یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
شیعہ کافر
----تو----
سب کافر
مصنف :
علی اکبر شاہ
نیٹ ورک: شبکہ امامین حسین علیھما السلام
بڑھتی ہوئی جواں امنگوں سے کام لو
ہاں تھام لو حسین (ع) کے دامن کو تھام لو
عفریت ظلم کانپ رہا ہے ، اماں نہ پائے
دیوفساد ہانپ رہا ہے ،اماں نہ پائے
(جوش)
ماہنا مہ اقراء بینات او رہفت روزہ تکبیر
کا
جواب
تحریر: علی اکبر شاہ
پہلی اشاعت سنہ ۱۹۸۸ء
دوسری اشاعت سنہ ۱۹۸۹ء
تیسری اشاعت سنہ ۱۹۹۱ء
چوتھی اشاعت سنہ۱۹۹۲ ء
پانچویں اشاعت سنہ ۱۹۹۳ء
نقش آغاز
فروری سنہ ۱۹۸۸ء میں اقراء ڈائجسٹ کا "شیعیت نمبر " اور بینات کا ایک "خصوصی نمبر شائع ہوا ۔دونوں ہی نے مولا نا منظور نعمانی کی ایک کتاب کہ جو "الفرقان لکھنو" کے خاص نمبر کی صورت میں شائع ہوئی تھی ،دوبارہ من وعن شائع کیا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اقراء میں شیعوں کے خلاف او ربھی مضامین ہیں خاص طور سے مفتی ولی ٹونکی کا " نقش آغاز" قابل ذکر ہے کہ جس میں اس نے شیعیت کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا ہے ۔
"الفرقان لکھنو " کے خاص نمبر کے شروع میں "نگاہ اولین "کا عنوان ہے اس میں شیعیت کو سب سے بڑا فتنہ قراردکے کر عام مسلمانوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس فتنہ کا قلع قمع کردیں ۔ اور اس کے مقدمہ میں بر صغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ شیوں سے جنگ جہاد اکبر ہے اور ان سے جنگ میں ہمارا جو آدمی مارا جائے گا وہ شہید ہوگا کیونکہ یہ کافروں میں سے ہے لہذا ان پر تلوار اٹھانا جائز ہے ۔ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں اور جو شک کرے وہ خود بھی کافر ہے ۔۔۔۔۔یہ تھی اس زہریلے مقدمہ کی ایک جھلک ۔
مولانا منظور نعمانی کے اس مقدمہ کے بعد "استفتاء" ہے جس میں شیعہ اثناعشریہ کے موجب کفرتین عقائد کا خاص طور سے اور بڑی تفصیل کے
ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے ار انھیں عقائد کی بنیاد پر جہلا دین سے فتوے طلب کئے گئے ہیں ۔ وہ تینوں عقیدے یہ ہیں
۱:- حضرات شیخین کے بارے میں کہ وہ کافر ومنافق تھے اور ان دونوں کی بیٹیاں حضرت عائشہ و حضرت حفصہ بھی کافرہ اور منافقہ تھیں ۔
۲:- قرآن کے بارے میں کہ اس میں ہر قسم کی تحریف ہوئی ہے ۔
۳:- ختم نبوت کے بارے میں کہ یہ اس کے منکر ہیں ۔
موجب کفر عقائد کی تفصیلی بحث کے بعد شیعہ اثناعشریہ کے بارے میں متقدمین اور متاخرین اکابر علماء امت اور فقہائے کرام (بقول منظور نعمانی) کے فیصلے اور فتوے ہیں ۔ ان کےنام ملاحظہ ہوں ۔
۱:- امام ابن حزم اندلسی متوفی سنہ ۴۵۶ ھ ۔ ۲:- قاضی عیاض مالکی متوفی سنہ ۵۴۴ھ ۔ ۳:- شیخ عبدالقادر جیلانی متوفی سنہ ۵۶۱ ھ ۔ ۴:- امام ابن تیمیہ جنبلی متوفی سنہ ۷۳۸ ھ ۔ ۵:- علامہ علی قاری متوفی سنہ ۱۰۱۴ ھ ۔ ۶:- علامہ بحرالعلوم لکھنوی ۔۷:- علامہ کمال الدین المعروف با بن الحام ۔۸:- فتاوی عالمگیر ی (جسے اورنگ زیب کے حکم سے ملاؤں کی ایک جماعت نے مرتب کیا )۔۹:- علامہ ابن عابد ین شامی ۔۱۰:- مولانا عبد الشکور فاروقی لکھنوی (لکھنو کے شیعہ فسادات کی جڑ ۔۔۔کہ جس کو مرے ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا )۔
اس کے بعد دور حاضر کے ہندوستان کے اصحاب فتوی اور دینی مدارس کے فتاوی وتصدیقات ہیں جن کی طویل فہرست کو یہاں نقل کرنا ممکن نہیں ۔ پھر پاکستان کے ممتاز مراکز افتا اور اصحاب علم فتوی کے فتوے اور تصدیقات درج ہیں ۔
ہم صرف پاکستانی جہلا دین کے فتوی اور تصدیقات کا عکس پیش کررہے
ہیں کیونکہ سب فتوے پیش کئے گئے تو اس میں تقریبا ۱۰۰ صفحات ہوجائیں گے جس کی گنجائش نہیں ۔
ہم پہلے باب میں اقراء ڈائجسٹ کے نقش آغاز اور اصل کتاب (جوکہ اقراء اور بینات میں شائع کی گئی ہے ) کے نقش اولین کا جواب دیں گے اور پھر ان تین عقائد پر گفتگو کریں گے جن کی وجہ سے شیعہ اثناعشریہ کو کافر قرار دیاگیا ہے ۔
یہ بیوقوف شیشہ کے گھر میں بیٹھ کر مضبوط اور مستحکم قلعے پر پتھر پھینکتے ہیں جب ان پر شیعہ دشمنی کا دورہ پڑتا ہے تویہ خانہ خدا کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے ۔خانہ خدا کے دروازے کو ایسے بینروں اور پوسٹروں سے سجاتے ہیں کہ جن پر فساد پھیلانے کی ترغیب اور شیعیت پر الزامات اور بہتان تراشیاں ہوتی ہیں ۔ ۔۔۔کچھ تو تفنن طبع کا ثبوت بھی دیتے ہیں ۔مقدس امام بارگاہوں کو " ایمان بگاڑئے " لکھتے ہیں اور مزید کرم فرماتے ہوئے انھیں عیاشی کے اڈے قراردیتے ہیں ۔۔۔۔ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ کہاں مسجد کا دروازہ اور کہاں بیہودہ باتیں ۔ ۔۔۔مگر یہ تو ہم سوچ رہے ہیں حقیقت تویہ ہے کہ اس مسجد اور مدرسہ کے در ودیوار ان باتوں سے مانوس ہیں ۔
میر تقی میر نے شاعرانہ ترنگ میں مجازا ایک بات کہہ دی تھی ۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
اور انھیں میر صاحب کی یہ بات اتنی پسند آئی کہ گرہ میں باندھ لی اور غالبا یہ کسی رافضی کی پہلی بات تھی کہ جو انھیں اچھی لگی اور نوبت یہ آئی کہ
ان سے بھی پیروی میر ہو ا کرتی ہے
یہ بھی عطار کے لونڈے سے دوالیتے ہیں
اور قیامت یہ ہے کہ گواہی مسجد اور مدرسہ کے حجرے دیتے ہیں ۔
جہاں تک امام بارگاہوں کاسوال ہے تو ان کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہوئے ہیں ۔وہاں کوئی تقریب ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں کسی کے آنے پر پابندی مجلس ہوتی ہے تو خوتین کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے اگر صرف تبرکات کی زیارت کاسلسلہ ہوتا ہے تو عورتوں اور مردوں کی الگ قطاریں لگتی ہیں ۔ ہزاروں لاکھوں کے جلوس کے ساتھ ہزاروں خواتین بھی ساتھ ہوجاتی ہیں مگر مجال نہیں کہ ذرا بھی بے حرمتی ہوجائے ۔
یہ فسادی اپنی تخریبی سوچ اورمخصوص حلئے سے پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ فی سبیل اللہ فساد پھیلا ؤ اور اپنے چھوٹے چھوٹے قدوں کو بڑا کرو اور پھر اس فساد کا معاوضہ ڈالر اور ریال کی شکل میں وصول کرو ۔۔۔۔۔ ذرا غور تو فرمائیے کہ فتنہ کی جڑ مولوی عبد الشکور لکھنوی (جو واصل جہنم ہوچکا ہے ) کے اگلے ہوئے لقموں کو چبانے والے مولوی منظور نعمانی کی فتنہ سامانی کو ایک تواتر کے ساتھ لکھنو (ہندوستان) سے پاکستان درآمد کیا جارہا ہے ۔مگر یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے ؟شیعہ تو پہلے بھی بر صغیر پاک وہند میں رہتے تھے اور انہی تیوروں سے اب بھی رہ رہے ہیں کہ جیسے پہلے رہتے تھے ۔اب کوئی نئی بات تو نہیں ہوئی سوائے انقلاب ایران کے ۔۔۔۔مگر یہ انقلاب ایران ہی تو ہے کہ جو شہنشاہیت پر قیامت بن کے ٹوٹا ہے اب سعودی شہنشاہیت اس کی زد میں ہے ۔خلیجی ریاستوں کے شيخ پریشان ہیں ۔ انھیں ایسے ایجنٹوں کی بہت ضرورت ہے
کہ جو ایران کے طاقتور پڑوس میں ان کےمفادات کےلئے کام کرسکیں چنانچہ پاکستان یمں سواد اعظم کا ٹولہ سعودی آقاؤں کی ایما پر پاکستان کے شیعوں کے خلاف یہاں کے عوام کو ورغلا نے کے کام پر لگا ہوا ہے تاکہ ایرانی انقلاب کی حمایت کے ایک طاقت ور عنصر کو کمزور کردیا جائے اور ساتھ ساتھ آقائے خمینی اور ایرانی انقلاب کے خلاف بھی مہم جاری ہے تاکہ وہ سنی مسلمان کہ جو ایرانی انقلاب سے متاثر ہیں بد ظن ہوجائیں ۔
یہ اپنی مکروہ سوچ کے علاوہ اپنے مکروہ حلیئے سے بھی پہچانے جاسکتے ہیں ۔ ان کے سرگنجے ہوتے ہیں اور کجھور کی یا کپڑے کی بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی گول ٹوپیاں پہنتے ہیں اور جب فیشن کے موڈ میں ہوتے ہیں تو کلف لگی ہوئی چوگوشی ٹوپیوں کو سروں پر کھڑا کرلیتے ہیں ۔ بڑی سر سبز اور شاداب دارھیاں رکھتے ہیں اور مونچھوں کی جگہ پر روز استرا پھیرتے ہیں ۔ کندھے پر ریشمی خانہ دار رومال پڑا رہتا ہے ۔پیٹ عام طور سے بھاری ہوتاہے ۔گھٹنوں تک سفید کرتا اور اس کے نیچے اونچی واٹنگی شلوار پہنتے ہیں ۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ جس مولوی کی شلوار جتنی اونچی ہوتی ہے اتنا ہی وہ شقی القلب ہوتا ہے ۔
مومن صادق کی پہچان یہ کہ کہ خشیت الہی سے اس کا چہرہ زردی مائل رہتا ہے مگر ان کا چہرا خاصا کھایا پیا لگتا ہے ۔چنانچہ جوش ملیح آبادی کو ان کے یہ چہرہ اچھا لگا اور انھیں کہنا پڑا ۔
وضو کے فیض سے سر سبز داڑھی
خدا کے خوف سے چہرہ گل تر
آخر میں ہماری تجویز ہے کہ ہمارے صدر صاحب اس مخلوق کو ایک بحری جہاز میں بھرکر سعودی عرب کی طرف روانہ کردیں اور اگر سعودی حکومت انھیں
قبول کرنے پر تیار نہ ہو تو واپسی میں کراچی کی بندرگاہ آنے سے پہلے ہی جہاز کے پیندے میں بڑا سوراخ کردیا جائے ۔۔۔۔۔
ہم نے" اقراء" اور " بینات " کا جواب ختم ہی کیا تھا کہ کہ ۴ اپریل سنہ ۱۹۸۸ کا" ہفت روزہ تکبیر " سامنے آیا ۔جس میں ایک نام نہاد اسکالر کا بے شرمی سے لبریز انٹرویو چھپا ہے ۔چنانچہ اس کا جواب بھی شامل کیا جارہا ہے
علی اکبر شاہ
مئی سنہ ۱۹۸۸ء
فتنہ سامانیاں
اقراء ڈائجسٹ " شیعیت نمبر " کے نقش آغاز اور ماہ نامہ فرقان کی "نگاہ اولین "سے اقتباسات :-
"اسلام کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں اور فتنوں سے بعض فتنے انتہائی شدید اور خطرناک تھے مگر ان میں بھی روافض کا فتنہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ۔اس فتنہ کی جڑیں مضبوط گہری اور بہت لمبی ہیں ۔ اس فتنہ کا بانی ابن سبا تھا ۔ جس نے اہل بیت کےفضائل بیان کرکے ان کا سہارا لینے کی کوشش کی ۔اسی نے صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کو الگ الگ طبقہ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔
جس طرح دوسرے فتنوں کا مقابلہ علمائے دیوبند نے کیا اسی طرح اس فتنہ کی سرکوبی بھی اللہ تعالی نے اسی علماء حق کے قافلے کے نام لکھ دی ہے حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی فاروقی نے جس طرح اس فتنہ کے عقائد وعزائم کا اظہار کیا ۔ ان کے کفریات کا ظاہر کیا ۔اس پر وہ امام اہلسنت اور قائد اہلسنت کہلائے جاتے ہیں ۔ ان کو اللہ تعالی نے اس فتنہ کے مقابلے کا خاص ذوق اور ایک درد عطا کیا تھا ۔حضرت مولانا قدس سرہ نے ساٹھ سال پہلے ان کے کفر کافتوی دیا تھا اور دیوبند کے بڑے بڑے علماء نے اس پر دستخط فرما کر اس کی تصدیق کی ۔
آج کے اس دور میں جب فتنہ روافض نے خمینی کی شہ پر سرابھارا تو اللہ تعالی نے دیوبند کے ایک فرزند کو اس کام کے لئے کھڑا کیا "
"ہم اپنے تمام قارئین اور سنی علماء سے یہ گذارش کریں گے کہ وہ اس استفتا اور فتوی کا بغور مطالعہ فرمائیں اور روافض کے عقائد سے آگاہی حاصل کریں ۔ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اسلام دشمنی اور مکر وفریب پررکھی گئی ہے ۔اس کی سازشوں سے خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کا شکار نہ ہونے دیں ۔
اس موقع پر ہم ارباب اقتدار سے یہ بھی گزارش کریں گے کہ اس نے مسلسل شیعہ نوازی کاجو رویہ اختیار کا ہوا ہے اسے چھوڑدے اور سنی مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب نہ بنے اور شیعوں کے ساتھ وہ معاملہ کرے جو کسی اقلیت کےساتھ کیا جاتا ہے ۔ان شیعوں کو نوازنے کی پالیسی چھوڑ کر ان کو لگام دے "
(نقش آغاز ،۔اقراء کا خصوصی شیعیت نمبر )
"اسلام کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا ہرشخص جانتا ہے ہے کہ جن داخلی فتنوں اور منافقانہ تحریکوں سے اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ان کا سرچشمہ اور ان میں سب سے زیادہ طویل العمر اور سخت جان فتنہ شیعیت ہے ، جسے ہماری شامت اعمال کے طور پر اس زمانہ میں نئی زندگی ملی ہے لیکن شاید یہ نئی زندگی مستقبل میں اس کے لئے " افاقتہ الموت" ثابت ہو ،البتہ اس کا انحصار سنت اللہ کے مطابق اس باپ پر ہے کہ کتنی جلدی ہماری قوم اس فتنہ کی سنگینی کو صحیح طور پر سمجھتی ہے ، اور اس کے شرسے اپنی حفاظت کیلئے کتنے عزم وارادہ ،کتنی غیرت وحمیت اور کتنی چستی وبیداری کا ثبوت دیتی ہے ۔
امت مسلمہ کو اس پر انے اور مکار دشمن کی حقیقت سے صحیح طور پر باخبر کرنے اور غیرت وجراءت مندی کےساتھ اس فتنہ کے فیصلہ کن مقابلہ پر اسے آمادہ کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی الفرقان کیا یہ خاص نمبر ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے " (نقش اولیں)
شاید آپ "فتنہ "اور ظلم کے خلاف مزاحمت میں فرق کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ کے خیال میں ظالم کو ظالم کہتے رہنا فتنہ پروری ہے ۔
آپ کے خیال میں شیعیت وہ فتنہ ہے جس کی جڑیں مضبوط ،گہری اور لمبی ہیں " آپ سمجھتے ہیں کہ شیعیت اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں میں سب سے زیادہ "طویل العمر اور سخت جان " ہے مگر آپ کو یہ نہیں معلوم کہ فتنہ تو شجر ملعونہ "ہے کہ جس کی جڑیں گہری نہیں ہوتیں اور عمر بھی طویل نہیں ہوتی ۔شیعیت تو "شجر طیبہ "ہے کہ جس کی جڑیں گہری ہیں اور شاخیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔شیعیت کی جڑوں کی مضبوطی ،گہرائی ،طویل العمری اور سخت جانی ہی تو اس کے حق ہونے کی دلیل ہے ۔
اب تو مدتیں گزرگئیں ابن سبا کا تذکرہ کرتے ہوئے ۔آپ کب تک اس بیجان افسانوی کردار کو شیعیت کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے کیا افسانوی کردار کو شیعیت کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے کیا افسانوی کردار سے تاریخ کی حقیقتیں چھپ سکتی ہیں ؟
آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ شیعیت کا بانی ابن سبا نہیں تھا بلکہ شیعیت کا جود تو اتنا ہی قدیم ہے کہ خود جتنا اسلام کواور" صحابہ کرام"
اور"اہلبیت" کو الگ الگ طبقہ ثابت کرنے کی کوشش بے چارے ابن سبا نے نہیں کی ہے بلکہ یہ تونام ہی ظاہر ہے کہ طبقے الگ الگ تھے اور تقسیم فطری تھی ۔
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی دفعہ اعلان نبوت
کیا تو آپ کی رفیقہ حیات جناب خدیجہ نے فورا صدق دل سے تصدیق فرمائی اور اپنے شوہر کے مشن کی خاطر ہر قربانی دینے پر کمر بستہ ہوگئیں اور اس گھر میں پرورش پانے والا ایک بچہ کو جو آنحضرت کا عم زاد تھا ۔ ان کے پیچھے اس طرح چلتا جیسے اونٹنی کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہے ۔اعلان نبوت کےبعد بھی اس طرح چلتا رہا ۔ یہ بچہ علی رسول کے چچا ابو طالب کا بیٹا تھا ۔خدیجہ نے اپنی ساری دولت شوہر کے مشن پر قربان کردی اور عرب کی یہ ملکہ اپنے شوہر کے دکھ درد میں شریک ہوگئی اور علی ابن ابی طالب اپنے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد ونصرت کرنے لگے ۔
آنحضرت باہر نکلتے تو کفار کے بچے پتھر مارتے اور علی علیہ السلام ان کو مار بھگاتے ۔
دعوت ذوالعشیرہ میں بھی صرف اسی بچے نے رسول اللہ سے نصرت کا وعدہ کیا جب کہ اس دعوت میں بڑے بڑے بزرگ موجود تھے ۔
خدیجہ اورعلی بس یہی تھے ابتدائی اہلبیت ۔پیکر ایثار ووفا اور پھر یہ دعوت اسلام گھر سے باہر گئی تو غیروں نے اسے قبول کرنا شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں کچھ لوگ مسلمان بن گئے اور یہی اغیار ابتدائی قسم کے صحابہ کہلاتے ہیں مگر ان میں اسلام کے لئے یکساں جذبات نہ تھے کوئی انتہائی مخلص تھا اور صدق دل سے اسلام لایا تھا تو کسی کے آگے اپنی مصلحتیں تھیں اور اس بات کو زمانے نے بھی ثابت کردیا ۔
یہ تھی صحابہ اور اہلبیت کی فطری تقسیم کیونکہ جگر جگر ہے ۔ ديگر دیگر ہے اور ابن سبا کے افسانہ کا جو زمانہ بتا یا جاتاہے وہ بہت بعد کا ہے ۔یہ تقسیم تو بالکل شروع سے چلی آرہی ہے لہذا ابن سبا سے اس تقسیم کا کوئی افسانوی تعلق بھی قائم نہیں ہوسکتا ۔
لوگ شامل ہوتے رہے اور کارواں بنتا رہا ۔صحابہ کرام کی تعداد بڑھتی رہی ۔ ادھر رسول کی پیاری بیٹی کی جو سیرت وکردار میں اپنی ماں خدیجہ (رض) کیطرح تھی کا عقد علی ابن ابی طالب (علیھما السلام) سے ہوا اور قدرت نے آنحضرت کو دو نواسے عطا کئے اور اس طرح سے اہلبیت کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ۔
صحابہ کرام میں سے وہ بزرگ کہ جن میں رضائے الہی کے حصول کے سوا کوئی اور جذبہ نہ تھا انھوں نے رسول کےساتھ ساتھ اولا رسول سے بھی عشق کیا اور ہمیشہ ان سے مخلص رہے ۔ ان مخلص صحابہ میں سلمان فارسی ابو ذر ،عمار یاسر اور مقداد سرفہرست ہیں اور سلمان تو اتنے قریب ہوئے کہ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ نے انھیں اپنے اہل بیت میں داخل فرمالیا
یہ اور اس طرح کے دوسرے صحابہ کرام کو جو اہلبیت کے کبھی مقابل نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ ان کے جانثار بنے رہے ابتدائی شیعہ ہین جیسے جیسے اہل بیت کے مخالف نمایاں ہوتے گئے ان حضرات کی شیعیت بھی نمایاں ہوتی گئی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب صحابہ کا ایک گروہ اہلبیت کا سیاسی حریف بن کر سامنے آیا تو اہل بیت کے دامن سے وابستہ صحابہ کرام کی شیعیت بالکل واضح ہوگئی ۔
تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنے والے ہرشخص کویہ جاننا چاہئیے کہ شیعیت کی تاریخ محبت و ایثار اور قربانیوں کی تاریخ ہے ،فتنہ پروری کی نہیں ۔ڈاکٹر علی شریعتی کے مطابق "شیعیت ایک ایسا اسلام ہے کہ جس نے علی (ع) جیسے عظیم انسان کی ایک "نہیں" نے اپنے آپ کو پہچنوایا اور تاریخ اسلام میں اپنی راہ متعین کی ۔ علی وارث محمد (ص) تھے اور ایسے اسلام کا مظہر جس میں
عدل تھا اور حق ۔یہ"نہیں " کی آواز خلافت کی انتخابی کمیٹی کے سامنے بلندہوئی تھی یہ عبدالرحمن بن عوف کاجواب تھا اور یہ شخص جاہ پرستی اورمصلحت پسندی کا مظہر تھا "
عبدالرحمن بن عوف کا علی (ع) سے صرف اتنا سوال تھا کہ اگر تم سیرت شیخین پر چلنے کا وعدہ کرو تو خلافت تمہارے حوالے کردی جائے مگر علی (ع) کی ایک "نہیں" نے علی کی سیرت وکردار کو پوری دنیا پر واضح کردیا اور شیعیت کی راہ ہمیشہ کے لئے معین کردی ۔اس "نہیں " کے نتیجہ میں حضرت علی تیسری مرتبہ اپنے جائز حق سے محروم کردیئے گئے ۔اور بنوامیہ کے ایک بزرگ حضرت عثمان "ہاں" کرکے مسند رسول پر بیٹھ گئے ۔شیعہ صحابی جناب مقداد مسجد نبوی میں پکارا ٹھے کہ کاش ہمارے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ ہم اہل بیت کو ان کا حق دلا سکتے ۔ اگر ہمت ہو تو کہہ دیجئے کہ حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ فتنہ پھیلانے کی کوشش کی ۔
حضرت عثمان کے خلیفہ بننے کے بعد اہلبیت اور اسلام کا دشمن قبلیہ بنوامیہ مسلمانوں کے امور کا مالک بن گیا ۔لوگوں کے حقوق غصب کئےجانے لگے اورحکمرانوں طبقہ نے وہ تمام باتیں اختیار کرلیں کہ جنھیں مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا پھر ایک شیعہ صحابی جناب ابو ذر کھڑے ہوگئے اور حکومت وقت کی پالیسیوں پرنکتہ چینی شروع کردی۔خلیفہ نے گبھرا کر انھیں شام کے اموی گورنر معاویہ کے پاس بھیج دیا ۔ یہ معاویہ کون تھا ؟ دشمن رسول (ص) ابو سفیان اور امیر حمزہ (رض) کا کلیجہ چبانے والی کا بیٹا ۔۔۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ اس نے قیصر وکسری کی روش اختیار کر رکھی تھی ۔ ابو ذر نے یہاں چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز دیکھا تو تڑپ اٹھے ۔وہ مسجد میں ہوتے یا گلی کوچے
