یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
شیعیان علی اہل سنت کی نظرمیں
یاسمین اختر
انتساب
اپنے شفیق ومہربان والدین کے نام اس امید سے کہ خدواند متعال انہیں علی مولا کے حقیقی شیعوں کے ساتھ محشور فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ مؤلف:
لفظ شیعہ روز اول ہی سے اللہ والوں کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے خداوند متعال نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: (اور موسی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا ااور ایک ان کے دشمنوں میں سے۔ تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسی نے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کر دیا) (سورة قصص:١٥)۔
اس قرآنی اصطلاح سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کے چاہنے والے اور مظلوم کو شیعہ کہا جاتا ہے اور اسکے مقابلے میں جوبھی رہا ہے اسے دشمن پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کہا گیا۔
اسی طرح سورہ مبارکہ صافات میں ارشاد فرمایا:( انّ من شیعته لابراهیم ) (صافات:٨٣) اور یقیناً نوح ہی کے شیعوں میں سے ابراہیم بھی تھے۔
لفظ شیعہ نیک کردار افراد کے لیے ایک قرآنی اصطلاح ہے اس لیے جناب ابراھیم کو ان کے اتباع کی بناء پر جناب نوح کے شیعوں میں سے قرار دیا گیا ہے جب کہ بعض مفسّرین کے مطابق دونوں کے درمیان ٢٦٤٠ سال کا فاصلہ ہے تواگر اس طویل فاصلہ کے بعد جناب ابراھیم جناب نوح کے شیعوں میں شمار ہوسکتے ہیں تو اتباع اور پیروی کی بنا پر آج کے مومنین شیعہ علی کیوں نہیں ہوسکتے ہیں جن کے بارے میں خود پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے متعدد مقامات پر بشارت دی ہے کہ اے علی تم اور تمہارے شیعہ کامیاب وکامران ہیں۔
رسول مکرم اسلام نے شیعیان علی کے مقام ومنزلت کو بیان کرتے ہوئے جو فضیلتیں بیان کی ہیں انہیں پڑھ کر ہر منصف مزاج اور حق پسند انسان اس نورانی مذہب کی پیروی کرناے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اگرچہ شیعہ کتب اس مذہب کے فضائل سے بھری پڑی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اہل سنت کی معتبر کتب میں بھی ایسی احادیث کم دکھائی نہیں دیتیں اور یہ خود اس مذہب اور اس کے پیروکاروں کی حقانیت کی واضح دلیل ہے۔
لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ آمریکہ اور سعودی عرب کے دستر خوان پر پلنے والے کچھ ملّاں ان حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے کم پڑھے لکھے مسلمانوں کو شیعوں کے خلاف اکسانے کی خاطر اس مذہب کے پیروکاروں کے خلاف جھوٹ اور تہمت جیسے گناہوں سے بھی گریز نہیں کرتے۔
چند دن پہلے حوزہ علمیہ قم کے بعض علماء کرام نے بندہ حقیر کو شیعوں کے خلاف جھوٹ اور پراپیگنڈوں پر مشتمل ایک سی ڈی دی اور ساتھ ہی اس کا جواب دینے کا امر صادر فرمایا جس کے پیش نظر اہل سنت برادران کی معتبر کتب سے چالیس احادیث کو اکٹھا کر کے قارئین محترم کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اسلامی امت اس فرمان خدا (ولکم فی رسول اللہ اسوة حسنة) (سورة أحزاب:٢١) پر لبیک کہتے ہوئے ان احادیث رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر عمل پیرا ہوکر سچا عاشق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہوناے کا ثبوت پیش کرسکے ۔
درگاہ خدا میں دست بدعا ہیں کہ یہ کتاب مسلمانوں کے درمیان حسن تفاہم اور اتحاد وبھائی چارگی کا باعث بنے۔
والسلام علی من اتبع الهدی
یاسمین اختر
شیعیان علی سے خدا کا راضی ہونا
١:۔عن ابن عباس قَال: لَمَّانَزَلَتْ ( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ( ۱ ) ) قَالَ رَسولُ اللهِ صلىاللهعليهوآلهوسلم لِعَلِیٍّ: هُم أَنتَ وَشِیعتُکَ یَومَ القِیامةِ رَاضِین مَرضِیّینَ ( ۲ ) .
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیںکہ جب یہ آیت (ان الذین آمنوا وعملوا الصلحٰت أولئک ھم خیر البریّة ) نازل ہوئی تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی سے فرمایا: وہ آپ اور آپکے شیعہ ہیں روز قیامت یہ لوگ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا ان سے راضی وخوشنود ہوگا۔
شیعیان علی کی عاقبت
٢:۔عن ابن عباس قال: لمانزلت ( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) قال رسولُ اللهِ صلىاللهعليهوآلهوسلم لِعَلِیٍّ: أنتَ وَشِیعتُکَ تَأتِی یومَ القیامةِ رَاضِینَ مَرضِیّینَ وَیَأتِی عَدُوُّکَ غَضباناً مُقْمحِینَ. فَقال: مَنْ عَدُوِّیْ؟ قالَ: مَنْ تَبَرّأ َمِنکَ وَلَعنکَ ( ۳ ) .
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت (اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین مخلوق ہیں ) نازل ہوئی تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی سے فرمایا: آپ اور آپکے شیعہ روز قیامت ایسی حالت میں آئیں گے کہ آپ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا پ سے راضی وخوشنود ہوگا۔ جبکہ آپ کے دشمن ناراضگی کی حالت میں سرجھکائے ہوئے میدان محشر میں وارد ہوں گے۔ حضرت علی نے عرض کیا: (یارسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم ) میرے دشمن کون ہیں؟ فرمایا: جو آپ سے اظہار بیزاری کرے اور آپ پر (نعوذباللہ) لعنت کرے۔
شیعیان علی خدا کی بہترین مخلوق
٣:۔عن جابر بن عبدالله قال: کُنَّا عِند النبیِ صلىاللهعليهوآلهوسلم فَأَقْبلَ عَلِیّ فقال النبیُ صلىاللهعليهوآلهوسلم : وَالذِی نَفسِی بِیَدهِ اِنَّ هَذا وَشِیعتَهُ لَهُم الفائزونَ یَومَ القِیامَةِ وَنزلتْ ( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) فَکانَ اَصحابُ النبیِ صلىاللهعليهوآلهوسلم اِذَا أَقْبلَ عَلِیّ قَالُوا: جَائَ خَیْرُ البَرِیَّةُ ( ۴ ) .
