یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
شعيت کي حقيقت اور اس کي نشو و نما
صباح علي بياتي
مقدمہ
الحمد للّٰه رب العالمين و الصلٰوة و السلام علي محمَّد و آله الطاهرين و صحبه المنتجبين ۔
جديدو قديم محققين و مولفين کے نزديک حقيقت تشيع اور اس کي نشو ونما بہت ہي توجہ کا حامل رہي ہے اس سلسلہ سے بہت ہي افکار و نظريات کي رد و بدل ہوئي ہے اکثر مولفين نے يہ نظريہ دياہے کہ شيعہ وہ فرقہ ہے جو کہ عقائد کي تقسيمات کے دور ميں وجود ميں آياہے اور امت مسلمہ کي جانب سے بہت ہي بسط و تفصيل کا موضوع قرار پاياہے جس کي وجہ يہ ہے کہ عقائدي اختلافات سياسي تقسيمات کے سبب وجود ميں آئے ہجرت سے ليکر تقريباً نصف صدي سے کم مدت ميں يہ کام ہوا ہے اور وہ حادثات جن کے سبب مسلمان مختلف گروہوں ميں تقسيم ہوگئے اورايک دوسرے کا خون حلال گرداننے لگے، اور ہر فرقہ يہ سمجھنے لگا کہ صرف وہي حق پر ہے اوراس کا حريف گروہ باطل پر ہے ، اسي کے سبب اسلامي فرقے اپنے نظريات کو ڈھالنے کے درپے ہوگئے اور اس کام کے لئے انھوں نے آيات قرآني اور احاديث نبوي کي غلط تاويل بھي کي، اس وقت يہ مسئلہ اور ہي خطرناک رخ اختيار کر گيا، جب ان فرقوں نے مناظرے شروع کر ديئے اور عصبيت کے سبب احاديث رسول کے سلسلہ ميں جرات و جسارت سے کام ليا، اور حديثوں کو گڑھنا اور بے جا و غير مناسب جگہ منسوب کرنا شروع کرديا جس کو وہ اپني نظر ميں بہتر سمجھتے تھے، اوردوسرے فرقہ کي مذمت ميں جعلي حديثوں کا دھندا شروع کرديا،ان جعلي اور جھوٹي حديثوں ميں ايسي حديثيں بھي وجود ميں آئيں:
”سيکون في امتي قوم لهم نبز يقال لهم الروافض اقتلوهم فانهم مشرکون “
(عنقريب ميري امت ميں ايک گروہ پيدا ہوگا جن کي عادت دوسروں کو برے نام سے ياد کرنا ہوگي جن کو رافضي کہا جائے گا، ان کو قتل کر دينا کيونکہ وہ مشرکين ہيں)
جبکہ فرقوں کے سلسلوں ميں کتابيں لکھنے والوں کے نزديک يہ رائج ہے کہ جناب زيد بن علي بن الحسين نے رافضي کا نام، ان افراد کو ديا جنھوں نے آپ کے قيام ميں آپ کا ساتھ چھوڑ ديا تھا يہ لفظ اور اس کے علاوہ ديگر الفاظ، اہل سنت مخالف فرقوں کے لئے استعمال کئے گئے، جبکہ حيات رسول ميں بالکل نہيں پائے جاتے تھے ۔
احاديث متواتر ميں ايک وہ حديث جو فرقوں کي تہتر قسموں پر تقسيم کے سلسلہ ميں ہے کہ ايک نجات يافتہ ہے بقيہ سب جہنمي، اس کو سب نے نقل کيا ہے اور ہر فرقہ نے اس بات کي کوشش کي ہے کہ وہ يہ ثابت کرلے جائے، کہ اس کامياب فرقہ سے مراد ہم ہيں اور ہمارے علاوہ سب جہنمي ہيں۔
اس وقت تو اور مٹي خراب ہوگئي، جب شب و روز کي گردش کے ساتھ يہ عقائد سرايت کرنے لگے اور يہ جعلي حديثيں، حديثي مجموعوں ميں شامل ہوگئيں اور لوگ يہ سمجھنے لگے کہ يہ کلام نبي ہے جب کہ يہ اسماء و اصطلاحيں حيات رسول اور ان کي وفات کے بعد کچھ دن تک بالکل رائج نہيں تھيں اور لوگوں کے درميان اس وقت پھيلنا شروع ہوئيں، جب کلامي ”معرکہ“ شعلہ ور ہونے لگے اور يہ اس وقت وجود ميں آئے، جب اجنبي ثقافت والے مسلمان ہونے لگے يا مسلمان ان ثقافتوں سے متاثر ہونے لگے، جن کا عربي زبان ميں ترجمہ ہوا، ہر مکتب فکرنے اپنے عقيدہ کے لئے الگ فلسفہ بگھارنا شروع کرديا اور ان اصطلاحوں کي خول پہن لي جن کو يوناني، ايراني، ہندستاني، فلسفيوں نے ايجاد کيا تھا۔
جب تدوين و ترتيب کا سورج نصف النہار پر چمک رہا تھا اور اسلامي مفکرين مختلف علوم و فنون ميں دسترسي حاصل کر رہے تھے، اس وقت مختلف مکاتب فکر کے افراد نے خلافت و امامت اور اسلوب خلافت کے سلسلہ ميں مناظرہ کرنا شروع کيا مصيبت اس وقت آئي جب اديان و مذاہب پر کتابيں لکھي جانے لگيں، کيونکہ اس ميدان ميں قلم فرسائي کرنے والے شہرستاني و بغدادي جيسے بيشتر افراد کا تعلق ان اہل سنت سے تھا جو امت اسلاميہ کي اکثريت کے نظريہ کو مجسم کرتے تھے۔
يہ ساري تاليفات کا مرکز ايک معين نقطہ تھا اوران کي کوشش يہ تھي کہ اسلامي فرقوں کو تہتر فرقوں ميں تقسيم کرنا ہے اس کے بعد بہتّر ( ۷۲) کو گمراہ ثابت کر کے ايک فرقہ کو نجات يافتہ بنانا ہے اور وہ فرقہ اہلسنت و الجماعت کا ہے، اور ديگر فرقے جن ميں سے ايک شيعہ بھي ہے ايک بدعتي اور راہ حق سے گمراہ فرقہ ہے، اسي کے سبب اس فرقہ کے وجود و عقائد کے سلسلہ ميں نظرياتي اختلاف ہوئے، کبھي يہ کہا گيا کہ يہ فرقہ عبد اللہ بن سبا کي تخليق ہے اور اس کے عقائد کي بنياد يہودي ہے اور کبھي اس کا ڈھونگ يہ رچايا گيا کہ يہ فرقہ ايرانيوں کے مرہون منت ہے اور اس کے افکار و عقائد مجوسيوں سے متاثر ہيں، دوسرے مقامات پر يوں بدنام کيا گيا کہ اہل بيت پر ازحد مظالم، جيسے کربلا ميں حضرت امام حسين اور ان سے قبل حضرت امير کي شہادت، کے رد عمل کے طور پر يہ فرقہ وجود ميں آيا۔
اس طرح اس فرقہ کي نشو و نما کي تاريخ کے سلسلہ ميں اقوال بے شمار ہوگئے ، بعض نے يوں غم غلط کيا کہ اس کا وجود سقيفہ کے حادثہ کے بعد ہوا ہے، بعض نے يوں دل کا بوجھ ہلکا کيا کہ حضرت عثمان کے دور خلافت ميں فتنوں کے بعد رونما ہوا ہے، بعض نے يوں آنسو پونچھے کہ جمل يا صفين يا شہادت امام حسين کے بعد معرض وجود ميں آيا۔
ظہور تشيع کے سلسلہ ميں اس تشنہ نظريہ کي وجہ يہ ہے کہ وہ اسلام کي طرح شيعيت کے عقائد کي بالکل معرفت نہيں رکھتے، يہ امت مسلمہ کي سونچ اور باطل عقيدہ کے مطابق عام امتوں کي طرح ايک دم وجود ميں نہيں آئي ہے، بلکہ يہ اسلام کے عقائد کا مکمل اور حقيقي مظہر ہے اس کي بنياد رسول اکرم نے رکھي ہے اور روز بروز اہلبيت کرام کے زير سايہ پروان چڑھي ہے۔
اہلبيت نے اس کے رموز واسرار بيان کئے ہيں اور شبہات کا جواب ديا ہے اور سفاک مزاج افراد کے مد مقابل رہے ہيں اہل بيت کي کسر شان کرنے کے مقاصد ميں ايک اور اصل مقصد يہ تھا کہ اسلام کا نام و نشان مٹ جائے ،اسي لئے بعض افراد نے خلط ملط کيا۔
چنانچہ انھوں نے شيعوں ميں سرايت کرنے والے ان افراد کے عقائد کو شيعوں کي طرف يہ کہہ کر منسوب کرديا کہ يہ شيعي فکر اور عقيدہ کا مظہر ہيں،جو اسلام کي بربادي چاہتے ہيں اور اسلام ميں آمريت کے قائل ہيں۔
وہ تو يہاں تک کہہ بيٹھے کہ شيعيت ان تمام تخريبي افکار کي پناہ گاہ بن چکي ہے جن کا مقصد عربيت اور اسلام کا خاتمہ کرنا ہے۔
متقدمين اسي نظريہ پر چلے اور آنے والے افراد نے ان کي اتباع کي۔
واقعي افسوس کا مقام ہے کہ اس عصر کے محققين نے شيعہ و تشيع پر لعن طعن صرف گذشتہ افراد کے اقوال پر بھروسہ کے سبب کرنا شروع کرديا اور انھوں نے اتني زحمت برداشت کرنا گوارہ نہ کي، کہ ہر فرقہ کے عقائد و نظريات کو بخوبي درک و تحقيق کريں، خاص طور سے اس جديد ترقياتي دور نے ہر طرح کي تحقيق کا موقع فراہم کرديا ہے اور تمام طالبان حقيقت کے لئے علمي بحث کے وسائل فراہم کرديئے ہيں۔
حقيقت کو درک کرنے کے لئے ايک محقق کے لئے ضروري ہے کہ وہ تعصب سے کام نہ لے اور اگر يہ شرط ختم ہوگئي تو پھر اس کي تحريروں سے حقيقت کے ظاہر ہونے کي اميد نہيں کي جاسکتي ہے۔
اس زمانہ ميں ايسے محققين کا فقدان نہيں ہے خاص طور سے بعض شرق شناس (مستشرقين) ہيں جنھوں نے حق کے سوا کسي چيز کو نہيں تلاش کيا اور حق و حقيقت کے چہرے سے پردہ اٹھايا، جيسا کہ شيعہ مولفين و محققين نے اس حوالہ سے کتابيں تصنيف کيں اور راہ حق ميں تحقيق کي تاکہ اس راہ ميں جو بھي حق کو تلاش کرنا چاہے اس کے لئے آساني ہو۔
ہماري ان بحثوں کے ضمن ميں ايک ناچيز کوشش يہ بھي ہے اللہ سے اميد کرتے ہيں کہ اس سے مکمل طور پر ہر وہ شخص استفادہ کرے جو انتفاع کا ارادہ رکھتا ہے يا کچھ حق سننا چاہتا ہے، خدا اس پر گواہ ہے اور خدا سب کي نيتوں سے بخوبي واقف ہے۔
پہلي فصل
اسلام اور تسليم
مشہور لغت داں، ابن منظور کے بقول اسلام اور تسليم يعني: اطاعت شعاري۔
اسلام، شرعي نقطہ نظر سے يعني: خضوع کے ساتھ شريعت کے قوانين کا اعتراف اور نبي اکرم کے لائے ہوئے احکام کا پابند ہوناہے اور انھيں امور کے سبب خون محترم اور خداوند تعاليٰ سے برائي ٹالنے کي التجا کي جاتي ہے اور ثعلب نے مفيد و مختصر طور پر کتني اچھي بات کہي ہے کہ: اسلام، زباني اقرار کا نام ہے اور ايمان دل سے اعتراف کا اسلام کے بارے ميں ابابکر محمد بن بشار نے کہا کہ اگر يہ کہا جائے کہ فلاں شخص مسلمان ہے تو اس سے دو بات سمجھ ميں آتي ہيں:
۱- وہ احکام الٰہيہ کا تابعدار ہے ۲- عبادت خداوندي ميں مخلص ہے۔( ۱ )
يہاں پر ہم دونوں کے درميان فرق پيدا کرسکتے ہيں جو کہ پہلي فرصت ميں آساني سے بيان نہيں کيا جاسکتا کيونکہ ”استسلام لامر اللّٰہ“ (احکام الٰہيہ کي تابعداري) اور ”اخصلاص للعبادة“ (عبادت خداوندي ميں خلوص) کے درميان فرق ہے۔
پہلے معني کے رو سے اسلام اس حقيقت ايمان سے زيادہ وسيع دائرہ رکھتا ہے جو انسان کے پروردگار کے رابطہ کو مضبوط کرتا ہے کيونکہ حکم خدا کي تابعداري، اوامر و نواہي الٰہي کي مکمل پيروي پر مشتمل ہے اور حکم خداوندي پر اپني رائے کو مقدم نہ کرنا ہے۔
اسي کے پيش نظر مسلمان جو کچھ نبي اکرم لائے ہيں ان کے سامنے سر اطاعت خم کرديتاہے کيونکہ آپ خدا کي جانب سے آئے ہيں اور اس بات کا عقيدہ رکھتا ہے کہ رسول اکرم اپني طرف سے کوئي بات نہيں کہتے بلکہ آپ پر وحي کا نزول ہوتا ہے وہ چاہے احکامات شريعت ہوں يا عبادات کي ادائيگي، آپسي اختلافات ہوں يا نظرياتي چپقلش اور يہ سب خدا کے اس حکم کے پيش نظر ہے
( وَ مَا آتٰاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَانَهَيٰاکُمْ عَنهُ فَانْتَهُوْا ) ( ۲ )
( فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيءٍ فَرُدُّوهُ اِلَي اللّٰهِ وَ الرَّسُولِ اِنْ کُنتُم تُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ وَ اليَومِ الآخِرِ ) ( ۳ ) ( فَلا وَرَبِّکَ لايُؤمِنُونَ حَتَّي يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَينَهُم ثُمَّ لايَجِدُوا فِي انفُسِهِم حَرَجاً مِمَّاقَضَيتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيماً ) ( ۴ )
(اور جو کچھ بھي رسول تمہيں ديدے اسے لے لو، اور جس چيز سے منع کردے اس سے رک جاو ،پھر اگر آپس ميں کسي بات ميں اختلاف ہو جائے تو اسے خدا اور رسول کي طرف پلٹا دو، پس آپ کے پروردگار کي قسم کہ يہ ہرگز صاحب ايمان نہ بن سکيں گے جب تک آپ کو اپنے اختلاف ميں حکم نہ بنائيں اور پھر جب آپ فيصلہ کرديں تواپنے دل ميں کسي طرح کي تنگي کا احساس نہ کريں اور آپ کے فيصلہ کے سامنے سراپا تسليم ہو جائيں)
مذکورہ بيان سے يہ بات واضح ہوتي ہے کہ خداوند عالم نے اپنے بندوں سے جس اسلام کو چاہا ہے اس سے مراد کيا ہے؟ اور وہ ہے فرامين نبوت کي تمام معني ميں اطاعت، چاہے يہ احکام عام انساني نظريات و آراء کے برخلاف ہي کيوں نہ ہوں، يا خود انسان يہ سوچے کہ مصلحت اس کي خلاف ورزي ميں ہے۔
لہٰذا خدا نے بتلاديا ہے کہ خدا و رسول کے آگے سر تسليم خم کرنا ان تمام مصلحتي تقاضوں پر مقدم ہے جو انسان کي اپني فکري يا بعض فکري بيمار سياست کي کوششوں کا نتيجہ ہوتا ہے اور يہ کہ اسلام کو خضوع و خشوع کا مرقع ہونا چاہئے اور ارادہ نبوي کا مطلق مطيع و فرمانبردار ہونا چاہئے کيونکہ آپ خدا کے رسول ہيں اور آپ کي اطاعت، استمرار اطاعت خداوندي ہے۔!
ليکن دوسري اصطلاح کے مطابق عبادات الٰہيہ ميں اخلاص کا ہونا يعني مسائل شرعيہ ميں اخلاص پيدا کرنا ہے جو کہ اعضاء و جوارح سے متعلق ہيں جيسے نماز، روزہ، حج اور ان جيسے احکامات، اس کے مفہوم کا دائرہ پہلے معني کے بنسبت محدود ہے جو اوامر و نواہي نبوي سے متعلق ہے، اس لئے کہ احکام شرعيہ کي پابندي ميں لوگوں کي اکثريت شامل ہے اور وہ اس کو بجالانے ميں کوشاں ہيں۔
البتہ بسا اوقات کچھ لوگ کسي مشکل کي وجہ سے اس قانون کي تاب نہيں لاپائے يا کبھي کسي حکم کي نافرماني اس وجہ سے کر بيٹھتے ہيں کہ ان کي نظر ميں وہ حکم مصلحت کے برخلاف ہوتا ہے۔
قرآن کريم نے ان دونوں صورتوں کي بڑي حسين تقسيم کي ہے، پہلے کا نام ايمان، اور دوسرے کا نام اسلام رکھا ہے۔
باديہ نشينوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمايا:
( قَالَتِ الاعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَم تُو مِنُوْا وَ لٰکِنْ قُوْلُوْا اسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدخُلِ الإيْمَانُ فِي قُلُوبِکُمْ ) ( ۵ )
(يہ بدو عرب کہتے ہيں کہ ہم ايمان لے آئے ہيں تو آپ کہہ ديجئے کہ تم ايمان نہيں لائے بلکہ يہ کہو کہ اسلام لائيں ہيں کہ ابھي ايمان تمہارے دلوں ميں داخل نہيں ہوا ہے)
باديہ نشينوں نے احکام شرعيہ کي بجا آوري ميں سہل انگاري سے کام ليا تو ان کو تنبيہ کي کہ تمہاري يہ حرکتيں ايمان کے (جوکہ اطاعت خدا و رسول کے معني ميں ہيں) بالکل منافي ہيں، (قرآن نے) ان
کے موقف کا اظہار بھي کرديا، اور ان ميں سے بعض افراد کے غلط نظريات کو طشت از بام کرديا جنھوں نے غزوہ تبوک کے مسئلہ ميں حکم رسالت کي نافرماني کي تھي، خدا نے ان کي مذمت کي ہے، کيونکہ وہ لوگ يہ سمجھ رہے تھے کہ حکم رسالت کي نافرماني ہي ميں بھلائي اور مصلحت ہے وہ يہ گمان کر رہے تھے کہ اس حکم ميں وسعت اور اختيار ہے لہٰذا مخالفت کر بيٹھے۔
قرآن کريم نے ان کي سرزنش کي اور بعض اصحاب کي تنبيہ کي جنھوں نے علم بغاوت بلند کر رکھا تھا، اور قرآن کا لہجہ اس سلسلہ ميں بہت سخت تھا۔
اجتہاد کے سلسلہ ميں بعض اصحاب کا موقف
بعد حيات رسول اس موضوع کي زيادہ وضاحت ہوئي کہ تمام کے تمام اصحاب اطاعت نبوي ميں ايک مرتبہ پر فائز نہيں تھے، دو دھڑے ميں تقسيم ہوگئے تھے، بعض اس نظريہ کے قائل تھے کہ رسول کے اوامر و نواہي مسلّمات ديني ميں سے ہيں ان کي خلافت ورزي کسي صورت ميں صحيح نہيں ہے اور ايسے افراد کي تعداد بہت کم تھي اور انھيں کے بيچ وہ افراد بھي تھے جو اس حد تک روشن فکر تھے کہ احکام نبوي ميں کتر بيونت کرتے تھے بلکہ اس بات کے بھي قائل تھے کہ عصري تقاضوں کے تحت اس کي مخالفت بھي کي جاسکتي ہے، حديہ کہ مصلحت کے پيش نظر بعض سنت نبوي سے بھي لوگوں کو دور رکھا جاسکتا ہے، جس کے ثبوت ميں اوارق تاريخ گواہ ہيں۔
رسول اکرم جب اپنے اصحاب کے ہمراہ ابوسفيان کے قافلہ کي تلاش ميں نکلے تو اس وقت ابوسفيان کي قدرت و تدبير بھي اس کو مسلمانوں سے نہيں بچاسکتي تھي او رمشرکين مکہ ان کي پشت پناہي اوران کے اموال کي حفاظت بھي نہيں کرسکتے تھے جب مشرکين مکہ اور مسلمانوں کي مڈبھيڑ ہوئي، تو اس وقت نبي کا ارادہ سب پر واضح اور روشن تھا کہ ”ہم نہيں يا تم نہيں“ اس وقت مشرکين مکہ خاص طور سے ان کا سردار ابوجہل مسلمانوں سے جنگ پر اتاولہ ہورہا تھا اور وہ يہ سوچ رہا تھا کہ يہ سنہري موقع ہے کہ ان (مسلمانوں) کي بيخ کني کرديں گے اور ہميشہ ہميشہ کے لئے نبوت کا چين چھين ليں گے۔
ايسے روح فرسا حالات ميں پيغمبر کا مسلمانوں کے ہمراہ جنگ کئے بغير واپس آجانا جنگ سے فرار ہي شمار کيا جائے گا۔
بسا اوقات تو مشرکين مسلمانوں کے محلہ ميں آپسي جھگڑوں ميں جسارت کي حد تک پہنچ جاتے تھے اور يہ تو بہت بڑا الميہ تھاکہ اصحاب، جنگ ميں مرضي نبوت کے خلاف اقدام کرتے تھے اور ايک کثير تعداد فکري تائيد نہيں کرتي تھي بعض زبان دراز تو يہاں تک کہہ بيٹھے کہ جنگ کي بات کيوں نہيں ختم کرتے تاکہ ہم سکون کي سانس لے سکيں! ہم تو مال و متاع کے لئے نکلے تھے۔
روايت ميں آےا ہے کہ (کسي نے کہا) يارسول اللہ! ”آپ مال و متاع پر نظر رکھئے دشمن کو جانے ديں“ تو آپ کے چہرے کا رنگ متغير ہوگيا۔
ابو ايوب کہتے ہيں: کہ ايسے ہي وقت يہ آيت نازل ہوئي
( کَمَا اخرَجَکَ رَبُّکَ مِن بَيتِکِ بِالحَقِّ وَ إنَّ فَرِيقاً مِنَ المُؤمِنِينَ لَکَارِهُونَ ) ( ۶ )
(جس طرح تمہارے رب نے تمہيں تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کيا اگر چہ مومنين کي ايک جماعت اسے ناپسند کر رہي ہے)
پيغمبر جب جنگ بدر کے لئے روانہ ہوئے تو رمضان کا مہينہ تھا آپ نے اس وقت ايک، يا دو روزہ رکھا تھا اس کے بعد واپس آئے تو آپ کے نقيب نے يہ صدا دي کہ: اے گنہگارو! ميں نے افطار کرليا ہے لہٰذا تم بھي افطار کرلو اس کے قبل ان سے يہ کہا جاچکا تھا کہ افطار کرلو ليکن ان کے کان پہ جوں نہيں رينگي تھي۔( ۷ )
بلکہ بعض افراد کي رائے، جنگ کے سلسلہ ميں ارادہ نبوت کے بالکل خلاف تھي جب رسول نے اصحاب سے مشورہ کيا تو عمر بن الخطاب نے کھڑے ہوکر کہا کہ يارسول اللہ خدا کي قسم وہ قريش ہيں اور صاحبان جاہ و حشم، جب سے وہ صاحب عزت ہوئے ہيں آج تک ذليل نہيں ہوئے، جب سے کفر اختيار کيا آج تک ايمان نہيں لائے، خدا کي قسم وہ اپني آبرو کا کبھي بھي سودا نہيں کريں گے وہ آپ سے ضرور بالضرور اور ہميشہ برسرپيکار رہيں گے يہ سننے کے بعد پيغمبر نے عمر کي جانب سے منہ پھير ليا۔( ۸ )
دوسري جانب ہم ديکھتے ہيں کہ وہيں ايسے اصحاب بھي تھے جن کا نظريہ اور ان کي سونچ ان سے بالکل مختلف تھي۔
مقداد بن عمرو کھڑے ہوئے اور کہا: يارسول اللہ آپ حکم خدا کي پيروي فرمائيں ہم آپ کے ساتھ ہيں، خدا کي قسم ہمارا وہ جواب نہيں ہوگا جو قوم بني اسرائيل نے اپنے نبي کو ديا تھا:
( فَاذْهَبْ انتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلا إنَّا هٰاهُنَا قَاعِدُونَ ) ( ۹ )
(آپ اپنے پروردگار کے ساتھ جاکر جنگ کيجئے ہم يہاں بيٹھے ہوئے ہيں)
بلکہ آپ اور آپ کا خدا جنگ کرے اور ہم آپ کے شانہ بشانہ ہيں، قسم ہے اس ذات کي جس نے آپ کو خلعت نبوت سے نوازا، اگر آپ کے ساتھ پاتال ميں بھي جانا ہوا تو ہم تيار ہيں۔
پيغمبر اسلام نے کہا: خير ہے۔
سعد بن معاذ جو کہ انصار ميں سے تھے کھڑے ہوئے اور عرض کي:
يارسول اللہ! ہم آپ پر ايمان لائے آپ کي تصديق کي، جو کچھ لائے اس پر گواہ ہيں، ہم بسر و چشم آپ پر بھروسہ کرتے ہيں اور وفاء عہد کا وعدہ کرتے ہيں۔
اے نبي خدا! آپ کو جو قدم اٹھانا ہے و کر گذريں، قسم ہے اس ذات کي جس نے آپ کو رسالت کے عہدے پر فائز کيا، اگر آپ کا حکم اور مرضي اس بات ميں ہے کہ اتھاہ سمندر کے پاني کو متھ کر رکھ ديں تو ہمارا آخري آدمي بھي پيچھے نہيں ہٹے گا، جو چاہے انجام ديجئے اور جس سے چاہے چشم پوشي اختيار کيجئے، ہمارے اموال و اثاث ميں سے جو اور جتنا چاہيں لے سکتے ہيں۔
جتنا آپ انتخاب کرليں گے وہ ہمارے بچے ہوئے مال سے زيادہ محبوب ہوگا، قسم ہے اس ذات کي جس کے دست قدرت ميں ميري جان ہے ہم اس راہ (اسلام) پر جب سے گامزن ہوئے کبھي آئندہ کي فکر لاحق نہيں ہوئي اور نہ ہي دشمنوں سے مڈبھيڑ ميں گھبرائے، ہم وقت جنگ صابرين ميں سے ہيں۔
روز محشر اس بات کي تصديق فرما ديجئے گا، شايد خدا ہمارے ان اعمال کو قبول کرے جو آپ کے آنکھوں کي ٹھنڈک کا سبب بنے۔( ۱۰ )
ان کلمات سے اصحاب کے موقف کا علم ہوتا ہے کہ وہ تسليم يا عدم تسليم ميں کس چيز کو اہميت ديتے تھے۔
اس سے اور آگے بعض اصحاب کے آراء و نظريات اس درجہ روشن تھے کہ نبي کي رائے پر غالب تھے يا دوسرے لفظوں ميں يہ کہا جائے کہ نص نبوي کے مقابل اجتہاد فرما رہے تھے جس کا نتيجہ يہ نکلتا تھا کہ وہ حکم نبوي کي پيروي کسي صورت ميں نہيں کرنا چاہتے تھے، اور ايسے حادثات متعدد مقامات پر رونما ہوئے ہيں۔
ابو سعيد خدري سے روايت ہے کہ ايک بار ابوبکر رسول کے پاس آئے اور عرض کي يارسول اللہ! ميں ايک وادي سے گذر رہا تھا وہاں پر ايک نہايت حسين اور وجيہ زاہد کو عبادت ميں مشغول پايا، تو اس وقت رسول نے ابوبکر سے کہا کہ جاؤ اور اس کو قتل کردو۔
سعيد کہتے ہيں: ابوبکر گئے اور اس کو اس حالت ميں ديکھ کر پس و پيش ميں پڑ گئے کہ اس کو کيسے قتل کريں، واپس آئے تو رسول نے عمر کو حکم ديا : ”جاؤ اور اس کو قتل کردو“ عمر گئے جس کيفيت ميں ابوبکر نے ديکھا تھا انھوںنے ديکھ کر قتل کا فيصلہ بدل ديا واپس آکے عرض کيا، يا رسول اللہ وہ جس خضوع و خشوع کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے ميرا دل مَسوس کر رہ گيا کہ اس کو ناحق قتل کردوں۔
آپ نے امير المومنين حضرت علي کو حکم ديا: ”جاؤ اور اس کو قتل کردو“ امير المومنين گئے تو وہ وہاں نہيں تھا آپ واپس آئے اور آکر خبر دي کہ ميںنے اس کو نہيں ديکھا۔
آپ نے فرمايا: وہ اور اس کے ہمنوا قرآن کا رٹا لگائيں گے، مگر قرآن ان کے حلق سے نيچے نہيں اترے گا وہ لوگ دين سے ايسے خارج ہوگئے ہيں جيسے تير کمان سے چھوٹ جاتا ہے، وہ دين ميں واپس نہيں آسکتے مگر تير سوفا، (کمان) ميں واپس آجائے (اور دونوں ناممکن ہے) لہٰذا ان کو قتل کردو وہ گنہگار گروہ ہے۔( ۱۱ )
صلح حديبيہ کے وقت پيغمبر نے قريش کے ہر مطالبہ کو پورا کيا، جس کے سبب اصحاب ميں يہ خبر گشت کرنے لگي کہ رسول نے ہم سب کو رسوا کيا ہے ہر چند کہ نبي نے اس پر مصلحت کے تحت دستخط کيا تھا اور وہ بخوبي اس کو جانتے تھے اور يہ بات روز روشن کي طرح واضح ہے کہ رسول کبھي اسلام و مسلمين کا نقصان نہيں چاہيں گے، اس کے باوجود بعض اصحاب اس بات کے معتقد تھے کہ پيغمبر کے دستاويز پر دستخط کے خلاف حق اعتراض رکھتے ہيں۔
عمر بن الخطاب نے بطور اعتراض پيغمبر سے کہا، جس کو بخاري نے عمر ہي کي زباني کچھ يوں نقل کيا ہے۔
عمر۔ يا رسول اللہ! کيا آپ حق پر نہيں ہيں؟
رسول اسلام۔ ہم حق پر ہيں۔
عمر۔ کيا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہيں ہيں؟
رسول اسلام۔ ہاں ايسا ہي ہے۔
عمر۔ پھر ہم اپنے دين کے سلسلہ ميں کيوں رسوا ہوں؟
آپ نے فرمايا: ميں اللہ کا رسول ہوں اور ميں نے اب تک اس کي نافرماني نہيں کي وہ ميرا ناصر و مددگار ہے۔
عمر نے کہا: کيا آپ نے ہم لوگوں سے نہيں کہا تھا کہ ہم لوگ اپنے گھر جائيں گے اور طواف کريں گے؟
آپ نے فرمايا: ہاں بالکل، ليکن کيا ميں نے يہ نہيں کہا تھا کہ ايک سال ايسا آئے گا (جب ہم گھر لوٹ کر خانہ خدا کا طواف کريں گے)۔
عمر نے کہا: نہيں!
آپ نے فرمايا: وہ دن آنے والا ہے اور تم طواف کو انجام دے سکو گے۔
عمر کہتے ہيں کہ ميں ابوبکر کے پاس گےا اور کہا کہ کيا يہ اللہ کے سچے نبي نہيں ہيں؟
انھوں نے کہا: ہاں۔
ميں نے کہا کہ کيا ہم حق اور ہمارے دشمن باطل پر نہيں ہيں؟
ابوبکر نے مثبت جواب ديا، تو ميںنے کہا کہ تو پھر ہم اپنے دين ميں کيوں رسوا ہوں؟۔
ابوبکر نے کہا: اے مرد! وہ اللہ کے رسول ہيں اور وہ معصوم ہيں اور اللہ ان کا ناصر و مددگار ہے ان سے متمسک اور ان کے ہمرکاب رہو، واللہ وہ حق پر ہيں۔
ميں نے کہا کہ کيا انھوں نے يہ نہيں کہا تھا ايک دن اپنے گھر لوٹيں گے اور خانہ خدا کا طواف کريں گے ابوبکر نے کہا: ہاں ۔
ابوبکر نے کہا: کيا انھوں نے يہ خبر دي تھي کہ اس سال خانہکعبہ جاؤ گے؟ ميں نے کہا، نہيں۔
ابوبکر نے کہا: وہ سال آنے والا ہے اور تم طواف کرو گے۔
عمر کہتے ہيں کہ ميں نے ابوبکر کے منشور پر عمل کيا۔
جب حديبيہ کے دستاويز پر دستخط ہوگئي تو آپ نے اصحاب کو مخاطب کر کے فرمايا: اٹھو قرباني کرو! اور سر کے بال تراشو، کوئي ايک بھي نہ اٹھا يہاں تک آپ نے اس جملہ کو تين بار دہرايا، پھر بھي جب کوئي اپني جگہ سے نہ ہلا تو آپ ام سلمہ کے خيمہ ميں تشريف لے گئے اور سارا ماجرا بيان کيا تو ام سلمہ نے کہا کہ يارسول اللہ کيا اس بات کو پسند فرماتے ہيں؟ آپ خيمہ سے باہر تشريف لے جائيں کسي سے کلام تک نہ کريں قرباني کريں اور اپنے سر کے بال ترشواليں؟
آپ باہر آئے کسي سے کوئي کلام نہيں کيا اور قرباني کي، سر کے بال ترشوائے، جب لوگوں نے ديکھا تو قرباني پيش کي اور ايک دوسرے کے سر کے بال تراشے، کيفيت کچھ يوں تھي کہ شدت غم اور بے چيني کے سبب ايک دوسرے کے قتل کے درپے ہوگئے تھے۔( ۱۲ )
يہ حادثہ خود اس بات کا غماز ہے کہ اصحاب کے نظريات مختلف اور متعدد تھے جب پيغمبر نے عمر بن الخطاب سے کہہ ديا تھا کہ وہ اللہ کے رسول ہيں اور انھوں نے کبھي خدا کي نافرماني نہيں کي تو عمر کے لئے پيغمبر کے موقف کو ثابت کرنے کے لئے اتنا کافي تھا، اس کے علاوہ پيغمبر نے يہ بھي بتا ديا تھا کہ وہ عنقريب اپنے گھر لوٹيں گے اور خانہ خدا کا طواف کريں گے اس سال يہ کام نہيں ہوسکتا عمر کے لئے رسول کا اتنا جواب کافي نہيں تھا! جو وہ اطاعت نبوي کے بجائے عمل رسالت پر تبصرہ کرنے لگے، بلکہ وہ ابوبکر کے پاس گئے اور وہي بات من و عن دہرائي اور بات تو اس وقت اور بگڑ گئي جب اصحاب نے اطاعت رسالت سے انکار کرديا، اور قرباني و حلق (سر کے بال تراشنے) سے منع کرديا اس کے بعد تو حکم رسالت کي مخالفت زوروں پہ شروع ہوگئي يہاں تک کہ رسول نے علي الاعلان تکليف اور مخالفت کو لوگوں کے سامنے بيان کرنا شروع کرديا۔
حضرت عائشہ سے روايت ہے کہ ذي الحجہ کي چوتھي يا پانچويں تاريخ تھي رسول خدا اس حال ميں تشريف لائے کہ چہرے پہ غصہ کے آثار تھے ميں نے عرض کي يا رسول اللہ! کس نے آپ کو غضبناک کيا خدا اس کو جہنم رسيد کرے۔
آپ نے فرمايا: کيا تم کو نہيں معلوم کہ ميں نے لوگوں کو ايک بات کا حکم ديا اور وہ لوگ اس ميں شک ميں مبتلا ہيں، اگر ميں کسي بات کا حکم ديتا ہوں تو اس کو واپس نہيں ليتا، ميں نے اپنے ساتھ قرباني پيش کرنے کا ارادہ ہي نہيں کيا کہ مجھ کو بھي ديگر حجاج کي مانند قرباني خريد کر ان کي طرح احرام سے خارج ہونا پڑے۔
حضرت عائشہ ہي سے دوسري روايت ہے کہ رسول خدا نے کسي حکم ميں اختيار ديا تھا ليکن اصحاب نے اس حکم سے پہلو تہي اختيار کي جب اس کي اطلاع آپ کو ہوئي تو آپ نے حمد خدا کے بعد فرمايا: اس قوم کو کيا ہوگيا ہے ميں ايک حکم بيان کرتا ہوں اور يہ اس سے کنارہ کشي اختيار کرتے ہيں۔
واللہ ميں ان سے بہتر اللہ کے سلسلہ ميں علم رکھتا ہوں اور ان سے کہيں زيادہ خوف الٰہي کا حامل ہوں۔( ۱۳ )
گويا اس وقت کي امت اس بات سے بالکل بے خبر تھي کہ نبي تقويٰ و خوف الٰہي کا مظہر ہے آخر ان کو کيا ہوگيا تھا کہ وہ نبوت کے بارے ميں طرح طرح کي بدگمانياں کر رہے تھے اور يہاں تک سوچ بيٹھے تھے کہ رسول کا عمل حکم خدا کے خلاف بھي ہوسکتا ہے، يہاں تک کہ آپ سے کنارہ کش اور آپ کو ننگ و عار کا سبب گرداننے لگے تھے۔
بعض تو کھلم کھلا رسول کے اوامر و نواہي کي مخالفت کرنے لگے تھے، چاہے چھوٹي بات ہو يا بڑا مسئلہ، وہ تو يہ گمان کرنے لگے تھے کہ ان کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ ہر چيز ميں عمل دخل اور فتوي صادر فرمائيں، جو قول رسول کے منافي ہو۔
جابر بن عبد اللہ انصاري سے روايت ہے کہ رسول نے اس بات سے منع کيا تھا کہ عورتوں سے مقاربت نہ کريں اس کے باوجود ہم نے مجامعت کي۔
حکم کے دو ر خ
بعض اصحاب کي جرات اس حد تک بڑھ گئي تھي کہ احکامات و تعليمات نبي کا علي الاعلان انکار کرنے لگے اور وہ لوگ وحي الٰہي اور حکم نبي، جو کہ عبادات سے مخصوص تھيں ان کے مقابل خود کو قانع تصور کرنے لگے تھے بلکہ اجتماعي، موروثي امور اور بعض عادات و رسومات يہاں تک کہ نبي کے بعد سياسي مسائل اور حکومت کي تشکيل ميں وہ اپنا حق سمجھتے تھے کہ ان امور ميں مداخلت کريں اور جس چيز ميں بھلائي سمجھيں اس ميں نص نبوي کے خلاف عمل کريں۔( ۱۴ )
اوراس بات کا بين ثبوت اسامہ بن زيد کي سرداري کا مسئلہ ہے پيغمبر نے اسامہ بن زيد کو لشکر کي سرداري اور اپنے دست مبارک سے علم عطا کيا تھا رسول کے اس عمل پر يہ خصوصي اہتمام بھي بعض
اصحاب کو اعتراض سے باز نہ رکھ سکا اور اسامہ پر يہ طعن و تشنيع کرنے لگے کہ يہ تو ناتجربہ کار نوجوان ہيں، اور مہاجرين و انصار ميں سے سن رسيدہ اصحاب کي سرداري کي اہليت نہيں رکھتے، جن ميں ابوبکر، عمر، ابي عبيدہ جيسے افراد شامل تھے۔( ۱۵ )
پيغمبر بيت الشرف سے غصہ کي حالت ميں باہر آئے او رمنبر پر تشريف لے گئے اس وقت آپ کي طبيعت بھي ناساز تھي۔
آپ نے فرمايا: لوگو! اسامہ بن زيد کي سرداري کے بارے ميں بعض لوگوں کي کيسي چہ مي گوئياں مجھ تک پہنچي ہيں؟ اگر تم لوگ اسامہ کي سرداري کے بارے ميں طعن و طنز کر رہے ہو تو اس کے پہلے ان کے باپ کے بارے ميں اعتراض کرچکے ہو۔
خدا کي قسم وہ شخص اس سرداري کا اہل تھا او راس کے بعد اس کا بيٹا (اسامہ) اس کي اہليت رکھتا ہے۔
جب کہ رسول اکرم اسامہ کي جلد روانگي پر مصر تھے ليکن لوگ ٹال مٹول کرتے رہے، قبل اس کے کہ اس لشکر کي مقام جرف سے روانگي ہوئي رسول وفات پاگئے اور آپ لشکر کو تبديل کرنے والے تھے يا ارادہ رکھتے تھے۔
بعض اصحاب کا موقف حکم نبوت کي خلاف ورزي ميں اس حد تک آگے بڑھ گيا تھا کہ آپ کے سامنے اس کا اظہار کرنے لگے تھے، اور وفات رسول سے تھوڑا قبل اس کي مثال موجود ہے۔
محدثين، مورخين، ارباب سير اور صحيح بخاري کے الفاظ کچھ يوں ہيں:
ابن عباس سے روايت ہے کہ رسول کي احتضاري کيفيت کے وقت آپ کے بيت الشرف ميں بہت سارے لوگ جمع تھے جن ميں عمر بن الخطاب بھي تھے اس وقت رسول نے کہا: لاؤ تمہارے لئے ايسي تحرير لکھ دوں تاکہ اس کے بعد تم گمراہ نہ ہو۔
جس کے بعد عمر نے بے ساختہ کہا: ان پر بخار کا غلبہ ہے تم لوگوں کے پاس قرآن ہے اور کتاب خدا ہمارے لئے کافي ہے۔
اہل بيت اطہار٪ نے اس نظريہ سے اختلاف کيا اور وہيں وہ افراد بھي تھے جو يہ کہہ رہے تھے کہ رسول کو وہ تحرير لکھنے دو جس کے سبب تم گمراہي سے بچ جاؤ گے۔
دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو عمر کے نظريہ کا حامي تھا، جب يہ اختلاف زيادہ بڑھا تو رسول نے ناراض ہوکر فرمايا: ميرے پاس سے تم لوگ چلے جاؤ۔
ابن عباس کہتے ہيں: ہائے مصيبت اور سب سے بڑي مصيبت اس وقت تھي جب لوگ اس بات پر اڑ گئے اور شور مچانے لگے کہ رسول تحرير نہ لکھيں۔( ۱۶ )
بخاري نے سعيد بن مسيب اور ابن عباس سے روايت کي ہے کہ ابن عباس نے کہا: پنجشنبہ، ہائے پنجشنبہ! رسول کي طبيعت بہت ناساز تھي اس وقت آپ نے فرمايا: لاؤ ميں تمہارے لئے ايسي تحرير لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو۔
اس وقت رسول کے حضور اختلاف پيدا ہوگيا جبکہ آپ کے حضور شور و غل مچانا بہتر نہيں تھا، اور آپ کے شان ميں گستاخي کي گئي کہ آپ ہذيان بک رہے ہيں، اور لوگ اسي کے پيش نظر بدگماني کے شکار ہوگئے۔
اس وقت رسول اسلام (ص) نے فرمايا: جو ميں کر رہاہوں وہ اس سے بہتر ہے کہ جو تم مجھ سے چاہتے ہو، اور آپ نے تين چيزوں کي وصيت کي:
۱ ۔ مشرکين کو جزيرة العرب سے باہر نکال دو۔
۲ ۔جيسا ميں چاہتا تھا ويساہي لشکر تيار کرو۔
۳ ۔اس کے بعد خاموش ہوگئے اور اگر کچھ فرمايا تو مجھے ياد نہيں ہے۔( ۱۷ )
نہيں معلوم ،آخر رسول کو اس نوشتہ کے لکھنے سے کيوں منع کيا گيا جبکہ آپ کي کوشش يہ تھي کہ امت گ-مراہي سے بچ جائے اور ابن عباس نے اس دن کو عظيم مصيبت سے تعبير کيا ہے ابن عباس اتنا گريہ کر رہے تھے کہ آپ کے آنسوؤں کے سبب زمين نم ہو جاتي تھي۔
جيسا کہ بعض کتابوں ميں اس کا تفصيلي تذکرہ ہے مگر مصلحت کے پيش نظر ہم اس کو چھوڑ رہے ہيں بعد ميں اس کا تذکرہ کريں گے۔
____________________
[۱]لسان العرب، ج۱۲، ص ۲۹۳
[۲] سورہ حشر، آيت۷
[۳]سورہ نساء، آيت ۵۹
[۴] سورہ نساء، آيت ۶۵
[۵] سورہ حجرات، آيت۱۴
[۶] سيرة نبويہ و آثار محمديہ، زيني دحلان حاشيہ سيرحلبيہ، ج۱، ص ۳۷، سورہ انفال، آيت ۵
[۷] المغازي للواقدي، ج۱ ص ۴۸۔ ۴۷
[۸] المغازي للواقدي، ج۱، ص ۴۸۔ ۴۷
[۹] سورہ مائدہ، آيت ۲۴
[۱۰] المغازي ،للواقدي، ج۱، ص ۴۸۔ ۴۷
[۱۱] مسند احمد، ج۳، ص ۱۵
[۱۲] صحيح بخاري، ج۲، ص ۸۱، کتاب شرط، باب شروط في الجہاد و المصالحہ مع اہل الحرب و کتابة الشروط، صحيح مسلم، باب صلح حديبيہ
[۱۳] صحيح بخاري، ج۵، ص ۱۴۵
[۱۴] مسند احمد، ج۳، ص ۳۰۸، مسند ابي يعلي، ج۳، ص ۳۷۳
[۱۵] الطبقات الکبريٰ، ابن سعد، ج۲، ص ۱۹۰؛ تاريخ يعقوبي، ج۳، ص ۷۴، بيروت؛ الکامل لابن الاثير، ج۲، ص ۳۱۷؛ شرح نہج البلاغہ، ابن ابي الحديد، ج۱، ص ۵۳؛ السيرة الحلبيہ، ج۳، ص ۲۰۷؛ کنز العمال، ج۵، ص ۳۱۲
[۱۶] صحيح بخاري، ج۱، ص ۲۲، کتاب العلم
[۱۷]صحيح بخاري، ج۵، ص ۱۳۷، باب مرض النبي و وفاتہ اور اسي طرح کے الفاظ صحيح بخاري کي کتاب الجزية باب اخراج اليہود من جزيرة العرب کي ج۴، ص ۶۵ پر وارد ہوا ہے اور تيسري وصيت کے بارے ميں خموشي ابن عباس کي جانب سے يا سعيد کے بھول جانے کي بات ايک موضوع ہے جس کو آنے والي بحثوں ميں پيش کريں گے مزيد بخاري، جلد ۸ ، ص ۶۱، صحيح مسلم، ج۵، ص ۷۵، کتاب الوصيہ، مسند احمد، ج۴، ص ۳۵۶، حديث ۲۹۹۲، پر ملاحظہ فرماسکتے ہيں۔
دوسري فصل
ديني مرجعيت
گذشتہ امتوں ميں دين کي باگ ڈور متدين يا کاہنوں (جو علم غيبي يا اسرار الٰہي کے علم کے مدعي تھے) کے ہاتھ رہي ہے اگر ثاني الذکر کي تعبير صحيح ہے تو، وقتي اور دنياوي حکومت ديني حکومت سے جد ا رہي ہے۔
فراعنہ(بادشاہان مصر) اس بات کے مدعي تھے کہ وہ الٰہي نسل کے چشم و چراغ ہيں جب کہ يہ ايک اعزازي اظہار لقب تھا اور حقيقت سے دور دور تک اس کا کوئي واسطہ نہيں تھا۔
بادشاہان وقت ديني امور کے ذمہ دار نہيں رہے مگر بعض معاملات ميں جس کو کاہن حضرات عام طور سے مذہبي رنگ و روغن لگا کر پيش کرتے تھے، يہ کاہن افراد شہر کے ديني مرجع ہوتے تھے، بادشاہان مصر (فراعنہ) عام طور سے سياسي امور اور آباديوں کي ديکھ ريکھ ميں حکمراني کرتے تھے، کاہن (مسيحي روحاني رہنما) عبادت گاہوںميں اپنے ديني افکار کے تحت امور کي انجام دہي کرتے تھے، ان افراد کو دوسرے لفظوں ميں معظم الامم (سربراہان قوم) کہتے ہيں۔
آسماني اديان کي باگ ڈور يہودي خاخاموں اور عيسائي پوپ حضرات کے ہاتھ ميں تھي، سياسي حکومت سياست مداروں کے ہاتھ تھي جو شہريوں کي امداد اور ديکھ بھال کر رہے تھے اگرچہ ان کي گرفت مختلف قبيلوں پر تھي ليکن اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ وہ متدين و روحاني رہنما کي باتوں کو سنتے ہيں اور ان کي تعظيم و تکريم کرتے ہيں، اور دين سے متعلق امور ميں ان افراد کو مکمل اختيار دے رکھا تھا، ان لوگوں کے درميان وہ افراد بھي تھے جو مملکت کے استحکام اور عصري سياست کي تمرين سے دور تھے۔
جب پيغمبر نے مدينہ کي جانب ہجرت کي تو وہاں اپني حکومت کے مراکز اور نائبين کا تعين فرمايا، اس وقت رسول ديني اور دنيوي دونوں حکومت کے زمامدار تھے اور امور شريعت کے تنہا سرتاج و مرشد، احکام شريعت کے مبيّن و مفسّر اور سنت کے باني تھے۔
آپ نے فرمايا: ”صلوا کما رايتموني اصلي“ جيسے ميں نماز پڑھتا ہوں اسي طرح نماز پڑھو۔
آپ ايک ہي وقت ميں سياسي رہنما تھے جس کے ذريعہ سے بنياد حکومت استوار ہوسکتي تھي جيسا کہ ہجرت کے شروع ہي ميں آپ نے پروگرام مرتب کرديا تھا اور مسلمان اور يہود کے سامنے پيش کيا تھا۔
دوسرے رخ سے آپ سپہ سالار لشکر تھے کيونکہ آپ نے بڑے بڑے معرکوں ميں لشکر کي سرداري کے فرائض کو انجام ديا ہے بلکہ سرايہ (جس جنگ ميں آپ نے شرکت نہيں کي) ميں بعض اصحاب کو حسب ضرورت اپنا نائب مقرر کيا ہے۔
گويا پيغمبر ہر رخ سے قائد و رہبر تھے اور ايک ہي وقت ميں دوہري حکومتوں کے زمام دار تھے۔
پيغمبر کي حسن تدبير سے مسلمانوں نے يہ بخوبي جان ليا تھا کہ يہ سلسلہ چلتا رہے گا اور رسول کے بعد جو بھي ان کا خليفہ ہوگا اس کي اقتدا واجب ہے۔