میں اس فتنہ کے خلاف آواز اٹھاتے ۔لوگوں کو اسلام کی اصل روح سے آگاہ کرتے ۔ چنانچہ انھیں یہاں سے ایک بے کجادہ اونٹ پرسوار کرکے خلیفہ کے پاس روانہ کردیا گیا ۔جب آپ مدینہ پہنچے تو آپ ی رانیں زخمی تھیں ۔اب پھر خلیفہ کو ابوذر کی نکتہ چینی کاسامنا تھا ۔ لہذا انھوں نے ان کو ایک ویران مقام "ربذہ " کی طرف جلاوطن کردیا ۔ وہیں یہ صحابی رسول عالم مسافرت میں اس دنیا سے رخصت ہوا ۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں خلیفہ وقت نے ایک اور شیعہ صحابی حضرت عمار یاسر کو بھی تشدد کانشانہ بنایا ۔
دراصل یہ اور دوسرے مخلص صحابہ کرام تھے کہ جو اسلام کی تعلیمات کو مسخ ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے اور اس بات کا گہرا شعور رکھتے تھے کہ یہ سب کچھ محض اس لئے ہورہا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد خلافت ان کے اصل جانشین سے جدا کردی گئی تھی ۔تیسری خلافت کے دوران نوبت یہان تک پہنچی کہ کوفہ کے گورنے ولید بن عتبہ نے نشہ کی حالت میں صبح کی نماز دو کے بجائے چار رکعت پڑھادی اور پھر ایک مرتبہ جھوم کر نمازیوں کی طرف متوجہ ہوا کہ کہو تو دورکعت اور پڑھا دوں ۔بیت المال کو جو کبھی اللہ کا مال سمجھا جاتا تھا اب خلیفہ کو ذاتی ملکیت بن چکا تھا اور پھر ستم یہ کہ اس داد ہش کادائرہ صرف بنو امیہ تک محدود تھا ۔۔۔۔ مروان بن حکم کہ جسے اور اس کے باپ کو رسول اللہ نے مدینہ سے نکال دیا تھا ۔ اب پھر واپس بلالئے گئے خلیفہ نے مروان جیسے سیاہ کارکو اپن مشیر خاص بنالیا (تاریخ گواہ ہے کہ یہی مروان خلیفہ کو لے ڈوبا )یہ وہ صورت حالات تھی کہ جس پر عوامی رد عمل ہونا ضروری تھا کیونکہ ابھی ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی کہ جنھوں نے رسول اللہ کازمانہ دیکھا تھا اور وہ اسلام کی اصل روح کو سمجھتے تھے
اور پھر وہ صحابہ کرام کہ جنھیں اہلبیت کی طرف رجحان رکھنے کے سبب شیعہ صحابہ کہا جاسکتا ہے اس عوامی رد عمل میں پیش پیش تھے مگر ابن سبا کہ جو اسی دور کی شخصیت بتائی جاتی ہے کے بارے میں اس عوامی رد عمل کے حوالے سے بات کیجاتی ہے تو اس کا کردار افسانوی لگتا ہے ۔۔۔خلیفہ سوم یا ان کے عمال کے خلاف جتنی شورشیں ہوتیں ان میں ابن سبا نام کا کوئی شخص نظر نہیں آتا ۔ہر جگہ مالک اشتر ،عمرو بن الحمق ،محمد بن ابی بکر (رضی اللہ علیھم) ہی پیش پیش نظرآتے ہیں ۔
حضرت عثمان کے بعد مسلمان حضرت علی (ع) کے ہاتھ پر بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے اور جب پہلی مرتبہ صحیح خلافت قائم ہوگئی تو وہی گروہ اس کے خلاف سرگرم ہوگیا کہ جو شروع ہی سے نہیں چاہتا تھا کہ خلافت کی مسند پر علی (ع) نظر آئیں،چنانچہ قصاص خون عثمان کا نعرہ لگا کر پہلے عائشہ بنت ابی بکر دختر خلیفہ اول حضرت علی (ع) کے مقابلہ پر آئیں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد شام کے گورنر معاویہ بن سفیان نے ان سے جنگ کی ۔ ان دونوں جنگوں میں عام مسلمانوں کے علاوہ شیعہ صحابہ کرام کثیر تعداد میں اپنے امام کے ہمرکاب تھے ۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے بڑے بیٹے جناب حسن علیہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئے تو شیعہ ان سے وابستہ ہوگئے اور جب آپ نے معاویہ سے صلح کرلی تو بھی شیعہ آپ سے وابستہ رہے ۔
حضرت امام حسن علیہ السلام جب تک زندہ رہے معاویہ کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے اور آخر کار اس نے ان کی جان لے کر ہی چھوڑ دی ۔علی الاعلان کچھ نہیں کرسکتا تھا تو زہر دغا سے شہید کردیا اور یہ سمجھ لیا کہ اب بادشاہت اس کی ہے ۔چنانچہ مرنے سے کچھ پہلے اپنے منحوس فرزند یزید لعنت اللہ
علیہ کو ولی عہد نامزد کردیا ۔اپنی زندگی ہی میں اس کی ولی عہدی پر بیعت لے لی مگر حسین ابن علی علیھما السلام سے ایسے مطالبہ کی جراءت نہ کرسکا ۔
معاویہ کی وفات کے بعد یزید تخت نشین ہوا اوراس نے مدینہ کے گور نر کو لکھا کہ حسین ابن علی (علیھما السلام) سےبیعت کامطالبہ کیا جائے کہاں نواسہ رسول حسین ابن علی (علیھماالسلام) اورکہاں ابو سفیان کے پوتے یزید بن معاویہ کی بیعت -
چہ نسبت خاک راباعالم پاک
نواسہ رسول نے بیعت یزید کو ٹھوکر مارا اور خطرات سے بے نیاز ہو کر نکل کھڑے ہوئے تویہاں بھی شیعہ ساتھ تھے ۔۔۔۔۔
بہتر جانوں نے اس طرح جام شہادت نوش کیا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔غیرت وعقیدت کامسئلہ نہ ہوتا تو جان بھی بچتی اور انعام بھی ملتا ۔
حسین علیہ السلام شہید ہوگئے ۔ ہزاروں شیعہ مختلف وجوہ کی بنا پر نصرت امام نہ کرسکے ۔بعد شہادت حسین (ع) ،سلیمان بن صرد کی سرکردگی می روضہ حسین (ع) پر گئے اور رات بھر گریہ زاری کرتے رہے ۔صبح ہوئی تو اہلبیت کے دشمنوں سےٹکرانے کے لئے چل دئیے ۔ اس اندوہناک واقعہ نے ان کی ضمیر کو اس طرح جھنجھوڑ ا تھا کہ اب ان میں جینے کی خواہش ہی ختم ہوگئی تھی ۔چنانچہ وہ دشمن کے خاتمہ پر تل گئے اور اس وقت تک دشمن کامقابلہ کرتے رہے جب تک کہ خود ختم نہ ہوگئے اور اس وقت تک دشمن کامقابلہ کرتے رہے جب تک کہ خود ختم نہ ہوگئے ۔چند افراد کے علاوہ سب ہی نے جان دیدی
ممتاز شیعہ مختار ثقفی کہ جو شہادت حسین علیہ السلام کے وقت پابند سلاسل تھے کی بیڑیاں کٹیں تو انھوں نے بھی قاتلان حسین (ع) سے انتقام لینے کی ٹھانی اپنے گرد ہزاروں شیعہ اکٹھا کئے ۔پھر چن چن کر قاتلان حسین (علیہ السلام)کو تہہ تیغ کیا
اس خونریزی کے دوران ہزاروں شیعوں نے جان ومال کی قربانی دی سانحہ کربلا کے بعد شیعیت کو ایک نئی زندگی ملی ۔قربانی کا ایک نیا جذبہ اور ولولہ ولائے اہلبیت کی بھر پور روشنی !
سانحہ کربلا کے تقریبا دوسال بدع یزید واصل جہنم ہوا ۔پھریزیدوں کی لائن لگ گئی ۔چہرے الگ الگ تھے مگر سب یزید ۔تاریخ کا کیسا جبر ہے کہ کس مسند رسالت پر خلیفہ رسول کے نام سے کیسے کیسے کوڑھی چہرے نظر آتے ہیں ۔ مردان بن حکم ،عبدالملک بن مروان ،ولید بن عبد الملک ہشام بن عبد الملک اور پھران کے خونین گورنروں کا سلسلہ ،سب سے بڑھ کر عراق کا گورنر حجاج بن یوسف ،جس کے بارے میں مولانا مودودی عاصم بن ابی النجود کا قول بیان کرتے ہیں کہ " اللہ کی حرمتوں میں کوئی حرمت ایسی نہیں رہ گئی جس کا ارتکاب اس شخص نے نہ کیا ہو اور پھر مولانا وموصوف حضرت عمربن عبدالعزیز کا قول بیان فرماتے ہیں کہ " اگر دنیا کی تمام قومیں خباثت کا مقابلہ کریں اور اپنے اپنے سارے خبیث لےآئیں تو ہم تنہا حجاج کو پیش کرکے ان پر بازی لے جاسکتے ہیں ۔(خلافت و ملوکیت ص ۱۸۵، ۱۸۶)
پھر آگے چل کر کہتے ہیں کہ یہ ظلم وستم اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں ایک مرتبہ حضرت عمربن عبدالعزیز چیخ اٹھے کہ۔
"عراق میں حجاج ،شام میں ولید مصر میں قرہ بن شریک ،مدینہ میں عثمان بن حیان ، مکہ میں خالد بن عبداللہ القسری ،خداوند تری دنیا ظلم سے بھر گئی ہے ، اب لوگوں کو راحت دے "۔(خلافت وملوکیت ۔۱۸۷ ۔ابن اثیر جلد ۴ ص ۱۳۷)
کو مرتے وقت وصیت کی کہ حجاج بن یوسف کا ہمیشہ لحاظ کرتے رہنا ۔کیونکہ وہی ہے جس نے ہمارے لئے سلطنت ہموار کی ، دشمنوں کو مغلوب اور ہمارے لے خلاف اٹھنے والوں کو دبایا ۔"
(ابن اثیر جلد ۴ ص ۱۰۳ البدایہ جلد ۹ ص ۶۷ ،ابن خلدون جلد ۳ ص ۵۸)
ان یزون سے پہلے جن حضرات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ تو غلطی کرتے نہیں تھے ۔ خطا اجتہادی کرتے تھے ،مگر ان وحشی درندوں کے بارے میں کہ جن کے مظالم پر عمر بن عبدالعزیز بے اختیار چیخ اٹھے کہ خداوند تری دنیا ظلم سے بھر گئی ،اب تو انھیں راحت دے ۔یہ مولوی کیوں خاموش ہے ؟ ان بے رحم خلیفوں اور ان کے درندہ صفت گورنروں کے ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے والے شیعہ کو تو اسلام دشمن اور فسادی کہا جاتا ہے مگر ان ظالموں کےبارے میں زبان خاموش ہے ۔۔۔۔۔۔بات یہ ہے کہ ظلم کی حمایت ان کی میراث ہے ۔
ہندوستان میں بھی شیعوں پر کچھ ظلم نہیں ڈھائے گئے ۔ اس سلسلہ میں فیروزشاہ تغلق کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے جس نے شیعوں کو قتل کرایا ۔مختلف نوعیت کی سزائیں دیں ۔ جزیہ تک عائد کردیا ۔
اور اب پاکستان میں سود اعظم اہلسنت کےنام سے ایک یزیدی گروہ پھر سرگرم عمل ہے ،
اس سلسلہ کلام کے آخر میں ہم یہ عرض کرتے ہوئے کہ شیعیت مظلومیت اور مظلوم کی حمایت کی تاریخ ہے مولانا مودودی کی تحریر پیش کرتے ہیں "
"بنو امیہ کے خلاف ان کےطرز حکومت کی وجہ سے عام مسلمان میں جو نفرت پھیلی اور اموی وعباسی دور میں اولاد علی (ع) اور ان کے حامیوں پر ظلم وستم کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں ہمدردی کے جو جذبات پیدا ہوئے انھوں نے شیعی دعوت کو غیر معمولی طاقت بخش دی " (خلافت وملوکیت ص ۲۱۱)
آپ کایہ فرمانا کہ فتنہ روافض نے خمینی کہ شہ پر سر ابھارا ہے ۔۔۔۔۔۔تو جناب یہ دبا ہوا کب تھا ،یہ تو آزادی کا دور ہے ۔بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں بھی یہ سرابھارتا رہا ہے ۔اور کٹتا رہا ہے ۔ ۔۔۔۔پاکستان اور ہندوستان کے شیعوں نے کون سی نئی
گستاخی کی ہے جس کی بنا پر سر " ابھارنے " کا محاورہ استعمال کیا جارہا ہے ۔مجلس ،ماتم اور جلوس جو پہلے تھا سواب بھی ہے اور اسی طرح سے ہے کہ جیسے پہلے تھا ۔۔۔۔۔۔دراصل آپ کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ شیعیت نے ایران کے اسلامی انقلاب کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنے آپ کو پہچنوایا ہے ۔آپ کو تکلیف یہ ہے کہ اسلام اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ ہوا تو شیعہ کے ہاتھوں ۔اور صرف ایران ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر اس کے اثرات پڑے ہیں ۔خاص طور سے شیعوں میں ہر جگہ ایک انقلابی طبقہ وجود میں آگیا ہے ۔۔۔۔۔آپ کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی وجہ سے عرب ریاستوں کے بد معاش شیخوں اور سعودی عرب کے شاہی لٹیروں کو خطرات لاحق ہیں ۔۔۔۔۔اور یہ سب آپ کے آقا ہیں ۔
آپ کے دلوں میں ابو سفیان والا اسلام نہ ہوتا تو آپ بھی اسلامی انقلاب سے عام مسلمانوں کی طرح خوش ہوتے ، مگرآپ خوش ہونے کے بجائے عام مسلمانوں کو آقائےخمینی اور اس انقلاب سے بد ظن کرنے کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہے ہیں ۔
آپ نے ارباب اقتدار سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ شیعہ نوازی کا رویہ
چھوڑیں اور شیعوں کے ساتھ وہ معاملہ کریں جو کسی اقلیت کے ساتھ کیاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ارباب اقتدار تعلیم یافتہ ہیں وہ مسلمانوں کے ساتھ اقلیت کاسا سلوک کیسے کرسکتے ہیں ۔ پڑھے لکھے باشعور حکمراں تو اقلیتوں کے جذبات کازیاد ہ خیال رکھتے ہیں تاکہ انھیں یہ احساس نہ ہو کہ محض اقلیت ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ۔ آئین کی رو سے بھی بلا امتیاز مذہب وعقیدہ تمام شہریوں کویکساں حقوق حاصل ہیں ۔ دراصل آپ کو شیعوں کے معاملے میں اقلتیں اس لئے یاد آئیں کہ آپ ذہنی طور سے اسی سڑے ہوئے زمانہ کی یادگار ہیں کہ اقلیتوں کی ذمی بنا کر ان سے غلاموں جیسا برتاؤ کیا جاتا تھا اور آپ شیعوں کو بھی دوسرے درجہ کا شہری بنانا چاہتے ہیں ۔
ہم آپ کو بتا دینا چاہتے ہیں اور پہلے بھی بتاتے رہے ہیں کہ ہوش میں آئیے ۔سعودی ریال کا اتنا نشہ اچھا نہیں ۔آپ اس نشہ میں اپنے گھر کو کیوں برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ یہ آپ کسے اقلیت قرار دے رہے ہیں ؟ ملک کی چوتھائی آبادی کو اور وہ بھ کوئی آپ جیسے خرکاروں کی آبادی نہیں بلکہ دانشوروں ،ادیبوں ،فنکاروں ،سیاست دانوں اور اعلی عہدیداروں کی آبادی ہے ۔آپ اس کریم کو نکال دیں گے تو آپ کے پاس بچے گا کیا ؟ یاد رکھئیے کہ ان کی وفا داریاں ملک سے اسی وقت تک برقرار رہتی ہیں کہ جب تک انھیں اپنے مخصوص روایات کے ساتھ عزت و آبرو سے جینے دیا جائے ورنہ بغداد سے لالوکھیت تک ایک ہی کہانی ہے ۔۔۔۔۔بات زیادہ بڑھی تو پھر نہ کہیں جماعت اسلامی نظرآئے گی اور نہ سواد اعظم اور نہ ہی ہفت روزہ تکفیر ۔
باعث تکفیر
دیوبند کے فتنہ پرداز منظور نعمانی نے شیعہ اثنا عشریہ کے تین خاص عقیدوں کا ثبوت (بزعم خود)ان کی بنیادی اور مستند کتابوں کے حوالہ سے پیش کرکے اصحاب فتوی سے ان کے بارے میں کفر کے فتوے لئے ہیں ۔ اس کے بقول ان تینوں عقیدوں کی نوعیت یہ ہے کہ ان سے دینی حقیقتوں کی تکذیب ہوتی ہے جنھیں علماء کی اصطلاح میں " قطعیات: اور "ضروریات دین" کہا جاتا ہے اور وہ تین عقیدے یہ ہیں ۔
۱:- شیعہ اثنا عشریہ "شیخین " یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو کافر سمجھتے ہیں ۔
۲:- شیعہ اثناعشریہ قرآن میں ہرقسم کی تحریف کے قائل ہیں ۔
۳:- شیعہ اثنا عشریہ عقیدہ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کےمنکر ہیں ۔
۱:- عقیدہ تکفیر شیخین:
مسلمانوں کے ہاں طریقہ ہے کہ جب کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرنا چاہتا ہے تو اس سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھوایا جاتا ہے اور اس طرح سے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتاہے ۔پھر اسے ایمان وعقیدہ کی باتیں سکھائی جاتی ہیں ۔ایمان مفصل ومجمل کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
ایمان مفصل :-
آمنت باللہ وملآئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالی والبعث بعد الموت ۔
میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کی کتابون پر ار اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد ج اٹھنے پر ۔
یہاں کہیں نہیں ہے کہ میں ایمان لایا ابو بکر کے ایمان لانے پر اور میں ایمان لایا عمر کے ایمان لانے پر ۔۔۔۔۔۔تو پھر کسی مسلمان کو ان دونوں کی تکفیری پرکس اصول کے تحت کافر قرار دیا جاسکتا ہے ؟
ایمان مجمل:-
" آمنت بااللہ کما ھو باسمائہ وصفاتہ وقبلت جمیع احکامہ اقرار باللسان وتصدیق بالقلب "
میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفات کے ساتھ ہے اور میں نے اس کے سارے حکموں کو قبول کیا ۔زبان سے اقرار ہے اور دل سے یقین ہے ۔
یہاں پر بھی کہیں ابو بکر و عمر کا تذکرہ نہیں ہے ،تاہم سارے حکموں کو قبول کرنے والی بات قابل غور ہے ۔۔۔۔مگر پورے قرآن میں کہ یہ حکم خدا کو معلوم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کہیں اشارۃ " بھی ابو بکر وعمر کا تذکرہ نہیں ہے ۔
دراصل یہ تاریخ کا مسئلہ ہے مگر دیوبند کے منظور نعمانی نے اسے قرآن
کا مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ اثنا عشری شیعہ کو کافر قراردیا جاسکے اس سلسلہ میں اس نے قرآن کی بہت سی آیتیں اس دعوے کے ساتھ پیش کی ہیں کہ یہ آیتیں حضرات شیخین کے بارے میں نازل ہوئیں اور یہ ثابت کرے کی کوشش فرمائی ہے کہ شیخین کے ایمان سے انکار کا مطلب یہ ہے کہ ان دینی حقیقتوں کی تکذیب کی جارہی ہے کہ جنھیں علماء کی اصطلاح میں" قطعیات " اور "ضروریات دین" کہا جاتا ہے ۔
یہ بات ایک عام پڑھا لکھا آدمی بھی جانتا ہے کہ قطعی بات وہ کہلا تی ہے کہ جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو اور ضروریات وہ ہوتی ہے ہیں کہ جن کے بغیر کہیں کوئی رخنہ پڑے ۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن میں دور رسالت کی صرف دوہستیوں کا ان کے نام کے ساتھ تذکرہ گیا گیا ہے ،ابو لہب و زید بن حارثہ ۔۔۔۔ ان کے علاوہ اس دور کا کوئی نام قرآن میں نظر نہیں آتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض آیتیں ایسی ہیں کہ جن میں شیخین کےبارے میں بغیر نام لئے کچھ کہا گیا ہے ۔مگر جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی نہیں ،چنانچہ مفسرین نے اپنے اپنے فہم وفراست اور رجحانات کے مطابق ان باتوں سے معافی ومطالب اخذ کئے ہیں ۔ ۔۔۔۔ اگر کسی آیت میں اللہ تعالی کا صحابہ کرام سے راضی ہوجانے کا تذکرہ ملتاہے تو ساتھ ساتھ اس "رضا " پر گفتگو کی بھی خاصی گنجائش ہے ۔۔۔۔غار والی آیت میں جہاں مفسرین حضرت ابو بکر کی فضیلت کا پہلو نکالتے ہیں وہاں ایسے مفسرین بھی ہیں کہ اسی آیت سے وزنی دلیلوں کےساتھ ان کے ایمان کی کمزوری کا پہلو بھی نکالتے ہیں ۔
" ایمان اوراسلام اور کفر کی حقیقت اور ان کی حدود "کے عنوانات کے تحت منظور نعمانی نے ایک عبارت لکھی ہے اور اسے لکھ کر وہ خود آپ اپنے جال میں آگئے ۔۔۔۔۔۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو دل سے اللہ کارسول مانا جائے جو وہ اللہ کی طرف سے بتلائیں اس سب کی تصدیق اور اس کو قبول کیا جائے اور اس پر ایسا یقین کیاجائے جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو ۔ ان کی کسی ایک بات کا انکار اور یقین نہ کرنا موجب کفر ہوگا ۔جن مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا اور ان کوآپ کی تعلیم بالواسطہ پہنچی (جیسا کہ ہمارا حال ہے ) ان کے لئے یہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف انھیں تعلیمات اور احکام کی ہوگی جو ایسے قطعی اور یقینی طریقہ سے ثابت ہیں جن میں شک وشبہ یا تاویل کی گنجائش نہیں ۔ مثلا یہ بات کہ حضور نے شرک وبت پرستی کے خلاف توحید کی تعلیم دی ، قیامت وآخرت ،جنت ودوزخ کی خبروں ، ایک مستقل مخلوق کی حیثیت سے فرشتوں کے وجود کی اطلاع دی ۔
قرآن پاک کو ہمیشہ محفوظ رہنے والی اللہ کی کتاب اور اپنے کو اللہ کا آخری نبی بتلا یا ۔جس کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی نبی نہیں آئے گا ،اور مثلا پانچ وقت کی نماز ، رمضان کے روزوں اور زکواۃ وحج کےفرض ہونے کی تعلیم دی اور اس طرح کی بہت سی دینی حقیقتیں اور دینی احکام ہیں جن کے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہونے کے بارے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں تو کسی کے مومن ومسلم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ایسی تمام باتوں کی اپنے علم کے مطابق (اجمالی یا تفصیلی )تصدیق کی جائے ۔ان کو دل سے مانا جائے ، قبول کیا جائے '۔
اب اس تحریر کے بعد ایمان شیخین پرایمان لانے کی "قطعیات " میں شمار کرنے کی گنجائش رہ جاتی ہے ؟ ان کے بارے میں تو کوئی حکم ہی نہیں ہے نہ قطعی نہ غیر قطعی اللہ کے حکموں کو قبول کرنے ( ایمان مجمل کے مطابق) کا دوسرا بڑا ذریعہ حدیث ہے اور حدیث میں بھی کہیں یہ نہیں ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ خبردار شیخین کے ایمان پر شک نہ کرنا ورنہ تم کافر ہوجاؤگے ۔
اگر مطلب براری کے لئے ان حدیثوں کا سہار ا لیا جائے کہ جن میں شيخین کے فضائل بیان ہوئے ہیں تو یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ دور بنی امیہ میں سیاسی ضرورت کے تحت شیخین کی فضیلت کے لئے بہت سی حدیثیں گھڑی گئی ہیں اور پھر ایسی حدیثیں بھی ہیں جن سے شیخین کی شخصیت کے تاریک پہلو سامنے آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی قطعی بات تونہ ہوئی ۔پھر ایمان شیخین پر یقین کو قطعیات کیسے کہہ سکتے ہیں ۔؟
