جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں
گروہ بندی توحید
مصنف شیخ مرتضی انصاری پاروی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


جبر و اختیار اسلام کی نگاہ میں

تألیف

غلام مرتضی انصاری

۶ محرم١٤٢ ۹ ہ


پہلی فصل : اختیار

اختیارکی لغوی تعریف :

خیّره : فوض الیه الاختیار بین الامرین او شیئین او اکثر -(۱) یعنی کسی شخص کو دویا دو سے زیادہ امور میں سے کسی ایک کا منتخب کرنے کااختیار دینا ۔

اختیار کی اصطلاحی تعریف:

۱. انسان کے اندر مختلف قسم کی خواہشات پائی جاتی ہیں اور ان میں سے کچھ خواہشات کو ترجیح دیکر انتخاب کرتا ہے۔ اور یہی اختیار ملاک تکلیف ہے۔

۲. عقائد اسلامی کی روشنی میں اختیار کی تعریف کچھ اس طرح کی گئی ہے:ان الله سبحانه کلّف عباده بواسطة الانبیاء و الرسل ببعض الافعال و نهی هم عن بعض آخر و امرهم بطاعته فی امر به و نهی عنه بعد ان منحهم القوة والارادة علی الفعل و الترک و هولهم الاختیار فی ما یفعلون دون ان یجبر احداً علی الفعل .(۲)

بیشک اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو انبیاء اور رسولوں کے ذریعے بعض افعال سے روکا گیا ہے اور بعض افعال کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان کی باتوں پر عمل کرے اگر وہ کسی چیز سے روکے تو رک جائے اور اگر کسی چیز کا حکم دے تو اسے بجا لائے۔اور یہ حکم انسانوں کو ان افعال کے انجام دینے اورنہ دینے کا ارادہ اور قوت دینے کے بعدکیا گیا ہے کہ ان کیلئے اختیار ہے کہ اس فعل کو انجام دے یا نہ دے ۔ اس پر کوئی جبر نہیں ۔

اختیار کی عرفی تعریف

۱. اختیار در مقابل اضطرار:

بعنوان مثال فقہ میں مضطر افراد کا حکم بیان ہوا ہے چنانچہ کسی کیلئے بھی اپنے اختیار سے خنزیر کا گوشت کھانا جائز نہیں لیکن اگر وہ مضطر ہوجائے یعنی اگر نہ کھائے تو جان اس کی خطرے میں پڑجائے یا بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے، تو کھانا جائز ہے۔ یہ قرآن کا حکم ہے:( إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) -(۳) .یقینا اسی نے تم پر مردار،خون، سورکاگوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام قرار دیا، پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ بغاوت کرنے اور ضرورت سے تجاوز کرنے والا نہ ہو تو اس پر کچھ گناہ نہیں، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

۱. اختیار در مقابل اکرا ہ

یہ مورد زیادہ تر حقوقی اموراور لین دین میں پایا جاتا ہے۔ بعنوان مثال کہا جاتا ہے کہ: بیع مکرہ باطل یعنی بیع صحیح ہونے کے شرائط میں سے ایک اختیار ہے پس اکراہ سے مراد کسی ضرر یا نقصان کا تہدید کرنا اور اسی تہدید یا دھمکی کی وجہ سے کسی کام کو انجام دینا۔ اگر یہ دھمکی نہ ہوتی تو وہ اس کام کو انجام نہ دیتا۔

۲. اختیار درمقابل جبر

یہ اختیار کا وسیع ترین معنی ہے کہ وہ کام جسے فاعل اپنی میل اور رغبت کے ساتھ کسی دوسرے عامل کی طرف سے کوئی زور یا تہدید یا دھمکی کے بغیر انجام دیتا ہے ۔ یہ اس اختیارسے بھی اعم ہے جسے فاعل اپنے قصد و ارادہ سے انجام دیتا ہے۔ کیونکہ یہاں کوئی ایسی شرط نہیں جو ایک ذہنی مقایسہ کے بعد انجام دیا جائے اور اس کے بعد زوق پیدا ہو جائے-(۴) ۔

۳. اختیار یعنی ارادہ اور انتخاب

یعنی انسان کے سامنے کئی راستے موجود ہیں جن میں سے ایک راستے کو جانچ پڑتال کے بعد انتخاب کرتا ہے کیونکہ اپنے اس فعل کو پہلے سے تصور کر چکا ہوتاہے جسے فاعل بالقصدکہا جاتا ہے۔

ایک سوال :اختیار ، ارادہ اور قدرت سے کیا مراد ہے؟ مختار ، مرید اور قادر کون ہیں؟

ان سوالوں کے جواب میں آیة اللہ حسن زادہ آملی تعلیقات شیخ رئیس سے نقل کرتے ہیں:یجب ان یکون فی الوجود وجود بالذات و فی الاختیار اختیار بالذات و فی الارادة ارادة بالذات و فی القدرة قدرة بالذات حتی یصح ان یکوں هذه الاشیاء لا بالذات فی الشیوع معناه یجب ان یکون واجب الوجود وجوداً بالذات و مختاراً بالذات و قادراً بالذات و مریداً بالذات حتی تصح هذه الاشیاء لا بالذات فی غیره ۔ –(۵)

یعنی واجب الوجود ہے جس کا وجود وجود ذاتی ہے ، قدرت قدرت ذاتی ہے اور اس کا ارادہ ارادئہ ذاتی ہے، تا اینکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ واجب الوجود کے علاوہ بقیہ تمام موجودات عالم بالذات نہیں یعنی ان کی بقا کسی اور وجود کے اوپر محتاج ہے ۔

____________________

۱ ۔ عقائد اسلامی در قرآن، ج١،ص٤٤٧.

۲ ۔ ھمان.

۳ ۔ بقرہ ۱۷۳.

۴ ۔ محمد تقی مصباح ، معارف قرآن ،ج١،ص٣٧٦.

۵ ۔حسن زادہ آملی ، خیر الاثر، ص٧.


اختیار

جب بھی ہم اپنے آپ کو کسی کام میں مختار پاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بالقوہ مختار نہ تھے ابھی بالفعل مختار ہوئے یعنی اچھا اور بر ا فعل انجام دینے کا اختیار ہم میں پہلے نہیں تھا ابھی وجود میں آیا۔

توضیح: جب بھی ہم کسی فعل کو اختیار کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس فعل کے نفع نقصان کو تصور کرتے ہیں اور انجام دینے اور نہ دینے کیلئے موازنہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایک انگیزہ ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے اچھے فعل کی پہچان ہوتی ہے ۔ ممکن ہے یہ پہچان احتمالی و ظنی ہویا یقینی ہو ہر صورت میں اس فعل کے انجام دینے کا باعث بنتا ہے۔

پس معلوم ہو ا کہ انسان ذاتا ًفاعل مختار نہیں ہے بلکہ سبب اور علت ہو سکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کسی فعل کا انجام دینے پر مختار حقیقی اور مالک واقعی نہیں ہے ۔

مختار حقیقی وہ ہے جو کسی بیرونی غرض و غایت کے بغیر اختیاری فعل کو انجام دے۔ پس معلوم ہوا مختار حقیقی خدا کی ذات ہے کیونکہ وہ جو کام انجام دیتا ہے تو اس میں کسی بیرونی غایت کا عمل دخل نہیں ہے۔

ارادہ

ارادہ انسان کی وہ داخلی حالت ہے کہ جب وہ کسی فعل کا تصور کرتا ہے تو اس کا حصول اور غرض و غایت کی تصدیق کا شوق حاصل ہوتا ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ ارادہ اس میں پیدا ہوتا ہے۔ یعنی ارادہ ، فعل کا تصور اور فائدہ ، منفعت کی تصدیق اورشدید شوق کے حصول کے بعد واقع ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ شوق ارادے سے جدا ہوسکتا ہے لیکن فعل ارادے سے جدا نہیں ہوسکتا ۔ مثال کے طور پر روزہ رکھنے والا کھانے پینے کا شوق تو رکھتا ہے لیکن کھانے کاارادہ نہیں کرتا، اور مریض دواکھانے کا شوق تونہیں رکھتا لیکن ارادہ ضرور کرلیتا ہے۔

قدرت

جو قدرت ہم میں پائی جاتی ہے بالقوہ ہے جسے فعلیت تک پہنچانے کیلئے کسی ترجیح دہندہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی ہم دو متضاد فعل کے انجام دینے پر قادر ہیں، جب تک کوئی ترجیح دینے والا نہ آئے تب تک کوئی ایک فعل بھی ہم سے سرزد نہیں ہوگا۔ اور فعل کے انجام دینے کیلئے صرف قدرت کافی تھا تو فعل کے صادر ہونے کیلئے مرجح کی ضرورت نہ تھی اور ایک ہی وقت میں دو متضاد فعل کا انجام دینا ممکن ہوتا جبکہ ایسا نہیں ۔

لیکن قدرت الہی سے مراد قدرت بالفعل ہے اور وہ قادر بالذات ہے۔ خدا کی قدرت اس کا علم ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ قادر ہے تو عالم بھی ہے اور اس کا علم فعل کے صادر ہونے کا سبب ہے اور داعی اور غرض اپنے افعا ل کے انجام دینے کیلئے خود ذات باری تعالی ہے۔(۱)

ارادہ اور اختیار میں فرق

ارادہ کا معنی ، اختیارکے معنی سے زیادہ دقیق تر نہیں ۔ چنانچہ ہر اختیاری فعل میں فاعل کا ارادہ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ فعل انجام پائے۔

سوال یہ ہے کہ ارادہ کی ماہیت کیا ہے اور اختیار کے ساتھ اس کی کیا نسبت ہے؟

جواب:

ارادہ کی ماہیت اوپر ذکر ہوا کہ وہ انگیزہ اورشوق جو انسان کوفعل کے انجام دینے کی طرف ترغیب دلاتا ہے۔ اور اوپر بیان ہوا کہ ارادہ ، شوق شدید سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اختیار سے مراد یہ ہے کہ اس کا فعل علم ، ارادہ اور قدرت کے بعد واقع ہوتا ہے۔(۲)

مبادی اختیار کی تلاش

چنانچہ اختیار جبر کے مقابلے میں والی بحث سے واضح ہوا کہ خداوند فاعل مختار ہے اور انسان فاعل بالقصد ۔ اور اختیار انسان اور اختیار خدا میں نمایان فرق یہی ہے کہ خدا کیلئے لازم نہیں کہ کسی فعل کو انجام دینے کیلئے پہلے تصور کرے پھر انگیزہ پیدا ہوجائے جس کے بعد فعل کو انجام دے، بلکہ فقال لہ کن فیکون۔ لیکن انسان پہلے اس فعل کو تصور کرتا ہے اس کے بعد میل و رغبت پیدا ہوجاتا ہے پھر اقدام کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی انسان کو کبھی کبھی تسامحاً فاعل مختار کہا جاتا ہے۔ یعنی فاعل اپنے فعل کے انجام دینے میں مجبور نہیں تھا بلکہ خود اپنے اختیارکے ساتھ انجام دیا۔ آپ یونیورسٹی کا ایک طالب علم کی مثال لیجئے : جو اپنے ماں باپ ، عزیز و اقرباء سے دور دوسرے شہر یا ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے خاطر بہت ساری صعوبتیں اور دشواریاں برداشت کررہا ہے۔ واضح ہے کہ اس راہ میں بہت ساری دشواریوں کو متحمل ہورہا ہے، یہ خود طالب علم کا اختیاری عمل ہے۔ واضح ہے کہ اس راہ میں بہت ساری سختیوں کا متحمل ہونا خود طالب علم کا اختیاری عمل ہے کہ اپنی مرضی سے ان مشکلات کو برداشت کر رہا ہے۔ واضح ہے کہ اس کے کئی عوامل ہیں:

طالب علم جانتا ہے کہ اپنی تقدیر اور آنے والی زندگی کو سنوارنے کیلئے ان دشواریوں کے با وجود تحصیلات کا جاری رکھنا ضروری ہے۔

طالب علم میں یہ قدرت بھی ہے کہ جس چیز کا ارادہ کرے اسے بروی کار لائے۔

طالب علم کے اندر مختلف قسم کی میلانات اور خواہشات بھی پائی جاتی ہیں یعنی ایک طرف بہتر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش شدت سے پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف سے ان خواہشات کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ طالب علم پھر بھی ایک راہ کو اختیار کرلیتا ہے اگر یہی تین عوامل نہ ہوتے تو اس میں اختیار اور موازنہ کا زمینہ نہیں پاتا۔ پس اس مثال سے واضح ہوا کہ مبادی اختیار تین ہیں:

۱ ۔علم و آگاہی

اگر شناخت و آگاہی نہ ہو تو ممکن نہیں کہ ایک طرف کو انتخاب کرے اور مطلوبہ ہدف تک پہنچ جائے اس لئے اختیاری امور میں آگاہی اور شناخت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خصوصاً جب اس کے اندر مختلف قسم کی میلانات اور خواہشات پائی جائے تو اس عامل کی طرف زیادہ محتاج ہوتا ہے۔

۲ ۔توانائی اور قدرت

اگر توانائی نہ ہو تو صرف آگاہی انسان کو نفع نہیں پہنچا سکتی۔ لہذا وہ اختیارکا حق بھی نہیں رکھتا۔ کیونکہ عدم توانائی اسے کسی فعل کے ترک پر مجبور کرتا ہے۔ کیونکہ اگر اس میں توانائی اور قدرت پائی جاتی تو وہ اسے حتماً انجام دیتا ۔یہ توانائی جو انسان کے اندر پائی جاتی ہے کئی قسموں پر مشتمل ہے۔ وہ درج ذیل ہیں:

طبعی توانائی : یعنی جسمی امکانات اور قدرت بدنی ہے۔

صنعتی توانائی: یعنی انسانی فکر اور سوچ کی ترقی یافتہ ترین نمائش ہے۔

اجتماعی توانائی: یعنی انسان ایک دوسرے کی توانائی سے مدد لیکر اپنی ضروریات کو پورا کرلیتے ہیں ۔

روحی توانائی: یعنی جو قوانین طبیعت کے دائرے سے خارج ہے ۔ اور حواس خمسہ کے ذریعے بھی قابل درک نہیں ہے۔جو انسان کو ریاضت اور تلاش کرنے سے ہاتھ آتی ہے۔

۳. نفسانی خواہشات

گذشتہ مثال میں کچھ دقت کرے کہ اگر طالب علم کے اندر خواہشات مختلف نہ ہوتی اور اس کے سامنے فقط ایک ہی راستہ ہوتا تو کیا پھر بھی انتخاب اور اختیار کیلئے زمینہ باقی رہتا ؟ نہیں بلکہ انتخاب اور اختیارکا موضوع اس و قت محقق ہوگا کہ انسان کے اندر مختلف کشش اور خواہشات پائی جائے۔

روان شناس حضرات نے ان خواہشات نفسانی کو چار قسموں میں تقسیم کیا ہے:

غرائز

یعنی جو بدن انسان کے کسی ایک اندام سے وابستہ ہے ۔ مثال ؛ کھانے پینے اور سونے کی طرف رغبت پیدا کرتی ہے۔

عواطف

جو انسانوں میں ایک دوسرے کے خاطر پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ماں کی محبت بیٹے سے ۔ دوست کی محبت دوست سے، بہن کی محبت بھائی سے، ہادی کی محبت ہدایت پانے والوں سے و۔ ۔ ۔ یہ سب عواطف انسان ہے ۔

انفعالات

وہ منفی عواطف و احساسات جو انسان کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ جیسے غم و غصہ ، نفرت دشمنی وغیرہ ۔

احساسات

روان شناسوں کی اصطلاح میں وہ میلانات جو فقط اور فقط انسان میں پائی جاتی ہیں۔ وہ تین قسم کی خواہشات ہیں:

تعظیم اور تجلیل کا احساس

خیر واہی کا احساس

اوربندگی اور پرستش کا احساس ۔ جو انسان کی بالا ترین خصوصیت ہے۔

نظام خلقت اور اختیار انسان

دنیا کی ساری چیزیں معلول خدا وندی ہیں۔ اور یہ تمام موجودات اس کی ذات پر جاکر اپنی انتہا کو پہنچتی ہیں ۔ اور انسا ن کا اختیاری فعل بھی انہی موجودات عالم کا جز ہے جو کسی موجد کا محتاج ہے جواسے وجود میں لائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کا اختیاری فعل بھی خدا کے ذریعے انجام پاتا ہے۔(۳)

اخلاق اور اختیار

دینا کے سارے مکاتب فکر خواہ وہ اان سلام ہو یا مسیحیت ، خواہ وہ سوشلزم ہو یا کپیٹل ازم و۔ ۔ ۔ ہر ایک مکتب میں اخلاقی مسائل ایک مسلمہ اور مورد اتفاق حقیقت ہے اور اختیار ہی اختلاف کی بنیاد ہے۔ یعنی اخلاقی مسائل کا موضوع انسان کا اختیاری فعل ہے۔ اسی لئے کبھی دل کی دھڑکن خون کا جسم میں گردش کرنا و۔ ۔ ۔ کو اخلاقی اعتبار سے اچھا یا برا نہیں کہاجا سکتا۔ کیونکہ انسان کا انہیں انجام دینے یا نہ دینے میں کوئی کردار نہیں ۔ پس جہاں اختیار اور افعال شروع ہوتا ہے وہاں سے اچھا اور برا بھی کہہ سکتا ہے۔ جیسے کسی دوسرے پر احسان اور نیکی کرنا۔فدا کاری ، نعمت عطا کرنے والے کا شکر ادا کرنا و۔ ۔ ۔ یہ ایسے افعال ہیں جن کا ہونا اخلاقی طور پراچھا اور حسین ہے اور نہ ہونا اخلاقی طورپر برا اور قبیح ہے ۔ پس جس نے بھی انسان کے اندر اختیارکو نظر انداز کیا اور اسے مجبور سمجھا ، حقیقت میں اس نے اخلاق کو پایمال کردیا۔ اگرچہ زبان پر اقرار نہ بھی کرتا ہو۔

