمل باخبر ہو ۔

خو اہشات کے اعتدال کی راہ ،نیز فطرت کی راہنمائی سے مکمل آگاہوباخبر ہو یہ بات ہم عرض کر چکے ہیں کہ دانشمند وں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انسان اسرار ورموز کا معمہ ہے ۔

نتیجة ً انسان کاپیدا کرنے والا جو کا ئنا ت کابھی مالک ہے صرف وہی تمام خصوصیات سے با خبر ہے اس کے لطف وکرم کا تقاضا ہے کہ نعمتوں کی تکمیل او ر انسان کو کمال کی بلندیو ں تک پہنچنے کے لئے ایسے انبیا ء کو مبعوث کرے جوبراہ راست اس سے وحی کے ذریعہ منسلک ہیں تاکہ انسان کی ہدا یت ہوسکے ۔


بعثت انبیاء کا مقصد

انبیاء کے عنوان سے قرآن نے چند اصول بیان کئے ہیں ۔

۱۔( هُوَ الّذیِ بَعَثَ فیِ الأمِیینَ رَسُولا مِنهُم یَتلُوا عَلَیهِم آیاتِه وَیُزکیّهِم وَیُعلّمُهُمُ الکِتَابَ والحِکمةَ و اِن کَانُوا مِن قَبلُ لَفِی ضَلاَلٍ مُبینٍ ) ( ۱ ) اس نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا ہے جو انہیں میں سے تھا تاکہ ان کے سامنے آیا ت کی تلا وت کرے ان کے نفسوں کوپاکیزہ بنائے اور انہیںکتاب وحکمت کی تعلیم دے ،اگر چہ یہ لو گ بڑی کھلی ہو ئی گمراہی میں مبتلا تھے اس میں کو ئی شک نہیں کہ سب سے پہلا زینہ جو انسان کے مادی ومعنوی کمال تک رسائی کا سبب ہے وہ علم ہے او رعلم کے بغیر کمال تک پہنچنا ناممکن ہے ۔

مذکو رہ آیت میں علم سے مراد مادی علوم نہیں ہیں کیونکہ مادی علوم دنیا میں آرام وآسائش کی ضمانت لیتے ہیں اور انبیاء انسان کی سعادت کے لئے دنیوی واخروی دونو ں

____________________

(۱)سورہ جمعہ آیة: ۲


زندگیو ں کی ضما نت لیتے ہیں۔

خداکی عبادت او رطاغو ت سے اجتناب ومقابلہ( وَلَقَد بَعَثنا فیِ کُلِّ أُمةٍ رَسَوُلاً أَن اعبُدُوا اللّه واَجتَنبُوا الطَّاغُوتَ ) ( ۱ ) ''او ریقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو او رطاغوت سے اجتناب کرو'' ۔

۲۔عدالت وآزادی دلا نا ۔( لَقَدْ أَرسَلَنا رُسُلَنَا بِالبَیّنَاتِ وأَنزَلَنا مَعَهُمُ الکِتابَ وَالمِیزَانَ لَیَقُومَ النَّاسُ بِالقِسطِ ) ( ۲ )

بیشک ہم نے اپنے رسولو ں کو واضح دلا ئل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب ومیزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں ۔ اصل مقصد وہ تمام اصول جنہیں پیغمبروں کے مبعوث ہو نے کا سبب بتایا گیا ہے تمام کے تمام انسان کو کمال تک پہنچانے کے لئے ہیں۔

یعنی انبیاء کے آنے کا اصل مقصد بندوں کو خدا پرست بنانا ہے اور یہ اللہ کی بامعرفت عبادت کے ذریعہ ہی میّسرہے اور انسان کی خلقت کا اصل مقصدبھی یہی ہے( ومَا خَلَقتُ الجِنّ وَالانسَ اِلّا لِیَعبُدونَ ) ( ۳ ) '' ہم نے جنا ت وانسان کو نہیں خلق کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں''۔

پیغمبروں کے پہچاننے کا طریقہ

لوگوں کی ہدایت کے لئے انبیا ء کا مبعوث ہونا اس بحث کے بعد اب یہ بات

____________________

(۱) سورہ نحل آیة :۳۶

(۲) سورہ حدید آیة:۲۵

(۳) سورہ ذاریا ت،۵۶


سامنے آتی ہے کہ ہم کیسے پہچانیں کہ نبوت کا دعوی کرنے والااپنے دعوی میں سچا ہے۔؟

اگر کو ئی کسی منصب یاعہدے کا دعوی کرے جیسے ،سفیر ،مجسٹریٹ ، یا ڈی ایم، یا اس جیسا کو ئی اورہو جب تک وہ اپنے دعوی پر زندہ تحریر پیش نہ کرے کوئی بھی اس کے حکم کی تعمیل نہیں کرے گا ۔

مقام رسالت او رسفیر ان الٰہی کا دعوی کرنے والوں کی تو بات ہی دیگر ہے نبوت و رسالت سے بلند مرتبہ اور کیاشی ٔ ہو سکتی ہے ؟ ایک انسان دعوی کرے کہ اللہ کا سفیر ہوں اور خدا نے مجھے زمین پر اپنا نمایندہ بناکر بھیجاہے لہٰذاسبھی کو چاہئے کہ میری اتباع کریں ۔

فطرت کسی بھی شخص کو بغیر کسی دلیل کے دعوی کوقبول کرنے کی اجا زت نہیں دیتی ،تاریخ گواہ ہے کہ کتنے جاہ طلب افراد نے سادہ دل انسانوں کو دھو کا دے کر نبوت ورسالت کا دعوی کیا ہے ،اسی لئے علماء علم کلا م نے پیغمبروں کوپہچاننے کے لئے راستے او رطریقے معین کئے ہیں ،ان میں سے ہر ایک پیغمبروں کو پہچاننے او ران کی حقانیت کے لئے زندہ دلیل ہے ۔

پہلی پہچان :معجزہ ہے علماء کلا م او ردیگر مذاہب کا کہنا ہے کہ معجزہ ایسے حیرت انگیز اور خلا ف طبیعت کام کو کہتے ہیں کہ جسے نبوت کا دعوی کرنے والا اپنے اور خدا کے درمیان رابطہ کو ثابت کرنے کے لئے انجام دیتا ہے او ر تمام لوگو ں کواس کے مقابلہ کے لئے چیلنج کرتا ہے اور ہر شخص اس جیسا فعل انجام دینے سے قاصر ہے لہٰذا معجزہ کے تین رخ ہیں ۔

۱۔ایسا کام جو انسانو ں کی طاقت سے حتیٰ نوابغ دہر کی بس سے باہر ہو ۔

۲۔ معجزہ نبو ت ورسالت کے دعوی کے ساتھ ہو او ر اس کا عمل اس کے دعوی کے مطابق ہو۔

۳۔دنیا والو ںکے لئے اس کا مقابلہ کرنا ''اس کے مثل لانا''ممکن نہ ہو سبھی اس سے عاجز ہو ں ۔

اگر ان تینو ں میں سے کو ئی ایک چیز نہیں پائی جا تی تو وہ معجزہ نہیں ہے ابوبصیر کہتے ہیں کہ ہم نے امام صادق سے پوچھا کہ ،اللہ نے انبیاء و مرسلین اور آپ ''ائمہ '' کو معجزہ کیو ں عطاکیا ؟آپ نے جواب میں فرمایا : تاکہ منصب کے لئے دلیل قرار پائے او رمعجزہ ایسی نشانی ہے جسے خدا اپنے انبیاء ،مرسلین اور اماموں کو عطا کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ جھوٹے او رسچے کی پہچان ہو سکے ۔( ۱ )

____________________

(۱) بحار الانوار جلد ۱۱ ،ص ۷۱


سوالات

۱۔ فطرت کی راہنمائی او رخو اہشات کے میانہ روی کے لئے انبیا ء کا ہو نا کیوں ضروری ہے ؟

۲۔ قرآن کی نظر میں پیغمبروں کی بعثت کا مقصد کیا ہے ؟

۳۔ پیغمبروں کے پہچاننے کا راستہ کیا ہے؟

۴۔ معجزہ کیاہے اور اس کے شرائط کیا ہیں بیا ن کریں ؟


سترہواں سبق

نبو ت عامہ (تیسری فصل )

جا دو ،سحر ،نظر بندی اور معجزہ میں فرق !

جب کبھی معجزہ کے بارے میں بات کی جا تی ہے تو کہا جا تا ہے کہ معجزہ ایک ایسے حیرت انگیز فعل کانام ہے جو ہر ایک کے بس میں نہیں ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معجزہ ، جادو ، سحر نیز نظر بندکرنے والوں کے حیرت انگیزکرتبوں میں کیسے فرق قائم کیا جائے ۔

جو اب :معجزہ اور دوسرے خارق العادت کاموں میں بہت فرق ہے ۔

ا۔ نظر بندی او رجادو گری ایک قسم کی ریاضت کانام ہے اور جادوگر استاد سے جادو سیکھتا ہے لہٰذا ا ن کے کرتب مخصوص ہیںجو انھو ںنے سیکھا ہے وہ فقط اسی کو انجام دے سکتے ہیں اس کے علاوہ کسی کام کو انجام نہیں دے سکتے لیکن نبی ورسول معجزے کو کسی استاد سے نہیں سیکھتے ،لیکن پھر بھی معجزے کے ذریعہ ہرکام انجام دے سکتے ہیں جیسا کہ حضرت صالح سے پہاڑ سے او نٹ نکالنے کوکہاگیا انہو ںنے نکا ل دیا ، جب حضرت مریم سے بیٹے کے بارے میں پوچھا گیا تو حضرت عیسی جوکہ گہوارے میں ابھی چند دن کے تھے فرماتے ہیں :


( قا لَ أِنِّیِ عَبدُاللّهِ آتٰنی الکِتَابَ وَجَعلَنیِ نَبِیّاً ) ''میں اللہ کابندہ ہو ں اللہ نے مجھے کتا ب دی ہے اور نبی بناکر بھیجاہے''۔( ۱ )

یا جب رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے معجزہ کی مانگ کی گئی تو پتھروں نے آنحضرت کے دست مبارک پرآکر ان کے رسالت کی گواہی دی ۔

۲۔ جادو گر وں یا شعبدہ بازوں کے کرتب زمان ومکان او رخاص شرائط میں محدود ہیں او رمخصوص چیزوں کے وسیلوں کے محتاج ہیں، لیکن پیغمبروںورسولوں کے معجزے چونکہ ان کا سرچشمہ خدا کی لا متناہی قدرت ہے لہٰذا کو ئی محددیت نہیں ہے وہ کبھی بھی کو ئی بھی معجزہ پیش کر سکتے ہیں ۔

۳۔جادوگروں اور نظربندوں کے کام زیادہ تر مادی مقصدکے پیش نظر انجام پاتے ہیں ( چاہے پیسوں کی خاطر ہو یا لوگو ں کو اپنی طرف کھینچنے یا دوسرے امور کے لئے ) لیکن انبیاء کامقصد متدین افراد کی تربیت اور معاشرہ کو نمونہ بنانا ہے ۔ اور وہ لوگ (انبیاء ومرسلین ) کہتے تھے( وَمَاَ أَسئَلُکُم عَلَیهِ مِنْ أَجرٍ اِن أَجرِی اِلَّا علیٰ رَبِّ العَالمِینَ ) ( ۲ ) ''اور میں تم سے اس کی کوئی اجرت بھی نہیں چاہتا ہو ں اس لئے کہ میرا اجر تو عالمین کے رب کے ذمہ ہے'' ۔

۴۔جادوگروںاورشعبدہ بازوںکے کرتبوںکامقابلہ ممکن ہے یعنی دوسرے

____________________

(۱) سورہ مریم آیة :۳۰

(۲) سورہ شعراء آیة:۱۸۰ ،۱۶۴،۱۴۵،۱۲۷،۱۰۹


بھی اس جیسا فعل انجام دے سکتے ہیں ،لیکن پیغمبروں کے معجزہ کی طرح کوئی غیرمعصوم شخص انجام نہیں دے سکتا ۔

ہر پیغمبر کا معجزہ مخصوص کیو ںتھا ؟

جبکہ ہر نبی ہر حیرت انگیز کام کو انجام دے سکتا تھا اور ان میں سے ہر ایک کے پاس متعد د معجزے تھے مگر ایک ہی کوزیادہ شہرت ملی ۔

ابن سکیت نامی ایک مفکر نے امام ہادی ں سے پوچھا :کیو ں خدا نے موسیٰ بن عمران کو ید بیضا اور جادوگروں جیسا معجزہ دیا؟ حضرت عیسیٰ کو مریضوں کو شفادینا اور مردوںکو زندہ کرنے والا معجزہ عطاکیا؟اور رسول اسلا م کو قران جیسے حیرت انگیز کلام کے مجموعے کے ساتھ لوگوں میں بھیجا۔

امام ںنے فرمایا : جب خدا نے حضرت موسی کو مبعوث کیاتو ان کے زمانے میں جادوکا بول با لا تھا لہٰذا خدانے اس زمانے جیسا معجزہ دیا چونکہ اس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں تھا او راپنے معجزہ کے ذریعہ جادوگروں کے جادو کو شکست دی اور ا ن پر حجت تمام کی ۔

جب جنا ب عیسیٰ لوگوں کی ہدایت کے لئے آئے تواس وقت حکمت وطبابت کا شہرہ تھا لہٰذا خدا کی جانب سے اس زمانے کے مطابق معجزہ لے کر آئے اوراس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس کا روگ نہیں تھا، انھوں نے مردو ں کو زندہ کرکے اور مریضو ں کو شفا دے کر، نابینا کو آنکھ عطاکر کے جذام کودور کرکے تمام لوگوں پر حجت تمام کی ۔


جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مبعوث برسالت ہوئے تو اس وقت فصاحت وبلا غت کا سکہ چل رہا تھا خطبہ او رانشاء اس وقت کے سکۂ رائج الوقت اور مقبول عام تھے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا کی جانب سے ان کو موعظہ ونصیحت کے حوالے سے گفتگو کی جس کا مقابلہ کرنالوگوں کی سکت میں نہیں تھا، اپنے مواعظ ونصائح کو قرآنی پرتو میں پیش کیا او رباطل خیالات کو نقش بر آب کردیا ۔

دوسری پہچان ۔انبیاء کی شناخت کادوسرا طریقہ یہ ہے کہ جس نبی کی نبوت دلیل کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہو وہ اپنے آنے والے نبی کے نام اور خصوصیات کو لوگوں کے سامنے پیش کرے جیساکہ تو ریت وانجیل میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حوالے سے پیشین گوئیاںکی گئی ہیں ،قرآن ان پیشین گو ئیو ں میں سے حضرت عیسیٰ کے قول کو بطور نمونہ پیش کرتا ہے( وَاِذْ قَالَ عِیسیٰ بنُ مَریَم یا بَنی اِسرائِیلَ اِنِّیِ رَسُوُلُ اللّهِ اِلیکُم مُصَدِّقاً لِمَا بَینَ یَدیَّ مِن التوراةِ ومُبشّراً بِرسُولٍ یَأتِی مِن بَعدیِ اسُمُه أحمدُ ) ( ۱ ) اس وقت کویاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہو ںاپنے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا او راپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والا ہو ں، جس کا نام احمد ہے اسی طرح سورہ اعراف کی آیة ۱۵۷ میں ارشاد ہوا( الذین یتبعون )

____________________

(۱) سورہ صف آیة: ۶


تیسری پہچان ۔ تیسرا طریقہ انبیاء کو پہچاننے کا وہ قرائن وشواہد ہیںجوقطعی طور پر نبوت ورسالت کوثابت کرتے ہیں ۔

خلا صہ

۱۔جو نبوت کا دعوی کرے اس کے روحانی اور اخلاقی خصوصیات کی تحقیق۔ (مدعی نبوت کی صداقت کی نشانیوں میں سے اعلیٰ صفات او ربلند اخلاق ہو نا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ لوگوں میں نیک چلن اور صاحب کردار کے نام سے جانا جائے)

۲۔ عقلی پیرائے میں اس کے احکام وقوانین کو پرکھاجائے کہ کیا اس کے احکام وقوانین ،الٰہی آئین کے تحت اور معارف اسلام وفضائل انسانی کے مطابق ہیں؟یا اس کی دوسری پہچان ہے ۔

۳۔ اپنے دعوی پہ ثابت قدم ہو ا ور اس کا عمل اس کے قول کاآئینہ دار ہو ۔

۴۔ اس کے ہمنوااور مخالفین کی شناخت ۔

۵۔ اسلو ب تبلیغ کے ساتھ یہ دیکھیں کہ اپنے قوانین کے اثبات کے لئے کن وسائل اور کن راستو ں کاسہارالے رہا ہے ۔

جب یہ تمام قرآئن وشواہد اکٹھا ہو جائیں تو ممکن ہے مدعی نبوت کی نبوت کی یقین کاباعث بنے ۔

سوالات

۱۔ سحر ،نظر بندی، اور معجزہ میں کیا فرق ہے ؟

۲ ۔ ہر نبی کا معجزہ مخصوص کیو ں تھا ؟

۳۔ انبیاء کی شناخت کے قرائن وشواہد کیاہیں ؟


اٹھارواںسبق

نبوت عامہ (چوتھی فصل )

عصمت انبیاء

انبیاء کی سب سے اہم خاصیت ا ن کا معصوم ہو نا ہے۔

عصمت؛ لغت میں روکنے، حفاظت کرنے یاغیر اخلا قی چیزوں سے دور رہنے کے معنی میں ہے اور عقیدہ کی بحث میں جب انبیاء کی عصمت کی با ت آتی ہے تو اس کے معنی ان کا گناہو ں سے دور رہنا اور خطا ونسیان سے پاک رہنا ہے ۔اسی لئے انبیاء وائمہ کرام نہ ہی کبھی گناہ کرتے ہیںاو رنہ ہی کبھی تصور گناہ ۔

سوال۔ انبیاء کا معصوم ہونا اور خطاونسیان سے محفوظ ہو نا کیوں ضروری ہے ؟

جو اب ۱۔ بعثت انبیاء کا مقصد ہدایت بشریت ہے او ریہ بات مسلّما ت میں سے ہے کہ تربیت میں مربی کاعمل اس کے قول سے زیادہ موثر ہو تا ہے، لہٰذا اگرتربیت کرنے والا خو د گناہوں سے آلودہ ہوگا تودوسروں کو کس طرح سے منع کرے گا ۔؟

۲۔ انبیاء در حقیقت مربی بشریت ہیں لہٰذا ان کی ذات لوگوں کے لئے قابل قبول او ربھروسہ مند ہو نا چاہئے ۔ سید مرتضی علم الہدی کے بقول اگر ہم کو کسی شخص کے بارے میں شائبہ بھی ہے یقین نہیں ہے کہ وہ گناہ بھی کرتا ہے یا نہیں؟ توکبھی بھی اس کی باتوں کودل سے قبول نہیں کریں گے ۔لہٰذا انبیاء کا خطاونسیان سے بچنا ضروری ہے کیونکہ خطا اوربھول چوک بے اعتمادی کاسبب بنتا ہے اور ان(انبیاء ) کو قابل اعتماد ہونا چاہیئے ۔


فلسفہ عصمت

یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان گناہو ں سے معصوم (محفوظ ) ہو یہاں تک کہ تصور گناہ بھی نہ کرے؟۔

اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ جب کسی چیز کے با رے میں ہم یقین کر لیں تواس کے برخلا ف کبھی عمل کر ہی نہیں سکتے، کیا کوئی عقلمنداور سلیم الطبع شخص آگ یا گندگی کوکھا نے کی سونچ سکتا ہے ؟کیا کو ئی صاحب شعور آگ کے گڑھے میں کودنے کوتیار ہو گا ؟ کیا کوئی صحیح الدماغ جام زہر خو شی خو شی نوش کرے گا ؟

ان سارے سوالا ت کے جو اب میں آپ کہیں گے ، ہرگز نہیں عاقل شخص کبھی ایسا کر ہی نہیں سکتا، یہاں تک کہ اس کی فکر بھی یا تمنابھی نہیں کرے گا اور اگر کوئی ایسا کرتاہے توکسی مرض میں مبتلا ہے ۔

نتیجہ یہ نکلا: ہر عاقل انسان ایسے کاموں کے مقابل دوری یادوسرے لفظوں میں کہا جا ئے کہ ایک عصمت کامالک ہے ؛ اوراگر آپ سے سوال کیاجائے کہ کیوں انسان ایسے کاموں کے مقابل میں معصوم ہے تو کہیں گے کہ چونکہ اس کے عیب ونقصان کاعلم ویقین اس کو ہو گیا ہے ۔ اور یہ جانتا ہے کہ اس کے ارتکاب کے بعد فنا ونابودی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔

اسی طرح اگر انسان گنا ہ اوراس کے نقصانات سے باخبر ہو کر یقین تک پہنچ جا ئے تو عقل کی طاقت سے شہوت پر غالب ہو کر کبھی گناہ میں مبتلا نہیں ہو سکتا یہا ں تک کہ اس کا خیال بھی ذہن میں نہیں لا ئے گا ۔

جو شخص خدا اور اس کی عدالت پر یقین رکھتا ہے کہ پوری کائنا ت پیش پروردگار ہے او روہ اس پر حاضر وناظر ہے تو ایسے شخص کے لئے گنا ہ اورفعل حرام میں مبتلاہونا ، آگ میں کو دنے ، اور جام زہر پینے کی مانند ہے لہٰذا کبھی بھی اس کے قریب نہیں جاتا اور ہمیشہ دور رہتا ہے ۔


پیامبران الٰہی اس یقین کے ساتھ جو گناہ کے آثار ونتائج کے بارے میں رکھتے ہیں نہ صرف یہ کہ گناہ بلکہ تصور گناہ کے بابت بھی معصوم ہو تے ہیں۔ آثار عمل کو دیکھنے ،نیکیوں کی جانب دھیان دینے اور گناہوں سے پرہیز کے لئے بہتر ہے کہ مولا ئے کا ئنا ت کی اس حدیث میں غور وفکر کرے :''مَن أَیقن أَنّه یفارق الأحباب ویسکن التراب ویواجه الحساب ویستغنی عمّا خلف ویفتقر اِلیٰ ما قدّم کان حریاً بقصرالأمل وطول العمل ''جس شخص کو یہ یقین ہوجائے کہ وہ حتمی طور سے اپنے دوستوں سے جدا ہورہا ہے اورمٹی کو اپناگھر بنارہا ہے اور حساب کے لئے جا رہا ہے اور کئے ہوئے سے بے نیاز ہے اور جو بھیج چکا ہے اس کا محتاج ہے تو یقینااس کی آرزوئیں کم اور عمل طولانی ہوجائے گا۔( ۱ )

انبیاء اور ائمہ کی عصمت اکتسابی ہے یا خدا دادی

عصمت ائمہ کے بارے میں علما ء علم کلام کی جا نب سے بہت سارے مطالب بیان کئے گئے ہیں اور جس بات کو سب مانتے ہیں وہ یہ کہ عصمت کی طاقت ائمہ اور انبیاء میں اجباری نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ وہ پاکیزگی نقص پر مجبور ہو ں بلکہ تمام لوگوں کی طرح گناہ کر نے کی قدرت رکھتے ہیں لیکن چونکہ وہ ایک طرف گنا ہ کے نقصانا ت ومفاسد کو بہ خوبی جانتے ہیں نیز ان کی معرفت اور شناخت خدا کے حوالے سے بہت زیادہ ہے یعنی وہ اپنے آپ کو ہمیشہ خد اکے حضورمیں سمجھتے ہیں اسی لئے اپنے ارادہ واختیار سے گناہ اور برائی کو نہ کرنے پر پوری طرح قادر ہیں اور کبھی اس کے قریب نہیںجاتے۔

انبیاء وائمہ کی عصمت ا ن کے اختیار وارادہ کا نتیجہ ہے او ران کی کاوشوں اورزحمات کا ثمرہ ہے جو انھوں نے راہ خدا میں برداشت کی ہیں ۔

چونکہ خدا وند تعالیٰ ان کی خلقت سے قبل جا نتا تھا کہ یہ فدائی اور ایثار کے پیکرہیں اسی لئے ان کی ابتدائی زندگی سے انھیں اپنے لطف وکرم کے سائے میں رکھا اور بے راہ روی سے محفوظ رکھا ۔علوم خاص وعام نیز عنایت خاص سے نوازا لہٰذا اس رخ سے کوئی محل اعتراض نہیں کہ انبیاء وائمہ ایک قسم کی جسمانی اور روحانی خصوصیت

____________________

(۱) بحار الانوار جلد ۷۳ ،ص ۱۶۷


کے مالک ہیں،کیونکہ اس خصوصیت کی وجہ خود ان کا کرداراور عمل ہے ،یہ ایک طرح کا انعام ہے جو اللہ نے انھیں عمل سے پہلے عطاکیاہے ۔

نتیجہ :خدا وند عالم اس علم کے ذریعہ جو انسانوں کے مستقبل کے سلسلہ میں رکھتا ہے وہ جا نتا ہے کہ ان کے درمیان بعض افراد خاص اہمیت کے حامل ہیں ( اور یہ ایساعلم ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے اور اس کا تحقق یقینی ہے ) لہٰذا انہیں معاشرہ کی ہدایت اور رہبری کی وجہ سے اپنی عنایت خاص سے نوازا ۔الٰہی نمایندوںکے لئے ان عنایتوں کا ہونا ضروری ہے ۔

امام محمد باقرں نے فرمایا :اِذا عَلم اللّه حُسن نیّة من أحدٍ اکتنفه بالعصمة ( ۱) خدا وند عالم جب کسی کی حسن نیت سے مطلع ہو جا تا ہے تو اسے عصمت کے ذریعہ محفوظ کردیتا ہے ۔

معصومین کا فلسفہ امتیاز

عن أَبیِ عبداللّه: أَن اللَّه أوحیٰ اِلیٰ موسیٰ فقال یا موسیٰ اِنّی أطلعت اِلیٰ خلقیِ اطلاعة فلم أجد فی خلقی اشدّ تواضعاً لی منک فمن ثمَّ خصصتک بوحییِ وکلا میِ مِن بَین خَلق ( ۲ )

امام صادق فرماتے ہیں : خدانے جناب موسی پر وحی کی کہ اے موسی! ہم نے تمام انسانوں کو دیکھا ان میں سے تمہارے تواضع کواوروںسے زیادہ

____________________

(۱) بحارالانوار جلد ۷۸، ص ،۱۸۸

(۲) وسائل الشیعہ جلد ۴، ص، ۱۰۷۵


پایا ،اسی وجہ سے تمہیں اپنے کلام اور وحی کے لئے چنا او رسب میں سے تم کو منتخب کیا ۔

قال علی :عَلیٰ قَدر النّیة تکو ن من اللّه العطیّة ( ۱ )

امیر المو منین نے فرمایا :خدا کا لطف وکرم نیتوں کے مطابق ہے قرآن نے سورہ عنکبوت کی آخری آیة میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے( وَالَّذِینَ جَاهدُوا فِینَا لنَهدِینَّهُم سُبُلنا واِنَّ اللّهَ لمَعَ المُحسِنیِنَ ) ( ۲ )

او رجن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا یقینا ہم ان کو اپنے راستوں کی جانب ہدایت کریں گے بیشک خدا افراد صالح کے ساتھ ہے ۔

امام صادق اور ایک مادیت پر ست کا مناظرہ

ایک مادیت پرست انسان نے امام صادق سے سوال کیا: اللہ نے بعض انسانو ں کو شریف اور نیک خصلت او ربعض کوبری خصلت کے ساتھ کیوں خلق کیا؟۔

امام نے فرمایا: شریف وہ شخص ہے جو خدا کی اطاعت کرے اور پست وہ ہے جواس کی نافرمانی کرے اس نے پوچھا کہ کیا لوگ ذاتی طور پر ایک دوسرے سے برتر نہیں ہیں ؟۔

آپ نے فرمایا :نہیں صرف برتری کا معیار تقوی ہے ، اس نے پھر سوال کیا کہ کیا آپ کی نظر میں تمام اولاد آدم ایک جیسی ہیں اور فضیلت کا معیار صرف تقوی ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔

____________________

(۱) غرر الحکم

(۲)سورہ عنکبوت آیة:۶۹


میں نے ایسا ہی پایا کہ سب کی خلقت مٹی سے ہے سبھی کے ماںباپ آدم وحوا ہیں وحدہ لا شریک خدا نے ان کو خلق کیاہے اور سب خد اکے بندے ہیںالبتہ خدانے آدم کی بعض اولادوںکو منتخب کیا او ر ان کی خلقت کو طاہر بنایا اور ان کے جسموں کوپاک کیا اور ان کو صلب پدر اور ارحام مادر کے حوالے سے بھی نجاست سے دور رکھا اور انھیں کے درمیان سے نبیوں کا انتخاب کیا اور وہ جناب آدم کی بہترین اور افضل ترین اولا د ہیں اور اس امتیازو فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ خدا جانتاتھاکہ وہ اس کے اطاعت گذار بندو ں میں سے ہیں اور کسی کو اس کا شریک نہیں قرار دیں گے، گویا بلند مرتبہ ہو نے کا اصل راز، ان کے اعمال اور ان کی اطاعت ہے۔( ۱ )

____________________

(۱) بحار الانوار جلد ۱۰،ص ۱۷۰


سوالات

۱۔یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان گناہ حتی تصور گنا ہ سے بھی معصوم ہو ؟

۲۔ ائمہ اور انبیاء کی عصمت اکتسابی ہے یا خدا دادی ؟

۳۔ ائمہ کی فضیلت کا فلسفہ امام صادق کی نظرمیں کیا ہے ؟


انیسواںسبق

نبوت عامہ (پانچویں فصل )

کیا قرآن نے انبیا ء کو گناہ گار بتایا ہے ؟

عصمت کی بحث کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذنب وعصیا ن اور اپنے اوپر ظلم ،جیسی لفظیں جو بعض انبیا ء کے سلسلہ میں آئیں ہیں اس سے مراد کیا ہے ؟ اس کی وضا حت کے لئے کچھ نکا ت کی جانب توجہ ضروری ہے ۔

۱۔ عصمت انبیاء کا مطلب جیسا کہ بیا ن کیا جا چکا ہے یہ ہے کہ انبیاء حرام کام یا گناہ نہیں کر تے ،لیکن وہ کا م جس کاچھوڑنا بہتر لیکن انجام دینا حرام نہیں ہے گذشتہ انبیاء سے ممکن اور جائز ہے اور یہ فعل ا ن کی عصمت کے منا فی نہیں ہے۔ (یہی ترک اولیٰ ہے )

۲۔ سب سے اہم بات کلما ت قرآن کے صحیح معنوں پر توجہ کرنا ہے کیونکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہو اہے لہٰذا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عربی لغت میں کلمات قرآن کے کیا معنی ہیں ؟لیکن افسوس کی بات ہے کہ بسا اوقات ا س جانب غور نہ کرنے کے باعث قرآن کی آیتوں کے غلط معنی بیا ن کئے جاتے ہیں ۔

۳۔اہل بیت عصمت وطہارت کی قرآنی تفاسیر کا بغور مطالعہ کیاجائے اس میں غور وخوض کیا جائے کیونکہ وہی حقیقی مفسر قرآن ہیں ہم یہا ں پرا ن آیتوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان آیتوں میں انبیاء کو گنہگار بتایا گیا ہے تاکہ اعتراض ختم ہو جا ئے (وعَصَیٰ آدمَ ربّہ فغویٰ)بعض نے اس آیة کا ترجمہ یو ں کیا ہے ،آدم نے اپنے رب کی معصیت کی او روہ گمراہ ہو گئے ۔ جبکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے ، آدم نے رب کا اتباع نہیں کیا لہٰذا محروم ہو گئے، مرحوم طبرسی اس آیت کے ذیل میں مجمع البیان میں کہتے ہیں کہ آدم نے اپنے رب کی مخالفت کی لہٰذا ثواب سے محروم رہے ۔


یہاں معصیت سے مراد حکم الٰہی کی مخالفت ہے چاہے وہ حکم واجب ہو یا مستحب ،محدث قمی سفینة البحار میں لفط (عصم ) کے معنی علامہ مجلسی سے نقل کرتے ہیں '' ان ترک المُستحب وفعل المکروہ قد سُم ذنبا'' مستحب کو ترک کرنا اور فعل مکروہ کو انجام دینا کبھی کبھی گناہ ،ذنب ،اور عصیان کے معنی میں آتاہے ۔گذشتہ موضوع کو ثابت کرنے کے لئے لغت کی طرف رجوع کریں گے المنجد ( جوکہ ایک مشہو ر لغت ہے ) میں ہے کہ (عصیان ) اتباع نہ کرنے اور پیروی نہ کرنے کے معنی میں ہے ۔اسی طرح اغوی کے معنی (خاب ) یعنی محروم ہونے اور نقصان اٹھا نے کے ہیں اگر آدم وحوا کے قصہ کو دیکھا جائے توپتہ چلے گا کہ عصیان (عصی ) سے مراد حرام کام کرنا یاواجب کوچھوڑنا نہیں ہے ۔

آدم کا عصیان کیا تھا ؟

قرآن اس واقعہ کو یوں نقل کرتاہے کہ ہم نے آدم سے کہا کہ شیطان تمہا را اور تمہاری اہلیہ کا دشمن ہے لہٰذا کہیں وہ تمہیں جنت سے باہر نہ کرادے اور تم زحمت وتکلیف میں پڑجا ئو پھر شیطان نے آدم کو بہکا یا اور انھو ںنے اس درخت کا پھل کھا لیا ،نتیجہ میں جنت کے لبا س اتار لئے گئے کیو نکہ آدم کو اس درخت کا پھل کھانے سے منع کیاگیا تھا اور انھوں نے نافرمانی کی لہٰذا بہشتی نعمتوں


سے محروم ہوگئے۔( ۱ )

جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ جنت کاپھل کھا نے سے روکنا صرف نہی ارشادی تھا اور درخت کاپھل نہ کھانا ہمیشہ جنت میں رہنے کی شرط تھی لہٰذا مذکورہ آیتوں سے یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ آدم کافعل گناہ نہیں تھا بلکہ اس کا نقصان جنت سے نکا لا جانااور دنیوی زندگی کی سختیاں تھیں ، اب اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر آدم کافعل گناہ نہیں تھا پھر توبہ کرنا (جیسا کہ اگلی آیتوں میں ذکر ہے ) کیا معنی رکھتا ہے ۔

جو اب میں کہیں گے کہ ہر چند (درخت کاپھل کھا نا) گناہ نہیں تھا لیکن چونکہ حضرت آدم نے نہی ارشادی کی مخالفت کی لہٰذا ان کا مقام خدا کے نزدیک کم ہوگیا اور آدم نے دوبارہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے توبہ کی اورخدا نے ان کی توبہ قبول کرلی۔

مامون نے جب جناب آدم کی معصیت کے بارے میں پوچھا تو امام رضاعلیہ السلام نے فرمایا : ولم یک ذلک بذنب کبیر یستحق بہ دخول

____________________

(۱) سورہ طہ آیة: ۱۱۶ تا ۱۲۱


النّار واِن کان من الصغائر الموهوبة التی تجوز علیٰ الأنبیاء قبلَ نزول الوحیِ علیهم ( ۱ ) جو کام آدم نے انجام دیا وہ گناہ کبیرہ نہیں تھا جس کے باعث جہنم کے مستحق ہوجائیں بلکہ ایک معمولی سا ترک اولی تھا جو معاف ہو گیا اور انبیاء نزول وحی سے قبل ایسے کام کرسکتے ہیں۔

ظلم کیا ہے اور غفران کے کیا معنی ہیں ؟

(قالَ رَبِّ اِنِّیِ ظَلَمتُ نَفس فاغفِرلِی )( ۲ ) خدا یا میں نے اپنے نفس کی خاطر مصیبت مول لی، لہٰذا معاف کردے ان مقامات میں سے ایک یہ بھی ہے جہا ں اس با ت کا گمان کیاگیا ہے کہ قرآن نے انبیاء پر گنا ہ کاالزام لگا یا ہے یہ آیت جنا ب موسی کے واقعہ سے مربوط ہے جب قبطی (فرعون کے ساتھی ) کو قتل کر دیا تھا تو کہا ،رَبِّ ِانِّی ظَلَمتُ نَفسیِ المنجد نے لکھا ہے کہ (الظلم وضع الشیء فی غیر محله )ظلم یعنی کسی شی ٔ کو ایسی جگہ قرار دینا جو اس کا مقام نہ ہو (کسی فعل کاغیر مناسب وقت پر انجام دینا ) اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ عمل صحیح ہو او ر بے محل انجام پائے یا عمل غلط اور حرام ہو لہٰذا ہر ظلم حرام نہیں ہے ۔

المنجد میں غفر کے معنی لکھے ہیں ،غَفَر الشیٔ غطّاه وستره ) غفر اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی شی ٔ چھپا ئی ہواو رمخفی کی گئی ہواس لئے اس کے معنی یو ں ہوں گے موسی نے کہا ،اے پرور دگا ر !میں نے فرعون کے ایک ساتھی کو قتل کر

____________________

(۱) تفسیر برہان ج۳، ص ۴۶

(۲)سورہ قصص آیة: ۱۶


کے بیجا فعل انجام دیا گوکہ ہمارے لئے اس کا قتل جائز تھا لیکن ابھی اس کاوقت نہیں تھا لہٰذا (فاغفرلی) اے خدا ہمارے اس کام پر پردہ ڈال دے تاکہ میرے دشمن میری گرفتاری پر کامیا ب نہ ہو سکیں ۔تو ایسی صورت میں گناہ ،ظلم یا حرام کام کی نسبت موسی کی جانب نہیں دی گئی ہے ۔

مامون نے مذکورہ آیت او رظلم کے معنی کے سلسلہ میں پوچھا تو امام رضاں نے فرمایا:اِنّی وضَعتُ نفسیِ فی غیر موضعها بدخول هذه المدینة فَاغفرلیِ أیِ أستّرلیِ من أعدائک لئلا یظفروابی فیقتلونی ۔ موسیٰ نے خد ا سے عرض کی ،میں نے اس شہر میں داخل ہو کر (اور فرعون کے ایک ساتھی کو قتل کرکے ) بے محل کام انجام دیا لہٰذا (فاغفرلی) مجھے اپنے دشمنو ں کی نگا ہو ں سے مخفی کردے مبادا ہم کو گرفتار کر کے قتل کردیں ۔

نتیجہ: ظلم اور غفران کے معنی کلی ہیں نہ کہ وہ خاص معنی جو ان الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں لہٰذا یہ آیة بھی عصمت کے منا فی نہیں ہے ۔

سوالا ت

۱۔قران نے انبیاء پر گناہ کی تہمت نہیں لگا ئی اس کو سمجھنے کے لئے کن نکات کیجانب توجہ ضروری ہے ؟

۲۔ عصی آدم ربہ فغوی سے کیا مراد ہے ؟

۳۔ ظلمت نفسی فاغفرلی کا کیا مطلب ہے ؟


بیسواں سبق

نبو ت عامہ (چھٹی فصل )

سورہ فتح میں ذنب سے کیا مراد ہے ؟

( اِنَّا فَتحَنا لَک فَتحاً مُبیناً لِیَغفَرلَک اللّهَ مَا تَقدَّمَ مِن ذَنبِک وَمَا تأخَّرَ ) ( ۱ ) بیشک ہم نے آپ کوکھلی ہو ئی فتح عطا کی تاکہ خدا آپ کے اگلے پچھلے تمام الزامات کو ختم کر دے ۔

یہ انہیں مقامات میں سے ہے جہاں یہ خیال کیاجاتا ہے کہ خدا نے رسول اکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو گنہگا ر گردانا ہے اور پھر معاف کردیاہے ۔

یہاں بھی '' ذنب''''غفران'' کے صحیح معنی کی طرف دھیان نہیں دیا گیا ہے قابل افسو س مقام ہے کہ اصلی معنی سے غفلت برتی گئی ہے ۔

عربی لغات نے ''ذنب '' کے اصلی معنی اور مفہو م کلی سے مراد پیچھا کرنے والا اور آثار لیا ہے ،یعنی نتیجہ اور اس کا رد عمل مراد ہے المنجد میں ''ذَنبَ ذَنباً تبعه فلم یُفارق أثره'' ذنب کہتے ہیں اس عمل کے نتیجہ او ر آثار کو جواس سے الگ نہیں ہوتا

____________________

(۱) سورہ فتح آیة: ۱


اور گناہ کو ذنب اس لئے کہاجاتا ہے چونکہ گناہ نامناسب عمل اور اس کے آثار و نتیجہ کی بنا پر وجودمیں آتاہے ۔

اس معنی کے ذریعہ جو غفران کے لئے پہلے بیان کئے گئے ہیں اس آیة کا مفہوم واضح ہو جا تا ہے مزید وضاحت کے لئے اس حدیث کی جانب توجہ فرمائیں ۔

