یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
وہابيت کا تحليلي اور تنقيدي جائزہ
مؤلف: ہمایون ہمتی
مقدمہ ناشر
محترم قارئین کرام! ہم آپ حضرات کو صاف اور مطمئن قلب کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور عقل وقرآن اور ایمانی بھائی چارگی کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں اور اس کے مطالب کی طرف توجہ کریں تاکہ خالص حقیقت تک پہونچ جائیں بغیر اس کے کہ آپ کسی کے نظریہ سے متاثر ہوں ، اورآپ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد آزاد ہیں کہ اس کی تائید کریں یا اس کی مخالفت ،ہمارا مقصد توخداکے بندوں کو حق وحقیقت کی طرف ہدایت اور خداکی آیات کی یاددھانی کرنا ہے ۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ خداوندعالم نے انسان کو عقل سلیم عطا کی ہے جو اس کے لئے حجت باطنی ہے جس کے بارے میں خداوندعالم روز قیامت سوال کرے گا کہ کیا تم نے اس عقل سے کام لیا اور اس کی ہدایت کی پیروی کی؟! اور خداوندعالم اسی عقل کی بناپر ثواب وعقاب دے گا، پس ہمیں چاہئےے کہ عقل کی ہدایت پر عمل کریں اور ہوائے نفس (نفس امّارہ) کی مخالفت کریں اور اس سے جھاد کریں اور گذشتہ زمانہ کی رسم ورواج کو چھوڑ کرعقل کے چراغ روشن کریں تاکہ صحیح راستہ پر چل سکیں۔
ورنہ تو دنیا میں ضلالت وگمراہی کم نہیں ہے جیساکہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:
( وَإِنْ تُطِعْ اکْثَرَ فِیْ الْارْضِ یُضِلُّوکَعَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ) ( ۱ )
”(اے رسول!) دنیا میں تو بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ تم اگر ان کے کہنے پر چلو تو تم کو خداکی راہ سے بھکادیں“
لہٰذا اگر انسان ہدایت اور راہ مستقیم چاہتا ہے تو محمد وآل محمد علیہم السلام کی اتباع وپیروی کرے کیونکہ یہی حضرات انوار ہدایت اور تقویٰ وپرہیزگاری کے چراغ ہیں انہیں کے گھر میں قرآن نازل ہوا یہی حضرات شریعت اسلام کے سب سے بڑے عالم ہیں کیونکہ انھوں نے ہی شریعت کی حفاظت کی اور انہیں کے دم سے شریعت قائم ہے۔
قارئین کرام! اگر آپ وہابیت کے امام” احمد ابن تیمیہ“ کے بارے میں کچھ پڑھیں اور اس کے کارناموں سے آگاہ ہوں تو آپ کو معلوم ہوجائےگا کہ اس نے تمام اولین وآخرین کی مخالفت کی ہے یھاں تک کہ اپنے استاد احمد ابن حنبل کی بھی مخالفت کی اور یہی نہیں بلکہ صحیح بخاری کی بھی مخالفت کی اور اپنے نرالے نظریات میں مسلمانوں کے اجماع واتفاق کو پسِ پشت ڈال دیا جس کی بناپر اسلامی ممالک کے ہر گوشہ وکنار سے اس کی سرسخت مخالفتیں ہوئیں اور مسلمانوں کے ہر فرقے کے علماء نے اس کی مخالفت میں اپنی اپنی آواز اٹھائی ، یھاں تک کے شام ،قاہرہ اور اسکندریہ کے حکمرانوں نے اس کو کئی مرتبہ قید خانہ میں ڈالا،(اور جب اس نے وہاں پر کچھ لکھنا چاہا) تو اس کوکاغذ وقلم سے بھی محروم کردیا ، کیونکہ اس کی تمام کتابیں مسلمانوں کی مخالفت اور دینی اصول کے برخلاف ہوتی تھیں، ابن تیمیہ اس قدر قید میں رہا کہ قید میں ہی اس کا انتقال ہوا ۔
اور اس کے بعد اس کے نظریات اور اعتقادی بحثیں ختم ہوگئیں ، یھاں تک کہ محمد ابن عبد الوہاب ”وہابیت کابانی“ پیدا ہوا اور اس نے ابن تیمیہ کی سنت، اس کی بدعتوں اور اس کے نظریات کو زندہ کیا اور فتنہ وفساد قتل وغارت کو عام کردیا اور تمام مسلمانوں کے شرک کا فتویٰ دیدیا اور ان کی جان ومال کو مباح کردیا ،چنانچہ اس برے طریقہ پر وہابیت کا عقیدہ قائم ہے جو اسلام ناب محمدی(ص)کی ہدایت سے کوسوں دور ہے اور یہ عقیدہ تمام انسانی قواعد کے بھی خلاف ہے نیز اس فطرت کے بھی خلاف ہے جس پر خداوندعالم نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔
موسسہ امام علی علیہ السلام جس کا مقصد دینی نظریات کی تبلیغ وترویج اور شریعت محمدی کی نشر واشاعت ہے موسسہ نے یہ واجب سمجھا کہ لوگوں کووہابیوں کے انحرافات اور بدعتوںسے مختلف زبانوں میں آگاہ کرے تاکہ لوگوں پر حقیقت واضح اور حجت تمام ہوجائے ۔
والسلام علی من اتبع الهدیٰ
موسسہ امام علی علیہ السلام
____________________
[۱] سورہ انعام آیت ۱۱۶
مقدمہ مؤلف
قارئین کرام موجودہ کتاب وہابیت کی تحقیق وتنقید کے بارے میں تحریر کی گئی ہے( ۱ )
فرقہ وہابیت جو ابن تیمیہ اور ابن قیّم جوزی جیسے افراد کی طرز فکر پر ، محمد ابن عبد الوہاب کے ذریعہ وجود میں آیا ، یہ منحرف اور پست فرقہ ، اسلامی بلند مرتبہ تعلیمات کی حیات بخش روح سے دور ہے،ابتداء سے آج تک اس فرقے نے عالم اسلام اور مسلمانوں کے در میان تفرقہ اندازی ، تباہی، تخریب کاری اور فتنہ و فساد کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا ہے۔
یہ فرقہ جو ” توحید خالص “ اور ہر طرح کے شرک کی نفی کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ عملی میدان میں کفر و شرک کے موجودہ سرپرستوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہے ، دقیق تحلیل و بررسی کے بعد واضح ہوتا ہے کہ یہ فرقہ اپنے تمام مکرو فریب سے بھر پوردعووں کے بر خلاف ، ایک شرط اور آئین کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ، بلکہ ایک قسم کی مادہ گرایی ، ظاہر پرستی( ۲ ) اورظاہرداری کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اور لوگوں کو دھوکہ دینے میں تمام دعوے نقش بر آب ہوگئے ۔
اس فرقہ کے سارے اعتقادات بے بنیاد اور احمقانہ ہیں ، قرآن و روایات سے نتیجہ گیری بھی سطحی اور مذاق اڑانے والی ہے ، مجموعی طور پر وہابی فرقہ ظاہرپرست ، ویرانگر اور فساد بر پا کرنے والا فرقہ ہے ، اس نے عالم اسلام پر بہت برے نتائج چھوڑے ہیں ، اس فرقہ کا مسلمانوں اور مستضعفوں کے لئے بہترین تحفہ ،( ۳ ) مسلمانوں اور موحد افراد کے درمیان تفرقہ وجدائی ، اور کفار و مشرکین کو تقویت دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔
ہمارے عقیدے کے مطابق یہ منحرف اور استعماری فرقہ کہ جو براہ راست انگلینڈ کی وزارت کے حکم کے مطابق محمد بن عبدالوہاب کے ذریعہ ظاہر ہواہے،( ۴ )
عالمی اور انٹرنیشنل استعمارو استکبار کا مسلمانوں کے خلاف کا میاب ترین حربہ بن چکا ہے ، اور عملی طور پر اس فرقے کی ظاہر پرست تعلیم ، اتحاد مسلمین میں سب سے بڑا مانع ہے اور اس فرقہ کے ذریعہ کس قدر عظیم نقصان ہوا ہے ، کہ جس وقت تمام عالم اسلام اس پرُ آشوب ماحول میں اپنے اتحاد کی شدید ضرورت کو محسوس کررہا ہے ، اس فرقے کے ذریعہ تمام عالم اسلام میں تفرقہ اندازی اور جدائی ہوگئی ہے ، یہ فرقہ جو خود کو توحید کا حامی اور شرک سے مقابلے کا مدعی کہہ رہا ہے ، عملی میدان میں مسلمانوں کا دشمن اور مشرکوں سے دوستی کا دم بھر تا ہوا نظر آیا ، اور انہیں ظاہری اور جھوٹے دعووں کے ذریعہ ایک دوسرے کو جدا کردیا ہے ، تا کہ خونخوار استعمار کو غارت کرنے کا اور زیادہ موقع مل جائے ، اور مسلمانوں کے مال و دولت کو آسانی سے تباہ و بر باد کرسکے ، اور اسلامی ممالک کے بھر پور وسائل کی طرف دست درازی کرسکے ۔
وہابیت کے سلسلے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، لیکن ہم اس موقع پر صرف ان کے اہم اور کلی عقائد کی تحقیق اور ان پر تنقید کریں گے ۔
ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم عقلی اور نقلی(قرآن وحدیث کی روشنی میں ) تحقیق کے ذریعہ اور واضح و روشن دلیلوںکے ساتھ آیات الہٰی اور احادیث معصومین علیہم السلام کہ جو خاندان نبوت واہل بیت عصمت وطھارت اور چراغ ہدایت اور مکتب توحید کے علمبردار ہیں ، کے ذریعہ وہابیوں کے دعووں کو باطل کریں ، اور ان کی تناقض گوئی کو لوگوں پر آشکار کریں ۔
اگر چہ ہماری نظر کے مطابق حق مطلب ادا نہیں ہوپایا ہے اور بہتر تویہ تھا کہ اس فرقے کے تمام کلی اور جزئی عقاید بیان کرکے ان کی تنقید کی جاتی۔( ۵ )
لیکن جتنی ہم نے کوشش کی ہے ایک عاقل اور منصف انسان کیلئے کافی ہے ، تا کہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرسکے اور فرقہ وہابیت کے جھوٹے اور باطل دعووں کی گھرائی تک پہونچ سکے ،ہم نے اس کتاب میں کوشش کی ہے کہ ان کے اصلی منابع کے ذریعہ کہ جن کے مولفین خود وہابیت کے ٹھیکیدار ہیں، ان کے عقائد اور افکار پر تنقید کریں تا کہ پھر ان کیلئے انکار کی گنجائش بھی باقی نہ رھے۔
ہم سعودی عرب کی حکومت کے بارے میں جو وہابیت کا گڑھ ہے کوئی بحث نہیں کریں گے، تا کہ قارئین یہ نہ سوچیں کہ ہم ایک سیاسی ،اجتماعی اورغلط نظام سے مقابلہ کررھے ہیں ، بلکہ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم لوگوں کو بتائیں کہ وہابیت کا طرز تفکر ، ناپائیدار ، استعماری اور منحرف ہے ، اور عقلی لحاظ سے محکوم ہے اور یہ نظریہ خود قارئین کرام پر واضح ہو جائیگا کہ یہ غلط طرزتفکر اورمنحرف مکتب ، میدان عمل میں اور ایک سیاسی اجتماعی نظام کی شکل میں بھی انحراف اور تباہی و بر بادی اور دنیا کے اہم استعمارسے رابطہ اور غلط ارادوں کے علاوہ کچھ نہیں کر پائیگا ۔
وہابیوں کی فکریں جو سعودی حکومت کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ، جن کا نتیجہ انحراف اور فساد کے علاوہ کچھ نہیں ہے کیونکہ ایک غلط فکر کے ذریعہ غلط نتیجہ کے علاوہ اور کیا چیز وجود میں آسکتا ہے ، کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک فکری ہدف کہ جو سراپا خطا اور منحرف ہو ، ایک حکومت کی شکل اختیار کرنے کے بعد ، اس کے نتائج اچھے اور صحیح نکلیں ، کیا فکر اور عمل اور فکر و اقعیت میں لاینفک اور ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے والا ارتباط نہیں ہے؟ایک غلط فکر کیسے صحیح نتیجہ دے سکتی ہے ؟! یہ نظر عقلی اور منطقی معیار سے مردود اور باطل ہے ۔
پس اگر اس طرح ہے، تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ ممالک جو وہابیت کا مرکز ہیں اس طرح کی غلط اور منحرف تصمیم گیری کرتے ہیں۔( ۶ )
مثال کے طور پر کیوں امریکہ کی گود میں جابیٹھتے ہیں اور اس کی طاقت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ، اور جمھوری اسلامی ایران کے ساتھ کہ جو گھوارہ آزادی و توحیدھے اور شرک و کفر و ظلم وستم اور بت پرستی سے مقابلے کا مرکز ہے اس طرح سے سلوک کریں ، یہ سب کچھ وہابیت کے غلط بنیادی نظریات کا سر چشمہ ہے ، کیونکہ ہمارے عقیدہ کے مطابق فکر و عمل ایک دوسرے سے کبھی جدانھیں ہوسکتے ، عمل انسان کی فکر اور اعتقاد کو ظاہر کر دیتا ہے ، ہر شخص جس طرح سوچتاہے اسی طرح عمل بھی کرتا ہے ، اور عمل اس کے عقیدہ کی عکاسی کرتاہے ۔
وہابیوں کی ان غلط اور تناقض آمیز فیصلے اور ارادوں کی اصل وجہ کو بھی ان کے منحرف عقیدے اور فکر میں تلاش کریں ۔
مجھے امید ہے کہ یہ نا چیز خدمت ، خداوند عالم او ر حضرات معصومین (ع) کی بارگاہ میں مقبول ہو ، اورصاحب عقل اور حقیقت تلاش کرنے والوں کیلئے مفید ثابت ہو ، اور میدان عمل میں تمام مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد اور استعمار کے حربوں کو ناکام ، اوردنیا بھر کے مسلمانوںکے ذھنوں کو روشن کرنے ، اور اسلام کی عظمت اور کامیابی کا باعث بنے ، کہ اس کتاب کے لکھنے کا ہمارا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
خداوند کریم کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں کہ ہمارے عظیم و با شعور قائد و رھبر حضرت امام خمینی ( روحی فداہ ) کو ہمیشہ تندرست اور کامیاب و سرفراز رکھے اوران کو صاحب عزت قرار دے تاکہ اپنے پاک و پاکیزہ اور بیدار و خدابین دل کے ذریعہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور مظلوم لوگوں کو حق و انصاف اور آزادی کی طرف دعوت دیں اور ان کو اسلام مبین سے آشنا کرائیں ، اور کفر و شرک سے دور رکھیں اورجابروں ، ظالموں اور بت پرستوں کو ذلیل و رسوا کریں ۔
آخر میں ضروری سمجھتا ہوں کہ برادر گرامی آقای حسن دوست ( حفظہ الله)معاونت محترم امور مالی سازمان تبلیغات اسلامی کے لطف و کرم اور برادر محقق حضرت حجة الاسلام والمسلمین جناب آقای تسخیری(دام عزہ ) معاون محترم امور بین الملل سازمان تبلیغات اسلامی کی عنایتوں اور راہنمائی کاشکر یہ اداکروں کہ جنھوں نے ہمیشہ اس ناچیز مولف کو اپنے لطف و کرم کا اہل سمجھا اور میں نہایت اطمینان کے ساتھ اس ناچیز خدمت میں مشغول ہو گیا ،خداوند عالم ان کو مزید توفیقات عنایت فرمائے۔
اسی طرح معاونت فرھنگی سازمان تبلیغات کے ذمہ دار برادران کا بھی بہت شکرگذار ہوں کہ جھنوں نے وقت شناسی ،واقع بینی اور اسلامی تعھد کے ساتھ اس کتاب کو نشر کیا ، اور اپنی پرُ افتخار خدمات میں اس خدمت کا بھی اضافہ کیا ، ان کیلئے بھی خداوندعالم سے طالب ہوں تاکہ اسلام، انقلاب اسلامی اور جمھوری اسلامی ایران کی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
( اِنْ اُریدُ الاصْلَاحَ مَا اسْتَطعْتُ وَ مَا تَوفیقی اِلّا بِاللهِ عَلیهِ توکّلتُ وَ اِلیهِ اُنِیبُ )
اقل عباد
ہمایون ہمتی
____________________
[۱] ہم یھاں پر یہ عرض کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب سازمان تبلیغات اسلامی (بین الاقوامی روابط) کی فرمایش پر لکھی گئی ہے او رجیسا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہماری یہ کتاب مذکورہ سازمان کی طرف سے دنیا کی ۶/مشھور زبانوں میں ترجمہ ہوگی ۔
سازمان تبلیغات اسلامی بخش معاونت فرھنگی نے بھی اپنی تمام تر بلند ہمتی ، واقع بینی اور علم ودانش کی بناپر اجتماعی حادثات کے پیش نظر ”فرق ومذاہب“ کے سلسلے میں تحقیقات کا احساس کیا او راس سلسلہ میں کتابوں کے نشر کا سلسلہ شروع کیا ،ہم جس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نے اس فارسی کتاب میں کچھ مزید چیزوں کا اضافہ کیا ہے کہ جس کی بناپر کتاب کا ترجمہ ممتاز او راپنی خصوصیات کا حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے پڑھے لکھے اسلامی معاشرے اور فارسی زبان مسلمانوں کی ضرورت اس چیز کا تقاضا کرتی تھی۔
ہم نے اس سے پھلے وہابیت کی ردّ میں ”نقد وبررسی آئین وہابیت“ نامی کتاب لکھی ہے کہ جس میں صرف وہابیت کے کلی (خاص خاص)چیزوں کے بارے میں بحث کی تھی لیکن ہم نے اس کتاب میں کلیات کے علاوہ ان مسائل کو بھی بیان کیا ہے جن کا اُس کتاب میں بیان کرنے کی گنجائش نہ تھی، اور ہم امید کرتے ہیں کہ خداوندعالم ہمیں اس سلسلہ میں مزید توفیق دے تاکہ ہم اس خطرناک فرقہ کے بارے میں مزید تحقیقات انجام دے سکیں۔
اور جب بھی وہابیوں کی طرف سے نئے مسائل رونما ہوتے ہیں اس وقت اس منحرف فرقے کی بے ہودہ باتوں کے جواب اور ردّ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اسی وجہ سے دلسوز محقق اور دانشور حضرات اس خطرناک اور ذلیل فرقہ سے اعتقادی اورفکری مقابلے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور ”قلم کی رسالت “کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں ، اور انشاء اللہ ایسا ہوتا رھے گا۔
[۲] وہابیت کی ”مادہ گرائی“ اور ”جسم انگاری“ اور وہابیت کی ظاہر پرستی اور کھوکھلہ پن اور اسی طرح ان کی ”انحصار طلبی“ یعنی وہ فقط خود کو سچّا مسلمان! کہتے ہیں اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر، مشرک، توحیدکے مخالف اور بت پرست کہتے ہیں ، او ر ”انحصار طلبی اعتقادی“ کی بدترین قسم اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ واختلاف کے سبب بنتے ہیں ،ہم انشاء اللہ اس سلسلہ میں اسی کتاب میں استدلالی اور تفصیلی بحث کریں گے۔
[۳] جھان اسلام کے لئے ان کا سب سے تازہ تحفہ ، یہ ہے کہ خانہ کعبہ کے نزدیک سیکڑوں بے گناہ حاجیوں کا قتل عام کرنا جس کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عظمت پامال ہوگئی ،او ر دنیا لرز کر رہ گئی اور انسان کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ ڈالا،اور خواب غفلت میں پڑے مسلمانوں کو اس ”صدی کی سب سے بڑی خونریزی“ اور ”تاریخ اسلام کی بے نظیر درندگی“ پر صدائے احتجاج بلند کرنے پر مجبور کردیا ، البتہ یہ سب کچھ آل سعود کے نوکروں کے ذریعہ خوںریزی کی ابتدا ہے ،اور وہ دن دور نہیں کہ جب خدائے قھار ،ملحدوں کے اس نحس سلسلہ سے بدلہ لے گا، اوراپنے دردناک عذاب میں مبتلا کریگا،انشاء اللہ ۔
[۴] ہم خدا وندعالم کے فضل وکرم سے وہابیت کی پیدائش کے سلسلہ میں انگلینڈ کے قدیم استعمار کی کوشش کو اس کتاب کے ایک الگ فصل (وہابیت کی پیدائش ) میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
[۵] اسی وجہ سے ہم اپنی دوسری کتاب جس کو ابھی لکھ رھے ہیں ، اور خدا وندعالم کی بارگاہ سے امید کرتے ہیں کہ جلدازجلد پوری ہوکر منظر عام پر آسکے ، اس کتاب میں وہابیت کی جزئیات ، انحرافات اور شبھات کو تفصیلی طور پربیان کریں گے ، تاکہ اس ناپاک ونحس فرقہ کی جڑیں اکھڑ جائیں اورہمارے پڑھے لکھے جوان اور نئی نسل ، ان منحرف افکار کی عوامانہ مقدس مآبی کے جال سے دور رہیں ، معلوم ہونا چاہئے کہ جس ملت کے پاس بڑے بڑے فلاسفہ مانند: ملّا صدرا (رہ) ،ابوعلی سینا (رہ) ، حکیم سبزواری (رہ) ، علامہ طباطبائی (رہ) او رامام خمینی (رہ)جیسی ھستیاں موجود ہوں او ران اسلامی فیلسوف کی لطیف وظریف نظریات حوزات علمیہ میں تدریس ہوتے ہوں، ہماری اس ملت کو اسلامی معلومات حاصل کرنے کے لئے، ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوہاب جیسے متعصب اور ظاہر پرست نیز گھٹیا فکر رکھنے والوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
[۶] نہ صرف یہ کہ ان کے سیاسی اعمال غلط ہوتے ہیں ، بلکہ ظالم وخونخوار امریکہ کی غلامی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور نھایت بے شرمی اور بربریت کے ساتھ خدا کے مہمانوں کا خانہ کعبہ کے نزدیک خون بھاتے ہیں ، یھاں تک کہ انقلاب او رجنگ تحمیلی کے معلولین (اپاہج) لوگوں پر بھی رحم نہیں کرتے اور اس سلسلہ میں نامعقول بھانے بناتے ہیں اور ان کا یہ بھانہ گناہ سے بھی بدتر ہے یعنی ان کا یہ بھانہ خوں ریزی اورقتل وغارت سے بھی زیادہ شرمناک ہے ۔خدا تجھے تیرے اولیا ء کرام (ع) کی قسم ! آل سعود سے اس خون ناحق کا بدلہ جلداز جلد لے کران کو اپنے اعمال کی سزا تک پہونچادے۔”اِنّ ربَّکَ لَبالمِرصَاد “۔
بحث کے کلّیات اور مقدمات
جیسا کہ ہم نے عرض کیا : ہم اس کتاب میں آئین ”وہابیت“ کے بارے میں بحث و بررسی کریں گے ، اور اس تحقیق میں ( وقت کی کمی کے خاطر ) مختصر طور پر اس فرقہ کی خصوصیات، انحرافات اور نامطلوب نتائج کو بیان کریں گے ، وہابیت کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم ہر قسم کے شرک و بت پرستی کی نفی کرتے ہیں ، اور اسی وجہ سے انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کی زیارت ، ان سے توسل ، درخواست مدد ، طلب حاجت اور پیغمبروں کی قبروں کی زیارت نیز خدا کے خاص و پاک وپاکیزہ اور پرہیزگار بندوںکی قبروں کی زیارت کو حرام قرار دے دیا ہے ۔
انشاالله ہم اس کتاب میں مذکورہ مطالب کے جوابات کے ساتھ ان کے بارے میں بحث و بررسی کریں گے، لیکن ہم ابتداء گفتگوہی میں ایک بات کو وضاحت کے ساتھ کھنا چاہتے ہیں کہ وہابیوں کا ”شرک سے مقابلہ“ کانعرہ ، میدان عمل میں مسلمانوں کا قتل عام ، فتنہ و فساد اور تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، یھاں تک کہ یہ بھی دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ یہ فرقہ ظاہرپرست عقائد اور شدت پسند و تفرقہ بازی سے استعمار اور اسلام دشمن طاقتوں کے ھاتھوں اس کا خطرناک حربہ بن چکا ہے ، اور ا ستعمار نے اس فرقے کوسیاسی میدان میں اتحاد بین المسلمین کے راستے میں رکاوٹ کے طور پر استعمال کررہا ہے ،( ۱ )
اورہم واضح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ غلط اور ظاہر پسند تعلیمات کی وجہ سے اس سطحی اورظاہر پسند مقصد کے تحت یہ فرقہ وحدت اسلامی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں کا قتل عام ہوا ،اور مسلمانوںمیں اختلاف اور جدائی کا سبب بناہے ۔
مسلمانوں سے دشمنی اور لڑائی کرنا، ان کو کافر اور مشرک جاننا، مومنین کو اذیت پہونچانا ، ان کے لئے ضرب و شتم و لعن کو جائزقرار دینا ،و ھابیت کی بدترین اور بھیانک تصویروں میں سے ہے، جو ایک فاسد اور تخریب کار فرقہ کہ جس کانعرہ ہی تخریب،تباہی و بربادی ، تفرقہ بازی ، وحشی گری اوربے رحمی ہے مسلمانوں کا قتل عام ، شرک اور بت پرستی سے مقابلہ کا بھانہ، ائمہ اور اولیاء الله کیِ قبروں کا انھدام( ۲ ) توحید کے نعرے کو عملی جامہ کا بیان، اور شرک کی نفی، شرک سے مقابلہ کا نعرہ ، وہابیت کے کارناموں میں سے ہے۔
اس فرقے کے ماننے والے خونخوار ، وحشی استعمار، عالمی استکبار اورغنڈاگردی ، غارت گری اور ظلم و ستم کرنے والے سے جنگ و جدال کرنے کے بجائے خود مسلمانوں سے بر سر پیکار ہوگئے ، اور عالمی غارت گروں اور ظالموں کہ جن کا پورا ہم وغم اسلام کے تقدس کو پائمال اور قرآنی تعلیمات کو نابود کرنا ہے ، سے مقابلہ کے بجائے مسلمانوں کے قتل وغارت اور ان سے جنگ و جدال کے لئے کمر ہمت باند ھ لی ، اس طرح کہ مسلمانوں کو کافر کھنا اور ان کو ذلیل سمجھنا اور تمام اسلامی فرقوں کو کافر کھنا اس فرقہ کے راسخ عقیدوں میں سے ہے۔
ان لوگوں نے تاریخ کے بے رحم اور ظالموں و جابروںکے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے خود مسلمانوں کے خلاف قیام کردیا ،اور برادر کُشی شروع کردی ، دشمنان خدا سے جنگ کرنے کے بجائے اپنی پوری طاقت کے ساتھ سچے مومنوں اور مسلمانوں سے نبرد آزماں ہوگئے۔( ۳ )
جبکہ عالمی استعمار بھی یہی سب کچھ چاہتا تھا ،عالمی استعمار کے اہداف و مقاصد، اسلام و قرآن کو نابود کرنا ، اسلام کی آزادی اور تکامل تک پھنچانے والی تعلیمات نیزمشکلات کو حل کرنے والی تعلیمات کو بھی ختم کرنا ، مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑ کانا ، اور ان میں اختلاف اور تفرقہ ایجاد کرنا ہے، اور وہابیت استعمار کی اس خواہش کو پورا کرنے کے علاوہ اور کچھ چاہتی ہی نہیں ہے ، آج کل وہابیت دانستہ یا نادانستہ طور پراستعمار کی مدد میں مشغول ہے ،اور اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ استعمار کے نا پاک ارادوں کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، مسلمانوں میں اختلاف اور تفرقہ ایجاد کرنا عالمی استعمار کی پرواز میں اس کو تقویت کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جبکہ مسلمانوں کو متحد ہو کر کفار اور مشرکین اور ستم گروں کا مقابلہ کرنا چاہئیے تھا ۔
کیا وہ لوگ مشرک نہیں ہیں جھنوں نے اپنی پوری قوت کو اسلام کے مقاصد کو پورا کرنے میں صرف کرنے کے بجائے اسلام اور قرآن کے دشمنوں سے عقد اخوت پڑھ لیا ہے ، اور ان کو مسلمانوں پر ترجیح دیتے ہیں اور ان سے دوستی کرتے ہیں۔
خرید کران سے اسلامی انقلاب ایران ، شیعوں اور ان کی مقدسات کے خلاف کتابیں اور رسالے لکھوائے ، اور ان کی ڈیوٹی لگائی،کہ انقلاب اسلامی ایران اور پاک و پاکیزہ شیعہ مذہب پر ایک فرھنگی ، فکری حملہ کریں ، یھاں تک کہ حضرت فاطمہ زھرا سلام الله علیھا کے بارے میں ۷ ا کتابیں ان کی ضد میں چھاپی گئی ہیں ، اور حضرت امام خمینی کے خلاف لا تعداد کتابیں ہیں جن میں ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ، اسی طرح اسلامی انقلاب ایران کے خلاف بھی بہت سی کتابیںچھپی ہیں ۔
بے شرمی ، عداوت اور کینہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ امام خمینی کی تقریر کا ایک جملہ کو لے کر اس اپنی مرضی کے مطابق تاویل کرتے ہیں اور اس کے خلاف تبلیغات کرتے ہیں۔
لیکن وہ مسلمان جو حاجت مند اور پاک دل ہیں، انہیں لوگوں کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر حضرت رسول اسلام (ص)کی قبر منور پر گریہ و زاری کرتے ہےں،وہ مشرک اور بت پرست ہےں؟ اور تعجب تو اس بات پر ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کی قبر مقدس کو ” بڑا بُت “ کہتے ہیں اور سُوپرطاقتوں کے کہ جن کا پیشہ ہی جنایت ہے رسوا کن پرچم کے نیچے جانے میں اپنے لئے افتخار سمجھتے ہیں ، لیکن خدا کے مقرب اور کامل بندوں کی کہ جو غیب کی بھی خبر رکھتے ہیں اور ان کا پاک دل عالم ملکوت سے متصل ہے ، کی در گاہ میں حاجت روائی کیلئے حاضر ہونا ان کے نزدیک شرک اور بت پرستی ہے۔
واقعاً بہت تعجب ہوتا ہے کہ آج کل اسلام خود اپنے ماننے والوں کے در میان اکیلا اور مظلوم ہے
،بدا الاسْلامُ غَریباً وَ سَیَعُودُ غَریباً فَطُوبیٰ لِلْغُرَباء !
جی ہاں انھوں نے امام علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اسلام کا لباس الٹا اوڑھ لیا ہے اور اسلامی اہداف کو ذرہ برابر بھی نہیں سمجھے ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان ،کفار اور مشرکین کی آغوش میں بیٹھ کر توحید کا دم بھرے ، اور ان ظالموں اور ستمگروں کے ساتھ دوستی اور محبت برقرار رکھیں کہ جو توحید کو مٹا ناچاہتے ہیں ، نیز یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف کام کرے ، اور ان کو کافر اور مشرک بتائے اور اس کے بعد توحید ( عبادت در توحید) کا دعویٰ کرے ، ان کی عبادت کی عجیب شکلیں ہیں کہ جن سے عالمی سیاست دانوں کی گندی بو آتی ہے ، اور کیا ان لوگوں کے سامنے تواضع اور انکساری کرنا شرک نہیں ہے ؟ کیا صرف حضرت رسول اسلام ، سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آستانہ مقدس میں اپنی حاجات کو پیش کرناشرک ہے۔
کیا ذلت اور رسوائی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا توحید کے منافی نہیں ہے؟ کیا ائمہ معصومین (ع) کی زیارت کیلئے جانا اور اپنی حاجات پیش کرنا ، اور ان کے پاک و پاکیزہ نفوس کے ذریعہ الھام لینا ،توحید سے سازگاری نہیں رکھتا ؟! یہ ہیں عبادت میں توحید کے معنی! ظالموں اور کفر کے حامیوں سے دوستی ، کیا مسئلہ توحید کو نقصان نہیں پہونچاتی،اور خدا کے ان صالح بندوں سے جو فیض میں واسطہ ہیں اور اسما ء و صفات پروردگار کے مظھر کامل ہیں، ان سے توسل، مکتب توحید کو ضرر پہونچاتا ہے۔( ۴ )
ما در پیالہ عکس رخ یاردیدہ ایم ای بی خبر زلذت شرب مدام ما
” ہم نے اپنے محبوب کے عکس کی جھلک کاسہ ( عشق ) میں دیکھی ہے تمھیں کیا خبر ہم ہمیشہ کس چیز کا جام لیتے ہیں “ ۔
یہ نا فہم ، حضرات معصومین علیہم السلام اور اولیاء الہٰی کے پاک و صالح بندوں کی زیارت کو ان کی پوجا سمجھتے ہیں اور ان کے زائرین کو ان کا عبادت گذار مانتے ہیں ، ان کو نہیں معلوم کہ ہم ان کا احترام و اکرام ان کی عبودیت اور بندگی کی وجہ سے کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے خداوندعالم کی اس طرح عبادت اور بندگی کی کہ خداوند عالم سے ان کا محکم و مضبوط رابطہ ہوگیا ، ورنہ خود ان کا کوئی مقام نہیں ہے ، ان کا احترام فقط خدا کی وجہ سے ہے ، یہی وجہ ہے کہ کوئی زائر کسی فاسق و فاجر کی قبر پر نہیں جاتا ، بلکہ اس با عظمت شخص کی قبر پر جاتا ہے کہ جس نے اپنی عمر خانہ کعبہ کے طواف میں گذاردی ہو ، شاعر کہتا ہے :
سالھا عشاق خاکم را زیار نگہ کنند
چونکہ من روزی طواف کوی جانان کردہ ام
”سالھا سال سے میری قبر زیارت گاہ بنی ہوئی ہے ، کیونکہ میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا ہے“ ۔
واقعاً انسان کو تکلیف ہوتی ہے اور حضرت امام علی کے فرمان کے مطابق ”وَ اللّٰہ یُمیتُ القلبَ“ اس موقع پر ہر مومن اور متقی انسان کا خون کھول جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ وہابیوں کے عقاید ان کی بے بنیادی اور انحرافی عقیدت کے بارے میں اس کتاب کے آئندہ صفحات پر بیان ہونگے ، لیکن ہم یھاں پر چند نکات کو مقدمہ کے طور پر بیان کرتے ہیں تا کہ بحث کا زمینہ ہموار ہوجائے اور قارئین کرام کے ذھن و فکر میں وسعت پیدا ہوجائے تا کہ آئندہ ہماری باتوں کو دقت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں ۔
عالمی استعمار اور فرقہ بندی
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ استعمار اور استکبار اپنی فاسد حکومت قائم کرنے کیلئے راستہ ہموار کررہا ہے ، اس کا ہمیشہ سے یہی نعرہ رہا ہے ” لڑاو اور حکومت کرو“ عالم اسلام میں ایک دوسرے کے خلاف تکفیر و تفسیق(دوسرے کو کافر اور فاسق کھنا) کے فتوی کی فضا ایجاد کرنا اس کے اہم مقاصد میں سے ہے۔پس فرقے سازی اور مذہب تراشی کی بہت بڑی وجہ استعمار ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تکفیر دوسرے فرقوں کے خلاف بدبینی،تہم ت اور اسلامی شخصیتوں کے خلاف جھوٹ کی نسبت جیسی نحس فضا کو ایجاد کرنا ، اگر ہم دیکھیں تو استعمار کا سب سے اہم ہتھکنڈا، مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے یہی تفرقہ اندازی ، فرقہ بندی، پیامبر تراشی ہے اورہماری یہ بات بالکل حقیقت ہے اس میں کوئی بھی مبالغہ نہیں ہے۔( ۵ )
اس بات کو واضح کرنے کیلئے ہم پھلے چند مطالب کو بعنوان مقدمہ بیان کریں گے اور اس کے بعد اپنی اصلِ بحث کا آغاز کریں گے ، تا کہ معلوم ہوجائے کہ استعمار نے ایسے اقدامات کیوں کئیے ، اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اور کن مکاّریوں کے ساتھ ان اہداف تک پہونچنا چاہتا ہے۔
استعمار کے اہداف اور اس میں روکاٹیں
استعماری طاقتیںدوسرے ممالک پر اپنی حاکمیت قائم کرنے کیلئے خصوصاً ضعیف اور کمزور ممالک پر ، اور ان کی مادی اور معنوی دولت کو غارت کرنے کیلئے کچھ موانع سے ہمکنار ہوتی ہیں ، اور کسی بھی ملک میں آسانی سے داخل نہیں ہوئی اور نہ کبھی ان کا کوئی استقبال ہوا ہے ، خصوصاً ان کو آتے وقت بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،( ۶ )
غریب اور کمزور ممالک میں اپنے کلچر کو جاری کرنا استعمار کی ایک نئی چال ہے تاکہ ان ممالک کو تباہ و برباد کرسکے، سارے افکار کو ختم کرکے ان کی جگہ غلط اور برے افکار کو لوگوں کے ذھن میں ڈالنا ، اخلاقی مفاسد کو رواج دینا ، سیکس کی طرف لوگوں کا جذب کرنا ،جاسوسی اڈّے بنانا،نیز ہزاروں مختلف طریقوں اور چالوں سے استعمار اپنے شیطانی مقاصد کو پورا کرنا چاہتا ہے مثلاً سیکڑوں بکے ہوئے رائٹروں کو نوکری دینا ، لوگوں کے ذھنوں کو خریدنا،اور لوگوں کی صحیح و سالم صلاحیتوں کو ناکارہ بنانا ، چونکہ اپنے ناپاک مقاصد کے سامنے اسلامی طاقت کو ایک رکاوٹ کی طرح دیکھتاہے اسی وجہ سے ”حقیقی اسلام “ کو بدل کرایک ” نقلی اسلام “ ایجاد کرنے کی فکر میں لگا ہوا ہے تا کہ حقیقی اسلام کی اہم یت اور خاصیت کو ختم کرکے اس سے مقابلہ کیا جائے ، اسی چیزکے مد نظر اسلامی ممالک میں جعلی مذہبی فرقے ایجاد کررھے ہیں تا کہ حقیقی اور انقلابی اسلام کو پھیلنے سے روک سکیں ۔
لوگوں کا متحرک اور استعمار کے مقابلہ کیلئے قیام کرنے کے ، بہت سے عوامل اور اسباب ہیں مثلاً قومی ، لسانی، ثقافتی اورمذہبی،ان میں سے بعض اسباب صرف تھوڑی مدت کیلئے کارگر اور مؤثر ہوتے ہیں تا کہ ایک مخصوص زمانہ میں استعمار کامقابلہ کما حقہ کرسکیں لیکن اس کے بعد اہستہ اہستہ وہ کم رنگ ہوجاتی ہیں ، اور اپنا کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں ، لیکن ان سب رکاٹوں میں اگر کوئی رکاوٹ محکم بند کی طرح استعمار کے مقاصد کا مقابلہ کرسکی تو وہ ہے” قدرت دین“ اور لوگوں میں مذہب کا نفوذ ، اور دین بھی دین اسلام ، یہ وہ چیز ہے کہ جس کا استعمار نے ہمیشہ اعتراف کیا ہے ۔ مثلاً قدیمی استعمار کا نمایندہ ” انگلینڈ کی پارلیمینٹ “ میں قرآن کو ھاتھ میں لیکر کہتا ہے :
”یورپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب تک مسلمانوں کے پاس یہ راہنما کتاب موجود ہے اور مسلمان اس پر عمل کرتے رہیں گے، تب تک ہماری استعماری سیاست ان کی سرزمینوں پر قائم نہیں ہو سکتی “( ۷ )
نقش قرآن چون در این عالم نشست نقشہ ھای کاہن و پاپا شکست
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است این کتابی نیست چیزی دیگر است
چونکہ در جان رفت جان دیگر شود جان چو دیگر شد جھان دیگر شود
”اگر قرآن کی تعلیمات پر انسان عمل کرے تو اس میں انقلاب آجاتا ہے اور جب انسان انقلابی ہوجاتا ہے تو وہ دنیا میں بھی انقلاب لاسکتا ہے“
” میں اپنے دل کی بات کو واضح طور پر کھناچاہتا ہوں کہ قرآن ایک کتاب نہیں بلکہ کوئی اہم چیزھے “
”اگر یہ قرآن انسان کی روح میں بس جا ئے تو روح انسان منقلب ہو جاتی ہے اور جب روح منقلب ہو جاتی ہے تو دنیا میں انقلاب برپا ہو جاتا ہے “
اور آج جبکہ اسلامی نسیم سحر شروح ہو چکی ہے اور تحریک کنندہ جھونکوں کے ساتھ صبح پیروزی کی خبردے رہی ہے سارے وحشی استعمار اور ظالم و جابر متفق ہو کر یہ کہہ رھے ہیں : ” ہمارے منافع کیلئے سب سے بڑا خطرہ اور رکاوٹ ”اسلام“ ہے کیونکہ دین اسلام کچھ ایسی ہی خاصیتوں کا حامل ہے کہ جو اکیلے ہی استعمار کے اہداف میں ایک اہم مانع ہے ، جبکہ دوسرے مذاہب میں یہ خاصیت نہیں ہے ان میں سے چند چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کا اثر
اسلام کی حیات بخش تعلیمات اور اس کے عبادی و سیاسی احکامات ہمیشہ شیاطین اور استعمار کے لئے خطرہ تھا کہ جو اِن کے ناپاک ارادوں کیلئے سرزنش تھا ، کیونکہ اسلام نے ہر قسم کے استعمار ، استثمار(دوسرے کی محنت سے خود فائدہ اٹھانے والا ) اور بد معاشی ، غنڈا گردی کی مذمت کی ہے اور اس کو قبول نہیں کیا ہے ، اور مسلمانوں کو ظلم اور ظالم کے خلاف تحریک کیا ہے، روئے زمین پر عدالت اجتماعی قائم کرنے کیلئے اور لوگوں کو استعمار کے قید و بند سے آزاد کرانے کیلئے، نیز فتنہ اور فتنہ گروں کے خاتمہ کے لئے ، اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر موقع پر مقابلے کی دعوت دیتا ہے ، البتہ یہ آزادی کا نعر ہ صرف مسلمانوں کی آزادی کیلئے نہیں ہے بلکہ دنیا بھرکے تمام محروم اورمظلوم لوگوں کیلئے ہے ۔( ۸ )
مَنْ اَصْبَحَ وَ لَا یَهتَمَّ بَاُمورِالمُسْلِمِین فَلَیْسَ بِمُِسْلِمٍ “۔
جو شخص صبح اٹھ کر دوسرے مسلمانوں کے بارے میں نہ سوچے وہ مسلمان نہیں ہے۔
وَ مَن سَمِعَ رَجُلاً یُنادِی یَا لَلْمُسْلِمِیْنَ فَلَمْ یُجَبْهُ فَلَیسَ بِمُسْلِمٍ ۔( ۹ )
جو شخص کسی کو مدد کے لئے پکارے اور وہ جواب نہ دے تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔
اسلام، مسلمانوں کو کفار سے ہر قسم کی دوستی سے منع کرتا ہے( ۱۰ ) اور ان کے پاس آمد ورفت ، انکی رھبری کو قبول کرنے( ۱۱ ) اور ان سے مشورہ کرنے سے روکتاہے ، اور کلمہ توحید کے سایہ میں اپنے ماننے والوں کے چاہے جس قوم و قبیلہ سے بھی ہوں ، ہر طرح کی امتیاز بندی کو ختم کرکے ، اتحاد کی دعوت دیتاہے ، اور اس زمین پر حکومت الہٰی چاہتا ہے( ۱۲ ) یا ایسی جس میں لوگ ایک دوسرے سے مل کررہیں( ۱۳ ) ( ۱۴ ) ۔( ۱۵ )
جیسے محکم رشتہ سے منسلک ہوں اور ایک جسم کے اعضاء کے مانند اگر ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے اعضاء بھی پریشان ہو جاتے ، ہیں
اور آیہ کریمہ کے مطابق :
( مُحمدٌرَسوُلُ اللهِ وَالَذِیْنَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلی الکُفَّارِ رُحْمَاءُ بَیْنَهُمْ ) ( ۱۶ ) ”
مسلمان آپس میں رحم دل اور کفار کے مقابلے میں سخت ہیں ، اسلام اپنے ماننے والوں کی ایسی متحد اور مستحکم بنیان مرصوص ( سیسا پلائی ہوئی دیوار ) ہیں کہ دشمنوں کو پریشان کردیتے ہیں“( ۱۷ )
یہ سب تعلیمات اسلامی مسلمانوں کیلئے ہمیشہ باعث تقویت اور ستمگروں اور مستکبروں کے خلاف الھام کا باعث بنا ، اسلام نے انہیں تعلیمات کے ذریعہ صدر اسلام کے مسلمانوں میں ، ظلم کے مقابلے میں تحریک ، اور انقلاب ایجاد کیا ہے ۔
اور اگر آخری صدی کے انقلابات کو ملاحظہ کریں تو ہمیں اسلام کی حیات بخش تعلیمات کا صحیح اندازہ ہو جاے گا ، کہ کس طرح ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے ۔
جسے دوست اور دشمن سب کہتے ہیں کہ الجزائر میں انقلاب کی وجہ اسلام ہے کہ جس کی وجہ سے فرانس کو نکال باہر کیا ۔” گولیٹ “ اور ” فرانسیس جانسون “ دو مشھور و معروف رائٹر اس سلسلہ میں لکھتے ہیں :
”یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اہل الجزائر کو آزادی کا سبق اسلام نے سکھا یا ہے ، الجزائر والوں نے بہت پھلے سے استعمار کے ظلم و تشدد کو برداشت کیا ہے ، فرانسویوں کا اصل مقصد اسلام کو مٹانا تھا، اہل الجزائر نے جب یہ سمجھ لیا کہ اسلام ہی ان کیلئے راہ نجات ہے ، توسب لوگ اسلام کے دامن میں آگئے تا کہ ان کو آزدی مل سکے“( ۱۸ )
اسی طرح کا اسلامی انقلاب عالم ربّانی، فقیہ عارف ومجاہد حضرت امام خمینی (رہ) کی رھبری میں ایران میں آیا ، اور اسلامی حکومت تشکیل پائی ،یہ انقلاب، اسلام کے نام پر اور اس کی حیات بخش تعلیمات کے ذریعہ آغاز ہوا اور الحمد للہ کامیابی حاصل ہوئی۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس قوم میں بھی یہ تعلیمات پائی جائیں اور اس پر عمل بھی ہو بغیر کسی شک کے وہ قوم خود اپنے قسمت پر حاکم ہوگی ، اور استعمار ایسی امت پر مسلط ہونے کی امید بھی نہیں کرسکتا۔( ۱۹ )
استعمار کی ترکیبیں
جب استعمار نے اپنے سامنے اس بڑی رکاوٹ اورمضبوط قلعہ کو دیکھا تو ان سے مقابلے کیلئے مختلف راستے تلاش کرنے شروع کردئے اور اپنی پوری طاقت کو ان رکاوٹوں کی نابودی کیلئے صرف کردی ، اور مختلف طریقوں سے یہ کام انجام دیا،( ۲۰ ) ہم یھاںپراس کی فھرست بیان کرتے ہیں :
میں بھی ، اسلام کے زندگی ساز احکامات پر اعتقاد اور عمل ، مسلمانوں کی کامیابی کا سبب ہے اس طرح ایران میں بھی جس وقت حقیقی اسلام ( نہ کہ بناوٹی اسلام کہ جو روح اور معنویت سے خالی ہو) لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بنالیتاہے دیندار اور شجاع مسلمان بیدار ہوجاتے ہیں ، اور اپنے بت شکن رھبر ( حضرت امام خمینی) کی اطاعت کرتے ہیں اور ان کی راہنمائیوں کی وجہ سے اپنے زمانے کے طاغوت پر کامیابی حاصل کر لیتے ہیں ، اور اسی طرح لبنان افغانستان ، مصر اور دوسرے ممالک میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جس وقت مسلمانوں نے دین اسلام کی طرف توجہ کی اور اس کے انقلابی احکامات سے الھام لیا تب ہی ان کو عزت ، شرف اور سرفرازی نصیب ہوئی ہے او راستکبار جھانی کی کمر توڑ ڈالی او راس کو ذلیل وخوار کرڈالا ہے ۔
”استعمار گر ، اور استعمار شدہ میں بیگاری ( بغیر پیسہ کے مزدور ی) خوف و وحشت ، پولیس ، ٹیکس ، چوری ، اہل خانہ کو بے آبرو کرنا ، دوسرے کلچر کو زبردستی رواج دینا ، ذلت اور بدگمانی ، اپنا مفاد ، فتنہ وفساد اوربد مزگی ایجاد کرنا، بے وقوفوں کو انتخاب کرنے اور فاسد لوگوں کے جمع ہونے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ۔انسانی تعلقات اور روابط کچھ نہیں صرف ڈکٹیٹر شپ ہے :
یھاں تک کہ ہر قدم پر ان کی اطاعت کرتے رھو ،ورنہ سخت سے سخت سزا جھیلنے کے لئے تیار ہو جاؤ ، کیونکہ ھرشخص ان کی نظر میں ایک مشین جیسی حیثیت رکھتا ہے ،استعمار انسان کی اہم یت کو پامال کرتاہے ، اور مجھ سے ترقی کی باتیں کرتا ہے ، تاسیسات ،بیماریوں پر کنٹرول اور اعلی زندگی کی گفتگو کرتا ہے ، اور میں لوگوں کی تاراج ہونے کا ذکر کرتا ہوں، میں اس کلچر کی گفتگو کرتا ہوں جو اجاڑدی گئیں میں ان انجمنوں کا ذکر کرتاہو ںجو ختم کردی گئیں، میں ان زمینوں کا ذکر کرتا ہوں جو غصب کرلی گئیں ، میں ان مذہب و ملت کا ذکر کرتا ہوں جو نیست و نابود کردئے گئے ، میں ان تمام بہترین امکانات کا ذکر کرتاہوں جو ختم کردئے گئے ، استعمار اپنی بہت سی کارکرد گی کو میرے سامنے رکھتے ہیں ،جیسے سڑکیں بنوانا، ریلوے لائن بچھواناوغیرہ وغیرہ۔
میں ان ہزاروں لوگوں کے بارے میں کہتا ہوں کہ جو ” کنگو“ میں ماردئے گئے، میں ان کے بارے میں کہتا ہوں کہ جو ابھی تک ” ابیجان“ میں قید ہیں ، میں ان کروڑوں لوگوں کی بات کرتاہوں کہ جن کو ایمان، زمین، رسم و رواج اور زندگی سے کلی طور پر محروم کردیا گیاہے۔
میں ان کروڑوں لوگوںکی بات کرتاہوں کہ جن میں خوف و وہشت ذلت و خواری ، ناامیدی اور غلامی کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے ، مجھ سے تمدن کی باتیں کرتے ہیں میں ان لوگوں کی باتیں کرتا ہون کہ جن کو غریب اور فقیر مزدور طبقہ میں تبدیل کردیا گیا ، اور آج بھی ان کو بے وقوف بنایا جارہا ہے “
قارئین کرام : یہ تھے ایک افریقی شاعر اور لائیٹر کی دردناک فریاد ، اور آتشی جملے ، جو تمدن جدید !! کے ظلم و تشد د کو بیان کرتے ہیں اور یہ وہی قدیم زمانے کی جاہلیت اور بربریت ہے جو اپنا چھرہ بدل کر لوگوں کو دھوکہ میں ڈالے ہوئے وہی سب کارنامے انجام دے رہی ہے ۔
افریقی مصنف ان باتوں کو بیان کرتے ہیں اور عدالت میں کھڑا کرتے ہیں اور صرف یہ تو استعمار کے ظلم وتشدد کا ایک نمونہ اس کتاب سے پیش کیا ہے خود کتاب میں بہت سے دردناک واقعہ بیان کے گئے ہیں ۔
ا۔ بلا واسطہ مقابلہ
الف: فوجی مقابلہ
اسلامی ممالک پر فوجی قبضہ کرنا جیسے : عراق ، افغانستان ، ایران ، الجزائر وغیرہ پر ۔
ب: اسلامی تعلیمات پر مختلف طریقوں سے حملہ آور ہونا
مثلاً اسلامی تعلیمات میں ردو بدل اور اسلامی احکام کو برعکس پیش کرنا ، اور اسلام اور اس کی مقدس چیزوں پر تہم تیں لگانا۔
۲ ۔ بالواسطہ مقابلہ
الف: مسلمانوں کے درمیان فحشاء و منکر اور غلط چیزوں کا رائج کرنا تا کہ مسلمانوں کودین اسلام سے بے توجہ کردیں ۔
ب: مسلمانوں میں قومی اور قبائل احساسات کو بھڑکا کر ان میں اختلاف ایجاد کرکے الگ الگ گروہ میں باٹنا ۔
ج: مسلمانوں میں ایک دوسرے کے خلاف تہم تیں، تکفیر اور دوسری برائیوں کو ہوادے کر اس میں اختلاف اور تفرقہ ایجاد کرنا۔
یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ مطالب کی توضیح اور وضاحت کرنے کیلئے ایک بڑا وقت در کار ہے جس سے ہم قاصر ہیں اور ہم اپنی بحث کی مناسبت سے صرف ” فرقہ سازی اور مذہب تراشی “سے بحث کریں گے ، اور اس بحث اپنی اصل بحث (فرقہ وہابیت )کا مقدمہ قرار دیں گے تا کہ قارئین کرام پوری بصیرت کے ساتھ آئندہ کی بحث میں داخل ہو سکیں ۔
استعماراور فرقہ بندی
استعمار کا سب سے اہم قدم ، مسلمانوں کے اتحاد عظمت اور ھیبت کو ختم کرنے اور اختلاف و تفرقہ ایجاد کرنے کیلئے (اٹھایا ہے اور اٹھاتاآرہا ہے ) یہی فرقہ سازی ،مذہب تراشی اور جھوٹے اور استعمار ی دین بنانا ہے ،تا کہ حقیقی اسلام کو نابود کرنے کے ساتھ اپنے اصلی ہدف (مسلمانوں کو متفرق کرنا)کوبھی عملی جامہ پھناسکے،انگلیڈ کا بوڑھا استعمار اپنے جاسوسوں کو اس طرح ہدایت کرتا ہے کہ جو مسلمانوں کے علاقے میں مشغول تھے :
”اسلامی علاقوں میں من گھڑت اور جعلی مذاہب کے عقائد کی تبلیغ پوری آب وتاب کے ساتھ اور با قاعدہ طور پر اس طرح ہونی چاہئیے کہ لوگ ہمارے افکار اور نظریات کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوجائیں، ان جعلی مذاہب کی تبلیغ و ترویج صرف شیعہ مراکزمیں محدود نہیں ہونی چاہیئے بلکہ اہل سنت کے مذاہب اربعہ میں بھی اس طرح کے جعلی مذاہب ہونے چاہئیے اور ان فرقوں کے درمیان شدید اختلافات اور جھگڑے ہونے چاہیئے، اس حد تک کہ ہر مسلمان اپنے کو واقعی مسلمان اور دوسرے کو مرتد ، کافر اور واجب القتل سمجھنے لگیں۔ “( ۲۱ )
جاسوسوں نے یہ ہدایت حاصل کرنے کے بعد ، دقیق مطالعہ اور موقع شناسی کی اجتماعی اور سیاسی اورافراط وتفریط جیسے تمایلات کو دیکھکر فرقہ سازی شروع کردی،تا کہ اپنے بڑوں کے اہداف کو پا یہ تکمیل تک پہونچاسکیں ۔
اوریہ بات واضح و روشن ہے کہ انگریزوں نے مستقیماً اور بلاواسطہ یہ کام نہیں کیا ہے بلکہ اس ہدف کو پورا کرنے کے لئے ایسے لوگوںکو تلاش کیا ہے کہ جو ایمانِ مستحکم نہ رکھتے ہو ںاور اس میں مختلف رجحان پائے جاتے ہوں ، تا کہ انگریزاس کی مادی اور معنوی حمایت کرکے اس کو فرقہ سازی پر مجبور کردے،مثال کے طور پر دو فرقوں سے ہم زیادہ بحث کریں گے ، جو ہماری کتاب کے لئے مناسب ہیں ۔
فرقہ شیخیہ کی پیدایش
جس وقت عراق، حوزہ ھای علمیہ کا مرکز تھا ، استعمار اپنے برے اہداف کو تکمیل کرنے کیلئے فرقہ سازی کیلئے مصم ہوجاتا ہے ۔
دو کٹّر مخالف گروہ تشکیل پاتے ہیں ایک عراق میں کٹّر شیعہ اور دوسرا سعودی عرب میں کٹّر سنی،چنانچہ عراق کےکٹّرشیعہ کا نام ” شیخیہ “ پڑا ، جس کا بانی ”شیخ احمد احسایی “ اور اس کا شاگرد ” سید کاظم رشتی “ تھا ۔
اس فرقہ نے ائمہ علیہم السلام کے مقام و عظمت کو اس قدر بڑھا یا اس قدر بڑھایا کہ خدائی حد تک پہونچا دیا،اور اس طرح کے بہت سے مسائل میں بہت زیادہ غلوسے کام لیا۔
اس فرقہ نےکٹّروہابیت کے ذریعہ شیعوں کے خلاف تہم تیں اور انکے کفر کے فتووں کاراستہ ہموار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ، خشک اور دل خراش طریقوںاسلامی کتب کے دفاع اور علم منطق اور فلسفہ سے جنگ کی غرض سے بہت سے بڑے بڑے شیعہ عالموں کو مانند: ملاصدرّا (رہ)، اور ملامحسن فیض کاشانی (رہ) جیسی بزرگ شیخصیتوں کو کافر کھناشروع کر دیا،( ۲۲ )
شیخ احمد احسایی نے منطق اور فلسفہ نہیں پڑھا تھا لیکن پھر بھی فلسفہ اور عرفان اسلامی میں آگاہ ہونا چاہا ،بغیر کسی استاد کے خود شخصی مطالعہ کرنا شروع کردیا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ ہی حکمت اور فلسفہ کو لمس کرسکا اور نہ ہی عرفان کی بوسونگھ سکا ، لیکن پھر بھی اپنے کو اس فن کا مجتھد گمان کرنے لگا ، اور کچھ عقائد کی بناگذاری کی ، اور بڑے بڑے اسلامی فلسفی حضرات کو جیسے ملاصدرا شیرازی اور اسلامی عرفاء جیسے محی الدین عربی یھاں تک کہ تفسیر وحدیث کے بڑے علماء مثل ملامحسن فیض کاشانی کو اپنے کتاب میں نازیبا کھا اور جھوٹی تہم تیں لگائیں ۔
محی الدین عربی کو مُحْبَتُ الدِّیْن ( دین کو نابود کرنے والا ) اور ان کی کتاب فتوحات کوحتوفات(موت و مرگ ) کھا ، اور خود ان کو کافرو ملحد کھا ، ان کی عبادت کو مزخرفات ( بکو اس )کھا ، اور فیض کو ضلالت و گمراہی کھا اور ” ملا محسن “ کہنے کے بجائے ” ملامسنی “ کھا ، اور ان کو اہل بیت علیہم السلام جو ”اَذْهَبَ اللّٰه عَنهُمُ الرَّجسَ وَ طَهَّرَ هُمْ تَطْهِیْراً “ہیں ،کا مخالف تصور کیا، اور خود اپنے کو اہل کشف و شھود ، اور راہ اہل بیت علیہم السلام کا موافق جانا، اور ظاہر ہے ان غلط اور نازیبا تہم توں کو دیکھکر ہر صاحب عقل انسان اور صاحب علوم الہٰی سمجھ جاتاہے کہ وہ کچھ بھی نہیں سمجھا ہے،( ۲۳ )
در حالیکہ اس فرقہ کی کار کردگی عراق میں تھی ، اور اس وقت عراق حکومت عثمانی کا جز مانا جاتا تھا ، اور حکومت عثمانی خود ایک متعصب سنی حکومت تھی ، لیکن پھر بھی علماء شیعہ کو کہ ان پر حکومت سختی کرتی تھی ، شیخیہ میں شامل نہیں کیا بلکہ ان کو بھی آزادی دے دی ، کیونکہ استعمار کی نگاہ میں امت اسلامی میں تفرقہ اور مرکز مقاومت کو در ہم وبر ہم کرنا اہم ہے ، چاہے وہ کسی بھی طرف یا کسی بھی ذریعہ سے ہو۔
وہابی فرقہ کی ایجاد
دوسری طرف استعمار نے کٹّرسنی گروہ ایجاد کیا کہ جس کا نام وہابیت پڑا ، انگلینڈ کے جاسوسوں نے محمد ابن عبدالوہاب میں جاہ طلبی ، اخلاقی کمزوریاں اور افراطی افکار کو دیکھا تو اس کو فرقہ بنانے کیلئے مناسب پایا ۔ اسی وجہ سے ہر موقع پر اس کی ہمراہی کرتے رھے ، اور اس نے موقع غنیمت دیکھ کرنئے مذہب کا ا علان کردیا ، اور پھر انگلینڈ کے فرمان کے مطابق اس کے ایک نوکر خاص یعنی سعودبن عبدالعزیز سے ملحق ہوگئے ، اور اپنی تمام کوشش صرف کردی یھاں تک کہ اس نے اپنے مرید پیدا کرلئیے ، اور اپنے وظیفہ پر عمل کرتے ہوئے شیعہ حاجیوں کو قتل کیا ، بلکہ ہر اس شخص کو قتل و غارت کرنے لگے جو اس کے نئے دین کو قبول نہ کرے ، چاہے وہ ” شیعہ ہو یا سنی “ اور جو شخص حضرت رسول خدا(ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی زیارت کا قائل ہو اس کو کافر اورمشرک کہتے اور اس کے ساتھ وہی کفار و مشرک جیسا سلوک کرتے تھے ، آخر کار وہابیت نے
” شیخ احمد احسایی“ کی لکھی ہوئی کتاب ” شرح الزیارة “ جس میں ائمہ علیہم السلام کے بارے میں غلو اور خلفاء ثلاثہ پر لعنت کے جائز ہونے کے بارے میں (تفصیل سے) لکھا تھا، کی وجہ سے شیعوں کے قتل کے فتوے صادر کردئے ، اور چونکہ عراق ، حکومت عثمانی کا ایک حصہ تھا ، سعودی عرب سے آزادانہ طور سے عراق کی زیارت گا ہوں پر حملہ آور ہوگئے ،اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں کو تباہ و بر باد کردیا اور شیعوں کو قتل کرنا شروع کردیا ، نیز علماء شیعہ میں سے جس کو بھی فرقہ شیخیہ کا مخالف پایا اس کوقتل کرڈالا ۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ اس قتل و غارت میں سید کاظم رشتی کہ جو کتاب شرح الزیاة کا مروج اور شیخ احمد احسایی کا شاگرد اور نایب تھا ، کے گھر کو کچھ نقصان نہیں پہونچا بلکہ اس کا گھر جائے امن قرار پایا ۔!
فرقہ وہابیت ، مسلمانوں میں تفرقہ ایجاد کرنے ، دوسرے اسلامی فرقوں کو کافر کہنے ، اسلامی تعلیمات کو نابود کرنے ، اور ظالموں اور استعمار گروں سے دوستی میں خلاصہ ہوتا ہے،( ۲۴ )
سعودی عرب جو اس فرقہ کا مرکز ہے ، سے ” شرک“ اور ” کفر “ کے فتویٰ آسانی کے ساتھ صادر ہوتے ہیں ، اور انسان وہاں حج کے موقع پرامر بالمعروف کمیٹی کے ذریعہ ، مشرک ، کافر جیسے الفاظ کو زیادہ سنتا ہے ، اور اس وقت اس فرقہ کی سرگرمیاں زیادہ بڑھ گئی ہیں ہر روز ایک مقالہ یا کتاب اسلامی مقدسات کے خلاف لکھی جاتی ہے اور تیل کی درآمدسے ایک بہت بڑی تعداد میں چھپتی ہیں ، تا کہ اپنے مالکوں کی خواہشات (مسلمانوں کے اتحاد میں رکاوٹ ڈالنا اور ان میں ایک دوسرے کے خلاف کفر اور فسق و فجور کی نسبت دینے کی فضا قائم کرنا ہے )کو پورا کرسکےں۔( ۲۵ )
فرقہ وہابیت اور فرقہ شیخیہ کے غلط نظریات کی بنا پر فتنہ و فساد اور خونریزی ہوئی ، اور مسلمان مارے گئے ،محمد ابن عبد الوہاب نے ابن تیمیہ کے طرز فکر کو عملی بنایا جو خود ( ابن تیمیہ ) ابن تُومرْتْ کی طرح شھرت اور مقام چاہتا تھا ،ابن تو مرت نے شمالی افریقہ ، اسپین ، الجزائر ، مراکش اورتونس کے بعض حصوں میں مھدویت کا دعویٰ کرکے دو سو سال تک اپنی حکومت باقی رکھی ، اس کو ” مھدی الموحدین “ کہتے تھے محمد ابن عبد الوہاب نے محمد سعود کو اپنا ہم خیال بنایا اور اس کے ساتھ مل کر کام شروع کردیا ،انکے ھاتھوں میں ننگی تلواریں ہوتی تھی جدھر سے بھی گذر ہوتا تھا قتل غارت اور خونریزی ہوتی تھی ، دوسرے تمام مسلمانوں کوکافر کہتے تھے ، اور جو شخص ان کے حکم و اطاعت سے روگردانی کرتا تھا ان کو قتل کردیتے تھے واقعاً وہابیت کے فتنہ و فساد عجیب و غریب ہے جس کا خسارہ عالم اسلام ابھی تک برداشت کررہاہے ۔( ۲۶ )
ہم انشاء الله تعالیٰ اسی کتاب میں فرقہ وہابیت کے اصول عقائدکی بحث وبررسی کرنے کے بعد ان کا مدلل اور مفصل جواب دیں گے، لیکن ان کے عقائد کو بیان کرنے سے پھلے اس فرقہ کے موسس محمد ابن عبدالوہاب کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہیں ۔
اس کے بعد اصل موضوع شروع کریں گے اس فرقہ کے موسس کے حالات بیان کرنے سے پھلے ان چند لوگوں کی زندگی پر بھی اشارہ کریں گے جن کی طرز فکر پر یہ فرقہ ایجاد ہوا ہے، لہٰذا سب سے پھلے محمد ابن عبد الوہاب کے فکری اساتید پر ایک نظر ڈالیں گے اور پھر خود محمد ابن عبد الوہاب کی حالات زندگی پر بحث کریں گے۔
فرقہ وہابیت کا فکری سرچشمہ
ہم نے وعدہ کیا ہے کہ ہم پھلے ان لوگوں کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں گے جو فکری اعتبار سے اس فرقہ کے بانی ہیں، لہٰذا اس سلسلہ میں چند لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے تا کہ معلوم ہوجائے کہ فرقہ وہابیت کی اصل ابتداکھاں اور کن لوگوں کے ذریعہ ہوئی ہے ؟ اور کس طرح پھیلا ہے ، اور کیسے کیسے برے کارنامے انجام دیتے ہیں ؟ اور آج کل اس کی موجودہ حالت کیا ہے ، ابن تیمیہ سے شروع کرتے ہیں ، جومحمد ابن عبد الوہاب کا فکری استاد ہے ۔
فرقہ وہابیت کے موسسین کے نظریات اور ان کی تحقیق و بررسی
ابن تیمیہ کے حالات زندگی
محمد ابن عبد الوہاب کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ : اس کوبچپن ہی سے احادیث ، تفسیر اور عقائد کی کتابیں پڑھنے کابہت زیادہ شوق تھا ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن قیّم کی کتابوں کو خاص اہم یت دیتا تھا، اور ان کی کتابوں کو زیادہ پڑھتا تھا( ۲۷ ) اسی وجہ سے ہم ابن تیمیہ کو وہابیت کا معلم فکری اور اس کا موسس قرار دیتے ہوے اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں
تقی الدین احمد ابن تیمیہ ۰ اربیع الاول ا ۶۶ ھ ق کو حرّان میں پیدا ہوا اور ۲۰ ذی قعدہ ۷۲۸ ھ کو دمشق میں اس دنیاسے چل بسا، یہ حنبلی مسلک تھا اور اس زمانہ کا متکلم اورمفتی تھا یہ شخص ایسے خاندان میں پیدا ہوا تھا جس میں اس سے پھلے اس کا دادا محمو دالدین اور اس کا چچا فخرالدین حنبلیوں کے مشھور و معروف مفتی تھے ۔
۶۶۷ ھ میں مغلوں کے حملہ کی و جہ سے ابن تیمیہ حرّان کو چھوڑنے پر مجبور ہوا ، اور اپنے باپ عبد الحلیم اور تین بھائیوں کے ساتھ دمشق میں جا کر پناہ لے لیتا ہے ، عبد الحلیم نے مدرسہ سُکّریہ دمشق کی ذمہ داری سنبھالی ، اور ابن تیمیہ کی اسی ماحول میں تربیت ہوتی رہی ، اس کے اساتید میں شمس الدین عبد الرحمن مقدسی کا نام بیان کیا جاتا ہے کہ جو شام میں محکمہ قضاوت کے اصلاح کے بعد بیبرس کے ذریعہ دمشق کا سب سے پھلا حنبلی قاضی قرار دیا گیا اور ابن تیمیہ کو مدرسہ سکّریہ کا مدیر بنا دیا گیا ، اور اس نے دوسری محرم ۶۸۳ ھ کو اپنی تدریس شروع کردی ، اور ایک سال کے بعد مسجد اموی میں قرآن کی تفسیر کا درس دیناشروع کر دیا ، اور ا ۶۹ ھ میں حج کرنے کیلئے گیا، اور ۶۹۲ ھ میں دوبارہ دمشق واپس آگیا ، اور حج کے زمانے میں جو بدعتیں اس نے وہاں دیکھی ان کو رد کرنے کے لئے ایک کتاب بنام ” مناسک حج “ لکھنے کا فیصلہ کیا اور اس کتاب کے لکھنے کے لئے اپنی دانست میں کافی مطالب جمع کرکے لایا تھا۔
۶۹۳ میں اس نے اپنی سیاسی دخالت شروع کردی عسّاف ( عسّاق ) نامی شخص جو نصرانی تھا اس نے حضرت رسول اسلام(ص) کی شان میں گستاخی کی تھی ، اس کے بارے میں ابن تیمیہ کچھ بولے جس کی بنا پر اس کو” کمزراویة“نامی قید میں ڈالد یا گیا ، اور اسی سلسلہ میں اس نے اپنی سب سے پھلی ضخیم کتاب ” الصارم المسلول علی شاتم الرسول “ لکھی( ۲۸ )
” عصای خیر من محمد فانھا تنفع و محمد لا ینفع “ میرا یہ عصا محمد(ص) سے بہتر ہے کیونکہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور اب ان کا کوئی اثر اور خاصیت باقی نہیں ہے لیکن میرا یہ عصا اس وقت مفید ہے !! کیا ان متضاد چیزوں کی کوئی وجہ بیان کرسکتے ہیں ؟! کیا انسان قبول کرسکتاہے کہ ایک شخص جو رسول اسلام(ص) کی زیارت کے سفر کو ”سفر معصیت “اور ان کی قبر کو ”بڑابت “کھے ، ایسا شخص مذکورہ کتا ب لکھ سکتا ہے ؟ ایسا شخص جو اپنے دین و مذہب کے رئیس اور ھادی و رھبروں کا اتنا احترام !! کرے کہ ان کی شان میں نازیبا اور توہین کنندہ الفاظ کھے ، کیا عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ ایسا شخص ایسی کتاب لکھے اور اس کا مقصد رسول اسلام(ص) کا دفاع ہو ، یا اس کے پیچھے دوسرے اغراض و مقاصد پوشیدہ تھے ، قارئین کرام ہم ان لوگوں کی منحرف فکر اور تناقض گوئی کے بارے میں مزیداسی کتاب میں بیان کریں گے ۔
مذکورہ کتاب ” الصارم المسلمول علی شاتم الرسول “ میں اور بھی بہت سی چیزیں بیان کی ہیں مثلاً اگر کوئی شخص رسول اسلام(ص) کی شان مقدس میں گستاخی کرے تو اس کا قتل واجب ہے اگر چہ وہ توبہ بھی کرلے یا کافر ذمی ہو، (تب بھی قتل واجب ہو )
اور ایک دوسری جگہ لکھاہے : حضرت رسول اسلام(ص) کی مدح و ثنا اور ان کی تعظیم کرنا ، دین کا احترام و اکرام کرناہے ۔
نیز ایک اور جگہ لکھاہے : مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس نے رسول اکرم(ص) کی شان میں گستاخی کی ہو اس کو معاف کردیں بلکہ پیغمبر اکرم(ص) کی عظمت اور بزرگی کی خاطر اپنی جان و مال کو قربان کرنا واجب و ضروری ہے تا کہ آئندہ پھر کبھی کوئی ایسی ہمت نہ کرسکے“انسان واقعاً اس فرقے اور غلط فکر رکھنے والے اشخاص
اور ۷ ا شعبان ۶۹۵ ھ کو ابن تیمیہ اپنے ایک استاد زین الدین بن منجی کے انتقال کے بعد ، جانشین ملی اور حنبلیوں کے ایک بہت قدیمی مدرسہ میں اپنے استاد کی جگہ پڑھانا شروع کیا ، اور سلطان ملک منصور لاجین کی طرف سے حکم ملا کہ سلطان ، مملکت ارمنستان صغیر پر حملہ کرنے والے ہیں لہٰذا آپ (ابن تیمیہ) مسلمانوں کو جھاد کے لئے آمادہ و تیار کرے ۔
۶۹۸ ھ میں ” حماة “ کے لوگوں کی فرمایش کی وجہ سے اصول عقائد پر سب سے بڑی کتاب ”الحمویة الکبریٰ“ لکھی جو اشعریوں اور علم کلام کے سخت خلاف تھی ۔
ابن تیمیہ کے مخالف اس پر ” تشبیہ “ کا الزام لگاتے تھے اور خود ابن تیمیہ ، قاضی شھر دمشق جلال الدین احمدرازی کے پاس جانے سے گریز کرتے تھے بھانہ صرف یہ تھا کہ یہ قاضی مسائل عقائد کی رسیدگی کیلئے نہیں ہے ، لیکن امام الدین عمر قزوینی ، قاضی شافعی کے مکان پر ایک خصوصی ملاقات ہوئی جس میں کتاب حمویّة کو مورد بحث قرار دیا گیا ، لیکن اس کتاب کو ” مزاحمت “ کا نام دے کر چھوڑ دیا گیا جبکہ ابن تیمیہ کا کھنا تھا کہ اس کے جوابات قانع کنندہ ہےں ۔
کی تناقض گوئی پرتعجب کرتا ہے، اور کیا آل سعود ابن تیمیہ کی اولاد نہیں ہیں کہ جو بے شرمی اور جرائت کے ساتھ ” احترام بہ دین “ کا بھانہ لیکر حضرت رسول خدا(ص) کی زیارت سے روکتے ہیں ، اور حجاج کرام کو پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے ادب و احترام سے منع کرتے ہیں ، کیا یہ سب کچھ پیغمبر(ص) کے احترام میں ہو رہا ہے ؟!
تو پھر کیوں پیغمبر(ص) کے فرمان پر عمل نہیں ہو رہا ہے ؟ حج کے دنوں میں ” برائت از مشرکین “ (مشرکین وکفار سے بیزاری )نامی مظاہرے سے رو کا جارہا ہے جبکہ خدا اور اس کے رسول(ص) کافرمان ہے اور سنت رسول(ص) ہے، اور اگرکچھ افراد اس سنت نبوی پر عمل کرتے ہیں تو ان پر گولیوں کی بارش کی جاتی ہے اور خالی ھاتھ ہزاروں حاجیوں کو قتل یا زخمی کیا جاتا ہے ؟!
مغلوں کے حملہ کے وقت ۶۹۹ ھ کہ جو غازان ایلخان اور امیر مملوک قِبچق کی ملی بھگت سے ہوا تھا ابن تیمیہ دمشق میں تھا اور لوگوں کو جنگ کیلئے آمادہ کررہا تھا ، اور شوال ۶۹۹ میں کسروان کے شیعوں کے خلاف جن پر فرانکسوں اور مغلوں کی مدد کرنے کا الزام تھا) ممالیک کے حملہ میں شرکت کی( ۲۹ ) ۷۰۰ ھ میں مغلوں نے دوبارہ حملہ سے ڈرایا فوراً ابن تیمیہ کو مامور کیا گیا تاکہ جھاد کیلئے لوگوںکو تحریک کرے، اور جمادی الاول ۷۰۰ ھ کو قاہرہ گیا تا کہ سلطان مملوک محمد بن قلاوون سے شام کی صورت حال کے بارے میں صلاح ومشورہ کرے۔
اور ۷۰۲ ھ میں جب مغلوں نے دوبارہ حملہ کیا ہے ، ابن تیمیہ فتح شَقْحَبْ چھارم رمضان ۷۰۲ میں شریک تھا ، اس جنگ میں اس کی ماموریت یہ تھی کہ اسلامی مجاہدین کیلئے روزوں کی معافیت کا فتویٰ صادر کرے ، ا س وقت سے ابن تیمیہ پر سختی کا دور تھا، ۷۰۴ ھ میں ابراہیم قطان نامی شخص سے ٹکراؤ ہوا ، کہ جس پر حشیش کے استعمال کا الزام تھا ، اور اس وقت ” محمد بن خباز “ نامی شیخ سے مقابلہ کرنا پڑا ،جس پر ”حد شرعی“ سے فرار کا الزام تھا۔اور اسی زمانے میں چند سنگ تراش لوگوں کے ساتھ مسجد نَرَنج کے ایک پتھر کو کہ جس کو لوگ مقدس مانتے تھے توڑنے گیا ، اور دوسری طرف فرقہ اتحادیہ ، جو ابن عربی کے پیروکار تھے ، مقابلہ کیلئے کھڑا ہوگیا ، اور ان کی ایک عظیم شخصیت بنی شیخ نصرالدین منجی کہ جو بَیْبرَسْ جانشکیر کا مرشد تھا ، اس کو ایک خط لکھا، خط اگر چہ مودبانہ تھا لیکن اس خط میں ابن عربی کے عقیدئہ ” وحدت وجودی “ کی سخت مذمت کی گئی تھی ۔
۷۰۴ ھ کے آخر میں دوبارہ کسروان کے شیعوں پر حملہ میں شریک رہا ۔
دمشق میں واپس آتے وقت” فرقہ احمدیہ رفاعید“جس کے رئیس پر مغلوں کی حمایت کا الزام تھا ، حملہ کردیا ۔
اسی وقت ابن تیمیہ کے مخالفوں نے مل کر اس کے اعتقاد نامہ پر حملہ کردیا اور اس کی کتاب ”الواسطیہ “ کے کہ جو مغلوں کے دمشق پہونچنے سے پھلے لکھی گئی تھی ، اس کے تمام اصول عقائد پر شک و تردید کرنے لگے، اور اس بارے میں ” اَفرَمُ “حاکم دمشق کے حضور میں ۸ و ۲ ا رجب ۷۰۵ ھ کو اجلاس رکھے گئے ۔
دوسرے جلسہ میں فخرالدین رازی کا شاگرد صفی الدین ھندی نے بھی شرکت کی اور اپنی رائے کا اس طرح اظھار یہ کیا :
” واسطیہ “ میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی چیزنھیں ہے( ۳۰ )
آخر کار دونوں کو قاہرہ بلایا گیا، اور یہ دونوں ۲۲ رمضان المبارک کو وہاں پہونچے، اس کے دوسرے روز ابن تیمیہ قاہرہ کے” قلعہ ارگ“ میں حاضر ہوئے جھاں پر حکومت کے چند بڑے بڑے لوگ اور مصر کے چار قاضی القضات بھی موجود تھے ، جس میں ابن تیمیہ کو ” تشبیہ “ سے متہم کیا گیا اور اس کو قید کی سزا سنادی گئی ، ابن تیمیہ تقریباً ڈیڑھ سال یعنی ۲۶ ربیع الاول ۷۰۷ ھ تک ارگ کی قید میں رہا، یھاں تک کہ امیر سلار رقیب بیبرس جاشنکیر اور امیر بدوی مُہَنّا بن عیسیٰ کی وجہ سے اس کو قید سے رہائی ملی ،کہ نامعین تاریخ میں ”العقیدة التَّدمریة“ نامی کتاب کو اس کے نام سے مرقوم کی گئی ہے ۔
ابن تیمیہ آزاد ہو چکا تھا،لیکن شام جانے کا حق نہیں تھا ، اور اپنے خیال میں ہر بدعتی کو محکوم کرتا تھا اور اس کو ” زندیہ “ کہتا تھا۔( ۳۱ ) اور کچھ ہی دنوں کے بعد مصر کے دو مشھور و معروف صوفیوں سے جھگڑا ہوگیا( ۳۲ ) ایک ابن عطاء الله شاگرد ابو الحسن مُرسی ، دوسرے کریم الدین آملی رئیس دار سعید السعداء ، لوگوں نے شوال ۷۰۷ ھ میں ایک مظاہرہ کیا جس کی بناپر ( ابن تیمیہ ) کو براالدین بن جماعة قاضی شافعی کے حضور میں حاضر کیا گیا ، قاضی نے اس سے سوال کیا کہ ” توسل اور استغاثہ“ کے بارے میں تمھارا کیا نظریہ ہے ؟( ۳۳ )
ابن تیمیہ کو اجازت ملی کہ وہ شام جاسکتا ہے لیکن اس کے با وجود اس کو قاہرہ میں پکڑلیا گیا اور چند مھینہ قضات کے زندان میں قید کردیا گیا ۔
۷۰۸ ھ میں بیبرس جاشنکیر کو باد شاہت ملی ، ابن تیمیہ کودوبارہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑگیا ، اور آخری صفر ۷۰۹ کی شب میں ابن تیمیہ کوسخت حفاظت میں اسکندریہ لے جایاگیا، اور اس کو وہاں نظر بند کردیا ، ابن تیمیہ کو بادشاہ کے قلعہ میں رکھا گیا ، اور اجازت دی گئی کہ لوگ اس سے ملاقات کرسکتے ہیں ،اور یہ جو کتاب لکھنا چاہے لکھ سکتے ہےں ، سات مھینہ کی قید کی مدت میں بہت سے مغربی افراد جو مصر سے گذرتے تھے ، اس کو دیکھنے کیلئے آتے تھے ، اور خود اس نے کئی اہم کتابیں لکھیں ، کہ جن میں ( گم شدہ)کتاب ردّ ”مرشدہ“تالیف ابن تومرت اور کتاب” الرد علی المنطقین“ کا نام لیا جاتاہے ۔( ۳۴ )
محمد بن قلدوون یکم شوال ۷۰۹ ھ میں دوبارہ تخت نشین ہوا ،اور ابن تیمیہ کو قیدسے رہا کرکے قاہرہ میں اپنے پاس بلادیا ۔
اور اپنے اس کام سے بتادیا کہ علم منطق ( برہان و استدلال کے ذریعہ صحیح فکر کا معیار ) سے بے نیاز نہیں ہوا جا سکتا ، اس کا منطق کو رد کرنا ہی منطق کا اثبات کرنا ہے ، اور اس کو چھوڑنا ہی اس کو اختیا رکرنا ہے ، چونکہ خداوند عالم نے ان کی عقل پر تالا لگادیا ہے ، جس کی بنا پر ان کی باتیں غلط اور ان میں تناقض پایا جاتاہے ۔
ابن تیمیہ ۸ شوال ۷۰۹ ھ کو قاہرہ پہونچا ، اور تقریباً تین سال تک قاہرہ میں قیام کیا ، محمدبن قلدوون (الملک الناصر ) کبھی کبھی شام کے بارے میں مشورہ کرتا تھا اس مدت میں ابن تیمیہ نے خصوصی درس شروع کیا ، اور مختلف طریقہ کے سوالوں کے جوابات بھی دئے ، اور اسی زمانے میں اپنی کتاب ” کتاب السیاسة الشرعیہ “ کے آخری یا تکمیلی مراحل میں مشغول رہا ، کتاب مذکو ر اا ۷ ھ سے ۴ ا ۷ ھ کی مدت میں لکھی گئی ، اور بہت سے ” فتاوای مصریہ “ بھی اسی زمانہ کے ہیں ۔
مغلوں کے خوف سے ابن تیمیہ نے دمشق کو قیام گاہ بنا یا اور بیت المقدس میں کچھ مدت رکنے کے بعد پھلی ذیقعد ۲ ا ۷ ھ کو دمشق پہونچا، ملک الناصر ابن تیمیہ سے ایک ہفتہ پھلے دمشق پہونچ کر حج کیلئے جا چکا تھا لیکن حج سے واپسی پر اامحرم ۳ ا ۷ ھ کو اس سے ملاقات کی اور اس شھر کے مالی اور اجرائی مسائل پر گفتگو کی ، اور اس میں کچھ تبدیلیاں کی ، امیر تکینر کو ربیع الاول ۴ ا ۷ ھ میں اس شھر کی حکومت کیلئے مقرر کیا گیا ۔
ابن تیمیہ نے اپنی عمر کے آخری ۵ ا سال اسی تنکیزحکومت میں گذارے اور ابن تیمیہ کو ایک مدرسہ کا رئیس بنا دیا گیا تھا اور اس کے مرید اس کو مجتھد مانتے تھے۔( ۳۵ )
ھر کہ را مرشد چنین گمراہ بود
کی مریدش را بہ جنت رہ بود ؟!
”جس کا رھبرہی گمراہ ہو ،اس کے پیرو کار کو جنت کیسے مل سکتی ہے“۔
اس مدت میں اس کا خاص شاگرد ابن قیّم جوزی اس کے عقائد اور افکار کو پھیلانے میں بہت زیادہ کو شاں رہا اور وہ بھی اپنے استاد کی طرح مشکلات سے دوچار ہوا ، فرقہ اشعری اور حنبلیوں کے درمیا ن اختلاف جاری تھا کہ جس کے نتیجہ میں محرم ۶ ا ۷ ھ کا وہ واقعہ ہے ،جس میں دونوں مذہب کے اعتقادی مسائل کی وجہ سے ایک دوسرے میں ٹکراؤ ہوا ۔
۶ ا ۷ ھ کے آخرمیں اور اس کے بعد ابن تیمیہ کے ساتھ” حُمَیضہ“ امیر مکّہ کا حادثہ پیش آیا کہ جس میں ایران کے سلطان خدا بندہ ایلخان سے یہ طے پایا کہ مکہ معظمہ میں اہل تشیع کیلئے خوشگوار فضا بنائی جائے ، اور ظاہراً اس زمانہ میں ابن تیمیہ نے منھاج السنہ النبویّہ( ۳۶ ) تالیف کی ہے
بہتر تو یہ تھا کہ ابن تیمیہ اس کتاب کا نام ” منھاج البدعة “ رکھتے نہ” منھاج السنة “ کیونکہ یہ کتاب اسلام کے مسلّمات کا انکار ، مسلمانوں کی تکفیر اور گمراہی و کج فکری سے بھری ہوئی ہے ، نیز اہل بیت علیہم السلام کی بے حرمتی ، حقائق کو مخفی رکھنے اور دیگر تحریفات سے یہ کتاب لبریزھے ۔
یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ابن تیمیہ کی یہ کتاب وہابیوں کے عقائد کی بنیادی اور اساسی کتاب ہے ۔
اس کتاب میں پھلے فقیہ زمان فیلسوف نامدار اور متکلم بزرگ حضرت علامہ حلی (رہ) پر حملہ کیا ہے اور منھاج السنة کو علامہ حلی (رہ) کی کتاب ’ ’ منھاج الکرامة “ کی رد میں لکھا گیا اور وہابیوں کا اکثر منبع فکری یہی کتاب ہے ، خصوصاً توسل اور شفاعت ، دعا و زیارت کے بارے میں جو کچھ کہتے ہےں ابن تیمیہ کی اس کتاب سے اخذ کرتے ہیں ۔
قارئین محترم کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مرحوم آیت الله فی الارضین علامہ حلی (رہ) کی کتاب ” منھاج الکرامة “ کا فارسی میں ترجمہ بنام ”جذبہ ولایت “ ہو چکاہے ۔
اور جس وقت ہم کتاب ”باب حادی عشر“ سے اصول عقائد کی تدریس کررھے تھے ، دوسری کلامی
جس میں علامہ حلی (رہ) پر حملہ کیا ہے ،یھاں تک کہ آزار و اذیت کا زمانہ دوبارہ شروع ہوا ۸ ا ۷ ھ میں سلطان کی طرف سے حکم صادر ہوا کہ ابن تیمیہ کو طلاق کے بارے میں کہ جو مذہب حنبلی کے مشھور اعتقادات کا مخالف ہو ، کسی بھی طرح کا فتویٰ دینے سے رو کاجائے ،
اور ابن تیمیہ کا اس بات پر مسخرہ کرتے تھے کہ جو ایک مجلس میں ” تین طلاق “ کے صحت کا منکر تھا اور طلاق کے بارے میں قسم ” حَلْف“ کہ جس میں طلاق دینے کا قصد نہ ہو اس کو معتبر نہیں مانتا تھا ۔
اس مسئلہ کے سلسلے میں تنکیز کی ریاست میں اس کے محاکمہ کیلئے ۸ ا ۷ ھ میں دو جلسہ منعقد ہوئے اور تیسرے جلسہ میں کہ جو ۲۰ رجب ۷۲۰ ھ میں ہوا ، ابن تیمیہ کو سلطان کا نافرمان قرار دے کر اس کو سزائے قید سنادی گئی۔
ابن تیمیہ کو بے خوف و خطر روک لیا گیا اور شام کے ایک قلعہ میں قید کردیا گیا ، تقریباً پانچ ماہ قید میں رھنے کے بعد ملک الناصر کے حکم سے ۰ ا محرم کو آزاد کردیا گیا، اس کے بعد بھی شام اور مصر کے واقعات و حادثات میں اس کانام ملتا ہے، ۶ ا شعبان ۷۲۶ ھ میں بغیر کسی عدالت و قضاوت کے ان کو روک لیا گیا ، اور سلطان کے حکم کے مطابق کہ جس کواموی مسجدمیں سب کے سامنے پڑ ھا
کتابوں کو خصوصاً امامت کی بحث میں مطالعہ کرتے تھے ، علامہ حلی (رہ) کی اس گرانقدر کتاب کا بھی مطالعہ کرتے تھے ، اور ہم نے اس کتاب کو بحث امامت میں ایک جامع و مستدل اور کم نظیر پایا اور نہ صرف یہ کہ اس کتاب میں کوئی چیز بھی خلاف شریعت نھیںپائی ،بلکہ ہماری نظر میں یہ کتاب ان بہترین استدلالی کتابوں میں سے ہے جو اب تک علماء شیعہ (کثرالله امثالہم ) نے تحریر کی ہیں ، ابن تیمیہ کوروز قیامت ضروراس چیز کا جواب دینا پڑے گا جو تہم تیں علامہ حلی (رہ) اور مذہب تشیع پر لگائی ہیں ۔
گیا ، ابن تیمیہ کو فتویٰ صادر کرنے سے منع کیا گیا کیونکہ” زیارة القبور“نامی رسالے پر لوگوں کو اعتراض تھا ،کیونکہ اس میں اولیاء کرام کے احترام کو حرام قرار دیا تھا۔( ۳۷ )
اس کے ساتھ میں اس کے چند شاگردوں کو بھی قید کرلیاگیا لیکن ابن قیّم جوزی کے علاوہ کچھ ہی مدت میں باقی سب لو گ آزاد ہوگئے ،اس کے بعد ابن تیمیہ کو مالکی قاضی القضات ، تقی الدین اخنائی کی مخالفت سے سامنا کرنا پڑا ، نیز علاء الدین قونوی شاگرد ابن عربی نے بھی اسکی شدید مخالفت کی ، جبکہ اس کے پاس وہ دار سعید السعداء قاہرہ کی باگ ڈور تھی ، دمشق کے قاضی القضات شافعی بھی قرار پائے ۔
ابن تیمیہ دو سال تک قید میں رہا اور کتابیں لکھتا رہا،نیز مختلف فتوے بھی جاری کرتا رہا، بہت سی کتابیں جو ہم تک پہونچی ہیں وہ اسی زمانہ کی ہیں جن میں اپنے عقائد کو ثابت کیا ہے ، خصوصاًکتاب” معارج الوصول“ اصول الفقہ کے بارے میں اور کتا ب” رفع الملام “و کتاب ”الرد علی الاخنائی “کہ جس میں اخنائی کو اپنا سخت ترین دشمن بتایا ، اس کتاب میں اولیاء کرام کی تعظیم و تکریم کے بارے میں اپنے نظریات کو تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ، اس کے بعد اخنائی نے سلطان سے شکایت کی تو سلطان نے ۹ جمادی الاخر ۷۲۸ ھ کو فرمان صادر کردیا کہ ابن تیمیہ کو کتاب و کاغذا ور قلم سے محروم کردیا جائے ۔ اسی موقع پر ۲۰ ذیقعدہ ۷۲۸ ھ کو ابن تیمیہ کاقید میں انتقال ہو گیا ، اس کے جنازے کو ایک عظیم مجمع نے دمشق کے صوفیہ قبرستان میں دفن کیا ، اور آج بھی اس کے مرید اس کی قبر پر ادب و احترام کے لئے جایاکرتے ہیں۔( ۳۸ )
(کیا اس کی قبر کا احترام کفر وشرک اور بت پرستی نہیں ہے !!) ۔خیرالدین زرکلی اپنی کتاب ”الاعلام “ میں جس کا موضوع بیوگرافی ہے ابن تیمیہ کے بارے میں اس طرح تحریر ہے:
ابو العباس تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن عبد الله بن ابی القاسم الحصر نمیری حرانی دمشقی حنبلی معروف بہ ابن تیمیہ ،حران میں پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد دمشق پہونچے ، اور اپنی عجیب و غریب زکاوت اور ہوشیاری اور استعداد کو ظاہر کیا اور بہت مشھور ہوئے ، لیکن اپنے فتووں کی وجہ سے ان کو مصر طلب کر لیا گیا ،اور بہت سے لوگ ان سے حسد کرتے تھے، اور اس وجہ سے ایک مدت تک قیدمیں زندگی گذاری ۔ اس کے بعد اسکندریہ گئے ۔اور اس کے بعد قید سے رہائی ملی ، اور ۷۲۰ ھ میں ایک با ر پھر ان کو قید کر لیا گیا ۔ اور آخر کا ر قلعہ دمشق کے قید خانے میں موت آگئی، اس کے جنازے میں ایک جم غفیر نے شرکت کی، موصوف ”اصلاح دین“ کے مدعی تھے،( ۳۹ ) او رمختلف بحثیں کیں۔
”الدررالکامنہ “ میں تحریر ہے کہ : ابن تیمیہ ۲۰ سال کی عمر میں علماء سے بحث و مناظرہ میں مشغول تھے ۔ان کی تقریباً ۳۰۰ کتابیں بتا ئی جاتی ہیں ”فوات الوفیات “ میں تحریرھے کہ: ان کی تالیفات تقریباً ۳۰۰ کتابیں ہیں ان میں کی بعض کتابیں اس طرح ہیں :
السیاسة الشرعیہ،الفتاوی ،الایمان ، الجمع بین النقل و العقل ، منھاج السنة، الفرقان بین اولیاء الله و اولیاء الشیطان،الواسطة بین الحق والخلق ، الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، مجموع رسائل ، نظریة العقد، الرّدعلی البکری ، الرّد علی الاخنائی ، رفع الملام عن الائمة الاعلام ، شرح العقیدة الاصفھانیة ، القواعد النورانیة الفقھیة ، مجموعة الرسائل والمسائل ، التوسل و الوسیلة ، نقص المنطق اور دوسری کتابیں او ررسالے۔( ۴۰ )
ابن تیمیہ کی شرح زندگی ،موافق اور مخالف دونوںنے لکھی ہے ، اور ہر ایک نے اپنے نظریے کے مطابق اس کو پہچنوایا ہے ، بعض لوگوں نے صرف اس کے بارے میں تعریف و تحسین کی ہے اور اس کے غلط نظریات اور انحرافات سے چشم پوشی کی ہے ، اور بعض لوگوںنے اس کے کج روی ، بدعت اور فکری انحرافات کو مورد بحث قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت اور سرزنش کی ہے ۔
”’ ھانری لاؤسٹ “ مولف کتاب ” نظریات شیخ الاسلام ابن تیمیہ فی السیاسة و الاجتماع “ وہ شخص ہے کہ جس نے ابن تیمیہ کی تعریف و تمجید کی ہے ، لاؤسٹ نے ابن تیمیہ کو ” اسلامی عظیم مجاہد “ کا لقب دیا ہے ، اور اس کے اسلامی دفاع اور مغلوں سے مقابلے کو سراہا ہے ، اس کی سیاسی و اجتماعی کارناموں کوشمار کیا ہے اور اس کو اپنے زمانے کا مشھور عالم دین کے عنوان سے پیش کیا اور اس کی مدح و ثنا کی ، اس کو مستقل مزاج ، کسی کی تقلید نہ کرنے والا، اور تنقیدی مزاج سے بھر پور بتایا ہے ،لاؤسٹ نے لکھا ہے کہ ابن تیمیہ اس زمانہ کی جنگوں اور سیاسی میدان میں بہت زیادہ سرگرم رہا ، اور اپنے مذہب کی خاطر ارسطو کی منطق اور یونان کے فلسفہ پر بھی حملہ آور ہوا ہے۔( ۴۱ )
ابن تیمیہ کے بارے میں ہمارا نظریہ
ہماری نظر میں ابن تیمیہ بے حد تعصبی اور غیر منطقی اور عقائد کے بارے میں سرسخت جامد فکر کا حامل تھا ، اگر چہ اس کی معلومات فلسفی حضرات مانند ابن سینا ، فخررازی ، اور سھروردی و غیرہ کے اقوال اور نظریات کے بارے میں کافی زیادہ تھیں ، ابن تیمیہ اپنے دوسرے ہم فکر مثل ابن قیّم ، ابن خرم ، ابن بطّہ ، بربھاری ، ابن تومرت اور ابن جوزی کی طرح ظاہر گرایی ، جمود فکر ی میں گرفتار تھا، اس کی فکر ابتدائی ، سطحی ، فلسفی اور منطقی اصولوں سے دور تھی ، ہمارے نظریہ کے مطابق ابن تیمیہ ایک طرح سے ” میٹریالیزم لطیف دینی “ (' Materialisme ) ( وہ فلسفہ جو معنویات کامنکر ہے) میں مبتلاتھا ، اور مادہ گرایی اور ظاہر پرستی کے ہولناک دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔( ۴۲ )
جو شخص منطق و فلسفہ اور حکمت اسلامی سے سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ ابن تیمیہ کی کتابوں کا مطالعہ و تحقیق کے بعد اسی نتیجہ پر پہونچ سکتا ہے کہ ابن تیمیہ نے فلسفی مسائل کو سونگھا تک نہیں ، اور منطق کے مقدمات میں ہی الجھ کررہ گیاہے، اور علماء منطق پر جو اعتراض اس نے کیئے ہیں، وہ بے جا اور باطل ہیں، وجود ماہیت ذاتی ودعرضی ، تصور و تصدیق ، حدّ و رسم ، بدیھات عقلی اور قیاس و غیرہ جیسے دوسرے فلسفی و منطقی مسائل میں اس کے نظریات بالکل بچکانہ ہیں اوریہ چیزیں اس طرح کے دقیق و عمیق مسائل سے نابلد ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔( ۴۳ ) اسی وجہ سے ” توحید والھیات “کی بحث میں ان کے قدم لڑکھڑاتے ہیں ، اور حسّ گرایان و مادہ پرستوں کی طرح خداوند عالم کی جسمیت کے قائل ہیں (نعوذ بالله من ذالک ) ابن تیمیہ سے اس بات کی امید نہیں ہے کہ وہ الھیات اور دوسرے عقائد کے مسائل میں لغزشوں سے محفوظ رھے ۔
اس کے باوجود بھی ابن تیمیہ فلسفہ ، منطق اور علم کلام کے علماء سے مقابلہ کیلئے کھڑے ہوگئے، البتہ اس مقابلہ کا کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوا، اور چند مغالطوں ( دھوکہ ) کے علاوہ کچھ نہیں کرسکاکہ جو اس کی دقیق و عمیق نظرنہ ہونے پر دلالت کرتا ہے ، ابن تیمیہ منطق ، فلسفہ اور عرفان کے مقابلہ کرنے والوں میں سے ہے ، ہم نے اس جیسے افراد میں دقیق نظر رکھنے والے نہیں دیکھے ہیں ، ایسے لوگ فلاسفہ کی باتوں کو سمجھ نھیںپائے ہیں اور جو چیزیں ان کیلئے مبہم اور مجھول ہیں ان چیزوں میں مقابلہ کیلئے تیار ہیں !!( ۴۴ )
جبکہ بعض سادہ لوح افرادنے کہ جن کو خود علم منطق وفلسفہ کی صحیح معرفت نہ تھی ، ابن تیمیہ کومستقل فکر کا حامل ، آزادانہ فکر ، اندھی تقلید کا مخالف ، اور کسی بھی طرح کی گمراہی اور بدعت کا سخت مخالف کھاہے،بعض لوگوں نے کھا : وہ تقلید کے قید و بند سے آزاد تھا ، یھاں تک کہ اس کو اسلامی نہضتوں کا محرک کھا ، اور کہنے والوں نے اس کو ” مصلح اجتماعی “اور ” دین کو نئی حیات دینے والا “بھی کھا ” تمسک بہ قرآن “ اور فلسفہ یونانی اور منطق ارسطو سے مقابلہ جس کا نعرہ تھا۔( ۴۵ )
لیکن ہماری نظر میں یہ فیصلہ انصاف و حقیقت سے بہت دور ہے ، اور اگرمجموعی طور پر تفکر اسلامی کی نگاہ سے خصوصاً مذہب حقہ تشیع کے فلسفی اصولوں کے تحت ابن تیمیہ کو دیکھا جائے تو وہ ایک ظاہری فکر ، سطحی اور جمودی فکر رکھنے والا ، متعصب ، بے ہودہ خیالوں کا اسیر، غلط بیانی کرنے والا ، خود پرست ، حقائق کا انکار کرنے والا ، مکر وفریب جیسی صفات رزیلہ کا حامل پایاہے ، اس صورت میں آزاد فکری اور مستقل نظر کا کس طرح دعویٰ کیا جاسکتا ہے ،جو شخص ” علماء کلام کے مارپیٹ “ کا حکم صادر کرے ،( ۴۶ ) یہ کس طرح فکری آزادی ہوسکتی ہے ؟جو وحدت اور عرفان کی بلند پرواز فکر (نہ کہ کفر آمیز وحدت)کو ،کہ جس کو قونوی ، ابن عربی( ۴۷ ) ، قیصری ، کاشانی ، ابن ترکہ ، سید حیدر آملی ، صدر المتالھین شیرازی ، علامہ طباطبائی (رضوان الله تعالی علیہم ) جیسے بزرگ علماء کرام نے بیان کیا ہے، جس کو ”فرعونی نظریہ “ کھا گیا ہے۔( ۴۸ )
کیا یہی آزاد اندیشی ہے، اور جس کی فکر کی آخری منزل ” خدا کی جسمانیت کا قائل ہونا“ ہے، کیا وہ اہل غور و فکر ہوسکتا ہے ،اس وقت ہم ابن تیمیہ کی کج فکری اور گمراہی کی تفصیل بیان کرنانھیں چاہتے،اگر چہ مناسب تھا کہ فقھی ، تفسیری ، حدیثی ، تاریخی ، اصولی، فلسفی، منطقی اور عرفانی جیسے مباحث میں اس کے تمام نظریات کو بیان کرتے اور اس کا جواب بھی دیتے، تا کہ سب پر واضح ہو جائے کہ یہ حضرت شیخ الاسلام ! صرف ” زبان درازی “ اور زیادہ لکھنے کے عادی تھے، اور کسی مشکل کو آسان نہیں کیا ہے حالا نکہ اس کی بہت زیادہ اور بڑی بڑی کتابیں ہیں( ۴۹ )
ابن تیمیہ کے عقائد اورا قوال
ہم یھاں پر ابن تیمیہ کے بعض نظریات کو اجمالی طور پر ذکر کرتے ہیں ، تا کہ قارئین کرام پر واضح ہوجائے کہ ابن تیمیہ کے چند مرتبہ قید خانہ میں جانے اور علماء اسلام کی طرف سے اس پر کفر کا فتویٰ لگانے کی وجہ کیا ہے ، اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ ابن تیمیہ کے اصلاحی نظریات !! کو نسے ہیں ، اور کیوں ان کے ہم عصر علماء اسلام کی طرف سے اس کی مخالفتیں ہوئیں ۔
ابن تیمیہ کی نظرمیں مسئلہ توحید
ابن تیمیہ کہتا ہے: پیغمبروں نے جس توحید کو بیان کیا ہے صرف خدا کی الوہیت کو ثابت کرتی ہے ، اس طرح کہ انسان شھادت دے کہ اس خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ، اور صرف اسی کی عبادت کرے اور صرف اسی پر بھروسہ کرے ، اور صرف اسی کی رضایت و خوشنودی کیلئے کسی سے دوستی یا دشمنی کرے ، اور جو کچھ بھی انجام دے اسی کی خوشنودی کیلئے ہو ، یہ وہ توحید ہے جس کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں اپنے لئے بیان کیا ہے ۔
لیکن خدا کو واحد ماننا یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اس عالم کوخلق کرنے والا خدائے واحد ہے ، یہ توحید نہیں ہے، اور اسی طرح خدا کی صفات کا اقرارکرنا اور اس کو عیوب سے پاک و منزہ ماننا ، اور یہ اقرار کرنا کہ تمام موجودات کا خالق خداوند عالم ہے ، ایسا شخص موحد اور مسلمان نہیں ہے ،مگریہ کہ شھادت دے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اقرار کرے کہ صرف خدا ہی مستحق عبادت ہے۔( ۵۰ )
یھاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ ابن تیمیہ ، خدا کے علاوہ کسی نبی یااولیاء الله سے ہر قسم کے توسل اور استغاثہ ، نیز پیغمبر(ص) اور دوسرے صالحین کی قبروں کی زیارت ، ان کے قبروں کی نزدیک نماز پڑھنا ، اور قبروں پر نذر اور قربانی جیسے کاموں کو توحید کے مخالف اور موجب شرک جانتے ہیں۔( ۵۱ )
اس بناپر ان کی نظر میں مسلمان وہ ہے جو کچھ طلب کرنا چاہے توخداوند عالم سے طلب کرے ، کسی کو بھی وسیلہ ، واسطہ اور شفیع قرار نہ دے ، اور غیر خدا پر بالکل توجہ نہ کرے ۔( ۵۲ )
کفر و شرک کے معنی میں وسعت دینا
بعض وہ اعمال جن کوسارے مسلمان جائز بلکہ مستحب جانتے ہیں ، ابن تیمیہ کی نظر میں شرک اور بے دینی کا باعث ہیں ، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص صرف رسول اسلام(ص) کی قبر کی زیارت کیلئے سفر کرے اوراس کے سفر کا اصل مقصد زیارت ” مسجد النبی “ نہ ہو ، وہ شخص مسلمان نہیں ہے ، اور اگر کوئی شخص پیغمبر اکرم(ص) یا دیگر اولیاء کی قبروںکی زیارت کرے ، اس قصد ( ان سے حاجت طلب کرنا ) سے ان کو خدا کا شریک قرار دے اور ان سے کوئی چیز طلب کرے ، تو یہ سب کچھ حرام اور شرک ہے۔( ۵۳ )
اور جو شخص ( اہل ) قبور سے فائدہ اور نفع کی امیدکرے ، اور ان کو بلا دور کرنے والا جانے ، وہ بت پرستوں کے حکم میں ہے ، جو ان کی طرح بتوں کے فائدہ اور نقصان پہونچا نے کے قائل ہیں ، اور جو لوگ (قبروں ) کی زیارت کیلئے جاتے ہیں ، ان کا مقصد بھی مشرکین کے قصد جیسا ہے جوبتوں سے اپنی حاجات طلب کرتے ہیں ، جبکہ ایک موحد اور مسلمان شخص صرف خدا سے طلب حاجت کرتا ہے ، اور اس طرح کہتے ہیں کہ جو کوئی غیر خدا کو پکارے اور غیر خدا کے لئے حج (قبروں کی زیارت کے لیئے سفر کرے ) کے لئے جائے اور مردوں کو پکارے چاہے وہ پیغمبر ہویا ان کے علاوہ ، اس نے خدا وند عالم کی ذات اقدس کے ساتھ شرک کیا ہے۔( ۵۴ ) ابن تیمیہ کی نظر میں کفر و شرک کا دائرہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص مسجد کا ہمسایہ ہے ، اگر اپنے مشغلہ کی وجہ سے نماز جماعت میں حاضر نہیں ہوتا ، اس پر توبہ کرنا واجب ہے اور اگر توبہ نہیں کرتا تو اس کا قتل واجب ہے( ۵۵ )
مذکو رہ بیان کی وضاحت
ابن تیمیہ اور فرقہ وہابیت کا طرف دار ” شوکانی “ کہتا ہے :
وہ چیزیں جو صاحب نجد ( ابن تیمیہ ) کے حوالہ سے ہم تک پہونچی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو شخص نماز جماعت میں شریک نہ ہو اس کا خون بھانا جائز ہے ، جبکہ یہ بات شریعت کے خلاف ہے ،اہل سنت کے چاروں فرقے کے امام و رھبر اور دوسرے مذاہب اسلامی کے امام بھی واجب نمازوں کو اپنے گھر یا مسجد کے علاوہ پڑھا کرتے تھے ، منجملہ فرقہ مالکی کے امام، امام مالک شروع میں مسجد میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے پھر کچھ مدت کے بعد مسجد میں جانا چھوڑدیا اور اپنے گھرہی میں نماز پڑھنے لگے ، اور جب اس سلسلے میں لوگوں نے مذمت کرنا شروع کی ، تب فرماتے تھے کہ اس چیز کی میں کیا دلیل بیان کروں اس طرح احمد ابن حنبل ، جس وقت ان پر خلیفہ غضب ناک ہوا ، مسجد جانا چھوڑ دیا اور نماز و غیر نماز کیلئے مسجد میں جانا بند کردیا۔( ۵۶ )
اسی طرح ابن تیمیہ کی نظر میں وہ شخص بھی کافر تھا جو نماز ظھر کو مغرب تک اور نماز مغرب کو آدھی رات تک نہ پڑھے ، اورجو شخص اس کام کو کفرنہ جانے وہ بھی واجب القتل ہے ،ابن تیمیہ کی نظر میں وہ شخص جوبالغ ہواور نماز پنجگانہ نہ پڑھے ، نماز کے کسی واجب کو ترک کرے ، اس کو توبہ کرانی چاہیئے اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ بھی واجب القتل ہے،( ۵۷ ) ابن تیمیہ کی نظرمیں غیر خدا کی قسم کھانا اور غیر خدا کیلئے نذر کرنا بھی شرک ہے۔( ۵۸ )
خدا کے دیدارکے سلسلے میں ابن تیمیہ کا عقیدہ اور اس کی تحقیق
ابن تیمیہ کی مشھور و معروف کتابوں میں کتاب ”منھاج السنہ “ ہے جس کو شیعوں کے عظیم عالم مرحوم علامہ حلی (رہ) کی کتاب ” منھاج الکرامة فی اثبات الامامة “ کی رد میں لکھا گیاہے ، جس میں شیعوں کے اعتقادات کے بارے میں علامہ حلی (رہ) کے اقوال کو ایک ایک کرکے نقل کیا اور ان کو رد کرنے کی کوشش کی ، جس میں علامہ حلی (رہ) کے اس قول کو نقل کرنے کے بعد کہ ” خداوند تبارک و تعالی ٰ کا دیدار نہیں ہو سکتا اور کسی بھی حواس کے ذریعہ اس کو درک نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ خداوند عالم خود فرماتا ہے: ”لَا تُدرکُہُ الَابصارُ وَ ہو یُدرِکُ الابصارِ“ اور اسی طرح علامہ حلی (رہ) کے اس قول کو نقل کرنے کے بعد کہ ، خداوند عالم کیلئے کو ئی جہت (سمت ) و مکان نہیں ہے ، اس طرح رقمطراز ہیں : علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ خدا دکھائی دے سکتا ہے ، اور گذشتہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ روز قیامت ان آنکھوں کے ذریعہ خداوند عالم کا دیدار ہوگا لیکن اس دنیا میں دیدار نہیں ہوسکتا ، اور پیغمبر اکرم(ص) کے بارے میں اختلاف ہے ( کہ آنحضرت(ص) نے اس دنیا میں خدا کا دیدار کیا ہے یا نہیں ) اور مذکورہ آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ رویت خدابغیر کسی ادراک کے ممکن ہے۔( ۵۹ )
ابن تیمیہ خدا کے دیدار اور اس کیلئے جہت ( سمت ) کو ثابت کرتے ہیں اور آیات و روایات کے ظواہر سے استدلال کرتے ہےں ،اس نے رسالہ ” حَمَویة “ کو اس مسئلہ میں تحریر کیا ہے ، کہ تمام نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خداوند عالم عرش اعلیٰ اور آسمان کے اوپر رہتا ہے ، اور انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیاجاسکتا ہے ، اور قیامت کے دن اس کا دیدار ہوگا ، اور یہ کہ خداوند عالم ھنستا ہے ، اور اگر کوئی خدا کے آسمان پر ہونے کا معتقد نہ ہو تو اس کو توبہ کرنے کے لئے کھا جائے اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو اس کو قتل کردیا جائے ۔
اور اس طرح لکھتا ہے کہ آیات کے ظواہر کے مطابق خداوند عالم اعضاء و جوارح رکھتا ہے ، لیکن خدا کی صفات اور اس کے اعضاؤ جوارح کو مخلوقات کے اعضاء و جوارح سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا اور اس سلسلے میں جو تاویلات کی گئی ہیں مثلاً آیہ مبارکہ ” اَلرَّحمٰن ُ عَلَی العَرشِ اِستَویٰ“ استویٰ کے معنی استولیٰ کے ہیں اس طرح کی تاویلات باطل ہیں ، اور اس طرح کی تاویلات دوسری زبانوں کی کتب ضلال ( گمراہ کن کتابوں ) سے ترجمہ ہوکر متکلمین کے ذریعہ عربی زبان میں داخل کی گئی ہیں !( ۶۰ )
”خدا کا آنکھوں کے ذریعہ دیدار “کے بارے میں ابن تیمیہ کے نظریہ کی رد
ّ اگر چہ ابن تیمیہ کے نظریات خودھی تناقض گوئی پر مشتمل ہیں اور ان کے رد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔( ۶۱ )
” دیدار خدا “ کے بارے میں اس چیزسے بحث نہیں ہے کہ شیعہ معتقد ہیں کہ ” خدا کا دیدار آنکھوں سے ممکن نہیں ہے “ یعنی خدا کو سرکی آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا ، کیونکہ روشن ہے کہ دیدار کے لئے ضروری ہے کہ آنکھ اور جس چیز کا دیدار کرنا ہے اس کے درمیان وضع محاذات (کسی چیز کا مقابل ہونا) ہو اور محاذات اس چیزسے مخصوص ہے کہ جو ذاتی طور پر جہت (سمت) رکھتی ہو جیسے آنکھ یا عرضی طور پر جیسے رنگ و شکل ، اور ظاہر ہے کہ خداوند کریم ھرگزجہت نہیں رکھتا ۔
زخیال برتر است این تو خیال رامرنجان
ز جہت بود مبرّا مطلب بھیچ سو یش !