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں موجود تھے اتنے میں علی بھی تشریف لائے تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک یہ اور اسکے شیعہ قیامت کے دن کامیاب وکامران ہیں اور یہ آیت (اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین مخلوق ہیں ) نازل ہوئی ۔ اسکے بعد جب بھی اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی کو آتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے:خیر البریّة (بہترین مخلوق) آگئے۔
شیعیان علی نورانی چہروں والے
٤: عن علی علیه السلام قال: قال لی رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم :
أَلَمْ تَسْمَعْ قَولُه تعالٰی( اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ أُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) هُمْ أَنْتَ وَشِیْعَتُکَ وَمَوْعِدِی وَمَوعدکُمْ الحوضَ اِذَا جَائَتِ الاُمَمُ لِلحسابِ تُدعونَ غُرّاً مُحَجِّلِیْنَ( ۵ )
ترجمہ:
حضرت علی علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا آپ نے خداوند متعال کا یہ فرمان نہیں سنا: (اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین مخلوق ہیں )
وہ آپ اور آپ کے شیعہ ہیں میری اور آپ کی وعدہ گاہ حوض کوثر ہے جب تمام امتیں حساب وکتاب کیلئے آئیں گی تو تمہیں دعوت دی جائے گی جبکہ تمہارے چہرے روشن ودرخشاں ہوں گے۔
شیعیان علی اہل سنت کی نظرمیں
شیعیان علی جنتی مخلوق
عن علی وفاطمة وامّ سلمة وأبی سعید أنّ النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم قال لعلیٍّ:
اِنَّکَ وَشِیْعَتُکَ فِیْ الْجَنَّةِ( ۶ ) .
ترجمہ:
حضرت علی ، فاطمہ، امّ سلمیٰ اور ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی سے فرمایا:
بے شک آپ اور آپ کے شیعہ جنّتی ہیں۔
شیعیان علی اور پنجتن کی ہمراہی
٦:عن أحمد قال النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم لعلِیٍّ: أَمَاتَرْضٰی أَنّکَ مَعِیْ فِی الجَنّةِ وَالْحسنَ وَالْحسینَ وَذُریَّاتِنَا خَلفَ ظُهورِنَا وَأَزواجِنَا خَلْفَ ذُرِیّاتِنَا وَشِیعتَنَا عَنْ أیمانِنَا وشَمائلِناَ ( ۷ ) ؟
ترجمہ:
احمد بن حنبل نقل کرتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی سے فرمایا:
کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ جنّت میں آپ میرے ہمراہ ہوں گے اور حسن وحسین ہمارے پیچھے اور ہماری ازواج انکے پیچھے ہوں گی اور ہمارے شیعہ ہمارے اطراف میں ہوں گے۔
شیعیان علی ہی کامیاب ہیں
عن امّ سلمة قال النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم :
شِیْعَةُ عَلِیٍّ هُمُ الفَائِزُوْنَ یَوْمَ القِیَامَةِ( ۸ ) .
ترجمہ:
حضرت امّ سلمیٰ روایت کرتی ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
علی کے شیعہ ہی قیامت کے دن کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی سب سے پہلے جنت میں جانے والے
٨: قال النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم :(حینما شکیٰ علی ّ رسولَ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم حسد الناسِ اِیّاهُ)یَاعَلِیُّ ! اِنّ أَوّلَ أَرْبعةٍ یَدخُلونَ الجَنّةَ أَنَا، وَأَنتَ وَالحسنُ وَالحسینُ وَذَرَارِیْنَا خَلْفَ ظُهُوْرِنَا وَأَزْواجُنا خَلف ذَرَارِیْنَا وَشِیْعَتُنَا عَنْ أَیْمَانِنَا وَشَمَائِلَنَا( ۹ )
ترجمہ:
)جب حضرت علی نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے لوگوں کے حسد کی شکایت کی) تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
اے علی ! سب سے پہلے جنت میں داخل ہوناے والے چار فرد، میں ، آپ، حسن اور حسین ہوں گے۔ ہماری اولاد ہمارے پیچھے ہوگی اور ہماری بیویاں ہماری اولاد کے پیچھے اور ہمارے شیعہ ہمارے اطراف میں ہوں گے۔
شیعیان علی کی سعادت
٩:عن جابرو ابن عبّاس وأبی سعید الخدری وامّ سلمة:کُنَّا عِند النَبیِّ صلىاللهعليهوآلهوسلم فأَقْبلَ عَلیُ بنُ أَبی طَالبٍ، فَقالَ النبیُ صلىاللهعليهوآلهوسلم قَد أتاکُم أَخِیْ، ثُمَّ اِلتَفَتَ الی الکعبةِ، فضربهَا بیده ثُمَّ قال: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِهِ ) اِنَّ هَذَا( عَلِیّ وَشِیعتُهُ هُمُ الفَائزُونَ یومَ القِیَامةِ ( ۱۰ )
ترجمہ:
جابر، عبداللہ بن عباس، ابوسعید خدری اور جناب امّ سلمٰی نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں موجود تھے اتنے میں اچانک علی تشریف لائے تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
میرا بھائی تمہارے پاس آیا ہے اور خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوئے، اپنا دست مبارک دیوار کعبہ پر مار کر فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک علی اور انکے شیعہ روز قیامت کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی کا حوض کوثر پر سیراب ہونا
١٠: قال النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَاعَلِیُّ ! أَنْتَ وَشیعتُکَ تَردُونَ عَلَیّ الحوضَ ورودًا روّائَ( ۱۱ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
اے علی ! آپ اور آپ کے شیعہ حوض کوثر سے سیراب ہو کر میرے پاس پہنچیں گے۔
شیعیان علی کا دوسروں کوسیراب کرنا
١٠: قال رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَاعَلِیُّ ! أَنْتَ وشیعتُکَ تَردُونَ عَلَیّ الحوضَ
روّاةً مرویّینَ مبیضّةً وُجوهکم، وأنّ أعدائک یردون علیَّ الحوضَ ظَمآئَ مُقمحینَ( ۱۲ )
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی سے فرمایا:
آپ اور آپ کے شیعہ حوض کوثرپر میرے پاس ایسی حالت میں وارد ہوں گے کہ خود بھی سیراب ہوں گے اور دوسروں کو بھی سیراب کریں گے۔
جبکہ آپ کے دشمن پیاس کی حالت میں سرجھکائے حاضر ہوں گے۔
شیعیان علی پر ملائکہ کی شفقت
١٢: عن جابر قَالَ رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
وَالَّذِی بَعثنِی بِالحَقِّ نَبِیًّا، اِنّ المَلائکةَ تَستغفرُ لِعَلِیٍّ وَتَشفِقُ عَلیهِ وَعَلیٰ شِیعَتِهِ أَشفقَ مِن الوَالدِ عَلٰی وَلَدِهِ( ۱۳ ) .
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا۔ بے شک ملائکہ علی کیلئے استغفار کرتے ہیں اور ان پر اور ان کے شیعوں پر باپ سے بھی بڑھکر شفقت کرتے ہیں ۔
شیعیان علی کا بارگاہ خدا میں حاضر ہونا
عن علیّ علیه السلام قال:
اِنَّ خَلِیلِی(رسول الله)صلىاللهعليهوآلهوسلم قَالَ: یاَعَلِیُّ: أنکَ تَقْدمُ علَی اللهِ وَشیعتُک رَاضِینَ مَرضیّینَ ویَقْدِمُ عدوُّکَ غَضباناً مُقمحِینَ( ۱۴ ) .ثُمَّ جمعَ علیٰ یده الیٰ عُنُقه یُریهمُ الأَقماحَ( ۱۵ ) .