آپ کے خیال میں صحابہ کرام پر ضروریات دین کی اصطلاح کا بھی اطلاق ہوتا ہے ۔کیونکہ "دین "صحابہ ہی کے ذریعہ سے مسلمانوں تک پہنچا ہے مگر ہم یہ عرض کریں گے کہ آپ نے تو حصول دین کے لئے خود اپنی پسند کاراستہ اختیار کیا ہے ۔۔۔۔یہ آپ کی پسند معاملہ ہے اسلام کا نہیں ۔۔۔۔آپ نے خود سنگین غلطی کی اور شیعوں سے کہتے ہیں کہ تم کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے ہر صحابی کو معتبر جانا ، محض اس لئے کہ وہ رسول اللہ پر ایمان لایا اور انھیں دیکھا حجتہ الوداع تک صحابہ کی تعداد کم از کم ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی تو کیا یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ہر شخص "عادل" ہو ۔ پھر یہ کیا تماشہ ہے "الصحابہ کلھم عدول" یعنی تمام صحابہ عادل ہیں ،اور پھر اس کے آگے ایک او ر قیامت "اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم "
یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ۔ ان میں سے جس کی اقتد کروگے راستہ پاؤگے ۔
ذرا سوچئے تو کہ آج کے دور میں اگر رسول اللہ صلعم کی بیعثت ہوئی تی تو کیا گدھے گاڑی والا ،بس کنڈیکٹر ،دھوبی ،نائی ،قصائی ،ڈاکٹر ،انجینئر پروفیسر اور تاجر محض رسول اللہ پر ایمان لانے اور آپ کی زیارت کی وجہ سے صحابی ہوجاتا اور ہر ایک اسلام سے وابستگی، ذہنی سطح ، علمی استعداد ،نیکی وپارسائی غرض ہر لحاض سے برابر ہوجاتا اور پھر اپنی مرضی پر ہوتا کہ جس کی چاہے اقتدا کرے ،چاہے گدھے گاڑی والے کو اپناہادی بنادلے اور چاہے تو پروفیسر کو بات ایک ہی ہے ۔
آپ تو دور دراز کے تعلق رکھنے والوں کو بھی شرف صحابیت سے نوازتے ہیں اور ہر ایک کو ہدایت ورہنمائی کے قابل سمجھتے ہیں مگر سچی بات تویہ ہے کہ رسول اللہ سے قریب اور بعض بہت ہی قریب رہنے والے صحابہ سےبھی ایسے افعال سرزد ہوئے کہ جن کی بناپر ہر شخص کوان کے بارے میں اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے ۔
تاریخ داں اچھی طرح جانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کس نے رسول کی رسالت پر شک کیا اورگستاخانہ لہجہ میں بات کی ، اور کس نے دوران علالت انھیں سامان کتابت فراہم کرنے سے منع کیا اور کہا کہ یہ شخص ہذیان بک رہا ہے ،ہمیں کتاب خدا کافی ہے اور کس کس نے رسول اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہوئے جیش اسامہ میں شامل ہونے سے پہلو تہی کی اور کتنے صحابی ایسے تھے کہ جو رسول اللہ صلعم کا جنازہ چھوڑ کر خلافت کا مسئلہ طے کرنے سقیفہ بنو ساعدہ چلے گئے تھے ۔
وہ کون سے بزرگ تھے جو کہ احد کے دن جب مسلمانوں نے راہ فرار کی ، پہاڑ پر بزکوہی کی طرح کودتے پھرتے تھے اور وہ کون صاحب تھے کہ جو ایسا بھاگے کہ تین دن کے بعد واپس ہوئے ، اور وہ کون سے حضرات تھے کہ جنھوں نے خیبر سے راہ فرار اختیار کی ۔ کہاں تک لکھا جائے ،اس طرح کی بیسوں باتیں خاص اور عام صحابہ سے منسوب ہیں ۔ ۔۔۔۔۔یہ خالص تاریخی مسئلہ ہے ، اب جس کا دل چاہے ان باتوں پر یقین نہ کرے اور ان سب کواپنا ہادی بنالے اور جس کا دل چاہے ان باتوں پر یقین کرے اور انھیں چھوڑ دے اور اگر صحابہ ہی سے دلچسپی ہے تو ایسے صحابہ کو پکڑئیے کہ جن کا دامن صاف ہے اور "ضرورت دین" کا مسئلہ حل کرلیجئے ۔ ورنہ اصل " ضرورت دین " تو رسول اللہ کا گھرانہ ہے ۔رسول اللہ نے تو بتا بھی دیا تھا کہ میں اپنے بعد دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ایک کتاب اور دوسرے اپنے اہلبیت ان سے متمسک رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور علم کا دروازہ بھی دکھا دیا تھا مگر مسلمانوں کی قسمت کہ انہوں نے اس دروازے کو خود اپنے اوپر بند کرلیا ، قرآن کو پکڑ لیا اور اہلبیت کو چھوڑ دیا ، اور شیعہ سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم بھی انھیں چھوڑ دو اور انہیں " ضروریات دین" سمجھو کہ جنہیں ہم سمجھتے ہیں ، ورنہ تم ٹھہرے کافر۔
اگر بعض صحابہ وامہات المومنین کو نہ ماننے کی وجہ سے آپ کسی کو کافر ٹھہرائیں تو ٹھیک ہے ! ٹھہر ائیے ۔ہم بھی کچھ حوالے حدیثوں سے اور کچھ شہادتیں تاریخ سے پیش کئے دیتے ہیں اور فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ دیکھیں کس کس کو کافر قراردینے کی جراءت کرتے ہیں ۔
اس تفصیل میں جائے بغیر کہ رسول کی لخت جگر بی بی فاطمہ زہرا کو شیخین کی طرف سے کیا کیا دکھ پہنچے ،ہم صرف اتنا بتائیں گے کہ بی بی انہی دکھوں
کے سبب رسول اللہ کے انتقال کےبعد ۶ مہینے سے زیادہ زندہ نہ رہسکی اور اس پورے عرصہ میں فریاد کرتی رہی اے بابا جان ! آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد مجھ پر اتنے دکھ پڑے کہ اگر دن پر پڑتے تو رات ہوجاتا ۔ ہم ان دکھوں کی تفصیل میں اس لئے نہیں جارہے ہیں کہ مناظرے کی کتابون میں اس پر بڑی بحثیں ہوچکی ہیں اور اس چھوٹی سی کتاب میں اس کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔ ہم یہاں صرف دوحقیقتوں کا تذکرہ کریں گے ۔
پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ فاطمہ بنت رسول (س) ابو بکر سے اس قدر ناراض تھیں کہ اپنی وفات تک ان سے کلام نہیں کیا اور وصیت فرماگئیں کہ ابو بکر ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں ۔اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ رسول نے ارشاد فرمایا تھا کہ جس نے فاطمہ (س) کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ۔
حدیث شریف :-
"فوجدت فاطمة علی ابی بکر فی ذالک فهجد ته فلم تکلم حتی توفیت وعاست بعد النبی صلی الله علیه وسلم ستة اشهر فلما توفیت دفنها زوجها علی لیلا ولم یوذن بها ابا بکر وصلی علیها "۔
(بخاری کتاب المغازی ،غزوہ خیبر)
ترجمہ :- تو حضرت فاطمہ اس مسئلہ میں ابو بکر سے ناراض ہوگئیں اور انہوں نے اپنی وفات تک حضرت ابو بکر سے گفتگو نہ کی ، حضرت فاطمہ آنحضرت کی وفات کے بعد ۶ ماہ زندہ رہیں ، جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان کے شوہر حضرت علی (ع) نے انہیں رات ہی میں دفن کر دیا اور انہیں شریک ہونے کی اجازت دی اور خود ہی ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ۔
"ابو الولید حدثنا ابن عینینه عن عمرو بن دینار عن ابن
ابی ملیکة عن المسور ابن محزمه رضی الله عنها ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال فاطمة بضعة منی فمن اغضبها اغضبنی "(بخاری شریف ،کتاب الانبیاء حدیث نمبر۹۵۳)
ترجمہ:- ابو الولید ابن عینییہ ، عمر بن دینار ،ابن اب ملیکہ حضرت مسور ابن محزمہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فاطمہ (س) میرے گوشت کا ٹکڑا ہے ، جس نے فاطمہ کو غضبناک کیا اس نے مجھ کو غضبناک کیا ۔ اب غور فرمائیے کہ رسول اللہ کو غضب ناک کرنے والوں کا کہاں ٹھکانا ہے ؟ ایک اور مثال کہ جناب رسول خدا (ص) نے فاطمہ کے شوہر اور اپنے عم زاد کہ جنہیں مسلمان خلیفہ راشد سمجھتے ہیں سے بغض رکھنے والوں کےبارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے ۔ ازالۃ الخلفاء میں ہے کہ :-
سلمان فارسی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا ، تم حضرت کو کیوں چاہتے ہو ؟ انھوں کہا کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ جس نے علی علیہ السلام سے دوستی کی اس نے مجھ سے دوستی کی اور جس نے علی علیہ السلام سے بغض کیا اس نے مجھ سے بغض کیا ۔"
"عمار بن یاسر سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے سنا ۔آپ حضرت علی سے فرمارہے تھے کہ مبارک ہیں وہ جو تم کو دوست رکھتے ہیں اور تمہارے معاملہ میں سچ کہتے ہیں اور بربادی ہے ان کے لئے جو تم سے بغض رکھتے ہیں اور تمہاری بابت جھوٹ بولتے ہیں ۔
ترمذی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ ہم (انصار )منافقوں
کو حضرت علی علیہ السلام کے بغض سے پہچانتے ہیں "
"ام سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق حضرت علی علیہ السلام سے دوستی نہ کرے گا اور نہ کوئی مومن ان سے بغض رکھے گا "۔
یہ تمام روایتیں شاہ ولی اللہ دہلوی نے ازالۃ الخلفاء مقصد دوم مآثر علی ابن ابی طالب میں تحریر فرمائی ہیں ۔ اب یہ سواد اعظم والے جانیں کہ کیا شاہ ولی اللہ صاحب بھ کسی یہودی سازش کا شکار ہوگئے تھے کہ انہوں نے یہ روایتیں نقل کردیں ۔
ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رسول کی زندگی ہی میں لوگوں کے بغض کا شکار تھے اور بغض رکھنے والے ان روایات کی رو سے ظاہری مسلمان تھے ۔
رسول اللہ کی آنکھ بند ہوتے ہی حضرت علی مرتضی کے خلاف بغض وحسد کا اظہار ہونے لگا مگر آج سے چودہ سو برس بعد اس کا ادراک عام مسلمانوں کے لئے بڑا مشکل ہے ، مگر تاریخ میں ایک ایسا موڑ بھی آگیا کہ علی علیہ السلام کے خلاف تلواریں نکل آئیں ۔۔۔۔۔ تو اب کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ علی سے دشمنی رکھنے والوں کو نہ پہچانا جائے ۔
قول رسول ہے کہ کوئی مومن علی علیہ السلام سے بغض نہیں رکھے گا ،مگر اسے کیا کیجئے کہ ام المومنین صحابی رسول وخلیفہ راشد کے مقابلے پر ہزاروں مسلمانوں کو ساتھ لے کر میدان جنگ میں تشریف لے آئیں اور ایسی جنگ کی کہ جس کے نتیجہ میں ہزاروں مسلمانوں کے سرتن سے جدا ہوگئے ۔
یہ جنگ تاریخ میں "جنگ جمل " کے نام سے مشہور ہے ۔۔۔۔۔۔۔اب
سواد اعظم کے سیاہ قلب مفتی بی بی عائشہ کے بارے میں کیا فتوی دیں گے ؟
قول رسول ہے کہ یاعلی بربادی ہے ان کے لئے جو تم سے بغض رکھتے ہیں اور تمہاری بابت جھوٹ بولتے ہیں ۔
معاویہ بن ابی سفیان کہ جنہیں بھی صحابی کادرجہ دیا جاتا ہے نے ہمیشہ علی سے بغض رکھا اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا ۔ان جیسے خلیفہ راشد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور صفین کے میدان مین ایک خونریز جنگ لڑی پھر جب شکست سے قریب ہونے لگے تر بڑے مکر کے ساتھ قرآن کو درمیان میں لائے اور علی علیہ السلام کو جنگ بند کرنے پر مجبور کردیا ۔اور پھر اپنی فریب کاریوں کے طفیل ایک خلیفہ راشد کی موجودگی میں اسلامی ریاست کے ایک بڑے علاقہ پر خود مختار حکمراں کی حیثیت سے قابض رہے اور اس پر بس نہیں کیا بلکہ حضرت علی علیہ السلام کی حدود ریاست میں شام کے بھیڑیا صفت سالار بسر بن ارطاۃ کو قتل وغارت گری کی چھوٹ دے رکھی تھی ۔ یہ بھیڑیا جب موقع ملتا بھیڑیوں کی فوج لے کر حضرت علی علیہ السلام کے علاقے میں گھس جاتا اور علی علیہ السلام کے فوجی دستے پہنچے تویہ فرار ہو جاتا اور اپنے پیچھے ظلم کی ایک نئی داستان چھوڑ جاتا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس درندے نے عبیداللہ ابن عباس کے دو معصوم بچوں کو بے جرم وخطا ذبح کر دیا ۔
معاویہ کے جرائم یہیں پر ختم نہیں ہوجاتے ہیں بلکہ یہ شخص تو صحابی رسول حجر بن عدی اور ان کسے ساتھیوں کوحب علی کے جرم میں قتل کرادیتا ہے ، معاویہ کی اس حرکت پر حضرت عائشہ بھی اظہار ناراضگی کرتی ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔ایسی روائتیں بھی ملتی ہیں کہ امام حسن علیہ السلام کی شہادت اس زہر دغا سے ہوئی کہ جس کا انتظام اسی شخص نے کیا تھا ۔
معاویہ کے جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے اور اگر صرف صحابہ کرام کے
ساتھ اس کے برتاؤ کو زیر بحث لایا جائے تو بھی ساری باتوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا لہذا اب ہم صرف حضرت علی علیہ السلام پر اس کی طرف سے ہونے والے سب وشتم کو زیر بحث لائیں گے ۔
صحابی رسول اورمسلمانوں کے خلیفہ راشد حضرت علی مرتضی پرسب وشتم کرنے اورباقاعدہ اس فعل قبیح کی رسم قائم کرنے والا شخص معاویہ ہے اور ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ خود بھی مسلمانوں کا "صحابی رسول " ہے یہ شخص خود بھی حضرت علی علیہ السلام پر سب وشتم کرتا ہے اور چاہتا کہ دوسرے صحابہ بھی ایسا ہی کریں ۔ اپنے عاملوں کو تو اس نے اس بارے میں خاص طور سے حکم دے رکھا تھا اور یہ عمال مستعدی سے اس کا حکم بجالاتے خاص طور سے جمعہ کے خطبات بغیر توہین علی علیہ السلام کے مکمل نہ ہوتے ۔
افسوس کہ سب علی علیہ السلام کا سلسلہہ حیات علی علیہ السلام تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ آپ کی شہادت کے بعد بھی جاری رہا ۔ یہاں تک کہ بنو امیہ کے واحد صالح حکمران عمربن عبد العزیز کا دور آیا اور اس نے اس رسم قبیح پر پابندی لگادی ۔
صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ باب فضائل علی میں ہے کہ
عن عامر بن سعد بن ابی وقاص عن ابیه قال امیر معاویه بن ابی سفیان سعد فقال ما منعک ان تسب اباتراب فقال اماما ذکرت ثلاثا قالهن رسول الله صلی الله علیه وسلم فلن اسبه "
ترجمہ:- عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان نے سعد کو حکم دیا پھر کہا کہ تجھے کس چیز نے روکا ہے کہ تو ابوتراب پر سب کرے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ کے تین ارشادات کو یاد کرتا ہوں تو میں ہرگز علی علیہ السلام پر سب نہیں کرسکتا
صحیح مسلم کے علاوہ صحیح ترمذی مسند احمد بن حنبل اور دوسری کتب حدیث میں بھی معاویہ کی جاری کردہ اس قبیح رسم کا تذکرہ موجود ہے ۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا ستم یہ تھا کہ علی علیہ السلام پر سب وشتم ان کے چاہنے والوں کے سامنے کیا جاتا اور مکینگی کی انتہا یہ کہ عزیزوں اور بیٹیوں کی موجودگی کا بھی خیال نہ کیا جاتا ۔
جب صلح نامہ لکھا جارہا تھا تو حضرت امام حسن علیہ السلام نے ایک شرط یہ بھی لکھوانا چاہی کہ میرے والد پر سب وشتم نہ کیا جائے ،مگر معاویہ نے اسے تسلیم نہیں کیا تو امام حسن نے یہ مطالبہ کیا کہ کم از کم میرے سامنے ایسا نہ کیا جائے چنانچہ معاویہ نے یہ بات مان لی مگر اسے پورا نہیں کیا ۔تصدیق کے لئے ملاحظہ ہو طبری جلد نمبر ۴ ، البدایہ ابن کثیر جلد ۸ اور الکامل جلد ۳
معاویہ کایہ جرم کہ اس حضرت علی علیہ السلام پر سب وشتم کی رسم جاری کی روز روشن کی طرح عیال ہے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ، لہذا ہر دور کے جلیل القدر علماء نے معاویہ کے اس جرم کو تسلیم کیا ہے ۔
دور حاضر کے ممتاز عالم مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی کہ جن کا قیام بھارت میں ہے "تاریخ اسلام " جلد دوم میں لکھتے ہیں ۔
امیر معاویہ نے اپنے زمانہ میں بر سرمنبر حضرت علی پر سب وشتم کی مذموم رسم جاری کی تھی اور ان کے تمام عمال اس رسم کو ادا کرتے تھے ۔ مغیرہ بن شعبہ بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے لیکن امیر معاویہ کی تقلید میں یہ بھی اس مذموم بدعت سے نہ بچ سکے ۔حجر بن عدی اور ان کی جماعت کو قدرتا اس سے تکلیف پہنچی تھی " (تاریخ اسلام جلد ۲)
مولانا سید ابو اعلی مودودی فرماتے ہیں:
ایک نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں بر سر منبر حضرت علی علیہ السلام پر سب وشتم کی بو چھاڑ کرتے تھے ، حتی کہ مسجد نبوی منبر رسول پر عین روضہ نبوی کےسامنے حضور کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علی علیہ السلام کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا ،شریعت تو درکنار ،انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا اور خاص طور پر جمعہ کے خطبہ کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین واخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤ نا فعل تھا ۔ حضرت عبدالعزیز نے آکر اپنے خاندان کی دوسری غلط روایات کی طرح اس روایت کو بھی بدلا اور خطبہ جمعہ میں سب علی کی جگہ یہ آیت پڑھنا شروع کردی ۔۔۔۔۔۔( خلافت وملوکیت ،مولانا ابو الاعلی مودودی ص ۱۷۵)
صحابی رسول حجر بن عدی شیعہ کی موجودگی میں مسجد کوفہ میں خطبہ کے دوران حضرت علی کرم اللہ پر سب وشتم کیا جاتا ۔ آپ نے اس کمینگی پر آواز اٹھائی تو گرفتار کر لئے گئے ۔پھر آپ کو معاویہ کے پاس شام بھیج دیاگیا اور معاویہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو علی سے محبت کرنے کے جرم میں قتل کرادیا ۔ اس سلسلہ میں ہم مولانا ابو اعلی مودودی کی ایک تحریر پیش کرتے ہیں ۔ آپ حجر بن عدی کے بارے میں لکھتے ہیں :
"ایک زاہد وعابد صحابی اورصلحائے امت میں ایک اونچے مرتبہ کے شخص تھے ۔حضرت معاویہ کے زمانہ میں جب منبروں پر خطبوں میں اعلانیہ حضرت علی علیہ السلام پر لعنت اور سب وشتم کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔۔۔کوفہ میں حجر بن عدی رضی اللہ علیہ سے صبر
نہ ہوسکا اور انہوں نے جواب میں حضرت علی علیہ السلام کی تعریف اور حضرت معاویہ کی مذمت شروع کردی ۔۔۔۔۔جب زیاد کی گورنری میں بصرے کے ساتھ کوفہ بھی شامل ہوگیا ۔۔۔۔وہ خطبے میں حضرت علی علیہ السلام کو گالیاں دیتا تھا اور یہ اٹھ کر اس کا جواب دینے لگتے تھے ۔ ۔۔۔۔ آخر کار اس نے انہیں اور ان کے بارہ ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ، اور ان کے خلاف بہت سے لوگوں کی شہادتیں اس فرد جرم پر لیں کہ ۔۔۔۔۔۔ان کا دعوی ہے کہ خلافت آل ابی طالب کے سوا کسی کے لئے درست نہیں ہے ۔۔۔۔یہ ابو تراب (حضرت علی علیہ السلام ) کی حمایت کرتے ہیں ۔ ان پر رحمت بھیجتے ہیں اور ان کے مخالفین سے براءت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس طرح یہ ملزم حضرت معاویہ کے پاسے بھیجے گئے اور انہوں نے ان کے قتل کا حکم دیا ۔قتل سے پہلے جلادوں نے ان کے سامنے جو بات پیش کی وہ یہ تھی کہ " ہمیں حکم دیا گيا ہے کہ اگر تم علی علیہ السلام سے براءت کا اظہار کرو اور ان پر لعنت بھیجو تو تمہیں چھوڑ دیا جائے " ان لوگوں نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور حجر نے کہا " میں زبان سے وہ بات نہیں نکال سکتا جو رب کو ناراض کرے ۔ آخر کار وہ ان کے سات ساتھی قتل کردیئے گئے ۔ ان میں سے ایک صاحب عبدالرحمن بن حسان کو حضرت معاویہ نے زیاد کے پاس بھیج دیا ۔ اور اس کو لکھا کہ انھیں بدترین طریقہ سے قتل کرو ۔چنانچہ اس نے انہیں زندہ دفن کردیا "(خلافت وملوکیت ص ۱۴۶)
یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کی شرم وغیرت کوکیا ہوا ؟ ان کی عقلوں پر کون سے دیز پردے پڑے ہوئے ہیں ؟ انھیں کیا چیز باطل کی حمایت پر کمربستہ کئے ہوئے ہے ؟ یہ ناموس صحابہ کے پاسباں نامو س رسول
کے سلسلے میں کیوں خاموش ہیں ؟وفات رسول کے بعد تیس سال میں یہ نوبت پہنچ گئی کہ آزاد کردہ رسول ابو سفیان کےبیٹے معاویہ (جس کا شمار بھی طلقاء میں ہوتا ہے) سے نواسہ رسول مطالبہ کررہا ہے کہ میرے والد بزرگوار پر سرعام سب وشتم نہ کیا جائے اور جب یہ بات تسلیم نہیں کی گئی تو پھرکہا گیا کہ اچھا تو کم از کم میرے سامنے تو میرے بابا کو برانہ کہا جائے ۔۔۔۔۔مگر افسوس کے وعدہ کے باوجود اس بات پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔
اگر معاویہ کو صحابی اورفقیہہ ہونے کے باوجود اس جرم پرمعاف کیاجا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص پر سب وشتم کیا اور اپنے گورنروں کے ذریعہ پوری اسلامی مملکت میں اس قبیح حرکت کو پھیلا یا کہ جو صحابی رسول اور خلیفہ راشد ہی نہ تھا بلکہ رسول کے چچا کا بیٹا اور داماد بھی تھا جس پر رسول کی چاہتیں او رمحبتیں ختم تھیں تو پھر شیعوں کو بھی معاف کردیجئے کہ آج کا شیعہ تو ایک عام انسان ہے ،صحابی نہیں ۔اوریہ بھی ملحوظ رہے کہ شیعہ اگر صحابہ کے ایک گروہ سے اظہار براءت کرتے ہیں تو رسول اور آل رسول کی محبت کی وجہ سے ۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ جس دل میں رسول اور آل رسول کی محبت ہو اس دل میں ان کے دشمنوں کا بھی احترام ہو ۔ یہ تو سواد اعظم والوں کا کمال ہے کہ وہ ان لوگوں کا بھی احترام کرتے ہیں کہ جن کی آل رسول سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی شے نہیں ہے ۔مروان اور یزیدہی کو لیجئے کہ یہ لوگ انھیں بھی برا نہیں کہتے اور بعض تو ان دونوں دشمنان رسول وآل رسول کا احترام بھی کرتے ہیں ۔ یزید کی آل رسول سے دشمنی توبچہ بچہ پر ظاہر ہے ۔اس کے لئے کسی حوالہ کی بھی ضرورت نہیں ، لیکن مروان کے بارے میں عام لوگوں کی اطلاع کے لئے ہم حضرت شاہ ولی اللہ کے فرزند جناب شاہ عبدالعزیز دہلوی
طبرسی کی کتاب "فصل الخطاب" اور سید نعمت اللہ الموسوی الجزائری کی کتاب "الانوار النعمانیہ " کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
۶:- مولانا منظور نعمانی کی رائے ہے کہ جو شیعہ علماء ومجتہدین تحریف قرآن کے عقیدے سے انکار کرتے ہیں اور موجودہ قرآن پر ہم اہلسنت ہی کی طرح ایمان کا اظہار کرتے ہیں ان کے ان رویہ کی کوئی معقول اور قابل قبول توجیہہ اس کے سوا کچھ نہیں کی جاسکتی کہ یہ ان کا تقیہ ہے ۔مولانا نعمانی تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں شیعہ علماء ومجتہدین نے بھی بالعموم تحریف کے عقیدے سے انکار کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے ۔
۷:-شیعہ اثنا عشریہ کا اصل قرآن وہ ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام نےمرتب کیا تھا ۔ اس مختصر کتاب میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ کسی طویل بحث میں الجھا جائے اوریہ موضوع کچھ ایسا ہی ہے ، چنانچہ ہم نے منظور نعمانی کی خاصی طویل بحث کو مختصرا چند نکات میں پیش کیا ہے اور اب ہم انہی کا نکتہ بہ نکتہ او رمختصر جواب دے رہے ہیں ۔
۱-۲ تحریف قرآن والی روایتوں کی مخالفت بڑے بڑے شیعہ علماء نے کی ہے جن کی فہرست بڑی طویل ہے ،ہم صرف دو مجتہدین عظام کی آراء پیش کرتے ہیں تو پہلے اثناعشریہ ک ےمرجعہ تقلید مجتہد اعظم آقائے سیدابو القاسم خوئی کی رائے پیش کی جاتی ہے ۔آپ زندہ سلامت ہیں اور عراق میں قیام پذیر ہیں ۔
"اس معنی میں تحریف کو موجودہ قرآن کچھ کلام غیر قرآن بھی ہے تو اس کے بطلان پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے (البیان مقدمہ تفسیر قرآں ص ۲۰۰) جن روایات سے تحریف کا اشارہ ملتا ہے وہ اخبار احاد ہیں جو کہ علم وعمل کے لئے مفید نہیں (البیان ص ۲۲۱)
اب دور اکبر وجہا نگیری کے قاضی نوراللہ شوستری کہ جو شیعہ اثناعشریہ
میں انتہائی بلند مقام رکھتے ہیں اور شہید ثالث کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں کہ ' کی رائے ملاحظہ ہو۔
"قرآن اتنا ہی ہے جتنا موجود ہے جو اس سے زیادہ کہے وہ جھوٹا ہے ۔قرآن عہد رسالت میں مجموع ومولف اور ہزاروں صحابہ اسے حفظ ونقل کرتے تھے ۔ جمہور امامیہ عدم تغیر کے معتقد ہیں ۔زیادتی کی روایات احاد میں سے ہیں جو ناقابل اعتبار ہیں ، چنانچہ غیر موثق آدمیوں نے انہیں روایت کیا ہے " (مصائب النوائب ص ۱۰۵)
سترہ ہزار آیات والی روایت کےسلسلہ میں عرض ہے کہ تعداد آیات کے سلسلہ میں خود اہلسنت میں بھی اختلاف ہے ،آیت کسے کہتے ہیں اور اس کی ابتدا ء وانتہا کیا ہے ۔ اس میں بھی علماء اہلسنت میں اختلاف ہے ، لہذا تعین تعداد آیات میں آختلاف کو اہمیت نہیں دینا چا ہیئے سترہ ہزار آیات دالی روایت کے بارے میں شیخ صدوق کی رائے ملاحظہ ہو ، آپ فرماتے ہیں :
وحی کے ذریعہ سے قرآن کے علاوہ اتنے احکام او رنازل ہوئے ہیں کہ وہ سب قرآن کے ساتھ جمع کئے جائیں تو مجموعہ کی مقدار سترہ ہزار آیتوں تک پہنچ جائے گی ۔(اعتقاد یہ شیخ صدوق ص ۱۵۲ امامیہ مشن لاہور )شیخ صدوق نے اس کی بہت سی مثالیں بھی پیش کی ہیں کہ جنہیں یہاں نقل کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں
۳:- صاحب تفسیر صافی جناب ملافیض الکاشانی کی رائے ۔
"اگر قرآن مجید میں کمی وزیادتی تسلیم کرلی جائے تو کچھ اشکال دارد ہوتے ہیں ،ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب قرآن محرف ومغیّر تسلیم کرلیا جائے تو قرآن مجید کی کسی شے پر بھی اعتماد نہیں رہ سکتا "(تفسیر صافی ص ۲۳)
۴:- چار حضرات (شیخ صدوق ،شریف مرتضی ۔ شیخ طوسی ۔طبرسی ) کا تذکرہ کرتے
ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کوعام مسلمانوں کی طرح محفوظ اور غیر محرف مانتے ہیں لیکن شیعہ دنیانے ان کی اس بات کو قبول نہیں کیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان حضرات سے پہلے شیعہ دنیا تحریف قرآن کی قائل تھی ۔
ان چار حضرات کے عقید ہ عدم تحریف قرآن کو تسلیم کرلینے کے بعد شیعہ اثناعشریہ کا عقیدہ یہ بتانا کہ وہ تحریف قرآن کے قائل ہیں ظلم کے سوا کچھ نہیں کیونکہ یہ چاروں ہستیاں شیعہ دنیا میں بہت بلند مقام رکھتی ہیں ۔ ان چار کے علاوہ ایک اور بلند ہستی شریف مرتضی کے استاد شیخ مفید کی تھی اوریہ بھی قرآن کو محفوظ او رغیر محرف مانتے تھے ۔
شیعہ اثناعشریہ کے ہاں حدیث کی چار کتابیں (اصول کافی ،من لایحضرہ الفقیہ ،تہذیب الا حکام ،استبصار ) وہی بنیادی مقام رکھتی ہی جو اہلسنت کے ہاں صحاح ستہ کو حاصل ہے اور شیخ صدوق ہی وہ بزرگ ہیں کہ جو ان چاروں میں سے ایک من لا یحضرہ الفقیہ کے اور شیخ طوسی وہ ہستی ہیں کہ جو ان میں سے دو تہذیب الاحکام اور استبصار کے مولف ہیں ۔
نام نہ بتانا اور صرف یہ کہہ دینا کہ ان سے پہلے شیعہ دنیا تحریف قرآن کی قائل تھی ۔غیر معقول بات ہے اوریہ بات اور زیادہ غیر معقول ہے کہ شیعہ دنیا نے ان کی اس بات کو قبول نہیں کیا ۔وہ علما ء کہ جو شیعت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ان کے بارے میں ایسی بات کہنا کہ شیعہ دنیا نے ان کی بات کو قبول نہیں کیا ۔ اور وہ بھی محض چند لوگوں کی آرا کی وجہ سے ظلم وزیادتی کے سوا کچھ نہیں ۔
۵:- اگر مختلف زمانوں میں بعض شیعہ علماء نے قرآن کے محرف ہونے کی موضوع پر کتابیں لکھی ہیں تو اسی زمانہ میں انہوں نے ان کی رد میں بھی کتابیں لکھی ہیں یہی صورت علامہ نوری کی فصل الخطاب کی ہے کہ اس کی مخالفت میں بہت سے
جب کہ یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ ہمارے زمانہ کے شیعہ علماء عام طور سے قرآن کے غیر محرف ہونے کا اقرار کرتے ہیں ۔یہاں پر ہم یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ جو شیعہ علماء تحریف قرآن کے قائل ہیں وہ بھی کچھ کمی کے قائل ہیں ، مگر اس پر سب کا اجماع ہے کہ موجودہ قرآن تمام تر اللہ تعالی ہی کا کلام ہے اور اس میں ایک حرف بھی غیراللہ کا شامل نہیں ہے ۔
ہم یہ بات اچھی طرح سے واضح کئے دیتے ہیں کہ راقم السطور نے کبھی تقیہ سے کام نہیں لیا ۔اور اس کتاب میں بھی ہرجگہ بڑی صاف گوئی سے کام لیا ہے ۔اور یہاں بھی قرآن کےبارے میں شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ واضح الفاظ میں بیان کئے دیتے ہیں ۔
شیعہ اثناعشریہ کا قرآن شریف کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن وہی ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا ۔ اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں ہے اور یہ بات اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب دہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے رسول اللہ پر نازل ہو ا تھا ۔ ۔۔۔۔ یہ بد فطرت مولوی شیعہ اثنا عشریہ پر صرف تحریف کے قائل ہونے کا الزام ہی نہیں لگاتے بلکہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ ان کے گھر وں میں کوئی اور قرآن پڑھا جاتا ہے ، لہذا ہم واضح کئے دیتے ہیں اثنا عشریہ کے ہر گھر میں وہی قرآن پڑھا جاتا ہے جو دوسرے مسلمانوں کے ہاں پڑھا جاتا ہے ۔اس میں زیرو زبر کا بھی فرق نہیں ہے ۔ صرف حاشیہ کی تفسیر اور ترجمہ کی زبان کا فرق ہے ،یہی فرق مسلمانوں کے دوسرے تمام فرقوں کے درمیان ہے ۔
مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق نیتوں کا حال جاننے والا تو صرف اللہ تعالی ہی ہے ، مگر دیوبند کا فتوے باز ملا کہتا ہے کہ نہیں ! ہم بھی جانتے ہیں خاص
طور سے شیعوں کی نیت کا حال ۔
رسول اللہ کی سنت تویہ ہے کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا اسے اپنے دامن میں جگہ دے دی ،حالانکہ بہت سوں کی حقیقت جانتے تھے مگر قبول کئے ہوئے تھے اور بعض تو آستین کے سانپ کی طرح پل رہے تھے ۔ مگر یہ اہلسنت کیسے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شیعہ اثنا عشریہ قرآن کے غیر محرف ہونے پر یقین کا اظہار کرتے ہیں انھیں کافر قراردیتے ہیں ۔
حضرت علی کے مرتب کردہ قرآن کا تذکرہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ گویا وہ موجودہ قرآن سے الگ کوئی شے ہے ۔ حالانکہ اس قرآن کے بارے علماء نے جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے ۔
حضرت علی نے اپنے مصحف میں منسوخ آیات پہلے رکھیں اور ناسخ بعد میں آپ کا مرتب کیا ہوا قرآن نزول کے مطابق تھا ۔ شروع میں سورہ اقراء پھر سورہ مدثر پھر سورہ قلم اسی طرح پہلے مکی سورتین پھر مدنی ۔
حبیب السیر جلد ۱ صفحہ ۴ کے مطابق تو علی کا مرتب کردہ قرآن افادیت کے اعتبار سے بھر پور تھا ۔ اس کی عبارت ملاحظہ ہو ۔
"یعنی حضرت علی کا مصحف تاریخ نزول آیات کی ترتیب کے مطابق تھا اس میں شان نزول او ر اوقات نزول آیات اور تاویل متشابہات مذکور تھیں ناسخ ومنسوخ متعین او رعام وخاص کے ساتھ کیفیت قراءت بیان کی گئی تھی "
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ قرآن اور حضرت علی کے مرتب کردہ قرآن کے اصل متن میں کوئی فرق نہیں ہے مگر پھر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ کا قرآن تو وہ ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے پاس تھا اور پھران کی اولاد میں منتقل ہوتا ہوا حضرت امام مہدی تک پہنچا اور جب وہ ظہور فرمائیں گے تو اصل قرآن پیش کرینگے ۔
اگر شیعہ اثنا عشریہ کی خطا یہ ہے کہ مندرجہ بالا صفات کے حامل اس قرآن کے وجود پر یقین رکھتے کہ جو حضرت علی نے مرتب کیا تھا تو جنا ب ولی اللہ دہلوی بھی اس سلسلہ میں خطا وار ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب ازالۃ الخفا مقصد دوم میں فرمایا ہے کہ :-
ونصیب او از حیاء علوم دینہ آں است کہ جمع کرد قرآن را بحضور آنحضرت وترتیب دادہ بو آں را لیکن تقدیر مساعد شیوع آن نہ شد (ازالۃ الخلفاء مقصد ۲ ص ۲۷۳)
ترجمہ :- حضرت علی کا حصہ علوم دینہ کے زندہ کرنے میں یہ بھی ہے کہ آپ نے آنحضرت کے سامنے قرآن کو جمع مرتب کیا تھا مگر تقدیر نے اس کے شایع ہونے میں مدد نہ کی "
آخر میں شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے قرآں کے بارے میں علمائے مصر (اہلسنت )کی رائے :-
اخوان المسلمین کے ایک مفکر سالم البہساوی اپنی کتاب السنتہ المغتری علیہا ص ۶۰ پر لکھتے ہیں ۔
"جو قرآن ہم اہلسنت کے پاس موجود ہے بالکل وہی شیعہ مساجد اور گھروں میں موجود ہوتا ہے "
ڈاکٹر محمد ابو زہرہ اپنی کتاب الامام الصادق ، صفحہ ۲۹۶ میں لکھتے ہیں ۔
"ہمارے امامیہ برادران باوجودیکہ وہ بعض مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن قرآن کے بارے میں ان کا وہی نظریہ ہے جو ہر مومن کا ہے ۔
شیخ غزالی اپنی کتاب دفاع عن العقیدۃ والشریعۃ ضد المطاعن المستشرقین صفحہ ۲۶۴ پر لکھتے ہیں ۔
"میں نے محفل میں ایک شخص کو کتے ہوئے سنا کہ شیعوں کا ایک اور قرآن
ہے جو ہمارے معروف قرآن سے کم وبیش ہے ،میں نے ان سے کہا ، وہ قرآن کہاں ہے ؟ عالم اسلام تین براعظموں پر پھیلا ہوا ہے اور رسول اکرم کی بیعثت سے لے کر آج تک چودہ صدیاں گذر چکی ہیں اور لوگوں کو صرف ایک ہی قرآن کا علم ہے ، جس کا آغاز واختتام اور سورت وآیات کی تعداد معلوم ہے ۔یہ دوسرا قرآن کہاں ہے ؟ اس طویل عرصہ میں کسی انسان اور جن کو اس کے کسی ایک نسخہ پر بھی اطلاع یا آگاہی کیوں نہیں ہوئی ۔اس سے اپنے بھائیوں اور اپنی کتاب کے بارے میں بداگمانیاں پھیلتی ہیں ۔ قرآن ایک ہی ہے جو اگر قاہرہ میں چھپتا ہے تو اسے نجف اشرف اور تہران میں بھی مقدسمجھا جاتا ہے ۔اور اس کے نسخے ان کے ہاتھوں اور گھروں میں ہوتے ہیں ۔ اس کتاب کو نازل کرنے والے اور اس کے مبلغ کے بارے میں سوائے عزت وتوقیر کے کوئی اوربات ان کے ذہن میں نہیں آتی ۔پھر ایسے بہتان لوگوں اور وحی پر کیوں باندھے جاتے ہیں ،ایسے بہتان ترشنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو یہ مشہور کرتے ہیں کہ شیعہ علی کی پیروی کرتے ہیں اور سنی محمد کی ۔شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ رسالت ونبوت کے لئے علی زیادہ سزا وار تھے اوریہ غلطی سے کسی اور کے پاس چلی گئی "۔
۳:- عقیدہ ختم نبوت سے انکار
شیعہ اثناعشریہ کو کافر قرار دینے کی تیسری اور آخری وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ اپنے عقیدہ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر ہیں ۔ اس سلسلہ میں جو کچھ کہاگیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے ۔
صرف یہی نہیں کہ شیعہ اثناعشریہ منصب نبوت کے تمام امتیازات اپنے بارہ اماموں سے منسوب کرتے ہیں بلکہ انہیں نبوت سے بالاتر درجات ومقامات عطاکرتے ہیں ۔یعنی یہ کہ وہ نبیوں کی طرح اللہ کی حجت ہیں معصوم ہیں ۔
ترجمہ:- رسو ل اللہ صلعم نے فرمایا " اے خطاب کے بیٹے خدا کی قسم تم کو شیطان جس راستہ سے جاتے ہوئے دیکھتا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے چلنے لگتا ہے "
شیطان ہی گناہ پر آمادہ کرتا ہے اور جب شیطان عمر کردیکھتے ہی اپناراستہ بد ل دیتا ہے تو پھر آپ معصوم ہی ہوئے ۔اب دوحدیثیں اور ملاحظہ فرمائیے ۔
عن النبی اله صلی صلوة فقال ان الشیطان عرض لی فشد علی لیقطع الصلوة علی "(صحیح بخاری پارہ ۵ ص ۶۳۰)
ترجمہ :- جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ نے نماز پڑھنے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے پاس آیا اور اس نے میری نماز قطع کردینے کے لئے مجھ پر حملہ کیا ۔
قال ابن عباس فی امینة اذا حدث القی الشیطان فی حدیثه فیبطل الله مایلقی الشیطان ویحکم آیاته ( صحیح بخاری پارہ ۱۹ ص ۲۵۶)
ترجمہ: ابن عباس کہتے ہیں جب رسول اللہ صلعم خدا کا کوئی حکم بیان کرتے تو شیطان اس میں اپنی بات بھی ڈال دیتا تھا ۔ تب خدا یہ کرتا کہ شیطان کی ملائی ہوئی باتوں کو باطل کردیتا اور اپنی آیتوں کو محکم کردیتا ۔
ان دونوں حدیثوں کا مطلب یہ ہوا کہ سنی حضرات کے نزدیک حضرت عمر صرف معصوم نہ تھے بلکہ ان کادرجہ رسول اللہ سے بڑا تھا ۔ کیونکہ شیطان حضرت عمر کے نزدیک تو پھٹکتا نہ تھا مگر رسول اللہ کو نماز میں بھ نہیں چھوڑتا تھا اور ان پر اتنا دلیر تھا کہ حکم خدا بیان کرتے وقت بھی جان نہیں چھوڑتا تھا ۔
سنی حضرات کے نزدیک رسول اللہ پر حضرت عمر کی فضیلت اس طرح بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ کی رائے کے خلاف اور عمر کی رائے کے مطابق وحی نازل ہوتی تھی ۔ اس سلسلہ میں ابن ابی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے اور اسیران بدر کے معاملہ میں حضرت عمر کی رائے کے مطابق رسول اللہ کی رائے
کے خلاف نزول وحی کاتذکرہ تو خاص طور سے کیا جاتا ہے ۔
سنی حضرات کے نزدیک ابوبکر بھی معصوم تھے اور جناب رسول خدا سے افضل تھے ملاحظہ ہوں صواعق محرقہ سے دو روایتیں ۔
"(ابن زنجویہ کے مطابق) حضور علیہ السلام کے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آکر اطلاع دی کہ اللہ تعالی نے آپ کو حضرت ابو بکر کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے ( بر ق سوزاں اردو ترجمہ صواعق محرقہ ص ۱۲۱)
"اللہ تعالی آسمان پر سے اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابو بکر زمین میں غلطی کرے ۔ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی ناپسند کرتا ہے کہ ابو بکر غلطی کرلے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ( برق سوزاں ص ۲۵۱)
ذرا غور تو فرمائیے کہ ایسے شخص کا کیا مرتبہ ہوگا جس کے لئے اللہ تعالی چاہتا کہ وہ خطاء کرے اور پھر اپنے رسول کو حکم دے رہا ہے کہ "وہ اس معصوم بندے سے مشورہ کرے ۔ اس سے بڑھ کر ابو بکر کی عصمت پر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ خود اللہ کو یہ منظور نہیں کہ ابوبکر خطا کریں ۔
اب ہم ان صفات آئمہ کی وضاحت کررہے ہیں کہ جو بد نیتی سے پیش کی گئیں مگر شیعہ عقائد میں داخل ہیں ۔
آئمہ اثناعشریہ نبیوں کی طرح اللہ کی حجت ہیں ، معصوم ہیں ، واجب الاطاعت ہیں ، ان پر ایمان لانا شرط ہے ۔ دنیا انہی کے دم سے قائم ہے ۔ کا ئنات کے ذرہ ذرہ پر ان کی تکوینی حکومت ہے ۔وہ دنیا وآخرت کے مالک ہیں اور اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور انہیں اس پر اختیار ہے ۔
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ شیعہ اپنے اماموں کو تمام انبیاء سے افضل سمجھتے ہیں سوائے خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
لہذا یہ معصوم بھی ہوئے اور واجب الاطاعات بھی وشرط ایمان بھی ۔۔۔۔۔۔یہ محاورہ تو عام ہے کہ یہ دنیا اللہ کے چند نیک بندوں کی وجہ سےقائم ہے تو پھر شیعہ اثناعشریہ کا امام جسے زمیں پر اللہ کی حجت سمجھا جاتا ہے اگر اس کے بارے میں بھی یہ کہا جائے کہ دنیا اسی کے دم سے قائم ہے تو کیا حرج ہے کائنات کے ذرہ ذرہ پر ان تکوینی حکومت کے سلسلہ میں ہم اتنا عرض کریں گے کہ "تکوینی " اضافہ ہے رہی حکومت کی بات تو عرض ہے کہ یہ حکومت تو اہلسنت کے نزدیک اولیاء اللہ کو بھی حاصل ہے تو پھر دنیا جسے مرکز ولایت سمجھتی ہے اگر اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے اورپھر جب دریائے نیکل حضرت عمر کا حکم بڑی خندہ پیشانی سے مان لیتا ہے (ایک سنی روایت کے مطابق )تو پھر رسول کی آغوش کے پالے ہوئے معصوموں کو (کہ جو خاتم الانبیاء کے صحیح جانشین تھے ) کا حکم کائنات کے ذرہ ذرہ کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہے اورجب صورت حال یہ ہو تو انہیں دنیا وآخرت کا مالک کہنے میں کیا حرج ہے اور پھر موت کی کیا مجال کہ بغیر ان کی اجازت کے ان کے پیروں کو چھوسکے ۔
شیعہ اثنا عشریہ کے خلاف اس بنیاد پر کفر کا فتوی دینے والے دیوبندی بد معاش یقینا جانتے ہیں کہ ان میں سے بیشتر صفات خود اہلسنت حضرات اولیاء اللہ سے منسوب کرتے ہیں پھر شیعہ اثنا عشریہ پریہ عتاب کیوں ؟