لہٰذا اشاعرة ( اور ان کے ہم خیالوں کی) دلیل کمزور اور مردود ہے ، اور جن آیات اور روایات کے ذریعہ اشاعرہ اور ان کے ہم فکر لوگوں نے دلیل قائم کی ہے ، اس فرض کے ساتھ کہ ان آیات و روایات کا ظھور ان کے مقصد کو بیان کرتی ہیں ، اور حکم عقل سے چشم پوشی کرتے ہوئے ، دوسری آیات و روایات سے ٹکراتی ہیںکہ جن میں خدا کے دیدار کی نفی کی گئی ہے ، لہٰذا مجبوراً ان آیات وروایات کی صحیح تاویل اور توجیہ کریں ۔
اشعریوںاور ان کے ہم فکر لوگوں کی دلیل کی کمزوری ظاہر ہونے کیلئے ان کی ایک عقلی دلیل کو بیان کرکے اس کو رد کرتے ہیں :
خدا کے دیدار پر اشعریوں کی دلیل
کہتے ہیں : کسی چیز کے دیکھنے کا معیار اس کا موجود ہونا ہے ،بس جو چیز موجود ہو اس کو دیکھا جا سکتا ہے ، اور جس چیز کو دیکھنا ممکن نہ ہو ، تو وہ چیز موجود نہیں ہے ۔
ہمارا جواب
ظاہر ہے یہ دعویٰ بغیر دلیل کے ہے چونکہ ان کا یہ دعویٰ کہ جو چیز موجود ہے اس کو دیکھنا بھی ممکن ہے ، یہ معیار اور ملاک مادی اور حادث چیزوں کا تو ہو سکتا ہے ۔
(خدا کے بارے میں یہ معیار صحیح نہیں ہے ) اور ان کا یہ دعویٰ باطل ہے اور اسی وجہ سے مادیین (مادہ کے قائل ) منحرف ہوئے ہیں ، کہ انھوں نے خدا کا انکار کردیا کیونکہ جو چیز ہوتی ہے وہ دیکھائی بھی دیتی ہے اور چونکہ خدا دکھائی نہیں دیتا ،لہٰذا خدا ہے ہی نہیں ، جبکہ یہ دعویٰ عقلی لحاظ سے باطل ہے ، کیونکہ ہر عاقل انسان واضح طور پر تصدیق کرتا ہے کہ خدا ان چیزوں میں ہے جو موجود ہے لیکن دکھائی نہیں دیتا !
اور اسی طرح انسان کاضمیر گواہ ہے کہ انسان کی باطنی چیزیں مثلاً بھوک وپیاس ، محبت و غصہ موجود ہیں لیکن دکھائی نہیں دیتیں ! ، اور آج کے سائنس نے محکم دلیلوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ زمین حرکت کرتی ہے اور اس حرکت کی بھی قسمیں ہیں لیکن دکھائی نہیں دیتیں ۔
اشاعرہ اور اس کے ہم فکروں کی اس دلیل کے باطل ہونے کے لئے اتنا کافی ہے ،اشاعرہ نے اوربھی آیات و روایات کے ذریعہ دلیلیں قائم کی ہیں ، جو سب کی سب کمزور اور باطل ہیں ، اور دامن کتاب میں گنجائش نہیں کہ ان کو بیان کیا جائے ، یہ ایک نمونہ ہی قارئین کرام کے لئے کافی ہے ۔
مزید معلومات کیلئے مفید اور بہترین کتاب ” علم کلام “ تالیف مرحوم سید احمد اصفھانی کا مطالعہ فرمائیں اور ہم نے بھی اس مطلب کو اسی کتاب سے تھوڑابہت فرق کے ساتھ تحریر کیاہے۔
کامل انسانوں کےلئے خدا کا قلبی دیدار ممکن ہے
تا کہ یہ گمان نہ ہو کہ خدا سے ارتباط اور اس سے ملاقات ” لقاء“ کا کوئی راستہ ممکن نہیں ہے ، عرض کرتے ہیں کہ جو چیز شرعاً اور عقلاًباطل اور محال ہے وہ خدا کاحسّی دیدار ہے یعنی سر کی آنکھوں سے خدا کا دیدارھونا ممکن نہںی ہے ، لیکن دل کے ذریعہ خدا کادیدار اور شھود ، حسّی دیدار سے الگ ہے ، یہ ایک طریقہ سے کشف حقیقت ہے کہ جس کا راز گناہوں سے دوری ہے اور یہ ممکن بھی ہے ،بلکہ بزرگوں کیلئے ایسا بھی ہوا ہے ۔
خدا ” نور السموات و الارض “ ہے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے اگر ہمارے گناہوں کا پردہ نہ ہو (جیسا کہ احادیث میں ہے ) خدا کے خاص بندے دل کی آنکھوں سے اس کا دیدار کرسکتے ہیں ۔
مرحوم فیض کاشانی اپنی کتاب ” کلمات مکنونہ “میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں جس کا مضمون یہ ہے : ”مَا مِنْ عَبْدٍ اِلَّا وَلَهُ عَینَانِ ، اِذَا اَرَادَ اللهْ بِعَبْدِهِ خَیراً فَتَحَ عَینَ قَلْبِهِ “ ہر انسان کی دو طرح کی آنکھیں ہوتی ہیں:سرکی آنکھ اور دل کی آنکھ، جس وقت خدا اپنے بندے کو خیر اور نیکی عطا کرتا ہے اس کے دل کی آنکھ کو روشن کردیتا ہے ، تاکہ جو چیز سر کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا دل کی آنکھ سے دیکھ سکے ، ہمارے یھاں احادیث کی کتابوں میں اس طرح کی حدیثیں بہت زیادہ ہیں ، منجملہ حارثہ بن زید کی حدیث کہ جس کو ”اصول کافی باب حقیقت ایمان “میں بیان کیا گیا ۔
خرد را نیست تاب دید آن روی برو از بھر روی چشمی دگر جوی
چو نور او ملک را پر بسوزد خرد را جملہ پاو سر بسوزد
لیکن وہ کامل حضرات کہ جنھوں نے زندگی بھر خدا کی عبادت اور اس کی اطاعت کی ہے دل کی آنکھوں سے حق کا مشاہدہ کیا ہے ، جیسا کہ رئیس العارفین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں :
” لَو کُشِفَ الغِطَاء مَا ازدَدتُ یَقیناً“ اگر میرے سامنے سے پردہ ہٹا لیا جا ئے تو بھی میرے یقین میں اضافہ نہیں ہوگا ، کیونکہ وہ بغیر کسی پردہ کے حقائق کو دیکھتے تھے ایک حدیث کے ضمن میں ” ذعلب یمانی“ سے آنحضرت (ص) نے سوال کیا :
”ہَل ْ رَایتَ ربک“ کیا تم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ؟ ذعلب نے جواب دیا ، ”وَ یُحَکَ اِنَّیِ لَم اَکُنْ اَعبُدُ ربّاً لَم اَرَهُ “ میں اپنے رب کو بغیر دیکھے عبادت نہیں کرتا ، اس کے بعد آنحضرت(ص) نے اس وجہ سے کہ حاضرین بزم آور آئندہ آنے والی نسل ” خدا کے دیدار حسّی“ کے شبہ میں گرفتار نہ ہوجائیں، فرمایا :
”لَا تُدْرِکْهُ الَابُصَارُ بِمُشَاهِدَةِ العَیَان ، وَ لٰکَنُ تُعْرَفُهُ القُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْایْمَانِ “ ہماری ظاہری آنکھیں خدا کو نہیں دیکھ سکتیں، لیکن انسان حقیقت ایمان کو پا کر دل کی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ،
دلی کز معرفت نور و صفا دید زھر چیزی کہ دید اول خدا دید !
”جس دل میں خدا کی معرفت اور اس کا نور ہو ،اس نے سب سے پھلے خدا کا دیدار کیا“
آنحضرت(ص) نے اس موقع پر فرمایا : ” مَا رَایْتُ اللهَ قَبلَہُ وَ مَعَہُ وَ بَعْدَہُ “ میں نے کسی چیز کو نہیں دیکھا مگر اس سے پھلے ، اس کے ساتھ ، اور اس کے بعد ، خدا کودیکھا کہ یہ وہی شھود قلبی اور دلی دیدار ہے کہ صرف عقل اس کے جواز کا حکم کرتی ہے ، بلکہ خدا کے خالص اور نیک بندوں کیلئے خدا کا دیدار ہوا ہے ۔
تو مگو ما را بدان شہ بار نیست با کریمان کارہا دشوار نیست
اس بحث کی شرح انشاء الله کسی اور موقع پر عرض کریں گے ، آپ حضرات اس مختصر گفتگو سے تفصیلی نتیجہ نکال سکتے ہیں ۔
لیکن پھر بھی ہم ایک اشارہ کرتے ہیں ، کہ ابن تیمیہ کہ اس قول کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم کی ذات پاک جسم و مکان رکھتی ہو ، اور اعضاء و جوارح سے مل کر بنا ہے گویا خداوند عالم کی ذات ( اعضاء و جوارح سے ) مرکب ہے اور یہ واضح ہے کہ ہر مرکب چیز اپنے بقاء میں اجزا کی محتاج ہو تی ہے ، لہٰذاجو چیز مرکب ہوتی ہے وہ محتاج ہوتی ہے اور خدا محتاج نہیں ہو سکتا ، کیونکہ خداوند عالم ہر چیز سے بے نیاز ہے تمام چیزیں اس کی محتاج ہیں ، جیسا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :
”( وَ اللهُ غَنَیُّ عَنِ العَالَمِیْن“ یا یه آیت ” یَا اَیُّهَا النَُاسُ اَنْتُم الفُقراءُ اِلَی اللهُ وَاللّٰهُ هْو الغَنِیُّ الحَمِیدُ ) “
ان لوگوں نے قرآنی آیات کے ذریعہ دلیل قائم کی ہے کیا ان آیات کو جو ہماری خدا سے نیاز و فقر کو اور خداوند عالم کی بے نیازی کو بیان کرتی ہیں قرآن مجید میں نہیں دیکھا ہے ، کیا قرآن مجید خداوند عالم کو ہر چیز سے بے نیاز اور غنی نہیں بتاتا ہے ؟!
ہم فلسفی بحث نہیں کرتے ، کیونکہ ابن تیمیہ جیسا شخص علماء فلاسفہ بزرگ شیعہ مثل صدر المتالھین ، محقق طوسی ، محقق داماد ، فیض کاشانی ، محقق لاہیجی و حکیم مقالہ سبزواری( ۶۲ ) وغیرہ کی بلندی فکر تک نہیں پہونچ سکتا ۔
حکمت عالیہ اسلامی اور شیعہ عمیق فلسفہ جس کی بنیاد بڑے بڑے حکماء اور فلسفی حضرات
ا۔ ” خدمات متقابل اسلام و ایران “ تالیف استاد علامہ شھید مطھری۔
۲ ۔ ” اعیان الشیعہ “ سید محمد امین (رہ) ۔
۳ ۔ ” روضات الجنات “ مرحوم خوانساری ، اور دوسری تراجم و رجال ۔
کے ذریعہ رکھی گئی ہے ، اور صدیوں سے اس کو مستحکم تر کیا گیا ہے اور اس وقت اپنے اوج و کمال پر پہونچا ہوا ہے ، خداوند عالم مجرد بلکہ یوں کھا جائے کہ ہر لحاظ سے لامتناہی ہے( ۶۳ )
اور اثبات کرتی ہے کہ خدا وند عالم کی ذات مبارک میں کسی بھی طرح کی کوئی جہت اور محدودیت اور ترکیب نہیں ہے، نہ ترکیب وجود وماہیت ، نہ ترکیب مادہ و صورت ، نہ ترکیب جنس و فصل ، خداکاجسم سے کیا مطلب ؟ ”این التراب و رب الارباب“ ہم خاکی بندے کھاں اور رب الارباب کی ذات اقدس کھاں ، لیکن ابن تیمیہ قائل ہے کہ اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ خداوند عالم آسمانوں کے اوپر عرش پر مستقر ہے ، اور اپنی مخلوقات سے جدا ہے ، یہ معنی صحیح اور درست ہیں ، چاہے اس کو مکان کھا جائے یا نہ کھا جائے۔( ۶۴ )
یہ مطلب واضح اور روشن ہے ،کہ مذکورہ معنی خدا کیلئے مکان ثابت کرتا ہے ، اس نے تویھاں تک کہہ دیاکہ اس کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جاسکتا ہے ، اور اگر خدا کی طرف حسّی طورپر اشارہ کیا جاسکتا ہے تو پھر اس کے لئے مکان ہونا ضروری ہے ، اور اگر خدا کے اعضاء و جوارح ھاتھ، منھ اور آنکھیں ہیں تو حتماًپھر جسم بھی ہونا چائیے ،تَعَالَی اللهُ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُواً کَبِیراً ۔
شیعہ فلسفی حضرات نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ خداوند عالم کا وجود” صرف بحُتِ بسیط “ ہے ، اور اس میں کسی بھی طرح کی ترکیب اور ماہیت نہیں ہے ،
وَ الحَقَّ مَاهِیَةُ اِنّیتة ، اذمقتضی العروض معلُولِیَةُ ( ۶۵ )
اس کا وجود صرف اور ” صرف الوجود “ و ” حقیقة الحائق “ ہے جبکہ بسیط ہوتے ہوئے ساری خصوصیات اس میں پائی جاتی ہیں ،جس کا کوئی ” غیر “ اور ”ثانی “ اس کی سنخیت سے نہیں ہے ، اور ہر چیز کا مبداء اور ہر چیز کو فیضیاب کرنے والا اور ہر کمال کاپیدا کرنے والا ہے ۔
کوئی شی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے ، ”بکل شيءٍ قدیر “ اور اس کا علم ھرچیز پرچھایا ہوا ہے “ و قد احَاطَ بکلِّ شَيءٍ علماً “ اور دوسری جگہ فلسفہ اسلامی میں ثابت ہے کہ جسم و جسمانیت موجودات کے سب سے نیچے درجہ کی خصوصیت ہے ، اور عالم مادی جسم وجسمانیت کا ظرف ہے ، اور وجود کا سب سے پست درجہ ہے ۔
جیسا کہ حدیث قدسی میں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :جس وقت سے میں نے اجسام (جسموں ) کو خلق کیا ان پر نظر رحمت نہیں کی ہے ، ”مَا نَظرتُ اِلَی الَاجْسَامِ مُذُ خَلَقْتُها “ یہ ہے مادہ اور جسم کی شان ، اس حالت میں خداوند عالم کو جسم سے توصیف کیا جاسکتا ہے ،! جبکہ وہ عرش اعلیٰ پر مستقر ہے اور آنکھ کان ، ھاتھ ، پیر اور دیگر اعضاء و جوارح رکھتا ہے ؟ یہ وہی دینی مادہ گرایی ہے کہ جس کا ذکر ، ہم نے پھلے بھی کیا ہے ۔
ہمارے نظریہ کے مطابق ،ابن تیمیہ اور ابن قیّم اور اس کے سارے ہم خیال اور وہابی اس جال میں پھنس گئے ہیں ، اور یہ ساری گمراہی اور کج انحراف اعتقادی مسائل میں غور و فکر نہ کرنے ، عقل سے کام نہ لینے اور فلسفہ اور حکمت سے دوری کا نتیجہ ہے۔
چنانچہ اسی ابن تیمیہ کے نظریات ، محمد ابن عبدالوہاب کیلئے سرچشمہ بن گئے ، اور فرقہ وہابیت بننے کا سبب پیدا ہوگیا ، محمد ابن عبد الوہاب نے اپنے عقائد میں کوئی نئی چیز پیش نہیں کی، بلکہ ابن تیمیہ کے نظریات کو الفاظ بدل کر دوسرے طریقوں سے بیان کیا ہے ۔
خدا کا دنیا کے آسمان پر اُترنے کا عقیدہ
” ابن بطوطہ “ اپنے سفرنامہ میں دمشق کی توصیف کرتے ہوئے لکھتا ہے :
دمشق کے فقھاء حنبلی میں ایک تقی الدین ابن تیمیہ تھے ، کہ جنھوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی ، اور منبر سے اہل دمشق کو وعظ ونصیحت کرتے تھے، اچانک ان کے منھ پر ایک بات آئی ، کہ جن کو اس وقت کے فقھاء نے انکار کیا اور اس کو برا سمجھا اور مصر کے بادشاہ ملک ناصرکو اطلاع دی ، ملک ناصر نے حکم دیا کہ اس کو قاہر ہ کی طرف روانہ کردیا جائے ، اور ملک ناصر کے ساتھ فقھاء اور قضات قاہرہ میں جمع ہوئے اور شرف الدین زواوی مالکی نے آغاز سخن کیا اور ابن تیمیہ کے نظریات کو بیان کیا ، تب ملک ناصر نے حکم دیا کہ اس کو قید میں ڈال دیا جائے ، ابن تیمیہ نے چند سال قید خانہ میں زندگی گذاری ، اور اسی مدت میں ایک ۴۰ جلدی کتاب بنام ” البحر المحیط “ تالیف کی ، قید سے رہائی کے بعد دوبارہ اسی طرح باتیں کی جن کو علماء نے ماننے سے انکار کردیا ۔
میں (ابن بطوطہ ) اس وقت دمشق میں موجود تھا ،جمعہ کے دن ابن تیمیہ مسجد جامع میں منبر پرگئے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اس وقت میں بھی مسجد میں موجود تھا،
اس نے اپنی گفتگو کے دوران اس طرح کھا کہ خداوند عالم دنیا کے آسمان( پھلا آسمان ) پر نیچے اترتا ہے ، جس طرح میں نیچے اتر تا ہوں اور منبر کے ایک زینہ نیچے اتر کردکھایا ، اور جیسے ہی اس کی زبان پر یہ جملہ جاری ہوا ، ابن الزھرا نامی مالکی فقیہ اس کی مخالفت کیلئے کھڑا ہوگیا ، اور اس کی بات کا انکار کیا ، لوگوں نے اس فقیہ پر حملہ کردیا، مار پٹائی شروع کردی اور اس پر جوتے بر سا ئے گئے ، یھاں تک کہ اس کے سر سے عمامہ بھی گرگیا ، اس کے عمامہ کے نیچے سے ایک حریر کی ٹوپی نکلی ، لوگوں کو اس فقیہ پر حریر کا لباس معیوب لگا، اس کو حنبلیوں کے قاضی عزالدین بن مسلم کے پاس لے گئے ، قاضی نے اس کو سزائے قید سنادی ، اور اس کو شرعی تنبیہ بھی کی ، شافعی اور مالکی علماء کو اس قاضی کا فیصلہ پسند نہیں آیا ، اور یہ اطلاع ملک الامراء سیف الدین تنکیز تک پہونچائی ، سیف الدین نے اس مسئلہ کو اور ابن تیمیہ کے دوسرے موضوعات کے سلسلہ میں ایک تحریر جس پر چند قاضیوں اور عادل گواہوں کے دستخط تھے ملک ناصر کو بھیجی ملک ناصر نے حکم دیا کہ ابن تیمیہ کو جیل بھیج دیا جائے ، اور اس کے بعد ابن تیمیہ آخر عمر تک قید میں رھے( ۶۶ )
اگرچہ بعض افرادنے ابن بطوطہ کی گذشتہ باتوں میں شک و تردید کی ہے ، اور ان واقعیات کو جعلی بتا یا ہے ، لیکن خود ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ” العقیدة الحمویة الکبریٰ “میں ان باتوں کی تصدیق کی ہے ، جیسا کہ کہتا ہے : خداوند عالم عرش اعلیٰ پر رہتا ہے اور کبھی کبھی وہاں سے پھلے آسمان پر آتا ہے ،وہ اس بارے میں کہ خدا آسمان پر رہتا ہے بغیر کسی تاویل و تفسیر کے حقیقت میں قائل ہیں اور اس چیز کا جواب کہ خدا کی صفات کو ظاہر پرحمل کیا جا سکتا ہے ، تشبیہ کا انکار کرتے ہیں ۔
اور یہ کہ عورتیں بھی جنت میں خدا کا دیدار کریں گی ، اور اس طرح کے دوسرے مسائل میں چند عدد کتابچہ بھی لکھے ہیں( ۶۷ )
انبیاء کی بعثت سے قبل ان کے غیر معصوم ہونے کاعقیدہ
ابن تیمیہ نے علامہ حلی (رہ) کی اس بات کا کہ انبیاء کرام(ع) اول عمر سے آخر تکز ہر طرح کی خطاو غلطی اور گناہ چاہے گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ سے پاک ہوتے ہیں ( یعنی وہ معصوم ہوتے ہیں ) اور اگر معصوم نہ ہوں تو ان کے کہنے پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ، جواب دیتے ہوئے کہتا ہے :
انبیاء کا پیغمبری پر مبعوث ہونے سے قبل ان کا گناہوں اور خطاوں سے پاک ہونا ضروری نہیں ہے ، اور اپنے اس دعوی کے ثابت کرنے کیلئے چند دلیلیں بھی بیان کی ہیں۔
” ابن تیمیہ کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ انبیاء کی عصمت فقط تبلیغی امور میں ہونا ضروری ہے“ اور اس سلسلے میں ایک مقالہ بھی لکھا ہے !
انبیاء علیہم السلام کی عصمت و طھارت پر ایک تفصیلی وقت درکار ہے، جس کو ہم انشاء اللہ کسی مناسب موقع پر بیان کریں گے۔
اور یہ بحث اعتقادی اور فلسفی و کلامی مباحث کے اہم ترین اورتفصیلی بحثوں میں سے ہے ، مغربی اور روشن فکروں نے اس بحث میں ایک ھنگامہ بر پا کیا ہے ، اور بہت سے شبھات ایجاد کیئے ہیں ، اور اس سلسلے میں اشاعرہ ، معتزلہ ، خوارج اور حشویہ و غیرہ فرقوں نے اپنی اپنی رائے بیان کی ہے ،لیکن ہم اس وقت ان کے بیان کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ، اس وقت صرف یہ عرض کردینا چاہتے ہیں کہ شیعوں کا اعتقاد یہ ہے ( اور حق بھی یہی ہے ) کہ نبی اول عمر سے آخرعمر تک گناہ اور خطا سے پاک ہوتا ہے، کیونکہ جو شخص اپنی زندگی میں گناہ کبیرہ اور صغیرہ کا مرتکب ہوتا رہتا ہے انسان ایسے شخص کا مطیع او رفرمانبردار نہیں ہو سکتا ، اور اگر کسی نبی سے لوگ نفرت کریں اور اس کو قبول نہ کریں ، اور اس کے بتائے ہوئے پر عمل نہ کریں ، تو پھر لوگوں کی ہدایت کس طرح ممکن ہے ، اس طرح تو ہدف اور مقصد ِ بعثت انبیاء(ع)ختم ہو جاتا ہے ۔
خداوند عالم اپنے مقام ربوبیت کی وجہ سے تمام موجودات کو ہدایت کرنے والا ہے اور تمام موجودات کی ہدایت خاص طریقے سے انجام دی ہے ۔
اگر لوگ انبیاء کی اطاعت نہ کریں ، ان کو قبول نہ کریں تو پھر ہدایت نہیں پاسکتے ، اور اس حالت میں خداوند عالم کا مقصد(بعثت انبیاء) ختم ہوجاتا ہے ، لہٰذا انبیاء کرام کو ہر جہت سے ، چاہے وحی سے قبل ہو یا وحی کے بعد ،معصوم ہونا چاہیئے۔( ۶۸ )
عصمت انبیاء کے بارے میں علامہ طباطبائی کا نظریہ
علامہ طباطبائی (رہ) صاحب تفسیر المیزان فرماتے ہیں :
پھلی قسم :۔ نبی کووحی کے سلسلہ میں خطاء سے پاک ہونا چاہئے۔
دوسری قسم :۔ تبلیغ اور رسالت کے کاموں میں خطاء اور غلطی سے پاک ہونا چاہئے۔
تیسری قسم :۔ نبی کو ہر لحاظ سے معصوم ہونا چاہئیے ، یعنی اس میں خدا کی مخالفت اور خطاء کا تصور بھی نہ پایا جائے ۔قرآن مجید انبیاء کے ہر طرح سے معصوم ہونے پر دلالت کرتاہے ۔
ہم اس بحث کو اسکی اہم یت کی وجہ سے ، قرآن مجید کی روشنی میں جو ابن تیمیہ او راس کے ہم فکر لوگوں کو بھی قبول ہے ،بیان کرتے ہیں ، تا کہ روشن ہوجائے کہ ابن تیمیہ اور اس کے ہم فکر لوگوں کا نظریہ ، قرآن کریم سے بہت دور ہے ، یہ لوگ بے فائدہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے غلط نظریات کو قرآن مجید کی طرف نسبت دیتے ہیں، اور اپنے غلط نتائج کو قرآن سے مرتبط کرتے ہیں، جبکہ قرآن کریم ان تمام چیزوں سے پاک و منزہ ہے ۔
انبیاء کی عصمت کے تین مرحلے
ہم نے عرض کیا کہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے تین مرحلے ہیں ۔
پھلا مرحلہ :۔ القاء وحی ،یعنی پیغمبر کا دل اس طرح ہو کہ وحی کے نازل ہوتے وقت خطا نہ کرے ، اور وحی جس طرح ہے اس طرح سے اخذ کرے ، اور اس میں کم و زیادتی نہ کرے ، پیغمبر کا دل اس کی حقیقت کو تبدیل نہ ہونے دے۔
دوسرا مرحلہ :۔ وحی کو لوگوں تک پہونچانا ، یعنی جس طرح وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح سے لوگوں تک پہونچائے ، اور وحی کو پہونچائے میں خطا و غلطی نہ کرے وحی کو نہ بھولے ، یا اس کے پہونچانے میں کمی یازیادتی نہ کرے ،یعنی وحی کی حقیقت کو لوگوں تک پہونچائے ۔
تیسرا مرحلہ :۔ گناہ اور نافرمانی سے پاک، یعنی کوئی ایسے کام انجام نہ دے جو خدا کی عبودیت اور اس کے احترام کے خلاف ہو ، چاہے زبانی طور پر ہویا عملی طور پر ، مجموعی طورپر ان تینوںمرحلوں کو ایک جملہ میں خلاصہ کیاجاسکتا ہے ، اور وہ یہ کہ خدا نبی کو خطا اور گناہ سے محفوظ رکھے۔
لیکن عصمت ان تینوں مرحلوں کے علاوہ بحث سے خارج ہے مثلاً امور خارجیہ میں وہ خطا ، جیسے کہ انسان اپنے حواس میں اشتباہ اور غلطی کرتا ہے یا امور اعتباریہ میں خطا کرنا ، جیسے نفع و نقصان اصلاح و فساد وغیرہ میں خطا کرنا۔
اور عصمت کے ان تینوں مرحلوں پر قرآن مجید کی آیات دلالت کرتی ہیں :
ارشاد خداوند عالم ہوتا ہے :
( ” کَانَ النَّاسُ امَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِیّنَ مُبَشُِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِینَ وَ انْزَلَ مَعَهْمُ الکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَینَ النَّاسِ فِیمَااخْتَلَفُوا فِیْهِ وَ مَا اَخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الّذِیْنَ اوْتُوهُ مِِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ تْهُمُ البَیَّناتُ بَغیاً بَیْنَهُمْ فَهَدَی اللهُ الَّذیْنَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِیهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهِ وَ اللهُ یَهْدِی مَنْ یشَاءُ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیم ) “( ۶۹ )
یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا ہدف بعثت اور نزول وحی کا مقصد لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دینا ہے ، اور اختلافی مقامات پر چاہے فعل ہو چاہے قول اور چاہے اعتقادی مسائل ، لوگوں کو راہ حق کی جانب رھنمائی کرنا ہے، یہ ہے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کاہدف اور مقصد، کیونکہ خداوند عالم اپنے مقصد میں خطاء و غلطی نہیں کرتا۔
کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
” ل( َا یَضِلُّ رَبّی ولایُنسیٰ“ ) ( ۷۰ )
”میرا پروردگار نہ بھکتا ہے اور نہ بھولتا ہے “
اور یہ کہ خدا اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور اس کے لئے کوئی مانع اور رکاوٹ نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
”( اِنَّ اللهَبالَغُ اَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللهُ لِکلِّ شَيءٍٍ قَدْرَاً ) “( ۷۱ )
بے شک خدا اپنے کام کو پورا کرکے رہتا ہے ، خدا نے ہر چیز کاایک اندازہ مقرر کررکھاہے ۔
اور یہ آیہ شریفہ :( وَ اللهُ غَالِبٌ عَلیٰ اَمْرِه ) “( ۷۲ )
اس بناپر لازم ہے کہ نزول وحی اور اس کی تبلیغ میں پیغمبر کو ہر طرح کی خطا اور غلطی سے محفوظ رکھے ، کیونکہ اگر نزول وحی میں پیغمبر کا دل خطا و غلطی کرے ، رسالت کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا ، کیونکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد حق کی طرف دعوت ہے ۔
جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
”( وَ اَنزَلَ مَعَهُمُ الکِتَابَ بِالحقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسَ فیَما اْخْتَلَفُوا فِیهِ ) “( ۷۳ )
”اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کریں“
لہٰذا غلطی ہونے کی صورت میں یایہ کہ خداوند عالم نے رسول کے انتخاب اور نبی کے دل پر نزول وحی کے طریقہ میں غلطی کی ہے یا پھربھول چوک ہوئی ہے ، یا اس مقصد میں جو حق کی دعوت تھی، اس میں کمی بیشی ہوگئی ہے، لیکن پیغمبر کے دل پرنزول وحی کے وقت تبدیلی اور خطاء ہوگئی ، یہ تمام چیزیں( ” لَا یَضِلُّ رَبِّی وَلَا یَنسیٰ“ ) کے پیش نظر صحیح نہیں ہےں ۔
جبکہ نبی کا مقصد اور ہدف خدا کی طرف لوگوں کو دعوت دینا تھا ، اور اس نے تبلیغ وحی میں بھی کوئی غلطی نہیں کی ، لیکن کسی دوسرے مانع کی وجہ سے خدا کا ہدف پایہ تکمیل تک نہ پہونچ سکا، اور اس میں مانع ایجاد ہوگیا ، یہ بھی ” اِنَّ اللهبَالغُ اَمْرِہِ “ اور ” والله غالب علیٰ امرہِ“ کی روسے محال ہے ۔
ان تمام چیزوں کے پیش نظر خداوند عالم پر ضروری ہے کہ پیغمبر کو ہر طرح کی خطا نہ کرنے سے روکے اور انبیاء (ع) کے دلوں کو اس طرح پاک و پاکیزہ قرار دے تا کہ وحی کے نزول کے اثر سے نبی کے دل میں کوئی ایسی گھبراہٹ پیدا نہ ہو ،جس کی وجہ سے وحی کی کیفیت اور اس کی حقیقت تبدیل ہوجائے ، اور کسی بھی طرح کا کوئی اضطراب و پریشانی اور تاریکی وجود میں نہ آئے جس سے حق وحقانیت کی تاویل وتفسیرمیں غلطی کا امکان رہ جائے،اور یہی عصمت کے دو نوںمنزلوں (نزول وحی اور اس کی تبلیغ) کے حقیقی معنی ہیں۔
تیسرا مرحلہ:
انبیاء علیہم السلام کاگناہوںسے پاک ومحفوظ ہوناممکن ہے ، ضروری ہے کہ یھاںپر ایک اور بات بیان کی جائے تاکہ مذکورہ آیت کی دلالت کامل اور واضح ہو جا ئے ،اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی پیغمبر گناہ و معصیت کرے اور اپنے اس فعل سے کسی کام کے جائز اور مباح ہونے کو عملی طورپر بتائے کیونکہ ایک عقلمند انسان کسی کام کو انجام نہیں دیتا ، مگر یہ کہ وہ کام اس کی نظر میں پسند ہو،تو اگرنبی سے کوئی معصیت اورگناہ سزرد ہو جب کہ زبانی طور پر وہ اس کے خلاف حکم کرے تویہ بات تضادگوئی ہوگی، یعنی اپنے قول وفعل سے دو متناقض چیزوںکی تبلیغ کررہاہے ،اپنے قول سے لوگوں کو کسی چیز سے روک رہاہے اوراسی کام کو عملی طورپر اپنی امت کے لئے جائزھو نے کو ثابت کر رہاہے، اوریہ بات واضح و روشن ہے کہ دو متناقض چیزوں کی تبلیغ حق نہیں ہو سکتی،کیونکہ ان میں سے ھرچیز ایک دوسرے کو باطل قرار دیتی ہے ،اور وہ خدا جس نے پیغمبروں کو حق وحقیقت کی تبلیغ کے لئے بھیجا ہے وہ انبیاء (ع)کو متناقض چیزوں کی تبلیغ کے لئے نھیںبھیج سکتا ، بلکہ ان کو غیر مناسب افعال اور ہر طرح کی معصیت وگناہ سے محفوظ رکھتا ہے ، کیونکہ دین الٰھی کی تبلیغ گناہوں سے پاکیزگی کے بغیر، کامل نہیں ہوسکتی۔
ہمارے اس بیان سے واضح اور روشن ہوچکاہے کہ مذکورہ آیت انبیاء کی عصمت پردلالت کرتی ہے (عصمت کے تینوں مرحلوں: نزول وحی، تبلیغ وحی، اور معصیت وگناہ)۔
لیکن انبیاء علیہم السلام کی عصمت مطلق اور مادام العمر عصمت سے بحث (جیساکہ شیعہ معتقدھیں ) ایک مناسب فرصت چاہتی ہے جو اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے ۔( ۷۴ )
غیر خدا کی قسم کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کا نظریہ
ابن تیمیہ کہتا ہے :اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ باعظمت مخلوقات ،مثلاً عرش وکرسی، ملائکہ اور خانہ کعبہ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے ۔
حضرت رسول اکرم(ص) کی قسم کھانے کے سلسلہ میں امام مالک، ابوحنیفہ اور احمد ابن حنبل مخلوقات کی قسم نافذ نہیں ہے ،(یعنی یہ قسم شرعی حکم نہیں رکھتی) یعنی ایسی قسم کو توڑنے سے کفارہ بھی واجب نہیں ہوتا،کیونکہ صحیح روایت کے مطابق آنحضرت(ص) نے فرمایا: خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی قسم نہ کھاؤ۔
اور دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ : جو شخص قسم کھانا چاہتا ہے اس کو چاہئےے کہ خدا کی قسم کھائے یا پھر قسم نہ کھائے۔
ایک دوسری جگہ نقل ہوا ہے کہ خدا کی جھوٹی قسم کھانا ، غیر خدا کی سچّی قسم سے بہتر ہے ، اور یہ کہ غیر خدا کی قسم شرک ہے ۔
جبکہ بعض علماء نے پیغمبر(ص) کی قسم کو استثناء کیا ہے یعنی آنحضرت(ص) کی قسم کھانے کو جائز قرار دیاہے ، احمد بن حنبل کے دوقولوں میں سے ایک یہی ہے ، اور احمد کے بعض اصحاب نے بھی اسی قول کو قبول کیا ہے۔
اسی طرح بعض دوسرے علماء نے دوسرے تمام انبیاء کی قسم کو بھی جائز مانا ہے ،لیکن مشھور قول یہ کہ مخلوق کی قسم کھانا بغیر کسی استثناء کے منع ہے ، اور یہی قول صحیح اور بہتر ہے ۔
ابن قیّم جوزی (شاگرد ابن تیمیہ) کہتا ہے :
خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے ، پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایاکہ جوشخص بھی غیر خدا کی قسم کھاتا ہے وہ خدا کے ساتھ شرک کرتا ہے اسی وجہ سے غیر خدا کی قسم کھانا گناہان کبیرہ کی سر فھرست میں ہے ۔( ۷۵ )
غیر خدا کی قسم کے سلسلہ میں وضاحت اور ابن تیمیہ کے نظریہ کی ردّ
مرحوم علامہ امین صاحب کتاب ارزشمند ”اعیان الشیعہ“ بیان فرماتے ہیں: صاحب رسالہ کا وہ قول جس میں غیر خدا کی قسم کھانے سے بالاتفاق علماء نے منع کیا ہے ،حقیقت سے بہت دور ہے کیونکہ اس نے اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے فقط ابوحنیفہ، ابویوسف، ابن عبدالسلام اور قدوری جیسے افراد کا قول نقل کیا ہے ، اور تعجب تو یہی ہے کہ عالم اسلام کے تمام علماء کو انہیں چار لوگوں میں منحصر کیا ہے، اور پھر شافعی ، امام مالک، احمد ابن حنبل کے فتووں کو نقل کرنے سے کیوں اجتناب کیا گیاہے، اور بہت سے بے شمار علماء کے فتووں کو کیوں نہیں بیان کیا ان علماء کے فتوے کہ جن کو خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتاہے ؟!
حق تو یہ ہے کہ غیر خدا کی قسم کھانا نہ حرام ہے اور نہ ہی مکروہ، بلکہ ایک پسندیدہ اور مستحب عمل ہے جیسا کہ اس سلسلہ میں روایات بھی وارد ہوئی ہیں : اس کے بعد مرحوم امین(رہ) نے صحاح ستہ سے چند روایتیں نقل کی ہیں،اس کے بعد دوسری جگہ کہتا ہے کہ : غیر خدا کی قسم کھانا، خدا وررسول(ص) ، صحابہ تابعین اور تمام مسلمانوں سے ، زمانہ قدیم سے آج تک دیکھی گئی ہے ، خدا وندعالم نے قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر اپنی مخلوق کی قسم کھائی ہے ، پیغمبر اور صحابہ وتابعین کی گفتگو میں بہت سے ایسے مورد پائے جاتے ہیں کہ جھاں اپنی جان کی قسم کھائی گئی ہے، نیز دوسری چیزوں کی بھی قسم کھائی ہے۔( ۷۶ )
پیغمبر اسلام(ص) سے توسل واستغاثہ کرنا اور ا ن کو شفیع قرار دینا اور ان سے حاجت مانگنا
ابن تیمیہ ان مسائل کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت(ص) کی زیارت کو جائے اور اس کا قصد دعا وسلام نہ ہو بلکہ زیارت ِپیغمبر(ص) ہو، اور ان سے طلب حاجت کے لئے جائے اور اسی قصد سے اپنی آواز پیغمبر کی قبر منور کے پاس بلند کرے ، تو ایسے شخص نے پیغمبر(ص) کو اذیت دی ہے اور خدا کے ساتھ شریک کیا ہے ، اور خود اپنے اوپر ستم کیا ہے ۔
ابن تیمیہ نے ان حدیثوں کو جن کا مضمون یہ ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا: جو شخص میری رحلت کے بعد میری زیارت کرے ، ایسا ہے کہ اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ہو، ان احادیث کو جعلی او رمن گھڑت بتایاہے ۔
ابن تیمیہ صاحب قبور سے توسل کے سلسلہ میں کہتا ہے :
بعض زائرین کی زیارت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کی حاجتیں پوری ہوجائیں، کیونکہ صاحب قبر کو خدا کا مقرب بندہ مانتے ہیں اور اس کو خدا کے حضور میں واسطہ اور وسیلہ مانتے ہیں اور اسکے لئے نذر وقربانی کرکے صاحب قبر کو ہدیہ کرتے ہیں ، اور بعض زائرین اپنے اموال کو صاحب قبر کے لئے نذرکرتے ہیں ،اور بعض زائرین شوق اور محبت کے جذبے میں صاحب قبر کی زیارت کے لئے آتے ہیں اس قصد سے کہ ان کی قبر کی طرف سفر کرنا، گویا ایسا ہے کہ ان کی زندگی میں خود ان کی زیارت کے لئے سفر کیا ہو، اور جب صاحب قبر کی زیارت کرلیتے ہیں اپنے اندر ایک طرح کا سکون واطمینان محسوس کرتے ہیں ، لہٰذا اس طرح کے لوگ بت پرستوں کی طرح ہیں جو بتوں کو مثل خدا جانتے ہیں ۔( ۷۷ )
پیغمبر(ص) سے توسل اور وسیلہ کے سلسلہ میں وضاحت
اور ابن تیمیہ کے قول کا جواب
ہم خدا وندعالم کے لطف وکرم اور اس کی مدد سے، توسل اور وسیلہ کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے نظریات کی بعد میں تنقید کریں گے لیکن یھاں پر مختصرطورپرعرض کرتے ہیں کہ: یہ توسل کا مسئلہ شرع مقدس کے ذرہ برابر بھی منافی نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک معقول امر ہے ۔
”سہم ودی“ نے ”سُبکی“ سے نقل کیا ہے کہ کھبی کبھی محبوب کا ذکر، دعا کے قبول ہونے میں سبب بنتا ہے ، اور اسی کا نام توسل ہے اور کبھی اس کو استغاثہ اور تشفّع (شفاعت طلب کرنا) بھی کھا جاتا ہے ، کبھی انسان اپنے سے کسی بزرگ ھستی سے اپنی عظمت اور مقام کی وجہ سے متوسل ہوتا ہے۔
رسول اسلام(ص) کی زندگی میں توسل کا مسئلہ بارہا پیش آیا ہے ، ترمذی او رنسائی نے عثمان بن حنیف سے روایت کی ہے کہ: حضرت رسول اسلام(ص) نے ایک نابینا شخص کو حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو:
”اللّٰهم انی اسئلک واتوجه الیک بنبیک محمد نبی الرحمة، یامحمد انی توجهتُ بک الیٰ ربّی فی حاجتی لتقضِ لی ، اللّٰهم شفّعه لی “
اے پروردگار! میری تجھ سے التجا ہے اور تیرے پیغمبر(ص) کہ جوپیامبر رحمت ہے کے وسیلہ سے تیری بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد(ص)! میں آپ کے توسل سے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں تاکہ خدا آپ کے ذریعہ سے میری حاجت روائی فرمائے، اے خدا ! حضرت محمد(ص) کو میرا شفیع قرار دے ۔
طبرانی نے اس طرح کی حدیث اس شخص کے بارے میں بیان کی ہے کہ جو رسول اسلام(ص) کی وفات کے بعد عثمان بن عفان کے زمانے میں کچھ حاجت رکھتا تھا اور انہیں عثمان بن حُنیف نے یہی مذکورہ دعا پڑھنے کے لئے کھا،(اور اس کی حاجت پوری ہوگئی)
اس طرح کی ایک روایت ”بیہقی“ نے نقل کی ہے کہ جس وقت عمر کے زمانے میں قحط پڑا(اور بارش نہ ہوئی) تو لوگوں نے حضرت رسول اسلام(ص) سے توسل کیا، اور ایک شخص آنحضرت کی قبر منور کے سامنے کھڑا ہوکر عرض کرتا ہے : یَا رَسُوْلُ اللّٰہ اِسْتَسْقِ لِاُمَّتِکَ فَاِنَّہم قَدْ ہَلَکُوا“(یعنی اے رسول اللہ(ص)(ص) آپ خدا سے اپنی امت کے لئے بارش طلب کیجئے،کیونکہ آپ کی امت ھلاک ہونے جارہی ہے )
اس طرح یہ روایت کہ قحط سالی کے وقت عمر نے حضرت رسول خدا(ص) کے چچا جناب عباس کے ذریعہ بارگاہ خدا وندی میں توسل کیا اور کھا:الٴَلّٰهُمَّ کُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِنَبِینَافَتُسْقِینَا، اِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِینَا فَاسْقِیْنَا “ یعنی اے خدا ہم لوگ قحط سالی کے وقت اپنے پیغمبر(ص)کے ذریعہ توسل کیا کرتے تھے اور تو ہمیں سیراب کردیتا تھا (اور چونکہ اب پیغمبر نہیں ہیں ) ہم تیری بارگاہ میں تیرے نبی(ص)کے چچا کے ذریعہ متوسل ہوتے ہیں ، تو ہمارے لئے باران رحمت نازل فرما۔
ایک اور روایت کے مطابق عمر نے کھا: ”جناب عباس کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دو“
خود ابن تیمیہ کہتا ہے کہ اصحاب پیغمبر خود آنحضرت(ص) کے زمانے میں آپ سے توسل کرتے تھے، اور آپ کی وفات کے بعد جس طرح سے آنحضرت سے متوسل ہوتے تھے ، اسی طرح آپ کے چچا عباس کے ذریعہ بھی متوسل ہوتے تھے۔
ایک دوسری جگہ کہتا ہے کہ: احمد ابن حنبل نے اپنی دعاؤں میں پیغمبر اکرم(ص) سے توسل کیا ہے اور یہ کہ (احمد بن حنبل) اپنی دوروایتوں میں سے ایک میں آنحضرت(ص) کی قسم، اور ان سے توسل کو جائز مانتے ہیں ، مذکورہ چیزیںاور ان کی طرح دوسری چیزیں صحاح ستہ اور اہل سنت کی دیگر دوسری معتبرکتابوں میں موجود ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت پیغمبر اسلام(ص) سے توسل کرنا اور ان سے شفاعت کی درخواست کرنا نیز آنحضرت(ص) کے چچا عباس سے توسل کرنا گذشتہ اصحاب کی سیرت رہی ہے ۔( ۷۸ )
جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ابن تیمیہ کے نظر یات کے سلسلہ میں بحث بہت تفصیلی ہے ہم یھاںپرصرف اس کے چندایک انحرافی عقیدوں پربحث کی ہے، اور امیدوار ہیں کہ خداوندعالم ہمیں توفیق دے تاکہ ابن تیمیہ کے نظریات اور ان کی تنقید کے سلسلہ میں ایک تفصیلی بحث کرسکیں۔( ۷۹ )
ابن تیمیہ کی شخصیت اور اسکے نظریات کے بعد، ایک اور مشھور شخصیت کے بارے میں بحث کرتے ہیں کہ جو ابن تیمیہ کا ہم فکر ، شاگرد اور اس کے قریبی ساتھیو ں میں سے تھا یعنی ابن قیّم جوزی جس سے محمد ابن عبد الوہاب کی فرقہ وہابیت کی ایجاد کے سلسلے میں بہت متاثر ہوئے ہیں ۔
ابن قیّم جوزی کے حالاتِ زندگی
محدث قمّی(رہ) ، صاحب مفاتیح الجنان اپنی گرانقدر کتاب ”الکنی والالقاب“ میں تحریر کرتے ہیں: ”اس کا نام محمد بن ابوبکر حنبلی تھا اس کی وفات ۷۵۱ ھ قمری میں ہوئی ، اس کی ایک کتاب بنام ”زاد المعادفی ہدی خیر العباد“ تھی، اس نے علم فقہ کو ابن تیمیہ کی شاگردی میں حاصل کیا۔
صاحب ”الدرر الکامنہ“ تحریر کرتے ہیں کہ ابن قیّم جوزی پرابن تیمیہ کی محبت اس قدر غلبہ کرچکی تھی کہ اس نے کبھی بھی ابن تیمیہ کے نظریات کی مخالفت نہ کی ، بلکہ اپنے تمام نظریات میں اسی ہی کے نظریات پر اکتفا کی، اس ابن قیّم جوزی نے ابن تیمیہ کی کتابوں کی تحقیق کی اور ان کو نشر کیا، مصر کے دولت مندلوگوں نے اس کو نوازا، ابن قیّم جوزی ابن تیمیہ کے ساتھ گرفتار کئے گئے اور قید خانہ میں بھی رھے ، ایک مدت کے بعد اس کو ذلیل ورسوا کیا گیا او راس کو ایک اونٹ پر بٹھاکر مارتے ہوئے شھر میں گہمایاگیا ،اور جس وقت ابن تیمیہ کا انتقال ہوا تب اس کو کچھ سکون ملا۔
ایک مرتبہ اور بھی ابن تیمیہ کے فتاوای نقل کرنے کی وجہ سے ابن قیّم جوزی کو آزار واذیت دی گئی، یہ اپنے زمانے کے علماء سے بھرہ مند ہوتا تھا او رعلماء بھی اس کو مستفید کرتے تھے۔( ۸۰ )
”داشنامہ ایران واسلام“میں ابن قیّم جوزی کے سلسلہ میں اس طرح تحریر ہے :
شمس الدین ابوبکر محمدبن ابی بکر زرعی ایک حنبلی متکلم او رفقیہ تھے، تاریخ پیدائش ۷ صفر ۶۹۱ ھ، مقام پیدائش دمشق ، اور تاریخ وفات ۷۵۱ ھ ،اور جائے وفات دمشق ہے ۔
ابن قیّم جوزی ایک درمیانی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس کا باپ قیّم تھا او رمدرسہ جوزیہ کے برابر میں رہتا تھا یہ مدرسہ جوزیہ وہی مدرسہ ہے کہ جس میں حنبلی قاضی القضات قضاوت کیا کرتے تھے۔
ابن قیّم جوزی نے اعلی تعلیم حاصل کی، اس کے اساتید میں قاضی سلیمان بن حمزہ اور شیخ ابوبکر محدث ابن عبد القائم کے بیٹے کا نام لیا جاتا ہے ، لیکن خصوصی طور سے ۷۱۳ ھ سے ابن تیمیہ کی شاگردی کی او راسکے خاص اور ہونھار شاگردوں میں شمار ہوتا تھا، اور یہ بات یقین کے ساتھ کھی جاسکتی ہے کہ ابن قیم نے ابن تیمیہ کے تمام افکار او رعقائد کو قبول کیا تھا ، اور اپنی شخصیت کو حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ ان عقائد کونشر کرنے میں مشغول رہا، اپنے استاد کی طرح اپنے زمانہ کے تمام علوم مثلاً تفسیر قرآن، حدیث،اصول ، اورفروع فقہ میں مھارت رکھتا تھا، اور جس وقت ایک انجمن کے ذریعہ کہ جو عربی کے نظریات کے تحت اس کی تعلیمات کے سلسلہ کو جاری رکھا گیا تو ابن قیّم جوزی نے بہت مخالفت کی لیکن اسکے برخلاف تصوف(صوفیت) سے بہت زیادہ متاثر تھا ، ”منازل السائرین“خواجہ عبد اللہ انصاری“ جو ممالیک کے زمانہ میں مشھور تھاابن قیّم جوزی اس سے خاص اُنس رکھتا تھا۔( ۸۱ ) مناظرہ میں اپنے استاد سے کم تھا لیکن وعظ ونصیحت میں اپنے استاد سے کھیں زیادہ، اس کا طرز تحریر ابن تیمیہ کے خشک وتلخ روش کے برخلاف تھا، ۷۲۶ ھ میں ابن قیّم جوزی بھی ابن تیمیہ کے ساتھ دمشق کے زندان میں گیا اور ابن تیمیہ کے مرنے کے بعد ابن قیّم جوزی کو رہائی ملی۔
۷۳۱ ھ میں حج کے لئے گیا،کھا جاتا ہے کہ امیر عز الدین آبیک کی سرپرستی میں جوقافلہ شام سے گیا تھا جس میں بہت سے فقھاء ومحدثین اس کے ہمراہ تھے۔
ابن قیّم جوزی کے کارنامے کوئی بہت زیادہ عمدہ نہیں تھے ، کیونکہ ممالیک کی حکومت کی طرف سے ابن تیمیہ کے جدید حنبلی مذہب پر بہت سی ممانعت تھیں۔
دوسری رجب ۷۳۶ ھ میں پھلی مرتبہ اس نے اس مسجد میں خطبہ دیا جس مسجدکو نجم الدین بن خالیخان نے دمشق کے بیرونی دروازے کے پاس ایک باغ میں بنوایا تھا۔
۶ صفر ۷۴۳ ھ میں مدرسہ ”صدریہ“ میں اپنا پھلا درس پڑھانا شروع کیااور عمر بھر اسی مدرسہ میں تدریس کرتارہا۔
اس زمانہ سے ابن قیّم جوزی کا تقی الدین سُبکی دمشق کے شافعی قاضی القضات سے دو مرتبہ اختلاف ہوا، لیکن کبھی کوئی جھگڑا نہ ہوا۔
محرم ۷۴۶ ھ میں ابن قیّم جوزی کا سُبکی سے اختلاف یہ تھا کہ تیر اندازی یا گھوڑا سواری کے مقابلے میں شرکت کرنے والے ایک مبلغ شرط بندی کے لحاظ سے معین کریں او رکوئی تیسرا شخص بعنوان محلل(بغیر مبلغ دئے مسابقہ میں شرکت کرنے والا ) مقابلہ میں شرکت نہ کرے، تو کیا اس طریقہ کار کی بناپر وہ مقابلہ میں شرعی جواز رکھتا ہے یا قُمار اور جوے کا نام دیا جائے گا؟
ابن قیّم جوزی کا طرز تفکر اور طریقہ استدلال بھی ابن تیمیہ کی طرح تھا، یہ نظریہ پیش کیا کہ ایسے مقابلوں میں محلِل کی ضرورت نہیں ہے اسی بناپر قاضی القضات نے اس کو حاضر کرلیا، (اور اس کی توبیخ کی) جس کی بنا پر اس کو اکثریت کی پیروی کرنی پڑی۔
کچھ مدت بعد، سُبکی سے ابن قیم کا دوسرا اختلاف طلاق کے بارے میں ہوا کہ اس نے ابن تیمیہ کے نظریات کے مطابق فتویٰ دیا لیکن امیر سیف الدین بن فضل بدوی نے ان دونوں کے درمیان صلح کرادی۔
۲۳ رجب المرجب ۷۵۱ ھ کو ابن قیّم جوزی کا دمشق میں انتقال ہوگیا، اس کو باب الصغیر نامی قبرستان میں اپنے باپ کے برابر میں دفن کردیاگیا ، اس کے بعد اس کا بیٹا جمل الدین عبد اللہ مدرسہ صدریہ کا مدرس بن بیٹھا۔
ابن قیّم جوزی کی ادبی اور اعتقادی تالیفات بہت زیادہ ہیں ” کتاب مدارج السالکین “ جو ”منازل السائرین“ خواجہ عبد اللہ انصاری کی شرح ہے ، اس کتا ب کومذہب حنبلی میں تصوف کا شاہکار کھا جاسکتا ہے ، ”اعلام الموقّعین“ یا ”راہنمائی کامل مفتی“ نامی کتاب اصول فقہ میں بھی ابن تیمیہ کے نظریات کے مطابق تحریر کی۔
سیاست میں بھی ابن تیمیہ سے الھام لیا کہ جس کا نمونہ کتاب ”حسبہ“ او رکتاب ”السیاسة الشرعیة“ ہے ، اصول دین کے سلسلہ میں ”قصیدہ نونیہ“ تحریر کی، جو ایک اعتقاد نامہ ہے جس کی”عقیدہ اتحادیہ“ کے نام سے ردبھی لکھی گئی ہے ۔
اس طرح ایک کتاب ”الصوارق المرسلة“ ابن قیّم جوزی نے لکھی جس کا طرز استدلال جدَلی ہے اور یہ کتاب”جہم یہ“ کی رد ہے ۔
زمانہ ممالیک میں ابن قیّم جوزی کے چند شاگرد فقیہ اورمجتھد بنے یا یہ کھیں کہ ان شاگردوں میں کم وبیش ابن قیّم جوزی کے نظریات سے متاثر ہوئے اور اس کے نظریات کو قبول کیا، انہیں میں شافعی محدث مورخ ابن کثیر ، زین الدین بن رجب، قرن وسطیٰ میں مذہب حنبلی کے آخری نمائندے ، اور ابن حجر عسقلانی ہیں اس زمانہ میں بھی ابن قیّم جوزی کی کتابیں نہ یہ کہ وہابیوں کے درمیان بلکہ گذشتہ زمانہ سے آج تک پڑھی جارہی ہیں خصوصاً شمالی افریقہ میں اس کی کتابوں کے پڑھنے والوں کی تعداد کافی مقدار میں مل جائے گی۔( ۸۲ )
خیر الدین زرکلی صاحب کتاب الاعلام نے ابن قیّم جوزی کو اصلاح اسلامی کا ایک رکن اورعلماء بزرگ میں اس کاشمار کیا ہے ، زرکلی کہتا ہے : (ابن قیّم جوزی) اپنے استاد ابن تیمیہ کے نظریات سے آگے نہیں بڑھتے تھے بلکہ اس کی تائید وتکمیل کرتے تھے اس کی کتابوں کی نشرواشاعت کیا کرتے تھے، اور لوگوں کے درمیان نیک سیرت سے مشھور تھے، اس کے بعد اُس کی تالیفات کی فھرست تحریر کی ہے ۔( ۸۳ )
(ابن قیّم جوزی )نے ابن تیمیہ سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کیا ہے اور اس کے نظریات کو مکمل طورپر قبول کیا ہے او راسکے افکار اور نظریات کو نشر کیا ، او راس کا فکری وعملی لحاظ سے ساتھ دیا ہے ، زندان میں بھی اس کے ساتھ گئے اور ان کی خاطر دوسروں سے مقابلہ کیا کرتے تھے او رتوہین واذیت کو برداشت کرتے تھے، ہمیشہ کتابوں میں مشغول رہتے تھے، او راپنے استا دکی موت کے بعد ان کی کتابوں کی تحقیق وتہذیب میں مشغول رھے ۔( ۸۴ )
ڈاکٹر نزار رضا ابن قیّم جوزی کی کتاب ”اخبار النساء“ جس کو اس نے تحقیق وتصحیح کیا ہے اس کے مقدمہ میں ابن قیّم جوزی کے حالات زندگی کو مختصر طور پر بیان کیا ہے ، کہتاہے:
ابن قیّم جوزی کی کتاب ”روضة المحبین ونزھة المشتاقین“ جس کی تصحیح وتحقیق صابر یوسف نے کی وہ اس کے مقدمہ میں کہتا ہے: ابن قیّم جوزی ایک فقیہ،دینی رھبر،آزاد فکر کے مالک، اہل اجتھاد واستنباط اور اندھی تقلید کے مخالف تھے، اور وہ فقط قرآن وسنت کی تقلید کیا کرتے تھے اور کسی ایک مذہب سےوابستہ نہیں تھے یہ ایسے شخص تھے کہ جس کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ مطلب کی گھرائی تک پہونچاجائے اور حقائق کو عمیق نظر اور ظریف نگاہ سے دیکھے اور ان کی گھرائی تک پہونچے، اس کے بعد اس کے بارے میں ان مختلف علماء کے اقوال نقل کرتا ہے کہ جنھوں نے اس کو صاحب بیان ، زبان سلیس، عالم فقیہ،محدث ، مفسر، اصولی، نحوی او ردینی خدمت گذار کھا ہے ، اس کے بعد ان مشکلات اورمصائب کا ذکر کرتا ہے کہ جو ابن قیّم جوزی نے اپنی زندگی میں برداشت کئے ہیں او راس کے بعد ابن قیم کے اساتید او رشاگردوں کے نام بیان کرتا ہے اس کے اساتید میں ان ناموں کو بیان کرتا ہے : ابن عبد الدائم، عیسیٰ المطعّم، قاضی تقی الدین بن سلیمان، ابن الشیرازی، الشھاب النابلسی، اسماعیل بن مکتوم۔
اسی طرح عربی علوم کے اساتید میں علی بن ابی الفتح اور المجد التونسی کا نام تحریر کیا ہے ، علم اصول کو علی صفی ھندی اور علم فقہ کو علی مجد حرّانی اور تقی الدین ابن تیمیہ سے حاصل کیا ہے ۔
ابن قیّم جوزی کی تالیفات
ابن قیّم جوزی کی تالیفات کو یوں تحریر کیا ہے :
”اعلام الموقّعین عن رب العٰالمین، بدائع الفوائد، اخبار النساء، اغاثة اللهفان من مکائد الشیطان، اغاثة اللهفان فی حکم طلاق الغضبان والسکران، التبیان فی اقسام القرآن، جلاء الافهام فی الصلاٰة والسلام علی خیر الانام، الجواب الکافی لمن سال عن الدّواء الشافی، هادی الارواح الی بلاد الافراح، زاد المعاد فی هدی خیر العباد، کتاب الصلوٰة وحکم تارکها، عدة الصابرین وذخیرة الشاکرین، الکلم الطیب، تفسیر المعودتین، مدارج السالکین، الطرق الحکمیه ، الوابل الصیّب من کلم الطیّب، الصواعق المرسلة علی الجهم یة والمعطّلة، روضة المحبین ونزهة المشتاقین “( ۸۵ )
ان تمام تعریفوں کے باوجود کہ جو بعض معاصر مولفین نے ابن قیّم جوزی کی وسیع اطلاع اوروسیع مطالعہ کے سلسلہ میں کی ہیں ، اگر کوئی صاحب بصیرت او رعقلمند انسان اس کی کتابوں کا مطالعہ کرے تو یہی نتیجہ نکالے گاکہ: ابن قیّم جوزی بھی اپنے استاد ابن تیمیہ کی طرح اعتقادی مسائل میں بہت سی خطا اور لغزشوں کا شکارھوا ہے ، مثلاً ”خدا کا حسّی دیدار“ کا مسئلہ کہ جس کو ہم نے پھلے بھی بیان کیا ہے او راس کا غلط ہونا بھی ثابت کیا ہے ،یہ بھی ابن قیّم جوزی کے اعتقادات میں شامل ہے ، اس نے خود ”کافیة الشافیة“نامی طویل قصیدے میں صاف صاف اس عقیدہ کو قبول کیا ہے ۔بھر حال ہماری نظر میں ابن قیّم جوزی اپنے فکری معلم (ابن تیمیہ ) کی طرح بہت سے اعتقادی مسائل میں لغزشوں او رانحرافات کا شکار ہوا ہے لیکن اس وقت ان تمام لغرشوں او ر انحرافات سے بحث کرنے کا موقع نہیں ہے ۔
____________________
[۱] قارئین محترم ! آپ حضرات جانتے ہیں کہ ۸سالہ ایران عراق جنگ میں سعودی عرب نے صدام کی پھر پور مدد کی ہے ، چاہے وہ مالی مدد ہو یا سیاسی اور فوجی مدد ہو ، اور یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں ہے کہ یہ سب سے بڑے مالک امریکہ کے اس طرح کے نوکر ہیں جو بغیر اس کی اجازت کے ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے ، جو کچھ ” استاد ازل“ کہتا ہے یہ اسی کو انجام دیتے ہیں ، جیسا کہ مکہ کے خونین سانحہ میں سیکٹروں حجاج کا قتل عام ہوا ہے ، اور جیسے جیسے وقت گذر تا ہے ان جنایتوں کے پیچھے امریکہ کا ھاتھ ہونا دنیا والوں پر روشن ہوتا جاتا ہے ، ظالم اور ان کے ساتھی ذلیل اور رسوا ہوتے جاتے ہیں :
”ل هم خزی فی الدنیا و فی الآخرة عذاب شدید “
یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا کا وعدہ ہر گز خلاف نہیں ہوسکتا ۔
[۲] نجف اور کربلا کے مومنین کا قتل اور روضہ مبارک امیرالمومنین اور امام حسین علیہم السلام کے زائروں کے قتل اور قبرستان بقیع میں ائمہ معصومین (ع) کی قبروں کا انھدام نیز مکہ معظمہ میں حجاج کرام کا قتل کرنا، نیز دوسرے دیگر ملحدوں اور مشرکین ِخاندان آل سعود کی شرمناک جنایتوں کو ان مشرک ، ملحد اور بت پرست خاندان آل سعود جو خود کو توحید او رخداپرستی کا مدعی مانتا ہے ، کی دیگر شرم ناک جنایتوں کو کتاب کے آئندہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ، انشاء الله۔
[۳] قارئین کرام کے لئے قابل توجہ ہے کہ وہابیت اور آل سعود کے پروگراموں میں سے ایک پروگرام یہ بھی ہے کہ تمام دنیا اور اسلامی ممالک کے خائن اور ایجنٹ مولفین کے قلم کو لاکھوںڈالروں کے بدلے
[۴] یھاں پہونچنے کے بعد انسان شیراز ی مشھور عارف کے اس شعر کو یاد کرتا ہے :
[۵] استعمار ہر روز اپنے مختلف چالوں کے ذریعہ اپنے ناپاک اور نحس مقاصد تک پہونچناچاہتا ہے ،
[۶] اس سلسلے میں مزید معلومات کیلئے ” آلبر ممی “ کی کتاب “ چھرہ استعمار گر چھرہ استعمارزدہ جس کا ترجمہ ہما ناطق نے کیا ہے ،اور ” فرانتش فانون “کی تمام کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
[۷] اس موقع پر بزرگ شاعراور فلسفی علامہ اقبال لاہوری نے قرآن کی اہم یت اور اس کی انقلابی فکر کے بارے میں بہت جامع اور دقیق اشعار کھے ہیں :
[۸] قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ انقلاب اسلامی ایران کے آغاز کے وقت دنیا بھرکی سوپر طاقتیں ، بلیک ھاوس ( وہایٹ ھاوس ) کے حکمر اں نیز فلسطین کے غاصبین ، سب کا یہی نعرہ تھا کہ ہم کمیونیزم کے خطر ے کو اسلامی خطرے کے مقابلہ میں خطرہ نہیں سمجھتے ہیں ،آپ اس بات سے اندازہ لکا سکتے ہیں کہ اسلام سے ان کی دشمنی کس قدرزیادہ ہے
اور اسی وجہ سے ہر ایک کا فریضہ بنتا ہے کہ ساری آزادی بخش تحریکوں کی ہر ممکن مدد کریں۔
[۹] اصول کافی ج ۲ ص ۶۴ا” باب الاہتمام با مور المسلمین “
[۱۰] سورہ ممتحنہ آیت ا ول۔
[۱۱] سورہ نساء آیت ا۴ا۔
[۱۲] سورہ آل عمران آیت ۸ا۔
[۱۳] سورہ آل عمران آیت ۰۳ا۔
[۱۴] ہر طرح کی قبیلہ پرستی کو ختم کرکے آج اسلام نے افریقہ اور امریکہ کے کالوں کے دل میں جگہ بنالی ہے ، اور اپنی طرف جذب کرلیا ہے اگر اسلام کی نظر میں کسی چیز کی اہم یت ہے تو وہ اطاعت خدا ، عبادت اور تقوی الہٰی ہے ، نہ کہ حسب و نسب ، قوم قبیلہ اور جغرافیائی رھن سھن اور نہ ہی دوسری جاہلانہ چیزیںاسلام کے نزدیک کوئی اہم یت رکھتی ، اور اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں : دین اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ، اور تمام دنیا بھر کے انسانوں کیلئے ھرھر قدم پر پیغام لئے ہوئے ہے ، اور اسلام کی ہمیشگی بقاء کا راز یہی عالمی اور جھانی ہونا ہے ۔
[۱۵] سورہ فتح آیت ۲۹۔
[۱۶] سورہ صف آیت ۴۔
[۱۷] اصول کافی ، ج ۲ ص ۶۶ا” باب اخوة المومنین بعضہم لبعض “
[۱۸] دو مذہب ص ۶۴ ، ڈاکٹر مصطفی خالد ، نقل از ” التبشیر والاستعمار فی البلاد العربیہ “ اور اس سلسلے میں اسلام کی بنیادی عجیب و غریب معلومات کیلئے جناب حسن صدر کی کتاب ” الجزائر و مردان مجاہد “ کم نظیر انقلابی مولف” فرانتش فانون“کی کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
[۱۹] الجزائر کے مسلمانوں کی کامیابی کے علاوہ ھندوستان میں مسلمانوں کی کا میابی اور استعمار کو نکالنے
[۲۰] استعمار کے ظلم و تشدد سے مزید آگاہی کیلئے کتاب ” گفتاری در باب استعمار ” تالیف شاعر و مؤلف مبارز افریقی ” امڈ پیزر “سے کچھ اقتباسات نقل کرتے ہیں تا کہ صاحب تمدن استعمارگروں ! کی خبیث اور گندی حرکتوں سے پردہ فاش ہو سکے ! وہ اپنی کتاب میں اس طرح لکھتا ہے :
[۲۱] خاطرات ہمفرے بند ۶ ص ۸۰ ،اور اسی کتاب کا ترجمہ بنام ”وہابیت ایدہ استعمار “ کے نام سے فارسی (اور اردو)میں بھی ہوا ہے کہ جو انگلینڈ کے مشھور جاسوس ہمفرے کی خاطرات ہیں ، ہم قارئین کرام کو اس کتاب کے دقیق مطالعہ کی پیش کش کرتے ہیں ، اگر چہ بہت سی جگہ ترجمہ نارسا ہے اور ضروری تھا کہ بعض جگہ حاشیہ اور توضیح کا سھارہ لیا جاتا ، امید ہے کہ مترجم صاحب اس طرف توجہ کریں تا کہ دوسرے ایڈیشن میں یہ خامیاں نہ رہیں ۔
[۲۲] قصص العلماء ص ۵۲ تا۵۳ ۔
[۲۳] امام شناسی ، تالیف سید محمد حسین تھرانی ج ۵ ص ۸۴۔
[۲۴] یہ بات صرف الزام نہیں ہے بلکہ کتاب کے آیندہ صفحات میں ہم دلیل کے ساتھ واضح طور پر بیان کریں گے کہ وہابیت انگلینڈ کے انگر یزوں کی ایجاد ہے ، اور اس وقت بھی امریکہ جیسے خونخوار کی حمایت میں ہے، اور جیسا کہ خاندان سعود کی خیانت اور ظلم و تشدد نے سب پر واضح کردیا ہے ،ہم یں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
[۲۵] اس سلسلے میں ماہنامہ ” حوزہ “ نمبر ۶ا شھریور ۳۶۰ا سے کافی تغیرات کے ساتھ استفادہ کیا ہے ۔
[۲۶] امام شناسی ج ۵ ص ۸۳ا۔
[۲۷] ازالہ شبھات ص ۲۰۔ ضمناً عرض کیا جاتا ہے :کتاب مذکور محمد ابن عبد الوہاب کی کتاب ” کشف الشبھات“ کا ترجمہ ہے جس میں تمام مسلمانوں پر تہم تیں لگائی گئیں اور ان کو برا بھلاکھا گیا ، اور اکثر مقامات پر فرقہ وہابی کے علاوہ ، مشرک ، کافر ، بت پرست ، جاہل اور ضد توحید کھا گیا ، جبکہ کتاب کے شروع اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتا ہے !!
[۲۸] یہ کتاب حضرت رسول اسلام(ص) کے دفاع اور ان کی حمایت میں لکھی گئی ہے ،کتاب کے شروع میں لکھا ہے کہ حضرت رسول(ص) کی شان میں گستاخی کرنے والے کو چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر قتل کردیا جائے اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بیان کرتا ہے جو خود اس کے اور وہابیت کے عقائد سے ٹکراتی ہیں اور جس کی وجہ بھی بیان نہیں کرسکتے ہیں مثال کے طور پر مذکورہ کتاب کے صفحہ ۹۳ پر ” حضرت رسول اسلام(ص) “کی وفات کے بعد ان کا احترام اور زیادہ ہوناچاہیئے اور اس بارے میں توجہ کرنی چاہیے کے بعد مذکورہ مطالب بیان کئے ہیں کہ حضرت رسول اسلام(ص) کا ادب و احترام ان کی زندگی سے بھی زیادہ ہونا چاہیئے ، جبکہ یہی ابن تیمیہ اور اس کا فکری شاگرد محمد ابن عبد الوہاب ، حضرت رسول اسلام(ص) کی زیارت کے سفر کو ” سفر معصیت “ اور آنحضرت(ص)کی قبر کو ” بڑابت “ کہتے ہیں ، اور آپ(ص) کی قبر کے پاس نماز پڑھنے کو ” بت پرستی “ کہتے ہیں ، محمد ابن عبد الوہاب واضح طور پر کہتا ہے :
[۲۹] اور اسی وجہ سے ابن تیمیہ کی اتباع کرنے والے یعنی وہابی بھی شیعوں کے سب سے زیادہ دشمن ہوگئے اور محمد ابن عبد الوہاب جو اس فرقے کا بانی ہے ، شیعوں کے خلاف ایک مستقل کتاب بنام ” الرّد علی الرافضہ “ لکھی اور شیعوںکو ” رافضی‘ ‘ یعنی دین سے خارج ہونے والے اور ان کو کافر اور مشرک کھا ، واقعاً ایسے استاد (ابن تیمیہ) کا شاگرد بھی ایسا ہی ہونا چاہئیے ، کہ جس نے شیعوں کی مخالفت ان سے دشمنی اور شیعہ کُشی ،اپنے استعماری فرقہ وہابیت کے سب سے اہم پروگراموں میں قرار دیا تھا ، اور اسی وجہ سے محمد ابن عبد الوہاب کی اولاد یعنی ظالم و جابر آل سعود ، انقلاب اسلامی کے مقابلہ کیلئے کھڑے ہوگئے وہ انقلاب کہ جس نے آج عالم اسلام کو عزت و عظمت عطا کی ہے ، اس وقت آل سعود، مشرک ، کافر اور ملحدوں او رخونخوار جلادوں مثل صدام سے مل کر ” توحید “ اور رافضیوں سے جنگ کے نام پر جمھوری اسلامی ایران سے جنگ کررھے ہیں اور ” کفر و شرک اور بت پرستی سے جنگ کا نعرہ دیتے ہیں ۔
[۳۰] کتاب واسطیہ میں ابن تیمیہ نے” واسطہ فیض در عالم ھستی“ کا انکار کیا ، اور یہی اعتقاد آج وہابیوں کا بھی ہے ، یہ لوگ خدااور بندے کے در میان واسطہ اور واسطوں کو شرک ، کفر اور بت پرستی مانتے ہیں ، ہم اسی کتاب میں اس مطلب پر بھی بحث کریں گے لیکن یھاں صرف اشارہ کرکے گذرجائیں گے ،اگر یہ طے ہو کہ عالم وجود میں واسطے نہ ہوں ، اور خدا اور مخلوق کے درمیان ” واسطوں “ کااعتقاد رکھنا کفر ہو ، تو سب سے پھلے خدا کافر ہے !!( نعوذ بالله) کیونکہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ملائکہ کے بارے میں بیان فرمایا ہے کہ خدا انہیں ملائکہ کے ذریعہ اور دوسرے اسباب کے ذریعہ تمام کام انجام دیتا ہے ۔
عزرائیل کو روح قبض کرنے کی ذمہ داری دی ہے ، اور دوسرے ملائکہ بھی اسی طرح کوئی نہ کوئی ذمہ داری رکھتے ہیں ، جن کے ذریعہ خدا وند عالم کا ارادہ اس عالم ھستی میں جاری و ساری ہوتا ہے، پس معلوم یہ ہواکہ خدا بھی واسطوں کا قائل ہے اور اسباب کے ذریعہ اپنے امور انجام دیتا ہے ، وہابیوں کو اس بات کا جواب دینا چاہیئے ، یا فرشتوں کا انکار کردیں ، لیکن انکاربھی نہیں کرسکتے کیونکہ قرآن مجید کے واضحات کی مخالفت ہوگی ۔
اور معاملہ ظاہری طور پر ختم ہو چکا تھا ، لیکن شافعی قاضی ابن ضرضری محمود اصفھانی کے شاگرد نے دوبارہ مسئلہ کو اٹھایا اور ابن تیمیہ کے چند شاگردوں کو تازیانے لگائے اور محدث فرّی کوجیل میں ڈلوادیا،سلطان کے حکم سے اس مسئلہ کی رسیدگی ۷ /شعبان ۷۰۵ھ معین ہوئی اور حاکم نے اس تاریخ میں ” واسطیہ “ کو محکوم نہیں کیا ، جس کی وجہ سے ابن ضرضری نے اپنے کام سے استعفا ء دیدیا ۔
[۳۱] ابن تیمیہ اور اس کے ہم خیال لوگ یعنی وہابی حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ بدعت کفر و شرک ، اور بت پرستی سے مقابلہ کیلئے ہماری تمام کوششیں صرف ہیں ، اور اس راستہ میں اتنی زیادہ شدت اختیار کی کہ ان کی نظر میں وہابیوں کے علاوہ ہر مسلمان کافر ، مشرک اور بت پرست ہے اور صرف اپنے کو ” اہل توحید “ جانتے ہیں ، اور ایک طریقہ کا ” فکری لحاظ سے منحصر ہونا “ اور خود کو افضل اور حق پر ماننے پر بضدھیں ، جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسروں پر تہم تیں لگانے اور دوسروں کو کفر اور زندقہ سے متہم کرنے میں استاد ہیں ، گویا وہابیوں کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی مسلمان اورموحد نہیں ہے اور تمام شیعہ سنی کافر ہیں !!
[۳۲] ابن تیمیہ جو فکر وہابیت کا استاد ہے اور وہابیوں کی ایک خاص صفت یہ بھی ہے کہ یہ عرفان اور عرفاء ، نیز عرفانی لطیف نظریات کی مخالفت کرتے ہیں ، کیونکہ یہ ظاہرپرست اور ظاہری فکر رکھنے والوں نے عرفان کے دقیق اور لطیف مطالب کو درک ہی نہیں کیا ہے اور جاہلوں کے طریقہ سے عرفان کا مقابلہ کرنا شروع کردیا ، ہم آئندہ صفحوں میں اس بارے میں بھی بیان کریں گے۔
[۳۳] یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ابن تیمیہ اور اس کے ہم خیال لوگ اور تمام وہابی حضرات کا توسل اور استغاثہ پر کوئی عقیدہ نہیں ہے ، اور اس کو کفر و شرک کہتے ہیں ، اور اس سلسلے میں عجیب وغریب تناقض گوئی کرتے ہیں ، اور ایسی گفتگو کرتے ہیں جس کو کوئی بھی عاقل انسان قبول نہیں کرسکتا ،ان کے قول کے مطابق یہ لوگ حضرت رسول اسلام(ص) کی چھوٹی سی بے حرمتی بھی برداشت نہیں کرسکتے چاہے رسول اسلام(ص) کی وفات کے بعد ہو،اور آپ(ص) کی زندگی سے بھی زیادہ آپ(ص) کی وفات کے بعد آپ(ص) کے احترام کے قائل ہیں جیسا کہ اس سلسلے میں ابن تیمیہ کے اقوال کو بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلم سے توسل اور استغاثہ کرنا کفر و شرک ہے ،اور کہتے ہیں : ” محمد قدمات “ محمد مرچکے ہیں ، اور اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے !
ان ظاہر پرست اور تنگ نظروں کا اعتقاد یہ ہے کہ انسان کی حقیقت صرف اس کا ظاہری بدن اور مادی ودنیاوی جسم ہے ، ان کو یہ نہ معلوم ہوسکا کہ انسان کی حقیقت اس کی روح ہے ، مجرد اور ہمیشہ باقی رھنے والا ہے، اور اس جسم مادی کی موت سے ختم نہیں ہوتا ، انسانی موت کے بعد یہ جوہر نہ صرف یہ کہ نابود نہیں ہوتا بلکہ اور زیادہ طاقتوار اور آزاد ہو جاتاہے ، اور ” حجاب بدن“ سے چھٹکارا پا کراس کی قید و بند سے آزاد ہوجاتا ہے اسی وجہ سے اس کی زندگی اور زیادہ طاقتور اور اس کی قدرت توانائی ،علم و بصیرت اور زیادہ ہوجاتی ہے ،لہٰذا اس حال میں ایسی موجود کیلئے یہ کھنا کہ یہ کسی بھی کام کے کرنے سے عاجز ہے ،کیسے ممکن ہے ؟ نہ صرف یہ کہ دنیا وی امور انجام دینے سے عاجز و مجبور نہیں ہے بلکہ قدرت روح کی وجہ سے اور بدن کی قید و بند سے رہائی کی وجہ سے اس کی طاقت کئی گناہوجاتی ہے ، تاکہ پروردگار کی مشیت کے مطابق اور اس کی اجازت سے حاجت مندوں کی حاجت روائی کرے ، اور مدد طلب کرنے والوں کی مدد کرے ، اور گمراہ لوگوں کی ہدایت کرے ، یہ شیعہ فلاسفہ کا عمیق نظریہ ہے ، ابن سینا (رہ)سے لیکر علامہ طباطبائی (رہ)اور حضرت امام خمینی (رہ)جیسے عظیم فلاسفہ نے ان مسائل کو ثابت کیا ہے اور ” جوہریت نفس “ ” تجرد روح “ اور اس کی بقاء جیسے اہم مسائل کو بہترین دلائل اور برہان کے ذریعہ ثابت کیا ہے ۔
لیکن ظاہر پرست اور تنگ نظر وہابی جن کی فکرعالم مادہ سے آگے نہیں بڑھ سکی اور اسی بناپر بے ہودہ اور غیر منطقی باتیں کہنے پر مجبور ہوگئے ،نیز ان مسائل کو سمجھنے سے قاصر رھے ، جبکہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اسلامی معارف میں کچھ اور ہی گھرایی پائی جاتی ہے ، کہ اس سمندر کی غوطہ ور ہی اس میں تیر سکتے ہیں اوروہی اس سے جواہر نکال سکتے ہیں یہ کام ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے : شاعر کہتا ہے :
تو کز سردی طبیعت نمی روی بیرون کجا بگوئی حقیقت گذر توان کرد ؟!
”جب تم عالم طبیعت ہی کو نہیں سمجھ سکتے تو پھر عالم حقیقت کو کیا سمجھ پاؤگے “
[۳۴] وہابیوں کی ایک صفت ، منطق اور فلسفہ ومنطق اور غور وفکر سے دشمنی اس منحرف فرقے کی اہم خصوصیات میں سے ہے ، جس کی بناپر ابن تیمیہ نے اپنے گمان سے علم منطق اور علماء منطق سے مقابلہ کرنا شروع کردیا اور علماء منطق کی رد میں کتابیں لکھیں لیکن اس کتاب میں جو استدلال اور دلیلیں پیش کی ہیں ان کے ذریعہ ثابت کردیا کہ علم منطق ضروری ہے اور اس علم شریف کی ضرورت کو ثابت کیا ۔
[۳۵] ایسے جاہل اور سادہ لوح مرید ایسے کج فکر کو ایک ” مستقل مجتھد “ تصور کرتے تھے ، کہ جو اسلامی معرفت کے الف ، ب،بھی سمجھنے سے قاصر رہا ، شیخ الا سلام کے اجتھاد اور فکری استقلال اور اس کی بچکانہ سوچ اور تناقض گوئی میں سازگاری نہیں ہے ، یھاں پر انسان شاعر کے اس شعر کو یاد کرتا ہے
[۳۶] محقق گرانقدر مرحوم علامہ امینی (رہ) صاحب کتاب الغدیر جلد سوم صفحہ ۴۸ا پر منھاج السنہ کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
[۳۷] ہم اسی کتاب میں ، ابن تیمیہ کے زیارت اور دوسرے موضوعات کے بارے میں غلط نظریات کو بیان کرکے ان کی رد بھی کریں گے تا کہ واضح و روشن ہو جائے کہ شیخ الاسلام صحیح مطالب اور عقائد اسلامی کی شناخت سے کس قدر دور ہے اور کس قدر انحراف و کج فکری کا شکار ہے ۔ اولیاء کرام کی زیارت ، ان کی تقدیس اور ان کی پرستش نہیں ہے ، یہ عقیدہ تو کوئی عام مسلمان بھی نہیں رکھتا ، بلکہ اولیاء الھی ، درگاہ خداوندی کے مقرب بندے اور خدا نمائی آئینہ ہیں ۔ ان کی زیارت انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہے اور یہ عجیب بات ( اولیاء الھی کی قبروں کی زیارت اور ان کی تعظیم و تکریم حرام ہونا) اس کی زبان سے نکلے کہ جس نے ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ نامی کتاب لکھی ہو جس میں اس شخص کے قتل کا فتویٰ صادر کیا ہے کہ جس نے پیغمبر اسلام(ص) کو ( ان کی وفات کے بعد ) اہانت یا ان کی شان میں گستاخی کی ہو ، واقعاً تعجب کا مقام ہے کہ اولیاء الھی کا احترام کرنا حرام ہے چونکہ یہ ان کی پرستش کا سبب ہے ۔ لیکن ابن تیمیہ کی طرف سے۶۰۰ صفحہ پر مشتمل کتاب حضرت رسول اسلام(ص) کے دفاع میں ، کہ ایک نادان یھودی نے جھالت کی بناپر آنحضرت(ص) کی شان میں ناز یبا الفاظ کہنے پر اس کے قتل کا فتویٰ صادر کرنا ۔ کیا یہ رسول اسلام(ص) کی تعظیم و تکریم اور احترام نہیں ہے ۔ اور کیا ان کی پرستش کا باعث نھیں؟! قارئین کرام فیصلہ آپ کے ھاتھوں میں ہے ۔
[۳۸] دانشنامہ ایران و اسلام جلد ۳ ص ۴۶۳ ، یھاں پر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ یہ کتاب بعض غلط آمیز ، خوش بین ، خود غرض اور شبہ انداز شخصیتوں کے بارے میں لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب میں بعض منحرف و خائن و غرب زدہ اسلام دشمن اور سیاسی فاسد لوگوں کی ،کہ نہ عالم ہیںاور نہ ہی ایرانی شخصیت (مثل کمال اتاترک ) ان کی شرح زندگی بیان کی گئی ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ ذمہ دار افراد اس کتاب کی اصلاح و تصحیح کے بعد دوبارہ اس کتاب کو چھیوا نے کی کوشش کریں ۔
[۳۹] البتہ صرف دعویٰ کرنا آسان ہے ۔ لیکن اس کو عملی جامہ پھنانا بڑا مشکل کام ہے ۔ ابن تیمیہ کے ”اصلاح کا دعویٰ“ سے بہت سے معاصرین و مؤلفین نے ظاہر ی الفاظ سے دھوکہ کھایا ، او راس کو ایک مجاہد، عالم ، اور عظیم مصلح کے عنوان سے لوگوں کے سامنے پیش کیا ، لیکن انسان کے فیصلہ کر نے کے لئے ایک معیار ہونا چائیے ۔ اور ان کے غلط افکار کے نتائج پر توجہ کرنی چاہئےے ،شیعوںکے خلاف ِجھوٹی اور ناروا تہم توں کو دقت سے مطالعہ کرکے اس کی غلط فکر کے برے اثرات کو مد نظر رکھتے ہو ے فیصلہ کر نا چائیے اور پھر دیکھیں کیاپھر بھی اس کو ”مصلح“ کھا جاسکتا ہے؟!
[۴۰] الاعلام ، تالیف خیر الدین زرکلی جلد اول ص ۴۴ا۔
[۴۱] نشریہ معارف ، دورہ اول شمارئہ ۳، آذر اسفند ۳۶۳اہ ش ص ۶۷۔
[۴۲] اور صرف ابن تیمیہ ہی ”میٹریالیزم “ کا قائل نہیں تھا بلکہ فرقہ وہابیت کی اصل بنیادی ہی اسی نظریہ پر قائم ہے چونکہ یہ لوگ خدا اور اس عالم حقیقت کی جس طرح تفسیر کرتے ہیں اس کا نتیجہ ہی خالص میٹریالیزم ہے ، اور مادہ گرایی کے ہولناک دلدل میں پھنس گئے ہیں ، ہم اس بارے میں اسی کتاب میں تفصیل سے بحث کریں گے ۔
[۴۳] مزید اطلاع کیلئے مصطفی حسینی طباطبائی کی کتاب ” متفکران اسلامی در برابر منطق یونان “ پر رجوع کریں۔
[۴۴] ہم نے ابن تیمیہ کی بعض کتابوں خصوصاً منطق ، فلسفہ اور عرفان کی کتابوں کامطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہونچے کہ ابن تیمیہ منطق کے مقدمات اور فلسفہ کے کلیات تک بھی نہ سمجھ سکا ، اور عرفان کو بالکل بھی نہیں سمجھ پایا، اسی وجہ سے فلاسفہ اور عرفاء حضرات کی جان کے پیچھے پڑگیا اور مسلسل ان کے کفرو شرک کا فتویٰ دیتا رہاہے ، یھاںتک کہ متکلمین حضرات کے مارپیٹ کا حکم بھی صادر کردیا ، یعنی وہ لوگ جو شریعت مقدس کے دفاع اور اصول عقائد کی تفسیر کرنے والے تھے ان کو بھی حفظ و امان میں نہیں رکھا ، تمام وہ اعتراضات کہ جو اس نے علماء منطق و فلاسفہ اور عرفاء پر کیئے ہیں مناسب اور محکم جواب رکھتے ہیں ،لیکن یھاں پر اس بحث کو نہیں لایا جاسکتا، بلکہ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ جس کے لئے دامن کتاب میں گنجائش نہیں ہے ۔
[۴۵] تاریخ فلسفہ در اسلام، مؤلف میاں محمد شریف جلد دوم ص ۲۸۹، چاپ مرکز نشر دانشگاہی۔
[۴۶] تاریخ فلسفہ در اسلام ، مؤلف میاں محمد شریف جلد دوم ص ۳ا۳ ، چاپ مرکزنشر دانشگاہی۔
[۴۷] قارئین کرام ان عرفاء کو پہچاننے کے لئے جامی کی کتاب ” نفخات الانس “ کا مطالعہ فرمائیں، تاکہ ان بزرگوں جیسے عارف بزرگ محی الدین ابن عربی اور صدر الدین قونوی جیسے افرادکی قدر و منزلت کو پہچان سکیں،اگرچہ بعض کم فہم اور عرفان کے مخالف، کہ جو خدا کی معرفت اور شناخت کے بارے میں اہل بیت علیہم السلام کے معارف کی گھرائیوں تک نہیں پہونچ پائے ہیں عرفان اور عرفاء پر معترض ہوئے ہیں ۔
ہم یھاں پر رھبر کبیر انقلاب، حکیم بزرگ ، اسلام کے عارف نامدار، عرفان کے کم نظیر متخصص ، حضرت امام خمینی (رہ) جن کے شریعت کے پابند ہونے میں کسی کو چون و چرا نہیں ہے ، اقتداء کرتے ہیں اور ہم اس عارف کامل ،فقیہ اعظم، عالم بزرگ ، امت اسلامی کے بیدار رھبر( کہ خدا ان کا سایہ امت اسلام اور مستضعفین عالم کے سروں پر باقی رکھے ) سے الھام لیتے ہیں ۔
جو شخص عرفان کے نظریات کی گھرائی تک نہ پہونچا ہو ، اور اس فن کے اساتید کی خدمت میں شرف تلمذ حاصل نہ کیا ہو ، حتماً وہ شخص محی الدین جیسے عارف کے نظریات کی مخالفت کرے گا ،لیکن بزرگ عرفاء مثل امام خمینی(رہ) علامہ طباطبائی (رہ) ، مرحوم آیت الله میرزا احمد آشتیانی (رہ) ، میرزا مھدی آشتیانی (رہ) ، مرحوم آیت اللہ فیض قزوینی (رہ) ، اور دوسرے بہت سے فقھاء اور عرفاء نے ، محی الدین کی تعریفیں کی ہیں ، اور اس کی عظمت بیان کی ہے اگر چہ ان کے بعض نظریات کی رد بھی کی ہے لیکن چون کہ ہم جانتے ہیں کہ خطا و غلطی سے پاک و منزہ رھنامقام عصمت و طھارت سے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی بھی ہو خطا ونسیان سے محفوظ نہیں ہے لیکن انسان کی خوبیوں کو بھی دیکھا جائے ، اور ان تمام خوبیوں اور ظریف مطالب کو چھوڑ کر صرف چند اشتباہ و غلطیوں کو اچھالا جائے ، جن کے بارے میں معلوم نہیں کہ خود محی الدین کے نظریات تھے، یا ان کی کتابوں کو لکھنے والوں کی طرف سے تھے یا یہ محی الدین کی بعض چیزیں تقیہ کی بناپرتھی جیسا کہ بعض علماء بزرگ کہتے ہیں، ایسے بزرگ عارف پر کفر کے فتویٰ لگائے جائیں،؟!