ترجمہ:
حضرت علی سے روایت ہے کہ میرے خلیل (رسول خدا )صلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:اے علی ! آپ اور آپکے شیعہ بارگاہ خداوندی میں ایسی حالت میں آئیں گے کہ آپ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا آپ سے راضی وخوشنود ہوگا۔ جبکہ آپ کے دشمن ناراضگی کی حالت میں سرجھکائے ہوئے خدا کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اور پھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے ہاتھوں کو گردن میں ڈال کر ان کی حالت کو بیان فرمایا۔
شیعیان علی کیلئے ملائکہ کا استغفار کرنا
عن أنس (عن النّبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ) حدّثنی جبرائیلُ وقالَ:
اِنَّ اللهَ لایحبُّ المَلائکةَ مثلَ حُبِّ علیٍّ، ومامن تسبیحة تُسبّح لله الا ویخلقُ اللهُ )بها( ملکاً یستغفرُ لمحبّیهِ وشیعتهِ الی یوم القیامة( ۱۶ ) .
ترجمہ:
انس بن مالک (نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے) کہ مجھے جبرائیل نے خبر دی: بے شک خداوند متعال علی کے مانند ملائکہ کو بھی محبوب نہیں رکھتا اور جب بھی خدا کیلئے کوئی تسبیح کی جاتی ہے تو وہ ہر تسبیح کے بدلے میں ایک فرشتہ خلق کرتا ہے جو قیامت تک علی اور انکے شیعوں کیلئے استغفار میں مشغول رہتا ہے۔
شیعیان علی کیلئے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا استغفار کرنا
عن جابر بن عبدالله الأنصاری قال: خطبنا رسولُ اللهِ فسمعتُه یقول: أیّهاالنّاس! من أبغضنا أهلَ البیتِ حشرهُ اللهُ یوم القیامة یهودیّاً.فقلتُ: یارسول الله وان صام وصلیّ؟ قال: وان صام وصلیّ وزعم أنّه مسلم احتَجَر بذلک من سفک دمه وان یؤدی الجزیةَ عن ید وهم صاغرونَ. مُثِّلَ لِی اُمّتی فی الطین فمرّ بی أصحابُ الرّایات فاستغفرتُ لِعلیٍّ وشِیعتِهِ ( ۱۷ ) .
ترجمہ:
'' حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! جوشخص میرے اہل بیت سے بغض رکھے گا خدواند اُسے یہودی محشور کرے گا۔
میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اگرچہ وہ نماز وروزے کے پابند ہو؟! فرمایا: ہاں اگرچہ وہ نماز وروزے کا پابند ہی کیوں نہ ہو اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔ البتہ اس کا مسلمان ہوناے کا اظہار کرناااسکے مال وجان کے محترم ہوناے اور مالیات (ٹیکس) سے بچنے کا باعث بنے گا۔ میری امت جب مٹی وپانی میں تھی تو اسے میرے سامنے پیش کیا گیا۔ مختلف گروہ پرچم اٹھائے میرے سامنے سے گذرے تو میں نے علی اور انکے شیعوں کیلئے مغفرت طلب کی''.
شیعیان علی کیلئے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شفاعت
١٦: قال النبیُصلىاللهعليهوآلهوسلم لعلیّ :
بَشِّرْ شیعتکَ أنَا الشَّفِیعُ لَهمْ یوم القیَامةِ وقتاً لایَنفعُ مَال ولابَنون الا الشَّفاعَة( ۱۸ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
اے علی ! اپنے شیعوں کو خوشخبری دے دے کہ روز قیامت جب شفاعت کے سوا نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد تو اُسوقت میں ان کی شفاعت کروں گا۔
شیعیان علی سے محبت کرناے والوں کی بخشش
١٧: قال النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَاعَلِیُّ! اِنَّ اللهَ قَد غَفرلَکَ ولِذُرِّیَّتکَ وَولدک وَلِأهْلک وَلِشیعتِکَ وَلِمُحِبِّی شِیعَتکَ( ۱۹ ) .
ترجمہ:
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
اے علی ! خداوند متعال نے آپ ، آپ کی اولاد ، آپ کے اہل بیت، آپ کے شیعوں اور آپ کے شیعوں کو دوست رکھنے والوں کو بھی بخش دیا ہے۔
شیعیان علی کیلئے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بشارت
١٨:عن أبی جعفر المنصور، عن جدّه، عن ابن عباس قال: کُنَّا جلوساً بِبَابِ دَارِه فَاذًا فَاطِمةُ قَد أَقبلتْ وَهِیَ حَامِلَةُ الحُسینِ، وَهِیَ تََبْکِی بُکَائً شَدیدًا، فَاسْتَقْبَلَها رسولُ اللهِ صلىاللهعليهوآلهوسلم ، فَتَناوَلَ الحُسینَ مِنْهَا، وَقَالَ لَهَا: مَایُبْکِیْکِ یَافاطمة؟ قَالَتْ: یَاأَبَةَ عیرتَنِی نِسَائُ قُریش وَقُلْنَ: زَوَّجَکَ أَبُوکَ مَع مَالَاشَیئَ لَهُ، فَقالَ النَّبیُ صلىاللهعليهوآلهوسلم : مَهْلاً وَاِیَّایَ أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْکِ... قُومِی یَافاطمةُ، اِنَّ عَلِیًّا وَشِیعتُهُ هُمُ الفَائِزُونَ غَداً ( ۲۰ )
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ اچانک فاطمہ ، حسین کو اٹھائے ہوئے روتی ہوئی داخل ہوئیں۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آگے بڑھ کر حسین کو ہاتھوں پہ لیا اور فرمایا: اے فاطمہ کیوں رورہی ہو؟
عرض کیا: اے بابا جان: قریش کی عورتیں مجھے طعنہ دے رہی ہیں کہ تمہارے باپ نے تمہاری شادی ایسے شخص سے کی ہے جس کے پاس کچھ نہیں۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: صبر کرو اور دوبارہ یہ بات آپ سے نہ سنوں اور پھر (علی کے کمالات وفضائل بیان کرتے ہوئے )فرمایا: اے فاطمہ اٹھو، بے شک علی اور انکے شیعہ روز قیامت کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی درخت نبوت کے پتے
١٩: قَالَ رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
شَجرةٔ أَنَا أَصلُهَا وعَلیّ فَرعُهَا والحسنُ والحسینُ ثَمرُهَا، والشیعةُ وَرَقُهَا، فَهل یَخرُجُ مِنَ الطیّبِ اِلّا الطَّیّبُ( ۲۱ )
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے (شجرہ طیبہ کے بارے میں) فرمایا:
وہ ایسا درخت ہے جس کی جڑ میں ہوں، شاخ علی ہے اور اسکا پھل حسن وحسین ہیں اور شیعہ اسکے پتے ہیں۔ پس کیا پاک چیز سے پاک کے سوا کچھ نکل سکتا ہے؟!
شیعیان علی جنتی تختوں پر
٢٠: عن أبی هُریرة: انّ علی بن أبی طالبٍ قالَ: أیّما أحبة الیک؟ أنا أم فاطمةُ؟
قالصلىاللهعليهوآلهوسلم فاطمةُ أَحبُّ الیَّ منکَ، وأنتَ أعَزُّ علیّ منهَا، وکأنّی بکَ، وَأنتَ علی حَوضِی تَذُوْدُ عنه الناسَ، وأنَّ علیه لأَبَاریقَ مثلَ عددَ نُجومِ السَّمائِ، وَانِّی وَأنتَ وَالحسنَ والحسینَ وفاطمةَ وعقیلَ وجعفرَ فی الجَنّةِ. ثُمّ قرأَ رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم : (اِخْوَانًا عَلیٰ سُرُرٍ مُتَقٰبِلِیْنَ)( ۲۲ ) لاَیَنظرُ أَحد فِی قَضَا صَاحبهِ. رواه الطبرانی فی مجمع الاوسط( ۲۳ ) .
