وہابی افکار کا ردّ
گروہ بندی مناظرے
مصنف شیخ نجم الدین طبسی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


وہابی افکار کا ردّ

(تیرہ موضوعات پر مشتمل مستند کتاب)

مؤلف: شیخ نجم الدین طبسی

مترجم :ناظم حسین اکبر

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں


مشخصات کتاب

نام کتاب ...................................................................وہابی افکار کا ردّ

نام مؤلف ..................................................................الشیخ نجم الدین طبسی

نام مترجم.....................................................................ناظم حسین اکبر

نظر ثانی .........................................................................محمد عباس ہاشمی

تعداد صفحات ....................................................................۱۹۷

تعداد.............................................................................۳۰۰۰

اشاعت ........................................................................اوّل ،نومبر ۲۰۰۹ئ

کمپوزنگ .......................................................................محمد اسماعیل

ناشر..........................................................ابوطالب اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور


انتساب

ظالم وہابیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پارا چنار کے بے گناہ مومنین خاص طور پر شہید لائق حسین کے نام


بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم

موضوعات

توسّل

شفاعت

تبرّک

استغاثہ

زیارت قبور

عورت اور زیارت قبور

قبروں پر دعا اور نماز

تعمیر قبور

قبور پر چراغ روشن کرنا

نذر

غیر اللہ کی قسم

جشن منانا

گریہ ومجالس عزا


مقدمہ مترجم

وہابیت مسلمانوں کے سینے پر ایسا ناسور ہے جس کی بد بو سے پوراعالم اسلام سسک رہا ہے ابتداء ہی سے اس فرقہ کا وجود مسلمانوں کے لیے ایک عظیم مصیبت ہے جس کی پشت پناہی سعودی خاندان کررہا ہے ظلم یہ کہ حج جیسی عظیم عبادت کے موقع پر کروڑوں ڈالر خرچ کر کے زائرین خانہ خدا کے عقیدوں کو خراب کیا جاتا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ اکثر مسلمان جہالت و نادانی کی وجہ سے اس گروہ کے عزائم اور نقصانات سے بے توجہی برت رہے ہیں

زیر نظر کتاب ٫٫ وہابی افکار کی ردّ ،، ایک جلیل القدر عالم دین جناب شیخ نجم الدین طبسی دام ظلّہ العالی کی محققانہ تالیف ہے جس میں انہوں نے وہابیت کے انحرافی عقائد کو محکم ادلّہ کے ذریعہ سے ردّ کیا ہے.

ہم تمام مسلمانوں سے یہ التماس کرتے ہیںکہ وہ اس فرقہ کے عقائدکا بخوبی مطالعہ کریں اور ناسمجھ و فریب خوردہ افراد کو آگاہ کریں نیز ان کے ہاتھوں شہید ہونے والے اہل سنت اور شیعہ کے عظیم علماء کی شہادتوں کا دقت کے ساتھ مطالعہ کریں تاکہ خود اور اپنی نوجوان نسل کو اس فکری بیماری سے محفوظ رکھ سکیں

آخر میں دعا گو ہوں کہ خدا وند متعال ہمیں حقیقی معارف اسلام کی صحیح تبلیغ کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین یا ربّ العالمین

والسلام علی من اتّبع الھدی

ناظم حسین اکبر ( ریسرچ اسکالر )

ابو طالب اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور۱۵رمضان المبارک ۱۴۳۰ھ


مقدّمہ مؤلف

خداوند متعال کی بے شمار حمد وثناء اور پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے خاندان گرامی پر بے نہایت درود و سلام ہو جو انسانوں کو چشمہ فضیلت کی طرف ہدایت وراہنمائی کرنے والے ہیں.

دین مبین اسلام کے نورانی معارف اب بھی آسمان فکر پرروشن ہیںانکی نورانیت ایسی ہے کہ پورے عالم پر چھا جائے گی البتہ حج کے موقع پر ان معارف کا جلوہ الگ طریقہ سے ہوتا ہے جو قابل مشاہدہ ہے ایک گروہ الگ تفکر کے ذریعہ سے ان معارف کے حقیقی چہرے کو بدلنے کی کوشش میں مصروف نظرآتا ہے ۔

اسی سال ۲۰۰۸ئ میں جب حج جیسے نورانی سفر کی توفیق نصیب ہوئی تو اس معنوی سفر میں ایک عجیب اور انتہائی دلچسپ واقعہ پیش آیا جسے اس مقدمہ سے پہلے بیان کر رہا ہوں :

ایک رات ہم چار افراد جس میں علمائے اہل سنت بھی موجود تھے مکہ مکرمہ کے ایک وہابی عالم سے ملاقات کے لیے اس کے پاس پہنچے اگرچہ کوشش یہی رہی کہ دوستانہ فضا بر قرار رہے اور اس دو گھنٹے کی ملاقات میں ایسے ہی ہوا لیکن جیسے ہی بحث و گفتگو کی نوبت آئی تو اس اسّی سالہ وہابی عالم نے شیعوں پر لگائی جانے والی بے بنیاد تہمتوں کو بیان کیا اور خود اس کے بقول ان کا واضح و مستدل جواب لینے کے بعد جو اس کے لیے بھی تعجب آور اور جالب تھا کہنے لگا :کیا تم ایرانی شیعہ اب بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے استغاثہ ( طلب حاجت )کرتے ہو اور کہتے ہو : یا رسول اللہ !


میں نے فورا جواب دیتے ہوئے کہا :صرف ہم ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاجت طلب نہیں کرتے بلکہ صحابہ کرام بھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاجت طلب کیا کرتے اور یوںہی کہا کرتے تھے.

کہنے لگے : ہاں ، مگر وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں ان سے حاجت طلب کیا کرتے تھے

میں نے کہا : نہیں ، وہ تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد بھی یوں ہی کہاکرتے

اس نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ! کس دلیل کی بنا پر آپ ایسی بات کی نسبت صحابہ کی طرف دے رہے ہیں ؟

میں نے کہا : ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں اہل ردّہ کے ساتھ جنگ میں لشکر اسلام کا شعار یا محمد اہ تھا

کہنے لگے : یہ بات ثابت نہیں ہے اور اگر ثابت ہے تو دلیل لائیں ؟

میں نے کہا : ابن کثیر جو ابن تیمیہ کے شاگرد تھے ا نہوں نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں اس مطلب کو نقل کیا ہے کہنے لگے : وہاں پر تو کوئی ایسا مطلب نقل نہیں ہوا

میں نے کہا : کتاب البدایہ والنہایہ منگوائیں جب کتاب لائی گئی تو میں اس کی چھٹی جلد کھول کر یہ عبارت پڑھنا شروع کی جس میں یہ لکھا تھا :

وکان شعارهم یومئذ یا محمداه !( ۱ ) اس دن ان کا شعار یا محمداہ تھا

____________________

۱۔البدایہ والنہایہ ۶: ۳۲۹، دارالکتب العلمیة بیروت.


جیسے اس وہابی عالم نے اس حقیقت کو دیکھا تو فورا بات بدلتے ہوئے کہا : اس روایت کی سند ضعیف ہے

میں نے کہا : یہ شرک کی تہمت کے علاوہ دوسری بات ہے بنا برایں آپ نے اس کا تاریخ میں ثابت ہونا قبول کر لیا ہے رہا مسئلہ یہ کہ آپ اس کی سند کے ضعیف ہونے کا دعویٰ ر ہے ہیں تو ممکن ہے کہ کوئی شخص آپ کے بر عکس یہ دعویٰ کرے کہ اس کی سند صحیح اور معتبر ہے علاوہ بر ایں اگر استغاثہ وتوسل شرک اکبر ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ابن کثیر۔اگرچہ سند ضعیف ہی کیوں نہ ہو ۔ اس عمل کی نسبت صحابہ کرام کی طرف دے ؟

جیسے ہی بات یہاں تک پہنچی تو اس وہابی عالم کے بیٹے نے ہماری بات کو قطع کرتے ہوئے کہا : پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استغاثہ ( طلب حاجت ) شرک نہیں ہے !!

میں نے کہا : پھر ہم پر کیوں اعتراض کرتے ہو ؟

اس وہابی عالم نے بات کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے ایک اور موضوع پر گفتگو شروع کر دی


جو کچھ بیان کیا گیا یہ ایک ایسے وہابی عالم کا طرز تفکر ہے جو وہابیت اور محمد بن عبد الوہاب کے دفاع اور ان کی تعریف میں کتاب تالیف کر چکا یہ تفکر ہر مسلمان کے ذہن میں یہ سوال ایجاد کرتا ہے کہ کیا واقعا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استغاثہ وتوسل شرعی اعتبار سے اشکال رکھتا ہے ؟ کیا واقعا استغاثہ کرنے والے کو مشرک ، خارج از دین اور مرتد قرار دے کر اسے قید کر کے چند دن کی مہلت دی جائے تاکہ توبہ کرلے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے پھانسی دے دی جائے ؟!( ۱ )

دوسری جانب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ طریقہ کار زمانہ رسالت( ۲ ) سے لے کر آج تک مسلمانوں کے درمیان رائج ہے البتہ اسی کتاب میں ہم اس موضوع پر مفصل گفتگو کریں گے لیکن یہاں پر بطورنمونہ چند ایک موارد کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :

____________________

۱۔اس بارے میں وہابی کہتے ہیں :دعاء النبی صلی الله علیه وآله ونداؤه والاستغاثة بعد موته فی قضاء الحاجات و کشف الکربات شرک أکبر یخرج من ملّة الاسلام سواء کان ذلک عند قبره أم بعیدا عنه ، کأن یقول : یا رسول الله ! أو ردّ غائبی أو نحو ذلک فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۳: ۱۷۰ . نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد حاجات پوری کروانے یا مشکلات کے حل کے لئے انہیں پکارنا اور ان سے حاجت طلب کرنا شرک اکبر ہے جو انسان کو ملّت اسلام سے خارج کر دیتا ہے چاہے یہ ان کو پکارنا اور ان سے حاجت طلب کرنا ان کی قبر کے پاس ہو یا دور سے مثال کے طور پر کہا جائے: یا رسول اللہ! یا غائب کو واپس لوٹا دے یااسی طرح کے دیگر کلمات

۲۔ المعجم الکبیر ۹: ۳۲.


۱۔خلافت عثمان میں صحابی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عثمان بن حنیف کا ایک مسلمان کومشکل کے حل کے لیے( قبر) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متوسل ہونے کا حکم دینا.( ۱ )

۲۔ اہل مدینہ کا حضرت عائشہ کے حکم پر باران رحمت کے نزول کے لیے قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متوسل ہونا( ۲ )

۳۔ بعض اصحا ب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خلیفہ دوم کے زمانہ میں قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متوسل ہونا( ۳ )

۴۔۵۳ ہجری اور معاویہ بن سفیان کے زمانہ حکومت میں اہل مدینہ کامعاویہ کی جانب سے منصوب حاکم مدینہ کے ظلم و ستم سے چھٹکارا پانے کی خاطر تین دن تک قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جاکر پناہ لینا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے استغاثہ کرنا( ۴ )

۵۔ حنبلیوں کے رہبر ابو علی خلال کا تقریبا ہزار سال پہلے اپنی مشکلات کے حل کی خاطرامام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قبر سے متوسل ہونا( ۵ )

۶۔ چوتھی اور پا نچویں صدی ہجری میں لوگوں کا بخاری کی قبر سے متوسل ہونا( ۶ )

____________________

۱۔ مسند احمد۴:۱۳۸؛ سنن ترمذی ۵: ۵۶۹؛ سنن ابن ماجہ ۱: ۴۴۱.

۲۔ سنن دارمی ۱: ۱۵۶؛ سبل الھدی والرشاد ۱۲: ۳۴۷.

۳۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری ۲: ۵۷۷ ، وفاء الوفاء ۴: ۱۳۷۲

۴۔ مروّج الذہب ۳: ۲۳.

۵۔ تاریخ بغداد ۱: ۱۲۰.۷ ؛


واضح ہے کہ اس موضوع پر کتب اہل سنت میں دسیوں بلکہ سینکڑوں نمونے موجود ہیں جنہیں جمع کیا جائے تو کئی جلدوں پر مشمل ایک مستقل کتاب تالیف ہو سکتی ہے

اب ہمارا سوال یہ ہے کہ محمد بن عبد الوہاب جو ۱۱۱۵ہجری میں پیدا ہوا اور ۱۱۴۳ ہجری میں باقاعدہ طور پر اپنے عقائد کا اظہار کیا اور آل سعود کی حمایت اور شمشیر کے زور پر نجد کے بادیہ نشینوں کو اپنے عقائد کی پیروی پر مجبور کیا اس نے اپنے ان عقائد کو کہاں سے لیا اور اسلام کی طرف نسبت دے دی ؟!

البتہ چونکہ وہ ابن تیمیہ کی پیروی کا مدعی ہے لہذا ممکن ہے کہ اس نے ان افکار و عقائد کو اسی سے لیا ہو ، لیکن ہمارا ان دونوں سے یہ سوال ہے کہ کیاجب مسلمان گیارہویںاور بارہویں ہجری میں خلیفہ اول کے زمانہ میں مسیلمہ کذّاب سے جنگ کے لیے جارہے تھے توان کا شعار ( یامحمداہ) نہیں تھا؟!( ۱ )

۔کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب کافر و مشرک تھے !

۔کیا اہل مدینہ جو زیاد بن ابیہ کے خوف سے تین دن تک قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متوسل ہوتے رہے ، سب مشرک ہو گیے تھے ؟!

مدینہ منورہ میں ہزاروں صحابہ کرام موجود تھے کیا وہ سب قبرپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متوسل ہونے کی وجہ سے مشرک ہو چکے تھے ؟ !

۔کیا زوجہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( حضرت عائشہ ) مسلمانوں کو نزول رحمت کے لئے قبر پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متوسل ہونے کا حکم دینے کی وجہ سے مشرک ہو گئی تھیں(نعوذ بالله من ذلک ) ؟!

۔کیا ابن حبان ، ابو علی خلال ، طبرانی ، ابو الشیخ ، حاکم نیشاپوری ، ابوبکر فقیہ شافعی ،محب الدین طبری اور مذاہب اربعہ کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں علماء اپنی مشکلات کو دور کروا نے کے لئے آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی قبور سے متوسل ہونے کی وجہ سے مشرک ہو گئے تھے ؟

ہاں ، جیسا کہ بیان کیا جائے گا کہ توسل اور استغاثہ کے بہت زیادہ نمونے کتب اہل سنت میں موجود ہیں جو ہمیں اس امر پر مجبور کرتے ہیں کہ اس خطر ناک تفکّر کے بارے میں تحقیق کی جائے اور اس کی حقیقت تک پہنچا جائے

____________________

۱۔ البدایہ والنہایہ ۶: ۳۲۹.


چونکہ آج وہابی قبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آئمہ بقیع کے پاس جانے سے سختی سے منع کرتے ہیں انہوں نے ان قبور کو خاک کے ٹیلے میں تبدیل کر دیا ہے اور ان کے زائرین کو گالیاں ، تھپڑ، توہین اور انہیں گرفتار کر کے روحانی و جسمانی اذیتیں پہنچا کر توسل و استغاثہ اور یا رسول اللہ ! کہنے سے روکتے ہیں وہ مسلسل اس جملے کو دہراتے ہوئے یہ شعار بلند کر رہے ہوتے ہیں :

یہ پتھر کے سوا کچھ نہیں اور بوسیدہ ہڈیاں ہیں

کیا واقعا رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آئمہ ہدیٰ ، شھداء اور...شھادت ووفات کے بعد پتھر اور گلی سڑی ہڈیاں ہیں ؟!

خداوند متعال قرآن کریم میں لوگوں کو توبہ اور گناہوں سے بخشش کے لیے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا حکم فرمارہا ہے :

( ولو أنّهم اذ ظلموا أنفسهم جاؤوک فاستغفروا الله واستغفرلهم الرسول لوجدواالله توّابا رحیما ) ( ۱ )

ترجمہ : اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑاہی توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے

کیا خداوند متعال نے لوگوں کو پتھر اور گلی سڑی ہڈیوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ؟! صدر اسلام کے مسلمان( صحابہ و تابعین) جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل بھی کرتے اور ان کے وسیلے سے اپنی حاجات بھی طلب کیا کرتے ، کیا وہ حقیقتا پتھر ، لکڑی اور بوسیدہ ہڈیوں سے استغاثہ کیا کرتے تھے ؟!

____________________

۱۔سورہ نساء : ۶۴.


کیا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت سے لے کر محمد بن عبدالوہاب کے زمانہ یعنی ۱۱۴۳ھ تک سارا اسلامی معاشرہ مشرک ہو چکا تھا اور صرف محمد بن عبدالوہاب کے پیروکار وہابی ہی حقیقی مسلمان ، خداکے سچے نمائندے ، شعب اللہ المختار اور اس کے برگزیدہ بندے ہیں ؟

کیا حقیقی اسلام کوسمجھنا صرف انہیں میں منحصر ہے ؟ یا یہ کہ حقیقت کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ اسلام سے شکست کھانے والے اسلام کی قیمتی تعلیمات کو مسخ کرنے کی خاطرایسا تفکر پیش کر رہے ہیں .یہ تفکر چہرہ بدل کر اسلام کا اظہار کرتے ہوئے اسلام سے انتقام لینے کے لئے اس طرح کے خطرناک افکار کی ترویج کر رہاہے یہی چیز باعث بنتی ہے کہ ہم اس تفکر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تحقیق کریں تاکہ اس کی حقیقت تک پہنچ سکیں اور یہ جان سکیں کہ یہ نعرے سب سے پہلے کس زبان سے نکلے؟!

جی ہاں! مسند احمد بن حنبل اور الکامل المبرد پر ایک ہی نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوگیا کہ سب سے پہلے یہ نا شائستہ جملے مروان بن حکم اموی سے سنے گئے جب اس نے ایک صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابو ایوب انصاری کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا چہرہ رکھنے کی وجہ سے سختی سے پیش آتے ہوئے اٹھا دیا اور قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پتھر سے تعبیر کیا جبکہ ابو ایوب انصاری نے اسے جواب دیتے ہوئے دو بار کہا :

میں پتھر کے پاس نہیں آیا بلکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا ہوں .میں پتھر کے پاس نہیں آیا( ۱ )

مروان کے بعد یہی قبیح جملہ حجاج بن یوسف ثقفی کی زبان پرجاری ہوا جب اسے یہ خبر ملی کہ کوفہ کے کچھ لوگ ایک کاروان کی صورت میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس نے سخت ملامت کرتے ہوئے کہا : یطوفون بأعوادورمة بالیة لکڑیوں اور بوسیدہ ہڈیوں کا طواف کر تے ہیں؟( ۲ )

____________________

۱۔ مسند احمد ۵: ۴۲۲؛ المستدرک علی الصحیحین ۴: ۵۶۰.

۲۔الکامل ۱: ۱۸۵؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ۵: ۲۴۲


البتہ مروان اموی سے اس کے سوا کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی ؛ اس لیے کہ یہ وہ شخص ہے جس کا تعلق شجرہ ملعونہ سے ہے( ۱ )

وہ اسی حکم بن ابوالعاص کا بیٹاہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر چلانے والوں کا سردار وہی تھا وہ امام حسن مجتبیٰ ، امیرالمؤمنین علی اور اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا اور کہا کرتا :أنتم اهل البیت ملعونون !! تم اہل بیت ملعون ہو

یہی وہ شخص ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کے کربلاروانہ ہونے سے پہلے ہی ان کو مدینہ میں قتل کر دینے کا مشورہ دیا تھا( ۲ )

یہ وہی ہے جب جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کے لشکر کے ہاتھوں اسیر ہوا تو آنحضرت کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہی تو امیر المؤمنین نے فرمایا :انّها کفّ یهودیة ، ستلقی الأمة منه ومن ولده یوما أحمر .( ۳ )

____________________

۱۔ جامع البیان ۹: ۱۴۱ ؛ عمدة القاری ۱۹: ۳۰؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ۶: ۲۸۵.

۲۔ سیر اعلام النبلاء ۳: ۴۷۸؛

۳۔ الطبقات الکبری۵:۳۷ ۳۔نہج البلاغہ،خطبہ ۷۳


یہ یہودی ہاتھ ہیں امت اسلام اس اور اس کی اولادسے سرخ دن دیکھے گی

جی ہاں! اس تفکر کا آغاز بنوامیہ سے ہوایعنی وہ جنہوں نے ظلم وتشدد ، شمشیر و خونریزی، بے رحمی و سفاکی کے ذریعے لوگوں اپنا تسلط جمایا اور کئی سال تک اسلام کے نام پر اسلامی عقائد کو مسخ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی سلطنت کا چراغ بجھ گیا

اب بھی دنیائے اسلام میں جہاں کہیں آتش فتنہ و تفرقہ پایا جاتا ہے اس کے پیچھے اسی تفکر کے پیروکاروں کا ہاتھ اور ان کی منافقانہ سازش کار فرما ہے

البتہ ہمارا مقصد وہابیوں کے ان مظالم کو بیان کرنا نہیں ہے جو انہوں نے طول تاریخ وہابیت میں انجام دیئے ہیں اس لیے کہ اس کے لیے الگ تحریر کی ضرورت ہے اس کتاب میں ہمارا مقصد ان کے باطل افکار اور بے ارزش نظریات کو رد ّ کرنا ہے اس لیے کہ وہ اپنی اس تحریک کے آغاز ہی سے رسوا ہو چکے ہیں یہا ں تک کہ ان ہم پیمان لوگوں نے بھی انہیں رسوا و ذلیل کیا جیسے عبداللہ قصیمی جو کئی سال تک ان کے دستر خوان پر پلتا رہا اور ان کی حمایت میں ( (الثورة الوهابیة البروق النجدیة ، الصّراع بین الاسلام و الوثنیة جیسی کتب تالیف کیں ؛ لیکن جیسے ہی اس گروہ کے موہوم افکار کے بارے میں تحقیق کی تو اس گروہ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اورهذه هی الأغلال و...جیسی کتب تالیف کر کے اس گروہ کو عام و خاص میں رسوا کیا جو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرے اس گروہ کی حماقت ولجاجت اور ان کے غرور و تکبر سے بخوبی آگاہ ہو جائے گا ۔


لیکن یقینا عبداللہ قصیمی ہی پہلا اور آخری شخص نہیں ہے جس نے بنو امیہ کے اس باقیماندہ گروہ کو رسوا کیا ہو بلکہ اس سے پہلے اور بعد میں دس ایسی کتابیں لکھی جاچکی ہیں جن میں اس گروہ کی مخالفت کی گئی ہے محمد بن عبدالوہاب کا باپ جو نجد کے حنبلی علماء میں سے تھا اس نے بھی بارہا اپنے بیٹے کی مخالفت کی ، اس کے بھائی سلیمان بن عبدالوہاب نے اس کے خلافالصواعق الالهیه فی الرد علی الوهابیه کے عنوان سے ایک لکھ کر اسے رسواکیا.( ۱ )

حرمین شریفین ( مکہ و مدینہ ) کے علماء جو اس کے معاصر تھے انہوں نے ان سے بحث و مناظرہ کے بعد ان کے دین کا پابند نہ ہونے ، بے دین اور کافرہونے کا فتوٰٰی دیا

امام کعبہ ، شافعی فقیہ و مؤرخ سید احمد زینی دحلان ۱۲۹۹ھ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

محمد بن عبدالوہاب نے ۱۱۴۶، ۱۱۶۵اور ۱۱۸۶ھ میں حج ادا کرنے کی غرض سے اپنے نمائندوں کو مکہ بھیجا لیکن علماء اہل سنت نے انہیں کافر قرار دیتے ہوئے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا(. ۲)

____________________

۱۔یہ کتاب ارد و زبان میں ابو طالب اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور کی جانب سے ترجمہ و تحقیق کے ساتھ چھپ چکی ہے.

۲۔ الدر ر السنیة فی الرد علی الوھابیة : ۲۹و۳۰، طبع مصر سال ۱۲۹۹ھ


ہم نے اس کتاب میں ان کے عقائد ونظریات کو ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علمی جوابات بھی نقل کر دیے ہیں تاکہ تمام لوگوں پر یہ واضح ہو جائے کہ ان کے ان افکار کا تعلق نہ تو عقل سے ہے اور نہ ہی نقل سے اور زینی دحلان کے بقول علماء حرمین نے یہ فیصلہ دیا :

وجدوهم ضحکة ومسخرة کحمر مستنفرة فرّت من قسورة ( ۱ )

____________________

۱۔حوالہ سابق


انہوں نے مناظرہ کے بعد یہ جان لیا کہ یہ کم عقل لوگ ہیں جو شیروں کے سامنے بھاگ نکلنے والے ہیں.

امید ہے کہ مسلمان بھائی آگاہی اور ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی منافقانہ سرگرمیوں سے بچنے اور انہیں اسلامی معاشرے سے دور رکھنے کی کوشش کریں گے

آخر میں برادر فاضل ودانشمند حجة الاسلا م جناب انصاری اور جناب اسفند یاری کا صمیم قلب سے شکر گذار ہوں جنہوں نے کتابروافدالایمان کا خلا صہ کرنے میں بہت زحمت اٹھائی امید وار ہوں کہ ان دو عزیزوں کی زحمت اور بندہ ناچیز کی کوشش ولی نعمت حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے لطف و کرم کا باعث بنے گی۔ ان شاء اللہ

قم المقدسہ ۴محرم الحرام ۱۴۳۰ہجری قمری

نجم الدّین طبسی


۱۔توسّل

توسّل اور اسکی اعتقادی جڑیں

توسل کا معنی انبیاء و آئمہ اور صالحین کو خداوند متعال کی بارگاہ میں واسطہ قرار دیناہے اسکی مشروعیت اور جواز کے بارے میں دو اعتبار سے بحث ہو سکتی ہے :

۱۔ قرآن کریم ۲۔ احادیث

قرآن کریم سے چند ایک آیات کو توسل کی مشروعیت وجواز کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے سورہ مائدہ میں پڑھتے ہیں :

( یا أیهاالذین آمنوا اتقواالله وابتغوا الیه الوسیلة وجاهدوا فی سبیله ) ( ۱ )

ترجمہ :اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو

دوسری آیت سورہ مبارکہ نساء کی ہے جس میں یوں بیان کیا گیاہے :

( ولو أنّهم اذ ظلموا أنفسهم جاؤوک فاستغفروا الله واستغفرلهم الرسول لوجدوا الله توّابا رحیما. ) ( ۲ )

____________________

۱۔ سورہ مائدہ : ۳۵؛

۲۔سورہ نسا ء : ۶۴


ترجمہ : اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے

تیسری آیت مبارکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے فرزندوں کے بارے میں ہے جب وہ اپنے عمل پر پشیمان ہوئے اوراپنے والد گرامی کے پاس پہنچے تاکہ وہ خدا وند متعال سے ان کی بخشش کی دعا کریں تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی ان کی درخواست کو قبول کرلیا اور فرمایا : میں جلدپروردگارسے تمہاری بخشش کی دعا کروں گا اس مطلب کو قرآن مجید نے یوں نقل کیا :

( قالوایا أبانا استغفرلنا ذنوبنا انّا کنّا خاطئین قال سوف أستغفر لکم ربّی انّه هو الغفورالر حیم ) .( ۱)

ترجمہ: ان لوگوں نے کہا بابا جان! اب آپ ہمارے گناہوں کے لیے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے انھوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اورمہربان ہے .۔

____________________

۱۔سورہ یوسف : ۹۷ اور ۹۸.


روایا ت میں بھی کثرت کے ساتھ توسل کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جن میں سے چند ایک نمونوں کو ذکر کر رہے ہیں :

۱۔توسّل حضرت آدم علیہ السلام :

جلال الدین سیوطی ( عالم اہل سنت ) لکھتے ہیں :

رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام نے خدا وند متعال کی بارگاہ میں یوں توسل کیا :

أللّهمّ انّی أسئلک بحق محمد وآل محمّد سبحانک لااله الّا أنت ، عملت سوئ، وظلمت نفسی ، فاغفرلی انّک أنت الغفور الرحیم ( ۱ )

خدایا ! تجھے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمد کا واسطہ دیتا تو پاک ومنزہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا .پس مجھے بخش دے کہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے

۲۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تاکید اورپیشگوئی:

ایک دوسری روایت جو حضرت عائشہ سے نقل ہوئی ہے اس میں بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں : رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوارج کے بارے میں یوں فرمایا:

هم شرالخلق والخلیقة یقتلهم خیرالخلق والخلیقة ، وأقربهم عندالله وسیلة

خوارج بد ترین مخلوق ہیں جنہیں مخلوق کا بہترین فرد اور خدا کا نزدیک ترین وسیلہ قتل کرے گا( ۲ )

____________________

۱۔ تفسیر الدر المنثور ۱: ۶۰

۲۔ فرائد السمطین ۱:۳۶ ، ح۱


۳۔ فرمان پیغمبراکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

ابوہریرہ کہتا ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کے توسل کے بارے میں بیان فرمایا کہ خدا وند متعال نے حضرت آدم علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا :یا آدم ! هؤلاء صفوتی فاذاکان لک لی حاجة فبهؤلاء توسّل یعنی اے آدم ! یہ میرے برگزیدہ بندے ہیں جب تجھے مجھ سے کوئی حاجت طلب کرنا ہو تو ان کے وسیلہ سے طلب کرنا

اس کے بعد رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :نحن سفینة النّجاة ، ومن تعلّق بها نجا ومن حاد عنها هلک ، من کان له الی اللّٰه حاجة فلیسئلنا أهل البیت ( ۳ )

ہم کشتی نجات ہیں جو بھی ا س میں سوار ہو گیا نجات پاگیا اور جس نے اس سے روگردانی کی ہلاک ہو گیا پس جس کسی کو خداوند متعال سے کوئی حاجت ہو وہ ہم اہل بیت کو واسطہ قرار دے ۔


۴۔ تاکید حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا

دختر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اپنے خطبہ میں فرماتی ہیں :

وأحمد الله الذی بعظمتة ونوره یبتغی من فی السماوات والأرض ، الیه الوسیلة و نحن وسیلته فی خلقه

زمین وآسمان میں جو کچھ ہے سب تقرّب خدا کے لیے وسیلہ کی تلاش میں ہیں اور مخلوق خدا میں اس کا وسیلہ ہم ہیں ۔( ۱ )

۵۔صحابہ کرام کا قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل کرنا:

عسقلانی فتح الباری میں لکھتا ہے : سند صحیح کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ خلیفہ دوم کے زمانہ میں خشک سالی ہوئی تو صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، بلال بن حارث قبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پہنچے اور عرض کیا : آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت ہلاک ہو گئی ہے خدا سے باران رحمت طلب کریں

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں خواب میں ملے اور فرمایا: باران رحمت کا نزول ہو گا( ۲ )

____________________

۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ۱: ۲۱۱ ؛ بلاغات النساء بغدادی : ۱۴؛ السقیفہ و فدک : ۱۰۱

۲۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری ۲: ۴۱۲؛ ۳۔ذہبی نے اس کی شخصیت کے بارے میں لکھا ہے :وہ شافعیوں کے علاّمہ اور شیخ ہیں یہ وہی شخص ہے جو شافعی قواعد و مبانی کے مطابق فتوٰ ی دیا کرتا اس کے شاگرد حاکم نیشاپوری کے بقول مذہب شافعی سے آشنائی میں وہ سب سے زیادہ آگاہ تھے اور ۳۸۴ ھ میں وفات پائی سیر أعلام النبلاء ۱۶: ۴۴۷.


۶۔ توسّل ابوالحسین فقیہ شافعی :

حاکم نیشاپوری کہتے ہیں میں نے ابوالحسین فقیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:ماعرض لی مهم من أمر الدین والدنیا فقصدت قبر الرضا علیه السلام لتلک الحاجة ودعوت عند القبر الّا قضیت لی تلک الحاجة و فرّ ج الله عنی تلک المهمّ وقد صارت الیّ هذه العادة أن أخرج الی ذلک المشهد فی جمیع ما یعرض لی ، فانّه عندی مجرّب ۔

مجھے جب بھی کوئی دینی یا دنیاوی مشکل پیش آتی تو حضرت رضاعلیہ السلام کی قبر کے پاس جاکر دعا کرتا تو میری وہ مشکل حل ہو جاتی ... یہاں تک کہ میری یہ عادت بن چکی تھی کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو ان کے مزار کی زیارت کو جاتا اس لیے کہ وہاں پر دعاکاقبول ہونا میرے لیے تجربہ شدہ تھا( ۱ )

۷۔ توسّل ابو الحسین بن ابی بکر فقیہ :

حاکم نیشاپوری کہتے ہیں میں نے ابو الحسین فقیہ سے یہ کہتے ہوئے سنا :قد أجاب الله لی کل دعوة دعوته بها عند مشهد الرضا علیه السلام حتی انّی دعوت الله أن یرزقنی ولدا فرزقت ولدا بعد الیأس منه

میں نے امام رضاعلیہ السلام کی بارگاہ میں جو بھی دعا کی مستجاب ہوئی یہاں تک کہ میں نے خدا وند متعال سے فرزند کی دعا کی تو اس نے ناامیدی کے بعد مجھے فرزند عطاکیا( ۲ )

۸۔ حاکم نیشاپوری کا قبر امام رضا علیہ السلام سے توسّل کرنا:

حاکم نیشاپوری امام رضا علیہ السلام سے اپنے توسل کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :

خدا وند متعال نے مجھے امام رضا علیہ السلا م کی قبر شریف کی کرامات سے بھی آگاہ کیا چونکہ میں نے بہترین کرامات کو مشاہدہ کیا

نمونہ کے طور پر اپنے بارے میں بیان کرتا ہوں عرصہ دراز تک پاؤں کے درد میں مبتلا رہا یہاں تک کہ میرے لیے چلنا بھی دشوار ہو گیا تھا اسی حالت میں امام رضا علیہ السلام کی قبرکی زیارت کے لیے چلا ، رات وہاںپرگزاری ، جب صبح اٹھا تو درد کا اثر تک نہیں تھا اور صحیح وسالم نیشاپور واپس پلٹا( ۳ )

____________________

۱۔ فرائد السمطین ۲: ۲۲۰.

۲۔ حوالہ سابق ۲: ۲۲۰.

۳۔ حوالہ سابق ۲: ۲۲۰.


۹۔ زید فارسی کا قبر امام رضاعلیہ السلام سے متوسّل ہونا :

حاکم نیشاپوری نے دو واسطوں کے ساتھ زید فارسی سے نقل کیا ہے :

میں دوسال تک پاؤں کے درد میں مبتلا رہا یہاں تک کہ کھڑے ہوکر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تھا ایک رات ایک شخص نے مجھے خواب میں کہا : تم امام رضا علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لیے کیوں نہیں جاتے ؟ قبر کی خاک کو پاؤں پر مل کر اس کے درد سے شفاکی دعاکیوں نہیں کرتے ؟

جیسے ہی نیند سے اٹھا سواری کرائے پر لی اور طوس پہنچ گیا ،قبر شریف کی مٹی پاؤں پر ملی اور بیماری سے شفاکی دعا کی الحمد للہ شفا مل گئی اس وقت سے لے کر آج تک دو سال گزرچکے ہیں مگر کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آئی( ۱ )

____________________

۱۔حوالہ سابق ۲: ۲۱۹


۱۰۔ابو نصر مؤذن نیشاپوری کا توسّل :

جوینی شافعی مؤلف فرائد السّمطین اپنی سند کے ساتھ سے ابو نصر نیشا پوری سے نقل کرتے ہیں :

میں ایک مرتبہ سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا یہاں کہ میرے لیے کلام کرنا بھی دشوار ہو گیا تھا اچانک میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ قبر امام رضا علیہ السلا م کی زیارت کروں اور وہاں پر جا کر ان سے متوسل ہوں اور اپنی بیماری سے شفا کی دعا کروں

اسی قصد سے سفر شروع کیا ، قبر شریف کی زیارت کی اور سرکی طرف کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی ، دعا و تضرّع کے ساتھ صاحب قبر ( امام رضا علیہ السلام ) کو خدا کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتے ہوئے شفا کی دعا کی تو میری زبان میں بولنے کی قدرت پید اہو گئی

جب میں سجدہ کی حالت میں عاجزی کے ساتھ دعا کر رہا تھا تو میری آنکھ لگ گئی میں نے خواب میں دیکھا کہ چاند میں شگاف پیدا ہوا اور اس سے ایک شخص نکلا ، میرے پاس آکر کہا : اے ابا نصر ! کہہ : لا الہ الا اللہ

میں نے اشارے کے ساتھ جواب دیا کہ کیسے کہوں جب کہ میری زبان میں سکت ہی نہیں ہے

اس نے زور سے کہا : کیا قدرت خدا کا منکر ہے ؟! کہہ : لا الہ الااللہ

فورا میری زبان کھل گئی اور میں نے اس جملہ کو زبان پر جاری کیا. اور اسی جملے کا تکرار کرتے ہوئے نیند سے اٹھا اور پھر اس کاورد کرتے ہوئے گھر واپس پلٹا ، اس کے بعد ہمیشہ کے لیے میری مشکل دور ہو گئی(۱)

____________________

۱۔ حوالہ سابق ۲: ۲۱۷


۱۱۔ امیر خراسان کا قبر امام رضاعلیہ السلام سے توسّل :

جوینی شافعی نے تین واسطوں سے حمویہ بن علی امیر خراسان کے در بان سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا ہے :

ایک دن میں حمویہ کے ہمراہ بلخ کے بازار میں گیا تو وہاںپر اس نے ایک شخص کودیکھتے گرفتار کرنے اور ایک سوار ی اور غذا خریدنے کا حکم دیا.

جب واپس پلٹے تو اس شخص کو طلب کیا اور اس سے کہا : تو میرے ایک تھپڑ کا مقروض ہے جس کا قصاص دینا پڑے گا

اس شخص نے تعجب کرتے ہوئے انکار کر دیا

حمویہ نے اسے یاد دلایا کہ ایک دن ہم اکٹھے امام رضا علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لیے گئے تھے اور تونے وہاں پریہ دعاکی :

اللّهمّ ارزقنی حمارا ومأتی درهم وسفرة فیها جبنة وخبزة

خدایا ! مجھے ایک سواری ، دو سو درہم اور ایک غذاجس میں نان و پنیر ہو ، عطافرما

اور میں نے دعا کی :

اللّهمّ ارزقنی قیادة خراسان

خدایا ! مجھے خراسان کی حکومت عطا فرما

تو فورا اپنی جگہ سے اٹھا اور مجھے ایک تھپڑ رسید کرکے کہا : ا یسی چیز کی دعا مت کرو جس کا ہونا ممکن نہیں ہے

جبکہ دیکھ رہے ہو کہ میری بھی دعا قبول ہو گئی اور تیری بھی لیکن حق قصاص باقی ہے( ۱ )

۱۲۔ ابو علی خلال کا قبر امام موسیٰ کا ظم سے توسّل:

خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں توسّل کے بارے میں حنبلیوں کے امام سے ایک داستان نقل کی ہے کہ وہ کہتے ہیں :

ما همّنی أمر فقصدت قبر موسیٰ بن جعفر فتوسّلت به الاّ سهل الله تعالی لی ما أحبّ .