امام رضا ںنے مذکو رہ آیة کی توضیح میں فرمایا: مشرکین مکہ کی نظر میں پیغمبر سے بڑا کوئی گنہگار نہیں تھا چونکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے خاندان والوں کو خدائے وحدہ لاشریک کی طرف دعوت دی تھی ، اس وقت ان کے پاس ۳۶۰ بت تھے اور وہ انھیں کی پرستش کرتے تھے، جب نبی نے ان کو وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی تویہ بات ان کو سخت نا گوار گذری اور کہنے لگے کیا ان تمام خدائوں کو ایک خدا قرار دے سکتے ہیں ،یہ تعجب کی بات ہے ہم نے اب تک ایسی بات نہیں سنی تھی لہٰذا یہا ں سے چلو او راپنے بتوں کی عبادت پر قائم رہو ۔

جب خدانے اپنے رسول کے ذریعہ مکہ فتح کیا تو ان سے فرمایا ؛( اِنَّا فَتحَنا لَکَٔ فَتحَاً ) بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہو ئی فتح عطاکی تاکہ خدا آپ کے اگلے پچھلے تمام الزامات کو ختم کردے جو مشرکین آپ پر وحدہ لاشریک کی طرف دعوت دینے کی بنا پر عائد کرتے ہیں چونکہ فتح مکہ کے بعد کافی لوگ مسلمان ہوگئے اوربعض بھاگ نکلے اورجوبچ گئے تھے ان کی ہمت نہیں تھی کی خدا کی وحدانیت کے خلاف لب کھول سکیں مکہ کے لوگ جوگناہ اور ذنب کا الزام لگا رہے تھ


ے وہ پیغمبر اسلام کی فتح اور ان پر غلبہ نے چھپا دیا اورسب ساکت ہوگئے۔( ۱ )

انبیاء او رتاریخ

قرآن کی رو سے انسانی تاریخ اور وحی ونبوت کی تاریخ ایک ہے اور جس وقت سے انسان کی تخلیق ہوئی اسی وقت سے وحی بھی اس کی ارتقاء وسعادت کی خاطر موجود رہی ہے( واِنَّ مِنْ أُمةٍ اِلَّاخَلَا فِیها نَذِیرُ ) ( ۲ ) اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گذرا ہو ۔

مولا ئے کا ئنات نے فرمایا: ولم یخل اللّہ سبحانہ خلقہ من نَبیِّ مُرسل أوکتاب مُنزل أوحجّة لازمةُ اومحجّة قائمة( ۳ ) خدانے کبھی بھی انسان کو تنہا نہیں چھو ڑا پیغمبر یاآسمانی کتاب ،واضح دلیل یا صراط مستقیم کوئی نہ کوئی ضرور تھا ۔

مولا نے خطبہ ۹۳ میں فرمایا ۔کُلّما مضیٰ منهم سلف قام منهم بدین اللّه خلف حتیٰ أفضت کرامة اللّه سبحانه تعالیٰ اِلیٰ محمد صلی اللّه علیه وآله وسلم ۔''جب کبھی کسی پیغمبر کی رسالت تمام ہوتی تھی اور اس دنیا سے کوچ کرتاتھا دوسرا نبی خدا کے دین کوبیان کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو تا تھا اوریہ سنت الٰہی اسی طرح چلتی رہی یہاں تک لطف خدا وندی پیغمبر اسلام کے شامل حال ہوئی''۔

انبیاء کی تعداد

عن أبی جعفر قال :قال رسول اللّٰه کان عدد جمیع الأنبیاء

____________________

(۱) تفسیر برہان ج، ۴ ص ۱۹۳

(۲) سورہ فاطر آیة :۲۴

(۳) نہج البلا غہ خطبہ ۱


مائة الف نبیِّ وأربعة وعشرون ألف نبیِّ خمسة منهم أولوا العزم: نوح و ابراهیم وموسیٰ وعیسیٰ ومحمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''

امام باقر سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا کی کل انبیاء کی تعداد ایک لاکھ جو بیس ہزار ہے اور ان میں سے پانچ اولوالعزم ہیں ۔نوح ،ابراہیم موسی ، عیسی ، اورمحمد عربی ۔اسی مضمون کی دوسری حدیث بحار کی گیا رہویں جلد میں بھی ہے( ۱ )

قرآنی رو سے تمام انبیاء پر ایما ن لانا ضروری اور لازم ہے ۔

( قُولُوا آمَنّا باللّهِ وَمَا أُنزِلَ اِلَینَا وَمَا أُنزِلَ اِلیٰ ِابراهیمَ وَاِسمَاعیلَ واِسحٰقَ ویَعقُوبَ وَالأسباطِ وَمَا أوتِی مُوسیٰ وعیسیٰ و مَا أوتِی النبیُّون من رَبِّهم لا نُفرِقُ بَینَ أحِدٍ مِنهُم وَنَحنُ لَهُ مُسلِمُون ) ( ۲ )

اور مسلمانو ں تم ان سے کہدو کہ ہم اللہ پر اور جو اس نے ہماری طرف بھیجا ہے اور جو ابراہیم ،اسماعیل واسحاق ویعقوب اور اولا د یعقوب کی طرف نازل کیاہے اور جو موسی ،عیسیٰ اور دیگر انبیاء کو پر وردگار کی جانب سے دیا گیا ہے، ان سب پر ایما ن لے آئے ہیں، ہم پیغمبروں میں تفریق نہیں کرتے اور ہم خدا کے سچے مسلمان ہیں۔

____________________

(۱) بحارالانوار جلد ۱۱ ،ص ۴۱

(۲) بقرہ آیة: ۱۳۶


سوالات

۱۔ سورہ فتح کی پہلی آیة میں ذنب اور غفران سے کیا مراد ہے۔ ؟

۲۔ پیغمبروں کی تعداد او ر اوالعزم رسولو ں کے نام بتائیں ۔؟


اکیسواں سبق

نبوت خاصہ (پہلی فصل )

نبوت خاصہ اور بعثت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

چودہ سو سال پہلے ۱۰ ۶ ھ میں جب شرک وبت پرستی نے پوری دنیا کو اپنی آغوش میں لے رکھا تھا او رمظلوم افراد ظالم حکمرانوں کے شکنجو ں میں بے بسی سے ہاتھ پیر ماررہے تھے اور سبھی لوگ ناامید ی کے سائے میں زندگی گذار رہے تھے ایک شریف خاندان سے شرافت و طہارت کا ایک پیکر اٹھاجس نے مظلو موں کی حمایت کی ،عدالت وآزادی کا نعرہ بلند کیا ،اسیروں کے زنجیروں کی گرہوں کو کھولا، علم وتربیت کی جانب لوگو ں کو دعوت دی ،اپنی رسالت کی بنیاد فرمان ووحی الٰہی کو قرار دیتے ہو ئے خود کو خاتم الا نبیاء کے نام سے پہنچوایا ۔

وہ محمد بن عبد اللہ خاندان بنی ہاشم کا چشم و چراغ ہا ں وہی قبیلہ بنی ہاشم جو شجاعت، شہا مت ،سخاوت ،طہارت ،اصالت میں تمام قبائل عرب میں مشہور تھا وہ ہمالیائی عظم واستقلا ل کا پیکر جس کی لیاقت اور روحی کمال کی حد درجہ بلندی کی پوری دنیا کے مورخو ں چاہے دوست ہو ں یا دشمن سب نے گواہی دی ہے اعلا ن رسالت سے قبل ان کی چالیس سالہ زندگی سب کے سامنے آئینہ کی طرح شفاف و بے داغ تھی، اس نامساعد حالات اور جزیرة العرب کی تاریکیوں کے باوجود پیغمبر اسلا م کی فضیلت کا ہر باب زبان زد خاص وعام تھا، لوگوں کے نزدیک اس قدر بھروسہ مند تھے کے سب آپ کو محمد امین کے نام سے جانتے تھے ،خدا کا کروروں سلام ان پر اور ان کی آل پاک پر ۔


رسالت پیغمبر پر دلیلیں

انبیاء کی شناخت کے لئے جتنے اصول وقوانین بتائے گئے ہیں، سب آنحضرت کی رسالت پر مدلل ثبوت ہیں (یعنی معجزہ ،گذشتہ نبی کی پیشین گو ئی ،شواہد قرآئن ) تاریخ ،قرائن وشواہد رسول کی رسالت کے ،او ربعثت پر گواہ ہے ۔

گذشتہ انبیاء کے صحیفے پیغمبر اسلا م کی بعثت کی بشارت دے چکے ہیں ، لیکن پیغمبر کے معجزات دوطرح کے ہیں ۔

پہلی قسم ان معجزات کی ہے جوکسی خاص شخص یا گروہ کی درخواست پر آنحضرت نے خد اسے طلب کیا اور وہ معجزہ آپ کے ہاتھوں رونما ہوا جیسے درخت اورسنگریزوں کا سلام کرنا دریائی جانور کاآپ کی رسالت کی گواہی دینا شق القمر( چاند کے دوٹکڑے کرنا ) مردوں کو زندہ کرنا ،غیب کی خبر دینا ابن شہر آشوب نے لکھا ہے کہ چار ہزار چار سو چالیس معجزے رسول اکرم کے تھے جن میں سے صرف تین ہزار معجزوں کاذکر ملتاہے ۔

قرآن رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دائمی معجزہ

دوسری قسم : قرآن رسول اکرم کاابدی معجزہ ہے جو ہر زمانے اورہر جگہ کے لئے قیامت تک معجزہ ہے ،رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دوسرے انبیاء کے درمیان امتیازی فرق یہ ہے کہ ان سب کی رسالت محدود تھی وہ کسی خاص گروہ یا محدود امت کے لئے مبعوث ہو ئے تھے ،بعض محدود ومکان اور محدود زمانے میں تھے اگر ان میں سے بعض مکانی لحاظ سے محدود نہیں تھے توا ن کی رسالت ایک زمانے تک محدود تھی اور وہ دائمی رسالت کے دعویدار بھی نہیں تھے ،اسی لئے ان کے معجزے بھی فصلی اور وقتی تھے، لیکن چونکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت ابدی اور عالمی ہے اس لئے ان کے عصری اور وقتی معجزے کے علاوہ دائمی معجزہ (قرآن )بھی ہے جو ہمیشہ کے لئے ہے اور ہمیشہ ان کی رسالت پر گواہ ہے۔


نتیجہ : قرآن کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ:

۱۔ اس نے زمان ومکان کی سرحدوں کی ختم کردیا او رقیامت تک معجزہ ہے ۔

۲۔ قرآن روحانی معجزہ ہے یعنی دوسرے معجزے اعضاء بد ن کو قانع کرتے ہیں لیکن قرآن ایک بولتا ہوامعجزہ ہے جوڈیڑھ ہزار سال سے اپنے مخالفو ں کوجواب کی دعوت دیتا آرہاہے اورکہہ رہا ہے اگرتم سے ممکن ہوتومجھ جیسا سورہ لاکر بتاؤ اور چودہ سوسال اس چیلنج کو گذر رہے ہیں مگر آج تک کوئی اس کو جواب نہ لا سکا اورنہ ہی صبح قیامت تک لاس کے گا ۔

( قُلْ لَئِن اجتَمَعَتِ النسُ والجِنُّ علیٰ أَن یَأتوا بِمثلِ هذا القُرآن لایأتُونَ بِمِثلِه وَلَوکَانَ بَعضُهُم لِبَعضٍ ظَهِیراً ) ( ۱ )

آپ کہہ دیجئے کہ اگر انسان وجنات اس بات پر متفق ہوجا ئیں کہ اس قرآن کامثل لے آئیں توبھی نہیں لا سکتے چاہے سب ایک دوسرے کے مددگار اور پشت پنا ہ ہی کیوں نہ ہو جائیں ۔

دوسرے مقام پر ان کے مقابلہ کی ناکامی کو چیلنچ کرتے ہو ئے فرمایا :اگر یہ دعوی میں سچے ہیں توان سے کہہ دیجئے اس کے جیسے دس سورہ تم بھی لے آئو( ۲ ) تیسرے مقام پہ ارشاد ہو ا( واِنْ کُنتُم فِی رَیبٍ مِمَّا نَزَّلنَا علیٰ عَبدِنا فَأتوا بِسورةٍ مِن مِثلهِ وَ ادعُوا شُهدائَ کُم مِن دُونِ اللّهِ اِن کُنتُم صَادِقیِن ) ( ۳ )

''اگرتمہیں اس کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کے جیسا ایک ہی سورہ لے آئو اور اللہ کے سوا جتنے تمہا رے مدد گار ہیں سب کوبلا لو اگر تم اپنے دعوی او رخیال میں سچے ہو'' ۔

تو اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ وہ ایک سورے کابھی جواب لانے سے عاجز ہیں ۔

یہ بالکل واضح اور روشن سی بات ہے کہ اگر اس وقت کے فصحاء اور بلغا ء قرآن کے ایک بھی سورہ کا جواب لانے کی صلا حیت رکھتے ہوتے تو پھر پیغمبر اورمسلمانوں کے خلا ف اتنی جنگیں نہ لڑتے بلکہ اسی سورہ کے ذریعہ اسلا م کے مقابلہ میں آتے

____________________

(۱) سورہ اسراء آیة: ۸۸

(۲)سورہ بقرہ آیة :۲۳

(۳) سورہ ھو د آیة:۱۳


بعثت کے چودہ سوسال گذرنے کے بعد بھی اسلا م کے اربوں جانی دشمن اور لیچڑ قسم کے لوگ نت نئی سازشیں مسلمانوں کے خلا ف کیاکرتے ہیں ۔

اگر ان میں طاقت ہو تی توقرآن کے جیسا سورہ لے آتے اور یقینا اس کے ذریعہ اسلام سے نبر د آزما ہوتے ۔علم بلا غت کے ماہر افراد نے اعتراف کیاہے کہ قرآن کاجواب لا ناناممکن ہے اس کی فصاحت وبلا غت حیرت انگیز ہے اس کے احکام وقوانین مضبوط ،اس کی پیشین گوئیاں اور خبریں یقینی او رصحیح ہیں، بلکہ زمان ومکان وعلم سے پرے ہیں ۔

یہ خو د اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ انسان کا گڑھا ہو ا کلا م نہیں ہے بلکہ ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ ہے۔

اعجاز قرآن پر تاریخی ثبو ت

جب قرآن نے ان آیتوں کے ذریعہ لوگو ں کو چیلنج کیا تو اس کے بعد اسلام کے دشمنوں نے تمام عرب کے فصیح وبلیغ افراد سے مددمانگی لیکن پھر بھی مقابلہ میں شکست کاسامنا کرنا پڑا اورتیزی سے عقب نشینی کی۔ ان لوگو ں میں سے جومقابلہ کے لئے بلا ئے گئے تھے ولید بن مغیرہ بھی تھا، اس سے کہا گیا کہ غور وخوض کرکے اپنی رائے پیش کرو ولید نے پیغمبر اسلا م سے درخو است کی کہ کچھ قرآنی آیا ت کی تلاوت کریں رسول نے حم سجدہ کی چند آیتوں کی تلا وت کی ۔ ان آیا ت نے ولید کے اندرکچھ ایسا تغییر وتحول پیدا کیاکہ وہ بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھا اوردشمنو ں کے بیچ جا کر کہنے لگا خداکی قسم محمد سے ایسی بات سنی جونہ انسانوں کے کلام جیسا ہے او رنہ پریوں کے کلام کی مانند ۔

واِنَّ له لحلاوة وأَنَّ علیه لطلاوة واِنَّ أعلاه لمُثمر وأنَّ أسفله لمغدق أَنّه یعلو ولا یُعلیٰ علیه''اس کی باتوں میں عجیب شیرنی ہے اس کا عجیب سحر ابیان لب ولہجہ ہے اس کی بلندی ایک پھل دار درخت کی مانند ہے اس کی جڑیں مضبوط اور مفید ہیں، اس کا کلام سب پر غالب ہے کسی سے مغلو ب نہیں ''یہ باتیں اس بات کا سبب بنی کہ قریش میں یہ چہ میگو ئیاں شروع ہو گئیں کہ ولید محمد کا شیدائی اورمسلمان ہوگیا ہے ۔


یہ نظریہ مشرکین کے عزائم پر ایک کا ری ضرب تھی لہٰذا اس مسئلہ پرغور و خو ض کرنے کے لئے ابو جہل کا انتخاب کیا گیا وہ بھی ولید کے پاس آیا اور مشرکین مکہ کے درمیان جو خبر گشت کر رہی تھی اس سے ولید کو باخبر کیا اور اس کو ان کی ایک میٹینگ میں بلا یا وہ آیا اورکہنے لگا تم لوگ سوچ رہے ہو کہ محمد مجنون ہیں کیا تم لوگوں نے ان کے اندر کو ئی جنون کے آثار دیکھے ہیں ؟۔

سب نے ایک زبان ہو کر کہا نہیں ، اس نے کہا تم سوچتے ہو وہ جھو ٹے ہیں (معاذاللہ) لیکن یہ بتائو کہ کیا تم لوگوں میں سچے امین کے نام سے مشہور نہیں تھے۔ ؟

بعض قریش کے سرداروں نے کہا کہ محمد کو پھر کس نام سے یاد کریں ؟ ولید کچھ دیر چپ رہا پھر یکا یک بولا اسے جادوگر کہو کیو ں کہ جو بھی اس پر ایمان لے آتا ہے وہ سب چیز سے بے نیاز ہو جا تا ہے مشرکین نے اس ناروا تہمت کو خوب ہوادی تاکہ وہ افراد جوقرآن سے مانوس ہو گئے تھے انھیں پیغمبر اسلا مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے الگ کر دیا جائے لیکن ان کی تمام سازشیں نقش بر آب ہو گئیں اور حق وحقیقت کے پیاسے جوق در جوق پیغمبر کی خدمت میں آکر اس آسمانی پیغام اور اس کی دلکش بیان سے سیراب ہونے لگے ۔

جادوگر کا الزام در حقیقت قرآن کے جذّاب اور ہر دل عزیز ہو نے کا ایک اعتراف تھا، انھوں نے اس کشش کو جادو کانام دے دیا جبکہ اس کا جادو سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں تھا ۔

قرآن علوم کا خزانہ ہے ۔ فقہ کی کتا ب نہیں ہے مگر بندوںکے قانون عبادت ،او رسیاسی و معاشرتی جزاوسزا اور اجرای احکام سب اس میں پائے جا تے ہیں فلسفہ کانصاب نہیں مگر فلسفہ کی بہت ساری دلیلیں اس میں ہیں ،علم نجوم کی کتاب نہیں پھر بھی ستارہ شناسی کے بہت ظریف اور باریک نکا ت اس میں پائے جا تے ہیں جس نے دنیا کے تمام مفکروں کو اپنی جانب کھینچ لیاہے۔

علم حیاتیات کا مجموعہ نہیں پھر بھی بہتیری آیات اس حوالے سے موجود ہیں لہٰذ اقرآن معجزہ ہے او ران علوم سے ارفع واعلی ہے ۔


اگر نزول قرآن کی فضاپر غور کی جائے تو پیغمبر اسلا م اور قرآن کی عظمت میں مزید اضافہ ہوگا ۔

اس ماحول میں جہا ں بہت کم لوگ پڑھے لکھے تھے وہاںایک ایسا شخص اٹھا جس نے نہ دنیا وی مدرسہ میں علم حاصل کیا نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا اور ایسی کتاب لیکر آیا کہ چودہ سوسال بعد بھی علماء او رمفکرین اس کے معنی ومطلب کی تفسیر میں جوجھ رہے ہیں اور ہر زمانے میں اس سے نئے مطالب کا انکشاف ہو تا ہے۔

قرآن نے اس دنیاکو اس طرح تقسیم کیاکہ جوبہت ہی دقیق او رمنظم ہے توحید کو بہ نحو احسن بیان کیازمین وآسمان کی تخلیق کے اسرار ورموز اور انسان کی خلقت اوردن ورات کی خلقت کے راز کو خد اکے وجود کی نشانیاں قرار دیتے ہو ئے مختلف طریقہ سے ذکر کیا ہے کبھی فطری توحید توکبھی استدلال توحید پر بحث کی ہے یہ پوری کائنات خدا کے ہاتھ میں ہے اسے بہت طریقہ سے بیا ن کیاہے جب معاد اور قیامت کی بات آتی ہے تو مشرکین کے تعجب پر فرمایا ہے : کیا جس نے اس زمین وآسمان کو ان عظمتوں کے ساتھ پیدا کیا اس کے لئے یہ ممکن نہیںکہ تم جیسا خلق کردے جی ہاں پیداکرنے والا قادر اور صاحب حکمت ہے اور اس کی طاقت اس حد تک ہے کہ جس چیز کا ارادہ کرے اور اسے حکم دے دے ہوجابس وہ فوراً وجود میں آجاتی ہے ۔


خلاصہ یہ کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ جسے لانے والے (پیغمبر ) اور تفسیر کرنے والے (ائمہ معصومین ) کے علا وہ اس کا مکمل علم کسی کے پاس نہیں اس کے باوجود قرآن ہمیشہ ہم لوگوں کے لئے بھی ایک خاص چاشنی رکھتا ہے چونکہ دلوںکی بہار ہے لہٰذا جتناہی پڑھیں گے اتنا ہی زیادہ لطف اندوز ہوںگے جی ہاں قرآن ہمیشہ نیا ہے اور ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے چونکہ یہ پیغمبر اسلام کا دائمی معجزہ ہے ۔

حضرت امیر نے قرآن کے بارے میں فرمایا :واِنَّ القرآنَ ظاهره أنیق وباطنه عمیق لا تُفنیٰ عجائبه ولاتنقضیِ غرائبه ( ۱ )

''بیشک قرآن ظاہر میں حسین اورباطن میں عمیق ہے اس کے عجائبات انمٹ ہیں''۔

اس کے غرائب اور اس کی تازگی میں ہمیشگی ہے وہ کبھی کہنہ او رفرسودہ نہ ہوگی ۔

نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۷۵میں آیا ہے (فیه ربیع القلب وینابیع العلم وماللقلب جلا ء غیره )دلوں کی بہار قرآن میں ہے اس میں دل کے لئے علم کے چشمے ہیں اس کے علا وہ کوئی نور موزون نہیں ہے ۔

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیوں قرآن کی ترویج اور اس میں تفحص کے ساتھ ساتھ اس کی تازگی اور بالیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ؟

امام نے فرمایا:''لان الله تبارک و تعالیٰ لم یجعله لزمان دون زمان و لالناس دون ناس فهو فی کل زمان جدید و عند کل قوم

____________________

(۱) نہج البلا غہ خطبہ ۱۸


غض الی یوم القیٰمة ''

''اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کو کسی خاص زمانہ اور کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں کیا (بلکہ یہ کتابِ الٰہی تمام زمانے اور تمام انسانوں کے لئے ہے)پس قرآن ہر زمانہ کے لئے جدید اور تمام انسانوں کے لئے قیامت تک زندہ ہے۔''

سوالات

۱۔ خصوصیات قرآن بیان کریں ؟

۲۔ اعجاز قرآن کے سلسلہ میں ولید کا قصہ بیا ن کریں ؟

۳۔ امیر المومنین نے قرآن کے سلسلہ میں کیا فرمایا ؟


بائیسواں سبق

نبوت خاصہ (دوسراباب )

خاتمیت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہیں، نبوت کاسلسلہ ان پر خدا نے ختم کردیااور اسی لئے ان کا لقب بھی خاتم الانبیاء ہے (خاتمِ چاہے زیر ہو یا زبر خاتَم، کسی طرح بھی پڑھا جائے اس کے معنی کسی کام کا اتمام یاختم ہونا ہے، اسی بناپر عربی میں انگوٹھی کوخاتم کہا جاتا ہے چونکہ انگوٹھی اس زمانے میں لوگوں کے دستخط اور مہر کا مقام رکھتی تھی او رجب کہیں خط لکھتے تو اس کے آخر میں اپنی انگوٹھی سے مہر لگا دیتے تھے ۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کی نبوت کا اختتام بھی ایک اسلامی ضرورت ہے اور اسے ہر مسلمان مانتا ہے کہ اب حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، اس اصل پر تین دلیل ہے ۔

۱۔ خاتمیت کا لا زم او رضروری ہونا۲۔ قرآن کی آیتیں ۳۔ بہت ساری حدیثیں

۱۔خاتمیت کا ضروری ہو نا:اگر کسی نے اسلا م کو دلیل ومنطق کے ذریعہ مان لیا تو اس نے خاتمیت پیغمبر اسلا م کو بھی قبول کر لیا، اسی لئے مسلمانو ں کا کو ئی فرقہ کسی نئے پیغمبر کے انتظار میں نہیں ہے یعنی خاتمیت مسلمانو ں کی نظر میں ایک حقیقی اورضرور ی چیز ہے ۔


۲۔قرآن کی آیتیں:( مَاکَانَ مُحمَّدُ أَبَا أحدٍ مِنْ رِجالِکُم وَلکنْ رَسُولَ اللّهِ وخَاتَم النَبِیینَ ) محمد تم مردو ں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں۔( ۱ ) ( وَمَا أَرسَلنَا ک اِلَّا کَافَةً للنَّاسِ ) (اور پیغمبر ہم نے آپ کو تمام لوگو ں کے لئے بھیجا ہے۔( ۲ )

۳۔ احادیث : حدیث منزلت جسے شیعہ وسنی دونو ں نے پیغمبر اسلا م سے نقل کیاہے کہ حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مولا ئے کا ئنات سے مخاطب ہو کر فرمایا :أنَتَ مِنی بِمنزلة هارون من موسیٰ اِلَّا أَنَّه لا نَبیّ بَعدی : ، تم میرے نزدیک ویسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے فرق یہ ہے کہ میرے بعد کو ئی نبی نہیں آئیگا ۔

معتبر حدیث میں جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ رسو ل خدانے فرمایا میری مثال پیغمبروں کے بیچ بالکل ایسی جیسے کو ئی گھربنایا جائے اور اسے خوب اچھی طرح سجا یا جائے مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو اب جو بھی دیکھے گا کہے گا بہت خوبصورت ہے مگر یہ ایک جگہ خالی ہے میں وہی آخری اینٹ ہو ں اور نبو ت مجھ پر ختم ہے۔( ۳ )

اما م صادق نے فرمایا :حلال مُحمَّد حلال أبداً اِلیٰ یوم

____________________

(۱) سورہ احزاب آیة: ۴۰

(۲) سو رہ سبا آیة: ۲۸۔

(۳) نقل از تفسیر مجمع البیا ن مرحو م طبرسی


القیامة وحرامه حرام أبداً اِلی یوم القیامة ( ۱ ) ''اِنَّ اللّهَ ختم بنبیّکم النبییَّن فلا نَبیَّ بعده أبداً''

امام صادق نے فرمایا : بیشک اللہ نے تمہا رے پیغمبر کے بعد نبو ت کا سلسلہ ختم کردیا ہے اور اب اس کے بعد کو ئی نبی نہیں آئے گا ۔( ۲ )

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خطبہ کے درمیان فرمایا :أناخاتمُ النبییّن والمُرسلینَ والحُجّة علیٰ جمیع المخلوقین أهل السَّمٰوات والأَرضین'' میں آخری نبی اور آخری الٰہی نمایندہ ہو ں اور تمام اہل زمین وآسمان کے لئے آخری حجت ہو ں''۔( ۳ )

مولائے کا ئنا ت نے نہج البلا غہ کے خطبہ ۹۱ میں فرمایا :''حتیٰ تمت نبیّنا مُحمّد حجتّہ وبلغ المقطع عذرہ ونذرہ''ہاں تک کہ خدا نے ہمارے نبی کے ذریعہ حجت کو تمام کردیااور تمام ضروری احکامات کو ان کے لئے بیا ن کر دیا خطبہ ۱۷۳میں پیغمبر اسلام کے صفات کے سلسلہ میں اس طرح فرمایا :''امین وحیہ وخاتم رسلہ وبشیر رحمتہ'' محمد خداکی وحی کے امین اور خاتم الرسل اور رحمت کی بشارت دینے والے ہیں

____________________

(۱) اصو ل کا فی ج۱، ص ۵۸

(۲) اصول کا فی ج۱،ص ۲۶۹

(۳)مستدرک الوسائل ج۳، ص ۲۴۷


فلسفہ خاتمیت

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ انسانیت ہمیشہ تغییر وتحول سے دوچار ہو تی ہے یہ کیسے ممکن ہے ،ایک ثابت اورناقابل تبدیل قانون پوری انسانیت کے لئے جواب دہ ثابت ہو اور یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خاتم النبیین بن جا ئیں

اور دوسرے پیغمبر کی ضرورت نہ پیش آئے !

اس کاجو اب ہم دو طرح سے دیں گے :

۱۔ دین اسلام فطرت سے مکمل ہماہنگی رکھتا ہے اور فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی :

( فَأَقِم وَجهَکَ للدّینِ حَنیفًا فِطرَتَ اللَّهِ التِی فَطَرالنَّاسَ علیها لا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللَّهِ ذَلِکَ الدِّین القَیّمُ وَلَکنَّ أَکثَر النّا سِ لایَعلَمُونَ ) آپ اپنے رخ کو دین کی طرف قائم رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین فطرت الٰہی ہے جس پر اس نے انسانو ں کو پیدا کیاہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے ۔( ۱ )

جیسے انصاف ، سچائی، ایثار ، درگذر، لطف و کرم ، نیک خصلت ہمیشہ محبوب ہے اور اسی کے مقابل ظلم ، جھوٹ،بے جا اونچ نیچ، بد اخلاقی یہ سب چیزیں ہمیشہ لائق نفرت تھیں اور رہیں گی۔

لہٰذا قوانین اسلام جو کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے ہے ہمیشہ اسرار خلقت کی طرح زندہ ہے۔

۲۔ دین اسلام قرآن و اہلبیت کے سہارے ہے ۔ قرآن لامتناہی مرکز علم سے صادر ہوا ہے اور اہل بیت وحی الٰہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ قرآن و اہل بیت ایک

____________________

(۱)سورہ روم آیت۳۰۔


دوسرے کے مفسر ہیں ۔ اور رسول اکرم کی حدیث کے مطابق یہ رہبران اسلام ایک دوسرے سے تا قیامت جدا نہیں ہوں گے ۔ لہٰذا اسلام ہمیشہ زندہ ہے ،اور بغیر کسی ردّ و بدل کے ترقی کی راہ پر گامزن اور بشریت کی مشکلات کا حل کرنے والا ہے ۔'' قال رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا ابدا انهما لن یفترقا حتیٰ یردا علی الحوض'' میں تمہارے لئے دو گرانقدر چیزیں قرآن و میری عترت چھوڑ کر جارہا ہوں جب تک ان سے متمسک رہو گے گمراہ نہ ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو نگے یہاں تک حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریںگے۔( ۱ )

____________________

(۱)المراجعات؛سید شرف الدین عاملی۔


سوالات

۱۔قرآن نے اس دنیا کی تقسیم کس طرح کی ہے مختصر بیان کریں ؟

۲ ۔پیغمبر اسلام کے خاتم النبیین ہونے پر دلیل پیش کریں؟

۳۔ چونکہ دنیا میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں لہٰذا محمد آخری رسول او ر اسلام آخری دین کیسے ہو سکتاہے ؟


تیئسواں سبق

امامت

دین اسلام کی چوتھی اصل اور اعتقاد کی چوتھی بنیاد امامت ہے لغت میں امام کے معنی رہبر ا ور پیشوا کے ہیں اور اصطلاح میں پیغمبر اکرم کی وصایت وخلافت اور ائمہ معصومین کی رہبری مراد ہے، امامت شیعوں کی نظرمیں اصول دین میں سے ایک ہے اور امام کا فریضہ شیعوں کی نظر میں پیغمبر اسلام کے فرائض کی انجام دہی ہے۔

یعنی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعثت کااور ائمہ کے منصوب ہونے کا مقصد ایک ہے اور جو چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ رسول کو مبعوث کرے وہی چیز اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ خد اامام کو بھی معین کرے تاکہ رسول کی ذمہ داریوںکو انجام دے سکے، امام کے بنیادی شرائط میں سے ہے کہ وہ بے پناہ علم رکھتا ہو اور صاحب عصمت ہو نیز خطا ونسیا ن سے دور ہو اور ان شرائط کے ساتھ کسی شخصیت کا پہچاننا وحی کے بغیر ناممکن ہے اسی لئے شیعہ معتقد ہیںکہ منصب امامت بھی ایک الٰہی منصب ہے اور امام کو خدا کی طرف سے معین ہو نا چاہئے لہٰذا امامت او رخلافت کی بحث ایک تاریخی گفتگو نہیں ہے بلکہ حکومت اسلامی کی حقیقت او رپیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اختتام دنیا تک حکو مت کرنا ہے اور ہماری آئندہ کی زندگی سے مکمل طور پر مربوط ہے، اسی طرح یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعداعتقادی اور فکری مسائل میں لوگ کس کی طرف رجوع کریں ۔

شیعوںکاکہنا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد حضرت علی علیہ السلا م اور ان کے بعد ان کے گیارہ فرزند ایک کے بعد ایک پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی جانشین ہیں، شیعہ او رسنی کے درمیان یہی بنیادی اختلاف ہے ۔

ہمارا اصل مقصد اس بحث میں یہ ہے کہ امامت پر عقلی، تاریخی ،قرآنی اور سنت نبوی سے دلیلیں پیش کریںکیونکہ ہم ا س بات کے معتقد ہیںکہ اسلام حقیقی کانورانی چہرہ مذہب شیعہ میں پایا جاتا ہے اورصرف شیعہ ہیں جو حقیقی اسلا م کو اپنے تمام ترکمالات کے ساتھ پوری دنیا میں پہچنوا سکتے ہیں لہٰذا ہمیں اس کی حقانیت کو دلیل ومنطق کے ذریعہ حاصل کرنا چاہئے ۔


امامت کا ہو نا ضروری ہے

امامت عامہ

دلیل لطف : شیعہ معتقد ہیں کہ بندو ں پرخداکا لطف اور اس کی بے پناہ محبت اور حکمت کا تقاضا ہے کہ پیغمبر اکرم کے بعد بھی لوگ بغیر رہبر کے نہ رہیں یعنی جو دلیلیں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مبعوث ہونے کے لزوم پر دلا لت کر تی ہیں وہی دلیلیںاس بات کی متقاضی ہیں کہ امام کا ہو نابھی ضروری ہے تاکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح دنیا اورآخرت کی سعادت کی طرف لوگوں کی رہبری کر سکیں اوریہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ مہربان خدا بنی نوع انسان کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد بغیر کسی ہادی اوررہبر کے چھو ڑدے ۔

مناظرہ ہشام بن حکم

ہشام کا شمار امام جعفر صادق کے شاگردو ںمیں ہے : کہتے ہیں میں جمعہ کوبصرہ گیااور وہاں کی مسجد میں داخل ہوا عمروبن عبید معتزلی (عالم اہل سنت) وہاں بیٹھے تھے اور ان کو لوگ گھیرے میں لئے ہوئے سوال وجواب کر رہے تھے میں بھی ایک گوشہ میں بیٹھ گیا اورکہا :میں اس شہر کانہیں ہوں کیا اجازت ہے کہ میں بھی سوال کروں ؟کہا جو کچھ پوچھنا ہو پوچھو: میں نے کہا آپ کے پاس آنکھ ہے ؟ اس نے کہا دیکھ نہیں رہے ہو یہ بھی کوئی سوال ہے۔ ؟

میں نے کہا میرے سوالات کچھ ایسے ہی ہیں کہا اچھا پوچھو ہر چند کہ یہ بیکارہے انہو ں نے کہا جی ہاں آنکھ ہے ،میں نے کہا ان آنکھو ں سے کیا کام لیتے ہیں؟ کہا دیکھنے والی چیزیں دیکھتا ہو ں ا قسام او ررنگ کو مشخص کرتا ہو ں ، میں نے کہا زبان ہے ؟کہا جی ہا ں ، میں نے کہااس سے کیا کرتے ہیں؟ جواب دیا کہ اس سے کھانے کی لذت معلو م کرتاہوں میں نے کہا ناک ہے ؟کہنے لگے جی ہا ں میں نے کہا اس سے کیا کرتے ہیں؟ کہا خوشبو سونگھتا ہو ں او راس سے خوشبو اور بدبو میں فرق کرتا ہوں میں نے کہا کان بھی ہے ؟جواب دیا جی ہا ں ،میں نے کہا اس سے کیا کرتے ہیں؟ جو اب دیا اس سے مختلف آوازوں کو سنتا ہو ں او ر ایک دوسرے کی تشخیص دیتا ہو ں، میں نے کہا اس کے علا وہ قلب (عقل ) بھی ہے ؟کہا جی ہا ں۔ میں نے پوچھا اس سے کیا کرتے ہیں؟جواب دیا اگر ہما رے اعضاء وجوارح مشکوک ہو جاتے ہیں تواس سے شک کو دور کرتا ہو ں ۔


قلب اور عقل کاکام اعضا ء وجوارح کو ہدایت کرنا ہے ،ہشام نے کہا:میں نے ان کی بات کی تائید کی کہا بالکل صحیح۔ خدانے عقل کو اعضاء وجوارح کی ہدایت کے لئے خلق کیااے عالم! کیایہ کہنا صحیح ہے کہ خدانے آنکھ کان کو اور دوسرے اعضاء کو بغیر رہبر کے نہیں چھوڑااور مسلمانو ں کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد بغیر ہادی ورہبر کے چھوڑ دیا تاکہ لوگ شک و شبہ اور اختلا ف کی باعث فنا ہو جائیں کیاکوئی صاحب عقل اس بات کو تسلیم کرے گا ؟!۔

ہدف خلقت

قرآن میں بہت سی آیتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں( هَوَ الَّذِی خَلَق لَکُم مَافِی الأَرضِ جَمِیعاً ) وہ خدا وہ ہے جس نے زمین کے تمام ذخیرہ کو تم ہی لوگو ں کے لئے پیدا کیا۔( ۱ ) ( سَخَّرَ لَکُمُ اللَّیلَ وَالنَّهارَ والشَّمسَ وَالقَمَر ) ''اور اسی نے تمہارے لئے رات و دن اورآفتاب وماہتاب سب کو مسخر کردیا ''۔( ۲ )

چونکہ انسان کی خاطر یہ دنیا خلق ہوئی ہے اور انسان عبادت اور خدا تک پہونچنے کے لئے خلق ہو اہے تاکہ اپنے حسب لیاقت کمال تک پہونچ سکے، اس

____________________

(۱) سورہ بقرہ آیة :۲۹

(۲) سورہ نحل آیة :۱۲


مقصد کی رسائی کے لئے رہبر کی ضرورت ہے اور نبی اکرم کے بعدامام اس تکامل کا رہبر وہادی ہے ۔

مہربا ن ودرد مند پیغمبر او رمسئلہ امامت :

( لَقَد جَا ئَ کُم رَسُولُ مِن أَنفُسِکُم عَزیزُ عَلَیه مَا عَنِتُم حَرِیصُ عَلَیکُم بِالمُؤمنینَ رَؤُفُ رَحِیمُ ) یقینا تمہا رے پاس وہ پیغمبر آیا ہے جو تمہیں میں سے ہے اور اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہو تی ہے وہ تمہاری ہدا یت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مومنین کے حال پر شفیق اور مہربان ۔( ۱ )

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب کبھی کسی کا م کے لئے کچھ دن کے واسطے مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے چاہے مقصد جنگ ہو یا حج، لوگو ں کی سرپرستی کے لئے کسی نہ کسی کو معین کر جاتے تھے تاکہ ان کی راہنمائی کر سکے آپ شہروں کے لئے حاکم بھیجتے تھے لہٰذا وہ پیغمبر جولوگوں پر اس قدر مہربان ہوکہ بقول قرآن ،اپنی زندگی میں کبھی بھی حتی کہ تھوڑی مدت کے لئے بھی لوگوں کو بغیر رہبر کے نہیں چھوڑا ،تو یہ بات بالکل قابل قبول نہیں کہ وہ اپنے بعد لوگو ں کی رہبری کے لئے امامت و جانشینی کے مسئلہ میں تساہلی وسہل انگا ری سے کام لیں گے اور لوگوں کو سرگردان اور بغیر کسی ذمہ داری کے بے مہار چھوڑ دیںگے ۔عقل وفطرت کہتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ پیغمبر جس نے لوگوں کے چھوٹے سے چھو ٹے مسائل چاہے مادی ہو ں یا معنوی سبھی کو بیان کر

____________________

(۱) سورہ توبہ آیة ۱۲۸


دیا ہو اور اس نے سب سے اہم مسئلہ یعنی رہبری اور اپنی جانشینی کے تعین میں غفلت سے کام لیا ہو اورواضح طور پر لوگوں سے بیان نہ کیاہو!۔

سوالات

۱۔ امام کا ہو نا ضروری ہے دلیل لطف سے ثابت کریں ؟

۲۔ ہشام بن حکم اور عمروبن عبید کے درمیان مناظرہ کا خلا صہ بیا ن کریں ؟

۳۔ امام کا ہونا لازم ہے خلقت کے ذریعہ کس طرح استدلال کریں گے ؟

۴۔ سورہ توبہ کی آیة ۱۲۸ کے ذریعہ کس طرح امامت کااستدلا ل کریں گے ؟


چوبیسواں سبق

عصمت اورعلم امامت نیزامام کی تعیین کاطریقہ

عقل وسنت نیزقرآن کی نظر میں عصمت امامت کے لئے بنیادی شرط ہے اورغیر معصوم کبھی اس عہدہ کا مستحق قرار نہیں پاسکتا، نبوت کی بحث میں جن دلیلوں کا ذکر انبیاء کی عصمت کے لئے لازم ہونے کے طور پر پیش کیا گیاہے ان کو ملاحظہ فرمائیں۔

قرآن اور عصمت اما م

( وَاِذابتلیٰ اِبراهیمَ رَبُّهُ بِکلماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قالَ اِنِّی جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّیَّتِی قَالَ لَا یَنالُ عَهدیِ الظَّالَمِینَ ) اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعہ ابراہیم کاامتحان لیا اور انھو ںنے پوراکردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کاامام اورقائد بنا رہے ہیں انھوںنے عرض کیا کہ کیا یہ عہدہ میری ذریت کو بھی ملے گا؟ارشاد ہو اکہ یہ عہدئہ امامت ظالمین تک نہیں پہونچے گا ۔( ۱ )

____________________

(۱) سورہ بقرہ آیة: ۱۲۴


ظالم اور ستمگر کون ہے ؟

اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہ اس بلند مقام کاحقدار کو ن ہے او ر کون نہیں ہے یہ دیکھنا پڑے گا کہ قرآن نے کسے ظالم کہا ہے ۔؟

کیونکہ خدانے فرمایاہے :کہ میرا یہ عہدہ ظالمین کو نہیں مل سکتا ۔قرآن نے تین طرح کے لوگو ں کو ظالم شمار کیاہے ۔

۱۔ جولوگ خد ا کا شریک مانیں( یَا بُنََّ لَاتُشرِک باللَّهِ اِنَّ الشِّرکَ لَظُلمُ عَظِیمُ ) لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا:بیٹا خبردار کسی کو خد ا کاشریک نہ بنانا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔( ۱ )

۲۔ ایک انسان کادوسرے انسان پر ظلم کرنا:( اِنَّما السَّبیلُ عَلیٰ الَّذینَ یَظلِمُونَ النَّاسَ وَیَبغُونَ فِی الأَرضِ بِغَیرِ الحَقِّ أُولئِک لَهُم عَذَابُ ألِیمُ ) الزام ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں پھیلا تے ہیں انہیں لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔( ۲ )

۳۔ اپنے نفس پر ظلم کرنا:( فَمِنهُم ظَالمُ لِنَفسِهِ وَمِنهُم مُقتَصِدُ وَمِنهُم سَابِقُ بِالخَیراتِ ) ان میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض اعتدال پسند ہیں اور بعض خداکی اجازت سے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں ۔( ۳ )

____________________

(۱)سو رہ لقمان آیة: ۱۳

(۲) سورہ شوری آیة: ۴۲

(۳) سورہ فاطر آیة: ۳۲


انسان کو کمال تک پہنچنے اور سعادت مند ہو نے کے لئے پیدا کیا گیاہے، اب جس نے بھی اس راستہ سے روگردانی کی او رخدا ئی حد کو پار کیا وہ ظالم ہے( وَمَنْ یَتعَدَّ حُدُودَاللَّهِ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ ) جس نے بھی خدا کے حکم سے روگردانی کی، اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔( ۱ )

قرآن میں ان تینوں پر ظلم کااطلاق ہوتاہے لیکن حقیقت میں پہلی اوردوسری قسم کے ظلم کااطلاق بھی اپنے نفس ہی پر ہوتاہے ۔

نتیجہ :چار طرح کے لوگ ہیں

۱۔ جوابتداء زندگی سے لے کر آخر عمر تک گناہ اور معصیت کے مرتکب ہوتے رہے ۔

۲۔ جنہو ںنے ابتداء میں گناہ کیا،لیکن آخری وقت میں توبہ کر لیا اورپھر گناہ نہیں کرتے ۔

۳ کچھ ایسے ہیں جو ابتدا میں گناہ نہیں کرتے لیکن آخری عمر میں گناہ کرتے ہیں۔

۴۔ وہ لوگ جنہوں نے ابتداء سے آخر عمر تک کوئی گناہ نہیں کیا۔

قرآ ن کی رو سے پہلے تین قسم کے لوگ مقام امامت کے ہرگز حقدار نہیں ہوسکتے ،کیو نکہ ظالمین میں سے ہیں اور خدا نے حضرت ابراہیم سے فرمایاکہ ظالم اس

____________________

(۱) سورہ طلا ق آیة: ۱


عہدہ کا حقدار نہیں بن سکتا، لہٰذا مذکورہ آیة سے یہ نتیجہ نکلاکہ امام او ررہبر کو معصوم ہونا چاہئے اور ہر قسم کے گناہ او رخطا سے پاک ہو اگر ان تمام واضح حدیثوں کو جو رسول اسلام سے امام علی اور گیارہ اماموں کی امامت کے سلسلہ میں ہیں، یکسر نظر اندا ز کر دیا جائے، تب بھی قرآن کی رو سے مسند خلا فت کے دعویدار افراد خلا فت کے مستحق او رپیغمبر کی جانشینی کے قابل بالکل نہیں تھے کیو نکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ ظالم کے حقیقی مصداق تھے اور خدا نے فرمایا ہے کہ ظالموں کو یہ عہدہ نہیں مل سکتا اب فیصلہ آپ خو د کریں!