خليفہ مراد وہ امام ہے کہ جس کي اطاعت واجب ہے، اور حفاظت شريعت جو حکم خدا اور سنت نبيوي کے تحت ہے اس ميں وہ قابل اعتماد ہے۔
اور حکومت اسلامي کے سياسي، اقتصادي اور عسکري امور کي وہ سربراہي کرتا ہے لہٰذا دين اسلام سياست عامہ اور حکومت اسلامي سے جدا نہيں ہے جو بھي رسول کا خليفہ ہے اس کے لئے ضروري ہے کہ وہ اسي راہ پر گامزن ہو۔
اور ظاہر سي بات ہے کہ امت کے تمام افراد ميں اس عظيم ذمہ داري کے لئے حسب ضرورت شرطيں نہيں پائي جاتيں لہٰذا ضروري ہے کہ کسي ايک فرد ميں جو کہ خليفہ کے عہدے پر فائز ہو تمام صفات حميدہ اور کمالا حسنہ پائے جاتے ہوں تاکہ امور کي انجام دہي، شريعت کي حفاظت، اور حکومت کي پشت پناہي، ان تمام خطرات سے کرسکے جس کا امکان کسي بھي رخ سے پايا جاتا ہے۔
اگر عصري تقاضوں کے تحت بعض دنيوي حکومت ميں تبديلي اوراجتہاد کا امکان پايا جائے تو دوسرے رخ سے مسائل شرعيہ ميں اس طرح کا اجتہاد جو توہين اور سبکي کي جانب لے جائے اور ايک کے بعد دوسرے ميں مداخلت کي سبب بنے، بالکل روا نہيں ہے۔
جب ديني مرجعيت ايسي آندھيوں کے سامنے آجائے گي تو آنے والے دنوں ميں کوئي اس پر بھروسہ نہيں کرے گا اور شريعت ميں تحريف کا ايسا رخنہ پيدا ہوجائے گا جو پُر نہيں ہوسکتا، نيز آنے والے دنوں ميں شريعت پر بہت بڑا دھچکا لگے گا، اور حقيقت کي تشخيص و تعيين ميں بہت سے لوگ پھسل جائيں گے، لہٰذا يہ کہنا پڑے گا کہ ديني مرجعيت کے شرطوں ميں سے ايک يہ ہے کہ جو اس مرجعيت کو ان انجانے خطرات سے نہ بچاسکے وہ بالکل اس عہدے کا اہل نہيں ہوسکتا۔
انھيں کے پيش نظر ہم کو اس بات کي اہميت معلوم ہوتي ہے کہ پيغمبر نے اس (خلافت) کے حدود و خطوط معين فرماديئے تھے، اور عہدہ داروں کي شرطوں کو بيان کر ديا تھا، اور فرد، يا افراد کي تعيين اپنے سامنے کردي تھي، يا يہ عظيم ذمہ داري امت کے کندھوں پر ڈال دي تھي تاکہ جس کو چاہيں معين کرليں اور اصلح (نيک) کو مصلحت و تقاضوں کے تحت اس ديني مرجعيت کے لئے چن ليں؟
رہبري کے عمومي شرائط
شريعت کي حفاظت کے لئے ديني رہبري کي اہميت بيان کرنے کے بعد ضروري ہے کہ رہبري کے شرائط بھي پيش کرديئے جائيں اور جو شخص اس کا مدعي ہے اس کے لئے لازم ہے کہ ان شرائط کا حامل ہو، اور اس کي تعيين کے لئے نص يا نصوص نبوي کي تلاش ضروري ہے تاکہ اس مسئلہ پر کسي قسم کا اختلاف يا تشتت نہ ہو جس کے سبب امت کے نظريات ٹکڑوں ميں بٹ جائيں اور ايسا رخنہ پيدا ہو کہ جس سے شريعت نے منع کيا ہے۔
اہليت، عمومي مرجعيت کي برترين شرط ہے
جب ہم اسلام کي تاريخ و سير کا مطالعہ کرتے ہيں تو ہم کو وہ نصوص ملتي ہيں کہ جن ميں اس شخص کي جانب رسول نے اشارہ کيا ہے جس ميں يہ تمام شرطيں بدرجہ اتم پائي جاتي ہيں۔
محدثين نے لکھا ہے کہ رسول جب آخري حج سے واپس ہو رہے تھے تو جحفہ نامي جگہ جس کو غدير خم بھي کہتے ہيں اجلال نزول فرمايا اور وہاں موجود بڑے بڑے درختوں کے نيچے سے خس و خاشاک جمع کرنے کا حکم ديا تو لوگوں نے اس پر عمل کيا پھر آپ کے لئے اونٹوں کے کجاوے کا منبر بنايا گيا آپ اس پر تشريف لے گئے تاکہ سب لوگ آپ کو صحيح طريقہ سے ديکھ سکيں، اس وقت آپ نے فرمايا:
”مجھے (خدا کي جانب) طلب کيا گيا ہے ميں نے قبول کيا ہے ميں تمہارے درميان دو گرانقدر چيزيں چھوڑ کر جارہا ہوں اس ميں سے ايک دوسرے سے بڑي ہے۔
کتا ب خدا اور ميري عترت ديکھو تم لوگ ان دونوں ميں ميري کيسي اطاعت کرتے ہو يہ دونوں ہرگز ايک دوسرے سے جدا نہيں ہوں گے يہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کريں گے“
بعض روايات ميں ايک خاص جملہ کا اضافہ ہے (جب تک ان سے متمسک رہو گے گ-مراہ نہ ہوگے)۔( ۱۸ )
ابن حجر ھيثمي مکي نے اس روايت (حديث ثقلين) کو متعدد طريقوں سے روايت کرنے کے بعد کہا ہے، کہ حديث تمسک، متعدد طريقوں سے بيس سے زيادہ صحابيوں نے روايت کي ہے بعض طرُق ميں کہا گيا ہے کہ يہ حديث حجة الوداع کے موقع پر، مقام عرفہ ميں آنحضرت نے ارشاد فرمائي ہے، بعض کے مطابق مدينہ ميں جب رسول اکرم احتضاري کيفيت ميں تھے اور آپ کا حجرہ مبارک اصحاب سے بھرا ہوا تھا، بعض طرُق نے غدير خم کے حوالہ سے نقل کيا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ جب آپ طائف سے واپس آرہے تھے۔
ان متعدد طريقوں سے اس حديث کا نقل ہونا کوئي منافات نہيں رکھتا اور کوئي مشکل بھي نہيں ہے کہ آپ نے متعدد مقامات پر قرآن و اہلبيت کي عظمت کے پيش نظر حديث کي تکرار فرمائي ہو۔( ۱۹ )
نصوص حديث اور ابن حجر کے تعلقيہ سے ہم اس بات کا نتيجہ نکال سکتے ہيں کہ نبي اکرم نے اپنے بعد ان افراد کي نشان دہي فرمادي ہے جو آپ کے بعد ديني مرجعيت کي منھ بولتي تصوير ہيں۔
اور اہل بيت و عترت طاہرہ کي مرجعيت کي نص يہي حديث ہے آپ نے اہل بيت کو قرآن کے ہم پلہ قرار ديا ہے، قرآن شريعت کا پہلا مرکز ہے اور ثقل اکبر ہے اور اہلبيت رسول دوسرے مرکز ہيں اور ثقل اصغر ہيں۔
اہلبيت کي جانب اشاروں کي تکرار اور متعدد مقامات و مناسبتوں پر اس کو دہرانا اس امر کي عظمت و اہميت کے باعث ہے، درحقيقت ايک طرح کي فرصت تھي ان افراد کے لئے جو اس کو سن نہيں سکے ہيں اور جو سن چکے ہيں ان کي ياد دہاني کے لئے ہے۔
رسول نے اہلبيت کے حوالہ سے صرف اسي نص پر اکتفا نہيں کي بلکہ مسئلہ کي اور وضاحت فرمادي، جيسا کہ محدثين نے نقل کيا ہے کہ ابوذر غفاري نے در کعبہ کو پکڑ کر کہا: اے لوگو! جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہيں جانتا ہے وہ جان لے کہ ميں ابوذر ہوں، ميں نے رسول اکرم کو فرماتے سنا ہے، کہ ميرے اہلبيت کي مثال سفينہ نوح کي سي ہے جو اس ميں سوار ہوگيا، نجات يافتہ ہوگيا، اور جس نے اس سے روگرداني کي وہ ہلاک ہوگيا۔( ۲۰ )
دوسري روايت ابن عباس وغيرہ سے ہے کہ رسول اکرم نے فرمايا: آسمان کے ستارے زمين پر بسنے والوں کے لئے سبب امان ہيں تاکہ لوگ غرق ہونے سے بچ جائيں، (دوران سفر سمندروں ميں ستاروں کے ذريعہ راہوں کي تعيين کي جانب اشارہ ہے) ميرے اہلبيت ميري امت کے لئے سبب امان ہيں، تاکہ آپسي اختلافات سے بچے رہيں، اگر عرب کے قبيلوں ميں سے کسي گروہ نے ان (اہلبيت) سے اختلاف کيا تو وہ شيطاني گروہ ہوگا۔( ۲۱ )
رسول اکرم نے اپنے دوسرے فرمان ميں ثقلين کي اور صراحت فرمادي ہے:
”ان دونوں پر سبقت نہ لے جانا ان دونوں سے پيچھے نہ رہ جانا، ورنہ ہلاکت مقدر بن جائے گي اور کبھي ان کو کچھ سکھانے کي کوشش نہ کرنا، اس لئے کہ يہ تم سے اعلم ہيں۔( ۲۲ )
اس بات کي جانب امير المومنين - نے اپنے ايک خطبہ ميں کافي تاکيد کي ہے، آپ نے فرمايا: اپنے نبي کے اہلبيت کو ديکھو اور ان کے نقش قدم پر چلو، کيونکہ وہ تم کو راہ ہدايت سے دور نہيں کريں گے، اور قعر مذلت ميں نہيں گرائيں گے، اگر وہ گوشہ نشين ہوجائيں تو تم بھي ان کے ساتھ رہو، اگر وہ قيام کريں تو ان کے ہمرکاب رہو، ان پر سبقت نہ لے جاؤ، ورنہ بہک جاؤ گے ان سے پيچھے نہ رہو، ورنہ ہلاکت مقدر بن جائے گي۔( ۲۳ )
حضرت سيد سجاد سے روايت ہے کہ آپ نے فرمايا:
”کيا اس سے زيادہ کوئي بھروسہ مند ہے کہ جو حجت کو پہنچائے، حکم (خدا) کي تاويل پيش کرے ،مگر وہ افراد جو کتاب (قرآن) کے ہم پلہ ہيں اور ائمہ ہديٰ کے روشن چراغوں کي ذريت ميں سے ہيں، يہ وہي لوگ ہيں جن کے ذريعہ سے خدا نے بندوں پر حجت تمام کي اور لوگوں کو بغير کسي حجت کے حيران و سرگردان نہيں چھوڑ ديا، کيا تم لوگ شجرہ مبارکہ کي شاخوں کے علاوہ کسي کو جانتے ہو ياکسي اور کو پاسکو گے اور يہ ان برگزيدہ بندوں کي يادگاريں ہيں، جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور ان کي طہارت کا اعلان کيا ہے اور تمام آفات ارضي و بليّات سماوي سے محفوظ رکھا ہے اور قرآن ميں ان کي محبت و مودّت کو واجب قرار ديا ہے۔( ۲۴ )
گذشتہ باتوں سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے کہ بلاشک و ترديد رسول نے اپني امت کے لئے ان افراد کا اعلان و تعين فرماديا ہے جن کي جانب ہر امر ميں رجوع کرنا ہے اور وہ والا صفات اہلبيت کي ذوات مقدسہ ہيں اور اس بات کي تاکيد ہے کہ قرآن کے ساتھ ساتھ ان کے دامن سے متمسک رہو، بلکہ ان سے روگرداني کرنے کي صورت ميں ڈرايا بھي ہے اور ان کي مخالفت اور دوري ميں ہلاکت و گمراہي بتايا ہے۔
اگر يہ سوال ہو کہ ديني مرجعيت کے مرکزيت کو رسول نے اہلبيت ميں کيوں محدود کرديا؟
تو اس کا جواب يہ ہوگا کہ يہ تو مسلّمات ميں سے ہے کہ رسول اپني طرف سے کوئي بات نہيں کرتے، گويا رسول کا يہ عمل حکم خداوندي کے تحت تھا اور اللہ نے اہلبيت کو ان مراتب سے نوازا اور اس عظيم امر کي اہليت بخشي ہے! جيسا کہ قرآن ميں اسي بات کا اعلان بھي ہے:
( إنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اهلَ البَيتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيراً ) ۔( ۲۵ )
اے اہل بيت! اللہ کا ارادہ يہ ہے کہ تم اہل بيت سے رجس کو دور رکھے اور ويسا پاک رکھے جيسا پاک رکھنے کا حق ہے۔
اللہ نے ان کي طہارت کو ثابت کيا ہے اور وہ عيوب جن سے بڑے بڑے لوگ نہيں بچ پاتے ان سے ان کو دور رکھا ہے ان کي طہارت اس بات کي متقاضي ہے کہ يہ گناہ، عيوب، پستي، جن ميں سے جھوٹ اور خدا کي جانب افترا پردازي او ران باتوں کا ادعا کرنا جو خدا کے لئے مناسب نہيں ہے، ان سب سے معصوم و محفوظ ہيں۔
اور دوسرے رخ سے نبي اکرم نے دوسري صفات ان کے لئے بيان کي ہے، جيسے: احکامات
( ۱) شريعت کے سلسلہ ميں امت ميں سب سے اعلم ہيں اور يہ اس بات کا لازمہ ہے کہ يہ امت کے مرجع و مرکز ہيں۔
پيغمبر کا ا س جانب توجہ دلانا کہ ان سے ہدايت حاصل کرو ان پر سبقت نہ لے جاؤ ا ن سے پيچھے نہ رہو، ان کو کچھ سکھانے کي کوشش نہ کرو، يہ سب رسول کا اس عظيم امر ميں اہلبيت کي مدد کرنا نہيں ہے اور نہ ہي قرابت داري کے باعث اظہار محبت ہے، کيونکہ اقرباء ميں توابولہب بھي رسول کا چچا تھا مگر رسول نے اس رشتہ کو کبھي نہيں سراہا۔
اہلبيت کون لوگ ہيں؟
بعض لوگوں نے اہلبيت ميں ان افراد کو شامل کرنا چاہا ہے جو اہلبيت ميں سے نہيں تھے! متعدد مقامات پر مختلف انداز ميں رسول نے اہلبيت کي وضاحت و نشان دہي کردي ہے تاکہ دھوکا اور ہر طرح کا احتمال ختم ہوجائے۔
علماء حديث نے اصحاب کے حوالہ سے بہت ساري روايتوں کا تذکرہ کيا ہے جس ميں صاف صاف وضاحت ہے، انھيں ميں سے ايک ام المومنين حضرت ام سلمہ کي روايت ہے، پيغمبر اسلام نے حضرت فاطمہ سے فرمايا: اپنے فرزندوں اور شوہر کے ساتھ يہاں آؤ! آپ سب کے ہمراہ حاضر ہوئيں، رسول نے ان سب کے اوپر فدک کي چادر ڈال دي اس کے بعد اس پر ہاتھ رکھ کر فرمايا: خدايا! يہ آل محمد ہيں، معبود! محمد و آل محمد پر رحمات و نعمات کا نزول فرما! تو لائق تعريف و صاحب عظمت ہے۔
ام سلمہ کہتي ہيں کہ ميں نے چادر کا گوشہ ہٹايا تاکہ ميں بھي اس کے اندر داخل ہوجاؤں رسول نے اس کو ميرے ہاتھ سے لے لي اور فرمايا: ”تم خير پر ہو“( ۲۶ )
حضرت عائشہ سے روايت ہے: کہ ايک صبح رسول اس حالت ميں نکلے کہ آپ کے دوش پہ سياہ رنگ کي اوني چادر پڑي ہوئي تھي، اتنے ميں حسن آئے آپ نے ان کو اس کے اندر داخل کرليا پھر حسين آئے تو ان کو بھي اندر داخل کرليا پھر فاطمہ آئيں ان کو بھي داخل کرليا پھر علي آئے اور ان کو بھي داخل کرليا اس کے بعد رسول نے اس آيت کي تلاوت فرمائي:
( إنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اهلَ البَيتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيراً ) ( ۲۷ )
يہ بات بالکل مسلّمات ميں سے ہے کہ رسول اکرم نے نصاريٰ نجران سے مباہلہ کيا تھا اور يہي افراد شريک کار تھے، علماء تفسير و حديث نے اس بات کو متعدد اصحاب کے حوالہ سے نقل کيا ہے جن ميں سے سعد ابن ابي وقاص ہيں، کہتے ہيں کہ: جب آيہ مباہلہ نازل ہوئي تو رسول نے علي ، فاطمہ ، حسن و حسين کو بلايا اور فرمايا:”اللّٰهم هٰؤلآء اهلي “ خدايا! يہ ميرے اہل بيت ہيں۔( ۲۸ )
لوگ سوال کرتے ہيں کہ جب رسول کے اہلبيت يہي ہيں تو شيعہ حضرات کيوں کہتے ہيں کہ بقيہ نو امام بھي اہلبيت رسول ہيں۔
تو اس کا جواب يہ ہے کہ رسول سے بہت ساري روايات نقل ہوئيں ہيں جس ميں آپ نے اپنے بعد کے خلفاء کي تعيين کي ہے اور ان کي تعداد بارہ بتائي ہے، علماء حديث، حافظين حديث اور بخاري کے الفاظ يہ ہيں:
جابر بن ثمرہ راوي ہيں کہ: ”ميں نے رسول اکرم کو فرماتے سنا ہے کہ بارہ ہادي و امام ہوں گے“اس کے بعد ايک جملہ کہا جس کو ميں سن نہ سکا، پھر ميرے والد نے بتايا کہ آپ نے فرمايا ہے کہ ”سب کے سب قريشي ہوں گے“( ۲۹ )
____________________
[۱۸] المستدرک، ج۳، ص ۱۰۹، ۵۳۳؛ مسند احمد بن حنبل، ج۵، ص ۱۸۱، ۱۸۹؛ جامع ترمذي، ج۲، ص ۳۰۸، حديث ۳۸۷۴؛ خصائص امير المومنين للنسائي، ص ۲۱؛ کنز العمال، ج۱، ص۴۴، ۴۷، ۴۸؛ صحيح مسلم، باب فضائل علي؛ سنن الدارمي، ج۲، ص ۴۳۱؛ صواعق محرقہ، ص ۸۹؛ الطبقات الکبريٰ، ج۲، ص۲؛ فيض القدير للمناوي، ج۳، ص ۱۴؛ حلية الاولياء ج۱، ص ۳۵۵، حديث۶۴؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۶۳، ۱۶۴
[۱۹] صواعق محرقہ، ص ۲۳۱۔ ۱۳۰
[۲۰] المستدرک علي الصحيحين للحاکم النيشابوري، ج۴، ص ۳۴۳؛ کنز العمال، ج۶، ص ۲۱۶؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۶۸؛ حلية الاولياء، ج۴، ص ۳۰۶؛ تاريخ بغداد، ج۱۲، ص ۱۹، ذخائر العقبيٰ، ص ۲۰؛ کنوز الحقائق، ۱۳۲؛ فيض القدير، للمناوي، ج۴، ص ۳۵۶؛ صواعق محرقہ، ص ۳۵۲، بعض روايات ميں آيا ہے کہ، يہ (اہلبيت) باب حطہ کي مانند ہيں جو اس ميں داخل ہوا امان پاگيا اور جو اس سے نکل گيا وہ کافر ہوگيا۔
[۲۱] المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص ۱۴۹۔ ۱۴۸؛ کنز العمال، ج۶، ص ۱۶؛ صواعق محرقہ، ص ۳۵۳؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۷۴؛ فيض القدير، للمناوي، ج۶، ص ۲۹۷؛ ذخائر العقبيٰ، للمحب الطبري، ص ۱۷،
[۲۲] صواعق محرقہ، ص ۲۳۰
[۲۳] نہج البلاغہ، خطبہ۲
[۲۴] صواعق محرقہ، ص ۲۲۳
[۲۵] سورہ احزاب، آيت ۳۳
[۲۶] مسند احمد، ج۶، ص ۲۹۶، ۳۲۳؛ المستدرک، ج۳، ص ۱۰۸، ۱۴۷؛ کنز العمال، ج۷، ص۱۰۲، ۲۱۷؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۶۷
[۲۷] صحيح مسلم، کتاب فضائل صحابہ باب فضائل اہلبيت نبي؛ المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۱۴۷، انھوں نے کہا کہ شيخين کي تائيد کے باعث يہ حديث صحيح ہے، سنن البيہقي، ج۲، ص۱۴۹؛ تفسير طبري، ج۲۲، ص۵؛ فخر رازي نے بھي اس کو آيہ مباہلہ کے ذيل ميں ذکر کيا ہے اور کہا کہ اس روايت کي صحت علماء تفسير و حديث کے نزديک متفق عليہ ہے: جامع ترمذي، ج۲، ص۲۰۹، ۳۱۹؛ مسند احمد، ج۶، ص۳۰۶، اسد الغابہ، ج۴، ص۲۹
[۲۸] جامع ترمذي، ج۲، ص۱۶۶؛ المستدرک علي الصحيحين ج۳، ص۱۵۰؛ سنن البيہقي، ج۷، ص۶۲؛ اسباب النزول، ص ۷۵
[۲۹] صحيح بخاري، ج۹، ص۱۰۱، کتاب الاحکام باب الاستخلاف؛ سنن ترمذي، ج۴، ص ۵۰۱؛ سنن ابي داؤد، ج۴، ص۱۰۶؛ المعجم الکبير، ج۲، ۱۹۴، بعض نسخوں ميں خليفہ، رجل، قيم، کا لفظ آيا ہے۔
مرجعيت کے عام شرائط اور نص
گذشتہ بحثوں ميں ہم نے اہلبيت ٪ کي مرجعيت اور ديني مرکزيت کي لياقت کے سلسلہ ميں دلائل پيش کئے ہيں اور ان کي حمايت و لياقت پر متعدد شواہد و دلائل بھي پيش کئے جس ميں آيات الٰہيہ اور فرمان رسول شامل تھا، اور ہم نے يہ بات بھي عرض کي تھي کہ اسلام کي قيادت اور سياست کا آپس ميں چولي دامن کا ساتھ ہے دونوں ايک دوسرے کے اٹوٹ حصے ہيں، اور نبي اکرم نے اس سلسلہ ميں اقدام بھي کيا خاص طور سے ہجرت کے بعد مسلمانوں نے دو حکومتوں کے سنگم کو بنحو احسن درک بھي کيا، گويا رسول کي جانب سے ديني مرجعيت و مرکزيت پر نص موجود ہے لہٰذا سياسي مرکزيت کے لئے بھي کسي کا وجود ضروري ہے، انھيں ضروريات کے پيش نظر رسول نے اپنے بعد کے وصي کا تعين فرمايا اور ان افراد نے احکام الٰہيہ کا اجراء بھي کيا جس طرح سے نبي نے خبر دي تھي اور افراد کا تعين بھي فرمايا تھا، ثبوت ميں کچھ واقعات پيش کريں گے:
اگر ہم حيات نبوي کا بغور مطالعہ کريں گے تو يہ بات کھل کر سامنے آئے گي کہ رسول اکرم نے ابتدائے بعثت ميں ہي اس جانب خاص عنايت رکھي ہے اور اس قائد کي تعيين کا اہتمام کيا ہے جو ان کے بعد امت رسول کے امور کي پاسباني ميں ان کا خليفہ ہوگا، اور خداوند تعاليٰ کي بھي عنايت رہي ہے کہ اس نے نبي کي کفالت ميں تربيت کے مسئلہ کو بھي حل کرديا اور وہ بھي اعلان رسالت سے قبل۔
ابن اسحق، ابن ہشام کي نقل کے مطابق اس واقعہ کي يوں منظر کشي کرتا ہے: علي ابن ابي طالب پر خدا کي خاص عنايت يہ تھي کہ جس وقت قريش سخت قحط سالي سے دوچار تھے اور حضرت ابوطالب کثير العيال تھے، تو رسول اکرم نے اپنے چچا عباس بن عبد المطلب، جو کہ اس وقت کے متمول افراد ميں شمار ہوتے تھے، ان سے کہا کہ لوگ اس وقت قحط سالي کے شکار ہيں اور آپ کے بھائي ابوطالب کثير العيال ہيں لہٰذا ہم لوگ چل کر بات کرتے ہيں تاکہ ان کے اہل و عيال کے بوجھ اور خرچ کو ہلکا کرسکيں، ان کے فرزندوں ميں سے ايک ہم لے ليتے ہيں اور ايک کو آپ، اور ہم دونوں ان کي کفالت کريں گے، جناب عباس نے حامي بھر لي! دونوں افراد حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور دونوں نے ايک زبان ہوکر کہا کہ ہم چاہتے ہيں کہ آپ کے عيال کا بوجھ ہلکا کرديں، تاکہ لوگوں ميں جو بات (آپ کے کثير العيالي اور مشکلات کي) پھيلي ہے وہ ختم ہوجائے۔
حضرت ابوطالب نے ان لوگوں سے کہا کہ عقيل کو ميرے پاس چھوڑ دو بقيہ جو فيصلہ کرنا چاہو تم لوگوں کو اختيار ہے۔
رسول اکرم نے حضرت علي کو ليا اور سينہ سے لگاليا، حضرت علي بھي سايہ کي طرح آپ کے ساتھ ساتھ رہے يہاں تک کہ آپ مبعوث بہ رسالت ہوئے اس وقت حضرت علي نے آپ کي اتباع کي، آپ پر ايمان لائے اور آپ کي رسالت کي تصديق کي اور جعفر جناب عباس کے پاس ان کے اسلام لانے تک رہے يہاں تک کہ غربت کے دن دور ہوگئے۔( ۳۰ )
پيغمبر اسلام نے حضرت علي کے سابق الاسلام اور سابق الايمان ہونے پر متعدد بار اشارہ کيا ہے آپ نے آنے والے دنوں کے ضمن ميں يہ اشارہ کيا تھا، جيسا کہ سلمان / اور ابوذر /سے روايت ہے کہ آپ نے فرمايا: يہ (علي) وہ ہيں جو سب سے پہلے ہم پر ايمان لائے اور روز قيامت سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کريں گے، يہ صديق اکبر، اس امت کے فاروق اعظم (جو کہ حق و باطل کے درميان فرق کريں گے) اور مومنين کے يعسوب (سربراہ) ہيں۔
امير المومنين - نے بھي تربيت نبوي اور کفالت رسالت کي جانب اشارہ کيا ہے جب آپ کي شخصيت ميں نکھار آرہا تھا اور عضلات بدن نمو پارہے تھے۔
آپ نے ايک خطبہ ميں ارشاد فرمايا:
ميں نے تو بچپن ہي ميں عرب کا سينہ پيوند زمين کرديا تھا اور قبيلہ ربيعہ اور مضر کے ابھرے ہوئے سينگوں کو توڑ ديا تھا تم جانتے ہي ہو کہ رسول سے قرابت داري اور مخصوص قدر و منزلت کي وجہ سے ان کے نزديک ميرا کيا مقام تھا ميں بچہ ہي تھا کہ رسول اللہ نے مجھے گود لے ليا تھا، اپنے سينے سے لگائے رکھتے تھے، بستر ميں اپنے پہلو ميں جگہ ديتے تھے اپنے جسم مبارک کو ہم سے مس کرتے تھے اور اپني خوشبو مجھے سنگھاتے تھے، پہلے آپ کسي چيز کو چباتے پھر اس کو لقمہ بناکر ميرے منھ ميں ڈاليتے تھے، انھوں نے نہ تو ميري کسي بات ميں جھوٹ کا شائبہ پايا اور نہ ميرے کسي کام ميں لغزش و کمزوري ديکھي، اللہ نے آپ کي دودھ بڑھائي کے وقت ہي سے فرشتوں ميں ايک عظيم المرتبت ملک (روح القدس) کو آپ کے ہمراہ کرديا تھا، جو انھيں شب و روز عظيم خصلتوں اور پاکيزہ سيرتوں پر لے چلتا تھا اور ميں ان کے پيچھے پيچھے يوں لگا رہتا تھا جيسے اونٹني کا بچہ اپني ماں کے پيچھے۔
آپ ہر روز ميرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کرتے تھے اور مجھے ان کي پيروي کا حکم ديتے تھے۔
اور ہر سال کوہ حرا ميں کچھ عرصہ قيام فرماتے تھے اور وہاں ميرے علاوہ کوئي انھيں نہيں ديکھتا تھا اس وقت رسول اللہ اور (ام المومنين) خديجہ کے گھر کے علاوہ کسي گھر کي چار ديواري ميں اسلام نہ تھا البتہ تيسرا ان ميں سے ميں تھا، ميں وحي رسالت کا نور ديکھتا تھا اور نبوت کي خوشبو سونگھتا تھا۔
جب آپ پر (پہلے پہل) وحي نازل ہوئي تو ميں نے شيطان کي ايک چيخ سني، جس پر ميں نے پوچھا کہ يا رسول اللہ! يہ چيخ کيسي تھي؟
آپ نے فرمايا: يہ شيطان ہے جو اپني پرستش سے مايوس ہوگيا ہے، اے علي! جو ميں سنتا ہوں تم بھي سنتے ہو جو ميں ديکھتا ہوں تم بھي ديکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ تم نبي نہيں ہو بلکہ (ميرے) وصي و جانشين ہو اور يقيناً بھلائي کي راہ پر ہو۔( ۳۱ )
خليفہ کي تعيين اور احاديث نبوي
اسلامي فرقوں کے درميان خلافت کے مسئلہ پر بہت مباحثہ و مجادلہ ہوا ہے، خاص طور سے اس نظريہ کے قائل افراد جو يہ کہتے ہيں کہ رسول کے بعد امامت و خلافت کے حوالے سے رسول کي کوئي نص موجود نہيںہے اور اس رخنہ کو پر کرنے کے لئے يہ کہتے ہيں کہ رسول نے يہ اختيار امت کے ہاتھوں چھوڑ ديا تھا اور شيعہ حضرات جواس بات کے معتقد ہيں کہ نص نبوي موجود ہے اور رسول اکرم نے علي ابن ابي طالب + کو امت کا ہادي و رہنما اور امام قرار ديا تھا، دونوں فرقوں کے درميان بڑے ہي نظرياتي رد و بدل ہوئے ہيں۔
اگر ہم حيات نبوي کا جائزہ ليں تو ہم کو معلوم ہوگا کہ نبي اکرم نے امامت و خلافت کے مسئلہ کو بہت اہميت دي ہے يہاں تک کہ معمولي مقامات پر بھي اس کي اہميت تھي بلکہ دو سفر کرنے والوں سے آپ مطالبہ کرتے کہ تم ميں ايک دوسرے کا حاکم بن جائے۔
آپ جب کبھي کسي جنگ يا سفر کے سبب مدينے کو ترک فرماتے تو کسي نہ کسي کو اس کا ذمہ دار بہ نفس نفيس معين فرماتے تھے اور لوگوں کو کبھي اس بات کا حق نہيں ديتے تھے کہ وہ جس کو چاہيں چن ليں!
تو جب نبي کريم اپني حيات ميں تعيين خليفہ کے سلسلہ ميں اتنا حساس تھے تو کتني حيرت انگيز بات ہے کہ اپنے بعد کے عظيم مسئلہ يعني امت کي رہبري کو ايسے ہي چھوڑ کر چلے جائيں گے!
اور مسلمانوں کي ايک کثير تعداد اس بات کي جانب متوجہ ہوئي چنانچہ ابوبکر نے عمر کو معين کيا تھا اور امت کو ا س بات کا بالکل حق نہيں ديا تھا کہ وہ اپنا رہبر چن ليں۔
اور خود عمر بن الخطاب اس بات کے راوي ہيں کہ اگر سالم موليٰ ابي حذيفہ يا ابوعبيدہ بن الجراح دونوں ميں سے کوئي ايک زندہ ہوتا، تو کسي ايک کو منتخب کرتا اور بغير کسي شک و ترديد کے اس کو خليفہ بناتا، انھوں نے تو امت سے مطلق طور پر اس اختيار کو سلب کرليا تھا اور چھ لوگوں کي ايک شوريٰ (کميٹي) معين کردي تھي کہ اس ميں کسي ايک کو ميرے بعد خليفہ کے طور پر منتخب کرلو۔
ان سب باتوں کے پيش نظر جب اصحاب کرام خلافت کي اہميت کو درک کر رہے تھے تو رسول کيونکر غافل رہ جاتے اور اس کي اہميت کو درک نہ کرپاتے جب کہ آپ عقل کل اور امت و رسالت کے مصالح کو بہتر درک کرتے تھے، لہٰذا جب ہم سيرہ نبوي کو ديکھيں گے تو ہم کو اس بات کا علم ہوگا کہ رسول کي بے پناہ حديثيں موجود ہيں جواس بات کي غماز ہيں کہ آپ نے اس عظيم مسئلہ کے حل ميں بالکل تساہلي سے کام نہيں ليا جس سے امت مسلمہ کا مستقبل وابستہ تھا، آپ نے اس نوراني مرکزيت و مرجعيت کے خد و خال بتاديئے تھے اور اس کي حدبندي بھي فرمادي تھي! اور يہ کام تو آپ نے ابتدائے اسلام ہي ميں کرڈالا تھا اہل سنت کے منابع ميں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ( وَ انذِر عَشِيرَتَکَ الاقرَبِينَ ) جب يہ آيت نازل ہوئي تو بعثت رسالت کا تيسرا سال تھا، رسول نے علي کو طلب کيا اور فرمايا: اے علي! خدا نے ہم کو حکم ديا ہے کہ ہم اپنے اقرباء کو (عذاب الٰہي سے) ڈرائيں، ميں سونچ رہا ہوں کہ اس کام کو کيسے شروع کروں، ميں جانتا ہوں کہ وہ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہيں اسي لئے ميں نے خموشي اختيار کرلي، يہاں تک جبرئيل آئے اور کہا کہ ”اے محمد! اگر تم نے حکم خدا پر عمل نہيں کيا تو تمہارا خدا تم سے ناراض ہو جائے گا“ لہٰذا علي تم ايک صاع (ايک قسم کا ناپ اور پيمانہ ہے) کھانا اور ايک بکري کي ران بناؤ اور ايک برتن ميں دودھ بھردو، اس کے بعد عبدالمطلب کے فرزندوں کو دعوت دو تاکہ ميں ان سے کچھ بات کرسکوں او رجس بات کا حکم ديا گيا ہے اس کو پہنچا سکوں۔
(امير المومنين فرماتے ہيں کہ) ميںنے حکم رسول کے مطابق لوگوں کو دعوت ديدي اس دن تقريباً چاليس لوگ جمع ہوئے جس ميں آپ کے چچا حضرات ابوطالب، حمزہ، عباس، ابولہب وغيرہ شامل تھے، جب سب لوگ آگئے تو کھانا پيش کرنے کو کہا، ميں نے لاکر رکھا رسول اکرم نے گوشت کا ٹکڑا اٹھايا اور چکھ کر برتن کے ايک کونے ميں واپس رکھ ديا اس کے بعد کہا: ”بسم اللہ کہہ کر شروع کريں“ سارے افراد نے چھک کر کھايا اور ابھي کھانا بچا ہوا تھا، قسم ہے اس ذات کي جس کے دست قدرت ميں ميري جان ہے کوئي ايک بھي ايسا نہيں بچا تھا جس کے سامنے ميںنے کھانا پيش نہ کيا ہو، اس کے بعد رسول اکرم نے حکم ديا: سب کو سيراب کرو! پھر ميں نے شير پيش کيا، سب نے پيا يہاں تک کہ سب سيراب ہوگئے ،قسم ہے خدائے جلال کي کوئي ايک بھي پياسا نہ تھا، اس کے بعد جب رسول نے کچھ کہنا چاہا، ابولہب آپ پر سبقت لے گيا اور کہا: خبردار! تم لوگوں نے اس شخص کي جادوگري کو ديکھا، پورے افراد تتربتر ہوگئے اور اس دن رسول کچھ نہ کہہ سکے، دوسرے دن رسول نے کہا: علي وہ شخص مجھ پر سبقت لے گيا، قبل اس کے کہ وہ ميري بات سنتا اور ميں افراد سے گفتگو کرتا، سب چلے گئے لہٰذا پھر تم اسي دن کي طرح کھانے کا انتظام کرو اور لوگوں کو دعوت دو۔
ميں نے حسب دستور لوگوں کو پھر جمع کيا پھر مجھ کو کھانا پيش کرنے کا حکم ديا، ميں نے سارا کام کل کي طرح انجام ديا ،سب نے ڈٹ کر کھايا پھر سيرابي کا حکم ملا ، ميں نے سب کو سيراب کيا اس کے بعد رسول گويا ہوئے: اے فرزندان عبد المطلب! خدا کي قسم پورے عرب ميں ايسا کوئي جوان نہيں ہے جو مجھ سے بہتر اپني قوم کے لئے کوئي چيز لائے، ميں تم لوگوں کے لئے دنيا و آخرت کي بھلائي لايا ہوں اور خدا نے ہم کو اس بات کا حکم ديا ہے، لہٰذا کون ہے جو ميري اس امر ميں پشت پناہي کرے تاکہ وہ ميرا وصي و خليفہ ہوسکے۔
پوري قوم اس تجويز سے روگرداني کرگئي ، تو ميں نے کہا، جب کہ ميں عمر ميں سب سے چھوٹا ہوں، آنکھيں گرد آلود ہيں، پنڈلياں کمزور ہيں ليکن اے اللہ کے رسول! اس کام ميں آپ کا ميں پشت پناہ و حامي ہوں۔
رسول نے ميرے شانے پر ہاتھ رکھا اور فرمايا: يہ ميرے بھائي، وصي اور تمہارے درميان ميرے خليفہ ہيں ان کے احکامات کي پيروي کرو اور ان کے فرمان پر ہمہ تن گوش رہو۔
سب لوگ وہاں سے ہنستے ہوئے اٹھے اور کہنے لگے: ابوطالب تم کو تمہارے بيٹے کي اطاعت و پيروي کا حکم ديا گيا ہے۔( ۳۲ )
يہ عبارت جو کہ ہمارے لئے آغاز بعثت کي منظر کشي کرتي ہے اور اس طرح کي صراحت و وضاحت کے باوجود بعض مورخين و مؤلفين نے اس طرح کي باتوں کو يا تو سرے سے حذف کرديا ہے يا پھر اس ميں کتربيونت کي ہے جس ميں رسول نے صاف صاف علي کي ولايت و وصايت کا اعلان و اظہار کيا ہے اور ان کي اطاعت کا حکم ديا ہے جب کہ اس وقت موجودہ افراد نے ابوطالب کا مذاق اڑايا تھا اور اس بات کا طعنہ بھي ديا تھا کہ بيٹے کي اطاعت و ولايت مبارک ہو۔
پيغمبر اسلام کي ديگر احاديث
پيغمبر متعدد مقامات پر اس بات کي کوشش کرتے رہے کہ علي ابن ابي طالب کي سربراہي مسلّم ہوجائے، پيغمبر کے نزديک حضرت علي کا مرتبہ لوگوں کے سامنے واضح تھا جس سے مستقبل قريب ميں ايک مقصد وابستہ تھا اور حضرت علي کي اور آغاز ہجرت ہي ميں آپ نے مسلمانوں کواس بات کي طرف متوجہ کيا کہ ہم اور علي بھائي بھائي ہيں۔
حفّاظ نے اس بات کو نقل کيا ہے، ابن ہشام نے ابن اسحاق سے يوں نقل روايت کي ہے کہ رسول نے اصحاب و مہاجرين و انصار ميں مواخات (بھائي چارہ) پيدا کي! آپ نے فرمايا: راہ خدا ميں بھائي چارگي پيدا کرو، (ايک دوسرے کے بھائي بنو) اس کے بعد علي کا ہاتھ پکڑ کر فرمايا: (يہ ميرے بھائي ہيں)( ۳۳ )
لہٰذا رسول خدا جو کہ سيد المرسلين، امام المتقين، رسول رب العالمين، نہ ہي ان کا کوئي نظير تھا اور نہ ہي کوئي بديل اور علي ابن ابي طالب دونوں بھائي بھائي تھے۔
ہجرت نبوي کے نو يں سال جب سرکار غزوہ تبوک کے ارادہ سے مدينہ کو ترک فرمارہے تھے تو آپ نے اپنے اہل وعيال کا خليفہ علي کو قرار ديا تھا اور ان کے پاس رہنے کا حکم ديا تھا اور مدينہ کي ديکھ بھال نبي غفار کے ايک فرد سباع بن عرفطہ کے حوالے کي تھي۔
منافقين نے امير المومنين کے بارے ميں يہ پروپيگنڈہ کيا کہ رسول نے ان کو ان کي نااہلي کي بنا پر چھوڑ ديا ہے، جب يہ بات حضرت علي کے کانوں تک پہنچي تو آپ نے اسلحہ جنگ کو زيب تن کيا اور جرف نامي مقام پر جاکر رسول کي خدمت ميں عرض کي، يارسول اللہ منافقين کہتے ہيں کہ آپ نے ہم کو ہماري نااہلي اور سستي کے باعث ان کے بيچ رکھ چھوڑا ہے۔
آپ نے فرمايا: وہ جھوٹے ہيں، ہم نے تم کو اپنا خليفہ بنا يا ہے واپس جاؤ اور ميرے اور اپنے اہل وعيال کے پاس ميري خلافت کے فرائض انجام دو،اے علي! کيا تم اس بات پر راضي نہيں ہو کہ تم سے ميري وہي نسبت ہے جو موسيٰ کو ہارون سے تھي بس فرق اتنا ہے کہ ميرے بعد کوئي نبي آنے والا نہيں ہے، علي مدينہ کي طرف واپس آگئے اور رسول نے اپنا سفر جاري رکھا۔( ۳۴ )
رسول نے اس طرح ہارون و موسيٰ کے تمام مراتب، وزارت، خلافت اور کسي نبي کے نہ آنے کي خبر سب واضح کردي۔
رسول اسلام کا مبلّغ
جيسا کہ ہم نے ذکر کيا کہ رسول نے علي کي حمايت و اختيارات کا اظہار متعدد مقامات پر کيا مگر صرف اسي پر اکتفا نہيں کي بلکہ آپ نے چاہا کہ يہ بات تمام اصحاب پر عياں ہوجائے اور سارے اصحاب ميں صرف آپ کو تبليغ خاص کے لئے منتخب کيا۔
روايات کا ايک جم غفير ہے کہ ہجرت کے نويں سال نبي اکرم نے ابوبکر کو سورہ برائت کي پہلي دس آيتوں کو ديکر مکہ بھيجا، کہ اس کو مشرکين مکہ کے سامنے پڑھ کر سنائيں، ليکن فوراً بعد حضرت علي کو ان کے پيچھے روانہ کيا اور فرمايا: ”تم جاؤ اس نوشتہ (سورہ) کو لے لو اور خود مکہ جاکر اس کو ابلاغ کرو“
حضرت علي گئے اور درميان راہ ہي ان کو جاليا اور ان سے اس نوشتہ کو طلب کيا، ابوبکر بيچ راستے ہي سے واپس آگئے اور بہت کبيدہ خاطر تھے رسول کي خدمت ميں آکر سوال کيا يا رسول اللہ! کيا ميرے بارے ميں کوئي خاص حکم نازل ہوا ہے؟
آپ نے فرمايا: نہيں، بلکہ ہم کو اس بات کا حکم ديا گيا ہے کہ يا ميں خود اس کو پہنچاؤں يا اس شخص کو بھيجوں جو ميرے اہلبيت ميں سے ہے۔( ۳۵ ) ميرے بعد علي تمہارے ولي ہيں
روز وشب کي گردش ماہ و سال کے گزر کے ساتھ ساتھ مولائے کائنات کي شان ميں احاديث کا اضافہ ہوتا رہا، خود رسول اکرم بھي اس بات کي صراحت و وضاحت کرتے رہتے تھے جس ميں کسي قسم کا شک و تردد نہيں ہے اور تمام مسلمين کي ولايت کا اعلان بطور نمونہ پيش بھي کرديا ہے۔
بريدہ سے روايت ہے کہ رسول نے حضرت علي کو يمن کا اور خالد بن وليد کو جبل کا امير بنا کر بھيجا، اس کے بعد آپ نے فرمايا: ”اگر کسي مقام پر تم دونوں (علي و خالدبن وليد) جمع ہوجاؤ تو علي افضل و اوليٰ ہيں“ ايک جگہ دونوں کي ملاقات ہوئي اور کثير مقدار ميں مال غنيمت حاصل ہوا، حضرت علي نے خمس ميں سے ايک کنيز کا انتخاب کيا، خالدبن وليد نے بريدہ کو بلايا اور کہا کہ مال غنيمت کي کنيز کو لے ليا گيا ہے اس بات کي اطلاع رسول اسلام کو ديدو، ميں مدينہ آيا اور مسجد ميں داخل ہوا رسول بيت الشرف ميں تھے اور اصحاب کا ازدھام آپ کے در دولت پر تھا!۔
لوگوں نے پوچھا، بريدہ کيا خبر ہے، ميں نے کہا: خير ہے! خدا نے مسلمانوں کو فتح عنايت کي لوگوں نے پوچھا اس وقت کيوں آئے ہو؟
ميں نے کہا: خمس ميں سے علي نے ايک کنيز لے لي ہے!ميں رسول کو اس کي خبر دينے آيا ہوں، لوگوں نے کہا کہ رسول کو اس کي اطلاع ضرور دو تاکہ علي رسول کي نظروں سے گرجائيں،! رسول خدا اس مکالمہ کو سن رہے تھے، آپ غيظ و غضب کي حالت ميں گھر سے باہر آئے اور فرمايا: ”اس قوم کو کيا ہوگيا ہے، يہ علي ميں نقص نکال رہي ہے، جس نے علي ميں نقص نکالا اس نے مجھ ميں نقص تلاشا، جس نے علي کو چھوڑا اس نے گويا مجھے کھويا، ميں علي سے ہوں اور علي مجھ سے ہيں اور وہ ميري طينت سے خلق ہوئے ہيں اور ميں ابراہيم کي طينت سے خلق ہوا ہوں اور ميں ابراہيم سے افضل ہوں، يہ ايک نسل ہے جس ميں ايک کا سلسلہ ايک سے ہے، اللہ سننے اور جاننے والا ہے“
اس کے بعد فرمايا: بريدہ تم کو خبر ہے علي کا حق اس کنيز سے کہيں زيادہ تھا جو انھوں نے انتخاب کيا ہے؟ وہ ميرے بعد تمہارے ولي ہيں۔
بريدہ کہتے ہيں: ميں نے عرض کيا يارسول اللہ! دست مبارک بڑھائيں تاکہ آپ کے ہاتھوں پر بيعت اسلام کي تجديد کروں،راوي کہتا ہے کہ ميں بيعت اسلام کي تجديد کرنے سے پہلے جدا نہيں ہوا۔( ۳۶ )
رسول اکرم نے اس (صحيح) حديث ميں بغير کسي استثناء کے تمام مسلمين پر حضرت علي کي ولايت مطلقہ کو ثابت کيا ہے، اس حکم کے اطلاق ميں شيخين ابوبکر و عمر سب شامل ہيں کيونکہ رسول نے کسي کو مستثنيٰ نہيں کيا ہے۔
يہ درج ہے کہ بريدہ نے کہا کہ ميں نے رسول کو اس دن سب سے زيادہ غضبناک پايااس سے قبل کبھي بھي اس حالت ميں نہيں ديکھا تھا سوائے قريظہ و نضير کے دن کے! ميري جانب ديکھا اور فرمايا: ”اے بريدہ! ميرے بعد علي تمہارے ولي ہيں تم ان کو دوست رکھو کيونکہ يہ وہي کرتے ہيں جو حکم ديا جاتا ہے“
عبد اللہ بن عطاء کے بقول ابا حرب بن سويد بن غفہ سے ميں نے نقل کيا ہے، انھوں نے کہا کہ عبد اللہ بن بريدہ نے تم سے حديث کے کچھ حصہ کو چھپاليا ہے رسول نے ان سے کہا: اے بريدہ! کيا تم نے ميرے بعد منافقت سے کام ليا، مسند طيالسي، ص ۳۶۰ ، حديث ۲۷۵۲
ابن عباس سے روايت ہے کہ رسول نے حضرت علي سے کہا: ”تم ميرے بعد ہر مومن کے والي و وارث ہو“
استيعاب ميں ابن عبد البر نے بعينہ روايت کو ج ۳ ، ص ۱۰۹۱ پر نقل کيا ہے اور کہا ہے کہ اس کے سندوں ميں کوئي جھول نہيں ہے اس کي صحت اور نقل حديث کي ثقہ ميں کسي نے اعتراض نہيں کيا ہے، ابن ابي شيبہ نے المصنف ميں ج ۱۲ ، ص ۸۰ پر عمران بن حصين سے روايت کي ہے کہ رسول نے فرمايا: ”تم علي سے کيا چاہتے ہو تم علي سے کيا چاہتے ہو علي مجھ سے ہيں اور ميں علي سے ہوں اور ميرے بعد ہر مومن کے مولا ہيں“
احمد نے اپني مسند ميں اس کو نقل کيا ہے ج ۴ ، ص ۴۳۸ ، ج ۵،۳۵۶ علي کو چھوڑ دو علي کو چھوڑ دو (علي کي عيب جوئي نہ کرو) علي مجھ سے ہيں اور ميں علي سے ہوں وہ ميرے بعد ہر مومن کے مولا ہيں، جامع ترمذي، ج ۵ ، ص ۶۳۲ ؛ خصائص نسائي، ص ۱۰۹ ؛ مسند ابي يعليٰ، ج ۱ ، ص ۲۹۳ ، حديث ۳۵۵ ؛ اس کے محقق نے نظريہ ديا ہے کہ اس کے راوي حضرات سب صحيح ہيں؛ کنز العمال، ج ۱۳ ، ص ۱۴۲ ؛ الرياض النضرة، ج ۳ ، ص ۱۲۹ ؛ تاريخ بغداد، ج ۴ ، ص ۳۳۹ ؛ تاريخ دمشق، ج ۴۲ ، ص ۱۰۲ ؛ اسد الغابہ، ج ۳ ، ص ۶۰۳ ؛ کنز العمال، ج ۱۱ ، ص ۶۰۸
تاج پوشي