عیسی ابن مریم کے لئے قوانین فطرت بدل سکتے ہیں تو محمد وآل محمد کے لئے بھی بد سکتے ہیں ۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام بیمار کو صحت ،مردے کو زندگی اور اندھے کو آنکھیں عطا کرسکتے ہیں اور یہ سب کچھ حضرت عیسی کے لئے (اسلام کے مطابق)اللہ کی عطا تھی تو پھر اللہ کی مرضی سے خاتم الانبیاء اور ان کے
بارہ جانیشوں کو بھی کائنات پر حق تصرف حاصل ہوسکتا ہے اور یہ عقیدہ بھی اسلام کے مطابق ہوگا ۔
اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ شیعہ اپنے ائمہ کو انبیاء سے افضل کیوں سمجھتے ہیں تو اس کا سیدھا سا جواب رسول کی اس حدیث میں مل جاتا ہے کہ جس کے مطابق رسول اللہ نے اپنی امت کے علماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل قرار دیا ہے ۔ اگر قلب سیاہ نہ ہوں تو بات بالکل صاف ہے کہ اگر امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل ہوسکتے ہیں تو باب شہر علم خاتم الانبیاء اور اس کی معصوم اولاد جو کہ خاتم الانبیاء کے اصل وارث وجانشین ہیں تمام انبیاء و رسل سے (سوائے خاتم الانبیاء کے )کیوں افضل قرار نہیں دیئے جاسکتے ۔
عقل بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ مانا جائے کہ خاتم الانبیاء کے اوصیاء جو کہ اس آخری پیغام کے امین تھے جو رہتی دنیا تک کے لئے تھا ان پیغمبروں سے افضل ہو ں کہ جن کے پیغام ایک محدود وقت اور محدود علاقہ کے لئے تھا ۔
اگر ذہن کے شیطینت کے پاک کرکے عقیدہ امامت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس عقیدہ کی وجہ سے اثناعشریہ پر عقیدہ ختم نبوت کے انکار کے الزام کی گنجائش باقی نہ رہے گی ۔
شیعہ اثناعشریہ کے نزدیک امام وہ ہے کہ جو خدا کی جانب سے اپنے رسول کی نیابت کے لئے مقرر کیا گیا ہو اور یہ نیابت رسول درحقیقت زمین پر خلافت الہی ہے اور یہ زمین خلیفۃ اللہ سے کبھی خالی نہیں رہ سکتی ۔
نبی اور امام کے تقرر میں صرف اتنا فرق ہے کہ نبی کو اللہ براہ راست
منتخب کرتا ہے اور نبی کے جانشین یعنی امام کو نبی کے ذریعہ منتخب کرتا ہے ار امام کو پہچاننا شرط ہے ۔حدیث رسول ہے کہ :-
"من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة جاهلیة "
یعنی جو شخص مرگیا اور اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا اثناء عشریہ کے امام میں بھی وہ تمام صفتیں ہونا چاہیں جو نبی میں تھیں ورنہ وہ حق نیابت ادا نہ کرسکے گا ۔ اس کی حیثیت صرف پاسبان شریعت کی سی ہوتی ہے وہ کوئی نئی شریعت نہیں لاتا ۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معلم قرآن وشارع اسلام تھے ۔آنحضرت کی وفات کےبعد صرف قرآن کا فی نہیں تھا ایک معلم قرآن اور پاسبان شریعت کی ضرورت تھی تاکہ وہ قرآن کو حدیث رسول کی روشنی میں بندوں تک پہنچا سکے اور شریعت میں رد وبدل نہ ہونے دے چنانچہ حضرت علی ابن ابی طالب کو جو سیرت وکردار میں اپنے بھائی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح تھے اور آنحضرت نے انھیں اپنا پورا علم عطا فرماکر شہر علم رسالت کا دروازہ قرار دیا تھا اور وفات رسول کے وقت وہی اس قابل تھے کہ جو نیابت رسول کا حق ادا کرسکیں ۔چنانچہ رسول خدا نے حکم خدا کے مطابق حضرت علی ابن ابی طالب کو اپنا خلیفہ اور امت کا امام "من کنت مولا فھذا علی مولا " کہہ کر بنایا اور یہی سلسلہ حکم خدا کے مطابق علی اور فاطمہ بنت رسول کی نسل میں صاحبان عظمت وطہارت میں منتقل ہوتا رہا ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ آئمہ اہل بیت تمام صفات میں خاتم الانبیاء ہی کی طرح تھے ۔فرق صرف اتنا تھا کہ ان کی صفات حمیدہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی خطا تھیں ۔مثل مشہور ہے کہ بیٹا وہی بیٹا ہے کہ جو باپ کے نقش قدم پر چلے ہو بہو باپ کی تصویر ہو ۔چنانچہ خاتم الانبیاء کی ہمسری سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ شیعہ صرف برائے نام ختم نبوت کے قائل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
آئمہ اثناعشریہ کی یہ صفات حق نیابت ادا کرنے کے لئے لازم وضروری تھیں ۔۔۔۔۔۔مزید برآں یہ آئمہ خاتم الانبیاء کی طرح نہ تو صاحب شریعت تھے اور نہ ہی انھیں شریعت محمدی میں کسی قسم کے تغیر وتبدل کا حق حاصل تھا ۔ یہ حرام محمد کو ہمیشہ کے لئے حرام وار حلال محمد کو ہمیشہ کے لئے حلال سمجھتے تھے ۔ یہ صرف معلم قرآن ،شارع اسلام (اقوال رسول کی روشنی میں ) اور پاسبان شریعت محمدی تھے ۔۔۔۔۔تو پھر اب کس بنیاد پریہ کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ ،قادنیانیوں کی طرح ختم نبوت کی حقیقت کے منکر ہیں اور صرف نام کا فرق ہے یعنی نبی کے بجائے امام کہتے ہیں ۔
یہ کتنی ناحق شناس اور جاہل قوم ہے کہ خود تو رسول کی آنکھ بند ہوتے ہی مسند خلافت پر ناجائز قبضہ جمانے والوں اور شریعت محمدی میں تغیر وتبدل کرنے والوں اور حرام محمد کو حلال کرنے اور حلال محمد کو حرام کرنے والوں کو اپن خلیفہ اور ضرورت دین سمجھتی ہے اور ان آئمہ کے ماننے والوں کو جو ہمیشہ شریعت محمدی کے پاسبان بنے رہے اور انھوں نے شریعت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں کی ،کو کافر کہا جاتا ہے ۔
تم بڑی بے شرمی سے شیعہ اثنا عشریہ کو ختم نبوت کا منکر قراردے رہے ہو، حالانکہ تم تحریک ختم نبوت میں شیعوں کے کردار سے اچھی طرح واقف ہو ۔ تحریک ختم نبوت میں ہر جگہ شیعہ علما تمہارے بزرگوں کے شانہ بشانہ نظرآتے ہیں ۔مگر تم بھول گئے تم نے کل کی باتیں بھلا دیں ۔ تم چودہ سوبرس پہلے کی باتیں کیا یاد رکھو گے مگرہمیں
ہر چیز یا د رہے ۔ کال کی بھی اور چودہ سو سال پہلے کی بھی ۔
تحریک ختم نبوت میں پہلا نام علامہ السید علی الحائری مرحوم(شیعہ ) اور علامہ مرزا یوسف حسین مرحوم (شیعہ )کا ہے ۔علامہ مرزا یوسف حسین نے قادیانیوں کے مشہور مناظر ابو العطلا اور دوسرے قادیانیوں سے فیروز پور میں مناظرہ کیا اور انہیں شکست فاش دی ۔ اس مناظرہ کی روداد شائع ہوچکی ہے ۔
قیام پاکستان کے بعد مجلس عمل تحریک ختم نبوت میں علامہ کفایت حسین (شیعہ) نائب امیر تھے جب کہ مولانا ابوالحسنات امیر تھے ۔ان کی وفات کے بعد مولانا عطااللہ شاہ بخاری نے منصب امارت سبھالا تو حافظ صاحب نائب امیر رہے اور جناب مظفر علی شمسی (شیعہ) اور مولانا اظہر حسین زیدی (شیعہ) مرکزی رکن رہے ۔علامہ حافظ کفایت حسین کی وفات کے بعد جناب مظفر علی شمسی نائب امیر منتخب ہوئے ۔جب کہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد شیخ الحدیث مولانا سید محمد یوسف بنوری مرحوم امیر ہوئے ۔
۱۹۷۳ ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی ۔اس وقت مولانا یوسف بنوری قائد تحریک تھے اور جناب مظفر شمسی ان کےشانہ بشانہ تھے مرکزی ارکان میں جناب علی غضنفر کراروی (شیعہ) اور مولانا ملک مہدی حسن (شیعہ) شامل تھے ۔
مولانا محمد اسماعیل دیوبندی ضلع فیصل آباد سے اور مولانا محمد حسین نجفی سرگودھا سے شیعوں کی قیادت کررہے تھے ۔ جب بھی کوئی خصوصی کنونش یا ملک گیر اجلاس ہوتا مولانا اسماعیل صف اول کے مقررین میں نظر آتے اور یہی شیعہ عالم مولانا اسماعیل دیوبندی قومی اسمبلی میں بڑی گھن گرج کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ ہوا یہ کہ جب قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو بریلوی مسلک کی نمائندگی مولانا
شاہ احمد نورانی نے کی اور دیوبندی کی طرفسے مفتی محمود پیش ہوئے اور اہل حدیث کی طرف سے جناب معین الدین لکھنوی پیش ہوئے ۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں صرف ممبران ہی تقرر کرسکتے تھے اور وہاں کوئی شیعہ عالم دین ممبر نہ تھا۔ لہذا جناب سید عباس حسین گردیزی ایم اے سے شیعہ نمائندگی کے لئے کہا گیا ۔ مگر گردیزی صاحب نے اپنی جگہ کسی شیعہ عالم دین کو پیش کرنے کی اجازت چاہی چنانچہ اجازت پر آپ نے جناب مظفر علی شمسی کے مشورے سے مولانا محمد اسماعیل کو پیش کیا ۔
مولانا محمد اسماعیل دیوبندی اپنی روایت کے مطابق کتابوں کا ڈھیر لئے گردیزی صاحب کے ہمراہ اسمبلی ہال میں داخل ہوئے ۔ ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا ۔تھوڑی ہی دیر میں اعلان ہوا کہ شیعہ نمائندہ آگیا ہے ۔ اب وہ شیعہ نقطہ نظر سے رد مرزائیت میں دلائل پیش کرے گا ۔ چنانچہ مولانا موصوف اسپیکر کی اجازت سے کھڑے ہوئے اور خطبہ پڑھنا شروع کیا تو ہال پر سناٹا چھا گیا ۔خطبہ کےبعد مولانا نے اصل موضوع پر بولنا شروع کیا ۔سارا دن مولانا ہی کے لئے تھا ۔چنانچہ آپ نے اپنی تقریر ۹ بجے صبح شروع کرکے ۴ بجے شام کو ختم کی ۔ ذرا غور کیجئے کہ علی علیہ السلام کے اس غلام نے بولتے بولتے صبح سے شام کردی ۔اس دوران اس سے کیسی کیسی دلیلیں دی ہوں گی ، کیا کچھ نہ کہا ہوگا ۔
اب ہم ان بے حیا او رمحسن فتوے بازوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے بزرگ عطااللہ بخاری اور تمہارے پیرو مرشد مولانا یوسف بنوری (کہ جن کے نام پر جمشیدی روڈ کراچی پر تم نے ایک مسجد قائم کررکھی ہے ) نے شیعہ علماء کو تحریک ختم نبوت میں مؤثر نمائندگی اور اہم عہدے دیئے تو تمہیں اب شیعہ اثناعشریہ کو ختم نبوت کا منکر قراردیتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی اور جب مولانا
اسماعیل شیعہ نقطہ نظر سے مرزائیت کے خلاف بول رہے تھے تو کیا کسی مرزائی نمائندہ نے یہ کہا تھا کہ حضور آپ تو خود ختم نبوت کے منکر ہیں آپ کس منہ سے ہمارے خلاف بو ل رہے ہیں ۔ یقینا تم اس قسم کی کوئی بات نہیں پیش کرسکتے اور اب ہم آخری بات تمہیں بتادیں گہ شیعہ اثناعشریہ کے کلمہ اور اذان میں ختم نبوت کا اعلان شامل ہے ۔محمد رسول اللہ کے فورا بعد علی ولی اللہ کہہ کر یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اب نبوت ختم ہوئی اور ولایت کا سلسلہ شروع ہوا ۔
فتوی تکفیر
اقراء کے شعیت نمبر اور بینات میں شیعہ اثنا عشریہ کے خلاف کفر کے فتووں کا انبار لگا ہوا ہے ۔اس میں عالم اسلام اور ہندو پاک کے قدیم وجدید ملاؤں کے فتوے ہیں ۔ ان سب فتوؤں کو اس مختصر سی کتاب میں پیش کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ضروری ،کیونکہ سب نے ہی راگ الاپہ ہے ۔ہم یہاں صرف پاکستانی ملاؤں کے فتوؤں کا عکس پیش کررہے ہیں تاکہ لوگ ان سے واقف ہوجائیں اور اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ وہی گروہ ہے کہ جو پورے پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانہ چاہتا ہے اور اس کوشش میں برسوں سے لگا ہوا ہے ۔ اسی گروہ نے سنہ ۱۹۸۳ ء میں یہ آگ کراچی میں بھڑکائی تھی جس کا سلسلہ مہینوں جاری رہا تھاے
دار الا فتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامیہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی
الجواب
باسمہ تعالی
فاضل مستفتی نے شیعہ اثنا عشریہ کے جن حوالہ جات کا ذکر کیا ہے وہ ہم شیعہ کتابوں میں خود پڑھے ہیں ۔ بلکہ ان سے بڑھ کر شیعوں کی کتابوں میں ایسی عبارات صاف صاف موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ
الف :- وہ تمام جماعت صحابہ کو مرتد اور منافق سمجھتے ہیں یا ان مرتدین کے حلقہ بگوش ۔
ب:- وہ قرآن کریم کو (جو امت کے ہاتھوں میں موجود ہے ) بعینہ اللہ تعالی کا نارمل
کردہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اصل قرآن جو خدا کی طرف سے نازل ہوا تھا وہ امام غائب کے پاس غار میں موجود ہے اور موجودہ قرآن (نعوذ باللہ) محرف ومبدل ہے اس کا بہت سا حصہ (نعوذ باللہ ) حذف کردیا گیا ہے بہت سی باتیں اپنی طرف سے ملادی گئی ہیں ۔ قرآن شریف ضروریات دین میں سب سے اعلی وارفع چیز ہے اور شیعہ بلااختلاف ان کے متقدمین اور متاخرین سب کے سب تحریف قرآن کے قائل ہیں اور ان کی کتابوں میں زائد از دوہزار روایات تحریف قرآن کی موجود ہیں جن میں پانچ قسم کی تحریف بیان کی گئی ہے ۔۱:- کمی ۔۲:- بیشی ۔۳:- تبدل الفاظ ۔۴:- تبدل حروف ۔۵:- تبدل ترتیب سورتوں ،آیتوں اور کلمات میں بھی ۔
"اصول کافی " اور اس کا تتمہ الروضہ ،ملا باقر مجلسی کی کتابوں "جلاء العیون "حق الیقین " حیات القلوب " زادالمعاد "نیز حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی کی کتاب "فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب " (جو ۲۹۸ صفحات پر مشتمل کتاب ہے ) میں قرآن کریم کا محرف ہوناثابت کیا گیا ہے ۔
مولف مذکور طبرسی نے بزعم خود بے شمار روایات سے قرآن کریم کی تحریف ثابت کی ہے
ج:- قادیانوں کی طرح وہ لفظی طور پر ختم نبوت کے قائل ہیں ۔ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین مانتے ہیں ،لیکن انھوں نے نبوت محمدیہ کےمقابلہ میں ایک متوازی نظام عقیدہ امامت کےنام سے تصنیف کرلیا ہے ۔ان کے نزدیک امامت کا ٹھیک وہی تصور ہے جو اسلام میں نبوت کا تصور ہے ،چنانچہ امام نبی کی طرح منصوص من اللہ ہوتاہے ۔معصوم ہوتا ہے ،مفترض الطاعۃ ہوتاہے ،ان کو تحلیل وتحریم کے اختیار ہوتے ہیں اور یہ کہ بارہ امام تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں
(اصول کا فی ۔تفسیر مقدمہ مراۃ الانوار )
ان عقائد کے ہوتے ہوئے اس فرقہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا صرف انہی تین عقائد کی تخصیص نہیں بلکہ بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ شیعیت اسلام کے مقابلہ میں بالکل ایک الگ اور متوازی مذہب ہے جس میں کلمہ طیبہ سے لے کر میت کی تجہیز وتکفین تک تمام اصول وفروع اسلام سے الگ ہیں۔ اس لئے شیعہ اثناعشریہ بلاشک وشبہ کافر ہیں علماء امت نے اثناعشریہ شیعوں کوہر زمانہ میں کافر قرار یدا لبتہ
(۱):- اس فتوی کی اشاعت نہیں ہوئی
(۲):- تقیہ اور کتمان کے دبیز پردوں میں شیعہ مذہب چھپا رہا ۔
(۳):-خمینی صاحب کے آنے کے بعد شیعہ اثناعشریہ نے بین الاقوامی طور پر وجوہ ثلاثہ سابقہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے مذہب کی خوب اشاعت کی خمینی صاحب خود کوامام غائب کانمائندہ سمجھتے ہیں اور اپنا حق سمجھتے ہیں کہ مذہب شیعہ کی اصل طور پر بلا کتمان اشاعت ہوااس لئے آب صورتحال مختلف ہوگئی ۔
فاضل مستفتی نے بڑی محنت سے استفتاء مرتب کیا ہے اوراس سے واضح ہو
جاتا ہے کہ تقریبا ہر دور میں شیعہ اثناعشری کو کافر قرار دیا گیا ہے اس استفتاء کی تحریر کردہ عبارتوں کے بعد جو اب استفتاء کے لئے مزید عبارت کی ضرورت ہیں ۔
تصدیقات علماء پاکستان
پاکستان کے کئی ممتاز علماء کرام نے حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رئیس دار الافتاء جامعۃ العلو الاسلامیہ ،ومفتی اعظم پاکستان کے اسی فتوے پر اپنے تصدیقی دستخط ثبت فرمائے ہیں ۔ ان حضرات کے دستخط ذیل میں نقل کئے جارہے ہیں ۔
محمد عبدالستار تو فسوی عفی عنہ صدر تنظیم اہلسنت پاکستان
محمد یوسف لدھیانوی عفااللہ عنہ ، مدیر ماہنامہ ،بینات " جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی
سلیم اللہ خاں مہتمم وصدر المدرسین وشیخ الحدیث جامعۃ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی
نظام الدین شامزئی خادم دارالافتاء جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی
محمد عادل جامعہ فاروقیہ فیصل کالونی کراچی
محمد اکمل غفر لہ مفتی دار الافتاء جیکیب لائن کراچی
غلام محمد مفتی جامعہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی نمبر ۲ کراچی
فداء الرحمن مہتمم جامعہ انوارالقرآن نارتھ کراچی
سیف الرحمن عفی عنہ ،نائب مہہتم جامع العلوم ضلع بھاولپور
محسن الدین احمد عفا اللہ عنہ ،موسس مدرسہ شریفیہ عالیہ بہالپور
(مقیم (حال نمبر ۱۳۷ بنگسال روڈ ڈھاکہ ۔بنگلہ دیش
عبدالقیوم محمد عبدالرزاق
محمد نعیم مہہتمم جامعہ بنوریہ کراچی نمبر ۱۶
فتوی حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب دامت برکاتہم
بسمہ اللہ الرحمن الرحیم
اہل قبلہ کی تکفیر میں علماء حق غایت درجہ کی احتیاط س کام لیتے ہیں لیکن اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اہل قبلہ میں سے جو فرقہ بھی ضروریات دین کا منکر ہو وہ قطعی کافر ہے خواہ وہ اپنے ایمان واسلام کا کتنے ہی زور شور سے دعوی کرتا رہے ۔فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کے عقائد کے بارے میں فاضل علام حضرت مستفتی مولانا منظور نعمانی اطال اللہ بقاءہ و عم فیوضہ نے جس تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور ان کی مستند کتابوں کے جس کثرت سے حوالے پیش کئےہین ان کے مطالعہ کے بعد خواص تو کیا عوام کو بھی اس فرقہ ضالہ کے خارج از اسلام ہونے میں شک نہیں ہوسکتا ہے ۔
بھلا جو فرقہ ختم نبوت کاقائل نہ ہو اپنے ائمہ کو جلی کا درجہ دے انھیں معصوم سمجھے ان کی اطاعت کو تمام انسانوں پر فرض قراردے ۔ ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ ان پر وحی باطنی ہوتی ہے اور وہ انبیاء اولوالعزم سے بھی افضل ہیں ۔ قرآن کریم محرف و مبدل ہے ،صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین جو بہ نص قرآن خیرامت ہیں اور جن کی جاں فشانی وجاں فروشی سے اسلام برپا ہوا اور دین اب تک باقی رہا ان ہی کو مرتد اور کافر کہے اور ان پر سب وشتم اور تبرا کو نہ صرف حلال بلکہ ثواب سمجھے ۔ایسا فرقہ لاکھ اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہے اس کو اسلام وایمان اور قرآن ونبی صلواۃ والسلام سے کیا تعلق ؟ بقول شاعر
دشنام بمذہبے کہ طاعت باشد ۔۔۔۔۔ مذہب معلوم واہل مذہب معلوم
یاد رہے کہ تقیہ کے دبیز پردے اور اس فرقہ کی کتابوں کی اشاعت نہ ہونے کے باعث عام طور پر ہمارے علماء گذشتہ دور میں ان کے معتقدات سے بے خبر رہے لیکن اب جبکہ ان کی مستند کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ان کا کفر واضح ہوچکا ہے ۔ پہلے بھی جبکہ اس فرقہ کی تصانیف علماء حق کی دسترس سے باہر تھیں جن اکابر علماء نے ان کے افکار ونظریات پر کام کیا ہے ان کے کفر وزندقہ کی تصریح کی ہے ۔ چنانچہ فاضل مستفتی دامت برکاتہم نے استفتاء میں ان حضرات علماء کی تصریحات اس سلسلے میں نقل فرما دی ہیں ۔ جزاہ اللہ خیرا الجزا
دار الافتاء والارشاد ،کراچی
الجواب
باسم طعم الصواب
شیعہ بلاشبہ کافر ہیں ۔ ان کے کفر میں ذرا تامل کی بھی گنجائش نہیں ، ان کی کتابیں کفریات سے لبریز ہیں ۔ جن میں سب سے بڑی وجہ تحریف قرآن ہے ، جو ان کے ہاں متواتر ومسلمات میں سے ہے ، اس مذہب کاجاہل ہر ہر فرد ہر مردوعورت بلکہ ہر بچہ یہی عقیدہ رکھتا ہے ،ان کے گھروں میں جو بچہ بھی جیسے ہی ہوش سنبھالتا ہے اس کے دل ودماغ میں مذہب کا یہ بنیادی عقیدہ زیادہ سے زیادہ راسخ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ،ان کا چھوٹا بڑا ہر فرد اسے جزو ایمان بلکہ مدار ایمان سمجھتا ہے ، میں یہ بات کئی شہادتوں کے بعد پورے یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں ۔
