یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
مشخصات کتاب
نام کتاب ...........................سرچشمۂ معرفت
مؤلف......حجة الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسین بہشتی
کمپوزینگ............................سید سجاد اطہر کاظمی
ناشر.....................................
طبع...............................................اوّل
تعداد طبع........................................۵۰۰
سال طبع................۲۰۰۹ء بمطابق ۱۴۳۰ھ ق
تقریظ:
سراپا اخلاق ، ذہین وفطین دانشمند، زیرک انسان، متحرک اور فعّال شخصیّت، شگفتہ رو ، برگزیدہ خو، علم اور اہل علم پر والہ وشیدا، ادب اور ادیبوں کے عاشق، فکر جس کی عمیق، نظر جس کی گہری ، کردار جس کا پہلو دار، سوچوں اور خیالوں کی پرتو اور تہوں میں جسکی علمیّت پنہاں، تحقیق وجستجو کے حد درجہ دلدادہ،
حالی کا شعر جس پر صادق آئے
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جاکر نظر کہاں
منزلیں قبول نہ کرنے والے رہ نور دِشوق، کوئی بھی محمل لیلائے مقصود کے حصول پر قبول نہ کرنے والے مسافر بمصداق شعر اقبال
تورہ نوردِشوق ہے منزل نہ کر قبول لیلیٰ بھی ہم نشین ہو تو محمل نہ کر قبول
زمانے کی پابندیاں قبول نہ کرنے والے زمانہ شاز اہل کمال ۔ راقم کے اس شعر کے مفہوم پر عمل پیرا
ہوتے نہیں پابند زمانہ اہل کمال ان کے اپنے پاس زمانے ہوتے ہیں
خطابت جس کا معمول ، تحریر جس کی زبان، تقریر جس کابیان، تدریس جس کی پہچان، کثیر المشرب اور مجلسی انسان، حسن سلوک کامجسمہ، پیکر حلم وحیاء ، پر تو مہر ووفا، سعی مسلسل اور عمل پیہم کی علامت ، فکر وفن جس کے سلامتِ آزاد روی کی سچی ضمانت ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جس کی عبادت ، تبلیغ دین اور احترام آدمیّت کا درس جسکی سلامت روی کی شہادت ، جسکی زندگی کابنیادی مقصد ہدایت ہی ہدایت،جس کی ہر حرکت وسکون ریاضت ہی ریاضت اور جس کاہر قول وفعل قائدانہ صلاحیّت کی عملی تصویر ، میری مراد ہے دوست محترم ، برادر گرامی حجّة الاسلام والمسلمین جناب شیخ محمّد حسین بہشتی ۔
شیخ موصوف کا تعلق کے ٹو اور سیاچن کی سرزمین ، سیّاحوں کی جنّت ارض بلتستان کے صدر مقام سکردو کے علاقہ ژھونگ دوس(سندوس) سے ہے۔
عرصے سے مشہد مقدس اسلامی جمہوریہ ایران میں حصول تعلیمات دینیہ میں مشغول ہیں اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ تحقیق وجستجو کے میدان میں بھی شہسواری کرتے ہیں ۔ خطابت اور تحریر وتقریر کے ساتھ ساتھ گلستان زبان وادب کے بھی بلبل خوش نوا ہیں۔
بہشتی صاحب نے فارسی اور اردو زبانوں میں کئی تحقیقی کتابیں لکھی ہیں ۔ جب کہ مختلف النوع موضوعات پر پُر مغز مقالات بھی لکھے ہیں ، جن کی قدر دانی اور اعتراف میں انہیں اہم اسناد بھی عطا ہوئی ہیں۔
زیر نظر کتاب ''سرچشمۂ معرفت'' ان کے اردو مقالات کا مجموعہ ہے ، ان مقالات کے عنوانات یہ ہیں۔ ۱۔ مکتب تشیع ۲۔ ائمہ علیہم السلام معدن علم الٰہی ۳۔ قرآن اور علی ۴۔سب سے پہلا مسلمان ۵۔دین اور غدیر ۶۔اولی الامر کون؟ ۷۔ علی ای ہمائی رحمت۔
ساتواں اور آخری مقالہ نہایت سبق آموز ، ایمان افروز اور روح پرور مقالہ ہے۔ اس مقالے میں اس حقیقت کو آشکار کیا گیا ہے کہ فکری پاکیزگی ، روحانی بلندی اور ریاضت سے انسان کتنا بلند مقام حاصل کرتا ہے۔ اور اس کی سوچوں کے دریچے کس طرح کھل جاتے ہیں، علی ای ہمائے رحمت ، استاد شہریار نے حضرت علی مرتضیٰ کی شان میں جو منقبت لکھی ہے یہ منقبت فصاحت وبلاغت کے اصولوں کو جاننے والوں ، حسن کلام کی باریکیاں جاننے والوں اور معانی ومفاہیم کے معارف پر گہری نظر رکھنے والوں کے نزدیک الہامی ، عرفانی اور لافانی کلام ہے ۔ اس کلام کے محاسن اور اس میں پنہاں فلاسفہ وحکمت اور وجدانیت دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ۔ شاعر کاربطہ براہ راست خدا سے اور اس کے برگزیدہ ترین محبوب بندہ علی مرتضیٰ سے ۔
قارئین سے امید کی جا تی ہے کہ وہ '' علی ای ہمائی رحمت '' استاد شہریار کی حضرت علی کی شان میں لکھی گئی منقبت کو دقّت نظر اور فکری گہرائی کے ساتھ پڑھیں گے یقیناً اس کے مطالعے کے نتیجے میں خداوند عالم ان کے عرفانیات اور توفیقات میں بھی اضافہ فرمائے گا۔
بالخصوص شعراء اس کلام سے بے پناہ فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے مطالعے سے شعراء کی صلاحیّتیں اور فکری توانائیاں یقیناً معراج تک پہنچ جائیگی ۔ اس سلسلے میں راقم اپنی نعت کا یہ ایک شعر پیش کرکے قارئین کے شوق کو مہمیز کرنا چاہتا ہوں۔
نہیں معراج ان کی انتہائے رتبۂ عالی
عروج عالم امکان سے برتر محمّدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں
ان سات مقالات سے ان کی تحقیقی صلاحیّت ، علمی بصیرت ، اور تحریر ی قوّت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ قارئین سے راقم کی گزارش ہے کہ وہ بہ نظر عمیق اور نہایت ذوق وشوق عرفان سے ان کا مطالعہ فرمائیں۔ میری دعا ہے کہ خداوند عالم بہشتی صاحب کی بہشتی فکر سے ہم سب کو فیض حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔
کمال فکر وفن کے راستوں میں یہ کہا ہم سے
ہمیں مشکل سے پاؤگے کہ آسان ہم نہیں ہونگے
فقط آپ کا مخلص ودعا گو!
حشمت علی کمال الہامی
فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج سکردو
حرفے چند:
کسی زمانے میں جب مسودے ہاتھ سے لکھے جاتے تھے اور کتابیں ہاتھ سے نقل ہوتی تھیں ، اس وقت قلم ، قلم کار اور کتاب ایک مثلث کے تین اضلاع کہلاتے تھے۔ لیکن ! چھاپ خانے کی ایجاد کے بعد اس مثلث میں ایک ضلع کا اضافہ مطبع یا ناشر کی شکل میں ہوا ۔ اس طرح سے یہ مثلث نکل کر مربّع بن گیا۔ آج کے زمانے میں اب قلم کی جگہ کمپیوٹر اور ناشر وکتاب کی جگہ انٹر نٹ اور سی ڈیز وغیرہ نے لے لی ہے۔ یعنی پھر سے وہی مثلث قائم ہوگیا ۔ لیکن تخلیق کا ر اب بھی وہی انسان ہے قلم کارکی جگہ کوئی نہیں لے سکا ہے ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کتاب کا متبادل نہ پہلے تھا اور نہ آئندہ ہوگا۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کیوں لکھتا ہے ؟ عالمی دانشوروں اور ماہرین نفسیات کے مطابق اس کے کئی اسباب ہوتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ انسان اپنی نظریات ، اعتقادات ، معلومات ، تجربات اور مشاہدات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے اور یہ سب کچھ آنے والی نسلوں کو ورثے میں دینا چاہتا ہے ۔ اور یہی لکھنے کا سب سے بڑا محرّک بتا یا جاتا ہے۔ لکھنے کا ایک بڑا سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انسان لا فانیت کی تلاش میں سر گرداں رہتا ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ موت کے بعد وہ ایک ایسا خلا اپنے پیچھے چھوڑ جائے جس کو بڑی کوششوں کے بعد بھی پُر کرنا ممکن نہ ہو اور موت کے بعد بھی جاودانی زندگی گزارنے کا خواب دیکھتا ہے پس ادب اور فنون لطیفہ کی تخلیق اور ترقی کے پس پشت انسان کا یہی فطری رجحان کا ر فرما رہا ہے۔ اس طرح سے دنیا میں لاکھوں ، کروڑوں کتابیں وجود میں آئیں اور انہی کتابوں کے ذریعے علم کا نور چار دانگ عالم میں پھیل گیا۔ یوں انسانی تہذیب میں قلم ، قلم کار اور کتاب کے مثلث کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ اسی مثلث نے انسانی زندگی کی تاریک راہوں کو روشن کیا ہے زخمی دلوں پر پھاہا رکھا ہے ۔ لیکن گاہے بگاہے کچھ دل آزار اور اشتعال انگیز کتابوں اور تحریروں نے ہنگامہ بھی کھڑا کیا ہے۔خون خرابہ بھی ہوا ہے اور انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔
پس اس پوری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں انسانی معاشرے پر سب سے زیادہ مثبت اور منفی دونوں اثرات کتابوں نے مرتب کئے ہیں ۔ کتابوں ہی کے ذریعے ایک مکتب فکر نے اپنے اعتقادات کو نہ صرف اپنے اندر راسخ کرنے بلکہ دوسرے مکاتب فکر تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔
زیر نظر کتاب کے خالق محترم شیخ محمّد حسین بہشتی صاحب ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ شعلہ بیان مقرر اور صاحب قلم بھی ہیں۔ راقم کو ان سے علم اور قلمی تعلق کے ساتھ ساتھ نسلی اور خونی رشتہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ مجھے ان کی کامیاب علمی وعملی زندگی پر فخر ہے ۔ شیخ صاحب کی زیر نظر کتاب کا مسودہ دیکھنے کے بعد مجھے بڑی خوشی ہوئی اور یہ احساس ہوا کہ اس نوجوان قلم کار نے علم کے کتنے مدارج طے کئے ہیں ۔ ان کی یہ کتاب انسانی تہذیب کے ارتقائی سلسلے کی ایک ایسی کڑی ہے جو صدیوں سے انسانی زندگی میں تسلسل کے ساتھ چلی آرہی ہے۔
برادر محترم شیخ محمد حسین بہشتی نے پہلے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ۔ آپ گورنمنٹ کالج کراچی سے عربی فاضل اور جامعہ امامیہ کراچی سے ممتاز الواعظین کے سند یافتہ بھی ہیں۔ اب گذشتہ پندرہ برسوں سے حوزۂ علمیہ مشہد مقدس ایران میں زیر تعلیم ہیں ۔ دنیا میں ہر انسان بہ یک وقت طالب علم بھی ہوتا ہے اور استاد بھی ۔ شیخ محمد حسین بہشتی صاحب بھی اسی فارمولے کے تحت ایک طرف تحصیل علم میں مصروف ہیں تو دوسری طرف اردو وفارسی زبانوں میں مضامین ، مقالے اور کتابیں لکھ کر علم بانٹ رہے ہیں ۔ چند ایک فارسی کتابوں کے اردو میں ترجمے بھی کئے ہیں جبکہ چند ایک علمی ، ادبی اور ثقافتی مجلوں کو منظر عام پر لانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے ۔ اقبالیات آپ کا سب سے مرغوب موضوع ہے اور اس موضوع پر آپ بیس سے زیادہ مقالے لکھ کر ایران کی مختلف یونیورسٹیوں میں منعقدہ کانفرنسوں میں پیش کر چکے ہیں ۔ آپ کی ان قلمی خدمات کے صلے میں ایران کے مختلف علمی اداروں کی جانب سے آپ کو '' لوح تقدیر'' یعنی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے ۔
زیر نظر کتاب شیخ بہشتی صاحب کا اثر خامہ ہے جو مختلف عنوانات پر لکھے گئے ان مقالوں کا مجموعہ ہے ۔ اس کتاب میں تاریخ تشیع ، ائمہ علیہم السلام معدن علم الٰہی ، قرآن اور علی، سب سے پہلا مسلمان، دین اور غدیر، اولوالامر کون؟ اور علی ای ھمایٔ رحمت جیسے موضوعات پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ مجھ جیسے طالب علموں کے لئے یقیناً اس کتاب کے ذریعے مذکورہ موضوعات سے متعلق خاطر خواہ مواد حاصل ہوگا۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
محمد حسن حسرت
ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سکردو
تقریظ
(ترجمۂ متن فارسی)
بسمہ تعالیٰ
اتحاد بین المسلمین اسلام کے ایسے اہم ترین اصول میں سے ایک ہیں جن میں اسلام کی پائیداری اور مسلمانوں کی شان وشوکت پنہاں ہیں۔ اس کو محض ایک ٹیکنیک کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹراجیک کے طورپر مدّ نظر رکھنا چاہئے ۔
خداوند رب العزّت جل ّشانہ ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن مجید اس عنوان وحدت کے محور ومرکز شمار ہوتے ہیں۔
حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی عظیم ذات گرامی بھی تمام فرق اسلامی کے درمیان مورد اتفاق شخصیت ہیں اور مرکزی محور میں اہم کرادر اداکرتے ہیں۔
برادر عزیز گرامی جناب حجة الاسلام والمسلمین آقای محمد حسین بہشتی ایک مخلص محقق اور جستجو گر شخصیت ہیں ۔ اس اہم مسئلے کے اثبات کے درپے ہیں ۔
امید ہے کہ مورد تائید وعنایات حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواحنافداہ قرار پائیں۔
السلام علی عباداللہ الصالحین
محمد حسین مھدوی مہر
رئیس جامعة المصطفیٰ العالمیہ مشہد مقدس
پیش گفتار:
خدا کا شکر ہے کہ جس کے لطف وکرم نے اس قابل بنایا کہ کائنات کی ان عظیم ومقدّس ہستیوں کے عشق ومحبت سے مالا مال اور ان کی اطاعت اور پیروی سے سرفراز ہوجاؤں۔ اور اس قابل بنایا کہ ان کی شان میں اپنی بساط کے تحت کچھ عرض تحریر کروں اور ان کی حقیقت کو بیان کروں۔ البتہ مجھے میری کم علمی ،بے بضاعتی اورناتوانی کا شدّت سے احساس ہے البتہ یہ سعادت میرے لئے کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہے کہ مجھ جیسے حقیر اور کائنات کے ضعیف اور کمزور شخص کو مولائے کائنات کے بارے میں کچھ لکھنے کی توفیق ہونا معجزے سے کم نہیں ۔ یہ لمحہ میرے لئے زندگی کا حسین لمحہ ہے ،قیمتی لمحہ ہے ، میرے پاس کچھ بھی نہ ہو مگر محبت علی ہو تو مجھے کائنات میں سب سے زیادہ یہی چیز پسند ہے۔سب سے شیرین ترین چیز عشق علی ہے سب سے خوش قسمت انسان وہ ہے جو عشق علی رکھتا ہو۔ سب سے بدقسمت انسان وہ ہے جس کے دل میں حبّ علی نہ ہو۔ علی ہی میری شام ہے علی ہی میری صبح ہے ۔علی میری زندگی ہے علی میری کامیابیوں کا راز ہے میرے آسمان کا نام علی ہے میری بلندیوں کا نام علی ہے میری صبح ومساء علی ہے۔ زندگی کی مہارتوں کانام علی ہے۔ علی میرا ادب ہے علی میری ثقافت ہے علی میرا ہنر ہے میری سیاست علی ہے میری دیانت علی ہے علی نہیں تو کچھ بھی نہیں !۔میں کبھی شہریار کے ہمنوا ہو کر علی کو ھمای رحمت کہا کبھی میں اقبال کے ہم خیال ہوکر علی کو سرمایۂ عشق کہا کبھی میں غالب کے ندیم دوست سے بندگی بوتراب تک گیا ۔ہرانسان کاعلمی و فکری نہج خود بہتر جانتا ہے میں بھی اپنے فکری نہج اور علمی سطح سے آگاہ ہوں۔ بچپن سے اب تک بغیر کسی کی راہنمائی کے جو منزلیں طے کیں اس میں مجھے شدّت سے احساس ہے کہ علمی اور فکری لحاظ سے بہت کمی بیشی ہے۔ لیکن عشق محمد وآل محمد علیہم السلام کے دریا میں غوطہ زن ہوکرقلم کو حرکت دی۔ اوریہ جو کچھ آپ کے سامنے ہے یہ سب میرے مولا وآقا کے دئے ہوئے کرم کا کرشمہ ہے۔ میری زندگی میں جب بھی جو کچھ ادھر سے عطاہوا یہی کہتا رہا آج بھی یہی کہتا ہوں کہ:
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
اسلام اور تشیع کی نشرو اشاعت کے حوالہ سے مالی اور معنوی لحاظ سے جن لوگوں نے میرے ساتھ تعاون فرمایا ہے۔ خصوصاً پروفیسر محترمہ عزیز فاطمہ صاحبہ کا شکریہ ادا کرتاہوں ، جنہوں نے مدّت مدید سے میری مالی اور معنوی مدد فرماتی رہی ہے۔
انکے علاوہ جناب پروفیسر حشمت علی کمال الہامی صاحب ، بلتستان کے نامور محقق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سکردو ریجن کے ڈائریکٹر جناب محمد حسن حسرت صاحب اور جامعة المصطفیٰ العالمیہ شعبہ مشہد مقدس کے رئیس جناب حجة الاسلام والمسلمین آقای محمد حسین مہدوی مہر صاحب کا انتہائی شکر گزار ہوں جن کی قلمی اور معنوی عنایات ہمیشہ شامل حال رہی ہیں ۔
میری بچپن سے اب تک میری علمی وفکری لحاظ سے جن لوگوں کا کردار ہے( خصوصاً علامہ سید علی کرّار نقوی صاحب جن کی پدرانہ محبت وشفقت کبھی فراموش نہیں کرسکتا)ان تمام بزرگوں اور ان تمام مرحومین (جن کے احسانات کا میں مدیون ہوں )کے نام اس کوشش اور سعی میں سے ثواب کے حصّے ھدیہ کرتاہوں۔
لطف عالی متعالی
محمد حسین بہشتی مشہد مقدس ایران
مقدمہ
تمام مسلمان اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ ذات امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام ایک بے نظیر اور منفرد شخصیت ہے ۔ جو کچھ آپ کے اندر ہے وہ کسی اور کے ہاں نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم الشان شخصیت ہے جو کعبہ میں پیدا ہوئی ہے اور بچپن سے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں تربیت پائی ۔ سچ کہیں تو علی کون ہے؟
کیا انسانی عقل اس بحر بیکران کو سمجھنے کی طاقت رکھتی ہے؟ ہرگز نہیں ! جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اے علی مرتضیٰ ! خدا اور میرے علاوہ کسی نے آپ کو نہیں پہچانا۔
جی ہاں ! علی وہ ہے کہ پیغمبر گرامی اسلام نے تمام مسلمانوں خصوصاً صحابہ کرام کے درمیان صرف اور صرف علی بن ابی طالب کو اپنا بھائی بنایا۔
علی وہ ہے! اگرآپ نہ ہوتے تو حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہاکے لئے کوئی ہمسر اور کفو نہ ہوتا۔ علی وہ ہے! جو محراب عبادت میں بے مثل اور میدان جنگ میں شجاعت اور بہادری کے حوالے سے آپ کا کوئی بدیل نہیں۔ علی وہ ہے! اگر آپ کی ذوالفقار نہیں ہوتی تو اسلام کا پرچم سربلند نہیں ہوتا ۔ علی وہ ہے! جس کی ایک ضربت ثقلین کی عبادت سے افضل ہے۔ علی وہ ہے! کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اللہ کی کتاب اور سنّت پیغمبرکو سمجھنے والے تمام اصحاب سے عقلمند اور دانا ، اسلام کے حوالے سے آپ کی ایثار ووفاداری سب سے زیادہ ہے ۔ آپ کا کلام فصاحت وبلاغت سے پرتھا ، آپ عدل وانصاف کے حوالے سے نمونہ کامل ، لذت دنیا کے ضمن میں پاک وپاکیزہ اور پارسا اور مسلمانوں کی مصلحت کے حوالے سے سب سے آگاہ تر اور مہربان تر تھے ۔ جی ہاں! اے میرے مولا وآقا:
کتاب فضل ترا آب بحر کافی نیست
کہ ترکنم سرانگشت وصفحہ بشمارم
آپ کا مقام ومرتبہ کے حوالہ سے یہی کافی ہے کہ حضرت نبی ختم المرتبت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لو ان الریاض اقلام والبحر مداد والجن حساب والانس کتاب مااحصوا فضائل علی ابن ابی طالب(۱) اگرتمام درخت قلم اور تمام سمندر سیاہی اور جن حساب کرنے والے اور تمام انسان لکھنے والے بن جائیں تب بھی علی ابن ابی طالب علیہماالسلام کے فضائل کومکمل نہیں کرسکیں گے ۔یا یوں فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میرے بعد کائنات میں افضل واشرف علی کی ذات ہے جہاں سورج اور چاند چمکتا اور دمکتاہے۔(۲) اور فرماتے ہیں : علی بہترین انسان ہے اگر کوئی اس میں شک کرے وہ کافر ہے(۳) میرے پیارے بھائی : تم خدا کی راہ ہو ! تم نباء عظیم ہو ! تم صراط مستقیم ہو! تم مثل اعلیٰ ہو! تم امام مسلمین اور امیر المؤمنین ہو! تم بہترین میرے جانشین اور صدیق اکبر وفاروق اعظم ہو!(۴) ۔
ہزاروں قسم کی دوسری احادیث اور روایتیں اپنی جگہ محفوظ ہیں جو شیعہ اور سنی طریقہ سے نقل ہوئی ہیں۔ جی ہاں! علی تنہا وہ گوہر یکتا ہے کہ دنیاء عالم نے اس کی مثل کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی دیکھے گی۔ جو کچھ کہا گیا اور کہا اور آئندہ کہیں گے اور لکھیں گے سب کے سب سمندر میں ایک قطرہ کی مانند ہیں فضائل علی بن ابی طالب کے مقابلہ میں۔
____________________
(۱) کفایة الطالب ، گنجی شافعی بات ۶۲ ص ۲۵۱
(۲) لسان میزان ، عسقلانی جلد ۶ ص ۷۸
(۳) کنز العمال جلد ۶ ص ۱۵۹
(۴) ینابیع المودة قندوزی حنفی
تاریخ تشیع
یا صاحب الزمان ادرکنی
یا علی مدد
بشنو از تاریخ در د و رنج و خون
تا ببینی شیعہ را در خاک و خون
خون کلام شیعہ را گویدر جلی
شیعہ یعنی عشق بازی با علی
تاریخ شیعہ ایک ایسی تاریخ ہے کہ جس میں ہزاروں نشیب و فراز، رنج و الم، خون ریزی اور قید و اسیری ہے ان تمام حوادث کے باوجود صبر و استقامت کے باعث عظیم الشان کامیابیاں اس کا مقدر قرار پائی ہیں۔ تاریخ شیعہ اپنے امتیاز کی وجہ سے سخت ترین حالات اور دشوار ترین منازل میں ظالموں کی زور گوئی سے ٹکرا گئی لیکن ظالموںاورحق کے غاصبوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا(هیهات منا الذلة )(۱) اسی لیے قلم تاریخ شیعہ کی عظمت و سربلندی کو باطل کے سر چڑھ کر لکھا (شِیْعَةُ عَلِیٍّ هُمُ الْفَائِزُوْنَ )(۲) اور خاور و باختر میں یہ نغمۂ عشق علی صفحات کی زینت بنا ہوا ہے۔
زمشرق تا بمغرب گر امام است
علی و آل او ما را تمام است
____________________
۱۔ اللھوف صفحہ ۹۷
۲۔ الدرالمنثور ج ۸ صفحہ۵۳۸
جی ہاں! شیعیان علی نے اپنے عشق علی کا تاوان ادا کیا ہے.
آنہا کہ نوای عشق موزون زدہ اند
ہر نیمہ شبی سجادہ در خون زدہ اند
نشنیدستی کہ عاشقان خیمہ عشق
از گردش ھفت چرخ بیرون زدہ اند
اگر سینہ میں دل اور دل میں احساس رکھتے ہیں تو جذبات قابو کرتے ہوئے ملاحظہ فرمائیے ۔ حق کی حمایت میں علی پچیس (۲۵) سال...خانہ نشین رہے فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا نے حمایت حق اور دفاع امامت میں وہ کونسی مصیبت نہیں دیکھی حتیٰ کہ پہلو پہ زخم کھا کر دنیا سے رخصت ہوگئیں ۔
اے فاطمہ میری جسم و جان تو ہے
میری کشتی و نوح و طوفان تو ہے
ہر رخ پہ امامت کی حفاظت کردی
شکستہ پہلو اور مجروح جان تو ہے
امام حسن مجتبی علیہ السلام نے خاموشی سے زہر قاتل کو نوش کیا کہ جس سے جگر کے بہتر (۷۲) ٹکڑے ہوگئے لیکن حق کی حمایت سے ہاتھ نہیں اٹھایا.
غریب الدیار امام حسین علیہ السلام کی جودرد بھری آواز کل صحرائے کربلا میں بلند ہوئی تھی وہ آج بھی کائنات کی فضاء میں گونج رہی ہے.
(هَلْ مَنْ نَاصِرٍ یَّنْصُرْنِیْ )ہے کوئی مجھ مظلوم و بیکس کی مدد کرنے والا؟
جناب زینب نے وطن سے دور بھائی کی شہادت کے بعد بیکسی میں جلتے خیمے دیکھے. اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم علیہم السلام کے درّوں کو کربلا کی تپتی ریت میں ملتے دیکھا.
کسی کا سر کٹا تھا تو کسی کے سینہ پر برچھی کا پھل لگا. کسی کی لاش پائمال تھی تو کسی کے بازو قلم تھے۔ سروں سے چادریں چھینیں، بازاروں میں تشہیر ہوئیں تو کہنے پر مجبور ہوئیں۔
(اَمَا فِیْکُمْ مُسْلِم و ....؟ ) کیا تم میں کوئی مسلمان نہیں؟
عشق علی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جوہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہوتی ہے اور جسے نصیب ہوتی ہے تو وہ گھر بار لٹا کرسولی پر چڑھ کر اس عشق کا سود ا شب ہجرت کے نفس علی کے خریدار سے کرتا ہے.