جس طرح مارکسیزم کے رہنما جو ان کے بڑے سیاست دانوں اور مفکروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہمیشہ اپنی تقاریر میں اخلاقی مفاہیم سے استفادہ کرتے ہوئے لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔ جبکہ ان کے مکتب فکر میں اخلاق اور اخلاقی مفاہیم کیلئے کوئی گنجائش نہیں ۔

قضا و قدر اور اختیار

اشکال: اگر انسان مختار ہے تو کیونکر اپنے افعال کو ارادہ الہی پر استناد کرتا ہے؟ اور اگر قضائے الہی پر استناد کرتا ہے توکس طرح اسے تابع اختیار انسان مان لیتے ہیں؟

جواب: ایک معلول کیلئے دوعلتوں کا ہونا ممکن نہیں ۔ مستشکل نے اس جملے کے مفہوم میں اشتباہ کیا ہے۔ انہوں نے علت ناقصہ اور علت تامہ کو ایک ہی نگا ہ سے دیکھا ہے۔ جبکہ ان دونوں علتوں میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ اور اس مقولۂ فلسفی سے مراد یہ ہے کہ دو علت ہستی بخش کا ایک ساتھ جمع ہونا ناممکن ہے ۔ نہ یہ کہ ایک علت ہستی بخش اور ایک یا ایک سے زیادہ علت ناقصہ کا جمع ہونا ۔

یہاں انسان کا ارادہ (علت معدہ) خدا کا ارادہ (علت العلل ) سے وابستہ ہے۔ جب تک ارادۂ الہی نہ ہو ارادۂ انسان وجود میں نہیں آسکتا۔ پس یہ دونوں علل ایک دوسرے کے طول میں ہیں نہ عرض میں۔

علامہ طباطبائی نے اس مسئلے کو ایک دلچسپ اور جالب مثال کے ذریعے سمجھایا ہے جو ہر ایک کیلئے قابل فہم ہے: فرماتے ہیں : ایک دولت مند شخص ہے اور اس کے کئی غلام اور کنیز ہیں۔ یہ شخص اپنے ایک غلام کیلئے اپنی کنیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرتا ہے۔ اور شادی کراتا ہے۔ اور اسے زندگی کی تمام ضروریا ت دیدیتا ہے۔

اس صورت میں اگر کہے کہ ان لوازمات کا دینا غلام کی ملکیت پر کوئی اثر نہیں کرتا ۔ آقا مال دینے سے پہلے بھی وہی آقا تھا اب دینے کے بعد بھی وہی آقا ہے۔ اس کے اختیار میں کوئی کمی نہیں آئی اور غلام بھی اس میں اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ۔ یہ جبریوں کا نظریہ ہے۔

اگر کہےکہ جب مولا نے تمام اموال کو غلام کی ملکیت میں دے دی تو اب خود غلام مالک مطلق ہے۔ جس طریقے سے بھی چاہے تصرف کرسکتا ہے۔ کیونکہ غلام خود مالک مطلق بنا ہے۔اور مولی کی ملکیت باطل ہوگئی۔ یہ گروہ مفوضہ کا نظریہ ہے۔

اگر کہیں گے غلام ان چیزوں پر مالک بن جائے گا جو مولی نے اسے دی ہے لیکن مستقل مالک نہیں بلکہ مولی کی ملکیت کے دائرے میں رہ کر وہ مالک ہے۔ اب یہ غلام پر منحصر ہے کہ ان اموال کو مولی کی رضایت والے راستے میں خرچ کرے یا مولی کی مرضی کے خلاف خرچ کرکے مولی کا غیظ و غضب کو قبول کرے۔ پس غلام کی ملکیت مولی کی ملکیت کے طول میں ہے نہ عرض میں ۔ اس طرح مولی اصل مالک ہے اور غلام مالک تبعی ہے ۔ یہ نظریہ مذہب حقہ کا ہے۔(۴)

____________________

۱ خیر الاثر،ص١٣.

۲ ۔ علم پیشین الہی و اختیار انسان، ص١٣.

۳ ۔ غرویان،آموزش عقائد، ج١،ص٢٠٠۔

۴ ۔ تہرانی، معاد شناسی،ج١٠،ص٢٦٤۔


دوسری فصل : جبر

جبر کی تعریف

جبر کی لغوی تعریف :

جبر کی لغوی تعریف : اصول و عقائد کے مطابق جبر سے مراد یہ ہے کہ انسان سے کسی کام کو انجام دینے میں ارادہ اور آزادی کو چھین لیا جائے ۔ اور وہ اچھے اور برے کو انتخاب کرنے پرقادر نہ ہو۔ بلکہ جو کام بھی انجام دیتا ہو ، صرف ارادۂ الہی کے مطابق انجام دیتا ہو۔علامہ عسکری فرماتے ہیں:الجبر جبره علی الامر واجبره ای قهره علیه و اکراهه علی الاتیان به ۔(۱)

جبر کی اصطلاحی تعریف

الجبر اجبارالله تعالی عباده علی ما یفعلون خیراً کان او شراً ، حسناً کان او قبیحاً دون ان یکون للعبد ارادة و اختیار الرفض و الامتناع -(۲) - عقیدہ تفویض والوں کے مطابق اختیار کی تعریف کو اختیار کے بخش میں بیان کرونگا۔ لیکن ضروری سمجھتا ہوں کہ بحث کو شروع کرنے سے پہلے ریشۂ تاریخی جبر کو تلاش کروں کہ یہ بحث کہاں سے اور کب شروع ہوئی؟

عقیدہ جبر و تفویض کی ابتداء

جبر وتفویض کا تاریخی ریشہ بہت قدیمی اور اختلافی بحث ہے : سب سے پہلے اس مسئلہ کو اقدم الحکما ارسطو نے مطرح کیا ہے۔ بعض

دانشمندوں کا خیال ہے سب سے پہلے یہ بحث ہندوستان کے حکما اور فلاسفہ کے درمیان شروع ہوا۔ اس کے بعد مصری دانشمندوں نے اسے مورد بحث قرار دیا۔ یہاں تک کہ پانچ سو سال میلاد علوم و معارف سے پہلے سرزمین یونان میں مورد بحث قرار پایا۔

سقراط (٤٦٩ ۔ ٣٩٩) اور ان کے اولین شاگرد افلاطون جبر کے معتقد ہوئے اور کہنے لگے کہ انسان کسی بھی کام کے انجام دینے میں اختیار نہیں رکھتا ۔اور یہ بحث لوگوں کے درمیان اس وقت تک باقی رہی کہ آفتاب اسلام طلوع ہوا۔ اور اسلامی دانشمندوں کے درمیان علوم و معارف کا میدان کھل گیا ۔ ان میں سے اشاعرہ جبر کے معتقد ہوئے اور گروہ مفوضہ (معتزلہ) تفویض کے۔ یعنی جو بھی بندہ سے سرزدہ ہوتا ہے خدا کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔بلکہ خدا کا کردار فقط اس حد تک ہے کہ انسان کو توانائی اور قدرت عطا کرے تاکہ انسان جو چاہے کرے۔ اور کوئی مشیت یا ارادہ الہی اس کام کی انجام دہی کیلئے ہونا ضروری نہیں ۔

لیکن طائفہ امامیہ ان دونوں نظریے کو رد کرتے ہیں اور حد وسط کو اختیار کرتے یں ۔ نہ معتزلہ کی طرح تفریط کا شکار ہوا اور نہ اشاعرہ کی طرح افراط کا بلکہ بین الامرین کا قائل ہوا۔کتاب خیر الاثر کے صفحہ ۳۰ پر ابن حزم اندلس سے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں پہلا شخص جس نے مذہب جبریہ کی بنیاد ڈالی جہم بن صفوان ہے۔

اور عموماً مذہب جبر کو اشعریوں کی طرف نسبت دی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے زیادہ اس نظریے کی ترویج اور تبلیغ کی جس کا علمبردار ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری ہے۔ جس کاحسب و نسب آٹھ پشتوں کے بعدابوموسی اشعری تک پہنچتا ہے۔ اور مذہب اشاعرہ اس کے زمانے سے آغاز ہوا۔ اور یہ ابوالحسن پہلے معتزلی تھا۔ اور علم کلام کو محمد بن عبدالوہاب جبائی سے حاصل کیا جو ابوالحسن کا استاد ہونے کے ساتھ ساتھ سوتیلا باپ بھی تھا۔

ابن خلکان نے ابوعلی جبائی کی حالات زندگی لکھتے ہوئے اس مناظرے کو بھی نقل کیا ہے جو ان دونوں کے درمیان ہواتھا۔ وہ مناظرہ کچھ یوں ہے:

ابوالحسن اشعری: استاد ! (ابوعلی جبائی) یہ بتاؤ تین بھائی ہیں ایک کافر دوسرا مؤمن اور تیسرا بچہ جسے بچپنے میں موت آئی ۔ ان تینوں کی حالات قیامت کے دن کیا ہوگی؟

ابو علی جبائی: زاہد درجات کا مالک ہوگااورر کافر درکات کا اور بچہ اہل سلامت والوں میں سے ہوگا ۔

ابوالحسن اشعری : اگر یہ بچہ مؤمن اور زاہد کے درجات تک جانا چاہے توکیا اسے خدا کی طرفسے اجازت ملے گی؟

ابو علی جبائی: نہیں، بلکہ اسے کہا جائے گا تمہارا بھائی عبادات اور اطاعات کی وجہ سے ان درجات کا مالک ہوا ہے لیکن تو نے تو کوئی اطاعت نہیں کی!

اشعری: بچہ کہے گا : خدا یا اس میں میرا کیا قصور ؟ تو نے مجھے مہلت نہیں دی تاکہ تیری اطاعت کروں!

جبائی : خدا فرمائے گا مجھے معلوم تھا کہ اگر تمہں زندہ رکھا جاتا تو گناہ کے مرتکب ہوتا، اور عذاب الیم کا مستحق ہوتا ۔ اس لئے میں نے تمھاری بھلائی اور مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے جلدی موت دی۔

اشعری: تو پھر جو بھائی کافرمرا ، کہے گا یا الہ العالمین ! جس طرح تو میرے چھوٹے بھائی کے حال سے واقف تھا اس طرح میرے حال سے بھی واقف تھا۔ کیوں اس کی مصلحت کی رعایت کی اور میری مصلحت کی رعایت نہیں کی؟!!

جبائی : اے ابوالحسن اشعری ! کیا تو پاگل ہوگیا ہے؟!

اشعری : نہیں میں پاگل نہیں ہوا بلکہ شیخ کا گدھا دلدل میں پھیس گیا ہے! یعنی تو جواب نہیں دے پاتا۔ یہ کہہ کر اشعری جبائی سے الگ ہوگیا ۔ اور اس کے مذہب کو بھی ترک کیا ۔ ساتھ ہی بہت سے اعتراضات اور اشکالات بھی مذہب جبائی ( معتزلہ) پر وار کیا ۔ اس وقت ابن خلکان خود چونکہ اشعری تھا ، نے مناظرے کو نقل کرکے اپنے مذہب(اشاعرہ) کی تائید کرتے ہوئے کہا:

وهذه المناظرة دالّة علی ان الله تعالی خصّ من شاء برحمته و خصّ آخربعذابه و انّ افعاله غیر معللة بشی من الاغراض -(۳) ۔

معاویہ بن ابی سفیان پہلا اموی خلیفہ ہے جس نے اپنے مکروہ کاموں اور جنایات کی توجیہ کیلئے جبریہ کے نظریے کی پرچار کی اور اکثر مسلمانوں کو اس مذہب کی طرف وادار کیا۔

شیخ بہائی اپنی کتاب کشکول میں لکھتے ہیں :

قال الراغب فی المحاظرات: خطب معاویه یوماً فقال: ان الله تعالی یقول و ما من شیءی الا عند نا خزائنه و ما ننزل الا بقدر معلوم فلم نلام نحن؟!! فقام الیه الاحنف فقال : انّا لا نلومک علی ما فی خزائن الله ولکن نلومک ما انزل الله علینا من خزاینه فاغلقت بابک دونه یا معاویه !!(۴)

یعنی ایک دن اس نے جب لوگ بھوک اور پیاس کی شکایت لیکر اس کے پاس گئے تو کہا: خدا تعالی فرماتا ہے: ہمارے ہا ں ہر چیز کے خزانے پڑے ہیں اور ہم ان میں سے ایک جچی تلی مقدار بھیجتے رہتے ہیں ۔ پس کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟

اخنف نے کھڑے ہوکر کہا: اے معاویہ! ہم خدا کے دئے ہوئے خزانے پر تمھاری مذمت نہیں کرتے بلکہ اس خزانے کو غصب کرکے ہمارے اوپر حرام اور فقط اپنے اوپر خرچ کرنے پر مذمت کرتے ہیں۔

جبر ، ظالموں کا بہانہ

اس نظریے کا تشہیرکرنے والے حکمرانوں کا اصل ہدف یہ تھا کہ اپنے کئے ہوئے ظلم اور ناانصافی کی توجیہ کرے اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو بے قصور ٹھہرائے۔ اور یہ لوگ اپنے مذموم ارادے میں کامیاب ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جنایت کاروں کا ارادہ وہی ارادۂ خدا ہے اور خود انسان تو مسلوب الاختیار ہے ۔ پس ان کے مطابق یہ جنایتکا در اصل اطاعت پروردگار کر رہا ہے۔ جسے مختصر فارمولے میں یوں بیان کیاہے:

مقدمہ اول: اصل عدالت یعنی جو کچھ خداوند انجام دے ، عین عدل ہے ۔

مقدمہ دوم :اصل جبر یعنی جو کچھ یہ ستمگر لوگ انجام دیتے ہیں وہ خداکا فعل ہے۔

نتیجہ : پس جو کچھ یہ ظالم لوگ انجام دے اگرچہ بدترین گناہ اور جرم ہی کیوں نہ ہو عین عدالت ہے۔ درحالیکہ اس قسم کا استدلال پیش کرنا حقیقت کے سامنے آنکھ بند کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ظلم عین عدل بن جائے؟!!(۵)

اس عقیدے سے اموی خلفاء میں سے سب سے زیادہ معاویہ نے سوء استفادہ کیا۔ اس نے اپنی خواہشات اور میلانات کو درباری ملاؤں اور جھوٹے راویوں کے حلقوم سے اصول علم کلام کی شکل میں جاری کرایا ۔ پھر کہا: وانا خلیفة اللہ ، پس میری خلافت بھی مرضی خدا پر قائم ہے۔اور تقریر کرتے ہوئے کہا:ان الله اکرم خلفائه فاوجب لهم الجنة وانقذهم من النار ثم اجعلنی منهم ۔ یعنی بیشک خدا نے اپنے خلیفوں کو عزت بخشی اور ان کیلئے جنت واجب کیا اور عذاب جہنم سے رہائی عطا کی ہے ، اور میں بھی انہی میں سے ہوں۔

پس جو بھی انجام دیتا ہوں درحقیقت اسے خدا انجام دیتا ہے۔ اور جو بھی مجھ پر اعتراض کرے تو گویا اس نے خدا پر اعتراض کیا ۔بنی امیہ کے سیاست مداروں کیلئے اپنی خلافت کی توجیہ کیلئے قضاء وقدر اور جبر ایک محکم اور ٹھوس دلیل تھی ۔ اس لئے بنی امیہ مسلک جبر کے طرفدار اور مسلک اختیار کا سر سخت مخالف تھا۔ اور جو بھی مسلک اختیار کا طرفدار بنتا تھا انہیں اپنے عقیدہ کے خلاف سمجھتا تھا ۔ اور یہی وجہ تھی کہ معبد و غیلان جو ایمان اور سچائی کے لحاظ سے معروف تھے، مسلک اختیار کے قائل ہونے کی وجہ سے معبد کو حجاج نے اور غیلان کو ہشام بن عبد الملک کے حکم سے ہاتھ پیروں کو کاٹنے کے بعد سولی پر چڑھائے گئے۔(۶)

____________________

۱ ۔ عقائد اسلامی در قرآن۔

۲ ۔ ہمان۔

۳ ۔ خیرالاثر،ص٤٣۔

۴ ۔ ہمان ، ۳۵۔

۵ ۔ عدل در جہان بینی توحیدی ، ص ٧٨۔

۶ ۔ ہماں ، ص٨١۔


مسئلہ جبر و اختیار میں قائم شدہ نظریات :

بعض لوگ جبر مطلق کے قائل ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان کسی بھی کام کو انجام دینے اور نہ دینے میں مختار اور آزاد نہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس پر کوئی مسئولیت اور ذمہ داری بھی نہیں آئے گی ۔

جدید مادیوں کا نظریہ : انسان سے فعل کا صادر ہونا جبری ہے لیکن انسان کے مجبور ہونے کے باوجود تکلیف اور ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔

ضرورت علت و معلول کے منکرین کا نظریہ: جیسا کہ بعض فیزیکس دان اور فیلسوف کا کہنا ہے کہ کوئی ضرورت یا وجوب اس کائنات پر مؤثر نہیں ہے ۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ افعال انسان پر بھی وجوب یا ضرورت حاکم نہیں ہے۔یعنی کسی واجب الوجود کی ضرورت نہیں۔

بعض متکلمین اوراصولیین کا نظریہ: ان کا کہنا ہے کہ قانون علیت اور معلولیت ، صرف مادہ اور مادیات پر حاکم ہے۔ مثال کے طور پر نفس انسان اور ذات خدا ، اپنے اپنے آثار کی بہ نسبت فاعل ہیں نہ علت۔

بعض نفسیاتی ماہرین کا نظریہ: کسی قسم کی ضرورت ، وجوب اور جبر انسان کے اعمال پر حاکم نہیں ۔ کیونکہ انسان اپنے افعال کو ارادہ کے ساتھ انجام دیتا ہے جو قانون علیت سے آزاد ہے۔

حکمای اسلامی کا نظریہ: یہ نظام ہستی ایک نظام ضروری ہے اور استثناء پذیر نہیں ہے۔ اس کے باوجود انسان اپنے افعال میں مختار اور آزاد ہے۔ اور یہ اختیار و آزادی، ضرورت نظام ہستی سے منافات نہیں رکھتا۔