ديني مرجعيت اور ہر زمانے کي حکومت کے درميان جو ايک گہرا ربط تھا اس کي رسول نے بڑي تاکيد کي تھي اور اس بات کي کوشش کي تھي کہ امت مسلمہ اس کي مکمل حفاظت کرے، اس بات کے پيش نظر رسول نے امت کے سامنے اہلبيت کو پہچنوايا تھا اور يہ وہ افراد تھے جو دو عظيم، بھاري بھرکم چيزوں کي نظارت کي اہليت رکھتے تھے ايک تو شريعت الٰہيہ کي حفاظت دوسرے اس نوجوان دور حکومت کي زمامداري جس کو نبي نے حيات بخشي تھي۔
اسي بنا پر متعدد مقامات اور مناسبتوں پر رسول نے اہلبيت اور علي کي ولايت کے مسئلہ کو بيان کيا تھا کيونکہ رسول کے بعد مرکز اہلبيت حضرت علي ہي تھے ، ۱۰ ھء ميں نبي کے حجة الوداع کے موقع پر اس مسئلہ کي اور وضاحت ہوئي۔
حديث ثقلين کے ضمن ميں ہم نے يہ بات عرض کي تھي کہ رسول نے فرمايا: مجھے خدا کي جانب طلب کيا گيا ہے اور ميں نے اجابت کرلي ہے اور ميں تم لوگوں کے درميان دو بيش بہا چيزيں چھوڑ کر جارہا ہوں ايک اللہ کي کتاب دوسرے ميري عترت، لطيف و باخبر خدا نے ہم کو اس بات کي خبر دي ہے کہ يہ دونوں ايک دوسرے سے بالکل جدا نہيں ہوں گے يہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کريں گے لہٰذا ديکھو تم لوگ ان دونوں کے سلسلہ ميں ميري خلافت کا کس حد تک خيال رکھتے ہو۔
اس کے بعد فرمايا: خدائے عزوجل ميرا مولا ہے اور ميں ہر مومن کا مولا ہوں اس کے بعد حضرت علي کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمايا: ”جس جس کا ميں مولا ہوں يہ (علي) اس کے مولا ہيں، خدايا! تو اس کو دوست رکھ جواس کو دوست رکھے، تو اس کو دشمن شمار کر جو اس کو دشمن سمجھے “( ۳۷ )
اس کے بعد رسول کھڑے ہوئے اور اپنے ”سحّاب“ نامي عمامہ کے ذريعہ حضرت علي کي تاج پوشي کي اور ان سے کہا: ”اے علي عمامے عرب کے تاج ہيں“
مرجعيت کے لئے حضرت علي کے اہليت
رسول کا اپنے بعد پوري ملت مسلمہ کا حضرت علي ابن ابي طالب کو مرجعيت کي ذمہ داري سونپنا، نہ ہي بلاسبب تھا اور نہ ابن العم (چچازاد بھائي) ہونے کے ناطے تھا، نہ يہ پہلو دخيل تھا کہ يہ رسول کے داماد ہيں کيونکہ رسول کسي فعل کو انجام نہيں ديتے تھے اور نہ ہي کوئي کلام کرتے تھے جب تک وحي پروردگار کا نزول نہ ہوجائے ہر امر ميں حکم خدا کے تابع تھے، امور امت مسلمہ سے زيادہ ان کي نظر ميں اقرباء پروري اہميت نہيں رکھتي تھي، جس کي پائيداري اوراستحکام و استقامت کے لئے ايک طويل عرصہ سے جانفشاني کي تھي جو تقريباً چوتھائي صدي پر محيط تھا اس کے لئے انھوں نے بہت سارے معرکہ حل کئے ہيں اور ناگفتہ بہ مشکلات کو جھيلا ہے تب جاکر اس حکومت ميں پائيداري آئي ہے جس کے منشورات ميں سے يہ تھا کہ انسانيت دنيا ميں خير و صلاح کے مسلک پر گامزن ہوجائے تاکہ آخرت ميں کاميابي سے ہمکنار ہوسکے۔
جب کہ نبي کريم امت مسلمہ کے سلسلہ ميں بہت حساس اور محتاط تھے اور اپني حيات طيبہ ہي ميں اس بات کے لئے کوشاں تھے اور بيحد فکر مند تھے تو کيا صرف يہ سوچ اور فکر ہي کافي ہوگي؟ اوراپنے بعد امت کو يوں ہي کسي دلدل ميں چھوڑ ديں گے اور صراط مستقيم کي رہنمائي نہيں کريں گے جو ان کو راہ ابن جزري نے اسس المطالب کے ص ۴۸ پر کہا ہے کہ اس رخ سے حديث ”حسن“ ہے اور کئي ساري وجہوں سے صحيح ہے امير المومنين سے متواتر ہے اور رسول سے بھي متواتر ہے، لوگوں کي ايک کثير تعداد نے ايک جم غفير سے اس کي روايت کي ہے ۔
ابن حجر مکي نے صواعق محرقہ ص ۱۷۷ ، کہا ہے کہ تيس صحابيوں نے اس کو رسول سے نقل کياہے اور بہت سارے طرق سے يہ صحيح و حسن ہے۔
راست سے بھٹکنے سے بچاسکے اور گمراہي کي تاريکيوں سے باہر نکال سکے، نبي کے بارے ميں ايسا تصور کرنا بھي گناہ ہے کيونکہ قرآن کا اعلان ہے کہ:( عَزِيزٌ عَلَيهِ مَاعَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيکُمْ بِالْمُو مِنِينَ رَؤُوفٌ رَحِيمٌ ) ( ۳۸ ) اس پر ہماري ہر مصيبت شاق ہوتي ہے وہ تمہارے ہدايت کے بارے ميں حرص رکھتا ہے اور مومنين کے حال پر شفيق و مہربان ہے۔
ايسي صورت ميں رسول کا حضرت علي کو منتخب کرنا يقيناً ارادہ خداوندي کے تحت تھا، جس طرح سے خدا کا انتخاب حضرت طالوت کے بارے ميں تھا کيونکہ وہ علم و جسم دونوں ميں نابغہ روزگار تھے۔
يہ با ت بالکل مسلم ہے کہ خدا کا انتخاب ممتاز حيثيت رکھتا ہے کيونکہ خدا بہتر جانتا ہے کہ بندوں کي قيادت کي باگ ڈور کس کے سپرد کي جائے۔
لہٰذا اب ان معروضات کے پيش نظر ہم يہ کہہ سکتے ہيں کہ حضرت علي کي ذات والا صفات وہ ہے جواپنے زمانے ميں سب سے زيادہ علم و شجاعت کے لحاظ سے قيادت کي اہليت و صلاحيت رکھتي تھي، اور تاريخي حقائق اس بات پر گواہ ہيں، کيونکہ دراز مدت سے ہي نبي اپنے اقوال و افعال کي شکل ميں ان نعمتوں کے حامل تھے۔
____________________
[۳۰] السيرة النبويہ ابن ہشام، ج۱، ص۲۴۶؛ المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۵۲۶؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد، ج۱۳، ص ۱۹۸؛ تاريخ طبري، ج۲، ص ۳۱۳
[۳۱] شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد، ج۱۳، ص ۱۹۷، خطبہ ۱۹۰، ترجمہ مفتي جعفر صاحب قبلہ
[۳۲] تاريخ طبري، ج۲، ص۳۱۹؛ الکامل لابن اثير، ج۲، ص ۶۲؛ جيسا کہ بعض مورخين و تاريخ نويسوں نے بعض الفاظ کو بدل کر نقل کيا ہے، جيسے ان کا کہنا ہے: ”يا بني عبد المطلب، اني قد جئتکم بامر الدنيا و الآخرة “ جيسا کہ تاريخ اسلام، السيرة للذہبي، ص ۱۴۵؛ دلائل النبوة، البيہقي، ج۱، ص ۳۲۸؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۱۳؛ اور بعض نے يوں کہا ہے: ”فايکم يوازرني علي هذا الامر علي ا ٴن يکون اخي “ المنتظر لابن جوزي، ج۲، ص۳۷۶، اور بعض ميں نے اس طرح نقل کيا ہے: ”علي ان يکون اخي و کذا و کذا“ البدايہ و النہايہ ابن کثير، ج۳، ص ۵۳، تفسير ابن کثير تحت آيہ انذار سورہ شعراء محمد حسين ہيکل نے (حيات محمد) کي پہلي طباعت ميں اس کا تذکرہ کيا ہے ليکن بعد ميں اس کو حذف کرديا۔
[۳۳] السيرة النبويہ، ج۱، ص۵۰۴؛ جامع ترمذي، ج۵، ص ۵۹۵، حديث ۳۷۲۰؛ المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۱۶؛ حديث ۴۲۸۹؛ الطبقات الکبريٰ، ج۲، ص۶۰؛ سيرہ حلبيہ ج۲، ص۲۰؛ مصابيح السنہ، ج۴، ص ۱۷۳، حديث ۴۷۶۹؛ مشکوة المصابيح، ج۳، ص ۳۵۶، حديث ۲۶۰۹؛ الرياض النضرة، ج۳، ص ۱۱۱، ۱۶۴؛ فضائل احمد بن حنبل، ص۹۴، حديث ۱۴۱؛ تاريخ دمشق، ج۱۲، ص ۱۳۶؛ تذکر الخواص، ص ۲۴؛ کنز العمال، ج۱۳، ص۱۰۶، حديث ۳۶۳۴۵؛ مسند ابي يعليٰ، ج۱، ص ۳۴۷، حديث۴۴۵۔
[۳۴] تاريخ طبري، ج۳، ص۱۰۳؛ الکامل لابن الاثير، ج۲، ص ۲۷۸؛ صحيح بخاري، کتاب بدؤالخلق باب مناقب علي ابن ابي طالب؛ صحيح مسلم کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علي بن ابي طالب؛ صحيح ترمذي، ج۲، ص ۳۰۰؛ مسند الطيالسي، ج۱، ص ۲۹؛ حلية الاولياء، ج۷، ص۱۹۵؛ تاريخ بغداد، ج۱، ص ۳۲۴، ج۴، ص۲۰۲و ج۹، ص۳۹۴؛ خصائص نسائي، ج۱۴،ص۱۵؛ المستدرک علي الصحيحين، ج۲، ص۳۳۷؛ مسند احمد، ج۱، ص۱۷۰، ۱۷۵، ۱۷۷، ۱۸۴، ۳۳۰، و ج۶، ص ۳۶۹؛ الطبقات الکبريٰ لابن سع، ج۳، قسم ۱، ص۱۴، و ۱۵؛ اسد الغابہ، ج۵، ص۸؛ کنز العمال، ج۲، ص۱۵۴، و ج۵، ص ۴۰، و ج۶، ص ۱۵۴و ۱۵۶و ۳۹۵و ۴۰۵و ج۸، ص ۲۱۵؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۰۹، ۱۱۰، ۱۱۱؛ الرياض النضرة، ج۲، ص ۱۶۲، ۱۶۴، ۱۹۵؛ ذخائر العقبيٰ، ۱۲۰
[۳۵] خصائص نسائي، ص۲۰؛ صحيح ترمذي، ج۵، ص ۲۵۷، حديث ۳۰۹۱؛ مسند احمد، ج۳، ص ۲۸۳، ج۱، ص۳، ۱۵۱، ۳۳۰؛ الرياض النضرة، ج۳، ص۱۱۹؛ البدايہ و النہايہ، ج۵، ص۴۴؛ حوادث ۹ ہجري؛ السنن الکبريٰ للنسائي، ج۵، ص۱۲۸، حديث ۸۴۶۱؛ الاموال، لابي عبيد، ص ۲۱۵، حديث ۴۵۷؛ تاريخ دمشق؛ ترجمة الامام علي، ص ۸۹۰؛ الدر المنثور، ج۴، ص ۱۲۵؛ مختصر تاريخ دمشق، ج۱۸، ص۶؛ شرح نہج البلاغہ، ج۱۲، ص۴۶، خطبہ ۲۲۳؛ المنتظم لابن الجوزي، ج۳،ص۳۷۲
[۳۶]المعجم الاوسط للطبراني، ج۶، ص۲۳۲؛ تاريخ دمشق لابن عساکر، ج۴۲، ص ۱۹۱
[۳۷] حافظ نے بدايہ و النہايہ کي ج۵، ص۲۱۴ پر ذہبي سے اس کو نقل کيا ہے اور کہا ہے کہ صدر حديث متواتر ہے اور يقين ہے کہ رسول نے فرمايا ہے ليکن (اللّٰہم وال من والاہ) سند کے حساب سے زيادہ قوي ہے۔۔۔
[۳۸] سورہ توبہ، آيت ۱۲۸
علي، اعلم امت
اس ميں کوئي شک نہيں کہ ديني اور دنيوي حکومت دونوں کا مدافع ہونا اس بات کا متقاضي ہے کہ امور دين و شريعت کا مکمل عالم ہو اور سياست و قيادت کي باريکيوں سے بخوبي واقف ہو۔
اوراق تاريخ اس بات پرگواہ ہيں کہ رسول کے بعد امت کے سب سے بڑے عالم، فيصلہ کرنے والے، اور قاضي حضرت علي ہيں۔
اس بات کي شہادت سب سے پہلے رسول نے دي اس کے بعد اصحاب رسول نے اور واقعات نے بڑھ کر اس حقيقت ميں رنگ بھرديا، محدثين نے ابن عباس اور دوسرے افراد سے روايت نقل کي ہے کہ نبي کريم نے فرمايا: ”انا مدينة العلم و عليٌّ بابها فمن اراد المدينة فليات بابها “ ميں شہر علم ہوں علي اس کا دروازہ ، جو شہر ميں آنا چاہے اس کو چاہيئے کہ در سے آئے۔( ۳۹ )
دوسري جگہ فرمايا:
”انا دار الحکمة و عليٌّ بابها “( ۴۰ ) ميں دار حکمت ہوں اور علي اس کا دروازہ ۔
بعض احاديث ميں رسول نے امت کي توجہات کو مبذول کرايا ہے حضرت علي کے اس علم کي جانب جو رسول کے بعد مرجعيت عامہ کي اہليت پر دلالت کرتا ہے، رسول نے دونوں کے درميان واضح طور پر ربط کو بيان کيا ہے۔
سلمان کہتے ہيں کہ ميں نے رسول سے عرض کيا يا رسول اللہ! ہر نبي کا ايک وصي رہا ہے اور آپ کا وصي کون ہے؟ آپ نے خاموشي اختيار کرلي، پھر دوبارہ جب ميري ملاقات ہوئي تو فرمايا: ”سلمان“ ميں جلدي سے بڑھ کر آگے گيا اور عرض کي: ”لبيک يارسول اللہ! “
آپ نے فرمايا: جانتے ہو موسيٰ کا وصي کون تھا؟
ميں نے کہا: ہاں، يوشع بن نون۔
آپ نے فرمايا: کيوں؟ ميں نے کہا کہ وہ اپني امت ميں سب سے اعلم تھے۔
آپ نے فرمايا: ميرے وصي ميرے اسرار کا مرکز، ميرے بعد سب سے عظيم ہستي، ميرے وعدوں کو پورا کرنے والے ميرے قرضوں کو ادا کرنے والے علي ابن ابي طالب ہيں۔( ۴۱ )
بعض اصحاب کرام نے ان حقيقتوں کا اظہار بھي کيا ہے جو انھوںنے نبي کريم سے درک کيا تھا اور براہ راست جن حقائق کا مشاہدہ کيا تھا۔
بعض لوگوں نے ابن عباس سے سوال کيا: کہ علي کون تھے تو ابن عباس نے کہا: رسول اکرم کي قرابت داري کے ساتھ ساتھ علم، حکمت، شجاعت و شہامت آپ ميں کوٹ کوٹ کر بھري ہوئي تھي۔( ۴۲ )
عمروبن سعيد بن عاص کہتے ہيں کہ ميں نے عبد اللہ بن عياش بن ابي ربيعہ سے پوچھا کہ، لوگ حضرت علي ہي کي کيوں گاتے ہيں يعني کيوں لوگ انھيں کي طرف کھنچے چلے جاتے ہيں؟ انھوں نے کہا بھتيجے! علي، علم کے غير مفتوح بلندي کا نام ہے جو چاہو حاصل کرسکتے ہو، وہ خاندان کا سخي ، اظہار اسلام ميں پيش قدم، داماد رسول ،سنت رسول سے آگاہ، ميدان جنگ ميں بے خوف لڑنے والا اور بخشش ميں کريم ہے۔( ۴۳ )
عبد الملک بن سليمان کہتے ہيں کہ ميں نے عطاء سے کہا کہ اصحاب محمد ميں علي سے زيادہ کوئي جاننے والا تھا؟ تو انھوں نے کہا: ”لاواللہ لااعلم“ بخدا مجھے کسي کا علم نہيں۔( ۴۴ )
خود امير المومنين فرمايا کرتے تھے: مجھ سے کتاب خدا (قرآن) کے بارے ميں پوچھو اس ميں کوئي ايسي آيت نہيں جس کے نزول کے بارے ميں مجھے علم نہ ہو کہ يہ آيت رات ميں ا تري يا دن ميں وادي ميں آئي يا پہاڑ پر۔( ۴۵ )
ابن عباس سے روايت ہے کہ عمر نے کہا: ”اقضانا عليٌّ“ ہم ميں سب سے بہتر فيصلہ کرنے والے علي ہيں۔( ۴۶ )
ابن مسعود کہتے ہيں کہ ہم آپس ميں بات کيا کرتے تھے کہ اہل مدينہ ميں سب سے بہتر فيصلہ کرنے والے علي ابن ابي طالب ہيں۔( ۴۷ )
ان ميں سے کوئي ايک بھي ايسا نہيں ہے جو رسول کے اس قول ”علي ميري امت کے بہترين قاضي ہيں“ کا گواہ نہ ہو۔( ۴۸ )
يہ وہ روايات تھيں جو ا يک کثير تعداد ميں موجود ہيں ليکن ان کا کچھ حصہ پيش کيا ہے جو اس بات کو ثابت کرتي ہيں کہ حضرت علي ميں شرط اعلميت بدرجہ اتم پائي جاتي تھي جس طرح سے ان سے پہلے جناب طالوت ميں پائي جاتي تھي، حد يہ ہے کہ دشمنوں نے بھي اس فضيلت کا اعتراف کيا ہے، جب حضرت امير کي شہادت کي خبر معاويہ کو ملي تو اس نے کہا کہ:
ذهب الفقه والعلم بموت عليّ ابن ابي طالب ( ۴۹ ) ، علي کي موت در حقيقت علم و فقہ کي موت ہے۔
امت کي شجاع ترين فرد علي
کوئي دو فرد بھي ايسي نہيں ہے جو علي کي شہامت اور دشمن کو دھول چٹا دينے کے سلسلہ ميں اختلاف رائے رکھے، اور دوستوں سے پہلے دشمنوں نے اس حقيقت کا اعتراف کيا ہے اور يہ بات تواتر و شہرت کي اس حد تک پہنچ گئي ہے کہ تاريخ کے عظيم افراد نے اس کو ذکر کيا ہے، آپ ہر ميدان جنگ ميں رسول کے پرچم دار تھے۔( ۵۰ )
حضرت علي اور جنگ بدر
جنگ بدر ميں حضرت علي کا بہت بڑا امتحان تھا، تاريخ و سيرت نگاروں نے لکھا ہے کہ اس فيصلہ کن معرکہ ميں مارے جانے والے بيشتر مشرکين آپ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔( ۵۱ )
جنگ احد ميں مسلمانوں کي جانب سے پرچمداروں کو قتل کيا گيا اور ان پرچمداروں کو قتل کرنے والے حضرت علي تھے جب حضرت علي ان کو قتل کرچکے تو نبي نے مشرکين کے ايک جتھ کو ديکھا اور حضرت علي کو حکم ديا: ان پر حملہ کرو! آپ نے قتل کيا بقيہ تتربتر ہوگئے، اس کے بعد لشکر کا دوسرا ٹکڑا دکھائي ديا آپ نے ان پر حملہ کيا قتل کيا، بقيہ بھاگ کھڑے ہوئے، رسول نے دوسري ٹکڑي کو ديکھا اور جناب امير سے کہا: ”ان پر حملہ کرو“ آپ نے ان پر حملہ کيا قتل کيا اور بھگاديا، جبرئيل نے کہا: يارسول اللہ يہ ہے (ايثار و فداکاري)
تو آپ نے فرمايا: ميں علي سے ہوں اور علي مجھ سے ہيں۔
جبرئيل نے کہا: ”اور ميں آپ دونوں سے ہوں“ اس وقت لوگوں نے ايک آواز سني، ”لافتي الا عليّ لاسيف الا ذوالفقار “( ۵۲ )
حضرت علي اور جنگ خندق
جنگ خندق ميں سلمان فارسي کے مشورہ کے تحت مسلمانوں نے خندق کھودي تھي جس کے سبب تھوڑا محفوظ تھے ليکن کچھ جگہيں کم فاصلہ کے سبب بہت ہي غير محفوظ تھيں، رسول اسلام اور
مسلمان وہاں پر پڑاؤ ڈالے تھے اور مشرکين ان کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور جنگ کي شروعات ابھي نہيں ہوئي تھي۔
قريش کے کچھ جنگجو، من جملہ عمربني عامر بن لوي کا ايک بہادر شخص عمربن عبدود ابوجہل مخزومي، ھبيرہ بن ابي وھب مخزومي، بني کارب بن فہر کا ايک شخص ضرار بن الخطاب، شاعر ابن مرواس، نے لباس جنگ پہنا گھوڑوں پر سوار ہوئے اور بني کنانہ کے خيمہ گاہ کے پاس آئے او رکہا کہ، اے بني کنانہ !جنگ کے لئے تيار ہو جاؤ، آج تم کو معلوم ہوگا کہ بہادر کون ہے؟۔
انھوں نے گھوڑوں کو ايڑ لگائي اور خندق کے پاس آکر کھڑے ہوگئے جب خندق ديکھي تو کہا کہ رب کي قسم يہ تو ايک قسم کي چال ہے عربوں ميں اس طرح کي چال کسي نے نہيں چلي۔
انھوں نے خندق کا ايک چکر لگايا جہاں سے خندق تنگ نظر آئي اس طرف چل پڑے اور وہاں پہونچ کر ان کے جانور رک گئے، حضرت علي نے اپنے کچھ ہمراہيوں کے ساتھ ان کو جاليا، جس جگہ وہ گھوڑوں سميت پريشاني ميں مبتلا تھے، ان کے شہسوار آگے آگے اور ان کے گھوڑے قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے۔
عمروبن عبدود جنگ بدر ميں شريک تھا او رزخمي ہوگيا تھا جس کے سبب احد ميں نہيں آسکا تھا جنگ خندق ميں حالات کا جائزہ لينے کے لئے باہر آيا تھا اوراپنے گھوڑے کو روک کر مبارز و مقابل کو طلب کيا، حضرت علي اس کے مقابل کو نکلے اور اس سے کہا کہ عمرو تم نے قسم کھا رکھي ہے کہ جب بھي کسي قريشي سے جنگ ميں مڈبھيڑ ہوگي تو اس کي دو شرطوں ميں ايک شرط کو ضرور قبول کروگے۔
اس نے کہا: ہاں، بالکل ايسا ہي ہے۔
آپ نے فرمايا: ميں تجھ کو خدا و رسول اور راہ اسلام کي طرف دعوت ديتا ہوں۔
اس نے کہا: مجھے ان سب چيزوں سے کوئي واسطہ نہيں ہے۔
آپ نے فرمايا: تو ميري دوسري پيشکش يہ ہے کہ تو گھوڑے سے نيچے اتر آ۔
اس نے کہا: بھتيجے ايسا کيوں؟خدا کي قسم ميں تم کو قتل کرنا نہيں چاہتا۔
تو امير المومنين نے فرمايا: خدا کي قسم ميں تجھ کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔
عمرو کا چہرہ سرخ ہوگيا وہ گھوڑے سے کود پڑا اور اس کو زخمي کرديا اور اس کے چہرے پر کوڑے سے مارا اس کے بعد حضرت علي کي جانب بڑھا، دونوں سپاہي پيدل حملوں کي ردو بدل کرنے لگے آپ نے اس کو قتل کرديا اور اس کے ساتھيوں کے گھوڑے ہنہناتے ہوئے سوار سميت بھاگ کھڑے ہوئے۔( ۵۳ )
سيوطي نے اپني تفسير در منثور ميں اس آيت( وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِينَ کَفَرُوا بِغَيظِهِم لَم يَنَالُوا خَيراً وَ کَفٰي اللّٰهُ المُو مِنِينَ القِتَالَ ) ( ۵۴ ) کے ضمن ميں نقل کيا ہے اور ابن ابي حاتم نے ابن مُردويہ نيز ابن عساکر نے ابن مسعود سے نقل کيا ہے کہ وہ اس حرف کو ايسے پڑھتے تھے( وَ کَفيٰ اللّٰهُ المُو مِنِينَ القِتَالَ ) بعليّ بن ابي طالب ۔
ذہبي نے بھي نقل کيا ہے کہ ابن مسعود يوں پڑھا کرتے تھے( وَ کَفيٰ اللّٰهُ المُو مِنِينَ القِتَالَ ) بعليّ ۔( ۵۵ )
عمروبن عبدود کي شہامت کے باعث مسلمان اس کے مقابل جانے سے کترا رہے تھے، خود رسول اکرم بھي حضرت علي کا اس کے مقابل جانا پسند نہيں کر رہے تھے۔
ابوجعفر اسکافي نے اس واقعہ اور رسول کي کيفيت کي تفصيل ابن ابي الحديد معتزلي سے کچھ يوں نقل کي ہے جو اس نے تاريخ سے ليا ہے، ”رسول عمرو کے مقابل علي کے جانے سے احتراز کر رہے تھے آپ نے (حضرت علي ) کي حفظ و سلامتي کي دعا کي ہے، جب حضرت علي روز خندق عمرو بن عبدود کے مقابل نکلے تو رسول نے اصحاب کے جھرمٹ ميں اپنے دست مبارک کو اٹھا کر يہ دعا فرمائي: ”اللّٰہم انک اخذت مني حمزة يوم احد و عبيدہ يوم بدر فاحفظ اليوم علياً“ خدا يا! تو نے احد ميں حمزہ کو اور بدر ميں عبيدہ کو مجھ سے لے ليا لہٰذا آج کے دن علي کي حفاظت فرما، اور يہ کيفيت اس وقت طاري ہوئي جب عمرو بن عبدود نے مبارز طلب کيا تو سارے مسلمان خاموش تماشائي بنے تھے اور علي ہي آگے بڑھے تھے اور اذن جہاد طلب کيا تھا، خود رسول نے اس وقت فرمايا تھا: ”علي يہ عمرو ہے“ حضرت علي نے جواب ديا تھا: ”ميں علي ہوں“
آپ نے علي کو قريب کيا اور آپ کے بوسے لئے اپنا عمامہ ان کے سر پر رکھا اور چند قدم آپ کے ساتھ وداع کرنے کے ارادے سے آئے، آپ پرشاق ہو رہا تھا اور آنے والے لمحات کا انتظار کر رہے تھے، آسمان کي جانب اپنے ہاتھ اور چہرے کو بلند کيئے (دعا کر رہے تھے) اور مسلمانوں ميں سنّاٹا چھايا ہوا تھا گويا ان کے سروں پر پرندے بيٹھے ہيں۔
جب غبار جنگ چھٹااور اس ميں سے تکبير کي آواز سنائي دي تو لوگوں نے جانا کہ علي کے ہاتھوں عمرو قتل ہوچکا ہے ،رسول نے صدائے تکبير بلند کي اور مسلمانوں نے ايک آواز ہوکر رسول کا ساتھ ديا جس کي گونج خندق کے اس پار افواج مشرکين کے کانوں سے ٹکرائي۔
اسي وجہ سے حذيفہ يماني نے کہا ہے کہ اگر روز خندق علي کي فضيلت کو تمام مسلمانوں پر تقسيم کرديا جائے تو سب کو اپنے احاطہ ميں لے ليگي۔
ابن عباس اس قول خدا کے بارے ميں کہتے ہيں:( وَ کَفيٰ اللّٰهُ المُو مِنِينَ القِتَالَ ) ،بعليّ ابن ابي طالب !!
حضرت علي خيبر ميں
ساتويں ہجري ميں خود رسول اکرم شريک لشکر تھے اور خيبر کے قلعوں کي فتح چاہتے تھے جہاں وہ لوگ پناہ لئے ہوئے تھے آپ نے بعض اصحاب کو اس مہم کو سر کرنے کے لئے بھيجا مگر ان سے کچھ نہ بن پڑا۔
بريدہ سے روايت ہے کہ جب کبھي آپ طاقت فرسا سفر کرتے تھے تو ايک يا دو دن باہر نہيں آتے تھے اور جب رسول نے يہ دشوار سفر طے کيا تو آپ باہر نہيں آئے ابوبکر نے علم رسول اٹھايا اور جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اپنے تئيں حملات کيئے اور واپس آگئے، پھر عمر نے علم رسول کو سنبھالا اورابوبکر سے زيادہ جنگ ميں شدت پيدا کرنے کي کوشش کي سر انجام فتح کے بغير واپس آگئے۔
جب رسول کو ان حادثات کي خبر دي گئي تو آپ نے فرمايا: کل ميں اس کو علم دوں گا جو مرد ہوگا اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہوگا اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہوں گے اور وہ قلع کو فتح کرے گا-:اس وقت علي وہاں نہيں تھے، سارے قريش اس بات کي آس لگائے بيٹھے تھے اور اس بات کے اميدوار تھے کہ اے کاش! آنے والے کل، ميں ہي ہوتا۔
صبح نمودار ہوئي علي اپنے اونٹ پر سوار ہوکر آئے اوراس کو خيمہ رسول کے پاس بيٹھا ديا آپ کو آشوب چشم کي شکايت تھي لہذا آپ آنکھوں پر ايک معمولي قسم کے کپڑے کي پٹي باندھے ہوئے تھے۔
رسول نے پوچھا: کيا ہوا تمہيں؟
آپ نے کہا: آشوب چشم۔
رسول اسلام نے کہا: قريب آؤ!علي قريب گئے، رسول نے آنکھوں ميں لعاب دہن لگايا، آنکھوں کا درد جاتا رہا،اس کے بعد علم عطا فرمايا، علي اس کو ليکر اٹھ کھڑے ہوئے۔
ان کے جسم پر ايک سرخ رنگ کا لباس تھا آپ گنجان نخلستان سے گذر کر خيبر تک پہنچے، ادھر سے قلعہ کا محافظ مرحب اس حال ميں نکلا کہ اس کے سر پر خود اور خود پر زرد يمني پارچہ کا عمامہ اور عمامہ پر ايک پتھر ميں سوراخ کيا ہوا انڈے کي مانند ايک اور خود، اور وہ خود باختگي ميں رجز پڑھ رہا تھا۔
”قد علمت خيبر اني مرحب
شاکي السلاح بطل مجرب“
”خيبر جانتا ہے کہ ميں مرحب ہوں، اسلحوں سے ليس اور تجربہ کار بہادر ہوں“
امير المومنين نے فرمايا:
انا الذي سمّتني امي حيدره
اکليکم بالسيف کيل السندرة
ليث بغابات شديد قسورة
ميري ماں نے ميرا نام حيدر رکھا ہے، ميں تم لوگوں پر آتش ذوالفقار کي بارش کردوں گا، ميں شير بيشہ شجاعت اور بے خوف بہادر ہوں۔
دونوں سپاہيوں ميں وار کا رد و بدل ہوا اور حضرت علي اس پر حاوي ہوگئے اورايسي کاري ضرب لگائي کہ پتھر سميت خود کو کاٹتے ہوئے ڈاڑھ تک اترگئي اور پھر شہر فتح ہوگيا۔
رسول کے غلام ابي رافع ناقل ہيں کہ جب رسول نے علي کو علم عطا فرمايا تھا تو ميں ان کے ساتھ تھا جب قلعہ کے قريب پہنچے تو قلعہ ميں پناہ گزيں افراد باہر نکل پڑے آپ نے سب کو موت کے گھاٹ اتار ديا۔
يہوديوں ميں سے ايک شخص نے ايسا وار کيا کہ علي کے ہاتھ سے سپر چھوٹ کر گرگئي آپ خيبر کے پاس تھے، بڑھ کر در کو اکھاڑ ليا اور اس کو سپر کے طور استعمال کرنا شروع کرديا، آپ کے ہاتھوں ميں ذرہ برابر لرزہ نہيں تھا جہاد جاري رکھا يہاں تک کہ فتح سے ہمکنار ہوگئے اور جنگ سے فارغ ہونے کے بعد اس کو دور پھينک ديا ميں نے اپنے کو سات افراد کے درميان پايا کہ جن ميں آٹھواں ميں تھا سب نے مل کر ايڑي چوٹي کي طاقت لگادي پھر بھي اس کو ذرہ برابر ہلا نہ سکے۔( ۵۶ )
محدثين نے بھي اس واقعہ کو نقل کيا ہے، خود حاکم نے حضرت امير سے روايت کي ہے، آپ نے ابي ليليٰ سے فرمايا: اے ابي ليليٰ کيا تم ہمارے ساتھ خيبر ميں نہيں تھے؟
انھوں نے کہا: کيوں نہيں!
آپ نے فرمايا: جب رسول نے ابوبکر کو خيبر ميں بھيجا تو وہ لوگوں کے ساتھ گئے حملہ کيا ليکن (فتح کے بغير) واپس آگئے۔
آپ ہي سے دوسري روايت ہے کہ: رسول نے خيبر ميں عمر کو بھيجا وہ لوگوں کے ہمراہ شہر يا قلعہ خيبر تک گئے جنگ کي، ليکن ان سے جب کچھ نہ بن پڑا تو اپنے اصحاب کے ہمراہ اس حال ميں لوٹے کہ اصحاب ان کي، اور وہ اصحاب کي مذمت کر رہے تھے۔( ۵۷ )
حضرت علي اور جنگ حنين
جنگ حنين ميں مسلمان اپني کثرت پر بہت مغرور تھے جب رسول نے شہر چھوڑا اس وقت آپ کے ہمراہ دس ہزار فوجي تھے جو فتح مکہ ميں شريک کار تھے اور فتح مکہ کے نو مسلم دو ہزار افراد بھي شانہ بشانہ تھے۔
جب ہوازن اور ان کے حليفوں نے شدت کا حملہ کيا تو اس وقت مسلمانوں کي کثرت کے باوجود ان کي کافي تعداد نے ميدان خالي کرديا۔
اس وقت رسول اپنے اقرباء اور قبيلہ ميں سے نو افراد کے ہمراہ ميدان ميں ڈٹے رہے بقيہ سارے مسلمانوں نے بھاگنے کو ترجيح دي۔
يہ نو افراد رسول کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے، عباس، رسول کے خچر کو سنبھالے ہوئے تھے اور علي تلوار سونتے ہوئے کھڑے تھے، بقيہ افراد خچر کے آس پاس جمع تھے اور مہاجرين و انصارکا کہيں اتہ پتہ تک نہيں تھا۔( ۵۸ )
انس راوي ہيں کہ روز حنين عباس بن عبد المطلب، ابوسفيان بن حارث يعني رسول کے چچازاد بھائي کے سوا سارے لوگ رسول کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، رسول نے حکم ديا کہ منادي ندا دے کہ اے اصحاب سورہ بقرہ! اے گروہ انصار! يہ آواز بني حرث بن خزرج ميں گونج رہي تھي جب انھوں نے سني تو پلٹ آئے خدا کي قسم ان کي آوازيں ايسي تھيں، جيسے اونٹني اپنے بچے کو تلاش کرتي ہے،جب وہ لوگ اکٹھے ہوئے تو آتش جنگ بھڑک اٹھي اور رسول نے فرمايا: اب تنور (جنگ) گرم ہوگيا ہے۔
آپ نے سفيد کنکرياں اٹھائيں اور ان کو پھينک ديا اور کہا: رب کعبہ کي قسم دشمن شکست کھاگئے۔
اس دن علي ابن ابي طالب سب سے زيادہ دليرانہ حملہ کر رہے تھے۔( ۵۹ )
يہ سارے واقعات اس بات کے غماز ہيں کہ علي کي ہي وہ ذات ہے جو ميدان جنگ ميں سب سے آگے آگے رہتي تھي اور انہي کي ذات اس بات کي لياقت رکھتي ہے جو سخت و مشکل لمحات ميں امت کي رہبري کرسکے، جس طرح طالوت نے اپني امت کي قيادت بہترين نصرت کے ساتھ کي تھي، اور جالوت اوراس کے ہوا خواہوں کو سرزمين فلسطين سے کھديڑ ديا تھا، اور صحرا ميں بني اسرائيل کي حيراني و سرگرداني کا خاتمہ کر ديا تھا۔
اختلاف کے اسباب
ہمارا مقصد اس وقت حضرت علي کے فضائل بيان کرنا نہيں ہے بلکہ يہ تو اتنے ہيں جن کو شمار ہي نہيں کيا جاسکتا اوراس موضوع پر تو متعدد کتابيں لکھي جاچکي ہيں ہمارا اصل مقصد ان حقيقي دعووں کي وضاحت ہے جس ميں رسول نے علي کي لياقت و صلاحيت کا اعلان کيا ہے اور امت مسلمہ کي حيات ميں رونما ہونے والے جنگي اور صلحي اہم موارد کا اظہار ہے اور يہ ساري باتيں چچازاد بھائي اوراہلبيت ہونے کي وجہ سے نہيں تھيں جيسا کہ اس کے بارے ميں ہم پہلے ہي تفصيل سے ذکر کرچکے ہيں۔
رسول کا اصلي مقصد فرزندان توحيد کي توجہات اس جانب مبذول کرانا تھي کہ علي اور اہلبيت رسول ان کے بعد مرجعيت اسلامي کي اہلبيت و لياقت رکھتے ہيں، پيغمبر کے کلام کا لب لباب يہ تھا کہ امت مسلمہ اس بات کو تسليم کرے جو اس بات کا سبب بني کہ نظرياتي اختلاف ہو۔
ان ميں سے کچھ ايسے لوگ تھے جو ارادہ نبوت کے سامنے سر تسليم خم کرديئے تھے کيوں کہ شريعت محمدي، وحي سماوي کا پرتو علي تھي، کچھ وہ لوگ تھے جو يہ سونچ رہے تھے کہ رسول اپنے چچازاد بھائي اور اہلبيت کے ساتھ مشفقانہ اور محبتانہ برتاؤ کر رہے تھے اسي کے سبب انھوں نے يہ خيال کرليا کہ حق مشورت رکھتے ہيں بلکہ اعتراض کا بھي حق رکھتے ہيں، اس کا ثبوت بھي موجود ہے جو حسد کے سبب بعض لوگوں کي جانب سے معرض وجود ميں آيا۔
ہماري يہ بات صرف ادعا کي حد تک اور بے بنياد نہيں ہے، بلکہ متواتر روايات اس حقيقت پر گواہ ہيں بريدہ کي گذشتہ روايت آپ نے ملاحظہ فرمائي کہ خاليد بن وليد نے بريدہ کو رسول کے پاس اس لئے بھيجا تھا کہ علي کي شکايت کريں وہ اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتا تھا، اسي لئے تو خالد نے بريدہ سے کہا تھاکہ وہ کنيز مال غنيمت کي تھي جو تصرف ميں لائي گئي ہے۔
يہ بات اور واضح ہوجاتي ہے ان اصحاب کے اقوال سے جو بريدہ کو اکسا رہے تھے کہ رسول کے پاس جاکر شکايت کرو تاکہ علي رسول کي نظروں سے گر جائيں پھر رسول غيض و غضب کي صورت ميں باہر آئے تھے اوراصحاب کو مخاطب کرکے فرمايا تھا : ”جس نے علي کو اذيت دي اس نے خود رسول اکرم کو اذيت دي“
جابر بن عبداللہ سے روايت ہے کہ (يوم الطائف) طائف کے روز جب رسول اور علي کي سرگوشي طولاني ہوگئي تو لوگوں کے چہرے پر ناپسنديدگي کے آثار نماياں تھے، لوگوں نے (طنزاً) کہا کہ اس دن تو سرگوشي بہت طولاني ہوگئي۔
رسول نے فرمايا: ميں نے علي سے (نجويٰ) سرگوشي نہيں کي ہے بلکہ اللہ نے ان سے نجويٰ کيا ہے۔( ۶۰ )
زيد بن ارقم راوي ہيں کہ مسجد نبوي ميں بہت سارے اصحاب کے دروازے کھلتے تھے تو آپ نے فرمايا: ”علي کے علاوہ سب کے دروازے بند کردو“۔
لوگوں نے چہ ميگوئياں شروع کرديں تو رسول کھڑے ہوئے اور حمد و ثنائے الٰہي کے بعد فرمايا: ميں نے علي کے علاوہ سارے دروازوں کو بند کرنے کے لئے کہا تھا تو تم لوگوںنے اعتراض کيا ہے! خدا کي قسم نہ ہي ميں نے کوئي چيز کھلوائي ہے اور نہ ہي بند کرائي ہے بلکہ مجھ کو کسي بات کا حکم ديا گيا تھا جس کو بجالايا ہوں۔( ۶۱ )
سعد بن ابي وقاص کہتے ہيں کہ ميں اور ميرے ساتھ اور دو افراد مسجد ميں بيٹھے ہوئے علي کے بارے ميں کچھ نامناسب باتيں کہيں اتنے ميں رسول آگئے آپ اس قدر غصہ ميں تھے کہ چہرے سے اس کے آثار نماياں تھے ہم نے اس دن رسول کے غضب سے اللہ کي پناہ مانگي، آپ نے فرمايا: ”تم کو کيا ہوگيا ، آخر ہم سے کيا چاہتے ہو، جس نے علي کو اذيت دي اس نے ہم کو اذيت دي“( ۶۲ )
خود حضرت امير المومنين ناقل ہيں کہ ہم مدينہ کي گليوں سے گذر کر ايک باغ ميں پہنچے رسول ہمارے ساتھ تھے اور وہ ميرا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں لئے ہوئے تھے، ميں نے کہا: يا رسول اللہ يہ باغ کتنا خوبصورت ہے۔
آپ نے فرمايا: ”جنت ميں ا س سے حسين باغ ہمارے لئے ہے“ جب راستہ ختم ہوا تو رسول نے مجھے گلے سے لگايا اس کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ميں نے عرض کي، يارسول اللہ کيوں رو رہے ہيں؟
آپ نے فرمايا: لوگوں کے دلوں ميں تمہارے لئے کينے بھرے ہيں جو ميرے بعد ظاہر کريں گے۔
جناب امير فرماتے ہيں کہ ميں نے عرض کي: يارسول اللہ ميرا دين سلامت ہے نہ۔؟
آپ نے فرمايا:ہاں تمہارا دين سلامت ہے۔( ۶۳ )
حيان اسدي سے روايت ہے کہ ميں نے اميرالمومنين کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمايا کہ رسول نے ميرے لئے فرمايا: ميرے بعد امت تم سے جنگ کرے گي اور تم ميري راہ شريعت پر گامزن ہوگے اور ميري سنت پر جہاد کرو گے جو تم سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرے گا جس نے تم کو ناراض کيا اس نے مجھ کو ناراض کيا اور يہ اس سے خضاب ہوگي۔ ۳#( يعني تمہاري ڈاڑھي تمہارے سر کے خون سے رنگين ہوگي) اہلبيت سے خلافت کو جدا کرنے کا زمينہ فراہم ہوچکا تھا۔
نبوت و خلافت بني ہاشم ميں جمع نہ ہونے کي ايک وجہ حسد تھي جس کو قريش کے سرکردہ افراد کسي صورت ميں جائز نہيں سمجھتے تھے کہ يہ دونوں چيزيں کسي ايک گھر ميں اکٹھا ہو جا ئيں، يہ بات ابن عباس اور خليفہ ثاني کے مذاکرہ سے اور واضح ہوجاتي ہے۔
عبد اللہ ابن عمر راوي ہے کہ ايک دن ميں اپنے والد کے پاس بيٹھا تھا اور کئي افراد ان کے پاس جمع تھے اس وقت شعر کي بات نکل آئي، والد نے کہا کہ سب سے بڑا شاعر کون ہے؟
تو لوگوں نے کئي لوگوں کا نام پيش کيا، اتنے ميں عبد اللہ وارد ہوئے سلام کيا اور بيٹھ گئے، عمر نے کہا کہ باخبر شخص آگيا ہے، عبد اللہ! سب سے بڑا شاعر کون ہے؟
تو انھوں نے کہا: کہ زہير ابن ابي سلميٰ، عمر نے کہا کہ اس کے بہترين اشعار کو سناؤ؟
عبد اللہ نے کہا: کہ امير اس نے بني غطفان جن کو بني سنان کہا جاتا تھا ان کي مدح کي ہے۔
”اگر کرم و سخاوت کے سبب کوئي قوم سورج پر جاکر قيام کرے تو وہي قوم ہوگي جس کا باپ سنان ہے، وہ خود پاک ہے اور اس کي اولاديں بھي طاہر ہيں، اگر امن اختيار کريں تو انسان کامل، اگر بپھر جائيں، تو جنات صفت، اگر علم و تحقيق کا ميدان اختيار کريں، تو دانائے دہر ہيں، اللہ کي دي ہوئي نعمات کے سبب لوگ ہميشہ ان سے حسد کرتے رہے اور مورد حسد واقع ہونے کے سبب اللہ نے ان سے نعمتيں نہيں سلب کيں۔
عمر نے کہا: خدا کي قسم بہت عمدہ ہے اوراس تعريف کا حقيقي مستحق صرف بني ہاشم کا گھرانہ ہے کيونکہ رسول اللہ سے سب سے زيادہ قريب يہي لوگ تھے۔
ابن عباس نے کہا: امير! خدا آپ کا بھلا کرے۔
عمر نے کہا: ابن عباس جانتے ہو لوگوں نے تم کو کيوں اس (خلافت) سے روک ديا؟
عبد اللہ نے کہا: نہيں!
عمر نے کہا: ہم جانتے ہيں!
ابن عباس نے کہا: امير وہ کيا ہے؟
عمر نے کہا: لوگ يہ نہيں چاہتے تھے کہ نبوت و خلافت تم (بني ہاشم) ميں اکٹھا ہوجائے، اور تم لوگوںنے اس مسئلہ ميں بہت غرور و تکبر کا اظہار کيا، قريش نے اس مسئلہ کو خود سے حل کيا اوراس ميں کامياب ہوگئے۔
ابن عباس نے کہا: امير کيا ميري باتوں کوغصہ ہوئے بغير سن سکيں گے؟
عمر نے کہا: جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو۔عبد اللہ نے کہا:
امير جو آپ نے کہا کہ قريش نے کراہت کي ! تو قول پروردگار ہے کہ
( ذٰلِکَ بِانَّهُم کَرِهُوْا مَا انْزَلَ اللّهُ فَاَحْبَطَ اعمَالَهُمْ ) ( ۶۴ )
خدا نے جو کچھ نازل کيا تھا اس کوان لوگوںنے ناپسند کيا لہٰذا ان کے اعمال حبط (ختم) کرديئے!۔
اور آپ کي يہ بات کہ ہم غرور کر رہے تھے تو اگر ہم خلافت پر فخر کر رہے تھے تو قرابت پر بھي تو ہم نازاں تھے جبکہ ہمارا اخلاق رسول اکرم کے اخلاق سے مشتق تھا کيونکہ خدا نے آپ کے بارے ميں فرمايا:
( إنَّکَ لَعَلَيٰ خُلُقٍ عَظِيْمٍ ) ( ۶۵ )
اے رسول آپ اخلاق کے بلند ترين مرتبہ پر فائز ہيں۔
دوسري جگہ پر خدا نے آپ کے لئے فرمايا:
( وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ المُو مِنِينَ ) اے ميرے حبيب اپنے پيروکاروں سے انکساري سے پيش آئيں۔( ۶۶ )
آپ نے جو يہ کہا کہ قريش نے چن ليا تو خدا فرماتا ہے کہ:
( وَ رَبُّکَ يَخْلُقُ مَايَشَاءُ وَ يَخْتَارُ مَاکَانَ لَهُمُ الْخِيَرة )
اور آپ کا پروردگار جسے چاہتا ہے پيدا کرتا ہے اور پسند کرتا ہے ان لوگوں کو کسي کا انتخاب کرنے کا کوئي حق نہيں ہے۔( ۶۷ )
اور امير آپ جانتے ہيں کہ خدا نے اپنے بندوں ميں کس کو منتخب کيا اگر قريش ويسے ديکھتے جيسے خدا نے ديکھا ہے تو اپنے فيصلہ ميں صحيح طور سے کامياب ہوتے۔
عمر نے کہا: ابن عباس ذرا متانت سے کام لو، تم بني ہاشم کے قلوب، بغض سے بھرے ہوئے ہيں خاص طور سے قريش کے حوالے سے بالکل کمي نہيں ہے اور يہ ايسا کينہ ہے جو ختم ہونے والا نہيں ہے۔
ابن عباس نے کہا: امير ذرا ٹھہريئے ! آپ نے بني ہاشم کو دھوکے باز کہا ہے ان کے قلوب قلب رسول کا جزء ہيں جس کو خدا نے طاہر اور پاک بنايا ہے وہ اہلبيت رسول ہيں جن کے بارے ميں خدا نے فرمايا:
( إنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اهلَ البَيتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيراً ) ( ۶۸ )
جو آپ نے يہ کہا کہ کينہ ہے تو وہ شخص کيسے نہ اس کا شکار ہوگا جس کا حق چھين ليا گيا ہو اور اس کي ملکيت دوسرے کے ہاتھوں ميں ہو۔
عمر نے کہا: ابن عباس تمہارے حوالے سے کچھ بات مجھ تک پہنچي ہے جس کو ميں بيان نہيں کرنا چاہتا کيوں کہ تم ميري نگاہوں ميں گر جاؤ گے!
ابن عباس نے کہا: امير کہيے کيا بات ہے اگر باطل ہے تو ميري مثال اس شخص کي سي ہے جس نے اپنے آپ سے باطل کو جدا کرديا اوراگر حق ہے تو آپ کي نظروں سے گرنے کا سوال ہي نہيں پيدا ہوتا۔
عمر نے کہا کہ ميں نے سنا ہے کہ تم مستقل يہ کہتے پھر رہے ہو کہ يہ امر (خلافت) حسد اور ظلم کي بناء پر تم (بني ہاشم) سے چھين ليا گيا ہے۔
ابن عباس نے کہا: اے امير! آپ کا حسد کے متعلق کہنا تو درست ہے اس لئے ابليس نے آدم سے حسد کيا تھا جس کي بناء پر وہ جنت سے نکال ديا گيا تھا لہٰذا ہم فرزندان آدم محسود (جس سے حسد کيا جاتا ہے) ہيں!
