استاد محترم سے چند سوال
گروہ بندی مناظرے
مصنف خدا نظر طوقی پور
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب .................................استاد محترم سے چند سوال

تنظیم وترتیب .................................خدا نظر طوقی پور


سخن ناشر

کتاب حاضر ان بعض سوالات کا مجموعہ ہے جسے ایک دیوبندی مدرسہ کے طالب علم نے کلاس کے دوران یا خصوصی نشستوں میں اپنے استاد کی خدمت میں پیش کیا لیکن وہ ان سوالات کے جوابات حاصل نہ کرپائے

ان سوالات کو ایک دوست نے منظّم کر کے ان کی کاپی مختلف اساتیذ اور مولوی حضرات کی خدمت میں پیش کی ہے تاکہ وہ ان سوالات کا قانع کنندہ جواب دیں.

اس دوست سے بارہا یہ سنا گیا ہے کہ امید وار ہوں مجھ پر مودودی یا بریلوی ہونے کی تہمت نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ میں ایک پکا دیوبندی تھا اور اب بھی ہوں .امید وار ہوں کہ استاد محترم مجھے سمجھنے اور میرے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے

ہم نے بھی مصلحت اسی میں دیکھی کہ اس دوست کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے تاکہ بعض متعصب جاہلوںکے شر سے محفوظ رہ سکیں

ہم ان کے بعض سوالات کو مرتّب کر کے پیش کر رہے ہیں اور باقی سوالات کو عنقریب علمائ دیوبند کی خدمت میں پیش کیا جائے گا تاکہ تسلّی بخش جواب حاصل کر کے اپنے ذہن کو شبہات سے صاف کر سکیں

یہ دوست پاکستان کے مختلف دیوبندی مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ درس نظامی وغیرہ کو طے کرتے ہوئے مفتی کے درجے پر فائز ہوئے اور اپنے حلقہ احباب میں انہیں اچھے لفظوں میں یا دکیا جاتا ہے ۔

والسّلام علی من اتّبع الهدٰی وترک الضّلال

۳۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۰ہجری


چند سوال

استاد محترم ، دانشمند و توانا ، علّامہ ، فاضل ، جناب مولانا یقینا آپ شیخ الاسلام کے درجہ پر فائز ہیں اس لئے کہ آپ نے اہل سنّت والجماعت کی مدد کی اور مکتب سلف کو پروان چڑھایا،شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے عقائد کی ترویج کی .میں نے آپ سے بہت زیادہ علمی استفادہ کیا ہے اور بدون مبالغہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں آپ پر ناز ہے اس لئے کہ آپ نے اس مذہب کو سر بلند کیا.

استاد محترم مجھے مکمل یقین ہے کہ آپ پوری توانائی کے ساتھ میرے تمام سوالات کا جواب دیں گے اور کوئی ایک سوال بھی بغیر جواب کے نہیں رہنے دیں گے. میںاپنے ان تمام سوالات کو آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جو کلاس کے دوران یا کلاس کے علاوہ مطالعہ وغیرہ کے دوران میرے ذہن میں آئے اور ان میں سے بعض وہ سوالات بھی ہیں جن کے جوابات آپ دے چکے ہیںلیکن میں نے انہیں اس لئے ذکر کیا ہے تا کہ مزید ان سے استفادہ کرسکیں. نیز ایسے سوالات بھی ہیںجن کا آج تک جواب نہ مل سکا

آخر میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ یہ سوالات میرے اور آپ ہی کے درمیان باقی رہیں تا کہ غلط عناصر بریلویوں یا رافضیوںکے ہاتھوں نہ لگ جائیں اور وہ انہیں پڑھے لکھے افراد کے سامنے پیش کر کے خدا نخواستہ انہیں مذہب سلف سے دور اور گمراہ نہ کر دیں ۔


خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ

۔حضرت ابوبکر (رض) کا پچاس لوگوں کے بعد اسلام لانا

سوال ۱: کیا یہ صحیح کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر(رض) پچاس لوگوںیہاں تک کہ حضرت عمر(رض) کے بھی بعد اسلام لائے جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص(رض) سے نقل کیاگیا ہے.لہذا یہ کہنا جھوٹ ہو گا کہ وہ سب سے پہلے اسلام لائے :محمد بن سعد ، قلت لأبی : أکان أبوبکر أوّل اسلاما ؟ فقال : لا ولقد أسلم قبله أکثر من خمسین (۱)

۔خالد بن سعید کا حضرت ابوبکر (رض) سے پہلے اسلام لانا

سوال ۲: کیا یہ درست نہیں ہے کہ خالد بن سعید بن عاص حضرت ابو بکر سے پہلے اسلام لا چکے تھے اور محمد بن ابو بکر اور دسیوں مؤرخین کے بقول جو شخص سب سے پہلے اسلام لایا وہ حضرت علی(رض) تھے ؟ جیسا کہ حضرت معاویہ کے نام ایک نامے میں اس حقیقت کا اعتراف کیاہے .اگر یہ سب حقیقت رکھتا ہے جیسا کہ ہمارے مؤرخین نے کہا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس قدر اصرار کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابو بکر (رض)ہیں ؟

کیا اس جھوٹی سازش کا مقصد خلیفہ اوّل کی شان بڑھانا ہے یا یہ کہ خلیفہ چہارم کی شان گھٹانا ہے ؟

۱ ۔ نامہ محمد بن ابوبکر (رض) :فکان أوّل من أجاب وأناب وآمن و صدّق ووافق فأسلم وسلّم أخوه وابن عمّه علیّ وهوالسّابق المبرز فی کلّ خیر ، أوّل النّاس اسلاما (۲)

۲ ۔ابو الیقظان :انّ خالد بن سعید بن العاص أسلم قبل أبی بکر الصدّیق (۳)

____________________

۱۔ تاریخ طبری ۱: ۰۴۵؛ فتح الباری شرح صحیح بخاری۷: ۹۲، عسقلانی کہتے ہیں :فقد کان حینئذ جماعة من أسلم لکنّهم کانوایخفونه من أقاربهم

۲۔شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ۳: ۸۸۱

۳۔المستدرک علی الصحیحین ۳: ۸۷۲


۳ ۔ سعد بن ابی وقاص :ابو بکر سے پہلے پچاس سے زیادہ لوگ اسلام لا چکے تھے(۱)

۴ ۔ امام زہری: حضرت عمر (رض) تقریبا چالیس لوگوں کے بعد اسلام لائے(۲)

۔حضرت ابو بکر (رض) کاجنگوں میں کردار

سوال ۳: کیایہ صحیح نہیں ہے کہ اسلام کی جنگوں میں حضرت ابوبکر(رض) کا کوئی کردار سامنے نہیں آتا ؟ یہاں تک کہ نہ تو کفار کے مقابلے میں انہوں نے کبھی شمشیر اٹھائی اور نہ ہی کسی دشمن اسلام کے خون کا کوئی قطرہ گرایا؟ جیسا کہ ابو جعفر اسکافی نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے:

لم یرم أبو بکر بسهم قطّ ولا سلّ سیفا ولا أراق دما (۳)

کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود ہم انہیں اسلام کے مجاہد اور حضرت علی(رض) سے بھی افضل قرار دیتے ہیں ؟(۴) اگر کوئی شیعہ رافضی یہ کہے کہ تم ابوبکر (رض) کے بارے میں غلوّ کرتے ہو تو ہمارے پاس کیا جواب ہے ؟

۔یار غار کونا

سوال ۴: کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ حضور علیہ ا لصلّاۃ والسّلام کے یار غار کا نام عبداللہ بن بکر بن اریقط تھا نہ کہ ابو بکر بن قحافہ خلیفہ اوّل ،(۵) لیکن نام ایک جیسا ہونے کی وجہ سے غلط فہمی ہوگئی اور ہم نے اسے خلیفہ اوّل سمجھ لیا ؟ اس لئے کہ:

۱ ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کبھی بھی اپنی اس فضیلت کا تذکرہ نہ کیا جبکہ سقیفہ میں ضعیف سے ضعیف حدیث اور فضیلت کا تذکرہ کیا.مثال کے طور پر فرمایا :نحن عشیرة رسول الله وأوسط العرب أنسابا

____________________

۱۔ تاریخ طبری ۱: ۰۴۵

۲۔ تاریخ الاسلام( السّیرۃ النبویّۃ ) : ۰۸۱؛ طبقات ابن سعد ۳: ۹۶۲؛ صفۃ الصفوۃ ۱: ۴۷۲

۳۔ شرح ابن ابی الحدید ۳۱: ۳۹۲

۴۔ تفسیر رازی ۰۱: ۳۷۱، امام رازی نے حضرت ابوبکر کے جہاد کو حضرت علی(رض) کے جہاد سے افضل قرار دیا ہے

۵۔ شرح ابن ابی الحدید ۳۱: ۳۹۲


ولیست قبیلة من قبائل العرب الاّ ولقریش فیها ولادة (۱)

ہم رسول اللہ (ص) کے خاندان میں سے ہیں اور حسب و نسب میں سب سے بالا تر

۲ ۔ عسقلانی کے بقول تابعین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو آیت غار کے حضرت ابوبکر سے متعلق ہونے کا انکار کرتے تھے جیسا کہ ابو جعفر مومن طاق.(۲)

۳ ۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ (رض) واضح طور پر اقرار فرما چکی ہیں کہ ہماری شان میں کوئی ایک آیت بھی نازل نہیں ہوئیلم ینزل فینا شیئا من القرآن (۳)

۴ ۔ مشہور تو یوں ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) مدینہ منورہ میں حضور (ص) کے استقبال کے لئے تشریف لائے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے مدینہ میں موجود تھے نہ کہ آنحضرت (ص) کے ہمراہ ؟

۵ ۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت (ص) غار کی طرف جاتے وقت اکیلے تھے(۴)

۶ ۔قدموں کے نشان سے کھوج لگانے والوں نے فقط آنحضرت (ص) کے قدم مبارک کے نشان دیکھے تھے جبکہ حضرت ابوبکر (رض) کانام تک نہ لیا(۵) یہی وجہ ہے کہ امام یحیٰی بن معین کہتے ہیں کہ اس سے حضرت ابوبکر (رض) کا پیغمبر (ص) کے ہمراہ غار میں جانا مشکوک لگتاہے.(۶)

۷ ۔ بخاری وغیرہ کی روایت کے مطابق تو حضرت ابو بکر (رض) مہاجرین کے پہلے پہلے گروہ میں شامل تھے

____________________

۱۔البدیۃ والنھایۃ ۶: ۵۰۲

۲۔ لسان المیزان ۵: ۵۱۱

۳۔ صحیح بخار ی ۶: ۲۴؛ تاریخ ابن اثیر ۳: ۹۹۱؛ البدایۃ والنھایۃ ۸: ۶۹؛ الاغانی۶۱: ۰۹

۴۔ البدیۃ والنھایۃ ۶: ۵۰۲

۵۔ فتوح البلدان ۱: ۴۶

۶۔تہذیب الکمال ۹۲: ۶۲


جوآنحضرت سے پہلے مدینہ پہنچ چکے تھے اور وہ نماز جماعت میں بھی شرکت کیاکرتے.(۱)

۔علی(رض) کے بغیر اجماع ملعون ہے

سوال ۵: کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر(رض) کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع تھا.تو کیا یہ درست ہے کہ حضرت علی(رض) اور ان کے ہمراہ صحابہ کرام نے بیعت نہیں کی تھی جبکہ ایسا اجماع جس میں وہ شریک نہ ہوں اس پر خدا وند متعال نے لعنت فرمائی ہے جیسا کہ امام ابن حزم فرماتے ہیں:

لعنة الله علی کلّ اجماع یخرج منه علی بن أبی طالب ومن بحضرته من الصحابة (۲) .