نظریات پر تنقید کرنا آزاد ہے ،اور علمی زندگی بحث و نقد پر موقوف ہے لیکن تنقید ادب و احترام کے دائرے میں ہونی چاہئے نہ کہ گالی اور نازیبا الفاظ میں ! جو شخص استدلال چاہتا ہے اس کو نازیبا اور فسق و کفر جیسے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اور جو شخص نازیبا الفاظ اپنی زبان پر جاری کرتا ہے ، اس کا اخلاق و ادب ظاہر ہوجاتا ہے ، حضرت امام خمینی کی یہ کتابیں ہمارے لئیے اور دوسرے مسلمانوں کیلئے حجت رکھتی ہیں، یہ امام خمینیکی” شرح دعاء سحر“ اور ”مصباح الھدایہ “ جیسی گرانقدر کتابیں کہ جن میں بہت سے مقامات پر محی الدین، ابن عربی ، قیصری، قونوی ، عبدالرزاق کاشانی ، قاضی سعید قمّی اور ان کے استاد مرحوم شاہ آبادی (رہ) کا بہت ہی ادب و احترام کے ساتھ نام لیا ہے اور ان کی تعریف وتمجید کی ہیں ، اور انہیں کی کتاب ” سِرُّ الصلواة“ جس میں عرفان کے دقیق و عمیق مطالب بیان کیئے گئے ہیں ، اور اسی طرح کتاب ”تفسیر سورئہ حمد “ اور اگر کوئی اہل تحقیق ہو ،تو وہ ان کتابوں کا مطالعہ کرے ، اور عرفان اور عرفاء کے بارے میں اپنے نظریہ کی تصحیح یا تثبیت کرے ۔
اور اسی طرح علامہ شھید مرتضی مطھری (رہ) جو امام خمینی کے خاص شاگردوں میں سے تھے جن کے بارے امام خمینی نے فرمایا :” مطھری میرا جسم کا حصہ اور میری عمر کا ماحصل تھے “ وہ فرماتے ہیں :”جناب محی الدین صاحب عرفان نظری اور عرفان علمی دونوں میں شیخ العرفاء ہیں ، اور جن لوگوں نے ان کو ” شیخ اکبر “ کا لقب دیا ہے وہ حق بجانب ہےں“مزید معلومات کرنے والے حضرات علامہ مطھری (رہ) کی کتاب ” تماشا گہ راز “ اور ” شرح مبسوط منطومہ“ اور حضرت آیت الله استاد حسن زادہ آملی اور ہمارے استاد حضرت آیت الله جوادی آملی ( روحی فداہ) کی کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں ، اور جناب محی الدین صاحب کی شخصیت کے بارے میں ان حضرات کہ جو علم و عمل ، معقول ومنقول، فلسفہ اور عرفان میں جامع شخصیت رکھتے ہیں ، ان کے بیان سنیں ، اور اس کے بعد محی الدین اور دوسرے عرفاء کے بارے میں قضاوت کرےں، البتہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ھروہ چیز کہ جو عرفاء کہتے ہیں” وحی منزل“ اور خطا و غلطی سے دور ہے ، ھرگز کوئی ایسا دعوی نہیں کرسکتا ، بلکہ اس کے بر عکس عرفان کے بعض نظریات کی تنقید کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کو بالکل نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے ، ہماری عرض صرف یھیں ہے اور بس۔
مزید معلومات کیلئے استاد شھید مطھری کی دواہم کتابوں ” آشنائی با علوم اسلامی ، کلام ، عرفان “ و”خدمات متقابل اسلام و ایران “ جس میں عرفاء کی احوال زندگی کے تحت محی الدین کے حالات بیان کے گئے ہیں، کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں ۔
[۴۸] تاریخ فلسفہ در اسلام تالیف میاں محمد شریف جلد دوم ص ۲ا۳ چاپ مرکز نشر دانشگاہی۔
[۴۹] ہم خداوند کریم سے توفیقات طلب کرتے ہیں تا کہ آئندہ ابن تیمیہ کے نظریات پر ایک جامع رد لکھیں ، تا کہ پانی کو سرچشمہ ہی سے بند کردیا جائے چونکہ جو کچھ بھی بنام وہابیت ، محمد ابن عبدالوہاب کی طرف سے پیش ہوا ہے اس ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیّم کے نظریات کی مرھون منت ہے ، اسی وجہ سے ہم نے اس کتاب میں ان دونوں کے بارے میں بحث کی ہے ۔
[۵۰] اسلامی فلسفہ وکلام کے علماء و عرفاء نے اپنی اپنی روشوں کے اختلاف کے ساتھ ساتھ ، توحید کے اقسام اور درجات بیان کیئے ہیں ، اور ان کی مشھور تقسیم اس طرح ہے :
ا۔ توحید ذاتی ۲۔ توحید افعالی ۳۔ توحید صفاتی ۴۔ توحید عبادی یا توحید در عبادت
اور یہ بات واضح ہے کہ توحید کی پھلی قسم اعتقاد اور یقین سے متعلق ہیں ، اورچو تھی قسم انسان کے عمل اور رفتار سے تعلق رکھتی ہے ۔
ابن تیمیہ اور وہابیت عموماً توحید کو اسی چوتھی قسم میں خلاصہ کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ اسلام نے یہی چوتھی قسم بیان کی ہے ، اور پھلی تین قسمیں دوسرے ادیان میں بھی نہیں اور جو چیز توحید قرآنی کو دوسرے ادیان کی توحید سے جدا کرتی ہے یہی چوتھی قسم ہے، یعنی توحیدعبادی اور توحید در عبادت کوبھی اس طرح تفسیر کرتے ہیں اور اس کادایرہ اتنامحدود کردیتے ہیں کہ بہت سے وہ شرعی مراسم و مناسک جو صدیوں سے رائج اور مرسوم تھے جس کی کسی نے بھی مشروعیت اور جواز میں کبھی کوئی شک وتردید نہیں کیا، ان کو بھی توحید سے خارج اور ضد توحید کہہ ڈالا ، مثال کے طور پر اولیاء الله سے حاجت روائی کی درخواست ، ائمہ معصومین علیہم السلام سے طلب شفاعت حتی حضرت رسول اسلام(ص) سے بھی طلب شفاعت ” ائمہ اور اولیاء الله“ کی قبروں کی زیارت ، شھداء اسلام کے لئے عزاداری اور حضرت رسول اکرم(ص) اور ائمہ (ع) کی یوم ولادت پر خوشی کا اظھار کرنا ، ائمہ اور اولیاء الله کے لئے نذر اور قربانی کرنا ، ائمہ اور اولیاء الله کی قبروںپر گنبد بنانا ، پیغمبر اسلام(ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے توسل اور استغاثہ کرنا ، اور دوسرے شرعی آداب و رسوم ،البتہ ہم ان تمام شبھات کے جواب آئندہ اسی کتاب میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ، تا کہ قارئین کرام ! توحیدکا نعرہ لگانے والوں کی من گھڑت اور خودساختہ توحید سے آگاہ ہو جائیں ، اور ان کی توحید ، قرآن اور اسلامی تحریفات کی گھرائیوں سے با خبر ہوجائیں۔
[۵۱] ہم اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ ان مسائل پر بحث وبررسی کریں گے ، اور بیان کریں گے کہ خود اہل سنت کے بزرگ علماء ان شرک آلود بدعتوں و ضد توحید ، جیسے خرافات کے مخالف نہیں ہیں ، اور انبیاء و اولیاء الله کی قبروں کی زیارت اور ان سے توسل اور شفاعت کو شرعی وظیفوں میں شمار کرتے ہیں ، وہابی نہ سنی ہیں اور نہ شیعہ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کسی بھی فرقے میں شامل نہیں ہےں،زبردستی خود کو اہل اسلام تصور کرتے ہیں ، جبکہ یہ لوگ خونخوار ، جنایت کا راور تحریف کرنے والے ملحد ہیں ، اور روز اول سے آج تک اسلام اور مسلمانوں کو نقصان و ضرر پہونچا نے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔
[۵۲] وہابیان ، تالیف علی اصغر فقھی ص ا۵ ، انتشارات اسماعیلیان۔
[۵۳] اگر چہ ہم اسی کتاب میں زیارت کے بارے میں تفصیل سے بیان کریں گے لیکن اس وقت قارئین کی خدمت میں مختصر طور پر عرض ہے کہ پیغمبر(ص) یا ائمہ معصومین (ع) یا کوئی عظیم مذہبی شخصیت کی قبروں کی زیارت کرنادنیا کے ہر مذہب و ملت میں رائج ہے ، اور خود حضرت رسول اکرم(ص) کے زمانے میں بھی یہ مقبول سنت تھی ، حضرت رسول خدا(ص) جب حجة الوداع کے موقع پر جب مقام ”ابواء“ میں پہونچے وہاں پر اپنی والدہ گرامی کی قبر کی زیارت کی اور آنحضرت(ص) سے روایت ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا : مجھے خداوند عالم کی طرف سے اجازت دی گئی کہ میں اپنی مادر گرامی کی ( قبر ) زیارت کروں ، صحیح مسلم جلد ۳ ص ۶۵ و سنن ابی داوود جلد ۳ ص ۲ا۲ ، اور بعض روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ حضرت رسول اکرم(ص) نے جب اپنی والدہ کی قبر کو دیکھاتو حضرت(ص)کی انکھوں سے اشک غم جاری ہو گئے ، اور حاضرین نے بھی آپ کو دیکھ کر روناشروع کردیا۔ (نقل از ” شوق دیدار “ تالیف ڈاکٹر مھدی رکنی ص ۵ا۲)
[۵۴] خدا کے علاوہ ، اولیاء الله کو پکارنے کے سلسلے میں وہابی فرقہ بہت زیادہ مغالطوں کا مرتکب ہوا ہے اور قرآنی آیات سے غلط نتیجہ نکالاہے ، کہ اولیاء اللهسے شفاعت اور مغفرت کا طلب کرنا ، شرک ہے ،جبکہ کوئی بھی مسلمان ایسا عقیدہ نہیں رکھتا ، بلکہ ان حضرات کی بارگاہ میں جو عظمت اور بزرگی ہے اس کی وجہ سے ان کو وسیلہ قرار دیتے ہیں ، ہم ” عالم ھستی میں واسطہ “ کے تحت اس بات کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
[۵۵] نقل از ”شوق دیدار “‘ڈاکٹر مھدی رکنی “ ص ۵ا۲
[۵۶] نقل او ” شوق دیدار “ ڈاکٹر مھدی رکنی ص ۵۴۔
[۵۷] نقل از ” شوق دیدار “ڈاکٹر مھدی رکنی ص ۵۵۔
[۵۸] البتہ ابن تیمیہ کو اپنا یہ مدعاثابت کرنا چاہیئے کہ کیونکر غیر خدا کی قسم کھانا شرک ہے ، جبکہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر خود خداوند عالم نے مخلوقات کی قسم کھائی ہے، اگر چہ تمام جگھوں کو بیان کرنا اس وقت مناسب نہیں ہے صرف سورئہ ” شمس“ میں خدا نے ۹ چیزوں کی قسم کھائی ہے مثلاً سورج ، دن، رات، آسمان، زمین، روح انسان، وغیرہ اور اسی طرح بعض سوروں میں مثلاً ” والعصر “ ” النازعات “ ” الذاریات “ ”القلم“ ” الطارق “ ” فجر “ ” الطور “ اور دوسرے سوروں میں بہت سی چیزوں کی قسم کھائی ہے ، اور اگر یہ کام شرک ہے تو پھر خداوند عالم نے یہ کام کیوں کیا ہے ؟!
[۵۹] صرف یہی مسئلہ کافی ہے تا کہ اس ظاہر پرست شخص کی دقت نظر کا اندازہ لگایا جا سکے ، حتی بچے بھی ایسی کوئی بات اپنی زبان پر نہیں لاتے کہ جس کا نتیجہ خدا کی جسمانیت اور اسکی محدودیت کا باعث ہو ، قارئین کرام توجہ رکھیں کہ ” قلبی دیدار “ جس کے علماء عرفان قائل ہیں ”حسی رویت “ ( آنکھوں سے دیکھنا ) جیساکہ وہابی حضرات اور ابن تیمیہ قائل ہیں، ان دونوں میں زمین تا آسمان فرق ہے ، اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ فرقہ وہابی فلسفی اور مستحکم استدلال اور عقلی بنیادوں پر قائم نہیں ہے ، اسی وجہ سے اسلامی معارف اور شناخت جھان کے اہم مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہے ، اور یہ لوگ ناچار ہوکر تناقص گوئی کا شکارھو گئے ہیں۔
[۶۰] نقل از” شوق دیدار “ تالیف ڈاکٹر مھدی رکنی ص ۵۵۔
[۶۱] ” خدا کے دیدار “ کا مسئلہ علم کلام کے اہم اور دقیق مسائل میں سے ہے اور فرقہ اشاعرہ اس کا معتقد ہے اور اس پر تاکید کرتا ہے ، اور قرآن مجید سے اس مسئلہ کو ثابت کرتے ہیں ، قارئین کرام کیلئے اس مسئلہ کو قدرے بیان کرتے ہیں اگر چہ اس کی تفصیل ہماری آئندہ آنے والی کتاب ” درسھای از شرح تجرید “ جو” باب ھادی عشر“ کی شرح ہے ، کامطالعہ کریں ۔
[۶۲] قارئین کرام ان حضرات کی حالات زندگی سے آگاہی کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔
[۶۳] یہ تعبیر حکیم مقالہ اسلامی ، الحاج ملاہادی سبزواری (رہ) صاحب کتاب ” غرر الفوائد “ جو ”شرح منظومہ “ سے مشھور ہے ، کہ جو مدتوں سے شیعوں کے حوزات علمیہ میں فلسفہ اسلامی کی اہم کتابوں سے ہے تدریس ہوتی ہے ۔
[۶۴] گذشتہ مدرک ۔
[۶۵] منظومہ سبزواری ، چاپ موسسہ مطالعات اسلامی ۔
[۶۶] منظومہ سبزواری ص۶۴۔
[۶۷] منظومہ سبزواری ص ۶۶۔
[۶۸] وہابیان، علی اصغر فقیھی ص ۶۶۔
[۶۹] سورہ بقرہ آیت ۳ا۲۔
[۷۰] سورہ طہ آیت ۵۴۔
[۷۱] سورہ طلاق آیت ۳۔
[۷۲] سورہ یوسف آیت ۲۱۔
[۷۳] سورہ بقرہ آیت ۳ا۲۔
[۷۴] قارئین کرام مذکورہ موضوع سے متعلق مزید آگاہی کے لئے، شیعوں کی کلامی کتابوں کی طرف رجوع فرماسکتے ہیں ، منجملہ: ”باب حادی عشر“ ”شرح تجرید“ گوہر مراد“ ”سرمایہ ایمان“ ”انوار الملکوت فی شرح الیاقوت“ ”قواعد المرام فی علم الکلام“ ”ارشاد الطالبین“ ”انیس الموحدین“ ”حق الیقین فی معرفة اصول الدین“ مولفہ سید عبد اللہ شُبّر(رہ) “
[۷۵] امام شناسی ، تالیف سید محمد حسین تھرانی جلد اول ص ۱۰، قارئین کرام مزید آگاہی کے لئے ”تفسیر المیزان“ و”تفسیر نمونہ“ اور مذکورہ شیعہ کلامی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔
[۷۶] کتاب وہابیان ، علی اصغر فقیھی ص ۱۱۳۔
[۷۷] کتاب وہابیان ص۱۱۴۔
[۷۸] وہابیان ص۱۱۳۔
[۷۹] وہابیان ص۱۳۰، قارئین کرام اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے عالم مجاہد مرحوم علامہ امین (رہ) کی کتاب ”کشف الارتیاب“ کی طرف رجوع فرمائیں۔
[۸۰] ہماری نظر میں ابن تیمیہ اور اسکے ہم فکروں کے نظریات کے سلسلہ میں تنقید کرنا آج کے معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ وہابیوں کی تبلیغات کے علاوہ خودہم شیعہ حضرات میں بعض افراد پائے جاتے ہیں کہ جو فکری لحاظ سے ابن تیمیہ کی پیروی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جبکہ خود کو شیعہ کہتے ہیں ، لیکن ظاہر بینی ، منجمد افکار او رعلوم عقلی وفلسفہ اورعرفان کی مخالفت میں ابن تیمیہ کے شاگرد خلف ہیں ، او ران مقدس مآب ،ظاہر پرست اور عقل وفکر وتحقیق کے مخالفوں کا ضرر اور نقصان وہابیوں کی تبلیغات سے کم نہیں ہے ، لہٰذا ہم کو چاہئےے کہ ایسی فکر (ظاہری دید، عقل واستدلال سے مخالفت اور فلسفہ وعرفان کے صحیح افکار سے مقابلہ) کرنے والوں سے مقابلہ کریں کیونکہ یہ حضرات بھی وہابیوں کے بھائی ہیں ۔
[۸۱] مشاہیر دانشمندان اسلام، الکنی والالقاب کا ترجمہ، تالیف مرحوم شیخ عباس قمی(رہ) ج۲ص ۳۰۸۔
[۸۲] یہ بھی وہابیت کے آشکار تناقضات میں سے ہے ،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جوشخص ظاہر ی فکر رکھنے والا اور منطق وفلسفہ وعرفان کا مخالف ہو، اور ابن عربی کی طرح عرفان کے نظریات کاسر سخت مخالف ہو ،عرفان کا طرفدار ہوجائے اور اپنے اصول اوربنیادی نظریات کا (کہ جس کی اصل ہی عرفان کی مخالفت پر قائم ہو) وفادار باقی رھے ۔
[۸۳] دانشنامہ ایران واسلام ج۶ص ۸۰۳۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ افریقہ میں اسلام سے آشنا ہوئے ہیں وہ سعودی اور آل سعود کے تیل کے ڈالروں کی بھر پور حمایت اور ان کے وہابی مبلغین کے ذریعہ اسلام لائے ہیں ، اور واقعاً انسان کا دل دکھتا ہے کہ ایک باطل ،خرافی اور استعماری فرقہ اپنے تمام تر امکاناتِ مالی وفرھنگی(کلچر) کے ذریعہ افریقہ میں دن بدن نفوذ کررہا ہے اور نورانی وپاک پاکیزہ مذہب تشیع خود اپنے ہی ماننے والوں میں ناشناختہ ہے ، او رہم نے اپنے اسلامی معاشرے میں بعض اسلامی مسائل پر ایک بھی محکم کتاب لوگوں تک نہیں پہونچائی ہے ، او رجس طرح ہمیں اس مقدس مذہب کی تبلیغ کرنی چاہئےے تھی اس طرح ہم نے تبلیغ نہ کی اور صحیح طریقہ سے پڑھے لکھے اور جوان طبقہ تک اسلام کو نہیں پہچنوایا، ہم امیدوار ہیں کہ دلسوز علماء کرام اور مربوط ادارجات اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں، انشاء اللہ۔
[۸۴] الاعلام ،خیر الدین زرکلی،ج۶ص ۵۶۔
[۸۵] اخبار النساء تالیف ابن قیّم جوزی ،تحقیق ڈاکٹر نزر رضا، چاپ دار مکتبة الحیاة، بیروت۔
کتاب ”خلاصة الکلام“ میں اس طرح بیان ہواہے کہ: محمد ابن عبد الوہاب ۱۱۱۱ھ میں پیدا ہوا ، او ر ۱۲۰۷ھ میں اس دنیا سے چلا گیا، اس کی عمر ۹۶سال تھی۔
وہابیوں کے اعتقادی اصولوں پرتحقیق و تنقید
ہم اس حصہ میں خداوندعالم کی مدد سے موسس وہابیت کے زبدہ افکار پر ایک تحقیقی اور تنقیدی نظر ڈالیں گے اور اس کے نظریات اور افکار کے بنیادی اصولوںکو بھی پرکھیں گے۔
جن مطالب کے بارے میں ”محمد ابن عبدالوہاب“ نے بحث کی ہے( ۱ ) ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اگر ہم چاہیں ان میں سے ہر ایک مسئلہ کے بارے میں مفصل بحث کریں تو بحث طولانی ہو جائے گی اور کئی مختلف رسالوں کو تالیف کرنے کی ضرورت پڑے گی لہٰذا مجبوراً اس کے اساسی افکار، گزیدہ نظریات اور اعتقادی مسائل کے بارے میں تحقیق و بحث کریں گے اور تنھا اس مقدار کو جو اسکے اسلامی تعالیم عالیہ سے منحرف اور ہٹ جانے کی طرف اشارہ کرنے پر کافی ہو، اپنی بحث و تحقیق کا مورد قرار دیں گے اور اس کے افکار کے جزئیات میں داخل ہونے سے پرہیز کریں گے۔
موسسِ وہابیت کی تالیفات میں جو چیز تمام چیزوں سے زیادہ دکھائی دیتی ہے وہ شرک و بت پرستی سے ممانعت“ کو قرار دیا جاسکتا ہے توحید اور اس پر دعوت دینا عبدالوہاب کےبیٹے ”محمد “ کے نظریات و آراء میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، البتہ انھوں نے دعا کے اصلی ہدف و منشاء کو گم کردیا ہے اور بے راہ چلے گئے ہیں اور عملی میدان میں ”توحید کے منافات و اضداد“ اور ”شرک و بت پرستی کی اقسام“ میں غوطہ زن ہوکر ”اصل توحید، خدا پرستوں اور دینداروں“ کے ساتھ خصومت و دشمنی کے گڈھے میں جاگرے ہیں۔
وہابیت کا موسس، توحید کو ”اصل الاصول“، اساسِ اعمال، بندوں پر خدا کے واجب حق اور دعوت انبیاء کے اصلی ہدف کی حیثیت سے جانتا ہے۔ ہم بھی اس عقیدے میں اس کے حامی ہیں لیکن ہم اس کو بتائیں گے کہ جس توحید کا وہ قائل ہے وہ ایک ایسی توحید نہیں ہے جس کی طرف انبیاء الٰھی اور سچے ادیان نے لوگوں کو دعوت دی ہے بلکہ ایک ایسی توحید ہے کہ جو وہابیت کے موسس کے غلط استنباط اور فکری انحرافات کا نتیجہ ہے جو توحید الٰھی اور توحید اسلام کے سازگار نہیں ہے، کامل وضاحت کے لئے ہم تفصیل سے بحث کرنا چاہتے ہیں:
وہابیوں کے اعتقادی اصول
محمد ابن عبدالوہاب کہتا ہے: ”صالحین اور نیک حضرات کے بارے میں غلو سے کام لینا بت پرستی کی ایک قسم ہے اور غلوکی صورتوں میں سے ایک قبروں کی پرستش یا قبروں کے کنارے خدا کی پرستش ہے اوراسی طرح غیر خدا کے لئے نذر کرنا اور غیر خدا کو شفیع قرار دینا بھی بت پرستی ہے“( ۲ )
وہ کہتا ہے: ”اپنے اور خدا کے درمیان کسی چیز کو واسطہ قرار دینا شرک ہے، جو توحید کے ساتھ سازگار نہیں ہے، تقّرب جوئی، خدا کا خالص حق ہے جو کسی دوسرے کے لئے شائستہ نہیں ہے یھاں تک کہ مقّرب فرشتہ اور نبی مرسل ہی کیوں نہ ہوں، دوسرے افراد تو دور کی چیز ہیں۔“( ۳ )
اس کا قول ہے: ”جو لوگ خدا اور مخلوق کے درمیان واسطہ کے قائل ہیںوہ مشرک ہیں اس لئے کہ واسطہ قرار دینا اصل توحید اور ” لاالہ الااللّٰہ“کے شعار کے ساتھ نہیں ملتا ہے اور یہ اصل توحید کو ختم کردیتا ہے“( ۴ )
بھرحال عبدالوہاب کا فرزند، تنھا اپنے آپ کو ”توحیدکامحافظ اور پاسدار “ اور ”اہل توحید“ جانتا ہے اور گویا عالم موحدی میں اس کے سوا کوئی نہیں آیا ہے اور اس کے علاوہ کسی نے توحید کے معنی کونھیں سمجھاہے، تنھا وہی شخص ہے کہ جس نے توحید حقیقی کو سمجھا ہے اور کفرو شرک، زندقہ اور بت پرستی کے خطرات سے توحید کی حفاظت و پاسداری کے لئے کھڑا ہوا ہے،غافل اس سے کہ اس نے اصلاً قرآن اور سچے اسلام کی توحید خالص کی بو تک نہیں سونگھی ہے ورنہ وہ اس طرح کی بیھودہ باتوں کے لئے زبان نہ کھولتا۔
محمدا بن عبدالوہاب کہتا ہے: ”انبیاء سے استغاثہ اورندبہ کرنا ان کو پکارنا، کفر اور اسلام کے دائرہ سے خارج کردیتا ہے“( ۵ )
اس کا کھنا ہے: ”صالحین، مقربان اور اولیاء خدا کے حضور عرض نیازاور حاجت مانگنا، شرک و کفر اور توحید کے خلاف ہے“( ۶ )
وہ کہتا ہے: ”غیر خدا کے لئے قربانی اورذ بح کرنا شرک ہے،
خدا اور مخلوقین کے درمیان واسطہ کا قائل ہونا اور اس پر توکل کرنا کفر ہے“( ۷ )
شیعوں کی نسبت موسسِ وہابیت کی تہمتیں
محمد بن عبدالوہاب اپنی کتاب ”الرّد علی الرّافضة“ میں جو آئین تشیع کی رد میں لکھی گئی ہے، کچھ مطالب شیعوں کے عقائد کے بارے میں لکھتا ہے جو درحقیقت قابل تنقید تحقیق یا جواب نہیں ہیں بلکہ خود مصنف کے ظرفِ کاہلی اور بے دینی پر دلالت کرتا ہے ۔
وہ کتاب کے آغاز میں حضرت علی علیہ السلام کی خلافت و وصایت کے بارے میں بحث کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جو شخص بھی آیہ بلّغ اور حدیث غدیر کا معتقد ہو اور خلافت علی علیہ السلام کو ”منصوص من اللّٰہ والرسول“ جانتا ہو، کافر ہے( ۸ ) وہ اسی کتاب میں کہتا ہے: ”شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں اور قرآن کو ناقص جانتے ہیں اور جو لوگ نقص و تحریف کے قائل ہیں وہ کافر ہیں“( ۹ )
موسسِ وہابیت اسی مذکورہ کتاب میں اختصار کے ساتھ ایک بحث تقیہ کے بارے میں بھی کرتا ہے اور جوکچھ ناسزا، تہم ت اورگالیاں اپنے پاس رکھتا تھا وہ سب اس نے شیعوں کی جان پر نثار کردیتا ہے اور تقیّہ کے مسئلہ پر اعتقاد رکھنے کی وجہ سے وہ شیعوں کو کافر کہتا ہے۔( ۱۰ )
اور شیعوں کو اس عقیدہ کی وجہ سے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کرنے والے شخص اور ان کے دشمن کو کافر جانتے ہیں، فاسق و کافرکہتا ہے( ۱۱ )
ائمہ طاہرین (ع) کی عصمت سے متعلق شیعوں کے عقیدہ کے بارے میں کہتا ہے کہ: ”اماموں کے بارے میں عصمت کا دعویٰ اور اثبات کرنا، شیعوں کے جھوٹ اور افترء ات میں سے ہے جبکہ کتاب، سنت، اجماع، صحیح قیاس اور عقل سلیم میں سے کوئی بھی دلیل اس پر دلالت نہیں کرتی ہے اور خدا مار ڈالے ان کو کہ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں“( ۱۲ )
اسی کتاب ”الرّد علی الرافضة“ میں افضلیت علی(ع) کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو مورد نشانہ بناتے ہوئے اپنے ہمعصر اور ہم روزگار کے ساتھ ملکر کہتا ہے:
”علی علیہ السلام کی افضلیت کا اعتقاد رکھنا کفر ہے“( ۱۳ )
مسئلہ ”رجعت“ سے متعلق شیعوں کے عقیدہ کے بارے میں جو کچھ گالیاں اور نازیبا الفاظ جانتا تھا، سب شیعوں کو ہدیہ کرتا ہے،آپ حضرات! ادب و تربیت کو ملاحظہ کریں کہ اس نے شیعوں کو نافہم گدھوں کے لقب سے یاد کیاہے،اور ایسی باتوں کے ذریعہ جن میں عفت قلم، ادب کلام، اسلامی تربیت اور رسول گرامی اسلام(ص) کی سنّت کی پیروی موجزن ہے!! شیعوں کو مخاطب قرار دے کر کہتا ہے:
”خداوند عالم نے تم جیسے شقی لوگوں کی عقل کو سلب کرلیا ہے اور تم کو ذلیل و خوار کیا ہے“( ۱۴ )
ایک دوسری جگہ اس طرح کہتا ہے: ”شیعوں نے اذان کے فقروں میں اضافہ کیا ہے، جو بدعت ہے اور خلاف دین و سنّت ہے نہ اس پر اجماع کی کوئی دلیل ہے اور نہ ہی صحیح قیاس کی دلیل ہے اور نہ ہی کتاب و سنّت کی کوئی دلیل اس پر دلالت کرتی ہے۔“( ۱۵ )
اسی کتاب میں متعہ کے متعلق بھی اشارہ کرتا ہے اور اس کو شیعوں کی طرف سے ”زنا“ جائز ہونے کے معنی میں خیال کرتا ہے اور اس کو ایک منسوخ حکم اور حرام عمل کی حیثیت سے معرفی کرتا ہے“۔( ۱۶ ) کتاب کے آخر میں شیعوں کو یھودیوں سے مشابہ قرار دیتا ہے اور کھنا چاہتا ہے کہ آئین تشیّع یھودیوں کے ھاتھوں بنایا گیا ایک دین ہے“۔( ۱۷ )
قابل ذکر ہے کہ یہ ایک ایسا مطلب ہے جسے وہابی مصنّفین اپنی کتابوں اور فحش ناموں میں تشیع کے خلاف ایک حربہ کے بطور استعمال کرتے ہیں،ایک دوسرا اعتراض جسے یہ جناب شیخ الاسلام، شیعوں پر تھوپتے ہیں وہ جمعہ اور جماعت کا ترک کرنا ہے۔
اس کے بعد، اسی کتاب میں عیسائیوں سے شیعوں کی مشابہت نیز مجوسیوں سے شیعوں کی شباہت کے بارے میں بحث کرتا ہے اور کہتا ہے کہ شیعہ بھی مجوسیوں اور زردشتیوں کے مانند خدا کو خیر کا خالق اور شیطان (اہرمن) کو شر کا خالق جانتے ہیں۔( ۱۸ )
آخر میں حضرت سید الشھداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے مسئلہ کو اس طرح بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ”امام حسین علیہ السلام کے لئے عزاداری منانا دین سے خارج ہونے کے برابرھے، امام حسین (ع)کی عزاداری بدعت ہے اور اسے روکنا چاہئےے اور اس سلسلہ میں اپنے معلم فکری ”ابن تیمیہ“ کے نظریہ سے استناد کرتا ہے اور سیدالشھداء کے لئے عزاداری کو منکرات، قبیح افعال، خلاف شرع اور بدعتوں میں شمار کرتا ہے“۔( ۱۹ )
بس اس مقدار میں آئین تشیّع سے موسسِ وہابیت کی آشنائی ہے اور نیز ناسزا کہنے اور تکفیر و تفسیق کرنے میں اس کی مھارت، تربیت و ادب کی مقدار بھی یھیں تک محدود ہے۔
محمد بن عبدالوہاب کی یہی تمام باتیں ہیں جنھیں منجمد افکار اور بے شعور لوگوں نے جیسے شریعت سنگلجی نے اپنی کتاب ”توحید عبادت“ اور احمد کسروی اور دوسرے افراد نے اپنی اپنی کتابوں میں ”طابق النعل بالنعل(ھو بھو) “ نقل کیا ہے اور دینی اصلاح اور احیاء دین کے نام پر ایک بے خبر اور نامتمیّز افراد کے لئے بیان کیا ہے۔
جی ہاں یہ عقل و دین کے دشمن افراد نے اپنی تعصّب آلود اور عامیانہ عقل کے ذریعہ تہم ت اور جسارت کرنے میں کسی طرح کی کوئی شرم و حیاء نہیں کی ہے، ان عالم نما جاہل عوام کا مبلغ علم،
مقدار شعور اور ان کی نھایت درجہ علمی صلاحیت فقط چند حدیثوں کو نقل اور حفظ کرنا ہے اور وہ بھی ان میں نہفتہ عمیق معانی و معارف پر غور و فکر کئے بغیر ہے خرافات اور بدعتوں سے مبارزہ، شرک و بت پرستی، سنّت صحیح اور صالحین سلف کے مذہب کی پیروی کے دعوئے کے نام پر ہر طرح کی تہم ت اور نازیبا الفاظ سے غیر وہابی مسلمانوں خصوصاً شیعوں کو نوازتے ہیں اور اپنے اس عمل کے ذریعہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم کس حد تک حضرت سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنّت کے پیروکار ہیں۔
وہابی ایسے عام لوگ ہیں جنھوں نے علماء کا لباس پھن لیا اور تناقض گوئی، ان کی دیرینہ میراثِ تعصّب، جمود اور ان کے درمیان رائج روشوں میں سے ایک ہے، خود دوسروں سے زیادہ خرافات اور وہم پرستی میں مبتلا ہیں، لیکن شرک و خرافات کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جن لوگوں کی فکری پرواز، تجسّم خدا (خدا کو جسم والا ماننا) تشبیہ حق اور جبر پر اعتقاد ہو کیا وہ احیاء دین کرسکتے ہیں؟! حقیقت تویہ ہے کہ دین ان کے ھاتھوں میں اسیر ہے جیسا کہ خانہ کعبہ ان کے ھاتھوں میں اسیر ہے؟
یہ ہو س باز اور شھوت پرست مکار لوگ جو خود کو ”خادم الحرمین“ اور شیخ الاسلام، عالم اسلام، امام مسلمین اور اتقیاء میں سے اپنے آپ کو پہچنواتے ہیں، بدعت گذار، مشرک، جلاد اور آدم کش ہیں۔
جو ہمیشہ مسلمانوں کے اتحادپرکاری ضرب لگاتے آئے ہیں اور اسلام کو محو اور نابود کرتے رہتے ہیں ، اُجرت خوار اور مزدور مصنفین شب وروز مسلمانوں کے خلاف ردّ اور فحش نامے لکھ رھے ہیں اور پھر اُس وقت محمد بن عبدالوہاب اپنی کتابوں میں مسلمانوں میں تفرقہ، دشمنی اور اختلاف سے پرہیز کا دم بھرتا ہے۔
ایک معاصر وہابی مصنف کے مقالہ کا خلاصہ
یھاں پر ہم بعنوان نمونہ اور وہابی مصنفین کے علم و درایت اور ادب و تربیت کی گھرائی سے مزید آشنائی کے لئے عربی مقالہ کے ترجمہ کا خلاصہ جو وہابی مزدور مصنفین میں سے ”ابراہیم سلیمان جہمان“( ۲۰ ) کا لکھا ہوا ہے اور جو شیعوں کی بدعتوں اور خرافات کی رد میں لکھا گیا ہے، بیان کرتے ہیں تا کہ ہمارے عزیز قارئین، وہابیوں کی تہم ت زنی اور جھوٹ وتہم ت لگانے کی روش سے مزید آشنا ہوجائیں۔
یہ خائن وہابی مصنف جو اپنے کو عالم سمجھتا ہے حالانکہ ایک مزدور اور نوکر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اپنے مقالہ کے آغاز میں لکھتا ہے: ”میں یہ مقالہ اپنے واجب فریضہ پر عمل اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے لکھ رہا ہوںمیں اسلام کے نام پر بول رہا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ:
۔شیعہ حضرات خرافات کے قائل ہیں، جو اسلامی صریح نصوص کے خلاف ہے ۔
۔شیعہ اہل غلو ہیں ۔
۔شیعوں کا جرم، لاکھوں انسانوں کو گمراہ اور فریب دینا ہے۔
۔اسلام سے شیعوں کا ارتباط اور رشتہ، مکڑی کے تار سے بھی باریک تر ہے۔
۔شیعہ اعتقادی اصول پنجگانہ کے قائل ہیں اور مسئلہ ولایت و امامت کو
اصول عقاید کی ردیف میں شمار کرتے ہیں اور دوسروں کی مانند تنھا تین اعتقادی اصول (توحید، نبوت اور معاد) کے قائل نہیں ہیں۔
۔شیعہ اسلامی اصول کو نیست و نابود کرناچاہتے ہیں ۔
۔شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں اور حدیث کو قرآن سے بالاتر اور برتر جانتے ہیں اور حدیث کے لئے قرآن سے بھی زیادہ اہم یت کے قائل ہیں۔
۔شیعہ عصمت ائمہ(ع) کے قائل ہیں اور قاعدہ حُسن و قبح عقلی کے بھی قائل ہیں۔
۔شیعہ ائمہ طاہرین (ع) سے استغاثہ، ان کی قبور کی زیارت کے جواز اور ایام وفاتِ ائمہ معصومین(ع) کی عزاداری خصوصاً امام حسین(ع) کی سوگواری کے جواز کے بھی قائل ہیں۔
۔شیعہ علی(ع) کو خدا کا شریک جانتے ہیں اور حُبّ علی(ع) کی تاثیر کے قائل ہیں۔
۔شیعہ متعہ کے قائل ہیں۔
۔شیعہ مسئلہ ”بداء“ کے قائل ہیں جبکہ علمائے اسلام کا اجماع ہے،جوبداء کا قائل ہو وہ کافر ہے۔
۔ شیعہ ”تقیہ“ سے کام لیتے ہیں۔
۔شیعوں کی اذان بھی ہم مسلمانوں سے فرق کرتی ہے، ان کا وضو، نماز اور روزہ بھی ہم سے مختلف ہے، شیعوں کا زکوة دینا اور حج کا بجالانا بھی ہم مسلمانوں سے جدا ہے۔
یہ وہابی مولف تہم ت لگانے میں اپنے بزرگوں(وہابیت کے بانی محمد ابن عبد الوہاب اور ابن قیم جوزی وغیرہ) سے کم نہیں ہے۔
اس کے بعد کہتا ہے:
۔ سنیوں کا قتل جائز جاننا،ان کوتحت فشا ر قرار دینا، اذیت پہونچانا، ان کے خلاف شھادت دینا اور ان کی جان و مال اور ناموس کو مباح جاننا، شیعوں کے عقاید میں سے ہے۔
۔شیعہ خمس فقراء اور اس کے مستحقین کو نہیں دیتے ہیں بلکہ ایک ایسے شخص کو دیتے ہیں جس کو وہ نائب امام کہتے ہیں، تا کہ بدعتوں کی ترویج اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف سازشوں میں ہر ممکن ذریعہ سے صرف ہو۔
۔ شیعہ ”رجعت“ کے قائل ہیں۔
۔شیعوں نے جمعہ و جماعت کو ساقط کر دیا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتے ہیں، جھاد اور اس کی حدود پر عمل نہیں کرتے ہیں۔
۔شیعہ امام غائب کے قائل ہیں۔
۔شیعہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک معلون امت کہتے ہیں، نیزصحابہ کو گالی دینا ان کی عبادات میں شامل ہے۔
آگے کہتا ہے :
۔ شیعہ اپنے اماموں کے لئے حق تشریع اور نسخ احکام شرعی کے قائل ہیں۔
۔شیعہ علی (ع) کو انبیاء کے برابر جانتے ہیں۔
۔ غیر خدا کے لئے قربانی کرنا، غیر خدا کی قسم کھانا اور غیر خدا سے استغاثہ کرنا جو کہ تمام شرک و کفر ہے یہ تمام امور شیعوں کے عقاید کے ارکان ہیں۔
۔”وصایت“ کے مسئلہ پر عقیدہ رکھنا،ان کے خرافات میں سے ایک ہے۔
۔ حقیقت میں تشیع کا موسس در واقع ”عبداللہ بن سبا“ نامی ایک یھودی تھا۔
آخر میں لکھتا ہے:
۔ تشیع کو عیسائیوں، صھیونسٹوں اور لندن کی مخفی کمیٹی کے ارکان نے تشکیل دیا ہے، مذہب تشیع مذکورہ کمیٹی کے ارکان ”فراماسون“ عیسائیوں، یھودی صھیونسٹوں اور جاسوسی کمیٹیوں کی ہمکاری، حمایت اور سازشوں سے وجود میں آیا ہے۔
اُس وقت کہتا ہے:
۔ شیعہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو نابود کر ڈالیں اور شیعہ امت اسلام کے قلب پہ ایک خنجر کی مانند ہیں۔
۔ شیعہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو یھودیوں کے پیروں پر قربان کر دیں۔
مقالہ کے آخر میں (بلکہ بہتر ہے کھیں فحش نامہ کے آخر میں ) کہتا ہے:
۔ اصلا ً ہمیں شیعوں کو انسان ہی نہیں سمجھنا چاہیئے۔
۔ شیعہ خدا و رسول کے ساتھ محارب اور مفسد فی الارض ہیں۔
اس کے بعد شیعوں کے خلاف احساسات کو تحریک کرنے کے لئے علماء اسلام سے خطاب کر کے کہتا ہے: باطل پر سکوت اختیار نہ کریں اور چین سے نہ بیٹھیں بلکہ شیعوں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں۔ خدا را ! میں تم سے چاہتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ بزرگان شیعوں کے خلاف فتویٰ صادر کریں۔ خوف نہ کھائیں اور خاص شرائط کوبیان نہ کریں کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے، شیعوں کے خلاف اقدام کریں اور ان مشرکوں کو صفحہ ھستی سے مٹا دیں۔ اسلام سے دفاع، شیعوں کی سازشوں اور مکاریوں کو ختم کرنے اور مسلمانوں کو ان کے شر سے نجات دلانے کی خاطر کوئی ایک فتویٰ صادر کریں۔
قارئین کرام ! یہ تھا وہابی مصنّفین میں سے ایک مصنف کے مقالہ کا خلاصہ کہ اس مقالہ میں عفت ِ قلم، مخالف کے عقائد کا احترام اور انسانی شرافت کو بخوبی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
صاحب ” فتح المجید “ کے نظریات
شیخ عبدالرحمن ابن حسن آل الشیخ، صاحب کتاب ”فتح المجید“ جو محمد بن عبدالوہاب کی کتاب ”التوحید“ کی شرح ہے اور خود شارح (شیخ عبدالرحمن) موسس وہابیت کا پوتا ہے، اپنی کتاب ”فتح المجید“ میں کچھ مطالب بیان کرتا ہے، جو ہم اپنے قارئین کی خدمت میں فھرست وار بیان کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ وہابیوں کے نزدیک مذکورہ کتاب ایک خاص اہم یت کی حامل ہے اس لئے مسجد الحرام کے طلاب علوم دینی کے کورس میں شامل ہے اور ان کی درسی کتابوں کا جزء قرار پائی ہے۔
یہ کتاب سعودی عرب کے پائے تخت ”ریاض“ سے ۴۸۰ صفحے پر اور بیروت لبنان سے ۵۱۸ صفحے پر مشتمل طبع ہوئی ہے ، ہم ان مطالب کو طبع لبنان کے مطابق نقل کرتے ہیں، عبدالرحمن آل الشیخ شفاعت کے بارے میں اپنی اس کتاب ”فتح المجید“ میں یوں رقمطراز ہے:
”چونکہ ان بتوں (قبور و حرم) کی پرستش کرنے والے معتقد ہیں کہ ان قبروں کی تعظیم، ان سے مدد طلب اور دعا مانگنے اور ان صاحبان قبور کی شفاعت و برکت کے ذریعہ اپنی آرزووں کو پھنچ جائیں گے،لہٰذا صالحین کی قبور سے ہر طرح کا تبرک حاصل کرنا اوران کا احترام کرنا، لات و عزیٰ کی پرستش کے مانند ہے اور جو شخص اس طرح کے کام کرے اور ایک صاحب قبر کا معتقد ہو تو وہ بت پرستوں کی مانند ہے۔“( ۲۱ )
ایک دوسری جگہ اپنے دعوے پر ابن تیمیہ کے شاگرد ”ابن قیّم“ کی باتوں سے استدلال کرتے ہوئے کہتا ہے:
”شرک کی اقسام میں سے ایک مورد، مُردوں سے استغاثہ، اپنی حوائج کی درخواست اور ان کی طرف ہر طرح کی توجہ کرنا بھی ہے۔“( ۲۲ )
شیخ عبدالرحمن اس کے بعد، اپنے ایک بے سابقہ اور دلچسپ فتوے کے ذریعہ، اپنے ایک ہمفکر ”ابن قدامہ“ کی گفتار کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ یوں استدلال کرتا ہے :
”ایسی مسجدوں میں نماز پڑھنا جو حرم کے کنارے بنائی گئی ہوں جائز نہیں ہے خواہ اس مسجد اور حرم کے درمیان کوئی دیوار حائل ہو یا حائل نہ ہو۔ البتہ اس طرح کی مسجدوں میں جس نماز کا پڑھنا جائز ہے وہ تنھا نماز میّت ہے۔“( ۲۳ )
محمد ابن عبدالوہاب اپنی کتاب ”التوحید“ کے ایک حصّہ کو حرم کے کنارے مساجد اور انبیاء و اولیاء کی قبور کے لئے بارگاہ اور گنبد بنانے سے متعلق مختص کرتے ہوئے تاکید اور اصرار کرتا ہے کہ اس طرح کی مسجدیں، حرم اور عمارتیں بنانا حرام اور ویران کرنا واجب ہے تو اس کا پوتا شیخ عبدالرحمن اپنے دادا کی گفتار کی شرح کرتے ہوئے ابن تیمیہ کے عقیدہ کو بعنوان دلیل پیش کرتا ہے اور کہتا ہے:
”قبروں پر حرم اور عمارتیں بنانا اور ایسے ہی ان کے کنارے مسجدیں بنانا تمام مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حرام ہے، لہٰذا جس طرح بھی ممکن ہو پھلی فرصت میں ان مسجدوں اور عمارتوں کو منھدم کرناواجب ہے جو انبیاء اور صالحین کی قبور کے کنارے بنائی گئی ہیں اور ان آثار کو ختم کرنا ضروری ہے۔“( ۲۴ )
شیخ عبدالرحمن آل الشیخ، اولیاء و صالحین کی قبور سے شفاعت، استغاثہ اور مدد چاہنے کے سلسلہ میں دوسرے موارد کی طرح ابن تیمیہ کی گفتار سے مستند کرتے ہوئے ”رسالة السنّة“ میں یوں کہتا ہے:
”جاننا چاہیئے کہ جو لوگ اسلام اور اہل سنّت سے منتسب ہیں وہ ممکن ہے مختلف انگیزوں کے ذریعہ دین اسلام سے خارج ہو جائیں ، مثلاً اپنے دینی رھبروںمیں سے کسی ایک ،یا علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں غلّو سے کام لیں اور کھیں: ”اے آقا میری مدد کرو“ یا ”ہماری مدد کو پھنچو “وغیرہ وغیرہ یہ تمام چیزیں شرک اور گمراہ ہیں، ایسے لوگوں سے توبہ کرانی چاہیئے اور اگر قبول نہ کریں اور اپنے عمل و عقیدہ پر اٹل رہیں تو ان کو قتل کر دینا چاہیئے۔“( ۲۵ )
وہ اضافہ کرتا ہے : ”جو شخص اپنے اور خدا کے درمیان وسائط اور شفاعت کرنے والوں کو قرار دے اور وساطت کے عنوان سے (نہ کہ مستقلاً) ان پر اعتماد کرے، ان کو پکارے اور ان سے مدد طلب کرے تو ایسا شخص اجماعاً اسلام سے خارج ہے۔“( ۲۶ ) کتاب ”فتح المجید“ میں باقی مطالب اس طرح سے ہیں ۔
۔ توحید کے معنی (توحید عبادی کے معنی )یہ ہیں کہ: انگوٹھی پھننا شرک ہے۔
۔ غیر خدا کے لئے قربانی کرنا شرک ہے۔
۔ غیر خدا سے استعاذہ اور پناہ حاصل کرنا شرک ہے۔
۔ غیر خدا سے شفاعت طلب کرنا شرک ہے۔
۔ قبور کی زیارت کرنا شرک ہے۔
۔(سحر و جادو گری، خُرافہ پرستی سے بحث کرنا اور) غیر خدا کی قسم کھانا شرک ہے۔
۔ عرش وکرسی ،قضا وقدر اور تصاویر وغیرہ کے بارے میں بحث کرنا شرک ہے۔
قارئین کرام! آپ نے اچھی طرح ملاحظہ فرمایا جو مسائل وہابیوں کی طرف سے زیر بحث ہیں وہ اتنے زیادہ اور بے شمار ہیں کہ کئی جلدوں میں ان پر بحث کی جاسکتی ہے حتی ان میں سے بعض مسائل تو ایسے ہیں کہ ان پر مستقل کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔
چنانچہ ہم یھاں پر اختصار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں تاکہ بحث طولانی اور کتاب بھی زخیم نہ ہو ، اس وجہ سے ہم فقط اہم مسائل اور ان شبھات پر تحقیق و تنقید کریں گے کہ جو وہابیوں کی طرف سےبیان ہوئے ہیں تا کہ حق وباطل روشن ہو جائے، حق کے تلاش کرنے والے اور حقیقت پسند حضرات ہدایت پا جائیں اور باطل کو اس کے مکروہ چھرے کے ساتھ پہچان لیں اور اس طرح کی بے ہودہ گفتگو کرنے سے ،منحرف وخرافات پرستوں اور ملحدوں کے ھاتھوں سے قوت چھین لی جائے۔
وہابیوں کے افکار پر تحقیق و تنقید
ہم وہابیوںکے نظریات کی تحقیق و بررسی کی خاطر اور محمد ابن عبدالوہاب کے سطحی، ظاہربینانہ اور شرک آلود نظریات پر تنقیدی نظر ڈالنے کے لئے پھلے اس کے عقائد کے کلیات و اصول جیسے ”شرک، توحید اور اس کی اقسام“ اور ”عالم ھستی میں وساطت کی نفی“ اور انبیاء و اولیاء سے توسل کی حرمت و نفی“ اور مسئلہ ”شفاعت“ جس پر وہابیوں نے بڑاایڑی چوٹی کا زور لگاکربہت تاکید کی ہے، مورد بحث قرار دیں گے اور پھر وہابیوں کے اصلی منابع سے مسائل کونقل کرکے ان کی جزئیات میں جائیں گے اور اس کے اہم مسائل کی تنقید اور ردّ کریں گے۔
اگر چہ ہمارے اعتقاد کے مطابق وہابیوں کے اعتقادی اصول و کلیات کے سلسلہ میں بحث کرنے سے ان کے انحرافی عقائد کا اثبات، ھیچ اور باطل ہونا ثابت ہو جائے گا اور قرآن و اسلام کی حیات بخش نورانی تعالیم سے ان کی بیگانگی اور دوری کا بھی پتہ چل جائے گا اور ان کے دعووں کا جھوٹا ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔لہٰذا ضرورت ہی نہیں ہے کہ ہم ان کے عقائد کی جزئیات میں داخل ہوں لیکن اس شجرہ ملعونہ(فرقہ وہابیت) کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے لئے ہم ان کے عقائد کے بعض جزئیات کی طرف ضرور اشارہ کریں گے۔
شبہ شرک
جیسا کہ ہم پھلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہابیوں کی طرف سے جو شبھات پیش کئے گئے ہیں ان میں سے ایک مہم ترین شبہ جو سادہ اندیش لوگوں کے ذھن میں بیٹھایا جاتا ہے وہ شبہ شرک ہے اور دلچسپ یہ ہے کہ فرقہ وہابیت کلمہ ”شرک“ کے معنی کے لئے اپنے نزدیک اس قدر وسعت و توسیع کے قائل ہوتے ہیں کہ ذرا سے بھانہ پر فوراً ”شیعوں“ کے اکثر توحیدی عقائد پر شرک کا فتویٰ لگا دیتے ہیں اور ان حقیقی مواحدوں کو بزدلانہ طور پر مشرک کہہ کر پکارنے لگتے ہیں۔
گویا ان کے ھاتھوں میں لغات و الفاظ کے معانی ہیںجس میں ھر طرح کا تصرف اور مفاہیم کو تطبیق کرنے میں مطلق آزادی رکھتے ہیں۔ جبکہ کلمہ ”شرک“ شرع متشرعہ کے عرف کے لحاظ سے ایک شخص اور خاص معنی پرحمل ہوتاہے جو شیعوں (اَعْلیَ اللّٰہ کَلِمَتَہم ) کے عقائد میں ذرہ برابر نہیں پایا جاتا۔
لہٰذا ہم مطلب روشن ہونے کے لئے بطور اجمال ”توحید کے معنی اور اس کے مراتب “ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو عقلی دلیلوںکا مدلول اور قرآنی آیات سے ماخوذ ہے ،اس کے بعد ہم ”شرک“ کے معنی اور اس کی اقسام سے بحث کریں گے اور پھر شیعوں کے عقیدہ اور طرز تفکر کو اولیاء اللہ اور مقربین درگاہ خدا سے ”توسل اور شفاعت“ طلب کرنے کے بارے میں مورد تحقیق و بررسی قرار دیں گے تا کہ ”جو لوگ اپنے گہم نڈ اور تعصب کا شکار ہوں، اور عقل کے اندھے ہوں ان کے چھرے سیاہ ہو جائیں“۔( ۲۷ )
توحید اور اس کی اقسام
خدا پر اعتقاد رکھنے والوں اور دینداروں کی اصطلاح میں ”توحید“ کے معنی خدا اور مبدا ھستی کی وحدانیت اور یکتائی پر اعتقاد رکھنا ہے جس کے چار مرتبے یا اقسام ہیں یا دوسرے الفاظ میں کھیں:کہ” جس کی بنیاد چار چیزوں پر ہے“۔( ۲۸ )
۱ ۔ توحید ذاتی: یعنی اس بات پر اعتقاد رکھنا کہ حق تعالیٰ کے وجود اقدس کی ذاتِ حقیقت، عین ھستی اور نامحدود ہے اور کسی علت کی محتاج نہیں ہے (اسی کا نام واجب الوجود ہے) مربوط مباحث میں ادّلہ کے مطابق جو مشروحاً بیان ہوئی ہیں، وہ یہ کہ واحد، بغیر کسی کفو اور شریک کے ہے لہٰذا اس جہت سے خدا کا کوئی شریک، شبیہ اور مانند نہیں ہے کیونکہ تمام موجودات کا وجود مجبوراً و عموماً عَرَضی، محدود اور علت کا محتاج ہے (اور اسی کا نام ممکن الوجود ہے)
۲ ۔ توحید صفاتی: یعنی یہ اعتقادکہ خدائے وحدہ لاشریک کی ذات اقدس اپنے صفات کمالیہ (حیات، علم، قدرت اور ادراک۔۔۔۔)کے ساتھ متحد ہے نہ کہ یہ صفات کمالی اس کی ذات سے مغایرت رکھتے ہیں اور نہ ہی خود صفات کے اندر کوئی تمیز موجود ہے بلکہ ذات واحد ایسی یکتا ہے جو عینِ کمالِ مطلق، نامحدود اور بے پایان قدرت و علم و حیات کی عین ہے، لہٰذا اس جہت سے قارئین علاقہ مند اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے حضرت آیت اللہ محمد تقی مصباح دام ظلہ العالی کی عظیم الشان کتاب ”مجموعہ معارف قرآن“ بخش خداشناسی ص ۱۲۱ پر رجوع کرسکتے ہیں ۔
بھی وجود اقدس حق اپنا کوئی شبیہ اور نظیر نہیں رکھتا ،کیونکہ تمام موجودات کے صفات مجبوراً اس کی ذات سے مغایرت رکھتے ہیں اور ہر صفت دوسری صفت سے متمائز ہے، نتیجہ میں تمام ممکنہ صفات ،منبع کمال ”خدا“ کی طرف عطا کئے گئے ہیں،اور خدا کے علاوہ کوئی بھی موجود، مرتبہ ”ذات“ میں صفت کما ل کا حامل نہیں ہے۔
۳ ۔ توحید افعالی: یعنی یہ اعتقاد رکھناکہ ہر موجود کی ایجاد میں ھر ممکن استقلال ، خدائے وحدہ لاشریک کی ذات میں منحصر ہے اور کوئی ایک موجود بھی سوائے خدا کے جیسا کہ ”وجود“ میں مستقل نہیں ہے ایسے ہی ”ایجاد“ میں بھی مستقل نہیں ہے۔ بلکہ اثر گذاری، کارسازی اور خاصیت بخشی، کسی بھی پدیدہ اور کسی بھی مخلوق سے ظاہر ہو، اس قدرت و قوت کے درجہ کی معلول ہے کہ جس کو خدا نے چاہا ہے،اور اس مخلوق کے وجودی ڈھانچہ میں قرار دیا ہے،اور جس وقت بھی چاہے، کسی کام کی قدرت کو سلب کرنے کی طاقت اسی کو حاصل ہے۔
لہٰذا ”فاعل“ خواہ وہ فاعل مضطر و غیر ارادی ہو جیسے پانی، آگ اور خورشید وغیرہ یا فاعل مختار جیسے ”انسان“، اور خواہ انسان بھی اپنے ”عمل“ میں عین ارادہ و اختیار کے ہواس کا ارادہ و اختیار اور اس کی مشیت بھی خدا کی مشیت، اور اذن پر موقوف ہے جو ایک منٹ کے لئے بھی اپنے ”وجود و ایجاد“ میں مستقل نہیں ہے۔
اور غیر خدا کی اسی فاعلیت کے بارے میں ”استقلال و عدم استقلال“ پر اعتقاد ہی ”شرک“ اور ”توحید“ کا صحیح معیار ہے۔ یعنی غیر خدا کی مستقل فاعلیت اور اثر بخشی پر اعتقاد رکھنے کا نام شرک ہے اور ”توحید افعالی “ یعنی خداواندعالم میں فاعلیت کے استقلال کے انحصار کا نام توحید ہے۔
دوسرے الفاظ میں : ”توحید افعالی“ یعنی مخلوقات کو ”فاعل بالاذن“ ( خدا کی طرف سے اذن ) جاننا اور ”فاعلیت بالاستقلال“ میں کسی بھی موجود کو خدا کا شریک نہ جاننے پر اعتقاد رکھنا۔ اوریہ اعتقاد رکھناکہ کوئی بھی اثر اور خاصیت کسی بھی مخلوق سے وجود میں نہیں آتی ، مگر الٰھی مشیت اورمرضی کے ذریعہ۔
لہٰذا ”توحید افعالی“ تمام موجودات سے فاعلیت کی نفی اور موثر نہ ہونے کے معنی میں نہیں ہے۔ گرچہ یہ خلاف واقع اور خلاف وجدان ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ خدا کی مخلوقات میں سے ہر مخلوق نے اپنے خالق سے جوطاقت و قدرت پائی ہے اس کی حدود میں وہ اپنی ایک خاصیت و اثر کی مالک ہے اور ہر حال میں (خواہ فاعل مضطر ہو یا فاعل مختار) مخلوق افعال سے کوئی بھی فعل ہو مرحلہ اظھار تک پھنچتا ہے لیکن اس اثر و فعل کے وجود میں موثر خدا کی ذات ہوتی ہے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مثلاً زمین سے اُگنے والی گھاس اور نباتات ہے خوشبو اور شادابی و رنگ کی مالک بھی وہی گھاس ہے اور اسی طرح انسان و حیوان کو سیر کرنے کی خاصیت اور مریضوں کو شفا بخشنے کی تاثیر بھی اسی گھاس میں پائی جاتی ہے۔
جیسا کہ کھانا، پینا، پھننا، بیٹھنا، اٹھنا، فکر کرنا، باتیں کرنا، لکھنا، اور رنگ اور مرمت کرنا یھاں تک کہ مختلف چیزوںکی شکلیں بنانا وغیرہ تمام کے تمام انسان کے وجودی آثار ہیں اور انسان سے صادر افعال ہیں۔
البتہ، اس طرح کے افعال، ارادی اور اختیاری افعال ہیں جو ایک با ارادہ اور مختار فاعل سے صادر ہوتے ہیں لیکن گھاس کے مختلف آثار اضطراری افعال کی اقسام سے ہیں کہ جو ایک فاقد اختیار اور مضطر فاعل سے ظاہر ہوتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ تمام موجودات جنبہ ”فاعلیت“ اور خاصیت گذاری رکھتے ہیں لہٰذا یہ نہیں کھا جاسکتا ہے کہ ”توحید افعالی“ یعنی غیر خدا سے ”فاعلیت“ کی نفی اور سلب اثر کا نام ہے،بلکہ ”توحید افعالی“ کے صحیح معنی یہ ہیں کہ خدا کے علاوہ تمام موجودات سے تاثیر گذاری کے” استقلال“ کی نفی کرنا، جو کسی بھی طرح سے ”تاثیر بالاذن“ کے اثبات کے ساتھ اور ان کے بارے میں ”فاعلیت بالتخیر“ کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا ہے۔
اور ہم جو یہ کہتے ہیں کہ شرک یعنی خدا کے کاموں میں کسی غیر خدا کو شریک کرنا، درست ہے لیکن توجہ رکھنا چاہیئے کہ خدا کے کاموں سے مراد آیا وہی ”استقلال درتاثیر“ ہے جو خدا سے مخصوص ہے اور کوئی بھی چیز اس جہت میں ، خدا کی شریک نہیں ہے؟!
وگرنہ ہر ایک مخلوق کہ جس کو اس کے خالق کی طرف سے جس قدر قدرت عطا کی جاتی ہے وہ اسی مقدار میں کارگر اور موثر ہوتی ہے ، جب کبھی بھی وہ مخلوق اپنے خالق کی طرف سے کسی کام کو انجام اور ایجاد پر ماذون ہو گی یعنی جب بھی خدا اس کو اثر بخشی کی طاقت تکویناً عنایت کردے گا تو طبیعی چیز ہے کہ اسی وقت وہ اثر کی ایجاد و فعالیّت پر قادر ہو جائے گی،یھاں تک کہ (مخلوقات میں سے انسان) خلق کرنے، مارنے اور زندہ کرنے پر بھی قادر ہوگا، مریض کو شفا دے گا اور مادر زاد اندھے کو بینائی عطا کرے گا جیسا کہ قرآن حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
”( اذقال اللّٰه ُ یا عیسیٰ بن مریم اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلیکَ و علیٰ والِدَتِکٴَ اِذْایَّدْتُکٴَ بِرُوحِ القُدُسْ وَاِذْتَخْلُقُ مِنَ الطِّیْن کَهَیْئةِ الطّیْرِبِاذْنِیْ فَتَنْفُخُ فیِها فَتکوُنُ طیراً بِاِذْنِیْ و تُبْرئ ُ الْاَکْمَهَ والٴابْرصَ بِاذْنِی و اِذْ تُخْرِجُ الْمَوتیٰ باِذْنی ) ۔( ۲۹ )
”اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے کھا: اے عیسیٰ بن مریم ! ہماری نعمتوں کو یاد کرو جو ہم نے تم پر اور تمھاری مادر گرامی پر نازل کی ہیں اور روح القدس کے ذریعہ تمھاری تائید کی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب تم ہماری اجازت سے مٹی سے پرندہ کی شکل بناتے تھے اور اس میں پہونک دیتے تھے تو وہ ہمارے اذن سے پرندہ بن جاتا تھا اور تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہمارے اذن سے صحت یاب کر دیتے تھے اور ہماری اجازت سے (قبر سے نکال کر ) مردوں کو زندہ کرلیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔“
اس آیت میں مکمل وضاحت کے ساتھ، مٹی سے پرندوں کی شکل بنانے اور اس میں پہونک کر زندہ کرنے، مریضوں کو شفا بخشنے، مادرزاد اندھوں اور کوڑھیوں کو صحت یاب کرنے اور قبر میں سوئے ہوئے مردوں کو زندہ کرنے کی نسبت خدا کے اذن کے ساتھ جناب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف دی گئی ہے،روشن ہے کہ ان کو خدا کے کاموں میں شریک ہونا نہیں کہتے ہیں بلکہ خدا کے اذن سے کام کرنا کہتے ہیں، اس لئے کہ جو کام خدائی اور خدا سے مخصوص ہے وہ ”تاثیر اور ایجاد میں استقلال“ ہے نہ کہ ”مطلق ایجاد“، جیسا کہ تمام موجودات، موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ”وجود“ میں خدا کے شریک نہیں ہوتے ہیں بلکہ خدا کے ”اذن“ سے ”صاحب وجود “ ہوتے ہیں اور جو چیز خدا سے مخصوص ہے وہ وجود کا ”ذاتی“ ہونا ہے اور ”ھستی“ میں ”استقلال“ ہونا ،لیکن صرف موجود ہونا اور ھستی رکھنا خدا سے مخصوص نہیں ہے۔
پس جیسا کہ تمام موجودات ”وجود“ میں خدا کے شریک نہیں ہیں تو ”ایجاد“ میں بھی خدا کے شریک نہیں ہیں بلکہ ان کا وجود بھی ”بالاذن“ ہے اور ان کی ”ایجاد“ بھی ”بالاذن“ ہے۔
جیسا کہ ہم آیہ کریمہ میں دیکھ رھے ہیں کہ کلمہ ”بِاذْنِی“ کئی مرتبہ تکرار ہواہے آیت میں ”خلق طیر“اور مردوں کو زندہ کرنے ،مریضوں کو شفا اور مادرزاد اندھوں کو بینائی بخشنے“ جیسے امور کے اثبات کے ساتھ ساتھ استقلال واصالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عمل میں نفی کی ہے اور تنھا خدا کو فاعل مستقل اور موثر بالاصالة قرار دیا ہے،یہ مطلب ایک دوسری آیت میں بھی موجود ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے فرماتا ہے :
”( اِنّی اَخْلُقُ لکم مِنَ الطّیْنِ کهَی ة الطَّیْر فانْفُخُ فیه فیکوُنُ طَیْرًا باذْن ِاللّٰه ِوَابُرْی الاکْمَهَ وَ الابْرَصَ وَاُحْیِ الْموَتیٰ باذْن ِ اللّٰه ) ۔( ۳۰ )
”وہ رسول (عیسیٰ(ع)) بنی اسرائیل سے کھے گا کہ میں تمھارے لئے خدا کی طرف سے نشانی لیکر آیا ہوں کہ میں تمھارے لئے مٹی سے پرندہ کی شکل بناوں گا اور اس پر کچھ دم کروں گا تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جائے گا اور میں مادرزاد اندھے اور مبروص کا علاج کروں گا اور حکم خدا سے مردوں کو زندہ کروں گا۔۔۔۔۔“
۴ ۔ توحید عبادی: یعنی یکتا پرستی اس اعتقاد کے ساتھ کہ سوائے خدا کے کوئی بھی دوسرا موجود عبادت و پرستش کی صلاحیت اور شائستگی نہیں رکھتا ہے۔“( ۳۱ )
عبادت: یعنی کسی کے سامنے تواضع، چھوٹا اور خوار ہوکر پیش ہونا اس طرح کہ کسی موجود کو تمام نقائص سے مبرّا اور ہر جہت سے کامل ِمطلق کی حیثیت سے پہچانتا ہو اور خود کو اس کی بارگاہ میں نھایت درجہ ذلیل و خوار سمجھتا ہو۔
اور یہ اعتقاد، طبیعی ہے جو پھلے تین اعتقاد (توحید ذاتی ، توحید صفاتی ، توحید افعالی )کے بعدخودبخود انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے، کیونکہ جس وقت بھی انسان اس بات پر معتقد ہو جائےکہ وجود اصیل، کمال مطلق اور ہر بلا کو دفع اور ہر طرح کی نعمت عطا کرنے اور تدبیر و ایجاد میں استقلال مبدا ھستی کی ذاتِ واحد میں منحصر ہے تو وہ طبیعی طور پر اس بات پر بھی معتقد ہو جائے گا کہ پس انسان کو جس ذات سے تنھا ڈرنا چاہیئے، جس ذات کی رضایت حاصل کرنا چاہیئے، جس ذات کے سامنے تسلیم کامل، سجدہ ریزاور سرجھکانا چاہیئے، جس ذات کو سب کچھ سمجھنا چاہیئے اور جس ذات کے سامنے اپنے کو ھیچ سمجھنا چاہیئے وہ ذات، وحدہ لاشریک کی ذات ہے اور دوسروں کی رضایت حاصل اور ان کی تعظیم و تواضع کرنا بھی اسی ذات کے حکم اور اس کی اجازت سے ہونا چاہیئے کہ در حقیقت کلمہ ”لاالہ الااللّٰہ“ کے معنی یہی ہیں۔
دوسرے لفظوں میں کھا جاسکتا ہے تین قلبی مراتب یعنی : توحید ”ذاتی، صفاتی اور افعالی“ جو توحید ”نظری“ (یعنی ”شناخت، اندیشہ اور بینش“ کا پھلو رکھتی ہے) کی اقسام سے ہیں لیکن چوتھا مرحلہ یعنی: توحید عبادی، توحید عملی (یعنی عمل کی قسم ) سے ہے۔
یہ تھا ”توحید اور اس کی اقسام “ کا خلاصہ ، البتہ اس مطلب کے پیش نظر ”شرک“ کے معنی بھی جو ”توحید“ کے نقطہ مقابل ہیں، چاروں مرحلوں میں سے ہر ایک میں اجمالی طور پر حاصل ہوگئے ہیں۔“( ۳۲ ) یعنی مقام ”ذات“ ، مرتبہ ”صفات“ ، مرحلہ ”افعال“ اور مورد ”عبادت“ میں ایک حد تک شرک کے معنی معلوم ہوگئے ہیں۔
لیکن چونکہ اس مطلب پرمخالف کی طرف سے وسیع پیمانے پر اعتراض ہوئے ہےں، اس
( عِبَادٌ مُکْرَمُونَ لَایَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِهِ یَعْمَلُونَ ) ( ۳۳ )
”وہ خدا کے عزیز اور محبوب بندے ہیں یہ لوگ اس کے سامنے بڑھ کر نہیں بول سکتے، اور اس کے فرمان کے مطابق عمل کرتے ہیں “
لہٰذا خدا کے ان مقرب بندوں کا ادب واحترام کرنا ان کی عبادت نہ ہوگی، اور ان کا یہ احترام ایک طرح سے خدا کا احترام ہوگا کیونکہ ان کا احترام خداکی وجہ سے ہے ۔
قارئین کرام !وہابیوں نے اس مقام پر بھی لغزش کی ہے او رخدا کے نیک اور صالح بندوں کے احترام اور ان کی یاد کو باقی رکھنے کو ”عبادت میں شرک“ جانا ہے، جبکہ یہ لوگ خود پیامبر اکرم(ص) کا احترام کرتے ہیں نیز ہمیشہ اپنے فکری رھبروں کی مدح وثنا کرتے رہتے ہیں ۔
لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اس مطلب کو مکمل وضاحت کے ساتھ تحقیق و تنقید کریں، لہٰذا شک و شبھات کو دور کرنے کے لئے خداوند کریم سے مدد طلب کرتے ہیں ”اِنّہُ خیر ناصرٍ و خَیْرُ مُعِیْنٍ۔“( ۳۴ ) (وہ بہترین ناصر و معین ہے۔)
____________________
[۱] اس بحث کے اکثر مطالب او رمحمد ابن عبد الوہاب کے نظریات درج ذیل کتابوں میں موجود ہیں جو شیعوں کی رد میں لکھی گئی ہے :”التوحید الذی ہو الحق العبید “ ”کشف الشبھات“ اور ”الرد علی الرافضة“
[۲] الشیخ الامام محمد ابن عبد الوہاب ، دیوان النہضة ،توسط ادویینس وخالد سعید ، دار العلمالملاتین ، بیروت ص۸۔
[۳] الشیخ الامام محمد ابن عبد الوہاب ، دیوان النہضة ،توسط ادویینس وخالد سعید ، دار العلم الملاتین ، بیروت ص۶۱۔
[۴] الشیخ الامام محمد ابن عبد الوہاب ص ۶۰۔
[۵] الشیخ الامام محمد ابن عبد الوہاب ص۶۲۔
[۶] الشیخ الامام محمد ابن عبد الوہاب ص ۶۴۔
[۷] الشیخ الامام محمد ابن عبد الوہاب ص ۶۸۔
[۸] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۶چاپ ریاض۔
[۹] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۱۴، طبع ریاض۔
[۱۰] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۲۰، طبع ریاض۔
[۱۱] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۲۶، طبع ریاض۔
[۱۲] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۲۷، طبع ریاض۔
[۱۳] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۲۸، چاپ ریاض۔
[۱۴] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۳۱، طبع ریاض۔
[۱۵] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۳۲، طبع ریاض۔
[۱۶] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص ۳۴، طبع ریاض۔
[۱۷] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص۴۳ ، طبع ریاض۔
[۱۸] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص۴۶ ، چاپ ریاض۔
[۱۹] رسالة فی الردّ علی الرافضة ، مولف شیخ محمد ابن عبد الوہاب ص۴۷ ، طبع ریاض۔
[۲۰] یہ بحث آقای مھدی حسین روحانی کی کتاب ”بحوث مع اہل السنة والسلفیہ“ کے شروع میں موجود ہے۔
[۲۱] فتح المجید ، مولف شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص۱۵۱، طبع بیروت۔
[۲۲] فتح المجید ، مولف شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص ۱۷۷ طبع بیروت۔
[۲۳] فتح المجید ، مولف شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص ۲۴۰، طبع بیروت۔
[۲۴] فتح المجید ، مولف شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص ۲۳۸ طبع بیروت۔
[۲۵] فتح المجید ، مولف شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص ۱۷۶ طبع بیروت۔
[۲۶] فتح المجید ، مولف شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص۱۷۷، طبع بیروت۔
[۲۷] توسل ازدیدگاہ عقل،قرآن و حدیث ، تالیف سید محمد ضیا آبادی واحد تحقیقات اسلامی ص ۷۳۔
[۲۸] فلسفی او رکلامی علماء نے توحید کے جو گذشتہ مراحل یا اقسام بیان کئے ہیں ، اسلامی علماء عرفان کے نظریات سے بالکل جدا ہیں لیکن اس بحث میں داخل ہونے کا موقع نہیں ہے۔
[۲۹] سورہ مائدہ،آیت ۱۱۰۔
[۳۰] سورہ آل عمران آیت ۴۹۔
[۳۱] قارئین کرام کے مزید فائدے اور علم وبصیرت میں اضافہ کے لئے ”توحید درعبادت“ کے سلسلے میں استاد مرحوم شیھد مطھری (رہ) کے ایک اہم بیان کو یھاں پر نقل کرتے ہیں :
”توحید عملی یا توحید درعبادت یعنی ”یکتا پرستی “ یا دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے ”وحدہ لاشریک کی عبادت میں غرق ہونا“البتہ یہ بات واضح اورروشن ہے کہ اسلام میں عبادت کے مختلف درجات ہیں جن میں سب سے واضح درجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی تنزیہ وتقدیس بجالائے کہ اگر یہی عمل کسی غیر خدا کے لئے انجام دیا جائے تو انسان دائرہ اسلام سے بالکل خارج ہوجائے گا۔
لیکن اسلامی نقطہ نظر سے عبادت صرف اسی مذکورہ قسم میں محدود نہیں ہے بلکہ ہر طرح کی ”جہت کو اخذکرنا، کمال مطلوب قرار دینا، کسی کو معنوی قبلہ قرار دینا بھی عبادت ہے “ مثلاً کوئی شخص اپنی ”نفسانی ہوا وہوس“ کو ”آئیڈیل“ ( Ideal )(کمال مطلوب) اور اپنے لئے معنوی قبلہ قرار دے توگویا اس شخص نے اپنے نفس کی عبادت کی : ”افرائت من اتخذ الہہ ہواہ“ کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اپنی نفسانی ہوا وہوس کو اپنا خدا او راپنا معبود قرار دیتا ہے ؟
اسی طرح جو شخص کسی ایسے شخص کی اطاعت اور اس کے سامنے سرِتسلیم خم کرے جس کی اطاعت کے لئے خدا نے حکم نہیں دیا ہے ، گویا اس نے اس کی عبادت کی ہے :”واتخذوا احبارہم و رھبانہم اربابا من دون اللّٰہ“ بے شک کچھ لوگوں نے اپنے دینی علماء او رزاہد حضرات کو خدائے حقیقی کے بجائے ،خدابنالیا ہے: ”ولایتخذ بعضنا بعضاً اربابا من دون اللّٰہ“ ہم انسانوں میں سے بعض لوگوں نے دوسرے بعض لوگوں کو اپنا خدا او رحاکم بنالیا ہے ۔
لہٰذا توحید عملی یا توحید در عبادت یعنی فقط خدا ہی کو اپنا مطاع(جس کی اطاعت کی جائے) اور قبلہ روح، نیز جہت ِحرکت اور کمال مطلوب قرار دینا اور دوسرے کسی مطاع ، قبلہ اور ”آئیڈیل“ کو دل میں جگہ نہ دینا ، یعنی فقط خدا کے لئے جُھکنا، خدا کے لئے قیام کرنا، خدا کے لئے خدمت کرنا، خدا کے لئے جینا اور اسی کے لئے مرنا، جیسا کہ حضرت ابراہیم(ع) فرماتے ہیں :
اِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالارْضَ حَنِیْفاً وَمَآاَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ قُلْ اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاِتیَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰالَمِینَ لَاشَرِیْکَ لَهُ وَبِذٰلِکَ امِرْتُ وَاَنَااوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (سورہ انعام آیت ۷۹،۱۶۲،۱۶۳)
”میں نے تو باطل سے کتراکر اس کی طرف منھ کرلیا ہے جس نے بہتیرے آسمان وزمین پیدا کئے او رمیں مشرکین میں سے نہیں ہوں،بے شک میری نماز ، میری عبادت ، میری زندگی اور میری موت (سب کچھ )خدا کے لئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں او رمجھے اسی چیزکا حکم دیا گیا ہے او رمیں خدا پر ایمان رکھتا ہوں“
اس کے بعد استاد مطھر ی(رہ) فرماتے ہیں :
یہ توحید ابراہیمی ان کی توحید عملی ہے ۔(بہ نقل از کتاب جھان بینی توحیدی ص ۵۹)
پس جیسا کہ مرحوم استاد مطھری (رہ) کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ”توحید درعبادت“ یعنی فقط اور فقط خدا کی عبادت اورصرف اسی کی اطاعت کرتے ہیں یعنی یکتا پرستی یعنی ربّ واحد او رخداء واحد کی عبادت اس طرح کہ اسی کو تمام مخلوقات کا خالق جانیں ۔
محبان علم ومعرفت کی مزید آگاہی کے لئے عرض کرتے ہیں کہ: علماء اسلام (خصوصا ً علم کلام یعنی اعتقادی مسائل کے محقق اوروہ حضرات کہ جنھوں نے اصول دین اور اعتقادات سے دفاع کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اعتقادی مسائل کی تحقیق اور دفاع میں مشغول ہیں) ان علماء کرام نے توحید کے سلسلہ میں ایک کلاسک ( Classique )تقسیم بندی کی ہے ، جیسا کہ ہم نے اسی کتاب میں بیان کیا ہے اور وہ توحید کہ جس کے چار مرحلے یا چار درجے ہیں :
۱۔توحید ذاتی ،۲۔ توحید صفاتی، ۳۔ توحید فعلی(افعالی)، ۴۔توحید عبادی (توحید عبادت)۔
لیکن ہم نے مرحو م استاد مطھری(رہ) کی کتاب ”آثار صفاتی“ (البتہ اسی سے ملتا جلتا مطلب شھید بہشتی (رہ) کی کتاب ”خدا ازدیدگاہ قرآن“ میں بھی موجود ہے) میں ایک نئی تقسیم بندی دیکھی ہے کہ جو واقعاً ایک نئی اور بہترین دکھائی دیتی ہے ، اور وہ تقسیم توحید نظری کے لحاظ سے ہے (کہ جو پھلی تین قسموںیا تین مرحلوں کو شامل ہے) او ر توحید عملی کہ جو ایک قسم کا عمل اور سلوک ہے اور معمولاً ایسا لگتا ہے کہ توحید درعبادت صرف عملی پھلو رکھتا ہے اور اعتقادی پھلو اس میں نہیں ہے ، جبکہ یہ وہم نادرست ہے اور غیر دقیق اور خلاف واقع نتیجہ گیری ہے ، ”توحید در عبادت“ اگرچہ عمل کی ایک قسم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اعتقادی پھلو بھی ہے ، استاد شھید مطھری کے اس بیان کی طرف توجہ فرمائیں تاکہ آپ حضرات پر مطلب واضح ہوجائے ،چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:
”توحید در عبادت“(عبادت میں توحید) ایک ایسا موضوع ہے جو ایک لحاظ سے خدا سے مربوط ہے اور ایک لحاظ سے انسان سے ، خدا سے مربوط ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی دوسراعبادت کی لیاقت نہیں رکھتا،چاہے ملک مقرب ہو یا نبی مرسل یا ولی خداکوئی بھی ہو، اس عالم ھستی میں صرف خدا کی ذات ہے جو پرستش اور عبادت کی شائستگی رکھتی ہے (یہ وہی ”توحید در عبادت“ کا اعتقادی پھلو ہے، جس کو استاد مطھری نے بیان کیا ہے) اور اس لحاظ سے خدا سے مربوط ہے ، لیکن دوسرا لحاظ جو انسان سے مربوط ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا وظیفہ ہے کہ خدا وندعالم کی ذات مقدس کے علاوہ کسی کو معبود اور الہٰی قرار نہ دے،(یہ بھی ”توحید درعبادت“ کا عملی اور کرداری پھلوہے)
اس بناپر توحید نظری کے معنی ”کیسے جاننا“ اور” کیسے فکر کرنا“ھے اور یہ اعتقادی مسئلہ ہے لیکن توحید در عبادت (اعتقادی اورنظری پھلو کے پیش نظر کہ جو اس کی بنیاد ہے) ”بودن“(ھونا)یعنی ”موحد ہونا“ یعنی انسان کی زندگی کا طور طریقہ او ران کے اعمال وکردار ، اور یہ مرحلہ ایسا نہیں کہ صرف اعتقادی اور نظری پھلو نہ رکھتا ہو بلکہ یہ ایک ”دوپھلو والااعتقاد“ ہے ،نظری پھلو (یعنی صرف اور صرف خدا عبادت کا مستحق ہے) اور عملی پھلو یعنی صرف خدا کے فرمان او رحکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں، اور فقط وفقط اس کی عبادت کی جائے، توحید عبادی اس طرح ہے کہ جس میں ”نظر وعمل“ دونوں میں موجود ہیں کہ جن کا ایک دوسرے سے جدا ہونا مشکل ہے، قارئین کرام استاد مطھری (رہ) کی کتاب ”خدا درزندگی انسان“ کی طرف رجوع فرمائیں
[۳۲] ایک بار پھر عرض کرتے ہیں کہ ”عبادت میں شرک“ سے مراد کسی کو خدا، ربّ اور خالق مانتے ہوئے اس کے سامنے خضوع وخشوع اور سرتسلیم خم کرنا ہے، جیسا کہ ہمارے عظیم الشان علماء کرام نے شرک کی اس تعریف کو قبو ل کیا ہے مثلاً حضرت امام خمینی (رہ) نے اپنی کتاب ”کشف الاسرار“میں او رمرحوم آیت اللہ شیخ جواد بلاغی (رہ) نے اپنی عظیم (ناتمام) تفسیر ”الآء الرحمن“ میں شرک کے یہی معنی کئے ہیں ، لہٰذا اگر کوئی انسان کسی نیک اور کریم افراد کے سامنے خضوع او رخشوع سے پیش آئے درحالیکہ ان کو خدا، ربّ، خالق اور الٰہ تصور نہ کرے، یعنی ان کی خدائی کا اعتقاد نہ رکھے بلکہ ان کا احترام اس وجہ سے کرے.
[۳۳] سورہ انبیاء آیت ۲۷
[۳۴] کتاب توسل، سید محمد ضیاآبادی ص ۷۴۔
بانی وہابیت محمد ابن عبد الوہاب کے حالاتِ زندگی
فرقہ وہابیت کا بانی محمد ابن عبد الوہاب ہے جس کا نسب، وہیب تمیمی تک پہونچتا ہے ،
اس نے مکہ ومدینہ میں تعلیم حاصل کی ، اس میں گمراہی اور ضلالت کے آثار اسی وقت سے ظاہر تھے، خود اس کے باپ نے کہ جو صالح علماء میں سے تھے اس میں گمراہی وضلالت کا احساس کیا اور اسی وجہ سے اس کو چند بار تنبیہ بھی کی، اور لوگوں کو اس کی پیروی سے روکا، خود اس کا بھائی سلیمان بن عبد الوہاب بھی اس کے کارناموں پر اعتراض کرتا تھا، آخر کار اس کے بھائی نے خود محمد ابن عبد الوہاب کی ردّ میں ایک کتاب بھی تحریر کی، عبد الوہاب نے سب سے پھلے ان لوگوں کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کیا کہ جھنوں نے نبوت کا دعوی ٰ کیا تھا ، مثلاً: مسلیمہ،سجّاح،اسود عنسی اور طلیحہ اسدی، محمد ابن عبد الوہاب ان لوگوں کے حالات زندگی پڑھنے کا بہت شوقین تھا او ران کے حالات کا شیفتہ بن چکا تھا۔( ۱ )
محمد ابن عبد الوہاب نے چار بیٹے چھوڑے کہ جن کے نام اس طرح ہیں: عبد اللہ، حسن، حسین اور علی، اس کے مرنے کے بعد اس کے بڑے بیٹے عبد اللہ نے اپنے باپ کے پروگراموں کو آگے بڑھایا، اور اس کے مرنے کے بعد اس کے دو بیٹے سلیمان وعبد الرحمن اس کے جانشین ہوئے، خصوصاً سلیمان بہت زیادہ متعصب تھا، ۱۲۳۳ ھ میں ابراہیم بادشاہ کے ذریعہ قتل ہوا، اور اس کا بھائی عبد الرحمن بھی گرفتا رکرلیا گیااور جلاوطن کرکے مصر بھیج دیا گیا اور اس کا وہیں پر انتقال ہوگیا۔
محمد ابن عبد الوہاب کے دوسرے فرزند یعنی حسن کا بھی ایک بیٹا عبد الرحمن تھا کہ اس زمانے کے وہابیوں کا مکہ میں قاضی قرار دیا گیا اور حدوداً سو سال کی لمبی عمر پائی، اور اس نے بھی ایک بیٹا بنام عبد اللطیف چھوڑا، او رحسین وعلی نے بھی بہت سی اولادیں چھوڑی کہ جو اب بھی ”دِرعیہ“شھر میں رہتے ہیں اور ”فرزندان شیخ“ کے نام سے مشھور ہیں ۔
سب سے پھلے جس نے محمد ابن عبد الوہاب کو اس کے عقائد میں اس کی تائید ومدد کی، محمد ابن سعود اور اس کا بیٹا اور پوتا عبد العزیز او رسعود ہے۔
سعود بن عبد العزیز اس ملعون کا نام ہے کہ جس نے عراق او رحجاز میں جنگ کرائی اورمسلمانوں کو خانہ کعبہ کی زیارت سے روکا، او راپنے زمانہ میں حج بند کرادیا۔( ۲ )
ملطبرون کہتا ہے : وہابیت کی اصل وبنیاد یہ ہے کہ اہل عرب مخصوصاً اہل یمن آپس میں یہ قارئین کرام ! جھوٹے پیامبروں کے حالات ِ زندگی سے مزیدآگاہی کے لئے حسب ذیل کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں:
۱ ۔پیامبران دروغین، تالیف ڈاکٹر بحریہ اوج اوک۔ ۲ ۔تاریخ سیاسی اسلام، تالیف ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن۔ ۳ ۔تاریخ یعقوبی ترجمہ مرحوم ڈاکٹر ابراہیم آیتی۔ ۴ ۔سیرہ ابن ہشام، ترجمہ رسول محلاتی۔
گفتگو کیا کرتے تھے کہ ایک سلیمان نامی چرواہے جس نے ایک خواب دیکھا تھا کہ اس سے ایک آگ کی چنگاری نکلی اورزمین پر بکھر گئی، اور جوبھی اس کے سامنے آگیا اس کو جلاکر راکھ کردیا، اس نے اس خواب کو ایک خواب کی تعبیر کرنے والے سے بتایا، اس نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ تیری اولاد میں سے ایک ایسا بیٹا پیدا ہوگا کہ ایک بہت بڑی طاقت کا مالک ہوگا اور ایک بڑی حکومت بنائے گا۔
اور اس کے خواب کی تعبیر اس کے پوتے محمدمیں پوری ہوئی ، جس وقت محمد ابن عبد الوہاب بڑا ہوا، اپنے ہم وطنوں کے درمیان اس خواب کی بنا پر کہ معلوم نہیں کہ صحیح بھی ہے یا نہیں ، بہت محبوب تھا، اس نے پھلے اپنے مخفی مذہب کو چوری چھپے آشکار کیا او راسی طرح کافی تعدا د میں اپنے مرید بنالئے اس کے بعد شام کا سفر کیا اور چونکہ وہاں کسی نے اس کے نئے مذہب کو پسند نہ کیا،دوبارہ اپنے وطن واپس لوٹ آیا۔
اس کے بعد وہ نجد گیااو راپنے مذہب کو کُھلے عام ظاہر کرنا شروع کردیا اور سعود نے اس کی پیروی کی ، وہ ایک ہوشیار او رمحکم آدمی تھا، اپنے ہر کام کو ایک دوسرے کے ذریعہ تقویت کرتا تھا، سعود نے اس محمد ابن عبد الوہاب کے نئے مذہب کی پیروی کرکے اپنی حکومت کے ستونوں کو مضبوط کرلیا، او ر محمد ابن عبد الوہاب نے بھی سعود کی فوجی طاقت او راس کی شمشیر کے زور پر اپنے نئے مذہب کو پھیلایا او راس کو مضبوط کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ سعود اس منطقہ کا حکمراں او ربادشاہ بن گیا اور محمد ابن عبد الوہاب مذہبی رھبر بن بیٹھا۔
ان میں ہر ایک کی اولاد اپنے اپنے باپ کی جانشین ہوئی او رجس وقت سعود نے اپنے قبیلہ والوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد یمن کے دوبڑے قبیلوں پر بھی غلبہ حاصل کرلیا اور عرب کے دوسرے قبائل نیز نجد کے تمام عرب وہابیت کے مرید ہوگئے۔
شھر درعیہ کہ جو بصرہ کے مشرق میں واقع ہے ، پائے تخت قرار دیا او ر ۱۵ سال تک سعود کی حکومت جاری رہی، اس کے بعد بھی اپنی حکومت کو وسعت دینے کے لالچ میں لگا رہا۔
وہ اپنے ماننے والوں سے ایک دہم چارپائے،غلات اور پیسہ یھاں تک کہ انسان بھی لیتا تھا ، جی ہاں وہ اپنے ماننے والوں سے قرعہ کشی کے ذریعہ ایک دہم انسانوں کو بھی اپنی خدمت گذاری کے لئے لیتا تھا، جس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑی دولت اور ایک بڑی فوج اس نے جمع کرلی ، کھا جاتا ہے کہ اس کی فوج ایک لاکھ چوبیس ہزار لوگوں پر مشتمل تھی۔
”خلاصة الکلام“ نامی کتاب میں اس طرح تحریر ہے :
محمد ابن عبد الوہاب ۱۱۴۲ ھ میں ظاہر ہوا، اور پچاس سال کے بعد اس کا مذہب مشھور ہوا اور اس کے خرافاتی عقائد نجد میں آشکار ہوئے ، اور کھلے عام اپنے مذہب کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
درعیہ کے حکمراں محمد ابن سعودنے اس کی نصرت کی ، اور وہاں کے رھنے والوںکو اس کی پیروی کی دعوت دی ،یھاں تک کہ تمام لوگوں نے اس کی پیروی کی، اور رفتہ رفتہ عرب کے بہت سے قبیلوں نے اس کی پیروی کرنا شروع کردی، اور اس نے ایک عظیم لشکر بنالیا کہ جس کی بناپر صحراء نشین بھی اس سے ڈر نے لگے۔
اس کانعرہ تھا کہ ”میں تم کو توحید اور یکتاپرستی کی دعوت دیتا ہوں او رچاہتا ہوں کہ شرک کو بالکل ختم کروں“
آلوسی(سنی مولف) لکھتا ہے کہ: محمد ابن عبد الوہاب نجد کے ”عُیینہ“ شھر میں پلا بڑھا، حنبلی فقہ کو اپنے باپ سے حاصل کیا او راسی بچپنے سے عجیب وغریب باتیں کیا کرتا تھا، او ر مسلمانوں کے بہت سے متفق علیہ اعمال وعقائد کے خلاف باتیں کیا کرتا تھا، او ران پر نکتہ چینی کیا کرتا تھا، لیکن کسی نے اس کی مدد نہ کی ، اسی زمانے میں اس نے اپنے شھر عیینہ سے مکہ کی طرف اورپھروہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، مدینہ میں شیخ عبداللہ نامی شخص کے پاس درس پڑھا اور رسول اسلام(ص) کی مرقد منور کے پاس لوگوں کے استغاثہ او رتوسل کو سن کر سخت تنقید کیا کرتا تھا، اس کے بعد وہاں سے نجد ، نجد کے بعد بصرہ اورپھر وہاں سے شام کی طرف سفرکیا، بصرہ میں کچھ مدت قیام کیا او رشیخ محمدمجموعی کے درس میں شرکت کی، اس شھر میں بھی مسلمانوں کے بہت سے اعمال پراعتراض کیا ، لوگوں نے اس کو اپنے شھر سے نکال دیا، اور یہ حضرت وہاں سے بھاگ نکلے۔
ان تحویل وتحول کے بعد نجد کے شھر” شرہ حریملة“ گیا، اور چونکہ اس کاباپ بھی اسی شھر میں تھا وہیں قیام کیا او راپنے باپ کے درس میں شرکت کی ، اس دوران بھی نجد کے مسلمانوں کے بعض عقیدوں کامذاق اڑایا اور ان پر تنقید کی، جبکہ اس کاباپ اسے اس کام سے روکتا رہتا تھا لیکن وہ تب بھی نہیں مانتا تھا، جس کے نتیجہ میں باپ بیٹے میں کئی بار اختلاف اور جھگڑا بھی ہوا۔
وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ کئی بار جھگڑے بھی ہوئے، دوسال یہی کشمکش جاری رہی۔
۱۱۵۳ ھ میں اس کے باپ کا انتقال ہوگیا، اس وقت اس کی جرات اوربھی بڑھ گئی ، اور اپنے عقیدہ کو بغیر کسی روک ٹوک کے آشکار کرنے لگا، مسلمانوں کے مورد اتفاق مسائل واعتقاد پر حملہ آور ہوتا تھا، اس نے اپنے نزدیک چند غُنڈے بھی جمع کررکھے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اس کی باتوں سے ناراض ہوگئے اور اس کے قتل کی تیاری شروع کردی وہ یہ دیکھ کر وہاں سے بھاگ نکلااور عُیَینہ چلاگیا۔
اس زمانہ میں عیینہ شھر کا حکمراں عثمان بن احمد بن معمر تھا، محمد ابن عبد الوہاب نے اس سے نجد کی حکومت کا وعدہ کیا ، جس کی بناپر اس نے اس کی کمک ونصرت کی ، او رمسلمانوں کے عقائد واعمال کو مورد حملہ قرار دیا، جس کی بناپر شھر کے بعض لوگ اس کے مرید ہوگئے، اس موقع پر جبیلہ میں زید بن خطاب کے مزار کو گراکر خاک کردیا، وہابیت اس زمانہ میں ترقی کرنے لگی، اس کی خبریں احساء ، قطیف و اطراف کے حکمراں سلیمان بن محمد بن عزیز حمیدی تک پہونچی، سلیمان نے عیینہ کے حکمراں عثمان کے پاس ایک خط لکھا اور اس کو محمد ابن عبد الوہاب کے قتل کے لئے حکم دیا اور اس فرمان کی مخالفت سے ڈرایا، عثمان ،سلیمان سے مخالفت کی طاقت نہیں رکھتا تھا جس کی بناپر محمد ابن عبد الوہاب کو پیغام پہونچایاکہ اس کی حکومت اور شھر سے جلد از جلد نکل جائے ورنہ خطرہ ہے ، جس کے جواب میں محمد ابن عبد الوہاب نے عثمان کو تمام نجد کی حکومت کی بشارت دی، لیکن عثمان نے اس کی اس بات کو قبول نہ کیا، بالآخر محمد ابن عبد الوہاب ۱۱۶۰ ھ میں درِعیہ شھر ”مسیلمہ کذاب کے وطن“ میں چلا گیا۔
اس وقت اس سر زمین کا حکمراں محمد بن سعود ”قبیلہ عُنیزہ“ سے تھا، محمد ابن عبد الوہاب نے اس کی بیوی کے ذریعہ اس تک رسائی کی، اور اس کو نجد کی حکومت کا لالچ دیا، او رمسلمانوں کے قتل عام کے لئے اس سے عھد کیا، اس کے بعد نجد کے تمام صوفیوں اورروساء کے پاس ایک خط لکھا : جس میں ان کو اس کے نئے مذہب کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی ، جس کی بعض لوگوں نے پیروی کی اور بعض لوگوں نے اس کی کوئی پروانھیں کی۔
اس نے درعیہ کے لوگوں کو جنگ وجدال کی دعوت دی، انھوں نے بھی اس کا مثبت جواب دیا، اور اس کے ساتھ نجداور احساء کے لوگوں سے کئی بار جنگ کی، کہ جس کی بناپرکچھ لوگوں نے اپنی خوشی سے اور کچھ نے مجبوراً اس کی دعوت پر لبیک کھا، اور اس وجہ سے تمام نجد پر خاندان سعود کی حکومت ہوگئی۔
محمد ابن عبد الوہاب کا ۱۲۰۶ ھ میں انتقال ہوگیا، اور اس کے بعدمحمد ابن سعود بھی اس دنیا سے چل بسا، اور اس کا بیٹا عبد العزیز اس کا جانشین ہوا، اور اس نے بھی وہابیت کی بھر پور حمایت کی، اور اس کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لئے متعدد جنگیں کیں،یھاں تک کہ اس کے سپاہی نجد کے دور دراز علاقہ تک گئے۔
اور جب عبد العزیز مرا، اس کابیٹا سعود اس کا جانشین ہوا، سعود وہابیگری میں اپنے باپ سے بھی زیادہ متعصب تھا، یہ وہ شخص تھا جس نے مسلمانوں کو خانہ کعبہ کی زیارت سے روکااور اپنے مخالفین کو دائرہ کفر میں رکھنے کی بہت زیادہ کوشش کی، اور جب اس کا انتقال ہوا، اس کا بیٹا عبد اللہ جانشین ہوا۔
”خلاصة الکلام“ میں ایک دوسری جگہ یوں لکھا ہے :
”شریف مسعود کی حکومت کے زمانہ میں وہابیوں نے بحث وگفتگو کرنے کے لئے ۳۰ علماء کو مکہ ومدینہ بھیجا، شریف مسعود نے حرمین کے علماء سے درخواست کی کہ آپ حضرات ان لوگوں سے بحث وگفتگو کریں،مکہ کے علماء نے ان کے ساتھ بحث ومباحثہ کیا ، جس کے نتیجہ میں ان کو فاسد العقیدہ اور بے بنیا د پایا، اور قاضی شرع نے ان کے کفر کا فتویٰ صادر کردیا، اور ان کے زندان کا حکم بھی دیدیا، ان میں سے بعض لوگ بھاگ گئے اور بعض لوگوں کو زنداں میں بھیج دیا گیا۔
۱۱۹۵ ھ میں دوبارہ شریف احمد کی حکومت کے زمانہ میں درعیہ شھر کے حکمراں نے چند وہابی علماء کو بحث کے لئے روانہ کیا تاکہ مکہ کے علماء سے بحث ومناظرہ کریں، اور جب مناظرہ ہوا، مکہ کے علماء نے ان کے کفر والحاد کو تشخیص دیتے ہوئے خانہ کعبہ کی زیارت کی اجازت تک نہ دی۔
فرقہ وہابیت اگر چہ بارھویں صدی میں محمد ابن عبد الوہاب کے زمانے میں ظاہر اور نشر ہوا، لیکن جیسا کہ ہم نے متعدد بارعرض کیا کہ وہابیت کی داغ بیل ساتویں صدی میں ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم جوزی اور ابن عبد الھادی وغیرہ کے زمانہ سے پڑچکی تھی۔( ۳ )
محمد ابن عبد الوہاب کی دعوت کا طریقہ
”ابن بشر“ کہتا ہے : جس وقت شیخ محمد ابن عبد الوہاب نے شھر درعیہ کو اپنا وطن قرار دیا اس شھر کے لوگ نھایت جھالت وگمراہی میں تھے نماز وزکوٰة کی ادائیگی میں سستی کرتے تھے ، نیز دوسرے اسلامی امور میں بھی اسی طرح کاہلی کرتے تھے ، شیخ نے سب سے پھلے انہیں ”لاالہ الّا اللّٰہ“کے معنی سکھایا جس میں نفی اور اثبات دونوں ہیں اس کا پھلاجز”لاالہ“تمام معبودوں کی نفی کرتا ہے اور اس کا دوسرا جز ”الا اللہ“ خدا کی وحدانیت کا اثبات کرتا ہے۔
اس کے بعد ان کو ایسے چند اصول سکھائے جو خدا کے وجود پر دلالت کرتے تھے مثلاً سورج چاند اور ستارے ، دن رات ، اور ان کو اسلام کے معنی بتائے کہ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے احکامات کے سامنے تسلیم ہونا اور اس کے نواہی سے دوری کرنا ہے ۔
اسی طرح دوسرے اسلامی ارکان سے آشنا کیا، پیغمبر اکرم(ص) کا حسب و نسب ، بعثت کی کیفیت ، اور آپ کی ہجرت سے آشنا کیا،اور بتایاکہ آنحضرت کی سب سے پھلی دعوت کلمہ ”لاالہ الاّ اللہ“ تھی، نیز اسی طرح بعثت وقیام جیسے موضوعات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ خدا کی مخلوق سے کسی طرح کا کوئی استغاثہ نہیں کرنا چاہئےے اور اس سلسلہ میں بہت مبالغہ سے کام لیا۔
اس کے بعد شیخ محمد نے نجد کے قضات اور روساء کو خط لکھا جس میں ان کو اپنی اطاعت اور مطیع ہونے کے بارے میں دعوت دی ، جس کی بعض لوگوں نے اطاعت کی او ربعض لوگوں نے نافرمانی کی، اور شیخ کی دعوت کا مذاق اڑایا اور شیخ کو نادان و بے معرفت جیسے القابات سے نوازا، بعض لوگوں نے اس کو جادوگر کھا اور بعض نے اس کو بری بری نسبتیں دیں۔
شیخ نے اہل درعیہ کو جنگ کا حکم دیا ، او رکئی مرتبہ اہل نجد سے جنگ ہوئی ، یھاں تک کہ لوگوں کو شیخ کی اطاعت پر مجبور کردیاگیااورآل سعود نے نجد اور اس کے اطراف پر غلبہ پیدا کرلیا۔
محمد ابن عبد الوہاب کا غنائم جنگی تقسیم کرنے کا طریقہ
شیخ محمدابن عبد الوہاب کاغنائم جنگی تقسیم کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی مرضی کے مطابق اس کو خرچ کرتا تھا اورکبھی کبھی غنائم جنگی کو (جن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی تھی) اپنے مریدوں میں ۲ یا ۳ لوگوں کو دیدیتا تھا ، جتنی بھی غنائم جنگی ہوتی تھیں وہ سب کی سب شیخ کے اختیار میں ہوتی تھی او رنجد کا حکمراں بھی اس سے اجازت لے کر خرچ کیا کرتا تھا، اس کے علاوہ امیر نجداپنے سپاہیوں کے لئے اسلحہ لینا چاہتا تھا شیخ کی اجازت ہی سے یہ کام بھی کیا کرتا تھا۔
آلوسی کہتا ہے : اہل نجد نے شیخ کی طرح کسی بھی عالم کی اس قدر اطاعت نہ کی اور یہ واقعاً ایک عجیب بات ہے کہ اس کے ماننے والے آج تک (آلوسی کے زمانہ تک) اس کو چار اماموں (ابو حنیفہ ، شافعی، مالک، احمدبن حنبل)کی طرح مانتے ہیں،اور اگر کسی نے اس کو بُرا کھا تو اس کو قتل کردیتے تھے۔
زینی دحلان کا بیان ہے کہ : شیخ محمد کے کاموں میں سے ایک کام یہ تھا کہ جوبھی اس کی پیروی کا دم بھرے وہ اپنا سر منڈائے ،لیکن اس کام کو خوارج اور بدعت گذاروں نے انجام نہ دیا۔
سید عبد الرحمن اہدل مفتی زبید کہتا ہے کہ : وہابیوں کی رد میں کوئی کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں ، ان کے لئے رسول اسلام کی یہ حدیث کافی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:” سیماہم التحلیق“ ان کی نشانی سرمنڈانا ہے ۔
اتفاق سے شیخ نے ایک عورت کو جب اپنی پیروی کرنے کے لئے مجبور کیا تو اس عورت نے اس سے کھا: جب تو عورتوں کو سر منڈانے پر مجبور کرتا ہے تو مردوں کو بھی اپنی ڈاڑھی منڈانے پر مجبور کر، کیونکہ عورت کے سر کے بال او رمردوں کی ڈاڑھی کے بال دونوں زینت ہوتے ہیں ، شیخ کے پاس اس کا کوئی جواب نہ بن پایا۔( ۴ )
عبد الوہاب کے بیٹے کا سرانجام
”جس وقت شیخ محمد نے ریاض (سعودی کا حالیہ پائے تخت) کو فتح کرلیا، اس کے بعد اس کا ملک وسیع ہوتا چلا گیا، رفتہ رفتہ فتنہ وفساد ختم ہوتے گئے، اور تما م بڑے بڑے لوگ اس کے مطیع وفرمانبردار بن گئے، شیخ محمد نے اموال اور غنائم اور لوگوں کے دوسرے امور کوعبدالعزیز بن محمد بن سعود کے حوالہ کردئے، اور خودعبادت اور تدریس میں مشغول ہوگیا، لیکن عبد العزیز نے پھر بھی اس کو نہیں چھوڑا او راپنے تمام کام شیخ کے نظریہ کے مطابق انجام دیتا رہا، اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہا، یھاں تک کہ شیخ محمد ابن عبد الوہاب ۱۲۰۶ ھ میں اس دنیا سے چل بسا۔( ۵ )
محمد ابن عبد الوہاب کی تالیفات
کتاب ”کشف الشبھات“ میں شیخ کی تالیفات کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے :
کشف الشبھات، تفسیر کلمة التوحیدو ادلتھا، تلقین اصول العقیدة العامة، معنی الطاغوت وروس انواعہ، مختصر سیرة الرسول، ہذہ مسائل، بعض فوائد صلح الحدیبیہ، ستة موضع من السیرة، نواقض الاسلام، احکام تمنی الموت، مختصر الانصاف والشرح الکبیر، نصیحة المسلمین، تفسیر بعض سور القرآن، الاصول الثلاثة، اربع قواعدمن الدین، ثلاث مسائل، احکام الصلاٰة، مختصر زاد المعاد، مختصر تفسیر سورة الانفال، الاصل الجامع لعبادة اللّٰہ وحدہ، مسائل الجاہلیة، فضل الاسلام، اربع قواعد تدور الاحکام علیھا، کتاب الکبائر، اصول الایمان، احادیث فی الفتن والحوادث، الرسائل الشخصیة،کتاب الطھارة، الخطب المنبریة، فضائل القرآن، القواعد الاربع، ستة اصول عظیمة مفیدة، شروط الصلوٰةوارکانھا وواجباتھا، مجموع الحدیث(چار جلدیں) مبحث الاجتھاد والخلاف، الردّ علی الرافضة، فتاویٰ ومسائل، تفسیر آیات القرآن الکریم، مفید المستفید فی حکم تارک التوحید، رسالة فی توحیدالعبادة، مختصر صحیح البخاری، آداب المشي الی الصلاٰة۔( ۶ )
کھا جاتا ہے کہ” کتاب التوحید “اس کی اہم ترین کتاب تھی نیز یہ وہی کتاب تھی جس نے تاریخ کا رخ موڑکر رکھ دیا اور اس کتاب نے اصلاح اور نوآوری کی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔( ۷ )
جب کہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد انسان اس نتیجہ پر پہونچتا ہے کہ اس کتاب میں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ وہی ابن تیمیہ او رابن قیم جوزی والی باتیں تکرار ہوئی ہیں ، او رمسلمانوں پر تہم تیں او ران کی نسبت نازیبا الفاظ اس کتاب میں موجود ہےں اس کے علاوہ قرآن وحدیث کے ظاہری اور ابتدائی معنی پر مشتمل نتائج اخذ کئے ہیں ، اور اس کتاب میں دقیق اورعلمی نکات بالکل نہیں ہیں او رواقعاً اس کتاب نے تاریخ کے رخ کو موڑ دیا ہے اور اس کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ واقعاً اس کتاب نے تاریخ کا رخ تجدید ومجدد اور مسلمانوں کی شوکت وعظمت کو تنزلی اور زوال اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اندازی ، قتل وغارت کی طرف موڑاہے ، یہ کتاب او رشیخ محمد کی دوسری کتابوں نے مسلمانوں کے اتحاد کے خلاف ایک بہترین حربہ کی شکل اختیار کی ، اورانکے جدا ہونے کا بہترین سبب بنی ہے، او رخود استعمار گروں نے اس فرقہ کے نظریات کو محمد ابن عبد الوہاب کو ایک طریقہ سے املاء بولا تھا جس سے انھوں نے بہت کچھ فائدے اٹھائے اور آج بھی اس سے متعدد فائدے اٹھارھے ہیں ۔
عجیب بات تو یہ ہے کہ آج کے اسلامی دنیا کے بعض دانشوروںاو رمولفوں نے غیروں اور اسلام دشمن لوگوں کی طرح اس شیخ محمد کو ”مجدد“ اور ”مصلح“ کا لقب دیا ہے اور اس کے کارناموں کو مسلمانوں کے لئے ”اصلاحی دعوت“ کے نام سے یاد کیا ہے اور اس کے انقلابی نظریات کی داد وتحسین میں مشغول ہیں۔( ۸ )
____________________
[۱] روضة المحبین ونزھة المشتاقین تالیف ابن قیم جوزی ، باتصحیح صابر یوسف چاپ موسسہ جامعہ درس نشر وتوزیع ،بیروت۔
[۲] یہ عجیب بات ہے کہ وہابیت کا بانی اپنی تحصیل علم کی زندگی کے آغاز سے جھوٹے پیغمبروں کے حالاتِ زندگی کے مطالعہ کا شوقین تھا، او ریہ بات واضح ہے کہ اگر کوئی شباہت او رسنخیت نہیں تھی تو پھر ایسے لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے کیا لگاؤ تھا کہ جنھوں نے پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کیا ہو ، لیکن ان تمام چیزوں سے پتہ یہ چلتا ہے کہ وہ بھی ان کے راستہ کو آگے بڑھانا چاہتا تھا ، او رایک نیا مذہب ایجاد کرنے والا تھا، جس کا ھادی اور رھبر بن کر خود لوگوں کے سامنے سرفراز ہونا چاہتا تھا۔
[۳] کل سعود بن عبد العزیز نے لوگوں کو خانہ کعبہ کی زیارت اور حج سے روکا تھا ، آج اس کی اولاد آلِ سعود (خذلہم اللہ) نے بے گناہ حاجیوں کا قتل عام کیا، اور شھیدوں کے داغدار والدین او رمعلولین ومجروحین جو اپنے دفاع پر ذرہ برار بھی قدرت نہیں رکھتے تھے ،خیانت کار امریکہ کے حکم سے خانہ خدا کے آس پاس حاجیوں کو گولیوں کے ذریعہ بھون ڈالا،جن میں بعض لوگ زخموں کی کثرت کی وجہ سے ابھی تک ناقابل شناخت ہیں ،واقعاً انھوں نے اپنا یہ سبق(مسلمانوں کا خون بھانا) اپنے دادا سعود بن عبد العزیز سے سیکھا ہے خدا ان پر ہمیشہ لعنت کرے ، خدا ان دل کے اندھوں او رجنایتکار وں کے نوکروں پر لعنت کرے یہ لوگ حرم پاک کے غاصب ہیں،حج کے مناسک اور شعائر الہٰی کو انجام دینے میں بھی مانع ہوتے ہیں ۔
[۴] ”تاریخچہ ونقد وبررسی عقائد واعمال وہابی ھا“ تالیف سید محسن الامین(رہ)، ترجمہ سید ابراہیم سید علوی ص۳تاص۸۔
[۵] وہابیان ص۱۵۳۔
[۶] وہابیان ص۱۵۵۔
[۷] ازالة شبھات، کشف الشبھات کا فارسی ترجمہ، تالیف محمد ابن عبد الوہاب ،ترجمہ ابو خالد فضل اللہ ص ۲۸۔
[۸] مقدمہ مترجم بر کشف شبھات۔
حج کا سیاسی پھلو
اسلام کے عظیم فقھاء میں سے ایک بزرگ فقیہ کے فرمان کے مطابق جیسا کہ حج کے مراسم اور اعمال عمیق اور خالص ترین عبادت کو پیش کرتے ہیں وہ ایسے ہی حج اسلامی اہداف و اغراض و مقاصد کی پیش رفت کے لئے ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے خدا کی طرق توجہ اور روح عبادت ہے اور خدا کی مخلوق پر توجہ روح سیاست ہے ،اور حج کی یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اس طرح پیوستہ ہیں کہ ایک ہی چیز محسوس ہوتی ہے ۔
حج مسلما نوں کو متحد کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ اور عمل ہے ۔
حج تعصبات ، نسل پرستی و اختلافات اور جغرافیائی سرحدوں میں محدود اور منحصر ہونے سے چھٹکارے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
حج مسلمانوںکے درد و غم اور مشکلات سے آگاہی اور ان کے حل کی چارہ جوئی کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔
حج رکاوٹ اور بندشوں کو توڑنے اور ظالمانہ نظا م کو ختم کرنے کا وسیلہ ہے،اس ظالمانہ نظام کو جو دنیا کی قدرتمند اور ظالم حکومتوں کی طرف سے اسلامی حکومتوں میں رائج کیا گیا ہے ۔
حج اسلامی ممالک کی سیاسی جڑوں کو ایک جگہ سے دوسری جگھوں پر پہونچانے کا بہترین وسیلہ ہے ۔
حج غلامی او رسامراجی زنجیروں کو توڑنے اور مسلمانوں کو غلامی ظالمانہ نظام سے نجات دلانے کا مؤثر وسیلہ ہے یہی وجہ تھی کہ اس زمانہ میں جب بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم و جابر حکمراں، اسلام کی مقدس سرزمین پرقابض تھے اور مسلمانوں کے ہر طرح کے میل جول کو تحت نظر رکھتے تھے تا کہ ہر آزادی کی تحریک کو کچل دیں اور اعتراض کی ہر آواز کو گلوںھی میں گھونٹ دیں ایسے دردناک زمانہ میں ایام حج کا آنا آزادی اوراسلامی معاشرے کے ایسے روابط اور مختلف سیاسی مسائل کو ایک دوسرے کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک دریچہ کا کام دیتا تھا ۔
اس وجہ سے حضرت علی (ع) حج کے فلسفہ کے متعلق فرماتے ہیں ” اَلحَجُّ تَقوِیَةُ الدِّینِ‘ ‘ خداوند عالم نے حج کو دین کے لئے باعث تقویت بنایا ہے ،ایک غیر مذہب اور مشھور سیاست داں کا یہ کھنا بلاوجہ نہیں ہے کہ وہ اپنی پُر معنی گفتگوکے دوران کہتا ہے کہ افسوس ، مسلمانوں کے حال پر کہ اگر حج کے معنی نہ سمجھیں اور افسوس اسی طرح مسلمان دشمنوں پر کہ اگر حج کے واقعی معنی کو درک کریں۔یھاں تک کہ اسلامی روایات میں حج کو ضعیف اور کمزور افراد کے لئے جھاد کے نام سے یادکیا گیا ہے ، حج ایسا جھاد ہے کہ جس میں بوڑھے ، ناتوان مرد اور کمزور عورتیں بھی شریک ہو کر اسلام کی عظمت و جلال کودنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ، اور خانہ کعبہ کے ارد گرد نمازیوںکی صفوں میں کھڑے ہوکر وحدت و تکبیر کی آواز بلند کرکے دشمن کی کمرتوڑسکتے ہیں اور دشمنوں کے ایوانوں میں لرزہ پیدا کرسکتے ہیں ۔( ۱ )
حج اور خانہ کعبہ کا طواف شرک سے نفرت اور مشرکوں سے بیزاری کابہترین موقع ہے
اگرچہ ہر طرح کی عبادت شرک سے نفرت اور طاغوت سے بیزاری ہی کا نام ہے ، اسی طرح حج اور خانہ کعبہ کا طواف بھی نمازھی کے مثل ہے یا یہ کہ اسمیں بھی نماز ہے ”اَلطَّوافُ بِالبَیتِ فَاِنَّ فِیهِ صَلاةٌ “( ۲ )
یہ روایت بھی اسی اصل اور بنیاد کی حکایت کر رہی ہے ( یعنی طاغوت سے بیزاری اورشرک سے نفرت ) چونکہ حج ایک مخصوص عبادت ہے جس میں سیاست کی بھی آمیزش ہے اور دنیا کے مختلف طریقوں کا اس عبادت میں حاضر ہونا ایک بہترین اور مناسب موقع ہے تاکہ الله کی دوسری عبادتوںکی طرح اس قابل ملاحظہ مجمع میں روح عبادت بہتر طور پر جلوہ گر ہو اور اس خاص عبادت کا جوہر اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمکے لہذا فرمان الٰھی کے مطابق پیغمبر اسلام(ص) نے اسلامی حکومت کے نمایندے حضرت علی (ع) کو مشرکوں سے بیزاری کے اعلان پر مامور فرمایا تاکہ توحید کی سرحد شرک و طاغوت کی سر حد سے مکمل اور قطعی طورپر جدا ہوجائے ، اور مسلمانوں کی صفیں کفار ومشرکین کی صفوں سے ممتاز اور علیحیدہ ہوجائیں اور اس طرح سے حج کاسیاسی اور عبادی چھرہ جلوہ گر ہو اور بیت الله کے زائر اسلامی حکومت کایہ منشور سن کر جو شرک سے نفرت او رمشرکوں کے سامنے تسلیم نہ ہونے پر مشتمل ہے اس پیام توحید کو اس طرح ( جیسا کہ مسلمان اپنی زندگی میں بہت سے کاموں میں کعبہ کی سمت متوجہ ہوئے ہیں ) ویسے ہی بیت اللہ کی برکت سے توحید کا پیغام بھی دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیل جائے۔( ۳ )
”( وَاَذَانُ مِنَ اللهِ وَ رَسُولِهِ اِلَی النَّاسِ یَومَ الحَجِّ الاَکبَرِ اِنَّ اللهَ بَريءٌ مِنَ المُشرِکِینَ وَ رَسُولُهُ فَاِن تُبتُم فَهُوَ خَیرٌ لَکُم وَ اِن تَوَلَّیتُم فَاعْلَمُوا اَنَّکُم غَیرُ مُعجِزِیِ الله ) “( ۴ )
اور حج اکبر کے دن ( جس دن سب حاجی مکہ میں جمع ہوتے ہیں ) الله ورسول کی طرف سے یہ عام اعلان ہے کہ الله اور اسکا رسول(ص) دونوں مشرکوں سے بیزار ہیں ، لہذا اگرتم لوگ توبہ کروگے( اور اسلام لے آؤ گے ) تو تمھارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں بہتر ہوگا اور اگر انحراف کیا تو یاد رکھنا کہ تم خدا کی قدرت پر غالب نہیں آسکتے ( بلکہ خدا اور رسول(ص) کی قدرت کے سامنے کمزور رھوگے)۔
قرآن کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے امام زمانہ(عج) کے نائب کبیر سید العلماء والعرفاء و سید الفقھاء حضرت امام خمینی (رہ) ( طاب ثراہ ) نے بپھرے ہوئے شیر کے مانند حج کے زمانہ میں مشرکوں سے بیزار ی کی آواز بلند کی ، اور تمام حاجیوں کومشرکوں سے بیزاری کے لئے دعوت دی ، یھاں پر ہم تبر کاً امام زمانہ(عج) کے نائب کے جامع پیغام اور منشور مقدس کی چند سرخیاں پیش کرتے ہیں ۔
حاجیوں کے نام حضرت امام خمینی (رہ) کے پیغا م کا خلاصہ
مشرکوں سے بیزار ی کا وہ اعلان جو ار کان توحید میں سے ایک رکن اور حج کے سیاسی واجبات میں سے ایک فریضہ ہے ، ایام حج میں شجاعت او ر مردانگی کے ساتھ شاندار اور بہتر طریقہ سے مظاہروں کی شکل میں انجام دیناچاہئے ، ایرانی وغیر ایرانی حجاج کو چاہئے کہ حج کے ذمہ دار افراد اور ہمارے نمایندہ جناب حجةالسلام آقای کروبی سے مکمل ہماہنگی کے ساتھ تمام پروگراموں میں شرکت کریں اورمشرکوںسے بیزاری نیز سامراجی ملحدوں ، خصوصاً ظالم امریکا سے خانہ توحید میں برائت و بیزاری کی آواز بلند کریں اور الله اور اسکی مخلوق کے دشمنوں سے اظھار نفرت میں غفلت نہ برتیں ۔
کیا دینداری ،حق سے محبت او رباطل سے اظھار نفرت او رغم وغصہ کے سوا کچھ اور ہے ؟ یکتا پرستوں کو اسوقت تک ھرگز عشق حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ مشرک ومنافقوں سے مکمل نفرت کا اظھار نہ کریں او راس کے لئے خانہ کعبہ سے بہتر اور کون سی جگہ ہو سکتی ہے ، خانہ کعبہ ، خانہ امن اورطھارت ہے اور وہاں پر ظلم و تجاوز غلامی ونامردی جیسی قبیح صفات پائی جاتی ہیں اسکی نسبت سبھی لوگوں پر واجب ہے کہ اپنی گفتارا ور کردار سے اظھار نفرت کریں ، او ر( الَستُ بِرَبِّکُم ) کے میثاق کی تجدید کرتے ہوئے متفرق اسباب اور خدائی کے دعوے دار بتوں کو توڑدیں۔
پیغمبر اسلام (ص) کی سیاسی تحریک کے سب سے بڑے اور اہم ترین واقعہ (”وَاَذَانُ مِنَ اللهِ وَ رَسُولِہِ اِلَی النَّاسِ یَومَ الحَجِّ الاَکبَرِ)کوزندہ کریں او رمکرر انجام دیںچونکہ یہ سنّت پیغمبر(ص) ہے ، اور اپنے مقدس دفاع اور مجاہدت کی صفوں کو مضبوط ومستحکم کریں ، اور شیطان کی پیروی کرنے والے مردہ دل او ربے خبر افراد کومسلمانوں کی صفوں میں گھس کر ان کے عقیدہ اور عزت پر حملہ کرنے کا اس سے زیادہ موقع نہ دیں ، اور ہر جگہ اورھر سرزمین سے خصوصاً کعبہ حق میں خدا کے لشکر سے مل جائیں ، زائرین اور حجاج عزیز ، عشق اور شعور اور جھاد کی مقدس اور بہترین سرزمین سے ایک بلند اور بالا کعبہ کی طرف سفر کریں او رجیسا کہ شھیدوں کے سید وسالار حضرت ابیٰ عبدالله الحسین (ع) نے احرام حج سے احرام حرب و جنگ او رکعبہ و حرم کے طواف سے مالک کعبہ کے طواف اور زمزم سے وضوء کے بجائے خون شھادت سے وضوء فرمایا ویسے ہی ان کی سیرت پر چلتے ہوئے ایک شکست ناپذیر امت اور سیساپلائی ہوئی دیوار میں تبدیل ہوجائیں تاکہ پھر نہ مشرق کی سوپر پاور اسکے مقابلہ میں ٹھھر سکیں اور نہ مغرب کی طاقت اسکی تاب لاسکے ۔
یقیناً حج کا پیغام او رحج کی روح اسکے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ تمام مسلمان جھاد بالنفس کے دستورالعمل کو بھی سیکھیں نیز کفر وشرک کے خلاف بر سرپیکار ہونے کے طو روطریقہ کوبھی ۔
بھر حال ایام حج میں بیزاری کا اعلان ،عھد مبارزہ کی تجدید اور گرو ہ مجاہدین کی کفر وشرک اور بت پرستی کے خلاف نبرد کے جاری رکھنے کی مشق ہے اوریہ نعروں ہی میں منحصر نہیں بلکہ یہ منشور جھاد کے آشکار اعلان کی ابتدا ہے نیز ابلیس و شیطان صفتوں کے لشکر کے مقابلہ میں خدا کے لشکر کی سازماندھی او رتیاری ہے اس کا شمار توحید کے بنیاد ی اصولوں میں ہوتا ہے، اگر مسلمان الله کے گھر میں برائت کا اظھار نہ کریں تو پھرکھاںپر اظھار کرسکتے ہیں ، او راگر حرم وکعبہ و مسجد اور محراب ،خدائی فوج اور مدافعین حرم اور برائت کے مورچہ اور ان کے لئے پشت پناہ نہ ہوں تو اس سے بہتر اورکیاپناہ گاہ ہوسکتی ہے۔
یہ بات فرسودہ اور پرانی ہونے والی نہیں کہ اعلان برائت فقط ایام حج میں منحصر نہیں ہو سکتا بلکہ مسلمانوں کو چاہئےے کہ پورے عالم کو ذات حق کے لئے عشق و محبت سے اور خدا کے دشمنوں کے لئے بغض و نفرت سے لبریز کردیں ،خنّاس اور منحرف افراد کے وسوسوں شبھات اور تردید پر کان نہ دھریں ،پورے جھان کو اسلام میں شامل کرنے نیز توحید کے مقدس ساز اہنگ سے ایک لمحہ بھی غفلت نہ برتیں چونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ دنیا کے ظالم ، جابر ،خونخوار اور ملتوں کے دشمن اب چین و سکون سے نہ بیٹھیں گے طرح طرح کے حیلوں اور بھانوں سے مختلف شکلوں اور لباسوں میں طرح طرح کے حربے استعمال کریں گے اور بظاہر مقدس نظر آنے والے اور حکومتوں کی روٹیوں پر پلنے والے درباری ملاّ قوم پرست افراد اور منافقین غلط اور منحرف فہم و تفسیر اور فلسفہ استعمال کریں گے مسلمانوں کو غیر مسلم کہنے ، ان کی شجاعت اور ھیبت پر ضرب لگانے اور امّت محمدیہ کا اقتدار ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔
عجب نہیں کچھ جاہل اور سادہ لوح افراد یہ کھیں کہ خانہ حق کعبہ کی عظمت کو نعروں ، مظاہروں اور اعلا ن برائت سے پامال نہیں کرنا چاہئے اور شاید یہ بھی کھیں کہ حج تو عبادت و ذکر کی جگہ ہے نہ کہ صف آرائی و رزم گاہ ،اور عجب نہیں کچھ ضمیر فروش علماء بھی یہ بات ذھن نشین کرانے کی کو شش کریں کہ مبارزہ ،برائت اور جنگ و غیرہ ہمیشہ دنیا داروں کا کام رہاہے یایہ کھیں کہ ایام حج میں سیاسی مسائل کا چھیڑنا روحانیت اور علماء کی شان کے خلاف ہے یہ اور اس طرح کی دوسری باتیں ظالم دشمن کی تحریک اورمخفیانہ سیاست کا حصہ ہے ، لہذا مسلمانوں کو اپنے تمام امکانات اور لازمی وسائل کے ساتھ مسلمانوں کے مفاد اور الٰھی ارزشوںسے دفاع کے لئے میدان عمل میں آجانا چاہئے اور جب انبیاء کا احترام باقی نہ رہا تو پھر کسی کے لئے بھی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوسکتی ۔
خلاصہ مطلب یہ ہے کہ مبارزہ اور قیام کا پھلا مرحلہ بیزاری کا اعلان ہے ،اور اسکے دوسرے مرحلوں کا جاری رکھنا ہمارا فریضہ ہے اور یہ کام ہر زمانے کے مطابق مناسب طور طریقوں اور شان و شوکت کے ساتھ ہونا چاہئےے ،ہم یں یہ دیکھنا چاہیئے کہ دور حاضر میں کفر و شرک کے علمبرداروں نے توحید کے وجود اور وحدانیت کے تصورکو خطرہ میں ڈال رکھا ہے ، اور ہر قوم اور ملّت کے دینی ، سیاسی ، اور تمدنی ،مظاہروں کو ہوس پرستی اور شھوت نفسانی کا کھلونا بنا رکھا ہے ، ایسے حالات میں کیا کرنا چاہئےے ؟۔
کیا گھر میں بیٹھ جانا چاہئے اور انسان و انسانیت کی منزلت کی توہین اور اسکے بارے میں غلط تحلیل، شیطان اور اسکی ناجائز اولاد کی طرف سے مسلمانوں میں عجز وکمزوری کی تبلیغ و ترویج کو برداشت کر لینا چاہئےے اور معاشرے کو کمال حقیقی اورخلوص آرزو کی انتھا تک پہونچنے سے روک دینا چاہتے ہیں ؟ اور فقط تصور کر لینا چاہتے ہیں کہ انبیاء اکرام (ع) کا قیام فقط لکڑی اور پتھر کے بے جان بتوں کو توڑنے ہی میں منحصر تھا ،( نعوذ بالله)
حضرت ابراہیم (ع) جیسے اولوالعزم پیغمبر بت شکنی میں پیش قدم اور ظالموں کے خلاف جھاد کے میدان کو تر ک کردیں؟ حالانکہ حضرت ابراہیم (ع) نمرودیوں نیز چاند ، سورج اور ستاروں کی پوجا کرنے والوں کے خلاف ، بت شکنی جنگ اور تمام مجاہدت جو ایک عظیم ہجرت کا مقدمہ ہے اور وہ تمام ہجرتیں ، سفرکی صعوبتیں نیز دوسرے مسائل و آلام کا برداشت کرنا بے آ ب و گیاہ وادی میں سکونت ، خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت اسماعیل (ع) کا فدیہ سب اسی رسالت و بعثت کا مقدمہ ہے جس میں خاتم النبیین ، معمار کعبہ کے حرف بحرف پیغام کا اعادہ کرتے ہےں اور اپنی ابدی رسالت کو ابدی کلام:
”اِنَّنِی بَرِی مِمَّا تُشرِکُونَ “ کے ذریعہ ابلاغ کرتے ہےں ، لہٰذاہم اگر بت پرستی وغیرہ کی اسکے علاوہ تفسیر وشرح اور بررسی کرےںتوگویا ایسا ہے جیسا کہ دور حاضرمیں بت اور بت پرستی کا وجود ہی باقی نہیں کیا کوئی عاقل انسان ایسا ہے جو اس نئی اورماڈرن بت پرستی کو اسکی مخصوص مشکلوں اور حیلہ اور بھانوں کے ساتھ نہ پہچانتا ہو ؟ اور اسلامی ممالک اور مسلمانوںکی جان ومال و عزت و آبرو اور تیسری دنیا پر وائٹ ھاوس جیسے بت خانہ کے تسلط کی خبر نہ رکھتا ہو ،؟!