رہي آپ کي ظلم والي بات، تو امير بہتر جانتے ہيں کہ اصلي حقدار کون ہے؟
اس کے بعد کہا کہ اے امير! کيا عرب، عجم پر رسول کے سبب فخر نہيں کرتے؟ اور قريش سارے عرب پر رسول کي بناء پر ناز نہيں کرتے اور ہم سارے قريش کے بنسبت رسول سے زيادہ قريب ہيں۔
عمر نے کہا: اٹھو اور يہاں سے اپنے گھر جاؤ۔
عبد اللہ اٹھے گھر کي طرف چل ديئے اور جب واپس ہوئے تو عمر نے آواز دي، ابن عباس! ميں تيرے بنسبت زيادہ حقدار ہوں۔
عبد اللہ، عمر کي جانب مڑے اور کہا کہ اے امير! ہم تم سے اور پوري امت مسلمہ سے زيادہ رسول کي وجہ سے حقدار ہيں جس نے اس کي حفاظت کي گويا اس نے اپنے حق کي حفاظت کي، جس نے اس کو ضائع کيا گويا اس نے اپنا حق ضائع کرديا۔( ۶۹ )
اس سے بڑھ کر اس وقت قوم نے جس بات کو دليل بنا کر حضرت علي سے خلافت کو جدا کرديا تھا وہ بات يہ تھي کہ حضرت علي نے اسلام کي عظيم جنگوں ميں مشرکين کے سرداروں کو موت کے گھاٹ اتار ديا تھا جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بظاہر ان کي گردنوں ميں اسلام کا قلادہ پڑا تھا ليکن دلوں ميں جنگوں کے کينے چھپائے ہوئے تھے اور عثمان بن عفان (خليفہ ثالث) نے اس بات کي وضاحت بھي کي ہے۔
ابن عباس نے جيسا کہ روايت کي ہے کہ حضرت علي اور عثمان کے درميان کچھ کلامي ردوبدل ہوئي تو عثمان نے کہا کہ ، قريش تم سے محبت نہيں کرتے تو يہ بات تعجب خيز نہيں ہے کيونکہ آپ نے
جنگ بدر ميں ان کے ستر آدميوں کو قتل کيا ہے ان کے چہرے سونے کي بالياں تھيں ان کو عزت ملنے سے پہلے ہي ان کي ناک رگڑ دي گئي۔( ۷۰ )
شاہراہ اجتہاد کا استعمال
(نص کے مقابل راہ اجتہاد) کي تدبيريں قوي اور بيخ کن تھي جنھوں نے خلافت کو اہل بيت سے جدا کر ديا اوراس طرح کے مواقع وفات رسول سے قبل اور غدير کے بعد رونما ہونے لگے تھے، يہ بات بالکل روز روشن کي طرح واضح تھي کہ رسول حضرت علي کو اپنے بعد اسلام کا مطلق مرجع و مرکز گردانتے تھے تاکہ اسلامي شہروں کي سياسي، عسکري، اقتصادي، ديني، اور ہر طرح کي ديکھ بھال ميں رسول اکرم کے مکمل جانشين ثابت ہوسکيں۔
جب رسول نے لشکر اسامہ کے ساتھ جنگ ميں شرکت کے مسئلہ ميں بعض لوگوں کي نافرماني اور روگرداني ديکھي تواس بات کا ارادہ کيا چونکہ نبي مرض الموت ميں مبتلا ہيں اور آفتاب رسالت بس غروب ہونے والا ہے اور آپ کا وجود نگاہوں سے اوجھل ہو جائے گا لہٰذا کوئي شخص ان کا جانشين معين ہوجائے اور پہلے نظريہ کے حامل اصحاب ميں موجودہ صورت حال سے کھلبلي مچي ہوئي تھي، اور رسول جوارِ رب ميں جانے کے لئے اپنے آپ کو تيار کر رہے تھے اور وہ مدينہ منورہ کو ايک دور افتادہ زمين کے لئے ميدان جنگ بنانا چاہتے تھے اور اس کے جنگي نتيجہ سے بالکل بے خبر تھے، اور حضرت علي اور ان کے ہم فکر افراد اس حملہ کے حق ميں نہيں تھے تو ظاہر سي بات ہے کہ ايسے وقت ميں رسول کي ذاتي تدبير کيا تھي؟۔
اور يہ صرف اس لئے تھا کہ يہ مسئلہ مرکز سے دور ہو جائے اور فضا سازگار ہو جائے تاکہ علي کي ولايت کا استحکام آسان ہو جائے اور جب فوج اپني مہم کو سرکر کے واپس آئے گي تو اس وقت مسئلہ خلافت بنحو احسن انجام پذير ہوچکا ہوگا۔
علي کي بيعت ہوچکي ہوگي اور امور اپني جگہ مستقر ہوچکے ہوں گے اس وقت کسي قسم کا اختلاف نہيں رہ جائے گا اطاعت کے سوا کوئي چارہ نہيں رہے گا اور سب اس جھنڈے تلے جمع ہو جائيں گے جہاں لوگ پہلے سے جمع ہيں۔
حزب مخالف (اپوزيشن پارٹي) کے لوگ اس حقيقت کو تاڑ گئے تھے لہٰذا انھوں نے جيش اسامہ کي پيش قدمي ميں ٹال مٹول کر رہے تھے، ہرچند کہ رسول اسامہ کے لشکر کو جلد از جلد روانہ ہونے پر مصر تھے اور بار بار تکرار فرماتے تھے کہ ”انفذ و ابعث اسامہ“ جيش اسامہ کو جلد روانہ کرو، يہ جملہ خود رسول کي بے کيفي کا غماز ہے کيونکہ آپ کي عجلت کے باوجود ان کے تعميل حکم ميں سستي برتي جارہي تھي جبکہ آپ چاہتے تھے کہ مرکز خرافات دور ہوجائے اور يہاں سے چہ ميگوئياں ختم ہو جائيں۔
اس کے بعد رسول نے دوسرا موقف اختيار کيا اور فيصلہ کو قطعي اور حتمي شکل دينے کے لئے اور اپنے بعد علي کو اپنا وزير مقرر کرنے کے لئے ايک تحريري ثبوت مہيا کرنا چاہا جس سے انحراف کا امکان نہيں تھا، لہٰذا اصحاب سے اس بات کي خواہش کي کہ قلم و دوات مہيا کرديں تاکہ ان کے لئے نوشتہ لکھ ديں اور وہ لوگ گمراہي سے بچ جائيں جيسا کہ اس کي خبر گذشتہ بحثوں ميں گذر چکي ہے۔
اجتہادي نقطہ نظر سے اس بات کا انکشاف مشکل نہيں تھا کہ اس تحرير کے معني و مقصد کو سمجھ ليا جائے، کيونکہ رسول بستر موت پر ہيں اور صورت حال کچھ ناگفتہ بہ ہے لہٰذا اس نوشتہ ميں صرف وصيت ہي ہوگي! جس کا پورا پورا يقين پايا جاتا ہے اوراس تحرير ميں رسول کي وصيت ميراث اور اس کے مثل مسائل سے قطعي مربوط نہ ہوگي، کيونکہ رسول کا قول ”لاتضلون بعدہ“ تاکہ اس تحرير کے بعد گمراہي نہ ہو، رسول کا قول صرف امت اور اسلام کے مستقبل سے متعلق تھا کيونکہ شريعت اب مکمل ہوچکي تھي اور خداوند تعاليٰ نے اس بات کي خبر بھي دے دي تھي،
( ْاليَومَ اکْمَلتُ لَکُم دِينَکُم وَاتمَمتُ عَلَيکُم نِعمَتِي وَ رَضِيتُ لَکُمُ الإسلامَ دِيناً ) ( ۷۱ )
اے رسول، آج کے دن ہم نے آپ کے دين کو مکمل کرديا اور آپ پر نعمتيں تمام کرديں اور آپ کے دين اسلام سے راضي ہوگيا۔
مذکورہ آيت کو حديث رسول کے اس فقرہ ”لاتضلون بعدہ“ سے جو حديث ثقلين سے مربوط ہے کہ ”ما ان تمسکتم بہما لن تضلوا“ جب تک قرآن و اہل بيت سے متمسک رہو گے گمراہ نہيں ہوگے، تقابل کرنے سے يہ بالکل عياں ہوگيا کہ رسول اس وصيت ميں اپنے بعد اہلبيت کے سلسلہ ميں وصيت کرنا چاہتے تھے اور ان کے سربراہ و سردار حضرت علي کے سلسلہ ميں وضاحت کرنا چاہتے تھے، اسي سبب شاہراہ اجتہاد کے سالکين اپني تمام تر قوتوں سميت مقصد رسالت کو مکمل ہونے سے مانع ہوئے اور اس بات تک کا خيال کر بيٹھے کہ رسول مرض کے سبب معاذ اللہ ہذيان بکنے لگے ہيں۔( ۷۲ )
رسول کے پاس اس نافرماني کا کوئي بدل نہيں تھا جو انھوں نے ناراضگي کا اظہار کيا تھا وہ بھي اس طرح کي مخالفت کي صورت ميں جو انھوں نے انجام ديا تھا سوائے اس کے کہ اس بھرے مجمع ميں يہ کہديں کہ ”قوموا عني“ يہاں سے چلے جاؤ!يہ نتيجہ صرف ہمارے ہي نزديک نہيں ہے بلکہ خود عمر نے اس کي وضاحت کي ہے۔
روايات سے يہ بات بالکل واضح ہے کہ عمر بن الخطاب نے يہ جملہ کہا تھا کہ (نبي ہذيان بک رہے ہيں اور جب بعد کے محدثين نے اس جملہ کي کڑواہٹ کو محسوس کيا تو جملہ کو بدل ديا جس سے يہ معلوم ہوتا ہے کہ عمر نے کہا کہ آپ پر بخار کا غلبہ ہوگيا تھا
ابن عباس نے عمر سے روايت کي ہے: عمر کے ابتدائے خلافت ميں ان کے پاس گيا تو ان کے سامنے کھجور کے پتوں کي بني ٹوکري ميں کھجور رکھ دي گئي انھوں نے مجھے بھي دعوت دي، ميں نے ايک کھجور اٹھالي، انھوں نے بقيہ ختم کردي اورايک مٹکا جو ان کا مخصوص تھا اس کو ختم کيا اور ہاتھوں کا تکيہ بنا کے ليٹ گئے اور حمد الٰہي کي تکرار کرنے لگے،يکايک مجھ سے مخاطب ہوکر کہا: اے عبداللہ! کہاں سے آرہے ہو؟
ميں نے کہا: مسجد سے۔
پھر پوچھا کہ اپنے چچازاد بھائي کو کس حال ميں چھوڑ کر آئے ہو؟
ميں سمجھا کہ عبد اللہ بن جعفر کے بارے ميں سوال کيا ہے ميں نے کہا: وہ اپنے ہمسن بچوں کے ساتھ کھيلنے ميں مشغول ہے۔
انھوں نے کہا: ميري مراد وہ نہيں ہے بلکہ تم اہل بيت کے سيد و سردار۔
ميں نے کہا: وہ فلاں شخص کے باغ ميں آبياري کر رہے ہيں اور تلاوت قرآن فرماتے جارہے ہيں۔
انھوں نے کہا: عبد اللہ! تمہاري گردن پر قربانيوں کا خون ہوگا اگر تم نے چھپايا، سچ بتاؤ کيا اب کوئي چيز ان کي خلافت ميں باقي رہ گئي ہے!؟
ميں نے کہا: ہاں۔
انھوں نے کہا: کيا وہ يہ خيال کرتے ہيں کہ رسول خدا نے ان کے لئے کوئي نص بيان کي ہے؟
ميں نے کہا: ہاں، بلکہ اس سے زيادہ، ميں نے اپنے والد سے اس بارے ميں سوال کيا ، جس بات کے وہ (علي ) مدعي تھے؟
تو انھوں نے کہا: ہاں۔
عمر نے کہا: علي کے بارے ميں رسول کے قول ميں کئي رخ پائے جاتے تھے اور کوئي بطور حجت پيش نہيں کرسکتے اور نہ ہي وہ قابل قبول عذر ہوں گے، وہ خود حالات کے تحت علي کے سلسلہ ميں اپنے قول ميں توقف فرماتے تھے۔
رسول آخري وقت ميں علي کے نام کو معين کردينا چاہتے تھے مگر ميں نے اسلام کي حفاظت کے پيش نظر اس کام کو ہونے نہيں ديا، نہيں بالکل نہيں، قسم ہے رب کعبہ کي کبھي بھي علي کي ذات پر قريش اتفاق کر ہي نہيں سکتے، اور اگر علي کو قريش کا حاکم بنا بھي ديتے تو عرب چار سمتوں سے ان کي مخالفت کرتے۔
رسول خدا اس بات کو قطعي سمجھ گئے تھے کہ ميں ان کے دل کے راز سے واقف ہوں لہٰذا انھوںنے اس سے پرہيز کيا اور خدا نے حتمي فيصلہ پر دستخط ہونے سے گريز کيا۔( ۷۳ )
____________________
[۳۹] المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۱۲۶؛ پر کہا ہے کہ يہ حديث صحيح الاسناد ہے، تاريخ بغداد، ج۴، ص۳۴۸، ج۷، ص۱۲۷، ج۱۱، ص۴۸،۴۹، خطيب نے کہا کہ قاسم نے کہا کہ ميں نے يحيي بن معين سے اس روايت کے بارے ميں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ يہ صحيح ہے، اسد الغابة، ج۴، ص۲۲، تہذيب التہذيب، ج۶، ص۳۲۰، ج۷، ۴۲۷، کنز العمال ج۶، ص۱۵۲، فيض الغدير، ج۳، ص۴۶، مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۱۴، الرياض النضرة، ج۲، ص۱۹۳، کنوز الحقائق للمناوي، ص۴۳، صواعق محرقہ،ص۷۳
[۴۰] جامع ترمذي، ج۲، ص۲۹۹، حلية الاولياء، ج۱، ص۶۴، کنز العمال، ج۶، ص۴۰۱
[۴۱] مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۱۳، اور صاحب کتاب مذکور نے کہا ہے کہ طبراني نے اس کي روايت کي ہے نبي کا سلمان سے سوال کرنے کا راز مخفي نہيں ہے کيونکہ موسيٰ کا يوشع کا وصي ہونا در اصل حضرت کے اعلم ہونے کا اظہار کرنا تھا، سيرة النبويہ، ابن اسحاق، ص۸۲۵، تھوڑے سے لفظي اختلاف کے ساتھ تحقيق ڈاکٹر سہيل زکار
[۴۲] الرياض النضرہ، ج۲، ص۱۹۴، احمد نے بھي اس کو مناقب ميں نقل کيا ہے
[۴۳] تہذيب التہذيب لابن حجر، ج۷، ص۳۳۸
[۴۴] اسد الغابہ، ج۶، ص۲۲، الاستيعاب، ج۲، ص۴۶۲، فيض القدير، ج۳، ص۴۳، الرياض النضرہ،ج۲، ص۱۹۴،
[۴۵] طبقات ابن سعد، ج۲، ص۱۰۲،تہذيب التہذيب، ج۷، ص۳۳۷، اس ميں آپ نے فرمايا: پوچھو خدا کي قسم جو بھي پوچھو گے اس کا جواب دوں گا کتاب خدا کے بارے ميں سوال کرو کوئي آيت نہيں اتري مگر ميں بتاسکتا ہوں کہ دن ميں آئي يا رات ميں، الاصابہ، ج۴، ص۲۷۰، تفسير الطبري، ج۲۶، ص۱۱۶، کنز العمال، ج۱، ص۲۲۸
[۴۶] صحيح البخاري، باب تفسير قولہ تعاليٰ ما ننسخ من آية او ننسہا المستدرک، ج۳، ص۳۰۵، مسند احمد، ج۵، ص۱۱۳، حلية الاولياء، ج۱، ص۶۵
[۴۷] المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۱۳۵، اور اس بات کے قائل ہيں کہ شيخين کے نقل کے باعث يہ حديث صحيح ہے؛ طبقات ابن سعد، ج۲، قم ص۱۰۲، اسد الغابہ، ج۴، ص۲۲، نور الابصار، للشبلنجي، ۷۳
[۴۸] الرياض النضرہ، ج۷۲ ص۱۹۸، الاستيعاب لابن عبدالبر، ج۱، ص۸، مختلف اصحاب سے مختلف الفاظ ميں اس روايت کو نقل کيا ہے اور اس بات کا دعوي کيا ہے کہ يہ حديث (اقضانا عليّ) کئي طرح سے عمر سے روايت کي ہے۔
[۴۹]الاستيعاب، ج۲، ص۴۶۳
[۵۰]المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۱۱۱، و ص۴۹۹، الاستيعاب، ج۳، ص۱۷۳، الطبقات الکبريٰ، ج۳، ص۱۵، مسند احمد، ج۱، ص۳۶۸، تہذيب التہذيب، ج۳، ص۴۷۵، اسد الغابہ، ج۴، ص۲۰، کنز العمال، ج۵، ص۲۹۵، رياض النضرہ، ج۲، ص۱۹۱، مجمع الزوائد، ج۵، ص۳۲۱، سنن البيہقي، ج۶، ص۲۰۷
[۵۱] مغازي الواقدي، ج۱، ص۱۴۷، بدر ميں مشرکين کے مقتولينالسيرة النبوية، لابن ہشام، ج۱، ص۷۰۸
[۵۲] تاريخ طبري، ج۲، ص۵۱۴، الکامل ابن اثير، ج۲، ص۱۵۴، سيرة ابن ہشام، ج۲، ص۱۰۰، رياض النضرة، ج۳، ص۱۳۷، المعجم الکبير، ج۱، ص۲۹۷، حديث ۹۴۱، تاريخ دمشق، ترجمہ الامام علي کفايہ الطالب، الکنجي، ص۲۲۷، باب۶۹، عن الباقر ، مناقب خوارزمي، ص۱۴۷، حديث ۲۰۰، وقعة الصفين، ص۴۷۸، شرح نہج البلاغہ، ابن ابي الحديد، ج۱۴، ص۲۵۱، انھوں نے کہا ہے کہ اس خبر کو محدثين کي کثير تعداد نے نقل کيا ہے اور مشہور روايات ميں سے ہے۔
[۵۳] السيرة النبويہ لابن ہشام، ج۲، ص۲۴۴، تاريخ طبري، ج۲، ص۵۷۳، الکامل ابن اثير، ج۲، ص۱۸۱
[۵۴] سورہ احزاب، آيت۲۵
[۵۵] ميزان الاعتدال، ج۲، ص۱۷
[۵۶] تاريخ طبري، ج۳، ص۱۱، حوادث ۷ ھء، جنگ خيبر، الکامل ابن اثير، ج۲، ص۲۱۹، سيرہ ابن ہشام، ج۲، ص۳۳۴
[۵۷] المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۳۷، کتاب المغازلي ذہبي نے تلخيص ميں اس صحت کي موافقت کي ہے۔
[۵۸] شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد، ج۳، ص۲۷۸
[۵۹] مجمع الزوائد، ج۶، ص۱۸۰ اور اس بات کے مدعي ہيں کہ ”الاوسط“ ميں ابو يعلي اور طبراني نے اس کي روايت کي ہے اور اس کے راوي حضرت عمر بن داؤد کے علاوہ سب صحيح ہيں
[۶۰] المعجم الکبير للطبراني، ج۲، ص۱۸۶، تاريخ دمشق ابن عساکر، ج۲، ص۳۱۲
[۶۱] المستدرک علي الصحيحين، ج۳، ص۱۵
[۶۲] مجمع الزوائد، ج۹، ص۲۹، پر کہا ہے کہ ابويعلي اور بزار نے اس کو اختصار کے ساتھ نقل کيا ہے اوريعلي کے راويان صحيح السند ہيں سوائے محمود بن خداش و قنان، يہ دونوں ثقہ ہيں مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۱۸
[۶۳] المستدرک، ج۳، ص۱۴۳ ذہبي نے اس کو صحيح جانا ہے اور اس کي موافقت کي ہے
[۶۴] سورہ محمد،آيت۹
[۶۵] سورہ قلم، آيت۴
[۶۶] سورہ شعراء، آيت ۲۱۵
[۶۷] سورہ قصص، آيت ۶۸
[۶۸] سورہ احزاب، آيت ۳۳
[۶۹] شرح ابن ابي الحديد، ج۱۲، ص۵۲
[۷۰] شرح ابن ابي الحديد، ج۹، ص۲۲
[۷۱] سورہ مائدہ، آيت
[۷۲] شرح نہج البلاغہ، ج۱۲، ص۲۱۔ ۲۰ پر اس بات کا دعويٰ کيا گيا ہے کہ احمد بن ابي طاہر صاحب تاريخ بغداد نے اس کو سند کے ساتھ ذکر کيا ہے
[۷۳] شرح نہج البلاغہ، ج۱۲، ص۲۱۔ ۲۰ پر اس بات کا دعويٰ کيا گيا ہے کہ احمد بن ابي طاہر صاحب تاريخ بغداد نے اس کو سند کے ساتھ ذکر کيا ہے
تیسری فصل
آغاز تشیع
مسلک اجتہاد جو کہ وصیت و تعلیمات نبوی کے مقابل کبھی بھی سرتسلیم خم کرنے کے قائل نہیں تھا، اس کے مقابل ایک فرمانبردار گروہ وہ ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم کے تمام احکامات کا مطیع ہونا چاہئے وہ جس امر سے بھی متعلق ہو، چاہئے وہ احکامات شریعت ہوں یا رحلت رسالت کے بعد امور کی انجام دہی، لہٰذا کچھ مردان خدا نے نص کی پیروی کے مسلک کی بنیاد رکھی اوران کی تعداد شاید دس سے زیادہ نہ ہو، لیکن بعد میں افراد ان کے گروہ میں شامل ہوتے چلے گئے۔
ظاہر سی بات ہے کہ نص کی اتباع میں شریعت کے وہ امور جن میں ان کا موقف دینی مرجعیت اور رسول کے بعد سیاسی مراحل سے متعلق ہے ان میں رسول سے مدد طلب کی ہوگی، اور انھوں نے ولایت و شخصی اختیارات میں شخصی اجتہاد نہیں کیا ہوگا، اور یہ ایسا گروہ ہے جس پر نصوص نبوی کی تائید ہے حضرت علی کے مانند حسین وجامع کمالات شخص کے لئے جو نفسانی اور اخلاقی صفات کے حامل ہیں تاکہ یہ عظیم منصب صحیح جگہ مستقر ہوسکے جس پر وہ پیغام متوقف ہے جس کے قوانین رسول نے مرتب کئے اور اس کی بنیاد ڈالی۔
لہٰذا رسول کے بعد آنے والے شخص پر لازم ہے کہ اس مرکز کی حفاظت کرے اوراس کو ان مخالف آندھیوں سے بالکل محفوظ رکھے جو تبدیلی زمان اور مرور ایام کے سبب طویل سفر میں درپیش ہوسکتی ہیں، خاص طور سے مسلمانوں کا وہ دور، جن کا زمانہ عہد ماضی سے بہت قریب ہے، اور ہجرت رسول کے بعد نفاق کی ریشہ دوانیوں کی شدت کے وقت، اور بعض افراد کا مسلمین و مشرکین کے بیچ پیس دینے والی جنگ کے کینوں کے سبب متحد ہونا جن میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو فتح مکہ کے بعد شریک اسلام ہوئے ہیں اور یہ وہ وہی لوگ ہیں جن کو رسول نے (طلقاء) آزاد شدہ کہا ہے، اور مال وغیرہ کے ذریعہ ان کی قلبی مدد کی تھی۔
اس بات کے پیش نظر کی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف جو ان کے دلوں میں کینے چھپے ہیں وہ ختم ہو جائیں اور بعض لوگوں کے دلوں میں جو حب دنیا اور اس کی رنگینیوں سے دلچسپی رکھتے تھے وہ بجھ جائیں۔
نبی اکرم یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ سرداران قریش جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا (سرداری قوم) اس کو چھوڑ نے کے بعد بادل نخواستہ اسلام میں شامل ہوئے ہیں اور سردست ان کے پاس اس نئے اسلام کو اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا جبکہ اسلام ایک عظیم دین ہے پھر بھی وہ اس کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں تھے۔
اس کے علاوہ آئندہ دنوں میں جزیرہ عرب کے باہر کی اسلام دشمن طاقتیں مسلسل ڈرا رہیں تھیں اور اس کا نظیر صاحب قوت و قدرت حکومتیں تھیں۔
اور یہ بالکل فطری بات تھی کہ اس کا سبب مسلمانوں کا تحول ان حکومتوں کے لئے اور حیرت انگیز تھا جو حکومتیں اپنے آس پاس کے لوگوں کو ڈرا دھمکا رہیں تھیں ہر چند کہ ان کی گیدڑ بھبھکی کے مقابل مسلمانوں کے پاس حفاظت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
لہٰذا نص کی مکمل پیروی، اس اجتہادی روش کے سامنے جو نص شرعی اور نص نبوی کے مقابل علم بغاوت بلند کئے ہے، مدد کی خواہاں ہے جبکہ ایک لحاظ سے نص شرعی و نبوی کا مرکز حضرت علی ہیں اور دوسرے لحاظ سے وجود ظاہری میں اس نبوی موقف کے مصداق بھی حضرت علی ہی ہیں۔
رسول خدا نے فرمایا:
”مَن اطاعنی فقط اطاع اللّٰه و مَن عصانی فقد عصی اللّٰه و مَن اطاع علیاً فقد اطاعنی و مَن عصی علیاً فقد عصانی “( ۱ )
جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
”انا و علیّ حجة اللّٰه علی عباده “( ۲ )
ہم اور علی بندگان خدا پر حجت خدا ہیں۔
قال رسول اللہ:
”اُوحِیَ اِلَیَّ فی علیّ ثلاث، انه سید المسلمین، امام المتقین، قائد الغرّ المحجّلین “
اللہ نے علی کے سلسلہ میں میرے پاس تین چیزوں کے بارے میں وحی نازل کی کہ: ۱ ۔وہ سید المسلمین ۲ ۔امام المتقین ۳ ۔قائد الغر المحجلین ہیں۔
قال النبیّ : ”علیّ مع الحق والحق مع علی و لن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض یوم القیامة “( ۳ )
علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر ہم سے ملاقات کریں گے۔
اور آپ کا قول حضرت علی کے بارے میں گذر چکا ہے کہ ”الحق مع ذا الحق مع ذا “( ۴ )
یہ اور اس کے مثل نصوص نبوی سے ان اصحاب نے یہ جانا کہ رسول اکرم نے اس عظیم امر کو علی کے لئے ثابت کیا ہے یہ وہ ہیں جو حق کے ساتھ ہیں اور حق پر ہیں اور ان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ بات گذر چکی ہے کہ رسول نے قرآن و اہلبیت کو ایک دوسرے کا ساتھی و ہمنوا بتایا ہے اوراس بات کی ضمانت لی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ حوض کوثر پر ہم سے ملاقات کریں گے۔
اس کے بعد یہی بات حضرت علی سے مخصوص کی اور فرمایا: ”علی مع القرآن والقرآن مع
فخر رازی کہتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب ہمیشہ بسم اللہ کو بآواز بلند کہا کرتے تھے اور یہ بات تواتر سے ثابت ہے اور جو کوئی بھی دین میں علی کی اقتدا کرے گا وہ ہدایت یافتہ ہے اور اس بات کی دلیل رسول کا یہ قول ہے: ”اللّٰهم ادر الحق مع علیّ حیث دار “ خدایا حق کو اس طرف موڑ جدھر علی جائیں تفسیر کبیر، ج ۱ ، ص ۲۰۴ ، باب الجہر بالبسملة
علی، لن یفترقا حتی یردا علی الحوض “( ۵ ) جب قرآن حق ہے اوراس میں شک و شبہ کی گنجائش بھی نہیں ہے اور علی قرآن کے ساتھ ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ علی حق کے ساتھ ہیں اور بالکل واضح ہے کہ علی حق پر ہیں لہٰذا ان کی اتباع اسی طرح واجب ہے جس طرح حق کی اتباع واجب ہے۔
یہ وہ اہم دلائل ہیں اس گروہ کے جواتباع نص کو واجب کہتے ہوئے علی سے تمسک کو ضرورت دین سمجھتے ہیں اور ان کی مخالفت کو ناجائز،اور ان کا موقف حیات رسول ہی میں سب پر واضح تھا۔
محمد کرد علی کہتے ہیں: کہ عصر رسول ہی میں بزرگ صحابہ کرام ولایت علی کے حامی تھے، جیسا کہ سلمان فارسی کہتے ہیں کہ ہم نے رسول کی بیعت مسلمین کے اتحاد، علی ابن ابی طالب کے امام اور ان کی ولایت کے لئے کیا تھا۔
انھیں کے مانند ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ لوگوںکو پانچ چیزوں کا حکم دیا گیا تھا انھوں نے چار کو اپنایا اور ایک کو چھوڑ بیٹھے جب ان سے ان چاروں کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا کہ: نماز، زکاة، ماہ رمضان کا روزہ اور حج۔
پوچھا گیا وہ کیا چیز ہے جس کو چھوڑ دیا گیا: تو کہا کہ ولایت علی بن ابی طالب ، پوچھنے والے نے کہا کہ کیا یہ بھی ان چیزوںکے ہمراہ فرض تھی۔
توابوسعید نے کہا: ہاں۔
اور انھیں کے ہمرکاب تھے، ابوذر غفاری، عمار بن یاسر، حذیفہ بن الیمان و ذو الشہادتین خزیمہ بن ثابت، ابو ایوب انصاری، خالد بن سعید بن العاص، قیس ابن سعد ابن عبادہ۔( ۶ )
اور اس حقیقت کی جانب ڈاکٹر صبحی صالحی مائل ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ خود حیات رسول
میں شیعہ گروہ موجود تھا جو پروردہ رسول حضرت علی کے تابع تھے، ابوذر غفاری، مقداد بن الاسود، جابرابن عبد اللہ، ابی ابن کعب، ابوطفیل عامر بن واثلہ، عباس بن عبد المطلب اور ان کے سارے فرزند، عمار بن یاسر ابو ایوب انصاری یہ سب شیعیان علی تھے۔( ۷ )
کلمہ(شیعہ) کی اصطلاح بھی کوئی نئی نہیں ہے بلکہ رسول کے حیات مبارک کے آخری دنوں میں رائج ہوئی ہے جیسا کہ بعض افراد کا نظریہ ہے بلکہ رسول کی زندگی کے ابتدائی دنوں میں اور آخری ایام میں اس لفظ کی تکرار فرماتے تھے تاکہ علی کی پیروی کرنے والوں پر دلالت کرے اوران کواس بات کی بشارت دی کہ وہ حق پر ہیں اور کامیاب ہیں اور وہ خیر الناس ہیں۔
مفسرین و حافظین قرآن نے یہ بات لکھی اور کہی ہے کہ جب یہ آیت( ان الذین آمنوا و عملوا الصالحات اولٰئک هم خیر البریة ) ، ایمان دار اور نیک عمل انجام دینے والے یقینا بہترین گروہ ہیں، نازل ہوئی تو رسول نے فرمایا: ”انت یا علی و شیعتک “( ۸ ) اے علی! وہ نیک گروہ (خیر البریہ) تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔
سیوطی نے کہا کہ ابن عساکر نے جابربن عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ ہم سب رسول کے پاس بیٹھے تھے اور علی وارد ہوئے تو رسول نے ان کودیکھ کر فرمایا: ”والذی نفسی بیده ان هذا و شیعته لهم الفائزون یوم القیامة “ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بیشک یہ (علی) اور ان کے شیعہ کامیاب ہیں اور آیت نازل ہوئی:( ان الذین آمنوا وعملوا الصالحات اولٰئک هم خیر البریة ) ، جب کبھی علی آتے تواصحاب رسول بے ساختہ کہہ اٹھے خیر البریہ آگئے اور ابن عدی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو رسول نے علی سے کہا: ”ہو انت و شیعتک یوم القیامة راضین مرضین“ وہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں جو روز محشر خدا سے اور خدا ان سے راضی ہے، ابن مردویہ نے اسی آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ رسول نے کہا: ”انت و شیعتک موعدی و موعدکم الحوض اذا جائت الامم للحساب تدعون غراً محجّلین“ تم او رتمہارے شیعوں اور میری وعدہ گاہ حوض کوثر ہے جب امتیں حساب کتاب کے لئے آئیں گے تو تم کو نوارنی پیشانی والے ”غر المحجّلین“ کہہ کے پکارا جائے گا۔
راستہ کی نشاندہی
وہ اصحاب جو شیعیان علی تھے ان کا نظریہ یہ تھا کہ خلافت بنی ہاشم اور ان کے سردار سے خارج نہیں ہے اور اس پر رسول کی تاکید بھی ہے اور مستقل لوگوں کو اس بات پر اکسایا ہے کہ علی اور اہل بیت رسول سے متمسک رہیں، لیکن سقیفائی حادثات نے حالات کو یکسر بدل دیااور علی اور ان کے حامیوں کے لئے یہ بہت بڑا المیہ تھا، جبکہ کوئی ایک بھی ان کے ہم پلہ نہ تھا، علامات و نشانیوں کے باوجود اجتہادی مسلک کے پیرو اس مسئلہ (خلافت) میں ارادہنبوت کے حامی نہیں تھے ان کے سرداروں میں سے ایک نے ا بن عباس سے صراحتاً کہا: قریش اس بات سے کترا رہے ہیں کہ نبوت و خلافت خاندان بنی ہاشم میں جمع ہو جائے۔
اور سارے حادثات اسی ناپسندیدگی کے باعث وجود میں آئے جس کے آثار سقیفہ بنی ساعدہ کی صورت میں نمودار ہوئے۔
اس مسلک کے ارادے کے اثرات حضرت علی کے پیروؤں پر پوشیدہ نہیں تھے بلکہ ان افراد کے بیچ ایسے باشعور افراد تھے جواس بات کو بخوبی درک کر رہے تھے کہ قریش کی ساری کوشش اس بات کی ہے کہ اس (خلافت) کو سردار قریش اور ان کے فرزندوں سے چھپالیا جائے جیسا کہ براء بن عازب نے بیان کیا کہ: میں ہمیشہ بنی ہاشم کا دوست تھا جب رسول کی وفات ہوئی تو مجھ کو اس بات کا ڈر پیدا ہوا کہ قریش کہیں بنی ہاشم سے خلافت کو ہتھیا نہ لیں، اس وقت میری کیفیت ایک حواس باختہ شخص کی سی تھی، اور رسول کی وفات کے سبب میں بہت غمزدہ تھا میں بنی ہاشم کے پاس آمد و رفت کر رہا تھا تو وہ حجرہ رسالت میں جمع تھے اور میں قریش کے بزرگوں کا جائزہ لینے جارہا تھا، اور عمر و ابوبکر کی وفات کے وقت بھی میں اسی کیفیت میں تھا، اتنے میں کسی کہنے والے نے یہ آواز لگائی! لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں، دوسرے نے ہانک لگائی کہ ابوبکر کی بیعت کرلی گئی۔
تھوڑی ہی دیر میں کیا دیکھا کہ ابوبکر دکھائی دیئے اور عمر بن الخطاب ابوعبیدہ جراح اور سقیفائی گروہ ان کے ساتھ تھا وہ سب ایک کمر بند کا تنگ گھیرا بنائے تھے اور جو کوئی بھی ادہر سے گذرتا تھا اس کوزبردستی پکڑ کر لاتے تھے اور ابوبکر کے سامنے پیش کرتے تھے اور اس کے ہاتھ کو بڑھا کر ابوبکر کی بیعت لے لیتے تھے وہ چاہے راضی ہو یا نہ ہو۔
میں مبہوت رہ گیا دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، اوربے تکان بھاگتا ہوا محلہ بنی ہاشم آیا تو دروازہ بند پایا میں نے دروازے کو بہت زور سے کھٹکھتایا اور چیخا کہ لوگوں نے ابوبکر ابن ابی قحافہ کی بیعت کرلی ہے تو ابن عباس نے اندر سے آواز دی روز قیامت تک تمہارے ہاتھ بندھے رہیں، میں نے تم لوگوں کوایک بات کا حکم دیا تھا مگر میرے حکم کی نافرمانی کی! میں اس وقت عجیب کیفیت میں مبتلا ہوگیا اور رات میں مقداد، سلمان، ابوذر، عبادہ بن صامت، ابا الہیثم بن تیہان، حذیفہ بن الیمان کو دیکھا کہ وہ لوگ اس امر (خلافت) کو مہاجرین کی شوریٰ کے درمیان پیش کر کے اس کا حل تلاش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔( ۹ )
سقیفہ کے حادثہ اور ابوبکر کی اچانک بیعت سے علی کے طرفداروں کا موقف بیش از پیش واضح ہونے لگا۔
یہ تو بہت چھوٹی سی بات تھی جس کو براء نے بیان کیا، اس کے بعد دوسرے بہت سارے مراحل ایک ناآگاہ اور اچانک بیعت کے سبب وجود میں آئے اسی حوالے سے سلمان نے کہا کہ: تم لوگوں نے ایک بوڑھے کا انتخاب کرلیااور اپنے نبی کے اہل بیت کو چھوڑ دیا اگر تم اہلبیت رسول کو اپنا رہنما بناتے تو تم لوگوں میں کسی دو کے درمیان بھی کسی قسم کا اختلاف پیدا نہ ہوتا اور ان کی ہمراہی میں خوشحالی کی زندگی بسر کرتے۔
جب لوگوں کی اکثریت نے ابوبکر کی بیعت کی اور ابوبکر و عمر دونوں نے اس مسئلہ پر بڑا زور دیا اور شدت بھی برتی، تو اس وقت ام مسطح بن اثاثہ باہر نکلیں اور قبر رسول پر کھڑے ہوکر یہ اشعار پڑھے:
آپ کے بعد ایسے حادثات پےش آئے کہ اگر اپ زندہ ہوتے تو وہ وجود میں نہ آتے، ہم نے آپ کو اس طرح کھودیا جس طرح زمین میں بڑے بڑے قطروں والی بارش سما جاتی ہے، آپ کی قوم میں تفرقہ پڑگیاہے لہٰذا ان کی طرف نظر عنایت کیجئے۔( ۱۰ )
گذشتہ بیان میں حادثات سقیفہ میں براء ابن عازب کا بیان گذر چکا ہے کہ انھوں نے اصحاب سے ملاقات کی اور بات یہاں ان کے قول پر ختم ہوئی تھی کہ: میں دل شکستہ ہوا، جب رات ہوئی تو میں نکل پڑا جب مسجد میں داخل ہوا تو مجھ کو اس وقت مسجد سے رسول کے تلاوت قرآن کی آواز کا گمان ہوا، میں اپنی جگہ ٹھٹک گیا، باہر بنی بیانہ کے کشادہ مکان میں آیا تو وہاں میں نے کچھ لوگوں کو سرگوشی کرتے پایا، جب میں ان کے پاس گیا تو وہ سب خاموش ہوگئے میں پلٹ پڑا۔
ان لوگوں نے مجھے پہچان لیا میں نے کسی کو نہیں پہچانا، انھوں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گیا، تو کیا دیکھا کہ مقداد بن الاسود، عبادہ بن صامت، وہاں موجود ہیں اور حذیفہ ان سب سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ وہ اس امر (خلافت) کو حاضرین کی شوریٰ (کمیٹی) کے سامنے پیش کریں گے۔
اس کے بعد کہا: ابیّ بن کعب کے پاس چلتے ہیں وہ امت کے ارادوں سے قطعی واقف ہے، براء کہتے ہیں کہ ہم سب ابیّ بن کعب کے پاس گئے اور دق الباب کیا وہ دروازے کے پیچھے آیا اور پوچھا کون؟
مقداد نے کہا: ہم ۔
اس نے کہا: کیا بات ہے؟
مقداد نے کہا: دروازہ کھولو کچھ اہم بات پر گفتگو کرنی ہے جس کے لئے محفوظ جگہ ضروری ہے۔
اس نے کہا: ہم دروازہ نہیں کھولیں گے میں سمجھ گیا تم لوگ کس لئے آئے ہو؟ تم لوگ اس معاملہ( بیعت) پر نظر ثانی کرنا چاہتے ہو؟
ہم سب نے ایک زبان ہوکر کہا: ہاں۔
اس نے پوچھا: کہ کیا حذیفہ تم لوگوں کے ساتھ ہیں؟
ہم سب نے کہا: ہاں۔
اس نے کہا حذیفہ کی بات آخری ہوگی، خدا کی قسم میں دروازہ کھول رہا ہوں تاکہ حالات معمول پر رہیں اس کے بعد جو حالات پیش آئیں گے وہ ان سے بدتر ہوں گے اور ہم خدا سے اس کا گلہ کرتے ہیں۔
ابیّ ابن کعب اس راز کو اپنے سینہ میں لئے پھرتا رہا برسوں بعد اس کو فاش کرنا چاہا، اے کاش! اس کو موت ایک دن کی مہلت دیدیتی۔( ۱۱ )
علی بن صخرہ سے روایت ہے کہ : میں نے ابی ابن کعب سے کہا کہ اصحاب رسول آپ کا کیا حال ہے؟ ہم دور سے آئے ہیں آپ سے خیر کی امید رکھتے ہیںکہ آپ ہمارے ساتھ نرمی برتیں گے۔
انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم اگر اس جمعہ تک زندہ رہا تو تم لوگوں کو ایک راز بتاؤں گا جس کے برملا کہنے پر تم لوگ چاہے زندہ رکھو یا مجھے قتل کردو۔
روز جمعہ میں گھر سے نکلا تو کیا دیکھا کہ مدینہ کی گلیوںمیں لوگوں کا سیلاب امڈ آیا ہے میں نے پوچھا کہ، کیا ہوا؟تو لوگوں نے بتایا کہ سید المسلمین ابیّ ابن کعب کا انتقال ہوگیا۔( ۱۲ )
ابن سعد راوی ہیں کہ خدا قسم میں اخفاء راز میں اس دن جیسا دن نہیں دیکھا جیسا اس شخص نے راز کو چھپایا تھا۔( ۱۳ )
حاکم کی روایت ہے کہ ابیّ بن کعب نے کہا کہ اگر میں اس جمعہ تک زندہ رہا تو وہ بات بتاؤں گا جو رسول اکرم سے سنا ہے اور اس کو بتانے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کروں گا۔( ۱۴ )
مشہور مورخ یعقوبی کہتے ہیں کہ مہاجرین و انصار میں بہت سارے افراد نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا اور علی کی طرف مائل ہوئے من جملہ عباس بن عبد المطلب، فضل بن عباس، زبیر بن العوام، خالد بن سعید، مقداد بن عمرو، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، عمار بن یاسر، براء بن عازب، ابیّ بن کعب۔( ۱۵ )
شاید اسی کے سبب بعض محققین اور مستشرقین کا خیال خام ہے کہ سقیفہ کے حادثہ کے بعد تشیع وجود میں آئی ہے، مغربی مورخ گولڈ شیارڈ کہتا ہے کہ خلافت کی مشکل کے وقت بزرگ اصحاب کے درمیان اس فرقہ (شیعیت) نے وجود پایا، اور اس گروہ نے خلفاء ثلاثہ ابوبکر، عمر، عثمان، کے انتخاب کی ملامت کی، جو کہ خاندان رسالت سے کسی قسم کی کوئی قربت نہیں رکھتے تھے او راسی سبب اس گروہ نے حضرت علی کو اس خلافت کے لائق جانتے ہوئے ان کو صاحب فضیلت جانا اور علی کو رسول کے قریب ترین لوگوں میں شمار کیا اور جو چیز اس میں مزید فضیلت کا سبب بنی وہ دختر رسول حضرت فاطمہ کا شوہر ہونا تھااور اس گروہ کو سنہری موقع نہ مل سکا جس میں اپنی بات ببانگ دہل کہہ سکیں۔( ۱۶ )
خالد بن سعید بن العاص کو رسول اکرم نے کسی کام کے لئے بھیجا تھا جب رسول کی وفات ہوگئی اور لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کر لی تو اس وقت واپس آیا جب اس سے بیعت طلب کی گئی تو اس نے انکار کردیا۔
عمر نے کہا: چھوڑ دو میں اس کو دیکھ لیتا ہوں۔
ابوبکر نے ان کو روکا، اسی طرح ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔
ابوبکر جارہے تھے وہ اپنے دروازے پر بیٹھا تھا، خالد نے ابوبکر کو آواز دی، ابوبکر آپ کو بیعت چاہیئے؟
انھوں نے کہا: ہاں۔
اس نے کہا: آؤ، وہ آئے اور خالد نے ابوبکر کی بیعت اپنے دروازے پر بیٹھے بیٹھے کرلی۔( ۱۷ )
حضرت علی کے طرفداروں کی یہ رسہ کشی ان دنوں تک چلی، جس دن تک عثمان کی زمامداری کا اعلان نہیں ہوگیا، جب تک عثمان کی تولیت کا اعلان ہوتا ان دنوں تک اصحاب علی کا موقف سب پر واضح ہوگیا تھا تیسرے دن جس دن تک عمر نے لوگوں کو مشورہ کی اجازت دی تھی وہ آخری دن تھا۔
عبد الرحمن بن عوف نے کہا: اے لوگو! مجھے ان دو لوگوں یعنی عثمان و علی کے بارے میں مشورہ دو۔
عمار بن یاسر نے کہا: اگر تم یہ چاہتے ہو کہ لوگوں کا اختلاف نہ ہو تو علی کی بیعت کرو۔
مقداد نے کہا: سلمان سچ کہتے ہیں اگر تم نے علی کی بیعت کی تو ہم بسر و چشم اس امر میں تمہاری اتباع کریں گے۔
عبد اللہ بن ابی شرح( ۱۸ ) نے کہا:اگر تم چاہتے ہو کہ قریش اختلاف رائے نہ کریں تو عثمان کی بیعت کرو۔
عبد اللہ بن ربیعہ مخزومی نے کہا: اس نے سچ کہا اگر تم نے عثمان کی بیعت کی تو یہ تمہارے ساتھ ہیں۔
عمار بن یاسر نے ابن ابی سرح کو بہت برا بھلا کہا اور کہا کہ تو کب سے اسلام کا خیر خواہ ہوگیا؟
بنی ہاشم اور بنی امیہ میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں تو عمار کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! خدا نے تم کو اپنے نبی کے ذریعہ سرفراز کیا اپنے دین کے سبب تم کو صاحب عزت بنایا آخر کب تک تم مسئلہ خلافت میں اہل بیت سے روگردانی کرتے رہوگے۔
ابن عبد البر عبد اللہ ابن ابی سرح کے حالات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لایا تھا اور ہجرت کر گیا تھا اور رسول کے پاس وحی کی کتابت کرتا تھا پھر مرتد ہوگیا اور مشرک ہوگیا اور قریش مکہ کے پاس رہنے لگا اور کہتا پھر تا تھا کہ میں جیسے چاہتا تھا ویسے محمد کو گھما دیتا تھا علی (عزیز حکیم) لکھتے تھے تو میں نے کہا یا (علیم حکیم) تو انھوں نے کہا کہ دونوں صحیح ہے فتح مکہ کے وقت رسول نے اس کے قتل کا فرمان جاری کیااور فرمایا تھا کہ اگر کعبہ کے پردے کے پیچھے بھی چھپے تو بھی قتل کردو، کیونکہ اس نے عبد اللہ بن خطل، مقیس بن حبابہ کو قتل کیا تھا یہ وہاں سے بھاگا اور عثمان کے پاس جاکر پناہ لی یہ عثمان کا رضاعی بھائی تھا عثمان کو اس کی ماں نے دودھ پلایا تھا، عثمان نے اس کو چھپا دیا او رجب مکہ کی فضا پر امن ہوگئی تو عثمان رسول کے پاس لیکر آئے اور اس کی امان چاہی رسول بہت دیر تک خاموش رہے اس کے بعد کہا: ”بہتر ہے“ جب عثمان چلے گئے تو رسول نے موجودہ لوگوں سے کہا کہ میں صرف اس لئے خاموش ہوگیا تھا کہ اتنے میں ایک شخص اس کی گردن اڑادے انصار میں سے ایک نے کہا: آپ نے اشارہ نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: یہ رسالت کے شایان شان نہیں استیعاب، ج ۳ ، ص ۵۰ ، رقم ۱۵۷۱
بنی مخزوم سے ایک شخص نے کہا کہ اے فرزند سمیہ! تم اپنی حد سے باہر نکل گئے ہو تم کون ہوتے ہو جو قریش کو اپنے میں سے اپنا حاکم معین کرنے سے روکو۔
سعد نے کہا: اے عبد الرحمن! اپنے کام کر گذرو، اس سے پہلے کہ لوگوں میں فتنہ برپا ہوجائے، اس وقت عبد الرحمن نے حضرت علی کے سامنے شیخین (ابوبکر و عمر) کی پیروی کی تجویز رکھی تو آپ نے فرمایا: کہ میں اپنے ذاتی فیصلہ پر عمل کروں گا (ان دونوں کی اتباع نہیں کروں گا) جب عثمان کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی تو انھوں نے قبول کرلی اوران کی بیعت کرلی گئی۔
حضرت علی نے فرمایا: یہ پہلا دن نہیں ہے جب تم لوگ ہمارے خلاف اکٹھے ہوئے ہو لہٰذا میرا راستہ صبر جمیل کا ہے اور اللہ تمہارے بیان کے مقابلہ میں میرا مددگار ہے بخدا تم نے خلافت ان کے حوالے اسی لئے کی تھی تاکہ وہ اس کو تمہارے حوالہ کردیں، اور خدا ہر روز ایک نئی شان والا ہے۔
عبد الرحمن نے کہا: اے علی ! ان لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریئے گا وہ اس بات کا ارادہ کئے تھا کہ عمر ابوطلحہ کو حکم دے تاکہ اپنے مخالف کی گردن اڑادیں، اتنے میں حضرت علی اٹھ کھڑے ہوئے اور کہتے ہوئے نکل آئے کہ عنقریب مقررہ مدت پوری ہو جائے گی۔
عمار نے کہا: اے عبد الرحمن! خدا کی قسم تم نے اس ذات کا ساتھ چھوڑا ہے جو حق کے ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والا تھا اور معاملات میں حق و انصاف سے کام لیتا تھا۔
مقداد نے کہا: خدا کی قسم اہل بیت رسول میں رسول کے بعد اس شخص کے مثل کسی کو نہیں پایا۔
قریش پر تعجب کا مقام ہے! کہ انھوں نے اس شخص کو چھوڑ دیا جس سے بہتر کسی کو عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے والا، اعلم اور متقی میں نہیں جانتا، خدا کی قسم اے کاش میرا کوئی مددگار ہوتا۔( ۱۹ )
عبد الرحمن نے کہا: اے مقداد! تقویٰ الٰہی اختیار کرو مجھے خوف ہے کہ تمہارے خلاف فتنہ نہ برپا ہوجائے۔
جب عثمان کی تولیت کا مسئلہ ختم ہوگیا تو دوسرے دن مقداد نکلے اور عبد الرحمن بن عوف سے ملاقات ہوگئی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اگر تو نے رضایت پروردگار کی خاطر یہ کام انجام دیا ہے تو خدا تجھ کو اجر دے اور اگر حصول دنیا کی خاطر یہ ڈھونگ رچایا ہے تو خدا تیرے مال دنیا میں بہتات کرے۔
عبد الرحمن نے کہا: سنو! خدا تم پر رحمت نازل کرے، سنو! مقداد نے کہا: میں بالکل نہیں سنوں گا اوراس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا، اور وہاں سے حضرت علی کے پاس گئے اور کہا کہ آپ قیام کریئے ہم آپ کے شانہ بشانہ رہیں گے۔
حضرت امیر نے فرمایا: ”کس کے ساتھ مل کر جنگ کریں؟“
عمار یاسر آئے اور آواز دی کہ: اے لوگو! اسلام کا فاتحہ پڑھو، کیونکہ نیکیاں ختم ہوگئیں اور منکرات جنم لے چکے ہیں۔
خدا کی قسم اگر میرے مددگار ہوئے توان سب سے جنگ کرتا، خدا کی قسم اگر کوئی ایک بھی ان سے جنگ کرنے کو تیار ہو تو میں اس کی دوسری فرد ہوں گا۔
اس وقت حضرت امیر نے فرمایا: اے ابو الیقطان! خدا کی قسم ان لوگوں کے خلافت میں اپنا مددگار نہیں پا رہا ہوں میں نہیں چاہتا کہ تم لوگوں پر اس چیز کو تحمیل کروں جس کی تم لوگ طاقت نہیں رکھتے۔( ۲۰ )
یہاں سے علی کے چاہنے والوں کی اکثریت میں اضافہ ہونے لگا بلکہ بسا اوقات تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حق کو آزاد کرانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ان سب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔
اگر حضرت امیر ان افرادکی باتوں کو مان لیتے تو حکومت ہاتھ آجاتی، لیکن حضرت کی دور رس
نگاہیں ان خطرات پر تھیں جو ان کے بعد سر اٹھاتے اور خط خلافت کے راہرؤں کے دلوں سے خوب
واقف تھے وہ لوگ ذکر مولائے کائنات کے سبب اکثریت کا اندازہ لگا رہے تھے اور اس بات کی وضاحت جندب بن عبد اللہ ازدی کی اس روایت سے ہو جائے گی۔
جندب کہتے ہیں: کہ میں مسجد رسول میں داخل ہوا تو کیا دیکھا ایک شخص زانو کے بل بیٹھا ہے اور ایسے فریاد کر رہا ہے جیسے اس کی دنیا لٹ گئی ہو اور کہتا جاتا ہے کہ تعجب ہے قریش پر کہ انھوں نے اہلبیت رسول سے خلافت رسول کو دور کردیا جبکہ اہلبیت رسول میں وہ شخص موجود ہے جو اول المومنین، رسول کا چچازاد بھائی، سب سے بڑا عالم، دین الٰہی کا فقیہ اعظم، اسلام کا ان داتا،راہوں کا واقف، صراط مستقیم کا ہادی ہے، قریش نے خلافت کو ہادی، رہبر، طاہر، نقی سے دور کرلیا ان لوگوں نے امت کی اصلاح کی فکر نہیں کی اور نہ ہی مذہب کا بھلا چاہا، بلکہ ان لوگوں نے دنیا کو مقدم کر کے آخرت کو پس پشت ڈال دیا، خدا قوم ظالمین کو اپنی نعمتوں سے دور رکھے۔
میں تھوڑا اس کے قریب گیا اور کہا کہ خدا تم پر رحمت نازل کرے تم کون ہو؟ اور یہ شخص کون ہے؟ اس شخص نے کہا: میں مقداد بن عمرو اور یہ علی بن ابی طالب ہیں۔
جندب کہتے ہیں، میں نے کہا: تم اس اس امر کے لئے قیام کرو تاکہ میں تمہاری مدد کرسکوں؟
اس شخص نے کہا:اے میرے بھتیجے یہ ایک یا دو آدمیوں کا کام نہیں ہے، میں نکل کر باہر آیا اورابوذر سے ملاقات ہوئی میں نے سارا ماجرا بیان کیا، توانھوں نے کہا: بھائی مقداد نے سچ کہا ہے۔
پھر میں عبد اللہ بن مسعود کے پاس آیا اور سارا ماجرا بیان کیا تو انھوں نے کہاکہ مقداد ہم کو بتا چکے ہیں اور ہم نے اس کوشش میں کوتاہی نہیں کی۔( ۲۱ )
ابن ابی الحدید نے تھوڑے اختلاف کے ساتھ اس روایت کو بیان کیا ہے( ۲۲ )
خلافت عثمان میں اس کے بعد بہت سارے واقعات رونما ہوئے جو لوگوں کی ناراضگی کا سبب بنے اور نئی حقیقتوں کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں اور عثمانی سیاست کے خلاف یہ اختلاف شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا اور لوگوں کو اس بات کا احساس ہوگیا جو خطا انھوں نے حضرت علی کے حق میں کی تھی ۔
اور اس راہ میں لوگوں نے اس بات کو درک کیا کہ علی اور اہلبیت سے روگردانی کے بہت گہرے نتیجے نکلے۔
علی کے ابتدائی شیعہ، عمار، ابن مسعود، ابوذر غفاری، راہ راست کے قیام اور حق کو اصلی مرکز تک پلٹانے میں پیش پیش تھے اور ان کی دعوت پر ایک کثیر تعداد گوش برآواز ہوگئی اور بہت تیزی کے ساتھ کلامی رد و بدل اسلحہ کی صورت میں خلیفہ ثالث کے خلاف تبدیل ہوگئی۔
حذیفہیمانی جو کہ علی کے پہلے درجہ کے شیعہ تھے وہ بستر موت پر تھے، جب ان سے خلافت کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ میں وصیت کرتا ہوں کہ عمار کی پیروی کرنا۔
لوگوں نے کہا: وہ علی سے جدا نہیں ہوئے۔
حذیفہ نے کہا: حسد جسم کو ہلاک کردیتا ہے! علی سے قربت کے سبب تم لوگوں کوعمار سے نفرت ہے، خدا کی قسم عمار سے علی افضل ہیں مٹی اور بادل میں کتنا فرق ہے عمار احباب میں سے ہیں۔
حذیفہ جانتے تھے کہ اگر وہ لوگ عمار کے ساتھ رہیں گے تو وہ علی کے ساتھ تو ہیں ہی۔( ۲۳ )
جب حذیفہ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت (ذی قار نامی مقام پر) پہنچ گئے ہیں اور لوگوں کو جنگ کے لئے آمادہ کر رہے ہیں تو اپنے ساتھیوں کو طلب کیا اور ان کو ذکر خدا، زہد دنیا اور آخرت کی طرف رغبت کی دعوت دی اور کہا کہ امیر المومنین جو کہ سید المرسلین کے وصی ہیں ان سے ملحق ہو جاؤ اور حق یہی ہے کہ ان کی مدد کرو۔( ۲۴ )
حذیفہ فتنہ کے خطرہ سے خائف تھے اور لوگوں کو حضرت کی ولایت کی دعوت دے رہے تھے جن دنوں شیعیان علی کو دعوت دی جارہی تھی اور یہ بات کہی کہ جو گروہ علی کی ولایت کی دعوت دے اس گروہ سے متمسک ہو جاؤ کیونکہ وہ حق اور راہ ہدایت پر ہیں۔( ۲۵ )
ابوذر مسجد میں بیٹھ کر کہا کرتے تھے کہ، محمد علم آدم اور انبیاء کے جملہ فضائل کے وارث ہیں اور علی ابن ابی طالب وصی محمد اور وارث علم محمد ہیں، اے نبی کے بعد سرگرداں امت! اگر تم لوگوں نے اس کو مقدم کیا ہوتا جس کو خدا نے مقدم کیا اور اس کو مؤخر کیا ہوتا جس کو خدا نے مؤخر کیا اور اہل بیت رسول کی ولایت و واراثت کا اقرار کیا ہوتا تو ہر طرف و ہر طرح سے خوشحال رہتے، ولی خدا اپنے حق سے محروم نہ رہتا، نیز و اجبات الٰہی پر عمل ہوتا اور کوئی دو فرد بھی نہ ملتی جو حکم الٰہی میں اختلاف نظر رکھتے اور اہلبیت کے پاس تم کو قرآن و سنت کا علم مل جاتا، مگر جو تم لوگوں نے کیا سو کیا، اپنے کرتوتوں کی سزا بھگتو، عنقریب ظالمین کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس صورت میں پلٹائے جائیں گے۔( ۲۶ )
عدی بن حاتم کہتے تھے کہ، خدا کی قسم اگر علم کتاب (قرآن) اور سنت نبوی کی بات ہے تو وہ یعنی علی تم لوگوں میں ان دونوں کے بہترین عالم ہیں، اگر اسلام کی بات ہے تو یہ رسول کے بھائی اور مرکز اسلام ہیں اگر زہد و عبادت محور ہے تو لوگوں میں ان کا زہد نمایاں اور عبادت آشکار ہے، اگر عقل اور مزاج معیار ہے تو لوگوں میں عقل کل اور مزاج کے اعتبار سے کریم النفس انسان ہیں۔( ۲۷ )
بیعت کے بعد وہ اصحاب جو حضرت علی کے خط تشیع پر گامزن تھے وہ پیغام جاری و ساری اور بڑھتا جارہا تھا اور روز بروز اس کے دائرہ اطاعت میں وسعت آتی جارہی تھی اس میں اصحاب و تابعین شامل ہو رہے تھے، لہٰذا ہم حضرت علی کے روز بیعت، مالک اشتر کو یہ کہتے ہوئے نہیں بھول سکتے کہ، اے لوگو! یہ وصی اوصیاء، وارث علم انبیاء، عظیم تجربہ کار، بہترین دین داتا، جس کے ایمان کی گواہی کتاب نے دی اور رسول نے جنت کی بشارت دی، جس پر فضائل ختم ہیں، متقدمین و مؤخرین نے ان کے علم ، فضل اور اسلام میں سبقت پر شک نہیں کیا ۔
مالک اشتر نے اہل کوفہ کی نیابت میں حضرت علی کی بیعت کی، طلحہ و زبیر نے مہاجرین و انصار کی نیابت میں بیعت کی، ابو الھیثم بن تیہان، عقبہ بن عمرو اور ابو ایوب نے مل کر کہا: ہم آپ کی بیعت اس حال میں کر رہے ہیں کہ انصار و قریش کی بیعت ہماری گردنوں پر ہے (ہم ان کی نمایندگی کر رہے ہیں)۔
انصار کا ایک گروہ اٹھا اور گویا ہوا، ان میں سب سے پہلے ثابت بن قیس بن شماس انصاری جو کہ رسول کے خطیب تھے کھڑے ہوئے اور کہا کہ: خدا کی قسم اے امیر المومنین! اگرچہ انھوں نے آپ پر خلافت میں سبقت حاصل کرلی، لیکن دین الٰہی میں پہل نہ کرسکے گو کہ انھوں نے کل آپ پر سبقت حاصل کرلی، لیکن آج آپ کو ظاہری حق مل گیا، وہ لوگ تھے اور آپ تھے لیکن کسی پر بھی آپ کا مقام پنہاں نہیں تھا، وہ جس کا علم نہیں رکھتے تھے اس میں آپ کے محتاج تھے، اور آپ اپنے بے کراں علم کے سبب کبھی کسی کے محتاج نہیں رہے۔
اس کے بعد خزیمہ بن ثابت انصاری ذوالشہادتین (جن کی ایک گواہی دو کے برابر رسول خدا نے قرار دی تھی) کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا امیر المومنین ہم نے خلافت کو آپ کے علاوہ کسی کے حوالے سے قبول نہیں کیا، آپ کے سوا کسی کے پاس نہیں گئے، اگر ہم سچے ہیں تو آپ ہماری نیتوں سے بخوبی واقف ہیں، آپ لوگوں میں ایمان پر سبقت رکھتے ہیں، احکام الہٰی کے سب سے بڑے عالم ہیں، رسول خدا کے بعد مومنین کے مولا ہیں، جو آپ ہیں وہ، وہ کہاں! اور جو وہ ہیں، وہ آپ جیسے کہاں!
صعصعة بن صوحان کھڑے ہوئے اور عرض کی: خدا کی قسم اے امیر المومنین! آپ نے خلافت کو زینت بخشی ہے خلافت نے آپ کی زینت میں کوئی اضافہ نہیں کیا، آپ نے خلافت کو بلندی عطا کی اس نے آپ کو رفعت نہیں دی، یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ خلافت آپ کی محتاج ہے۔( ۲۸ )
سخت ترین مرحلہ!
