یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
شیعہ جواب دیتے ہیں
سید رضا حسینی نسب
مترجم:عمران مہدی
مجمع جہانی اہل بیت (ع)
قال رسول ﷲ : ''انّى تارک فیکم الثقلین، کتاب ﷲ، وعترتى أهل بیتى ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا أبداً وانّهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علّى الحوض'' ۔
حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔
( صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶، ۵۹. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵ ،اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)
حرف اول
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچے و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلىاللهعليهوآلهوسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای سیدرضا حسینی نسب کی گرانقدر کتاب (شیعہ پاسخ می دھد)کو مولاناعمران مہدی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔
والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت،
مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام
پیش گفتار
عالم اسلام کے موجودہ حالات سے باخبر حضرات یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ آج امت اسلامیہ کئی ''امتوں ''میں بٹی ہوئی ہے ۔اور ہر امت خاص نظریات اور رسومات کی پابند ہے جسکے نتیجہ میں ان کی زندگی کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی ہے کہ جن کی بقا کا راز ہی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے میں ہے اور وہ اپنے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مختلف طریقوں سے سرمایہ گزاری کرتے ہیں اور اس کیلئے ہر ممکن وسیلے کو بروئے کار لاتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی فرقوں کے درمیان چند اختلافی مسائل ضرور پائے جاتے ہیں اگرچہ ان اختلافی مسائل کا تعلق علم کلام کے ایسے مسائل سے ہے جن کے موجد خود اسلامی متکلمین ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان سے آگاہ تک نہیں ہے۔اور یہ بالکل طے شدہ بات ہے کہ مسلمانوں کے درمیان ان اختلافی مسائل سے کہیں زیادہ اہم ، مشترک نکات بھی پائے جاتے ہیں کہ جنہوں نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے لیکن اختلاف ڈالنے والے افراد ، اصول اور فروع میں موجود ان مشترک نکات کو چھوڑ کر صرف اختلافی مسائل کو ہی بیان کرتے ہیں ۔
''اتحاد بین المسلمین''کی ایک کانفرنس میں انفرادی مسائل (جیسے نکاح ، طلاق اور میراث وغیرہ ہیں ) سے متعلق اسلامی مذاہب کے فقہی نظریات کا بیان میرے سپرد کیا گیا تھا چنانچہ میں نے اس کانفرنس میں ان موضوعات کے متعلق ایک تحقیقی رسالہ پیش کیا کہ جس نے تمام شرکاء کو تعجب میں ڈال دیا اس رسالہ کے مطالعہ سے پہلے کسی کے لئے ہر گز یہ بات قابل قبول نہ تھی کہ فقہ شیعہ ان تینوں موضوعات کے اکثر مسائل میں اہل سنت کے موجودہ چاروں مذاہب سے موافقت رکھتی ہے ۔
یہ اختلاف ڈالنے والے افراد ، شیعوں کو دوسرے اسلامی فرقوں سے جدا سمجھتے ہیں اور شب و روز اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس مظلوم فرقے کے خلاف سرگرم عمل ہیں ۔ یہ لوگ اپنے ان کاموں کے ذریعہ اپنے مشترکہ دشمن کی خدمت کررہے ہیں ان ناآگاہ افراد کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ شیعوں سے بھائی چارے ، اور ان کے علماء اور دانشوروں سے رابطے کے ذریعہ اپنی آنکھوں سے ناآگاہی کے پردے ہٹا دیں اور شیعوں کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور اس طرح وہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت کے مصداق قرار پائیں:
إنَّ هٰذِهِأ ُمَّتُکُمْ ُمَّةً وَاحِدَةً وَأنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُون
استعمار کے پرانے حربوں میں سے ایک حربہ مسلمانوں کے درمیان طرح طرح کے شبہات اور اعتراضات پیدا کرنا رہا ہے تاکہ وہ اس طرح ایران کے اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچا سکیں اور یہ وہ پرانا حربہ ہے جو آخری چند صدیوں میں مشرق وسطیٰ اور دوسرے علاقوں میں مختلف صورتوں میں رائج رہا ہے
حج کے موقع پر بہت سے حجاج کرام اسلامی انقلاب سے آشنائی حاصل کرتے ہیں مگر دوسری طرف سے دشمنوں کی غلط تبلیغات ان کے اذہان کو تشویش میں مبتلا کردیتی ہیں اور وہ حجاج جب ایرانی حجاج سے ملتے ہیں تو ان سے ان سوالات کے جوابات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ آپ کے ہاتھوں میں موجود یہ کتاب دینی اور ثقافتی مسائل سے متعلق انہی سوالوں کا جواب دینے کی خاطر تحریر کی گئی ہے۔اس کتاب کو میری نگرانی میں محترم جناب سید رضا حسینی نسب نے ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے منظم انداز سے تحریر کیا ہے ۔البتہ اختصار کی خاطر ضرورت کے مطابق مختصر جوابات ہی پیش کئے گئے ہیں مزید تفصیلات کسی اور مقام پر پیش کی جائیں گی ۔
امید ہے کہ یہ ناچیز خدمت امام زمانہ (ارواحنالہ الفدائ)کی بارگاہ میں مورد قبول قرار پائے گی ۔
جعفر سبحانی
حوزئہ علمیہ قم
۲۲نومبر ۱۹۹۴ئ
پہلا سوال
''وعترتی اہل بیتی '' صحیح ہے یا ''وسنتی''؟
حدیث ثقلین ایک بے حد مشہور حدیث ہے جسے محدثین نے اپنی کتابوں میں ان دو طریقوں سے نقل کیا ہے :
الف:''کتاب اللّہ و عترت أہل بیت''
ب:''کتاب اللّہ وسنت''
اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دو میں سے کونسی حدیث صحیح ہے ؟
جواب: پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جو حدیث صحیح اور معتبر طریقے سے نقل ہوئی ہے اس میں لفظ ''اہل بیتی '' آیا ہے اور وہ روایت جس میں ''اہل بیتی''کی جگہ ''سنتی'' آیا ہے وہ سند کے اعتبار سے باطل اور ناقابل قبول ہے ہاں جس حدیث میں ''واہل بیتی'' ہے اس کی سند مکمل طور پر صحیح ہے
حدیث ''واہل بیتی'' کی سند
اس مضمون کی حدیث کو دو بزرگ محدثوں نے نقل کیا ہے :
۱۔ مسلم ،اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیں : ایک دن پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک ایسے تالاب کے کنارے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا نام ''خم'' تھا یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع تھا اس خطبے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خداوندکریم کی حمدو ثنا کے بعد لوگوں کو نصیحت فرمائی اور یوں فرمایا:
''ألاٰ أیّهاالناس ، فاِنما أنا بشر یوشک أن یأت رسول رب فأجیب وأنا تارک فیکم الثقلین. أولهما کتاب اللّه فیه الهدی والنور ، فخذوا کتاب الله واستمسکوا به ، فحث علی کتاب اللّه ورغب فیه ثم قال: وأهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت .''( ۱ )
اے لوگو! بے شک میں ایک بشر ہوںاور قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہوا نمائندہ آئے اور میں اس کی دعوت قبول کروں میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت اور نور ہے کتاب خدا کو لے لو اور اسے تھامے رکھو اور پھر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کتاب خدا پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس کی جانب رغبت دلائی اس کے بعد یوں
____________________
(۱)صحیح مسلم جلد۴ ص۱۸۰۳حدیث نمبر ۲۴۰۸طبع عبدالباقی
فرمایا اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اپنے اہل بیت کے سلسلے میں ،میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں اور اس جملے کی تین مرتبہ تکرار فرمائی.
اس حدیث کے متن کو دارمی نے بھی اپنی کتاب سنن( ۱ ) میں نقل کیا ہے پس کہنا چاہئے کہ حدیث ثقلین کے مذکورہ فقرے کیلئے یہ دونوں ہی سندیں روز روشن کی طرح واضح ہیں اور ان میں کوئی خدشہ نہیں ہے
۲۔ ترمذی نے اس حدیث کے متن کو لفظ''عترتی اهل بیتی'' کے ساتھ نقل کیا ہے : متنِ حدیث اس طرح ہے:
''اِنّى تارک فیکم ما اِن تمسکتم به لن تضلوا بعدى ، أحدهما أعظم من الاخر : کتاب اللّه حبل ممدود من السماء اِلی الأرض و عترتى أهل بیتى ، لن یفترقا حتی یردا علَّ الحوض فانظروا کیف تخلفون فیهما''(۱)
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، ان دو چیزوں میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب خدا ایک ایسی رسی ہے جو آسمان
____________________
(۱)سنن دارمی جلد۲ ص ۴۳۲،۴۳۱
(۲)سنن ترمذی جلد۵ص۶۶۳نمبر۳۷۷۸۸
سے زمین تک آویزاں ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں .لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو.
صحیح کے مؤلف مسلم اور سنن کے مؤلف ترمذی نے لفظ ''اہل بیتی '' پرزور دیا ہے اور یہی مطلب ہمارے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے یہی نہیں بلکہ ان کی نقل کردہ سندیں پوری طرح سے قابل اعتماد اور خصوصی طور پر معتبر مانی گئی ہیں
لفظ ''و سنتی'' والی حدیث کی سند
وہ روایت کہ جس میں لفظ'' اہل بیتی '' کی جگہ ''سنتی'' آیا ہے جعلی ہے. اس کی سند ضعیف ہے اور اسے اموی حکومت کے درباریوں نے گھڑا ہے
۱۔ حاکم نیشا پوری نے اپنی کتاب مستدرک میں مذکورہ مضمون کو ذیل کی سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے.
''عباس بن أبى أویس'' عن ''أبى أویس'' عن ''ثور بن زیدالدیلم''عن ''عکرمه'' عن ''ابن عباس'' قال رسول اللّه :''یا أیّها الناس اِنّى قد ترکت فیکم ، اِن اعتصمتم به فلن تضلوا أبداً کتاب اللّه و سنة نبیه. ''
اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑاہے اگر تم نے ان دونوں کو تھامے رکھاتو ہر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں( ۱ )
اس حدیث کے اس مضمون کے راویوں کے درمیان ایک ایسے باپ بیٹے ہیں جو سند کی دنیا میں آفت شمار ہوتے ہیں وہ باپ بیٹے اسماعیل بن ابی اویس اور ابو اویس ہیں کسی نے بھی ان کے موثق ہونے کی شہادت نہیں دی ہے بلکہ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ دونوں جھوٹے اور حدیثیں گھڑنے والے تھے.
ان دو کے بارے میں علمائے رجال کا نظریہ
حافظ مزی نے اپنی کتاب تہذیب الکمال میں اسماعیل اور اس کے باپ کے بارے میں علم رجا ل کے محققین کا نظریہ اس طرح نقل کیا ہے: یحییٰ بن معین ( جن کا شمار علم رجال کے بزرگ علماء میں ہوتا ہے) کہتے ہیں کہ ابو اویس اور ان کا بیٹا دونوں ہی ضعیف ہیں
اسی طرح یحییٰ بن معین سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ یہ دونوں حدیث کے چورتھے۔ ابن معین سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ابو اویس کے بیٹے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا.
ابو اویس کے بیٹے کے بارے میں نسائی کہتے تھے کہ وہ ضعیف اور ناقابل اعتماد ہے
____________________
(۱)حاکم مستدرک جلدنمبر۱ ص۹۳
ابوالقاسم لالکائی نے لکھا ہے کہ ''نسائی'' نے اس کے خلاف بہت سی باتیں کہی ہیں اور یہاں تک کہا ہے کہ اس کی حدیثوں کو چھوڑ دیا جائے.
ابن عدی (جو کہ علماء رجال میں سے ہیں ) کہتے ہیں کہ ابن ابی اویس نے اپنے ماموں مالک سے ایسی عجیب و غریب روایتیں نقل کی ہیں جن کو ماننے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے( ۱ )
ابن حجر اپنی کتاب فتح الباری کے مقدمہ میں لکھتے ہیں ، ابن ابی اویس کی حدیث سے ہر گز حجت قائم نہیں کی جاسکتی ، چونکہ نسائی نے اس کی مذمت کی ہے.( ۲ )
حافظ سید احمد بن صدیق اپنی کتاب فتح الملک العلی میں سلمہ بن شیب سے اسماعیل بن ابی اویس کے بارے میں نقل کرتے ہیں ، سلمہ بن شیب کہتے ہیں کہ میں نے خوداسماعیل بن ابی اویس سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہا تھا : جب میں یہ دیکھتا کہ مدینہ والے کسی مسئلے میں اختلاف کر کے دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں تو اس وقت میں حدیث گھڑ لیتاتھا( ۳ )
اس اعتبار سے اسماعیل بن ابی اویس کا جرم یہ ہے کہ وہ حدیثیں گھڑتا تھا ابن معین نے کہا ہے کہ وہ جھوٹا تھا اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کی حدیث کو نہ تو صحیح مسلم نے نقل کیا ہے
____________________
(۱) حافظ مزی ، کتاب تھذیب الکمال ج ۳ ص ۱۲۷
(۲) مقدمہ فتح الباری ابن حجر عسقلانی ص ۳۹۱ طبع دار المعرفة
(۳) کتاب فتح الملک العلی ، حافظ سید احمد ص ۱۵
اور نہ ہی ترمذی نے ، اور نہ ہی دوسری کتب صحاح میں اس کی حدیث کو نقل کیا گیا ہے.
اور اسی طرح ابو اویس کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ابو حاتم رازی نے اپنی کتاب ''جرح و تعدیل'' میں اس کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ابو اویس کی حدیثیں کتابوں میں لکھی تو جاتی ہیں مگر ان سے حجت قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کی حدیثیں قوی اور محکم نہیں ہیں( ۱ )
اسی طرح ابو حاتم نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ ابو اویس قابل اعتماد نہیں ہے.
جب وہ روایت صحیح نہیں ہوسکتی جس کی سند میں یہ دو افراد ہوں تو پھر اس روایت کا کیا حال ہوگا جو ایک صحیح اور قابل عمل روایت کی مخالف ہو.
یہاں پر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس حدیث کے ناقل حاکم نیشاپوری نے خود اس حدیث کے ضعیف ہونے کا اعتراف کیا ہے اسی وجہ سے انہوں نے اس حدیث کی سند کی تصحیح نہیں کی ہے لیکن اس حدیث کے صحیح ہونے کے لئے ایک گواہ لائے ہیں جو خود سندکے اعتبارسے کمزور اور ناقابل اعتبار ہے اسی وجہ سے یہ شاہد حدیث کو تقویت دینے کے بجائے اس کو اور ضعیف بنا رہا ہے اب ہم یہاں ان کے لائے ہوئے فضول گواہ کو درج ذیل عنوان کی صورت میں ذکر کرتے ہیں :
____________________
(۱)الجرح والتعدیل جلد ۵ ص ۹۲ ابو حاتم رازی
حدیث''وسنتی'' کی دوسری سند
حاکم نیشاپوری نے اس حدیث کو ابو ہریرہ سے مرفوع( ۱ ) طریقہ سے ایک ایسی سند کے ساتھ جسے ہم بعد میں پیش کریں گے یوں نقل کیا ہے:
اِن قد ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما : کتاب اللّہ و سنت و لن یفترقا حتی یردا علَّالحوض.( ۲ )
اس متن کوحاکم نیشاپوری نے درج ذیل سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
''الضب'' عن ''صالح بن موسیٰ الطلح'' عن ''عبدالعزیز بن رفیع'' عن ''أب صالح'' عن ''أب ہریرہ''
یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح جعلی ہے اس حدیث کے سلسلہ سند میں صالح بن موسی الطلحی نامی شخص ہے جس کے بارے میں ہم علم رجال کے بزرگ علماء کے نظریات کو یہاں بیان کرتے ہیں :
یحییٰ بن معین کہتے ہیں : کہ صالح بن موسیٰ قابل اعتماد نہیں ہے ابو حاتم رازی کہتے ہیں ، اس کی حدیث ضعیف اور ناقابل قبول ہے اس نے بہت سے موثق و معتبر
____________________
(۱)حدیث مرفوع: ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کی سند سے ایک یا کئی افراد حذف ہوں اور ان کی جگہ کلمہ ''رفعہ'' استعمال کردیا گیا ہوتو ایسی حدیث ضعیف ہوگی.(مترجم)
(۲) حاکم مستدرک جلد ۱ ص ۹۳
افراد کی طرف نسبت دے کر بہت سی ناقابل قبول احادیث کو نقل کیا ہے
نسائی کہتے ہیں کہ صالح بن موسیٰ کی نقل کردہ احادیث لکھنے کے قابل نہیں ہیں ، ایک اور مقام پر کہتے ہیں کہ اس کی نقل کردہ احادیث متروک ہیں( ۱ )
ابن حجر اپنی کتاب '' تھذیب التھذیب'' میں لکھتے ہیں : ابن حِبانّ کہتے ہیں : کہ صالح بن موسیٰ موثق افراد کی طرف ایسی باتوں کی نسبت دیتا ہے جو ذرا بھی ان کی باتوں سے مشابہت نہیں رکھتیں سر انجام اس کے بارے میں یوں کہتے ہیں : اس کی حدیث نہ تو دلیل بن سکتی ہے اور نہ ہی اس کی حدیث حجت ہے ابونعیم اس کے بارے میں یوں کہتے ہیں : اس کی حدیث متروک ہے۔وہ ہمیشہ ناقابل قبول حدیثیں نقل کرتا تھا( ۲ )
اسی طرح ابن حجر اپنی کتاب تقریب( ۳ ) میں کہتے ہیں کہ اس کی حدیث متروک ہے اسی طرح ذہبی نے اپنی کتاب کاشف( ۴ ) میں اس کے بارے میں لکھا ہے کہ صالح بن موسیٰ کی حدیث ضعیف ہے.
یہاں تک کہ ذہبی نے صالح بن موسیٰ کی اسی حدیث کو اپنی کتاب ''میزان الاعتدال''
میں ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صالح بن موسیٰ کی نقل کردہ یہ حدیث اس کی ناقابل قبول احادیث میں سے ہے.( ۵ )
____________________
(۱)تہذیب الکمال جلد ۱۳ ص ۹۶ حافظ مزی.
(۲)تہذیب التہذیب جلد ۴ ص ۳۵۵، ابن حجر
(۳)ترجمہ تقریب ، نمبر ۲۸۹۱، ابن حجر
(۴)ترجمہ الکاشف، نمبر ۲۴۱۲ ذہبی
(۵)میزان الاعتدال جلد۲ ص ۳۰۲ ذہبی
حدیث ''وسنتی''کی تیسری سند
ابن عبدالبرنے اپنی کتاب ''تمہید''( ۱ ) میں اس حدیث کے متن کو درج ذیل سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے.
''عبدالرحمن بن یحییٰ '' عن ''احمد بن سعید '' عن ''محمد بن ابراھیم الدبیل'' عن ''عل بن زید الفرائض'' عن ''الحنین'' عن ''کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف'' عن ''أبیہ'' عن ''جدہ''
امام شافعی نے کثیر بن عبداللہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ جھوٹ کے ارکان میں سے ایک رکن تھا۔( ۲ )
ابوداؤد کہتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے افراد میں سے تھا.( ۳ )
ابن حبان اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن کثیر نے حدیث کی جو کتاب اپنے باپ اور دادا سے نقل کی ہے اس کی بنیاد جعل حدیث پر ہے اس کی کتاب سے کچھ نقل کرنا اور عبداللہ بن کثیر سے روایت لینا قطعا حرام ہے صرف اس صورت میں صحیح ہے کہ اس کی بات کو تعجب کے طور پر یا تنقید کرنے کے لئے نقل کیا جائے.( ۴ )
____________________
(۱) التمہید، جلد ۲۴ ص ۳۳۱
(۲) تھذیب التھذیب جلد ۸ ص ۳۷۷ ( دارالفکر) اور تھذیب الکمال جلد ۲۴ ص ۱۳۸
(۳) گزشتہ کتابوں سے مأخوذ
(۴) المجروحین، جلد ۲ ص ۲۲۱ ابن حبان
نسائی اور دارقطنی کہتے ہیں : اس کی حدیث متروک ہے امام احمد کہتے ہیں : کہ وہ معتبر راوی نہیں ہے اور اعتماد کے لائق نہیں ہے.
اسی طرح اس کے بارے میں ابن معین کا بھی یہی نظریہ ہے تعجب انگیز بات تویہ ہے کہ ابن حجر نے ''التقریب'' کے ترجمہ میں صالح بن موسیٰ کو فقط ضعیف کہنے پر اکتفاء کیا ہے اور صالح بن موسیٰ کو جھوٹا کہنے والوںکو شدت پسند قرار دیا ہے ،حالانکہ علمائے رجال نے اس کے بارے میں جھوٹا اور حدیثیں گھڑنے والا جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں یہاں تک کہ ذھبی اس کے بارے میں کہتے ہیں : اس کی باتیں باطل اور ضعیف ہیں
سند کے بغیر متن کا نقل
امام مالک نے اسی متن کو کتاب ''الموطا''( ۱ ) میں سند کے بغیراور بصورت مرسل( ۲ ) نقل کیا ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس قسم کی حدیث کوئی حیثیت نہیں رکھتی اس تحقیق سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث جس میں ''وسنتی'' ہے وہ جعلی اور من گھڑت ہے اور اسے جھوٹے راویوں اور اموی حکومت کے درباریوں نے ''وعترتی'' کے کلمہ والی صحیح حدیث کے مقابلے میں گھڑا ہے لہذا مساجد کے خطباء ،
____________________
(۱) الموطا ، مالک ص ۸۸۹ حدیث ۳
(۲)روایت مرسل : ایسی روایت کو کہا جاتا ہے جس کے سلسلہ سند سے کوئی راوی حذف ہو جیسے کہا جائے ''عن رجل'' یا عن بعض اصحابنا تو ایسی روایت مرسلہ ہوگی(مترجم)
مقررین اور ائمہ جماعت حضرات کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حدیث کوچھوڑ دیںجو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیان نہیں کی ہے بلکہ اس کی جگہ صحیح حدیث سے لوگوں کو آشنا کریں اور وہ حدیث جسے مسلم نے اپنی کتاب ''صحیح'' میں لفظ ''و اہل بیتی'' کے ساتھ اور ترمذی نے لفظ ''عترتی و اہل بیتی'' کے ساتھ نقل کیا ہے اسے لوگوںکے سامنے بیان کریں اسی طرح علم ودانش کے متلاشی افراد کے لئے ضروری ہے کہ علم حدیث سیکھیں تاکہ صحیح اور ضعیف حدیث کو ایک دوسرے سے جدا کرسکیں.
آخر میں ہم یہ یاددلا دیں کہ حدیث ثقلین میں لفظ ''اہل بیتی'' سے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد حضرت علی ـ اور وہ حضرت فاطمہ زہرا ، حضرت امام حسن ـ اورحضرت امام حسین ـ ہیں ۔
کیونکہ مسلم نے( ۱ ) اپنی کتاب صحیح میں اور ترمذی نے( ۲ ) اپنی کتاب سنن میں حضرت عائشہ سے اس طرح نقل کیا ہے:
نزلت هذه الآیة علیٰ النبى .(اِنّما یریدُ اللّهُ لیذهبَ عَنْکم الرِجْسَ أهْلَ البیتِ و یُطِّهرکم تطهیراً )فى بیت أم سلمة فدعا النبى فاطمة و حسناً و حسیناً فجللهم بکسائٍ و عَلّى خلف
____________________
(۱)صحیح مسلم جلد ۴ ص ۱۸۸۳ ح ۲۴۲۴
(۲)ترمذی جلد ۵ ص ۶۶۳
ظهره فجللّه بکساء ثم قال : أللّهم هٰؤلائِ أهل بیت فأذهبعنهم الرجس و طهرهم تطهیرا. قالت أم سلمة و أنا معهم یا نبى اللّه؟ قال أنتِ علیٰ مکانک و أنتِ اِلی الخیر .( ۱ )
یہ آیت(اِنّما یریداللهُ لیذهبَ عَنْکم الرِجْسَ اَهْلَ البیتِ و یُطَهِّرکم تطهیراً )ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فاطمہ ،حسن و حسین کو اپنی عبا کے اندر لے لیا اس وقت علی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیچھے تھے آ پ نے ان کوبھی چادر کے اندر بلا لیااورفرمایا : اے میرے پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں پلیدیوں کو ان سے دور رکھ اور ان کو پاک وپاکیزہ قرار دے۔ ام سلمہ نے کہا : اے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا میں بھی ان میں سے ہوں(یعنی آیت میں جو لفظ اہل بیت آیا ہے میں بھی اس میں شامل ہوں؟) پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا تم اپنی جگہ پر ہی رہو (عبا کے نیچے مت آؤ) اور تم نیکی کے راستے پر ہو۔''
حدیث ثقلین کا مفہوم
چونکہ رسول اسلام نے عترت کو قرآن کاہم پلہ قرار دیا ہے اور دونوں کو امت کے
____________________
(۱)اقتباس از حسن بن علی السقاف صحیح صفة صلاة النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ص ۲۹۴. ۲۸۹
درمیان حجت خدا قرار دیا ہے لہٰذا اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں :
۱۔ قرآن کی طرح عترت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کلام بھی حجت ہے اور تمام دینی امور خواہ وہ عقیدے سے متعلق ہوں یا فقہ سے متعلق ان سب میں ضروری ہے کہ ان کے کلام سے
تمسک کیا جائے ،اور ان کی طرف سے دلیل و رہنمائی مل جانے کے بعد ان سے روگردانی کر کے کسی اور کی طرف نہیں جانا چاہئے
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد مسلمان خلافت اور امت کے سیاسی امور کی رہبری کے مسئلہ میں دو گروہوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنی بات کو حق ثابت کرنے کے لئے دلیل پیش کرنے لگا اگرچہ مسلمانوں کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے مگر اہل بیت کی علمی مرجعیت کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں کیا جاسکتا
کیونکہ سارے مسلمان حدیث ثقلین کے صحیح ہونے پر متفق ہیں اور یہ حدیث عقائد اور احکام میں قرآن اور عترت کو مرجع قرار دیتی ہے اگر امت اسلامی اس حدیث پر عمل کرتی تو اس کے درمیان اختلاف کا دائرہ محدود اور وحدت کا دائرہ وسیع ہوجاتا.
۲۔ قرآن مجید، کلام خدا ہونے کے لحاظ سے ہر قسم کی خطا اور غلطی سے محفوظ ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس میں خطا اور غلطی کا احتمال دیا جائے جبکہ خداوند کریم نے اس کی یوں توصیف کی ہے:
(لاٰیْاتِیهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَلاٰمِنْ خَلْفِهِ تَنزِیل مِنْ حَکِیمٍ حَمِیدٍ )( ۱ )
''باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے اور یہ حکیم و حمید خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے .''
اگر قرآن مجید ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہے تو اس کے ہم رتبہ اور ہم پلہ افراد بھی ہر قسم
کی خطا سے محفوظ ہیں کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک یا کئی خطاکار افراد قرآن مجید کے ہم پلہ اور ہم وزن قرار پائیں۔ یہ حدیث گواہ ہے کہ وہ افراد ہر قسم کی لغزش اور خطا سے محفوظ اور معصوم ہیں البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ عصمت کا لازمہ نبوت نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی معصوم ہو لیکن نبی نہ ہوجیسے حضرت مریم اس آیۂ شریفہ :
إنَّ ﷲ اصْطَفَاکِ وَطَهَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَائِ الْعَالَمِینَ )( ۲ )
(اے مریم !) خدا نے تمہیں چن لیا اور پاکیزہ بنادیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دیا ہے ۔
کے مطابق گناہ سے تو پاک ہیں لیکن پیغمبر نہیں ہیں ۔
____________________
(۱)سورہ فصلت آیت ۴۲
(۲) سورہ آل عمران آیت ۴۲
دوسرا سوال
شیعہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: عربی لغت میں ''شیعہ'' کے معنی ہیں پیروی کرنے والاجیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :
(وَإِنَّ مِنْ شِیعَتِهِ لَإِبْرَاهِیم )َ( ۱ )
اور یقیناان (نوح) کے پیروکاروں میں سے ابراہیم بھی ہیں ۔
لیکن مسلمانوں کی اصطلاح میں شیعہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی وفات سے قبل کئی موقعوں پر اپنے جانشین اور خلیفہ کا اعلان فرمایا تھا ان ہی موقعوں میں سے ایک ہجرت کے دسویں سال کی اٹھارہ ذی الحجہ کی تاریخ بھی ہے
جو روز غدیر خم کے نام سے معروف ہے اس دن آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کے ایک عظیم مجمع میں اپنے جانشین اور خلیفہ کو اپنے بعد مسلمانوں کے لئے ان کے سیاسی، علمی اور دینی امور میں مرجع قرار دیا تھا اس جواب کی مزید وضاحت یہ ہے : پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم
____________________
(۱) سورہ صافات آیت ۸۳
کے بعد مہاجرین اور انصار دو گروہوں میں بٹ گئے :
۱۔ ایک گروہ کا یہ عقیدہ تھا کہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسئلہ خلافت کو یونہی نہیں چھوڑ دیا تھا بلکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے جانشین کو خود معین فرمایا تھا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جانشین حضرت علی بن ابی طالب ـ ہیں جو سب سے پہلے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لائے تھے
مہاجرین اور انصار کے اس گروہ میں بنی ہاشم کے تمام سربرآوردہ افراد اور بعض بزرگ مرتبہ صحابہ جیسے سلمان ، ابوذر، مقداداور خباب بن ارت وغیرہ سرفہرست تھے مسلمانوں کا یہ گروہ اپنے اسی عقیدے پر باقی رہا، اور یہی افراد علی ـ کے شیعہ کہلائے.
البتہ یہ لقب پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی زندگی ہی میں امیر المومنین ـ کے پیروکاروں کو عطا فرمایا تھا آنحضرت نے حضرت علی بن ابی طالب ـ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
والذى نفسي بیده اِنّ هذا و شیعته لهم الفائزون یوم القیامة. ( ۱ )
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدر ت میں میری جان ہے یہ (علی ) اور ان کے پیروکار قیامت کے دن کامیاب ہوں گے.
اس بنا پر شیعہ صدر اسلام کے مسلمانوں کے اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ منصب ولایت و امامت خدا کی طرف سے معین کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہ گروہ اس نام سے مشہور ہوا اور یہ گروہ آج بھی راہ امامت پر گامزن ہے اور اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کرتا ہے اس وضاحت سے شیعوں کا مرتبہ اور مقام بھی واضح ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بعض جاہل یا مفاد پرست افراد کا یہ کلام بھی باطل ہوجاتا ہے کہ شیعیت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد کی پیداوار ہے تاریخ شیعیت کی مزید اور بہتر شناخت کے لئے ''اصل الشیعہ و اصولھا'' ''المراجعات'' اور ''اعیان الشیعہ '' جیسی کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا.
۲۔دوسرے گروہ کا عقیدہ یہ تھا کہ منصب خلافت، انتخابی ہے اور اسی لئے انہوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کی اورمدتوں بعد یہی گروہ''اہل سنت'' یا تسنن کے نام سے مشہور ہوا اور نتیجہ میں ان دو اسلامی گروہوں کے درمیان بہت سے اصولوں میں مشترک نظریات ہونے کے باوجود مسئلہ خلافت اور جانشینی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا۔ واضح رہے کہ ان فرقوں کے بانی افراد مہاجرین اور انصار تھے.
____________________
(۱) تفسیر درالمنثور جلد ۶ جلال الدین سیوطی نے سورۂ بینہ کی ساتویں آیت(إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) کی تفسیر میں یہ حدیث نقل کی ہے.
تیسرا سوال
کیوں حضرت علی ہی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی اور جانشین ہیں ؟
جواب:ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں کہ شیعوں کا راسخ عقیدہ یہ ہے کہ منصب خلافت ، خدا عطا فرماتا ہے اسی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد شروع ہونے والی امامت چند اعتبار سے نبوت کی طرح ہے جس طرح یہ ضروری ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خدا معین فرمائے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی کو بھی خدا ہی معین کرے اس حقیقت کے سلسلے میں حیات پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تاریخ بہترین گواہ ہے کیونکہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے چند موقعوں پر اپنا خلیفہ معین فرمایا ہے ہم یہاں ان میں سے تین موقعوں کا ذکر کرتے ہیں :
۱۔ آغاز بعثت میں :
جب پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس آیہ کریمہ(وَأَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ )( ۱ ) کے مطابق آئین توحید کی طرف
____________________
(۱) سورہ شعراء آیت ۲۱۴
دعوت دیں، تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سب کو خطاب کرتے ہوئے یوں فرمایا ''جو بھی اس راستے میں میری مدد کرے گا ، وہی میرا وصی ، وزیر، اور جانشین ہوگا'' پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے الفاظ یہ تھے:
'' فأیکم یؤازرن ف هذاالأمر علی أن یکون أخى و وزیرى و خلیفتى و وصیى فیکم''
تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میری مدد کرے تاکہ وہی تمہارے درمیان میرا بھائی، وزیر، وصی اور جانشین قرار پائے؟
اس ملکوتی آواز پر صرف اور صرف علی ابن ابی طالب ـ نے لبیک کہا اس وقت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے رشتہ داروں کی طرف رخ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
''اِن هذا أخى و وصىى و خلیفتى فیکم فاسمعوا له و أطیعوه'' ( ۱ )
بہ تحقیق یہ (علی ) تمہارے درمیان میرا بھائی ، وصی اور جانشین ہے. اس کی باتوں کو سنو اور اس کی پیروی کرو.
۲۔ غزوۂ تبوک میں
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ سے فرمایا :
____________________
(۱) تاریخ طبری ؛ جلد ۲ ص ۶۳. ۶۲ اور تاریخ کامل جلد ۲ ص ۴۱ ۔۴۰اور مسند احمد جلد۱ ص ۱۱۱ ،
اور شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) جلد۱۳ ص ۲۱۲. ۲۱۰
''أما ترضی أن تکون منى بمنزلة هارون من موسیٰ اِلا أنّه لانبى بعدى'' ( ۱ )
کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تمہاری نسبت مجھ سے ویسی ہی ہے جیسی ہارون کو موسیٰ سے تھی بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا.
یعنی جس طرح ہارون ـ حضرت موسیٰ ـ کے بلا فصل وصی اور جانشین تھے ، اسی طرح تم بھی میرے خلیفہ اور جانشین ہو۔
۳۔ دسویں ہجری میں
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حجة الوداع سے و اپس لوٹتے وقت غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کے درمیان حضرت علی ـ کو مسلمانوں اور مومنوں کا ولی معین کیا اور فرمایا:
''مَن کنت مولاه فهذا علّى مولاه''
''جس کا میں سرپرست اور صاحب اختیار تھا اب یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں .''
یہاں پر جو اہم اور قابل توجہ نکتہ ہے وہ یہ کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے خطبے کے آغاز
____________________
(۲)سیرۂ ابن ہشام جلد۲ ص ۵۲۰ اور الصواعق المحرقہ طبع دوم مصر باب ۹ فصل ۲ ص ۱۲۱.
میں ارشاد فرمایا:
''ألستُ أولیٰ بکم مِن أنفسکم؟''
''کیا میں تمہارے نفسوں پر تم سے بڑھ کر حق نہیں رکھتا ؟''
اس وقت تمام مسلمانوں نے یک زبان ہوکر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق کی تھی لہذا یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس حدیث کی رو سے جو برتری اور اختیار تام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حاصل تھا وہی برتری و اختیار کامل علی کو حاصل ہے۔
اس اعتبار سے یہاں پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم مومنین پر برتری اور فوقیت رکھتے تھے اسی طرح حضرت علی ـ بھی مومنین کے نفسوں پر برتری اور فوقیت رکھتے ہیں اس دن حسان بن ثابت نامی شاعر نے غدیر خم کے اس تاریخی واقعے کو اپنے اشعار میں اس طرح نظم کیا ہے :
ینادیهم یوم الغدیر نبیُّهم
بخم واسمع بالرسول منادیا
فقال فمن مولاکم و نبیُّکم ؟
فقالوا ولم یبدوا هناک التعامیا
الهک مولانا و أنت نبیُّنا
و لم تلق منا فِ الولایة عاصیا
فقال له قم یا عل فنن
رضیتک من بعد اِماما وهادیا
فمن کنت مولاه فهذا ولیه
فکونوا له أتباع صدق موالیا
هناک دعا: اللّهم وال ولیه
وکن للذ عادیٰ علیاً معادیا( ۱ )
____________________
(۱) المناقب (خوارزمی مالکی)ص ۸۰ اور تذکرة خواص الامہ (سبط ابن جوزی حنفی) ص ۲۰ اور کفایة الطالب ص ۱۷ (مصنف گنجی شافعی) وغیرہ...
حدیث غدیر ، اسلام کی ایسی متواتر( ۱ ) احادیث میں سے ایک ہے جس کو شیعہ علماء کے علاوہ تقریبا تین سو ساٹھ سنی علماء نے بھی نقل کیا ہے( ۲ ) یہاں تک کہ اس حدیث کا سلسلہ سند ایک سو دس اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم تک پہنچتا ہے اور عالم اسلام کے چھبیس بزرگ علماء نے اس حدیث کے سلسلۂ سند کے بارے میں مستقل طور پر کتابیں لکھی ہیں
مشہور مسلمان مورخ ابوجعفر طبری نے اس حدیث شریف کے سلسلۂ اسناد کو دو بڑی جلدوں میں جمع کیا ہے اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے کتاب ''الغدیر'' کا مطالعہ کریں.
____________________
(۱) حدیث متواتر: وہ روایت ہے جو ایسے متعدد اور مختلف راویوں سے نقل ہوئی ہو جس میں ذرا بھی جھوٹ کا شائبہ نہ رہ جائے.(مترجم)
(۲) بطور نمونہ کتاب ''الصواعق المحرقہ'' (ابن حجر) طبع دوم مصر باب ۹ اور فصل ۲ ص ۱۲۲ کا مطالعہ کریں.
چوتھا سوال
''ائمہ'' کون ہیں ؟
جواب: پیغمبر گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی زندگی ہی میں یہ بات واضح کردی تھی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد بارہ خلیفے ہوں گے اورسب قریش میں سے ہوں گے اور اسلام کی عزت انہیں خلفاء کی مرہون منت ہوگی.
جابربن سمرہ کہتے ہیں :
''سمعت رسول الله یقول: لایزال السلام عزیزأ اِلی اثنى عشر خلیفةً ثم قال کلمة لا أسمعها فقلت لأبى: ماقال ؟ فقال:کلهم من قریش. ''( ۱ )
میں نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام کو بارہ خلفاء کے ذریعہ عزت حاصل ہوگی اور پھر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کوئی لفظ کہا جسے میں نے نہیں سنا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کیا
____________________
(۱)صحیح مسلم جلد ۶ صفحہ ۲ طبع مصر
فرمایاہے.جواب دیا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ یہ سب قریش میں سے ہوں گے
اسلام کی تاریخ میں ایسے بارہ خلفاء جو اسلام کی عزت کے محافظ اور نگہبان رہے ہوں ان بارہ اماموں کے علاوہ نہیں ملتے جن کو شیعہ اپنے امام مانتے ہیں کیونکہ جن بارہ خلفاء کا تعارف خود پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کرایا تھا وہی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بلا فصل خلیفہ شمار ہوتے ہیں
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بارہ افراد کون ہیں ؟
اگر ہم ان چار خلفاء سے کہ جن کو اہل سنت خلفاء راشدین کہتے ہیں ، چشم پوشی کرلیں تو دوسرے خلفاء میں سے کوئی بھی عزت اسلام کا باعث نہیں تھاجیسا کہ اموی اور عباسی خلفاء کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے. لیکن شیعوں کے سبھی بارہ ائمہ اپنے اپنے زمانے میں تقوی اور پرہیزگاری کے پیکر تھے.
وہ سب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت کے محافظ تھے نیز وہ سب صحابہ کرام، تابعین اور بعد میں آنے والی نسلوں کی توجہ کا مرکز قرار پائے مورخین نے بھی انکے علم اور ان کی وثاقت کی صاف لفظوں میں گواہی دی ہے.
ان بارہ اماموں کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :
۱۔امام علی ابن ابی طالب ـ
۲۔امام حسن بن علی (مجتبیٰ) ـ
۳۔ امام حسین بن علی ـ
۴۔ امام علی ابن الحسین (زین العابدین) ـ
۵۔امام محمد بن علی (باقر) ـ
۶۔ امام جعفر بن محمد (صادق) ـ
۷۔ امام موسیٰ بن جعفر (کاظم) ـ
۸۔ امام علی بن موسیٰ (رضا) ـ
۹۔ امام محمد بن علی (تقی) ـ
۱۰۔ امام علی بن محمد (نقی) ـ
۱۱۔ امام حسن بن علی (عسکری) ـ
۱۲۔ امام مہدی (قائم) ـ
آپ کے سلسلے میں مسلمان محدثین نے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے متواتر احادیث نقل کی ہیں کہ جن میں آپ کو مہدی موعود (جن کا وعدہ کیا گیا ہے) کے نام سے یاد کیاگیا ہے.
یہ وہ ائمہ معصومین ہیں کہ جنکے اسمائے مبارک پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام نے بیان فرمائے ہیں انکی زندگی سے متعارف ہونے کیلئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا:
۱. تذکرة الخواص (تذکرة خواص الامّہ)
۲.کفایة الاثر
۳.وفیات الاعیان
۴. اعیان الشیعہ(سید محسن امین عاملی) یہ کتاب بقیہ کتابوں کی نسبت زیادہ جامع ہے.
پانچواں سوال
حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات پڑھتے وقت کیوں آل کا اضافہ کرتے ہیں اور: اللّھم صل علی محمد و آل محمد کہتے ہیں ؟
جواب: یہ ایک مسلم اور قطعی بات ہے کہ خود پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کو درود پڑھنے کا یہ طریقہ سکھایا ہے جس وقت یہ آیۂ شریفہ:
(إِنَّ ﷲ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِّىِِ یٰاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا )( ۱ ) نازل ہوئی تو مسلمانوں نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا : ہم کس طرح درود پڑھیں ؟
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:''لاتُصلُّوا علَّ الصلاة البتراء '' مجھ پر ناقص صلوات مت پڑھنا'' مسلمانوں نے پھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا:ہم کس طرح درود پڑھیں؟
____________________
(۱)سورہ احزاب آیت ۵۶
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہو:اللهم صلِّ علی محمد و آل محمد .( ۱ )
اہل بیت ٪ قدرومنزلت کے ایک ایسے عظیم درجہ پر فائز ہیں جسے امام شافعی نے اپنے ان مشہورا شعار میں قلمبند کیا ہے:
یاأهل بیت رسول الله حبُّکم
فرض من الله فى القرآن انزله
کفاکم من عظیم القدر أنکم
مَن لم یصلِّ علیکم لاصلاة له( ۲ )
ترجمہ:اے اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ کی محبت کو خدا نے قرآن میں نازل کر کے واجب قرار دے دیا ہے.آپ کی قدر ومنزلت کے لئے بس یہی کافی ہے کہ جو شخص بھی آپ پر صلوات نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہوتی.
____________________
(۱) الصواعق المحرقہ (ابن حجر) طبع دوم مکتبة القاہرہ مصر باب ۱۱ فصل اول ص ۱۴۶ اورایسی روایت تفسیر
در المنثور جلد ۵ سورہ احزاب کی آیت ۵۶ کے ذیل میں بھی موجود ہے اس روایت کو صاحب تفسیر نے محدثین اور کتب صحاح اور کتب مسانید(جیسے عبدالرزاق ، ابن ابی شبیہ، احمد ، بخاری ، مسلم، ابوداؤد ، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ اور ابن مردویہ) سے نقل کیا ہے ۔ مذکورہ راویوں نے کعب ابن عجرہ سے اور انہوں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے.
(۲) الصواعق المحرقہ (ابن حجر) باب ۱۱ ص ۱۴۸ فصل اول اور کتاب اتحاف (شبراوی) ص ۲۹ اور کتاب
مشارق الانوار (حمزاوی مالکی) ص ۸۸ اور کتاب المواہب (زرقانی) اور کتاب الاسعاف (صبان) ص ۱۹۹.
چھٹا سوال
آپ اپنے اماموں کو معصوم کیوں کہتے ہیں ؟
جواب:شیعوں کے ائمہ ٪ جو کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت ہیں ان کی عصمت پر بہت سی دلیلیں موجود ہیں ہم ان میں سے صرف ایک دلیل کا یہاں پر تذکرہ کرتے ہیں :
شیعہ اور سنی دانشوروں نے یہ نقل کیا ہے کہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں یہ ارشاد فرمایا ہے :
''اِنى تارک فیکم الثقلین کتاب اللّه و أهل بیتى و انهما لن یفترقا حتی یردا علَّى الحوض ۔''( ۱ )
میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں''کتاب خدا'' (قرآن) اور ''میرے اہل بیت '' یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے
____________________
(۱) مستدرک حاکم ، جزء سوم ص ۱۴۸۔اور الصواعق المحرقہ ابن حجر باب ۱۱ فصل اول ص ۱۴۹اور اسی سے ملتی جلتی روایات کنز العمال جزء اول باب الاعتصام بالکتاب والسنة ص ۴۴، اور مسند احمد جز ء پنجم ص ۱۸۹ ، ۱۸۲اور دیگر کتب میں موجود ہیں
یہاں پر ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ : قرآن مجید ہر قسم کے انحراف اور گمراہی سے محفوظ ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ وحیِ الہی کی طرف غلطی اور خطا کی نسبت دی جائے جبکہ قرآن کو نازل کرنے والی ذات، پروردگار عالم کی ہے اور اسے لانے والا فرشتۂ وحی ہے اور اسے لینے والی شخصیت پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہے اور ان تینوں کا معصوم ہونا آفتاب کی طرح روشن ہے اسی طرح سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم وحی کے لینے، اس کی حفاظت کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے سلسلے میں ہر قسم کے اشتباہ سے محفوظ تھے لھذا یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جب کتاب خدا اس پائیدار اور محکم عصمت کے حصار میں ہے تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت ٪ بھی ہر قسم کی لغزش اور خطا سے محفوظ ہیں کیونکہ حدیث ثقلین میں پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی عترت کو امت کی ہدایت اور رہبری کے اعتبار سے قرآن مجید کا ہم رتبہ اور ہم پلہ قرار دیا ہے.اور چونکہ عترت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور قرآن مجید ایک دوسرے کے ہم پلہ ہیں لہذا یہ دونوں عصمت کے لحاظ سے بھی ایک جیسے ہیں دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ غیر معصوم فرد یا افراد کو قرآن مجید کا ہم پلہ قراردینے کی کوئی وجہ نہ تھی.
اسی طرح ائمہ معصومین ٪ کی عصمت کے سلسلے میں واضح ترین گواہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ جملہ ہے:
'' لن یفترقا حتی یردا علّى الحوض. ''
یہ دو ہرگز (ہدایت اور رہبری میں ) ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیںگے.
اگر پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت ہر قسم کی لغزشوں سے محفوظ نہ ہوں اور ان کے لئے بعض کاموں میں خطا کا امکان پایا جاتا ہو تو وہ قرآن مجید سے جدا ہوکر (معاذاللہ) گمراہی کے راستے پر چل پڑیں گے کیونکہ قرآن مجید میں خطا اور غلطی کا امکان نہیں ہے لیکن رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انتہائی شدت کے ساتھ اس فرضیہ کی نفی فرمائی ہے.
البتہ یہ نکتہ واضح رہے کہ اس حدیث میں لفظ اہل بیت سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام نسبی اور سببی رشتہ دار نہیں ہیں کیونکہ اس بات میں شک نہیں ہے کہ وہ سب کے سب لغزشوں سے محفوظ نہیں تھے.
لہذا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عترت میں سے صرف ایک خاص گروہ اس قسم کے افتخار سے سرفراز تھا اور یہ قدر ومنزلت صرف کچھ گنے چنے افراد کے لئے تھی اور یہ افراد وہی ائمہ اہل بیت ٪ ہیں جو ہر زمانے میں امت کو راہ دکھانے والے، سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے محافظ اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت کے پاسبان تھے۔
ساتواں سوال
اذان میں أشھد أن علیًّا ول اللّہ کیوں کہتے ہیں اور حضرت علی ـ کی ولایت کی شہادت کیوں دیتے ہیں ؟
جواب: بہتر ہے کہ اس سوال کے جواب میں درج ذیل نکات کو مدنظر رکھا جائے:
۱۔تمام شیعہ مجتہدین نے فقہ سے متعلق اپنی استدلالی یا غیر استدلالی کتابوں میں اس بات کو صراحت کیساتھ بیان کیا ہے کہ ولایت علی ـ کی شہادت اذان اور اقامت کا جزء نہیں ہے اور کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ولایت علی کی شہادت کو اذان اور اقامت کا جزء سمجھ کر زبان پر جاری کرے.
۲۔ قرآن مجید کی نگاہ میں حضرت علی ـ ولی خدا ہیں اور خداوندعالم نے اس آیت میں مومنین پرحضرت علی ـ کی ولایت کو بیان کیا ہے:
(إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ ﷲ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ )( ۱ )
____________________
(۱)سورہ مائدہ آیت :۵۵.
ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اس کا رسول ہے اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں
اہل سنت کی صحیح اور مسندکتابوںنے بھی اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہ آیۂ شریفہ حضرت علی ـ کی شان میں اس وقت نازل ہوئی تھی جب آپ نے اپنی انگشتر مبارک حالت رکوع میں فقیر کو عطا کی تھی( ۱ ) جب یہ آیت حضرت امیرالمومنین ـ کی شان میں نازل ہوئی تو شاعر اہل بیت ٪ حسان بن ثابت نے اس واقعے کو اس طرح اپنے اشعار میں ڈھالا تھا:
آپ وہ ہیں کہ جنہوں نے حالت رکوع میں بخشش کی اے بہترین رکوع کرنے والے آپ پر تمام قوم کی جانیں نثار ہوجائیں.
خداوندکریم کی ذات نے آپ کے حق میں بہترین ولایت نازل کی ہے اور اسے شریعتوں کے خلل ناپذیر احکام میں بیان کیا ہے.
____________________
(۱)اس سلسلے میں کہ یہ آیة حضرت علی ـ کی شان میں نازل ہوئی ہے بہت سی کتابیں موجود ہیں لیکن ان تمام کتابوں کا یہاں تذکرہ ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔ تفسیر طبری جلد ۶ ص ۱۸۶.
۲۔احکام القرآن(تفسیر جصاص) جلد۲ ص ۵۴۲.
۳۔ تفسیرالبیضاوی جلد ۱ ص ۳۴۵.
۴۔ تفسیر الدرالمنثور جلد ۲ ص ۲۹۳.
۳۔ پیغمبر گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا
''اِنّما الأعمال بالنیّات''
''بے شک اعمال کا دارمدار نیتوں پر ہے '.'
اس بنا پرجب ''ولایت علی '' ان اصولوں میں سے ایک ہے کہ جنہیں قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، اور دوسری طرف سے اس جملہ (اشهد ان علیاً ول اللّه ) کو اذان کا جزء سمجھ کر نہ کہا جائے تو پھر ہمارے لئے رسالت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گواہی کے ہمراہ ولایت علی کا بھی اعلان کرنے میں کیا حرج ہے ؟ یہاں پرایک نکتہ کا ذکر ضروری ہے اور وہ یہ کہ اگر اذان میں کسی جملے کا اضافہ کرنا مناسب نہیں ہے اور اس کے ذریعہ شیعوں پراعتراض کیا جاتا ہے تو ذیل میں بیان ہونے والی ان دو باتوں کی کس طرح توجیہ کی جائے گی :
۱۔معتبر تاریخ گواہ ہے کہ یہ جملہ''حّى علیٰ خیر العمل'' اذان کا جزء تھا( ۱ ) لیکن خلیفہ دوم نے اپنی خلافت کے زمانے میں یہ تصور کیا کہ کہیں لوگ اس جملے کو اذان میں سن کر یہ گمان نہ کر بیٹھیں کہ تمام اعمال کے درمیان صرف نماز ہی بہترین عمل ہے اور پھر جہاد پر جانا چھوڑ دیں گے لہذا اس جملے کو اذان سے حذف کردیا اور پھر
____________________
(۱) کتاب کنزالعمال، کتاب الصلوة جلد ۴ ص ۲۶۶ طبرانی سے منقول ہے:''کان بلال یؤذن بالصبح فیقول : حی علی خیر العمل .''بلال جب اذان صبح دیتے تھے تو کہتے تھےحّي علیٰ خیر العمل .اور سنن بیہقی جلد ۱ ص ۴۲۴ اور ص ۴۲۵ اور مؤطا جلد ۱ ص ۹۳ میں بھی یہ بات درج ہے.