آج کافر اور مشرکوں سے ہماری بیزاری کی آواز، ظالم کے ظلم کے خلاف ہے اور یہ اس امّت کی فریاد ہے ،جس کی جانیں مشرق و مغرب کی طاقتوں خصوصاً امریکا اور اسکے ہمنواؤں کے تجاوز اور ظلم و تشدّدسے لبوں تک آچکی ہیں ، یہ اس غمزدہ امّت کی فریادھے جسکا گھر ،وطن، عزت ، آبرو اور مال و متاع تباہ و برباد کر دیا گیا۔
ہمارا یہ بیزاری کا اعلان افغانستان کی رنجیدہ اور مظلوم ملّت کی فریادھے،اور مجھے افسوس ہے کہ روس کی حکومت نے میری یاد دھانی اور افغانستان کے بارے میں دی گئی دہم کیوں پر عمل نہ کیا، اور اس اسلامی ملک پر حملہ کردیا ، میں نے متعدد بار کھاہے اور اب بھی یاد دھانی کرارہا ہوں کہ کم از کم افغانستان کی ملّت کو اسکے حال پرچھوڑ دو ،افغانستان کے لو گ خوداپنی تقدیر کا فیصلہ کرلیں گے اور حقیقی آزادی حاصل کرلیں گے ، ان کو ”کرملن“ کی سرنوشت او رامریکہ کی رھبری کی ضرورت نھیں، یہ بات مسلم ہے کہ افغانی مجاہد غیر ملکی فوج کو افغانستان کی سر حد سے نکالنے کے بعد کسی دوسری حکومت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور اگر امریکا نے سرزمین افغانستان پرقدم رکھنے کا ارادہ بھی کیا تو اسکو کچل کر رکھ دیں گے ۔
ہمارا اعلان بیزاری افریقہ کے مسلمانوں کی فریاد بھی ہے ” انکی فریاد جو ہمارے دینی بھن بھائیوںکی فریادھے ، جن کو سیاہ ہونے کے جرم میں بے دین، قوم پرست اور روسیاہ ظالموں کے تازیانے کھانے پڑرھے ہیں ۔
ہماری یہ برائت کی آوازلبنان اور فلسطین کے مظلوم لوگوں کی فریادھے اور ان تمام ممالک اور قوموں کی فریاد ہے جن پر مشرق ومغرب کی طاقتیں اپنی حریصانہ نظریں جمائے ہوئے ہیں اور ان کی مال ودولت کو غارت کررھے ہیں، اور اپنے نوکروں کو ان پر مسلط کررکھا ہے اور ہزاروں کیلومیٹر دور رہتے ہوئے بھی ان کی سر زمین پراپنے منحوس پنجے گاڑ رکھے ہیں اور ان کی زمینی اور دریائی سرحدوں پر قبضہ کر رکھا ہے ۔
ہماری یہ آواز ان سب لوگوں کے دل کی آواز ہے جو امریکہ کی فرعونیت، ظلم وبربریت اور تسلط سے تھک چکے ہیں اور برداشت کی حدوں سے گذرچکے ہیں او راب نہیں چاہتے کہ ان کے غم وغصہ او رنفرت وغضب کی آواز ان کے سینوں میں ہی گھٹ کر ہمیشہ کے لئے دم توڑدے ، اور جنھوں نے آزاد زندگی گذارنے اور آزادی سے مرنے کا ارادہ کرلیا ہے او رپوری نسل کے فریادرس اور امین ہیں ۔
ہمارا یہ اعلان بیزاری اپنے مکتب حیثیت او راپنی ناموس کے دفاع کی فریاد ہے ، اپنے مال ودولت او رمنابع وذخائر کے دفاع کی فریاد ہے یہ اس مجبور مظلوم اور درد مند قوم کی فریاد ہے ،جس کے دلوں کو کفر ونفاق کے خنجروں نے چیر ڈالا ہے۔
ہماری یہ فریاد ان بھوکے پیاسے، ننگے او رپابرھنہ لوگوںکی غربت او رافلاس کی فریاد ہے کہ جن کے رات دن خون پسینہ کی کمائی کو دنیا کے لیٹروں اور بین الاقوامی ڈاکؤں نے چھین کراپنے خزانہ بھر لئے ہیں، سرمایہ داری، سوسیالیزم اور کمیونیزم کے نام پر زحمت کش افراد مزدور کسان اور غریب لوگوں کے جگر کا خون نچوڑ رھے ہیں اور پوری دینا کے اقتصاد کی رگ ِحیات کو اپنی مٹھّی میں لے رکھاہے اور دنیا کے بے بس افراد کو ان کے چھوٹے چھوٹے حقوق سے بھی محروم کررکھا ہے ۔
ہماری یہ برائت کی فریاد ، اس امّت کااظھار بیزاری ہے جسکو نیست ونابود کرنے کے لئے پور ا کفر و استکبار گھات میں بیٹھا ہے ، اور کفر نے اپنے تمام تیرکمان اور نیزوں کا رخ قرآن واہل بیت (ع) کی طرف کررکھا ہے، ایساکبھی نہیں ہوسکتا کہ :
امّت محمد(ص) اور کوثر اور چشمہ عاشورا سے سیراب ہونے والے اورصالحین کی وراثت کی منتظر قوم ،ذلّت کی موت یاغرب و شرق کی غلامی پر راضی ہوجائے او ریہ بھی ممکن نہیں کہ دیو صفت مشرک و کافر ،قرآن اوراہل بیت رسول(ص)، امت محمد(ص) اور حضرت ابراہیم (ع) کی پیروی کرنے دالوں پر ظلم وتجاوز اور بربریت کا کھیل کھیلتے رہیں اور خمینی خاموش او رآرام سے بیٹھ کر مسلمانوں کی ذلّت اور حقارت کا تماشہ دیکھتا رھے ۔
میں نے اپنے خون او راس ناقابل جان کو مسلمانوں سے دفاع کے اہم فریضہ کو ادا کرنے کے لئے آمادہ کر لیاہے اور شھادت کی عظیم کا میابی کے انتظار میں ہوں ،تمام دشمن طاقتیں (سوپر پاورس) اور ان کے زر خریدغلام یہ یاد رکھیں کہ اگر خمینی(رہ) تنھا بھی رہ جائے تو بھی اپنی اس راہ یعنی کفر و شرک و ظلم اور بت پرستی کے ساتھ جنگ کو جاری رکھے گا اور اس راہ سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں رھے گا اور خداوند رحمن کی مدد سے اسلامی دنیا کے تمام رضا کاروں کے ساتھ اور ڈکٹیٹروں کے غضب میں گرفتار ان تمام پا برھنہ غربت زدہ اور مظلوم افراد کے ساتھ مل کردنیا کے تمام ظالم و جبّار جوبار بار ظلم و تشدّد کا کھیل ، کھیل رھے ہیں اور ان کے نو کروں پر آرام کی نیندیں حرام کردوں گا۔( ۵ )
یزید (اوربنی امیہ ) کے جانشینوں کی نا خلف اولاد
کے ھاتھوں حاجیوں کا قتل عام
مورخہ ۶ ذی الحجہ ۴۰۷ اہ جمعہ کے دن غروب کے وقت جب ایرانی مسلمان حاجی مکہ مکرمہ میں توحیدی نعرے لگاکر مشرکین سے بیزاری کا اظھار کررھے تھے ، سعودی عرب خونخوار اور وحشیوں کے ھاتھوں خاک و خون میں غلطاں کردے گئے ، پھلے سے سوچا سمجھا اور مسلح حملہ مظاہر ہ کرنے والے جلوس پر اس حالت میں کیاگیا کہ انقلاب اسلامی ایران عراق کی ایران پر تحمیلی جنگ کے دوران زخمی شدہ افراد جو اپنے دفاع پر قادرنہ تھے اور فرار بھی نہیں کرسکتے تھے ، مظاہرہ کر نے والے جلوس میں سب سے آگے تھے یہ حملہ اسقدر بزدلانہ اور وحشیانہ تھا کہ وہ عورتیں کہ جو شھیدوں کی مائیں بھنیں او ربیویاں تھیں اور ابھی اپنے عزیز او رجوان شھیدوں کے غموں کو نہ بھولنے پائی تھیں ان پر بھی رحم نہ کیاگیا اور بموں کے دہماکوں سے ان جگر سوختہ اورغمزدہ عورتوں کے دلوں پر غم کا پھاڑگرا دیا گیا ، سعودی حکومت کے خونخوار اور وحشی کتوں نے زھریلی گیس اوربموں کے دہماکوں کے ذریعہ جو داغ لگایاوہ ناقابل فراموش ہے ۔
سعودی حکومت کے اس وحشیانہ اور انسانیت سوز حملہ میں جو یقیناً پھلے سے سوچا سمجھا تھا ایرانی اور غیر ایرانی کئی سو حاجی شھید ہوئے اور کافی تعداد میں زخمی ہوگئے ، حجاج بن یوسف ، یزید اور معاویہ کے جانشینوں کے ناخلف اولاد کی درندگی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ زخمیوں کی مدد کرنے سے ریڈکراس کے افراد کو بھی روکا گیا اورزخمیوں سے ملاقات کرنے کو بھی منع کیاگیا ۔
زخمیوں کے گھروالوں اور عزیزوں کو بھی ان کے دیدار کی اجازت نہ دی گئی ،یہ ظلم وبربریت کاکھیل اس جگہ اوراس مقام پر کھیلا گیا جو خدا کی طرف سے خانہ امن قرار دیا گیا ہے ، ”مَن دَخَلَهُ کَانَ آمِناً “اوروہ شھر جھاں پر حیوانات اور پرندوں تک کا شکار منع ہے مکھی ، مچھر اورگھاس پودوں تک کو نقصان پہونچا ناجائز نھیں، کئی سو مظلوم اور بے دفاع انسانوں کا قتل عام کیا اور بے دریغ ان کا خون بھاد یا گیا، اور اسی پر اکتفانہ کیا بلکہ اس قبیح فعل پر ایک دوسرے کو ٹیلیفون وغیرہ پر مبارک بادیں پیش کی گئیں !
سعودی حکومت نے درندگی اور بربریت میں یزید او رشمر کو بھی پیچھے چھوڑدیا ، اور سعود ی حکومت کے چھرے پرایسا دھبہ پڑگیاجو رھبر انقلاب کے بقول کوثر وزمزم کے پانی سے بھی صاف نہیں ہوسکتا۔
کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ اس پر امن مظاہرہ کرنے والے حاجیوں کا جرم کیا تھا اور کیوں پولیس نے انہیں زھریلی گیس اور بموں کا نشانہ بنایا ۔
کیا خادم الحرمین کا ایمان ، انسانیت اور بھادری اسی میں ہے کہ اپنے سکھائے ہوئے کتّوں کو کچھ عورتوں اور زخمی افراد پر چھوڑ دیں تا کہ وہ ان بے بس افراد کوبھوکے بھیڑئے کی طرح چیرپھاڑ دیں ،خانہ کعبہ اورحرمین شریفین کے واقعی خادموں کاکیا خوب احترام کیا اپنے شُرطوںاور بے دین پولیس سے خانہ خدا کے زائروں اور میہمانوں کی مہمان نوازی کی اورحرم امن الٰھی میں بھی مارپیٹ قتل و غارت گری اورقید وبند سے بھی دریغ نہیں کیا ، ضعیف ، کمزور او رزخمیوں پربھی رحم نہ کیا۔
حج ہر طرف سے منھ موڑکر فقط اللهکی طرف متوجہ ہوجانے کانام ہی نہیں بلکہ حج ایک ایسی عبادت ہے جسمیں سیاست کی بھی آمیزش ہے مخلوق خدا میں رھنا ان سے محبّت کرنا اور ہم آواز ہونا اور تمام مسلمانوں کے ساتھ مل کر قدم اٹھا نابھی حج ہے ، حج نماز شب کی طرح فقط ایک انفرادی عبادت نہیں ،بلکہ یہ ایک اجتماعی عبادت ہے ۔
قرآن مجیدکے فرمان کے مطابق لوگوں کے لئے حج کے بہت سے فائدے ہیں ، ان میں سے ایک فائدہ منافقوں اور خیانت کار افراد کو رسوا کرنا ہے نیزمسلمانوں کی رھبری کا جھوٹا دعوی ٰکرنے والوں کا راز فاش کرنابھی ہے،خادم الحرمین اور ملک کے لباس میں اسلامی سرزمین کو غاصب کے چھرے سے نقاب اٹھانا بھی ہے ، کعبہ مسلمانوں کی زندگی کی استقامت کا سبب ہے ، ”ج ( َعَلَ للهُ الکَعبَةَ قِیَاماً لِلنَّاسِ ) “ قرآن مجید کے حکم کے مطابق حج ،کافر ، مشرک ، ملحداور منافقوں سے برائت اور بیزاری کے اظھار کا بہترین موقع ہے ، ایرانی اور انقلابی شیعہ مسلمان یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہی حج بجا لائیں جو قرآنی اور محمدی حج ہے۔ گر چہ محمد بن عبد الوہاب اور وہابیوں کے زر خرید قلمکار آل سعود اور سعودی جلّاد اس حج کو کوئی حیثیت نہ دیں اور حج کانام نہ دیں ، وہابیوں کا کھنا ہے کہ شیعوں کا حج ہمارے حج جیسا نھیں“( ۶ )
اور وہ صحیح بھی کہتے ہیں کیوں کہ شیعوں کا حج جوش و خروش اور ولولہ کا حج ہے نہ کہ خاموش حج، سعودی حکومت کی اپنے اس بڑے جرم کو جس نے اسے پورے عالم اسلام میں رسوا کرکے اس کے چھرے سے نقاب کھینچ لی ہے ، چھپانے کی بے ہودہ کوشش کی ہے، جتنا چاہیں چھپائیں اور جس قدر چاہیں بھانہ بازی کریں لیکن اس جرم سے ان کا کثیف اورخبیث سلسلہ در ہم و برہم ہو کررھے گا۔(انشاء اللہ)
اور خدائے قھار جو ربّ البیت اور منتقم حقیقی ہے خانہ کعبہ اور حرمین شریفین کی بے حرمتی کا بدلہ امر یکہ کے زرخرید غلاموں سے لے کر رھے گا”( مَکَرُو ا وَ مَکَرَاللهُ وَ اللهُخَیرُ المَاکِرِینَ ) “( ۷ )
”او ریھودیوں نے(عیسیٰ (ع) سے) مکاری کی او رخدا نے اس کی دفیعہ کی تدبیر کی او رخدا سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے“
سرزمین ایران سے خورشیدانقلاب اسلامی کا طلوع ہونا اور پھر اسکی درخشان اور قابل ملاحظہ کا میابیوں نے دنیا کے ظالم ،ستمگر اور سامراجی نوکروں کے دلوں میں رعب ،وحشت اور دبدبہ ڈا ل دیاہے اور سعودی مزدور خیانت کار اور ملحدوں کو اسطرح وحشت زدہ اور حراساں کردیا ہے کہ کبھی وہ قتل و غارت گر ی کے ذریعہ اس آواز کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی درباری ملّاوں کو جمع کرکے حج کی غلط تفسیر کرتے ہیں اور حج کو فقط ایک غیر سیاسی شکل میں پیش کرتے ہیں،اور کبھی سیم وزر، درہم و دینار کے لالچی قلمکاروں کوشیعیت اور ایران کے اسلامی انقلاب کی ردّ میں کتابیں لکھنے پر آمادہ کرتے ہیں اور کبھی مجبور ہوکر اپنے خونخوار حکام کے اشاروںپر اور شاہ اور اس کے ہم پیالہ اورہم مشربوں کی تشویق پر درندہ صفت پولیس اور وحشی کتّوں کے ذریعہ بیت الله کے زائروں کے درپے ہو جاتے ہیں ان کا قتل عام اور ان کا خون بھاتے ہیں۔
لیکن ہمیں کیاڈر کہ اپنے اس جان کا ناقابل ہدیہ محبوب حقیقی کی بارگاہ میں پیش کریں ، اوراصل معبود سے ہمکنار ہوں ، ہماری قوم نے آزادی کی قیمت چکانے کے لئے اپنے آپ کو پھلے سے آمادہ کر رکھا ہے، اور نہ صرف یہ کہ شھادت سے نہیں گھبراتے ،بلکہ قرآن اوراسلام کے مقدس مقاصد کو پائے تکمیل تک پہونچا نے کے لئے شھادت سے ہم آغوش ہونے کےلئے بے قرار ہیں۔
اس سال ایران کے مسلمان اور انقلابی حاجیوں نے نئے انداز کا احرام زیب تن کیا اور خانہ کعبہ سے صاحب کعبہ کی طرف پرواز کیا
کعبہ یک سنگ سیاہی است کہ رہ گم نشود
حاج احرام دگربند و بیین یار کجا است
”بھول نہ جانا اوربھٹک نہ جانا کہ خانہ کعبہ فقط ایک راستہ ہے معبود حقیقی تک پہونچنے کے لئے ، لہذا اسکے لئے ایک دوسرے احرام کی ضرورت ہے تا کہ مالک کعبہ کے وصال سے ہمکنار ہوسکیں“
یہ الله وحدہ لاشریک کے دل سوختہ عاشق اور وادی فنا کے ہجر کے درد سے آشنا محبوب،جنھوں نے جماران کے شیر سے سیرو سلوک ، عرفان او رعشق کا درس لیا ہے اپنے پیرو مرشد خمینی عظیم کی طرح موت کو وحشت زدہ کردیا ہے شھادت کے لمحہ کو عید اور وصال کا دن اور دینداری کا وہ لمحہ سمجھتے ہیں کہ جب فراق و ہجر کی کلفتیں دم توڑ دیتی ہیں وہ اس دنیائے فانی سے چلے جاتے ہیں ، تا کہ اپنے معشوق کی شمع وصال کے اردگرد پروانہ کا کام انجام دیں اور اپنی جان کے ناقابل ہدیہ کو اللہ تعالیٰ پر نچھاور کریں ، وہ بخوبی جانتے تھے کہ وصال کی قیمت ادا کررھے ہیں۔
قدم براہ طلب چون نھی زجان بگریز
کہ شرط راہ بو جان من سبکباری !
”جب کسی طلب کی راہ میں قدم رکھو تو جان دینے سے گریز نہ کرو چونکہ اس راہ کی شرط یہ ہے کہ انسان ھلکا پھلکا رھے“
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو قربان گاہ عشق اور میعاد گاہ معشوق میں ان سعودی بے رحم جلّادوں کے ھاتھوں جو کعبہ وصال کی راہ میں مکاری سے گھات لگائے ہوئے بیٹھے تھے ، خاک و خون میں غلطاں ہوکر اس ظلمت کدے اورجھان فانی سے گذرکر خدا ئے متعال کے جوار رحمت میں آرام فرما رھے ہیں اور ابدی سعادت کی عظیم کامیابی اور کامرانی پر فائز ہوچکے ہیں خداوند عالم اور انبیاء اور اولیاء حق کی ابدی لعنت اور نفرین ہوجرم پیشہ سعودی وہابی جلاد پر جو کعبہ او رحرم الٰھی کے غاصب ہیں ۔
اختتام کلام اور دعا
خدایا! تجھ کو تیرے اولیاء کے نور قلب،صالحین کے پاک نفوس، سیدالشھداء کے طاہر و مطھر خون کا واسطہ یہ ایام محرم جو حضرت سید الشھداء کی شھادت سے منسوب ہے ، تجھ کو تیری غیرت کا واسطہ اور تجھکو تیری عزّت و جلال کی قسم ان مظلوم شھیدوں کے بھائے گئے خون ناحق کا انتقام اس حکومت اور آل سعود بدنھاد خاندان سے طلب کر اور ان کو اپنے قھرو خشم اور غضب کی آتش کا مزہ چکھا اور اس خبیث نسل کو صفحہ ھستی سے نیست و نابودفرما، (الہٰی آمین)
خدایا تیری بارگاہ میں درخواست ہے کہ ہمارے عزیز اور عظیم رھبر کو اپنی پناہ میں رکھ اور ان کی خواہش میں ( جو تیری خواہش اور تیرے دین کے لئے ضروری ہے ) کامیابی اور کامرانی عطا فرما اور ہمیں ان کی واقعی اور حقیقی اطاعت کی توفیق اور لیاقت عطا فرما اور ہمار ے مخلص فوجیوں اور لشکر کو میدان جنگ میں مکمل کامیابی سے ہمکنار کر اور شھداء کے محترم اہل خانہ کو صبر جمیل اور اجر جزیل عنایت فرما اور ہم کو اپنی یادسے ایک لمحہ بھی غافل نہ رکھ اور ہمیں ایک لمحہ بھی اپنے سے جدا نہ کر،(آمین یا ربّ العلمین)
رَبَّنَا وَ تَقَبَّل مِنَّا اِنَّکَ اَنتَ السَّمِیعُ العَلِیم
والحمد لله ربّ العالمین
اقل العباد
ڈاکٹرہمایوں ہمتی
____________________
[۱] تفسیر نمونہ جلد نمبر ا۴ ص ۷۷ا۔
[۲] و سائل شیعہ ج ۹ ص ۴۴۵)
[۳] اس حصہ کی تحریر میں نے استاد بزرگوار حضرت علامہ آیت الله شیخ عبد الله جوادی آملی مدظلہ کے مقالے بنام” نظام حج در اسلام“ سے استفادہ کیا ہے جو کتاب بنام” مجموعہ مقالات حج “ وزارت ارشاد اسلامی ، میں چھپ چکا ہے ۔
[۴] سورہ توبہ آیت ۳ ۔
[۵] فریاد برائت : حجاج بیت الله الحرام کے نام امام خمینی (رہ) کا پیغام مرداد ۳۶۶ا ش مطبع وزارت فرھنگ و ارشاد اسلامی ۔۔
[۶] اس نکتہ کہ یادآوری ضروری ہے کہ یہ جو کھا جاتا ہے کہ شیعوں کا حج ، ہم مسلمانوں کے حج جیسا نہیں ہے اس بات کو ابراہیم سلیمان جہمان نامی وہابی نے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے جس کا نام ”مقالہ ای در ردّ شیعہ“ ہے ،اور ہم نے اس کتاب حاضر کے ص ۱۵۵ / پر اسکا خلاصہ کر کے ترجمہ پیش کیا ہے اورقائین کی مزید اطلاع کے پیش نظر اس مغرض اور رافض کی عین عبارت آپ کے لئے نقل کرتے ہیں وہ ھرجگہ شیعوں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں لاکر کھڑا کرتا ہے البتہ مسلمانوں سے اسکی مراد خود وہّابی حضرات ہیں نہ اہل سنّت چونکہ وہ لوگ سنیوں کو بھی پیغمبر اسلام(ص) کی قبر مبارک کی زیارت اور بعض دوسرے مسائل میں عقیدت سے کام لینے کومحکوم کرتے ہیں اور مشرک ، کافر اور بدعت گذار کہتے ہیں ،تو تنھا شیعہ ہی نہیں کہ وہابیوںکے مغرضانہ حملات کا نشانہ ہوں بلکہ اپنےکوموحد کہنے والے سنّی حضرات محکومیت اور تکفیر میں بھی پیش قدم نظرآتے ہیں اور وہابی فرقہ کے مؤسس کی کتابیں بنام ”توحید“ یا ”کشف الشبھات “میں یہ سب باتیں نقل ہوئی ہیں چنانچہ یہ وہابی مؤلف شیعوں کے بارے میں اس طرح رقم طراز ہے :
”زد علی ذلک ان اذانهم یختلف عن آذاننا و صلاتهم تختلف عن صلاتنا ووضوء هم یختلف عن وضوء نا و صیامهم تختلف عن صیامنا وحجّهم یختلف عن حجّنا “
یعنی شیعوں کی اذان ہم مسلمانوںکی اذان سے فرق کرتی ہے اور اسی طرح ان کی نماز ، وضو، روزہ اورحج بھی ہم مسلمانوں سے مختلف ہے ۔
ہماری مذکورہ گفتگو اسطرح کے وہابیوں کے ان جھوٹ ، تہم توں کا جواب ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ انقلاب اسلامی ایران کے سارے شیعہ وسنی حجّاج سب ایک ساتھ مشرکین سے برات کے اظھار جیسے پروگرام میں شریک ہوتے ہیں اور سبھی مل کر خدا ، اسلام اور قرآن کے دشمنوںکے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ، ہماری اس پوری کتاب میں صرف وہی وہّابی حضرات مخاطب ہیں جو اپنے کو اہل توحید سمجھتے ہیں ، اور بقیہ مسلمانوں حتی برادران اہل سنّت پر کفروشرک اور بدعت کی تہم ت لگاتے ہیں ، اور ہمارے اس دعوے کا بہترین ثبوت ، متعھد علماء اہل سنّت کی وہ کتابیں ہیں جو وہابیوں کے خرافات کی ردّ میں لکھی گئی ہیں ۔
خداوند کریم! ساری دنیا میں مسلمانوں کے درمیان روز افزون الفت اور محبت قائم کر اوران کے دلوں کو ایک دوسرے سے نزدیکتر کرے ، اور ان کے دلوں میں دشمنان ِاسلام کے خلاف ہمیشہ کے لئے بغض اور نفرت کو باقی رکھ۔(آمین ثم آمین)
وضاحت کے ساتھ تحریر ہے کہ وہابی مؤلف کے مذکورہ بالا مطالب کو ”بحوث مع السلفیة واہل السنّة“ مئولفہ جناب مھدی حسینی روحانی سے ترجمہ کرکے نقل کیا ہے، قارئین کرام کتاب ہذا کی طرف رجوع فرمائیں ۔
[۷] سورہ آل عمران آیت ۵۴۔
شرک اور اس کی اقسام
شرک: یعنی غیر خدا کا شریک قرار دینا، اس کی بھی چار قسمیں ہیں:
۱ ۔ شرک ذاتی: یہ ہے کہ انسان جھان کے لئے ایک سے زیادہ مبدا کا قائل ہو جیسا کہ ”ثنویَّہ“ (دو مبدا کے قائل)دو ”یزدان“ اور ”اہریمن“ کی خالقیّت پر اعتقاد رکھتے ہیں اور نصاریٰ ”اقانیم ثلاثہ“ یعنی تین اصولوں (پدر، پسر اور روح القدس) کے جوہر کی عین وحدت کے قائل ہیں یہ عقیدہ ذاتی مبدا کے وجوب کے ساتھ سازگار نہیں ہے جو اپنی جگہ پر برہان عقلی کے ذریعہ ثابت ہوچکا ہے۔
۲ ۔ شرک صفاتی: یہ ہے کہ خدا کی صفات کو اس کی ”ذات اقدس“ پر زائد، جاننا جیسا کہ ”ممکنات“ میں ایسا ہی ہے، اس عقیدہ کا لازمہ یہ ہے کہ (نعوذ باللہ) ذات الہٰی اپنی ذات کے مرتبہ میں ہر طرح کے کمال جیسے: حیات، علم اور قدرت وغیرہ سے پاک ہو (جبکہ صفات کو حادث جانیں) یا یہ کہ صفات کو اس کی ”قدامت“ میں شریک جانیں،(جبکہ صفات کو قدیم فرض کریں)
حالانکہ خدا کی صفات جیسا کہ ہم ”توحید“ کے معنی میں اشارہ کرچکے ہیں کہ خدا کی صفات اس کی عین ذات ہیں اور کبھی بھی ”واجب الوجود“ کی ذات سے صفات کمالیہ جدا نہیں ہوسکتی، اگر چہ اس صورت میں ”واجب الوجود“ اور ھستی نامحدود تصور نہیں کی جائے گی۔
مثال کے طور پر : مٹھاس کا شکر سے جدا ہونا، یا چربی کا روغن سے جدا ہونا مساوی ہے کہ گھی اور شکر معدوم ہو جاتے اسلئے کہ گھی چکنائی، شکر مٹھاس اور نور روشنائی کے بغیر ایک نامعقول تصور کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
”( وَتِلکٴَ الاَمْثْالُ نَضْربُهَالِلنّاسِ وَمَایَعقِلُهَا اِلّاالْعَالِمُونَ ) ۔“( ۱ )
۳ ۔ شرک افعالی: یہ ہے کہ انسان عالم ایجاد، آفرینش اور تدبیر میں غیر خدا کی ”تاثیر استقلالی“ پر اعتقاد رکھتا ہو اور اس ”فاعلیت بالاستقلال“پر اعتقاد رکھتا ہو اور اس کو فاعلیت بالاستقلال میں شریک اور خدا جانتا ہو، اور تاثیر استقلالی یعنی غیر خدا،کو اثر بخشی اور اس کی تدبیر فعالیت جس طرح سے بھی ہو، اس میں وہ کسی بھی جہت سے خدا کا محتاج نہ ہو اور خود ارادہ و عمل میں ”مستقل“ اور خود کفا ہو۔
خواہ وہ اس کی استقلالی تدبیر و تاثیر بصورت ”اشتراک“یعنی خدا کے ساتھ مل جل کر انجام پائے یا یہ کہ اس کو ”تفویض“یعنی خلق ِجھان کے امور کی ذمہ داری دے دی جائے۔
عمل میں ”اشتراک“ کی نظیر یہ ہے کہ دو یا چند طاقتور آدمی ملکر ایک دوسرے کی مدد سے چاہیں کہ زمین سے ایک بہت بڑا پتھر اٹھالیں تو اس صورت میں ان میں سے ہر ایک زمین سے اس پتھر کو حرکت دینے میں دوسروں کا محتاج ہے، لیکن وہ اس مقدار میں اپنی اس طاقت کے رکھنے میں مستقل ہے اور دوسروں کا محتاج نہیں ہے۔
یھاں بھی غیر خدا کے اشتراک کی صورت کے فرض میں (نعوذباللہ) خدا اپنی طاقت کا اثر محدود ہونے کی وجہ سے عالم کی تدبیر میں دوسروں کا محتاج ہوگا اور وہ دوسرا موجود (غیر خدا) اپنے سے مخصوص مقدار طاقت کے رکھنے میں مستقل اور خدا سے بے نیاز ہوگا۔
لیکن ”تفویض“ اور خلق جھان کے امور کی غیر خدا کو واگذاری کی صورت میں خدا مخلوقات کے پیدا کرنے کے بعد تدبیر اور ادارہ امور مثلاً: زندہ کرنے، مارنے، روزی دینے، عزت و ذلت بخشنے وغیرہ کے امور سے ھاتھ کھینچ بیٹھا ہے اور تمام تدبیرات کو خود مخلوقات یا ان میں سے بعض افراد کے سپرد کردی ہے ۔
جیسا کہ یھودیوں کا اعتقادھے کہ خدا کے ھاتھوں کو امور جھان کی تدبیر سے بندھا ہوا مانتے ہیں، قرآن میں ارشاد ہے: ”( وَقَاْلَتِ الْیَهُودُ یَدُاللّٰهِ مَغْلُولَة ) “( ۲ )
”یھودیوں نے کھا: خدا کے ھاتھ تو بندھے ہوئے ہیں۔“
”غلات“ نامی ایک گروہ جس کو ”مفوضہ“ بھی کہتے ہیں،( ۳ ) عقیدہ رکھتا ہے کہ (نعوذباللہ) خدا نے پیدا اور خلق کرنے، روزی دینے، زندہ کرنے، مارنے، شفا دینے اور مشکلات کے حل کرنے وغیرہ کے تمام امور کو ائمہ طاہرین علیہم السلام کے سپرد کردئے ہیں اور خود کنارہ کشی کرلی ہے (( تعالی اللّٰه ُ عمّایقول الجاهلون علواً کبیراً ) ۔“)
یہ دونوں اعتقاد (اشتراک و تفویض) کے حقیقی مواحدوں کی نظر میں مشرکانہ اور باطل ہیں جو شرعی ممانعت کے علاوہ عقلاً محال بھی ہیں۔ یعنی عمل میں خالق کے ساتھ اشتراک مخلوق اور ایسے ہی مخلوق کو تفویض عمل اور عمل سے خالق کے اعتزال کا مسئلہ عقل سلیم کی نظر میں محال اور ممتنع الوقوع ہے۔
کیونکہ جو مخلوق ”ممکن الوجود“ ہے اور ذاتاً فاقد ھستی ہے ہر وقت خالق فیّاض کی جانب سے ”افاضہ“ کی محتاج ہے تا کہ اس سے وجود لے اور پھر ”ایجاد“ اثر کرے، لہٰذا اگر ایک آن کے لئے خداوند منّان کی جانب سے فیض بند ہوجائے تو مخلوق کا وجود ختم ہوجائے گا اس کی قدرت ایجاد تو دور کی بات ہے۔
جس امکان کا” وجود “جو واجب سے ربط اور خالق واقعی پر بھروسہ رکھنے کے سوا کچھ نہیں ہے اس کے لئے استقلال کا تصورایک نامعقول تصور ہے اور اس کو مستقل مخلوق کھنا ایک متناقض سخن ہے ، جس کا لازمہ وجود اور عدم کا ایک جگہ جمع ہونا ہے جس کا محال ہونا بھی واضح ہے ۔( ۴ )
جھان کی پیدائش ایک نظام کے تحت ہے
اگر ہم یھاں”فلسفہ“کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کریں ،تو بے جا نہ ہوگا اور وہ بحث یہ ہے کہ :فلسفہ اور حکمت الٰھی میں جن مسائل پر بحث و تحقیق ہوتی ہے ان میں سے ایک بہت ہی اہم بات یہ ہے کہ خداوندعالم نے اس جھان کو کس طرح پیدا کیا ہے ۔
اس بحث میں متفق علیہ عقلی برہان کے ذریعہ ثابت کیا جاتا ہے کہ خدا کا فعل اور اس سے اشیاء کا صادر ہونا ایک مرتب نظام و ترتیب پر برقرار ہے،یعنی اشیاء کی نسبت خدا کی فاعلیت ایک معین نظام اور ایک مشخص ترتیب پر جاری ہے۔
یعنی خدا وندعالم کی قدوسیت اور ذات و کبریائی تقاضا کرتی ہے کہ موجودات کا سلسلہ، خلق و آفرنیش کے لحاظ سے اپنے وجود کی شدت وضعف کے مطابق، ایک دوسرے کے طول اوریکے بعد دیگرے قرارپائے اور ایک کے بعد دوسرا ”الاشرف فالاشرف“ کے لحاظ سے ایجاد ہو،اور موجودات میں سے ایک اپنے خاص رتبہ میں ، اپنے اُوپر مقدم رتبہ کا معلول ہو ،درحالیکہ خود بھی اپنے سے بعد والے رتبہ کا سبب و علت قرار پائے۔
یہ تمام کثیر ایجادات جو علل و معلولاتِ مترتبہ کے سلسلہ سے صادر ہوتے ہیں، اسی واحد کی عین ایجاد ہے کہ جو خداوندعالم کی خالقیت اور ”علیّت“ کے مقامِ عالی سے صادر ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے: ”( وَمَا اَمْرُنَا اِلاّ واحدة ) “( ۵ ) ہمارا کام سوائے ایک کام کے کچھ نہیں ہے۔( ۶ )
خلاصہ یہ کہ وہ ایک کام اور وہ ایک ایجاد، عین وحدت میں متعدد مراتب اور طولیہ و کثیرہ درجات کو متحمل ہے کہ ان مراتب سے ہر مرتبہ بصورت خاص منعکس ہو کر اپنے سے نیچے والے مرتبہ کی ایجاد کی علت قرار پاتا ہے۔
مثال کے طور پر: سورج کا نور آئینہ سے ٹکرا کر دیوار پر پڑتا ہے تو اب اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دیوار کا نور، آئینہ کا نور ہے اور یہ بھی واضح وروشن ہے کہ آئینہ کا نور بھی سورج کا نور ہے اور در واقع اس واحد کا اشراق ہے کہ جو خورشید سے صادر ہوا ہے کہ پھلے صفحہ آئینہ پر اور پھر دیوار پر ظاہر ہوا کہ نہ آئینہ کے پاس اپنا کوئی نور تھا کہ دیوارپر چمکتا ہے اور نہ ہی سورج نے اپنے اشراق و چمک کو بغیر آئینہ کے ذریعہ دیوار تک پھنچایا ہے۔( ۷ )
اس باب میں شارع مقدس کا نظریہ
”یہ خلقت کا طولی نظام جو فلسفی محکم دلیلوں کے ذریعہ ثابت ہوچکا ہے، قرآن اور دین کے بزرگ رھبروں کی زبان ِمبارک سے واضح اور آسان طریقہ سے بیان ہوا ہے،جبکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی آیہ کریمہ اور انبیاء اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کی اعلیٰ تعلیمات میں مکرر ”فرشتوں اور ملائکہ ، خدا کی جنود و سپاہ کا تذکرہ آیا ہے اور ان کی مختلف عناوین کے ذریعہ : ”مدبّرات امر، مقسّمات امر، معقّبات، کاتبین اور حافظین اعمال، وحی لانے والے اورروح قبض کرنے والے وغیرہ جیسے القابات سے پہچنوایاگیاہے ، اور مکرم فرشتوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک مشخص مقام اور معین جگہ کا پتہ بتایا ہے کہ: ”وما مِنّا اِلاّلہ مقامُ معلومَُ“ ہم میں سے کوئی (فرشتہ) نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک معلوم جگہ ہے۔
اور ایسے ہی وضاحت کرتے ہیں کہ فرشتوں کے درمیان نیز چھوٹے اور بڑے درجات کا سلسلہ مقرر ہے اور مقرب ملائکہ سے ہر ایک خدا کی طرف سے ایک معین گروہ کی رھبری کے عھدہ پر فائز ہے جو اپنے اعوان و انصار کے ذریعہ سے خدا کی جانب سے دئے گئے کاموں کی تدبیریں کرتا ہے۔
مثلاً جبرئیل (ع) وحی لانے والا ایک فرشتہ ہے اور میکائیل (ع) رزق پھنچانے اور عزرائیل(ع) قبض روح کے لئے معین ہے۔
اور اسرافیل (ع) صور پہونکنے اورمردوں کو زندہ کرنے والا فرشتہ ہے، اسی طرح بعض فرشتے ہوا چلانے، بادلوں کو ادھر اُوہر لے جانے اور بارش کرنے جیسے موسمی امور کی تدبیر پر معین ہیں، بعض فرشتے دنیا میں بندوں کے اعمال لکھنے، اور آخرت میں حساب وکتاب کرنے پر مامور ہیں اور بالآخر ایک فرشتہ دوزخ کا مالک ہے اور دوسرا فرشتہ جنت کے امور پر موکل ہے اور ہر فرشتہ اپنی حاکمیت کے تحت بعض فرشتوں کو (خادم کی حیثیت سے) رکھتا ہے۔
اور سب کے سب فرشتے خداوندعالم کے فرمان کے تابع ہیں اور اس کے امور کو انجام دینے والے ہیں۔
اور ایسے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ کتاب و سنّت (آیات و روایات) نے واضح طورپر اور صراحت کے ساتھ خاص تدبیری مقامات کو بعنوان :
عرش، کرسی اور لوح و قلم، کوخدا کے نزول حکم کے لئے پھنچوایا ہے اور فرشتوں کے ایک گروہ کو ”حاملان عرش“ اور ”مَنْ حول العرش“ کی وصف کے ساتھ امور جھان کی تدبیر کرنے والے کی حیثیت سے معرفی کی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دین کے یہ صریح بیانات، خداوندعالم کی فاعلیت اور مقام ربوبیت سے عالم خلقت اور موجودات کے سلسلہ میں ایک مرتب اور منظم نظام و تشکیلات کے بارے میں خبر دیتے ہیں۔
اور اس حقیقت کو بطور واضح سمجھاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ خداوند متعال کا ارادہ ہر موجود کی خلقت کے سلسلہ میں بطور مستقیم اور بلاواسطہ اس سے متعلق ہوگیا ہو اور جھان کے تمام موجودات سے ہر ایک بطور مستقل اور دوسروں سے جدا گانہ پیدا ہوگیا ہو۔
کیونکہ یہ تصور قطع نظر اس سے کہ وہ اپنی جگہ پر جن کو محکم عقلی دلائل کے ذریعہ مشروح بیان کیاگیا ہے، ان کے ساتھ منافات رکھتا ہے اور خلقت میں ایک طرح کی مشکل کا باعث ہے، دین کی روشن منطق کے ذریعہ نیز ”تدبیر عالم میں وساطت“ کی اصل مسلّم اور آفرنیش کے وسیع پھلو اور خلقت کے وسیع نظام میں فرشتوں کے مدبر اور فعّال ہونے کے وجود پر قطعی اعتقاد کے ساتھ بھی ناساز گار ہے۔
اس لئے اس حقیقت پر کامل توجہ رکھنی چاہیئے اور کبھی بھی اس کو بھولنا نہیں چاہیئے کہ تدبیر امور خدا کی طرف سے مختلف کاموں میں فرشتوں کے ماذون اور نظام الٰھی میں ہر ایک فرشتہ کا مقام معلوم پر فائز ہونے میں جو فرشتوں کی وساطت ہے نہ کہ ”اعتباری“ قرار دادوں اور ایسے اجتماعی منصبوں اور مقاموں کی وساطت ہو جو بشری معاشروں کی تشکیلات میں پائے جاتے ہیں ایسی وساطت کی قرار داد اور اعتبار کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں ہوتی ہے جیسے ایک ڈاریکٹر کہ جو ایک وزیر کے دستخط سے کسی کو عطا اور ایک دوسرے دستخط سے ختم کردیا جاتاہے۔
خدا کے نظام اور تشکیلات میں جب کھا جائے کہ مثلاً ملک الموت روح کو قبض کرنے میں خدا کی طرف سے ماذون ہے تو اس کو ”قابض الارواحی“ کی وساطت اور عھدہ عطا کردیا گیا ہے یقینا اذنِ خدا اس باب میں نہ تو زبانی کی صورت میں ہے اور نہ ہی دستخط کی صورت میں ، اور نہ ہی اس مقرب ملک کا مقام اعتباری اور بشری قرار دادی قسم سے ہے۔
بلکہ خدا کا اذن، اذن تکوینی اور مقام ملک بھی مقام وجودی ہے، یعنی خدا نے جناب عزرائیل کے وجودی ڈھانچے کو اس طرح بنایا ہے اور اس کی بنیاد کو اس طرح کی طاقت عطا کی ہے کہ جو زندہ انسان کو مارسکتا ہے اور روح و بدن کے درمیان جدائی ڈال سکتا ہے۔
اسی طرح خدا نے”اسرافیل “کو اس طرح پیدا کیا ہے اورایسی طاقت عطا کی ہے جو مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اور بے جان میں جان ڈال سکتا ہے۔
اور یہ مارنا اور زندہ کرنا خدا کا کام ہے اور فاعل حقیقی اور اس کا اصلی خدا ہے لیکن خداوندعالم کی فاعلیت ان مقرب فرشتوں کی فاعلیت کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔
عزرائیل مارنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن خدا کے ارادہ سے کرتا ہے اور خدا بھی مارنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن عزرائیل کے ارادہ کے ساتھ کرتا ہے البتہ یہ دونوں ارادے ایک دوسرے کے طول میں ہیں یعنی خدا کا ارادہ، ارادہ ذاتی اور اوّلی ہے اور عزرائیل کا ارادہ، ارادہ ”اعطائی اور ثانوی“ ہے، نہ تو عزرائیل ہی فی حد نفسہ خدا کے ارادہ کے بغیر کسی زندہ کو مارسکتا ہے اور نہ ایسے ہی ہے کہ خدا ”نظام فعل“ اور اپنی ثابت ”سنت“ میں عزرائیل کے ارادہ کے توسط کے بغیر، کسی زندہ کو مارنے کا ارادہ کرے، بلکہ خدا کا مارنا عزرائیل کے عین مارنے کے مطابق ہے اور عزرائیل کا مارنا بھی خدا کے عین مارنے کے مطابق ہے کہ ارشاد ہے:
”ا( ٕنَّا کُلَّ شَي ءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍوَمَاامْرُنآ اِلاَّ وَاحِدَةٌ کَلَمْحِ بِالْبَصَرِ ) ۔“( ۸ ) ہم نے ہر چیز کو ایک شخص اور اندازہ سے پیدا کیا ہے اور ہمارا کام سوائے ایک کام کے کچھ نہیں ہے جو چشم زدنی کے مانند ہے“
جی ہاں اس کا فرمان ایک فرمان اوراس کی تخلیق ایک تخلیق ہے لیکن یہی اس کی ایک تخلیق اور فرمان، اسباب و مسببّات کے سلسلہ سے تشکیل شدہ ہے،جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
”( فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلاً وَلَنْ تَجِدَ لِسُنّتِ اللّٰه تَحْوِیْلاً ) “( ۹ ) ”ھر گز خدا کی سنّت اور قانون میں تم تبدیلی نہیں دیکھو گے اور نہ ہی تم اس کی سنّت میں دگر گونی اور تغیر پاوں گے“
لہٰذا نظام آفرینش میں ان تمام وسائط، عُمال اور ھاتھ بٹانے والوں کے باوجود، یہ تمام ہر آن اور ہر منٹ خالق کل جھان کے دامن سے جڑے ہوئے اور اسی سے مربوط ہیں اور پورے جھان کا فقر اور محتاج ہونا اسی کی درگاہ سے وابستہ ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
”( یَسْئَلُهُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کُلَّ یُوْمٍ هوفِی شَانٍ ) “( ۱۰ )
”جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ اپنے کو اسی سے سوال کرتے ہیں ، اور وہ ہر روز (ھر وقت) مخلوق کے ایک ایک کام میں ہے “
اگر چہ عالم خلق کا سببی اور مسبّبی نظام،خداوندعالم کے عین ارادہ ”فعلی“ اور اس کا دائمی کام ہے اور خداوندعالم کا دائمی کام اور فعلی ارادہ بھی عالم حق کے سببی اور مسببی نظام کا عین ہے۔
قرآن سے ایک نمونہ
ہم قرآن مجید میں خلقت کے اسی ”طولی نظام“ کے سلسلہ میں ملاحظہ کرتے ہیں کہ وہ ایک فعل کو کبھی خدا کی طرف اور کبھی فرشتوں کی طرف نسبت دیتا ہے اور کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی کام کو انسان کی طرف عین اسناد میں ، خدا کی طرف نسبت دیتا ہے اور انسان سے نفی کرتا ہے مثلاً فرماتا ہے:
”( وَمَا رَمَیْتَ اذْرَمَیْتَ وَلکنّ اللّٰه رمیٰ ) “( ۱۱ )
یعنی جس وقت کہ (اے رسول(ص)) تم نے (سنگریزے) پھینکے تو وہ تم نے نہیں پھینکے ہیں بلکہ خدا نے پھینکے ہیں۔
اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ جملہ ”مَارَمَیْتَ“ آنحضرت(ص) سے پھینکنے کی نسبت کی نفی کرتا ہے اور جملہ ”اللّٰہ رمیٰ “ عیناً اسی پھینکنے کی نسبت کو خدا کے لئے ثابت کرتا ہے، یعنی انسان عین اثبات ”فاعلیت“ میں ”استقلال“ کی نفی کی ہے اور پھر اسی ”فعل“ میں خدا کو فاعل ”مستقل اور بالذات“ قرار دیا ہے۔
اسی طرح قرآن نے ”قبض روح“ کے سلسلہ میں بھی اس کی نسبت خدا کی طرف دی ہے فرماتا ہے:
”( اللّٰهُ یَتَوفَّی الْانْفُسَ حِیْنَ مَوتِهَا ) ۔۔۔“( ۱۲ )
”خدا موت کے وقت (انسانوں) کی جانوں کو لے لیتا ہے۔
اور دوسری جگہ پر اسی کام کو ”ملک الموت“ کی طرف نسبت دیتا ہے کہ ارشاد ہوتاہے:
”( قُلْ یَتَوفّٰکُمْ مَّلَکٴُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بکُمْ ) ۔۔۔“( ۱۳ )
”اے میرے رسول کہہ دیجئے: ملک الموت جو تم پر موکّل ہے تمھاری جانوں کو لے لیتا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
”( حَتّٰی اِذٰا جَآءَ احَدُکُمُ المُوتُ توفَّتْهُ رُسُلُنٰا ) “( ۱۴ )
”جیسے ہی تم میں سے کسی ایک کو موت آتی ہے تو ہمارے رسول اس کی جان اور روح قبض کرلیتے ہیں“
اور کبھی فرماتا ہے:
”( یُدبّرُ الْاَمْرَ مِنَ السّمٰآء اِلیٰ الْارضِ ) ۔۔۔۔“( ۱۵ )
”تمام امور کی تدبیر خدا کرتا ہے اور پھر آسمان سے زمین کی طرف نازل کرتا ہے“
اور دوسری جگہ ارشادھوتا ہے:
”( فالْمُدَبّراتِ اَمْراً ) “( ۱۶ )
”قسم ہے ان فرشتوں کی جو تدبیر کرنے والے ہیں“
ایک جگہ ”وحی“ لانے اور قرآن نازل کرنے کو حضرت ”روح الامین“ کی طرف نسبت دے کر فرماتا ہے:
”نَ( زَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْامِیْنُ عَلٰی قَلْبِکٴَ ) ۔۔۔۔“( ۱۷ )
”قرآن کو روح الاْمین نے تمھارے قلب پر نازل کیا ہے“۔
اور دوسری جگہ خدا کی ذات اقدس کی طرف نسبت دیکر فرماتا ہے:
”( إنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَٴ الْقُرْآنَ تَنْزِیْلاً ) “( ۱۸ )
”حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو ہم نے تم پر نازل کیا ہے“۔
سرّ مطلب وہی ہے کہ جوہم نے بیان کیا یعنی خدا کا ”فعل“ اور اس سے اشیاء کا صادر ہونا، جریان میں ایک منظّم تشکیلات اور ”نظام“ کی صورت سے ہے اور اس نظام کے داخل میں جو کام انجام دیاجاتا ہے، خالق کل جھان، خدا کی وہی عین فاعلیت ہے کہ جس کو قرآن میں ”اِذْنُ اللہ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے:
”( مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَهُ إلاَّبِاِذْنِهِ ) “( ۱۹ )
کون ہے جو اس کے نزدیک (اس کے نظام خلق میں ) شفاعت کرے (اپنی طرف سے کوئی اثر وجود میں لائے) سوائے اس کی اجازت (کی طاقت) کے؟
”( هَلْ مِنْ خالِقٍ غَیْرُاللّٰهِ ) “( ۲۰ )
”آیا خدا کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا ہے؟“
”( قُلِ اللّٰه ُ خَالِقُ کُلِّ شَيءٍ وهوَالوَاحِدُ القَهَّارِ ) “( ۲۱ )
”کہہ دو! ہر چیز کا پیدا کرنے والا صرف خدا ہے جو واحد قھار ہے“
(کہ اس کی قدرت کا سایہ، پورے جھانِ ھستی پر پھیلا ہوا ہے اور تمام موجودات کو اپنی قاہر تدبیر و ارادہ کے تحت لے رکھا ہے،)
لیکن یہ ”خلق “ یہ ”ارادہ“ اور یہ ”تدبیر“ ایک خاص نظام کے تحت انجام پاتا ہے اور ہر ایک ”معلول“ اپنی خاص ”علت“ کے تحت وجود پاتا ہے۔
ھاں یہ خدا ہی ہے جو ” لوگوں کو مارتا“ اور ان کی روحوں کو قبض کرتا ہے لیکن ”عزرائیل“ اور اس کے اعوان و انصارکے ذریعہ، اور یہ خدا ہی ہے جو تمام روزی خواروں کو روزی دیتا ہے:
”( وَمَا مِنْ دَابّةٍ فِی الْاَرْضِ إلَّاعَلٰی اللّٰهِ رِزْقُهٰا ) “( ۲۲ )
کوئی جانور اور جنبذہ روی زمین پرنھیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق خدا کے ذمّہ ہے،(لیکن میکائیل اور اس کے مددگاروں کے ذریعہ اسے رزق ملتا ہے۔)
یہ خدا ہی ہے جو انبیاء علیہم السلام کے قلوب پر ”وحی“ نازل کرتا ہے لیکن جبرئیل اور اس کے پیروکاروں کے ذریعہ، اور خداہی ہے جو بارش برساتا ہے اور ہوائیں چلاتا ہے اور زمین کو زندہ کر کے گھاس اُگاتا ہے لیکن ایک مخصوص انداز میں سورج کی روشنی، نور اور حرارت کے وجود کے ذریعہ، نیز قرآن حکیم فرماتا ہے:
”( اَللّٰهَ خَالِقُ کُلِّ شَيءٍ وهوَ عَلٰی کُلِّ شَيءٍ وَّکِیْلٌ ) “( ۲۳ )
”خدا ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر مدّبر و کارساز ہے۔“
”( إنَّ اللّٰهَ هو الرَّزَّاقُ ذُوْالقُوَّةِ المَتِیْنُ ) “( ۲۴ )
”روزی دینے والا وہی خدا ہے جو صاحب قدرت و توانا ہے“۔
دوسری جگہ ارشادھوتا ہے:
”( وَقُلْ الْحَمْدُلِلّٰهِ الذِّیْ لَمْ یَتّخِذْ وَلَداً وَلَمْ یَکُِنْ لَّهُ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِٴ وَلَمْ یَکُنْ لَهْ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَ کَبّرهُ تَکْبِیْراً ) “( ۲۵ )
”اورکھوکہ ہر طرح کی تعریف اسی خدا (کو سزا وار )ھے جو نہ تو کوئی اولاد رکھتا ہے اور نہ (سارے جھاں کی) سلطنت میں اس کا کوئی ساجھے دار ہے، او رنہ اسے طرح کی کمزوری ہے، نہ کوئی اس کا سرپرست ہے اور اس کی بڑائی اچھے طرح کیا کرو“
حضرت امام صادق علیہ السلام اسماعیل بن عبدالعزیز (جو آپ کے بارے میں غلو آمیز عقیدہ رکھتا تھا)سے فرماتے ہیں کہ :
”( یَا إسْمَاعِیْلُ لاَترْفَعِ البِنَاءَ فَوقَ طَاقَتِهِ فَیَنْهَدِمُ ، إجْعَلُونَا مَخْلُوقِیْنَ ) ۔۔۔“
اے اسماعیل ! عمارت کو اس کے پایوں کی طاقت سے زیادہ اُونچا نہ کرو ورنہ وہ عمارت منھدم ہوجائے گی، ہم کو مخلوق سمجھو! “
یعنی ہمارا وجودِ ”امکانی“ اس بات کی طاقت نہیں رکھتا ہے تم ہماری طرف ”خلاّقیت ، رزّاقیت اور فعالیت میں استقلال “ کی نسبت دو کہ جو خدا وندعالم کے کاموں میں سے ہے،بلکہ جو ہمارے وجود کے مرتبہ کی مناسبت اور شائستہ ہے وہ یہ ہے کہ ہم کو خدا ئے ربّ العالمین کی نسبت مخلوقیت و مربوبیّت کی حدوں سے دور رکھو اور اگر کسی وقت ہم سے کوئی چیز صادر ہو تو سمجھو وہ فاعلیتِ ”بالْاِذْن“ کی شئونات میں سے خدائے ”بالّذات“ کی فعالیت پر متکی ہے۔
پس جو فعل کسی سبب اور علت کے ذریعہ صادر ہوتا ہو وہ اولاً و بالذّات خدا سے صادر ہوتا ہے اور ثانیاً و بالعرض اس کی نسبت علل و اسباب اور وسائط کی طرف دی جاتی ہے کہ ایک سکنڈ کے لئے اگر خدا کا ”فیض“ منقطع ہو جائے تو تمام چیزیں نیست ونابود ہوجائیں گی۔
لیکن جن فاعلوں کا وجود، وجود حق کے سائے میں ہو تو طبیعی طور پر ان کی فاعلیت بھی حضرت حق کی فاعلیت کا سایہ ہوگی۔
این ہمہ عکس می و نقش مخالف کہ نمود
یک فروغ رخ ساقی است کہ درجام افتاد
اس وجہ سے ، خدا اور موجوداتِ جھاں کے درمیان علل و اسباب کا وجود، خدا کی مستقل فاعلیتِ و خالقیت کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا ہے، اور جو اصل مسلّم ہے وہ یہ کہ:
”لٰاخَاِلقَ إلاّاللّٰه ُ، وَلٰا رَازِقَ إلاّاللّٰه ُ ،وَ لٰا مُدَبَّرَ فِی الْخَلْقِ وَاْلاَمرِ إلاّ اللّٰه ، لٰامُحْیي وَلَامُمِیْتَ إلاّ اللّٰهُ وَ لاََمٴوثّرَفِی الُوجُودِ إِلّااللّٰه “
”سوائے خدا کے کوئی خالق نھیں، سوائے خدا کے کوئی رازق نھیں، امور مملکت اور خلق میں سوائے خدا کے کوئی مدبّر نھیں، سوائے خدا کے کوئی مارنے اور جلانے والا نہیں اور خلاصہ یہ ہے کہ وجود میں سوائے خدا کے کوئی موثر(اثر دکھانے والا) نہیں ہے،“ یہ کمال اتفاق اور اپنی حالت میں باقی اور ثابت ہے۔
کیونکہ تمام عالم میں فاعل ”مستقل اور بالذّات“ خدا ہے اور تمام موجودات جتنے بھی ہیں وہ سب عمومی طور پر فاعل ”بالاِذْن“ ہیں، اور ان میں سے ہر ایک خدا کی امداد کے مطابق اور خداوندعالم کی عطا کی حدود میں کسی کام کی انجام دھی میں ماذون ہیں اور اپنی مخلوقیّت کے اقتضاء میں ان میں سے کوئی ایک بھی پلک جھپکنے کے برابر بھی وجود اور اپنے پاس سے ایجاد میں ”استقلال“ نہیں رکھتے، اور نہ ہی اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔
جبکہ عقل سلیم کے حکم سے ”ممکن الوجود“ اپنی ذات کی حد تک عدم اور فاقد وجود ہے، لہٰذا محال ہے کہ ایسا وجود، مبداء ھستی ہو اور ”ایجاد، فنا اور مارنا و جلانا وغیرہ اس سے صادر ہوں، بلکہ موجود ”ممکن“ (کہ سوائے خدا کے جو بھی ہے وہ موجود ممکن میں شمار ہے) حدوثاً، بقاء اً، وجوداً، ایجاداً ذاتاً و فعلاً خدا کی ذات پر متکی اور ”قیومیت“ کا محتاج ہے۔
ایک ناقص مثال :
ھر وہ فعل جو انسان کے ظاہری و باطنی اعضاء مثلاً آنکھ، کان، ھاتھ، پیر، زبان وغیرہ سے صادر ہوتا ہے در حالیکہ انسان کی طرف منسوب ہوتی ہے وہاں انسان کے اعضاء کی طرف بھی نسبت دی جاتا ہے۔
لہٰذا ہم کہتے ہیں: میں نے دیکھا، میں نے سنا اور میں نے لکھا (اور یہ بھی ہم کہتے ہیں: ھاتھ نے لکھا اور آنکھ نے دیکھا وغیرہ)
اور ان دو نسبتوں کی گفتگو کا راز یہ ہے کہ انسان کی فعّال قوتیں، انسان کے ناطقہ نفس کے ”طول“ میں قرار پاتے ہیں اور مجریان فرمان نفس بھی ہیں اور دوسرے لفظوں میں مظاہر فعالیّت نفس ہوتے ہیں۔
اور یہ افعال اولاً و بالذات، نفس سے صادر ہوتے ہیں اور ثانیاً و بالعرض انسان کی طرف منسوب ہوتے ہیں، یہ نفس ناطقہ اور خود انسان ہے جو آنکھ کے ذریعہ دیکھتا ہے، کان کے ذریعہ سنتا ہے اور ھاتھ کے ذریعہ لکھتا ہے، لہٰذا قرآن میں ارشاد ہے:
”( وَاللّٰهُ خَلَقَکُمْ وَمَاتَعْمَلُونَ ) “( ۲۶ )
”تمھیں اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو (یا جو بت تم تراش کر کے بناتے ہو) خدا نے پیدا کیا ہے“۔
”درحالیکہ یہ انسان کے اعمال (منجملہ ان کے وہی تراشے ہوئے جو بت پرستوں کے ھاتھ سے بنائے ہوئے ہیں اور آیتوں کے سیاق کے حکم کے مطابق اس آیہ شریفہ کے مورد توجہ ہیں) کو خود ان کی طرف نسبت دی ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :”وما تعملون“ (تم جو عمل کرتے ہو) لیکن اس کے باوجود ان کی ایجاد و آفرنیش کو قرآن نے خدا کی طرف منسوب کیا ہے جھاں فرماتا ہے: ”( واللّٰه خلقکم وما ) ۔۔۔۔“ یعنی تم سے صادرہ افعال کو بھی تمھاری طرح خدا نے پیدا کیا ہے۔
ایک تذکر :
ارباب نظر پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ آیت میں (ماتعملون) ”ما“ کا موصولہ یا مصدر یہ ہونا، مذکورہ مطلب اخذ کرنے میں کوئی زیادہ فرق نہیں کرتا ہے، ضمناً آیت شریف کا پھلی والی آیت کے مقابلہ میں تعلیلی مقام رکھنا، انسان کے تمام اعمال کی نسبت شمولِ اطلاقی کی تائید کرتا ہے اور بالخصوص ”اصنام“ کو مراد لینے کی قید سے باہر لاتا ہے (دقت کریں)، یہی وجہ ہے کہ آیات:
”( اللّٰه یَتَوَفّیٰ الانفس ) “ و ”( یتوفیٰکم ملکٴ الموت ) “ اور ”( توفّتهُ رُسُلنا ) “
ایک دوسرے کے ساتھ منافات نہیں رکھتی ہیں، اسلئے کہ حقیقت میں تمام آیات ایک ہی ”فعل“ اور ایک ہی ”مستقل فاعلیّت“ کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو اس ”نظام“ میں ”طولی فاعل“ کے ذریعہ انجام پاتاہے۔
اور وہ مستقل فاعل واحد، صرف خدا ئے تعالیٰ کی ذات اقدس ہے کہ اس کا فعل واحد، افعال کثیرہ کی صورت میں ایسے پے در پے فاعلوں کے ذریعہ انجام پاتے ہیں جو ایک دوسرے کے بعد ہیں ،منجلی ہوتا ہے۔
اور یہ تمام خدا وندعالم کے فیض والھام اور امر تکوینی کے ذریعہ انجام دیتے ہیں اور وظیفہ کرتے ہیں اور ایک منٹ کے لئے بھی اس کے فیض ”نورالسمٰوات والارض “ سے بے نیازنھیں ہوتے لہٰذا نتیجہ وہی ہے کہ:
”لاَمُوثر فی الوجود الاالله، ولا حول ولا قوّهَ الّا بالله “
( موجودات میں سوائے خدا کے کوئی موثر نہیں ہے، اور کوئی حرکت اور کوئی قوت نہیں ہوتی مگر خدا کے ذریعہ)بے شک خدا کو و اسطوںکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
یہ ایک طرح کی فکری ضلالت و رسوائی ہے کہ کوئی یہ وہم کرے کہ خدا وند متعال سے صدور اشیاء کے لئے ایک منظّم تشکیلات اور نظام کا وجود خدا وندعالم کی مطلقہ قدرت میں ، عجز و محدودیت لازم آتی ہے اور بے نیاز ذات فرشتوں اور غیر فرشتوں کے وسائط اور اسباب کی محتاج ہو ! ”نعوذبالله من هِذه الضلالة و الْوهم ۔“ھرگز نھیں! وہ ذات جو سبوح ٌاور قدوس ٌھے اس کی ذات وصفات سے تمام اشیاء اور اس کے تمام افعال، اس کے امرتکوینی اور فعلی ارادے ہی ہیں
”گرنازی کند از ہم فرو ریزند و قالبھا“
کیسے تصور کیا جاسکتاہے کہ خداوند عالم اپنی آفرنیش و فاعلیت میں ان کا محتاج ہو اور اس کی مخلوقات (نعوذباللہ) اس کے ”ولی’‘ من الذّل“ اور ”شریک’‘ فی الملک“ ہو !!تعالیٰ اللّٰه عمّا یتوهم هَ الجاهلونَ علّوا کبیراً ۔(خدا جاہلوں کے ان تمام توہمات سے پاک وپاکیزہ ہے )
بلکہ یہ اشیاء کاضعیف مرتبہ وجودی ہے جس نے ان کو مستقیم کسب فیض کی قابلیت سے محروم کیا ہے اور ناچار ہوگئے ہیں کہ وہ مجرای فیض حق میں خلقت کے تمام مراتب عالیہ کے وجود کی پناہ میں قرار پائیں اور اپنے وجودی مرتبہ خاص میں ، مبداء فیاض کی بے دریغ رحمت سے فیض حاصل کریں۔
ایک دوسری مثال :
خدا وندعالم کی ذات ایسی مقدس ہے جو زمین اور زمین والوں کو زندہ کرتا ہے اور گھاس کو اُگاتا ہے اور کرّات منظومہ شمسی کو ایک دقیق اور منظّم حساب کے ذریعہ چلاتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ تمام برکات ”سورج“ کے پر فیض دامن سے زمین اور اس پر موجود تمام چیزوں اور دوسرے کرّات تک پھنچتا ہے کہ اگر اس درمیان سورج نہ ہو تو منظومہ شمسی کا پورا نظام اپنی تمام چیزوں کے ساتھ درہم وبرہم اور نابود ہو جائے گا۔
تو اب کیا ”سورج“ نعوذباللہ خدا کے لئے ”ولی الذّلّ“ اور ”شریک فی الملک“ ہے اور خداوند عالم سورج کی وساطت کے بغیر گھاس اور نباتات کو اُگانے اور احیاء اموات کوئی قدم نہیں اٹھاسکتا ہے۔
یا نھیں! یہ زمین، گھاس اور دیگر دوسری چیزوں کا تقاضا ہے کہ وہ سورج کی تابش اور بارش کی وساطت کے بغیرخداوندعالم کے فیض سے فیضیاب نہیں ہوسکتے۔
جی ہاں ایک طرف تو خداوندعالم کی قدوسیّت، لامتناہی کبریائی اور علوذات، اور دوسری طرف اشیاء کے وجودمیں شدت و ضعف کے مراتب میں فرق اس طرح کا تقاضا کرتا ہے کہ ”وجود“ کا فیض اور اس کی برکات کی اقسام، عالی اور پست”مراتب“ سے بنے”نظام“ کے تحت جاری ہوکر ”وسائط“ اسباب اور علل کے مجراء سے عبور کرتے ہوئے جھان کے تمام موجودات اور اشیاء تک پھنچتی ہیں، کہ نہ خلقت کے پست اور ”دانیہ“ مراتب اس کی توانائی رکھتے ہیں کہ اس کے ”عالیہ“ مراتب کے توسط کے بغیر ”ربوبی“ اعلیٰ مقام سے کسب فیض کریں ،نہ ہی ”ربُوبی“ مقام اقدس اس کا تقاضا کرتا ہے کہ علل و اسباب کی وساطت کے بغیر خلقت کے دانی مراتب کے ذریعہ فیضیاب کرسکے۔
”( وَاِنْ مِنْ شَيءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزّلُهُ اِلَّا بِقَدرٍ مَعْلُومٍ ) “( ۲۷ )
کوئی چیز نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے خزینے ہمارے پاس ہیں اور ہم ان کو دکھاتے (نازل کرتے) نہیں ہیں مگر ایک مشخص اور معلوم مقدار میں “
شاعر کہتا ہے:
ھر کسی راگر بُدی آن چشم و زور کہ گرفتی ز آفتاب چرخ نور
کی ستارہ جاجنستی ای ذلیل کہ بود برنور خورشید او دلیل
ھیچ ماہ و اختری حاجت نبود کہ بود بر آفتاب حق شھود
ماہ می گوید بہ ابر و خاک و فی من بشر باشم ولی یُوحیٰ اِلّی
چون شما تاریک بودم از نھاد وَحْی خورشیدم چنین نوری بداد
ظلمتی دارم بہ نسبت باشموس نور دارم بھر ظلمَات نفوس
زان ضعیفم تاتوتابی آوری کہ نہ مَردِ آفتاب انوری
ترجمہ اشعار:
” اگر کسی شخص کے پاس تھوڑی بھی قوت وبصیرت ہوتو وہ سورج کے نور سے نور کسب کرسکتا ہے۔
ستاروں کو کب خواہش ہوتی ہے کہ وہ نور خورشید پر دلیل وحجت جتائیں۔
کبھی بھی چاند وستاروں کو خواہش نہیں ہوتی کہ وہ اپنے نور کے سبب سورج کی حقیقی روشنی پر شھادت کا حق جتائیں۔
بلکہ چاند تو زمین وآسمان سے یہی کہتا ہے کہ میں باوفا ایسا بشر ہوں جس کی طرف نوروحی کیا جاتا ہے۔
ورنہ فطرتاََ میں بھی تمھاری طرح ہوں تاریکی میں غرق تھا یہ تو مجھے خورشید کی وحی نے مجھے نورانی بنادیا ہے۔
لہٰذا میں سورج کی نسبت جھل وتاریکی رکھتا ہوں البتہ نفوس کی نسبت نوروروشنی رکھتا ہوں۔
اس اعتبار سے میں تیرے مقابلہ میں ضعیف ہوں اور آفتاب انوری کی طرح مرد نہیں ہوں۔“
اس نورانی جملہ پر جو اس سے پھلے بھی حضرت فاطمہ صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا سے نقل ہوچکا ہے دقت کریں:
”واَحْمِدُوا اللّٰه َ الذی لِعَظَمَتهِ و نُوره یَبْتغی مَن فی السمٰواتِ و الاَرْض الیه الْوسلیةوَنَحْنُ و سیُلتُهُ فی خلقهِ ۔۔۔۔“
”حمد وثناکریں اس خدا کی جس کا نور و عظمت تقاضا کرتا ہے کہ اہل آسمان و زمین (اس سے قربت حاصل کرنے کے لئے) وسیلہ تلاش کریں اور ہم اس کی مخلوقات میں اس کا وسیلہ ہیں“( ۲۸ )
علامہ شھید مطھری کا بیان
”اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے، قارئین کرام کے اذھان عالیہ کو روشن و منور کرنے کے لئے عبادت، شرک اور مسئلہ توحید سے متعلق، استاد شھید مطھری(رہ) کی ایک دقیق اور مفید بحث بیان کرتے ہیں جس میں موصوف نے توحید و شرک کے درمیان ایک واضح فرق بیان کیاہے اور ایک دوسرے سے تشخیص کا معیار بخوبی نمایاں کر دیا ہے، کہ پھر اس راہگشا اور عمیق بحث کو بیان کرنے کے بعد، شیعوں کو بدنام کرنے کے لئے اس لقب اور عوام فریب نعرہ لگانے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہ جاتی ہے،جیسا کہ کہتے ہیں:
”شیعہ رافضی اور دین سے خارج ہیں“
جو لوگ صاحب بصیرت ہیں اور عقل کی عظمت کا پاس رکھتے ہیں ہماری منطقی بحث پر کان دھریں گے اور حقیقت کو پالیں گے لیکن جو لوگ نعرہ بازی کرنے والے دھوکہ باز ہیں وہ ہمارے اس عقلی عمیق استدلالوں اور تجزیوں کے فروغ پر نور اور فروزاں شعاع میں خفاش کی طرح نور سے بھاگتے نظر آئیں گے اور ظلمت و گمراہی کے شکار بھی ہونگے اور ان کے ھاتھوں سے تہم ت زنی، گستاخی اور حملہ کا وقت بھی جاتا رھے گا۔
توحید و شرک کی حدود
توحید و شرک (خواہ نظری ہو یا عملی) اس کی دقیق حدود کیا ہیں؟ توحیدکیاہے؟ اور شرک کیا ہے؟ عمل توحیدی، کونسا عمل ہے؟ اور کونسا عمل، عمل شرک ہے؟
آیا خدا کے علاوہ کسی موجود پر عقیدہ رکھنا شرک ہے؟ (شرک ذاتی) اور توحید ذاتی کا لازمہ یہ ہے کہ ہم خدا کے علاوہ کسی بھی موجودات پر (اگر چہ اسی کی مخلوق کے عنوان سے ہی ہو) کوئی عقیدہ نہ رکھیں؟ (وحدت وجود کی ایک قسم)
روشن ہے کہ مخلوق خدا فعل خدا ہے، خدا کا فعل خود خدا کی ایک شان ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی اس کا ثانی نہیں ہے، خدا کی مخلوقات اس کے فیض کی تجلی ہیں، وجود مخلوق پر اس جہت سے اعتقاد رکھنا کہ وہ مخلوق ہے، توحید پر اعتقاد کا دوسرا حصہ ہے نہ کہ توحید کی ضد، لہٰذاتوحید و شرک کا معیار کسی دوسری چیز کا وجود رکھنا یا نہ رکھنا ، نہیں ہے۔
آیا تاثیر و تاثر اور سببیّت و مسببیت میں مخلوقات کے کردار پر اعتقاد رکھنا شرک ہے؟ (یعنی خالقیت و فاعلیت میں شرک) آیا توحید افعالی کا لازمہ یہ ہے کہ ہم کائنات کے سببی اور مسببی نظام کا انکار کریں؟ اور ہر اثر کو مستقیماً اور بلاواسطہ خدا سے صادر ہونا تصور کریں؟! اور اسباب کے لئے کسی اثر کے قائل نہ ہوں؟
مثلاً یہ عقیدہ رکھیں کہ آگ ،جلانے میں ، پانی ،سیراب کرنے میں ، بارش، گھاس اُگانے میں اور دوائی، مریض کو شفابخشنے میں کوئی کردار نہیں رکھتی ہے؟ یعنی بس خدا ہے جو بطور مستقیم جلاتا ہے، سیراب کرتا ہے، مستقیماً اُگاتا ہے اور مستقیماً شفا دیتاہے؟! کیا ان عوامل کا ہونا اور نا ہونابرابر ہے؟!
یھاں پرجو چیز قابل دقت ہے وہ یہ کہ خدا کی عادت ہے کہ وہ اپنے کاموں کو ان امور (اسباب) کی موجودگی میں انجام دیتا ہے مثلاً اگر ایک انسان کی عادت یہ ہو کہ:
وہ اپنے سر پر ٹوپی رکھ کر خط لکھتا ہو، خط کے لکھنے میں سر پر ٹوپی کا ہونا نہ ہونا کوئی اثر نہیں رکھتا ہے لیکن خط لکھنے والا کبھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ ٹوپی کے بغیر خط لکھے۔
خدا کے امور بھی اسی نظریہ کے مطابق ہیں یعنی ان امور کا نہ ہونا جن کو عوامل و اسباب کھا جاتا ہے، اسی قبیل سے ہیں، (یعنی خدا نے اپنی عادت بنالی ہے کہ وہ اپنے امور کچھ افراد کے ذریعہ سے انجام دیتا ہے)۔
اور اگر اس کے علاوہ ہم قائل ہو جائیں تو گویا فاعلیت میں ہم ایک ہی کے شریک نہیں بلکہ بہت سے شرکاء کے قائل ہوگئے ہیں (جبریوں اور اشاعرہ کا نظریہ) یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے۔
جیسا کہ مخلوق کے وجود پر اعتقاد، خدا کے مقابل شرک ذاتی، قطبی وجود اور دوسرے خدا پر اعتقاد کے ساتھ مساوی نہیں ہے بلکہ خدائے وحدہ لاشریک کے وجود پر اعتقاد کا مکمِّل اور متِمّم ہے، نظام کائنات میں مخلوقات کے کردار پر اور تاثیر و سببّیت پر اعتقاد رکھنا بھی (جیسا کہ موجودات ذات میں استقلال نہیں رکھتے ہیں ایسے ہی تاثیر میں بھی استقلال نہیں رکھتے ہیں: وہ موجود ہیں تو اس کے وجود سے، موثر ہیں تو اس کی تاثیر سے) خالقیت میں شرک کا باعث نہیں ہے بلکہ خدا کی خالقیت کے اعتقاد کامکمل اور متمم ہے۔
ھاں اگر مخلوقات کے لئے، تاثیر کے لحاظ سے استقلال و تفویض کے قائل ہو جائیں اور اس طرح اعتقاد رکھیں کہ جھان کی طرف خدا کی نسبت ایسے ہے کہ جیسے ایک انجینئر کی نسبت، صنعت کی طرف ہوتی ہے (مثلاً گاڑی) اپنی پیدائش میں ایک انجینئر (بنانے والے) کی محتاج ہے لیکن جب بن کر تیار ہو جائے تو وہ اپنا کام اپنے سسٹم کے مطابق جاری رکھتی ہے۔
انجینئر فقط گاڑی کے بنانے میں کردار ادا کرتا ہے نہ کہ تیار ہونے کے بعد اس کی کار کردگی میں ، اگر بنانے والا مستری مر جائے تب بھی گاڑی اپنا کام جاری رکھے گی۔
اگر ایسا عقیدہ ہو تو عوامل جھان: پانی، بارش، بجلی، حرارت، خاک، گھاس، حیوان اور انسان وغیرہ کی نسبت خدا کے ساتھ ایسی نسبت ہے کہ (جیسی گاڑی اور اس کے بنانے والے کے درمیان نسبت ہوتی ہے) جو واقعاً شرک ہے، ( جیسا کہ معتزلہ اس کے قائل ہیں)
مخلوق اپنی حدوث و بقاء میں خدائے خالق کی محتاج ہے، بقاء اور تاثیر گذار میں بھی اسی مقدار میں محتاج ہے کہ جتنا حدوث میں ہے، جھان کا عین فیض، عین تعلق، عین ارتباط، عین وابستگی، صرف اسی کی ذات سے ہے لہٰذااس لحاظ سے اشیاء کی تاثیر و سببیّت، خدا کی عین تاثیر و سببیّت ہے،
جھان کی قوتِ خلاقیت جو انسان وغیر انسان ہر ایک میں موجودھے، عین خلاقیتِ خداوندعالم اور اس کی فاعلیّت کی بسط(وسعت) ہے بلکہ یہ اعتقاد کہ اس دنیامیں اشیاء کا کردار ادا کرنا شرک کا باعث ہے خود ایک طرح کا شرک ہے۔
کیونکہ یہ اعتقاد اس نظریہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ بے خبری میں موجودات کی ذات کے لئے ذاتِ حق کے مقابل ہم استقلال کے قائل ہوگئے ہیں اور اس بناء پر اگر موجودات کو ئی تاثیری نقش رکھتے ہوں تو تاثیرات کی نسبت دوسرے قطبوں سے دے دی گئی ہے، پس شرک و توحید کے درمیان حدود یہ نہیں ہیں کہ غیر خدا کے لئے سببیّت اور تاثیرات میں کسی نقش کے قائل ہوں یا قائل نہ ہوں۔
کیاتوحید و شرک کی حدود، قدرت اور مافوق الطبیعی چیزوں کی تاثیر پر اعتقاد کا نام ہے؟ یعنی ایک موجود، خواہ وہ انسان ہو مثلا ًنبی یا امام یا فرشتہ، کے لئے طبیعی طور پر مافوق قوانین کی قدرت پر اعتقاد رکھنا شرک ہے، لیکن متعارف اور معمولی حدود میں تاثیر و قدرت پر اعتقاد رکھنا شرک نہیں ہے اور ایسے ہی دنیا سے چلے گئے انسان کی تاثیر و قدرت پر اعتقاد بھی شرک ہے؟ کیونکہ مرا ہوا انسان جمادات کا حکم رکھتا ہے اور قوانین طبیعی کے اعتبار سے شعوربھی نھیںرکھتا، اور نہ ہی قدرت و ارادہ ، لہٰذامردہ کا درک کرنا، مردہ کو سلام کرنا، مردہ کی تعظیم و تکریم کرنا، مردہ کو پکارنا، مردہ سے کوئی چیز طلب کرنا اور مردہ پر فدا ہو جانا وغیرہ جیسے اعتقاد رکھنا شرک ہے، کیونکہ غیر خدا کے لئے ایک ماوراء طبیعی قدرت پر اعتقاد رکھنے کا لازمہ یہی ہے۔
ایسے ہی مرموز اور ناشناختہ چیزوں کے لئے ایک حالت کی تاثیر رکھنے پر اعتقاد کا مسئلہ مخصوصاً بیماری سے شفا پانے میں یا ایک مخصوص جگہ دعا کے قبول ہونے پر اعتقادرکھنا شرک ہے، کیونکہ ایک ماوراء الطبیعی قدرت پر اعتقاد رکھناہے، خواہ وہ کوئی بھی طبیعی چیز ہو۔
اس وجہ سے اشیاء کے لئے مطلقا تاثیرات پر اعتقاد رکھنا شرک نہیں ہے (جیسا کہ اشاعرہ قائل ہوئے ہیں) بلکہ اشیاء کے لئے مافوق الطبیعی تاثیرات پر اعتقاد رکھنا شرک ہے، لہٰذاہستی دو حصّوں میں تقسیم ہوتی ہے: طبیعت اور ماوراء طبیعت، ماوراء الطبیعت جو خدا سے مخصوص ہے اور طبیعت اس کی مخلوق سے مختص ہے یا خدا اور مخلوق دونوں کے لئے ہے۔
کچھ اس طرح کے کام ہیں جو غیر طبیعی پھلو رکھتے ہیں جیسے زندہ کرنا ، مارنا، روزی دینا وغیرہ، مذکورہ باقی امور عمومی اور عادی ہیں ، عمومی کام خدا سے مخصوص ہیں اور باقی امور اس کی مخلوقات کے دائرہ اختیار میں ہے ، یہ باتیں توحید نظری کے اعتبار سے ہیں ۔
لیکن توحید عملی کے لحاظ سے غیرخدا کی طرف ہر طرح کی معنوی توجہ یعنی ایسی توجہ کہ جو توجہ کرنے والے کے چھرے اور زبان کے ذریعہ، جس کی طرف توجہ کی جائے اس کے ظاہری کان اور چھرہ کی طرف نہ ہوبلکہ توجہ کرنے والا چاہتا ہے کہ ایک طرح کا قلبی او رمعنوی رابطہ اپنے او ر مدمقابل کے درمیان برقرار کرے ، او راس کو پکارے اور اپنی طرف متوجہ کرکے اس تک(پہونچنے کے لئے) وسیلہ تلاش کرے او راس سے مراد مانگے یہ تمام کام شرک اور غیر خدا کی پرستش ہے کیونکہ عبادت بھی اسی طرح سے ہوتی ہے ۔
اور غیر خدا کی عبادت بحکم عقل وشرع جائز نہیں ہے ،جس کا لازمہ دائرہ اسلام سے خارج ہونا ہے ، اس کے علاوہ اس طرح کے فعل انجام دینا قطع نظر اس بات سے کہ غیر خدا کی عملی عبادت ہے اور یہ ایسے افعال ہیںکہ جو مشرکین بتوں کے لئے انجام دیتے تھے اور اس بات کالازمہ یہ ہے کہ پیغمبر یا امام کے لئے غیر طبیعی طاقت کا عقیدہ رکھا جائے ، (جیسا کہ ہمارے زمانے کے وہابیوں اور وہابیت کے ٹھیکیداروں کا عقیدہ ہے)
یہ نظریہ ہمارے زمانہ میں اس حد تک پھیل گیا ہے کہ ایک طبقہ کے درمیان خاص طور پر روشن فکری کی نشانی سمجھا جاتا ہے لیکن معیار توحید کے لحاظ سے یہ نظریہ توحید ذاتی کے بارے میں نظریہ اشاعرہ کی حدتک شرک آلودھے ، او رتوحید خالقیت اور فاعلیت کے لحاظ سے بہت ہی شرک آمیز نظریات میں سے ہے۔
اس سے قبل ہم نے اشاعرہ کے نظریہ کی ردّ میں کھا تھا کہ اشاعرہ اشیاء میں سببیت او رنفی تاثیر کے قائل ہیں اس خیال سے کہ اشیاء کی تاثیر اور سببیت کا اعتقاد رکھنے کا ملازمہ خدا کے مقابلہ میں منشاء اور قطب کا اعتقاد رکھناہے ، او رہم نے پھلے بھی عرض کیا ہے کہ اشیاء قطب(محور)کی شکل میں اس وقت خدا کے مقابلہ میں آتے ہیں کہ جب وہ ذاتاً مستقل ہوں ، لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ اشاعرہ ندانستہ طورپر اشیاء کے لئے ایک طرح سے استقلال ذاتی کا قائل ہوگئے ہیں ،جس کا ملازمہ شرک ذاتی ہے ، البتہ اس سے غافل تھے اور وہ یہ چاہتے تھے کہ اشیاء سے نفی اثر کے ذریعہ توحید خالقیت کو ثابت کریں، ان کے اس کام نے خالقیت میں شرک کی نفی کرنے کے ساتھ ساتھ شرک ذاتی کی تائید کی ہے ۔
بالکل اسی طرح کا اعتراض وہابیت پر بھی ہوتا ہے یہ لوگ بھی نادانستہ طور سے اشیاء میں استقلال ذاتی کے قائل ہوگئے ہیں ،اور اسی طرح مافوق طبیعت چیزوں کا نقش معمولی عوامل واسباب میں رکھنے کو مرکزیت ومحوریت اور ایک قدرت کا ملازمہ خدا کے مقابلہ میں اعتقاد جانا ہے اس بات سے غافل ہوگئے کہ تمام موجودات اپنی تمام ترحقیقت کے ساتھ اللہ کے ارادے سے وابستہ ہیں اور ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے اس مافوق ِ طبیعت کی تاثیر اس کی طبیعی تاثیر کی طرح ہے ، لہٰذا اگر کوئی چیز اپنی طرف منسوب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف منسوب ہے اورکسی چیز کی حقیقت نہیں مگر یہ کہ اللہ نے اس کو فیض پہونچانے کا ایک ذریعہ بنایا ہے ۔
کیا جناب جبرئیل (ع)کا وحی وعلم پہونچانے اور میکائیل (ع)کا رزق پہونچانے، یا اسرافیل (ع) کا مردوں کو زندہ کرنے میں ، یا ملک الموت کا روح کو قبض کرنے میں واسطہ ہونا شرک ہے ؟!