اگر کوئی شخص تحریف قرآن سے انکار کرتا ہے تو وہ بطور تقیہ ایسا کرتا ہے اس کی کئی مثالیں خود انھیں کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ جب ان پر ان کی کتابیں پیش کی جاتی ہیں تو جواب دیتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص مجتہد ہے ،اس لئے جس مصنف نے تحریف قرآن کا قول کیا ہے وہ اس کا اپنا اجتھاد ہے جو ہم پر حجت نہیں ۔ ایسی صورت میں ان کے تقیہ کا پول کھولنے کے دوطریقے ہیں ۔
۱:- عقیدہ تحریف قرآن "اصول کافی " میں بھی موجود ہے اور اس کتاب کے بارے میں شیعہ کا یہ عقیدہ ہے کہ امام مہدی نے اس کی تصدیق کی ہے یہ لوگ
امام مہدی کی تصدیق اس کتاب کے ٹائٹل کی پیشانی پر چھاپتے ہیں ،اور ان کےعقیدہ کے مطابق امام غلطی سے معصوم اور عالم الغیب ہوتاہے اس لئے "اصول کافی " کے فیصلہ سے انکار کرنا امام کی عصمت اور اس کے علم غیب سے انکار کرنا ہے ۔
۲:- ان کے جن مصنفین اورمجتہدین نے تحریف قرآن کا قول کیا ہے یہ ان سب کو کافر کہیں اور ایسی تمام کتابیں جلاڈالیں ،اپنے اس قول وعمل کااخباروں میں اشتہاردیں میں دعوی سے کہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی شیعہ بھی اس پر آمادہ نہیں ہوسکتا جو چاہے اس کا تجربہ کرکے دیکھ لے ،کیا اس کے بعد کسی کو اس حقیقت میں کسی قسم کے تامل کی کوئی گنجائش نظر آسکتی ہے کہ بلا استثناء شیعہ کا ہر فرد کافر ہے ۔
شیعہ کا کفر دوسرے کفار سے بھی زیادہ خطرنا ک ہے ،اس لئے کہ یہ بطور تقیہ مسلمانوں میں گھس کران کی دنیا وآخرت دونوں برباد کرنے کی تگ ودومیں ہر وقت مصروف کار رہتے ہیں ، اور اس میں کامیاب بھی ہورہے ہیں ،اللہ تعالی سب اہل اسلام کو ان کا دجل وفریب سمجھنے کی فہم عطاء فرمائیں ، اور ان کے شر سے حفاظت فرمائیں ان کے مذہب کی تفصیل میری کتاب "حقیقت شیعہ " میں ہے فقط واللہ تعالی اعلم
عبدالرشید رئیس دار الافتاء والارشاد ،ناظم آباد کراچی ۶ صفر سنہ ۱۴۰۷ ھ
الجواب صحیح عبدالرحیم نائب مفتی دارالافتاء والارشاد ۱۶ صفر سنہ ۱۴۰۷ ھ
فتوی مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب
مدیر ہفت روزہ الاعتصام لاہور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
استفتاء میں شیعہ اثناعشریہ کے جو عقائد تفصیل سے خو دان کی مستند کتابوں سے نقل کئے گئے ہیں جن کی رو سے شیعوں کے نزدیک
قرآن کریم محرف ہے اور اس میں ہر قسم کی تبدیلی کی گئی ہے ۔
٭ صحابہ کرام (نعوذ باللہ ) منافق اور مرتد ہیں بالخصوص حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق شیطان سےبھی زیادہ خبیث اور سب کافر وں سےبڑھ کر ہیں اور جہنم میں سب سے زیادہ عذاب بھی انہین کو مل رہاہے اور ملے گا ۔
٭ ان کے بارہ امام نبیوں کی طرح نہ صرف معصوم ہیں بلکہ انبیاء ئے سابقین سے افضل ہیں ۔ نیز "امامت" نبوت سے افضل ہے ۔ علاوہ ازیں ائمہ کو کائنات میں تکوینی تصرف کرنے کے اختیارات حاصل ہیں اور عالم ماکان و ما یکون ہیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔
ان مذکورہ عقائد میں سے ہر ایک عقیدہ کفریہ ہے ۔کوئی ایک عقیدہ بھی ان کی تکفیر کے لئے کافی ہے چہ جائیکہ ان کے عقائد مجموعہ کفریات ہوں ۔ بنابریں مذکورہ عقائد کے حامل شیعہ حضرات کو قطعا مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا ۔اگر وہ مسلمان ہیں تو اس کا مطلب صحابہ کرام سمیت تمام اہلسنت کی تکفیر ہوگا ۔ شیعہ تو صحابہ کرام اور اہل سنت کے
بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ۔لیکن کیا اہلسنت کے عوام وخواص کو شیعوں کی اس رائے سے اتفاق ہے ؟ اگر نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو پھر ایسے کفریہ اعقائد کے حامل شیعوں کو مسلمان سمجھنا بھی کسی لحاظ سے صحیح نہیں ۔ اہل سنت اس نکتے کو جتنی جلد سمجھ لیں ان کے حق میں بہتر ہوگا ۔
وماعلینا الا البلاغ
حافظ صلاح الدین یوسف
ہفت روزہ الاعتصام لاہور ، ۷ جون ۱۹۸۷ ء
جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ
شیعہ اثناعشریہ رافضیہ کا فر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ کیونکہ یہ غالی فرقہ ان مسائل کا انکار کرتا ہے ، جو قطعی الثبوت ،قطعی الدلالت اور ضروریات دین میں ہیں جس کی مختصر سی تشریح یوں ہے کہ :-
دین کے مسائل دو قسم کے ہوتے ہیں:-
البتہ قطعیات محضہ جو شہرت میں اس درجہ کو نہیں پہنچے ان کا انکار اگر بے خبری کی بنا پر کیا جائے تو کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا ۔
شیعہ اثنا عشریہ رافضیہ چونکہ موجودہ قرآن کا انکار کرتے ہیں ۔ جو ضروریات دین میں سے ہے ۔ اور خلافت راشدہ کا بھی انکار کرتے ہیں جس پر امت کا اجماع ہے اور اسی طرح صحابہ کرام کا انبیاء کے بعد تمام انسانوں سے افضل واعلی اور عدل وثقہ ہوتا اور اللہ تعالی کا ان سے راضی ہوتا ۔ اور ان کے لئے جنت کی خوشخبری کا بھی انکار کرتے ہیں ۔جو قرآن وحدیث کی نصوص سے ثابت ہونے کی بنا پر قطعیات اسلام میں سے ہے ۔
نیز صحابہ کرام کے متعلق تویہ بد ترین عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاذاللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سواۓ تین حضرات (مقداد بن اسود ، سلمان فارسی ، عمار بن یاسر )کے باقی تمام صحابہ دین چھوڑ کر اللہ اور رسول کے بے وفا ہوگئے تھے ۔ لہذا یہ فرقہ مذکورہ کفریہ عقائد کی بنا پر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔
محمدعلی جانباز خادم جامعہ ابراھیمیہ
سیالکوٹ (مہر جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ)
جواب فتوی
منظور نعمانی خود بھی دیوبندی حنفی ہے اور زیادہ تر فتوے باز بھی حنفی المسلک ہیں مگر شیعہ اثناعشریہ کےبارے میں ابو حنیفہ کی کوئی رائے نہیں پیش کی گئی اور اگر پیش کی گئی ہے تو امام مالک اور امام ابن تیمیہ کی ۔وجہ صرف یہ ہے کہ ابو حنیفہ کی رائے منظور نعمانی کی مرضی کے خلاف ہے ملاحظہ ہو کہ شرح فقہ اکبر ابو حنیفہ میں ہے :-
" جو کفر سے متعلق اگراس میں ۹۹ احتمالات کفر کے ہوں اور ایک احتمال یہ ہو کہ اس کا مقصد کفر نہیں ہے تو مفتی او ر قاضی کے لئے اولی ہے کہ وہ اس احتمال پر فتوی دے کیونکہ ایک ہزار کافروں کو اسلام میں رکھ لینا آسان ہے لیکن ایک مسلمان کو اسلام سے خارج کرنے کی غلطی بہت اشد ہے "۔
عقیدہ طحاویہ میں امام طحاوی نے ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں سے منقول عقائد بیان کئے ہیں ۔چنانچہ عقیدہ طحاویہ میں ہے ۔
"بندہ خارج ازایمان نہیں ہوتا مگر اس چیز کے انکار سے جس کے اقرار نے اسے داخل ایمان کیا تھا "
ملاحظہ ہو کہ ابوحنیفہ تویہ کہہ رہےہیں کہ اگر ایک فیصد بھی یہ احتمال ہو کہ اس کامقصد کفر نہیں تو اس ایک فیصد احتمال پرفتوی دینا چاہیے مگر یہ دیوبندی حنفی شیعہ اثناعشریہ کے خلاف تحقیق کرکرکے کفر کی وجہیں دریافت کررہے ہیں
ڈھونڈ ڈھونڈ کر دلیلیں لارہے ہیں ۔کہ تم تحریف قرآن کے قائل ہو ، ہرشیعہ عالم قولا عملا ثابت کررہا ہے کہ ہم تحریف کےقائل نہیں ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو تقیہ کرتے ہو۔۔۔۔۔جب یہ عقیدہ امامت کی وجہ سے شیعہ کو ختم نبوت کا منکر قرار دیتے ہیں تو شیعہ کہتے ہیں کہ ہمارے تو کلمہ میں ختم نبوت کا عقیدہ شامل ہے اورہم تو عملا تحریک ختم نبوت میں عام مسلمانوں کے ساتھ شریک رہے ہیں مگردیوبندی کسی بات کو نہیں مانتے اور اپنے امام ابو حنیفہ کےقول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیعہ اثناعشریہ کو کافر قراردینے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔یہ کہتے ہیں کہ تم صحابہ کی تکفیر کرتے ہو لہذا خارج ازایمان ہو ، مگر ان کے امام ابو حنیفہ کہتےہیں کہ بندہ صرف اسی وقت خارج ازایمان ہے جب وہ اس بات کا انکار کرے جس کے اقرار نے اسے داخل ایمان کیا ہو ۔۔۔۔۔۔اوریہ بات یقینی ہے کہ صحابہ کے ایمان کا اقرار کسی کو داخل ایمان نہیں کرتا ۔
منظور نعمانی شیعہ اثنا عشریہ کو کافر قرار دینے کے لئے امام مالک اور امام ابن تیمیہ کی آرا پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام مالک کی رائے ہے کہ صحابہ پر سب وشتم کرنے والا کافر ہے ۔ اور ابن تیمیہ کی رائے کو تین فقہا کی رائے کے حوالہ سے پیش کرتے ہیں ۔
۱:- اگر صحابہ کی شان میں گستاخی جائز سمجھ کر کی جائے تو ایسا کرنے والا کافر ہے اور اگر ایسے ہی بک دیا جائے تو سخت گناہ اور ایسا شخص فاسق ہوگا ۔
۲:- صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والا سزائے موت کا مستحق ہوگا ۔
۳:- حو صدیق اکبر کی شان میں گالی بکے وہ کافر ہے اور اس کی نمازجنازہ نہ پڑھی جائے ۔
منظور نعمانی صاحب بھی دوسرے دیوبندیوں کی طرح امام ابو حنیفہ کے
پیروکار ہیں انھیں صحابہ کی شان مین گستاخی کرنے والے کے بارے بھی ابو حنیفہ ہی کے فتوے کو ماننا چاہئے اور ابو حنیفہ کا فتوی "عقیدہ طحاویہ " کے مطابق یہ ہے
"ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اصحاب کو محبوب رکھتے ہیں ان میں سے کسی کی محبت میں حد سے نہیں گزرتے اور نہ کسی سے تبرا کرتے ہیں ، ان سے بغض رکھنے والے اور برائی کے ساتھ ان کا تذکرہ کرنے والے کو ہم ناپسند کرتے ہیں "۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابو حنیفہ کے نزدیک صحابہ سے بغض رکھنے اور ان کی برائی کرنے والا کافر نہیں ہے بلکہ صرف ناپسند یدہ شخص ہے ،ہوسکتا ہے کہ انھوں نے یہ بھی مصلحتا کہا ہو ۔۔۔۔ہمیں ایک روایت ا یسی بھی ملتی ہے کہ جس سےیہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے دل میں خود بھی حضرت عمر کا کوئی احترام نہ تھا ۔ علامہ شبلی نعمانی کہ جو ایک سنی عالم اوربڑے پائے کے مورخ تھے اپنی کتاب سیرت النعمان میں ایک واقعہ لکھتے ہیں ۔
"امام صاحب کے محلہ میں ایک پسنہارا رہتا تھا ۔جو نہایت متعصب شیعہ تھا اس کے پاس دوخچر تھے ۔ایک کانام ابو بکر اور دوسرے کا نام عمر رکھا تھا اتفاق سے ایک خچر نے دوسرے کے لات ماردی کہ اس کا سر پھٹ گیا اور اسی صدمے سے وہ مرگیا ۔محلہ میں اس کاچرچا ہوا ۔ امام صاحب نے سنا تو کہا ۔دیکھنا اس خچر نے مارا ہوگا جس کا نام اس نے عمر رکھا تھا ۔ لوگوں نے دریافت کیا تو واقعی ایسا ہی ہوا تھا ۔(سیرۃ النعمان ص ۱۲۹) مدینہ پبلیشنگ کراچی)
یہ محض اتفاق تھا کہ ابو حنیفہ کی بات سچ نکلی ،مگر یہ بات یقینا قابل غور ہے ان کے ذہن میں یہ بات آئی کیسے کہ لات مارنے والا عمر ہی ہوگا ۔۔۔۔۔ خیر یہ ان کے خلیفہ اور امام کا آپس کامعاملہ ہے ۔ہمیں اس سے کیا ! ہم تو صرف ابن تیمیہ کا وہ حوالہ یا د دلائیں گے کہ جس کے مطابق اگر کوئی شخص
صحابہ کی شان گستاخی کو جائز سمجھتے ہوئے کرے ،تو کافر اور اگر ایسے ہی کچھ بک دے تو سخت گنہگار اور فاسق ہوگا ۔ اب یہ دیو بند کا حنفی مولوی جانے کہ ہو اپنے امام صاحب کو کس درجہ میں رکھتا ہے ۔۔۔۔۔مگر ایک نہ ایک درجہ میں ضرور رکھنا پڑے گا ۔کیونکہ امام صاحب سے حضرت عمر کی شان میں گستاخی ہوئی ، چاہے انھوں نے جائز سمجھ کر کی یا ناجائز سمجھ کر ۔۔
شیعہ اثنا عشریہ اگر بعض صحابہ کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کیا مگر علی وفاطمہ وار ان کی اولاد کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا اور اس کے حقوق غصب کئے و ہ سب پر عیاں ہیں ۔ خاص طور سے جو لوگ علی کے خلاف تلوار کھینچ کر میدان میں آگئے تو ان کے بارے میں شیعہ اثناعشریہ کی رائے کیا ہوگی وہ ظاہر ہے ۔۔۔۔۔ مگر یہ بھی دیکھ لیجئے کہ امام ابو حنیفہ کی اس سلسلہ میں کیا رائے تھی ، مصر کی شرعی عدالتوں کے جج ابو زہرہ اپنی کتاب "ابو حنیفہ "میں لکھتے ہیں ۔
" امام صاحب کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت علی اپنی تمام لڑائیوں میں حق پر تھے اور اس سلسلہ میں وہ حضرت علی کے مخالفین کے متعلق کسی قسم کی تاویل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے اور صاف طور سے فرمایا کرتے تھے کہ حضرت علی جو بھی جنگیں لڑی گئیں ان میں حضرت علی حق پر تھے "
مولانا مودودی فرماتے ہیں ۔
اگر چہ صحابہ کی خانہ جنگی کے بارے میں امام ابو حنیفہ نے اپنی رائے ظاہر کرنے سے دریغ نہیں کیا ۔چنانچہ وہ صاف طور پر یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کی جن لوگوں سے جنگ ہوئی (اور ظاہر ہے کہ اس میں جنگ جمل وصفین کے شرکا شامل ہیں ) ان کے مقابلے میں علی زیادہ برسر حق تھے ، لیکن وہ دوسرے
فریق کو مطعون کرنے سے قطعی پرہیز کرتے ہیں (خلافت وملوکیت ص ۲۳۳)
مولانا موصوف کی ایک اور عبارت :-
" یہ بھی امر واقع ہے کہ تمام فقہاء ومحدثین ومفسرین نے بالاتفاق حضرت علی کی ان لڑائیوں کو جو آپ نے اصحاب جمل ،اصحاب صفین اور خوارج سے لڑیں قرآن مجید کی آیت "فان بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی القی الی امراللہ " کے تحت حق بجانب ٹھہرا یا ، کیونکہ ان کے نزدیک آپ امام اہل عدل تھے اور آپ کے خلاف خروج جائز نہ تھا ۔ میرے علم میں کوئی ایک بھی فقہہ یا محدث یا مفسر نہیں جس نے اس مختلف کوئی رائے ظاہر کی ہو ۔ خصوصیت کے ساتھ علمائے حنفیہ نے بالاتفاق یہ کہا ہے کہ ان ساری لڑائیوں میں حق حضرت علی کے ساتھ اور ان کے خلاف جنگ کرنے والے بغاوت کے مرتکب تھے " (خلافت وملوکیت ص ۳۳۸)
مولانا مودودی نے امام ابو حنیفہ کو آزادی رائے کا بہت بڑا حامی بتایا ہے آپ فرماتے ہیں :-
"آزادی رائے کے معاملے میں وہ اس حد تک جاتے ہیں کہ جائز امامت اور اس کی عادل حکومت کے خلاف بھی اگر کوئی شخص زبان کھولے اورامام وقت کوگالیاں دے یا اسے قتل تک کرنے کاخیال ظاہر کرے تو اس کو قید کرنا اور سزادینا ان کے نزدیک جائز نہیں ، تاوقتیکہ کوہ مسلح بغاوت بدامنی برپا کرنے کا عزم نہ کرے " (خلافت و ملوکیت ص ۲۶۳)
امام ابو حنیفہ کے ماننے والے دیوبندی فتوے باز اگر ابو حنیفہ ہی کے صدقہ میں شیعہ اثناعشریہ کو اظہار رائے کی آزادی دے دیں تو پھر ان پر کفر کا فتوی نہ لگے ۔ شیعہ اس آزادی سے پورا فائدہ نہیں اٹھائیں گے ، کسی گال نہیں دیں
گے اورقتل کی نیت توکرہی نہیں سکتے ۔ہاں حق پرستی کابھر پور مظاہرہ اور کامل عدل کرینگے ۔ابو حنیفہ اور تمام سنی فقہا محدثین ومفسرین علی لڑائیوں میں انہیں حق پر سمجھتے ہیں مگر باطل کو برا نہیں کہتے ،او ر نہ ہی ان سے اظہار برات کرتے ہیں ۔ شیعہ اثنائے عشریہ علی کو حق پر سمجھتے ہیں تو باطل پر ہونے کا سبب خطائے اجتہادی کو قراردیدیں یا اگر کسی کو خطائے اجتہادی کی گنجائش نہ ہونے کے باجود معاف کردیں اور یہ بھی بھول جائیں کہ ان لڑائیوں میں کتنے انسانوں کا خون بہا اور یہ بھی نہ سوچیں کہ آخر اس کا کوئی توذمہ دار ہوگا ۔ تو ان کی مرضی ۔۔۔۔۔۔
مگر یہ تو بڑی زیادتی ہوگی کہ شیعہ اثناعشریہ اس ظلم میں آپ کا ساتھ نہ دیں تو آپ انہیں کافر ٹھہرائیں ۔
امام ابو حنیفہ یا علمائے احناف کسی نے بھی اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں اور اپنے عقیدے امامت کی وجہ سے ختم نبوت کے منکر ہیں لہذا کافر ٹھہرے ۔،منظور نعمانی کو حنفی فقہاء اور علماء کے ہاں شیعہ اثناعشریہ کے خلاف کچھ نہ ملا تو اس نے ان پریہ مضحکہ خیز الزام لگا یا کہ انہوں نے مذہب شیعہ کی کتابوں کا براہ راست تفصیلی مطالعہ نہیں کیا ملاحظہ ہو اس کی تحریر ۔" ہمارے حنفی فقہا وعلماء میں علامہ ابن عابدین شامی (متوفی ۱۲۵۳ھ) اس لحاظ سے بہت ممتاز ہیں کہ ان کی کتاب "رد المحتار" فقہ حنفی کی گویا انسا ئیکوپیڈیا ہے ۔ اس میں فقہ حنفی کی ان قدیم کتابوں ی نقول
بھی مل جاتی ہے جو اب تک بھی طبع نہیں ہوسکی ہیں ۔ بلاشبہ یہ کتاب تصنیف فرما کر انھوں نے حنفی دنیا پر بڑا احسان فرمایا ہے لیکن سی "رد المحتار" میں اور اس کے علاوہ اپنے ایک رسالہ میں جو "رسائل ابن عابدین" میں شامل ہے شیعوں کے بارے میں انھوں نے جو کچھ تحریر کیا ہے اس کےمطالعہ کے بعد اس میں شک نہیں کیا جاسکتا کہ مذہب شیعہ کی کتابیں ان کی نظر سے بھی نہیں گزر سکیں ،اگرچہ ان کا زمانہ اب سے قریبا ڈیڑھ سو سال پہلے ہی کا ہے بلکہ اس کے کے بعد کے دور کے بھی (چند حضرات کو مستثنی کرکے) ایسے جبال علم جو اپنے وقت کے آسمان علی کے آفتاب وماہتاب تھے ان کی کتابوں سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مذہب شیعہ کی کتابوں کابراہ راست اور تفصیلی مطالعہ کرنے کا انہیں بھی موقع نہیں ملا (نگاہ اولیں)
جبال علم اور آسمان علم کے آفتاب وماہتاب حنفی حضرات کو تو شیعوں کی کتابیں پڑھنے کا موقع نہ مل سکا مگر آج کال کے پاک وہند کے حنفی ملا کو یہ کتابیں پڑھنے کا تفصیل سے موقع مل گیا ۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ احماقانہ باتیں نہیں ہیں؟ کتنی سچی بات ہے کہ انسان تعصب میں اندھا ہو جاتا ہے ۔
جن فتوؤں کا عکس پیش کیا گیا اور جن کا نہیں پیش اور جن کا نہیں پیش کیاگیا ان سب میں زیادہ ترانہی بنیادوں پر شیعہ اثنا عشریہ کو کافر قرار دیاگیا ہے کہ جن کا تفصیلی جواب ہم دوسرے باب میں دے چکے ہیں ۔ لہذا اس سلسلے مزید کچھ لکھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے ۔
ہم اپنے پڑھنے والوں کو صرف اتنا یاد دلاتے چلیں کہ یہ وہی جاہل ملاّ ہے کہ جس نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے خلاف فتوی دیا تھا مگر آج ہر ملا اپنی پاٹ دار آواز کے باوجود ضرورت بلا ضرورت لاؤڈ سپیکر پر اذان بھی دیتا ہے
اور نماز بھی پڑھاتا ہے ۔کل یہی جاہل مولوی تصویر کھینچوانے کو حرام قراردیتا تھا مگر آج بڑے ذوق وشوق سے تصویر کھینچواتا ہے اور انہیں اخبارات میں چھپوانے کو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ اسی ملانے منصور حلاج اور سرمد جیسے صوفیوں کو کافر قرار دے کر قتل کرادیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور ایسے ایسے لوگوں پر کفر کے فتوے لگائے کہ جنھیں آج کا مسلمان اور خود آج کا ملا رحمۃ اللہ علیہ کہتا ہے ۔ سرسید احمد خان، علامہ اقبال، محمد علی جناح ،مولانا ظفر علی خان غرضیکہ کون سا ایسا اپنے وقت کا بڑا آدمی ہے جو کہ اپنی حیات میں ان فتووں کو زد میں نہ آیا ہو ۔ اس کے علاوہ بریلوی ،دیوبندی ،اہل حدیث غرضیکہ کون سا فرقہ ایسا ہے کہ جس نے دوسرے فرقہ کے خلاف کفر کے فتوے نہ دیئے ہوں ۔
اس سلسلہ میں ہو ایک دلچسپ یاد دلائیں کہ جنوری سنہ ۱۹۵۱ ء میں ۳۲ علمائے دین پاکستان اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ۲۲ نکات پر متفق ہوگئے تھے اور ان میں مسلمانوں کے ہر مکتبہ فکر کو نمائندگی حاصل تھی ۔ شیعہ اثناعشریہ کی طرف سے مفتی جعفر حسین اور حافظ کفایت حسین صاحب شریک ہوئے تھے ۔ ۔۔۔۔اب کیا تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کایہ فرض نہیں ہے کہ وہ فتوے باز ملّا سے یہ پوچھیں کہ ان دوشیعہ کا فروں کو ان مقدس نکات کی تیاری میں کیوں شریک کیاگیا تھا ؟
مروانی زاغ
عبد القدوس
صلاح الدین ہفت روزہ "تکبیر"کا مدیر ہے ۔پہلے یہ شخص گورنمنٹ ٹیچر ز ٹرینیگ اسکول قاسم آباد کراچی میں استاد تھا ۔ پتلون قمیص پہنتا اور داڑھی مونچھیں صاف کرتا تھا ۔اس نے صحافی زندگی کا آغاز اس طرح سے کیا کہ یہ اسکول کی سرکاری ملازمت بھی کرتا رہا اور" روزنامہ حریت " میں بھی ایک ٹیبل پر کام کرنے لگا ۔کراچی سے روزنامہ "جسارت " نکالا گیا تو یہ اس میں ایڈیٹر بن گیا ۔وہاں کسی باب پر ان بن ہوئی تو اس نے ایک ہفت روزہ نکالنا شروع کیا اور اس کا نام تکبیر رکھا ۔