اذان اسی حالت پر باقی رہی.( ۱ )
۲۔''الصلاة خیر من النوم''یه جملہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں اذان کا جزء نہیں تھا بعد میں یہ جملہ اذان میں بڑھا یا گیاہے( ۲ )
اسی وجہ سے امام شافعی نے اپنی کتاب ''الامّ'' میں کہا ہے :
''أکره فى الأذان الصلاة خیر من النوم لأن أبا مخدوره لم یذکره'' ( ۳ )
اذان میں الصلوة خیر من النوم کہنا مجھے پسند نہیں ہے کیونکہ ابو مخدورہ (جو کہ ایک راوی اور محدث ہیں ) نے اس جملے کا (اپنی حدیث میں ) ذکر نہیں کیا ہے۔
____________________
(۱) کنزالعرفان جلد ۲ ص ۱۵۸ اور کتاب ''الصراط المستقیم'' وجواہر الاخبار والآثار اور شرح تجرید (قوشچی)
ص ۴۸۴ میں ہے کہ :صعد المنبر و قال: أیهاالناس ثلاث کنّ علی عهد رسول اللّه أنا أنهیٰ عنهنّ و أحرمهن و أُعاقب علیهن و ه متعة النساء و متعة الحج و حّ علیٰ خیر العمل.''
(۲) کنزالعمال ، کتاب الصلوة جلد ۴ ص ۲۷۰
(۳)دلائل الصدق جلد ۳ القسم الثانی ص ۹۷ سے ماخوذ.
آٹھواں سوال
مہدی آل محمدعلیہ السلام کون ہیں اور انکا انتظار کیوں کیا جاتا ہے؟
جواب: کچھ امور ایسے ہیں جن کے سلسلے میں تمام آسمانی شریعتیں اتفاق نظر رکھتی ہیں ان میں سے ایک امر عالمی مصلح کا وجود بھی ہے جو کہ آخری زمانہ میں ظہور کرے گا اس سلسلے میں صرف مسلمان نہیں بلکہ یہودی اور عیسائی بھی اس کی آمد کے منتظر ہیں جو پوری دنیا میں عدل و انصاف قائم کریگااسکے لئے اگر کتاب عہد عتیق اور عہد جدید کا مطالعہ کیا جائے تو حقیقت واضح ہوجائے گی.( ۱ )
اس سلسلہ میں پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حدیث بھی موجود ہے کہ جسے مسلمان محدثین نے نقل کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں :
''لولم یبق من الدهر اِلا یوم لبعث اللّه رجلاًمن
____________________
(۱) عہد عتیق : مز امیر داؤد ، مز مور ۹۷ ۔ ۹۶ اور کتاب دانیال نبی باب ۱۲ عہد جدید : انجیل متی باب ۲۴ انجیل
مرقوس باب ۱۳ انجیل لوقا باب ۲۱ (جہاں اس موعود کے بارے میں بیان ہوا ہے جس کے انتظار میں دنیا ہے .)
أهل بیتى یملأ ها عدلا کما ملئت جوراً'' ( ۱ )
اگر زمانے کا صرف ایک ہی دن باقی بچے گا تب بھی خداوندعالم میرے خاندان میں سے ایک فرد کو مبعوث کرے گا جوکہ اس جہان کو اسی طرح سے عدالت سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھرا ہوا ہوگا.
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ دنیا میں ایک مصلح کے آنے کا عقیدہ تمام آسمانی شریعتوں میں موجود ہے اسی طرح اہل سنت کی صحیح اور مسند کتابوں میں بھی امام مھدی عج کے بارے میں بہت سی روایتیں نقل ہوئی ہیں اور ان دونوں(شیعہ اور سنی) اسلامی فرقوں کے محدثین اور محققین نے امام زمانہ عج کے بارے میں بہت سی کتابیں تحریر کی ہیں( ۲ )
روایات کے اس مجموعے میں انکی وہ خصوصیات اور نشانیاں بیان ہوئی ہیں جو صرف شیعوں کے گیارہویں امام حسن عسکری ـ کے بلافصل فرزند ہی میں پائی جاتی ہیں( ۳ ) ان روایات کے مطابق امام مہدی ـ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہم نام ہیں( ۴ ) ۔
____________________
(۱) صحیح ابی داؤد جلد ۲ ص ۲۰۷ طبع مصر مطبعہ تازیہ ، ینابیع المودة ص ۴۳۲اور کتاب نور الابصار باب ۲ ص ۱۵۴.
(۲) جیسے کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان تالیف محمد بن یوسف بن الکنجی الشافعی ہے اور اسی طرح کتاب البرھان فی علامات مھدی آخر الزمان تالیف علی بن حسام الدین جو کہ متقی ھندی کے نام سے مشہور ہیں اور اسی طرح کتاب المہدی والمہدویت تالیف احمد امین مصری ہے البتہ شیعہ علماء نے اس بارے میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں جنہیں شمار کرنا آسان کام نہیں ہے جیسے کتاب الملاحم والفتن وغیرہ
(۳) ینابیع المودة باب ۷۶، مناقب میں جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت ہے.
(۴) صحیح ترمذی ،مطبوعہ دہلی ۱۳۴۲ ،جلد ۲ ص ۴۶ اور مسند احمدمطبوعہ مصر ۱۳۱۳
یہاں اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ اس قسم کی طولانی عمر نہ تو علم اور دانش کے خلاف ہے اور نہ ہی منطق وحی سے تضاد رکھتی ہے آج کی علمی دنیا انسانوں کی طبیعی عمر کو بڑھانا چاہ رہی ہے صاحبان علم اور سائنسدانوں کا یہ یقین ہے کہ ہر انسان کے اندر لمبی عمر گذارنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور اگراسے بعض آفتوں اور بیماریوں سے بچالیا جائے تو قوی امکان ہے کہ اس کی عمر بڑھ جائیگی.
تاریخ نے بھی اپنے دامن میں ایسے افراد کے نام محفوظ کئے ہیں جنہوں نے اس دنیا میں طولانی عمر پائی ہے
قرآن مجیدحضرت نوح ـ کے بارے میں فرماتا ہے:
(فَلَبِثَ فِیهِمْ َلْفَ سَنَةٍ ِلاَّ خَمْسِینَ عَامًا )( ۱ )
اور (نوح)اپنی قوم کے درمیان نوسوپچاس سال رہے
اور اسی طرح قرآن مجید حضرت یونس ـ کے بارے میں فرماتا ہے :
(فَلَوْلا أنّهُ کَانَ مِنْ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِى بَطْنِه إ ِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ )( ۲ )
پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو روز قیامت تک اسی (مچھلی) کے شکم میں رہتے.
اسی طرح قرآن مجیداور تمام مسلمانوں کے نظریہ کے مطابق حضرت خضر ـ اور حضرت عیسیٰ ـ ابھی تک باحیات ہیں اور زندگی گذار رہے ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ عنکبوت آیت ۱۴
(۲) سورہ صافات آیت ۱۴۴
نواں سوال
اگر شیعہ حق پر ہیں تو وہ اقلیت میں کیوں ہیں ؟ اور دنیا کے اکثر مسلمانوں نے ان کو کیوں نہیں ماناہے؟
جواب: کبھی بھی حق اور باطل کی شناخت ماننے والوں کی تعداد میں کمی یا زیادتی کے ذریعہ نہیں ہوتی.آج اس دنیا میں مسلمانوں کی تعداد اسلام قبول نہ کرنے والوں کی بہ نسبت ایک پنجم یا ایک ششم ہے جبکہ مشرق بعید میں رہنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو بت اور گائے کی پوجا کرتے ہیں یا ماورائے طبیعت کا انکار کرتے ہیں
چین جس کی آبادی ایک ارب سے بھی زیادہ ہے کیمونیزم کا مرکز ہے اور ہندوستان جس کی آبادی تقریباًایک ارب ہے اسکی اکثریت ایسے افراد کی ہے جو گائے اور بتوں کی پوجا کرتی ہے اسی طرح یہ ضروری نہیں ہے کہ اکثریت میں ہونا حقانیت کی علامت ہو قرآن مجید نے اکثر و بیشتر اکثریت کی مذمت کی ہے اور بعض اوقات اقلیت کی تعریف کی ہے اس سلسلے میں ہم چند آیات کو بطور نمونہ پیش کرتے ہیں :
۱۔ (وَلا تَجِدُا َکْثَرَهُمْ شَاکِرِین )( ۱ )
اور تم اکثریت کو شکر گزار نہ پاؤگے.
۲۔(اِنْ اَوْلِیَاؤُهُا ِلاَّ الْمُتَّقُونَ وَلَکِنَّ َاکْثَرَهُمْ لایَعْلَمُونَ )( ۲ )
اس کے ولی صرف متقی اور پرہیزگار افراد ہیں لیکن ان کی اکثریت اس سے بھی بے خبر ہے.
۳۔ (وَقَلِیل مِنْ عِبَادِى الشَّکُورُ )( ۳ )
اور ہمارے بندوں میں شکر گزار بندے بہت کم ہیں
لہذا کبھی بھی حقیقت کے متلاشی انسان کو اپنے آئین کی پیروی کرنے والوں کو اقلیت میں دیکھ کر گھبرانا نہیں چاہیئے اور اسی طرح اگر وہ اکثریت میں ہوجائیں تو فخر ومباہات نہیں کرنا چاہیئے بلکہ بہتر یہ ہے کہ ہر انسان اپناچراغ عقل روشن کرے اور اس کی روشنی سے بہرہ مند ہو.
ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علی ـ کی خدمت میں عرض کیا یہ کیسے ممکن ہے کہ جنگ جمل میں آپ کے مخالفین اکثریت پر ہونے کے باوجود باطل پر ہوں؟
امام ـ نے فرمایا :
____________________
(۱)سورہ اعراف آیت ۱۷
(۲)سورہ انفال آیت ۳۴
(۳)سورہ سبا آیت ۱۳
''اِنّ الحق والباطل لایعرفان بأقدارالرجال اعرف الحق تعرف أهله اعرف الباطل تعرف أهله ۔ ''
حق اور باطل کی پہچان افراد کی تعداد سے نہیں کی جاتی بلکہ تم حق کو پہچان لو خود بخود اہل حق کو بھی پہچان لو گے اور باطل کو پہچان لوتو خودبخود اہل باطل کو بھی پہچان لوگے
ایک مسلمان شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو علمی اور منطقی طریقے سے حل کرے اور اس آیۂ شریفہ (وَلاتَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْم )( ۱ ) کو چراغ کی مانند اپنے لئے مشعل راہ قرار دے اس سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو اگرچہ اہل تشیع تعداد میں اہل سنت سے کم ہیں لیکن اگر صحیح طور پر مردم شماری کی جائے تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایک چوتھائی افراد شیعہ ہیں جوکہ دنیا کے مختلف مسلمان نشین علاقوں میں زندگی بسر کرر ہے ہیں( ۲ )
واضح رہے کہ ہر دور میں شیعوں کے بڑے بڑے علماء اور مشہور مولفین اور مصنفین رہے ہیں اور یہاں پریہ بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ اکثر اسلامی علوم کے موجد اور بانی شیعہ ہی تھے جن میں سے چند یہ ہیں :
علم نحو کے موجد ابوالاسود دئلی
____________________
(۱) سورہ اسراء آیت ۳۶
(۲)زیادہ وضاحت کیلئے ''اعیان الشیعہ''جلد ۱بحث۱۲اور صفحہ ۱۹۴کی طرف مراجعہ کیا جائے.
علم عروض کے بانی خلیل بن احمد
علم صرف کے موجد معاذ بن مسلم بن ابی سارہ کوفی
علم بلاغت کو فروغ دینے والوں میں سے ایک ابوعبداللہ بن عمران کاتب خراسانی
(مرزبانی)( ۱ )
شیعہ علماء اور دانشوروں کی کثیر تالیفات (جن کو شمار کرنا بہت دشوار کا م ہے) کی شناخت کے لئے کتاب (الذریعہ الی تصانیف الشیعہ) کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا.
____________________
(۱)اس بارے میں سید حسن صدر کی کتاب ''تاسیس الشیعہ '' کا مطالعہ کریں.
دسواں سوال
رجعت کیا ہے اور آپ اس پر کیوں عقیدہ رکھتے ہیں ؟
جواب: عربی لغت میں رجعت کے معنی ہیں ''لوٹنا'' اسی طرح اصطلاح میں ''موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کچھ انسانوں کے اس دنیا میں لوٹنے '' کو رجعت کہا جاتا ہے یہ رجعت حضرت مہدی ـ کے ظہور کے دور میں واقع ہوگی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ تو عقل کے مخالف ہے اور نہ ہی منطق وحی کے برخلاف ہے.
اسلام اور دوسرے ادیان الہی کی نظر میں انسان کے وجود میں جو چیز اصل ہے وہ اس کی روح ہے جسے ''نفس'' کے نام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے یہی وہ چیز ہے جو بدن کے فنا ہوجانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور اپنی جاودانہ زندگی بسر کرتی رہتی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن مجید کی نگاہ میں پروردگار عالم کی ذات قادر مطلق ہے اور کوئی بھی چیز اس کی لامحدود قدرت کو محدود نہیں کرسکتی
ان دو مختصر مقدموں کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رجعت کا مسئلہ عقل کی نگاہ سے ایک ممکن امر ہے کیونکہ تھوڑی سی فکر سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ انسانوں کے ایک گروہ کو اس دنیا میں دوبارہ واپس بھیجنا ان کی پہلی خلقت کی بہ نسبت کئی گنا زیادہ آسان ہے.
لہذا وہ پروردگار جس نے انہیں پہلے مرحلے میں خلق فرمایا ہے یقینا ان کو دوبارہ اس دنیا میں لوٹانے پر قادر ہے اگر وحی الھی کی بنیاد پر رجعت کو گزشتہ امتوں میں تلاش کیا جائے تواس کے مختلف نمونے مل سکتے ہیں
قرآن مجید اس بارے میں فرماتا ہے:
(وَاِذْ قُلْتُمْ یَامُوسَی لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتَّی نَرَی ﷲ جَهْرَةً فَاَخَذَتْکُمْ الصَّاعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنظُرُونَ ثُمَّ بَعَثْنَاکُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ )( ۱ )
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کہا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو آشکارا طور پر نہ دیکھ لیں جس کے بعد بجلی نے تم کو لے ڈالا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے پھر ہم نے تمہیں موت کے بعد زندہ کردیا کہ شاید شکر گزار بن جاؤ.
اسی طرح قرآن مجید ایک اور مقام پر حضرت عیسی ـ کی زبان سے نقل کرتے ہوئے فرماتا ہے:
(وَاُحْی الْمَوْتَی بِاِذْنِ ﷲِ )( ۲ )
____________________
(۱) سورہ بقرہ آیت :۵۵۔۵۶
(۲)سورہ آل عمران آیت: ۴۹
اور میں خدا کی اجازت سے مردوں کو زندہ کروںگا.
قرآن مجید نے نہ صرف یہ کہ رجعت کو ایک ممکن امر قرار دیا ہے بلکہ انسانوں کے ایک ایسے گروہ کی تائید بھی کی جو اس دنیا سے جاچکا تھا اور پھر اس دنیا میں دوبارہ واپس آگیا قرآن مجید نے مندرجہ ذیل دو آیتوں میں ان دو گروہوں کا تذکرہ کیا ہے جو مرنے کے بعد قیامت سے قبل دنیا میں واپس آئے ہیں
(وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنْ الْاَرْضِ تُکَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوا بِآیَاتِنَا لایُوقِنُونَ وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ یُکَذِّبُ بِآیَاتِنَا فَهُمْ یُوزَعُونَ )( ۱ )
اور جب ان پر وعدہ پورا ہوگا تو ہم زمین سے ایک چلنے والی مخلوق کو نکال کر کھڑا کردیں گے جو ان سے یہ بات کرے کہ کون لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکھٹا کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے اور پھر ان کو روک لیا جائے گا.
ان دو آیتوں کے ذریعہ قیامت سے پہلے واقع ہونے والی رجعت کے سلسلے میں استدلال کرنے کے لئے مندرجہ ذیل نکات کی طرف توجہ ضروری ہے:
____________________
(۱)سورہ نمل آیت ۸۲اور ۸۳.
۱۔تمام مسلمان مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ یہ دو آیتیں قیامت سے متعلق ہیں اور پہلی آیت قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کو بیان کررہی ہے، اس سلسلے میں جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر ''الدرالمنثور'' میں ابن ابی شیبہ اورانہوں نے حذیفہ سے نقل کیا ہے کہ ''خروج دابة'' (چلنے والی مخلوق کا نکلنا) قیامت سے پہلے رونماہونے
والے واقعات میں سے ایک ہے.( ۱ )
۲۔اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو محشور کیا جائے گا ، اور ایسا نہیں ہے کہ اس دن ہر امت میں سے ایک خاص گروہ کو محشور کیا جائے گا. قرآن مجید نے قیامت میں تمام انسانوں کے محشور ہونے کے بارے میں یوں فرمایا ہے:
(ذٰلِکَ یَوْم مَجْمُوع لَهُ النَّاسُ )( ۲ )
وہ ایک دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے.( ۳ )
اور ایک جگہ فرماتا ہے:
(وَیَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَةً وَ حَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا )( ۴ )
____________________
(۱)تفسیر درمنثور جلد ۵ ص ۱۷۷۔ سورہ نمل کی آیت نمبر ۸۲کی تفسیر کے ذیل میں
(۲)سورہ ہود آیت : ۱۰۳
(۳)تفسیر درمنثور جلد ۳ ص ۳۴۹ ۔اس دن کی تفسیر قیامت سے کی گئی ہے۔
(۴)سورہ کہف آیت: ۴۷
اورجس دن ہم پہاڑوں کو حرکت میں لائیں گے اور تم زمین کو بالکل کھلا ہوا دیکھو گے اور ہم سب کو اس طرح جمع کریں گے کہ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے
اس اعتبار سے قیامت کے دن تمام انسان محشور ہوں گے اور یہ بات انسانوں کے کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہے.
۳۔ان دو گذشتہ آیتوں میں دوسری آیت اس بات کا صریح اعلان کررہی ہے کہ امتوں میں سے کچھ خاص افراد کو محشور کیا جائے گا اور تمام انسانوں کو محشور نہیں کیا جائے گاکیونکہ آیہ کریمہ میں ہے :
(ویوم نحشرمن کل أمة فوجاً ممن یُّکذِّب بآیاتنا )
اور اس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکھٹا کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے.
آیت کا یہ حصہ واضح طور پر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ تمام انسانوں کو محشور نہیں کیا جائے گا.
نتیجہ:ان تین مختصر مقدموں کی روشنی میں یہ مطلب اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ آیات الہی کی تکذیب کرنے والے انسانوں میں سے ایک خاص گروہ کا محشور ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جو قیامت سے پہلے واقع ہوگا اور یہی بات دوسری آیت سے بھی سمجھ میں آتی ہے.
کیونکہ قیامت کے دن کوئی خاص گروہ محشور نہیں ہوگا بلکہ اس دن تمام انسان محشور کئے جائیں گے اس بیان کے ساتھ ہمارا یہ دعوی صحیح ثابت ہوجاتا ہے کہ انسانوں کے ایک خاص گروہ کو ان کی موت کے بعد قیامت سے پہلے اس دنیا میں لوٹایا جائے گااور اسی کا نام ''رجعت'' ہے.
اسی طرح اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی جو ہمیشہ قرآن کے ہمراہ ہیں اور کلام الہی کے حقیقی مفسر ہیں اس سلسلے میں اپنی احادیث کے ذریعہ وضاحت فرمائی ہے یہاں پر ہم اختصار کی وجہ سے ان کے صرف دو ارشادات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
امام صادق ـ فرماتے ہیں :
''أیام اللّه ثلاثة یوم القائم ـ ویوم الکَرّة، و یوم القیامة ''
خدا کے تین دن ہیں حضرت امام مہدی ـ کا دن ،رجعت کا دن ، اور قیامت کا دن .اور ایک مقام پر فرماتے ہیں :
''لیس منا مَن لم یؤمن بکرّتنا ۔''
جو شخص ہماری رجعت کو قبول نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے.آخر میں مناسب ہے کہ دو اہم نکتوں کو واضح کردیا جائے:
۱۔رجعت کا فلسفہ
رجعت کے اسباب وعلل کے بارے میں غور کرنے سے دو اہم مقاصد سمجھ میں آتے ہیں پہلا مقصد یہ ہے کہ رجعت کے ذریعہ اسلام کی حقیقی عزت و عظمت اور کفر کی ذلت کو آشکار کیا جائے اور دوسرامقصد یہ ہے کہ باایمان اور نیک انسانوں کو ان کے اعمال کی جزا مل سکے اور کافروں اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے.
۲۔رجعت اور تناسخ( ۱ ) کے درمیان واضح فرق
یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ شیعہ جس رجعت پر عقیدہ رکھتے ہیں :اس کا لازمہ تناسخ کا معتقد ہونا نہیں ہے کیونکہ نظریہ تناسخ کی بنیاد قیامت کے انکار پر ہے اور تناسخ والے اپنے اس نظرئیے کے مطابق دنیا کو دائمی طور پر گردش میں جانتے ہیں اوراس کا ہر دور اپنے پہلے والے دور کی تکرار ہے. اس نظرئیے کے مطابق انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح دوبارہ اس دنیا میں پلٹتی ہے اور کسی دوسرے بدن میں منتقل ہوجاتی ہے اور اگر وہ روح گزشتہ زمانے میں کسی نیک آدمی کے جسم میں رہی ہو تو اب اس زمانے میں کسی ایسے آدمی کے بد ن میں منتقل ہو جائے گی جس کی زندگی خوشی و مسرت کے ساتھ بسر ہونے والی ہو لیکن اگر
____________________
(۱)تناسخ : یعنی روح کا ایک بدن سے نکل کر دوسرے میں داخل ہوجاناجسے آواگون کہتے ہیں .(مترجم)
یہ روح گزشتہ زمانے میں کسی بدکار آدمی کے جسم میں رہی ہو تو اس زمانے میں ایسے آدمی کے بدن میں منتقل ہو جائے گی جس کی زندگی سختیوں میں گزرنے والی ہو اس نظریئے کے اعتبار سے روح کا اس طرح سے واپس لوٹنا ہی اسکی قیامت ہے.
جبکہ رجعت کا عقیدہ رکھنے والے اسلامی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے قیامت اور معاد پر مکمل ایمان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ کسی روح کاایک بدن سے کسی دوسرے بدن میں منتقل ہونا محال ہے( ۱ )
اہل تشیع صرف یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسانوں میں سے ایک گروہ قیامت سے پہلے اس دنیا میں واپس آئے گا اور چند حکمتوں اور مصلحتوں کے پورا ہوجانے کے بعد پھر اس دنیا سے چلا جائے گا. یہاں تک کہ یہ گروہ بھی باقی انسانوں کے ساتھ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا. اس اعتبار سے روح ایک بدن سے جدا ہونے کے بعد ہرگز دوسرے بدن میں منتقل نہیں ہوگی۔
____________________
(۱)صدرالمتألہین نے اپنی کتاب اسفار (جلد ۹ باب ۸ فصل اول ص۳) میں نظریہ تناسخ کو باطل کرتے ہوئے یوں تحریر فرمایا ہے: اگر ایک بدن سے نکلی ہوئی روح کسی دوسرے بدن میں اس حالت میں داخل ہوجائے جبکہ وہ بدن ابھی جنین کی شکل میں رحم مادر میں ہے یا اس کے علاوہ کسی دوسرے مرحلہ میں ہو تو اس صورت میں یہ لازم آئے گا کہ ایک ہی چیز بالقوہ بھی ہو اوربالفعل بھی،اور جو چیز بالفعل ہے اس کا بالقوة ہونا محال ہے اس لئے کہ ان دونوں میں مادی و اتحادی ترکیب ہے اور ایسی ترکیب طبیعی محال ہے جس میں دو ایسے امر جمع ہورہے ہوں جن میں سے ایک بالفعل ہے اور دوسرا بالقوہ.
گیارہواں سوال
جس شفاعت کا آپ عقیدہ رکھتے ہیں وہ کیا ہے؟
جواب: شفاعت، اسلام کی ایک ایسی مسلم الثبوت اصل ہے جسے تمام اسلامی فرقوں نے قرآن کی آیات اور روایات کی پیروی کرتے ہوئے قبول کیا ہے بس صرف ان کے درمیان شفاعت کے نتیجے کے بارے میں اختلاف نظر ہے
شفاعت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسا محترم انسان جو پروردگار کے نزدیک صاحب مقام ومنزلت ہو وہ خداوند متعال سے کسی شخص کے گناہوں کی بخشش یا اس کے درجات کی بلندی کی دعا کرے.
رسول گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :
''أعطیت خمسًا...و أعطیت الشفاعة فادخرتها لأمتى ''( ۱ )
____________________
(۱) مسند احمدجلد ۱ ص ۳۰۱ ، صحیح بخاری جلد ۱ ص۹۱ ط مصر.
پانچ چیزیں مجھے عطا کی گئی ہیں اور شفاعت مجھے عطا ہوئی ہے جسے میں نے اپنی امت کے لئے ذخیرہ کردیا ہے.
شفاعت کا دائرہ
قرآن مجید کی نگاہ میں وہ شفاعت صحیح نہیں ہے جو کسی قید اور شرط کے بغیرہو بلکہ شفاعت صرف مندرجہ ذیل صورتوں میں مؤثر ہوگی:
۱۔شفاعت کرنے والا اس وقت شفاعت کرسکتا ہے جب کہ اسے شفاعت کرنے کے لئے خداوندعالم کی جانب سے اجازت حاصل ہو لہذا صرف وہ لوگ شفاعت کرسکتے ہیں جنہیں خدا سے معنوی قربت بھی حاصل ہو اوروہ اذن شفاعت بھی رکھتے ہوں قرآن مجید اس بارے میں فرماتا ہے:
(لایَمْلِکُونَ الشَّفَاعَةَ اِلاَّ مَنْ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَانِ عَهْدًا )( ۱ )
اس وقت کوئی شفاعت کے سلسلے میں صاحب اختیار نہ ہوگا مگر وہ جس نے رحمان کی بارگاہ میں شفاعت کا عہد لے لیا ہے
اور ایک اور جگہ پر فرماتا ہے:
____________________
(۱)سورہ مریم آیت: ۸۷
(یَوْمَئِذٍ لاتَنفَعُ الشَّفَاعَةُ ِالاَّ مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمَانُ وَرَضِىَ لَهُ قَوْلاً )( ۱ )
اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی سوائے ان کے جنہیں خدا نے اجازت دے دی ہو اور وہ ان کی بات سے راضی ہو.
۲۔ضروری ہے کہ جو شخص شفاعت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ شفاعت کرنے والے کے ذریعے فیض الہی کو لینے کی صلاحیت رکھتا ہو.
یعنی اس شخص کا خدا سے ایمانی رابطہ اور شفاعت کرنے والے سے روحانی رشتہ ٹوٹنے نہ پائے ، لہذا کفار چونکہ خداوندکریم سے ایمانی رابطہ نہیں رکھتے اور اسی طرح بعض گنہگار مسلمان جیسے بے نمازی اور قاتل افرادچونکہ شفاعت کرنے والے سے روحانی رشتہ توڑ بیٹھے ہیں لہذا یہ سب شفاعت کے مستحق قرار نہیں پائیں گے.قرآن مجید بے نمازی اور منکر قیامت کے بارے میں فرماتا ہے:
(فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِینَ )( ۲ )
تو انہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت بھی کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی.اور قرآن مجید ظالم افراد کے بارے میں فرماتا ہے :
(مَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ حَمِیمٍ وَلاَشَفِیعٍ یُطَاعُ )( ۳ )
اور ظالموں کیلئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ ہی سفارش کرنے والا جس کی بات سن لی جائے
____________________
(۱)سورہ طہ آیت: ۱۰۹
(۲)سورہ مدثر آیت : ۴۸
(۳)سورہ غافر آیت :۱۸
شفاعت کا فلسفہ
شفاعت ، توبہ کی طرح امید کا ایک دروازہ ہے جسے ایسے لوگوں کیلئے قرار دیا گیا ہے جو گناہ اور ضلالت کے راستے کو چھوڑ کر اپنی باقی ماندہ عمر کو خدا کی اطاعت میں گزارنا چاہتے ہیں کیونکہ جب بھی گنہگار انسان یہ احساس کرلے کہ صرف چند محدود شرطوں کیساتھ (نہ یہ کہ ہر حالت میں ) شفاعت کرنیوالے کی شفاعت کا مستحق ہوسکتا ہے تو پھر وہ کوشش کریگا کہ ان شرطوں کا خیال رکھے اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے.
شفاعت کا نتیجہ
مفسرین کے درمیان اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ شفاعت کا نتیجہ گناہوں کی بخشش ہے یااس کا نتیجہ بلندی درجات ہے لیکن اگر پیغمبرگرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس ارشاد کو ملاحظہ کیا جائے جس میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں کہ :
''اِنّ شفاعت یوم القیامة لأهل الکبائر مِن أمتى'' ( ۱ )
''میری شفاعت قیامت کے دن میری امت کے ان افراد کے لئے ہوگی جو گناہان کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں .''
تو پہلا نظریہ زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔
____________________
(۱)سنن ابن ماجہ جلد ۲ ص ۵۸۳،مسند احمد جلد ۳ ص ۲۱۳، سنن ابی داؤد جلد ۲ ص ۵۳۷، سنن ترمذی جلد ۴ ص ۴۵
بارہواں سوال
کیا حقیقی شفاعت کرنے والوں سے بھی شفاعت کی درخواست کرنا شرک ہے؟
اس سوال کی وضاحت میں کہا جاتا ہے کہ شفاعت کرنا خدا کا مخصوص حق ہے جیسا کہ قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے:
(قُلْ لِلّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیعًا )( ۱ )
کہہ دیجئے کہ شفاعت کا تمام تر اختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہے
لہذا غیر خدا سے شفاعت کی درخواست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مطلق حق کو اس کے بندے سے مانگاجائے در حقیقت اس قسم کی درخواست غیر خدا کی عبادت کرنا ہے اوریہ ''توحید عبادی'' کے خلاف ہے.
جواب:یہاں اس کی ذات یا اس کی خالقیت اور اسکے مدبر ہونے میں شرک نہیں ہے یہاں شرک سے مراد اسکی عبادت میں شرک کرنا ہے
____________________
(۱)سورہ زمر آیت۴۴
واضح ہے کہ اس مسئلے کی وضاحت ، عبادت کی صحیح تفسیر پر منحصر ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ عبادت کی تفسیر کرنے کا ہمیں اختیار نہیں دیا گیا تاکہ کہیں ہم مخلوق کے مقابلے میں ہر قسم کے خضوع اور کسی بندے سے کسی قسم کی درخواست کرنے کو عبادت قرار نہ دے بیٹھیں بلکہ قرآن مجید کی اس صراحت کے مطابق فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا ہے:
(فَاِذَا سَوَّیْتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِى فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِینَ فَسَجَدَ الْمَلاَئِکَةُ کُلُّهُمْ اَجْمَعُونَ )( ۱ )
جب میں اسے درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب سجدے میں گرپڑنا تو تمام ملائکہ نے سجدہ کرلیا.
یہ سجدہ اگرچہ خداوندعالم کے فرمان سے انجام پایا تھاپھر بھی یہ حضرت آدم کی عبادت کے لئے نہ تھا ورنہ خداوند اس کے بجالانے کا حکم نہ دیتا
اور اسی طرح ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت یعقوب کے بیٹوں اور خود حضرت یعقوب نے جناب یوسف کو سجدہ کیا تھا:
(وَرَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا )( ۲ )
اور انہوں نے والدین کو تخت کے اوپر پر جگہ دی اور سب لوگ یوسف کے سامنے سجدے میں گرپڑے
اگر اس قسم کا خضوع حضرت یوسف کی عبادت ہوتا تو اسے نہ تو حضرت یعقوب
____________________
(۱)سورہ ص آیت: ۷۲اور ۷۳
(۲)سورہ یوسف آیت:۱۰۰
جیسے معصوم نبی بجالاتے اور نہ ہی اپنے بیٹوں کے اس کام سے راضی ہوتے جب کہ کوئی خضوع بھی سجدے سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا اسی بنیاد پر ضروری ہے کہ ہم خضوع اور کسی غیر سے درخواست کرنے کو عبادت سے جدا سمجھیں.
عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی موجود کو خدا تصور کرے اور پھر اس کی عبادت کرے یا کسی شے کو مخلوق خدا تو جانے لیکن یہ تصور کرے کہ خدائی امور جیسے کائنات کی تدبیر اور گناہوں کی بخشش اس شے کے سپرد کردئیے گئے ہیں ۔ لیکن اگر کسی شخص کے لئے ہمارا خضوع ایسا ہو کہ نہ تو ہم اسے خدا سمجھیں اور نہ ہی یہ تصور کریں کہ خدائی امور اس کے سپرد کردئیے گئے ہیں تو ہمارا یہ خضوع اس کے احترام کے علاوہ اور کچھ نہ ہوگابالکل ایسے ہی جیسے فرشتوں نے جناب آدم ـاور جناب یعقوب کے بیٹوں نے جناب یوسف کا احترام کیا تھا یہی بات شفاعت کے سلسلے میں بھی کہی جائے گی کہ اگر یہ تصور کیا جائے کہ شفاعت کرنے کا حق پوری طرح سے ان شفاعت کرنے والوں کے سپرد کردیا گیا ہے اور وہ بغیر کسی قید وشرط کے شفاعت کرسکتے ہیں اور گناہوں کی مغفرت کا سبب بن سکتے ہیں تو اس طرح کا عقیدہ شرک کا سبب بنتا ہے کیونکہ ہم نے خدا کے کام کو غیر خدا سے طلب کیا ہے لیکن جب بھی ہم تصور کریں کہ خدا کے کچھ پاک بندے ایسے ہیں جو شفاعت کے مالک تو نہیں ہیں لیکن کچھ مخصوص شرائط کے ساتھ گناہ گار بندوں کی شفاعت کرنے کی اجازت رکھتے ہیں کیونکہ شفاعت کی اہم ترین شرط یہی اذن اور رضایت پروردگار ہے تو واضح ہے کہ ایک صالح بندے سے اس طرح کی شفاعت طلب کرنے کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ ہم اسے خدا مان بیٹھے ہیں اسی طرح اس کا لازمہ یہ بھی نہیں ہے کہ خدا کے امور اس کو سونپ دئیے گئے ہیں بلکہ ہم نے اس سے ایسے کام کی درخواست کی ہے جس کی وہ لیاقت رکھتا ہے ہم پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ میں اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ گناہ گار افراد آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مغفرت کی درخواست کرتے تھے.لیکن آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کبھی بھی ان کی طرف شرک کی نسبت نہیں دیتے تھے. جیسا کہ سنن ابن ماجہ میں پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک روایت موجود ہے کہ جس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :
''أتدرون ما خیّرنى ربى اللیلة؟ قلنا: اللّه ورسوله أعلم قال: فانه خیّرنى بین أن یدخل نصف أمتى الجنة و بین الشفاعة فاخترت الشفاعة قلنا یارسول اللّه: ادع اللّه أن یجعلنا من أهلها قاله لکل مسلم'' ( ۱ )
کیا تم جانتے ہو کہ آج کی رات میرے رب نے مجھے کن چیزوں کے درمیان اختیار دیا تھا؟ ہم نے کہا خدا اور اس کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بہتر جانتے ہیں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا اس نے مجھے اختیار دیا ہے کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں چلی جائے یا پھر میں شفاعت کا حق لے لوں میں نے حق شفاعت کو اختیار کرلیا. ہم نے کہا اے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
____________________
(۱)سنن ابن ماجہ جلد ۲ ، باب ذکرالشفاعة ص ۵۸۶
اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ہمیں بھی شفاعت حاصل کرنے کے لائق بنادے. پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : شفاعت ہرمسلمان کے لئے ہوگی.
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم آنحضرت سے شفاعت
کی درخواست کیا کرتے تھے اسی لئے انہوں نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا تھا''ادع اللّه'' .
قرآن مجید بھی فرماتا ہے:
(وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَلَمُوا اَنفُسَهُمْ جَائُ وکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا ﷲ تَوَّابًا رَحِیمًا )( ۱ )
اور اے کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے.
اسی طرح قرآن مجید ایک اور مقام پر جناب یعقوب کے بیٹوں کی درخواست کو نقل کرتے ہوئے فرماتا ہے:
(قَالُوا یَاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ )( ۲ )
____________________
(۱)سورہ نساء آیت:۶۴
(۲)سورہ یوسف آیت: ۹۷
ان لوگوں نے کہا باباجان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے.
اور حضرت یعقوب نے بھی ان کے لئے استغفار کرنے کا وعدہ کیا اور ہرگز اپنے بیٹوں پر شرک کا الزام نہیں لگایا.
(قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّى اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ )( ۱ )
انہوں نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے.
____________________
(۱)سورہ یوسف آیت: ۹۸
تیرہواں سوال
کیا غیر خدا سے مدد مانگنا شرک ہے؟
جواب:عقل اور منطق وحی کے اعتبار سے تمام انسان بلکہ کائنات کے تمام موجودات جس طرح وجود میں آنے کے لئے خدا کے محتاج ہیں اسی طرح دوسروں پر اثر انداز ہونے کے لئے بھی اس کے محتاج ہیں
قرآن مجید اس بارے میں فرماتا ہے:
(یَاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمْ الْفُقَرَائُ اِلَی ﷲِ وَﷲ هُوَ الْغَنِّىُ الْحَمِیدُ )( ۱ )
اے لوگو تم سب اللہ کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ صاحب دولت اور قابل حمدوثنا ہے.
اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ہر قسم کی فتح اور نصرت پروردگار جہان کے قبضۂ قدرت میں ہے.
____________________
(۱)سورہ فاطر آیت ۱۵
(وَمَا النَّصْرُ اِلاَّ مِنْ عِنْدِ ﷲِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ )( ۱ )
مدد تو ہمیشہ صرف خدائے عزیز و حکیم ہی کی طرف سے ہوتی ہے.
اسلام کی اس مسلم الثبوت اصل کی بنیاد پر ہم سب مسلمان اپنی ہر نماز میں اس آیہ شریفہ کی تلاوت کرتے ہیں :
(اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِین )
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورتجھی سے مدد چاہتے ہیں
اس مقدمہ کی روشنی میں اب ہم مذکورہ سوال کے جواب میں یہ کہنا چاہیں گے کہ:غیر خدا سے مدد مانگنا دو صورتوں میں قابل تصور ہے:
۱۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ہم کسی انسان یا موجودات میں سے کسی سے اس طرح مدد مانگیں کہ اسے اس کے وجود یا اس کے اپنے کاموں میں مستقل سمجھیں اور اسے مدد پہنچانے میں خدا سے بے نیاز تصور کریں. ایسی صورت میں شک نہیں ہے کہ غیر خدا سے مدد مانگنا شرک ہوگا جیسے قرآن مجیددرج ذیل آیت میں اس کو باطل قرار دیتا ہے.
(قُلْ مَنْ ذَا الَّذِ یَعْصِمُکُمْ مِنَ ﷲِ ِانْ اَرَادَ بِکُمْ سُوئً ا َوْ اَرَادَ بِکُمْ رَحْمَةً وَلایَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ ﷲِ وَلِیًّا وَلانَصِیرًا )( ۲ )
____________________
(۲)سورہ آل عمران آیت ۱۲۶
(۲)سورہ احزاب آیت: ۱۷
کہہ دیجئے کہ اگر خدا برائی کا ارادہ کر لے یا بھلائی ہی کرنا چاہے تو تمہیں اس سے کون بچا سکتا ہے اور یہ لوگ اس کے علاوہ نہ کوئی سرپرست پاسکتے ہیں اور نہ مددگار.
۲۔دوسری صورت یہ ہے کہ کسی انسان سے مدد مانگتے وقت اسے خدا کی مخلوق اوراس کا ضرورتمندبندہ سمجھا جائے اوریہ عقیدہ ہو کہ وہ اپنی طرف سے کسی قسم کا استقلال نہیں رکھتا اور اسے بندوں کی مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت خد اہی نے عطا فرمائی ہے.
اس فکر کی رو سے اگر کسی چیز میں ہم اس انسان سے مددمانگ رہے ہیں تو وہ اس سلسلے میں واسطے کا کام کرتا ہے کیونکہ پروردگار نے اسے بندوں کی حاجات کو پورا کرنے کے لئے ''وسیلہ'' قرار دیا ہے اس قسم کی مدد مانگنا حقیقت میں خداوندکریم سے مدد مانگنا ہے کیونکہ اسی نے ان وسائل اور اسباب کو وجود بخشا ہے اور اسی نے اس شخص کو انسانوں کی حاجات کو پورا کرنے کی صلاحیت اور قدرت عطا کی ہے اصولی طور پر بشر کی زندگی کی اساس ان اسباب اور مسببات سے مدد مانگنے پر استوار ہے اس طرح کہ ان سے مدد نہ لینے کی صورت میں انسان کی زندگی اضطراب کا شکار ہوجائیگی یہاں پر ہم اگر انہیں اس نگاہ سے دیکھیں کہ وہ خدا کی مدد پہنچانے کا وسیلہ ہیں اور ان کا وجوداور ان کی تاثیر خدا کی طرف سے ہے تو ان سے مدد مانگنا کسی بھی اعتبار سے توحید اور یکتا پرستی کے خلاف نہیں ہے.
ایک موحد اور خدا شناس کسان جو کہ زمین پانی ہوا اور سورج سے مدد لے کر ایک بیج کو ایک پھل دار درخت میں تبدیل کردیتا ہے تو حقیقت میں وہ کسان خدا سے مدد مانگتا ہے کیونکہ وہی ہے کہ جس نے ان اسباب کو قدرت اور استعداد بخشی ہے.
واضح ہے کہ یہ مدد مانگنا توحید اور یکتا پرستی سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے بلکہ قرآن مجید تو ہمیں بعض چیزوں (جیسے صبر اور نماز) سے مدد لینے کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے:
(وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاة )( ۱ )
صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو.
واضح ہے کہ صبر اور پائیداری انسان کا کام ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے مدد حاصل کریں جب کہ اس قسم کی استعانت خدا سے مانگی جانے والی اس مدد کی مخالف نہیں ہے جسے اِیّاک نَستعینَ کے ذریعہ طلب کیا جاتا ہے۔
____________________
(۱)سورہ بقرہ آیت ۴۵
چودہواں سوال
کیا دوسروں کو پکارنا ان کی عبادت اور شرک ہے؟
جواب:اس قسم کے سوال کا سبب قرآن مجید کی وہ آیتیں ہیں جو اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے غیر خدا کو پکارنے سے روکتی ہیں :
(وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُوا مَعَ ﷲِ اَحَدًا )( ۱ )
اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو.
(وَلاتَدْعُ مِنْ دُونِ ﷲِ مَا لایَنْفَعُکَ وَلایَضُرُّکَ )( ۲ )
اور خدا کے علاوہ کسی ایسے کو آواز نہ دو جو نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان.
بعض لوگ اس قسم کی آیتوں کو سند بنا کر یہ کہتے ہیں کہ اولیائے خدا اور صالحین کو ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد پکارنا شرک اور ان کی عبادت ہے.
____________________
(۱)سورہ جن آیت :۱۸
(۲)سورہ یونس آیت : ۱۰۶
جواب: اس سوال کے جواب میں مناسب یہ ہے کہ سب سے پہلے ان دو کلمات ''دعا'' اور ''عبادت'' کے معنی واضح کردئے جائیںاس میں شک نہیں کہ عربی زبان
میں لفظ دعا کے معنی ندا اور پکارنے کے ہیں اور لفظ عبادت کے معنی پرستش کے ہیں اس اعتبار سے یہ دونوں الفاظ ہرگز ہم معنی نہیں ہیں یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہر ندا اورطلب عبادت اور پرستش ہے اس کی مندرجہ ذیل دلیلیں ہیں :
۱۔قرآن مجید میں لفظ دعوت بعض ایسی جگہوں پر استعمال ہوا ہے جہاں ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے مراد عبادت ہے جیسے:
(قَالَ رَبِّى اِنِّا دَعَوْتُ قَوْمِ لَیْلاً وَنَهَارًا )( ۱ )
انہوں نے کہا پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن میں بھی بلایا اور رات میں بھی.
کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح ـ کی مراد یہ تھی کہ میں نے دن رات ان کی عبادت کی ہے.
لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دعوت (پکارنا ) اور عبادت ہم معنی کلمات ہیں لہذا اگر کوئی شخص پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم یا کسی اور صالح بندے سے مدد طلب کرے اور انہیں پکارے تو اس کا یہ عمل ان کی عبادت شمار نہیں کیا جائے گاکیونکہ دعوت کے معنی میں پرستش کی بہ نسبت زیادہ عمومیت ہے.
____________________
(۱) سورہ نوح آیت: ۵
۲۔آیات کے اس مجموعے میں دعا سے مراد ہر قسم کا پکارنا نہیں ہے بلکہ ایک خاص قسم کا پکارنا مقصود ہے جو کہ لفظ پرستش کا لازمہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ آیات ان بت پرستوں کے بارے میں آئی ہیں جو اپنے بتوں کو چھوٹے خدا تصور کرتے تھے اس میں شک نہیں ہے کہ بت پرستوں کا خضوع ان کی دعا اور ان کی فریاد یہ سب ایسے بتوں
کے مقابلے میں تھا جنہیں وہ حق شفاعت اور مغفرت کا مالک سمجھتے تھے ان کی نگاہ میں یہ بت دنیا اور آخرت کے امور میں مستقل طور پر حق تصرف رکھتے تھے اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان شرائط کے ساتھ ان موجودات کو پکارنا اور ان سے کسی قسم کی التجا کرنا ان کی عبادت شمار ہوگا کیونکہ وہ ان کو خدا کی حیثیت سے پکارتے تھے اور اس کا بہترین گواہ درج ذیل آیت ہے:
(فَمَا اَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمْ الَّتِى یَدْعُونَ مِنْ دُونِ ﷲِ مِنْ شَْئٍ )( ۱ )
عذاب کے آجانے کے بعد انکے وہ خدا بھی کام نہ آئے جنہیں وہ خدا کو چھوڑ کر پکار رہے تھے
لہذا یہ آیتیں ہماری بحث سے کوئی ربط نہیں رکھتیں کیونکہ ہماری بحث کا موضوع ایک بندے کا دوسرے بندے سے کوئی التجا کرنا ہے جبکہ یہ بندہ اسے نہ تواپنا خدا سمجھتا ہے اور نہ ہی اسے دنیا و آخرت کے امور میں اپنا مالک ، تام الاختیار یا تصرف کرنے
____________________
(۱)سورہ ہود آیت :۱۰۱.
والا مانتا ہے بلکہ اسے خدا کا ایسا معزز اور محترم بندہ سمجھتا ہے جسے پروردگار عالم نے منصب رسالت یا امامت سے نوازا ہے اوروعدہ کیا ہے کہ اس کی دعا کو اپنے بندوں کے حق میں قبول کرے گا اس سلسلے میں خدا فرماتا ہے :
(وَلَوْا َنَّهُمْ اِذْ ظَلَمُوا اَنفُسَهُمْ جَائُ وکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا ﷲ تَوَّابًا رَحِیمًا )( ۲ )
اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے.
۳۔مذکورہ آیات اس بات پر شاہد ہیں کہ دعوت سے مراد ہر قسم کی درخواست اور حاجت نہیں ہے بلکہ اس دعوت سے مراد پرستش ہے اسی لئے ایک آیت میں لفظ دعوت کے بعد بلا فاصلہ اسی معنی کیلئے لفظ ''عبادت'' استعمال کیا گیا ہے
(وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِى اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَیَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَ )( ۱ )
____________________
(۱)سورہ نساء آیت:۶۴.
(۲)سورہ غافر آیت ۶۰
اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے.
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا اس آیت کے آغاز میں لفظ ''ادعونی'' ہے اور اس کے ذیل میں لفظ ''عبادتی'' آیا ہے یہ اس بات پر شاہد ہے کہ ان آیتوں میں لفظ دعوت سے مراد وہ التجا و استغاثہ ہے جو ایسے موجودات سے کیاجاتا ہے جنہیں وہ خدا کی صفات سے متصف سمجھتے تھے۔.
نتیجہ:ان گزشتہ تین مقدموں کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان آیات میں قرآن مجید کا بنیادی مقصد بت پرستوں کو بتوں کو پکارنے سے روکنا ہے وہ بت کہ جنہیں وہ خدا کا شریک یا مدبر یا صاحب شفاعت جانتے تھے.کفار کا ان بتوں کے سامنے ہر قسم کا خضوع اور احترام یا گریہ اور استغاثہ کرنا اور ان سے شفاعت کاطلب کرنا یا پھر ان سے اپنی حاجت طلب کرنا یہ سب اس وجہ سے تھا کہ وہ ان بتوں کو چھوٹے خدا سمجھتے تھے اور انہیں خدا کے کاموں کو انجام دینے والا تصور کرتے تھے بت پرستوں کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا نے دنیا اور آخرت کے متعلق بعض کام ان بتوں کو سونپ دئے ہیں اس اعتبار سے ان آیتوں کا ایک ایسے روح رکھنے والے انسان سے استغاثہ کرنے سے کیا تعلق ہے جو پکارنے والے کی نظرمیں ذرہ برابر بھی بندگی کی حد سے باہر قدم نہیں رکھتا بلکہ اس کی نگاہ میں خداوندعالم کا محبوب و محترم بندہ ہے
اگر قرآن مجید فرماتا ہے:
(وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلاَ تَدْعُوا مَعَ ﷲِ اَحَدًا )( ۱ )
''اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو.''
تو اس سے مراد پرستش کے قصد سے پکارنا ہے کیونکہ زمانۂ جاہلیت کے عرب بتوں ، ستاروں، فرشتوں، اور جنوں کی پوجاکیا کرتے تھے یہ آیت اور اس قسم کی دوسری آیتیں کسی شخص یاکسی شے کو معبود سمجھ کر پکارنے سے متعلق ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ان موجودات سے اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہوئے کسی چیز کی درخواست کرنا ان کی عبادت شمار ہوگا لیکن ان آیتوں کا کسی ایسے شخص سے دعا کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کے سلسلے میں دعا کرنے والا شخص اس کی ربوبیت یا الوہیت کا قائل نہیں ہے بلکہ اس شخص کو خدا کا بہترین اور محبوب بندہ سمجھتا ہے؟ممکن ہے کوئی یہ تصور کرے کہ اولیائے خدا کو صرف ان کی زندگی میں پکارنا جائز ہے اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد انہیں پکارنا شرک ہے.
اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے:
۱۔ہم خاک میں سونے والے جسموں سے مدد نہیں مانگتے ہیں بلکہ ایسے نیک بندوں کی پاک ارواح (جیسے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اماموں) سے مدد مانگتے ہیں جو قرآنی آیات کی
صراحت کے مطابق زندہ ہیں اور شہداء سے بھی بلند وبالا مقام و منزلت کے ساتھ برزخ کی زندگی گزار رہے ہیں اور اگر ہم ان کی قبروں پر جاکر ان سے اس طرح کی درخواستیں کرتے ہیں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ یہاں آکر ہم ان کی مقدس ارواح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان سے رابطہ قائم کرتے ہیں اس سے بڑھ کر یہ کہ روایات کے مطابق یہ مقدس مقامات وہ ہیں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں
۲۔ان اولیائے الہی کابقید حیات ہونا یا حیات سے متصف نہ ہونا شرک یا توحید کی شناخت کا معیار نہیں ہے اور ہماری گفتگو شرک اور توحید کے معیار کے بارے میں ہے لیکن ان کو پکارنافائدہ مند ہے یا نہیں ؟تو یہ ہماری گفتگو سے خارج ہے.
البتہ اس مسئلے (کہ کیا اس قسم کے استغاثے فائدہ مند ہیں ؟) کے بارے میں گفتگو اس کی مناسب جگہ پر موجود ہے۔
____________________
(۱) سورہ جن آیت ۱۸
پندرہواں سوال
''بدائ'' کیا ہے اور آپ اس کا عقیدہ کیوںرکھتے ہیں ؟
جواب:عربی زبان میں لفظ ''بدائ'' کے معنی آشکار اور ظاہر ہونے کے ہیں اسی طرح شیعہ علماء کی اصطلاح میں ایک انسان کے نیک اور پسندیدہ اعمال کی وجہ سے اس کی تقدیر و سرنوشت میں تبدیلی کو ''بدائ'' کہا جاتا ہے.