۱۔ وہ لوگ جو ابتداء عمر سے ہی کافر تھے ۔

۲۔ وہ لوگ جنہو ں نے بشریت پر بالخصوص حضرت علی وفاطمہ زہراصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ظلم کیا ۔

۳۔وہ لوگ جنہو ںنے خو د اعتراف کیا کہ میں نے احکام الٰہی کی مخالفت کی اور اپنے نفس پر ظلم کیا ، کیا ایسے لوگ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلیفہ اور جانشین بن سکتے ہیں۔ ؟


علم امام

امام کو چاہئے کہ وہ ان تمام احکام وقوانین کوجانتا ہو جولوگوں کے لئے دنیا اور آخرت کی سعادت کے لئے ضروری ہیں یعنی امام کا علم اہل زمین کے تمام لوگو ں سے زیادہ ہو، تاکہ وہ رہبری کا حقدار بن سکے وہ تمام دلیلیں جو امام کی ضرورت کے لئے ہم نے بیان کی ہیں، وہی یہاں بھی امام کے افضل واعلم ہونے پر دلالت کر تی ہیں، قرآن نے اس کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے :( أَفَمَنْ یَهدِی اِلیٰ الحَقِّ أَحَقُ أنْ یُتَّبَعَ أمَنَ لَایَهدِّیِ اِلَّا أنْ یُهدیٰ فَما لَکُمْ کَیفَ تَحکُمُونَ ) او رجو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابل اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے آخر تمہیں کیا ہوگیاہے اورتم کیسے فیصلے کر رہے ہو۔( ۱ )

اما م کے تعیین کا طریقہ

جب ہم نے امام کے صفات اور کمالات کوپہچان لیاتو اب یہ دیکھنا ہے کہ

ایسے امام کو کس طریقہ سے معین ہونا چاہئے۔

آج کل کی دنیا میں ذمہ دار اور عہدہ دار کے چننے کابہترین طریقہ انتخا بات ہے( چنائو کے ذریعہ ) البتہ یہ چناؤ را ہ حل تو ہوسکتا ہے لیکن ہمیشہ راہ حق نہیںہوتا کیونکہ چنائو واقعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا نہ حق کو باطل اور نہ باطل کو حق بنا سکتا ہے،ہر چندکہ عملی میدان میں اکثریت کو مد نظر رکھا جاتاہے لیکن یہ چنے ہو ئے فرد کی حقانیت کی دلیل نہیں ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ انتخابات میں بعض لوگ اکثریت کے ذریعہ چنے گئے پھر تھوڑے یازیادہ دن کے بعدیہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ انتخاب اور چنائوسے آنے والا شخص غلط تھا حقیقت یہ ہے کہ ہم علم غیب یاآئندہ کی بات نہیں جانتے لوگوں کے باطن کے سلسلہ میں ہم کس طرح حتمی فیصلہ یا صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں۔؟

لہٰذا کبھی بھی اکثریت حق کی دلیل اور اقلیت باطل کی دلیل نہیں بن سکتی دوسری طرف قرآن نے تقریبا ً اسی مقامات پر اکثریت کی مذمت کی ہے اور سورہ

____________________

(۱) سو رہ یونس آیة :۳۵


انعام کی آیة ۱۱۶ میں ارشاد ہوتا ہے:( وَأنْ تُطِع أَکثَرمَنْ فیِ الأرضِ یُضلُّوکَ عَن سَبِیلِ اللَّهِ اِن یَتَّبِعُونَ اِلاَّالظَّنَّ وَاِن هُم اِلَّایَخرصُوُنَ ) اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کریں گے تویہ راہ خدا سے بہکا دیں گے یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ہیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ہیں۔

اس سے ہٹ کر امامت اوررہبری کاکام فقط دین اور سماجی زندگی کو چلانے کا نام نہیں ہے بلکہ امام دین کا محافظ اور دین ودنیا میں لوگوں کی حفاظت کرنے والا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ ہرگز گناہ وخطا سے معصوم ہواور تمام لوگوں میں افضل واعلم ہو اور ایسے شخص کو لوگ نہیں چن سکتے کیونکہ لوگوں کو کیا معلوم کہ کو ن شخص صاحب عصمت اور علوم الٰہی کاجاننے والا اوردوسری فضیلتوں کامالک ہے تاکہ اسے چنا جائے چونکہ صرف خدا انسان کے باطن اور مستقبل سے باخبر ہے لہٰذا اس کو چاہئے کہ بہترین شخص کو اس مقام کے لئے چنے اور اسے اس کی شایان شان کمال سے نواز کر لوگوں کے سامنے پہچنوائے ۔

امام کیسے معین ہوگا ؟

رسول کے بعد امامت وپیشوای یعنی کار رسالت کوانجام دینا،امام اوررسول میں بس فرق یہ ہے کہ رسول بانی شریعت اور صاحب کتاب ہوتاہے اور امام اس کے جانشین کی حیثیت سے محا فظ شریعت اور اصول دین وفروع دین کابیا ن کرنے والا اورنبوت کی تمام ذمہ داریوں کونبھانے والاہوتا ہے جس طرح نبی کاانتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے اسی طرح امام کاانتخاب بھی خدا کی جانب سے ہوناچاہئے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیة ۱۲۴ میں ہے کہ امامت عہدخداوندی ہے اورخدا کاعہدہ انتخاب اور چنائو سے معین نہیں ہوسکتا کیونکہ چنائو اورشوری لوگوں سے مربوط ہے۔


جن دوآیتوں میں مشورت کا ذکر کیاہے وہاں لفظ امر آیا ہے( وَأَمرُهُم شُوریٰ بَینَهم )( وشَاورْهُم فیِ الأَمرِ ) ان دو آیتوں میں جومشورت کے لئے کہاگیاہے وہ معاشرتی امور لوگو ں کے لئے ہے اور یہ خدا کے عہدوپیمان میں شامل نہیں ہو گا سورہ قصص کی ۶۸ آیة میں ارشاد ہوتا ہے( و َرَبُّک یَخلُقُ مَا یَشائُ وَ یَختَارُ مَا کَانَ لَهُمُ الخِیَرةُ ) اور آپ کا پرور دگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتاہے اور پسند کرتاہے ۔

ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کاکوئی حق نہیں ہے مرحوم فیض کاشانی تفسیر صافی میں اس آیت مذکورہ کے ذیل میں حدیث نقل کرتے ہیں کہ: جب خداوند عالم کسی کو امامت کے لئے منتخب کردے تو لوگ دوسرے کی طرف ہرگز نہیں جاسکتے اور دوسری حدیث میں ارشاد ہوا :

چنائو میں خطا کے امکان کی بناپر اس کی اہمیت کم ہو جا تی ہے صرف خدا کاچناہوا اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے چونکہ صرف وہ ہمارے باطن اور مستقبل کوجانتا ہےلمّاکَانَ النبّیِّ یَعرضُ نَفسَهُ علیٰ القبائل جائَ الیٰ بنَی کلابِ فقالوا : نُبایعک علیٰ أَن یکون لنا الأمر بعَدک فقال: الأَمر للَّه فاِن شاَء کان فیکم أَوفیِ غیرکم ،جس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبیلوں میں جاکر لوگوں کو دعوت دیتے تھے جب قبیلہ بنی کلاب میں گئے تو ان لوگوں نے کہا ہم اس شرط پرآپ کی بیعت کریں گے کہ امامت آپ کے بعد ہمارے قبیلہ میں رہے حضرت نے فرمایا: امامت کی ذمہ داری خداکے ہاتھ میں ہے اگروہ چاہے گا تو تم میں رکھے گا یاتمہارے علاوہ کسی او ر میں ۔( ۱ )

____________________

(۱) بحارالانوار جلد،۲۳ ص ۷۴


سوالات

۱۔ عصمت امام پر قرآن سے دلیل پیش کریں ؟

۲۔ قرآن کی نظر میں ظالمین کون لوگ ہیں ؟

۳۔ کیوں امام کو انتخاب او رمشورت سے معین نہیں کر سکتے ؟

۴۔امام کا تعین کیسے کریں ؟


پچیسواں سبق

امامت خاصہ

مولا ئے کائنات ں اور ان کے گیارہ فرزندوںکی امامت وولایت کااثبات:

ہم گذشتہ بحثوں میں امام کی صفات اور ضروری خصوصیات سے آگاہ ہوچکے ہیںلہٰذا اب ہم کو یہ تحقیق کرناچاہئے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کا حقیقی جانشین کون ہے اوریہ صفات کن میں پائے جا تے ہیں تاکہ وہ عقیدہ جوہمارے پاس ہے اس کا عقلی ونقلی دلیلوں سے اثبات ہوسکے تاکہ جولوگ حق وحقانیت سے دور ہیں ان کی ہدایت کرسکیں۔

مولائے کا ئنات ں کی امامت اور ولایت پر عقلی دلیل

دومقدمہ ایک نتیجہ

۱۔ مولائے کائنات تمام انسانی فضائل وکمالات کے حامل تھے جیسے علم تقوی ،یقین ،صبر ، زہد ، شجاعت ، سخاوت ،عدالت ،عصمت ، اور تمام اخلاق حمیدہ یہاں تک بلا شک وشبہہ(دشمنوں کوبھی اعتراف تھا ) تمام کمالات میں سب سے افضل وبرتر ہیں اور یہ فضائل شیعہ اور سنی دونوں کی کتابوں میں بھرے پڑے ہیں ۔

۲۔عقل کی روسے مفضول کوفاضل پر ترجیح دینا قبیح ہے اور جو بھی مذکورہ فضائل کاحامل نہیں ہے اس شخص پر جو ان فضائل کاحامل ہے ترجیح دینا قبیح ہے ۔


نتیجہ

حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب ہی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی جانشین ہیں۔

دوسری دلیل

جیسا کہ بیان ہوچکاہے کہ عقلی ونقلی اعتبار سے امام کا معصوم ہونا ضروری ہے اور ہر خطا وغلطی سے پاک اور دور ہوناچاہیئے، آئندہ بحث میں انشاء اللہ قران وحدیث سے ہم ثابت کریں گے کہ یہ صفات وخصوصیات صرف اہل بیت سے مخصوص ہیں، لہٰذ ا حضرت علی اور ان کے گیارہ فرزندوں کے علا وہ کوئی عہدئہ امامت کے لائق نہیں ہے ۔

عصمت اور آیہ تطہیر

ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے ،اب یہ دیکھیں کہ معصوم کو ن ہے ؟( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیراً ) ( ۱ ) (بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر برائی دور رکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

____________________

(۱)سورہ احزاب ۔آیة: ۳۳


اہل بیت سے مراد ؟

شیعہ اور سنی کی بہت سی متواتر حدیثیں اس بات پر دلا لت کرتی ہیں کہ آیة تطہیر رسول اکرم اور اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے یہ حدیثیں اہلسنت کی معتبر کتا بو ں میں موجود ہیں جیسے صحیح مسلم ، مسنداحمد، درالمنثور،مستدرک حاکم ،ینابیع المو دة ،جامع الاصول ،الصواعق المحرقہ ،سنن ترمذی ،نور الابصار مناقب خوارزمی وغیرہ اور شیعوں کی لا تعداد کتب میں موجود ہیں۔

امام حسن ںنے اپنے خطبہ میں فرمایا : ہم اہل بیت ہیں جن کے واسطے خدا وند عالم نے قرآن میں فرمایا :( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیرا ) ( ۱ )

انس بن مالک کہتے ہیں کہ : رسو ل خد ا چھ مہینے تک نماز کے وقت جب جناب زہراصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر پہونچتے تھے فرماتے تھے اے اہل بیت وقت نماز ہے( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیرا ) ( ۲ )

ابن عباس بیان کرتے ہیں : کہ رسول خدا نو مہینے تک وقت نماز جنا ب امیر علیہ السلام کے دروازے پر آکر فرماتے تھے سلام علیکم یا أَھلَ البَیت:

( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهرّکُم تَطهِیراً ) ( ۳ )

____________________

(۱)ینابیع المودة ص۱۲۶۔

(۲)جامع الاصول جص۱۱۰۔

(۳)الامام الصادق والمذاہب الاربعہ ج،۱ص۸۹۔


مولا ئے کائنات فرماتے ہیں کہ رسول خدا ہر روز صبح ہمارے گھر کے دروازے پر آکر فرماتے تھے خدا آپ پر رحمت نازل کرے نماز کے لئے اٹھو :

( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیرا ) ( ۱ )

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کافی دن اس پر عمل کرتے رہے تاکہ اہل بیت کی پہچان ہوجائے اور ان کی اہمیت لوگوں پر واضح ہوجائے ۔

شریک ابن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا کی وفات کے بعد مولائے کائنات نے اپنے خطبہ میں فرمایا : تم لوگوںکو قسم ہے اس معبود کی بتاؤکہ کیا میرے اورمیرے اہل بیت کے علاوہ کسی اور کی شان میں یہ آیة نازل ہو ئی ہے :( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهرِّکُم تَطهِیراً ) ( ۲ ) لوگوں نے جواب دیا نہیں ۔

حضرت علی ںنے ابوبکر سے فرمایا تمہیں خداکی قسم ہے بتائو آیة تطہیر میرے اور میری شریک حیات اور میرے بچوں کی شان میں نازل ہو ئی ہے یا تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے ؟جواب دیا :آپ اور آپ کے اہل بیت کی شان میں نازل ہو ئی ہے۔( ۳ )

____________________

(۱) غایةالمرام ص ۲۹۵

(۲) غایةالمرام ص، ۲۹۳

(۳) نو ر الثقلین ج ۴، ص ۲۷۱


اعتراض :

لوگو ں کاکہنا ہے کہ آیة تطہیر پیغمبر کی ازواج کی شان میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اس کے پہلے اور بعد کی آیات پیغمبر کی ازواج کے سلسلے میں ہے یا کم ازکم پیغمبر کی ازواج بھی اس میں شامل ہیں ۔اسی لئے یہ ان کی عصمت کی دلیل نہیںہوسکتی ہے کیونکہ کوئی بھی پیغمبر کی ازواج کومعصوم نہیں مانتا ہے ۔

جواب

علامہ سید عبد الحسین شرف الدین نے اس کے چند جواب دیئے ہیں ۔

۱۔ یہ اعتراض اور شبہ نص کے مقابلہ میں اجتہا د کرناہے کیونکہ بے شمار روایتیں اس سلسلے میں آئی ہیں جوتواتر کے حد تک ہیں کہ آیة تطھیر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاطمہ زہراصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی ، وحسنین کی شان میں نازل ہو ئی ہے ۔

۲۔ اگر آیة تطہیر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج کی شان میں ہو تی تو مخاطب مونث ہوناچاہئے نہ کہ مذکر ،یعنی آیت اس طرح ہو نی چاہئے ''( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُنَّ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُنَّ تَطهِیرا'' )

۳۔آیة تطھیر اپنے پہلے اور بعد کی آیت کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر ہے اور یہ چیز عربوں میں فصیح مانی جاتی ہے اور قرآن میں بھی آیا ہے:


( فَلَمَّا رَأیٰ قَمِیصهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قالَ اِنَّه مِنْ کَیدِ کُنَّ اِنَّ کَیدَ کُنَّ عَظِیمُ یُوسُف أَعرِض عَن هَذا وَاستغفِریِ لِذَنبِکِ انک کُنتِ مِنْ الخَاطِئیِنَ ) ''( یُوسُف أَعرِض عَن هَذا'' ) : مخاطب یو سف ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہے اور پہلے اور بعد کی آیة میں زلیخا سے خطاب ہے:( ۱ )

آیة تطہیر او رمولا ئے کا ئنا ت اور انکے گیارہ فرزندوں کی عصمت وامامت

مولائے کائنات نے ارشاد فرمایا ہم ام سلمہ کے گھر میں رسول خدا کے پاس بیٹھے تھے کی آیة تطہیر( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهرِّ کُم تَطهِیرا ) نازل ہو ئی۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :یہ آیت آپ اور آپ کے فرزند حسن وحسین علیہما السلام اور ان اماموں کی شان میں نازل ہو ئی ہے جو آپ کی نسل سے آئندہ آئیںگے میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کے بعد کتنے امام ہو نگے ۔؟

حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : میرے بعد آپ امام ہو ں گے اورآپ کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسین اور ان کے بعد ان کے فرزند علی پھر علی کے فرزند محمد اور پھر محمدکے فرزندعلی اور علی کے فرزندجعفر اورجعفر کے فرزندموسیٰ ،موسیٰ کے فرزند علی ،علی کے فرزند محمد،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند علی ،علی کے فرزند حسن ،حسن کے فرزند حجت امام ہو ں گے ان تمام کے اسماء گرامی اسی ترتیب سے عرش پر لکھے ہیں میں نے خدا سے پوچھا یہ کون ہیں ؟جواب یہ تمہارے بعد کے امام ہیں جو پاک اور معصوم اور ان کے دشمن ملعون ہوںگے۔( ۲ )

____________________

(۱)سورہ یوسف آیة:۲۸۔ ۲۹

(۲) غایة المرام ص ، ۲۹۳


لہٰذا یہ آیة تطہیر چودہ معصوم کی شان میں نازل ہوئی ہے اور رسول خدانے اپنی بے شمار احادیث کے ذریعہ ( انشاء اللہ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے ) لوگوں کویہ بتایا کہ یہ عہدہ امامت قیامت تک انہیں مخصوص حضرات سے مربوط ہے کیو نکہ یہ صاحب عصمت ہیں اور اس عہدے کے تمام شرائط ان کے اندر پائے جاتے ہیں ۔

عصت کے متعلق دوحدیث

عن ابن عبّاس قال سمعت رسول اللّه صلیٰ اللّه وآله وسلم یقول : أناوعلیِ والحسن والحسین وتسعة من ولد الحسین مطهّرون معصومون ( ۱ ) ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور علی ،حسن و حسین اور حسین کی نسل سے ان کے گیارہ فرزندپاک اور معصوم ہیں ۔

قال امیر المومنین :اِنّ اللّه تبارک وتعالیٰ طهّرنا وعصمنا وجعلنا شهداء علیٰ خلقه وحجّته فی أرضه وجعلنا مع القرآن وجعل القرآن معنا لانفارقه ولا یفارقنا ( ۲ )

مولائے کائنا ت نے فرمایا : بیشک خدا نے ہمیں پاک ومعصوم بنایا ہے اور اپنی مخلوق کا گواہ اور زمین پر حجت قرار دیا اور ہمیں قرآن کے ساتھ اورقرآن کو ہمارے ساتھ رکھا ہے نہ ہم قرآن سے الگ ہو سکتے ہیں نہ قرآن ہم سے الگ ہوسکتا ہے ۔

____________________

(۱)ینابیع المودة ص ۵۳۴

(۲) اصول کا فی کتاب الحجة


سوالات

۱۔ مولا ئے کائنات کی امامت پر عقلی دلیل بیان کریں ؟

۲۔آیة تطہیر سے اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں حدیث سے ثابت کریں ؟

۳۔ آیة تطہیر میں پیغمبر کی ازواج شامل کیوں نہیں ہوسکتی ہیں ؟

۴۔ بارہ اماموں کی امامت کے سلسلہ میں مولائے کا ئنات کی حدیث بیان کریں ؟


چھبیسواں سبق

قرآن اور مولائے کا ئنات کی امامت

آیة ولایت

( اِنَّمَا وَلیکُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمُنوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلٰوةَ وُیُؤتُونَ الزَّکٰوةَ وَهُم رَاکِعُونَ ) ایمان والو تمہارا ولی بس اللہ ہے او ر اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جونماز قائم کرتے ہیں اورحالت رکوع میں زکاةدیتے ہیں۔( ۱ )

خدا وند عالم نے اس آیت میں لفظ ،،انما،، کے ذریعہ جو انحصار پر دلا لت کرتاہے۔ مسلمانوں کا ولی و سرپرست صرف تین شخصیتوں کوقرار دیاہے خود خدا، پیغمبر اور جو لوگ صاحبان ایمان ہیںکہ جونماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔

آیة کا شان نزول

آیت سے خدا اورسول کی ولا یت میں کسی کو شک نہیں لیکن تیسری ولایت

____________________

(۱) سورہ مائدہ آیة: ۵۵


( ''والذین آمنوا'' ) کے بار ے میں شیعہ اور سنی دونو ں کے یہا ں بے شمار حدیثیں پائی جاتی ہیں کہ یہ آیة مولا ئے کا ئنات ںکی شان میں نازل ہوئی ہے اس وقت کہ جب انھو ںنے حالت رکوع میں اپنی انگو ٹھی سائل کو دے دی شیعوں میں اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیںاوراہل سنت کے علماء میں سے فخر رازی نے تفسیرکبیر میں ،زمخشری نے کشاف میں ،ثعلبی نے الکشف والبیان میں ، نیشاپوری بیضاوی ،بہیقی ،نظیری اورکلبی نے اپنی اپنی تفسیر وں میں ،طبری نے خصائص میں ، خورازمی نے مناقب ،احمد بن حنبل نے مسند میں ،یہاں تک کہ تفتازانی اورقوشجی نے اتفاق مفسرین کا دعوی کیا ہے غایة المرام میں ۲۴ حدیثیں اس سلسلے میں اہل سنت سے نقل کی گئی ہیں ،مزید معلو ما ت کے لئے الغدیر کی دوسری جلد اور کتاب المراجعات ،کی طرف رجوع کریں ۔

یہ مسئلہ اس حد تک مشہور ومعروف تھا اور ہے کہ (پیغمبر کے زمانے کے مشہورشاعر)حسان بن ثابت نے اسے اپنے شعر کے ذریعہ بیان کیااور مولا سے مخاطب ہو کرکہتے ہیں:

فأنتَ الَّذیِ أَعطیت اِذ کنت راکعاً

زکاةً فَد تک النفس یا خیرراکع

فانزل فیک اللّه خیر ولا یة

وبیّنها فی محکمات الشرائع

''اے علی آپ نے حالت رکوع میں زکوة دی ۔میری جان آپ پر قربان اے بہترین رکوع کرنے والے ''

خدانے بہترین ولایت آپ کے لئے نازل کی اور قرآن میں اسے بیان فرمایا ،لہٰذا مولائے کائنات تمام مومنین کے ولی مطلق ہیں اور عقل کی رو سے ایسا شخص ابوبکر وعمر وعثمان کا تابع نہیں ہوسکتا ،ہاں اگر یہ افراد مومن تھے تو ا ن کو مولائے کائنات کی اتباع وپیروی کرنی چاہئے ۔


دواعتراض اور انکا جواب

بعض اہل سنت کا کہناہے کہ ولی کے معنی دوست اورساتھی کے ہیںنہ کہ رہبر وولی مطلق کے ۔

جو اب :

الف )پہلی بات تویہ کہنا ہی نص آیة اورظاھر کے خلاف ہے اس سے ہٹ کر ولی کے معنی عرف عام میں ولی مطلق ،اور اولی بہ تصرف کے ہیں اور دوسرے معنی میں استعمال کے لئے قرینہ کی ضرورت ہے چونکہ اولی کا لفظ آیت میں( النَّبُّ أَولیٰ بِالمُؤمنِینَ مِن أنفُسهِم ) ( ۱ ) کا لفظ حدیث غدیر میں ''من کنت مولاہ'' ولایت مطلق پرواضح طور پر دلا لت کرتا ہے ۔

ب) آیة ولایت میں لفظ ''انما'' کے ذریعہ انحصار ہے اور دوستی صرف خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور علی ہی پر منحصر نہیں ہے ۔بلکہ تمام مومنین ایک دوسرے کے دوست ہیں جیسے کہ خدا وند عالم نے فرمایا( المُؤمنُون والمؤمنات بعضهم أولیائُ بَعضٍ ) اب چونکہ دوستی کا انحصار فقط خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وعلی سے مختص نہیں ہے۔( ۲ )

____________________

(۱)الاحزاب آیة:۶

(۲) سورہ توبہ آیة:۷۱


بلکہ اس کاتمام مومنین سے ہے آیہ( اِنَّما وَلیُّکُم اللّه ) (میں انحصار کاحکم ہے لہٰذا ولا یت کے معنی رہبر وولی مطلق کے ہیں۔

بعض متعصب اہل سنت نے اعتراض کیاکہ مولائے کائنات جب نماز میں اتنا محو رہتے تھے کہ حالت نماز میں تیر نکلنے کابھی انہیںپتہ نہیں چلتا تھا تو کس طرح ممکن ہے کہ سائل کے سوال کو سن کر اس کی طرف متوجہ ہوئے ہوں۔

جواب:

یقینا مولا ئے کائنات حالت نماز میں مکمل طور سے خدا کی طرف دھیان رکھتے تھے، اپنے آپ اور ہر مادی شی ٔ سے جو روح عبادت کے منافی ہوتی تھی بیگانہ رہتے تھے ۔لیکن فقیر کی آواز سننا اور اس کی مدد کرنا اپنی طرف متوجہ ہونا نہیں ہے بلکہ عبادت میں غرق ہو نے کی دلیل ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ آپ کا یہ فعل عبادت میں عبادت ہے اس کے علاوہ عبادت میں غرق ہونے کامطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اپنے اختیارات کھو بیٹھیں یا بے حس ہو جا ئیں بلکہ اپنے اختیار کے ذریعہ اپنی توجہ اور وہ چیز جوراہ خدا میں سد راہ ہے اس سے اپنے آپ کو الگ کرلیں ۔

یہا ں نمازبھی ایک عبادت ہے اور زکوة بھی ،اور دونوںخداکی خوشنودی کے راستے ہیں ،لہٰذا مولائے کائنات کومتوجہ ہونا صرف خداکے لئے تھا اس کی دلیل خود آیت کانازل ہو نا ہے ،جو تواتر سے ثابت ہے ۔


آیت اطاعت اولی الامر:

( یَاأیُّها الَّذینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَأطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِ الأمرِ مِنکُم ) ''ایمان والواللہ کی اطاعت کرو اوراس کے رسول اورصاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں''۔( ۱ )

اس آیت میں صاحبان امرکی اطاعت بغیر کسی قید و شرط کے خد ااوررسول کے اطاعت کے ساتھ واجب قرار دیاہے شیعوں کانظریہ ہے کہ اولی الامر سے مراد بارہ امام معصوم ہیں اوراہل سنت سے بھی روایت پائی جاتی ہے کہ اس سے مراد امام معصوم ہیں۔

مشہور مفسر ،ابوحیان اندلسی مغربی نے اپنی تفسیر بحارالمحیط ،اور ابوبکر مومن شیرازی نے اپنے رسالہ اعتقادی میں ،سلیمان قندوزی نے ینابیع المو دة میں ان روایتوں کو بطور نمونہ ذکر کیا ہے ،شیعوں کی تفسیر وں میں بھی اس آیت کے ذیل میں رجوع کریں منجملہ تفسیر برہان ،نورالثقلین ،تفسیر عیاشی ،اور کتاب غایة المرام اوردوسری بہت ساری کتابوں میں آپ رجوع کریں۔یہاں پر بعض احادیث کونقل کررہے ہیں جابر بن عبداللہ انصاری نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیاکہ اولی الامرجن کی اطاعت کا ہمیں حکم دیاگیا ہے اس سے مراد کون ہیں۔ ؟

آنحضرت نے جواب میں فرمایا : میرے بعد کے خلیفہ وجانشین جو میری ذمہ داریوں کو سر انجام دینے والے ان میں سب سے پہلے میرے بھائی علی ہیںان

____________________

(۱)سورہ نساء آیة:۵۹


کے بعد حسن وحسین علیہماالسلام پھر علی بن الحسین ان کے بعد محمد باقر (تم اسوقت تک رہوگے اور اے جابر! جب ان سے ملاقات ہو تو انہیں ہماراسلام کہنا)پھرجعفر صادق ان کے بعد موسی کاظم ا ن کے بعد علی الرضا ا نکے بعد محمد جواد پھر علی ہادی ان کے بعد حسن عسکری او ران کے بعد قائم منتظر مہدی میرے بعد امام او ر رہبر ہوںگے۔

اسی حدیث کو امام زمانہ کے سلسلے میں تفسیر نورالثقلین کی پہلی جلد میں صفحہ ۴۹۹ میں واضح طور سے بیان کیاہے ، عن أبی جعفر علیہم السلام: أوصیٰ رسول اللّہ اِلیٰ علی والحسن والحسین علیہم السلام ،ثم قال فی قول اللَّہ عزَّوجلَّ :( یَا أیُّها الَّذینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَأطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِ الأمرِ مِنکُم ) قالَ: الأَئِمة مِن وُلِد علیِ وفاطمه أِلی أن تقوم الساعة ( ۱ )

امام محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے مولائے کا ئنات اورحسن وحسین علیہم السلام کی امامت کے لئے وصیت کی ،پھرخد اکے اس قول کی طرف اشارہ کیا''أطِیعُوااللَّہَ'' اورفرمایا:بقیہ امام ،علی و فاطمہ کی اولا د سے ہوںگے یہاںتک کہ قیامت آجائے گی لہٰذا اولی الامر کی اطاعت کاتذکرہ جس آ یت میں ہے وہ چند طریقوں سے مولائے کائنات امیرالمومنین ںاورانکے گیارہ فرزندوں کی امامت پر دلالت کرتی ہے اولی الامر کی اطاعت خدا ور رسول کی اطاعت کے ساتھ ہے چونکہ اطاعت مطلق طور پرواجب ہے لہٰذا انہیں پہچانناضروری ہے ۔

جس طرح خد انے رسول خدا کی اطاعت کو واجب کرکے خود رسول کو معین

____________________

(۱) تفسیر نورا لثقلین ج ۱ ص۵۰۵، دلائل امامت ۲۳۱


کردیا اسی طرح جب اولی الامر کی اطاعت کا حکم دے رہا ہے تو ضروری ہے کہ انہیں بھی معین کرے ورنہ تکلیف مالایطاق ہوجا ئے گی(یعنی جسے ہم نہیں جانتے اس کی اطاعت ہمارے امکان سے با ہر ہے) بے شمار روایتوں نے آیت کے شان نزول کو مولائے کا ئنات اور ان کے گیا رہ فرزندو ں سے مختص کیاہے ۔

علی کی امامت اورآیت انذار وحدیث یوم الدار

حدیث یوم الدار

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بعثت کے تیسرے سال میں حکم ہوا کہ دعوت اسلا م کو علی الاعلان پیش کریں :( وَأنذِر عَشِیرَتَکَ الأَقرَبِین )( ۱ ) (اپنے قریبی رشتے داروں کوانذار کرو ،ڈرائو ) اس حکم کے ساتھ پیغمبر اسلام نے اپنے رشتے داروں کو جناب ابوطالب کے گھر میں اکٹھا کیا اورکھانے کے بعد فرمایا :اے عبد المطلب کے فرزندو! خد اکی قسم میں عرب میں کسی کو نہیں جانتاکہ اپنی قوم وقبیلہ کے لئے اس سے بہترچیز جو میں پیش کر رہا ہو ں اس نے پیش کی ہو ، میں دنیااور آخرت کی فلاح وبہبودی تمہارے لئے لایاہوں اورخدا نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس کی توحید اور اس کی وحدانیت اوراپنی رسالت کی طرف دعوت دوں،تم میں سے کون ہے؟ جو اس سلسلے میں میری مددکرے گاتاکہ وہ میرا بھائی میراولی وجانشین بن سکے ۔

کسی نے اس جانب کو ئی توجہ نہیںدی ۔پھر مولائے کائنات کھڑے

____________________

(۱)سورہ شعراء آیة:۲۱۴


ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ میں حاضر ہو ں ،اس سلسلہ میں آپ کا ناصر ومددگار ہوں یہاں تک تین مرتبہ پیغمبر نے اس جملہ کی تکرار کی،اور علی کے علاوہ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ، اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت کے گلے میں باہیں ڈال کے فرمایا : اِنَّ ھذا أخیِ وَوصییِّ وخلیفتی فیکم فاسمعوا لہ وأطیعوہ بیشک یہ میرابھائی ہے تم لوگوںمیں میراوصی وجانشین ہے اس کی باتو ں کو سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

اس حدیث کو اہل سنت کے علماء کرام جیسے ابن ابی جریر ، ابو نعیم ،بہیقی ،ثعلبی ابن اثیر ،طبری اور دوسرے بہت سے علماء نے نقل کیا ہے ،مزید معلومات کے لئے کتاب المراجعات کے صفحہ ۱۳۰ کے بعد اور احقاق الحق ج۴ کے ص ۶۲نیزاس کے بعد ملاحظہ فرمائیں ،یہ حدیث واضح طورپر علی کی ولا یت وامامت کو ثابت کرتی ہے ۔

سوالات

۱۔ آیت ولا یت ''انما ولیکم اللہ'' کے ذریعہ مولائے کا ئنا ت کی امامت کو کیسے ثابت کریں گے ؟

۲۔'' انما ولیکم'' میں ولی کس معنی میں ہے اور اس کی دلیل کیاہے ؟

۳۔ اطاعت اولی الامر کی دلالت کوبیا ن کریں ؟

۴۔ آیة انذار اور حدیث یوم الدار سے کس طرح مولائے کائنات کی

امامت پر استدلال کریں گے ؟


ستاسٔواں سبق

مولا ئے کا ئنا ت کی امامت اور آیة تبلیغ

( یَاأَیُّها الرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنِزلَ اِلیکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتهُ وَاللَّهُ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللَّه لَا یَهدِی القَومَ الکَافِرِین ) اے پیغمبر!ٍ آپ اس حکم کوپہنچادیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیاگیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ۔( ۱ )

خطاب کا انداز بتا رہا ہے کہ کو ئی اہم ذمہ داری ہے کہ جس کے چھو ڑنے سے رسالت ناقص ہو جائیگی اور یہ آیت یقینا توحید یا جنگ یادوسری چیزوں کے واسطے نہیں تھی چونکہ اس آیت کے نازل ہو نے سے پہلے یہ تمام مسائل حل ہو چکے تھے کیونکہ یہ آیت پیغمبر کی زندگی کے آخری وقت میں نازل ہو ئی ہے بغیر کسی شک کے یہ آیت مسئلہ امامت اور جانشین پیغمبر سے متعلق ہے۔ یہا ںتک کہ اہل سنت کے بے شمار علماء ،مفسرین اور مورخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مذکو رہ آیت

____________________

(۱)سورہ مائدہ آیة: ۶۷


واقعہ غدیر اور مولا ئے کا ئنا ت کے لئے نازل ہوئی ہے مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب مقدس الغدیر میں حدیث غدیرکو ۱۱۰ صحابہ سے اور ۳۶۰ بزرگ علماء اور مشہو ر اسلا می کتابو ں سے نقل کیاہے اورکسی نے اس حدیث کے صدور پر شک نہیں کیا ہے اگر آیة تبلیغ اور حدیث غدیر کے علا وہ کوئی دوسری آیت یا حدیث نہ بھی پا ئی جاتی تب بھی مولائے کا ئنات کی خلا فت بلا فصل کو ثابت کرنے کے لئے یہی دوآیتیں کا فی تھیں اس کے باوجود بے شمار آیتیں مولا ئے کا ئنا ت اور ان کے فرزندوں کی امامت کے سلسلہ میں نازل ہو ئی ہیں اورہمارا اعتقاد ہے کہ پوراقرآن مفسر اہل بیت ہے اور اہل بیت مفسر قرآن ہیں اور حدیث ثقلین کی نظر سے یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے ،اس سلسلہ میں روائی تفسیروں میں من جملہ نورالثقلین ،تفسیر برہان ،تفسیر عیاشی اور کتاب غایة المرام او ر دوسری بہت سی کتابو ں میں دیکھ سکتے ہیں ہم یہیں پر اس بحث پر اکتفا کرتے ہو ئے بحث کو مکمل کرنے کے لئے مشہور حدیث غدیر کو نقل کرتے ہیں ۔