اگر انسان تعصب کی عینک اتار کر حقیقت کی نظر سے دیکھے تو میثم تمار عشق علی کے جرم میں فراز دار پر چڑ ھ کر مدح علی کرتے نظر آئیں گے گویا مدح کرنے کی خاطر میثم کو منبر مل گیا کہ منبر پر بیٹھ کر خطیب فضیلت علی بیان کر رہا ہے ۔
وفا داری اصول عاشقان است
کہ جان را دادہ میثم یا علی گفت
عمار یاسرکا اسی عشق کی سزا میں جنگ صفین میں باغی گروہ نے خون بہا دیا اور یہ نہیں سوچا کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے کہ عمار یاسر کا قاتل باغی و گمرا ہ ہے اور عمار یاسر معیار حق ہے.
ابوذر غفاری نے علی کی حمایت اور لوٹ مار کرنے والوں کی مخالفت میں آواز حق بلند کر کے مسلمانوں کو حق کی طرف بلا یا تو جلا وطن کر کے ربذہ بھیج دیا گیا۔
حبیب ابن مظاہر کے سر اقدس کو فرزند علی و بتول کی حمایت میں تن سے جدا کیا گیا. مسلم بن عقیل کو دار الامارہ کی چھت پر سر قلم کر کے جسم مبارک نیچے گرا کر کوفہ کی گلیوں میں پاؤں میں رسی باندھ کر کھینچا گیا تو فاطمہ زہرا تڑپ کر جنت سے کوفہ آگئی.
شہید اول کو حریم ولایت کے دفاع میں دار پر چڑھا کر سنگسار کیا گیا اس کے بعد جسم مبارک کو جلا کر راکھ کردیا گیا.
شہید ثانی کے سر مبارک کو بدن سے جدا کر کے حاکم وقت کے دربار میں بھیجا گیا(۱) . ابھی ظالم مہلت کی زندگی گزار رہا ہے اور منتقم خون شہداء اللہ جل جلالہ کی آخری حجت اما م زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف غیبت کے پردہ میں نوحہ کناں ہیں اور فریاد کر رہے ہیںکہ: اے میرے مظلوم جد بزرگوار میں صبح و شام آپ کی غربت و مظلومیت پر خون کے آنسو رو رہا ہوں۔
اور ہر روز بارگاہ خداوندی میں دعا کرتا ہوں۔ (اَللّٰهُمَّ انْجِزْ لِیْ مٰا وَعَدْتَنِیْ )(۲)
اگر آج ہم کو کامیابی در کار ہے تو ہمیں احکام الہی کی پابندی اور سیرت معصومین علیہم السلام پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہونا پڑے گا ، مذہب تشیع کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی و سستی نہیں کرنا ہوگی اور اپنے اندر شیعیت کی علامتیں پیدا کرنا ہوں گی تو کامیابیاں ہمارے قدم چومیں گی۔
تاریخ شیعہ پر بحث و گفتگو کرنے سے پہلے چند مطالب کا ذکر کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔
۱۔ شیعہ لغت میں
شیعہ یعنی پیرو ئے مولا علی
لیکن بعد میں یہ لفظ ِشیعہ ایک خاص گروہ کے ساتھ مخصوص ہوگیا یعنی (موالیان علی ابن ابی طالب)
بندہ ٔیک تن فقط، آنہم علی
لغت کے اعتبار سے شیعہ کے تین معنی ہیں۔ پیرو کار، حامی، گروہ یا پارٹی فیومی مصباح المنیر میں
____________________
۱:مقدمۂ شرح لمعہ
۲:کمال الدین ج ۲ ص۹۲
کہتے ہیں: کہ شیعہ کے معنی پیروکار اور حامی کے ہیں لفظ شیعہ ہر اس فرد پر منطبق ہوگا کہ جو کسی گروہ کے ساتھ ہو یا جوافراد کسی ایک بات پر اتفاق کرلیں۔
وَ کُلُّ قَوْمٍ اجْتَمَعُوْا عَلٰی اَمْرٍ فَهُمْ شِیْعَة (۱)
۲۔محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب قاموس ''المحیط'' میں لکھتے ہیں کہ:شِیْعَةُ الرَّجُلِ اَتْبَاعُه وَ اَنْصَارُه وَ قَدْ غَلَبَ هٰذا الْاِسْمُ عَلٰی کُلِّ مَنْ یَّتَوَلّٰی عَلِیاً وَّ اَهْلَ بَیْتِه (۲)
یعنی جو انسان جس شخص کی اطاعت و حمایت و اتباع کرے اسے شیعہ کہا جاتاہے اور یہی اصل معنی ہیں لیکن بعد میں یہ لفظ علی اورانکی اولاد کی ولایت رکھنے والوں پر غالب آگیا یعنی علی و اہلبیت کے پیروکاروں سے مخصوص ہوگیا ۔
علماء لغت نے شیعہ کے اور بھی تین معنی بیان کئے ہیں جن کا یہاںبیان کردینا مناسب سمجھتا ہوں:
لفظ شیعہ مذکر مونث، مفرد، تثنیہ میں یکسان استعمال ہوتا ہے شیعہ : لغت میں کسی کا کسی کے طریقہ و مکتب و نظریہ کی پیروی کرنے کو کہتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ پیروی و اطاعت اور اتباع کرنے والا مقدم ہو یا مؤخر پہلے آیا ہویابعد میںجیسا کہ پروردگار عالم نے قرآن مجید میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔
( وَحیلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ ) (۳)
'' اور اب تو انکے اور ان چیزوں کے در میان جن کی یہ خواہش رکھتے ہیں پر دے حائل کردئے گئے ہیں جس طرح ان سے پہلے والوں کے ساتھ کیا گیا تھا کہ وہ لوگ بھی بڑے بے چینی کرنے والے ،شک میں پڑے ہوئے تھے'' مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ یہ آیت شریفہ زمانہ استقبال پہ دلالت کرتی ہے جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ آیت کے ما قبل کے افراد بھی کافر تھے اور ما بعد والوں نے بھی کفر کیا ہے۔
____________________
۱ : مصباح المنیر، مادۂ شاع
۲ : قاموس المحید، چاپ بیروت
۳ :سورہ مبارکہ سبا، ۵۴
۳۔لفظ شیعہ
علم ابجد کے مطابق فرقہ کے معنی میں آیا ہے وہ روایت کہ جس کو شیعہ سنی دونوں نے ذکر کیا ہے اس روایت میں جو نکتہ مضمر ہے وہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میرے بعد ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں سے صرف ایک فرقہ ناجی ہے چونکہ تہتر (۷۳) فرقوں میں سے صرف ایک ہی فرقہ حقیقت دین پر گامزن ہوگا باقی بہتر فرقے من مانی کو دین سمجھیں گے جس کی وجہ سے ہلاک ہونگے۔وَ النَّاجِیْ مِنْهَا فِرْقَه وَّاحِدَة (۱)
____________________
۱:بحار الانوار ج۲۸، المناقبص ۳۳۱
لفظ شیعہ قرآن مجید میں:
۴۔ شیعہ یعنی تابع قرآن شدن
بندہ مولای انس و جان شدن
قرآن مجید میں شیعہ و مشتقات شیعہ گیارہ مقام پر ذکر ہوئے ہیں:
لفظ ------------ تعداد ----------- سورہ --------- آیت
شیعة ---------- ۱ ------------ مریم ----------- ۶۹
شیعتہ ---------- ۳ ---------- قصص صافات ---------- صافات ۵۳
شیع --------- ۱ ----------- حجر ----------- ۱۰
شیعاً --------- ۴ ------------- انعام قصص روم۔ -------- ۔قصص ۴ روم ۳۲
اشیاعکم ------ ۱ ------------ قمر -------------
باشیاعھم ---------- ۱ ----------- سبا
۳۔ شیعہ اصطلاحاً:
شیعہ یعنی دست بیعت با علی
بعد از او با ےازدہ نور جلی
بعض الفاظ ِعرب وضع کے خلاف استعمال ہوتے ہیں اور عرف میں دوسرے معنی میں مشہور ہوجاتے ہیں جیسے لفظ صلاة کو واضع نے دعا کے معنی کے لیے وضع کیا لیکن بعد میں خاص افعال صلاة کہلائے اسی طرح لغت میںکسی لفظ کے معنی کچھ اور ہیں جبکہ عرف میں کسی دوسرے معنی میں مشہور ہوجاتا ہے۔ لفظ شیعہ کا بھی یہی حال ہے۔ لغت میں شیعہ کسی خاص شخص کی پیروی واطاعت کرنے والے گروہ کو کہتے ہیں لیکن اصطلاح میںحضرت علی ابن ابی طالب اورگیارہ اماموں کی پیروی و اطاعت کرنے والوں کو شیعہ کہتے ہیں۔
اگر اصطلاحات شیعہ پر غور و فکر سے کام لیا جائے توچند اختلافات نظر آئیںگے۔ جس کا اختصار کے ساتھ بیان کردینا مناسب ہے۔
الف۔ شہید ثانی رضوان اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: شیعہ وہ ہے کہ جو حضرت علی کا مطیع و فرمانبردار ہو اور حضرت علی کو دیگر تمام اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر فوقیت دیتا ہو ۔ چاہے باقی گیارہ اماموں کی امامت کا قائل نہ بھی ہو۔
شہید ثانی کی اس تعریف کے مطابق لفظ شیعہ امامیہ، اسماعلیہ، زیدیہ، جارودیہ، واقفیہ، ذوادویہ اور فطحیہ وغیرہ پربھی برابر سے منطبق آئے گا۔چونکہ یہ تمام فرقے حضرت علی کی امامت کے قائل ہیں اور حضرت علی کو اصحاب پر مقدم جانتے ہیں اور باقی ائمہ علیہم السلام کی امامت کے قائل نہیں ہیں.
ب: شہرستانی ملل و نحل میں کہتے ہیں کہ: اصطلاح میں شیعہ ان لوگوں کو کہاجاتا ہے کہ جو حضرت علی کی امامت کے قائل ہوں اور خلافت علی پر نص پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے معتقد ہوں اگرچہ نص جلی ہو یا خفی اور امامت کو علی و اولاد علی یعنی بارہ اماموں میں منحصر جانتے ہوں جن میں اول حضرت علی اور آخر امام زمانہ عجل اللہ تعالے فرجہ الشریف ہیں۔
ج: ابن حزم کہتے ہیں کہ جو شخص بھی اس بات کا قائل ہے کہ حضرت علی بعدِ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم تمام اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور تمام امت مسلمہ سے افضل واعظم ہونے کے باعث امامت و خلافت کے مستحق ہیںاور علی اورگیارہ امام آیت( يٰا اَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا اَطِيْعُوا اللّٰهَ الخ ) (۱) کے تحت اولی الامر ہیں جو شخص بارہ اماموں کی امامت و ولایت کاقائل ہے بس وہی شخص شیعہ ہے اگرچہ نظر یاتی حوالے سے اختلاف بھی رکھتا ہو۔
لغوی اصطلاحات و تعریفات پر غور و فکر کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ابن حزم اور شہرستانی کی تعریفیں دیگر تمام تعریفوں سے بہتر اور اچھی ہیں۔چونکہ ان دو نوںحضرات نے حضرت علی اور دیگر ائمہ اطہار علیہم السلام کے افضل الناس ہونے کا ذکر کیا ہے اور یہ بات شیعہ عقائد میں بنیا د و اساس کی حیثیت رکھتی ہے لہذا فرقہ زیدیہ کو شیعیت کا جزء قرار دینا بعیداز نظر ہے چونکہ فرقہ زیدیہ علوی نظریہ کا قائل ہے اسی لیے یہ فرقہ نص کے اعتبار سے عقیدہ نہیں رکھتے ہیں ان کاحال یہ ہے کہ علوی کی حمایت میں عقل سلیم کو بالائے طاق رکھ کرتلوار سے بات کرتے ہیں۔یہ حمایت کے معاملہ میں تلوار کا سہارا لیتے ہیں اور عقل سلیم کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ۔جوبھی نسل علوی سے ہو پس اس کو امام مانتے ہیں لہذا اس فرقہ کو شیعہ نام دینا یا جزء شیعہ قرار دیناایک فاحش غلطی ہے۔ حقیقی شیعہ اور واقعی شیعہ کا ذکر بعد میں کریں گے کہ شیعہ کی کتنی اقسام ہیں اور ان کے در میان کیا کیا اختلافات ہیں۔
____________________
۱: نساء /۵۹
شیعہ تاریخ کے اوراق میں:
انسان اس دنیا میں جسم وروح ،ظاہر و باطن اور ملک و ملکوت سے مرکب ہے۔ ظاہراً انسان کی زندگی کاآغاز پیدائش کے دن سے ہوجاتا ہے اور مرنے کے دن ختم ہوجاتی ہے۔
لیکن یہ انسان کی حقیقت نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا آغاز نہ دنیا کی پیدائش ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے چونکہ دنیا کی حیات و زندگی کی حیثیت تو ایک مسافر کی سی ہے کہ جو اس دنیا کے مسافر خانہ میں مہمان ہے۔ اس دنیا میں آنے سے پہلے انسان کا وجود تھا اور اس دنیا کی حیات کے بعد بھی انسان کا وجود باقی رہے گا لیکن انسان کوکامیابی اور ناکامی اسی حیات دنیوی سے ہی حاصل کرناہے اور انسان کا وجود معنوی عالم ذر سے ہے جس کا وہاں وعدہ لیا گیا ہے۔
( اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی ) (۱)
شیخ الرئیس ابو علی سینا قصیدہ ہائےة میں کہتے ہیں:
(هَبَطْتُ اِلَيْکَ مِنَ الْمَحَلِّ الْاَرْفَعِ وَرُقَائُ ذَاتِ تُعَزِّزْ وَتَمْنَعْ )(۲)
مرغ باغ ملکوتم نہ یم از عالم خاک
چند روزی قفسی ساختہ اند از بدنم (مولانا )
روح جب جسم انسان سے خارج ہو کرآزاد ہوجاتی ہے تو بدن انسان کو خاک میں دفن کردیا جاتا ہے جسم انسان خاک میں مل جاتا ہے لیکن روح با قی رہتی ہے موت تو روح کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہیں گویا جسم انسان و حیاتِ جسم انسان ختم ہوجاتی ہے لیکن روح انسان کو زندگی اور بقاء حاصل ہے۔
____________________
۱:سورہ مبارکہ الاعراف ۱۷۲ ۲: شرح نہج البلاغہ ج۷ ص ۳۹۹
حجاب چہرہ جان می شود غبار تنم
خوشا دمیکہ از این چہرہ پردہ برفکنم
چنین قفس نہ سراے چو من خوش الحانی است
روم بہ گلشن جنت کہ مرغ آن چمنم
لیکن یہ انسان کی ناسمجھی ہے کہ انسان اس دنیا میں حیات مادی کوہی اپنی اصل حیات سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ انسان کی حقیقت تو اس سے بالاتر ایک اورشے ہے۔ ایک عالَم کو حیات دنیا کے ذریعے طے کیا جاتا ہے اور ایک عالَم میںموت کے بعد جانا ہے اگر حضرت انسان اپنی زندگی میںسیر تکوینی کو جذب کر لیتا ہے تو انسان اپنے اندر خدا کی بہت سی آیات و نشانیاں پاتا ہے اس موقع پر انسان سمجھ جاتا ہے کہ خداوند عالم نے بنی نوع انسان کی پیدائش پر مبارکبادی کیوں دی تھی!
( فَتَبَارَکَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْن ) (۱)
مولائے موحّدین امیر المومنین فرماتے ہیں:۔
اے لوگو! تم یہ نہ سمجھناکہ تم ایک چھوٹاسا جسم مادی رکھتے ہیں بلکہ تم اپنے اندر ایک بہت بڑا جہان رکھتے ہیں اور عجائب خداوند عالم اور اسرار خداوند ی کے معدن و خزانہ ہیں او رتمہارے اندر عالم کے عجیب و غریب اسرار پوشیدہ ہیں۔
دَوَائُکَ فِيْکَ وَ مَا تَشْعُرُ
وَدَائُکَ مِنْکَ وَلَا تَنْظُرُ
أَ تَزْعَمُ اَنَّکَ جِرْم صَغِيْر
وَفِيْکَ انْطَوٰی الْعَالَمُ الْاَکْبَرُ
وَ اَنْتَ الْکِتَابُ الْمُبِيْنُ الَّذِی
بِاَسْطَارِه يَظْهَرُ الْمُضْمَرُ(۲)
____________________
۱:سورہ مومنون، ۱۴
۲: ہزار ویک داستان ص ۵۵۱
اس تما م گفتگو پر غور و فکر کریں تو اس نتیجہ تک بآسانی پہنچ سکتے ہیں کہ تاریخ شیعہ کا تعلق فقط دنیا سے ہی نہیں ہے (جیسا کہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام کی تشریف آوری پروجود میں آیا ہے) حالانکہ تاریخ شیعہ کا وجود اس عالم دنیا سے پہلے بھی تھا جس کو ہم تاریخ نوری شیعہ یا شیعہ کی نورانی تاریخ سے تعبیر کرتے ہیں. اگرچہ شیعہ اسی دنیا کے شیعہ کو کہا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے جس کی وضاحت اجمالی طور پر ہدیہ قارئیں کرتے ہیں پس تاریخ شیعہ کودو حصوں میں بیان کیا جا سکتا ہے.
۱۔ تاریخ نوری شیعہ
۲۔ تاریخ ظاہری شیعہ
تاریخ نوری وظاہری شیعہ
۱۔ تاریخ نوری شیعہ کا آغاز اس وقت ہے کہ جب خالق تھا لیکن مخلوق نہ تھی۔ شیعوں، پیشواؤںاور اماموں سے اس کائنات کی تخلیق کا آغاز ہوا جس کے ثبوت میں چند احادیث نمونے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں:۔
۱۔ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
اَوَّلُ مٰا خَلَقَ اللّٰهُ نُوْرِی (۱) کُنْتُ نَبِیاً وَّ آدَمُ بَيْنَ الْمٰائِ وَ الطِّيْنِ (۲)
سب سے پہلی مخلوق جو وجود میں آئی وہ میرا نور ہے جبکہ ابھی آدم کی تخلیق بھی نہ ہوئی تھی میںمقام نبوت پر فائز تھا۔
۲۔رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرح امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب نے فرمایا ہے :(کُنْتُ وَلِیاًوَّ آدَمُ بَيْنَ الْمٰائِ وَ الطِّيْنِ (۳) کہ میں اس وقت مومنین کا امیر و امام تھا کہ جب آدم ابوالبشر آب و گل کے درمیان تھے.
____________________
۱:بحار الانوار جلد، ۱، ص ۹۶، ینابیع المودة ، جلد ۱، ص ۴۵
۲:بحار الانوار جلد، ۱، ص ۹۶، ینابیع المودة ، جلد ۱، ص ۴۵ ۳:جامع الاسر ا ر ۴۶۰
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: (اگر لوگ یہ جان لیتے کہ علی کب سے امیر المؤمنین ہیں تو فضائل علی کا انکار نہ کرتے اس لیے کہ علی اس وقت امیر المؤمنین تھے کہ جب آدم کی خلقت بھی نہیں ہوئی تھی۔
۳۔ عالم اہلسنت سلیمان بن ابراہیم قندوزی نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ حضرت آدم ابوالبشر کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے خداوند عالم نے میرے اور علی کے نور کو خلق کیا اور ہم خداوند متعال کے ذکر میں مشغول تھے اس سلسلہ کے اوربھی بہت سی احادیث ہیں لیکن ہم انہیں پر اکتفا کرتے ہوئے انہیں احادیث پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔
اول:
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نوراور علی کا نور ایک ہے تو یہ نورعظمت الہی سے خلق ہوا۔ (( اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰاتِ وَ الْاَرْضِ ) (۱) ۔
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی کا نور میں متحد ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم مقام نبوت میں اول ہیں اور علی مقام امامت میں اول ہیں اور یہ دونوں فضائل اور کمالات سے پر ہیں امیر المؤمنین نفس رسول اور عین رسول ہیں جیساکہ قرآن مجید میں خدا وند عالم سورہ آل عمران میں ارشادفرمارہا ہے :
( ''فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَائَنَا وَ اَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَ نِسَائَکُمْ وَ اَنْفُسِنَا وَ اَنْفُسَکُمْ'' ) (۲)
جب رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نصارائے نجران سے مباہلہ کے لیے چلے تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ علی نفس رسول ہیں.
____________________
۱:سورہ نور، ۳۱
۲:سورہ مبارکہ آل عمران، ۶۱
اس آیت کی تفسیر میں شیعہ سنی دونوں فرقوں نے متفق علیہ لکھا ہے کہ نفس سے مراد ذات علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہے۔
روایت میں ہے کہ جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے درخواست کی گئی کہ آپ اپنے ممتاز اصحاب اور شاگردوں کا تعارف کرائیں تو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے چند اصحاب و شاگردوں کا نام لیا لیکن علی کا نام نہیں لیا۔ تو راوی نے سوال کیا کہ آپ نے علی کا نام نہیں لیا؟ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ تو نے اصحاب و شاگردوں کے بارے میں سوال کیا تو میں نے جواب دے دیافرما یا: علی میری جان ہے علی میرا نفس ہے علی میری آنکھ ہے، عرب کے مشہورشاعر مرحوم اذری اس مقام پر کہتے ہیں :
(هُمَا ظُهْر الشَّخْصَيْنِ وَ النورُ وَاحِد
بِنَصِّ حَدِيْثِ النَّفْسِ وَ النُّورِ فَاعْلَمَنَّ)
شیخ عطار نیشاپوری کہتے ہیں
تو نور احمد و حیدر یکی دان
کہ تا گردد بہ تو اسرار آسان
حکیم سنائی کہتے ہیں۔
ہر دو ز یک صدف بودند
ہر دو پیرایہ شرف بودند.
دوم:
سب سے پہلے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نور خلق ہوا اور باقی تمام موجودات عالم کی خلقت اسی نورکی برکت سے ہوئی ۔ لہذا شیخ سلیمان قندوزی حنفی کہتے ہیں کہ: سب سے پہلے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نور مقدس پیدا ہوا اس نور نے تمام عالم ملکوتی اور جبروت پر احاطہ کر لیا۔ اس لیے افضل الانبیاء ختمی المرتبت کامل ترین فرد اور دین محمد دین اسلام ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔
علامہ دیار بکری علماء اہلسنت میں سے ایک جید عالم ہیں کہتے ہیں: کوئی پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جیسا صاحب کمال پیدا نہیں ہوا ہے اورہر نبی نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ملکوتی نور سے کسب فیض کیا ہے۔
سویم:
خاتم الانبیأ و خاتم الاوصیاء علی ابن ابی طالب ایک ہی نور میں متحد ہیں تو جس طرح سب سے پہلے نور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خلق ہوا اسی طرح سب سے پہلے علی کا بھی نور خلق ہوا۔ رب العزت نے سب سے پہلے نورمحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و نور علی کو خلق کیا ہے او ر انہیں کے نور کے طفیل میں تمام کائنات کی خلقت ہوئی ہے لہذا تمام ہستی نے اسی نور کی برکت سے خلقت پائی ہے۔
(لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ وَ لَوْلَا عَلِیّ لَمَا خَلَقْتُکَ وَ لَوْلَا فَاطِمَةُ لَمَا خَلَقْتُکُمَا )(۱)
آدم سے عیسیٰ تک تمام کے تمام انبیاء انھیںہستیوں کے نمک خوار ہیں۔ رزق مادی ہو یا معنوی انہیں کی برکت سے ملتا ہے۔
چہارم:
تمام انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام خداوند کریم کے مقرب بندے ہیں انہیں قرب الہی کا کمال حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی مرتضی علیہ الصلوة والسلام کے برکت سے ملا ہے علامہ قندوزی اور
____________________
۱:فاطمة بھجة قلب نبی، علامہ مرندی، ملتقی البحرین ص ۱۴
علامہ بکری اہل سنت کے دو بزرگ علماء ہیں ان کے مطابق تمام انبیاو اور اوصیاء کو کمالات رسول گرامی خدا اور علی مرتضی کی وجہ سے حاصل ہو گئے ہیں۔ پس ثابت ہوا نور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور نور علی دونوں ایک ہیں اورتمام انبیاء و اوصیاء و اولیاء مکتب علی بن ابی طالب کے شاگرد اور مطیع و فرمانبردار ہیں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : شب معراج خداوند عالم کے پیغمبر وں نے مجھ سے سوال کیا۔ آپ نے کونسا عمل انجام دیا جس کی وجہ سے آپ کو معراج کے شرف سے مشرف کیا گیا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خدا نے روئے زمین پر افضل الناس اور سید المرسلین قرار دیا؟تو رسول گرامی اسلام نے انبیاء ما سلف کے سوالوں کے جواب میں فرمایا:کہ میں نے خداوند رب العزت اور آپ سبھی انبیاء کرام اور ولایت علی ابن ابی طالب کو اپنے لئے سرلوحہ عقیدہ اور راہ عمل قرار دیا۔
مرحوم شیخ کاظم ازری نے اس روایت کو اس طرح سے تحریر کیا ہے۔
وَ اَسْأَلُ الاَنْبِيَائَ تُنْبِئُکَ عَنْهُ
اَنَّه سِرُّهَا الَّذِی نَبَّاَهٰا
وَ هُوَ عَلَامَةُ الْمَلَائِک فَاسْأَلْ
رُوحَ جَبْرَئِيْلَ عَنْهُ کَيْفَ هَدَاهٰا(۱)
فواد کرمانی کہتے ہیں۔
زنسیم فیض کریم تو
دم عیسی آمدہ جانفزا
بہ کف کلیم زقدرتت
دگر آن عصا شدہ اژدھا
بتو یونس آمدہ ملتجی
کہ خلاص گشتہ ز ابتلا
زتوجہ تو خلیل را شدہ نار برد مبردا
____________________
۱: دیوان ص ۶۱
میرزا محمد قمی نے کتنا خوبصورت شعر کہا ہے۔
سرخوش از ساغر سرشار ولایت چو شدیم
پیر ما ختم رسل ساقی ما مولا بود.