مجھے جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو موسیٰ کاظم (علیہ السلام )کی قبر پر جاکر توسّل کرتا ، خداوند متعال میری مشکل کو آسان فرما دیتا.(۲ )

____________________

۱۔ حوالہ سابق ۲: ۲۱۹.

۲۔تاریخ بغداد ۱: ۱۲۰، باب ما ذکر فی مقابر بغداد


۱۳۔اہل مدینہ کاقبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسّل کرنا :

مسعودی نے مروج الذہب میں لکھاہے :اتّصلت ولا یته بأهل المدینة ، فاجتمع الصغیر والکبیر بمسجد رسول الله صلی الله علیه وآله وضجّوا الی اللّٰه ، ولا ذوا بقبر النّبیّ ثلاثة أیّام ، لعلمهم بما هو علیه من الظلم والعسف ۔

۵۳ ہجری میں حاکم عراق زیاد بن ابیہ نے معاویہ کو ایک نامہ میں یوں لکھا : میں نے پورے عراق پر اپنے دائیں ہاتھ سے قبضہ کرلیا ہے اور میرا بایا ں ہاتھ خالی ہے یعنی مجھے مزید علاقوں کی حکومت سونپی جائے پس معاویہ نے حجاز کی حکومت بھی اس کے سپرد کر دی جب اہل مدینہ کو اس کی خبر ملی تو شہر کے تمام چھوٹے بڑے افراد مسجد النّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جمع ہو کر گریہ وزاری اور دعاو فریاد کرنے لگے اور پھر تین دن تک قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جاکر ان سے توسّل کرتے رہے اس لیے کہ وہ اس کے ظلم وستم سے آگاہ تھے اس توسّل کی بدولت تین دن بعد زیاد بن ابیہ مر گیا( ۱ )

قارئین محترم !آپ خود توسّل کے جوازکے بارے میں بیان کیے گئے دلائل و شواہد کووہابیوں کی ادلّہ سے مقایسہ کریں جو اسے شرک اکبر قرار دیتے ہیں اور پھر خود ہی فیصلہ کریں ۔

ابن تیمیہ کہتا ہے (الشرک شرکان: أکبر وله أنواع ومنه طلب الشفاعة من المخلوق والتوسّل )( ۲ )

____________________

۱۔ مروج الذہب ۳: ۳۲.

۲۔ الکلمات النافعة فی المفکرات الواقعة : ۳۴۳ ، عبد اللہ بن محمد بن عبدالوہاب ضمن الجامع الفرید؛ التوصل الی حقیقة التوسل : ۱۲؛ مجموعة الرسائل والمسائل ۱: ۲۲.


شرک دو طرح کا ہے : ایک شرک اکبر ہے جس کی انواع واقسام ہیں ان میں سے ایک مخلوق سے شفاعت و توسّل کا طلب کرنا ہے ۔

وہابیوں کے عقیدہ کے مطابق صدر اسلام سے لے کر آج تک کے تمام مسلمان مشرک ہیں اور تنہا نجدی وہابی قرن الشیطان ( شیطان کاسینگ )ہی حقیقی موحد ہیں

علاوہ از ایں ان کے نظریہ کے مطابق تمام دینی تعلیمات چاہے وہ قرآن ہو یا حدیث یا صحابہ کرام کی سیرت یہ سب مسلمانوں کو شرک اکبر کی طرف دعوت دینے والی ہیں!اور توحید کی دعوت دینے والے صرف نئے نبی و رسول یعنی ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب ہیں اور جنّت بھی برطانیہ کے انہی نمائندوں اور ان کے پیروکاروں أشدّ کفرا و نفاقا کے مصداق عربوں کے اختیار میں ہے(!)


۲۔شفاعت

شفاعت کیا ہے ؟

شفاعت کا حقیقی معنیٰ کسی ایسے شخص کے لیے بخشش کی دعا کرنا ہے جو سزا کامستحق ہو البتہ مجازی طور پر اپنے منافع کو حاصل کرنے کی درخواست کرنے کے بارے میں بھی استعمال ہوا ہے

اس کے حقیقی معنیٰ یعنی مجرم سے سزا کے بر طرف ہونیکی درخواست کے بارے میں علماء کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے(۱) مثال کے طور پر شیخ طوسی فرماتے ہیں : ہمارے عقیدہ کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤمنین کی شفاعت کریں گے نیز خداوند متعال بھی ان کی شفاعت قبول کرے گا جس کے نتیجہ میں اہل نماز گنہگاروں سے عذاب برطرف کر دیا جائے گا

ہمارے نزدیک خدا وند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ان کے بہت زیادہ اصحاب ، آئمہ معصومین علیہم السلام اور کئی ایک نیک مؤمنین کو شفاعت کی نعمت سے نوازا ہے( ۲ )

ابو حفص نسفی ( ت ۵۳۸ھ ) عالم اہل سنت نے بھی اس بارے میں لکھا ہے( ۳ ) : انبیاء اور صالحین کا گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کے لیے بخشش طلب کرنا بہت سی روایا ت سے ثابت ہے.

____________________

۱۔رسائل مرتضیٰ ۱: ۱۵۰؛ اور ۳: ۱۷.

۲۔ تفسیر تبیان : ۲۱۳

,۳۔ العقائد النسفیة : ۱۴۸


مسلمان اور عقیدہ شفاعت

انجام شدہ تحقیقات کے مطابق تمام مسلمان مسئلہ شفاعت پر اعتقاد رکھتے ہیں .اس بارے ہم میں دو طرح کے نظریات بیان کر رہے ہیں.

۱۔ قاضی عیاض کہتے ہیں :

اہل سنت شفاعت کو عقلی اعتبار سے جائز اور شرعی ا عتبار سے واجب قرار دیتے ہیں اور اس کے وجوب کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت شریفہ ہے :

( یومئذ لا تنفع الشّفاعة الّا من أذن له الرّ حمٰن ورضی له قول ) ( ۱ )

اس دن کسی کی شفاعت کا م نہ آئے گی سوائے ان کے جنہیں خدا نے اجازت دے دی ہواور ان کی بات سے راضی ہو

دوسری آیت میں ارشاد ہوا :( ولا یشفعون الّا لمن ارتضیٰ ) ( ۲ )

اور وہ کسی کی شفاعت بھی نہیں کر سکتے مگر یہ کہ خدا اسے پسند کرے

البتہ اس کے علاوہ بھی کئی ایک آیات ہیں جو شفاعت کے واجب ہونے پر دلالت کر رہی ہیں اور پھر بہت سی متواتر روایات میں بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قیامت کے دن گنہگار مؤمنین کی شفاعت کریں گے اور تمام اہل سنت علماء کا صدر اسلام سے لے کر آج تک اس کے صحیح ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے( ۳ )

____________________

۱۔ سورہ طہ : ۱۰۹.

۲۔ سورہ انبیاء : ۲۸.

۳۔ شرح صحیح مسلم نووی ۳: ۳۵، باب اثبات ا لشفاعةواخراج الموحّدین من النّار.


۲۔ ناصرالدین مالکی اس بارے میں لکھتے ہیں :

جو شخص شفاعت کا انکار کرے بہتر یہی ہے کہ شفاعت اس کے شامل حال نہ ہو لیکن جو شخص اہل سنت کی طرح شفاعت پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے وہ خدا کی رحمت کاامید وار ہے اور معتقد ہے کہ شفاعت گنہگار مؤمنین کے لیے ہے .. جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

میں نے شفاعت کو اپنی امت کے ان لوگوں کے لیے محفوظ رکھا ہوا ہے جو گنا ہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں( ۱ )

____________________

۱۔ الا نتصاف فیما تضمّنہ من الکشّاف من الاعتزال یہ کتاب کشاف کے حاشیہ کے ساتھ چھپ چکی ہے ۱: ۳۱۴.


اقسام شفاعت

شفاعت کے مفہوم کی وسعت کی بناء پر اسے چند قسمو ں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

۱۔ قیامت میں شفاعت :

شفاعت کی اس قسم سے مراد انبیاء ، آئمہ ، شھداء اور صالحین کامخلوق اور خدا کے درمیان واسطہ بننا ہے جس کے نتیجے میں گنہگار مؤمنین کے گناہ بخش دیے جائیں گے تمام مسلمان شفاعت کی اس قسم کو قبول کرتے ہیں یہاں تک کہ وہابی بھی ۔

۲۔ دنیا میں شفاعت کا طلب کرنا :

شفاعت کی اس قسم میں ہم اسی دنیا میں انبیاء ، آئمہ اور اولیاء الہی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آخرت میں ہماری شفاعت کریں شفاعت کی اس قسم کو بھی تمام مسلمان قبول کرتے ہیں سوا ئے وہابیوں کے کہ وہ اسے شرک قرار دیتے ہیں

شفاعت کی پہلی قسم کو دو طرح سے ثابت کیاجا سکتا ہے :


آیات کی روشنی میں

قرآن کریم کی اس آیت میں یوں وارد ہوا ہے :

( ومن اللیل فتهجد به نافلة لک عسی أن یبعثک ربک مقاما محمودا )

اور رات کا ایک حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہیںیہ آپ کے لیے اضافہ خیر ہے عنقریب آپ کا پرور دگار اسی طرح آپ کو مقام محمود تک پہنچا دے گا( ۱)

مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں لکھاہے کہ مقام محمود سے مراد وہی مقام شفاعت ہے

دوسری آیت میں فرمایا:( ولسوف یعطیک ربّک فترضیٰ ) ( ۲ )

اور عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اس قدر عطا کر دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے

احادیث کی روشنی میں

جیسا کہ بیان کیا جاچکا کہ شفاعت کے بارے میں بہت زیادہ احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں سے صرف دو کو بیان کر رہے ہیں :

پہلی حدیث : رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أعطیت خمسا....وأعطیت الشفاعة ، فأدّخر تها لأمتی لمن لا یشرک بالله شیئا ( ۳ )

مجھے پانچ چیزیں عطاکی گئی ہیں ان میں سے ایک شفاعت ہے جسے میں نے اپنی امت کے ان لوگوں کے لیے بچا رکھا ہے جو کسی کو خدا کا شریک نہیں ٹھہراتے

____________________

۱۔سورہ اسراء : ۷۹

۲۔ سورہ ضحیٰ : ۵.

۳۔ مسند احمد ۱: ۳۰۱ ؛ سنن نسائی ۱: ۲۱۱.


دوسری حدیث: اس حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أنا اوّل شافع و اوّل مشفع ( ۱ )

میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہو گی

علمائے اسلام کے اقوال کی روشنی میں

علمائے اسلام نے شفاعت کے بارے میں اپنے نظریات کو یوں بیان کیا ہے :

۱۔ شیخ مفید فرماتے ہیں :

شیعہ اثنا عشریہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روز قیامت ایک ایسے گروہ کی شفاعت کریں گے جو گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہوں گے

نیز امیر المؤمنین علیہ السلام اور بقیہ آئمہ اطہار علیہم السلام بھی روز قیامت گنہگاروں کی شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت بھی سے بہت سے گنہگار نجات پائیں گے .( اوائل المقالات فی المذاھب والمختارات : ۲۹. اس کتاب میں یوں بیان ہوا ہے :اتفقت الامامیة علی أنّ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یشفع یوم القیامة لجماعة من مرتکبی الکبائر من امته ، وأنّ امیر المؤمنین علیه السلام یشفع فی اصحابه الذنوب من شیعته ، وأنّ أئمة آل محمد علیهم السلام کذالک وینجی الله بشفاعتهم کثیرا من الخاطئین

۲۔ علا مہ مجلسی فرماتے ہیں :

تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شفاعت ضروریات دین میں سے ہے ؛ اس معنیٰ میں کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقط اپنی ہی امت کی نہیں بلکہ دوسرے انبیاء کی امتوں کی بھی شفاعت کریں گے۔( ۲ )

____________________

۱۔ سنن ترمذی ۵: ۲۴۸، باب ۲۲، حدیث ۳۶۹۵.

۲۔ بحارالأنوار ۸: ۲۹ اور ۶۳


۳۔ فخر رازی لکھتے ہیں :

امت اسلام کے اجماع و اتفاق کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روز قیامت شفاعت کا حق رکھتے ہیں اور خدا وند متعال کا یہ فرمان :( عسیٰ أن یبعثک ربّک مقاما محمودا ) اور( ولسوف یعطیک ربّک فترضیٰ ) اسی بات پر دلالت کر رہا ہے( ۱ ) .

۴۔ ابو بکر کلا باذی (م ۳۸۰ھ) لکھتے ہیں :

علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شفاعت کے بارے میں جوکچھ بیان کیا ہے اس کا اقرار کرنا واجب ہے .اور اس کی دلیل یہ آیت ہے کہ خدا نے فرمایا : عنقریب تمہیں عطاکروں گا کہ خوش ہو جاؤ گے( ۲ )

قابل ذکرہے کہ ابن تیمہ اور محمد بن عبدالوہاب نے بھی شفاعت کی اس قسم کا اقرار کیا ہے اور وہ اسکا انکار نہیں کر سکتے( ۳ )

____________________

۱۔ مفاتیح الغیب ۳: ۵۵؛ اس میں یوں ذکر ہوا ہے : أجمعت الأمة علی أنّ لمحمد صلی الله علیه وآله شفاعة فی الآخرة و حمل علی ذلک قوله تعالی : عسی أن یبعثک ربک مقاما محمودا أو قوله تعالی : ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ

۲۔لتعرف مذھب اہل التصوف : ۵۴؛ تحقیق عبدالحلیم اس کتاب میں لکھاہے :أنّ العلماء قد اجتمعوا علی أنّ الاقرار بجملة ماذکرالله سبحانه وجائت به الروایات عن النبی صلی الله علیه وآله فی الشفاعة، واجب لقوله تعالی : ( ولسوف یعطیک ) وقال النبی صلی الله علیه وآله : ( شفاعتی لأهل الکبائر من امتی

۳۔مجموعة الرسائل الکبرٰی : ۴۰۳؛الھدیة السنیة ،الرسالة الثانیة : ۴۲.


دنیا میں شفاعت

انبیاء و آئمہ طاہرین اور صالحین سے اسی دنیا میں شفاعت کی درخواست کرنے کے جوازوتائیدکے

بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی ایک روایات ہم تک پہنچی ہیں جن کے ہوتے ہوئے کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے اس لیے کہ پیغمبر صلی اللہ کی ولادت سے پہلے ، آپ کی زندگی میں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد شفاعت کا طلب کرنا واقع ہوا ہے اور آپ نے اس کی تائید فرمائی ہے یا یہ کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابہ کرام نے آپ کی رحلت کے بعد اس طرح شفاعت طلب کی یا ان کے سامنے شفاعت طلب کی گئی اور انہوں نے اس سے منع نہیں کیا

ولادت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے ان سے شفاعت طلب کرنا

معتبر تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ تبع بن حسان حمیری نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت سے ہزار سال پہلے ایک نامہ میں ان سے شفاعت کی درخواست کی اور جب یہ نامہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے اس کی تائید بھی کی اور یوں فرمایا : مرحبا بتبع الأخ الصالح آفرین اے نیک بھائی ) )

یہ تعبیر شفاعت کی در خواست کی تائید اور اس سے راضی ہونے کی حکایت کر رہی ہے اصل واقعہ کو امام جعفر صادق علیہ السلام کے معاصر ابن اسحاق نے اپنی کتاب المبدأ و قصص الأنبیائ میں نقل کیا ہے اور حلبی( م ۱۰۴۴ھ) نے اسےالسیرة الحلبیة میں ابن اسحاق سے نقل کیا


تبع بن حسّان نے اس نامہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یوں خطاب کیا ہے : اے محمد ! میں تمہارے پروردگار جس کی قدرت میں تمام مخلوقات ہیں اس پر اور ان تمام احکام پر ایمان رکھتا ہوں جو اس کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں پس اگر تمہاری رسالت کے زمانہ کو پا لیا تو بہت اچھا اور اگر درک نہ کر سکا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میری شفاعت کرنا اور اس دن مجھے فراموش نہ کرنا

ابن اسحاق مزید لکھتاہے : ابی لیلیٰ کے خاندان کے ایک فرد نے مدینہ کی طرف ہجرت کے دوران راستے میں یہ نامہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نامہ وصول کرنے کے بعد تین بار فرمایا :مرحبا بتبع الأخ الصالح

حلبی نے اس بات کا بھی اضافہ کیا ہے کہ تبع کے اس نامہ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ تھا.( ۱ )

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیا میں شفاعت کا طلب کرنا شرک کا باعث بنتا ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شرک آلود کام کی تائید کریں اور اسکے انجام دینے والے کو بھائی سے تعبیر کریں .؟!

کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مشرک شخص کو بھائی کہہ کر خطاب کر رہے ہیں ؟!

____________________

۱ السیرة الحلبیة ۲: ۲۷۹.اس کتاب میں یوں بیان هوا هے : امّا بعد یا محمد ! فانیّ آمنت بک و بربّک وربّ کلّ شیء وبکل ما جائک من ربّک من شرائع الاسلام والایمان و انّی قلت ذلک ، فان ادرکتک فیها ، وان لم ادرکک فاشفع لی یوم القیامة ولا تنسی

وکتب عنوان الکتاب الی محمد بن عبدالله خاتم النبیین والمرسلین ورسول ربّ العالمین ، من تبع الاول حمیر أمانة الله فی ید من وقع هذاالکتاب الی أن یدفعه الی صاحبه ودفعه الی رأس العلماء المذکورین

ثمّ وصل الکتاب الی النبی صلی الله علیه وآله وسلم علی ید بعض ولد العالم المذکور حین هاجر وهو بین مکة والمدینة و بعد قراء ة الکتاب علیه صلی الله علیه وآله وسلم قال : مرحبا بتبع الأخ الصالح ، ثلاث مرّات

. وکان بین تبع هذا أی بین قوله : انه آمن به وعلی دینه وبین مولد النبی صلی الله علیه وآله وسلم ألف سنة


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں ان سے شفاعت کا طلب کرنا

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ حیات میں موجود روایات پر نگاہ ڈالنے سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ صحابہ کرام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت کی درخواست کیا کرتے تھے جن میں سے دو مورد کی طرف اشارہ کررہے ہیں :

۱۔انس کی روایت:

انس بن مالک کہتے ہیں : میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ روز قیامت میری شفاعت کریں

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے میری درخواست کوقبول کرلیا اور فرمایا: میں اسے انجام دوں گا

میں نے عرض کیا : اس دن میں کس مقام پر آپ سے ملاقات کروں ؟

فرمایا : پل صراط کے کنارے. ۔

میں نے عرض کیا : اگر وہاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہ پا سکوں تو پھر ؟( ۱ )

فرمایا : میزان کے کنارے۔

میں نے پھر عرض کیا : اگر وہاں بھی آپ کو نہ پا سکا تو پھر ؟

فرمایا : حوض کے کنارے اس لیے کہ میں ان تین مقامات کے علاوہ کہیں اور نہیں ہوں گا.

____________________

۱۔سنن ترمذی ۴: ۶۲۱ ، ح ۲۴۳۳. اس روایت کا متن یوں ہے : انس بن مالک کہتے ہیں : سألت النبی صلی الله علیه وآله وسلم أن یشفع لی یوم القیامة ؟

فقال : أنا فاعل .......قلت : فأین اطلبک ؟

قال: اولا علی الصراط

قلت : فان لم ألقک ؟

قال : عند المیزان

قلت: فان لم ألقک ؟

قال : عند الحوض ؛ فانّی لا أخطی هذا المواضع


۲۔سواد بن قارب کی روایت:

روایت میں آیا ہے کہ ایک دن سواد بن قارب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور اشعار کی صورت میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت طلب کرتے ہوئے کہا :

وکن لی شفیعا یوم لا ذو شفاعة

سواک بمغن فتیلا عن سواد بن قارب ( ۱ )

اے پیغمبر ! روز قیامت میری شفاعت کرنا ، اس روز کہ جب دوسروں کی شفاعت خرما کے برابر بھی میرے کام نہ آئے گی

____________________

۱۔ الاصابة ۲: ۶۷۵،ح ۱۱۰۹؛ الاحادیث الطوال طبرانی : ۲۵۶ ؛ الدّرر السّنیة فی الرد علی الوھابیة: ۲۷


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعدان سے شفاعت کی درخواست

ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت صرف ان کی زندگی ہی میں محدود نہیں تھی بلکہ صحابہ کرام وصال کے بعد بھی پیغمبر رحمتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت کی درخواست کرتے رہتے اس بارے میں چند روایات نقل کر رہے ہیں :

۱۔ حضرت علی علیہ السلام کا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت طلب کرنا :

محمد بن حبیب کہتا ہے : جب حضرت علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل وکفن دے چکے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرہ مبارک سے کفن کو ہٹاتے ہوئے عرض کیا :

بأبی أنت و امّی طبت حیّاو طبت میّتا بأبی أنت و امّی أذکرنا عند ربّک (۱)

میرے ماں باپ آ پصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قربان ہوں آپ نے پاک و پاکیزہ زندگی کی اور پا ک و پاکیزہ ربّ کی بارگاہ میں منتقل ہوئے .. میرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قربان ہوں اپنے ربّ کی بارگاہ میں ہمیں بھی یاد رکھنا.

۱۔ التمہید ، ابن عبد البر ۲: ۱۶۲؛شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ۱۳: ۴۲، ح۲۳.

۲۔ ابوبکر کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت طلب کرنا :

حضرت عائشہ کہتی ہیں : جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی خبر ابو بکر تک پہنچی ...تو اس نے اپنے کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے (بدن مبارک )کے اوپر گرایا ، چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹاکر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صورت و پیشانی اور رخساروں پر ہاتھ ملتے ہوئے رو کر کہا :.اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! ہمیں اپنے پرور دگار کی بارگاہ میں یاد رکھنا( ۱ )

____________________

۱۔ تمہید الأوائل و تلخیص الدلا ئل ، باقلانی ۱: ۴۸۸؛ الدرر السنیّة فی الرد ّ علی الوبابیة : ۳۴؛سبل الھدی والرشاد ۲:۲۹۹، باب ۲۸. اس حدیث کا متن یہ ہے :قالت عائشه وغیرها من الصحابة : انّ الناس أفحموا ودهشوا حیث ارتفعت الرنة حتی جاء الخبر أبا بکر حتی دخل علی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فأکبّ علیه و کشف عن وجهه و مسحه و قبّل جبینه و خدّیه و جعل یبکی و یقول : بأبی أنت وأمی و نفسی وأهلی طبت حیّا و مشیا أذکرنا یا محمد عند ربّک


۳۔ اعرابی کا صحابہ کی موجودگی میں شفاعت طلب کرنا:

احمد زینی دحلان ( امام الحرمین ) نے اس بارے میں ابن حجر عسقلانی سے روایت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدفین کے تین بعد ایک عر ب بادیہ نشین مدینے میں وار د ہوا اورقبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جا کر اپنے کو اس پر گرایا اور قبر کی خاک کو سر میں ڈال کر کہنے لگا : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی زندگی میں کچھ باتیں بیان فرمائیں ، ہم نے انہیں قبول کیا جس طرح آپ نے دستورات دینی کو خدا سے لیا اسی طرح ہم نے ان دستورات کو آپ سے لیا وہ آیات جو خدا وند متعال نے آپ پر نازل فرمائیں ان میں سے ایک یہ آیت بھی ہے :

( ولو أنهم اذ ظلموا أنفسهم جاؤوک فاستغفروا الله واستغفرلهم الرسول لوجدوا الله توّابا رحیما ) ۔

اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے لیے استغفار کرتے اور رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے.( ۱)

یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! میں نے اپنے اوپر ستم کیا ہے اور آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں تا کہ خدا سے میری بخشش کی دعا کریں

اتنے میں قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آواز آئی کہ خد انے تجھے بخش دیا ہے( ۲ )

____________________

۱۔سورہ نساء : ۶۴

۲۔الدرر السنیّة فی الردّ علی الوہابیة : ۲۱، نقل از جواہر الکلام ؛ تفسیر قرطبی ۵: ۲۶۵، ذیل آیت ۶۴ سورہ نساء ؛ تفسیر بحر المحیط ابو حیّان اندلسی ۴: ۱۸۰، باب ۶۴ ذیل سورہ نساء ان کتب میں یوں نقل ہوا ہے :قال العلاّمة ابن حجر فی جوهر المنّظم : وروی بعض الحفاظ عن أبی سعید السمعانی أنّه روی عن علی رضی الله عنه وکرّم الله وجهه : انّهم بعد دفنه صلی الله علیه وآله وسلم بثلاثة ایّام ، جائهم أعرابی ، فرمی بنفسه علی القبر الشریف و حثی ترابه علی رأسه ، وقال : یا رسول الله ! قلت فسمعنا قولک و وعیت عن الله ما وعینا عنک ، وکان فیما أنزل الله علیک قوله تعالی : ولو أنهم اذ ظلموا وقد ظلمت


حیات انبیاء

اس میں شک نہیں ہے کہ انبیائے الہی اور خاص طور پر آخری سفیر الہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحلت کے بعد بھی حیات ابدی کے مالک ہیں وہ دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں اور امّت کے اعمال ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں

ان کی یہ زندگی شہداء کی زندگی سے بالا تر ہے اس لیے کہ یقینا مقام نبوت مقام شہادت سے بلند وبالا ہے اس اعتبار سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ان سے شفاعت طلب کرنا کسی مردے سے شفاعت طلب کرنا نہیں ہے.

اس بارے میں مسلمان علماء و مفکرین نے اپنی آراء بیان کی ہیں جن میں سے چند ایک کو یہاں بیان کر رہے ہیں :

قسطلانی کہتے ہیں :لا شک ّ أنّ حیاة الأنبیاء علیهم الصلاة و السلام ثابتة معلومة مستمرّة و نبیّنا أفضلهم ، و اذا کا ن کذالک فینبغی أن تکون حیاته أکمل و أتمّ من حیاة سائرهم

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انبیاء کا وفات کے بعد بھی زندہ ہونا ایک ثابت، معلوم اور دائمی امر ہے دوسر ی طرف ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم باقی انبیاء سے افضل ہیں تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی بھی رحلت کے بعد ان سے اکمل ہو گی( ۱ )

____________________

۱۔المواھب اللدنیّة ۳: ۴۱۳.


شوکانی اپنی کتا ب نیل الأوطار فصل صلا ة المخلوقات علی النبی ّ وهو فی قبره حیّمیں لکھتا هے : وقد ذهب جماعة من المحققین الی انّ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم حیّ بعد وفاته و أنّه یسرّ بطاعات أمته ، وأنّ الأنبیاء لا بیلون ، مع أنّ مطلق الادراک کالعلم والسماع ثابت لسائر الموتی ، وورد النصّ فی کتاب الله فی حق ّ الشهدا ء أنّهم أحیاء یرزقون و أنّ الحیاة فیهم متعلقة بالجسد ، فکیف بالأنبیاء والمرسلین وقد ثبت فی حدیث : أنّ الأنبیاء أحیاء فی قبورهم و رواه المنذری و صحّحه البیهقی

محققین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحلت کے بعد بھی زندہ ہیں اور اپنی امّت کی اطاعا ت سے خوش ہوتے ہیں .انبیاء کے بدن قبر میں بوسیدہ نہیں ہوتے مطلقا ادراک جیسے علم وسماعت تمام مردوں کے لیے ثابت ہے اور قرآ ن کریم کی واضح نص کے مطابق شہدا ء زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے تو ان کی زندگی ان کے بدن سے متعلق ہے پس جب شھداء ایسے ہیں تو انبیاء و رسول تو بدرجہ اولیٰ زندہ ہیں اور ان کی زندگی ان کے جسم سے مربوط ہے

ابن حجرہیثمی اپنی کتاب میں عبد اللہ بن مسعود سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات کے بعد اپنی حیات کے بارے میں یوں فرمایا :حیاتی خیر لکم تحدثون و یحدث لکم ، ووفاتی خیر لکم ، تعرض علیّ أعمالکم فما رأیت من خیر حمدت الله علیه وما رأیت من شرّ أستغفرت الله لکم

میری زندگی بھی تمہارے لیے با عث برکت ہے اور میری وفات بھی تمہارے اعمال میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں جب تمہارے نیک اعمال کو دیکھتا ہوں تو خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اور جب تمہارے برے اعمال کو دیکھتا ہوں تو تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں


ابن حجر اس حدیث کی سند کے معتبر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اس حدیث کے راوی وہی صحیح بخاری اور صحیح مسلم والے ہیں( ۱ )

مسلم نیشاپوری نے بھی اپنی کتاب میں اس بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :مررت علی موسیٰ لیلة اسری بی عند الکثیب الأحمر وهو قائم یصلّی فی قبره

جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا وہ اپنی قبر میں نماز میں مشغول تھے.( ۲ )

____________________

۱۔ مجمع الزوائد ۹ : ۲۴؛ الجامع الصغیر : ۵۸۲؛ کنز العمّال ۱۱: ۴۰۷.

۲۔ صحیح مسلم ۷: ۱۰۲کتاب فضائل موسیٰ علیہ السلام ؛ المصنف عبد الرزّاق ۳:۵۷۷.


استغفارآیات کی روشنی میں

اب چونکہ استغفار کی بات آگئی تو مناسب یہی ہے کہ اس موضوع کو آیات و روایات کی روشنی میں پرکھا جائے اس بارے میں قرآن کریم کی بہت سی آیات موجود ہیں جن میں سے چند ایک کو بیان کر رہے ہیں :

۱۔ ہم سورہ منافقون میں پڑھتے ہیں :

( واذا قیل لهم تعالوا یستغفر لکم رسول الله لوّوا رؤسهم و رأیتهم یصّدون وهم مستکبرون ) ( ۱)

ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے حق میں استغفار کریں گے تو سر پھرا لیتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بناء پر منہ بھی موڑ لیتے ہیں

خدا وند متعال نے اس آیت مجیدہ میں پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت طلب کرنے سے رو گردانی کرنے کو نفاق کی علامت بیان کیا ہے .تو اس کی ضد یا نقیض وہی دنیا میں شفاعت کی درخواست کرنا ہے جو ایمان کی علامت ہے

۱۔ سورہ نساء میں بیان ہوا ہے :( ولو أنّهم اذ ظلموا أنفسهم جاؤوک فاستغفرواالله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توّابا رحیما ) ( ۲)

ترجمہ: اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا توآپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا او ر مہربان پاتے.

نیز یہ آیت بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بخشش کے طلب کرنے کو واضح طور پر بیان کررہی ہے جو حقیقت میں وہی طلب شفاعت ہے

____________________

۱۔سورہ منافقون : ۵.

۲۔سورہ نساء : ۶۴.


شفاعت کے بارے میں وہابی نظریہ

وبابی فرقہ اس بات کا مدعی ہے کہ دنیا میں شفاعت کا طلب کرنا حرام ہے .ابن عبد الوھاب کہتا ہے :(من جعل بینه و بین الله وسائط یدعوهم و یسألهم الشفاعة کفراجماعا )( ۱ )

جو شخص اپنے اور خدا کے درمیان واسطے قرار دے ، انہیں پکارے اور ان سے شفاعت طلب کرے تو اجماع کے مطابق اس نے کفر کیا ...؛

ہم ان کے اس نظریہ کو ردّ کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے مدعا پر محکم و قاطع ادلّہ بیان کریں گے اور پھر علمی وعقلی ادلّہ کے ساتھ ان کے نظریہ کو ردّ کریں گے

واضح ہے کہ وہابی دونوں اعتبار سے عاجز و ناتوان ہیں اب ہم فقط ان کی ادلّہ کو بیان کرنے پر اکتفا کریں گے

سب سے پہلی آیت جس سے وہابی استدلال کرتے ہیں وہ یہ آیت مجیدہ ہے کہ خدا وند متعال فرماتا ہے: (( ویعبدون من دون الله مالا یضرّهم ولا ینفعهم و یقولون هٰؤلاء شفعائنا عند الله قل أتنبئون الله بما لا یعلم فی السماوات ولا فی الأرض سبحانه وتعالی عمّا یشرکون ) )( ۲ )

ترجمہ:اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ا ن کی پرستش کرتے ہیں جو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ تم تو خدا کو اس بات کی اطلاع کر رہے ہو جس کا علم اسے زمین و آسمان میں کہیں نہیں ہے وہ پاک وپاکیزہ ہے اور ان کے شرک سے بلند و برتر ہے

محمد بن عبد الوہاب اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتاہے : خدا نے اس آیت میں یہ خبر دی ہے کہ جو شخص کسی کو خدا اور اپنے درمیان واسطہ قرار دے تو اس نے در حقیقت اس کی پرستش کی اور اسے خدا کا شریک ٹھہرایا ہے.

____________________

۱۔ مجموعة المؤلفات ۱: ۳۸۵؛ اور ۶: ۶۸ ،۲۔ سورہ یونس : ۱۸.


اس نظریہ کا جواب

ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس آیت سے اس طرح کا مفہوم لینا بہت عجیب اور خدا پر جھوٹ و افتراء کا واضح مصداق ہے اس آیت میں کہاں یہ کہا گیا ہے کہ کسی کو خدا اور اپنے درمیان واسطہ قرار دینا شرک ہے؟ کیا اس طرح کا مفہوم لینا اس آیت مجیدہ کا مصداق نہیں ہے :

( آلله أذن لکم أم علی الله تفترون ) ( ۱ )

کیا خدا نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا خدا پر افترا کررہے ہو ؟

اس لیے کہ آیت کا محورغیر خدا کی عبادت ہے نہ کہ کسی کو شفیع و واسطہ قرار دینا .آیت مجیدہ سے اس طرح کا مفہوم لینا اپنے مدعا کے اثبات کی خاطر ایک طرح کا مغالطہ یا کج فہمی ہے چونکہ یقینا جو لوگ انبیاء و آئمہ اطہار اورصالحین کو واسطہ قرار دیتے ہیں وہ ان کی پرستش نہیں کرتے.

اور پھر اس آیت مجیدہ کا شان نزول بھی اس بات کی حکایت کررہا ہے کہ جن کی مذمت کی گئی وہ وہ افراد تھے جو واسطوں کی پرستش کیا کرتے تھے نہ کہ صرف ان کو واسطہ قرار دیتے تھے چند ایک نمونوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں

جلال الدین سیوطی لکھتاہے: نضر ( جو مشرک تھا ) نے کہا :

روز قیامت لات وعزیٰ میری شفاعت کریں گے .اس وقت خدا وند متعال نے یہ آیت نازل کی :( فمن أظلم ممن افتری علی الله کذبا أو کذب بآیاته انّه لا یفلح المجرمون. و یعبدون من دون الله مالا یضرّهم ولا ینفعهم ..؛ ) ( ۲ )

ترجمہ : اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پرجھوٹا الزام لگائے یا اس کی آیتوں کی تکذیب کرے جب کہ وہ مجرمین کو نجات دینے والا نہیں ہے اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ فائدہ ...؛

____________________

۱۔ سورہ یونس : ۵۹.

۲۔سورہ یونس : ۱۷و ۱۸.


ابن کثیر اس آیت کی تفسیر اور شان نزول کے بارے میں لکھتاہے:

خداوند متعال اس آیت میں ان مشرکین کوردّکررہا جو اس کا شریک قرار دیتے اور ان کی پرستش کیا کرتے .وہ یہ گمان کرتے کہ ان کے خیالی خداان کو پروردگار حقیقی کے ہاں نفع پہنچائیں گے لہذا خدا وند متعال نے ان کے اس باطل عقیدے کے مقابلہ میں ان سے فرمایا : بتوں کی شفاعت نہ تو تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان کو تم سے دور کر سکتی ہے وہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں تمہارا گمان درست واقع ہو گا( ۱ )

ابو حیّان اندلسی نے بھی اس بارے میں یوں اظہار نظر کیا ہے :

فعل یعبدون کی ضمیر کفار کی طرف پلٹ رہی ہے اور( مالا یضرّهم ولا ینفعهم ) سے مراد بت ہیں جو نفع پہنچانے یا ضرر کو دفع کرنے کی قدرت نہیں رکھتے. اہل طائف لات کی پوجا کیا کرتے اور اہل مکہ عزٰی ، منات ، آسافا ، نائلہ اور ہبل کی پرستش کیا کرتے( ۲ )

____________________

۱۔ تفسیر القرّن العظیم ۲:۶۲۴ ذیل آیت سورہ یونس ، اس منبع میں اس طرح سے وارد ہوا ہے ۔ینکر تعالی علی المشرکین الذین عبدوا مع الله غیره ظانین ان تلک الالهة تنفعهم شفاعتها عند الله فأخبر تعالیٰ انها لا تنفع و لا تضر و لا تملک شیئا و لا یقع شیء مما یزعمون فیها و لا یکون هذ ابدا

۲۔ تفسیر البحر المحیط ؛ ج۵ ، ص ۱۳۳ سورہ یونس کی اٹھار ویں آیت کے ضمن میں اس منبع میں اس طرح سے نقل ہوا ہے :الضمیر فی و یعبدون عائد علی کفار قریش الذین تقدمت محاورتهم وما لا یضرهم و لا ینفعهم هو الاصنام ، جماد لا تقدر علی نفع و لا ضرر وکان أهل الطائف یعبدون اللات و أهل مکة العزی و مناة و أسافا و و نائلة وهبل


آلوسی مشرکین کی اس طرح کی عبادت کو ظلم شمار کرتے ہوئے لکھتا ہے:

یہ آیت مشرکین کے ایک اور ظلم کی حکایت کر رہی ہے اور اس جملہ کا عطف آیت نمبر ۱۵ پر ہے جس میں یہ فرمایا :( واذاتتلی علیهم ) کہ یہ آیت بھی مشرکین کے بارے میں تھی اور خدا وند متعال اس آیت کے قصہ کو اس آیت کے قصہ پر عطف کر رہا ہے اور پھر لفظ ما اس آیت میں یا تو موصولہ ہے یا موصوفہ کہ جس سے مراد بت ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے اور اس جملہ نہ تمہیں نفع پہنچاسکتے ہیں اور نہ ہی تم سے ضرر کو دور کر سکتے ہیں کا معنی یہ ہے وہ شفاعت کی قدرت نہیں رکھتے اس لیے وہ جمادات کے سوا کچھ نہیںہیں

اس کے بعد آلوسی نے مزید لکھاہے :

اہل طائف لات کی پوجا کیاکرتے اور اہل مکہ رزی ، منات ، آسافا ، نائلہ اور ہبل کی پوجا کیا کرتے اور کہتے کہ یہ خدا کے ہاں ہمارے شفیع ہیں

ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے یو ں نقل کیا ہے :

نضر بن حارث کہتا ہے : جب روز قیامت آئے گا تو لات و عزٰی ہماری شفاعت کریں گے اس کی اس گفتگو کے بعد یہ آیت نازل ہوئی( ۱ )

____________________

۱۔ تفسر روح المعانی ۱۱: ۸۸، ذیل آیت ۱۸ سورہ یونس اس میں یوں بیان ہوا ہے :ویعبدون من دون الله حکایة لجنایة أخرٰی لهم ، وهی عطف علی قوله سبحانه : واذا تتلی علیهم ، ( یونس : ۱۵) الآیة عطف قصّة علی قصّة وما امّا موصولة أو موصوفة والمراد بها الأصنام و معنی کونها لا تضرّ ولا تنفع أنّها لا تقدر علی ذلک لأنّها جمادات ، وکان أهل الطائف یعبدون اللات ، وأهل مکّة العزٰی ومناة و هبل و أسافا ونائلة و یقولون : هٰؤلاء شفعائنا عند الله ٔخرج ابن أبی حاتم عن عکرمة قال:کان نضر بن الحارث یقول: اذاکان یوم القیامة شفعت لی اللات والعزٰی ، وفیه نزلت الآیة.