مولا ئے کا ئنات کی امامت اور حدیث غدیر

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۰ھمیں مکہ کی طرف حج کے قصد سے گئے یہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آخری حج تھا لہٰذا تاریخ میں اسے حجة الوداع بھی کہتے ہیں اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ ایک لا کھ بیس ہزار صحابی تھے مدینہ کی طرف واپسی پر ۱۸ ذی الحجہ کو غدیر خم (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے ) میں جبرئیل نازل ہو ئے او راس آیت کو پیش کیا( یَاأَیُّهاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنِزلَ اِلیک مِنْ رَبِّک وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتهُ وَاللَّهُ یَعصِمُک مِنَ النَّاس اِنَّ اللَّه لَا یَهدِی القَومَ الکَافِرِین )


قبل اس کے کہ مسلمان یہا ں سے جداہو ں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سب کو رکنے کاحکم دیا جوآگے بڑھ گئے تھے انہیں پیچھے بلا یا اورجو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظارکیا بہت گرم اور جھلسا دینے والی ہوا چل رہی تھی مسلمانوں نے نماز ظہر پیغمبر اسلام کی امامت میں ادا کی، نماز کے بعد آنحضرت نے طویل خطبہ پڑھااور اس کے ضمن میں فرمایا :میں جلد ہی خدا کی دعوت پر لبیک کہنے والا ہوں اور تمہارے درمیان سے چلاجائو ں گا پھر فرمایا :اے لوگوں! میری آواز سن رہے ہو سب نے کہا ،ہاں ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :یَا أَیُّهاالنَّاس مَن أولَیٰ النّاس بالمُؤمنین من أ نفسهم اے لوگو! مومنین کے نفوس پر کون زیادہ حقدار ہے ، سب نے ایک آواز ہوکر کہا خدا اوراس کا رسول بہتر جانتا ہے حضرت نے فرمایا خدا میرا رہبر ومولاہے اور میں مومنین کارہبر ومولاہوں او رمومنین پر ان سے زیادہ میراحق ہے پھر مولا ئے کا ئنا ت کو ہاتھو ں پہ بلند کیا اور فرمایا:''مَنْ کنت مولاه فعلِّمولاه'' جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں اس جملہ کو تین بار دہرایا پھر آسمان کی طرف سر کو بلند کیا اور فرمایا:''اللَّهمَّ والِ مَن وَالاه وعاد مَنْ عاداه وانصر من نصره واخذل مَن خذله ُ''خدا یا! تو اس کو دوست رکھ جو اس (علی )کو دوست رکھے تو اس کی مدد کر جو اس کی مددکرے تواس کو رسواوذلیل کر جوان کی عزت نہ کرے


پھر فرمایا : تمام حاضرین غائبین تک یہ خبر پہونچا دیں ابھی مجمع چھٹا نہیں تھا کہ جبرئیل نازل ہو ئے اور اس آیت کی پیغمبر پر تلا وت کی :( الیَومَ أکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَأَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِ وَرَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دیناً ) ''آج میں نے تمہارے لئے دین کوکامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتوں کوتم پر تمام کر دیاہے او رتمہارے دین اسلام سے راضی ہوگیا''۔( ۱ )

اسی وقت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :اللَّهُ أَکبرُ اللّّه أکبرُ علیٰ ٰاِکمال الدِّین واِتمام النّعمة ورِضیٰ الرّب برسالتِوالولایة لعلیّ مِن بعدیِ اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے دین کو کامل کرنے ،اور اپنی نعمتوں کے تمام کرنے اورمیری رسالت پر راضی ہونے ،اور میرے بعد علی کی ولایت پر راضی ہو نے پر ، اسی وقت لوگو ں کے بیچ ایک خبر گشت کرنے لگی او ر تمام لوگ مولائے کائنا ت کو اس مقام و منزلت پر مبا رک باد پیش کرنے لگے یہاں تک عمر نے لوگو ں کے درمیان مولا ئے کا ئنا ت سے کہا:''بخِِ بخِِ لَک یابنَ أَبیِ طالب أَصبحتَ وأَمسیتَ مولایِ ومولیٰ کُلّ مُؤمن ومؤمنة''مبارک ہو مبارک اے ابو طالب کے بیٹے آپ کی صبح وشام اس حالت میں ہے کہ میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے مولا ہیں اس حدیث کو مختلف الفاظ میں کبھی تفصیل کے ساتھ کبھی اختصار سے بے شمار علماء اسلام نے نقل کیا ہے اس حد تک کہ کسی کو بھی اس کے صادر ہونے پر شک نہیں ہے مرحوم بحرانی

____________________

(۱)سورہ مائدہ آیة:۳


نے اپنی کتاب غایة المرام میں اس حدیث کو ۸۹ سند کے ساتھ اہل سنت سے اور۴۳ سند کے ساتھ شیعہ سے نقل کیاہے اوراس سلسلہ میں بہترین کتاب جولکھی گئی ہے وہ ''الغدیر ''ہے جسے علامہ امینی نے بے انتہا زحمتوں کے بعد لبا س وجود عطا کیا ہے ۔

لفظ مولا کے معنی پر اعتراض اور اس کا جو اب

جب بعض نے یہ دیکھا کہ حدیث کی سند انکا ر کے قابل نہیں تو لفظ مولا کے معنی میں شک ایجاد کیا اور کہنے لگے کہ یہ دوست کے معنی میں ہے ۔

جو اب :

دس دلیلوں کی بنا پر لفظ مولی صرف ولا یت ورہبری کے معنی میں ہے اور دوست کے معنی ہر گز نہیںہو سکتے ۔

۱۔ خو د پیغمبر اسلام نے علی کے تعارف سے قبل فرمایا :''مَنْ أَولیٰ النّاس بالمؤمنین مِن أنفسھم'' اور پھر یہ جملہ''من کنت مولاہ فعلی مولاہ'' ' فرمایا توپھر جس طرح پہلا جملہ ولا یت کے لئے ہے ، دوسرے کو بھی اسی طرح ہو نا ضروری ہے تاکہ دونو ں جملہ میں ربط باقی رہے ۔

۲۔ آیة تبلیغ جو مولا ئے کا ئنا ت کو پہنچنوانے سے قبل نازل ہو ئی پیغمبر سے خطاب کرکے فرمایا : اگر آپ نے یہ نہ کیاتوگویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا،کیا اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی سے دوستی کا اعلان نہیں کرتے تو رسالت ناقص رہتی ؟ جبکہ متعدد بار رسول اسلا م حضرت علی سے بے انتہا محبت اور دوستی کا اظہار کر چکے تھے یہ کو ئی نئی بات نہیں تھی ۔


۳۔ کیا یہ بات معقول ہے کہ وہ پیغمبر جسے''مَایَنطِقُ عن الهَوی ٰ''کا خطاب ملا ہو ا س سخت گرمی میں ہزاروں لوگو ں کوروک کر کہے :اے لوگو ں جس کا میں دوست ہو ں علی بھی اس کے دوست ہیں۔ ؟

۴۔ جو آیتیں علی کے تعارف کے بعد نازل ہوئیں ہیں جیسے الیوم آج دین کامل ہوگیا نعمتیں تم پر تمام کردیں او رتمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا۔( ۱ ) دوسری آیت( الیَومَ یَئِس الّذین کَفَرُوا ) .....اور کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے( ۲ ) یہ تمام چیزیں کیا اس بناپر تھیں کہ پیغمبر نے علی کو دوست بنایا تھا۔ ؟

۵۔ وہ تمام خو شیاں اور حتی عمر کی مبارکبادی صرف پیغمبر اور علی کی دوستی کی وجہ سے تھی کیا یہ کوئی نئی بات تھی۔ ؟

۶۔پیغمبر اسلام اورائمہ معصومین نے یوم غدیر کومسلمانوں کے لئے سب سے بڑی عید قرار دیا ہے تاکہ ہر سال یہ واقعہ زندہ رہے کیا صرف دوستی کااعلان کرنا ان تمام چیزوں کا باعث بنا کہ اسے سب سے بڑی عید قرار دے دیا جائے ۔؟

۷ ۔تعارف کرانے سے پہلے آیت آئی( ''واللّه یَعصِمُک مِنْ النَّاسِ ) ''کیا پیغمبر اسلام علی سے دوستی کا اعلا ن کرنے سے ڈر رہے تھے کہ خدا کو کہنا پڑا کہ خدا آپ کو دشمنو ں کے شر سے محفوظ رکھے گا یاامامت اورجانشینی کااہم مسئلہ تھا۔ ؟

۸۔ شعراء اور ادیبوں نے اس وقت سے لے کر آج تک جو اشعار غدیر کے سلسلہ میں کہے ہیں ان سب نے خطبہ غدیر کو ولا یت اور امامت مولائے کا ئنات

____________________

(۱) سورہ مائدہ آیة۳

(۲) سورہ مائدہ آیة ۳


سے مرتبط ماناہے اور مولائے کائنات کی جانشینی کو بیان کیاہے ان اشعار کا تذکرہ علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر کی پہلی جلد میں کیا ہے۔ ؟

۹۔ مولائے کائنات اور دوسرے ائمہ معصومین نے بہت سی جگہوں پر حدیث غدیر کے ذریعہ اپنی امامت ثابت کی ہے اور سب نے ان کے کلام سے ولایت ورہبری کو جانا،قائل ہوئے اور قبول کیا ۔

۱۰۔ مرحوم علامہ امینی نے الغدیر کی پہلی جلد کے ص ۲۱۴ پر اہل سنت کے مشہو ر مفسر ومورخ محمد جریر طبری سے نقل کیاہے کہ پیغمبر اسلام نے آیت تبلیغ کے نازل ہونے کے بعد فرمایا : کہ جبرئیل خداکی طرف سے حکم لائے ہیں کہ اس جگہ رک کرسبھی اورسب کالے اور گورے کو بتادیں کہ: علی ابن ابی طالب میرے بعد میرے بھائی میرے وصی و جانشین اورامام ہیں۔

سوالات

۱۔آیةتبلیغ مولائے کائنات کی امامت پر کیوں کر دلالت کرتی ہے ؟

۲۔ حدیث مقدس غدیر کا خلاصہ بیان کریں ؟

۳۔کیوں لفظ مولا حدیث غدیر میں صرف ولایت اور رہبری کیلئے آیا ہے ؟


اٹھائیسواں سبق

حضرت مہدی ں (قسم اول )

امامت کی بحث کے بعد ،امام زمانہ کے سلسلہ میں اب مختصر سی بحث ضروری ہے کچھ روایتیں جواہل سنت کے یہاں پائی جاتی ہیں پہلے ان کاذکر کرتے ہیں تاکہ وہ رواتیںان کے لئے دلیل بن سکیں ۔

قال رسول اللّه :یخرجُ فی آخرالزمان رجل من ولدیِ اسمه کاسمیِ وکنیته ککنیتیِ یملأ الأرض عدلًا کما ملئت جوراً فذلکَ هوالمهدی ِ :آخر زمانے میں ہماری نسل سے ایک ایساشخص قیام کرے گا جس کا نام میرے نام پر ہو گا اور جس کی کنیت میری کنیت ہوگی ، اوروہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی اوروہی مہدی علیہ السلام ہیں۔( ۱ )

قال النبی صلی اللّه علیه وآله:''لولم یبق من الدهر اِلّا یوم لبعث اللّه رجلاً مِن اهل بیتی یملأها عدلاً کما مُلئت جَوراً '' اگر اس دنیاکے ختم ہونے میں ایک دن بھی باقی رہے گا تو اس دن بھی خدا وند عالم میرے اہل بیت سے ایک شخص کومبعوث کرے گا تاکہ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے جس

____________________

(۱) التذکرہ ص۲۰۴ ۔منھا ج السنہ ص ۲۱۱۔


طرح ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی ۔( ۱ )

قال رسول اللّه : ''لا تذهب الدّنیا حتی یقوم مِن أمتیِ رجل من ولد الحُسین یملأ الأَرض عدلاً کما مُلئت ظلماً ''اس دنیا کا اختتام اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ ہماری امت سے ایک شخص قیام نہ کرے جو نسل امام حسین سے ہو گا وہ زمین کوعدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھری ہو ئی ہوگی ۔( ۲ )

شیعہ مصنفین نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں بے شمارروایتیں حضرت مہدی کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔لیکن مطلب روشن ہونے کی خاطر انہیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

حضرت مہدی ں کی مخفی ولا دت

حضرت حجت بن الحسن المہدی کی ولا دت پندرہ شعبان ۲۵۵ ھ کوہوئی ماں کا نام نرجس اورباپ کا نام امام حسن عسکری ہے ۔مخفی ولا دت کاسبب یہ تھا کہ امام کی ولا دت ایسے زمانے میں ہوئی جب عباسی دور خلافت کے ظالم وجابر اسلامی حکمران ملکوں پر قابض تھے وہ بہت سی حدیثوں کے ذریعہ جانتے تھے کہ امام حسن عسکری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو ظالم اور ستمگر حکومتوں کوجڑ سے اکھاڑ پھینکے گا لہٰذا وہ اس تاک میں تھے کہ قائم آل محمد کی ہر نشانی کومٹادیں، اسی لئے متوکل عباسی نے ۲۳۵ ھ ق میں حکم دیا کہ حضرت ہادی اور ان کے رشتہ داروں کو مدینہ سے سامرہ

____________________

(۱)ینابیع المودة ،ج۳،ص۸۹ سنن سجستانی ،ج ۴ ص ۱۵۱ مسند ، ج ۱ ص ۹۹ نورالابصار ،ص۲۲۹

(۲) مودة القربی ،ص ۹۶ ینابیع المودة ص ۴۵۵


(حکومت کے پایہ تخت ) میں لایا جائے اور عسکر نامی محلے میں مستقر کر کے ان پر کڑی نظر رکھی جائے معتمد عباسی امام حسن عسکری کے اس نومولددفرزندکاشدت سے انتظار کررہا تھا اور اس نے اپنے جواسیس اور دائیوں کو اس امرکے لئے معین کرد یاتھا تاکہ علویوںکے گھروں خاص کر امام حسن عسکری کے گھرکا وقتا فوقتا معاینہ کریںاور اگر کوئی بچہ ملے جس پر منجی بشریت کاگمان ہوتو اسے فوراً قتل کردیا جائے اسی لئے احادیث معصومین میں امام زمانہ کی مخفی ولا دت کو جناب موسی کی ولادت سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسی خاطر ان کی ماں کاحمل ،موسی کی ماں کی طرح ظاہر نہیں ہوا او ر کسی کو علم نہیں تھا ،حتیٰ حکیمہ خاتون (امام حسن عسکری کی پھوپھی) کو بھی علم نہیں تھاجب نیمہ شعبان کی رات امام نے ان سے کہا ،آج رات یہیں ٹھہریں (چونکہ آج وہ بچہ آنے والا ہے جس کا وعدہ کیاگیا ہے ) تو انھوں نے تعجب کیا،کیونکہ نرجس خاتون میں حمل کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے جب امام زمانہ کی ولا دت ہوئی تو ان کے والد انہیںلوگوںکی نظروں سے چھپا کے رکھتے تھے ،صرف اپنے مخصوص اصحاب کو انکی زیارت کرائی ۔

شیخ صدوق اپنی کتاب اکمال الدین میں احمد بن حسن قمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امام حسن عسکری کے یہاں سے ایک خط ہمارے دادا (احمد بن اسحق ) کے پاس آیا ،جس میں لکھا تھا :ہمارے یہاں بچہ پیداہواہے لیکن یہ خبر لوگوں سے چھپی رہے کیونکہ اس بات سے ہم صرف اپنے اصحاب اور قریبی رشتہ داروں کو ہی مطلع کررہے ہیں ۔


امام زمانہ کی خصوصیت

۱۔امام زمانہ کانورائمہ کے نور کے درمیان اس ستارہ کی مانند ہو گا جوکواکب کے درمیان درخشاں ہو تا ہے ۔

۲۔ شجرہ شرافت ،پدر کے ذریعہ ائمہ علیہم السلا م اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک او رماں کے ذریعہ قیصر روم اورشمعون الصفا حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کے وصی سے ملتا ہے ۔

۳۔ولا دت کے روز امام زمانہ کو عرش لے جا یا گیا اور خدا کی جانب سے آواز آئی، مرحبا اے میرے خاص بندے ،میرے دین کی مدد کرنے والے ،میرے حکم کوجاری کرنے والے ،اور میرے بندوں کی ہدایت کرنے والے ۔

۴۔نام اورکنیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام اورکنیت پر ہے ۔

۵۔ وصی کا سلسلہ امام زمانہ پر ختم ہے ،جس طرح پیغمبر اسلام خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح امام زمانہ خاتم الا وصیاء ہیں ۔

۶۔ ابتدائے ولا دت سے ہی روح القدس کے سپرد ہیں ، مقدس فضا اورعالم انوار میں تربیت ہوئی اٹھنا بیٹھنا مقدس ارواح اور بلند ترین لوگو ں کے ساتھ ہے ۔

۷۔ کسی ظالم وجابر کی بیعت نہ کی تھی، نہ کی ہے اور نہ کریں گے۔

۸۔امام زمانہ کے ظہور کی عجیب وغریب ،زمینی او رآسمانی نشانیاں ظاہر ہوں گی ،جوکسی حجت کے لئے نہیں تھیں ۔

۹۔ ظہور کے قریب آسمان سے ایک منادی آپ کے اسم گرامی کو پکا رے گا ۔

۱۰ ۔وہ قرآن جو امیرالمومنین نے پیغمبر کے انتقال کے بعد جمع کیا تھا اور محفوظ رکھا تھا وہ امام کے ظہو ر کے وقت ظاہر ہوگا ۔

۱۱۔ عمر کا طولا نی ہونا یاشب وروز کی گردش سے آنجنا ب کے مزاج یا اعضاء وجوارح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔اور جب سرکار کاظہور ہوگا توآپ ایک چالیس سالہ جوان کی مانند نظر آئیں گے ۔

۱۲۔ ظہور کے وقت زمین اپنے تمام خزانے اور ذخیرے کو اگل دے گی ۔


۱۳ ۔لوگو ں کی عقل سرکار کے وجود کی برکت سے کامل ہوجائے گی ،اور آپ لوگو ں کے سروں پر ہاتھ پھیریں گے جس سے لوگوںکے دل کا کینہ وحسد ختم ہوجائے گااورلوگوں کے دل علم سے لبریز ہوں گے ۔

۱۴۔ آپ کے اصحاب کی عمر کافی طولانی ہوگی ۔

۱۵۔مرض ،بلاء ،مصیبت، کمزوری، غصہ، یہ تمام چیزیں آپ کے اصحاب کے جسم سے ختم ہوجائے گی اور ان کے اصحاب میں ہر ایک کی طاقت چالیس جوان کے برابر ہوگی ۔

۱۶۔آپ کی حکمرانی اور سلطنت مشرق سے مغرب تک پوری دنیا پر ہوگی ۔

۱۷۔ پوری دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی ۔

۱۸۔بعض مردے زندہ ہوکر آپ کے ساتھ ہوجا ئیں گے منجملہ ۲۷افراد اصحاب موسی سے اور ۷ آدمی اصحاب کہف سے ۔یوشع بن نون ،سلمان ،ابوذر،مقداد مالک اشتر یہ لوگ تمام شہروں میں حاکم ہوں گے ۔ اور جو بھی چالیس صبح دعائے عہد پڑھے گا اس کا شمار امام کے ساتھیوں میں ہوگا او راگر حضرت کے ظہور سے پہلے انتقال کر گیا تو خدا وند عالم اسے زندہ کرے گا تاکہ امام کی خدمت میں حاضری دی سکے۔


۱۹۔ وہ تمام الٰہی احکام جو ابھی تک نافذ نہیں ہو سکے نافذ ہوں گے ۔

۲۰۔علم کے تمام۲۷ حروف ظاہر ہوجا ئیںگے ۔اور امام کے ظہور تک صرف دو حرف ظاہر ہو ئے ہوںگے ۔

۲۱۔ کفا ر ومشرکین سے تقیہ کا حکم ،آپ کے زمانہ میں ہٹا لیا جائے گا۔

۲۲۔ کسی سے گواہی یا دلیل نہیں مانگی جائے گی،امام خود حضرت داود کی طرح اپنے علم امامت سے فیصلہ کریں گے ۔

۲۳۔ با رش، درخت ، ہریالی ،میوہ جات اور دوسری نعمتیں بے شمار ہوں گی۔

۲۴۔آپ کی مدد کے لئے جناب عیسی آسمان سے اتریں گے اور آپ کے پیچھے نما ز پڑھیں گے۔

۲۵۔ ظالموں کی حکومت اور جابروں کی سلطنت کا خاتمہ ہوجائے گا ۔

لِکلِّ أُناس دولة یرقبونها

ودولتنا فی آخر الدَّهر تظهر

روایت میں ہے کہ امام صادق ہمیشہ اس شعر کو زمزمہ کیا کرتے تھے ۔

ترجمہ: (تمام لوگو ں کے لئے ہرزمانہ میں حکومت ہے جس پر وہ نظر جمائے ہیں اور ہماری حکومت آخری زمانہ میں ہوگی) امام زمانہ کی حکومت آنے پر تمام ائمہ معصومین رجعت فرمائیں گے۔( ۱ )

____________________

(۱) یہ ان خصوصیات کا خلا صہ ہے جنہیں محدث قمی نے منتھی الاما ل میں نقل کیا ہے ۔


سوالات

۱۔پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایسی روایت بیان کریں جوآپ کے ظہور اور آفاقی عدالت

پر دلا لت کرتی ہے ؟

۲۔ امام زمانہ کی ولا دت مخفی کیوں تھی ؟

۳۔ امام زمانہ کی خصوصیات بطور خلا صہ بیان کریں ؟


امام زمانہ کے شکل وشمائل (دوسری فصل )

روایت میں ہے کہ امام زمانہ رسول اللہ سے بہت زیادہ مشابہ ہوں گے اور آپ کے شکل وشمائل کے حوالے سے جو کچھ تاریخ میں درج ہے وہ یہ ہیں۔

۱۔سفیدی وسرخی کا سنگم نورانی چہرہ۔

۲۔ رخسار مبارک گندمی لیکن شب زندہ داری کے باعث زردی مائل۔

۳۔ کشادہ اور تابناک پیشانی۔

۴۔ بھویں آپس میں متصل اور ناک ستواں۔

۵۔دلکش چہرہ ۔

۶۔ ریش مبارک اور سر کے بالوں کی سیاہی پر رخ زیبا کانور غالب ہوگا۔

۷۔ داہنے رخسار پر ایک تل ہوگا۔

۸۔سامنے کے دندان مبارک میں (رسول خدا کی مانند ) شگاف ہوگا (جو حسن کو دوبالاکردے گا ) ۔

۹ ۔ آنکھیں سیاہ وسرمئی اور سرپر ایک نشان ہوگا ۔

۱۰۔ بھرے اور کشادہ شانے ۔

۱۱۔ روایت میں ہے کہ ''المھدِّ طاووس أھلَ الجَنَّةِ وجھہ کالقمر الدری علیہ جلابیب النور'' امام زمانہ اہل بہشت کے لئے طائووس (مور ) کی طرح ہیں آپ کاچہرہ چاند کی طرح منور اور جسم پر نورانی لباس ہوگا ۔

۱۲۔ نہ دراز نہ پستہ بلکہ میا نہ قد ہوںگے ۔

۱۳۔ قدوقامت ایسا اعتدال وتناسب کے سانچہ میں ڈھلا ہوگا کہ چشم عالم نے اب تک نہ دیکھا ہوگا ۔''صلی اللّہ علیہ وعلی آبائہ الطاہرین ''


امام زمانہ کی غیبت صغریٰ

غیبت صغریٰ کا آغاز آپ کے پدر بزگوار کی شہا دت اور ان پر نماز پڑھنے کے بعد ہو ا ۔اس غیبت میں امام زمانہ نے اپنے لئے خصوصی نائب چنے جن کے ذریعہ شیعوں کی ضروریات اور ان کے سوالات کا جواب دیتے تھے کچھ دن تک چار نمایندے ایک کے بعد ایک آپ کاحکم اور جو اب لے کر شیعوں تک پہنچاتے تھے ۔

امام کے پہلے نائب خاص :ابو عمر عثمان بن سعید العمری الاسدی تھے جن کی نیابت ۲۶۰ھ سے شروع ہوکر ۲۸۰ھ پر ختم ہو گئی ۔

دوسرے نائب :ان کے بیٹے محمد بن عثمان العمری تھے جو باپ کے انتقال کے بعد ۲۸۰ ھ سے ۲۰۵ ھتک نائب تھے ۔

تیسرے نائب :ابوالقاسم الحسین بن روح نو بختی جن کی نیابت ۳۰۵ ھ سے لے کر ۳۲۶ھ تک تھی ۔

چوتھے نائب :ابو الحسن علی بن محمد سمری ۳۲۶ھ سے لے کر ۳۲۹ ھتک تھے او ر اسی سال ۱۵شعبان کو انتقال کر گئے ۔

ان حضرات کے نیابت کی جگہ بغداد تھی اور یہ سب بغداد میں ہی مدفون ہیں اس کے بعد غیبت کبریٰ کا آغاز ہوجاتا ہے۔

امام زمانہ کی غیبت کبریٰ

امام زمانہ کی غیبت کبری علی بن محمد سمری کے انتقال سے چھ دن قبل امام زمانہ کی جانب سے توقیع شریف جاری ہوئی ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یا علیِّ بن محمّد ا لسّمری أعظم اللّه أجر اخوانک فیک فاِنّک میت ما بینک وبین ستة أیام فاجمع أمرک ولا توص اِلیٰ أحد فیقوم مقامک بعد وفاتک فقد وقعت الغیبة التامة فلا ظهور اِلاّ بعد اِذن اللّه تعالیٰ ذکره و ذلک بعد طول الأمد وقسوة القلوب وامتلاء الأرض جوراً وسیاتی من شیعتیِ مَن یدعیِ المشاهدة الا فمن ادعیٰ المشاهدة قبل خروج السّفیانیِ والصیحة فهوکذّاب مفترّ ولا حول ولا قوة اِلّا باللّه العَلِّی العظیم.


اے علی بن محمد سمری! ''خدا تمہاری موت پر تمہارے بھائیوں کو صبر اور اجر عظیم عطا کرے اب سے چھ دن کے اندر تمہارا انتقال ہوجائے گا ،لہٰذا اب تم اپنے امور کو مرتب کرلو اور آئندہ کے لئے کسی کو اپنا وصی مقرر نہ کرنا،جو تمہارے انتقال کے بعدتمہارا جانشین قرار پائے کیونکہ اب غیبت تامہ (کبری ) کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اب اس وقت ظہور ہوگا جب خدا کا حکم ہو گا اوریہ ایک طویل مدت اوردلو ں کے سخت ہوجانے اور زمین کے ظلم سے بھر جانے کے بعد ہی ہو گا ۔آئندہ زمانے میں ہمارے شیعو ں میں سے بعض اس بات کا دعوی کریں گے کہ ہم نے امام زمانہ کو دیکھا ہے لیکن جو شخص سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے مجھے دیکھنے کا دعوی کرے وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں سوائے بلند وعظیم خد اکے''۔( ۱ )

لہٰذا اب لوگ غیبت کبری میں علماء مجتہدین کی طرف رجوع کریں جیسا کہ خود امام زمانہ نے اسحاق بن یعقوب کے مسئلہ کے جواب میں جومحمد بن عثمان بن سعید سمری کے ذریعہ امام تک پہنچاتھا ۔آپ نے فرمایا :''وأمّا الحوادث الواقعة فارجعوا فیهااِلیٰ رواة أحَادیثنا فأِنّهُم حُجَّتِی علیکم وأنا حُجّة اللّهِ علیهم'' ا ب اگر کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوجا ئے تو اس میں راویان حدیث کی جانب رجوع کرنا کیونکہ یہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم خدا کی طرف سے ان کے لئے حجت ہیں۔

''اللَّهمَّ عَجّل فَرجه واجعلنا من أعوانه وأنصاره'' (آمین )( ۲ )

____________________

(۱) منتھی الامال نقل از شیخ طوسی وصدوق ۔(۲)بحث امامت کی تدوین و ترتیب میں حسب ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے ؛ بحارالانوار ، حق الیقین مرحوم مجلسی ؛ اثبات الھدی، شیخ الحر عاملی ؛ المراجعات شرف الدین ، بررسی مسائل کلی امامت ابراہیم امینی اصول اعتقادرا این گونہ تدریس کنیم ، امامی ، آشتیانی ، حسنی ) کتابھا ، عقائد آقایان مکارم شیرازی ، سبحانی استادی ری شہری، قرأتی کلمة الطیب ، مرحوم طیب۔


سوالات

۱۔امام زمانہ کے شمائل کو مختصر طور پر بیان کریں ؟

۲۔ غیبت صغری کسے کہتے ہیں اور یہ کب تک جاری رہی ؟

۳۔نواب اربعہ کے نام بتائیں ؟


انتیسواں سبق

ولایت فقیہ

عربی میں ولا یت کے دومعنی بیان کئے گئے ہیں ۱۔رہبری اور حکومت ۲ ۔ سلطنت( ۱ ) جب ولایت کسی فقیہ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی معاشرہ کی راہنمائی اور ان کی رہبری ہے اگر اسلام کے سیاسی نظام کی شرح کی جائے اور اس کے سیاسی پہلوئوں کو اجاگر کیاجائے تواس صورت میں ولایت فقیہ غیبت امام زمان میں اس مذہب کا ایک اہم رکن ہوگا ۔

اہل تشیع کے نزدیک عصر غیبت میں ولایت فقیہ ائمہ معصومین کی ولایت کی تکمیل واستمرار ہے جس طرح ائمہ کی امامت رسول کی ولا یت کا دوام ہے اس عقیدہ کااصل مقصد یہ ہے کہ اسلامی حکومت کی کلید باگ ڈور سنبھالنے کے لئے ایک صدر مقام ہو اور وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہوجواسلام کی صحیح شناخت رکھتا ہو اگر عصر معصوم ہے تو خود معصوم اس کی نظارت فرمائیں اور ان کی عدم موجودگی میں فقیہ جامع الشرائط اس عہدہ کو ذمہ دار ہو گا۔چونکہ اسلام کی نظرمیں حکومت کا اصل کام ضروریات اسلام اوراحکام اسلامی کو لوگوں کے درمیان نافذ کرنا ہے۔اور اس مقصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ حکم کوقطعی اور حتمی صورت دینے والا شخص دین کی مکمل شناخت رکھتاہو ۔

____________________

(۱) قاموس المحیط ص،۱۷۳۲ مصباح المنیر ج،۲ ص ۳۹۶ تاج العروس ج،۱۰ ص ۳۹۸ ۔


ولایت فقیہ پر دلیل

ولایت فقیہ پرعقلی دلیل

اس میں کو ئی شک نہیں کہ ہرسماج اورہر حکومت کے لئے رہبر کا ہونا ضروری ہے، اگر کسی سماج میں اسلامی حکومت وسلطنت ہو تو عقل کا تقاضا ہے کہ اس حکومت کی باگ ڈور ایسے ہاتھ میں ہوجو احکام وقوانین اسلامی کومکمل طور سے جانتا ہو، اب اگر امام معصوم لوگوں کے درمیان ہے تو وہ اس منصب کا حقیقی حقدار ہے ۔

لیکن زمانہ غیبت میں معاشرہ کی رہبریت کی صلا حیت رکھنے والا فقیہ عادل اس مقام کامستحق ہے۔دوسرے لفظوںمیں یوں کہاجائے کہ اسلامی قوانین اوراحکام اسلامی کوجاری کرنے والے کے لئے تین شرطوں کاہونا ضروری ہے ۔

۱۔''بہترین قانون شناس ہو'' ۲۔'' قوانین اسلام کابہترین مفسر ہو''

۳۔''قوانین اسلام کا بہترین عالم اور نافذ کرنے والاہو او ر کسی قسم کے اغراض ومقاصد کے تحت مخالفت کاقصدنہ رکھتا ہو ''۔

اس خصوصیت کا حامل اس زمانہ غیبت میں ولی فقیہ ہے ۔

ولایت فقیہ :یعنی ایسے اسلام شناس عادل کی طرف رجو ع کرناجو سب سے زیادہ امام معصوم سے قریب ہو ۔

دلیل نقلی:

ولایت فقیہ کے اثبات کے لئے بہت ساری روایتیں پائی جاتی ہیں جن میں بعض کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔

۱۔ توقیع شریف جیساکہ صدوق نے اسحاق بن یعقوب سے نقل کیاہے کہ امام زمانہ نے ان کے سوال کے جواب میں جوخط لکھا تھا وہ یہ حکم تھا۔


''وأمّا الحوادث الواقعة فارجعوا فیها اِلیٰ رواة أحَادیثنا فأِنّهُم حُجَّتِی علیکم وأنا حُجّة اللّهِ علیهم''اگر کو ئی مسئلہ درپیش ہوتو ہما رے راویان حدیث کی طرف رجو ع کریں کیونکہ وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم اللہ کی طرف سے ان پر حجت ہیں۔( ۱ ) مرحوم شیخ طوسی نے بھی کتاب ''الغیبة'' میں اس حدیث کونقل کیا ہے فقط''اَنَا حُجّةُ اللّهِ علیهم''کی جگه'' اناحجة الله علیکم''کالفظ استعمال کیاہے کہ (میں تم پر حجت خداہوں )اس حدیث سے اس طرح استدلال کیاجائیگاکہ اس حدیث میں امام زمانہ نے دوجملوں''فأِنّهُم حُجَّتِی علیکم وأنا حُجّة اللّهِ'' اس طرح بیان فرمایا جو بالکل روشن ہے راویا ن حدیث جویہی فقہاء ہیں ان کا حکم امام کے حکم کے مانند ہے یعنی فقہاء لوگوں کے درمیان امام کے نائب ہیں ۔

۲۔وہ حدیث جو امام صادق سے نقل ہوئی ہے اور مقبولہ محمد بن حنظلہ کے نام سے مشہور ہے ''مَنْ کا ن منکم قَد رویَ حدیثنا ونظر فیِ حلالنا وحرامنا وعرف أحکامنا فلیرضوا به حکماً فاِنِّی قد جعلته علیکم

____________________

(۱)اکمال الدین صدوق ج،۲ص ۴۸۳


حاکماً فاِذا حَکم بحکمنا فلم یقبله منه فانما استخف بحکم اللّه وعلینا ردّ والرّاد علینا کالرّاد علیٰ اللّه وهو علیٰ حدّ الشِّرک باللِّه'' ( ۱ )

تم میں جو بھی ہماری حدیثیں بیان کرے اور جو ہمارے حلال وحرام میں صاحب نظر ہو اور ہمارے احکام کو صحیح طریقہ سے جانتا ہو اس کی حاکمیت سے راضی ہو کیونکہ ہم نے ان کو تم سب پر حاکم قرار دیاہے اگر انھو ں نے ہمارے حکم کے مطابق حکم کیا اور قبول نہیں کیا گیا تو حکم خدا کو ہلکا سمجھنا ہے اور ہمارے قول کی تردید ہے اور ہماری تردید حکم خدا کی تردید ہے اور یہ شرک کے برابر ہے ۔آج کی اصطلاح میں فقیہ اس شخص کو کہتے ہیں جوحدیث کی روشنی میں حلال وحرام کو درک کرسکے ۔اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب امام معصوم کی موجود گی میں امام تک پہنچنا ممکن نہ ہو اور امام معصوم کی حکومت نہ ہو تو ایسی صورت میں لوگوں کاکام فقیہ جامع الشرائط کی طرف رجوع کرناہے اس زمانہ غیبت امام میں جبکہ کوئی امام موجود نہیں ہے تولوگو ں کی یہی ذمہ داری ہوتی ہے کہ فقیہ جامع الشرا ئط کی طرف رجو ع کریں ۔

۳۔شیخ صدوق امیر المومنین ںسے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا:''اللَّهمَّ ارحم خُلفائِ الّذین یأ تون مِن بعدیِ یرون حدیثیِ وسنتیِ'' ( ۲ ) خدا یا!ہمارے خلفاء پر رحم فرما آپ سے پوچھا گیا آپ کے جانشین کون ہیں ؟تو آپ نے فرمایا جو ہمارے بعد آئیں گے اورہماری سنت واحادیث کو نقل کریں گے ۔اس حدیث سے ولا یت فقیہ کے اثبات میں دو نکتہ پر غور کرنا ضروری ہے ۔

____________________

(۱) اصول کافی ج۱، ص ۶۷(۲) من لا یحضر ہ الفقیہ ج،۴ص ۴۲۰ وسائل الشیعہ ج ،۱۸ ص ۶۵


الف ) رسول اسلام تین چیزوں کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔

۱۔ آیات الٰہی کی تبلیغ احکام شرعی کی تو ضیح وتفسیر اور لوگو ں کی ہدایت کے لئے۔

۲۔ اختلافات اور تنازع کے وقت قضاوت کے لئے۔

۳۔ حکومت اسلامی کی تشکیل اور اس کی حسن تدبیر یعنی ولایت کے لئے۔

ب) جو رسول کے بعد آئیں گے اور ان کی سنت واحادیث کو بیان کریں گے ان سے مراد فقہاء ہیں ۔راویان ومحدثین مراد نہیں ہیں کیونکہ راویان حدیث فقط حدیث نقل کرتے ہیںاور ان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ یہ حدیث یاسنت خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہے بھی یانہیں ؟کو ن سی حدیث میں تعارض (ٹکرائو) ہے اور کون سی مخصصّ ہے ان تمام چیزوں کو وہی جانتا ہے جو مقام اجتہاد اور درجہ فقہاہت تک پہنچ چکا ہوتا ہے ان دو نکتوں کی جانب توجہ کرنے کے بعد اس حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ فقہا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین ہیں اور وہ تمام چیزیں جوپیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے تھیں (جیسے تبلیغ دین ، فیصلہ، حکومت وولایت ) ان کے لئے بھی ہیں ۔


ولی فقیہ کے شرائط

۱۔اجتہاد وفقاہت: دینی واسلامی حکومت میں سماج ومعاشرہ کی زمامداری اسلامی قوانین کی بنا ء پر ہو تی ہے لہٰذا جو شخص اس منزل و مقام پر ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی قانون کو اچھی طرح جا نتا ہو تاکہ معاشرہ کی رہبری کے وقت اس کے قانو ن کی مخالفت نہ ہو ۔ اور ان قوانین کا علم اجتہاد ی منزل میں ہو نا چاہئے ۔

۲۔ عدالت وتقوی :اگر عالم وفقیہ عدالت وتقوی سے دور ہوگا تواقتدار ومسند نشینی اس کو تباہ کردے گی بلکہ اس بات کا امکا ن ہے کہ ذاتی یاخاندانی منفعت کوسماجی وملی منفعت پر مقدّم کردے۔ولی فقیہ کے لئے پرہیزگا ری،امانتداری،اور عدالت شرط ہے تاکہ لوگ اعتما د اوراطمینا ن کے ساتھ مسند ولایت اس کے حوالے کردیں ۔

۳۔سماجی مصلحت کی شناخت اور اس کی درجہ بندی : یعنی مدیر ومدبر ہو ۔قال علی :''أَیُّها النّاس أِنَّ أحقّ النَّاس بهذا الأمر أقواهم علیه وأعلمهم بأمرِ اللّه فیه'' ( ۱ ) اے لوگو ! حکومت کامستحق وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ شجاع ہو اور احکا م الٰہیہ کا تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔( ۲ )

____________________

(۱)نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۳(۲) ولایت فقیہ کی بحث کو مصباح یزدی ہادوی تہرانی ، کی بحثوں سے اقتباس کیا ہے۔