شجر طور ولایت علی عمرانی
کہ تجلی رخش راہبر موسی بود
مژدہ مقدم جانپرور او داد مسیح
دم قدسیش از آنروے روان بخشا بود
نہ ہمین یار نبی بد کہ بھر دور معین
انبیاء را ہمہ از آدم تا عیسی بود
نوح را ہمت او داد نجات از طوفان
ورنہ تا روز جزا رہسپر دریا بود
پنجم:
تمام انبیاء اور اولیا ء الٰہی حضرت آدم ابو البشرسے لیکر قیامت تک جو بھی زیور وجود سے مزین ہوگا وہ نور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی کی برکت سے خلق ہوگا اور جس کو جس قسم کے بھی کمالات حاصل ہونگے وہ محبت و ولایت اہلبیت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وجہ سے حاصل ہونگے لہذا پیغمبر اسلام اور علی ابن ابی طالب دونوں شیعہ ہیں چنانچہ آیہ شریفہ( اِنَّ مِنْ شِيْعَتِه لَاِبْرَاهِيْم ) (۱) کے ضمن میں حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا :ای مِنْ شِيْعَتِه لَاِبْرَاهِيْم (۲) یعنی حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو اولوالعزم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم تھے حضرت علی کے شیعہ و پیرو کار تھے۔ یہ حضرت ابراہیم کے لیے
____________________
۱: صافات ، ۸۳ ۲: تاویل آیات طاہرہ ص۴۸۵، البرھان ج۴، بحار ج ۳۶ حدیث ۱۳۱
سب سے بلند مرتبہ اور افتخار و امتیاز ہے کہ ابراہیم علی کے شیعہ ہیں اس بات کے ثبوت وتصدیق میں عجیب و غریب واقعات نقل ہو ئے ہیں یہاں پر زیادہ تفصیل کی گنجایش نہیں ہے
حضرت امام صادق نے فرمایا کہ: حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو حضرت علی کی عظمت و بلند مرتبہ کا علم ہوا اور شیعیان حیدر کرار کی فضیلت اور علامت معلوم ہوئی تو ابراہیم نے بارگاہ خداوندی میں ہاتھوں کو بلند کرکے دعا کی کہ خداوندا! مجھے بھی شیعیان حیدر کرار علی ابن ابی طالب میں سے قراردے خدا نے ابراہیم کی یہ دعا قبول کی جس کا قرآن مجید میں بھی خداوند عزوجل نے اعلان کیا ہے( اِنَّ مِنْ شِيْعَتِه لَاِبْرَاهِيْم )
ہست ابراہیم در وحی مبین
شیعہ مولا امیر المومنین
ششم:
تمام انبیاء اور اولیاء الٰہی کے ساتھ ساتھ تمام عام انسان بھی عالم ذر میں خداوند متعال کی وحدانیت پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت و رسالت اور علی ابن ابی طالب کی ولایت و محبت و مودت کو قبول کرکے علی کے شیعہ ہو گئے تھے۔
روز نخست این گل مرا کہ سر شتند
نام نکوی تو بر دلم بنوشتند
اس لیے امام صادق نے فرما یا ہے کہ: قیامت کے دن جو نجات پائیں گے وہ ہمارے شیعہ ہیں جنھیں پیغمبر اسلام اور ہم ائمہ اطہار کی وجہ سے نجات دی جائے گی اور تما م افراد اہل عذاب اور اہل ہلاکت ہونگے کہ قیامت کے دن صرف پیغمبر اسلام، ہم آئمہ طاہرین اورہمارے شیعہ ہی نجات پائیں گے۔
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ تمام انبیاء اور اولیاء موحدین حضرت آدم سے لیکر حضرت عیسی تک حضرت ختمی المرتبت اور اہل بیت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیعہ ہیں لہذا نجات کا استحقاق رکھتے ہیں۔
اس مختصر سی کتاب میں تفصیل کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی بندہ ناچیز میں اتنی جرأت ہے کہ اس علم و عرفان کے سمندر میں غوطہ زن ہو سکوں۔
اس وقت اتنے ہی بیان پر اکتفا کرتا ہوں پھر کسی موقع پر فرصت کے میسر ہونے پر مولائے کائنات علی ابن ابی طالب کی تائید و نصرت سے اس گلستان روح افزا میں سیر کریں گے اور بوستان گل آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نکہت و خوشبو سے اپنے دل و دماغ و عقیدہ کو معطر کریں گے فی الحال اپنے قارئیں کرام سے ان خوبصورت اشعار کے ساتھ طالب رخصت ہوں۔
شیعہ یک موسی است در دریاے نیل
شیعہ یک کعبہ است پیش قوم فیل
شیعہ در درےای آتش چو خلےل
بے نےازی می کند از جبرئیل
شیعہ ہر جا پاگذارد با علی است
اول و آخر کلامش یا علی است
ائمہ اطہار معدن علم الہی
ہم زیارت جامعہ میں یہ جملہ پڑھتے ہیں:اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ يٰاخُزّانَ الْعِلْمِ (۱) ہمارا سلام ہو آپ پر اے معدن علم الہی۔
خزان العلم کیا چیز ہے؟
ہمارے ائمہ کا ایک عظیم پہلو یہ ہے کہ وہ علم الہی کے خزینہ دار ہیں۔ یہ جملہ ہم مختلف زیارتوں میں بھی پڑھتے ہیں اور یہ جملہ معصومین علیہم السلام کے فرامین میں بھی ملتا ہے کہ خزّان علم وہ حضرات ہیں ۔خزان بر وزن رمّان خازن کی جمع ہے یعنی خزینہ دار اور علم کے عام معنی کبھی آگاہی ہے لیکن یہ چیز ضرور جاننا چاہیے کہ یہ علم کے خزانہ دار ہیں وہ کونسا علم ہے؟
مناسب سمجھتا ہوں کہ اس علم کی تفسیر اور تشریح کرنے سے پہلے چند روایات جو خود معصومین علیہم السلام کی طرف سے وارد ہوئی ہیں ذکر کروں:
۱۔ حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ (نَحْنُ خُزّانُ عِلْمِ اللّٰهِ وَ نَحْنُ تَرَاجِمَةُ وَحْیِ اللّٰهِ )۔ہم خزانہ دار علم الٰہی ہیں ۔ہم ترجمان وحی خدا ہیں۔(۲)
۲۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں(نَحْنُ شَجَرَةُ الْعِلْمِ وَ نَحْنُ اَهْلُ بَيْتِ نَبِیّ اللّٰهِ وَ فی دَارِنٰا مَهْبِطُ جَبْرَئِيْلٍ وَ نَحْنُ خُزّانُ عِلْمِ الْعَامِّ وَ عَنْ مَعَادِنِ وَحْیِ اللّٰهِ... ''(۳)
ہم علم کے درخت ہیں۔ ہم اھل بیت نبوت ہیں ۔ہمارا گھر ہی جبرئیل امین کی رفت و آمد کی جگہ تھی ۔ہم
____________________
۱: زیارت جامعہ کبیرہ مفاتیح الجنان ص ۶۹۹ ۲:منہاج البلاغہ خطبہ ۲۳۹ ۳: امالی شیخ صدوق ص ۲۵۲
خداوند عالم کے علم کے خزانہ دار ہیں۔ ہم معدن وحی الٰہی ہیں۔ جو بھی ہماری اطاعت کرے گاوہ نجات پائے گا اورجو بھی ہمارے حکم کی مخالفت کرے گا نابود ہوجائیگا، ہم ہی سنت خداوندی ہے۔
۳۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:لوگ ہماری فضیلت کاکیوں انکار کرتے ہیں؟ خدا کی قسم ہم ہی نبوت کے درخت ہیں۔ ہمار ے گھر رحمت کے گھر ہیں ، علم کے خزانے اور ملائکہ کی رفت و آمد کی جگہ ہیں۔
یہ چند روایات ہزاروں روایات میں سے چند نمونے ہیں جو اہل بیت رسالت کی طرف سے ہم تک پہنچے ہیں لہذا ان روایتوں میں علم کسی قید اور شرط کے بغیر ذکر ہوا ہے لہٰذا اس جملہ کی مناسب انداز میں تشریح اور تفسیر کی جائے۔
علم خداوندی:
لاریب خداوند عالم پوری کائنات کا عالم الغیب و الشہادت ہے ظاہر اور باطن سب کا جاننے والا ہے خداوند عالم کا علم، علم حضوری ہے ۔ پورے عالم کا علم خدا کے سامنے ہے بنی نوع انسان کا علم تو محدود ہے لیکن پروردگار عالم کا علم پورے جہان ہستی پر سایہ فگن ہے۔
علم غیب کی اقسام:
حضرت امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے :خداوند عالم کا علم دو قسم کا ہے (اِنَّ لِلّٰهِ تَعٰالٰی عِلْماً خَاصّاً وَ عِلْماً عَامّاً ) خداوند عالم کا علم دو قسم پر مشتمل ہے :
۱۔علم مخصوص ۲۔علم عام
(فَاَمَّا الْعِلْمُ الْخَاصُّ فَالْعِلْمُ الَّذی لَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ مَلَائِکَةُ الْمُقَرِّبِيْنَ وَ اَنْبِيَائُ الْمُرْسَلِيْنَ )۔
علم خاص و ہ علم ہے جو صرف پروردگار عالم تک محدود ہے یہ علم فقط ذات رب العزت سے تعلق رکھتا ہے لیکن علم عام وہ علم ہے جس سے ملائکہ مقربین اور انبیاء مرسلین آگاہی رکھتے ہیں اور یہی وہ علم ہے جو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہم تک پہنچا ہے۔
وہ روایات جو علم غیب فقط پروردگار عالم سے تعلق رکھنے پر دلالت کرتی ہیں وہ علم خاص کے بارے ہیں نہ کہ علم عام کی بابت ۔یہاں پر بعض متکلمین اور دانشمندوں نے اشتباہ کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے در میان علم غیب سے متعلق شبھہ پیدا ہوا اور کہا کہ غیب کا علم فقط ذات پروردگار کو ہے۔
انشاء اللہ یہاں پر دونوں علوم کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا ذکرکریں گے.
۱۔( وَ عِنْدَه مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا اِلَّا هُوَ ) (۱)
۲۔( قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ) )(۲)
۳۔( قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فی السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰه ) (۳)
۴۔( فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ ) (۴)
ترجمہ: ۱۔اس کے پاس غیب کے خزانے ہیں جنھیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
۲۔کہہ دیجئے !کہ علم تو بس خدا کے پاس ہے۔
۳۔کہہ دیجئے !کہ تما م غیب کا علم پروردگار کو ہے۔
۴۔تو آپ کہہ دیجئے! کہ تمام غیب کا علم پروردگار کو ہے ۔
دوسری آیات بھی اس ضمن میں موجود ہیں۔
یہی وہ آیات ہیں جو علم حضوری اور علم خاص کے بارے میںہیں جن میں علم غیب کوخداوند کریم میں حصر کیاگیا ہے مالک حقیقی وہی ہے وہ جسے چاہے دے اورجسے چاہے نہ دے
____________________
۱:انعام، ۵۹
۲:احقاف، ۲۳
۳:نمل ، ۶۵
۴:یونس، ۲۰
( ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤتِيْهِ مَنْ يَّشَآئُ وَ اللّٰهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيْم ) (۱) ۔اس علم کے زمام دار خداوند قدوس ہے اس کی ملکیت اورسلطنت سے باہر نہیں جا سکتا مگر یہ کہ وہ جس کے اوپر ظاہر کرنا چاہے مثل (کُنْتُ کَنْزاً مَخْفِیاً)کے ظاہر فرما دیتا ہے۔
دوسرا قسم: علم عام وہ علم ہے جو خداوند عالم اپنے برگزیدہ اور مصطفی بندوں کو عنایت کرتا ہے۔
(( عَالِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلٰی غَيْبِه اَحَداً اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَسُوْل ) (۲)
خداوند عالم علم غیب سے آگاہ ہے اور کسی بندے کو نہیں بتا تا مگر یہ کہ اپنے مرتضے اور مصطفے بندوں کو عنایت فرماتا ہے۔ اور دوسری آیت میں بھی ذکر ہے۔( وَ مَا کَانَ اللّٰهُ لِيُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَيْبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبی مِنْ رُّسُلِه مَنْ يَّشَاء ) )(۳)
اور وہ تم کو غیب پر مطلع بھی نہیں کرنا چاہتا ،ہاں اپنے نمائندوں میں سے بعض لوگوں کو اس کام کیلئے منتخب کر لیتا ہے۔
پروردگاراپنے مخصوص بندوں کو غیب کے حالات سے باخبر کرتا رہتا ہے لیکن انھیں یہ ہدایت رہتی ہے کہ اس علم کو صرف مخصوص مواقع پرہی استعمال کرناہے اور باقی سارے کام ظاہری قوانین کے مطابق انجام دیناہے۔
بنیادی طور پر ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام خداوند رب العزت کی اجازت سے غیب پر علم رکھتے ہیں اور یہ ہمارے دین کے بنیادی عقائد میں سے ہے اس حوالے سے یہاں پر نمونے کے طور پر چند مثالیں عرض کردینا ضروری ہے:
۱۔حضرت نوح علیہ السلام کی پیشن گوئی جو اپنی قوم کے بارے میں اظہار فرمایا کہ: یہ قوم دوبارہ
____________________
۱:سورہ جمعہ آیت ۴ ۲:سورہ جن، آیت ۲۶ ۳:سورہ آل عمران آیت ۱۷۹
ہدایت یافتہ نہیں ہوگی اگر باقی زندگی رہی بھی تو یہ لوگ کفر او ر الحاد میں زندگی بسر کریں گے.
سورہ نوح آیت نمبر ۲۷ اور ۲۸،سورہ انعام آیت نمبر ۸۵،سورہ یوسف آیت نمبر ۴ اور ۶
سور ہ یوسف آیت نمبر ۴۱ اور ۳۶،سورہ ہود آیت نمبر ۶۵،سورہ نمل آیت نمبر ۱۶، ۱۸، ۱۹
حضرت ابراہیم کی زمین اور آسمان کے متعلق آگاہی
حضرت یعقوب کا یوسف کے بارے میں آگاہی رکھنا
حضرت یوسف کا آئندہ زندان میں جانے کے حوالے سے خبردار کرنا
حضرت صالح کی پیشن گوئی کہ ناقہ صالح کے مارنے کے بعد تین دین سے زیادہ زندہ نہ رہنا،
حضرت سلیمان کا حیوانات سے گفتگو کرنا بھی علم غیب میں شامل ہے
حضرت عیسی کی معلومات جو لوگ گھروں میں کھانے یا ذخیرہ و غیرہ کرنے کے حوالے سے معروف ہیں۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آئندہ کے بارے میں علم غیب سے آگاہی اور پیشن گوئی کرنا جن میں سے چند ایک درجہ ذیل ہیں:۔
۱۔انسان طاقت نہیں رکھتا کہ اس قرآن کا مثل لیکر آئے۔
۲۔رومیوں کا ایران پر غلبہ اور تسلط حاصل کرنا۔
۳۔خداوند عالم اپنے پیغمبرکو ہر قسم کے شر سے محفو ظ رکھے گا۔
۴۔منافقین کی حرکات اور سکنات کے بارے میں خبر دینا۔
۵۔قرآن مجید کبھی بھی محرّف نہیں ہوگا۔
۶۔اسلام پورے عالم پر حکومت کرے گا۔
یہ وہ نمونے اور مثالیں ہیں جنہیں قرآن مجید نے بیان کیا ہے اور یہ علم غیب کے بارے میں ہیں۔
البتہ غیب کے بارے میں خبر دینے کا ذکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی جانب سے بہت زیادہ کتابوں میں درج ہے مثلا اس حوالے سے تین جلد کتابیں بعنوان الاحادیث الغیبہ لکھی گئی ہیں۔
تفسیر خزان علم:
اس ترتیب کے ساتھ خزائن علم کی تفسیر واضح اور روشن ہوئی کہ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام ذات پروردگار عالم کے خزینہ علم ہیں لہٰذا خداوند عالم نے علم غیب کی چابی کو (جو علم خصوصی کے سوا) باقی تمام علوم غیب پر مشتمل ہے اہل بیت علیہم السلام کے ہاتھوں میں دیا اسی لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
''اَناَ مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِیّ بَابُهَا ''(۱) میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں لہذا ضروری نہیں ہے کہ جو علوم انبیاء کو عطا ہوئے اور جو علم شب قدر میں نازل ہوا ہے انہی دو علوم پر منحصر اور محدود کریں بلکہ چند نقطے قابل ذکر ہیں توجہ فرمائیں:۔
۱۔ آگاہی انتخابی:
یہ آگاہی انتخابی اور اختیاری ہے یعنی جہاں اور جس وقت ارادہ کریں آگاہی حاصل ہوجاتی ہے حضرت امام صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:۔
اِنَّ الْاِمَامَ اِذَا شَائَ اَنْ يَّعْلَمَ عَلِمَ ۔یعنی بتحقیق امام جہاں اور جس وقت ارادہ کرے جان لیتا ہے
____________________
۱:کنز العمّال ج ۱۲ ص ۲۰۳ ح ۱۱۵۲
دوسری روایت میں آیا ہے کہ عمار ساباطی کہتے ہیں حضرت امام صادق علیہ افضل صلواة سے سوال کیا۔ اَلْاِمَامُ ےَعْلَمُ الْغَےْبَ؟ کیا امام علم غیب رکھتا ہے؟ حضرت علیہ السلام نے فرمایا۔ (وَ لٰکِنْ اِذَا اَرَادَه اَنْ يَّعْلَمَ الشَّیْئَ اَعْلَمَهُ اللّٰهُ ذٰلِکَ ) جی ہاں جس وقت کسی چیز کوجاننے کا ارادہ کریں تو خداوند عالم انہیں آگاہ فرماتا ہے اس ترتیب کے ساتھ اس سوال کا جواب بھی دیتے ہیں کہ کیا حضرت علی علیہ السلام شب ہجرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر پر زندہ رہنے یا مرنے کے بارے میں علم رکھتے تھے؟
تو عرض کروں گا حضرت علی علیہ السلام نے اس بارے میں جاننا ہی نہیں چاہا ورنہ معلوم ہوجاتا چونکہ آپ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر قربان ہونا چاہتے تھے۔لہٰذا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک قربانی طلب شخص اپنے زندہ رہنے یا مرنے کی فکر میں رہے البتہ آپ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان کی فکر میں ضرور تھے اسی لیے آپ نے سوال کیا یا رسو ل اللہ میرے سونے سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان بچ جائے گی؟ تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :یا علی میری جان بچ جائے گی۔ ہمارے ماں باپ آپ کے اوپر قربان ہوجائیں یا علی مرتضٰی ہزاروں درود و سلام ہوں آپ کے ایثار اور فداکاری پر.
ب: علم افاضی:
بہر حال ہم نے مان لیا کہ یہ علم کوئی مستقل علم نہیں ہے بلکہ پروردگار عالم کی طرف سے عنایت ہوتا ہے لہٰذا ایک طرف ہم دیکھتے ہیںکہ حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی میں اس قدر روتے ہیں کہ آنکھیں سفید ہوجاتی ہیں (وَ ابْيَضَّتْ عَيْنٰاهُ مِنَ الْحُزْنِِ )ظاہر ہے اگر حضرت یعقوب اپنے فرزندیوسف کے بارے میں جانتے کہ وہ زندہ یا صحت وسلامت ہیں اس قدر نہ روتے، گریہ نہ کرتے، آنکھیں سفید نہ ہوتیں۔ دوسری طرف کچھ عرصہ کے بعد آپ فرماتے ہیں: ۔کہ مجھے یوسف کی بو آرہی ہے اگرتم لوگ مجھے نادانی اور کم عقل ہونے کا الزام نہ لگاؤ؟
اِنِّی لَاَجِدُ رِيْحَ يُوسُفَ لَوْلَا اَنْ تُفَنِّدُوْن (۱)
لہٰذا خداوند عالم نے حضرت یعقوب کو معنوی ترقی اور امتحان الٰہی کے حوالے سے یوسف کے بارے میں علم غیب نہ د یاہو بہر حال آخر کار یوسف کے بارے میں علم غیب عطا کیاگیا۔
ج: علم غیب انسان کی ہدایت کے حوالے سے:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں ہمیں یہ چیز ملتی ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام نے علم غیب اور ولایت تکوینی دونوں کے حوالے سے فائدہ اٹھایا ہے۔ بہ الفاظ دیگر معصومین علیہم السلام علم غیب پر بھی اورولایت تکوینی پر بھی تصرف رکھتے ہیں یعنی جہاں جہاں مناسب سمجھا کہ ان علوم کے استعمال سے انسان ہدایت یافتہ ہوجائے وہاں وہاں تصرف کیا البتہ معصومین علیھم السلام نے کبھی بھی شخصی کاموں میں علم غیب اور ولایت تکوینی کا سہارا نہیں لیا۔ سختی، زندان ، مصیبت، بیماری اور شہادت کوقبول اور برداشت کیا لیکن قدرت خداوندی کو جو انھیں عطا شدہ تھی استعمال نہیں کیا حتی کہ حادثہ کربلا اور روز عاشور کے دن اگر حضرت ابا عبد اللہ امام حسین علیہ السلام ارادہ فرماتے تو آپ کے پائے اقدس کے نیچے سے چشمے ابل پڑتے لیکن امام حسین علیہ السلام نے نہیں چاہا کہ قدرت الٰہی کو استعمال میں لائیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام نے اسی طرح زندگی کی جس طرح عام انسان زندگی کرتے ہیں بقول حضرت امام صادق علیہ السلام (ےَصْلَحُ وَ ےَمْرِضُ)امام بھی بیمار ہوتے ہیں اور صحت یاب ہوتے ہیں (ےَاْکُلُ وَ ےَشْرَبُ)۔ کھاتے بھی ہیں اورپیتے بھی ہیں(وَ يَفْرَحُ وَ يَحْزُنُ ) خوشی اور غم دونوں لاحق ہوتے ہیں(و يَضْحَکُ وَ يَبْکِی ) ۔ ہنستے بھی ہیں روتے بھی ہیں۔
____________________
۱:یوسف ،۹۴
چنانچہ قرآن مجید میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں یہ آیت ملتی ہے (( قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَر مِّثْلُکُمْ ) لہذا مذکورہ تین اقوال اس حوالے سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ امام شناسی ایک انتہائی مہم اور حساس معاملہ ہے اس ضمن میں دو خطرات کو مد ّ نظر رکھنا نہایت ضروری ہے:
(۱) سب سے بڑا خطرہ غلو ہے:
امام شناسی کے حوالے سے انسان کہیں امام کو خدا کی حد تک نہ لے جائے یا امام کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نہ کہہ بیٹھے۔
(۲) دوسرا خطرہ:
امام کی شخصیت اور مقام کو ایک عام انسان کی سطح تک نہ لے آئیں بہ الفاظ دیگر امام کے صحیح مقام اور مرتبہ کو نہ پہچا ننا، ان کی شخصیت واقعی کی معرفت حاصل نہ ہونا۔ بہر حال وہ انسان ہیں لیکن عام انسان نہیں بلکہ خداوند عالم کے منتخب اور برگزیدہ بندے ہیں لہذا اسی آیت کے تسلسل میں فرماتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ مجھ پر خداوندمتعال کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔
در جھانی ہمہ شور و ہمہ شر
ھا علی بشر کیف بشر
امید واثق ہے خداوندکریم و مہربان ہمیں محمد و آل محمد علیھم السلام کی صحیح معرفت حاصل ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔
اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَّمْ تُعَرِّفْنَی نَفْسَکَ لَمْ اَعْرِفْ نَبِيَّکَ اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُوْلَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُوْلَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکَ اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِيْنِی (۱)
____________________
۱:مفاتیح الجنان صفحہ ۹۶۷ انتشارات آستان قدس رضوی
زیارت جامعہ کبیرة
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یٰا اَهْلَ بَیْتٍ النُّبُوَّةِ وَمَوْعِضَ الرِّسَالَةِ وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائکَِةِ وَمَهْبِطَ الْوَحْیِ وَمَعْدِنَ الرَّحْمَةِ وَخُزّٰانَ الْعِلْمِ وَمُنْتَهٰی الْحِلْمِ وَاُصُوْلَ الْکَرَمِ وَقَادَةَ الُامَمِ وَاَوْلِیَائَ النِّعَمِ وَعَنَاصِرَالْاَبْرَارِ وَدَعَائِمَ الْاَخْیَارِ وَسَاسَةَ الْعِبَادِ وَاَرْکَانَ الْبِلَادِ وَاَبْوَابَ الْاِیْمٰانِ وَاُمَنَائَ الرَّحْمٰنِ وَسُلَالَةَ النَّبِیِّیْنَ وَصَفْوَةَ الْمُرْسَلِیْنَ وَعِتْرَةَ خِیَرَةَ رَبَّ الْعٰالَمِیْنَ
وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه
ترجمہ
اے اہل بیت نبوت، اور مقام رسالت ، اور منزل ملائکة ، اور مقام وحی، اور معدن رحمت، اور علم کے خزانے، اور حلم کے انتہائی مقام، اور کرم کے اصول، اور امتوں کے قائد ، اولیاء نعمت، اور ارکان ابرار، اور نیکوں کے منزل اعتماد، اور بندوں کے قائد ، اور شہروں کے ارکان ، اور ایمان کے دروازے ، اور رحمان کے امین ، اور نبیوں کے فرزند، اور مرسلین کے برگزیدہ، اور رب العالمین کے نیک بندوں کی عترت
سلام ہو آپ پر اور خدا کی رحمتیں اور برکتیں بھی ۔
قرآن اور علی
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ جَعَلَنٰا مِنَ الْمُتَمَسِّکِيْنَ بِوِلَايَةِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبِ وَ اَوْلَادِه الْمَعْصُوْمِيْنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانٰا لِهٰذٰا وَ مٰا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلَااَنْ هَدٰانٰا اللّٰهُ القرآن: وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَيْنٰاهُ فی اِمَامٍ مُّبِيْن (۱)
حدیث:عَلِیّ مَعَ الْقُرْآنِ وَ الْقُرْآنُ مَعَ عَلِیٍّ (۲)
قرآن: اور ہم نے ہر شے کوایک روشن امام میں جمع کردیا ہے۔
حدیث: علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔
علی علیہ السلام ایک فرد بزرگ ہیں، علی علیہ السلام ایک عالیقدر شخصیت جو تمام ابعاداور خصوصیات انسانی کا ایک مکمل پرتو ہے یہاں تک کہ داخلی بندگی اور بچپن کا دور برجستہ اور ممتاز ہے۔ علی علیہ السلام سب سے پہلے اسلام لانے والے اور اسلام میں پہلے مجاہد فی سبیل اللہ ہیں اسی لیے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
مسلم اول شہ مردان علی
عشق راسرمایہ ایمان علی
از ولائے دودمانش زندہ ام
در جھاں مثل گہر تابندہ ام(۳)
علی علیہ السلام جس کی جان پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پیوند خوردہ تھی اور ان کی زندگی حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے ساتھ آمیختہ تھی ۔فقط علی کو یہ فضیلت نصیب ہوئی کہ
____________________
۱۔ یس آیت۱۲
۲ ۔امالی شیخ صدوق صفحہ ۱۴۹
۳۔ کشف الفاظ اقبال ص ایضا کلیات اقبال ص۷۷
خدا کے گھر میں آنکھ کھولی بقول شاعرمشرق
کسی را میسر نہ شد این سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
حضرت علی علیہ السلام کے سوا کسی بشر نے یہ عظیم شرف نہیں پایا کہ خدا کے گھر میں اس کی ولادت ہو اور خدا کے گھر میں ہی درجہ شہادت پر فائز ہو۔ حضرت کی پیدائش، حیات مقدس اور شہادت مکتب انسانیت کے لیے ایک درس ہے۔
حضرت علی علیہ السلام دنیائے اسلام کی وہ عظیم دوسری شخصیت ہیں جنہوں نے انسانوں کو اپنی ولادت حیات اور شہادت کے ذریعے رزم، عزم، علم وحکمت، مجاہدت اور شہادت کاوہ سبق سکھا یا جو انسانی زندگی کی نشیب و فراز سے پر تاریخ میں ہمیشہ باقی رہنے والا سرمایہ ہے۔ مولا علی علیہ السلام عظمتوں، طہارتوں، تقدسوں اور احساسات کے گوناگون انواع کے رب النوع کی حیثیت کے حامل تھے اسی لیے فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