مندرجہ بالا تقسیمات سے واضح ہوجاتا ہے کہ بعض اختیار کے قائل ہیں اور کچھ لوگ جبر کے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان ایک قدر مشترک بھی موجود ہے وہ یہ ہے: قانون ضرورت علّی و معلولی اور انسان کی مجبوریت کے درمیان اورعدم ضرورت علّی و معلولی و اختیار انسان کے درمیان ملازمہ پایا جاتا ہے۔ منتہا ایک گروہ نے ضرورت علّی و معلولی کو قبول کیا اور اختیار کا منکرہوا ۔ دوسراگروہ اختیار کے قائل ہو ااور ضرورت علّی اور معلولی کا منکر۔ اور ہمار نظریہ بالکل ان دونوں نظرئے کا نقطہ مشترک ہے ۔یعنی ہم نہ کسی قانون ضرورت علّی و معلولی اور مجبوریت انسان کے درمیان ملازمہ کے قائل ہیں اور نہ کسی عدم ضرورت علّی و معلولی اور اختیار انسان کے درمیان ملازمہ کا ۔ بلکہ ہمارا ادعی یہ ہے کہ انسان کے متعلق ضرورت علّی اور معلولی کو علل معدّہ اور افعال اور حرکات کے مخصوص مقدمات کو مدنظر رکھ کر اسے اختیار اور انسان کی آزادی کا مؤید قرار دیتے ہیں۔ او اس ضرورت کا انکار کرنا محدودیت اور انسان سے اختیار اور آزادی کو سلب کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

پس اولا ان بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے تمام اختیاری افعال بھی دوسری ممکنات کی طرح علل اور اسباب کی طرف محتاج ہے۔

ثانیاً انسان کی فعالیتوں اور جمادات کی فعالیتوں میں فرق ہے۔ مثلاً آتش کا لکڑی کو جلانا، اور مقناطیس کا لوہے کو کھینچنا ان کی طبیعت میں ہے اور یہی ایک ہی راہ معین ہے اور اسی ایک راہ سے انحراف کرنے کی اصلاً گنجائش نہیں ہے۔ اسی لئے ان کی فعالیت بھی محدود ہیں۔لیکن جانور اپنی فعالیتوں کو اپنے اختیار اور ارادے کے ساتھ بروی کار لاتے ہیں۔

جبر و اختیار مارکسیزم کی نظر میں

مارکسیزم اصالت جامعہ کے قائل ہے ان کا کہنا ہے کہ انسان پیکراجتماع کے مختلف اعضاء ہیں اور ان اعضاء (افراد اور اشخاص) کیلئے کوئی استقلال اور اصالت نہیں ہے۔ اسی لئے سرنوشت انسان کو جامعہ معین کرتا ہے۔ انسانی زندگی کے تمام پہلو ، اجتماعی تحولات اور تبدیلیوں کے ساتھ تشکیل پاتے ہیں۔ اور ہمیشہ جامعہ کے تابع ہیں ۔

نظریہ مارکسیزم پر دو اشکال :

اشکال١۔

تاریخ کو ایک واقعیت عینی اور خاص قوانین کے حامل تصور کیا ہے۔ جبکہ خود مارکسیزم کے نظریے کے مطابق ہر چیز کی حقیقت تک پہنچنے کیلئے وا حد راستہ ، تجربہ اور آزمائش ہے ۔ در حالیکہ قوانین اور تاریخ حاکم ، قابل تجربہ اور آزمائش نہیں ۔ پس قوانیں کو کہاں سے کشف کئے گئے؟

اشکال ٢۔

اصالت جامعہ کے قائل ہونا او رانسان کو تغییرات اجتماعی کے تانع تصور کرنا بھی واقعیت کے خلاف ہے۔ مارکسیزم کے نظریے کے مطابق انسان کاملاً عدم محض تو نہیں ۔ بلکہ انسان خود وجود استقلالی رکھتا ہے۔ بہت سارے انسان تاریخ بشریت میں گذرے ہیں جنہوں نے مسیر جامعہ کو متغیر کرتے ہوئے انقلاب پیدا کئے ہیں ۔ اور شرائط اجتماع کے مقابلے میں مقاومت اور تلاش کرکے جامعہ کو بہتر اور برتر حالت میں تبدیل کئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوا اصالت فرد کیلئے ہے اور جامعہ واقعیت نہیں رکھتا۔(۱)

جبر و اختیار اشاعرہ کی نظر میں

گروہ متکلمین میں سے اشاعرہ معتقد ہیں کہ فاعل فقط خدا تعالی ہے ۔ خدا بغیر کسی واسطے کے موجودات عالم کو خلق کرتا ہے۔ خدا کے علاوہ کسی بھی مخلوق کیلئے لفظ فاعل کا استعمال کرنا مجازی ہے۔ اگر انسان کسی فعل کو انجام دیتا ہے، آگ لکڑی کو جلاتی ہے اورپانی چیزوں کو تر کرتا ہے تو حقیقت میں یہ سارا کام خدا انجام دے رہا ہے۔ البتہ یہ انسان ،آگ اور پانی اسباب اور علل کا ایک سلسلہ ہے۔ جن کے ذریعے خدا نے عادی طور پر اپنے ارادے کو ظاہر کیا ہے۔ ہم نے ان اسباب کی علت اور وہ موجودات جو ان پر مترتب ہوتی ہیں معلول تصور کیا ہے۔ مثلاً آگ کو علت حرارت تصور کیا ہے درحالیکہ آگ اور حرارت دو جدا گانہ چیزیں ہیں ۔ اور ان دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔اور انسان کے اختیاری افعال بھی افعال الہی میں سے ہے ۔ اور اگر ہم کہتے ہیں کہ اس کام کو میں نے انجام دیا ہے اور میں اس کا فاعل ہوں ، تو یہ تعبیر مجازی ہے۔

دلائل جبریہ:

قرآن

انسان کیلئے افعال اختیاری بے معنی ہے اس بات پر انہوں نے قرآان مجید سے دلیل پیش کی ہے:

١۔( فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللّهَ رَمَى ) -(۲) - "پس انہیں تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور (اے رسول) جب آپ کنکریاں پھینک رہے تھے اس وقت آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے کنکریاں پھینکی تھیں "

٢۔( أَتَى أَمْرُ اللّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ )(۳) - امر الٰہی آگیا ہے لہذا اب بلاوجہ جلدی نہ مچاؤ کہ خدا ان کے شرک سے پاک و پاکیزہ اور بلند و بالا ہے۔

٣۔( وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ) -(۴) - اور تم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے مگریہ کہ عالمین کا پروردگار خدا چاہے

٤ ۔( إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ) -(۵) - پیغمبر بیشک آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ ان لوگوں سے خوب باخبر ہے جو ہدایت پانے والے ہیں۔

۵ ۔( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) ۔(۶)

اے رسول تم یہ بتا دو کہ اے خدا تمام عالم کا مالک تو ہے جس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو ہی جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے، ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔

____________________

۱ ۔ غرویان، آموزش عقائد، ص٢٠٧

۲ .انفال ۱۷

۳ ۔ نحل ۱۔

۴ ۔ تکویر ۲۹۔

۵ ۔ قصص ۵۶۔

۶ ۔ آلعمران ۲۶۔


سنت

پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:السعید سعید فی بطن امه والشقی شقی فی بطن امه ۔(۱)

یعنی خوش بخت انسان اپنی ماں کے پیٹ میں سے خوشبخت بن کر اور بدبخت انسان بھی وہاں سے بدبخت بن کر اس دنیا میں آتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اشکال اور دلیل کو کیسے رد کیا جائے۔ ہم خود ان سے پوچھیں گے کہ یہ سعادت یا شقاوت ،ذاتی ہے یا عارضی؟

اگر کہے ذاتی ہے تو یہ صحیح نہیں ہے۔ ذاتی ہونے کی صورت میں ان کا ادعی درست تھا۔ لیکن سعادت و شقاوت ایک عارضی شیی ہے جو مقدمات اختیاریہ سے ناشی ہوتی ہے۔جیسے موت اور جلنا کہ خدا نے جلنے کو آگ کااثر قرار دیا اور موت کو زہر کے پینے کا اثر ؛ پس اگر کوئی شخص اپنے آپ کو آگ میں ڈال دے یا کوئی زہر پی لے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ جل جائے اور ہلاک ہوجائے۔ یہ جلنا اور ہلاک ہونا آگ اور زہر کا اثر ہے لیکن کیونکہ اس شخص نے اپنی اختیار سے سبب فراہم کیا ہے۔تویہ شخص قابل مذمت ہوگا۔ کوئی بھی آگ یا زہر کو ملامت نہیں کریگا۔ اور خدا جو ان آثار کا موجد ہے۔ کی طرف نسبت نہیں دیگا۔

اوپر بیان ہوا کہ یہ سعادت و شقاوت جسکی دلیل یہ ہے کہ الذاتی لا یتغیر ۔ درحالیکہ ہم دعا کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ یہ دعائیں مأثور ہیں۔ چنانچہ ماہ رمضان کی تیّسویں رات کی دعا میں پڑھتے ہیں کی :ان کنت من الاشقیاء فامسحنی من الاشقیاء واکتبنی من السعداء فانک قلت فی کتابک المنزل علی نبیّک المرسل یمحوا الله ما یشاء و یثبت و عنده ام الکتاب -(۲)

خدایا اگر مجھے اشقیاء کے دفتر میں شمار کیا ہے تو اس دفتر سے میرا نام مٹا کر سعادت مندوں کی لیسٹ میں لکھ دے۔کیونکہ تو نے خود کہا ہے کہ خدا مٹاتا اور لکھتا ہے۔پس معلوم ہو ااگر شقاوت اور سعادت ذاتی ہوتی تو توبہ کا حکم نہ کرتا کیونکہ توبہ اور بازگشت کا معنی یہی ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوجائے ۔ جبکہ سعادت و شقاوت ذاتی تحول و تغیر پذیر نہیں۔ لیکن خدا نے اپنے بندوں کو توبہ کی طرف تاکید کے ساتھ دعوت دی ہے تاکہ سعادت حاصل کرے۔

ان لوگوں نے مندرجہ ذیل دوآ یتوں سے اپنے اس ادعی کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہیں( : يَوْمَ يَأْتِ لاَ تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُواْ فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ ) -(۳) - اس کے بعد جس دن وہ آجائے گا تو کوئی شخص بھی ِذنِ خدا کے بغیر کسی سے بات بھی نہ کرسکے گا -اس دن کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت ۔پس جو لوگ بدبخت ہوں گے وہ جہّنم میں رہیں گے جہاں اُن کے لئے صرف ہائے وائے اور چیخ پکار ہوگی ۔وہ وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان و زمین قائم ہیں مگر یہ کہ آپ کا پروردگار نکالنا چاہے کہ وہ جو بھی چاہے کرسکتا ہے ۔اور جو لوگ نیک بخت ہیں وہ جنت میں ہوں گے اور وہیں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں مگر یہ کہ پروردگار اس کے خلاف چاہے ...یہ خدا کی ایک عطا ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے ۔

رازی نے اس آیت سے جبر گرائی (اشعری) پر استدلال کیا ہے، اور کہا ہے جان لو خدا نے ابھی سے ہی قیامت کے دن بعض افراد کے جہنمی یا بہشتی ہونے کا حکم لگایا ہے کہ فلان سعید ہوگا اور فلان شقی ۔ اور جس چیز کا حکم دے اس کا علم بھی حتماً پہلے سے موجود ہے۔ اور اس کے خلاف ہونا محال ہے ۔ اور اگر یہ محال نہ ہو تو خدا کی خبر جھوٹی ہوگی۔پس سعید کبھی شقی اور شقی کبھی سعید نہیں ہوسکتا ۔ رازی کے بیان میں دو احتمال پائے جاتے ہیں:

الف: اس نے اپنے استدلال کرنے میں جبر پر اعتماد کیا ہے کہ لوگوں کے بارے میں خدا کو علم ہونے کو انسان مجبور ہونے کا باعث ٹھہرایا ہے۔ اگر رازی کا مقصود یہ ہے تو اس کا جواب کچھ یوں ہے کہ تمام انسانوں کی نسبت خدا کا علم ازلی ، مقام عملی میں انسان کو مجبور نہیں نبا سکتا ۔ کیونکہ علم خدا اس فعل سے متعلق ہے جو انسان سے اختیاری طور پر صادر ہوتا ہے۔

ب: اگر اس کا مقصد یہ ہو کہ خداوند ابھی حکم لگاتا ہے کہ فلان شخص قیامت کے دن شقی اور فلان شخص سعید ہوگا۔ تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ علم خدا کاشف ہے کہ روز قیامت فلان شخص کی حالت کیا ہوگی؟ اور یہ علم اس فعل ختیاری سے منافات نہیں رکھتا جس کے ذریعے انسان روز قیامت سعیدوں میں شامل ہو یا شقی لوگوں میں؟

دوسری آیت جس سے انہوں نے استدلال کیا ہے ،وہ یہ ہے:( قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ ) -(۴) -۔ وہ لوگ کہیں گے کہ پروردگار ہم پر بدبختی غالب آگئی تھی اور ہم گمراہ ہوگئے تھے ۔ پروردگار اب ہمیں جہنمّ سے نکال دے اس کے بعد دوبارہ گناہ کریں تو ہم واقعی ظالم ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شقاوت کو انسان اپنی نفس کی طرف نسبت دے رہا ہے جو خود سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور یہ دلالت کرتی ہے کہ یہ شقاوت اکتسابی امور میں سے ہے۔ کیونکہ خدا نے اس سے پہلی آیت میں سعادت کو لفظ الفلاح سے تعبیر کیا ہے اور شقاوت کو لفظ خسران سے۔ اور ان دونوں کو میزان میں وزن کا ہلکی یا بھاری ہونے کیلئے استعمال کیاہے جو انسان اپنے اختیار سے انجام دیتا ہے۔چنانچہ خدا تعالی نے فرمایا:( فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ ) -(۵) - پھر جن کی نیکیوں کا پلہّ بھاری ہوگا وہ کامیاب اور نجات پانے والے ہوں گے ۔اور جن کی نیکیوں کا پلہّ ہلکا ہوگا وہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں ڈال دیا ہے اور وہ جہنم ّ میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

یعنی سعادت میزان کا وزن بڑھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اور شقاوت ابدی انسان کیلئےمیزان عمل ہلکا ہونے سے حاصل ہوتی ہے ۔ یہ لوگ جہنم سے نکلنے اور دنیا میں دوبارہ بھیجنے کا خدا سے مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اچھے اعمال انجام دے اور سعادت مندوں کا راستہ اختیار کرلے ،پس اگر انکی شقاوت اور سعادت ذاتی ہوتی اور قابل تغییر نہ ہوتی تو کسب سعادت کیلئے دوبارہ دنیا میں آنے کا مطالبہ نہ کرتا۔

درج ذیل روایت بھی اسی مطلب کو بیان کرتی ہے: مولائی متقیان(ع)حقیقت سعادت اور شقاوت کو مفصل طور پر یوں بیان فرماتے ہیں:حقیقة الشقاء ان یختم الرجل عمله بالسعادة و حقیقة الشقاء ان یختم المرء عمله بالشقاء -(۶) -

یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسان کی سعادت اور شقاوت اس کے افعال اختیاری کا تابع ہے ۔

____________________

۱ ۔ شیخ صدوق۔ توحید،ج٣،ص٣٥٦۔

۲ ۔ علم الھدی ، معاد و عدل ،ص٣٦۔

۳ ۔ ہود ۱۰۵۔۔۱۰۸۔

۴ ۔ مؤمنون ١٠٦۔١٠۷۔

۵ ۔ مومنون۱۰۲ ۔۱۰۳۔

۶ ۔ بحار،ج٥،ص١٥٤۔


عقل

دلیل عقلی چند مقدے پر مشتمل ہیں:

پہلا مقدمہ: ہرممکنات ، وجود میں آنے کیلئے علت کی طرف محتاج ہیں اور اسی طرح تمام علل معدّہ بھی علت تامہ پر محتاج ہیں۔ دوسرا مقدمہ: علت العلل وہی ذات پاک ہے ۔

تیسرا مقدمہ: معلول کا علت سے جدا ہونا محال ہے۔ اسی طرح افعال انسان بھی مخلوقات خدا میں سے ہے اور خدا سے جدائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک قاعدۂ فلسفی ہے کہ جہاں علت تامہ ہو وہاں اس کا معلول ہونا ضروری ہے۔ پس اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افعال انسان بھی خدا سے وجود میں آیا ہے نہ خود انسان سے، جس میں انسان کا کوئی اختیار نہیں۔

دلیل عقلی پر اشکال

ان کی اس دلیل پر کئی اشکالات وارد ہوتی ہیں؛ اولا ً توجو شبہات جبریوں کے زہنوں میں آیات سے پیدا ہوتی ہیں یہ ہے کہ مشیت و ارادہ اور قضا و قدر الہی کے مقابلے میں انسان کو کسی چیز پر اختیار حاصل نہیں، صحیح نہیں کیونکہ ارادۂ خدا اور ارادۂ انسان ایک دوسرے کے طول میں ہے ۔ یہی وجہ ہے ارادۂ الہی جانشین ارادۂ انسان نہیں ہوسکتا۔

ثانیا انسان کا ارادہ علل معدّہ ہے اور فعل انسا ن بھی اس کا معلول ۔ انسان جب ارادہ کرتا ہے تو فعل انجام پاتا ہے ۔ اگر ارادہ نہ کرے توانجام بھی نہیں پاتا ۔ لیکن یہی علت معدّہ (ارادہ) اور معلول (فعل) اور اس کے مبادی سب ارادۂ الہی سے متعلق ہے ۔ منتہا اس فعل کی نسبت علت معدّہ(ارادہ) مباشراور ملی ہوئی علت ہے ، اور ارادۂ خداوند علت بعیدہ ہے، لیکن اگر یہی علت بعیدہ نہ ہو تو نہ مرید (ہم) ہونگے نہ کوئی ارادہ ہوگا اور نہ ہی کوئی مراد(فعل) ۔ پس معلوم ہوا ارادۂ انسان تو اس کے اپنے اختیار میں ہے اور جو بھی کام انجام دیتا ہے اپنے ارادے سے انجام دیتا ہے۔ اور یہ سلسلۂ نظام ، ارادۂ الہی سے متعلق ہے ۔ یہی اس مشکل کا حل کی چابی ہے ۔