حرمت شفاعت پردوسری دلیل

وہابیوں نے غیر خداسے شفاعت طلب کرنے کے حرام ہونے کی دوسری دلیل یو ں بیان کی ہے :

المیّت لا یملک لنفسه نفعا و لا ضرّا فضلا لمن سأله أن یشفع له الی الله ؛( ۱ )

میّت نہ تو اپنے نفع کا مالک ہے اور نہ ہی نقصان کا چہ جائیکہ وہ سوال کرنے والے کی خدا کے ہاںشفاعت کر سکے

ہم ان کی اس دلیل کے جواب میں کہیں گے : ہم اس سے پہلے تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے کہ انبیاء ، آئمہ ہدٰی اور شہداء زندہ ہیں اور نعمات الہی سے بہرہ مند ہیںجو ان کی حیات مجدد کی علامت ہے

جبکہ اس فرقے کا اشتباہ اسی مقام پر ہے کہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ انبیاء کی رحلت کے بعد ان سے شفاعت کی درخواست کرنا ایساہی ہے جیسے کسی مردے سے شفاعت کی درخواست کی جائے گویا انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت ہی نہیں کی ہے یا اس کے معنیٰ میں تدبّر نہیں کیا یا پھر باقی آیات کی مانند اس آیت کی تفسیر بھی اپنی کج فہمی کے ساتھ کی ہے خد اوند متعال فرماتا ہے :

( ولا تحسبنّ الّذین قتلوا فی سبیل الله أمواتا بل أحیاء عند ربّهم یرزقون فرحین بما آتاهم الله من فضله و یستبشرون بالّذین لم یلحقوا بهم من خلفهم ألّا خوف علیهم ولا هم یحزنون یستبشرون بنعمة من الله و فضل و أنّ الله لا یضیع أجر المؤمنین ) ( ۲ )

ترجمہ: او ر خبر دار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ مت کہنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں خدا کی طرف سے ملنے والے فضل و کرم سے خوش ہیں اور جو ابھی تک ان سے ملحق نہیں ہو سکے ہیں ان کے بارے میں خوش خبری رکھتے ہیں کہ ان کے واسطے بھی نہ کوئی خوف ہے نہ حزن وہ اپنے پرور دگار کی نعمت ، اس کے فضل اور اس کے وعدے سے خوش ہیں کہ وہ صاحبان ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا

____________________

۱۔ مجموعة المؤلفات ۱: ۲۹۶؛ اور ۴: ۴۲.

۲۔ سورہ آل عمران : ۱۶۹ تا ۱۷۱.


سمھودی نے بھی کتابوفاء الوفاء بأحوال دار المصطفیٰ میں ان روایات کو نقل کیا ہے جو انبیاء کی رحلت کے بعد بھی ان کے زندہ ہونے پر دلالت کررہی ہیں جن میں سے ایک روایت یہ ہے :

ألأنبیاء أحیاء فی قبورهم یصلّون

انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں.

دوسری روایت یہ ہے :

انّ الله حرّم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیائ ؛( ۱ )

خدا وند متعال نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیاء کے اجساد کو نقصان پہنچائے

اس بارے میں اور بھی روایات وارد ہوئی ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی رحلت کے بعد ان کے زندہ و جاوید ہونے پر دلالت کرتی ہیں جو کچھ بیان کیا گیا اس کی بناء پر اس فرقہ کا عقیدہ مسلمانوں کے ان مسلّمہ عقائد کے خلاف ہے جو انہوں نے دسیوں آیات و روایات سے لیے ہیں

دوسری جانب چونکہ وہابی ان واضح و قاطع ادلّہ کو ردّ یا ان کی توجیہ نہیں کرسکتے لہذا ان کا تفکّر مسلمانوں کے تفکّر کے مقابل قرار پاتا ہے اور عبد الکافی سبکی کے بقول ابن تیمیہ :شذّ عن جماعة المسلمین ؛ وہ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہو گیا( ۲ )

ہم انحراف کے شر، شیطان کے وسوسے اورنفاق سے بچنے کے لیے خداوند متعا ل سے پناہ چاہتے ہیں

____________________

۱۔ وفاء الوفاء بأحوال دار المصطفیٰ ۴: ۱۳۴۹.

۲۔ طبقات الشافعیة الکبرٰی ۱۰: ۱۴۹؛ مقدمة الدرّة المضیئة فی الردّ علی ابن تیمیہ بحوث فی الملل والنحل سبحانی ۴: ۴۲ ؛ سلفیان در گذر تاریخ : ۲۳.

Internet Download Manager

Internet Download Manager has been registered with a fake Serial Number

OK


خاک مدینہ سے علاج

نقل شدہ روایات کے مطابق مسلمان خاک مدینہ کو بطور تبرّک استعمال کیا کرتے سمھودی کہتے ہیں :

ابن نجّار کی کتاب اور ابن جوزی کی کتاب الوفاء سے ہم تک یہ روایت پہنچی ہے:

غبار المدینة شفاء من الجذام (۱)

____________________

۱۔ فیض القدیر ۴: ۴۰۰؛ التیسیر بشرح الجامع الصغیر ۲: ۱۵۹.


مناوی فیض القدیر میں لکھتے ہیں: ابوسلمہ کہتے ہیں : مجھ سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : غبارالمدینة شفاء من الجذامیعنی مدینہ منورہ کا غبار جذام کی بیماری کے لئے شفاء کا باعث ہے

وہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

ایک شخص جذام کے مرض میں مبتلا تھا ہم نے دیکھا کہ بیماری سے اس کی حالت بہت بری ہوچکی تھی اس نے مدینہ منوّرہ کی خاک شفاء کے طور پر استعمال کی ،ایک دن گھر سے باہر آیا اور ( قبا کے راستہ میں وادی بطحان کے اندر)کومة البیضاء نامی ریت کے ٹیلہ پر جاکر اپنے بدن کو زمین پر ملا جس سے اسے شفا مل گئی ۔( ۱ )

تبرّک اور اہل سنّت فقہاء کا نظریہ

گزشتہ صفحات میں ہم نے بیان کیا کہ فقہائے اہل سنت نے تبرّک کے جائز ہونے کا فتوی دیا ہے .عبداللہ بن حنبل کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے پوچھا : ایک شخص منبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تبرّک کے طور پر مس کررہا تھا اور اسے چوم رہا تھا اور یہی عمل قبر مبارک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بھی بجا لا رہا تھا ،کیا یہ عمل جائز ہے؟

فرمایا : اس میں کوئی عیب نہیں ہے( ۲ )

یہی روایت کتابالجامع فی العلل و معرفة الرجال میں اس اضافہ کے ساتھ نقل ہوئی ہے کہ : یہ شخص ان اعمال کو خداوند متعال کی بارگاہ میں تقرّب کا وسیلہ بھی قرار دیتا ہے؟

احمد بن حنبل نے جواب میں کہا : اس میں کوئی مشکل نہیں ہے( ۳ )

____________________

۱۔فیض القدیر ۴: ۴۰۰

۲۔بحوالہ سابق۴: ۱۴۱۴؛سبل الھدی والرشاد ۱۲: ۳۹۸؛ عمدة القاری ۹: ۲۴۱


ابن العلا کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کا نظریہ ابن تیمیہ کو دکھایا تو وہ اسے دیکھ کر تعجب میں پڑ گیا اور کہنے لگا : مجھے احمد سے تعجب ہو رہا ہے اس لئے کہ میرے نزدیک وہ ایک باعظمت شخص ہیں.کیا واقعا یہ انہی کا جملہ ہے ۔( ۱ )

رملی شافعی نے بھی تبرّک کے بارے میں اسی طرح کا فتوٰی دیا ہے : اگرکوئی شخص کسی نبی یا ولی یاعالم کی قبر پر تبرّک کے قصد سے ہاتھ پھیرے یا اسے چومے تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے.( ۲ )

محب الدین طبری شافعی کہتے ہیں : قبر کو چومنا اور اسے مس کرنا جائز ہے اور علماء وصالحین کی بھی یہی عادت رہی ہے.( ۳ )

آثار پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تبرّک

تبرّک کے دیگر نمونوں میں سے ایک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کے باقیماندہ آثار سے تبرّک حاصل کرنا ہے منبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں کے ہاں ایک خاص عظمت و مقام ر کھتا ہے یہاں تک کہ بعض فقہاء نے اس منبر کی عظمت واحترام کی وجہ سے اس کے پاس قسم کھانے سے منع کیا ہے اور ہمیشہ اس سے تبرّک حاصل کیا کرتے

کتاب آثار النّبوة میں نقل ہوا ہے کہ منبر پیغمبر وصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی جگہ پر موجود تھا کہ آگ کی لپیٹ میں آگیا جس سے اہل مدینہ کو بہت صدمہ پہنچا ؛ اسی آتش سوزی میں منبر کا دستہ جس پر آنحضرت اپنادست مبارک رکھا کرتے اور پاؤں مبارک کے رکھنے کی جگہ بھی جل گئی( ۴ )

____________________

۱۔وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۴۱۴.

۲۔ کنز المطالب ،حمزاوی :۲۱۹؛یہ فتوی شراملسی نے شیخ ابو ضیاء سے ''مواہب اللدنیہ ''کے حاشیہ میں نقل کیا. ۳۔اسنی المطالب ۱: ۳۳۱؛وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۴۰۷ ۴۔الآثارالنّبویة :


سمہودی کہتے ہیں : پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منبر پر غلاف کے مانند ایک کپڑا چڑھا کر روضہ آنحضرت کے پاس محراب میں رکھ دیا گیا ، لوگ اس محراب سے ہاتھ بڑھا کرتبرّک کے طور پر منبر مبارک کو مس کیا کرتے تھے( ۱ )

انہی روایات کی بناء پر فقہاء تبرّک اور منبر کے مس کرنے کے جواز کا فتوٰی دیا کرتے.امام مالک کے استاد یعنی یحیی بن سعید انصاری ،مالک ، ابن عمر اور مسیب سے نقل ہوا ہے کہ وہ منبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دستے کو مس کرنا جائز قرار دیتے اور اسی طرح اس کا جائز ہونا اہل بیت علیہم السلام سے بھی نقل ہوا ہے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

واذا فرغت من الدّعا ء عند قبر النبیّ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فآت المنبر فامسحه بیدک وخذ برمّانتیه ، وهما السفلان ، وامسح عینیک ووجهک به ، فانّه یقال : انّه شفاء للعین .( ۲ )

جب قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دعا سے فارغ ہوں تو منبر کے پاس جا کر اسے مس کریں اور پھر اسکے دونوں دستوں کو تھام کر اپنی صورت اور آنکھیں اس سے مس کریں ،اس لئے کہ یہ عمل آنکھوں کی شفا کا موجب ہے۔

امام غزالی نے بھی اس بارے میں اظہار نظر کرتے ہوئے لکھا ہے: جو شخص پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں ان کو دیکھ کر تبرّک حاصل کر سکتا ہے وہ ان کی وفات کے بعد ان کی زیارت کرکے بھی تبرّک حاصل کر سکتا ہے اوریہی چیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کے لئے سفر کر نے کے جواز کا باعث بنتی ہے.( ۳ )

____________________

۱۔ وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی۲: ۳۹.

۲۔ وسائل الشیعة ۱: ۲۷۰،باب ۷.

۳۔احیا ء العلوم ۱: ۲۵۸.


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مس شدہ سکوں سے تبرّک

نقل شدہ روایات کے مطابق صحابہ کرام ان سکوں سے تبرّک حاصل کیا کرتے جنہیں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مس کیا تھا جابر بن عبداللہ کہتے ہیں: ایک سفر میں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ تھاتو میرا اونٹ مریض ہو گیا اور میں قافلہ سے پیچھے رہ گیا ،پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ سے پوچھا : اے جابر ! کیا ہوا ؟

میں نے عرض کیا : میرا اونٹ مریض ہو گیا ہے. آنحضرت نے اسے ہاتھ پھیرا تو وہ اس قدر تندرست ہوگیا کہ پورے قافلے سے آگے آگے چلنے لگا. اور پھر آنحضرت نے اسے خریدنے کا فرمایا : تو میں نے عرض کیا : آپ کے لئے حاضر ہے لیکن آپ نے قبول نہ کیا

اس کے بعد جابر کہتے ہیں : میں اسی اونٹ پر مدینہ گیا تو آنحضرت نے بلال سے فرمایا کہ اسے اونٹ کی قیمت سے کچھ زیادہ پیسے دے دو

جابر کہتے ہیں میں نے ارادہ کیا کہ یہ اضافی پیسے مرتے دم تک اپنے سے جدا نہیں کروں گا .میں نے انہیں اپنے تھیلے میں رکھ لیا یہاں تک کہ واقعہ حرّہ( یہ وہ دن تھا جب سپاہ یزید نے مدینہ منوّرہ پر حملہ کر کے لوگوں کا وحشیانہ طریقہ سے قتل عام کیااوران کا مال لوٹ لیا ) میں شامی فوجیوں نے مجھ سے چھین لئے۔( ۱ )

ایک اور روایت میں ہے کہ انس بن مالک کہتے ہیں : ایک دن حجام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بال تراش رہا تھا تو صحابہ کرام اس کے ارد گرد جمع تھے او رہر ایک نے آنحضرت کا ایک ایک بال پکڑ رکھا تھا۔( ۲ )

نیز ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ احمد بن حنبل ہمیشہ اپنے پاس ایک بال رکھا کرتے اور کہتے کہ یہ پیغمبر کا ہے( ۳ )

____________________

۱۔ مسند احمد بن حنبل ۳: ۳۱۴،ح ۱۴۴۱۶؛ صحیح بخاری ۲: ۸۱۰،ح ۲۱۸۵.

۲. جامع االأصول۴:۱۰۲.

۳۔ سیر أعلام النبلاء ۱۱: ۲۵۶و۲۳۰.


نقل ہوا ہے کہ معاویہ نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ مجھے پیغمبر کے پیراہن اور چادر میں دفن کیاجائے اور ساتھ آنحضرت کا بال مبارک رکھا جائے( ۱ )

اگرچہ یہ وصیت ریا کاری کی بناء پر تھی یایہ کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے چونکہ اس کا راوی عبدالاعلی بن میمون ہے جو مجہول الحال اور رجال کی معتبر کتب میں اس کا نام ونشان تک نہیں ہے البتہ تبرّک ایک ایساامر ہے جو مسلمانوں کے درمیان رائج رہا ہے

کہا گیاہے کہ تاریخ میں یہ بھی نقل ہوا ہے کہ صحابہ کرام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آب وضو کے قطرات سے شفاطلب کرنے کی خاطر آپس میں جھگڑا کرتے( ۲ )

حضرت عائشہ کہتی ہیں : لوگ اپنے بچوں کو تبرک کے طور پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس لایا کرتے( ۳ )

ابن منکدر تابعی ہمیشہ مسجد نبوی کے صحن میں آکر لیٹ جایا کرتے اور اپنا بدن وہاں پر رگڑاکرتے، جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو کہا : میں نے یہاں پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا ہے

البتہ چونکہ وہ تابعی ہیں اور پیغمبر کو درک نہیں کیا لہذا ان کا یہ کہنا کہ میں نے دیکھا ہے اس سے مراد خواب میں دیکھنا ہے.( ۴ )

روایت میں آیا ہے کہ کبشہ نامی عورت کہتی ہیں : ایک دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور لٹکی ہوئی مشک کے دہانے سے پانی پیاتو میں نے اٹھ کر مشک کے دہانے کو کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا

ابن ماجہ نے اس روایت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : مناسب یہی ہے کہ جس جگہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا دہن مبارک رکھا اس سے تبرّک حاصل کیا جائے .ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا اور اسے صحیح و معتبر قراردیتے ہوئے کہا ہے : یہ روایت احمد بن حنبل نے انس سے اور اس نے امّ سلیم سے نقل کی ہے ۔( ۵ )

____________________

۱۔ تہذیب الکمال ۱۸: ۵۲۶.

۲۔ تاریخ بخاری ۳: ۳۵،ح ۱۸۷؛تاریخ طبری ۳: ۴۷۵.

۳۔مسند احمد بن حنبل ۶: ۲۱۲؛ح ۲۵۸۱۲؛ صحیح مسلم۱: ۲۳۷،ح ۲۸۶.

۴۔ وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴:۱۴۰۶؛ سیر أعلام النبلاء ۵: ۳۵۹.،


وہ قبور اور جنازے جن سے تبرّک حاصل کیا گیا

روایت میں بیان ہوا ہے : ایک شخص نے سعد ( صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )کی قبر کی مٹی اٹھائی اور تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ا س سے مُشک کی خوشبو آرہی ہے.( ۱ )

عبداللہ بن غالب حدانی روز ترویہ( ماہ ذیحجہ کی آٹھویں تاریخ کو روز ترویہ کہا جاتا ہے .مترجم) قتل کر دئیے گئے،ان کی قبر کی مٹی سے مُشک کی خوشبو آتی تھی جس کی وجہ سے لوگ اسے اپنے کپڑوں پر ملا کرتے.( ۲ )

حنبلیوں کے امام احمد بن حنبل نے ۲۴۱ہجری میں وفات پائی ، ان کی قبر مشہور زیارت گاہ ہے اور لوگ وہاں سے تبرک حاصل کرتے ہیں.( ۳ )

سبکی نے امام بخاری کی وفات اور اس کے دفن کے بارے میں یوں لکھا ہے:

جب بخاری کو دفن کر دیا گیا تو لوگ ا س کی قبر کی مٹی اٹھا کر لے جایا کرتے یہاں تک کہ خود قبر ظاہر ہونے لگی اور قبر کو بچانا بھی مشکل ہوگیا تھا لہذا قبر کے اوپر ایک جالی لگا دی گئی جو مربع یا مستطیل نما تھی اور اس میں سوراخ تھے اور پھر کسی کا ہاتھ قبر تک نہیں پہنچتا تھا( ۴ )

____________________

۱۔ الطبقات الکبرٰی ۳: ۴۳۱؛ سیر أعلام النبلائ۱: ۲۸۹.

۲۔ حلیة الأولیا ء ۲: ۲۵۸.

۳۔ طبقات حنابلہ ،ابویعلی ۲: ۲۵۱؛ قابل ذکر ہے کہ بغداد میں اب اس قبر کا کوئی نشان نہیں ہے

۴۔ الطبقات الشافعیة الکبرٰی ۲: ۲۳۳؛ سیر أعلام النبلاء ۱۲: ۴۶۷.


دوسری جانب ابن تیمیہ کے پیروکار اس کے جنازے اور اس کے غسل کے پانی سے تبرّک حاصل کیا کرتے .سوال یہ پید اہوتا ہے کہ کیا ابن تیمیہ کے پیروکار مشرک اور اہل بدعت تھے ؟ کیا یہ فتوٰی اس کے اپنے پیرو کاروں کے لئے نہیں ہے ؟

کیا تبرّک اور مس کرنے کا جائز ہونا ایک عقلی امر اور مسلمانوں میں عام نہیں تھااور اس کے حرام ہونے کا فتوٰی دینا ایک غیرمعقول اور غیر شرعی کام نہیں ہے؟

ہاں ابن تیمیہ کے تشییع جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی وہ تبرّک حاصل کرنے کے لئے اپنے رومال اور پگڑیاں اس کے جنازے پرپھینک رہے تھے اور اس کے جنازے کے تختہ کی لکڑیاں توڑ کر تبرّک سمجھ کر اپنے ساتھ لے گئے انہوں نے بچ جانے والے سدر کو خرید کر آپس میں بانٹا نقل ہوا ہے : وہ رسّی جو سیماب میں تر تھی اور ابن تیمیہ جوؤں کو دور کرنے کے لئے اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ،وہ ایک سو پچاس درہم میں خریدی گئی.( ۱ )

ابن تیمیہ اور وہابی فکر کے مطابق تو یہ سب کام شرک کے واضح نمونے ہیں بنا بر ایں اس کے جنازے میں شریک تمام لوگ مشرک تھے

تبرّک کے دیگر نمونوں میں سے ایک یحیٰی بن مجاہد (م ۳۶۶ھ) سے تبرّک حاصل کرنا ہے ابن بشکوال کہتے ہیں وہ زاہدعصر اور اپنے شہر کے عابد شخص تھے،لوگ اس سے تبرّک حاصل کرتے اور اس کی دعا کا سہارا لیتے ۔( ۲ )

____________________

۱۔البدایة والنھایة ۱۴: ۱۳۶؛الکنی والالقاب۱:۲۳۷.

۲۔سیر أعلام النبلائ۱۶:۲۴۵.


باعظمت چیزوں سے تبرّک حاصل کرنا

مسلمان باعظمت چیزوں سے بھی تبرّک حاصل کیا کرتے ، سبکی کہتے ہیں :۶۴۲ہجری میں میرے والد دارالحدیث اشرفیہ میں ساکن ہوئے تو وہ ہر شب اس کے برآمدہ میں جاکر فرش پر عبادت کیا کرتے اور اپنی صورت کو اس پر ملتے یہ فرش اشرف ( وقف کرنے والے) کے زمانہ سے وہا ں پر موجود تھا اور نووی درس پڑھاتے وقت اس پر بیٹھا کرتے تھے ۔( ۱ )

امام غزالی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کے آداب میں لکھتے ہیں :

زائر کو چاہیئے کہ وہ اریس نامی کنویں کے پا س جائے اس لئے کہ کہا گیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس میں آب دہن پھینکا تھا .یہ کنواں مسجد کے قریب ہے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے پانی پیا اور اس کے پانی سے وضو کیا.البتہ مدینہ منوّرہ میں تیس مکان مساجد و زیارت کے عنوان سے معروف ہیں اور شہر کے لوگ ان سے آشنا ہیں اور زائر کو چاہیے کہ و ہ اپنی طاقت کے مطابق وہاں جائے ،نیز شفاو تبرّ ک حاصل کرنے کے لئے اس کنویں کے پاس جائے جس سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پانی پیااوروضو وغسل کیا ۔( ۲ )

امام احمد بن حنبل کے بیٹے کے پاس اپنے باپ کی نشانی ایک کرتہ تھا وہ کہتے تھے : میں اس میں نماز پڑھتا ہوںاور اس سے تبرّک حاصل کرتا ہوں.( ۳)

____________________

۱۔الطّبقات الشافعیة الکبرٰی ۸: ۳۹۶.

۲۔ احیاء العلوم ۱: ۲۶۰.

۳۔سیر أعلام النبلاء ۱۱: ۲۳۰.


مختلف صدیوں اور زمانوں میں تبرّک کے بارے میں جو مسلمانوں کی سیرت بیان کی گئی ہے اسے مدّ نظر رکھتے ہوئے کیا یہ وہابیوں کے اسلام او ر توحید سے انحراف کی دلیل نہیں ہے؟

محمد بن اسماعیل بخاری ۲۵۶ ہجری میں فوت ہوئے ، سمر قند کے لوگوں نے اسے دفن کیا اور اس کی قبر کی مٹی سے تبرّک حاصل کیا کیا وہ کافر تھے ؟

آپ کس بناء پر مسلمانوں پر حملہ آور ہو تے ہیںاور ان کی طرف ناروا نسبت دیتے ہیں ؟

پس کہاں ہے تمہارے کلام میں تقوٰی و عفت ؟

اسلام اور سنت نبوی میں کہاں تمہارے یہ افکار وفتاوٰی موجود ہیں ؟ ہم تبرّک کے بارے میں اسی قدرنصوص پر اکتفاء کرتے ہیں ایسی نصوص جن میں قبور سے تبرّک کو مسلمانوں کے درمیان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لے کر آج تک ایک رائج امر بیان کیاگیا اور پھر کسی فقیہ نے نہ یہ کہ اس کے حرام ہونے کا فتوٰی نہیں دیا بلکہ اس کے جواز ، رجحان اور استحباب کی بھی تصریح کی ہے .ہم اس بحث کو ذہبی کے کلام پرتمام کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں :

عبداللہ بن احمد کہتے ہیں : میں نے اپنے باپ احمد بن حنبل کو دیکھا انہوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بال مبارک اپنے ہا تھ میں لیا ہوا تھا اسے کپڑوں سے مس کرتے اور چومتے ، میرے خیال کے مطابق وہ اسے اپنی آنکھوں پر بھی لگایا کرتے اسی طرح اسے پانی میں ڈال کر اس پانی کو شفاکے طور پر پیا کرتے ایک دن میں نے دیکھاکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے برتن کو پانی میں دھو کر اس پانی کو پی رہے تھے

ذہبی کہتے ہیں : کہاں ہے وہ ضدی انسان جو احمد کے ا س عمل کاانکار کرے ؟ جبکہ ایسا عمل ثابت ہے

عبداللہ نے اپنے باپ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو منبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دستے کو مس کر رہا تھا تو انہوں نے جواب میں کہا : ایسے عمل میں کوئی مشکل نظر نہیں آتی .میں خوارج اوراہل بدعت کے انحرافی افکار سے خدا کی بارگاہ میں پناہ مانگتا ہوں.( ۱ )

____________________

۱۔ سیر أعلام النبلاء ۱۱: ۲۱۲.


۴۔استغاثہ

حاجت کی درخواست

وہ موضوعات جو طول تاریخ میں مسلمانوں کے درمیان رائج رہے ہیں ان میں سے ایک استغاثہ اور غیرخداسے مدد طلب کرنا ہے اس موضوع میں بھی وہابیوں کانظریہ تمام مسلمانوں کے نظریے کے مخالف ہے

ابن تیمیہ کہتا ہے :

اگر کوئی شخص ایسے مردے سے جو عالم برزخ میں موجود ہے یہ کہے : میری مدد کو پہنچ ، میری مدد کر یا میری شفاعت کر ،دشمن کے مقابلہ میں میری نصرت فرما اور اسی طرح کے دیگر کلمات جبکہ ان کاموں کو خدا کے سوا کوئی انجام نہیں دے سکتا تو وہ مشرک ہے اور اس کا یہ عمل شرک کی اقسام میں سے شمار ہو گا .( ۱)

وہ اپنے رسالہزیارة القبور والاستنجاد بالمقبور میں لکھتا ہے:( ۲ )

اگر کوئی شخص کسی نبی یا ولی کی قبر پر جا کر اس سے مدد طلب کرے .مثال کے طور پر اس سے درخواست کرے کہ مجھے بیماری سے شفا دے و... تو وہ واضح طور پر شرک کا مرتکب ہوا ہے ایسا جملہ کہنے والے کو چاہیے کہ توبہ کرے اور توبہ نہیں کرتا تو اس کی گردن اڑا دی جائے.( ۳ )

____________________

۱۔الھدیة السّنیة : ۴۰.

۲۔ رسالہ زیارة القبور : ۱۸،۲۱و ۱۵۶.

۳۔قابل ذکر ہے کہ وہابی آج بھی اپنی فقہی کتب میں اس طرح کے خرافات لکھتے رہتے ہیں مثال کے طور پر کتاب فتاوٰی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء ۸:۳۱۵


نیز محمد بن عبدالوہاب کہتا ہے:

غیر خدا سے حاجت کی درخواست اور ان کو پکارنا دین سے خروج اور مشرکین کے دائرہ میں شامل ہونے کا باعث بنتا ہے ایسے شخص کا مال وجان مباح ہے مگر یہ کہ توبہ کر لے .( ۱)

وہابی مردے سے دعا طلب کرنے کو جائز نہیں سمجھتے اور ان کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے:

( ان المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا ) ۲ )

اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے علاوہ کسی کو مت پکارو.

وہابی نظریہ کی تحقیق اور اس پر اعتراض

جیسا کہ عرض کرچکے کہ غیر خدا سے مدد طلب کرنا مسلمانوں کے درمیان رائج امور میں سے ہے .اب وہابیوں کے نظریہ کی گہری تحقیق اور اس پر اعتراض کو بیان کریں گے .ہم ان کے جواب

پر یہ لکھا ہے:

اہل سنت کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیاں شیعہ یا کیمونسٹ بچوں کو مت دیں اور اگر ایسا عقد واقع ہو جائے تو وہ باطل ہے اس لئے کہ شیعوں میں اہل بیت کو پکارنا اور استغاثہ رائج ہے جو شرک اکبر ہے. اسی کتاب کا مؤلف ایک اور مقام پر لکھتا ہے :

وہ ( شیعہ)ایسے مشرک ہیںجو شرک اکبر کاارتکاب کر کے د ین اسلام سے خارج ہو گئے ہیں اس بنا پر ان کو اپنی بیٹی دینا یا ان کی خواتین سے شادی کرنا حرام ہے .اسی طرح ان کے ذبیحے کا کھانا بھی حرام ہے۔

____________________

۱۔کشف الشبہات : ۵۸

۲۔سورہ جن: ۱۸.


میں کہتے ہیںغیر خدا سے مدد تین طرح سے ممکن ہے :

۱۔ اس شخص کوفقط نام سے آواز دی جائے .مثال کے طور پر یہ کہیں : یا محمد ! یا عبدالقادر ! یا اہل بیت

۲۔ کبھی یوں مدد طلب کی جاتی ہے : اے فلاں ! میرا قرض ادا کر اور مجھے شفا دے .یا محمد ! اپنے فضل و کرم سے مجھے بے نیاز کردیں

۳۔ اور کبھی اس طرح ندادی جاتی ہے : اے فلاں ! میری شفاعت کر .اے فلاں! خدا سے میری حاجت برآوری کی دعا کریں.

واضح ہے کہ ان تین قسموں میں سے کسی ایک میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے اس لئے کہ ہر مسلمان موحّدکا یہ عقیدہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جو مستقل طور پر کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہو یا کسی سے ضرر کو دفع کر سکتی ہو

بنابر ایں ایسا شخص جسے خداوند متعال نے منتخب کرلیا اور اسے دوسروں پر برتری دی ہے اس کی طرف رجوع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ شخص ( نبی و...)واسطہ بنے اوردعا کرے تاکہ جلد حاجت روائی ہو.

اگر کوئی یہ کہے : یامحمد ! خداسے میری حاجت پوری ہونے کی دعاکریں تو اس کا حقیقی مقصد خدا وند متعال ہے جس کے ہاتھ میں پوری قدرت ہے اور یہ فعل کو سبب کی طرف نسبت دینے کے باب سے ہے اوریہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کہا جائے کہ بہار نے سبزہ ہی سبزہ کردیا.


قرآن مجید میں بھی اس طرح کے بہت سے مواردپائے جاتے ہیں جہاں بظاہر فعل کی نسبت بندوں کی طرف دی گئی ہے جن میں سے صرف دو موارد کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :

۱۔ سورہ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:

( ولوأنّهم رضوا ما آتا هم الله ورسوله وقالوا حسبنا الله سیؤتینا الله من فضله ورسوله انّا الی الله راغبون ) ) )( ۱ )

ترجمہ: اور اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیا ہے اور یہ کہتے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے عنقریب اللہ اور اس کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیں اپنے فضل سے نوازیں گے بے شک ہم خدا کی طرف راغب ہیں ۔

در حقیقت بے نیاز کرنا صرف خدا ہی کی جانب سے ہے لیکن خداوند متعال نے اس آیت مجیدہ میں اپنے رسول کو بھی رزق دینے میں شریک کیا ہے جبکہ وہابی اس طرح کی گفتگو مجھے رزق دے کو شرک وکفر قرار دیتے ہیں

۲۔ سورہ آل عمران میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی زبانی یوں پڑھتے ہیں :

( انّی أخلق لکم من الطین کهیئة الطیر فأنفخ فیه فیکون طیرا باذن الله وأبریء الأکمه والأبرص وأحی الموتی باذن الله... ) ( ۲ )

ترجمہ: میں مٹی سے تمہارے لیے ایک چیز پرندے کی صورت میں بناؤں گا پھر اس میں پھونکوں گا کہ خدا کے ارادہ سے پرندہ بن جائے گا اور میں مادر زاد اندھے اور برص میں مبتلا شخص کو ٹھیک کروں گا اور مردوں کو خدا کے ارادہ سے زندہ کروں گا ۔

اس آیت مجیدہ میں بھی خداوند متعال خلق کرنے ،برص کی بیماری اورپیدائشی نابینوں کو شفا دینے اور مردوں کو زندہ کرنے کی نسبت حضرت عیسٰی علیہ السلام کی طرف دے رہا ہے اگر یہ سب

____________________

۱۔ سورہ توبہ : ۵۹.

۲۔ سورہ آل عمران : ۴۹.


جائز ہے کہ یقینا جائز ہے تو پھر رسول گرامی اسلام یا ولی خداسے بیماری کی شفا ، حاجت کی بر آوری اور قرض کے ادا ہونے کی درخواست کرنااور وہ بھی باحکم خدا ،کیسے شرک ہو سکتا ہے

بنا بر ایں استغاثہ وہی کسی شخص سے دعا کی درخواست کرنا ہے کہ جس میں کسی قسم کی کوئی ممانعت نہیں ہے چاہے مدد کرنے والا مقام ومرتبہ کے اعتبار سے جس کی مدد کر رہا ہے اس سے بلند وبر ترہو یا کمتر .مزے کی بات تو یہ ہے کہ خود ابن تیمیہ لکھتا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا :

( مامن رجل یدعوله أخوه بظهر الغیب دعوة الّا وکّل الله بها ملکا ، کلّما دعا لأخیه دعوة ، قال الملک : ولک مثل ذلک ) .

اگر کوئی شخص اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا کرے تو خدا وند متعال فرشتے اس کے بھائی کی جانب سے وکیل معین کرتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے دعاکرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو( ۱)

اس حدیث شریف کے مطابق ایسا عمل جائز ہے اسی طرح دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے:

ایک مرتبہ جب قحط سالی ہوئی تو لوگوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ وہ باران رحمت کی دعا کریں .آنحضرت نے خدا وند متعال کی بارگا ہ میں دعا فرمائی تو بارش برس پڑی( ۲ )

____________________

۱۔ْرسالہ زیارة القبور : ۱۲؛ کشف الارتیاب : ۲۲۳.

۲۔ مسند احمد ۳: ۲۴۵،ح ۱۳۵۹۱.


جو کچھ بیان کیا گیا اس کے مطابق اگر کوئی شخص کسی سے اپنے پاس بلانے کی درخواست کرے ،یا اس سے مدد طلب کرے یا اس سے کوئی چیز طلب کرے ، یا یہ کہ وہ اس کی حاجت پوری کرے تو نہ تو اس نے اس شخص کی عبادت کی ہے اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے

اسی طرح جو شخص پیغمبر کو پکارتا پے تاکہ وہ اسکی شفاعت کریںتو وہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ درحقیقت معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے اگر وہ چاہے تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قبول کرے اور اگر نہ چاہے تو ردّ کر سکتا ہے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صرف فیض الہی کے پہنچانے میں واسطہ ہیں اور درخواست کرنے والا شخص بھی مستقل سمجھ کر ان سے درخواست نہیں کرتا

دوسری جانب جیسا کہ شفاعت کی بحث میں بیان کرچکے کہ انبیاء الہی موت کے بعد بھی زندہ ہیں بنابر ایں انبیا ء یا اولیاء جو اس دنیا سے منتقل ہو چکے ان سے توسّل کرنے والوں کی آواز سننے میں شرعی طور پر کوئی مانع موجود نہیں ہے ا سلئے کہ وہ زند ہ ہیں .نتیجةََ وہابیوں کے یہ نظریات کہ انبیاء و اولیاء مردہ ہیں اور مردہ کچھ سن نہیں سکتا لہذا ان سے توسّل اور حاجت طلب کرنا درست نہیں ہے ، یہ باطل اور فضول باتیں ہیں۔

فقہاء کی نظر میں استغاثہ اور مددطلب کرنا

جوکچھ بیان کیا گیا اس سے یہ روشن ہوگیا کہ استغاثہ اور غیر خدا سے مدد طلب کرنے کے بارے میں وہابیوں کا نظریہ باطل ہے اور علمائے اہل سنّت نے بھی اس عقیدہ کے باطل ہونے کی تاکید فرمائی ہے جس کے چند ایک نمونے پیش کر رہے ہیں :


۱۔ علاّمہ قسطلانی(م ۹۲۳ھ) کہتے ہیں:

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کرنے والے شخص کے لئے سزاواریہ ہے کہ وہ آنحضرت کے روضہ مبارک میں عاجزی ودعا کرے .اسی طرح آنحضرت سے استغاثة کرے ،ان سے شفاعت طلب کرے اور ان سے توسّل کرے.( ۱ )

۲۔ علاّمہ مراغی(م۸۱۶ھ) کہتے ہیں:

پیغمبر کی ولادت سے پہلے یا ولادت کے بعد ، اسی طرح ان کے اس دنیا سے انتقا ل کے بعد جب وہ عالم برزخ میں ہوں تب یاجس دن دوبارہ زندہ کیا جائیگا یعنی بروزقیامت ،ان سے توسّل کرنے اورمددو شفاعت طلب کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے.( ۲ )

۳۔ قیروانی مالکی ( م ۷۳۷ھ ) زیارت قبور کے بارے میں ایک الگ فصل میں لکھتے ہیں:

انبیاء و رسل ۔خدا کا درود وسلام ہو ان پر ۔ کا احترام یہ ہے کہ زائر ان کی قبور پر جائے اوروہیں دور سے ہی ان کی زیارت کا قصد کرلے .اور پھر تواضع وعاجزی ،انکساری ،رازونیاز اور خضوع کے ساتھ ان کی قبر کے کنارے کھڑا ہو کر قلب وفکر کو ان کی طرف متوجہ کرے اور پھر دل کی

____________________

۱۔المواہب اللدنیة ۳: ۴۱۷.