سوالات

۱۔ ولایت عربی لغت میں کن معنوں میں مستعمل ہواہے اور ولایت فقیہ سے مرادکون ہیں؟

۲۔ ولایت فقیہ کے لئے عقلی دلیل بیان کریں ؟

۳۔ امام زمانہ کی توقیع مقدس جو فقہاء کے طرف رجو ع کے سلسلہ میں ہے بیان کریں ؟

۴۔ مقبولہ عمر وبن حنظلہ سے کس طرح استدلا ل کیاجا ئے گا ؟

۵۔ حدیث ''اللّھم اِرحم خلفائی'' میں ولی فقیہ کا امتیاز کیاہے ؟

۶۔ولی فقیہ کے شرائط کیا ہیں ؟


تیسواں سبق

معاد

توحید کے بعد اعتقادی امور میں قیامت سے اہم کوئی مسئلہ نہیں ہے، قرآن میں تقریبا بارہ سو آیتیں صرف معاد کے لئے ہیں ،اس طرح تقریبا ہر صفحہ پر معاد کاتذکرہ ہے اور تیس مقامات پر خداپر ایمان کے بعد اس دوسری دنیا پر ایمان کا تذکرہ ہے جیسے''و یؤمنون باللّہ والیوم الاخر'' خدا اوراس کی حکمت وعدالت اور قدرت پر ایمان ،معاد کے ایمان کے بغیر ناممکن ہے ۔

اعتقاد معاد کے آثار

۱۔معاد پر ایمان واعتقاد انسانی زندگی کوایک مفہوم عطاکرتاہے اوراس دنیا کی کھوکھلی زندگی سے رہائی دلاتا ہے ۔۲۔ معاد کا عقیدہ انسان کوکمال کے راستے پر گامزن کرتاہے اوراسے ادھر ادھر حیران وسرگردان ہو نے سے بچاتا ہے۔ ۳۔ معاد پر ایمان تمام احکام الٰہی کے اجراء کی ضمانت ،حقدار کو ان کا حق ملنے کا سبب اور انسان کو مشکلات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔۴۔معاد پر ایمان کا اصلی مقصد پاکیزگی نفس ،احکام شرعی پرعمل پیرا ہونا اورایثار وقربانی ہے ۔۵۔ معاد کا عقیدہ دنیاداری کے اس جڑکو اکھاڑ پھینکتاہے جس پر خطا ومظالم کی بنیاد ہے اوریہ فعل خود تمام گناہو ں سے دوری کا سبب ہے ۔


خلاصہ کلام یہ کہ معاد پر ایمان کے نتیجہ میں انسان کے اعمال میں بہت زیادہ فرق آجا تا ہے او راس کا گہرا اثر پڑتا ہے، کیونکہ انسان کے اعمال کی بازگشت اس کے اعتقادکی طرف ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ ہر انسان کے کردار اوراعتقاد کارابطہ دوسری دنیا سے براہ راست ہوتاہے جوبھی معاد پر اعتقاد رکھتا ہے اپنی اوراپنے اعمال کی اصلاح میں حد سے زیادہ سخت اور حساس ہوتاہے وہ جب بھی کوئی کام کرتاہے اس کا قطعی نتیجہ اپنی آنکھو سے دیکھ لیتاہے اسی لئے وہ ہمیشہ اپنے اعمال پر نظر رکھتاہے ان لوگو ں کے بہ نسبت جو مرنے کے بعد والی زندگی کی طرف توجہ نہیںکرتے، انکی دنیاوی زندگی عبث ،بیکا راور تکراری ہے اگر دنیا کی زندگی کو آخرت پر ایمان رکھے بغیر دیکھیں توبالکل ویسے ہے جیسے وہ بچہ جو بطن مادر میں ہے اور اس کے لئے یہ دنیا نہ ہو تو وہ ایک تاریک قید خانہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔

درحقیقت اگراس دنیا کا اختتام فقط فنا ونابودی ہے توکتناخوفناک اور بھیانک ہے یہاں تک آرام دہ زندگی بھی عبث اور بے فائدہ ہوجائے گی کچھ دن تک سادہ لوح اورناتجربہ کار پھر ہر طرح سے آمادہ کچھ دن غم وآلام کی زندگی پھر پیری وبڑھاپا اورموت ونابودی یہ سب کیامعنی رکھتا ہے تو پھر کس کے لئے زندہ ہیں ؟صرف کھانے لباس زحمات کامقابلہ کرنے کے لئے ؟


اس تکراری زندگی کو دسیوں سال کھینچنے سے کیا فائدہ؟ کیاواقعاً اتنا وسیع آسمان اور یہ زمین اور یہ حصول علم کی زحمت اور تجربات یہ اساتید اور مربی یہ سب فقط چند دن کی زندگی کے لئے تھے پھر ہمیشہ کے لئے فناونابودی ہے اس جگہ قیامت پر ایمان نہ رکھنے والو ں کے لئے زندگی کاعبث وبیکار ہو ناقطعی ہوجاتاہے لیکن جو لوگ معاد پر اعتقاد رکھتے ہیں دنیاکو آخرت کی کھیتی سمجھتے ہیں اس کسا ن کی مانند ہے جوفصل اس لئے اگا تاہے کہ اس سے ایک مدت تک بلکہ ہمیشہ اپنی زندگی بسر کرئے گا ۔زندگی ایک پل اور صراط مستقیم کی مانند ہے جس پر چل کرانسان ایک مقصد تک پہنچتاہے جیساکہ قرآن نے فرمایا :( وَفیهَا مَا تَشتَهِیهِ الأنفُسُ وَتَلذُّ الأعیُنُ ) ( ۱ ) وہاں ان کے لئے وہ تمام چیزیں ہوںگی جس کی دل میں خواہش ہو اور جو آنکھوں کوبھلی معلوم ہوتی ہو اورتم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو اس دنیا جیسی با عظمت( ''لاعینُ رأت ولا أذنُ سَمِعت'' نہ آج تک کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا او رنہ کسی کا ن نے سنا ہو گا ) مقام کوپانے کے لئے سختیاں آسان، کوششیں شیریں ہوجاتی ہیں مشکلا ت کو برداشت کرنا اور سختیوں کوتحمل کرنا بہت آسان لگتا ہے کیو نکہ اس کے نتیجہ میں ہمیشہ رہنے والا آرام وآسائش ہے قیامت پر ایمان رکھنے کا پہلا فائدہ بامقصد ہونا ہے کیونکہ قیامت پر اعتقاد رکھنے والوں کی نظر میں موت فناونابودی کانام نہیں بلکہ ایک ابدی زندگی کے لئے ایک روشن دان کی مانند ہے۔

____________________

(۱)سورہ زخرف آیة: ۷۱


قیامت پر ایمان رکھنے کا فائدہ قرآن کی نظرمیں

قیامت پر ایمان انسان کی تربیت کا اہم سبب ،اچھے کام انجام دینے اورمعاشرہ کی خدمت کرنے کامحرّک نیز گناہو ں سے روکنے کاایک مضبوط ذریعہ ہے قرآن میں اہم تربیتی مسئلہ کو اسی راستہ سے پیش کیاگیا ہے جیساکہ بعض آیات میں ہے کہ نہ تنہا قیامت پرایمان اور اعتقاد بلکہ ظن واحتمال بھی مثبت آثار کا باعث ہے ۔

۱۔( ألا یَظُنُّ أُولئِک أَنَّهُم مَبعُوثُونَ لِیوم ٍعَظیمٍ یَومَ یَقُومُ النَّاسُ لرِبِّ العَالَمینَ ) ( ۱ ) کیا انہیں یہ خیال نہیں کہ یہ ایک روز دوبارہ اٹھائے جا نے والے ہیں بڑے سخت دن کہ جس دن سب رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوںگے ۔

۲ ۔دوسری آیت میں اشارہ ہو ا ہے کہ صرف اس دوسری دنیا کی امید وتوقع ہی گناہو ں سے روکنے اورعمل صالح کرنے کے لئے کافی ہے( فَمَنْ کَانَ یَرجوا لِقَائَ رَبّهِ فَلیَعمَلْ عَمَلاً صَالحاً وَلا یُشرِک بِعبادَةِ رَبِّه أَحداً ) ''لہٰذا جو بھی اس کی ملا قات کاامید وار ہے اسے چاہئے کہ عمل صالح کرے اور کسی کو اپنے پرور دگار کی عبا دت میں شریک نہ بنا ئے''۔( ۲ )

۳۔ قرآن کا صریحی اعلان ہے کہ انسان کے افعال وکردار ابدیت کا لبا س پہن لیتے ہیں اورقیامت میں اس سے الگ نہیں ہو ں گے( یَومَ تَجدُ کُلَّ نَفَسٍ )

____________________

(۱)سو رہ مطففین آیة:۴تا۶

(۲) سورہ کھف آخری آیت


( مَا عَمِلت مِنْ خَیرٍ مُحضَراً وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوئٍ تَودُّ لوأَنَّ بَینَها وَبَینَهُ أَمَداً بَعیدا ) ( ۱ ) ''اس دن کو یاد کرو جب انسان اپنے اعمال نیک کو بھی حاضر پائے گا اور اعمال بد کو بھی جن کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش ہمارے او ران برے اعمال کے درمیان طویل فاصلہ ہوجاتا'' ۔

۴۔قیامت کا معتقد کسی اچھے یابرے کام کو چھو ٹا نہیں سمجھتا ہے کیو نکہ قرآن کے مطابق چھوٹی چیز کابھی حساب ہوگا( فَمَنْ یَعمَلْ مِثقَالَ ذَرةٍ خَیراً یَرَهُ وَمَنْ یَعمَل مِثقالَ ذَرةٍ شَراً یَرَهُ ) ( ۲ ) پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ بھی اسے دیکھے گا ۔

ایک شخص مسجد نبوی میں آیا اورکہنے لگا یا رسول اللہ! ہمیں قرآن کی تعلیم دیں پیغمبر نے ایک صحابی کے حوالے کردیا تاکہ وہ اس کو قرآن کی تعلیم دے وہ مسجد کے کونے میں بیٹھ کراسی دن قرآن سیکھنے لگا ،معلم نے سورہ زلزال پڑھانا شروع کیا جب اس آیت پر پہنچا تو اس آدمی نے رک کر تھوڑا سونچا اورپوچھتا ہے کیایہ وحی ہے؟ معلم نے کہا ہاں؛ اس نے کہا بس کیجئے ہم نے اس آیت سے سبق سیکھ لیا جب ہمارے ہر چھوٹے بڑے اچھے برے اعمال کاحساب ہوگا تواب ہم کو اپنی ذمہ داریوں کا علم ہوگیا یہی جملہ ہماری زندگی کی کا یا پلٹنے کے لئے کافی ہے اس نے خدا حافظی کی اور چلا گیا۔ معلم،رسول کے پاس آیا ساراواقعہ بیان کیا ،حضرت نے فرمایا : ''رجع فقیھاً''گو کہ وہ چلا گیا مگر سب کچھ سمجھ کرگیا ہے ۔

____________________

(۱)سورۂ آل عمران ۳۰

(۲) سورہ زلزال آخری آیة


قیامت کامعتقد خدا کی راہ میں تمام سختیاں اورمشکلات برداشت کرتاہے اور اخروی زندگی کی خاطر اس دنیوی زندگی کو خیر باد کہہ دیتا ہے جیساکہ جادوگر وں نے جب موسی کے معجزہ کو دیکھا او رسمجھ گئے کہ یہ خدا کی جا نب سے ہے تو سب ان کی رسالت پرایمان لے آئے فرعون نے کہا ہم سب کے ہا تھ پیر کاٹ دیں گے اور سولی پرلٹکا دیں گے ان لوگوں نے جواب میں کہا( فَاقضِ مَاأنتَ قَاضٍ اِنَّما تَقضِ هَذِهِ الحَیاة الدُّنیا اِنَّا أَمنَّا بِرَبِّنَا لِیَغفرَ لَنَا خَطایَانَا وَمَا أکرَهتَنا عَلیهِ مِنَ السِّحرِ وَاللَّه خَیر وَأبقَیٰ ) ( ۱ ) ''اب تجھے جو فیصلہ کرناہے کرلے تو فقط زندگا نی دنیا ہی تک کا فیصلہ کرسکتاہے ہم اپنے پرور دگا ر پر ایما ن لے آئے ہیںکہ وہ ہماری خطائو ں کو معاف کردے اور اس جادو کو بخش دے جس پر تونے ہمیں مجبور کیاتھا اوراللہ سب سے بہتر اوروہی باقی رہنے والاہے ۔

____________________

(۱)سورہ طہ آیة :۷۲تا۷۳


سوالات

۱۔ قیامت پر ایما ن رکھنے کے فوائد بیان کریں ؟

۲۔ جو قیامت کا معتقد نہیں ہے اس کی زندگی کیسی ہے ؟

۳۔ قیامت پرایمان رکھنے کافائدہ بطور خلا صہ بیان کریں ؟


اکتیسواں سبق

اثبات قیامت پر قرآنی دلیلیں

پہلی خلقت کی جانب یاد دہانی

( وَهوُ الّّذیِ یَبدؤُا الخَلَق ثُمَّ یُعیدُهُ وَهُوَ أَهوَنُ عَلِیه ) ( ۱ ) ''اور وہی وہ ہے جو خلقت کی ابتدا ء کرتاہے اور پھر دوبارہ بھی پیدا کرے گا اوریہ کام اس کے لئے بے حد آسان ہے''( کَما بدأَ کُم تَعُودُونَ ) ( ۲ ) اس نے جس طرح تمہاری ابتداء کی ہے اسی طرح تم پلٹ کر بھی جائو گے( وَیَقولُ الأِنسانُ ذا مَا مِتُّ لسَوفَ اخرج حیّاً أولا یَذکُر الأِنسانُ اِنّاخَلقَناهُ مِنْ قَبلُ وَلَمْ یَکُ شَیئاً ) ( ۳ ) اور یہ انسان کہتا ہے کہ کیا ہم جب مرجائیں گے تو دوبارہ زندہ کرکے نکالے جائیںگے کیاوہ اس بات کو یاد نہیں کرتا ہے کہ پہلے ہم نے اسے خلق کیاہے جب یہ کچھ نہیں تھا( فَسیقُولُونَ مَنْ یُعیدُنَا قُل الَّذِی فَطَرَکُم أَوّلَ مَرَةٍ ) ( ۴ ) عنقریب یہ لوگ کہیں گے کہ ہم کو کون دوبارہ واپس لاسکتاہے توکہہ دیجئے جس نے تمہیں پہلی بار پیداکیا ہے ۔

____________________

(۱) سورہ روم، آیة:۲۷

(۲)سورہ اعراف ،آیة:۲۹

(۳) سورہ مریم آیة :۶۶۔۶۷

(۴) سورہ اسراء آیة:۵۱


ایک صحرای عرب کو ایک انسان کی بوسیدہ ہڈی کاکوئی ٹکڑا ملا وہ اس کو لے کر دوڑتاہو ا شہر کی جانب آیا اور پیغمبر کو تلاش کرتا ہو ا حاضر خدمت ہوااور چیخ کرکہتا ہے کون اس پرانی ہڈی کودوبارہ زندہ کرے گا ؟۔

ارشاد ہو ا:( قُلْ یُحییهَاالَّذِی أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَة وَهُوَبِکُلِّ خَلقٍ عَلِیمُ ) ( ۱ ) ''آپ کہہ دیجئے جس نے پہلے خلق کیاہے وہی زندہ بھی کرے گا اوروہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ہے'' ۔

مذکورہ اور ان جیسی آیات کے پیش نظر انسانوں کو تخلیق کی ابتداء کی طرف توجہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانو ں کو دوبارہ پلٹانا خداکے لئے بہت آسان ہے یعنی قادر المطلق خداکے لئے یہ ساری چیزیں بہت آسان ہے (تخلیق کی ابتدا ء اور دوبارہ قیامت میں واپس پلٹانا ایک ہی چیز ہے ۔

قیامت اورخداکی قدرت مطلقہ

خدا کی قدرت: خدا کی ایک صفت قادرمطلق ہونا ہے جوتوحید کے بحث میں گزر چکی ہے یہ وسیع آسمان یہ کہکشاں ،منظومہ کثیر اور عظیم کواکب ،مختلف النوع مخلوقات یہ سب کے سب اس کے قادر مطلق ہونے پر دلالت کرتے ہیں ان سب کومان لینے کے بعد سوال کا کوئی مقام نہیں رہتا کہ انسان کیسے دوبارہ زندہ ہوگا( أَوَلَمْ یَرَوا أَنَّ اللَّهَ الَّذِِ خَلَقَ السَّمواتِ وَالأَرضَ وَلَمْ یَعیِ بِخَلقهِنَّ )

____________________

(۱)سورہ یس آیة ۔۷۹


( بِقَادرٍ علیٰ أَن یُحیالمَوتیٰ بَلیٰ اِنَّهُ علیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدِیر ) ( ۱ ) ''کیا انھوں نے نہیں دیکھا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اوروہ ان کی تخلیق سے عاجز نہیں تھا وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے کہ یقینا وہ ہر شی ٔ پر قدرت رکھنے والاہے ''( أَوَ لَیسَ الَّذِ خَلَقَ السَّمٰواتِ والأَرضَ بِقَادِرٍ علیٰ أَنْ یَخلُقَ مِثلَهُم بَلیٰ وَهُوَ الخَلَّاقُ العَلِیمُ ) ( ۲ ) ''تو کیا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا و ہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کا مثل دوبارہ پیداکر ے یقینا ہے ا ور وہ بہترین پیدا کرنے والااو رجاننے والا ہے ''۔( أَیَحسَبُ الِانسانُ أَنْ لَنْ نَجمَعَ عِظَاَمهُ بَلیٰ قَادرِینَ علیٰ أن نُسوِّ بَنَانهُ ) ( ۳ ) کیا انسان یہ خیال کرتاہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کوجمع نہیں کرسکیں گے یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کے انگلیوں کے پور تک درست کردیں۔( أَیَحسبُ الأِنسانُ أَنْ یُترَک سُدیً أَلَمْ یَک نُطفةً مِنْ مَنِیٍ یُمنیٰ ثُمَّ کَانَ عَلَقةً فَخَلقَ فَسویٰ فَجَعلَ مِنهُ الزَّوجَینِ الذَّکَرَ وَالأُنثیٰ أَلیسَ ذَلِکَ بِقَادرٍ عَلیٰ أَن یُحی المَوتَی ) ٰ)( ۴ ) ''کیا انسان کا خیال ہے کہ اسے اسطرح آزاد چھوڑ دیاجا ئے گا کیا وہ اس منی کاقطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتاہے پھر علقہ بنا پھر اس کو خلق کرکے برابر کیا پھر اس سے عورت اورمرد کوجوڑا تیار کیا ۔کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرسکے'' ۔( قُل سِیرُوا فیِ الأَرضِ فَانُظُروا کَیفَ بَدأ )

____________________

(۱) احقاف آیہ: ۳۳

(۲) یس آیة: ۸۱

(۳) قیامت آیة :۳۔۴

(۴) قیامت آیة:۴۰۔۳۶


( الخَلَقَ ثُمَّ اللَّهُ ینُشُ النَّشأَةَ الأَخرِةَ أِنَّ اللَّه عَلیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدِیرُ ) ( ۱ )

''آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ زمین پر سیر کرو اور دیکھو کہ خدا نے کس طرح خلقت کا آغاز کیاہے اس کے بعد وہی آخرت میں دوبارہ ایجاد کرے گا بیشک وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والاہے'' ۔

مسئلۂ قیامت اوردلیل عدالت

قیامت اور خدا کی عدالت : خداکے حکم کے مقابلہ میں دوطرح کے لوگ ہیں کچھ اس کے مطیع اور فرمانبردار کچھ عاصی اور گنہگا ر ۔

اس طرح کچھ لوگ ظالم ہیں کچھ مظلوم ( جو سختی کی زندگی گذاررہے ہیں ) کچھ زندگی کی ہر آسائش وآرام سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کچھ ایسے ہیں جو فقروفاقہ اور تنگ دستی کی زندگی گذاررہے ہیں ۔

لہٰذاخدا کی قدرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس دنیا کے بعد قیامت اور حساب وکتاب ہو تاکہ ان مسائل کی مکمل تحقیق ہوسکے ۔( أمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجتَرحُوا السَّیئَاتِ أَنْ نَجعَلهُم کالَّذِینَ آمنُوا وَعَملوا الصَّالِحاتِ سَوَائً مَحیَاهُم وَمَمَاتُهُم سَائَ مَا یَحکُمُونَ وَخَلَقَ اللََهُ السَّمواتِ والأَرضَ بِالحقِّ وَلتُجزَیٰ کُّلُّ نَفسٍ بِما کَسَبت وَهُمْ لاَ یُظلَمُونَ ) ( ۲ ) '' کیا برائی اختیار کرنے والوں نے یہ سونچ لیا ہے کہ ہم ان کو ایمان لانے والوں اورنیک کام

____________________

(۱)سورہ عنکبوت آیة:۲۰

(۲)جاثیہ: ۲۱۔۲۲


انجام دینے والوں کے برابر قرار دیں گے سب کی موت وحیات ایک جیسی ہو گی یہ ان لوگوں نے نہایت بدترین فیصلہ کیا ہے اور اللہ نے زمین وآسمان کوحق کے ساتھ پیداکیا ہے اور اس لئے بھی کہ ہر نفس کو اس کے اعمال کا بدلہ دیاجاسکے اوریہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا ''( أفَمَن کَانَ مُؤمِناً کَمَنْ کَا نَ فَاسِقاً لَا یَستوُونَ ) ( ۱ ) '' کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ہے اس کے مثل ہوجا ئے گا جوفاسق ہے ہر گز نہیں ،دونو ں برابر نہیں ہوسکتے''( أَفَنجَعلُ المُسلمِین کالمُجرِمِینَ مَالکُم کَیفَ تَحکُمُونَ ) ( ۲ ) ''کیا ہم اطاعت گزاروں کو مجرموں جیسا بنادیں تمہیں کیا ہوگیاہے تم کیسا فیصلہ کر رہے ہو'' ۔( اَم نَجعَلُ الَّذینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالحِاتِ کالمُفسِدِینَ فیِ الأَرضِ أَم نَجعَلُ المُتَّقِینَ کَالفُجَّار ) ( ۳ ) '' کیا ہم ایما ن لانے والے اورنیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والو ں جیسا قرار دیدیںگے یا صاحبان تقوی کوفاسق وفاجر جیسا قرار دیدیں گے''( ؟! ( اِلَیهِ مَرجِعُکُم جَمیعاً وَعدَ اللَّهِ حَقَّاً اِنَّهُ یَبدؤا الخَلَق ثُمَّ یُعیدُهُ لِیَجزِِ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالقسطِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا لَهُم شَرابُ مِنْ حَمِیمٍ وَعَذَابُ ألِیمُ بِمَا کَانُوا یَکفُرُونَ ) ( ۴ ) اس کی طرف تم سب کی

____________________

(۱) سورہ سجدہ آیة:۱۸

(۲) قلم :۳۵،۳۶

(۳) سورہ ص: ۲۸

(۴) سورہ یونس آیة: ۴


بازگشت ہے یہ خدا کا سچاوعدہ ہے وہی خلقت کا آغاز کرنے والا ہے اور واپس لے جانے والاہے تاکہ ایمان اورنیک اعمال کو عادلا نہ جزا دے سکے اورجو کافر ہو گئے ان کے لئے تو گرم پانی کامشروب ہے اور ان کے کفر کے بنا پر درد ناک عذاب

بھی ہے۔

سوالات

۱۔ پہلی خلقت قیامت پر کس طرح دلیل ہے ؟

۲۔خدا کی قدرت قیامت کے لئے کس طرح دلیل ہے ایک آیت پیش کریں ؟

۳۔ دلیل عدالت ،قیامت کو کس طرح ثابت کرتی ہے ؟


بتیسواں سبق

معاد اور فلسفہء خلقت

قرآن کی تقریباًسو آیتوںمیں خدا کو لفظ حکیم سے یاد کیا گیا ہے ۔اور ہم اس کی حکمت کی نشانیوں کودنیابھر میں دیکھتے ہیں ۔اگر ہم فرض کریں کہ موت زندگی کے خاتمہ کانام ہے اورمرنے کے بعد قیامت نہیں ہے تو خلقت بیکار وعبث ہو جا ئے گی اور حکیم خداکبھی بھی بیکار کام انجام نہیں دیتا ،کیا کوئی سونچ سکتاہے کہ وہ تمام حکمتیں جوخدا نے دنیا کی خلقت کے لئے قرار دی ہیں و ہ سب عبث ہیں اور اس دنیا کا اختتام فنا ونا بودی ہے؟ کیایہ یقین کرنے کے قابل ہے کہ خدا اس دنیا کے دستر خوان کوبچھائے اور دنیا کی تما م ضروریا ت زندگی کو مہیا کرے اور اس کے بعد موت کی وجہ سے یہ ساری چیزیں ختم ہوجائیں اور یہ دنیا کابچھا ہو ا دستر خوان سمٹ جا ئے( رَبَّنَا مَاخَلقَتَ هذا بَاطِلاً ) ( ۱ ) خد ایا! تونے اس کا ئنات کو بیکا ر وعبث خلق نہیں کیا ہے ۔

لہٰذا حکیم وعلیم خدا پرایمان رکھنا موت کے بعد کی زندگی پر ایمان رکھنے کے برابر ہے یعنی اگرکو ئی وحدانیت کاقائل ہے تو ضروری ہے کہ وہ قیامت پر بھی ایمان

____________________

(۱) آل عمران ۱۹۱


رکھتا ہو اس سلسلہ میں بہت ساری آیتیں ہیں جن میں سے بعض کو بطور نمونہ پیش کررہے ہیں ۔

( أَفَحَسِبتُم اِنَّمَا خَلَقنَاکُم عَبَثاً وَأَنَّکُم اِلَینا لَا تُرجعُونَ ) ''کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار خلق کیاہے اورتم ہماری طرف پلٹ کرنہیں آئوگے''۔( ۱ ) ( وَمَاخَلقَنا السَّمائَ وَالأرَضَ وَمَا بَینَهُمَا بَاطِلاً ذلِک ظَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا فَوَیل لِلّذِینَ کَفَرُواْ مِنَ النّارِ ) ''میں نے آسمان وزمین اوراس کے درمیان کی چیزوںکو بیکا ر خلق نہیں کیاہے یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو کا فر ہوگئے ہیں پس کافروں کے واسطے جہنم کی آگ ہے''۔( ۲ ) ( وَمَا خَلَقَنا السَّمَواتِ وَالأَرضَ وَمَا بَینَهُما اِلّا بِالَحقِّ واِنَّ السَّاعَة لآتِیَةُ فَاصفَح الصَّفَح الجَمِیلَ ) ''میں نے آسمان وزمین او ر اس کے درمیان کی چیزوں کو خلق نہیں کیا مگر حق پر اور قیا مت یقینی ہے''۔( ۳ ) ( أَیَحسَبُ الأَِنسانُ أَنْ یُترک سُدیً أَلَم یَکُ نُطفَةً مِنْ مَنٍِ یُمنیٰ ثُمَّ کَانَ عَلَقةً فَخَلقَ فَسوَّیٰ فَجَعلَ مِنهُ الزَّوجِین الذَّکَرَ وَالأُنثیٰ أَلَیسَ ذَلِک بِقادرٍ علیٰ أَن یُحیَی المَوتی ) ٰ)( ۴ ) '' کیاانسان کاخیال ہے کہ اسے اس طرح آزاد چھو ڑ دیا جائے گا؟ کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتاہے ۔پھر علقہ بناپھر اس کو خلق کر کے برابر کیاپھر اس سے عورت اور مرد کاجوڑا تیار کیا ۔کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرسکے۔؟

____________________

(۱) مومنون آیة: ۱۵ ۱

(۲) سورہ ص آیة: ۲۷

(۳) سو رہ حجر آیة: ۸۵

(۴) سورہ قیامت آیة: ۳۶۔۴۰


قرآن میں قیامت کے عینی نمونہ

عزیر یا ارمیا ی پیغمبر کاقصہ :

(( أَوکالَّذِ مَرَّعلیٰ قَریةٍ وَهِیَ خَاویةُ علیٰ عُرُوشِها قاَلَ أَنّی یُحییِ هذهِ اللَّهُ بَعَدَ مَوتِها فأَماتهُ اللَّه مِائةَ عام ثُمَّ بَعَثهُ قَالَ کَم لَبِثتَ قَالَ لَبِثتُ یَوماً أَوبَعضَ یَومٍ قَالَ بَل لبِثتَ مِائةَ عامٍ فَانظُر اِلیٰ طَعامِک وَشَرَابِک لَمْ یَتسنَّه وَأنظُر اِلیٰ حِمَارِک وَلِنَجعَلک آیةً للنَّاسِ وَانظُر اِلیٰ العِظَامِ کَیفَ نُنشزُهَا ثُمَّ نَکَسُوهَا لَحمًا فَلمَّا تَبَیّنَ لَهُ قَالَ أَعلمُ أَنَّ اللَّهَ عَلیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدیرُ ) ( ۱ ) ''جنا ب عزیر کا ایک دیہات سے گزر ہوا آپ نے دیکھا کہ وہ تباہ وبرباد پڑا ہو اہے ۔ کہا خدا ان مردوں کو کیسے زندہ کریگا خدانے انہیں سوسال کی موت دیدی پھر انہیںزندہ کیا پوچھاکتنے دن تک سوئے رہے کہا ایک دن یا اس سے کم خدا نے کہاتم یہا ں سوسال تک سوتے رہے ہو ذرا اپنے کھانے اورپینے کی طرف دیکھو جو ختم ہوچکا ہے اپنے گدھے کی طرف دیکھو جو خاک میں مل چکا ہے تاکہ میں تمہیں لوگوں کے لئے نشانی قرار دوں اپنی ہڈیوں کیطرف دیکھو کہ انہیں جمع کرکے ان پر گوشت چڑھا یا چونکہ یہ بات ان کے واسطے واضح ہوچکی تھی کہا: جانتا ہو ں خد اہر چیز پر قدرت وطاقت رکھتا ہے ''وہ برباد شہر جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ (بیت المقدس ) تھا اور یہ تباہی بخت النصر کے ذریعہ ہوئی ہے۔

____________________

(۱)سورہ بقرہ آیة :۲۵۹


حضرت عزیر جب کھانا پانی لے کر اپنے گدھے پر سوار اس شہر سے گذرے دیکھا گھر تباہ اور ا ن کے رہنے والے مٹی میں مل چکے ہیں ان کی ہڈیا ں پرانی ہوکر زمین میں بکھری پڑی ہیں اس المناک منظر نے پیغمبر کوسونچنے پر مجبورکردیا اور خود سے کہنے لگے خدایا! انہیں کب اور کیسے زندہ کرے گا؟۔

خدا نے انہیں عملی جواب دیا انہیں اوران کے گدھے کو سوسال تک کے لئے موت دی اس کے بعد پہلے انہیں زندہ کیاتاکہ خد اکی طاقت کا وہ خود اندازہ لگائیں کہ کھانا جو جلدی خراب ہوجاتا ہے تبدیل نہیںہوا اور مردوں کو زندہ ہو تے وہ خو د دیکھ لیں ۔

حضرت عزیر نے جیسے ہی اپنی سواری کو زندہ ہو تے دیکھا کہا کہ جانتا ہو ںخدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے یہ آیة اور یہ پیغمبر کا قصہ معاد جسمانی کو ثابت کرنے کے لئے بہترین دلیل ہیں ۔

حضرت ابراہیم کاقصہ :( واِذ قَالَ اِبراهیمُ رَبِّ أَرنِی کَیفَ تُحییِ المَو تیٰ قَالَ أَولَم تُؤمِن قَالَ بَلیٰ وَلَکِن لِیَطمَئِنَّ قَلبِی قالَ فَخُذْ أَربعةً مِنَ الطَّیرِ فَصُرهُنَّ اِلِیک ثُمَّ اجعَلْ علیٰ کُلِّ جَبَلٍ مِنهُنَّ جُزأً ثُمَّ ادعُهُنَّ یَأتِینَک سَعیًا وَأَعلمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَیزُحَکیمُ ) ( ۱ ) ''جناب ابراہیم نے عرض کیا بارالہا! مجھے دکھا دے کیسے مردوں کو زندہ کرے گا؟ خدا نے کہامگر تمہیں

____________________

(۱) سورہ بقرہ :۲۶۰


ہم پرایمان نہیں ہے کہا ہے تو مگر چاہتا ہو ں دل کو سکون مل جائے کہا چار طرح کے پرندوں کو جمع کرو (مرغ ،مور ،کبوتر ، کوا،)انہیں ذبح کرکے گوشت پہا ڑ پر رکھد و او ر ان کے ہر جزء کو اللہ کے نام پر بلا ئو وہ دوڑے چلے آئیں گے اورجان لو کہ خدا بڑی حکمت والا ہے'' ۔

مفسرین نے اس آیة کے ذیل میں لکھا کہ حضرت ابراہیم دریا کے کنارے سے گذر رہے تھے ایک مردے کو دیکھا کہ جو دریا کے کنارے پڑا ہے مردہ خور جانور اس کے چاروںطر ف جمع ہیں اورکھا رہے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اس منظر کودیکھا تو مردوں کے زندہ ہونے کے بارے میں سونچنے لگے کہ وہ کس طرح زندہ کئے جا ئیں گے (کیونکہ اس مردہ کا گوشت دوسرے کا جزء بن چکا تھا ) جبکہ جناب ابراہیم کو علم الیقین تھا کہ خد امردوں کو زندہ کرے گا لیکن اسے آنکھو ں سے زندہ ہوتے دیکھنا چاہتے تھے ۔

مقتول بنی اسرائیل کاقصہ:

( واِذَ قَتَلتُم نَفسًا فَادَّارَأتُم فِیهَا واللَّه ُمخرِجُ مَاکُنتُم تَکتُمُونَ فَقُلنَا اَضرِبُوهُ بِبَعضِهَا کَذَلِک یُحیِی اللَّهُ المَوتیٰ وَیُرِیکُم آیاتِهِ لَعلَّکُم تَعقِلُونَ ) ( ۱ ) ''جب تم لوگو ں نے ایک شخص کو قتل کرکے اس کے سلسلے میں اختلاف کیا کہ کس نے قتل کیا ہے جسے تم چھپانا چاہتے تھے خدااسے ظاہر کرتاہے پس

____________________

(۱) سورہ بقرہ آیة۷۲ تا۷۳


ہم نے کہا اس گائے کا کچھ حصہ اس مقتول کے بدن پر مارو خدا مردوں کو اس طرح زندہ کرتاہے آیت خود تمہیں دکھا رہی ہے شاید عقل سے کام لو ''۔

بنی اسرائیل کا ایک آدمی مخفیانہ طور پر قتل کردیا گیا تھا اس کے قاتل کے سلسلے میں اختلاف ہوا ہر قبیلہ دوسرے قبیلے پر الزام لگا رہا تھا قریب تھاکہ ایک جنگ چھڑ جائے ان لوگوں نے جنا ب موسی سے مدد چاہی جناب موسی نے لطف خدا سے ان کی مددکی حکم خدا کے مطابق گائے کو ذبح کرکے اس کے گوشت کومقتول کے جسم پرمارا وہ شخص تھوڑی دیر کے لئے زندہ ہوگیا اور قاتل کی شناخت کی یہ معا د اور مردوں کے زندہ ہونے کے لئے بھی دلیل ہے ۔

قوم موسی ٰسے ستر آدمیوںکا زندہ ہو نا :( وَاِذ قُلتُم یَامُوسیٰ لَن نُؤمِنَ لَک حتیٰ نَرَیٰ اللَّهَ جَهَرةً فَاَخذتکُم الصَّاعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُرُونَ ثُمّ بَعَثناکُم مِن بَعدِ مَوتِکُم لَعلَّکُم تَشکُرُونَ ) جب تم لوگو ں نے موسی سے کہا کہ ہم اس وقت تک خدا پرایمان نہیں لائیں گے جب تک اپنی آنکھو ں سے دیکھ نہ لیں پھر بجلی نے (موت ) تم سب کواپنی لپیٹ میں لے لیا اورتم دیکھتے رہے پھر ہم نے تم سب کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا تاکہ تم شکر گذار بن جائو ،بنی اسرائیل کے سرکردہ افراد جنا ب موسی کے ساتھ کو ہ طور پر گئے تھے اور خداکو اپنی آنکھو ں سے دیکھنے کی بات دہرائی موت کی بجلی چمکی پہاڑ ریزہ ریزہ ہوا حضرت موسی ٰبے ہو ش ہو گئے بنی اسرائیل کے نمائندوں کو موت نے اپنی آغوش میں لیا پھر خدا نے انہیں زندہ کیا تاکہ اس کی نعمت کا شکریہ اداکریں۔( ۱ )

قیامت کو ثابت کرنے کے لئے قرآ ن کی دوسری دلیل ہے جس میں مردے کوزندہ کیاگیاہے ۔

____________________

(۱) سو رہ بقرہ آیة ۵۵


سوالات

۱۔ فلسفہ خلقت کے ذریعہ کس طرح قیامت کو ثابت کریں گے ؟

۲۔ جنا ب عزیر یاارمیا پیغمبر کاواقعہ بیان کریں ؟

۳۔ جناب ابراہیم کا قصہ بیان کریں ؟

۴۔ مقتول بنی اسرائیل کا واقعہ بیان کریں ؟


تیتیسواں سبق

بقاء روح کی دلیل

روح باقی او رمستقل ہے :( وَلَا تَحسَبَنّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیل اللَّهِ أَمواتاً بَلْ أَحیائُ عِندَ رَبِّهِم یُرزَقُونَ ) ''جو اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں اور اللہ کی طر ف سے انہیں رزق ملتاہے''( ۱ ) ( وَلَا تَقُولُوا لِمَن یُقتلُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمواتُ بَل أَحیائُ ولکِن لَا تَشعُرُونَ ) جو اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے ہیں انہیں مردہ ہرگز نہ کہنا بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم انہیں نہیں سمجھ سکتے ہو۔( ۲ ) ( قُلْ یَتَوفاکُم مَلَکُٔ المَوتِ الَّذیِ وکِّلَ بِکُم ثُمَّ اِلیٰ رَبِّکُم تُرجَعُونَ ) کہدو کہ موت کافرشتہ جوتم پر معین کیاگیا ہے وہ تمہاری روح قبض کر کے تمہارے رب کی طرف پلٹا دے گا۔( ۳ )

مذکورہ آیات بقاء روح کی بہترین دلیل ہے اگرموت زندگی کے خاتمہ کانام ہوتا توشہداء کے لئے حیات کا مختلف انداز میں ذکر کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا پہلے کی دو آییتں اللہ کی راہ میں شہید ہونے والو ں کے لئے ہیں اور ان کی روح کی بقاء کے حوالے سے ہیں ۔

____________________

(۱)آل عمران آیة ۱۶۹

(۲) بقرہ آیة ۱۵۴

(۳) سجدہ آیة ۱۱


تیسری آیت عام ہے کہ تمام لوگ خدا کی طر ف پلٹ کر جائیں گے جو تمام انسانوں کے باقی رہنے پردلیل ہے ۔کتاب مفردات میں راغب کے بقول وافی کے اصل معنی کمال تک پہونچنے کے ہیں لہٰذا توفی کے معنی مکمل گرفت کے ہیں اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ موت فناکانام نہیں بلکہ مکمل طور پر دسترسی ہے۔

( وَیسئلُونَکَ عَنِ الرُّوح قُلْ الرِّوحُ مِن أمرِرَبِّی وَمَا أُوتِیتُم مِنَ العِلمِ اِلاَّ قَلِیلاً ) اے رسول! تم سے روح کے بارے میں سوال ہوتا ہے کہدو روح امرخداہے اس کا تھوڑا ساعلم آپ کو عطاکیاگیاہے۔( ۱ )

انسان خواب و موت کو دیکھتا ہے کہ جسمانی کمی وبیشی کے علاوہ ایک خاص قسم کی تبدیلی پیداہوتی ہے یہیں سے پتہ چلتاہے کہ انسان کے پاس جسم کے علاوہ بھی کوئی جوہر ہے ۔ کسی نے بھی روح کے وجود کاانکا ر نہیں کیا ہے یہاں تک کہ مادی حضرات نے بھی اس کے وجود کوقبول کیاہے اسی بناء پر نفسیات ان علوم میں سے ہے جس پر دنیا کی بڑی بڑی یو نیورسٹیوں میں تحقیق ہورہی ہے ۔

وہ واحد بحث جو خد اکے ماننے والوں اورمادی حضرات کے درمیان چل رہی ہے وہ روح کے مستقل ہو نے یانہ ہونے کے سلسلے میں ہے اسلامی مفکرین اسلام کی بھر پور مدد سے اس بات کے قائل ہیںکہ روح باقی ہے اورمستقل ہے روح کے مستقل ہونے پر بہت سی دلیلیں ہیں ۔

____________________

(۱) اسراء آیة :۸۵


پہلے عقلی دلیل پھر نقلی دلیل پیش کریں گے اگر چہ قرآن پر اعتقاد رکھنے والے بہترین دلیل کلام خدا کوتسلیم کرتے ہیں اور اسی کواصل مانتے ہیں۔