عقیدۂ جبریہ باطل کیوں؟

عقیدہ جبریہ باطل ہے کیونکہ ان کے مطابق کافر لوگ پیامبران الہی پر اپنی دلیل اور حجت قائم کرسکتے ہیں کہ خدا نے ہی

ہمیں کافر خلق کیا ہے اور ہم سے کفر چاہا ہے ۔ اور ہم ایمان لانے پر قادر نہیں ہیں ۔ لیکن اگر خدا چاہتا تو ہم بھی ایمان لے آتے ۔

اگر اہل اسلام ، کفار کے ساتھ مناظرہ اور احتجاج کریں اور اسلام کی حقانیت کو منوانا چا ہیں تو جبر کے قول کے مطابق کفار کیلئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ خدا نے ہمیں اسلام میں داخل ہونے سے منع کیا ہے۔ اور ہم مجبور ہیں کہ حالت کفر پر باقی رہیں ۔

چنانچہ ابی بحرخاقانی کے دور شہنشاہیت میں سارے یہودی جمع ہوئے اور خاقانی سے کہنے لگے کہ آپ ایک عادل اور منصف بادشاہ ہے اور اس شہر میں آپ کے علمای دین کہ جن پر آپ کو اعتماد حاصل ہے۔ اس بات کے قائل ہیں کہ ہم یہودی اسلام اور ایمان لانے پر مختار نہیں ہیں ۔ تو آپ کس بنا پر ہم سے جزیہ اور خراج (ٹیکس) لیتے ہیں؟ اور یہ جزیہ لینا آپ کے عدل اور انصاف کے خلاف ہے۔ تو اس بادشاہ نے علمای مجبرہ کو جمع کیا اور یہودیوں کی بات کو ان تک پہنچادی ۔ تو تب کہا ؛ یہودی بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ تو بادشاہ نے کہا : کس بنا پر یہ لوگ قادر نہیں ہیں؟! یہ علماء جواب نہ دے سکے ۔تو بادشاہ نے انہیں شہر بدر کردیا ۔ –(۱)

بطلان جبر پر بہلول کا قصہ

ایک دن بہلول کا گذر ابو حنیفہ کے نزدیک سے ہوا جہاں وہ اپنے شاگردوں کو درس دے رہا تھا ، کہا : یہ جعفر صادق(ع) کا خیال ہے کہ جو بھی فعل بندے سے صادر ہوتا ہے خود اسی کے اختیار سے انجام پاتاہے جبکہ میں اسے نہیں مانتا ۔ کیونکہ ہر وہ فعل جو بندے سے صادر ہوتا ہے وہ خدا انجام دیتا ہے۔ اور جعفر صادق(ع) کہتے ہیں کہ شیطان کو قیامت کے دن آگ میں جلایا جائے گا جبکہ یہ ممکن نہیں کیونکہ شیطان کی جنسیت آگ سے ہے اور آگ آگ کو کیسے جلا سکتا ہے؟! اسی طرح جعفرصادق(ع)کہتے ہیں کہ خدا موجود ہے جبکہ یہ درست نہیں کیونکہ ہر موجود کو دیکھاجا سکتا ہے لیکن خداوند کوتو دیکھ نہیں سکتا۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا موجود نہیں ہے۔

بہلول یہ سب کچھ سن رہا تھا ۔ ایک ڈھیلہ اٹھا کر ابو حنیفہ کے سر پر دے مارا اور بھاگ نکلا ۔ لیکن لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور خلیفہ کے پاس لے گئے۔ ہارون نے اس سے پوچھا : کیوں اس عالم جلیل کو اذیت دی؟

بہلول نے کہا: یہ اپنے مذہب کے مطابق جھوٹ بول رہا ہے۔ کیونکہ میں نے نہیں مارا بلکہ خدا نے مارا ہے۔ اور اسے کوئی اذیت نہیں دی ہے اور نہ ہی میں نے کوئی صدمہ پہنچایا ہے ۔ کیونکہ اس کی خلقت خاک سے ہوئی ہے اور خاک(ڈھیلہ) جو اس کا ہم جنس ہے کیسے اسے صدمہ پہنچا سکتی ہے؟ اسی طرح اگر درد کا اظہار کر رہا ہے توبھی جھوٹ ہے کیونکہ اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو درد کو ہمیں کھادے ۔ یہ تو خود کہہ رہا تھا کہ خدا اگر موجود ہے تو ہر موجود دیکھنے میں آتا ہے تو خدا کیوں دکھائی نہیں دیتا ۔

ابو حنیفہ سمجھ گیا کہ بہلول نے ایک ڈھیلہ سے تینوں اشکال کا جواب دیا اور اس کی غلطی کو سب پر واضح کردیا ۔ اس وقت ہارون ہنس پڑا اور انہیں چھوڑدیا ۔ –(۲)

اس مناظرے سے آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اگر ہم جبر کے قائل ہوجائیں تو خداوند متعال کو غفور اور رحیم کہنا درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ عفو ودرگذر اس صورت میں ممکن ہے کہ بندہ مختار ہو ۔ اور گناہوں کو ترک کرے جبکہ وہ گناہ کو انجام دے سکتا ہو ۔ مگر یہاں خدا فاعل ہے کس طرح ایک بے گناہ بندے کو عفو کریگا اور بخش دیگا؟ اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا اپنے آپ کو بخش رہا ہے۔

اگر اہل حق اوراہل باطل کے درمیان مناظرہ اور مباحثہ ہوجائے تو قول مجبرہ کے مطابق یہ لازم آتا ہے کی خدا نے خود مناظرہ کیا ہے ۔ کیونکہ مناظرہ فعل ہے اور خدا فاعل ۔ پس خدا ہم محق ہے اور ہم مبطل ۔ کیونکہ مناظرہ میں ایک حق پر ہوتا ہے دوسرا باطل پر۔ اس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم بھی ہے اور جاہل بھی! در حالیکہ خدا کی ذات اس چیز سے پاک و منزہ ہے۔

____________________

۱ ۔ سید علم الھدی ؛معاد و عدل ،ص١٠۔

۲ ۔ ہمان ،ص۱۲۔


جبر کے اقسام

١۔ جبر فلسفی

مقدمہ اول:

تمام افعال انسان ،خود انسان کی طرح ممکن الوجود ہے۔

مقدمہ دوم:

تمام ممکن الوجود جب تک حد ضرورت تک نہ پہنچے وجود میں نہیں آسکتا ۔

نتیجہ:

انسان اپنے افعال میں مجبور ہے۔

جواب : اس قاعدہ فلسفی کا مفاد یہ ہے کہ کوئی بھی سانحہ پیش آنے کیلئے علت تامہ کا ہونا ضروری ہے اسی طرح انسان کی اختیاری امور کیلئے بھی ضروری ہے ۔ لیکن افعال اختیاری اور غیر اختیاری میں فرق یہ ہے کہ افعال اختیاری جب تک خود انسان اس عمل کو اختیار نہ کرے اس عمل کی علت بھی محقق نہیں ہوگی ۔ لہذا فعل بھی انجام نہیں پائے گا ۔ پس قاعدہ فلسفی :الشیی لم یجب لم یوجد،کا اس ادعی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں۔

٢۔ جبر تاریخی

مقدمہ اول:

یہ تاریخی قوانین اوراصول بھی نا قابل انکار ہیں ۔

مقدمہ دوم:

تمام قوانین تاریخی کا پاس رکھنا ہرانسان پر فرض ہے۔

نتیجہ:

پس ہر انسان مجبور ہیں کہ اپنے اپنے کاموں میں قوانین تاریخی کی پیروی کرے۔

جواب: یہ بیان تو نہ صرف دلیل جبر نہیں بلکہ بالکل برعکس اختیار پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ اولاً تاریخ کوئی واقعیت نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک امر انتزاعی ہے۔ثانیاً : تاریخ کا قانون مندی ہونا فقط خیالی ہے ۔ کیونکہ جو چیز خود واقعیت خارجی نہیں رکھتی کس طرح ممکن ہے کہ قوانین خاص کا حامل ہو؟!

اور یہ بھی معلوم ہے کہ روش علمی تجربے پر منحصر ہے ۔ اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ قابل تکرار ہو کہ ایک جگہ تجربہ کرے پھر اسی مشابہ کو دوسری جگہ ۔ تاکہ رابطہ علیت کو کشف کرسکے ۔ اور ایک قانون علمی ثابت ہوسکے ۔ لیکن تاریخ قابل تکرار نہیں ۔ لہذا جبر تاریخی بے بنیاد ہے۔ اور یہ صرف ایک تعبیر ہے کہ جسے دوسروں سے عاریہ لیا ہے ۔

اس قسم کی غیر علمی اور نا قابل اثبات مفروضات کے ذریعے اختیار جیسی ایک بدیہی چیز کو جسے ہر انسان اپنے اندر احساس کرتا ہے اور آیات اور روایات بھی جس کی تائید کرتی ہیں اور ہر اخلاقی اور تربیتی نظام کی بنیاد بھی اسی پر ہو ،نظر انداز نہیں کرسکتا ۔

٣۔ جبر اجتماعی

مقدمہ اول:

جامعہ موجود واقعی ہے کہ ہر انسان اپنے آپ کو ہمیشہ فشار جامعہ کے ماتحت تصور کرتا ہے۔

مقدمہ دوم:

اور خود جامعہ کیلئے خاص قوانین وضع ہوا ہے ۔

نتیجہ:

پس ہر انسان اجتماعی قوانین کی متابعت کرنے پر مجبور ہے۔

جواب: یہ لوگ جامعہ کیلئے وجود حقیقی کے قائل ہیں جبکہ جامعہ کا وجود ایک وجود اعتباری ہے۔ اور خارج میں اجتماع نامی کوئی شییٔ موجود نہیں بلکہ بعض افراد کا جمع ہونے کا نام اجتماع ہے۔ فرض کرلیں کہ آپ کی بات مان لیتے ہیں کہ جامعہ وجود حقیقی رکھتا ہے اور بعض قوانین بھی اس کیلئے وضع ہوا ہے؛ کس نے کہا کہ انسان ان قوانین پر عمل پیرا ہونے پر مجبور ہے؟!!

٤۔ جبر طبیعی

مقدمہ اول:

طبیعی قوانین ہماری زندگی میں ہماری رفتار و کردار کو تشکیل دیتی ہیں ۔

مقدمہ دوم:

انسان کے اختیاری افعال بھی اثر پذیرہیں۔

نتیجہ:

انسان کے اختیاری افعال بھی قوانین طبیعی کے بغیرباقی نہیں رہتا جس کا لازمہ یہ ہے کہ جبر طبیعی کا انکار نہیں کرسکتا ۔

جواب: انسان کے کچھ خاص غریزوں کو کچھ خاص طبیعی وسائل کے ذریعے ابھارا جا سکتا ہے ۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ انسان مسلوب الاختیار ہو ۔ کیونکہ غرائز طبیعی کو لگام دے سکتا ہے ۔ اس کی بہترین مثال: داستان حضرت یوسف(ع)ہے جو بہت ہی تعجب آور ہے کیونکہ تمام شرائط اور وسائل جیسے جوانی کا عالم، زلیخا کی گناہ آلود خواہشات کو پورا کرنے کیلئے بہترین موقع فراہم ہے ۔ بہترین طریقے سے سجھایا ہوا شہوت آمیز بندکمرہ ، زلیخا جیسی حسین و جمیل عورت کا ننگی ہونا و ۔ ۔ ۔

ان تمام شرائط اور وسائل طبیعی کے باوجود کس طرح حضرت یوسف(ع) نے بدکاری سے دوری اختیار کی؟!!

قرآن مجید فرمارہا ہے:( وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلا أَن رَّأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ) ۔ –(۱) -

یعنی اور اس عورت نے یوسف کا ارادہ کر لیا اور یوسف بھی اس کا ارادہ کرلیتے اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ چکے ہوتے، اس طرح ہوا تاکہ ہم ان سے بدی اور بے حیائی کو دور رکھیں، کیونکہ یوسف ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔

اجزاء علت تامہ قریب تو کامل تھا لیکن وہ برہان خدا دادی جو نورانیت اور پاکیزگی تھی ۔ جسے ہم درک نہیں کرسکتے ، گناہ کبیرہ سے بچنے کا باعث بنا ۔

اس ماجرا میں فقط حضرت یوسف(ع) کی ذات تھی جس نے اس فعل قبیح کو ترک کرنے کا ارادہ کیا ۔ فقط وہی ذات تھی جس نے اپنے اختیار کیساتھ راہ رضای الہی کو انتخاب کیا اور فرمان شیطان کو اپنے سے دور کیا ۔ اب بتاؤ جبر طبیعی کہاں گیا؟!

دوسری مثال :حضرت نوح(ع) کا بیٹا اور حضرت لوط(ع) کی بیوی کو دیکھ تمام شرائط طبیعی ہدایت اللہ کے نبیوں کے گھر میں جہاں وحی الہی نازل ہو کرتی تھی) ہونے کے باوجود گمراہ ہوئے۔ جبکہ حضرت نوح(ع)کے دوسرے تمام بیٹے اپنے پدر بزرگوار کے پیروکار بنے ۔ لیکن یہ ایک سرکش نکلا اور ہلاک ہوا ۔

پس جبر طبیعی کے قائل افراد اس حقیقت کی توجیہ کیسے کرینگے؟!

تیسری مثال: ہمسر فرعون حضرت آسیہ شرائط طبیعی کے لحاظ سے تو ایسے محیط میں زندگی کر رہی تھی کہ دنیا کی ساری دولت ان کے قدموں تلے موجود تھی ۔ اور شوہر کہ جو اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا ۔ پھر بھی نہ دنیا کے زرق و برق اسے راہ خدا سے بھٹکا سکے اورنہ فرعون جیسا کافر شوہر ۔ بلکہ خدا کی راہ میں دنیا کی سختی اور مشقتیں برداشت کرکے خدا سے اس کا صلہ جنت میں محل کی صورت میں مانگ رہی ہے ۔ جس کی قرآن نے یوں تعبیر کی ہے:رب ابن لی عندک بیتا فی الجنة(۲) - یعنی خدایا مجھے اپنے پاس گھر عطا کرے۔ پس جبر اور قوانین طبیعی کے درمیان کوئی لازمہ نہیں جو انسانی زندگی پر اثر انداز ہو سکے۔ –(۳)

____________________

۱ ۔ یوسف ۲۴ ۔

۲ ۔ تحریم ١١.

۳ ۔ غرویاں، آموزش عقائد،ج١،ص٢٠٥.


فصل سوم :گروہ مفوضہ کا نظریہ

اشاعرہ کے مقابلے میں متکلمیں میں سے ایک گروہ معتزلہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ علل معدّہ اپنی علیّت میں مستقل ہیں اور علة العلل پر محتاج نہیں ہیں ۔ خدا نے اس کائنات کو خلق فرمایا اور فارغ ہوگیا ۔ اب یہ کائنات مستقل طور پر حرکت کر رہی ہے کسی محرک کی ضرورت نہیں ۔ جیسے آگ کالکڑی کو جلانے میں ، ہوا کا چلنے میںاور انسان اپنے اختیاری کاموں میں مستقل ہیں ۔ ارادۂ انسان کے علاوہ کوئی اور طاقت یا قدرت درکار نہیں کہ یہ جس کام کو چاہے انجام دیتا ہے اور جسے چاہے ترک کرتا ہے۔

دلیل مفوضہ

جب انہوں نے جبریہ کے اقوال کے مفاسد کو دیکھا تویہ گمان کرنے لگے کہ بندہ اپنے کاموں میں مستقل اور آزاد ہے ۔

جس طرح یہودیوں نے کہا: ید اللہ مغلولة کہ ان کا عقیدہ کہ خدا نے اس کائنات کو ایک ہفتے میں خلق کیا اور ہفتہ کے دن تعطیل کیا! اور خدا بالکل لا تعلق ہوا ۔ جس طرح گھڑی ساز گھڑی بنانے کے بعد لا تعلق ہوتا ہے ۔ پھر بھی گھڑی کی سوئیاں چلتی رہتی ہے۔ اسی طرح یہ کائنات بھی خود بخود چلتی رہتی ہے ۔

یہ خلاف عقل ہے کیونکہ ہر ایک کیساتھ یہ اتفاق ہوتا رہتا ہے کہ بہت سے کاموں کو سارے انسان تمام تر کوششوں کے ساتھ شروع کرتے ہیں اور تمام علل و اسباب بھی اسے فرہم ہوتا ہے لیکن کبھی کامیاب ہوتا ہے کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین (ع)نے فرمایا :عرفت اللہ بفسح العزائم الھمم۔ یعنی میں نے لوگوں کے عزم وارادہ کے خلاف نتیجہ نکلنے سے خدا کو پہچانا۔کیونکہ کبھی لوگ ثروت مند اور دولت مند ہونے کے خاطر بہت محنت کرتے ہیں لیکن اسے تنگدستی اور فقر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ، اور کبھی اس کے برعکس بھی نتیچہ نکلتا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ خدا کی حیثیت گھڑی ساز کی ہے ،یہ سلطنت مطلقہ کی توہین ہے۔

ثانیا آیات اور روایات بھی اس بات کے خلاف ہیں ۔ مذکورہ مثال کی طرف توجہ کریں کہ :ایاک نعبد و لا حول ولا قوة الا بالله اور بحول لله و قوته اقوم و اقعد ۔ ۔۔ ۔ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خدا کی مخلوقات ہمیشہ اور ہر ہر سکینڈ کیلئے خدا کی ذات پر محتاج ہیں-(۱)

خدا نے امور دین کو پیامبراکرم(ص) کے ہاتھوں سونپ دیا ہے۔ اور انہوں نے ائمہ اور اولیاء کو تفویض کیا ہے۔ جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا نے سو رۂ نجم میں پیغمبر(ص)کے بارے میں فرمایا :( و ما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی ) -(۲) -۔ اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے۔اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے۔

یہ آیت صریح کیساتھ کہہ رہی ہے کہ پیامبر(ص) جو کچھ بھی بولے وہ خدا کی وحی کے مطابق ہوگا۔ حضرت علی(ع) فرماتے ہیں کہ جب پیامبر اسلام (ص)جاتے ہوئے مجھے علم اور معفرت کے ہزار دروازے عطا کئے اور میں نے بھی ان ہزار دروازوں سے ہزار دروازے اور کھول دئے ۔امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں جو علوم اور معارف علی(ع)کو عطا ہوئے ہیں ، ارث میں ملا ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اخبار تفویض کسی بھی صورت میں ادعای مفوضہ کے ساتھ مربوط نہیں ۔ کیونکہ مفوضہ کا ادعی یہ ہے کہ انسان کو تکوینیات میں اپنا نائب قرار دیا ہے ۔ لیکن ان روایا ت میں جو اختیار دیا گیا ہے وہ عالم تشریع میں ہے ۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا :( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً ) -(۳) - ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو- یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔

کہ خدا کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول اور ائمہ(ع) کی اطاعت واجب ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا نے اپنے امور کو رسول اکرم(ص) اور اولی الامر کو تفویض کیا ہے ۔ یہاں ہم یہ جواب دینگے کہ اس تفویض کی مثال ایسی ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ کسی کو ایک ملک کا حاکم بنا دے اور تمام امور سلطنت کو اس کے ہاتھوں میں سونپا ہو اور لوگوں کو بھی حکم دیا کہ فلانی کی اطاعت کرو ۔ جو بھی اس حاکم کی نافرمانی کرے تو فلان سزا دونگا ۔ کیونکہ اس کا حکم میرا حکم ہے۔ –(۴) -

____________________

۱ ۔ بہشتی نژاد ، پرسش وپاسخ اعتقادی،ج ١ ،ص٩٧.