۲۔ تحقیق النضرة : ۱۱۳.


آنکھوں سے ان کا مشاہدہ کرے اس لئے کہ ان کے بدن مبارک نہ تو گلے سڑے ہیں اور نہ ہی پراکندہ ہوئے ہیں

پس اپنے گناہوں کی بخشش اور تمناؤں کی حاجت روائی کے لئے خداوند متعال کے ہاں ان کے وسیلہ سے توسّل کرے.اوران سے استغاثہ اور اپنی حاجت طلب کرے اور یہ یقین اور حسن ظنّ رکھے کہ ان کی برکت سے دعا قبول ہوتی ہے اس لئے کہ وہ خداکے کھلے دروازے ہیںاور سنّت الہی بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کی حاجات کو ان کے وسیلے اور ان کے ہاتھوں سے پورا فرماتا ہے.

اولین وآخرین کے سردار و سرور ،پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کرتے وقت جو کچھ باقی انبیاء کے لئے بیان کیا گیا ہے اس سے کئی برابر زیادہ انجام دے اور زیادہ سے زیادہ عاجزی وتواضع اوردل شکستگی کے ساتھ ان کی قبرپر کھڑا ہو اس لئے کہ وہ ایسے شفیع ہیں کہ جن کی شفاعت ردّ نہیں ہوتی اور جو بھی ان کاارادہ کرکے ان کی قبر مبارک پرجائے، ان سے استغاثہ و فریاد کرے تو ناامید واپس نہیں آئے گا .اور آنحضرت ۔ خداکا درود وسلام ہوان پر ۔ سے توسّل گناہوں اور خطاؤں کے محو ہونے کا باعث بنتا ہے۔( ۱ )

____________________

۱۔المدخل فی فضل زیارة القبور ۱: ۲۵۷؛الغدیر ۵: ۱۱۱.


استغاثے کے نمونے

اب ہم صحابہ کرام اور علمائے اہل سنّت کے قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے استغاثہ کے نمونے پیش کر رہے ہیں :

۱۔نابینا شخص کا پیغمبر سے استغاثہ :

طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ صحابی رسول عثمان بن حنیف سے نقل کیا ہے :

ایک شخص کئی بار اپنی مشکل حل کروانے کی خاطر( خلیفہ سوم )عثمان بن عفّان کے پاس آیا لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی .وہ شخص عثمان بن حنیف سے ملا اور سارا ماجراسنایا.

عثمان بن حنیف نے کہا :وضو کر کے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو اور پھریوں کہو:

اللّهمّ انّی أسئلک وأتوجّه الیک بنبیّنا محمّد نبیّ الرحمة ّ ،یا محمّد ! انّی أتوجّه بک الی ربّی فتقضی لی حاجتی

اے پروردگار!میں اپنے نبی رحمت حضرت محمّد کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری بارگا ہ میں متوجہ ہوں ،یا محمّد ! میں آپ کو اپنے ربّ کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دیتا ہوں پس آپ میری حاجت پوری فرمائیں.


اس کے بعد اپنی حاجت بیان کر اس شخص نے عثمان بن حنیف کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا اورپھر عثمان بن عفّان کی رہائش گاہ کی طرف گیا جیسے ہی نگہبان نے دیکھا اس کا ہاتھ تھاما اور عثمان کے پا س لے کرپہنچا ،اس نے اسے مخمل کے فرش پر بٹھایا اور کہا بتا کیا کام ہے؟ اس شخص نے اپنی مشکل بیان کی تو عثمان نے حل کردی وہ شخص وہا ں سے نکل کر سیدھا عثمان بن حنیف کے پاس پہنچا اور ان سے کہا: خدا آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے عثمان بن عفّان کو میری سفارش کی .انہوں نے کہا : خدا کی قسم میں نے تو آپ کی کوئی سفارش نہیں کی .البتہ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک نابینا شخص رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ااور اپنی نابینائی کی شکایت کی

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا صبرکر سکتا ہے؟

عرض کرنے لگا :یا رسول اللہ ! میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو میرا عصا پکڑ کرمجھے ادھر ادھر لے جائے اور یہ میرے لئے سخت ہے

آنحضرت نے فرمایا : جاؤ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرو اور یہ دعاپڑھو...

عثمان بن حنیف کہتے ہیں : ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ شخص ہمارے پاس پہنچا اور ا سطرح کہ گویا کبھی نابینا تھا ہی نہیں.( ۱ )

____________________

۱۔ اس حدیث کوان کتب میں نقل کیا گیا ہے : مسند احمد ۴: ۱۳۸؛ سنن ترمذی ۵: ۵۶۹،ح ۳۵۷۸؛ سنن ابن ماجہ ۱: ۴۴۱؛ طبرانی نے اس حدیث کو المعجم الکبیر ۹: ۳۰،ح ۸۳۱۱اور المعجم الصغیر ۱:۳۰۶،ح ۵۰۸میں لکھا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے


۲۔ حضرت عائشہ اور عمر کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر سے استغاثے کا حکم دینا :

دارمی نے اپنی سنن میں یوں نقل کیا ہے :

ایک دن اہل مدینہ سخت قحط سالی میں مبتلاہوئے تو حضرت عائشہ سے شکایت کی .انہوں نے کہا : قبر پیغمبر پر جا کراس میں ایک سوراخ کرو تاکہ قبر اور آسمان کے درمیان مانع نہ رہے

راوی کہتا ہے : جب لوگوں نے ایسا کیا تو اتنی بارش برسی کہ سبزہ اُگ آیا اور حیوان موٹے ہوگئے ،یہاں تک کہ دنبوں کی دم چربی کی وجہ سے ظاہر ہونے لگی اور اس میں چیر پڑ گئے اور اس سال کو فتق (موٹاپے سے چیر ا جانا )کا نام دیا گیا ۔( ۱ )

دوسری روایت ابن ابی شیبہ نے سند صحیح کے ساتھ ابی صالح سمان سے اور اس نے مالک الدار ( خلیفہ ثانی کے گودام کے انچارج )سے نقل کی ہے:

خلیفہ دوم کے زمانہ خلافت میں جب قحط سالی پڑی تو ایک شخص قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جاکر عرض کرنے لگا : یا رسول اللہ !آپ کی اُمّت ہلاک ہورہی ہے ان کے لئے باران رحمت کی دعا فرمائیں اسے خواب میں کہا گیا : عمر کے پاس جاؤ

سیف نے الفتوح میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : وہ شخص بلال بن حارث مزنی صحابی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے( ۲)

مسعودی ( م ۳۴۶ھ) مروج الذھب میں لکھتے ہیں :

۵۳ ہجری میں حاکم عراق زیاد بن ابیہ نے معاویہ کو ایک نامہ میں یوں لکھا :

میں نے دائیں ہاتھ سے عراق کو فتح کرلیا ہے اور بایاں ہاتھ خالی ہے معاویہ نے حجاز کی حکومت اس کے سپرد کر دی. جیسے ہی یہ خبر اہل مدینہ تک پہنچی تو تمام اہل مدینہ مسجد نبوی میں جمع ہو کر گریہ و زاری کرنے لگے اور تین دن تک قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پراس کے مظالم سے پناہ مانگتے رہے اس لئے کہ وہ اس کے مظالم سے آگاہ تھے .( ۳)

____________________

۱۔ سنن دارمی ۱: ۵۶؛ سبل الھدی والرشاد ۲ ۱: ۳۴۷؛وفاء الوفاء بأخبارالمصطفٰی ۴: ۱۳۷۴.

۲۔فتح الباری ۲: ۴۹۵؛ وفاء الوفاء بأخبارالمصطفٰی ۴: ۳۷۲.

۳۔مروج الذہب ۳: ۳۲.


ایک اور روایت میں نقل ہوا ہے کہ محمد بن منکدر کہتے ہیں :

ایک شخص نے میرے باپ کے پاس اسّی دینا ر امانت کے طور پر رکھے اور کہا کہ اگر ضرورت پڑ جائے تو انہیں خرچ کر کے جہاد پر جانا.

وہ سال لوگوں نے بہت سختی میں گزارا، میرے والد نے بھی وہ پیسے خرچ کر دیئے .پیسوں کا مالک آیا تو میرے باپ نے کہا کہ کل آنا

اسی رات میرے والد مسجد نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں گئے کبھی قبر کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی منبر شریف کی طرف صبح کی نماز کے قریب قبر پیغمبر سے استغاثے میں مشغول تھے کہ تاریکی میں ایک شخص نمودار ہوا اور کہا : اے ابو محمد ! یہ لو.

میرے والد نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس سے لے لیا ، جب دیکھا تو ایک تھیلی میں اسّی دینا ر تھے اب جب صبح ہوئی تو وہ شخص اپنے پیسے واپس لینے آیاتو میرے والد نے وہی اسّی دینار اسے دے دیا.( ۱ )

مزید ایک روایت میں پڑ ھتے ہیں ابوبکر بن مقری کہتے ہیں :

ایک دن میں ، ابوالقاسم طبرانی( م۳۶۰ھ) اور ابوالشیخ روضہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت سے مشرّف ہوئے تو وہاں ہمیں بھوک نے شدید پریشان کیا ،ہم نے وہ دن اسی حالت میں گزار دیا جب رات ہوئی تو میں نے قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس جا کر کہا : یا رسول اللہ ! ہم بھوکے ہیں.

اس کے بعد اپنے دوستوں کے پاس پہنچا ، ابوالقاسم طبرانی نے مجھ سے کہا : یہیں پر بیٹھ جاؤ یا آج کھانا آئے گا یا موت

____________________

۱۔ وفاء الوفاء بأخبارالمصطفٰی ۴: ۱۳۸۰.


ابوبکر کہتے ہیں : میں اور ابوالشیخ اٹھے مگر طبرانی وہیں پر کچھ سوچ رہا تھا کہ اتنے میں اچانک ایک شخص نے مسجد کے دروازے پر دستک دی ،ہم نے دروازہ کھولا تو دیکھا ایک علوی شخص ہے جس کے ہمراہ دو غلام ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کھانے سے بھری ہوئی ٹوکریاں ہیں .ہم نے ان سے کھانا لیا اور سیر ہو کر کھایااور یہ سوچاکہ بچاہوا کھانا وہ اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن وہ اسے وہیں پر چھوڑ کر چلے گئے. جب کھانے سے فارغ ہوئے تو اس علوی نے کہا : کیا تم نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھوک کی شکایت کی ہے ؟ میں نے خواب میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے مجھے فرمایا کہ تمہارے لئے غذا لے آؤں( ۱ )

سمہودی نے ایک اور روایت میں نقل کیا ہے کہ ان جلاد کہتے ہیں :

میں مدینہ میں داخل ہوا جبکہ انتہائی فقر و تنگدستی میں مبتلاتھا قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پہنچا اور کہا : یا رسول اللہ ! میں آپ کا مہمان ہوں

اسی عالم میں میری آنکھ لگ گئی ،خواب میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت ہوئی تو آپ نے مجھے ایک روٹی دی جس میں سے میں نے آدھی کھائی. جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ باقی آدھی میرے ہاتھ میں ہے( ۲)

سمہودی نے ایک اور داستان میں یوں لکھا ہے :

ابوعبداللہ محمد بن ابی زرعہ صوفی کہتے ہیں : میں اپنے والد اور عبداللہ بن حنیف کے ہمراہ مکّہ کا سفر کر رہا تھا کہ راستے میں شدید تنگدستی کا شکار ہوگئے .جب مدینہ منوّرہ میں داخل ہوئے تو سخت

____________________

۱۔ حوالہ سابق۴: ۱۳۸۰.

۲۔حوالہ سابق.


بھوک لگی تھی .میں جو ابھی سنّ بلوغ تک نہیں پہنچاتھا اپنے باپ کے پاس پہنچا اور کہا : مجھے بھوک لگی ہے

میرے والد ضریح پیغمبر کے پاس گئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آ ج کی را ت ہم آپ کے مہمان ہیں!

اور پھر انتظار کرنے بیٹھ گئے تھوڑی دیر کے بعد اچانک سر بلند کیا کبھی روتے تھے اور کبھی ہنستے تھے جب اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا : پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت ہوئی ہے تو انہوں نے مجھے کچھ درہم عنایت کئے ہیں اتنے میں ہتھیلی کھولی تو اس میں درہم موجود تھے ان درہموں میں اتنی برکت تھی کہ شیراز واپس پلٹنے تک ہم ان میں سے خرچ کرتے رہے مگر وہ ختم نہ ہوئے( ۱ )

سمہودی نے اسی بارے میں ایک اور داستان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

شیخ ابو عبد اللہ محمد بن ابی الامان کہا کرتے : میں مدینہ میں محراب فاطمہ علیہا السلام کے پیچھے موجود تھا اور جناب سید مکثر القاسمی بھی اسی محراب کے پیچھے کھڑے تھے .اچانک قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف بڑ ھے اور پھر واپس پلٹے تو میں نے دیکھا مسکرا رہے ہیں.

شمس الدین صواب ( ضریح مبارک کے خادم) نے ان سے پوچھا : کیوں ہنس رہے ہیں ؟ کہنے لگے : میں سخت تنگدست ہو چکا تھا گھر سے نکلا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر پہنچ کر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے استغاثہ کیا اور کہا : میں بھوکا ہوں اس کے بعد سو گیا ، خواب میں پیغمبر کو دیکھا ،انہوں نے دودھ کا ایک جام دیاجسے پی کر میں سیر ہوگیا( ۲ )

____________________

۱۔ حوالہ سابق ۴: ۱۳۸۱.

۲۔ حوالہ سابق ۴: ۱۳۸۳.


کتاب وفاء الوفاء کے مؤلف نے ایک اور دلچسپ داستان یوں بیان کی ہے:

جناب ابو محمّد سید عبد السلام بن عبد الرحمان حسینی بیان کیا کرتے : میں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شہر میں تین دن گزارے اوران تین دنوں میں کھانا نہیںکھایا تھا منبرپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس گیا دو رکعت نماز پڑھ کر کہا : اے جدّ بزرگوار ! میں بھوکا ہوں اور آ پ سے یخنی کا طلبگار ہوں

اتنے میں مجھ پر نیند غالب آگئی ، اچانک ایک شخص نے مجھے نیند سے بیدار کیا جس کے ہاتھ میں یخنی سے بھرا لکڑی کا پیالہ تھااور مجھ سے کہا: اسے پیو

میں نے کہا : یہ غذا کہا ں سے لے آئے ہو ؟

کہنے لگا : تین دن سے میرے بچے اس غذا کی فرمائش کر رہے تھے آج تیسرے دن خدا وند متعال کی رحمت سے مجھے کام ملا تو یہ غذا تیار کر کے کھا کر سوئے تورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خواب میں فرمایا: تمہارا ایک بھائی اسی غذاکی تمنّا رکھتا ہے اسے جا کر دے آؤ.( ۱ )

اہل بیت کی قبور سے استغاثہ

قابل غور بات یہ ہے کہ طول تاریخ میں علمائے اہل سنّت ،اہل بیت علیہم السلام کی قبور سے بھی حاجت طلب کرتے رہے ہیںجس کے چند ایک نمونے بیان کر رہے ہیں :

۱۔ قاہرہ میں مقام امام حسین سے استغاثہ :

حمزاوی عدوی (م ۱۳۰۳ھ ) اپنی کتاب مشارق الأنوار میں امام حسین علیہ السلام کے سرمبارک کے محل دفن کے بارے طولانی گفتگو کے بعد لکھتے ہیں:

شایستہ تو یہی ہے کہ اس عظیم زیارت گاہ کی زیادہ سے زیادہ زیارت کی جائے تاکہ

____________________

۱۔حوالہ سابق.


انسان اس کے وسیلہ سے خدا وند متعال سے توسّل کرسکے اور اس امام بزرگوار سے جس طرح ان کی زندگی میں طلب کیا جاتا تھا اسی طرح اب بھی درخواست کی جائے ،اس لئے کہ وہ مشکل کشاہیںاوران کی زیارت ہر مصیبت زدہ شخص سے ناخوشگوار حوادث کو دور کر تی ہے. اور انکی نورانیت اور ان کے توسّل سے ہرغافل دل خداسے متصل ہو جاتا ہے.

انہی ناخوشگوار حوادث کا ایک نمونہ وہ حادثہ ہے جو میرے استاد بزرگوار ، عارف باللہ محمد شبلی معروف ابن الست کتاب العزیّة کے شارح کو پیش آیا کہ ان کی تمام تر کتب چوری ہو گئیں .وہ پریشان حال اور مضطرب تھے .آخر ہمارے ولی نعمت حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچے اور مناجات کے ساتھ آنحضرت سے استغاثہ کیا .تھوڑی دیر وہاں رکنے اور زیارت کرنے کے بعد جب واپس گھر پہنچے تو دیکھا ساری کی ساری کتابیںبغیر کسی کمی کے اپنی جگہ پر موجود ہیں( ۱ )

۲۔ نابینا شخص کا بارگاہ امام حسین علیہ السلام سے توسّل :

شبراوی شافعی ( م ۱۱۷۲ھ ) نے اپنی کتاب الاتحاف بحبّ الاشراف میں مصر میں امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کے دفن ہونے کے مقام کے بارے میں ایک الگ فصل تحریر کی ہے جس کے ایک حصّہ میں آنحضرت کی زیارت اور ان کی کچھ کرامات کو ذکر کیا .انہی کرامات میں سے ایک کرامت یوں بیان کی ہے :

شمس الدین قعوینی نامی شخص جو ا س بارگاہ کا ہمسایہ اور اس کا خاد م بھی تھا ایک دن آنکھ کے درد میں مبتلا ہوا یہاں تک کہ دونوں آنکھوں کی بینائی بھی دے بیٹھا .وہ ہرروز صبح کی نمازاسی بارگا ہ

____________________

۱۔ مشارق الأنوار ۱: ۱۹۷؛ الغدیر ۵: ۱۹۱.


میں ادا کرتا اور پھر ضریح مبارک امام حسین علیہ السلام کی طرف منہ کر کے کہتا : اے میرے مولا ! میں آپ کا ہمسایہ ہوں نابینا ہو چکا ہوں ،خداوند متعال سے آپ کے وسیلہ سے طلب کرتا ہوں کہ میری بینائی پلٹا دے اگرچہ ایک ہی آنکھ کی ہو

ایک رات خواب میں دیکھتا ہے کہ ایک گروہ اس بارگاہ کی طرف آرہا ہے .اس نے جاکر پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟

تو جواب میں کہا گیا : یہ شخص رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آتے ہیں .یہ شخص بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور وہی درخواست جو عالم بیداری میں کرتا تھا اب بھی امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں کی

امام حسین علیہ السلام اپنے جدّ گرامی کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے عرض کیا:

اس شخص کی شفاعت فرمائیں

رسول خد اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی !اس کی آنکھ میں سرمہ لگا دو

انہوں نے اطاعت کرتے ہوئے سرمہ دانی نکالی اور اس شخص سے فرمایا :میرے نزدیک آتاکہ تمہاری آنکھ میں سرمہ لگاؤں

وہ شخص پاس آیاتو اس کی دائیں آنکھ میں سرمہ لگادیا.اس نے جلن کا احساس کیاتو زور سے چیخ ماری اورنیند سے اٹھ گیا جبکہ ابھی تک جلن کا احساس ہو رہا تھا .اسی کرامت سے اس کی دائیں آنکھ کی بینائی واپس پلٹ آئی اور جب تک زند ہ رہا اسی آنکھ سے دیکھتا رہا( ۱ )

____________________

۱۔ الاتحاف بحبّ الاشراف : ۷۵سے ۱۰۱؛ الغدیر ۵: ۱۸۷.


۳۔ ابن حبّان کا قبر امام رضا علیہ السلام سے استغاثہ :

علمائے اہل سنّت میں سے ایک عالم دین جس نے اہل بیت علیہم السلام سے توسّل کیاابن حبّان ہیں اس کرامت کو بیان کرنے سے پہلے ہم اس بزرگوار کی شخصیت اوراہل سنّت کے ہاں اس کے مقام کوبیان کر رہے ہیں

اہل سنّت کے علمائے علم رجال نے ابن حبّان کے بارے میں یوں لکھا ہے :

وہ امام ، علاّمہ، حافظ( ۱) اور خراسان کی بزرگ شخصیت تھے .وہ مشہور کتب کے مؤلف ہیں ۲۷۰ھ میں پیداہوئے ، کچھ مدّت سمر قند کے قاضی بھی رہے .وہ فقہاء اورسلف کے دینی آثار کی حفاظت کرنے والے تھے انہوں نے مسند صحیح کو الأنواع والتقاسیم کے نام سے تحریر کیا اور کتاب التاریخ اور الضعفائ بھی انہی کے آثار میں سے ہے.سمر قند کے لوگ ان سے علمی استفادہ کیا کرتے...

ابوبکر خطیب بغدادی نے انہیں قابل اعتماد اور ثقہ علماء میں سے شمار کرتے ہوئے کہا ہے: ابن حبّان قابل اعتماد ، برجستہ، سمجھ دار اورباریک بین انسان تھے

حاکم نیشاپوری ان کی تعریف میں لکھتے ہیں :

ابن حبّان علوم فقہ ولغت اور حدیث ووعظ سے سر شار اور صاحب فکر وسر شناس بزرگ افراد میں سے تھے اور ہمارے پاس نیشاپور میں مقیم رہے( ۲ )

ان تمام خصوصیات کے مالک ابن حبّان کئی بار امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے گئے

____________________

۱۔حافظ ایسے شخص کو کہاجاتا ہے جسے ایک لاکھ سے بھی زیادہ احادیث زبانی یاد ہوں

۲۔سیر أعلام النبلاء ۱۶: ۹۲؛ میزان الاعتدال : ۶: ۹۸؛ طبقات سبکی ۳: ۱۳۱؛ الأنساب ۲: ۱۶۴.


اور ان سے استغاثہ کیا .کیا ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں میں یہ جرأت ہے کہ وہ ایسے شخص کی طرف کفر وشرک یا نادانی کی نسبت دیں ؟

وہ اما م علی بن موسٰٰٰی رضا علیہ السلام کے بارے میں یوں لکھتے ہیں :

علی بن موسٰی رضا علیہ السلام مامون کی جانب سے زہریلا شربت پلانے کے سبب وہیں طوس میں شہادت پا گئے .ان کی قبر سناباد نوقان سے باہر اور مشہور زیارت گاہ ہے میں نے کئی بار وہاں پر ان کی قبر کی زیارت کی .جب میں طوس میں تھا تو جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تو میں علی بن موسٰٰی رضا۔ خدا کا درود وسلام ہو ان پر اور ان کے جدّ پر۔ کی زیارت کے لئے جایا کرتا اور وہاں پہ اپنی مشکل کے برطرف ہونے کے لئے خدا سے دعا کرتااور میری دعا مستجاب ہو جاتی.جب تک طوس میں رہا میں نے اسے بارہا تجربہ کیا .خدا وند متعال ہمیں محبت مصطفٰی اور ان کے اہل بیت ۔ ان پر اور ان کے اہل بیت پر خداکا درود ہو ۔پر موت دے( ۱ )

۴۔ ابن خزیمہ کا قبر امام رضا علیہ السلام پر التماس کرنا:

محمد بن مؤمّل ( ۲)کہتے ہیں : میں امام اہل حدیث ابوبکر بن خزیمہ ، ان کے دوست ابن علی ثقفی اوراساتیذ و علماء کے ایک گروہ کے ہمراہ طوس میں علی بن موسٰی الرّضا علیہ السلام کی قبر کی زیارت پر گیا.تواس زیارتی سفر میں دیکھا کہ ابن خزیمہ اس مقام کاخاص احترام.اور تواضع کر رہا

____________________

۱۔ کتاب الثقات ۸: ۴۵۶؛ الانساب سمعانی ۱: ۵۱۷.

۲۔ان کی شخصیت کو پہچاننے کے لئے سیر اعلام النبلاء ۱۶: ۲۳ کا مطالعہ کریں


ہے اور اس کے نزدیک خاص طریقے سے التماس کررہا تھا جس سے ہمیں بہت تعجب ہوا( ۱)

ذہبی ابن خزیمہ کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں :

ابن خزیمہ شیخ الاسلام ، امام الآئمہ ، حافظ ، حجّت ، فقیہ اورعلمی آثار کے مالک ہیں. وہ ۲۲۳ہجری میں پیدا ہوئے اور علم حدیث وفقہ میں اس قدر تجربہ حاصل کیا کہ علم وفن میں ضرب المثل بن گئے

امام بخاری اورامام مسلم نے اپنی صحیح کے علاوہ باقی کتب میں ان سے احادیث نقل کی ہیں(۲ )

ان کے بارے میں کہا گیا ہے : خداوند متعال ابو بکر بن خزیمہ کے مقام و عظمت کی وجہ سے اس شہر سے بلاؤں کو دور کرتا ہے

دار قطنی نے بھی ان کے بارے میں اظہار نظر کرتے ہوئے لکھا ہے :

ابن خزیمہ ایسے پیشوا تھے جو علم کے اعتبار سے باریک بین اور بے نظیر تھے

باقی رجال شناس علماء نے ابن خزیمہ کے بارے میں کہا ہے : وہ سنّت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زندہ کرنے والے ہیں احادیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ظریف نکات کونکالتے وہ ایسے علماء میں سے تھے جو اعتراض کی نگاہ سے احادیث کو دیکھتے اور احادیث کے راویوں کو اچھی طرح پہچانتے تھے .وہ علم ودینداری ، نیز سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان عزّت ومقام رکھتے تھے( ۳ )

ابن ابی حاتم ،ابن خزیمہ کے بارے میں کہتے ہیں : وہ ایسے پیشوا ہیں جن کی پیروی کی جاتی

____________________

۱۔تہذیب التہذیب ۷: ۳۳۹؛ فرائد السمطین ۲:۱۹۸.

۲۔سیر اعلام النبلائ۱۴: ۳۶۵.

۳۔ سیراعلام النبلائ۱۴: ۳۷۴۔۳۷۷.


ہے ایسا شخص جس کا اہل سنّت کے ہاں اتنا بلند مرتبہ ہے وہ امام رضاعلیہ السلام سے استغاثہ بھی کر رہے ہیں اور ان کی قبر پرعاجزی والتماس بھی کر رہے ہیں. کیا ایسے شخص کے بارے میں ابن تیمیہ یا اس کے پیروکار یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مشرک یا کافر تھے ؟

کیاوہ ابن خزیمہ یاان جیسے دوسرے افراد کے بارے میں منفی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں؟! !

بعض صحابہ کرام اور علمائے اہل سنّت کی قبور سے استغاثہ

گزشتہ مطالب کی روشنی میں اسلام اور مسلمانوں کی سیرت میں استغاثے کی اہمیت معلوم ہو گئی کہ یہ امر طول تاریخ اسلام میں مسلمانوں کے درمیان رائج رہا ہے .اب ہم ان بعض صحابہ کرام اور علمائے اہل سنّت کی قبور کی طرف اشارہ کریں گے جن سے استغاثہ کیا گیا:


۱۔قبر ابوایوب انصاری ( م۵۲ھ روم ):

حاکم نیشاپوری لکھتے ہیں : لوگ ابو ایّوب انصاری کی قبر کی زیارت کے لئے جایا کرتے اور خشک سالی وقحط میں ان کی قبر پر جا کر باران رحمت کی التماس کرتے( ۱ )

۲۔ قبر ابوحنیفہ :

ابن حجر لکھتے ہیں : امام شافعی جب تک بغداد میں رہے ابوحنیفہ کی زیارت کے لئے جایا کرتے اور ان سے توسّل کرتے ان کی ضریح کے پاس جاکر زیارت کیاکرتے،ان پر سلام بھیجتے اور ان کے وسیلے سے اپنی حاجات کی برآوری کے لئے خدا سے متوسّل ہوتے

وہ آگے چل کر لکھتے ہیں : نقل معتبر کے مطابق امام احمد بن حنبل امام شافعی سے توسّل کیا

کرتے .یہاں تک کہ ایک دن ان کے بیٹے اپنے باپ کے اس عمل سے تعجب کرنے لگے

____________________

۱۔ المستدرک علی الصحیحین ۳: ۵۱۸، حدیث ۵۹۲۹؛ صفة الصفوة ۱: ۴۷۰،ح۴۰.


.احمد نے اس کے تعجب کو دیکھ کر کہا : شافعی لوگوں کے لیے خورشید کی مانند ہیں اور ان کا مقام وہی ہے جو بدن کے لئے سلامتی کا ہوتا ہے

اور جب امام شافعی کو یہ خبر دی گئی کہ مغرب کے لوگ امام مالک سے توسّل کرتے ہیں تو انہوں نے ان کے اس عمل کو برا بھلا نہیںکہا

شافعی کہتے ہیں : میں ابو حنیفہ کی قبر سے برکت حاصل کرتا ہوں اور ہر روز ان کی قبر پر جا تا ہوں اور اگر کوئی حاجت ہوتو دو رکعت نماز پڑھ کر ان کی قبر پر جاکر خدا سے حاجت کی برآوری کی التماس کرتا ہوں.( ۱ )

۳۔ قبر احمد بن حنبل :

ا بن جوزی مناقب احمد میں لکھتے ہیں:

عبداللہ بن موسٰی کہتے ہیں : ایک دن میں اپنے والد کے ہمراہ احمد کی قبر کی زیارت کے لیے باہر نکلا تو آسمان پر سخت تاریکی چھا گئی میرے باپ نے مجھ سے کہا : آئیں ابن حنبل کے وسیلے سے خدا سے متوسّل ہوں تاکہ وہ ہم پر راستے کو روشن کردے .اس لئے کہ اسّی سال سے جب بھی میں نے ان سے توسّل کیا ہے تو میری حاجت پوری ہو تی رہی ہے( ۱ )

۴ ۔ قبرابن فورک اصفہانی( م ۴۰۶ھ) :

ابن فورک محمد بن حسن متکلمین کے استاد اور اشعری مذہب تھے .وہ حیرہ ( نیشاپور کے اطرف میں )دفن ہوئے ،انکی بارگاہ معروف اور ایک زیارتی مکان ہے .لوگ ان سے بارش طلب کرتے

____________________

۱۔ خلاصة الکلام : ۲۵۲؛ تاریخ بغداد ۱: ۱۲۳؛ اخبار أبی حنیفہ : ۹۴.

۲۔ مناقب احمد : ۲۹۷.


ہیں اور ان کی قبر پر دعاقبول ہوتی ہے( ۱ )

۵۔ قبر شیخ احمد بن علوان ( ت ۷۵۰ھ) :

یافعی کہتے ہیں : شیخ احمد بن علوان کی کرامات میں سے ایک کرامت یہ ہے کہ جوفقہاء ان کے نظریے کے مخالف تھے وہ بھی مشکلات میں ان سے توسّل کرتے اور بادشاہ کے خوف سے ان کے ہاں پناہ لیتے( ۲ )

خاتمہ

ہم نے اس تحریر میں استغاثہ ، توسّل اور دعا کے بارے میں اختصار کے ساتھ تاریخی شواہدکوبیان کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ امر طول تاریخ اسلام میں قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صحابہ کرام کی قبور پر مسلمان انجام دیتے آئے ہیں جیساکہ حنبلیوں کے امام ابوعلی خلال ہر مشکل میں امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی قبر سے متوسّل ہواکرتے.( ۳ )

ابن خزیمہ اور ابن حبّان امام رضا علیہ السلام سے توسّل کیا کرتے اور اپنی حاجات کی برآوری کے لئے امام عالی مقام سے استغاثہ کرتے

۔ احمد بن حنبل شافعی سے متوسّل ہواکرتے.

۔شافعی اپنی حاجات پوری کروانے کے لئے ابو حنیفہ سے متوسّل ہوتے ؛

۔اہل سمرقندبخاری کی قبر پر بارش کی دعا کیا کرتے

۔حضرت عائشہ مسلمانوںکو یہ حکم دیتیں کہ بارش کے لئے قبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جاکر توسّل اور

____________________

۱۔وفیات الأعیان ۴: ۲۷۲؛ سیراعلام النبلاء ۱۷: ۲۱۵.

۲۔مرآة الجنان ۴: ۳۵۷.

۳۔تاریخ بغداد۱: ۱۲۰.


ان سے استغاثہ کریں

صحابہ کرام اور اہل سنّت کے بزرگ علماء اور عوام الناس ؛ انبیاء وصحابہ اور صالح افراد کی قبور پر جاکر استغاثہ کیا کرتے

کیا واقعا ان تمام تر تاریخی دلا ئل و شواہد کے باوجود ابن تیمیہ میں اتنی جرأت ہے کہ وہ ان افراد پر شرک وکفر کی مہرلگائے ؟

شیخ سلامہ عزامی نے ابن تیمیہ کے افکار کے بارے میں بہت زیبا جملہ بیان فرمایا ہے وہ کہتے ہیں:

یہاں تک کہ ابن تیمیہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات کے بارے میں بھی جسارت کی،جہاں وہ کہتا ہے : جو شخص پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کی نیّت سے سفر کرے تو اس نے گناہ کیا ہے اور جوکوئی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کی وفات کے بعدپکارے اوران سے استغاثہ کرے تو اس نے شرک کیا

ابن تیمیہ نے ایک مقام پر اسے شرک اصغر اور دوسرے مقام پر شرک اکبر قرار دیاہے جبکہ استغاثہ کرنے والا شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خالق حقیقی اور مؤثر واقعی خداوند متعال کی ذات ہے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صرف واسطہ ہیں حاجات کی بر آوری کے لئے .اس لئے کہ خدا نے انہیں بھلائی کا چشمہ قرار دیا ہے اور وہ ان کی شفاعت اور دعا کو قبول کرتا ہے .اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ یہی ہے.( ۱ )

ہاں ! ابن تیمیہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد انہیںپکارنے کو شرک سمجھتا ہے جبکہ ابوبکر کے

زمانہ میں مسیلمہ کذّاب کے ساتھ جنگ میں لشکراسلام کانعرہ یا محمداہ! تھا

____________________

۱۔ فرقان القرآن : ۱۳۳؛ الغدیر ۵: ۱۵۵.

۲۔ البدایة والنھایة ۶: ۳۲۶.


۵۔زیارت قبور

وہابیوں کے نزدیک زیارت رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

اس میں شک نہیں ہے کہ قرآن وسنت کی رو سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت ایک شرعی اور پسندیدہ عمل ہے پوری تاریخ اسلام میں مسلمان اسی پر عمل پیرا رہے ہیں اور اس طرح مادی ومعنوی کمالات سے فیضیاب ہوتے رہے ہیں

جبکہ ابن تیمیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کی نیت سے سفر کرناحرا م ہے اور باقی قبور کی زیارت بدرجہ اولیٰ حرام ہوگی .ابن تیمیہ نے اس فتوٰی کے لئے حدیث( شدّ الرّحال)کو دلیل قراردیا ہے.یہ حدیث قسطلانی نے ارشاد الساری( ۱ ) اور ابن حجر عسقلانی نے الجوہر المنظّم میں نقل کی ہے

____________________

۱۔ارشاد الساری ۲: ۳۲۹.


اس نظریے کا جواب

ہم سب سے پہلے حکم شرعی کی چار دلیلوں ( قرآن ،سنت، صحابہ کرام کی سیرت اور عقل) کے ذریعہ سے ابن تیمیہ کے نظریہ کے باطل ہونے کو ثابت کریں گے اور پھر حدیث شدّ الرّحال ) ) کی تحقیق اور اس پر اشکال کرتے ہوئے اس سے لئے جانے والے مفہوم کے نادرست ہونے کو بیان کریں گے .اور یہ ثابت کریں گے کہ چار دلیلوں کی رو سے زیارت ایک شرعی عمل ہے

۱۔قرآن کی نظر میں

خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے :( ولو أنّهم اذ ظلموا أنفسهم جاؤوک فاستغفروا الله واستغفر لهم الرّسول لوجدوا الله توّابا رحیما )

ترجمہ:اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا توآپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفارکرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتاتو یہ خداکو بڑاہی توبہ کرنے والااو ر مہربان پاتے.( ۱ )

اس آیت کریمہ کی رو سے زیارت کا معنی جس کی زیارت کی جارہی اس کے پاس حاضر ہونا ہے ؛چاہے استغفار کی خاطر ہو یا کسی اور قصد سے جب حیات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اس عمل کا پسندیدہ ہونا ثابت ہوگیا تو ان کی رحلت کے بعد بھی اسی طرح پسندیدہ ہوگا جیسا کہ ہم شفاعت کی بحث میں دلائل وشواہد کے ساتھ بیان کر چکے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رحلت کے بعد بھی عالم برزخ میں زندہ ہیں اور زائر کے سلام کو سنتے ہیں اور اس کے اعمال ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں

۲۔ احادیث کی نظر میں

خود پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی قبر مطہّر کی زیارت اور اس کی تعظیم کے بارے میں بہت زیادہ روایات بیان ہوئی ہیںاور اہل سنت کے علمائے رجال نے ان تمام راویوں کی تائید کی ہے ان معتبر احادیث سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ زیارت کے بارے میں نقل کی گئی تمام تر روایات واحادیث کو جعلی قرار دینا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پربہت بڑی جھوٹی نسبت دینے کے مترادف ہے.اب ہم ان احادیث میں سے چند ایک کو بطورنمونہ پیش کر رہے ہیں :


پہلی حدیث :

اہل سنت کی متعدد کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

من زار قبری وجبت له شفاعتی

جوشخص میری قبر کی زیارت کرے تو مجھ پر واجب ہے کہ اس کی شفاعت کروں

بہت سے حفاظ و محدثین نے اس حدیث کو نقل کیا ہے جن میں سے ابن ابی الدنیا ، ابن خزیمہ ، دار قطنی ، دولابی ، ابن عساکر اور تقی الدین سبکی و... ہیں.( ۱ )

دوسری حدیث :

عبد اللہ بن عمر ایک مرفوع روایت( اہل سنت کے ہاں مرفوع روایت سے مراد صحیح اور معتبر روایت ہے.) میں بیان کرتے ہیںکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

( (من جائنی زائرا لا تعمله لا تحمله الاّ زیارتی کا ن حقّا علیّ أن أکون له شفیعا یوم القیامة

جو شخص فقط میری زیارت کی نیت سے میرے پاس آئے تو میرے لئے ضروری ہے کہ روز قیامت اس کی شفاعت کروں

یہ حدیث اہل سنت کی سولہ کتب میں بیان کی گئی ہے اور اسکے راویوں میں سے طبرانی ، حافظ بن سکن بغدادی،دار قطنی اور ابونعیم اصفہانی کا نام لیا جاسکتا ہے( ۲ )


تیسری حدیث :

عبداللہ بن عمر ایک اور مرفوع روایت میں بیانکرتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

من حجّ فزار قبری بعد وفاتی کان کمن زارنی فی حیاتی

جس نے حانہ کعبہ کا حج کیا اور میری رحلت کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ہو

یہ حدیث اہل سنت کی پچیس کتب میں نقل ہوئی ہے جس کے راویوں میں سے شیبانی ، ابویعلی ، بغوی ، ابن عدی و... ہیں( ۱ )

چوتھی حدیث :

عبد اللہ بن عمر مزید ایک مرفوع روایت میں بیان کرتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

من حجّ البیت ولم یزرنی فقد جفانی

جو شخص خانہ کعبہ کا حجّ کرے اور میری زیارت نہ کرے تو اس نے مجھ پر جفا کی

اس حدیث کو بہت سے حفاظ و محدثین نے نقل کیا ہے جن میں سے سمہودی ، دارقطنی اور قسطلانی اور دیگر مؤلفین ہیں( ۲)

____________________

۱۔المعجم الکبیر ۱۲: ۴۰۶؛ سنن دار قطنی ۲: ۲۷۸.