ترجمہ:
ابوھریرہ نے حضرت علی سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا: (یارسول اللہ) کیا میں آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوں یا فاطمہ؟
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:فاطمہ مجھے زیادہ محبوب ہیں اور آپ فاطمہ سے زیادہ عزیز ہیں۔ چنانچہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ حوض (کوثر) کے کنارے سے لوگوں (غیروں) کو دور کررہے ہیں جہاں آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ تعداد میں جام موجود ہیں۔ اور میں، آپ، حسن ، حسین ، فاطمہ ، عقیل اور جعفر جنت میں ہوں گے اور پھر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی (وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے)۔
شیعیان علی پر نعمتوں کی باران
٢١: قَالَ رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَاعَلِیُ ! اِنَّ شیعتَنَا یَخرُجُونَ من قُبورهِمْ یومَ القِیامةِ مَابِهِمْ مِن العُیوبِ وَالذنوبِ، وُجوههُمْ کَالْقمرِ فِی لیلةِ البَدرِ، وَقَدْ فُرِجَتْ عَنهُم الشَّدَائدُ، وَسُهِّلَتْ لَهمُ المَواردُ، وأَعطُوْا الأَمنَ والامانَ، وَارْتَفعتْ عَنهمُ الأَحزانُ، یخافُ الناسُ ولایحزنونَ، شُرُکُ نِعَالِهِمْ تَتَلَأْلَؤُنُوْرًا، عَلٰی نُوقٍ بیضٍ لهَا أَجنحة قَد ذُلِّلَتْ من غیرِ مهانةٍ، ونُجِبتْ مِن غیرِ ریاضةٍ ، أَعناقُها من ذَهبٍ أحمرُ، أَلیَنُ من الحریرِ لکرامتهمْ عَلی اللهِ عَزوجلَّ( ۲۴ )
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اے علی ! ہمارے شیعہ قبروں سے ایسی حالت میں باہر آئیں گے کہ نہ تو ان میں کوئی عیب ہوگا اور نہ ہی کوئی گناہ۔ ان کے چہرے چودہویں کے چاند کے مانند چمک رہے ہوں گے ۔ پریشانیاں اُن سے دور اور راہیں ہموار ہوچکی ہوں گی۔ غم واندوہ برطرف کرکے امن وامان عطاہو گا۔
تمام لوگوں پر غم واندوہ طاری ہوگا لیکن انہیں کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ ان کے جوتے نور کے مانند چمک رہے ہوں گے۔ سفید رنگ کی بال وپر والی سواریوں پرسوار ہوں گے جو سکھائے بغیر ہی تربیت یافتہ ہوں گی ۔ ان کی گردنیں سرخ سونے کی ہوں گی لیکن ریشم سے بھی نرم۔ (اور یہ سب نعمتیں) خدا کے نزدیک ان کے مقام ومنزلت کی وجہ سے عطا ہوں گی۔
شیعیان علی کیلئے کعبہ کی گواہی
٢٢: عن جابر بن عبد اللهِ قال:
کُنَّا عِند النَبیِّصلىاللهعليهوآلهوسلم فأَقْبلَ عَلیُ بنُ أَبی طَالبٍ، فَقالَ النبیُصلىاللهعليهوآلهوسلم قَد أتاکُم أَخِیْ، ثُمَّ اِلتَفَتَ الی الکعبةِ، فضربهَا بیده ثُمَّ قال: والذی نفسی بیده اِنّ هذا وَشیعتهِ هُمُ الفَائزُونَ یومَ القِیَامةِ( ۲۵ )
ترجمہ:
حضرت جابربن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ اتنے میں اچانک علی تشریف لائے تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
میرا بھائی تمہارے پاس آیا ہے اور خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوئے، اپنا دست مبارک دیوار کعبہ پر مار کر فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک علی اور انکے شیعہ روز قیامت کامیاب وکامران ہوں گے۔
شیعیان علی اور دامن اہل بیت
٢٣: قَالَ النَبِیُصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَاعَلیُ! اذَا کَانَ یومَ القِیامَةِ أَخَذْتُ بِحُجْزَةِ اللّهِ، وأَخذتَ بِحُجْزَتِیْ، وأَخذ وُلدُکَ بِحجزتِکَ، وأَخذَ شیعةُ ولدِکَ بِحجزتهِمْ، فَتَریٰ أَیْنْ یُؤمرُبِنَا( ۲۶ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
اے علی ! جب روز قیامت ہوگا تو میں دامن خدا کو تھاموں گا اور آپ میرے دامن کو۔ آپ کی اولاد آپ کے دامن کو تھامے گی اور ان کے شیعہ انکے دامن کو ۔ اُسوقت دیکھنا کہ ہمیں کہاں کا حکم دیا جاتا ہے؟
شیعیان علی کا اہل بیت سے تمسک
٢٤:ابراهیم بن شیبة الانصاری قال: جَلستُ عِندَ أصبغ بن نباتة قال: أَلاأُقرئُکَ مَاأَمْلأَهُ عَلیُّ بنُ أبی طَالَبٍ (رضی الله عنه) فَأَخرجَ صحیفةً فیهَا مکتوب: بِسمِ اللهِ الرَحْمٰن الرَّحیمِ، هَذَا مَاأَوصٰی به محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم أَهلَ بَیتِهِ وأُمّتهِ، وَأَوصیٰ أَهلَ بیتهِ بتقویٰ اللهِ، ولُزُومِ طَاعتهِ، وأوصیٰ أُمّتهِ بلزُومُ أهلَ بیتهِ، وأهلَ بیتهِ یَأخُذونَ بِحُجْزَةِ نَبیّهِمْ صلىاللهعليهوآلهوسلم وأَنّ شِیعتَهُم یَأْخُذونَ بِحُجزَهِم یومَ القیامةِ، وأَنّهُم لَنْ یَدخُلُوکُمْ بَاب ضَلالةٍ ولن یخرجوکُم من بابِ هُدًی ( ۲۷ ) .
ترجمہ:
ابراہیم بن شیبہ انصاری کہتے ہیں : میں اصبغ بن نباتہ کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے کہا کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارے لیے وہ تحریر پڑھوں جسے علی بن ابیطالب نے بیان فرمایا اور پھر ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھاتھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اپنے اہل بیت اور اپنی امت کے نام وصیت ہے جس میں اپنے اہل بیت کو تقوٰی الہی اور اطاعت خداوند کی سفارش کی ہے اور اپنی امت کو اہل بیت کی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ اہل بیت روز قیامت اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دامن سے متمسک ہوں گے اور انکے شیعہ ان کے دامن سے متمسک ہوں گے۔ اور (اہل بیت ) ہرگز تمہیں گمراہی کی طرف رہنامائی نہیں کریں گے اور نہ ہی تمہیں ہدایت سے دور کریں گے۔
شیعیان علی کا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونا
عن انس بن مالک قال: قال النبیّ اصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَدخُلُ مِن اُمّتیْ الجَنّةَ سَبعونَ ألفاً لَاحِسابَ عَلیهِمْ، ثُمَّ اِلتفتَ اِلیٰ عَلِیٍّ وقالَ: هُمْ من شِیعَتِکَ وَأَنتَ اِمَامُهُمْ( ۲۸ ) .