خالقیت میں توحید کے نظریات میں سے یہ نظریہ سب سے بدترین شرک کی قسموں میں سے ہے کیونکہ اس نظریہ میں خالق ومخلوق کے درمیان کام تقسیم ہونے کے قائل ہوئے ہیں :
غیر طبیعی کاموں کو خدا سے مخصوص کرنا اور طبیعی کاموں کو انسانوں سے مخصوص کرنا یا خدا اور مخلوق کے درمیان اشتراک کا قائل ہونا، مخلوق کے لئے کچھ کاموں کا مخصوص کرنا ، فاعلیت میں عین شرک ہے نیز اشتراکیت کا قائل ہونا بھی فاعلیت میں ایک دوسرا شرک ہے ۔
رائج تصور کے برعکس ، وہابیت کا نظریہ صرف امامت کی مخالفت میں نہیں ہے بلکہ قبل اس سے کہ امامت کے مخالف ہو توحید او رانسانیت کے خلاف ہے ، توحید کے مخالف اس وجہ سے ہے کیونکہ خالق اور مخلوق کے درمیان تقسیم امور کے قائل ہیں اور اس کی وجہ سے ایک طرح کا ”شرک ذاتی خفی “کے قائل ہیں جس کی وضاحت ہم پھلے کر چکے ہیں ، اور انسانیت کے مخالف اس وجہ سے ہے کہ اس انسان کو کہ جو اشرف المخلوقات ہے اور قرآنی روسے خلیفة اللہ ہے اور مسجود ملائکہ ہے ، اس انسان کی قابلیت اور استعداد کو نہیں سمجھاگیا او راس کو ایک جانور کی حد تک گرادیا،اس کے علاوہ مردہ اور زندہ میں اس طرح کے فرق کے قائل ہوئے کہ مردے عالم (آخرت) میں بھی زندہ نہیں ہیں اور یہ کہ انسان کی تمام شخصیت اس کا بدن ہے جو ایک جماد کی شکل میں ہے ، لہٰذا یہ ایک مادی اورضد الٰھی نظریہ ہے ۔
اور اسی طرح مجھول او رناشناختہ چیزوں اور معلوم اور شناختہ شدہ چیزوں کے درمیان اس طرح جدائی کی ہے اور پھلے کو دوسرے کے برعکس غیر طبیعی جاننا بھی ایک طرح کا شرک ہے ۔
ہم یھاںپر حضرت رسول اکرم(ص) کے ارشاد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: افکار وعقائد میں شرک اس طرح مخفی طریقہ سے داخل ہوتا ہے کہ جس طرح ایک کالی چیونٹی اندھیری رات میں سخت پتھر پر اہستہ اہستہ چلے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ توحید اور شرک کی حد خدا اورانسان کے درمیان ”من اللّٰہ “ ”الی اللہ“ ہے ۔
”توحیدنظری“ میں شرک اور توحید کی سرحد” من اللہ“(اِنّا لِلّٰہ) ہے یعنی خدا کی جانب سے ہے(إنَّا لِلّٰہِ)ھر حقیقت اور ہر موجود جب تک کہ ذات و صفات و افعال کو اس کی خصلت و ہویت کے ساتھ ”اس (اللہ) سے“ پہچانیں تواس کو صحیح اور حقیقت کے مطابق اور نگاہ توحید کے مساوی پہچاننا ہے، چاہے وہ چیز ایک اثر یا چند اثر رکھتی ہو یا نہ رکھتی ہو یا یہ کہ وہ اثر جنبہ ماوراء طبیعت رکھتی ہو یا نہ رکھتی ہو،چونکہ خدا صرف ماوراء طبیعت ، آسمان و ملکوت و جبروت کا خدا نہیں ہے بلکہ سارے جھان کا خدا ہے، وہ طبیعت سے اتنا ہی قریب ہو نے کے ساتھ قیومیت بھی رکھتا ہے جتنا ماوراء طبیعت سے نزدیک ہے ، اور ایک موجود کے لئے جہت ماوراء طبیعت رکھنے سے اس کو خدائی کا پھلو نہیں ملتا ہے۔
یہ بات ہم پھلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ جھان بینی اسلامی نقطہ نظر سے دنیا کی ماہیت ”اس (اللہ) سے“ھے، جیسا کہ قرآن کریم نے متعدد معجزات کو، مثلاً مردہ کو زندہ کرنے یا مادر زاد اندھے کو شفا دینے کی نسبت بعض، پیغمبروں کی طرف دی ہے، لیکن اس نسبت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے کلمہ ”بِاِذنِہِ“ کو اضافہ کیا ہے یہ کلمہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ماہیت ”اس (اللہ) سے“ ہے، لیکن یھاں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ انبیاء مستقلاً اس کام کو انجام دیتے ہیں۔
لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ توحید نظری و شرک نظری کی حدیں ”اس (اللہ) سے“ ہے اور کسی موجود کے وجود پر اعتقاد رکھنا کہ اس کی موجودیت ”اس سے“ یعنی خدا سے نہیں ہے شرک ہے،یا یہ اعتقاد رکھنا کہ کسی موجود میں تاثیرو موثریت ”اس (اللہ) سے“ نہیں ہے یہ بھی شرک ہے چاہے اثر، اثر مافوق طبیعت ہو مثلاً آسمان و زمین کی خلقت یا ایک ھلکا سا اثر مثلاً پتوں کا ھلنا۔
توحید عملی میں شرک و توحید کی حد ”اس (اللہ) سے“ ہے ”إنَّا للہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ“ ہر موجود کی طرف توجہ، ظاہری و معنوی توجہ سے بڑھ کر، جب کبھی بھی اصل توجہ ایک راہ کی طرف ہو ،وہ راہ جو حق کی طرف ہو اس مقصد کی طرف، تو وہ توجہ اللہ کی طرف ہے،ھر حرکت و مسیر میں راستے کی طرف توجہ کرنا اس حیثیت کا راستہ ہے اور علائم و چراغ راستہ نہ کھونے یا مقصد سے دور نہ ہٹنے کے لئے ہوتے ہےں، کی طرف توجہ کرنا اس لحاظ سے کہ یہ سب علامت اور نشانیاں ہیں مقصد کی طرف راستہ چلنے کے لئے ، اسی طرح انبیاء اور اولیاء خدا بھی راستہ کی طرح ہیں: ”اَنتُمُ السَّبِیلُ الاَعظَمُ وَ الصِّرَاطُ الاَقوَمُ“ آپ ہی سبیل اعظم اور صراط اقوم ہیں، وہ لوگ اللہ کی طرف سیر کرنے کی علامت اور نشانیاں ہیں: ”و اعلاماً لعبادہ و مناراً فی بلادہ و ادلائاً علی صراطہ“حق کی طرف ہدایت کرنے والے اور راستہ دکھانے والے ہیں،”اَلدُّعَاةُ اِلَی اللّٰہِ وَ الاَدِلَّاءُ عَلَی مَرضَاةِ اللّٰہِ“
لہٰذا بات یہ نہیں ہے کہ توسل و زیارت یا اولیا ء خدا سے امداد طلب کرنا اور مافوق طبیعت کام انجام دینے کا انتظار کرنا شرک ہے، بلکہ بات کچھ اور ہی ہے۔
اول :۔ہم کو یہ جاننا ضروری ہے کہ انبیاء اور اولیاء خدا نے قرب الھی میں اتنی بلندی حاصل کی کہ اللہ تعالی کی طرف سے ایسے مقامات عطا کئے گئے ہیں یا نھیں؟
آیات قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بعض بندوں کو ایسا مقام و مرتبہ عطا کیا ہے ۔
دوم :۔وہ لوگ جو توسل کرتے ہیں یا اولیاء خدا کی زیارت کو جاتے ہیں ان سے حاجت طلب کرتے ہیں، توحیدی نظریہ کے مطابق ان کو توحید کے صحیح معنی معلوم ہیں یا نہیں ؟
کیا واقعاً اس نظریہ کے تحت زیارت کرنے والے لوگ خشنودی خدا کے لئے زیارت کرتے ہیں یا اللہ کو بھول کر خود جس کی زیارت کو جاتے ہیں اسی کو مقصد قرار دیتے ہیں؟
بغیرکسی شک کے اکثر لوگ اسی نیت سے زیارت کرتے ہیں اور ممکن ہے کچھ لوگ اقلیت میں ایسے بھی ہوں جو ایسا قصد نہ رکھتے ہوں اور توحید کو صحیح درک کرنے سے قاصر ہوں، اگر چہ خواہشات ہی کی حد میں کیوں نہ ہوں ضروری ہے کہ ہم انہیں توحید کے معنی سمجھائیں نہ یہ کہ زیارت کو شرک قرار دیں۔
سوم :۔ وہ افعال و اقوال جو تسبیح و تکبیر و تحمید اور علی الاطلاق ذات کامل یعنی خدا، اور علی الاطلاق بے نیازی پر دلالت کرتے ہیں غیر خدا کے لئے ان کااستعمال شرک ہے ، سبوح ٌیعنی وہ مطلقاً طور پر منزہ ہے ، اور اس کی ذات ہر نقص سے پاک و پاکیز ہ ہے، بزرگ تنھا اس کی ذات ہے تمام تعریفوں کا منبع و مرکز تنھا خدائے بزرگ و برتر ہے، تمام ”حول و قوة“ اسی کی ذات اور صفات سے قائم ہے!اوراگر اسی طرح کی توصیف و تعریف کوئی شخص غیر خدا کے لئے کرنا چاہے زبان کے ذریعے ہو یا عمل کے ذریعے ، شرک ہے۔
عالم کائنات میں وہابیوں کا نفی واسطہ کا عقیدہ
اسلامی عظیم الشان فلسفی اور مفکر حضرات نے اپنے صحائف اور تالیفات میں ، عالم ھستی میں ضرورتِ وجود ”رابطہ“ و ”واسطہ“ پر بحث کی ہے اور طالبان حکمت و عرفان کے لئے خصوصاً مفید، راہ گشا اوربہت عمدہ مطالب ذکر کئے ہیں۔
فلسفی حضرات نے اپنی جگہ پریہ بات ثابت کی ہے کہ دو چیز جن کے درمیان بلندی و پستی میں نھایت بُعدا ورمباینت ،پا ئی جاتی ہو،ان کے لئے ایک دوسرے سے ارتباط کے لئے واسطہ درکار ہے تاکہ عالی سے سافل تک پیغام رسانی میں واسطہ بن سکے ،اگر ایسا نہ ہو تو کسی بھی حالت میں دو موجود کے درمیان کہ جو مبائن و مغایر ہیں اور ایک دوسرے سے نھایت بُعد رکھتے ہیں کبھی بھی ان میں رابطہ برقرار نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح سے صدر متاَلھین اور دیگر فلاسفہ و محققین اور دوراندیش اسلامی حکماء نے حکمت کی عمیق اور فلسفی بحثوں میں اس بات کو منزل ثبوت تک پہونچا دیا ہے کہ خداوند متعال نھایت ”تجرد“ بلکہ” مافوق تجرد“ ہے اور کسی طرح کا نقص اور محدودیت نہیں رکھتا بلکہ اس کی ھستی نا محدودا ور لامتناہی ہے ”کل الکمال“ اور ”کلہ الکمال“ ہے ، اور اگر قاعدہ ”بسیط الحقیقة“ کے لحاظ سے دیکھا جائے ، جس کا یھاں ذکر کرنا یا عام لوگوں کا اس کو سمجھنا مشکل ہے بس اس قاعدے کے ذیل میں اتنا سمجھ لیں کہ خداوند عالم سارے کمالات کو خالص اور نامحدودطور پر رکھتا ہے، اور ائمہ معصومین(ع) کے بقول کہ وہ ایک شئی ہے ”لَا کَالاَشیَاءِ “ لیکن اشیا ء کی طرح نھیں، بلکہ وہ ایسی شئی ہے کہ ”بِحَقِیقَةِ الشَّیئِیَّةِ “ یعنی وہ وہی ”حقیقة الوجود“ اور ”حقیقة الحقائق“ ہے کہ عرفان کی زبان میں ”نور الانوار“ و ”ظاہر مطلق“ اور ”غیب ہویت“ و ” ذات احدیت “ و ”عنقاء مغرب“ کھا جاتا ہے۔
دوسری طرف جبکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ اس کائنات کی تمام موجودات ،مادی ہیں جوتمام کی تمام بے انتھا، وسیع و نامحدودفیض( حق تعالی) کی طرف سے فیضیاب ہوتے رہتے ہےں، مادی و جسمانی چیزیں زمان ومکان میں مقید ہوتی ہیں نیز ”بُعد“ میں اسیر رہتی ہیں اور ان کا وجود محدود ہوتا ہے اور ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں اور اپنی شکل تبدیل کرتی رہتی ہیں اور ان کی ”حیثیت وقتی“ او رانکی شکل ”متحرک“ھوتی ہیں۔
اوریہ بھی روشن اور واضح ہے کہ خداوند عالم صرف تمام مخلوقات کا خالق ہی نہیں ہے :”( اَللّٰهُ خَالِقُ کُلِّ شَيءٍ ) “ بلکہ ان کا ھادی اور مربی بھی ہے۔
”( رَبُّنَا الَّذِی اَعطَیٰ کُلشَيءٍ خَلقَهُ ثُمَّ هدیٰ“ ) وہ ”( رَبُّ الْعَالِمِیْن ) “ ہے اور تمام موجودات کی پرورش کرنے والا ہے۔
سبھی اس کے کرم و نعمت کے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے ہیں کوئی شخص اپنے پاس سے کچھ نہیں رکھتا ہے جو کچھ ہے سب اسی کا دیا ہواہے سب اسی کے محتاج ہیں اور وہ خود ہر ایک سے بے نیاز ہے:
”( یَا اَیُّهَا النَّاسُ اَنتُمُ الفُقَرَاءُ اِلَی اللّٰهِ وَ اللّٰهُ هُوَ الغَنِیُ الحَمِیدُ ) “( ۲۹ )
لہٰذا اب ہم کہتے ہیں:کہ اگر واسطہ درکار نہ ہو، تو غنی محض بلکہ ”غنای محض“کا ”فقر محض“اور وہ بھی نامحدود سے کیا تقابل ، ان میں کیا سنخیت ہے، اور کس طرح ”غناء محض“ ”فقر محض“کا ہم نشین و ہم پلہ ہوسکتا ہے سنخیت علتِ انضمام ہے ”اَلسِّنخِیَّةُ عِلَّةُ الاِنضِمَامِ“ لیکن کس طرح ہمنشینی اور دو موجود کے درمیان ارتباط جو کاملاً متفاوت و متباین ہیں توجیہ پذیر ہوسکتا ہے مگر یہ کھا جائے کہ یہ موجودات خاکی مادی و محدود کہ جو ”غواسق“ یعنی اندھیرے و تاریکی میں ہیں ، عقول کلیہ ”وسائط فیض“ و ”وسائل“ کے توسط سے قریب او رقربت رکھتے ہیں، اور حکماء کی اصطلاح میں ”جالس بین الحدین“ یعنی دو حدوں کے درمیان قرار پانے والے ، کھلاتے ہیں حضرت ”نور الانوار“ سے ،ھر حالت میں ، فیوضات کسب کرتے رہتے ہیں ،اور ہر ایک اپنی لیاقت و ظرفیت کے مطابق منزل کمال تک پہونچتے ہیں کہ وہ وہی انبیاء و اولیاء معصومین(ع) ہیں جو اپنے جنبہ روحانیت کے ذریعے خدا وندکریم سے فیوضات کسب کرتے ہیں اور اس طرف مخلوقات سے پیکر انسانی میں مناسبت رکھتے ہیں اور فیضیاب کرتے ہیں۔
وجود نبی و پیامبر کی ضرورت کے سلسلے میں اسلامی فلسفی حضرات کے جومدلل و واضح ترین بیانات ہیں ،وہی دلیلیں بعینہ وجود امام و خلیفہ پیامبر(ص) پر جاری ہوںگی ۔( ۳۰ )
اگر چہ یہ بحث مفصل مقدمات اور فلسفہ کے دشوار و مشکل مراحل میں سے ہے اور ہم یھاں پر فلسفے کی دشوار و سنگین وادیوں میں جانا مناسب نہیں سمجھتے لیکن اس نکتہ کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ نہ تو محمدا بن عبد الوہاب اور نہ ہی اس کے ہمفکر رھنماؤں ، مثال کے طور پر ابن تیمیہ و ابن
قیم،جیسے افراد فلسفے اور حکمت کے مطالب سے ناآشنائی کی بنا پر اور مسٹر ہمفرے کے توسط سے برطانیہ کی تحریک آمیز جاسوسی و وزارت استعمار برطانیہ کی طرف سے محمد ابن عبد الوہاب کو دین سازی کے دیئے گئے احکامات ، ان سب کے علاوہ علوم عقلیہ سے دوری و اسلامی فلسفے و حکمت سے عدم واقفیت اور ظاہر پرستی و جمود و عدم تفکر کا نتیجہ ہے، یہ بات اصلاحگروں اور نئی فکررکھنے والے اندیشمندوں کی اصطلاح میں جو حفظ شرع و دین کا دفاع اور دلسوزی و جانبازی !کا نعرہ لگاتے ہیں، یہ لوگ اللہ کی قدرت وعظمت و علم و احاطہ و حیات و تمام اسماء و صفات کو مخلوقات سے جدا و الگ مانتے ہیں اس طرح کہ عنوان ”وساطت“ کو وسائط سے اور عنوان ”مرآتیت“ (آئینہ)کے قائل ہیں جن میں خدا وندعالم کی ذات کے مظھر ہیں اس وجہ سے اصولاً عالم امکان میں معنی ظھور وتجلی کے قائل نہیں ہےں۔
اسی وجہ سے یہ لوگ ایک خطرے اور اشکال میں قرار پاتے ہیں کہ اگر روز قیامت تک یہ لوگ فکر کریں تب بھی اس سے نجات اور چھٹکارہ نہیں مل سکتا، اور یہ اعتراض کہ: ہم اس کائنات میں بہت ساری ایسی مخلوقات کو وجداناً اور شھوداً دیکھتے ہیں کہ سب کی سب زندگی و علم و قدرت رکھتی ہیں ، اوریہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جو قابل انکار بھی نہیں ہے اور موجودات مو ثر کا ہم انکاربھی نہیں کرسکتے۔
لہٰذا ہم کہتے ہیں: کہ اگر ذات ازلی حق، میں حیات و علم و قدرت کو دیگر موجودات کے علاوہ جانیں تو یہ بات وجداناً و شھوداً غلط اور باطل ہے چونکہ موجودات میں ان صفات کا وجود ضروریات و یقینیات میں سے ہے اور اگر موجودات کو قدرت مستقل و حیات و علم مستقل والا مانیں، اگرچہ اللہ تعالی کی طرف ہو، پھر بھی یہ غلط ہے کیونکہ یہ کلام عین شرک و ثنویت ہے اور اس پر تعدد خدا و دیگر بے شماراشکالات پیدا ہوتے ہیں۔
عنوان ”اعطاء“ عنوان ”استقلال“ کے ساتھ سازگاری نہیں رکھتا ، چونکہ اس گفتگو کا لازمہ یہ ہوگا کہ، موجودات کی خلقت حق تعالی کے سبب ہے، اور یہ کلام اگر دیکھا جائے تو عین تفویض ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم”لَم یَلِد وَ لَم یُولَد وَ لَم یَکُن لَّہُ کُفُواً اَحَدٌ“ ہے نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ اسکو کسی نے پیداکیا اور نہ ہی اس کا کوئی کفو ہے۔
اب یھاں پر کوئی علمی و فلسفی راستہ نہیں ہے مگر یہ کہ اس کائنات کی موجودات کو ذات اقدس باری تعالی کے لئے مظاہر و متجلی تسلیم کریں اس طرح کہ قدرت و علم و حیات خداوندعالم سے مخصوص ہے اور یہ موجودات عالم میں ان کی ماہیت و ہویت کے اعتبار سے قدرت و علم و حیات نے اظھار کیا ہے۔
یعنی استقلال خداوندعالم میں منحصر ہے حیات و علم و قدرت وسارے اسما ء و صفات میں استقلال، ذات حق تعالی سے مختص ہے اور خدا کے علاوہ دیگر چیزوں میں عرضی طور پر ہے یہ تمام چیزیں ذات حق تعالی میں اصالت رکھتی ہیں اور دیگر موجودات میں آئینہ و نشانی کے طور پر پائی جاتی ہیں۔
اور اب اسی قاعدہ کی بنا پر ارواح مجرداور مقرب فرشتوں کے نفوس قدسیہ و انبیاء (ع) کے نفوس ناطقہ اور اسی طرح ائمہ اطھار علیہم السلام کے نفوس ناطقہ، حضرت مھدی قائم آل محمد(ع) عج اللہ تعالی فرجہ الشریف میں مزید پایا جاتا ہے بلکہ عادتاً ان میں زیادہ ہی ظھور و بروز پایا جاتا ہے اور یہ آئینے ذات حق تعالی کی کچھ زیادہ ہی عکاسی کرتے ہیں۔
لہٰذا اس اصل و قاعدہ کی بنا پر حیات و علم و قدرت خداوندعالم سے مخصوص ہےں، ان کا ظھور و بروز ان آئینوں میں گواہ اور ایک ناقابل انکار حقیقت اور عقلی طور پر یہ بات ثابت ہے۔
ظھور و ظاہر، اورحضور و حاضر ایک ہی چیز ہے معنی حرفی معنی اسمی میں سما یا ہوا ہے، تمام موجودات بغیر کسی استثناء کے، سب کے سب اللہ کی نشانیاں ہیں اور ان کی نسبت اللہ تعالی کی طرف معانی حرفیہ کی نسبت ہے اور معنی حرفی کے لئے استقلال کا تصور نا معقول ہے اور قیاس برہانی میں خلف کا سبب ہے۔
معنی حرفی و معنی اسمی الگ الگ دو چیز یںنھیں ہیں ”معنی حرفی“، ”معنی اسمی“ کی کیفیت و خصوصیت پر دلالت کرتاہے، پیغمبر اکرم(ص) اور ائمہ معصومین(ع) سے حاجت طلب کرنا عین خداوند منان سے حاجت طلب کرنا ہے اور عین توحید ہے۔
فلسفہ متعالیہ و حکمت اسلام میں ، کثرت میں وحدت کا وجود، اور وحدت ذات حق میں کثرت کا وجود ثابت شدہ چیزھے، جس طرح خداوند تبارک و تعالیٰ کانام ”احدیت“ ہے جو تمام اسماء و تعینات اور ہر اسم و رسم سے منزہ و پاک ہے اور وہ احدیت ہے جسکی ذات بسیط و صرف ہے، جو کہ ہر طرح کے تعلقات اور مفھوم کے انطباق سے عاری ہونے پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح خداوند تبارک و تعالی کا نام ” واحدیت“ بھی ہے کہ اس کے ظھور و طلوع ہونے کے لحاظ سے، عالم میں اسما اور صفات کلیہ و جزئیہ ، اور ساری کائنات ملک سے لیکر ملکوت تک کی خلقت کا ملاحظہ کیا گیا ہے۔
وہابی حضرات کہتے ہیں: خداوند عالم نے کائنات کو بغیر کسی واسطے کے پیدا کیا ہے اور عِلَّوی موجودات، آسمانی فرشتے، ارواح مجردہ قدسیہ، خلقت عالم میں کوئی تاثیر نہیں رکھتے، اور ان میں کسی طرح کا واسطہ نہیں پایا جاتا ، اس بنا پر رسول اللہ(ص) یا ائمہ معصومین(ع) کی روح سے مدد طلب کرنا، ملائکہ بلکہ خدا کے مقرب ملائکہ سے بھی مدد طلب کرنا شرک ہے۔
وہابیوں کے اس اعتراض کاہم جواب دیتے ہیںکہ: کیا روحوں سے زندہ ہونے کی صورت میں مثلاً زندہ پیغمبر یا امام سے مدد طلب کرنا شرک نہیں ہے؟ ! کیا عالم و طبیب (ڈاکٹر) یا ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹر یا کاشتکار و صنعتکار سے مدد طلب کرنا شرک نہیں ہے؟!
اگر شرک ہے تو پھر کیوں مدد لیتے ہو؟ اس عالم کائنات میں ہر طرح کی مدد لینے سے ھاتھ کھینچ لو، تو پھر چند دنوں کے بعد سب کے سب مرجاوگے اور دیا رعدم ا ور وطن اصلی کو لوٹ جاو۔
اور اگر شرک نہیں ہے تو پھر کیا فرق ہے زندہ پیغمبر(ص) اور اس دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کی روح سے مدد لینے میں ،اور ایک طبیب و ڈاکٹرسے ، مثلاً ”اپنڈکس “( Appendix )کے آپریشن میں مدد لینے یا مثلاً جبرئیل سے مدد لینے میں کیا فرق ہے؟!
تو کھیں گے کہ وہ شرک نہیں ہے اور یہ شرک ہے! چونکہ ان کی روحیں دیکھی نہیں جاتیں اور پیکر جسمانی میں نہیں آتی اور خلاصہ یہ کہ اسباب طبیعی و مادی سے مدد لینا شرک نہیں ہے لیکن معنوی و روحانی اشیاء سے مدد لینا شرک ہے، کثیف اشیا سے مدد لینا شرک نہیں ہے اور نفوس عالیہ مجردہ قدسیہ سے مدد لینا شرک ہے؟!
ہم جواب میں کھیں گے: قاعدہ عقلیہ استثناء کو قبول نہیں کرتا ، اگر غیر خدا سے مدد لینا شرک ہے تو پھر ہر جگہ شرک ہے اور ہر جگہ غلط ہے، لہٰذا آپ کیسے دلیل عقلی کے ذریعہ توحید خدا کو ثابت کرتے ہیں جبکہ مادی و طبیعی امور میں استثنا کے قائل ہیں؟! کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں ہے؟ ! یا خداوند متعال کے بارے میں علم و عرفان سے تھی دستی پر رونے کے قابل نھیں؟
وہابی کہتے ہیں: قبر معصوم کے اردگرد طواف کرنا شرک ہے ،ضریح مطھر، عتبات عالیہ کو بوسہ دینا شرک ہے، سید الشھداء کی مٹی پر سجدہ کرنا شرک ہے، قضاء حوائج کے لئے ائمہ اطھار (ع)و صدیقہ طاہرہ کو واسطہ قرار دینا شرک ہے۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ: کیوں شرک ہے ؟ کیا فرق ہے حجر اسود اور ضریح کو بوسہ دینے میں ؟ کیا فرق ہے اس گھر میں جس کو حضرت ابراہیم(ع) نے بنایا اور اس مرقد مطھر میں جو آیت کبریٰ الہٰی اور صاحب مقام اَو اَدنیٰ و صاحب شفاعت کبریٰ اورحامل لواء حمد ہے، خانہ کعبہ کا طواف کیوں جائز ہے؟ اور یھاں قبر مطھر کا طواف جو کہ اہم یت کا حامل ہے جائز نھیں؟( ۳۱ )
”شرح قاموس اللغہ مادہ طَوف “میں ہے کہ طوف یعنی پاخانہ کرنا ، طاف َ یعنی اس نے پاخانہ کیا، ”مجمع البحرین“ میں اس طرح ہے کہ ”والطَوف : الغائط یعنی طوف کے معنی پاخانہ کرنے کے ہیں جیسا کہ روایت میں بھی وارد ہواہے :
”لَا یُصَلِّ اَحَدُکُمْ وَهَوَ یُدْافِعُ الطَّوْفَ “ یعنی جس کو پاخانہ تیز لگاہوا ہو نماز نہ پڑھیں،یعنی (اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ) او ردوسری حدیث میں اس طرح وارد ہوا ہے : ”لَاتَبُلْ فِی مَاءٍ مُسْتَنْقَعَ وَلَاتَطُفْ بِقَبْرٍ ‘ ‘ جمع شدہ پانی میں پیشاب نہ کرو اور قبروں پر پاخانہ نہ کرو،اگر آپ حضرات دقت سے کام لیں تو واضح ہوجائے گاکہ اس روایت سے مراد پاخانہ کرنا ہے ، لہٰذا قبروں کا طواف کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
کیوں زمین و خاک اور ہر چیز پر سجدہ کرنا جائز ہے؟ لیکن مخصوصاًسید الشھدا ء امام حسین (ع) جوحق و شریعت کے لئے شھید ہوگئے ان کی قبر کی مٹی پر سجدہ جائز نھیں؟! اگرکسی چیز پر سجدہ کرنا شرک ہے تو کیوں فرش و قالین ، چٹائی ، زمین پر جائز ہے، لیکن یھاں حرام ہے؟ عجیب بات ہے وہاں توحید ہے اور یھاں شرک ہوگیا؟
اگر کسی زندہ شخص سے مدد طلب کرتے ہیں تو اس کی روح سے کرتے ہیں کیونکہ روح اصل ہے ، اس کے بدن سے مدد طلب نھیںکرتے ! اس صورت میں نفوس خبیثہ ، کافرہ جو کہ اس دنیا میں ہیں ان سے مدد لینا شرک نھیں؟ اور صدیقہ طاہرہ کی روح پاک سے مدد لینا شرک ہے؟ (واہ سبحان اللہ)
یہ ایسے سوالات ہیں جن کا وہابیوں نے کبھی جواب نہیں دیا اور نہ دے سکتے ہیں، ہاں مگر اس کا جواب دیا جاسکتا ہے: اگر مدد لینا بعنوان استقلال ہو تو شرک ہے، چاہے وہ خانہ کعبہ کا طواف ہو،یا حجر اسود کا بوسہ لینا ، فرش و معمولی زمین پر سجدہ کرنا ہو، طبیب و ڈاکٹرکو واسطہ قرار دینا ہو، سب کا سب شرک ہے لیکن اگر بعنوان استقلال نہ ہو تو کوئی چیز شرک نہیں ہے بلکہ نفس توحید و عین توحید ہے، کیا اس کائنات کی موجودات کو استقلال کی رو سے دیکھنا شرک نہیں ہے؟ لہٰذاوہابی حضرات خداوند متعال کی اتنی تنزیہ و تقدیس کرتے ہیں کہ خود اندھے ہوکر شرک کے دامن میں پھنس جاتے ہیں، ”وَ مِمَّن یَعبُدُ اللّٰهَ عَلَی حَرفٍ “ یعنی خدا کو فقط ایک زاویہ سے دیکھتے اور فکر کرتے ہیں، اور اس کی قدرت و عظمت کو فقط بعض چیزوں میں جانتے ہیں نہ یہ کہ ہر چیز اور ہر جگہ میں ۔
قرآن مجید میں بعنوان آیت وخدا کی نشانی عین توحیدھے ،بلحاظ امامت امام کو بوسہ دینا چومنا،عین خدا کا احترام ہے، ارواح مقدسہ سے حاجت طلب کرنا جومعنویت و روحانیت اور مقرب بارگاہ خداوندعالم ہیں، کے عنوان سے عین توحید ہے خدا کے محبوب بندوں سے محبت کرنا، خدا سے محبت کرنا ہے، یہ تھی عقلی دلیل۔
اور دلیل نقلی(قرآن وسنت) کے لحاظ سے ہم کہتے ہیں : کہ اس سلسلہ میں آیات و روایات بھری پڑی ہیں کہ بہت سی موجودات، وجود و ایجاد میں وسیلہ ہیں اور خلقت اسباب کے ذریعہ وقوع پذیر ہوتی ہے اوراگرکوئی عالم تکوینی میں واسطہ کا انکارکرے گویا اس نے کتاب و سنت کا انکارکیا ہے،کیا ہم قرآن کریم میں نہیں پڑھتے: ”وَ المُدَبِّرَاتُ اَمْراً“( ۳۲ ) ”قسم ان فرشتوں کی جو تدبیر امور کرتے ہیں“
”واَرْسَلنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِح “( ۳۳ ) ” اور ہم نے ہواوں کو بھیجا تا کہ درختوں کو پھل کے لئے آمادہ کرے“
(ھوا کے ذریعہ نر درختوں سے مادہ درختوں میں ایک مادہ منتقل ہوتا ہے اس کو عربی میں تلقیح کہتے ہیں، درخت مادہ اس کے بعد پھل دیتا ہے)
”( وَاللّٰهُ الَّذِی ارْسَلَ الرِّیَاحَ فَتُثِیرَ سَحَاباً فَسُقْنَاهُ اِلیٰ بَلَدٍ مَیِّتٍ فَاحْیَینَا بِهِ الارضَ بَعْدَ مَوْتِهَا کَذَلِکَ النُّشُوْرُ ) “( ۳۴ )
اور خدا وہ ہے جس نے ہوا کو بھیجا تا کہ بادلوں کو حرکت دیں اس طرح ہم ان بادلوں کو مردہ زمین (بے آب و علف) کی طرف لے جاتے ہیں تا کہ ان بادلوں کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کریں، اسی طرح مردہ لوگوں کا نشور بھی ہے۔
”( وَ هُوَ الَّذِی انزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاخرَجنَا بِهِ نَبَاتَ کُلِّ شَئیٍ ) “
اور وہ (وہ)ھے جو پانی کو آسمان سے نیچے لاتا ہے تاکہ ہم اس کے وسیلہ سے، ہر اُگنے والی چیز کو آگائیں۔
ان آیات میں کیسے فرشتوں کے ذریعے تدبیر امور کو مانتے ہیں اور بارش کو مختلف جگھوں پر بادلوں کی حرکت کے سبب، اور درختوں کا ہوا کے توسط سے پھلدار ہونا، اور ہر اُگنے والی چیز کا اُگنا آسمان سے بارش ہونے کے ذریعہ مانتے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر آیات بھی ہیں جن میں واضح طور پر تکوینی اسباب کا تذکرہ موجودھے اس بنا پر ہم کیسے سببیت کا انکار کرسکتے ہیں؟ جبکہ یہ آیات صریحاً اس بات کو ثابت کرتی ہیں،لہٰذا عالم کائنات میں سببیت کا انکار عقلاً و نقلاً محال ہے، عالم کائنات میں سببیت و مسببیت پائی جاتی ہے اور ہر چیز اپنے خاص سبب کے ذریعہ وجود میں آتی ہے، سبب و علت ا ور واسطہ کی نفی کرنا، قانون علیت و عالم میں قانون علیت کے انکار کے مساوی ہے یعنی بدیھیات کا انکار ، اور بدیھیات کا انکار مریض ، پاگل ، دیوانہ او رمجنون کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔!
ھاں یہ کھنا چاہیئے: تمام کے تمام اسباب خدا کے مقھور و مامور ہیں ان میں ذرہ برابر بھی استقلال نہیں پایا جاتاہے بلکہ خداوند متعال کے کار ندہ ہیں”( لِلّٰهِ جُنُودُ السَّمٰاوٰاتِ وَالارضِ ) “ ہم بھی ان اسباب کے بارے میں یہی کہتے ہیں: کہ استقلال نہیں رکھتے بلکہ خدا کی جانب سے فیض لیکر کائنات کو فیضیاب کرتے ہیںان میں ھرایک شفیع و شافع و واسطہ کے عنوان سے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: انبیا و ائمہ کی ارواح سے مدد طلب کرنا ،مردہ روحوںسے مدد طلب کرنا ہے، اور یہ ایک طرح سے مردہ گرائی ہے اور بت پرستی ہے کہ انسان مردوں سے، حاجت طلب کرے اور اس کو خدا کے نزدیک شفیع قرار دے، کیا فرق ہے بتوں سے حاجت طلب کرنے میں یا بے جان موجود سے حاجت طلب کرنے میں ؟
ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں: آیات قرآن اور عقلی دلیلوں سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان کی روح اس کے مرنے سے نھیںمرتی، بلکہ زندہ رہتی ہے اور چونکہ ”تجرد نفس“ معدوم محض نہیں ہوسکتا، اور موت کا معنی ہے دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوجانا، اور اس کے علاوہ کیا قرآن شھدا کے بارے میں یہ ارشاد نہیں فرماتا: وہ لوگ زندہ ہیں اور خدا کے نزدیک رزق پاتے ہیں۔؟
”( وَ لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیْلِ اللّٰهِ اموَاتاً بَلْ احْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرزَقُونَ ) “( ۳۵ )
”اور ھرگز یہ گمان مت کرو کہ جو لوگ راہ خدا میں قتل کر دیئے گئے ہیں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ لوگ زندہ ہیںاور اپنے پروردگار کے پاس رزق پاتے ہیں“
وہابی کہتے ہیں: یہ آیت شھدا ء احد جیسے جناب حمزہ اور ان کے علاوہ دیگر شھدا سے مخصوص ہے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ: کیا جناب حمزہ اور دیگر شھدا ء رسول اللہ(ص) کی نبوت کے زیر سایہ نہ تھے؟ کیا جناب حمزہ کا مقام رسول اللہ(ص)کے مقام سے بالاتر ہے؟ کہ وہ زندہ ہیں اور رسول اللہ(ص) (معاذ اللہ) اس دنیا سے رحلت کے بعد مردہ ہیں؟
نھیں! ایسا نہیں ہے بلکہ رسول اللہ(ص) تو شھیدالشھدا ہیں یعنی شھدا ء پر گواہ ہیں اور انبیا ء کی روحوں کے موکل ہیں۔
ہم تمام نمازوں میں پیغمبر اکرم(ص) پر درود و سلام بھیجتے ہیں:اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ :(اے نبی گرامی آپ پر خدا کا سلام ہو! اورآپ پر اس کی رحمت و برکت ہو!)اس خطاب کا مخاطب ، کیا ٰزندہ و سامع شخص کے علاوہ کوئی اور ہوسکتا ہے؟( ۳۶ )
توسل کے بارے میں ایک جد وجھد
وہابیوں نے جن چیزوں کو بہت زیادہ اچھالا اور اس پر بہت زیادہ اعتراضات کئے ہیں، ان میں سے ایک توسل ہے جس کو کہتے ہیں کہ توحید کے عقیدے سے منافات رکھتا ہے وہ اپنی تحریروں کے ذریعہ شیعوں کے خلاف ہمیشہ زھر اگلتے رہتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں ، کہتے ہیں:چونکہ شیعہ توسل کے قائل ہیں اس لئے مشرک اور دین سے خارج ہیں اور ان کی توحید حقیقی توحید نہیں ہے۔
ان کے ناقص نظریہ کے مطابق توسل کا عقیدہ توحید کے عقیدے سے منافات رکھتا ہے، حقیقت میں اس استعماری مذہب کی یہ ایک کج فکری اور گمراہی ہے، ورنہ ہر صاحب بصیرت و آگاہ شخص جو قرآن و شیعہ و سنی روایات سے واقفیت رکھتا ہے بخوبی جانتا ہے کہ توسل نہ صرف توحید سے منافات رکھتا ہے بلکہ توسل توحید کا بنیادی راستہ ہے جس کی طرف قرآن کریم نے خود ”دعوتِ ارشادی“ کیا ہے ہم وہابیوں کے اس جھوٹے دعوے کو باطل کرنے کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ توسل کے بارے میں ایک جامع بحث و گفتگو کریں تاکہ حق وباطل اور سچائی و جھوٹ میں فرق واضح ہو جائے۔!
لغت میں توسل کے معنی
”توسل“ یعنی کسی چیز سے نزدیک ہونے کے لئے وسیلہ تلاش کرنا ، جیسا کہ ماہرین لغت فرماتے ہیں
:تَوَسَّلَ اِلَیهِ بِوَسِیلَةٍ:اِذَا تَقَرَّبَ اِلَیهِ بِعَمَلٍ تَوَسَّلَ اِلَی اللّٰهِ بِعَمَلٍ اَو وَسِیلَةٍ: عَمِلَ عَمَلاً تَقَرَّبَ بِهِ اِلَیهِ تَعَالٰی ،
(اس کی طرف وسیلہ کے ذریعہ متوسل ہوا: جب اللہ سے کسی عمل کے ذریعہ قربت حاصل کی تو اس نے کسی عمل یا وسیلہ کے سھارے اللہ سے توسل کیا: یعنی اس نے ایسا عمل انجام دیا کہ اس کے ذریعہ اللہ سے قریب ہوگیا)
لغت میں ”وسیلہ“ کے مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں:
۱( ع) نزدیک ہونا ۔
۲( ع) بادشاہ کے نزدیک مقام و منزلت۔
۳( ع) درجہ ۔
۴( ع) میل و رغبت کے ساتھ کسی چیز تک پہونچنے کے لئے چارہ جوئی کرنا۔
۵( ع) ہر وہ چیز جس کے ذریعہ دوسرے سے نزدیک ہونا ممکن ہو۔( ۳۷ )
توسل فطرت و طبیعت کی نگاہ سے
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اپنے مورد نیاز معنوی و مادی کمالات کو حاصل کرنے کا محتاج ہے، زمین و آسمان سے لیکر ہزاروں جمادات و نباتات انسان و حیوان درکار ہوتے ہیں تاکہ انسان اس کائنات کے آثار و خواص وجودی کے ذریعہ اپنے نقائص و کمیوں کو دور کرے اور کچھ کمالات مادی و معنوی کو حاصل کرے۔
یھی قاعدہ تمام موجودات کے لئے جاری و ساری ہے، یعنی ہر ایک موجود ایک طرح سے دوسرے موجودات کی طرف دست نیاز دراز کئے ہوئے ہیں اور فعل و انفعال اور تاثیر و تاثر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔
اور یہ وہی قانون ”توسل“ ہے جو ایک تکوینی حقیقت اور مسلّم طبیعت ہے کہ خلقتِ نظام عالم اور عالم انسانیت میں برقرار اور ہر جگہ مشھود و عیاں ہے۔
اور کوئی با شعور انسان چاہے اس کا شعور مادی ہو یا الہٰی اس قانون کو جاری کرنے میں کسی طرح کی تردید محسوس نہیں کرتا اور موجودات کے تاثیر کا منکر نہیں ہے۔
جبکہ ہم لوگ جانتے ہیں کہ: پیاسا انسان ٹھنڈا پانی پینے سے سیراب ہو جاتا ہے اوردوا بیمار کے لئے شفابخش ہوتی ہے اور زھریلی چیزیں سالم افراد کی جان خطرے میں ڈال سکتی ہیں، اور اسی طرح جاہل افراد استاد کی تعلیم سے عالم بن جاتے ہیں اور فقیر مالدار کی بخشش سے غنی ہوجاتے ہیں برسات میں بادل پانی برساتا ہے اور وہ پانی زمین کو سر سبز کرتا ہے جانور سبزہ زار سے اپنے پیٹ بھرتے ہیں اور جانور خود حیات انسانی کی بقا کے سبب بنتے ہیں۔
اور اسی طرح کائنات کی تمام چیزیں سلسلے وار ایک دوسرے کے لئے موثر اور ایک دوسرے سے متاثر ہیں یھاںتک کہ مادی انسان تمام اشیا ء و خواصِ موجودات کو ایک دوسرے کے لئے معلول طبیعت جانتا ہے ،لیکن ایک مسلمان تمام اشیاء کی طبیعت و اجسام کی ترکیب کائنات کے نظم و نسق میں خدائے علیم و حکیم کو مستند و اصل جانتا ہے ایک ایسی تدبیر جو کہ :
چشمہ از سنگ برون آرد و باران از میغ
انگبین از مگس نحل و در از دریا بار
پاک و بی عیب خدائی کہ بہ تقدیر عزیز
ماہ و خورشید مسخر کند و لیل و نھار
پادشاہی نہ بدستور کند یا گنجور
نقشبندی نہ بہ شنگرف کند یا زنگار
بھر حال کائنات میں موجودہ نظام اور قوانین حاکم (توسل) اور قانون (تسبب) ہیں یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کمال اور خواہش کو پورا ہونے کے لئے، اصل طبیعت کے قانون سے، وسیلہ کے دائرہ میں ہے اور سبب کو حاصل کرنے پر موقوف ہے۔( ۳۸ )
توسل قرآن کی نظر میں
قرآن مجید انسانی فطرت کے مطابق نازل ہوا ہے،اسی وجہ سے (توسل) کے موضوع کو ہدف اور توحید تک پھنچنے کے لئے ایک مسلم راستے کے عنوان سے تعارف کرایا ہے۔
اس لئے اصل توسل کا انکار حقیقت میں عالم طبیعت کے اصل اصول کے انکار کرنے کے برابر ہے اور قوانین فطرت کو نادیدہ شمار کرنا ہے۔
( قُرب خدا)عبودیت و بندگی کی راہ میں انسان کے لئے قرب خدا ایک عالی ترین اور شریف ترین کمال ہے جس کی قرآن نے نشان دھی کی ہے ،ارشاد ہوتا ہے:
”( یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوا اِلَیهِ الوَ سِیْلَةَ وَ جَاهدُوا فِی سَبِیلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ) “( ۳۹ )
اے ایمان لانے والو! تقوی الہٰی اختیار کرو اور اللہ تک پھنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو اور اللہ کی راہ میں جھاد کرو شاید تم نجات پا جاو۔
اور اسی طرح دوسری جگہ ارشادھوتا ہے:
( قُلِ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَایَملِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنکُم وَ لَا تَحْوِیلاً اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّهِمُ الوَسِیلَةَ اَیُّهم اَقْرَبُ وَ یَرجُونَ رَحْمَتَهُ وَ یَخَافُونَ عَذَابَهُ اِنَّ عَذَاْبَ رَبِّکَ کَانَ مَحذُوراً ) ۔( ۴۰ )
”یہ لوگ جن کی مشرکین(اپنا خدا سمجھ کر) عبادت کرتے ہیں ،وہ خود اپنے پروردگار کی قُربت کے ذریعہ ڈھونڈتے پھر تے ہیں کہ (دیکھیں) ان میں سے کو ن زیادہ قربت رکھتا ہے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، ا س میں کوئی شک نہیں کہ تیرے پروردگار کا عذا ب ڈرنے کی چیز ہے“۔
یہ آیات شریفہ اس بات کی نشاندھی کرتی ہیں کہ تمام موجودات ، فرشتے اور پیامبران یا دوسری مخلوقات اللہ کے علاوہ سب کے سب اس سے کسب فیض (وسیلہ کی تلاش) کرتے ہیں، چاہے وہ اضطراری حالت میں ہو یا اختیاری حالت میں ، ہر طرح سے اس کی رحمت سے قریب اور عذاب کو دو رکرنے میں وسیلہ کی تلاش کرتے ہیں، تاکہ اس سے اور زیادہ قریب ہو جائیں :
”یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّهِمُ الوَسِیلَةَ اَیُّهُم اَقرَبُ “
رسول اللہ(ص) سے روایت کی گئی ہے کہ:آنحضرت(ص) نے فرمایا:
”اِسْئَلُُوا اللّٰهَ لِی بِالوَسِیلَةِ فَاِنَّهَا دَرَجَةٌ فِی الجَنَّةِ لاَیَنَالُهَا اِلاّٰ عَبدٌ وَ احِدٌ اَرجُو اَن اَکُونَ اَنَا هُوَ “
میرے لئے اللہ سے وسیلہ کی دعا کرو کیونکہ جنت میں وسیلہ ایک ایسا درجہ ہے جو ایک بندہ کے علاوہ کسی کو نہیں مل سکتا میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایک بندہ میں ہوں۔
اسی طرح رسول اللہ(ص) سے اذان سننے کے وقت کی دعا میں نقل ہوا ہے: ”۔۔۔آتِ مُحَمَّداً الوَسِیلَةَ ۔۔۔۔“ اے اللہ رسول اللہ(ص) کو درجہ وسیلہ پر فائز کر۔
حضرت امیر المومنین(ع) رسول اسلام(ص) کے لئے دعا کرتے وقت یہ فرماتے ہیں :”وَشَرِّفْ عِندَکَ مَنزِلَتَهُ وَ آتِهِ الوَسِیلَةَ ۔۔۔“ اے خدا اپنے نزدیک رسول اسلام(ص) کی منزلت کو بزرگ قرار دے اور ان کو درجہ وسیلہ سے سرفراز فرما۔۔۔
غرض یہ کہ تمام کائنات یھاں تک کہ اشرف موجودات میں سے خود رسول اعظم(ص) ہیں وہ بھی خدا سے تقرب حاصل کرنے میں ”ابتغاء وسیلہ“ یعنی وسیلہ تلاش کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ آنحضرت(ص) کا وسیلہ دیگر ممکنات جھان کے وسیلہ سے بہت مختلف ہے اوروہ وسیلہ ہماری سعی اور کوشش سے بڑھ کر ہے۔
اسی لئے تمام موجودات جھان اپنے حدود کے دائرے میں رہ کر سب کے سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں جیسا کہ خود قرآن کریم نے ارشاد فرمایا:( ” یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّهِمُ الوَسِیلَةَ ) “یعنی وسیلہ کی تلاش میں ر ہیں تاکہ اپنے پروردگار کا قرب حاصل کریں ، ہاں بس اسی لئے ہے کہ کائنات میں کوئی بھی موجود یہ صلاحیت نہیں رکھتاکہ رب حقیقی بن سکے یا مستقلاً مشکلات کو رفع کرسکے یامستقل طور پر کسی کو فیضیاب کرسکے۔
جبکہ معبودیت اور استقلال رحمت کے افاضہ کے لئے ، حکم عقل کے مطابق، قدرت مستقلہ اور موجود کے خصائص کی شان ”قائم بذات“ ہے اور وہ بھی ذات اقدس حضرت ”حق “ جل شانہ میں منحصر ہے اور بس۔
اور تمام موجودات جو کہ بذات خود فاقد ھستی و کمالات ہیں ضروری ہے کہ مبدا ھستی و منبع کمال سے ”ابتغاء وسیلہ“ کی راہ پر گامزن رھکر طلب فیض کریں ”اِتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوا اِلَیهِ الْوَسِیلَةَ “۔
اور جیسا کہ ہم نے کھا کہ لغت میں ”وسیلہ“ کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں ان میں مناسب ترین معنی گذشتہ دو آیات ( آیت ۳۵ سورہ مائدہ و آیت ۷۵ سورہ اسراء )میں سیاق کلام کے لحاظ سے وہ وہی پانچواں معنی ہے، یعنی ”ھر وہ چیز جس کے ذریعہ دوسرے سے نزدیک ہوا جاسکے“
مخصوصاً پھلی آیت میں کہ اولاً حکم ”ابتغاء وسیلہ“ کے بعد، راہ خدا میں جھاد کا حکم دیا گیا ہے اور ثانیاً ”تقویٰ“ و ”ابتغاء وسیلہ“ اور ”جھاد“ کے نتیجہ کو ”فلاح“ و کامیابی ، جملہ ”( لعلکم تفلحون ) “ کے ذریعہ بیان کیا جا رہا ہے۔
اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فلاح و کامیابی ،وہی خدا کے قرب کا پا جانا ہے اور چونکہ ”مقصد“ اور ”نتیجہ“ میں مغایرت ہونی چاہیئے ضروری ہے کہ ”وسیلہ“ ایسی چیز ہوکہ آدمی کے لئے ممکن ہوسکے کہ اس کے ذریعہ ”قرب خدا“ و ”منزلت“ اور اس ”درجہ“ تک رسائی ہوسکے اور وہ وہی ”فلاح“ اور کامیابی ہے جو اس تک پہونچ سکے۔
اور اسی طرح جھاد کا حکم حقیقت میں اس کے درپے وسیلہ کا حکم ہے (چاہے جھاد کو کفار کے ساتھ قتال کے معنی میں لیں، یا مطلقاً راہ خدا میں کوشش و سعی کے معنی میں لیں) پھر بھی وسیلہ اس کے اہم مصداق میں سے ہے اور چونکہ یہ مسلّم ہے کہ خود ”جھاد“ قرب خدا کے لئے عینی و خارجی تحقق نہیں ہے بلکہ ”قرب“ کے لئے ایک سبب و مقدمہ ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ”وسیلہ“ اس مذکورہ آیت میں ”قرب“ و”درجہ“ اور ”منزلت“ و ”چارہ جوئی“ جو کہ وسیلہ کے لغوی معنی ہیں، نہیں ہے۔
بلکہ صحیح و مناسب معنی اس آیہ شریفہ کا وہی ہے جو پانچواںمعنی بیان کیا گیا ہے یعنی ”ھر وہ چیز جس کے ذریعہ خدا تک رسائی ہوسکے"
اور اس وجہ سے بھی کہ کلمہ ”وسیلہ“ آیہ شریفہ میں مطلق اور کسی قید و تقیید کے بغیر آیا ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے معنی میں وسعت و گستردگی ہے اور ہر طرح کا اعتقاد و عمل اور ہر چیز و ہر شخص جو کہ خدا سے ”قرب“ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اطلاق ہوتا ہے، بطور مثال، ایمان ، پروردگار کی وحدانیت کا اعتقاد اور پیغمبروں کی رسالت کا اعتقاد و ایمان ،اور اسی طرح رسول اسلام(ص) کی پیروی و اطاعت ، واجبات کا انجام دینا مثلاً نماز، روزہ، حج، زکات و جھاد اور نادان لوگوں کو صلہ رحم کی ہدایت کرنا ، مریض کی عیادت کرنا وغیرہ نیک اور خداپسند اعمال یہ تمام کے تمام قرب خدا کے وسائل و اسباب ہیں۔
جیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اِنَّ اَفْضَلَ مَا تَوَسَّلَ بِهِ المُتَوَسِّلُونَ اِلٰی اللّٰهِ سُبْحَانَهُ ، اَلاِیمَانُ بِهِ وَ بِرَسُولِهِ وَ الجِهَادُ فِی سَبِیْلِهِ… وَ کَلِمَةُ الاِخْلاَصِ …وَ اِقَامِ الصَّلوةِ …وَ اِیتَاءِ الزَّکَوةِ …وَ صَوْمِ شَهرِ رَمَضَان…َ وَ حَجُّ البَیتِ وَ اِعتِمَارُه ُ…وَ صِلَةُ الرَّحم…ِ وَ صَدَقَةُ السِّرِّ وَصَدَقَةُ العَلَانِیَّةِ …وَ صَنَائِعُ المَعرُوفِ “
بیشک وسیلہ تلاش کرنے والوں کے لئے بہترین وسیلہ خدا تک رسائی کی خاطر ، اللہ پر ایمان اور اس کے رسول پر ایمان اور اس کی راہ میں جھاد، کلمہ اخلاص، اقامہ نماز، اداء زکات، رمضان المبارک کا روزہ، حج بیت اللہ اور عمرہ، صلہ رحم ، اللہ کی راہ میں مخفی اور علناً طریقے سے صدقہ دینا، اور دیگرنیک اور خداپسند اعمال سب کے سب خدا تک پہونچنے کے وسیلہ ہیں۔
اور اسی طرح انبیاء کی ذوات مقدسہ، اولیا خدا و مقربین بارگاہ خداوندی، ان کی معرفت اور ان لوگوں سے محبت کرنا، دعا و شفاعت طلب کرنا ان کے ذریعہ تقرب تلاش کرنا، یا ان سے منسوب چیزوں کی تجلیل کرنا، کسی بھی طریقے سے کیوں نہ ہو، مراقد مطھرہ کی زیارت کرنا اور ان کی قبور شریفہ جو کہ مسلّم مصداق ”تعظیم شعائر اللہ“ ہے اور بندگان خدا سے محبت و مودت کی روشن ترین دلیل اور ھادیان راہ حق کی تعالیم و مکتب کو عظمت دینے کے برابر ہے۔
روشن ہے کہ یہ تمام مذکورہ چیزیں کلمہ ”وسیلہ“ کے ”اطلاق“ کے لحاظ سے سب کی سب اس وسیع و عام مفھوم میں داخل ہیں،یعنی ان تمام امور پر، یہ عنوان صدق آتا ہے ”مَا یَتَقَرَّبُ بِهِ اِلٰی اللّٰهِ “ یعنی جس کے ذریعہ اللہ سے قریب ہوا جاسکے اور اس کی رضا و خوشنودی کو حاصل کرسکیں۔
اس بنا پر کوئی ہمارے پاس دلیل یا سبب نہیں ہے کہ کلمہ وسیلہ کے ”اطلاق“ سے چشم پوشی کریں اور اس کے مفھوم کو ایک یا چند مفھوم کے لئے مخصوص کریں جیسا کہ ”ابن تیمیہ“ اور اس کے پیروکار ”وہابیوں“ نے بغیر کسی دلیل کے تقیید و تخصیص کی ہے۔
۱) رسول خدا(ص) پر ایمان اور آنحضرت(ص) کی پیروی ۔
۲) پیامبر اکرم(ص) کا دعا و شفاعت کرنا وہ بھی فقط دنیوی زندگی کے دوران اور روز قیامت میں ۔
اور کبھی اس آیت کی تفسیر واجبات اور مستحبات کے لئے کرتے ہیں،اطلاق کے علاوہ آیہ شریفہ جیسا کہ ہر طرح کی تقیید سے خالی ہے اسلامی احادیث (چاہے شیعہ حضرات کے ذریعہ حدیث نقل ہوئی ہو یا اہل سنت کے ذریعہ) توسل کے عنوان پر روایات بہت زیادہ ہیںجو کمال ِوضاحت کے ساتھ وہی عام وسیع معنی کوثابت کرتی ہیں اور خدا سے تقرب جوئی و منبع و مرکز فیض سے اخذ برکات، صلحاء و مقربین بارگاہ خداوندی سے استغاثہ و استمداد چاہے کسی بھی حالت میں ہو، چاہے کسی بھی عنوان سے ہو، تائید اور تصدیق کرتی ہیں( ۴۱ ) بحث طولانی ہونے کی وجہ سے ہم یھاں پر ان روایات کو ذکر کرنا نہیں چاہتے، اس سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کو کتب روائی اور کتب سیرت و کتب تاریخ اہل سنت اور اسی طرح کتاب ”وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ“ نوشتہ سمھودی کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں۔
شفاعت وہابیوں کی نظر میں
وہابیوں نے جس کے بارے میں بہت زیادہ شور و غل مچایا اورجسے تکفیر و تفسیق کی دلیل قرار دیتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ شفاعت بھی ہے تقریباً محمد بن عبد الوہاب کی ”کشف الشبھات“ اسی مسئلہ کے متعلق، پوری کتاب گہما پھرا کر لکھا ہے جیسا کہ ہم پھلے بھی اس سے چند چیزیںنقل کر چکے ہیں اور اسی طرح اس کے پوتے شیخ عبد الرحمٰن آل الشیخ نے جو کتاب ”التوحید“ لکھی اور اس کی شرح ”فتح المجید“ کے نام سے منتشر ہوئی ہے اسی مسئلہ شفاعت سے مخصوص ہے۔
ہماری نظر میں مسئلہ شفاعت جو کہ ”بحث ِقیامت “کی فروعات میں سے ہے بہت ہی وسیع و پیچیدہ مسئلہ ہے اس کے لئے ایک مستقل رسالہ اور الگ سے اس مسئلہ پر کتاب تالیف کی جائے تا کہ اس کے تمام نشیب و فراز اچھی طرح سے روشن ہو جائیں اور منکرین و مخالفین کے شبھات و اعتراضات کا جواب دیا جاسکے۔
اگر چہ پھلے ہم نے مسئلہ شفاعت ، درخواست مغفرت ، اولیاء خدا سے طلب حاجت اور اس کے مانند مسائل ، میں ابن تیمیہ کی آراء پر جرح و بحث و نقد کیا ہے لیکن چونکہ وہابیوں کی کتابوں میں (جیسا کہ ہم پھلے کہہ چکے ہیں) ان مسائل کے متعلق مختص ایک مستقل بحث پائی جاتی ہے اور یہ وہابیوں کے جنجالی ترین اور شوروغل والے مباحث و مسائل ہیں جن کو اصطلاح میں فرھنگی معرکہ اور آئیڈیا لوزی !! کا نام دیتے ہیں۔
اس لئے ہم بھی اختصار کا خیال رکھتے ہوئے اور اس کتاب کی مناسبت کو خاطر میں رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق خصوصاً مسئلہ شفاعت کے بارے میں بحث کریں گے اور مفصل و وسیع بحث و انشاء اللہ کسی اور فرصت کے وقت بیان کریں گے۔
پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے سے لیکر آج تک مسلمانوںکی تاریخ اور ان کی سیرت اس بات پر شاہد ہے کہ ہمیشہ اور ہر دور میں شفاعت حق اور صحیح رہی ہے اور ہمیشہ ہر حال میں ، حیات و ممات کے بعد بھی مسلمان، اولیاء خدا و بندگان خدا سے شفاعت طلب کرتے رھے ہیں، کسی اسلامی دانشمنداور مفکر نے درخواست شفاعت کو اصولِ اسلام کے خلاف نہیں جانا ہے یھاں تک کہ آٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نے اس مسئلہ (شفاعت) کی مخالفت کی اور اس کے بعد محمد ابن عبد الوہاب نجدی ، جو کہ وہابیت کا بانی ہے، اس کی پیروی کی اور شفاعت کے خلاف علم بلند کیا۔
وہابیوں کا دوسرے اسلامی فرقوں سے ایک نقطہ پر اختلاف یہ بھی ہے کہ مسلمانان عالم نے شفاعت کو ایک اصل اسلامی کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن گنھگاروںکے لئے شافعین حضرات شفاعت کریں گے اور پیغمبر اسلام(ص) کا شفاعت کرنے میں زیادہ حصہ ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ”ہم ھرگز یہ حق نہیں رکھتے کہ اس دنیا میں ان سے شفاعت طلب کریں“
اور اس بارے میں اتنے افراط سے کام لیا ہے کہ ہماری زبان ان کی باتوں کو نقل کرنے سے عاجز ہے، اور ہم نے اس کتاب کے مقدمہ اور بعض حاشیے پر جبراً و قھراً ان کی شرم آور باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے، ان کے کلام کا خلاصہ یوں ہے کہ:
پیغمبر اسلام(ص) اور دوسرے پیامبران اور فرشتے و اولیا خدا قیامت کے دن ”حق شفاعت“ رکھتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ شفاعت ”مالک شفاعت“ و ”اذن شفاعت دینے والے“ سے جو کہ خدا ہے، طلب کریں اور کھیں: ”پروردگارا ! پیغمبر(ص) اور دیگر صالح بندوں کو قیامت کے دن ہمارا شفیع قرار دے“ لیکن ہم کو کوئی حق نہیں پہونچتا کہ ہم کھیں: ”اے پیغمبر(ص) خدا ہم آپ(ص) سے اپنے حق میں شفاعت طلب کرتے ہیں“ چونکہ شفاعت ایسی چیز ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی اس پر قادر نہیں ہے۔
وہابیوں نے پنجگانہ دلیلوں کے ذریعہ شافعین کی شفاعت کو ممنوع قرار دیا ہے، ہم ان کے دلائل پر تحقیق سے پھلے، شفاعت کو قرآن و سنت و عقل کے مطابق بحث کرتے ہیں پھر اس کے بعد ان کے دلائل پر تنقید اور جواب پیش کریں گے۔
اولیا ء خدا سے شفاعت کے جواز پر دلائل
اگر” حقیقت شفاعت“ کو گنھگاروں کے حق میں شفیع کی دعا جانیں،اور یہی ایک مستحسن و پسندیدہ امر ہے جیسے کسی برادر مومن سے درخواست دعا کرنا، اور پیغمبروں و اولیا ء خدا سے درخواست دعا کرنا، تو عقلی لحاظ سے اس میں کسی طرح کی کوئی حرمت و ممانعت نہیں دکھائی دیتی۔
اگر وہابی حضرات اپنے برادر مومن سے درخواست دعا کو جائز مانتے ہیں توان کو چاہیئے کہ زندہ شفیع سے درخواست شفاعت کو بغیر کسی پس و پیش کے جائز و صحیح مانیں، اور اگر زندہ انسان سے درخواست شفاعت کو جائز و صحیح نہیں مانتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ شفاعت کے معنی ”دعا“کے لیتے ہیں۔
اسلامی احادیث اور سیرت صحابہ ،درخواست شفاعت کو بہت ہی حسن اسلوب و روشن طریقے سے ثابت کرتی ہے کہ ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
۱ ۔ انس بن مالک کہتے ہےں:
”سَاَلتُ النبَِّی(ص) اَن یَشفَعَ لِی یَومَ القِیَامَةِ فَقَالَ: اَنَا فَاعِلٌ فَقُلتُ فَاَینَ اَطلُبُکَ؟ فَقَالَ: عَلَی الصِّرَاطِ “
پیغمبر اسلام(ص) سے میں نے شفاعت کی درخواست کی کہ روز قیامت میری شفاعت فرمائیں گے تو رسول اسلام(ص) نے میری درخواست کو قبول فرمایا، انس نے ظرافت طبیعت کے ساتھ رسول اسلام(ص) سے درخواست شفاعت کی اور اس کی جگہ کے بارے میں سوال کیا ،رسول اسلام(ص) بھی فرماتے ہیں کہ ”صراط پر“ اور انس کے دل میں ھرگز یہ خطور بھی نہیں پیدا ہوا کہ یہ کام اصول ِتوحید کے خلاف ہے پیغمبر اسلام(ص) بھی اس کی شفاعت قبول فرماتے ہیں اور اسے خوشخبری دیتے ہیں۔
۲ ۔ سواد بن قارب جو پیغمبر اسلام(ص) کے مدرگاروں میں سے تھے، اپنے اشعار کے ضمن میں رسول اسلام(ص) سے شفاعت طلب کرتے ہیں ، فرماتے ہیں:
وَ کُنْ لِیْ شَفِیْعاً یَوْمَ لَا ذُوْ شَفَاعَةٍ
بِمُغْنٍ فَتِیْلاً عَنْ سُوَادِ بِنْ قَارِبِ
”اے پیغمبر اسلام(ص) روز قیامت میر ی شفاعت فرمائےے جس دن شافعین کی شفاعت ذرہ برابر سوادبن قارب کے حق میں فائدہ مند نہ ہوگی“۔
وہابی حضرات ممکن ہے کھیں کہ: یہ تمام درخواستیں رسول اسلام(ص) کی حیات سے مربوط ہیں اور ان میں سے ایک بھی درخواست شفاعت رسول اسلام(ص) کے انتقال کے بعد نہیں ہے، لیکن اس کا جواب بھی واضح ہے ، جیسا کہ گذر چکا ہے، وہابی مطلقاً شفاعت کو حرام جانتے ہیں، موت و حیات معتبر نہیں ہے بلکہ معتبر لغو اور عدم لغو ہے۔
اسلامی احادیث سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ رسول اسلام(ص) کے اصحاب و مددگار رسول اسلام(ص) کی وفات کے بعدبھی ہمیشہ ان سے شفاعت کی درخواست کرتے رھے ہیں۔
۳ ۔ جس وقت حضرت امیر المومنین(ع) رسول اسلام(ص) کی تجھیز و تکفین سے فارغ ہوئے رسول اسلام(ص) کے چھرہ منور کو کھولا اور کھا:
بِاَبِی اَنتَ وَ اُمِّی (طِبتَ حَیّاً وَ طِبتَ مَیِّتاً )… اُذکُرنَا عِندَ رَبِّکَ ۔
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (آپکی حیات و ممات طیب و طاہر رہی ) اپنے پروردگار کے پاس ہمار ا تذکرہ کریں۔
اب ہم خیال کرتے ہیں کہ سیرت اصحاب رسول کو ذکر کرنے سے درخواست شفاعت عملاً اسلام کی رو سے واضح ہوگئی ہوگی۔
وہابیوں کے اشکالات و اعتراضات کا خلاصہ
اب و ہ وقت پہونچ چکا ہے کہ جب ہم وہابیوں کے بعض دلائل جس کے ذریعہ درخواست شفاعت کو حرام قرار دیتے ہیں ان کی تحقیق اور ان پر نقد کریں ، وہ لوگ کچھ ایسے دلائل کا سھارا لیتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔
درخواست شفاعت شرک ہے
وہابی حضرات کہتے ہیں : پیغمبران ا ور اولیا ء اللہ اس دنیا میں حق شفاعت نہیں رکھتے، بلکہ یہ حق صرف اور صرف انہیں آخرت میں حاصل ہے اور جو کوئی شخص بندگان خدا کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے،تا کہ اس کے حق میں شفاعت کریں وہ مشرک ہے، وہابی کہتے ہیں کہ درخواست شفاعت کے وقت اس طرح کھیں: ”اَلّٰلهم اجْعَلنَا مِمَّن تَنَالُهُ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ “ یعنی خدایا ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شفاعت نصیب ہوگی۔
وہ لوگ کہتے ہیں : ہمیں ھرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم کھیں: ”یَا مُحَمَّدُ اِشفَعْ لَنَا عِندَ اللّٰهِ “ اے محمد(ص) ! اللہ کے نزدیک ہمارے حق میں شفاعت کیجئے، وہ کہتے ہیں ، کہ یہ صحیح ہے کہ اللہ نے رسول اسلام(ص) کو حق شفاعت دیا ہے لیکن اللہ نے ہم کو اس کے مطالبہ سے منع فرمایا ہے بلکہ ہم شفاعت کو خدا سے طلب کریں جس نے رسول اسلام(ص) کو یہ حق دیا ہے۔
وہابیوں کو ہمارا جواب
ہم کہتے ہیں: ”توحید در عبادت “ ”شرک درعبادت“کے مقابلہ میں ہے کہ جوارکان توحید میں ایک اہم رکن ہے قرآن کریم میں اس کو بہت اہم یت دی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کیا ہر طرح کی دعوت و طلب یا کسی چیز کی درخواست، عبادت اور پرستش ہے؟ یا یہ کہ عبادت و پرستش کا ایک خاص معنی ہے اور وہ دعوت و طلب، اورامور دنیا و آخرت میں کسی کے سامنے اظھار ذلت و خضوع کرنا اس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ (متصرف بلامنازع) و بغیر چون چرا کے صاحب قدرت ہے یا دوسرے لفظوں میں یوںکھا جائے کہ اس کو خدا جانیں یا مرتبہ خدائی اس کے لئے قائل ہوں، چاہے بڑا خدا یا چھوٹا خدا ، حقیقی خدا یا مجازی خدا ، یا خدا اس موجود کو کہتے ہیں جو کائنات کا پروردگار اور اس کا مدبر ہے یا خلقت کے امور میں سے کسی شان کا مالک ہے بطور مثال مقام ”رزاقیت“ یا ”مغفرت“ یا ”شفاعت“کا مالک ہے اگر کوئی اس اعتقاد کے ساتھ کسی سے کوئی چیز طلب کرے تو مسلّم ہے کہ اس نے اس کی پرستش کی ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ شافعین حقیقی سے درخواست شفاعت اس طرح نہیں ہوتی، بلکہ اس اعتقاد و ایمان کے ساتھ ہوتی ہے کہ یہ لوگ اولیاء اللہ ہیںاور اس کی بارگاہ میں مقرب ترین بندے ہیں ،بارگاہ خداوندی میں ان کی دعا مستجاب ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں یوں کھا جائے کہ خداوند کریم نے ان کو خاص شرائط کے تحت شفاعت کی اجازت دے رکھی ہے۔
اس مطلب کی وضاحت کے لئے قرآن کریم کی آیات واضح طور پر گواہی دیتی ہیں کہ قیامت کے دن حق و حقیقت کی گواہی دینے والے بندگان خدا شفاعت کریں گے، قرآن فرماتا ہے:
”( وَ لاَیَملِکُ الَّذِینَ یَدعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ اِلّٰا مَن شَهِدَ بِالحَقِّ وَ هم یَعلَمُونَ ) “( ۴۲ )
”وہ لوگ جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں انہیں شفاعت کا حق نہیں ہے ہاں مگر وہ لوگ جو کہ توحید خدا کی گواہی دیتے ہیں شفاعت کریں گے او راس کی حقیقت سے آگاہ ہیں “
لفظ ”الّا“حروف استثناء میں سے ہے وہ لوگ جو خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں ان کے شفاعت کرنے پر روشن و واضح دلیل ہے۔
اب یھاں پر ایک سوال یہ پیش آتا ہے :جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض اولیاء کو حق شفاعت اور اجازہ شفاعت دیا ہے جو کوئی شخص بھی ان حضرات سے درخواست شفاعت کرے ، اگر درخواست کرنے والا شفاعت کے شرائط رکھتا ہے اور ان افراد میں سے ہو کہ اس کے حق میں شفاعت قبول کی جائے تو اس کی درخواست شفاعت قبول کی جائے گی ورنہ اس کی شفاعت ردّ کر دی جائے گی،بانی وہابیت کا یہ جملہ کتنا مضحکہ خیز ہے، وہ کہتا ہے کہ : ”خدا نے اپنے اولیاء کو حق شفاعت دیا ہے لیکن ہم کو اس کی درخواست سے منع فرمایا ہے۔
اولاً: ہم سوال کرتے ہیں کہ خداوند کریم نے قرآن کی کس آیت میں درخواست شفاعت سے منع فرمایا ہے؟ اگر اللہ نے ہمیں اس لئے روکا ہے کہ شافعین سے شفاعت طلب کرناشرک ہے تو ھرگز یہ درخواست پرستش اور عبادت کے مقابلہ میں نہیں ہے اور اگر کسی دوسری جہت سے ہے تو انشاء اللہ اس کے بعد ہم اس پر تحقیق کریں گے۔
ثانیاً: بذات خود یھاں قول و فعل میں تناقض پایا جارہا ہے اس لئے کہ اگر اللہ اپنے اولیاء کو یہ حق شفاعت دیا ، تو کس لئے ؟ تاکہ دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں، کیا یہ صحیح اور معقول ہے کہ جن لوگوں کو اس نے حق شفاعت دیا ہے ،تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں ان سے یہ کھا جائے کہ آپ کو درخواست شفاعت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، لہٰذایہ کھنا حکمت و رحمت اور عدل خداوندی کے خلاف ہے۔
مشرکین کا شرک بتوں سے شفاعت طلب کرنے کی وجہ سے تھا
وہابی حضرات کہتے ہیں:
مشرکین کا شرک اس وجہ سے تھا کہ وہ بتوں سے درخواست شفاعت کیا کرتے تھے ، ذیل کی آیت اس مطلب پر دلالت کرتی ہے:”( وَ یَعبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰهِ مَا لاَ یَضُرُّهم وَ لاَ یَنفَعُهم وَ یَقُولُونَ هٰولاٰءِ شُفَعَاونَا عِندَ اللّٰهِ ) “( ۴۳ ) ”وہ لوگ اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی پرستش کرتے ہیں نہ وہ انہیں نفع پہونچا سکتی ہے اور نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے نزدیک ہمارے شفیع ہیں“اس بنا پر غیر خدا سے ہر طرح کی درخواست ایک طرح کا شرک اور پرستش ہے۔
وہابیوں کو ہمارا جواب
اولاً: ”واو عاطفہ“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مشرکین کی عبادت درخواست شفاعت کے علاوہ تھی ، اور اگر درخواست شفاعت ان لوگوں کی پرستش تھی تو لفظ واو یھاں پر زیادہ ہے۔
ثانیاً: کفارو مشرکین ”بتوں“ کو چھوٹے خدا تصور کرتے تھے او ران کو دنیاوی اور اخروی کاموں میں دخل وتصرف کا مالک جانتے تھے،لہٰذا اگر اس عقیدے کے تحت کسی سے شفاعت طلب کی جائے تو یہ واقعاً شفیع کی پرستش اور اس کی عبادت ہوگی، درحالیکہ ہم لوگ شافعین حضرات کو خدا کے مقرب بندے مانتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ حضرات خدا کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے، ایسی صورت میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہماری ا س بحث کو مذکورہ آیت سے ربط دیا جائے۔
غیر خدا سے حاجت طلب کرنا حرام ہے
طلبِ شفاعت کی حرمت کے بارے میں وہابیوں کی تیسری دلیل یہ ہے کہ غیرخدا سے حاجت طلب کرنا حرام ہے ،جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
”( فَلا تَدْعُوا مَعَ اللّٰهِ اَحَداً ) “( ۴۴ )
”خدا کے ساتھ کسی کو نہ پکارو“
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے :
”( ادْعُونِیْ اسْتَجِبْ لَکُمْ ) “( ۴۵ )
”مجھے پکاروتاکہ تمھاری دعا قبول کروں“
وہابیوں کو ہمار جواب
مذکورہ آیات میں لفظ ”دعوت“ سے مراد حاجت طلب کرنا ،دعا وغیر دعا نہیں ہے بلکہ دعوت سے مراد غیر خدا کی پرستش اور عبادت ہے ہماری اس بات پر کلمہ ”مع اللہ“ گواہ ہے کہ جو دونوں مذکورہ آیات میں موجود ہے کیونکہ دوسری آیت کے ذیل میں اس طرح ہے ”( إَنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ ) “ وہ لوگ جوہماری عبادت سے کنارہ کشی کرتے ہیں ، مذکورہ آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ ”غیر خدا“ کی عبادت نہ کریں، لیکن اگر گذشتہ آیات کے اس طرح وسیع معنی کریں کہ درخواست اور دعا کو بھی شامل ہوجائے ، اس وقت انسان کی درخواست اور دعا، اس قسم سے ہوگی جبکہ حاجت مند مدّمقابل کو خدا مانتے ہوئے اس سے حاجت طلب کرے۔
شفاعت خدا وندعالم سے مخصوص ہے
وہابی حضرات کہتے ہیں: قرآن مجید کی بعض آیات سے پتہ چلتا ہے کہ حق شفاعت خداوندعالم سے مخصوص ہے اور اسی کی ذات میں منحصر ہے ، ارشاد ہوتا ہے :
”( اَمِ اتَّخِذُوا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَاءُ قُلْ اَوَلَوْکَانُوا لَایَمْلِکُونَ شَیْئًا وَلَا یَعْقِلُونَ قُلْ لِلّٰهِ الشَّفََاعَةُ جَمِیْعاً ) “( ۴۶ )
”بلکہ ان لوگوں نے ”غیر خدا“ کو اپنا شفیع بنالیا ہے ،(اے میرے رسول(ص)) کھدو کہ وہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں (کس طرح شفاعت کرسکتے ہیں) کھدیجئے کہ شفاعت تمام کی تمام خدا سے مخصوص ہے“
وہابیوں کو ہمارا جواب
اگر اس آیت کے جملوں پر توجہ کریں اور غور وفکر سے کام لیا جائے تو واضح ہے کہ اس آیت کا مقصد لکڑی ، پتھر او رلوہے کے بتوں سے شفاعت کی نفی کی گئی ہے نہ یہ کہ ان حقیقی شافعین سے شفاعت کی نفی کی گئی ہو جن کی شفاعت کے سلسلہ میں دوسری آیات موجود ہیں کیونکہ:
اول: ”( لَایَمْلِکُونَ ) “ اور ”( لَا یَعْقِلُونَ ) “ جملے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شفاعت کا حق ان کا ہے کہ جو ”حق شفاعت“ رکھتے ہوں، او راپنے کاموں سے بھی آگاہ ہوں،
اورگذشتہ آیات میں جن بتوں کا تذکرہ ہے ان میں دونوں شرطوں میں سے کوئی بھی شرط نہیں ہے ، (وہ شرطیں یہ ہے :نہ ہی اپنے کاموں سے آگاہ ہیں اور نہ ہی شفاعت کے مالک ہیں) لہٰذا آیت کے اس حصہ ”( قُلْ لِلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعاً ) “ کے معنی یہ ہونگے کہ:شفاعت خدا کے لئے ہے نہ کہ لکڑی اور پتھر وں کے بتوں کیلئے ،گویا اس طرح معنی کئے جائیں :”ِللّٰہِ الشَّفَاعَةُ جَمِیعاً لَا للِاوْثَانِ وَالاَصْنَامِ”(یعنی شفا عت کا ما لک خدا ہے ، نہ کہ بت)
اور شفاعت کا مالک صرف خدا ہے اولیاء الہٰی شفاعت کے مالک نہیں ہیں بلکہ شفاعت کے بارے میں خدا کی طرف سے ان حضرات کو اجازت دی گئی ہے ، لہٰذا کوئی مانع نہیں ہے کہ ”شفاعت کا مالک“ خداہو اور اولیاء الٰھی ”خدا کی اجازت سے“ شفاعت کریں۔
دوسرے : مذکورہ آیت کے جملہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ فقط اور فقط خدا شفیع ہے اور غیر خدا کوئی شفیع نہیں ہے، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خداوندکریم کسی کے بارے میں شفاعت نہیں کرے گا بلکہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ خدا وندکریم اصل شفاعت کا مالک ہے اور دوسرے حضرات اس کی اجازت سے شفاعت کریں گے ، مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم کا یہ حق ”اصالةً “ ہے اور دوسروں کو یہ حق ”نیابتاً “ دیا گیا ہے ، لہٰذا مذکورہ آیت وہابیوں کے اعتراض کو ثابت نہیں کرتی ۔
مردوں سے شفاعت کی درخواست کرنا ،لغو ہے
وہابی کہتے ہیں : مرنے کے بعد روح انسان باقی نہیں رہتی ، اور انسان کے مرنے کے ساتھ ساتھ اس کی روح بھی نابود ہوجاتی ہے ۔
اسی وجہ سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیاء(ع) اور اولیاء الٰھی نیز خدا کے نیک وصالح بندوں کی جسمانی موت کے ساتھ ساتھ ان کی روح بھی نابود ہوجاتی ہے او رجو چیز موجود نہیں ہے اس سے مدد اور شفاعت چاہنا ، عقل کے خلاف ہے ۔!!
وہابیوں کا ہمارا جواب :
اجمالی طور پر اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ روح ایک ایساجوہر ہے جو ”مجرد“ ہے اور ھرگز اس کے لئے موت نہیں ہے اوریہ جسم کے مرنے سے نابود نہیں ہوتی ،بلکہ جسم کے مرنے کے بعد ،بدن کے قیدو بند سے آزاد ہوکر مزید عالِم اور طاقتور ہوجاتی ہے اور یہ فلسفہ کی مشکل بحثوں میں سے ہے ، اور جوحضرات اسلامی فلسفہ سے آگاہی رکھتے ہیں او ر”حکمت متعالیہ صدرائی“ سے باخبر ہیں وہ جانتے ہیں ، یھاں اس دقیق اورعلمی اور مشکل بحث کرنے کا موقع نہیں ہے ۔
لہٰذااگر یہ ثابت ہوکہ جسم کے مرنے کے بعد روح نہیں مرتی (جیسا کہ اسلامی فلسفہ میں ثابت ہوچکاہے نیز قرآن مجید میں بھی اس سلسلہ میں آیات موجود ہیں) لہٰذا وہابیوں کی طرف سے اس اعتراض کی جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔
او رجیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا تھا کہ شفاعت کے سلسلہ میں مختلف گوشہ ہیں اور تمام گوشوں سے اس کتاب میں بحث کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ہمارا ہدف بحث کو طولانی کرنا نہیں ہے۔
محترم قارئین! مزید آگاہی کے لئے ”تفسیر المیزان“ اور ددسری تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔
شفاعت کے بارے میں علامہ طباطبائی (رہ) کا نظریہ
آخر میں قارئین کرام کی مزید آگاہی اور فائدہ کے پیش نظر مرحوم علامہ الحاج سید محمد حسین طباطبائی تبریزی (رہ) صاحب تفسیر المیزان کا نظریہ بیان کرتے ہیں تاکہ ہمارے قارئین عالم اسلام کے مایہ ناز شیعہ فلسفی علماء کرام کی بلندی فکر او رلطیف نظریات سے مزید واقفیت حاصل کریں اور معلوم ہوجائے کہ جن مسائل کو ابن تیمیہ ، ابن قیّم جوزی اور محمد ابن عبد الوہاب جیسے افراد حل نہ کرسکے اور اس میں غرق ہوکر رہ گئے او راس کا کوئی حل نہ نکال سکے اور بے ہودہ اور باطل چیزیں کہنے پر مجبور ہوگئے او رلغزشوں کے دلدل میں پھنس کر رہ گئے شیعہ علماء اور دانشوروں نے ان مسائل کا حل آسان او راچھے طریقہ سے تلاش کرلیا اور اب کوئی مشکل باقی نہیں رہ گئی ہے۔
صاحب تفسیر المیزان (رہ) ان لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیںکہ جو شدت پسندی کا شکار ہوئے ہیں اور ائمہ معصومین (ع) کے روضوں میں حاجت طلب کرنے کو شرک مانتے ہیں او رکہتے ہیں:بیماروں کی شفا ، نیزحاجت کو پورا کرنا خدا کے ھاتھ میں ہے نہ کہ امام کے اختیار میں !