کتاب فضل ترا آب بحر کافی نیست
کہ ترکنم سر انگشت و صفحہ بشمارم
آپ کی شخصیت وہ بے نظیر شخصیت ہے کہ جس کے سامنے دوست محبت و الفت کے ساتھ اور آپ کے دشمن اور مخالفین حیرت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یا ابا الحسن بابی انت و امی
شهد الانام بفضله حتی العدیٰ
و الفضل ما شهدت به الاعدأ
آپ کی وہ ملکوتی آواز جو آج پوری دنیا کی حکومتوں کے لیے لمحہ فکر یہ اور سبق آموز ہے آپ فرماتے ہیں :خدا کی قسم میری یہی پیوند دار جو تیاں میرے نزدیک تم جیسے لوگوں پر حکومت کرنے سے زیادہ عزیز ہیںمگر یہ کہ اس حکومت کے ذریعے کسی حق کو اس کی جگہ پر قائم کروں یا کسی امر باطل کو اکھاڑ پھینک سکوں، حقیقت امر یہ ہے کہ مولا علی علیہ السلام کو سوائے خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کوئی درک نہیں کرسکا اور خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو علی کے سوا کوئی نہیں پہچانا ۔ اسی لیے شاعر کہتے ہے۔
علی قدر پیمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم را شناسد
کہ ہر کس خویش را بہتر شناسد
معرفت اور غیر معرفت کا اندازہ مولا علی علیہ السلام کے اس جملہ سے کر سکتے ہیں آپ فرماتے ہیںمَا عَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ (۱) نہیں پہچانا ہم نے تجھے جو حق تجھے پہچاننے کا تھا آپ ایک مقام پر فرماتے ہیں:۔ اے میرے معبود! مجھے وہ کمال عطا فرما کہ سب سے کٹ کر تیرا ہوجاؤں اور میرے قلب کی بصارت میں وہ ضیاء عطا فرما کہ جس سے تجھ تک بے خطر پہنچ سکوں یہاں تک کہ دل کی آنکھیں نور کے حجاب کو چاک کردیں اور معدن رحمت، معدن عظمت ،معدن شرافت اورمعدن عدالت سے متصل ہوجائیں۔
علی علیہ السلام کی عمر ۲۰ سال کی تھی جب انہوں نے بستر مرگ پر خدا کی مرضی کو خرید لیا ۔
''( وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَائَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ رَؤُف بِّالْعِبَادِ ) (۲)
علی علیہ السلام کی عمر جب ۲۶ سال ہوئی تو انہوں نے میداں میں عتبہ، ولید اور بطحاء کی سرزمین کے
____________________
۱:پرتوی از انوار نہج البلاغہ ص ۲۳
۲:سورہ بقرہ ۲۰۷
پہلوانوں سے پنجہ آزمائی کی، احد کے میدان میں حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گرد پروانے کی طرح چکر کاٹتے رہے اور احزاب میں عمرو بن عبدود جو کہ شاتم رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تھا اس کا سر تن سے جدا کیا(بَرَزَ الْاِسْلَامَ کُلُّه اِلٰی کُفْرِ کُلِّه )(۱) اگر طول تاریخ میں نگاہ کریں تو نظر آئیگاکہ تنہا علی وہ انسان ہیں جس کے مختلف ابعاد ہیں کہ جو ایک انسان میں نہیں ہو سکتے۔ علی ایک سادہ مزدور کی طرح زمین اور باغات کی گوڈی کرکے قناعت کرتا ہوا نظر آتا ہے، علی ایک حکیم و دانش کی طرح سوچتے ہیں، علی خدا کے مقابل میں ایک اطاعت گزار بندہ ہے، علی ایک شمشیر زن اور قہرمان بھی ہے،علی معلم اخلاق اور مظہر سرمشق فضائل انسانی ہیں،علی پدر دلسوزاور مہر و محبت کرنے والابھی ہے اورعلی جانشین رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہیں۔
علی امت اسلامی میں سب سے زیاد ہ محبت کرنے والا اور محبوب شخصیت ہیں ،علی کا نام مردانگی ہے، علی کا نام حق ہے، عدل ہے، امانت ہے، نام علی لیاقت،سخاوت، جوانمردی، ہے ،علی کا نام ہے کہ جس کے بارے میں خود خداوند قدوس نے فرمایا:
( وَ کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَيْنٰاهُ فی اِمٰامٍ مُّبِيْنٍ ) (۲) ۔''ہم نے ہر چیز کو امام مبین میں جمع کیا ہے ''
جس کے بارے میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
(عَلِیّ مَعَ الْقُرْآنِ وَ الْقُرْآنُ مَعَ عَلِیٍّ )۔(۳)
(عَلِیّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِیٍّ يَدُوْرُ مَعَه حَيْثُمٰا دَارَ )(۴) ۔ علی حق کے ساتھ اور حق علی
____________________
۱: غوالی اللئالی جلد ۴ صفحہ ۸۸
۲: سورہ یٰسین۱۲
۳: سفینة البحار ج۱ ، ص ۶۴۲
۴:مسند امام علی ج ۷، ص ۳۳۷
کے ہمراہ ہے ،اسی طرح حضور ختمی مرتبت آپ کو اپنے بعد امت کے لیے ہادی بنا کرچھوڑ جاتے ہیں اور صریح حدیث ہے ۔
(قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلّٰی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِه وَسَلَّمَ : اِنِّیْ تٰارِک فِيْکُمُ الثِّقْلَيْنِ کِتٰابَ اللّٰهِ وَ عِتْرَتی اَهْلُ بَيْتی مٰا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمٰا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدی وَ اِنَّمٰا لَنْ يَّفْتَرِقٰا حَتّٰی يَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ )۔(۱)
میں تمھارے در میان دو گران قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا اور دوسری میرے اہل بیت اگر ان سے متمسک رہیں تو میرے بعد گمراہ نہیںہوںگے اور یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ مجھے حوض کوثر پر آ ملیں گے۔ پیغمبر اسلام کی حضرت علی کے ساتھ دوستی اور محبت قابل دید ہے قرآن مجید جو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قلب مبارک پر نازل ہوا اور خدا نے کتاب و حکمت کی تعلیم پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو عطا فرمائی ۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اتنے عارف قرآن ہیںکہ علی کو اپنا بھائی، وصی، خلیفہ، وارث ، شاہد اور ولی قرار دیا پھر ان کو اپنا نفس قرار دیا۔ شاعر نے اس موقع پر کیا خوب کہا ہے۔
آپ ہے نفس پیغمبر نفس حیدر ہے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
اور شب معراج میں یار و ہمدم یا علی
کوئی ایسی آیت نہیں ہے جو علی کوتعلیم نہ فرمائی ہو۔ تاویل قرآن ناسخ اور منسوخ ، محکم اور متشابہ کی آپ کو تعلیم فرمائی اسی بناء پر حضرت علی فرمایا کرتے تھے: خدا کے بارے میں مجھ سے پوچھ لو کوئی ایسی آیت نہیں جس کو میں نہ جانتا ہو۔ جو آیات شب و روز میں نازل ہو ئیں،صحراؤں اور پہاڑوں پر نازل ہوئیں میں سب کو جانتاہوں۔
____________________
۱:سنن تزمدی جلد ۵ صفحہ ۶۲۲
ایک دن آپ نے مسجد کوفہ میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:سَلُوْنی قَبْلَ اَنْ تَفْقِدُوْنی (۱) مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ میں تم میں نہ ہوں ۔یہ وہ منزل ہے جہاں فقہاء مجتہدین مور خین، معبرین، علمائ، عرفائ، صوفیاء کرام، محدثین، مفسرین، مولانا روم ،فرید الدین، عطار، شہریاراور علامہ اقبال سب نے اس پر بحث اور گفتگو کی ہے جہاں پربے ساختہ ارشاد ہوتا ہے کہ مٰاعَرَفْنٰاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ (۲) نہیں پہچانا ہم نے تجھ کو حق معرفت کے ساتھ، وہاں مزید ارشاد فرماتے ہیں:۔لَوْکُشِفَ الْغِطَائُ مَا ازْدَدْتُ يَقِيْناً (۳) میرے سامنے سے اگر سارے حجاب ہٹا دیئے جائیں تو میرے یقین میں ذرہ برابر فرق نہیں آئے گا۔
لوگوں کے درمیان سے ابن کوا نے سوال کیا، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی غیر موجودگی میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وہ آپ کیسے بتائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں جو آیات میری غیر موجودگی میں نازل ہوئیں ان آیات کو پیغمبر اسلام نے مجھے بتا یا اے علی خداوند عالم نے اسطرح فرمایا بس میرے سامنے تلاوت کی اور اس کی تاویل مجھے بتائی۔
علی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھی، صحابیت، قرابت، محبت، فداکاری، عشق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں آپ سے آگے اور کوئی نہ تھا آپ قرآن کے ساتھ تھے ایسی حالت میں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد تنہا علی عالم قرآن، عارف قرآن، مفسر قرآن تھے چنانچہ ابن عباس مفسر قرآن اور دانشمند اپنے علم کو حضرت علی کے علم کے مقابلے میں سات سمندر میں ایک قطرہ محسوس کرتے تھے ۔
علی قرآن کے ساتھ تھے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: علی قرآن سے ہرگز جدا نہیں ہوگا، معیت اور ہمبستگی کا ایسا عالم تھا کہ رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرمان کے مطابق علی ابن ابیطالب کی تمام طاقت اور توانائی جسم اور جان ، علم اور فکر ایثار و قربانی ہر لحظہ قرآن کے دفاع ، قرآن کی تدوین و جمع آوری اور
____________________
۱:غرر الحکم ح ۲۰۸۱
۲: پرتوی از انوار نہج البلاغة ص ۲۳
۳: ایمان وعبادت علی ص۴
احکام قرآن کی پاسداری میں صرف ہوئی ۔جب تک قرآن کی تدوین اور جمع آوری کے عظیم کام کو سرانجام نہیں دیا عبا بدن پر نہیں ڈالی۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کو بیان کرنے میں اور قرآنی تعلیمات کو نشر کرنے میں سخت تکلفیں برداشت کیں یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک تحریف سے محفوظ رہا۔
نفاذ قرآن میں آداب و سنن قرآن کو واضح کردیا ۔اس حوالے سے فتنہ و فساد کو دفع کرنے میں شبہات اور تحریفات ، غلو اور غلط تاویلات، ناکسین، قاسطین اور مارقین کی جاہلانہ سوچ اور فکر سے قرآن اور ملت اسلامیہ کو محفوظ رکھا۔ اس بارے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو سخت قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا اور آپ نے دشمنان اسلام اور دشمنان قرآن سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
جیسا کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا تھا: کہ علی قرآن کی غلط تاویل پر جنگ لڑے گا ۔کبھی آپ نے جنگ صفّین میں ذوالفقار حیدری سے فریب کاروںاور جھوٹوں کے خلاف جنگ لڑی اور قرآن و اسلام کے دشمنوں کو شکست فاش دی تو دوسری طرف آپ مسجد کوفہ میں قرآن بیان کرتے اور اس کی تدریس انجام دتیے ہوئے نظر آئیں گے حضرت علی مسلمانوں کی ہدایت میں قرآن اور سیرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے عظیم مبلغ کے عنوان سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور مشکل حالات میں مسلمانوں کی رہبری اور امامت کے عظیم ذمہ داری کو نبھایا ایسے حالات میں اگر
قرآن بیان ہے تو علی مبین ہے
قرآن ہدایت ہے تو علی ہادی ہے
قرآن صامت ہے تو علی ناطق ہے
قرآن مبین ہے تو علی امام مبین ہے
قرآن مجید نے حضرت علی کے بارے میں صریح آیات اور لطیف کنایات کے ذریعے آپ کے باعزّت اور بلند مر تبہ ومقام کا اشارہ دیا ہے.
قرآن مجید کی آیات آپ کے اعلائے کلمہ حق و حقیقت، آپ کے اوصاف اورآپ کے کردار کو کبھی صراحت، کبھی کنایات اورکبھی اشارات کے ذریعے یوں بیان کرتی ہیں:کہ، کبھی آپ کو نباء عظیم، صراط مستقیم، سابق بالخیرات، مجاہد فی سبیل اللہ، حبل اللہ، عروة الوثقی کے نام سے یاد کیا ہے، کبھی آپ اور آپ کے فرزندوں کو مختلف عناوین سابقون، مقربون، خاشعون، صادقون، مطہرون کے نام سے یاد کیا ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں: خداوند عالم نے کوئی ایسی آیت نازل نہیں کی ہے مگر یہ کہ وہ خطاب جہاں یا ایھا الذین آمنوا ہیں،مراد حضرت علی کی ذات شریف ہے۔ وہ کہتے ہیں حضرت علی کے بارے میں قرآن مجید میں موجود آیات جتنی ہیں کسی اور کے بارے میں نہیں ہیں جز رسول خدا کے آپ فرماتے ہیں علی کے بارے میں تین سو آیات نازل ہوئی ہیں۔
مجاہد کہتے ہیں حضرت علی کے بارے میں ستر (۷۰) آیات نازل ہوئیں ہیں اس میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ حضرت علی کے بارے میں بناء بر عامہ و خاصہ روایات موجود ہیں کہ قرآن چار حصوں میں نازل ہوا ہے۔ ایک حصہ ہمارے فضائل کے بارے میں نازل ہوا ہے، ایک حصہ ہمارے دشمنوں کے بارے میں نازل ہوا، ایک حصہ آداب اور مثل کے بارے میں اورایک حصہ واجبات اور احکامات کے بارے میں نازل ہوا ہے۔
قرآن کی بلند یوں میں آخری درجات ہم ہیں۔ اس حوالے سے حضرت علی اور اہل بیت اطہار علیھم السلام کے بارے میں جو آیات نازل ہوئیں اس کے اسباب و علل کے بارے میں ہزاروں شیعہ اور سنی مصنفین، محدثین ،مفسرین نے بحث اورگفتگو کی ہے مثال کے طور پرمَا نزلَ فی عَلِی ما نزل فی اهل البیت و غیرہ کو دیکھ سکتے ہیں۔
خداوند علی و اعلی قرآن مجید میں فرماتا ہے (( وَ کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَيْنَاهُ فی اِمَامٍ مُّبِيْن ) (۱)
ہم نے ہر شیء کو ایک روشن امام میں جمع کردیا ہے ۔روایات میں امام مبین سے مراد ائمہ طاہرین علیہم السلام
____________________
۱:یس، ۱۲
کی ذوات مقدسہ کو لیا گیا ہے جنہیں پروردگار عالم نے اپنے علوم کا مخزن اور اپنی مشیت کا محل و مرکز قرار دیا ہے۔
منقول ہے کہ خداوند عالم نے علم کے دس حصہ کئے ہیںنو حصے علی کو دئیے ہیں اور ایک حصہ لوگوں کو دیا ہے اس میں بھی علی کی ذات شریک ہے اور سب لوگوں سے زیادہ واقف ہیں۔ علم ماکان و ما یکون کے مالک اور وارث علی ہیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں جب یہ آیتوَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنَاهُ فی اِمَامٍ مُّبِيْن نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا امام مبین سے مراد تورات ہے؟
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا نہیں.
انجیل ہے؟ فرمایا نہیں.
زبور ہے؟ فرمایا نہیں.
قرآن ہے؟ فرمایا نہیں.
اسی دوران حضرت علی وہاں حاضر ہوئے تو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
هُوْ هٰذٰا اِمَام مُّبِيْن اَحْصٰی اللّٰهُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِيْهِ عِلْمُ کُلِّ شَیْئٍ عِلْمَ مَاکَا نَ وَ مَا يَکُوْنُ اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۔
مولا علی علیہ السلام خود فرماتے ہیں میں ہی امام مبین ہوں۔
اگرچہ مفسرین نے امام مبین سے مراد لوح محفوظ ، قرآن مجید اور قلب مبارک حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قرار دیا ہے لیکن امام مبین کو ائمہ طاہرین علیہم السلام نے متعدد مقامات پر خود ان ذوات مقدسہ کو قرار دیا ہے جیساکہ ہم نے پہلے عرض کیاہے۔
ایک دفعہ صحابی رسول حضرت عمار حضرت علی کے ساتھ کسی جنگ میں جارہے تھے راستے میں ایک مقام پر چیونٹیوںکے بل پر پہنچے۔ حضرت عمار نے عرض کیا یا علی خدا کے علاوہ کوئی ہے جو اس روئے زمین پر ان کی تعداد بتا سکتاہے؟ مولا علی مسکرا کر فرمانے لگے میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو نہ صرف ان کی تعداد بتا سکتا ہے بلکہ یہ بھی بتا سکتا ہے کہ ان میں سے کتنے نر ہیں اورکتنے مادہ،عرض کیا یا امیر المومنین علیہ السلام وہ شخص کون ہے؟فرمایا: کیا تم نے سورہ یس میں یہ آیت نہیں پڑھی ہے( وَ کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَيْنٰاهُ فِی اِمَامٍ مُّبِيْن ) عرض کیا بالکل یا ابا الحسن میںنے پڑھی ہے آپ نے فرمایا میں ہی امام مبین ہوں۔
منقول ہے کہ خوارج کے ایک گروہ نے جب حدیث انامدینة العلم کوسنا تو اپنے دل میں بہت پیچ و تاب کھائے اور ان میں سے دس آدمی جو ادعائے علم رکھتے تھے با ہم مشورہ کر کے بغرض امتحان حضرت علی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کی فضیلت میںجو حدیث پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمائی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہے تو ہم لوگ اس حدیث کی اس وقت تصدیق کریں گے کہ ہم ایک ہی سوال کو مسلسل کریں گے آپ ہر ایک سوال کا جواب الگ الگ بیان کریں بہر حال ان میں سے ایک شخص نے سوال کیاعلم بہتر ہے یا مال؟
آپ نے فرمایا: علم بہتر ہے مال سے اس لیے کہ مال فرعو ن و ہامان اور قارون کے متروکات سے ہے جبکہ علم پیغمبرں کی میراث ہے۔
دوسرے نے سوال کیا علم بہتر ہے یا مال؟
آپ نے فرمایا: علم بہتر ہے اس لیے کہ مال کے دشمن بہت ہیں اور صاحب علم کے دوست بہت ہیں۔
تیسرے نے اسی سوال کو دھرایا ۔
آپ نے فرمایا: علم بہتر ہے اس لیے مال کی تو حفاظت کرتا ہے اور علم تیری حفاظت کرتا ہے۔
چوتھے نے پوچھاآپ نے فرمایا:
مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے علم خرچ کرنے سے زیادہ ہوتا ہے، پانچویں کے جواب میں ارشاد فرمایا: مال دار کو بخیل بھی کہتے ہیں اور صاحب علم کو سخی کہتے ہیں۔
چھٹے فرد کو اس طرح جوا ب دیا:
مال کے لیے ہمیشہ چور اور ڈاکو کا خوف لگا رہتا ہے اور علم ان سب بلاؤن سے محفوظ ہے۔
ساتویںکے جواب میں ارشاد فرمایا:
مالداروں سے روز قیامت حساب لیا جائے گا اور مواخذہ کیا جائے گا اور دولت علم پر نہ حساب ہے نہ کوئی مواخذہ ۔
آٹھویں سے فرمایا: مال عرصہ تک رکھنے سے کہنہ اور خراب ہوجاتا ہے اور علم امتداد زمانہ سے تازہ اور روشن ہوتا ہے۔
نویں کے جواب میں فرمایا:
علم سے قلب میں روشنی حاصل ہوتی ہے اور مال سے دل پر سیاہی چھا جاتی ہے،دسویں کے جواب میں فرمایا: کثرت مال سے فرعون و نمرود و غیرہ نے خدائی کا دعوی کیا، صاحب علم ہمیشہ مسکین اور خاشع ہوتا ہے اور احاطہ عبودیت سے باہر نہیں ہوتا۔
اس کے بعد حضرت نے فرمایا: خداکی قسم ہے اگر تم میری زندگی تک اسی طرح سوال کرتے رہوگے تو میں ہر مرتبہ علم کی فضیلت بطرز جدید بیان کرتا جاؤںگا یہ سن کر وہ سب خوارج اور منافق توبہ کر کے مؤمن خالص ہوگئے امام مبین کی یہی شان ہوتی ہے اس لیے رسول خدا نے فرمایا۔ (یٰا اَبَا الْحُسَيْنِ اَنْتَ وَارِثُ عِلْمی )(۱) ۔ اے علی تم ہی میرے علم کے وارث ہو۔ علی اور قرآن ، قرآن اور علی ،قرآن کا ماحصل علی اور علی کا ماحصل قرآن۔ علی علیہ السلام قرآن کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
دیکھو! قرآن حکم کرنے والا بھی ہے اور روکنے والا بھی ہے ،وہ خاموش بھی ہے اور گویا بھی ،وہ مخلوقات پر اللہ کی محبت ہے جس کا لوگوں سے عہد لیا گیا ہے اور ان کے نفسوں کو اس کا پابند بنا دیا ہے۔ مالک نے اس نور کو تمام بنا یا ہے اور اس کے ذریعے دین کو کامل قرار دیا ہے۔ وہاں امیر المؤمنین فرماتے ہیں:۔ قرآن صامت ہے میں ناطق قرآن ہوں۔قرآن کے حوالے سے علی ولی امر مسلمین ہے۔ جہاں علی قرآن کو دین کا تکمیل قرار دیتا ہے وہاں قرآن روز تاج پوشی علی کے دن میدان غدیر میں آیتاَلْيَومَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضِيْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (۲) کہہ کرولایت علی کو تکمیل دین قرار دیتا ہے۔
____________________
۱: نہج الصباغہ خطبہ ۹۸ ۲:مائدہ آیت ۳
دین اور غدیر
دین متعدد معنی میں استعمال ہوا ہے بطور مثال جزائ، پاداش اور اطاعت کے معنی میںبھی آیا ہے۔ چنانچہ اسلامی تعلیمات اخلاقیات اور اعتقادات کے مجموعہ کا نام دین ہے جو پروردگار عالم کی طرف سے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ابلاغ ہوا ہے قرآن مجید میںدین درج ذیل معانی میں دین استعمال ہواہے: پاداش اور جزاء ،سورہ فاتحہ میں ارشاد ہوتا ہے:( مَالِکِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) (۱) مالک روز جزائ،
سورہ بینہ کی آیت نمبر پانچ میں ارشاد ہوتاہے:( وَ مَا اُمِرُوْ اِلَّا لِيَعْبُدُوْا للّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَه الدِّيْن ) (۲) اور انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ خدا کی عبادت کریں اوراس عبادت کو اس کیلئے خالص رکھیں۔ نماز قائم کریں زکوٰة ادا کریں اور یہی سچا اور مستحکم دین ہے'' اہل کتاب اور مشرکین دونوں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آمد کے منتظرتھے اور ان پر ایمان لانے کے لئے آمادگی کا اظہار کر رہے تھے لیکن جونہی آپ نے پیغام الہی کو پیش کیا، انہیں باطل سے اعراض کرنے اور حق
____________________
۱: فاتحة الکتاب ۳
۲:بیّنة ،۵
کی عباد ت کرنے کا حکم دیا اور ان سے یہ مطالبہ کیا کہ شرک کی روش چھوڑ کر اخلاص عبادت سے کام لیں اور اخلاص بھی فقط دل و دماغ کے اندر نہ رہ جائے بلکہ عملی طور پر بھی سامنے آئے، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں یعنی اللہ کے حق کا بھی خیال رکھیں، اور بندگان خدا کے حقوق بھی ادا کریںکیونکہ بہترین خلائق بننے کے لئے یہ دونوں لازم ہیں او رتنہا ایمان کافی نہیں ہے بلکہ عمل صالح بھی ضروری ہے۔ اسی طرح سورہ نساء آیت نمبر ۱۲۵ میں ارشاد ہوتا ہے:
( وَ مَنْ اَحْسَنُ دِيْناً مِمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَه اِلٰی اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِن ) '' اور اس سے اچھا دین دار کون ہوسکتا ہے جو اپنا رخ خدا کی طرف رکھے اور نیک کام اورنیک کردار بھی رکھتا ہو۔
اسلام دین ِایمان بھی ہے دینِ عمل بھی ۔اس نے قومیت یا جماعت کی بنیاد پر نجات کا پیغام نہیں دیا جیسا کہ اہل کتاب کا خیال تھا کہ صرف یہودی اور عیسائی ہی جنت میں جا سکتے ہیں یا پھر بعض مسلمانوں کا خیال ہے کہ مسلمان جہنم میں نہیں جا سکتے، دین اسلام کا کھلا اعلان ہے کہ برائی کروگے تو اس کی سزا بھی برداشت کرنا پڑے گی، اور نیک عمل کروگے تو اس کاانعام بھی ملے گا۔ اس طرز فکر کو بہترین دین سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی شرط لگائی ہے اور اس کے بعد اسلا م و تسلیم کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ حسن عمل و کردار کی شرط لگائی ہے جس سے اس امر کی مکمل وضاحت ہو جاتی ہے کہ، نہ ایمان عمل کے بغیر کارآمد ہو سکتا ہے او ر نہ عمل ایمان کے بغیر۔
مولائے کائنات نے اسی نکتہ کو نہایت حسین الفاظ میں واضح فرمایا ہے:بِالْاِيْمَانِ يُسْتَدَلُّ عَلَی الصّٰلِحَاتِ وَ بِالصّٰالِحَاتِ يُسْتَدَلُّ عَلٰی الْاِيْمَانِ (۱) ایمان سے نیک اعمال کی طرف رہنمائی ہوتی ہے اور نیک اعمال سے ایمان کا پتہ ملتا ہے'' بعض مفسرین نے دین سے مراد
____________________
۱: شرح ابن ابی الحدید ص۲۰۱
طاعت کو قرار دیا ہے۔ کلی طور پر اسلامی تعلیمات کے اخلاقی واعتقادی پہلو کی طرف اس آیت کریمہ نے اشارہ کیا ہے( اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الاِسْلَام ) (۱) دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔
یہ دلیل کہ اصل دین اطاعت الہی ہے اور اس کا پیغام سارے انبیأ کرام نے دیا ہے لہذا سب کا دین اسلام ہے۔( وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْناً فَلَنْ يُّقْبَلَ ) مِنْہُ(۲) اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہیں کیا جائے گا ۔
( هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَه بِالْهُدٰی وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَه عَلٰی الدِّيْنِ کُلِّه ) (۳) خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجاتا کہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے ۔سورہ کافرون میں ارشاد ہوا:( لَکُمْ دِيْنُکُمْ وَلِیَ دِيْن ) (۴) تمہارے لئے تمہارا دین ہمارے لئے ہمارا دین ،پھر سورہ شوریٰ میںا رشاد ہوا( شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰی بِه نُوْحاً وَّ الَّذِیْ اَوْحَيْنَا اِلَيْکَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِه اِبْرَاهيْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِيْسٰی اَنْ اَقِيْمُوْا الدِّيْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ) (۵)