۔حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت اجماع یاشورٰی سے

سوال ۶: کیا یہ بات درست ہے کہ حضرت ابو بکر(رض) کی خلافت نہ تو شورٰی کے ذریعے تھی اور نہ اس پرمسلمانوں کا اجماع قائم ہوا بلکہ وہ تو فقط ایک شخص حضرت عمر(رض) کے اشارے پر قائم ہوئی ۔اور اگر یہ بات درست ہو تو کیا تمام مسلمانوں پر ایسے شخص کی اطاعت کرنا واجب ہے جو اس وقت خلیفہ مسلمین بھی نہ تھا بلکہ اسلامی ملک کا ایک عام باشندہ اور دوسرے مسلمانوں کے مانند ایک مسلمان تھا ؟ اور اگر کوئی شخص ایسے آدمی کی اطاعت نہ کرے تو کیسے اس کا خون مباح ہوسکتا ہے ؟ کیا یہ ایک فرد قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر حجت ہے؟ جبکہ ہمارے بہت سے علمائ جیسے ابویعلیٰ حنبلی متوفٰی ۸۵۴ ھ کہتے ہیں:لاتنعقد الاّ بجمهور أهل العقد والحلّ من کلّ بلد لیکون الرّضا به عاما، والتّسلیم لامامته اجماعا .وهذا مذهب مدفوع ببیعة أبی بکر علی الخلافة باختیار من حضرها ولم ینتظر ببیعة قدوم غائب عنها (۳)

____________________

۱۔ صحیح بخاری ۱: ۸۲۱، کتاب الأذان اور ۴: ۰۴۲،کتاب الاحکام ،باب استقضائ الموالی واستعمالھم ؛ سنن بیہقی ۳: ۹۸؛ فتح الباری شرح صحیح بخاری ۳۱: ۹۷۱اور ۷: ۱۶۲و ۷۰۳

۲۔المحلّٰی ۹:۵۴۳

۳۔الأحکام السلطانیۃ : ۳۳.


قرطبی کہتے ہیں :فانّ عقدها واحد من أهل الحلّ والعقد ..(۱)

۔مہاجرین وانصار کاخلیفہ اول (رض) کی خلافت کی مخالفت کرنا

سوال ۷: کیا یہ درست ہے کہ تمام انصار اور مہاجرین کا ایک گروہ حضرت ابوبکر(رض) کی بیعت کا مخالف تھا جیسا کہ حضرت عمر نے اس کی وضاحت یوں بیان کی ہے :

حین توفٰی الله نبیّه أنّ الأنصار خالفونا واجتمعوا بأسرهم فی سقیفة بنی ساعدة وخالف عنّا علیّ وا لزّبیر ومن معهما (۲)

جب رسالت مآب (ص) کی وفات ہوئی تو انصار نے ہماری مخالفت کی اور وہ تمام سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے ،نیز علی(رض) وزبیر(رض) اور ان دونوں کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی .بنا بر ایں یہ دعوٰی کرنا کیسے ممکن ہے کہ حضرت ابو بکر کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع موجود ہے ؟

حضرت علی (رض) کا بیعت نہ کرنا

سوال ۸: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی(رض) نے ہرگز حضرت ابوبکر(رض) کی بیعت نہ کی اور اپنی مٹھی بند رکھی لیکن جب

حضرت ابوبکر (رض) نے یہ صورت حال دیکھی تو خود اپنا ہاتھ حضرت علی (رض) کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اسی کو اپنی بیعت قرار دے دیا ؟جیسا کہ مسعودی لکھتے ہیں:

فقالوا له، : مدّ یدک فبایع ، فأبٰی علیهم فمدّوا یده، کرها فقبض علی أنامله

____________________

۱۔جامع احکام القرآن ۱: ۲۷۲

۲۔صحیح مسلم ۳: ۳۴۱،کتاب الجہاد ،باب حکم الفیئ ؛ صحیح بخاری ۳: ۷۸۲،کتاب النفقات ،باب ۳، حبس نفقۃ الرّجل قوت سنتہ علی أھلہ .اور ۴: ۲۶۲،کتاب الاعتصام بالکتاب والسّنۃ ، باب ما یکرہ، من التعمق وا لتنازع ؛و ۴: ۵۶۱،کتاب الفرائض ، باب قول النبی لانورث ؛و ۲: ۷۸۱،کتاب الخمس ،باب فرض الخمس