روح کے مستقل ہو نے پر دلیل

۱۔ہم اپنے اندر یہ محسوس کرتے ہیںکہ ہم متفکر ومدرک ومرید ہیں یہ چیز فکر اورارادہ اور ادراک سے الگ ہے دلیل یہ ہے کہ بولا جاتاہے میری فکر میرا ارادہ میرا ادارک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم فکر سے الگ ہیں ہم ارادہ سے ہٹکر ہیں درک اورہے ہم اور ہیں یہ سب ہم سے ہے اورہم اسے اپنی ذات میں پا تے ہیں ہم دماغ، دل اور اعضاء سے الگ ہیں یہ (ہم ) وہی روح ہے ۔

۲۔ جب بھی انسان اپنے کو جسم سے جدا فرض کرتاہے اورتمام اعضاء بدن کا ناطہ اپنے آپ سے توڑ دیتاہے پھر بھی اپنے کو زندہ محسوس کرتاہے جبکہ اجزاء بدن نہیں ہیں اوریہ وجود وہی روح ہے جومستقل رہ سکتی ہے ۔

۳۔پوری عمرمیں شخصیت ایک ہے ۔ یہ ''ہم'' ابتداء زندگی سے آخر عمر تک ایک ہے یہ ''ہم'' دس سال پہلے بھی ہے اور پچاس سال بعد بھی، اگرچہ علم وقدرت زندگی کی کمال تک پہونچ جائے لیکن ''ہم'' اپنی جگہ برقرار ہے جبکہ آج کے علم نے ثابت کر دیا کہ انسان کے عمر میں کئی بار جسم میں ،رگو ں میں ،یہاں تک کہ دماغ کی شریانوں میں تبدیلی ہوتی ہے چوبیس گھنٹے کے اندر کروروں رگیں ختم ہو تی ہیں اور کروڑوں ان کی جگہ پیداہوتی ہیں جیسے بڑے حوض میں پانی ایک جگہ سے جاتاہے اور دوسری طرف سے آتاہے ظاہر ہے بڑے حوض کاپانی ہمیشہ بدلتاہے اگرچہ لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور اس کوایک ہی حالت میں دیکھتے ہیں ۔

نتیجہ:

اگر انسان صرف اجزاء بدن کا نام ہو تا اورصرف دل و دماغ ہو تا یعنی روح نہ ہوتی تواپنے اعمال کا ذمہ دار نہیں قرار پاتا ،مثلا اگر کو ئی دس سال پہلے کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس وقت اسے سزا نہیں دے سکتے اس لئے کہ جسم کے تمام خلیئے تبدیل ہوگئے ہیں گویا اب وہ دس سال پرانا جسم نہیں ہے۔اگر انسان ہمیشہ ذمہ دار ہے یہاںتک کہ وہ خوداس کا اعتراف کررہا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے اگرچہ تمام اعضاء بدل چکے ہیں مگر وہ خود باقی ہے اوریہ وہی روح ہے۔


روح کی بقاء اور استقلال پر نقلی دلیل

تاریخ اسلام میں بہت سی جگہ موت کے بعد روح سے مربوط چیزیں آئی ہیں جن میں سے بعض یہاں پیش کی جارہی ہے جنگ بدر کے بعد پیغمبر اسلا مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم دیاکہ دشمن کی لاشوں کوایک کنویں میں ڈال دیاجائے اس کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کنویں کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا :''هل وجد تم ماوعدکم ربکم حقاً فِانّی قَد وجدت ماوعدنی رَبِّی حقاً ''کیا تم لوگو ںنے وعدہ خداکے مطابق سب کچھ پایاہے ؟ہم نے تو اللہ کے وعدہ کو حق دیکھا ) بعض افراد نے عرض کیا :کیا آپ بے جان لوگو ں سے باتیں کر رہے ہیں، وہ سب توایک لا ش کی شکل میں پڑے ہیں پیغمبر اسلام نے فرمایا: وہ لوگ تم سے بہتر میری آواز سن رہے ہیں دوسرے لفظوں میں یو ں کہا جائے کہ تم لوگ ان سے بہتر میری بات نہیں سمجھ رہے ہو۔( ۱ )

سلمان فارسی مولا امیر المومنین کی طرف سے والی مدائن تھے اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں : ایک دن سلمان فارسی کی عیا دت کوگیا، جب وہ مریض تھے اورمرض میں اضافہ ہوتاجارہاتھا یہا ںتک کہ موت کی جانب قدم بڑھا رہے تھے مجھ سے ایک دن فرمایا اے اصبغ! رسول خد ا نے مجھ سے فرمایا ہے جب موت قریب ہو گی تو مردہ تم سے باتیں کریںگے ہمیں قبرستان کی طرف لے چلو حکم کے مطابق انہیں قبر ستان میں لے جایاگیا کہامجھے قبلہ رخ کرو اس وقت بلند آواز سے کہا :

''السلام علیکم یا اهلَ عرصة البلا ء السلام علیکم یامحتجبین عن الدُّنیا'' میرا سلام ہو تم پر اے بلا ء کی وادی میں رہنے والومیراسلام ہو اے اپنے کو دنیا سے چھپا لینے والو۔اسی وقت روحوں نے سلام کا جواب دیااورکہا جو چاہتے ہو سوال کرو جناب سلمان نے پوچھا تم جنتی ہویا جہنمی؟مردہ نے کہا خدا نے مجھے دامن عفو میں جگہ عنایت کی ہے اورمیں جنتی ہو ں جناب سلمان نے موت کی کیفیت اورموت کے بعد کے حالات دریافت کئے ا س نے

____________________

(۱) سیرہ ابن ہشام ج ،۱ ص ۶۳۹


سب کاجواب دیا اس کے بعد جناب سلمان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی( ۱ )

مولا امیرالمومنین ںجنگ صفین سے واپسی پر شہر کوفہ کے پیچھے قبر ستا ن کے کنارے کھڑے ہو ئے اور قبروں کی طرف رخ کر کے فرمایا :اے حولناک او ر تاریک قبروں کے رہنے والوتم اس قافلہ کے پہلے افراد ہو ہم بھی تمہارے پیچھے آرہے ہیں لیکن تمہارے گھردوسروں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں اور تمہاری بیویوں نے شادی کر لیں اورتمہارے مال واسباب تقسیم ہوچکے ہیں یہ سب میری خبر تھی تمہارے پاس کیا خبرہے ؟''ثُمَّ التفت اِلیٰ أَصحابه فقال أمّا لوأذِن فیِ الکلام لأخبروکم أَنَّ خیر الزاد التقویٰ ''( ۲ )

پھر اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا جان لو اگر انہیں بولنے کی اجازت ہوتی تویہ تمہیں بتا تے کہ بہترین زاد راہ تقوی وپرہیز گا ری ہے ۔

____________________

(۱) بحار الانوار ج۱، معادفلسفی ۳۱۵

(۲)نہج البلاغہ ،کلمات قصار ۱۲۵


سوالات

۱۔قرآن بقاء روح کے لئے کیا کہتا ہے آیت کے ذریعہ بیان کریں ؟

۲۔ استقلال روح کے لئے عقلی دلیل بیان کریں ؟

۳ بقاء روح کے لئے ایک نقلی دلیل بیان کریں ؟


چوتیسواں سبق

معاد جسمانی اورروحانی ہے

کیاموت کے بعد زندگی روحانی ہے ؟یعنی جسم کہنہ ہو کر بکھر جائے گااور آخرت کی زندگی فقط روح سے مربوط ہے یافقط جسمانی ہے اور روح کاشمارجسم کے آثاروخواص میں ہے ؟یا یہ کہ آدھی روحانی اور آدھی جسمانی ہے جسم لطیف اس دنیا وی جسم سے افضل ہے یاموت کے بعد زندگی مادی او رروحانی ہے اور دوبارہ دونوں جمع ہوکر حاضر ہوںگے، ان چاروں نظریوں کے حامی اور طرفدارموجود ہیں لیکن شیعوں کا نظریہ (عقیدہ)یہ ہے کہ قرآن کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں معاد جسمانی اور روحانی پر دلالت کرتی ہیں اور اس مسئلہ میں کوئی شک وتردید کی گنجائش نہیں ہے ۔

۱۔ بہت سی جگہو ں پر قرآن نے منکریں معاد کو جو یہ سوال کرتے ہیں کہ ''جب ہم خاک میں مل جائیں گے او رہماری ہڈیاں پرانی ہوکر پھر زندہ ہوںگی'' جواب دیا ہے ، اور انہیں اس بحث میں بیان کیا جاچکا ہے جہاں معاد پر قرآن کی دلیل پیش کی گئی ہے جیسے (سورہ یس آیة ۸۰) میں واضح طور پر معاد جسمانی اور روحانی کوبیان کیاگیا ہے ۔

۲۔ دوسری جگہ (سورہ قیامت آیة ۳،۴) میں فرمایا :کیاانسان یہ خیال کرتاہے کہ ہم اس کی ہڈیو ں کو جمع نہیں کریںگے بلکہ ہم قادر ہیں کہ انگلیو ں کے نشانات کو بھی ترتیب دیدیں ،ہڈیو ں کو جمع کرنا انگلیوں کے نشانات کو دوبارہ مرتب کرنا یہ معا د جسمانی اورروحانی کی ایک او ر دلیل ہے ۔


۳۔ تیسری مثال وہ آیتیں جوکہتی ہیں کہ انسان قبر سے اٹھے گا اس سے ظاہر ہے کہ قبر انسانی جسم کے لئے گھر قرار دیا گیا ہے اور اسلامی منکرین کی نظر میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جسم کے بغیر روح کا پلٹنا ممکن نہیں ہے جسم بغیر روح کے صرف لاش ہے خلاصہ یہ کہ اس طرح کی آیتیں معاد جسمانی اور روحانی کے لئے واضح دلیل ہے ۔ (وَأَنَّ السَّاعةَ آتِیةُ لا رَیبَ فِیها وأَنَّ اللَّهَ یَبعَثُ مَن فی القُبُورِ )قیامت کے سلسلے میں کو ئی شک نہیں او رخدا وند عالم ان تمام افراد کو جو قبروں میں ہیں دوبارہ زندہ کرے گا ۔( ۱ ) سورہ یس کی آیة : ۱۵۱ اور ۱۵۲ اور دوسری آیات اس پر شاہد ہیں ۔

۴۔ وہ آیتیں جو بہشتی نعمتوں کے سلسلے میں ہیں ۔میوے ،غذائیں مختلف کپڑے اوردوسری جسمانی لذتیں وغیرہ ،جنت کی لذتییں اور نعمتیں صرف مادیت پر منحصر نہیں ہیں بلکہ معنوی اور روحی لذتیں بھی بہت ہیں جن کا تذکرہ جنت کی بحث میں آئے گا انشاء اللہ

لیکن سورہ رحمن اور اس جیسی آیتوں سے یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ معاد جسمانی اور روحانی دونوںہی اعتبارسے ہے اور جسم اور روح کے لئے لذتیں ہیں یہ

____________________

(۱) سو رہ حج آیة ۷


ہے کہ جنت کی نعمتیں دنیاوی نعمتوں سے الگ ہیں او ران سے بہتر ہیں مگر یہ سب معاد جسمانی اور روحانی کے لئے دلیل ہیں ۔

۵۔وہ آیتیں جو مجرموں کے لئے مختلف طرح کے عذاب اور سزا کو بیان کرتی ہیں ان میں سے بہت سی جسم سے مربوط ہیں یہ آیتیں قرآن میں بہت ہیں ان میں بعض کی جانب اشارہ کررہے ہیں( یَومَ یُحمَیٰ عَلَیها فِی نَارِجَهَنَّم فَتُکویٰ بِها جِبَاهُهُم وَجُنُوبُهُم وَظُهُورُهُم ) ''جس دن انہیں دوزخ میں کھولایا جائے گا اورجلا یا جا ئے گا اور ان کی پیشانیاں نیز ان کے پہلو اور پشت کوداغا جائے گا''( ۱ ) ( یَومَ یُسحبُونُ فِی النّارِ عَلیٰ وُجُوههِمِ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ) ''جس دن دوزخ کی آگ ان کے چہرے پر ڈالی جا ئیگی او ران سے کہا جا ئے گا آج دوزخ کی آگ کا مزہ چکھ لو''( ۲ ) ( تَصلیٰ نَاراً حَامِیةً تُسقیٰ مِن عَینٍ آنیةٍ لَیسَ لَهُم طَعَامُ اِلَّا مِن ضَرِیعُ لا یُسمن ولَا یُغنیٰ مِن جُوعٍ ) ( ۳ ) ''بھڑکتی آگ میں داخل ہونگے کھولتے پانی سے سیراب کیا جائے گا ،خشک کا نٹا کڑوا اور بدبو دار کھانے کے علاوہ کچھ میسر نہ ہو گا ایسا کھانا جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے نجات دلائے گا''۔( کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهمُ بَدَّلنَاهُم جُلُوداً غَیرَها لِیَذُوقُوا العَذَابَ أِنَّ اللَّه کَانَ عَزِیزاً حَکِیماً ) ( ۴ ) جیسے ہی کافر کی کھال جل کر ختم ہو جا ئے گی اس کی جگہ دوسری کھال کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ عذاب

____________________

(۱) سورہ توبہ آیة: ۳۵

(۲) سورہ قمر آیة :۴۸

(۳) غاشیہ آیة :۴۔۷

(۴) سورہ نسا ء آیة ۵۶


کامکمل مزا چکھ لیں بیشک خدا عزیز اور حکمت والا ہے ۔

اس طرح کہ بہت سی آیتیں ہیں جن کا تذکرہ جہنم کی بحث میں آئیگا سب کے سب معاد جسمانی اور روحانی کے لئے دلیل ہیںاگر معاد فقط جسمانی ہوتی تو روحانی غذ اکا کوئی مفہوم نہ ہوتا ؟۔

۶۔ وہ آیتیں جو روز قیامت اعضاء وانسان کے بات کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں وہ معا د جسمانی اور روحانی پر واضح دلیل ہیںچونکہ ایسی آیتیں بھی بہت ہیں لہٰذانمونہ کے طور پرکچھ کا یہاں ذکر کرتے ہیں( الیَومَ نَختِمُ عَلیٰ أَفوَاهِهِم وَتُکَلِّمُنَا أَیدِیهِم وَتَشهد أَرجلُهُم بِمَا کَانُوا یَکسِبُونَ ) ''آج ان کی زبانو ں پر تالے لگ جائنگے ان کے ہاتھ باتیں کریں گے ان کے پائوں جو کئے ہوںگے اس پر گواہی دیں گے'' ۔( ۱ ) ( حَتیٰ اِذ مَا جَائُ وهَا شَهِدَ عَلَیهِم سَمعُهم وَأَبصَارُهُم وَجُلُودُهُم بِمَا کَانُوا یَعمَلُونَ ) '' یہاںتک کہ جب پہونچیں گے ان کی آنکھیں او رگوشت وپوست جو عمل انجام دیئے ہیں انکی گواہی دیں گے''( وَقَالُوا لِجُلُودِهِم لِمَ شَهِدتُم عَلَینَا قَالُوا أنطَقَنا اللَّهُ الَّذِی أنطَقَ کُلِّ شَیئٍ ) '' وہ اپنے جسم سے سوال کریں گے کیوں میرے خلاف گواہی دیتے ہو؟ وہ جواب میں کہیںگے وہ خدا جس نے سب کو قوت گویا ئی عطاکی ہے اس نے ہمیں بولنے کے لئے کہا''۔( ۲ )

____________________

(۱) سورہ یس ۶۵

(۲) سورہ فصلت ،۲۱


۷۔وہ آیتیں جومعاد جسمانی اور روحانی کو بطور نمونہ اس دنیا میں ثابت کرتی ہیں جیسے حضرت ابراہیم کا قصہ او رچار پرندے جوزندہ ہو ئے (سورہ بقرہ آیة۲۶۰) مقتول بنی اسرائیل کا واقعہ جو زندہ ہوا (بقرہ آیة ۷۳) جنا ب ''عزیر'' یا''ارمیا ' ' پیغمبر کا واقعہ (بقرہ ۲۵۹ )جناب حزقیل پیغمبر کاقصہ اورموت کے بعد بہت سارے لوگوں کا زندہ ہوناجیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۳ میں ملتا ہے ،جناب عیسی کا مردو ں کو زندہ کرنا (مائدہ ۱۱۰ آل عمران۴۹) میں آیا ہے جناب موسی کے زمانے میں موت کے بعد ستر آدمیوں کازندہ ہونا (بقرہ ۵۶۵۵) یہ سب کے سب واقعے معاد جسمانی اور روحانی پر محکم دلیل ہیں ۔

سوالات

۱۔موت کے بعدکے حیات کی کیفیت کے بارے میں کیا نظر یہ ہے ؟

۲۔شیعہ موت کے بعد کی زندگی کو کس طرح جانتے ہیں ایک دلیل قرآن سے ذکر کریں ؟

۳۔ معادجسمانی اور روحانی کانمونہ جو اسی دنیا میں واقع ہوا ہے بیان کریں ؟


پیتیسواں سبق

برزخ یا قیامت صغری

جوبھی اس دنیا میں آتاہے ان چار مراحل کو اسے طے کرنا ضروری ہے ۔

۱۔ پیدائش سے لے کر موت تک کیونکہ یہ دنیا کی زندگی ہے۔

۲۔موت کے بعدسے قیامت تک کی زندگی اسے عالم برزخ کہتے ہیں۔

۳۔قیامت کبری

۴۔جنت یا دوزخ

برزخ

برزخ؛ دو چیز کے درمیان کے فاصلے کانام ہے یہاں برزخ سے مراد وہ دنیا ہے جواس دنیا اور آخرت کے درمیان ہے جب روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے (قبل اس کے کہ یہ روح قیامت کے لئے دوبارہ اصل بدن میں واپس آئے ) ایک ایسے نازک جسم میں رہتی ہے جسے جسم مثالی کہتے ہیں تاکہ قیامت کے وقت وہ اسی کے ساتھ ہو ۔


موت کے وقت انسان دنیا او رآخرت کے درمیان ہوتا ہے مولا امیر المومنین نے فرمایا: لِکلِّ دار باب وباب دار الآخرة الموت ہر گھر کا ایک دروازہ ہوتا ہے او رآخرت کا دروازہ موت ہے( ۱ ) جیسا کہ بعض احادیث میں واضح طور پر ملتا ہے کہ موت کے وقت بہت سی چیزیں ہمارے لئے واضح اور روشن ہوجاتی ہیں ۔

۱۔ملک الموت اور دوسرے فرشتوں کو دیکھنا

(۲) پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او ر دوسرے ائمہ علیہم السلام کی زیارت

(۳) جنت یا دوزخ میں اپنی جگہ کا دیکھنا

(۴) اعمال کامجسم ہونا او راپنے گذرے ہوئے اعمال کو دیکھنا

(۵) دولت کا مجسم ہونا جو جمع کر رکھی ہے

(۶) اولا د رشتہ دار اور دوستوں کا مجسم ہونا

(۷) شیطان کامجسم ہونا

یہ کیفیت جس سے اچھے اعمال انجام دینے والے بھی ڈرتے ہیں اور خدا سے پناہ مانگتے ہیں ۔اس وقت انسان بعض پس پردہ رموز واسرار کو دیکھتا ہے او راس کا اعمال اس کے سامنے ہوتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو نیکیوں سے خالی اور گناہ کے بوجھ تلے محسوس کرتاہے اپنے کئے پرنادم وپشیمان ہو کر پلٹنے کی التجا کرتا ہے تاکہ اپنے کئے کا جبران کر سکے ۔( حَتیٰ اِذَا جَائَ أَحَدَ هُمُ المَوت قالَ رَبِّ ارجِعُونِ لَعلّیِ أَعمَلُ صَالِحاً فِیمَا تَرکتُ کَلَّا اِنَّهَا کَلِمةُ هُوَ قَائِلُهَا ) ''جب ان

____________________

(۱) شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدید


میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے فریاد کرتے ہیں بارالہا !مجھے پلٹادے تاکہ جو کچھ چھوٹ گیاہے اسے پورا کرلیں اور اچھے اعمال انجام دے لیں اس سے کہا جا ئے گا ایسا نہیں ہوسکتایہ فریاد ہے جو وہ کریں گے''۔( ۱ )

یہ باتیں زبان پر ہوںگی او راگر پلٹا دیا جائے تو اعمال پہلے کی طرح ہو ں گے جس طرح جب مجرم گرفتار ہوتاہے او راسے سزادی جاتی ہے تو یہی کہتا ہے لیکن جیسے ہی اس کی گرفتاری اور سزاختم ہو جاتی ہے اکثر پھر وہی اعمال دہراتا ہے ۔

قَال لقمان لابنه: یَا بُنیِ اِنَّ الدُّنیا بحر عمیق وقد هلکَ فیها عالم کثیر فاجعل سفینتکَ فِیهَا الاِیمان بِاللَّه واجعل زادک فیها تقویٰ اللَّه واجعل شراعها التوکّل علیٰ اللَّه فَاِنْ نجوّت فبرحمة اللّه وان هلکت فیه فبذنوبکَ وأشد ساعاته یوم یولد ویوم یموت ویوم یُبعث ۔''جنا ب لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا :اے میرے لخت جگر !یہ دنیا بہت گہرا سمندر ہے کتنے لوگ اس میں ڈوب چکے ہیں لذا تم خدا پر ایما ن، اپنے لئے کشتی نجا ت اور زاد راہ، پرہیز گاری نیز لنگر خدا پر بھروسہ کرو اب اگر ڈوبنے سے بچ گئے تو یہ خدا کی رحمت ہے اور اگر غرق ہوگئے تو یہ تمہا رے گناہ کے با عث ہوگا اور سخت ترین لمحہ زندگی انسان کے لئے وہ ہے جب وہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے یا وہ دن ہے جب اس دنیا کو خدا حافظ کہتاہے یا پھر وہ دن ہوگا جب پلٹایا جائے گا ''۔( ۲ )

____________________

(۱) سورہ مومنون آیة ، ۹۹۔۱۰۰

(۲)بحارالانوار جلد ،۶ ص ۲۵۰


عالم برزخ کے اثبات کے سلسلہ میں بہت سی آیتیں وروایتیں پائی جا تی ہیں اگر چہ یہ بات عقل ومحسوسات کے ذریعہ بھی ثابت ہو چکی ہے۔

برزخ کے سلسلے میں قرآنی آیا ت

( حَتیٰ اِذَا جَائَ أَحدَهُمُ المَوتُ قالَ رَبِّ ارجِعُونِ لَعلِّی أعمَلُ صَالِحاً فِیما تَرکتُ کَلَّا اِنَّهَا کَلِمَة هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرائِهِم بَرزَخُ اِلیٰ یَوم یُبعثُونَ ) ( ۱ ) یہا ں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پرور دگار مجھے پلٹا دے شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں ،ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے جویہ کہہ رہا ہے او ر ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والاہے یہ آیت واضح طور پر برزخ کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

( وَلَاتَحسَبَنّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیل اللَّهِ أَمواتاً بَلْ أَحیائُ عِندَ رَبِّهِم یُرزَقُونَ ) ( ۲ ) خبردار راہ خد امیں قتل ہونے والوں کومردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں او راپنے پرور دگا ر کے یہا ں سے رزق پارہے ہیں ۔( وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ یُقتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمواتُ بَل أَحیائُ ولکِن لَا تَشعُرُون ) ( ۳ ) ''اور جو لوگ راہ خدا میں قتل ہو جاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کاشعورنہیں ہے ''۔

یہ دو آیتیں برزخ کی زندگی اور شہداء کے رزق کو ثابت کرتی ہیں۔

____________________

(۱) سورہ مومنون ۔۹۹۔۱۰۰

(۲) آل عمران آیة ،۱۶۹

(۳) بقرہ آیة :۱۵۴


برزخ میں کافروں پر عذاب

( النَّارُ یَعرِضُونَ عَلیها غُدُوّاً وَعَشِیّاً وَیَومَ تَقَومُ السَّاعَة أَدخِلُوا آلَ فِرعَون أَشَدَ العَذَابِ ) ہر صبح وشام آگ انہیں پیش کی جاتی ہے اور جب قیامت آئے گی اس وقت حکم دیا جائے گا کہ آل فرعون کو سخت ترین عذاب سے گذارا جائے۔( ۱ )

امام صادق سے روایت ہے کہ دنیا میں آل فرعون ہر صبح وشام آگ کے سامنے پیش کئے جا ئیں گے لیکن قیامت میں (یوم تقوم الساعة)ہے( ۲ ) آیت نے واضح طور پر عذاب کو دوحصوں میں آل فرعون کے لئے تقسیم کیاہے۔

۱۔برزخ میں صبح وشام آگ۔۲۔ قیامت میں سخت ترین عذاب۔

قبر دوسری دنیا کی پہلی منزل

سوال قبر :

جب انسان کو قبر میں رکھ دیا جائے گا اور خدا کے دوفرشتے جنہیں نکیر ومنکر یا ناکر ونکیر کہا جاتا ہے اس کے پاس آئیں گے اوراس سے خد اکی وحدانیت ،نبوت ، وولایت اور نماز وغیرہ کے بارے میں سوال کریںگے ۔

عن أب عبداللّه قال:'' مَن أَنکَر ثلا ثة أشیاء فلیس من شیعتنا المعراج والمسألة فی القبر و الشفاعة''

____________________

(۱)غافر آیة :۴۶

(۲) بحا رالانوار ج۶، ص ۲۸۵


امام صادق نے فرمایا جو شخص تین چیز کامنکرہے وہ میرا شیعہ نہیں ہے معراج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، قبر میں سوال اور شفاعت۔

امام زین العابدین ہرجمعہ کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسجد میں لوگوں کو نصیحت کرتے تھے لوگ اسے حفظ بھی کرتے تھے او رتحریر بھی کرتے تھے ،امام فرماتے ہیں :

أیُّها النَّاس اتقوا اللّه واعلموا أنَّکم الیه تُرجعون فتجد کُلِّ نفس ما عملت فی هذه الدنیا من خیر محضراً وما عملت من سوء تودُّ لو أَنَّ بینها و بینه أمداً بعیداً و یحذّرکم اللّه نفسه و یحک ابن آدم الغافل و لیس بمغفول عنه ابن آدم أَنَّ أَجلک أسرع شیئٍ اِلیک قد أَقبل نحوکَ حثیثاً یطلبکَ و یوشکَ أنَّ یدرککَ وکان قد أَوفیت أجلکَ و قبض الملکَ روحکَ وصرت اِلیٰ منزل وحیداً فردَّ اِلیکَ فیه روحکَ واقتحم علیکَ فیه ملکا کَمنکر ونکیر لمسئلتکَ وشدید امتحانکَ أَلا وأَنَّ أوّل مایسئلا نکَ عن رَبِّکَ الّذِی کنت تعبده وعن نبیّک الذی أرسل اِلیکَ وعن دینکَ الّذِی کنت تدین به وعن کتابکَ الذِی کنت تتلوه وعن اِمامکَ الذی کنت تتولاه ثم عن عمرکَ فیما أَفنیته و مالکَ من أَین اکتسبته؟وفیما أتلفته فخذ حذرکَ و انذر لنفسکَ واعد للجواب قبل الامتحان والمسألة والاختبار''

اے لوگو ! تقوی الٰہی اختیار کرو او ریہ جان لو کہ اسی کی طرف پلٹ کے جا نا ہے اب جس نے اس دنیا میں نیک کام انجام دیا وہ اس کا صلہ پائے گا ۔اسی طرح برائیاں بھی ہیں کہ جس کے لئے تمنا کرے گا اے کا ش! میرے او ران گناہو ں کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہوتا ۔اور خدا آپ کو ڈرا رہا ہے کہ اے غافل انسان تجھ سے غفلت نہیں برتی گئی ہے ۔


اے فرزند آدم موت تجھ سے سب سے زیادہ قریب ہے اور عنقریب وہ تجھے اپنی آغوش میں لے لیگی گویا موت آچکی ہے او رفرشتہ نے تمہاری روح کو قبض کرلیا ہے او رتم ایک گوشہ تنہائی میں داخل ہو گئے ہو اور تمہاری روح پلٹا دی گئی ہے اور نکیر ومنکر تمہارے سوال او رسخت امتحا ن کے لئے حاضر ہوگئے ہیں جاگ جائو سب سے پہلا سوال جو تم سے کیا جائے گا ،اس خد اکے سلسلہ میں ہو گا جس کی تم عبادت کرتے تھے اور اس پیغمبر کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا اس دین کے بارے میں ہوگا جس کے تم معتقدتھے او راس قرآن کے بارے میں ہوگا جس کی تم تلا و ت کرتے تھے او راس امام کے بارے میں جس کی ولا یت کو تم نے مانا تھاپھر تمہاری عمرکے سلسلہ میں سوا ل ہوگا کہ کس چیز میں گذاری اور مال کے بارے میں کہ تم نے اسے کہاں سے حاصل کیا اورکہا ں خرچ کیا ؟لہٰذا احتیاط کا دامن نہ چھوڑو اور اپنے سلسلہ میں سوچو ،امتحان اور سوالات سے پہلے اپنے کو تیار رکھو ۔( ۱ )

____________________

(۱) بحار الانوار جلد ،۶ ص ۳۲۲


سوالات

۱۔ انسا ن موت کے وقت کس چیز کا مشاہدہ کرے گا ؟

۲۔ ہر شخص ولا دت کے بعد کتنے مراحل طے کرتاہے ؟

۳۔ برزخ کیا ہے اور کس مرحلے کانام ہے ؟

۴۔ قرآن برزخ کے لئے کیا فرماتا ہے آیت لکھیں ؟


چھتیسواں سبق

صور کا پھونکنا ،اور نامۂ اعمال

اس دنیا کا اختتام اور دوسری دنیا کا آغاز ایک قیامت خیز چیخ کے ساتھ ہوگا قرآن کی بہت سی آیتوں میں صور پھونکنے کی طرف اشارہ ہے ان تمام آیتوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دوبارصورپھونکا جائے گا۔

۱۔اس دنیا کے خاتمہ کے وقت جس سے تما م مخلوق خدا فنا ہوجا ئے گی یہ صورموت ہے ۔

۲۔ قیامت کے وقت جب تمام مخلو ق کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اوریہ صور قیامت ہے ان دواہم واقعہ کو قرآن نے مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے'' نفخ صور'' صیحہ' نقر در ناقور'' '' صاخہ''،''قارعہ'' ''زجرة''۔( وَنُفِخَ فیِ الصُّورِ فَصُعِقَ مَن فِی السَّمواتِ وَمَن فِی الأَرض اِلا مَن شاء اللَّه ثُمَّ نُفِخَ فیهِ أُخَریٰ فاِذاهُم قِیَامُ یَنظُرونَ ) ''اور جب صور پھو نکا جائے گا اس وقت تمام مخلوق جو آسمان و زمین میں ہیں سب کے سب فنا ہوجائیں گے مگرصرف وہ لوگ بچیں گے جنہیں خدا چاہے گا پھر دوبارہ صور پھونکا جائیگا کہ اچانک سبھی اٹھ کھڑے ہو نگے اورحساب اور جزاء کے منتظر ہوںگے ''۔

سورۂ یس کی ۵۳ آیت میں اس واقعہ کو''صیحہ ''چنگھا ڑ کے نام سے یاد کیاگیاہے ۔

( اِنّ کَانَت اِلَّا صَیحَةً وَاحِدةً فاِذَا هُم جَمِیعُ لدَینا مُحضَرُونَ ) یس:۵۳) قیامت توصرف ایک چنگھاڑ ہے اس کے بعد سب ہماری بارگا ہ میں حاضر کردئے جائیں گے او رسورہ مدثر کی آیت ۸ میں نقر وناقور کے نام سے جانا جاتاہے( فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُورِ فَذلِک یَومَئذٍ یَوم عَسیر ) پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن انتہائی مشکل دن ہوگا اور سورہ عبس کی آیة ۳۳ میں( فاِذَا جاء ت الصَّاخَةُ ) پھر جب کان کے پردے پھاڑ نے والی قیامت آجا ئے گی ۔

اور سورہ قارعة کی ایک سے تین تک کی آیتوں میں اس اہم واقعہ کو قارعہ سے یاد کیا ہے۔( القَارِعَةُ مَا القَارِعةُ وَمَا أدرَاک مَا القَارِعَةُ ) کھڑکھڑانے والی اور کیسی کھڑکھڑانے والی اورتمہیں کیامعلوم کہ وہ کیسے کھڑکھڑانے والی ہے اور سورہ صافات کی آیة ۱۹میں زجر کے نام سے یاد کیاگیاہے( فَاِنّما هِیَ زَجَرَةُ وَاحِدةُ فَاِذَا هُم یَنظُرُونَ ) یہ قیامت تو صرف ایک للکا ر ہوگی جس کے بعد سب دیکھنے لگیں گے ان تمام آیات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس دنیا کا خاتمہ اور دوسری دنیا کا آغاز اچانک اور ایک چنگھا ڑ ''صیحہ '' کے ذریعہ ہوگا یہ تمام عنوان جو ذکر کئے گئے ہیں


یہ سب کنایہ ہیں نفخ چاہے پھونکنے کے معنی میں ہو یا صورکے البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ یہ واقعہ سخت ہوگا او رصور کا پھونکا جانا عام طرح سے نہیں ہوگا بلکہ ایک سخت دن ہوگا اور عجیب طریقہ کی چنگھاڑ ہوگی جس سے ایک سکنڈ میں تمام زمین او رآسمان والے نابو د ہو جا ئیں گے خدااپنے دوسرے حکم سے قیام قیامت کی خاطر سب کو دوبارہ زندہ کرے گا ان دو حکم کے درمیان کا فاصلہ ہمیں معلوم نہیں ۔

صحیفہ یانامۂ اعمال

قرآن او راحادیث معصومین علیہم السلام میں نامہ اعمال کے متعلق بہت طویل بحث ہے ایسانامہ اعمال جس میں انسان کے تمام اعمال ثبت ہو ں گے اور قیامت کے دن ظاہر ہوں گے ۔

۱۔ اعمال کا ثبت ہونا:( وَنَکتُبُ مَا قَدَّموا وَآثَارهم وکُلَّ شَیئٍ أَحصَینَاهُ فِی اِمامٍ مُبینٍ ) اور ہم ان گزشتہ اعمال اور ان کے آثار کو لکھتے جاتے ہیں اورہم نے ہر شی ٔ کو ایک روشن امام میں جمع کردیاہے۔( ۱ ) ( وَکُلّ شَیئٍ فَعَلُوهُ فِی الزُّبُرِ وَکُلُّ صَغِیرٍ وَکَبیرٍ مُستَطرُ ) اور ان لوگو ں نے جو کچھ بھی کیا ہے سب نامۂ اعمال میں محفوظ ہے اور ہر چھوٹا اور بڑا عمل اس میں درج کردیاگیا ہے۔( ۲ ) ( اِنَّ رُسُلُنا یَکتُبُونَ مَا تَمکُروَن ) اور ہمارے نمایندہ تمہا رے مکر کو برابر لکھ رہے ہیں۔( ۳ ) ( أَم یَحسَبُونَ أِنَّا لَا نَسمعُ سِرَّهمُ و نَجوٰهم بَلیٰ وَ رُسُلَنَا لَدیهِم یَکتبُونَ ) یا ان کاخیال ہے کہ ہم ان کے راز اور خفیہ باتوں کو نہیں سن سکتے ہیں تم ہم کیا ہمارے نمایندہ سب کچھ لکھ رہے ہیں۔( ۴ )

( فَمَنْ یَعمَل مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤمِنُ فلا کُفرانَ لِسَعیهِ وَاِنَّا لَهُ

____________________

(۱)سورہ یس آیة: ۱۲

(۲) سورہ قمر آیة: ۵۲۔۵۳

(۳) سورہ یونس آیة: ۲۱

(۴) سورہ زخرف آیة: ۸۰


کَاتِبُونَ ) پھر جوشخص صاحب ایما ن رہ کر عمل کرے گا اس کی کوشش برباد نہ ہوگی اورہم اس کی کوشش کوبرابر لکھ رہے ہیں۔( ۱ )

اعمال کا ظاہر ہونا :( وَاِذَا الصُحُفُ نُشِرَت عَلِمَت نَفسُ مَا أَحَضَرت ) اورجب نامۂ اعمال منتشر کر دئے جائیں گے تب ہر نفس کومعلوم ہوگا کہ اس نے کیا حاضرکیا ہے۔( ۲ ) ( بَل بَداَ لَهُم مَا کَا نُوا یُخفُونَ مِن قَبلُ ) بلکہ ان کے لئے وہ سب واضح ہوگیا جسے پہلے سے چھپا رہے تھے۔( ۳ ) ( یُنبَّوا الأِنسَانُ یَومئِذٍ بِمَا قَدَّمَ و اخَّرَ ) اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیاکیا اعمال کئے ہیں۔( ۴ ) ( وَکُلَّ اِنسانٍ ألزمنَاهُ طَائِرهُ فِی عُنُقهِ وَنُخرِجُ لَهُ یَومَ القِیَامَةِ کِتَاباً یَلقیٰهُ مَنشُوراً ) ( ۵ ) اور ہم نے ہر انسان کے نامہ اعمال کو اس کی گردن میں آویزان کردیا ہے اور روز قیامت اسے ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح پیش کردیں گے( وَوُضِعَ الکِتَابُ فَتَریٰ المُجرمِینَ مُشفِقِینَ مِمَّا فِیهِ وَیَقُولُونَ یا وَیلَتَنَا مَالِ هَذا الکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً اِلاَّ أَحصیٰها وَ وجدُوا مَا عَمِلوا حَاضِراً وَلاَ یَظلِمُ رَبُّکَ أَحَداً ) اور جب نامہ اعمال سامنے رکھا جائے گا تودیکھو گے کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ ہوں گے اورکہیں گے ہا ئے افسوس اس کتاب نے چھوٹا بڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پرور دگار

____________________

(۱) سورہ انبیاء آیة: ۹۴

(۲) تکویر آیة: ۱۰۔۱۴

(۳) سورہ انعام آیة: ۲۸

(۴) سورہ قیامت آیة: ۱۳

(۵)سورہ اسراء آیت۱۳


کسی ایک پربھی ظلم نہیں کرتا ہے۔( ۱)

نامۂ اعمال احادیث معصومین علیہم السلام کی نظر میں

امام محمدباقرں سورہ اسراء کی آیة ۱۴ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ہر انسان کا نامہ اعمال اس کی گردن میں لٹکادیا جائیگا ۔

(خیره وشره معه حیث کان لا یستطیع فراقه حتیٰ یعطیٰ کتابه یوم القیامة بما عمل ) انسان کی اچھائیاں اور برائیاں نہ الگ ہونے والے ساتھی کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں یہاں تک(نامہ اعمال) وہ کتاب ان کے کئے ہو ئے اعمال کے ساتھ اس کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔( ۲ )

عن أَبی عبد اللّه علیه السلام: اذاکان یوم القیامة دفع الانسان کتابه ثم قیل له اقرأ فقال الراوی فیعرف ما فیه :فقال أِنَّ اللَّهَ یُذکّره ، فما من لحظة ولا کلمة ولانقل قدم ولا شیء فعله الاذکره کأنه فعله تلک الساعة فلذلک قالوا یا وَیلتَنا مالِ هَذَا الکِتَابِ لَایُغادِرُ صَغیرةً ولا کَبیرةً اِلَّا أَحصیٰهَا.