روزنامہ "جسارت" کی ایڈیٹری سے معلوم ہوتاہے کہ اس کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا ۔ اب اصل صورت حال کیا ہے معلوم نہیں ۔ اس نے "تکبیر" نکالا تو لوگ سمجھے کہ یہ ایک اسلامی خدوخال رکھنے والا پرچہ ہوگا مگر کچھ عرصہ بعد ثابت ہوا کہ اس کا کام تو ملک میں تعصبات اور فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے اور خاص طور سے یہ شیعہ دشمن رسالہ ہے ، اپنی اشاعت بڑھانے کے لئے یہ بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے جو دوسرے غیر مذہبی پرچے استعمال کرتے ہیں ۔ اس کے نزدیک حق وناحق میں تمیز کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔یہ اللہ کے اس حکم کی بلکل پراوہ
نہیں کرتا کہ "دیکھو تمہیں کسی قوم کی دشمنی راہ عدل سے نہ ہٹا دیے "
چودہ اپریل سنہ ۱۹۸۸ ء کے شمارے نے صلاح الدین کو بالکل ننگا کردیا ہے ۔ اب اس بات کے یقین کرلینے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ یہ شخص بنو امیہ کا وارث ہے اور یہ وہ تکبیر ہے کہ جس کا تعلق اسلام سے نہیں ہے بلکہ بنی امیہ کے سفاکوں سے ہے ۔
تو یہی "تکبیر "مسلسل کئی ہفتوں سے اسماعیلی حضرات کے خلاف زہر اگل رہا ہے ۱۴ اپریل سنہ ۱۹۸۸ ء کے شمارہ میں اسماعیلی فرقہ پر ایک شخص عبدالقدوس ہاشمی کا ایک انٹریو شائع کیا گیا اس کی تصویر کے ساتھ یہ تعارفی عبارت دی ہوئی ہے ۔
"مولانا سید عبدالقدوس ہاشمی ہمارے عہد کی ان نابغہ روزگار شخصیات میں شامل ہیں جن کی تحقیق ،علمیت ،مطالعہ تقابل ادیان ،دینی معلومات اور نقطہ نظر کا زمانہ قائل ہے ۔ فقہ اور حدیث میں مولانا استناد کادرجہ رکھتے ہیں مجمع فقہی مکہ مکرمہ کے رکن ہیں ۔ فرانس کی ہسٹاریکل سوسائٹی کے ممبر ہیں ۔ موتمر عالم اسلامی کے ڈائکٹر ہیں ، مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے روح رواں اور عہدارہیں اور پاکستان سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے تاسیسی رکن ہیں ۔اب تک مولانا کی بائس کتب زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں ۔ مولانا کی جائے ولادت مخدوم پور ضلع گیا "بہار" ہے اور سنہ ولادت سنہ ۱۹۱۱ء ہے ۔
اصل گفتگو سے پہلے عبدالقدوس ہاشمی کی تصویر اور یہ طویل تعارف نقل کرنا ہم نے اس لئے ضروری سمجھا تاکہ اس کا انٹرویو سمجھنے میں آسانی ہو ۔
اس شخص کے تعارف میں غلط باتیں کتنی ہیں ؟ یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے مگر یہ بات سوفیصد غلط معلوم ہوتی ہے کہ یہ شخص سید ہے ،کیونکہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی کم ازکم ناحق اور جان بوجھ کے توہیں نہیں کرسکتا ۔اس نے جو کچھ حضرت علی مرتضی
کے لئے کہا ہے اس سے کھلی دشمنی ظاہر ہورہی ہے ۔ ویسے اس کی تصویر سے بھی ہر قیافہ شناس اس کے قلب میں پیوستہ نفرتوں اور اس تکبر کا اندازہ لگا سکتاہے ۔
اسماعیلی فرقہ پر گفتگو کرتے کرتے جب یہ شخص آئمہ کی طرف آیا تو اس نے ان کے خلاف اس طرح گفتگو شروع کی :-
حقیقتا یہ سب کے سب کسی مافوق الفطرت صلاحیت کے مالک نہ تھے چنانچہ انھوں نے ایک افسانہ بنایا کہ اللہ تعالی کا خاص نور ان اماموں میں جلوہ گرہوتا ہے ۔حالانکہ ان میں ایسی کوئی بھی خصوصیت قطعا نہ تھی جس کی بنا پر انہیں عام معمولی انسانوں سے ذرا بھی برتر ثابت کرسکتے ۔ میں مثال دیتا ہوں ۔ان میں سے سب سے بڑے کو لے لو ،وہ تھے حضرت علی ، حضرت علی صحابہ میں سے تھے ،مگر صحابہ تو سولہ ہزار تھے ، حضرت علی میں آخر کون سی خصوصیت تھی جو دوسرے صحابہ میں نہیں پائی جاسکتی تھی ۔ آپ کہیں گے وہ مجاہد تھے ۔ٹھیک ہے اور بھی بہت سے مجاہد تھے ان کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ بخش دیا گیا ہے تو صلح حدیبیہ میں چودہ سو انیس آدمیوں کےبارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم نے بخش دیا ہے وہ رسول اللہ ےک قریبی رشتہ دار تھے تو قریبی رشتہ دار رسول اللہ کے اوربھی تھے ۔عبیداللہ ابن زبیر بن عبدالمطلب بھی ویسے ہی چچا کے بیٹے تھے ۔ حضرت عثمان پھوپھی کے پوتے تھے آخر ان میں کیا خصوصیت تھی "؟
دراصل یہ شخص اسماعیلی فرقہ کے حوالہ سے آئمہ پر اظہار خیال کررہا تھا ۔ابتدا میں یہ گفتگو اسماعیلی حضرات کے تمام آئمہ پر تھی اور پھر ان سب کے بزرگ حضرت علی پر شروع ہوگئی ۔ حضرت علی سے لے کر امام ششم حضرت جعفر صادق تک شیعہ اثناعشریہ اور اسماعیلی فرقہ کے امام ایک ہی ہیں لہذا اس بات کا
شیعہ اثنا عشریہ نے بڑی شدت سے نوٹس لیا ۔
اس چھوٹے سے آدمی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے کہ "ان میں ایسی کوئی بھی خصوصیت قطعا نہ تھی جس کی بنا پر انہیں عام معمولی انسان سے ذرا بھی برتر ثابت کر سکے " اس کی یہ لفظیں بتارہی ہیں کہ وہ بغض ونفرت کے جذبات لئے ہوئے گفتگو کررہا ہے لہذا کسی علمی اپروچ کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔
ہم کہتے ہیں کہ ان حضرات کا امام ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حضرات عام معمولی انسانوں سے کئی خصوصیات کی بنا پر برتر ہوں گے ۔
اب ہم عبدالقدوس ہاشمی کے کہنے کے مطابق ان میں سے سب سے بڑے کو لیتے ہیں وہ تھے حضرت علی ۔ اس کے نز دیک وہ بھی کا ایک صحابی ،ایک عام مجاہد کی طرح اور رسول کے دوسرے رشتہ داروں کی طرح رشتہ دار تھے لہذا ان میں کوئی خصوصیت نہیں تھی ۔ اگر عبدالقدوس واقعی اتنا بڑا عالم ہے کہ جتنا ہفت روزہ تکبیر نے ظاہر کیا تو یقینا یہ شخص اچھی طرح جانتا ہوگا کہ حضرت علی نہ تو عام صحابی تھے نہ عام مجاہد اور نہ عام رشتہ دار رسول یقینا اس کے علم میں یہ ہوگا کہ نہ تو ہر صحابی درجہ میں برابر تھا اور نہ ہر مجاہد اور نہ رسول کا ہر رشتہ دار ۔ اس کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ تمام سنی مسلمانوں کا مسلک یہ ہے کہ صحابہ میں بیعت رضوان والے بھی تھے اور عشرہ مبشرہ والے بھی ۔ اور یہ دونوں گروہ عام صحابی سے افضل تھے ۔ اسی طرح سے صحابہ کا ایک تیسرا گروہ تھا جو سےب سے افضل تھا ۔وہ تھا خلفائے راشدین کاگروہ اور جناب علی مرتضی سنی مسلمانوں کے متفقہ علیہ خلیفہ راشد ہیں ۔اسی طرح سے مجاہدین کا معاملہ ہے کہ مجاہدین بدر کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ،اور پھروہ مجاہدین ہیں کہ جنھوں نے دوسرے غزوات میں جناب رسول خدا کی معیت میں جہاد کیا اور
آخری درجہ ان مجاہدین کا ہے جنھوں نے رسول اللہ کی وفات کے بعد جہاد کیا حضرت علی نے تو بدر سے لے کر حنین تک ہر غزوہ میں جناب رسول خدا کی معیت میں جہاد کیا ۔سرایا کی تعداد بھی خاصی ہے اور پھر بعد وفات رسول تاویل قرآن پرجہاد کرتے رہے ۔ان کا اور ایک عام مجاہد کا کیا جوڑ ۔
مجاہد ین کی درجہ بندی ان کے کارناموں کی بنیاد پربھی کی جاسکتی ہے ۔ جان چرا کے لڑنے والا ،جان دے کے لڑنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا ،میدان جنگ میں چھپر تلاش کرنے والا ،کھلے میدان میں لڑنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا سینکڑوں شہ زوروں کو موت کے گھاٹ اتارنے والا کسی ایسے شیخص کے برابر نہیں ہوسکتا کہ جس نے کسی ایک شہ روز کونہ مارا ہو ۔ میدان جنگ سے رسول کو چھوڑ کر کبھی نہ بھاگنے والا ،باربار پھاگنے والوں کے برابر نہیں ہوسکتا ۔تلواروں کی چھاؤں میں بستر رسول پر بے خوف ہوکر گہری نیند سوجانے والا ،غار ثور میں پہلوئے رسول میں ہونے کے باوجود حزن ملال کی کفیت میں مبتلا ہونے والے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔ میدان جنگ میں دشمن کو خالص اللہ کے لئے قتل کرنے والا (عمر بن عبدود کا واقعہ ) اپنے ذاتی جذبات کی ملاوٹ کے ساتھ قتل کرنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔
اب اس مجمل گفتگو کے بعد ذرا مفصل اور صاف صاف گفتگو :- صحیح بخاری شریف کہ جسے سنی مسلمانوں میں قرآن کے بعد سب سے بڑا مقام حاصل ہے کے مطابق :-
"عدمان اخبرنا ابو حمزه عن عثمان بن موهب قال جاء رجل حج البیت فرائ قوما جلو سا فقال من هولاء القعود قالوا هولآء قریش قال ممن الشیخ قالوا ابن عمر فاما فقال انی سائلک عن شیئء تحدثنی قال الشذک "
یحرمه هذا البیب العلم ان عثمان ابن عفان فّریوم احد قال نعم (صحیح بخاری کتاب المغازی)
ترجمہ:- عبدان ابو حمزہ عثمان بن موہب سےروایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص (یزید بن بشیر) بیعت اللہ کا حج کرنے آیا تو کچھ اور لوگوں کو وہاں بیٹھے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ، جواب دیا گیا ، یہ قریش ہیں ، اس نے پوچھا یہ ضعیف العمر کون ہیں ،جواب دیا گیا یہ ابن عمر ہیں ،چنانچہ وہ حضرات ابن عمر کے قریب آیا اور کہا میں آپ سے کچھ پوچھتا چاہوں ۔ پھر اس نے کہا ،اس مکان کی حرمت کی قسم ! کیا عثمان بن عفان احد کے دن بھاگ کھڑے ہوئے تھے ؟ ابن عمر نے کہا ہاں !
صیح بخاری کی ایک دوسری روایت کے مطابق !
وانهزم المسلمون وانهزمت معهم فاذا بعمر بن الخطاب فی الناس فقلت له ماشان الناس؟ قال امرالله ثم تراجع الناس الی رسو الله صلی الله علیه وآله وسلم ۔(صحیح بخاری پارہ ۷ کتاب المغازی)
ترجمہ:-مسلمان بھاگے تومیں بھی ان کے ساتھ بھاگا ۔ ان لوگوں میں عمر بن خطاب بھی تھے ، میں نے ان سے کہا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ کہا اللہ کی مرضی ۔پھر سب لوگ رسول اللہ کی طرف پلٹ آئے ۔
یہ ان مجاہدوں کا تذکرہ ہے کہ جنھیں رسول اللہ صلعم اورحضرت ابو بکر کے بعد دنیا کا سب سے بڑا انسان سمجھا جاتا ہے ،اب ہم شیعوں کے سب سے بڑے حضرت علی کاتذکرہ کرتے ہیں کہ ان کے فرار کے بارے میں کوئی کمزور سے کمزور روایت بھی موجود نہیں ہے ۔اس کے برعکس حضرت علی کی میدان جنگ میں ثابت قدمی، انتہائی بے جگری اور بے خوفی ،رسول اللہ کی حفاظت ،فن
حرب میں مہارت کی راویتوں سے حدیث وتاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں علی ابن ابی طالب کی جراءت بہادری کاتذکرہ کرنے والوں میں مسلم و غیر مسلم سب شامل ہیں ،اگر طاقت وشجاعت کے ان کارناموں کو کہ جنھیں مافوق الفطرت کہا جاتا ہے نظر انداز کر دیا جائے تو بھی حضرت علی کی ذات میں مثالی شجاعت کے جو ہر نظر آتے ہیں حکم رسول کی تعمیل میں موت کو سینے سے لگا نے کیلئے کھڑے ہوجانا حضرت علی کی ایک معمولی سی ادا تھی ۔
عبدالقدوس کہتا ہے کہ " آپ کہیں گے کہ حضرت علی مجاہد تھے ، ٹھیک ہے اور بھی بہت سے مجاہد تھے ، ان کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ بخش دیا گیا ہے " تو اب صحیح بخاری کے حوالہ سے معلوم ہوگیا ہو گا کہ حضرت علی کے مجاہد ہونے اور بڑے بڑے صحابیوں کے مجاہد ہونے میں کتنا فرق ہے ۔۔۔۔۔ہمیں کسی کی توہین کرنا مقصود نہیں تھی ۔ صرف عبدالقدوس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے علی اور دوسرے مجاہدوں کا فرق بتاتھا لہذا ہم نے صرف صحیح بخاری کا حوالہ دیا ، تاریخ کا حوالہ دیتے تو اور بھی شخصیتیں زد میں آجاتیں اور کہا جاتا کہ یہ یہودیوں کی روایتیں ہیں۔
عبدا القدوس کہتا ہے کہ "وہ (علی ) رسول اللہ کے قریبی رشتہ دار تھے تو قریبی رشتہ دار رسول اللہ کے اور بھی تھے ۔ عبیداللہ ابن زبیر بن عبدالمطلب بھی ویسے ہی چچا کے بیٹے تھے ۔حضرت عثمان پھوپھی کے پوتے تھے ۔ آخر ان میں کیا خصوصیت تھی"۔۔۔۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ شخص جانتا ہے کہ آخر ان میں کیا خصوصیت تھی ۔اسے یقینا معلوم ہوگا کہ علی اس چچا کے بیٹے تھے کہ جو ابو طالب کی کنیت سے مشہور تھا اور ابو طالب وہ چچا تھے کہ جنہوں نے اپنے بھتیجے کی حمایت میں ناقابل بیان سختیاں جھیلیں مگر ان کی حمایت سے دستبردار
نہیں ہوئے اور اسے یہ بھی معلم ہوگا کہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش کے پالے ہوئے تھے ۔ آپ مرتے دم تک آنحضرت کےساتھ رہے ۔آنحضرت کے حجرے کے برابر ہی آپ کا حجرہ تھا اور ان قربتوں نے علی کو صفات رسول کا مظہر بنادیا ۔
عبدالقدوس یقینا جانتا ہوگا کہ تبوک کی روانگی کے موقع پر رسول اللہ صلعم نے علی سے اپنےرستہ کو کتنا ممتار کردیا تھا ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے ۔
محمد بن بشاء حدثنا حدثنا غندر حدثنا شعبة عن سعد قال سمعت ابراهیم بن سعد عن ابیه قال قال النبی صلی الله علیه وسلم لعلی امام ترضی ان تکون منی بمنزلة هارون من موسی (صحیح بخاری ،کتاب الانبیاء ،پارہ ۱۳)
ترجمہ :- محمد بن بشاء غندر ،شعبہ ،سعد ، ابراہیم سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ہے کہ حضرت علی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کیا یہ بات تمہیں پسند ہے کہ تم میرے ساتھ اس درجہ پر ہو جس درجہ پر حضرت ہارون حضرت موسی کے ساتھ تھے ۔
عبدالقدوس سے انٹرویو کرنے والے کا دل چاہا کہ حضرت علی کی مزید توہین کی جائے لہذا اس عبد لقدوس سے سوال کیا کہ :-
سوال :- لیکن حضرت علی تو مولود کعبہ تھے ؟
جواب :- مولود کعبہ تھے ؟ آپ کو ایک درجن آدمی گنوائے دیتا ہوں جو مولود کعبہ تمام بت پرستوں میں رواج تھا اور ہے کہ جب خواتین کہ دردزہ شروع ہوتاہے تو انہیں دیوی کے استھان پر لے جایا جاتا ہے ۔ ہندوستان میں آپ
آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔بہار ،مدارس ،یوپی اور دیگر بہت سی جگہوں پر آج بھی یہی رواج ہے ، جگہوں پر آج بھی یہی رواج ہے ، سینکڑوں آپ کو دیوی کے استھان پر پیدا ہونے والے مل جائینگے ۔
سوال :- مگر اس سلسلہ میں بہت سی روایات بھی ہیں ؟
جواب:- جی نہیں میں نہیں مانتا ،میں کسی ایسی بات کا قائل نہیں جس کی وجہ سے وہ اساس امت تسلیم کئے جائیں ۔
عبدالقدوس کہتا ہے کہ میں آپ کا کو ایک درجن اور آدمی گنوائے دیتا ہوں جو مولود کعبہ تھے مگر اس شخص نے گنوایا ایک نہیں ، اور نہ ہی انٹرویو کرنے والے نے کہا کہ جناب کسی اور مولود کعبہ کا ایک آدھ نام تو بتا دییجئے ۔اور یہ کیوں کہتا یہ تو خود چاہتا تھا کہ حضرت علی کی تو ہین ہو ۔
حضرت علی کے مولود کعبہ ہونے کے سلسلہ میں کئی روایتیں کتب اہل سنت میں ملتی ہیں کہ جن سے اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ مادر علی بن ابی طالب جناب فاطمہ بنت اسد کعبہ میں (کہ جو اس وقت بت کدہ بنا ہوا تھا ) محض عام بت پرستوں کی طرح گئی تھیں (جیسا کہ عبدالقدوس کا خیال ہے ) تاکہ بچے کی پیدائش آسانی سے ہوسکے ،چنانچہ حضرت علی بھی اسی طرح پیدا ہوگئے ۔
عبدالقدوس ان تمام روایتوں کو ماننے سے صاف انکار کرتا ہے کہ جن سے حضرت علی کے مولود کعبہ ہونے کا واقعہ ان کی منزلت کا باعث ثابت ہوتا ہے ۔یہ شخص ان تمام باتوں کو دیو مالا قرار دیتا ہے ۔لہذا ہم اس سے اتنی گزارش کریں گے کہ اگر وہ خالص مورّخ بن کر سوچتا ہے ۔عقل ودانش اور دلیل کی بات کرتا ہے ،مافوق الفطرت باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ،تو پھر اپنے دائرہ فکر کو وسعت دے ، اپنی فکر کو حضرت علی کی شخصیت تک محدود نہ رکھے مذہب میں عقل سے زیادہ عقیدہ کا دخل ہوتا ہے لہذا اپنی عقل استعمال کرے انشااللہ بہت جلد اسلام ہی سے جان چھوٹ جائےگی ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ
دشمنی اہلبیت کے طفیل جان چھوٹ بھی چکی ہو اور اب یہ شخص محض دنیاوی منفعت کی خاطر اسلام سے چمٹا ہوا ہو ۔
ہم نے عبدالقدوس کے اس جواب میں کہ حضرت علی کی حیثیت ایک عام صحابی عام مجاہد اورعام رشتہ دار رسول سے زیادہ نہ تھی ۔صرف سنی مسلک کے مطابق سنی مسلمانوں کو حضرت علی کا وہ مقام یاد دلا دیا ہے کہ جو عام صحابی ،عام مجاہد اور عام رشتہ دار رسول سےبہت بلند تھا ۔
جہاں تک شیعوں کا معاملہ ہے تو ان کے نزدیک علی ابن ابی طالب اپنے بھائی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کائنات کی سب سے بڑی شخصیت تھے ، ان میں وہ ساری خصوصیات موجود تھیں جو کہ ان کے بھائی میں تھیں سوائے اس کے کہ آپ نبی نہیں تھے آپ پاسبان شریعت محمدی تھے ۔
عبدالقدوس نے حضرت علی کے لئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان پر حیرت نہیں ہونا چاہیئے اور نہ یہ سوچنا چا ہیئے کہ اتنی بڑی علمی شخصیت (بقول تکبیر ) کی باتوں میں حقیقت تو ہوگی ۔عبدالقدوس نے حضرت علی کے بارے میں جو کچھ علم حاصل کیا ہے وہ کتابی علم ہے مگر راندئے درگاہ رسول مروان بن حکم اور آزاد کردہ رسول معاویہ بن ابو سفیان نے تو علی مرتضی کے بارے میں رسول اللہ کے ارشادات اپنے کانوں سے سنے تھے علی کا مقام ومرتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس کے باوجود حضرت علی پر سب وشتم کرتے تھے ۔۔۔۔۔تو بات علم کی نہیں ہوئی بلکہ بد طینتی کی ہوئی ۔۔۔۔سفاکی ہوئی ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ہر دور میں علی سے محبت کرنے والے تو ہوں مگر مروان ومعاویہ اور یزید کے چاہنے والے نہ ہوں ۔۔۔۔۔ان مروانیوں اور یزیدیوں کے وجود پر شیعوں کو نہ تو کوئی حیرانی ہے نہ پریشانی ۔ان کا تو آبائی کا یہی ہے کہ علی کے دشمنوں اور ظالموں پر لعنت بھیجتے رہیں ۔۔۔۔توجہاں اور بہت سے ہیں وہاں
صلاح الدین اورعبدالقدوس بھی سہی ۔۔۔۔یہ تو شیعہ کی باتیں تھیں کہ جس کی نفرت بھی عمیق جس کی محبت بھی عمیق ،مگر ہم تو سمجھتے ہیں کہ عبدالقدوس کے اس انٹریو پڑھا لکھا لکھا طبقہ کہ جسے حضرت علی سے کوئی مذہبی عقیدت نہیں مگر اس نے حضرت علی کو ایک بڑے انسان کی حیثیت سے پڑھا ہے وہ بھی اس کی مذمت کرے گا ، کیونکہ یہاں کوئی علمی اپروچ نہیں ہے اورا ظہار رائے کے حق کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ ایک عظیم انسان پر کہ جو کروڑ وں انسانوں کے نزدیک قابل صداحترام مذہبی شخصیت بھی ہے تضحیک آمیز انداز سے غیر مدلل گفتگو کی جائے ۔
اب فقہ جعفر یہ کے بارے میں عبدالقدوس کے نادر خیالات ملاحظہ فرمائیے "جہاں تک اہل تشیع کے اماموں کا تعلق ہے تو یہ اچھے لوگ تھے ، دین دار لوگ تھے اسی لئے لوگوں نے ان سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کی ، ان سے فقہ جعفریہ کو بھی ملادیا ،حالانکہ یہ قطعی بے بنیاد ہاے ، امام جعفر سنہ ۱۴۸ھ میں انتقال کرگئے اور فقہ جعفریہ کی پہلی کتاب سن سات سوکچھ میں لکھی گئی تھی کوئی نسبت ہی نہیں کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے فقہ جعفرم یہ امام سے روایت کیا ہے کہ اس شخص نے میرے باپ کوکبھی دیکھا ہی نہیں ۔مگر لکھنے والے کا دعوی ہے کہ میں نے امام سے ایک نشست میں ستر ہزار حدیثیں سنیں ، اب یہ بات کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے اگر منٹ میں ایک حدیث بھی سنائی جائےگی تو دوماہ اور کچھ دن صرف روایت حدیث حدیث میں صرف ہوجائیں گے، کیا یہ ممکن ہے اور یہ وہ شخص ہے جس کے کے بارے میں امام کہتے ہیں یہ شخص بالکل جھوٹا ہے کبھی والد صاحب سے اس کی ملاقات ہوئی ہی نہیں ۔ اب اس کے بعد ہم سے آپ ان کی تاریخ اور حقیقت پوچھتے ہیں ، ان کی حقیقت اور تاریخ