مرحوم علامہ فرماتے ہیں : ”مطلب کو واضح او رروشن کرنے کے لئے ایک مقدمہ بیان کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ : عالم کائینات میں ”علّیت او رمعلولیت“کا قانون ایک عمومی قانون ہے اور ھرحادثہ کی ایک علت ہوتی ہے کہ جس کی بناپر وہ واقعہ پیدا ہوتا ہے ، لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ عالَم”عالَم اسباب“ ہے اورتمام چیزوں کی علت حقیقی اور اس میں مستقل تاثیر خداوندعالم کی ہے ۔
اگر تیغ عالم بجنبد زجای نبُرد رگی تانخواہد خدائی
”اگر کسی کی گردن پر تلوا رچلائی بھی جائے تو جب تک خدا نہیں چاہے گا اس کی ایک رگ بھی نہیں کٹ سکتی “
اور دوسری وہ تمام علتیں جو خدا اور دوسرے معلول کے درمیان ہیں ان کو ”واسطہ“ کہتے ہیں جن کا فعل اور اثر خدا کا فعل واثر ہے او رکسی چیز کا معلول کے وجود کو فیض پھنچانے میں واسطہ ہونا شرکت اورتاثیر میں استقلال کے علاوہ دوسری چیز ہے ۔
مثال کے طور پر ”واسطہ“ اور ”ذی الواسطہ“ کے درمیان موجود نسبت جیسے یہ کہ کوئی انسان کسی قلم سے کوئی چیز لکھ رہا ہو، تو اس کے بارے میں یہ کھنا صحیح ہے کہ قلم لکھ رہا ہے اور ھاتھ بھی لکھ رہا ہے او رانسان بھی لکھ رہا ہے ، جبکہ یہ ایک کام ہے لیکن اس کی نسبت تین چیزوں کی طرف دی گئی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ لکھنے میں مستقل تاثیر انسان کی ہے اور ھاتھ اور قلم لکھنے میں ”واسطہ“ ہےں ”شریک “نھیں ہیں ۔
قرآن کریم میں بھی ایسی بہت سے آیات موجو ہیں جن میں ان تمام اعمال وآثار کی نسبت مخلوق کی طرف دی گئی ہے جبکہ اپنے احتجاج میں علیت او رمعلولیت کے عمومی قانون کو قبول کرتی ہے حالانکہ تاثیر میں استقلال فقط اور فقط خدا سے مخصوص ہے ۔
مثال کے طور پر یہ آیہ شریفہ ”( وَمَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ رَمیٰ“ ) ( ۴۷ )
”اے میرے رسول آپ کنکریاں نہیں پھینک رھے تھے خدا کنکریاں پھینک رہا تھا“
اور یہ آیہ مبارکہ ”( قَاتِلُوهُمْ یُعَذِّبَهم اللّٰهُ بِادِیَکُمْ ) “( ۴۸ )
”کفار ومشرکین سے جنگ کرو کہ خداوندعالم تمھارے ذریعہ ان کو عذاب دینا چاہتا ہے “
نیز یہ آیت کریمہ”( إنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبُهُمْ بِهَا ) “( ۴۹ )
”خدا چاہتا ہے کہ ا سکے ذریعہ ان پر عذاب کرے “
لہٰذا وہ تمام چیزیں جو ”وسیلہ“ اور ”واسطہ“ کے سلسلے میں کھی گئی ہیں امام سے حاجت طلب کرنا اس وقت شرک ہوگا جب حاجت طلب کرنے والا امام (ع) کو تاثیر میں مستقل سمجھے او را س کو ذاتی قدرت کا مالک جانے، لیکن اگر خدا کو تاثیر کا مالک سمجھے او راما م کو صرف ”وسیلہ“ او رواسطہ قرار دے، تواس صورت میں واسطہ کو پکارنا بھی صاحب واسطہ (خدا) کو پکارنا ہوگا، جس طرح واسطہ کی اطاعت صاحب واسطہ کی اطاعت ہے جیسا کہ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے :
”( مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهِ ) “( ۵۰ )
”جس نے رسول کی اطاعت کی گویا اس نے خدا کی اطاعت کی “
اس طرح ملائکہ کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :
”( لَا یَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِامْرِهِ یَعْمَلُوْنَ ) “( ۵۱ )
یعنی ملائکہ میں سے کوئی بھی مستقل ارادہ نہیں رکھتا بلکہ یہ وہی ارادہ کرتے ہیں کہ جس چیز کا خدا نے ارادہ کیا ہے ۔
سادہ او رآسان زبان میں عرض کریں : چونکہ انبیاء اور اولیاء علیہم السلام خداوندعالم کے مقرب نبدے ہیں اور خدا کی بارگاہ میں قدر ومنزلت رکھتے ہیں لہٰذا اگر کوئی ان کو کسب فیض میں واسطہ قرار دے اور اس طریقہ سے خداوندعالم سے اپنی حاجت طلب کرے تو اس کا یہ عمل ”شرک“ نہیں ہوگا اور ”توحید“ سے بالکل منافات نہیں رکھتا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی عاقل انسان ”واسطہ“ اور ”وسیلہ“ کو خدا کا شریک نہیں مانتا کیونکہ واسطہ اور وسیلہ ایک ایسا راستہ ہے کہ جس کے ذریعہ توسل کرنے والا متوسل الیہ(خدا) سے ربط دیتا ہے اور عقلی حکم کے مطابق ”رابط“ (رابطہ کرنے والا) ”مقصد اور مقصود “ کے علاوہ ہے ،(یعنی دونوں ایک چیز نہیں ہیں) مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی مالدار اوردولت مند کے سامنے کسی فقیر کے لئے ”شفاعت“ کرے او را سکے ذریعہ سے فقیر کو کچھ دلوائے تو کوئی بھی عاقل انسان بہ نہیں کھے گا کہ جو کچھ فقیر کو ملا ہے وہ دولت مند اور شفیع(دونوں) کا عطیہ ہے بلکہ اس موقع پر یہی کھا جائے گا کہ دولت مند ”صاحب عطا “او رشفاعت کرنے والا ”واسطہ“ اور ”رابط ہے۔( ۵۲ )
____________________
[۱] یھاں پر ”غلّاة“ اور ”مفوضہ“کے بارے میں کچھ وضاحت کردینا مناسب ہے کیونکہ گمان یہ کیا جاتا ہے کہ غلاة او رمفوضہ سے مراد دومختلف فرقے ہیں یعنی ”مفوضہ“سے مراد وہ فرقہ ہے کہ جو ”تفویض“ کا قائل ہے (یعنی انسان مطلق طور پر اپنے تمام اعمال افعال میں آزاد ومختار ہے ) ٹھیک” جبریوں“ اور ”قدریہ“ کے مقابلہ میں جن کا اعتقاد یہ ہے کہ انسان اپنے افعال کا فاعل نہیں ہے (بلکہ جو کچھ بھی انسان سے سرزد ہوتا ہے ان کا فاعل خدا ہے ،)
خلاصہ یہ ہے کہ ”مفوضہ“سے مراد”جبر“ جو”جبر وتفویض“یا ”خلق اعمال“ یا ”قضاوقدر“ کی بحث میں بیان ہوتے ہیں، کے مدّمقابل فرقہ نہیں ہے ، بلکہ ”مفوضہ“سے مراد وہی غلاة ہیں جیسا کہ تاریخی کتابوں میں موجود ہے، او رغلاة ”غالی“ کی جمع ہے جس کے معنی ”غلو“ کے ہیں ، او ریہ فرقہ شیعوں کے فرقوں میں سے ایک ہے جھنوں نے مذہب شیعہ میں بہت زیادہ غلو کیا ہے ، او رائمہ (ع) کے بارے میں اتنا غلو کیا کہ خداکی حد تک پہونچادیا، اور یھاں تک قائل ہوئے ہیں کہ خدا کا جوہر نورانی ائمہ(ع) میں حلول کئے ہوئے ہے۔
”مفوضہ“ یا ”مفوضیہ“ فرقہ کا کھنا ہے :”خدا نے حضرت محمد(ص) کو پیدا کیا او رتمام جھان کی تدبیر آنحضرت(ص) کو تفویض(سونپ) دی، اورتمام عالم کی تدبیر حضرت علی علیہ السلام کے حوالہ کردی۔
ان میں سے بعض لوگ کہتے ہیں: ”خدا وندعالم نے حضرت علی (ع) اور آپ کی اولاد کی روح کو خلق فرمایا، اور دنیا کی تدبیر ان کے حوالے کردی او رانھیںحضرات نے زمین وآسمان کو خلق فرمایا،پس غلاة یا مفوضہ فرقے کا عقیدہ یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام تمام عالم کی تدبیر مستقل طور پر رکھتے ہیں نہ یہ کہ ائمہ (ع) کو خدا وندعالم کا قائم مقام اور اس میں فانی جانیں۔البتہ شیعہ حضرات ائمہ علیہم السلام کی ”ولایت تکوینی“ کے قائل ہیں جیسا کہ زیارت جامعہ کبیرہ اور دیگر دعاؤں میں موجود ہے ، لہٰذا ہم ائمہ علیہم السلام کو خدا سے وابستہ اور اس میں فانی او راس کے عبد وبندے مانتے ہیں ، ائمہ (ع) کس طرح سے خدا اور عالم سے وابستہ ہیں او راس سلسلہ میں شیعہ حضرات کے عقیدہ سے مزید آگاہی کے لئے حضرت آیت اللہ لطف اللہ صافی کی عظیم الشان کتاب ”مفھوم وابستگی جھان بہ امام زمان (ع)“ کی طرف رجوع فرمائیں۔
فرقہ غلاة (فرقہ مفوضہ بمعنی مذکور ) کو معنی مذکور میں استعمال کرنے کی دلیل بہت سی تاریخی اور فرق مذاہب کی کتابیں ہیں منجملہ: نوبختی کی کتاب ”فرق الشیعہ“ ترجمہ وتعلیق ڈاکٹر محمد جوار شکور طبع مرکز انتشارات علمی فرھنگی ص ۱۲۳، او رکتاب ”الاعتقادات والفرق“ ص ۲۳۸ ہے،قارئین کرام آپ حضرات پر مفوضہ کے معنی روشن ہوگئے ہونگے اور یہ کوئی نئی اصطلاح نہیں ہے بلکہ مذکورہ کتب کے مطالعہ کے بعد آپ حضرات اس کلمہ کے قدیمی ہونے کو سمجھ جائیں گے۔
[۲] سورہ مائدہ آیت ۶۴ ۔
[۳] کتاب ”توسل، تالیف سید محمد ضیاآبادی ص ۷۴۔
[۴] کتاب ”توسل، تالیف سید محمد ضیاآبادی ص ۸۰۔
[۵] سورہ قمر،آیت۵)
[۶] کتاب ”توسل، تالیف سید محمد ضیاآبادی ص ۸۷۔
[۷] کتاب ”توسل، تالیف سید محمد ضیاآبادی ص ۸۷۔
[۸] سورہ قمر آیت۴۹و۵۰۔
[۹] سورہ فاطر آیت۴۳۔
[۱۰] سورہ رحمن ،آیت ۲۹۔
[۱۱] سورہ انفال ،آیت ۱۷۔
[۱۲] سورہ زمر،آیت ۴۲۔
[۱۳] سورہ سجدہ ،آیت۱۱۔
[۱۴] سورہ انعام، آیت ۶۱۔
[۱۵] سورہ سجدہ،آیت ۵۔
[۱۶] سورہ نازعات،آیت ۵۔
[۱۷] سورہ شعراء ،آیت ۱۹۳۔
[۱۸] سورہ انسان ،آیت ۲۳۔
[۱۹] سورہ بقرہ، آیت ۲۵۵۔
[۲۰] سورہ فاطر،آیت ۳۔
[۲۱] سورہ رعد،آیت ۱۶۔
[۲۲] سورہ ہود،آیت ۶۔
[۲۳] سورہ زمر،آیت ۶۲۔
[۲۴] سورہ ذاریات، آیت۵۸۔
[۲۵] سورہ اسراء۔آیت۱۱۱۔
[۲۶] سورہ صافات آیت ۹۶۔
[۲۷] سورہ الحجر آیت ۲۱۔
[۲۸] کتاب ”توسل، تالیف سید محمد ضیاآبادی ص ۹۲۔
[۲۹] سورہ فاطر آیت ۱۵)۔
[۳۰] حکیم متالّہ حاج مُلاّ سبزواری کتاب ”اسرار الحکم“ اس سلسلے میں مزید آگاہی کے لئے مرحوم صدر المتالھین شیرازی کی کتاب ”مبداء ومعاد“ اور ’‘اسرا ر الآیات“ او ر ”مفاتیح الغیب“ بخش انسان کامل ، نیز ملا محسن کاشانی کی کتاب ”کلمات مکنونہ“ کی طرف مراجعہ کریں۔
[۳۱] بعض لوگوں نے قبر کے طواف کرنے کی حرمت پر درج ذیل روایتوں سے استدلال کیا ہے : حلبی سے حضرت امام صادق علیہ السلام سے اور محمد ابن مسلم نے حضرت اما م باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ان دو اماموں نے فرمایا: ”وَلاَتطُفْ بِقَبْرٍ “لیکن ان کا یہ استدلال ظاہر اً صحیح نہیں ہے ، کیونکہ روایت میں ”طَوْفْ“ کے معنی پاخانہ کرنے کے ہیں نہ کہ طواف کرنے اور چکر لگانے کے ، لہٰذا روایت کے معنی اس طرح ہونگے : قبروں کے اوپر پاخانہ نہ کرو ، اور ہماری اس بات کی گواہ لغت کی بہت سی کتابیں ہیں منجملہ: صحاح اللغة ، تاج العروس اور لسان العرب وغیرہ ہیں۔
[۳۲] سورہ نازعات آیت ۵۔
[۳۳] سورہ حجر آیت ۲۲۔
[۳۴] سورہ فاطر آیت ۹۔
[۳۵] سورہ آل عمران آیت ۱۶۹۔
[۳۶] امام شناسی ، مولف سید محمد حسین تھرانی ، ج۵ص ۱۴۲ تھوڑے دخل وتصرف کے ساتھ۔
[۳۷] کتاب ” توسل“ مولف سید محمد ضیاآبادی ،ص۲۷۔
[۳۸] کتاب ” توسل“ مولف سید محمد ضیاآبادی ،ص۲۸۔
[۳۹] سورہ مائدہ آیت ۳۵۔
[۴۰] سورہ اسراء آیت۵۶، ۵۷)
[۴۱] کتاب ” توسل“ مولف سید محمد ضیاآبادی ،ص۳۰۔
[۴۲] سورہ زخرف آیت ۸۶۔
[۴۳] سورہ یونس آیہ ۱۸۔
[۴۴] سورہ جن آیت ۱۸۔
[۴۵] سورہ فاطر آیت ۶۰۔
[۴۶] سورہ زمر، آیت ۴۳،۴۴۔
[۴۷] سورہ انفال آیت ۱۷۔
[۴۸] سورہ توبہ آیت ۱۴۔
[۴۹] سورہ توبہ آیت۵ ۵۔
[۵۰] سورہ نساء آیت ۸۰۔
[۵۱] سورہ انبیاء آیت ۲۷۔
[۵۲] یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ اس حصہ کی تالیف میں ہم نے عظیم کتاب”توسل یا استمداد از ارواح مقدسہ“ مولفہ حضرت آیت اللہ سبحانی سے استفادہ کیا ہے ، قارئین کرام کی مزید آگاہی کے لئے استاد مطھری (رہ) کی کتاب ”عدل الٰھی “ او رمشھور واعظ جناب آقای فلسفی کی کتاب ”آیة الکرسی“ پر رجوع فرمائیں ۔
شیعوں پر وہابیوں کے اعتراضات
شیعہ مذہب کے وجود میں آنے سے متعلق وہابیوں کے اعتراضات
وہابیوں کے اذیت کنندہ اور خائنانہ اعتراضوں میں سے ایک یہ بھی ہے شیعہ مذہب کو یھودیوں سے منسوب ہے، اور تعجب کامقام تو یہ ہے کہ یہی وہ حربہ ہے کہ جسے ”گلدزیھر“جیسے یھودیوں کی خدمت کرنے والوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور ایک افسانہ عبدالله بن سبا کے نام سے بھی گڑھا ہے،اوراس میں اتنا زیادہ دروغ گوئی اورجھوٹ سے کام لیا گیا ہے کہ جسکی حد نہیں ، کبھی تو شیعہ مذہب کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی ایجاد کردہ بتایا ہے تو کبھی شیعہ مذہب کو یھودیوں کی ایجاد بتایاہے تو کسی جگہ پر ”فراماسیو نوں “( تہذیب و تمدن کا نعرہ لگانے والے) کاموجد بتایا گیا ہے ، جبکہ ان کے پاس اس بات کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے ، یہ ہے وہابیوں کا واقعی طریقہ کار کہ بغیر ثبوت کے بولتے اور کتابیں لکھتے ہیں اور ایسا ظاہر ہوتاہے کہ گویا انھوں نے شیعوں سے متعلق سارے مسائل اور حقائق کو عالَم غیب سے حاصل کیا ہے اسلئے کسی ثبوت کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔
کسی بھی طرح کی کوئی تہم ت لگانے میں دریغ نہیں کرتے ،اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی سند اپنے ان شیطانی اور آزار دھندہ الزامات کے سلسلہ میں پیش کرتے ہیں، در اصل اس مذہب میں فکر اور اندیشہ کی حیثیت ،اوریہ ہے اسلامی وحدت کے شعار اور نعروں کی حقیقت ! اور یہ ہے آزادی و آزادطلبی کی صدا جو کعبہ سے بلند کی جاتی رہی ہے ،بلا وجہ اپنے مخالفین کی فکروں پر پردہ ڈالنا ، گالیاں دینا اور بے ہودہ الفاظ سے یادکرنا در حقیقت یہ ہے اصلاح کا نعرہ لگانے والوں ، توحید کے حامیوں ، دین کی نسبت فکرمند رھنے والوں اور اپنے سلف صالح کی فکروں کو زندہ رکھنے والوں کا طریقہ کار، آپ انصاف سے بتائےں کب پیغمبر(ص) کا طرز عمل ایسا تھا ؟ وہ رسول(ص) جو اپنے پیروکاروں کو غور وفکر ، تدبر اور دلیل سے کام لینے کا حکم دیتا ہے ” قُل ہَاتُوا بُرہَانَکُم اِن کُنتُم صَادِقِینَ۔“
یہ سیاہ قلب ، متعصب اور ملحد گروہ ، خدا کے دین کو اپنی ہوا و ہوس پر قربان کئے ہوئے ہے ، کسی قسم کی کوئی بھی تہم ت لگانے سے دریغ نہیں کرتے ، اسی لئے کہتے ہیں کہ یہ مذہب فراماسونیوں کی ایجاد ہے ، جبکہ وہ بچہ بھی جو مذہب شیعہ کی الفباء کوجانتا ہو ، اس کو معلوم ہے کہ فقط شیعہ مذہب ہی وہ مذہب ہے جو پوری تاریخ میں ظالموں،خفیہ ایجنٹوں سامراجوں کی روٹیوں پر پلنے والوں ، ظالم حکومتوں اور رسول(ص) کی خلافت کو غصب کرنے والوں سے برسرپیکار رہاہے، اور تاریخ میں تجاوز کرنے والوں اور جلادوںسے جنگ کرتا رہاہے ، کیا فراماسیونوں کے ایسے ہی اعمال تھے؟کہ اپنے ھاتھوں ایک ایسا مذہب ایجاد کریں کہ جو خود انہیں سے ہمیشہ برسرپیکار رھے،شیعہ مذہب تو وہ مذہب حقہ ہے جس نے خود ہی فراماسونیوں اور ان کے نوکروں سے جھاد کیا ہے ،وہابی حضرات کی یہ بیھودہ اور باطل باتیں ہماری نظر میں اس قابل ہی نہیں کہ ان کے بارے میں بحث کریں لیکن صرف اسلئے کہ کسی کے ذھن میں کوئی شبہ باقی نہ رھے ، تھوڑی وضاحت کئے دیتے ہیں۔
شیعہ مذہب کا آغاز خود رسول اکرم(ص) کے زمانے سے ہوا
پھلی بار شیعہ مذہب کی ابتدا کی جب شیعہ ”علی (ع)کے شیعہ “ کے عنوان سے مشھور ہوئے ، خود رسول مقبول(ص) کے زمانہ میں ہوئی ۔
۲۳ سالہ اسلام کی دعوت اور پیشرفت کے پیش نظر ایسے حالات و اسباب وجود میں آئے کہ جسکی بناپر اصحاب(ص) کے درمیان اس شیعہ فرقہ کا وجود میں آنا ایک عادی اور لازمی بات تھی( ۱ )
۱ ۔ قرآن مجید کے صریح اور واضح قول کے مطابق اوائل بعثت ہی میں خدا کی جانب سے رسول(ص) کویہ حکم ہوا کہ اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو اپنے دین کی طرف دعوت دو ، اسی وقت رسول(ص) نے صاف اور واضح لفظوں میں فرمایا:
”( وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقرَبِیْنَ ) “(اپنے رشتہ داروں کو ڈراؤ)
” فرمایا: تم میں سے جو بھی میری دعوت اسلام پر لبیک کہنے میں پھل کرے وہ میرا وزیر ، جانشین اور خلیفہ ہوگا ، علی (ع) نے سب سے پھلے اس دعوت پر لبیک کھا اور دین اسلام کو قبول کیا ، رسول(ص) نے بھی آپ کے ایمان کی تصدیق فرمائی اور اپنے وعدے کو پورا کیا۔( ۲ )
جیساکہ یہ بات عادتاً محال و نا ممکن ہے کہ کسی نہضت اور قیام کرنے والے رھبر ، اپنے قیام کی ابتدامیں ہی کسی اپنے ہمایتی کو ، اپنے جانشین کے عنوان سے اعلان کرے ،جبکہ اس سے پوری طرح واقف نہ ہو، اور یہ ممکن نہیں کہ کسی کو اپنے جانشین کے عنوان سے پہچانے اور پہچنوائے ، لیکن اپنی پوری زندگی اسکی جانشین کا کوئی احترام نہ کرے اسکو دئے گئے وظائف جانشینی سے معزول رکھے اور اسکے اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نہ کرے ۔
حضرت علی (ع) کاعلم اور آپ کی عصمت
رسول اسلام(ص) کی متواترہ احادیث میں ہے کہ جسے شیعہ اور سنی دونوں نے نقل کیا ہے ، یہ واضح لفظوںمیں ملتا ہے کہ علی (ع) اپنے قول اور فعل میں خطا اور گناہ سے محفوظ ہیں،( ۳ )
جوبھی علی (ع) کھیں یاکریں ، وہی دین ہے اور شریعت اسلامی کو آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتاتھا۔( ۴ )
حضرت علی (ع) کی فداکاریاں اور قربانیاں
حضرت علی علیہ السلام نے بہت اہم خدمات انجام دی ہیں اور حیرت میں ڈال دینے والی قربانیاں پیش کی ہےں مثال کے طور پر ہجرت کی شب( ۵ ) رسول مقبول(ص) کے بستر پر سونا، اور وہ جنگیں (بدر و احد ، خیبر اور خندق )جو آپ کے دست مبارک پر فتح ہوئی ہیں، ان جنگوںمیں سے اگر کسی ایک میں بھی آپ کا وجود مبارک نہ ہوتا تو اسلام دشمنوں کے ھاتھوں پامال اور ہمیشہ کے لئے صفحہ ھستی سے ختم ہوجاتا ۔
غدیر خم کا واقعہ
یہ ، وہ واقعہ ہے کہ جس میں رسول الله(ص) نے علی (ع) کو اپنا جانشین بنایا اور اپنے اختیارات کو آپ کے سپرد کیا۔( ۶ ) ظاہر ہے کہ اسطرح کے فضائل کہ جسکے سامنے سبھی تسلیم تھے ۔( ۷ )
اور حضرت رسول اکرم(ص) کا علی (ع)کی نسبت اظھار محبت کرناکچھ لوگوں پر بہت گران گذر تا تھا۔( ۸ )
جو مزید حسد اور بغض کا سبب بنتاتھا لیکن وہ اصحاب جو حقائق فضائل کے تشنہ تھے ، ان کے عشق میں اضافہ ہوتا تھا اور علی (ع)کی سیرت طیبہ کو اپنا نے کا جذبہ بڑہتا تھا ۔
ان تمام باتوںسے صرف نظر، خود رسول اسلام(ص) کے کلمات میں ” شیعہ علی “ اور ” شیعہ اہلبیت“ کثرت سے ملتا ہے ۔( ۹ )
ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت :
”( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اولٰئِکَ هُم خَیرُالبَرِیَّةِ ) “
نازل ہوئی تو رسول اسلام(ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا:
” اس آیت سے مراد تم اور تمھارے شیعہ ہیں ،جوقیامت میں خوشحال ہوںگے اور خداوند عالم تم سے راضی ہے “ یہ دو حدیثیں ،جو ذکر ہوئیں اور اسکے علاوہ چند روایتیں ” الدّر المنثور“ نامی تفسیرکے جلد ۶ ص ۳۷۹ اور غایة المرام میں ص ۳۲۶ پر نقل ہوئی ہیں ۔
وہ اسباب کہ جنکی بناپر شیعوں کی اقلیّت ، سنّیّوں کی
اکثریت سے جدا ہوئی اور اختلافات ظاہر ہوئے
اگر چہ ہماری بحث اس کتاب میں شیعوں کی شناخت اور شیعیت کی تاریخ سے متعلق نہیں لیکن وہابیوں کے اعتراضات کوردّ کرنے کے لئے ہم مجبور ہیں کہ کچھ شیعوں کی تاریخی حیثیت کا جائزہ لیں ۔
حضرت رسول اکرم(ص) اصحاب اور مسلمانوں کے درمیان ، حضرت علی (ع) کی منزلت اور بزرگی اتنی پر واضح ومسلّم تھی کہ آپ کی محبّت کا دم بھرنے والے اور پیروی کرنے والے اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ رسول اسلام(ص)کی رحلت کے بعد آنحضرت(ص)کے جانشین اور خلیفہ حضرت علی (ع) ہوںگے ، ظاہری حالات بھی ( سواء ے ان مسائل و اختلافات کے جو رسول(ص) کی بیماری کے دوران آخر عمر میں پیش آئے)( ۱۰ )
پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے ا نتقال سے قبل ارشاد فرمایا : مجھے قلم اور دوات دو تاکہ تمھارے لئےحضرت علی (ع) اور آپ کے اصحا ب باوفا کے سامنے اسطرح ظاہر ہوئے کہ جو کرنا تھا کرچکے۔( ۱۱ )
لوگ کبھی گمراہ نہ ہو ، عمر نے( نوشتہ )لکھنے نہ دیا اور کھا (آپ پر) مرض اور بیماری کا غلبہ ہے (معاذالله) ہذیان بک رھے ہیں ، تاریخ طبری جلد ا ص ۳۳ ا ، ، صحیح مسلم جلد ۵ ، البدایة و النھایة جلد ۵ ص ۲۲۷ اور شرح ابن ابی الحدید جلدا ص ۳۳ ا ، پر ملاحظہ فرمائیں ۔
بہتر ہے کہ ہمارے قارئین جان لیں ،ا گر چہ وہابی حضرات بے اطلاعی کا اظھار کرتے ہیں در اصل وہ حقیقت سے آگاہ ہوناہی نہیں چاہتے ، کہ یہی واقعہ خلیفہ اوّل ( ابو بکر ) کے مرض الموت کے وقت پیش آیا ، جب ابوبکر ، عمر کو اپنے بعد خلیفہ ہونے کے لئے وصیت کررھے تھے اور وصیت کرنے کے دوران بیھوش بھی ہوگئے لیکن اس موقع پر عمر نے کچھ بھی نہ کھا ، یعنی خاموش رھے اور خلیفہ اوّل ( ابوبکر ) کی طرف ہذیان کی نسبت نہ دی ،جبکہ دے سکتے تھے چونکہ وصیت کرنے کے دوران ہی ابوبکر بیھوش ہو گئے تھے ،جبکہ رسول خدا(ص) تو معصوم تھے اور آپ کا ارشاد گرامی بجا اور بموقع تھا ( در واقع رسول(ص) ، حکم الٰھی کی تکمیل فرما رھے تھے،روضة الصفاء ج ۲ ص ۲۶۰ ۔)
ان حالات میں حضرت علی(ع) اور آپ سے عقیدت رکھنے والے جیسے عباس ، زبیر ، سلمان ، ابوذر ، مقداد اور عمار کفن ودفن رسول(ص) سے فراغت کے بعد باخبر ہوئے تو ان حضرات نے اعتراض کیا اور اس سلسلہ میں اعتراض آمیز جلسہ اور جلسات بھی کئے، تو اُدھرسے یہ جواب دیا گیا کہ مسلمانوں کی مصلحت اسی میں تھی ۔( ۱۲ )
یھی وہ انتقاد اور اعتراض تھا کہ جس نے اقلیت کو اکثریت سے جدا کردیا اورحضرت علی (ع) کی پیروی واطاعت کرنے والوں کو ” علی (ع)کے شیعہ “ کے نام سے پہچانا گیا ، خود ساختہ خلافت بھی وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت ہوشیارانہ طور سے قدم اٹھارہی تھی کہ کھیں ایسا نہ ہو کہ اقلّیت”حضرت علی (ع)کے شیعہ کے نام “ سے مشھور ہوجائیں اور نتیجہ میں دوطرح کا سماج اقلیت و اکثریت کی شکل میں وجود میں آجائے بلکہ خود ساختہ خلافت تو اس بات کی کوشش میں تھی کہ اس غصبی خلافت کوبھی ایک اجتماعی حل سمجھ کر قبول کرلیں اس لئے اعتراض کرنے والوں کو بیعت کا مخالف اور مسلمانوں کی صف سے علیحدہ ہونے والا یا دوسر ے نازیبا اور برے القاب سے یاد کرتے تھے۔( ۱۳ )
البتہ شیعہ حضرات پیغمبر اکرم(ص) کی وفات کے بعد ہی غاصب حکومت وقت کی سیاست کا شکار ہوگئے اور زبانی اعتراض کے علاوہ مزید کچھ نہ کرسکے اورحضرت علی (ع) نے بھی اسلام اور مسلمین کی مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور مخلصین افراد اور دوستوں کی قلّت کے پیش نظر تلوار نہ اٹھائی لیکن اعتراض کرنے والوں نے اپنے سچّے عقیدے کی بناپر اکثریت کے سامنے سرنہ جھکا یا اور پیغمبر(ص) کا حقیقی جانشین حضرت علی (ع) ہی کو مانا اور اپنے علمی مسائل میں صرف حضرت علی (ع) کی طرف رجوع کرنے کو ہی صحیح سمجھا( ۱۴ ) اور اپنے علمی اور معنوی مسائل میں فقط حضرت علی (ع) کی طرف رجوع کرتے رھے ، اور لوگوں کواس راہ پر چلنے کی دعوت دیتے رھے۔( ۱۵ )
قارئین محترم یہ شیعہ مذہب کی پیدائش اورحضرت علی (ع) کی پیروی کرنے والوں سے تاریخ کی مختصر لیکن جامع ورق گردانی تھی ( جو پیش کی گئی ) اور اب ہم وہابیوں کی ان تہم توں اور بے بنیاد باتوں کا جائزہ لیں گے کہ جسکی یہ حضرات علی کے شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہیں غورو فکر ” میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم ان سے متمسّک رھوگے تو ھرگز گمراہ نہ ہوگے ( اور وہ ) قرآن اور میرے اہل بیت ہیں کہ جو قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے“ یہ حدیث سو سے زیادہ سندوں کے ساتھ ۳۵ صحابیوں نے رسول اسلام(ص) سے نقل کی ہے اور بہتر ہے کہ وہابی حضرات کہ جو صحابہ کی پیروی کا دم بھرتے ہیں اور شدّت کے ساتھ ان صحابہ کی حمایت کرتے ہیں اسطرح کی حدیثوں کو غور سے پڑھیں کہ جسکو پیغمبر(ص) کے بڑے اور با فضیلت اصحاب نے نقل کیا ہے تاکہ مزید اپنی بے عزتی کا ثبوت فراہم نہ کریں اور محققین اور مؤمنین کو اس سے زیادہ زحمت میں نہ ڈالیں( ورنہ مزید رسوائی ہوگی )حدیث ثقلین کے راویوں کے سلسلہ سند کے ارزش مند کتاب بنام” غایة المرام کے ص اا ۲ “ کی طرف رجوع فرمائیں۔
سے کام لیں تا کہ حقیقت آپ پر واضح ہو جائے ، البتہ اس کتاب میں واقعہ کی تفصیل پیش کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے ورنہ مناسب تو یہ تھا کہ اس اہم مسئلہ سے متعلق کچھ مزید تفصیل پیش کی جاتی تاکہ حضرت علی(ع) اور آپ کی اولادکی مظلومیت بیان کرتے جو آج بھی پوری تاریخ میں مظلوم ہیں ، اور اب تک وہابیوں کی تہم توں اور غلط بیانی کاشکار ہیں ۔
ہم صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفاء کرتے ہیں کہ عبد الله بن سبا کا مسئلہ کہ جسکو وہابی اور ان کے ہم فکر حضرات ،شیعہ مذہب کا موسس اور بانی کہتے ہیں ، اسکی حقیقت ایک افسانہ سے زیادہ کچھ نھیں۔
اگر ہم عبدالله بن سبا نامی افسانہ کو حقیقت فرض کریں تب بھی شیعہ مذہب پر کوئی آنچ نہیں آسکتی اسلئے کہ یہ پاک و پاکیزہ مذہب خود رسول مقبول(ص) کے زمانہ سے ہے اور اسلام و قرآن کی نسبت حضرت علی (ع) کے افکار کے سایہ میں رھنا ہی اس پاک و پاکیزہ شیعہ مذہب کا نصب العین ہے جسکی خود پیغمبر ، نے بارہا تائید اور تصدیق فرمائی ہے( ۱۶ )
محققین اور مطالعہ کا ذوق رکھنے والے حضرات اس سلسلہ میں مزید تفصیل کے لئے گرانقدر اور ارزشمند کتاب بنام” عبدالله بن سبا و افسانہ ھای دیگر“ مؤلف محقق بزرگوار علامہ سید مرتضیٰ عسکری دام عزہ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
تحریف قرآن کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ
اور وہابیوں کے اعترضات
انھیںتہم توں میں سے ایک باطل بے بنیاد اور محض کذب نسبت وہّابی حضرات شیعوں کی طرف دیتے ہیں ، اور وہ تحریف قرآن کریم کامسئلہ ہے ، اس سے قبل ہم نے قرآن کی تحریف سے متعلق محمدبن عبدالوہاب کاکلام اسکی مشھور کتاب بنام ” الردّ علی الرافضہ “ سے نقل کیا اور اب قارئین کرام کے اذھان کو مزید روشن اور منور کرنے کے لئے نیز یہ ثابت کرنے کے لئے کہ محمد بن عبدالوہاب کی طرف سے لگائی تحریف قرآن سے متعلق یہ تہم ت اور صرف ایک جھوٹ ہے ، شیعوں کے بزرگترین قرآن شناس علماء میں سے ایک عالم بزگوار قرآن شناس اور ہم عصر مفسّر گرانقدر مرحوم علامہ طباطبائی (رہ) کا نظریہ مذکورہ مسئلہ( تحریف قرآن) سے متعلق پیش کرتے ہیں تاکہ جھوٹے رسوا ہوں ، ( اور اگر ذرہ برابر بھی غیرت رکھتے ہوں تو چلو بھر پانی میں ڈوب مریں) اور شیعوں کی طرف مزید ایسی بے بنیاد تہم تیں لگانے کی ہمت نہ کریں ۔
قرآن مجید میں تحریف نہ ہونے کے بارے میں علامہ طباطبائی کا نظریہ
آپ اس سلسلہ میں یوں فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی تاریخ ، نزول سے لیکر آج تک بہت زیادہ روشن اور واضح ہے قرآن مجید کے سورے اور آیتیں ہمیشہ مسلمانوں کی ورد زبان رہیں اور اسی طرح ایک دوسرے تک پہونچی ہیں ۔
اور یہ بات تو ہم سب کو معلوم ہے کہ دو دفتیوں کے درمیان جو قرآن ہمارے ھاتھوں میں ہے یہ وہی قرآن ہے جو چودہ سو سال پھلے ختمی مرتبت(ص) پر تدریجاً ( تھوڑا تھوڑا کرکے ) نازل ہوا ہے ۔
اس توصیف کے بعد مزید کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ قران مجید کومعتبر جاننے اوراسکی واقعیت کو ثابت کرنے کے لئے تاریخ کا سھارا لیں اگر چہ قرآن مجید کی تاریخ خود اپنے مقام پر واضح اور مسلّم ہے چونکہ جو کتاب خود کلام خدا ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنے اس دعویٰ کے صحت اور صحیح ہونے پر آیتیں پیش کرے بلکہ اس سے بھی بڑھکر جنّات اور انسانوں کو للکارتے ہوئے اپنے جیسا( ایک چھوٹا ساسورہ بھی ) لانے سے عاجز بتائے تو اس صورت میں یہ کھنا کہ یہ قرآن کلام خدانھیں ہے اور اس میں تحریف واقع ہوئی ہے ، یا اس طرح کی باتیں کرنا عقل سے بعیدھے، اور جب وہ ( قرآن مجید ) خود اپنے اوپرواضح دلیل ہے تو پھر اسکے صحیح اور معتبر ہونے میں کسی عھدہ دار ، شخص اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ،یعنی یہ قرآن وہی ہے جو پیغمبر اکرم، پر نازل ہواتھا ، اور ہر طرح کی تحریف سے محفوظ ہے اور اسکی واضح دلیل یہ ہے کہ جو صفتیں اور امتیازات قرآن مجید نے اپنے لئے بیان کی ہیں ( وہ) نور کی کتاب اور ہدایت بنکر نازل ہوئی اور انسانوں کو حق اور حقیقت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔
دوسری آیت میں یوں ارشاد ہے : میں وہ کتاب ہوں جس میں دوچیزیں بیان کی گئی ہیں ، یعنی ہر اس چیز کا بیان قرآن مجید میں موجود ہے کہ جسکی ،بشرکو اپنی زندگی میں ضرورت پڑ سکتی ہے، البتہ انسان کی فطرت بھی اسکی خواہا ںھو ۔
ایک اور آیہ کریمہ میں یوں بیان ہوا ہے کہ میں خدا کا کلام ہوں اور اگر یہ کھو کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے تو سارے انسان اور جنّات جمع ہو جائیں اور ایسا ہی کلام ( قرآ ن کے مانند )لا کر دکھائیں، یا کوئی شخص پیغمبر(ص) کی طرح لاکر دکھائے جس نے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا ہو وہ بھی جاہلیت کے ماحول میں یتیمی کے عالم میں جبکہ کوئی تربیت کرنے والا بھی نہ ہو جس کے سایہ عطوفت میں نشو و نماپائے ( ان سب چیزوں کے باوجود اس سے آیات قرآن کریم جیسے فصیح و بلیغ کلام صادر ہوں ، یا اس کتاب الٰھی میں اس طرح کے طرز بیان میں کوئی اختلاف یا معارف اسلامی اور احکام بیان میں کوئی فرق جو عام طور سے انسانوں کی گفتگو میں نظر آتا ہے ، نہیں دکھاسکتا ( اور ھرگز ایسا کرنے پر کوئی بھی قادر نہیں )
مذکورہ بالا یہ امتیازات اور صفات قرآن مجید ہی سے مخصوص ہیں اور آج تک ( بلکہ قیامت تک ) اسی طرح باقی رہیں گے ۔
قرآن مجیدوہ کتاب ہے جو حق اور حقیقت کی طرف رھنمائی اور ہدایت کرتی ہے ، خود اس کتاب کے واضح بیان میں خدا شناسی سے متعلق مکمل بحث موجود ہے جو دقیق ترین عقلی دلیلوں کے مطابق ہے ، اور انسان کی سعادت مند زندگی کے لئے اہم ترین مرجع اور پناہ گاہ ہے ، حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی ہے اور یہ کتاب لوگوں کی نیک نیّتی اور عاقبت کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ایمان کی طرف دعوت دیتی ہے ۔
قرآن مجید نے انسان کی تمام ضروریات زندگی اور اسکی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے الله تعالیٰ کی وحدانیت کو اصل اور بنیادقرار دیا ہے اور سارے اعتقادی مسائل کو اس کا نتیجہ بتا یا ہے اور اس سلسلہ میں چھوٹے سے چھوٹے مسائل سب بیان کردئے ۔
انسان میں پسندیدہ اخلاق کو اس مسئلہ اعتقادی کانتیجہ بتایا ہے اور اسکی وضاحت کی ہے اسکے بعد انسان کے انفرادی اور اجتماعی اعمال اور افعال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انسان کی فطرت اور خلقت کے مطابق کلی طورپر اسکے فرائض اور وظائف کو بیان کیا ہے ، البتہ اس سلسلہ میں (انفرادی اور اجتماعی مسائل کے سلسلہ میں ) جزئیات اور خصوصیات کے بیان کو رسول(ص) کے سپرد کیاہے ۔
جملہ کتاب اور سنّت کی تعلیمات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر دین مبین اسلام پر نظر ڈالیں تو اسلام اپنی تمام حیرت انگیز وسعتوں کے ساتھ نظر آئے گا ، وہ دین جس نے انسان کی پوری زندگی کی انفرادی اور اجتماعی ضروریات کو مد نظر رکھا ہے اور سارے انسان اپنی پوری زندگی میں جن مسائل سے دوچار ہوسکتے ہیں ان مسائل کا حل اور اسکے لئے حکم پیش کرتا ہے بغیر اسکے کہ اس کے بیان میں کسی قسم کا تضادنظر آئے ۔
یہ وہ دین ہے کہ جسکی فھرست کا صرف تصور ہی بڑے بڑے حقوق شناس افراد کی حد سے باہر ہے چاہے وہ اپنی پوری زندگی اس مسئلہ ( فھرست ) کو ہی سمجھنے میں صرف کردیں ۔
قرآن مجید کااپنے بیان میں معجزنما ہونا،اور اس کتاب الٰھی کی فوق العادہ طرز گفتگو عربوں کے فصیح و بلیغ دور سے مشابہت رکھتی ہے ، تاریخ کا سنھرا دور تھا جو اس وقت کے عربوں سے مخصوص تھا اور یہ فصاحت اور بلاغت کا دوربمشکل پھلی صدی تک رہ سکا جب اس پھلی صدی میں اسلام کا پر چم دوسری سرزمینوں پر لھرایا تو دوسری زبانوں نے عربی زبان کو متاثر کیا اور اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ عربی زبان بھی دوسری زبانوں کی طرح ایک عام لہجہ اختیار کرگئی اور اپنی فصاحت اور بلاغت کوکھو بیٹھی ۔
اسکے باوجود قران مجید اپنے روش اور اسلوب پر ہوبھوباقی ہے اور اپنے معنوی نقطئہ نظر کے ساتھ ، لفظی لحاظ سے معجزہ ہونے کا دعویدار ہے ۔
جو لوگ عربی زبان سے بخوبی واقف ہیں اور نظم و نثر میں ید طولیٰ رکھتے ہیں وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ قرآن مجید کا لہجہ اتنا شیرین اور دل ربا ہے کہ انسان اسکی پور ی زیبائی کو درک کرنے سے عاجز اور اسکی توصیف کرنے سے قاصر ہے ، نہ شعر ہے اور نہ ہی نثر بلکہ دونوں لہجہ ہیں، اور سلیقہ بیان اس طرح اس میں جلوہ گر اور موجزن ہےں کہ شعر سے زیادہ جذابیّت اور نثرسے زیادہ بیان میں روانی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے ، قران مجید کی ایک آیت یا ایک جملہ گذشتہ زمانے کے کسی فرد کے خطبوں کے درمیان یا آج کے لکھنے والوں کے مکتوبات کے درمیان چراغ کے مانند ہے جوساری تحریروں پر سایہ فگن ہے ۔
معنوی نقطئہ نظر سے بھی قرآن مجید کا اعجاز پھلے کی طرح آج بھی باقی ہے اور اعتقادات اور اخلاقیات کا وسیع خزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے انفرادی اور اجتماعی قوانین کا ایسا مجموعہ ہے کہ جسکے بنیادی اصول اور کلیات کا سرچشمہ قرآن مجید ہے جسمیں نہ تو کوئی خدشہ ہے اور نہ ہی کوئی تضاداور تناقض کہ اس طرح کامجموعہ تیار کرنا انسان کی صلاحیت سے بالاتر ہے خصوصاً ایسے انسان کے لئے جسکی زندگی کے حالات رسول(ص) کے زمانے جیسے ہوں ۔
وہ بھی ایسی کتاب ( قرآن مجید ) کہ جسکی آیتیں ہم اہنگ اور اسکے اجزاء کا ایک دوسرے سے متشابہ ہونا وہ بھی ۲۳ سال کی مدت میں بحران اور پر آشوب حالات میں سخت ترین اور ناامن ترین حالات میں جو جنگ و جدال اور صلح سے دوچار ہو، تو کبھی خلوت اور تنھائی تو کبھی لوگوں کی کثیر تعداد کے درمیان جسکی کچھ آیتیں سفرکی حالت میں تو کچھ آیتیں حضرکی حالت میں لیکن ان سب کے باوجود آیات میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہ ہونا انسان کی توانائی اور اس کی طاقت سے کھیں بالاتر ہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ سارے اوصاف جوپیغمبر(ص) پر نازل شدہ کتاب میں موجود تھے وہ ساری صفات اس قرآن مجید میں موجود ہیں جو ہمارے پاس ہے اور اسمیں کسی قسم کی کوئی تبدیلی یا تحریف واقع نہیں ہوئی ہے ۔
ان سب باتوں کے علاوہ خود خداوند متعال نے ہمیں قرآن مجید کے ہر قسم کی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ ہونے کی خبر دی ہے ، جیسا کہ خداوند عالم فرماتاہے:
”( اِناَّ نَحْنُ نَزَّلنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) “( ۱۷ )
”بے شک ہم نے ہی اس ذکر ( قرآن مجید ) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی تو اسکے حافظ اور نگھبان ہیں “
اور ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتاہے :
”( وَ اِنَّهُ لَکِتَابٌ عَزِیْزٌ َلا یَاتِیهِ البَاطِلُ مِن بَینِ یَدَیهِ وَلاَمِن خَلفِهِ تَنزِیلٌ مِن حَکَیمٍ حَمِیدٍ ) “( ۱۸ )
یہ قرآن تو یقینا ایک عالی رتبہ کتاب ہے کہ جھوٹ نہ تو اسکے آگے ہی پھٹک سکتا ہے، نہ اسکے پیچھے سے ( باطل کا اسکے قریب سے گذر ہی نہیں ہوسکتا اور نہ اسکے قبل ہی کوئی کتاب ایسی کتاب آئی ہے جو اسے باطل کرسکے ) اور خوبیوں والے دانا ( خدا) کی بارگاہ سے نازل ہوئی ہے۔
ان مذکورہ آیات کے پیش نظر قرآن مجید بالخصوص اس لحاظ کے تحت کہ خدائے سبحان کی ذات اقدس کی طرف متوجہ کرنے والی حقیقی معارف کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب ہے اور ہر طرح کی تباہ کرنے والی گزند سے خدائے متعال نے اسے محفوظ رکھاہے ، اور یہی خداوند عالم کا وعدہ بھی ہے کہ جسکی بناپر یہ کتاب الٰھی چودہ صدی کے بعد آج بھی سیکڑوں اور لاکھوں دشمنوں کے باوجود محفوظ ہے اور صرف یہی کتاب ( قرآن مجید ) ہی ہے کہ جو اتنا طولانی زمانہ گذارنے کے بعد بھی آج تک بشر کے درمیان محفوظ ہے ۔( ۱۹ )
تقیہ کے بارے میں شیعوں کاعقیدہ
اور وہابیوں کے اعتراضات
وہابیوں کے اعتراضوں میں ایک یہ بھی ہے کہ شیعہ تقیہ کے قائل ہیں ، یہ کم فکر اور نافہم افراد یہ سوچتے ہیں کہ تقیّہ یعنی جھوٹ بولنا ، اور تقیہ کے جائز ہونے کو جھوٹ کا جائز ہوناسمجھتے ہیں، ایسا لگتا ہے اسلام کے اتنے اہم حکم شرعی جسکے آثار اور فوائد بھی بہت ہیں اور حسّاس ترین شرائط میں راہگشا ہے ، جس کو وہ سمجھ ہی نہیں سکے ہیں اس لئے شیعوں پر شریعت کی مخالفت اور خدا و رسول(ص) کی طرف جھوٹ کی نسبت کا الزام لگاتے ہیں ، جیسا کہ ہم نے اس سے پھلے وہابیت کی بنیاد رکھنے والے کا قول اس سلسلہ میں آپ کے لئے نقل کیا لیکن اس جگہ پر تقیہ کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ سے متعلق کچھ توضیحات پیش کررھے ہیں ( تاکہ کسی قسم کاکوئی شبہ باقی نہ رہ جائے )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے معتبر سندوںکے ساتھ نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
”اَلتَّقِیَّةُ دِینِی وَ دِینُ آبَائِی وَ مَن لاَ تَقِیّةَ لَهُ لَا دِینَ لَهُ “
”تقیّہ ہمارے اور ہمارے آباء و اجداد کا دین ہے جو تقیہ سے منھ موڑے اور گریز کرے وہ بے دین ہے یھاں پر امام (ع)نے تقیہ سے متعلق عقیدہ کو دوسرے عقائد کی فھرست میں شمارفرمایاہے۔
جب بھی کسی انسان کو کوئی ایسا خطرہ در پیش ہو کہ جس کی بناء پر وہ اپنی جان اور مال کے بارے میں اپنے عقیدہ کو ظاہر کرنے کی وجہ سے خوف محسوس کرتا ہے تووہ ہر حال میں اپنے عقیدہ کو چھپائے گاتاکہ اپنے کو خطرات سے محفوظ رکھ سکے اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جسکی انسان کی فطرت اور عقل گواہی دیتی ہے ، تو پھرہم یںیہ جان لیناچاہئے کہ تقیہ کا حساب جھوٹ اور ڈر سے جدا ہے بلکہ تقیہ ایک ایسا طریقہ ہے کہ جسکے ذریعہ انسان اپنے رازوں کو پوشیدہ رکھ سکتاہے اور یہ بات وہابیوں کے اس دعوے کے بالکل خلاف ہے کہ جسکی نسبت وہ شیعوں کی طرف دیتے ہیں چونکہ یہ ( تقیہ کا طریقہ ) نہ تو عقل کے خلاف ہے اور نہ ہی شرع مقدس کے ، اس لئے کہ دشمن کے مقابلہ میں اسرار ( رازوں ) کو چھپانا چاہئے تاکہ قدرت اور قوت کے ساتھ اپنی او راپنے دین کی حفاظت کر سکےں اور خدا کی راہ میں جھاد کا باب بھی ہمیشہ کھلا رھے یہ کھاں بزدلی اور جھوٹ ( جو ایک بڑی اور ناپسند عادت ہے )ھے ؟!
یہ بات سب پر واضح ہے ائمہ (ع) اوران کے پیروکار ہمیشہ ہر زمانہ میں حوادث ،طوفانوں اور سختی میں رھے ہیں ، اس لئے ناچاری صورت میں بہت سے مواقع پر یہ ضروری تھا کہ تقیہ سے کام لیں اور اپنے اعمال اور عقائدکو مخفی کر کے اپنے کو دشمن کے خطرات سے محفوظ کر سکیں اور اگر ایسا نہ کرتے تو دنیا وی اور دینی نقصانات سے دوچار ہوتے ، اس لئے فقط شیعہ اثناء عشری حضرات ہی (یعنی ایثارگر ) تقیہ کے عنوان سے پہچانے گئے اور جھاں جھاں تقیہ کی بات ہوتی ہے شیعیت کا اس کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا۔
البتہ یہ جان لینا ضروری ہے کہ تقیہ واجب ہونے اور نہ ہونے کے اعتبارسے جب ضرورت ہو ( خوف اور نقصانات ) جو احکام ہیں اسے شیعہ فقھاء ( کثرالله امثالہم ) نے اپنی فقھی کتابوں کے مخصوص ابواب میں بحث کی ہے ۔
ایسانھیں ہے کہ تقیہ ہر جگہ واجب ہو بلکہ کبھی تقیہ جائز ( مستحب ، مباح اور مکروہ ) ہوتاہے اور بعض اوقات تقیہ نہ کرنا واجب ہو جاتاہے اور یہ مقام اس وقت ہے جبکہ حق کے اظھار سے دین کی مدد ہو نیز جھاد اور اسلام کی خدمت درکار ہو ، ایسے مقامات پر جان اور مال کو اہم یت نہیں دیناچاہئے بلکہ جان و مال کو دین پرفدا کردیناضروری ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کے ا دراک سے وہابی حضرات عاجزھیں لہٰذا تقیہ کے مسئلہ میں شیعوں کے مقصد سے غافل رھے ہیں فقط شیعوںکی تکفیر اور تقسیق کو ہی اپنا شیواقرار دیاہے ، یہ ہے وہابیوں میں حقیقت جوئی اور تحقیق کی منزل ۔!
کبھی ایسا بھی وقت آتا ہے جھاں تقیہ کرنا حرام ہوتاہے مثلاًایسے موقع پر تقیہ کرنا جو کسی مؤمن کے قتل کا سبب بنے یاباطل کی ترویج ، دین میں فساد یا ایسا نقصان جوناقابل برداشت ہو یا اگر اس سے چشم پوشی کی جائے تو گمراہی یا ظالم کے تجاوز کا سبب بنے اور یہ بھی ان ہی چیزوں میں سے ہے جس سے وہابی غافل رھے ہیں اور جھل و نادانی کی بناپر شیعوں پر غلط نسبتیں دیتے ہیں اور تہم ت و جھوٹ جیسے ناروا الزامات کے لئے زبان درازی کرتے ہیں ۔
تقیہ کے بارے میں شیعوں کا نظریہ
تقیہ کے بارے میں شیعوں کا ھرگز یہ نظریہ نہیں ہے کہ اسکے ذریعہ کوئی مخفی گروہ بربادی اور تباہی کے لئے تیار کریں جیسا کہ بعض دشمنوں اوروہابی فرقہ کاکھنا ہے، یہ جاہل او ردل کے اندھے بجائے اسکے کہ تقیہ کے بارے میں کوئی تحقیق کرنے یا اسکے مقامات کو در ک کرنے کی کوشش کرتے، تقیہ کے بارے میں ایسا جاہلانہ تصور لیکر بیٹھ گئے اور اپنے کو تحقیق کرنے کی زحمت دینا گوارا نہ سمجھا تاکہ تقیہ کے بارے میں شیعوں کے صحیح نظریہ کو خود شیعوں کی معتبر کتابوں سے حاصل کرتے اور اس عظیم مسئلہ کو درک کرنے کی کوشش کرتے۔
نیز تقیہ کامقصد اور غرض یہ بھی نہیں ہے کہ دین اور اسکے احکام کو ایک پوشیدہ راز کی طرح چھپا کررکھاجائے اورکسی غیر شیعہ کے لئے اس پوشیدہ راز کو فاش نہ کیا جائے ایسی صورت میں اسلام کی تبلیغ جیسے فریضہ کا انجام کیا ہوگا ؟ہمارا فریضہ ہے کہ اسلام کو اسکے محاسن کے ساتھ پیش کریں، چنانچہ شیعوں کی فقھی اور کلامی کتابوں نے تقیہ کو اس طرح پیش کیا اور پہچنوایا ہے جبکہ اسلام کی تبلیغ کو اہم وظائف میں شمار کیا ہے ۔
جس تقیہ کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو مخالفین شیعیت نے اپنے لئے ثبوت کی حیثیت دی ہے تاکہ تقیہ کو غلط طریقے سے پیش کرکے شیعوں کے خلاف زبان درازی کرسکیں گویا ان کے عداوت اور نفرت کے شعلے خاموش نہ ہوں گے مگر اس صورت میں کہ شیعہ تقیہ کرنا ترک کردیں اور اپنے کو دشمنوں کے ہجوم سے محفوظ نہ کرسکیں اور ان کی گردنیں اسلام کے بڑے دشمنوں یعنی بنی امیّہ اور بنی عباس کے نا خلف اولادوں کے خنجروں کے نیچے آجائے تا کہ کلی طور پر شیعیت کا خاتمہ ہو جائے اور ان کی نسل باقی نہ رھے ،اس زمانہ میں جب کہ شیعہ ہونا ہی ان کے خون بھانے کے لئے آل محمد(ص) کے دشمنوں یعنی بنی امیّہ ، بنی عباس اور عثمانیوں کے ھاتھوں کافی تھا تو اس تقیہ جیسے معقول طریقے کے علاوہ کون سی چیز اس بے دفاع اقلیت ( شیعیت ) کو محفوظ کرسکتی تھی ، لہٰذا تقیہ ہی وہ چیز تھی کہ جس کی وجہ سے یہ نورانی اور مقدس مذہب تاریخ میں نور افشانی کررہا ہے۔
جوشخص ہمیشہ اعتراض تراشی کی فکر میں رہتاہے اور چاہتا ہے کہ موضوع تقیہ کو اعتراضات کی وجہ قرار دیکراس تصورمیں رھے کہ تقیہ دین کی نظر میں مشروع اور درست نہیں ہے تو ہم اس سے کھیں گے کہ :
اول : ہم اپنے ائمہ(ع) کے پیروکار ہیں اور ان حضرات کے ہدایت کردہ راستوں کو اپناتے ہیں ، اور ائمہ(ع) (ع) نے ضروری موقع پر تقیہ کا حکم فرمایاہے اور ان حضرات کی نظر میں تقیہ، دین کا جزء ہے جیسا کہ ہم نے پھلے بھی عرض کیا کہ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں :
” من لا تقیّة لہ لادین لہ “ ( جو تقیہ نہ کرے وہ بے دین ہے )
دوم: تقیہ کے مشروع ہونے کے سلسلہ میں قرآن مجید میں واضح طور پر بیان موجود چنانچہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے جو بھی ایمان لانے کے بعد خداوند عالم کامنکر ہو جائے یا کفر اختیار کرے ”( اِلَّا مَن اُکرِهَ وَ قَلبُهَ مُطمَئِنٌّ بِالِایمَانِ ) “( ۲۰ )
”جو شخص جبر اور اکراہ ک&# ۱۷۴۰; صورت میں منکر(خدا) ہوں، لیکن ان کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہو“ سوائے ان کے ان پر خداوند متعال کا غضب ہو ۔
&# ۱۷۴۰;ہ آیہ شریفہ عماریاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ آپ نے کفار کی ڈر سے کفر کا اظھار کیا در حالیکہ ان کا دل ایمان سے مالامال تھا ، اور اس آیہ کریمہ اور گفتار رسول اسلام کی روسے وہ معذور اور بے گناہ پہچانے گئے۔
الله تعالیٰ سورہ آل عمران کی ۲۸ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
” کہ مؤمنین ، کو چھوڑ کے کافروں کو اپنا سرپرست نہ بنائیں او رجو ایسا کرے گا تو اس کا خدا سے کوئی سروکار نہیں :
”( اِلّا انْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ) “ مگر یہ کہ دشمنوں سے تقیہ کریں۔
( اس ظاہر ی صورت میں ان سے دوستی کے اظھار میں کوئی مانع نہیں ہے )
خداوند عالم سورہ غافر کی ۲۸ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
”( وَقالَ رَجُلٌ مومِن آلِ فِرعَونَ یَکتُمُ اِیمَانَهُ ) “
”اور فرعون کے لوگوں میں ایک ایماندار شخص ( حزقیل ) تھا جو اپنے ایمان کو چھپائے رہتاتا تھا“
جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا مذکورہ آیت میں تقیہ کے جواز کی طرف اشا رہ موجود ہے۔( ۲۱ )
قرآن کے ظاہر و باطن کے متعلق شیعوں کا نظریہ
اور اس سلسلہ میں وہابیوں کے شبھات
اعتقادکی اہم بحثوں میں جو فلسفہ اور عرفان شیعیت میں ایک بلند و بالامقام اور ایک مخصوص اور ممتاز درجہ رکھتی ہے ،قرآن مجیدکے ظاہر وباطن بلکہ عالم وجود کاظاہر وباطن مسئلہ ہے شیعہ فلاسفہ اور علماء عرفان حضرت رسول(ص) اورائمہ کی پیروی کرتے ہوئے ظاہر اور باطن قرآن کے قائل ہوئے ہیں ، چنانچہ عالم ھستی کے لئے بھی ظاہر اور باطن کو تسلیم کرتے ہیں ۔
لیکن ظاہر پرست اور نا فہم منجمد وہابی ان اہم اور عمیق مطالب کے منکر ہیں ہمیشہ کی طرح گویا تہم ت ، تکفیر اور نا سزا الفاظ کہنے کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے گویا ان کے ھاتھ چھوٹے اور کھجوربہت اونچائی پرھے اور بقول مولانارومی :
دانہ ہر مرغ اندازہ وی است
طعمہ ہر مرغ انجیری کی است؟!
” پرندہ کے لئے دانہ اس کے اندازہ کے مطابق ہے ، مرغیوں کے لئے انجیر بطور غذا کیسے فراہم ہو سکتی ہے “
فلسفہ اور عرفان کے عمیق مسائل سے ان کاکیا ربط یہ لوگ تو تشبیہ ، تجسّم ،جبر اور قدر کے متعلق چند حدیثوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور اسلامی معارف سے متعلق انہیں مزید کچھ نہیں معلوم ، حقیقت تو یہ ہے کہ وہابیت جیسا سست اور سطحی مذہب کیونکر اس قدر دقیق و فلسفی اور عرفانی مطالب کو درک کرسکتا ہے ۔
حلّاج برسردار این نکتہ خوش سراید
کز شافعی می پرسد امثال این مسائل
”ہم اس سلسلہ میں شیعہ مذہب کے نورانی اصول کی وضاحت کی خاطر مختصراً پیش کررھے ہیں اور مفصّل بحث اس موضوع سے متعلق کسی دوسرے وقت کے لئے چھوڑتے ہیں ۔
خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
”( وَ اعبُدُوا اللهَ وَلاَتُشرِکُوا بِهِ شَیئاً ) “( ۲۲ )
”اور خدا ہی کی عبادت کرو اور کسی کو اسکا شریک نہ بناؤ“
اس کلام سے ظاہر تو یہ ہے کہ معمولی بتوں کی عبادت و پرستش کرنے سے روکاجارہاہے ، چنانچہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے : ” فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الَاوثَانِ “
”پلیدی اور کثافت سے دور رھو ،یعنی بتوں کی پلیدی اور کثافت سے دور رھو۔
لیکن غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تبوں کی عبادت سے اسلئے روکا گیا ہے چونکہ یہ خداوند عالم کے سوائے کسی اور کے سامنے خضوع اور خشوع ہے ، اوربت کی عبادت اور پرستش میں کوئی خاص چیز نہیں ہے اور یہ بالکل بے فائدہ ہے ، جیسا کہ الله تعالی ٰ نے شیطان کی اطاعت کو اسکی پرستش بتایا ہے ،فرماتا ہے:
” اَلَم اَعہَد اِلَیکُم یَا بَنِی آدَمَ اَن لَّا تَعبُدُوا الشَّیطَانَ “( ۲۳ )
” اے اولاد آدم !کیا میں نے تمھارے پاس یہ حکم نہیں بھیجاکہ ( خبردار ) شیطان کی پرستش نہ کرنا “
اگر اسے دوسرے لحاظ سے دیکھا جاے تو اس بات کا اندازہ ہوجائیگا کہ اطاعت اور سر تسلیم کرنے میں خود انسان کے در میان اور اسکے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے چنانچہ کسی غیرکی پیروی اور اطاعت کرنا صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی خداوند عالم کے مقابلہ میں اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کرنا ہی درست ہے۔
جیسا کہ خدا وندکریم نے بطور اشارہ فرمایا ہے:
” اَفرَاَیتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہُ ہُوَاہُ“( ۲۴ )
”کیا تم نے اس شخص کوبھی دیکھا جس نے اپنے نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ۔“
اور اگر اس مسئلہ کی دقّت سے تحقیق وبررسی کریں تو معلوم ہوگا کہ خداوند عالم کے علاوہ کسی غیر کی طرف توجہ نھیںکرنا چاہئے اور اس معبود و رب ذو الجلال سے غفلت نہ کرنے کا حکم ہے چونکہ خدا کی ذات کے علاوہ کسی غیر کی طرف توجہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ شئی مستقل ہے اور اس شئی کے سامنے خضوع کرنا ، انکساری سے پیش آنا، نا درست ہے اور غیر خدا کی طرف توجہ نہ کرنا ہی ایمان اور روح عبادت اور پرستش ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
”( وَ لَقَد ذَرَانَا لِجَهَنَّمَ کَثِیراً مِّنَ الجِنِّ وَ الِانسِ ) “ یھاں تک کہ فرمایاہے کہ
”( اُولٰئِکَ هُمُ الغَافِلُونَ ) “( ۲۵ )
”اور گویا ہم نے خودبہت سے جنّات اور آدمیوں کو جھنّم کے لئے پیدا کیا ، اور یہی لوگ ( مورد حق سے ) بالکل بے خبر ہیں ۔
چنانچہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ آیہ کریمہ ”( وَلاَ تُشرِکُو بِهِ شَیئاً ) “ سے ابتدائی طور پر یہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بتوں کی عبادت اور پرستش نہیں کرنا چاہئے اور وسیع نظر سے کام لیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان خداکے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرے اور اس سے بھی زیادہ وسعت نظری یہ ہے کہ انسان کا جیسے دل چاہے اسطرح نہ رھے اور اس سے بھی وسعت نظر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو خداوند منّان سے غافل نہیں ہو نا چاہئے اور اس ذات حق کے علاوہ کسی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہئے ۔
اور یہی ترتیب یعنی آیہ کریمہ کے ابتدائی اور عام فہم معنی کا ظاہر ہونا اسکے بعد اس سے زیادہ وسیع معنی، اور اسکے بعد ایک معنی کا وجود میں آنا اور ظاہر ہونا پھلے معنی کے پیش نظر، اور یہ سلسلہ پورے قرآن مجید میں جاری اور ساری ہے ، اگر اس کے معنی میں غور و فکر کریں کہ جو پیغمبر اسلام(ص) سے منقول اور حدیث و تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے:
”اِنَّ لِلقُرآنِ ظَهراً وَ بَطناً وَ لِبَطنِهِ بَطناً اِلیٰ سَبعَةِ اَبطُنٍ ‘ ‘
”قرآن کریم کے ظاہر وباطن ہے اور اس کے بطن کے لئے بھی سات بطن ہیں“
سے بات واضح ہو جاتی ہے ۔
لہٰذا مذکورہ بالا مطالب کے مد نظر ، قرآن مجید میں ظاہر و باطن دونوں معنی استعمال ہوا یہ دونوں معنی ایک ہی ردیف میں ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں نہ تو ظاہر لفظ باطنی معنی کی نفی کرتا ہے او رنہ ہی معنی باطنی ظاہری ارادہ کے لئے مزاحم ہے۔( ۲۶ )
مسئلہ رجعت سے متعلق وہابیوں کی فتنہ گری
رجعت کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ ، شیعوں کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے شیعوں کے بڑے بڑے علماء اور شیعہ محققین نے رجعت سے متعلق بہت سی کتابیں لکھی ہیں ، یہ مسئلہ توشیعوںکے افتخارات میں سے ہے ، یہ مسئلہ توشیعوں کے عمیق دشوار اور فلسفی مسائل میں سے ہے جسے وہابی حضرات درک کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،ھنسی اڑانے ، تہم ت لگانے اور برے الفاظ کہنے کہ سوا اُن کے پاس کوئی چارہ نہیں اور اس طرح اپنی آبرو عزت کھونے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور کام نہیں ، ان کے یھاں فلسفہ کے سست مبانی ایسے سنگین اور دشوار فلسفی مسائل کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔
لیکن بحمد للہ شیعوں کے یھاں ایسے سخت اور دشوار مسائل کا حل بخوبی موجود ہے اور شیعوں کی طرف سے اس سلسلہ میں مناسب جوابات دئے گئے ہیں ،ہم قارئین کرام کی مزید اطلاع کے لئے اس اہم مسئلہ کے بارے میں اختصارکے ساتھ کچھ وضاحت پیش کرتے ہیں۔
ان عقائد میں سے جس کے شیعہ اثناعشری اہلبیت (ع) سے منقولہ روایات کی بناپر معتقد ہیں ، رجعت کا عقیدہ ہے یعنی خداوند متعال کچھ مردوں کو اسی صورت اور جسم کے ساتھ دوبارہ زندہ کرکے دنیا میں پلٹا ئے گا اور ایک گروہ کو عزت و بزرگی سے سرفراز کرے گا اور دوسرے گروہ کو ذلیل ، خوار اور رسوا کرے گا ، اور اس دن حق پرستوں کے حق کو باطل پرستوں سے اور اسی طرح مظلوموں کے حق کوستمگروں سے لے گااور یہ مسائل امام زمانہ (ع) کے ظھور مبارک کے بعد وجود میں آئیں گے۔جولوگ مرنے کے بعد زندہ کرکے دنیا میں پلٹائے جائیں گے وہ کوئی معمولی لوگ نہ ہوں گے بلکہ یا تو ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوںگے یافساد کے اعلیٰ درجہ پر کہ ایک مدّت کے بعد زندہ کئے جائیں اسکے بعدجس جزاء اور سزا کے مستحق ہوں گے وہ ان کو دی جائےگی اور اس کے بعد دوبارہ ان کی روحیں قبض کرلی جائیں گی پھر قیامت وحشر ونشر کے دن انہیں زندہ کیا جائے گا۔
چنانچہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ان لوگوں کی آرزو کو نقل فرمایاہے کہ کچھ لوگوں کوخداوند متعال نے مرنے کے بعد زندہ کیا لیکن دوبارہ دنیا میں آنے کے بعد بھی انھوں نے اپنے امور کی اصلاح نہ کی اور خداوند قدوس کے احکام کونظرانداز کرتے رھے ایسے لوگ مرنے کے لعد تیسری مرتبہ زندہ کئے جانے کی درخواست کریں گے تا کہ اس تیسری مرتبہ میں صالح بن جائیں ، اس آیت شریفہ میں ارشاد ہوا :
”( قَالُوا رَبَّنَا اَمتّنا اثنَتَینِ وَ اَحیَیتَنَا اثنَتَینِ فَاعتَرَفنَا بِذُنوبِنَا فَهَل اِلیٰ خُرُوجٍ مِّن َسبِیلٍ ) “( ۲۷ ) ”
پروردگار تو ہم کو دوبار مارچکا ہے اور دوبار زندہ کرچکا ہے تو اب ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے تو کیا (یھاں سے )نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے“
جی ہاں قرآن مجید میں رجعت ( مرنے کے بعد ایک مدّت کے لئے دوبارہ زندہ کیا جانا) کے واقع ہونے سے متعلق آیات موجودھیں اور اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم(ص) کے گھرانے سے بہت سی روایتیں ہم تک پہونچی ہیں ، سبھی شیعہ اثنا عشری رجعت پر عقیدہ رکھتے ہیں ۔
کم ہی لوگ ایسے ہیں جھنوں نے رجعت سے متعلق آیتوں اور روایتوں کی تاویل کی ہے اوریہ کہتے ہیں کہ رجعت سے مراد حکومت کی بازگشت اور امر بالمعروف ونھی از منکر کا حضرت مھدی(ص) کے ظھور کے وقت اہل بیت (ع) کے ھاتھوں اجرا ہونا ہے ،بغیر اسکے کہ کوئی مردہ ، زندہ کیا جائے۔
رجعت کے مسئلہ سے متعلق مزید تحقیقات
اگر چہ حضرات اہل سنت بھی رجعت پر عقیدہ نہیں رکھتے لیکن فی الحال اس کتاب میں ہماری گفتگو وہابیوں سے ہے کہ جو اہلسنّت حضرات کوبھی مشرک اور بدعت کی بنیادرکھنے والے اور صرف اپنے کو توحید کا اہل سمجھتے ہیں۔
البتہ یہ بتا دینا ضروری ہے کہ اہل سنت کے مصنفین اور رجال روایات کی شرح کر نے والے رجعت کے عقیدہ کو طعنہ زنی کی علامت سمجھتے ہیں اور ان روایات کو غیر معتبر جانتے ہیں جو رجعت کے سلسلہ میں ہیں اس لئے ایسی غیر معتبر روایتوں کے مضمون کی بھی نفی کرتے ہیںیھاں تک کہ بعض انہیں میں سے رجعت کے عقیدہ کو کفر و شرک بلکہ اس سے بھی زیادہ برا سمجھتے ہیں اور یہی اعتقاد رجعت پربڑے اعتراضوں ، انتقادوں اور اشکالوں میں سے ایک ہے ،جس کو لے کر برادران اہلسنت شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں ۔
لیکن جب کہ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ فی الحال ہماری گفتگو و ھابیوں سے ہے جونہ سنی ہیں اور نہ شیعہ ، ورنہ ہمارے اور اہلسنت حضرات کے مشترکات اتنے زیادہ ہیں کہ بحمد الله اس زمانہ میں بالخصوص ایران اسلامی انقلاب کے بعد ایک صف ہے جو دشمنان اسلام کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ یہی مطالب ان بے اساس اور گمراہ کن دستاویزوں سے ہے جس کو بعض لو گ جو بظاہر مسلمان جیسے وہابی حضرات نے شیعوں کے خلاف ،لعن و طعن اور شیعیت کو رد کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جو چیزان دستاویزوں کی تصدیق کرے ، ان کونظر نہیں آتی ،جبکہ رجعت کا عقیدہ کسی بھی طرح خداشناسی ، توحید اور نبوت کے عقیدہ کو خراب نہیں کرتا بلکہ ان دونوں عقیدوں کی تقویت کا سبب ہے چونکہ رجعت ( مردوں کا زندہ ہونا ) جیسے حشر اور نشر وغیرہ خداوند عالم کی قدرت کاملہ کی نشانی ہے اور ان غیر عادی امور میں سے جو پیغمبر اور آل پیغمبر کے معجز وں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
درحقیقت رجعت ایک معجزہ یعنی مردوں کو زندہ کرنا ہے جیساکہ حضرت عیسیٰ (ع)انجام دیتے تھے بلکہ یوںکھا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ یہ معجزہ ، رجعت میں زیادہ رساں اور تکمیل کی منزل میں ہے چونکہ رجعت یعنی مردوںکا زندہ ہونا ، اسکے بعدکہ وہ سڑ گل کر ہڈی ہو گئے ہوں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہو تا ہے:
”( قَالَ مَن یُّحیِی العِظَامَ وَ هِیَ رَمِیمٌ قُل یُحیِیهَاالَّذِی اَنشَاهااَوَّلَ مَرَّةٍ وَ هُوَ بِکُلِّ خَلقٍ عَلِیمٍ ) “( ۲۸ )
” ایک منکر سڑی گلی ہڈی کو دکھلا تے ہوئے کہنے لگا ، بھلا جب یہ ہڈیاں ( سڑگل کر) خاک ہوجائیں گی تو (پھر) کون ( دوبارہ ) زندہ کرسکتا ہے ( اے رسول(ص)) تم کھدو کہ اسکو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو ( جب یہ کچھ نہ تھے ) پھلی مرتبہ زندہ کردکھایا وہ ہر طرح کی پیدایش سے واقف ہے ۔
( اس بناپر رجعت کا عقیدہ شرک اور کفر سے کسی بھی طرح کی شباہت نہیں رکھتا تا کہ کفر و شرک یا اس سے بدتر کھا جائے ) کچھ لوگوںنے رجعت کے عقیدہ کو باطل قرار دینے کے لئے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے ، کہ رجعت ایک قسم کا تنا سخ ہے جس کا باطل ہونا مسلّم طور پر ثابت ہے ، در اصل ( رجعت سے متعلق ) جن حضرات کا یہ تصور ہے انھوں نے تناسخ اور جسمانی معاد کے فرق کو نہیں سمجھا ہے ، رجعت جسمانی معاد کی قسموں میں سے ہے جبکہ تناسخ کے معنی یہ ہیں کہ روح کا ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہونا اور یہ کہ روح کاپھلے جسم سے جدا ہونا ۔
لیکن معاد یعنی روح کا پھلے بدن میں ہی دوبارہ واپس آنا اپنی تمام پرانی خصوصیات کے ساتھ اور رجعت کے معنی بھی یہی ہیں ۔اگر رجعت کے معنی تناسخ کئے جائیں تو اسکا لازمہ یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ (ع) کامردوں کو زندہ کرنابھی تناسخ ہو، یا حشر و نشر اور جسمانی معاد کاموضوع بھی تناسخ ہو ، جبکہ ایسا ھرگز نہیں ہے۔خلاصہ یہ کہ رجعت پر دو طریقے سے اشکال اور اعتراض کئے گئے ہیں ۔
پھلااعتراض : یہ کہ رجعت کا واقع ہونا محال ہے ۔
دوسرا اعتراض: یہ کہ جو روایتیں رجعت کے بارے میں ہیں ، وہ بے بنیاد ہیں ۔
پھلے اعتراض کا جواب
با لفرض اگر ان د و اعتراضوں کو رجعت کے متعلق تسلیم کربھی لیا جائے اسکے باوجود رجعت کا معتقد ہونا اتنا زیادہ قبیح نہیں کہ وہابی مسلک اسے لے کر شیعوں سے اپنی دشمنی نکالیں اور اسے دستاویز قرار دے کر شیعوں کے خلاف پروپیگنڈا کریں ۔
اسلامی فرقوں کے درمیان کتنے ایسے عقائد نظر آتے ہیں کہ جو محال اور ناممکن ہیں جسکی تشریح اور تصریح بھی علماء اسلام نے کی ہے لیکن پھر بھی یہ ان کے اسلام سے خارج ہونے کا سبب نہیں بن سکتا اور اس بات کی وضاحت بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ چند ایک کو ذیل میں ذکر کرتے ہیں مثلاً :
ا۔ یہ اعتقاد کہ پیغمبر بھی سھو و نسیان سے دوچار ہوتے ہیں اور گناہ کرتے ہیں ۔(معاذ اللہ)۔
۲ ۔یہ عقیدہ کہ قرآن ، قدیم ہے ۔
۳ ۔رسول الله(ص) نے اپنے بعد کسی کو جانشین کے عنوان سے معین نہیں کیا ۔
جبکہ اس طرح کے اعتراضوں کے علاوہ کوئی حقیقت اور بنیاد نہیں ہے البتہ ان حضرات کا یہ کھنا کہ رجعت محال اور ناممکن ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رجعت ، حشر ونشر اور جسمانی معاد کی ایک قسم ہے صرف اس فرق کے ساتھ کہ رجعت کا زمانہ اس دنیا میں ہے ادر جو دلیل جسمانی معاد کے لئے ہے وہی رجعت کے لئے بھی ہے اور کوئی وجہ ایسی نہیں کہ جسکے ذریعہ رجعت کو بعید از امکان یا تعجب کا سبب قرار دیا جائے ،یہ ضرور ہے کہ رجعت (مردوں کازندہ ہونا ) کا موضوع عادتاً جانا پہچانا نہیں چونکہ زندگی میں اس موضوع سے ہمارا کوئی سروکارنہیں ہے اس لئے ہم اس سے نامانوس ہیں اور کوئی ایسے علل ، اسباب اور موانع نظر نہیں آئے جو ہمیں اس عقیدہ سے نزدیک یا دور کریں ۔
اور انسانی ذھن ا دراک کی قدرت مانوس اور بے گانہ امور کی تصدیق کرے ، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی کھے کہ ہمارے لئے بعث ، حشر و نشر کا عقیدہ عجیب اور غیر طبیعی ہے جیسا کہ فوق الذکر میں آیا ہے آیہ کریمہ: ” مَن یُحیِ العِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیمٌ “( ۲۹ ) ” جب یہ ہڈیاں سڑگل کر خاک ہو جائیں گی تو (پھر) کون ( دوبارہ ) زندہ کرسکتا ہے ، تو اس سے کھا جائے گا :
”( یُحیِیهَا الَّذِی اَنشَاهَا اَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَبِکُلِّ خَلقٍ عَلِیمٍ ) “( ۳۰ )
”( اے رسول ) تم کھدو کہ اسکو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو ( جب یہ کچھ نہ تھے)پھلی مرتبہ زندہ کردکھا یاوہ ہر طرح کی پیدایش سے واقف ہے “
ھاں ، ہمارے پاس رجعت جیسے موضوع کو ثابت کرنے یا انکار کرنے کے لئے کوئی عقلی دلیل نہیں ہے اور ذھن میں بات آتی ہے کہ کوئی دلیل نہیں ہے تو ہمیں آیات و روایات کی طرف رجوع کرناچاہئے کہ جووحی الٰھی جیسے سرچشمہ سے اخذ کی گئی ہیں ان سے مد دحاصل کرنی چاہئے۔
قرآن مجید میں ایسی آیات موجود ہیں جو رجعت کے واقع ہونے مردوں کا زندہ ہوکر دوبارہ دنیا میں آنے پر دلالت کرتی ہیں ، جیسے حضرت عیسیٰ (ع) کا معجزے(مردوں کو زندہ کرنے) سے متعلق جسے قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ(ع)کی زبانی نقل کیا ہے:
”( وَ اُبرِی الاَکمَهَ وَ الاَبرَصَ وَاُحیِ المَوتیٰ بِاِذنِ اللهِ ) “( ۳۱ )
اور میں خدا کے حکم سے مادر زاد اندھے او رکوڑھی کو اچھا کردونگا اور مردوں کو زندہ کروں گا“
اور اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۶۰ جس میں پیغمبر وںمیں سے ایک پیغمبر کے قول کو بعنوان حکایت پیش کیا ہے کہ ایک اجڑے دیار اور ویرانے سے گذر رھے تھے توکھا:
”( انَّیٰ یُحیِی هٰذِهِ اللهُ بَعدَ مَوتِهَا فَاَمَاتَهُ اللهُ مِاَئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ) “( ۳۲ )
”(یہ دیکھ کر وہ بندہ کہنے لگا) اللہ اب اس گاؤں کو (ایسی )ویرانی کے بعد کیونکر آباد (زندہ) کرے گااس پر خدا نے اس کو( مارڈالااور)سو برس تک مردہ رکھا پھر اس کو جلا اٹھایا“
اور وہ آیہ کریمہ جسکا ذکر اس بحث کی ابتدا میں آیا کہ ”( قَالُو رَبَّنَا اَمّتَنَا ) “ یہ آیتیں واضح طور پر مرنے کے بعد اس دنیا میں رجعت کے واقع ہونے کی حکایت کررہی ہیں، اور اسکے علاوہ ان آیات کا کوئی اور معنی کیا جائے تو وہ صحیح نہیں ہوگا، چونکہ بعض مفسرین ایسی اور اسطرح کی آیات کی تاویل میں وہم و گمان کے شکار ہوئے ہیں اور حقیقی معنی کوچھوڑکرخود کو زحمت میں مبتلا کربیٹھے ہیں۔
دوسرے اعتراض کا جواب
اور جو یہ کھا جاتاہے کہ رجعت کے بارے میں وارد ہونے والی روایتیںجعلی اور بے بنیاد ہیں ، اس دعوے کے لئے ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے،( ۳۳ )
چونکہ رجعت ایک ضروری اور واضح امور میں سے ہے جس پر ائمہ (ع) سے متواتر روایتیں اور حدیثیں ہم تک پہونچی ہیں اور ان سب متواتر روایتوں کوجعلی اور بے بنیاد قرار دینا ایک وہم ی اور بے بنیاد دعوے کے سوا کچھ نہیں ۔
لہٰذا جب رجعت کے معنی اوراسکے واقع ہونے کی کیفیت واضح ہوگئی تو آپ بتلائیں کہ کیا یہ تعجب کامقام نہیں ہے کہ وہابی حضرات کہ جو علم ، فضل اور قرآن شناسی کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور صرف اپنے پیروی کرنے والوں کو قرآن اور توحید کا اہل سمجھتے ہیں اسکے باوجود رجعت کا انکار اور اس عقیدے کی بنیادپر شیعوں پر کفر ، ارتداد اور بدعت گذاری کی تہم ت لگاتے ہیں اوران کو محکوم کرتے ہیں ، البتہ شیعہ حضرات چونکہ قرآن او رسنّت کی پیروی کرتے ہیں اس لئے رجعت کے بھی معتقد ہیں ۔
کیا یہ تعجب کامقام نہیں ہے کہ بعض اہلسنّت کے مشھور مولف جو فضل ومعرفت کی بھی شھرت رکھتے ہیں ،جیسے احمد امین مصری جو اپنی کتاب بنام فجرالاسلام میں لکھتے ہیں:
”فَالیَهُودِیَّةُ ظَهَرَت بِالتَّشَیّعِ بِالقَولِ بِالرَّجعَةِ “ یھودیوں کامذہب شیعوں کے درمیان رجعت کے عقیدے سے ظاہر ہوا ہے مزے کی بات تو یہ ہے کہ محمد بن عبدالوہاب کی یہ باتیں احمدامین کی زبان سے نکل رہی ہیں یہ مشھور مولف جو روشن فکر ہونے کی شھرت حاصل کرچکا ہے اس نے وہابیوںکے رھبر کی باتوں کو بغیر کسی تحقیق اور جستجو کے دھرادیا۔
ہم اس مولف کی تحریر کے مطابق عرض کرتے ہیں کہ یھودیوں کے مذہب کے پیش نظر یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی رجعت کے عقیدہ سے متعلق بیان ہوا ہے جیساکہ ہم نے قرآن کی چند آیتیں جو رجعت سے متعلق تھیں ، آپ حضرات کے سامنے پھلے ہی پیش کیں لیکن یھاں پر کچھ اور اضافہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ غیر تحریف شدہ یھودیوں اور نصاریٰ کے مذہب کے بہت سے قوانین اور عقائد ، مذہب اسلام میں نظر آتے ہیں چونکہ خود رسول(ص) نے گذشتہ آسمانی ادیان کی تصدیق فرمائی ہے جیسے اس آیہ شریفہ میں وارد ہوا ہے کہ:
”( اِنَّ الدِّینَ عِندَاللهِ الِاسلاَمُ ) “ ایک دین کے علاوہ کوئی اور دین نہیں اور وہ دین اسلام ہے ،لیکن فروعی قوانین اور جزئی مسائل میں کچھ فرق واضح طور پر نظر آتاہے ورنہ تمام آسمانی ادیان ایک مشترک اور مشابہ اصول کے تحت ہیں ، اور قرآن مجید نے چندآیات میں اس بات کی تاکید فرمائی ہے اگر چہ شریعت پیغمبر اسلام(ص)کے آنے کے بعد سابقہ شریعتوں کے کچھ مسائل اور احکام نسخ ہوچکے ہیں جو خودایک مستقل بحث ہے اورفی الحال ہمارے پیش نظرنھیں ہے ۔
لہٰذا یھودی اور مسیحی مذہب کے قوانین اور احکام کامذہب اسلام میں موجود ہونا نقص اور عیب نہیں ،بالفرض ہم مان بھی لیںکہ رجعت کاعقیدہ بھی یھودی مذہب کا ایک جزء ہو (جیسا کہ احمد امین نے دعوی ٰ کیا ہے) اسکے بعد اسلام میں آگیاہے ۔
اگر بعض اعتقادی مسائل کا چند آسمانی ادیان کے درمیان مشترک ہونے کو ان کے تمام مسائل کا مشترک ہونا کھاجائے توپھر محمد بن عبدالوہاب کویھودی اور مسیحی دونوں ہی مذہب کاماننے والا کھنا درست ہوگاچونکہ وہ خود کو فقط توحید کا اہل سمجھتا ہے اور یہ اسکا دعویٰ ہے کہ توحید اور معاد پر یقین رکھتا ہے ، حالانکہ غیر تحریف شدہ یھودی اور مسیحی مذہب میں یہ دونوں عقیدے (توحید اور معاد) موجود ہیں ، تو یھاں پر یہ کھنا درست ہوگا کہ وہابیت کی بنیاد رکھنے والا محمد بن عبدالوہاب اور سارے وہابی ( محمد بن عبد الوہاب کے پیروکار) یھودی بھی ہیں اور مسیحی بھی ہیں،چونکہ وہ خود کو اہل توحید سمجھتے ہیں اور اس بات کے دعویدار بھی ہےںکہ اللہ کی وحدانیت اور قیامت پر اعتقاد رکھتا ہے جبکہ غیر تحریف شدہ یھودی او رمسیحی مذہب میں بھی اللہ کی واحدانیت، قیامت اور حشر ونشر وغیرہ جیسے اعتقادات موجود ہیں اس لحاظ سے وہابیت کی بنیاد رکھنے والا محمد بن عبد الوہاب اور سارے وہابی یھودی بھی ہوئے او رمسیحی بھی ۔
چونکہ اللہ کی وحدانیت کا عقیدہ ان دونوں دینوں (یھودی اور مسیحی) مذہب میں موجود ہے ، اگر وہابی حضرات ادیان میں اشتراک کو نہیں مانیں گے، تو اس سے قبل وہ قرآن مجید کی آیات کے منکر ہوجائیں، چونکہ خود قرآن مجید ادیان کے مشترک ہونے کا قائل ہے ، قرآن کریم حضرت عیسیٰ (ع) اور حضرت موسیٰ(ع) او ردوسرے انبیاء(ع) کو اہل توحید اور وحدہ لاشریک کی عبادت کرنے والا اور سبھی کو خدا کا بندہ ہونے سے یاد کررہا ہے ، وہابیوں کو چاہئے کہ اپنے بے بنیاد دعووں کوواپس لے لیں اور جھوٹی تہم تیں لگانے سے باز آجائیں او راپنے متناقض مسائل کی طرف توجہ کریں۔
بھر حال ،کلام کو مختصر کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ رجعت ، اسلام کے ان اعتقادی اصولوں میں سے نہیں ہے جس پر عقیدہ رکھنا یا اس پر دقت نظر سے کام لینا واجب ہو، یہ ہم شیعوں کا عقیدہ ہے جو قرآن کریم او راہل بیت علیہم السلام کی پیروی او رحضرات ائمہ (ع) سے نقل شدہ معتبر روایتوں پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے یہ وہ ھستیاں ہیں جن کے بارے میں جھوٹ ، جھل اور خطا جیسے گناہوں کا تصور بھی نہیں پایا جاتا۔
رجعت کا موضوع بھی ایک مشکل او ردشوار فلسفی موضوعات میں سے ایک ہے جو پورے طورپر قرآنی اور شرعی ہے او رعقل کی روشنی میں بھی اس کا واقع ہونا ناممکن نہیں ہے ۔( ۳۴ )
حضرت علی (ع)کی محبت سے متعلق شیعوں کا عقیدہ
اور وہابیوں کی زھر افشانی
وہ مسائل جن کو وہابی حضرات سننے کی تاب نہیں رکھتے اور برداشت نہیں کر پاتے یھاں تک کہ اسکوشرک ، کفر اور بت پرستی شمار کرتے ہیں ، ان مسائل میں سے ایک مولا علی (ع) کی محبت اور ولایت کا مسئلہ ہے ،یہ سیاہ دل اور چمگا دڑصفت لوگ نور امامت سے ایسے گریزکرتے ہیں جیسے چمگادڑروشنی سے بھا گتے ہےں ،اور جھالت کے اندھیروںمیں سرگرداں ہوکر ھاتھ پیر مارتے ہیں، مولا علی(ع) سے محبت کا عقیدہ جو اہل سنّت حضرات کے یھاں حدیثوں میں بھی موجود ہے شدت سے انکار کرتے ہیں اور شیعوں پر لعنت وملامت،سب وشتم کے لئے زبان کھول دیتے ہیں، ہم یھاں پر ضروری سمجھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں مختصر طور پر وضاحت کریں اور بتائیں کہ حبّ علی (ع) سے متعلق شیعوں کا کیا عقیدہ ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ رسول(ص) کی حقیقی پیروی کرنے والا کون ہے ؟ وہابیوں کامتعصب اور خوارج صفت گروہ؟! یا پاک دل اور حقیقت کی تلاش کرنے والے شیعہ جو دلیل و برہان کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرتے ؟
استاد شھید مطھری (رہ) عشق ، محبت اور عاطفہ کے متعلق بحث کرتے ہوئے مذکورہ مسئلہ اور عقیدہ کے بارے میں ایک عمیق اور دقیق فلسفی، تحلیل اور بررسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ( اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا اسلام اور قرآن نے ہمارے لئے کوئی محبوب منتخب کیا ہے یا نہیں ؟ )
اسکے بعد حضرت علی (ع) کی محبت کے بارے میں ایک مفید اور جذّاب بحث کرتے ہیں نیز اس کے اثرات کے متعلق بیان فرماتے ہیںکہ ہم اس بحث کی افادیت اور گھرائی اور مستند ہونے کے پیش نظر یھاں پر نقل کرتے ہیں تاکہ قارئین اور قدردانوں کے اذھان روشن ہوں اور محبان علی (ع) اور اولاد علی (ع) کو خوشنود کرتے ہوئے وہابیوں اور وہابی مسلک افراد کے لئے دندان شکن جواب بھی ثابت ہوسکے۔
حضرت علی (ع) کی محبت قرآن اور سنّت کی روشنی میں
قرآن مجید گذشتہ انبیاء (ع)کے اقوال کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سارے انبیاء (ع)نے یہ کھا ہے کہ” ہم لوگوں سے کوئی اجرت اور بدلہ نہیں چاہتے ہمارا اجرتو فقط خدا پر ہے ) لیکن خداوندعالم پیغمبر اسلام(ص) کوخطاب کرتے ہوئے فرماتا :
”( قُل لَااسئَلُکُم عَلَیهِ اَجراً اِلاَّالمُوَدَّةَ فِی القُربَیٰ ) “( ۳۵ )
”اے ہمارے رسول کھدو کہ: ہم تم سے اپنے اقرباء کی محبت کے سواء کوئی بدلہ یا کوئی اجرت نہیں چاہتے “
یھاں پر یہ سؤال پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی نبی نے کسی طرح کی اجرت کامطالبہ نھیںکیا تو پھر نبی اکرم(ص) نے اپنی رسالت پر اجرت کا مطالبہ کیوں فرمایا اور لوگوں کو اجررسالت کے عنوان سے اپنے قریبی عزیزوں کی محبت کامطالبہ کیوں کیا ؟
قرآن کریم خود ہی اس سؤال کا جواب دیتاہے:
”( قُل مَا سَئَلتُکُم مِن اَجرٍ فَهُوَ لَکُم اِن اَجرِیَ اِلّٰاعَلَی اللهِ ) “( ۳۶ )
اے ہمارے رسول کھدو کہ: میں نے جس اجرت کا تم سے مطالبہ کیا ہے اسکا فائدہ خود تم کو ہی پہونچنے والاہے اسلئے کہ میرا اجر تو فقط خدا پرھے ۔
یعنی وہ چیز جسکا مطالبہ میں نے اجر رسالت کے عنوان سے کیاہے اسکا فائدہ تم ہی کو پہونچنے والاہے نہ کہ مجھکو، یہ محبت اور دوستی خود تمھاری اصلاح اور کمال حقیقی تک پہونچنے کے لئے وسیلہ کے مانند ہے ، اسکا فقط نام اجرت ہے ورنہ حقیقت میں ایک خیر اور نیکی تمھیں دی جارہی ہے۔
چو نکہ اہلبیت (ع) اور رسول(ص) کے اقرباء وہ افراد ہیں جن کا دامن ھرطرح کی رجس اور آلودگی سے پاک اور پاکیزہ ہے ( حُجُورٌ طَابَت وَطُہَرَتْ) ۔ (
ان سے عشق و محبت اور شیدائی ہونے کا نتیجہ فضائل کی پیروی اور حق کی اطاعت کے علاوہ اور کیاہوسکتا ہے ، یہ انھیںکی دوستی اور محبت ہی ہے جو دلوں کوفولاد بنادیتی ہے ، اور ایمان کو کامل کرنے کا سبب بنتی ہے قربیٰ سے مراد کچھ بھی لیا جائے مگر یہ بات مسلم ہے کہ قربیٰ کا سب سے عظیم اور روشن مصداق مولاعلی (ع) کی ذات گرامی ہے۔
فخر رازی کا بیان ہے : زمخشری نے اپنی” تفسیر الکشاف “ میں روایت نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول الله(ص) آپ کے کن عزیز اقرباء کی محبت ہم پر واجب کی گئی ہے وہ کون لوگ ہیں ؟ آنحضرت(ص) نے ان کے جواب میں ارشاد فرمایا علی (ع)و فاطمہ(ع) اور ان کے فرزند۔
اس روایت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ چار افراد پیغمبر(ص)کے اقرباء ہیں اور ان سے دوستی رکھنا اور ان کا احترام کرناتمام مسلمانوں پر واجب ہے اس بات پر بہت سے طریقوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے :
(ا) اس آیہ کریمہ کے ذریعہ ”( اِلاَّالمُوَدَّةَ فِی القُربیٰ“ )
( ۲) بغیر کسی شک و تردید کے کہ ( رسول اسلام(ص) فاطمہ زھرا (ع)کو بہت زیادہ چاہتے اور نھایت عزیز رکھتے تھے ، آنحصرت(ص) فرماتے تھے کہ فاطمہ(ع) میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے فاطمہ کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی، اسی طرح رسول اسلام(ص) حضرت علی (ع) اور حسنین (ع) سے بے حد محبت کرتے تھے اس سلسلہ میں بہت سی متواتر روایات وارد ہوئی ہیںلہٰذا ان کی دوستی اور محبت تمام امّت پر واجب اور لازم ہے چونکہ یہ سنّت پیغمبر(ص) ہے اور رسول اسلام (ص) کی اطاعت اور پیروی ہر مسلمان پر واجب ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
”( وَاتَّبَعُوهُ لَعَلَّکُمْ تُهتَدُونَ ) “
”پیغمبر کی پیروی کرو شاید ہدایت پا جاو“
اور دوسری جگہ پر ارشاد ہوتا ہے:
”( لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللهِ اُسوَةٌ حَسَنَةٌ ) “( ۳۷ )
یعنی خدا کا رسول تمھارے لئے سرمشق اور نمونہ عمل ہے ،مذکورہ آیتیں آل محمد ( علی (ع) فاطمہ حسن (ع) وحسین (ع) ) کی دوستی پر دلالت کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ ان کی دوستی تمام مسلمانوں پر واجب ہے اور اسی طرح رسول(ص) کی علی (ع) سے محبت اور دوستی کے متعلق بہت سی حدیثیں اور روایات وارد ہوئی ہیں،جیسے:
ا۔ ابن اثیر سے منقول ہے کہ رسول اکرم(ص) نے حضرت علی (ع) کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: یا علی (ع)! خداوند عالم نے ( آپ) کو ایسی چیزوں سے مزین کیا اور زینتوں سے نواز ا کہ بندوں کے پاس اور کوئی زینت اس سے زیادہ محبوب نہیں : دنیا سے کنارہ کشی اور زھد کے ایسے مقام پر قرار دیا کہ نہ دنیا تمھیں فریب دے سکتی ہے نہ تم سے بھرہ مند ہو سکتی ہے ، تمھیں الله نے مسکینوں سے دوستی اور محبت عطا کی ہے وہ تمھاری امامت پر خوش ہیں او رتم ان کی فرمانبرداری پر ،اورخوش نصیب ہے وہ شخص جو تم سے محبت کرے اورتمھاری دوستی پر باقی رھے اوربد نصیب ہےں وہ لوگ جو تم سے دشمنی کریں، اور تمھارے خلاف جھوٹ بولیں اور کذب و افتراء سے کام لیں ۔
۲ ۔ سیوطی نے روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا :
”حضرت علی (ع) کی دوستی اور محبت ایمان ہے اور ان سے دشمنی کرنا نفاق ہے“
۳ ۔ ابو نعیم سے روایت ہے کہ حضرت رسول(ص) نے انصار کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا کیا تمھیں ایسی چیز کی طرف ہدایت کروں کہ اگر اسکو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور اس راہ پر گامزن رھو ھرگز گمراہ نہیں ہوسکتے ؟ سب لوگوں نے عرض کیا :ھاں یارسول الله(ص) ہم یہی چاہتے ہیں تب آنحضرت نے ارشاد فرمایا : یہ علی (ع) ہیں ان سے محبت کروجس طرح سے مجھ سے محبت کرتے ہو ان کا احترام کرو، جیسے میرا احترام کرتے ہو اسلئے کہ خدا وند عالم نے جبرئیل (ع)کے ذریعہ مجھے یہ حکم بھیجا ہے کہ میں یہ پیغام تم لوگوں تک پہونچا دوں ۔
اسکے علاوہ اہل سنّت نے اور بہت سی روایتیں رسول اکرم(ص) سے نقل کی ہیں ان روایات میں علی (ع) کے چھرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے یھاں تک کہ حضرت علی (ع) کے متعلق گفتگو کو بھی عبادت میں شمار کیاگیا ہے:
ا۔ طبری نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے باپ کوحضرت علی (ع) کے چھرے کی طرف بہت زیادہ نظر کرتے ہوئے دیکھا، تو میں نے عرض کی : بابامیں دیکھ رہی ہوں کہ آپ حضرت علی (ع) کے چھرے کی طرف بہت زیادہ دیکھا کرتے ہیں ؟ تو حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ بیٹی میں نے پیغمبر اسلام(ص)سے سنا ہے کہ ”علی (ع) کے چھرے کی طرف دیکھناعبادت ہے“
۲ ۔ ابن حجر نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت(ص)نے ارشاد فرمایا ، میرے بھایئوں میں سب سے بہترین بھائی علی(ع) اور چچاؤں میں سب سے بہتر چچا حمزہ ہیں علی (ع)کی یاد اور ان کا تذکرہ عبادت ہے خداوند عالم اور رسول خدا(ص)کے نزدیک سب سے محبوب شخص حضرت علی (ع) ہیںلہذاکائنات کی سب سے محبوب شخصیت حضرت علی (ع) کی ذات ہے ۔
۳ ۔ انس بن مالک کا بیان ہے ( کہ پیغمبر اسلام(ص) کایہ روزمرّہ کا معمول تھا ) کہ ہر روز انصار میں سے کوئی ایک شخص آنحضرت(ص)کے روزمرّہ کے کاموں کو انجام دیتا تھا ایک دن میری باری تھی ، ام ایمن پیغمبر(ص) کی خدمت میں ایک بُھنا ہوا پرندہ لے کر حاضر ہوئیںاور عرض کیا:
میں نے اس پرندہ کا خودشکار کیا ہے اور آپ ہی کے لئے پکاکر لائی ہوں ، آنحضرت(ص) نے خدا کی بارگاہ میں دعا کی : پروردگار! اپنے سب سے محبوب بندے کو بھیج تا کہ اس طعام میں میرا شریک ہوسکے ، ابھی دعا ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ دقّ الباب ہوا تو آنحضرت(ص)نے فرمایا:
دروازہ کھولو ،جب میں دروازہ کھولنے گیاتومیں نے خدا سے دعا کی یا الله یہ آنے والا شخص انصار سے تعلق رکھتا ہو لیکن جب میں نے علی کو دروازہ پر دیکھا تویہ کہہ دیا کہ رسول (ص) کسی کام میں مشغول ہیں اور یہ کہہ کر اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا ، کچھ دیر کے بعددوبارہ دقّ الباب ہوا حضرت نے پھر فرمایا دروازہ کھولو ، اس وقت بھی میں نے یہی دعا کی کہ خدا یا کوئی شخص انصار سے آیا ہو، دروازہ کھولا تو دیکھا پھرحضرت علی (ع) تشریف لائے ہیں۔
میں نے دوبارہ وہی کھا کہ رسول(ص) کسی کام میں مشغول ہیں یہ کہہ کر دوبارہ اپنی جگہ پر آگیا ، پھر جب تیسری مرتبہ دقّ الباب ہوا، تو آنحضرت(ص)نے ارشاد فرمایا انس! جاو، اور دروازہ کھولو اور ان کو اندر آنے دو ،تم پھلے شخص نہیں ہوجو اپنی قوم کا خیال رکھتے ہو ، جاؤ وہ انصار میں سے نہیں ہیں ، میں دروازہ پر گیا اورحضرت علی (ع) کو بیت الشرف میں لے آیا ،آنحضرت(ص)نے علی (ع) کے ساتھ یہ بھنا ہوا پرندہ نوش فرمایا۔( ۳۸ )
مجھے نہیں معلوم کہ ان تمام احادیث اور روایتوں کے باوجود بھی کیوں وہابیوں کے لئے انکار اور شک وشبہ کی گنجایش باقی رہ جاتی ہے ؟
گمراہی اورضلالت میں غرق لوگ کیونکہ عقل کے فیصلے اورتقاضوں کے مطابق اپنے منحرف ، باطل اور فاسد افکار کو چھوڑ کر سیدالعارفین ،مولاالموحدین امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی امامت اور نور محبت سے اپنے تاریک دلوں کو روشن اور منور کرسکتے ہیں؟
عقیدہ بداء پر وہابیوں کا اعتراض
ایسے تو بہت سے مسائل ہیں جنھیں وہابی فرقہ شیعوں کے خلاف استعمال کرتا ہے اور ان پر تہم تیں لگاتا ہے ان میں سے ایک بہت ہی اہم مسئلہ شیعوں کا بداء کے متعلق عقیدہ ہے ، یہ مسئلہ جو الٰھی فلسفہ کی ایک دشوار اور پیچیدہ ترین بحثوں میں شمار کیا جاتا ہے ہمیشہ شیعہ عقائد کا حصہ رہا ہے ، اس مسئلہ کو بطور دقیق اور فلسفی اعتبار سے بیان کرنے کے لئے ضروری تو یہ تھا کہ پھلے چند مفصّل باب اور مقدمے تحریر کئے جائیں لیکن اختصار کی خاطر فقط اس فلسفی موضوع سے متعلق ایک بزرگ شیعہ عالم کا بیان نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں یہ بزرگ شیعہ عالم جو عظیم فلسفی اور منطقی بھی ہیں اور عظیم فلسفی اور منطق داںحضرات کے ہم عصر بھی ہیں تا کہ سبھی پر واضح ہو جائے کہ بداء کا عقیدہ نہ صرف یہ کہ اسلامی شریعت کے خلاف نہیں بلکہ یہ شیعہ مذہب کے افتخارات اور امتیازات میں شمار ہوتا ہے نیز شیعوں کی دقیق فہم و فراست کی علامت بن چکا ہے جو ظاہر بین اور فہم و فراست سے بے بھرہ لوگوں ( وہابیوں ) کی عقلوں سے بالاتر ہے اورایسے افراد تا قیامت اس مسئلہ کے در ک و فہم سے عاجز ہیں اور رہیں گے ۔ انشاء اللہ۔
بداء کے حقیقی معنی
انسان سے متعلق بداء کے معنی یہ ہیں کہ انسان ایسی کسی چیز کے بارے میں کوئی ایسا نظریہ پیش کرے کہ اس چیز کے متعلق ، اس کا پھلے یہ نظریہ نہ تھا ،جیسے کسی کام کو انجام دینے کا ارادہ کر چکا تھا لیکن بعد میں کچھ ایسے اسباب پیش آجائیں جن کی بنا پر ارادہ تبدیل کرنا پڑے ایسی صورت میں یہ کھاجاتا ہے کہ اس انسان کے لئے بداء واقع ہوا ہے چونکہ جس کام کو انجام دینے کے لئے قطعی ارادہ کر چکا تھا ،اب ترک کرنے کا ارادہ کر لیا یہ ارادہ میں تبدیلی انسان کی بی اطلاعی اور نادانی کا نتیجہ نیز گذشتہ ارادہ کی مصلحت پر پشیمانی اور اسکے اسرار و رموز سے نا آشنائی کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ بداء اس مذکورہ معنی میں ذات الہٰی کے لئے محال اور ناممکن ہے۔
چونکہ خداوند عالم ہر طرح کے جھل و نقص سے پاک ومنزہ ہے ، اور شیعہ حضرات ایسے معنی کی نسبت کبھی بھی خداوند عالم کی طرف نہیں دیتے ۔
جیسا کہ مذہب شیعہ ( اور فقہ جعفری کے بنیان گذار عظیم پیشوا ) حضرت امام جعفر صادق (ع) کا فرمان ہے :
”مَن زَعَمَ اِنَّ اللهَ تَعٰالیٰ بَدَالَهُ فِی شَی بَدَاءَ نِدَامَةٍ فَهُوَ عِندَناَ کَافِرٌ بِاللهِالعَظِیمِ “
”جو شخص بھی یہ گمان کرے کہ خداوند عالم نے کسی بھی چیز کے متعلق پشیمانی کی وجہ سے اپنا ارادہ تبدیل کیا ہے یا اسلئے کہ وہ چیز پھلے خدا کی ذات پر مخفی تھی اور اب ظاہر ہوئی ہے تو ہمارے نزدیک ایسا شخص خدائے عظیم کا منکر اور کافر ہے۔
قارئین محترم! ملاحظہ فرمائیں کہ محمدبن عبدالوہاب کی پیدائش سے صدیوں پھلے ہمارے عظیم الشان امام صادق آل محمد (ع) نے بدا ء کے مذکورہ غلط اورفاسد معنی کو مردود ،قابل مذمت اور کفرکا سبب بتایاہے ، اور چونکہ وہّابی لوگ بدا ء کے صرف یہی معنی سمجھتے ہیں اور یہی گمان کرتے ہوئے کہ شیعہ حضرات شاید بدا ء سے یہی معنی مرادلیتے ہیں ، شیعوں کے خلاف الزام تراشیاں تہم تیں، گالیاں اور نازیبا باتیں اور طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں اور ظلم بالائے ظلم یہ کہ ان قبیح حرکات کے باوجود اس خوش فہم ی میں بھی مبتلا ہیں کہ اس طرح کے جدید اور اصلاح دین کے نئے نئے طریقے انہیں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں !!