امام جعفر صادق نے فرمایا :جب قیامت آئے گی انسان کے نامہ اعمال کواس کے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس سے کہا جا ئے گا پڑھو راوی کہتا ہے کیا ان

____________________

( ۱)سورہ کہف آیة ۴۹

(۲) نورالثقلین ج،۳ ص ،۱۴۴


مطالب کو وہ جانتا ہوگا ؟امام نے فرمایا : خدا وند عالم اسے یاد دلا ئے گا اس طرح کہ جو بھی اس نے وقت گذار اجو کہا ،جو قدم اٹھایا ،یادوسری چیزیں جس پر عمل کیا ہوگا خدا اسے ان تمام لمحات کو اسے اس طرح یاد دلائے گا جیسے اس نے اسی وقت انجام دیاہواور وہ کہیں گے ہا ئے افسوس یہ کیسی کتاب ہے کہ جس میں ہر چھوٹا ،بڑا سب کچھ لکھ دیا گیاہے ۔( ۱ )

نامۂ اعمال کسے کہتے ہیں

جوچیز یقینی اور مسلّم ہے وہ یہ کہ انسان کے تمام اعمال اور کردار لکھے جاتے ہیں، اب کیا یہ کا غذ، ورق یا کتاب ہے یادوسری چیز ہے ؟اس کی مختلف تفسیریں کی گئیں ہیں تفسیر صافی میں مرحوم فیض کاشانی کہتے ہیں نامہ اعمال روح انسان کے لئے کنایہ ہے کہ اس میں تمام اعمال کے آثار چھپ جاتے ہیں۔

تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائی مرحوم فرماتے ہیں نامہ اعمال انسان کے تمام حقیقت کو اپنے اندر شامل کئے ہوگا اوراس کے خطوط دنیاوی کتاب سے مماثلت نہیں رکھتے ہوںگے بلکہ وہ خود اعمال انسان ہے،کہ جس سے خدا باکل واضح طور پر انسان کو بتا دے گا اور مشاہدہ سے بڑھ کر کوئی دلیل نہیں ہے انھوں نے سورہ آل عمران کی آیت ۳۰ سے استفادہ کیا جس میں ارشاد ہو ا (جس دن انسان اپنے اچھے اور برے اعمال کو سامنے دیکھے گا )( ۲ ) اور بعض نے نامۂ اعمال کو

____________________

(۱)پیام قرآن ج،۶ ص ۱۰۱

(۲) المیزان ج، ۱۳ص،۵۸


ویڈیوکیسٹ کی تصویر یا ٹیپ کی کیسٹ سے مشابہ بتایا ہے بہر حال چونکہ نامۂ اعمال کا قرآن واحادیث میں کافی ذکر ہے ہم اس پر ایما ن رکھیں ہر چند اس کی حقیقی کیفیت کاہمیں علم نہیں ہے ۔

سوالات

۱۔نفخ ،صور سے کیامراد ہے اور یہ کب واقع ہوگا ؟

۲۔ امام محمد باقر ںنے نامۂ اعمال کے سلسلے میں کیا فرمایا ہے ؟

۳۔ نامہ اعمال کسے کہتے ہیں واضح کیجئے ؟


سیتیسواں سبق

قیامت کے گواہ اور اعمال کا ترازو

خدا وند عالم لوگوں کی تما م اچھائیاں اوربرائیاں اچھی طرح سے جانتا ہے چاہے انہیں ظاہر میں انجام دیا ہو یاچھپ کر لیکن خدا کی مصلحت اور حکمت اس چیز پر قائم ہوگی کہ قیامت میں لوگوں سے سوالات ان کے اعمال کے کارنامہ اور گواہوں کی گواہی کے اعتبار سے ہو گی اور وہ گواہ یہ لوگ ہیں ۔

۱۔خدا وند عالم :

جوپہلا گواہ ہے( اِنَّ اللّهَ علیٰ کُلِّ شَیئٍ شَهِیدُ ) بیشک خدا ہر چیز پر گواہ ہے۔( ۱ ) ( اِنَّ اللّهَ کَانَ عَلَیکُم رَقیباً ) اللہ تم سب کے اعمال کانگراں ہے۔( ۲ ) ( فَاِلَینَا مَرجِعُهُم ثُمَّ اللَّه شَهِیدُ عَلیٰ مَایَفعَلُونَ ) بہر حال پلٹ کر ہماری ہی بارگاہ میں آنا ہے اس کے بعد خدا خود ان کے اعمال کا گواہ ہے۔( ۳ )

۲۔انبیاء اور ائمہ علیہم السلام :

( وَ یَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیکُم شَهِیداً ) اور پیغمبر آپ پرگواہ ہونگے۔( ۴ ) ( وَجِئنَابِک عَلیٰ هَولاِء شَهِیداً ) اورپیغمبر آپ کو ان سب کاگواہ بنا کر بلائیں گے۔( ۵ ) ( وَیَومَ نَبعَثُ مِن کُلِّ أُمَّةٍ

____________________

(۱) سورہ حج آیة:۷ ۱

(۲) سورہ نسا ء آیة: ۱

(۳) سورہ یونس آیة: ۴۶

(۴) سورہ بقرہ آیة:۱۴۳

(۵) سورہ نسا ء آیة:۴۱


شَهِیداً ) اور قیامت کے دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے۔( ۱ )

ابوبصیر کے بقول امام صادق سے اس قول خدا کی تفسیر میں :

( وَکَذلِکَ جَعَلنَاکُم أمَّةً وَسَطَاً لِتَکُونُوا شُهدَائَ عَلیٰ النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیکُم شَهِیداً ) فرماتے ہیں:''نحن الشهداء علیٰ الناس بما عند هم من الحلال والحرام وبما ضیعوا منه '' (ہم لوگوں پر گواہ ہو نگے اس چیز کے لئے جو حلا ل اور حرام ان کے پاس ہے اور جو انھوں نے ضایع کیا ہے۔( ۲ )

او ردوسری روایت میں ہے کہ ہم امت وسط ہیں اور ہم خدا کی طرف سے امت کے گواہ ہیں اور خدا کی زمین پر حجت ہیں۔( ۳ )

۳۔فرشتے :

( وَجَائَتْ کُلُّ نَفسٍ مَعَها سَائِقُ وَ شَهِیدُ ) اور ہر انسان آئے گا اس حال میں کہ فرشتے اسے لے جائیں گے اور فرشتے ان کے کامو ں پر گواہ ہوں گے( ماَ یَلفَظ مِن قَول اِلّا لَدَیه رَقِیب عَتید ) وہ کو ئی بات منھ سے نہیں نکالتا ہے مگر یہ کہ ایک نگہبان اس کے پاس موجود رہتا ہے۔( ۴ )

امیر المومنین دعائے کمیل میں فرماتے ہیں:''وکلَّ سیئة أمرت بِاثباتها الکرام الکاتبین الذین وکلّتهم بحفظ مایکون منی وجعلتهم شهوداً علیِّ مع جوارحی ''بارالہا ! میرے ان گنا ہوں کومعاف کردے جنہیں لکھنے کے لئے اپنے

____________________

(۱) سورہ نحل آیة:۸۹

(۲) تفسیر نورالثقلین ج۱،ص ۱۳۴

(۳) حوالہ سابق

(۴) سورہ ق آیة:۲۱، ۱۸


محبوب فرشتوں کو حکم دیا ہے اور انہیں ہما رے اعضاء جسمانی کے ساتھ گواہ بنایا ہے۔

۴۔زمین :

( یَومئذٍ تُحَدّث أخباَرها ) (زمین ) اس دن وہ اپنی خبریں بیان کریگی( ۱ ) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب اس آیت کو پڑھا فرمایا:''ا تدرون ما اخبارها؟ جاء ن جبرئیل قال خبرها اِذا کان یوم القیامة أخبرت بکلِّ عمل علیٰ ظهرها'' جانتے ہو زمین کی خبریں کیا ہیں ؟ جبرئیل نے مجھ سے بتایا ہے کہ زمین اس چیز کے بارے میں بتائے گی جو اس پر انجام دیا گیا ہے۔( ۲ )

مولائے کا ئنات فرماتے ہیں :''صلوا المساجد فی بقاع مختلفة فاِنَّ کُلَّ بقعة تشهد للمصلی علیها یوم القیامة ''مسجد میں ہر جگہ نما ز پڑھو چونکہ ہر جگہ قیامت کے دن نماز پڑھنے والے کے لئے گواہی دے گی ۔اسی طرح جب مولائے کائنات بیت المال کو مستحقین میں تقسیم کردینے کے بعدجب زمین خالی ہوجاتی تھی تو دورکعت نماز پڑھتے تھے اور بیت المال کی زمین سے خطاب کر کے کہتے تھے قیامت میں گواہ رہنا حق کے ساتھ یہا ں مال جمع کیا اور حق کے ساتھ تقسیم کیا۔( ۳ )

۵۔ زمان (رات ودن )

قال أبو عبداللّٰه علیه السلام: ما مِن یوم یأتی علیٰ اِبن آدم اِلّا قال ذلک الیوم : یا بن آدم أنا یوم جدید وأنا علیک شهید فقل فَیّ خَیراً أشهُد لَک یوم القیامة فاِنَّک لن ترانِی بعدها أبداً ''امام صادق

____________________

(۱) سورہ زلزال آیة:۴

(۲) درالمنثور ج،۲ معاد فلسفی ۳۳۴

(۳) لئالی الاخبارص۴۶۲


نے فرمایا : کوئی دن انسان کے لئے نہیں گذرتا مگر وہ دن انسان سے کہتا ہے اے فرزند آدم! میں نیا دن ہو ں اور ہم تمہا رے اوپر گواہ ہیں لہٰذا آج اچھائی انجام دو تاکہ قیامت کے دن تمہارے لئے گواہی دیں اور اس کے بعد تم مجھے کبھی نہیں دیکھو گے ۔

وعنه عن أبیهں :قال اللّیل اِذا اقبل نادیٰ منادٍ بصوت یسمعه الخلائق اِلّا الثّقلین :یا ابن آدم !أنِّی علیٰ ما فیِّ شهید فخذ منی فأَنِّی لوطلعت الشمس لم تزد فیّ حسنه ولم تستعتب فیِّ من سیئة وکذلک یقول النهار اِذَا ادبر اللَّیل ''امام صادق اپنے والد بزرگوار امام باقر سے نقل کرتے ہیں کہ انھو ں نے فرمایا جب رات آتی ہے تو آواز دینے والا آواز لگا تا ہے جس کو انسان او رجنات کے علاوہ سبھی سنتے ہیں کہتاہے :اے فرزند آدم !جو کچھ ہم میں انجام پایا ہے اس پرگواہ ہیں لہٰذا زاد راہ کو مجھ سے حاصل کرلو کیونکہ اگر سورج نکل آیا تو پھر مجھ میں اچھا ئیوں کا اضافہ نہیں کرسکتے او ر گنا ہ کو واپس نہیں لے سکتے اور یہی فریاددن کی ہوتی ہے جب رات گذر جاتی ہے۔( ۱ )

۶۔ انسان کے اعضاء وجوارح :

( یَومَ تَشهَدُ عَلَیهِم ألسِنَتهُم وَ أَیدِیهِم وَ أَرجُلُهُم بِمَا کَا نُوا یَعملُون ) قیامت کے دن ان کے خلا ف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پائوں سب گواہی دیں گے کہ یہ کیا کررہے تھے۔( ۲ ) ( الیَومَ نَختِمُ عَلیٰ أَفوَاهِهِم وَ تُکَلِّمنَا أَیدِیهِم وَتَشهُد أَرجلُهُم بِمَا کَانُوا یَکسِبُونَ ) آج

____________________

(۱)بحا الانوار ج۷، ص ۳۲۵

(۲)سو رہ نور آیة: ۲۴۔


ہم ان کے منھ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ بولیں گے او ران کے پائو ں گواہی دیں گے کہ یہ کیسے اعمال انجام دیا کرتے تھے۔( ۱ ) ( شَهِدَ عَلَیهِم سَمعُهم و أَبصارُهُم وَ جُلُودُهُم بِمَا کَا نُوا یَعمَلُونَ ) ان کے کا ن اور انکی آنکھیں اور جلد سب ان کے اعمال کے بارے میں ان کے خلا ف گواہی دیں گے۔( ۲ )

۷۔ خود عمل کا حاضر ہونا :عمل کا مجسم ہوکر سامنے آنا سب سے بڑا گواہ ہے( یَومَئِذٍ یَصدُرُ النَّاسُ أَشتاتاً لِیُروا أَعَمَالَهُم فَمَنْ یَعمَلْ مِثقَالَ ذَرةٍ خَیراً یَرَهُ وَمَنْ یَعمَل مِثقالَ ذَرةٍ شَراً یَرَهُ ) اس روز سارے انسان گروہ در گروہ قبروں سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھ سکیں پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے بھی دیکھے گا ۔( ۳ ) ( وَوَجَدُوا مَاعَمِلوا حاَضِراً وَلَا یَظلِمُ رَبُّکَ أَحداً ) او رسب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے او رتمہا را پرو ردگا ر کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرتا ہے۔( ۴ ) ( یَومَ تَجدُ کُلَّ نَفَسٍ مَاعَمِلتْ مِنْ خَیرٍ مُحضَراً وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوئٍ تَودُّ لوأَنَّ بَینَها وَبَینَهُ أَمَداً بَعیدا ) اس دن کو یاد کرو جب ہر نفس اپنے نیک اعمال کو حاضر پائے گا او ر اعمال بد کو بھی کہ جن کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش ہما رے اور ان برے اعمال کے درمیان طویل فاصلہ ہو جا تا۔( ۵ )

____________________

(۱) سورہ یس آیة: ۶۵

(۲) سورہ فصلت آیة: ۲۰

(۳)سورہ زلزال آیة: ۶تا آخر۔

(۴) سورہ کہف آیة ۴۹

(۵)سورہ آل عمران آیة ۳۰۔


اعمال کے مجسم ہونے اور حاضر ہونے کے سلسلے میں بہت سی حدیثیں ہیں پائی جا تی ہیں جیسا کہ شیخ بہا ئی مرحوم کہتے ہیں:''تُجسّم الأعمال فی النشأة الأ خرویة قد ورد فیِ أحادیث مُتکثرة من طرق المخالف والمؤالف ''اعمال کا دوسری دنیامیں مجسم ہونا بہت سی حدیثوں میں سنی او ر شیعہ دونوں کے یہاں موجود ہے۔( ۱ )

نمو نہ کے طورپر پیغمبر کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں ....و اِذا جاء أخرجوا من قبورھم خرج من کلّ اِنسان عملہ الذیِ کان عملہ فی الدنیا لأن عمل کلّ اِنسان یصحبہ فی قبرہ ''جب تمام لوگ اپنی قبروں سے باہر آئیں گے ان کے اعمال بھی ان کے ساتھ آئیں گے کیونکہ ہرانسان کا عمل اس کی قبر میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔( ۲ )

قیامت میں میزان اعمال

قرآن اور احادیث معصومین میں قیامت کے ترازو کے بارے میں بہت زیادہ تذکرہ ہے ،ترازو تولنے کاذریعہ ہے ہر چیز کا ترازو اسی کے لحاظ سے ہوتا ہے سبزی بیچنے کے لئے مخصوص ترازو ہے، لائٹ اور پانی کا ترازو مخصوص میٹر ہے، ٹھنڈی اورگرم ہواکا پتہ لگا نے کے لئے تھرما میڑہے اور قیامت کا ترازو اعمال کو تولنے کا ذریعہ ہوگا ۔

قبل اس کے کہ قیامت کے میزان (ترازو) کے معنی اور اس کی تفسیر بیان کریں

____________________

(۱) بحار الانوار ج۷، ص ۲۲۸

(۲)تفسیر برہان ج۴، ص ۸۷


اس سلسلے میں قرآن کی آیتوں کو ملا حظہ فرمائیں( وَنَضعُ المَوَازِینَ القِسطَ لِیَومِ القِیَامَةِ فَلاَ تُظلَمُ نَفَسُ شَیئاً وَاِن کان مِثقَالَ حَبَّةٍ مِن خَردَلٍ أتَینَابِهَا وَکَفیٰ بِنَا حَاسِبِین ) او رہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کریں گے او رکسی نفس پر ادنی ظلم نہیں کیا جائے گا اوراگر کسی کا عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہے تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم سب کا حساب کرنے کے لئے کافی ہیں۔( ۱ )

( وَالوَزنُ یَومَئِذٍ الحَقُّ فَمَن ثَقُلَت مَوَازِینُهُ فَأُولئِک هُمُ المُفلِحُونَ وَمَن خَفَّتْ مَوَازِینُهَُ فَاُولئِک الَّذینَ خَسِرُوا أَنفسُهُم بِمَاکَانُوا بِآیاتِنَا یَظلِمُونَ ) آج کے دن اعمال کاوزن ایک برحق شی ٔ ہے پھر جس کے نیک اعمال کا پلہ بھا ری ہوگا وہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔( ۲ )

( فَأمَّا مَنْ ثَقُلَت مَوَازِینُهُ فَهُو فِی عِیشةٍ رَاضِیَةٍ وَ أمَّا مَن خَفَّت مَوَازینُهُ فَأُمُّهُ هَاوِیَةُ ) تو اس دن جس کی نیکیوں کاپلہ بھاری ہوگا وہ پسندیدہ عیش میں ہوگا اور جس کاپلہ ہلکا ہوگا اس کا مرکز جہنم ہے۔( ۳ )

میزان قیامت کسے کہتے ہیں ؟

مرحوم طبرسی فرماتے ہیں : آخرت میں انصاف کا نام ترازو ہے او روہا ں کسی پر ظلم نہیں کیاجائے گا ،وزن سے مراد عظمت مومن اور اس کی فضیلت کااظہار ہے اور کفار کو ذلیل اور رسوا کرنا ہے جیسا کہ سورہ کہف کی آیة ۱۰۵ میں مشرکین کے سلسلہ میں آیا

____________________

(۱) سورہ انبیاء آیة ۴۷

(۲) سورہ اعراف آیة۸۔۹

(۳)سورہ قارعة آیت ۶۔۹


ہے''فلا نقیم لهم یَومئذٍ وزنا'' او رہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے اور آیة'' ثَقُلَت مَوازِینُہُ'' سے مراد یعنی ان کی خوبیاںبھاری ہوںگی اورنیکیاں زیادہ ہوںگی اور''خفت موازینه ''سے مراد یعنی خوبیا ں ہلکی او راطاعتیں کم ہوںگی۔( ۱ ) اور جوچیز مرحوم طبرسی نے بیان کیا ہے اس روایت کے ذیل میں ہے جو ہشام بن حکم نے امام صادق نے نقل کیا ہے۔( ۲ )

میزان قیامت کون لوگ ہیں ؟

بحاالانوار کی ساتویں جلد کے ص ۲۴۲ کے ذیل میں جو بیان ہواہے او رتفسیر

صافی میں جو میزان کے معنی بیان کئے گئے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے آخرت میں لوگوں کا ترازو وہ چیز ہے جس کے ذریعہ ہر شخص کی قیمت ومنزلت کو اس کے عقیدہ اور اخلا ق وعمل کے اعتبار سے تولا جائے گا تاکہ ہر انسان کو اس کی جزا مل سکے ،اور اس کے میزان انبیاء اور اوصیاء ہوں گے کیونکہ ہرانسان کی قدرو منزلت انہیں انبیاء کا اتباع اور ان کی سیرت سے قربت کے مطابق ہوگا اور اس کا سبک وہلکا ہونا انبیاء اور اوصیاء سے دوری کے باعث ہوگا ،کافی اور معانی الاخبار میں امام صادق نے اس آیت کی تفسیر میں ''ونضعَ الموازین القِسطَ لیومِ القیامة'' اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کریںگے فرمایا:''هُم الأ نبیاء والأوصیائ '' یعنی میزان عمل انبیاء او راوصیاء ہو ں گے

دوسری روایت میں فرمایا:''نحن موازین القسط ''ہم میزان عدالت ہیں۔( ۳ )

____________________

(۱) بحارالانوار ج،۷ ص ۲۴۷و ۲۴۳

(۲) بحار الانوار ج،۷ ص

۲۴۸(۳) بحارالانوار ج،۷ ص ۲۴۷و ۲۴۳


مرحوم علامہ مجلسی ،شیخ مفید سے نقل فرماتے ہیں کہ روایت میں آیاہے کہ :''ان أمیرالمؤمنین والأئمةمِن ذریته هم الموا زین ''بیشک امیر المومنین اوران کی آل پاک ائمہ اطہار علیہم السلام قیامت میں میزان عدالت ہو ں گے۔( ۱ )

امیر المومنین ں کی پہلی زیارت مطلقہ میں آیاہے :''السلام علیک یامیزان الاعمال ''میرا سلام ہو آپ پر اے میزان اعمال ۔لہٰذا جو کچھ اب تک بیان کیا گیا ہے وہ میزان عدل الٰہی ہے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او ر ہمارے ائمہ معصومین علیھم السلام اس کی عدالت کے مظہر او رنمونہ ہیں، بعض محققین کے بقول معصوم امام ترازو کے ایک پلڑے کے جیسے ہیں اور تمام لوگ اپنے اعمال وعقیدہ کیساتھ ترازو کے دوسرے پلڑے کی مانند ہیں اب ایک دوسرے کے ساتھ تولا جا ئیگا اب ہما را عمل او ر عقیدہ جتنا ان کے عقیدہ اورعمل سے قریب او ر مشابہ ہوگا اتنا ہی ہمارا وزن بھاری ہوگا جیسا کہ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں سورہ کہف کی آیة ۱۰۵ کے ذیل میں فرماتے ہیں روایت صحیحہ میں ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''انه لیأ تِی الرجل العظیم السمین یوم القیامة لایزن جناح بعوضة ''قیامت کے دن ایک فربہ اور بھاری بھرکم آدمی کولا یا جائیگا اور اس کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا۔یعنی وہ انتہائی معمولی اور ہلکا ہوگاکیونکہ اس کے اعمال افکاراور اس کی شخصیت اس کے ظاہری قیافہ کے بالکل خلا ف چھوٹی اور ہلکی ہوگی۔

____________________

(۱) بحار الانوار ج،۷ ص ۲۴۸


سوالات

۱۔ قیامت میں گواہ کون لوگ ہوںگے بطور خلاصہ بیان کریں ؟

۲۔ میزان کے کیا معنی ہیں اور قیامت میں میزان کیساہوگا ؟

۳۔ قیامت میں میزان عمل کون لوگ ہو ں گے ؟


اڑتیسواں سبق

قیامت میں کس چیز کے بارے میں سوال ہوگا ؟

روز قیامت سب سے پہلے اس چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا جس کی طرف توجہ دینابہت اہم اور زندگی ساز ہے عن الرِّضا عن آبائہ عن علیِّ علیہ السلام قا ل:''قال النَّبیِّ أوَّل ما یسأل عنه العبد حبنا اهل البیت ''امام رضا ںنے اپنے والد اور انھوں نے مولائے کائنات سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :سب سے پہلا سوال انسان سے ہم اہل بیت کی محبت کے بارے میں ہوگا۔( ۱ )

عن أبی بصیر قال : سمعتُ أ با جعفر علیہ السلام یقول: ''اوّل ما یُحاسب العبد الصلاة فاِنْ قُبِلت قُبِلَ ما سواها''ابو بصیر کہتے ہیں کہ امام صادق کو میں نے فرماتے سنا ہے کہ سب سے پہلے جس کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اگر یہ قبول تو سارے اعمال قبول ہوجائیں گے۔( ۲ )

پہلی حدیث میں عقیدہ کے متعلق پہلا سوال ہے اور دوسری حدیث میں عمل کے متعلق پہلاسوال ہےعن أبی عبداللّه علیه السلام فی قول اللّه :

____________________

(۱) بحارالانوار ج،۷ص ۲۶۰

(۲) بحا رالانوار ج،۷ ص ۲۶۷


''( اِنّ السمع والبصروالفؤاد کُلّ أولئِک کان عنه مسئولا ) قال یُسال السمع عمّا یسمع والبصر عما یطرف والفؤاد عمّا عقد علیه ''امام صادق نے خدا وند عالم کے اس قول کی تفسیر میں جس میں کہا گیاہے کہ کان آنکھ اور دل سے سوال ہوگا فرمایا: جوکچھ کان نے سنا اورجوکچھ آنکھو ں نے دیکھا اور جس سے دل وابستہ ہوا سوال کیا جائے گا( ۱ ) عن أبی عبداللّهں قال، قال: رسول اللّه أنا أوّل قادم علیٰ اللّه ثُمَّ یُقدّم علّکتاب اللّه ثُمَّ یُقدم علّ أهل بیتی ثُمَّ یقدم علّ أمت فیقفون فیسألهم ما فعلتم فی کتابی وأهل بیت نبیّکم؟ اما م صادق سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :میں وہ شخص ہو ں جو سب سے پہلے خدا کی بارگاہ میں جائوں گا پھر کتاب خدا (قرآن) اس کے بعد میرے اہل بیت پھر میری امت آئے گی ،وہ لوگ رک جائیں گے اور خدا ان سے پوچھے گا کہ میری کتاب اور اپنے نبی کے اہل بیت کے ساتھ تم نے کیاکیا؟( ۲ ) عن الکاظم عن آبائه قال : قال رسول اللّه: لا تزول قدم عبد یوم القیامة حتیٰ یسأل عن أربع عن عمره فیما أفناه وشبابه فیما ابلاه وعَن مالهِ من این کسبه وفیما أنفقه وعن حبنا اهل البیت ۔امام کاظم نے اپنے آباء واجداد سے نقل کیاہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ روز قیامت کسی بندے کاقدم نہیںاٹھے گا مگر یہ کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اس کی عمر کے بارے میں کہ

____________________

( ۱) بحارالانوار ج۷ص ،۲۶۷

(۲) بحارالانوار ج۷، ص ۲۶۵


کس راہ میں صرف کی؟ اس کی جوانی کے متعلق کہ کس راہ میں برباد کیا ؟اور مال کے بارے میں کہ کہا ں سے جمع کیا اورکہاں خرچ کیا ؟اورہماری کی محبت کے بارے میں ۔( ۱ )

روز قیامت او ر حقوق الناس کا سوال

جس چیز کا حساب بہت سخت دشوار ہوگا وہ لوگوں کے حقوق ہیں جو ایک دوسرے پر رکھتے ہیں ا س حق کو جب تک صاحب حق نہیں معاف کر ے گاخدا بھی نہیں معاف کرے گا اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے بعض بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔

قال علی ں :أمّا الذنب الذیِ لا یغفر فمظالم العباد بعضهم لبعض أنَّ اللَّه تبارک وتعالیٰ اِذا برز لخلقه أقسم قسماً علیٰ نفسه فقال: وعزتِی وجلالِی لا یجوزنِی ظلم ظالم ولو کف بکف... فیقتص للعباد بعضهم من بعض حتیٰ لایبقی لأحد علیٰ أحد مظلمة مولائے کائنات نے فرمایا وہ گناہ جو قابل معافی نہیں ہیں وہ ظلم ہے جو لوگ ایک دوسرے پر کرتے ہیں خداوند عالم قیامت کے دن اپنے عزت وجلال کی قسم کھا کر کہے گا کہ آج کسی کے ظلم سے در گذر نہیں کیاجائے گا چاہے کسی کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہی کیوںنہ ہو پھر اس دن لوگوں کے ضائع شدہ حقوق کوخدا واپس پلٹائے گا تاکہ کوئی

____________________

(۱) بحا الانوار ج،۷ص ۲۵۸


مظلوم نہ رہ جائے۔( ۱ ) مولا ئے کائنات نے فرمایا ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر فرمایا : یہاں قبیلہ بنی نجار کاکوئی ہے ؟ان کا دوست جنت کے دروازے پر روک لیاجائے گا اسے داخل ہو نے کی اجازت نہیںدی جائے گی صرف ان تین درہم کے لئے جو فلاں یہودی کا مقروض ہے جبکہ وہ شہدا ء کے مرہون منت ہے۔( ۲ ) قال ابو جعفر:''کُلُّ ذَنب یُکفرّه القتل فی سبیل اللّه اِلّا الدین فانّه لا کفّارة له اِلّا أدائه أو یقضی صاحبه أو یعفو الذی له الحق''امام محمد باقر ں نے فرمایا :اللہ کی راہ میں شہید ہونا ہرگناہ کے لئے کفارہ ہے سوائے قرض کے چونکہ قرض کا کوئی کفارہ نہیں ہے صرف ادا ہے چاہے اس کا دوست ہی ادا کرے یاقرض دینے والا معاف کردے۔( ۳ )

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک دن لوگو ں کو مخاطب کرکے فرمایا: جانتے ہو فقیر کو ن ہے، مفلس کون ہے ؟ انھوں نے کہا جس کے پاس دولت وثروت نہ ہوہم اسے مفلس کہتے ہیںحضرت نے فرمایا: میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو روزہ ،نماز اور زکوةکے ساتھ محشر میں آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہو یا غلط تہمت لگا یا ہو اور کسی کے مال کوغصب کیا ہو اورکسی کو طمانچہ ماراہو اس کے گناہ کو ختم کرنے کے لئے اس کی اچھائیوں کوبانٹ دیاجائے گااگر اس کی نیکیاں تمام ہو گئیں تو صاحبان حق کے گناہوں کو اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔( ۴ )

____________________

(۱)معاد فلسفی ج۳،ص ۱۷۲ ازکافی

(۲)معا د فلسفی ج۲،ص ۱۹۴ احتجاج طبرسی

(۳) سابق حوالہ ۱۹۵ از وسائل الشیعہ

(۴) معاد فلسفی ج۳ ازمسند احمد وصحیح مسلم


قال أ ّبو عبداللّه ں:''أما أنّه ما ظفر أحد بخیر من ظفر بالظلم أما أن المظلوم یأخذ من دین الظالم أکثر مما یأخذ الظالم من مال المظلوم ''امام صادق نے فرمایا :یہ جان لوکہ کوئی شخص ظلم کے ذریعہ

کامیاب نہیں ہو سکتا اور مظلوم ظالم کے دین سے اس سے زیادہ حاصل کرے گا جتنا اس نے مظلوم کے مال سے حاصل کیاہے۔( ۱ )

صراط دنیا یا آخرت کیاہے ؟

صراط کے معنی لغت میں راستہ کے معنی ہیں قران اور احادیث پیغمبر کی اصطلاح میں صراط دومعنی میں استعمال ہو اہے ایک صراط دنیا اوردوسرا صراط آخرت

صراط دنیا :نجات وکامیابی او ر سعادت کی راہ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے( وأنّ هَذَا صِرَاطیِ مُستقیماً فاتَّبِعُوه وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُم عَن سبِیلِهِ ) اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو اوردوسرے راستوں کے پیچھے نہ جائو کہ راہ خدا سے الگ ہوجا ئو گے۔( ۲ ) ( وهَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُستَقِیماً ) اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔( ۳ )

یہ صراط دنیا حدیثوں میں مختلف طریقوں سے آیا ہے من جملہ خدا کو پہچاننے کاراستہ اسلام ،دین ،قرآن ،پیغمبر ،امیرالمومنین ،ائمہ معصومین اور یہ سب کے سب ایک معنی کی طرف اشارہ ہیں وہ ہے سعادت اور کامیابی کاراستہ۔اس راستہ

____________________

(۱) کافی جلد ۳، از مسند احمد وصحیح مسلم

(۲) سورہ انعام آیة ۱۵۳

(۳)سورہ انعام آیة ۱۲۶


کو پار کرنے کا مقصد عقائد حقہ کا حاصل کرنا ہے (خدا وند عالم کو پہچاننے سے لے کر اس کے صفات اور انبیاء اور ائمہ کی معرفت اورتمام اعتقادات کی شناخت نیز دین کے احکا م پر عمل کرنا اور اخلاق حمیدہ کا حصول ہے ) ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ راستہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے او رجو بھی دقت اور غور وفکر کے ساتھ اس سے گزر جائے گا وہ راہ آخرت طے کرلے گا۔ صراط آخرت : اس پل اور راستہ کو کہا جا تاہے جو جہنم پر سے گذر ا ہے اور اس پل کادوسرا سراجنت کوپہنچتا ہے جوبھی اسے طے کرلے گا وہ ہمیشہ کی کامیابی پالے گا اور جنت میں اس کا ٹھکانہ جاودانی ہوگا اور جو بھی اس سے عبور نہیں کرپائے گا آگ میں گر کر مستحق عذاب ہوجائے گا( وَاِن مِنکُم اِلَّا وَارِدُهَا کَانَ علیٰ رَبِّک حَتَماً مَقضِیاً ثُمَّ نُنجِی الَّذینَ أِتَّقوا وَ نَذرُ الظَّالِمِینَ فِیهَا جَثِیاً ) اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اسے جہنم میں وارد ہوناہے ہو کہ یہ تمہارے رب کاحتمی فیصلہ ہے اس کے بعد ہم متقی افراد کو نجات دے دیں گے اور ظالمین کو جہنم میں چھوڑ دیں گے۔( ۱ )

اس آیت کے ذیل میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث ہے جس میں فرمایا ہے: بعض لوگ بجلی کی طرح پل صراط سے گذر جائیں گے، بعض لوگ ہوا کی طرح اور بعض لوگ گھوڑے کی طرح اور بعض دوڑتے ہو ئے اوربعض راستہ چلتے ہوئے اوریہ ان کیاعمال کے لحاظ سے ہوگا ۔

____________________

(۱) سورہ مریم آیة ،۷۲


جابر ابن عبداللہ انصاری کہتے ہیں : میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا :کوئی نیک یا گنہگار نہیں بچے گا مگر یہ کہ اسے دوزخ میں ڈالا جائے گا لیکن مومن کے لئے ٹھنڈی اور سالم ہوگی جیسے جناب ابراہیم کے لئے آگ تھی پھر متقی اس سے نجات پا جائے گا اور ظالم وستم گر اسی آگ میں رہیںگے ۔( ۱ )

جوبھی دنیا کے راستے پر ثابت قدم رہے گا وہ آخرت میں لڑکھڑا ئے گا نہیں

عن مفضل بن عمر قال :سألت أبا عبد اللّهِ علیه السلام عن الصِّراط فقال:هو الطریق اِلیٰ معرفة اللّه عزَّوجلَّ وهما صراطان صراط فیِ الدّنیا وصراط فیِ الآخرة فَأمّا صراط الذیِ فی الدنیا فهو الأمام المفروض الطاعة من عرفه فی الدنیا واقتدیٰ بهداه مرّ علیٰ الصّراط الذی هو جسر جهنم فی الا خرة ومن لم یعرفه فی الدنیا زلت قدمه علیٰ الصّراط فِی الآخرة فتردیٰ فی نار جهنم ۔

مفضّل بیان کرتے ہیں میں نے امام صادق سے صراط کے بارے میں پوچھا : امام نے فرمایا :وہی خدا کو پہچانتے کاراستہ ہے اوریہ دو راستے ہیں ایک دنیا میں اور ایک آخرت میں لیکن دنیامیں صراط امام ہے جس کی اطاعت واجب ہے اور جو بھی اسے پہچان لے او راس کی اتبا ع کرے تو اس پل سے جو جہنم پر ہے آسانی سے گذر جائے گا اور جس نے بھی اسے نہیں پہچانا اس کے قدم صراط آخرت پہ

____________________

(۱) تفسیر نورالثقلین ج،۳ ص ۳۵۳


لڑکھڑائیں گے او رجہنم میں گرجائے گا ۔( ۱ )

سورہ الحمد کے اِھدنا الصِّراط المُستقیمَ کے ذیل میں بہت سے حدیثیں تفسیر روائی میں بیان کی گئی ہیں، تفسیر نورالثقلین سے ،ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں''قال رسول اللّه: اِهدنا الصَّراط المُستقیمَ صراط الأنبیّاء و هم الّذین أنعم اللّه علیهم'' رسول اللہ نے فرمایا صراط مستقیم انبیاء کا راستہ ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے نعمت نازل کی ہے ۔

امام صادق نے فرمایا: صراط مستقیم امام کو پہچاننے کا راستہ ہے اور دوسری حدیث میں فرمایا :واللّه نحن الصّّراط المستقیم خد اکی قسم ہم ہی صراط مستقیم ہیں۔( صِراط الّذین أنَعمتَ عَلیهم ) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے محمد اور ان کی ذریة( صلوات اللہ علیہم ) مراد ہے ۔

امام محمد باقر ں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا : ہم خد ا کی طرف سے روشن راستے اورصراط مستقیم ہیں اور مخلوقات خد ا کے لئے نعمات الٰہی ہیں۔( ۱ )

دوسری حدیث میں امام جعفر صادق نے فرمایا :الصَّراط المستقیم أمیرُ المؤمنین امیر المومنین صراط مستقیم هیں قال النبّی :اِذاکان یوم القیامة ونصب الصّراط علیٰ جهنم لم یجز علیه اِلّا مَن کان معه جواز فیه ولایة علی بن أبی طالب علیه السلام وذلک قوله:

____________________

(۱) تفسیر نور الثقلین ج۱،ص ۲۰ تا ۲۴


( وَقفُوهُم أَنَّهم مَسئُولُونَ ) یعنی عن ولایة علی بن ابی طالب ؛ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا جب قیامت آئے گی اور پل صراط کو جہنم پر رکھاجائے گا کوئی بھی اس پر سے گذر نہیں سکتا مگر جس کے پاس اجازت نامہ ہوگا جس میں علی ں کی ولایت ہوگی اور یہی ہے قول خدا :کہ روکو انہیں ان سے سوال کیا جائے گایعنی علی ابن ابی طالب کی ولا یت کے سلسلے میں سوال کیاجائے گا ۔

دوسری حدیث میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : پل صراط پر وہ اتنا ہی ثابت قدم ہوگا جو ہم اہل بیت سے جتنی محبت کرے گا۔( ۱ )

____________________

(۱) بحارالانوار ج ۸ ،ص ۶۸۔۶۹


سوالات

۱۔قیامت میں کس چیز کے بارے میں سوال ہوگا ؟

۲۔ پیغمبر کی نظرمیں فقیر اور مفلس کون ہے ؟

۳۔ صراط دنیا اور صراط آخرت کسے کہتے ہیں ؟

۴۔ امام صادق نے صراط کے سلسلے میں مفضل سے کیافرمایا ؟


انتالیسواں سبق

بہشت اور اہل بہشت ، جہنم اور جہنمی

انسان کا آخری مقام جنت یا دوزخ ہے یہ قیامت کے بعد او ر ابدی زندگی کی ابتدا ء ہے جنت یعنی جہاں تمام طرح کی معنوی اورمادی نعمتیں ہو ں گی دوزخ یعنی تمام طرح کی مصیبت سختی اور شکنجہ کا مرکز ۔ بہت سی آیتیں اور روایتیں جنت کی صفات ونعمات اور جنتی لوگوں کے بارے میں آئی ہیں یہ نعمتیں روحانی بھی ہیں اور جسمانی بھی، پہلے جیسا کہ بیان کیاجاچکا ہے کہ معاد جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی لہٰذا ضروری ہے جسم اور روح دونوں مستفیض ہوں یہاں فقط ان نعمتوں کی فہرست بیان کر رہے ہیں ۔

جسمانی نعمتیں

۱۔ جنتی باغ : قرآن مجید کی ۱۰۰سے زیادہ آیتیں ہیں جس میں جنت اور جنات وغیرہ جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ایسے باغ جن کا دنیا کے با غات سے تقابل نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہمارے لئے بالکل قابل ادراک نہیں ہے ۔

۲۔بہشتی محلا ت : مساکن طیبہ کے لفظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بہشتی محل میں تمام سہولتیں مہیا ہو ں گی ۔

۳۔ مختلف النوع تخت اور بستر : جنت کی بہترین نعمتوں میں سے وہاں کے بہتریں بستر ہیں جو انسان کے دلوں کو موہ لیں گے اوردل کو لبھا نے والے ہیں جنکے لئے مختلف لفظ استعمال ہوئے ہیں ۔

۴۔ جنتی خو ان : تمام آیتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جنت میں طرح طرح کے کھانے ہو ںگے جملہ مِمَّا یشَتھُونَ(من چاہا ) کے بہت وسیع معنی ہیں اور اس کی بہترین تعبیر رنگ برنگ کے پھل ہیں ۔

۵۔ پاک مشروب :جنت میں مشروب مختلف النو ع اور نشاط آورہو گی اور قرآن کے بقول '' لَذةُ لِلشَاربینَ'' پینے والو ں کے لئے لذت وسرور کا باعث


ہوگا ہمیشہ تازہ ، مزہ میں کوئی تبدیلی نہیں شفاف او رخوشبو دار ہوگا ۔

۶۔ لبا س اور زیورات :انسان کے لئے بہترین زینت لباس ہے قرآن وحدیث میں اہل بہشت کے لبا س کے سلسلے میں مختلف ا لفاظ استعمال ہوئے ہیں جس سے ان کے لبا س کے خوبصورتی او رکشش کا پتہ چلتاہے ۔

۷۔ جنتی عورتیں : شریف عورت، انسان کے سکو ن کاباعث ہے بلکہ روحانی لذت کا سرچشمہ ہے قرآن اور احادیث معصومین میں مختلف طریقہ سے اس نعمت کا ذکر ہواہے اور اس کی بہت سے تعریف کی گئی ہے یعنی جنتی عورتیں تمام ظاہری اور باطنی کمالات کی مظہر ہو ںگی ۔

۸۔ جو بھی چاہئے ''( فِیها مَاتشتهیِهِ الأنفُس وتَلذَ الأعیُن'' ) جو بھی دل چاہے گا اور جو بھی آنکھو ںکی ٹھنڈک کا باعث ہوگا وہ جنت میں موجود ہوگا یہ سب سے اہم چیز ہے جو جنت کے سلسلہ میں بیان کی گئی ہے یعنی تمام جسمانی او رروحانی لذتیں پائی جا ئیں گی ۔

روحا نی سرور

جنت کی روحانی نعمتیں مادی اور جسمانی لذتوں سے بہتر او ر افضل ہوں گی چونکہ ان معنوی نعمتوں کا ذکر پیکر الفاظ میں نہیں سماسکتا : یعنی کہنے اور سننے والی نہیں ہیں، بلکہ درک کرنے والی او رحاصل کرنے والی اوربراہ راست قریب سے لذت بخش ہیں ،اسی لئے قرآن او رحدیث میں زیادہ ترکلی طور پر او رمختصر بیان کیاگیاہے۔