تو یہ ہے کہ جب ان کے ہاتھ میں اختیار آیا اور یہ لوگ ۲۶۸ برس تک حکومت کرتے رہے کبھی انہوں نے اپنا دین نہیں پھیلا یا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ کبھی بھی تین فیصد سے آگے نہ بڑھے اور دین اپنا انہوں نے یوں نہیں پھیلا یا کہ دین پھیلا تے تومارے جاتے ۔
تھوڑا آگے چل کر کہتا ہے : فقہ جعفر یہ کوئی چیز نہیں ہے ،حضرت جعفر صادق سے اس کی نسبت صحیح نہیں ہے ، حضرت جعفر صادق کی وفات ۱۴۸ ھ میں ہوئی اور فقہ جعفر یہ کے نام سے تقریبا سات سوسال کے بعد بعض عالموں نے اپنے قیاس سے کچھ تھوڑے سے مسائل بیان کرکے ان کانام فقہ جعفریہ رکھ دیا یہ قیاسات بذریعہ روایت بھی حضرت جعفر صادق سے منقول نہیں ہیں ۔"
"پھر ایک جگہ پرلکھتا ہے :- طریقت ،حقیقت اور معرفت کے الفاظ اچالاک لوگوں نے اپنے معتقدین سے دولت بٹورنے کے لئے بنائے ہیں ۔
اس کا جواب تو صاحبان طریقت ومعرفت دیں گے ۔ ہم نے تو عبدالقدوس کی یہ گفتگو محض اس لئے نقل کی ہے کہ برادران اہلسنت بھی اس شخص سے اور صلاح الدین سے اچھی طرح معترف ہوجائیں ۔۔۔۔۔اس شخص نے یہ کلمات کہتے وقت اور صلاح الدین نے اسے چھاپتے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ ان کی زد میں ہر سلسلہ اولیاء آجائےگا ۔
اس شخص نے جو فقہ جعفریہ کے بارے میں باتیں کی ہیں ، ان میں کوئی علمی بات نہیں ہے ۔ اس کی گفتگو سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بعض ونفرت میں بس کہے چلا جا رہا ہے ۔
یہ شخص یا تو فقہ جعفری کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور بے حیائی کے سہارے ایک حقیقت کو جھٹلارہا ہے اور اگر سب کچھ جانتا ہے (اور اسے جاننا چاہیئے کیونکہ تکبیر کے نمائندے نے اسے اسلامی علوم مختلف ادیان اور
تاریخ کا بہت بڑا عالم قرار دیا ہے ) اور جانتے بو جھتے ناقابل تردید حقیتوں سے منہ موڑرہا ہے تو علمی بد دیانتی کی نئی مثال قائم کررہا ہے ، بلکہ یہ کہاجائے توزیادہ مناسب ہے کہ کہ یہ شخص علمی میدان کا بہت بڑا بدمعاش ہے ۔
فقہ کا قرآن کے بعد دوسرا بڑا ماخذ حدیث ہے اور تمام احادیث کہ جن پر مذہب اثناعشریہ کا دارومدار ہے ، آئمہ طاہرین جناب رسول خدا سے منسوب ہیں اور اس طرح سے راویاں مذہب شیعہ اثنا عشریہ نے رسول اللہ کی اس وصیت پر پوری طرح عمل کیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ
" اے مسلمانوں ! میں تمہارے لئے دوگراں قدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری عترت اور میرے اہل بیت ۔جب تک ان سے وابستہ رہو گے ہر گز گمراہ نہ ہوگے "
اب ہم عہد بہ عہد ان راویوں کا تذکرہ کررہے ہیں کہ جنہوں نے معصومین سے خود حدیثیں سنیں اور نقل کیں ۔
۱:- ابو رافع۔ ۲:- سلمان فارسی ۔۳:- ابوذر غفاری ۔ ان تینوں حضرات کو شرف صحابیت رسول تھا ۔سلمان فارسی کی عظمت کااندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ ایک حدیث کی رو سے اہل بیت میں داخل تھے اور ان تینوں حضرات نے حدیث کے مجموعے تیار کئے تھے ۔ جن کے نام بالترتیب یہ ہیں :- ۱:- کتاب السنن والاحکام القضایا ۔۲:- آثار نبویہ ۔۳:- کتاب الخطبۃ ۔
۴:- اصبغ بن نباتہ صاحب کتاب مقتل الحسین ۔۵:- عبیداللہ بن ابی رافع صاحب کتاب قضایا امیرالمومنین وکتاب تسمیہ من شھہد مع امیر المومنین الجمل والصفین و النہروان من الصحابہ ۔۶:- حرث بن عبداللہ ان کی بھی ایک کتاب کا تذکرہ شیخ طوسی کی کتاب الفہرست میں موجود ہے ۔۷:- ربیع بن سمیع انہوں نے بھی ایک کتاب حضرت علی کے ارشادات کی روشنی میں
چوپاؤں کی زکواۃ کے موضوع پر تالیف کی تھی ۔ ۸:- سلیم بن قیس ہلالی ۔ ان کی کتاب اصول قدیمہ میں سے ایک اصل ہے ۔۹:- علی ابن ابی رافع یہ حافظ قرآن اور کئی کتابوں کے مولف ہیں ۔
۱۰:- میثم تمار ،آپ حضرت علی کے عاشقوں میں سے تھے اسی جرم یمں ابن زیاد ملعون نے ان کے ہاتھ پیر کٹواکر سولی پر چڑھا دیا تھا ۔ آپ نے حدیث ایک کتات تالیف کی تھی جسے شیخ طوسی نے اپنی کتاب الامالی " میں نقل کیا ہے ۔۱۱:- محمد بن قیس بجلی ۔ ان کے پاس بھی ایک کتاب تھی جس کا تذکرہ شیخ طوسی نے مکمل سند کے ساتھ اس کی تصدیق امام باقر نے کی تھی اور اس میں حضرت علی سے منقول روائتیں ہیں ۔ ۱۲:- یعلی بن مرہ ان کے ایک مجموعہ حدیث کے بارے میں شیخ نجاشی نے پورے سلسلہ سند کے ساتھ بتایا ہے کہ اس میں حضرت علی سے منقولہ روائتیں ہیں ۔
مندرجہ بالا تمام حضرات کا شمار حضرت علی بن ابی طالب کے مخصوص اصحاب میں ہوتا ہے ۔ ۴ تا ۱۲ تک کے حضرات تابعین میں سے تھے ۔
۱۳:- جابرین یزید جعفی ۔یہ تابعین میں سے ہیں اور امام زین العابدین اور امام محمد باقر کے مخصوص اصحاب میں سے ہیں آپ کی بہت سی کتابیں ہیں ۔آپ کا شمار مفسرین میں ہوتا ہے ۔۱۴:- زیاد بن منذر ۔انہوں نے امام زین العابدین اور امام محمد باقر سے سنی ہوئی احادیث پر مشتمل ایک کتاب بھی تالیف کی ۔آپ نے آخری عمر میں زیدی مسلک اختیار کرلیا تھا ۔
۱۵:- ابو بصیر یحیی بن قاسم ۔۱۶:- عبدالمومن ۔۱۷:- زراۃ بن اعین ۔۱۸:- ابو عبیدہ حذا ۱۹:- زکریا بن عبداللہ ۔۲۰:- حجد بن مغیرہ طائی -۲۱:- حجر بن زائد ہ حضرمی ۔۲۲:- مطلب الزہری ۔ ۲۳:- عبداللہ بن میمون ۔۔۔۔۔ یہ وہ حضرات ہیں کہ جنہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے حدیثیں لے کر کتابیں تالیف کی ہیں ۔
۲۴:- محمد بن مسلم طائی ۔۔۔۔۔۔۔آپ مشہور راوی ہیں ۔ آپ نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق(علیھما السلام) کا زمانہ پایا اورآئمہ طاہرین سے حاصل کی ہوئی احادیث پر مشتمل ایک کتاب تالیف کی ۔
۲۵:- حسین بن ثور۔۔۔۔آپ کے دادا سعد بن حرّان جناب ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام تھے ۔ آپ نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے احادیث نقل کی ہے ۔
معاویہ بن عمار۔۔۔۔۔آپ نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا زمانہ دیکھا اور انہیں دونوں آئمہ کی احادیث پرمشتمل کتاب تالیف کی ۔انتقال ۱۷۵ھ میں ہوا ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں سیاسی حالات کچھ اس طرح کے تھے کہ آپ کو علمی کا م کا اچھا موقع مل گیا ۔ آپ نے اپنے حلقہ درس کو وسعت دی ۔اسلامی دنیا کے دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کے حلقہ درس میں شامل ہونے کے لئے آتے تھے ۔ چار ہزار اصحاب نے آپ سے حدیثیں نقل کیں اور چار سو کتابیں تالیف کیں کہ جنہیں اصول اربع ماۃ کہتے ہیں اور پھر حدیث کی ان کتابوں کو بعد میں آنے والوں نے مختلف موضوعات کے اعتبار سے چار کتابوں میں مرتب کیا ۔ان میں سے پہلی کتاب "الکافی" محمد بن یعقوب کلینی (سنہ وفات ۳۲۸ ھ)کی ہے ،دوسری کتاب "کتاب من لا یحضرہ الفقیہ (یعنی یہ کتاب اس کے لئے جس کے پاس فقیہ موجود نہ ہو) تیسری اور چوتھی "کتاب التہذیب "اور کتاب "الاستبصار"ہیں ۔جنھیں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی (سنہ وفات ۴۶۰ھ )نے تالیف کیا ۔
چار سو بنیادی کتابیں سنہ ۴۴۸ ھ تک اصل حالت میں پائی جاتی تھیں بغداد کے محلہ کرخ میں طغرل بیگ سلجوقی نےآگ لگائی تو وہاں موجود کتب خانہ
بھی جل گیا اور اس میں یہ کتابیں بھی نذر آتش ہوگئیں ۔ نعمت اللہ جزائری نے جن کی وفات سنہ ۱۱۱۲ ھ میں ہوئی ہے ۔اپنے زمانہ میں صرے صرف تیس کتب کے باقی رہ جانے کا تذکرہ کیا ہے مگر ان چار سو کتابوں کی جگہ جوکتب اربعہ مرتب کی گئیں وہ آج بھی موجود ہیں اور مذہب شیعہ اثناعشریہ کی اساس ہیں
تمام فقہوں میں فقہ جعفریہ ہی کو یہ امتیاز حاصل ہے ۔ کہ اس کا تعلق رسول اللہ تک اس طرح مسلسل ہے کہ کڑیاں آپ سے ملتی چلی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ کچھ اس طرح سے ہے کہ میں نے اپنے والد گرامی سے یہ سنا اور انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور یہاں تک کہ یہ سلسلہ رسول اللہ تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس پورے سلسلہ امامت میں ایک مکمل وحدت فکر نظر آتی ہے ۔حضرت علی سے لے کر امام حسن عسکری تک ایک ہی مزاج نظر آتا ہے ۔
حدیث کی وہ چار کتابیں کہ جن کا ابھی ذکر کیا گیا فقہ کا ماخذ ہیں اور انہی کی مدد سے فقہ کی کتابیں لکھی گئیں یہی وجہ ہے کہ اثناعشریہ کی فقہ حضرت امام جعفر صادق سے منسوب ہے ۔
علم اصول فقہ کی ضرورت آئمہ معصومین کے دور میں نہ تھی کیونکہ ہر مسئلہ ان کے اصحاب ان سے براہ راست دریافت کرلیا کرتے تھے ۔ اس علم کی ابتد بارہویں امام کی غیبت صغری کے بعد یعنی چوتھی صدی ہجری کی ابتدا میں ہوئی ۔ابتدائی ناموں میں دو نام خصوصیت سے ملتے ہیں :- حسن بن علی ابن ابی عقیل اور محمد ابن احمد ابن جنید جنہوں نے علم اصول فقہ کی ابتدا کی ۔پھر شیخ مفید (سنہ وفات ۴۱۳ھ) نے علم اصول فقہ پر کتابیں لکھیں ان کے بعد ان کے شاگرد سید مرتضی (سنہ وفات ۴۳۶ھ) نے ایک بڑی عظیم الشان کتاب لکھی جس کا نام "الزریعہ" رکھا ۔ اسی دور کے ایک اور عالم
سلاد ابن عبدالعزیز دیلمی نے ایک کتاب " التقریب فی اصول لفقہ " تصنیف کی ۔شیخ مفید کے ایک شاگرد ابو جعفر محمد ابن حسن جو کہ شیخ طوسی اور شیخ الطائفہ بھی کہلاتے ہیں (سنہ وفات ۴۶۰) نے علم اصول فقہ پر بڑا کام کیا ہے ۔ان کی کتاب "العدہ فی الاصول" نے اس علم کو بڑی وسعت بخشی ۔ان کی دوسری کتاب "المبسوط فی الفقہ" ہے جس میں فقہی مسائل حل کئے گئے ہیں ۔
شیخ طوسی وہ بزرگ ہیں کہ جن کا تعلق علم فقہ واصول کے قدیم اور جدید دونوں ادوار سے تھا اور وہ اس طرح کہ قدیم دور آپ پر ختم ہوا اور جدید دور آپ سے شروع ہوا ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ :-
۱:- شیعہ علماء ومحدثین کا اپنے آئمہ معصومین سے ہر دور میں بڑا گہرا تعلق رہا ہے ، ان شیعوں میں سلمان فارسی وابوذر اور ابو رافع بھی شامل ہیں ۔
۲:- فقہ کا دوسرا بڑا ماخذ حدیث ہے اور چونکہ اصول اربع ماۃ (حدیث کی اصل چار سو کتابیں ) حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام کے ارشادات پر مبنی ہیں اور انہی کو سامنے رکھ کر کتب اربع (الکافی ۔من لایحضرہ الفقیہ ۔التہذیب ،الاستبصار)تالیف کی گئیں اور فقہ کی تمام کتابیں انہیں کتب اربع کی مدد سے تالیف کی گئیں ۔لہذا اثنا عشریہ کی فقہ امام جعفر صادق کے اس تعلق سے فقہ جعفری کہلاتی ہے ۔
۳:- سات سو کچھ ہجری سے پہلے فقہ جعفری پرکئی کتابیں لکھی گئیں ۔
۴:- فقہ جعفری اور علما فقہ جعفری کی عظمت سے ہر عالم اچھی طرح واقف ہے (اس سلسلہ میں علماء اخوان المسلمین مصر وعراق کی آراء اگلے صفحات میں پیش کی جارہی ہیں )
لہذا عبدالقدوس کے یہ الزامات انتہائی مہمل ہیں کہ :-
فقہ جعفریہ کا امام جعفر صادق سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ۔ سب سے پہلے سات سو کچھ ہجری میں شیعہ علماء نے اپنے قیاس سے کچھ مسائل بیان کرکے ان کانام فقہ جعفریہ رکھ دیا ۔فقہ جعفریہ کوئی چیز نہیں ہے
٭٭٭٭٭
شیعہ اثنا عشریہ کے بارے میں علماء اخوان المسلمین کی رائے
جامع ازہر (مصر) کے شیخ الجامعہ جناب شلتوت اپنی کتاب "الوحدۃ الاسلامیہ " میں فرماتے ہیں ۔
جامعہ ازہر کا بھی یہی اصول ہے کہ مختلف اسلامی مذاہب ایک دوسرے سے نزدیک ہوں ، چنانچہ تمام اسلامی مذاہب ،خواہ سنی ہوں یا شیعہ ،ان کی فقہ درسی نصاب میں شامل کی جاتی ہے اور ان کی کتب پرہر قسم کے تعصبات سے پاک اور دلیل وبرہان پرمبنی تحقیقات کی جاتی ہیں ۔
مکتب شیخ الجامع الازھر
بسم اللہ الرحمان الرحیم
ترجمہ:- مذہب شیعہ اثناعشریہ کے نام سے مشہور مذہب جعفریہ ایسا مذہب ہے جسے اہل سنت کے باقی مذاہب کی طرح شرعا اختیار کیاجاسکتا ہے ۔مسلمانوں کوچا ہیئے کہ وہ یہ چیز سمجھیں اور کسی مذہب کے ساتھ ناحق تعصب کرنے سے خود کو پاک کریں اللہ کا دین اور اس کی شریعت کسی ایک مذہب کے تابع اورکسی ایک مذہب میں منحصر نہیں، سب مجتہد ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں سب مقبول ہیں ۔
شیخ غزالی اپنی کتاب "دفاع عن العقیدہ والشریعۃ ضد مطاعن المستشرقین"
صفحہ ۲۵۶ میں شیخ شلتوت کے اس فتوے کے سلسلہ میں لکھتے ہیں ۔
میرے پاس عوام میں سے ایک شخص غضبناک حالت میں آیا اور پوچھا کہ شیخ ازہر نے یہ فتوی کیسے صادر کردیا کہ مذہب شیعہ بھی اسلامی مذاہب میں سے ہے میں نے کہا ، آپ شیعہ کے بارے کیا جانتے ہیں ؟ تھوڑی دیر سکوت اختیار کرنے کے بعد اس نے کہا ۔وہ ہمارے دین پر نہیں ہیں ۔ میں نے اس سے کہا ، مگر ان کو نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے میں نے دیکھا ہے ، جیسے ہم لوگ نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں ۔ اس شخص نے تعجب کیا اور کہا کیسے ؟ میں نے اس سے کہا ، آپ کے لئے اور زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ قرآن بھی پڑھتے ہیں ۔جیسے ہم پڑھتے ہیں ،رسول اللہ صلعم کی تعظیم کرتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں ۔جیسے ہم لوگ کرتے ہیں ، اس نے کہا ، میں تو سنا تھا کہ ان کا کوئی اور قرآن ہے اور وہ لوگ کعبہ کی توہین کرنے کے لئے مکہ جاتے ہیں ، میں نے اس آدمی سے کہا ، تو معذور ہے ، ہم میں سے بعض لوگ ایک دوسرے کے خلاف ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے دوسرے کا وقار ،عزت اور شرافت مجروح کرنا مقصود ہوتاہے ۔جس طرح روسی امریکیوں اور امریکی روسیوں کے خلاف باتیں کرتے ہیں ، گویا کہ ہم آپس میں دومتضاد اور دشمن امتیں ہیں نہ کہ ایک امت "
اخوان المسلیین عراق کے ایک رکن ڈاکٹر عبدالکریم زیدان اپنی کتاب
"المدخل لدراستہ الشریعہ الاسلامیہ "ص ۱۷۸ میں لکھتے ہیں ۔
"مذہب جعفریہ عراق ،ایران ،پاکستان اور لبنان میں پایا جاتا ہے اس کے پیروکار شام اور غیر شام میں بھی موجود ہیں ۔ فقہ جعفریہ اور دوسرے اسلامی مذاہب میں اتنا اختلاف نہیں ہے ،جتنا دوسرے مذاہب کے مابین ہے ، فقہ جعفریہ بہت کم مسائل میں منفرد ہے اور شائد ان میں زیادہ مشہور نکاح متعہ (نکاح موقت ) ہے "۔
ڈاکٹر ابو محمد زہرہ اپنی کتاب "تاریخ المذاہب الاسلامیہ "ص ۳۹ میں لکھتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعہ فرقہ ایک اسلامی فرقہ ہے ،اگر چہ فرقہ سبائیہ کو جو حضرت علی کو اللہ سمجھتا ہے ۔ہم نے خارج از اسلام قرار دیا ہے لیکن شیعہ تو مسلمان فرقوں میں شامل ہے ،نیز ہم جانتے ہیں کہ شیعہ اثناعشریہ بھی سبائیہ کو کافر سمجھتے ہیں ۔ ابن سبا بھی ایک موہومی شخصیت تھی ۔ اس میں بھی شک نہیں کہ شیعہ جو کچھ کہتے ہیں وہ قرآنی نصوص اور احادیث نبوی کی رو سے کہتے ہیں ۔
اسی کتاب کے صفحہ ۲۱۴ میں مسئلہ امامت کے ضمن میں کہتے ہیں ۔
"ہمارے شیعہ اثناعشریہ بھائی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اسے تاریخی ترتیب کے ساتھ مرتب کرتےہیں ،باقی اصول یعنی توحید ورسالت میں ہمارے ساتھ ہیں ۔ ہم اپنے شیعہ بھائیوں سےیہ امید رکھیں گے کہ امامت کا معتقد نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہمارے ایمان میں کسی خلل کا عقیدہ نہ رکھیں اور نہ اسے گناہ تصور کریں "
ڈاکٹر علی سامی اپنی کتاب " نشاۃ الفکر الفلسفی فی الاسلام" کی جلد دوم میں لکھتے ہیں :-
" شیعہ اثناعشریہ کے فلسفیانہ افکار مجموعی طور پر خالصتا اسلامی ہیں لیکن اگر ہم اس فرقے سے آگے دوسرے فرقوں کی طرف جائیں تو مسلک میں متعدد مختلف
باتیں نظر آتی ہیں جو غالبا اجنبیوں کی جانب سے داخل کردہ غیر اسلامی افکار ہیں " استاد عبدالوہاب خلاف اپنی کتاب " علم اصول فقہ " کے صفحہ ۴۶ میں لکھتے ہیں " اجماع کے چار ارکان ہیں جن کے بغیر شرعا اجماع متحقق نہیں ہوتا ۔ان میں سے دوسرا رکن یہ ہے کہ کسی واقعہ کے سلسلے میں اس واقعہ وقت تمام مجتہدین حکم شرعی پر اتفاق کریں ، چاہے ان کا تعلق کسی بھر شہر ،جنس یا فرقے سے ہو ،اگر کسی واقعہ سے متعلق حکم شرعی پر صرف حرمین یا عراق یا حجاز یا اہل بیت یا صرف اہلسنت کے مجتہدین اتفاق کریں اور شیعہ مجتہدین اس میں شامل نہ ہوں تو اجماع شرعا متحقق نہیں ہوتا ، کیونکہ جب تک عالم اسلام کے تمام مجتہدین ایک واقعہ کے بارے میں اتفاق نہیں کرتے ، اس وقت تک اجماع متحقق نہیں ہوتا ، چند مجتہدین کے اتفاق کی کوئی وقعت نہیں ہے "۔
شیخ شلتوت ابو زہر ہ اور خلاف کے استاد احمد ابراہم بیگ مگ اپنی کتاب اصول فقہ کے صفحہ لکھتے ہیں :-
"قدیم اورجدید ہرزمانے میں شیعہ امامیہ کے عظیم فقہا ہوئے ہیں ۔ ہر فن اور علم میں ان کے علماء ہیں ۔ وہ عمیق الفکر اور وسیع معلومات کے مالک ہیں ۔ ان کی تالیفات لاکھوں سے بھی تجاوز کرگئی ہیں۔ ان کی اکثر کتاب میری نظر سے گزری ہیں
عربک کالج کراچی کے پرنسپل استاد محمد حسن اعظمی اپنی کتاب " الحقائق الخفیۃ عن الشیعہ الفاطمیۃ والاثناعشریہ " صفحہ ۱۰۳میں لکھتے ہیں :-
"شیعہ امامیہ اثناعشریہ توحید کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے وہ صمد ہے ۔لم یلد ولم یولد ہے ۔ اس جیسا کوئی نہیں ہے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی طرف سے آئے ہیں او تمام رسولوں نے سچ بولا ہے اور ان چیزوں کی معرفت ودلیل وبرہان سے واجب سمجھتے ہیں ، ان میں تقلید جائز نہیں سمجھتے اور تمام انبیاء ورسل پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔انبیاء جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے
ہیں ، اس کو حق جانتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ علی اور ان کے گیارہ فرزند علیہم السلام خلافت کے لئے ہر ایک سے احق ہیں اور یہ رسول خدا (صلعم) کے بعد سب سے افضل ہیں اور فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیھا) عالمین کی تمام عورتوں کی سردار ہیں ، اگر یہ لوگ اپنے عقیدے میں صائب ہیں تو فبہا ۔ ورنہ یہ نہ کفر کا موجب بن سکتا ہے نہ فسق کا ۔"
آگےچل کر صفحہ ۲۰۴ میں لکھتے ہیں :-
"شیعہ حضرات اگر چہ ءائمہ اثناعشریہ کی امامت واجب قرار دیتے ہیں لیکن اس کا انکار کرنے والوں کو خارج از اسلام بھی نہیں سمجھتے اور ان پر تمام اسلامی احکام جاری کرتے ہیں ، وہ ان احکام دین کو حجت سمجھتے ہیں جو کتاب اللہ یا تواتر وثقہ راوی یا بارہ آئمہ یا قابل اعتماد زندہ مجتہد ین کے اقوال کے ذریعے ثابت شدہ سنت رسول (ص) سے حاصل ہوں ، اس لئے اگروہ اپنے نظریہ میں غلطی پر ہوں تو بھی کوئی ایسی چیز ان میں نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ خارج از اسلام ہوجائیں "
٭٭٭٭
فہرست
نقش آغاز ۷
فتنہ سامانیاں ۱۳
باعث تکفیر ۲۶
ایمان مفصل :- ۲۷
ایمان مجمل:- ۲۷
حدیث شریف :- ۳۳
۳:- عقیدہ ختم نبوت سے انکار ۴۸
فتوی تکفیر ۵۸
دار الا فتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامیہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی ۵۸
الجواب ۵۸
تصدیقات علماء پاکستان ۶۱
فتوی حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب دامت برکاتہم ۶۲
دار الافتاء والارشاد ،کراچی ۶۴
الجواب ۶۴
فتوی مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب ۶۶
مدیر ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۶۶
جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ ۶۷
جواب فتوی ۶۸
مولانا موصوف کی ایک اور عبارت :- ۷۲
مروانی زاغ ۷۶
عبد القدوس ۷۶
شیعہ اثنا عشریہ کے بارے میں علماء اخوان المسلمین کی رائے ۹۴
مکتب شیخ الجامع الازھر ۹۵