۲ ۔ نجم ۳،۴۔

۳ ۔ نساء ۵۹۔

۴ ۔ معاد و عدل ،ص٥٩۔


انسان کے مختار ہونے پر دلائل قرآنی

ارسال رسل وانزال کتب

اگر انسان مختار نہ ہو تو اصولاً پیامبروں کا آنا اور کتب آسمانی کا نازل ہونا بیہودہ ہوگا ۔ اور خدا وند بیہودہ کام نہیں کرتا ۔ پس ارسال رسل اور انزال کتب اس بات کی دلیل ہے کہ خدا وند اور انبیاء انسان کو مختار جانتے ہیں ۔

امتحان

اگر قرآن پر ایمان رکھنے والا ہو تو ماننا پڑے گا کہ امتحان کو ایک سنت الہی قرار دیا گیاہے ۔ جیسا کہ متعدد آیتوں میں ذکر کیا ہے :

١ ۔( إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ) -(۱) - یقینا ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنادیا ہے۔

٢۔( إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ) -(۲) - بیشک ہم نے روئے زمین کی ہر چیز کو زمین کی زینت قرار دے دیا ہے تاکہ ان لوگوں کا امتحان لیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے ۔

۳ ۔( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ )(۳) -اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموالًنفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیں ۔

پس امتحان ایسے افراد سے لیا جائے گا جو مجبور نہ ہو بلکہ آزاد ہو ۔ اور ہدف امتحان بھی معلوم ہے کہ انسان کو بلند وبالا مقام تک پہنچانا مقصود ہے ۔ لیکن اگر ہر ایک کو زیرو دینا مقصود تھا یا ہر ایک کو سو کے سو نمبر دینا ہوتا تو امتحان بے معنی ہوجائے گا ۔

وعدہ و وعید

یہ وہ صفات ہیں جنہیں خدا نے نبیوں کو عنایت کی ہے ، فرمایا( : كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ لِمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللّهُ يَهْدِي مَن يَشَاء إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ )(۴) - (فطری اعتبار سے) سارے انسان ایک قوم تھے پھر اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کریں اور اصل اختلاف ان ہی لوگوں نے کیا جنہیں کتاب مل گئی ہے اور ان پر آیات واضح ہوگئیں صرف بغاوت اور تعدی کی بنا پر تو خدا نے ایمان والوں کو ہدایت دے دی اور انہوں نے اختلافات میں حکم الٰہی سے حق دریافت کرلیا اور وہ تو جس کو چاہتا ہے صراظُ مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے۔ اگر انسان مختار نہ ہو تو کسی فعل پر بشارت دینا اور کسی فعل سے بھی ڈرانا اور اسی طرح درمیان میں اختلاف پیدا کرنا اور ان کے درمیان فیصلہ کرنا بے معنی ہوجائے گا ۔

____________________

۱ ۔ دھر ٢۔

۲ ۔ کہف٧۔

۳ ۔ بقرہ ۱۵۵۔

۴ ۔ بقرہ ٢١٣۔


میثاق و معاہدہ

( أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ) -(۱) - اولاد آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی عبادت نہ کرنا کہ وہ تمہارا کِھلا ہوا دشمن ہے ۔اور میری عبادت کرنا کہ یہی صراط مستقیم اور سیدھا راستہ ہے

خدا نے بنی نوع انسان کے ساتھ عہد لیا ہے کہ شیطان کی اطاعت نہ کرنا ۔ کیونکہ وہ تمھارا دشمن ہے۔ پس اگر انسان صاحب اختیار نہیں تھا تو اس کے ساتھ خدا کا معاہدہ کرنا بالکل بے معنی ہوجائے گا ۔

( وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً ) -(۲) -۔ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبردار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپً قرابتداروںً یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔

( وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا )(۳) - اوراس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے تمام انبیائ علیھ السّلامسے اور بالخصوص آپ سے اور نوح ابراہیم(ع)موسیٰ(ع) اور عیسٰی ابن مریم(ع)سے عہد لیا اور سب سے بہت سخت قسم کا عہد لیا ۔

یہ دو آیتیں میثاق خاص کی نشاندہی کرتی ہیں جو خدا نے بنی اسرائیل اور بعض انبیاء سے لیا ہے۔

اختیا ر انسان فطری ہے۔ انسان کا مختار ہونا علم حضور ی کے ذریعے سے بھی واضح ہے کہ زندگی میں بار بار اتفاق ہوتا رہتا ہے کہ انسا ن دو کاموں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے میں متردد ہوتا ہے۔ لیکن آخر میں کسی جبر اور اکراہ کے بغیر اپنی رضامندی سے ایک کام کو اختیار کر لیتا ہے یہی تردید دلیل ہے انسان کے مختار ہونے پر؛

این کہ گوئی این کنم یا آن کنم

خود دلیل اختیار است اے صنم

اس مطلب کو قرآن نے بھی بیان کیا ہے : إ( ِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ) -(۴) - یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے۔

( وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ) -(۵) -۔ اور کہہ دو کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اورجس کا جی چاہے کافر ہوجائے۔

کافروں کو دعوت ایمان دینا اختیار کی علامت

خدا کا عدم وقوع فعل پر علم ہونا اس فعل کے محقق ہونے میں مانع بن جائے تو خدا کا کافروں کو دعوت ایمان دینا اپنے علم کو محو اور جٹھلانے کے مترادف ہے۔ اور چونکہ علم خدا کا اپنے بندوں کے ذریعے نابود ہونا محال ہے ۔اس پر حکم دینا عبث اور بیہودہ ہے اور خدا وند حکیم سے ایسا فعل سرزد ہونا ناممکن ہے۔

جواب فخر رازی

اگر فقط کافروں کو ایمان کی دعوت دینا علم خدا کی تکذیب اور جھل میں تبدیل ہونے کا باعث ہو تو یہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں اور ایسے امور کو ہم نا ممکنات میں شمار کرتے ہیں۔کیونکہ افعال انسان ذاتاً ممکن ہے۔ افعال انسان کے واجب یا ممتنع ہونے میں علم خدا کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔

____________________

۱ ۔ یس ٦٠۔۔۔٦۱۔

۲ ۔ بقرہ ٨٣ ۔

۳ ۔ احزاب ٧۔

۴ ۔ الانسان۳۔

۵ ۔ الکہف ۲۹۔


چوتھی فصل :جبر و اختیار کے متعلق صحیح نظریہ

گذشتہ بحثوں سے ہم پر واضح ہوا کہ نظریہ اشاعرہ (جبریہ) اور نظریہ معتزلہ(تفویض) دونوں باطل عقیدہ تھا ۔ اس فصل میں نظریۂ معصومین(ع) جو صحیح نظریہ ہے مورد بحث قرار دینگے۔ چنانچہ یہ کائنات نظام علت و معلول پر قائم ہے ۔ بحث کی ابتداء بھی علیت سے کرتے ہیں ۔ پہلے گذر گیا کہ علت دو قسم کے ہیں :

١۔علت تامہ یا علت العلل ،جو خدا تعالی کی ذات سے مخصوص ہے۔

٢۔علت معدّہ یا علت ناقصہ ۔ جو خدا کے سوا تمام موجودات عالم پر صدق آتا ہے۔ علت معدہ ممکن ہے اپنے معلول سے نزدیک ہو یا بعید ۔ مثال کے طور پر ہم اگر ایک خط لکھنے لگے تو کئی علل اور اسباب بروی کار لاتے ہیں ۔ قلم ، ہاتھ ، فکر ، ارادۂ روح ، یہ ساری علتیں ایک دوسرے کے طول میں ہیں ۔ یعنی قلم کو ہاتھ حرکت دیتا ہے ہاتھ کو فکر اور فکر کو ارادہ اور ارادہ کو روح حکم کرتی ہے۔ اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قلم نے خط کو لکھا ہاتھ نے لکھا فکر نے یا ارادہ نے لکھا۔ ۔ ۔ اوریہ سلسلہ ایک مستقل وجودپر جاکر ختم ہوتا ہے اور وہ وجود مستقل ذات باری تعالی ہے اور کہہ سکتا ہے کہ اس خط کو خدا نے لکھا ہے کیونکہ خدا کے ارادے کے بغیر ہمارا کوئی وجود نہیں ، جسے ایک نورانی جملے میں یوں بیان کیا ہے: بحول اللہ وقوتہ اقوم و اقعد۔

الامر بین الامرین قرآن کی نگاہ میں

قرآن مجید میں بہت ساری آیتیں موجود ہیں جو الامر بین الامرین پر دلالت کرتی ہیں ۔ یعنی ایک انسانی فعل کو بغیر کسی تزاحم کے خدا کی طرف بھی نسبت دے سکتا ہے ۔

١ ۔ کبھی خدا وند ایک فعل کو آن واحد میں بندہ کی طرف نسبت دیتا ہے اور پھر اسی نسبت کو انسان سے سلب کرکے اپنی طرف دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا :( فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاء حَسَناً إِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ) -(۱) - پس تم لوگوں نے ان کفاّر کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے قتل کیا ہے اور پیغمبرآپ نے سنگریزے نہیں پھینکے ہیں بلکہ خدا نے پھینکے ہیں تاکہ صاحبان ایمان پر خوب اچھی طرح احسان کردے کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کا حال جاننے والا ہے۔

عارف رومی نے یوں اپنے شعر میں اس مطلب کو بیان کیا ہے :

نیز اندر غالبی ہم خویش را

دید او مغلوب دام کبریا

مارمیت اذ رمیت آمد خطاب

گم شد او اللہ اعلم بالصواب

یعنی ایسا ممکن نہیں کہ صرف خدا کی طرف نسبت دے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ صرف بندہ کی طرف نسبت دے۔

٢۔ ایک دوسری آیت میں فعل کو بندے کی طرف نسبت دی گئی ہے لیکن تیسری آیت میں خدا وند اپنی طرف۔ اور یہ نسبت دینا صرف اسی وقت صحیح ہوتا ہے کہ دو نسبتوں کے قائل ہوجائے ۔ چنانچہ فرمایا :

( ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّهِ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) -(۲) - پھر تمہارے دل سخت ہوگئے جیسے پتھر یا اس سے بھی کچھ زیادہ سخت کہ پتھروں میں سے تو بعض سے نہریں بھی جاری ہوجاتی ہیںاور بعض شگافتہ ہوجاتے ہیں تو ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض خورِ خدا سے گر پڑتے ہیں. لیکن اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔

( فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَنَسُواْ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِ وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىَ خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلاً مِّنْهُمُ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ) ۔ پھر ان کی عہد شکنی کی بنا پر ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت بنا دیا وہ ہمارے کلمات کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں اور انہوں نے ہماری یاددہانی کا اکثر حصّہ فراموش کردیا ہے اور تم ان کی خیانتوں پر برابر مطلع ہوتے رہوگے علاوہ چند افراد کے لہذا ان سے درگزر کرو اور ان کی طرف سے کنارہ کشی کرو کہ اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

یہ آخری دو آیتیں بنی اسرائیل کی مذمت میں نازل ہوئی ہیں ۔ اگر قسوہ کے عارض ہونے میں کافروںکا کوئی ہاتھ نہ تھا تو ان کی مذمت کرنا صحیح نہیں تھا ۔ دوسری آیت میں ان کی مذمت کرنے کا اصل سبب کو بیان کیا ہے۔ کہ یہ لوگ وعدہ خلافی کرنے والے تھے۔ اس وعدہ خلافی کی وجہ سے خدا نے ان کے دلوں کو قاسیہ قرار دیا ہے جس کی وجہ سے انبیاء الہی کے انذار وتبشیر اور وعظ ونصیحت بھی ان پر مؤثر ثابت نہیں ہوسکی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندوں کے فعل کیلئے دو نسبتیں موجود ہیں۔

کیا قرآن کی آیات کے درمیان تناقض موجود ہے؟

٣۔ جیسا کہ گذشتہ بحثوں میں بہت ساری آیتیں ذکر ہوئیں کہ ان میں سے کچھ اختیار انسان پر دلالت کرتی ہیں ۔ اور کچھ آیات صراحت کیساتھ اس کائنات کامؤثر صرف اور صرف مشیت الہی کو سمجھتی ہیں ۔لا مؤثر فی الوجود الا الله ۔

ایک دستہ آیت جبر کی نفی کرتی ہے ، دوسرا دستہ تفویض کی نفی کرتی ہے۔ اب ان دونوں میں جمع کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن میں تناقض گوئی نہیں ہونی چاہئے ۔ اور جب تک الامر بین الامرین کے قائل نہ ہوجائے،اس ظاہری تناقض کوئی سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ کہ بندہ اپنے اختیار سے کسی فعل کو انجام دے یا ترک کردے۔ درعین حال خدا کی اجازت اور رضایت بھی ضروری ہے ۔لایقع فی سلطانه ما لا یرید ۔ یعنی خدا کی سلطنت میں اس چیز کا کوئی فائدہ نہیں جس میں اس کا ارادہ شامل نہ ہو۔

____________________

۱ انفال ١٧۔

۲ ۔ بقرہ٧٤۔


ارادہ خدا بھی ارادہ انسان کے ذریعے ۔

آیتوں کا پہلا دستہ جو اختیار انسان پر دلالت کرتاہے :

( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاء فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ )(۱) -جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو اِرا کرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

( لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ )(۲) - آخر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے اس تہمت کو سناُ تھا تو مومنین و مومنات اپنے بارے میں خیر کا گمان کرتے اور کہتے کہ یہ تو کھلا ہوا بہتان ہے۔

( وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ ) (۳) اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا اتباع کیا تو ہم ان کی ذریت کو بھی ان ہی سے ملادیں گے اور کسی کے عمل میں سے ذرہ برابر بھی کم نہیں کریں گے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہے۔

( وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ) -(۴) - ۔ اور انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے۔

( وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاء كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءتْ مُرْتَفَقًا ) -(۵) - اور کہہ دو کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اورجس کا جی چاہے کافر ہوجائے ہم نے یقینا کافرین کے لئے اس آگ کا انتظام کردیا ہے جس کے پردے چاروں طرف سے گھیرے ہوں گے اور وہ فریاد بھی کریں گے تو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو چہروں کو بھون ڈالے گا یہ بدترین مشروب ہے اور جہنم ّبدترین ٹھکانا ہے۔

( لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلاَ مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ )(۶) - ۔ اس کے لئے سامنے اور پیچھے سے محافظ طاقتیں ہیں جو حکم هخدا سے اس کی حفاظت کرتی ہیں اور خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے اور جب خدا کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرلیتا ہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی کسی کا والی و سرپرست ہے۔

( إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا )(۷) - یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے۔

( إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ ) -(۸) - اور خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے۔

____________________

۱ ۔ فصلت ٤٦

۲ ۔ نور١٢

۳ ۔ طور٢١ ۔

۴ ۔ نجم٣٩۔

۵ ۔ کہف ۔۲۹

۶ ۔ رعد ۱۱۔

۷ ۔ انسان۳۔

۸ ۔ رعد١١۔


دوسرا دستہ آیاتوں کا جو فقط ارادہ الہی کر مؤثر جانتا ہے :

( وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ) -(۱) - اور تم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے مگریہ کہ عالمین کا پروردگار خدا چاہے۔

( وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ )(۲) -۔ اور یہ اسے یاد نہ کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے کہ وہی ڈرانے کا اہل اور مغفرت کا مالک ہے ۔

( وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا )(۳) - اور تم لوگ تو صرف وہی چاہتے ہو جو پروردگار چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے ۔

ان دو دستہ آیتوں کو اگر جمع کرے تو قول الامر بین الامرین محقق پائے گا ۔ اور ثابت ہوجائے گا کہ ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے ۔

جمع کیسے کیا جائے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ اکثر مفسرین اور متکلمین کی نگاہ میں آیات قرآنی کے درمیان ظاہری تعارض ہے نہ حقیقی ۔ دوسری بات یہ کہ خود تعارض دو طرح کے ہیں:

الف: ایک بات دوسری بات کی صراحتا نفی کرتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک کہتا ہے کہ پیامبر اسلام (ص) ماہ سفر میں رحلت پاگئے ۔ دوسرا کہتا ہے کہ پیامبر اسلام (ص)کی ماہ صفر میں رحلت نہیںہوئی ۔ یہاں پر دوسرا جملہ پہلا جملہ کی صراحتا نفی نہیں کرتا ۔ لیکن دوسرے جملے کی تصدیق اور سچائی اگر ثابت ہوجائے تو پہلے جملے کی مفاد کاملا باطل اور جھوٹ ثابت ہوتی ہے ۔ مثال وہی لیں : اگر ایک نے کہا پیامبر اسلام (ص) ماہ صفر میں رحلت کرگئے ۔ دوسرا کہے ماہ ربیع الاول میں رحلت کرگئے ہیں۔ اب اگر یہ ثابت ہوجائے کہ آپ کی رحلت ماہ ربیع الاول میں ہوئی ہے خود بخود پہلا قول باطل ہوجاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان آیتوں میں جو اختیار انسان اور قضای الہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، کس نوع کا تعارض ہے ؟ کیا یہ آیتیں صراحتا ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں یا نہ؟ بلکہ ایک دستہ آیات کی سچائی اور مفاد کو قبول کرے تو دوسرے دستے کی نفی ہوتی ہے ؟