''اس نے تمھارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جو وحی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ کی طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم و موسی و عیسی کو کی ہے کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ پیدانہ ہونے پائے۔
دین اس آخری منزل کا نام ہے جس تک ہر انسان کو پہنچنا ہے اس کے بعد اس منزل تک پہنچنے کے لئے مختلف راستے مقرر کئے گئے ہیں جنہیں شریعت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ جن کی مجموعی تعداد پانچ ہے،شریعت نوح ،شریعت ابراہیم ، شریعت موسی ،
____________________
۱:آل عمران ۱۹
۲:آل عمران ۸۵
۳:توبہ ۳۳
۴:کافرون ۶
۵:شوری ۱۳
شریعت عیسی ، شریعت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ۔ان قوانین کے باہمی اختلاف کا فلسفہ یہ ہے کہ حالات زمانہ کے تغیر اور ارتقأ کے ساتھ جزئی طور پر قوانین کی تبدیلی ناگزیرہے ورنہ قانون جامد اور بے جان ہو کر رہ جائے گا اور مختلف ادوار حیات میں کارآمد نہ رہ سکے گاجس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ شریعت ایک گھاٹ کا نام ہے جو دریا کے مدو جزر اور اتار چڑھاؤ کے ساتھ بدلتا رہتا ہے ورنہ دین کے بنیادی اصولوں میں نہ توحید میں کوئی فرق آسکتا ہے اور نہ قیامت میں ، صرف نبوت ہے جس کی تعدا دمیں حضرت آدم سے مسلسل اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے اور اسی اضافہ کی بنیاد حالات زمانہ کے تحت جزئی قوانین میں تغیر و تبدل رہا ہے۔ دور نوح کی شریعت اور تھی دور مرسل اعظمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قانون اور ہے۔ مقصد کے اعتبار سے سب متحدہیں لیکن طریقہ کار کے اعتبار سے اختلاف و تغیر ناگزیز ہے۔ اب یہ ایک مصلحت الہی ہے کہ اس نے چار شریعتوں کو وصیت و نصیحت سے تعبیر کیا ہے اور ایک کو وحی قرار دیا ہے جس سے انبیاء کے مراتب پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ قرآن مجید کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصل یہ ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خاتم المرسلین اور خاتم الانبیاء ہیں اس ضمن میں بہت سی قرآنی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ :( وَ مَا کَانَ مُحَمَّد اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْل اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ ) (۱) ،محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تم میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ یہ وہ اہم ترین آیت کریمہ ہے جو رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاتم الانبیاء ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ خاتم الانبیاء میں خاتم کو فتحہ کے ساتھ بھی پڑھاجاتا ہے اور کسرہ کے ساتھ بھی،اور یہ قرائت کا سلسلہ عاصم کوفی سے حضرت علی تک جا پہنچتا ہے، جو ''ت'' کو کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اس کے معنی خاتمہ دینے والے کے ہیں آخر تک پہنچانے
____________________
۱: سورہ احزاب آیہ ۰ ۴
والے، گویا انبیاء کی ایک صف ہے اور اسی صف کے آخر میں حضرت محمد ختمی المرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اس معنی کے حوالے سے دیکھا جائے تو شرافت و عظمت و ہدایت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ تنہا صرف اس معنی کو پہنچاتا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوگا ۔
دوسری طرف سے خاتم فتحہ تاء کے ساتھ دوسرے معنی میں آیا ہے یعنی موضوع رسالت اور نبوت کو ایک خط سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ خط کے آخر میں مہر اور لکھنے والے کادستخط ہوتا ہے اور یہ مہر اور دستخط، شخص کو معین کرتاہے کہ لکھنے والا کون ہے اور یہ خط تمام ہونے کی علامت بھی ہے یعنی لکھنے والا جو کچھ لکھنا چاہتا تھا لکھ چکاہے، باقی اس کے بعد کچھ لکھنا نہیں چاہتا ہے، پس پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اگر خاتم الانبیاء ہیں تو ان کا دین بھی کامل و اکمل ہونا چاہئے لیکن اکمال دین کس چیز میں ہے؟ با الفاظ دیگر دین کا کامل ہونا، کیونکہ یہ دین حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ کامل ہوا ہے۔ پس دین کے کامل ہونے کے حوالے سے ضروری ہے اس کے بنیادی اصولوں پر بحث و تحقیق ہونی چاہئے ۔پس دین کے تین بنیادی محور ہوتے ہیں۔
۱)خداوند عالم کی طرف سے وحی نازل ہونا اور اس دین کے قانون اور دستور العمل کا بیان ہونا۔
۲)اس دین کے قانون کی تفسیر وتبین ہونا اور اس کی حفاظت کا انتظام ہونا۔
(۳) اس دین کے قانون کو معاشرہ میں نافذ کرنا اور اجرا کرنا۔
پہلے مرحلے میں دین مبین اسلام مکمل طور پر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی میںانجام پذیر ہوا اور اس کے قانون پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ۲۳ سالہ زندگی میں اجرأ کے دور سے گزارا، اور اسلامی معاشر ہ میں نافذ ہوا ۔ خداوند عالم نے اپنے پیارے نبی سے فرمایا:( وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی ) (۱) کہ وحی کے بغیر لوگو ںکو کچھ بھی نہیں بتاتا، لہذا پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس پر عمل کیا اور آپ نے وحی کے بغیر کوئی بات نہیں کی۔
____________________
۱:سورہ نجم آیہ ۳
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وحی کولوگوں تک پہنچایا (ہمارے رسول وحی اورعلم الغیب کے حوالے سے کام نہیں لیتے ہیں) لہذا وہ چیز جو قیامت تک ضروری اور لازم تھی، وحی کی صورت میں بیان اور نازل ہوئی ہے ہم نے اس میں کوئی چیز باقی نہیں رکھی ہے۔
( وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا يٰابِسٍ اِلَّا فی کِتَابٍ مُّبِيْنٍ ) (۱) لیکن وہ دین جو خدا کی طرف سے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ نازل ہوا ہے اس کی ہر زمانہ میں تفسیر و تبیین اور اس کے اجراء و نفاذ اور حفاظت کی ضرورت ہے تا کہ دشمنوں اور منافقوں کے شر سے محفوظ رہے۔ لہذا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ میں خود رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم حافظ دین ہیں اگر دین کی حفاظت نہ ہو تو دین محفوظ نہیں رہے گا۔ اور دین خدا کو دشمنان اسلام اپنی خواہشات کے مطابق بیان اور استعمال کریں گے اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ اور مٹا دیں گے جوحشر دین موسٰی اور دین مسیح کا ہوا وہی حشر اسلام کا ہوگا۔اس صورت میں دین دین کامل نہیں رہے گا۔
ہر قانون کی اہمیت اس کے اجراء اور نفاذ میں مضمر ہے۔ اگر کسی قانون اور دستور پر عمل نہ ہوا تو اس کی کوئی قدر وقیمت اور اہمیت نہیں رہتی۔ وحی الٰہی جو قانون کی شکل میں نازل ہوئی ہے اس کی اہمیت اس وقت واضح ہوگی جب وہ اجراء اور نفاذ کے مرحلے سے گزرے ۔
قرآن مجید وہ دستور العمل ہے جو انسانی فطرت سے ہم آھنگ ہے اور یہ دستور العمل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے ہم تک پہنچا ہے تاکہ اس کا اجراء اور نفاذ ہوجائے لہٰذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۲۳ سالہ مدت میں اس کو اجراء اور نفاذ کرکے دکھایا پس پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس دین کے مجری اور لوگوں کے ولی ہیں ۔ان تمام مطالب میں غوروفکر کرنے کے بعد ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ دین کا کمال ان تینوں محور پر عمل اور اس کی تکمیل پر منحصر ہے اور ان میں سے کسی ایک
____________________
۱: سورہ انعام آیة ۵۹
کی کمی وزیادتی دین کے ناقص ہونے کی علامت سمجھی جائے گی زمان پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم میں خود ذات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عہدہ کو بڑے اچھے طریقے سے انجام دیا اور دین کی ذمہ داری خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکمل طور پر تمام معنیٰ میں دین کو پہنچایا اوراجراء اور نفاذ کے مرحلے سے گزارا نیز دین کی حفاظت کا مکمل انتظام بھی کیا ۔
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مقام تزولی قرآن ، مقام تفسیر وتبیین اور اجراء ونفاذ کے حوالے سے محافظ دین ہیں۔لیکن یہ دین کیا صرف حیات پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی تک محدود ہے یا پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعدبھی جاری وساری رہناہے؟ اگر دین کا کامل وکمال صرف زمان پیغمبر ہی تک محدود ہے تو پھر اسلام کا یہ دعویٰ کہ وہ عالمگیر مذھب اور دین ہے اسکے کیا معنی ٰہیں ؟ خود قرآن کہتا ہے کہ لِیُظْہِرَہ عِلٰی الدِّیْنِ کُلِّہ ، پس جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خاتم الانبیاء ہونا ثابت ہے تو پھر دین اسلام کا بھی عالمی دین ہونا صحیح ہے اس صورت میں دین اور آئین اسلام مذکورہ تینوں محور زمان پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت سے لیکر روز قیامت تک دونوں محور یعنی تفسیر وتبیین قرآن اور اس کی حفاظت ایک طرف قانون اسلام وشریعت کا اجراء تودوسری طرف اگرا ن میں سے کسی ایک میں بھی کوئی خلل ونقص پیدا ہوجائے تو دین کے مکمل ہونے پر اعتراض وارد ہوتا ہے۔ اس صورت میں دین کامل نہیں رہے گا اسی لئے قرآن مجید میں مسئلہ امامت وولایت کو پیش کیا ہے۔
( اَلْیَوْم اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ) (۱)
پس مسئلہ جانشینی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک مکمل سلسلہ کا نام ہے نہ کہ کوئی شخصی مسئلہ بناء بر این مسئلہ یہ نہیں
____________________
(۱) مائدہ ۳
ہے کہ فقط ذات امیر المؤمنین مطرح ہو اوران کا تعارف ہوجائے ۔ اگر ایسا ہو تو پھر وہی اشکال اور اعتراض وارد ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وارد کرتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ غدیرخم ایک ایسے تسلسل کا نام ہے جو آدم سے ہوتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر امیرا لمؤمنین علی علیہ السلام سے لیکر امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف پر جاکر اختتام پذیر ہوتا ہے لہٰذا جھگڑا امام پر نہیں بلکہ امامت پر ہے جس کے ذریعے دین کامل ہوتاہے۔ اگر دین اسلام ابدی دین ہے تو یہ ایک ایسے تسلسل کا نام ہے جس میںنبوت کے ساتھ ساتھ امامت بھی شامل ہے جو دین کے مکمل ہونے کی ضمانت ہے ۔
شیعوں کے اہم اعتقادات میں سے ایک ذات مبارک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں جو کائنات کے افضل واکرم انسان ہیں۔ جن میں سے ایک کو خداوند عالم نے مصطفی اور دوسرے کو مرتضیٰ بنایا ہے۔
یہ دونوں ہستیاں مرور زمان کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں اور حملوں کا نشانہ بنتے رہے۔ ان دشمنان خداودین کی پوری کوشش یہ رہی کہ اسلام کے مقدس نظام کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے خدشہ دار کریں اور اس طرح دین کے جڑوں کو نابود کردیں۔
ان باطل طاقتوں کے دسیسہ کاریوں اور حملوں سے دین کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایسا سسٹم اور نظام خداوند عالم نے بنایا ہے جسے امامت وولایت کہاجاتا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس دن رسالت کا اعلان کیا اسی دن امامت وولایت کا اعلان بھی کردیاتھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تئیس (۲۳)سالہ دور رسالت میں ہر حساس موقع پر امامت کا تعارف کرایا۔ ان میں سے ایک دعوت ذوالعشیرة ہے جسمیں اعلان رسالت کے ساتھ ساتھ اعلان وصایت وامامت بھی فرمایا: اِنَّ ھٰذٰا اَخِیْ وَوَصِیّی وَخَلِیْفَتی یہ اعلان حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ بلافصل ہونے کی بیّن دلیل ہے ۔ دین کی حاکمیت اور حکومت کے لئے ولایت وامامت ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہیں جو تمام زمانوں سے مربوط ہیں۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلّٰی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم: یَوْمُ غَدِیْر خُمْ اَفْضَلُ اَعْیٰادِ اُمَّتی ..........، غدیر کا دن میری امت کے لئے ایک عظیم عید ہے(۱) ۔ اسی دن خداوند عالم نے مجھے حکم دیا کہ بھائی علی کو امت کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے منصوب کریں تاکہ میرے بعد ہدایت کاتسلسل علی کے ذریعہ جاری وساری رہے یہ وہ دن ہے جسمیں خداوند رب ّ العزّت نے دین کو کامل کیا اور نعمت کو میری امت پر تما م کردیا اور دین اسلام کوا ن کے لئے بہترین دین قرار دے دیا۔
اَلْیَوْم اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً
ترجمہ:آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ قراردیاہے۔(۲)
مسلمانوں کے درمیان ایک حساس ترین اور اہم ترین مسئلہ اتحاد اسلامی کا مسئلہ ہے ۔ دوسری طرف پوری تاریخ اسلام مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں بٹنے اور مختلف نظریات کے حامل ہونے کی اصل یہی مسئلہ امامت وخلافت رہی ہے یہی مسئلہ ہے جس کے لئے ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی گئیں اور لاکھوں انسانوں کا خون بہایا گیا ۔ بقول محمد بن عبدالکریم شہرستانی جو علم الکلام اور
____________________
۱۔ الغدیر جلد ۱ صفحہ ۲۸۳
۲۔سورہ مائدہ آیة ۳
تاریخ اسلام کے بڑے ماہر ہیں '' مسلمانوں کے درمیان اختلافات کی اصل وجہ مسئلہ امامت ہے''۔
امامت وخلافت کے معنیٰ یہ ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت میں دین ودنیا کے امور کو امت اسلامی کے درمیان بیان کریں اور نافذ کریں یہ وہ تعریف ہے جو تمام فرق اسلامی کے نزدیک قابل قبول ہے لیکن بعض فِرَق اسلامی کے نزدیک امامت وخلافت سے مراد یہ ہے کہ: اسلامی حکومت کونافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ظاہری عدالت کی بھی رعایت کریں اور امت کو خارجی اور داخلی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھیں ، جبکہ واقع ایسا نہیں ہے بلکہ امامت وخلافت ایک ایسا رکن اصلی ہے جس پر باقی تمام فروعات مبتنی ہیں۔ اسلام میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جتنا مقام حاصل ہے اتنا ہی امام وخلیفہ کو بھی حاصل ہے۔جسکا تذکرہ ہم پہلے کرچکے ہیں۔یعنی دینی امور کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تفسیر واحکام کو بھی پہنچاننانیز انسانیت اور امت محمدی کی ہدایت معنوی کو ادامہ دینا۔ پس جو طریقہ کار پیغمبر کا ہوتاہے وہی امامت کا بھی ہے۔ لہٰذا جو عصمت وطہارت اور افضلیت واعلمیت کاتصور پیغمبر کے لئے ہے وہی امامت کے لئے بھی ہے۔ ایسے میں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صرف حکومت وسیاست تک امامت کو محدود کیا جائے پس یہ نظریہ باطل اور ہیچ ہے۔
امام کی معرفت کا طریقۂ کار:
فرق اسلامی کے ہاں امامت وخلافت کی اہمیت اور ضرورت کے حوالہ سے مختلف عقلی ونقلی دلائل بیان کئے گئے ہیں اس حوالہ سے مختلف نظریات ثبت وضبط ہوئے ہیں۔ امام کے وجود اور خلیفہ رسول ہونے کی جوشرائط ، صفات ، خصوصیات اور کیفیات بیان ہوئی ہیں ان سب کو یہاں تفصیل سے بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔ البتہ ہم ایک مسلمان ہونے کے اعتبار سے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہونے کے ناطے خود پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت طیبہ میں دیکھتے ہیں کہ آپ نے خلافت وامامت کے حوالہ سے کیا پیغام دیا ہے؟
ہم اسے یہاںچند نظریات کی صورت میں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ انشاء اللہ جس سے صاحبان عقل وفہم کے ہاں اسکی حقیقت وواقعیت واضح ہوجائیں گے۔
پہلا احتمال:
ایک احتمال یہ ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امامت وخلافت کے بارے میں نہ کچھ فرمایا اور نہ ہی کسی قسم کا اظہار کیا ہے بلکہ اس حوالہ سے کسی قسم کی راہ وروش اور اثر نہیں چھوڑا ہے۔اس معاملہ کو مکمل طور پر تقدیر کے سپرد کردیا ہے ۔
یہ احتمال اور نظریہ کئی جہات سے باطل ہے ۔ کیونکہ یہ عقل ودرایت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بالکل ساز گار نہیں اور نہ ہی آپ کے لطف وکرم سے میل کھاتا ہے۔آپ اپنی امت کو اپنے بعد کسی سرپرست اور ولی کے بغیر چھوڑجائیں اور ان کو تقدیر وسرنوشت کے حوالہ کردیں درحالیکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس حقیقت سے مکمل آگاہ تھے۔ کہ دوستوں کے درمیان بہت سارے منافقین موجود ہیں جو اسلام کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ۔ یہ لوگ آپ کی رحلت کے انتظار میں تھے تاکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد اسلام کو ختم کرکے یا اسلام کے اندر تحریفات پیدا کرکے اسے کمزور بناکر اپنی عظمت رفتہ کو دوبارہ بازیاب کرسکیں۔
دوسری طرف اسلام کے خارجی دشمن اس تاک میں تھے کہ مہلت ملنے پر اسلام پر حملہ آور ہوکر اسے نابود کیا جائے۔ آپ اس بات کو بھی جانتے تھے کہ کوئی بھی قوم ومعاشرہ رہبر ورہنما کے بغیر اپنے اجتماعی زندگی کو جاری و ساری نہیں رکھ سکتے ۔
یہ وہ قطعی شواہد ہیں جن کا انکار کرنا ناممکن امر ہے۔ اس حوالہ سے آپ جانشینی کے مسئلہ کوبے حد اہمیت دیتے تھے یہی وجہ ہے کہ خلفاء کے دور میں بھی شدت کے ساتھ اس مسئلہ کی طرف ان کی توجہ مبذول رہی۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن عمرو حضرت عائشہ اور حضرت عمر نے یہ تاکید کی کہ وہ امت کو بغیر چرواہے کے نہ چھوڑے جائیں(۱) ۔ مسئلہ جانشینی کس قدر اہمیت کی حامل ہے اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتاہے کہ معاویہ بن ابی سفیان اپنے بعد یزید پلید کو جانشین بنا کر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ امت محمدی بغیر چرواہے کے چھوڑ جاؤں(۲) ۔
کیا اس مسئلہ کو جاننے کے لئے یہی کافی نہیں ہے ؟ کہ خلفاء اور ان کے احباب اس مسئلہ پر بہت نگران اور پریشان تھے۔ لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقل کل ہوتے ہوئے امت کو بغیر جانشین کے چھوڑ جائیں؟!!حاشا وکلّا یہ ہر گز ممکن نہیں ۔
ہم سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند روز کے لئے مدینہ سے باہر جاتے تو اپنا جانشین اور نمائندہ بناکر جاتے ۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دنیا سے مکمل چلے جائیں اور جانشین تعین کئے بغیر امت کو ایسے ہی چھوڑ جائیں۔!!
دوسرا احتمال:
دوسرا احتمال یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلافت وامامت کو مورثی جانتے تھے اس لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان اس کو ارث کے طور پر لے جاتے!
یہ نظریہ بھی قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یہ مقام ومنصب اتنی عظمت کے حامل ہیں کہ اگر ورثاء اس قابل نہ ہوں یا وہ اس مقام ومنصب کی صلاحیت ولیاقت نہ رکھتے ہوں تو قرآن مجید بھی اس نظریہ کو مردود شمار کرتا ہے ۔ جیساکہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند عالم سے التماس کی اور
____________________
(!) طبقات ابن سعد ج۱، الامامة والسیاسة ج۱ ص ۱۵۱
(۲) الامامة والسیاسة ج۱ ص ۲۲
تقاضا کیا کہ میرے بیٹے بھی اس امامت کے منصب تک پہنچ جائیں! تو خداوند عالم نے فرمایا ''یہ عہدہ ظالمین اور ستمکاروں تک نہیں پہنچ سکتا۔
پھربھی اگربالفرض مورثی ہوتا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب اور بھی افراد موجود تھے جن کے مقابلے میں خلفاء کی نوبت پھر بھی بعد میں آتی۔
تیسرا احتمال:
تیسرا نظریہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوچ یہ تھی کہ خلافت و امامت کو شوریٰ حل وعقد کے سپرد کیا جائے۔ شوریٰ حل وعقد سے مراد یہ ہیں کہ امت کے چند چیدہ چیدہ اور منتخب افراد۔
یہ نظریہ بھی باطل ہے کیونکہ اس حوالہ سے شیعہ یا سنی میں سے کسی ایک طریق سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی فرمان یہاں تک کہ کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا ۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکرو عمرکو اپنی عمر کے آخری حصے میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کاش! خلافت کے بارے میں پیغمبر سے پوچھ لیا ہوتا!
اس سلسلہ میں کئی عجیب وغریب قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں جن کو یہاں ذکر کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا صاحبان عقل کے لئے اتنا ہی اشارہ کافی ہے۔
چوتھا احتمال:
آخری نظریہ یہ ہے کہ خلیفہ وامام کو خدا کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معین اور منتخب فرمایا ہے اور اس سلسلہ میں نص صریح اور عقلی دلائل موجود ہیں ۔ اس نظریہ کو ''نص'' ونصب، ووصیت ، کہا جاتا ہے۔
یہ وہ نظریہ ہے جس کے شیعہ قائل ہیں اور اس نظریہ کی تاکید کے لئے بہت سی عقلی ونقلی دلیلیں موجود ہیں۔
اس واقعہ کی حقیقت کے بارے میں بہت سے تاریخی اسناد موجود ہیں ۔ مسلمانوں کے عظیم اور مایہ ناز فلسفی وسائنسدان ابوعلی سینا اس بارے میں کہتے ہیں کہ: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر واجب ہے کہ وہ اپنے بعد کے خلیفہ اور جانشین کو خود معین کریں اور ملت پر واجب ہے کہ اس کے حکم پر عمل کریں ورنہ امت کے درمیان تفرقہ واختلاف وجود میں آئیں گے۔
خواجہ نصیر الدین طوسی:
خواجہ نصیر الدین طوسی نے ضرورت اور وجوب امام کے بارے میں بیان کرنے کے بعد شرائط امام مثلاً عصمت وافضلیت امام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :وَالْعِصْمَةُ تَقْتَضی النَّصّ وَسِیْرَتُه ۔
علامہ حلی فرماتے ہیں:
امام میں شرط عصمت تقاضا کرتی ہے کہ خلافت وامامت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہو۔ کیونکہ عصمت ایک ایسا امر باطنی ہے جسے خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہی ذات پروردگار حق وحقیقت ہے جوا پنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام کے بارے میں آگاہ کرتا ہے اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی لوگوں کو امام کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں اسی طرح سیرت عملی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ آسان سے آسان تر احکام مثلاً صحت وصفائی ، کھانے پینے کے طریقے، سونے جاگنے کے طریقے اور قضائے حاجت وغیرہ کے بارے میں لوگوں کو بیان فرماتے رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کے ایک اہم ترین رکن اور مسلمانوں کی آئندہ کی زندگی کے بارے میں یعنی اپنے جانشین کے بارے غفلت برتیں اور اس اہم مسئلہ سے چشم پوشی کرئے؟!!