ترجمہ:
انس بن مالک نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
میری امت کے سترہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور پھر علی کی طرف رخ کرکے فرمایا: وہ آپ کے شیعہ ہیں اور آپ ان کے امام ہیں۔
شیعیان علی کا عذاب سے محفوظ رہنا
٢٦: عن ابن عباس: قَالَ النبیُ اصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَدخُلُ مِن اُمّتی سَبعونَ ألفاً لَاحِسَاب عَلَیهِمْ وَلَاعَذَابَ، فقالَ عَلِیّ علیه السلام: مَن هُمْ یارسولَ اللهِاصلىاللهعليهوآلهوسلم ؟ قالَ: هُمْ شِیعَتُکَ وَأَنتَ اِمَامُهُمْ( ۲۹ ) .
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس نقل کرتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
میری امت کے سترہزار افراد یوں ہی جنت میں جائیں گے کہ نہ تو ان پر عذاب ہوگا اور نہ ہی ان سے حساب لیا جائے گا۔ حضرت علی نے عرض کیا: یارسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: وہ آپ کے شیعہ ہیں اور آپ ان کے امام ہیں۔
شیعیان علی کا خدا سے وعدہ
٢٧: قَالَ النبیُ اصلىاللهعليهوآلهوسلم :
اِنَّ اللّهَ لَهُ الحَمدُ عَرَضَ حُبَّ عَلیٍّ وَفَاطمةَ وَذُرِّیّتَهُمَا عَلی البَریّةِ، فَمن بَادَرَ مِنهُم بِالاجَابةِ جَعلَ مِنهُم الرُّسُلَ، ومَن أَجابَ بعدَ ذَلکَ جَعلَ مِنهُم الشِّیْعةَ، واَنّ اللهَ جَمعهُم فِی الجَنّةِ( ۳۰ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: بے شک تمام تعریفیں خدا کیلئے ہیں۔ اس نے علی ، فاطمہ اور ان کی ذریت کی محبت کو تمام انسانوں کے سامنے پیش کیا جنہوں نے سب سے پہلے اس محبت کو قبول کیا انہیں انبیاء بنا دیا اور جنہوں نے انبیاء کے بعد لبیک کہا انہیں شیعہ بنا دیا۔
اور خداوند متعال نے ان سب کو جنت میں ایک ساتھ جمع کررکھا ہے۔
شیعیان علی پر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا فخر کرنا
٢٨:عن أبی ذر الغفاری قال:
سَمِعْتُ رَسول اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم یَقُولُ: لَیسَ أَحد مِثلی صِهرًا أَعطَاهُ الحَوضَ وَجعلَ اِلیهِ قِسْمةَ الجنةِ وَالنَارِ، وَلمْ یُعطِ ذَلکَ المَلائِکةَ، وجَعلَ شِیعتَهُ فِی الجَنَةِ( ۳۱ ) .
ترجمہ:
حضرت ابوذرغفاری روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سنا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم فرما رہے تھے:
میری طرح کسی کا داماد نہیں جسکے اختیار میں خدا نے حوض کوثر رکھا، جنت وجہنم کا تقسیم کرناے والا اسے قرار دیا جبکہ یہ اختیار ملائکہ کو بھی عطا نہ کیا اور انکے شیعوں کو جنت میں مقام عطا کیا۔
شیعیان علی عرش کے سائے میں
٢٩: قَالَ رسولُ الله لعلیٍّ:
السَّابِقُونَ اِلٰی ظِلّ العَرشِ یَومَ القِیَامةِ طُوبٰی لَهُمْ ، قِیلَ : یارسولَ الله ! مَن هُمْ؟ قال: شِیعتُکَ یَاعَلِیُ وَمُحِبُّوهُمْ( ۳۲ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی سے فرمایا: خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو روز قیامت سب سے پہلے عرش الہی کے سائے میں پہنچیں گے۔
عرض کیا گیا: یارسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم ! وہ کون لوگ ہیں؟
فرمایا: اے علی ! وہ آپ کے شیعہ اور ان کو دوست رکھنے والے ہیں۔
شیعیان علی کی صحابہ پر فضیلت
٣٠:عن أبی سعید الخدری قال: قال رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم :
اِنّ عَن یَمِینِ العرشِ کَرَاسِیّ مِن نُورٍ عَلیهَا أَقوَام تَلألَؤَ وُجوهُهمْ نُورًا فقال أبوبکرٍ: أَنا مِنهُمْ یَانبیّ اللهِ؟ قَال: أنتَ عَلٰی خَیرٍ قَال : فقالَ عُمرُ: یانبیّ اللهِ أنَا مِنهُمْ؟ فقال لهُ مثلَ ذَلکَ وَلٰکِنّهُمْ قوم تَحَابُّوْا مِن أَجْلِی وَهُم هَذَا وَشِیعَتهِ وَأَشارَ بیدِهِ اِلٰی عَلِیّ بنِ أبیْ طَالبٍ( ۳۳ )
ترجمہ:
ابوسعید خدری رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
عرش الہی کے دائیں طرف نور کی کرسیاں لگی ہوئی ہیں جن پر نورانی چہروں والے گوہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ابوبکر کہنے لگے: یانبی اللہ کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: تونیکی پر ہے۔ پھر عمر کہنے لگے: یانبی اللہ کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہی جواب دیا۔ اور پھر فرمایا: یہ وہ قوم جن کی محبت میری خاطر ہے اور وہ یہ علی اور اسکے شیعہ ہیں اور پھر اپنے دست مبارک سے علی بن ابیطالب کی طرف اشارہ فرمایا۔
جنت کی کنجیوں پر شیعیان علی کے نام
٣١: عن جابر: قال رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
اِذَا کَانَ یَومُ القِیَامةِ یَأْتِینِی جَبرَائِیْلُ وَمِیکَائِیلُ وَبِحَزْمَتَیْنِ مِن المَفاتیحِ: حَزمةٍ مِن مفاتیحِ الجَنّةِ، وحَزمةٍ مِن مفاتیحِ النَّارِ، وَعَلٰی مفاتیحِ الجَنّةِ أَسمائُ المُؤمنینَ مِن شِیعَةِ مُحَمّدصلىاللهعليهوآلهوسلم وَعَلیٍ وَعَلٰی مفاتیحِ النّارِ أَسمَائُ المُبغضِینَ مِن أَعدَائهِ فَیقُولانِ لِی: یَاأحمدُ! هَذا مُحبّک وهذا مُبغضُکَ فَأرفعَهَا اِلٰی عَلِیّ بن أبی طالب فَیحْکُمُ فیهِم بِمَا یُریدُ فَوالّذِی قَسَّمَ الأَرزَاقَ لَایدخلُ مبغضهِ الجنةَ وَلَامُحبّهِ النَّارَ( ۳۴ )
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: روز قیامت جبرائیل ومیکائیل چابیوں کے دوتھیلے میرے پاس لائیں گے جن میں ایک تھیلا جنت کی چابیوں کا ہوگا اور دوسرا جہنم کی چابیوں کا۔
جنت کی چابیوں پر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی کے مومن شیعوں کے نام تحریر ہوں گے جبکہ جہنم کی چابیوں پر ان کے دشمنوں کے نام۔اور پھر جبرائیل ومیکائیل مجھ سے کہیں گے: اے احمد! یہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دوست ہے اور یہ آپکا دشمن ہے۔ اور پھر میں وہ چابیاں علی کے حوالے کردوں گا وہ اپنی مرضی سے انکا فیصلہ کریں گے ۔
قسم ہے رزق تقسیم کرناے والی ذات کی، علی کے دشمن جنت میں داخل نہ ہوں گے اور ان سے محبت کرناے والے جہنم میں داخل نہ ہوں گے۔
شیعیان علی نورانی لباس میں
٣٢: قال رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
یَاعَلِیُّ ! اِذَا یَومُ القِیَامةِ یَخرجُ قوم مِن قُبورهِمْ لِباسهُمْ النُورُ، عَلٰی نَجائبَ مِن نُورٍ، أَزِمّتُهَا یَوَاقِیتُ حُمُر، تَزُفُّهُمُ المَلائکةُ اِلٰی المَحشرِ، فقالَ عَلِیّ: تَبارکَ اللهُ مَاأکرمَ قومًا عَلَی اللهِ؟ قالَ رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم : یَاعَلِیُّ! هَم أهلَ وِلایتکَ وَشِیعَتکَ وَمُحِبُّوکَ یُحِبونکَ بحبّی، ویحبّونی بحبِّ اللهِ، وهُم الفَائزُونَ یَومُ القِیَامةِ( ۳۵ ) .