عقیدۂ بداء شیعیت کی آفاقی تعلیمات کے عظیم عقائد میں سے ایک ہے جسکی اساس وحی الہی اور عقلی استدلال پر استوار ہے. قرآن کریم کی نگاہ میں ایسا نہیں ہے کہ انسان کے ہاتھ اس کے مقدرات کے سامنے ہمیشہ کے لئے باندھ دئیے گئے ہوں بلکہ سعادت کی راہ اس کے لئے کھلی ہوئی ہے اور وہ راہ حق کی طرف پلٹ کر اپنے اچھے اعمال کے ذریعہ اپنی زندگی کے انجام کوبدل سکتا ہے اس حقیقت کو اس کتاب الہی نے ایک عمومی اور مستحکم اصل کے عنوان سے یوں بیان کیا ہے:
(اِنَّ ﷲ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِهِمْ )( ۱ )
اور خداوند کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے.
اور ایک جگہ فرماتا ہے:
(وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرَی آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ )( ۲ )
اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے راستے کھول دیتے.
اسی طرح حضرت یونس کی سرنوشت کی تبدیلی کے بارے میں فرماتا ہے:
(فَلَوْلاَانَّهُ کَانَ مِنْ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِا ِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ )( ۳ )
پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو روز قیامت تک اسی (مچھلی) کے شکم میں رہ جاتے.
اس آخری آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ظاہری اعتبار سے حضرت یونس نبی کا قیامت تک اس خاص زندان میں باقی رہنا قطعی تھا لیکن ان کے نیک اعمال
____________________
(۱)سورہ رعد آیت:۱۱
(۲)سورہ اعراف آیت:۹۶
(۳)سورہ صافات آیت ۱۴۳اور ۱۴۴
(تسبیح پروردگار) نے ان کی سرنوشت کوبدل دیا اور انہیں اس سے نجات دلائی.
یہ حقیقت اسلامی روایات میں بھی بیان ہوئی ہے پیغمبر گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم اس بارے میں فرماتے ہیں :
''اِن الرجل لیُحرم الرزق بالذنب یصیبه ولا یرد القدر اِلا الدعاء ولا یزید ف العمر اِلا البرّ'' ( ۱ )
بے شک انسان گناہ کی وجہ سے اپنی روزی سے محروم ہوجاتا ہے ایسے موقع پر دعا کے علاوہ کوئی اور چیز اس کی تقدیر کو تبدیل نہیں کرسکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی اور چیز اس کی عمر کو نہیں بڑھا سکتی.
یہ اور اس قسم کی دوسری روایتوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ انسان گناہ کی بدولت روزی سے محروم ہو جاتا ہے ؛ لیکن اپنے نیک اعمال (جیسے دعا مانگنے) کے ذریعہ اپنی سرنوشت کو بدل سکتا ہے اور نیکی کر کے اپنی عمر بڑھا سکتاہے.
نتیجہ:قرآنی آیات اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے استفادہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس مادی دنیا کے اسباب و مسببات اور کاموں کے ردعمل سے بھی تقدیر بدل جاتی ہے یا اولیائے خدا (جیسے نبی یاامام) انسان کو خبر دے کہ اگر اس کا طرز عمل اسی طرح رہا تو اس کا مقدر یہ ہوگا لیکن اگر وہ یکبارگی کسی وجہ سے اپنے کردار کو سنوار لے تو
____________________
(۱) مسند احمد جلد ۵ ص ۲۷۷ او رمستدرک حاکم جلد ۱ ص ۴۹۳ اور اسی کی مثل ''التاج الجامع للاصول '' جلد ۵ ص ۱۱۱ میں ہے.
اپنی عاقبت کو تبدیل کرسکتا ہے.
اس حقیقت کو خدا کی وحی، پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت اور عقل سلیم کے فیصلوں سے درس لے کر حاصل کیا گیا ہے۔ اوراسے شیعہ علماء بداء کے نام سے یاد کرتے ہیں
یہاں پر اس بات کا واضح کردینا مناسب ہوگا کہ ''بدائ'' کی تعبیر عالم تشیع سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تعبیر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی احادیث اور اہل سنت کی تحریروں میں بھی
دکھائی دیتی ہے نمونے کے طور پر ذیل کی حدیث ملاحظہ ہو جس میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کلمہ کو استعمال فرمایا ہے:
''وبداللّه عزّ وجلّ أن یبتلیهم'' ( ۱ )
اس نکتے کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ بداء کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خداوند کریم کے لامتناہی علم میں کسی قسم کی تبدیلی رونما ہوتی ہے کیونکہ خداوندکریم ابتداء ہی سے انسانی افعال کے فطری نتائج اور بدا کا موجب بننے والے عوامل سے بخوبی آگاہ ہے اس بات کی قرآن مجید نے بھی خبر دی ہے.
(یَمْحُوا ﷲ مَا یَشَائُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَهُا ُمُّ الْکِتَابِ )( ۲ )
اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے.
____________________
(۱)النہایہ فی غریب الحدیث والاثر ، مؤلف مجدالدین مبارک بن محمد جزری جلد۱ ص ۱۰۹
(۲)سورہ رعد آیت: ۳۹
لہذا خداوند کریم ظہور بداء کے وقت اس حقیقت کو ہمارے لئے آشکار کرتا ہے جو ازل ہی سے اس کے علم میں تھی اسی وجہ سے امام صادق ـ فرماتے ہیں :
''مابدا الله فى شىء اِلا کان فى علمه قبل أن یبدوله ''( ۱ )
خدا وندعالم کو کسی چیز میں بداء نہیں ہوتا ہے مگر یہ کہ ازل سے اس کو اس کا علم تھا
بداء کا فلسفہ
اس میں شک نہیں کہ اگر انسان یہ جان لے کہ تقدیر کو بدلنا اس کے اختیار میں ہے تو وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کو سنوارنے کے درپے رہے گا اور زیادہ سے زیادہ ہمت اور کوشش کے ساتھ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ جس طرح توبہ اور شفاعت انسان کو ناامیدی اور مایوسی سے نجات دلاتی ہے اسی طرح بداء کا عقیدہ بھی انسان کے اندر نشاط اور شادابی پیدا کرتا ہے اور انسان کو روشن مستقبل کا امیدوار بناتا ہے کیونکہ اس عقیدے کی روشنی میں انسان یہ جان لیتا ہے کہ پروردگار عالم کے حکم سے وہ اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے اور ایک بہتر مستقبل حاصل کر کے اپنی عاقبت سنوار سکتا ہے۔
____________________
(۱) اصول کافی جلد ۱ کتاب التوحید باب البداء حدیث نمبر۹
سولہواں سوال
کیا شیعہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل ہیں ؟
جواب: شیعوں کے مشہور علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے اور وہ قرآن جو آج ہمارے ہاتھوں میں ہے بعینہ وہی آسمانی کتاب ہے جو پیغمبر گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوئی تھی اور اس میں کسی قسم کی زیادتی اور کمی نہیں ہوئی ہے اس بات کی وضاحت کے لئے ہم یہاںچند شواہد کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔پروردگار عالم مسلمانوں کی آسمانی کتاب کی صیانت اور حفاظت کی ضمانت لیتے ہوئے فرماتا ہے :
(انَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ )( ۱ )
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
____________________
(۱) سورہ حجر آیت :۹
واضح ہے کہ ساری دنیا کے شیعہ چونکہ قرآن مجید کو اپنے افکار اور کردار کے لئے
اساس قرار دیتے ہیں لہذا اس آیہ شریفہ کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے اس آیت میں موجود اس پیغام پر کامل ایمان رکھتے ہیں جو اس کتاب خدا کی حفاظت سے متعلق ہے
۲۔شیعوں کے عظیم الشأن امام حضرت علی ـ نے جو ہمیشہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ رہے اور کاتبان وحی میں سے ایک تھے آپ سے لوگوں کو مختلف موقعوں اور مناسبتوں پر اسی قرآن کی طرف دعوت دی ہے ہم اس سلسلے میں ان کے کلام کے کچھ حصے یہاں پیش کرتے ہیں :
''واعلموا أن هذا القرآن هو الناصح الذى لایغشى والهاد الذى لایضلّ'' ( ۱ )
جان لو کہ یہ قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو ہرگز خیانت نہیں کرتا اور ایسا رہنمائی کرنے والا ہے جو ہرگز گمراہ نہیں کرتا.
''ان اللّه سبحانه لم یعط أحداً بمثل هذا القرآن فانه حبل اللّه المتین و سببه المبین'' ( ۲ )
بے شک خداوند سبحان نے کسی بھی شخص کو اس قرآن کے جیسی نصیحت عطا نہیں فرمائی ہے کہ یہی خدا کی محکم رسی اور اس کا واضح وسیلہ ہے.
____________________
(۱)نہج البلاغہ (صبحی صالح) خطبہ نمبر ۱۷۶
(۲)گذشتہ حوالہ.
''ثم أنزل علیه الکتاب نورًا لا تطفأ مصابیحه و سراجًا لا یخبو توقده.ومنهاجًا لا یضل نهجه .. و فرقانا لا یخمد برهانه'' ( ۱ )
اور پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایسی کتاب کو نازل کیا جس کا نور کبھی خاموش نہیں ہوگااور جس کے چراغ کی لو کبھی مدھم نہیں پڑ سکتی وہ ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والا کبھی بھٹک نہیں سکتا اور ایسا حق اور باطل کا امتیاز ہے جو کمزور نہیں پڑ سکتا
شیعوں کے امام عالی شان امام حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب ـ کے گہربار کلام سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید کی مثال ایک ایسے روشن چراغ کی ہے جو ہمیشہ اپنے پیروکاروں کے لئے مشعل راہ کا کام کرے گا. اور ساتھ ہی ساتھ اس میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں ہوگی جو اس کے نور کے خاموش ہوجانے یا انسانوں کی گمراہی کا باعث ہو
۳۔شیعہ علماء اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے :
''میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا (قرآن) ہے اور دوسرے میرے اہل بیت
____________________
(۱)نہج البلاغہ (صبحی صالح) خطبہ نمبر۱۹۸
ہیں جب تک تم ان دو سے متمسک رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے.''
یہ حدیث اسلام کی متواتر احادیث میں ایک ہے جسے شیعہ اور سنی دونوں فرقوں نے نقل کیا ہے.
اس بیان سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ شیعوں کی نظر میں کتاب خدا میں ہرگز کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی کیونکہ اگر قرآن مجید میں تحریف کا امکان ہوتا تو اس سے تمسک اختیار کر کے ہدایت حاصل کرنا اور گمراہی سے بچنا ممکن نہ ہوتااور پھر اس کے نتیجہ میں قرآن اور حدیث ثقلین کے درمیان ٹکراؤ ہوجاتا
۴.شیعوں کے اماموں نے اپنی روایات میں (جنہیں ہمارے تمام علماء اور فقہا نے نقل کیا ہے) اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ قرآن مجید حق وباطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق پیدا کرنے والا ہے لہذا ہر کلام حتی ہم تک پہنچنے والی روایات کے لئے ضروری ہے کہ انہیں قرآن مجید کے میزان پر تولا جائے اگر وہ قرآنی آیات کے مطابق ہوں تو حق ہیں ورنہ باطل. اس سلسلے میں شیعوں کی فقہ اور احادیث سے متعلق کتابوں میں بہت سی روایتیں ہیں ہم یہاں ان میں سے صرف ایک روایت کو پیش کرتے ہیں :
امام صادق ـ فرماتے ہیں :
''مالم یوافق من الحدیث القرآن فهو زخرف'' ( ۱ )
ہر وہ کلام باطل ہے جو قرآن سے مطابقت نہ رکھتا ہو
____________________
(۱) اصول کافی جلد۱ کتاب فضل العلم باب الاخذ بالسنة و شواہد الکتاب روایت نمبر ۴
اس قسم کی روایات سے بھی یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی قسم کی تحریف نہیں کی جاسکتی اسی وجہ سے اس کتاب کی یہ خاصیت ہے کہ وہ حق و باطل میں فرق پیدا کرنے والی ہے اورہمیشہ باقی رہنے والی ہے
۵.شیعوں کے بزرگ علماء نے ہمیشہ اسلام اور تشیع کی آفاقی تہذیب کی حفاظت کی ہے ان سب نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ قرآن مجیدمیں کبھی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے چوں کہ ان تمام بزرگوں کے نام تحریر کرنا دشوار کام ہے لہذا ہم بطور نمونہ ان میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں :
۱۔جناب ابوجعفر محمد بن علی بن حسین بابویہ قمی (متوفی ۳۸۱ ھ) جو ''شیخ صدوق'' کے نام سے مشہور ہیں فرماتے ہیں :
'' قرآن مجید کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے وہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں باطل نہیں آسکتا وہ پروردگار حکیم و علیم کی بارگاہ سے نازل ہواہے اور اسی کی ذات اس کو نازل کرنے اور اس کی محافظت کرنے والی ہے .''( ۱ )
۲۔جناب سید مرتضیٰ علی بن حسین موسوی علوی (متوفی ۴۳۶ھ)جو ''علم الہدیٰ'' کے نام سے مشہور ہیں فرماتے ہیں :
____________________
(۱) الاعتقادات ص ۹۳
''پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعض صحابۂ کرام جیسے عبداللہ بن مسعود اور اُبیّ بن کعب وغیرہ نے بارہا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور میں قرآن مجید کو اول سے لے کر آخر تک پڑھا ہے یہ بات اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ قرآن مجید ترتیب کے ساتھ اور ہر طرح کی کمی یا پراگندگی کے بغیر اسی زمانے میں جمع کر کے مرتب کیا جاچکا تھا.''( ۱ )
۳۔جناب ابوجعفر محمد بن حسن طوسی (متوفی ۴۶۰ ھ)جوکہ شیخ الطائفہ کے نام سے مشہور تھے وہ فرماتے ہیں :
''قرآن مجید میں کمی یا زیادتی کا نظریہ کسی بھی اعتبار سے اس مقدس کتاب کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتاکیونکہ تمام مسلمان اس
بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں کسی طرح کی زیادتی واقع نہیں ہوئی ہے اسی طرح ظاہراً سارے مسلمان متفق ہیں کہ قرآن مجیدمیں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور یہ نظریہ کہ (قرآن میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے) ہمارے مذہب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے جناب سید مرتضی نے بھی اس بات کی تائید کی ہے اور روایات کے ظاہری مفہوم سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کچھ لوگوں نے بعض ایسی روایتوں کی طرف اشارہ کیا ہے
____________________
(۱) مجمع البیان جلد۱ ص ۱۰ میں سید مرتضیٰ کی کتاب ''المسائل الطر ابلیسیات''سے نقل کرتے ہوئے.
جن میں قرآن مجید کی آیات میں کمی یا ان کے جابجا ہوجانے کا ذکر ہے ایسی روایتیں شیعہ اور سنی دونوں ہی کے یہاں پائی جاتی ہیں ۔ لیکن چونکہ یہ روایتیں خبر واحد ہیں ان سے نہ تو یقین حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی ان پر عمل کیا جاسکتا ہے( ۱ ) لہذا بہتر یہ ہے کہ اس قسم کی روایتوں سے روگردانی کی جائے۔''( ۲ )
۴۔جناب ابوعلی طبرسی صاحب تفسیر ''مجمع البیان'' فرماتے ہیں :
''پوری امت اسلامیہ اس بات پر متفق ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی قسم کا اضافہ نہیں ہوا ہے ا س کے برخلاف ہمارے مذہب کے کچھ افراد اور اہل سنت کے درمیان ''حشویہ'' فرقہ کے ماننے والے قرآن مجید کی آیات میں کمی کے سلسلے میں بعض روایتوں کو پیش کرتے ہیں لیکن جس چیز کو ہمارے مذہب نے مانا ہے جو صحیح بھی ہے وہ اس نظریہ کے برخلاف ہے.''( ۳ )
۵۔جناب علی بن طاؤس حلی (متوفی ۶۶۴ھ) جو ''سید بن طاؤس'' کے نام سے مشہور ہیں فرماتے ہیں :
____________________
(۱) ایسی روایت جو حد تواتر تک نہ پہنچتی ہو اور اس کے صدق کا یقین بھی نہ کیا جاسکتا ہووہ خبر واحد کہلاتی ہے.(مترجم)
(۲)تفسیر تبیان جلد ۱ ص ۳.
(۳)تفسیر مجمع البیان جلد ۱ ص ۱۰.
''شیعوں کی نگاہ میں قرآن مجید میں کسی بھی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے''( ۱ )
۶۔ جناب شیخ زین الدین عاملی (متوفی ۸۷۷ھ) اس آیہ کریمہ:
(انَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ )کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
''یعنی ہم قرآن مجید کو ہر قسم کی تبدیلی اور زیادتی سے محفوظ رکھیں گے.''( ۲ )
۷۔کتاب احقاق الحق کے مؤلف سید نور اللہ تستری (شہادت ۱۰۱۹ ھ) جو کہ شہید ثالث کے لقب سے مشہور ہیں فرماتے ہیں :
'' بعض لوگوں نے شیعوں کی طرف یہ نسبت دی ہے کہ وہ قرآن میں تبدیلی کے قائل ہیں لیکن یہ سارے شیعوں کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ ان میں سے بہت تھوڑے سے افراد ایسا عقیدہ رکھتے ہیں اور ایسے افراد شیعوں کے درمیان مقبول نہیں ہیں .''( ۳ )
۸۔جناب محمد بن حسین (متوفی ۱۰۳۰ھ)جو''بہاء الدین عاملی '' کے نام سے مشہور ہیں فرماتے ہیں کہ:
____________________
(۱) سعد السعود ص ۱۱۴۴
(۲)اظہار الحق ج۲ ص ۱۳۰
(۳)آلاء الرحمن ص ۲۵
''صحیح یہ ہے کہ قرآن مجید ہر قسم کی کمی و زیادتی سے محفوظ ہے اور یہ کہنا کہ امیر المومنین علی ـ کا نام قرآن مجید سے حذف کردیا گیا ہے'' ایک ایسی بات ہے جو علماء کے نزدیک ثابت نہیں ہے جو شخص بھی تاریخ اور روایات کا مطالعہ کرے گااس کو معلوم ہوجائے گا کہ قرآن مجید متواتر روایات اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہزاروں اصحاب کے نقل کرنے کی وجہ سے ثابت و استوارہے اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں ہی پورا قرآن جمع کیا جاچکا تھا.''( ۱ )
۹۔کتاب وافی کے مؤلف جناب فیض کاشانی (متوفی ۱۰۹۱ھ) نے آیت (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ )کو اور اس جیسی آیتوں کو قرآن مجید میں عدم تحریف کی دلیل قرار دیتے ہوئے یوں لکھا ہے:
''اس صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن مجید میں تحریف واقع ہو ساتھ ہی ساتھ تحریف پر دلالت کرنے والی روایتیں کتاب خدا کی مخالف بھی ہیں لہذا ضروری ہے کہ اس قسم کی روایات کو باطل سمجھا جائے.''( ۲ )
۱۰۔جناب شیخ حر عاملی (متوفی ۱۱۰۴ھ) فرماتے ہیں کہ :
''تاریخ اور روایات کی چھان بین کرنے والا شخص اس بات کو
____________________
(۱)آلاء الرحمن ص ۲۵
(۲)تفسیر صافی جلد ۱ ص ۵۱
اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ قرآن مجید، متواتر روایات اور ہزاروں صحابہ کرام کے نقل کرنے سے ثابت و محفوظ رہا ہے اور یہ قرآن پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں ہی منظم صورت میں جمع کیا جاچکا تھا.' '( ۱ )
۱۱۔بزرگ محقق ''جناب کاشف الغطائ'' اپنی معروف کتاب ''کشف الغطائ'' میں لکھتے ہیں :
''اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید خداوندکریم کی صیانت و حفاظت کے سائے میں ہرقسم کی کمی و تبدیلی سے محفوظ رہا ہے ا س بات کی گواہی خود قرآن مجیدبھی دیتا ہے اور ہرزمانے کے علماء نے بھی یک زبان ہو کر اس کی گواہی دی ہے اس سلسلے میں ایک مختصر سے گروہ کا مخالفت کرنا قابل اعتناء نہیں ہے .''
۱۲۔اس سلسلہ میں انقلاب اسلامی کے رہبر حضرت آیة اللہ العظمیٰ امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا بیان بھی موجود ہے جسے ہم ایک واضح شاہد کے طور پر پیش کرتے ہیں :
ہر وہ شخص جو قرآن مجید کے جمع کرنے اس کی حفاظت کرنے، اس کو حفظ کرنے ، اس کی تلاوت کرنے اور اس کے لکھنے کے بارے میں مسلمانوں کی احتیاط سے آگاہی رکھتا ہو وہ قرآن کے سلسلے میں نظریہ تحریف کے باطل ہونے کی گواہی دے گا اور وہ
____________________
(۱)آلاء الرحمن ص ۲۵
روایات جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ یا تو ضعیف ہیں جن کے ذریعے استدلال نہیں کیا جاسکتا یا پھر مجہول ہیں جس سے ان کے جعلی ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے یا یہ روایتیں قرآن کی تاویل اور تفسیر کے بارے میں ہیں یا پھر کسی اور قسم کی ہیں جن کے بیان کے لئے ایک جامع کتاب تالیف کرنے کی ضرورت ہے اگر موضوع بحث سے خارج ہونے کا خدشہ نہ ہوتا تو یہاں پر ہم قرآن کی تاریخ بیان کرتے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کرتے کہ ان چند صدیوں میں اس قرآن پر کیسے حالات گزرے ہیں اور اس بات کو بھی روشن کردیتے کہ جو قرآن مجید آج ہمارے ہاتھوں میں ہے وہ بعینہ وہی آسمان سے آنے والی کتاب ہے اور وہ اختلاف جو قرآن کے قاریوں کے درمیان پایا جاتا ہے وہ ایک جدید امر ہے جس کا اس قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے جسے لے کر جبرئیل امین ـ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قلب مطہر پر نازل ہوئے تھے.''( ۱ )
نتیجہ:مسلمانوںکی اکثریت خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنی اس بات کی معتقد ہے کہ یہ آسمانی کتاب بعینہ وہی قرآن ہے جو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوئی تھی اور وہ ہر قسم کی تحریف ، تبدیلی ، کمی اور زیادتی سے محفوظ ہے.
____________________
(۱)تہذیب الاصول ، جعفر سبحانی(دروس امام خمینی قدس سرہ )جلد۲ص۹۶
ہمارے اس بیان سے شیعوں کی طرف دی جانے والی یہ نسبت باطل ہوجاتی ہے کہ وہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں اگر اس تہمت کا سبب یہ ہے کہ چند ضعیف روایات ہمارے ہاں نقل ہوئی ہیں تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ ان ضعیف روایات کو شیعوں کے ایک مختصر فرقے ہی نے نہیں بلکہ اہل سنت کے بہت سے مفسرین نے بھی اپنے ہاں نقل کیا ہے یہاں ہم نمونے کے طور پر ان میں سے بعض روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔ابوعبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی اپنی تفسیر میں ابوبکر انبازی سے اور نیز
ابی بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب (جس میں تہتر آیتیں ہیں ) پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں سورہ بقرہ (جس میں دو سو چھیاسی آیتیں ہیں ) کے برابر تھا اور اسوقت اس سورہ میں آیہ ''رجم'' بھی شامل تھی( ۱ )
(لیکن اب سورہ احزاب میں یہ آیت نہیں ہے)اور نیز اس کتاب میں عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :
''پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں سورۂ احزاب میں دوسو آیتیں تھیں پھر بعد میں جب مصحف لکھا گیا تو جتنی اب اس سورہ میں آیتیں ہیں ان سے زیادہ نہ مل سکیں''( ۲ )
۲۔کتاب ''الاتقان'' کے مؤلف نقل کرتے ہیں کہ ''اُبیّ '' کے قرآن میں ایک سو سولہ
____________________
(۱)تفسیر قرطبی جز ۱۴ ص ۱۱۳ سورہ احزاب کی تفسیر کی ابتداء میں
(۲)گذشتہ حوالہ
سورے تھے کیونکہ اس میں دو سورے حفد اور خلع بھی تھے .جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید کے سوروں کی تعداد ایک سو چودہ ہے اور ان دو سوروں (حفد اور خلع) کا قرآن مجید میں نام ونشان تک نہیں ہے.(۱)
۳۔ہبة اللہ بن سلامہ اپنی کتاب ''الناسخ والمنسوخ'' میں انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : ''پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں ہم ایک ایسا سورہ پڑھتے تھے جو سورۂ توبہ کے برابر تھا مجھے اس سورہ کی صرف ایک ہی آیت یاد ہے اور وہ یہ ہے:
''لوأن لابن آدم وادیان من الذهب لابتغیٰ اِلیهما ثالثاً ولو أن له ثالثاً لابتغیٰ لیها رابعاً ولا یملأ جوف ابن آدم اِلا التراب و یتوب اللّه علیٰ مَن تاب !''
جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس قسم کی آیت قرآن میں موجود نہیں ہے اوریہ جملے قرآنی بلاغت سے بھی مغایرت رکھتے ہیں
۴۔.جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر در المنثور میں عمر بن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ احزاب سورہ بقرہ کے برابر تھا اور آیہ ''رجم'' بھی اس میں موجود تھی( ۲ )
لہذا شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کے کچھ افراد نے قرآن میں تحریف کے بارے
____________________
(۱) اتقان جلد ۱ ص ۶۷.
(۲)تفسیر درالمنثور جلد ۵ ص ۱۸۰ سورہ احزاب کی تفسیر کی ابتداء میں
میں ایسی ضعیف روایتوں کو نقل کیا ہے جنہیں مسلمانوں کی اکثریت نے خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنی قبول نہیں کیا ہے
بلکہ قرآن کی آیتوں، عالم اسلام کی صحیح اور متواتر روایتوں ،اجماع، ہزاروں اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نظریات اور دنیا کے تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی قسم کی تحریف ، تبدیلی ، کمی یازیادتی نہ آج تک ہوئی ہے اور نہ ہی رہتی دنیا تک ہوگی۔
سترہواں سوال
صحابۂ کرام کے بارے میں شیعوں کا کیا نظریہ ہے؟
جواب:شیعوں کے نزدیک پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھنے اورانکی مصاحبت سے شرفیاب ہونے والے افراد چند گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں لیکن اس بات کی وضاحت سے قبل بہتر یہ ہے کہ لفظ ''صحابی'' کو واضح کردیا جائے صحابی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں یہاںہم ان میں سے بعض تعریفوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ: ''صحابی'' وہ ہے جو ایک یا دو سال تک پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں رہا ہو اور اس نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہمراہی میں ایک یا دو جنگیں بھی لڑی ہوں.( ۱ )
۲۔واقدی کہتے ہیں کہ:علماء کے نزدیک ہر وہ شخص رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی شمار ہوتا ہے جس نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کودیکھاہو اور اسلام کی طرف مائل ہو اور اس نے دین اسلام کے سلسلے میں غور وفکر کرنے کے بعد اسے قبول کرلیا ہو اگرچہ وہ گھنٹہ بھر ہی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ رہا ہو.( ۲ )
____________________
(۱) اسد الغابة جلد۱ ص ۱۱ ، ۱۲ طبع مصر
(۲)گذشتہ حوالہ
۳۔محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ: مسلمانوں میں سے ہر وہ شخص جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت میں رہا ہو یا اس نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا ہو وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب میں شمار ہوگا.( ۱ )
۴۔احمد ابن حنبل کہتے ہیں کہ: ہر وہ شخص جو ایک ماہ یا ایک دن یا چند گھڑیاں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ رہا ہو یا اس نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا ہو وہ ان کے اصحاب میں شمار ہوگا.( ۲ )
علمائے اہل سنت کے نزدیک ''عدالت صحابہ'' ایک متفق علیہ مسئلہ ہے اس کے مطابق جس شخص کو بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت حاصل ہوئی ہو وہ عادل ہے!( ۳ )
یہاں پر ضروری ہے کہ اس نظریہ کا قرآنی آیات کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اس بارے میں وحی الہی کے سرچشمہ سے حاصل شدہ شیعوں کے نکتہ نظر کا بھی تذکرہ کیا جائے ۔
تاریخ نے بارہ ہزار سے زیادہ افراد کے نام اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی فہرست میں درج کئے ہیں جنکے درمیان مختلف قسم کے چہرے دکھائی پڑتے ہیں بے شک آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت ایک بہت بڑا افتخارتھا جو صرف چند افراد ہی کو نصیب ہوا اور امت اسلامی نے ہمیشہ ایسے افراد کو ادب و احترام کی نگاہوں سے دیکھا ہے کیونکہ انہی بزرگان نے
سے نقل کرتے ہوئے.
____________________
(۱) اسدالغابة جلد۱ ص ۱۱ ، ۱۲
(۲)گذشہ حوالہ
(۳) الاستعیاب فی اسماء الاصحاب جلد۱ ص۲ ''الاصابة'' کے حاشیے میں اسدالغابة جلد۱ صفحہ ۳ میں ابن اثیر
آئین اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے سب سے پہلے اسلام کی عزت اور شوکت کے پرچم کو لہرایا ہے.
قرآن مجید نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے:
(لایَسْتَوىِ مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُوْلٰئِکَ َاعْظَمُ دَرَجَةً مِنْ الَّذِینَ اَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا )( ۱ )
اور تم میں سے فتح سے پہلے انفاق کرنے والا اور جہاد کرنے والا اس کے جیسا نہیں ہوسکتا جو فتح کے بعد انفاق اور جہاد کرے پہلے جہاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے.
لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعتراف بھی کرلینا چاہیئے کہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت کوئی ایسا کیمیاوی نسخہ نہیں تھا جو انسانوں کی حقیقت کو بدل دیتا اور عمر کے آخری حصے تک ان کی زندگی کی ضمانت لیتا نیز انہیں ہمیشہ کے لئے عادلوں کی صف میں کھڑا کردیتا.
اس مسئلے کی وضاحت کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے درمیان قابل اعتماد کتاب قرآن مجید کا مطالعہ کریںاور اس سلسلے میں اس سے مدد حاصل کریں.
صحابی قرآن مجید کی نگاہ میں
قرآن کے نکتہ نظر سے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہونے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت
____________________
(۱) سورہ حدید آیت: ۱۰
اختیار کرنے والوں کی دوقسمیں ہیں :
پہلی قسم
وہ ایسے اصحاب ہیں جن کی قرآن مجید کی آیتیں مدح و ستائش کرتی ہیں اور انہیں شوکت اسلام کا بانی قرار دیتی ہیں یہاں پر ہم صحابہ کرام کے ایسے گروہ سے متعلق چند آیتوں کا ذکر کرتے ہیں :
۱۔دوسروں پر سبقت لے جانے والے
(وَالسَّابِقُونَ الْاَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِینَ وَالْاَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِىَ ﷲ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِى من تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا َبَدًا ذَٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ )( ۱ )
اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کا اتباع کیا ہے ان سب سے خدا راضی ہوگیا ہے اور یہ سب خدا سے راضی ہیں اورخدا نے ان کے لئے وہ باغات مہیا کئے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے.
____________________
(۱) سورہ توبہ آیت:۱۰۰
۲۔درخت کے نیچے بیعت کرنے والے
(لَقَدْ رَضِىَ ﷲ عَنْ الْمُؤْمِنِینَ اِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِینَةَ عَلَیْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیبًا )( ۱ )
یقینا خدا صاحبان ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کررہے تھے پھر اس نے وہ سب کچھ دیکھ لیا جوان کے دلوں میں تھا تو ان پر سکون نازل کردیا اور انہیں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کردی.
۳۔مہاجرین
(لِلْفُقَرَائِ الْمُهَاجِرِینَ الَّذِینَ ُخْرِجُوا مِنْ دِیارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ ﷲِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ ﷲ وَرَسُولَهُا ُوْلٰئِکَ هُمْ الصَّادِقُونَ )( ۲ )
یہ مال ان مہاجر فقراء کے لئے بھی ہے جنہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا اور ان کے اموال سے انہیں دور کردیا گیا اور وہ
صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلب گار ہیں اور خدا اور رسول کی مدد کرنے والے ہیں یہی لوگ دعوائے ایمان میں سچے ہیں
____________________
(۱)سورہ فتح آیت:۱۸
(۲)سورہ حشر آیت:۸
۴۔اصحابِ فتح
(مُحَمَّد رَسُولُ ﷲِ وَالَّذِینَ مَعَهُ اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ ﷲِ وَرِضْوَانًا سِیمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُودِ )( ۱ )
محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میں انتہائی رحم دل ہیں تم ان کودیکھو گے کہ بارگاہ احدیت میں سرخم کئے ہوئے سجدہ ریز ہیں اور اپنے پروردگار سے فضل وکرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں کثرت سجود کی وجہ سے ان کے چہروں پر سجدہ کے نشانات پائے جاتے ہیں
____________________
(۱)سورہ فتح آیت:۲۹
دوسری قسم
بزم رسالت میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جنہیں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت تو حاصل ہوئی
تھی مگر وہ یا تو منافق تھے یا پھر ان کے دل میں مرض تھا قرآن مجید نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ایسے افراد کی حقیقت کو نمایاں کیا ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ تاکید کی ہے کہ ان سے محتاط رہیں یہاں پر ہم اس سلسلے میں نازل ہونے والی آیتوں کے چند نمونے پیش کرتے ہیں :
۱۔معروف منافقین
اذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ اِنَّکَ لَرَسُولُ ﷲِ وَﷲ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُولُهُ وَﷲ یَشْهَدُاِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَکَاذِبُونَ )( ۱ )
اے پیغمبر! یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں
۲۔غیر معروف منافقین
(وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنْ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ---- الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لاَتَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ )( ۲ )
____________________
(۱)سورہ منافقون آیت:۱
(۲)سورہ توبہ آیت: ۱۰۱
اور تم لوگوں کے گرد، دیہاتیوں میں بھی منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں تم لوگ ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں
۳۔دل کے کھوٹے
(وَاِذْ یَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِى قُلُوبِهِمْ مَرَض مَا وَعَدَنَا ﷲ وَرَسُولُها ِلاَّ غُرُورًا )( ۱ )
اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا یہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور رسول نے ہم سے صرف دھوکا دینے والا وعدہ کیا ہے.
۴۔گناہ گار
(وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا عَسَی ﷲ اَنْ یَتُوبَ عَلَیْهِمْ اِنَّ ﷲ غَفُور رَحِیم )( ۲ )
اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا کہ انہوں نے نیک اور بد اعمال مخلوط کردئیے ہیں عنقریب خدا
____________________
(۱)سورہ احزاب آیت :۱۲.
(۲)سورہ توبہ آیت : ۱۰۲.
ان کی توبہ قبول کر لے گا وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے.
قرآن مجید کی آیات کے علاوہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بھی بعض صحابہ کی مذمت میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے ہم صرف دو روایتوں کو بطور نمونہ پیش کرتے ہیں :
۱۔ابوحازم،سہل بن سعد سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا :
''أنا فرطکم علیٰ الحوض مَن ورد شرب و مَن شرب لم یظمأ أبداً و لیردنّ علّ أقوام أعرفهم و یعرفونن ثم یحال بین و بینهم.''
میں تم سب کو حوض کی طرف بھیجوں گا جو شخص بھی اس حوض تک پہنچے گا وہ اس میں سے ضرور پئے گا اور جو بھی اس سے پئے گا پھر وہ تاابد پیاس محسوس نہیں کرے گا پھر ایک گروہ میرے پاس آئے گا جسے میں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وہ بھی مجھے پہچانتے ہوں گے اس کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے جدا کردیا جائے گا .''
ابو حازم کا بیان ہے کہ جس وقت میں نے نعمان ابن ابی عیاش کے سامنے یہ حدیث پڑھی تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث سھل سے اسی طرح سنی ہے ؟ میں نے کہا ہاں اس وقت نعمان بن ابی عیاش نے کہا کہ ابوسعید خدری نے بھی اس حدیث کو ان کلمات کے اضافے کے ساتھ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :
''اِنهم من فیقال: نک لاتدر ما أحدثوا بعدک فأقول سحقًا سحقًا لمن بدل بعد'' ( ۱ )
یہ افراد مجھ سے ہیں پس کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کام انجام دیئے ہیں ! پس میں کہوں گا ایسے لوگوں سے خدا کی رحمت دور ہوجائے جنہوں نے میرے بعد (احکام دین میں ) تبدیلی کی.
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس حدیث میں ان دو جملوں'' جنہیں میں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وہ سب بھی مجھے پہچانتے ہونگے ''اور ''میرے بعد تبدیلی کی'' سے صاف واضح ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد آپکے وہ اصحاب ہیں جو کچھ مدت آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ رہے ہیں (اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے بھی نقل کیاہے)
۲۔بخاری اور مسلم ،پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے:
''یرد علَّ یوم القیامة رهط من أصحاب أو قال من أمت فیحلون عن الحوض فأقول یاربى أصحابى فیقول اِنّه لاعلم لک بما أحدثوا بعدک أنهم ارتدوا علیٰ أدبارهم القهقری . ''( ۲ )
____________________
(۱)جامع الاصول (ابن اثیر) جلد۱ ۱ کتاب الحوض فی ورود الناس علیہ ص ۱۲۰ حدیث نمبر ۷۹۷۲.
(۲)جامع الاصول جلد ۱۱ ص ۱۲۰ حدیث ۷۹۷۳
قیامت کے دن میرے اصحاب میں سے یا فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ میرے پاس آئے گاپس ان کو حوض کوثر سے دور کردیا جائے گا اس وقت میں کہوں گا اے میرے پروردگار! یہ میرے اصحاب ہیں تو خدا فرمائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیسے کیسے کام انجام دئیے ہیں بے شک یہ لوگ اپنی سابقہ حالت (زمانہ جاہلیت) پر لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے.
نتیجہ:قرآنی آیات اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصحاب اور وہ افراد جنہیں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا ہے وہ سب ایک ہی درجہ کے نہیں تھے ان میں بعض ایسے بلند مقام افراد تھے جن کی خدمات نے اسلام کے پھیلانے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیا ہے لیکن بعض ایسے بھی تھے جو ابتداء ہی سے منافق، دل کے مریض اور گمراہ تھے.( ۱ )
اسی بیان کے ساتھ صحابۂ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں شیعوں کا نظریہ (جو درحقیقت قرآن اور سنت کا نظریہ ہے) واضح ہوجاتا ہے۔
____________________
(۱) اس بارے میں مزید وضاحت کے لئے سورہ منافقون ملاحظہ کریں.
اٹھارہواں سوال
متعہ کیا ہے اور شیعہ اسے کیوں حلال سمجھتے ہیں ؟
جواب:نکاح، مرد اور عورت کے درمیان ایک ارتباط کا نام ہے بعض اوقات یہ ارتباط دائمی ہوتا ہے اور عقد پڑھتے وقت اس میں زمانے کی کوئی قید ذکر نہیں کی جاتی لیکن بسا اوقات یہی ارتباط ایک معین مدت کے لئے انجام پاتا ہے یہ دونوں ہی عقد شرعی نکاح کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان صرف ''دائمی'' اور ''موقت'' کا فرق ہوتا ہے لیکن یہ دونوں باقی خصوصیات میں مشترک ہیں اب ہم یہاں نکاح ''متعہ'' کی ان شرائط کا ذکر کریں گے جو نکاح ''دائم'' کی طرح معتبر ہیں :
۱۔مرد اور عورت کے درمیان آپس میں کوئی نسبی و سببی اور کوئی شرعی مانع نہ ہو ورنہ ان کا عقد باطل ہے
۲۔ طرفین کی رضامندی سے معین کئے جانے والے مہرکا تذکرہ عقد میں ہونا چاہئے
۳۔نکاح کی مدت معین ہونی چاہئے.
۴۔شرعی طریقے سے عقد پڑھا جانا چاہئے.
۵۔ان دونوں سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ شرعی طور پر ان دونوں کی شمار ہوگی اور جس طرح نکاح دائم سے پیدا ہونے والی اولاد کانام شناختی کارڈ وغیرہ میں درج ہوتا ہے اسی طرح عقد متعہ سے پیدا ہونے والی اولاد کا نام بھی شناختی کارڈ میں شامل کیا جاتا ہے.
۶۔اس اولاد کا نان ونفقہ والد کے ذمے ہے اور یہ اولاد ماں اور باپ دونوں سے میراث پائے گی.
۷۔جس وقت عقد متعہ کی مدت ختم ہوجائے تو اگر عورت یائسہ نہ ہو تو وہ شرعی طور پر عدہ گزارے گی اور اگراثنائے عدت میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے تو وضع حمل سے پہلے کسی بھی قسم کا عقد نہیں کرسکتی. اسی طرح نکاح دائم کے باقی احکام بھی متعہ میں جاری ہوں گے ان دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ چونکہ عقد متعہ چند ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے حلال کیا گیا ہے لہذا اس عورت کا نان ونفقہ مرد کے ذمے نہیں ہے اور اگر عقد متعہ پڑھتے وقت عورت کی طرف سے میراث لینے کی شرط نہ لگائی جائی تو یہ عورت شوہر کی میراث نہیں پائے گی واضح ہے کہ ان دو فرقوں سے نکاح کی حقیقت میں کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہم سب اس بات کے معتقد ہیں کہ اسلام ایک دائمی شریعت اور آخری شریعت ہے لہذا اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ انسانوں کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اب یہاں پر اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ایک ایسا جوان شخص جو کہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے کسی دوسرے شہر یا ملک میں زندگی بسر کررہا ہو اور محدود وسائل کی وجہ سے دائمی عقد نہ کرسکتا ہو اسکے سامنے صرف تین راستے ہیں اور ان میں سے وہ کسی ایک کا انتخاب کرے گا۔
الف:کنوارہ ہی رہے.
ب:گناہ اور آلودگی کی دلدل میں دھنس جائے.
ج:گذشتہ شرائط کے ساتھ ایک ایسی عورت کے ساتھ ایک محدود اور معین مدت کے لئے شادی کر لے جس سے شرعا عقد جائز ہو پہلی صورت کے بارے میں یہ کہنا چاہئے اس میں اکثر افراد شکست کھاجاتے ہیں اگرچہ بعض ایسے انگشت شمار اشخاص ضرور مل جائیں گے جو اپنی خواہشات کو دبا کر صبر کا دامن تھام لیتے ہیں لیکن اس روش پر عمل پیرا ہونا سب کے بس کی بات نہیں ہے
دوسرے راستے کو اختیار کرنے والوں کا انجام تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا اور اسلام کی نگاہ میں بھی یہ ایک حرام عمل ہے.اس فعل کو فطری تقاضے کا نام دے کر صحیح قرار دینا ایک غلط فکر ہے
اب صرف تیسرا راستہ بچتا ہے جسے اسلام نے پیش کیا ہے اور یہی مناسب اور صحیح بھی ہے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں بھی اس پر عمل ہوتا رہا ہے اس مسئلے میں اختلاف آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد پیدا ہوا ہے
یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ وہ لوگ جو عقد متعہ سے خوف وہراس رکھتے ہیں انہیں اس بات کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ تمام اسلامی مجتہدین اور محققین نے اس متعہ کو معنوی اعتبار سے نکاح دائم میں بھی اس طرح میں قبول کیا ہے کہ جب مرد اور عورت آپس میں عقد دائم تو کریں لیکن ان کی نیت یہ ہو کہ ایک سال کے بعد یا اس سے کمتر یا بیشتر مدت میں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے تو وہ طلاق کے ذریعہ جدا ہو سکتے ہیں
واضح ہے کہ اس قسم کی شادی ظاہری اعتبار سے تو دائمی ہے لیکن حقیقت میں معین وقت کے لئے ہے اور اس قسم کے دائمی نکاح اور عقد متعہ کے درمیان صرف یہ فرق ہے کہ عقد متعہ ظاہری اور باطنی ہر دو اعتبار سے معین وقت کے لئے ہوتا ہے جبکہ اس قسم کا دائمی نکاح ظاہری طور پر تو ہمیشہ کے لئے ہے لیکن باطنی طور پر ایک محدود وقت کے لئے انجام پایا ہے.
وہ لوگ جو اس قسم کے دائمی نکاح کو جائز سمجھتے ہیں جیسا کہ اس کو تمام مسلمان فقہاء جائز قرار دیتے ہیں تووہ عقد متعہ کو حلال سمجھنے میں کیوں خوف وہراس محسوس کرتے ہیں .یہاں تک ہم نے عقد متعہ کی حقیقت سے آشنائی حاصل کی اب ہم دلیلوں کی روشنی میں اس کے جواز کو ثابت کریں گے اس سلسلے میں ہم دو مرحلوں میں بحث کریں گے:
۱۔صدر اسلام میں عقد متعہ کا شرعا جائز ہونا.
۲۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں اس حکم شرعی کا منسوخ نہ ہونا.
عقد متعہ کا جواز اس آیۂ شریفہ سے ثابت ہوتا ہے :
(فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ فَرِیضَة )( ۱ )
پس جب بھی تم ان عورتوں سے متعہ کرو تو انکی اجرت انہیں بطور فریضہ دے دو.
اس آیہ شریفہ کے الفاظ اچھی طرح اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ آیۂ کریمہ نکاح موقت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ :
اول :اس آیت میں استمتاع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے ظاہری معنی نکاح موقت ہیں .اور اگر اس سے مراد دائمی نکاح ہوتا تو اس کیلئے قرینہ لایا جاتا.
دوم:اس آیت میں کلمہ ''اجورھن'' (ان کی اجرت) ہے اور یہ اس بات کا گواہ ہے کہ اس آیت سے مراد عقد متعہ ہے کیونکہ نکاح دائم میں لفظ ''مہر'' اور لفظ ''صداق'' استعمال کئے جاتے ہیں
سوم: شیعہ اور سنی مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ آیۂ شریفہ عقد متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر درالمنثور میں ابن جریر اور سدی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت عقد متعہ کے بارے میں ہے( ۲ )
اسی طرح ابوجعفر محمد بن جریرطبری اپنی تفسیر میں سدی اور مجاہد اور ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت نکاح موقت کے بارے میں ہے( ۳ )
____________________
(۱)سورہ نساء آیت:۲۴.
(۲)تفسیر درالمنثور جلد۲ ص۱۴۰ سورہ نساء کی ۲۴ویں آیت کے ذیل میں
(۳)جامع البیان فی تفسیر القرآن جزء ۵ ص۹.
چہارم:صاحبان صحاح و مسانیداور احادیث کی کتابوں کے مولفین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے بعنوان مثال مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب صحیح میں جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
خرج علینا مناد رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم فقال:ا ن رسول اللّه قد أذن لکم أن تستمتعوا یعنى متعة النسائ .( ۱ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے منادی نے ہمارے پاس آکر کہا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تم لوگوں کو استمتاع کی اجازت دی ہے یعنی عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی ہے.عقد متعہ سے متعلق صحاح اور مسانید میں جو روایات آئی ہیں ان سب کو اس کتاب میں بیان نہیں کیا جاسکتا البتہ ان سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ عالم اسلام کے تمام علماء اور مفسرین نے آغاز اسلام میں اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں عقد متعہ کے جائز ہونے کوتسلیم کیا ہے:( ۲ )
____________________
(۱)صحیح مسلم جز ۴ ص ۱۳۰ طبع مصر
(۲)نمونے کے طور پر ہم ان منابع میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں :
صحیح بخاری باب تمتع۲مسند احمد جلد۴ ص۴۳۶ اور جلد ۳ ص ۳۵۶
الموطا مالک جلد۲ ص ۳۰سنن بہیقی جلد۷ ص ۳۰۶
تفسیر طبری جلد ۵ ص ۹
نہایہ ابن اثیر جلد۳ ص ۲۴۹
تفسیر رازی جلد۳ ص ۲۰۱
تاریخ ابن خلکان جلد۱ ص ۳۵۹
احکام القرآن جصاص جلد ۲ ص ۱۷۸
محاضرات راغب جلد۲ ص ۹۴
الجامع الکبیر سیوطی جلد۸ ص ۲۹۳
فتح الباری ابن حجر جلد۹ ص ۱۴۱
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس آیت کا حکم منسوخ ہوا ہے یا نہیں ؟شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں متعہ کے شرعا جائز ہونے کے بارے میں تردید کرے بحث اس بارے میں ہے کہ یہ حکم آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں باقی تھا یا منسوخ ہوگیا تھا؟تاریخ اسلام اور روایات کے مطابق خلیفہ دوم کے زمانے تک مسلمان اس حکم الہی پر عمل کرتے تھے اور سب سے پہلے خلیفہ دوم نے چند مصلحتوں کی بنا پر اس حکم پر عمل کرنے سے مسلمانوں کو روکا تھا مسلم بن حجاج اپنی کتاب صحیح میں نقل کرتے ہیں کہ جب ابن عباس اور ابن زبیر کے درمیان متعة النساء اور متعہ حج کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا تو جابر ابن عبداللہ نے کہا :
''فعلنا هما مع رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم ثم نهانا عنهما عمر فلم نعدلهما'' ( ۱ )
____________________
(۱)سنن بیہقی جلد۷ ص۲۰۶ اور صحیح مسلم جلد۱ ص۳۹۵
ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ متعة النساء اور متعہ حج کو انجام دیتے تھے اور پھر عمر نے ہمیں ان دونوں کاموں سے روک دیا اس کے بعد سے ہم نے ان دونوں کو انجام نہیں دیا ہے.
جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر میں عبدالرزاق اور ابو داؤد اور ابن جریر سے اور ان سب نے ''حکم'' سے روایت کی ہے کہ جب حکم سے آیۂ متعہ کے بارے میں سوال کیاگیا کہ کیا یہ آیت منسوخ ہوئی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں منسوخ نہیں ہوئی ہے اور حضرت علی ـ نے فرمایا ہے:
''لولا أن عمر نهیٰ عن المتعة مازنیٰ لاّ شق'' ( ۱ )
اگر عمر نے متعہ سے منع نہ کیا ہوتا تو سوائے بدبخت کے کوئی زنا نہ کرتا.
نیز علی بن محمد قوشچی کہتے ہیں کہ عمربن خطاب نے منبر پر بیٹھ کر کہا :
''أیّها الناس ثلاث کنّ علی عهد رسول اللّه وأنا أنهیٰ عنهنّ و أحرمهن و أُعاقب علیهنّ وهمتعة النساء و متعة الحج و حَّ علیٰ خیر العمل''( ۲ )
اے لوگو! تین چیزیں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ میں تھیں لیکن میں ان سے منع کرتا ہوں اور انہیں حرام قرار دیتا ہوں اور جو کوئی بھی
____________________
(۱)تفسیر درالمنثور جلد۲ ص۱۴۰ سورہ نساء کی چوبیسویں آیت کی تفسیر کے ذیل میں
(۲)شرح تجرید قوشچی بحث امامت ص۴۸۴.
انہیں انجام دے گا، میں اسے سزا دوں گا وہ تین چیزیں یہ ہیں :متعة النساء اور متعة الحج اورحی علی خیر العمل .
عقد متعة کے جائز ہونے کے بارے میں اس قدر روایات ہیں کہ ان کو ذکر کرنا اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے.زیادہ معلومات کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں( ۱ )
اب یہ مان لینا چاہیے کہ متعہ نکاح ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ نکاح کی دو قسمیں ہیں :دائمی اور موقت اور وہ عورت جس کے ساتھ نکاح موقت کیا جائے وہ اس مرد کی
____________________
(۱)مسند احمد جلد۳ ص۳۵۶
البیان والتبیین جاحظ جلد۲صفحہ ۲۲۳
احکام القرآن جصاص جلد۱ ص ۳۴۲
تفسیر قرطبی جلد۲ ص ۳۷۰
المبسوط سرخسی حنفی کتاب الحج باب القرآن
زادالمعاد ابن قیم جلد۱ ص۴۴۴
کنزالعمال جلد۸ ص۲۹۳
مسند ابی داؤد طیالسی ص۲۴۷
تاریخ طبری جلد۵ ص۳۲
المستبین طبری
تفسیر رازی جلد۳ص۲۰۰سے ۲۰۲ تک
تفسیر ابوحیان جلد۳ ص ۲۱۸
زوجہ شمار ہوتی ہے اور وہ مرد بھی اس عورت کا شوہر کہلاتا ہے اس اعتبار سے فطری طور پر اس قسم کی شادی بھی نکاح سے متعلق آیتوں کے ذیل میں آئے گی مثال کے طور پر قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ ہو :
(وَالَّذِینَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ اِلاَّ عَلَی اَزْوَاجِهِمْ وْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُهُم )( ۱ )
اور مومنین اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنیوالے ہیں علاوہ اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی کنیزوں کے.