فراموا بأجمعهم فتحها فلم یقدروا فمسح علیها أبوبکر وهی مضمونة (۱)

اس کے باوجو د بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر (رض) کی بیعت اہل حل و عقد کے اجماع سے واقع ہوئی .کیا اسی کو اجماع واتفاق کہتے ہیں؟ اور پھر اس حدیثعلیّ(رض) مع الحقّ وا لحقّ مع علیّ(رض) یدور معه، حیث مادار (۲)

علی(رض) حق کے ساتھ ہے اور حق علی(رض) کے ساتھ ہے .حق اسی طرف پھرتا ہے جہاں علی(رض) پھرجائیں.

۔حضرت علی(رض) کی نظر میں شیخین کی حکومت

سوال ۹: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی اورحضور کے چچاحضرت عباس بن عبدالمطلب ،حضرت ابو بکر(رض) اور حضرت عمر (رض)کی خلافت کو جھوٹ ، دھوکے، خیانت،گناہ اور پیمان شکنی پر استوار جانتے تھے .اورہمیشہ اس نظریے پر باقی رہے جیسا کہ صحیح مسلم میں اس مطلب کو یوں بیان کیا گیا ہے :

فلمّا توفّٰی رسول الله قال أبوبکر : أنا ولی رسول الله ، فجئتما نی تطلب میراثک من ابن أخیک ویطلب هذامیراث امرأته عن أبیها ، فقال أبوبکر : قال رسول الله : ما نورث ،ما ترکنا صدقة فرأیتماه کاذبا آثما ، غادرا خائنا .والله یعلم انّه لصادق بارّ راشد تابع للحقّ ثمّ توفٰی أبوبکر وأنا ولیّ رسول الله وولیّ أبی بکر فرأیتمانی کاذبا آثما غادرا خائنا

جب رسول اکرم (ص) نے وفات پائی تو ابوبکر(رض) نے کہا : میں آنحضرت (ص) کاجانشین ہوں اسوقت آپ دونوں (عباس (رض)اور علی (رض)) نے آنحضرت (رض) کی میراث طلب کی لیکن ابوبکر (رض) نے کہا : رسول خد ا(ص) نے فرمایا ہے: ہم انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے تو آپ دونوں نے حضرت ابو بکر (رض) کو جھوٹا ، خائن ، گنہگار اور دھوکے

____________________

۱۔اثبات الوصیۃ: ۶۴۱؛ الشّافی ۳: ۴۴۲

۲۔مستدرک حاکم ۳: ۵۲۱؛ جامع ترمذی ۵: ۲۹۵ ،ح۴۱۷۳؛مناقب خوارزمی :۶۷۱،ح ۴۱۲؛

فرائد السّمطین ۱: ۷۷۱،ح ۰۴۱؛ شرح المواہب اللدنیۃ ۷: ۳۱


باز کہا.جبکہ خدا جانتا ہے کہ وہ سچے ، نیک ، سیدھی راہ پر چلنے والے اور حق کے پیرو تھے پھر جب حضرت ابو بکر (رض) نے وفات پائی تو میں حضرت ابوبکر (رض)اور آنحضرت(ص) کاجانشین بنا تو آپ دونوں نے مجھے بھی جھوٹا ، گنہگار ، دھوکے باز اور خائن سمجھا(۱)

امام بخاری کی احادیث میں ردُّوبدل کی مہارت

سوال ۱۰:کیا یہ درست ہے کہ امام بخاری نے اسی حدیث کو اپنی کتاب میںچار مختلف مقامات پر نقل کیا ہے لیکن لفظ گناہگار ، خائن ، پیمان شکن کی جگہ کذا وکذا یا کلمتکما واحدۃ لکھ دیاتاکہ یوں خلافت شیخین کے بارے میں اہل بیت پیغمبر کی منفی نظر سے لوگ آگاہ نہ ہو پائیں؟؟