ترجمہ:رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی سے فرمایا:
یاعلی !قیامت کے دن ایک گروہ قبروں سے ظاہر ہوگا جبکہ انہوں نے نور کے لباس زیب تن کیے ہوئے ہوں گے اور نورانی سواریوں پر سوار ہوں گے، خدا کے ملائکہ انہیں محشر کی طرف رہنامائی کررہے ہوں گے۔
حضرت علی نے عرض کیا: وہ گروہ کس قدر خدا کے ہاں عزیز ومکرّم ہے؟ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: یاعلی ! وہ آپ کی ولایت کو قبول کرناے واے، آپ کے شیعہ اور آپکے محب ہیں جو میری خاطر آپ سے محبت کرتے ہیں اور مجھ سے خدا کی خاطر محبت کرتے ہیں۔ یہی لوگ روز قیامت کامیاب وکامران ہیں۔
اگر سب لوگ شیعہ ہوتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرت
٣٣: عن ابن عباس : قال رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم لِأَمِیرِ المؤمنینَ علیه السلام:
یَاعَلِیُّ! لَوِاجْتَمعَتْ أَهلِ الدُّنیَا بِأَسْرِهَا عَلٰی وِلَایَتِکَ لَمَا خَلقَ اللهُ النارَ، وَلکن أَنتَ وَشِیعتُکَ الفَائزُونَ یومَ القیامةِ( ۳۶ ) .
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی سے فرمایا:
اے علی ! اگر ساری دنیا آپ کی ولایت کو قبول کرلیتی تو خدا کبھی جہنم کو خلق نہ کرتا، لیکن جان لو کہ آپ اور آپ کے شیعہ ہی روز قیامت کامیاب ہوں گے۔
شیعیان علی کا دوسروں کی شفاعت کرنا
٣٤: قالَ رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
لَا تَسْتَخِفُّوا بِشیعَةِ عَلِیٍّ، فَانَّ الرَّجُلَ مِنهُمْ یَشفعُ فِی مِثْلِ رَبِیعَةَ وَمُضَرَ( ۳۷ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
علی کے شیعوں کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھو اسلیے کہ ان میں سے ہرایک شخص قبیلہ ربیعہ ومضر کے برابر افرادکی شفاعت کر سکتا ہے۔
شیعیان علی کا سبقت لے جانا
٣٥: عن ابن عباس: سَأَلتُ رسولَ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم عَن قولِ اللهِ:( اَلسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ أُوْلٰئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ ( ۳۸ ) )
قَالَ: حَدَّثنِی جَبرئِیلُ بِتفسِیرِهَا، قالَ: ذَاکَ عَلِیّ وَشِیْعَتِهِ اِلَی الجَنّةِ( ۳۹ ) .
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں میں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
جبرائیل نے مجھے اس کی تفسیر یوں بیان کرتے ہوئے بتایا: وہ علی اور ان کے شیعہ (جنت میں سبقت لینے والے ) ہیں۔
شیعیان علی درخت رسالت کے پتے
٣٦: قالَ رسولُ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
أَنا الشَّجرةُ، وفَاطمةُ فرعُهَا، وعَلِی لقاحُهَا، وَالحسنُ وَالحسینُ ثَمرُهَا، وشِیعَتُنَا وَرَقُهَا، وأَصْلُ الشَّجرةِ فِیْ جَنّةِ عَدْنٍ، وسَائرُ ذَلِکَ فِی الْجَنّةِ( ۴۰ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
میں (وہ) شجرہ طیبہ ہوں، فاطمہ اُس کی شاخ ہیں، علی اس کا پیوند ہیں، حسن ، حسین اُس کا پھل ہیں اور ہمارے شیعہ اسکے پتے ہیں، اس درخت کی جڑ جنت میں ہے
شیعیان علی ہی ابرار ہیں
عن الأصبغ بن نباتة قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقولُ: أَخذَ رسولُ اللهِ بِیَدِیْ، ثُمّ قال: یَاأَخی! قول الله تعالیٰ: ( ثَوَابًا مَنْ عِنْدِ اللّهِ وَاللّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ وَمَا عِنْدَاللّهِ خَیْر لِلأَبْرَارِ ( ۴۱ ) ) أَنتَ الثَّوابُ وَشِیعتُکَ الأَبْرَارُ ( ۴۲ ) .
ترجمہ:
اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں میں نے علی سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے میرا ہاتھ تھام کر فرمایا:
اے برادرم! خداوند متعال کا یہ فرمان(خدا کے ہاں یہ انکے کیے کا ثواب ہے اور خدا کے یہاں اچھا ہی ثواب ہے) وہ ثواب تم ہو اور ابرار سے مراد آپ کے شیعہ ہیں۔
شیعیان علی نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جوار میں
٣٨: لَمَّا قَدِمَ عَلِیّ عَلٰی رَسولِ اللهِ لِفَتح خَیْبَرَ قَالَصلىاللهعليهوآلهوسلم :
لَوْلَاأَنْ تَقُولَ فِیکَ طَائفَةً مِن اُمَّتی مَاقَالتِ النَّصاریٰ فِی المسیحِ لَقُلتُ فِیکَ الیومَ مَقَالًا لَاتَمُرُّ بِمَلائٍ اِلَّا أَخذُوا التُّرابَ مِن تَحتَ قَدمیکَ وَمِن فَضلِ طُهُورِکَ یَستَشْفُونَ بهِ، ولکن حسبکَ أن شیعتَک عَلٰی مَنابرَ مَنْ نُورٍ روّائً مَسرورِین، مبیضةً وُجوهُم حَولی أشفعُ لَهم، فَیکونُونَ غدًا فِی الجَنةِ جِیْرَانِیْ( ۴۳ ) .