۲۔نیل الأوطار ۵: ۱۸۰؛ المصنف عبدالرزاق ۳: ۵۶۹؛ المواہب اللدنیة ۳: ۴۰۴.


۳۔ صحابہ کرام کی سیرت

زیارت کے جائز ہونے کی تیسری دلیل پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابہ کرام کی سیرت اوران کا کردار ہے ایک روایت میں نقل کیا گیا ہے کہ جب عمر بن خطاب فتوحات شام سے مدینہ منورہ واپس پلٹے توسب سے پہلے مسجد میں گئے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام کیا( ۱)

اس واقعہ کو فتوح الشام میں یوں نقل کیا گیا ہے : جب عمر نے اہالیان بیت المقدس کے ساتھ صلح کی تو کعب الأحبار ان کے پاس آیا اور اسلام قبول کرلیا عمر اس کے اسلام لانے سے خوش ہوئے اور اس سے کہا: کیا تم میرے ساتھ مدینہ جاناپسند کرو گے تاکہ وہاں قبر پیغمبر کی زیارت کرکے اس سے فیضیاب ہو سکو ؟.

کعب الأحبار نے اسے قبول کرلیا اور جب عمر مدینہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جا کر ان پر سلام کیا( ۲ )

مزید ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ عبداللہ بن عمر جب بھی سفر سے واپس آتے تو قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جا کر کہتے : السلام علیک یا رسول اللہ .( ۳ )

عبداللہ بن عمر ہمیشہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کنارے کھڑے ہو کر آنحضرت پر سلام بھیجا کرتے.(۴ )

____________________

۱۔شفاء السقام : ۱۴۴؛ یاد ر ہے کہ یہاں پر ہماری بحث جدلی ہے جبکہ ہمارے نزدیک فقط سیرت معصوم حجت ہے چاہے وہ صحابی ہو یا نہ ہو

۲۔فتوح الشام ۱: ۲۴۴.

۳۔ وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۴۰.

۴۔وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۴۰.


ایک اورروایت میں پڑھتے ہیں کہ ابن عون کہتے ہیں: ایک شخص نے نافع سے پوچھا : کیا عبداللہ بن عمر قبر پیغمبر پر کھڑے ہو کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام بھیجا کرتے ؟ تو نافع نے کہا: ہاں ، میں نے اسے ایک سو یااس سے بھی زیادہ مرتبہ دیکھا کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کنارے کھڑے ہو کر کہتے : سلام ہو اللہ کے رسول پر( ۱ )

حافظ عبدالغنی اور دیگر نے کہا ہے : حضرت بلال نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد فقط ایک بار اذان کہی اور وہ بھی اس وقت جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کی زیارت کے لئے مدینہ گئے تھے( ۲ )

تقی الدین سبکی کہتے ہیں: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کے جائز ہونے پر ہماری دلیل حضرت بلال کا خواب نہیں ہے بلکہ ان کا عمل ہے یہ عمل حضرت عمر کے دور خلافت میں اتنے سارے صحابہ کرام کی موجودگی میں انجام پایا. اور یہ امر ان پر پوشیدہ بھی نہیں تھا .اسی لئے انہوں نے حضرت بلال پر کوئی اعتراض نہیں کیا( ۳)

____________________

۱۔وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۴۰.

۲۔ قاموس الرجال ۲: ۳۹۸. البتہ تاریخ میں جو چیز ثابت ہے وہ یہ کہ حضرت بلال نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد دو بار مدینہ میں اور ایک بار شام میں اذان کہی

۳۔شفاء السقام : ۱۴۲، باب سوم


۴ ۔ عقل کی رو سے

زیارت کے جواز کے لئے عقلی دلائل سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ عقل کا فیصلہ یہ ہے کہ جسے خداوند متعال نے عظمت و بزرگی عطا کی ہے اس کی تعظیم کی جائے اور زیارت بھی ایک طرح کی تعظیم ہے پس پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا احترام شمار ہوتا ہے یہ شعائر الھی میں سے اور ایک پسندیدہ عمل ہے اگرچہ دشمنان اسلام اسے پسند نہیں کرتے.

وہابیوں کی دلیل کے بارے میں تحقیق

اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ وہابی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے حرام ہونے پر بخاری و مسلم میں منقول حدیث سے استدلال کرتے ہیںکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :لا تشد ّالرّحال الاّ الی ثلاثة : المسجد الحرام ومسجدی ومسجد الأقصیٰ

تین مکانوں کے علاوہ سفرکرنا حرام ہے : مسجد الحرام ، مسجد النبی ، مسجد الأقصیٰ( ۱ )

محمد بن عبدالوہاب اس حدیث سے غلط مفہوم لیتے ہوئے کہتا ہے :

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت مستحب ہے لیکن مسجد کی زیارت اور اس میں نماز کے قصد سے سفر کیا جائے نہ کہ قبر پیغمبر کی زیارت کے قصد سے

محمد بن عبد الوہاب نے اس حدیث سے استنا د کرتے ہوئے زیارت قبور کو حرام قرار دیا ہے

ہم اس حدیث کی تحقیق کے بارے میں کہیںگے کہ عربی قواعد کا تقاضا یہ ہے کہ اس حدیث کے صحیح معنیٰ کو سمجھنے کے لئے کلمہ حصر (الاّ) سے پہلے ایک لفظ کو محذوف قرار دینا ہو گا اور ایسی صورت میں دو احتمال سامنے آئیں گے :

۱۔ لفظ محذوف مسجد ہے اور ایسی صورت میں اس حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ نماز ادا کرنے کے لئے ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر مت کریں

۲۔ لفظ محذوف مکان ہے کہ ایسی صورت میں حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ ان تین مساجد

____________________

۱۔صحیح بخاری ۱: ۳۹۸،ح ۱۱۳۲؛ صحیح مسلم ۲: ۱۰۱۴.


کے علاوہ کسی اور مکان کی طرف سفر مت کریں

پہلے احتمال کے مطابق کلمہ حصر الاّ سے جومعنٰی سمجھا جا رہا ہے وہ حصر اضافی ہے یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام مبارک میں نفی واثبات کا محور مسجد ہے اور قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ابتداء ہی سے اس حدیث کے موضوع سے خارج ہے .اس لئے کہ حدیث شریف یہ کہہ رہی ہے کہ جس شہر میں جامع مسجد موجود ہو تو وہاں سے سفر کر کے دوسرے شہر جانا اور وہاں کی جامع مسجد یا غیر جامع میں نماز پڑھنے پر کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ دونوںجگہ مسجد کی اہمیت اور اس میں نمازادا کرنا برابر ثواب رکھتا ہے .لیکن مذکورہ بالا تین مسجدیں اس موضوع سے خارج ہیں اس لئے کہ وہاں پہ نماز ادا کرنا زیادہ ثواب کا حامل ہے

دوسری جانب تبادر عرفی ( عرف عام میں کسی لفظ کے سننے سے خاص معنٰی کا ذہن میں آنا ) اور حکم ( شدّ الرّحال )وموضوع کے درمیان تناسب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ لفظ (مسجد ) ہی کو محذوف سمجھا جائے لہذا یہی احتمال درست ہوگا

جبکہ دوسرے احتمال کے مطابق ۔جوابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروںکے نظریہ سے مطابقت رکھتا ہے ۔ کلمہ الاّ سے جو حصر سمجھا جا رہا ہے وہ حصر حقیقی ہے یعنی ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مکان کی طرف مت سفر کریں جبکہ تمام اسلامی فرقوں کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ تجارت ، طلب علم ، جہاد، علماء کی زیارت یا سیر وسیاحت کے قصد سے سفر کرنا کوئی ممانعت نہیں رکھتا

اس لحاظ سے لفظ مکان کو محذوف ماننا درست نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور جگہ سفر کرنا جائز نہ ہواور بدیہی ہے کہ یہ مسلمانوں کے اجماع و اتفاق کے خلاف ہے.


پس اس حدیث میں الاّ سے پہلے لفظ (مسجد ) کو محذوف ماننا پڑے گا یعنیلا یقصد بالسفر الی المسجد الاّ المساجد الثلاثة .اورا س صورت میں حدیث شریف میں کہیں بھی مقامات مقدّسہ اور خاص طور پر قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے حرام ہونے کی طرف کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا

قسطلانی نے بھی (ارشاد الساری)میں اسی مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے.( ۱ )

علاوہ ازیں اگر لفظ محذوف مسجد ہو تو پھر بھی اس حدیث مبارکہ کے مضمون پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ پہلے احتمال کے مطابق حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ فقط انہی تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے اور ان کے علاوہ نماز ادا کرنے کے لئے کہیں سفر کرکے جانا جائز نہیں ہے جبکہ روایات واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا جایا کرتے تھے جبکہ یہ مسجد ان تین مساجد میں سے نہیں ہے .لہذا اس اعتبار سے مسجد قبا کی طرف سفر کرنا بھی حرام ہونا چاہئے جبکہ کوئی بھی مسلمان ایسی بات کرنے کو تیار نہیں.

ایک ورایت میں بیان ہوا ہے کہ عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں:

رسول خد اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ہفتہ کے دن پید ل یا سوار ہوکر مسجد قبا جایا کرتے

اسی طرح عبد اللہ بن عمر خود بھی اس پر عمل کیا کرتے( ۲ )

____________________

۱۔ارشاد الساری ۲:۳۳۲.

۲۔ صحیح بخاری ۲: ۳۹۹،ح ۱۱۳۵.


ابن تیمیہ کے توہمات اور علمائے اہل سنت کا موقف

گذشتہ مطالب سے یہ روشن ہو گیا کہ ادلّہ اربعہ کی بناء پر زیارت ایک شرعی عمل ہے اور اس بارے میں ابن تیمیہ کے افکار کی کوئی علمی حیثیت نہیں ہے البتہ علمائے اہل سنت نے اس فاسد عقیدے کے بارے میں اپنا موقف بیان کیا ہے :

۱۔ قسطلانی کہتے ہیں : ابن تیمیہ سے جو مسائل نقل ہوئے ہیں ان میں سے بدترین مسئلہ اس کا قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے منع کرنا ہے( ۱ )

۲۔ نابلسی کہتے ہیں : یہ پہلی مصیبت نہیں ہے کہ جس میں ابن تیمیہ اور اس کے پیرو کار گرفتا رہوئے ہوں اس لئے کہ اس نے بیت المقدس کی زیارت کے لئے سفر کرنے کو بھی گناہ قرار دیا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اولیا ئے الہی میں سے کسی کے وسیلے سے خدا وند متعال سے توسّل کرنے سے بھی منع کیا ہے

اس طرح کے فتوے جو اس کی کج فہمی کی دلیل ہیں یہ باعث بنے ہیں کہ علماء ابن تیمیہ اور اس کے پیرو کاروں کے سامنے قاطعانہ قیام کریں .یہاں تک کہ حصنی دمشقی نے مستقل طور پر ایک کتاب لکھ کر اسے ردّ کیا اور اس کے کفرکو صراحتا بیان کیا( ۲)

____________________

۱۔ارشاد الساری ۲: ۳۲۹.

۲۔الحضرة الانسیة فی الرحلة القدسیة : ۱۲۹.


۳۔ غزالی کہتے ہیں : جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ حیات میں انہیں دیکھ کر تبرک حاصل کیا کرتا اسے چا ہئے کہ ان کی رحلت کے بعد ان کی زیارت کرکے تبرّک حاصل کرے .( اسی طرح ) رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کیلئے سفر کرنا جائز ہے اور حدیث لا تشدّ الرحال اس کے لئے مانع نہیں بن سکتی(۱)

۴۔عزامی شافعی کہتے ہیں : ابن تیمیہ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر بھی جسارت کی ہے اور کہا ہے کہ آنحضرت کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے( ۲ )

۵۔ ہیثمی شافعی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے جواز کو ادلّہ کے ساتھ ثابت کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اگر کوئی یہ کہے اور اعتراض کرے کہ تم نے کس طرح زیارت کے جواز پر علماء کے اتفاق کو دلیل قرار دیا ہے جبکہ ابن تیمیہ اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ ابن تیمیہ کون ہے؟ اور اسکی کیا اہمیت ہے کہ اسے اتنا مقام دیا جائے یا دینی و اسلامی مسائل میں اسے مرجع کے طور پر پہچانا جائے تاکہ اس کے افکار علماء کے اجماع میں خلل ڈال سکیں .کئی ایک مسلمان دانشوروں نے اس کے ضعیف دلائل پر اعتراض کیا ہے اور اس کی احمقانہ لغزشوں اور نامناسب تخیّلات کو آشکار کیا ہے( ۳ )

مختصر یہ کہ اس بارے میں اہل سنت کے حفاظ ومحدثین نے جو روایات نقل کی ہیں وہ استفاضہ یا تواتر کی حد تک پہنچتی ہیں علاوہ ازیں صحابہ کرام کا عمل اور ان کی سیرت نیز حضرت بلال کا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبرمبارک کی زیارت کے قصد سے سفر کرنا جو تمام صحابہ کی موجودگی میں انجام پایا اور اگر صحابہ کرام نے نہ بھی دیکھا ہوتا پھر بھی ان تک یہ بات پہنچ جاتی لیکن اس کے باوجود کسی ایک نے بھی انکے اس عمل پر اعتراض نہیں کیا

____________________

۱۔احیاء علوم الدین ۲: ۲۴۷.

۲۔ فرقان القرآن : ۱۳۳؛الغدیر ۵: ۱۵۵.

۳۔الجوہر المنظم فی زیارة القبر المکرّم : ۱۲؛ الغدیر ۵: ۱۱۶؛ کشف الارتیاب : ۳۶۹.


اسی طرح حضرت عمر نے کعب الأحبار کو دعوت دی کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرے .جبکہ صحابہ کرام میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہ کیا قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ زیارت کے جواز پر جو دلیلیںبیان کی گئی ہیں یہ محکم ترین اور قوی ترین ادلّہ ہیں جو خاص پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کے جائز بلکہ مستحب ہونے کو بیان کر رہی ہیں اس لئے کہ بعض روایات میں زیارت کا حکم دیا گیا ہے اور اکثر علماء نے اس حکم سے مراد استحباب لیا ہے یہاں تک کہ ابن حزم اندلسی نے اس سے وجوب سمجھا ہے کہ ہر مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرنا واجب ہے( ۱ )

مقامات مقدسہ اور قبور کی زیارت

گذشتہ مطالب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کی زیارت سے متعلق تھے اب ہم بقیہ قبور کی زیارت کے جواز کے بارے میں کچھ عرض کریں گے. ان قبور کی زیارت کے جواز میں بھی قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کی طرح کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے .خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبور کی زیارت کے لئے جایا کرتے اور مسلمانوں کو اس امر کی ترغیب دلاتے .نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی مادر گرامی حضرت آمنہ بنت وہب کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے اور مسلمانوں کا بھی یہی طریقہ کار رہا کہ دوسرے مسلمانوں کی قبور کی زیارت کے لئے جاتے

البتہ اس بارے میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایات بھی نقل ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں :

پہلی حد یث :رسول خد اصلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا :

ائتواموتاکم فسلّموا علیهم أو فصلّوافانّ بهم عبرة .( ۲ )

اپنے مردوں کے پاس جاؤ اور ان پر سلام یا درود بھیجو اس لئے کہ وہ تمہارے لئے باعث عبرت ہیں

____________________

۱۔ التاج الجامع للأصول ۲: ۳۸۲.

۲۔ اخبار مکہ ۲: ۵۲.


۶۔عورت اورزیارت قبور

عورتوں کا قبور کی زیارت کرنا

زیارت کی بحث میں پیش آنے والے مسائل میں سے ایک خواتین کا قبور کی زیارت کرنا ہے سنن ( بخاری و مسلم کے علاوہ )کے مؤلفین نے اس بارے میں روایات نقل کی ہیں ایک روایت میں نقل کیا ہے : کہ رسو لخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لعن الله زائرات القبور

خد اوند متعال نے زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے.( ۱ )

وہابی اس حدیث سے استناد کرتے ہوئے عورتوں پر قبور کی زیارت کو حرام قرار دیتے ہیں

وہابی نظریہ کا ردّ

ہم اس نظریہ ۔جو ایک توہم کے سوا کچھ نہیں۔ کا جواب چار طرح سے دے سکتے ہیں :

اوّل: مندرجہ بالا حدیث ، حدیث بریدہ سے نسخ ہو جائے گی .برید ہ کہتے ہیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :نهیتکم عن زیارة القبور،ألا فزوروا

میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا آگاہ ہو جاؤ! (آج کے بعد ) ان کی زیارت کیا کرو.

حاکم نیشاپوری اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اسی طرح مندرجہ بالا حدیث اس حدیث مبارکہ سے بھی متعارض ہے جسے حضرت عائشہ نے نقل کیا ہے وہ فرماتی ہیں :

نهی رسول الله عن زیارة القبور ثمّ أمر بزیارتها ( ۲ )

____________________

۱۔ المصنف عبد الرزاق۳: ۵۶۹.

۲۔السنن الکبرٰی ۴: ۷۸.


رسول خد اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبور کی زیارت سے نہی فرمائی لیکن اس کے بعد ان کی زیارت کا حکم فرمایا

اس حدیث کو ذہبی نے المستدرک علی الصحٰحین کے حاشیہ پر نقل کیا اور اسے صحیح قرار دیا ہے

دوم : مندرجہ بالا حدیث حضرت عائشہ کی سیرت اور ان کے عمل سے بھی متعارض ہے اس لئے کہ وہ روایت جسے تھوڑی دیر پہلے نقل کر چکے اس کے مطابق وہ اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر کی زیارت کے لئے جایا کرتیں

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے بھائی عبدالرحمن ۔ جسے حُبشی( جنوب مکہ) میں ناگہانی موت آئی۔ کی زیارت کی

اسی طرح کہتے ہیں : ایک دن میں نے حضرت عائشہ کو قبرستان جاتے ہوئے دیکھا تو ان سے کہا : کیا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبور کی زیارت سے منع نہیں فرمایا .تو انہوں نے جواب میں فرمایا: ہاں ، منع کیا تھا لیکن دوبارہ اس کا حکم دیا( ۱ )

کیاحضرت عائشہ اپنے اس عمل کے ذریعہ سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کا ارادہ رکھتی تھیں؟ تاکہ ( نعوذ باللہ ) لعنت خدا کی مستحق قرار پاسکیں جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا؟

سوم : مندرجہ بالا حدیث حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی واضح سیرت اور ان کے عمل کے مخالف ہے اس وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کی زیارت کیا کرتیں اور ہر جمعہ کے دن یا ہر ہفتے میں دوبار حضرت حمزہ علیہ السلام اور دیگر شہدائے اُحد کی زیارت کے لئے جایا کرتیں

کیا یہ درست ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے والد گرامی کی سنت کی مخالفت کرنا چاہتی تھیں ؟

____________________

۱۔ السنن الکبرٰی ۴: ۱۳۱.


یا یہ کہ شہزادی اپنے باپ کی سنت سے آگاہ نہیں تھیں ؟

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اہل بیت میں سے ہیں اور گھر کے اندر جو کچھ ہوتا ہے گھر والے اس سے بہتر آگاہ ہوتے ہیں.اس کے علاوہ وہ اپنے والد گرامی کی زندگی میں شہدائے اُحد کی زیارت کے لئے جایاکرتیں اور سات سال تک زمانہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ان کی یہی سیرت رہی پس کیسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں اس عمل سے نہ روکا ؟

اسی طرح شہزادی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد انکی زیارت کے لئے تشریف لے جاتیں .جیسا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

جب رسول خد اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اپنے پدر بزرگوار کی قبر پر کھڑی ہوئیں ،مٹھی بھر خاک اُٹھا کر آنکھوں پرڈالی اور گریہ کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے

اگر واقعا قبروں کی زیارت عورتوں پر حرام تھی تو کیسے امیر المؤمنین علیہ السلا م یاصحابہ کرام میں سے کسی نے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کو اس عمل سے منع نہ فرمایا ؟

چہارم: ابن تیمیہ سے پہلے اور بعد کے علمائے اہل سنت نے عورتوں کے قبور کی زیارت کرنے کے جواز کا فتوٰی دیا ہے اور اس حدیث میں لعنت کی وجہ عورتوں کا اپنے عزیزوں کی موت کی مصیبت پر صبر نہ کرنا بیان کیا ہے لیکن اگر کوئی عورت نامحرموں کے سامنے چیخ و پکار نہیں کرتی بلکہ صبر کرتی ہے تو اس کے قبر کی زیارت کرنے میں کوئی عیب نہیں ہے.

البتہ بعض علمائے اہل سنت جیسے منصور علی ناصف نے اپنی کتابالتاج الجامع للأصول ، ملاّ علی قاری، نووی ، قرطبی، قسطلانی، ابن عبدالبرّ ، ابن عابدین اور ترمذی نے اس حدیث کواسی صورت پر منطبق کیا ہے یا اسے ضعیف قرار دیا ہے چونکہ اس کے تینوں واسطے جو حسان بن ثابت ، ابن عباس یا ابو ہریرہ تک پہنچتے ہیں. ان میں ایسے راوی موجود ہیں جنہیں اہل سنت کے علمائے رجال نے ضعیف قرار دیا ہے.اور شاید اسی وجہ سے امام بخاری اور امام مسلم نے اس حدیث کو اپنی کتب میں ذکر نہیں کیا

ان اعتراضات واشکالات کے علاوہ فقہاء نے بھی اس حدیث کی شرح میں مردوں اور عورتوں کے قبور کی زیارت کے مستحب ہونے کا فتوٰی دیا ہے.( ۱ )

____________________

۱۔ التاج الجامع للأصول ۲: ۳۸۱؛ مرقاة المفاتیح ۴: ۲۱۵؛ التمہید ۳: ۲۳۴.


۷۔قبروں پر دعا کرن

قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دیگر قبور کے پاس دعاکرنااور نماز پڑھنا

جو ادلّہ بیان کی جائیں گی ان کے مطابق قبر مطہّر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دیگر قبور کے پاس نماز پڑھنا اور دعاکرنا ایک جائز اور شرعی عمل ہے. طول تاریخ میں مسلمانوں کا یہی طریقہ کا ر رہا ہے اور اب بھی ہے. جبکہ اس بارے میں وہابیوں کا نظریہ باقی نظریات کے مانند تمام مسلمانوں کے نظریہ کے مخالف ہے.

وہابیوں کا نظریہ

وہابی قبور کے پاس نماز پڑھنے اور دعا کرنے سے منع کرتے ہیں اور اسے شرک وکفر سمجھتے ہیں اس بارے میں ابن تیمیہ کہتا ہے:

صحابہ کرام جب بھی قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آتے تو ان پر سلام بھیجتے اور جب دعاکرنے لگتے تو قبر نبوی کی جانب سے رخ موڑ کر قبلہ کی جانب منہ کرخداسے دعا کرتے اور باقی قبور پر بھی اسی طرح کرتے .


اسی دلیل کی بناء پر گذشتہ پیشواؤں میں سے کسی ایک نے قبور یا اولیاء کے مقدس مقامات پر نماز اداکرنے کے مستحب ہونے کے بارے میں نہیںکہا ہے. نیز یہ بھی نہیں کہا کہوہاں پر نما ز ادا کرنا یا دعاکرنا دوسرے مقامات سے افضل ہے بلکہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ گھروں یا مساجد میں نماز ادا کرنا اولیاء وصالحین کی قبور کے پاس ادا کرنے سے افضل وبہتر ہے ،چاہے ان قبور کو مقدس مکان کا نام دیا جائے یا نہ( ۱ )

اس توہّم کا جواب

ہم ابن تیمیہ کے اس بے بنیاد نظریہ کا جواب چند طریقوں سے دے سکتے ہیں :

اوّل:روایات عامہ یہ بیان کر رہی ہیں کہ کسی بھی مکان میں نماز اور دعا جائز ہے پس قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دیگر انبیاء و صالحین کی قبور پر بھی نماز و دعا جائز ہوگی ہم ان عمومات واطلاقات کی بناء پر اس کے جواز کا حکم لگائیں گے

دوم: دین مبین اسلام سے جو کچھ سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر وہ مکان جو شریعت کی نظر میں محترم و مکرم ہے وہاں پہ نماز ودعا اورمطلقا عبادات بھی فضیلت رکھتی ہیں

دوسری جانب ہر مکان کا احترام اسکے مکین سے ہوتا ہے اور ہر قبر کا مقام اس میں دفن ہونے

سوم: یہ آیت :( ولو أنّهم اذ ظلموا أنفسهم جاؤوک فاستغفرواالله ) ( ۲ )

ترجمہ: اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے

____________________

۱۔ رسالہ زیارة القبور : ۲۸.

۲۔ نساء : ۶۴.


اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دعا کرنا فضیلت کا باعث ہے اس لئے کہ لفظ جاؤوک آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات وممات دونوں کو شامل ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا احترام ان کی حیات وممات میں ایک جیسا ہے

قابل ذکر یہ ہے کہ امام مالک نے منصور کے ساتھ ملاقات میں اسی مطلب کی وضاحت کی( ۱ )

شمس الدین جزری کہتے ہیں : اگر قبر پیغمبر کا پاس دعا قبول نہیں ہو گی تو پھرکونسامکان ہے جہاں دعا قبول ہوگی ؟!

چہارم: حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت وہابیوں کے نظریہ کے بالکل مخالف ہے اس لئے وہ ہر جمعہ کو اپنے چچا حمزہ کی قبر کی زیارت کے لئے جاتیں اور وہاں پہ نماز ادا کرتیں اور گریہ کیا کرتیں.( ۲ )

وہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا جن کے غضبناک ہونے سے خدا غضبناک ہوتا ہے اور ان کی خوشنودی سے خدا خوشنود ہوتا ہے( ۳ ) کیا سنّت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان پر مخفی تھی ؟

کیا قبور کی زیارت کرکے انہوں نے سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کی؟ کیا واقعا یہ بات ابنتیمیہ پر مخفی تھی کہ وہ یہ ادّعا کررہا کہ گذشتہ پیشواؤں میں سے کسی نے قبور یا بقعہ کے پاس نماز پڑھنے کے استحباب کا فتوٰی نہیں دیا ؟!

پنجم: زمانہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لے کر آج تک مسلمانوں کی سیرت یہ رہی ہے کہ وہ صالحین ومؤمنین کی قبور کے پا س نماز بھی ادا کرتے اور وہاں پہ دعا بھی کیا کرتے .جس کے چند ایک نمونے مندرجہ ذیل ہیں :

____________________

۱۔ وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۷۶؛ المواہب اللدنیة ۳: ۴۰۹.

۲۔ المصنّف ۳: ۵۷۲؛ المستدرک علی الصحیحین ۱: ۵۳۳.

۳۔ فتح الباری ۷: ۱۳۱


۱۔عمر بن خطاب کا طریقہ کار:

طبری ریاض النضرة میں لکھتے ہیں :

ایک مرتبہ جب حضرت عمر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حج بجالانے کے لئے نکلے تو راستے میں ایک بوڑھے شخص نے ان سے مدد طلب کی جب حج سے واپس پلٹنے لگے تو ابواء کے مقام پر اس شخص کے بارے میں سوال کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تو فو ت ہو چکا ہے جیسے ہی یہ خبر سنی بڑے بڑے قدم رکھتے ہوئے اس کی قبر پہ پہنچے .اس کے لئے نماز ادا کی اور قبرکو گلے لگا کر گریہ کیا( ۱ )

۲۔ امام شافعی کا قول :

امام شافعی کہتے ہیں : میں ابو حنیفہ کی قبر سے تبرّک حاصل کرتا ہوں ،جب مجھ پر کوئی مشکل آتی ہے تو دو رکعت نماز پڑھ کر ان کی قبر پر جا کر خداوند متعال سے حاجت طلب کرتا ہوں( ۲ )

۳۔قبر معروف کرخی :

ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ زہری کہتے ہیں :

معروف کرخی کی قبر کے پاس حاجات کا پورا ہونا تجربہ شدہ ہے اسی طرح کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ان کی قبرکے پا س ایک سو مرتبہ ( قل ھو اللہ أحد ) کی تلاوت کرے اور پھر خد اسے حاجت طلب کرے تو اسکی حاجت پوری ہوگی( ۳ )

____________________

۱۔ ریاض النضرة ۲: ۲۳۰.

۲۔ صلح الأخوان : ۸۳؛ تاریخ بغداد ۱: ۱۲۳.

۳۔تاریخ بغداد ۱: ۱۲۲.


ابراہیم حربی کہتے ہیں :معروف کرخی کی قبرزہری کے لئے تجربہ شدہ پناہ گاہ تھی. ذہبی اس بارے میں کہتے ہیں : اس قبر پر درماندہ افراد کی دعا قبول ہوتی ہے چونکہ مبارک بقعوں کے پاس دعا مستجاب ہوتی ہے( ۱ )

احمد بن فتح کہتے ہیں : میں نے بشر تابعی سے معروف کرخی کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب میں کہا : جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو تو ان کی قبر پر جاکر دعا کرے ان شاء اللہ اس کی دعا قبول ہوگی( ۲ )

ابن سعد سے اس بارے میں یوں نقل کیا گیا ہے : معروف کرخی کی قبر سے بارش طلب کی جاتی ہے ان کی قبر آشکار ہے اور لوگ دن رات اس کی زیارت کے لئے آتے رہتے ہیں( ۳ )

۴۔ قبر شافعی :

جزری کہتے ہیں : شافعی کی قبر کے پاس دعا قبول ہوتی ہے.( ۴ )

۵۔ قبر بکراوی حنفی ( ت ۴۰۳):

وہ قرافہ میں دفن ہوئے اوران کی قبر ایک معروف زیارت گاہ ہے لوگ اس سے تبرک حاصل کرتے ہیں اورکہا گیا ہے کہ ان کی قبر کے پاس دعا مستجاب ہوتی ہے.( ۵ )

____________________

۱۔ سیر اعلام النبلاء ۹: ۳۴۳

.۲۔ صفة الصفوة ۲: ۳۲۴.

۳۔ طبقات الکبرٰی ۱: ۲۷.

۴۔غایة النھایة فی طبقات القرائ۲: ۹۷

۵۔ الجواہر المضیئة ۱: ۴۶۱.

۶۔ قبر حافظ عامری ( ت۴۰۳) :


نقل کیا گیا ہے کہ لوگ رات کے وقت ان کی قبر پہ جمع ہوتے ہیں ، ان کے لئے قرآن کی تلاوت اور ان کے حق میں دعا کرتے ہیں.( ۱)

۷۔ قبر ابو بکر اصفھانی ( ت۴۰۶):

وہ نیشاپور کے اطراف میں حیرة کے مقام پر دفن ہوئے .ان کی بارگاہ وہاں پہ آشکار اور زیارتی مکان ہے.کہا گیا ہے کہ ان کی قبر سے باران رحمت کی دعا کی جاتی ہے اور دعا وہاں پہ قبول ہوتی ہے( ۲ )

۸۔ قبر نفیسہ خاتون :

سیدہ نفیسہ دختر ابو محمد ،حسن بن زید امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی اوالاد میں سے اور اسحاق بن امام صادق علیہ السلام کی زوجہ ہیں ابن خلکان کہتے ہیں : وہ درب السباع مصر میں دفن کی گئیں اور ان کی قبر دعاکے مستجاب ہونے میں معروف ہے اور یہ ایک تجربہ شدہ امر ہے.( ۳)

ششم : اہل سنت کے بزرگ علماء جلال الدین سیوطی نے معراج پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی داستان اور ابن تیمیہ کے شاگرد ابن جوزیہ نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ کو نقل کرنے کے بعد زیارت کے حرام ہونے کے عقیدہ مخالفت کی ہے( ۴ )

____________________

۱۔البدایة والنھایة ۱۱: ۳۵۱.

۲۔ وفیات الأعیان ۴: ۲۷۲.

۳۔حوالہ سابق ۵: ۴۲۴.

۴۔کشف الارتیاب : ۳۴۰، نقل از زاد المعاد


ابن تیمیہ کا دوسرا فتوٰی

ابن تیمیہ نے ایک اور فتوٰی میں صحابہ کرام کی طرف نسبت دی ہے کہ وہ دعا کے وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے بلکہ ان کی قبر سے رخ موڑ کر قبلہ کی جانب منہ کرکے کھڑے ہوتے( ۱ )

اس ادّعا کا جواب

ہم اس ادّعا کا جواب تین طرح سے دیں گے:

اوّل: ابن تیمیہ نے اس بارے میں صحابہ کرام میں سے کسی ایک کا بھی نام نہیں لیا کہ کس صحابی نے دعا کرتے وقت اپنا منہ قبر سے پھیر ا جبکہ اس کے ادّعا کے برعکس ثابت ہو چکا ہے.

عبداللہ عمر جوخود صحابی ہیں ابن تیمیہ کے نظریہ کے خلاف بیان کرتے ہیں: مستحبات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کے پاس دعا کرتے وقت قبر مبارک کی طرف منہ اور قبلہ کی طرف پشت کر کے کھڑا ہو.( ۲ )

دوم : اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ انسان دعا کرتے وقت قبر کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اس لئے کہ آیت کریمہ یہ فرما رہی ہے :

أینما تولّو افثمّ وجه الله ( ۳ )

____________________

۱۔رسالة زیارة ا لقبور: ۲۶.

۲۔ فضل الصلاة علی النبی ّ : ۸۴، ح ۱۰۱؛ کشف الارتیاب : ۲۴۷و ۳۴۰؛ الغدیر ۵: ۱۳۴.

۳۔ سورہ بقرہ : ۱۱۵.


سوم : فقہاء کا فتوٰی ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں کے قول کے خلاف ہے.نمونہ کے طور پر چند فتاوٰی نقل کر رہے ہیں :

۱۔فتوائے امام مالک:

جب منصور نے امام مالک سے پوچھا کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دعا کرتے وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کی طرف رخ کروں یا قبلہ کی طرف ؟

تو امام مالک نے جواب میں فرمایا: کس لئے قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روگردانی کرناچاہتے ہو جبکہ وہ تو تمہارے اور تمہارے باپ آدم کے بھی قیامت تک وسیلہ ہیں ؟ پس قبر رسول وصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف منہ کر ان سے شفاعت طلب کر ،خداانکی شفاعت قبول کرتا ہے( ۱)

یہ سوال وجواب واضح طور پر بتا رہا ہے کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دعا کرنا فضیلت کا باعث ہے اور اس میں کسی قسم کی تردید نہیں تھی لیکن جو چیز منصور جاننا چاہ رہا تھا وہ یہ تھی کہ کیا دعا کرتے وقت قبلہ کی جانب منہ کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے یا قبر مبارک کی طرف ؟( ۲ )

۲ ۔ فتوائے خفاجی :

خفاجی کہتے ہیں : شافعی اور عام علماء کا نظریہ یہ ہے کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دعا کرتے وقت قبلہ کی طرف پشت اور قبر مطہّر کی طرف منہ ہونا چاہئے .اور ابو حنیفہ سے بھی یہی فتوٰی نقل ہواہے( ۳ )

____________________

۱۔وفاء الوفاء بأخبار المصطفیٰ ۴: ۱۳۷۶؛ المواہب اللدنیة ۳: ۴۰۹؛ الفروق ،صنہاجی۳: ۵۹.

۲۔ اشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی ۲: ۹۲؛ الغدیر ۵: ۱۳۵؛ کشف الارتیاب : ۲۴۰و ۲۵۵و ۲۶۱.

۳۔ شرح الشفاء ۳: ۵۱۷.


۳۔ فتوائے محقق حنفی :

کمال بن حمام کہتے ہیں : ابو حنیفہ سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ دعا کے وقت قبلہ کی جانب رخ کر کے کھڑے ہوتے جبکہ یہ قول مردود ہے اس لئے کہ عبداللہ بن عمر سے نقل ہوا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ قبلہ کی جانب سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک کے پاس آیا جائیاور قبلہ کی طرف پشت اور قبر مبارک کی طرف منہ کریں اور ابوحنیفہ کے نزدیک یہ بات درست ہے کرمانی کا یہ کہنا کہ ابو حنیفہ کا مذہب اس مسئلہ میں اس کے علاوہ ہے یہ بات درست نہیں ہے چونکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زندہ ہیں اور اپنے زائر کو دیکھتے ہیں .جس طرح اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قید حیات (ظاہری) میں ہوتے تو اپنے زائر کو جو قبلہ کی طرف پشت کئے ہوتا اس کو اپنے پاس بلاتے.( ۱ )

۴۔ فتوائے ابراہیم حربی:

وہ اپنی مناسک میں لکھتے ہیں : قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دعا کرتے وقت اپنی پشت قبلہ کی جانب اور قبر مبارک کے درمیان میں کھڑے ہوں( ۲)

۵۔ ابو موسٰی اصفہانی کا نظریہ :

ابو موسٰی اصفہانی سے نقل ہو اہے کہ مالک نے کہا : جو شخص قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر آنا چاہے تو اسے چاہئے کہ قبلہ کی جانب پشت اور قبر مبارک کی طرف رخ کر کے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجے اور دعا کرے( ۳ )

____________________

۱۔وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۸۷؛ المغنی لابن قدامہ ۳: ۲۹۸؛ الشرح الکبیر ۳: ۴۹۵.

۲۔شفاء السقام : ۱۶۹؛ شرح الشفاء ۳: ۵۱۷؛ کشف الارتیاب : ۳۶۲.

۳۔ المجموع ۸: ۲۰۱.