اب تمام گزشتہ شرائط کے ساتھ جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ '' ِلاَّ عَلَی َزْوَاجِہِم ْ''(سوائے اپنی بیویوں کے)کا ایک مصداق قرار پائے گی یعنی یہ عورت
اس مرد کی زوجہ کہلائے گی اور لفظ '' َزْوَاجِہِم ''اس کو بھی اپنے اندر شامل کرے گا.سورہ مومنون کی یہ آیت جنسی عمل کو فقط دو قسم کی عورتوں یعنی بیویوں اور کنیزوں کے ساتھ جائز قرار دیتی ہے اور وہ عورت جس سے متعہ کیا گیا ہو وہ پہلی قسم کی عورتوں (یعنی اپنی بیویوں) میں شامل ہے.
یہاں پر بعض لوگوں کا یہ کلام تعجب خیز ہے کہ سورہ مومنون کی یہ آیت سورہ نساء کی چوبیسویں آیت کیلئے ناسخ ہے جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ناسخ آیت کو منسوخ ہونے والی آیت کے بعد نازل ہونا چاہیے اور یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے سورہ مومنون جسکی
____________________
(۱)سورہ مومنون آیت :۵اور ۶
آیت کو ناسخ تصورکیا جارہاہے وہ مکی ہے (یعنی یہ سورہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت سے قبل مکہ معظمہ میں نازل ہوا ہے) اور سورہ نساء جس میں آیۂ متعہ ہے مدنی ہے (یعنی یہ سورہ مدینۂ منورہ میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت کے بعد نازل ہوا ہے) اب سوال یہ ہے کہ مکی سورہ میں آنے والی آیت مدنی سورہ میں آنے والی آیت کیلئے کیسے ناسخ بن سکتی ہے؟
اسی طرح رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں آیہ متعہ کے منسوخ نہ ہونے کی ایک اور واضح دلیل وہ کثیر روایات ہیں جن کے مطابق یہ آیت آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں منسوخ نہیں ہوئی تھی ایسی روایتوں میں سے ایک روایت تو وہی ہے جسے جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر درالمنثور میں ذکر کیا ہے اور جس کی وضاحت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے( ۱ )
آخر میں ہم اس نکتے کا ذکر کردیں کہ وہ ائمہ معصومین ٪ جو حدیث ثقلین کے مطابق امت کے ہادی اور قرآن کے ہم پلہ ہیں انہوں نے عقد متعہ کے شرعاجائز ہونے اور اس کے منسوخ نہ کئے جانے کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے.( ۲ )
ساتھ ہی ساتھ اسلام چونکہ ہرزمانے میں انسانوں کی مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لہذا اس نے بھی چند ذکر شدہ شرائط کی رعایت کے ساتھ اس قسم کے نکاح کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ آج کی اس گمراہ کن دنیا میں جوانوں کو تباہی کے دلدل سے نجات دینے کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے متعہ۔
____________________
(۱) تفسیر درالمنثور جلد۲ ص ۱۴۰ اور ص ۱۴۱ سورہ نساء کی چوبیسویں آیت کی تفسیر کے ذیل میں
(۲)وسائل الشیعہ جلد۱۴ کتاب النکاح ابواب متعہ باب اول ص ۴۳۶.
انیسواں سوال
شیعہ خاک پر کیوں سجدہ کرتے ہیں ؟
جواب:بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ خاک یا شہیدوں کی تربت پر سجدہ کرنا ان کی عبادت کرنے کے برابر ہے اوریہ ایک قسم کا شرک ہے اس سوال کے جواب میں اس بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ ان دو جملوں ''السجود للّہ''و ''السجود علیٰ الأرض'' میں بڑا فرق ہے اور اس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوال کرنے والا ان دو جملوں کے درمیان موجود فرق کو نہیں سمجھ پایا ہے.
السجود للّہ کے معنی یہ ہیں کہ سجدہ خدا کے لئے ہوتا ہے اور السجود علیٰ الأرضیعنی سجدہ زمین پر ہوتا ہے.بہ الفاظ دیگر ہم زمین پر خدائے عظیم کا سجدہ بجا لاتے ہیں اصولی طور پر دنیا کے سارے مسلمان کسی نہ کسی چیز کے اوپر سجدہ کرتے ہیں جبکہ وہ خدا کا سجدہ کرتے ہیں مسجد الحرام میں بھی لوگ پتھروں پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خدا کا سجدہ کررہے ہیں
اس بیان کے ساتھ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خاک یا پتوں یا کسی اور چیز پر سجدہ کرنا ان چیزوں کی عبادت نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ خدائے عظیم کے سامنے خود کو خاک سمجھتے ہوئے اس کے لئے سجدہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ خاک شفا پر سجدہ کرنا خاک شفا کو سجدہ کرنا نہیں ہے.قرآن مجید فرماتا ہے:
(وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْأرْض )( ۱ )
اللہ ہی کو زمین و آسمان میں رہنے والے سب سجدہ کرتے ہیں
نیز پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلام فرماتے ہیں :
''جُعِلَتْ لى الأرض مسجدًا وطهورًا'' ( ۲ )
زمین میرے لئے جائے سجدہ اور پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے.
لہذا ''خد اکے لئے سجدہ '' اور ''زمین یا خاک شفا پر سجدہ'' کے درمیان آپس میں پوری طرح سازگاری ہے کیونکہ خاک اور پتوں پر سجدہ کرنا خدائے عظیم کے سامنے انتہائی درجہ کے خضوع کی علامت ہے اس بارے میں شیعوں کے نظرئیے کی وضاحت کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم امام صادق ـ کے اس گہر بار ارشاد کو پیش کریں:
''عن هشام ابن الحکم قال قلت لأبى عبداللّه ـ اخبرنى عما یجوز السجود علیه و عما لایجوز
____________________
(۱)سورہ رعد آیت: ۱۵
(۲)صحیح بخاری کتاب الصلوة ص۹۱
علیه؟ قال : السجود لایجوز لاّعلی الأرض أو ما أنبتت لاّرض الا ماأکل أو لبس فقلت له:جعلت فداک ماالعلّة ف ذلک؟ قال: لأن السجود هو الخضوع للّه عزّوجلّ فلا ینبغ أن یکون علیٰ ما یؤکل و یلبس لأن أبناء الدنیا عبید ما یأکلون و یلبسون والساجد ف سجوده ف عبادة اللّه عزّوجلّ فلا ینبغ أن یضع جبهته ف سجوده علیٰ معبود أبناء الدنیا الذین اغتروا بغرورها والسجود علیٰ الأرض أفضل لأنه أبلغ ف التواضع والخضوع للّه عزّوجلّ'' ( ۱ )
ہشام بن حکم کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق ـ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ رہنمائی فرمائیں کہ کن چیزوں پرسجدہ کرنا صحیح ہے اور کن چیزوں پر صحیح نہیں ہے؟ امام ـ نے فرمایا سجدہ صرف زمین اور اس سے اگنے والی اشیاء پر ہوسکتا ہے لیکن کھانے اور پہننے والی اشیاء پر سجدہ نہیں کیا جاسکتا میں نے عرض کی : میں آپ پرقربان ہوجاؤں اس کا کیا سبب ہے؟ امام نے فرمایا: سجدہ خداوند عزوجل کے لئے خضوع کا نام ہے پس یہ صحیح نہیں ہے کہ
____________________
(۱)بحارالانوار جلد ۸۵ ص۱۴۷ ''علل الشرائع'' سے نقل کرتے ہوئے.
کھانے اور پہننے والی چیزوں پر سجدہ کیا جائے کیونکہ دنیا پرست افراد خوراک اور لباس کے بندے ہیں جبکہ انسان سجدے کی حالت میں اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے.پس یہ مناسب نہیں ہے کہ اپنی پیشانی اس چیز پر رکھے جس کو دنیا پرست اپنا معبود سمجھتے ہیں اور وہ دنیا کے دھوکہ میں آگئے ہیں اور زمین پر سجدہ کرنا افضل ہے کیونکہ اس سے خدا کی بارگاہ میں زیادہ خضوع کا اظہار ہوتا ہے
امام کا یہ کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خاک پر سجدہ اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ یہ کام خدا کی بارگاہ میں تواضع کو ظاہر کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے.
یہاں پرایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ شیعہ صرف خاک اور بعض پتوں ہی پر کیوں سجدہ کرتے ہیں اور باقی چیزوں پرسجدہ کیوں نہیں کرتے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہر عبادت کا حکم شریعت کی طرف سے ہم تک پہنچے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے تمام شرائط ، اجزاء ، اور اس کا طریقہ بھی شریعت کو بیان کرنے والی شخصیت یعنی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اقوال اور کردار کے ذریعے ہم تک پہنچے کیونکہ قرآن کے حکم کے مطابق تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ اور نمونہ عمل فقط پیغمبر گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات ہے
اب ہم چند ایسی احادیث ذکر کرتے ہیں جو اس بارے میں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت کو بیان کرتی ہیں یہ حدیثیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم خاک پر اور زمین سے اگنے والی بعض چیزوں جیسے چٹائی وغیرہ پر سجدہ فرماتے تھے اور آج شیعہ بھی اسی چیز کا عقیدہ رکھتے ہیں بہت سے مسلمان محدثین نے اپنی صحاح ومسانید میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے زمین کو اپنے لئے سجدہ کے عنوان سے پہچنوایا تھا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :
''جعلت لى الأرض مسجدًا و طهورًا'' ( ۱ )
زمین میرے لئے جائے سجدہ اور پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے.
۱)اس حدیث میں لفظ ''جعلت ''قانون گزاری کے معنی میں ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ مسئلہ دین اسلام کی پیروی کرنے والوں کے لئے ایک حکم الہی ہے اس حدیث سے خاک، پتھر اور ہر اس چیز پر سجدے کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس کو زمین کہا جاسکے.
۲)بعض دوسری روایات اس نکتے پردلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانیوں کو خاک پر رکھا کریں جیسا کہ
____________________
(۱)سنن بیہقی جلد۱ ص ۲۱۲(باب التیمم بالصعید الطیب)صحیح بخاری جلد۱ کتاب الصلوة ص۹۱ اقتضائ
الصراط المستقیم (ابن تیمیہ) ص ۳۳۲.
زوجہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ام سلمہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا:
''ترِّب وجهک للّه'' ( ۱ )
اللہ کے لئے اپنے چہرے کو خاک پر رکھو.
اس حدیث میں ''ترب'' کے لفظ سے دو نکتے سمجھ میں آتے ہیں ایک یہ ہے کہ انسان کو سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھنا چاہیے دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ''ترب'' صیغہ امر ہے لہذا خاک پر سجدہ کرنا واجب ہے.
۳)خود آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عمل بھی خاک پر سجدے کے صحیح ہونے کا بہترین گواہ ہے وائل بن حجر کہتے ہیں :
''رأیت النبى صلىاللهعليهوآلهوسلم اِذا سجد وضع جبهته و أنفه علیٰ الأرض'' ( ۲ )
میں نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تھے تو اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر رکھتے تھے.
انس بن مالک اور ابن عباس اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج جیسے عائشہ اور ام سلمہ اور بہت سے محدثین نے اس طرح روایت کی ہے:
''کان رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم یصل علیٰ الخمرة'' ( ۳ )
____________________
(۱)کنزالعمال جلد۷ ص ۴۶۵ حدیث نمبر ۱۹۸۰۹ کتاب الصلوة السجود و مایتعلق بہ.
(۲) احکام القرآن (جصاص حنفی جلد۳ ص۲۰۹ باب السجود علی الوجہ)
(۳)سنن بیہقی جلد۲ ص۴۲۱ کتاب الصلوة علی الخمرہ.
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم چٹائی پر نماز پڑھتے تھے (ایسی چٹائی جوکہ کھجور کی پتیوں سے تیار کی جاتی تھی)
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی ابوسعید کہتے ہیں کہ:
''دخلت علیٰ رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم وهو یصل علیٰ حصیر'' ( ۱ )
میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہواتو اس وقت آپ چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے
یہ بات شیعوں کے نظرئیے کے صحیح ہونے کی گواہی دیتی ہے کیونکہ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ زمین سے اگنے والی ان اشیاء پر سجدہ صحیح ہے جو نہ تو کھائی جاتی ہوں اور نہ ہی پہنی جاتی ہوں.
۴)پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب اور تابعین کی سیرت اور ان کے اقوال بھی اس بارے میں آنحضرت کی سنت کو بیان کرتے ہیں :جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں :
''کنت أصل الظهر مع رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم فأخذ قبضة من الحصاء لتبرد ف کف أضعها لجبهت أسجد علیها لشدة الحرّ'' ( ۲ )
____________________
(۱)گذشتہ حوالہ
(۲) سنن بیہقی جلد۱ ص۴۳۹کتاب الصلوة باب ماروی فی التعجیل بھا فی شدة الحر.
جب میں رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتا تھا تو اپنی مٹھی میں سنگ ریزے اٹھا لیتا تھا تاکہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈے ہو جائیں اور انہیں سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کے نیچے رکھ سکوں کیونکہ گرمی بہت شدید تھی.
اور پھر خود راوی نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ اگر اپنے کپڑوں پر سجدہ کرنا جائز ہوتا تویہ سنگریزوں کے اٹھانے اور انہیں سنبھالنے سے آسان تھا
ابن سعد (وفات ۲۰۹ ھ) اپنی کتاب ''الطبقات الکبری'' میں یوں لکھتے ہیں :
''کان مسروق اِذا خرج یخرج بلبنةٍ یسجد علیها فى السفینة'' ( ۱ )
مسروق ابن اجدع جس وقت سفر کے لئے نکلتے تھے تواپنے ساتھ ایک کچی اینٹ رکھ لیتے تھے تاکہ کشتی میں اس پر سجدہ کرسکیں
مسروق بن اجدع پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تابعین اورابن مسعود کے اصحاب میں سے تھے،
کتاب ''الطبقات الکبری'' کے مؤلف ان کے بارے میں تحریر کرتے ہیں :
'' وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد اہل کوفہ میں سے طبقہ اول کے لوگوں میں سے تھے اور انہوں نے ابوبکر ، عمر، عثمان، علی اور عبداللہ بن مسعود سے روایتیں نقل کی ہیں .''
اس کلام سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مٹی کی سجدہ گاہ کا ہمراہ رکھنا ہرگز شرک یا
____________________
(۱)''الطبقات الکبری''جلد ۶ ص۷۹ طبع بیروت مسروق بن اجدع کے حالات کو بیان کرتے ہوئے.
بدعت نہیں ہے کیونکہ صحابۂ کرام بھی ایسا کرتے تھے( ۱ )
نافع کہتے ہیں :
'' ان ابن عمرکان اذا سجد و علیه العمامة یرفعها حتیٰ یضع جبهته بالأرض'' ( ۲ )
عبد اللہ بن عمر سجدہ کرتے وقت اپنے عمامے کو اوپر کرلیا کرتے تھے تاکہ اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ سکیں.
رزین کہتے ہیں :
''کتب اِلّى علّى بن عبداللّه بن عباس أن أبعث الَّى بلوح من أحجار المروة أسجد علیها ''( ۳ )
علی بن عبداللہ بن عباس نے مجھے لکھا کہ مروہ پہاڑ کے ایک پتھر کی تختی میرے پاس بھیج دو تاکہ میں اس پر سجدہ کرسکوں.
۵)دوسری طرف سے مسلمان محدثین نے کچھ روایتیں نقل کی ہیں جن کے مطابق پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایسے افراد کو ٹوکا ہے جو سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی اور زمین کے درمیان عمامے کے کپڑے کو حائل کرلیا کرتے تھے
____________________
(۱)اس سلسلے میں مزید شواہد کے لئے علامہ امینی کی کتاب ''سیرتنا'' کی طرف مراجعہ فرمائیں.
(۲)سنن بیہقی جلد۲ ص۱۰۵( مطبوعہ حیدرآباد دکن) کتاب الصلوة باب الکشف عن السجدة فی السجود
(۳)ازرقی ،اخبار مکہ جلد ۳ ص۱۵۱
صالح سبائی کہتے ہیں :
''اِنّ رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم رأی رجلاً یسجد علیٰ جنبه و قد اعتم علیٰ جبهته فحسر رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم علیٰ جبهته'' ( ۱ )
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے پاس ایک ایسے شخص کو سجدہ کرتے دیکھا جس نے اپنی پیشانی پر عمامہ باندھ رکھا تھا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے عمامے کو ہٹا دیا
عیاض بن عبداللہ قرشی کہتے ہیں :
''رأی رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم رجلاً یسجد علیٰ کور عمامته فأوما ٔ بیده ارفع عمامتک وأومأ الیٰ جبهته'' ( ۲ )
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے عمامے کے ایک گوشے پر سجدہ کررہا تھا تو آپ نے اس کی طرف ہاتھ اٹھا کر پیشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اپنے عمامے کو اوپر اٹھاؤ.
ان روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں زمین پر
____________________
(۱)سنن بیہقی جلد۲ ص ۱۰۵
(۲)گذشتہ حوالہ.
سجدہ کرنا ایک لازمی امر تھا اور جب بھی کوئی شخص عمامے پر سجدہ کرتا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اسے اس کام سے روکتے تھے
۶)شیعوں کے ائمہ اطہار ٪ جوکہ حدیث ثقلین کے مطابق، قرآن مجید سے کبھی جدا نہ ہوںگے اور دوسری طرف وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت ہیں انہوں نے زمین پر سجدہ کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے امام صادق ـ فرماتے ہیں :
''السجود علیٰ الأرض فریضة و علیٰ الخمرة سنة'' ( ۱ )
زمین پر سجدہ کرنا حکم الہی ہے اور چٹائی پرسجدہ سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے.
اور ایک مقام پر فرماتے ہیں :
''السجود لایجوز اِلاعلیٰ الأرض أو علیٰ ما أنبتت الأرض اِلا ما أکل أو لبس'' ( ۲ )
سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے سوائے زمین یا اس سے اگنے والی اشیاء پر لیکن کھائی اور پہننے والی اشیاء پر سجدہ نہیں ہوسکتا.
نتیجہ:گزشتہ دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نہ صرف اہل بیت ٪ کی روایات بلکہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب اور تابعین کی سیرت اس
____________________
(۱)وسائل الشیعہ جلد۳ ص۵۹۳ کتاب الصلوة ابواب ما یسجد علیہ ،حدیث نمبر ۷.
(۲)وسائل الشیعہ جلد۳ ص۵۹۱ کتاب الصلوة ابواب ما یسجد علیہ ،حدیث نمبر ۱.
بات کی گواہ ہیں کہ سجدہ صرف زمین یا اس سے اگنے والی اشیاء (سوائے کھانے اور پہنے جانے والی اشیاء کے) پر ہی کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ بقیہ دوسری چیزوں پر سجدے کے جائز ہونے کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے لہذا اس احتیاط پر عمل کرتے ہوئے نجات اور کامیابی کی راہ صرف یہ ہے کہ ان چیزوں پر سجدہ کیا جائے
جن پر سب کا اتفاق ہے آخر میں ہم اس نکتے کی یاد آوری ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ بحث صرف ایک فقہی مسئلہ ہے اور اس قسم کے جزئی مسائل کے بارے میں مسلمان فقہاء کے درمیان بہت اختلافات ہیں لیکن اس قسم کے اختلافات کوکسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس قسم کے فقہی اختلافات اہل سنت کے چار فرقوں کے درمیان فراوان ہیں مثال کے طورپر مالکی کہتے ہیں کہ ناک کو سجدہ گاہ پر رکھنا مستحب ہے جب کہ حنبلی کہتے ہیں کہ یہ عمل واجب ہے اور اسے چھوڑنے کی صورت میں سجدہ باطل ہوجائے گا۔( ۱ )
____________________
(۱) الفقہ علی المذاہب الاربعة جلد۱ ص ۱۶۱ طبع مصر کتاب الصلوة ، بحث سجود.
بیسواں سوال
شیعہ حضرات زیارت کرتے وقت حرم کے دروازوں اور دیواروں کو کیوں چومتے ہیں اور انہیں باعث برکت کیوں سمجھتے ہیں ؟
جواب:اولیائے الہی سے منسوب اشیاء کو اپنے لئے باعث برکت سمجھنا کوئی ایسا جدید مسئلہ نہیں ہے جو مسلمانوں کے درمیان آج پیدا ہوا ہو بلکہ اس کی بنیادیں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے صحابہ کے زمانے میں دکھائی دیتی ہیں اس عمل کو نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اصحاب ہی نے انجام نہیں دیا ہے بلکہ گزشتہ انبیاء بھی ایسا ہی کرتے تھے اب ہم آپ کے سامنے اس عمل کے جائز ہونے کے سلسلے میں قرآن مجید اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے چنددلیلیں پیش کرتے ہیں :
۱۔قرآن مجید میں ہم پڑھتے ہیں کہ جس وقت حضرت یوسفـ نے اپنے بھائیوں کے سامنے خود کو پہچنوایا اور ان کے گناہوں کو معاف کردیا تو یہ فرمایا:
(اِذْهَبُوا بِقَمِیصِى هَذَا فَاَلْقُوهُ عَلیٰ وَجْهِا َبِى یَاْتِ بَصِیرًا )( ۱ )
میری یہ قمیص لے کر جاؤ اورمیرے بابا کے چہرے پر ڈال دو کہ انکی بصارت پلٹ آئے گی.
اور پھرقرآن فرماتا ہے:
(فَلَمَّا َنْ جَائَ الْبَشِیرُ َلْقَاهُ عَلَیٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا )( ۲ )
اور اس کے بعد جب بشارت دینے والے نے آکر قمیص کو یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا تو وہ دوبارہ صاحب بصارت ہوگئے
قرآن مجید کی یہ آیتیں گواہی دے رہی ہیں کہ ایک نبی (جناب یعقوبـ) نے دوسرے نبی (جناب یوسفـ) کی قمیص کو باعث برکت سمجھا تھا اور یہی نہیں بلکہ حضرت یعقوبـ کا یہ عمل ان کی بصارت کے لوٹنے کا سبب بنا تھا. کیا یہاں پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان دو انبیاء کے اس عمل نے انہیں توحید اور عبادت خدا کے دائرے سے خارج کردیا تھا!؟
۲۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت انہوں نے جواب دیا:
____________________
(۱)سورہ یوسف آیت:۹۳
(۲)سورہ یوسف آیت:۹۶
''رایت رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم یستلمه و یقبله ''( ۱ )
میں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا ہے کہ وہ حجر اسود کو سلام کررہے تھے اور بوسے دے رہے تھے.
اگر ایک پتھر کو سلام کرنا اور بوسے دینا شرک ہوتا تو نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہرگز اس عمل کو انجام نہ دیتے.
۳۔صحیح، مسنداور تاریخی کتابوںمیں بہت سی ایسی روایات ہیں جن کے مطابق صحابۂ کرام آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منسوب اشیاء جیسے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا لباس، آپ کے وضو کا پانی اور برتن وغیرہ کو باعث برکت سمجھتے تھے اگر ان روایات کا مطالعہ کیا جائے تو اس عمل کے جائزہونے میں کسی بھی قسم کی تردید باقی نہیں رہے گی.
اگرچہ اس بارے میں وارد ہونے والی روایات کی تعداد زیادہ ہے اور سب کو اس مختصر کتاب میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی یہاں ہم ان میں سے بعض روایتوں کو نمونہ کے طور پر پیش کررہے ہیں :
الف: بخاری نے اپنی کتاب صحیح میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اصحاب کے خصوصیات کو بیان کرنے والی ایک طولانی روایت کے ضمن میں یوں نقل کیا ہے:
''واذا توضّأ کادوا یقتتلون علیٰ وضوئه'' ( ۲ )
____________________
(۱)صحیح بخاری جزئ۲ کتاب الحج باب تقبیل الحجر ص ۱۵۱ اور ص ۱۵۲ طبع مصر.
(۲)صحیح بخاری جلد۳ باب مایجوز من الشروط ف الاسلام باب الشروط ف الجہاد والمصالحة ص ۱۹۵
جس وقت پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم وضو کرتے تھے تو نزدیک ہوتا تھا کہ مسلمان آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وضوکے پانی کو حاصل کرنے کے لئے آپس میں جنگ شروع کردیں.
ب:ابن حجر کہتے ہیں کہ:
''اِنّ النبى صلىاللهعليهوآلهوسلم کان یؤت بالصبیان فیبرک علیهم'' ( ۱ )
بے شک نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں بچوں کو لایا جاتا تھا اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے وجود کی برکت سے انہیں بھی بابرکت بنا دیتے تھے.
ج:محمد طاہر مکی کہتے ہیں : ام ثابت سے روایت ہوئی ہے وہ کہتی ہیں : کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ نے دیوار پر آویزاں ایک مشک کے دھانے سے کھڑے ہو کر پانی نوش فرمایا یہ دیکھ کر میں اپنی جگہ سے اٹھی اور میں نے اس مشک کے دھانے کو کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا اور پھر اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : اسی حدیث کو ترمذی نے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح اور حسن ہے اور کتاب ریاض الصالحین میں اس حدیث کی شرح میں کہا گیا ہے کہ ام ثابت نے مشک کے دھانے کو اس لئے کاٹ لیا تھا تاکہ وہ اس جگہ کو اپنے پاس محفوظ کرلیں جہاں سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پانی نوش فرمایا تھا کیونکہ وہ اسے باعث برکت سمجھتی تھیںاسی طرح صحابہ کی بھی یہی کوشش رہتی تھی کہ وہ اس جگہ سے پانی پئیں جہاں سے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پانی پیا ہو.( ۲ )
____________________
(۱)الاصابة جلد۱ خطبہ کتاب ص۷ طبع مصر
(۲)تبرک الصحابہ (محمد طاہر مکی) فصل اول ص۲۹ترجمہ انصاری.
''کان رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم اِذا صلیٰ الغداة جاء خدم المدینة بآنیتهم فیها الماء فما یُؤتی بانائٍ اِلا غمس یده فیها فربما جاؤوه فى الغداة الباردة فیغمس یده فیها ''( ۱ )
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم جب نماز صبح سے فارغ ہوجاتے تو مدینہ کے خادم پانی کے برتن لئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں آتے تھے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ان سب برتنوں میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تھے بعض اوقات تو وہ لوگ ٹھنڈک والی صبح میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچ جاتے تھے لیکن پھربھی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے برتنوں میں ہاتھ ڈبو دیتے تھے.( ۲ )
گذشتہ دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اولیائے الہی سے منسوب اشیاء کو باعث برکت قرار دینا ایک جائز عمل ہے اور وہ لوگ جو شیعوں پر اس عمل کی وجہ سے تہمت لگاتے ہیں وہ توحید اور شرک کے معنی کو اچھی طرح سے سمجھ نہیں پائے ہیں کیونکہ شر ک کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی عبادت کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی خدا سمجھا جائے یا یہ عقیدہ ہو کہ خدائی امور اس کے سپرد کردئیے گئے ہیں اور وہ اپنے وجود اور
____________________
(۱)صحیح مسلم جزء ۷ کتاب الفضائل باب قرب النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم من الناس و تبرکھم بہ، ص۷۹.
(۲)مزید معلومات کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں:
صحیح بخاری، کتاب اشربہ ،مؤطا مالک جلد۱ ص۱۳۸ باب صلوة علی النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ، اسدالغابة جلد۵ ص۹۰، مسند احمد جلد۴ ص ۳۲، الاستیعاب (الاصابة) کے حاشیے میں جلد۳ ص ۶۳۱، فتح الباری جلد۱ صفحہ ۲۸۱ اور ۲۸۲.
تاثیر رکھنے میں خدا سے بے نیاز ہے.
جبکہ شیعہ اولیائے الہی اور ان سے متعلق اشیاء کو خدا کی مخلوق اور اس کا محتاج سمجھتے ہیں اور وہ اپنے اماموں اور دین کے پرچمداروں کے احترام اور ان سے سچی محبت کے اظہار کے لئے ان بزرگوں کو باعث برکت قرار دے کر ان سے فیض حاصل کرتے ہیں
شیعوں کا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیت ٪ کے حرم میں جاکر ان کی ضریح مقدس کو بوسہ دینا یا حرم کے در ودیوار کو مس کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی عترت کے عشق سے سرشار ہیں اور یہ عشق ہر انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے اور یہ ایک انسانی محبت کاجذبہ ہے جو ہر محبتی انسان کے اندر ظاہر ہوتا ہے : اس بارے میں ایک شاعر کہتا ہے:
أمر علیٰ الدیار دیار سلمیٰ
اقبل ذاالجدار و ذالجدار ا
وما حُبّ الدیار شغفن قلب
ولکن حُبّ مَن سکن الدیارا
میں جب سلمیٰ کے دیار سے گزرتا ہوں تو اس دیوار اور اس دیوار کے بوسے لیتا ہوںاس دیار کی محبت نے میرے دل کولبھایا نہیں ہے بلکہ اس دیار کے ساکن کی محبت نے میرے قلب کو اسیر کرلیا ہے۔
اکیسواں سوال
کیا اسلام کی نگاہ میں دین سیاست سے جدا نہیں ہے؟
جواب: اس سوال کے جواب سے قبل بہتر یہ ہے کہ پہلے سیاست کے معنی کو واضح کردیا جائے تاکہ دین اور سیاست کا رابطہ سمجھ میں آسکے یہاں سیاست کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں
۱۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کے وسیلے کو اختیار کیا جائے چاہے وہ وسیلہ دھوکہ اور فریب کاری ہی کیوں نہ ہو (یعنی مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی چیز کو وسیلہ بنایا جاسکتا ہے) واضح ہے کہ اس قسم کی سیاست دھوکے اور فریب سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے اور ایسی سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے.
۲۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اسلامی اصولوں کے مطابق انسانی معاشرے کے نظام کو چلایا جائے اس قسم کی سیاست کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کے نظام کو قرآن اور سنت کی روشنی میں چلایا جائے ایسی سیاست دین کا حصہ ہے اور ہرگز اس سے جدا نہیں ہے.
اب ہم یہاں پر سیاست اور دین کے درمیان رابطے اور حکومت کو تشکیل دینے سے متعلق چند دلیلیں پیش کریں گے : اس سلسلے میں واضح ترین گواہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عمل ہے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اقوال اور کردار کے مطالعے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی دعوت اسلام کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت قائم کرنے کا ارادہ کرلیا تھا جس کی بنیاد خدا پر ایمان کے محکم عقیدہ پر استوار تھی اور جو اسلام کے مقاصد کو پورا کرسکتی تھی یہاں پر بہتر ہے کہ ہم رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عزم و ارادہ کے سلسلے میں چند شواہد پیش کریں:
پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلامی حکومت کے بانی ہیں
۱۔جس وقت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم ملا کہ لوگوں کو کھلم کھلا طریقے سے اسلام کی دعوت دیں تو اس وقت آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مختلف طریقوں سے جہاد و ہدایت کے زمینے کو ہموار کیا اور اسلامی سپاہیوں کی تربیت اور ان کی آمادگی کا بیڑا اٹھایا اس سلسلے میں آپ نزدیک اور دور سے زیارت کعبہ کے لئے آنے والے افراد سے ملاقات کرتے تھے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے اسی دوران آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینے کے دو گروہوں سے عقبہ کے مقام پر ملاقات کی اور ان سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ لوگ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے شہر میں بلائیںگے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کریں( ۱ ) اور اس طرح اسلامی حکومت قائم
____________________
(۱) سیرہ ہشام جلد۱ ص۴۳۱ مبحث عقبہ اولی طبع دوم مصر
کرنے کے لئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیاست کا آغاز ہوا
۲۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ایک ایسی مضبوط فوج تیار کی جس نے بیاسی جنگیں لڑیں اور ان جنگوں میں کامیابی حاصل کر کے اسلامی حکومت کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا.
۳۔مدینے میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس زمانے کی سیاسی اور اجتماعی بڑی طاقتوں کے پاس اپنے سفیراور خطوط بھیج کر ان سے رابطہ قائم کیا اور بہت سے قبیلوں کے سربراہوں سے اقتصادی ،سیاسی اور فوجی معاہدے کئے تاریخ نے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ان خطوط کی خصوصیات و تفصیلات کو بیان کیا ہے جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایران کے شہنشاہ ''کسریٰ'' ، روم کے بادشاہ ''قیصر'' ، مصر کے بادشاہ ''مقوقس''، حبشہ کے بادشاہ ''نجاشی'' اور دوسرے بادشاہوں کو بھیجے تھے بعض محققین نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ان خطوط کو اپنی مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے( ۱ )
۴۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسلام کے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اسلامی حکومت کے استحکام کے لئے بہت سے قبیلوں اور شہروں کے لئے حکام معین فرمائے تھے ہم یہاں اس سلسلے میں بطور مثال ایک نمونے کا ذکر کرتے ہیں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے رفاعہ بن زید کو اپنا نمائندہ بنا کرانھیں ان کے اپنے قبیلے کی طرف روانہ کیا اور خط میں یوں تحریر فرمایا :
''بسم الله الرحمن الرحیم ، (هذا کتاب) من
____________________
(۱)جیسے کہ''الوثائق السیاسیہ'' (مؤلفہ محمد حمید اللہ) ''مکاتیب الرسول''(مؤلفہ علی احمدی) ہیں
محمد رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم لرفاعة بن زید بعثته اِلیٰ قومه عامة و من دخل فیهم یدعوهم اِلیٰ اللّه والیٰ رسوله فمن اقبل منهم فف حزب اللّه و حزب رسوله و من أدبر فله أمان شهرین'' ( ۱ )
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے محمد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے یہ نوشتہ رفاعہ بن زید کے نام، بے شک میں انہیں ان کی قوم کے عام لوگوں اور قوم میں شامل ہوجانے والوں کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ انہیں خدا اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیں پس جس نے ان کی دعوت کو قبول کیا وہ خدا اور اس کے رسول کے گروہ میں شامل ہو گیا.اور جو ان کی دعوت سے روگردانی کرے گا اس کے لئے صرف دو ماہ کی امان ہے.
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ان اقدامات سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بعثت کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت بنانا چاہتے تھے کہ جس کے سائے میں انسانی معاشرے کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق، اسلام کے احکام کونافذ کیا جاسکے، اب سوال یہ ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مختلف گروہوں اور قدرتمند قبیلوں سے معاہدہ کرنا ،ایک
____________________
(۱) مکاتیب الرسول جلد ۱ ص ۱۴۴.
مضبوط فوج تیار کرنا، مختلف ممالک میں سفیر بھیجنا اور اس زمانے کے بادشاہوں کو خبردار کرنا، نیز ان سے خط و کتابت کرنا ساتھ ہی ساتھ شہروں کے گورنر اور حکام معین کرنا اور ایسے ہی دوسرے امور کا انجام دینا اگر سیاست نہیں تھا تو اور کیا تھا؟ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت کے علاوہ خلفائے راشدین کا کردار اور خاص طور پرحضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب ـ کا طرز عمل بھی شیعوں اور اہل سنت دونوں فرقوں کیلئے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سیاست دین سے جدانہیں ہے.دونوں اسلامی فرقوں کے علماء نے حکومت
قائم کرنے کے سلسلے میں قرآن مجید اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مفصل دلیلیں بیان کی ہیں نمونے کے طور پر ہم ان میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں :
ابوالحسن ماوردی نے اپنی کتاب ''احکام سلطانیہ'' میں یوں لکھا ہے:
''المامة موضوعة لخلافة النبّوة ف حراسة الدین و سیاسة الدنیا و عقدها لمن یقوم بها ف الأمة واجب بالجماع'' ( ۱ )
امامت کو نبوت کی جانشینی کے لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ دین کی حفاظت کی جاسکے اور دنیا کی سیاست و حکومت کا کام بھی چل سکے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی حکومت قائم کرنااس شخص پر واجب ہوجاتا ہے جو اس کام کو انجام دے سکتا ہو۔
____________________
(۱)الاحکام السلطانیة (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر.
اہل سنت کے مشہور عالم ماوردی نے اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے دو طرح کی دلیلیں پیش کی ہیں :
۱۔ عقلی دلیل
۲۔ شرعی دلیل
عقلی دلیل کو اس طرح بیان کرتے ہیں :
''لما فى طباع العقلاء من التسلیم لزعیم یمنعهم من التظالم و یفعل بینهم فى التنازع والتخاصم ولولا الولاة لکانوا فوضیٰ مهملین همجاً مضاعین'' ( ۱ )
کیونکہ یہ بات عقلاء کی فطرت میں ہے کہ وہ کسی رہبر کی پیروی کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرنے سے روکے اور اختلاف اور جھگڑوں کی صورت میں ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرے اور اگر ایسے حکام نہ ہوتے تولوگ پراگندہ اور پریشان ہوجاتے اور پھر کسی کام کے نہ رہ جاتے.
اور شرعی دلیل کو اس طرح بیان کرتے ہیں :
''ولکن جاء الشرع بتفویض الأمور اِلی ولیه فى الدین قال اللّه عزّوجلّ (یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا
____________________
(۱)الاحکام السلطانیة (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر.
اَطِیعُوا ﷲ وَاَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاُوْلِى الْاَمْرِ مِنْکُم )ففرض علینا طاعة أولى الأمر فینا وهم الأئمة المأتمرون علینا'' ( ۱ )
لیکن شرعی دلیل میں یہ ہے کہ دین کے امور کو ولی کے سپرد کردیا گیا ہے خداوندکریم فرماتا ہے:ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میں سے ہیں .پس خداوند نے ہم پرصاحبان امر کی اطاعت کو واجب کردیا ہے اور وہ ہمارے امام ہیں جو ہم پر حکومت کرتے ہیں
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے فضل بن شاذان سے ایک روایت نقل کی ہے جو ہمارے آٹھویں امام علی بن موسیٰ الرضا ـ کی طرف منسوب ہے اس طولانی روایت میں امام ـ نے حکومت قائم کرنے کو ایک لازمی امر قرار دیا ہے ہم اس روایت کے چند جملے ذکر کرتے ہیں :
''انّا لا نجد فرقة من الفرق ولا ملة من الملل
بقوا و عاشوا اِلاّ بقیّم و رئیس، لما لابدّ لهم
منه من أمر الدین والدنیا، فلم یجزفحکمة
الحکیمأن یترک الخلق لما یعلم انه لابدّ لهم منه
____________________
(۱)الاحکام السلطانیة (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر.
والقوام لهم لاّ به فیقاتلون به عدوهم و یقسمون به فیئهم و یقیمون به جمعتهم و جماعتهم و یمنع ظالمهم من مظلومهم ''( ۱ )
ہمیں کوئی ایسی قوم یا ملت نہیں ملے گی جو اس دنیا میں باقی رہی ہواور اس نے زندگی گزاری ہو سوائے یہ کہ اس کے پاس ایک ایسا رہبر اور رئیس رہا ہو جس کے وہ لوگ دین اور دنیا کے امور میں محتاج رہے ہوں پس خداوند حکیم کی حکمت سے یہ بات دور ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک ایسی چیز عطا نہ فرمائے جسکے وہ لوگ محتاج ہیں اور اسکے بغیر باقی نہیں رہ سکتے ہیں کیونکہ لوگ اپنے رہبر ہی کی ہمراہی میں اپنے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور اسی کے حکم سے مال غنیمت کو تقسیم کرتے ہیں اور اس کی اقتداء میں نماز جمعہ اور بقیہ نمازیں باجماعت ادا کرتے ہیں اور رہبر ہی ظالموں سے مظلوموں کو بچاتا ہے.
اس سلسلے میں وارد ہونے والی ساری روایتوں کی تشریح کرنا اور تمام مسلمان فقہاء کے اقوال کا جائزہ لینا اس مختصر کتاب کی گنجائش سے باہر ہے اس کام کے لئے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔اسلامی فقہ کا دقت کے ساتھ مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ شریعت کے بہت سے قوانین ایسے ہیں جو ایکمضبوط حکومت کے بغیر نافذ
____________________
(۱) علل الشرائع باب ۱۸۲ حدیث نمبر۹ ص ۲۵۳
نہیں کئے جاسکتے ہیں
اسلام ہمیں جہاد اور دفاع کرنے ، ظالم سے انتقام لینے اور مظلوم کی حمایت کرنے، شرعی حدود اور تعزیرات جاری کرنے، امر بالمعروف و نھی عن المنکر انجام دینے، ایک مالی نظام برقرار کرنے اور اسلامی معاشرے میں وحدت قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اب یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ اہداف ایک مضبوط نظام اور حکومت کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے کیونکہ شریعت کی حمایت اور اسلام سے دفاع کرنے کے لئے ایک تربیت یافتہ فوج کی ضرورت ہوتی ہے اور اس قسم کی طاقتور فوج تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک مضبوط حکومت قائم کی جائے اور اسی طرح فرائض کی پابندی اور گناہوں سے دوری کے لئے حدود اور تعزیرات کو جاری کرنا اور ظالموں سے مظلوموں کا حق لینا ایک حکومت اور نظام کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر قوی حکومت نہ پائی جاتی ہو تو معاشرہ فتنہ اور آشوب کی آماجگاہ بن جائے گا اگرچہ حکومت قائم کرنے کے لازمی ہونے کے سلسلے میں ہماری ان دلیلوں کے علاوہ بھی بہت سی دلیلیں ہیں لیکن ان دلیلوں ہی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نہ صرف دین سیاست سے جدا نہیں ہے بلکہ شریعت کے قوانین کے مطابق اسلامی حکومت قائم کرنا ایک لازمی امر ہے جو کہ اس دنیا میں پائے جانے والے ہر اسلامی معاشرہ کے لئے ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے۔
بائیسواں سوال
شیعہ ، حضرت علی بن ابی طالب کے بیٹوں (امام حسنـ ا ور امام حسینـ) کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیٹے کیوں کہتے ہیں ؟
جواب: تفسیر، تاریخ اور روایات کی کتابوں کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صرف شیعہ ہی یہ نظریہ نہیں رکھتے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ سارے مسلمان محققین چاہے وہ کسی بھی اسلامی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں ، اسی نظرئیے کو قبول کرتے ہیں
اب ہم قرآن مجید، احادیث اور مشہور مفسرین کے اقوال کی روشنی میں اس مسئلے کے دلائل کو بیان کریں گے :
قرآن مجید کی ایک اصل یہ ہے کہ اس نے ایک انسان کی نسل سے پیدا ہونے والی اولاد کو اسی انسان کی اولاد قرار دیا ہے اس اعتبار سے ایک انسان کی بیٹی یا اس کے بیٹے سے پیدا ہونے والی اولاد قرآن مجید کی نگاہ میں اس انسان کی اولاد ہے.
قرآن مجید اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم میں اس حقیقت کے متعلق بہت سے شواہد موجود ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں :
۱۔مندرجہ ذیل آیت میں قرآن مجید نے حضر ت عیسیٰ ـ کو حضرت ابراہیم ـ کی اولاد میں شمار کیاہے جبکہ حضرت عیسیٰ ـ حضرت مریم کے بیٹے ہیں اور ان کا سلسلہ نسب ماں کے ذریعہ حضرت ابراہیم ـ تک پہنچتا ہے:
(وَوَهَبْنَا لَهُا ِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ کُلًّا هَدَیْنَا وَنُوحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَهَارُونَ وَکَذَلِکَ نَجْزِ الْمُحْسِنِینَ ٭ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی )( ۱ )
اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب دیئے اور سب کو ہدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح کو ہدایت دی اور پھرابراھیم کی اولاد میں داؤد، سلیمان ، ایوب، یوسف، موسیٰ، اور ہارون قراردئیے اور ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں اور (اسی طرح ابراہیم کی اولاد میں سے) زکریا ، یحییٰ اور عیسیٰ ہیں .مسلمان علماء اس آیۂ شریفہ کو اس بات پر شاہد قرار دیتے ہیں کہ امام حسن اور امام حسین رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اولاد اورآپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذریت میں سے ہیں نمونے کے طور پر ہم
____________________
(۱)سورہ انعام آیت : ۸۴ اور ۸۵
یہاںان علماء میں سے ایک عالم کے کلام کو پیش کرتے ہیں :
جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :
''أرسل الحجاج اِلی یحییٰ بن یعمر فقال: بلغنى أنک تزعم أن الحسن والحسین من ذریة النبى صلىاللهعليهوآلهوسلم تجده فى کتاب اللّه و قد قرأته من أوله اِلیٰ آخره فلم أجده قال : ألست تقرأ سورة الانعام (وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ) حتی بلغ یَحْیَیٰ وَعِیسَیٰ ؟ قال بلیٰ قال: ألیس عیسیٰ من ذریة اِبراهیم و لیس له أب؟ قال: صدقتَ'' ( ۱ )
حجاج نے یحییٰ بن یعمرکے پاس پیغام بھیجا اور ان سے یہ کہا :مجھے خبر ملی ہے کہ تم یہ گمان کرتے ہو کہ حسن اور حسین نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذریت میں سے ہیں کیا تم نے اس بات کو کتاب خدا سے حاصل کیا ہے جبکہ میں نے قرآن مجید کو اول سے آخرتک پڑھا ہے لیکن میں نے کوئی ایسی بات اس میں نہیں دیکھی ہے.
یحییٰ بن یعمر نے کہا کیا تم نے سورہ انعام نہیں پڑھا ہے جس میں یہ ہے''وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ '' یہاں تک کہ خدا فرماتا
____________________
(۱)تفسیر در المنثور جلد۳ ص۲۸ طبع بیروت سورہ انعام کی ۸۴ اور ۸۵ آیت کی تفسیر کے ذیل میں
ہےو یَحْیَی وَعِیسَی ؟''حجاج نے کہا کیوں نہیں پڑھی ہے یحییٰ نے کہا کیا حضرت عیسیٰ ـ حضرت ابراہیم کی ذریت میں سے نہ تھے جب کہ ان کا کوئی باپ نہ تھا (اور ان کا سلسلہ نسب ماں کے ذریعہ حضرت ابراہیم تک پہنچتا ہے) حجاج نے جواب میں کہا کہ تم بالکل صحیح کہہ رہے ہو
مذکورہ آیت اور مفسرین کے اقوال سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ نہ صرف شیعہ بلکہ تمام مسلمان علماء امام حسن اور امام حسین کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذریت اور اولاد سمجھتے ہیں
۲۔ اس قول کے صحیح ہونے پر ایک بہت ہی واضح دلیل آیہ مباہلہ ہے اب ہم اس آیت کو مفسرین کے اقوال کے ساتھ پیش کرتے ہیں :
(فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَائَنَا وَاَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ ﷲِ عَلَی الْکَاذِبِین )( ۱ )
(اے پیغمبر)علم کے آجانے کے بعد جو لوگ آپ سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے بیٹوں ، اپنی اپنی عورتوں اوراپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں
____________________
(۱) سورہ آل عمران آیت : ۶۱
مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت ''مباہلہ'' کے نام سے مشہور ہے یہ آیت عیسائیوں کے سرداروں سے مناظرہ کرنے کے سلسلہ میں اس وقت نازل ہوئی جب وہ کٹ حجتی سے باز نہ آئے اور آنحضرت حکم خدا سے حضرت علی بن ابی طالب، حضرت فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ٪کی ہمراہی میں مباھلہ کے لئے تشریف لے گئے اور جب نصاری کے بزرگوں نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیت ٪ کی یہ شان اور ہیبت دیکھی تو وہ سب خوفزدہ ہوگئے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں آکر یہ التماس کرنے لگے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ان پر لعنت نہ کریں آنحضرت نے ان کی درخواست قبول کر لی اور ان کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے اس قصے کو ختم کردیا شیعہ اور سنی علماء اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ مباہلہ کے دن حضرت امیرالمومنین ، حضرت فاطمہ ، حضرت امام حسن اور
حضرت امام حسین ٪ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ تھے اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ''ابنائنا''(یعنی ہمارے فرزند) سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد امام حسن اور ، امام حسین ہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ آیہ مباہلہ نے بھی حضرت امام حسن اور امام حسین کو رسول خدا کا فرزند قرار دیا ہے
یہاں پر اس نکتے کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ مفسرین نے آیہ مباہلہ کے ذیل میں بہت سی روایات ذکر کرنے کے بعد اس قول کے صحیح ہونے کی گواہی دی ہے نمونے کے طور پر ہم ان میں سے بعض مفسرین کے کلام کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
الف: جلال الدین سیوطی نے حاکم، ابن مرودیہ ،اور ابونعیم سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے : وہ کہتے ہیں :( أنفسنا و أنفسکم )رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم و علی ،''ابنائنا''الحسن والحسین و ''نسائنا ''فاطمه.( ۱ )
(انفسنا)''(یعنی ہماری جانوں ) سے مراد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علی ـ ہیں اور (ابنائنا)(یعنی ہمارے بیٹوں) سے مراد حسن و حسین ہیں اور(نسائنا)(ہماری عورتوں ) سے مراد فاطمہ زہرا ہیں
ب:فخر رازی اپنی تفسیر میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں :
واعلم ان هذه الروایة کالمتفق علیٰ صحتها بین اهل التفسیر والحدیث ( ۲ )
جان لو کہ یہ روایت ایسی حدیث ہے کہ جس کے صحیح ہونے پر اہل تفسیر اور اہل حدیث کااتفاق ہے۔
اور پھر اس کے بعد یوں کہتے ہیں
''المسألة الرابعة: هذه الآیة دالة علی أن الحسن والحسین کانا ابن رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم وعد أن یدعوا أبنائه فدعا الحسن والحسین فوجب أن یکون ابنیه'' ( ۳ )
____________________
(۱) تفسیر در المثور جلد ۲ ص ۳۹ طبع بیروت اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں
(۲)تفسیر ''مفاتیح الغیب '' جلد ۲ ص ۴۸۸ طبع ۱ول مصر ۱۳۰۸ ھ
(۳)تفسیر ''مفاتیح الغیب '' جلد ۲ ص ۴۸۸ طبع ۱ول مصر ۱۳۰۸ ھ
یہ آیہ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن اور حسین پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند تھے طے یہ ہوا تھا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بیٹوں کو بلائیں پس آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حسن و حسین ہی کو بلایا تھا پس یہ ثابت ہوگیا کہ وہ دونوں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیٹے ہیں ۔
ج:ابو عبداللہ قرطبی اپنی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں کہ :
(أبنائنا)دلیل علیٰ أن أبناء البنات یسمون أبناء اً .( ۱ )
کلمہ ابنائنا دلیل ہے کہ بیٹی سے ہونے والی اولاد بھی انسان کی اولاد کہلاتی ہے۔
۳۔رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اقوال شاہد ہیں کہ امام حسن اور امام حسین آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند تھے.یہاں پر ہم آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صرف دو اقوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
الف:رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم حسن اور حسین کے متعلق فرماتے ہیں :
هذان ابناى مَن أحبهما فقد أحبن .( ۲ )
حسن اور حسین میرے دو فرزند ہیں جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی
ب:پیغمبر اسلام نے حسن اور حسین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
ان بنّى هٰذین ریحانتى من الدنیا .( ۳ )
میرے یہ دو بیٹے اس دنیا سے میرے دو پھول ہیں
____________________
(۱)الجامع لاحکام القرآن جلد ۴ ص ۱۰۴طبع بیروت.
(۲)تاریخ مدینہ دمشق مصنفہ ابن عساکر ترجمة الامام الحسین ـ ص۵۹حدیث ۱۰۶طبع اول بیروت ۰ ۱۴۰ھ.
(۳)گذشتہ حوالہ ص۶۲ حدیث نمبر ۱۱۲.