عثمان کے روح فرسا دوران خلافت کے اختتام کے بعد شیعیان علی کے عروج کا زمانہ تھا، لوگوں کی ہجومی اور ازدحامی بیعت نے حضرت علی کو سریر آراء سلطنت کیا اور زمام حکومت آپ کے سپرد کی، جس کی منظر کشی خود امیر المومنین نے یوں کی ہے ”لوگوں کا ازدحام مجھ پر ایسے ٹوٹ پڑا جیسے پیاسے اونٹ کا غول گھاٹ پر ٹوٹ پڑتا ہے گویا ان کے چرواہے نے ان کو آزاد اور بے مہار چھوڑ دیا ہو لگتا تھا کہ یہ بھیڑ مجھے یا میرے کسی فرزند کو ختم کرڈالے گی۔( ۲۹ )
مگر اس محبت کا دکھاوا اس وقت بالکل بدل گیا جب بعض اصحاب نے حضرت علی سے گفتگو کی اور علی نے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ ہم قانون حکومت کو فرمان رسول کے مثل بنانا چاہتے ہیں یعنی سب لوگ عطا و بخشش میں مساوی ہیں اور کسی قسم کا امتیاز نہیں رکھتے، اور یہ وہی کیفیت تھی جس کی بنیاد عمر نے رکھی تھی اور یکسر بدل ڈالا تھا اور عثمان نے آکر من و عن اس کی پیروی کی تھی خاص طور سے عثمان کے وہ اہلکار جو بداخلاقی کے شکار تھے ان کی معزولی (ایک اہم مسئلہ تھا) لہٰذا تنور جنگ بھڑک اٹھا اور حضرت کی خلافت کے آخری لمحات تک جو تقریباً پانچ برسوں پر مشتمل تھا شعلہ ور رہا۔
اور یہ پیس دینے والی جنگوں کی خلیج، جمل و صفین کے دنوں تک باقی رہی اور ان جنگوں نے اکثریت کواپنی لپیٹ میں لے لیا حضرت کے مخلص اور صحیح عقیدے کے شیعہ صرف انگشت شمار ہی رہ گئے، صرف تھوڑے سے افراد کے سوا سب حالات کے تیز دھارے میں بہہ گئے، اور حالات بہت ہی غیر مساعد ہوگئے اور جو بچ گئے ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی جو اتباع و پیروی و اخلاص میں کھرے اتریں، جنگ نے ان سب کو بدبیں کردیا تھا، جس کے سبب جنگ بندی کی پہلی دھوکہ باز آواز پر ان لوگوں نے لبیک کہا (اور جنگ بند کردی) جب امیر المومنین نے اس سازش کا پردہ چاک کر کے ان کو ان کے ارادوں سے باز رکھنا چاہا، تو ان لوگوں نے مخالفت کی اس حد پر قدم رکھ دیا تھا کہ حضرت علی کے قتل، یا دشمن کے سپرد کرنے کی دھمکی تک دے دی تھی، ان کی نیتوں کے پیش نظر عقب نشینی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، کیا یہ لوگوں کے روگردانی کی انتہا نہ تھی۔
کیونکہ انھوں نے واقعہ تحکیم کے سلسلہ میں بہت جلد ندامت و خطا کا اظہار کیا تھا اور اکثریت کی بقاء پر اس امر کا علاج سوچا اور اپنے نفسوں سے کیئے وعدہ کی وفا چاہی یعنی جنگ میں واپسی، ان افراد کی گر گٹ کے مانند آراء کی تبدیلی، اس بات کی غماز ہے کہ یہ لوگ صاحبان بصیرت نہیں تھے اور نہ ہی حضرت علی کے شیعہ تھے بلکہ انھوں نے علی کی شیعیت کا خول چڑھا رکھا تھا اور ان کے عقیدوں میں کسی قسم کی پختگی نہیں تھی اور ان کی یہ حرکتیں اجتہادی اصحاب کی راہ و روش کی مکمل پیروی تھی، جو اولی الامر حضرات کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے تھے اور اس اجتہادی اسلحہ کی ضرب اتنی کاری تھی کہ ذات رسالت کے حکم کا انکار ممکن بنا ڈالا۔
اس باغی گروہ کی سرکشی، مزید پیچیدہ ہوگئی جب خود امیر المومنین کواسی دو راہے پر لاکر کھڑا کر دیا کہ آپ ان مخالفین سے جنگوں کا سلسلہ شروع کریں جنھوں نے کچھ علاقوں میں فساد مچا رکھا تھا اور بے گناہوں کو قتل کیا تھا۔
اور نتیجہ اس وقت زیادہ ہی جان لیوا ہوگیا کیونکہ اس جنگ نے آپ کے چاہنے والوں کی قوت کو مضمحل کردیا اور روز بروز وہ سستی و تساہلی کے شکار ہونے لگے اور جہاد کی جانب امیر المومنین کا رغبت دلانا بے سود ہوگیا، جو لوگ آپ کے خاص شیعہ بچ رہے تھے ان کے ارادوں کے تجدید کی ضرورت تھی، اوراس وقت تو قیامت کبریٰ ٹوٹ پڑی جب ایک جہنمی نے آپ کو عبادت کی حالت میں محراب میں شہید کر دیا۔
تاکہ خالص شیعہ کے تربیتی مرکز کو ختم کرسکیں اس سبب آپ کے بڑے فرزند حضرت حسن مجتبیٰ کے پاس ان کے دور حکومت میں قیام کے اس عظیم بوجھ کو اٹھانے کے لئے کوئی سہارا نہیں تھا۔
صحیح اور راسخ عقیدوں کے مالک افراد کا بالکل فقدان تھا نیز بچے ہوئے افراد کی اکثریت نے بھی ساتھ چھوڑ دیاتھا، لہٰذا حسن مجتبیٰ نے جب یہ درک کرلیا کہ اس کیفیت میں اور ان لوگوں کی ہمراہی میں جنگ کو طول دینا معقول نہیں تو ان کے پاس معاویہ ابن ابی سفیان سے صلح کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔
معاویہ کے زمام حکومت سنبھالنے کے سبب تشیع بہت ہی اختناقی دور میں داخل ہوگئی، اب معاویہ نے شیعوں کو ظلم کی آخر ی حدوں سے کچلنے اور انتقام کی صورت شروع کردی، اور شیعوں کے بہت تھوڑے سے افراد کے سوا کوئی نہیں بچا، معاویہ نے حجر بن عدی جیسے اور ان کے ساتھیوں کو تراش ڈالا اور قتل کر ڈالا، اپنے بیس سالہ دور حکومت میں بقیہ افراد پر عرصہ حیات تنگ کردیا، اور اذیت کی تمام صورتوں کو ان پر روا جانا۔
ابن ابی الحدید معتزلی نے مدائنی کی ”الاحداث“ نامی کتاب سے یوں نقل کیا ہے کہ: معاویہ نے ۴۱ ھ ء میں اپنے اہلکاروں اور گماشتوں کو یہ لکھ بھیجا کہ ابوتراب اوران کے گھرانے کے جو فضائل ہیں میں ان سے بَری و منکر ہوں، یہ پیغام پاتے ہی ہر شہر و گوشہ و کنار میں ہر منبر پر زبان دراز خطیب چڑھ دوڑے اور علی اوران کی آل پاک پر لعن و طعن شروع کردیا، اس دوران سب سے زیادہ روح فرسا حالات سے اہل کوفہ گذر رہے تھے۔
کیونکہ یہ آپ کے شیعوں کا مرکز تھا، ان پر زیاد بن سمیہ کو مامور کردیا اور بصرہ کی حکومت کو اس سے ضم کردیا، اس نے شیعوں کی چھان بین شروع کردی یہ علی کے شیعوں سے بخوبی واقف تھا کیونکہ حضرت علی کے دور خلافت میں ان لوگوں کے ساتھ رہ چکا تھا لہٰذا جس کو جہاں کہیں دشت و جبل میں پایا موت کے گھاٹ اتار دیا، ان کو ڈرایا دھمکایا، ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے، آنکھیں پھوڑ دیں، کھجوروں پر سولی دی، عراق سے نکال باہر کیا، اس وقت کوئی بھی سرشناس افراد میں سے نہیں بچا۔
معاویہ نے اپنی حدود مملکت کے چار گوشوں میں یہ لکھ بھیجا کہ مبادا آل علی اور محبان علی کی گواہی کو قبول کیا جائے، عثمان کے چاہنے والوں اور ان کے فدائیوں کو سرآنکھوں پر بٹھاؤ، اور جو لوگ عثمان کے فضائل و مناقب کو بیان کرنے والے ہیں ان کو اپنی مجلسوں کی زینت بناؤ ان کواہمیت دو، انعام و اکرام سے نوازو، اور ان افراد کی فہرست باپ اور قبیلوں کے نام کے ساتھ ہم تک ارسال کرو یہ دھندا شروع ہوا اور دن ورات عثمان کے فضائل کی تخلیق شروع ہوگئی، کیونکہ معاویہ نے اپنے اہلکاروں کو آب و دانہ خیمہ و چادر، خراج (کی معافی) اور عرب میں اس کو اور اس کے خاندان والوں کو فوقیت کی لالچ دی تھی، لہٰذا ہر نگری میں یہ بدعت شروع ہوگئی گھر اور گھر کے باہر اس بدعتی آندھی کی مبالغہ آرائی شروع ہوگئی، اب کیا تھا معاویہ کے اہلکاروں میں، جس کسی کا نام عثمان کے قصیدہ خوانوں کی فہرست میں آجاتا اس کی کایا پلٹ جاتی، اس کا نام مصاحبوں میں شامل، تقرب و شفاعت میں داخل، اور وہ سب اس میں داخل ہوگئے۔
اس کے بعد معاویہ نے دوسرا پلندہ تیار کیا اور اہلکاروں کو روانہ کیا کہ!، عثمان کے فضائل قرب و جوار شہر و دیہات میں اٹے پڑے ہیں”بس“ جیسے ہی میرا خط تم لوگوں کو ملے اصحاب اور گذشتہ دونوں خلیفہ (ابوبکر و عمر) کے فضائل کے لئے لوگوں کو تیار کردو، اور کسی بھی شخص کو ابوتراب کی فضیلت میں حدیث نہ بیان کرنے دو، بلکہ اس حدیث کو اصحاب کی شان میں مڑھ دو، کیونکہ یہ فعل میرے نزدیک محبوب، میری آنکھوں کی ٹھنڈک، نیز ابوتراب اور ان کے شیعوں کو کچل دینے کا سامان ہے، معاویہ نے عثمان کی فضیلت و منقبت کے لئے ان لوگوں پر بہت زور دیا تھا۔
اس کا یہ پلندا لوگوں کے سامنے پڑھا گیا جس کے سبب اصحاب کی فضیلت میں فوراً سے پیشتر بہت ساری حدیثیں تخلیق کردی گئیں جن کی کوئی حقیقت نہیں تھی اور لوگوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، یہاں تک کہ اس مہم میں منبروں کا دھڑلے سے استعمال کیا گیا، اور یہ ذمہ داری معلمین کے حوالے کردی گئی، انھوں نے ان کے بچوں اور نوجوانوں کو کافی مقدار میں سکھایا اور قرآن کی مانند اس کی روایت اور تعلیم دی، حد یہ کہ ان کی لڑکیوں، عورتوں، خادموں اور ہرکاروں کو اس کی مکمل تعلیم دی گئی، اور ان لوگوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
اس کے بعد حدود مملکت کے تمام شہروں کے لئے صرف ایک تحریر لکھی: ”دیکھو جس کے بھی خلاف یہ ثبوت مل جائے کہ یہ علی اوراولاد علی کا چاہنے والا ہے اس کا نام دفتر سے کاٹ دو اور وظیفہ بند کردو“
اس کے ساتھ ایک ضمیمہ بھی تھا ”جس کسی کو بھی ان سے میل جول رکھتے پاؤ اس کی بیخ کنی کردو اور اس کا گھر ڈھا دو“
اب اس سے زیادہ اور مشکل دور عراق میں نہیں آسکتا تھا خاص طور سے کوفہ میں، حد یہ کہ اگر کسی شخص کے بارے میں مطمئن ہونا چاہتے تھے کہ یہ علی کا شیعہ ہے یا نہیں؟ تو اس کے گھر میں جاسوس کو چھوڑ دیتے تھے، وہ شخص اپنے غلام و خادم سے ڈرتا تھا جب تک اس سے مطمئن نہیں ہوجاتا تھا کسی قسم کے راز کی بات نہیں کرتا تھا۔
من گڑھت حدیثوں کی بھرمار اورالزامات کی بارش ہوگئی اوراس (جرم) میں فقیہوں، قاضیوں اور امیروں کے ہاتھ رنگین تھے۔
سب سے بڑی مصیبت تو یہ تھی کہ جو قاریان قرآن اور رواویان حدیث تھے اور وہ لوگ جو تقویٰ و زہد کا اظہار کرتے تھے، انھوں نے بھی حدیث کی تخلیق میں خاطر خواہ حصہ لیا تاکہ امیر شہر کی نگاہوں میں باوقار اور ان کی نشستوں میں مقرب، مال دو دولت کے حصہ دار اور مکانوں کے مالک بن جائیں، حد یہ کہ یہ خودساختہ حدیثیں جب ان متدین افراد کے ہاتھوں پہنچیں جو جھوٹ اور بہتان کو حرام گردانتے تھے تو انھوں نے بے چوں و چرا ان کو قبول کرلیں اوران کو حق اور سچ سمجھتے ہوئے دوسروں سے نقل بھی کیں، اگر وہ یہ جانتے کہ یہ باطل ہیں تو نہ ہی اس کو نقل کرتے اور نہ ہی اس کی حفاظت کرتے۔
یہ سلسلہ حضرت حسن مجتبیٰ کی شہادت تک چلتا رہا، ان کے بعد تو فتنہ و بلا میں اضافہ ہوتا گیا اور علی کے حامیوں میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جواپنے جان و مال اور شہر بدر ہونے سے خائف نہ ہو۔
امام حسین کی شہادت کے بعد حالات نے دوسرا رخ اختیار کرلیا اورعبد الملک بن مروان امیر بنا اس نے شیعوں پر سختی شروع کردی اور حجاج بن یوسف ثقفی کو ان پر مسلط کردیا، بس کیا تھا زہد کے ڈھونگی، اصلاح ودین کے بہروپیئے، علی کے بغض اور دشمنان علی کی محبت، اور عوام میں جو بھی یہ دعوی کرتا کہ ہم بھی علی کے دشمن ہیں ان سے دوستی کے سبب مقرب بارگاہ ہوگئے، اور شہ کی مصاحبی پر اترانے لگے، اس کے بعد خاندان بنی امیہ کے گرگوں کی ثنا خوانی، فضائل بیانی اور یاد ماضی کی روایتوں میں اضافہ شروع ہوگیا، دوسری طرف حضرت علی کی ہجو، عیب تراشی اور طعن و تشنیع کا دروازہ کھلا رہا۔
ایک شخص حجاج بن یوسف کے سامنے آکے کھڑا ہوا، کہا جاتا ہے کہ اصمعی عبد الملک بن قریب کا دادا تھا، وہ چیخا، اے امیر! میرے گھر والوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے او رمجھے علی کہہ کر پکارتے ہیں میں مجبور و لاچار شخص ہوں، میں امیر کی عنایتوں کا محتاج ہوں، حجاج اس پر بہت ہنسا اور بولا کہ: تمہارے اس توسل حاصل کرنے کے لطف میں تم کو فلاں جگہ کا حاکم بناتا ہوں۔
ابن عرفہ جو کہ نقطویہ کے نام سے مشہور ہیں اور بزرگ محدثین میں ان کا شمار ہوتا ہے اس خبر سے متعلق تاریخ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ: اصحاب کی شان میں گڑھی جانے والی اکثر حدیثیں بنی امیہ کے دور حکومت کی ہیں ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تخلیق کی گئیں ہیں کیونکہ فرزندان امیہ یہ سونچ رہے تھے کہ اس کے سبب بنی ہاشم کو ذلیل کردیں گے۔( ۳۰ )
جیسا کہ ابن ابی الحدید نے دوسری روایت حضرت امام باقر سے روایت کی ہے: جواسی معنی کی عکاسی کرتی ہے، آپ نے اپنے کچھ اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا: اے فلاں! قریش نے ہم پر کیا کیا مصیبتیں نہیں ڈھائیں اور ہمارے شیعوں نے کیسے کیسے ظلم نہیں برداشت کئے۔
لوگوں سے رسول اللہ نے قبض روح کے وقت فرمایا تھا: ”ہم (اہل بیت) لوگوں میں سب سے برتر ہیں“ قریش نے ہم سے روگردانی کرلی یہاں تک کہ خلافت اپنے محور سے ہٹ گئی اور انصار کے مقابل ہمارے حق و حجت پر احتجاج کیا، اس کے بعد قریش ایک کے بعد دوسرے کی طرف اس کو لڑھ کاتے رہے یہاں تک کہ ایک بار پھر ہم تک واپس آئی پھر ہماری بیعت توڑ دی گئی، ہمارے خلاف علم جنگ بلند کردیا گیا اور اس خلافت کا مالک و پیشوا مشکلات و پریشانیوں میں گھٹتا رہا یہاں تک کہ شہادت اس کا مقدر بن گئی، پھر ان کے فرزند حسن کی بیعت کی گئی اور عہد و پیمان کئے گئے لیکن ان کے ساتھ عہد شکنی کی اور ان کو تسلیم کرادیا گیا۔
اہل عراق نے ان کے خلاف بغاوت کی اور خنجر کا وار کیا، ان کا لشکر تتر بتر ہوگیا، ان کی اولاد کی ماؤوں کے زیورات چھین لئے گئے۔
جب معاویہ سے صلح کی تو حسن اور ان کے فرزندوں کا خون محفوظ ہوا، ان کی تعداد بہت ہی کم تھی اس کے بعد اہل عراق نے حسین کی بیس ہزار کی تعداد میں بیعت کی، لیکن اپنی بیعتوں سے منحرف ہوگئے اوران کے خلاف نکل پڑے جب کہ ان کی گردنوں میں حسین کی بیعت کا قلادہ پڑا تھا۔
پھر بھی حسین کو شہید کرڈالا اس کے بعد ہم اہلبیت ہمیشہ پستے رہے اور رسوا ہوتے رہے ہم دور، امتحان میں مبتلا، محروم و مقتول، خوف زدہ، ہمارا اور ہمارے محبوں کا خون محفوظ نہیں رہا، دروغ بافوں اور ملحدوں نے جھوٹ اورالحاد کے سبب اپنے امیروں، شہر کے بدکردار قاضیوں اور بد دین اہلکاروں کی قربت حاصل کی، انھوں نے جھوٹی اور من گڑھت حدیثوں کا جال بنا، او رہماری طرف ان چیزوں کی نسبت دی جن کو نہ ہم نے کہا تھا اور نہ ہی انجام دیا تھا یہ سب، صرف لوگوں کو ہمارا دشمن بنانے کے لئے کیا گیا، اور سب سے بڑا اور برا وقت حسن مجتبی کی شہادت کے بعد معاویہ کے دور خلافت میں آیا تھا، ہر شہر میں ہمارے شیعہ قتل کئے جارہے تھے، صرف گمان کے سبب ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے گئے! جو کوئی بھی ہماری محبت یا تعلقات کا اظہار کرتا اس کو یا قید کردیتے یا اس کا مال لوٹ لیتے یا اس کا گھر ویران کردیتے، یہ کیفیت روز بروز بڑھتی گئی یہاں تک کہ قاتل حسین، عبید اللہ بن زیاد کا زمانہ آیا ، اس کے بعد حجاج آیا اس نے ہر طرف موت کا بازار گرم کردیا، ہر گمان و شک کی بنیاد پر گرفتار کرا لیتا (زمانہ ایسا تھا کہ) اگر ایک شخص کو زندیق و کافر کہتے تو برداشت کرلیتا بجائے اس کے کہ اس کوعلی کا شیعہ کہا جائے، حد یہ کہ وہ شخص جو کہ مستقل ذکر الٰہی کرتا تھا شاید سچا تقویٰ ہو، مگر وہ عجیب و غریب حدیثوں کو گذشتہ حاکموں کی فضیلت میں بیان کرتا تھا جب کہ خدا نے ان میں سے کسی ایک شیء کو خلق نہیں کیا تھا، اور نہ وجود میں آئی تھی وہ لوگوں کی کثرت روایت کو سبب حق سمجھتا تھا اور نہ ہی جھوٹ کا گمان تھا اور نہ ہی تقویٰ کی۔( ۳۱ )
یہ دونوں عظیم اور بھروسہ مند عبارتیں بنی امیہ کے دوران حکومت میں شیعوں کی حقیقی کیفیت کی عکاس ہیں، جبکہ اموی حکومت سوا سو سال ( ۱۲۵) پر محیط ہے، لیکن عباسی حکام نے آل محمد کی رضا کا ڈھونگ رچایا تھا اور ان کے فرزندوں کے دعویدار بن کر اموی حکومت کا تختہ پلٹ کر انقلاب لانا چاہا تھا لیکن انھوں نے چچازاد بھائی ہونے کے باوجود اہلبیت کے ساتھ غداری کی۔
ہر چند کہ اموی عہد کے آخری ایام اور عباسی حکومت کے ابتدائی دنوں میں اہلبیت اور ان کے شیعوں کے لئے تھوڑا سکون کا سانس لینے کا موقع ملا تھا، مگر عباسی خلفاء اس جانب بہت جلد متوجہ ہوگئے، خاص طور سے منصور کے زمانے میں تشیع کی مقبولیت اہلبیت کے گرد حلقہ بنانے کے سبب تھی اور جب انھوں نے یہ محسوس کیا تو ابتدائی شعار کی خول اتار دیئے اور اموی ظالم و جابر حکومت کہ جس کو ظلم کے سبب ختم کیا تھا اس سے آگے نکل گئے اہلبیت اور ان کے شیعوں پر سختی شروع کردی، جس کے سبب گرد و نواح سے انقلاب کی آواز اٹھنے لگی جس میں علوی سادات کرام شریک کار تھے جن میں سے محمد بن عبد اللہ بن حسن بن علی ملقّب بہ نفس ذکیہ پیش پیش تھے جنھوں نے عباسی خلیفہ منصور کے نام ایک خط روانہ کیا تھا جس میں اس بات کا اشارہ تھا کہ تم لوگوں نے اہلبیت سے قربت ثابت کر کے اموی حکومت کیسے ہتھیایا ہے اور حکومت ہاتھ آتے ہی ان کو برطرف کردیا، وہ کہتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ یہ ہمارا حق ہے، تم نے اس کو ہمارے واسطہ سے حاصل کیا ہے اور ہمارے شیعوں کی مدد سے تم نے خروج کیا تھا ہماری فضیلت کے سبب اس کے حصہ دار بنے ہو، ہمارے باپ علی (ابن ابی طالب) وصی اور امام تھے ان کی اولادوں کے ہوتے ہوئے تم اس (خلافت) کے وارث کیوں کر بن بیٹھے، تم اس بات کو بخوبی جانتے ہو کہ اس کا حقدار ہمارے سوا کوئی نہیں کیونکہ حسب و نسب اور اجدادی شرف میں کوئی ایک بھی ہمارے ہم پلہ نہیں۔
ہم نہ ہی فرزندان لعنت خوردہ، نہ ہی شہر بدر اور نہ ہی آزاد شدہ ہیں، بنی ہاشم میں قرابت داری کے لحاظ سے ہم سے بہتر نہیں جو قرابت سابقہ اسلامی اور فضل میں بہتر ہو، اللہ نے ہم میں سے اور ہم کو چنا ہے، محمد ہمارے باپ اور نبیوں میں سے تھے، اور اسلاف میں علی اول مسلمین ہیں، نبی کی ازواج میں سب سے افضل خدیجہ طاہرہ تھیں جنھوں نے سب سے پہلے قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کی، رسول کی نیک دختر حضرت فاطمہ زہرا تھیں جو خواتین بہشت کی سردار ہیں، اسلام کے دو شریف مولود حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہیں۔( ۳۲ )
جب منصور نفس ذکیہ کو گرفتار نہ کرسکا تو اس نے کینہ کے تیروں کا رخ ان کے خاندان اور اہل قبیلہ کی جانب کردی، منصور نے ان کے ساتھ جو برتاؤ کیا اس کو جاحظ نے یوں نقل کیا ہے:
منصور فرزندان حسن مجتبیٰ کو کوفہ لے گیا اور وہاں لے جا کر قصر ابن ہبیرہ میں قید کردیا اور محمد بن ابراہیم بن حسن کو بلاکر کھڑا کیا او ران کے گرد دیوار چنوا دی او راسی حال میں چھوڑ دیا یہاں تک وہ بھوک و پیاس کی شدت کے سبب جان بحق ہوگئے اس کے بعد ان کے ساتھ جو فرزندان حسن تھے ان میں سے اکثر کو قتل کردیا۔
ابراہیم ا لفہر بن حسن بن حسن بن علی ابن ابی طالب کو زنجیروں میںجکڑ کر مدینہ سے انبار لے جایا گیا، اور وہ اپنے بھائیوں، عبد اللہ اور حسن سے کہہ رہے تھے کہ ہم بنی امیہ کے خاتمہ کی تمنا کر رہے تھے اور بنی عباس کی آمد پر خوش ہو رہے تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ہم اس حال میں نہ ہوتے جس میں اس وقت ہیں۔( ۳۳ )
نفس ذکیہ کے انقلاب کو کچل دینے کے بعد اور مدینہ میں ان کے قتل اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ کے قتل کے بعد ”جنھوں نے بصرہ میں قیام کیا تھا اور کوفہ کے نزدیک باضری نامی مقام پر جاں بحق ہوئے تھے“ جس کو لوگ بدر صغریٰ بھی کہتے تھے۔( ۳۴ )
عباسی حکام کے خلاف انقلابات بپا ہوتے رہے ، محمد بن جعفر منصور کے زمانے میں علی بن عباس بن حسن بن حسن بن علی ٪ نے قیام کیا، لیکن اس علوی انقلابی کو دستگیر کرنے میں کامیاب ہوگیا، حسن بن علی کی سفارش پر ان کو آزاد کردیا لیکن شہد کے شربت میں زہر دیدیا گیا جس نے اپنا کام کردیا، چند دن نہیں بیتے تھے کہ وہ مدینہ کی طرف چل پڑے لیکن ان کے جسم کا گوشت جابجا سے پھٹ گیا تھا اور اعضائے بدن جدا ہوگئے تھے اور مدینہ میں پہنچ کر تین دن بعد انتقال ہوگیا۔( ۳۵ )
موسی ہادی خلیفہ کے زمانے میں حسین بن علی بن حسن بن حسن بن علی ابن ابی طالب ٪ نے قیام کیا او ران کا یہ قیام فخ نامی مقام پر ان کے قتل کے ساتھ ختم ہوگیا، وہ شہید فخ کے نام سے مشہور ہیں،ہادی کے بعد جب رشید حاکم ہوا تو اس نے یحییٰ بن عبد اللہ بن حسن کو گرفتار کراکر زندہ دیوار میں چنوا دیا۔( ۳۶ )
جب مامون نے حکومت سنبھالی تو علویوں سے محبت کا دکھاوا کیا اور علی بن موسیٰ الرضا کو بلاکر جبراً ولی عہدی دی اس کے بعد زہر دے کر شہید کرا دیا۔
عباسی حکمرانوں کی عادات قبیحہ جڑ پکڑ گئیں اور ائمہ علیہم السلام کو اس کا نشانہ بنایا اور زندہ و مردہ سب پر ظلم کیا۔
چنانچہ متوکل نے قبر امام حسین پر ہل چلوا دیئے اور پانی بھروا دیا اور لوگوں کو آپ کی زیارت سے منع کردیا بلکہ مسلح افراد کے ذریعہ ناکہ بندی کرادی کہ کوئی شخص بھی امام حسین کی زیارت کو نہ جائے اور اگر جائے تو فوراً اس کو گرفتار کر لیا جائے۔
متوکل نے اہلبیت کے خلاف قید و بند کی سیاست اختیار کی، عمر بن الفرج کو مکہ و مدینہ کا مختار کل بنادیا، اور فرزندان ابوطالب پر کڑا پہرہ بٹھا دیا کہ یہ لوگوں سے میل جول نہیں رکھ سکتے اور لوگوں پر پابندی لگادی تھی کہ ان کے ساتھ حسن رفتار نہ کریں اور کوئی اس وقت ایک شخص بھی کسی قسم کی معمولی سی بھی ان کی اطاعت نہیں کرسکتا تھا، مگر یہ کہ سختی جھیلے اور نقصان اٹھائے، بلکہ انتہا یہ تھی کہ سیدانیوں کی ایک جماعت کے پاس صرف ایک پیراہن ہوتا تھا جن میں باری باری نماز ادا کرتی تھیں اس کے بعد اس پر پیوند لگا تی تھیں اور چرخہ کے پاس سر برہنہ بیٹھ جاتی تھیں۔( ۳۷ )
جب مستعین باللہ حاکم ہوا تو اس نے یحییٰ ابن عمر بن حسین کو قتل کردیا، جن کے بارے میں ابوالفرج اصفہانی نے کہا ہے کہ: وہ بہادر، دلیر، قوی الجثہ، نڈر، جوانی کی غلطیوں سے پاک شخص تھا اس کا مثل نہیں مل سکتا، جب ان کا سر بغداد میں لایا گیا تو اہل بغداد مستعین کے خلاف چیخنے لگے، ابوحاتم علی بن عبد اللہ بن طاہر داخل ہوئے اور کہا کہ: اے امیر! میں تجھے اس شخص کی موت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اگر رسول خدا زندہ ہوتے تو ان کو اس حوالے سے تعزیت پیش کرتا، یحییٰ کے دوستوں کو قیدی بنا کر بغداد میں لایا گیا، اس سے قبل کسی اسیر و قیدی کارواں کو اس بدحالی اور بگڑی کیفیت میں نہیں دیکھا گیا تھا، وہ لوگ ننگے پیر زبردستی پھرائے جارہے تھے اگر ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا تواس کی گردن اڑادی جاتی تھی۔( ۳۸ )
کئی صدی تک شیعوں نے چین کا سانس نہیں لیا، مگر جب بہائی حکمراں کا دور ۳۲۰ ھء میں آیا اور انھوں نے بعض اسلامی ممالک کی باگ ڈور سنبھالی تو سکون ملا، یہ اخلاق کے بہت اچھے تھے، انھیں کے دور حکومت میں شیعی ثقافت نے نمو پائی، یہاں تک سلجوقیوں کا دور آیا اور وہ ۴۴۷ ھء میں بغداد کے حکمراں بن گئے ان کا سردار طغرل بیگ تھا اس نے شیعہ کتب خانہ کو نذر آتش کا حکم دے دیا اور شیعوں کے مرجع شیخ طوسی جس کرسی پر بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے، اس کو بھی جلوایا، اس کتب خانہ کو بھی نذر آتش کردیا ،جسے ”ابونصر سابور بن اردشیر “نے مرتب کیا تھا جو بہاء الدولہ البویھی کے وزیر تھے، وہ وقت بغداد میںعلم کا دور تھا، اس وزیر جلیل نے کرخ میں اہل شام کے محلہ میں ۳۸۱ ھ ء میں ہارون کے بیت الحکمہ کی مانند اس کتب خانہ کو بنایا تھا یہ بہت اہمیت کا حامل کتب خانہ تھا، اس وزیر نے اس میں ایران و عراق کی ساری کتابیں جمع کردی تھیں، اہل ہند، چین، روم کے مولفین کی کتابوں کو جمع کردیا تھا ان کی تعداد تقریباً دس ہزار تھی جو عظیم آثار اور اہم سفر ناموں پر مشتمل تھی، اس میں موجود اکثر کتابیں مولف کی ہاتھوں کی لکھی ہوئی اصل خط میں تھیں، ان کتب میں ابن مقلة کے ہاتھوں کا لکھا مصحف بھی تھا۔( ۳۹ )
یاقوت حموی اس کتاب خانہ کی تعریف میں کہتا ہے کہ: پوری دنیا میں اس سے بہتر کتابیں نہیں تھیں اس کی ساری کتابیں معتبر ذمہ داروں کے خط اوراصول تحریر پر مشتمل تھیں۔( ۴۰ )
خلافت عثمانیہ (ترکیہ) کے زمانے میں بھی شیعوں پر کچھ کم مظالم نہیں ڈھائے گئے، سلیم عثمانی بادشاہ کے، کان خبر چینوں نے بھر دیئے کہ آپ کی رعایا میں مذہب شیعیت پھیل رہی ہے اور بعض افراد اس سے منسلک ہو رہے ہیں، سلیم عثمانی نے ان تمام افراد کو قتل کا حکم صادر کردیا جو اس مذہب شیعہ میں شامل ہو رہے تھے۔( ۴۱ ) اس وقت تقریباً چالیس ہزار افراد کا قتل عام کیا گیا۔
شیخ الاسلام نے فتوی دیا کہ ان شیعوں کے قتل پر اجرت ملے گی اور شیعوں کے خلاف جو جنگ کو ہوا دے گا اس کو بھی انعام دیا جائے گا( ۴۲ )
ایک شخص نے شیخ نوح حنفی سے شیعوں کے قتل اور جنگ کے جواز کا مسئلہ پوچھا تھا اس کے جواب کے تحت شہر حلب میں ہزاروں لوگوں کو قتل کردیا گیا، اس خود باختہ مفتی نے اس کے جواب میں لکھا کہ: خدا تمہارا بھلا کرے تم جان لو کہ وہ (شیعہ) لوگ کافر، باغی، فاجر ہیں، ایک قسم کے کفار باغی، دشمنان خدا، فاسقین، زندیق و ملحدین جمع ہوگئے ہیں۔
جو شخص ان کے کفر و الحاد اور ان کے قتل کے وجوب و جواز میں ڈانواں ڈول ہو، وہ بھی انھیں کے مثل کافر ہے، آگے کہتا ہے کہ: ان اشرار کفار کا قتل واجب ہے، چاہے توبہ کریں یا نہ کریں، ان کے بچوں اور ان کی عورتوں کو کنیز بنانے کا حکم ہے۔( ۴۳ )
یہ تو تاریخ میں سے بہت کم ہے جس کو شیعیت نے تاریخ کی مشکلات و پریشانیوں کو جھیلا ہے، ہم نے صرف بطور اختصار پیش کیا ہے ان اسباب سے پردہ اٹھانے کے لئے جس کا بعض حکومتیں دفاع کرتی ہیں اور جو لوگ شیعیت کے چہرے کو خاطر خواہ لبادہ میں لپیٹ کر لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں اس لئے کہ شیعیت ہمیشہ تاریخ کے ظالم و جابر بادشاہوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی ہے، جیسا کہ انھوں نے ہم کو ایسے فکر ی مقدمات فراہم کئے کہ شیعہ کئی حصوں میں تقسیم ہو جائیں، ظاہر سی بات ہے ان اقدامات کے تحت بہت سارے لوگ اندھیرے میں رہ گئے او روہ اقدامات و اسباب جو انحراف کی نشو و نما کے لئے اس میں داخل کئے گئے تھے تاکہ لوگ اصلی خط شیعیت سے منحرف ہو جائیں، بعض اسباب کے تحت منحرفین اور وسواسی لوگ صفوف شیعہ میں داخل ہوگئے اور بعض نے فاسد عقائد کا اظہار اور باطل نظریات کواس سے ضم کردیا تاکہ شیعیت کا حقیقی چہرہ لوگوں کے سامنے بدنام ہو جائے۔
جو ظالم حکمرانوں کے لئے ایک موقع تھا اور اس اصلی انقلابی اسلامی تحریک کے خلاف ان ظالموں کی مدد تھی، یہ اسلامی خط اس دین کا محافظ تھا جس کو رسول عربی لے کر آئے تھے اور اہل بیت کرام کو ا سکی حفاظت پر مامور کیا تھا جو کہ رسول کے بقول قرآن کے ہم پلہ تھے۔
____________________
[۱] المستدرک علی الصحیحین،ج۳، ص۱۲۱، ابوذر سے روایت کی گئی ہے اور کہا گیاہے کہ یہ حدیث صحیح السند ہے، ج۳، ص۷۱۲۸ الریاض النضرة، ج۲، ص۱۶۷
[۲] (۲)کنوز الحقائق للمناوی، ص۴۳، تاریخ بغداد، ج۷۲ ص۸۸، الریاض النضرة، ج۲، ص۱۹۳، ذخائر العقبیٰ، ص۷۷، نقاش سے انھوں نے روایت کی ہے
[۳] المستدرک، ج۳، ص۱۳۷، پر کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، کنز العمال، ج۶، ص۱۵۷، الاصابہ، ج۴، ص۳۳، اسد الغابہ، ج۱، ص۶۹، ج۳، ص۱۱۴، الریاض النضرة، ج۲، ص۱۷۷، حلیة الاولیاء، ج۱، ص۶۶، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۱۲۲، الاستیعاب، ج۲، ص۶۵۷، مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۲، فیض القدیر للمناوی، ج۴، ص۳۵۸، وغیرہ
[۴] تاریخ بغداد، ج۱۴، ص۲۲۱، المستدرک، ج۳، ص۱۱۹، ۱۲۴، جامع ترمذی، ج۲، ص۲۹۸، مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۳۴، ج۷ ،ص۲۳۵،
[۵] المستدرک، ج۳، ص۱۲۴، مجمع الزوائد، ج۹، ص۱۲۴، کنز العمال، ج۶، ص۱۵۳، فیض القدیر، ج۴، ص۳۵۶
[۶] خطط الشام، ج۵، ۲۵۱
[۷] النظم الاسلامیہ، ص۶۹
[۸] تفسیر طبری، ج۳۰، ص۱۷۱، درمنثور،
[۹] شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج۱، ص۲۱۹
[۱۰] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲، ص۵۰۔ ۴۹
[۱۱] شرح نہج البلاغہ، ج۲، ص۵۲۔ ۵۱
[۱۲] سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۹۹
[۱۳] طبقات الکبریٰ، ج۳، ص۵۰۱
[۱۴] المستدرک، ج۳، ص۳۰۵
[۱۵] تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۲۴
[۱۶] العقیدة و الشریعة فی الاسلام، ص۱۸۶، فجر الاسلام، احمد امین، ص۲۶۶
[۱۷] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۶، ص۴۱
[۱۸]
[۱۹] شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۱۹۴۔ ۱۹۳
[۲۰] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۹، ص۵۵
[۲۱] تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۵۷
[۲۲] شرح نہج البلاغہ، ج)، ص۵۸۔ ۵۷
[۲۳] مجمع الزوائد، ج۷، ص۲۴۳، پر کہا ہے کہ اس کو طبرانی نے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے روائی ثقہ ہیں
[۲۴] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲، ص۱۸۸۔ ۱۸۷
[۲۵] مجمع الزوائد، ج۷، ص۲۳۶، پر کہا ہے کہ اس کو بزار نے روایت کی ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، فتح الباری، ج۳، ص۴۵
[۲۶] تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۶۸۔ ۶۷
[۲۷] جمہرة الخطب، ج۱، ص۳۷۹۔ ۲۶۷
[۲۸] تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۷۵
[۲۹] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۴، ص۶
[۳۰] شرح نہج البلاغہ، ج۱۱، ص۴۴، ۴۶ وہ تکالیف اور مشکلات جو آل بیت کی زندگی کا حصہ بن گئیں
[۳۱] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۱، ص۴۳
[۳۲] تاریخ طبری، ج۷، ص۵۶۷
[۳۳] النزاع و التخاصم، ص ۷۴
[۳۴] مقاتل الطالبین، ابی الفرج الاصفہانی، ص۳۶۵
[۳۵] مقاتل الطالبین، ابی الفرج الاصفہانی، ص۳۶۵
[۳۶] مقاتل الطالبین، ص۴۰۳
[۳۷] مقاتل الطالبین، ص۴۰۳
[۳۸] مقاتل الطالبین، ص۴۰۳
[۳۹] خطط الشام، ج۳، ص ۱۸۵، الکامل فی التاریخ، ج۱۰، ص۳
[۴۰] معجم البلدان، ج۲، ص۳۴۲
[۴۱] معجم البلدان، ج۲، ص۳۴۲
[۴۲] الامام الصادق و المذاہب الاربعہ، اسد حیدر، ج۱، ص۲۴۴
[۴۳] الفصول المہمہ، تالیف سید عبد الحسین شرف الدین، ص ۱۹۶۔۱۹۵، فتاوی حامدیہ، ج۱، ص۱۰۴؛ تاریخ الشیعہ، شیخ مظفر، ص۱۴۷؛ التقیہ فی فقہ اہل البیت، ج۱، ص۵
چوتھی فصل
مسیر تشیع
امام حسین کی شہادت کے بعد ائمہ ٪نے اس بات کو بخوبی درک کرلیا کہ ابتدائی گروہ کے جانے بعد اب صرف یہی باقی ہیں اور ان میں عقیدتی وہ پختگی نہیں آئی ہے جو قیام کی مطلوبہ اہلیت کی حامل ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لئے جسمانی قربانی بہت پیش کی ہے، لہٰذا انھوں نے ادھر سے رخ موڑ لیا، ایک نئی چیز کی جانب وہ تھی شیعوں کی ثقافتی تربیت ان کے قلب و دماغ میں عقیدوں کی پختگی اور انحرافی راہوں سے ان کی حفاظت، جو کہ عباسی سلاطین کے دور حکومت اور زیر سایہ جنگی صورت میں جنم پائی تھی، لہٰذا امام سید سجاد نے اس تحریک کو اسلام کی حقیقی تعلیم کی صورت میں لوگوں تک پھیلانا شروع کردیا اور ایسے محافظین کی تربیت شروع کی جو اسلام کی راہ و رسم کو زندہ رکھ سکیں اور سنت نبوی کو اجاگر کرسکیں، ہر چند کہ شہادت امام حسین کے بعد بہت ہی مشکل کام تھا اور اموی سلطانوں نے شیعوں پر عرصہ حیات تنگ کر کے ان کو بہت گھٹن میں مبتلا کردیا تھا اور اہل بیت کی نقل و حرکت پر گھات لگائے تھے، سید سجاد کی تحریک بعض مشکلات کے روبرو تھی ،جب آپ کے فرزند امام محمد نے امامت سنبھالی تو حالات کچھ بہتر ہوئے، اس وقت اموی حکمرانوں کی گرفت تھوڑی ڈھیلی پڑ رہی تھی اور امام کو اتنی مہلت مل گئی کہ گذشتہ دنوں کے بنسبت شیعوں کوجمع کر کے علوم اسلامی کو ان تک پہنچا سکیں، جب ان کے فرزند امام صادق کا دور امامت آیا تو اموی حکومت کا سورج بس غروب کے پردے میں جانے ہی والا تھا اور جابر سلطانوں کی ساری مشغولیت خانہ جنگیوں کو کچلنا رہ گئی تھی، عباسی خلفاء کی سلطنت کا طلوع امام صادق کے لئے سنہری موقع تھا کہ وہ علوم اسلامی کو دل بخواہ کیفیت میں لوگوں تک منتقل کرسکیں۔
آپ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے اور مختلف شہروں سے طلاب علوم آپ کے گرد حلقہ بنا لیتے، ان کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی تھی یہ واقعاً شیعوں کے لئے ایک طلائی فرصت تھی کہ امام سے ملاقات کرسکیں اور علوم آل محمد سے سیراب ہو سکیں، ان کے مقابل ان انحرافیوں کا مکتب و مرکز تھا جن کے بانی اموی سلاطین تھے وہ اپنی فکروں کو فروغ دینے میں دن ورات مشغول تھے۔
ائمہ اہلبیت ٪ مسلحانہ انقلاب سے دوری اختیار کرچکے تھے جو حکومت کی بیخ کنی کرے، اس لئے کہ اس وقت شیعوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جو مقصد کو حاصل کرسکے اور انقلاب کی ذمہ داری کو سنبھال سکے اور جن قربانیوں کی ضرورت تھی ان کو پیش کرسکے، اس وقت ثقافت و تعلیم کی جانب رخ موڑ دینا کامیاب نہ ہونے والے انقلاب سے کہیں بہتر تھا، اور اس بات کی پوری تائید حضرت زید بن علی کا مسلحانہ انقلابی اقدام ہے جو انھوں نے اموی سلاطین کے خلاف کیا تھا اور ان کے قتل پر ختم ہوگیا تھا اوراہل کوفہ نے ان کا ساتھ اسی طرح چھوڑ دیا جس طرح ان کے آباء و اجداد کے ساتھ غداری کی تھی۔
یہ اس بات کی غماز ہے کہ وہ لوگ خیمہ انقلاب کی حفاظت کی بالکل صلاحیت و لیاقت نہیں رکھتے تھے۔
عباسی حکمرانوں کی ابتدائی زندگی میں نسبتاً سہولت تھی اور یہ موقع شیعہ حضرات کے لئے غنیمت تھا تاکہ اہل بیت سے علوم اسلامی کو حاصل کرسکیں خاص طور سے امام صادق جن کی وجہ سے مذہب اہل بیت مذہب جعفری کہلایا۔
ہاں یہ اور بات ہے کہ اس طلائی فرصت کو اس وقت گہن لگ گیا جب لوگوں کا ہجوم در اہلبیت پر دیکھا تو عباسیوں کو بہت قلق ہوا، خاص طور سے اس عباسی دعوت کی حقیقت واضح ہوگئی جس کی بنیاد ظاہراً اس بات پر تھی کہ آل محمد کے پسندیدہ شخص کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے۔
جب لوگوں کے سامنے ان کی اس دعوت نامہ کی قلعی کھل گئی اور لوگوں کی شورش اور آل محمد کے جھنڈے تلے جمع ہونے سے خائف ہوگئے، تو ائمہ اور ان کے ساتھیوں پر سختی شروع کردی، اور سادات کرام کی جانب سے اٹھنے والے ہر انقلاب کو نہایت بیدردی کے ساتھ دبا دیا۔
شیعوں پر شکنجے کس دیئے ائمہ کرام پر کڑی نظر رکھنی شروع کردی حد یہ کہ برسہا برس کے لئے زندانوں میں قید کردیا، جیسا کہ رشید نے امام موسیٰ کاظم کے ساتھ کیا، یا ان کے آبائی وطن مدینہ منورہ سے جبراً نکال کر ان کو عباسی حکومت کے دار السلطنت میں رہنے پر مجبور کیا، جیسا کہ امام رضا کے بعد باقی تمام ائمہ،امام حسن عسکری تک، سب کے ساتھ یہی برتاؤ کیا۔
وہ زمانہ بہت ہی سخت تھا عباسی حکمرانوں نے جو پہرہ بٹھایا تھا ان دنوں کوئی شیعہ آزادانہ طور پر اپنے امام سے ملاقات نہیں کرسکتا تھا، یہ زمانہ چلتا رہا یہاں تک کہ امام حسن عسکری کو یرغمال بنالیا جب ان کو حضرت حجت کی ولادت کی خبر ہوئی، جو کہ الٰہی تدبیر کے سبب لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہے، آپ کی غیبت صغریٰ تقریباً ستر ( ۷۰) سال کے عرصہ پر محیط تھی، آپ اور آپ کے شیعوں کے درمیان رابطہ نواب اربعہ ”جو کہ ان کی وکالت کا کام کرتے تھے“ ان کے ذریعہ رہا، یہاں تک کہ غیبت کبریٰ کا زمانہ شروع ہوگیا، اہل بیت کے بعد شیعہ مراجع کرام، علمی ، دینی، سیاسی طور پر مکمل مرکز قرار پائے۔
اسلامی فرقے اور غالیوں کے انحرافات
تشیع کی راہ کبھی بھی مشکلات و سختیوں سے خالی نہیں رہی، جیسا کہ گذر چکا ہے کہ سلاطین، شیعوں اور ان کے اماموں پر بہت سختی کرتے تھے اور یہ حضرات مجبور تھے کہ تقیہ کی صورت میں زندگی بسر کریں اور ائمہ ٪ بھی ہمیشہ حقائق کو علی الاعلان بیان نہیں کرسکتے تھے کیونکہ موجودہ حکومت مد مقابل کھڑی تھی، ایسے حالات میں شیعوں پر سختی اور دباؤ کا خطرہ تھا، انھیں اسباب کے سبب اس وقت کے بعض شیعہ حیران و سرگرداں ہوگئے تھے، ایسے وقت میں بعض روحانی مریض اور گنجلگ مقاصد کے علم بردار افراد نے ان پر غلبہ حاصل کرلیا، اس کا دوسرا سبب ان عوام کا علم سے ناواقفیت تھی، جو مسیر تشیع سے انحراف کا مکمل سبب بنی اور بعد میں آنے والے مسلمین پر اثر انداز ہوئی اور خوراج، معتزلہ، جہمیہ، مرجئہ اور ان کے مانند فرقوں کی صورت میں وجود میں آئے۔
یہ سب آیات الٰہیہ کی غلط تاویل کرنے اور احادیث نبوی کی غلط تشریح کرنے کے سبب ہوا، اس کے علاوہ خطرناک مسئلہ بعض مسلمان نما افراد کا اہل کتاب اور دوسرے مذاہب کے افراد کے ہاتھوں کھلونا بننا تھا جس کے سبب اسرائیلیات داخل ہوئیں اور مسلمانوں کو ان کی تعلیم بھی دی گئیں جن دنوں حدیث کو گڑھا جارہا تھا ان دنوں یہ اتفاقات وجود میں آئے۔
جو چیز دوسرا رخ اختیار کر گئی وہ یہ تھی کہ ان میں سے بعض افراد نے احادیث کی تخلیق اور آیات قرآنی کی غلط تاویل، صرف اپنے مذہب کی تقویت کے لئے کیا، یہ سب اس لئے ہوا کہ بعض افراد اپنے دعویٰ میں حد سے گذر گئے اور اس بات کا دعویٰ کر بیٹھے کہ انھیں کا وہ واحد فرقہ ہے جو حق و حقیقت سے لبریز ہے اور بقیہ سارے فرقے گمراہی میں غرق ہیں۔
اس تنگ و تاریک نظریہ کے تحت تمام مسلمانوں کے کفر اوران کے خون حلال ہونے، ان کی نسلوں کو ختم کرنے، ان کی عورتوں کو کنیز بنالینے کی گونج بہت دور تک سنائی دی نیز ان فرقوں کے بیچ کلامی جنگیں بھی بہت ہوئیں اور انھیں عصبیت کے سبب بہت سارے مفاہیم گڈمڈ ہوگئے اور اصطلاحات گنجلک اور بہت ساری ایسی چیزوں کا نام رکھ دیا گیا جن سے ان کا کوئی ربط نہیں تھا۔
اس مسئلہ کے تحت مذہب اہل بیت بڑی مشکل سے دوچار ہوا، ایسے میں بہت سارے فرقے اور فاسد عقائد کے دہشت گرد، مذہب حق میں گھس گئے اس کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی صرف یہ کہ و ہ لوگ ولایت اہل بیت کے نام لیوا تھے ہر چند کہ یہ لوگ اہل بیت کے مطمع نظر کے یکسر مخالف تھے، ان میں سے ”غالیوں“ کا گروہ ہے جن کو ائمہ اہلبیت کی جانب نسبت دیدی گئی ہے جب کہ ان کو شریعت و عقل اور خود ائمہ ٪ نے قبول نہیں کیا ہے۔
ان تمام اسباب کے تحت نیز حکومت ہاتھ آنے کے لئے جنگ کے سبب مفاہیم خلط ملط ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرقوں کے صاحب کتاب مولفین کے نظریات کے درمیان بڑی معرکہ آرائی ہوئی ہے خاص طور سے شیعوں کے سلسلہ میں، ان مولفین کی آراء جو شیعوں کی تعداد کے سلسلہ میں ہے بالکل اتفاق نہیں پائیں گے، کچھ نے گھٹا کے تین کردیا، کچھ نے بیس سے زیادہ شمار کردیا اور اسی طرح کی کھینچا تانی لگی رہی ہے ان میں سے بعض ایسے فرقے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، بعض مولفین نے شخص کو فرقہ کی صورت میں پیش کردیا ہے۔
ہشامیہ، یونسیہ، زراریہ، یہ سب فرد تھے لیکن شہرستانی، صاحب کتاب (ملل و نحل) نے ان سب کو فرقہ کے طور پر ذکر کیا ہے اور ان کے خاص نظریات کو پیش کیا ہے، بعض مولفین نے دوسرے مذہب کی تحقیر کے لئے اور علم و فضل سے خالی ہونے کے لئے بہت عصبیت سے کام لیا ہے۔
جیسا کہ بغدادی کہتا ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے خوارج، رافضی، جہمیہ، قدریہ، مجسّمہ اور سارے گمراہ فرقوں میں نہ ہی کوئی فقہ و رایت و حدیث کا امام ہے اور نہ ہی لغت و علم نحو کا عالم و امام، نہ ہی غزوات و تاریخ و سیرت کا لکھنے والا ہے اور نہ ہی وعظ و نصیحت کہنے والا، اور نہ ہی تفسیر و تاویل کا امام موجود ہے بلکہ ان سارے علوم کا اعم و اخص طور پر جاننے والے صرف اہل سنت و الجماعت میں موجود ہیں۔( ۴۴ )
ان ساری باتوں کو صرف عناد، دشمنی، کدورت اور کٹ حجتی پر محمول کیا جاسکتا ہے کہ وہ دوسرے افراد میں آثار اسلامی کے معلومات کا سرے سے انکار کرتے ہیں، جبکہ علماء اسلام کے حدیثی، تاریخی، تالیفات ہر فرقہ میں موجود ہیں جس کی گونج سارے کائنات میں ہے۔
بطور نمونہ وہ مولفین جنھوں نے اس میں خلط ملط کیاہے، جیسی کہ وہ تقسیم جس کو ابو الحسن علی بن اسماعیل اشعری متوفی ۳۲۴ ھء نے اپنی کتاب ”مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین“ میں فرقہ شیعہ کو پہلے بنیادی طور پر تین قسموں پر تقسم کیا ہے، پھر اس میں دوسرے فرقہ کی شاخ نکالی ہے، اس کے بعد ”غلو“ کرنے والوں کو پندرہ فرقوں میں تقسم کیا ہے، پھر امامیہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کو رافضہ کے نام سے یاد کیا ہے پھر ان کو چوبیس ( ۲۴) فرقوں میں تقسیم کیا ہے، کیسانیہ کو انھوں نے امامیہ میں شریک و شمار کیا ہے، درحقیقت یہ ”غلاة“ کا ایک فرقہ ہے امامیہ سے ان کا کوئی سرو کار نہیں، پھر زیدیہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کو تین گروہوں میں تقسیم کیاہے، جارودیہ، بتریہ، سلیمانیہ پھر ان گروہوں کو دوسرے گروہوں میں تقسیم کیاہے، اکثر افراد نے غلطی کی ہے اور سلیمانیہ کو زیدیہ کے فرقوں میں شمار کیا ہے، جب کہ ان کے سارے عقائد اہل سنت و الجماعت سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔
افسوس اس بات پر ہے کہ اس عصر کے اکثر مولفین نے اس روش کی مکمل پیروی کی اور ان گذشتہ کتابوں پر اندھا بھروسہ کیا اور تحقیق و تفحص سے بالکل کام نہیں لیا، کسی فرقہ یا گروہ کے مبانی و مصادر کی طرف بالکل رجوع نہیں کیا تاکہ ان گروہ کے ذمہ داروں کی زبان سے ان کے عقائد کو جان سکیں، بلکہ مخالف فرقہ کے مقالات پر تکیہ کیا اور جو کچھ انھوں نے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کردیا اس کو آنکھ بند کر کے قبول کرلیا۔
ان ساری باتوں کو پیش کرنے کا ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اصل شیعیت کے وجود کو جان سکیں جو کہ ہمارا اصل موضوع ہے یعنی (شیعیت کی نشو و نما) لہٰذا ہم اس بات کی حتی الامکان کوشش کریں گے کہ زمانوں کا اصل اثر ثابت کرسکیں جو شیعیت پر بیتے ہیں اور اس حقیقت سے پردہ اٹھا سکیں جس کو صاحبان کتب نے ڈالا ہے اور شیعہ عقائد میں ان تمام خرافات کو شامل کردیاہے جو ان کے عقائد سے بالکل میل نہیں کھاتے اور نہ ہی شیعہ حضرات ان عقائد کو کسی بھی رخ سے قبول کرتے ہیں۔
لہٰذا ہم پہلے مفہوم تشیع کو بیان کریں گے اس کی بعد اس کے اہم بنیادوں کو وضاحت کے ساتھ پیش کریں گے اس کے بعد شیعہ اور ان کے ائمہ کے موقف کو غلو اور غلاة (غلو کرنے والوں) کے سلسلہ میں عرض کریں گے۔
مفہوم تشیع
صاحبان کتب نے شیعہ اور تشیع کے بارے میں متعدد لفظوں میں تعریف کی ہے ان میں سے اہم نظریات کو پیش کر رہے ہیں:
۱ ۔ ابو الحسن اشعری: جن لوگوں نے علی کا ساتھ دیا اور ان کو تمام اصحاب رسول پر برتر جانتے ہیں، وہ شیعہ ہیں۔( ۴۵ )
۲ ۔ ابن حزم مفہوم تشیع کے بارے میں کہتا ہے: شیعہ کا نظریہ ہے کہ علی رسول کے بعد افضل امت اورامامت کے حقدار ہیں اور ان کے بعد وارث امامت، ان کے فرزند ہیں، درحقیقت یہی شیعہ ہیں، ہر چند کہ مذکورہ باتوں کے سلسلہ میں مسلمانوں کا اختلاف ہے اور ان عقائد کا مخالف شیعہ نہیں ہوسکتا۔( ۴۶ )