۶۔ سمہودی کا نظریہ:

وہ کہتے ہیں : شافعی اور ان کے اصحاب وغیرہ سے نقل ہواہے کہ انہوں نے کہا : زائر کو چاہئے کہ قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف پشت اورضریح مبارک کی طرف اپنا چہرہ کرے ، نیز احمد بن حنبل کا بھی یہی نظریہ ہے( ۱)

۷۔ سختیانی کی رائے :

ابو حنیفہ سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہا کرتے : ایوب سختیانی قبلہ کی طرف پشت اور قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب رخ کر کے کھڑے ہوئے اور گریہ کیا( ۲)

۸۔ فتوائے ابن جماعہ :

ابن جماعہ کہتے ہیں: ابو حنیفہ کے فتوٰی کے مطابق زائر کو چاہئے کہ اسقد ر قبر مطہّر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چکر کاٹے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرہ اقدس کے سامنے آکھڑا ہو اور پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام بھیجے

جبکہ کرمانی نے دوسرے کے بر عکس کہا ہے : زائر کو چاہئے کہ سلام کرنے کے لئے قبر کی طرف پشت کر کے کھڑا ہو( ۳)

____________________

۱۔وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۷۸.

۲۔المعرفة والتاریخ ۳: ۹۷؛ کشف الارتیاب : ۲۶۱.

۳۔وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۷۸.


۹ ۔ ابن منکدر کا نظریہ:

ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: میں نے ابن منکدر کو دیکھا کہ وہ مسجد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے داخل ہونے کی جگہ نماز ادا کر رہے تھے .پھر وہاں سے اُٹھے اور تھوڑا چلنے کے بعد قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کی اس کے بعد قبلہ سے منہ موڑااور ہاتھوں کو ایسے بلند کیا جیسے شمشیر غلاف سے بلند کی جاتی ہے اور دعا کی اور مسجد سے نکلتے وقت بھی یہی عمل انجام دیا جیسے کسی کو خدا حافظی کی جاتی ہے( ۱)

چہارم : اس میں کیا عیب ہے کہ انسان اس مکان میں جہاں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدفون ہیں تبرّک کے طور پر نماز ادا کرے جیسا کہ اس پتھر پر نماز پڑھی جاتی جس پر حضرت ابراہیم کھڑتے ہوئے تھے اور یہ اس لئے ہے کہ وہاں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں مبارک کا نشان ہے جس کی وجہ سے وہ ( پتھر ) فضیلت و منزلت رکھتا ہے.خدا وند متعال اس بارے میں فرماتا ہے :

( و اتّخذوا من مقام ابراهیم مصلّیٰ ) ( ۲ )

ترجمہ : اور مقام ابراہیم کو مصلٰی قرار دو.

یہ ایک بے بنیاد بات ہے چونکہ گذشتہ پیشواؤں میں سے کسی نے ایسی بات نہیں کہی ہے جبکہ ابن تیمیہ یہ ادّعاکر رہا ہے کہ تمام گزشتگان نے اسے واضح طور پر بیان کیا ہے

ابن تیمیہ کا ایک اور قول اور اس کا جواب

ابن تیمیہ کا ایک اور فتوٰی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے :

گھر میں نماز ادا کرنا انبیاء و صالحین کی قبور کے پاس نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے( ۳ )

____________________

۱۔سیر اعلام النبلاء ۵: ۳۵۸؛ تاریخ دمشق ۵۶: ۴۸

۲۔ سورہ بقرہ : ۱۲۵.

۳۔ وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۴: ۱۳۷۸؛ الزیارة ( ضمن مجموعة الجامع الفرید ) : ۴۵۴.


اسکی دلیل کی تحقیق اور اس پرتنقید

وہابی قبور کے پاس نماز پڑھنے کے حرام ہونے پر چند احادیث سے استنادکرتے ہیں وہ نقل کرتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

لعن الله الیهود ! واتّخذوا قبور انبیائهم مساجد

خدا کی لعنت ہو یہودیوں پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنالیا

دوسری حدیث میں نقل کرتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

اللّهمّ لا تجعل قبری وثنا یعبد ، اشتدّ غضب الله علی قوم اتّخذوا قبور انبیائهم مساجد ( ۱ )

پرودگارا ! میری قبر کو بت قرار نہ دینا کہ اسکی عبادت کی جائے ، خدا وند متعال اس قوم پر اپنا غضب سخت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد قرار دیا

ہم اس دوسری حدیث کا چند جہات سے جواب دے رہے ہیں :

اوّل : یہ کہ اس حدیث کی سند میں اشکال ہے اس لئے کہ اس سند میں ایسے راوی موجود ہیں جنہیں اہلسنت کے علمائے رجال نے ضعیف قرار دیا ہے( ۲ )

ان راویوں میں سے ایک عبدالوارث ہے جسے علمائے رجال تائید نہیں کرتے اور نہ اس کے پیچھے نماز

____________________

۱۔ مسند احمد ۲: ۲۴۶؛ موطأامام مالک ۱: ۱۷۲.

۲۔ میزان الاعتدال ۴: ۴۳۰ ؛او ر ۲: ۳.


پڑھا کرتے

دوم : یہ کہ یہ حدیث ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کے نظریہ پر دلالت نہیں کررہی اس لئے کہ وہ اس حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : قبور اور بقعوں کے پاس نماز پڑھنا ،نیز ان پر مساجد بنانا جائز نہیں ہے .جبکہ حدیث کا ظاہر حبشہ کے کلیسوں رواج کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جب بھی یہودیوں کا کوئی نیک فرد مرتاتو وہ ا س کی قبر پر کلیسا بنادیتے .اور وہاں تصویریں بناکر لگاتے

اس بناء پر جو انبیاء کی قبور کو مساجد بناتے ان کی سر زنش کی گئی ہے چونکہ مساجد میں تصاویر لگا کر ان کی پرستش کیا کرتے ،ان کے لئے نماز ادا کرتے اور ان تصویروں اور قبور کی طرف منہ کر کے سجد ہ کیا کرتے

واضح ہے کہ قبور پر مساجد بنانے سے نہی کرنے کی یہی وجہ ہے ورنہ اگر کوئی شخص کسی قبر پر مسجد بنائے لیکن قبلہ رخ ہو کر خد اکے نماز ادا کرے تو اس میں کیا عیب ہے .جیسا کہ آج بھی مسلمان مسجد نبوی شریف یا مسجد جامع بنو امیہ دمشق میں ( کہ اس کے اندر حضرت زکریا علیہ السلام کہ قبر مبارکہے) نماز ادا کرتے ہیں.

سوم: یہ کہ قرطبی ، نووی ، قسطلانی اور بیضاوی نے اس حدیث سے جو مفہوم لیا ہے وہ ابن تیمیہ اور اسکے پیروکاروں کی رائے کے مخالف ہے. اور بعض جگہوں پر تو وہ معنی لیا ہے کہ جسے ہم پہلے بیان کر چکے( ۱ )

چہارم: یہ کہ فقہائے اہل سنت نے اپنے فتاوٰی میں وہابیوں کے توہم کے خلاف فتوٰی دیا ہے .اب ہم ان میں سے بعض کے نظریات کو بیان کر رہے ہیں:

____________________

۱۔ارشادالساری ۲: ۹۹؛ اور ۳: ۴۹۷؛ شرح صحیح مسلم ۷: ۲۷.


۱۔امام مالک کا نظریہ :

امام مالک کے شاگرد ابن قاسم سے کہا گیا : کیا مالک کے نزدیک جائز ہے کہ ایک شخص قبر پر نما زاداکرے جبکہ اس پرغلاف موجود ہو ؟

تو انہوں نے کہا : مالک قبرستان میں نماز ادا کرنے پر اعتراض نہ کرتے اس لئے کہ وہ قبرستان میں نماز ادا کرتے جبکہ ان کے سامنے ،پیچھے اور دائیں ، بائیں قبریں ہوتیں.

مالک کہتے ہیں : قبرستان میں نماز ادا کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے.

وہ کہا کرتے کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ بعض صحابہ کرام قبرستان میں نماز اداکیا کرتے( ۱)

۲۔ عبدالغنی نابلسی کا نظریہ :

اگر کوئی شخص کسی نیک انسان کی قبر پر مسجدبنائے اور اسکی نیّت یہ ہو اس عبادت کا ثواب اس شخص کے شامل حال ہو اور نماز ادا کرتے وقت اس کی تعظیم یا اسکی طرف توجہ نہ کرے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے

. جیسا کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے حرم (جو خانہ کعبہ کے پاس مسجد الحرام کے اندرہے) میں نماز ادا کرنا باقی مکانوں کی نسبت زیادہ فضیلت رکھتا ہے( ۲ )

اسی طرح وہ کہتے ہیں : اگرقبروں کی جگہ مسجد بنا دی جائے یا راستہ میں ہو یا کوئی شخص وہاں پہ بیٹھا ہو ، یا یہ کہ کسی ولی خدا یا عالم محقق کی قبر ہو جس نے خدا کی رضا کی خاطر کوشش کی تو اس کی روح پر نور کے احترام کی خاطر۔جو خورشید کے مانند زمین پر چمک رہی ہے ۔اور یہ بتانے کے لئے کہ صاحب قب رولی

____________________

۱۔المدوّنة الکبرٰی ۱: ۹۰.

۲۔ الحدیقة الندبة ۲: ۶۳۱.


خداہے اس سے تبرّک حاصل کیا جائے ا وراسکی قبر کے پاس دعاکی جائے تاکہ مستجاب ہو.تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.اس لئے کہ انسان کے اعمال کا دارومدار اس کی نیّت پر ہے(۱)

۳۔ ابومالکی کا نظریہ :

کوثری کہتے ہیں : ابومالکی نے اپنانظریہ یوںبیان کیا : جو بھی کسی نیک انسان کی قبر پر مسجد بنائے یا اس کے مقبرہ میں نماز ادا کرے جبکہ اسکا مقصد اس شخص کے آثار سے تبرّک حاصل کرنا اور اسکی قبر کے پاس دعا مستاب کروانا ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اسکی دلیل حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر مبارک ہے جو مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کے پاس ہے اور اسمیں نماز ادا کرنا باقی مقامات پر ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے( ۲ )

۴۔بغوی کا نظریہ :

بغوی کہتے ہیں: بعض علما ء فرماتے ہیں کہ قبرستان میں یا قبور کے پاس نماز ادا کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ قبرستان میں نماز کی جگہ پاک ہو

ایک روایت میں بیان ہوا ہے: ایک دن عمر بن خطاب نیانس بن مالک کو ایک قبر کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو ان سے کہا : یہ قبر ہے ! یہ قبر ہے ! لیکن ان سے یہ نہیں کہا کہ دوبارہ نماز ادا کرو

حسن بصری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ قبرستانوں میں نماز ادا کیا کرتے

مالک سے نقل کیا گیا ہے قبرستان میں نماز ادا کرنا کوئی عیب نہیں رکھتا

____________________

۱۔حوالہ سابق : ۶۳۰.

۲۔ المقالا ت کوثری ۲۴۶؛ شرح صحیح مسلم ۲: ۲۳۴.


وہی کہتے ہیں : بعض مکانوں ( حمام اور قبرستان)میں نماز کرنے سے نہی کی دلیل یہ کہ وہاں پر غالبا نجاست پھینی جاتی ہے جیسے حمام .اسی وجہ سے وہاں نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیاگیا ہے .اور قبرستان میں نماز اداکرنے سے اس لئے نہی کی گئی کہ وہاں کی مٹی مردوں کے خون اور ہڈیوں سے مخلو ط ہوتی ہے اور نہی نجاست سے متعلق ہے .لیکن اگر کوئی شخص اپک جگہ بنا لے تو وہاں نماز ادا کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے( ۱ )

اب بھی بیان کردہ مطالب اور مقبروں میں نماز ادا کرنے کے جوازکے بارے میں علمائے اہل سنّت کے فتاوٰی کے باوجود وہابیوں کے پاس کوئی چارہ رہ جاتا ہے کہ وہ مقبروں میں نماز ادا کرنے والوں پر کفر و شرک کی تہمت لگائیں اور یہ کہیں کہ: یہ لوگ صاحب قبر کی عبادت کرتے ہیں جبکہ امام مالک اور حسن بصری قبروں کے درمیان میں نماز ادا کیا کرتے؟!

____________________

۱۔ شرح السنّة ۲: ۳۹۸.


۸۔تعمیر قبور

وہابیوں کا نظریہ اور ان کے فتاوٰی کے نمونے

قبور کی تعمیر کے شریعت میں جائز ہونے پر بہترین دلیل بیت المقدس کے اطراف میں انبیائے الہی کی قبور کا موجود ہونا ہے اور مسلمانوں کے تمام فرقے بھی ہر زمانے میں اسی پر عمل پیرا رہے ہیں۔ لیکن وہابی قبور پر عمارت ، گنبد، ان کے تعمیر اور چونا کرنے کو شرک وکفر اور ان کے ویران کرنے کو واجب سمھتے ہیں ۔

۱۔ صنعانی کہتا ہے :

مقبرہ بت کے مانندہے اس لئے کہ جو کام زمانہ جاہلیت میں لوگ بتوں کے لئے انجام دیتے تھے وہی کام (قبوریون یعنی قبروں کے پجاری) اولیائے خدا کی قبروں اور مقبروں کے لئے انجام دیتے ہیں( ۱ )

۲۔ ابن تیمیہ کاشاگرد ابن قیم کہتا ہے :

قبور کے اوپر بنائی گئی عمارات کا نابود کرنا واجب ہے جو بتوں اور طاغوتوں کے عنوان سے پرستش کی جاتی ہیں ۔ ان کو خراب کرنے کی طاقت رکھنے کے بعد ایک دن کے لئے بھی تاخیر جائز نہیں ہے ۔ چونکہ یہ عمارات دوبتوں لات وعزی کی طرح ہیں۔ اور وہاں پر بد ترین شرک آلودہ اعمال انجام دیئے جاتے ہیں۔( ۲ )

۳۔ علمائے مدینہ سے منسوب جواب میں یوں بیان ہواہے:

قبور کے اوپر عمارت بنانے کا ممنوع ہونا اجماعی ہے جس کی ممنوعیت پر صحیح احادیث دلالت کررہی ہیں ۔ اسی وجہ سے بہت سے علماء نے ان کے خراب اور ویران کرنے کا فتوی دیا ہے ۔ وہ اس فتوی میں (ابو

____________________

۱۔کشف الارتیاب :۲۸۶، بہ نقل از تطھیر الاعتقاد صنعانی

۲۔زاد المعاد ۳:س۵۰۶.


الھیاج ) کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو اس نے حضرت علی سے نقل کی کہ علی بن ابیطالب

علیہ السلام نے اس سے فرمایا:الا ان ابعثک علی ما بعثنی علیه رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ان لا تدع تمثالا الا طمسته ولا قربا مشرفا الا سویته

آگاہ رہو ! میں تمہیں ایسے کام پر مامور کررہا ہو جس پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے مامور کیا تھا کسی تصویر کو نہ چھوڑنا مگر یہ کہ اسے محو کردینا اورجو قبر بلند نظر آئے اسے زمین کے برابر کردینا۔( ۱ )

اس فتوی کا رد

ہم اس فتوی کے جواب میں کہتے ہیں۔

وہ اجماع جسے وہابی بیان کرتے ہیں مردود ہے بلکہ اس فتوی کے خلاف ایسے عمل کے جائز ہونے پر اجماع موجود ہے ۔ وہابی فرقہ کی پیدائش سے پہلے تمام مذاہب کے مسلمانوں کی ہر زمانہ میں یہی سیرت رہی ہے ۔

اس بارے میں صنعانی کا سیرت کا اعتراف کرنا ہمارے نظریہ کی تایید کررہا ہے ۔ا س نے اپنی کتاب (تطھیر الاعتقاد ) میں ایک سوال کی صورت میں اس بارے میں لکھا ہے ۔

اس سیرت نے شرق وغرب عالم کے تمام شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ یہاں تک کہ اسلامی ممالک کا کوئی ایسا نقطہ نہیں ہے کہ وہاں پہ قبر یا مقبرہ نہ ہو یہاں تک کہ مسلمانوں کی مساجد بھی قبروں سے خالی نہیں ہیں۔ او رکوئی عقل مندیہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ یہ عمل حرام ہے ۔ علمائے اسلام بھی اس بارے میں ساکت ہیں۔

اس کے بعد صنعانی کہتا ہے ۔ اگر انصاف سے کام لیں او رسلف کی پیروی سے کنارہ کش ہوجائیں تو

____________________

۱۔کشف الارتیاب :۲۸۸.


جان لیں گے کہ حق وہی ہے جو دلیل کے ساتھ ثابت ہوچکا ہے نہ کہ ہر نسل کا اتفاق واجماع ۔ لہذا یہ امور جو عوام انجام دیتے ہیں ۔ یہ اپنے آباء واجداد کی تقلید او ربدون دلیل ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اپنے آپ کو اہل علم کہلواتے ہیں یا منصب قضاوت ، فتوی اور تدریس پر فائز ہیں۔ یا حکومت میں امیر ورئیس ہیں لیکن عمل عوام کی طرح انجام دیتے ہیں۔

البتہ کسی مجہول چیز کے رواج میں علماء یا عالم کا سکوت کرنا اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے ۔

صنعانی نے اپنے اس کلام میں اس سیرت کے عوام وعلماء کے تمام طبقوں میں پائے جانے کا اعتراف کیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف یہ کہہ رہا کہ حق وہی ہے جو دلیل سے ثابت ہوچکا ہے ۔ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ کیا ہر نسل میں امت کے اتفاق سے بڑھ کر کوئی دلیل ہوسکتی ہے ؟

اس حدیث پر اعتراض

قابل ذکر ہے کہ جس حدیث سے وہابی استناد کرتے ہیں چند اعتبار سے قابل اعتراض ہے:

۱۔ کسی حدیث کا وہابیوں کے نزدیک صحیح ہونا یا اس کی مخالفت میں کسی حدیث کا نہ پایا جانا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ حدیث دوسروں کے نزدیک بھی صحیح ہو لہذااس موضوع پر اجماع کے پائے جانے کادعوٰی کرناممکن نہیں ہے

۲۔علمائے مدینہ سے منسوب جواب میں تناقض پایا جاتاہے اس لئے کہ ایک بار یہ کہا جارہا کہ بہت سے علماء نے تخریب قبور کے وجوب کافتوٰی دیاہے تودوسری بار یہ کہاجارہا:حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث کے صحیح ہونے پر اجماع موجود ہے


اگرواقعا اجماع موجود ہے تو پھر تمام علماء نے قبورکی تخریب کے وجوب کافتوٰی کیوں نہ دیا؟

۳۔اس حدیث میں سنداور دلالت دونوں اعتبار سے اشکال موجود ہے.

اس حدیث کی سند میں ایسے افراد موجود ہیں جنہیں علمائے رجال نے ضعیف قرار دیا ہے جن میں سے ایک وکیع بن جرّاح ہے.

عبداللہ بن احمد بن حنبل شیبانی اس کے متعلق کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے سناوہ کہا کرتے تھے: ابن مہدی کی تصحیف( ۱ ) وکیع کی نسبت زیادہ اور وکیع کے اشتباہات ابن مہدی سے زیادہ ہیں.

وہی دوسرے مقام پر کہتے ہیں : ابن مہدی نے پانچ سو احادیث میں خطا کی ہے.( ۲ )

ابن المدینی کہتے ہیں : وکیع عربی زبان میں مہارت نہیں رکھتا تھا اور اگر اپنے الفاظ میں بیان کرتا تو انسان کو تعجب میں ڈال دیتا.وہ ہمیشہ کہا کرتا: حدّثناالشعبی عن عائشہ( ۳ )

اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ابو سفیان ثوری ہے

ذہبی اس کے متعلق کہتے ہیں: سفیان ثوری دھوکے اور فریب کاری سے ضعیف راویوں کو ثقہ اور قابل اعتماد بیان کیا کرتا.( ۴ )

یحیٰی بن معین اس کے بارے میں اظہار نظر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ابو اسحاق کی احادیث میں سفیان سے بڑھ کر کوئی دانا تر نہیں لیکن وہ احادیث میں تدلیس (حدیث میں ایک طرح کا جھوٹ اور اس میں ملاوٹ کرنا ہے )کیا کرتا( ۵ )

اسی حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی حبیب بن ابو ثابت ہے .ابن حبّان حبیب کے

____________________

۱۔لکھنے یا پڑھنے میں کسی بھی قسم کی غلطی کو تصحیف کہاجاتا ہے.

۲۔تہذیب الکمال ۳۰: ۴۷۱.

۳۔میزان الاعتدال ۷:۱۲۷.

۴۔حوالہ سابق.

۵۔الجرح والتعدیل۴: ۲۲۵.


متعلق کہتے ہیں: وہ حدیث میں تدلیس اور دھوکے سے کام لیا کرتا( ۱ )

ابن خزیمہ ا س کے بارے میں کہتے ہیں: حبیب بن ابو ثابت احادیث میں تدلیس کیا کرتا.( ۲ )

اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ابووائل بھی ہے جو دل میں بغض علی علیہ السلام رکھتا تھا ( ۳)جبکہ حدیث معتبر میں رسالت مآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

یا علی لایحبّک الاّ مؤمن ولا یبغضک الاّ منافق

اے علی ! تجھ سے محبت وہی کرے گا جو مومن ہو گا اور تجھ سے بغض وہی رکھے گا جو منافق ہو( ۴ )

دوسری جانب حدیث کے متن کی بھی تحقیق کی ضرورت ہے چونکہ اس کا راوی تنہا ابو الہیاج ہے لہذا یہ حدیث شاذ کہلائے گی.

جلال الدین سیوطی نے نسائی کی شرح میں لکھا ہے : کتب روایات میں ابوالہیاج سے فقط یہی ایک روایت نقل ہوئی ہے

اورپھر یہ حدیث ان کے مدّعا پر دلالت بھی نہیں کر رہی چونکہ ایک طرف قبر کے زمین کے برابر کرنے کی حکم دے رہی ہے تو دوسری جانب اس کے اوپر والے حصے کے ناہموار ہونے سے منع کر رہی ہے .اس لئے کہ شرف کا معنٰی بلندی ہے. اور لغت میں اونٹ کی کوہان کی بلندی کو کہا جاتا ہے.( ۵ )

____________________

۱۔ تہذیب التہذیب ۲: ۱۵۶.

۲۔حوالہ سابق.

۳۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ۴: ۹۹.

۴۔مجمع الزوائد ۹: ۱۳۳.

۵۔القاموس ۳: ۱۶۲.


اس بنا پر لفظ شرف ہر طرح کی بلندی کو شامل ہو گا جبکہ سوّیتہ کا معنٰی برابر کرنا اس بات پر قرینہ ہے کہ یہاں پر شرف سے مراد اونٹ کی کوہان یا مچھلی کی پشت پرموجود ابھار ہے.

دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اس حدیث میں تین احتمال موجود ہیں:

۱۔ قبروںکے اوپر موجود بلند عمارتوں کو ویران کیا جائے

۲۔ قبروں کو زمین کے برابر کیا جائے

۳۔ جس قبر کے اوپر اونٹ کی کوہان کے مانندابھار موجود ہو اسے برابر کیا جائے

پہلا احتمال مردود ہے اس لئے کہ صحابہ کرام کا عمل اور سیرت مسلمین اس کے خلاف ہے جس کے نمونوں کی طرف اشارہ کر چکے.

نیز دوسرا احتمال بھی باطل ہے چونکہ سنت قطعی قبر کے زمین سے ایک بالشت بلند ہونے پر دلالت کر رہی ہے ۔

تیسر ا احتمال یہ کہ قبر کے اوپر موجود ہر طرح کی ناہمواری اور کجی جواونٹ کی کوہان کی مانند ہو اسے برابر کیا جائے .بعض اہل سنت علماء جیسے عسقلانی اور نووی وغیرہ نے بھی اس روایت کی یہی شرح بیان کی ہے.

نووی کہتے ہیں: قبر کو زیادہ بلند نہیں ہونا چاہئے اور اوپر سے مسنّم( اونٹ کی کوہان کی طرح )نہ ہوبلکہ زمین سے ایک بالشت بلند اور اوپر سے ہموار ہو ۔( ۱ )

قسطلانی قبروں کے ہموار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ابو الہیاج کی حدیث

____________________

۱۔ المجموع ۵: ۲۹۵اور ۱:۲۲۹.


سے مراد یہ نہیں ہے کہ قبر زمین کے برابر ہوبلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ قبر کو اوپر سے ہموار ہونا چاہئے( ۱ )

سیرت صحابہ کرام ومسلمین

بیت المقدس کے اطراف میں بہت سے انبیائے الہی کی قبور موجود ہیں جیسے قدس میں حضرت داؤد علیہ السلام کی قبر ، الخلیل میں حضرت ابراہیم ،حضرت اسحا ق، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف علیہم السلام کی قبور جن پر بلند عمارات پائی جاتی ہیں.اسلام سے پہلے ان پر پتھر موجود تھے اور جب اسلام نے اس علاقے کو فتح کیا تویہ قبور اسی صورت میں تھیں.( ۲ )

ابن تیمیہ اسی مطلب کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے:

شہر الخلیل کی فتح کے دوران صحابہ کرام کی موجودگی میں حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی قبر پر عمارت موجود تھی مگر یہ کہ اس کا دروازہ ۴۰۰ہجری تک بند رہا۔( ۳ )

بے شک جب حضرت عمر نے بیت المقدس کو فتح کیا تو اس وقت بھی یہ عمارت موجود تھی لیکن اس کے ویران کرنے کا حکم نہیں دیا جبکہ ابن بلہید یہ دعوٰی کررہا کہ مقبروں کا بنانا پانچویں صدی کے بعد رائج ہوا۔

یہ دعوٰی یقینا درست نہیں ہے چونکہ بہت سے مقبروں کا تعلق پہلی ،دوسری یا تیسری صدی سے ہے( ۴ ) جن کے چندایک نمونوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :

____________________

۱۔ ارشادالساری ۲: ۴۶۸.

۲۔کشف الارتیاب :۳۰۶.

۳۔مجموع الفتاوٰی ابن تیمیہ ۲۷: ۱۴۱.

۴۔اخبار المدینة۱: ۸۱.


۱۔ اس حجرہ شریفہ کی عمارت جس میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدفن ہیں۔

۲۔ حضرت حمزہ علیہ السلام کی قبر پر موجود مسجد کی عمارت۔

۳۔محمد بن زید بن علی علیہ السلام کے گھر میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند ابراہیم کی قبر

۴۔ امیرالمؤمنین حضرت علیہ السلام کا روضہ مبارک جو ۳۷۲ ہجری میں تعمیر ہوا۔( ۱)

۵۔زبیر کا مقبرہ جو ۳۸۶ ہجری میں تعمیر کروایا گیا.( ۲ )

۶۔حضرت سعد بن معاذ کا مقبر ہ جو دوسری صدی ہجری میں بنا.( ۳ )

۷۔ ۲۵۶ ہجری میں امام بخاری کی قبر پر ضریح کا بنا کر رکھا جانا.( ۴ )

صحابہ کرام اور تابعین کے زمانہ میں مقبروں کی تعمیر نو

ہم اس موضوع کا آغاز اس سوال سے کرتے ہوئے کہتے ہیں:

اگر واقعا مقبروں اور روضوںکابنانا حرام ہے تو پھر صحابہ کرام نے روضہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کیوں نہ گرایا جس کی عمارت اب بھی موجودہے؟

اور پھر جس گھر میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دفن کیا گیا تھا اس میں دیوار نہیں تھی اور سب سے پہلے جس نے دیوار بنوائی وہ حضرت عمر بن خطاب تھے ۔( ۵ )

ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ حضرت عائشہ نے اس گھر میں اپنے اور قبور کے درمیان دیوار

____________________

۱۔سیر اعلام النبلاء ۱: ۲۵۱.

۲۔المنتظم ۱۴:۳۷۷.

۳۔ سیر اعلام النبلاء ۱۳: ۲۸۵.

۴۔ الطبقات الشافعیة الکبرٰی۲: ۲۳۴.

۵۔ وفاء الوفاء بأخبار المصطفٰی ۲: ۵۴۱.


بنوائی اور پھر وہیں پہ نماز بھی پڑھا کرتی تھیں۔

عبداللہ بن زبیر نے اپنے دور حکومت میں قبر مبارک پر عمارت بنوائی جو کچھ عرصہ بعد خراب ہو گئی اور پھر متوکل عباسی کے زمانے میں اس عمارت پر سنگ مرمر لگائی گئی۔

صحابہ کرام اور دیگر افراد کی قبور

۱۔ دوسر ی صد ی ہجری میں ہارون الرشید نے امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیہما السلام کی قبر مبار ک پر گنبد بنوایا۔( ۱)

۲۔ ۲۳۰ ہجری میں نہشل بن حمید طوسی نے معروف شاعر ابو تمام حبیب بن اوس طائی کا مقرہ بنوایا( ۲ )

۳۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ۳۶ ہجری میں وفات پائی .خطیب بغد ادی لکھتے ہیں: ان کی قبر اب بھی ایوان کسرٰی کے قریب موجود ہے اس پر مقبرہ بنا ہوا ہے( ۳ )

۴۔ ابن بطوطہ ، طلحہ بن عبید اللہ ( جو اپنے زمانہ کے امام حضرت علی علیہ السلام کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مار اگیا تھا ) کے مقبرہ کے متعلق کہتے ہیں:

اس کی قبر شہر کے اندر موجود ہے اور اس پر گنبد بنا ہوا ہے ۔( ۴ )

۵ ۔ ۲۰۴ ھ میں امام شافعی کی وفات ہوئی ،ذہبی نے لکھا ہے:ملک کامل نے شافعی کی قبر پر گنبد بنوایا (

۶۔ ذہبی کہتے ہیں: ۲۳۶ ھ میں متوکل عباسی نے یہ حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام کی قبر اور اس کے

____________________

۱۔سیر اعلام النبلاء ۱۶: ۲۵۱.

۲۔شذرارت الذہب ۲:۷۴.

۳۔ تاریخ بغداد ۱: ۱۶۳.

۴۔ سفر نامہ ابن بطوطہ ۱: ۲۰۸.۔

۵۔ دول الاسلام : ۳۴۴.


اطراف میں موجود عمارتوں کو ویران کیا جائے ۔جب اس کے حکم پر عمل درآمد ہو گیا تو مسلمان غمگین ہوئے اور اہل بغداد نے مساجد اور شہر کی دیواروں پر اس کے خلاف نعرے لکھے اور شعراء نے اپنے اشعار میں اس کی مذمت کی ...۔( ۱ )

البتہ طول تاریخ اور تاریخی وقائع میں اس کے بہت زیادہ نمونے واضح طور پر پائے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کی زندگی میں ان کی یہی سیرت رہی ہے کہ قبروں کے اوپر عمارات تعمیر کرواتے اور یہ سیرت وہابیوں کے افکار سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ لیکن اس کے باوجود اکرم البوشی جیسا شخص ذہبی کی کتاب سیر اعلام النبلائ) کے حاشیہ پر ان تاریخی حقائق کے ذیل میں لکھتاہے :

یہ سب مسلمان عوام کے خود ساختہ امور ہیں جو اس بارے میں کسی قسم کی آگاہی نہیں رکھتے اور یہ اعمال بدعت ہیں جن سے نہی کی گیٔ ہے۔

خدا وند متعال کا شکر ہے کہ اکرم البوشی نے یہ نہیں کہا : کہ یہ شیعوں کا کام ہے بلکہ کہا : (مسلمان عوام کا کام ہے ۔ ہاں ! گویا خود کو خواص میں سے سمجھتاہے اور باقی مسلمانوں کوعوام !

ابو زبیر کی حدیث سے استناد

وہابیوں نے اپنے مدعاکے اثبات کے لیٔے ابو زبیر کی روایت سے استناد کیا ہے ابوزبیر کہتاہے :

نهی رسول الله ان یجصص القبر وأن یقعد علیه وأن یبنی علیه

رسولخدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے قبروں کو چونا کرنے، ان کے پاس بیٹھنے یا ان پر مقبرہ تعمیر کرنے

سے نھی فرمائی ہے ۔

____________________

۱۔مآثر الانافة فی معالم الخلافة ،قلقشندی ۱: ۱۲۰.


البتہ یہ حدیث چند واسطوں سے نقل ہوئی ہے ۔ مسلم ، ترمذی ، ابن ماجہ ، نسائی ، ابوداؤد اور احمدبن حنبل نے عبارت میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اسے نقل کیا ہے ۔( ۱ )

اس حدیث پر اعتراضات

اس حدیث میں بھی سند اور دلالت کے اعتبار سے اشکال موجود ہے ۔

۱۔اس حدیث کی سند میں ابن جریج ، ابوزبیر ، حفص بن غیاث اور محمد بن ربیعہ جیسے راوی موجود ہیں جن کے بارے میں اہل سنت علمائے رجال نے شک وتردید کا اظہار کای ہے ۔ انہی راویوں میں سے ایک ابن جریج ہے ۔ احمد بن حنبل اس کے بارے میں کہتے ہیں : اگر ابن جریج کہے کہ فلاں وفلاں نے یوں کہا ہے تو وہ منکر ومجھول احادیث کو نقل کررہاہے ابن حبان نے بھی اسے اہل تدلیس قرار دیا ہے ۔( ۲ )

اس کا دوسرا راوی ابوزبیر ہے جس کے بارے میں نعیم بن حماد کا کہنا ہے : میں نے ابن عیینہ سے سنا ہے کہ وہ ابوزبیر کو حدیث کے نقل کرنے میں ضعیف قرار دیا کرتے ۔

عبدالرحمان بن ابوحاتم نے اس کے بارے میں اپنے والد سے سوال کیا تو ابوحاتم نے کہا : ابو زبیر کی احادیث لکھی جائیں گی لیکن ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔( ۳ )

اس حدیث کا ایک اور راوی حفص بن غیاث ہے ۔ یعقوب بن شعبہ حفص کی نقل کردہ روایات کے بارے میں کہتے ہیں : اس کے بعض محفوظات کے بارے میں احتیاط سے کام لیاجائے۔

داؤد بن رشید نے اس کے بارے میں یوں اظہار نظر کیاہے وہ کہتے ہیں : حفص بہت زیادہ

____________________

۱۔صحیح مسلم ۲:۶۶؛سنن ترمذی ۳:۳۶۸؛سنن ابن ماجہ۱:۴۹۸؛سنن نسائی ۴:۸۸؛سنن ابی داؤد۳:۲۱۶؛ مسند احمد ۳:۲۹۵.

۲۔تہذیب الکمال ۱۸:۳۴۸؛ تہذیب التہذیب ۶: ۳۵۷.

۳۔تہذیب الکمال ۲۶:۴۰۷.


اشتباہ کیا کرتا۔( ۱ )

وہابی کسطرح ان احادیث پر بھروسہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی تکفیر اور ان کا خون مباح قرار دیتے ہیں جن کی سند میں اس قدر فراوان اشکالات پائے جاتے ہیں ۔

۲۔ دلالت کے اعتبار سے بھی اس حدیث میں مشکل پائی جاتی ہے ۔

اولا: یہ حدیث یہ کہہ رہی ہے : (رسولخدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے قبروں کوچونا کرنے ، ان کے پاس بیٹھنے اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے نہی فرمائی ہے جب کہ نہی ہمیشہ حرمت پر دلالت نہیں کرتی بلکہ بسا اوقات کراہت پر دلالت بھی کرتی ہے جس کے نمونے بکثرت موجود ہیں اور یہی کثرت باعث بنتی ہے کہ اس حدیث میں نہی کا ظہور کراہت پر دلالت کرے ۔

اسی بناء پر اہل سنت علماء نے اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے یوں فتوی دیا ہے۔ شافعی اس حدیث کے مطابق کہتے ہیں : مستحب یہ ہے کہ قبر زمین سے زیادہ بلند نہ ہو۔

نووی کہتے ہیں : صاحب قبر کی اپنی ملکیت میں قبر پر عمارت بنانامکروہ اور و قف شدہ زمین میں حرام ہے.( ۲ )

سندی نے نیشاپوری سے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھاہے : یہ حدیث صحیح ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا اس لیے کہ شرق وغرب تک اسلام کے پیشوا قبروں پر عبارات لکھا کرتے اور یہ و ہی چیز ہے جسے آنے والی نسلوں نے سلف سے لیا ہے( ۳ )

ثانیا : ایسی احادیث تعمیر قبور اور ان پر عمارت کے حکم کو بیان نہیں کررہی ہیں اسلئے کہ یہ کام شعائر اللہ اور

____________________

۱۔تاریخ بغداد ۸:۱۹۹.

۲۔شرح صحیح مسلم ۷: ۲۷.

۳۔حاشیہ نسائی ۴:۸۷.


خدا کی نشانیوں میں سے ہے جن کی تعظیم ضروری ہے اور ان کا شعائر الہی ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ان قبروں میں مدفون یا تو انبیائے الہی ہیں یا اولیائے خدا ، یا یہ کہ ان قبور کی تعمیر اور ان پر عمارات کا بنانا مصلحت یا دین میں ان کی اہمیت کی بناء پر ہے ۔ مندرجہ ذیل شواہد ہمارے مدعی کوثابت کررہے ہیں :

۱۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عثمان بن مظعون کی قبر پر ایک پتھر رکھ کر اسے مشخص کیا ۔( ۱ ) ہیثمی ابن ماجہ کے کلام کونقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند حسن اور معتبر ہے ۔

۲۔اصبغ ابن نباتہ کہتے ہیں: دختر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہ ، حضرت حمزہ کی قبر پر تشریف لاتیں تو اس پر نشانی رکھ کر جاتیں تاکہ اسے پہچان سکیں ۔

اسی طرح کہتے ہیں : پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ابوبکر او رعمر کی قبور پر چھوٹے چھوٹے پتھر موجود تھے۔( ۲ )

مقبروں کے آثار

واضح ہے کہ قبروں کے اوپر عمارات بنانے میں فوائد و آثارپائے جاتے ہیں مثال کے طور پر :

۱۔ یہ کام شعائر الہی میں سے او ردشمنوںومنکروں کی ناک کو خاک پر ملنا ہے ۔

۲۔ان مقامات میں عبادات کا انجام دینا ان کی شرافت وعظمت کی وجہ سے رجحان رکھتاہے ۔ لہذا زائرین کو گرمی وسردی سے بچانے ، زیارت میں آسانی ، نماز ، تلاوت قرآن اور مجالس وعظ میں شرکت کرنے والوں کیلئے سائبان قرار دینا ایک نیک عمل ہے ۔

۳۔دین کے نمونوں کو ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھنا ۔

شاید مقبروں کا مہم ترین اثر یہی ہے کہ اس طرح دین کے بنیادی نمونوں کی حفاظت کی جاسکے اور اگرایسی

____________________

۱۔سنن ابن ماجہ ۱:۴۹۸.

۲۔المصنف ۳: ۵۷۴.