جواب: قرآنی آیتیں ایک دوسرے کہ مسلما اور صراتا نفی نہیں کرتی ۔ کیونکہ ایسا نہیں کہ ایک دستہ آیات کہے کہ ساری چیزین مقدر ہوچکی ہیں ۔ دوسرا دستہ کہے کہ کوئی بھی چیز مقدر نہیں ہوتی ہیں ۔ ایک دستہ کہے کہ ساری چیزیں علم خدا میں موجود ہیں دوسرا دستہ کہے کہ کوئی چیز بھی خدا کے علم میں نہیں ۔ ایک دستہ آیت کہے کہ ساری چیزیں مشیت الہی سے مربوط ہیں ۔ دوسرا دستہ کہے کہ کوئی چیز بھی مشیت الہی سے مربوط نہیں ہیں ۔

بلکہ ان دو دستوں کا متعارض خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض متکلمین اور مفسرین جو کہتے ہیں کہ ساری چیزیں تقدیر الہی کے تابع ہیں جس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان آزاد نہیں؛ آزادی اور مقدر ہونا ایک دوسرے سے سازگار نہیں ۔ اگر ساری چیزیں خدا کے علم میں ہیں تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ جبرا ًوہ فعل انجام پائے و گرنہ علم خدا جہل میں تبدیل ہوجائے گا ۔

لیکن دوسری طرف سے اگر دیکھ لیں کہ یہ کہنا کہ انسان اپنی خوش بختی اور بدبختی میں خود ایک مؤثر عامل ہے ۔ اپنی تقدیر کو اپنے ہی اختیار سے بنا اور بگاڑ سکتا ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ اس سے پہلے تقدیر نامی کوئی چیز نہیں تھی ۔پس ان دو دستوں میں سے ایک دستہ آیات کی تأویل ہونا ضروری ہے۔ اشاعرہ اور معتزلہ کی بہت ساری کتابیں تأویل اور توجیہ سے پر ہیں ، کہ گروہ معتزلہ نے آیات تقدیر کی تأویل کی ہے اور اشاعرہ نے آیات اختیار کی ۔

لیکن تیسرا گروہ جو ان تعارض ظاہری کو حل کرے اور ثابت کرے کی قضا و قدر الہی اور اختیار و آزادی کے درمیان کوئی منافات نہیں پائی جاتی ۔

پس یہ تعارض بعض مفسرین اور متکلمین کی کج فہمی اور کم فکری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ وگرنہ اصولا ممکن نہیں کہ کتاب مبین الہی میں تعارض اور اختلاف موجود ہو کہ تأویل کرنے کی نوبت آجائے۔ –(۴) -

____________________

۱ .۔ تکویر ٢٩۔

۲ ۔ مدثر ۵۶۔

۳ .۔ ا نسان،۳۰.

۴ ۔ شہید مطہری ؛ انسان و سرنوشت ،ص ٤٢۔


الامر بین الامرین روایات کی روشنی میں

اس سلسلے میں بہت سی روایات ہمارے ائمہ معصومین(ع)سے نقل ہوئی ہیں نچانچہ بعض کتابوں مثلا بحار الانوار ، تحف العقول ، توحید صدوق، ۔ ۔ ۔ میں امام ہادی(ع) سے اس خط کو نقل کیا ہے جس میں جبر اور تفویض کے باطل ہونے کو ثابت کرچکے ہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں :

فاما الجبر الذی یلزم من دان به الخطاء فهو قول من زعم ان الله تعالی اجبرالعباد علی المعاصی وعاقبهم علیها و من قال بهذا القول فقد ظلم الله فی حکمه و کذبه وردّ علیه قوله : ولا یظلم ربک احداً(۱) - اور جب نامئہ اعمال سامنے رکھا جائے گا تو دیکھو گے کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ ہوں گے اور کہیں گے کہ ہائے افسوس اس کتاب نے تو چھوٹا بڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرتا ہے۔

( ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ) -(۲) - یہ اس بات کی سزا ہے جو تم پہلے کرچکے ہو اور خدا اپنے بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔

( إِنَّ اللّهَ لاَ يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَـكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ) -(۳) - اللہ انسانوں پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ انسان خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے ہیں ۔

پس جس نے بھی یہ گمان کیا کہ وہ مجبور ہے تو گویا اس نے گناہ کیا ۔ اور اس نے اپنی گناہوں کو خدا کے ذمہ ڈال دیا ۔ اور یہ ظلم ہے ۔ اور جس نے بھی خدا پر ظلم کیا گویا اس نے اس کی کتاب کو جٹھلایا ۔ اور امت اسلامی کا اتفاق ہے کہ جو بھی کتاب خدا کو جٹھلائے وہ کافر ہے ۔

امیرالمؤمنین (ع) سے جب عبایہ بن ربعی الاسدی نے استطاعت کے بارے میں سوال کیا کہ کس کی وجہ سے ہم اٹھتے بیٹھتے ہیں اور کاموں کو انجام دیتے ہیں ؟

فرمایا کیا تم نے استطاعت کے بارے میں مجھ سے سوال کیا ہے؟ اسے تو نے خدا کی مدد سے حاصل کیا ہے یا خدا کی مدد کے بغیر ؟

عبابہ خاموش ہوا تو امام(ع)نے اصرار کیا ، کہو اے عبایہ! تو اس نے کہا یا امیر المؤمنین (ع)کیا کہوں؟

امام(ع)نے فریا یا : اگر تو کہے خدا کی مدد سے حاصل کی ہے تو تمہیں قتل کروں گا ۔ اور اگر کہے خدا کی مدد کے بغیر حاصل کیا ہے تو بھی قتل کروں گا ۔

عبایہ نے کہا: پس یا امیر المؤمنین کیا کہوں؟!

امام نے فرمایا : کہو کہ استطاعت کو تو اس خدا کی مدد سے حاصل کیا ہے جو خود استطاعت کا مالک ہے اور اگر تمہیں عنایت کرے تو یہ اس کی عطا ہے اور اگر تجھ پر بند کرے تو بلا ہے ۔ اور وہی مالک ہے ان چیزوں کا جو ہمیں دی گئی ہیں ۔

اس بحث کا ماحصل یہ ہے کہ جس چیز کا بھی خدا تعالی ہمیں مالک بنا دے اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہوتی ۔(۴) -

____________________

۱ ۔ سورہ کہف٤٩۔

۲ ۔ حج١٠۔

۳ یونس٤٤۔

۴ ۔ فی الجبر والقدر ، ص ٢٥٥۔


تتمہ : اشکالات اور شبہات

جبر و اختیار پر مختلف قسم کے اشکالات وارد ہوئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:

١۔ کیا نازیبا افعال کے انجام دینے میں بھی ارادہ ٔخدا شامل ہے؟!

اختیار انسان کو اختیار خدا کے ماتحت ثابت کرنے کے بعد ذہن میں یہ خطور پید اہوتا ہے کہ انسان جو برے افعال انجام دیتا ہے اس میں ارادہ خدا شامل ہے؟

جواب: نہیں ایسا نہیں ۔ بلکہ شرور ، برائیاں ، گناہ ، ظلم و۔ ۔ ۔ بندہ کی جانب سے ہیں نہ خدا کی طرف سے۔ چنانچہ آیات اور روایات اس بات پر گواہ ہے ۔

( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاء فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ )(۱) - ۔

جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو اِرا دہ کرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔

روایت امامرضا(ع) : ابن وزاء نے امام سے نقل کیا ہے کہ : خدا نے کہا اے اولاد آدم! جو برے اور نازیبا افعال انجام دیتے ہو جس کا مجھ سے زیادہ تو سزاوار ہے اور جو اچھے اور زیبا افعال نجام دیتے ہو تم سے زیادہ میں سزاوار ہوں دیکھنے میں یہ ایک کوتاہ جملہ ہے لیکن یہ علم و معرفت کا ایک سمندر ہے ۔ شرور اور برائیاں ، امر عدمی میں سے ہیں جونفسانی ماہیات سے پیدا ہوتی ہیں نہ اصل وجود سے ۔ کیونکہ اصل وجود تو خیر محض ہے وجود اور خیر مساوی ہے لیکن عدم اور شر عموم و خصوص مطلق ہے ۔اور خدا خالق خیر ہے نہ خالق شر۔ یہ برائیاں کج فکری ، تجری اور گناہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جن کا ٹھکانا جھنم ہوگا-(۲)

مفہوم خیر صرف امر وجودی میں پایا جاتا ہے لیکن وجود خیر کو علت اور معلول کے ساتھ مقایسہ کرے ۔ کیونکہ علت اور معلول کے درمیان سنخیت شرط ہے ۔ پس اگر اصل وجود خیر ہے تو اس کی علت (خدا ) کوتمام خوبیوں کا منبع ہوناچاہئے ۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ شر عدمی ہے اگر عدمی نہ ہو تو تمام موجودات خیر نہیں ہوسکتیں ۔ اس کا لازمہ یہ گوگا کہ خیر ہونا وجود کا لازمہ نہیں ہوسکتا ۔ در حالیکہ علم فلسفہ میں ایک مسلمہ اصل ہے ہر وجود برابر ہے اچھائی کے ۔(۳) -

حضرت علی(ع) اور غازی کے درمیان مناظرہ

جب امیر المؤمنین (ع) جنگ صفین سے اپنے لشکر کیساتھ واپس آرہے تھے تو ایک سپاہی نے کہا: یا امیرالمؤمنین (ع) یہ بتائیں کہ شامیوں کیساتھ کیا ہماری جنگ قضاء و قدر کا نتیجہ تھا؟!

امام(ع)نے فرمایا: ہاں۔

سپاہی : پس یہ ساری مشقتیں جو ہم نے جنگ میں برداشت کی ہیں ان کا کوئی فائدہ اور اجرو ثواب نہیں ہے ؟

امام(ع) : نہیں ا یسا نہیں بلکہ خدا وند ہمیں اجر و ثواب عطا کرے گا۔ کیونکہ تمھیں کسی نے مجبورنہیں کیا ہے ۔ شاید تم نے خیال کیا ہے کہ الہی قضا و قدر لازم نے تمہیں اس حرکت پر مجبور کیا ہے! اگر ایسا ہوتوثواب و عقاب ، وعدہ وعید ، امر ونہی کرنا سب لغو اور باطل ہوگا ۔ اور یہ عقیدہ شیطان صفت افراد اور دشمنان خدا کا عقیدہ ہے۔ خدا نے کبھی تکلیف مالا یطاق وضع نہیں کی:لا یکلف اللہ نفساً الّا وسعھا اور کسی کو اپنی عبادت اور بندگی کرنے پر مجبور نہیں کیا ۔ اور کبھی قرآن اور رسول کو بے ہودہ نازل نہیں کیا ۔ اس کے بعد قرآن کی اس آیت کی تلاوت کی : وقضی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ ۔یہ سن کر شامی کو اتنی خوشی ہوئی کہ درج ذیل اشعار کو پڑھتے ہوئے اٹھے:

انت الامام الذی نرجوا بطاعته

یوم النشورمن الرحمن رضوانا

اوضحت من دیننا ما کان ملتبسا

جزاک ربک عنا فیه احسانا –(۴) -

____________________

۱ ۔ فصلت ٤٦

۲ ۔ معاد شناسی،ج١٠،ص٢٦٦۔

۳ ۔ دہ مقالہ مبداء ومعاد،ص٢٣٣۔

۴ ۔ بحار ،ج٥،ص٩٦ ۔


امام صادق(ع) اور کافرکے درمیان مناظرہ

حشام روایت کرتے ہیں کہ ایک کافر نے امام صادق (ع)سے سوال کیا: خدا نے کیوں تمام انسانوں کو اپنا مطیع اور مؤحد خلق نہیں کیا ؟ باوجود یکہ خدا اس چیز پر قادر تھا ۔

امام(ع) : اگر کسی کو مطیع خلق کرتا تو اسے ثواب نہیں ملتا ۔ کیونکہ اس کی اطاعت کرنا خود انسان کے اختیار میں نہیں اور بہشت و جہنم کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔ لیکن انہیں خلق کرکے اطاعت اور بندگی کا دستور دیا ۔ اور مخالفت کرنے سے منع فرمایا ۔ ارسال رسل اور انزال کتب کے ذریعے حجت تمام کردی ۔ اور ہر قسم کے بہانے کے سارے راستے کو مسدود کردیا ۔

کافر: کیا بندہ کا جو اچھا اعمل اس کا ہے تو بر اعمل بھی اسی کا ہے؟

امام(ع) : نیک کاموں کو بندہ انجام دیتا ہے ۔ جس کا خدا وند نے حکم دیا ہے ۔ اور برے کاموں کو بھی بندہ انجام دیتا ہے لیکن خدا نے اسے اپنی طرف نسبت دینے سے گریز کیا ہے۔

کافر: کیا برے اعمال کو بھی انہی اعضاء و جوارح سے انجام نہیں دیتا جسے خدا نے ترکیب دیا ہے۔؟

امام(ع) :کیوں نہیں ۔ لیکن جن اعضاء و جوارح سے اچھے اعمال انجام دیتا ہے ، انہیں سے برے اعمال بھی انجام دینے پر قادر ہیں ۔ لیکن اس سے خدا نے منع کیا ہے۔

کافر : کیا بندہ کیلئے اختیار حاصل ہے ؟

امام(ع) : کسی بھی کام سے اسے منع نہیں کیا مگر یہ کہ ترک کرنے پر قدرت رکھتا ہو ۔ اور کسی کام کے انجام دینے کا حکم اس وقت تک نہیں دیا کہ جب تک انجام دینے پر قادر نہ ہو ۔ کیونکہ خداوند عادل ہے ظالم نہیں:

( لا یکلف الله نفسا الّا وسعها ) ۔

کافر: اگر کسی کو کافر خلق کیا تو کیا اس میں ایمان لانے کی قدرت پائی جاتی ہے؟ اور کیا خداوند قیامت کے دن مؤاخذہ کر سکتا ہے کہ تم نے ایمان کیوں نہیں لایا؟

امام(ع): تمام انسانوں کو خدا نے مسلمان خلق کیا ہے ، کفر منحرف ہونے کے بعد کا نام ہے۔ اور کفر کا مرحلہ حد بلوغ تک پہنچنے اور حجیت تمام ہونے کے بعد آتا ہے۔

اشکال :ہدایت اور ضلالت خدا کے ہاتھ میں

اگر انسان اپنے اعمال میں مختار ہے تو ان آیتوں کو کیا کریں گے ۔ جو ہمیں بتاتی ہیں کہ ہدایت اور ضلالت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے :

امام(ع) : یہ عدل الہی کے خلاف ہے کہ اپنے بندہ کیلئے شر کو مقدر کرنے کے بعد اس سے ہاتھ اٹھانے کا حکم دے ۔ جس کو ترک کرنے پر قادر بھی نہ ہو-(۱) - ۔

کافر : ممکن ہے خدا شر کو بندہ کیلئے مقدر کرنے کے بعد اچھائی کی دعوت دے رہا ہو ۔ جبکہ وہ اچھا کام انجام دینے پر قادر نہ ہو۔ اور اس لئے اسے عذاب کرے !( یضل من یشاء ویهدی من یشاء ) ۔

اگر اختیار سے مراد یہ ہے کہ انسان جس نے ہدایت کو اختیار کیا اور ضلالت کو ترک کیا تو اس پر یہ دونوں مفروضہ نہیں ہونا چاہئے :

١۔( وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) ۔-(۲) - اور ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے اس کے بعد خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ۔

٢۔( وَلَوْ شَاءَ اللّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلكِن يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ )(۳) - اور اگر پروردگار چاہتا تو جبراتم سب کو ایک قوم بنادیتا لیکن وہ اختیار دے کر جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے منزل ہدایت تک پہنچادیتاہے اور تم سے یقینا ان اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا جوتم دنیا میں انجام دے رہے تھے ۔

ہدایت اور ضلالت کے بارے میں نازل ہونے والی آیتوں کی تفسیر کو شأن نزول کے ساتھ اگر بیان کرے تو یہ تمام ظاہری تضاد ختم ہوجاتی ہیں ۔ اور ایک ہی معنی پر دلالت کرتی ہیں ۔ کیونکہ بعض آیات کا معنی قرینہ کے ذریعے بدل جاتا ہے اور ایک آیت میں اسی لفظ کئی معنی ہیں۔ دوسری آیت میں کچھ اور ۔ ہم جب تفسیر موضوعی کے اوراق پلٹاتے ہیں اور ساری آیتوں کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کچھ آیات کو دوسرے آیات کیلئے قرینہ قرار دیتے ہیں تو سب آیتوں کا ایک ہی مقصد بنتا ہے ۔ چنانچہ گذشتہ بحثوں سے واضح ہوا کہ کچھ آیتوں کو جبریوں نے اپنے ادعی پر دلیل کے طور پر پیش کئے اور کچھ آیتوں کو مفوضہ والوں نےاور یہ اختلافات صرف اسی وجہ سے پیدا ہوگئی ہیں کہ صرف ایک دستہ آیات کو لیا ہے ۔ اور دوسرے دستے سے غافل ہوئے ہیں اور اگر دونوں گروہوں کو ساتھ لیتے تو گمراہ نہ ہوتے ۔

____________________

۱ ۔ مناظرات ، ج٢، ص ٢٧٣۔

۲ ۔ ابراہیم٤۔

۳ ۔ نحل٩٣۔


ہدایت الہی کے اقسام

ہدایت الہی دوقسم کے ہیں:

١۔ ہدایت عامہ

آیات قرآنی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کی ہدایت الہی کسی ایک فرد سے مخصوص نہیں بلکہ تمام عالم کون ومکان کیلئے عام ہے ۔ خواہ عاقل ہو یا غیر عاقل ۔ اس ہدایت کو دو ہدایتوں میں خلاصہ کیا گیا ہے ۔

الف: ہدایت عامہ تکوینی:

وہ آیات بتاتی ہیں کہ خدا نے جس چیز کو بھی خلق کیا تو فوراً اسے اس کی غایت اور ہدف کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا : فلان ہدف اور غرض کیلئے تمہیں خلق کیا ۔ چنانچہ موسی کلیم اللہ کی زبان پر جاری کیا :( قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى )(۱) - موسٰی نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے۔

ایک دانہ گندم کی مثال لیں کہ جب ہم زمین میں اسے بھوتے ہیں تو وہ اپنی نازک بال کے ذریعے سخت مٹی کو چیرتا ہو اکھلی فضا میں آتا ہے ۔ اور نشو نما پاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک تناور پودے کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اور اپنا ثمرہ دینا شروع کرتا ہے ۔ اسی طرح حیوانات اور انسان بھی ہیں ۔ اور فرمایا:( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىوَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى ) -(۲) - اپنے بلند ترین رب کے نام کی تسبیح کرو ۔ جس نے پیدا کیا ہے اور درست بنایا ہے ۔ جس نے تقدیر معین کی ہے اور پھر ہدایت دی ہے

یہ آیت بتاتی ہے کی خدا نے ہر شیی کو خلق کیاایک خاص تقدیر کی بنیاد پر پھر ہدایت عامہ بھی عطا کی ۔یہ آیتیں تو عموم ہدایت تکوینی کو ساری موجودات عالم کیلئے ثابت کرتی ہیں لیکن یہاں کچھ اور آیتیں ہیں جو ایک خاص وجود اور خاص ہدایت پر دلالت کرتی ہیں۔مثلا شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا:( وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلاً يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ )(۳) -

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نرمی کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے جس کے بعد اس کے شکم سے مختلف قسم کے مشروب برآمد ہوں گے جس میں پورے عالم انسانیت کے لئے شفا کا سامان ہے اور اس میں بھی فکر کرنے والی قوم کے لئے ایک نشانی ہے ۔

سبحان اللہ !! یہ آیت تو صاف صاف بیان کر رہی ہے کہ شہد کی مکھی کو خدا نے کس طرح ہدایت اور نصیحت کی ہے کہ کہاں اپنا گھر بنائیں اور کہاں سے تغذیہ کریں ۔ او ریہ سارا اہتمام خدانے کس کیلئے کیا ہے؟ اس انسان ظلوم و جہول کیلئے ، کہ اس شہد میں اس کیلئے دوا اور شفا قرار دیا ہے اور آخر میں فرمایا : اس قوم کیلئے جو خدا کی ان نعمتوں اور حکمتوں میں غور و فکر کرتی ہیں ۔ اس شہد کی مکھی میں بڑی نشانیاں نظر آئیں گی ۔

اور ہدایت بغیر کسی استثناء کے تمام شہد کی مکھیوں کو فرداً فرداً دی گئی ہے ۔ اسی طرح تمام انسانوں کیلئے بھی ہدایت عامہ عطا کی ہے ۔ لیکن زمان و مکان اور ظرفیت کے مطابق کچھ فرق کیساتھ ۔ شہد کی مکھی کو جو ہدایت دی گئی ہے وہ مادی اور معنوی دونوں زندگی سے مربوط ہے۔ چنانچہ فرمایا ؛( أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْن ِوَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ) ۔(۴)

تاکہ وہ ان دو آنکھوں سے حکمت الہی کو دیکھا کرے ۔ اور لبوں کے ذریعے ورد کرے ۔ خیر کا راستہ اور شر کا راستہ بھی بتادے ۔اب یہ انسان اپنی پاک فطرت کے ذریعے حسن و قبح کو جان لیتا ہے اور کسی کے ہاں تلمّذ کرنے سے پہلے اچھائی اور برائی کی تمیز کرسکتا ہے ۔ یہی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کے اندر تکویناً ہدایت عامہ موجود ہے۔

____________________

۱ ۔ طہ٥٠ ۔

۲ اعلیٰ،١۔٣۔

۳ ۔ نحل ٦٩۔۔٦٨

۴ ۔ بلد١٠۔۔٨۔


ب : ہدایت عامہ تشریعی

چنانچہ معلوم ہوا کہ ہدایت عامہ تکوینی تو ہر انسان کی فطرت میں پائی جاتی ہے لیکن ہدایت عامہ تشریعی عوامل خارجی جیسے انبیا و اولیاء الہی اور ان کے جانشینوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے ۔ چنانچہ فرمایا:( إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ) -(۱) - ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو۔

( لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ )(۲) - بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں اور ہم نے لوہے کو بھی نازل کیا ہے جس میں شدید جنگ کا سامان اور بہت سے دوسرے منافع بھی ہیں اور اس لئے کہ خدا یہ دیکھے کہ کون ہے جو بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے اور یقینا اللہ بڑا صاحبِ قوت اور صاحبِ عزت ہے۔

یہ آیتیں تشریعی ہدایت عامہ پر دلالت کرتی ہیں ۔ جو پورے عالم انسانیت کیلئے ارسال کی گئی ہے۔

پس ہر مکلف میں ہدایت عمومی تشریعی کے ثابت ہونے پر جبرکی نفی اور اختیار ثابت ہوتا ہے ۔ جب ہر انسان کو اپنی ظرفیت اور سوچ کے مطابق ہدایت مل جائے تو جبر کیلئے گنجائش باقی نہیں رہتا ۔ بعض آیتوں میں صریحا بیان ہوا ہے کہ جب تک انبیاء الہی کو مبعوث نہیں کیا کسی قوم کو عذاب میں مبتلانہیں کیا :( مَّنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً ) -(۳) - جو شخص بھی ہدایت حاصل کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کے لئے کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے وہ بھی اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے اور ہم تو اس وقت تک عذاب کرنے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج دیں ۔

( وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ )(۴) - اور آپ کا پروردگار کسی بستی کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ اس کے مرکزمیں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کرے اور ہم کسی بستی کے تباہ کرنے والے نہیں ہیں مگر یہ کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں۔ پس اگر جبر اور اختیار کا ملاک ہدایت الہی کا وسیع یا محدود ہونا ہے تو یہ آیتیں صریحا عمومیت پر دلالت کرتی ہیں ۔ جو جبر کو باطل اور اختیار کو ثابت کرتی ہیں ۔

لیکن ہدایت یا ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے ، سے کیا مراد ہے درج ذیل بحث سے معلوم ہوگا ۔

____________________

۱ ۔ فاطر ٢٤۔

۲ ۔ الحدید ٢٥۔

۳ ۔ اسراء ١٥۔

۴ ۔ قصص٥٩۔


ب :ہدایت خاصہ :

جہاں ہدایت عامہ تکوینی اور تشریعی ہے وہاں ہدایت خاصہ بھی ہے ۔ جو بعض انسان اور افراد سے مخصوص ہیں ۔ اور یہ خصوصیت بھی بغیر کسی ملاک اور معیار کے حاصل نہیں ہوتیں ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس ملاک اور معیار کا حصول خود انسان کے اختیار میں ہے ۔ اور یہ ملاک اور معیار تکوینی اور تشریعی ہدایت عامہ کے نور سے حاصل ہو جاتی ہے ۔ اور عنایت الہی اس کیلئے شامل حال ہوتی ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کی خصوصی ہدایت انسانوں کیلئے نصیب ہوتی ہیں جو منیب یا توبہ کرنے والے ،جہاد کرنے والے اور ہدایت حاصل کرنے والے ہوں۔

( شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاء وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ) -(۱)

اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی پیغمبر تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیمعلیھ السّلام, موسٰیعلیھ السّلام اور عیسٰیعلیھ السّلام کو بھی کی ہے کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے پائے مشرکین کو وہ بات سخت گراں گزرتی ہے جس کی تم انہیں دعوت دے رہے ہو اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کے لئے چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے ۔

( وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ) -(۲)

اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اللرُحسن عمل والوں کے ساتھ ہے۔ پس یہ ہدایت خاصہ صرف خواص سے مخصوص ہے ۔ پس ہدایت خاصہ مشیت الہی کے تابع ہے ۔ اسی طرح گمراہی اور ضلالت بھی اگر کسی کا مقدر بنتی ہے تو یہ بھی بغیر کسی ملاک اور معیار کے مشیت الہی شامل حال نہیں ہوسکتا ۔ یعنی اگر انسان اس ہدایت عامہ الہی سے روگردانی کرے تو خداوند اس سے صفات عالیہ کسب کرنے کی توفیق کو سلب کرتا ہے ۔ چنانچہ فرمایا:

۴( بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ )(۳) - یہ بدترین مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے آیات الہی کی تکذیب کی ہے اور خدا کسی ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے ۔

( يُثَبِّتُ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللّهُ مَا يَشَاءُ ) -(۴)

اللہ صاحبان هایمان کو قول ثابت کے ذریعہ دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالمین کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے۔ پس ضلالت اور گمراہی سے مراد یہی ہدایت عامہ سے روکناہے ۔ اور یہ امتناع بھی انسان کا اپنا کردار اور برے عمل کی وجہ سے ہے ۔یعنی ارسال رسل اور انزال کتب کے بعد ہدایت حاصل نہ کرے تو ہدایت خاص اسے حاصل نہیں ہوگی۔

ان تمام آیتوں سے فقط ایک ہی معنی ہمیں ملتا ہے اور ثابت ہوتی ہے کہ انسان مختار ہے۔

____________________

۱ .۔ شوری١٣۔

۲ ۔ عنکبوت ۶۹۔

۳ ۔ جمعہ٥ ۔

۴ ۔ ابراہیم٢٧۔


علم ازلی خدا وند اور اختیار انسان

جبریوں کی ایک دلیل یہ ہے خدا وند تمام انسانوں کے افعال اور کردا رسے با خبر ہے کہ :

کافر کبھی ایمان نہیں لائے گا ، لیکن اگر کافر نے ایمان لایا تو علم خدا جہل میں بدل جائے گا۔ اور یہ ممکن نہیں ۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ شخص کافر سے ایمان کا صادر ہونا ممتنع ہے ۔ اور وہ مجبور ہے کہ ایمان نہ لائے ۔ ان کی اس ادعی کو خیام شاعر نے یوں بیان کیا ہے:

من مے خورم وہرکہ چوں من اہل بود

مے خوردن من ، بہ نزد وی سہل بود

مے خوردن من حق زازل می دانست

گر مے نہ خورم ، علم خدا جہل بود

ساتھ اس کا جواب بھی دیتے ہوئے کہتا ہے:

علم ازلی علت عصیان کردن

نزد عقلاء زغایت جہل بود

کسی علم کو علم اس وقت کہا جاتا ہے کہ معلوم کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو۔ لہذا اگر خدا کو معلوم تھا کہ کافر ایمان نہیں لائے گا (علم عدم ایمان) لیکن جب کافر نے ایمان لایا تو گویا وجود ایمان اور عدم ایمان دونوں جمع ہوگا ۔ اور یہ اجتماع نقیضین محال ہے ۔ پس اگر خدا کو علم تھا کہ ایمان نہیں لائے گا ، تو اس کا ایمان لانا محال ہوجائے گا ۔ لیکن اگر متعلق علم خدا وند ایمان لانا ہوگا تو اس کا ایمان نہ لانا ممتنع ہوجائے گا ۔ پس اس شخص کا یا ایمان لانا یا نہ لانا ضروری ہوگا ہر صورت میں انسان مسلوب الاختیار ہے ۔

خدا نے بعض لوگوں کے ایمان نہ لانے کی خبر پہلے ہی دے چکا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد فرما رہا ہے :( إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ ) -(۱)

اے رسول! جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا ہے ان کے لئے سب برابر ہے. آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پس اگر ان لوگوں نے ایمان لایا تو اس کا لازمہ یہ ہے کی خدا وند جو یقینا صادق ہےنعوذبالله من ذالک ،کاذب ہوجائے گا۔ او ریہ بھی محال ہے لہذا اس گروہ کا ایمان لانا بھی محال ہے۔

جواب: معتزلہ کا کہنا ہے کہ قول اشاعرہ صحیح نہیں ہے کیونکہ قدرت خدا ، اختیار انسان پر دلالت کرتی ہے ۔ اگر علم خداافعال کے وجوب یا امتناع کا موجب بن جائے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا وند کسی بھی فعل پر قدرت نہیں رکھتا ۔ کیونکہ جس چیز پر خدا کا علم ہو ، کہ واقع ہوگی تو وہ ( واجب الوقوع ) ہوجائے گی ۔ اور کسی بھی علت یا قدرت الہی سے بے نیاز ہوجائے گی ۔ اور جس چیز کے عدم وقوع پر خدا کو علم حاصل ہو تو وہ ممتنع الوقوع ہوجائے گی ۔ اور اس سے قدرت الہی لا تعلق ہوجائے گی ۔ کیونکہ قدرت الہی صرف ممکنات سے متعلق ہوتی ہے۔

علم کا معلوم پر کوئی تأثیر نہیں:

دلیل دوم کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی چیز پر علم ہونا یعنی اس شیی کی تمام حقیقی خصوصیات کیساتھ علم ہونا ہے ۔ اسی لئے اگر معلوم حقیقت میںممکن ہے تو بعنون امر ممکن جاناجاتا ہے ۔ اور اگرحقیقت میں واجب ہے تو بعنوان امر واجب جانا جائیگا ، اور یہ بھی معلوم ہے کہ ایمان اور کفر ذاتی طور پر ممکنات میں سے ہیں ۔ اور اگر علم خداسے متعلق ہونے کی وجہ سے واجب میں بدل جائے توعلم کا معلوم میں مؤثر ہونا لازم آتا ہے ۔ جسکی پہلی دلیل میں نفی کرچکا ہے ۔

فخر رازی جواب دیتا ہے کہ علم خدا کا متعلق یہ ہے کہ افعال انسان ذاتا تو ممکن ہے لیکن قدرت اور ارادئہ الٰہی سے متعلق ہونے کی وجہ سے ایک زمان خاص میں واجب ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ ایک چیز ذاتا ممکن ہو اور بالغیر واجب ۔

اختیاری حرکت ہی جمادات اور انسان کے درمیان فرق

اصحاب معتزلہ نے نفی جبر پر اس طرح دلیل پیش کی ہے : اگر علم خدا اور اس کا خبر دینا اختیار انسان کا مانع بنے تو انسان کیلئے اپنے افعال کی نسبت کوئی قدرت باقی نہیں رہتی ۔ کیونکہ وہ افعال تو علم خدا کی ضمن میں یا واجب ہوگا یا ممکن ۔ اور فعل واجب یا فعل ممتنع ، انسان کی قدرت سے خارج ہے ۔ پس اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسانی حرکات و سکنات بھی جمادات کی حرکات و سکنات کی طرح ہے ۔ لیکن واضح ہے کہ یہ امر بھی باطل ہے کیونکہ اگر کسی نے دوسرے انسان کو عمدا قتل کیا تو اس قاتل کی مذمت کی جائے گی نہ اس خنجر کی ۔

فخر رازی کہتا ہے: فعل انسان ، علم الٰہی کے متعلق ہونے کی وجہ سے واجب الوقوع نہیں ہوسکتا بلکہ خدا نے انسان میں قدرت اور انگیزہ خلق کیا ہے کہ افعال اسے ایجاب کرتی ہے۔ اس کے منتخب ہونے کی صورت میں فعل بھی واجب الوقوع میں بدل جاتا ہے۔پس علم خداوند ایجاب کنندہ فعل نہیں ہے بلکہ صرف اس فعل کا بعد میں واقع ہونے کو کشف کرتا ہے۔بالفاظ دیگر علم خدا کاشف وقوع فعل ہے نہ باعث انجام فعل۔


خلاصہ بحث

: جو بھی تفویض کا قائل ہوا ، انہوں نے ممکن الوجود کو اپنی حدود سے باہر کھینچ لایا اور واجب الوجود کی حد تک لے آیا ۔ پس یہ لوگ مشرک ہیں ۔

اور جو بھی جبر کے قائل ہوا ، انہوں نے واجب الوجود کو اپنا بلند اور بالا مقام سے کھینچ کر ممکن الوجود کی حد تک نیچے لایا ۔ پس یہ لوگ کافر ہیں۔ اسی لئے امامرضا(ع) نے فرمایا : اہل جبر کافر ہیں اور اہل تفویض مشرک۔ اور جو بھیلاجبر ولا تفویض بالامر بین الامرین کے قائل ہوا ، حق پر ہے اور امت محمدی ہے-(۲)

: جو بھی جبر کے قائل ہوا ہے اس نے نہ صرف خدا کے حق میں ستم کیا بلکہ تمام ممکنات کے حق میں بھی ظلم کیا ۔ جو بھی تفویض کے قائل ہوا اس نے واجب الوجود اور ممکن الوجود دونوں کے حقوق کو پایمال کیا ۔

اور جو بھی الامر بین الامرین کے قائل ہوا اس نے واجب الوجود اور ممکن الوجود دونوں کو اپنا اپنا حق عطا کیا : واعطاء کل ذی حق حقہ ۔ جو عین عدالت ہے ۔

: جبریوں کی دائیں آنکھ اندھی ہوگئی ہے اور یہ اندھا پنی بائیں آنکھ تک سرایت کرگئی ہے ۔ اور جو تفویض کے قائل ہوئے ہیں ان کی بائیں آنکھ اندھی ہوگئی ہے اور یہ اندھا پنی دائیں آنکھ تک سرایت کرگئی ہے ۔

اور جو الامر بین الامرین کے قائل ہو ئے ان کی دونوں آنکھیں بینا اور روشن ہیں ۔

: جو بھی جبر کے قائل ہیں رسول خدا کے انہیں اپنی امت کا مجوسی اور جو تفویض کے قائل ہیں انہیں یہودی قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا :القدریة مجوس هذه الامة ۔