۳ ۔ شہرستانی نے کچھ یوں تعریف کی ہے: شیعہ وہ ہیں جو خاص طور سے علی کے حامی رہے اور اس بات کے معتقد ہیں کہ ان کی امامت و وصایت نص اور رسول کی وصیت سے ثابت ہے چاہے ظاہری ہو یا باطنی اور اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کی اولادوں کے علاوہ دوسرا حقدار نہیں، اگر امامت دوسرے کے پاس گئی تو یقینا ظلم کا عمل دخل ہے یا تقیہ کے سبب ہے اور اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کوئی مصلحتی عہدہ نہیں ہے جو امت مسلمہ کے ہاتھوں طے پائے اور امت کے انتخاب سے امام معین ہو جائے، بلکہ یہ ایک اصولی مسئلہ ہے یہ رکن دین ہے خود رسولوں کے لئے بھی اس مسئلہ میں تساہل و سہل انگاری جائز نہیں اور نہ ہی وہ امت کے ہاتھوں (انتخاب امام) کا فیصلہ سپرد کرسکتے ہیں۔
آگے کہتے ہیں: شیعہ امامت کی تعیین و تنصیص کے قائل ہیں اور انبیاء کے مانند (امام کے لئے) صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک اور معصوم ہیں، تولی و تبریٰ کے بھی قولی فعلی، عقیدتی قائل ہیں مگر یہ کہ تقیہ کے سبب ایسا نہ کرسکیں۔( ۴۷ )
۴ ۔ محمد فرید وجدی: شیعہ وہ ہیں جو علی کی امامت کے مسئلہ میں ان کے ہمراہ رہے اور اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت ان کی اولادوں سے جدا نہیں ہوسکتی، وہ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت کوئی مصلحتی مسئلہ نہیں ہے جس کو امت کے اختیار و انتخاب پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ ایک اصولی مسئلہ ہے یہ رکن دین ہے، ضروری ہے کہ رسول اکرم کی اس مسئلہ پر نص صریح موجود ہو۔
شیعہ کہتے ہیں کہ ائمہ کرام صغیرہ و کبیرہ گناہ سے معصوم ہیں اور تولی و تبریٰ کے قولی و فعلی معتقد ہیں مگر ظالم کے ظلم کے سبب یہ عمل تقیہ کی صورت میں انجام دیا جاسکتا ہے۔( ۴۸ )
۵ ۔ شیعہ مولفین حضرا ت نے، شیعہ کی تعریف یوں کی ہے:
نوبختی: پہلا فرقہ شیعہ ہے جو حضرت علی کا حامی تھا اور ان کو حیات رسول اور وفات رسول کے بعد شیعیان علی کہا جاتا ہے، یہ لوگ حضرت سے بے پناہ عشق اوران کی امامت کے اقرار کے سبب مشہور تھے اور وہ افراد مقداد، ابن الاسود، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، جندب بن جنادہ غفاری، عمار یاسر تھے، او روہ لوگ جو ان کی مودّت علی کے سلسلہ ان کی تائید کرتے تھے اور سب سے پہلا گروہ جو شیعہ کے نام سے معروف ہوا وہ یہی تھا، اس لئے کہ تشیع (شیعہ) کا نام بہت پرانا ہے شیعہ ابراہیم، شیعہ موسیٰ، عیسیٰ اور دیگر انبیاء کرام۔( ۴۹ )
۶ ۔ شیخ مفید، شیعہ کی کچھ یوں تعریف کرتے ہیں: شیعہ وہ ہیں جو علی کے حامی اور اصحاب رسول پر ان کو مقدم جانتے ہیں اور اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ رسول کی وصیت اور تائید پروردگار کے تحت امام ہیں، جیسا کہ امامیہ اس بات کا راسخ عقیدہ رکھتے ہیں اور جارودیہ صرف بیان کرتے ہیں۔( ۵۰ )
۷ ۔ شیخ محمد بن حسن طوسی، وہ نص و وصیت سے کلام کو مربوط کر تے ہوئے تشیع کے عقائد کو مربوط کرتے ہوئے کہتے ہیں: علی مسلمانوں کے امام، وصیت رسول اورارادہ خدا کے سبب ہیں، پھر نص کو دو قسموں پر تقسیم کرتے ہیں: ۱ ۔ جلی ۲ ۔ خفی
نص جلی :اس کو شیعہ امامیہ نے تنہا نقل کیا ہے اور جن اصحاب نے ان حدیثوں کو نقل کیا ہے وہ خبر واحد سے کیا ہے۔
لیکن نص خفی کو شیخ طوسی نے نقل کیا ہے کہ اس کو سارے فرقوں نے قبول کیاہے گو کہ اس کی
تاویل اور مراد معنی میں اختلاف کیا ہے اوران کی اس بات سے کسی نے انکار نہیں کیا ہے۔
طوسی نے سلیمانیہ فرقہ کو زیدیہ شیعی فرقہ سے جدا کیا ہے کیونکہ وہ لوگ نص کے قائل نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ امامت شوریٰ (کمیٹی کے انتخاب) کے ذریعہ طے ہوسکتی ہے اور اگر دو نیک کسی پر ایک ساتھ اتفاق رائے کرلیں تو بھی امامت ممکن ہے، مفضول کو بھی (فاضل کے ہوتے ہوئے) امامت مل سکتی ہے۔
صالحہ، بتریہ، زیدیہ فرقہ کا بھی امامت کے سلسلہ میں سلیمانیہ ہی کی مانند نظریہ ہے شیخ طوسی نے سلیمانیہ کے نظریہ کو مذکورہ بالا فرقوں کے نظریات پر منطبق کیا ہے۔( ۵۱ )
یہ وہ آراء و نظریات تھے جو مفہوم تشیع کے سلسلہ میں قدیم اور معاصر دونوں فرقوں کے علماء نے پیش کیئے، ہم ان نظریات کی روشنی میں یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ مفہوم تشیع کے لئے دو اصطلاحیں ہیں: ۱ ۔ تشیع کے عمومی معنی، ۲ ۔ تشیع کے خصوصی معنیٰ۔
جو شخص بھی اس موضوع کو جاننا چاہتا ہے اس کے لئے مفہوم بہت گنجلک ہوگیاہے ، مذکورہ آراء ونظریات جو پیش کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جن لوگوں نے مفہوم تشیع کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے انھوں نے تشیع کے صرف خصوص مفہوم کو بیان کیا ہے عمومی مفہوم سے بالکل سرو کار نہیں رکھا، لہٰذا ہم اس بات کی کوشش کریں گے کہ دونوں کو تقسیم کر کے اصل مسئلہ کی وضاحت کردیں۔
تشیع کا عمومی مفہوم
۱ ۔ یہ کہ علی کو صرف عثمان پر افضل جاناہے ابوبکر و عمر سے افضل نہیں جانتے، تو اس طرح کی شیعیت میں اصحاب و تابعین اور تبع تابعین کا بہت بڑا گروہ شامل ہو جائے گا جیسا کہ شمس الدین ذہبی نے ”ابان بن تغلب“ کے حالات میں جن لوگوں نے ان کے شیعہ ہونے کے بارے میں کہا ہے اس سلسلہ میں اظہار خیال کرتے ہیں کہ؛ بدعت دو طرح کی ہوتی ہے، بدعت صغریٰ جیسے شیعوں کی بدعت، یا شیعوں کی بدعت جس میں غلو و تحریف نہ ہو، تو اس میں تابعین اور تبع تابعین جو صاحبان دین زہد و ورع ہیں ان کی کثیر تعداد شامل ہے، اگر ان افراد کی حدیثوں کو غیر قابل قبول مانا جائے تو تمام احادیث و آثار نبوی ختم ہو جائیں گے اور یہ بہت بڑا نقصان ہوگا، غلو کرنے والے شیعہ گذشتہ زمانے میں تھے اور ان کی شناخت یہ ہے کہ وہ لوگ، عثمان، زبیر، طلحہ، معاویہ اور وہ گروہ جنھوں نے علی سے جنگ کی ان پر لعن طعن کے قائل تھے۔( ۵۲ )
۲ ۔ وہ لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ علی تمام اصحاب پر فضیلت و برتری رکھتے تھے جن میں ابوبکر و عمر شامل ہیں، لیکن اس اعتراف کے ساتھ کہ ان دونوں (ابوبکر و عمر) کی خلافت صحیح تھی اور علی اور کسی ایک کے لئے بھی کوئی نص نہیں تھی جو علی کی خلافت پر دلالت کرے۔
بغدادی فرقہ معتزلہ اور بعض بصریوں نے اس کی مزید وضاحت کی ہے۔
ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ کے شروع ہی میں اس بات کی تفصیل پیش کردی ہے کہ ہمارے تمام شیوخ رحمھم اللّٰہ خواہ وہ متقدمین ہوں یا متاخرین بصری ہوں یا بغدادی سب نے اس بات پر اتفاق کیاہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی بیعت صحیح اور شرعی تھی گو کہ نص (نبوی یا الٰہی) کے تحت نہ تھی، بلکہ اختیار پر منحصر تھی جواجماع او رغیر اجماع کے ساتھ واقع ہوئی امامت تک رسائی کا یہ بھی ایک راستہ ہے ،خود تفضیل کے سلسلہ میں اختلاف نظر ہے۔
بصری، قدماء میں سے جیسے ابوعثمان، عمروبن عبیدہ، ابی اسحاق، ابراہیم بن یسار النظام، ابوعثمان عمرو بن بحر ابی حظ، ابو معن ثمامہ ابن اثرس، ابو محمد ہشام بن عمور فوطی، ابی یعقوب یوسف بن
عبد اللہ الشحام اور دوسرے افراد کا کہنا ہے کہ ابوبکر حضرت علی سے افضل تھے، اور ان لوگوں نے افضلیت کی ترتیب مسند خلافت پر آنے کی ترتیب سے مرتب کی ہے۔
بغدادی تمام متقدمین و متاخرین شخصیتوں مثلاً، ابی سہل بشر بن المعتمر، ابی موسیٰ بن صبیح، ابی عبد اللہ جعفر بن مبشر، ابی جعفر اسکافی،ابی الحسین خیاط، ابی القاسم عبد اللہ بن محمود بلخی اور ان کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ حضرت علی ابوبکر سے افضل تھے( ۵۳ )
بصریوں میں اس نظریے کے قائل ابوعلی محمد بن عبد الوہاب جبائی آخری فردہیں، اور یہ (توقف آراء) کرنے والے افراد سے پہلے تھے، یہ حضرت علی کی تفضیل کے قائل تھے مگر اس کی صراحت نہیں کی، جب انھوں نے تصنیف کی تو ان تصانیف میں توقف فرمایا اور یہ کہہ کر اکتفا کی کہ اگر حدیث طیر صحیح ہے تو حضرت علی افضل ہیں۔( ۱)
(۱)ابن کثیر نے البدایة والنہایة، ج۷، ص۳۸۷، پر کہا ہے کہ اس حدیث کے سلسلہ میں لوگوں نے کتابیں تحریر کی ہیں پھر ان روایات کو درج کیاہے جس میں یہ حدیث ذکر ہے ترمذی نے اپنے اسناد کے ساتھ انس سے روایت کی ہے کہ رسول کے پاس ایک (بھنا ہوا) پرندہ تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللّٰهم ائتنی باحب خلقک الیک یاکل معی من هذا الطیر “ خداجو تیرے نزدیک سب سے محبوب ہو اس کو میرے پاس بھیج دے تاکہ اس پرندہ کے گوشت میں میرا سہیم ہوسکے حضرت علی اس وقت تشریف لائے اور رسول خدا کے ساتھ شریک ہوئے اس کے بعد ابن کثیر نے متعدد روایات کواس موضوع سے متعلق مختلف طرق سے ذکر کیا ہے اس کے بعد کہا ہے کہ ان کی تعداد نوے (۹۰) سے زیادہ ہے اور کہا کہ اس حدیث سے متعلق مستقل کتابیں تحریر کی ہیں جن میں سے ابوبکر بن مردویہ، حافظ ابوظاہر، محمد بن احمد بن حمدان ہیں جس کو ہمارے شیخ ابو عبد اللہ ذہبی نے ذکر کیا ہے ابی جعفر بن جریر طبری کی ایک مستقل جلد کتاب دیکھی ہے جس میں تمام طرق اور الفاظ حدیث کو ذکر کیا ہے لیکن قاضی ابی بکر باقلانی متکلم کی ایک کتاب دیکھی اس کی سند میری نظر میں ضعیف ہے، ہر چند کہ اس حدیث کو متعدد طرق سے نقل کیا گیاہے پھر بھی اس کی صحت میں نظریات مختلف ہیں اس حدیث کی رد کی اصل وجہ ہے کہ مسلمانوں کے عام فرقوں کے عقیدہ کے خلاف ہے اور وہ یہ کہ علی کا تمام اصحاب پر افضلیت رکھنا کیونکہ یہ حدیث رسول کے بعد تمام کائنات میں علی کو افضل ثابت کرتی ہے۔۔۔
قاضی القضاة نے ابوالقاسم کی کتاب المقالات کی شرح میں لکھا ہے کہ ابو علی نے آخری وقت میں علی کی افضلیت کا اقرار کیا ہے، اور یہ بات انھوں نے سماعی (سن کر) نقل کیاہے ان کی تصنیفات میں اس کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔
دوسری جگہ قاضی القضاة کہتے ہیں: جب ابو علی کا وقت احتضار تھا تو انھوں نے اپنے بیٹے ابوہاشم کو اشارہ سے بلایا جب کہ ان کی آواز میں رعشہ تھا، ابوہاشم کو بہت سارے راز ودیعت کئے جن میں سے حضرت علی کے افضلیت کا بھی مسئلہ تھا۔
جو افراد حضرت کی افضلیت کے قائل تھے ان میں بصریوں میں سے شیخ ابو عبد اللہ حسین بن علی بصری تھے جنھوں نے حضرت علی کی افضلیت پر تحقیق کی تھی اور اس پر مُصِر بھی تھے اوراس حوالے سے مستقل ایک کتاب بھی تالیف کردی۔
بصریوں میں سے جو حضرت علی کی افضلیت کے قائل تھے، وہ قاضی القضاة ابوالحسن عبد الجبار بن احمد ہیں۔
ابن متویہ نے علم کلام کی کتاب (الکفایہ) میں قاضی القضاة سے نقل کیا ہے کہ وہ ابو بکر و علی کی افضلیت کے مسئلہ پر توقف کرنے والوں میں سے تھے انھوں نے اس پر کافی طویل احتجاج کیا ہے لہٰذا یہ دو مذہب ہیں جس کو آپ نے درک کیا۔
اس حدیث کو متعدد محدثین نے مختلف الفاظ میں ذکر کیا ہے جیسے ترمذی، حدیث ۳۷۲۱ ، طبری، ج ۱ ، ص ۲۲۶ ، ج ۷ ، ص ۹۶ ، ج ۱۰ ، ص ۳۴۳ ، ذہبی، میزان عدالت، ص ۲۸۰ ، ۲۶۳۳ ، ۷۶۷۱ ، ۸۵۰۶ ، ابن حجر، لسان العرب میں، ج ۱ ، ص ۷۱ ، ۸۵ ، کنز العمال، ۴۶۵۰۷ ، ۳۹۶۴ ، مشکوٰة، ۶۰۸۵ ، مجمع الزوائد، ج ۹ ، ص ۱۲۵ ، الاتحاف، ج ۷ ، ص ۱۲۰ ، تذکرة، ۹۴۹۴ ، تاریخ دمشق، ج ۵ ، ص ۲۲۲ ، ج ۷ ، ص ۳۴۲ ، تاریخ جرجان، ص ۱۷۶ ، ان کے علاوہ دیگر کتب بھی ہیں جن میں اس حدیث کا تذکرہ ہے۔
بزرگوں کی ایک کثیر تعداد نے ابوبکر و علی کی افضلیت پر اظہار نظر سے توقف کیا ہے، اس بات کا ادعا ابو حذیفہ، واصل بن عطاء اور ابو ہذیل محمد بن ہذیل علاف نے کیا ہے جو کہ متقدمین میں سے ہیں، در آں حالیکہ ان دونوں نے ابوبکر و حضرت علی کے درمیان افضلیت پر توقف کیا ہے لیکن حضرت علی کو عثمان پر قطعی طور پر افضل جانتے ہیں۔
جو لوگ توقف کے قائل ہیں ان میں سے ابوہاشم عبد السلام بن ابی علی، شیخ ابو الحسین محمد بن علی بن طیب بصری ہیں۔
ابی الحدید کہتے ہیں: لیکن ہم لوگ اسی نظریہ کے قائل ہیں جس کو ہمارے بغدادی شیوخ نے اختیار کیاہے یعنی حضرت کا افضل ہونا، اور کلامی کتابوں میں ہم نے افضل کے معنیٰ کو ذکر کیا ہے۔
افضل سے مراد کثرت ثواب یا کثرت فضیلت و اوصاف حمیدہ کا حامل ہونا ہے، ہم نے وہاں ذکر کیا ہے کہ آپ دونوں معنیٰ میں افضل تھے۔( ۵۴ )
____________________
[۴۴] الفرق بین الفرق، ص ۲۸۲
[۴۵] مقالات الاسلامیین، ج۱، ص۶۵، طبع قاہرہ، ۱۹۵۰ءء
[۴۶] الفصل فی الملل و الاھواء والنحل، ج۲، ص۱۱۳، طبع بغداد
[۴۷] ملل و نحل، ص ۱۳۱
[۴۸] دائرة المعارف القرن العشرین، ج۵، ص۴۲۴
[۴۹] فرقہ شیعہ، ص ۱۷
[۵۰] ھویة التشیع، الشیخ احمد وائلی، ص ۱۲، من موسوعة العتبات المقدسہ المدخل، ص۹۱
[۵۱] ڈاکٹر عبد اللہ فیاض، تاریخ امامیہ، ص ۳۳۔ ۳۲
[۵۲] میزان الاعتدال، ج۱، ص۶
[۵۳]
[۵۴] شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۷
تشیع کا خصوصی مفہوم
حضرت علی کا رسول کے بعد تمام لوگوں پر افضلیت رکھنا نبی اکرم کے صریح نص سے ثابت ہے اور ان کی امامت کے حوالے سے رسول کی حدیث موجودہے اور خدا کا حکم بھی ہے، رسول اکرم کے بعد آپ کی امامت ثابت ہے۔
یہ وہ مفہوم ہے جو عہد رسالت میں موجود تھا جس کو رسول کے بعض قریبی اصحاب نے درک کیا اور دوسرے افراد تک اس کو پہنچایا اور روز و شب کی گردش سے دوام پاتا گیا، یہاں تک کہ آج اس کو حیات جاویدانی مل چکی ہے اور خدا اس کو مزید حیات عطا کرے، اثنی عشری شیعہ حضرات نے اس کو عقیدہ کا جزء جانا ہے جس کو بطور خلاصہ ہم پیش کریں گے۔
اثنا عشری عقیدہ
شیعہ اثنا عشری حضرات اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے امام بارہ ہیں اور وہ یہ ہیں، علی ابن ابی طالب، حسن بن علی، حسین بن علی، علی بن الحسین السجاد، محمد بن علی الباقر، جعفر بن محمد الصادق، موسی بن جعفر الکاظم، علی بن موسیٰ الرضا، محمد بن علی التقی، علی بن محمد النقی، حسن بن علی عسکری، محمد بن حسن المنتظر صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین اور اپنے عقیدہ کے ثبوت میں ان نصوص کو سند بناتے ہیں جو فریقین کے درمیان متفق علیہ ہیں اور ولایت علی ابن ابی طالب جو کہ اللہ و رسول کے حکم سے ثابت ہے ان میں کچھ گذشتہ بحثوں میں گذر چکی ہیں ان میں سے خاص طور سے حدیث غدیر، حدیث ثقلین جس میں رسول اکرم نے اہل بیت سے تمسک کی ضرورت پر نص کے طور پر حکم دیا ہے، بحثوں میں اہل بیت کا تعارف کراچکے ہیں اوران کے بعد بقیہ ائمہ ان کی کل تعداد بارہ ہے۔
اس کے علاوہ وہ نصوص جس کے وہ لوگ تنہا دعویدار ہیں، متفق علیہ اسناد ہیں جو کہ اہل سنت کے بزرگ علماء نے درج کیاہے، ان میں سے بخاری و مسلم ہیں نیز اصحاب صحاح و مسانید اوراحادیث کے معجم مرتّب کرنے والے افراد، نے اس کو نقل کیا ہے۔
بخاری کے الفاظ ہیں کہ: جابر بن سمرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم کو فرماتے سنا کہ ”بارہ امیر ہوں گے“ اس کے بعد ایک جملہ کہا جس کو میں سن نہ سکا تو میرے والد نے کہا ”وہ سب کے سب قرش سے ہوں گے“ علماء اہل سنت بارہ کی عدد میں متحیر ہوگئے۔
ابن کثیر بارہ ائمہ کے حوالے سے جو کہ سب قریش سے ہوں گے، کہتے ہیں کہ یہ وہ بارہ امام نہیں ہیں جن کے بارے میں رافضی دعویٰ کرتے ہیں، یہ لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ لوگوں کے امور صرف علی ابن ابی طالب سے مربوط ہیں پھر ان کے فرزند حسن اور ان کے عقیدے کے مطابق ان کے سب سے آخر مہدی منتظر جو کہ سامرہ کے سرداب میں غائب ہوئے ہیں اور ان کا کوئی وجود نہیں ہے، نہ ہی کوئی اثر ہے نہ ہی کوئی نشانی، بلکہ ا س حدیث میں جن بارہ کے بارے میں خبر دی گئی ہے وہ چار خلیفہ ابوبکر، عمر،عثمان، علی اور عمر بن عبد العزیز ان دو اقوال کے درمیان اہل سنت کی تفسیر اثنا عشری میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
ابن کثیر نے حدیث کو نقل کرنے کے بعد علماء کے اقوال کو نقل کیا ہے جن میں سے بیہقی بھی ہیں لیکن عدد کے سلسلہ میں غلطی کی ہے اور ان علماء نے خلفاء راشدین کے ساتھ بنی امیہ کے خلفاء کو بھی بیان کیا ہے اور یزید بن معاویہ، ولید بن یزید بن عبد الملک جس کوابن کثیر نے کہا ہے کہ ”یہ فاسق ہے جس کی مذمت میں ہم حدیث پیش کرچکے ہیں“ ان دونوں کواس فہرست میں داخل کرنے میں بہت ساری مشکلات سے دو چار ہوئے ہیں۔
یہ لوگ بارہ کی عدد کو مکمل کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ ان میں سے بعض کو حذف کریں کیونکہ لوگوں کا ان افراد پر اجتماع نہیں ہے اور وہ خاطر خواہ نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔
آخر میں ابن کثیر نے اس بات کا اعتراف کیاہے کہ ابو جلد کی روایت صحت سے قریب ہے کیونکہ ابوجلد وہ شخص ہے جس کی نظر قدیم کتب پر ہے اور توریت میں بھی اس کے معنیٰ کودرک کیا ہے: اللہ نے ابراہیم کو اسماعیل کی بشارت دی اوراس بات کی بھی بشارت دی ہے کہ ان کی نسل پاک سے بارہ عظیم شخصیتوں کو خلق کرے گا۔
اس کے بعد ابن کثیر نے اپنے شیخ ابن تیمیہ حرانی کے قول کو نقل کیا ہے ”جابر بن سمرہ کی حدیث میں انھیں لوگوں کی بشارت دی گئی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ امت میں فاصلہ فاصلہ سے وجود میں آئیں گے، جب تک ان کی تعداد پوری نہیں ہوگی قیامت نہیں آئے گی۔
یہودیوں میں سے مشرف بہ اسلام ہونے والے وہ افراد غلطی پر ہیں، جن کا خیال ہے کہ رافضی فرقہ جو کہتا ہے وہی ہماری کتابوں میں لکھا ہے لہٰذا رافضیوں کی بات مانو۔( ۵۵ )
ان لوگوں کا اس بات کا اعتراف کہ اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں اثنا عشر سے مراد اہلبیت کو بتایاہے جن کو شیعہ حضرات بارہ امام کہتے ہیں کیونکہ یہاں اہل کتاب اسلام میں داخل ہوکر شیعہ کہلائے۔
اور ابن تیمیہ وغیرہ کا یہ خیال درست نہیں کہ وہ خلفاء امت میں فاصلہ فاصلہ سے ہوں گے کیونکہ حدیث میں اس طرح کا کوئی مفہوم نہیں ہے، جب کہ ان افراد کی تعداد خلافت اسلامی کے سقوط سے لے کر اب تک مکمل نہیں ہوئی۔
ابن حجر عسقلانی نے بعض علماء کے آراء کو پیش کیا ہے جس میں سے ابن جوزی اور ابن البطال اوردوسرے افراد ہیں۔
ابن جوزی اس حدیث کے سلسلہ میں کہتے ہیں: اس حدیث کے معنی کے بارے میں بہت طولانی بحث کی اوراس کے تمام مفاہیم پر غور کیا لیکن مجھ کو روایت کا اصل مفہوم معلوم نہ ہوسکا، اس لئے کہ حدیث کے الفاظ مختلف ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں یہ خلط ملط راویوں نے کیا ہے۔( ۵۶ )
اس بات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کا اس حدیث کے بارے میں مضطرب و سرگردان رہنے کا راز یہ ہے کہ اس حدیث میں ”خلیفہ اور امیر“ جیسے الفاظ ہیں، لوگوں نے اس کا مطلب خلفاء بنی امیہ و بنی عباس اور ان کے علاوہ دوسرے سرکش حکمرانوں کو سمجھ لیا اور وہ یہ بھول بیٹھے کہ خلافت و امارت در حقیقت امامت ہے جو کہ حکم واختیار کے حساب سے زیادہ وسعت رکھتا ہے۔
شیعیت کے باقی عقائد حسب ذیل ہیں:
۱ ۔ توحید : یعنی خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک و ہم پلہ نہیں، وہ ذاتاً واجب الوجود ہے، نہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا، وہ آفات و نقصان سے منزہ ہے، وہ زمان و مکان میں محدود نہیں، اس کے مثل کوئی چیز نہیں، وہ جسمانیات و حدوث سے پاک و پاکیزہ ہے دنیا و آخرت میں اس کو آنکھیں دیکھ نہیں سکتی، اس کی تمام صفات ذاتی مثلاً: حیات، قدرت، علم، ارادہ اور ان کے مانند دیگر صفات اس کی عین ذات ہیں۔
۲ ۔ عدل: شیخ مفید نے اس اصل کا خلاصہ یوں کیا ہے کہ خدا عادل و کریم ہے اس نے بندوں کو اپنی عبادت کے لئے خلق کیا ہے او ران کو اطاعت کا حکم دیاہے اور گناہ و معصیت سے منع کیا ہے اور اپنی ہدایت سب پر یکساں رکھی ہے، کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم نہیں دیا، اس کی خلقت نہ ہی عبث ہے اور نہ ہی اس میں کسی طرح کی اونچ نیچ ہے، اس کا فعل قبیح نہیں، اعمال میں بندوں کی شرکت سے منزہ ہے ،کسی کو اس کے گناہ کے سوا عذاب نہیں دیتا، کسی بندے کی ملامت نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ کوئی قبیح فعل انجام دے:
( إنَّ اللّٰهَ لا یَظلِمُ مِثقَالَ ذَرَّةٍ فَاِن تَکُ حَسَنَةً یُضَاعِفُهَا وَ یُؤتَ مِن لَّدُنهُ اجراً عَظِیماً ) ( ۵۷ )
اسی جگہ پر دوسرے مذاہب کے سربراہ افراد یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی نیکوکار کو بغیر کسی گناہ کے سزا دے سکتا ہے اور کسی بھی گنہگار پر نعمتیں نازل کرکے جنت میں بھیج سکتا ہے، یہی ہے خدا کی جانب ظلم کی نسبت دینا، اور خدا ان خرافات سے پاک و منزہ ہے۔
معتزلہ نے شیعوں کے اس مسئلہ میں اتفاق رائے کیا ہے اسی سبب سےاصطلاح میں ان دونوں فرقوں کو ”عدلیہ“ کہتے ہیں۔
۳ ۔ نبوت: یعنی مخلوقات کی جانب مبشر و نذیر کی صورت میں انبیاء کی بعثت واجب ہے اور خداوند تعالیٰ نے سب سے پہلے آدم اور آخر میں انبیاء کے سردار، افضل بشر، سید خلائق اجمعین حضرت محمد بن عبد اللہ خاتم النبیین کی صورت میں مبعوث کیا، قیامت تک آپ کی شریعت کا بول بالا رہے گا، آپ خطا و نسیان اور قبل بعثت و بعد بعثت معاصی کے ارتکاب سے محفوظ تھے۔
آپ کبھی اپنی طرف سے کوئی گفتگو نہیں کرتے جب تک وحی الٰہی کا نزول نہ ہو جائے، آپ نے حق رسالت کو مکمل طور پر ادا کیا، مسلمانوں کے لئے حدود شریعت کو بیان کیا، قرآن آپ کے قلب پر نازل ہوا دررانحالیکہ جب وہ قدیم نہیں تھا،کیونکہ قدیم صرف ذات پروردگار ہے، اس کتاب کے سامنے یا پیچھے سے باطل نفوذ نہیں کرسکتا یہ تحریف سے قطعی محفوظ ہے۔
۴ ۔ امامت: امامیہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امامت ایک طرح کا لطف الٰہی ہے اور نبی اکرم کے لئے ضروری کہ اس مسئلہ سے تغافل نہ کرے او رنبی اکرم نے غدیر خم میں حضرت علی کی ولایت و امامت کا اعلان کیا تھا اور ان سے تمسک کی سفارش بھی کی تھی اور بہت ساری احادیث میں ان کی اتباع کا حکم دیا تھا جس طرح سے اہلبیت سے تمسک کا حکم دیا تھا۔
۵ ۔ معاد: یعنی روز قیامت تمام مخلوقات زندہ ہو کر واپس آئیں گی تاکہ خدا ہر شخص کو اس کے عمل کے سبب جزا سزا دے سکے، جس نے نیکی کی اس کو جزا دے گا، جس نے برائی کی اس کو سزا دے گا اور شفاعت ایک طرح کا حق ہے جو گنہگار مسلمانوں کے لئے ہوگی اور کفار و مشرکین ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، یہ شیعہ عقائد تھے جن کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے۔( ۵۸ )
یہ درحقیقت ان افراد کے جھوٹے دعوؤں کا جواب تھا جو شیعوں کی جانب نہایت ہی غیر اور اس کے بعد معقول باتوں کی نسبت دی ہے، جیسے خدا کو مجسم بنانا اور دیگر نازیبا الزامات، جن کا مقصد صرف شیعیت کو بدنام کرنا ہے۔
انحرافی پہلو
وفات رسول اکرم کے بعد جو سب سے بڑی مصیبت آئی وہ تھی اجتہادی فکر کی نشو و نما جو کہ شیعی نظریات کو یکسر بدلنے کی کوشش کر رہے تھے خاص طور سے اموی حکمرانوں کے دور سلطنت میں اور ان کے بعد آنے والے ان کے ہم فکر عباسی خلفاء تھے جنھوں نے اس بات کی قسم کھا رکھی تھی کہ شیعیت کی اصلیت کو مختلف وسایل کے ذریعہ بدل دیں گے اور ان کے خلاف فیصلہ کریں گے لیکن جب ان کو یہ مشکل نظر آئی اور تمام ایذاء رسانیاں، قتل و بربریت، تباہی و بربادی، شیعوں کے خلاف، ناکام ہوتی ہوئی نظر آئی، اور ان کے یہ ہتھکنڈے مسلمانوں کے ذہن میں شیعیت کے چہرہ کو مسخ کرنے سے عاجز رہے تو انھوں نے پینترا بدلہ اور شیعیت میں غلط فکروں کو شامل کرنے کی مہم چلائی اور اس زہریلی فکر کی تعلیم عوام میں دینی شروع کی، جس کا اصل مقصد لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھانا تھی کہ شیعہ ان افکار کے حامل ہیں نتیجتاً لوگ ان سے نفرت کرنے لگیں گے اور ان کی عظمت و شوکت میں ا نحطاط آئے گا اور ان کے خلاف فیصلہ کرنا آسان ہوگا یا کم سے کم ان کی حد بندی ہو جائے گی اور ان کی فکری نشوونما میں گراوٹ آئے گی اوراس امر میں حکومت کو کسی قسم کی قوت کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہیں سے بعض فاسد نظریات اور منحرف افراد کی ٹکڑی وجود میں آئی، جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا، جبکہ اس بات کا گمان کیا جاتا تھا کہ یہ اہلبیت سے منسوب ہیں اور ان کے افکار و افعال شریعت کے زیر سایہ انجام پارہے ہیں اور عوام کے جاہل طبقہ میں اس بات کی تشہیر و ترویج بھی ہو رہی تھی، اس ٹکڑی میں بہت سارے افراد آکر شامل ہوگئے، اور ان کے باطل اہداف کے سیلاب میں اس وقت سارے افراد فکری سیلاب زدگی کے شکار ہوگئے جس کے سبب اہل بیت نے ان انحرافی افکار، باطل عقائد سے لوگوں کو منع کیا تھا، یہاں تک شیعیت اپنے اصلی چہرے اور واقعی راہ و رسم پر گامزن ہوگئی ہر چند کہ مخالفین و معاندین نے اس کے حسین چہرہ کو مسخ کرنا چاہا تھا، جب کہ منحرفین اور گمراہوں کی یہ ناکام کوششیں حالات کے تحت تھوڑی بہت اثر انداز ہوئی تھی۔
منحرفین کی اہم ترین سازش یہ تھی کہ سلاطین دہر نے ان کو خفیہ طور پر استعمال کیا تھا تاکہ ان کے ذریعہ شیعیت میں پھوٹ پڑ جائے اور انھیں ارادوں کے تحت کچھ فرقوں نے جنم لیا جو حقیقی شیعیت سے بالکل جدا تھے، نیز ان فرقوں اور گروہوں میں غلو کرنے والے بھی شریک تھے جو کہ کچھ برے ارادہ و عقائد کے ساتھ مذہب تشیع میں گھس گئے ہم ان کا مختصر سا تعارف کرائیں گے اور اس کے بعد ان کے سلسلہ میں ائمہ ٪ کے آراء و نظریات پیش کریں گے۔
قارئیں محترم! آپ جان چکے ہیں کہ بارہ امام سے تمسک گویا عملی پیروی ہے جن کے بارے میں نص نبوی موجود ہے کہ یہ (اہلبیت ) وہ لوگ ہیں جن سے خدا نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا ہے اور ان کی طہارت کا اعلان کیا ہے۔
اور یہ وہی (عقیدہ) ہے جو شاہراہ نص کی تصویر کشی کرتا ہے اوراس سے جدا ہوکر خط اجتہاد پر جانے نہیں دیتا، مگر یہ کہ بعض افراد اس پر قائم و دائم نہ رہ سکے، درمیان راہ ساتھ چھوڑ کر الگ ہوگئے اور ”زیدیہ، اسماعیلیہ“ فرقوں سے جاملے جو کہ اثنی عشریوں کے کچھ عقیدوں میں تو ساتھ چلے پھر بقیہ عقائد میں ساتھ چھوڑ دیا۔
ان کے عقائد کا خلاصہ آپ کے پیش خدمت ہے:
۱ ۔ زیدیہ، یہ لوگ تمام اصحاب رسول پر حضرت علی کی افضلیت کے قائل ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ابوبکر وعمر کی صحت خلافت کے بھی قائل ہیں اور برتر پر کم تر کے تقدم کو جائز سمجھتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں کہ حسین بن علی کی امامت کے بعد اولاد حضرت زہرا میں جو شخص بھی عالم، زاہد، شجاع ہو اور تلوار کے ذریعہ قیام کرے اس کو حق امامت حاصل ہے۔
زیدیہ ہی کی ایک شاخ ”جارودیہ“ ہے جو حضرت علی کی افضلیت کے قائل ہیں اور کائنات ہست و بود میں کسی کو بھی ان کے ہم پلہ نہیں سمجھتے اور جو اس بات کا قائل نہ ہو اس کو کافر گردانتے ہیں اور حضرت علی کی بیعت نہ کرنے کے سبب اس وقت پوری امت کفر کی شکار ہوگئی، یہ لوگ حضرت علی کے بعد امامت حضرت امام حسن اور ان کے بعد حضرت امام حسین کا حق سمجھتے ہیں، ان دونوں کے بعد ان کی اولادوں کی کمیٹی کے تحت جو مستحق امامت ہوگا وہی امام ہے۔( ۵۹ )
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ زیدیہ کا عقیدہ شیعیت سے عمومی طور پر تھوڑا بہت میل کھاتا ہے جو کہ ان کو بغدادی معتزلہ اور بعض بصریوں سے جدا کرتا ہے، اس حوالہ سے یہ باتیں گذر چکی ہیں۔
۲ ۔ اسماعیلیہ، یہ وہ لوگ ہیں جو امام صادق کے بعد امامت کو ان کے بیٹے اسماعیل کو امام سمجھتے ہیں جب کہ اسماعیل اپنے باپ (امام صادق ) کی حیات ہی میں گذر گئے اور ان لوگوں نے یہ مان لیا کہ اسماعیل مرے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کو موت آسکتی ہے جب تک وہ پوری دنیا پر حکومت نہ کرلیں۔
یہ اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن کا ظاہر و باطن الگ الگ ہے، لہٰذا سماوات سبع (سات آسمانوں) و الارضون السبع (زمین کے ساتوں طبق) سے مراد، یہ ساتوں امام ہیں (حضرت علی سے لیکر امام صادق کے بعد ان کے بیٹے اسماعیل)، قواعد عقائد آل محمد میں لکھا ہے کہ شریعت کے باطن کو امام اور نائب امام کے سوا دوسرا نہیں جان سکتا، لہٰذا یہ جو حشر نشر وغیرہ کا لفظ استعمال ہواہے یہ سب کے سب رموز و اسرار ہیں اور اس کے بواطن (پیچیدگیاں) ہیں، غسل یعنی امام سے تجدیدعہد، جماع یعنی باطن میں امام سے کوئی معاہدہ نہیں ہے، نماز سے مراد امام کی سلامتی کی دعا، زکوٰة یعنی علم کی نشر و اشاعت اور اس کے حاجت مندوں تک اس کو پہنچانا، روزہ یعنی اہل ظاہر سے ظلم کو چھپانا، حج یعنی علم حاصل کرنا، نبی کعبہ کی مانند ہیں اور حضرت علی اس کے دروازے ہیں، صفا یعنی نبی، مروہ یعنی علی، میقات یعنی امام، لبیک کہنا (دوران حج) بلانے والے کے باطن کا جواب دینا، طواف کعبہ یعنی اہلبیت رسول کے بیت الشرف کا سات چکر لگانا اور ان جیسے بہت سارے عجیب و غریب عقائد کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔( ۶۰ )
اگر ہم ان فرقوں کو بغور ملاحظہ کریں تو اس بات کا انکشاف ہوگا کہ وہ شیعیت جس کی بنیاد رسول اکرم نے ڈالی تھی اور آج تک اپنے آب و تاب کے ساتھ پیغام رسالت کی حامل اور اثناعشری عزائم و عقائد کا مرکز ہے ان لوگوں کا شیعہ فرقوں سے کوئی واسطہ نہیں۔
غلو اور غلو کرنے والے!
اس بحث کو چھیڑ نے کا مقصد غلو کرنے والے اوراس کے فرقوں کی نقاب کشائی ہے اور وہ اختلاط جو متقدمین و متاخرین علماء نے اس فرقہ اور شیعیت کے درمیان جان بوجھ کر یا انجانے میں پیش کیا ہے ان کو بیان کرنا مقصود ہے، ان علماء نے غلو کرنے والوں کے بہت سارے عقائد کو شیعہ اثنا عشری فرقہ کی جانب نسبت دی ہے بعض نے ان کو ”رافضی“ کے لفظ سے یاد کیا ہے بظاہر وقت کلام شیعوں سے کنارہ کشی اختیار کی ہے اور ان پر لعن طعن کیا ہے،ان لوگوں نے غلو کرنے والے (فرقہ غالیہ) کے مختلف عقائد اور دوسرے فرقہ کے عقائد کو رافضہ یا روافض کے عقائد کے نام سے یکجا کردیاہے۔
جیسا کہ ابن تیمیہ نے بہتیرے فاسدو باطل عقائد اور عجیب و غریب باتوں کو رافضیوں کے نام ایسا منسوب کیا ہے کہ قاری کے ذہن میں یہ بات ایسے راسخ ہو جائے کہ یہ شیعوں کے عقائد ہیں، لیکن چند صفحات سیاہ کرنے کے بعد کچھ یوں اظہار نظر کرتے ہیں:
”جو بات قابل توجہ ہے وہ یہ کہ شیعوں کی قسموں میں جو لائق مذمت اقوال و افعال جو کہ مذکورہ باتوں سے کہیں زیادہ ہیں یہ سب کے سب نہ ہی شیعہ اثنی عشری فرقہ میں ہیں اور نہ ہی زیدیہ میں، بلکہ ان میں سے زیادہ تر فرقہ غالیہ اور ان کے سطحی افراد میں پائی جاتی ہیں۔( ۶۱ )
مشکل اس بات کی ہے کہ یہ سارے منحرف اور غلاة گروہ اہل بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے تھے اور ان خرافاتی گروہ کا مرکز شہر کوفہ تھا اور یہ شر پسند افراد اپنے تمام تر عقائد میراث میں پائے تھے اور اپنے شہر ”مانویہ، ثنویہ“ سے کسب کیا تھا جو کہ مجوسیوں کے تراشیدہ و خود ساختہ عقائد تھے، نیز حلول، اتحاد، تناسخ (آواگون)، جیسے عقائد ہندوستان کے فرسودہ عقائد کا چربہ تھا یااس کے مانند دیگر ممالک جو اسی دسترخوان کے نمک خوار تھے، انھیں سب اسباب کے تحت یہ باطل عقائد فطری طور پر منحرف اور سادہ لوح افراد کے درمیان بہت تیز پھیلے، جب انھوں نے عام مسلمانوں بالخصوص شیعیان کوفہ کو اہلبیت کرام کے لطف و کرم سے فیضیاب ہوتے ہوئے دیکھا تو اپنے آپ کو اہلبیت سے منسوب کردیا اور خود کو ان کا شیعہ ظاہر کیا ،تاکہ لوگوں کے دلی لگاؤ کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں ،جس کے سبب ان کے عقائد کی ترویج میں ان کو آسانی ہوئی۔
جبکہ اہلبیت نے ان خطوط سے لوگوں کو ہوشیار اور مسلمانوں و شیعوں کو غلاة کی مکاریوں سے آگاہ بھی کیا جیسا کہ گذر چکا ہے، مزید کچھ ذکر آئے گا۔
غلو کے سلسلہ میں جو اصل مشکل ہوئی وہ یہ کہ اس کے مفہوم کی حد بندی نہیں ہوئی اور واضح نہ ہوسکا جس کا فطری اثر خلط عقائد ہوا، لہٰذا ان امور کی وضاحت ضروری ہے۔
غلو کے لغوی معنیٰ: قصد و ارادہ کے ساتھ نکلنا اور حد سے بڑھ جانا ہے، لہٰذا ہر وہ چیز جو حد سے باہر نکل جائے وہ غلو ہے۔
ابن منظور کے بقول: اس نے دین و امر میں غلو کیا یعنی، حد سے باہر نکل گیا۔
غلو قرآن کی نظر میں:
( لاتغلوا فی دینکم ) دین میں غلو نہ کرو۔
بعض لوگوں نے کہا: ”فلاں شخص نے اس امر میں غلو کیا“ یعنی وہ حد سے گذر گیا اور تفریط سے کام لیا۔( ۶۲ )
اصطلاح میں اس کی کوئی جامع و مکمل تعریف دستیاب نہ ہوسکی، لیکن علماء کے نظریات و تعریف کی روشنی میں جو کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ:کچھ افراد کے سلسلہ میں قصد و ارادہ کے ساتھ حد سے بڑھ جانا یا ان کو ان کی حیثیت سے زیادہ مرتبہ دینا۔
فضیلت و کمال میں غلو کرنا یعنی اس کو اس حد تک بڑھا دینا کہ نبوت و الوہیت کے مرتبہ تک پہنچ جائے تو اس کو ایک قسم کا غلو کہیں گے۔
بنی امیہ کے دور حکومت میں بعض حدیثیں صرف بغض و حسد کے سبب کچھ اصحاب کی شان میں گڑھ دی گئیں اور ان کا اصل مقصد صرف اہلبیت کے فضائل کو مٹانا اور ان کو ان کے مراتب سے گھٹانا تھا۔
جیسا کہ مدائنی و نفطویہ جیسے علماء اہل سنت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے، مثلا عمر بن الخطاب کے فضائل، یا ان لوگوں کا یہ کہنا کہ خدا سارے لوگوں پر اپنا نور آشکار کرتا ہے لیکن ابوبکر پر عنایت خاص تھی، یا یہ کہ آسمان کے فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں اس کے علاوہ ام المومنین عائشہ و طلحہ و زبیر کی قصیدہ خوانی، کہ جنھوں نے حضرت علی جیسے واجب الطاعہ امام کے خلاف جنگ کی۔
بعض صوفیوں نے اپنے پروو ں اور مریدوں کے بارے میں نہایت ہی رکیک باتیں مشہور کیں اور ان کو بسا اوقات انبیاء سے بھی بڑھا دیا، اور مذاہب اربعہ کے ماننے والوں نے اپنے اماموں کے لئے تو بہت کچھ تیار کر ڈالا اور ان کی شان میں از حد غلو سے کام لیا۔
روندیہ فرقہ نے بنی عباس کے سلسلہ میں کفر کی حدتک غلو کیا، اس فرقہ نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ ابو ہاشم نے محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب کو وصی بنایا تھا، اس لئے کہ یہ ”شراہ“ نامی مقام جو کہ ملک شام میں ہے، وہیں ان کے پاس مرے تھے اور علی اس وقت چھوٹے بھی تھے لہٰذا وہی امام وہی خدا ہیں وہی ہر چیز کے عالم کل ہیں، جو ان کو پہچان لے وہ جو چاہے انجام دے سکتا ہے، اس کے بعد محمد بن علی نے اپنے بیٹے ابراہیم بن محمد ملقب بہ امام کو وصی بنایا، یہ فرزندان عباسی کی پہلی فرد ہیں جن کو امامت ملی، ابو مسلم خراسانی نے بھی اس بات کا دعویٰ کیاہے۔
اس کے بعد ابراہیم نے اپنے بھائی ابو العباس عبد اللہ بن محمد ملقب بہ سفاح کو وصی بنایا، یہ عباسی سلسلہ کا پہلا خلیفہ تھا، اس نے اپنے زمانے میں اپنے بھائی ابو جعفر عبد اللہ بن محمد منصور کو وصی بنایا اس نے اپنے بیٹے مہدی بن عبد اللہ کو وصی بنایا اس نے ولایت سنبھالتے ہی وصیت کو بدل دیااور اس بات کا منکر ہوا کہ نبی نے محمد بن حنفیہ کو وصی نہیں بنایا تھا، بلکہ رسول نے عباس بن عبد المطلب کو وصی بنایا تھا، کیونکہ عباس رسول کے چچا اور ان کے وارث تھے نیز اور لوگوں کے بہ نسبت زیادہ رسول سے قریب تھے، ابوبکر و عمر و عثمان و علی جو کہ رسول کے بعد خلیفہ رسول بنے یہ سب غاصب تھے اور حکومت کوان سے چھین لیا تھے، اس نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ رسول کے بعد امامت کا حق عباس کا تھا ان کے بعد ان کے وارث، عبد اللہ بن عباس، پھر ان کے بیٹے علی بن عبد اللہ، پھر ابراہیم بن محمد الامام، پھر ان کے بھائی عبد اللہ، پھر ان کے بھائی ابو العباس، پھر ان کے بھائی ابی جعفر منصور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔
عبد اللہ روندی کے بارے میں روندیہ فرقہ کا کہنا ہے: امام، یعنی ہر شیء کا عالم اور وہی خداوند عالم ہے جو ہر ایک کو موت و حیات دینے والا ہے، ابو مسلم خراسانی اللہ کے رسول اور عالم غیب ہیں، ابو جعفر منصور نے ان کو رسالت عطا کی تھی کیونکہ وہ الوہیت کے درجہ پر فائز تھے اور وہ ان کے اسرار و رموز سے واقف تھے، منصور کے رسولوں نے دعوت کا اعلان کیا۔
جب منصور کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو اس نے ایک گروہ کو طلب کیا تو انھوں نے اس بات کا اقرار کیا، اس نے اس بات سے توبہ اور روگردانی کا حکم دیا تو انھوں نے کہا کہ منصور ہمارا خدا ہے وہی ہم کو شہید کرتا ہے، جس طرح سے انبیاء و مرسلین جن کے ہاتھوں وہ چاہتا ہے، شہید کئے گئے، اور ان میں سے بعض کے عمارت ڈھاکر یا غرق کر کے ہلاک کیا، بعض کے اوپر درندے چھوڑ دیئے، بعض کی روحوں کو حادثاتی یا دل بخواہ علتوں سے قبض کرلیا، وہ اپنی مخلوقات کے ساتھ جیسا چاہے برتاؤ کر اسی کو اختیار ہے اس سے کسی بات کا سوال نہیں ہوگا۔( ۶۳ )
اسلام سے قبل ادیان و مذاہب میں بھی غلو پایا جاتا تھا۔
یہودیوں نے حضرت عزیر کی الوہیت کا دعویٰ کیا، جس کو روایات نے بھی بیان کیا ہے اور قرآن نے بھی اس کی عکاسی کی ہے۔
( او کَالَّذِی مَرَّ عَلٰی قَرْیَةٍ وَ هِیَ خَاوِیَةٌ علٰی عُرُوشِهَا قَالَ انیٰ یُحیِی هٰذِهِ اللّٰهُ بَعدَ مَوتِهَا فَامَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ) ( ۶۴ )
(یا اس بندے کے مثال جس کا گذر ایک بستی ہوا جس کے عرش و فرش گر چکے تھے تو اس بندے نے کہا کہ خدا ان سب کو موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا تو خدا نے اس بندہ کو سو ( ۱۰۰) سال کے لئے موت دیدی اور پھر زندہ کیا)۔
قرآن کریم نے ان کے خرافاتی نظریہ کو کچھ یوں نقل کیا ہے:
( وَ قَالَتِ الیَهُودُ عَزِیزٌ ابنِ اللّٰهِ ) ( ۶۵ )
(یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں)۔
روایات اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ حضرت عزیر کے توسط سے کچھ ایسے معجزات رونما ہوئے جس کے سبب یہودی یہ کہنے لگے کہ ان میں الوہیت پائی جاتی ہے یا اس کا کچھ جزء شامل ہے، یہودیوں کے مثل نصاری کے یہاں بھی ایسے نظریات پائے جاتے ہیں، انھوں نے حضرت عیسیٰ کے سلسلہ میں غلو کیا اوران کی الوہیت کا دعویٰ کیا، قرآن کریم نے گذشتہ آیت میں یہودیوں کے نظریات کے فوراً بعد ان کے نظریات کا تذکرہ کیا ہے:
( وَ قَالَتِ الیَهُودُ عَزَیرٌ ابنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصاریٰ المَسِیحُ ابنُ اللّٰهُ ذٰلِکَ قَولُهُم یُضَاهِئُونَ قَولَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِن قَبلِ قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ انّٰی یُؤفَکُونَ ) ( ۶۶ )
(اور یہودیوں کا کہنا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں یہ سب ان کی زبانی باتیں ہیں ان باتوں میں وہ بالکل ان کے مثل ہیں، جو ان کے پہلے کفار کہتے تھے اللہ ان سب کو قتل کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں)۔
اسی سبب قرآن نے ان کی مذمت کی اور ان باطل خیالات و خرافات کی تنبیہ کی ہے۔
قال اللّٰہ:( یَا اهلَ الکِتَابِ لاتَغلُوا فِی دِینِکُم وَ لاتَقُولُوا علٰی اللّٰهِ إلا الحَقِّ ) ( ۶۷ )
(اے اہل کتاب اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور خدا کے بارے میں حق کے علاوہ کچھ نہ کہو)
یہ بات بالکل ممکن تھی کہ غلو مسلمین میں سرایت کر جائے، کیونکہ اہل کتاب کی شر پسندیاں ان کے فاسد و باطل عقائد سے واضح ہیں۔
دوسری جانب وہ دوسری اشرار قومیں جو مجوسیت اور دیگر ادیان سے خارج ہوکر اسلام میں داخل ہوئیں تھیں اور اسلام کا دکھاوا کر رہیں تھیں۔
نیز اہل کتاب اور دیگر افراد جنھوں نے بظاہر اپنی گردنوں میں قلادہ اسلام ڈال رکھا تھا، انھوں نے ضعیف الایمان مسلمانوں کو دھوکہ میں رکھ کر ان کے درمیان غلو جیسے باطل عقیدہ کو خوب ہوا دی، درحقیقت یہ اسلام کو اندر ہی اندر کچل ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
غلو سے اسلامی فرقے محفوظ نہیں ہیں، ان فرقے کے علماء وغیرہ نے اپنے بزرگوں کی ثنا خوانی میں عقل کی شاہراہ کو چھوڑ دیااور حدود منطق سے یکسر خارج ہوگئے۔( ۶۸ )
۱. بعض افراد کے نظریات:
وہ کہتے ہیں کہ خداوند عالم نے ابو حنیفہ کو شریعت و کرامت سے نوازا ہے ان کی کرامات میں سے یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام ہر صبح ان کے پاس آتے تھے اور احکام شریعت کی تعلیم حاصل کرتے تھے اور یہ سلسلہ پانچ سال تک قائم تھا جب ان کا انتقال ہوگیا تو حضرت خضر نے خدا سے دعا کی، خدایا! اگر تیری بارگاہ میں میری کوئی قدر و منزلت ہے تو اس کے سبب، ابو حنیفہ کو اجازت دیدے تاکہ وہ قبر میں رہ کر حسب عادت مجھے کچھ تعلیم دیتے رہیں اور میں شریعت محمد کی مکمل تعلیم حاصل کرلوں، اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ کیا اور حضرت خضر نے ان سے پچیس سال علم حاصل کیا جب حضرت خضر کی تعلیم مکمل ہوگئی تو خدا نے حکم دیا کہ قشیری کے پاس جاؤ اور جو کچھ ابوحنیفہ سے سیکھا ہے ان کو سکھاؤ۔
حضرت خضر نے جو کچھ ابوحنیفہ سے سیکھا تھا قشیری کو سکھایا اس کے بعد انھوں نے ایک ہزار ( ۱۰۰۰) کتاب تصنیف کی، اور یہ جیحون نامی نہر کی آغوش میں بطور امانت رکھی ہے جب حضرت عیسیٰ چرخ چہارم سے آئیں گے تو اسی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں گے، اس لئے کہ جس زمانے میں حضرت عیسیٰ آئیں گے سردست شریعت محمدی کی کوئی کتاب مسیر نہ ہوگی حضرت عیسیٰ جیحون کی امانت کو واپس لیں گے وہ قشیری کی کتاب ہوگی،الاشاعة فی الشراط الساعة، ص ۱۲۰ ، الیاقوتہ، ابن الجوزی، ص ۴۵ ۔
ابو حنیفہ کی موت پر جناتوں نے گریہ کیا ان کے پاس ثبوت ہے کہ جس رات ابوحنیفہ مرے تھے اس رات گریہ کی آواز آرہی تھی مگر رونے والا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ذهب الفقه فلا فقه لکم
فاتقوا اللّٰه و کونوا خلفائ
مات نعمان فمن هذا الذی
یحیی اللیل اذا ما سدنا
(فقہ ختم ہوگئی اب تمہارے پاس کوئی فقہ نہیں تقوی الٰہی اختیار کرو اوران کے خلف صالح بنو۔
نعمان گذر گئے ان کے مثل کون ہوگا جو راتوں کو جاگتا تھا جب رات کی تاریکی پھیل جاتی تھی)
وہ اس بات کے قائل ہیں کہ، احمد بن حنبل امام المسلمین سید المومنین ہیں انھیں کے ذریعہ ہم کو موت و حیات ملتی ہے اور انھیں کے ذریعہ ہمارا معاد ہوگااور جو اس نظریہ کا قائل نہیں ہے وہ کافر ہے ذیل طبقات الحنابلہ، ج ۱ ، ص ۱۳۶ ۔
انھوں نے احمد بن حنبل کے بغض کو کفر اور محبت کو سنت قرار دیا ہے اور اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کسی شخص کو ان کی محبت میں سرشار پاؤ تو سمجھو کہ یہ سنت و جماعت کا پیروکار ہے الجرح و التعدیل، ج ۱ ، ص ۳۰۸ ۔