ایک دوسری روایت میں حضرت امام جعفر صادق (ع)ارشاد فرماتے ہیں:
”مَن زَعَمَ اَنَّ اللّٰهَ بَدَالَهُ فِی شَيءٍ وَلَم یَعلَمهُ اَمسَ فَابرَا مِنهُ “ ۔
”جو شخص یہ گمان کرے کہ خداوند عالم نے اسلئے کسی چیز کے متعلق ارادہ بدلاہے کہ وہ پھلے اسے نہیں جانتا تھا توہم ایسے شخص سے بیزار ہیں“
مجھے نہیں معلوم کہ ان حدیثوںکے سننے اور پڑھنے کے بعد بھی وہابیوں کے پاس کہنے کو کچھ باقی رہ جاتا ہے یا وہ اس قدر ضمیر ، انصاف اور عقل و شعور رکھتے ہوں کہ حق کے سامنے سر جھکا دیں،اور شیعہ روایات کی کتابوں کی طرف رجوع کریں اور ہمارے ائمہ (ع) سے مروی حدیثوں کو ملاحظہ کریں اور کج فکر ی و خرافات سے باز آجائیں ،ہم نے تو محمدبن عبدالوہاب کی باتوں سے بخوبی سمجھ لیا ہے کہ موصوف نے شیعہ روایات کی کتابوں میں کسی ایک کا بھی مطالعہ نہیں کیا ہے ،نیز شیعہ عقائد او ران کے پاک وپاکیزہ نظریات سے مطلقاً طور پر ناواقف او ر جاہل تھے ۔
ائمہ اطھار (ع) سے بعض روایتیں منقول ( جس کے صحیح معنی درک نہ کرنے کی وجہ سے ) وہابیوں نے بداء کے واقعی معنی کے بجائے بداء کے غلط معنی تصور کرلئے ہیں اور ان کو یہ وہم ہے کہ ہم ایسے غلط معنی میں بداء کی نسبت خداوند عالم کی طرف دیتے ہیں، جو ہر عیب و نقص سے منزہ ہے ،ان روایات میں سے ( جن کے صحیح معنی درک نہ کرسکے ) ایک روایت یہ ہے :
مَا بَدَا ِللهِ فِیشَيءٍ کَمَا بَدَا لَهُ فِی اِسمٰعِیلَ اِبنِی ۔
امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ خداوند عالم کو کسی چیز کے متعلق ایسا بداء یعنی ارادہ کی تبدیلی حاصل نہیں ہوئی جیسا کہ میرے فرزند اسمٰعیل کے متعلق حاصل ہوئی۔
بعض مسلمان مؤلفین نے امام جعفر صادق (ع) کے مذکورہ فرمان کے غلط معنی کرکے شیعوں پر طعن و تشنیع اور اعتراضات کی صورت میں پیش کرکے بداء کے غلط معنی کی نسبت شیعوں کی طرف دی ہے اور ان غلط معنی کوشیعہ عقائد میں ایک منحرف عقیدہ کے عنوان سے مشھور کردیاگیا ہے ۔
لیکن وہ اس بات سے غافل رھے کہ امام جعفر صادق (ع) کی مذکورہ بالا روایت کے صحیح معنی وہی ہیں جن کی طرف خداوند عالم نے اس آیہ کریمہ میں ارشاد فرمایا ہے:
”( یَمحُو اللهُ مَایَشَاءُ وَ یُثبُتُ وَعِندَهُ اُمُّ الکِتَا بِ ) “( ۳۹ )
خداوندعالم جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے باقی اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔
اس آیہ شریفہ کے معنی یہ ہیں کہ خداوند عالم پیغمبر اکرم(ص) یا صاحبان امر کی زبان مبارک یاکسی دوسرے طرح سے کوئی بات ظاہر فرماتاہے اسلئے کہ اسکے اظھارمیں کوئی مصلحت پوشیدہ ہے اور پھر جیسے ظاہر فرمایا تھا و یسے ہی مٹا دیتا ہے ، حالانکہ وہ اس بات کے اطراف و جوانب سے مکمل طور پر آگاہ ہے، دوسرے لفظوں میں اس طرح کھا جاسکتا ہے کہ ا س بات کے اظھار کی مصلحت فقط ایک مخصوص اور معیّن مدّت تک تھی یہ رائے کا بدلنا جھالت یا کسی طرح کی پشیمانی کی بنا پر نہیں ہے ۔
یہ ویسے ہی ہے جیسے جناب اسمٰعیل (ع)اور حضرت ابراہیم (ع) کا واقعہ کہ جب جناب اسمٰعیل باخبر ہوئے کہ ان کے پدر بزرگوار الله کے حکم کے مطابق ان کی قربانی پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن قربانی کرتے وقت جناب ابراہیم (ع) سے یہ حکم اٹھا لیاگیا ،اس واقعہ کی بنیاد پر جضرت امام صادق(ع) (ع)کے فرمان کے صحیح اور حقیقی معنی یہ ہیں :
خداوند عالم نے کسی موضوع کو بھی اسطرح ظاہر نہیں فرمایا جسطرح میرے فرزند اسمٰعیل کے موضوع کو ظاہر اور روشن فرمایا اس لئے کہ ظاہرمیں یہ تصورکیا جا تا تھا کہ چونکہ حضرت کے بڑے فرزند اسمٰعیل ہیں لہذا حضرت کے بعدوہی امام ہوں گے ایسی صورت میں خداوند عالم کے حکم سے اسمٰعیل کی روح قبض کرلی گئی تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے حضرت امام جعفر صادق (ع) کے بعد آپ کے فرزند اسمٰعیل امام نہیں ہیں ،مسئلہ بداء کے یہ حقیقی او رصحیح معنی جو اوپر ذکر کئے گئے قریب قریب یہی معنی ”نسخ “کے ہیں اور نسخ اسلام میں مسلم الثبوت امر ہے جیسا کہ اسلام کے آنے سے تمام گذشتہ ادیان نسخ ہوگئے یھاں تک کہ بعض احکام جو صدر اسلام میں واجب تھے اور آنحضرت کے زمانہ ہی میں الله کے حکم سے منسوخ کردئے گئے۔( ۴۰ )
زیارت سے متعلق شیعہ مذہب کاموقف
اور اس پر وہابیوںکے اعتراضات
چنانچہ جیسا کہ پھلے بھی بیان ہوچکا کہ وہ مسائل جن پر وہابی حضرات بہت زیادہ زور دیتے ہیں اور جن کی بناپر شرک ،کفر اور بت پرستی کی تہم تیں لگاتے ہیں ان میں سے ایک پیغمبر اکرم(ص)، معصومین (ع) اور صالحین کی زیارت کے متعلق شیعہ نظریہ ہے ، مذکورہ مسئلہ کے متعلق شیعہ مذہب کے نظریہ اور موقف کو بیان کرنے کی غرض سے نیز ظاہر بین، متعصب وہابی گروہ کو مناسب اور دندان شکن جواب دینے کی غرض سے ایک بزرگ شیعہ عالم دین علامہ مرحوم شیخ محمد رضا مظفر (رہ) کے بیان کوحسب وعدہ پیش کرتے ہیں تا کہ مذکورہ مسئلہ سے متعلق شیعوں کا نقطہ نظر اورموقف بخوبی روشن ہو جائے نیز تہم ت لگانے والوں کی زبان کو بھی لگام لگا دی جائے ۔
قبروں کی زیارت
رسول اکرم(ص) اورائمہ (ع)اطھار کی مبارک اور پر نور قبور کی زیارت کرنا ان پر خصوصی توجہ دنیا ہمیشہ شیعہ مذہب کا طرّہ امتیاز رہا ہے شیعہ حضرات ان مقدس مقبروں کا بے حد احترام کرتے ہیں ان مقدس قبروں پر پرشکوہ ، مجلّل اور عظیم الشان عمارتیں بناتے ہیں اور اس راہ میں ایمان اور بے حد محبت اور چاہت کے ساتھ ہر ممکن مال و دولت خرچ کرنے سے کبھی دریغ نہیں کرتے،شیعہ حضرات یہ سب تعظیم و احترام ائمہ(ع) کے حکم کے مطابق انجام دیتے ہیں چونکہ ائمہ معصومین(ع) نے ان مقدس قبور کی زیارت پر بہت زور دیا ہے نیز اپنے شیعوں کو وصیت کی ہے، اور ان زیارتوں کا بارگاہ خداوندی میں بے حد ثواب بیان کرتے ہوئے زیارت کا شوق دلایا ہے اور زیارت کو واجب عبادات کے بعد بہترین اطاعت اور اللہ سے تقرّب کا سب سے اچھا اور بہتر ذریعہ سمجھتے ہیں نیز قبروں کے اطراف کی جگہ کو خداوند عالم کی خاص توجہ کا مقام اور دعا کی قبولیت کے بہترین مرکز کی حیثیت سے پہچنواتے ہیں چنانچہ ائمہ اطھار(ع) نے یھاں تک فرمایا ہے کہ ان مقدس قبور کی زیارت تعظیم و تکریم کرنا ہمارے عھد و پیمان کی تکمیل ہے چنانچہ حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا(ع) ارشاد فرماتے ہیں:
”لِکُلِّ اِمَامٍ عَهداً فِی عُنُقِ اَولِیَائِهِ وَ شِیعَتِهِ وَ اِنَّ مِن تَمَامِ الوَفاَءِ بِالَعهدِ وَ حُسنِ الاَدَاءِ زِیَارَةُ قُبُورِ هم فَمَن َزارَهم رَغبَةً فِی زِیَارَتِهم وَ تَصدِیقاً بِمَا رَغِبُوا فِیهِ کَانَ آئِمَّتُهم شُفَعَاعهم یَومَ القِیَامَةِ “
”ھر امام کی جانب سے ان کے چاہنے والوں اور پیرو کا روں پر کچھ ذمہ داریاں، حقوق اور عھد پیمان کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ عھد و پیمان بخوبی ادا ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک عمل ائمہ اطھارکی مقدس قبروں کی زیارت کرنا ہے لہذا جو شخص شوق سے ائمہ(ع) کے مقدس روضہ کی زیارت کرے اور زیارت کے دوران ائمہ (ع)کے اہداف اور مقاصد پر توجہ رکھے روز قیامت ائمہ اطھار (ع) اس کی شفاعت کریں گے،(انشاء اللہ)
ائمہ اطھار (ع) کی مقدس قبروں کی زیارت پر خصوصی توجہ اور عنایت رکھنا بلاوجہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیارت کے سایہ میں بہت سے دینی اور سماجی فائدے مضمرو پوشیدہ ہیں ان بے شمار فائدوں میں سے ایک یہ ہے کہ: زیارت، ائمہ اطھار(ع) اور شیعوں کے ما بین دوستی اور محبّت کے رابطے مستحکم نیز ان میں اضافہ کا باعث ہے، مزیدائمہ اطھار (ع) کے فضائل اور اخلاق اور راہ خدا میں جھاد کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
خصوصاً زیارت کے مخصوص دنوںمیں نورانی روضوں پر دنیا کے مختلف گوشہ و کنار سے مختلف مسلمانوں کا کثیر تعداد میں جمع ہونا اور اسکے سایہ میں ایک دوسرے سے آشنائی اور آپس میں محبت اور دوستی کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور اس طرح سے زائروں کے دلوں میں اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی روح زندہ ہو جاتی ہے نیز اللہ کے احکام کی بجا آوری میں نھایت خلوص پیدا ہوجاتا ہے۔
اہل بیت (ع) کی جانب سے وہ فصیح و بلیغ زیارتیں واردھوئی ہیں جن میں یکتا معبود کی حقیقی عبادت اسلام کی قداست اور پاکیزگی ،نیز حضرت محمد(ص) کی رسالت و غیرہ کے متعلق تعلیم دی گئی ہے وہ سب باتیں جو ہر مسلمان پر واجب ہیں، بلندی کردار ، او رخداوندعالم کے سامنے اچھے اخلاق ، خشوع و خضوع ہونے کے طریقے اور اسکی نعمتوں اور لطف و کرم پر شکر ادا کرنے کا جذبہ زا ئروں کے دلوں میں پیدا ہو تا ہے ۔
لہٰذا ان زیارتوں کے پڑھنے کا بھی وہی اثر ہے جو ائمہ (ع) سے مروی دعاوں کا اثر ہوتاہے ، (جیسا کہ پھلے بھی بیان کیا جاچکا ہے ) کہ زیارتوں کا زیادہ تر حصہ بلند ترین دعاوں پر مشتمل ہے جیسے زیارت ” امین الله “ کہ جسے امام سجاد (ع) نے اپنے جد بزرگوارمولاعلی (ع) کی زیارت کرتے وقت پڑھا ہے۔
ائمہ (ع) سے منقول زیارتوںمیں ان کا موقف یہ ہے کہ ان زیارتوںمیں دین و حق کی راہ اور کلمہ حق کی بلندی میں دی گئی مخلصانہ فداکاریوں اور قربانیوں کا بیان ہے نیز بارگاہ خداوندی میں ان کی بے لوث اطاعت اورمخلصانہ عبادت کو مجسّم طور سے پیش کیا ہے ۔
یہ زیارتیں عربی طور طریقے اور قانون کے مطابق روشن اور واضح ، فصیح و بلیغ عبارتوںمیں ہونے کے باوجود ہر خاص وعام کے لئے واضح اور روشن ہیں ،جیسا کہ وارد ہوا ہے: ان زیارتوں میں کلی طور پر توحید کے دقیق معنی و مفاہیم اور الله کے تقرّب نیز اسکی بارگاہ میں دعا کرنے کے طریقے بیان ہوئے ہیں ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن ، نہج البلاغہ اور ائمہ(ع) سے مروی دعاوںکے بعد ان زیارتوں کاشمار دینی ادبیات میں سب سے بلند مقام پر ہوتاہے ، چونکہ مذکورہ زیارتوں میں آئمئہ اطھار (ع) کے تمام معارف اور مفاہیم کا خلاصہ جامع طور پرنیز ان کے دینی اور اخلاقی احکام جلوہ گر ہیں۔( ۴۱ )
قبروں کی زیارت کے سلسلہ میں اہلسنّت کا عقیدہ
اس گفتگو کے اختتام میں ان روایتوںکو ذکر کردینا بھی بہت مناسب ہے جو اہلسنّت حضرات کے یھاں وارد ہوئی ہیں اور زیارت کے جائزبلکہ مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تاکہ کسی کویہ شک یا وہم نہ ہونے پائے کہ فقط شیعہ حضرات ہی زیارت قبور کے قائل ہیں اور باقی تمام اہلسنّت وہابی گروہ کے ہم خیال ہیں اور اس سے یہ بھی بخوبی واضح اور روشن ہوجائیگا کہ وہابی نہ شیعہ ہیں اور نہ ہی سنّی ، چونکہ اہل سنّت حضرات تو قبروں کی زیارت خصوصاً رسول اکرم(ص) کی قبر مبارک کی زیارت کامکمل عقیدہ رکھتے ہیں اور اس راہ پر عمل پیرابھی ہیں ، اس سلسلہ میں اہل سنت حضرات کے یھاں کثیر تعداد میں متواتر صحیح ا ور واضح حدیثیںموجودھیں اور انکے علاوہ حضور اکرم سرور کائنات(ص)کے زمانے سے تمام مسلمان اس پرعمل کرتے چلے آرھے ہیں ، یھاں تک کہ خود آنحضرت(ص) بنفس نفیس شھداء کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔
قارئین محترم ”مغازی واقدی“ نامی کتاب اور محدث قمی کی تصنیف” منتھی الآمال“کی طرف رجوع فرمائیں تاکہ پیغمبر اسلام(ص) کاشھداء کی قبروں پر رونا ،سوگ منانا اور ان کی قبروں پرزیارت کے لئے جانا تاریخ کی زبان سے سن لیں ( تا کہ عقیدت کے موتیوں سے جھولی بھرجائے )
اہل سنّت حضرات کی کتابوں میں مثال کے طور پر سنن نسائی ، سنن ا بن ماجہ اور احیاء العلوم مؤلفہ غزالی میں مذکورہ موضوع ( زیارت) پر بہت سی حدیثیں اور روایتیں نقل ہوئی ہیں ابوہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ” قبروں کی زیارت کرو اس لئے کہ ( قبروںکی زیارت ) تمھیں آخرت کی یاد دلائے گی “ مذکورہ کتابوںمیں ابن ملیکہ نے جناب عائشہ سے روایت نقل کی ہے : حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی مادر گرامی کی قبرمبارک کی زیارت کی ، خودروئے اور حاضرین کوبھی رلایا اور فرمایا :
میں نے اپنے معبود سے اپنی ماد رگرامی کی قبرکی زیارت کےلئے اجازت مانگی تو خداوند عالم نے مجھے اجازت مرحمت فرمائی لہٰذا قبروں کی زیارت کیا کرو تاکہ یہ تمھیں آخرت کی یاد دلائے۔
اس طرح مذکورہ کتابوںمیں عبدالله بن مسعود سے روایت نقل ہوئی ہے ان کابیان ہے کہ آنحضرت(ص) نے ارشادفرمایاکہ پھلے میں نے تم لوگوں کو قبروںکی زیارت سے روکا ،لیکن اب جو چاہے زیارت کرے اس لئے کہ زیارت تمھیں روز آخرت اور قیامت کی یادلاتی ہے البتہ بیھودہ باتوںسے پرہیزکرو ۔
غزالی اپنی کتاب احیاء العلوم میں ابن ملیکہ سے روایتں نقل کرتے ہیں کہ ابن ملیکہ کہتے ہیں :
ایک روز میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ قبروں کی زیارت کرکے واپس آرہی ہیں تو میں نے عرض کیا کہ ام المؤمنین کھا ں سے تشریف لارہی ہیں ؟
حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ اپنے بھائی عبدالرحمٰن کے قبر کی زیارت کرکے آرہی ہوں،میں نے عرض کیاکہ کیا پیغمبر(ص)نے اس کام سے منع نہیں فرمایاتھا ؟
تب عائشہ نے جواب دیاکہ پھلے تو منع کیا تھا لیکن بعدمیں حکم دیا کہ اہل قبور کی زیارت کو جایاکریں ۔
اہل سنّت کی حدیث کی کتابوں یعنی صحاح اور سنن میں اہل قبور کی زیارت کی کیفیت سے متعلق بھی حدیثیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک حدیث میں زیارت کا طریقے اس طرح بیان ہوا ہے ، کہ پیغمبر اسلام(ص) نے ارشاد فرمایا کہ جب قبرستان بقیع میں جاؤ تویہ کہہ کرسلام کرو :
”السَّلَامُ عَلَی اهل دِیَارٍ مِّنَ المُؤمِنِینَ “ یہ تمام روایتیں تو صالح لوگوں کی زیارت سے متعلق تھیں لیکن آنحضرت کی زیارت سے متعلق بھی بہت سی معتبر حدیثیں موجود ہیں جن کو دار قطنی، بیہقی ،غزالی اور دیگر حضرا ت نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جو مطلب کوواضح کرنے کے لئے کافی ہیں ، ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:
” جو شخص بھی میری زیارت کرے اسکی شفاعت کرنا مجھ پرواجب ہے ، البتہ یہ شفاعت فقط رسالت مآب کے روضہ اقدس کے زائروں اور زیارت کرنے والوں ہی سے مخصوص ہے اور وہ شفاعت جو تمام مومنین کے شامل حال ہوگی اس شفاعت سے جدا ہے ۔( ۴۲ )
حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری پر وہابیوں کے اعتراضات
جیسا کہ پھلے عرض کیاجاچکا اور محمد بن عبدالوہاب کی کتاب ” الرّد علی الرافضہ “ سے بیان ہوا کہ وہابی حضرات سید الشھداء حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری اور مجالس بر پا کرنے کی وجہ سے شیعوں پر بدعت ،ضلالت وگمراہی کے فتوے لگاتے ہیں ، اور جس قدر بھی گالیاں او رنازیبا الفاظ ان کے بس میں ہے اور ان کی جاہل فکر میں سماتے ہےں ، شیعوں پر اسکی بوچھار کردیتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ جوشخص یہ کہتا ہے کہ امام حسین (ع) کی عزاداری نہیں کرناچاہئیے غم نہیں منانا چاہئے اور ان پر گریہ وبکا نھیںکرناچاہئے یا واقعہ عاشورا کی یاد تازہ نہیں کرنا چاہئے کیا ایسے شخص مین عزّت و شرافت ، غیرت و انسانیت اور عاطفت ومحبت جیسی چیزوں کی بو بھی پائی جاتی ہے یانھیں؟ وہ لوگ جو سید الشھداء (ع) ( جنھوں نے اپنی تمام ھستی کو الله کی رضا او رخوشنودی کے لئے قربان کردیا اور اس راہ میں کسی چیز سے دریغ نہ کیا ) کی سوگواری او رعزاداری کو بدعت و ضلالت وگمراہی اور قبیح فعل کے عنوان سے موسوم کرتے ہیں ،کیا ایسے لوگ روز قیامت پر ایمان بھی رکھتے ہیں یانھیں ؟ یا شرافت و انسانیت ، دین اور دینداری سے کوئی تعلق یا وابستگی بھی رکھتے ہیں یا نہیں ؟ وہ امام جن کی مظلومانہ شھادت کی خبر رسالت مآب(ص) نے سنائی اور تمام ائمہ معصومین (ع) نے ان کی یاد اور ان کی تحریک اورقیام کے پیغام کو زندہ رکھنے کی انتھک کوشش کی، وہ امام جو رسولخدا(ص) کا پارہ تن نھایت عزیز اور جگر گوشہ تھا اور اہلسنت حضرات کی صحیح احادیث کے مطابق ” جوانان جنّت کا سیدوسردار“ کیا اسکی مظلومیت پر آنسوں بھانا مناسب اور اچھا نہیں ہے ؟!کیا ان کی تحریک اور ایثار وفداکاری سے الھام لے کر ان کی راہ اور ان کے پیغام کو زندہ نہیں رکھنا چاہئے ؟ اور اس طرح سے آنے والی نسلوں کو درس دیا جا سکے اور ہمیشہ ظلم سے برسر پیکار ہونے کا درس نیز کفرو باطل پرستی کے خلاف مؤمنوں کو جدو جھد کا درس دیا جاسکے۔ہم یھاں پر تفصیلی بحث کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے صرف صاحب الغدیر مرحوم علامہ امینی (رہ) کے بیان کو نقل کرنے پرہی اکتفاء کرتے ہیں تا کہ واضح ہو جائے کہ سید الشھداء کی سوگواری اور عزاداری نہ صرف یہ کہ بدعت نہیں بلکہ عبادتوں میں اہم عبادت اور دینی وظائف میں اہم ترین وظیفہ ہے ۔
سالانہ عزاداری
عظیم الشان کتاب الغدیر کے مصنف مرحوم علامہ امینی (رہ) کی دوسری تصنیف بنام ” راہ وروش پیغمبر(ص) مااست “ ( اصل کتاب کا فارسی ترجمہ ) میں مذکورہ عنوان کے ذیل میں امام حسین (ع) کی عزاداری کو بر پا کرنے کے متعلق یوںر قمطراز ہیں :
”شاید یہ کھا جاسکے کہ امیر و بادشاہ کی وفات اور ولادت کے موقعوں پر یادمنانا قومی اور دینی بڑی تحریکوں کی عید اور دنیا کے اجتماعی حادثات اور وہ اہم واقعات جو مختلف قوموں میں رونما ہوتے ہیں ( مہم تاریخی واقعات وحادثات کے گذرے ہوئے سالوں کے اعداد و شمار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ) اور ان کے سالگرہ کے موقع پر جشن و سرور کی محفل سجانا یا وفات کے موقع پر سوگواری و عزاداری برپا کرنا دیرینہ رسوم اور شعائر میں شمار ہوتا ہے جسکی بشری طبیعت اور اسکی شایستہ اور مناسب فکروں نے گذشتہ قوموں اور ملتوں نے بنیاد ڈالی اور زمان جاہلیت سے پھلے اور اسکے بعد بھی زمانہ حاضر تک ویسے ہی جاری اور ساری ہے ۔
یھود و نصاریٰ اور اسلا م سے پھلے عرب قوم کی بڑی عیدیں جنھیں تاریخ نے اپنے دامن میں مخفوظ رکھا،اور گویا یہ ایک انسانی انس و محبت چاہت و خواہش کی ایسی سنّت ہے جو محبت و عاطفت جیسے اسباب سے وجود میں آئی ہے، اور یہ ایسی شاخ وبرگ ہے جو احترام اقتدار اور حسن و سلوک کے ضوابط سے دنیا کے عظیم لوگ اور بے نظیر، نامور افراد و بزرگان امت سے پھوٹتے ہیں اور ان کا مقصد واقعات کو زندہ رکھنا اور ایسے افراد کو زندہ اور جاوید رکھنا ہے ، چونکہ اسمیں تاریخی اجتماعی اور سماجی فائدے پوشیدہ ہیں نیز آئندہ نسل کے لئے سالھا سال اخلاق کامل کے طور پر ثابت ہوسکیں، اور اسمیں کوئی شک نہیں جوان نسل کے لئے پند و نصیحت ، عبرت اور دستور العمل مفیداور مؤثر چیز ہے اور اسمیں وہ تجربات اور آزمائشیں ہیں جو قوموں کی بیداری کاسبب ہیں ،اور یہ ” کسی خاص گروہ یا کسی قوم و نسل سے مخصوص نہیں ، ہاں البتہ تاریخی ایام ،اہم حادثات اور ان ناگوار واقعات سے جو ان ایام میں رو نما ہوئے ہیں ، ایک طرح کی نورانیّت او ر سرور کسب کرلیتے ہیں کہ پورے سال میں یہ ایّام کرامت و عظمت کا نشان ہوجاتے ہیں اور ان حادثات اور واقعات کی خوبی اور بدی سے نیک نامی یا نحوست کسب کرکے ان حادثات کا رنگ اپنا لیتے ہیں۔
تاریخ نے ابھی تک کسی ایسے دن کا پتہ نہیں بتایا جو واقعہ کربلا (روز عاشورا) سے زیادہ درد ناک اور دلخراش دن ہو جس پر ہر شریف اور غیرتمند انسان لرز اٹھتا ہے۔
اس دردناک واقعہ کربلاوالے وہ عالی اور بلند درس دے گئے ہیں جو توحید اور عبادت کی درسگاہوں میں حکمت عملی کی انتھائی اور آخر ی منزلوں میں شمار ہوتے ہیں چنانچہ قیام عاشورا نے جو آزادی اور بلند ہمتی نیز راہ خدا میں فداکاری اور جانبازی بے حد خوبصورت اور زیباترین تصویرپیش کی ہے وہ ایک کامل واضح اور روشن ترین نمونہ عمل ہے ،عاشورا تباہی اور مشکلات کو بر طرف کرنے نیز ان کی زھریلی جڑوں کو نابودکرنے کی طرف انسانیت کے صحیح راستوں میں سے ایک مثبت قدم ہے ۔
عاشورا رذائل اور پست چیزوں سے بیزار رھنے اور ان سے دور رھنے کی راہ میں ایک مثبت اورمؤثر قدم ہے ۔
عاشورا ظالموں کی شان و شوکت کو خاک میں ملانے کے لئے اور شرک ونفاق کے پرچم کو سرنگون اور نیست و نابود کرنے ، ظالموں کے ظلم و تجاوز سے نپٹنے اور تمام بشریت کو نفس کی اسیری سے رہائی اور آزادی کے لئے ایک محکم بنیادی اور مؤثر ذریعہ ہے ۔
توحید، سچائی اور حقیقت کاکلمہ انسان کے بلند مقام اور سعادت مند زندگی کے پھیلانے کے لئے عاشوراء ہی مثبت ترین عمل ہے :
”( وَتَمَّت کَلِمَةُ رَبِّکَ صِدقاً وَ عَدلاً لاَمُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِهِ ) “
لہٰذا وہ دن جو تاریخ کی پیشانی پر امّت محمدی(ص) کے لئے زندہ ، تازہ ، درخشان اور ہمیشہ کے لئے باقی رھنے کا سب سے زیادہ بہتر او رحقدار دن ہے وہ حسین(ع) جو رسول(ص) کے جگر گوشہ اور پیغمبر(ص) کے گوشت و پوست کا حصہ اور نور چشم کا ہی دن ہوسکتا ہے ( اور کوئی نہیں ) ان کے پھول کی خوشبو دنیا کی زندگانی ہے۔
حق تو یہ ہے کہ اس دن (عاشورا)کو خدا کے دنوں میں سے سب سے بڑا دن (وہ جو سب سے پھلے خدا سے منسوب ہے ) رسولخدا(ص) کا دن پیغمبر(ص) کی عید قربان کا دن اور آنحضرت (ع)کے ذبح عظیم کے عنوان سے سمجھنا جاننا اور پہچاننا چاہئے ۔
اس بناپر اگر ہم ”ابو المُویّد موفق خوارزمی حنفی“ متوفی ۵۶۸ ھ ، کی روایت کو حسن قبولیت کا درجہ دیں تو ہم نے کوئی عجیب یا نیا کام انجام نہیں دیا ۔
وہ اپنی مشھور ومعروف کتاب” مقتل الامام السبط الشھید “کے صفحہ ۶۳ ا پر ایک روایت اس طرح نقل کرتے ہیں :
امام حسین (ع) کی ولادت کے ایک سال بعد سرخ چھرے والافرشتہ رسول(ص) پر نازل ہوا اور اپنے پروں کو پھیلا ئے ہوئے اس طرح گویا ہوا کہ اے محمد(ص) آپ کے فرزندحسین(ع) کو انہیں مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو مصائب قابیل کی طرف سے ھابیل کو پیش آئے اور خداوند عالم نے جو جزا ھابیل کو عطا کی وہی آپ کے فرزندکوبھی عطا کرے گا اور جو سزا اور عذاب قابیل کودیا گیا وہی عذاب ان کے قاتل کو ہو گا،پھر اسکے بعد مزید اضافہ کرتے ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان میں نہ تھا مگر یہ کہ رسولخدا(ص) پر نازل ہوکر تسلیّاںدیتا تھا اور اس جزاء اور انعام سے آگاہ کرتاتھا جو آنحضرت کو الله کی جانب سے ملنے والاہے اور امام حسین (ع) کی تربت کو آنحضرت(ع) کی خدمت میں پیش کرتے تھے :
آنحضرت(ص) الله کی بارگاہ میں عرض کرتے تھے پروردگارا اس شخص کو ذلیل و رسوا کر جو میرے حسین(ع) کی مدد نہ کرے اور قتل کر،اسے جو میرے حسین (ع)کو شھید کرے اور اسکی آرزوں ا ور خواہشوں کو خاک میں ملادے ۔
اور جب امام حسین (ع) کی ولادت کو دوسال گذر گئے تو رسولخدا(ص) کو کوئی سفردرپیش ہوا اور آپ سفر پر تشریف لے گئے ابھی کچھ راستہ طے کیا تھاکہ اچانک آنحضرت(ص) بیٹھ گئے اور روتے ہوئے کلمہ استرجاء اپنی زبان پر جاری کیا :
”( اِنَّاللهِ وَ اِنَّااِلَیهِ رَاجِعُونَ ) “
جب اصحاب نے گریہ کاسبب پوچھا تو آنحضرت نے ارشاد فرمایا:
ابھی ابھی جبرئیل (ع) آئے ہیں اور مجھے نھرے فرات کے کنارے ایک سرزمین کے متعلق خبر دے رھے ہیں جس کا نام کربلا ہے میرا بیٹا حسین (ع)وہاں پر شھید کیا جائیگا۔
اصحاب نے پوچھا :کون سنگدل ہے جو آپ کے شہزادے کو شھید کرےگا ؟ فرمایا یزید نامی شخص کہ خداوند عالم اس منحوس وجود کی نسل ابتر اور قطع کردے گویا میں اس وقت اپنے لال کے خیمہ گاہ اور دفن ہونے کی جگہ کودیکھ رہا ہوں ایسی حالت میں کہ میر ے لال کے سر کو ہدیہ اور تحفہ کے طور پر لے جایا جارہا ہے ۔
خدا کی قسم کوئی بھی میرے لال کے سر بریدہ کو دیکھ خوش نہیں ہوگا مگر یہ کہ خدا اسکو نفاق کی بیماری میں مبتلا کردے گا اور اسکے قلب و زبان میں اختلاف ہو جائیگا (یعنی زبانی ایمان کا دعویٰ کریگا، لیکن اس کے دل میں ایمان نہیں ہوگا )
ابو الموید مزید بیان کرتے ہیں کہ جس وقت رسالت مآب(ص) سفر سے واپس تشریف لائے تو غمگین حالت میں منبر پر تشریف لے گئے جبکہ امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) آپ کے سامنے تشریف فرماتھے آنحضرت(ص)نے خطبہ ارشاد فرما یا ،و عظ و نصیحتیں کیں او رخطبہ سے فارغ ہو نے کے بعد اپنا داہنا دست مبارک حسین (ع) کے سر پررکھا اورسر کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہو ئے بارگاہ الٰھی میں عرض کیا : ” پروردگار میں تیرا بندہ او رتیرا پیغمبر محمد ہوں اور یہ دو بچے میری پاک و پاکیزہ عترت اورمیری ذریت اورنسل کے منتخب او ربرگزیدہ بندہ ہیں ( جن کو اپنے بعد چھوڑ کر جا رہا ہوں )
میرے معبود جبرئیل (ع)نے مجھے خبردی کہ یہ میرا لال حسین (ع)بے یار و مددگار قتل کیا جائیگا۔
پروردگا راس کی شھادت کو میری امت کی اصلاح کا سبب قرار دے اورمیرے لال حسین(ع) کو شھیدوں کا سید و سردار قرا ردے اسلئے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے، پر ور دگا راسکے قاتل او رجو اسکی مدد نہ کرے اسکی نسل کو منحوس اوربے برکت قرار دے ۔
یھاں پر پھو نچ کر ابو الموید بیان کرتے ہیں کہ مسجد میں جب لوگوں نے رسول مقبول(ص) کایہ کلام سنا تو سب چیخ مارمارکر اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے جب حضرت(ص)نے لوگوں کا یہ حال دیکھا تو ارشاد فرمایا :رو تو رھے ہو کیا میرے لال کی مدد بھی کروگے ؟ پروردگار تو ہی اسکا والی و ناصر اور مددگار ہے ۔اسکے بعد ابو المؤید آنحضرت(ص) کے اس خطبہ کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت(ص) نے سفرسے لوٹنے کے بعد اور وفات سے چند روز قبل ارشاد فرمایا تھا، وہ ابن عباس کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں اور شاید یہ خطبہ حجّة الوداع سے واپسی پر دیا تھا بھر حال اس خطبہ کا مضمون بھی اس مضمون سے ملتا جلتا ہے جو ابھی ہم نے بیان کیا ۔
عجب نہیں کسی کے ذھن میں یہ گمان آئے ( اور تیز اور باہوش لوگوں کا گمان بھی یقین ہی کے مانند ہوتا ہے) کہ رسول خدا(ص) کا اپنی بیویوں ( امھات المؤمنین) کے گھروںمیں عزاداری اور سوگواری کا باربار برپا کرنا اپنے پارہ جگر حسین کی ولادت کے سالگرہ کے موقع پریا شھادت کے دن آنے کی بناپر تھا یادونوں مناسبتوں کی بناپر رہاہو:
”( سُنَّةُ اللهِ فِی الَّذِینَ خَلَوا مِن قَبلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَحوِیلاً ) ۔( ۴۳ ) ( ۴۴ )
”خدا کی (یھی) عادت (جاری) رہی اور تم خدا کی عادت میں ھرگز تغیر وتبدل نہ پاؤ گے“
امام حسین (ع) کی شھادت کے مسئلہ سے متعلق رسالت مآب(ص)کے اس قدراحترام اور اہتمام کے باوجود کیا پھربھی وہابی فرقہ جو خود کو محمدی(ص) اور سنّت رسول(ص) کا پیرو سمجھتاہے ، امام حسین(ع) کی سوگواری اور عزاداری، ان کی مظلومیت اور ان کے اہلبیت (ع) کی اسیری اور ان کے اصحاب کی مظلومانہ شھادت پر آنسوبھانے کی مخالفت کرسکتا ہے ؟ حالانکہ ( عزاداری و سوگواری امام حسین (ع) ) ایک عظیم کام اور بہت بڑا شرعی ، عاطفی اور انسانی فریضہ ہے ، عزاداری کے ذریعہ امام حسین (ع) کی یاد کو زندہ رکھناان کی راہ میں مذہب و مکتب کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے ، اور یہی رسول(ص) کا راستہ ہے ، اور رسولخدا(ص) کے راستے اور طریقے اور سنّت کو زندہ رکھنا، کیا وہابیوں کی نظرمیں شرک ، کفر اور جرم ہے ؟ یا رسول(ص) کی راہ و روش کو جاری رکھنا ہر مسلمان پرفرض اورواجب ہے ؟ قارئین محترم : خود اس بارے میں غور فرمائیں اور دقّت نظر سے کام لیں ۔
عالم اسلام کے لئے وہابیت کے بدترین تحفے
وہابیت کا مسلمانوں کے خلاف کفر کا فتویٰ
وہابیوں کے اہم اور دلنشین ( اپنی دانست میں ) نظریوں میں سے ایک نظریہ مسلمانوں کو کافر اورمشرک سمجھنا ہے ، اس نظریہ نے عالم اسلام اور تمام مسلمانوں میں بہت ہی برے اور ناگوار اثرات ڈالے ہیںجن کے نتائج بے انتھا ناگوار ثابت ہوئے ، مذکورہ نظریہ کو اسلام دشمن طاقتیں ایک خطرناک اور نھایت مھلک حربے کے طور پر استعمال کررہی ہیں ، وہابی خود کو موحد اور مسلمان تصور کرتے ہیں جبکہ تمام دوسرے مسلمانوں کو کافر اور مشرک سمجھتے ہیں یہ لوگ تعصب کی بنا پر اپنی گمراہی، کج فکری اور بدعتوںکو بھی دینداری سمجھ کر تمام مسلمانوں پر کفر وگمراہی کے فتوے لگاتے ہیں، اور اس طرح وہابیوں نے امّت اسلامیہ کے پیکر پر ضربیں لگائی ہیں ، چنانچہ یہ فتوے اتحادبین المسلمین کی راہ میں مانع اورایک محکم دیوار ثابت ہوئے ہیں، اسی بناپر مسلمان، اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے متحد نہ ہوسکے ۔
اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کہ وہابیوں کی فکر اور طریقہ کا رکی کوئی بنیاد نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے فتوےٰ قرآن و سنت کے مطابق ہوتے ہیں،بلکہ یہ بایتں قطعاً قرآن و سنّت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک اور تباہ کن بھی ہیں ،اس موضوع سے متعلق پھلے ایک مختصر سی بحث کرتے ہیں اور پھر سنی و شیعہ علماء کے فتووں کو پیش کریں گے ، او رآخر میں اس منحرف اور گندی فکر کے خطرناک ، مضّر اور دکھ دہ نتائج کا جائزہ لیں گے ۔
وہابی حضرات قرآنی توحید کے بارے میں ایک غلط نتیجہ گیری نیز مسائل اعتقادی کے متعلق غلط طرز تفکر کی بناپر تمام مسلمانوںکوجو انہیں کی طرح اسلام کا دم بھرتے ہیں ،کافر و مشرک سمجھتے ہیں اور ان کو مکہ مدینہ اور مسلمانوں کے دوسرے مقد س مقامات پر طعن و تشنیع کا نشانہ اور طرح طرح سے اذیت و آزار پھنچاتے ہیںاور ظلم وتجاوز سے باز نہیں آتے ، ان کا یہ کام سوفیصد خدا و رسول(ص)کی مرضی کے خلاف ہے ،ان کا مقصد مسلمانوں سے دشمنی ہے چونکہ وہ مسلمانوں کو اپنے سے الگ شمار کرتے میں اس لئے کہ وہ باتیں جنکی نسبت وہ اپنے علاوہ دوسروں کی جانب دیتے ہیں اور ان پر ظلم و تشدّد کو جائز سمجھتے ہیں نہ تو اس کی کوئی دلیل قرآن میں موجود ہے اور نہ ہی نبی اکرم(ص) کی سنّت میں اسکا کوئی جواز ہے، انکا یہ عمل در حقیقت قرآن و سنت کے سراسر خلاف ہے۔
تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ ان تمام چیزوں کے با وجود ، وہ اپنے آپ کو اہل سنّت سمجھتے ہیں ،جبکہ واقعی اہل سنّت وہ حضرات ہیں جو گفتار و کردار میں سنّت پیغمبر(ص) اور رسول(ص)کے بتائے ہوئے راستے پر عمل پیراہوں، حالانکہ مسلمان علماء اعلام اور اسلامی پیشواؤں کی سیرت سے قطع نظر فقط سنّت اور و ہ شریعت محمدی(ص) جو تمام مسلمانوںکے لئے عمومی حیثیت رکھتی ہے، وہابیوں کے اس طرز تفکر کے خلاف ہے اور ان کے اعمال اور افکار کو مردود اور قابل مذمت بھی شمار کرتی ہے ۔
ابن تیمیہ ” منھاج السنة “ کی تیسری جلد کے ۱۹ ویں صفحہ پر ان اشکالوں کو جواب دیتے ہوئے جو اس پر اس کے ہم مذہب اہل سنّت حضرات نے کئے ہیں لکھتا ہے ،( مذکورہ امور میں سے بہت سے امور کو گناہ کی فھرست سے خارج کرنے پر عذر شرعی ہے ، اور یہ ان اجتھادی مسائل میں سے ہیں جن میں اگر مجتھد واقعی حکم تک دست رسی پیدا کرے تو دو اجر وثواب ہے اور اگر واقعی حکم کو بیان کرنے میں خطا کرے تو ایک اجر ہے، اکثر وہ باتیں جو خلفاء راشدین سے منقول ہیں، وہ اسی باب سے تعلق رکھتی ہیں )
ابن تیمیہ نے اپنی اس گفتار میں اس حدیث پر نظر رکھی ہے کہ جس حدیث کو بخاری نے اپنی کتاب ” صحیح بخاری “ میں عمر و بن عاص سے روایت کی ہے عمربن عاص کہتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا : ”جب کوئی حاکم شرعی کسی مسئلہ میں اجتھادکرے اور اسکے مطابق حکم صادر کرے اگر بیان شدہ حکم، واقعی حکم کے مطابق ہو، تومجتھد کے لئے دو اجر و ثواب ہےں اور اگر مجتھد نے اجتھاد میں خطا کی ہے تو ایک اجر ملے گا “
اور پھر ابن تیمیہ ، اس کتاب کے بیسویں صفحہ پر لکھتا ہے کہ گذشتہ علماء، مفتی ، مراجع جیسے ابوحنیفہ ، شافعی ، ثوری ، داود بن علی اور دیگر مجتھدوںنے بیان کیا ہے کہ وہ مجتھد جو حکم شرعی کو بیان کرنے میں غلطی کرتے ہیں گناہگار نہیں ہیں غلطی اصول میں سے ہوںیا فرعی مسائل میں سے، جیسا کہ ا بن حزم نے مذکورہ بالا علماء اور دوسروں سے نقل کیا ہے ۔
اسی وجہ سے ابوحنیفہ ، شافعی ،اور دوسرے علماء ( فرقہ حطابیہ کے علاوہ ) نفس پرست افراد کی گواہی قبول کرلیتے تھے ، ان کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح سمجھتے تھے حالانکہ کافر کی گواہی مسلمانوںکے یھاں قبول نہیں ہے اوراسی طرح کافرکی اقتداء بھی صحیح نہیں ہے ۔
گذشتہ زمانے کے بزرگ علماء نے فرمایا ہے کہ ” بزرگ صحابہ ، تابعین اور دینی پیشوا کسی مسلمان کو کافر یا فاسق نہیں کہتے تھے اور اس مجتھد کوجو حکم کو بیان کرنے میں اجتھادی خطا کامرتکب ہوجائے ، گناہگار شمار نہیں کرتے تھے چاہے خطا علمی مسائل میں ہویا فقہ کے فرعی مسائل میں “
ابن حزم اُندلُسی اپنی کتاب ” الفِصَل “ کے تیسرے حصہ میں صفحہ ۲۴۷ پر(یہ کتاب اسلامی مذاہب کے عقائد کے متعلق لکھی ہے ) لکھتا ہے کہ ” علماء کے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان اعتقادی مسائل یا شرعی مسائل یا فتویٰ دینے میں اجتھادی خطا کرے تو اسکو کافروفاسق شمارنھیں کیا جائیگا اور اگر کوئی شخص اجتھاد کرے او راپنے اجتھاد کردہ مسئلہ کو حق تصور کرے تو ایسے شخض کو ، ہر حال میں اجرملے گا ، اب اگر اسکا نظریہ واقعی حکم کے موافق ہے تو دو اجر ، اور اگر خطا کی ہے تو ایک اجر بھرحال ملے گا “( ۴۵ )
وہابیت کا مسلمانوں کی جان و مال اور ناموس کی بے حرمتی کرنا
ان تمام مذکورہ بزرگ علماء کے نظریات اور اقوال جن کو وہابی بھی بزرگ مانتے ہیں اور ان کے نظریات کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کتابوں کوسند کا درجہ دیتے ہیں ، مد نظر رکھتے ہوئے ہم اہل سنّت کے دعوے دار وہّابی فرقے سے یہ سؤال کرتے ہیں کہ اگر وہ سب باتیں جو تمھارے بزرگوں نے بیان کی ہیں ، دینی امور میں تمھارے عمل کی اصل اساس او ربنیاد کا درجہ رکھتی ہیںتو پھر کس شرعی دلیل کی بناپر ان تمام مسلمانوںکے فرقوں کو جوتمھارے مسلک کے موافق نہیں ، کافر ومشرک سمجھتے ہو ؟او ران پر ہر طرح کی سختی ،اذیت اور ظلم و تشدّد کو جائز سمحھتے ہو ؟ نیز ان کے ملک اور سرزمین کو کافر حربی کی سرزمین کے مانند خیال کرتے ہو ؟ حالانکہ خداوند عالم فرماتاہے : ”تمام مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔
اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: ” ان نعمتو ں کو یاد کرو جو خدا نے تمھیں عطا کی ہیں جب تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے او رخداوندعالم نے تمھارے دلوں کو ملادیا اور اس طرح نعمت خدا سے تم ایک دوسرے کے بھائی ہوگئے ۔
پھر ارشاد فرماتا ہے : ” ہم نے مومنوں کے دلوں سے ہر طرح کی کدورتوں کو نکال پھینکاہے تاکہ مومنین آپس میں بھائی بھائی ہو جائیں اور جب ایک دوسرے سے ملاقات کریں توخوشی کا احساس کریں ۔
اور دوسری جگہ پر ارشاد ہوتاہے: ” جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام انجام دے خدا ان سے محبت کرتا ہے “ ۔
اور ایک جگہ یہ فرماتا ہے: ” اگر وہ توبہ کریں نماز پڑھیں او رزکواة ادا کریں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں اس طرح ہم اپنی آیتوں کو ان کے لئے بیان کرتے ہیں جوجاننا چاہتے ہیں یا جاننے کے خواہشمندھیں ۔
پیغمبر اسلام (ص) کی معتبر حدیثوں میں بیان ہوا ہے کہ ” اگر کوئی الله کی وحدانیت او رمحمد(ص)کی نبوت کی گواہی دے اسکی جان و مال اور عزت و آبرو محترم ہے اور ہر طرح کے تجاوز سے محفوظ ہے “
صحیح بخاری میں ایک روایت عبداللهبن عباس سے نقل ہوئی ہے کہ جسوقت معاذبن جبل کو یمن بھیجا تو آنحضرت(ص)نے ارشاد فرمایا ” بہت جلد اہل کتاب( یھود ونصاریٰ) سے ملاقات کروگے، جس وقت ان کے پاس پہونچ جاؤ تو ان کو اسلام کی دعوت دینا کہ وہ خداکی وحدانیت یعنی لاالہ الاالله اور رسول(ص)کی رسالت کااقرار کریں ، اگر انھوں نے تمھاری اس بات کو قبول کر لیا تو پھر ان سے یہ کھنا کہ خدائے یکتا نے تم پر ھرروز پانچ وقت نماز کو واجب کیا ہے اگر اسکو بھی قبول کرلیں توپھر ان سے کھنا کہ خدا نے تم پر زکوٰةادا کرنا واجب کیا ہے اور ان کے مالداروں سے زکوٰة وصول کرکے ان کے غریب افراد میں تقسیم کردینا اگر اس بات کو بھی مان لیں تو پھر ان کے اموال پر کوئی تعرّض یا تجاوز نہ کرنا چو نکہ پھر ان کے اموال محفوظ ہیں “
اس طرح کی ایک اور روایت بخاری نے ابن عباس سے نقل کی ہے کہ جب پیغمبر(ص) نے لوگوں کو خدائے یکتا پرایمان لانے کا حکم دیا تو ارشاد فرمایا ” کیا تم جانتے ہو کہ خدا پر ایمان لانے کامطلب کیا ہے “ لوگوں نے جواب دیا ، خدا او ر اسکا رسول(ص)بہتر جانتے ہیں ، تب آنحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا ” خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لانا یعنی اس بات کی گواہی دیں کہ خدا ئے یکتا کے علاوہ کوئی خدا اور معبود نہیں اور محمد(ص) الله کے رسول(ص) ہیں اور نماز پڑھیں ،زکوٰة دیں ، ماہ رمضان میں روزہ رکھیں اور جو بھی مال غنیمت حاصل ہو اس میں سے خمس ادا کریں “
اسی کتاب خدا سے آشنا ئی اور سیدالمرسلین کی شریعت سے آگاہی رکھنے والو! ذرا انصاف سے بتاؤ کہ کیا اہل حق او رتمھاے مسلمان بھایئوں سے وہابیوں کی عدالت اور دشمنی ، احکام الٰھی کی حدودسے تجاوز اوران کو پائمال کرنا نہیں ہے ؟!
قارئین محترم کو یاد دھانی کرانے کی ضرورت نہیں کہ مذہب اسلام اور وہ شریعت جو خدا کے منتخب بندے حضرت محمد(ص) پر خدا کی جانب سے نازل ہوئی ہے ، وہابی فرقے کے اعمال ، کردار اور غلط رویّہ کے سراسر خلاف ہے ، وہابیوں کو یہ بتا دینا ضروری ہے کہ خداوند عالم کا حکم ہے:
”( اَفَحُکمُ الجَاهِلِیّةِ یَبغُونَ وَ مَن اَحسَنُ مِنَ اللهِحُکماًلِقَومٍ یُوقِنُونَ ) “( ۴۶ )
”کیا ایام جاہلیت کے طور طریقوں کی پیروی کرتے ہو ؟ خداوند عالم کی شریعت اوراحکام جن کو خدانے مومنوںکے لئے نازل فرمایا ہے ، کیا اس سے بہتر کوئی شریعت ہے“
اس لئے اگر کوئی اپنی جانب سے کوئی حکم بیان کرے تو گویا اس نے اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کی اور ایسا کرنے سے خداوند عالم نے اپنے نبی(ص) کو بھی روکا اورمنع فرمایا ہے ، خداوند عالم فرماتا ہے ”وَلَا تَتَّبِعِ الہَوَیٰ “ خواہش نفسانی کی پیروی نکرو ، اور خداوند عالم کا حکم ہے کہ فقط ہمارے نازل کردہ قانون کے مطابق عمل کرو ۔
لہٰذا اگر کوئی شخص خدا کے اس حکم پر عمل نکرے تو اس نے خدا کے حکم سے سرپیچی کی ہے وہ بھی ایسی حالت میں کہ جب حق اس کے لئے ظاہر اور آشکار ہوگیا ہو اور حقیقت کی علامتوں کو دیکھ رہاہو“( ۴۷ )
وہابیوںکاخدا کے حکم کی نافرمانی کرنا
بھر حال حق کی پیروی کا معیار یہ ہے کہ جو بھی قرآن نے حکم دیا اس کو تہہ دل سے قبول کرےںاور اس پر سر تسلیم خم کردےں ،ورنہ اس طرح سے تو ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور دعویدار ہے کہ انصاف اور احسان کی راہ پر گامزن ہے جیسا کہ یہ طریقہ نادان اور جاہل افراد کے یھاں رائج ہے بالکل ویسے ہی وہابیت کے روز مرّہ کا معمول بن چکاہے ، چونکہ وہابیوں کے ملاّ اور مفتی اور دین کے بزرگان اکثر اوقات اپنی عادت اور خواہشوں کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں نہ کہ قرآن اور پیغمبر(ص)کی سنّت کے مطابق ۔
اس لئے اس آیہ شریفہ کا مضمون وہابی فرقہ پر صادق آتاہے:
” اگر انھوں نے حق سے روگردانی کی تو اے پیغمبر جان لیجئے کہ خدا یہی چاہتا ہے کہ وہ لوگ اپنے بعض گناہوں میں مبتلا ہوجائیں چونکہ ان میں سے بہت لوگ فاسق ہیں“
اور اس آیہ شریفہ کا مضمون بھی انہیں کے حال پر صادق آئے گا :
” وہ لوگ جو خدا کے نازل کردہ (قرآن ) کے مطابق حکم نہیں کرتے ،فاسق ہیں“۔
یہ بھی اس صورت میں ہے کہ جب خدا اور رسول کی مخالفت کو جائز نہ سمجھتے ہوں ورنہ اگر جائز سمجھیں تو کافر ہو جائیں گے جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد گرامی ہے ” وہ لوگ جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق حکم نہیں کرتے ، وہ کافر ہیں“۔
ھاں البتہ اگر فرض کریں کہ مسلمان آپس میں کسی مسئلہ سے متعلق اختلاف یا نزاع کریں تو ان پر واجب ہے کہ اس اختلافی موضوع کوخدا اور رسول(ص) پر چھوڑ دیں جیسا کہ خداوند عالم نے ارشاد فرمایا ہے کہ” اگرکسی چیز کے بارے میں نزاع اور اختلاف رکھتے ہو تو خدا اور رسول(ص)کی طرف رجوع کرو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔
اور دوسری جگہ پر فرماتا ہے ” جب بھی کسی چیز کے متعلق شدید اختلاف نظر ہو جائے تو اس کے حکم کو خدا اور اسکے رسول پر چھوڑدو“ مندرجہ بالا مطلب کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی مسلمانوں کے قول میں سے کسی ایک فرقے کے اعتقاد کا مسخرہ اور مذاق اڑائے نیز اس پرلعن و طعن کرے اور کفرو الحاد سے نسبت دے تویہ سب اور اس طرح کے دوسرے کام مسلمانوں کے درمیان اختلاف پھیلانا اور تفرقہ اندازی ہے حس سے خداوند عالم نے اس آیہ کریمہ میں منع فرمایا ہے:
” جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پھیلا یا اور مختلف فرقوںمیں تقسیم ہوگئے ایسے لوگوں سے کوئی امید نہ رکھو“ ۔
اور فرماتا ہے ” اے ایمان لانے والوں خدا کو اس طرح پہچانو جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور ایسے کام کرو کہ جب تم مرو تو با ایمان مرو“
اور اس آیہ شریفہ میں ارشاد ہواہے ” ان لوگوں کے مانند نہ ہوجاؤ کہ جو لوگ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور اللہ کی طرف سے روشن اور واضح دلائل آنے کے باوجود آپس میں اختلاف کر بیٹھے چونکہ ان کے انتظار میں ایک عظیم عذاب موجود ہے“۔
قارئین محترم ! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ خداوند عالم با ایمان لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی رسیّ (دین) کو مضبوطی سے پکڑلیں اور تفرقہ اندازی سے پرہیز کریں“ اور اپنی رسّی کو مضبوطی سے تھام لینے کی تفسیر بھی یہ کی ہے اسکے دین کو قبول کریں اور اسپر ایمان لے آئیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس آیہ شریفہ کی روسے اللہ کا پسندیدہ دین فقط سلام ہے:
”( اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰهِ الاِسلاَم ) “( بیشک خدا کا پسندیدہ دین اسلام ہے) اسلام ایمان بھی ہے جیسا کہ اس بات کی تفسیر کلمہ شھادتین میں ہوئی ہے (یعنی لا اله الاّ اللّٰه و محمد رسول اللّٰه )،اس بنا پر بھی مسلمان ایک ہی دین کے ماننے والے ہیں خداوند عالم نے مسلمانوں کے لئے کچھ حدیں معین کردی ہیں جن سے تجاوز کرنا جائز نہیں ، اس طرح خداوند عالم نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنا حرام قرار دیا ہے نیز مسلمانوں کی جان و مال اور ناموس پر تجاوز اور تعرّض کوبھی ایک دوسرے پر حرام کیا ہے،صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا ”تمھاری جان و مال و عزت اور ناموس ایک دوسرے پر حرام ہے جیسے کہ آج تم لوگ محرم ہو،اور احرام حج باندھے ہوئے ہو اس محترم مھینہ ( ذی الحجہ) اور اس محترم شھر مکہ میں تمھاری جان و مال و عزّت اور آبرو نیز ایک دوسرے کا خون بھانا حرام ہے پھر آپ نے سب لوگوں سے پوچھا:
”کیا میں نے تم لوگوں تک اسلام کا پیغام نھیںپہونچا یا؟ آگاہ ہو جاؤ اور حاضرین ، غائبین کو مطلع کریں“صحیح بخاری میں یہ روایت مختلف راویوں سے نقل ہوئی کہ رسول اکرم(ص) نے حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: ” غور سے دیکھو اور توجہ سے سنو اور اسلام کے حقائق اور معارف کو خوب اچھی طرح سمجھو“ کھیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کافر ہو جاؤ اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاو۔
اس مقدمہ کو بیان کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہ ثابت کریں کہ وہابیوں کے کارنامے اور اعمال کتاب و سنّت کے خلاف ہیں چونکہ قرآن اور سنّت کافرمان ہے کہ مسلمان کو دوستی و محبت کی فضا ہموار کرنی چاہئے نہ یہ کہ مسلمانوں کے درمیان نفرت کا بیج بوئیں اور ان کے درمیان دشمنی ایجاد کریں ان میں سے بعض کو کافر شمار کریں اور مارپیٹ اور برا بھلا کہہ کرظلم و تجاوز کریں ہم اسکے علاوہ وہابیوں سے اور کچھ نہیں کھنا چاہتے :”( تِلکَ آیَاتُ اللّٰهِ نَتلُوهَا عَلَیکَ بِالحَقِّ ) “( ۴۸ ) ،( ۴۹ )
مسلمانوں کی بے ا حترامی اور ان کی تکفیر سے متعلق اسلام کا صاف اور صریح موقف
اب ہم قارئین کرام کی مزید معلومات کے لئے نیز موضوع کی اہم یت کا لحاظ کرتے ہوئے مسلمانوں کو کافر بتانے کے متعلق ایک عمیق اور تفصیلی بحث پیش کرتے ہیں اور اس بحث میں فریقین کے علماء کے نظریات کا بھی جائز ہ لیں گے تا کہ مؤثر اور مفید ہو۔
اسلامی روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی کلمہ شھادتین زبان پر جاری کرے اورمسلمان ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کافر کھنا جائز نہیں اور فریقین کے اصلی مدارک میں اس موضوع سے متعلق بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں مسلمانوں کو کافر کہنے سے منع کیا گیا ہے نیز ایسا کہنے یا کرنے والے کی مذمت کی گئی ہے یھاں تک کہ بعض روایات میں تو کافر کہنے والے کو ہی کافر بتایا گیا ہے ان میں سے بعض آیات و روایات کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں۔
خداوند عالم قران مجید میں ارشاد فرماتاہے:
”( وَ لَا تَقُولُوا لِمَن اَلقَیٰ اِلَیکُم السَّلاَمُ لَستَ مُؤمِناً ) “( ۵۰ )
( جو شخص بھی اسلام کا دعویٰ کرے اس سے یہ نہ کھو کہ تم مسلمان نہیں ہو اس آیہ شریفہ کے شان نزول کے متعلق لکھا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) نے ” اسامہ بن زید“ کو ان یھودیوں کی طرف بھیجا کہ جو فدک کی کسی آبادی میں زندگی بسر کررھے تھے تا کہ ان کو اسلام کی دعوت دیں یا کافر ذمّی کے عنوان سے خراج دینے کے شرائط کو قبول کرنے کی دعوت دیں ایک ”مرد اس“ نامی یھودی ، خدا کی وحدانیت نیز پیغمبر(ص) کی رسالت کی گواہی دیتے ہوئے مسلمانوں کے استقبال لئے بڑھا لیکن اسامہ نے اس کے اسلام کو فقط زبانی اسلام ( لقلقہ زبانی) خیال کرتے ہوئے قتل کرڈالا ، اور اسکے مال کو مال غنیمت کے طور پرلے لیا ،اورجب یہ خبر پیغمبر اسلام(ص) تک پہونچی تو آپ بہت رنجیدہ اور ناراض ہوئے اور فرمایا:
تونے مسلمان کو قتل کیا ہے ؟اسامہ نے عرض کی : یا رسول اللہ(ص) وہ شخص اپنی جان بچانے اور مال کی حفاظت کی غرض سے اسلام کا اظھار کررہا تھا تو پیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا:
”فَهَلاّ شَقَقتَ قَلبَهُ “ تو نے اس کے قلب کو تو چیر کر نہیں دیکھا تھا شاید وہ حقیقت میں مسلمان ہوگیا ہو۔
اسی مضمون کی دوسری روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نقل ہوئی ہے کہ خود اسامہ بن زید راوی ہیں وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ” رسول خدا(ص) نے ہمیں مقام ” جرقَہ“ بھیجااور جب ہم لوگ وہاں پہونچے اورصبح کے وقت ہمارا ان لوگوں سے مقابلہ ہوا اور ان لوگوں کو شکست دی اور باقی لوگ فرار ہوگئے تو ہم نے او رانصار میں سے ایک شخص نے اس فراری کا پیچھا کیا اور جیسے ہی ہم نے اسے پکڑا توفوراً ا سنے” لاالہ الا اللّٰہ “زبان پر جاری کردیا یہ سن کر انصاری شخص نے اس کے قتل کا ارادہ بدل لیا لیکن میں نے آگے بڑہ کر اپنے نیز ے سے قتل کردیا جب ہم لوٹ کر آئے تو یہ خبر اور صورتحال پھلے ہی پیغمبر (ص) تک پہونچ چکی تھی۔
حضرت(ص) نے اسامہ کو دیکھتے ہی فرمایا :اے اسامہ تم نے اس کو اللہ کی وحدانیت کی گواہی دینے کے باوجود قتل کرڈالا؟! اسامہ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)یہ شخص اس طرح سے اپنے کو قتل ہونے سے بچانا چاہتا تھا ،آنحضرت(ص) نے اپنے اس کلام کو بار بار دھرایا :” لا الہ الاّاللّٰہ “کھنے کے باوجود تم نے اسے قتل کردیا؟! آنحضرت(ص) نے اس جملہ کو اس قدر دھرایا کہ میں نے تمنا کی کہ اے کاش میں اس حادثہ سے پھلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
اسامہ بن زید نے حضرت کے رویّہ سے جو مطلب اخذ کیا وہ یہ ہے کہ اسکے تمام اعمال نماز وروزہ جھاد وغیرہ اس گناہ کے خلع کو پورا نہیں کرسکتے اور گناہ کے بخشے نہ جانے کا خوف رہا، اسی وجہ سے تمناکی کہ اے کاش اس حادثہ سے پھلے مسلمان نہ ہوا ہوتااور اس حادثے کے بعد مسلمان ہوتا۔
ان آیات و روایات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اسلام کا اظھار کرے یعنی کلمہ شھادتین کھے تووہ مسلمان ہے اس کو کافرکھنا یا سمجھنا جائز نہیں ہے، اگر ہمارے پاس صرف یہی آیات وروایات ہوتیں، تو مذاہب اسلامیہ اور مسلمانوں کو ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانے سے روکنے کے لئے کا فی تھیں چونکہ جو شخص خودکو ” لا الہ الاّ اللّٰہ “ کی پناہ میں قرار دے وہ محترم ہے اوراسکی جان و مال بھی محترم ہے بلکہ جو افراد اسی نیّت سے کلمہ شھادتین پڑھیں ان کے لئے تو اور زیادہ احترام ہونا چاہئے ،ان سے بغض و عناد رکھنا سب وشتم کرنا، نیز ان کوکافر و فاسق کھنا جائز نہیں حالانکہ اسی طرح کی بلکہ اس سے بھی صاف اور صریح الفاظ میں بہت سی روایتیں فریقین کے یھاں مختلف روایوں سے نقل ہوئی ہیں۔
ان میں سے ایک روایت یہ ہے نبی مرسل نے ارشاد فرمایا :
”َمن کَفََّرَ مُومِناً صَارَ کاَفِراً “ جو شخص کسی مومن کو کافر کھے وہ خو د کافر ہو جائیگا ۔
اور امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
” مَا شَهِدَ رَجُلٌ عَلَی رَجلٍُ بِکُفرٍ قَطُّ الَابَاءَ به اَحَدِهِمَا اِن کَانَ شَهِدَبه عَلیَ کَافِرٍ صَدَقَ وَ اِن کَانَ مُؤِمنًا رَجَعَ الکُفرُ اِلَیهِ فَاِیَّاکُم وَالطَّعنَ عَلَی المُومِنِینَ “۔
”کوئی شخص بھی کسی کے کفر کی گواہی نہیں دے سکتا مگر یہ کہ ان دونوں میں سے ایک کفر کا مستحق ہو، اگر یہ گواہی کافر کی نسبت تھی ( یعنی مخاطب واقعی کافر تھا) تو گواہی سچی ہے اور اگر مؤمن کے بارے میں کفر کی گواہی دی ہے تو خود گواہی دینے والاہی کافر ہے لہذا مؤمن پر طعنہ زنی سے پرہیز کرو۔
اس مضمون کی روایت کنزالعمال میں وارد ہوئی ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا:
”اَیَّمَا إِمرَءٌ قَالَ ِلاَخِیهِ کَافِرٌ فَقَد بَاءَ بهَا اَحَدَهُما اِن کَانَ کَمَا قَالَ وَ اِلاّ رَجَعَتْ عَلَیهِ “ ۔
”جو شخص بھی اپنے برادر مؤمن کو کافر کہہ کر خطاب کرے ان دونوں میں سے ایک ضرور کافر کھلانے کا حق دار ہے اگر مخاطب واقعی کافر تھا تو صحیح کھا لیکن اگر مخاطب کافر نہیں تھا تو خود کہنے والا کفر کا مستحق ہے۔
ایک ا ور روایت صاد ق آل محمد حضرت امام جعفر صادق(ع)سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:
”مَلعُونٌ مَلعُونٌ مَن رَمَیٰ مُؤمِناًبِکُفرٍوَ مَن َرمَیٰ مُؤمِناًبِکُفرٍ فَهُوَکَقَتلِهِ “
ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جو کسی مومن پر کفر کی تہم ت لگا ئے او رجو بھی ایسی تہم ت لگائے گویا ایسا ہے کہ جیسے اس نے اسے قتل کر دیا ہو ۔
اور اسی مضمون کی روایت کنز الاعمال میں وار د ہوئی ہے کہ رسول اکرم(ص)نے ارشاد فرمایا:
”اِذَا قَالَ رَجُلٌ ِلاَخِیهِ کَافِرٌ فَهُوَ کَقَتلِهِ وَ لَعَنُ المُومِنِ کَقَتْلِهِ“
”جو بھی اپنے برادر مومن کو کافر کھے ایسا ہے کہ جیسے کسی نے اسے قتل کردیا ہو نیز کسی مومن پر لعنت کرنا بھی اسکو قتل کر دینے کے برابر ہے ۔
ہم اگرگذرے ہوئے زمانہ پر نظرکر یں اور اسلامی مذاہب اور مسلمانوں کی تاریخ کا بغور مطالعہ کر یں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ بہت مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی کو فاسق یا کافر کھنا ، بہت سے بے گناہ افرا د کے قتل کا باعث بن گیا ۔
روایت میں ملتا ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص کو لایا جائیگا کہ جس نے دنیا میں اچھے کام انجام دئے ہیں لیکن حساب و کتاب کے وقت اپنے اعمال نامے میں ایک عظیم گناہ کو مکتوب دیکھ کر یہ اعتراض کرے گا ( کہ میں نے یہ گناہ انجام نہیں دئے) تو اسکو جواب دیا جائیگا کہ فلاں کے قتل کا گناہ تیری گردن پر ہے تو وہ کھے گا کہ میں نے کسی ایسے شخص قتل کو نہیں کیا او رمیرے ھاتھ کسی کے خون سے آلودہ نہیں ہیں ، تو اسے جواب ملے گا کہ تم نے فلاں شخص کے بارے میں کوئی بات سنی اور اسکو دوسروں کے سامنے نقل کر دیا ،و ہی بات اثر انداز ہوئی او رآخر کار وہ قتل ہو گیا ،لہٰذا تو اس بات کونقل کر نے کی بنا پر تم اسکے قتل میں شریک ہو ۔
ان تمام روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو فریقین کے حوالے سے نقل کی ہیں ہم اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ ایک دوسرے کو فاسق کھنا یا کافر سمجھنا ، گا لیاں دینا اورجاہلانہ بغض و عناد اسلامی مذاہب او رمسلمانوں میں فرقہ وارنہ جنگ ، صدر اسلام سے ابتک رواج پاچکی ہے یہ قطعاً حرام ہے ا ورفریقین کی روایات کے صریحاً مخالف ہے ۔
مندرجہ بالا آیات و روا یات نیز اسی طرح کی اور بہت سی روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑی جرآت کا کام ہے کہ روایات میں ان تمام صراحتوں کے با وجود کوئی مسلمان فقط اس نیّت سے کہ اسکے دینی عقائد اور اصول کی طرف قلباً مائل نہیں یا بعض صحابہ کے نا مناسب سلوک اور اعمال کی بنا پر یا اس سے بھی بڑ ھ کر اپنے سیاسی یا اقتصادی مقاصد کی وجہ سے یا اپنے علوم اسلامی سے متعلق، مختلف فہم و فراصت کی بنا پر دوسرے مسلمان پر فسق اور کفر کی تہم ت لگائے یا اسلام سے منحرف ہونے کی نسبت دے ۔
( یہ بڑی جرائت کا کام ہے ) لیکن افسوس کہ اسلام کے ماننے والے ، اسلامی اصول اوربنیاد ی مسائل سے جھالت کی بنا پر آپس میں نامناسب سلوک رکھتے ہیں اور یہی نامناسب اور غیر منطقی سلوک مسلمانوں میں تفرقہ اور گروہ گروہ تقسیم ہونے کا سبب بنا ، اس بنا پرھرگروہ دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ایک دوسرے کو گالی گفتار سے نوازتے ہوئے کفر کے فتوے لگاتا ہے ۔
مذکورہ موضوع پر غیر صریح روایتیں
ان روایات کے علاوہ جو بطور صریح اور واضح الفاظ میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کو کافر کہنے سے روکتی ہیں، دوسری روایتیں بھی ملتی ہیںجو اس عمل کے مضّر اور منفی اثرات کو بیان کرتی ہیں،عنوان مذکورہ کے علاوہ اور دوسرے عنوان بھی ہیں جنکا اسلام کی نظر میں حرام ہونا مسلّم الثبوت ہے ۔
ان عنوانوں کے روشن مصداقوں میں سے کسی کو کافر کھنا بھی ہے اور مؤمن کی بے حرمتی یا مؤمن پرتہم ت لگانا سبّ وشتم کرنا ، لعنت کرنا حقیر اور ذلیل سمجھنا ، نیز مذاق اڑانا ، سرزنش کرنا، مؤمن کی توہین اور اسکواذیّت وآزار پہونچا نا ، اسکے عیب تلاش کرنا اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی و غیرہ وغیرہ بہت سے عنوانات پائے جاتے ہیں جو سب کے سب غیر صریح طور پر مرتبط مسئلہ کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں کہ ان میں سے بعض کی طرف مختصر طور پر اشارہ کرتے ہیں ۔
مؤمن کی بی حرمتی پر اسلام کی واضح مخالفت
اسلامی قانون میں مسلمان کی جان کی طرح اس کا مال اور عزّت و آبروبھی محترم ہے چنانچہ پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا ہے :
”اِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی المُسلِمِ دَ مَهُ وَ مَالَهُ وَ عِرضَهُ وَ اِن یَظُنُّ بِهِ سُؤءُ الظَّنِّ “
” خداوند عالم نے ہر مسلمان پر ، دوسرے مسلمانوں کی جان ، مال ، عزّت و آبرو اور ان کے بارے میں بدگمانی کرنے کو حرام قرار دیا ہے “
جس نے بھی اس عمل کو انجام دیا ،و ہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور گناہ کبیرہ پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے ۔
خلاصئہ مطلب یہ ہے کہ مؤمن کی آبروریزی اور بے احترامی کسی طرح سے بھی جائز نہیں ہے، چاہے اسکا مذاق اڑانے یا مسخرہ کرنے کے ذریعہ ہو یا اسکی سرزنش، توہین، جھوٹاسمجھنا ، لعنت و ملامت اور تکفیر کرنے کے ذریعہ ہو ،چنانچہ ایک مسلمان کو کافر کھنا سب سے زیادہ واضح نمونہ ہے ۔اس سلسلہ میں حضرت امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہےں:
”مَن رَوَیٰ عَلَی مُؤمِنٍ رِوَایَةً یُرِیدُ بِهَا شَینَهُ وَ هَدمَ مُرُوََّتِهِ لِیَسقُطَ مِن اَعیُنِ النَّاسِ اَخرَجَهُ اللهُ مِن وِلَاَیَتِهِ اِلیٰ وِلاَیَةِ الشَّیطَانِ فَلاَ یَقبَلُهُ الشَّیطَانُ “
” جو شخص بھی مؤمن کی عیب جوئی اور بے احترامی کی غرض سے کوئی بات کھے تا کہ اسکو لوگوں کی نظروںسے گرا دے تو خداوند عالم ایسے شخص کو اپنی رحمت سے نکال کرشیطان کی سرپرستی میں بھیج دیتا ہے ،اور شیطان بھی اسکو قبول نہیں کرتا “۔
تکفیر سے بدتر اور کون سی قبیح بات ہوگی جو مؤمن کی روحانی ،معنوی اور اعتقادی شخصیت کو پامال کرتی ہے ۔
اسلام میں کسی مؤمن پر تہم ت لگانے کی ممانعت
تہم ت یعنی کسی انسان کی طرف کسی ایسی بری چیز کی نسبت دینا جو اس میں نہیں پائی جاتی ، دین اسلام نے اس طرح کے برے اعمال کی شدّت سے ممانعت کی ہے ، اور بڑے ہی شدید لہجے میں منع کیا ہے نیز اس قبیح فعل کو بڑے گناہوںمیں شمار کیا ہے ،تہم ت اور بری نسبت دینے کی بھی بہت سی قسمیں ہیں ، بھرحال کسی پر بے دینی کی تہم ت لگانا تہم ت کی سب سے بدترین قسم ہے ، تہم ت کے متعلق روایتیں ایسے تمام افراد کے شامل حال ہیں ، ( جو دوسروں پر بے دینی و غیرہ کا الزام لگاتے ہیں )
حضرت رسالت مآب(ص) فرماتے ہیں :
”مَن بَهَتَ مُؤمِناً اَو مُؤمِنَةً اَو قَالَ فِیهِ مَا لَیسَ فِیهِ ، اَقَامَهُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ یَومَ القِیَامَةِ عَلیٰ تَلٍّ مِّنْ نَاْرٍحَتیَّ یَخرُجَ مِمَّا قَالَ فِیهِ
”جوشخص کسی مؤمن یا مومنہ پر بہتان لگائے یا ان کے بارے میں کوئی بری بات کھے جو ان میں نہیں پائی جاتی تو خداوند عالم قیامت میں آگ کی سیڑھی پر اسے روکے رھے گا تا کہ جو بدگوئی ( کسی مؤمن کی نسبت ) کی ہے اس کا بھکتان بھگتے ۔
حضرت امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں:
”مَن ِاتّهََمَ اَخَاهُ فِی دِینِهِ فَلاَحُرمَةَ بَینَهُمَا وَ مَن عَامَلَ اَخَاهُ بِمِثلِ مَا عَامَلَ فَهُوَبَرِی مِمَّا یَنتَحِل “
”جوبھی اپنے دینی بھائی پر تہم ت لگائے تو ان کے درمیان پھر کوئی احترام باقی نہیں رہا اور جو شخص اپنے برادر دینی کے ساتھ ، وہی طریقہ اپنائے اور ویسے ہی ملے جیسا کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ملتا ہے تو ایسا شخص مذہب سے خارج ہے ۔
اسلام نے کسی مؤمن پر لعنت اور گالی گفتار سے منع کیا ہے
ایک دوسرے کی طرف بری اور نازیبا نسبت دینا ناگوار الفاظ کھنا جیسے خائن، فاسق ، فاجر ، ملعون و غیرہ کھنا اور اس سے بھی بڑھکر مشرک ، کافر و غیرہ کھنا یا ایسے الفاظ کھنا کہ جن سے کسی مسلمان کی حقارت اور ذلّت ہوتی ہو قطعاً اور یقیناً حرام ہے ، اور بہت سی روایتوں میں اس برے عمل سے روکا گیا ہے ۔
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :
”سِبَابُ المُؤمِنِ فُسُوقٌ وَ قِتَا لُهُ کُفرٌ وَحُرمَة ُ مَا لِهِ کَحُرمَةِ دَمِهِ “
”مؤمن کو گالی دینا فاسق ہونے کا سبب ہے اسکے ساتھ جنگ کرنا کفر ہے اور اسکا مال بھی اسکی جان کی طرح قیمتی اور محترم ہے ۔
مزید فرماتے ہیں کہ ”وَلَعنُ المُؤمِنِ کَقَتلِهِ “ مؤمن پر لعنت کرنا اسکے قتل کرنے کے برابر ہے ۔
مسلمانوں کی طرف کفر کی نسبت دینا حرام ہے
اس بارے میں علماء کے فتوے
ہم یھاں پر اسلامی مذاہب کے ائمہ اور بزرگ علماء اسلام کے فتوے مختصر طور پر پیش کرتے میں ،تا کہ یہ بات روشن ہو جائے کہ اسلامی معاشرے میں ایک دوسرے پر تہم ت لگانا ، کفر و تہم ت کے لئے راہ ہموار کرنا، نیز کفر کے فتووںکی اسلام کی نظرمیں کوئی اصل و بنیاد نہیں ہے چونکہ قبیح اورگھناؤنی باتیں نہ اسلام کی حیات بخش تعلیم سے سازگارہیں اور نہ ہی آیات وروایات اور علماء اسلام کے فتاویٰ سے اسکی تائید ہوتی ہے۔
شیعہ علماء کرام کے فتوے
شیعہ مذہب میں عظیم اور بزرگ علماء جیسے شیخ صدوق(رہ) کتاب ہدایہ میں ، شیخ مفید(رہ) اوائل المقامات میں ، محقق حلی (رہ) شرایع الاسلام میں صاحب جواہر(رہ)جواہر الکلام میں ، آیت اللہ الحکیم مُستمسک میں اورجناب آملی (رہ)نے مُصباح الھدیٰ میں ، علامہ مجلسی(رہ) نے بحارالانوار میں ، اور الحاج آقاے رضا ہمدانی (رہ) نے مُصباح الفقیہ ، میں تحریر کیا ہے کہ جو شخص شھادتین (لاالہ الاا لله محمد رسول الله)کا اظھار کرے وہ شخص مسلمان ہے ،اور اسلام کے اجتماعی حقوقی او ر عدالتی احکام اس پر جاری ہوں گے۔
نمونہ کے طور پر شیخ صدوق (رہ) کی کتاب الھدایة کی عبارت پیش خدمت ہے ،موصوف فرماتے ہیں:
”الِاسلاَمُ هُوَ الاِقرَارُ بِالشَّهَادَتَیںِ وَ هُوَ الَّذِی یُحقَنُ بِهِ الدِّمَاءُ وَ الاَموَالُ وَ مَن قَالَ لاَ اِلٰهَ اِلّااللهُ مُحَمَّدٌرَسُولُ اللهِ(ص) فَقَد حُقِنَ مَالُهُ وَ دَمُه ‘ُ‘
”اسلام یعنی خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد(ص) کی رسالت کا ا قرار کرنا ،اور جس نے شھادتین کو زبان پر جاری کر لیا اسکی جان و مال ہر طرح کے تجاوز سے محفوظ ہے لہذا جو بھی” لا الہ الاالله محمد رسول الله “کھے اسکی جان و مال محفوظ ہے “
بغیر کسی شک و تردید کے علماء ان فتاویٰ کے ہوتے ہوئے کسی کو بھی، کسی ایسے شخص کو کافر کہنے کی اجازت نہیں دے سکتے جو کلمہ شھادتین کا اقرار کرے اگر چہ زبانی ہی اقرار کرے۔
سنّی علماء کے فتوے
اشعری کا فتویٰ :
”احمدبن زاہرسرخی “جن کا شمار امام ابوالحسن اشعری کے بزرگ شاگردوں میں ھوتا ہے، نقل کرتے ہیں کہ وہ(ابوالحسن اشعری ) اپنے زندگی کے آخری لحظات میں میرے غریب خانہ پر تشریف فرماتھے اسوقت مجھے حکم دیا کہ ان کے سبھی شاگردوں اور دوستوں کو ان کے پاس بلاؤں، جب لوگ جمع ہو گئے تو سب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
”اَشهِدُوا عَلَی اِنَّنیِ لَا اُکَفِّرُاَحَداً مِّن اهل القِبلَةِبِذَنبٍ ِلاَنَّهُم کُلُّهُم یُشِیرُونَ اِلَی مَعبُودٍ وَاحِدٍ وَ الِاسلاَمُ یَشمُلُهُم وَیَعُمُُّهُم “
” تم سب لوگ گواہ رھنا کہ میں نے کبھی بھی کسی ایسے شخص کو جوایک قبلہ کا ماننے والا ہے اسکے کسی گناہ کی وجہ سے اُسے کافر نہیں کھا اس لئے کہ وہ سب ایک ہی معبود کی عبادت کرتے ہیں وہ لوگ اسلام میں شامل ہےں، اوروہ سب اسلام کے دائرے میں ہیں “
ابوحنیفہ و غیرہ کا فتویٰ :
”قال ابن حزم ”وَذَهَبَ طَائفَة ٌاِلَی انّهُ لَا یُکَفِّرُ وَلَا یُفَسِّقُ مُسلِمٌ بِقَولٍ قَالَهُ فِی اِعتِقَادٍ اَوفَتیَا … وَهَذَا قَولُ اِبنِ اَبِی لَیلیٰ وَ اَبِی حنیفه و الشافعی و سفیان الثوری و داؤد ابن علی و هو قول کل من عرفنا له قولاً فی هٰذه المسالة من الصحابة و لا نعلم فیه خلافاًفی ذلک “
ابن حزم ( جن کا شمار فرقہ ظاہر یہ کے رھبروں میں ہوتا ہے ) کہتے ہیںکہ علماء کاایک گروہ اور جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو اسکے عقیدہ یا ایسے فتووں پر عمل کرنے کی وجہ سے جومشھو ر نہیں ، فاسق یا فاجر نھیںکھاجاسکتا اور یہی نظریہ ابی لیلیٰ جو ابو حنیفہ کے ہم عصر تھے اور ابو حنیفہ ،شافعی ، سفیان ثور ی ( ابو حنیفہ کے دوسرے ہم عصر ) اور داؤد بن علی کا نظریہ ہے ، اور ہم نے کسی صحابی کو بھی اس نظریہ کا مخالف نہیں پایا ۔
جب شیخ الاسلام تقی الدین سبکی سے اہل ہوا و ہوس اور بدعت کرنے والوں کی تکفیر کے متعلق سوال ہو تا ہے تو وہ جواب میں تحریر کرتے ہیں :
”اے میرے بھائی یہ بات ملحوظ خاطر رھے کہ کسی مؤمن کے کفر کے متعلق اظھار کرنا نھایت مشکل اور سخت کام ہے ، لہذا جوشخص مؤمن ہو اسکے لئے کسی ایسے شخص کو جو” لا الہ الاالله محمدرسول الله“ کا اقرار کرتا ہے ، فقط ہوا پرستی یاکسی بدعت کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ لگانا بہت ہی خطرناک کام ہے اور کسی کی طرف بھی کفر کی نسبت دینا کوئی آسان کام نہیں ۔
اور دوسری جگہ پر جب ان سے غالی ، بدعتی اور ہوا پرست متکلمین او ر فلاسفہ سے متعلق سؤال ہو تا ہے تو فرماتے ہیں کہ یہ جان لینا چاہئے جسکے دل میں الله عزو جل کا خوف ہو وہ کسی ایسے شخص کے کفر کے متعلق زبان کھولنے گی ھرگزجرات نھیںکر سکتا جو ” لاالہ الاالله او ر محمد رسول الله “کا اقرار کرنے والاہے ۔۔۔ نیز انھوں نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ کوئی شخص بھی کسی مؤمن کو کافر نہیں کہہ سکتا مگر یہ کہ خود اصول دین سے خارج اور کلمہ شھادتین کا منکر ہوجائے نتیجہ میں ایسا شخص اسلام کے دائرے سے خارج ہوجائیگا “ ۔
اوزاعی کہتے ہیں:
” خدا کی قسم اگر مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا جائے تب بھی شھادتین کا اقرار کرنے والے کوکافر نہیں کہہ سکتا “
حسن بصری فرماتے ہیں:
جب ان سے نفس پرستوں کے متعلق سؤال کیا گیا تو اپنے جواب میں فرمایا کہ تمام وہ افراد جو خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں ، ہمارے رسول(ص) کے امّتی ہیں اور یقیناً جنّت میں جائیں گے۔
زھری ، سفیان ثور ی اور سعیدبن مسیّب و غیرہ جیسے بزرگ علماء بھی کسی مسلمان کو کافر کہنے کی اجازت نہیں دیتے اور اس کی تکفیر کو حرام جانتے ہیں ۔
لہٰذا جب یہ ثابت ہوگیا کہ کسی پر تہم ت لگانا یا کسی مسلمان کو کافر کھنا بے بنیاد بات ہے اورآیات و روایات کی روشنی میں اسلام کی شدید مخالفت بھی اس موضوع سے متعلق ظاہر اور روشن ہوگئی تو تمام مسلمانوں پر خصوصاً ان علماء پر کہ جو دین اور شریعت کے محافظ ہیں ، واجب اور ضروری ہے کہ معاشرے کے دامن سے اس کثیف اور ننگین دھبّہ کو مٹانے کی کوشش کرےں اور ان منحوس باتوں کا معاشرے سے نام ونشان تک مٹا دیں اور مسلمانوں کو ان بے بنیاد باتوں سے جو مصیبتیں مشکلات، کدورتیں، تفرقہ بازی اور جنگ و جدل سے نجات دلاکر آسودہ خاطر کریں عقیدہ اور فرعی احکام میں فقط اسلامی اصولوں پر اعتماد کرتے ہوئے معاشرے میں اخوت اور بھائی چارگی کی فضا دوبارہ ہموار کریں، آپس میں سماجی رابطوں اور تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں اور تمام مسلمانوں کو متحد ہوکر الله کی رسّی ( دین )کو مضبوطی سے پکڑنے کی دعوت دیں ، یہ الٰھی اور اسلامی انقلاب جو سرزمین ایران پر ظھور پذیر ہوا اسکی قدردانی کرتے ہوئے آپس میں بے وجہ کینہ اور کدورتوں کو دور کرنے کی کوشش کریں اور سب کو ایک صف میں کھڑے ہوکر ایک جسم وجان کے مانند اسلام کے لئے ایک مضبوط حصار میں تبدیل ہوجائیں اور سامراج اور ظالم طاقتوں کا نام ونشان مٹادیں ،اس امید کے ساتھ کہ الله کی عطا کردہ اس عظیم نعمت کے سایہ میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد اوریکجہتی کی فضاقائم ہو ، اور اس کے سایہ میں اسلامی برادری اپنی عزت و عظمت کو دوبارہ حاصل کرلیں تا کہ پھرکسی کو اپنی عظمت رفتہ کا ماتم نہ کرناپڑے ۔( ۵۱ )
وہابیوں کے ھاتھوں اہل کربلا کا قتل عام
وہابیوںکی زندگی کی بھیانک اور تاریک تاریخ میں وہ دردناک غم انگیز اور دل، ھلا دےنے والے حادثات نظر آتے ہیں ،جوایک زمانہ گذر جانے کے باوجود بھی بھلائے نہیں جاسکتے ، ان میں سے ایک حادثہ کربلا کے مقدس شھر پر ۲۱۶ اہ میں افسوسناک حملہ کی شکل میں پیش آیا ، ہم اس دردناک قتل عام واقعہ کا خلاصہ” ڈاکٹر سید عبدالجواد کلید دار“ کی کتاب” تاریخ کربلا“ نامی کتاب سے نقل کررھے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ :
”واقعہ عاشورا کے دردناک واقعہ کے بعد تاریخ کربلامیں جو سب سے بڑا افسوس ناک اور ہولناک واقعہ ہواہے وہ وہابیوں کے ھاتھوں کربلاکے لوگوں کا قتل عام ہے جو ۶ ا ۲ اہجری میں پیش آیا ، یہ دل کو لرزادینے والادردناک حادثہ جس کے شعلہ ، چنگاریاں اور اثرات تمام اسلامی اور یورپی ملکو ں میں اب بھی باقی ہےں ، مسلمانوں اور مغربی تاریخ نگاروں نے اس واقعہ کے غم انگیز اور دردناک اثرات کے متعلق بہت کچھ لکھاہے اور لکھتے رہتے ہیں نیز اس واقعہ کو کربلاکی تاریخ میں دوسرے دردناک واقعہ کے عنوان سے یادکرتے ہیں ۔
ایک انگیریز ”اسٹیفن ہمیسلی، لوئیکر “ اپنی ” تاریخ عراق کی چارصدیاں “ نامی کتاب میں لکھتا ہے کہ نجدی عربوں کا بار ہویں صدی ہجر ی کے اواخر تک وہی عقیدہ اور مذہب تھا جو باقی سارے مسلمانوںکا عقیدہ اور مذہب تھا اور دونوںمیں کوئی فرق نہ تھا، یہ اس زمانے کی بات ہے جب محمدبن عبدالوہاب نے اپنے نئے نظریات او رافکار کا نشانہ بادیا نشین عربوں کو بنایا تھا ۔
اس زمانے میں محمدبن عبدالوہاب کے نظریات کوسب سے پھلے محمدبن مسعود نے قبول کیا جو عرب کی بادیا نشین آبادی کا بادشاہ تھا ۔
محمدبن عبدالوہاب کہ جس نے بغداد میں تعلیم حاصل کی پھر مدینہ کا رخ کیا تب مقام عوینہ (جو حجاز میں واقع ہے ) کی طرف لوٹ آیا ۔
وہ دردناک واقعہ جو وہابیوںکی قساوت قلبی ، سنگ دلی ، درندگی اور حرص و ہوس پرستی پر دلالت کرتا ہے کہ جسکو وہ ( وہابی ) دین او ردینداری سمجھتے ہیں وہ واقعہ ہے کہ جب وہابیوںکے لشکر نے مسلمانوں کے قتل عام کے لئے پیش قدمی کی ۔
وہابی لشکر کے شھر کربلا کے قریب آنے کی اطلاع اس وقت ہوئی کہ جب کر بلا کے رھنے والے اکثر افراد زیارت کی غرض سے نجف اشرف گئے تھے اور باقی لوگ جو کربلا میں موجود تھے دروازوں کو بند کرنے میں مشغول ہوگئے ۔
وہابیوں کا لشکر چار سو سوار اور چھ سو پیادہ افراد پر مشتمل تھا ، یہ ایک ہزارسپاہیوں پر مشتمل لشکر شھر کے باہر پڑاؤ ڈال کر خیمہ زن ہوا ، پھر اپنی فوج کو تین دستوں میں تقسیم کرنے کے بعد آخر کار ”باب المحیّم“نامی محلہ کی جانب سے شدید حملہ کرنے کے بعد شھر میں داخل ہو گئے ۔
لوگ چار و ںطرف سے تتر بتر ہو کر بھا گ کر جان بچانے کی کوشش کر رھے تھے تب وہابیوں نے امام حسین (ع) کے روضہ کا رخ کیا اور راستہ صاف کرکے روضہ منور تک جا پہونچے روضہ میں گھس کر حضرت کی مقدس ضریح کو توڑدیا اور نھایت بی حرمتی کی اور روضئہ مبارک کی تمام نفیس اشیاء قیمتی ہدایا ، شمعدان ، جھاڑ فانوس بیش بھا قالینیں اور گرانقیمت چراغدان ، گنبد میں لگا ہوا سونا اور تمام ھیرے و جواہرات اور اس طرح کی بہت سی قیمتی چیزوں کو لوٹ کر شھر سے باہرنکل گئے ، اس ظلم و تشدّد پر ہی اکتفاء نہ کیا بلکہ روضہ اقدس کے صحن میں نیز مقدس ضریح کے پاس ظلم و بربریت کا وہ کھیل کھیلا کہ انسانیت بلبلا اٹھی، شیشہ اور آئینوں سے روضہ مبارک کی مزیّن در و دیوار کو مسمار کرتے ہوئے ضریح کے نزدیک پچاس مؤمنین کو ا ورصحن اطھرمیں پانچ سو بے گناہ زائرین کو بڑی بے دردی سے قتل کرڈالا ۔
سفّاک ، سنگدل اور وحشی درندوں نے شھر میں ہر طرف تباہی، لوٹ مار ، قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیا جو بھی نظر آیا ذرّہ برابر رحم کئے بغیر اسے قتل کردیا ،گھروں کو تاراج اور شھر کو ویران کردیا، اس قتل و غارت گری میں مرد عورت پیرو جوان ضعیف و کمزور یھاں تک کہ بچوں پر بھی رحم نہ کیا ، کوئی بھی ان کی درندگی سے محفوظ نہ رہ سکا ، مورخین نے قتل ہونے والوں کی تعداد اکی ہزار اور بعض نے فقط زخمیوں کی تعداد پانچ ہزار تک بتائی ہے،مدینہ کے وہابی ملاؤں نے ۳۴۴ اہ میں جنّت البقیع اور دوسری جگھوں پر مقدس قبروں کو مسمار اور منھدم کرنے کا فتویٰ صادر کردیا اس سال ۸ شوال کو شہزادی کو نین صدیقہ طاہرہ دختر رسول(ص) حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی قبّہ مبارک کو منھدم کرنے کا فتویٰ جاری کیا اس فتوے کے فوراً بعد شہزادی کو نین کی قبر مبارک کو منھدم کردیا گیا ۔
اسکے بعد ہمارے چار امام یعنی حضرت امام حسن مجتبیٰ (ع) امام زین العابدین (ع) امام محمد باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) کے مبارک مرقدوں اور رسولخدا کے چچا جناب عباس پیغمبر اکرم(ص) کے فرزند جناب ابراہیم (ع) اور آنحضرت(ص) کی پھوپھیوں اور بیویوں کی قبروں نیز جناب فاطمہ بنت اسد کی قبر مبارک اور اسلامی لشکر کے سردار رسول خدا کے چچا جناب حمزہ کی قبر مقدس کوبھی منھدم کردیا یھاں تک کہ نشان قبر بھی مٹا نے کی کوشش کی گویا یہ بھیانک جرائم کرکے اس آیہ شریفہ پر عمل کرنے کا ثبوت دیا :
”( قُل لَااَسئَلُکُم عَلَیهِ اَجراً اِلاَّالمُوَدَّةَ فِی القُربیٰ ) “( ۵۲ )
اے پیغمبر ان سے کھدو کہ میں اپنے اقرباء کی مودّت اور محبت کے سوا ء تم لوگوں سے کسی اجر کا طلبگار نہیں ہوں ۔
شیعہ مذہب کے عالی مقام مجتھد اور عظیم مرجع آقائے محمد باقر اصفھانی کہ جو وحید بھبھانی کے نام سے مشھور ہیں ، ان کے نواسے ایک بزرگ اور مشھور عالم علامہ آقائے احمد کرمانشاہی جو اس زمانہ کے مشھور علماء میں سے ہیں اپنی ” مرآةالاحوال جھاں نما “ نامی کتاب میں وہابیوں کے کربلا پر ظالمانہ حملہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں یھاں پر اس کتاب سے کچھ باتیں پیش کردینا مناسب سمجھتے ہیں ،علامہ احمد کرمانشاہی جو اسوقت ( کربلامیں وہابیوں کے ظالمانہ حملہ کے موقع پر ) کرمانشاہ میں تشریف فرماتھے اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
” ان دنوں وہابی جماعت کی کربلائے معّلیٰ اور اس پاک ومقدس شھر میں قتل و غارت گری جو خبریں موصول ہوئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے اس مقدس شھر ( کربلا) اور اسکے اطراف وجوانب میں ساکن افراد ۶ ا ۲ اہ میں عید غدیر کے موقع پر حضرت علی (ع) کے روضئہ اقدس کی زیارت اور حضرت کی ڈیوڑھی پر بوسہ دینے کی غرض سے نجف اشرف گئے ہوئے تھے اور اس شھر میں موجود نہ تھے ، بدنھاد اور منحوس سعود (بادشاہ وقت ) کو جب اس بات کی خبر ہوئی کہ کر بلا کامقدس شھر خالی ہے ، اس نے اس شھر مقدس کو راتوں رات گھیر لیا ، جس وقت ذی الحجہ کے مھینے میں غدیرکے دن مومنین زیارت اور عید کی تیاری میں مشغو ل تھے ، قلعہ کو پوری طرح سے محاصرہ میں لے لےا ،افرادکی کمی اور سامان جنگ کی قلّت اور وہاں کے حاکم ” عمد ناصبی “ کی سستی کی وجہ سے مومنین کی کمر ٹوٹ گئی اور لوگوں کی قوت دم توڑگئی اور مرکز ضلالت کی گمراہ فوج نے قلعہ کے دروازہ کو توڑکر نیز اطراف و جوانب سے شھر میں داخل ہوکر قتل و غارت گری شروع کردی چنانچہ تین ہزار مقدس مجاور اور زائرین درجہ شھادت پر فائز ہوئے ، اور قبہ مبارک نیز حضرت سید الشھداء حضرت امام حسین (ع) کے روضہ اقدس کو ناقابل تلافی نقصان پہونچا اور ضریح مقدس کے جوارمیں بسنے والوں کے گھروں کو تاراج کرڈالا اور زوال کے بعد اس منحوس فوج کے مقام درعیّہ کی طرف چلے جانے کے بعد ظلم اور بربریت کا یہ کھیل ختم ہوا ۔( ۵۳ )
میر عبداللطیف شوشتری جو شھر شوشتر کے نورانی سلسلہ سادات اور سید نعمت الله جزائری کی نسل میں سے ہیں اور صفوی حکومت کے آخر ی دور کے مشھور ومعروف مجتھد اور فقیہ ہیں ، موصوف اپنی” تحفہ العالم “نامی کتاب میں جو ایک سفرنامہ ہونے کے باوجودتاریخی جغرافیائی شعر و ادب اور ھندسہ شناسی کے متعلق اپنے دامن میں بہت سے اہم نکات لئے ہوئے ہے اور فارسی زبان کے سیاست سے متعلق ایک اہم اور قدیمی کتابوں میں شمار ہوتی ہے ، محمد بن عبدالوہاب کے نمایان ہونے اور اسکی منحرف تعلیم و تریبت نیز اسکی باطل فکروں ، کربلائے معلّیٰ پرحملہ ، ضریح مقدس اور قبروں کومنھدم کرنے کے متعلق بہت ہی روشن بیانات ملتے ہیں قارئین محترم کومکمل فائد ہ ،نیز معلومات میں اضافہ کی خاطر مرحوم مجتھد کے بیان کو یھاںپر بیان کردینا مناسب ہے ۔
آپ اپنے سفرنامہ کے اختتام میں کہ جو’ ’ ذیل التحفہ“ کے نام سے موسوم ہے ، تحریر فرماتے ہیں :
”بھرحال جس وقت میں وہاں تھا تو عبدالعزیز وہّابی کی کدورتوں کی خبر موصول ہوئی کہ اس نے ۸ اذی الحجہ ۶ ا ۲ اہ میں عرب کی بدّو فوج کو لے کر کربلائے معلّیٰ کی مقدس سرزمین پر چڑھائی کی، اور تقریباً چار پانچ ہزار مؤمنین کو تہہ تیغ کرڈالا ، اور روضئہ منوّرہ کی جو بے ادبی اور بے حرمتی کی ہے، اسے قلم لکھنے سے قاصر ہے ، شھر کو برباد اور غارت کردیا ، مال و اسباب لوٹ لیا اور تباہی مچانے کے بعد اپنے وطن ”درعیّہ“ کی طرف چلاگیا “
جب بات یھاں تک پہونچ گئی تو مناسب ہے کہ کچھ باتیں وہابیوں کے حالات کے بارے میں رقم کردی جائیں تا کہ قارئین محترم وہابی مذہب سے پورے طور پر آگاہ ہوجائیں ،اور تشنگی محسوس نہ کریں۔
شیخ عبدالوہاب جو وہابیت کی اصل و بنیاد ہے ،نجد کے علاقہ درعیّہ سے تعلق رکھتا تھا ، اپنے زمانہ میں اپنے ہم عمر لوگوں کے درمیان ذھانت میں مشھور تھا ، اور چالاک سمجھا جاتا تھا ،اور سخی بھی تھا ، لہذا جو بھی اسکی دست رسی میں ہوتا تھااپنے تابعین اور مددگاروں میں خرچ کر دیتا تھا،اپنے ہی وطن میں تھوڑی بہت عربی علوم کی تعلیم حاصل کی ، بھر حال حنفی فقہ میں تھوڑی بہت جانکاری کے بعداصفھان کی طرف سفر کیااور و ہاں کے یونانی فلسفی ماحول میں یونانی فلسفہ کے مشھور اساتذہ سے فلسفہ یونانی کے کچھ مسائل سیکھے اور یونانی فلسفہ جو اپنی دلیل خود ہی باطل کرنے کے مترادف ہے او رگویا اپنے لئے خود ہی قبر کھودنے کے برابر ہے ،میں تھوڑی بہت تعلیم حاصل کی، اس کے بعد اپنے وطن واپس چلا آیا اور ۱۱۷۱ ھ میں وہابی مذہب کا علمبردار بن کر ابھرا ، وہ حنفی طریقہ پر عمل پیرا تھا اور اصول میں امام ابوحنیفہ کا مقلّد تھا اور فروع دین میں اپنی رائے پر عمل کرتا تھا ،آخر کار اصول کے بعض مسائل میں بھی ابوحنیفہ کی تقلید کے طوق کو گردن سے اتار کر پھینکا اور اپنی مستقل رائے کا اظھار کرنے لگا، اپنی ذاتی رائے کے مطابق جو بھی اس کو اچھا لگتا تھا وہی کہتا تھا اور اس پر لوگوں کو عمل کرنے کی دعوت دیتا تھا اس کی اپنی ذاتی رائے تھی کہ مسلمانوں کے تمام فرقے یھودی ،عیسائی اور تمام لوگ مشرک او رکافر ہیں اور سب ہی کو بت پرستوں کے زمرے میں شمار کرتا تھا او راپنی اس باطل رائے پر یہ دلیل پیش کرتا تھا کہ مسلمان حضرت رسول اکرم(ص) کی قبر منور پر ،ائمہ ہدیٰ اور اولیاء، اوصیاء کے مقدس روضوں اور پُر نور قبروں سے متوسل ہوتے ہیں، جو خود مٹی اور پتھر سے بنے ہوئے ہیں او رقبر میں سونے والے مردوں سے توسل کرتے ہیں، ان کی قبروں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ان کے آستانوں پر جبین نیاز خم کرتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت میں یہ بت پرستی اور بتوں کی عبادت ہے کہ اگر بتوں کی تصویر یا خود بت یا اس کی مخصوص شکل کو خدا نہ سمجھیں بلکہ یہ کھیں کہ یہ ہمارا قبلہ ہے اور فقط اس کے واسطے سے اپنی حاجتوں کو خدا کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں جیسا کہ یھودی اور عیسائی کلیساؤں او راپنی عبادتگاہوں میں حضرت موسی ٰ (ع) او رحضرت عیسیٰ (ع) کی تصویر نصب کرکے خدا کی بارگاہ میں اپنا شفیع قرار دیتے ہیں جب کہ خدا کی عبادت یہ ہے کہ ذات اقدس کے لئے عبادت کرےں اور سجدہ ریز ہوں او رکسی کو خداوندعالم کا شریک قرار نہ دیں۔
گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے بعض مددگار قبیلوں نے اس کی پیروی کی اور اس طرح نجد کے دیھاتی علاقوں میں مشھور ہوگیا وہ ہمیشہ حضرت رسول اکرم(ص) کے روضہ کی گنبد اور ائمہ کے روضوں کے منھدم کرنے سے متعلق موضوع کو ورد زبان رکھتا تھا اور اس کو اپنا نصب العین اور اپنے منحوس مقاصد کی کامیابی میں رکاوٹ سمجھتا تھا ،وہ ہمیشہ اسی کوشش میں لگا رہتا تھا کہ اگرقدرت وطاقت حاصل ہوجائے تو سب روضوں کو تباہ و برباد کرکے ان مقدس آستانوں کا نام و نشان تک مٹادیں لیکن موت نے اسے مھلت نہ دی اور مرگیا ۔
یھاں تک کہ عبدالعزیز جو محمد بن الوہاب کا ہم عصر تھا خود بھی اور اسکا بیٹا سعود کہ وہ دونوں خلیفہ، جانشین اور امیرالمسلمین جیسے ناموں سے موسوم تھے،انھوں نے بھی نجد اور اسکے اطراف و جوانب کی بستیوں پر اکتفا ء نہیں کی بلکہ دور درازکے شھروں اور علاقوں کو بھی اسی طور طریقہ پر عمل کرنے کو کھا اور انہیں طو رطریقوں کو رائج کرنے میں بہت کو شاں رھے نیز اپنے پیروکا روں کے لئے تمام مسلمان فرقوں کے جان و مال کو حلال قراردے دیا اور اپنے لشکر اور اپنے پیروکاروں کو یہ حکم دیا کہ جس علاقہ میں جاؤ و ہاں کے مردوں کو قتل کرڈالومال و دولت لوٹ لو، لیکن عورتوں اورناموس پر ھاتھ نہ ڈالو اور لشکر کے ہر فرد کو جنگ کے وقت ایک رقعہ خازن جنّت کے نام لکھ دو تا کہ وہ اپنی گردن میں لٹکالے تا کہ جس وقت اسکی روح جسم سے جدا ہو فوراً بغیر کسی سؤال و جواب اور تاخیر کے بہشت میں داخل ہوجائے ، اسکے مرنے کے بعد اس کی آل و اولادکی ذمہ داری لے لی ، اس طرح سے ہر فوجی، مال و دولت او رجنّت کی لالچ میں سکون او راطمینان کے ساتھ جنگ میں قدم رکھنے لگا ۔
چونکہ اگر فتح ہوئی تو مال اور دولت ھاتھ آئے گا او راگر قتل ہوگیا تو اس رقعہ کی وجہ سے ( جو خازن جنّت کے نام اسکی گردن میں آویزاں ہے ) بغیر حساب وکتاب کے جنّت میں داخل ہوجائےگا۔