پس ناگزیر ہے کہ اس بات کو قبول کرلیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وظیفہ شرعیہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی سیرت طیبہ کے ذریعے اپنے جانشین وخلیفہ کو خود معین فرماگئے ہیں۔
روایات میں بھی امام کی شناخت اور معرفت کی ضرورت پر کافی زور دیا ہے جیساکہ شیعہ وسنی دونوں طریقوں سے درج ذیل احادیث نقل ہوئی ہیں جو امام وخلیفہ کی معرفت کو ہرزمانے کی نسبت واجب قرار دیتی ہیں چنانچہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
مَنْ مٰاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمٰانِه مٰاتَ مَیْتَةَ الْجٰاهِلِیَّةِ
جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔
ہم یہاں ایک نظر دین مبین اسلام پر کرتے ہیں ۔ اسلام کا سیاسی و اجتماعی نظام اگر اس کے فردی و عبادی نظام سے زیادہ نہیں ہے تو کمتر بھی نہیں ہیں ۔
ہم اگر تھوڑی سی توجہ اس نکتہ کی طرف مبذول کریں کہ اسلام کے احکام اور شریعت الٰہی کو ایک ایسے محافظ کی ضرورت ہے جو اسے تحریف ہونے سے بچائیں تو دوسری طرف ایک مفسر اور مبین کی بھی ضرورت ہے جوآنے والی نسلوں کے لئے اس کی حقیقت کو واضح اور روشن کرسکے ۔ جیسا کہ خود پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں بھی قانون اسلام کو بیان کرنے کے لئے ایک مفسر اور قانون دان کی ضرورت تھی اور وہ خود ذات گرامی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم تھے ۔ اسی طرح ہر زمانے میں ان قوانین اسلام کو بیان کرنے والا قانون دان اور مفسّر ومبیّن ہونا چاہئے جو معصوم عن الخطاء ہو۔نیز فردی و اجتماعی اختلافات کو دور کرنے کے لئے ایک مرکز ومحور کی ضرورت ہے اس طرح اسلامی معاشرہ ہمیشہ کے لئے اپنی سیاسی واجتماعی مشکلات کو دور کرنے کیلئے ایک مشکل کشا کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں جس کے لئے ایک عظیم رہبر و رہنما کی ضرورت ہے جو عالم ہو ، عادل ہو، حق پرست ہو، حق گوہواور دلسوز و مہربان ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے طمع ولالچ سے مبرا ہو اور خواہشات نفسانی کی پیروی کرنے والا نہ ہو۔ ایسے ہی رہبر ورہنما کشتی کو کنارے تک پہنچا سکتے ہیں۔اورامت کو نجات دلاسکتے ہیں ۔
لہٰذا ہر عاقل و مدیر ومدبّر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد جانشین کا تعین حتماً کرکے گئے ہیں ۔ چنانچہ گذشتہ انبیاء کی راہ وروش بھی یہی رہی ہے۔
ابھی تک جتنے فوائد بیان کئے گئے وہ ظاہری تھے لیکن اس کے باطنی ومعنوی فوائد کا اندازہ صاحبان بصیرت ہی کرسکتے ہیں۔
امام پیغمبر کی طرح حجّت خدا ہوتے ہیں اور حجت خدا ہی زمین وآسمان کے امن وسلامتی کا ضامن ہوتے ہیں ۔ انہیں کے توسط سے ہی ہم تک رزق وروزی پہنچ جاتے ہیں ۔ البتہ یہ اور بات ہے کہ جسے ہم جانتے نہیں۔ انہیں حجت خدا کے ذریعہ انسان کامل ہوسکتے ہیں ، عروج حاصل کرسکتے ہیں ، یہی راز خلقت بشریت ہے ، یہی مقصد خلقت انسان ہے اور یہی اشرف مخلوقات کاضامن ہے ۔
آج کے دور میں بعض چھوٹے بڑے پیرومرشد کے ذریعہ ، بعض چھوٹے موٹے عارف وحکیم کے ذریعہ اور بعض فقط خدائی نعرے لگا کر گمراہ اور ضلالت کے گہرے سمندر میں غرق ہورہے ہیں اس لئے انسان کو چاہئے کہ حجت خدا ، حقیقی جانشین پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام کی معرفت اور شناخت حاصل کریں۔
نص ونصب:
لغت میں نص سے مراد واضح اور روشن ہونا ہے۔ نص ونصب علم کلام اور علم اصول کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ: ہر سخن صریح وروشن جو کسی اور معنیٰ میں قابل تاویل وتعبیر نہ ہو۔ نصب بھی کسی چیز کو اٹھا نا اور کسی جگہ کی علامت گزاری کرنا ہے بہ الفاظ دیگر نص سے مراد کھلے الفاظ میں کسی کا تعارف کرانا ہے اور نصب سے مراد کسی کا عملی وفعلی اور پریکٹیکل طریقے سے تعارف کراناہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ پر شیعہ وسنی مصادر میں جتنی بھی کتابیں ہیں ان تمام کتابوں میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے جانشین معین کرکے جانے پر نصوص پائے جاتے ہیں ۔ ہم یہاں چند نصوص کا ذکر کرتے ہیں:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس دن دعوت اسلام کو واضح وآشکار فرمایا تو آپ نے اپنے خاندان اور رشتہ داروں کو گھر پر دعوت دی ۔ اسلام کے آئین کو ان کے سامنے بیان فرمایا ۔ وہیں پر حضرت علی علیہ السلام کی وفاداری اور ایثار کو دیکھتے ہوئے سب کے سامنے اعلان کیا کہ میرے بھائی علی آج کے بعد میرا وصی اور جانشین ہیں۔
اسی طرح جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم آخری حج کے لئے تشریف لے گئے تو حج سے واپسی پر غدیر خم کے میدان میں حضرت علی کی خلافت وامامت کا اعلان فرمایا۔ اس سے بھی آگے بڑھکر جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی عمر کے آخرین لمحات گزاررہے تھے توشدت علالت ، کمزوری، اور تب میں مبتلا ہونے کے باوجود علی کی خلافت وامامت کے بارے میںتاکید فرمائی۔ آپ نے قلم دوات منگوایا تاکہ تحریری صورت میں باقی رہ سکیں ۔ مگر ایک گروہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے ضبط تحریر میں نہ لاسکے ۔
حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد ہر مہم موقع پر حضرت علی علیہ السلام کی خلافت وامامت کا ذکر فرمایا۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے وہ نصوص جو حضرت علی علیہ السلام کی خلیفہ بلافصل ہونے اور آپ کے اولاد معصومین علیہم السلام کے بارے میں وارد ہوئے ہیں ان میں سے چند نصوص کا یہاں ذکر کرتے ہیں۔
حدیث عصمت وطہارت ، حدیث اخوت وبرادری، حدیث محبت ، حدیث منزلت، حدیث ثقلین ، حدیث مع الحق، حدیث سفینہ ، حدیث امان ، آخر میں حدیث ولایت (حدیث غدیر)۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کے جتنے فضائل بیان کئے ہیںان احادیث کی تعداد بے شمار ہے۔ ابن شہر آشوب مازندرانی اپنی کتاب'' مناقب ''لکھ رہے تھے تواسوقت ان کے سامنے فضائل حضرت علی کے بارے میں ایک ہزار کتابیں موجود تھیں ۔ ان میں نہ صرف شیعوں کی کتابیں ہیں بلکہ اہل سنت کی بھی کتابیں ہیں۔ ہم یہاں پر نمونے کے طور پر چند مہم ، موثق اور ثقہ احادیث کا ذکر کریں گے جو حضرت علی کی عظمت اور ان کی امامت وخلافت بلافصل پر بیّن دلیل ہیں۔
۱۔ حدیث منزلت :
اِرْجِعْ یٰا اَخی بِاَنَّ الْمَدِیْنَةَ لاٰتَصْلَحُ اِلَّا بی وَبِکَ فَاَنْتَ خَلِیْفَتیْ فی اَهْلِ بَیْتی وَدَار هِجْرَتی وَقَوْمی اَمٰا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هٰارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّه لَا نَبِیَّ بَعْدی (۱) ۔
یٰا عَلی اِنَّمٰا اَنْتَ مِنّی بِمَنْزِلَةِ هٰارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ اِلَّا اَنَّه لَانَبِیَّ بَعْدی (۲)
یعنی اے علی تیری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے ہے(کہ جانشین وبرادر موسیٰ تھے) البتہ فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
____________________
(۱) اعلام الوریٰ ص۱۲۳ ، ارشاد شیخ مفید ص ۷۹،۸۱
(۲) امالی شیخ صدوق ص ۱۰۴، ۱۰۵
۲۔ حدیث ثقلین:
اِنِّیْ تٰارِک فیِْکُمُ الثِّقْلَیْنِ کِتٰابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتی اَهْلُ بَیْتی اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمٰا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدی اَبَداً وَاَنَّهُمٰا لَنْ یَّفْتَرِقٰا حَتّٰی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْض بتَعْلَمُوْا مِنْهُمْ وَلَا تَعْلَمُوْهُمْ فَاِنَّهُمْ اَعْلَمُ مِنْکُمْ (۱) ۔
میں تمہارے درمیان دوگرانبہاچیزیںچھوڑے جارہاہوں اگران سے متمسک اورمرتبط رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوجاؤگے ، ایک اللہ کی کتاب (قرآن مجید) دوسری میری عترت و اہلبیت ۔
۳۔ حدیث مع الحق:
عَلِیّ مَعَ الْحَقِّ فَمَنْ تَبِعَه فَهُوَ عَلٰی الْحَقِّ وَمَنْ تَرَکَه تَرَکَ الْحَقِّ عَهْدًا مَعْهُوْرًا (۲)
حدیث دوم :
عَلِیّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِیٍّ وَلَنْ یَّفْتَرِقٰا حَتّٰی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ یَوْمَ الْقِیَامَة (۳)
یعنی علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے یہ دونوں کبھی الگ نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ روز قیامت میرے پاس پہنچ جائیں ۔
۴: حدیث عصمت وطہارت:
اَللّٰهُمَّ هٰؤُلاٰئِ اَهْلُ بَیْتی وَخَاصَّتی فَاذْهَبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِیْراً (۴)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ، حضرت حسن و حضرت امام حسین علیہم السلام کو چادر میں جمع کیا اور فرمایا: خداوندا! یہی میرے اہل بیت ہیں پس ان سے ہر قسم کی پلیدی اور رجس کو دور فرما اور ان کو پاک وطاہر بنادے۔
____________________
(۱) احقاق الحق ج ۹ ص ۳۴۲
(۲) مجمع الزوائد ج۹ص۱۳۴،صواعق محرقہ ص ۱۲۲
(۳) تاریخ بغداد ج۱۲ ص ۳۲۱، غایة المرام ص ۵۳۹
(۴) سبیل الھدی والرشاد ص ۱۲
۵: حدیث سفینہ:
مَثَلُ اَهْلِ بَیْتی کَمَثَلِ سَفِیْنَةِ نُوْحٍ مَنْ رَکِبَهٰا نَجٰی وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهٰا غَرِقَ وَهَوٰی (۱)
٭اَلَا اِنَّ مَثَلُهُمْ فِیْکُمْ کَمَثَلِ سَفِیْنَةِ نُوْحٍ مَنْ رَکِبَهٰا نَجیٰ وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهٰا غَرِقَ وَمِثْلُ بٰابِ حِطَّةٍ فی بَنی اِسْرَائِیْل
٭فَمَنْ رَکِبَ هٰذِه السَّفینَةِ نَجیٰ وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهٰا فَغَرِقَ (۲)
میرے خاندان کی داستان ، داستان کشتی نوح علیہ السلام کی طرح ہے جو بھی سوار ہوگا نجات ملے گی اور جو سوار ہونے سے کترئے گا ڈوب جائے گا اور غرق ہوجائے گا۔
۶: حدیث ولایت:
اِنَّ هٰذا اَخی وَوَصِیّی وَخَلِیْفَتی فِیْکُمْ فَاسْمَعُوْ لَه وَاَطِیْعُوْا (۳)
٭مَنْ کُنْتُ مَوْلٰاهُ فَعَلِیّ مَوْلاٰهُ اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ (۴)
اے علی میرے بعد آپ تمام مؤمنوں کا ولی اور سرپرست ہیں جس کا میں مولا ہوں اسکے آپ بھی مولا ہیں
۷: حدیث امان:
اَلنُّجُوْمُ اَمَان لِاَهْلِ الْاَرْضِ مِنَ الْغَرْقِ وَاَهْلُ بَیْتی اَمَان لِاُمَّتی مِنَ الْاِخْتِلَافِ فَاِذَا خَالَفَتْهٰا قَبِیْلَة مِّنَ الْعَرَبِ ، اِخْتَلَفُوْا ....(۵)
میرا خاندان زمین والوں کا مامن ہے جیسا کہ ستارے اہل آسمان کا ماّمن ہیں۔
____________________
(۱) عیون اخبار الرضا ج۱ ص ۲۱۱
(۲) بحار الانوار ج ۱۵
(۳) تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۲،۶۳
(۴) امالی شیخ صدوق ج ۱ ص ۲۶۰
(۵) صواعق محرقہ ص۹۱ ، مسند احمد ج ۵ ص ۹۳ ، ینابیع المودة ص ۲۹۸
اس طرح کی بہت ساری احادیث بطور نص موجود ہیں جو حضرت علی کی فضائل بیان ہیں۔
مذید معلومات Information کے لئے درج ذیل کتابیں موجود ہیں مراجعہ فرمائیں
المراجعات علامہ سید شریف الدین حق الیقینعلامہ مجلسی
الغدیر علامہ امینی معالم المدرستینعلامہ عسکری تلخیص الشافی سید مرتضیٰ
الامامة من الضلال والاختلافآیة ..صافی گلپائیگانی
داستان غدیر:
غدیر کے حوالہ سے بھی حضرت علی علیہ السلام کی ولایت وخلافت کے بارے میں نص صریح وبیانات لفظی موجود ہیں جب ایک لاکھ سے زائد حاجیوں نے علی علیہ السلام کے ہاتھوں میں بیعت کی۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام عید غدیر کے حوالہ سے فرماتے ہیں : عید غدیر ، عید قربان اور عید فطر سے زیادہ محترم اور اہمیت کی حامل ہے جس دن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو رہبری اور رہنمائی کے لئے منصوب فرمایا۔
حضرت علی علیہ السلام کوامامت کے لئے منصوب کرنا اورلوگوں کا ان کے دست مبارک پر بیعت کرناایک ایسی روشن دلیل ہے جس کی وجہ سے حدیث غدیر اور داستان غدیر وواقعہ ٔ غدیر کے حوالہ سے تاویل وتوجیہہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور یہ ایک ایسا عمل ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انجام دیا ۔ یہی وجہ ہے آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی یہ واقعہ آسمان حق وحقیقت پر سایہ فگن ہے جس کے نور سے ہزاروں تشنہ گان ہدایت صراط مستقیم پر گامزن ہورہے ہیں۔ اگر منحرفین ومعاندین معنی ٰ ولایت کو سرپرستی اور زمامداری کے بجائے معنای دوستی مراد لیں تو پھر بھی خطبۂ غدیر اور حجت الوداع میں لفظ ولایت سے پہلے اور لفظ ولایت کے بعد کے جملوں پر توجہ دیتے تو خطبہ کے قرائن حالیہ و مقالیہ ، سیاق وسباق اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قولی اور عملی کرداراور پھر لوگوں کی بیعت کو دیکھا جائے تو مسئلہ واضح اور روشن ہوجائے ۔ اس سلسلے میں مخالفین کو مخالفت کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے ۔ ابن عباس کے مطابق علی کی ولایت وامامت مسلمانوں کی گردن پہ ہمیشہ واجب ہے۔
معنای بیعت:
ابھی معنیٰ بیعت اور اجتماعی کردار پر بحث کی ضرورت ہے ۔
عربوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جب کوئی خرید وفروخت ہوتی یا معاملہ کیا جاتا تو صیغہ معاملہ پڑھا کرتے تھے اور بعد میں ایک دوسرے کو ہاتھ ملا تے تھے اور یہی تکمیل معاملہ کی علامت سمجھی جاتی تھی اور بعد میں یہ معنیٰ عام ہوا کہ جب بھی طرفین میں قرار دار ہوتی ہاتھ ملاتے تھے تاکہ معلوم ہوجائے ۔ لہٰذا جو بھی عہدوپیمان طرفین میں ہوجاتا تھا بیعت کے لئے ہاتھ ملاتے تھے اسی وسیلہ سے ہرا یک بیعت کرنے والا خود کو دوسرے کے مقابل میں ذمہ دار اور مسئول سمجھتا تھا اس حوالہ سے قرار داد یا عہد وپیمان کو توڑنے کا حق نہیں رکھتے تھے اگر کسی دلیل کے بغیر بیعت کو توڑ دیں تو اس کو ایک قسم کی سنگین خیانت تصور کرتے تھے ۔یہ بیعت کبھی کسی اعلیٰ اہداف کے لئے مثلاً اطاعت وپیروی، حمایت، نصرت وغیرہ کے لئے بھی انجام دیتے تھے۔
۱۔ سب سے پہلے بیعت عقبہ میں:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مسلمانوں کے بارہ افراد مدینہ سے حج کی غرض سے مکہ آئے ۔ عقبہ منیٰ کے مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کیا کہ ہم کبھی شرک ، چوری، زنا، اور اپنے اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔
۲۔ دوسری بیعت عقبہ میں:
دوسرے سال حج کے موسم کے موقع پر مدینہ کے مسلمانوں نے جن کی تعداد ۷۳ افراد پر مشتمل تھی پہلے قرارداد اور عہد وپیمان کی طرح اپنے خاندان کی حمایت کے ساتھ اور مددکرنے کے حوالہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کیا۔
۳۔ بیعت رضوان بیعت شجرة:
ہجرت کے چھٹے سال پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ عمرہ کے لئے تشریف لے گئے اور حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا راستہ روک دیا اور مکہ جانے سے روک دیا۔ اسی مقام پر مسلمانوں نے ایک دفعہ پھر عہد وپیمان یعنی بیعت کی ۔ یعنی آخری دم تک کفار مکہ کے خلاف صلح پر منتج ہوگیا اور اس صلح کا نام تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے ۔
عام طورپر تاریخ اسلام میں حق وباطل کی بیعت آنکھوں سے گزرتی ہے وہ بیعت جو معاویہ ابن ابی سفیان نے یزید لعین کے لئے لوگوں سے لی۔ وہ بیعت باطل وناحق تھی۔ اور جس کی کوئی قدروقیمت نہیں کیونکہ اسلام کے اندر کچھ شرائط ہیں بیعت کیلئے جسمیں سے ایک اہم شرط طرفین کی رضا مندی ہے باطل اور طاغوت سے کبھی بیعت نہیں ہوسکتی یاکسی کو ڈرادھمکاکے بیعت نہیں لی جاسکتی ۔
بیعت کی اہمیعت:
بیعت وہ عہد وپیمان ہے ، جو بیعت کرنے والے اور بیعت لینے والے کے درمیان انجام پاتا ہے جس پر عمل کرنا اپنے اوپر واجب سمجھتے ہیں۔ اسلام میں جتنی عہدو پیمان پر وفاکی تاکید کی گئی ہے کسی اور چیز کے بارے میں اتنی تاکید نہیں کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ معاملہ کتنی اہمیت کا حامل ہے۔
سورۂ اسراء میں خداوند رب العزت ارشاد فرمارہا ہے : واوفوا بالعقود ان العھد کان مسئولاً ، اور اپنے عہد وپیمان کی وفاکرو بتحقیق عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
حضرت علی کی ولایت کا انکار کرنے والے اس دن کیا کریں گے جب کانوں سے اعلان غدیر کے سننے، آنکھوں سے دست پیغمبر پر علی کے بلندہوتے ہوئے دیکھنے اور زبان سے مولائیت کے اقرار کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
قرآن مجید میں نیک کام کرنے والوں کی تعریف میں ارشاد فرمایا:
( والموفون بعهدهم اذاعاهدوا ) ، اور جوبھی عہد کریں اسے پورا کریں،()
عہدو پیمان شکن کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
( الذین ینقضون عهد الله من بعد میثاقه ) ، جو خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد بھی اسے توڑدیتے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین چیز باعث ہلاکت بنتی ہیں۔
۱۔ بیعت توڑنے والا
۲۔ سنت کو چھوڑنے والا ۳۔ جماعت سے جداہونے والا۔
حضرت امام ہشتم علی بن موسیٰ الرضا علیہماالسلام فرماتے ہیں۔
بیعت توڑنے والے کی عاقبت بہت خطرناک ہوتی ہے ۔ مولا مذید فرماتے ہیں : جوبھی اپنے امام سے بیعت توڑدے قیامت کے دن دست بریدہ بارگاہ خداوندی میں محشور ہوگا۔
حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لادین لمن لاعهد له ()
جو عہد وپیمان کا پاسدار نہ ہو اس کا کوئی دین نہیں ہوتا۔ جس قوم وملت کی نظر میں عہدو پیمان کا احترام ہوتا ہے اسکی فردی واجتماعی زندگی پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جوبھی ملت وقوم اس سرمایہ عظیم کو اپنے ہاتھ سے جانے دیتی ہے وہ بڑا نقصان اٹھاتی ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے اسلام کی عظیم اور زرین اصول اس بات کی سختی سے تاکید کرتی ہیں جو عہد وپیمان دشمن سے باندھا جائے اس پر مکمل عمل کیا جائے ۔ یہاں تک خود دشمن اگر خیانت کرے عہد وپیمان کو توڑدے تو اس صورت میں وفادار رہنا ضروری نہیں ہے۔
حضرت امیرا لمؤمنین علی علیہ السلام اپنے عہد نامہ میں مالک اشتر کو لکھتے ہیں اگر تم نے اپنے دشمن کے ساتھ کوئی عہد وپیمان باندھا جائے یاامان دیا جائے تو اپنے عہد وپیمان کی نسبت وفادار رہیں اور اپنے امان کو محترم جان لیں ۔ کیونکہ خداوند متعال کے واجبات میں سے کوئی حکم مانن عہد وپیمان محترم شمار نہیں کیا گیا ہے اگرچہ لوگوں کے درمیان اختلاف ور عقیدہ ونظریات کی کشمکش کیوں نہ موجود ہو۔()
غدیر میں بیعت:
غدیر کے دن حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام کو بہ عنوان ''امیرالمؤمنین'' سلام کریں اور علی کے ہاتھوں بیعت کریں ۔ یہ بات کتب فریقین میں آئی ہے۔
از جملہ طبری نے کتاب الولایہ میں زیدبن ارقم سے نقل کی ہے کہ : حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ غدیر کے اختتام پر فرمایا:
اے لوگو! کہیں ہم نے دلو جان سے آپ سے عہد کیا ہے اور زبان سے آپ سے پیمان باندھ لیا ہے اور اپنے ہاتھوں سے آپ سے بیعت کرلی ہے اور اس خبر کو ہم اپنے فرزندوں اور خاندانون تک پہنچائیں گے اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں کریں گے ۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس بات کے گواہ رہئے خداوند عالم اس بات کے شاہد کے لئے کافی ہے جو کچھ میں نے کہا ہے اس کہو، اور علی کو امیرالمؤمنین کے لقب سے سلام کرے اور کہے خدا کا شکر ہے جس نے امر میں ہماری رہنمائی فرمائی۔ گویا خداہی سننے والا اور دلوں کے خیانت سے آگاہ ہے جو بھی عہد کو توڑدے اپنی زبان سے توڑدی ہے جو بھی خداکے عہد وپیمان پر وفادار رہے اس کے لئے خداوند کریم کے ہاں اجر عظیم ہے ۔
زید بن ارقم کہتا ہے اس موقع پر تمام لوگوں نے اپنی اپنی حمایت اور بیعت کا اعلان کیا ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں بیعت کرنے والوں میں ابوبکر، عمر ، عثمان ، طلحہ وزبیر تھے۔ باقی انصار ومہاجرین اور باقی لوگوں نے بھی بیعت کی۔
النشر والطی نامی کتاب میں آیا ہے ! لوگ بلند آواز میں کہنے لگے جی ہاں ! جی ہاں! ہم نے سن لیا اور دل وجان سے قبول کیا ۔ اس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کرنے لگے۔
اولو الا مر کون ؟
مقام عظمٰی ولا یت کی شناخت کا حصول اورکسب معرفت امام زمانہ علیہ السلام واجب ترین ارکان اسلامی میں سے ایک ہے بغیر معرفت امام زمانہ علیہ السلام انسان کمال مطلوب تک نہیں پہنچ سکتا ،کیونکہ امام زمانہ علیہ السلام ایمان کے ابواب میں سے ایک باب ہے ۔امانت دار خداوند متعال، چراغ ہدایت ، معدن علم و حکمت اور باب رحمت ، مایہ برکت زمین و آسمان ہیں۔ امام سے منہ پھیر نا دین سے خارج ہونااور امام کی اطاعت و پیروی کرنا حقیقت تک پہنچنے کی علامت ہے۔امام سے چشم پوشی اور دور ی با عث ہلاکت اور نا بودی ہیں ۔
ہمارے مکتب و مذہب میں امام کی معرفت اس قدر حساس اور مہم ہے کہ رسالت اورنبوت بغیر ولایت علی علیہ السلام کے اعلان کے نا مکمل رہ جاتی ہیں اور یہ عقیدہ او ر نظریہ حقیقت میں قرآن ہی کا نظریہ ہے اور لوگوں کے صحیح مسلمان اور مؤمن بننے کے لئے ضروری ہے کہ ولایت اور امامت حضرت علی علیہ السلام کو قبول کریں اور اس کی اطاعت و فرمان بر داری عین واجبات میں سے ہیں۔ اسی لیے قرآن میں فرمایا ۔( یَا اَیُّهَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ ) (۱) آیہ شریفہ واضح طور پر اس بات کااعلان کرتی ہے کہ بغیر ولایت و امامت علی علیہ السلام کے رسالت خطرہ میں ہے یا یوں کہئے روح کے بغیر جسم کی مانند ہے ۔
حدیث رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم ہےمَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِه مَاتَ مَیْتَةَ الْجَاهِلِیَّةِ (۱) جو بھی بغیر معرفت امام زمانہ علیہ السلام مرجائے گو یا اس نے جا ہلیت کی موت مرا ہے ۔
____________________
۱: مائدہ ۶۲ ۲:بحار الانوار ج ۳۲ ص ۳۲۱ وسائل الشیعہ ج ۱۶ ص ۲۴۶
وہ معروف اور مشہور ترین دعا جوغیبت امام زمانہ علیہ السلام میں پڑ ھتے رہنا چا ہیے وہ یہ ہے: اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنی نَفْسَکَ اس دعا کے حوالے سے ہم یہ جانتے ہیں کہ: یہ دعا اس بات کی حقیقت کی عکاس ہے کہ ا گر انسان اپنے وقت کے امام کو نہ پہچانے یا معرفت حاصل نہ کرے تو وہ گمراہ ہے اگر چہ وہ تو حید شناس اور نبوت شناس ہی کیوں نہ ہو چونکہ وہ حجت شناس نہیں ہے اسی لیے وہ گمراہ ہے ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنی۔ وہ دین جس میں توحید نبوت اور معاد بھی ہو لیکن اس میں حجت اور اپنے زمانے کے امام کی معرفت نہ ہو وہ دین دین نہیں ہے ۔
لہذا دین در حقیقت ضرورت انسان ہے اور انسان اپنی ضرورت کو صحیح طور پر پورا کرے آدھ دین لیں اور آدھ نہ لیں ایسا نہیں ہو سکتے پھر ہر زمانے میں ایک اما م کا ہو نا ضروری ہے جو انسانوں کی ضرورت دین کو پورا کر سکے ۔
لہذا ہم ان نورانی کلمات کے ساتھ کچھ عرا ئض آپ کی خدمت میں پیش کر نیکی سعادت حاصل کرتے ہیں۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ يٰا اَهْلَ بَيْتٍ النُّبُوَّةِ اَهْلَ الذِّکْرِ وَاُولی الْاَمْرِ وَبَقِیَّة اللّٰهِ
ہمارے ہزار وں دور دو سلام ہوں ان مقدس ہستیوں پر جو اہل ذکر اور اولو الامر اور بقیة اللہ ہیں ۔
بقیةاللہ سے مراد کون ہے ؟ بقیةاللہ یعنی خداوند کریم کے باقی ماندہ حجت اور جو اللہ کی طرف سے لو گوں کی ہدایت کے لیے معین ہوا ہے اور خدانداور مخلوق خدا کے درمیان رابطہ اور واسطہ کا کام کرتا ہے یہ عظیم ہستیاں جو یکی بعد دیگر ی آتی رہیں اللہ کے احکام بندوں کو بتاتے رہے یہاں تک کہ جناب سرکار ختم مرتبت کے تشریف لانے کے بعد آپ کے بر حق جا نشین علی ابن ابی طالب علیہ السلام و باقی آئمہ معصومین علیہم السلام انہی احکامات خداوندی کو بندوں تک پہنچاتے رہے نیزخدا اور بندوں کے درمیان دین مبین اسلام کو بیان کر تے رہے ۔
وحی تشریعی اور وحی تبیینی !