کیونکہ انہوں نے نقائص کو خدا کی طرف نسبت دی ہیں اور جو تفویض کے قائل ہیں انہوں نے خدا کی ذات کو لاتعلق اور بے اختیار تصور کیا ہے ۔ ان کے اقوال کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے( وقالت الیهود ید الله مغلولة ) ۔

امام صادق(ع) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا :

لم یعنوا انه هکذا ولیکنهم قالوا : قد فرغ من الامر فلا یزید ولا ینقص فقال الله تکذیبا لقولهم : غلت ایدیهم و لعنوا بما قالوا بل یداه مبسوطتان ینفق کیف یشاء الم تسمع الله عروجل یقول: یمحوا الله ما یشاء و یثبت و عنده ام الکتاب -(۳) -

-(۴) -مذہب جبر کا قائل ہونا خدا کا بندوں پر ظلم کرنے کے مترادف ہے ۔ مذہب تفویض کا قائل ہونا بندوں کا خدا پر ظلم کرنے کے مترادف ہے ۔ اور مذہب لاجبر ولا تفویض کا قائل ہونا ان دونوں مظالم کی نفی کرنے کے مترادف ہے ۔ اور یہی مذہب توحید ہے اور مذہب تجلی اور ظہور ۔

: خدا وند بالواسطہ طور پر انسانوں کے اختیاری افعال کا فاعل ہے اور خود انسان فاعل بلا واسطہ ہے۔

اکثر علماء اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بندہ کا فعل بالواسطہ طورپر خدا سے منسوب ہے کیونکہ یہ قدرت اور طاقت ، خدا نے دی ہے ۔ لیکن خود انسان اس فعل کا فاعل مباشر ہے کیونکہ انسان جس طرح چاہے تصرف کرسکتاہے اور ان تین نظریات کو ایک مثال کے ذریعے بیان کرینگے۔

مثال : فرض کرلیں ایک شخص مرتعش الید یعنی ہاتھ پیر لرز رہا ہے جس میں قدرت نہیں ۔ لیکن اگر کوئی اس کے ہاتھ میں تلوار یا ایک چاقو تھمادے اور یہ شخص جانتابھی ہو کہ یہ تلوار یا چاقو اگر اسے تھمادے تو کسی دوسرے شخص پر زخم وارد کرسکتا ہے یا ہلاک کرسکتا ہے ۔ اس صورت میں اس قتل کو اس شخص کی طرف نسبت دی جائے گی جس نے تلوار تھما دیا ہے ۔ نہ اس صاحب ید کی طرف جو مسلوب الاختیار ہے ۔ اسی طرح اگر کسی ایسے شخص کے ہاتھوں تلوار تھما دے ۔ جو اپنے ہاتھوں کو حرکت دے سکتا ہو اور صاحب ارادہ بھی ہو ۔ اس صورت میں حکم برعکس ہوگا یعنی قتل کی نسبت خود اسی صاحب ید کی طرف دی جائیگی ۔

لیکن اگر کوئی مشلول الید کو فرض کرلیں کہ اس کے ہاتھ حرکت نہیں کرسکتی لیکن دوسرا شخص بجلی کے ذریعے یا کسی اور ذریعے سے اس کی ہاتھوں میں حرکت پیدا کرے ۔ اگر سوئچ دبا کر رکھے تو حرکت باقی رہتی ہے، لیکن اگر ایک لمحہ کیلئے سوئچ سے ہاتھ ہٹائے تو اس کے بدن سے قوت ہی جدا ہوجائیگی ۔ یعنی دوسرے کی تمام حرکات اور سکنات اس شخص کے اختیار میں ہو اور وہ جاکر کسی کو قتل کرے درحالیکہ وہ جانتا بھی ہے کہ میں کیا کررہا ہوں ۔ تو اس صورت میں قتل کو دونوں شخص کی طرف نسبت دے سکتا ہے ۔ لیکن ایک کی طرف نسبت بلا واسطہ دوسرے کی طرف بالواسطہ ۔

پس گروہ جبریہ بندہ کے افعال کو خداکی طرف نسبت دیتے ہیں جیسے مثال اول ، کہ لرزنے والا ہاتھ کا مالک تھا ۔ جو ہلاک کرنے میں مضطر اور بے اختیار تھا ۔

تفویض والے مثال دوم کی مانند افعال انسان کو خدا کی طرف نسبت دیتے ہیں ، کہ بندہ حدوثا خدا کی طرف محتاج ہے لیکن بقائاً نہیں ۔ یعنی قدرت دینا خداکا کام ہے لیکن قتل کرنے میںخدا کا کوئی ارادہ شامل نہیں ہے۔

لیکن جو الامر بین الامرین کے قائل ہیں ۔ تیسری مثال کی مانند ہیں ، کہ انسان ہروقت قدرت کے حصول کیلئے خدا کی طرف محتاج ہے ۔ حتی قتل کرنے میں بھی ۔ یہاں تک کہ کہہ سکتا ہے کہ اس فعل کیلئے جو بندہ سے صادر ہوتا ہے اس میںدو واقعی نسبتیں موجود ہیں۔ ایک نسبت فاعل مباشرکی طرف دوسری نسبت فاعل غیر مباشر کی طرف ۔(۵) -

____________________

۱ ۔ بقرہ٦۔

۲ ۔ ازعیون اخبار الرضا ۔ طلب و ارادہ ، امام خمینی ،ص٧٥۔

۳ ۔ ہمان ، ص٧٦۔

۴ ۔ معاد شناسی ،ج١٠ ،ص٢٦٢۔

۵ ۔ لب الاثر ، ص٢٤٣۔


اشاعرہ اور معتزلہ کا اختلاف

معتزلہ والے کہتے ہیں اگر افعال بندہ جبری ہو تو تکلیف عبث اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر بے فائدہ ہوگا ، ثواب اور عقاب ، مدح وذم ، افعال خیر میں اصلا نہیں ہونا چاہئے ۔ اس لئے کہ فاعل خدا ہے ۔ لیکن اشاعرہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے افعال میں مستقل اور خود مختار ہیں۔ مشیت الٰہی کا کوئی کردار نہیں ۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ جسے خداوند ارادہ کرے انجام پذیر ہوگا اور جس چیز کا ارادہ نہ کرے انجام نہیں پائے گا ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ دونوں گروہ نماز گذار ہیں ۔ جبروالے دن رات میں کئی مرتبہ کیسے قرأت کرتے ہیں: ایاک نعبد ؟! اور تفویض والے کئی بار دن میں کیسے قرأت کرتے ہیں : ایاک نستعین ؟!

اور ان کو کیا ہوگیا ہے کی بحول اللہ و قوتہ اقوم و اقعد میں غور و فکر نہیں کرتے؟ تاکہ یہ دونوں اس تعلیم الٰہی کے ذریعے صراط مستقیم پر گامزن ہوجائے ۔ اور جان لے کی حول اور قوت دونوں حق سبحان کی طرفسے ہیں۔کہ امام صادق نے قدریہ سے کہا سورہ فاتحہ پڑھو جب وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین پر پہنچا تو فرمایا : تم تو اپنے افعال میں مستقل اور خود مختار ہو کس طرح خدا سے مدد طلب کرتے ہو؟!! مذہب تفویض کا باطل ہونا واضح ہے کیونکہ اس عقیدے کے مطابق انسان مکمل طور پر اختیار کا مالک ہے جبکہ کوئی بھی موجودات دوسری موجودات کو مستقل طور پر ایجاد نہیں کرسکتی اور یہ اس وقت ممکن ہے جب نابودی اور فنا کے تمام ممکنہ راستے اپنے معلول پر بند کرسکے ۔ جو ناممکن ہے ۔

پس اگر معلول کا وجود میں آنے کیلئے ہزار شرط موجود ہوں ان میں سے نوسو ننانوے شرائط کو پورا کرسکتا ہو لیکن صرف ایک شرط کہ خود فاعل کا اپنا وجود ہے اس فاعل کی قدرت سے باہر ہے جسے کسی اور سے حاصل کیا ہے ۔ تو اس فاعل کو فاعل مطلق اور مستقل نہیں کہہ سکتا ۔ اسی طرح علت تامہ یا مستقلہ بھی نہیں کہہ سکتا ۔ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی یہ ادعی نہیں کرسکتا کہ میرا وجود اپنی مرہون منت ہے۔

اس کا مطلب یہ ہو اکہ ہمارا اختیار خدا کے اختیار کے زیر سایہ ہے۔

کیا خدا وند گھڑی ساز کی مانند ہے؟!

نظریہ معتزلہ (مفوضہ ) کے مطابق خداوند گھڑی ساز کی مانند ہے جس طرح گھڑی ساز کا گھڑی درست کرنے کے بعد گھڑی کیساتھ کوئی واسطہ باقی نہیں رہتا اور سوئیاں خود بخود گھومتی رہتی ہیں ،خداوند کا بھی کائنات کو خلق کرنے کے بعد کوئی واسطہ اس کائنات کے ساتھ باقی نہیں اور یہ نظام کائنات خود بخود چل رہا ہے۔ اور یہ کہنا غلط ہے کیونکہ برہان عقلی کے ذریعے ثابت ہوچکا ہے کہ تمام ممکن الوجود ایک واجب الوجود کی طرف دائما محتاج ہیں اور ایک لمحہ کیلئے بھی اس سے بے نیاز اورمستغنی نہیں ہوسکتا ۔

فاعتبروا یا اولی الابصار!

قاضی نوراللہ شوشتری نقل کرتے ہیں کہ صاحب بن عباد جو تاریخ شیعیت میں خوش بخت ترین شخص گذرےہیں، یعنی بیشتر عمر وزارت و خلافت میں گذری اور ساتھ ہی عابد ، زاہد، عارف اور عاشق اہل بیت تھے ۔ کے دور حکومت میں اصفہان میں ایک عورت جو جبری مذہب سے تعلق رکھتی تھی ۔ زنا کا مرتکب ہو ا۔ جب اس کے شوہر کو معلوم ہوا تو ایک رسی لیکر اسے مارنا شروع کردیا ۔ اس وقت وہ عورت کہتی ہے: القضا والقدر ۔ یعنی نعوذباللہ من ذالک یہ قبیح فعل قضا اور قدر الٰہی کے ذریعے انجام پایا ۔ میرا اس میں کیا قصور ہے؟!

شوہر نے چیخ کر کہا زنا بھی کرتی ہو اور اپنے اس برے فعل کو خدا کی طرف منسوب بھی کر رہی ہو!!

بیوی نے جب یہ سنا تو غصے میں آکر کہنے لگی کہ تم نے اپنا مذہب اور عقیدہ کو چھوڑ کر صاحب بن عباد کے مذہب (مذہب جعفری) کو اختیار کیا ہے؟

وہ شخص اچانک متوجہ ہو ااور تازیانہ پھینک دینے کے بعد بیوی سے معافی مانگنے لگا : میری جان تو ٹھیک کہہ رہی ہو ۔ تو اپنے عقیدہ پر قائم ہو ۔ لیکن مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ مجھے معاف کرنا ۔!!!

جب انسان کی عقل پر پردہ پڑجاتاہے تو سوچ اور فکر سے عاری ہوتا ہے ورنہ یہ شخص کہہ سکتا تھا کہ یہ جو تازیانہ تجھ پر پڑرہا ہے وہ بھی خدا کی طرف سے ہے۔ لیکن وہ سوچ کہاں!!!


کتاب نامہ

۴. قرآن مجید

۵. علامہ مجلسی (ره) ؛ بحار الانوار

۶. امام خمینی (ره)؛ طلب وارادہ ، انتشارات علمی۔ ١٣٦٢۔

۷. جعفر سبحانی ؛ لب الاثر، مؤسسہ امام صادق ، قم، ١٤١٨ ۔

۸. حسن زادہ آملی ؛ خیر الاثر ، دفتر تبلیغات ۔ ١٣٧٨۔

۹. شہید مطہری(ره) ؛ انسان و سرنوشت ، شرکت انتشار ، نے تاریخ۔

۱۰. علی محمدی ؛ شرح کشف المراد ، انتشارات دارالفکر ، ١٤١٠۔

۱۱. مصباح یزدی ؛ معارف قرآن ، مؤسسہ در راہ حق، ١٣٧٣۔

۱۲. محمد تقی جعفری(ره) ؛ جبر و اختیار ، شرکت سہامی انتشار ، ١٣٤٤۔

۱۳. مرتضی عسکری ؛ عقائد اسلامی در قرآن ، شرکت توحید، ١٤١٥ ۔

۱۴. محسن غرویان ؛ آموزش عقائد ، انتشارات دارالعلم، ١٣٧٥ ۔

۱۵. محمد حسین طہرانی(ره) ؛ معاد شناسی ، انتشارات حکمت، ١٤٠٧۔

۱۶. محمد سعیدی مہر ؛ علم پیشین الٰہی واختیار انسان ، فرہنگ اندیشہ اسلامی، مرکز جہانی ، ١٣٧٧۔

۱۷. بہشتی نژاد ؛ پرسش و پاسخہای اعتقادی ، اصفہان ، ١٤١٢۔

۱۸. جوادی آملی ؛ ولایت در قرآن ،انتشارات فرہنگی رجائ، ١٣٦٧۔

۱۹. محمدی ری شہری ؛ عدل در جہان بینی توحیدی، دفتر تبلیغات اسلامی ۔


فہرست

پہلی فصل : اختیار ۴

اختیارکی لغوی تعریف : ۴

اختیار کی اصطلاحی تعریف: ۴

اختیار کی عرفی تعریف ۴

۱. اختیار در مقابل اضطرار: ۴

۱. اختیار در مقابل اکرا ہ ۵

۲. اختیار درمقابل جبر ۵

۳. اختیار یعنی ارادہ اور انتخاب ۵

اختیار ۷

ارادہ ۷

قدرت ۷

ارادہ اور اختیار میں فرق ۸

مبادی اختیار کی تلاش ۸

۱ ۔علم و آگاہی ۹

۲ ۔توانائی اور قدرت ۹

۳. نفسانی خواہشات ۱۰

غرائز ۱۰

عواطف ۱۰

انفعالات ۱۰


احساسات ۱۰

نظام خلقت اور اختیار انسان ۱۱

اخلاق اور اختیار ۱۱

قضا و قدر اور اختیار ۱۱

دوسری فصل : جبر ۱۳

دوسری فصل : جبر ۱۳

جبر کی تعریف ۱۳

جبر کی لغوی تعریف : ۱۳

جبر کی اصطلاحی تعریف ۱۳

عقیدہ جبر و تفویض کی ابتداء ۱۳

جبر ، ظالموں کا بہانہ ۱۵

مسئلہ جبر و اختیار میں قائم شدہ نظریات : ۱۷

جبر و اختیار مارکسیزم کی نظر میں ۱۸

نظریہ مارکسیزم پر دو اشکال : ۱۸

اشکال١۔ ۱۸

اشکال ٢۔ ۱۸

جبر و اختیار اشاعرہ کی نظر میں ۱۹

دلائل جبریہ: ۱۹

قرآن ۱۹

سنت ۲۱


سنت ۲۱

عقل ۲۴

دلیل عقلی پر اشکال ۲۴

عقیدۂ جبریہ باطل کیوں؟ ۲۴

بطلان جبر پر بہلول کا قصہ ۲۵

جبر کے اقسام ۲۷

جبر کے اقسام ۲۷

١۔ جبر فلسفی ۲۷

مقدمہ اول: ۲۷

مقدمہ دوم: ۲۷

نتیجہ: ۲۷

٢۔ جبر تاریخی ۲۷

مقدمہ اول: ۲۷

مقدمہ دوم: ۲۷

نتیجہ: ۲۸

٣۔ جبر اجتماعی ۲۸

مقدمہ اول: ۲۸

مقدمہ دوم: ۲۸

نتیجہ: ۲۸

٤۔ جبر طبیعی ۲۹


مقدمہ اول: ۲۹

مقدمہ دوم: ۲۹

نتیجہ: ۲۹

فصل سوم :گروہ مفوضہ کا نظریہ ۳۱

فصل سوم :گروہ مفوضہ کا نظریہ ۳۱

دلیل مفوضہ ۳۱

انسان کے مختار ہونے پر دلائل قرآنی ۳۳

ارسال رسل وانزال کتب ۳۳

امتحان ۳۳

وعدہ و وعید ۳۳

میثاق و معاہدہ ۳۵

کافروں کو دعوت ایمان دینا اختیار کی علامت ۳۶

جواب فخر رازی ۳۶

چوتھی فصل :جبر و اختیار کے متعلق صحیح نظریہ ۳۷

الامر بین الامرین قرآن کی نگاہ میں ۳۷

کیا قرآن کی آیات کے درمیان تناقض موجود ہے؟ ۳۹

ارادہ خدا بھی ارادہ انسان کے ذریعے ۔ ۴۰

آیتوں کا پہلا دستہ جو اختیار انسان پر دلالت کرتاہے : ۴۰

دوسرا دستہ آیاتوں کا جو فقط ارادہ الہی کر مؤثر جانتا ہے : ۴۲

دوسرا دستہ آیاتوں کا جو فقط ارادہ الہی کر مؤثر جانتا ہے : ۴۲


جمع کیسے کیا جائے؟ ۴۲

الامر بین الامرین روایات کی روشنی میں ۴۴

تتمہ : اشکالات اور شبہات ۴۶

حضرت علی(ع) اور غازی کے درمیان مناظرہ ۴۷

امام صادق(ع) اور کافرکے درمیان مناظرہ ۴۸

اشکال :ہدایت اور ضلالت خدا کے ہاتھ میں ۴۹

ہدایت الہی کے اقسام ۵۱

ہدایت الہی کے اقسام ۵۱

١۔ ہدایت عامہ ۵۱

الف: ہدایت عامہ تکوینی: ۵۱

ب : ہدایت عامہ تشریعی ۵۳

ب :ہدایت خاصہ : ۵۵

علم ازلی خدا وند اور اختیار انسان ۵۷

علم کا معلوم پر کوئی تأثیر نہیں: ۵۸

اختیاری حرکت ہی جمادات اور انسان کے درمیان فرق ۵۸

خلاصہ بحث ۶۰

خلاصہ بحث ۶۰

اشاعرہ اور معتزلہ کا اختلاف ۶۳

کیا خدا وند گھڑی ساز کی مانند ہے؟! ۶۳

کتاب نامہ ۶۵

کتاب نامہ ۶۵