شافعی کی طرف نسبت دے کر کہتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ جو احمد بن حنبل سے بغض رکھے وہ کافر ہے ان سے کسی نے کہا کہ کیا اس پر کفر باللہ صادق آئے گا؟ تو آپ نے کہا: ہاں جو شخص ان سے بغض رکھے گویا صحابہ سے عناد رکھتا ہے جس نے صحابہ سے دشمنی کی گویا اس نے رسول سے عداوت برتی اور جس نے رسول سے عداوت کی وہ کافر ہے طبقات الحنابلہ، ج ۱ ، ص ۱۳ ۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمد ابن حنبل سے بغض رکھنے والا اللہ کا منکر ہے ابن جوزی نے علی بن اسماعیل سے نقل کیا ہے کہ میں نے دیکھا کہ قیامت برپا ہے سارے لوگ ایک پل کے پاس جمع ہیں اور کوئی شخص اس سے گذر نہیں سکتا جب تک اس ایک پروانہ مل نہ جائے کونے میں ایک شخص ہے جو پروانہ عطا کرتا ہے جو اس کو لے کر آتا ہے اس سے گذر جاتا ہے میں نے پوچھا: یہ کوں شخص ہے جو پروانے عطا کرتا ہے؟
لوگوں نے جواب دیا: یہ احمد ابن حنبل ہیں مناقب ابن الجوزی، ص ۴۴۶ ۔
اسود ابن سالم کہتا ہے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اسود، اللہ نے تم کو سلام کہا ہے اور تم کو پیغام دیا ہے کہ احمد بن حنبل کے ذریعہ امت گناہوں سے بچی ہے لہٰذا تم کیا کر رہے ہم؟ اگر تم ان سے متمسک نہ ہوئے تو تم ہلاک ہو جاو گے ۔
حسن صواف کہتا ہے کہ میں نے خدا کو خواب میں دیکھا اس نے مجھ سے کہا: جس نے احمد بن حنبل کی مخالفت کی وہ مستحق عذاب ہے۔ مناقب احمد بن حنبل، ص ۴۶۶ ۔
ابو عبد اللہ سجستانی کہتا ہے کہ میں نے رسول اکرم کو خواب میں دیکھا اور عرض کی یا رسول اللہ! آپ کے بعد اس امت میں آپ کا خلیفہ و نمائندہ کون ہے تاکہ دین میں اس کی اقتدا کریں؟
تو آپ نے فرمایا: احمد بن حنبل کی پیروی کرو مناقب احمد بن حنبل، ص ۴۶۸ ۔
امام مالک نے خود اپنے خوابوں کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ”کوئی ایسی رات نہیں بیتی جس میں ہم نے رسول کو نہ دیکھا ہو الدیباج، ص ۲۱ ۔
خلف بن عمر کہتا ہے: میں امام مالک کے پاس گیا تو انھوں نے کہا کہ میرے مصلے کے نیچے دیکھو کیا ہے میں نے اس کے نیچے ایک کتاب پائی انھوں نے کہا:اس کو پڑھو! اس میں وہ سارے خواب ہیں جس کو برادارن نے دیکھا ہے، پھر انھوں نے کہا کہ میں نے ایک رات خواب دیکھا کہ رسول مسجد میں تشریف فرما ہیں اورلوگ ان کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے ہیں آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”ہم نے تم لوگوں سے علم خوشبو چھپالی، اور اب مالک کو حکم دیتا ہوں کہ اس کو لوگوں میں پھیلائیں لوگ وہاں سے یہ کہتے ہوئے اٹھے کہ، اب مالک حکم رسول کے مطابق نفاذ حکم کریں گے“اس کے بعد مالک روئے اور میں ان کے پاس سے چلا آیا۔ مناقب مالک، ص ۸ ، حلیہ الاولیاء، ج ۶ ، ص ۳۱۶ ۔
محمد بن رمح کہتا ہے: کہ میں نے اپنے باپ کے ساتھ حج انجام دیا ابھی میں بالغ بھی نہیں ہوا تھا اور میں مسجد نبی میں قبر رسول و منبر رسول کے درمیان سوگیا میں نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم عمر و ابوبکر کے شانوں کا سہارا لئے قبر سے باہر آئے میں نے ان سب کو سلام کیا، انھوں نے جواب سلام دیا۔
میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کہاں جانے کا قصد رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مالک کے لئے صراط پر کھڑے ہونے جارہا ہوں، میری آنکھ کھل گئی اس کے بعد میں اور میرے والد مالک کے پاس گئے تو کیا دیکھا لوگ ان کے پاس جمع ہیں انھوں نے سب سے پہلے لوگوں کے لئے موطا لکھی ، مناقب مالک، عیسیٰ بن مسعود مرزواوی، ص ۱۷ ۔
محمد بن رمح ہی اس بات کا ناقل ہے کہ میں نے چالیس سال کی عمر میں بھی رسول کو خواب میں دیکھا اور عرض کی: یارسول اللہ! مالک اور لیث نے ایک مسئلہ پر اختلاف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: مالک میرے جد ابراہیم کے میراث کے وارث ہیں ۔ الجرح والتعدیل، ج ۱ ، ص ۲۸ ۔
بشیر ابن ابی بکر کہتا ہے کہ: میں نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوگیاہوں میں نے اوزاعی اور سفیان ثوری کودیکھا لیکن امام مالک نظر نہ آئے، میں نے پوچھا: مالک کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: مالک کہاں ہیں؟ مالک بلند ہوئے، بلند ہوئے وہ کہتا جارہا تھا کہ مالک ہاں ہیں؟ مالک ہاں ہیں؟ مالک بلند ہوئے جاتے تھے اور اتنی بلندی تک پہنچ گئے کہ اگر دیکھو تو ٹوپی گر جائے الجرح و التعدیل، ج ۱ ، ص ۲۸ ۔
ابونعیم نے ابراہیم بن عبد اللہ سے اسماعیل بن مزاحم مروزی کی بات کو نقل کیا ہے، وہ کہتا ہے: کہ میں نے خواب میں رسول اللہ کو دیکھا تو میں نے سوال کیا یا رسول اللہ! آپ کے بعد کس سے مسائل دریافت کریں؟ تو آپ نے فرمایا: مالک ابن انسحلیة الاولیاء، ج ۶ ، ص ۳۱۷ ۔
مصعب بن عبد اللہ زبیری کہتا ہے کہ: جب ایک شخص رسول کے پاس آیا تو آپ کو فرماتا سنا کہ تم میں مالک کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ آپ نے ان کو سلام کیا گلے سے لگایا سینے سے چمٹایا وہ کہتا ہے کہ: خدا کی قسم کل میں نے رسول کو اسی جگہ بیٹھے دیکھا تھا اس وقت آپ نے حکم دیا مالک کو بلاؤ جب آپ آئے تو آپ کے اعضاء کانپ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ: اے ابا عبد اللہ! تم کو کچھ ایسا نہیں ہونا چاہیئے ہم تمہارے ساتھ ہیں اس کے بعد حکم دیا بیٹھ جاؤ، آپ بیٹھ گئے، پھر حکم دیا اپنا دامن پھیلاؤ آپ نے پھیلایا، رسول نے آپ کے دامن کو مشک سے بھر دیا اور حکم دیا ا سکو سینہ سے لگا لو اور میرے امت میں اس کو تقسیم کرو مصعب کہتا ہے کہ: مالک یہ سن کر بہت روئے اور فرمایاکہ خواب سرور بخش ہوتے ہیں دھوکہ باز نہیں اگر تمہارا خواب صحیح ہے تو یہ وہی علم ہے جس کو خدا نے ہمیں عطا کیا ہے الانتقاء، ص ۳۹ ، شرح مو طا، زرقانی، ج ۱ ، ص ۴
عدوی کہتا ہے کہ: جب ہماری امت و اسلام کے شیخ اللقانی دنیا سے گذر کئے تو بعض متدین افران نے ان کو خواب میںدیکھا کسی نے پوچھا خدا نے کیا برتاؤ کیا ہے تو انھوں نے جواب دیا: جب قبر میں دونوں فرشتوں نے بٹھایا تاکہ سوال کریں اس دم امام مالک تشریف لے آئے اور پوچھا کہ کیا ایسے افراد کے ایمان کے سلسلہ میں بھی سوال کی ضرورت ہے؟ ان سے تم دونوں دور ہو جاؤ دور ہو جاؤ مشارق الانوار، عدی، ص ۲۲۸ ۔
انھیں لوگوں میں سے منقول ہے کہ: رسول اکرم نے مالک کی کتاب کا نام موطا رکھا ہے آپ سے جواب میں سوال کیا گیا کہ لیث و مالک کسی مسئلہ پر اختلاف رائے رکھتے ہیں ان میں کون عالم ہے؟ تو نبی نے فرمایا: مالک میرے جد ابراہیم کے وارث ہیں مناقب مالک، زاوی، ص ۱۸ ۔
اس شخص نے دوبارہ رسول اکرم سے خواب میں پوچھا: کہ آپ کے بعد کس سے مسائل دریافت کریں تو آپ نے فرمایا: مالک ابن انس مناقب مالک زاوی، ۱۸ ، ماخوذ، الامام الصادق و المذاہب الاربعہ، اسد حیدر۔
جیسا کہ اسلام سے پہلے کے ادیان غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے چنانچہ ان کے عقائد و نظریات سے واضح ہے،اسی طرح اسلامی فرقے اس کی لپیٹ میں آگئے، مگر یہ کہ بعض مورخین و سیرت نگاروں نے غلو کو صرف ایک فرقہ کی جانب منسوب کردیا کہ فرقہ شیعہ اس میں گرفتار ہے یہ کام اس راہ پر چلتے ہوئے انجام دیا گیا، جس کو شر پسند حکومتوں نے مذہب اہلبیت کے خلاف کئی صدیوں سے قائم کر رکھا تھا۔
جب کہ ہم نے اثنا عشری عقائد کو خلاصہ کے طور پر پیش کیا ہے، توحید، خدا کا پاک و منزہ ہونا جو کہ شیعیت کے اصلی و حقیقی عقائد میں سے ہے اس کو بیان کیا ہے، ہم عنقریب غلو کے سلسلہ میں شیعہ متقدمین و متاخرین و معاصرین علماء کے نظریات کو بیان کریں گے تاکہ غلو و غلاة کے سلسلہ میں شیعہ اثناعشری فرقہ کا نظریہ واضح ہو جائے۔
شیخ مفید کہتے ہیں: غلاة اسلام کا دکھاوا کرنے والے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے امیر المومنین اوران کی اولاد پاک کے سلسلہ میں الوہیت و نبوت کی نسبت دی اور ان کے حوالے سے فضیلت کی وہ نسبت دی جو حد سے گذر جانے والی ہے وہ گمراہ و کافر ہیں، امیر المومنین نے ان کے قتل اور آگ میں جلا دینے کا حکم دیا ہے، ائمہ کرام نے ان کے کفر اور اسلام سے خارج ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔( ۶۹ )
شیخ صدوق فرماتے ہیں: غلاة اور مفوضہ کے سلسلہ میں ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ کافر باللہ ہیں یہ لوگ اشرار ہیں جو یہودی، نصاریٰ، مجوسی، قدریہ، حروریہ سے منسلک ہیں یہ تمام بدعتوں اور گمراہ فکروں کے پیروکار ہیں۔( ۷۰ )
محقق حلی کہتے ہیں: غلاة اسلام سے خارج ہیں گو کہ انھوں نے اسلام کا بظاہر اقرا رکر رکھا ہے۔( ۷۱ )
نراقی کہتے ہیں: غلاة کی نجاست میں کسی قسم کا شک نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت علی یا دوسرے افراد کی الوہیت کے قائل ہیں۔( ۷۲ )
دوسری جگہ فرماتے ہیں: ناصبیوں اور خارجیوں کی نماز میت پڑھنا جائز نہیں، اگرچہ اجماع کے حساب سے یہ لوگ اسلام کا اظہار و اقرار کرتے ہیں۔( ۷۳ )
شیخ جواہری کہتے ہیں: غلاة، خوارج، ناصبی اور ان کے علاوہ دیگر افراد جو ضروریات دینی کے منکر ہیں یہ کبھی بھی مسلمین کے وارث نہیں ہوسکتے۔( ۷۴ )
آقا رضا ہمدانی فرماتے ہیں: وہ فرقہ جن کے کفر کا حکم دیا گیا ہے وہ غلاة کا ہے اور ان کے کفر میں شک و شبہ نہیں ہے اس بات کے پیش نظر کہ یہ لوگ امیر المومنین اور دیگر افراد کی الوہیت کے قائل ہیں۔( ۷۵ )
اپنے وقت کے اعلم دوراں السید محمد رضا گلپائیگانی نے مسئلہ ۷۴۸ میں فرمایا:کہ ذبح کرنے والے کے لئے شرط ہے کہ مسلمان ہو یا حکم مسلمان میں ہو یعنی مسلمان نطفہ سے پیدا ہوا ہو کافر، مشرک یا غیر مشرک کا ذبیحہ حلال نہیں ہے بنابر اقویٰ کتابی کا بھی ذبیحہ حلال نہیں ہے، اس میں ایمان کی شرط نہیں ہے۔
تمام اسلامی فرقوں کے ہاتھوں کا ذبیحہ حلال ہے سوائے ناصبیوں کے جن کے کفر کا مسئلہ واضح ہے یہ وہ لوگ ہیں جوعلی الاعلان اہلبیت سے دشمنی کا اظہار کرتے ہیں، ہر چند کہ یہ لوگ اسلام کا دکھاوا کرتے ہیں۔
انھیں کے مانند وہ گروہ بھی ہے جواسلام کا دکھاوا کرتا ہے اور کفر ان کے لئے ثابت ہے، جیسے خوارج اور ناصبی۔( ۷۶ )
یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علماء شیعہ غلاة کے کفر اور ان کی نجاست کا حکم دے چکے ہیں اور ان کے سلسلہ میں فقہی مسائل بھی بیان کردیئے ہیں، مثلاً ان کی نجاست، ان کے ذبیحہ حرام ہے اور یہ مسلمانوں کی میراث نہیں پاسکتے۔
جرح و التعدیل کے شیعہ علماء کا غلاة کے سلسلہ میں موقف نہایت واضح ہے۔
عبد اللہ بن سبا
کشی نے ابن سبا کے حالات میں کہا ہے کہ اس نے ادعائے نبوت کیا اور اس بات کا معتقد تھا کہ علی ہی خدا ہیں،اس سے تین دن تک توبہ کے لئے کہا گیا لیکن اس نے انکار کیا تواس کو مزید ستر آدمیوں کے ساتھ جلا دیا گیا جواس کے نظریہ کے قائل تھے۔( ۷۷ )
شیخ طوسی اورابن داؤد نے کہا ہے کہ، عبد اللہ بن سبا کفر کی طرف پلٹ گیا تھا اور غلو کا اظہار کرتا تھا۔( ۷۸ )
علامہ حلی اس کے بارے میں فرماتے ہیں: (عبد اللہ بن سبا) غلو کرنے والا ملعون تھا امیر المومنین نے اس کو جلا دیا تھا وہ اس بات کا معتقد تھا کہ حضرت علی خدا ہیں اور نبی ہیں، خدا اس پر لعنت کرے۔( ۷۹ )
کشی نے ابان بن عثمان سے نقل کیا ہے کہ میں نے ابا عبد اللہ یعنی امام صادق کو فرماتے سنا، خدا عبداللہ بن سبا پر لعنت کرے وہ حضرت امیر کی ربوبیت کا قائل تھا جبکہ خدا کی قسم آپ خدا کے عبادت گذار خالص بندے تھے، ہم پر جھوٹ باندھنے والوں پر وائے ہو۔
ایک گروہ ہمارے بارے وہ کچھ کہتا ہے جو ہم اپنے بارے میں کبھی نہیں کہتے، ہم ان سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم ان سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔( ۸۰ )
کشی نے امام صادق سے روایت نقل کی ہے، آپ نے فرمایا: ہم اہل بیت صدیق ہیں، ہم ان دروغ باتوں سے محفوظ ہیں جو ہماری جانب جھوٹ کی نسبت دیتے ہیں اور ہماری سچائی کواپنے جھوٹ سے لوگوں میں مشکوک کرتے ہیں، رسول خدا لوگوںمیں سب سے سچے تھے، مجسمہ خیر تھے لیکن مسیلمہ آپ پر جھوٹ باندھتا تھا۔
بعد رسول اکرم حضرت امیر المومنین سب سے بڑے صادق، لیکن عبد اللہ بن سبا نے جھوٹ باتیں ان کی جانب منسوب کیں اوران کی سچائی کو اپنے جھوٹ سے مخدوش کیا اوراللہ پر افتراء پردازی سے کام لیا۔( ۸۱ )
۲ ۔ جو کچھ گذر چکا اس سے اور آگے بحار الانوار میں درج ہے کہ:
امام حسین بن علی مختار ثقفی کے سبب مشکلات سے دوچار ہوئے، پھر امام صادق نے حارث شامی اور بتان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ دونوں، حضرت امام سجاد پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اس کے بعد مغیرہ بن سعید، بزیع، سری، ابوالخطاب، معمر، بشار الشعیری، حمزہ ترمذی اور صائد نہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اللہ ان لوگوں پر لعنت کرے ہم پر ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی جھوٹ باندھنے والا رہا ہے، یا عاجز الرای رہا ہے۔
خدا نے ہم کو ہر جھٹلانے والے کے شر سے محفوظ رکھا اوران کو تہ تیغ کیاہے۔( ۸۲ )
____________________
[۵۵] البدایہ والنہایہ، ج۶، ص۲۷۸، ۲۸۰، ج۲، ص۱۷۶، جناب ہاجرہ سے اسماعیل کی ولادت کے تذکرہ کے ضمن میں
[۵۶] فتح الباری، ج۱۳، ص۱۸۱
[۵۷] اوائل المقالات، ص۲۴
[۵۸] عقائد الامامیہ، شیخ مظفر، ص ۳۶،
[۵۹] تاریخ الفرق الاسلامیہ، الفرق بین الفرق، ص۳۹
[۶۰] قواعد عقائد آل محمد، ص۸، اختصار کے ساتھ
[۶۱] منہاج السنہ النبویہ، ج۱، ص۵۷
[۶۲] لسان العرب، ج۱۵، ص۱۳۲
[۶۳] فرقہ الشیعہ، نوبختی، ص۵۰۔ ۴۶
[۶۴] سورہ بقرہ، آیت ۲۵۹
[۶۵] سورہ توبہ، آیت ۳۰
[۶۶] سورہ توبہ، آیت ۳۰
[۶۷] سورہ نساء، آیت ۱۷۱
[۶۸] آکام المرجان، قاضی شبلی، ص ۱۴۹
[۶۹] تصحیح الاعتقاد، ص۶۳
[۷۰] اعتقادات، ص ۱۰۹
[۷۱] المعتبر، ج۱، ص ۹۸
[۷۲] مستند الشیعہ، ج۱، ص۲۰۴
[۷۳] مستند الشیعہ، ج۶، ص۲۷۰
[۷۴] جواہر الکلام، ج۳۹، ص ۳۲
[۷۵] مصباح الفقیہ، ج۹، ق۲، ص۵۶۸
[۷۶] ہدایة العباد، ج۲، ص۲۱۷
[۷۷] رجال کشی، ج۱، ص۳۲۳، شمارہ ۱۷۰
[۷۸] رجال طوسی، ص ۵۱، رجال ابن داود، ص ۲۵۴
[۷۹] الخلاصہ، ص۲۵۴
[۸۰] رجال کشی، ج۱، ص۳۲۴، شمارہ ۱۷۱
[۸۱] رجال کشی، ج۱، ص۳۲۴، شمارہ ۱۷۴
[۸۲] بحار الانوار، ج۲۵، ص۲۶۳
غلاة کے سلسلہ میں اہل بیت اور ان کے شیعوں کا موقف
پیغمبر اسلام نے اصحاب کرام کو اپنی امت میں رونما ہونے والے فتنوں سے باخبر کردیا تھا، انھیں امور میں سے ایک وہ راز تھا جس سے حضرت علی کو آگاہ کیا تھا کہ ایک قوم تمہاری محبت کا اظہار کرے گی اوراس میں غلو کی حد تک پہنچ جائے گی اور اسی کے سبب اسلام سے خارج ہوکر کفر و شرک کی حدوں میں داخل ہو جائے گی۔
احمد بن شاذان سے اپنی اسناد کے ساتھ روایت ہے کہ امام صادق نے آباء و اجداد سے انھوں نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا: اے علی تمہاری مثال ہماری امت میں حضرت عیسیٰ کی سی ہے ان کی قوم نے ان کے بارے اختلاف رائے کر کے تین گروہ بنالیا تھا، ایک گروہ مومن، وہ ان کے حواری تھے، دوسرا گروہ ان کا دشمن جو کہ یہودی تھے، تیسرا گروہ ان کا تھا جنھوں نے غلو کیا اور حد ایمان سے باہر نکل گئے، میری امت تمہارے بارے میں تین گروہ میں تقسیم ہوگی، ایک گروہ تمہارے شیعہ اور وہی مومنین ہیں، دوسرا گروہ تمہارے دشمن جو شک کرنے والے ہیں تیسرا گروہ تمہارے بارے میں غلو کرنے والے اور وہ منکرین کا گروہ ہوگا، علی جنت میں تم، تمہارے شیعہ، اور تمہارے شیعوں کے دوست مستقر ہوں گے، اور تمہارے دشمن اور غلو کرنے والے جہنم میں پڑے ہوں گے۔( ۸۳ )
غلاة کے بارے میں امیر المومنین کا موقف
حضرت امیر نے غلو کرنے والوں پر بہت پابندی لگائی ان پر لعنت بھیجی ان پر سختی کی ان سے برائت اختیار کی۔
ابن نباتہ سے روایت ہے کہ، امیر المومنین نے فرمایا: خدا یا میں غلو کرنے والوں سے ایسے ہی دور و بری ہوں جس طرح حضرت عیسیٰ نصاریٰ سے بری تھے، خدایا ہمیشہ ان کو ذلیل خوار کر او ران میں سے کسی ایک کی نصرت نہ فرما۔( ۸۴ )
آپ نے دوسری جگہ فرمایا: ہمارے سلسلہ میں غلو سے پرہیز کرو، کہو کہ ہم پروردگار کے بندے ہیں، اس کے بعد ہماری فضیلت میں جو چاہو کہو۔( ۸۵ )
امام صادق سے روایت ہے کہ: یہودی علماء میں سے ایک شخص امیر المومنین کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین! آپ کا خدا کب سے ہے؟
آپ نے فرمایا: تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے، میرا خدا کب نہیں تھا؟جو کہ یہ کہا جائے کہ کب تھا! میرا رب قبل سے قبل تھا جب قبل نہ تھا، بعد کے بعد رہے گا جب بعد نہیں رہے گا، اس کی کوئی غایت نہیں اوراس کی غایت و انتہا کی حد نہیں، حد انتہا اس پر ختم ہے وہ ہر انتہا کی انتہا ہے۔
اس نے کہا: اے امیر المومنین کیا آپ نبی ہیں؟
آپ نے فرمایا: تجھ پر وائے ہو میں تو محمد کے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں۔( ۸۶ )
آپ نے فرمایا: حلال و حرام ہم سے دریافت کرو لیکن نبوت کی نسبت نہ دینا۔( ۸۷ )
غلاة اور امام زین العابدین کا موقف
آپ نے فرمایا: جو ہم پر دروغ بافی کرے خدا کی لعنت ہو اس پر میں نے عبد اللہ ابن سبا کے بارے میں سوچا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اس نے بہت بڑی چیز کا دعویٰ کیا اس کو کیا ہوگیا تھا، خدا اس پر لعنت کرے، خدا کی قسم حضرت علی خدا کے نیک بندے، رسول خدا کے بھائی تھے، ان کو کوئی بھی فضیلت نہیں ملی مگر اطاعت خدا و رسول کے سبب، اور رسول خدا کو کرامت سے نہیں نوازا گیا مگر اطاعت خدا کے باعث۔
امام سجاد نے ابو خالد کابلی کو امت میں ہونے غلو سے باخبر کیا جس طرح سے یہود و نصاریٰ نے کیا تھا، آپ نے فرمایا: یہودی عزیر سے محبت کرتے تھے لہٰذا ان کے بارے میں وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو کچھ نہیں کہنا چاہیئے تھا، لہٰذا عزیر نہ ان میں سے رہے اور نہ وہ عزیر میں سے رہے، نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ سے محبت کی اور وہ سب کھ کہا جو ان کے شایان شان نہیں تھا، نہ ہی عیسیٰ ان میں سے رہے اور نہ وہ عیسیٰ سے رہے اور ہم بھی اس بدعت کے شکار ہوئے ہمارے چاہنے والوں میں سے ایک گروہ ہمارے بارے میں وہ باتیں کہے گا جو یہود نے عزیر کے لئے کہا اور نصاریٰ نے عیسیٰ کے لئے کہا، لہٰذا نہ وہ لوگ ہم میں سے ہیں اور نہ ہم ان لوگوں میں سے۔( ۸۸ )
غلاة اور امام محمد باقر کا موقف
زرارہ نے امام محمد باقر سے نقل کیا کہ آپ کو فرماتے سنا، خدا بنان کے بیان پر لعنت کرے،
خدا بنان پر لعنت کرے، اس نے میرے باپ پر دروغ بافی کی، میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد علی بن الحسین عبد صالح تھے۔( ۸۹ )
غلاة اور امام صادق کا موقف
امام صادق کے دور میں غلاة کا مسئلہ بہت بڑھ گیا تھا، انھیں کے پیش نظر امام نے اپنے شاگردوں کے درمیان مختلف علوم کی نشر و تعلیم شروع کردی، آپ کی آواز و تحریک آفاقی ہوگئی اور آپ کے شاگرد و پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا، لوگوں کو ان علوم سے آگاہ کرنے لگے جس سے وہ بالکل جاہل تھے، اور جو کچھ اپنے آباء اور رسول اکرم سے سینہ بہ سینہ ملا تھا اس کو لوگوں کے دلوں تک منتقل کرنے لگے، اس کے سبب سطحی اور سادہ لوح افراد یہ سمجھے کہ امام غیب کا علم رکھتے ہیں اور غیب کا علم رکھنے والا الوہیت (خدائی) کے درجہ پر فائز ہوتا ہے، بعض فتنہ پرور افراد نے سادہ لوح افراد کو آلہ کار بنایا تاکہ لوگوں کے عقائد کی تخریب کے سلسلہ میں اپنے اغراض کو پورا کرسکیں جو ان کا اصلی مقصد تھا، یہ کام خاص طور سے ان لوگوں سے لے رہے تھے جو ابھی ابھی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کا تعلق سوڈان، زط وغیرہ سے تھا، جو اپنے ساتھ اپنے میراثی عقائد لیکر آئے تھے، اس طرح سے بعض مادی او ر روحانی احتیاج کے پیش نظر غلو کو اپنایا اور صراط حق و مستقیم سے دور ہوگئے اورامام صادق کے بارے میں طرح طرح کے خرافات پھیلانے لگے۔
مالک ابن عطیہ نے امام صادق کے بعض اصحاب سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک دن امام صادق بہت غیظ وغضب کی کیفیت میں باہر آئے اور آپ نے فرمایا: میں ابھی اپنی ایک حاجت کے لئے باہر نکلا، اس وقت مدینہ میں مقیم بعض سوڈانیوں نے مجھ کو دیکھا تو ”لبیّک یا جعفر بن محمد لبیّک“ کہہ کر پکارا، تو میں اپنے گھر الٹے پیر لوٹ آیا اور جو کچھ ان لوگوں میرے بارے میں بکا تھا اس کے لئے بہت دہشت زدہ تھا، یہاں تک کہ میں نے اپنی مسجد جاکر اپنے رب کا سجدہ کیا اور خاک پر اپنے چہرے کو رگڑا اور اپنے نفس کو ہلکا کر کے پیش کیا، اور جس آواز و نام سے مجھے پکارا گیا تھا اس سے اظہار برائت کیا، اگر حضرت عیسیٰ اس حد سے بڑھ جاتے جو خدا نے ان کے لئے معین کی تھی آپ ایسے بہرے ہوگئے ہوتے کہ کبھی نہ سنتے، ایسے نابینا بن جاتے کہ کبھی کچھ نہ دیکھتے، ایسے گونگے بن جاتے کہ کبھی کلام نہ کرتے، اس کے بعد آپ نے فرمایا: خد اابو الخطاب پر لعنت کرے اور اس کو تلوار کا مزہ چکھائے۔( ۹۰ )
ابوعمرو کشی نے سعد سے روایت کی ہے کہ، مجھ سے احمد بن محمد بن عیسیٰ ، انھوں نے حسین ابن سعید بن ابی عمیر سے اور انھوں نے ہشام بن الحکم سے انھوں نے امام صادق سے روایت کی کہ امام نے فرمایا: خد ابنان، سری، بزیع پر لعنت کرے، وہ لوگ سرتا پا انسان کی حسین صورت میں درحقیقت شیطان دکھائی دیتے تھے۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے آپ سے عرض کی کہ وہ اس آیت( هُوَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ إلٰهٌ وَ فِی الارضِ إلٰهٌ ) ( ۹۱ ) وہ، وہ جو زمین و آسمان کا خدا ہے کی یوں تاویل کرتا ہے کہ آسمان کا خدا دوسرا ہے اور جو آسمان کا خدا ہے و زمین کا خدا نہیں ہے، اور آسمان کا خدا زمین کے خدا سے عظیم ہے، اور اہل زمین آسمانی خدا کی فضیلت سے آگاہ ہیں اوراس کی عزت کرتے ہیں، امام صادق نے فرمایا: خدا کی قسم ان دونوں کا خدا صرف ایک و اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں و ہ زمینوں اور آسمانوں کا رب ہے، بنان جھوٹ بول رہا ہے خدا اس پر لعنت کرے اس نے خدا کو چھوٹا کر کے پیش کیا اور اس کی عظمت کو حقیر سمجھا ہے۔( ۹۲ )
کشی نے اپنے اسناد کے ساتھ امام صادق سے روایت کی ہے کہ، آپ نے اس قول پروردگار( هَل انَبِّئُکُم علٰی مَن نُنَزِّلُ الشَّیَاطِینَ، نُنَزِّلُ عَلٰی کُلِّ افّاکٍ اثِیمٍ ) ( ۹۳ ) کیا ہم آپ کو بتائیں کہ شیاطین کس پر نازل ہوتے ہیں، وہ ہر جھوٹے اور بدکردار پر نازل ہوتے ہیں، کے بارے میں فرمایا: کہ وہ (جھوٹے و بدکردار) لوگ، سات ہیں: مغیرہ بن سعید، بنان، صائد، حمزہ بن عمار زبیدی، حارث شامی، عبد اللہ بن عمرو بن حارث، الو الخطاب۔( ۹۴ )
کشی نے حمدویہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے یعقوب نے، انھوں نے ابن ابی عمیر سے، انھوں نے عبد الصمد بن بشیر سے، انھوں نے مصادف سے روایت کی ہے، جب کوفہ سے کچھ لوگ آئے( ۹۵ ) تو میں نے جاکر امام صادق کو ان لوگوں کے آمد کی خبر دی، آپ فوراً سجدے میں چلے گئے اور زمین سے اپنے اعضاء چپکا کر رونے لگے، اورانگلیوں سے اپنے چہرہ کو ڈھانپ کر فرمارہے تھے، نہیں بلکہ میں اللہ کا بندہ اس کا ذلیل و پست ترین بندہ ہوں اور اس کی تکرار کرتے جارہے تھے جب آپ نے سر اٹھایا تو آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو آنکھوں سے چل کر ریش مبارک سے بہہ رہا تھا، میں اس خبر دینے پر نہایت شرمندہ تھا، میں نے عرض کی: یابن رسول اللہ! میری جان آپ پر فدا ہو، آپ کو کیا ہوا، اور وہ کون ہیں؟۔
آپ نے فرمایا: مصادف! عیسیٰ کے بارے میں نصاریٰ جو کچھ کہہ رہے تھے اگر اس کے سبب وہ خموشی اختیار کرلیتے تو ان کا حق تھا کہ اپنی سماعت گنوا دیتے، بصارت دے دیتے، ابو الخطاب نے جو کچھ میرے بارے میں کہا اگر اس کے سبب سکوت کرلوں اوراپنی سماعت و بصارت سے چشم پوشی کرلوں تو یہ میرا حق ہے۔( ۹۶ )
شیخ کلینی نے سدیر سے روایت کی ہے کہ، میں نے حضرت امام صادق کی خدمت میں عرض کی کہ ایک گروہ ہے جو اس بات کا عقیدہ رکھتا ہے کہ آپ ہی خدا ہیں، اور اس کے ثبوت میں اس آیت( هُوَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ إلٰهٌ وَ فِی الارضِ إلٰهٌ ) ( ۹۷ ) کو ہمارے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: سدیر! میری سماعت و بصارت، گوشت و پوست اور رُواں رُواں ان لوگوں سے بیزار ہے او رخدا بھی ان سے بیزار ہے، وہ لوگ میرے او رمیرے آباء و اجداد کے دین پر نہیں ہیں خدا کی قسم روز محشر خدا ان لوگوں کو ہمارے ساتھ محشور نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ لوگ غضب و عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے۔( ۹۸ )
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی: اے فرزند رسول خدا ! ایک گروہ ایساہے جو اس بات کا معتقد ہے کہ آپ رسولوں میں سے ہیں اوراس آیت کی تلاوت کرتے ہیں:
( یَا ایُّهَا الرُّسُلُ کُلُوا مِنَ الطِّیبَاتِ وَ اعْمَلُوا صَالِحاً إنِّی بِمَاتَعمَلُونَ عَلِیمٌ ) ( ۹۹ )
”اے میرے رسولو! پاکیزہ غذا ئیں کھاؤ اور نیک اعمال انجام دو کہ میں تمہارے نیک اعمال سے خوب باخبر ہوں“
آپ نے فرمایا: اے سدیر! میری سماعت و بصارت، گوشت و پوست، خون ان لوگوں سے اظہار برائت کرتا ہے، ان سے اللہ اور ان کا رسول بھی اظہار برائت کرتے ہیں یہ لوگ میرے اور میرے آباء و اجداد کے دین پر نہیں خدا کی قسم روز محشر خدا ان لوگوں کو ہمارے ساتھ محشور نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ لوگ عذاب و غضب الٰہی کے شکار ہوں گے۔
راوی کہتا ہے، میں نے عرض کی: فرزند رسول خدا پھر آپ کیا ہیں؟
آپ نے فرمایا: ہم علم الٰہی کے خزانہ دار، احکام الٰہی کے ترجمان اور معصوم قوم ہیں، اللہ نے ہماری اطاعت کا حکم دیا ہے، اور ہماری نافرمانی سے منع کیا ہے، ہم زمین پر بسنے والے اور آسمان کے رہنے والوں کے لئے حجت کامل ہیں۔( ۱۰۰ )
مغیرہ بن سعید غلو کرنے والوں کے گروہ کی ایک فرد تھا جو سحر و جادو کے ذریعہ سطحی اور عام فکر کے حامل لوگوں کو اپنی طرف جذب کرتاتھا پھر ان لوگوں کے لئے ائمہ اہل بیت کے حوالے سے غلو کو آراستہ کردیتاتھا امام صادق نے اس غالی شخص کی حقیقت اپنے اصحاب کے سامنے واضح کردی۔
ایک دن اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے فرمایا: خدا مغیرہ بن سعید پر لعنت کرے اوراس یہودیہ پر لعنت کرے جس سے وہ مختلف قسم کے جادو، ٹونے اور کرتب سیکھتا تھا، مغیرہ نے ہماری جانب جھوٹ باتوں کی نسبت دی جس کے سبب خدا نے اس سے نعمت ایمان کو لے لیا ایک گروہ نے ہم پر جھوٹا الزام لگایا خدا نے ان کو تلوار کا مزہ چکھایا خدا کی قسم ہم کچھ نہیں صرف اللہ کے بندے ہیں اس نے ہم کو خلق کیا اورانتخاب کیا ہم کسی ضرر و فائدہ پر قدرت نہیں رکھتے اگر کچھ (قدرت) ہے تو رحمت الٰہی ہے اگر مستحق عذاب ہوئے تو اپنی غلطیوں کے سبب ہوں گے۔
خدا کی قسم! خدا پر ہماری کوئی حجت نہیں اور نہ ہی خدا کے ساتھ کوئی برائت ہے، ہم مرنے والے ہیں قبروں میں رہنے والے محشور کیئے جانے والے، واپس بلائے جانے والے، روکے جانے والے اور سوال کیئے جانے والے ہیں، ان کو کیا ہوگیا ہے خدا ن پر لعنت کرے، انھوں نے خدا کو اذیت دی اور رسول اکرم کو قبر میں اذیت دی اور امیر المومنین و فاطمہ زہرا، حسن، حسین، علی بن الحسین، محمد بن علی ٪ کو اذیت دی۔
آج کل تمہارے درمیان میں ہوں جو رسول اکرم کا گوشت پوست ہوں، لیکن راتوں کو جب کبھی بستر استراحت پر جاتا ہوں تو خوف و ہراس کے عالم میں سوتا ہوں، وہ لوگ چین و سکون کے ساتھ خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں اور میں خوف و ہراس کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔
میں دشت و جبل کے درمیان لرزہ براندام ہوں، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو کچھ میرے بارے میں بنی اسد کے غلام اجرع براد، ابوالخطاب نے کہا: خدا اس پر لعنت کرے، خدا کی قسم اگر وہ لوگ ہمارا امتحان لیتے اور ہم کو اس کا حکم دیتے تو واجب ہے کہ اس کو قبول نہ کریں، آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ لوگ ہم کو خائف و ہراس پارہے ہیں؟ ہم ان کے خلاف اللہ کی مدد چاہتے ہیں اور ان سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔
میں تم سب کو گواہ بناکر کہتا ہوںکہ میں فرزند رسول خدا ہوں اگر ہم نے ان کی اطاعت کی تواللہ ہم پر رحمت نازل کرے اوراگر ان کی نافرمانی کی تو ہم پر شدید عذاب نازل کرے۔
امام صادق نے غلاة کی جانب سے دی گئی ساری نسبتوں کی نفی کی ہے، مثلاً علم غیب، خلقت، تقسیم رزق وغیرہ۔
ابی بصیر سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے عرض کی، یابن رسول اللہ! وہ لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کی کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ بارش کے قطرات، ستاروں کی تعداد،درختوں کے پتوں، سمندر کے وزن، ذرات زمین کا علم رکھتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! خدا کی قسم خدا کے علاوہ کوئی بھی ان کا علم نہیں رکھتا۔
آپ سے کہا گیا کہ فلاں شخص، آپ کے بارے میں کہتا ہے کہ، آپ بندوں کے رزق تقسیم کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: ہم سب کا رزق صرف خدا کے ہاتھوں میں ہے، مجھ کو اپنے اہل و عیال کے لئے کھانے کی ضرورت پڑی تو میں کشمکش میں مبتلا ہوا، میں نے سوچ بچار کے ذریعہ ان کی روزی فراہم کی اس وقت میں مطمئن ہوا۔
زرارہ سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق سے عرض کی کہ عبد اللہ بن سبا کے فرزندوں میں سے ایک تفویض کا قائل ہے!
آپ نے فرمایا: تفویض سے کیا مراد ہے؟
میں نے کہا: کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے محمد و علی کو خلق کیا اس کے بعد سارے امور ان کو تفویض (حوالے) کردیئے، لہٰذا اب یہی لوگ رزق تقسیم کرتے ہیں اور موت و حیات کے مالک ہیں۔
آپ نے فرمایا: کہ وہ دشمن خدا جھوٹ بولتاہے، جب تم اس کے پاس جانا تو اس آےت کی تلاوت کرنا:
( امْ جَعَلُوا لِلّٰهِ شُرَکَاءِ خَلَقُوا کَخَلقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلقُ عَلَیهِم قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ کُلِّ شَیءٍ وَ هُوَ الوَاحِدُ القَهَّارُ ) ( ۱۰۱ )
(یا ان لوگوں نے اللہ کے لئے ایسے شریک بنائے ہیں جنھوں نے اس کی طرح کائنات خلق کی ہے اور ان پر خلقت مشتبہ ہوگئی ہے کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر شی کا خالق ہے وہی یکتا اور سب پر غالب ہے۔
میں واپس گیا اور جو کچھ امام نے کہا تھا وہ پیغام سنا دیا تو گویا وہ پتھر کی طرح ساکت رہ گیا یا بالکل گونگا ہوگیا۔
مفضل راوی ہیں کہ امام صادق نے ہم سے اصحاب خطاب اور غلاة کے حوالے سے فرمایا: اے مفضل! ان کے ساتھ نشست و برخاست نہ کرو ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان سے میل جول نہ رکھو، نہ ان کے وارث بنو اور ان کو اپنا وارث بناؤ۔
غلاة اور امام موسیٰ کاظم کا موقف
اپنے آباء و اجداد کی مانند امام موسیٰ کاظم بھی غلاة سے دوچار رہے، جنھوں نے ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے بارے میں بہت ساری باتیں کیں جن کی تائید الٰہی کلام سے نہیں ہوتی۔
امام موسیٰ کاظم کے عہد امامت میں خطرناک غلو کرنے والا، محمد بن بشیر تھا یہ امام کا صحابی تھا، پھر غالی ہوگیا یہاں تک کہ امام کی شہادت کے بعد آپ کی ربوبیت کا قائل ہوگیا اور خود کو نبی گرداننے لگا۔
محمد بن بشیر قتل ہوا اور اس کے قتل کی وجہ یہ تھی کہ وہ شعبدہ باز اور جادوگر تھا، وہ واقفیہ فرقہ کے افراد کے سامنے اس بات کا اظہار کرتا تھا کہ میں نے علی بن موسیٰ پر توقف کیا ہے یہ حضرت امام موسیٰ کاظم کی ربوبیت کا قائل اور اپنی نبوت کا مدعی تھا۔( ۱۰۲ )
اس کے فاسد عقیدوں کی اتباع لوگوں کے ایک سادہ لوح گروہ نے کی، جس کو اس نے دھوکا دے رکھا تھا اور وہ لوگ محمد بن بشیر کے عقیدہ کی طرف منسوب ہونے کے سبب ”بشیریہ“ کے نام سے مشہور ہوئے۔
ان کے باطل عقائد میں سے یہ تھا کہ وہ عبادات جو ان پر فرض ہیں اور ان کا ادا کرنا واجب ہے، وہ یہ ہیں: نماز، روزہ، ادائیگی خمس، لیکن زکوٰة، حج اور دوسری ساری عبادات ان سے ساقط ہیں۔
یہ لوگ امام کے تناسخ (آواگون) کے قائل ہیں یعنی سارے ائمہ کا ایک جسم ہے صرف ایک دوسرے پیکر میں زمانے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
وہ لوگ اس نظریہ کے قائل تھے کہ وہ سب چیزوں کے درمیان ایک دوسرے کے شریک ہیں، کھانا، پینا، مال و دولت، عورتیں ، یہ لوگ لواط (اغلام بازی) کو مباح جانتے تھے اور اس عقیدہ پر قرآن کی یہ آیت پیش کرتے تھے:
( او یُزَوِّجُهُم ذُکرَاناً وَّ إنَاثاً ) ( ۱۰۳ )
(یا پھر بیٹے اور بیٹیاں دونوں کو جم کردیتا ہے)
جب امام موسیٰ کاظم کی شہادت واقع ہوئی تو ان لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ مرے نہیں ہیں،نگاہوں سے غائب ہوگئے ہیں اور وہ وہی مہدی ہیں، جن کی بشارت دی گئی ہے، انھوں نے امت میں اپنا خلیفہ محمد بن بشیر کو قرار دیا ہے اور ان کو اپنا قائم مقام بنایا ہے۔
کشی نے علی بن حدید مدائنی سے روایت کی ہے کہ میں نے ابا الحسن اول یعنی امام کاظم سے ایک شخص کو سوال کرتے سنا کہ ”میں نے سنا ہے کہ محمد بن بشیر کہتا ہے کہ آپ موسیٰ بن جعفر نہیں ہیں جو کہ ہمارے امام اور خدا اور ہمارے درمیان حجت ہیں۔
وہ کہتا ہے کہ امام نے فرمایا: خد اس پر لعنت کرے (تین بار تکرار کی) خدا اس کو لوہے کی گرمی کا مزہ چکھائے خدا اس کو بری طرح قتل کرے۔
میں نے عرض کی: فرزند رسول میں آپ پر فدا ہوں، جب میں نے آپ کا یہ حکم اس کے بارے میں سنا تو کیا اب اس کا خون ہم پر مباح نہیں ہے جس طرح سے رسول و امام پر سب و شتم کرنے والے کا خون حلال ہے۔
تو آپ نے فرمایا: ہاں! خدا کی قسم تم پر اس کا خون حلال ہے اور جو کوئی بھی اس کے حوالے سے یہ بات سنے اس پر بھی اس کا خون حلال ہے۔
میں نے عرض کی: کہ کیا آپ پر سب و شتم کرنے والا نہیں ہے؟
آپ نے فرمایا: یہ خدا و رسول و میرے اجداد اور مجھ پر سب و شتم کرنے والا ہے، اس سے بڑھ کر سب و شتم کرنے والا کون ہوگا؟ اور اس پر کون سبقت حاصل کرسکتاہے؟
میں نے عرض کی، اگر میں اس سے برائت میں خوف نہ کروں اور چشم پوشی کرلوں اور اس حکم پر عمل نہ کروں اور اس کو قتل نہ کروں تو آپ کی نظر میں مجھ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
آپ نے فرمایا: تم پر بہت بڑا گناہ ہوگا اور اس کی شدت میں کمی نہیں آئے گی۔
کیا تم نہیں جانتے کہ روز قیامت شہداء میں سب سے بلند پایہ وہ ہوگا جو اللہ و رسول کی مدد کرے گا اور ظاہر و باطن میں خدا و رسول کا مدافع ہوگا۔( ۱۰۴ )
امام موسیٰ کاظم نے محمد بن بشیر پر لعنت کی ہے اور اس کے حق میں بددعا کی ہے۔
کشی نے علی بن حمزہ بطائنی سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابا الحسن موسیٰ سے سنا کہ ”خدا محمد بن بشیر پر لعنت کرے اس کو لوہے کے مزے کو چکھائے اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا، خدا
اس سے بری ہے او رمیں بھی اس سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں، خدایا! جو کچھ ابن بشیر نے میرے بارے میں کہا ہے میں تیرے لئے اس سے برائت کا اظہار کرتا ہوں۔
خدایا! مجھ کو اس سے نجات دے، اس کے بعد فرمایا: ”اے علی! جس کسی نے جان بوجھ کر ہم پر جھوٹ الزام لگانا چاہا ہے خدا نے اس کو تلوار کا مزہ چکھایا ہے۔
ابومغیرہ بن سعید نے ابو جعفر پر جھوٹا الزام لگایا تھا خدا نے اس کو تلوار کا مزہ چکھایا، ابوخطاب نے میرے باپ پر جھوٹاالزام لگایا تھا، خدا نے اس کو تلوار کا مزہ چکھایا، محمد بن بشیر خدا اس پر لعنت کرے، اس نے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا تھا، میں اس سے خدا کی پناہ مانگتاہوں، خدایا! محمد بن بشیر نے جو کچھ میرے بارے میں کہا ہے میں اس سے اظہار برائت کرتا ہوں، خدایا! اس کے شر سے محفوظ رکھ، خدایا! محمد بن بشیر رجس نجس سے دور رکھ، شیطان اس کے باپ کے ساتھ اس کے نطفہ میں شریک تھا۔
خدا نے امام کاظم کی دعا قبول کی، علی بن حمزہ کہتے ہیں کہ جس بری طرح محمد بن بشیر کو قتل کیا گیا، میں نے ک سی کو نہیں دیکھا، خدا اس پر لعنت کرے۔( ۱۰۵ )
غلاة اور اما م رضا کا موقف
غلاة سے جنگ اور ان کے باطل عقائد کے بطلان کے سلسلہ میں ان کو برملا کہنے اوران سے لوگوں کو دور رکھنے کے سلسلہ میں امام رضا اپنے آباء و اجداد کے نقش قدم پر ہوبہو چلے۔
حسین بن خالد صیرفی سے روایت ہے کہ امام رضا نے فرمایا: ”جو تناسخ (آواگون) کا قائل ہے وہ کافر ہے، اس کے بعد فرمایا: خدا غلو کرنے والوں پر لعنت کرے، آگاہ رہو! کہ یہ یہودی تھے، نصاریٰ تھے، مجوسی تھے، قدریہ، مرجئہ و حروریہ (خوارج) تھے “۔
اس کے بعد فرمایا: ان کے ساتھ نشست و برخاست رکھو نہ ان سے دوستی کرو، ان سے برائت اختیار کرو، خدا ان سے بری ہے۔( ۱۰۶ )
امام رضا غلاة کو تمام فاسد اور تحریف شدہ ادیان و مذاہب کی بدترین فرد سمجھتے تھے۔
آپ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے”خدا یا! میں تما م قوت و طاقت سے اظہار برائت کرتا ہوں تیرے سوا کوئی قدرت و طاقت نہیں، خدایا! وہ لوگ جنھوں نے ہمارے بارے میں اس بات کاا دعا کیا جس کے ہم حقدار نہیں،ان سے تیری پناہ مانگتے ہیں، خدا وہ بات جس کو ہم نے اپنے بارے میں کبھی نہیں کہا اور لوگ ہماری جانب منسوب کرتے ہیں اس سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
خدایا! امر خلقت تیرا حق ہے، ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی مد دچاہتے ہیں، خدایا! تو میرا اور میرے اولین و آخرین آباء و اجداد کا خالق ہے، خدایا! ربوبیت صرف تیرا حق ہے، الوہیت صرف تجھ کو زیب دیتی ہے۔
نصاریٰ پر لعنت ہو جنھوں نے تیری عظمت کو گھٹایا اور ان لوگوں پر لعنت ہو جنھوں نے تیری عظمت کے خلاف لب کھولے۔
خدایا! ہم تیرے بندے ہیں اور تیرے بندوں کی اولاد ہیں، خدایا! اپنی جان کے نفع و نقصان پر گرفت نہیں رکھتے، موت و حیات اور قبر سے اٹھائے جانے پر ہماری گرفت نہیں۔
خدایا! جن لوگوں نے ہمارے بارے میں خیال کیا کہ ہم خدا ہیں تو ہم ان سے اسی طرح بری ہیں جس طرح عیسیٰ ابن مریم نصاریٰ سے بری تھے۔
خدایا! میں نے ان کے باطل عقائد کی کبھی دعوت نہیں دی، خدایا! ان کی باتوں کے سبب مجھ سے بازپرس نہ کرنا اور وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں اس کے سبب ہماری مغفرت فرما،( رَبِّ لاتَذَر عَلٰی الارضِ مِنَ الکافِرِینَ دَیَّاراً ، إنَّکَ إن تَذَرهُم یُضِلُّوا عِبَادَکَ وَ لایَلِدُوا إلا فَاجِراً کفاراً ) ( ۱۰۷ )
(پروردگار! اس زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑنا کہ تو اگر انہیں چھوڑ دے گا تویہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر و کافر کے علاوہ کوئی اولاد بھی نہ پیدا کریں گے)۔
ابو ہاشم جعفری سے روایت ہے کہ میں نے امام رضا سے غلاة اور مفوضہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: غلاة کفار ہیں اور مفوضہ مشرک ہیں، جو کوئی بھی ان کے ساتھ رفت و آمد رکھے، کھانا پینا رکھے، صلہ رحم کرے، شادی کرے، یا ان کی لڑکی اپنے گھر میں لائے، یا ان کی امانت رکھے، یا ان کی باتوں کی تصدیق کرے، یا صرف کسی ایک کلمہ سے ہی ان کی مدد کرے، وہ اللہ و رسول اور ہم اہلبیت کی ولایت سے خارج ہو جائے گا۔( ۱۰۸ )
امام رضا نے غلاة کے اصل ظہور کی اہم علت کو بتایا،ابراہیم بن ابی محمود نے امام رضا سے روایت کی ہے:اے ابن ابی محمود! ہمارے مخالفوں نے ہماری فضیلت میں روایات گھڑھی اوران کی تین قسمیں ہیں، ۱ غلو ۲ ہمارے امر میں کمی، ۳ ہمارے دشمنوں کی عیب جوئی ، جب ہمارے بارے میں لوگوں نے غلو کو سنا تو ہمارے چاہنے والوں کی تکفیر کی اور ان لوگوں نے ہمارے شیعوں کی جانب ہماری ربوبیت کے قائل ہونے کی نسبت دی ، جب ہماری کمی کو سنا تو اس کے معتقد ہوگئے اور جب ہمارے دشمنوں کی عیب جوئی سنی تو انھوں نے ہم کو نام بنام دشنام دیا۔
خدا نے فرمایا:( وَ لاتَسُبُّوا الَّذِینَ یَدعُونَ مِن دُونِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْواً بِغَیرِ عِلمٍ ) ( ۱۰۹ )
(اورخبردار تم لوگ انھیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کہہ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سوچے سمجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے۔
اے ابن ابی محمود! جب لوگ ادھر ادھر کے نظریات کے معتقد ہو جائیں تو اس وقت تم ہمارے راستے پر قائم رہنا اس لئے کہ جو ہمیں اپنائے گا ہم اس کو اپنائیں گے اور جو ہم کو چھوڑ دے گا ہم اس کو چھوڑ دیں گے۔( ۱۱۰ )
امام رضا نے واضح کردیا کہ غلاة کس طرح عام شیعوں کی جانب غلو منسوب کرنے کا سبب ہوئے، اسی سبب ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر فرقوں کے مولفین، غلو کے صفات کو مطلقاً شیعوں او رخصوصاً امامیہ کی جانب نسبت دیتے ہیں، وہ لوگ ان احادیث پر بھروسہ کرتے ہیں جن کوغلاة نے لوگوں کے درمیان رائج کر رکھا تھا لہٰذا اہل سنت افراد نے یہ سمجھ لیا کہ یہ روایات شیعہ طریقوں سے وارد ہوئیں ہیں اورغلو کو شیعوں کی جانب منسوب کردیا۔
جیسا کہ بعض مولفین بالکل فاش غلطی کے شکار ہوگئے اورتجسیم و تشبیہ کی نسبت شیعوں کی طرف د ے بیٹھے، جبکہ ہم نے اصول عقائد شیعہ میں اس بات کی مکمل وضاحت کردی ہے اورتوحید کی بحث میں یہ بات کہی ہے کہ تشبیہ و تجسیم کے سلسلہ میں شدید مخالف ہیں اور خدا کوان سب چیزوں سے بہت دور جانا ہے۔
امام رضا نے اپنے اس آنے والے قول میں اس بات کی اور وضاحت کردی ہے
آپ نے فرمایا: جن لوگوں نے تشبیہ اور جبر کی باتوں کو گڑھ کر ہم شیعوں کی جانب منسوب کردیا ہے وہ غلاة ہیں جنھوں نے عظمت پروردگار کو گھٹایا ہے، جو ان لوگوں سے محبت کرے گا وہ ہمارا دشمن ہے جو ان سے نفرت کرے گا وہ ہمارا محبوب ہے، جو ان سے لگاو رکھے گا وہ ہمارا دشمن ہے، جو ان کو دشمن ہے وہ ہمارا چاہنے والا ہے، جو ان سے صلہ رحم کرے وہ ہم سے جدا ہوگا، جو ان سے جدا ہوگیا وہ ہم سے مل گیا، جس نے ان سے جفا کی اس نے ہمارے ساتھ حسن رفتار کیا، جس نے ان کے ساتھ حسن رفتار کیا گویا اس نے ہم پر جفا کی، جس نے ان کا اکرام کیا اس نے میری توہین کی، جس نے ان کی توہین کی اس نے میری عزت کی، جس نے ان کو قبول کیا اس نے ہماری تردید کی اور جس نے ان کی تردید کی اس نے ہم کو قبول کیا، جس نے ان کے ساتھ حسن رفتار کیا اس نے ہمارے ساتھ سوء ادب سے کام لیا، جس نے ان سے بدخلقی سے برتاو کیا اس نے ہمارے ساتھ خوش خلقی کی، جس نے ان کی تصدیق کی اس نے ہم کو جھٹلایا اور جس نے ان کو جھٹلایااس نے ہماری تصدیق کی، جس نے ان کو عطا کیا گویا ہم کو محروم کردیا، اور جس نے ہم کو عطا کیا گویا ان کو محروم کیا، اے ابن خالد، جو بھی ہمارا شیعہ ہوگا کبھی بھی ان کو اپنا ولی و مددگار قرار نہیں دے گا۔( ۱۱۱ )
غلاة اور امام علی بن محمد ہادی کا موقف