کہا جاتا ہے کہ امام بخاری نے باب خمس ، نفقات ،اعتصام اور باب فرائض میں اس روایت کو نقل توکیا لیکن اس میں تبدیلی کردی .کتاب نفقات میں لکھا ہے :تزعمان أنّ أبابکرکذا وکذا

اور باب فرائض میں یوں لکھا ہے :ثم ّ جئتمانی وکلمتکما واحدة

۔حضرت علی(رض) کے قتل کی سازش

سوال ۱۱: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت علی (رض) کے قتل کی سازش بنائی اور اس کام کے لئے حضرت خالد بن ولید کا انتخاب کیا لیکن بعد میں ناکام ہوجانے کے ڈر سے پشیمان ہوئے اور خالد بن ولید کو اس کام سے روک دیا؟جیسا کہ ہمارے علمائ میں سے سمعانی نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے(۲) تو کیا اس کے باوجود بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیخین کے اہل بیت رسول (ص) اور خاص طور پر حضرت علی (رض) کے ساتھ اچھے تعلقات تھے ؟

کیا امامت اصول دین میں سے ہے

سوال ۱۲: کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارے علمائ خاص طور پر بیضاوی کا کہنا ہے کہ اصول دین میں سے اہم ترینا

____________________

۱۔ صحیح مسلم ۳: ۳۴۱، کتاب الجہاد ، باب حکم الفیئ ؛ صحیح بخاری ۳: ۷۸۲، کتاب النفقات ، باب ۳ ، باب حبس نفقۃ الرّجل قوت سنتہ علی أھلہ ، اور ۴: ۲۶۲، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، باب ما یکرہ من التعمق والتنازع ، اور ۴: ۵۶۱، کتاب الفرائض ،باب قول النّبیّ لانورث ، او ر۲: ۷۸۱،کتاب الخمس ، باب فرض الخمس

۲۔انساب الأنساب ۳: ۵۹


مسئلہ امامت کا ہے اور اس کا مخالف بدعتی اور کافر ہے :

انّ الامامة من أعظم مسائل أُ صول الدّین الّتی مخالفتها توجب الکفر والبدعة (۱) در حقیقت اس امامت سے مراد کونسی امامت ہے ؟ کیا حضرت ابوبکر(رض) کی امامت ہے جس پر اُمّت کا اجماع تھا اور نہ ہی ان کی افضلیت کی کوئی دلیل ؟ بلکہ فقط اور فقط ایک شخص کے اشارے پر یہ بیعت ہوئی اور وہ بھی حضرت عمر (رض) ؟

کیا واقعا ایسی امامت اصول دین میں سے ہے اور اس کا مخا لف کافر اور بدعتی ہے ؟! یا یہ کہ ایسی امامت مراد ہے جو خدا وند متعال کی عطا کی ہوئی اور پیغمبر (ص) کی تائید شدہ ہوجیسا کہ ارشاد فرمایا:( انّی جاعلک للناس اماما ) (۲)

۔کون افضل ؟ پیغمبر(ص) یا ابوبکر(رض)

سوال ۱۳: کیا یہ درست ہے کہ ہم دیوبندی حضرت ابوبکر (رض) کو پیغمبراکرم (ص)سے افضل جانتے ہیں ؟ اور یہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون حضور کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے گھر میں موجود درخت گر کر ٹوٹ چکا ہے تو آںحضرت (ص) نے فرمایا: تمہارا شوہر مر جائے گا جس پر وہ عورت ناراض ہو کر واپس جانے لگی تو راستے میں حضرت ابوبکر کو دیکھا ااور ان سے اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا: تمہارا شوہر سفر سے واپس پلٹ آئے گا .اور اسی طرح ہوا .دوسرے دن وہ عورت پیغمبر (ص) کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور شکوہ کیا جس پر حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور یہ وحی سنائی کہ خدا وند متعال کو شرم آتی ہے کہ صدیق کی زبان پر جھوٹ جاری ہو یعنی پیغمبر (ص) کی زبان پر جھوٹ جاری ہوتا ہے تو ہو جائے تا کہ حضرت ابو بکر (رض)کی شخصیت پر حرف نہ آنے پائے:

یامحمد ! الّذی قلته هو الحقّ ، ولکن لمّا قال الصّدیق أنّک تجتمعین به فی هذه

____________________

۱۔ الصوارم المحرقہ ۳: ۲۲

۲۔ سورہ بقرہ : ۴۲۱


اللیلة استحیا الله منه أن یجری علی لسانه الکذب لأنّه صدّیق فأحیاه، کرامة له ،(۱)

۔احادیث رسول (ص) کا نذر آتش کرنا

سوال ۱۴:کیا یہ صحیح ہے کہ خلیفہ اوّل نے احادیث رسول (ص) کونذر آتش کر دیا تھا ؟ جیسا کہ علامہ متقی ہندی نے لکھا ہے :

انّ أبا بکر أحرق خمس مئة حدیث کتبه عن رسول الله (۲)

یعنی حضرت ابوبکر(رض) نے پانچ سو احادیث کو جلا دیا جو انہوں نے آنحضرت (ص) سے نقل کر کے لکھ رکھی تھیں

حضرت ابوبکر و عمر (رض)کے تعلقات

سوال ۱۵: کیا یہ درست ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) ایک مرتبہ آںحضرت (ص) کی موجودگی میں آپس لڑ پڑے اور شور کرنا شروع کیا تو یہ آیت مجیدہ نازل ہوئی :( لاترفعواأصواتکم فوق صوت النّبی ) (۳) پیغمبر (ص) کی آواز پر اپنی آواز کو مت بلند کرو؟(۴)

اسی طرح ایک بار حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے زمانہ خلافت میں کچھ زمین کی سند ایک عورت کو دی تو حضرت عمر(رض) نے اسے لے کر پھاڑ ااور اس پر تھوک دیا۔(۵)

اسی طرح حضرت عمر (رض) کا عقیدہ یہ تھاکہ حسد کے دس حصوں میں سے نو حصے حضرت ابو بکر میں موجود ہیں اور ایک حصّہ پورے قریش میں لیکن اس ایک حصّہ میں بھی ابو بکر شریک ہیں ۔(۶)

____________________

۱۔نزہۃ المجالس ۲: ۴۸۱ ۲۔ کنزالعمال ۰۱: ۵۸۲ ۳۔سورہ حجرات: ۲ ۴۔ مسنداحمد۴: ۶

۵۔الدّر المنثور ۳:۲۵۲

۶۔شرح ابن ابی الحدید ۱: ۰۳


خلیفہ دو م رضی اللہ عنہ۔

خلیفہ دوم کا اپنے ایمان میں شک کرنا

سوال ۱۶: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) کو اپنے ایمان میں شک تھا اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ منافقین میں سے ہیں .جیسا کہ امام ذہبی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ حضرت حذیفہ یمانی(رض) سے عاجزانہ التماس کیا کرتے کہ وہ انہیں بتائیں کہ کہیں ان کا نام منافقین میں تو نہیں ہے ؟

حذیفة أحد أصحاب النبیّ أسرّ الیه أسمائ المنافقین ...وناشده، عمر بالله : أنا من المنافقین ...(۱)

۔کیا حضور (ص) نے خود کشی کرنا چاہی

سوال ۱۷:کیا یہ صحیح ہے کہ جب کبھی پیغمبر پر وحی کے نازل میں تاخیر ہو جاتی تو خود کشی یا ٹیلے سے اپنے آپ کو گرا دینے کا بارہا پروگرام بناتے یا پھر اپنی نبوت میں شک کرنے لگتے اور یہ گمان کر بیٹھتے کہ شاید وحی عمر بن خطاب پر منتقل ہو گئی ہے اور آج کے بعد وہ نبی بن گئے ہیں؟جیسا کہ امام بخاری نے لکھا ہے :