ترجمہ:
جب فتح خیبر کے سلسلہ میں حضرت علی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچے تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میری امت کا ایک گروہ آپ کے بارے میں وہی بات کرے گا جو عیسی کے بارے میں نصاری نے کہی تو آج میں آپ کے بارے میں ایسی بات بیان کرتا کہ آپ جہاں سے گزرتے لوگ آپ کے پاؤں کی خاک اور آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو شفا کیلئے اکٹھا کرتے۔لیکن آپ (کے مقام ومنزلت) کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ کے شیعہ سیراب، خوشحال اور چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ میرے اطراف میں ہوں گے میں ان کی شفاعت کرونگا اور جنت میں میرے ہمسائے میں ہوں گے۔
شیعیان علی کا مقام
٣٩: قال رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم :
لَمَّا اَدْخَلْتُ الْجَنَّةَ رَأَیْتُ فِیهَا شَجرةً وَفِی أَعْلَاهَا الرِّضْوَانُ قُلتُ یاجبرئیلُ لِمَنْ هَذِهِ الشَّجَرةُ؟
قال: هذا لِابْنِ عَمّکَ عَلِیَّ بْنَ أبی طَالِبٍ اِذَا أَمَر اللّهُ الخَلیفةَ بِالدُّخُولِ اِلَی الْجَنةِ یُوتیٰ بِشِیْعَةِ عَلِیٍّ یَنْتَهِیْ بِهم اِلیٰ هَذِه الشَّجرةُ یَلبِسونَ الْحُلَلَ، وَیرکَبُونَ الخَیلَ البَلَقَ وَیُنادی مُنادٍ: هَؤُلَائِ شِیعَةُ عَلِیٍّ صَبَرُوا فِی الدُّنیَا عَلَیْ الأَذٰی مَحَبُوا الیَوْمَ( ۴۴ ) .
ترجمہ:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: جب مجھے (سفرمعراج میں) جنت میں لے جایا گیا تو وہاں پر میں نے ایک درخت دیکھا جس پر رضوان یعنی خدا کی خوشنودی پائی جاتی تھی۔
میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ درخت کس کیلئے ہے؟
کہا: یہ آپ کے بھائی علی بن ابیطالب کیلئے ہے۔
جب خداوند متعال لوگوں کو جنت میں داخل ہوناے کا امر صادر فرمائے گا تو علی اپنے شیعوں کو اس درخت کے پاس لائیں گے ۔ انہوں نے خوبصورت لباس پہنے ہوں گے اور تیزرفتار سواریوں پر سوار ہوں گے۔ منادی ندا دے گا: یہ علی کے شیعہ ہیں جنہیں دنیا میں تکلیفوں پر صبر کرناے کی بناء پر یہ مقام عطا ہوا ہے۔
شیعہ نجات یافتہ فرقہ
٤٠:عن أنس بن مالک قال:
کُنَّا عِند رسولِ اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم ، وَتَذَکرناا رَجُلاً یُصَلِّیْ وَیَصُومُة وَیَتَصَدَّقُ وَیُزَکِّی، فَقالَ یَاأَبَاالحَسنِ لَنَارَسولَ اللّهِصلىاللهعليهوآلهوسلم :
لَاأَعْرُفُهُ... قَال عَلِیّ...فقال: یَاأَباالحَسنِ اِنَّ اُمَّةَ مُوْسیٰ علیه السلام اِفْتَرَقَتْ عَلٰی اِحْدیٰ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ
وَاِنَّ اُمَّةَ عِیْسیٰ علیه السلام اِفْتَرَقَتْ عَلٰی اِثْنینَ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ.وَستفترقُ اُمَّتیْ عَلٰی ثَلاثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَةً، فِرْقَة نَاجِیَة وَالبَاقُونَ فِیْ النَّارِ.فقلتُ: یَارسولَ اللهِصلىاللهعليهوآلهوسلم فَمَا النَّاجِیةُ؟ قال: اَلْمُتَمَسِّکُ بِمَا أَنْتَ وَشِیْعَتُکَ وَأَصْحَابُکَ( ۴۵ )
ترجمہ:
انس بن مالک کہتے ہیں:
میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں موجود تھا اور ایک شخص کے بارے میں گفتگو کررہے تھے جو نماز ، روزہ، صدقہ وزکات کا پابند تھا ۔ تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہم سے فرمایا:میں ایسے شخص کو نہیں جانتا۔ حضرت علی نے سوال کیا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب میں فرمایا:اے ابوالحسن ! بے شک امت موسی اکہتر فرقوں میں بٹ گئی جبکہ ان میں سے صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہے ۔
عیسی کی امت بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوگئی جبکہ ان میں سے بھی صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہے۔
اور عنقریب میری امت بھی تہتّر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں سے صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہوگا اور باقی سب جہنمی ہوں گے۔
میں نے عرض کیا: یارسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کونسا فرقہ نجات پائے گا؟ فرمایا: وہ آپ ، آپ کے شیعہ اور آپ کے اصحاب کی سیرت پر عمل کرناے والے ہوں گے۔
١٧ ربیع الاول ١٤٣٠ ہجری روز ولادت باسعادت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کتاب مکمل ہوئی۔
حوالے
سوربیّنة:٧.[۱]
تفسیر در منثور٦:٣٧٩؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ تفسیر روح المعانی٣٠:٢٠٧؛ تفسیر جامع البیان٣٠:٢٦٥.[۲]
٦:٣٧٩؛ تاریخ دمشق٢:٩٥٨٤٤٢.[۳]
تفسیر درّمنثور٦:٣٧٩؛ تاریخ دمشق٢:٩٥٨٤٤٢.[۴]
تفسیر درّمنثور٦:٣٧٩؛ تفسیر روح المعانی٣٠:٣٠٧؛ کفایة الطالب:٢٤٦.[۵]
.[۶] حلیة الاولیائ٤:٣٢٩، تالیف ابونعیم اصفہانی؛ تاریخ بغداد١٢:٦٧٣١٢٨٩؛ تاریخ دمشق٢:٨٥٢٣٤٥ اور صفحہ٨٥٩٣٥٠؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ ینابیع المودّة:٢٥٧؛ منا قب خوارزمی:٦٧ و٢٤٩؛ منتخب کنزالعمال٥:٤٣٩؛ کنزالعمال١٢:٣١٦٣١٣٢٣؛ الاشاعة فی اشتراط الساعة:٤١۔٤٠؛ موضع اوھام الجمع والتفریق١:٥١، تالیف خطیب بغدادی
.[۷]فضائل علی بن ابیطالب، حدیث١٩٠، تالیف احمد بن حنبل؛ معجم کبیر طبرانی،ح٩٦؛ تذکرة الخواص جوزی:٣٢٣،باب١٢؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛مقتل خوارزمی١:١٠٩، فصل٦؛الریاض النضرة٢:٢٠٩
.[۸] تفسیر التذھیب:٣٥٥، تالیف بیھقی، ذیل آیت (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلَکُمْ فِیْ شِیَعِ الأَوَّلِیْنَ)؛ مفاتیح النجا:٦١، تألیف علامہ بدخشی.