البتہ وہ ارتباط اور تسلسل جسے وحی تشریعی کہتے ہیں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت تک ہے آپ کی رحلت عظمی پر یہ وحی تشریعی اختتام کو پہنچی ۔البتہ یہ ارتباط وحی تبیینی کی شکل میں با قی رہے اور اس عظیم ذمہ داری اور رسالت کو آئمہ ہدی ٰ طاہرین و معصومین انجام دیتے رہے اور شریعت محمدیہ کو ان معصوم آئمہ نے تبین یعنی بیان کرتے رہے۔ جس طرح انبیا ے کرام علیہم السلام وحی تشریعی کو عالم غیب سے وصول کرتے آئیں اسی طرح آئمہ معصومین وحی تبینی کو عالم غیب سے وصول کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں قسم کی وحی کے لیے عصمت کا ہونا شرط ہے تا کہ کسی قسم کے سہو و نسیاں اور غلطی و غیرہ سے مبرا اور محفوظ رہ سکیں یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سچے جانشین اس عظیم ذمہ دار ی کو انجام دیتے رہے ۔ حضرت خاتم الاوصیا حضرت امام زمان بقیةاللہ فی الارضین آج اس عظیم ذمہ داری کو انجام دے رہے ہیں اور آپ خدا کے فضل و کرم سے زندہ وسلامت بندوں کے کاموں کو خدا کی طرف سے انجام دے رہے ہیں اور خدا اور بندوں کے درمیان رابطہ کا کام کر رہے ہیں۔ ویسے تو ہر معصوم اپنے زمانے کی حجت خدا اور بقیة اللہ ہیں لیکن اس وقت امام زمان علیہ السلام حجت خدا اور بقیة اللہ اعظم ہیں۔ کلمہ بقیہ اللہ قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کے قصہ میں آیا ہے کہ اس وقت کے لوگ با غی طاغی اور نافرمان اور گنہگار تھے۔ خاص طور پر کم فروشی میں مشہور تھے اسی حوالے سے حضرت شعیب نے ان کو ڈرایا اور فر ما یا :( وَ یٰا قَوْمُ اَوْفُوْ الْمِکْیٰالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوْا النَّاسَ أَشْیَائَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرلَّکُمْ اِنْ کَنْتُمْ مُؤْمِنِیْن ) (۱) آیہ شریفہ میں بقیت اللہ سے مراد وہی مال حلال ہے جو کسب حلال کے ذریعہ اس کے لئے با قی رہ جاتا ہے ۔
بقیة اللہ کے سب سے بڑے مصداق اور اصل مراد آئمہ معصومین علیہم السلام خصوصا امام زمان
____________________
۱: سورہ ہود آیة ۸۵، ۸۶
علیہ السلام ہیں ،روایت میں آیا ہےَاوَّلُ مٰا یَنْطِقُ بِه الْقَائِمُ حِیْنَ ا لْفَرَجِ بَقِیَّةُ اللّٰهِ خَیْرلَّکُمْ ۔
سب سے پہلے جو کلمہ ظہور پر نور کے موقع ادا فرما یئں گے یہی آیت ہے بعد میں آپ فرمائیں گے۔اَنا بَقِیَّةُ اللّٰهِ وَ حُجَّتُه وَ خَلِیْفَتُه عَلَیْکُمْ (۱)
میں ہی بقیة اللہ ، حجت اللہ اور خلیفة اللہ ہوں۔ دوسرے مؤمنین بھی آپ کو سلام اس طرح کرینگے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یٰا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فی اَرْضِہ ، اہل ذکر ہو نا اہلبیت کی خصوصیات میں سے ایک ہے ۔
اہل یعنی جو بھی اُس سے مربوط اور کنٹیکٹ ہو یا جو بھی اس سے وابستہ اور سر وکار میں ہو تو اس وقت کہتے ہے کہ میں اس سے فلان چیز سے متعلق سرو کار ررکھتا ہوں یامیںفلان وجہ سے وابستہ ہوں آئمہ طاہرین علیہم السلام اہل ذکر اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے وابستہ اور آپ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
ذکر قرآن مجید میں چند معنوں میں استعمال ہوا ہے: ۔
سب سے پہلے خود قرآن ذکر کے معنی میں آیا ہے ۔
( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَه لَحٰافِظُوْنَ ) (۲) ہم نے خود اس ذکر( قرآن) کو نا زل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرینگے پس قرآن ذکر ہے یعنی یاد آور ی کرانے والا ۔ اور غافلوں کو ہوش اور تو جہ میں لانے والا (یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں ان کوزندہ کرنا) خاندا ن بھی اہل قرآن اور اہل ذکر اور کتاب مکنون ہیں( اِنَّه لَقُرْآن کَرِیْم فِی کِتَابٍ مَّکْنُوْن لَا یَمَسُّه الَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ) (۳)
تنہا پاک لوگ ہی قرآن کو چھونے کا حق رکھتے ہیں۔ جو پاک نہ ہو وہ ہر گز قرآن سے مس نہیں ہوسکتا ۔پس حقیقت میں وہ مطہر کون ہے؟( اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْ هِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِوَیُطَهِّرَّکُمْ تَطْهِیْراً ) (۴) وہی لوگ اہلبیت نبوت ہیں۔ جو خدا کی چا ہت اور ارادہ کے مطا بق طہارت مطلقہ سے بر خوردار ہیں اسی لیے ہم کہتے ہیں( فَا سْئَلُوا اَهلَ الذِّکرِْ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْن ) (۵) اہل ذکر اور
____________________
۱ : تفسیر نورالثقلین ج۲ ص۳۹۲ ۲:حجر آیة ۹ ۳: واقعہ آیة ۷۷،۷۹ ۴:نحل آیة ۴۳
قرآن سے وابستہ افراد کی طرف بڑ ھو اور جو کچھ نہیں جانتے انہیں سے پوچھو۔ بیگانوں اور غیر وں کے پیچھے مت دوڑو جن کو کچھ بھی نہیں آتااَللّٰهُمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ ۔خداوند ا !ان لوگوں کے اوپر لعن کر جنہوں نے قرآن اور اہلبیت کے اوپر سب سے پہلے ظلم روا رکھا اور اسلام اور مسلمین کو مصائب وآلام سے دوچار کیا اور اسلام کی جمعیت کو پرا کندہ کیا۔ آج جب ہم مکہ ّ جا تے ہیں تو اتنے بڑے لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کررشک آتا ہے جوظاہرا ً وہا ں جمع ہیں مگر باطن میں یہ سب ٹکروں میں بٹے ہوئے ہیں اسکی وجہ یہی ہے کہ مسلمان اہل ذکر اور اہل قرآن اور اہل بیت کے پیچھے جا نے کے بجا ئے بیگانوں کے پیچھے ہولئے اور غیروں کے پاس جا نے کی وجہ سے آج مسلمان تہتر ۷۳فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ ورنہ اہل بیت کے دامن سے وابستہ ہو تے تو اتنے فر قے نہ بنتے اور مسلمان تر قی اور بلندیوں تک پہنچ جاتے ۔چونکہ وہ تنہا اہل ذکر ہیں اور اہلبیت ہی حا فظ قرآن و شریعت ہیں (اَہْلُ الْبَیْتِ اَدْرٰی مٰا فی الْبَیْتِ)صاحب خانہ ہی بہتر جانتا ہے جو کچھ گھر میں ہو تا ہے ۔اگر کوئی چو ر کسی گھر میں داخل ہو جائے تووہ کیا جانے گھر میں کیا ہے کیانہیں ؟قرآن تو انہی کے گھر میں نازل ہو ا ہے۔ قرآن کے صحیح مخاطب رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں۔ قرآن کی بلندی اور عظمت اور اس کے معنی و مفاہیم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے اہلبیت ہی جانتے ہیں دوسرے لوگوں کو چاہئے جو کچھ پوچھنا ہے ان حضرات مقدس سے پو چھیں چو نکہ قرآن کے اصل وارث اور معلم قرآن یہی ہستیاں ہیںاور حقیقت قرآن سے یہی حضرات آگاہ ہیں ۔
ذکر کے دوسرے معنی ذات اقدس رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ۔
قران مجید میں ذکر کے دوسرے معنی خود ذات گرامی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں چنانچہ ہم پڑ ھتے ہیں
( فَا تَّقُوا اللّٰهَ یٰااُولی الاَلْبَابِ الذین آمنوا قد انزل الله الیکم ذکرا رسولا یتلوا علیکم آیات الله مبینات ) (۱) اس آیہ مبارکہ میں بعض تفاسیرکے مطابق رسولاً عطف بیان ہے
____________________
۱: طلاق آیة ۹، ۱۰
خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ذکر ہیں۔ جب رسول ذکر ہوا تو رسول کے خاندان اور اہلبیت بھی ذکر میں شامل ہو گئے بنا بر این کلمہ ذکر قرآن مجید میں قرآن کے لیے بھی آیا ہے اور رسول کے لیے بھی آیا ہے۔
اولوالامر کا مقام قرآن کی نگاہ میں:
اولوالامر صاحبان حکم ،صاحبان فرمان، ہم یہاں چند آیتوں کو نقل کریں گے تا کہ اولو الامر کے معنیٰ اورمفہوم و اضح ہو سکیں ۔
ایک آیت میں اسطرح آیا ہے کہہ دیجئے !حقیقت میں ہر حکم اورفرمان صرف خدا کے لیے ہے پوری کائنات میں حکم بس خدا کا ہے لیکن یہ امر اور حکم خدا کیا چیز ہے ؟( اِنَّمَا اَمْرُه اِذَا اَرَادَ شَیْئًااَنْ یَّقُوْلَ لَه کُنْ فَیَکُوْن ) (۱) خدا کا حکم یہ ہے جو کام انجام دینا چاہے تو وہ کہتا ہے ہو جا تو ہو جا تا ہے کائنات کی تمام مو جود ات اس کے کنٹرول میں ہیں ۔
آسمان اور زمین اس کے حکم کے مطابق قا ئم ہیں( الشَمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرَاتٍ بِّاَمْرِه ) (۲) سورج چاند ستارے خدا کے حکم سے مسخر ہوئے ہیں ۔اس وقت فر ماتا ہے ۔( وَ جَعَلْنَا هُمْ اَئِمَّةًیَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا ) (۳) ان رہنما ؤں کو جن کو ہم نے امام قرار دیا ہے ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں .و ہی حکم جو ان اَلْاَمْرُ کُلُّہ لِلّٰہِ بیشک تمام اختیار ات اور امر خدا سے متعلق ہے کہ( اِذَا اَرَدْنَاهُ اَنْ نَقُولَلَه کُنْ فَیَکُوْن ) (۴) جی ہاں! ہم نے ان حکموں کو ان اماموں کے ہاتھوں میں دیا ہے کہ یَہْدُوْنَ بِأَمْرِنَا لہذا یہ آئمہ اولو الامر ہیں پس جو اولو الامر ہو گا ان کی اطاعت واجب ہے جسطرح خدا اور رسول کی اطاعت واجب ہے اس طرح ان اماموں کی اطاعت او رفر مان برداری واجب ہے ۔( یٰا اَیُّهَا الَّذِیْنَ آٰمَنُوْااَطِیْعُوْاللّٰه واَطِیْعُوا الْرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ) (۵) اے صاحبان ایمان اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور اولو الامر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں ۔
____________________
۱: یٰسن آیة ۸۲
۲: اعراف آیة ۵۴
۳: انبیاء آیة ۷۳
۴: نحل آیة ۴۰
۵: نساء آیة ۵۹
علماء کرام نے اس آیت مبارکہ کے حوالے سے امام ہو نے کے لیے عصمت کو شرط قرار دیا ہے یہاں اولو الامر کی اطاعت کو مطلقا واجب قرار دیا گیا ہے اور یہی وجوب اطاعت مطلق اس بات کاگواہ ہے کہ امام کیلئے عصمت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اگر جائز الخطا ہونگے تو ایک قسم کا تنا قض لازم آئے گا۔ کیونکہ گنہگار کی اطاعت کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے ۔لہذا جسطرح خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پاک ہیں۔ اسی طرح اولو الامر اور امام بھی پاک ہیں اور یہ امام اور اولو الامر من جانب اللہ ہیں نہ کہ لو گوں کے انتخاب سے ۔
دنیا کی محبت ایک بڑ ی بیمار ی ہے جو انسان کے لیے ہلاکت اور نابودی کا باعث بنتی ہے!
ہجرت کے دسویں سال :
وہ حج جسے متعدد نام سے جاناجاتاہے حجة الوداع ،حجة الاسلام ، حجة البلاغ ،حجة الکمال ، حجة التمام۔ غدیر خم میں جو مقام جحفہ سے پہلے جہاں سے مختلف ملکوں کے لوگ جدا ہو جاتے ہیں عراق ، مدینہ ، مصر، و غیرہ یہ جگہ تاریخ بشریت میں ایک عجیب جگہ ہے جس کو ہم انسانیت کی سعادت اور سر بلند ی کا نام دے سکتے ہیں جس میں قیام قیامت تک آنے والی نسلوں کی ہدایت کی ضمانت اور گارنٹی موجود ہے اور ہمیشہ کے لیے انسانیت کو ضلالت اور گمراہی سے نجات کا سیسٹم موجود ہے۔ روشنی ہی روشنی اور نور ہی نور ہے۔ اس حوالے سے حادثہ غدیر خم تا ریخ انسانیت کا ایک قصہ نہیں جس کا زمانہ گذر گیاہو اور نہ ہی یہ حادثہ اور واقعہ صرف ایک شخصی مسئلہ ہے جس میں پیغمر گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو
اپنا جانشین اور وصی بنایا ہو ! جیسے شیعوں کا کہنا ہے۔ اسطرح اسلامی معاشرے کے معروف و مشہور ترین شخص حضرت علی علیہ السلام (جسیے اہل سنت کا کہنا ہے ) انٹرو ڈیوس (تعارف )کر وایا ہو جسکا فائدہ اور استعمال کا وقت اور تاریخ گذر چکا ہو۔ نہیں! بلکہ غدیر خم کا معاملہ پوری تا ریخ بشریت سے مربوط ہے اور ان اما موں کی امامت پوری تا ریخ بشریت کے لیے بیان ہوئی ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا آغاز ولایت اور امامت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب سے ہوا ہے اور اس ولایت اور امامت کاتسلسل حضرت امام مہدی آخرزمان علیہ السلام تک جا پہنچا ہے اور یہ بات ولایت اور امامت کے مخالفین نے اچھی طرح سے سمجھ لی ہے اس لیے آغاز ہی سے ان لو گوں نے اس چیز کو دبا نے اور محدود کرنے کی کو شش کی جس میں یہ لوگ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے کہ کسی نہ کسی طریقے سے واقعۂ غدیر کی تاویل ہو۔ البتہ اگر وہ ولایت اور امامت حقہ حضرت علی علیہ السلام تک محدود اور منحصر ہوتی تو ممکن تھا ان مخالفین کے لیے قبول کرنے میں کو ئی اعتراض اور پریشانی نہ ہو لیکن مسئلہ اور پریشانی کی اصل وجہ ولایت اور امامت کا تسلسل اور تداوم تھا جس میں ان کے لیے سخت پریشانی اور اضطراب مو جود تھا جس کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے( اَلْیَوْم یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ) یہ لوگ جو آج ولایت اور امامت علی علیہ السلام کے بعد مایوس ہو گئے ہیں۔ در واقع وہ تمام دشمنان اسلام جو حالات سے مجبور ہو کر اسلام لائے تھے اور کسی مصلحت کے تحت مسلمانوں کی صف میں کھڑے ہوئے تھے اورکسی مناسب مو قع کے انتظار میں تھے کہ اسلام پر کاری ضرب لگائیں اس کے لیے مناسب موقع پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت تھی۔ اس حوالے سے دشمنان اسلام اور منافقین نے ملکر کئی دفعہ دہشت گر دی کے ذریعے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو شہید کرنے کی کوشش کی مگر ہر بار ان کے منصوبے ناکام ہو گئے۔ یہ بات پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی صحیح طرح سے جانتے تھے۔ اس حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: امامت کا تسلسل جاری ہے ۔ثُمَّ مِنْ بَعْدِی عَلِی وَلِیُّکُمْ وَاِماَمُکُمْ بِاَمْرِاللّٰهِ رَبِّکُمْ ثُمَّ الْاِمَامَةُ فی ذُرِّیَّتِه مِنْ اَوْلاَدِه اِلٰی یَوْمٍ تُلْقُوْنَ اللّٰهُ عَزَّ اسْمُه وَرَسُوْلَه ۔(۱) ۔
خداوندعالم کے فرمان کے مطابق میرے بعد علی تمہارے ولی اور امام ہیں اس کے بعد امامت کا سلسلہ میری نسل اور علی کے فرزندوں سے شروع ہو کر قیامت میں خدا اور رسول سے ملاقات
____________________
۱:بحار الانوارجلد۳۷ ص ۲۰۷۔۲۰۸
ہونے تک جاری رہے گا۔ اس وقت جو آپکے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ قرآن مجید کی آیات ہیں جن سے غدیر خم میں خطبہ غدیر کے حوالے سے امامت حضرت علی اور دوسرے آئمہ کے با رے میں استدلال کیا گیا ہے۔ انشا ء اللہ ثمرہ واضح ہو جائے گا:۔
(۱) وہ نکتہ جو حدیث غدیر اور واقعہ غدیر کے بارے میں ہے۔
ہم خطبہ اور حدیث غدیر اور قبل اور بعد واقعۂ غدیر کے بارے میں ایک نگاہ ڈالیں گے جس سے با ت واضح اور روشن ہو جائے گی کہ امامت حضرت علی اور اس کے تسلسل کے بارے میں کیا بات تھی ۔
(۲) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ۹۰ ہزار سے ایک سو بیس ۱۲۰ ہزارافرد تک کو مقام جحفہ میں سخت ترین گرمی کی حالت میں روکنا اہمیت کا حامل ہے ۔
اپنے خطبہ کو ان الفاظ کے ساتھ آغاز کرتے ہیںکہ: میں عنقریب اس دنیا سے رحلت کرنے والا ہوں اورجلدی خداوند کریم کی آواز کو لبیک کہنے والا ہوں یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنے بعد کے جانشین کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں ۔
(۳) رسول گرامی اسلام نے لوگوںسے اس بات کی گواہی طلب کی کہ جو کچھ اللہ کی طرف سے اعتقادات، احکامات اور اعمال تھے تم لوگوں تک پہنچائے یا نہیں ؟ تو لوگو ں نے اعتراف کیا ۔بعد میں خدا کو گواہ اور شاہد بنایا اس بات کا جو ان لوگوں نے اقرار کیا تھا ۔
(۴) حدیث ثقلین کودوبارہ لوگوں کی یاد آوری و یاد دہانی کے لئے دہرایا: اگر تم لوگ گمراہ ہو نا نہیں چاہتے تو قرآن اور اہلبیت سے جدا نہ ہو جائیں یہ ایک مقدمہ ہے جوکہ بعد کے لیے ہے۔
(۵) اس کے بعدحضرت علی کے ہا تھوں کو اوپر اٹھایااورلوگوں سے اقرار لیا کہ خدا اور رسول ان کے اوپر ولایت رکھتے ہیں اس کے بعد فرمایا :مَنْ کُنْتُ مَوْلَا هُ فَهٰذَا عَلِیّ مَوْلَاهُ ۔
جس کا میں مو لا ہوں اس کا علی مو لا ہے ۔ یعنی جو ولایت پیغمبر اکرم کے لیے ثابت ہے وہی علی کے لیے بھی ثا بت ہے ۔
(۶) جملۂمن کنت مولاه کو احمد بن حنبل کے قول کے مطابق چا ر بار تکرار فرمایا تا کہ لوگ فراموش نہ کریں ۔
(۷) اُن لوگوں کے حق میں نفرین کی جنہوں نے ولایت علی کو قبول نہ کیا ۔
(۸) قرآن کی مختلف آیات کو خصوصاً آیہ تبلیغ، آیہ اکمال و غیرہ کو استدلال اور گواہ کے طور پر پیش کیا جن کے بارے میں بعد میں بحث کریں گے ۔
(۹) لوگوں کو ولایت علی پر مبارک باد دینا اور وہاں موجود تمام مر د وزن سے بیعت لینا حضرت علی کی امامت اور اس کے تسلسل اور تداوم کے بارے میں گواہی دیتا ہے۔ حضرت علی کی امامت اور اس کے تسلسل اور تداوم کے بارے میں توجہ کے ساتھ یہ بات عرض کر تا چلوں کہ خطبہ غدیر اور واقعہ غدیر کے بعد اور اس سے قبل نازل ہونے والی آیات کواستدلا ل کے طور پر ذکر اور مورد بحث قرار دیں گے۔
(۱۰)آیہ تبلیغ یا اعلان امامت :حمد اورثنا ی پر ور دگار کے بعد فرما یا :( فَاَوْحٰی اِلی …یٰا اَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغ ) داوند کریم نے جوکچھ آپ کے اوپر نازل کیا ہے لوگوں تک پہنچا دیجئے اگرایسا نہ کیا تو آپ نے کار رسالت ہی انجام نہ دیا ۔ خداوندآپ کو لوگوںکے شر سے محفوظ رکھے گا۔
اسی دوران آپ نے بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا :جبرئیل ابھی تین مرتبہ نازل ہواکہ خداوند عالم کا حکم ہے اس بڑ ے مجمع میں اعلان کروں :اِنَّ عَلِیَّ ابْنَ اَبی طَالِبٍ اَخی وَ وَ صِیّ وَخَلِیْفَتی وَ الْاِمَامُ بَعْدی حقیقت میں یہ علی ابن ابی طالب میرے بھا ئی ،میرے وصی اور میرے جانشین ہیں۔
سب سے پہلا مسلمان
مسلم اول شہ مر دان علی
عشق را سرمایہ ایمان علی
سب سے بڑاا متیاز اوراہم ترین بات جس کے متعلق خود حضرت ا میر ا لمومنین علی علیہ السلام بار بار ذکر فرماتے ہیں مؤمن اول اور پہلا مسلمان ہونا ہے چنانچہ ستر قسم کے فضا ئل جو تنہا اور صرف اور صرف علی سے تعلق رکھتے ہیں کے ضمن میں فرما تے ہیں:اِنِّی اَوَّلُ النَّاسِ اِیْمَانًا وَّ اِسْلَامًا (۱)
ادھر رسول اکرم صل اللہ تعا لٰی علیہ و آلہ وسلم ایک دن مسجد نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم میں صحابہ کرام کی موجودگی میں علی سے فرماتے ہیں: یا علی کل آپ بقیع کے پہاڑ پر جا کر جب سورج طلو ع کرے تو سورج سے بات کر نا! دوسرے دن صبح کو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ حضرت ابوبکر و عمر مہا جر اورانصار کی ایک جماعت بھی ہمراہ تھی حضرت امیر المومنین علیہ السلام بقیع کے پہاڑ پر تشریف لے گئے جب سورج نے طلوع کیا تو آپ نے سلام کیاالسلام علیک یا خلق الله الجدید جب آپ نے سلام کیا تو آسمان اور زمین کے در میان ایک آواز گونج اٹھی۔ اس آواز میں حضرت امیر المومینن علیہ السلام کے سلام کا جواب مو جود تھا و علیک السلام یا اول و یا آخر و یا ظاہر یا با طن یا من ھو بکل شئی علیم ،حدیث کے مطابق یہاں اول سے مراد سب سے پہلے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے والا اور تصدیق کرنے والا ہے اسی طرح دوسری صفات کی بھی تا ویل موجود ہے(۲)
ایک مقام پر آپ فرما تے ہیںمَا شَکَکْتُ فی الْحَقِّ مَذَارِیته (۳) .جب سے میرے اوپر حق ظاہر و آشکار ہواہے کبھی بھی حق کے بارے میں شک اور گمان کو راستہ نہیں دیاہے۔
____________________
۱:خاطرات امیر مؤمنان ص ۲۶۳
۲:کتاب الفضائل صفحہ ۴۷۵
۳: شرح نہج البلاغہ خطبہ ۲
اسی خصوصی امتیاز پرآپ نے اپنے مخالفین اور دشمنوں پر حجتّ قائم کی ہے چنانچہ ایک مقام پرآپ فرما تے ہیں :جو لوگ منافق ہوتے ہیں جو لوگ دوغلی پالیسی رکھتے ہیںاور جو ظاہر میں کچھ با طن میں کچھ، سامنے کچھ اور غائب میں کچھ اور ہوتے ہیں ظا ہراً حضرت کے لشکر میں ہو تے تھے لیکن حقیقت میں یہ لوگ مو لا علی کے دشمن ہوتے تھے ان کی مذمت سخت لہجے میں فرماتے ہیں :وَلَقَدْ بَلَغَنی اَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلِیّ یَکْذِبُ قَاتَلَکُمُ اللّٰهُ فَعَلٰی مَنْ اَکْذِبُ ؟أَعلٰی اللّٰه ؟ فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ آٰمَنَ لَه، اَمْ عَلٰی رَسُوْلِه ؟ فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ صَدَّقَه ''مجھے رپورٹ دی گئی کہ کہتے ہیں علی جھوٹ بولتے ہیں خدا تم لوگوں کو ھلاک کرے۔ کس کے بارے میں میں نے جھوٹ بولاہے؟ کیا خدا کے بارے میں جھوٹ بولاہے؟ خدا کی قسم میں تو وہ ہوں جو سب سے پہلے ایمان اور اسلام لانے والا ہوںاور سب سے پہلے پیغمبر اکر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور دوسرے مقام پر آپ فرماتے ہیں :اَتَرَانی اُکَذِّبُ عَلٰی رَسُوْلِ صلىاللهعليهوآلهوسلم اللّٰهِ؟وَاللّٰهِ لَاَنَا اَوَّلُ مَنْ صَدَقَه فَلاَاَکُوْنُ اَوَّلَ مَنْ کَذِبَ عَلَیْهِ ؟
''کیا یہ سمجھانے کی کو شش کر رہے ہو کہ میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جھوٹ کی نسبت دے رہا ہوں؟ خدا کی قسم میںاس کی رسالت کی تصدیق کر نے والاہوں اس بنا پر میں ان لوگو ںمیں سے نہیں ہونگا جنہوں نے ان کی طرف جھوٹ کی نسبت دی ہے۔ اسی لیے حضرت افتخار اور امتیاز کے ساتھ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ،میں کبھی بھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی صورت میں بھی گمراہی کی طرف جاؤں گا ان کی فضیلت میں سے ایک امتیاز اور افتخار کی بات یہ ہے کہ آپ بچپن سے ہی مؤمن تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کی فضیلت، آپ کی خصوصیت اور آپ کی شان اور عظمت مسلمانوں میں منفر دہے جیسا کہ آپ خود فر ماتے ہیں''اِنِّیْ لَمْ اُشْرِکْ بِااللّٰهِ طَرْفَةَ عَیْنٍ وَلَمْ اَعْبُدْ اللّٰاتَ وَالْعُزّٰی (۱) ''میں نے کبھی بھی
____________________
۱: منہاج البراعة خطبہ ۱۸۸
حتی کہ چشم زدن میں خداوند عزوجل کا شریک قرار نہیں دیا اور کبھی بھی لات و منات و عزا اور زمانہ جاہلیت کے بتوں کی پرستش نہیں کی ہے۔