اس طرح گذشتہ سالوں میں نجد کے آس پاس کے علاوہ اور دوسرے شھر مثلاً احساء ، قطیف، اور بہت سے عرب علاقوں پر ، بصرہ کی حدود تک دوسری طرف عمان کے قریب علاقوں تک اور بنی عقبہ کے تمام علاقوں پر قھر اور غلبہ سے قابض ہو گئے ، لوگوں نے قتل وغارت اورتاراجی اور قید و بند کے مصائب سے تنگ آکر مجبوراً ان کے مذہب اور طو رطریقوں کو اپنا لیا ، اس طرح اسکی حکومت اور اقتدار کا اثر دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیل گیا چندمرتبہ ان کے قھر و غلبہ کے متعلق روم کے بادشاہ اور عجم کے دوسرے بادشاہوں تک یہ خبر بھیجی گئیں اسکے باوجودکسی نے ان کو روکنے کی کوشش نہ کی اور نہ ہی ان کے مقابلہ اور دفاع کے لئے کوئی قدم اٹھایا ،اس کے بعد صاحب کتاب تحفة العالم اس رسالہ کا بعض حصّہ نقل کرتے ہیں جو محمدبن عبدالوہاب نے اپنے اعتقاد اور فتووں کے متعلق لکھا ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے مذکورہ رسالہ کو محمدبن عبدالوہاب کے ماننے والے کے پاس دیکھا ہے اس رسالہ کو عربی ہی میں نقل کرنے کے بعد یہ تحریر فرماتے ہیں۔
اگر چہ اسکی اکثر دلیلیں جو اس نے قرآن کی آیتوں سے استدلال کے طور پر پیش کی ہےں، ان سب کا جواب بھی قرآن ہی کی آیات میں موجود ہے مثال کے طو رپر شعائر اللهکی تعظیم وتکریم رسولخدا(ص) کی اطاعت جو خداوند عالم کی اطاعت ہی میں مضمر ہے لہٰذا جب رسول(ص) کی اطاعت کا فرض اور واجب ہونا ثابت ہوگیا جیسا کہ یہ آیت بھی اطاعت رسو ل(ص) کی تائید کررہی ہے:
”( وَ مَا یَنطِقُ عَنِ الهَوَیٰ اِن هُوَ اِلاّٰ وَحیٌ یُوحیٰ )
آنحضرت(ص)کے فرمان کے مطابق جنت اور ارکان دین کا زبان سے اقرار کرنا بھی مہم ترین واجب او رفریضہ ہے اور جو کچھ آنحضرت یا صاحبان امر سے اپنی مشکلات اور مصیبتوں میں اپنے منافع یا اپنے ضرر سے بچنے کے لئے اپنی زندگی کی خوشحالی یاتنگ دستی کے ایّام میں یا آخر ت میں نجات سے متعلق متوسل ہو، تو اپنے اور خدا کے درمیان ان حضرات وسیلہ اور شفیع قرار دے تو نہ کوئی حرج ہے اور نہ اس سے کسی عقیدہ کو کوئی ٹھیس پہونچتی ہے لیکن وہابی افراد یا محمدبن عبدالوہّا ب کے پاس اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لئے سب سے بڑی اورخطرناک دلیل شمشیر برّان اور تیغ آبدار ہے ، اور ایسی دلیل کا جواب تلواروںکی تیز دھاروں کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا( ۵۴ )
خونین حج او رمسلمانوں کے قتل عام کا دردناک واقعہ
”( اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا ویَصُدُّونَ عَن سَبِیلِ اللهِ وَالمَسجِدِ الحَرَامِ الَّذِی جَعَلنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً العَاکِفِ فِیهِ وَالبَادِ وَ مَن یُرِد فِیهِ باِلِحَادٍ بِطُلمٍ نُذِقْهُ مِن عَذَابٍ اَلِیمٍ ) “( ۵۵ )
” بے شک جو لوگ کافرھوبیٹھے اور خدا کی راہ سے اور مسجد الحرام ( خانہ کعبہ ) سے جسے سب لوگوںکے لئے ( عبادتگاہ ) بنا یا ہے ( اور ) اسمیں شھری اور بیرونی سب کا حق برابر ہے (لوگوں کو) روکتے ہیں(انکو ) اور جو شخص اسمیں شرارت سے گمراہی کرے اسکو ہم دردناک عذاب کامزاچکھا دیں گے “
بغیر کسی شک وشبہ کے حج ایک اہم انسان ساز او راسلام کو پھیلانے کے لئے بہت ہی عظیم عبادت اور نھایت مؤثر ذریعہ ہے، حج میں بہت سی ایسی خصوصیات او رصفات پائی جاتی ہے جو حج کو تمام عبادتوں سے ممتاز بنادیتی ہےں ، ہم یھاں پر حج کو مختلف گوشوں اور پھلووں کی طرف مختصرسا اشارہ کریں گے اور پھر اس دردناک اور افسوس ناک واقعہ کے متعلق کچھ بیان کریں گے جو سعودی حکومت کے نوکروں نے ایرانی ( اور غیر ایرانی ) حاجیوں کا حج کے دوران قتل عام کیا ہے ۔
حج، دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے ہے
اور کسی مخصوص قوم یا نسل سے تعلق نہیں رکھتا
خداوند عالم قرآن مجید میں حج کے متعلق فرماتاہے ۔
”( وَاَذِّن فِی النَّاسِ بِالحَجِّ یَاتُو کَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَاتِینَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ ) “( ۵۶ )
”اور لوگوں کے در میان حج کا اعلان کرو تا کہ لوگ ہر طرف سے جس طرح بھی ممکن ہوپیدل یا سوار ہو کر دور دراز علاقوں سے آ پ کی آواز پر لبیک کھیں اور خانہ خدا کی زیارت سے مشرّف ہوں ،اور حج کے لئے ہر ممکن وسیلہ سے استفادہ کریں “
قرآن مجید دوسرے جگہ فرماتا ہے:( سَوَاءً العَاکِفِ ِفیهِ وَ البَادِ ) “
خانہ خدا سب کے لئے برابر ہے چاہے مقامی افراد ہوں یا با ھرسے آنے والے مسافر،لہٰذا حج خدا کے سامنے تمام انسا نوں کو برابری کو کا درس دیتا ہے،اور حج انسانوں کے آپسی تعلقات میں مساوات کا عملی درس ہے ، اور انھی مفاہیم کے پیش نظر حج کے سیاسی پھلو کی ابتدا ہوتی ہے،لہٰذا حج برابری اور مساوات کا اعلان ہے اور تبعیض جیسی ظالم اور درد ناک رسوم کے باطل کرنے کا حکم اور احساس برتری جیسی لعنت کو معاشرے سے دور کرنے کا اعلان ہے۔
قرآن اور وحی کی اصطلاح میں حج کسی خاص سرزمین کے افراد سے مخصوص نہیں بلکہ یہ خدا کی عبادت کے لئے ایک عام دعوت ہے حج کے روحانی سفر میں کوئی بھی شخص کسی دوسرے پر برتری نہیں رکھتا ۔
اس معنوی سفر میں مقام کا دور ہونا بھی قریب محسوس ہوتا ہے قران مجید کے فرمان کے مطابق وہ مسجد جو حرم کعبہ میں بنائی گئی ہے اور تمام لوگوں کے لئے نماز ودعا اور طواف کی جگہ اور مقام ہے کہ ، سب لوگوں کے لئے برابر قرار دی گئی ہے لہذا اس اعتبار سے مکہ میں رھنے والے اور دور درازسے آنے والے مسافروں میں کوئی فرق نہیں ہے ، حج اس دنیا سے تعلقات اور روابط سے جدا ہوکر خداوند عالم کی طرف ایک طرح کی ہجرت ہے۔
معمار کعبہ وہ بت شکن اور مجاہد مرد تھا جو ہمیشہ ظلم سے برسرپیکار رہا اور ایسا اہل سیاست تھا جو اپنے زمانے میں رائج ایسے سیاسی نظام سے ٹکرایا جس میں بت پرستی ایک عام بات اور لوگوں کو جاہل رکھنارواج پاچکا تھا ،اور ان کی مقدس ترین چیز بتوں کو توڑ ڈالا اور اس عمل سے ان ظالموں کے ظاہر بظاہر اعلان جنگ فرمایا لہذا اس اعتبار سے بھی حج ایک سیاسی پھلو رکھتا ہے چونکہ کعبہ کا بنانے والا معمار اور بانی ایک سیاسی مدبّر ،مجاہد ، یکتاپرست اور ایثار وقربانی دینے والا شخص تھا ۔
خداوند عالم قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد فرماتاہے :
”( وَطَهِّرَبَیتِی لِلطَّائِفِینَ وَ القَائِمِینَ وَالرُّکعَّ ِالسُّجُودِ ) “( ۵۷ )
”اے ابراہیم تم ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں،قیام کرنے والوں اوررکوع و سجودکرنے والوں کے لئے پاک وپاکیزہ بناؤ“
اس آیت کی روسے خانہ کعبہ کو ہر نجاست سے پاک و پاکیزہ ہونا چاہئے اور چونکہ خود قرآن مجیدمیں شرک کو گناہ اورگناہ کو نجاست کھاگیا ہے ،لہٰذا حرم امن الٰھی میں ظلم و ستم کے لئے کوئی جگہ نہیں اور حرم الٰھی کو ظلم و ستم سے پاک و پاکیزہ بنا نالازم اور ضروری ہے ،آیہ شریفہ میں ”وَطَہِّر بَیتِی “ے فقط ظاہری نجاست سے پاک و صاف کرنا ہی مراد نہیں ہے بلکہ حرم امن جو حضرت جبرئیل کے رفت آمد کی جگہ ہے مشرکوںکے شرک اور ظالموں کے ظلم سے پاک وپاکیزہ کرنا بھی مراد ہے ،یعنی خدا وند عالم فرماتا ہے کہ میرے گھر کو ظلم و ستم کی نجاست سے پاک و پاکیزہ رکھو ،لہٰذا خانہ خدا سے ظلم و ستم نیز ظالموں کو مٹانا ایک طرح سے خانہ خدا کو پاک رکھنا ہی ہے ،اور یہ کا م طبّی دستور کے مطابق ایک معنوی اور روحانی فریضہ ہے ویسے ہی ایک عظیم سیاسی وظیفہ بھی ہے ،تب ہی خداوند عالم تھدید و خوف دلا رہا ہے کہ جو ظالم بھی حرم کعبہ پر تجاوز کا ارادہ کرے (چاہے کعبہ کی ظاہری شکل کو ختم کرنا چاہے یا اسکے روحانی اور معنوی اثر کوختم کرنا چاہے ) یا حاجیوں کو روکے (زمانہ حاضر کی طرح رسوم شرعیہ اور اعمال و مناسک حج پر عمل کرنے سے روکے ) اور ظلم کے ساتھ شرک پھیلا ئے تو ایسا شخص اپنے شرمناک ارادہ میں کامیاب ہونے سے پھلے ہی دردناک عذاب میں مبتلا ہو جائیگا ،(انشاء اللہ)قرآن مجیدکا اعلان ہے کہ حج اورخانہ خدا کی زیارت کے بارے میں ظلم و ستم کا ارادہ بھی الٰھی انتقام کا سبب ہے:
”( وَ مَن یُرِد فِیهِ بِاِلحَادٍ بِظُلمٍ نُذِقهُ مِن عَذَابٍ اَلِیمٍ ) “
”جو بھی حرم امن میں ظلم کے ساتھ الحا دو شرک کا ارادہ کرے (اور صراط الٰھی کو مسدود کرنا چاہے اور لوگوں کو خانہ خدا کی زیارت اور مسجد الحرام میں عبادت کرنے سے روکے ) ہم اسکو دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے“
اسی وجہ سے ہماری روایات کی کتابوں میں ایک باب بنام ”باب من ارادلکعبہ بسوء“کے عنوان کے تحت نقل ہوا ہے اورائمہ معصومین (ع)سے اس بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ۔
حج کے متعلق اسلامی حکومت کی ذمہ داریاں
خانہ کعبہ کی زیارت اور اعمال حج کاا نجام دینا ، دین اسلام کے ان اہم ترین واجبات میں سے ہے کہ اگر کوئی مسلمان بغیر کسی عذر کے وظیفہ حج کو انجام نہ دے تومرتے وقت اس سے کھاجائیگا کہ یہ شخص مسلمانوں کی صف سے خارج ہے اور ایسے شخص کو غیر مسلموں کی صف میں لکھا جائیگا، حضرت علی (ع) کی وصیت سے استفادہ ہوتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی زیارت بالکل ترک کردی جائے تو عذاب الٰھی کا نازل ہوناایک فوری عمل ہے اور بغیر کسی مھلت کے عذاب نازل ہو جا ئیگا ، ”اللهُ اَللهُفِی بَیتِ رَبِّکُم فَاِنَّہُ اِن تُرِکَ لَم تَنَاظَرُوا“
اگر کوئی سال ایسا آئے کہ لوگ کعبہ کی زیارت نہ کرنے جائیں اور خانہ خدا کا کوئی زائر اور حاجی نہ ہو، تو اسلامی حکومت پر واجب ہے کہ بیت المال کے خرچ سے لوگوں کو حج کے لئے بھیجے جیسا کہ حضرت امام صادق(ع)نے فرمایا ہے:
” لَو عَطَّلَ النَّاسُ الحَجََّ لَوَجَبَ عَلَی الِامَامِ اَن یَجُرَّهُم عَلَی الحَجِّ اِن شَاؤُوا وَ اِن اَبَوا فَاِنَّ هَذَا البَیتَ اِنَّمَا وَضَعَ لِلحَجِّ فَاِن لَم یَکُن لَهُم اَموَالٌ اَنفَقَ عَلَیهِم مِن بَیتِ مَالِ المُسلِمِینَ “
اس بنا پر حج اسلام کا سیاسی عبادی پھلو ہے اگرچہ (ہمارادین و ہی ہے جو ہماری سیاست ہے اور ہماری سیاست بھی و ہی ہے جو ہمارا دین ہے)
یعنی ہمارا دین اور سیاست ایک ہی چیز ہے اور حج کا سیاسی عبادی ہونا ان وظائف پر غور کرنے سے بھی ثابت ہوتا ہے جو مسلمانوں کے پیشوا اور امام کی ذمہ داری ہے او رحج کا سیاسی عبادی ہونا ان احکامات سے ثابت ہے اور بخوبی ظاہر ہے کہ جو حکومت اسلامی کے لئے پیش کئے گئے ہیں ، لہٰذا اس اعتبار سے بھی حج کے بہت سے سیاسی پھلو ہیں ۔
____________________
[۱] وہ افراد جو رسول اسلام(ص) کے زمانہ میں ” علی (ع) کے شیعہ“ کے نام سے جانے جاتے تھے اور اس نام سے مشھور ہوئے جناب سلمان ، ابوذر ، مقداد اور عمار یاسر تھے۔ ( حاضر العالم اسلامی جلد ا ص ۸۸ا ۔)
[۲] اس حدیث کے ذیل میں ہے : حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا(ص)کی خدمت میں عرض کیا جبکہ میں سب سے چھوٹا ہوںلیکن آپ کی دعوت پر لبیک کہتا ہوں تو پیغمبر(ص) نے میری گردن پر اپنے دست مبارک کو رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی، میرا وصی، میرا جانشین اورمیرا خلیفہ ہے، اسکی اطاعت کرو۔لوگ ھنسے، اور ابوطالب سے کھا کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے بیٹے کی اطاعت کرو۔ (تاریخ طبری جلد ۶۳ تاریخ الفداء جلد اص۱۱۶، البدایة و النھایةجلد ۳ ص ۳۹ ،غایة المرام ص ۳۲۰۔
[۳] جناب ام سلمیٰ کہتی ہیں کہ رسول خدا(ص) فرماتے تھے علی (ع) ہمیشہ حق اور قرآن کے ساتھ ہیں اور حق و قرآن علی (ع) کے ساتھ ہےں اور قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوںگے یہ حدیث ۵ا /سندوں کے ساتھ اہل سنت کی کتابوں اور اا/ سندوں کے ساتھ شیعہ علماء کی کتابوں میں موجود ہے ، اور اس روایت کو نقل کرنے والے ابن عباس ، ابو بکر ، ابو ایوب انصاری ، حضرت علی (ع) ، عائشہ ، ام سلمیٰ ، ابو سعید خدری ، ابو لیلیٰ ہیں ، جناب عائشہ مزیدکہتی ہیں کہ رسول(ص) نے فرمایا : خداوندا ! علی (ع) پر رحمت نازل کر، کہ حق ہمیشہ علی (ع) کے ساتھ ہے ، البدایة و النھایة جلد ۷ ص۳۶ ، عایة المرام بحرانی ص ۵۳۹سے لیکر ص ۵۴۰تک ۔
[۴] حضرت رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ حکمت کے دس جزء ہیں ان میں سے نو جزء علی (ع) کے پاس ہیں اور ایک میں تمام لوگ شریک ہیں ۔
[۵] جب کفار مکہ نے قصد کیا کہ رسول(ص) کو قتل کرڈالیں اور آپ کے گھر کے چاروں طرف جمع ہوگئے تو رسول خدا(ص) نے ( حکم خداسے) مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا ، اس موقع پر حضرت علی (ع) سے فرمایا کہ کیا آج کی شب تم میرے بسترپر سوسکتے ہو ؟ تاکہ ( کفار مکہ ) گمان کریں کہ میں سورہا ہوں اور اس طرح سے میں ان کے شرّ سے محفوظ رھوں، حضرت علی(ع) نے رسول خدا(ص) کی اس تجویز پر اس خطرناک او رخوف زدہ ماحول میں دل و جان سے لبیک کھی ۔
[۶] قارئین محترم حوالہ کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں کہ جنکے نام ذیل میں ذکر کئے جارھے ہیں، اگر چہ ان کے علاوہ دسیوں کتابوں میں یہ حقیقتیں مرقوم ہیں جو حضرت علی (ع) کے فضائل میں لکھی گئی ہیں:
ا۔ علی (ع) اہل سنّت کی کتابوں میں ۔ ۲، آئینہ ہدایت در اثبات ولایت۔ ۳۔ فروغ ولایت ۴۔الصراط المستقیم۔ ۵۔ عقائد الانسان ۶۔ عمدة عیون صحاح الاخبار فی مناقب امام الابرار ۔ ۷۔مناقب ابن شھر آشوب وغیرہ ۔
غدیر خم سے متعلق روایت جسکو شیعہ وسنّی سبھی متّفقہ طور سے قبول کرتے ہیں اگر چہ ابن تیمیہ او راسکے بیٹے !محمدبن عبدالوہاب نے اپنی کتاب بنام ” ردّ بررافضہ “ ( شیعیت کی ردّ) میں اس حدیث کو معتبر نہیں جانا ہے اور علی (ع) کے حق مسلم سے چشم پوشی کی گئی ہے ، لیکن ۱۰۰/ سے زیادہ اصحاب رسول نے مختلف سندوں اور عبارتوں سے اس حدیث رسول اکرم(ص) کو نقل کیا ہے ، قارئین محترم مزید تفصیلات کے لئے درج ذیل کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔
غایة المرام ص ۷۹ ، عبقات الانوار حدیث غدیر سے متعلقہ جلد اور ” الغدیر “ جیسی گرانقدر کتابیں ۔
[۷] تاریخ یعقوبی مطبوعہ نجف اشرف عراق جلد ۲ ص ۳۷اسے ۴۰اتک ۔ تاریخ ابو الفداء جلد اول ص۵۶ا، صحیح بخاری جلد ۴ ص ۰۷ا ، مروج الذھب مؤلفہ مسعودی جلد ۲ ص ۴۳۷ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلدا ص ا۶ا۔
[۸] صحیح مسلم جلد ۵ ص ۷۶ا، صحیح بخاری جلد ۴ ص ۲۰۷، مروج الذھب مسعودی جلد ۲ ص۲۳ و ص ۴۳۷ ،تاریخ ابی الفداء جلد ا ص ۲۷ ا ، ا۸ا۔
[۹] جابربن عبدالله انصاری فرماتے ہیں کہ ہم رسول(ص) کے پاس بیٹھے تھے دور سے حضرت علی (ع) کی جھلک دکھائی دی تو رسول(ص) نے فرمایا کہ : جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اسکی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ یہ شخص (حضرت علی (ع)) اور اسکے شیعہ قیامت میں نجات پائیں گے ۔
[۱۰] حضرت رسول(ص) نے آخری عمر میں اپنی بیماری کے دوران ایک لشکر کو اسامہ بن زید کی سرداری میں مترتب کیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا کہ سبھی مدینہ سے باہر جاکر اس جنگ میں شرکت کریں ، لیکن کچھ لوگوں نے پیغمبر(ص) کے اس حکم اور تاکید کی پیروی نہ کی ،ان میں سے ابوبکر اور عمر بھی تھے اس مسئلہ نے پیغمبر (ص) کو ( اس بیماری کی حالت میں ) بہت رنجیدہ کر دیااس مسئلہ کی تفصیل اور پیغمبر، کا مذکورہ مسئلہ سے متعلق ردّ عمل تاریخی کتابوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں مثلاً شرح ابن ابی الحدید مطبوعہ مصر جلد ا ص۵۳ ، ایک ایسا نوشتہ لکھ دو ںتا کہ قیامت تک تم
اس بات کی عکاسی کر رھے تھے ، لیکن سبھی کی امیدوں کے بر خلاف جب رسول(ص) نے رحلت فرمائی اورابھی آپ کا جنازہ دفن بھی نہ ہونے پایا تھا ، اہلبیت (ع) اور کچھ اصحاب غمزدہ حالت میں تجھیزوتکفین میں مشغول تھے ، با خبر ہوئے کہ کچھ لوگوں نے اگرچہ بعد میں اکثریت انہیں کے ساتھ ہوگئی، اہلبیت (ع) اور آپ کے چاہنے والوں سے مشورت یا کسی قسم کی کوئی اطلاع دے بغیر مسلمانوں کی خیر خواہی کے نام پر بہت تیزی سے خلافت کا انتخاب کرلیا ہے ۔
[۱۱] شرح نہج البلاغہ مؤلفہ ابن ابی الحدید جلد ا ص ۵۸ اور ص ۲۳ا سے ص ۳۵ا تک ، تاریخ یعقوبی جلد ۲ ص ۰۲ا، تاریخ طبرسی جلد ۲ ص ۴۴۵ سے ص ۴۴۶تک ، قارئین محترم اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کتاب بنام ” زندگانی علی (ع) “ مؤلفہ جناب رسولی محلّاتی کی طرف رجوع فرما سکتے ہیں ۔
[۱۲] تاریخ یعقوبی جلد ۲ ص ۰۳ا سے ص ۰۶ا تک ، تاریخ ابی الفداء جلد ا ص ۵۶ا اور ص۶۶ا ، مروج الذھب مسعودی جلد ۲ ص ۳۰۷ اور ص ۳۵۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد اول ص ۷ا ، ۳۴ا۔
[۱۳] عمر بن حریث نے سعید بن زید سے سؤال کیا کہ کیا کسی نے ابوبکر کی بیعت کی مخالفت کی ؟ تو اس نے ( سعید بن زید نے ) جواب دیا : کسی نے بھی مخالفت نہیں کی سوائے ان افرادکے کہ جو مرتد ہو گئے تھے یامرتد ہونے کی منزل میں تھے ! تاریخ طبری جلد ۲ ص ۴۴۷۔
[۱۴] رسول اسلام(ص) سے مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : میں شھر علم ہوں اورحضرت علی (ع)اسکے دروازہ ہیں، بس جو بھی علم کا طالب ہے اسے چاہئیے کہ دروازہ سے داخل ہو ، البدایة و النھایة جلد ۷ ص ۳۵۹ ۔
[۱۵] رسول اسلام(ص)، مشھور و معروف حدیث ” ثقلین “ میں فرماتے ہیں :
[۱۶] اس بحث کو قلمبند کرنے میں علامہ طباطبائی (رہ) کی گرانقدر کتاب بنام” شیعہ در اسلام“ سے کچھ توضیحات اور دخل و تصرف کے ساتھ استفادہ کیا گیا ہے۔
[۱۷] سورہ حجر آیت ۹ ۔
[۱۸] سورہ فصّلت آیت۴۱، ۴۲۔
[۱۹] قرآن در اسلام مؤلفہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی ص ۳۴ا مطبوعہ دفتر انتشارات اسلامی ۔
[۲۰] سورہ نحل آیت ۰۶ا۔
[۲۱] ہم نے اس حصہ کو قلم بند کرنے میں ، کتاب ” مسائل اعتقادی از دیدگاہ تشیع“ مؤلفہ عالم محقق مرحوم شیخ محمد رضامظفر (رہ)سے استفادہ کیا ہے قارئین محترم کتاب ” آئین ما“ مؤلفہ عالم مجاہد مرحوم شیخ محمد حسین کاشف الغطاء نیز تفسیر المیزان او رتفسیر نمونہ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
[۲۲] سورہ نساء آیت ۳۶۔
[۲۳] سورہ یٰس آیت۶۰۔
[۲۴] سورہ فرقان آیت ۴۳۔
[۲۵] سورہ اعراف آیت ۷۹ا ۔
[۲۶] ۔ اس بحث کی تحریر میں مرحوم علامہ استاد طباطبائی (رہ) کی گرانقدر کتاب بنام ” قرآن در اسلام “ سے استفادہ کیا ہے
[۲۷] سورہ غافر آیت اا۔
[۲۸] سورہ یٰس آیت ۷۸،۷۹)
[۲۹] سورہ یٰس آیت ۷۸۔
[۳۰] سورہ یٰس آیت ۷۹۔
[۳۱] سورہ آل عمران آیت ۴۹۔
[۳۲] سورہ بقرہ آیت ۲۵۹۔
[۳۳] رجعت سے متعلق جو روایتیں ہمارے یھاں ہیں ان کی اہم یت کے بارے میں بہت سی باتیں موجود ہیں ،لیکن ہم صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفاء کرتے ہیں کہ مرحوم شیخ حرّ عاملی (رہ) نے اپنی گرانقدر کتاب ”الایقاظ“ میں بطور خاص رجعت کے سلسلہ میں بیان کیا ہے ( جسکی تصحیح استاد سید ھاشم رسولی محلاتی نے کی ہے) اور ترجمہ حضرت آیت الله جنتی نے کیا ہے اوریہ کتاب طبع بھی ہو چکی ہے ) رجعت سے متعلق بہت سی روایات نقل کی ہےں اور آخر میں فرمایا ہے کہ اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں موجود ہیں کہ جن کو یھاں نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور اس بارے میں شیعہ اور سنی دونوں ہی سے روایت تواتر کی حدتک ہیں ۔
علماء اہل سنّت میں سے حُمَیدی نے ”الجمع بین الصحیحین “ نامی کتاب میں اور زمخشری نے تفسیر کشاف میں نقل کیا ہے ، مرحوم علامہ طباطبائی اپنی نفیس تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں :
رجعت سے متعلق روایتیں آل رسول(ص) سے بطور ” تواتر معنوی “ نقل ہوئی ہیں یعنی ان روایتوں کے مضامین اتنے مختلف افراد کی کئی مختلف طریقوں سے نقل ہوئے ہیں کہ جس کے بعد کسی طرح کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا یھاںتک کہ صدر اسلام سے ہی رجعت کا عقیدہ شیعوں اور شیعوں کے ائمہ (ع) کی خصوصیات میں سے شمار کیا جاتا ہے اور اگر بالفرض ہم یہ تسلیم کرلیں کہ روایتوںکو الگ الگ کرکے خدشہ کیا جائے ، تو اس سے بھی رجعت جیسے اہم مسئلہ کو کوئی نقصان نہ پہونچے گا جبکہ بہت سی آیتیں اور روایتیں رجعت کے بارے میں وارد ہوچکی ہیں جن کی دلالت تمام ہے اور بطور کامل ان پر اعتماد کیاجاسکتا ہے ان سب کے علاوہ ایک اجمالی استدلال بھی رجعت سے متعلق قرآنی آیات کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ بعض آیات میں جیسے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۴ا۲ میں خداوند عالم فرماتا ہے:
”اَم حَسِبتُم اَن تَدخُلُوا الجُنَُةَ وَ لَمَّا یَاتِکُم مَثَلُ الَّذِینَ خَلَوا مِن قَبلِکُم “
اس آیہ کریمہ سے استفادہ ہوتا ہے وہ واقعیات کہ جو گذشتہ امتوں میں رونما ہوئے اسکے مثل اس امّت میں بھی واقع ہوں گے اور وہ حوادث جو سابقہ امتوں کے لئے پیش آئے جیسے مردوں کو زندہ کرنا ، چنانچہ قرآن کریم نے جناب ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ عزیر اور ارمیا(علیہم السلام)کی داستان نقل کی ہے، اور ایک روایت کے مطابق کہ جو شیعہ اور سنّی دونوں ہی نقل کرتے ہےں حضرت رسول اکرم(ص) نے فرمایا:
قسم اس معبود کی جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم سے پھلے آنے والے جن راہوں پر چلے ہیں، تم بھی قدم بقدم ان راہوں پر چلوگے اور ان کی طرح عمل کروگے اور ان کی راہوں سے جدا نہ ہوسکوگےمخصوصاً بنی اسرائیل کے طور اور طریقوں سے۔( تفسیرالمیزان جلد ۳ ص۵۲ا)
ہم یھاں پرایک نکتہ بطور یادآوری ذکر کرنا ضرور ی سمجھتے ہیں وہ یہ کہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ عامیانہ اور پھلی نظر میں رجعت جیسے مسائل جسکا اہل سنّت انکار کرتے ہیں کو چھیڑکر اتحاد اسلامی اور مسلمین کی وحدت میں رخنہ اندازی تصورکریں جبکہ ہماری نظر میں وحدت کا مفھوم یہ نہیں ہے کہ اسلام کے مختلف فرقے اپنے اپنے عقائد کو بالائے طاق رکھدیں اور مختلف فرقوں کے فقط مشترکات کو لے لیا جائے اور ہر فرقے کی خصوصیات کو چھوڑدیں کیونکہ اس صورت میں تو ایک نیا فرقہ وجود میں آجائیگا بلکہ واقعیت تویہ ہے کہ جو چیزیں اختلافی اور جدائی کا سبب اور استعمار کے گھس بیٹھنے اور فتنہ پھیلانے کا سبب بنتی ہیں اور ان کے لئے موقع فراہم کرتی ہیں ، مختلف فرقوں کا ایک دوسرے کے عقائد سے آشنا نہ ہونا ضروری ہے ۔
محترمانہ ، مؤدبانہ پیش کش اور مستدل اور مستند گفتگو جوسب وشتم سے خالی ہو تو بھر حال یہ دقیق علمی بحثیں مزید ایک دوسرے کے عقائد سے آشنائی کاسبب بنیں گی توپھر کسی کوبدبینی ، نفرت، اختلاف پھیلانے اور تفرقے کرنے کا موقع نہ مل سکے ،ہمارے اور سنی برادران کے در میان اختلاف ڈالنے اورپھیلانے کی راہ بھی بند ہوجائیگی جتنی بھی ایک فرقے کی دوسرے فرقے کی بنسبت شناخت بڑھے گی چاہے وہ فقھی پھلو ہوں یا اعتقادی اور کلامی بحث ، سبب بنے گی کہ تفاہم کے ساتھ مزید ایک دوسرے سے نزدیک ہوجائیں، اور یہ بات وہم وجھوٹ اور ایک دوسرے پر تہم تیں لگانے سے دوری کا سبب بنے گی، تو پھر آپ بتائیں کہ یہ ” مسئلہ رجعت“ کس طرح اختلاف کا سبب بن سکتا ہے اور کھاں سے وحدت کے منافی ہے؟ بلکہ خود یہی مسئلہ ایک طرح سے تقریب اور وحدت کا سبب ہے ۔
استاد شھید مطھری (رہ) کا یہ جملہ کتنا دل نشین ہے کہ ہم شیعہ ہیں اور ہمیں اہلبیت (ع) کی پیروی پرفخر ہے ، اور چھوٹی سے چھوٹی چیز حتی ایک مستحب یا مکروہ کے بارے میں بھی ہم مصالحہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں کسی کو کوئی توقع رکھنی چاہئے اور نہ ہی ہمیں یہ امید دوسروں سے ہے کہ مصلحت کے نام پر اور اتحاد اسلامی کی خاطر اپنے اصول میں سے کسی ایک اصل کو چھوڑ دیں بلکہ ان سے ہماری آرزو اور امید یہ ہے کہ حسن تفاہم کے لئے فضا ہموار ہو تا کہ ہمارے یھاں جو اصول اور فرو ع ہیںمانند فقہ ، حدیث ، کلام فلسفہ و تفسیر اور ادبیات جسکے سب سے بہتر اور عالی ہو نے کے ہم دعوے دار ہیں ثابت کر سکیں تا کہ شیعیت کو اب مزید نقصان نہ پھو نچے او رجھان اسلام کا دروازہ شیعہ معارف اسلامی کے لئے بندنہ رھے ۔
بھر حال اسلامی اتحاد کی مہم اس بات کا سبب نہیں بنتی کہ حقائق کو بیان نہ کیا جائے یا عقائد کو بیان کرنے میں کوتاہی کی جائے، صرف ان چیزوں اور کاموں سے پرہیز کرنا چاہئے جو احساس کو جریحہ دار او ر تعصب اور نفرت کو ایجاد کرنے کا سبب بنتی ہوں، لیکن جھاں تک علمی بحث اور گفتگو کی بات ہے تو اسکا دا ئرہ عقل اورمنطق ہے نہ کہ جذبات اور احساسات ۔
بحمد لله اس زمانہ میں بہت سے ایسے شیعہ محققین ہیں جو اس پسندیدہ راہ و روش کو اپنا ئے ہو ئے ہیں ایسے محققین کی فھرست میں سب سے پھلا نام مرحوم آیت الله سید شرف الدین جبل عاملی(رہ) اور علامہ کبیر شیخ محمد حسین کاشف الغطاء و علامہ بزرگوا رشیخ عبد الحسین امینی صاحب کتاب الغدیر کا ہے،اسی طرح علماء اہل سنّت میں ”شیخ محمد شلتوت“ او ر” شیخ سلیم “ اوردوسرے اسا تید اور محققین کا نام لیا جانا چاہئے ۔
خو د حضرت علی (ع) کی فراموش شدہ ” قولی“ او ر”عملی “سیرت جو آپ کی زندگانی طیبہ سے ظاہر ہے ، ہمارے لئے مذکور ہ مسئلہ کے لئے بہترین درس ہے ،حضرت علی علیہ السلام نے اپنے حق کے اظھار اورمطالبہ سے دریغ نہ کیا اور اپنے حق کے غصب کرنے والوں سے ہمیشہ ناراض رھے او رمختلف مواقع پر اسکا اظھار کرتے رھے،( جبکہ علی (ع) کو دوسروں سے کھیں زیادہ اسلامی اتحاد کا خیال تھا او رہم یشہ اتحاد کے متعلق ذمہ داری کا احساس کر تے تھے ) پھر بھی حق کے مطالبہ کو اتحاد کے منافی نہ جانا ۔
نہج البلاغہ کے بہت سے خطبے ہمارے اس دعوے کے شاہد ہیں جوچھپائے نہیں جاسکتے۔
اس صورتحال کے باوجودیہ مظالم اس بات کا سبب نہ بنے کہ بیگانوں او رخارجیوں کے مقابلہ میں مسلمین کی جماعت سے الگ ہو جائیںجمعہ و جماعت میں شرکت نہ کریں یھاں تک کہجنگی غنائم میں سے اپنے حصہ کو لیتے رھے، نیز خلفاء کی راہنمائی اور موقع بموقع نصیحت فر ما تے تھے ۔
( اقتباس از کتاب ”امامت و سیاست“ شھید مطھر ی (رہ)تھوڑے دخل وتصرف کے ساتھ)
الحمد لله، اس زمانہ میں ایران اسلامی میں شیعہ او ر سنّی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کفر و استکبار کے خلاف محاذ آرائی کئے ہوئے ہیں او ر سب متحدھوکر امام خمینی (رہ) کی پیروی و اطاعت کرتے ہوئے، استعمار اوراستعمار گروں کے خلاف نبرد آزما ہیں ، خداوند متعال اس اتحاد او رانسجام کو روز افزو ن ترقی عطا فرمائے۔ انشاء الله ۔
[۳۴] اس حصہ کی تحریر میں علامہ مرحوم مظفر (رہ) کی کتاب ”مسائل اعتقادی ازدیدگاہ تشیع“ سے تھوڑے دخل وتصرف کے ساتھ استفادہ کیا ہے، قارئین کرام اس موضوع سے متعلق مزید آگھی کے لئے حضرت آیت اللہ رفیعی کی کتاب ”رجعت ومعراج “ اور جناب محمد خادمی کی کتاب ”رجعت یا دولت کریمہ خاندان وحی“ کا مطالعہ کریں۔
[۳۵] سورہ شعراء آیت ۲۳۔
[۳۶] سورہ سباآیت۴۷۔
[۳۷] سورہ ممتحنہ آیت نمبر ۶۔
[۳۸] اس حصہ کی تحریر میں ہم استاد شھید مطھری (رہ) کی کتاب ”دافعہ علی (ع) “ سے استفادہ کیا ہے، قارئین کرام مزید آگاہی کے لئے درج ذیل کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں: ۱۔علی در کتب اہل سنت ۔ ۲۔فروغ ولایت۔ ۳۔آئینہ ہدایت در اثبات ولایت۔ ۴۔مناقب ابن شھر آشوب۔
[۳۹] سورہ رعد آیت ۳۹۔
[۴۰] ہم نے اس حصہ کو قلمبند کرنے میں مرحوم علامہ شیخ محمدرضا مظفر (رہ)کی کتاب ”مسائل اعتقادی از دیدگاہ تشیع“ سے استفادہ کیا ہے چونکہ فلسفی نقطہ نظر سے بداء کا مسئلہ اتنا عمیق اور مشکل ہے جس کے متعلق ایک مستقل کتاب لکھ کر امّت اسلامی کی خدمت میں پیش کرونگا انشاء اللہ، فی الحال متعلقہ موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں:۱۔گوہر مراد، مولفہ جناب لاہیجی، ۲۔کشف الاسرار مولفہ امام خمینی (رہ) ، ۳۔تفسیر نمونہ، کلمات مکنونہ مولفہ فیض کاشانی،۵۔شناخت دین مولفہ آیت اللھی، ۶۔داوری وجدان مولفہ شیخ راضی نجفی تبریزی، ۷۔جبر واختیار مولفہ زین العابدین قربانی۔
[۴۱] اس حصہ کی تحریر او رتالیف میں بھی مرحوم مظفر(رہ) کی کتاب ”مسائل اعتقادی از دیدگاہ تشیع“ سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
[۴۲] تجزیہ وتحلیل عقائد فرقہ وہابی، مولف : آیت اللہ سید محمد قزوینی، ترجمہ ونگارش علی دوانی ص ۲۲۵۔
[۴۳] سورہ احزاب آیت ۶۲۔
[۴۴] راہ ما راہ وروش پیامبر مااست“ مولفہ مرحوم علامہ امینی (رہ) ، مترجم جناب محمد باقر شریف موسوی ہمدانی ص ۷۷، مطبع دار العلم قم المقدس ،ایران۔
[۴۵] تجزیہ و تحلیل عقائد فرقہ وہّابی مولفہ آیت الله مرحوم سید محمد قزوینی مترجم علی داونی مطبع ، قدر ص ۲۵۔
[۴۶] سورہ مائدہ آیت ۵۰۔
[۴۷] تجزیہ و تحلیل عقائد فرقہ وہّابی مولفہ آیت الله مرحوم سید محمد قزوینی مترجم علی داونی مطبع قدر ص ۳۸۔
[۴۸] سورہ بقرہ آیت ۲۵۲۔
[۴۹] تجزیہ و تحلیل عقائد فرقہ وہّابی مولفہ آیت الله مرحوم سید محمد قزوینی مترجم علی داونی مطبع قدر،ص ا۴۔
[۵۰] سورہ نساء آیت ۹۴۔
[۵۱] نشریہ حوزہ نمبرآبان ۳۶۵ا س ص ۷۶ ۔
[۵۲] سورہ شوریٰ آیت ۲۳۔
[۵۳] تجزیہ و تحلیل عقائد فرقہ وہّابی ص ا۲ ۔
[۵۴] تحفة العالم و ذیل التحفہ میر عبداللطیف خان شوشتری کا سفرنامہ مرتبہ ص ، موحد مطبع طھوری ص ۴۷۷۔
[۵۵] سورہ حج آیت ۲۵)۔
[۵۶] سورہ حج آیت ۲۷۔
[۵۷] سورہ حج آیت ۲۶۔
ابن تیمیہ کے نظریات اور فرقہ وہابیت کی شدت پسندی میں فرق کے سلسلہ میں محمد ابوزھرہ کا نظریہ
ہم اس سے قبل کہ وہابیت کے بنیادی اعتقادی مسائل او رمحمد ابن عبد الوہاب کے نظریات پر تنقیدی نظر ڈالیں،ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوہاب کے نظریات میں چند فرق آپ حضرات کے سامنے بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد اس مجددبزرگ!! کے اصلاحی نظریات!! پر بحث کریں گے جس کے نظریات نے عالم اسلام میں تفرقہ ،تخریب کاری او رتباہی کے علاوہ کچھ اور انجام نہیں دیا۔
محمد ابوزھر ہ بہت بڑے محقق اور ملل ونحل کے بہت بڑے ماہر اور تجربہ کار ہیں او راسلامی فرقوں کے سلسلہ میں انھوں نے کافی تحقیقات کی ہیںاور اس سلسلے میں چند کتابیں بھی لکھی ہیں، ابن تیمیہ او رمحمد ابن عبد الوہاب کے نظریات کے سلسلہ میں ان دونوں میں فرق بیان کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں :
”درحقیقت وہابیوں نے ابن تیمیہ کے نظریات میں کچھ بھی اضافہ نہیں کیا، بلکہ ابن تیمیہ کے نظریات میں شدت پسندی سے کام لیا ہے ، او رعملی طورپر وہ اعمال انجام دئے جن کو ابن تیمیہ بھی انجام نہ دے سکا تھا۔
ہم مذکورہ امور کو چند چیزوں میں خلاصہ کرتے ہیں :
۱ ۔ابن تیمیہ کا کھنا تھا کہ عبادت قرآن وسنت کے مطابق ہونی چاہئےے لیکن وہابیوں نے اس کے قول پر اکتفاء نہیں کیا ، بلکہ روز مرّہ کے کاموں کو بھی اسلام سے خارج کردیا، مثلاً تمباکو نوشی(سگریٹ وغیرہ پینے) کو حرام قرار دے دیا، او راس کی حرمت میں بہت زیادہ شدت سے کام لیا، او روہابی حضرات جس شخص کو سگریٹ پیتا دیکھتے تھے اس کو مشرک سمجھتے تھے، اس بناپرفرقہ وہابیت بھی فرقہ خوارج کی طرح ہے کہ جوبھی گناہ کبیرہ کرے وہ کافر ہے ۔
۲ ۔شروع میں اپنے اوپر چائے اورقھوہ کو حرام کیا ، لیکن بعد میں جس طرح کہ معلوم ہوتا ہے اس میں لاپرواہی سے کام لیا۔
۳ ۔ وہابیوں نے اپنے نظریات کی فقط دعوت ہی پر اکتفاء نہیں کی بلکہ اپنے مخالفوں سے جنگیں کیں،ان کا نعرہ یہ تھاکہ ہم بدعتوں سے جنگ کرتے ہیں ، شروع میں میدان جنگ میں ان کا رھبر محمد ابن سعود خاندان سعودی کا مورث اعلیٰ او رمحمد ابن عبد الوہاب کا داماد تھا۔
۴ ۔وہابی جس دیھات یا شھر کو فتح کرلیتے تھے سب سے پھلا کام یہ کرتے تھے کہ وہاں پرموجودہ ضریح اور قبروں کو مسمار کردیتے تھے، جس کی بناپر بعض یورپی رائٹروں نے اس کو ”عبادتگاہوں کو ویران کرنے والے“ کا بھی لقب دیا ہے ، البتہ ان کی یہ بات مبالغہ سے خالی نہیں ہے کیونکہ ضریحوں اور عبادتگاہوں میں فرق ہے لیکن جس طرح کہ معلوم ہے جس مسجد میں ضریح ہوتی تھی اس کو بھی مسمار کردیا کرتے تھے۔
۵ ۔ اس پر بھی اکتفاء نہ کیا بلکہ ان تمام قبروں کو بھی ویران کردیا کہ جن پر کوئی علامت اور نشانی موجود تھی، او رجس وقت حجاز پر قبضہ کیا اصحاب کی تمام قبور کو مسمار کردیا، اس وقت صرف قبروں کے نشان باقی ہیں بقیہ تمام چیزوں کو برباد کردیا، اور اس وقت قبور کی زیارت صرف دور سے کھڑے ہوکر کرسکتے ہیں او رزائر کو دور سے کھڑے ہوکر ”السلام علیک یا صاحب القبر“ کہنے کی اجازت ہے ۔
وہابیوں نے چھوٹے چھوٹے کاموں پر بھی اعتراض کیا او ران کا انکار کیا جو نہ بت پرستی تھے اورنہ بت پرستی پر ختم ہوتے ہیں مثلاً فوٹو لینا، وہابی علماء نے اپنے فتوں اور رسالوں میں اس چیز کا ذکر کیا ہے لیکن امیر لوگوں نے اس کی بات کی پروا ہ نہ کی ۔
۷ ۔ وہابیوں نے بدعت کے مفھوم کو عجیب طریقہ سے وسعت دی مثلاً روضہ مبارک حضرت رسول خدا(ص) پر پردہ لگانا بھی بدعت ہے اور پردہ تبدیل کرنے سے بھی رو کا ، جس کے نتیجہ میں پردے پرانے ہوگئے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ابن تیمیہ کے نظریات کو عملی طور پر انجام دیا اور شجاعت وبھادری سے اس کے نفاذ کی بھرپور کوشش کی،لیکن بدعت کے معنی میں اتنی وسعت دی کہ جو کام عبادت بھی نہیں تھے ان کو بھی بدعت قراردیدیا، جب کہ بدعت اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس کی دین میں کوئی حقیقت نہ ہواور اس کو عبادت کی نیت سے انجام دیا جائے، اور ان کے ذریعہ سے خدا کی رضایت کو حاصل کرنے کی امید کی جائے ، جبکہ کوئی بھی روضہ رسول(ص) کے پردوں کو عبادت کی نیت سے نہیں بدلتا، بلکہ پردہ وغیرہ زینت کے لئے ہوتے ہیں تاکہ مسجد نبوی کی دوسری زینتوں کی طرح دیکھنے والوں کو اچھا لگے،عجیب بات تو یہ ہے کہ وہابی حضرات روضہ رسول(ص) پر پردہ لگانے سے انکار کرتے ہیں لیکن مسجد نبوی کو سجانے او راس کی زینت کرنے کو عیب نہیں مانتے ۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ وہابی علماء اپنے نظریات کو سو فی صد صحیح سمجھتے ہیں او ردوسروں کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں ۔( ۱ )
وہابیوں کی فرقہ خوارج سے شباہتیں
جس وقت کوئی انسان ِ غیر جانبدار محقق کے عنوان سے وہابیت کا مطالعہ کرتا ہے ، وہابیوں اور خوارج کے درمیان بہت سی شباہتیں دیکھتا ہے او ریہ نتیجہ نکالتا ہے کہ : فرقہ وہابی اسی تاریخی خوارج کا طرز تفکر کا سلسلہ ہے ، اس مطلب کو واضح وروشن کرنے لئے پھلے خوارج کے سلسلہ میں کچھ وضاحت کرنا ضروری ہے اس کے بعد خوارج او ر وہابیت کے درمیان موجود شباہتوں کا ذکر کریں گے۔
خوارج کی پیدائش
خوارج یعنی بغاوت کرنے والے، یہ کلمہ ”خروج“ سے نکلا ہے جس کے معنی سرکشی اور بغاوت کے ہیں، خوارج کا ظھور جنگ صفین سے ہواہے ، جس کی داستان تفصیلی ہے ، اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کو فریب اوردھوکہ دینے کے لئے معاویہ کے حکم سے قرآن نیزوں پربلند کیا تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ میں ڈال سکیں، اور اپنی یقینی شکست سے نجات پیدا کرسکیں،اور اتفاق سے ان کا یہ حربہ کارگر ہوگیا اور بعض مقدس مآب مسلمان ان کے جال میں پھنس گئے، اور نعرہ بلند کردیا کہ ہم اہل قرآن سے جنگ نہیں کریں گے ، اور یہ جنگ شریعت اسلام کے خلاف ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے بہت کوشس کی کہ ان کو معاویہ کے مکر وفریب سے آگاہ کریں لیکن ان لوگوں نے نا سمجھنے کی قسم کھائی ہوئی تھی ، لہٰذا ان سادہ اور بے وقوف مسلمانوں نے حضرت کی باتوں کو قبول نہ کیا اور جنگ روک دی او رحضرت کو بھی جنگ روکنے پر مجبور کردیا، اور حضرت نے بھی مجبوراً پیچھے ہٹنے کا حکم دیدیا اور سر انجام ”حکمیت“(کسی حاکم اور قاضی قرار دینا) کا مسئلہ پیش آیا، یہ ایک نیا حیلہ تھا ، ابوموسیٰ اشعری نے عمر وعاص سے شکسکت کھائی ، وہی سادہ لوح مسلمان کہ جھنوں نے حضرت علی علیہ السلام کو حکمیت پر مجبور کیا تھا، آکر کہنے لگے: ہم نہیں سمجھ پائے تھے او رہم نے حکمیت کو قبول کرلیا ہم بھی کافر ہوگئے اور تم بھی کافر ہوگئے،(معاذاللہ)کیونکہ دین خدا میں کسی کی حکمیت نہیں ہے یہ کام خلاف شرع اور کفر ہے ، حاکم اور داور فقط خدا ہے کوئی انسان حکم نہیں ہوسکتا،(معاذاللہ) لہٰذا آپ بھی کافر ہوگئے اور ہم نے تو،توبہ کرلی ہے آپ بھی توبہ کیجئے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: توبہ ہر حال میں بہتر ہے ”استغفرُ من کلّ ذنب“ ہم ہمیشہ استعفار کرتے رہتے ہیں ، اس وقت لوگوں نے کھا: یہ کافی نہیں ہے بلکہ آپ اعتراف کریں کہ حکمیت گنا ہ تھی اور اس سے توبہ کریں،تب حضرت نے جواب دیا: میں نے حکمیت کے مسئلہ کو پیدا نہیں کیا ، تم لوگوں نے خود اس مسئلہ کو پیدا کیا ہے ،اور اس کے نتائج بھی دیکھ لئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ جو چیز اسلام نے جائز قرار دی ہے میں کیونکر اس کو گناہ قرار دوں او رجس گناہ کا میں مرتکب نہیں ہوا کیونکر اس کا اعتراف کروں۔
یھیں سے ایک گروہ ایک مذہبی فرقہ اور سیاسی گروہ کے عنوان سے حضرت علی علیہ السلام سے جدا ہوگیا اور اپنی خاص طرز تفکر سے اپنی کارکردگی شروع کردی ، شروع میں یہ فرقہ باغی اور سرکش فرقہ تھا اس وجہ سے اس کو ”خوارج“ کے نام سے یا د کیا جاتا تھا، لیکن اہستہ اہستہ اس فرقہ نے اپنے لئے اعتقادی اصول بنائے، یہ گروہ جو شروع میں ایک سیاسی گروہ تھا، اہستہ اہستہ ایک مذہبی فرقے میں تبدیل ہوتا چلا گیا، اس کے بعد خوارج نے اپنے مذہب کی طرفداری میں وسیع پیمانے پر تبلیغ شروع کردی، اور اہستہ اہستہ اس فکر میں لگ گئے کہ دنیائے اسلام کے تمام مفاسد اور برائیوں کو ختم کیا جائے اور اس نتیجہ پر پہونچے کہ علی،(ع) عثمان او رمعاویہ سب کے سب خطاکار اورگناہگار تھے، ہمیں چاہئےے کہ جو برائیاں اسلام میں پیدا ہوگئی ہیں ان کو مٹادیا جائے، امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکریں ، لہٰذا فرقہ خوارج امر بالمعروف ونھی عن المنکر کے وظیفہ کو لے کر آگے بڑھا۔( ۲ ) ،خوارج نہ دینی بصیرت رکھتے تھے اورنہ ہی عملی بصیرت ، جاہل اور بے بصیرت لوگ تھے، بلکہ عملاً بصیرت کے منکر تھے کیونکہ اس تکلیف کو تعبدی جانتے تھے کہ اس کام کو آنکھیں بند کرکے انجام دینا چاہئے۔
خوارج کے اعتقادی اصول
خوارج کے اصول اور ان کے عقائد کی بنیاد کو چند چیزوں میں خلاصہ کیا جاتا ہے ، ان کے عقیدے درج ذیل ہیں:
۱ ۔عثمان ومعاویہ اور حضرت علی (ع) کافر ہیں ، اور اسی طرح اصحاب جمل اور اصحاب تحکیم (جن لوگوں نے حکمیت کو قبول کیا تھا) اور جن لوگوں نے حکمیت کے بارے میں رائے دی تھی او راس کے بعد توبہ نھیںکی تھی وہ سب کافر ہیں ۔
۲ ۔جو لوگ علی (ع)، عثمان، اور مذکورہ دوسرے لوگوں کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔
۳ ۔ایمان فقط دل کے عقیدہ کا نام نہیں ہے ، بلکہ واجبات کو انجام دینا اور محرمات سے اجتناب کرنا بھی ایمان کا جز ہے،یعنی ایمان دوچیزوں سے مرکب ہے : ایمان اور عمل۔
۴ ۔ ظالم والی اور امام ِستمگرپرخروج کرنا بغیر کسی شرط کے واجب ہے ، ہر حال میں امر بالمعروف ونھی عن المنکر واجب ہے اور کسی خاص شرط پر موقوف نہیں ہے ، خدا کا یہ حکم تمام مقامات اور بغیر استثناء کے انجام دینا چاہئےے۔
اس فتین فرقہ کے عقائد میں اتنی شدت آئی کہ تمام مسلمانوں کو کافر کہنے لگے، اور سب کے قتل کو جائز ماننے لگے اورہم یشہ آتش جھنم میں رھنے کے قائل ہوگئے۔
خلافت کے مسئلہ میں خوارج کا عقیدہ
یہ ”خوارج“ھی کی فکر تھی کہ جو آج کل کے متجددین کے نزدیک روشن و واضح مانی جاتی ہے خلافت کے بارے میں ان کی تھیوری تھی اور ڈیموکریٹ(جمھوریت پسند) نظریہ رکھتے تھے ان کا نعر ہ تھا کہ خلافت آزاد طریقہ سے انتخاب ہونی چاہئے اور خلافت کے لئے سب سے لائق وہ شخص ہے کہ جو باایمان اور تقویٰ میں سب سے زیادہ ہو، چاہے وہ قریشی ہو یا غیر قریشی، عرب ہو یا عجم، کسی مشھور قبیلہ سے ہو یا غیر معروف قبیلہ سے ۔
اور اگر اس نے انتخاب ہونے اور بیعت لینے کے بعد اسلامی امت کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو اس وقت وہ خلافت سے معزول ہوجائے گا ، اور اگر اس نے معزول ہونے سے انکار کیا تو اس سے اس قدر جنگ کی جائے تاکہ وہ قتل ہوجائے ۔
ان لوگوں کا نظریہ شیعہ حضرات کے بالکل مخالف ہے ، شیعہ کہتے ہیں : خلافت ایک الٰھی امر ہے خلیفہ کا انتخاب خدا کے ھاتھوں میں ہے او ران کا یہ نظریہ اہل سنت کے بھی خلاف ہے کہ جن کا نظریہ یہ ہے کہ خلیفہ قریش سے ہونا چاہئے او راہل سنت اس جملہ ”اِنَّمَا الآئِمَّةُ مِنْ قُرَیْشِ “ سے تمسک کرتے ہیں ۔
ظاہراً خوارج کا نظریہ شروع میں یہ تھا جیسا کہ ان کا نعرہ مشھور ہے ”لَا حُکْمَ اِلّا لِلّٰہ“ اور اسی طرح نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۴۰ سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ شروع میں ان کا نظریہ یہی تھا کہ جامعہ اسلامی کو امامت کی ضرورت نہیں ہے او رمسلمان خود قرآن پر عمل کریں، لیکن بعد میں اپنے اس عقیدے سے پلٹ گئے اور عبد اللہ بن وہب راسِبی“ کو بعنوان خلیفہ مان کربیعت کی ۔
خلفاء کے بارے میں خوارج کا نظریہ
خوارج ابوبکر وعمر کی خلافت کو صحیح مانتے ہیں کیونکہ ان کا انتخاب صحیح طریقہ پر ہوا تھا اور دونوں نے خلافت کے صحیح راستہ کو تبدیل نہیں کیا او رکسی غیر شرعی کام کو انجام نہ دیا ، او رحضرت علی علیہ السلام او رعثمان کی خلافت بھی ان کے نزدیک صحیح ہے لیکن ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ :
عثمان، حکومت کے چھٹے سال سے خلافت کے راستہ سے ہٹ گیا او رمسلمانوں کے منافع کو پسِ پشت ڈال دیا، لہٰذا خلافت سے معزول ہوگیا، اور چونکہ خلافت پر باقی رہا لہٰذا کافر ہوگیا اور اس کا قتل واجب تھا، اور علی (ع)نے بھی چونکہ حکمیت کو قبول کیا او رپھر توبہ نہیں کی لہٰذا وہ بھی کافر ہوگئے(معاذاللہ) اور ان کا قتل واجب ہوگیا، اس بناپر عثمان کی خلافت کو ساتویں سال سے اورعلی (ع)کی خلافت کو مسئلہ حکمیت کے بعد سے قبول نہیں کرتے،اور ان سے تبرا کرتے ہیں اسی طرح دوسرے خلفاء سے بھی بیزاری کرتے تھے اور ہمیشہ ان سے جنگ وجدال کیا کرتے تھے ۔
خوارج کی نابودی اور اس طرز تفکر کا باقی رھنا
خوارج کا وجود پھلی صدی ہجری کے چوتھی دھائی میں ایک بہت خطرناک غلطی کے ذریعہ وجود میں آیا، اور دوسری صدی کے نصف تک پائیدار نہ رہ سکا، او راپنی گستاخیوں اور جنون آمیز بے باکیوں کی وجہ سے اس زمانے کے خلفاء ان کے پیچھے پڑ گئے، او ران کو اور ان کے مذہب کو نابود کرڈالا، ان کی نابودی کی کئی وجہ تھی منجملہ:
بے جان اور خشک منطق، خشک رفتار، شدت پسندی، طرز زندگی کا بالکل الگ ڈھنگ، ”تقیہ“ سے (یھاں تک کہ اس کے صحیح معنی سے بھی) دوری۔
خوارج گروہ ایسا نہ تھا کہ باقی رہتا،لہٰذایھاں تک آنے کے بعد ختم ہوگیا لیکن اس گروہ نے ختم ہونے کے بعد بھی اپنے اثرات چھوڑے ، خارجیگری کے نظریات اور عقائد دوسرے اسلامی فرقوں میں داخل ہوگئے، او راس وقت بہت سے ”نھروانی“ موجود ہیں ، اور حضرت علی (ع) کے زمانے کی طرح یہی اسلام کے خطرناک داخلی دشمن ہیں ، جس طرح معاویہ اور عمر عاص کے ماننے والے ہمیشہ تھے اور اس وقت بھی موجو د ہیں، نھروانیوں کے ذریعہ موقع موقع سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں ۔( ۳ )
اب جب کہ ہم نے خوارج کے سلسلہ میں وضاحت کردی ، وہابیوں اور خوارج کے درمیان موجودہ شباہتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ صرف یہی نہیں کہ خارجیگری طرز تفکر عالم اسلام سے ختم نہیں ہوا بلکہ مقدس مآبی کا لباس پھن کر درندگی کے ساتھ زندہ ہے ، جس کی وجہ سے عالم اسلام میں بہت سے درد ناک واقعات پیدا ہورھے ہیں ۔
مرحوم علامہ امین (رہ)مولف کتاب عظیم ”اعیان الشیعہ“ جو وہابیت کی رد میں لکھی گئی اور ”کشف الارتیاب“ کے نام سے چھپ چکی ہے او رفارسی میں ترجمہ ہوچکا ہے ،وہابیوں کی خوارج سے شباہتوں کے سلسلے میں موصوف نے تفصیل سے بیان کیا ہے ، ہم یھاں پر اس کا خلاصہ تھوڑے سے دخل وتصرف کے ساتھ بیان کررھے ہیں :
پھلی شباہت:
خوارج کا نعرہ یہ تھا ”لَاحُکْمَ اِلَّالِلّٰ ہ“ یعنی خدا کے علاوہ کسی کی حکومت نہیں ہونا چاہئے، اگر چہ یہ بات حقیقت ہے لیکن اس جملہ سے ان کی مراد باطل ہے (یعنی اس سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ) جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :”واقعاً یہ جملہ صحیح ہے او ریہ جملہ قرآن میں بھی آیا ہے :
”اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا ِللّٰهِ “ لیکن اس جملے سے خوارج کا مقصد یہ تھا کہ کوئی بھی امیر اور حاکم نہیں ہوسکتا، او ردینی مسائل میں ”حکمیت“ کو قبول نہیں کیا جاسکتا، اور اس نظریہ کے تحت جنگ صفین کی حکمیت کو گناہ اور کفر مان بیٹھے، جب کہ قرآن مجید میں اختلاف کی صورت میں حکمیت اور مُنصِف کی طرف دعوت دی ہے :
( وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنَهُمَا فََابْعَثُوا حَکَماً مِنْ اَهْلِهِ وَحَکَماً مِنْ اَهْلِهَا ) ( ۴ )
”اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا خطرہ لاحق ہو ،تو انصاف کرنے والا مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے لیں (او ران دونوں کے درمیان صلح وآشتی کرادیں)
دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے :
( یَحْکُمُ بِهِ ذُوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ) ( ۵ )
” تم میں سے دو لوگ انصاف او رحکم کریں“
اسی طرح وہابیوں کا نعرہ ہے کہ: دعا ، شفاعت، توسل او رمدد طلب کرنا صرف خدا سے مخصوص ہے، اگرچہ یہ بات بھی حق ہے لیکن وہابیوں کا اس سے ہدف او رمقصد غلط ہے ۔
جی ہاں ، دعا، شفاعت، خوف او راستغاثہ خدا کے لئے ہے ، حقیقت میں خدا ہی ہے کہ جس کو پکارنا چاہئے ،چاہے مشکل کا وقت ہو یا سکون وچین کاوقت،اسی سے توسل کرنا چاہئے، اور واقعاً مدد کرنا اسی کا کام ہے ، او رشفاعت بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے لیکن وہابیوں کا ہدف اورمقصد یہ ہے کہ ہم کو یہ حق نہیں کہ جس کو خدا نے عظمت اور بزرگی دی ہے اس کوپکارنے سے اس کی عظمت وبزرگی کو آشکار کریں، او راس سے توسل کرےں تاکہ خدا کے نزدیک ہماری شفاعت کریں او رہمارے لئے دعا کرے۔
وہابی حضرات کہتے ہیں کہ شفاعت او رمدد طلب کرنا اس شخص سے جس کو خدا نے لوگوں کا شفیع اور ناصر قرار دیا ہے او ر اس شخص سے توسل کرنا جس کو خدا نے تقرب کا وسیلہ قرار دیا ہے ، بدعت او رگناہ ہے !!
جیسا کہ ہم نے اس چیز کی طرف پھلے بھی اشارہ کیا ہے اورآئندہ صفحات پر بھی ہم اس بارے میں بحث کریں گے۔
وہابیوں کی بے ہودہ باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمیں یا محمد! یا فلاں! کہنے کاکوئی حق نہیں ہے ، وہ کہتے ہیں کہ تجھے خدا نے قدرت دی ہے یا محمد(ص) نے ؟ اور چونکہ خدا نے قدرت دی ہے لہٰذا محمد(ص) کو پکارنا غلط ہے ، صرف اور صرف خدا کو پکارنا چاہئے۔
ان کا یہ کھنا بھی مغالطہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے او ریہ حضرات اپنے اس مغالطہ سے لوگوں کو گمراہ کرنا اورلوگوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ، کیونکہ کسی بھی مسلمان کوشک نہیں کہ قدرت کا مالک حقیقی خدا ہے اور قدرت اسی سے مخصوص ہے ، بلکہ مسلمان تو یہ چاہتے ہیں کہ اپنے اس پیامبر سے جس کو خدا نے عظمت اور بزرگی دی ہے اور اس کی نظر میں محترم و مکر م ہے اس کے ذریعہ سے توسل کریں او رخدا نے جس نبی کے لئے حق شفاعت قرار دیا ہے اس کے ذریعہ سے شفاعت اور وساطت چاہتے ہیں ، وہابیوں کا یہ اعتراض حقیقت میں خدا کی طرف پلٹتا ہے کہ کیوں خدا نے محمد(ص) کو حق شفاعت دیا ہے ۔
لہٰذاچونکہ خداوندعالم نے آنحضرت(ص) کے لئے ایک عظیم اور بہت بڑا مقام قرار دیا ہے ہم بھی ان سے شفاعت طلب کرسکتے ہیں ، ورنہ وہابییوں کا یہ اعتراض تو دعا کے بارے میں بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے دعا کرنے کے لئے کھے تو اس سلسلہ میں بھی کھا جاسکتا ہے کہ دعا کو خدا قبول کرے گا یا وہ انسان؟ اور یہ بات سب پر آشکار ہے کہ دعا کا قبول کرنے والا خدا ہی ہے ، تو اس وقت سوال ہوسکتا ہے کہ دوسروں سے دعا کرانے کے کیامعنی ؟!
پس نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے دینی بھائیوں سے اپنے لئے دعا کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔
وہابیوں کا اسی طرح کا نظریہ مسجد نبوی میں موجود ضریح او رمنبر کے بارے میں بھی ہے ، کہتے ہیں : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لوہے اور لکڑی کابذات خود کوئی احترام نہیں ہے ، اس طرح گوسفند کی کھال بھی بذات خود کوئی احترام نھیںرکھتی، لیکن اگر یہی کھال قرآن مجید کی جلد ہوجائے یا وہ کاغذ جس پر قرآن لکھا گیا ہے اور اسی طرح دوسری چیزیں احترام کے قابل ہوجاتی ہیں ، ضریح او رمنبر اور روضہ رسول بھی اسی طرح ہیں اور پیغمبر کی وجہ سے محترم ہیں۔
دوسری شباہت
وہابیوں کی خوارج سے دوسری شباہت یہ ہے کہ خوارج ظاہراً بہت مقدس تھے نماز اور تلاوت قرآن کریم کو بہت زیادہ اہم یت دیتے تھے، یھاں تک کہ سجدوں کی کثرت کی وجہ سے پیشانی میں گھٹا پڑجاتا تھا اور حقیقت کے طالب تھے ، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں :
”لَاتُقَاتِلُوا الْخَوَارِجَ بَعْدِی ، فَلَیْسَ مَنْ طَلَبَ الْحَقَّ فَاخْطَاهُ، کَمَنْ طَلَبَ الْبَاطِلَ فَاَصَابَهُ “
یعنی میرے بعد خوارج کے ساتھ جنگ نہ کرنا، کیونکہ جولوگ طالب حق وحقیقت ہیں لیکن غلطی کر بیٹھے اور جولوگ باطل کے طالب ہیں اور وہ باطل تک پہونچ بھی گئے (معاویہ اور اس کے پیروکار) دونوں برابر نہیں ہیں ۔
جی ھاں!خوارج ظاہراً متدین او رمتقی اور پرہیزگار لوگ تھے، کہتے ہیں کہ خوارج میں سے ایک شخص نے جنگل سے گذرتے وقت ایک خنزیر کو مارڈالا ، دوسرے شخص نے فوراً اعتراض کیا اورکھا: تیرا یہ کام” فساد فی الارض“ھے ، اس طرح ایک خارجی نے راستہ میں ایک پڑا ہوا خرما اٹھاکر منھ میں رکھ لیا ،دوسرا شخص آگے بڑھا اور اس کے منھ سے نکال دیا ، او رکھا کہ یہ تمھارے لئے کھانا حرام ہے ۔
وہابی حضرات بھی اسی طرح کرتے ہیں ، کہ ظاہراً دین کی بہت پابندی کرتے ہیں نماز کو اول وقت پڑھتے ہیں او رخدا کی عبادت میں ہر ممکن کوشس کرتے ہیں حق وحقیقت کے طالب ہیں لیکن غلط راستہ اپنائے ہوئے ہیں ، یہ لوگ بھی تقویٰ اور پرہیزگاری کا زیادہ خیال رکھتے ہیں ، یھاںتک کہ ٹیلیگرام کو بھی قبول نہیں کرتے او رکہتے ہیں : چونکہ اس کا حکم شرعی معلوم نہیں ہے ، لہٰذا اس کا استعمال صحیح نہیں ہے ، اس طرح کی مقدس مآبی اور شدت پسندی کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے : ہم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پرانے مجیدی(عثمانی پیسہ) کو نئے مجیدی سے بدل رہا ہے اور کچھ مقدار زیادہ لے رہا ہے نجد کا ایک وہابی آیا او رکھا کہ مجھ سے پرانے مجیدی لے لے اور نئے مجیدی دے دے تو فوراً اس وہابی نے کھا نہیں نھیں، یہ تو سود ہے ۔!!
تیسری شباہت
وہابیوں کی خوارج سے تیسری شباہت یہ ہے کہ خوارج اپنے علاوہ تمام دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے اسی طرح کہتے تھے کہ جو شخص بھی گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوا وہ ہمیشہ جھنم کی آگ میں جلتا رھے گا اس طرح خوارج مسلمانوں کے جان ومال کو حلال جانتے تھے او ر مسلمانوں کے بچوں کو اسیر کرلیتے تھے، او ران کا یہ بھی نظریہ تھا کہ اگر اسلامی ممالک میں گناہِ کبیرہ سرعام ہونے لگے تو وہ اسلامی ملک باقی نہیں رھے گا بلکہ کافر ملک ہوجائے گا۔
انھوں نے عبداللہ بن خباب (صحابی رسول(ص)) جو روزہ دار بھی تھے او رقرآن بھی اپنے ساتھ لئے تھے ، ان کو قتل کردیا، اور حدتو یہ ہے کہ ان کی حاملہ عورت کے پیٹ کو بھی چیر ڈالا ، ان کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے حضرت علی علیہ السلام پر تبرا نہیں کیا ، او ران سے بیزاری کا اعلان نہیں کیاتھا، خوارج نے اس صحابی سے کھاکہ: ہم اسی قرآن کے حکم سے جو تیرے پاس ہے تجھے قتل کررھے ہیں!! اس صحابی کو ایک نھر کے قریب قتل کرڈالا اور اس کا خون اس نھر میں بھادیا۔
خوارج جب بھی مسلمان عورتوں کو اسیر کرتے تھے ، اپنے درمیان ہی ان کی خرید وفروخت کرلیتے تھے ، ایک مرتبہ ایک خوبصورت عورت کو اسیر کیا ،اور جب اس کی بولی لگنے لگی اور قیمت بڑھتی گئی اس وقت ایک خارجی اٹھا اور اس عورت کو قتل کردیا او رکھنے لگا: قریب تھا کہ یہ کافر عورت مسلمانوں کے درمیان فتنہ وفساد برپا کرادیتی اس وجہ سے میں نے اس کو قتل کردیا۔
جس وقت امام حسن علیہ السلام ”ساباطِ مدائن“ جارھے تھے خوارج نے ان سے کھا: تو بھی اپنے باپ کی طرح مشرک ہوگیا ! قارئین محترم یہ تھے خوارج کے کارنامے!!
وہابی بھی اسی طرح کرتے ہیں یہ لوگ بھی اپنے مخالفوں کو مشرک جانتے ہیں اور ان کے جان ومال کو حلال سمجھتے ہیں ، اور مسلمانوں کو اسیر کرتے ہیں ، یھاں تک کہ تمام مسلمانوں کو مشرک کہتے ہیں ، او راسلامی ممالک کو کافر ملک کے نام سے یاد کرتے ہیں اور وہاں سے مھاجرت کو ضروری سمجھتے ہیں، اگر کسی نے نماز کو ترک کردیا اگرچہ وہ شخص نماز کا منکر نہ ہو اس کو واجب القتل جانتے ہیں۔
سلیمان ابن عبد الوہاب (محمد ابن عبد الوہاب کا بھائی جو اس کا سخت مخالف تھا) ایک کتاب اپنے بھائی محمد بن عبد الوہاب کی ردّ میں لکھی ہے موصوف اس کتاب میں لکھتے ہیں :
ابن قیم جوزی نے یہ کھا کہ خوارج کی یہ دو خصوصیات تھیں جن سے وہ دوسرے مسلمانوں اور ان کے رھبروں سے جدا ہوگئے:
پھلی خصوصیت: سنت سے دوری اختیار کرنا ، اور جو چیز سنت نہ تھی اس کو سنت کھنا۔
دوسری خصوصیت: مسلمانوں کو گناہِ کبیرہ کی وجہ سے کافر کھنا، اور اسی بناپر ان کے جان ومال کو حلال سمجھنا، اسلامی ممالک کو کافر ممالک کھنا۔
لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ خوارج کے ان دوغلط اصولوں اور ان کے نتائج سے دور رہیں ، یعنی مسلمانوں سے دشمنی، ان پر لعنت وملامت کرنے اور ان کے جان ومال کو حلال ماننے جیسی بدعتوں سے پرہیز کریں ۔
یہ دونوں خصوصیات جو ابن قیّم نے خوارج کی بیان کی ہیں ،وہ خصوصیات مکمل طریقہ سے وہابیوں میں پائی جاتی ہیں ۔
چوتھی شباہت
خوارج اپنے انحرافی عقائد میں قرآن مجیدکی ان آیات کے ظاہر سے استناد کرتے تھے جن میں گناہ کبیرہ کے ارتکاب کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے ، وہابی بھی اسی طرح قرآن مجید کے ظاہری معنی کرتے ہیں جن کو کوئی بھی عقلمندانسان قبول نہیں کرسکتا، منجملہ : خدا کو صاحب جسم ہونے کا اعتقاد، یا عرش و قلم و لوح و کرسی وبرزخ و خدا کا دیدار اور خدا کے ھاتھ پیر اور دوسرے اعضاء رکھنا ، وغیرہ جیسے مطالب کی ظاہری تفسیر۔
پانچویں شباہت
خوارج ظاہری احکام پر عمل کرنے والے ، کوتاہ نظر اور کم عقل تھے اور جو راستہ میں پڑے کجھور کو کھانے سے پرہیز کرتے تھے او رجنگلی خنزیر کو مارنے والے کو مفسد فی الارض مانتے تھے ، وہی خوارج ہیں،جنھوں نے رسول اسلام(ص) کے روزہ دار او رحامل قرآن صحابی کو واجب القتل سمجھ کر قتل کردیا اور تما م مسلمانوں کو کافر مانتے تھے ، اور ہمیشہ گناہ کبیرہ کو کفر مانتے تھے ۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ چلاجارہا تھا ،راستے میں خوارج سے ملاقات ہوئی ، خوارج میں سے کسی ایک نے سوال کیا : تم لوگ کون ہو؟
مسلمانوں کے گروہ میں سے ایک عقلمند اور ہوشیار شخص آگے بڑھا او رکھنے لگامجھے جواب دینے دو ، اور اس نے کھا:
ہم لوگ اہل کتاب ہیں او رتم سے پناہ مانگتے ہیں ہمیں کلام خدا سنائےں اور پھر ہمیں کسی امن جگہ پہونچادیںیہ سن کر خوارج آپس میں کہنے لگے : ہمیں رسول اسلام(ص) کے پیمان کے مطابق ان کو کو ئی اذیت نہیں دینی چاہئے ، لہٰذا ان کے لئے قرآن کی تلاوت کی جائے او رکسی کو معین کیا جائے تاکہ ان کو ایک پُرامن جگہ پہونچائے۔!
لیکن یہی خوارج ہیں کہ رسول خدا کے صحابی عبد اللہ خباب سے کہتے ہیں کہ تمھاری نظر میں علی (ع) کیسے ہیں؟ اس نے حضرت علی علیہ السلام کی مدح وثنا کرنا شروع کردی، اس سے کھا کہ تم علی (ع)کے چاہنے والوں میں سے ہو، اوریہ کہہ کر انہیں قتل کردیا۔
وہابی حضرات بھی اسی طرح ظاہر ی احکام کے حامل اور کوتاہ نظر ہیں، ایک طرف تو رحمت بھیجنے او رذکر کرنے کو بدعت قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف ٹیلیگرام کے حلال ہونے میں شک کرتے ہیں کیونکہ اس کے بارے میں کوئی شرعی دلیل نہیں ہے ، اور سگریٹ وغیرہ پینے کو بھی حرام جانتے ہیں او رسگریٹ پینے والے کو سزا دیتے ہےں ۔
دوسری طرف تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں ،اور ان کو مشرک سمجھتے ہیں او ران کے جان ومال کو حلال جانتے ہیں،صرف اس وجہ سے کہ یہ لوگ شافعین سے شفاعت طلب کرتے ہیں ، اور یہ لوگ بارگاہ خداوندی میں نیک وصالح بندوں کے ذریعہ توسل کرتے ہیں، لہٰذا ان کے قتل کو ضروری اور واجب سمجھتے ہیں !! اسی وجہ سے ہماری نظر کے مطابق وہابیت فرقہ”انحصار“ ”ظاہرپرستی“( ۶ ) اور ”تناقض گوئی“ کا فرقہ ہے ۔
وضاحت:
۱ ۔ فرقہ انحصاراس وجہ سے ہے کیونکہ صرف اور صرف اپنے کو مسلمان سمجھتے ہیں اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر اور مشرک مانتے ہیں ۔
۲ ۔ فرقہ ظاہر پرستی اس وجہ سے ہے کیونکہ قرآن اور سنت کے ظاہر پر جمود کرتے ہیں اور ظاہری معنی سے ایک قدم آگے نہیں بڑھاتے ، اور اسلامی عمیق اور دقیق مسائل کی گھرائی میں جانے کی کوشش بھی نہیں کرتے، اور یہ کہ اسلام کو چند سادہ مسائل اور شرعی احکام میں خلاصہ کرتے ہیں، یعنی وہابیت کے یھاں عمیق اور دقیق مسائل کی کوئی گنجائش نہیں ،اور نہ تنھا یہ کہ عمیق مسائل ان کے یھاں نہیں پائے جاتے بلکہ عمیق مسائل کا انکار کرتے ہیں۔
۳ ۔ فرقہ تناقض گوئی اس وجہ سے ہے کہ جو نتیجہ حاصل کرتے ہیںخود ان کے مقبول شدہ مقدمات سے میل نہیں کھاتا، مثال کے طور پر محمد ابن عبد الوہاب ”کشف الشبھات“کے مقدمہ میں اس قدر مسلمانوں کے اتحاد پر چلاتا ہے اور مسلمانوں کو تفرقہ بازی اور دشمنی سے دور رھنے کی تاکید کرتا ہے لیکن اسی کتاب کے وسط میں جاکر تمام غیر وہابی مسلمانوں کو کافر ،مشرک، بت پرست اور توحید کے مخالف کہتا ہے ، ! کیا واقعاً یہی اتحاد کی دعوت ہے ؟ اور کیا وہابیت کی دعوت کو ایک اصلاحی دعوت کھی جاسکتی ہے ؟
یا ان کی اس تحریک کو ایک فتنہ گر اور فساد طلب اور ایک طرح کی بے دینی اور الحاد کی خشک وتند تحریک کھا جائے اور یہ سب کچھ دینداری اور دین کے نام پر انجام دیتے ہیں ۔
چھٹی شباہت
خوارج اُن آیتوں کو جو کفار ومشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھیں ، مسلمانوں اور مومنین کو بھی شامل جانتے تھے۔
وہابی حضرات بھی اسی طرح کا نظریہ رکھتے ہیں کہ مشرکوں سے مربوط آیات کو مومنین پربھی تطبیق کرتے ہیں ۔
کتاب ”خلاصة الکلام“ میں ہے کہ : صحیح بخاری عبد اللہ بن عمر کے ذریعہ پیغمبر اسلام(ص) سے خوارج کے بارے میں نقل کرتے ہیں :
آنحضرت(ص) نے فرمایاکہ: یہ لوگ ان آیات کو جو کفار کے بارے میں ہیں ان کو مومنین پر تطبیق کریں گے۔
اس طرح کی ایک اور حدیث جو دوسروں نے (بخاری کے علاوہ) نقل کی ہے:
”اَخْوَفُ مَااَخَافُ علَٰی اُمَّتِی رَجُلٌ مُتَاوِّلٌ لِلْقُرآنِ یَضَعَهُ فِیْ غَیْرَ مَوْضِعِهِ “
”میری امت کا سب سے خطرناک شخص وہ ہے کہ جو قرآن کی تاویل کرے اور اس کو ایسے شخص پر تطبیق دے جس کو وہ شامل نہیں ہے “
ابن عباس سے بھی روایت ہے کہ :
”لَاتَکُوْنُوْا کَالْخَوَارِجِ تَاوِّلُوْا آیَاتِ الْقُرْآنِ فِی اَهْلِ الْقِبْلَةِ “
یعنی خوارج کی طرح نہ ہوجاؤ، جو قرآن کی آیات کی تاویل کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی شامل کرتے ہیں جبکہ وہ آیات اہل کتاب او رمشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، کیونکہ ان لوگوں نے قرآنی آیات کونھیں سمجھا ہے اس کے باوجود انھوں نے مسلمانوں کا خون بھایا، ان کے مال ودولت کو غارت کیا۔
وہابی بھی اسی طرح کرتے ہیں ، جیسا کہ ہم آئندہ بیان کریں گے، حرم کو بھی آگ لگادیتے ہیں اور مسلمانوں کے مال ودولت کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں بے گناہ مسلمانوں کا خون بھاتے ہیں اور مسلمان عورتوں پر بھی رحم نہیں کرتے اور خانہ خدا کے زائروں اور حاجیوں کی گولیوں کے ذریعہ مہمان نوازی کرتے ہیں او رحاجیوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئی لاشوں کو بھی ان کے وارثین کو نہیں دیتے اور اس وقت تک بھی ایرانی حجاج کی لاشوں کو نہیں دیا ہے (لعنہم اللّٰہ وملائکتہ) کیونکہ اپنا راز فاش ہونے سے ڈرتے ہیں خدا ان کے عذاب میں اضافہ کرے او رانکو جھنم کے دردناک عذاب میں رکھے۔
ساتویں شباہت
جس طرح خوارج مسلمانوں کا قتل وغارت کیا کرتے تھے او رکفار ومشرکین ان کے شر سے محفوظ رہتے تھے، بالکل اسی طرح کا قانون وہابیوں کا بھی ہے، ہم نے کسی بھی ایک تاریخ میں نہیں پایا کہ وہابیوں نے کھبی کوئی جنگ کفار ومشرکین سے کی ہو، یا کسی ایک مشرک کو قتل کیا ہو ، یہ تو صرف مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں جب کہ مسلمانوں کا کوئی قصور نہیں ہے ، اس سلسلہ میں کافی ہے کہ ان کی پُرافتخار تاریخ ! پر ایک نظر ڈالی جائے ، کربلا، طائف ،یمن اور حجاز کے مسلمانوں کے قتل عام پر ایک نظر کافی ہے جبکہ اسی زمانے میں کفار ومشرکین زمین پر عالمگیر ہورہا تھا، وہابیوں کو ان سے لڑنے کا خیال تک نہ آیا بلکہ انگریزوں اور دوسرے اسلام دشمنوں سے بناکر رکھی، اورمسلمانوں کا قتل عام کیا۔
کیوں دورکی بات کریں اپنے اسی زمانہ میں دیکھ لیجئے کہ اس ملعون اور ضد شرک والحاد آل سعود نے آج تک ایک بھی گولی غاصب اسرائیل پر نہیں چلائی ! کیا استعمار کے خلاف اسلامی تحریکوں کی کبھی کوئی ایک پیسہ سے مدد کی ؟! یا فرھنگی اور فکر ی لحاظ سے ایک چھوٹا سا پمفلیٹ چھاپا؟
لیکن دنیا بھر کے تما م مقالہ نگاروں اور رائٹروں کو خرید لیا تاکہ اسلامی انقلاب کے خلاف جو کچھ بھی لکھ سکتے ہوں، لکھیں، اور دنیابھر کی تمام میڈیا کو خرید لیا تاکہ ایران کے خلاف منھ پھاڑپھاڑ کر بولیں۔
آج یہی ملعون آل سعود ہے جس نے تھیچر ، ریگن اور فرانس وامریکائی غلاموں سے دوستی کرکے انقلاب اسلامی ایران اور لبنان کے شیعوں کے خلاف مل کر سازشیں کیں، اور اسلامی تحریکوں کو کچلنے میں مشغول ہوگئے، یہ وہی خوارج کا طرز تفکر ہے ، اور یہ لوگ انہیں خوارج کی نسل سے ہیں کہ اسلام کے نام پر اسلام کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں ۔
اور تیل کی درآمد کے ذریعہ شرک سے جھاد اور حرمین شریفین کے تحفظ کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کا خون بھانا ۔
جی ہاں یہ تھیں وہابیت اور آل سعود کی مقدس مآب ،ظاہر پرست، متعصب اور اسلام دشمن خوارج سے چند شباہتیں۔
واقعاً رسول اسلام(ص) کی یہ حدیث کس قدر اثر انداز ہے ،جس کو مرحوم امین(رہ) نے ”سیرہ حلبی“ سے نقل کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:
”خوارج قرآن پڑھتے ہونگے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کے دل ا سے نہیں سمجھتے یہ لوگ مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں او رکافروں کو آزاد چھوڑدیتے ہیں ،!
اے رسول خدا ، خدا کی طرف سے آپ پر درود وسلام ہو گویا آپ آج ہم مسلمانوں کے ساتھ وہابیوں کے سلوک کی تصویر کشی کررھے ہیں !
واقعاً کیا سعودی وہابیوں کے کارنامے اس کے علاوہ بھی کچھ اور ہیں ؟ مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی ، خانہ کعبہ کے نزدیک نھایت بے دردی ا وربے حیائی کے ساتھ حاجیوں کا خون بھاتے ہیں، لیکن وہایٹ(بلیک)ھاوس کے روساء اور مشرکین جلادوں سے ہمنوالہ ہوتے ہیں،یھی نہیں بلکہ آپس میں گھری دوستی اور ہمکاری کرتے ہیں ، او راپنے جلاد وخونخوار مالکوں پر اپنی غلامی کو ثابت کرنے لئے ہر ذلت کو قبول کرتے ہیں۔
اے خدا !تجھے تیری عزت وجلالت کی قسم، ان ظالموں اور بدبختوں پر جو تیرے گھر کے غاصب ہیں جلد از جلد اپنے غضب کو نازل فرما۔ (آمین)
وہابیت کی پیدائش کازمانہ اور اس کی جڑیں
ہمارے نظریہ کے مطابق اور تاریخی شواہد کی نظر میں فرقہ وہابیت استعمارگروں کے ذریعہ ، اسلام کی نابودی اور اس کے نظریات کو منحرف کرنے کے لئے وجود میں آیا، خود وہابیت کا مطالعہ کرنے کے بعد ہماری اس نظریہ کی تائید ہوجائے گی ، وہابیت کی تعلیمات سے اس فرقہ کا استعماری اور مقدمہ ساز ہونا ظاہر ہوتا ہے ، خود اس کے نظریات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس فرقے کو عالم اسلام میں رخنہ اندازی او رمسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔
اس بات کی تائید کے لئے ہم یھاں پر” مسٹر ہمفرے “ کے چند خاطرات بیان کرتے ہیں ( ہمفرے ایک انگریز جاسوس اور انگلینڈ کی وزارت مستعمرات کے احکامات کا مجری تھا) تاکہ ہمارے محترم اور ہوشیار قارئین اچھی طرح اندازہ لگا لیں کہ وہابیت کی اصل بنیاد نہ ابن تیمیہ ہے اور نہ ہی ابن قیم جوزی یا محمد ابن عبد الوہاب کی مطالعات اور تحقیقات ۔
اس انگریز ی جاسوس کے خاطرات میں اس طرح ہے کہ: اس کو مستعمرات وزارت کی طرف سے بھیجا گیا تاکہ کسی ایک ایسے شخص کوتلاش کرے جو مذکورہ وزارت کے اہداف ومقاصد کو پورا کرسکے ، البتہ وہ شخص بھی خاص شرائط کا مالک ہو ۔
ہم فرے نے اپنا کام شروع کیا اِدھر اُدھر سفر کیا لوگوں سے گفتگو کی ،اور بہت زحمتوں کے بعد ترکی میں ایک بڑھی کی دکان پر محمد ابن عبد الوہاب سے ملاقات ہوئی، اس سے گفتگو ہوئی اور پھر اس سے ملاقات ہوتی رہیں اور یہ ملاقاتیں دوستی میں تبدیل ہوگئی ، اور ہمفرے ہمیشہ اس کے ساتھ رھنے لگا اور اس کو اپنے وزارت خانہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا رہا، اور اسی دوران اس کو شراب خواری فاحشہ عورتوں سے زنا (یہ عورتیں بھی انگلینڈ کی جاسوس تھیں) کے لئے آمادہ کیا !! اور اس طرح اسلام کے متعلق چند شبھات اس کے سامنے بیان کئے یھاں تک کہ اس کا ذھن آلودہ ہوگیا او رکچھ دنوں کے بعد محمد ابن عبد الوہاب نے مقاوت او رمقابلہ کرنا چھوڑ دیا او راپنے کو مذکورہ وزارت خانہ کی مرضی کے حوالہ کردیا، انگلینڈ کا وزارت خانہ ایک (بلکہ چند) جدید دین بنانا چاہتا تھا تاکہ حقیقی اسلام کی برعکس تصویر پیش کرسکے اور مسلمان اس نئے دین کی طرف مائل ہوں ،تاکہ حقیقی اسلام سے دست بردا رھوجائیں، کیونکہ اگر انھوں نے یہ کام کردیا تو ان کا مقابلہ کرنے والے نہیں رہیں گے ۔
کھانی بہت لمبی ہے اور ہم تفصیل میں جانانھیں چاہتے ، بھر حال ہمفرے کہتا ہے : میں جس چیز کی تلاش میں تھا محمد ابن عبد الوہاب میں مجھے وہ چیز مل گئی ، اس کی سب سے اہم خصوصیات یہ تھیں: کسی سے نہ ڈر نے والا، بہت اونچے خیالات ، بزرگوں کے سامنے جرات، اپنی فہم کے مطابق قرآن وحدیث کو سمجھنے میں مستقل رائے ، تمام دینی رھبروں یھاں تک کہ چاروں خلفاء کی بنسبت بے اعتنائی۔
ان تمام صفات کو دیکھ کر میں نے یہ اندازہ لگالیا کہ میں اس کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان اپنا طے شدہ پروگرام پایہ تکمیل تک پہونچاسکتا ہوں۔( ۷ )
اسلام سے مقابلہ کے لئے استعمار کے احکامات
اس انگریز جاسوس نے محمد ابن عبد الوہاب سے عقد اخوت باندھنے کے بعد اس سے کھا:
”میں نے خواب دیکھا کہ تو پیغمبر کا خلیفہ بن گیا ہے “ !! او راس طرح اس کو ورغلایا اور اس کے احساسات میں ھیجان پیدا کیا ،نیزاس کو اتنا گستاخ بنادیاکہ ایک ”مصلح جدید“ کے عنوان سے اٹھ کھڑا ہوا اور آخر کار انگلینڈکے وزارت مستعمرات کے روساء سے دستور العمل حاصل کئے جن میں مسلمانوں کے نقاط ضعف کو اور زیادہ وسیع کرنے پر تکیہ کیا گیا تھا اور اس جاسوس اور اس کے بھائی ! محمد ابن عبد الوہاب کا پروگرام معین کیا گیا ، استعمار کے وہ دستور کہ جو محمد ابن عبد الوہاب (اور آج اس کے اولاد یعنی ذلیل و خوار آل سعود خاندان) کے ذریعہ جاری ہوتے ہیں ان کی فھرست اس طرح ہے :
۱ ۔دینی اور مذہبی شدید اختلاف ایجاد کرنا،(اس سلسلہ میں کتابوں کی نشر واشاعت کرنا اور اسکے لئے ایک خاص بجٹ معین کرنا)
۲ ۔جھالت اور بے سوادی کو مسلمانوں میں رائج کرنا، او رمدارس بنانے سے روکنا تاکہ مسلمان جاہل رہیں۔
۳ ۔مسلمانوں کو غفلت میں رکھنا، صوفی گری اور گوشہ نشینی جیسی فکر ایجاد کرنا(مختلف انجمنوں جلسات وغیرہ کے ذریعہ)
۴ ۔مسلمانوں کے ذھنوں میں یہ بات ڈالنا کہ بادشاہ وقت خدا کا سایہ اور پیغمبر کا جانشین وخلیفہ ہوتا ہے تاکہ ڈکٹیٹری کو اولی الامر کے عنوان سے قبول اور اس کی حمایت کریں۔
۵ ۔مسلمانوں کے درمیان فساد، فحشاء اور عیاشی وغیرہ کو رائج کرنا۔
۶ ۔مسلمانوں کے درمیان مسئلہ ”جبر “ کو رائج کرنا، اور صفائی اور علاج معالجہ کو بے اہم یت بنانا۔
۷ ۔ مسلمانوں کو ترقی کرنے سے روکنا،اور ان کے یھاں گوشہ نشینی اور صوفی گری کو وسیع پیمانے پر رائج کرنا۔
۸ ۔مسلمانوں میں یہ فکر پیدا کرنا کہ دین دنیا سے جدا ہے ۔
۹ ۔مسلمانوں کے کاروبار کو ٹھپ کرنا۔
۱۰ ۔اسلامی فوج میں نفوذ کرنا اور اس میں خلل ایجاد کرنا۔
۱۱ ۔مسلمانوں کے درمیان عورت کو ذلیل وحقیر سمجھنے کی فکرپیدا کرنا۔
۱۲ ۔ مسلمانوں کے درمیان قومی اور ملتی اختلاف کو ہوا دینا۔
۱۳ ۔اسلامی ممالک میں مذہبی اقلیت کو مالی امداد کرناتاکہ شراب خوری قمار بازی اور عیاشی کو عام ہوسکے۔
۱۴ ۔علماء اسلام اور مسلمانوں کے درمیان رابطہ کو کمزور کرنا۔
۱۵ ۔شیعوں کے ذھن میں کفار کو نجس سمجھنے کے اعتقاد کو ختم کرنا۔
۱۶ ۔لوگوں کو حج سے روکنا، اور حج کے مسئلہ کو منحرف کرنا(قارئین کرام آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آل سعود نے ان دستورات کو بحسن خوبی انجام دے کر اپنی غلامی کا مکمل ثبوت دیا ہے)
۱۷ ۔ادائے خمس کے سلسلہ میں شک وتردید پیدا کرنا(آپ حضرات نے وہابی مولف کے مقالہ میں ادائے خمس پر اعتراض کو ملاحظہ کیا)
۱۸ ۔مسلمانوں کے اسلامی عقائد میں شک وتردید پیدا کرنا۔
۱۹ ۔باپ بیٹوں اور خاندان میں اختلاف پیدا کرنا۔
۲۰ ۔مسلمان خواتین کو ہر ممکن ذریعہ سے بے پردہ بنانا،(ہماری باپردہ ماں بھنیں غور کریں اور اپنے اوپر فخر کریں کہ استعمار کے لئے کٹ پتلی نہیں بنیں، اور بے پردہ خواتین بھی متوجہ ہوں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی استعمار کے مقاصد کو پورا کررہی ہیں )
۲۱ ۔نماز جماعت کو برقرار ہونے میں رخنہ ڈالنا اور علماء پر تہم تیں لگانا۔
۲۲ ۔لوگوں کو زیارت کے مسئلہ سے بد بین کرنا(اس ہدف کو پورا کرنے کے لئے تمام قبور کو مسمار کرنا)
۲۳ ۔سادات کے احترام کو لوگوں کے درمیان سے ختم کرنا۔
۲۴ ۔امام حسین(ع) کے سلسلہ میں مجالس اور عزاداری کو ختم کرنا۔
۲۵ ۔آزادی کے نام پر تمام قیود وحدود کو ختم کرنا۔
۲۶ ۔مذہبی اخبار اورروایتوں کی نسبت لوگوں کو بدظن کرنا۔
۲۷ ۔تعددزوجات(کئی بیوی) کے مسئلہ پر اعتراض کرنا۔
۲۸ ۔اسلام کی ترویج وتبلیغ سے روکنا۔
۲۹ ۔صدقہ دینے اور خیرات کرنے جیسی سنتوں سے روکنا۔
۳۰ ۔قرآن او راس کے ترجموں میں تحریف کرنا(یھاں تک کہ عربی کی جگہ فقط اس کے ترجمہ کو مسلمان پڑھیں)
۳۱ ۔نئے مذاہب ایجاد کرنا (ہم ایسے دین اور مذہب اختراع کرنا چاہتے ہیں جن کا ظاہر بہت اچھا اور دل فریب ہو ، اور ان کی کتابوں میں اس طرح تحریف کرنا کہ ہر فرقہ صرف اور صرف اپنے کو حقیقی مسلمان او ردوسرے فرقوں کو کافر سمجھتے ہوئے ان کے قتل کو واجب سمجھے)
۳۲ ۔عربی زبان کو نابود کرنا۔
۳۴ ۔اسلامی ممالک کے وزارتخانوں میں نفوذ کرنا۔
۳۵ ۔مسیحیت کی تبلیغ کرنا۔
۳۶ ۔مسلمانوں کے جوانوں کو فحاشی کی طرف مائل کرنا۔
۳۷ ۔اسلامی ممالک میں جنگ کرانا ،(خون کے پیاسے جلادوں کو مسلط کرنا مثل صدام کے جو ایران کی اسلامی قوم کا جانی دشمن ہوگیا او رتمام لوگوں نے اس کی بھر پور حمایت کی)
۳۸ ۔تمام مسلمانوں کو کافر کھنا۔
۳۹ ۔خانہ کعبہ کی عظمت کو مٹانا،(اورظاہر میں خوبصورت رھے لیکن مثل فھد( آل سعود) کو سونپ دیا جائے تاکہ حج کے روحانی آثار کو خاک میں ملادیں اور بے گناہ اور شرک سے مقابلہ کرنے والے مسلمانوں کو خانہ کعبہ کے نزدیک خون میں نھلادیں)
۴۰ ۔ تمام روضوں اور زیارتی مقامات کو منھدم کرنا( جس کا ایک نمونہ کربلا، نجف ، طائف یمن پر وہابیوں کے حملے اور اس طرح اس سال حج کے دنوں میں حاجیوں کا قتل عام ، اور اسی طرح جنت البقیع کا انھدام جیسے درد ناک واقعات کو ہم دیکھتے چلے آرھے ہیں )
۴۱ ۔اسلامی شھروں اور اسلامی مناطق میں خوف ووحشت پیدا کرنا۔
۴۲ ۔ تحریف شدہ قرآن کو لوگوں کے درمیان نشر کرنا۔
ہمارے متعھد اور دردمند قارئین کرام !بہت ہی غور سے اس فھرست کو پڑھیں اور دیکھیں کہ ان میں سے بہت سے پلید اور بُرے اہداف کو کس طرح انجام دیا ہے اورآج اگر کسی کو اپنے راستے میں رکاوٹ دیکھتے ہیںتو امام حسین علیہ السلام کے بت شکن فرزند یعنی امام خمینی(رہ) کو پاتے ہیں کہ جو کوہِ ہمالیہ کی طرح ان کے اہداف کے سامنے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوا ہے ۔
خدا وندعالم اپنی اس عظیم نعمت اور آیت کبریٰ کو ہمارے او ردنیا بھر کے تمام کمزور مسلمانوں کے سر پر باقی رکھ ،(آمین)۔
____________________
[۱] زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث ، تالیف احمد امین (رہ) ص۱۰۔
[۲] وہابیان ص ۱۶۰۔
[۳] یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ سعودی وہابی بھی سب سے زیادہ امر بالمعروف ونھی عن المنکر پر زور دیتے ہیں او رامر بالمعروف ونھی عن المنکر کمیٹی بنائے پھر تے ہیں خصوصاً حج کے زمانے میں ، جس کا نتیجہ فتنہ وفساد اور لڑائی جھگڑوں کو ہم نے بارہا دیکھا ہے ، البتہ سعودی وہابی اپنے خارجی بھائیوں سے بھی چند قدم آگے ہیں ،کہ مسلمانوں سے بھی جنگ وجدال کرتے ہیں ان کا نعرہ شرک وکفر اور بت پرستی سے جنگ کرنا ہے !! اور عورتوں ، بوڑھوں اور بے دفاع معلولوں پر بھی رحم نہیں کرتے ۔
[۴] سورہ نساء آیت ۳۵۔
[۵] سورہ مائدہ آیت ۹۵۔
[۶] ہم نے اس حصہ میں استاد مطھری(رہ) کی ”جاذبہ ووافعہ علی“ نامی کتاب سے تھوڑے دخل وتصرف کے ساتھ استفادہ کیا ہے ، قارئین کرام اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے مرحوم شھرستانی کی کتاب ”ملل ونحل“ اور استاد حسین نوری کی کتاب ”خوارج از دیدگاہ نہج البلاغہ“ نیز استاد مطھری(رہ) کی کتاب ”اسلام ومقتضیات زمان“ کی طرف رجوع فرمائیں۔
[۷] ان کی ظاہر پرستی اور کھوکھلے پن کا ایک نمونہ یہ ہے کہ محمد ابن عبدالوہاب اپنے فکری اساتید ابن تیمیہ اور ابن قیم کی طرح ”آنکھ کے ذریعہ خدا کے دیدار“ کا قائل ہے او رکہتا ہے : ”مومنین روزقیامت خدا کو انہیں (سر کی )آنکھوں کے ذریعہ خدا کا دیدار کریں گے!! فیصلہ خود ہمارے عقلمند اور ہوشیار قارئین کرام کے ھاتھوں میں ہے ۔
فہرست
مقدمہ ناشر ۴
مقدمہ مؤلف ۶
بحث کے کلّیات اور مقدمات ۱۱
عالمی استعمار اور فرقہ بندی ۱۴
استعمار کے اہداف اور اس میں روکاٹیں ۱۴
اسلامی تعلیمات کا اثر ۱۶
استعمار کی ترکیبیں ۱۷
ا۔ بلا واسطہ مقابلہ ۱۹
الف: فوجی مقابلہ ۱۹
ب: اسلامی تعلیمات پر مختلف طریقوں سے حملہ آور ہونا ۱۹
۲ ۔ بالواسطہ مقابلہ ۱۹
استعماراور فرقہ بندی ۱۹
فرقہ شیخیہ کی پیدایش ۲۰
وہابی فرقہ کی ایجاد ۲۱
فرقہ وہابیت کا فکری سرچشمہ ۲۳
فرقہ وہابیت کے موسسین کے نظریات اور ان کی تحقیق و بررسی ۲۳
ابن تیمیہ کے حالات زندگی ۲۳
ابن تیمیہ کے بارے میں ہمارا نظریہ ۳۰
ابن تیمیہ کے عقائد اورا قوال ۳۲
ابن تیمیہ کی نظرمیں مسئلہ توحید ۳۲
کفر و شرک کے معنی میں وسعت دینا ۳۳
مذکو رہ بیان کی وضاحت ۳۳
خدا کے دیدارکے سلسلے میں ابن تیمیہ کا عقیدہ اور اس کی تحقیق ۳۴
”خدا کا آنکھوں کے ذریعہ دیدار “کے بارے میں ابن تیمیہ کے نظریہ کی رد ۳۵
خدا کے دیدار پر اشعریوں کی دلیل ۳۵
ہمارا جواب ۳۵
کامل انسانوں کےلئے خدا کا قلبی دیدار ممکن ہے ۳۶
خدا کا دنیا کے آسمان پر اُترنے کا عقیدہ ۳۹
انبیاء کی بعثت سے قبل ان کے غیر معصوم ہونے کاعقیدہ ۴۰
عصمت انبیاء کے بارے میں علامہ طباطبائی کا نظریہ ۴۱
انبیاء کی عصمت کے تین مرحلے ۴۲
تیسرا مرحلہ: ۴۴
غیر خدا کی قسم کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کا نظریہ ۴۴
غیر خدا کی قسم کے سلسلہ میں وضاحت اور ابن تیمیہ کے نظریہ کی ردّ ۴۵
پیغمبر اسلام(ص) سے توسل واستغاثہ کرنا اور ا ن کو شفیع قرار دینا اور ان سے حاجت مانگنا ۴۶
پیغمبر(ص) سے توسل اور وسیلہ کے سلسلہ میں وضاحت ۴۶
اور ابن تیمیہ کے قول کا جواب ۴۶
ابن قیّم جوزی کے حالاتِ زندگی ۴۸
ابن قیّم جوزی کی تالیفات ۵۱
وہابیوں کے اعتقادی اصولوں پرتحقیق و تنقید ۶۲
وہابیوں کے اعتقادی اصول ۶۳
شیعوں کی نسبت موسسِ وہابیت کی تہمتیں ۶۳
ایک معاصر وہابی مصنف کے مقالہ کا خلاصہ ۶۶
صاحب ” فتح المجید “ کے نظریات ۶۹
وہابیوں کے افکار پر تحقیق و تنقید ۷۱
شبہ شرک ۷۱
توحید اور اس کی اقسام ۷۲
بانی وہابیت محمد ابن عبد الوہاب کے حالاتِ زندگی ۸۰
محمد ابن عبد الوہاب کی دعوت کا طریقہ ۸۴
محمد ابن عبد الوہاب کا غنائم جنگی تقسیم کرنے کا طریقہ ۸۵
عبد الوہاب کے بیٹے کا سرانجام ۸۵
محمد ابن عبد الوہاب کی تالیفات ۸۶
حج کا سیاسی پھلو ۸۸
حاجیوں کے نام حضرت امام خمینی (رہ) کے پیغا م کا خلاصہ ۹۰
یزید (اوربنی امیہ ) کے جانشینوں کی نا خلف اولاد ۹۴
کے ھاتھوں حاجیوں کا قتل عام ۹۴
اختتام کلام اور دعا ۹۷
شرک اور اس کی اقسام ۹۹
جھان کی پیدائش ایک نظام کے تحت ہے ۱۰۱
اس باب میں شارع مقدس کا نظریہ ۱۰۱
قرآن سے ایک نمونہ ۱۰۴
ایک ناقص مثال : ۱۰۸
ایک تذکر : ۱۰۹
ایک دوسری مثال : ۱۱۰
علامہ شھید مطھری کا بیان ۱۱۲
توحید و شرک کی حدود ۱۱۲
عالم کائنات میں وہابیوں کا نفی واسطہ کا عقیدہ ۱۱۸
توسل کے بارے میں ایک جد وجھد ۱۲۵
لغت میں توسل کے معنی ۱۲۵
توسل فطرت و طبیعت کی نگاہ سے ۱۲۶
توسل قرآن کی نظر میں ۱۲۷
شفاعت وہابیوں کی نظر میں ۱۳۱
اولیا ء خدا سے شفاعت کے جواز پر دلائل ۱۳۲
وہابیوں کے اشکالات و اعتراضات کا خلاصہ ۱۳۳
درخواست شفاعت شرک ہے ۱۳۳
وہابیوں کو ہمارا جواب ۱۳۴
وہابی حضرات کہتے ہیں: ۱۳۵
وہابیوں کو ہمارا جواب ۱۳۶
غیر خدا سے حاجت طلب کرنا حرام ہے ۱۳۶
وہابیوں کو ہمار جواب ۱۳۶
شفاعت خدا وندعالم سے مخصوص ہے ۱۳۷
وہابیوں کو ہمارا جواب ۱۳۷
مردوں سے شفاعت کی درخواست کرنا ،لغو ہے ۱۳۸
وہابیوں کا ہمارا جواب : ۱۳۸
شفاعت کے بارے میں علامہ طباطبائی (رہ) کا نظریہ ۱۳۸
شیعوں پر وہابیوں کے اعتراضات ۱۴۵
شیعہ مذہب کے وجود میں آنے سے متعلق وہابیوں کے اعتراضات ۱۴۵
شیعہ مذہب کا آغاز خود رسول اکرم(ص) کے زمانے سے ہوا ۱۴۶
حضرت علی (ع) کاعلم اور آپ کی عصمت ۱۴۷
حضرت علی (ع) کی فداکاریاں اور قربانیاں ۱۴۷
غدیر خم کا واقعہ ۱۴۷
وہ اسباب کہ جنکی بناپر شیعوں کی اقلیّت ، سنّیّوں کی ۱۴۸
اکثریت سے جدا ہوئی اور اختلافات ظاہر ہوئے ۱۴۸
تحریف قرآن کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ ۱۵۰
اور وہابیوں کے اعترضات ۱۵۰
قرآن مجید میں تحریف نہ ہونے کے بارے میں علامہ طباطبائی کا نظریہ ۱۵۰
تقیہ کے بارے میں شیعوں کاعقیدہ ۱۵۳
اور وہابیوں کے اعتراضات ۱۵۳
تقیہ کے بارے میں شیعوں کا نظریہ ۱۵۵
قرآن کے ظاہر و باطن کے متعلق شیعوں کا نظریہ ۱۵۷
اور اس سلسلہ میں وہابیوں کے شبھات ۱۵۷
مسئلہ رجعت سے متعلق وہابیوں کی فتنہ گری ۱۵۹
رجعت کے مسئلہ سے متعلق مزید تحقیقات ۱۶۰
پھلے اعتراض کا جواب ۱۶۲
دوسرے اعتراض کا جواب ۱۶۳
حضرت علی (ع)کی محبت سے متعلق شیعوں کا عقیدہ ۱۶۵
اور وہابیوں کی زھر افشانی ۱۶۵
حضرت علی (ع) کی محبت قرآن اور سنّت کی روشنی میں ۱۶۶
عقیدہ بداء پر وہابیوں کا اعتراض ۱۷۰
بداء کے حقیقی معنی ۱۷۰
زیارت سے متعلق شیعہ مذہب کاموقف ۱۷۲
اور اس پر وہابیوںکے اعتراضات ۱۷۲
قبروں کی زیارت ۱۷۳
قبروں کی زیارت کے سلسلہ میں اہلسنّت کا عقیدہ ۱۷۴
حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری پر وہابیوں کے اعتراضات ۱۷۶
سالانہ عزاداری ۱۷۷
عالم اسلام کے لئے وہابیت کے بدترین تحفے ۱۸۰
وہابیت کا مسلمانوں کے خلاف کفر کا فتویٰ ۱۸۰
وہابیت کا مسلمانوں کی جان و مال اور ناموس کی بے حرمتی کرنا ۱۸۲
وہابیوںکاخدا کے حکم کی نافرمانی کرنا ۱۸۴
مسلمانوں کی بے ا حترامی اور ان کی تکفیر سے متعلق اسلام کا صاف اور صریح موقف ۱۸۶
مذکورہ موضوع پر غیر صریح روایتیں ۱۸۹
مؤمن کی بی حرمتی پر اسلام کی واضح مخالفت ۱۹۰
اسلام میں کسی مؤمن پر تہم ت لگانے کی ممانعت ۱۹۰
مسلمانوں کی طرف کفر کی نسبت دینا حرام ہے ۱۹۱
اس بارے میں علماء کے فتوے ۱۹۱
شیعہ علماء کرام کے فتوے ۱۹۲
سنّی علماء کے فتوے ۱۹۲
اشعری کا فتویٰ : ۱۹۲
ابوحنیفہ و غیرہ کا فتویٰ : ۱۹۳
وہابیوں کے ھاتھوں اہل کربلا کا قتل عام ۱۹۴
خونین حج او رمسلمانوں کے قتل عام کا دردناک واقعہ ۲۰۰
حج، دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے ہے ۲۰۰
اور کسی مخصوص قوم یا نسل سے تعلق نہیں رکھتا ۲۰۰
حج کے متعلق اسلامی حکومت کی ذمہ داریاں ۲۰۲
ابن تیمیہ کے نظریات اور فرقہ وہابیت کی شدت پسندی میں فرق کے سلسلہ میں محمد ابوزھرہ کا نظریہ ۲۰۹
وہابیوں کی فرقہ خوارج سے شباہتیں ۲۱۰
خوارج کی پیدائش ۲۱۱
خوارج کے اعتقادی اصول ۲۱۲
خلافت کے مسئلہ میں خوارج کا عقیدہ ۲۱۲
خلفاء کے بارے میں خوارج کا نظریہ ۲۱۳
خوارج کی نابودی اور اس طرز تفکر کا باقی رھنا ۲۱۳
پھلی شباہت: ۲۱۴
دوسری شباہت ۲۱۶
تیسری شباہت ۲۱۷
چوتھی شباہت ۲۱۸
پانچویں شباہت ۲۱۸
وضاحت: ۲۱۹
چھٹی شباہت ۲۱۹
ساتویں شباہت ۲۲۰
وہابیت کی پیدائش کازمانہ اور اس کی جڑیں ۲۲۲
اسلام سے مقابلہ کے لئے استعمار کے احکامات ۲۲۳