.[۹]مجمع الزوائد٩:١٧٤؛ ینابیع المودّة، باب٥٨،حدیث٢٧٠؛ الصوعق المحرقہ:٩٦؛معجم الکبیر طبرانی،ترجمہ ابی رافع؛ تذکرةالخواص:٣٣٣؛ فرائد السمطین،ح٣٧٥ نقل از ترجمہ الامام علی بن ابی طالب٢:١٣١؛ اسعاف الراغبین فی سیرة المصطفٰی واھل بیتہ الطاھرین:١٣٠، تالیف ابن صبان؛ کفایة الطالب:٣٢٦؛ فضائل علی بن ابی طالب:١٥٢، تالیف عبداللہ بن احمد حنبل.
.[۱۰]کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق:٩٨، تالیف علامہ مناوی؛ تذکرہ خواص الامة:٥٤، باب دوم ؛ تاریخ دمشق٢:٤٢٢،حدیث ٩٥٨؛ مناقب علی :٣٧، تالیف علامہ عینی حیدرآبادی.
کنوز الحقائق:٢٠٣، حرف یائ، تألیف علامہ مناوی۔.[۱۱]
مجمع الزوائد ٩:١٣١۔.[۱۲]
ینابیع المودّة:٢٥٦ ؛ مودّة القربی :٨٥ نقل از احقاق الحق١٧:٢٩٨.[۱۳]
مجمع الزوائد ٩:١٣١.[۱۴]
لسان العرب ٢:٥٦٦ مادہ قمح، منتخب کنزالعمال ٥:٥٢؛ نورالأبصار:٧٨، تألیف شبلنجی شافعی.[۱۵]
ینابیع المودّة :٢٥٦.[۱۶]
مجمع الزوائد ٩:١٧٢.[۱۷]
ینابیع المودّة :٢٥٧؛ مودة القربی:٩٠؛ احقاق الحق ١٧:٢٦١.[۱۸]
.[۱۹]ینابیع المودّة :٢٧٠؛ الصواعق المحرقہ:٩٦؛ مناقب خوارزمی:٢٤٣؛ ارحج المطالب:٥٣٠؛ فرائد السمطین١:٢٤٧٣٠٨.
مناقب ابن مغازلی:٢ ١٥.[۲۰]
تاریخ دمشق ٤٢:٨٩٨٧٣٨٤.[۲۱]
سورة حجر:٤٧.[۲۲]
مجمع الزوائد٩:١٧٣.[۲۳]
مناقب ابن مغازلی :٢٩٦.[۲۴]
کفایة الطالب:٢٤٤؛ فرائد السمطین١:١١٨١٥٩، باب٣١.[۲۵]
مناقب خوارزمی:٢٤٥؛ احقاق الحق٧:١٧٥.[۲۶]
ینابیع المودة:١٧٣،باب٥٨؛ غایة المرام:٥٥٣،تالیف موفق.[۲۷]
مناقب ابن مغازلی شافعی:٢٩٣؛ مناقب خوارزمی:٣٤٥۔٣٥٣؛ ارحج المطالب:٥٢٩.[۲۸]
مناقب خوارزمی:٢٢٩؛ درّبحر المناقب:١١٩،تالیف جمال الدین موصلی.[۲۹]
مناقب مرتضوی:٢٥،باب٢،تالیف ترمذی.[۳۰]
مناقب مرتضوی:٥١.[۳۱]
وسیلة المآل فی عدّ مناقب الآل:١٣١، تالیف حضرمی شافعی.[۳۲]
تاریخ دمشق٢:٣٤٧ء٨٥٥ اور جلد ٤٢:٨٨٩٨٣٣٣.[۳۳]
ینابیع المودّة:٢٥٧، مودة القربی:٧٩.[۳۴]
تاریخ دمشق٢:٨٥٣٣٤٦،طبع مؤسسہ محمودی لبنان.[۳۵]
درّ بحر المناقب: ٥٨؛ مناقب خوارزمی:٦٧،حدیث٣٩، طبع مؤسسہ النشر الاسلامی۔.[۳۶]
مودة القربی:٩٠.[۳۷]
سورة الواقعہ:١١.[۳۸]
تفسیر شواھد التنزیل٢:٢١٦.[۳۹]
المستدرک علی الصحیحین٣:١٦٠.[۴۰]
آل عمران:١٩٥.[۴۱]
شواہد التنزیل١:١٣٨.[۴۲]
مناقب خوارزمی:١٢٩،ح١٤٣،طبع مؤسسہ النشر الاسلامی.[۴۳]
مناقب خوارزمی:٧٣،ح٥٢.[۴۴]
الالزام:٨٠،تالیف شیخ صمیری، نقل از تفسیر مقاتل بن سلیمان، تفسیرقتادہ، تفسیرمجاہد، تفسیر علی بن حرب.[۴۵]
فہرست
انتساب ۴
مقدمہ مؤلف: ۵
شیعیان علی سے خدا کا راضی ہونا ۷
شیعیان علی کی عاقبت ۷
شیعیان علی خدا کی بہترین مخلوق ۸
شیعیان علی نورانی چہروں والے ۸
شیعیان علی اہل سنت کی نظرمیں ۹
شیعیان علی جنتی مخلوق ۹
شیعیان علی اور پنجتن کی ہمراہی ۹
شیعیان علی ہی کامیاب ہیں ۹
شیعیان علی سب سے پہلے جنت میں جانے والے ۱۰
شیعیان علی کی سعادت ۱۰
شیعیان علی کا حوض کوثر پر سیراب ہونا ۱۱
شیعیان علی کا دوسروں کوسیراب کرنا ۱۱
شیعیان علی پر ملائکہ کی شفقت ۱۲
شیعیان علی کا بارگاہ خدا میں حاضر ہونا ۱۲
شیعیان علی کیلئے ملائکہ کا استغفار کرنا ۱۳
شیعیان علی کیلئے رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کا استغفار کرنا ۱۳
شیعیان علی کیلئے پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شفاعت ۱۴
شیعیان علی سے محبت کرناے والوں کی بخشش ۱۴
شیعیان علی کیلئے پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کی بشارت ۱۴
شیعیان علی درخت نبوت کے پتے ۱۵
شیعیان علی جنتی تختوں پر ۱۶
شیعیان علی پر نعمتوں کی باران ۱۶
شیعیان علی کیلئے کعبہ کی گواہی ۱۷
شیعیان علی اور دامن اہل بیت ۱۷
شیعیان علی کا اہل بیت سے تمسک ۱۸
شیعیان علی کا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونا ۱۸
شیعیان علی کا عذاب سے محفوظ رہنا ۱۹
شیعیان علی کا خدا سے وعدہ ۱۹
شیعیان علی پر رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کا فخر کرنا ۲۰
شیعیان علی عرش کے سائے میں ۲۰
شیعیان علی کی صحابہ پر فضیلت ۲۱
جنت کی کنجیوں پر شیعیان علی کے نام ۲۱
شیعیان علی نورانی لباس میں ۲۲
اگر سب لوگ شیعہ ہوتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرت ۲۲
شیعیان علی کا دوسروں کی شفاعت کرنا ۲۳
شیعیان علی کا سبقت لے جانا ۲۳
شیعیان علی درخت رسالت کے پتے ۲۳
شیعیان علی ہی ابرار ہیں ۲۴
شیعیان علی نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کے جوار میں ۲۴
شیعیان علی کا مقام ۲۵
شیعہ نجات یافتہ فرقہ ۲۶
حوالے ۲۷