تیئیسواں سوال
شیعوں کے نزدیک یہ کیوں ضروری ہے کہ خلیفہ کو خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی معین فرمائیں؟
جواب: یہ واضح ہے کہ اسلام ایک ہمیشہ رہنے والا عالمی دین ہے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ میں آپ ہی امت کے رہبر اور ہادی تھے لیکن آپ کی رحلت کے بعد ضروری تھا کہ جو سب سے زیادہ لائق فرد ہو اسے امت اسلامیہ کی رہبری سونپ دی جائے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد خلیفہ، نص کے ذریعہ معین کیا جائے گا(یعنی خدا اور رسول ہی اپنا خلیفہ معین فرمائیں گے )یا یہ کہ خلافت ایک انتخابی عہدہ ہے ؟ اس سلسلہ میں چند نظریے پائے جاتے ہیں شیعوں کا اعتقاد ہے کہ منصب خلافت نص کے ذریعہ معین ہوتا ہے یعنی یہ ضروری ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جانشین خدا کی جانب سے معین کیا جائے
جب کہ اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ منصب خلافت ایک انتخابی عہدہ ہے اور ضروری ہے کہ پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امت، مملکت کے امور کو چلانے کے لئے کسی ایک شخص کو خلیفہ چن لے.
عصر رسالت کے حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ خلیفہ کونص کے ذریعہ معین ہونا چاہئے.
شیعہ علماء نے عقائد کی کتابوں میں خلیفہ کے نص کے ذریعہ معین کئے جانے کے بارے میں بہت سے دلائل بیان کئے ہیں لیکن وہ دلیل جسے یہاں بیان کیا جاسکتا ہے اور جس سے شیعوں کا عقیدہ بھی واضح ہوجاتا ہے وہ عصر رسالت کے حالات کا صحیح تجزیہ ہے.
عصر رسالت میں اسلام کی داخلی اور خارجی سیاست کا یہ تقاضا تھا کہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جانشین خدا کی طرف سے خود آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ معین کیا جائے کیونکہ مسلمانوں کو ہر لحظہ تین بڑی طاقتوں (روم کی سلطنت، ایران کی بادشاہت اور منافقین حجاز کی سازشوں ) کی طرف سے شکست اور نابودی کا خطرہ لاحق تھا اسی طرح امت کی کچھ مصلحتیں بھی تقاضا کررہی تھیں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنا خلیفہ معین کر کے ساری امت کو بیرونی دشمن کی طاقت کے مقابلے میں ایک صف میں کھڑا کردیں اور اس طرح ملت اسلامیہ کو ان داخلی اختلافات سے بچالیں جن سے دشمنوں کے نفوذ اور تسلط کا موقع فراہم ہوسکتا ہے
اس کی وضاحت
ان تین خطرناک طاقتوں میں سے ایک طاقت روم کی بادشاہی تھی جس سے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی زندگی کے آخری لمحات تک فکر مند رہے ہجرت کے آٹھویں سال فلسطین کی سرزمین پرمسلمانوں اور روم کے عیسائیوں کے درمیان پہلی جنگ ہوئی تھی اس جنگ میں اسلامی فوج کے تین کمانڈر ''جعفر طیار'' ''زید بن حارثہ''اور ''عبداللہ بن رواحہ'' شہید ہوئے تھے اور سپاہ اسلام کو اس جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا
کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی اس شکست سے قیصر روم کی فوج کے حوصلے بڑھ گئے تھے اور ہر وقت اس بات کاڈر رہتا تھا کہ کہیں وہ اسلام کے مرکزی علاقوں پر حملہ آور نہ ہوجائیں
اسی وجہ سے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہجرت کے نویں سال مسلمانوں کے ایک بڑے لشکر کو شام کے اطراف میں بھیجا تھا اور ارادہ یہ تھا کہ اگر جنگ کی نوبت آگئی توآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم خود لشکر اسلام کی رہبری فرمائیں گے اس درد و رنج والے سفر میں سپاہ اسلام نے اپنی سابقہ شوکت پھر سے حاصل کی اور اسے اس کا سیاسی مقام و منصب دوبارہ مل گیا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اس فتح کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوئے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی بیماری سے چند دن پہلے مسلمانوں کی فوج کو ''اسامہ'' کی قیادت میں شام کی طرف جانے کا حکم دیا.
عصر رسالت میں مسلمانوں کی دوسری دشمن طاقت ایران کی بادشاہی تھی یہاں تک کہ ایران کے بادشاہ نے انتہائی غصے سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خط کو پھاڑ دیا تھا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایلچی کو توہین کے ساتھ باہر نکال دیا تھا اور نیز یمن کے گورنر کو خط لکھا تھا کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو گرفتار کرلے اورممانعت کی صورت میں انہیں قتل کرڈالے
اگرچہ ایران کا بادشاہ خسرو پرویز رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے ہی میں مر گیا تھا لیکن مدتوں سے ایران کے زیر اقتدار رہنے والے ملک یمن کا مسلمانوں کے ذریعہ استقلال حاصل کرلینا ایرانی بادشاہوں کو شدید ناگوار گزرا اس وجہ سے ایران کی سطوت شاہی کے لئے اسلام کی طاقت کو پھلتا پھولتا دیکھنا برداشت کے قابل نہیں تھا
مسلمانوں کو تیسرا خطرہ منافقین کے گروہ سے تھا منافقوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش تھی کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اندازی کے ذریعہ فتنہ و فساد پیدا کریں ان لوگوں کے نفاق اور کینہ کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے تبوک سے مدینہ کے راستے میں حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا یہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت سے اسلام کی تحریک ختم ہوجائے گی اور وہ لوگ آسودہ خاطر ہوجائیں گے منافقین کے عزائم اور ان کی سازشوں کو آشکار کرنے کے لئے قرآن مجید نے ان سورتوں : آل عمران ، نساء ، مائدہ، انفال ، توبہ، عنکبوت، احزاب، محمد، فتح،مجادلہ، حدید، منافقین اور حشر میں ان کا تذکرہ فرمایا ہے.( ۱ )
اسلام کے ایسے سرسخت اور خطرناک دشمنوں کی موجودگی میں کیا یہ صحیح تھا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم تازہ مسلمانوں کے دینی اور سیاسی امور کی رہبری کے لئے اپنا کوئی جانشین معین نہ فرماتے؟
اس وقت کے اجتماعی حالات کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ضروری تھا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بعد اپنا جانشین معین کرکے ہر قسم کے اختلاف کا سد باب کردیتے اور ایک مستحکم دفاعی نظام تشکیل دیتے ہوئے اسلامی وحدت کو دوام بخشتے اگر
____________________
(۱)فروغ ابدیت ، مولف استاد جعفر سبحانی(اقتباس)
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنا کوئی خلیفہ معین نہ فرماتے تو عالم اسلام کو شدید قسم کے ناگوار واقعات کا سامنا کرنا پڑتا اور نتیجة ہر گروہ یہ کہنے لگتا کہ خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہئے.
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حدیثیں
اجتماعی حالات کے تقاضوںاور چند دوسری وجوہات کی بنیاد پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اول بعثت سے لے کر اپنی زندگی کے آخری ایام تک اپنی جانشینی کے مسئلے کو بیان فرمایا ہے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دعوت ذوالعشیرہ میں جہاں اپنی رسالت کا اعلان فرمایا وہیں اپنے جانشین کو بھی معین فرما دیا تھا اور اسی طرح اپنی زندگی کے آخری ایام میں حجة الوداع سے لوٹتے وقت غدیر خم کے میدان میں اپنے جانشین کا اعلان فرمایا تھا اورنہ صرف ان دو مقامات پر بلکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی ساری زندگی کے دوران مختلف مقامات پر اپنے جانشین کی شناخت کراتے رہے مزید تفصیلات کے لئے اسی کتاب میں تیسرے سوال کے جواب کا مطالعہ فرمائیں ہم نے وہاں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حدیثوںکے تین ایسے نمونے ذکر کئے ہیں جن میں آنحضرت کے جانشنین کا تذکرہ ہے وہاں ہم نے ان حدیثوں کے ماخذ بھی ذکر کئے ہیں
صدر اسلام کے حالات اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ان حدیثوں (جن میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے) کے مطالعے سے یہ بات اچھی طرح ثابت ہوجاتی ہے کہ خلیفہ خدا و رسول ہی کی طرف سے معین ہوتا ہے۔
چوبیسواں سوال
کیا غیر خدا کی قسم کھانا شرک ہے؟
جواب: لفظ توحید اور شرک کے معنی جاننے کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کی آیات اورحدیثوںکا مطالعہ کیا جائے کیونکہ قرآن مجید اور سنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حق کو باطل سے اور توحید کو شرک سے جدا کرنے کا بہترین معیار ہیں
اس بنیاد پر بہتر ہے کہ ہر قسم کے نظریہ اور عمل کو قرآن اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی روشنی میں زندہ اور بے تعصب ضمیر کے ساتھ پرکھیں اب ہم یہاں پر قرآن و سنت سے غیر خدا کی قسم کھانے کے جائز ہونے پر چند دلیلیں پیش کریں گے :
۱۔قرآن مجید میں چند محترم مخلوقات جیسے''پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ''اور ''روح انسان'' ''قلم'' ''سورج'' ''چاند'' ''ستارے'' ''دن اور رات'' ''آسمان اور زمین'' ''زمانے'' ''پہاڑ اور سمندر'' وغیرہ کی قسم کھائی گئی ہے یہاں ہم ان میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں :
الف: (لَعَمْرُکَ ِانَّهُمْ لَفِى سَکْرَتِهِمْ یَعْمَهُونَ )( ۱ )
____________________
(۱)سورہ حجر آیت ۷۲
(پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم !) آپ کی جان کی قسم یہ لوگ اپنی خواہش نفس کے نشے میں اندھے ہورہے ہیں
ب: (وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالْقَمَرِ ِاذَا تَلاَهَا وَالنَّهَارِ اِذَا جَلاَّهَا وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشَاهَا وَالسَّمَائِ وَمَا بَنَاهَا وَالَْرْضِ وَمَا طَحَاهَا وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَاَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ... )( ۱ )
آفتاب اور اس کی روشنی کی قسم. اور چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے چلے. اور دن کی قسم جب وہ روشنی بخشے.اور رات کی قسم جب وہ اسے ڈھانک لے اور آسمان کی قسم اور جس نے اسے بنایا. اور زمین کی قسم اور جس نے اسے بچھایا اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا. پھر بدی اور تقوی کی ہدایت دی ہے.
ج: (وَالنَّجْمِ اِذَا هَوَی )( ۲ )
قسم ہے ستارے کی جب وہ ٹوٹا.
د: (وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُونَ )( ۳ )
____________________
(۱)سورہ شمس آیت ۱ تا ۸
(۲)سورہ نجم آیت:۱
(۳)سورہ قلم آیت:۱
ھ: (وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنسَانَ لَفِى خُسْرٍ )( ۱ )
قسم ہے عصر کی بے شک انسان خسارے میں ہے.
و: (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ )( ۲ )
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی.
ز: (وَالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ فِى رَقٍّ مَنْشُورٍ وَالْبَیْتِ الْمَعْمُورِة وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُور )( ۳ )
طور کی قسم. اور لکھی ہوئی کتاب کی قسم جو کشادہ اوراق میں ہے اور بیت معمور کی قسم اور بلند چھت (آسمان)کی قسم. اور بھڑکتے ہوئے سمند ر کی قسم.
اسی طرح ان سورتوں '' نازعات'' ''مرسلات '' ''بروج'' ''طارق'' ''بلد'' ''تین'' ''ضحی'' میں بھی دنیا کی مختلف اشیاء کی قسمیں کھائی گئی ہیں
اگر غیر خدا کی قسم کھانا شرک ہوتا تو اس قرآن مجید میں جو توحید کا مظہر ہے ، ہر گز غیر خدا کی قسمیں نہ کھائی جاتیں اور اگر اس قسم کی قسمیں کھانا صرف خداوند کی
____________________
(۱)سورہ عصر آیت ۱ ا ور۲.
(۲)سورہ فجر آیت : ۱ اور ۲.
(۳)سورہ طور آیت نمبر ۱ سے ۶ تک.
خصوصیات میں سے ہوتا تو قرآن مجیدمیں ضرور اس بات کی طرف متوجہ کرادیا جاتا تاکہ بعدمیں کسی کو دھوکہ نہ ہو
۲۔دنیا کے سارے مسلمان رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے لئے اسوہ عمل سمجھتے ہیں اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت کو حق اور باطل کی شناخت کے لئے میزان قرار دیتے ہیں
عالم اسلام کے محققین اور اہل سنت کی صحیح اور مسند کتابوں کے مؤلفین نے پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بہت سی ایسی قسموں کو نقل کیا ہے جو حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غیر خدا کے نام سے کھائی تھیں.
احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند میں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یوں روایت کی ہے :
''فلعمر لأن تتکلم بمعروف و تنهیٰ عن منکر خیر من أن تسکت'' ..( ۱ )
میری جان کی قسم ! تمہارے خاموش رہنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ تم امر بمعروف اور نھی از منکر کرو.
مسلم بن حجاج کا اپنی کتاب صحیح میں بیان ہے کہ :
جاء رجل اِلی النبى فقال: یا رسول اللّه أّ الصدقة أعظم أجرًا؟ فقال: أما و أبیک لتنبأنّه أن تصدق و أنت صحیح شحیح تخشی الفقر و تأمل البقائ .....( ۲ )
____________________
(۱)مسند احمد جلد ۵ ص ۲۲۴ اور ۲۲۵ حدیث بشیر ابن خصاصیہ سدوسی.
(۲)صحیح مسلم، جزء سوم ، طبع مصر ، کتاب الزکاة، باب بیان ان افضل الصدقة ، صدقة الصحیح الشحیح، ص ۹۳ اور ۹۴
ایک شخص نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کو نسا صدقہ زیادہ اجر رکھتا ہے ؟ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: تمہارے باپ کی قسم یقینا تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ( سب سے زیادہ اجر والا صدقہ) یہ ہے کہ تم صحت مندی، آرزوئے حیات ، خوف فقر اور امید بقاء کے ساتھ صدقہ دو .جو لوگ دنیا کے اکثر مسلمانوں کو صرف اس وجہ سے مشرک سمجھتے ہیں کہ وہ سب غیر خدا کی قسم کھاتے ہیں تو وہ پیغمبر خدا کے اس عمل کی کیا تاویل کریں گے ؟
۳۔کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علاوہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے انتہائی قریبی اور متعبر اصحاب کی سیرت بھی اس عمل کے جائز ہونے کی بہترین دلیل ہے
عالم اسلام کے عظیم الشأن رہبر حضرت علی بن ابی طالبـ نے اپنے بہت سے گہربار خطبوں اور بیانات میں اپنی جان کی قسم کھائی ہے وہ فرماتے ہیں :
ولعمر لیضعفن لکم التیه من بعد أضعافا ( ۱ )
میری جان کی قسم میرے بعد تمہاری یہ حیرانی اور سرگردانی کئی گنا بڑھ جائے گی ۔
ایک جگہ اور فرماتے ہیں :
''ولعمر لأن لم تنزع عن غیک و شقاقک لتعرفنهم عن قلیل یطلبونک'' ( ۲ )
____________________
(۱)نہج البلاغہ (محمد عبدہ) خطبہ نمبر ۱۶۱.
(۲)نہج البلاغہ (محمد عبدہ) مکتوب نمبر ۹.
میری جان کی قسم اگر تم اپنی گمراہی اور شقاوت سے دست بردار نہ ہوئے تو عنقریب انہیں دیکھو گے کہ وہ لوگ تمہیں بھی ڈھونڈ لیں گے.( ۱ )
اب واضح ہے کہ ان سب روایات کے مقابلے میں اجتہاد اور استحسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور کوئی بھی دلیل قرآن مجید کی آیتوں، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت اور معتبر صحابہ کی سیرت کو غلط قرار نہیں دے سکتی اور نہ ہی ان کی طرف شرک کی نسبت دے سکتی ہے.
نتیجہ:گزشتہ دلائل کے مجموعے سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن و سنت اور مومنین کی سیرت کے اعتبار سے غیر خدا کی قسم کھانا ایک جائز اور مسلم اصل کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی طرح عقیدہ توحید سے نہیں ٹکراتا
لہذا اگر کوئی روایت ظاہری طور پر ان یقینی دلیلیوں کی مخالفت کرے تو اس کی تاویل کرنی چاہیے تاکہ وہ قرآن و روایات کی مسلم اصل کے موافق ہوجائے
بعض اوقات ایک ایسی مبہم سی روایت کو پیش کیا جاتا ہے جس میں اس عمل کی مخالفت کی گئی ہے یہاں ہم اس روایت کو اسکے جواب کے ساتھ بیان کرتے ہیں :
اِن رسول اللّٰه سمع عمر و هو یقول : وأبى،فقال: اِن اللّٰه ینهاکم أن تحلفوا بآبائکم و من کان حالفاً فلیحلف باللّه أو یسکت ( ۲ )
____________________
(۱)اور زیادہ موارد کی آگاہی کے لئے خطبہ نمبر ۱۶۸،۱۸۲،اور ۱۸۷ اورمکتوب نمبر ۶ اور ۵۴ کی طرف رجوع فرمائیے.
(۲)سنن الکبری ، جلد ۱۰ ص ۲۹ اور سنن نسائی جلد۷ صفحہ نمبر۵ اور ۶.
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت عمر کو یہ کہتے ہوئے سنامیرے باپ کی قسم (یہ سن کر) پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا خداوند کریم نے تم لوگوں کو اپنے باپ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے اور جسے قسم کھانا ہو وہ خدا کی قسم کھائے یا پھر چپ رہے
اگرچہ یہ حدیث قرآن کی ان آیات اور روایات کے مقابلے میں جو غیر خدا
کی قسم کھانے کو جائز قرار دیتی ہیں ، کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے لیکن پھر بھی اس حدیث کو آیات اور روایات کے ہمراہ لانے کے لئے یہ کہنا ضروری ہے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت عمر اور ان جیسے افراد کو اپنے باپ کی قسم کھانے سے اس لئے روکا تھا کہ ان کے باپ مسلمان نہیں تھے اور غیر مسلموں کی قسمیں نہیں کھائی جاسکتیں۔
پچیسواں سوال
کیا اولیائے خدا سے توسل کرنا شرک اور بدعت ہے؟
جواب:توسل کے معنی یہ ہیں کہ تقرب الہی کے لئے کسی محترم مخلوق کو اپنے اور خدا کے درمیان وسیلہ قرار دیا جائے
ابن منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں :
''توسّل اِلیه بکذا ، تقرب اِلیه بحرمة آصرة تعطفه علیه'' ( ۱ )
اس نے فلان چیز کے ذریعہ اس شخصیت سے توسل کیا یعنی اس نے اس چیز کی حرمت کے ذریعہ اس ذات سے قربت اختیار کی جب کہ اس کی حرمت سے اپنی قلبی محبت کو اپنے اندر محسوس کیا
قرآن مجید فرماتا ہے:
____________________
(۱)لسان العرب، جلد ۱۱ ص ۷۳۴
(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا ﷲ وَابْتَغُوا اِلَیْهِ الْوَسِیلَةَ وَجَاهِدُوا فِى سَبِیلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ )( ۱ )
ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہوجاؤ
جوہری ''صحاح اللّغة'' میں ''وسیلہ'' کی تعریف کو یوں بیان کرتے ہیں :
''الوسیلة ما یتقرّب به الی الغیر''
وسیلہ ایسی چیز ہے جسکے ذریعہ کسی دوسرے کے قریب ہوا جائے اس اعتبار سے بعض اوقات انسان کے نیک اعمال اور خدا کی خالص عبادت اس کیلئے وسیلہ بنتے ہیں اور کبھی کبھی خدا کے محترم اور مقدس بندے انسان کے لئے وسیلہ قرار پاتے ہیں
توسل کی قسمیں
توسل کی تین قسمیں ہیں :
۱۔نیک اعمال سے توسل؛
جلال الدین سیوطی نے اس آیت (وَابْتَغُوا ِالَیْهِ الْوَسِیلَةَ ) کے ذیل میں اس روایت کا ذکرکیا ہے:
عن قتادة ف قوله تعالیٰ ''وَابْتَغُوا اِلَیْهِ الْوَسِیلَةَ'' قال : تقرّبوا اِلی اللّه بطاعته والعمل بما یرضیه ( ۱ )
____________________
(۱)سورہ مائدہ آیت:۳۵.
(۲)تفسیر درالمنثور جلد۲ ص ۲۸۰مطبوعہ بیروت اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں
(وَابْتَغُوا اِلَیْهِ الْوَسِیلَةَ )اس آیت کے متعلق قتادة کا بیان ہے کہ خدا کی اطاعت اور اس کو خوشنود کرنے والے عمل کے ذریعہ خدا سے قربت اختیار کرو
۲۔خدا کے نیک بندوں کی دعاؤں سے توسل !
قرآن مجید نے جناب یوسفـ کے بھائیوں اور جناب یعقوب کی گفتگو کو یوں بیان کیا ہے :
(قَالُوا یَاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَاا ِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّى اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ )( ۱ )
ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کیلئے استغفار کریں ہم یقینا خطاکار تھے انہوں نے کہاکہ میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ جناب یعقوب ـ کے بیٹوں نے اپنے والد کی دعا اور ان کے استغفار سے توسل کیا تھا حضرت یعقوب ـ نے بھی نہ صرف ان کے توسل پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ان سے وعدہ بھی کیا کہ وہ ان کے حق میں دعا اور استغفار کریںگے
____________________
(۱)سورہ یوسف آیت نمبر ۹۷ اور ۹۸.
۳۔قرب الہی کے حصول کیلئے خداوند کریم کے محترم اور مقدس بندوں سے توسل:
اس قسم کے توسل کی مثالیں، اوائل اسلام میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کی سیرت میں دکھائی دیتی ہیں اب ہم یہاں اس مسئلے کی دلیلوں کو احادیث اور سیرت
صحابہ کی روشنی میں پیش کرتے ہیں
احمدابن حنبل نے اپنی کتاب مسند میں عثمان بن حنیف سے یہ روایت نقل کی ہے :
اِن رجلاً ضریر البصر أتی النبّى صلىاللهعليهوآلهوسلم فقال ادع اللّه أن یعافینى قال: اِن شئت دعوت لک و اِن شئت أخرت ذاک فهو خیر فقال ادعه فأمره أن یتوضأ فیحسن وضوئه فیصلى رکعتین و یدعو بهذا الدعائ: اللّهم اِنىّ أسئلک و أتوجه اِلیک بنبیک محمدٍ نبّى الرحمة یا محمد اِنىّ توجّهت بک اِلیٰ ربىّ فى حاجتى هذه ، فتقض لى اللّهم شفّعه فّى .( ۱ )
ایک نابینا شخص رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے شفا بخشے آنحضرت نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہارے لئے دعا کرتا
____________________
(۱)مسند احمد بن حنبل ، جلد ۴ ص ۱۳۸ روایات عثمان بن حنیف ،مستدرک حاکم ؛ جلد ۱ کتاب صلوة التطوع
طبع بیروت ۳۱۳،سنن ابن ماجہ جلد ۱ ص ۴۴۱طبع دار احیاء الکتب العربیہ، ''التاج '' جلد ۱ ص ۲۸۶،الجامع الصغیر (سیوطی) ص ۵۹،التوسل و الوسیلہ (ابن تیمیہ) ص ۹۸طبع بیروت.
ہوں لیکن اگر چاہو تو اس سلسلے میں کچھ تاخیر کردی جائے اور یہی بہتر بھی ہے اس نے عرض کیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دعا فرمادیں تو پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ وضو کو اچھے طریقے سے انجام دے اور پھر دو رکعت نماز بجا لائے اور یہ دعا پڑھے :اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں تیرے پیغمبر نبی رحمتصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وسیلے سے اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میں آپکے وسیلے سے اپنی اس حاجت میں اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ آپ میری حاجت کو قبول فرمائیں اے معبود ان کو میرے لئے شفیع قرار دے.
محدثین نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب مستدرک میں اس حدیث کا ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ'' یہ ایک صحیح حدیث ہے'' ابن ماجہ نے بھی ابو اسحاق سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ :'' یہ روایت صحیح ہے'' اسی طرح ترمذی نے اپنی کتاب ''ابواب الادعیہ'' میں اس حدیث کے صحیح ہونے کی تائید کی ہے ''محمد بن نسیب الرفاعی '' نے بھی اپنی کتاب ''التوصل الی حقیقة التوسل'' میں یوں بیان کیا ہے
لاشک اِن هذا الحدیث صحیح و مشهور ...و قد ثبت فیه بلا شک ولاریب ارتداد بصر الأعمی بدعاء رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم ( ۱ )
____________________
(۱)التوصل الی حقیقة التوسل ص ۱۵۸ طبع بیروت.
بے شک یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے...بہ تحقیق اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا کے نتیجے میں اس اندھے شخص کی بصارت لوٹ آئی تھی اس حدیث سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ حاجات کے لئے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وسیلہ بنا کر ان سے توسل کرنا ایک جائز عمل ہے کیونکہ رسول خدا نے اس نابینا شخص کو حکم دیا تھا کہ وہ اس طرح دعا کرے اور حضور(ص) کو اپنے اور پروردگار کے درمیان وسیلہ قرار دے اس طرح یہ حدیث اولیائے الہی سے توسل کو ثابت کرتی ہے
۲۔ابوعبداللہ بخاری کا اپنی کتاب صحیح میں بیان ہے :
اِن عمربن الخطاب رضى اللّه عنه کان اِذا قحطوا استسقیٰ بالعباس بن عبدالمطلب فقال : اللّهم اِن کنّا نتوسّل اِلیک بنبیّنا فتسقینا و اِنّا نتوسّل اِلیک بعمّ نبیّنا فاسقنا: قال، فیُسقون .( ۱ )
جب قحط پڑتا تھا تو عمر ابن خطاب ہمیشہ عباس ابن عبدالمطلب کے وسیلے سے بارش کیلئے دعا کرتے تھے اور کہتے تھے ''خدایا ! پیغمبر کے زمانے میں ہم آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے متوسل ہوتے تھے اور تو ہم پر بارش نازل کرتا تھا اب ہم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا کے وسیلے سے تجھ
____________________
(۱)صحیح بخاری جز ۲ کتاب الجمعہ باب الاستسقاء ص ۲۷ طبع مصر.
سے توسل کررہے ہیں تاکہ تو ہمیں سیراب کردے '' چنانچہ اس طرح وہ سیراب کردئیے جاتے تھے.
۳۔صدر اسلام کے مسلمانوں کے درمیان اولیائے الہی سے توسل اس حد
تک رائج تھا کہ وہ لوگ اپنے اشعار میں بھی حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وسیلہ ہونے کا تذکرہ کرتے تھے بطور مثال سواد ابن قارب کا یہ قصیدہ ملاحظہ فرمائیں جس میں انہوں نے حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدح سرائی کی ہے :
واشهد أن لاربّ غیره
وأنک مأمون علیٰ کل غالب
و أنک أدنیٰ المرسلین وسیلة
اِلی اللّه یابن الأکرمین الأطائب( ۱ )
میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں ہے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ہر پوشیدہ چیز کے لئے امین ہیں اور اے مکرم اور پاک طینت افراد کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تمام نبیوں کے درمیان پروردگار کا نزدیک ترین وسیلہ ہیں
پیغمبر خدا نے سواد بن قارب سے یہ قصیدہ سنا تھا لیکن اس کے اشعار پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اور نہ ہی سواد کے اس کام کو شرک و بدعت قرار دیا تھا
امام شافعی نے بھی اپنے ان اشعار میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے :
آل النبّى ذریعت
هم الیه وسیلت
أرجوبهم أعطی غدًا
بید الیمین صحیفت( ۲ )
____________________
(۱) الدر السنیہ ،مؤلفہ سید احمد بن زینی دحلان ص ۲۹ طبرانی سے نقل کرتے ہوئے.
(۲)الصواعق المحرقہ ،مؤلفہ ابن حجر عسقلانی ص ۱۷۸طبع قاہرہ.
پروردگار تک پہنچنے کے لئے پیغمبر کی آل میرے لئے وسیلہ ہیں میں ان کی وجہ سے امیدوار ہوں کہ میرا نامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا.
اولیائے الہی سے توسل کے جائز ہونے کے سلسلے میں بہت سی روایات آئی ہیں اور انہی روایات کی روشنی میں پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم صحابہ اور علمائے اسلام کا اس موضوع سے متعلق نظریہ معلوم ہوجاتا ہے اور مزید گفتگو کی چنداں ضرورت نہیں رہتی ہے ۔ ہمارے اسی بیان سے ان لوگوں کا یہ کلام کہ خدا کے محترم بندوں سے توسل کرنا شرک اور بدعت ہے ، باطل ہوجاتا ہے ۔
چھبیسواں سوال
کیا اولیائے خدا کی ولادت کے موقع پر جشن منانا بدعت یا شرک ہے؟
جواب:خدا کے نیک بندوں کی یاد منانا اور ان کی ولادت کے موقعے پر جشن منانا ، عقلاء کی نظر میں ایک واضح مسئلہ ہے لیکن پھر بھی ہم اس عمل کے جائز ہونے کی دلیلیں اس لئے پیش کررہے ہیں تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہ جائے.
۱۔ان کی یاد منانے میں محبت کا اظہار ہوتا ہے.
قرآن مجید نے مسلمانوں کو پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیت٪ سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے:
(قُلْ لاَاسْءَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَیٰ )( ۱ )
____________________
(۱)سورہ شوریٰ آیت :۲۳
(اے پیغمبر)آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو
اس میں شک نہیں ہے کہ مسلمان اولیاء خد اکی یاد منا کر ان سے اپنی اس
محبت و الفت کا اظہار کرتے ہیں جس کا حکم قرآن مجید نے دیا ہے.
۲۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یاد منانا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعظیم کا اظہار ہے
قرآن مجید نے رسول خدا کی نصرت کرنے کے علاوہ آپ کے احترام کو بھی کامیابی اور سعادت کا معیار قرار دیا ہے.
(فَالَّذِینَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى ا ُنزِلَ مَعَهُا ُوْلَئِکَ هُمْ الْمُفْلِحُون )( ۱ )
پس جو لوگ پیغمبر پر ایمان لائے اور ان کا احترام کیا، ان کی امداد کی اور اس نور کا اتباع کیا جو ان کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی درحقیقت فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں
گزشتہ آیت کی روشنی میں بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا احترام انتہائی پسندیدہ کام ہے اور ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنے اور ان کے بلند مقام کی تعظیم کے لئے جشن منانا خداوندعالم کی خوشنودی کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس آیت میں
____________________
(۱)سورہ اعراف آیت: ۱۵۷
فلاح یافتہ لوگوں کے لئے چار صفات ذکر کی گئی ہیں :
الف:ایمان(الَّذِینَ آمَنُوا بِه ) وہ لوگ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لائے.
ب:ان کے نور کی پیروی (وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى اُنزِلَ مَعَهُ ) اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل ہوا.
ج:ان کی نصرت کرنا (وَنَصَرُوہ) اورانہوں نے ان کی نصرت کی.
د:پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعظیم(وَعَزَّرُوه ) اور ان کا احترام کیا.
اس اعتبارسے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لانے اور ان کی نصرت کرنے اور ان کے دئیے ہوئے احکام کی پیروی کرنے کے علاوہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا احترام اورآپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعظیم بھی ایک ضروری امر ہے اس لحاظ سے حضور سرورکائناتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یاد کو باقی رکھنا ''وَعَزَّرُوہُ'' کے امر کا امتثال ہے.
۳۔انکی یاد منانے میں خداوندعالم کی پیروی ہے.
خداوندعالم قرآن مجید میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
(وَ رَفَعْنٰا لَکَ ذِکْرَکَ )( ۱ )
اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا.
اس آیت کی روشنی میں معلوم ہوجاتا ہے کہ خداوندعالم یہ چاہتا ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم
____________________
(۱)سورہ انشراح آیت ۴
کی عظمت و جلال کو اس دنیا میں پھیلا دے اور خود ذات کردگار نے بھی قرآن مجید میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعظیم کی ہے اس لئے ہم بھی قرآن مجید کی پیروی کرتے ہوئے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم جو کہ اسوہ کمال و فضیلت ہیں کی یاد منا کر ان کی تعظیم کرتے ہیں .اور اس طرح پروردگار عالم کی پیروی کرتے ہیں
واضح ہے کہ مسلمانوں کا ان محافل کو منعقد کرنے کا مقصد پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذکر کو بلند کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے.
۴۔وحی کا نازل ہونا دسترخوان کے نازل ہونے سے کم نہیں ہے
قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ ـ کی دعا کو یوں بیان کیا ہے:
(قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللهُمَّ رَبَّنَا اَنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَائِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِاَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ )( ۱ )
عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے خدا! اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے دسترخوان نازل فرما تاکہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے عید ہوجائے اور تیری طرف سے نشانی بن جائے
حضرت عیسیٰ ـ نے خداوندعالم سے درخواست کی تھی کہ ان پر آسمان سے ایک
____________________
(۱)سورہ مائدہ آیت : ۱۱۴
دسترخوان نازل کیا جائے تاکہ اس کے نازل ہونے کادن ان کیلئے عید بن جائے
اب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ جب خدا کے ایک نبی کی نگاہ میں دسترخوان (جس سے جسمانی لذت حاصل ہوتی ہے ) کے نازل ہونے کا دن عید ہے تو اب اگر دنیا کے مسلمان وحی کے نازل ہونے اور( پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم جو انسانوں کی بخشش کا ذریعہ اور حیات ابدی کا سرچشمہ ہیں ) کی ولادت با سعادت کے دن کو عید قرار دیتے ہوئے اس دن جشن منائیں اور محفلیں منعقد کریں تو کیا یہ شرک یا بدعت ہوجائے گا؟!
۵۔ مسلمانوں کی سیرت
دین اسلام کے پیرو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے مدتوں سے اس قسم کی جشن منعقد کرتے آرہے ہیں اس سلسلے میں حسین بن محمد دیاربکری اپنی کتاب ''تاریخ الخمیس'' میں یوں لکھتے ہیں :
''ولایزال أهل الاسلام یحتفلون بشهر مولده علیه السلام و یعملون الولائم و یتصدقون ف لیالیه بأنواع الصدقات و یظهرون السرور و یزیدون فى المبرات و یعتنون بقرائة مولده الکریم و یظهر علیهم من برکاته کل فضل عمیم ''( ۱ )
____________________
(۱) حسین بن محمد بن حسن دیار بکری ، تاریخ الخمیس جلد ۱ ص ۲۲۳ طبع بیروت.
دنیا کے مسلمان ہمیشہ سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت کے مہینے میں جشن کی محفلیں منعقد کرتے ہیں اور لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اس مہینے کی راتوں میں طرح طرح کے صدقے دیتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور بہت زیادہ نیکیاں انجام دیتے ہیں وہ لوگ بڑے اہتمام کے ساتھ ان کی ولادت کی مناسبت سے قصیدے پڑھتے ہیں اور ان کی برکت سے ان پر ہر قسم کے فضل ظاہر ہوتے ہیں
اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن اور مسلمانوں کی نگاہ میں اولیائے خدا کی یاد منانا ایک پسندیدہ اور جائز عمل ہے اور ساتھ ہی ساتھ اولیائے خدا کی یاد منانااور اسی طرح یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ جو اولیائے خدا کی یاد منانے کو شرک سمجھتے ہیں ان کا یہ دعوی بے بنیاد اور بے دلیل ہے اور اسی کے ساتھ اولیاء خدا کی یاد منانے کو بدعت سمجھنے والے لوگوں کا نظریہ بھی باطل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ فعل اس وقت بدعت قرار پاتا جب اس عمل کا جائز ہونا ، خصوصی یا عمومی طور پر قرآن وسنت سے ثابت نہ ہوتا جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں کلی طور پر اس مسئلہ کا حکم موجود ہے اور مسلمانوں کی سیرت میں بھی اس کے نقوش ملتے ہیں
اسی طرح یہ محفلیں خدا کے نیک بندوں کو خدا کی مخلوق اور اس کا محتاج سمجھتے ہوئے صرف ان کے احترام کی خاطر منعقد کی جاتی ہیں
اس اعتبار سے یہ عمل توحید سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے. اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ جو اولیاے خد اکی یاد منانے کو شرک سمجھتے ہیں ان کا یہ دعوی بے بنیاد اور بے دلیل ہے۔
ستائیسواں سوال
شیعہ پانچ نمازوں کو تین اوقات میں کیوں پڑھتے ہیں ؟
جواب: بہتر ہے کہ اس بحث کی وضاحت کے لئے سب سے پہلے اس بارے میں فقہاء کے نظریات بیان کردئیے جائیں :
۱۔سارے اسلامی فرقے اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ میدان'' عرفات'' میں ظہر کے وقت نماز ظہر اور نماز عصر کو اکھٹا اور بغیر فاصلے کے پڑھا جاسکتا ہے اسی طرح ''مزدلفہ'' میں عشا کے وقت نماز مغرب اور عشا کو ایک ساتھ پڑھنا جائز ہے
۲۔حنفی فرقہ کا کہنا ہے کہ : نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو اکھٹا ایک وقت میں پڑھنا صرف دو ہی مقامات ''میدان عرفات'' اور ''مزدلفہ'' میں جائز ہے اور باقی جگہوں پر اس طرح ایک ساتھ نمازیں نہ پڑھی جائیں
۳۔حنبلی، مالکی اور شافعی فرقوں کا کہنا ہے کہ: نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو ان گزشتہ دو مقامات کے علاوہ سفر کی حالت میں بھی ایک ساتھ ادا کیا جاسکتا ہے ان فرقوں میں سے کچھ لوگ بعض اضطراری موقعوں جیسے بارش کے وقت یا نمازی کے بیمار ہونے پر یا پھر دشمن کے ڈر سے ان نمازوں کو ساتھ میں پڑھنا جائز قرار دیتے ہیں( ۱ )
۴۔شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نماز ظہر و عصر اور اسی طرح نماز مغرب و عشاء کے لئے ایک ''خاص وقت'' ہے اور ایک ''مشترک وقت'':
الف:نماز ظہر کا خاص وقت شرعی ظہر (زوال آفتاب) سے لیکر اتنی دیر تک ہے جس میں چار رکعت نما زپڑھی جاسکے
ب: نمازعصر کا مخصوص وقت وہ ہے کہ جب غروب آفتاب میں اتنا وقت باقی بچا ہو کہ اس میں چار رکعت نماز پڑھی جاسکے.
ج:نماز ظہر و عصر کا مشترک وقت نماز ظہر کے مخصوص وقت کے ختم ہونے اور نماز عصر کے مخصوص وقت کے شروع ہونے تک ہے.
شیعہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان تمام مشترک اوقات میں نماز ظہر و عصر کو اکٹھا اور فاصلے کے بغیر پڑھ سکتے ہیں
لیکن اہل سنت کہتے ہیں : کہ نماز ظہر کا مخصوص وقت، شرعی ظہر (زوال آفتاب) سے لیکر اس وقت تک ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجائے اس وقت میں نماز عصر نہیں پڑھی جاسکتی اور اس کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک نماز عصر کا مخصوص وقت ہے اس وقت میں نماز ظہر نہیں پڑھی جاسکتی.
د:نماز مغرب کا مخصوص وقت شرعی مغرب کی ابتدا سے لے کر اس وقت تک ہے
____________________
(۱)''الفقه علی المذاهب الاربعه'' کتاب الصلوة الجمع بین الصلا تین تقدیمًا و تاخیرًا ، سے اقتباس
کہ جس میں تین رکعت نماز پڑھی جاسکتی ہے .اس وقت میں صرف نماز مغرب ہی پڑھی جاسکتی ہے.
ھ: نماز عشاء کا مخصوص وقت یہ ہے کہ جب آدھی رات میں صرف اتنا وقت رہ جائے کہ اس میں چار رکعت نماز پڑھی جاسکے تواس کوتاہ وقت میں صرف نماز عشاء ہی پڑھی جائے گی۔
و: مغرب و عشاء کی نمازوں کا مشترک وقت نماز مغرب کے مخصوص وقت کے ختم ہونے سے لے کر نماز عشاء کے مخصوص وقت تک ہے.
شیعہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس مشترک وقت کے اندر مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ اور بغیر فاصلے کے ادا کی جاسکتی ہیں لیکن اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ نماز مغرب کا مخصوص وقت غروب آفتاب سے لے کر مغرب کی سرخی زائل ہونے تک ہے اور اس وقت میں نماز عشاء نہیں پڑھی جاسکتی پھر مغرب کی سرخی کے زائل ہونے سے لیکر آدھی رات تک نماز عشاء کا خاص وقت ہے اور اس وقت میں نماز مغرب ادا نہیں کی جاسکتی.
نتیجہ:یہ نکلتا ہے کہ شیعوں کے نظرئیے کے مطابق شرعی ظہر کا وقت آجانے پر نماز ظہر بجالانے کے بعد بلافاصلہ نماز عصر ادا کرسکتے ہیں نماز ظہر کو اس وقت نہ پڑھ کر نماز عصر کے خاص وقت تک پڑھتے ہیں ۔ اس طرح کہ نماز ظہر کو نماز عصر کے خاص وقت کے پہنچنے سے پہلے ختم کردیں اور اس کے بعد نماز عصر پڑھ لیں اس طرح نماز ظہر و عصرکو جمع کیا جاسکتا ہے اگرچہ مستحب یہ ہے کہ نماز ظہر کو زوال کے بعد ادا کیا جائے اور نماز عصر کو اس وقت ادا کیا جائے کہ جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجائے.
اسی طرح شرعی مغرب کے وقت نماز مغرب کے بجالانے کے بعد بلا فاصلہ نماز عشا پڑھ سکتے ہیں یا پھر اگر چاہیں تو نماز مغرب کو نماز عشاء کے خاص وقت کے قریب پڑھیں وہ اس طرح کہ نماز مغرب کو نماز عشاء کے خاص وقت کے پہنچنے سے پہلے ختم کردیں اور اس کے بعد نماز عشاء پڑھ لیں اس طرح نماز مغرب و عشاء کو ساتھ میں پڑھا جاسکتا ہے اگرچہ مستحب یہ ہے کہ نماز مغرب کو شرعی مغرب کے بعد ادا کیا جائے اور نماز عشاء کو مغرب کی سرخی کے زائل ہوجانے کے بعد بجالایا جائے یہ شیعوں کو نظریہ تھا
لیکن اہل سنت کہتے ہیں کہ نماز ظہر و عصر یا مغرب و عشاء کو کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت میں ایک ساتھ ادا کرنا صحیح نہیں ہے اس اعتبار سے بحث اس میں ہے کہ کیا ہر جگہ اور ہر وقت میں دو نمازیں ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں ٹھیک اسی طرح جیسے میدان عرفہ اور مزدلفہ میں دو نمازوں کو ایک ساتھ ایک ہی وقت میں پڑھا جاتا ہے
۵۔سارے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھی تھیں لیکن اس روایت کی تفسیر میں دو نظرئیے پائے جاتے ہیں :
الف: شیعہ کہتے ہیں کہ اس روایت سے مراد یہ ہے کہ نماز ظہر کے ابتدائی وقت میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد نماز عصر کو بجالایا جاسکتا ہے اور اسی طرح نماز مغرب کے ابتدائی وقت میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد نماز عشا کو پڑھا جاسکتا ہے اور یہ مسئلہ کسی خاص وقت اور کسی خاص جگہ یا خاص حالات سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر جگہ اور ہر وقت میں ایک ساتھ دونمازیں ادا کی جاسکتی ہیں
ب:اہل سنت کہتے ہیں مذکورہ روایت سے مراد یہ ہے کہ نماز ظہر کو اس کے آخری وقت میں اور نماز عصر کو اس کے اول وقت میں پڑھا جائے اور اسی طرح نماز مغرب کو اس کے آخری وقت میں اور نماز عشاء کو اس کے اول وقت میں پڑھاجائے
اب ہم اس مسئلے کی وضاحت کے لئے ان روایات کی تحقیق کرکے یہ ثابت کریں گے کہ ان روایات میں دو نمازوں کو جمع کرنے سے وہی مراد ہے جو شیعہ کہتے ہیں یعنی دو نمازوں کو ایک ہی نماز کے وقت میں پڑھا جاسکتا ہے اور یہ مراد نہیں ہے کہ ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کواس کے اول وقت میں پڑھا جائے :
روایات میں دو نمازوں کے ایک ہی ساتھ پڑھنے کا تذکرہ
۱۔احمد ابن حنبل نے اپنے کتاب مسند میں جابر بن زید سے روایت کی ہے
أخبرن جابر بن زید أنه سمع ابن عباس یقول: صلّیت مع رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم ثمانیًا جمیعًا، و سبعًا جمیعًا قال قلت له یا أبا الشعثاء أظنّه أخّرالظهر وعجّل العصر و أخّر المغرب وعجّل العشاء قال وأنا أظن ذلک .( ۱ )
____________________
(۱)مسند احمد ابن حنبل ، جلد۱ ص ۲۲۱
جابر بن زید کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہے تھے : میں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ آٹھ رکعت نماز (ظہر و عصر) اور سات رکعت نماز (مغرب وعشاء ) کو ایک ساتھ پڑھا ہے ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے ابوشعثاء سے کہا: میرا یہ گمان ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز ظہر کو تاخیر سے پڑھا ہے اور نماز عصر کو جلد ادا کیا ہے اسی طرح نماز مغرب کو بھی تاخیر سے پڑھا ہے اور نماز عشاء کو جلدی ادا کیا ہے ابوشعثاء نے کہا میرا بھی یہی گمان ہے
اس روایت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کوایک ساتھ اور بغیر فاصلے کے پڑھا تھا
۲۔احمد ابن حنبل نے عبداللہ بن شقیق سے درج ذیل روایت نقل کی ہے :
''خطبنا ابن عباس یومًا بعد العصر حتی غربت الشمس و بدت النجوم و علق الناس ینادونه الصلاة و ف القوم رجل من بن تمیم فجعل یقول:الصلاة الصلاة : قال فغضب قال أتعلّمن بالسنة؟شهدت رسول اللّهصلىاللهعليهوآلهوسلم جمع بین الظهر والعصروالمغرب والعشاء قال عبدالله فوجدت ف نفس من ذلک شیئًا فلقیت أباهریرة فسألته فوافقه''( ۱ )
____________________
(۱)مسند احمد، جلد۱ ص ۲۵۱.
ایک دن عصر کے بعد ابن عباس نے ہمارے درمیان خطبہ دیا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا اور ستارے چمکنے لگے اور لوگ نماز کی ندائیں دینے لگے ان میں سے بنی تمیم قبیلے کا ایک شخص''نماز '' ''نماز '' کہنے لگا ابن عباس نے غصے میں کہا کیا تم مجھے سنت پیغمبر کی تعلیم دینا چاہتے ہو؟ میں نے خود رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھتے دیکھا ہے عبداللہ نے کہا اس مسئلے سے متعلق میرے ذہن میں شک پیدا ہوگیا تو میں ابوہریرہ کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے ابن عباس کی بات کی تائید کی
اس حدیث میں دو صحابی ''عبداللہ ابن عباس'' اور ''ابوہریرہ'' اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھا ہے اور ابن عباس نے بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عمل کی پیروی کی ہے.
۳۔مالک بن انس کا اپنی کتاب ''موطأ'' میں بیان ہے:
صلّیٰ رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم الظهر والعصر جمیعًا والمغرب والعشاء جمیعًا فى غیر خوف ولا سفر ( ۱ )
____________________
(۱)موطأ مالک ، کتاب الصلوة طبع ۳ (بیروت) ص ۱۲۵ حدیث ۱۷۸ صحیح مسلم جلد ۲ ص ۱۵۱ طبع بیروت ، باب
الجمع بین الصلاتین فی الحضر.
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی تھیں جبکہ نہ تو کسی قسم کا خوف تھا اور نہ ہی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سفر میں تھے
۴۔مالک بن انس نے معاذبن جبل سے یہ روایت نقل کی ہے :
فکان رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم یجمع بین الظهر والعصر والمغرب والعشائ ( ۱ )
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نماز ظہر عصر اور نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ بجالاتے تھے
۵۔ مالک بن انس نے نافع سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر سے یوں روایت نقل کی ہے :
کان رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم اِذا عجّل به السیر یجمع بین المغرب والعشائ .( ۲ )
جس وقت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کوئی مسافت جلدی طے کرنی ہوتی تو وہ مغرب و عشاء کی نمازوں کوایک ساتھ بجالاتے تھے
۶۔مالک ابن انس نے ابوہریرہ سے یوں روایت نقل کی ہے :
____________________
(۱)موطا مالک کتاب الصلوة صفحہ ۱۳۴ حدیث ۱۷۶ طبع ۳ بیروت سال طبع ۱۴۰۳ھ. صحیح مسلم طبع مصر جز ۲ صفحہ ۱۵۲.
(۲) موطأ مالک کتاب الصلوة ص ۱۲۵ حدیث ۱۷۷.
ان رسو ل الله صلىاللهعليهوآلهوسلم کان یجمع بین الظهر والعصر فى سفره اِلی تبوک ( ۱ )
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تبوک کے راستے میں ظہر و عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں تھیں
۷۔مالک نے اپنی کتاب موطأ میں نافع سے یوں روایت نقل کی ہے :
ان عبداللّه بن عمر کان اِذا جمع الأمراء بین المغرب والعشاء فى المطر جمع معهم ( ۲ )
جب بھی بارش کے دوران حکام مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھتے تھے تو عبداللہ بن عمر بھی ان کے ساتھ اپنی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرتے تھے.
۸۔مالک ابن انس نے علی بن حسین سے یوں نقل کیا ہے :
کان رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم اِذا أراد أن یسیر یومه جمع بین الظهر والعصر و اِذا أراد أن یسیر لیله جمع بین المغرب والعشاء ( ۳ )
____________________
(۱)موطأ مالک کتاب الصلوة ص ۱۲۴ حدیث ۱۷۵.
(۲) موطأ مالک کتاب الصلوة ص ۱۲۵ حدیث ۱۷۹.
(۳)موطأ مالک، کتاب الصلوة ص ۱۲۵ حدیث ۱۸۱.
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم جب دن میں سفر کرنا چاہتے تھے تو ظہر اور عصر کی نمازوں کو اکھٹا ادا کرلیا کرتے تھے اور جب رات میں سفر کرنا ہوتا تھا تو مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھتے تھے
۹۔ محمد زرقانی نے موطأ کی شرح میں ابن شعثا سے یوں روایت نقل کی ہے
اِنّ ابن عباس صلّیٰ بالبصرة الظهر والعصر لیس بینهما شىء والمغرب والعشاء لیس بینهما شء ( ۱ )
بے شک ابن عباس نے بصرہ میں نماز ظہر و عصر کو ایک ساتھ اور بغیر فاصلے کے پڑھا تھا اور اسی طرح نماز مغرب وعشاء کو بھی اکھٹا اور بغیر فاصلے کے بجالائے تھے
۱۰۔زرقانی نے طبرانی سے اور انھوںنے ابن مسعود سے نقل کیا ہے :
جمع النبّى صلىاللهعليهوآلهوسلم بین الظهر والعصر و بین المغرب والعشاء فقیل له فى ذلک فقال : صنعت هذا لئلا تحرج أمت ( ۲ )
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جب نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا
____________________
(۱)موطأپرزرقانی کی شرح ، جز اول باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر والسفر ص ۲۹۴طبع مصر.
(۲)گزشتہ حوالہ.
جواب میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ میں نے اس عمل کو اس لئے انجام دیا ہے تاکہ میری امت مشقت میں نہ پڑ جائے.
۱۱۔مسلم بن حجاج نے ابوزبیر سے اور انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس سے یوں روایت نقل کی ہے :
صلّیٰ رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم بین الظهر والعصرجمیعًا بالمدینة فى غیر خوف ولاسفر ( ۱ )
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ منورہ میں بغیر خوف و سفر کے نماز ظہر و عصر کوایک ساتھ پڑھا تھا
اس کے بعد ابن عباس نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عمل کے بارے میں کہا کہ :
آنحضرت چاہتے تھے کہ ان کی امت میں سے کوئی بھی شخص مشقت میں نہ پڑ نے پائے( ۲ )
۱۲۔مسلم نے اپنی کتاب صحیح میں سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس سے یوں روایت نقل کی ہے :
جمع رسول اللّهصلىاللهعليهوآلهوسلم بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء فى المدینة من غیر خوف
____________________
(۱)صحیح مسلم جزء ۲ ص ۱۵۱ باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر ،طبع مصر
(۲)یہ مطلب گزشتہ کتاب میں اسی حدیث کے ذیل میں مذکور ہے.