تعظیم نہ ہو تویہ نمونے فراموشی کی نذر ہوجائیں گے ۔

درحقیقت وہابیوں کا اصلی ہدف مقبروں کی تعمیر کی مخالفت کرکے ایک دینی دستور پر عمل پیرا ہونا نہیں ہے بلکہ وہ دین کے ان نمونوں کی نابودی چاہتے ہیں جبکہ انسان تربیت میں نمونے کا محتاج ونیازمند ہے ۔


۹۔قبور پر چراغ روشن کرنا

قبور پر چراغ روشن کرنا

وہابی عوام کو قبروں پر چراغ روشن کرنے سے منع کرتے ہیں اور اس بارے میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے روایت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

لعن رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زائرات القبور والمتخذین علیهاالمساجد والسرج

رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں ، قبور کو مساجد قرار دینے والوں اوران پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے ۔( ۱ )

اس نظریہ کارد

وہابیوں کے اس نظریہ کی چند جھات سے تحقیق اور اسے رد کیا جاسکتاہے :

۱۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔

حاکم نیشاپوری نے (المستدرک علی الصحیحین ) میں اس روایت کو دو واسطوں کے ساتھ ابن عباس سے نقل کیاہے جبکہ اس روایت کے دونوں سلسلوں میں ایک راوی ابوصالح باذام ہے جسے علمائے رجال نے ضعیف قرار دیاہے ۔

ابوحاتم اس کے بارے میں کہتے ہیں : باذام کی روایت کو نقل تو کیاجائے گالیکن اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

نسائی باذام کے بارے میں کہتے ہیں: ابو صالح باذام حدیث کے نقل کرنے میں قابل اعتماد نہیں ہے۲۔

____________________

۱۔ سنن نسائی ۴: ۹۴ ، المستدرک علی الصحیحین ۱: ۵۳۰، ح ۱۳۸۴.

۲۔الکامل فی الضعفاء ۲: ۷۱.


۲۔ اس حدیث میں بیان شدہ لعنت ان افراد کو شامل ہے جو عام افراد کی قبور پر ایسے اعمال انجام دیتے ہیں نہ کہ انبیاء واولیائے الہی کی قبور پر جن کے احترام کا حکم دیاگیاہے ۔ لہذا اس بناء پر انبیاء واولیاء کی قبور کی زیارت اوران پر چراغ روشن کرنا نہ تنہا مذموم نہیں ہے بلکہ ایساعمل ان کی تعظیم اور رجحان شرعی بھی رکھتاہے

۳۔ لعنت کا تعلق اس صورت سے ہے کہ جب چراغ روشن کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہو اورایک لغو کام شمار ہو لیکن اگر قرآن ودعااورنماز پڑھنے کیلئے یا وہاں پہ شب بیداری کرنے والوں کیلئے روشن کیاجائے تاکہ وہ اس کی روشنی سے بہرہ مند ہوسکیں توایسا عمل حرام تو دور کی بات مکروہ بھی نہیں ہوگااور نیکی وتقوی میں تعاون کا مصداق قرار پائے گا۔ جیسا کہ بعض علمائے اہل سنت نے اسی جواب کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

عزیزی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس فرمان کی شرح میں کہتے ہیں؛ کہ لعنتِ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تنہا ان افراد کو شامل ہوگی جو قبور پرچراغ روشن کریں جبکہ زندہ افراد اس کی روشنی سے فائدہ حاصل نہ کریں ۔ اور اگر لوگ اس سے بہرہ مند ہوں تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے ۔( ۱ )

سندی نے سنن نسائی کے حاشیہ پر لکھا ہے : لعنت اس وقت ہوگی جب مال بغیر استفادہ کے ضائع ہوجائے ،اس معنی میں کہ اگر لوگ اس چراغ کی روشنی سے استفادہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے ۔( ۲ )

شیخ حنفی (جامع صغیر ) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں : ولی خدا کی قبر پر چراغ روشن کرنا حرام ہے جب کوئی شخص اس سے استفادہ نہ کرے( ۳ )

____________________

۱۔شرح الجامع الصغیر ۳: ۱۹۸.

۲۔حاشیہ سننن نسائی ۴: ۹۵.

۳۔کشف الارتیاب ؛ ۳۳۸.


قبروں پر چراغ روشن کرنے کے جواز کی دلیل رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمل ہے ، ترمذی لکھتے ہیں :

ابن عباس کہتے ہیں: پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رات کے وقت قبرستان میں داخل ہوئے اور ایک قبر پر چراغ روشن کیا ۔( ۱ )

۴۔ سیر ت مسلمین :

وہابیوں کے نظریہ کے باطل ہونے پر چوتھی دلیل سیرت مسلمین ہے جس پر وہ ابن تیمیہ کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں بھی عمل پیرا رہے اور یہ سیرت وہابیوں کے نظریہ کے مخالف ہے ۔ علماء نے اس بارے میں بہت سے شواہد بیان کئے ہیں ۔

خطیب بغدادی لکھتے ہیں : ولید کہتاہے : ابوایوب انصاری کی قبر پر شمعدان موجود تھے( ۲ )

ابن جوزی کہتے ہیں : ۶۸۳ ھ کے حوادث میں سے ایک یہ ہے کہ بصرہ کے لوگوں نے یہ دعوی کیاکہ انہوں نے زبیر بن عوام کی قبر تلاش کرلی ہے لہذا اس قبر کیلئے شمعدان اور چٹائیاں لے گئے ۔( ۳ )

خطیب بغدادی لکھتے ہیں : امام موسی کاظم کی قبر ایک مشہور زیارتگاہ ہے ۔جس پر عظیم بارگاہ بنی ہوئی ہے اور یہاں پہ سونے اور چاندی کے شمعدان ، مختلف وسائل اور بے شمار فرش موجود ہیں ۔( ۴ )

____________________

۱۔جامع الصحیح ۳:۳۷۲

۲۔تاریخ بغداد ۱:۱۵۴.

۳۔المنتظم ۱۴:۳۸۷.

۴۔وفیات الاعیان ۵: ۳۱۰.


۱۰۔ نذر

غیر خدا کیلئے نذر

اسلام کے فرعی احکام میں سے ایک نذر ہے ۔ انسان نذر کرتے وقت یہ ارادہ کرتاہے کہ اگر میری فلاں حاجت پوری ہوگئی تو خداکیلئے فلاں کام انجام دوں گا۔ یہ حکم مسلمانوں کے درمیان رائج رہا اور اب بھی ہے ۔

جبکہ وہابیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ غیر خدا کیلئے نذر کرنا حرام ہے چونکہ یہ نذر مشرکوں کی بتوں کیلئے نذر کرنے کے مانندہے اور معمولا غیر خدا کیلئے نذرکی وجہ سے یہ ہوتی ہے کہ اس کے بارے میں غلو او رخاص قسم کا اعتقاد پایا جاتاہے ۔

قصیمی کہتاہے : غیر خدا کیلئے نذر کرنا شیعوں کے شعائر میں سے ہے چونکہ وہ علی اور ان کی اولاد کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔( ۱ )

ابن تیمیہ نے اس بارے میں یوں اظہار خیال کیاہے :

ہمارے علماء کا نظریہ یہ ہے کہ قبر اورا س کے مجاوروں کیلئے درہم ، روغن ، شمع اور حیوان کی نذر کرنا جائز نہیں ہے چونکہ ایسی نذریں گناہ ہیں او ر صحیح روایت میں بیان ہوا ہے :جوبھی خدا کی اطاعت کی نذر کرے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ خدا کی اطاعت کرے اور جو بھی خدا کی معصیت کی نذر کرے تو اسے چاہیے کہ معصیت نہ کرے( ۲ )

وہ کہتاہے :

شرک میں مبتلا ہونے کے خوف سے مردہ شخص سے درخواست کرنے سے منع کیا گیاہے اگرچہ وہ نبی ہی

____________________

۱۔الصراع بین الاسلام والوثنیہ ۱: ۵۴.

۲۔رسالة زیارة القبور ۲۷ ؛ کشف الارتیاب : ۲۸۳.


کیوں نہ ہو،پس قبور یا انکی عمارات کیلئے نذر کرنا حرام اورباطل ہے ۔ اس اس طرح کی نذر مشرکوں کی اس نذر کے مانند ہے جو وہ اپنے بتوں کیلئے کیا کرتے اور جوبھی یہ عقیدہ رکھے کہ قبور کیلئے نذر نفع یا ثواب رکھتی ہے تو وہ ناداں گمراہ ہے ۔( ۱ )

اس نظریے کا ردّ

ہم ان کے اس عقیدہ کاجواب چند جہات سے دے سکتے ہیں :

اول : یہ کہ نذر کرنے والے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اس صدقہ اور ہدیہ کا ثواب نبی خدا یا ولی خدا کو ایصال اور یوں خداوند متعال سے تقرب پیدا کرسکے ۔ پس کیسے ممکن ہے کہ اس کا مقصد نبی یا ولی ہو جبکہ وہ تو مردہ ہیں نہ کھا سکتے ہیں اور نہ ہی پہن سکتے ہیں ؟

دوم: یہ نذر بالکل اس شخص کے عمل کی طرح ہے جو اپنے والدین کیلئے نذر کرے یا قسم کھائے یا اپنے آپ سے عہد کرے کہ وہ ان کیلئے صدقہ دے گا۔

روایت میں بیان ہوا ہے کہ میمونہ کہتی ہیں :پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں میرے باپ نے یہ منت مانی تھی کہ ایک خاص جگہ پر پچاس گوسفند ذبح کریں گے ۔

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا وہاں پر بتوں کیلئے قربانی کی جاتی ہے ؟

عرض کیا : نہیں ، رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اوف بنذرک ۔ اپنی نذر پر عمل کرو۔( ۲ )

شاید پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلئے سوال کیا ہوکہ وہاں پر بتوں کی پرستش کی جاتی ہو یا مشرک لوگ وہاںپر اپنی رسومات بجالاتے ہوں چونکہ مسلمان زمانہ جاہلیت سے نزدیک تھے اور اس چیز کا ا حتمال موجود تھا۔

____________________

۱۔الملل والنحل : ۲۹۱.

۲۔معجم البلدان ۱:۵۰۵.


ہم اس تائید میں کہتے ہیں کہ ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ ثابت بن ضحاک کہتے ہیں : ایک شخص نے نذر کی کہ (بوانہ ) نامی منطقہ میں ایک اونٹ ذبح کرے ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سے آگاہ کیا ۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: کیا وہاں پر زمانہ جاہلیت میں کوئی بت موجود تھا جس کی پرستش کیا کرتے ؟

عرض کی : نہیں ۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

اوف نذرک ، فانه لا وفاء لنذر فی معصیة الله ولا فیما لا یملک ابن آدم

تم اپنی نذر پر عمل کرو اس لئے کہ فقط دومقام پر نذر درست نہیں ہے ۔

۱۔ گناہ ونافرمانی میں ۲۔ جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے ۔( ۱ )

دوسری جانب ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ انسان نذر کرتے وقت یہ کہتاہے :

اگر میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو خدا کیلئے نذر کرتاہوں کہ فلاں کام انجام دوں گا۔پس جب وہ یہ کہے گا : کہ فلاں کیلئے نذر کرتاہوں تویہ ایک مجازی تعبیر ہے اور اختصار کی بناء پر یوں کہا جاتاہے ورنہ درحقیقت اس کا مقصد یہ ہوتاہے کہ خدا کے لئے انجام دوں گا تاکہ اس کا ثواب فلاں کو پہنچے ۔

سوم: کیا کسی مسلمان کے عمل کا کسی کافر کے عمل سے مشابہ ہونا باعث بنتاہے کہ اس مسلمان کو کافر قرار دینا جائز ہو؟ ابن تیمیہ نے اسی دلیل کی بناء پر مسلمانوں کی تکفیر کی ہے لہذا ہم یہ کہیں گے کہ اگر صرف شباہت کفر کے جواز کا باعث بنتی ہے تو پھر حج کے اعمال بھی اسی طرح ہیں چونکہ مشرک اپنے بتوں کے اردگرد طواف کرتے تھے اور ان کی پرستش بھی کرتے ۔ علاوہ ازیں قربانی کے دن اپنے بتوں کے لئے قربانی بھی کیا کرتے اور ہم بھی قربانی کرتے ہیں کیا یہ درست ہے کہ ان دو مشابہ اعمال کو ایک جیسا

____________________

۱۔سنن ابوداؤد ۳: ۲۳۸، ح ۳۳۱۳


سمجھاجائے ؟

پھر رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں:انما الاعمال بالنیات ( ۱ )

بنا بر ایں قضاوت وفیصلے کا معیار نیت قلب ہے نہ کہ ظاہری مشابہت۔

عزامی شافعی اس بارے میں کہتے ہیں : اگر کوئی شخص مسلمانوں کی نیک افراد کیلئے نذروں اور قربانیوں کے مقصد کے بارے میں تحقیق کرے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان کا مقصد اس کے سواکچھ نہیں ہے کہ اس صدقہ یا ہدیہ کا ثواب مردوں کی روح کو پہنچے اور ان کے لئے نفع بخش ہوتاہے ۔( ۱ )

اور پھر غرامی نے اس بات کا بھی اضافہ کیاہے : کہ نذر کے شرعی عمل ہونے کے بارے میں صحیح ومعتبر روایات ہم تک پہنچی ہیں انہی میں سے ایک روایت میں آیا ہے کہ سعد کہتے ہیں :

میں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عرض کیا : میر ی ماں کا انتقال ہوگیا ہے او رمجھے یقین ہے کہ اگروہ زندہ رہتیں تو صدقہ اداکرتیں اور اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا اسے فائدہ پہنچے گا؟ فرمایا : ہاں ۔ عرض کی کہ کونسی چیز کا صدقہ دینا بہتر ہے ؟

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : پانی ۔

سعد نے ایک کنواں کھودا اور کہا : ھذا لاِ ُم سعدٍ ؟ یہ کنواں سعد کی ماں کیلئے ہے ۔( ۳ )

البتہ اس سلسلے میں ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے خطاکی ہے اس لئے کہ وہ یہ دعوی کرتے ہیںکہ جب کوئی مسلمان یہ کہے :( (هذه الصدقة للنبی او للولی تو یہ(لام ) وہی لام ہے جو نذرت للہ

میں ہے ۔

____________________

۱۔صحیح بخاری ۱:۱.

۲۔فرقان القرآن ۱۳۳.

۳۔حوالہ سابق.


واضح ہے کہ ابن تیمیہ نے غلط راہ اپنائی ہے کہ اسلئے کہ وہ(للہ ) میں لام خداوند متعال سے تقرب حاصل کرنے کے معنی میں ہے جب کہ (للنبی ) او ر(للولی ) میں صدقہ کے مصرف کو بیان کررہی ہے ۔

نذر سے متعلق سیرت مسلمین

پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ سیرت مسلمین یہ رہی ہے کہ وہ نذر کرتے اور اسے پورا بھی کیا کرتے ۔

علمائے اہل سنت میں سے خالدی کہتے ہیں : نبی اللہ یا ولی اللہ کیلئے نذر کرنے کا معنی یہ ہے کہ خداوند متعال کی خوشنودی کی خاطر اس کا ثواب ہدیہ کیاجائے ۔ اور بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے کوئی یہ کہے کہ میں نے اپنے مرنے والے (مثلا مردہ باپ ) کیلئے قربانی کی ، یعنی اس کی طرف سے صدقہ دیا ہے( ۱ )

مثال کے طور پر تاریخ میں بیان ہوا ہے کہ شیخ احمد ابن علی بدوی کا ۶۵۷ہجری میں انتقال ہواتواسے(طندتا) میں دفن کی گیا اور اس کی قبر پر بارگاہ بنائی گئی ، اس شخص کی کرامات زبان زد عام ہیں اور لوگ اس کے لئے بہت زیادہ قربانی کرتے ہیں( ۲ )

اس کا مزید نمونہ احمد بن جعفر خزرعی المعروف ابوالعباس کی قبر ہے ۔ وہ مراکش کے رہنے والے ہیں اور ۶۰۱ ہجری میں وفات پائی ۔ اب بھی اس کی قبر زیارتگاہ ہے اور کثیر تعداد میں لوگ وہاں پر زیارت کے لئے جاتے ہیں کہا جاتاہے کہ وہاں پر دعا کا مستجاب ہونا تجربہ شدہ ہے ۔ میں نے بارہا اس قبہ کی زیارت کی ہے ۔ اور اس قبر کی برکت کا ایک بارتجربہ بھی کیا ہے ۔

ابن خطیب سلمانی کہتے ہیں ۔ احمدبُستی کی قبر پر چڑھائی جانے والی منتیں روزانہ ۸۰۰ مثقال خالص سونا

____________________

۱۔صلح الاخوان ۱۰۹؛ الغدیر ۵: ۱۸۲.

۲۔المواہب اللدنیہ ۵:۳۶۴ ؛ شذرات الذھب ۷: ۳۴۶.


اور کبھی کبھی ایک ہزار دینار تک پہنچ جاتی ہیں(۱ )

وہ اس بارے میں لکھتے ہیں : یہ عمل آج تک جاری ہے ۔ میں نے پانچ سو سے زیادہ مرتبہ اس قبر کی زیارت کی ہے ۔ تیس سے زیادہ راتیں وہاں پہ گزاری ہیں اور اس قبر کی برکات دیکھی ہیں( ۲ )

علماء کے فتاوٰی

نذر کے بارے میں بیان کی جانے والی روایات کی بنا ء پر علمائے اہل سنت نے ا س کے شرعا جائز ہونے کا فتوی ہے ۔

خالدی حدیث ابوداؤد کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں : خوارج اس حدیث سے تمسک کرتے ہوئے انبیاء وصالحین کے مقبروں کیلئے نذر کرنے کوجائز نہیں سمجھتے ۔ چونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ انبیاء و صالحین(نعوذ باللہ ) بتوں کی مانند ہیں اور ان کا احترام زمانہ جاہلیت کی عیدوں کی طرح ہے ۔

ہم ان قبیح وشرک آلود کلمات سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں ! یہ فکرخوارج کی گمراہی اور ان کے خرافات کا نتیجہ ہے جو انہوں نے دین کے نام پرشریعت میں داخل کئے اور انبیاء اور اولیائے الہی کو بت کہا جو ان مقدس ہستیوں کی بے احترامی اور جسارت ہے ۔ وہ انتہائی بے ادبی کے ساتھ انبیاء کی تحقیر کرتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص خوارج پر اعتراض کرتا اگرچہ وہ اعتراض اشارے وکنائے کی صورت میں ہوتا تو اسے تکفیر کرتے ، یہاں تک کہ بعض موارد میں تو اس کی توبہ بھی قبول نہ کرتے اور اس کی جان ، مال او ر ناموس مباح قرار دیتے ۔ خوارج ابنیاء واولیاء سے توسل کو عبادت سمجھنے کے باوجود انہیں بت کہا کرتے ۔ لہذا

ذلیل و رسوا ہوئے ۔ خوارج کے جاہل نظریات پر توجہ دینا مناسب نہیں ہے جن کا سر چشمہ ان کی گمراہی

____________________

۱۔نیل الابتھاج ۲: ۶۲؛ الغدیر ۵: ۲۰۴)مولف (نیل الابتھاج

۲۔حوالہ سابق.


تھی اور خود خداوند متعال دانا ترہے ۔( ۱ )

عزامی شافعی اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

بعض متأخر علماء ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد وںکے اقوال سے فریب کھا بیٹھے ہیں درحقیقت ابن تیمیہ اور اسکے شاگردوں کے اقوال دین میں فریب کاری اور دھوکہ ہیں.وہ دینی مسائل کا ایسا معنٰی کرتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان اپنی زبان پر ایسے مطالب جاری نہیں کرتا ۔

اگر کوئی شخص مسلمانوں کی انبیاء اور اولیائے الہی کے لئے دی جانی والی نذراور قربانی کے متعلق تحقیق کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ان کا مقصد ان کی جانب سے صدقہ دینا اور ان کی روح کو اس کاثواب ایصال کرنا ہے ۔ علمائے اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ زندہ لوگوں کا مردوں کے لئے صدقہ دیناانہیں فائدہ پہنچاتا ہے اور اس سلسلے میں جو روایات بیان ہوئی ہیں وہ بھی صحیح اور مشہور ہیںلہذا انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام کے لئے کی جانے والی نذر یا قربانی اور دیگر موارد ان شرعی امور میں سے ہیں جن کا سر چشمہ سیرت مسلمین ہے اور یہ کسی خاص فرقے سے مخصوص نہیں ہیں( ۲ )

____________________

۱۔صلح الاخوان ۱۰۹.

۲۔فرقان القرآن :۱۳۳؛الغدیر ۵: ۱۸۱.


۱۱۔غیر خدا کی قسم

غیر خدا کی قسم کھانا

جیسا کہ بیان کیا جائے گا کہ قسم ایک عقلی امر ہے جسے قرآن وسنت میں بیان کیا گیا لیکن وہابی غیر خدا کی قسم کھانے سے منع کرتے ہیں ان میں سے بعض تو اسے بطور کلی شرک سمجھتے ہیں اور بعض اسے شرک اصغر کانام دیتے ہیں .ابن تیمیہ کہتا ہے شر ک کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ شرک اکبر : اسکی بھی اقسام ہیں...ان میں سے ایک مخلوق سے توسّل اور شفاعت طلب کرنا ہے

۲۔ شرک اصغر : جیسے ریاکاری ،اور اس کی ایک قسم غیر خدا کی قسم کھانا ہے.

روایت میں ہے کہ عبد اللہ عمر کہتے ہیں: رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

ومن حلف بغیر الله فقد أشرک و ...

جس نے غیر خدا کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا ....شرک اصغر مسلمان کو دین سے خارج نہیں کرتا بلکہ شرک اصغر کے مرتکب کو چاہئے کہ وہ اس سے توبہ کرے ۔( ۱ )

صنعانی اپنی کتاب تطہیر الاعتقاد میں قبروں پر جانے والوں کی طرف شرک کی نسبت دیتے ہوئے کہتا ہے:

وہ غیر خدا کے ناموں کی قسمیں کھاتے ہیں اور اگر یہ لوگ اپنی حقانیت کے لئے خدا کی قسم کھائیں تو ایسی قسم قبول نہیں کرتے ،ہاں اگر اپنے اولیاء میں سے کسی کی قسم کھائیں تو قبول کر لیتے ہیںاور یہ وہی بتوں کی پرستش ہے( ۲ ) ۔

____________________

۱۔رسائل الھدایة:۲۵.

۲۔کشف الارتیاب: ۲۱۹.


اس نظر یے کا جواب

ہم اس نظریہ کا جواب چند طریقوں سے دیتے ہیں :

اول :یہ کہ غیر خدا کی قسم کھا نا

خود خدا وند متعال ، پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، صحابہ کرام ، تابعین اور تمام مسلمانوں سے ماضی سے لیکر آج تک ثابت ہے۔

الف) آیات میں غیر خدا کی قسم : قرآن کریم میں قسم کے بارے میں متعدد آیات بیان ہوئی ہیں ۔ سورہ عصر کے آغاز ہی میں پڑھتے ہیں :( والعصر ان الانسان لفی خسر ) ( ۱ )

دوسری آیت مجیدہ میں ہے :( العادیات ضبحا ) ( ۲ ) اسی طرح یہ آیت مجیدہ :( والناشطات نشطا ) ( ۳ ) اور سورہ ضحی کی ابتداء میں پڑھتے ہیں:( والضحی واللیل اذا سجی ) ( ۴ ) البتہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں کثرت کے ساتھ غیر خدا سے قسم کھانے کا تذکرہ ہوا ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایسی قسم خدا کیلئے جائز ہے لیکن مخلوق کے لئے جایز نہیں تو ہم اس کا جواب یوں دیں گے : کیا خداوند متعال نے مخلوقات کی قسم کھا کر کسی کو اپنا شریک ٹھہرایا ہے ۔ اور شرک اصغر کا مرتکب ہوا ہے ۔ تعالی اللہ عن ذلک ۔ اور اگر غیر خدا کی قسم کھانا شرک اور اس غیر کوخدا سے تشبیہ دینا ہے تو پھر خدا سے بھی اس کا صادر ہونا قبیح ہے ۔

____________________

۱۔سورہ عصر: ۱ اور ۲.

۲۔ سورہ عادیات : ۱.

۳۔سورہ نازعات :۲.

۴۔سورہ الضحی ۱ اور ۲.


ب)روایات میں غیر خدا کی قسم کھانا:

وایت میں بیان ہوا ہے کہ ایک دن ایک شخص پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا او رسوال کیا : کونسے صدقے کا اجر زیادہ ہے ؟ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

اما وابیک ، لتنبا نه ان تصدق وانت صحیح شحیح تخشی الفقر وتامل البقائ تجھے تیرے باپ کی قسم: تو اس سے باخبر ہونا چاہتاہے کہ توصدقہ دے جبکہ صحیح وسالم ہے ۔ فقر سے ڈرتاہے اور بقاء کی امیدرکھتاہے۔( ۱ )

مزیر ایک روایت میں پڑھتے ہیں :

ایک دن اہل نجد میں سے ایک شخص نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اسلام کے بارے میں چند سوال کئے ۔ تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آخر میں فرمایا: (افلح وابیه ان صدق )اس کے بات کی قسم ! اگر سچ کہے تو کامیاب ہوجائیگا۔( ۲ )

____________________

۱۔صحیح مسلم ۲: ۷۱۶.

۲۔صحیح مسلم ۲:۷۱۶؛ سنن الکبری ۲: ۶۱.


ایک اعتراض

قسطلانی لکھتے ہیں:ابن عبد البر کہتے ہیں : عبارتافلح وابیه اسکے باپ کی قسم ایک منکراورمجہول حدیث میں بیان ہوا ہے جو معروف نہیں ہے ۔ چونکہ صحاح میں اس حدیث کو مردود شمار کیا گیاہے(۱) ۔

____________________

۱۔ارشاد الساری ۹: ۳۵۷.


اعتراض کا جواب

حدیثاما وابیک اس حدیث کی تائید کررہی ہے لہذا یہ مردود نہیں ہے ۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں : کہا جاتاہے کہااصل میں (افلح والله وابیک تھا اور پھروابی ہ میں تبدیل ہوگیاہے ۔

قسطلانی نے اس کے جواب کو قبول نہیںکیا اور ابوبکر کے قول کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے : بیہقی کا جوا ب مناسب تر ہے کہ ایسے الفاظوابیک ) عربوں کا تکیہ کلام ہے بجائے اس کے کہ وہ اس سے کسی معنی کاقصد کریں ۔ یا یہ کہ در اصلافلح ورب ابیه تھا ۔ اور کثرت استعمال کی وجہ سے لفظرب حذف ہوگیا ہے ۔( ۱ )

سید امین نے اس کے جواب میں کہا ہے ۔

ممکن نہیں ہے کہ عرب کسی لفظ کو اس کے معنی کا ارادہ کئے بغیر استعمال کریں اور جب بھی ایسے الفاظ کا استعمال کیا جائے تومراد قسم کھانا ہے اور (رب ابیک ) کے تقدیر میں ہونے پر بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔( ۲ )

قسمِ ابوطالب اور تائیدِ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

نقل کیا گیا ہے : ایک دن حضرت ابوطالب نے اشعار میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں فرمایا :

کذبتم وبیت الله یبزی محمد

ولما نطاعن دونه ونناضل

____________________

۱۔کشف الارتیاب : ۲۷۲.

۲۔حوالہ سابق ۲۷۲.


انہوں نے اس شعر میں بیت اللہ کی قسم کھائی ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے سنا اور رد نہ کیا( ۱ )

عمل صحابہ

واضح رہے کہ صحابہ کرام بھی غیر خدا کی قسم کھایا کرتے ، نقل کیا گیا ہے کہ عبد اللہ بن جعفر کہتے ہیں جب بھی اپنے چچا حضرت علی سے کسی شے کی درخواست کرتا اور وہ قبول نہ کرتے تو کہتا : (آپکو جعفر کے حق کی قسم )تو وہ قبول کرلیتے ۔( ۲ )

نہج البلاغہ میں بیان ہوا ہے کہ امام علی نے معاویہ کانام ایک نامہ میں لکھا :

ولعمری یا معاویه ! لئن نظرت بعقلک دون هواک لتجدنی ابرء الناس من دم عثمان اے معاویہ ! مجھے اپنی جان کی قسم ! اگر تو خواہشات نفس سے ہٹ کر عقل کی نگاہ سے دیکھے گاتو مجھے خون عثمان میں سب سے زیادہ بری پائے گا۔( ۳ )

روایت میں آیا ہے کہ مسروق نے قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت عائشہ سے خوارج کے بارے میں سوال کیا : تجھے اس صاحب قبر کی قسم ! تم نے خوارج کے بارے میں کیا سنا !

حدیث عبداللہ بن عمر پر اعتراض

اب ہم اس حدیث کی تحقیق کرتے ہیں جسے عبد اللہ ابن عمر نے غیر خدا کی قسم نہ کھانے لئے بیان کیا ہے ۔

____________________

۱۔ایمان ابوطالب ۳۳۹؛ منیة الراغب فی ایمان ابی طالب : ۱۲۲، تالیف آیت اللہ محمد رضا طبسی؛ شرح ابن ابی الحدید ۱۴: ۷۹.

۲۔شرح ابن ابی الحدید ۱۵: ۷۳.

۳۔شرح نہج البلاغہ ، محمد عبدہ ۳: ۷.


ترمذی نقل کرتے ہیں : ایک دن عبداللہ بن عمر نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہاہے :کعبہ کی قسم ! عبداللہ نے اس سے کہا : غیر خداکی قسم مت کھاؤ، میں نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا :من حلف بغیر الله فقد کفر

جس نے غیر خدا کی قسم کھائی اس نے کفر کیا۔( ۱ )

اس حدیث میں دو طرح کے اشکا ل پائے جاتے ہیں ۔

۱۔سند کے اعتبار سے

۲۔ دلالت کے اعتبار سے

سند کے اعتبار سے تو اس کے راویوں میں سے ایک روای سلیمان بن حیان ہے ۔ ابن معین اور ابن عدی (اہل سنت کے علمائے رجال ) نے اس کے بارے میں کہا ہے : سلیمان سچا آدمی ہے لیکن اس کی نقل کردہ احادیث حجت نہیں ہیں اس لئے کہ اس کا حافظہ اچھا نہیں تھا اور وہ احادیث کو صحیح نقل نہ کیا کرتا۔

اگراس حدیث کی سند کو مان بھی لیا جائے پھر بھی دلالت کے اعتبار سے اسے شدید کراہت پرحمل کیاجائے گا۔ یا یہ کہ شرک وکفر کی علت یہ ہوسکتی ہے ۔ کہ قسم کھانے والا شخص غیر خدا کے بارے میں خدا والا عقیدہ رکھتے ہوئے قسم کھائے ۔

اس بارے میں قسطلانی کا کہنا ہے : غیر خدا کی قسم کے منع ہونے کے بارے میں شرک وکفر کی تعبیر مبالغہ ہے ۔ کیا منع سے مراد منع تحریمی ہے یا کراہتی ؟

مشہور مالکی علماء لکھتے ہیں : یہ نہی کراہت کوبیان کررہی ہے ۔ جبکہ حنبلی حرمت کے قائل ہیں اکثر شافعی علماء کراہت سمجھتے ہیں اور بعض تفصیل کے قائل ہیں کہ اگر جس اعتقاد کے ساتھ خدا کی قسم کھائی جاتی ہے

____________________

۱۔ارشاد الساری ۹: ۳۵۸ ؛ سنن ترمذی ۴:۱۱۰.


اسی اعتقاد کے ساتھ غیر خدا کی بھی قسم کھائی جائے تو یہ حرام اور کفر ہے ۔ لیکن اگر فقط مخلوق کے احترام کی بنا پر ہوتو اس سے کفر لازم نہیں آئے گا۔( ۱ )

____________________

۱۔ارشاد الساری ۹: ۳۵۸.


۱۲۔جشن منانا

جشن منانا

ولادتوں کے موقع پر جشن وسرور کی محافل ومجالس برپا کرنا شرعی اور مباح سیرت بلکہ مسلمانوں کے درمیان رائج امور میں سے ہے جو اب بھی موجود ہے ۔ لیکن وہابی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا میلاد ، اس میں قرآن مجید کی تلاوت ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں اشعار پڑھنا اور مسلمانوں کو کھانا کھلانا ان امور میں سے ہے جن سے منع کیا گیاہے ۔ اس بارے میں ابن تیمیہ کہتاہے ۔

عیدوںکے موقع پر جشن وسرور بدعت ہے اور اس کی کوئی اساس نہیں ہے ۔ سلف میں سے کسی نے بھی ان دنوں میں اجتماعی طور پر عید کے عنوان سے خوشی نہیں منائی اور نہ ہی ان دنوں میں اعمال انجام دیئے ۔ یہ عیسائیعں کا عمل ہے جو وہ حضرت عیسی کی ولادتپر خوشی وجشن مناتے ہیں یا یہودیوں سے لیا گیاہے ۔ ۔۔ اسی طرح میلاد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو عیسائیوں کے عمل سے شباہت رکھتاہے یا پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احترام کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ عمل خیر محض ہوتایا شرعی طور پر رجحان رکھتاہوتا تو سلف اس کے برپا کرنے میں زیادہ سزاوار تھے ۔( ۱ )

محمد حامد الفقی اس بارے میں اظہار نظر کرتے ہوئے کہتاہے ۔

اولیاء کی وفات کی یاد یا ان کی ولادت کے دن جشن منانا، یہ ان کی پرستش شمار ہوتی ہے اور ایک طرح سے ان کی عبادت اور تعظیم کرناہے ۔( ۲ )

وہابی اس ناجائز تفکر کے لئے چند روایات کا سہار الیتے ہیں :

پہلی حدیث : ابوہریرہ کہتے ہیں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

____________________

۱۔اقتضاء الصراط المستقیم : ۲۹۴.

۲۔الملل والنحل ۴:۳۲۰.


لا تجعلوا بیوتکم قبورا ولاتجعلوا قبری عیدا وصلو ا علی فان صلاتکم تبلغنی حیث کنتم ( ۱ )

اپنے گھروں کو قبریں مت بناؤ اور میری قبر کو عید نہ بناؤ ، بلکہ مجھ پر درود بھیجو اسلئے میں جہاں پہ بھی ہوں تمہارا درود مجھ تک پہنچتاہے ۔

حدیث دوم : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبر کو عید قرار دینے سے منع کیاہے ۔

اس حدیث پر اعتراضات

واضح رہے کہ اس نظر یہ پر چند اعتراض وارد ہوتے ہیں:

اول: میلاد پیغمر گرامیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جشن منانے اور عبادت کرنے میں فرق ہے چونکہ عبادت میں تین عنصر میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے ۔ ۱۔ جس کی عبادت کی جارہی (معبود) ہواس کی الوہیت کا عقیدہ رکھا جائے ۔

۲۔ معبود کے رب ہونے کا عقیدہ رکھا جائے ۔

۳۔ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ رب کے افعال خود معبود کے سپرد ہیں۔

جبکہ انصاف یہ ہے کہ جشن برپا کرنے والوں میں سے کوئی بھی ان عناوین کا معتقد نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعہ سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اپنی محبت کا ا ظہار کرتے ہیں اور اس محبت ومودت کے اظہار کا حکم قرآن مجیدمیں دیاگیاہے ۔ جہاں پریہ فرمایا :

( قل ان کان آبائکم وابنائکم واخوانکم وأزواجکم وعشیرتکم وأموال اقترفتموها وتجارة تخشون کسادها ومساکن ترضونها أحبّ الیکم من الله ورسوله وجهاد فی )

____________________

۱۔مسند احمد ۲: ۳۶۷.


( سبیله فتربصواحتٰی یأتی الله بأمره والله لا یهدی القوم الفاسقین ) ( ۱ )

ترجمہ: اے پیغمبر ! تم کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ دادا، اولاد،برادران ازواج ،عشیرہ و قبیلہ اور وہ

اموال جنہیں تم نے جمع کیا ہے اور وہ تجارت جس کے خسارہ کی وجہ سے فکر مندرہتے ہواور وہ مکانات جنہیں پسند کرتے ہو تمہاری نگاہ میں اللہ ، اس کے رسول اور راہ خدامیں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو وقت کا انتظار کرو یہاں تک کہ امر الٰہی آجائے اور اللہ فاسق قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے

اسی طرح پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس کا حکم دیا ہے ۔ اور فرمایا:لا یؤمن احدکم حتی اکون انا واهل بیتی احب الیه من نفسه

تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے سے بڑھ کر مجھ سے اور میرے اہل بیت سے محبت نہ کرے ()

دوم: خود ابن تیمیہ کے بقول ہرچیز میں اصل اسکا مباح ہونا ہے ۔ وہ کہتاہے : عادات ورسوم میں اصل ان کا جائز ہونا ہے مگر یہ کہ خداوند متعال کی طرف سے نہی کی گئی ہو۔( ۳ )

بنا بر ایں وہ احادیث جن سے وہابی استناد کرتے ہیں سند ودلالت کے اعتبارسے مخدوش ہیں اور پھر میلا د کے موقع پر منائے جانے والے جشن کے بارے میں نہی بھی فرمائی گئی ہے۔

سوم: یہ کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ جشن منانے کے جواز پر کوئی روایت وارد نہیں ہوئی ہے پھر بھی اس کے جواز پر ایک مسلم دلیل موجود ہے اور وہ نص قرآنی کی رو سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہل بیت سے محبت ومودت ہے جسے قرآن وسنت نے ان محافل ومراسم کی اصل قرار دیا ہے ۔ اور یہ جشن میلاد

____________________

۱۔ سورہ توبہ : ۲۴.

۲۔الدر المنثور ۴:۱۵۷.

۳۔مجموع الفتاوی ۴: ۱۹۶.


کے اجتماع اسی اظہار محبت کا مصداق ہیں۔

چہارم: یہ کہ ابن تیمیہ ہر چیز کے حلال وحرام ہونے کا معیار سلف کو قرار دیتاہے ۔ کیا در حقیقت قرآن وسنت معیار ہیں یا عمل سلف؟ اس سے بڑھ کر یہ کہ ہم دیکھتے ہیں خود سلف بھی مختلف زمانوں میں جشن منایا کرتے۔

علماء کے اقوال کے نمونے

پنجم : علمائے اہل سنت کے اقوال جشن برپا کرنے کے بارے میں مسلمانوں کی سیرت کو بیان کررہے ہیں ۔ جس کے دونمونوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔

۱۔ قسطلانی (متوفی ۹۲۳ھ) کہتے ہیں : مسلمان ہمیشہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت کے مہینے میں جشن مناتے ہیں اور دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔

خدا کی رحمت ہو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے میلا د کے موقع پر عید منانے والوں پر جو(اپنے اس عمل سے ) بیمار دلوں کے درد میں اضافہ کرتے ہیں( ۱ )

۲۔ قاضی مکہ مکرمہ حسین بن محمد معروف بہ دیار بکری (م ۹۶۶ھ) اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں : (مسلمان ہمیشہ ماہ میلاد پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں جشن مناتے ہیں ، راتوں کو طرح طرح کے صدقے دیتے ہیں ، لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں مزید برآں حاجتمندوں کی مدد کرتے ہیں اورولادتوں کی مناسبت سے قصیدے پڑھتے ہیں اور ہر زمانہ میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں( ۲ )

ان موارد سے یہ معلوم ہوتاہے کہ مختلف زمانوں میں مسلمانوں کا اس عمل پر اجماع واتفاق رہا ہے ۔

____________________

۱۔المواہب اللدنیة ۱: ۲۷.