امام ہادی بھی غلاة کے اس گروہ سے دوچار ہوئے جو ائمہ کی ربوبیت و الوہیت کے قائل تھے، اور ان کے زمانے کے غلاة کا سردار محمد بن نصیر غیری تھا، اور نصیری فرقہ اسی جانب منسوب ہے، اور ایک قلیل گروہ نے اس فرقہ کی پیروی کی ہے، جن میں نمایاں فارس بن حاتم قزوینی اور ابن بابا قمی ہے۔
کشی نے لکھا ہے کہ: ایک فرقہ محمد بن نصیر غیری کی رسالت کا قائل ہے اور وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی و رسول ہے اور اس کو علی بن محمد ہادی نے رسالت بخشی ہے، حضرت امیر کے بارے میں تناسخ کا قائل تھا اور غلو کرتا تھا اور اس بات کا دعویٰ کرتا تھا کہ ان میں ربوبیت پائی جاتی ہے۔
وہ کہتا تھا کہ: تمام محارم مباح ہیں، مرد کا مرد کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے وہ اس نظریہ کا موجد و قائل تھا کہ فاعل و مفعول دونوں لذات میں سے ایک ہیں اور خدا نے ان میں سے کسی ایک کو حرام نہیں قرار دیا۔
محمد بن موسیٰ بن حسن بن فرات اس کے نظریہ کی حمایت کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ بعض لوگوں نے محمدبن نصیر کو علی الاعلان اغلام بازی کی کیفیت میں دیکھا ہے اور اگر اس کے غلام نے اس فعل سے انکار کیا تو اس نے یہ نظریہ قائم کیا کہ یہ لذتوں سے ایک ہے! یہ درحقیقت خدا کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے اور جبر و رکاوٹ کو ختم کرنا ہے۔
نصر بن صباح کہتے ہیں کہ: حسن بن محمد معروف بہ ابن بابا، محمد بن نصیر غیری، فارس بن حاتم قزوینی، ان تینوں پر امام علی نقی نے لعنت بھیجی ہے۔
ابو محمد فضل بن شاذان نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ابن باباء قمی مشہور جھوٹوں میں سے تھا۔
سعد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیدی نے بتایا کہ ابتدائے دور میں امام علی نقی نے میرے پاس ایک خط لکھا کہ ”میں فہری، حسن محمد بن بابا قمی، ان دونوں سے اظہار برائت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی ان دونوں سے بیزار ہو جاو ، میں تم کو اور اپنے چاہنے والوں کو ان دونوں سے خبردار کرتا ہوں، ان دونوں پر اللہ کی لعنت ہو یہ ہمارے نام پر لوگوں سے کھا رہے ہیں، یہ دونوں اذیت دینے والے اور فتنہ پرور ہیں خدا ان دونوں کواذیت دے، خدا ان دونوں کو فتنہ کی رسّی میں جکڑ دے، ابن بابا (قمی) یہ خیال کرتا ہے کہ میں نے اس کو نبوت دی ہے اور وہ رئیس ہے اس پر خدا کی لعنت ہو، شیطان نے اس کو مسخر کر کے اس کا اغوا کرلیا ہے، اس پر بھی خدا کی لعنت ہو جو ان کی باتوں کو قبول کرے۔
اے محمد! اگر تم اس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ پتھر سے اس کا سر کچل دو تو ایسا کر گذرو کیونکہ اس نے مجھ کو اذیت دی ہے، خدا اس کو دنیا و آخرت میں اذیت دے“( ۱۱۲ )
کشّی نے ابراہیم بن شیبہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے امام علی نقی کو خط لکھا کہ ”آپ پر ہماری جان فدا ہو، ہمارے یہاں کچھ لوگ ہیں جو آپ کی فضیلت کے سلسلے میں اختلاف رائے رکھتے ہیں جن کے سبب دل ٹیڑھے اور سینہ تنگ ہوگیاہے اوراس حوالہ سے حدیث بھی بیان کرتے ہیں ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے ہیں جب تک کہ تائید الٰہی نہ ہو اور ان کی تردید بھی مشکل امر ہے کیونکہ ان کی نسبت آپ کے آباء و اجداد کی جانب ہے لہٰذا ہم لوگوں نے ان حدیثوں پر توقف کیا ہے۔
وہ لوگ اس قول خدا( إنَّ الصَّلٰوٰةَ تَنهیٰ عَنِ الفَحشَاءِ وَ الْمُنکَرِ ) ( ۱۱۳ ) اور( وَ اقِیمُوا الصَّلوٰةَ وَ آتُوا الزَّکوٰة ) ( ۱۱۴ ) کی تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نہ ہی رکوع کرے اور نہ سجدہ، اور زکوٰة کے بارے میں بھی یہی نظریہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں نہ ہی درہموں کی تعداد ہے اور نہ ہی مال کی ادائیگی مراد ہے، اور اسی طرح واجبات و مستحبات اور منکرات کے بارے میں کہتے ہیں کہ اور ان سب کو اسی حد تک بدل ڈالا ہے جس طرح میں نے آپ سے عرض کی۔
اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ کے چاہنے والے ان خرافات سے سلامت رہیں جو ان کو ہلاکت و گمراہی کی جانب لے جارہی ہیں” وہ لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اولیاء (الٰہی) ہیں اور اپنی اطاعت کی دعوت دیتے ہیں“ ان میں سے علی بن حسکہ، اور قاسم یقطینی ہیں، ان ان لوگوں کی باتوں کو قبول کرنے کے سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟۔
امام نے جواب میں تحریر فرمایا کہ: اس کا ہمارے دین سے کوئی سروکار نہیں لہٰذا اس سے پرہیز کرو۔( ۱۱۵ )
سہل بن زیاد آدمی راوی ہیں کہ ہمارے دوستوں نے امام علی نقی کے پاس خط لکھا: اے میرے مولا و آقا! آپ پر ہماری جان فدا ہو، علی بن حسکہ آپ کی ولایت (نیابت) کا دعویٰ کرتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ آپ اول و قدیم ہیں اور وہ آپ کا نبی نمائندہ ہے اور آپ نے لوگوں کو اس بات کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا ہے، وہ یہ خیال کرتا ہے کہ نماز، حج، زکوٰة، اور یہ سب کے سب آپ کی حقیقت و معرفت ہیں اور ابن حسکہ کی نبوت و نیابت جس کا وہ مدعی ہے اس کو قبول کرنے والا مومن کامل ہے اور حج و زکوٰة و روزہ جیسی عبادات اس سے معاف ہیں، اور شریعت کے دیگر مسائل اور ان کے معانی کو ذکر کیا ہے جو آپ کے لئے ثابت ہوچکا ہے اور بہت سارے لوگوں کا میلان بھی اس جانب ہے، اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو کرم فرما کر ان کا جواب عنایت فرمائیں تاکہ آپ کے چاہنے والے ہلاکت سے بچ سکیں۔
امام نے جواب میں تحریر فرمایا: ابن حسکہ جھوٹ بولتا ہے اس پر خدا کی لعنت ہو، تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ میں اس کو اپنے چاہنے والوں میں شمار نہیں کرتا، اس کو کیا ہوگیا ہے؟! اس پر خدا کی لعنت ہو۔
خدا کی قسم خدا نے محمد اکرم اور ان سے ماقبل رسولوں کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ دین نماز، زکوٰة ، روزہ، حج اور ولایت ان کے ہمراہ تھی، خدا نے خدا کی وحدانیت کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دی اور وہ خدا ایک و لاشریک ہے، اسی طرح ہم اوصیاء (الٰہی) اس بندہ خدا کے صلب سے ہیں کبھی خدا کا شریک نہیں مانتے مگر ہم نے رسول کی اطاعت کی تو خدا ہم پر رحمت نازل کرے اوراگر ان کی خلاف ورزی کی تو خدا عذاب سے دوچار کرے، ہم خدا کے لئے حجت نہیں ہیں بلکہ خدا کی حجت ہم اور تمام مخلوقات عالم پر ہے۔
وہ جو کچھ کہتا ہے ان سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں اور اس قول سے دوری اختیار کرتے ہیں خدا ان پر لعنت کرے ان سے دوری اختیار کرو، ان پر عرصہ حیات تنگ کردو اور ان کو کبھی گوشہ تنہائی میں پاو تو پتھر سے ان کا سر کچل دو۔( ۱۱۶ )
ان باتوں سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ دینی فرائض جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، حج، وغیرہ سے فرار کرنا غلو کی ایک قسم ہے۔
امام صادق نے غلاة کی بدنیتی کو اس وقت واضح کردیا تھا جب آپ کے اصحاب میں سے کسی نے لوگوں کے اس قول کے بارے میں سوال کیا تھا کہ ”حضرت امام حسین شہید نہیں ہوئے اور انھوں نے لوگوں پر اپنے امر کو پوشیدہ رکھا“ یہ ایک طویل حدیث ہے، یہاں تک اس صحابی نے امام سے سوال کیا، اے فرزند رسول ! آپ کے شیعوں میں سے کچھ لوگ جو یہ خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
آپ نے فرمایا: وہ لوگ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہیں، میں ان سے اظہار برائت کرتا ہوں، انھوں نے عظمت الٰہی کو چھوٹا کر کے پیش کیا اور اس کی کبریائی کا انکار کیا وہ مشرکت و گمراہ ہوگئے ہیں وہ لوگ دینی فرائض سے فرار اور حقوق کی ادائیگی سے دور ہیں۔
ان سب (کلمات) سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ائمہ کرام نے غلو اور غلاة کے خلاف کتنی سخت اور فیصلہ کن جنگ کی ہے، اور ان کی بدنیتی اور ناپاک ارادوں سے نقاب کشائی کی ہے، اور اپنے شیعوں کو ان سے دور رکھا ہے جیسا کہ امام صادق نے اپنے چاہنے والے کو نصیحت کی ہے، آپ فرماتے ہیں: ”اپنے جوانوں کو غلاة سے دور رکھو! کہیں ان کو برباد نہ کردیں، کیونکہ غلاة مخلوقات الٰہی کے لئے ایک قسم کے شر ہیں انھوں نے عظمت الٰہی کو گھٹایا ہے، اور بندگان خدا کی ربوبیت کا دعویٰ کیا ہے، خدا کی قسم غلاة، یہود و نصاریٰ و مجوس و مشرکین سے بدتر ہیں
اس کے بعد امام نے فرمایا: اگر غلو کرنے والا ہماری طرف رجوع کرے تو اس کو ہرگز قبول نہیں کریں گے لیکن اگر ہماری شان کم کرنے والا اگر ہم سے (توبہ کے بعد) ملحق ہونا چاہے تو اس کو قبول کرلیں گے، کہنے والے نے آپ سے کہا کہ ایسا کیسے؟۔
تو آپ نے فرمایا: اس لئے کہ غلو کرنے والا نماز و روزہ و حج و زکوٰة کے ترک کی عادت ڈال چکا ہے لہٰذا وہ اس عادت کو چھوڑ نہیں سکتا اور خدا کی بندگی و اطاعت کی طرف کبھی بھی پلٹ کر نہیں آسکتا، لیکن مقصر (کمی کرنے والا) جب حقیقت کو درک کر لے گا تو عمل واطاعت کو انجام دے گا۔
وہ خطوط جن کو بعض افراد ائمہ کرام کے پاس غلاة کے سلسلہ میں ائمہ کا موقف جاننے کے لئے ارسال کرتے تھے اور ان کی باتوں کو امام کے سامنے پیش کرتے تھے اور شیعوں میں ان کے افکار کے فروغ و انتشار سے کبیدہ خاطر تھے، یہ تمام خط و کتابت اس لئے تھی کہ وہ مخلص شیعہ حضرات غلاة کی ناپاک فکروں سے دین کی حفاظت چاہتے تھے اور یہ افراد غلاة کے مد مقابل پورے اعتماد کے ساتھ کھڑے تھے ان سے مناظرہ کرتے تھے اور اکثر ان کو محکم دلیلوں سے خاموش بھی کرتے تھے اور انھوں نے ان غلاة کا بائیکاٹ کرنے میں اپنے اماموں کے حکم کی مکمل اطاعت کی ہے، جب کہ وہ دور عصبیت کا دور تھا اور ظالم و جابر سلاطین کا ظلم زوروں پر تھا اور انھوں نے ان (شیعوں) پر عرصہ حیات تنگ کردیا تھا۔
ان شیعوں کے فرائض میں یہ تھا کہ اپنے دین، عقیدہ کا دفاع کریں اور اسلام کی حمایت ان انحرافات سے کریں جو غلاة کی صورت وجود میں آئے تھے اور لوگوں کو ان سے دور رکھیں، خود ان پر کڑی نظر رکھیں، ان کے جھوٹ، خرافات اور عیبوں کو برملا کریں۔
اور یہ سب اس وقت میں کرنا تھا جب ان غلاة کے خلاف حد کافی قدرت و طاقت نہیں رکھتے تھے، ان کے پاس اس حد تک آزادی بھی نہیں تھی کہ حقیقی اسلام کے عقائد کی تعلیم دے سکیں، جبکہ اس وقت اُموی، عباسی، اور دیگر فرقہ غلو کے نظریات اور انحرافات کو مسلمانوں کے درمیان دھڑلے سے پھیلا رہے تھے۔
ان تمام باتوں کے باوجود پروردگار کے رحم و کرم کے ہمراہ شیعوں کی انتھک کوششیں اور اسلام حقیقی کی دفاع میں ائمہ کرام کی ناقابل شکست جنگیں رنگ لائیں اور اسلام انحرافاتی ہتھکنڈوں سے محفوظ رہا۔
____________________
[۸۳] بحار الانوار، ج۲۵، ص۲۶۵
[۸۴] امالی شیخ طوسی، ص۵۴
[۸۵] بحار الانوار، ج۲۵، ص۲۷۰
[۸۶] اصول کافی، ج۱، ۸۹
[۸۷] بحار الانوار، ج۲۶، حدیث و محدثین، ہاشم حسنی، ص ۲۹۹
[۸۸] رجال کشی، ج۲، ص۳۳۶
[۸۹] رجال کشی، ج۴، ص۵۹۰
[۹۰] الکافی، ج۸، ص۲۲۶
[۹۱] سورہ زخرف، آیت ۸۴
[۹۲] رجال کشی، ج۴، ص۵۹۲
[۹۳] سورہ شعراء، آیت ۲۲
[۹۴] رجال کشی، ج۴، ص۵۹۱
[۹۵] جو امام کی الوہیت و ربوبیت کے قائل تھے
[۹۶] رجال کشی، ج۴، ص۵۸۸
[۹۷] سورہ زخرف، آیت ۸۲
[۹۸] سورہ مو منون، آیت ۵۱
[۹۹] سورہ مو منون، آیت ۵۱
[۱۰۰] اصول کافی، ج۱، ص۲۶۹
[۱۰۱] سورہ رعد، آیت۱۶
[۱۰۲] رجال کشی، ج۶، ص۷۷۷
[۱۰۳] سورہ شوریٰ، آیت ۵۰
[۱۰۴] رجال کشّی ، ج۶، ص۷۷۸
[۱۰۵] رجال کشّی، ج۶، ص۷۷۹
[۱۰۶] عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۲۱۸، باب۴۶، حدیث ۲
[۱۰۷] اعتقادات شیخ صدوق، ص۹۹، سورہ نوح، آیت ۲۷۔ ۲۶
[۱۰۸] عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۲۱۹، باب ۴۶، حدیث ۴
[۱۰۹] سورہ انعام، آیت ۱۰۸
[۱۱۰] عیون اخبا رالرضا ج۲، ص۲۷۲، باب ماکتبہ الرضا ، حدیث ۶۳
[۱۱۱] عیون اخبار الرضا ، ج۲، ص۱۳۱۔ ۱۳۰، حدیث ۴۵
[۱۱۲] رجال کشّی، ج۶، ص ۸۰۵، شمارہ ۹۹۹
[۱۱۳] سورہ عنکبوت، آیت ۴۵
[۱۱۴] سورہ بقرہ، آیت ۴۳
[۱۱۵] کشّی ، ج۶، ص۸۰۳
[۱۱۶] کشی ، ج۶، ص۸۰۴
پانچویں فصل
حقیقت تشیع
اسلامی فرقوں میں شیعہ کی مانند کسی فرقہ کو طعن و تشنیع کا مرکز نہیں بنایا گیا اور اس کے کچھ اسباب تھے جن میں سے ایک سبب یہ تھا کہ روز و شب کی گردش کے ساتھ ہمیشہ ان انحرافی نظریات کے مد مقابل رہا تھا جن کی بنیاد عالم اسلام پر قابض حکومتوں نے رکھی تھی اور ان حکومتوں نے اپنے تئیں اپنے تمام تر وسائل کو اس فرقہ کے خلاف استعمال کیا اور ان کو مسلمانوں کے سامنے اس طرح پیش کرنے کی انتھک کوشش کی کہ یہ فرقہ حق سے منحرف ہے، اور اس کو مبتدعہ (بدعتی فرقہ) کے نام سے مشہور کیا گیا۔
دوسری طرف شیعہ حضرات کا اہل بیت کی جانب جھکاو اور دوسروں کے بجائے ان کی تعلیم سے کسب ہدایت تھی، اور اہل بیت نبوی کی محبت و احترام میں تنہا تھے اور اسلامی معاشرہ اس میں شریک نہیں تھا۔
یہ حکومتیں اس بات سے خائف تھیں کہ اہل بیت کی تعلیم مسلمانوں کے درمیان رشد نہ کریں جو کہ اکثر ان انحرافی تعلیمات کی بھینٹ چڑھ گئیں جن کو ظالم حکومت نے رائج کیا تھا اور وہ جعلی حدیثیں جن کو رسول اکرم کی جانب منسوب کیا تھا ان ظالم حکومتوں کی کوشش ا س بات کے اظہار پر تھی کہ یہ اسلامی تعلیمات ہیں جن کو اسلامی حکومت نے مرتب کیا ہے، لہٰذا یہ اس بات کا لازمہ بنا کہ وہ شیعوں کے مد مقابل کھڑے ہوں اور شیعوں کو مسلمانون کے درمیان ان کی انقلابی فکروں کی تعلیم سے روکیں۔
لہٰذا اس حکومت کے پاس اس فرقہ کے لئے اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اپنے وسائل کو استعمال کرے جو ان کی باتوں کو روک سکے اور لوگوں کو اس بات سے نفرت دلائے کہ ان کے باطل عقائد اسلام حقیقی تک نہیں پہنچ سکتے یا اس کو اسلامی اور عربی معاشرہ میں ایک اجنبی فرقہ کے نام سے مشہور کرے ہم ان کے مختلف نظریات کو پیش کریں گے جو کہ اصل تشیع کے سلسلہ میں ہے ان کا اصل مقصد صرف اتنا تھا کہ حقائق کو مخدوش کردیں اور حقیقی چہرہ پر پردہ ڈال دیں تاکہ لوگ اس تک پہنچ نہ سکیں۔
اصول کا یہودی شبہ
شیعیت پر خطرناک تہمتوںمیں سے ایک یہ ہے کہ ان کی اصل و اساس یہودیت سے منشعب ہوتی ہے اور اس کی جڑ عبد اللہ بن سبا، یہودی کی ہے، جس نے آخری دنوں میں اسلام کا تظاہر (دکھاوا) کیا تھا اور اس کا نظریہ اس کے شہر سے نکل کر حجاز، شام، عراق، مصر، تک پہنچا اور اس کے باطل عقائد مسلمانوں کے درمیان سرایت کر گئے جس کا ایک عقیدہ یہ تھا کہ علی نبی کے وصی تھے۔
فریدی وجدی کہتا ہے کہ: ابن سوداء (عبد اللہ بن سبا) درحقیقت یہودی تھا اس نے اسلام کا تظاہر کیا اور اس بات کا خواہاں تھا کہ اہل کوفہ کا محبوب و سردار رہے، لہٰذا اس نے ان لوگوں کے درمیان یہ بات کہی کہ اس نے توریت میں دیکھا ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی رہا ہے اور محمد کے وصی علی ہیں۔( ۱۱۷ )
یہ روایت درحقیقت طبری کی ہے( ۱۱۸ ) اور سیف بن عمر کے ذریعہ نقل ہوئی ہے، جس کی عدالت محدثین کی نظر میں شدت کے ساتھ ناقابل قبول ہے۔( ۱۱۹ )
طبری کے بعد آنے والے مورخین نے اس کو نقل کیا اور یہ روایت شہرت پاگئی اور جدید و قدیم فرقوں کے مولفین نے اس پر اندھادندھ بھروسہ کیا اور دقت و تفحص سے بالکل کام نہیں لیا۔
ابن حجر نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ: اس کی سند صحیح نہیں ہے۔( ۱۲۰ )
مولفین حضرات نے اس جانب بالکل توجہ نہیں کی اور صدیوں کے ساتھ اس کے سایہ تلے چلتے رہے۔
ابن تیمیہ کہتے ہیں: جب دشمنان اسلام اس دنیا کی قوت، نفاذ حکومت اور سرعت رفتار سے مبہوت ہوگئے تو حیران و سرگردان صورت میں کھڑے ہوگئے اس وقت ان کے پاس تلوار کے ذریعہ ابوحاتم نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے اور اس کی حدیثوں کو واقدی کی حدیثوں سے تشبیہ دی ہے۔
ابوداو د نے کہا کہ: یہ حقیقت نہیں رکھتی، نسائی اور دار قطنی نے اس کو ضعیف کہا ہے۔
ابن عدی نے کہا کہ: اس کی بعض حدیثیں مشہور ہیں اور عام طور وہ ناقابل قبول ہیں اور ان کی کوئی پیروی نہیں کرتا۔
ابن جبان نے کہا کہ: یہ بات ثابت ہے کہ وہ جعلی حدیثیں بیان کرتا تھا اور کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ حدیث گڑھتا تھا۔
ابن حجر نے ابن جبان کے بقیہ کلام کو یوں نقل کیا ہے کہ: ”اس پر ملحد ہونے کا الزام لگایا گیا“
برقانی نے دار قطنی کے حوالہ سے کہا ہے: کہ وہ متروک ہے۔
حاکم نے کہا کہ: اس پر ملحد ہونے کا الزام تھا، راوی کے اعتبار سے وہ ساقط الاعتبار ہے، تہذیب التہذیب، ج ۴ ، ص ۱۶۰ ۔ ۲۵۹
اس کا مقابلہ کرنے کی قوت نہیں تھی لہٰذا انھوں نے دوسرا حیلہ حربہ اور مکر کا استعمال کیا اور وہ تھا اسلام میں نفاق کا نفوذ و دخول، اور اندر سے اسلام کی بیخ کنی اور فتنہ کے ذریعہ اسلامی وحدت میں پھوٹ ڈالنا۔
جس نے اس بات کی فکر و تدبیر اپنائی پھر اس کو لوگوں کے سامنے پیش کیا وہ عبد اللہ بن سبا اور کے پیروکار تھے۔( ۱۲۱ )
ان دو اہم صورتوں کی جانب توجہ ضروری ہے جو عبد اللہ بن سبا کی شخصیت کو واضح کرتی ہیں:
۱ ۔ دائرہ اسلام میں برپا ہونے والے فتنوں کو اس کی جانب نسبت دینا۔
۲ ۔ خلیفہ سوم عثمان بن عفان کے دور حکومت میں پیدا ہونے والی مشکلات کو اس کے سر مڈھنا جس کی اصل و اساس طبری کی روایت ہے جو ابھی ابھی ذکر ہوئی ہے اور ابن سبا کو خیالی کردار عطا کرتی ہے اور نیک صحابہ کی ایک بڑی تعداد کو اسلام کا لبادہ اوڑھے اس یہودی کا تابع قرار دیتی ہے جبکہ دوسرا رخ یہ فرض کرتا ہے کہ عبد اللہ بن سبا، خیالی شخص ہے کیونکہ طبری کی اس سے نقل کردہ یہ روایت ضعیف ہے۔
بعض تاریخوں نے اس کے وجود کا اعتراف کیا ہے لیکن اس شخصیت کی طرف نسبت دیئے جانے والے عظیم کردار کا انکار کیا ہے، کیونکہ منابع میں موجود روایات اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ اس شخص کا وجود حضرت امیر کے دور خلافت میں ہوا اوراس نے آپ کی شان میں اس حد تک غلو کیا کہ آپ کو خدا جانا، اور اس انحرافی عقیدہ میں اس کے کچھ پیروکار بھی مل گئے لیکن اس کی یہ تحریک اس درجہ اہمیت کی حامل نہ تھی جس طرح بعض مورخین و محققین نے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے پیش کیا۔
اگر عبد اللہ بن سبا اتنی اہمیت کا حامل ہوتا تواہل سنت کی احادیث کی کتابیں خاص طور سے صحاح اس بات کی جانب ضرور اشارہ کرتیں جبکہ یہ کتابیں اس کے تذکرے سے خالی ہیں۔
( ۱) بعض مستشرقین و سیرت نگاروں نے اس بات کو بھانپ لیا کہ ابن سبا کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے کچھ سیاسی مقاصد تھے تاکہ شیعوں سے بدلہ لیا جاسکے۔
فلہوزن کہتا ہے کہ: سبئیہ کا لقب صرف شیعوں کے لئے بولا جاتا تھا، لیکن اس کا دقیق استعمال صرف شیعہ غلاة کے لئے صحیح ہے، جبکہ ذم (مذمت) کا لفظ شیعہ کے تمام گروہ پر برابر سے صادق آتا ہے۔( ۱۲۲ )
ڈاکٹر محمد عمارہ کہتے ہیں: کہ جو ہمارے موضوع، یعنی تشیع کی نشو و نما کی تاریخ سے مربوط ہے (اس سلسلہ سے عرض ہے) کہ عبد اللہ بن سبا کا وجود (اگر اس نام کا شخص تھا) تو اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ شیعیت اس کے دور میں وجود میں آئی( ۱۲۳ ) اور شیعوں نے اس سے اس طرح کی کوئی چیز نقل نہیں کی ہے، لہٰذا یہ بات کہنا بالکل درست نہیں کہ شیعوں کے معروف فرقہ کی نشو و نما اس کے زمانے میں ہوئی۔( ۱۲۴ )
مشکل یہ ہے کہ ابن سبا کا قضیہ جمہوری عقائد میں ٹکڑوں میں بٹ گیا اور جس کے وجود کے سبب سیاست متاثر ہوئی۔
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ سعودی رسالوں کے صفحات پر بڑی گھمسان نظریاتی جنگ ہوئی ہے، جیسے صحیفہ ریاض وغیرہ اساتذہ اور سیرت نگاروں کے بارے میں خیالی ابن سبا کے موضوع پر بڑی رد و قدح ہوئی ہے، ایک طرف اس بیچ ہونے والی بحثوں کا مقصد غیر منصف سیرت نگاروں کا شیعی عقائد کو اس کی طرف منسوب کرنا تھا تو دوسری جانب بعض انصاف پسند سیرت نگاروں نے ابن سبا کے مسئلہ کو جمہوری عقائد کا جزء تسلیم کیا ہے۔
ڈاکٹر حسن بن فہد ہویمل کہتے ہیں: کہ ابن سبا کے سلسلہ میں تین نظریات ہیں:
سطح اول:
اسلام کے سادہ لوح مورخین کے نزدیک اس کا وجود ہے اور اس کا زمانہ فتنہ و فساد کا عروج تھا۔
مستشرقین اور متاخر شیعہ اس کے وجود کے منکر ہیں اور اس کے کردار کے منکر ہیں، میں نے جو متاخر شیعہ کہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس مطلب کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ متقدم شیعوں نے ابن سبا کے وجود کا انکار نہیں کیا، ہر چند کہ اس کے بعض کردار کے مخالف ہیں۔
سطح دوم:
وہ ہے کہ عبد اللہ بن سبا کے وجود کا اثبات اور فتنہ انگیزی میں اس کے کردار کو کم گرداننا، اس بابت میں بھی اس کی طرف رجحان رکھتا ہوں۔
ڈاکٹر ہلابی اور ان کے بعد حسن مالکی اس شخصیت کے سختی سے منکرین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور ان دونوں کی تحریروں پر جہاں تک میری نظر ہے اور اس کی من گڑھت شخصیت کے بارے میں میرا نظریہ جو قائم ہوا ہے وہ ان دونوں کے خلاف ہے اور میں اس کی تائید نہیں کرتا۔
کیونکہ اس کے شخصیت کی بیخ کنی درحقیقت بہت ساری چیزوں کی بنیادوں کو ختم کرنا اور مٹانا ہے جو بزرگ علماء کے آثار میں موجود ہے، جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن حجر، ذہبی اور ان دونوں کے علاوہ دیگر علماء اسلام۔
اس لئے کہ عبد اللہ ابن سبا، یا ابن سوداء نے ایک عقیدتی مذہب کی بنیاد رکھی ہے اور اگر قبول کیا جائے تو دیگر مواقف بھی معرض وجود میں آتے ہیں لیکن ہم ایسے زلزلہ سے دوچار ہیں جو بہت ساری عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔( ۱۲۵ )
یہاں سے عبد اللہ بن سبا کا وجود اور اس کا افسانوی کردار بعض کے نزدیک عقائدی وجود کا حامل ہے۔
ابن سبا کے وجود کی بناء پر اس عظیم میراث کی قداست محفوظ ہو جاتی ہے چاہے ابن سبا کا وجود رہا ہو یا نہ۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابن سبا کا مسئلہ در اصل شیعہ مخالف افراد کے پاس ایک ہتھکنڈہ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کے ذریعہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد اس ابن سبا کی طرف منسوب کردیں۔
اہل فارس کا شبہ
یہ بات واضح و روشن ہے کہ بنی امیہ کی حکومت خالص عربی تھی جس کی سیاست یہ تھی کہ نو مسلم افراد کو دور سرحدوں کی جانب شہر بدر کردیں اور عربوں کو ان نو مسلموں پر ہر چیز میں برتری دیں، اپنے دشمنوں پر عجم ہونے کا الزام لگاتی تھی وہ بھی نفسیاتی جنگ کا ایک ایسا حربہ تھا جس کو اس حکومت نے اختیار کر رکھا تھا اور یہ ایک صدی تک استعمال کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے عام لوگوں کے ذہنوں میں نومسلموں عجم اور فاقد استعداد ہونے کی فکر راسخ ہوگئی۔
شیعہ موجودہ حکومت کے اہم حزب مخالف تھے اوران کے عقائد کے پھیلنے کے سبب اموی حکومت خطرہ میں پڑ رہی تھی، کیونکہ اس حکومت کے ذرائع ابلاغ نے ابن سبا کے ذریعہ شیعوں کی جانب یہودی عقائد منسوب کرنے کے الزام پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ انھوں نے یہ بات پھیلانے کی کوشش کی کہ درحقیقت شیعی عقائد ملک فارس کو فتح کرنے کے بعد ان کے عقائد شیعوں میں سرایت کر گئے ہیں۔
بعض معاصر مباحثین نے اس بات پر بہت زور آزمائی کی ہے بلکہ بسا اوقات حد سے بڑھ گئے اور یہودی و ایرانی عقائد کے درمیان جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
احمد عطیة اللہ کہتے ہیں: سبیئہ کی تعلیمات شیعی عقائد سے منسوب ہوتے ہیں جن کی اصل یہودیت ہے اور یہ فارس سے متاثر ہیں اس فرقہ کا سرغنہ یمنی الاصل یہودی ہے، جبکہ ایرانیوں نے جزیرة العرب کے کچھ حصہ پر قبضہ کر رکھا تھا اس وقت کچھ ایرانی عقائد ان کے درمیان رائج ہوئے اس وجہ سے سبیئہ فرقہ کو ایران کے ہمسایہ عراق میں کچھ بہی خواہ مل گئے۔
دوسری جگہ کہتا ہے: (الحق الالٰہی) یہ نظریہ ایران سے سبیئہ کی جانب بطور خاص اور شیعہ میں بطور عموم سرایت کر گیا، وہ یہ ہے کہ نبی کے بعد حضرت علی ان کے وصی و خلیفہ ہیں اور حضرت علی نے امامت کے مسئلہ میں خدا کی مدد طلب کی اور یہ حق علی سے منتقل ہوکر اہل بیت تک بطور میراث پہنچا ہے۔( ۱۲۶ )
اس محقق نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ اہل بیت کی میراثی امامت اور فارس کی وہ افکار جو لوگوں میں سرایت کر گئیں ہیں ان کے بیچ ایک ربط دے، اس لئے کہ یہ بات بالکل قطعی ہے کہ ایرانی میراثی حکومت کے قائل تھے اور اسی نظریہ کی تائید بے شمار محققین اور بعض شرق شناسوں نے کی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اس نظریہ پر غور و فکر کیا جائے تو ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ اس نظریہ پر اموی حکمرانوں نے عمل کیا ہے، اس لئے کہ انھوں نے اس بات کی کوشش کی کہ یہ خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو جائے جس کو اولاد باپ داداو ں سے میراث میں پائے اوراموی حکومت تو خالص عربی حکومت تھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں۔
لہٰذا ان کا فارس کی تقلید کرنا بالکل ناممکن تھا اس بنا پر اس نظریہ کو شیعوں کی جانب زبردستی منسوب کرنا اور بھی نامعقول ہے، بلکہ محال ہے کیونکہ تشیع خالص عربی ہے جس کو ہم عنقریب ثابت کریں گے بعض محققین نے اس نظریہ کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے کہ شروع کے اکثر شیعہ ایرانی تھے۔
شیخ محمد ابو زہرة کہتے ہیں: حق یہ ہے کہ جس کا ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ شیعہ ملوکیت اور اس کی وراثت کے سلسلہ میں ایرانیوں سے متاثر ہیں ان کے مذہب ایرانی ملوکیتی نظام کے درمیان مشابہت بالکل واضح ہے اور اس بات پر گواہ یہ ہے کہ اس وقت اکثر ایرانی شیعہ ہیں اور شروع کے سارے شیعہ ایران کے رہنے والے تھے۔( ۱۲۷ )
یہ بات کہ اس وقت اکثر اہل ایران شیعہ ہیں تو یہ صحیح ہے لیکن ابوزہرہ شاید یہ بات بھول گئے کہ بیشتر ایرانی آخری دور خاص طور سے صفوی حکومت کے دروان دائرہ تشیع میں داخل ہوئے ہیں۔
اور یہ بات کہ شروعات کے سارے شیعہ ایرانی تھے تو یہ بالکل غلط ہے اس لئے کہ یہ بات تاریخ کے مطالعہ سے بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس وقت کے بیشتر شیعہ خالص عرب تھے اور اس بات کو متقدمین مولفین نے قبول و ثابت کیا ہے، یہ اور بات ہے کہ ایران کے بعض علاقہ شیعہ نشین تھے اوران کی سکونت کی شروعات شہر قم سے ہوئی، جبکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہ سارے شیعہ (جو کہ قم میں سکونت پذیر تھے) سب عرب تھے ان میں سے کوئی ایرانی نہیں تھا۔
یاقوت حموی شہر (قم) کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اسلامی نوآبادیاتی شہر ہے اس میں پہلے سے عجم کا نام و نشان تک نہیں تھا، جس نے سب سے پھلے اس علاقہ کا رخ کیا وہ طلحہ بن احوص اشعری تھا اس کے اہل خاندان سب شیعہ تھے،حجاج بن یوسف کے زمانے ۸۳ ھء میں اس کو بسایا تھا
جب ابن اشعث نے شکست کھائی اور شکست خوردہ حالت میں کابل کی طرف پلٹا تو یہ ان بھائیوں کے ہمراہ تھا جن کو عبد اللہ، احوص، عبد الرحمن، اسحاق، نعیم کہا جاتا تھا یہ سب سعد بن مالک بن عامر اشعری کی اولاد تھے ان بھائیوں میں نمایاں عبد اللہ بن سعد تھا اس کا ایک بیٹا تھا جو کہ کوفہ میں تھا اور قدری عقائد کا مالک تھا وہاں سے قم کی جانب ہجرت کر گیا یہ شیعہ تھا، اسی نے تشیع کو اہل قم تک
پہنچایا لہٰذا قم میں کبھی کوئی بھی سنی موجود نہیں رہا ہے۔( ۱۲۸ )
جیسا کہ حموی نے ثابت کیا کہ شہر”ری“ میں شیعیت نہیں تھی یہ معتمد عباسی کے زمانے میں آئی ہے، وہ کہتا ہے کہ:اہل ری سب اہل سنت والجماعت تھے یہاں تک کہ احمد بن حسن مادراتی نے ری کو فتح کیا اور وہاں تشیع کو پھیلایا۔
اہل ری کا اکرام کیا اوراپنے سے قریب کیا، جب تشیع کے سلسلہ میں کتابیں لکھ دی گئیں تو لوگ اس حاکم کی طرف مائل ہوگئے۔
عبد الرحمن بن الحاتم وغیرہ نے اہل بیت کے فضائل میں کتابیں تصنیف کی اور یہ حادثہ معتمد عباسی کے زمانے میں ہوا اور مادراتی نے شہر ری پر ۲۷۵ ھ ء میں قبضہ کیا۔( ۱۲۹ )
مقدسی اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ اکثر ایرانی حنفی و شافعی مذہب کے پیرو تھے، مقدسی نے ایرانیوں کے درمیان تشیع کی وجود کی طرف بالکل اشارہ نہیں کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں: کہ میں نے مسلمانوں کی اکثریت صرف ان چار مذاہب کے پیروو ں میں دیکھی۔
مشرق میں اصحاب حنیفہ، مغرب میں اصحاب مالک، شوش و نیشاپور (ایران کے شہر) کے مراکز میں اصحاب شافعی، شام میں اصحاب حدیث، بقیہ علاقہ خلط ملط ہیں بغداد میں شیعیت و حنبلی کی اکثریت ہے، کوفہ میں کناسہ کے سوا کیونکہ وہاں سنی ہیں بقیہ سب شیعہ، موصل میں حنبلی اور کچھ شیعہ۔( ۱۳۰ )
ابن فقیہ نے ایک اہم نص کے ذریعہ محمد بن علی کی زبانی جو کہ اموی حکام کے خلاف عباسی انقلاب کا قائد و سربراہ تھا ہمارے لئے ایک اہم اقتباس نقل کیا ہے وہ اپنے گورنروں کو ہدیاات دیتے ہوئے اور ان کے محل حکومت کی تعیین کرتے ہوئے کہتے ہیں:
کوفہ کی اکثریت علی اوراولاد علی کے شیعوں کا مرکز ہے، بصرہ کی اکثریت عثمانیوں کا گڑھ ہے جو نماز میں ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں، وہ تم سے کہیں گے کہ عبد اللہ مقتول بنو قاتل نہیں۔
جزیرہ عرب میں حروریہ اور جنگجو عرب ہیں اور اخلاق نصاریٰ کی صورت مسلمان ہیں، اہل شام صرف آل ابوسفیان کو جانتے ہیں اور بنی مروان کی اطاعت کرتے ہیں ان کی دشمنی پکی ہے اور جہالت اپنے گھیرے میں لئے ہے، مکہ و مدینہ میں ابوبکر و عمر کا سکہ چلتا ہے لیکن تمہاری ذمہ داری خراسان کے حوالے سے زیادہ ہے، وہاں کی تعداد زیادہ اور سخت جان ہیں ان کے سینے مضبوط اوردل قوی ہیں ان کو خواہشات تقسیم نہیں کرسکتی، عطا و بخشش ان کو ٹکڑوں میں بانٹ نہیں سکتی، وہ ایک مسلم فوج ہے وہ قوی جسموں کے مالک ہیں، وہ بھرے شانہ، دراز گردن، بلند ہمت، داڑھی مونچھوں والے، بھیانک آواز والے اور چوڑے دہانے کے شیرین زبان ہیں اس کے بعد میں چراغ کائنات اور مصباح خلق یعنی شرق کے بارے میں نیک فال سمجھتا ہوں۔( ۱۳۱ )
معاصر محققین و مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے، چنانچہ ڈاکٹر عبد اللہ فیاض کہتے ہیں کہ عرب خصوصاً کوفہ میں تشیع کے ظہور کی تائید کرنے والی اہم تاریخی دلیلیں یہ ہیں:
۱ ۔ علی کے وہ انصار جنھوں نے ان کی مدد جنگ میں ان کے دشمنوں کے مقابلہ کی ان کی اکثریت حجاز و عراق کے لوگوں کی تھی، علی کے اہم عہددار یا سردار لشکر میں سے کسی ایک کے نام کی اطلاع ہم کو نہ ہوسکی جو ایرانی الاصل ہو۔
۲ ۔ ۶۰ ھء میں جن لوگوں نے کوفہ سے امام حسین کو خطوط لکھے تھے جیسا کہ ابو مخنف نے اپنی کتاب میں ان کے اسماء کا ذکر کیا ہے اس سے تو لگتا ہے وہ سب عربی قبائل کے سردار تھے جو کوفہ میں بسے ہوئے تھے۔
۳ ۔ سلیمان بن صرد خزاعی اور ان کے اصحاب جو توابین کی تحریک میں شامل تھے یہ سب کے سب عرب کے معروف قبیلوں میں سے تھے۔( ۱۳۲ )
فلھوزن نامی مستشرق نے اسی آخری نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
نخلیہ میں جو چار ہزار توابین جمع ہوئے تھے ان میں عرب قبائل کے افراد شامل تھے ان میں اکثریت قاریان قرآن کی تھی اوران میں سے کوئی ایک بھی غیر عرب نہ تھا۔( ۱۳۳ )
ایرانیوں کے نفسانی رجحانات تشیع کی جانب مائل ہونے کے سلسلہ میں فلھوزن ہی کہتا ہے : یہ کہنا کہ شیعیت کے آراء ایرانیوں کے آراء سے موافق تھے تو یہ موافقت شیعوں کے ایرانی ہونے کی دلیل نہیں بلکہ تاریخی حقائق اس کے برعکس ہیں کہ تشیع شروع ہی سے دائرہ عرب میں تھی اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس کے بعد حدود عرب سے باہر آئی ہے۔( ۱۳۴ )
عبد اللہ فیاض، سنیون سے نقل کرتے ہیں کہ: ہمدان ایک عظیم اور صاحب شان و شوکت قبیلہ تھا جو تشیع کا حامی تھا۔( ۱۳۵ )
دوسری وجہ جس کو محققین، تشیع کے ایرانی ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں وہ حضرت امام حسین کا ایک ایرانی خاتون سے شادی کرنا۔
ڈاکٹر مصطفی شکعہ کہتے ہیں کہ: تشیع ابتداء میں سیاسی مذہب تھا نہ کی دینی عقیدہ ان کی دلیل یہ ہے کہ آج تک تمام ایرانی محبت آل علی پر اجماع کئے ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ایرانی اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حسین کے برادر نسبتی ہیں اس لئے کہ انھوں نے شہر بانوں بنت یزدجرد سے شادی کی تھی، جب وہ مسلمانون کے ہاتھوں اسیر ہوکر آئیں تھیں، آپ کے بطن مبارک سے علی بن الحسین پیدا ہوئے، اس لحاظ سے ایرانی سب علی بن حسین کے ماموں ٹھہرے، اس طرح سے ان کی بیٹی کے بیٹے اور تشیع کے درمیان گہرا ربط پیدا ہوگیا، لہٰذا ان کا شیعہ مذہب اختیار کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ ان لوگوں نے خالص شیعیت اختیار کی تھی، بلکہ ان کا تشیع قبول کرنا عصبیت کی بناء پر تھا عقیدتی تشیع نہیں تھا، اور تعصبی تشیع، سیاسی تشیع کے مساوی ہے، لہٰذا فکر تشیع ایران کی جانب سے کم از کم خالص سیاسی تشیع ہے، بلکہ بعض ایرانیوں نے علی بن الحسین زین العابدین کی مدد کا اعلان کیا جب انھوں نے دیکھا کہ ایران، امام حسین کے گھرانے سے نسبی اعتبار سے مربوط ہیں۔( ۱۳۶ )
ڈاکٹر شکعہ کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام شیعہ صرف ایرانی نہیں تھے کہ شکعہ کی اس تحلیل کو قبول کیا جاسکے کہ اگر ایرانیوں نے تشیع صرف ”ماموں“ کے رشتے کے سبب قبول کیا اس لئے کہ ان کے اور علی بن الحسین کے بیچ ایک رشتہ تھا، تو دیگر غیر ایرانی شیعہ حضرات کے بارے میں کیا کہیں گے خصوصاً ان عربوں کے بارے میں کیا کہیں گے جو ایرانیوں کے شیعہ ہونے سے پہلے شیعہ کہلاتے تھے؟
دوسری بات یہ کہ اگر حضرت امام حسین کی جناب شہربانوں سے شادی ایرانیوں کے شیعوں ہونے کا سبب تھی تو صرف امام حسین ہی نے ایرانی شہزادی سے شادی نہیں کی تھی بلکہ وہاں پر دوسرے ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے ایرانی شہزادیوں سے شادی کی تھی جو کہ مدینہ اسیر ہوکر آئیں تھیں۔
عبد اللہ بن عمر نے سلافہ (شہر بانو) کی بہن سے شادی کی تھی اوران سے سالم پیدا ہوئے تھے اگر حسین خلیفہ مسلمین کے فرزند تھے تو عبد اللہ بن عمر بھی تو فرزند خلیفہ تھے جو (بظاہر) حضرت علی سے پہلے خلیفہ تھے۔
اسی طرح محمد بن ابی بکر نے سلافہ (شہر بانو) کی دوسری بہن سے شادی کی اور ان سے معروف فقیہ قاسم پیدا ہوئے، خود محمد بن ابی بکر بھی تو خلیفہ کے بیٹے تھے اور ان کے باپ تو عبد اللہ بن عمر کے باپ سے پہلے خلیفہ تھے عمر بن الخطاب کے زمانے میں تین شادیاں ہوئیں۔( ۱۳۷ )
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دلیل بھی باطل ہے ، لہٰذا تشیع کو ایرانیوں کے نام سے منسوب کرنا بالکل غیر منطقی ہے۔
____________________
[۱۱۷] دائرة المعارف، بیسویں صدی، ج ۵، ص۱۷
[۱۱۸] تاریخ طبری، ج۳، ص۳۷۸، ۳۵ھء کے واقعات
[۱۱۹] ابن معین نے کہا ہے کہ: یہ حدیث ضعیف ہے اور ایک جگہ کہا ہے کہ اس میں خیر و برکت نہیں۔
[۱۲۰] لسان المیزان، ج۳، ص۲۸۹، عبد اللہ بن سبا کی سوانح حیات
[۱۲۱] الصارم المسلول، ج۱، ص۲۴۶
[۱۲۲] الخوارج والشیعہ، ص ۲۸
[۱۲۳] جب کہ آپ جان چکے ہیں کہ شیعیت کا وجود حیات رسول میں تھا
[۱۲۴] الخلافہ و النشاة الاحزاب السیاسیہ، ص ۱۵۵
[۱۲۵] صحیفة الریاض، ص ۴، ربیع الاول ۱۴۱۸ھء
[۱۲۶] القاموس العربی، ج۳، ص۲۴۹
[۱۲۷] تاریخ المذاہب الاسلامیہ، ج۱، ص۴۱
[۱۲۸] معجم البلدان، ج۷، ص۱۵۹
[۱۲۹] معجم البلدان، ج۳، ص۱۲۱
[۱۳۰] احسن التقاسیم، ص۱۴۲۔ ۱۳۶
[۱۳۱] مختصر کتاب البلدان، ص۳۱۵
[۱۳۲] تاریخ الامامیہ، ص۶۸
[۱۳۳] الخوراج والشیعہ، ص۱۹۴
[۱۳۴] الخوارج و الشیعہ، ص ۲۴۰
[۱۳۵] تاریخ الامامیہ عن خطط الکوفہ، ص ۱۶
[۱۳۶] اسلام بلامذہب، ص۱۷۳
[۱۳۷] وفیات الاعیان ، ج۱، ص۴۵۵، ط، بولاق
خاتمہ
جو کچھ گذر چکا ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تشیع کا وجود سرکار ختمی مرتبت کی حیات میں تھا آپ نے اس کو پالا پوسا اور حضرت علی کی مستقل اس میں مدد شامل تھی اور لوگوں کواس جانب دعوت دی اور اس بات کی خبر دی کہ یہ حق پر ہے اوران کے شیعہ کامیاب ہیں۔
حضرت علی کی وصایت عبد اللہ بن سبا کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ ابتدائے اسلام سے ہی حضور نے اس کی صراحت فرما دی تھی، کہا جاتا ہے کہ عبد اللہ بن سبا موجود یا موہوم سے جب اصحاب نے رسول کے وصی کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب میں وصی کی خبر دی، یہاں تک کہ حضرت علی وصی کے نام سے مشہور ہوگئے اور شعراء نے اس کو بہت الاپا اور یہ لفظ لغت کی کتابوں میں بھی داخل ہوگیا۔
ابن منظور کے بقول: حضرت علی کو وصی کہا جاتا ہے۔( ۱۳۸ )
زبیدی کہتا ہے: وصی غنی کی طرح ہے جو علی کا لقب تھا۔( ۱۳۹ )
ابن ابی الحدید نے دس ایسے اشعار کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جس میں اصحاب نے حضرت علی کو وصی کے لقب سے یاد کیا ہے( ۱۴۰ )
شروع کے شیعہ حضرات سابق الایمان اور عظیم اصحاب تھے اور یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے علی کے خط تشیع پر عمل کیا اور لوگوں کے درمیان اس کی تبلیغ کی، ابتدائی شیعہ سب اصیل عرب تھے۔
گولڈ شیارڈ کہتا ہے: تشیع اسلام کی طرح عربی ہے اور اس کی نشو و نما عرب ہی میں ہوئی ہے۔( ۱۴۱ )
جو لوگ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اس بات کا اظہار کریں کہ ایرانی، تشیع میں صرف اس لئے داخل ہوئے تھے کہ اسلام کو ختم کردیں اوراپنے مجوس عقائد کو اسلام میں شامل کردیں،ان کے لئے عرض ہے کہ اہلسنت کی عظیم شخصیات سب ایران کی رہنے والی تھیں، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، ابو حنیفہ وغیرہ اوران کے علاوہ دیگر فقہاء و محدثین سب ایرانی تھے اگر ایرانیوں کا مقصد اسلا م کو ڈھانا تھا تو ایران کے رہنے والے اہل سنت کی ان عظیم شخصیتوں کا بھی نصب العین وہی ہونا چاہیئے ہم تو صرف ان کے دعوو ں کو مصداق دے رہے ہیں۔
حقیقت حال یہ ہے کہ تشیع خط اسلام پر سالک ہے اورانحراف سے بہت دور ہے اور روز و شب کی گردش کے ساتھ خود ساختہ شکوک و شبہات کا سامنا کرتا رہا ہے یہاں تک کہ خدا اپنا فیصلہ ظاہر کرے گا۔
____________________
[۱۳۸] لسان العرب، ج ۱۵، ص۳۹۴
[۱۳۹] تاج العروس، ج۱۰، ص۳۹۲
[۱۴۰] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ۱۴۳
[۱۴۱] العقیدة والشریعہ فی الاسلام، ص۲۰۵
مصادر و منابع
۱ ۔ لسان العرب،ابن منظور
۲ ۔السیرة النبویة، لاحمد زینی دحلان
۳ ۔ السیرة الحلبیة، لبرہان الدین حلبی
۴ ۔ مغازی، واقدی
۵ ۔ مسند احمد (احمد بن حنبل)
۶ ۔ صحیح بخاری، محمد بن اسماعیل بخاری
۷ ۔ صحیح مسلم (مسلم بن الحجاج القشیری)
۸ ۔ سنن ابن ماجة ، ابن ماجہ قزوینی
۹ ۔ المصنف، ابن ابی قتیبہ
۱۰ ۔ المسند، حمیدی
۱۱ ۔ المسند،ابی یعلی
۱۲ ۔ طبقات الکبریٰ، ابن سعد
۱۳ ۔ تاریخ یعقوبی، ابن واضح یعقوبی
۱۴ ۔ الکامل فی التاریخ، ابن اثیر
۱۵ ۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید المعتزلی
۱۶ ۔ کنز العمال ، متقی ہندی
۱۷ ۔ انساب الاشراف، بلاذری
۱۸ ۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر
۱۹ ۔ مختصر تاریخ دمشق، ابن منظور
۲۰ ۔المستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشاپوری
۲۱ ۔ جامع ترمذی، (ترمذی)
۲۲ ۔ سنن نسائی، احمد بن شعیب نسائی
۲۳ ۔ سنن دارمی (دارمی)
۲۴ ۔ الصواعق المحرقہ ، ابن حجر ھیثمی مکی
۲۵ ۔ مجمع الزوائد، نور الدین ھیثمی
۲۶ ۔ فیض القدیر، مناوی
۲۷ ۔ حلیة الاولیاء، ابی نعیم
۲۸ ۔ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی
۲۹ ۔ ذخائر العقبیٰ، محب الطبری
۳۰ ۔ ریاض النضرة، محب الطبری
۳۱ ۔ اسد الغابہ ، ابن اثیر
۳۲ ۔ اسباب النزول، واحدی
۳۳ ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی
۳۴ ۔ السیرة النبویة، لابن ہشام
۳۵ ۔ المعجم الکبیر، طبرانی
۳۶ ۔ البدایہ و النہایہ، ابن کثیر دمشقی
۳۷ ۔ مصابیح السنہ ، بغوی
۳۸ ۔ مشکاة المصابیح، سبط ابن جوزی
۳۹ ۔ تذکرة الخواص، سبط ابن الجوزی
۴۰ ۔ فضائل،احمد بن حنبل
۴۱ ۔ مسند طیالسی، (الطیالسی)
۴۲ ۔ تفسیر الطبری، ابن جریر الطبری
۴۳ ۔ الاموال، (ابو عبید)
۴۴ ۔ المنتظم، ابن الجوزی
۴۵ ۔ المعجم الاوسط، طبرانی
۴۶ ۔ الاستیعاب، ابن عبد البر
۴۷ ۔ الفردوس بماثور الخطاب، دیلمی
۴۸ ۔ معرفة الصحابة، ابی نعیم
۴۹ ۔ شرح المواہب اللدنیہ، زرقانی
۵۰ ۔ فرائد السمطین، للحموئی
۵۱ ۔ نظم درر السمطین ، جمال الدین الزرندی
۵۲ ۔ فصول المہمہ، ابن صباغ مالکی
۵۳ ۔ احیاء علوم الدین، غزالی
۵۴ ۔ کنوز الحقائق ، مناوی
۵۵ ۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی
۵۶ ۔ الاصابہ فی معرفة الصحابہ، ابن حجر عسقلانی
۵۷ ۔ کفایة الطالب، گنجی
فہرست
شعيت کي حقيقت اور اس کي نشو و نما ۳
صباح علي بياتي ۳
مقدمہ ۴
پہلي فصل ۷
اسلام اور تسليم ۷
اجتہاد کے سلسلہ ميں بعض اصحاب کا موقف ۹
حکم کے دو ر خ ۱۴
دوسري فصل ۱۷
ديني مرجعيت ۱۷
رہبري کے عمومي شرائط ۱۸
اہليت، عمومي مرجعيت کي برترين شرط ہے ۱۹
اہلبيت کون لوگ ہيں؟ ۲۱
مرجعيت کے عام شرائط اور نص ۲۴
خليفہ کي تعيين اور احاديث نبوي ۲۶
پيغمبر اسلام کي ديگر احاديث ۲۸
رسول اسلام کا مبلّغ ۲۹
تاج پوشي ۳۱
مرجعيت کے لئے حضرت علي کے اہليت ۳۱
علي، اعلم امت ۳۴
امت کي شجاع ترين فرد علي ۳۵
حضرت علي اور جنگ بدر ۳۶
حضرت علي اور جنگ خندق ۳۶
حضرت علي خيبر ميں ۳۸
حضرت علي اور جنگ حنين ۴۰
اختلاف کے اسباب ۴۱
شاہراہ اجتہاد کا استعمال ۴۶
تیسری فصل ۵۱
آغاز تشیع ۵۱
راستہ کی نشاندہی ۵۴
سخت ترین مرحلہ! ۶۳
چوتھی فصل ۷۴
مسیر تشیع ۷۴
اسلامی فرقے اور غالیوں کے انحرافات ۷۵
مفہوم تشیع ۷۸
تشیع کا عمومی مفہوم ۸۰
تشیع کا خصوصی مفہوم ۸۴
اثنا عشری عقیدہ ۸۴
انحرافی پہلو ۸۷
غلو اور غلو کرنے والے! ۸۹
غلو قرآن کی نظر میں: ۹۱
۱. بعض افراد کے نظریات: ۹۳
عبد اللہ بن سبا ۹۸
غلاة کے سلسلہ میں اہل بیت اور ان کے شیعوں کا موقف ۱۰۱
غلاة کے بارے میں امیر المومنین کا موقف ۱۰۱
غلاة اور امام زین العابدین کا موقف ۱۰۲
غلاة اور امام محمد باقر کا موقف ۱۰۲
غلاة اور امام صادق کا موقف ۱۰۲
غلاة اور امام موسیٰ کاظم کا موقف ۱۰۷
غلاة اور اما م رضا کا موقف ۱۰۹
غلاة اور امام علی بن محمد ہادی کا موقف ۱۱۱
پانچویں فصل ۱۱۷
حقیقت تشیع ۱۱۷
اصول کا یہودی شبہ ۱۱۷
سطح اول: ۱۲۰
سطح دوم: ۱۲۰
اہل فارس کا شبہ ۱۲۱
خاتمہ ۱۲۷
مصادر و منابع ۱۲۹