ولامطر .( ۱ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ منورہ میں بغیر خوف اور بارش کے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو اکھٹا پڑھا تھا.
اس وقت سعید ابن جبیر نے ابن عباس سے پوچھا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس طرح کیوں کیا؟ تو ابن عباس نے کہا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی امت کو زحمت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے.( ۲ )
۱۳۔ابوعبداللہ بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلے میں ''باب تأخیر الظہراِلی العصر '' کے نام سے ایک مستقل باب قرار دیا ہے.( ۳ )
یہ خود عنوان اس بات کا بہترین گواہ ہے کہ نماز ظہر میں تاخیر کرکے اسے نماز عصر کے وقت میں اکھٹا بجالایا جاسکتا ہے اس کے بعد بخاری نے اسی مذکورہ باب میں درج ذیل روایت نقل کی ہے :
انّ النبّى صلىاللهعليهوآلهوسلم صلّیٰ بالمدینة سبعًا و ثمانیًا الظهر والعصر والمغرب والعشاء ( ۴ )
____________________
(۱)گزشتہ حوالہ، صفحہ نمبر ۱۵۲
(۲)یہ مطلب گزشتہ کتاب کے صفحہ ص ۱۵۲ میں اسی حدیث کے ذیل میں مذکور ہے
(۳)صحیح بخاری جز اول ص ۱۱۰ کتاب الصلوة باب تاخیر الظہر الی العصر طبع مصر نسخہ امیریہ ۱۳۱۴ھ.
(۴) گزشتہ حوالہ.
بہ تحقیق پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ میں سات رکعت (نماز مغرب و عشائ) اور آٹھ رکعت (نماز ظہر وعصر)پڑھی ہیں
اس روایت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ جس طرح نماز ظہر میں تاخیر کرکے اسے نماز عصر کے وقت میں نماز عصر کے ساتھ بجالایا جاسکتا ہے ،اسی طرح سیاق حدیث میں موجود قرینہ اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت سے سمجھ میں آتاہے کہ نماز مغرب میں بھی دیر کر کے اسے نماز عشاء کے وقت میں نماز عشاء کے ساتھ بجالایا جاسکتا ہے
۱۴۔بخاری نے اپنی کتاب صحیح میں ایک اور مقام پر لکھاہے :
قال ابن عمر و أبو أیوب و ابن عباس رض اللّه عنهم صلّیٰ النبّى صلىاللهعليهوآلهوسلم المغرب والعشاء ( ۱ )
عبد اللہ بن عمر و ابوایوب انصاری اور عبداللہ بن عباس نے کہا ہے کہ : پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھا ہے.
بخاری اس حدیث سے مسلم طور پر یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھا تھا کیونکہ یہ تو یقینی ہے کہ بخاری ہرگز اس حدیث کے ذریعے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نمازی ہونے کو ثابت نہیں کرنا چاہتے تھے
____________________
(۱)صحیح بخاری جز اول کتاب الصلوة باب ذکر العشاء ص ۱۱۳ طبع مصر ۱۳۱۴ھ.
۱۵۔مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب صحیح میں بیان کیا ہے :
قال رجل لابن عباس الصلاة فسکت ثم قال الصلاة فسکت ثم قال الصلاة فسکت ثم قال:لا أم لک أتعلمنا بالصلٰوة و کنّا نجمع بین الصلا تین علیٰ عهد رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم ( ۱ )
ایک شخص نے ابن عباس سے کہا : ''نماز'' تو ابن عباس نے کچھ نہ کہا اس شخص نے پھر کہا ''نماز'' پھر بھی ابن عباس نے اسے کوئی جواب نہ دیا تو اس شخص نے پھر کہا ''نماز'' لیکن ابن عباس نے پھر کوئی جواب نہیں دیا جب اس شخص نے چوتھی مرتبہ کہا: ''نماز'' تب ابن عباس بولے او بے اصل!تم ہمیں نماز کی تعلیم دینا چاہتے ہو ؟ جبکہ ہم پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں دو نمازوں کو ایک ساتھ بجالایا کرتے تھے
۱۶۔مسلم نے یوں روایت نقل کی ہے :
اِنّ رسول اللّهصلىاللهعليهوآلهوسلم جمع بین الصلاة فى سفرة سافرها ف غزوة تبوک فجمع بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء قال سعید فقلت: لابن عباس:
____________________
(۱)صحیح مسلم جز ۲ ص ۱۵۳ باب الجمع بین الصلاتین فی الحضر
ما حمله علی ذلک ؟ قال أراد أن لایحرج اُمته ( ۱ )
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غزوہ تبوک کے سفر میں نمازوں کو جمع کر کے نماز ظہر و عصر اور مغرب عشاء کو ایک ساتھ پڑھا تھا سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے ابن عباس سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عمل کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا آنحضرت چاہتے تھے کہ ان کی امت مشقت میں نہ پڑ ے
۱۷۔ مسلم ابن حجاج نے معاذ سے اس طرح نقل کیا ہے :
خرجنا مع رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم فى غزوة تبوک فکان یُصلّ الظهر والعصر جمیعًا والمغرب و العشاء جمیعًا .( ۲ )
ہم پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کی طرف نکلے تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب وعشاء کو ایک ساتھ پڑھا
۱۸۔مالک ابن انس کا اپنی کتاب ''الموطأ'' میں بیان ہے کہ :
عن ابن شهاب أنّه سأل سالم بن عبدالله : هل یجمع بین الظهر والعصر فى السفر؟ فقال نعم
____________________
(۱)صحیح مسلم جز ۲ ص ۱۵۱ طبع مصر
(۲)گزشتہ حوالہ
لابأس بذلک ، ألم تر الیٰ الصلاة الناس بعرفة ؟ ( ۱ )
ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے سوال کیا کہ کیا حالت سفر میں نماز ظہر و عصر کو ایک ساتھ بجالایا جاسکتا تھا ؟ سالم بن عبداللہ نے جواب دیا ہاں اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے کیا تم نے عرفہ کے دن لوگوںکو نماز پڑھتے نہیں دیکھا ہے؟
یہاں پر اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ عرفہ کے دن نماز ظہر و عصر کو نماز ظہر کے وقت میں بجالانے کو سب مسلمان جائز سمجھتے ہیں اس مقام پر سالم بن عبداللہ نے کہا تھا کہ جیسے لوگ عرفہ کے دن دو نمازوں کو اکھٹا پڑھتے ہیں اسی طرح عام دنوں میں بھی دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھا جاسکتا ہے
۱۹۔متقی ہندی اپنی کتاب ''کنزالعمال'' میں لکھتے ہیں :
قال عبداللّه: جمع لنا رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم مقیمًا غیر مسافر بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء فقال رجل لابن عمر : لم تری النبّى صلىاللهعليهوآلهوسلم فعل ذلک ؟ قال : لِأن لایحرج اُمته ان جمع رجل .( ۲ )
____________________
(۱)موطأ مالک ص ۱۲۵ حدیث ۱۸۰ طبع ۳ ،بیروت.
(۲) کنزالعمال کتاب الصلوة ،باب الرابع فی صلاة المسافر باب جمع جلد ۸ ص ۲۴۶ طبع ۱حلب ۱۳۹۱ھ.
عبد اللہ ابن عمر نے کہا: کہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بغیر سفر کے نماز ظہر
وعصر اور مغرب و عشاء کو اکھٹا پڑھا تھا ایک شخص نے ابن عمر سے سوال کیا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو ابن عمر نے جواب دیا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی امت کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے تاکہ اگر کوئی شخص چاہے تو دو نمازوں کو ایک ساتھ بجالائے
۲۰۔اسی طرح کنزالعمال میں یہ روایت بھی موجود ہے :
عن جابر أنّ النبّى صلىاللهعليهوآلهوسلم جمع بین الظهر والعصر بأذان و اِقامتین ( ۱ )
نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ظہر وعصر کی نمازوں کو اکھٹا ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھا تھا
۲۱۔ کنزالعمال میں درج ذیل روایت بھی موجود ہے:
عن جابر أنّ رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم غربت له الشمس بمکة فجمع بینهما بسرف ( ۲ )
جابر بن عبداللہ سے منقول ہے کہ مکہ میں ایک دفعہ جب آفتاب غروب ہوگیا تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ''سرف''( ۳ ) کے مقام پر نماز مغرب و عشاء کو اکھٹا پڑھا تھا.
____________________
(۱)کنزالعمال کتاب الصلوة ، باب الرابع فی صلوة المسافر باب جمع جلد۸ ص ۲۴۷ طبع ۱ حلب.
(۲) گزشتہ حوالہ.
(۳)سرف مکہ سے نومیل کے فاصلے پر واقع مقام کا نام ہے (یہ بات کنزالعمال سے اسی حدیث کے ذیل سے ماخوذ ہے)
۲۲۔کنزالعمال میں ابن عباس سے یوں منقول ہے :
جمع رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء بالمدینة فى غیر سفر ولا مطر قال : قلت لابن عباس : لم تراه فعل ذلک؟ قال: أراد التوسعة علیٰ أمته ( ۱ )
پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ میں بغیر سفر اور بارش کے نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو اکھٹا پڑھا تھا. راوی کہتا ہے کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عمل کے سلسلے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ تو ابن عباس نے جواب دیا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی امت کے لئے سہولت اور آسانی قرار دینا چاہتے تھے
نتیجہ:
اب ہم گزشتہ روایات کی روشنی میں دو نمازوں کو جمع کرنے کے سلسلے میں شیعوں کے نظریہ کے صحیح ہونے پر چند دلیلیں پیش کریں گے:
۱۔دونمازوں کو ایک وقت میں ایک ساتھ بجالانے کی اجازت نمازیوں کی سہولت اور انہیں مشقت سے بچانے کے لئے دی گئی ہے.
متعدد روایات میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر نماز ظہر و عصر یا مغرب و
____________________
(۱)کنزالعمال ،کتاب الصلوة ، الباب الرابع ، باب جمع جلد ۸.
عشاء کو ایک وقت میں بجالانا جائز نہ ہوتا تو یہ امر مسلمانوں کے لئے زحمت و مشقت کا باعث بنتا اسی وجہ سے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسلمانوں کی سہولت اور آسانی کے لئے دو نمازوں کو ایک وقت میں بجالانے کو جائز قرار دیا ہے (اس سلسلے میں دسویں ، سولہویں ، انیسویں ، اور بائیسویں حدیث کا مطالعہ فرمائیے)
واضح ہے کہ اگر ان روایات سے یہ مراد ہو کہ نماز ظہر کواسکے آخری وقت( جب ہر چیز کا سایہ اسکے برابر ہوجائے ) تک تاخیر کر کے پڑھا جائے اور نماز عصر کو اسکے اول وقت میں بجالایا جائے اس طرح ہر دو نمازیں ایک ساتھ مگر اپنے اوقات ہی میں پڑھی جائیں( اہل سنت حضرات ان روایات سے یہی مراد لیتے ہیں ) تو ایسے کام میں کسی طرح کی سہولت نہیں ہوگی بلکہ یہ کام مزید مشقت کا باعث بنے گا جبکہ دو نمازوں کو ایک ساتھ بجالانے کی اجازت کا یہ مقصد تھا کہ نمازیوںکیلئے سہولت ہو.
اس بیان سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ گزشتہ روایات سے مراد یہ ہے کہ دو نمازوں کو ان کے مشترک وقت کے ہر حصے میں بجالایا جاسکتا ہے اب نماز گزار کو اختیار ہے کہ وہ مشترک وقت کے ابتدائی حصے میں نماز پڑھے یا اس کے آخری حصے میں اور ان روایات سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری کو اس کے اول وقت میں ادا کیا جائے.
۲۔روز عرفہ دونمازوں کو اکھٹا پڑھنے کے حکم سے باقی دنوں میں نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک عرفہ کے دن ظہر وعصر کی نمازوں کو ایک وقت میں بجالانا جائز ہے( ۱ )
مزیدبراں گزشتہ روایات میں سے بعض اس بات کی گواہ ہیں کہ میدان عرفات کی طرح باقی مقامات پر بھی نمازوں کو اکھٹا بجالایا جاسکتا ہے اب اس اعتبار سے روز عرفہ اور باقی عام دنوں کے درمیان یا عرفات کی سرزمین اور باقی عام جگہوں میں کوئی فرق نہیں ہے اس سلسلہ میں اٹھارویں حدیث کا مطالعہ فرمائیں
لہذا جس طرح مسلمانوں کے متفقہ نظرئیے کے مطابق عرفہ میں ظہر و عصر کی نمازوں کو ظہر کے وقت پر ایک ساتھ پڑھا جاتا ہے اسی طرح عرفہ کے علاوہ بھی ان نمازوں کو ظہر کے وقت اکھٹا پڑھنا بالکل صحیح ہے
۳۔سفر کی حالت میں دو نمازوں کو اکھٹا پڑھنے کے حکم سے غیر سفر میں بھی نمازوں کے ایک ساتھ بجالانے کا جواز معلوم ہوتا ہے .ایک طرف سے حنبلی، مالکی، اور شافعی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حالت سفرمیں دو نمازوں کو اکھٹا بجالایا جاسکتا ہے اور دوسری طرف گزشتہ روایات صراحت کے ساتھ کہہ رہی ہیں کہ اس اعتبار سے سفر اور غیر سفر میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دونوں حالتوں میں نمازوں کو اکھٹا پڑھا تھا.
(اس سلسلے میں تیسری، گیارہویں، تیرہویں، اور بائیسویں حدیث کا مطالعہ فرمائیں)
اس بنیاد پر (شیعوں کے نظرئیے کے مطابق) جس طرح حالت سفر میں دو
____________________
(۱)الفقہ علی المذاھب الاربعہ ، کتاب الصلوة ،الجمع بین الصلوٰتین تقدیما و تاخیرا
نمازوں کو اکھٹا بجالانا صحیح ہے اسی طرح عام حالات میں بھی دو نمازوں کو اکھٹا پڑھا جاسکتا ہے
۴۔اضطراری حالت میں دو نمازوں کے اکھٹا پڑھنے کے حکم سے عام حالت میں بھی نمازوں کے اکھٹا پڑھنے کا جواز معلوم ہوجاتا ہے.اہل سنت کی صحیح اور مسند کتابوں میں سے بہت سی روایات اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اصحاب نے چند اضطراری موقعوں پر جیسے بارش کے وقت یا دشمن کے خوف سے یا بیماری کی حالت میں نمازوں کو ایک ساتھ اور ایک ہی وقت میں (ٹھیک اسی طرح جیسے شیعہ کہتے ہیں ) پڑھا تھا اور اسی وجہ سے مختلف اسلامی فرقوں کے فقہاء نے بعض اضطراری حالات میں دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا جائز قرار دیا ہے جب کہ گزشتہ روایات اس بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں کہ اس سلسلے میں اضطراری اور عام حالت میں کوئی فرق نہیں ہے اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دونوں حالتوں میں اپنی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھا ہے
اس سلسلے میں تیسری، گیارہویں ، اور بارہویں ، اور بائیسویں روایت کا مطالعہ کیجئے
۵۔اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی روش سے دو نمازوں کے ایک ساتھ بجالانے کا جواز معلوم ہوتا ہے.
گزشتہ روایات میں یہ نکتہ موجود ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بہت سے اصحاب دو نمازوں کو ایک وقت میں بجالاتے تھے جیسے کہ عبداللہ ابن عباس نے نماز مغرب میں اتنی دیر کردی تھی کہ اندھیرا چھا گیا تھا اور آسمان پر ستارے چمکنے لگے تھے اور لوگوں نے نماز کی صدائیں دینا شروع کردی تھیں مگر ابن عباس نے ان کی طرف توجہ نہیں کی تھی سرانجام جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تب انہوں نے نماز مغرب و عشاء پڑھی تھی.اور اعتراض کرنے والوں کو یہ جواب دیا تھا : میں نے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے نیز ابوہریرہ نے بھی ابن عباس کی اس بات کی تائید کی تھی (اس سلسلے میں دوسری، ساتویں، نویں ، اور پندہوریں روایت کا مطالعہ فرمائیں)
گزشتہ روایات کی روشنی میں اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی ابن عباس نے شیعوں کی طرح دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھا تھا
۶۔پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت سے دو نمازوں کو ایک ساتھ بجالانے کا جواز معلوم ہوتا ہے. اکیسویں حدیث کی روشنی میں یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ نماز مغرب کے وقت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مکہ مکرمہ میں تشریف فرماتھے لیکن آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز مغرب میں تاخیر کی تھی اور ''سرف'' نامی علاقہ( جو مکہ سے نومیل کے فاصلے پر واقع تھا)میں پہنچ کر نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھا تھاجب کہ یہ واضح ہے کہ اگر آنحضرت مکہ سے مغرب کے اول وقت میں چلے ہوں گے تو اس زمانے کی کم رفتار سواری کے ذریعے سفر کرنے کی وجہ سے یقینا رات کا کافی حصہ گزر جانے کے بعد ہی سرف کے مقام تک پہنچے ہوں گے اسی وجہ سے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مغرب و عشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھا تھا اہل سنت حضرات کی صحیح اور مسند کتابوں سے منقول گزشتہ روایات شیعوں کے نظرئیے( ظہر و عصر یا مغرب و عشاء کی نمازوں کو ہر وقت ، ہر جگہ اور ہر طرح کی صورتحال میں ایک ساتھ پڑھنا جائز ہے )کے صحیح ہونے کی گواہی دیتی ہیں
اٹھائیسواں سوال
شیعوں کی فقہ کے ماخذ کون سے ہیں ؟
جواب:شیعہ ،قرآن مجید اور سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے احکام شرعی کو درج ذیل چاربنیادی مآخذ سے حاصل کرتے ہیں :
۱۔کتاب خدا
۲۔سنت
۳۔اجماع
۴۔عقل
مذکورہ ماخذو منابع میں سے قرآن مجید اور سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم فقہ شیعہ کے بنیادی ترین ماخذ ہیں اب ہم یہاں ان دونوں کے سلسلے میں اختصار کیساتھ گفتگو کریںگے :
کتاب خدا؛ قرآن مجید
مکتب تشیع کے پیرو قرآن مجید کو اپنی فقہ کا محکم ترین منبع اور احکام الہی، کی شناخت کا معیار سمجھتے ہیں کیونکہ شیعوں کے ائمہ ٪ نے فقہی احکام کے حصول کے لئے قرآن مجید کو ایک محکم مرجع قرار دیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ کسی بھی نظرئیے کو قبول کرنے سے پہلے اسے قرآن مجید پر پرکھا جائے اگر وہ نظریہ قرآن سے مطابقت رکھتا ہو تو اسے قبول کرلیا جائے ورنہ اس نظرئیے کو نہ مانا جائے
اس سلسلے میں امام صادق ـفرماتے ہیں :
وکل حدیث لایوافق کتاب اللّه فهو زخرف .( ۱ )
ہر وہ کلام جو کتاب خدا سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہ باطل ہے.
اسی طرح امام صادق ـنے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یوں نقل کیا ہے:
أیّها الناس ماجائکم عن یوافق کتاب اللّه فأنا قلته وماجاء کم یخالف کتاب اللّه فلم أقله ( ۲ )
اے لوگو! ہر وہ کلام جو میری طرف سے تم تک پہنچے اگر وہ کتاب خدا کے مطابق ہو تو وہ میرا قول ہے لیکن اگر تم تک پہنچنے والا کلام کتاب خدا کا مخالف ہو تو وہ میرا قول نہیں ہے.
ان دو حدیثوں سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ شیعوں کے ائمہ ٪ کی نگاہ میں احکام شرعی کو حاصل کرنے کے لئے کتاب خدا محکم ترین ماخذ شمار ہوتی ہے.
____________________
(۱)اصول کافی، جلد۱ ، کتاب فضل العلم ، باب الاخذ بالسنة و شواہد الکتاب ، حدیث ۳.
(۲) گذشتہ حوالہ حدیث ۵.
سنت
حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قول و فعل اور کسی کام کے سلسلے میں
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تائید کو سنت کہتے ہیں اسے شیعوں کی فقہ کا دوسرا ماخذ شمار کیا جاتا ہے سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نقل کرنے والے ائمہ معصومین٪ ہیں جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علوم کے خزینہ دار ہیں
البتہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چند دوسرے طریقوں سے نقل ہونے والے ارشادات کو بھی شیعہ قبول کرتے ہیں .یہاں پرضروری ہے کہ ہم دو چیزوں کے متعلق بحث کریں :
سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم سے تمسک کی دلیلیں: شیعوں کے ائمہ ٪ نے اپنی پیروی کرنے والوں کوجس طرح قرآن مجید پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح انہوں نے سنت نبوی کی پیروی کرنے کی بھی تاکید کی ہے اور ہمیشہ اپنے ارشادات میں ان دونوں سے تمسک اختیار کرنے کا حکم دیا ہے امام صادق ـ فرماتے ہیں :
اِذا ورد علیکم حدیث فوجدتم له شاهدًا من کتاب اللّه أو من قول رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم واِلا فالذى جائکم به أولیٰ به .( ۱ )
جب کوئی کلام تم تک پہنچے تو اگر تمہیں کتاب خدا یا سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس کی تائید حاصل ہوجائے تو اسے قبول کرلینا ور نہ وہ کلام
بیان کرنے والے ہی کو مبارک ہو
____________________
(۱)اصول کافی جلد۱ کتاب فضل العلم ، باب الاخذ بالسنہ و شواھد الکتاب حدیث ۲.
اسی طرح امام محمدباقر ـ نے ایک جامع الشرائط فقیہ کے لئے سنت نبی اکرم سے تمسک کو اہم ترین شرط قرار دیتے ہوئے یوں فرمایا ہے:
اِنّ الفقیه حق الفقیه الزاهد ف الدنیا والراغب فى الآخرة المتمسک بسنّة النبّى صلىاللهعليهوآلهوسلم ( ۱ )
بے شک حقیقی فقیہ وہ ہے جو دنیا سے رغبت نہ رکھتا ہو اور آخرت کا اشتیاق رکھتا ہو ، نیز سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم سے تمسک رکھنے والا ہو.
ائمہ معصومین ٪ نے اس حد تک سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تاکید فرمائی ہے کہ وہ کتاب خدا اور سنت نبوی کی مخالفت کو کفر کی اساس قرار دیتے ہیں اس سلسلے میں امام صادق ـ یوں فرماتے ہیں :
مَن خالف کتاب اللّه وسنّة محمّد صلىاللهعليهوآلهوسلم فقد کفر .( ۲ )
جس شخص نے کتاب خدا اور سنت محمدیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت کی وہ کافر ہوگیا
اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے بقیہ فرقوں کی بہ نسبت نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اسی طرح بعض لوگوں کایہ نظریہ بھی باطل ہوجاتا ہے کہ شیعہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت سے بیگانہ اور دور ہیں
____________________
(۱) گذشتہ حوالہ حدیث ۸
(۲) گذشتہ حوالہ حدیث ۶
احادیث اہل بیت سے تمسک کے دلائل
عترت پیغمبرکی احادیث کے سلسلے میں شیعوں کے نظریہ کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ ہم ذیل کے دو موضوعات پر گفتگو کریں :
الف: ائمہ معصومین کی احادیث کی حقیقت.
ب:اہل بیت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے تمسک کے اہم اور ضروری ہونے کے دلائل اب ہم یہاں ان دو موضوعات کے سلسلے میں مختصر طور پر تحقیقی گفتگو کریں گے :
عترت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی احادیث کی حقیقت
شیعوںکے نکتہ نظر سے فقط خداوندحکیم ہی انسانوں کے لئے شریعت قرار دینے اور قانون وضع کرنے کا حق رکھتا ہے اور اس کی طرف سے یہ شریعت اور قوانین پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ لوگوں تک پہنچتے ہیں واضح ہے کہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا اور انسانوں کے درمیان وحی کے ذریعہ حاصل ہونے والی شریعت کے پہنچانے کے لئے واسطے کی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے اگر شیعہ اہل بیت ٪ کی احادیث کو اپنی فقہ کے ماخذ میں شمار کرتے ہیں تو ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اہل بیت ٪ کی احادیث سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقابلے میں کوئی مستقل حیثیت رکھتی ہیں بلکہ احادیث اہل بیت ٪ اس وجہ سے معتبر ہیں کہ وہ سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بیان کرتی ہیں
اس اعتبارسے ائمہ معصومین ٪ کبھی بھی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں فرماتے بلکہ جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہ در حقیقت سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کی وضاحت ہوتی ہے یہاں پر ہم اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ائمہ معصومین ٪ کی چند روایات پیش کریں گے :
۱۔امام صادق ـ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں یوں فرمایاہے:
مهما أجبتک فیه بشء فهو عن رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم لسنا نقول برأینا من شئ .( ۱ )
اس سلسلے میں جو جواب میں نے تمہیں دیا ہے وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے ہے ہم کبھی بھی اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے :اور ایک مقام پر یوں فرماتے ہیں :
حدیث حدیث أب ، و حدیث أب حدیث جد و حدیث جد حدیث الحسین وحدیث الحسین حدیث الحسن و حدیث الحسن حدیث أمیرالمؤمنین ، و حدیث أمیر المؤمنین حدیث رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم و حدیث رسول اللّه قول اللّه عزّ وجلّ .( ۲ )
میری حدیث میرے والد (امام باقر ـ)کی حدیث ہے ،
____________________
(۱)جامع الاحادیث الشیعہ جلد۱ ص ۱۲۹
(۲) گذشتہ حوالہ ص ۱۲۷
اور میرے والد کی حدیث میرے دادا (امام زین العابدین ـ) کی حدیث ہے اور میرے دادا کی حدیث امام حسین ـ کی حدیث ہے اور امام حسین ـ کی حدیث امام حسن ـ کی حدیث ہے اور امام حسن ـ کی حدیث امیر المومنین ـ کی حدیث ہے اور امیر المومنین ـکی حدیث رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حدیث ہے اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حدیث خداوندمتعال کا قول ہے
۲۔امام محمد باقر ـنے جابر سے یوں فرمایا تھا :
حدثنى أبى عن جد رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم عن جبرائیل ـ عن اللّه عزّوجلّ و کلما أحدّثک بهذا الأسناد .( ۱ )
میرے پدربزرگوار نے میرے دادا رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اور انہوں نے جبرئیل سے اور انہوں نے خداوندعالم سے روایت کی ہے اور جو کچھ میں تمہارے لئے بیان کرتا ہوں ان سب کا سلسلہ سند یہی ہوتا ہے.
____________________
(۱) گذشتہ حوالہ ص۱۲۸
اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے تمسک کے اہم اور ضروری ہونے کے دلائل
شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کے محدثین اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
نے بھی میراث کے طور پر اپنی امت کے لئے دو قیمتی چیزیں چھوڑی ہیں اور تمام مسلمانوں کو ان کی پیروی کا حکم دیا ہے ان میں سے ایک کتاب خدا ہے اور دوسرے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت ہیں یہاں ہم نمونے کے طور پر ان روایات میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں :
۱۔ ترمذی نے اپنی کتاب صحیح میں جابر بن عبداللہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے :
یاأیّها النّاس اِنّ قد ترکت فیکم ما اِن أخذتم به لن تضلّوا : کتاب اللّه و عترتى أهل بیتى .( ۱ )
اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم ان سے متمسک رہے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب خدا اور میری عترت ہیں
۲۔اسی طرح ترمذی نے اپنی کتاب صحیح میں یہ حدیث نقل کی ہے :
قال رسول اللّهصلىاللهعليهوآلهوسلم اِنىّ تارک فیکم ما اِن تمسکتم به لن تضلّوا بعد أحدهما أعظم من الآخر : کتاب اللّه حبل ممدود من السماء اِلیٰ الأرض و عترتى أهل بیتى ولن یفترقا حتیٰ یردا
____________________
(۱)صحیح ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب اہل بیت النبی جلد۵ ص ۶۶۲ حدیث ۳۷۸۶ طبع بیروت.
علّى الحوض فانظروا کیف تخلفون فیهما .( ۱ )
میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان دو چیزوں میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب خدا ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آویزاں ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو.
۳۔مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب صحیح میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ روایت نقل کی ہے:
ألا أیّها النّاس فاِنّما أنا بشر یوشک أن یأت رسول ربّ فأجیب و أنا تارک فیکم ثقلین أولهما کتاب اللّه فیه الهدیٰ والنور فخدوا بکتاب اللّه واستمسکوا به فحثّ علیٰ کتاب اللّه و رغّب فیه ثم قال : أهل بیت أذکرکم اللّه ف أهل بیت أذکرکم اللّه ف أهل بیت أذکرکم اللّه ف أهل بیت. ( ۲ )
____________________
(۱) گذشتہ حوالہ ص ۶۶۳ حدیث ۳۷۸۸.
(۲)صحیح مسلم جز ۷ فضائل علی ابن ابی طالب ص ۱۲۲ اور ۱۲۳.
اے لوگو!بے شک میں ایک بشر ہوںاور قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہوا نمائندہ آئے اور میں اسکی دعوت قبول کروں اور میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت اور نور ہے کتاب خدا کو لے لو اور اسے تھامے رکھو اور پھر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کتاب خدا پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس کی جانب رغبت دلائی اور اس کے بعد یوں فرمایا اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور میں تمہیں اپنے اہل بیت کے سلسلے میں وصیت و تاکید کرتا ہوں اور اس جملے کو تین مرتبہ دہرایا
۴۔بعض محدثین نے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ روایت نقل کی ہے:
اِنّى تارک فیکم الثقلین کتاب اللّه و أهل بیتى و اِنّهما لن یفترقا حتیٰ یردا علىّ الحوض ( ۱ )
بے شک! میں تمہارے درمیان دووزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں
____________________
(۱)مستدرک حاکم جز ۳ ص ۱۴۸ ، الصواعق المحرقہ باب ۱۱ فصل اول ص ۱۴۹ اس مضمون کے قریب بعض
درج ذیل کتابوں میں بھی روایات موجود ہیں .مسنداحمد جز ۵ ص۱۸۲اور ۱۸۳۔کنز العمال ،جز اول باب الاعتصام بالکتاب والسنة ص ۴۴.
یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اس سلسلے میں اتنی زیادہ حدیثیں موجود ہیں کہ ان سب کا اس مختصر کتاب میں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے.علامہ میرحامد حسین نے اس روایت کے سلسلۂ سند کو اپنی چھ جلدوں والی کتاب (عبقات الانوار) میں جمع کر کے پیش کیا ہے.
گذشتہ احادیث کی روشنی میں یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ کتاب خدا اور سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ساتھ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے تمسک اور ان کی پیروی بھی اسلام کے ضروریات میں سے ہے.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عترت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مراد کون افراد ہیں کہ جن کی پیروی کو نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے ؟
اس مسئلے کی وضاحت کے لئے ہم احادیث کی روشنی میں عترت نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سلسلے میں تحقیق پیش کرنا چاہیں گے:
اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کون ہیں ؟
گذشتہ روایات سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب مسلمانوں کو اپنی عترت کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور کتاب خدا کی طرح انہیں بھی لوگوں کا مرجع قرار دیا ہے اور صاف لفظوں میں فرمایا ہے کہ ''قرآن اور عترت ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے'' اس بنیاد پر اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم وہ ہیں کہ جنہیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قرآن مجید کا ہم پلہ قرار دیا ہے اور جو معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ معارف اسلامی سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے ہیں .کیونکہ اگر وہ ان صفات کے مالک نہ ہوں تو قرآن مجید سے جدا ہو جائیں گے جبکہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے کہ : قرآن اور عترت ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں اس طرح یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اہل بیت ٪ اور ان کی اعلی صفات کی صحیح طور پر شناخت ایک ضروری امر ہے اب ہم اس سلسلے میں مسلمانوں کے درمیان بزرگ سمجھنے جانے والے محدثین سے منقول روایات کی روشنی میں چند واضح دلیلیں پیش کریں گے :
۱۔ مسلم بن حجاج نے حدیث ثقلین کا ذکر کرنے کے بعد یوں کہا ہے کہ:
''یزید بن حیان نے زید بن ارقم سے پوچھا اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کون ہیں ؟ کیا وہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں ہیں ؟'' زید بن ارقم نے جواب دیا :
لا و أیم اللّه اِنّ المرأه تکون مع الرجل العصر من الدهر ثم یطلّقها فترجع اِلیٰ أبیها و قومها أهل بیته أصله و عصبته الذین حرموا الصدقة بعده. ( ۱ )
نہیں خدا کی قسم عورت جب ایک مدت تک کسی مرد کے ساتھ رہتی ہے اور پھر وہ مرد اسے طلاق دے دیتاہے تو وہ عورت اپنے باپ اور رشتے داروں کے پاس واپس چلی جاتی ہے اہل بیت
____________________
(۱)صحیح مسلم جز ۷ باب فضائل علی بن ابی طالب ـ ،ص ۱۳۲طبع مصر.
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مراد وہ افراد ہیں جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصلی اور قریبی رشتہ دار ہیں کہ جن پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد صدقہ حرام ہے.
یہ قول بخوبی اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ وہ عترت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم جن سے تمسک قرآن کی پیروی کی طرح واجب ہے ان سے ہرگز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں مراد نہیں ہیں بلکہ اہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے وہ افراد مراد ہیں جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جسمانی اور معنوی رشتہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر چندخاص صلاحتیں بھی پائی جاتی ہوں.تبھی تو وہ قرآن مجید کی طرح مسلمانوں کا مرجع قرار پاسکتے ہیں
۲۔پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے صرف اہل بیت ٪ کے اوصاف بیان کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کی تھی بلکہ حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی تعداد (جو کہ بارہ ہے)کو بھی صاف لفظوں میں بیان کردیا تھا :
مسلم نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ہے:
سمعت رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلم یقول: لایزال الاِسلام عزیزًا اِلیٰ اثن عشر خلیفة ثم قال کلمة لم أفهمها فقلت لأب ماقال ؟ فقال: کلهم من قریش .( ۱ )
میں نے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام کو بارہ خلفاء کے ذریعہ عزت حاصل ہوگی اور پھر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کوئی لفظ
____________________
(۱)صحیح مسلم جلد ۶ ص۳ طبع مصر.
کہا جسے میں نہیں سمجھ سکا لہذا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کیا فرمایا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے کہ وہ سب خلفاء قریش میں سے ہوں گے
مسلم بن حجاج نے اسی طرح رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ روایت بھی نقل کی ہے :
لایزال أمر الناس ماضیًا ماولیهم اثنا عشر رجلاً .( ۱ )
لوگوں کے امور اس وقت تک بہترین انداز میں گزریں گے جب تک ان کے بارہ والی رہیں گے.
یہ دو روایتیں شیعوں کے اس عقیدے کی واضح گواہ ہیں '' کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد عالم اسلام کے بارہ امام ہی لوگوں کے حقیقی پیشوا ہیں '' کیونکہ اسلام میں ایسے بارہ خلفاء جو پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد بلافاصلہ مسلمانوں کے مرجع اور عزت اسلام کا سبب بنے ہوں ، اہل بیت کے بارہ اماموں کے علاوہ نہیں ملتے کیونکہ اگر اہل سنت کے درمیان خلفاء راشدین کہے جانے والے چار خلفاء سے صرف نظر کرلیا جائے پھر بھی بنی امیہ اور بنی عباس کے حکمرانوں کی تاریخ اس بات کی بخوبی گواہی دیتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے برے کردار کی وجہ سے اسلام اور مسلمین کی رسوائی کا سبب بنتے رہے ہیں اس اعتبار سے وہ (اہل بیت)کہ جنہیں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قرآن مجید کا ہم پلہ اور مسلمانوں کا مرجع
____________________
(۱) گذشتہ حوالہ.
قرار دیا ہے وہ عترت نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وہی بارہ امام ہیں جو سنت نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے محافظ اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علوم کے خزینہ داررہے ہیں
۳۔حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالبـ کی نگاہ میں بھی مسلمانوں کے ائمہ کو بنی ہاشم سے ہونا چاہیے یہ بات شیعوں کے اس نظرئیے (کہ اہل بیت کی شناخت حاصل کرنا ضروری ہے) پر ایک اور واضح دلیل ہے حضرت امام علی ـ فرماتے ہیں :
اِنّ الأئمة من قریش غرسوا ف ھذا البطن من بن ہاشم لاتصلح علیٰ مَن سواھم ولا تصلح الولاة من غیرھم۔( ۱ )
یاد رکھو قریش کے سارے امام جناب ہاشم کی اسی کشت زار میں قرار دئیے گئے ہیں اور یہ امامت نہ ان کے علاوہ کسی کو زیب دیتی ہے اور نہ ان سے باہر کوئی اس کا اہل ہوسکتا ہے.
نتیجہ:
گزشتہ روایات کی روشنی میں دو حقیقتیں آشکار ہوجاتی ہیں :
۱۔قرآن مجید کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اہل بیت ٪ سے تمسک اور ان کی پیروی بھی واجب ہے
۲۔پیغمبر اسلام کے اہل بیت جو قرآن مجید کے ہم پلہ اور مسلمانوں کے مرجع ہیں مندرجہ ذیل خصوصیات کے مالک ہیں :
____________________
(۱)نہج البلاغہ (صبحی صالح)خطبہ ۱۴۴.
الف:وہ سب قبیلۂ قریش اور بنی ہاشم کے خاندان میں سے ہیں
ب:وہ سب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایسے رشتہ دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے
ج:وہ سب عصمت کے درجے پر فائز ہیں ورنہ وہ عملی طور پر کتاب خدا سے جدا ہوجائیں گے جبکہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ارشاد ہے کہ یہ دونوں(قرآن و عترت) ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں گے
د:ان کی تعداد بارہ ہے جو یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے امام ہوں گے.
ھ:پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے یہ بارہ خلفاء اسلام کی عزت و شوکت کا سبب بنیںگے.
گذشتہ روایات میں موجود اوصاف کو مدنظر رکھنے سے یہ بات آفتاب کی مانند روشن ہوجاتی ہے کہ وہ اہل بیت جن کی پیروی کا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم فرمایا ہے ان سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد وہی بارہ ائمہ٪ ہیں جن کی پیروی کرنے اور احکام فقہ میں ان سے تمسک اختیار کرنے کو شیعہ اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے ہیں ۔
انتیسواں سوال
کیا ابوطالب ایمان کے ساتھ اس دنیا سے گئے ہیں کہ آپ ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں ؟
جواب:حضرت علی ـ کے والد ماجد، رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا جناب ابوطالب بن عبدالمطلب شیعوں کے عقیدے کے مطابق نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت پر مکمل ایمان رکھتے تھے اور وہ صدر اسلام کی تمام سختیوں اور مشکلات میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سب سے بڑے حامی و ناصر تھے.
خاندان جناب ابوطالب
جناب ابوطالب نے ایسے گھر میں آنکھ کھولی جس کی سرپرستی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جد امجد دین ابراہیمی کے پیرو جناب عبدالمطلب کے ہاتھوں میں تھی جزیرۂ عرب کی تاریخ میں معمولی غور و فکر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جناب عبدالمطلب اپنی زندگی کے سخت ترین حالات اور پر خطر مراحل کے دوران بھی خدا پرستی اور آئین توحید کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے تھے.
جس وقت ابرہہ کا لشکر ہاتھیوں پر بیٹھ کر خانہ کعبہ کو ویران کرنے کے قصد سے مکہ کی طرف آرہا تھا تو اس نے راستے میں جناب عبدالمطلب کے اونٹوں کو پکڑلیا
تھا اور جس وقت جناب عبدالمطلب اپنے اونٹوں کے مطالبے کے لئے ابرھہ کے پاس پہنچے تو اس نے بڑے ہی تعجب کے ساتھ ان سے پوچھا کہ آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کا مطالبہ تو کیا لیکن مجھ سے یہاں سے واپس جانے اور خانہ کعبہ کو ویران نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ؟ اس وقت جناب عبدالمطلب نے اپنے ایمان و اعتقاد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے یہ جواب دیا تھا :
أنا ربّ الاِبل وللبیت ربّ یمنعه (یحمیه) .( ۱ )
میں اونٹوں کا مالک ہوںاور اس گھر (خانہ کعبہ) کا بھی مالک موجود ہے جو خود اس کی حفاظت و حمایت کرے گا
اس کے بعدجناب عبدالمطلب مکہ کی طرف روانہ ہوگئے پھر مکہ میں خانہ کعبہ کے دروازے کی کنڈی پکڑ کر یوں کہا :
یا ربّ لاأرجو لهم سواکا
یاربّ فامنع منهم حماکا
اِن عدوالبیت مَن عاداکا
امنعهم أن یُخرّبوا فناکا( ۲ )
____________________
(۱)کامل ابن اثیر جلد ۱ ص ۲۶۱ طبع مصر ، ۱۳۴۸ھ.
(۲) گذشتہ حوالہ.
اے پروردگارمیں تیرے سوا کسی سے امید نہیں رکھتا پروردگارا!تو خود ان دشمنوں کے مقابلے میں اپنے حرم کی حفاظت فرما.
اس گھرکے دشمن تجھ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں انہیں روک دے تاکہ تیرے گھر کو ویران نہ کرسکیں
اس قسم کے بلند پایہ اشعار جناب عبدالمطلب کے مومن اور خدا پرست ہونے کے واضح گواہ ہیں اسی وجہ سے یعقوبی نے اپنی تاریخ کی کتاب میں جناب عبدالمطلب کے متعلق یوں تحریر کیا ہے:
رفض عبادة الأصنام و وحّد اللّه عزّ وجلّ .( ۱ )
عبدالمطلب نے بتوں کی پوجا سے انکار کیا تھا اور آپ خدا کے موحد بندے تھے
آئیے اب یہ دیکھا جائے کہ اس مومن اور خدا پرست شخصیت کی نگاہ میں ان کے بیٹے ابوطالب کی کیا منزلت تھی؟
عبدالمطلب کی نگاہ میں ابوطالب
تاریخ شاہد ہے کہ بعض روشن ضمیر نجومیوں نے جناب عبدالمطلب کو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے روشن مستقبل اور ان کی نبوت سے باخبر کردیا تھا جس وقت ''سیف بن ذی یزان''
____________________
(۱)تاریخ یعقوبی جلد۲ ص ۷ طبع مصر.
نے حکومت حبشہ کی باگ ڈور سنبھالی تو جناب عبدالمطلب ایک وفد کے ہمراہ حبشہ تشریف لے گئے اس وقت ''سیف بن ذی یزان'' نے ایک اہم خطاب کے بعد جناب عبدالمطلب کو یہ خوشخبری دی ''آپ کے خاندان میں ایک عظیم القدر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم تشریف لاچکے ہیں '' اس کے بعد اس نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خصوصیات یوں بیان کئے:
اسمه محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم یموت أبوه و أمه و یکفله جدّه و عمّه .( ۱ )
انکا نام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے انکے ماں باپ کا (جلد ہی) انتقال ہوجائے گااور ان کی سرپرستی ان کے دادا اور چچا کریں گے
اس وقت اس نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صفات بیان کرتے ہوئے یہ جملے بھی کہے تھے :
یعبد الرّحمٰن و یدحض الشیطان و یخمدالنیران و یُکسّر الأوثان قوله فصل و حکمه عدل و یأمر بالمعروف و یفعله و ینهیٰ عن المنکر و یبطله .( ۲ )
وہ خدائے رحمن کی عبادت کریں گے، شیطان کے دام میں نہیں آئیں گے، جہنم کی آگ کو بجھائیں گے اور بتوں کو توڑیں
____________________
(۱)سیرہ حلبی جلد۱طبع مصر ص ۱۳۶، ۱۳۷ ،اور طبع بیروت ص ۱۱۴۔۱۱۵.
(۲) گذشتہ حوالہ.
گے .ان کا قول حق و باطل میں جدائی کا میزان ہوگا وہ دوسروں کو نیکی کا حکم دیں گے اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں گے وہ دوسروں کو برائی سے روکیں گے اور اسے باطل قرار دیں گے
اور پھر اس نے جناب عبدالمطلب سے کہا :
اِنک لجده یا عبدالمطلب غیر کذب ( ۱ )
اے عبدالمطلب اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ آپ ان کے دادا ہیں
جناب عبدالمطلب نے جب یہ خوشخبری سنی تو سجدہ شکر بجالائے اور پھر اس بابرکت مولود کے احوال کو یوں بیان کیا:
اِنّه کان لى ابن و کنت به معجبًا وعلیه رقیقاً وا ِنّ زوجته کریمة من کرائم قوم آمنة بنت وهب بن عبدمناف ابن زهره فجاء ت بغلام فسمّیته محمدًا مات أبوه و أمه و کفلته أنا و عمّه (یعنی أباطالب) .( ۲ )
میرا ایک بیٹا تھا جس سے مجھے بہت زیادہ محبت تھی میں نے اس کی شادی اپنے شرافتمند رشتہ داروں میں سے ایک نیک سیرت خاتون ''آمنہ'' بنت وہب بن عبدمناف سے کی تھی اس
____________________
(۱)گذشتہ حوالہ.
(۲)سیرہ حلبی جلد۱ ص ۱۳۷ طبع مصر.
خاتون کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اس کے ماں اور باپ دونوں کا انتقال ہوچکا ہے اس کی سرپرستی میں نے اور اس کے چچا ابوطالب نے اپنی ذمہ لی ہے
جناب عبدالمطلب کے اس کلام سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اس یتیم بچے
کے روشن مستقبل سے اچھی طرح باخبر تھے اس لئے انہوں نے اس بچے کو اپنے سب سے عزیز بیٹے جناب ابوطالب کی سرپرستی میں دیا تھا اور اس عظیم سعادت کو کسی اور کے نصیب میں نہیں آنے دیا تھا اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جناب ابوطالب اپنے مومن اور موحد والد کی نگاہ میں ایمان کے اس درجہ پر فائز تھے کہ صرف وہی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سرپرستی کی لیاقت رکھتے تھے.( ۱ )
اب ہم مزید وضاحت کے لئے جناب ابوطالب کے ایمان پر چند واضح دلیلیں پیش کرتے ہیں :
____________________
(۱)زیادہ وضاحت کے لئے ان کتابوں ''سیرہ حلبی'' جلد۱ ص ۱۳۴ طبع مصر اور ''سیرہ ابن ہشام''جلد۱ ص۱۸۹ ،طبع بیروت اور ''ابوطالب مومن قریش'' ص ۱۰۹ طبع بیروت اور'' طبقات کبریٰ''جلد ۱ ص۱۱۷ طبع بیروت کا مطالعہ مفید ہوگا.
جناب ابوطالب کے مومن ہونے کی دلیلیں
۱۔جناب ابوطالب کے علمی اور ادبی آثار
مسلمان مورخین اور علماء نے جناب ابوطالب کے بہت سے بلیغ قصیدے اور متعدد قسم کے علمی و ادبی آثار نقل کئے ہیں جو ان کے محکم ایمان کی دلیل ہیں یہاں ہم ان کثیر آثار میں سے بعض کا تذکرہ کرتے ہیں :
لیعلم خیار الناس أن محمدًا
نبى کموسیٰ والمسیح ابن مریم
اتانا بهدٍ مثل ما أتیا به
فکل بأمر اللّه یهد و یعصم( ۱ )
شریف لوگ یہ جان لیں کہ موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم کی طرح محمد بھی نبی خدا ہیں وہ ہمارے لئے اسی طرح کا پیغام ہدایت لائے ہیں جیسا کہ یہ دو نبی لائے تھے پس سارے نبی ، خدا کے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور گناہوں سے روکتے ہیں
ألم تعلموا أنّا وجدنا محمداً
رسولاً کموسیٰ خط فى أول الکتب
و أن علیه فى العباد محبة
ولا حیف فیمن خصه اللّه بالحب( ۲ )
____________________
(۱)''کتاب الحجة''ص ۵۷ اور اسی کے مثل مستدرک جلد ۲ ص ۶۲۳طبع بیروت میں بھی موجود ہے.
(۲)تاریخ ابن کثیر جلد ۱ ص ۴۲ ،اور شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد۱۴ ص۷۲ (طبع دوم)
کیا تم نہیں جانتے کہ ہم نے موسیٰ کی طرح محمد(ص) کو بھی رسول پایا ہے جن کا ذکر پہلی (آسمانی) کتابوں میں بھی آیا ہے ؟ لوگ ان سے محبت کرتے ہیں اور جس شخص کے دل کو خداوندعالم نے انکی محبت کیلئے چن لیا ہے اس پر افسوس نہ کیا جائے
لقد أکرم اللّه النبّى محمّداً
فأکرم خلق اللّه فى الناس أحمد
و شقّ له من اسمه لیجله
فذوالعرش محمود وهذا محمد( ۱ )
خداوندعالم نے اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مکرم قرار دیا ہے اس اعتبار سے وہ مخلوقات خدا میں سب سے زیادہ مکرم ہیں پروردگار نے ان کے نام کو اپنے نام سے مشتق کیا ہے پس صاحب عرش محمود ہے اور یہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں
واللّه لن یصلوا اِلیک بجمعهم
حتی أوسد ف التراب دفینا
فاصدع بأمرک ما علیک غضاضة
وابشر بذلک و قر منک عیونا
و دعوتن و علمت أنک ناصح
ولقد دعوت وکنت ثم أمینا
ولقد علمت بأنّ دین محمد
من خیر أدیان البریّة دینا( ۲ )
____________________
(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد۱۴ ص ۷۸ طبع دوم، تاریخ ابن عساکر جلد ۱ ص ۲۷۵،تاریخ ابن کثیر جلد ۱ صفحہ ۲۶۶، تاریخ الخمیس جلد۱ ص ۲۵۴.
(۲)خزانہ الادب بغدادی جلد۱ ص ۲۶۱ اور تاریخ ابن کثیر جلد ۳ ص ۴۲ ، اور شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد ۱۴ ص ۵۵ (طبع دوم) اور فتح الباری جلد۷ ص ۱۵۳ .۱۵۵. اور الاصابہ جلد۴ ص ۱۱۶ (طبع مصر) ۱۳۵۸ھ. اور دیوان ابی طالب ص ۱۲.
( اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم )خدا کی قسم ہرگز آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تک نہ پہنچ پائیں گے یہاں تک کہ میں خاک تلے دفن ہوجاؤں پس آپ کو جس چیز کا حکم ملا ہے بے خوف و خطر اس کا اظہار کریں اور بشارت دے کر آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرمائیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دی ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم میرے خیر خواہ ہیں بے شک آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی دعوت میں امانت دار ہیں میں نے یہ جان لیا ہے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دین دنیا کے سارے دینوں سے بہتر ہے.
یا شاهد اللّه علىّ فاشهد
اِنّ علیٰ دین النبّ أحمد
من ضل فى الدین فنّ مهتد( ۱ )
اے خدا کے مجھ پر گواہ آپ گواہی دیجئے کہ میں احمد، رسول خدا کے دین پر ہوں کوئی اپنے دین میں گمراہ ہو تو ہو ،میں تو ہدایت یافتہ ہوں
و:جناب ابوطالب نے اپنی بابرکت زندگی کے آخری ایام میں قریش کے سرداروں کو جمع کر کے ان اشعار کے ذریعہ انہیں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مکمل طور پر حمایت کرنے کی دعوت دی تھی:
أوص بنصر الخیر أربعة
ابن علیًا و شیخ القوم عباسا
و حمزة الأسد الحام حقیقه
وجعفر أن تذودوا دونه الناسا
کونوا فدائً لکم أم وماولدت
فى نصر أحمد دون الناس اتراسا
____________________
(۱)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد ۱۴ ص۷۸ اور دیوان ابوطالب ص ۷۵.
میں چار لوگوں کوسب سے افضل نبی کی مدد کرنے کی تاکید کرتا ہوں اپنے بیٹے علی ، اپنے قبیلے کے بزرگ عباس ، شیر خدا اور مدافع پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم حمزہ اور( اپنے بیٹے )جعفر کو نصیحت کرتا ہوں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمیشہ ناصر و مددگار رہیں اور تم لوگ (میری ماں اور ان کی تمام اولادیں تم سب پر قربان ہوں) احمد کی مدد کے لئے لوگوں کے سامنے سپر بن جانا.( ۱ )
ہر روشن ضمیر اور انصاف پسند شخص ان بلیغ ادبی آثار( جو صراحت کے ساتھ جناب ابوطالب کے خدا اور رسول پر ایمان کامل کی گواہی دے رہے ہیں ) کو دیکھ کر شیعوں کے جناب ابوطالب کے ایمان کے سلسلے میں نظرئیے کو صحیح مان لے گا اور چند سیاسی اہداف کی خاطر بعض مصنفین کی طرف سے مومن قریش ، عم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور صدر اسلام کے سخت حالات میں شریعت کے محافظ جناب ابوطالب پر لگائی جانے والی تہمتوں پر افسوس کرے گا.