۲۔تاریخ الخمیس ۱: ۳۲۳.


ابن عباد کہتے ہیں : میرے لئے واضح ہے کہ مسلمانوں کی عیدوں میں سے ایک پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت کا دن ہے اورکوئی بھی عمل جشن کے عنوان سے مباح ہے ۔( ۱ )

۶۳۰ھ میں ابوسعید اربلی نے ایسے جشن وسرور کی محافل کو زندہ کرنے میں سب سے سبقت حاصل کی ۔

بعض کا کہنا ہے : سب سے پہلی بار خلیفہ فاطمی (المعجز لدین اللہ ) نے شوال ۳۶۱ھ میں قاہر ہ میں جشن برپا کیا ۔( ۲ )

تھوڑا سا غور کرنے سے معلوم ہوجاتاہے کہ خود قرآن کریم نے پیغمبر گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعظیم وتکریم کا دستور صادر فرمایاہے :

( فالذین آمنوابه و عزّروه و نصروه و اتّبعوا النور الذی اُنزل معه اُولٰئک هم المفلحون ) ( ۳ )

ترجمہ:پس جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کا احترام کیا اس کی امداد کی اور اس نور کا اتّباع کیا جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی در حقیقت فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں ۔

بنابر این میلاد اور جشن کی محافل کا برپا کرنا دستور قرآنی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعظیم وتکریم کا مصداق ہے ۔

مذکورہ حدیث پر اعتراض

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وہابی جشن ومیلاد کی محافل سے منع کرنے پر دو حدیثوںسے استناد کرتے ہیں پہلی حدیث کو تحقیق کے بعد رد کردیا گیا اور اب دوسری حدیث کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں وہابیوں کا کہنا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:لا تجعلوا قبری عیدا میری قبر کو عید مت بناؤ۔

____________________

۱۔المواسم والمراسم :۲۲.

۲۔ بحوث فی الملل ولانحل ۴:۳۲۳.

۳۔اعراف : ۱۵۷.


اس حدیث میں مختلف پہلوؤں سے اشکال پائے جاتے ہیں :

۱۔ احمد بن حنبل نے اسی حدیث کو ایک اور عبارت کے ساتھ نقل کیاہے کہ سہیل بن ابو صالح کہتاہے : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

اللهم لا تجعل قبری وثنا

خدایا ! میری قبر کو بت قرار نہ دینا ۔( ۱ )

قابل ذکرہے کہ ذہبی نے اس حدیث کی سند پر بھی اعتراض کیا ہے ۔( ۲ )

۲۔ یہ حدیث معنی کے اعتبار سے درست نہیں ہے اس لئے کہ عید کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے ۔ جبکہ قبراسم مکان ہے کہاجاتاہے : روز جمعہ عید ہے ۔ روز فطر عید ہے ۔ اس لحاظ سے یہ جملہ (میری قبر کو عید نہ بنانا) ان کے دعوے کے ساتھ سے مناسبت نہیں رکھتا۔

۳۔ اس حدیث کی سند بھی ضعیف ہے ۔ اس لئے کہ جس حدیث میں لفظ (عیدا) ہے اس کے راویوں میں سے ایک عبد اللہ بن نافع ہے ۔ بخاری اسکے بارے میں کہتے ہیں : عبداللہ بن نافع حفظ کردہ احادیث میں سے جنہیں نقل کیا کرتاان میں سے بعض معروف اور بعض منکر ومجہول ہوتیں ۔( ۳ )

ابن حنبل ، عبداللہ بن نافع کے بارے میں کہتے ہیں :

وہ ایک ضعیف شخص تھا ، اہل نظر اورصاحبِ حدیث نہیں تھا ۔( ۴ )

____________________

۱۔ مسند احمد ۲ : ۲۴۶.

۲۔ سیر اعلام النبلاء ۴: ۴۸۴.

۳۔التاریخ الکبیر شمارہ : ۶۸۷.

۴۔میزان الاعتدال ۳: ۲۴۳، تہذیب الکمال ۱۲: ۲۲۳.


دوسری روایت جس میں لفظ (وثنا ) ہے اس کے راویوں میں سے سہیل بن ابوصالح ہے ۔

اس کے بارے میں ابو حاتم کا کہنا ہے ۔ سہیل کی نقل کردہ احادیث کو لکھا جائے گا لیکن ان سے استناد نہیں کیا جائیگا۔( ۱ )

دوسری جانب علمائے اہل سنت نے اسی حدیث کو نقل کیاہے منذری کہتے ہیں : یہ حدیث انسان کو زیارت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کثرت سے بجالانے کی ترغیب دلاتی ہے ۔ اور کہا ہے : ایسا نہ ہوکہ طول سال میں بعض اوقات پیغمبروں کی زیارت کی جائے جس طرح سال میں ایک یا دو مرتبہ عید آتی ہے اور لوگ جشن منالیتے ہیں( ۲ )

سبکی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ احتمال پایا جاتاہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ فرمارہے ہیںکہ میری زیارت کیلئے خاص وقت اور خاص زمانہ مت انتخاب کرو جیساکہ بعض مقبروں کی مانند عیدخاص ایام میں زیارت کی جاتی ہے ۔( ۳ )

____________________

۱۔تہذیب التہذیب ۴: ۲۳۱.

۲۔شفاء السقام :۱۷۷.

۳۔حوالہ سابق


۱۳۔گریہ و مجالس عز

گریہ ومجالس عزا کا برپا کرنا

تاریخ اور روایات یہ بتلاتی ہیں کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، صحابہ وتابعین کرام مرنے والوں او رشہداء و۔۔۔ پر گریہ کیا کرتے اور دوسروں کو بھی نہ صرف عزاداری کا موقع دیتے بلکہ انہیں اس عمل پر تشویق بھی کیا کرتے ۔ جیسا کہ حضرت عائشہ نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات پر اپنے منہ پر پیٹا ۔

البتہ طول تاریخ میں بزرگ محدثین کے فراق کی مصیبت میں بھی مجالس برپا کی جاتی رہی ہیں ۔ جس کے چند نمونے یہاں پر ذکر کیے جائیں گے ۔

اسامہ بن زید کہتے ہیں : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے نواسے کی موت کی خبر سننے کے بعد بعض صحابہ کرام کے ہمراہ اپنی بیٹی کے گھرپہنچے ۔ میت کو ہاتھو ں پر اٹھایا جبکہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور کچھ ورد کررہے تھے ۔( ۱ )

دوسرا نمونہ احمد ابن حنبل یوں نقل کرتے ہیں:

جنگ احد کے بعد پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا جو اپنے شوہروں پر گریہ کررہی تھیں ۔

ولکن حمزة لا بواکی له لیکن حمزہ پر گریہ کرنے والا کوئی نہیں ۔

روای کہتاہے : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آرام کیا او رجب اٹھے تو دیکھا عورتیں پہلے حضرت حمزہ پر گریہ کررہی ہیں۔

اس بارے میں ابن عبدالبر کہتے ہیں : یہ رسم اب تک موجود ہے ۔ اور لوگ کسی مرنے والے پر گریہ نہیں کرتے مگر یہ کہ پہلے حضرت حمزہ پر آنسو بہاتے ہیں( ۲ )

____________________

۱۔سنن نسائی ۴: ۲۲.

۲۔الاستیعاب ۱: ۳۷۴.


حاکم نیشاپوری اس بارے میں یوں نقل کرتے ہیں ؛

ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تشییع جنازہ کیلئے باہر تشریف لائے جبکہ عمر بن خطاب بھی ہمراہ تھے ۔ عورتوں نے گریہ کرنا شروع کیا تو عمر نے انہیں روکا اور سرزنش کی ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

یا عمر دعهن فان العین دامعة والنفس مصابة والعهد قریب

اے عمر ! انہیں چھوڑ دے ۔ بے شک آنکھیںگریہ کناں ہیں ،دل مصبیت زدہ اور زمانہ بھی زیادہ نہیں گزرا( ۱ )

ان روایات کی بناپر واضح ہے کہ یہ عمل سنت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں حرام نہیں تھا ۔ اوریہ عمر تھے جس نے اس سنت کی پرواہ نہ کی اور عورتوں کو اپنے عزیزوں پر گریہ کرنے پر سرزنش کی ۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی سیرت

تاریخ او رسیرت ہمیں یہ بتارہی ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے فرزند ابراہیم ، اپنے دادا حضرت عبد المطلب ، اپنے چچا حضرت ابوطالب اور حضرت حمزہ ، اپنی مادر گرامی حضرت آمنہ بنت وہب ، حضرت علی کی مادر گرامی حضرت فاطمہ بنت اسد ، عثمان بن مظعون و۔۔۔۔۔ کی موت پر گریہ کیا۔

حضرت ابراہیم پر گریہ کے وقت پوچھا گیا ۔ کس لئے ابراہیم پر رورہے ہیں ؟ فرمایا:

تدمع العینان ویحزن القلب ولا نقول مایسخط الرب ( ۲ )

____________________

۱۔المستدرک علی الصحیحین ۱: ۳۸۱، مسند احمد ۲: ۴۴۴.

۲۔عقد الفرید ۳: ۱۹، سنن ابن ماجہ ۱:۵۰۶.


آنکھیں گریہ کنا ں ہیں ، دل غمگین ہے اور میں ایسی بات نہیں کرتا جو ناراضگی پروردگار کاباعث بنے ۔

نقل کیا گیا ہے کہ جب عثمان بن مظعون کا انتقال ہوا تو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے میت کا بوسہ لیا اور گریہ کیا ۔( ۱)

صحابہ کرام او رتابعین کی سیرت

صحابہ کرام اور تابعین کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ اپنے عزیزوں کی موت پر گریہ کیا کرتے ۔ ایک روایت میں نقل ہوا ہے ۔

کہ جب امیر المومنین کو مالک اشتر کی شہا دت کی خبر ملی تو گفتگو کے درمیان فرمایا:

علی مثله فلتبک البواکی ( ۲ )

گریہ کرنے والوں کیلئے شائستہ یہ ہے کہ اس جیسے پر آنسوبہائیں۔

عباد کہتے ہیں : حضرت عائشہ فرمایا کرتیں : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت میں نے ان کا سر تکیے پر رکھا اور دوسری عورتوں کے ہمراہ سینے اور منہ پر پیٹا۔( ۳ )

عثمان کہتے ہیں : جب میں نے عمر کو نعمان بن مقرن کی وفات کی خبر دی تو اس نے اپنا ہاتھ سر پر رکھااور گریہ کیا ۔( ۴ )

جب محمد بن یحی ذہلی نیشاپوری نے احمد ابن حنبل کی وفات کی خبر سنی توکہا : مناسب ہے کہ تما م اہل بغداد اپنے اپنے گھروں میں نوحہ خوانی کی مجالس برپا کریں ۔

____________________

۱۔المستدرک علی الصحیحین ۱: ۵۱۴.

۲۔سیر اعلام النبلاء ۴: ۳۴؛ الکامل فی التاریخ ۳: ۲۲۷.

۳۔سیرة النبوة ۶: ۷۵؛ مسند احمد ۶: ۲۷۴.

۴۔المستدرک علی الصحیحین ۳: ۳۳۲ ؛ المصنف لابن ابی شیبہ ۳: ۴۵؛ مسند احمد ۶:۲۷۴؛ السیرة النبویة ۶:۷۵.


گلی کوچوں پر عزاداری

گلی کوچوں او رسڑکوں پر عزاداری کرنا ان امورمیں سے ہے کہ جو مسلمانوں کے درمیان رائج تھے ۔

نسفی کہتے ہیں : میں اہل سنت کے حافظ بزرگ ابو یعلی عبدالمومن بن خلف (ت ۳۴۶ھ) کے جنازے میں شریک تھا کہ اچانک چار سو طبلوںکی آواز گونجنے لگی۔( ۱ )

ذہبی کہتے ہیں : جوینی نے ۲۵ ربیع الثانی ۴۷۸ھ میں وفات پائی ۔ لوگ اسکے منبر کوتوڑ کر تبرک کے طور پر لے گئے ، اس کے سوگ میں دکانوں کو بند کردیا اور مرثیے پڑھے ۔ اس کے چار سو شاگرد تھے جنہوں نے اس کے فراق میں قلم ودوات توڑ ڈالے اور ا س کے لئے عزا برپا کی ۔ انہوں نے ایک سال کے لئے عمامے اتار دیئے اور کسی کی جرئت نہ تھی کہ سر کوڈھانپے ۔ طلاب شہر میں پھرتے ہوئے نوحہ وفریاد اور گریہ وزاری میں مشغول رہتے ۔( ۲ )

اس کے بعد افکار ابن تیمیہ کا پروردہ ذہبی نرم زبانی میں کہتاہے : ایسے اعمال عجمیوں کی رسومات میں سے ہیں او رسنت نبوی کی پیروی کرنے والے علماء ایسے اعمال انجام نہیں دیتے ۔

لیکن وہی دوسرے مقام پر ۳۵۱ھ میں معز الدولہ کے دوران حکومت میں بغداد میں امام حسین کی عزاداری کے سلسلہ میں بازروں کے بند ہونے اور لوگوں کے سروسینہ پر ماتم کرنے و۔۔ ۔۔۔ کے بارے میں اپنے کینہ کی بناپر بے شرمی سے کہتاہے ۔

خدایا! ہماری عقلوں کو مضبوط بنا ۔( ۳ )

____________________

۱۔سیر اعلام النبلاء ۱۵: ۴۸۰ ؛ تاریخ ابن عساکر ۱۰ : ۲۷۲.

۲۔سیر اعلام النبلاء ۱۸:۴۶۸ ؛ تاریخ بغداد ۹۳ ؛ وفیات الاعیان ۳ : ۱۴۹.

۳۔العبر ۳: ۸۹ ؛ تاریخ الاسلام : ۱۱ ؛ حوادث سال ۳۵۱ھ.


یہ امر روشن ہے کہ ذہبی کا یہ جملہ تعصب کے سواکچھ نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے علمائے اہل سنت نے اسے جواب دیا ۔ علمائے اہل سنت میں سے سبکی ، ذہبی کے جواب میں کہتے ہیں : نہ تو امام نے خود ایسے اعمال انجام دیئے اور نہ ہی وصیت کی کہ اس کے مرنے کے بعد ایسا کیا جائے لیکن وہ اس قدر بزرگ شخصیت تھے کہ ان کے شاگردوں سے اس کی مصیبت برداشت نہ ہوسکی۔( ۱ )

تعجب ہے سبکی پر ! کیسے امام جوینی کی بات آئی تو ذہبی کو محکوم کیا لیکن جوانان جنت کے سردار امام حسین بن علی کی عزاداری کے بارے میں جب اس نے جانبداری اختیار کی تونہ سبکی اور نہ ہی ان کے دوسرے علماء میں سے کسی نے کسی طرح کا رد عمل ظاہر کیا۔

خالد ربعی عمر بن عبدالعزیز کی عزاداری کے بارے میں کہتاہے :

تورات میں بیان ہوا ہے کہ عمر ابن عبد العزیز کی موت پر چالیس دن تک زمین وآسمان گریہ کریں گے. ۲

عزاداری امام حسین

ابن کثیر (البدایة والنہایة ) میں لکھتے ہیں ؛

ملک ناصر (حاکم حلب) کے زمانے میں یہ درخواست کی گئی کہ روز عاشوراء کربلا کے مصائب بیان کئے جائیں ۔ سبط بن جوزی منبر پر گئے ، کافی دیر سکوت کے بعد عمامہ سر سے اتارا اورشدید گریہ کیا۔ اور پھر یہ اشعار پڑھے :

ویل لمن شفعاء خصمائه

والصور فی نشر الخلائق ینفخ

لا بد ان ترد القیامة فاطم

وقمیصها بدم الحسین ملطخ

____________________

۱۔طبقات الشافعیة ۵: ۱۸۴.

۲۔تاریخ الخلفاء ، سیوطی ۱: ۲۴۵.


افسوس ہے ان پر جن کی شفاعت کرنے والے جب میدان محشر میں صور پھونکاجائیگا تو ان کے دشمن ہونگے ۔ اورفاطمہ روز قیامت ضروراپنے فرزند حسین کے خون میں لتھڑی ہوئی قمیص لے کر میدان محشر میں وارد ہونگی۔

یہ کہہ کرمنبر سے اترے اور اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے گئے ۔( ۱ )

واضح روایات او رتاریخی شواہد کی روشنی میں مجالس ، ماتم وسوگواری ، نوحہ خوانی ، گریہ وعزاداری ، عزیزوں کے فراق میں بے تابی ، منہ اور سینے پر پیٹنا ، دکانوں کا بند رکھنا او رغم واندوہ کی دیگر علامات طول تاریخ مسلمین میں رائج رہی ہیں۔

مردوں پر رونا

جو لوگ مردوں پر رونے کو حرام سمجھتے ہیں وہ اس حکم پر چند دلیلیں پیش کرتے ہیں

اول: وہ احادیث جو عمر، عبداللہ بن عمر او ردیگر سے نقل ہوئی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے ۔ (عزیزوں کے گریہ کی وجہ سے مردے پر عذاب نازل ہوتاہے )( ۲ )

لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے نقل کرتے وقت اشتباہ کیا ہے یا بطور کلی روایت کے متن کو بھول بیٹھا ہے ۔

ابن عباس کہتے ہیں : عمر کی وفات کے بعد جب یہ حدیث عائشہ کے سامنے پیش کی گئی توفرمایا: خداکی رحمت ہو عمر پر ، خدا کی قسم ! رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی بلکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

ان الله لیزیدالکافر عذابا ببکاء اهله

____________________

۱۔البدایة والنھایة ۱۳: ۲۰۷.

۲۔جامع الاصول ۱۱: ۹۹؛ ح ۸۵۷؛ السیرة النبویة ۳:۳۱۰؛ سننن ابن ماجہ ۱:۵۰۶ ، ح ۱۵۸۹.


بیشک خداوند متعال کافر کے گھر والوں کے گریے کی وجہ سے اس پر عذاب بڑھادیتاہے ۔

اس کے بعد حضرت عائشہ فرماتی ہیں :ولاتزر وازرة وزر اخری ( ۱ )

ترجمہ: (اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہوںکا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔)

عبدا للہ ابن عمر بھی وہاں پر موجود تھے انہوں نے حضرت عائشہ کے جواب میں کچھ نہ کہا۔( ۲ )

ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب عبد اللہ بن عمر کی یہ روایت حضرت عائشہ کے سامنے نقل ہوئی توفرمایا: خداوند متعال عبد اللہ بن عمر کو بخش دے ۔ اس نے جھوٹ نہیں کہا ۔بلکہ یا توبھول بیٹھا ہے یا نقل کرنے میں اشتباہ کیاہے ۔

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک یہود ی عورت کی قبر کے پاس سے گزرے تو دیکھا اس کے رشتہ دار اس پر رورہے ہیں توفرمایا:

انهم لیبکون علیها وانها لتعذب فی قبرها

وہ اس پر رورہے ہیں جبکہ قبر میں اس پر عذاب ہورہاہے ۔

روایات کی توجیہ

علمائے اہل سنت نے اس بارے میں ان روایات کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے : ان احادیث کا معنی یہ ہے کہ وہ گریہ کے ہمراہ ایسی صفات وخصوصیات کا ذکر کرتے کہ جو شریعت میں حرام ہیں ۔ مثال کے طورپر کہا کرتے : اے گھروں کو ویران کرنے والے! اے عورتوں کو بیوہ کرنے والے !و۔۔۔۔

ابن جریر ، قاضی عیاض اور دیگر نے ان روایات کی توجیہ میں کہا ہے کہ : رشتہ داروں کاگریہ سننے سے میت

____________________

۱۔سورة فاطر : ۱۸.

۲۔المجموع ۵: ۳۰۸ ؛ صحیح بخاری ۱: ۴۳۲.


کا دل جلتاے اور وہ غمگین ہوجاتا ہے ۔

مزید ایک توجیہ حضرت عائشہ سے نقل ہوئی ہے جو انہوں نے اس حدیث کے معنی میں بیان فرمائی ہے کہ جب رشتہ دار گریہ کرتے ہیں تو کافر یا غیر کافر پر اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوتاہے نہ کہ عز یزوں کے گریہ کی وجہ سے ۔( ۱ )

علامہ مجلسی اس بارے میں (بحار الانوار میں لکھتے ہیں :

اس حدیث میں حرف (باء ) مع کے معنی میں ہے یعنی جب میت کے رشتہ دار اس پر گریہ کرتے ہیں تو وہ اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوتاہے( ۲ )

دوم : میت پر گریہ کرنے کی حرمت پر دوسری دلیل وہ روایت ہے کہ جو متقی ہندی نے حضرت عائشہ سے نقل کی ہے ۔ کہ انہوںنے کہا :

جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جعفر بن ابی طالب ، زید بن حارثہ او رعبد اللہ رواحہ کی شہادت کی خبر ملی تو چہر ہ مبارک پرغم واندوہ کے آثار طاری ہوئے ۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی اچانک ایک شخص آیا او رعرض کیا: یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! عورتیں جعفر پر گریہ کر رہی ہیں ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :فارجع الیهن فاسکتهن ، فان ابین فاحث فی وجوههن (افواههن ) التراب)

ان کے پاس جاؤ او رانہیں خاموش کراؤ۔ پس اگر وہ انکار کریں تو ان کے منہ پر خاک پھینکو۔( ۳ )

____________________

۱۔المجموع ۵: ۳۰۸.

۲۔بحار الانوار ۷۹: ۱۰۹.

۳۔کنزالعمال ۱۵: ۷۳۲ ؛ المصنف لابن ابی شیبہ ۳: ۲۶۵.


یہ روایت چند اعتبار سے قابل اعتراض ہے ۔

(رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مرنے والوں او شہداء پر گریہ کرتے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے کہ حمزہ اورجعفر و۔۔۔ پر گریہ کریں اور پھر جب حضرت عمر نے عورتوں کو گریے سے منع کیا۔ تو فرمایا : انہیں چھوڑ دو، آنکھیں گریہ کناں ہیں اور...۔( ۱ )

۲ ۔ اس حدیث کے روایوں میں سے ایک محمد ابن اسحاق بن یسار بن خیار ہے ۔ جس کے بارے میں علمائے رجال میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ۔ ابن نمیر کہتے ہیں : وہ مجہول ہے اور باطل احادیث کو نقل کرتاہے ۔

احمد بن حنبل کہتے ہیں : ابن اسحاق احادیث میں تدلیس کیا کرتا اور ضعیف احادیث کو قوی ظاہر کرتا.( ۲ )

سوم: گریے کے حرام ہونے پر تیسری دلیل حضرت عمر کا عمل ہے ۔ نصر بن ابی عاصم کہتے ہیں : ایک رات عمر نے مدینے میں عورتوں کے گریے کی صدا سنی تو ان پر حملہ کردیا اور ان میں سے ایک عورت کو تازیانے مارے ، یہاں تک کہ اس کے سرکے بال کھل گئے ۔ لوگوں نے کہا : اس کے بال ظاہر ہوگئے ہیں ۔ کہا : اس کا کوئی احترام نہیں( ۳ ) اس روایت میں چند لحاظ سے غور کرنے کی ضرورت ہے :

۱۔ حضرت عمر نے ایسے گھرپر حملہ کیا جس میں نامحرم عورتیں موجود تھیں او رپھر اسی تلخ واقعہ کا تکرار خانہ وحی پر حملہ کرکے کیا ۔( ۴ )

____________________

۱۔سنن نسائی ۴: ۹۱ ؛ مسند احمد ۳: ۳۳۳ ؛ا لمستدرک علی الصحیحین ۱: ۳۸۱.

۲۔تہذیب الکمال ۱۶: ۷۰.

۳۔کنزالعمال ۵: ۷۳۱ ؛ المصنف عبدالرزاق ۳: ۵۵۷ ح ۶۶۸۲.

۴۔خانہ وحی وہ گھر ہے جس میں حضرت فاطمہ موجود تھیں اس پر حملہ کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اور رپھر اپنے اس عمل کے بارے میں یہ کہا ہے کہ ان عورتوں کا کوئی احترام نہیں ہے ) کیا اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ عورتیں مسلمان نہیں تھیں یا پھر ماننا پڑے گاکہ عمرنے ان کی حرمت کا کوئی خیال نہ رکھا ؟


۲۔ کیا حضرت عمر کا عمل حجت ہے ؟ کیا وہ معصوم ہیں ؟ جبکہ کسی نے بھی یہ دعوی نہیں کیاکہ وہ معصوم ہیں ۔ امام غزالی نے ابوبکر وعمر کے قول کی حجیت کوبے اساس قرار دیاہے اورکہا ہے : بے بنیاد اصولوں میں سے دوسری اصل قول صحابی کا حجت ہوناہے ۔ بعض کہتے ہیں : صحابی کی رائے بطور کلی حجت ہے اور بعض کہتے ہیں : صحابی کی رائے اگر قیاس کے مخالف ہوتو حجت ہے و۔۔۔۔۔

اس کے بعد غزالی کہتے ہیں :یہ سب اقوال باطل ہیں ۔ چونکہ جو شخص عصمت نہیں رکھتااو راس کے عمداً یا سہواً اشتباہ کرنے کا احتمال موجود ہے تواس کا قول کسی طرح بھی حجت نہیں ہوسکتا۔( ۱ )

۳۔ وہ موارد جن میں خلیفہ کی رائے سنت وفعل رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سراسر مخالف ہے ان میں سے یہ

عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں : میں ابوبکر کی عیادت کیلئے گیا ۔ توکہنے لگے ۔ اے کاش! میں نے تین کام انجام نہ دیئے ہوتے ۔وہ تین کا م کونسے ہیں؟

۱۔ فاطمہ کے گھر کی حرمت پامال نہ کی ہوتی او رانہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہوتااس روایت کو بہت سے اہل سنت علماء نے نقل کیاہے جن میں سے ابن ابی شیبہ نے المصنف ۲: ۵۷۲ ؛ بلاذری نے انساب الاشراف ۱: ۵۸۶؛ طبری نے اپنی تاریخ ۲: ۴۴۳ ؛ ابن عبدالبر نے استیعاب ۳: ۹۷۵ و۔۔۔۔۔ میں نقل کیا ہے ۔

____________________

۱۔المستصفی ۱؛ ۲۶۰ ؛ دراسات فقہیة فی مسائل خلافیة : ۱۳۸.


روایت بھی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمر سے فرمایا : اے عمر! ان عورتوں کو چھوڑ دو۔( ۱ )

اور اسی طرح حضرت عائشہ کا یہ قول کہ فرمایا:

خدا رحمت کرے عمر پر یا تو فراموش کربیٹھا ہے یااس سے نقل کرنے میں اشتباہ ہواہے ۔(۲ )

جوکچھ بیان کیا گیاہے یہ ان ادلہ کا خلاصہ ہے جو وہابیوں کے ادعاء کو رد کرنے کیلئے بیان کی گئی ہیں اورہم اسی مقدار پر اکتفاء کرتے ہیں اس لئے کہ جو شخص سننے والے کان رکھتاہے اس کے لئے یہی کافی ہے ۔

الحمد لله رب العالمین

____________________

۱۔مسند احمد ۳: ۳۲۳.

۲۔المجموع ، نووی ۵: ۲۰۸.


فہرست

مشخصات کتاب ۴

انتساب ۵

موضوعات ۶

مقدمہ مترجم ۷

مقدّمہ مؤلف ۸

۱۔توسّل ۲۱

توسّل اور اسکی اعتقادی جڑیں ۲۱

۱۔ قرآن کریم ۲۔ احادیث ۲۱

۱۔توسّل حضرت آدم علیہ السلام : ۲۳

۲۔ پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تاکید اورپیشگوئی: ۲۳

۳۔ فرمان پیغمبراکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ۲۴

۴۔ تاکید حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ۲۵

۵۔صحابہ کرام کا قبر پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسل کرنا: ۲۵

۶۔ توسّل ابوالحسین فقیہ شافعی : ۲۶

۷۔ توسّل ابو الحسین بن ابی بکر فقیہ : ۲۶

۸۔ حاکم نیشاپوری کا قبر امام رضا علیہ السلام سے توسّل کرنا: ۲۶

۹۔ زید فارسی کا قبر امام رضاعلیہ السلام سے متوسّل ہونا : ۲۷

۱۰۔ابو نصر مؤذن نیشاپوری کا توسّل : ۲۸

۱۱۔ امیر خراسان کا قبر امام رضاعلیہ السلام سے توسّل : ۲۹


۱۲۔ ابو علی خلال کا قبر امام موسیٰ کا ظم سے توسّل: ۲۹

۱۳۔اہل مدینہ کاقبر پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے توسّل کرنا : ۳۰

۲۔شفاعت ۳۲

شفاعت کیا ہے ؟ ۳۲

مسلمان اور عقیدہ شفاعت ۳۳

۱۔ قاضی عیاض کہتے ہیں : ۳۳

۲۔ ناصرالدین مالکی اس بارے میں لکھتے ہیں : ۳۴

اقسام شفاعت ۳۵

۱۔ قیامت میں شفاعت : ۳۵

۲۔ دنیا میں شفاعت کا طلب کرنا : ۳۵

آیات کی روشنی میں ۳۶

احادیث کی روشنی میں ۳۶

علمائے اسلام کے اقوال کی روشنی میں ۳۷

۱۔ شیخ مفید فرماتے ہیں : ۳۷

۲۔ علا مہ مجلسی فرماتے ہیں : ۳۷

۳۔ فخر رازی لکھتے ہیں : ۳۸

۴۔ ابو بکر کلا باذی (م ۳۸۰ھ) لکھتے ہیں : ۳۸

دنیا میں شفاعت ۳۹

ولادت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے ان سے شفاعت طلب کرنا ۳۹

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں ان سے شفاعت کا طلب کرنا ۴۱


۱۔انس کی روایت: ۴۱

۲۔سواد بن قارب کی روایت: ۴۲

آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعدان سے شفاعت کی درخواست ۴۳

۱۔ حضرت علی علیہ السلام کا آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت طلب کرنا : ۴۳

۳۔ اعرابی کا صحابہ کی موجودگی میں شفاعت طلب کرنا: ۴۴

حیات انبیاء ۴۵

استغفارآیات کی روشنی میں ۴۸

شفاعت کے بارے میں وہابی نظریہ ۴۹

اس نظریہ کا جواب ۵۰

حرمت شفاعت پردوسری دلیل ۵۳

خاک مدینہ سے علاج ۵۵

تبرّک اور اہل سنّت فقہاء کا نظریہ ۵۶

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مس شدہ سکوں سے تبرّک ۵۹

وہ قبور اور جنازے جن سے تبرّک حاصل کیا گیا ۶۱

باعظمت چیزوں سے تبرّک حاصل کرنا ۶۳

۴۔استغاثہ ۶۵

حاجت کی درخواست ۶۵

وہابی نظریہ کی تحقیق اور اس پر اعتراض ۶۶

فقہاء کی نظر میں استغاثہ اور مددطلب کرنا ۷۰

۱۔ علاّمہ قسطلانی(م ۹۲۳ھ) کہتے ہیں: ۷۱


۲۔ علاّمہ مراغی(م۸۱۶ھ) کہتے ہیں: ۷۱

۳۔ قیروانی مالکی ( م ۷۳۷ھ ) زیارت قبور کے بارے میں ایک الگ فصل میں لکھتے ہیں: ۷۱

استغاثے کے نمونے ۷۳

۱۔نابینا شخص کا پیغمبر سے استغاثہ : ۷۳

۲۔ حضرت عائشہ اور عمر کا پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر سے استغاثے کا حکم دینا : ۷۵

اہل بیت کی قبور سے استغاثہ ۷۹

۱۔ قاہرہ میں مقام امام حسین سے استغاثہ : ۷۹

۲۔ نابینا شخص کا بارگاہ امام حسین علیہ السلام سے توسّل : ۸۰

۳۔ ابن حبّان کا قبر امام رضا علیہ السلام سے استغاثہ : ۸۲

۴۔ ابن خزیمہ کا قبر امام رضا علیہ السلام پر التماس کرنا: ۸۳

بعض صحابہ کرام اور علمائے اہل سنّت کی قبور سے استغاثہ ۸۵

۱۔قبر ابوایوب انصاری ( م۵۲ھ روم ): ۸۶

۲۔ قبر ابوحنیفہ : ۸۶

۳۔ قبر احمد بن حنبل : ۸۷

۴ ۔ قبرابن فورک اصفہانی( م ۴۰۶ھ) : ۸۷

۵۔ قبر شیخ احمد بن علوان ( ت ۷۵۰ھ) : ۸۸

خاتمہ ۸۸

ان سے استغاثہ کریں ۸۹

۵۔زیارت قبور ۹۰

وہابیوں کے نزدیک زیارت رسو ل صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۹۰


اس نظریے کا جواب ۹۱

۱۔قرآن کی نظر میں ۹۱

۲۔ احادیث کی نظر میں ۹۱

پہلی حدیث : ۹۲

دوسری حدیث : ۹۲

تیسری حدیث : ۹۳

چوتھی حدیث : ۹۳

۳۔ صحابہ کرام کی سیرت ۹۴

۴ ۔ عقل کی رو سے ۹۶

وہابیوں کی دلیل کے بارے میں تحقیق ۹۶

ابن تیمیہ کے توہمات اور علمائے اہل سنت کا موقف ۹۹

مقامات مقدسہ اور قبور کی زیارت ۱۰۱

۶۔عورت اورزیارت قبور ۱۰۲

عورتوں کا قبور کی زیارت کرنا ۱۰۲

وہابی نظریہ کا ردّ ۱۰۲

۷۔قبروں پر دعا کرن ۱۰۵

قبر پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دیگر قبور کے پاس دعاکرنااور نماز پڑھنا ۱۰۵

وہابیوں کا نظریہ ۱۰۵

اس توہّم کا جواب ۱۰۶

۱۔عمر بن خطاب کا طریقہ کار: ۱۰۸


۲۔ امام شافعی کا قول : ۱۰۸

۳۔قبر معروف کرخی : ۱۰۸

۴۔ قبر شافعی : ۱۰۹

۵۔ قبر بکراوی حنفی ( ت ۴۰۳): ۱۰۹

۷۔ قبر ابو بکر اصفھانی ( ت۴۰۶): ۱۱۰

۸۔ قبر نفیسہ خاتون : ۱۱۰

ابن تیمیہ کا دوسرا فتوٰی ۱۱۱

اس ادّعا کا جواب ۱۱۱

۱۔فتوائے امام مالک: ۱۱۲

۲ ۔ فتوائے خفاجی : ۱۱۲

۳۔ فتوائے محقق حنفی : ۱۱۳

۴۔ فتوائے ابراہیم حربی: ۱۱۳

۵۔ ابو موسٰی اصفہانی کا نظریہ : ۱۱۳

۶۔ سمہودی کا نظریہ: ۱۱۴

۷۔ سختیانی کی رائے : ۱۱۴

۸۔ فتوائے ابن جماعہ : ۱۱۴

۹ ۔ ابن منکدر کا نظریہ: ۱۱۵

ابن تیمیہ کا ایک اور قول اور اس کا جواب ۱۱۵

اسکی دلیل کی تحقیق اور اس پرتنقید ۱۱۶

۱۔امام مالک کا نظریہ : ۱۱۸


۲۔ عبدالغنی نابلسی کا نظریہ : ۱۱۸

۳۔ ابومالکی کا نظریہ : ۱۱۹

۴۔بغوی کا نظریہ : ۱۱۹

۸۔تعمیر قبور ۱۲۱

وہابیوں کا نظریہ اور ان کے فتاوٰی کے نمونے ۱۲۱

۱۔ صنعانی کہتا ہے : ۱۲۱

۲۔ ابن تیمیہ کاشاگرد ابن قیم کہتا ہے : ۱۲۱

۳۔ علمائے مدینہ سے منسوب جواب میں یوں بیان ہواہے: ۱۲۱

اس فتوی کا رد ۱۲۲

اس حدیث پر اعتراض ۱۲۳

سیرت صحابہ کرام ومسلمین ۱۲۷

صحابہ کرام اور تابعین کے زمانہ میں مقبروں کی تعمیر نو ۱۲۸

صحابہ کرام اور دیگر افراد کی قبور ۱۲۹

ابو زبیر کی حدیث سے استناد ۱۳۰

اس حدیث پر اعتراضات ۱۳۱

مقبروں کے آثار ۱۳۳

۹۔قبور پر چراغ روشن کرنا ۱۳۵

قبور پر چراغ روشن کرنا ۱۳۵

اس نظریہ کارد ۱۳۵

۱۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔ ۱۳۵


۴۔ سیر ت مسلمین : ۱۳۷

۱۰۔ نذر ۱۳۸

غیر خدا کیلئے نذر ۱۳۸

اس نظریے کا ردّ ۱۳۹

نذر سے متعلق سیرت مسلمین ۱۴۲

علماء کے فتاوٰی ۱۴۳

۱۱۔غیر خدا کی قسم ۱۴۵

غیر خدا کی قسم کھانا ۱۴۵

اس نظر یے کا جواب ۱۴۶

اول :یہ کہ غیر خدا کی قسم کھا نا ۱۴۶

ب)روایات میں غیر خدا کی قسم کھانا: ۱۴۷

ایک اعتراض ۱۴۸

اعتراض کا جواب ۱۴۹

قسمِ ابوطالب اور تائیدِ پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۴۹

عمل صحابہ ۱۵۰

حدیث عبداللہ بن عمر پر اعتراض ۱۵۰

۱۲۔جشن منانا ۱۵۳

جشن منانا ۱۵۳

اس حدیث پر اعتراضات ۱۵۴

علماء کے اقوال کے نمونے ۱۵۶


مذکورہ حدیث پر اعتراض ۱۵۷

۱۳۔گریہ و مجالس عز ۱۶۰

گریہ ومجالس عزا کا برپا کرنا ۱۶۰

پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی سیرت ۱۶۱

صحابہ کرام او رتابعین کی سیرت ۱۶۲

گلی کوچوں پر عزاداری ۱۶۳

عزاداری امام حسین ۱۶۴

مردوں پر رونا ۱۶۵

روایات کی توجیہ ۱۶۶