اس بات کی طرف غور کریں کہ اصحاب اور انصارپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں وہ صفات اور وہ شوق اقتدار نہیں پائے جاتے تھے جو ان کے اسلام لانے سے قبل اورحالت کفر میں پائے جاتے تھے ۔ لہذا آپ نے بہت ہی خوبصورت انداز میں ان منافقوں کو جواب دیا ہے جب سوال کر نے والے نے یہ سوال کیا کہ آپ کب مسلمان ہوئے ہیں ؟ تو جواب دیاعلی کب کافرتھا کہ مسلمان ہوجائے !!؟
اس نے حقیقت میں فطرت اسلام پر ہی پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا ہے
ہاں! یہ فقط علی ہی تھے جو کبھی بھی کسی بت کے سا منے سجدہ ریز نہ ہوئے۔ آپ دنیا میں آتے ہی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیر تر بیت رہے اسی لیے علی علیہ السلام کے مربّی اور استاد خود ذات مقدس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔
لہذا جیسے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ویسے علی اور خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا انا و علی من نور واحد ''میں اور علی ایک ہی نور سے ہیں لہذا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبوت و رسالت کے عہدہ پر فائز ہیں تو علی امامت اور وصا یت کے عہدہ پر فائز ہیں۔ خداوند عالم نے مسلمانوں کو عقل دی ہے کہ وہ منا فقوں کے پروپیگنڈہ میں آکر کہیں رسول اور امام کی تو ہین نہ کریں و رنہ خسارتِ دنیاوآخرت کے دھبّے ان کے پیشا نی پرلگ جا ئیں گے ۔
خود امیرالمؤمینن علی علیہ السلام نے معاویہ اور ان کے مزدو روں کے حوالے سے جب آپ کے اوپر سبّ کر نے کے غمناک و اقعہ کی پیشن گوئی کی تھی اسی ضمن میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا تھا: معاویہ ابن ابی سفیان لوگوں سے کہے گا ''کہ علی کو برابھلا کہیں اور علی سے بیزاری کا اظہار کریں'' اوریہ بات بھی حضرت علی علیہ السلام نے فرما یا تھا:'' کہ مجھ سے بیزاری کا اظہار کر نے کا کیا معنی جبکہ میں فطرت اسلام پر اور سب سے پہلا مسلمان ہوں!! اسلام میں ہجرت اورایمان کے حوالے سے کسی نے مجھ پر سبقت نہیںلی ہے''۔
ایک مقام پرآپ فر ما تے ہیں: خداوند ا! میں اس امت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے تیری عبادت کی ہو۔
جو کچھ اس مختصر سی تحریر میں نقل کیا ہے وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے کلام ہی سے نقل کیا ہے اور آخرمیں بھی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دو روایتوں پر اختتام کر تا ہوں۔ اس روایت کو اہلسنّت کے مشہور مفسر زمخشر ی نے اپنی تفسیر میں ایک روایت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ والسلام سے نقل کی ہے آپ نے فر ما یا :امتوں کے در میان فقط تین اشخاص ہوا کر تے تھے جو سب سے پہلے خدا پر ایمان لانے میں سا بق ہوئے ہیں اور کبھی یہاں تک کہ چشم زدن میں بھی خدا کا شریک نہیں قرار دیا اور ان تین اشخاص کے نام یہ ہیں :۔
۱۔علی ابن ابی طالب
۲۔صاحب یس
۳۔مؤمن آل فرعون
اسی مطلب کواہل سنت کے دوسرے دانشور اور مفسر علامہ سیوطی نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کے حوالے سے اس حدیث کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے البتہ اس حدیث میں حضرت علی علیہ السلام کو دوسرے دونوں سے افضل قرار دیا ہے۔ اسی حدیث کو شیعہ منابع سے بھی نقل کیا گیاہے ۔
دوسری حدیث میں حضرت علی علیہ السلام کے صحابی بنام عاصم بن ظریف نقل کر تے ہیں:۔ میں اور مسلمانوں میں سے چند افراد حج کو انجام دینے کے بعد واپسی پر ربزہ کے مقام پر رک گئے اور جناب ابوذر غفاری سے ملاقات کی اور ان سے مفصل گفتگو کی جب ہم خدا حا فظی کررہے تھے تودرمیان میں مسلمانو ں کے درمیان اختلافات کے بارے میں بات ہوئی اس وقت فتنہ و فسادنے چاروں طرف سے مسلمانوں کو گھیر لیا تھا اور حق و باطل خلط ملط ہو چکا تھا۔ اس پر آشوپ دور کے با رے میں میں نے جناب ابوذرسے پو چھاکہ ایسی حا لت میں کیا کیا جا ئے تا کہ ایمان ہاتھ سے جانے نہ پا ئے؟ جناب ابوذر نے فرما یا: ۔ان حالات سے بچنے کے لیے صرف ایک ہی راہ ہے وہ کتاب خدا اور عترت یعنی علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے مضبوطی کے ساتھ متمسک رہیں۔ خدا کی قسم میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ کوپکڑ کر فرما یا یہی علی ہیںجس نے سب سے پہلے میرے اوپر ایمان لائے اور میری نبوت کی تصدیق کی۔ قیامت کے دن سب سے پہلا شخص یہی ہوگا جو مجھ سے ملحق ہونگے اور مجھ سے مصا فحہ کریںگے۔ وہ مؤمنین کے رہبر اور مددگار ہوںگے جب کہ مال و دولت ظالموں کے مدد گار ہونگے۔ وہ صدیق اکبر یعنی سب سے پہلے تصدیق کر نے والے ہیں اور فاروق اعظم یعنی حق کو باطل سے جدا کرنے والے ہیں۔
کلام اقبال
مسلم اول شہہ مردان علی
عشق را سرمایۂ ایمان علی
از ولای دودمانش زندہ ام
درجہان مثل گہر تابندہ ام
مرسل حق کرد نامش بوتراب
حق یداللہ خواند درام الکتاب
ہرکہ دانای رموز زندگیست
سر اسمای علی داند کہ چیست
ذات او دروازۂ شہر علوم
زیر فرمانش حجاز وچین وروم
علی ای ھمایٔ رحمت
بارگاہ علوی میں نذرانۂ شہریار
ایران اور اس کا شعروادب عشق علی اور مدح وثنائے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے دنیا کی معاصر تاریخ وثقافت میں امتیازی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے ۔
ایران کا نام جب بھی کوئی سنتا ہے یا کلمۂ ایران پر اسکی نظر پڑتی ہے تو لامحالہ طور پر ایران کی تاریخ اور اس کا کلچر وثقافت انسانی ذہن میں مجسم ہوجاتی ہے۔ جہاں پر انسانی ذہن کی توجہ ایران کی ہسٹری پر مبذول ہوئی ہے مثلاً انسانی ذہن قیصر وکسریٰ کی شان دل میں بٹھا لیتاہے ۔ اسلامی لشکر نے اسی ایران کو فتح کیا بعد میں اسلام کا جھنڈا ایران میں لہرایا ۔ جہاں پر پہلے ایرانیوں کے اعتقاد زردشتی تھے وہیں پر شمع رسالت کے پروانے حضرت سلمان فارسی کی تبلیغات رنگ لائیں اور الحمدللہ یہ ملک تشیع کی پہچان بن گیا اور لوگ آج بھی اپنی مذہبی، اسلامی اور ثقافتی رسومات کے پابند ہیں۔ جہاں ایران میں دوسرے کاموں کی طرف خصوصی توجہ دی جانے لگی ہے وہاں پر ادبیات اور شعر وشاعری بھی خاص مقبول رہی ہے اور ادبیات فارسی میں یگانہ روزگار افراد نے اس مملکت میں آنکھ کھولی اور ادبیات کو عروج تک لے گئے۔ کیونکہ فارسی زبان ایک وسیع وعریض زبان ہے ویسے تو تمام شعراء کرام کو زبان سے گلہ رہاہے کیونکہ شعراء کی اڑان الفاظ میں مقید نہیں ہوسکی اور شعراء کو اپنے معنیٰ ومفاہیم کے لئے اکثر اوقات الفاظ میسّر نہیں آتے اس لئے وہ دوسری زبانوں کا سہارا لیتے ہیں انہی شعراء میں سے ایک شاعر اہلبیت جوکہ مودّت و محبت اہل بیت سے مالامال تھے انہوں نے مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی شان اقدس میں چند اشعار کہے جو پورے ایران تو کیا عالم اسلام میں ادباء ان اشعار کو سرلوحہ زندگی قرار دیتے ہیں اور انہی اشعار کی بدولت اس عظیم شاعر کو ادبیات کی معراج نصیب ہوئی اور ان کے یہ اشعار پورے ایران اسلامی میں ہر عالم ، ذاکر اور خطیب کی زبان پر ہیں۔
اس شاعر بزرگوار کا اصل نام سید محمد حسین لیکن شعراء اور ادب کی دنیا میں استاد شہریار کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں ان کا ایک پورا دیوان ہے اس دیوان میں وہ اشعار جوکہ مدح علی علیہ السلام میں لکھے گئے تھے۔ ان میں سے ایک غزل یہاں ذکر کرتے ہیں۔ واقعاً ان اشعار میں ولایت کی شیرین رس گھول رہی ہے اور جزابیت بہت زیادہ ہے ۔
''علی ای ھمایٔ رحمت توچہ آیتی خدارا''
انہی اشعار کے متعلق دلچسپ واقعہ مشہور ہے ۔ وہ کچھ اسطرح سے ہے کہ ایک دن لمبے قد والا ایک شخص حضرت آیت اللہ مرعشی نجفی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور بعد از سلام و دعا حضرت آیة اللہ مرعشی اپنے مطالعے میں مشغول ہوجاتے ہیں چند لمحات گزرجانے کے بعد اس شخص کی جانب نگاہ کرتے ہیں چند سکینڈ اسکی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور تعجّب خیز نگاہوں سے دیکھنے کے بعد حضرت آیة اللہ مرعشی اپنے مقام سے اٹھتے ہیں اور بھر پور تبسّم کے ساتھ کھڑے ہوکر مہمان عزیز کو گلے لگاتے ہیں اور خوش آمدید کہتے ہیں اور فرماتے ہیں: پیارے شہریار ! خوش آمدیدخوش آمدید! تہہ دل سے میرا خلوص قبول ہو اور مبارک ہو ۔ آقا شہریار حیرت اور تعجب کی کیفیت میں دست بوسی کاارادہ کرتے ہیں لیکن آیة اللہ اپنے ہاتھ پیچھے کی طرف کھینچ لیتے ہیں اور بعد میں مہمان کو زبردستی اپنے گلے لگالیتے ہیں اور مہمان کی پیشانی کا بوسہ لینے شروع کردیتے ہیں پھر اپنی دائیں طرف بٹھا تے ہیں خود حضرت آیة اللہ مؤدبانہ دوزانو ہو کر بیٹھ جاتے ہیں نو وارد مہمان حضرت آیة اللہ سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں کہ حضرت عالی کی طرف سے پیغام ملتے ہی پہلی فرصت میں تبریز سے قم کی طرف روانہ ہوا ہوں ۔ لیکن راستے میں جو سوال میرے ذہن میں بار بار اٹھتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عالی مجھے کیسے جانتے ہیں؟ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ہے اور ہمارے باہمی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
حضرت آیة اللہ العظمیٰ مرعشی رحمة اللہ علیہ مہمان کی طرف چائے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی غزل ہے جسکا مطلع اسطرح سے ہے کہ
علی ای ہمایٔ رحمت توچہ آیتی خدارا
استاد شہریار متعجب اور حیرت زدہ ہوکر اثبات میں جواب دیتے ہیں لیکن فرماتے ہیں: آج تک میں نے یہ غزل کسی کو نہیں سنائی اور نہ ہی ان اشعار کے بارے میں کسی سے تبادلۂ خیال ہواہے۔ میرے خیال میں یہ اشعار خدا اور میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ حضرت آیة اللہ مرعشی نے فرمایا: مجھے دقیقاً بتائیں کہ آپ نے ان اشعار کو کب اور کس وقت ضبط تحریر میں لائے ہیں ؟ استاد شہریار اپنے سر کونیچے کرتے ہیں اور خوب فکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل آج ہی کی رات میں نے یہ اشعار کہے تھے اس رات پہلے میں نے وضو کیا اور شب کو تنہائی کے عالم میں شعر کہے اس رات میری حالت عجیب تھی میں مولائے کائنات امیر المؤ منین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت میں دیوانہ تھا اور عشق علی میں سرتا پا غرق تھا رات کو تقریباً ۳ بجے کے بعد میں نے اس غزل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ ان کلمات کو سننے کے بعد حضرت آیة اللہ مرعشی النجفی کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے اور سرمبارک کو ان کلمات کی تائید میں ہلاتے ہوئے فرمایا : ٹھیک ہے آپ بالکل سچ کہہ رہے ہیں یہ واقعہ اسی طرح ہے یہی وقت اور یہی رات تھی۔
استاد شہریارکی حیرت واستعجاب زیادہ ہوگیا اور مشتاقانہ پوچھنے لگے ۔ اس رات اور اس وقت کیا ہوا تھا؟واقعاً آپ کی بات نے مجھے پریشانی اور تعجب میں ڈال دیا ہے ۔
حضرت آیة اللہ مرعشی فرماتے ہیں: '' اس رات میں کافی دیر تک نہیں سویا اور بیدار تھا۔ نماز شب اور دعائے توسل کے بعد میں نے خداوند عالم سے عرض کیا ۔ بارالٰہا ! آج مجھے خواب میں اپنے عبد خاص سے ملا۔ میری آنکھ لگ گئی تو کیا دیکھتا
ہوں مسجد کوفہ کے کسی کونے میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ حضرت علی علیہ السلام اپنی بلاغت اور عظمت کے ساتھ مسجد میں تشریف فرماہیں اور اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم نے حلقہ کی صورت میں آنحضرت کو گھیرے میں لے رکھا ہے جیسے چاند کے ارد گرد ستاروں کا جھرمٹ ہوتا ہے ۔ ان اصحاب کو میں نہیں پہچانتا ۔ شاید سلمان ، ابوذر ، مقداد ، میثم تمار، مالک اشتر ، حجر بن عدی ، اور محمد ابن ابی بکر وغیرہ ہونگے۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ کوئی جشن کا سماں ہے مولائے کائنات علی علیہ السلام دربان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ: شعراء کو اندر بلایا جائے ۔ سب سے پہلے شعرائے عرب حاضر ہوتے ہیں مولائے متقیان علی علیہ السلام انکی طرف محبت بھرے انداز میں نظر کرم فرماتے ہیں۔ دوبارہ گویا ہوتے ہیں فارسی شعراء کو بلایا جائے ۔ فارسی شعراء حاضر ہوتے ہیں محتشم کاشانی اور دوسرے شعراء فارس کی طرف حضرت نگاہ فرماتے ہیں اور فرداً فرداً دیکھتے ہیں گویا کسی خاص فرد کی تلاش میں تھے لیکن وہاں موجود نہیں تھا تیسری بار مولائے کائنات دربان سے فرماتے ہیں میرے شہریار کو بلاؤ !اس وقت تم حاضر ہوتے ہوگئے۔
اس وقت تمہاری شکل وصورت کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا اور آج رات جب میں نے تمہیں دیکھا تو فوراً پہچان لیا کہ تم وہی شہریار ہو۔ تم اپنی قدر وقیمت کو جان لو ! تم پر مولائے کائنات علی کی خاص نظر کرم ہے۔ اس واقعہ کو استاد شہریار نے سنا اور انکی آنکھوں سے آنسو ٹپکنا شروع ہوگئے۔ کافی دیر کے بعد فرط محبت سے رواں دواں آنسو تھم گئے تو پھر حضرت آیة اللہ مرعشی گویا ہوئے تم نہایت مؤدبانہ مولا امیر المؤ منین علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھے مولائے کائنات نے تمہیں فرمایا: کہ شہریار! اپنے اشعار سناؤ ! تم نے اپنے اشعار کو پڑھنا شروع کیا جسکا مطلع یہ تھا
علی ای ھمایٔ رحمت تو چہ آیتی خدارا
ان جملات کو سنا تو شہریار کی آنکھیں ساون کی طرح برسنے لگیں ۔ حضرت آیة اللہ مرعشی نے خواہش کی کہ ان اشعار کو مجھے بھی سنائیں ۔ استاد شہریار نے اپنے اشعار کو پڑھنا شروع کیا
علی اے ھمایٔ رحمت توچہ آیتی خدارا
کہ بہ ماسوا فکندی ، ھمہ سایۂ ھمارا
ترجمہ: اے ہمائے رحمت! اے طائر رحمت! آپ خداوند کریم کی عظیم الشان نباء عظیم نشانیوں میں سے کتنے عجیب نشان ہیںکہ تمام موجودات و مخلوقات ارضی وسماوی پر آپ کا سایہ مبارک احاطہ کئے ہوئے ہیں۔
دل اگر خدا شناسی ،ھمہ در رخ علی بین
بہ علی شناختم من بہ خدا قسم خدارا
ترجمہ: اے دل غافل! اگر تم خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو علی کی طرف نگاہ کرو! کیونکہ خدا کی قسم میں نے علی کے وسیلے سے خداوند متعال کی معرفت حاصل کی ہے۔
بہ خدا کہ درد وعالم اثر از فنا نماند
چو علی گرفتہ باشد سر چشمۂ بقارا
ترجمہ: خدا کی قسم اگر کسی نے علی سے لو لگارکھی ہو تووہ دونوں جہانوں میں فنا نہیں ہوگا کیونکہ علی چشمۂ بقاء کے صاحب ہیں۔
مگر ای سحاب رحمت تو بباری ، ارنہ دوزخ
بہ شرار قھر سوزد ھمہ جان ماسوارا
ترجمہ: یا علی ! اے ابر رحمت! اپنے لطف وکرم کی باران سے نوازیں ورنہ شرار قہر سے دوزخ تمام مخلوقات کو جلاکر راکھ کردے گی۔
برو ای گدایٔ مسکین در خانۂ علی زن
کہ نگین پادشاہی دھد از کرم گدارا
ترجمہ: اے فقیر، مسکین اور بیچارے! تم علی کے دروازہ پر جاکر دستک دو کیونکہ علی از راہ کرم و جو د وسخا بادشاہی کی انگشتری گدا کو عطاکرتے ہیں۔
بجز از علی کہ گوید بہ پسر کہ قاتل من
چو اسیر تست اکنون بہ اسیر کن مدارا
ترجمہ: علی کے علاوہ کون ہے جو اپنے فرزند کو وصیت کرے کہ اے فرزند ارجمند ! ''حسن مجتبیٰ'' میرا قاتل فی الحال تمہاری اسارت میںہے اپنی محبت ولطف سے نواز دے۔!
بجز از علی کہ آرد پسری ابوالعجائب
کہ علم کند بہ عالم شھدای کربلارا
ترجمہ: علی کے علاوہ کون ہے جس نے امام حسین جیسے بیٹے کی تربیت کی ہو کہ جنہوں نے جہاں بھر کو شہدائے کربلا جیسے عظیم نمونے پیش کئے ہوں۔
چو بہ دوست عہد بندد ، زمیان پاکبازان
چو علی کہ می تواند کہ بہ سر برد وفارا
ترجمہ: وہ لوگ جنہوں نے راہ خدا میں عہد وپیمان کو مضبوطی سے باندھا ہے ایسے پاکباز لوگوں میں علی سے بہتر اور افضل کون ہو سکتا ہے جو اپنے وعدوں کو بطریق احسن وفا کرسکے ۔
نہ خد ا توانمش خواند ، نہ بشر توانمش گفت
متحیرم چہ نامم شہ ملک لافتیٰ را
ترجمہ: علی کو نہ خدا کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی بشر کہہ سکتے ہیں میں حیرانی میں سرگرداں ہوں کہ مملکت لافتیٰ کے بادشاہ کو کس نام سے پکاروں۔!!!
بہ دوچشم خونفشانم ھلہ ای نسیم رحمت
کہ زکوی او غباری بہ من آر تو تیارا
ترجمہ: اے نسیم رحمت ! میری دونوں خون فشان آنکھوں کی صحت وشفاء کے لئے علی کے کوچہ سے گردو غبار لادو۔
بہ امید آنکہ شاید برسد بہ خاک پایت
چہ پیام ھا سپردم ھمہ سوز دل صبارا
ترجمہ: اے میرے ممدوح! میں ابھی تک درد دل پر مشتمل کتنے پیغام اس امید کے ساتھ باد صبا کے سپرد کرچکا ہوں کہ شاید آپ کے مبارک قدموں کی خاک تک پہنچ جاؤں ۔
چو تویی قضای گردان بہ دعای مستمندان
کہ زجان ما بگردان رہ آفت قضارا
ترجمہ: آپ ہی قطب عالم امکان ہیں غریب اور ناداروں کی دعاؤں کے طفیل زمانہ کے رنج والم اور آفات وبلیات سے ہماری جان کو نجات بخش دیں۔
چہ زنم چو نای ہردم زنوای شوق او دم
کہ لسان غیب خوشتر بنوازد این نوارا
ترجمہ: میں مولا علی علیہ السلام کے عشق میں کیسے ہمہ وقت مترنم رہوں کہ لسان الغیب ''حافظ شیرازی''
مجھ سے کہیں بہتر اس ترنم میں مشغول ہیں۔
ھمہ شب در این امیدم کہ نسیم صبحگاہی
بہ پیام آشنائی بنوازد آشنارا (حافظ)
( یہ شعر حافظ شیرازی لسان غیب کاہے)
ترجمہ:پوری رات میں نے باد صبا کے انتظار میں گزاردی کہ نسیم صبا میرے مولا کی طرف سے پیام لیکر آئے اور میرے دل کو سکون حاصل ہو۔
( منابع)
قرآن مجید
نہج البلاغہ ----- علامہ سید رضی رحمة اللہ علیہ
علی فی القرآن ----- آیة ا... سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ
بحار الانوار ----- علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ
علی وقرآن ----- سید رضا دامغانی
علی وشہر بی آرمان ----- حسن رحیم پور ازغدی
امام علی در نگاہ شہریار ----- مھدی مجتھدی
داستان غدیر خم ----- محمد حسن شفیعی شاہرودی
شرح خطبة البیان ----- علامہ محمد بن محمود شیرازی
فضائل حضرت علی ----- حاج شیخ عبّاس قمی
علی معیار کمال ----- ڈاکٹر رجب علی مظلومی
کتاب الخصال ----- شیخ صدوق رحمة اللہ علیہ
ایمان وعبادت علی ----- فضل اللہ کمپانی
پرتوی از انوار نہج البلاغہ ----- سید محمد علی صادقی
کمال الدین واتمام النعمہ ----- شیخ صدوق
ھزار ویک داستان ----- محمد رضا رمزی اوحدی
نھج الصباغہ شرح نہج البلاغہ ----- محمد تقی شوشتری
منہاج البراعہ شرح نہج البلاغہ ----- حبیب اللہ خوئی
امالی ----- شیخ صدوق
کنزل العمال ----- متقی ھندی
امام شناسی ج ۱۰ ----- محمد حسین حسینی طہرانی
غرر الحکم ----- عبدالواحد بن محمد آمدی
شرح نہج البلاغہ ----- ابن ابی الحدید معتزلی
بحار الانوار ج ۳۲ ----- علامہ مجلسی
صد درس اعتقادی ----- سید رضا حبو باقی
اعلام الورای ----- حسن ابن فضل طبرسی
خاطرات امیر مؤمنان ----- شعبان صبوری
مصباح المنیر ----- الفیومی
قاموس المحیط ----- محمد بن یعقوب فیروز آبادی
النہایة فی غریب الحدیث والاثر ----- ابن اثیر
بحار الانوار ----- علامہ مجلسی
المناقب ----- خوارزمی
الملل والنحل ----- ابوالفتح محمد بن عبدالکریم شھرستانی
الفصل فی الملل والاھوا والنحل ----- ابن حزم
کفایة الموحدین ----- سید اسماعیل طبرسی نوری
ینابیع المودة ----- شیخ سلیمان قندوزی حنفی
درالمنثور ----- لجلال الدین سیوطی
تفسیر الکشاف ----- جاراللہ محمود الزمحشری
تفسیر الکبیر ----- فخرالدین رازی
الامام علی بن ابی طالب ----- احمد الرحمان الھمدانی
ملتقی البحرین ----- علامہ مرندی
تاویل الآیات الطاہرہ ----- سید شریف الدین استرآبادی
دیوان ----- شیخ کاظم الازری
تفسیر البرھان ----- البحرانی
مجلہ ذوالفقار مشہد مقدس شمارہ ۱ پائیز ۸۷
الغدیر ----- علامہ امینی
طبقات ----- ابن سعد
تاریخ طبری ----- محمد بن جریر طبری
الامامة والسیاسة
صحیح مسلم محمد بن مسلم
معالم المدرستین ----- علامہ عسکری
کشف المراد
الاھیات شفاء ----- حکیم بوعلی سینا
جاذبہ ودافعہ علی ----- شہید مرتضیٰ مطہری
فہرست
مشخصات کتاب ۳
تقریظ: ۴
حرفے چند: ۸
تقریظ ۱۱
(ترجمۂ متن فارسی) ۱۱
پیش گفتار: ۱۲
مقدمہ ۱۴
تاریخ تشیع ۱۶
۱۔ شیعہ لغت میں ۱۹
۳۔لفظ شیعہ ۲۱
لفظ شیعہ قرآن مجید میں: ۲۲
۳۔ شیعہ اصطلاحاً: ۲۳
شیعہ تاریخ کے اوراق میں: ۲۵
تاریخ نوری وظاہری شیعہ ۲۷
اول: ۲۸
دوم: ۲۹
سویم: ۳۰
چہارم: ۳۰
پنجم: ۳۲
ششم: ۳۳
ائمہ اطہار معدن علم الہی ۳۵
خزان العلم کیا چیز ہے؟ ۳۵
علم خداوندی: ۳۶
علم غیب کی اقسام: ۳۷
تفسیر خزان علم: ۴۱
۱۔ آگاہی انتخابی: ۴۱
ب: علم افاضی: ۴۲
ج: علم غیب انسان کی ہدایت کے حوالے سے: ۴۳
(۱) سب سے بڑا خطرہ غلو ہے: ۴۴
(۲) دوسرا خطرہ: ۴۴
زیارت جامعہ کبیرة ۴۵
قرآن اور علی ۴۶
خدا کے گھر میں آنکھ کھولی بقول شاعرمشرق ۴۷
دین اور غدیر ۵۷
امام کی معرفت کا طریقۂ کار: ۶۷
پہلا احتمال: ۶۷
دوسرا احتمال: ۶۸
تیسرا احتمال: ۶۹
چوتھا احتمال: ۷۰
خواجہ نصیر الدین طوسی: ۷۱
نص ونصب: ۷۳
۱۔ حدیث منزلت : ۷۵
۲۔ حدیث ثقلین: ۷۶
۳۔ حدیث مع الحق: ۷۶
حدیث دوم : ۷۶
۴: حدیث عصمت وطہارت: ۷۶
۵: حدیث سفینہ: ۷۷
۶: حدیث ولایت: ۷۷
۷: حدیث امان: ۷۷
داستان غدیر: ۷۸
معنای بیعت: ۷۹
۱۔ سب سے پہلے بیعت عقبہ میں: ۷۹
۲۔ دوسری بیعت عقبہ میں: ۷۹
۳۔ بیعت رضوان بیعت شجرة: ۸۰
بیعت کی اہمیعت: ۸۰
غدیر میں بیعت: ۸۲
اولو الا مر کون ؟ ۸۳
وحی تشریعی اور وحی تبیینی ! ۸۵
ذکر قرآن مجید میں چند معنوں میں استعمال ہوا ہے: ۔ ۸۶
ذکر کے دوسرے معنی ذات اقدس رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ۔ ۸۷
اولوالامر کا مقام قرآن کی نگاہ میں: ۸۸
ہجرت کے دسویں سال : ۸۹
سب سے پہلا مسلمان ۹۳
کلام اقبال ۹۸
علی ای ھمایٔ رحمت ۹۹
بارگاہ علوی میں نذرانۂ شہریار ۹۹
( منابع) ۱۰۶