۲۔جناب ابوطالب کا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نیک سلوک ان کے ایمان کی علامت ہے.
تمام مشہورمسلمان مورخین نے جناب ابوطالب کی پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سلسلے میں
____________________
(۱)متشابہات القرآن ، (ابن شہر آشوب) سورہ حج کی اس آیت (ولینصرن اللہ من ینصرہ)کی تفسیر سے ماخوذ.
فداکاریوں کو نقل کیا ہے اور یہ چیز جناب ابوطالب کے محکم ایمان کی واضح دلیل ہے کہ جناب ابوطالب نے اسلام کی حمایت اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی حفاظت کے لئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تین سال تک اپنا گھر چھوڑ کر ''شعب ابی طالب'' میں زندگی گزاری تھی اور انہوں نے اپنی اس زندگی کو قبیلہ قریش کی سرداری پر ترجیح دی تھی اور مسلمانوں کی اقتصادی پابندی کے خاتمے تک انتہائی سخت حالات ہونے کے باوجود آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ رہ کر تمام مشکلات کو برداشت کیاتھا.( ۱ )
اس سے بڑھ کر یہ کہ جناب ابوطالب نے اپنے عزیز ترین فرزند حضرت علی ـ کو بھی حضوراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصرت کرنے اور صدر اسلام کی مشکلات میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھ نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا
ابن ابی الحدید معتزلی نے نہج البلاغہ کی شرح میں جناب ابوطالب کے ان جملوں کو نقل کیا ہے جو انہوں نے حضرت علی ـ سے کہے تھے ملاحظہ ہو:
''پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم تمہیں صرف نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں لہذا کبھی ان کا ساتھ نہ چھوڑنا''( ۲ )
____________________
(۱)اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں: ۱۔ سیرہ حلبی جلد ۱ ص ۱۳۴ (طبع دوم مصر) ۲۔تاریخ الخمیس جلد ۱ ص ۲۵۳ اور ۲۵۴ (طبع ۳ بیروت) ۳۔سیرہ ابن ہشام جلد۱ ص ۱۸۹ طبع بیروت.۴۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۴ ص ۵۲ طبع دوم) ۵۔ (تاریخ یعقوبی اول جلد۲ طبع نجف) ۶۔(الاصابہ جلد۴ ص ۱۱۵ طبع مصر) ۷۔طبقات کبریٰ جلد۱ ص۱۱۹طبع بیروت ۱۳۸۰ھ.
(۲)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد۱۴ ص ۵۳طبع دوم.
اس اعتبار سے جناب ابوطالب کی وہ خدمات جو آپ نے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سلسلے میں انجام دی ہیں اور آپ کی اسلام کے دفاع میں بے لوث فداکاریاں آپ کے ایمان کی واضح گواہ ہیں
اسی بنیاد پر عالم اسلام کے بزرگ دانشور (ابن ابی الحدید) نے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت اور دین اسلام کی خدمت کے سلسلے میں جناب ابوطالب کے زندہ کردار سے متعلق یہ اشعار کہے ہیں :
ولولا أبوطالب و ابنه
لما مثّل الدین شخصًا فقاما
فذاک بمکة آویٰ و حام
وهذا بیثرب جسّ الحماما
وما ضرّمجد أب طالب
جهول لغ أو بصیر تعامیٰ( ۱ )
اگر ابوطالب اور ان کے بیٹے( حضرت علی )نہ ہوتے تو ہرگز دین اسلام کو استحکام حاصل نہ ہوتا اابوطالب نے مکہ میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پناہ دی تھی اور ان کی حمایت کی تھی اور ان کے بیٹے نے یثرب میں (پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصرت کے لئے)اپنی جان کی بازیاں لگائی تھیں.
۳۔ابوطالب کی وصیت ان کے ایمان کی گواہ ہے
عالم اسلام کے مشہور مورخین جیسے ''حلبی شافعی''نے اپنی کتاب سیرۂ حلبی میں اور
____________________
(۱)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید)جلد۱۴ ص ۸۴ طبع ۳.
''محمد دیار بکری''نے اپنی کتاب تاریخ الخمیس میں لکھا ہے کہ جناب ابوطالب نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے قبیلے سے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نصرت کے سلسلے میں یہ وصیت کی تھی:
یا معشر قریش کونوا له ولاة، ولحزبه حماة ، واللّه
لایسلک أحد منکم سبیله اِلاّ رشد،ولا یأخذ أحد
بهدیه اِلاّ سعد، ولوکان لنفس مدة ولأجل تأخر لکففت
عنه الهزائز، ولدفعت عنه الدواه، ثم هلک( ۱ )
اے قبیلہ قریش!تم سب مصطفی کے محب اور ان کے ماننے والوں کے حامی و ناصر بن جاؤ خدا کی قسم تم میں سے جو شخص بھی ان کے نقش قدم پر چلے گا وہ ضرور ہدایت پائے گا اور جو کوئی ان سے ہدایت حاصل کرے گا وہ کامیاب ہوجائے گا اگر میری زندگی باقی رہتی اور موت نے مجھے مہلت دی ہوتی تو میں یقینا فتنوں اور سختیوں سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محافظت کرتا اور پھر یہ آخری کلمات کہتے کہتے جناب ابوطالب نے داعی اجل کو لبیک کہا تھا.
۴۔پیغمبر
خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ابوطالب سے محبت ان کے ایمان کی دلیل ہے
پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مختلف موقعوں پر اپنے چچا ابوطالب کا احترام و اکرام کیا ہے اور ان
____________________
(۱)تاریخ الخمیس جلد۱ ص ۳۰۰ اور ۳۰۱، طبع بیروت اور سیرہ حلبی جلد۱ص ۳۹۱(طبع مصر)
سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا ہے یہاں ہم ان میں سے صرف دو کا تذکرہ کرتے ہیں :
الف:بعض مورخین نے اپنی کتابوں میں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی درج ذیل روایت نقل کی ہے جس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب عقیل بن ابی طالب سے مخاطب ہوکر یوں فرمایا ہے:
ان احبک حبّین حبًّا لقرابتک منّ و حبًّا لما کنت أعلم من حبّ عم اِیّاک ( ۱ )
میں تم سے دوہری محبت کرتا ہوںایک تمہاری مجھ سے قریبی رشتے داری کی وجہ سے ہے اور دوسری محبت اس وجہ سے ہے کہ میں جانتا ہوں ابوطالب تم سے بہت محبت کرتے تھے
ب:حلبی نے اپنی کتاب سیرت میں پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ روایت نقل کی ہے جس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب ابوطالب کی تعریف فرمائی ہے :
مانالت قریش منّ شیئًا أکرهه (أ أشد الکراهة)حتی مات أبوطالب .( ۲ )
جب تک ابوطالب زندہ رہے مجھے قریش کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں پہنچا سکے۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ابوطالب سے محبت کرنا اور ان کی خدمات کو سراہنا جناب ابوطالب
____________________
(۱)تاریخ الخمیس جلد۱ ص ۱۶۳(طبع بیروت) الاستیعاب جلد۲ ص۵۰۹
(۲)سیرہ حلبی جلد۱ ص ۳۹۱(طبع مصر).
کے محکم ایمان کی واضح دلیل ہے کیونکہ پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم صرف مومنین ہی سے محبت رکھتے تھے اور مشرکین و کفار سے سخت گیری کرتے تھے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے:
(مُحَمَّد رَسُولُ ﷲِ وَالَّذِینَ مَعَهُ اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْنَهُمْ ...)( ۱ )
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ہیں اور آپس میں انتہائی مہربان ہیں
ایک اورجگہ فرماتا ہے :
(لاَتَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ ﷲ وَرَسُولَهُ وَلَوْ کَانُوا آبَائَهُمْ َوْا َبْنَائَهُمْ َوْ ا ِخْوَانَهُمْ َوْ عَشِیرَتَهُمْ اُوْلٰئِک کَتَبَ فىِ قُلُوبِهِمْ الْاِیمَانَ ... )( ۲ )
آپ کو کبھی ایسے افراد نہیں ملیں گے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے (بھی) ہوں لیکن اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوںسے محبت رکھتے ہوں چاہے وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے.
ان آیات کا جب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ابوطالب سے محبت اور مختلف موقعوں پران کی ستائش سے موازنہ کیا جائے تو اس بات میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ جناب ابوطالب ایمان کے اعلی ترین درجہ پر فائز تھے
____________________
(۱)سورہ فتح آیت:۲۹.
(۲)سورہ مجادلہ آیت: ۲۲.
۵۔حضرت علی ـ اور اصحاب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گواہی
حضرت امیرالمومنین ـ اوراصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب ابوطالب کے محکم ایمان کی گواہی دی ہے ملاحظہ ہو:
الف:جس وقت حضرت امیرالمومنین علی ـ کی خدمت میں ایک شخص نے جناب ابوطالب پر ایک ناروا تہمت لگائی تو حضرت علی ـ کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہوگئے اور آپ نے فرمایا:
مَه ، فضّ اللّه فاک والذ بعث محمّدًا بالحقّ نبیًّا لو شفع أب ف کل مذنب علیٰ وجه الأرض لشفعه اللّه .( ۱ )
چپ رہ! اللہ تیرے منہ کو توڑ دے مجھے قسم ہے اس خدا کی جس نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو برحق نبی قرار دیا ہے اگر میرے والد (ابوطالب)روئے زمین کے سارے گناہ گاروں کی شفاعت کرنا چاہیں تو بھی پروردگار ان کی شفاعت کو قبول کرے گا
ایک اورجگہ فرماتے ہیں :
____________________
(۱)الحجة ص ۲۴.
کان والله ابوطالب عبدمناف بن عبدالمطلب مؤمنًا مسلمًا یکتم اِیمانه مخافة علیٰ بن هاشم أن تنابذها قریش .( ۱ )
خدا کی قسم ابوطالب عبدمناف بن عبدالمطلب مومن اور مسلمان تھے اور اپنے ایمان کوقریش کے کفار سے مخفی رکھتے تھے تاکہ وہ بنی ہاشم کو ستا نہ سکیں.
حضرت علی ـکے یہ ارشادات نہ صرف جناب ابوطالب کے ایمان کی تائید کرتے ہیں بلکہ ان کو ایسے اولیائے خدا کی صف میں کھڑا کردیتے ہیں جو پروردگار عالم کے اذن سے شفاعت کا حق رکھتے ہیں
ب: جناب ابوذر غفاری نے جناب ابوطالب کے بارے میں کہا ہے:
واللّه الذى لااِله اِلا هو ما مات ابوطالبٍ حتیٰ أسلم .( ۲ )
قسم ہے اس خد اکی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ابوطالب اسلام لانے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں
____________________
(۱)الحجة ص ۲۴.
(۲)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد۱۴ ص۷۱(طبع دوم).
ج:عباس بن عبدالمطلب اور ابوبکر بن ابی قحافہ سے بھی بہت سی سندوں کے ساتھ یہ روایت نقل ہوئی ہے :
اِنّ أباطالب مامات حتیٰ قال: لااله الا اللّه محمد رسول اللّه .( ۱ )
بے شک ابوطالب ''لاالہ الا اللّہ محمد رسول اللّہ''کہنے کے بعد دنیا سے رخصت ہوئے ہیں
۶۔ابوطالب اہل بیت کی نگاہ میں
ائمہ معصومین ٪ نے جناب ابوطالب کے ایمان کو صاف لفظوں میں بیان فرمایا ہے اور مختلف موقعوںپر پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فداکار کا دفاع کیا ہے یہاں پر ہم ان میں سے صرف دو نمونوں کا تذکرہ کرتے ہیں :
الف:امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں :
لووضع اِیمان أب طالبٍ ف کفة میزان و اِیمان هذا الخلق ف الکفة الأخری لرجح اِیمانه .( ۲ )
اگر ابوطالب کے ایمان کو ترازو کے ایک پلڑے میں اور تمام مخلوقات کے ایمان کو اس کے دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے
تو ایمان ابوطالب ان کے ایمان سے بھاری ہوگا.
____________________
(۱)الغدیر ، جلد ۷ ص۳۹۸ تفسیر وکیع سے نقل کرتے ہوئے (طبع۳ بیروت ۱۳۷۸ھ).
(۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۴ ص ۶۸ (طبع دوم ) الحجة ص۱۸.
ب:امام جعفرصادق ـ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل فرماتے ہیں :
اِنّ أصحاب الکهف أسرّوا الایمان و أظهروا الکفر فآتاهم اللّه أجرهم مرّتین و اِنّ أباطالب أسرّ الایمان و أظهر الشرک فآتاه اللّه أجره مرتین .( ۱ )
اصحاب کہف (چند مصلحتوں کی وجہ سے) اپنے ایمان کو چھپا کر کفر کا اظہار کرتے تھے تو پروردگار عالم نے انہیں دہرا اجر عطا فرمایا تھا. ابوطالب نے بھی اپنے ایمان کو چھپا کر (کسی مصلحت کی وجہ سے) شرک کا اظہار کیا تو انہیں بھی پروردگارعالم نے دوہرا اجر دیا ہے
گزشتہ دلیلوں کی روشنی میں آفتاب کی طرح واضح و روشن ہوجاتا ہے کہ
جناب ابوطالب درج ذیل بلند مقامات پر فائز تھے:
۱۔خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر محکم ایمان.
۲۔پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بے لوث حامی و ناصر اور راہ اسلام کے فداکار.
۳۔پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بے نظیر محبوب.
۴۔خداوند عالم کے نزدیک عہدۂ شفاعت کے مالک.
____________________
(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۴ ص ۷۰ (طبع دوم )الحجة ص۱۱۵.
اس اعتبار سے ثابت ہوجاتا ہے کہ جناب ابوطالب پر لگائی گئی نسبتیںباطل اور بے بنیاد ہیں .جو کچھ بیان ہوچکا ہے اس سے دو حقیقتیں آشکار ہوجاتی ہیں :
۱۔پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، جناب امیرالمومنین ، ائمہ معصومین٪ اور اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نگاہ میں جناب ابوطالب ایک باایمان شخص تھے.
۲۔جناب ابوطالب پر کفر کا الزام باطل اور بے بنیاد ہے اور ان پر یہ تہمت بنی امیہ اور بنی عباس (جو ہمیشہ سے اہل بیت٪ اور جناب ابوطالب کی اولاد سے جنگ کرتے آئے ہیں ) کے اشاروں پر بعض سیاسی مفادات کے تحت لگائی گئی تھی
اب ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس حدیث کا جائزہ لیں جو ''حدیث ضحضاح''کے نام سے مشہور ہے اور جسے بعض لوگوں نے سند قرار دیتے ہوئے جناب ابوطالب کی شخصیت کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے ہم یہاں قرآنی آیات ، سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم اور عقل کی روشنی میں اس حدیث کے باطل اور بے بنیاد ہونے کے دلائل پیش کریں گے:
حدیث ضحضاح کا تحقیقی جائزہ
بعض مصنفین جیسے بخاری اور مسلم نے ''سفیان بن سعید ثوری'' ''عبدالملک بن عمیر'' ''عبداللہ العزیز بن محمددراوردی'' ''لیث بن سعد'' جیسے راویوں سے نقل کرتے ہوئے ان دو اقوال کو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منسوب کیا ہے:
الف:''وجدته ف غمراتٍ من النار فأخرجته الی ضحضاح'' .
میں نے انہیں آگ کے انبار میں پایا تو انہیں ضحضاح( ۱ ) کی طرف منتقل کردیا۔
ب:''لعلہ تنفعہ شفاعت یوم القیامة فیجعل ف ضحضاح من النار یبلغ کعبیہ یغل منہ دماغہ ''
قیامت کے دن شاید میری شفاعت ابوطالب کے کام آجائے تاکہ انہیں ضحضاح میں ڈال دیا جائے جس کی گہرائی پاؤں کے ٹخنوں تک ہوگی اور جس میں ان کا (معاذاللہ) دماغ کھولے گا( ۲ )
اگرچہ جناب ابوطالب کے ایمان سے متعلق گزشتہ روایات اور دلائل کی روشنی میں اس حدیث ضحضحاح کا باطل اور بے بنیاد ہونا اچھی طرح ثابت ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی اس مسئلے کی وضاحت کیلئے حدیث ضحضاح سے متعلق دو چیزوں کی تحقیق ضروری ہے :
۱۔اس حدیث کے سلسلہ سند کا باطل ہونا
۲۔اس حدیث کے متن کا کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم بر خلاف ہونا
____________________
(۱)''ضحضاح ''ایسے گڑھے کو کہتے ہیں جس کی گہرائی آدمی کے قد سے کچھ کم ہو.
(۲)صحیح بخاری جلد۵ ابواب مناقب باب قصہ ابوطالب ص۵۲ اور جلد ۸ کتاب الادب باب کنیة المشرک ص ۴۶طبع مصر.
حدیث ضحضاح کے سلسلہ سند کا باطل ہونا
ہم نے بیان کیا تھا کہ اس حدیث کے راوی ''سفیان بن سعید ثوری''''عبدالملک بن عمیر'' ''عبدالعزیز بن محمددراوردی'' اور ''لیث بن سعد ''ہیں اب ہم ان راویوں کے سلسلے میں اہل سنت کے علمائے رجال کے نظریات کی تحقیق کریں گے:
الف: ''سفیان بن سعید ثوری''
ابوعبداللہ بن احمد بن عثمان ذھبی کا شمار اہل سنت کے بزرگ مرتبہ علمائے رجا ل میں ہوتا ہے انہوں نے سفیان بن سعید ثوری کے بارے میں یوں کہا ہے:''کان یدلس عن الضعفائ .''( ۱ )
سفیان بن سعید ثوری ضعیف راویوںکی گھڑی ہوئی حدیثیں نقل کرتا تھا.
ذہبی کا یہ کلام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سفیان ثوری ضعیف اور مجہول الحال قسم کے افراد سے حدیثیں نقل کیا کرتا تھا اس اعتبار سے اس کی نقل کی ہوئی حدیثوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے
____________________
(۱)میزان الاعتدال (ذہبی) جلد۲ ص۱۶۹طبع ۱ بیروت ۱۳۸۲ھ.
ب:عبدالملک بن عمیر
اس کے بارے میں ذہبی نے بھی کہا ہے :
طال عمره وساء حفظه ، قال أبوحاتم لیس بحافظ تغیّر حفظه و قال أحمد: ضعیف یخلط و قال ابن معین : مخلط و قال ابن خراش کان شعبة لایرضاه و ذکر الکوسج عن أحمد أنه ضعفه جدًا .( ۱ )
اس کی عمر زیادہ ہوگئی تھی اور اس کا حافظہ کام نہیں کرتا تھا اور اسی طرح ابوحاتم نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ : اس کے اندر حدیثیں حفظ کرنے کی قدرت ختم ہوگئی تھی اور اس کی یاداشت جاتی رہی تھی اسی طرح احمد بن حنبل نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ضعیف تھا صحیح حدیث کو جعلی حدیث سے ملا کر بیان کرتا تھا اور ابن معین نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ وہ صحیح اور غلط حدیثوں کو آپس میں ملا دیا کرتا تھا اورابن خراش نے بھی اس کے بارے میں کہا ہے کہ شعبہ بھی اس سے راضی نہ تھے اور کوسج نے احمد ابن حنبل سے یوں نقل کیا ہے کہ وہ عبدالملک بن عمیر کو نہایت ہی ضعیف قسم کا شخص شمار کرتے تھے.
گذشتہ اقوال کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے ''عبدالملک بن عمیر'' درج ذیل صفات کا مالک تھا:
____________________
(۱)میزان الاعتدال جلد۲ ص۶۶۰(طبع ۱، بیروت)
۱۔اس کا حافظہ ختم ہوگیا تھا اور وہ بھول جاتا تھا
۲۔علم رجال کی اصطلاح میں وہ ایک ضعیف شخص تھا اور اسکی روایات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا.
۳۔بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا شخص تھا.
۴۔صحیح اور غلط کو آپس میں ملا کر بیان کرنے والا شخص تھا۔واضح ہے کہ مذکورہ صفات میں سے صرف ایک صفت بھی عبدالملک بن عمیر کو ضعیف اور ناقابل اعتماد شخص قرار دینے کیلئے کافی تھی جبکہ اسکے اندر تو یہ سارے نقائص جمع تھے.
ج:عبدالعزیز بن محمد دراوردی
اہل سنت کے علمائے رجال نے اسے حافظہ سے بے بہرہ اور بھول جانے والا ایسا شخص قرار دیا ہے کہ جس کی روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا. احمد بن حنبل نے عبدالعزیز بن محمد دراوردی کے بارے میں یہ کہا ہے : اِذا حدّث من حفظہ جاء ببواطیل.( ۱ )
جب بھی وہ اپنے حافظے سے کوئی روایت نقل کرتا ہے تو وہ باطل اور بے ہودہ اقوال سے پر ہوتی ہے
اسی طرح ابوحاتم نے اس کے بارے میں یہ کہا ہے:''لایحتج به'' ( ۲ ) اس کی
____________________
(۱) گذشتہ حوالہ ص۶۳۴.
(۲)گذشتہ حوالہ.
حدیث کے ذیعہ استدلال نہیں کیا جاسکتا .اور ابوزارعہ نے اسکے بارے میں ''سّء الحفظ''یعنی اس کا حافظہ صحیح نہیں تھا جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں( ۱ )
د:لیث بن سعد
اہل سنت کے علمائے رجال کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ راوی جن کے نام ''لیث'' ہیں وہ سب ایسے مجہول الحال یا ضعیف افراد ہیں جن کی نقل کی ہوئی احادیث پر عمل اور اعتماد نہیں کیا جاسکتا( ۲ ) لیث بن سعد بھی انہی ضعیف اور لاپرواہ افراد میں سے تھا جو احادیث کے سننے اور ان کے راویوں سے لینے میں انتہائی لاپرواہی سے کام لیتے تھے.
یحیی بن معین نے ا سکے بارے میں کہا ہے :اِنّه کان یتساهل فى الشیوخ والسماع ( ۳ )
لیث بن سعد، افراد سے حدیث لینے اور سننے میں لاپرواہی کیا کرتا تھا.
''نباتی ''نے بھی اسے ضعیف افراد میں قرار دیا ہے اور اپنی کتاب ''التذلیل علی الکامل'' (جسے انہوں نے ضعیف افراد کی پہچان کے لئے لکھا ہے) میں ''لیث بن سعد''
____________________
(۱)گذشتہ حوالہ ص ۶۳۴.
(۲)میزان الاعتدال جلد۳ ص ۴۲۰تا ۴۲۳ طبع ۱ ،بیروت.
(۳) گذشتہ حوالہ ص ۴۲۳.
کے نام کا بھی ذکر کیا ہے.( ۱ )
اس بیان سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حدیث'' ضحضاح''کے سارے راوی انتہائی ضعیف تھے لہذا ان سے منقول احادیث پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا.
حدیث ضحضاح کا مضمون قرآن و سنت کے خلاف ہے اس حدیث میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب ابوطالب کو(معاذاللہ) آگ کے شعلوں کے انبار سے نکال کر ضحضاح کی طرف منتقل کردیا تھااس اعتبار سے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے عذاب میں کمی کرادی تھی یا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قیامت کے دن ان کے حق میں شفاعت کرنے کی آرزو کی تھی جبکہ قرآن مجید اور سنت نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اعتبار سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عذاب میں کمی کرانے یا شفاعت کرنے کا حق صرف مومنوں اور مسلمانوں سے ہی مخصوص ہے لہذا اگر (معاذاللہ) جناب ابوطالب کافر ہوتے تو ہرگز پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے عذاب میں کمی یا ان کی شفاعت کی آرزو نہ کرتے اس اعتبار سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ (حدیث ضحضاح) کا مضمون باطل اور بے بنیاد ہے اب
ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلے کی چند واضح دلیلیں پیش کرتے ہیں :
الف: قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے:
(وَالَّذِینَ کَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لاَیُقْضَی عَلَیْهِمْ فَیَمُوتُوا وَلاَیُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا کَذٰلِکَ
____________________
(۱)شیخ الابطح ص۷۵ اور میزان الاعتدال جلد۳ ص۴۲۳.
نَجْزِ کُلَّ کَفُورٍ )( ۱ )
اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کیلئے جہنم کی آگ ہے نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ہی انکے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائی گی ہم اسی طرح ہر کفر کرنے والے کو سزا دیا کرتے ہیں
ب:سنت نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں بھی کفار کے حق میں شفاعت کی نفی کی گئی ہے: ابوذر غفاری نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ روایت نقل کی ہے :
أعطیت الشفاعة وھ نائلة من أُمت مَن لایشرک باللّہ شیئًا.
مجھے شفاعت کرنے کا حق دیا گیا ہے اور وہ میری امت کے ایسے افراد کے لئے ہوگی جنہوں نے خداوندعالم کے سلسلے میں شرک نہ کیاہو.
لہذا حدیث ضحضاح کا مضمون باطل ، بے بنیاد اور قرآن و سنت کے اصولوں کے خلاف ہے.
نتیجہ
اس بیان کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث ضحضاح سند و متن کے اعتبار
سے ناقابل عمل روایت ہے. اس طرح جناب ابوطالب کی باایمان شخصیت کو داغدار کرنے والی مہمل روایت باطل ہوجاتی ہے اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حامی و ناصر جناب ابوطالب کا ایمان محکم طریقہ سے ثابت ہوجاتا ہے۔
____________________
(۱)سورہ فاطر آیت : ۳۶.
تیسواں سوال
کیا شیعوں کی نظر میں جبرئیل ـ نے منصب رسالت کے پہنچانے میں خیانت کی ہے اور کیا یہ صحیح ہے کہ انہوں نے حضرت علی ـکے بجائے قرآن مجید کو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل کیا ہے؟
جواب: بعض جاہل اور خود غرض افراد نے شیعوں پر یہ تہمت لگائی ہے .اس مسئلے کے جواب سے پہلے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس سوال کے پیداہونے کا اصلی سبب بیان کردیں:
اس تہمت کا اصلی سبب
قرآنی آیات اور احادیث نبوی کے مطابق یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت جبرئیل ـ نے رسالت کے پہنچانے میں خیانت کی ہے کیونکہ خداوندعالم نے انہیں حکم دیا تھا کہ منصب نبوت کو خاندان اسرائیل میں قراردیں لیکن انہوں نے پروردگار عالم کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منصب نبوت کو اولاد اسماعیل میں قرار دے دیا
اسی بنیاد پر یہودی جناب جبرئیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں( ۱ )
اور ان کے بارے میں ہمیشہ ''خان الامین'' ''جبرائیل نے خیانت کی'' کا جملہ استعمال کرتے ہیں اسی وجہ سے قرآن مجید نے ان پر اعتراض کیا ہے اور ان کے نظرئیے کو باطل قرار دیتے ہوئے مندرجہ ذیل آیت میں جناب جبرئیل کو فرشتہ ''امین'' کے نام سے یاد کیا ہے:
(نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْاَمِینُ ة عَلیٰ قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنْ الْمُنذِرِینَ )( ۲ )
اس( قرآن مجید)کو روح الامین (جبرائیل) لے کر نازل ہوئے ہیں یہ آپ کے قلب پر نازل ہوا ہے تاکہ آپ لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں.
ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
(قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَاِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَی قَلْبِکَ بِاِذْنِ ﷲِ )( ۳ )
____________________
(۱)تفسیر فخررازی جلد۱ ص ۴۳۶ اور ۴۳۷ طبع مصر ۱۳۰۸ھ.
(۲)سورہ شعراء آیت: ۱۹۴.
(۳)سورہ بقرہ آیت: ۹۳۔۱۹۴.
آپ کہہ دیجئے: جو کوئی جبرئیل کا دشمن ہے وہ یہ جان لے کہ اس نے تو اس قرآن کو حکم خدا سے آپ کے قلب پر نازل کیا ہے.
اگر ان آیات کی تفسیر کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ قوم یہود چند وجوہات کی بنا پر جناب جبرئیل کو اپنا دشمن شمار کرتے ہوئے انہیں فرشتۂ عذاب اور رسالت پہنچانے میں خیانت کرنے والا تصور کرتی تھی لہذا اس کلمے ''خان الامین'' کا سرچشمہ قوم یہود کا عقیدہ ہے اور بعض جاہل مصنفین نے شیعوں سے اپنی پرانی دشمنی کے نتیجے میں بے انصافی سے کام لیتے ہوئے یہودیوں کے اس جملے کو شیعہ قوم سے منسوب کردیا ہے.
شیعوں کی نگاہ میں منصب نبوت
شیعہ ،قرآن وسنت کی پیروی اور ائمہ معصومین ٪ کی روایات کی روشنی میں نہ صرف یہ کہ حضرت محمد بن عبداللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم خدا سے ساری دنیا کے لئے نبی برحق سمجھتے ہیں بلکہ وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو آخری نبی اور سید المرسلین بھی مانتے ہیں
شیعوں کے پہلے امام حضرت علی بن ابی طالب ـ اپنے اس گہربار کلام میں اس حقیقت کی یوں گواہی دیتے ہیں :
وأشهد أن لااله الا اللّه وحده لاشریک و أشهد أن محمّدًا عبده و رسوله خاتم النبیّین و حجة اللّه علیٰ العالمین .( ۱ )
میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں ہے سوائے اس خدائے واحد کے جس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد خدا کے بندے اس کے رسول ، خاتم الانبیاء اور سب جہانوں پر خدا کی حجت ہیں
امام جعفرصادق ـ نیز فرماتے ہیں :
''لم یبعث اللّه عزّوجلّ من العرب اِلا خمسة أنبیاء هودًا و صالحًا و اسماعیل و شعیبًا و محمدًا خاتم النبیّین صلىاللهعليهوآلهوسلم '.'( ۲ )
خداوندعالم نے پانچ انبیاء کو قوم عرب میں سے مبعوث فرمایا ہے : حضرت ہود، حضرت صالح ، حضرت اسماعیل ،حضرت شعیب اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم .
یہ حدیث بخوبی شیعوں پر لگائی گئی نسبت کو باطل کردیتی ہے اور حضرت محمدبن عبداللہ کو خدا کے آخری نبی کی حیثیت سے پہچنواتی ہے( ۳ )
____________________
(۱)نہج السعادة جلد۱ ص ۱۸۸ طبع بیروت اور کافی جلد ۸صفحہ ۶۷طبع ۲ تہران.
(۲)بحار الانوار جلد۱۱ ص ۴۲ طبع ۲ بیروت ۱۴۰۳ھ
(۳)پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خاتمیت کے سلسلے میں زیادہ روایات سے آگاہی کے لئے استاد جعفر سبحانی کی کتاب ''مفاہیم القرآن'' کا مطالعہ فرمائیں.
اسی بنیاد پر تمام شیعہ جناب جبرئیل کو رسالت پہنچانے میں امین سمجھتے ہیں اوراسی طرح ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد بن عبداللہصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے آخری اور برحق نبی تھے اور حضرت علی بن ابی طالب ـ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی وصی اور جانشین تھے۔
یہاں پر ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی درج ذیل حدیث پیش کریں جس کے صحیح ہونے پر شیعہ اور سنی دونوں اتفاق نظر رکھتے ہیں اور دونوں ہی فرقوں کے محدثین نے اس حدیث کو اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے یہ حدیث ''حدیث منزلت'' کے نام سے مشہور ہے اس حدیث میں آپ نے اپنی رسالت کی خاتمیت بیان کرنے کے بعد حضرت علی ـ کو اپنا وصی اور جانشین معین فرمایاہے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے:
أما ترضیٰ أن تکون منّى بمنزلة هارون من موسیٰ الا اِنّه لانبّى بعد ( ۱ )
____________________
(۱)اس حدیث کے بے شمار ماخذ موجود ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں :
۱۔صحیح بخاری جلد۶ ص۳ باب غزوہ تبوک (طبع مصر)
۲۔صحیح مسلم جلد۷ ص ۱۲۰ باب فضائل علی (طبع مصر)
۳۔سنن ابن ماجہ جلد۱ ص۵۵ باب فضائل اصحاب النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم (طبع اول مصر)
۴۔مستدرک حاکم جلد۳ ص ۱۰۹ (طبع بیروت)
۵۔مسند احمد جلد۱ ص ۱۷۰، ۱۷۷، ۱۷۹، ۱۸۲، ۱۸۴، ۱۸۵ اور جلد ۳ میں ص ۳۲
۶۔صحیح ترمذی جلد۵ ص۲۱ باب مناقب علی بن ابی طالب (طبع بیروت)
۷۔مناقب ابن مغازلی ص ۲۷ طبع بیروت ۱۴۰۳ھ
۸۔بحارالانوار جلد ۳۷ ص ۲۵۴ طبع ۲ بیروت ۱۴۰۳ھ
۹۔معانی الاخبار (شیخ الصدوق) ص۷۴ طبع بیروت ۱۳۹۹ھ
۱۰۔کنزالفوائد جلد۲ ص ۱۶۸ طبع بیروت ۱۴۰۵ھ
(اے علی )کیاتم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تمہاری نسبت مجھ سے ویسی ہی ہے جیسی ہارون کو موسیٰ سے تھی صرف یہ (فرق ہے) کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا.
یہ حدیث جو کہ سند کے اعتبار سے شیعہ و سنی محدثین کی نظر میں معتبر ہے شیعوں کے درج ذیل دو نظریوں کی واضح دلیل ہے:
۱۔حضرت محمد بن عبداللہصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے آخری نبی ہیں
۲۔حضرت علی بن ابی طالبـ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جانشین اور بلافصل خلیفہ ہیں ۔
اکتیسواں سوال
تقیہ کا معیارکیا ہے؟
جواب:دشمنوں کے مقابلے میں دنیاوی اور دینی نقصانات سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے باطنی عقیدے اور ایمان کو چھپانے کا نام تقیہ ہے تقیہ ہر مسلمان شخص کا ایک ایسا شرعی فریضہ ہے جس کا سرچشمہ قرآنی آیات ہیں :
قرآن کی نگاہ میں تقیہ
قرآن مجید میں تقیہ سے متعلق بہت سی آیات ہیں ان میں سے یہاں ہم بعض کا ذکر کرتے ہیں :
(لایَتَّخِذْ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِینَ َوْلِیَائَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَلَیْسَ مِنَ ﷲِ فى شَْئٍ اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً )( ۱ )
____________________
(۱)سورہ آل عمران آیت: ۲۸.
مومنوں کو چاہیے کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں ہے
یہ آیت بخوبی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر جان خطرہ میں ہو تو تقیہ کرتے ہوئے ان سے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کیا جاسکتا ہے.
ب:(مَنْ کَفَرَ بِاﷲِ مِنْ بَعْدِ ِیمَانِهِا ِلاَّ مَنْ ُاکْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنّ بِالْاِیمَانِ وَلٰکِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَب مِنْ ﷲِ وَلَهُمْ عَذَاب عَظِیم )( ۱ )
جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کر لے سوائے اس کے جسے کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں ہے)لیکن وہ شخص جس کے سینہ میں کفر کے لئے کافی جگہ پائی جاتی ہو اس کے اوپر خد ا کا غضب ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے
مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں یہ لکھا ہے :ایک دن کفار نے جناب عمار ابن یاسر کو ان کے ماں باپ کے ہمراہ گرفتار کرلیا اور ان سے کہنے لگے کہ اسلام کو
____________________
(۱)سورہ نحل آیت: ۱۰۶
چھوڑ کر کفر و شرک اختیار کرلو تو عماربن یاسر کے ہمراہ افراد نے ان کے جواب میں توحید و رسالت کی گواہیاں دینا شروع کردیں جس پر کفار نے ان میں سے بعض کو شہید کرڈالا اور بعض پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھانے لگے اس وقت جناب عمار نے اپنے باطنی عقیدے کے برخلاف تقیہ اختیار کرکے ظاہری طور پر کفر کے کلمات کو اپنی زبان پر جاری کیا تو کفار نے انہیں چھوڑ دیا پھر اسکے بعد جناب عمار انتہائی پریشانی کے عالم میں رسول خدا کی خدمت میں پہنچے تو آنحضرت نے انہیں تسلی دی اور پھر اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی.(۱)
اس آیت اور اس کی تفسیر سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں اصحاب بھی جان ومال کی حفاظت کے لئے اپنے باطنی عقیدے کو چھپا کر تقیہ کرتے تھے.
تقیہ شیعوں کی نگاہ میں
بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم حکمران ہمیشہ شیعوں سے برسرپیکار رہے ہیں اور انہوں نے شیعوں کے قتل عام میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے( ۲ )
اس بنا پر اس زمانے میں شیعوں نے قرآن مجید کے حکم کے مطابق انتہائی سخت حالات میں اپنے سچے عقائد چھپا کر اپنی اور دوسرے مسلمان بھائیوں کی جانیں محفوظ کی تھیںواضح ہے کہ اس ظلم و ستم کی فضا میں شیعوں کے لئے تقیہ کے علاوہ کوئی ایسا چارۂ کار نہیں تھا جو شیعوں کو نابودی سے بچاتالہذا اگر وہ ظالم حکام، شیعوں کے دشمن نہ ہوتے اور شیعوں کا بے گناہ قتل عام نہ کرتے تو ہر گز شیعہ تقیہ اختیار نہ کرتے یہاں پر اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ تقیہ صرف شیعوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی جب اپنے ایسے دشمنوں کے مقابلے میں قرار پاتے ہیں جو مسلمانوں کے تمام فرقوں کے دشمن ہیں (جیسے کہ خوارج اور وہ ظالم حکومتیں جو ہر حرام کام کو جائز سمجھتی ہیں )اور ان سے مقابلہ کی طاقت بھی نہیں ہوتی تو وہ اپنی جان کی حفاظت کی خاطر تقیہ کا سہارالیتے ہیں اس بنیاد پر اگر اسلامی معاشرے کے تمام افراد اپنے فقہی مذاہب میں اتفاق رائے رکھتے ہوئے وحدت واخوت کی زندگی گزارنا شروع کردیں تو پھر ہرگز انھیں تقیہ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی.
____________________
(۱)اس سلسلے میں جلال الدین سیوطی کی تفسیر در المنثور جلد۴ ص۱۳۱ (طبع بیروت) کا مطالعہ کیجئے.
(۲)بنی امیہ اور بنی عباس کے حکام کے حکم پر شیعوں کے بے رحمانہ قتل عام کے سلسلے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے ان کتابوں''مقاتل الطالبین''(مصنفہ ابوالفرج اصفہانی) ''شہداء الفضیلة(مصنفہ علامہ امینی)''، ''الشیعہ والحاکمون''(مصنفہ محمد جواد مغنیہ)کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا.
نتیجہ
گزشتہ بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ:
۱۔تقیہ کی اساس قرآن مجید پر ہے اور صدر اسلام میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب بھی تقیہ کر تے تھے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے اس عمل کی تائید فرماتے تھے یہ سب تقیہ کے جائز ہونے کی دلیلیں ہیں
۲۔شیعہ اپنے مذہب کو بچانے اور دشمنوں کے سفاکانہ قتل عام سے محفوظ رہنے کے لئے تقیہ کرتے تھے
۳۔تقیہ صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی تقیہ کرتے ہیں
۴۔تقیہ کرنا اور اپنے باطنی عقائد چھپانا صرف کفار کے مقابلے میں ہی انجام نہیں پاتا بلکہ تقیہ کا معیار (مسلمانوں کی جان بچانا) عمومیت رکھتا ہے اور ہر ایسے ظالم دشمن کے سامنے کہ جس کے ساتھ مقابلے کی قدرت نہ ہو یا اس سے جہاد کرنے کے شرائط پورے نہ ہورہے ہوں تقیہ ضروری ہوجاتا ہے
۵۔اگر مسلمانوں میں مکمل وحدت اور ہم فکری پیدا ہوجائے تو ہرگز ان کے درمیان تقیہ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی.
بتیسواں سوال
ایران کے بنیادی قانون میں کیوں جعفری مذہب (شیعہ اثناعشری) کو حکومت کا مذہب قرار دیا گیا ہے؟
جواب:اس میں شک نہیں کہ جمہوری اسلامی ایران کے بنیادی قانون کی نظر میں تمام اسلامی مذاہب محترم و معزز شمار کئے جاتے ہیں لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ اسلامی و فقہی مذاہب (:جیسے جعفری، مالکی، شافعی، حنبلی ، حنفی و...) کے ماننے والے اپنے فردی اور اجتماعی احکام میں یکساں اور متحد نہیں ہیں اور ان کے درمیان بہت سے اختلافات دکھائی دیتے ہیں دوسری طرف سے ایک معاشرے کے قوانین و حقوق کا آپس میں منظم اور یک رنگ ہونا وقت کی شدید ترین ضرورت ہے اس اعتبار سے واضح ہے کہ ہر سرزمین پر ان مذاہب میں سے صرف ایک مذہب ہی اجتماعی قوانین کو نافذ کرسکتا ہے اس لئے کہ قانون گزاروں کے مختلف ہونے سے کبھی بھی ایک جیسے اور یکساں قوانین نہیں بنائے جاسکتے اس بنیاد پر یہ ضروری ہے کہ ہر معاشرے میں اسلامی اور فقہی مذاہب میں سے صرف ایک مذہب ہی باضابطہ طور پراجتماعی قوانین کا ماخذ قرار پائے تاکہ اس مملکت کے قوانین و ضوابط میں کسی طرح کی دو روئی اور بدنظمی پیدا نہ ہونے پائے اور فردی و اجتماعی امور میں منظم اور یکساں قوانین و ضوابط بنانے کا زمینہ ہموار ہوسکے
جعفری مذہب کی تعیین کا معیار
گزشتہ وضاحت کے بعد اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے کس معیار کے تحت تمام مذاہب میں سے صرف جعفری مذہب کو ملک کے قوانین و ضوابط کا ماخذ قرار دیا ہے؟
اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے چونکہ ایران میں عوام کی اکثریت ایسے مسلمانوں کی ہے جو جعفری مذہب کو مانتے ہیں لہذا اس ملک کے بنیادی قوانین میں جعفری مذہب کو ملک کا رسمی مذہب قرار دیا گیا جو کہ ایک فطری امر ہے اور تمام منطقی اور حقوقی ضابطوں سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے.
ایران میں دوسرے اسلامی مذاہب کا درجہ
اگرچہ ایران کے بنیادی قوانین میں جعفری مذہب کو ملک کا رسمی مذہب قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس اسلامی مملکت میں دوسرے اسلامی مذاہب (جیسے شافعی، حنبلی ،حنفی، مالکی، اور زیدی کو) نہ صرف محترم شمار کیا گیا ہے بلکہ ان مذاہب کے ماننے والوں کو درج ذیل امور میں اپنی فقہ پر عمل کرنے میں مکمل اختیار بھی دیا گیا ہے:
۱۔اپنے مذہبی مراسم کے انجام دینے میں
۲۔اپنی دینی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں
۳۔اپنے ذاتی اور شخصی کاموں کو انجام دینے میں
۴۔اپنے مذہب کے خصوصی قوانین و ضوابط میں (جیسے نکاح، طلاق، میراث، وصیت وغیرہ).
اس کے علاوہ اگر کسی علاقے میں مذکورہ مذاہب میں سے کسی مذہب کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہوگی وہاں کے قونصل خانوں میں ان کے لئے ان کے مذہب کے مطابق قوانین و ضوابط وضع کئے جائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں گے
یہاں پر اس موضوع کی مزید وضاحت کے لئے ہم ایران کے بنیادی قانون کی بارہویں اصل کو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :
''ایران کا رسمی دین اسلام اور مذہب جعفری اثنا عشری ہے یہ ہمیشہ رہے گا اور ناقابل تبدیل ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ دوسرے مذہبوں. جیسے شافعی، حنبلی ،حنفی، مالکی، اور زیدی مذاہب کے ماننے والے بھی مکمل طور پر محترم شمار کئے جائیں گے '' اور ان مذاہب کے پیرو اپنی فقہ کے مطابق اپنے مذہبی رسومات کے انجام دینے میں آزاد ہوں گے اور اسی طرح وہ اپنی دینی تعلیم و تربیت اور اپنے ذاتی مسائل جیسے نکاح ،طلاق ، میراث،وصیت،لڑائی جھگڑوں کے مسائل اور عدالتوں میں مقدموں کے سلسلے میں رسمی طور پر اپنے مذہب کی فقہ پر عمل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور جس جگہ بھی مذکورہ مذاہب میں سے کسی ایک مذہب کے پیرو اکثریت میں ہوں گے اس جگہ کے علاقائی قوانین ان کے مذہب کے مطابق ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق بھی محفوظ ہوں گے ایران کے قانون اساسی کی اس بارہویں اصل کی روشنی میں تمام اسلامی مذاہب کا احترام روشن ہوجاتا ہے ۔
تینتیسواں سوال
کیا شیعہ نماز وتر کو واجب سمجھتے ہیں ؟
جواب:نوافل شب میں سے ایک نماز وتر بھی ہے جس کا پڑھنا اسلام کے ماننے والوں اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی پیروی کرنے والوں کے لئے مستحب ہے لیکن شیعہ فقہاء نے کتاب و سنت کی روشنی میں چند امور کو پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خصوصیات میں سے قرار دیا ہے ان ہی میں سے ایک حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اس نماز کا واجب ہونا بھی ہے
چنانچہ علامہ حلی نے اپنی کتاب ''تذکرة الفقہائ'' میں تقریباً ستر چیزوں کو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خصوصیات میں شمار کیا ہے اور انہوں نے اپنے کلام کے آغاز ہی میں یہ کہا ہے:
''فأمّا الواجبات علیه دون غیره من أمّته أمور: الف : السواک ،ب: الوتر، ج: الأضحیه، رو عنه صلىاللهعليهوآلهوسلم أنه قال : ثلاث کتب علّ ولم تکتب علیکم : السواک والوتر والأضحیّة ... ''( ۱ )
____________________
(۱)تذکرة الفقہاء جلد۲ کتاب النکاح مقدمہ چہارم۔
وہ چیزیں جو صرف پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم پر واجب ہیں اور ان کی امت کے لئے واجب نہیں ہیں وہ یہ ہیں :الف :مسواک کرنا،ب:نماز وتر پڑھنا، ج: قربانی کرنا،.
رسول خدا سے نقل ہوا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایاہے : تین چیزیں میرے اوپر واجب کی گئی ہیں لیکن تم لوگوں پر واجب نہیں ہیں اور وہ ہیں مسواک کرنا ، نماز وتر پڑھنا اور قربانی کرنا ''اس بنیاد پر نماز وتر شیعوں کی نظر میں صرف رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر واجب ہے اور دوسروں کے لئے اس کا پڑھنا مستحب ہے.
چونتیسواں سوال
کیا اولیائے خدا کی غیبی طاقت پر عقیدہ رکھنا شرک ہے؟
جواب: یہ بات واضح ہے کہ جب کبھی کوئی شخص دوسرے سے کسی کام کی درخواست کرتا ہے تو وہ اس شخص کو اس کام کے انجام دینے میں اپنے سے قوی اور طاقتور سمجھتا ہے اور یہ طاقت دو قسم کی ہوتی ہے :
۱۔کبھی یہ قدرت مادی اور فطری ہوتی ہے جیسے ہم کسی شخص سے کہیں مجھے ایک گلاس پانی لادو
۲۔بعض اوقات یہ طاقت مادی اور فطری نہیں ہوتی بلکہ غیبی صورت میں ہوتی ہے جیسے کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ خدا کے کچھ نیک بندے جناب عیسیٰ کی طرح لاعلاج مرض سے شفا عطا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور مسیحائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شدید قسم کے مریض کو بھی نجات عطا کرتے ہیں یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کی غیبی طاقتوں پر انہیں خدا کے ارادے اور قدرت کا محتاج سمجھ کر عقیدہ رکھنا فطری و مادی قدرتوں پر عقیدہ رکھنے کی طرح ہے اور یہ ہرگز شرک قرار نہیں پاسکتا اس لئے کہ خداوندعالم ہی نے یہ مادی اور فطری طاقتیں انسان کو عطا کی ہیں اور اسی نے غیبی طاقتوں کو اپنے نیک بندوں کو عنایت فرمایا ہے
یہاں پر ہم اس جواب کی مزید وضاحت کرنے کے لئے یہ کہیں گے کہ اولیائے خدا کی غیبی قدرت و طاقت پر دو طرح سے عقیدہ رکھا جاسکتا ہے :
۱۔کسی شخص کی غیبی قدرت پر اس طرح عقیدہ رکھا جائے کہ اسے اپنی اس طاقت میں مستقل اوراصل سمجھیں اور خدائی امور کو مستقل طور پر اس کی طرف نسبت دینے لگیں اس صورت میں شک نہیں کہ یہ عقیدہ شرک شمار ہوگا کیونکہ اس طرح ہم نے غیر خدا کو طاقت میں مستقل سمجھ کر خدائی امور کو غیر خدا کی طرف منسوب کردیا ہے جب کہ یہ طے ہے کہ پروردگار عالم کی لامتناہی طاقت و قدرت ہی سے تمام طاقتوں اور قدرتوں کاسرچشمہ بناہے
۲۔خدا کے نیک اور باایمان بندوں کی غیبی طاقت پر اس طرح اعتقاد رکھیں کہ انہوں نے اپنی یہ قدرت پروردگار عالم کی لامحدود قدرت سے حاصل کی ہے اور درحقیقت ان قدرتوں کو حاصل کرنے کا سبب یہ ہے کہ ان کے ذریعے خدا کی لامحدود قدرت کا اظہار کیا جاسکے اور وہ خود اپنی ذات میں کسی طرح کا استقلال نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ اپنی ہستی اور اپنی غیبی قدرت کے استعمال میں پوری طرح ذات پروردگار پر منحصر ہیں
واضح ہے کہ اس طرح کا عقیدہ اولیائے الہی کو خدا سمجھنے یا ان کی طرف خدائی امور کی نسبت دینے کی طرح نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں پروردگار عالم کے نیک بندے اس کی اجازت اور ارادے سے اس کی عطا کردہ غیبی طاقت کا اظہا ر کرتے ہیں قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے:
(وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ اَنْ یَاْتِىَ بِآیَةٍ ِالاَّ بِاِذْنِ ﷲِ )( ۱ )
اور کسی رسول کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی نشانی لے آئے.
اس بیان کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ ایسا عقیدہ باعث شرک قرار نہیں پائے گا بلکہ توحید و یکتا پرستی سے مکمل طورپر مطابقت رکھنے والا عقیدہ نظر آئے گا.
قرآن مجید کی نظر میں اولیائے الہی کی غیبی طاقت
مسلمانوں کی آسمانی کتاب نے وضاحت کے ساتھ پروردگار عالم کے ان نیک بندوں کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے پروردگار عالم کی اجازت سے اپنی حیرت انگیز قدرت کا مظاہرہ کیا تھا اس سلسلے میں قرآن مجید کے بعض جملے ملاحظہ ہوں:
____________________
(۱)سورہ رعد آیت : ۳۸
۱۔حضرت موسیٰ کی غیبی طاقت
خداوندعالم نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ اپنے عصا کو پتھر پر ماریں تاکہ اس
سے پانی کے چشمے جاری ہوجائیں:
(وَاِذْ اسْتَسْقَی مُوسَی لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا )( ۱ )
اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے کہا : اپنا عصا پتھر پر مارو جس کے نتیجے میں اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے.
حضرت عیسیٰ کی غیبی طاقت
قرآن مجید میں مختلف اور متعدد مقامات پر حضرت عیسیٰ کی غیبی قدرت کا تذکرہ ہوا ہے ہم ان میں سے بعض کو یہاں پیش کرتے ہیں :
(اَنِّى اخْلُقُ لَکُمْ مِنْ الطِّینِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنفُخُ فِیهِ فَیَکُونُ طَیْرًا بِاِذْنِ ﷲِ وَاُبْرِئُ الْاَکْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتَیٰ بِاِذْنِ ﷲِ )( ۲ )
(حضرت عیسیٰ نے فرمایا)میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل کا مجسمہ بناؤں گا اور اس میں پھونک ماروںگا تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جائے گا اور میں پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کا علاج کروں گا اور خدا کے حکم سے مردوں کو زندہ کروں گا.