۱۔ خصوصی احترام : جنت میں داخل ہوتے وقت فرشتوں کے استقبال اور خصو صی احترام کے ذریعہ آغاز ہوگا اورجس دروازہ سے بھی داخل ہوگا فرشتے اسے سلام کریں گے اور کہیں گے صبر اور استقامت کے باعث اتنی اچھی جزاملی ہے ۔

۲۔سکون کی جگہ:جنت سلامتی کی جگہ ہے سکون واطمینان کاگھر( أُدخُلُوا الجَنَّةَ لَا خَوفُ عَلَیکُم وَلَا أَنتُم تَحزَنُونَ ) جا ئو جنت میں داخل ہو جائو۔جہاں نہ کسی طرح کاخوف ہوگا نہ حزن وملا ل پایا جائے گا۔( ۱ )

____________________

(۱)سورہ اعراف آیة ۴۹


۳۔باوفا دوست اور ساتھی : پاک اورباکمال دوستوں کا ملنا یہ ایک بہترین روحانی لذت ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے( وَحَسُنَ أُولئِکَ رَفِیقاً ) کتنے اچھے دوست ہیں یہ فضل ورحمت خدا ہے۔

۴۔شیریں لہجہ میں گفتگو : جنت میں بے لوث اور اتھاہ محبت فضاکو اور شاداب وخوشحال کردے گی وہا ں لغو اوربیہودہ باتیں نہیں ہوں گی فقط سلام کیاجائیگا ''فی شغل فاکھون''خوش وخرم رہنے والے کام ہو ں ۔

۵۔ بیحد خو شحالی او رشادابی :( تَعرِفُ فیِ وُجُوهِهِم نَضَرةَ النَّعیِمِ ) تم ان کے چہروں پر نعمت کی شادابی کامشاہدہ کروگے( ۱ ) ( وَوُجُوهُ یَومئِذٍ مُسفِرَةُ ضاحکةُ مُستبشِرَةُ ) مسکراتے ہوئے کھلے ہوئے ہوںگے۔( ۲ )

۶۔خد ا کی خوشنودی کا احساس :محبوب کی رضایت کاادراک سب سے بڑی معنوی لذت ہے جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیة۱۵ میں جنت کے سرسبز باغ او رپاک وپاکیزہ عورتوں کے ذکر کے بعد ارشاد ہوتاہے وَ رِضوان مِن اللّہ (خداکی خوشنودی )''( رَضِیَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضُوا عَنهُ ذَلِک الفَوزُ العَظِیمَ'' ) خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے۔( ۳ )

۷۔ بہشتی نعمتوں کاجاویدانی اور ابدی ہونا : خوف اور ہراس ہمیشہ فنا اور نابودی سے ہوتا ہے لیکن جنت کی نعمتیں ابدی او رہمیشہ رہنے والی ہیں فنا کاخوف

____________________

(۱) سورہ مطففین آیة: ۲۴

(۲) سورہ عبس آیة:۳۸۔ ۳۹

(۳) سورہ مائدہ آیة: ۱۱۹


نہیں ہے یہ بہترین اورابدی خاصیت کے حامل ہیں:( أُکُلُهَا دَائمُ وَظِلُّهَا ) ۔( ۱ )

اس کے پھل دائمی ہوں گے اور سایہ بھی ہمیشہ رہے گا ۔

۸۔ پرواز فکر کی رسائی جہا ں ممکن نہیں :( فَلَا تَعلمُ نَفس مَاأخفیٰ لهُم مِّن قُرَّةِ أعیُن ) کوئی نہیں جانتا کہ اس کے لئے ایسی مخفی جزاء ہے جواس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوگی۔( ۲ ) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو گا او رنہ کا ن نے سنا ہوگا او رنہ ہی قلب کی رسائی وہاںتک ہوئی ہوگی۔( ۳ )

جہنم او رجہنمی لوگ

جہنم، الٰہی قہر وغضب کانام ہے جہنم کی سزا جسمانی اور روحانی دونوںہے، اگرکوئی شخص انہیں فقط روحی اور معنوی سزا سے مخصوص کرتا ہے تویہ قرآن کی بہت سی آیتوں پر توجہ نہ کرنے کے سبب ہے، قیامت کی بحث میں ذکر کیا گیاہے کہ قیامت جسمانی اور روحانی دونوںہے لہٰذا جنت اورجہنم دونوں میں یہ صفت ہے ۔

جہنمیوں کی جسمانی سزا

۱۔ عذاب کی سختی :

جہنم کی سزا اس قدر سخت ہوگی کہ گنہگار شخص چاہے گا کہ بچے ،بیوی ،بھا ئی

____________________

(۱)سورہ رعد آیة :۳۵

(۲) سورہ سجدہ آیة: ۱۷

(۳) المیزان ومجمع البیان


دوست ،خاندان یہاںتک کہ روی زمین کی تمام چیزوں کو وہ قربان کر دے تاکہ اس کے نجات کاباعث قرار پائے ۔( یَوَدُّ المُجرِمُ لویَفتَدِ مِن عَذَابِ یَومَئِذٍ بِبَنِیهِ وَصَاحِبتِه وأَخِیهِ وَفَصِیلتِه التِ تُؤیهِ وَمَن فیِ الأَرضِ جَمیعاً ثُمَّ یُنجِیهِ ) مجرم چاہے گا کہ کاش آج کے دن کے عذاب کے بدلے اس کی اولاد کو لے

لیا جائے اور بیوی اوربھائی کو اور اس کے کنبہ کو جس میں وہ رہتا تھا اورروی زمین کی ساری مخلوقات کو اور اسے نجات دے دی جائے۔( ۱ )

۲۔جہنمیوںکا خورد ونوش :( اِنَّ شَجَرةَ الزَّقُومِ طَعَامُ الأَثِیمِ کَالمُهلِ یَغل فیِ البُطُونِ کَغلِ الحَمِیمِ ) بے شک آخرت میں ایک تھوہڑ کادرخت ہے جوگنہگا ر وںکی غذاہے وہ پگھلے ہوئے تانبے کی مانند پیٹ میں جوش کھائے گا جیسے گرم پانی جوش کھاتاہے۔( ۲ )

۳۔جہنمی کپڑے :( وَتَریٰ المُجرِمِینَ یَومئِذٍ مُقَرَّنِینَ فیِ الأَصفَادِ سَرَابِیلُهُم مِن قَطِرانٍ وَتَغشیٰ وُجُوهَهم النَّارُ ) اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے کہ کسی طرح زنجیر وں میں جکڑے ہوئے ہیں ان کے لباس قطران (بدبودار مادہ کے) ہوںگے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھا نکے ہوئے ہوگی( ۳ ) ( فَالَّذِینَ کَفَرُوا قُطِعَت لَهُم ثِیَابُ مِن نَارٍ یُصبُّ مِن فَوقِ رُؤُوسِهِم الحَمِیمُ یُصهَرُ بِهِ مَا فیِ بُطُونِهِم وَالجُلُودُ ) جولوگ کافر ہیں ان کے واسطے آگ کے

____________________

(۱) سورہ معارج ۱۱۔۱۴

(۲) سورہ دخان ۴۳۔۴۶

(۳)سورہ ابراہیم ۴۹۔ ۵۰


کپڑے قطع کئے جائیں گے او ران کے سروں پر گرما گرم پانی انڈیلاجائے گا جس سے ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے او ران کی جلدیں سب گل جا ئیں گی ۔( ۱ )

۴۔ ہر طرح کاعذاب : جہنم میں ہر طرح کا عذاب ہوگا کیونکہ جہنم خدا کے غیظ وغضب کانام ہے( أِنَّ الَّذیِنَ کَفَرُوا بِآیاتِنا سَوفَ نُصلِیهِمَ نَاراً کُلَّما نَضِجَت جُلُودُهُم بَدَّلنَا هُم جُلُوداً غَیرَها لِیَذُوقُوا العَذَابَ اِنَّ اللَّهَ کَانَ عَزِیزاً حَکِیما ) اور بے شک جن لوگو ں نے ہماری آیتوں کاانکا ر کیاہے ہم انہیں آگ میں بھون دیں گے اور جب ایک کھال پک جائے گی تو دوسری بدل دیںگے تاکہ عذاب کامزہ چکھتے رہیں خدا سب پر غالب اور صاحب حکمت ہے( ۲ )

روحانی عذاب

۱۔ غم والم اور ناامیدی :( کُلَّما أَرادُوا أَنْ یَخرُجُوا مِنها مِن غَمٍّ أُعیدُوا فِیهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الحَریقِ ) جب یہ جہنم کی تکلیف سے نکل بھاگنا چائیں گے تو دوبارہ اسی میں پلٹا دیے جائیں گے کہ ابھی اور جہنم کا مزہ چکھو ۔( ۳ )

۲۔ذلت ورسوائی( وَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیاتِنَا فَأُولئِک لَهُم عَذَابُ مُهِینُ ) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اورہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کے لئے نہا یت درجہ رسواکن عذاب ہے۔( ۴ )

قرآن میں متعدد جگہ اہل جہنم کی ذلت اور رسوائی کوبیان کیا گیا ہے جس

____________________

(۱) سورہ حج ۱۹ تا۲۰

(۲) سورہ نساء آیة ۵۶

(۳) سورہ حج آیة ۲۲

(۴) سورہ حج آیة ۵۷


طرح وہ لوگ دنیا میں مومنین کو ذلیل سمجھتے تھے ۔

۳۔تحقیر وتوہین :جب جہنمی کہیں گے با ر الہا! ہمیں اس جہنم سے نکا ل دے اگر اس کے بعدھم دوبارہ گنا ہ کرتے ہیں تو ہم واقعی ظالم ہیں ان سے کہا جا ئیگا۔( أخسَئوا فِیهَا وَلَا تُکلِّمُونَ ) اب اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور بات نہ کرو( ۱ )

اخساء کا جملہ کتے کو بھگانے کے وقت کیا جاتا ہے اوریہ جملہ گنہگا روں اور ظالموں کو ذلیل کرنے کے لئے استعمال ہو اہے ۔

۴۔ابدی سزا اور امکا نات :( وَمَنْ یَعصِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَأِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدینَ فِیهَا أَبَداً ) اور جو اللہ او ررسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم ہے اور وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔( ۲ )

دائمی اور ابدی ہونا جو جہنمیوںکے لئے ہے بہت دردنا ک اور سخت ہوگا چونکہ ہر پریشانی او ر سختی میں نجا ت کی امید ہی خوشی کاسبب ہوتی ہے لیکن یہاں سختی اور بے چینی اس لئے زیادہ ہوگی،کہ نجا ت کی کوئی امید نہیں ،اس کے علا وہ رحمت خدا سے دوری سخت روحی بے چینی ہے ۔

سوال؟ یہ کیسے ہو گا کہ وہ انسان جس نے زیا دہ سے زیادہ سوسال گنا ہ کئے اسے کروڑوں سال بلکہ ہمیشہ سزادی جائے البتہ یہ سوال جنت کے دائمی ہو نے پر بھی

____________________

(۱) سورہ مومنون آیة:۱۰۸

(۲)سورہ جن آیة ۲۳


ہے لیکن وہاں خداکا فضل وکرم ہے لیکن دائمی سزا عدالت الٰہی سے کس طرح سازگا ر ہے ؟۔

جواب : بعض گنا ہ جیسے( کفر )کا فر ہونااس پر دائمی عذاب یہ قرین عقل ہے بطور مثال اگر ڈرائیور کا ٹرافیک کے قانو ن کی خلاف ورزی کے باعث ایکسیڈنٹ میں پیر ٹوٹ جائے تو اس کی خلا ف ورزی ایک سکنڈ کی تھی مگر آخری عمر تک پیر کی نعمت سے محروم رہے گا ۔

ماچس کی ایک تیلی پورے شہر کو جلا نے کے لئے کا فی ہے انسان کے اعمال بھی اسی طرح ہیں، قرآن میں ارشاد رب العزت ہے( وَلَا تُجزَونَ اِلَّا مَاکُنتُم تَعملَُونَ ) اورتم کو صرف ویسا ہی بدلہ دیا جا ئے گا جیسے اعمال تم کررہے ہو( ۱ ) دائمی ہونا یہ عمل کے باعث ہے ۔

____________________

(۱)سورہ یس آیة ۵۴


سوالات

۱۔ جنت کی پانچ جسمانی نعمتوں کو بیان کریں ؟

۲۔جنت کی پانچ روحانی نعمتوںکا بیان کریں ؟

۳۔ اہل جہنم کی تین جسمانی سزائیں بیان کریں ؟

۴۔ اہل جہنم کی تین روحانی عذاب کو بیان کریں ؟


چالیسواں سبق

شفاعت

شفاعت ایک اہم دینی اور اعتقادی مسائل میں سے ہے قرآن اور احادیث معصومین میں اس کا متعدد بار ذکر آیاہے اس کی وضاحت کے لئے کچھ چیزوں پر توجہ ضروری ہے !

۱۔ شفاعت کے کیا معنی ہیں ؟ لسان العرب میں مادہ شفع کے یہ معنی ہیں : ''الشَّافعُ الطالب لغیره یتشفع به الیٰ المطلوب'' (شافع اسے کہتے ہیں جو دوسرے کے لئے کوئی چیز طلب کرے ) مفردات راغب میں لفظ شفع کے یہ معنی بیان کئے گئے ہیں :''الشفاعة الانضمام الیٰ آخر ناصراً له وسائلاً عنه'' شفاعت ایک دوسرے کا ضم ہو نا اس لحاظ سے کہ وہ اس کی مدد کرے او راس کی طرف سے اس کی ضروریا ت کا طلبگار ہو ۔

مولا ئے کائنات نے اس سلسلے میں فرمایا : الشفیع جناح الطالب شفاعت کرنے والا محتاج کے لئے اس کے پر کی مانند ہے جس کے مدد سے وہ مقصد تک پہنچے گا۔( ۱ )

____________________

(۱) نہج البلاغہ حکمت ۶۳


۲۔ ہما ری بحث کا مقصد وہ شفاعت ہے جس کے ایک طرف خدا ہو یعنی شفاعت کرنے والا ،خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ بنے ،دو مخلوق کے درمیان شفاعت میرامقصد نہیں ہے دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ قوی او رمضبوط شخص کاکمزور کے کنارے ہو نااور اس کی مدد کرنا تاکہ وہ کمال کی منزل تک پہنچ سکے اور اولیاء خداکا لوگو ں کے واسطے شفاعت کرنا، قانو ن کی بناء پر ہے نہ کہ تعلقات کی بناء پر اسی سے پتہ چلتا ہے کہ شفاعت اور پارٹی بازی میں فرق ہے ۔

اثبات شفاعت

۳۔ شفاعت مذہب شیعہ کی ضروریات میں سے ہے اور اس پربہت سی آیات ور روایات دلا لت کرتی ہیں( وَلَا تَنفَعُ الشَّفٰاعَةُ عِندَهُ اِلَّا لِمَن اَذِنَ لَهُ ) اس کے یہاں کسی کی بھی سفارش کام آنے والی نہیں ہے مگر وہ جس کو خود اجازت دے دے( ۱ ) ( یَومَئِذٍ لا تَنفَعُ الشَّفٰاعَةُ اِلَّا مَن أَذِنَ لَهُ الرَّحمَٰنُ وَ رَضِیَ لَهُ قَولا ) اس دن کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی سوائے ا ن کے جنہیں خدا نے خوداجازت دی ہے ہو اور وہ ان کی بات سے راضی ہے( ۲ ) ( مَا مِن شَفِیعٍ اِلَّا مِن بَعدِ اِذنِهِ ) کوئی اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرنے والانہیں ہے)( ۳ ) ( مَنْ ذَا الّذِ یَشفعُ عِندُه اِلَّا بِاِذنِهِ ) کو ن ہے جواس کی بارگا ہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟( ۴ ) ( وَلا یَشفَعُونَ أِلّّا لِمَنِ ارتَضیٰ ) اور

____________________

(۱) سورہ سبائ ۲۳

(۲) سورہ طہ ۹،۱۰

(۳) سورہ یونس ۳

(۴) سورہ بقرہ ۲۵۵


فرشتے کسی کی سفارش بھی نہیں کر سکتے، مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے( ۱ ) ان مذکورہ تمام آیتوں میں کہ جن میں شفاعت کے لئے خد ا کی رضایت اور اجازت شرط ہے یہ تمام کی تمام آیتیںشفاعت کو ثابت کر تی ہیں اور واضح ہے کہ پیغمبر اکرم اور دوسرے معصومین کا شفاعت کرنا خدا کی اجا زت سے ہے ۔

سوال :بعض قرآنی آیتوں میں شفاعت کا انکا ر کیوںکیا گیا ہے ؟جیسے سورہ مدثر کی آیت ۴۸( فَمَا تَنفَعُهُم شَفَاعَةُ الشَّافِعِینَ ) تو انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش بھی کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی( وَاتَّقُوا یَوماً تَجزِِ نَفسُ عَن نَفسٍ شَیئاً وَلَا یُقبلُ مِنها شَفاعةُ وَلَا یُؤخَذُ مِنها عَدلُ وَلَا هُمْ یُنصَرُونَ ) اس دن سے ڈرو جس دن کوئی کسی کا بدل نہ بن سکے گا اور کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی نہ کوئی معاوضہ لیا جا ئے گا اور نہ کسی کی مدد کی جائے گی۔( ۲ )

جواب : پہلی آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے کہ جنہو ں نے نماز اور خدا کی راہ میں کھا نا کھلا نے کو چھوڑ دیا اور قیامت کو جھٹلا تے ہیں، آیت میں ارشاد ہے کہ ان لوگو ں کے لئے شفاعت کو ئی فائدہ نہیں پہنچائے گی اس میں بھی ضمنی طور پر شفاعت کاہو نا ثابت ہے یعنی پتہ چلتا ہے کہ قیامت میں شفاعت ہے ہر چند کہ بعض لوگوں کے لئے نہیں ہے ۔

اور دوسری آیت کے سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قوم یہو د کے

____________________

(۱)سورہانبیاء ۲۸

(۲) سورہ بقرہ آیة ۴۸


بارے میں ہے کہ انہوں نے کفر اور دشمنی کو حق کے مقابلے قرار دیاہے یہا ں تک کہ انبیاء الٰہی کو قتل کیا ،لہٰذا ان کے لئے کوئی شفاعت فائدہ نہ دے گی ۔ اوپر کی آیت کلی طور پر شفاعت کی نفی نہیں کر رہی ہے اس کے علا وہ اس کے پہلے کی آیتیں اور متواتر روایات اور اجما ع امت سے شفاعت کاپایاجانا ثابت ہوتا ہے ۔

سوال : بعض آیتوں میں شفاعت کو کیوں فقط خدا سے مخصوص کردیا ہے ؟

جیسے( ما لَکُم مِنْ دُونهٍ مِنْ وَلِیٍّ وَلَا شَفِیعٍ ) اور تمہارے لئے اس کے علاوہ کوئی سرپرست یاسفارش کرنے والا نہیں ہے۔( ۱ ) ( قُلْ لِلّهِ الشَّفاعَةُ جَمیعاً ) کہہ دیجئے کہ شفاعت کا تما م تر اختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہے۔( ۲ )

جواب : واضح رہے کہ بالذات اور مستقل طور پر شفاعت فقط خدا سے مخصوص ہے او ردوسروں کا خدا کی اجازت سے شفاعت کرنا یہ منا فی نہیں ہے ان مذکورہ آیتوں کے مطابق کہ جن میں شفاعت کوخدا کی اجازت کے ساتھ جانا ہے اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض شرائط کے تحت دوسروں کے لئے بھی شفاعت ثابت ہے۔

فلسفۂ شفاعت

شفاعت ایک اہم تربیتی مسئلہ ہے جو مختلف جہتوں سے مثبت آثار کاحامل اور زندگی ساز ہے ۔

۱۔ اولیاء خدا او رشفاعت کئے جانے والے لوگو ں کے درمیان معنوی رابطہ

____________________

(۱) سورہ سجدہ آیة ۴

(۲) سورہ زمر آیة ۴۴


واضح سی بات ہے جو قیامت کے خو ف سے مضطرب او ر بے چین ہو ایسے کے لئے ائمہ اور پیغمبر اسلا مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت کی امید اس بات کا باعث بنے گی کہ وہ کسی طرح ان حضرات سے تعلقات بحال رکھے ۔

اور جوان کی مرضی ہو اسے انجام دے اور جوان کی ناراضگی کا سبب ہو اس سے پرہیز کرے کیو نکہ شفاعت کے معنی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شفاعت کرنے والے اور شفاعت پانے والے کے درمیان معنو ی رابطہ ہونا ضروری ہے ۔

۲۔ شرائط شفاعت کا حاصل کرنا وہ آیت اور احادیث جو پہلے ذکر کی گئیں ان میں شفاعت کے لئے بہت سی شرطیں قرار دی گئی ہیں یہ با ت مسلّم ہے کہ جو شفاعت کی امید میں اور اس کے انتظار میں ہے وہ کوشش کرے گا کہ یہ شرطیں اپنے اندر پیدا کرے سب سے اہم ان میں خدا کی مرضی حاصل کرناہے یعنی لازم ہے ایسا کام انجام دے جوخدا کو مطلوب ہو اور جو شفاعت سے محرومیت کا باعث بنے اسے چھوڑ دے ۔


شفاعت کے بعض شرائط

الف ) بنیا دی شرط ایمان ہے جولوگ باایمان نہیں ہیں یا صحیح عقیدہ نہیں رکھتے ہیںشفاعت ان کو شامل نہیں ہوگی ۔

ب) نماز چھوڑ نے والا نہ ہو یہاں تک کہ امام صادق کی روایت کے مطابق نماز کو ہلکا بھی نہ سمجھتا ہو ۔

ج) زکا ت نہ دینے والوں میں سے نہ ہو ۔

د) حج چھوڑنے والو ں میں سے نہ ہو ۔

ھ) ظالم نہ ہو( وَمَا لِلظَّالِمِینَ مِن حَمِیم وَلَا شَفِیع یُطَاع ) کیوں کہ ظالموں کے لئے کوئی مہربان دوست یا کوئی شفاعت فائدہ نہیں دے گی ،سورہ مدثر میں ارشاد ہوا ہے کچھ چیزیں ایسی ہیں جوشفاعت سے انسان کو محروم کردیتی ہیں۔

۱۔نماز کی طرف دھیان نہ دینا۔

۲۔ معاشرہ میں محروم لوگوں کی طرف توجہ نہ کرنا۔

۳ ۔باطل امور میں لگ جانا۔

۴ ۔قیامت سے انکا رکرنا۔

یہ تمام چیزیں سبب بنتی ہیں کہ وہ انسان جوشفاعت کا خواہاں ہے اپنے اعمال میں نظر ثانی کرے اپنے آئندہ کے اعمال میں سدھار لائے لہٰذا شفاعت زندگی ساز اور مثبت آثار کا حامل ہے اور ایک اہم تربیتی مسئلہ ہے( ۱ )

والحمدُ للّهِ ربِّ العالمینَ

____________________

(۱) قیامت کی بحث میں ان کتابو ں سے نقل یا استفادہ کیاگیاہے ،نہج البلا غہ ،بحارالانوار ، تسلیة الفوائد مرحوم شبر،کلم الطیب (مرحوم طیب) ،محجة البیضاء (مرحوم فیض ) ،معاد آقای فلسفی ، معاد آقای مکارم ،معاد آقای قرائتی معاد آقای سلطانی ،تفسیر نمونہ اور سب سے زیادہ جس سے استفادہ کیا گیاہے وہ ہے پیام قرآن ج،۵ و ۶۔


سوالا ت

۱۔ شفاعت کسے کہتے ہیں اور شفاعت کرنے والے کون ہیں ؟

۲۔ شفاعت کے زندگی ساز اور مثبت آثار بیان کریں ؟

۳ ۔ شفاعت کے شرائط بیان کریں ؟


منا بع وماخذ

۱۔قرآن

۲۔نہج البلا غہ

۳۔توحید صدوق

۴۔تفسیر پیام قرآن

۵۔بحارالانوار..............محمدباقر مجلسی

۶۔تفسیر نورالثقلین....................عبد علی بن جمعہ عروسی الحویزی

۷۔تفسیر برہان .سید ہاشم بحرانی

۸۔تفسیرالمیزان...........علامہ سید محمد حسین طباطبائی

۹۔تفسیر نمونہ.......آیة اللہ مکارم شیرازی

۱۰۔اصول کافی ........محمد بن یعقوبی کلینی

۱۱۔المراجعات.............. .مرحوم سید شرف الدین عاملی

۱۲۔الغدیر ...............مرحوم علامہ امینی

۱۳۔اثبات الھداة .........مرحوم حر عاملی

۱۴۔کلم الطیب ....................مرحوم طیب اصفہانی

۱۵۔غایة المرام ........مرحوم علامہ بحرانی

۱۶۔غررودرر.................مرحوم آمدی

۱۷۔منتھی الامال ........مرحوم محدث قمی

۱۸۔بررسی مسائل کلی امامت ...................آیة اللہ ابراہیم امینی

۱۹۔تسلیةالفواد................مرحوم شبّر


۲۰۔سلسلہ بحثھای اعتقادی ..................آیة اللہ مکارم شیرازی

۲۱۔سلسلہ بحثھای اعتقادی ..............آیة اللہ سبحانی

۲۲۔سلسلہ بحثھای اعتقادی ...........آیة اللہ استادی

۲۳۔سلسلہ بحثھای اعتقادی...........حجةالاسلام والمسلمین محمدی ری شہری

۲۴۔درسھای از قرآن ...............حجةالاسلام والمسلمین قرآئتی

۲۵ہستی بخش ورہبران راستین ..........شہید ہاشمی نژاد

۲۶۔گمشدہ شما .............آیة اللہ یزدی

۲۷۔اصول عقائد رااینگونہ تدریس کنیم .............آقایان (آشتیانی ۔امامی ۔حسنی)

۲۸۔خدا شناسی درکلاس درس .............استاد ھریسی

۲۹۔معاد ...................حجةالاسلام والمسلمین فلسفی

۳۰۔معاد ...............حجةالاسلام والمسلمین سلطانی


فہرست

حرف اول ۴

انتساب ۷

مقدمہ ۸

کچھ اپنی بات ۱۰

پہلا سبق ۱۲

اعتقادی مبا حث کی اہمیت ۱۲

علم عقائد ۱۲

دینی عقیدے کے آثار ۱۳

دین او رمعاشرتی عدالت کی حفاظت ۱۵

بیشمار مسلمان دین کے والا مقام تک کیو ں نہیں پہونچ سکے؟ ۱۶

سوالا ت ۱۸

دوسراسبق ۱۹

توحید فطری ۱۹

فطرت یا معنوی خو اہشات ۱۹

فطرت، روایا ت کی روشنی میں ۲۰

مذہبی فطرت اور دانشوروں کے نظریات ! ۲۲

امیدوں کا ٹوٹنا اور ظہو ر فطرت ۲۴

سوالا ت ۲۶

تیسرا سبق ۲۷


وجو د انسان میں خدا کی نشانیاں ۲۷

انسان کا جسم ۲۸

جسم انسان ایک پر اسرار عمارت ۲۹

دماغ کی حیرت انگیز خلقت ۳۱

روح انسان مخلوقات عالم کی عجیب ترین شی ٔ ۳۱

روح انسان کی سرگرمیاں ۳۲

اپنی پہچان ۳۳

سوالا ت ۳۵

چوتھا سبق ۳۶

آفاق میں خدا کی نشانیاں (فصل اول ) ۳۶

زمین: ۳۶

چاند اور سورج ۳۸

سوالات ۴۰

پانچواں سبق ۴۱

آفاق میں خدا کی نشانیاں (فصل دوم ) ۴۱

آسمانوں کی خلقت میں غور وخوض ۴۱

خلقت آسمان اور معصومین کے نظریات واقوال ۴۴

مطالعہ آسمانی کے وقت امیر المومنین کی منا جات ۴۴

سوالا ت ۴۸

چھٹا سبق ۴۹


برہا ن نظم ۴۹

برہان نظم کی بنیا د ۵۰

خلقت، خالق کا پتہ دیتی ہے ۵۰

نیوٹن اورایک مادی دانشمند کا دلچسپ مباحثہ ۵۱

مو حد وزیر کی دلیل منکر بادشاہ کے لئے ۵۲

برہا ن نظم کا خلا صہ اور نتیجہ ۵۳

سوالا ت ۵۳

ساتواں سبق ۵۴

توحید اور خدا کی یکتائی ۵۴

توحید اور یکتائی پر دلیلیں ۵۴

مراتب توحید ۵۷

قرآن او رتوحید در عبادت ۶۰

سوالات ۶۱

آٹھواں سبق ۶۲

صفات خدا (فصل اول ) ۶۲

صفات ثبوتیہ و سلبیہ : ۶۳

صفات ثبوتیہ یا جمالیہ ۶۳

صفات سلبیہ یا جلالیہ ۶۳

صفات ذات و صفات فعل ۶۳

علم خداوند ۶۴


سوالات ۶۵

نواں سبق ۶۶

صفات خدا وند (فصل دوم ) ۶۶

قدرت خداکے متعلق ایک سوال ۶۸

خدا حی وقیوم ہے ۶۹

ذات خد امیں تفکر منع ہے ۷۲

سوالا ت ۷۳

دسواں سبق ۷۴

صفات سلبیہ ۷۴

صفات سلبی کی وضاحت ۷۵

خدا جسم نہیں رکھتا اور دکھائی نہیں دے گا ۷۵

سوال : خدا کو دیکھنا کیو ں ناممکن ہے ؟ ۷۶

وہ لا مکاں ہے او رہر جگہ ہے ۷۷

وہ ہر جگہ ہے ۷۷

خدا کہا ں ہے ؟ ۷۹

سوالات ۸۲

گیارہواں سبق ۸۳

عدل الٰہی ۸۳

عدل الٰہی پر عقلی دلیل ۸۴

ظلم کے اسباب اور اس کی بنیاد ۸۴


عدالت خدا کے معانی ۸۵

سوالات ۸۸

بارہواں سبق ۸۹

مصیبتوں اور آفتوں کا راز(پہلا حصہ ) ۸۹

اجمالی جواب: ۸۹

تفصیلی جواب : ۹۰

نا پسند واقعات او رالٰہی سزائیں ۹۱

عذاب او رسزا کے عمومی ہونے پر کچھ سوال ۹۳

سوالات ۹۵

تیرہواں سبق ۹۶

مصائب وبلیات کا فلسفہ (حصہ دوم ) ۹۶

فلسفہ مصائب کا خلا صہ اور نتیجہ ۹۹

سوالات ۹۹

چودہواں سبق ۱۰۰

اختیار او ر میا نہ روی ۱۰۰

عقیدۂ اختیار ۱۰۱

عقیدہ اختیار اور احادیث معصومین علیہم السلام ۱۰۲

جبر واختیار کا واضح راہ حل ۱۰۳

سوالا ت ۱۰۴

پندرہواں سبق ۱۰۵


نبوت عامہ (پہلی فصل ) ۱۰۵

وحی اور بعثت انبیاء کی ضرورت ۱۰۵

نتیجہ بحث ۱۰۹

سوالات ۱۱۰

سولھواں سبق ۱۱۱

نبوت عامہ (دوسری فصل ) ۱۱۱

ہدایت تکوینی اور خواہشات کا اعتدال ۱۱۱

بعثت انبیاء کا مقصد ۱۱۲

پیغمبروں کے پہچاننے کا طریقہ ۱۱۳

سوالات ۱۱۵

سترہواں سبق ۱۱۶

نبو ت عامہ (تیسری فصل ) ۱۱۶

جا دو ،سحر ،نظر بندی اور معجزہ میں فرق ! ۱۱۶

ہر پیغمبر کا معجزہ مخصوص کیو ںتھا ؟ ۱۱۸

خلا صہ ۱۲۰

سوالات ۱۲۰

اٹھارواںسبق ۱۲۱

نبوت عامہ (چوتھی فصل ) ۱۲۱

عصمت انبیاء ۱۲۱

فلسفہ عصمت ۱۲۲


انبیاء اور ائمہ کی عصمت اکتسابی ہے یا خدا دادی ۱۲۳

معصومین کا فلسفہ امتیاز ۱۲۴

امام صادق اور ایک مادیت پر ست کا مناظرہ ۱۲۵

سوالات ۱۲۷

انیسواںسبق ۱۲۸

نبوت عامہ (پانچویں فصل ) ۱۲۸

کیا قرآن نے انبیا ء کو گناہ گار بتایا ہے ؟ ۱۲۸

آدم کا عصیان کیا تھا ؟ ۱۲۹

ظلم کیا ہے اور غفران کے کیا معنی ہیں ؟ ۱۳۱

سوالا ت ۱۳۲

بیسواں سبق ۱۳۳

نبو ت عامہ (چھٹی فصل ) ۱۳۳

سورہ فتح میں ذنب سے کیا مراد ہے ؟ ۱۳۳

انبیاء او رتاریخ ۱۳۵

انبیاء کی تعداد ۱۳۵

سوالات ۱۳۷

اکیسواں سبق ۱۳۸

نبوت خاصہ (پہلی فصل ) ۱۳۸

نبوت خاصہ اور بعثت رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۳۸

رسالت پیغمبر پر دلیلیں ۱۳۹


قرآن رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دائمی معجزہ ۱۳۹

اعجاز قرآن پر تاریخی ثبو ت ۱۴۱

سوالات ۱۴۵

بائیسواں سبق ۱۴۶

نبوت خاصہ (دوسراباب ) ۱۴۶

خاتمیت پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۴۶

فلسفہ خاتمیت ۱۴۹

سوالات ۱۵۱

تیئسواں سبق ۱۵۲

امامت ۱۵۲

امامت کا ہو نا ضروری ہے ۱۵۳

امامت عامہ ۱۵۳

مناظرہ ہشام بن حکم ۱۵۳

ہدف خلقت ۱۵۴

مہربا ن ودرد مند پیغمبر او رمسئلہ امامت : ۱۵۵

سوالات ۱۵۶

چوبیسواں سبق ۱۵۷

عصمت اورعلم امامت نیزامام کی تعیین کاطریقہ ۱۵۷

قرآن اور عصمت اما م ۱۵۷

ظالم اور ستمگر کون ہے ؟ ۱۵۸


نتیجہ :چار طرح کے لوگ ہیں ۱۵۹

علم امام ۱۶۱

اما م کے تعیین کا طریقہ ۱۶۱

امام کیسے معین ہوگا ؟ ۱۶۲

سوالات ۱۶۴

پچیسواں سبق ۱۶۵

امامت خاصہ ۱۶۵

مولائے کا ئنات ں کی امامت اور ولایت پر عقلی دلیل ۱۶۵

دومقدمہ ایک نتیجہ ۱۶۵

نتیجہ ۱۶۶

دوسری دلیل ۱۶۶

عصمت اور آیہ تطہیر ۱۶۶

اہل بیت سے مراد ؟ ۱۶۷

اعتراض : ۱۶۹

جواب ۱۶۹

آیة تطہیر او رمولا ئے کا ئنا ت اور انکے گیارہ فرزندوں کی عصمت وامامت ۱۷۰

عصت کے متعلق دوحدیث ۱۷۱

سوالات ۱۷۲

چھبیسواں سبق ۱۷۳

قرآن اور مولائے کا ئنات کی امامت ۱۷۳


آیة ولایت ۱۷۳

آیة کا شان نزول ۱۷۳

دواعتراض اور انکا جواب ۱۷۵

جو اب : ۱۷۵

جواب: ۱۷۶

آیت اطاعت اولی الامر: ۱۷۷

علی کی امامت اورآیت انذار وحدیث یوم الدار ۱۷۹

حدیث یوم الدار ۱۷۹

سوالات ۱۸۰

ستاسٔواں سبق ۱۸۱

مولا ئے کا ئنا ت کی امامت اور آیة تبلیغ ۱۸۱

مولا ئے کا ئنات کی امامت اور حدیث غدیر ۱۸۲

لفظ مولا کے معنی پر اعتراض اور اس کا جو اب ۱۸۵

جو اب : ۱۸۵

سوالات ۱۸۷

اٹھائیسواں سبق ۱۸۸

حضرت مہدی ں (قسم اول ) ۱۸۸

حضرت مہدی ں کی مخفی ولا دت ۱۸۹

امام زمانہ کی خصوصیت ۱۹۱

سوالات ۱۹۴


امام زمانہ کے شکل وشمائل (دوسری فصل ) ۱۹۵

امام زمانہ کی غیبت صغریٰ ۱۹۶

امام زمانہ کی غیبت کبریٰ ۱۹۶

سوالات ۱۹۸

انتیسواں سبق ۱۹۹

ولایت فقیہ ۱۹۹

ولایت فقیہ پر دلیل ۲۰۰

ولایت فقیہ پرعقلی دلیل ۲۰۰

دلیل نقلی: ۲۰۰

ولی فقیہ کے شرائط ۲۰۴

سوالات ۲۰۵

تیسواں سبق ۲۰۶

معاد ۲۰۶

اعتقاد معاد کے آثار ۲۰۶

قیامت پر ایمان رکھنے کا فائدہ قرآن کی نظرمیں ۲۰۹

سوالات ۲۱۲

اکتیسواں سبق ۲۱۳

اثبات قیامت پر قرآنی دلیلیں ۲۱۳

پہلی خلقت کی جانب یاد دہانی ۲۱۳

قیامت اورخداکی قدرت مطلقہ ۲۱۴


مسئلۂ قیامت اوردلیل عدالت ۲۱۶

سوالات ۲۱۸

بتیسواں سبق ۲۱۹

معاد اور فلسفہء خلقت ۲۱۹

قرآن میں قیامت کے عینی نمونہ ۲۲۱

عزیر یا ارمیا ی پیغمبر کاقصہ : ۲۲۱

مقتول بنی اسرائیل کاقصہ: ۲۲۳

سوالات ۲۲۵

تیتیسواں سبق ۲۲۶

بقاء روح کی دلیل ۲۲۶

روح کے مستقل ہو نے پر دلیل ۲۲۸

نتیجہ: ۲۲۸

روح کی بقاء اور استقلال پر نقلی دلیل ۲۲۹

سوالات ۲۳۱

چوتیسواں سبق ۲۳۲

معاد جسمانی اورروحانی ہے ۲۳۲

سوالات ۲۳۶

پیتیسواں سبق ۲۳۷

برزخ یا قیامت صغری ۲۳۷

برزخ ۲۳۷


برزخ کے سلسلے میں قرآنی آیا ت ۲۴۰

برزخ میں کافروں پر عذاب ۲۴۱

قبر دوسری دنیا کی پہلی منزل ۲۴۱

سوال قبر : ۲۴۱

سوالات ۲۴۴

چھتیسواں سبق ۲۴۵

صور کا پھونکنا ،اور نامۂ اعمال ۲۴۵

صحیفہ یانامۂ اعمال ۲۴۶

نامۂ اعمال احادیث معصومین علیہم السلام کی نظر میں ۲۴۸

نامۂ اعمال کسے کہتے ہیں ۲۴۹

سوالات ۲۵۰

سیتیسواں سبق ۲۵۱

قیامت کے گواہ اور اعمال کا ترازو ۲۵۱

۱۔خدا وند عالم : ۲۵۱

۲۔انبیاء اور ائمہ علیہم السلام : ۲۵۱

۳۔فرشتے : ۲۵۲

۴۔زمین : ۲۵۳

۵۔ زمان (رات ودن ) ۲۵۳

۶۔ انسان کے اعضاء وجوارح : ۲۵۴

قیامت میں میزان اعمال ۲۵۶


میزان قیامت کسے کہتے ہیں ؟ ۲۵۷

میزان قیامت کون لوگ ہیں ؟ ۲۵۸

سوالات ۲۶۰

اڑتیسواں سبق ۲۶۱

قیامت میں کس چیز کے بارے میں سوال ہوگا ؟ ۲۶۱

روز قیامت او ر حقوق الناس کا سوال ۲۶۳

صراط دنیا یا آخرت کیاہے ؟ ۲۶۵

سوالات ۲۷۰

انتالیسواں سبق ۲۷۱

بہشت اور اہل بہشت ، جہنم اور جہنمی ۲۷۱

جسمانی نعمتیں ۲۷۱

روحا نی سرور ۲۷۲

جہنم او رجہنمی لوگ ۲۷۴

جہنمیوں کی جسمانی سزا ۲۷۴

۱۔ عذاب کی سختی : ۲۷۴

روحانی عذاب ۲۷۶

سوالات ۲۷۹

چالیسواں سبق ۲۸۰

شفاعت ۲۸۰

اثبات شفاعت ۲۸۱


فلسفۂ شفاعت ۲۸۳

شفاعت کے بعض شرائط ۲۸۵

منا بع وماخذ ۲۸۷