____________________
(۱)سورہ بقرہ آیت: ۶۰
(۲)سورہ آل عمران آیت : ۴۹
حضرت سلیمان کی غیبی طاقت
حضرت سلیمان کی غیبی طاقتوں کے سلسلے میں قرآن مجیدیہ فرماتا ہے:
(وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ یَاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّیْرِ وَاُوتِینَا مِنْ کُلِّ شَْئٍ اِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِینُ )( ۱ )
اور سلیمان، داؤد کے وارث بنے اور انہوں نے کہااے لوگو! ہمیں پرندوں کی زبان کا علم دیا گیا ہے اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں عنایت کی گئی ہیں بے شک یہ تو ایک نمایاں فضل ہے.
اس میں شک نہیں ہے کہ اس قسم کے کام جیسے حضرت موسیٰ کا سخت پتھر پر عصا مار کر پانی کے چشمے جاری کردینا حضرت عیسیٰ کا گیلی مٹی سے پرندوں کا خلق کردینا اور لاعلاج مریضوں کو شفا عطا کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا حضرت سلیمان کا پرندوں کی زبان سمجھنا یہ سب نظام فطرت کے خلاف شمار ہوتے ہیں اور درحقیقت انبیائے الہی نے اپنے ان کاموں کو اپنی غیبی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے انجام دیا ہے
جب قرآن مجید نے اپنی آیات میں بیان کیا ہے کہ خداوندعالم کے نیک بندےغیبی طاقت رکھتے ہیں تو اب کیا ان آیات کے مضامین پر عقیدہ رکھنا شرک یا بدعت شمار کیا جاسکتا ہے؟ان بیانات کی روشنی میں بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ خدا کے نیک بندوں کی غیبی قدرتوں پر عقیدہ رکھنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انہیں خدا مانا جائے یا ان کی طرف خدائی امور کی نسبت دی جائے اس لئے کہ ان کے بارے میں اس قسم کے عقیدہ سے ان کی خدائی لازم آتی ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ اور حضرت سلیمان وغیرہ قرآن کی نظر میں خدا شمار ہونگے جب کہ سب مسلمان یہ جانتے ہیں کہ کتاب الہٰی کی نگاہ میں اولیائے الہی صرف خد اکے نیک بندوں کی حیثیت رکھتے ہیں یہاں تک کی گفتگو سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اولیائے الہی کی غیبی طاقت کے سلسلے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ انہیں یہ قدرت پروردگار کی لامحدود قدرت ہی سے حاصل ہوئی ہے اور درحقیقت ان کی اس قدرت کے ذریعے پروردگار عالم کی لامحدود قدرت کا اظہار ہوتا ہے تو اس صورت میں ہمارے یہ عقائد باعث شرک قرار نہیں پائیں گے بلکہ عقیدہ توحید کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نظر آئیں گے کیونکہ توحید اور یکتا پرستی کا معیار یہ ہے کہ ہم دنیا کی تمام قدرتوں کو خدا کی طرف پلٹائیں اور اسی کی ذات کو تمام قدرتوں اور جنبشوں کا سرچشمہ قرار دیں ۔
____________________
(۱)سورہ نمل آیت :۱۶
پینتیسواں سوال
کیوں منصب امامت منصب رسالت سے افضل ہے؟
جواب:اس سوال کے جواب کے لئے سب سے پہلے ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں ان تین لفظوں نبوت، رسالت اور امامت کی وضاحت پیش کریں گے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ منصب امامت ان دو منصبوں سے افضل ہے.
۱۔منصب نبوت
لفظ نبی کو''نبأ'' سے اخذ کیا گیا ہے جس سے مراد ''اہم خبر''ہے اس اعتبار سے نبی کے لغوی معنی ہیں وہ شخص جس کے پاس کوئی اہم خبر ہو یا وہ اس خبر کو پہنچانے والا ہو.( ۱ )
قرآن کی اصطلاح میں بھی ''نبی'' ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو خداوندعالم سے مختلف طریقوں سے وحی حاصل کرتا ہو اور کسی بشر کے واسطے کے بغیر خد اکی طرف سے خبر دیتا ہو علماء نے نبی کی یہ تعریف کی ہے:
____________________
(۱)اگر نبی صیغۂ لازم ہو گا تو پہلے معنی میں ہوگا اور اگر متعدی ہوگا تو دوسرے معنی میں ہوگا.
اِنّه مؤدٍ من اللّه بلاواسطة من البشر ( ۱ )
نبی ایسا شخص ہے جو کسی بشر کے واسطے کے بغیر خدا کی طرف سے پیغام پہنچاتا ہے
اس بنیاد پر ''نبی '' کاکا م صرف یہ ہے کہ پروردگار عالم سے وحی حاصل کرے اوراس پر جوالہام ہوا ہے اسے لوگوں تک پہنچادے اوربس. قرآن مجید اس سلسلے میں یہ فرماتا ہے:
(فبعث اللّه النبیّین مبشرین و منذرین )( ۲ )
پھر اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے
۲۔منصب رسالت
وحی الٰہی کی اصطلاح میں رسول ان پیغمبروں کو کہا جاتا ہے جو خدا سے وحی لینے اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے علاوہ خدا کی طرف سے اس کی شریعت کو بیان کرنے اور اپنی رسالت کے اعلان کرنے کی اجازت بھی رکھتے ہوں قرآن مجید اس سلسلے میں یہ فرماتا ہے:
(فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اَنَّمَا عَلیٰ رَسُولِنَا الْبَلاغُ الْمُبِینُ )( ۳ )
____________________
(۱)رسائل العشر (مصنفہ شیخ طوسی )ص ۱۱۱.
(۲)سورہ بقرہ آیت: ۲۱۳.
(۳)سورہ مائدہ آیت ۹۲.
پھر اگر تم نے منہ پھیر لیا تو جان لو ہمارے رسول کی ذمہ داری تو بس واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے.
لہذا منصب رسالت ایک ایسا منصب ہے جو نبی کو عطا کیا جاتا ہے دوسرے لفظوں میں نبوت اور رسالت دونوں ہی الفاظ اس خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پیغمبروں میں پائی جاتی ہے اگر پیغمبر صرف وحی الہی کو لے کر پہنچادے تو اسے نبی کہتے ہیں لیکن اگر وہ رسالت و شریعت بھی لوگوں تک پہنچائے تو اسے رسول کہا جاتا ہے
۳۔منصب امامت
قرآن مجید کی نظر میں منصب امامت، نبوت او رسالت کے علاوہ ایک تیسرا عہد ہ ہے جس میں صاحب منصب کو لوگوں کی رہبری کے ساتھ ساتھ کچھ زیادہ تصرفات کا اختیار حاصل ہوتا ہے.
اب ہم قرآنی آیات کی روشنی میں اس موضوع کے بارے میں چند واضح دلائل پیش کرتے ہیں
۱۔قرآن کریم حضرت ابراہیم خلیل کو منصب امامت عطا کرتے ہوئے فرماتا ہے:
(وَاِذْ ابْتَلَی ِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فَاَتَمَّهُنَّ قَالَ اِنِّ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ ِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِى )( ۱ )
____________________
(۱)سورہ بقرہ آیت : ۱۲۴.
اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات کے ذریعہ آزمایا اور انہوں نے ان کو پورا کردکھایا تو ارشاد ہوا میں تمہیں لوگوں کا امام بنا رہا ہوں انہوں نے کہا اور میری ذریت ؟
قرآن مجید کی اس آیت سے دو حقیقتیں آشکار ہوجاتی ہیں :
الف: مذکورہ آیت بخوبی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ منصب امامت ، نبوت و رسالت کے علاوہ ایک تیسرا منصب ہے کیونکہ حضرت ابراھیم ان آزمائشوں (منجملہ قربانی اسماعیل سے پہلے ہی ) مقام نبوت پر فائز تھے یہ بات درج ذیل دلیل سے ثابت ہوتی ہے:
ہم سب یہ جانتے ہیں کہ خداوندعالم نے حضرت ابراہیم کو بڑھاپے میں حضرت اسماعیل و اسحاق عطا فرمائے تھے قرآن مجید حضرت ابراہیم کی زبان سے یوں حکایت کرتا ہے :
(الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى وَهَبَ لِى عَلیٰ الْکِبَرِ اِسْمَاعِیلَ وَاِسْحَاقَ )( ۱ )
شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحق عطاکئے.
اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی مذکورہ آزمائشوں میں سے ایک
____________________
(۱)سورہ ابراہیم آیت :۳۹.
حضرت اسماعیل کی قربانی بھی تھی اور اس مشکل آزمائش کے مقابلے میں انہیں منصب امامت عطا کیا گیا تھا نیز انہیں یہ منصب ان کی عمر کے آخری حصے میں عطا کیا گیاتھا.جبکہ وہ کئی سال پہلے ہی سے منصب نبوت پر فائز تھے کیونکہ حضرت ابراہیم پر ان کی ذریت سے پہلے بھی وحی الہی (جو کہ نبوت کی نشانی ہے) نازل ہوا کرتی تھی( ۱ )
ب:اسی طرح اس آیت ( وَِذْ ابْتَلَیٰ ِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ...)سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امامت اور رہبری کا منصب نبوت و رسالت سے بالاتر ہے کیونکہ قرآن مجید کی گواہی کے مطابق خداوندکریم نے جناب ابراہیم کو نبوت و رسالت کے عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود جب انہیں امامت عطا کرنی چاہی تو انتہائی سخت قسم کے امتحان سے آزمایا تھا اور جب وہ اس امتحان میں کامیاب ہوئے تب اس کے بعد یہ منصب انہیں دیا تھا اس بات کی دلیل واضح ہے اس لئے کہ امامت کے فرائض میں وحی الہی کے حاصل کرنے اور رسالت و شریعت کے پہنچانے والے کے علاوہ امت کی رہبری اور ان کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں کمال وسعادت کی راہ پر گامزن کرنا بھی شامل ہے اب یہ بات فطری ہے کہ وہ منصب ایک خاص قسم کی عزت و عظمت کا حامل ہوگا جس کا حصول انتہائی سخت آزمائشوں کے بغیر ممکن ہی نہ ہو.
۲۔گذشتہ آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ خداوندعالم نے سخت آزمائشوں
____________________
(۱)اس سلسلے میں سورہ صافات کی آیت نمبر۹۹ سے لے کر ۱۰۲ تک اور سورہ حجر کی آیت نمبر۵۳اور ۵۴ اور سورہ ہود کی آیت ۷۰ اور ۷۱ کا مطالعہ فرمائیں.
کے بعد جناب ابراہیم کو امامت اورمعاشرہ کی قیادت عطا فرمائی تھی اور اس وقت جناب ابراہیم نے خدا سے درخواست کی تھی خدایا! اس منصب کو میری ذریت میں بھی قرار دینا اب قرآن مجید کی چند دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگارعالم نے جناب ابراہیم کی یہ درخواست قبول کرلی تھی اور نبوت و امامت کے بعد امت کی رہبری اور حکومت کو جناب ابراہیم کی نیک اور صالح ذریت میں بھی قرار دے دیا تھا. قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے:
(فَقَدْ آتَیْنَا آلَ اِبْرَاهِیمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَآتَیْنَاهُمْ مُلْکًا عَظِیمًا )( ۱ )
تو پھر ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انکو عظیم سلطنت عنایت کی.
اس آیت سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ''امامت'' نبوت ، سے الگ ایک منصب ہے جسے خداوندعالم نے اپنے عظیم القدر نبی جناب ابراہیم کو سخت آزمائشوں کے بعد عطا فرمایا تھا اور انہوں نے اس وقت خداوندعالم سے درخواست کی تھی کہ امامت کو میری ذریت میں بھی قرار دے تو خدائے حکیم نے ان کی یہ درخواست قبول فرمائی تھی اور انہیں آسمانی کتاب اور حکمت (جو کہ نبوت و رسالت سے مخصوص ہے) کے علاوہ ''ملک عظیم'' (یعنی لوگوں پر حکومت)بھی عطا کی تھی
لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ خداوندکریم نے جناب ابراہیم کی ذریت کے بعض افراد (جیسے حضرت یوسف حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ) کو منصب نبوت کے علاوہ حکومت کرنے اور لوگوں کی رہبری کے لئے بھی منتخب فرمایا تھا ان بیانات کی روشنی میں معلوم ہوجاتا ہے کہ امامت کا عہدہ نبوت و رسالت کے علاوہ ایک تیسرا منصب ہے جو کہ مزید قدرت اور ذمہ داریوں کی وجہ سے دوسرے عہدوں کی بہ نسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہے
____________________
(۱)سورہ نساء آیت ۵۴.
منصب امامت کی برتری
گذشتہ بیانات سے واضح ہوجاتا ہے کہ نبی اور رسول کا کام صرف لوگوں تک پیغام پہنچانا اور انہیں راہ دکھانا ہے اور اگر کوئی نبی منصب امامت پر فائز ہوجاتا ہے تو اس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور نتیجے میں معاشرے کو سنوارنے اور سعادت مند بنانے کے لئے شریعت کے احکامات کو نافذ کرنے کی ذمہ داری بھی اس کے دوش پر آجاتی ہے اس طرح وہ امت کو ایسے راستے پر گامزن کردیتا ہے جس سے وہ دونوں جہان میں خوشبخت بن جاتی ہے
واضح ہے کہ اس قسم کی اہم ذمہ داری ایک عظیم معنوی قدرت او ر خاص لیاقت کی نیاز مند ہے اور اس سنگین عہدے کے لئے راہ خدا میں صبراور ثبات قدم کی ضرورت ہے کیونکہ اس راہ میں ہمیشہ سخت مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے خواہشات نفسانی سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ عشق خدا اور رضائے پروردگار کے بغیر اس عظیم منصب کا حصول ممکن نہیں ہے ان ہی سب وجہوں سے خداوندعظیم نے جناب ابراہیم کو ان کی عمر کے آخری حصے میں انتہائی سخت آزمائشوں کے بعد یہ منصب عطا کیا تھا اور پھر اپنے بہترین بندوں جیسے حضرت پیغمبر ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ منصب امامت و رہبری عنایت فرمایا تھا.
کیا نبوت اور امامت ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں ؟
اس سوال سے ایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ : کیا ہر نبی کے لئے امام ہونا اور ہر امام کے لئے نبی ہونا ضروری ہے؟
ان دو سوالوں کا جواب منفی ہے ہم اس جواب کو واضح کرنے کیلئے وحی الہی کا سہارا لیں گے وہ آیتیں جو طالوت اور ظالم جالوت کی جنگ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ خداوند عالم نے حضرت موسیٰ کے بعد منصب نبوت کو بظاہر ''اشموئیل'' نامی شخص کو عطا فرمایا تھا اور ساتھ ہی ساتھ منصب امامت و حکومت کو جناب طالوت کے سپرد کیا تھا اس قصے کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے :
حضرت موسیٰ کی وفات کے بعدبنی اسرائیل کے ایک گروہ نے اپنے زمانے کے پیغمبرسے کہا کہ ہمارے لئے ایک حکمران معین کیجئے تاکہ اس کی سربراہی میں ہم راہ خدا میں جنگ کریںتو اس وقت ان کے پیغمبر نے ان سے یوں کہا:
(وَقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ ﷲ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکًا قَالُوا اَنَّیٰ یَکُونُ لَهُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ َاحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْهُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِنْ الْمَالِ قَالَ اِنَّ ﷲ اصْطَفَاهُ عَلَیْکُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِى الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَﷲ یُؤْتِى مُلْکَهُ مَنْ یَشَائُ وَﷲ وَاسِع عَلِیم )( ۱ )
اور ان کے پیغمبرنے ان سے کہا : اللہ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے ان لوگوں نے کہا: اسے ہم پربادشاہی کرنے کا حق کیسے مل گیا ہے؟ ہم خود بادشاہی کے اس سے زیادہ حق دار ہیں وہ تو کوئی دولت مند آدمی نہیں ہے نبی نے جواب دیاکہ اللہ نے اسے تمہارے لئے منتخب کیا ہے اور اسے علم اور جسمانی طاقت کی فراوانی سے نوازا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا، دانا ہے.اس آیت سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں :
۱۔یہ ممکن ہے کہ کچھ مصلحتیں اس بات کا تقاضا کریں کہ منصب نبوت کو منصب امامت سے جدا کردیا جائے اور ایک ہی زمانے میں دو الگ الگ افراد نبی و امام ہوں اور ان میں سے ہر ایک اپنے خاص منصب ہی کی لیاقت وصلاحیت رکھتا ہو
اسی لئے بنی اسرائیل نے اپنے زمانے میں ان دو منصبوں کے جدا ہونے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا کہ اے پیغمبر آپ طالوت سے زیادہ حکومت کے حقدار ہیں .بلکہ
____________________
(۱)سورہ بقرہ آیت ۲۴۷.
انہوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ ہم اس سے زیادہ حکومت کے حقدار ہیں
۲۔جناب طالوت کو حکومت خداوندکریم ہی نے عطا کی تھی قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے :
ِانَّ ﷲ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکًا )اللہ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے اور یہ بھی ارشاد ہوتا ہے(ِنَّ ﷲ اصْطَفَاہُ عَلَیْکُمْ) بے شک اللہ نے اسے تمہارے لئے منتخب کیا ہے.
۳۔جناب طالوت کایہ الہی منصب صرف فوج کی سربراہی تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ بنی اسرائیل کے حاکم و فرمانروا بھی تھے کیونکہ قرآن نے انہیں ''مَلِکاً'' کہہ کر یاد کیا ہے اگرچہ اس دن اس رہبری کامقصد یہ تھا کہ جہاد کرنے کے لئے بنی اسرائیل کی سربراہی کریں لیکن ان کا یہ الہی منصب انہیں دوسری حکومتی ذمہ داریوں کو بھی انجام دینے کی اجازت دیتا تھا
اس لئے قرآن مجید اس آیت کے اختتام میں فرماتا ہے :
(وَﷲ یُؤْتِ مُلْکَهُ مَنْ یَشَائ ) اور اللہ جسے چاہے اپنا ملک دیدے
۴۔امت کی رہبری اور امامت کے لئے اہم ترین شرط یہ ہے کہ اس میں علمی، جسمانی،اور معنوی توانائی پائی جاتی ہو اس قسم کی صلاحیت اس زمانے میں زیادہ اہمیت رکھتی تھی کیونکہ ان ایام میں حاکم خود میدان میں حاضر ہو کر جنگ کرتا تھا( ۱ )
____________________
(۱)منشور جاوید (مصنفہ استاد جعفرسبحانی) سے ماخوذ.
گذشتہ بیانات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نبوت اور امامت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم نہیں ہیں بلکہ ممکن ہے کہ ایک شخص نبی تو ہو لیکن منصب امامت پر فائز نہ ہو یا یہ کہ کوئی شخص خدا کی جانب سے امام تو ہو لیکن اسے عہدۂ نبوت حاصل نہ ہوا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ پروردگارعالم یہ دونوں منصب ایک ہی شخص کو عطا کردے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے:
(فَهَزَمُوهُمْ بِاِذْنِ ﷲِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ ﷲ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا یَشَائُ )( ۱ )
چنانچہ اللہ کے اذن سے انہوں نے جالوت کے لشکر کو شکست دے دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے انہیں سلطنت و حکمت عطافرمائی اور جو کچھ چاہا انہیں سکھادیا.
____________________
(۱)سورہ بقرہ آیت ۲۵۱.
چھتیسواں سوال
توحید اور شرک کی شناخت کا معیار کیاہے؟
''توحید'' اور شرک کی بحثوں میں سب سے اہم مسئلہ ان دونوں کی شناخت کے معیار کا ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بعض دوسرے اہم مسائل بھی حل نہیں ہوپائیں گے اس لئے ہم مسئلہ توحید و شرک پر مختلف زاویوں سے مختصراً بحث پیش کررہے ہیں :
۱۔توحید ذاتی
توحید ذاتی دو صورتوں میں پیش کی جاتی ہے :
الف:خدا ایک ہے اور کوئی اس جیسا نہیں (اس مفہوم کو علم کلام کے علماء واجب الوجود کے نام سے یاد کرتے ہیں ) اور یہ وہی توحید ہے کہ جسے خداوند عالم نے مختلف صورتوں میں قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے ملاحظہ ہو:
(لیس کمثله شئ )
اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے.( ۱ )
ایک اور جگہ پر فرماتا ہے:
(ولم یکن له کفواً أحد )( ۲ )
اور کوئی بھی اس کا کفو اور ہمسر نہیں ہے.
البتہ بعض اوقات توحید کی اس قسم کی تفسیر عامیانہ طور پر کردی جاتی ہے کہ جس میں توحید عددی کا رنگ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اس طرح کہ : کہا جاتا ہے کہ خدا ایک ہے اور دو نہیں اس قسم کا جملہ سن کر کچھ کہے بغیر واضح ہوجاتا ہے کہ خدا کی طرف اس قسم کی توحید (عددی) کی نسبت دینا صحیح نہیں ہے.
ب: خدا کی ذات بسیط ہے نہ کہ مرکب کیونکہ ہرمرکب موجود (چاہے اس کا وجودذہنی اجزاء سے مرکب ہو یا خارجی اجزاء سے مرکب ہو ) اپنے وجود میں اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور محتاج ہونا ممکن ہونے کی علامت ہے اور ہر ممکن علت کا محتاج ہوتا ہے. اور یہ سب کچھ واجب الوجود کے ساتھ کسی بھی صورت میں مطابقت نہیں رکھتا
____________________
(۱)سورہ شوریٰ آیت: ۱۱.
(۲)سورہ اخلاص آیت:۴.
۲۔ خالقیت میں توحید
توحیدکے وہ مراتب جنہیں عقل و نقل دونوں نے قبول کیا ہے ان میں سے ایک توحید خالقیت بھی ہے عقل کی روسے خداوندعالم کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سب عالم
امکان کے زمرے میں آتا ہے اور ہر قسم کے جمال وکمال سے عاری ہوتا ہے اور جو کچھ عالم امکان میں پایا جاتا ہے وہ غنی بالذات (خدا)کی بے کراں رحمتسے فیض یاب ہوتا ہے اس اعتبار سے اس دنیا میں دکھائی دینے والے جمال وکمال کے جلوے اسی کے مرہون منت ہوتے ہیں قرآن مجید نے بھی توحید خالقیت کے سلسلے میں بہت سی آیات پیش کی ہیں ہم ان میں سے صرف ایک آیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
(قُلْ ﷲ خَالِقُ کُلِّ شَْئٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ )( ۱ )
کہہ دیجئے : ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ، بڑا غالب ہے.
لہذاخدا پرستوں میں مجموعی طور پر توحید خالقیت کے سلسلے میں اختلاف نہیں پایا جاتا ہے صرف اتنا فرق ہے کہ توحید خالقیت کے بارے میں دو قسم کی تفسیریں پائی جاتی ہیں ان دونوں کو ہم یہاں بیان کرتے ہیں :
الف:موجودات عالم میں پائے جانے والے ہر قسم کی علت اور معلول والے نظام اور نیز ان کے درمیان پائے جانے والے سبب او ر مسبب کے رابطے سب ہی علة العلل (جس کی کوئی علت نہ ہو)اور مسبب الاسباب(جس کا کوئی سبب نہ ہو) تک پہنچتے ہیں اور درحقیقت اصلی اور مستقل خالق خداوندعالم ہی کی ذات ہے اور خدا کے علاوہ باقی سب علل واسباب ، خداوندعالم کی اجازت و مشیت کے تابع ہیں
اس نظریہ میں دنیا میں علت و معلول کے نظام کا اعتراف کیا گیا ہے .اور علم بشر
____________________
(۱)سورہ رعد آیت: ۱۶.
نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے لیکن اس کے باوجود کل نظام کا تعلق ایک لحاظ سے خدا ہی سے ہے اور اسی نے اسباب کو سببیت ، علت کو علیت اور موثر کو تاثیر عطا کی ہے
ب:اس دنیا میں صرف ایک ہی خالق کا وجود ہے اور وہ خداوندعالم کی ذات ہے اور نظام ہستی میں اشیاء کے درمیان ایک دوسرے کیلئے کسی قسم کی اثر گزاری اور اثرپذیری نہیں پائی جاتی بلکہ تمام مادی موجودات کا خالق بلا واسطہ خدا ہی ہے .اسی طرح انسان کی طاقت بھی اس کے اعمال پر اثر انداز نہیں ہوتی ہے لہذا نظام ہستی میں صرف ایک ہی علت پائی جاتی ہے اور وہی ان فطری علتوں کی رئیس و اصل ہے
البتہ توحید خالقیت کی یہ تفسیر اشاعرہ نے پیش کی ہے لیکن ان میں سے بعض افراد جیسے امام الحرمین( ۱ ) اور شیخ محمدعبدہ نے رسالہ توحید میں اس تفسیر کو چھوڑ کر پہلی تفسیر کو مانا ہے
۳۔تدبیرمیں توحید
چونکہ عالم کو خلق کرنا خدا ہی سے مخصوص ہے لہذا نظام ہستی کی تدبیر بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور اس دنیا میں صرف ایک ہی مدبر کا وجود ہے اور وہ عقلی دلیل کہ جو توحید خالقیت کو ثابت کرتی ہے وہی دلیل تدبیر میں بھی توحید کو ثابت کرتی ہے
قرآن مجید کی متعدد آیات نے خداوندعالم کے مدبر ہونے کو بیان کیا ہے اس سلسلے میں یہ آیت ملاحظہ ہو:
____________________
(۱)ملل و نحل(شہرستانی)جلد۱.
(اغَیْرَ ﷲِ اَبْغِى رَبًّا وَهُوَ رَبُّ کُلِّ شَْئ )( ۱ )
کہہ دیجئے : کہ کیا میں خد اکے علاوہ کوئی اور رب تلاش کروں جب کہ وہ ہر چیز کا رب ہے.
البتہ وہ دونوں تفسیریں جو توحید خالقیت میں پائی جاتی ہیں وہی توحید تدبیری میں بھی پائی جاتی ہیں اور ہمارے عقیدے کے مطابق توحید تدبیری سے مراد یہ ہے کہ مستقل طور پر تدبیر کرنا صرف خدا سے مخصوص ہے
اس بنیاد پر نظام ہستی کے موجودات کے درمیان بعض تدبیریں خدا کے ارادے اور مشیت سے وجود میں آتی ہیں قرآن مجید نے بھی حق سے متمسک مدبروں کے بارے میں یوں فرمایا ہے :
(فالمدبرات امرًا )( ۲ )
پھر امر کی تدبیر کرنے والے ہیں
۴۔حاکمیت میں توحید
حاکمیت میں توحید سے مراد یہ ہے کہ حکومت کا حق فقط خداوندعالم کو ہے اور صرف وہی انسانوں پر حاکم ہے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :
____________________
(۱)سورہ انعام آیت:۱۶۴.
(۲)سورہ نازعات آیت :۵
(اِنِ الْحُکْمُ اِلا لِلّٰه )( ۱ )
حکم کرنے کا حق صرف خدا کو ہے.
اس اعتبارسے خدا کے علاوہ کسی اور کی حکومت صرف خدا کے ارادے اور مشیت سے ہونی چاہیے تاکہ نیک اور صالح افراد ہی معاشرے کے امور کی باگ ڈور سنبھالیں اور لوگوں کو کمال و سعادت کی راہ پر گامزن کرسکیں جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :
(یَادَاوُودُ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَةً فِى الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ )( ۲ )
اے داؤدہم نے آپ کو زمین پر اپنا جانشین بنایا ہے لہذا آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں.
____________________
(۱)سورہ یوسف آیت :۴۰.
(۲)سورہ ص آیت۲۶.
۵۔اطاعت میں توحید
اطاعت میں توحید سے مراد یہ ہے کہ حقیقی اور ذاتی طور پرخدائے بزرگ کی پیروی ضروری ہے لہذا بعض دوسرے افراد (جیسے پیغمبر، امام، فقیہ ، باپ اور ماں)کی اطاعت کا لازم ہونا پروردگارعالم کے حکم اور ارادے سے ہے.
۶۔شریعت قرار دینے اور قانون گزاری میں توحید
قانون گزاری میں توحید سے مراد یہ ہے کہ شریعت قرار دینے اور قانون گزاری
کا حق فقط خداوندعالم کو ہے اسی بنیاد پر قرآن مجید ہر اس حکم کوجو حکم الہی کے دائرے سے خارج ہو اسے کفر، فسق اور ظلم کا سبب قرار دیتا ہے ملاحظہ ہو:
(وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنزَلَ ﷲ فَاُوْلٰئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ )( ۱ )
اور جو لوگ بھی خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ ظالم ہیں
(وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنزَلَ ﷲ فَاُوْلَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ )( ۲ )
اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ فاسق ہیں
(وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنزَلَ ﷲ فَاُوْلٰئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ )( ۳ )
اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریںوہ ظالم ہیں
____________________
(۱)سورہ مائدہ آیت:۴۴.
(۲)سورہ مائدہ آیت:۴۷.
(۳)سورہ مائدہ آیت ۴۵.
۷۔عبادت میں توحید
عبادت میں توحید کے سلسلے میں اہم ترین بحث ''عبادت'' کے معنی کی شناخت ہے کیونکہ سب مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ عبادت صرف خدا سے مخصوص ہے اوراس کے علاوہ کسی اور کی پرستش نہ کی جائے جیسا کہ قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے :
(اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِینُ )( ۱ )
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں
قرآن مجید کی مختلف آیات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کی دعوتوں کا بنیادی عنصر یہی عقیدہ تھا قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے :
(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى کُلِّ اُمَّةٍ رَسُولاً اَنْ اُعْبُدُوا ﷲ وَاجْتَنِبُواالطَّاغُوت )( ۲ )
اور یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا تاکہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو.
لہذا اس مسلم الثبوت اصل میں کوئی شک نہیں کہ عبادت کا حق صرف خدا کا ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کی جاسکتی نیز یہ کہ اس اصل پر ایمان نہ رکھنے والا موحد نہیں ہوسکتا.
____________________
(۱)سورہ حمد آیت: ۴.
(۲)سورہ نحل آیت:۳۶.
لیکن ہماری گفتگو اس سلسلے میں ہے کہ ''عبادت'' اور غیر عبادت کی شناخت کا معیار کیا ہے؟
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے استاد اور ماں باپ یا علماء اور مجتہدین کے ہاتھوں کا بوسہ لے یا اپنے ذوی الحقوق کا احترام کرے تو کیا اس کا یہ عمل ان کی عبادت شمار ہوگا؟ یا ایسا نہیں ہے بلکہ کسی کے مقابلے میں خضوع و خشوع کو عبادت نہیں کہتے بلکہ عبادت کے لئے ایک خاص صفت کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس کے بغیر چاہے جس بھی طرح کا خضوع ہو عبادت نہیں کہلائے گااب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کونسی بنیادی صفت ہے جو کسی بھی طرح کے خضوع کو عبادت بناسکتی ہے؟
لفظ عبادت کے غلط معنی
کچھ مصنفین نے اپنی کتابوں میں عبادت کے معنی خضوع اور یا زیادہ خضوع بیان کئے ہیں لیکن ان مصنفین کو قرآن مجید کی بعض آیات کے ترجمہ میں مشکل پیش آتی ہے کیونکہ ان آیتوں میں خداوندکریم نے صراحت سے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے فرشتوں کو جناب آدم کا سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا ملاحظہ ہو:
(وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ )( ۱ )
____________________
(۱)سورہ بقرہ آیت:۳۴.
اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو.
حضرت آدم کے لئے بعینہ اسی طرح سجدہ بجالایا گیا جس طرح خداوندکریم کے لئے سجدہ کیا جاتا تھا جبکہ جناب آدم کے سامنے یہ سجدہ خضوع اور تواضع کے اظہار کی خاطر انجام پایا تھا اور خدا کا سجدہ عبادت و پرستش کے طور پر بجالایا جاتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ایک ہی طرح کے سجدوں میں کیسے دومختلف حقیقتیں پیداہوگئیں؟
قرآن مجید ایک اور جگہ فرماتا ہے کہ جناب یعقوب نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ جناب یوسف کے سامنے سجدہ کیا تھا:
(وَرَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ یَاَبَتِ هَذَا تَاْوِیلُ رُؤْیَا مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا'' ( ۱ )
اور یوسف نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور وہ سب انکے سامنے سجدے میں گر پڑے اور یوسف نے کہا: اے باباجان! یہی میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بے شک میرے رب نے اسے سچ کردکھایا ہے.
یہاں پر اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ جناب یوسف نے پہلے خواب کی طرف اشارہ کیا تھا جس سے مراد وہی خواب تھا جس میں انہوں نے دیکھا تھا کہ چاند اور
____________________
(۱)سورہ یوسف آیت:۱۰۰.
سورج کے ہمراہ گیارہ ستارے ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں اس بات کو قرآن مجید نے یوں نقل کیا ہے:
انِّ رَاَیْتُ احَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِى سَاجِدِینَ )( ۱ )
میں نے خواب میں گیارہ ستاروں اور آفتاب و مہتاب کو دیکھا ہے کہ یہ میرے سامنے سجدہ کررہے ہیں
اس آیت میں گیارہ ستاروں سے جناب یوسف کے گیارہ بھائی اور چاند اور سورج سے ان کے ماں اور باپ مراد ہیں
اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ نہ صرف حضرت یعقوب کے بیٹوں نے بلکہ خود جناب یعقوب نے بھی جناب یوسف کے سامنے سجدہ کیا تھا.
اب یہاں ہم یہ سوال کرنا چاہتے ہیں :
اس قسم کے سجدہ کو عبادت میں شمارکیوں نہیں کیا جاتا جبکہ سجدہ نہایت خضوع اور تواضع کے ساتھ بجالایا گیا تھا؟
عذر بدتراز گناہ
یہاں پر چونکہ مذکورہ مصنفین اس سوال کا جواب نہیں دے پائے لہذا یوں کہتے ہیں :
____________________
(۱)سورہ یوسف آیت :۴.
چونکہ اس قسم کا خضوع و خشوع پروردگارعالم کے حکم سے انجام دیا گیا تھا لہذا اسے شرک شمار نہیں کیاجاسکتا .لیکن یہ بات معلوم ہے کہ ان کی یہ تاویل کسی بھی اعتبار سے صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اگر کوئی عمل باعث شرک ہو تو خداوندعالم ہرگز اس کا حکم نہیں دے سکتا.
قرآن مجید فرماتا ہے:
(قُلْ ِانَّ ﷲ لاَیَاْمُرُ بِالْفَحْشَائِ اَتَقُولُونَ عَلَی ﷲِ مَا لاتَعْلَمُون )( ۱ )
کہہ دیجئے اللہ یقینا برائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہو جن کا تمہیں علم ہی نہیں ؟
اصولی طور پر خداوندعالم کا حکم کسی چیز کی حقیقت کو نہیں بدلتا اگر ایک انسان کے مقابلے میں خضوع کرنا اس کی عبادت ہو اور خدائے بزرگ نیز اس کا حکم دے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا اپنی عبادت کا حکم دے رہا ہے.
مسئلے کا جواب اور عبادت کے حقیقی معنی کی وضاحت
یہاں تک یہ واضح ہوگیا کہ ''غیر خدا کی عبادت کے ممنوع ہونے کے سلسلے میں '' دنیا کے تمام موحد متفق ہیں اور دوسری طرف سے یہ بھی روشن ہوچکا ہے کہ فرشتوں کا
____________________
(۱)سورہ اعراف آیت:۲۸.
حضرت آدم کے سامنے اور حضرت یعقوب اور ان کے بیٹوں کا حضرت یوسف کے سامنے سجدہ کرنا ان کی عبادت نہ تھا اب ضروری ہے کہ ہم اس نکتے کی طرف توجہ دلائیں کہ وہ کون سی خاص صفت ہے جس کے نہ ہونے سے ایک عمل عبادت نہیں بن پاتا جبکہ اگر وہ پائی جاتی ہو تو وہی عمل عبادت شمار ہوتاہے.
قرآنی آیات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ کسی موجود کو خدا سمجھ کر اس کے سامنے خضوع کرنا یا اس کی طرف خدائی امور کی نسبت دینا اس کی عبادت کہلاتا ہے اس بیان سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر کسی کو خدائی امور انجام دینے پر قادر سمجھتے ہوئے اس کے سامنے خضوع کیا جائے تو یہ عمل اسی کی عبادت شمار ہوگا .دنیا کے مشرک ایسے موجودات کے سامنے خضوع کیا کرتے تھے کہ جنہیں وہ مخلوق خدا تو سمجھتے تھے لیکن وہ اس بات کے معتقد تھے کہ کچھ خدائی امور جیسے کہ گناہوں کی بخشش ،
اور حق شفاعت انہیں موجودات کو سونپ دیئے گئے ہیں
سرزمین بابل کے کچھ مشرک آسمانی ستاروں کو اپنا رب اور دنیا اور انسانوں کی تدبیر کا مالک سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے لیکن انہیں اپنا خالق نہیں سمجھتے تھے حضرت ابراہیم نے بھی اسی اصل کی بنا پر اپنی قوم کے ساتھ مناظرہ کیا تھا کیونکہ سرزمین بابل کے مشرک ہرگزسورج چاند اور ستاروں کو اپنا خالق نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ انہیں ایسی باقدرت مخلوق سمجھتے تھ
جنہیں ربوبیت اور دنیا کی تدبیر سونپ دی گئی تھی قرآنی آیات میں بھی حضرت ابراہیم اور مشرکین بابل کے درمیان مناظرے میں لفظ رب کو محور قرار دیتے ہوئے( ۱ ) بیان کیا گیا ہے اور یہ واضح ہے کہ لفظ رب کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو اپنا صاحب اور اپنی مملوک کے امور کا مدبر قرار دیا جائے .عربی زبان میں گھر کے مالک کو'' رب البیت''اور کھیتی باڑی کے مالک کو رب الضیعہ کہتے ہیں اس لئے کہ گھر اور کھیتی باڑی کی تدبیر ان کے مالکوں کے ذمے ہوتی ہے
قرآن مجید مشرکین کے مقابلے میں صرف خداوندعالم کو اس نظام ہستی کا رب اور مدبر قرار دیتا ہے اور سب کو خدائے یگانہ کی پرستش کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:
ِانَّ ﷲ رَبِّى وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطى مُسْتَقِیم ( ۲ )
اللہ میرا رب اور تمہارا بھی رب ہے لہذا اس کی عبادت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے.
ایک اور جگہ فرماتا ہے:
(ذَلِکُمْ ﷲ رَبُّکُمْ لا اِلٰهَ ا ِلاَّ هُوَ خَالِقُ کُلِّ شَْئٍ فَاعْبُدُوهُ )( ۳ )
وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا خالق ہے لہذا اس کی عبادت کرو.
____________________
(۱)سورہ انعام آیت ۷۶ تا ۷۸.
(۲)سورہ آل عمران آیت ۵۱.
(۳)سورہ انعام آیت: ۱۰۲.
اس طرح قرآن مجید سورۂ دخان میں فرماتا ہے:
(لاَاِلَهَ اِلاَّ هُوَ یُحْى وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمْ الْاَوَّلِینَ )( ۱ )
اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی اور موت دیتا ہے وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آبائو اجداد کا بھی رب ہے.
اسی طرح قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ کے قول کو یوں نقل کیا ہے:
(وَقَالَ الْمَسِیحُ یَابَنِى اِسْرَائِیلَ اعْبُدُوا ﷲ رَبِّى وَرَبَّکُمْ )( ۲ )
اور مسیح نے کہا : اے بنی اسرائیل تم اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے.
گذشتہ بیانات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ ہروہ خضوع جو کسی مخلوق کے سامنے اسے رب اور خدا سمجھے بغیر یا اس کی طرف خدائی امور کی نسبت دئیے بغیر انجام دیا جائے وہ ہرگز عبادت شمار نہیں کیا جاسکتا اگرچہ یہ خضوع حد سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوجائے اس اعتبار سے امت کا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم یا اپنے والدین کے سامنے انہیں خدا قرارنہ دیتے ہوئے خضوع وخشوع کرنا ہرگز ان کی عبادت شمار نہیں کیا جاسکتا اسی بنیاد پر بہت
سے موضوعات جیسے اولیائے الہی سے منسوب چیزوں کو متبرک سمجھنا ،حرم کے دروازوں، دیواروں اور ضریحوں کو چومنا، خدا کی بارگاہ میں اولیائے الہی سے متوسل ہونا، اولیائے الہی کو پکارنا، ان کے ایام ولادت میں جشن منانا اور محفلیں برپا کرنا اور ان کے ایام وفات و شہادت میں مجلسیں منعقد کرنا ہرگز اولیائے الہی کی عبادت شمار نہیں کیا جاسکتا اگرچہ بعض ناآگاہ افراد ان کاموں کو غیر خدا کی عبادت اور شرک سمجھتے ہیں جبکہ ان سارے کاموںکو کسی بھی طرح سے غیر خدا کی عبادت اور شرک شمار نہیں کیا جاسکتاہے۔
____________________
(۱)سورہ دخان آیت۸
(۲)سورہ مائدہ آیت:۷۲.
فہرست
حرف اول ۵
پیش گفتار ۸
پہلا سوال ۱۰
''وعترتی اہل بیتی '' صحیح ہے یا ''وسنتی''؟ ۱۰
حدیث ''واہل بیتی'' کی سند ۱۱
لفظ ''و سنتی'' والی حدیث کی سند ۱۳
ان دو کے بارے میں علمائے رجال کا نظریہ ۱۴
حدیث''وسنتی'' کی دوسری سند ۱۷
حدیث ''وسنتی''کی تیسری سند ۱۹
سند کے بغیر متن کا نقل ۲۰
حدیث ثقلین کا مفہوم ۲۲
دوسرا سوال ۲۵
شیعہ سے کیا مراد ہے؟ ۲۵
تیسرا سوال ۲۷
کیوں حضرت علی ہی پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی اور جانشین ہیں ؟ ۲۷
۱۔ آغاز بعثت میں : ۲۷
۲۔ غزوۂ تبوک میں ۲۸
۳۔ دسویں ہجری میں ۲۹
چوتھا سوال ۳۲
''ائمہ'' کون ہیں ؟ ۳۲
پانچواں سوال ۳۵
حضرت محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات پڑھتے وقت کیوں آل کا اضافہ کرتے ہیں اور: اللّھم صل علی محمد و آل محمد کہتے ہیں ؟ ۳۵
چھٹا سوال ۳۷
آپ اپنے اماموں کو معصوم کیوں کہتے ہیں ؟ ۳۷
ساتواں سوال ۴۰
اذان میں أشھد أن علیًّا ول اللّہ کیوں کہتے ہیں اور حضرت علی ـ کی ولایت کی شہادت کیوں دیتے ہیں ؟ ۴۰
آٹھواں سوال ۴۴
مہدی آل محمدعلیہ السلام کون ہیں اور انکا انتظار کیوں کیا جاتا ہے؟ ۴۴
نواں سوال ۴۷
اگر شیعہ حق پر ہیں تو وہ اقلیت میں کیوں ہیں ؟ اور دنیا کے اکثر مسلمانوں نے ان کو کیوں نہیں ماناہے؟ ۴۷
دسواں سوال ۵۱
رجعت کیا ہے اور آپ اس پر کیوں عقیدہ رکھتے ہیں ؟ ۵۱
۱۔رجعت کا فلسفہ ۵۶
۲۔رجعت اور تناسخ( ۱ ) کے درمیان واضح فرق ۵۷
گیارہواں سوال ۵۹
جس شفاعت کا آپ عقیدہ رکھتے ہیں وہ کیا ہے؟ ۵۹
شفاعت کا دائرہ ۶۰
شفاعت کا فلسفہ ۶۲
شفاعت کا نتیجہ ۶۲
بارہواں سوال ۶۳
کیا حقیقی شفاعت کرنے والوں سے بھی شفاعت کی درخواست کرنا شرک ہے؟ ۶۳
تیرہواں سوال ۶۹
کیا غیر خدا سے مدد مانگنا شرک ہے؟ ۶۹
چودہواں سوال ۷۳
کیا دوسروں کو پکارنا ان کی عبادت اور شرک ہے؟ ۷۳
پندرہواں سوال ۷۹
''بدائ'' کیا ہے اور آپ اس کا عقیدہ کیوںرکھتے ہیں ؟ ۷۹
بداء کا فلسفہ ۸۳
سولہواں سوال ۸۴
کیا شیعہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل ہیں ؟ ۸۴
سترہواں سوال ۹۸
صحابۂ کرام کے بارے میں شیعوں کا کیا نظریہ ہے؟ ۹۸
صحابی قرآن مجید کی نگاہ میں ۱۰۰
پہلی قسم ۱۰۱
۱۔دوسروں پر سبقت لے جانے والے ۱۰۱
۲۔درخت کے نیچے بیعت کرنے والے ۱۰۲
۳۔مہاجرین ۱۰۲
۴۔اصحابِ فتح ۱۰۳
دوسری قسم ۱۰۴
۱۔معروف منافقین ۱۰۴
۲۔غیر معروف منافقین ۱۰۴
۳۔دل کے کھوٹے ۱۰۵
۴۔گناہ گار ۱۰۵
اٹھارہواں سوال ۱۰۹
متعہ کیا ہے اور شیعہ اسے کیوں حلال سمجھتے ہیں ؟ ۱۰۹
انیسواں سوال ۱۱۹
شیعہ خاک پر کیوں سجدہ کرتے ہیں ؟ ۱۱۹
بیسواں سوال ۱۳۱
شیعہ حضرات زیارت کرتے وقت حرم کے دروازوں اور دیواروں کو کیوں چومتے ہیں اور انہیں باعث برکت کیوں سمجھتے ہیں ؟ ۱۳۱
اکیسواں سوال ۱۳۷
کیا اسلام کی نگاہ میں دین سیاست سے جدا نہیں ہے؟ ۱۳۷
پیغمبرخدا صلىاللهعليهوآلهوسلم اسلامی حکومت کے بانی ہیں ۱۳۸
بائیسواں سوال ۱۴۶
شیعہ ، حضرت علی بن ابی طالب کے بیٹوں (امام حسنـ ا ور امام حسینـ) کو رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیٹے کیوں کہتے ہیں ؟ ۱۴۶
تیئیسواں سوال ۱۵۲
شیعوں کے نزدیک یہ کیوں ضروری ہے کہ خلیفہ کو خدا اور رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ہی معین فرمائیں؟ ۱۵۲
عصر رسالت کے حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ خلیفہ کونص کے ذریعہ معین ہونا چاہئے ۱۵۳
اس کی وضاحت ۱۵۳
رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم کی حدیثیں ۱۵۶
چوبیسواں سوال ۱۵۷
کیا غیر خدا کی قسم کھانا شرک ہے؟ ۱۵۷
پچیسواں سوال ۱۶۴
کیا اولیائے خدا سے توسل کرنا شرک اور بدعت ہے؟ ۱۶۴
توسل کی قسمیں ۱۶۵
۱۔نیک اعمال سے توسل؛ ۱۶۵
۲۔خدا کے نیک بندوں کی دعاؤں سے توسل ! ۱۶۶
۳۔قرب الہی کے حصول کیلئے خداوند کریم کے محترم اور مقدس بندوں سے توسل: ۱۶۷
چھبیسواں سوال ۱۷۲
کیا اولیائے خدا کی ولادت کے موقع پر جشن منانا بدعت یا شرک ہے؟ ۱۷۲
۱۔ان کی یاد منانے میں محبت کا اظہار ہوتا ہے ۱۷۲
۲۔پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی یاد منانا آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعظیم کا اظہار ہے ۱۷۳
۴۔وحی کا نازل ہونا دسترخوان کے نازل ہونے سے کم نہیں ہے ۱۷۵
۵۔ مسلمانوں کی سیرت ۱۷۶
ستائیسواں سوال ۱۷۸
شیعہ پانچ نمازوں کو تین اوقات میں کیوں پڑھتے ہیں ؟ ۱۷۸
نتیجہ: ۱۹۵
اٹھائیسواں سوال ۲۰۰
شیعوں کی فقہ کے ماخذ کون سے ہیں ؟ ۲۰۰
کتاب خدا؛ قرآن مجید ۲۰۰
سنت ۲۰۲
حضرت رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا قول و فعل اور کسی کام کے سلسلے میں ۲۰۲
احادیث اہل بیت سے تمسک کے دلائل ۲۰۴
الف: ائمہ معصومین کی احادیث کی حقیقت ۲۰۴
عترت رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی احادیث کی حقیقت ۲۰۴
اہل بیت پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم سے تمسک کے اہم اور ضروری ہونے کے دلائل ۲۰۷
اہل بیت پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کون ہیں ؟ ۲۱۰
نتیجہ: ۲۱۴
انتیسواں سوال ۲۱۶
کیا ابوطالب ایمان کے ساتھ اس دنیا سے گئے ہیں کہ آپ ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں ؟ ۲۱۶
خاندان جناب ابوطالب ۲۱۶
عبدالمطلب کی نگاہ میں ابوطالب ۲۱۸
جناب ابوطالب کے مومن ہونے کی دلیلیں ۲۲۲
۱۔جناب ابوطالب کے علمی اور ادبی آثار ۲۲۲
۲۔جناب ابوطالب کا پیغمبراکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نیک سلوک ان کے ایمان کی علامت ہے ۲۲۵
۳۔ابوطالب کی وصیت ان کے ایمان کی گواہ ہے ۲۲۷
۴۔پیغمبر ۲۲۸
۵۔حضرت علی ـ اور اصحاب رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کی گواہی ۲۳۱
۶۔ابوطالب اہل بیت کی نگاہ میں ۲۳۳
حدیث ضحضاح کا تحقیقی جائزہ ۲۳۶
حدیث ضحضاح کے سلسلہ سند کا باطل ہونا ۲۳۷
الف: ''سفیان بن سعید ثوری'' ۲۳۷
ب:عبدالملک بن عمیر ۲۳۸
ج:عبدالعزیز بن محمد دراوردی ۲۳۹
د:لیث بن سعد ۲۴۰
نتیجہ ۲۴۲
تیسواں سوال ۲۴۳
کیا شیعوں کی نظر میں جبرئیل ـ نے منصب رسالت کے پہنچانے میں خیانت کی ہے اور کیا یہ صحیح ہے کہ انہوں نے حضرت علی ـکے بجائے قرآن مجید کو رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل کیا ہے؟ ۲۴۳
اس تہمت کا اصلی سبب ۲۴۳
شیعوں کی نگاہ میں منصب نبوت ۲۴۵
اکتیسواں سوال ۲۴۹
تقیہ کا معیارکیا ہے؟ ۲۴۹
قرآن کی نگاہ میں تقیہ ۲۴۹
تقیہ شیعوں کی نگاہ میں ۲۵۱
نتیجہ ۲۵۲
بتیسواں سوال ۲۵۳
ایران کے بنیادی قانون میں کیوں جعفری مذہب (شیعہ اثناعشری) کو حکومت کا مذہب قرار دیا گیا ہے؟ ۲۵۳
جعفری مذہب کی تعیین کا معیار ۲۵۴
ایران میں دوسرے اسلامی مذاہب کا درجہ ۲۵۴
تینتیسواں سوال ۲۵۶
کیا شیعہ نماز وتر کو واجب سمجھتے ہیں ؟ ۲۵۶
چونتیسواں سوال ۲۵۸
کیا اولیائے خدا کی غیبی طاقت پر عقیدہ رکھنا شرک ہے؟ ۲۵۸
قرآن مجید کی نظر میں اولیائے الہی کی غیبی طاقت ۲۶۰
۱۔حضرت موسیٰ کی غیبی طاقت ۲۶۱
حضرت عیسیٰ کی غیبی طاقت ۲۶۱
حضرت سلیمان کی غیبی طاقت ۲۶۲
پینتیسواں سوال ۲۶۳
کیوں منصب امامت منصب رسالت سے افضل ہے؟ ۲۶۳
۱۔منصب نبوت ۲۶۳
۲۔منصب رسالت ۲۶۴
۳۔منصب امامت ۲۶۵
منصب امامت کی برتری ۲۶۹
چھتیسواں سوال ۲۷۳
توحید اور شرک کی شناخت کا معیار کیاہے؟ ۲۷۳
۱۔توحید ذاتی ۲۷۴
۲۔ خالقیت میں توحید ۲۷۵
۳۔تدبیرمیں توحید ۲۷۶
۴۔حاکمیت میں توحید ۲۷۷
۵۔اطاعت میں توحید ۲۷۹
۶۔شریعت قرار دینے اور قانون گزاری میں توحید ۲۷۹
۷۔عبادت میں توحید ۲۸۰
لفظ عبادت کے غلط معنی ۲۸۱
عذر بدتراز گناہ ۲۸۳
مسئلے کا جواب اور عبادت کے حقیقی معنی کی وضاحت ۲۸۴