وفتر الوحی فترة حتّٰی حزن النبیّ فیما بلغنا حزنا غدا منه مرارا ، کی یتردّی من رؤوس شواهق الجبال ، فکلّما أوفٰی بذروة جبل ،لکی یلقی منه نفسه ،تبدّی له، جبرائیل فقال: یا محمّد انّک رسول الله حقّا .فیسکن لذلک جأشه وتقرّ نفسه فیرجع فاذا طالت علیه فترة الوحی غدالمثل ذلک ..(۲)

____________________

۱۔ تاریخ الاسلام (الخلفائ): ۴۹۴؛

۲۔صحیح بخاری ،کتاب التعبیر ،ح ۲۸۹۲؛ کتاب الأنبیائ ،ح ۲۹۳۳؛کتاب التفسیر ،ح ۳۵۹۴؛ الامام البخاری : ۲۴۱


۔کیا حضرت عمر (رض) کند ذہن تھے

سوال ۱۸:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض)انتہائی کند ذہن تھے یہاں تک کہ بارہ سال کی مدت میں مشکل سے سورہ بقرہ حفظ کی اور اس کی خوشی میں ایک اونٹ ذبح کیا ؟جیسا کہ امام ذہبی نے لکھاہے:

قال ابن عمر: تعلّم البقرة فی اثنتی عشرة سنة ، فلمّا تعلّمها نحر جزورا (۱)

اسی طرح جصاص اور سیوطی کے بقول حضرت عمر (رض)آخر تک آیت کلالہ کا معنیٰ نہ سمجھ پائے اور پھر خود بھی اس کا اقرار کیا(۲)

۔حضرت عمر(رض) کی خلافت پر لوگوں کااعتراض

سوال ۱۹: کیا یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) کے خلافت کیلئے حضرت عمر (رض) کے انتخاب سے لوگ ناراض تھے اور وہ اپنی اس ناراضگی کا اظہار طلحہ بن عبیداللہ کے سامنے کیا کرتے ؟(۳)

۔کیا حضرت عمر (رض) حکم تیمم نہیں جانتے تھے

سوال ۲۰:کیا یہ بھی صحیح کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر (رض) اپنی خلافت کے دوران تک تیمم کے حکم سے آگاہ نہ تھے اور اگر کوئی شخص مسئلہ پوچھ لیتا کہ اگر غسل جنابت کرنا ہو اور پانی بھی نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے ؟ تو وہ جواب

میں فرماتے :جب تک پانی میسّر نہ ہو تب تک نماز ترک کر دی جائے ...! اور دوماہ تک پانی نہ ملتا توخلیفہ دوم نماز کے قریب نہ جاتے

____________________

۱۔ تاریخ الاسلام (الخلفائ ): ۷۶۲

۲۔ کنز العمال ۱۱: ۹۷؛ تفسیر الدرّ المنثور ۲:۹۴۲؛ احکام القرآن جصاص حنفی ۲: ۰۱۱.عن سعید بن مسیّب أنّ عمر سأل رسول الله کیف یورث الکلالة ؟ قال : أو لیس قد بیّن الله ذلک ؟ ثمّ قرأ : وان کان رجل یورث الکلالة أو امرأة الی آخر الآیة فکان عمر لم یفهم ، فأنزل الله یستفتونک قل الله یفتیکم فی الکلالة الی آخر الآیة فکان عمر لم یفهم فقال لحفصة : اذا رأیت من رسول الله طیب نفس فأسألیه عنها! فقال : أبوک ذکر لک هذا ؟ ما أرٰی أباک یعلمها أبدا ! فکان یقول : ماأرانی أعلمها أبدا وقد قال رسول الله ما قال.

۳۔ کنزالعمّال ۵: ۸۷۶


امام نسائی نے اس بارے میں یوں روایت نقل کی ہے :

کنّا عند عمر فأتاه، رجل ،فقال: یاأمیرالمؤمنین ربّما نمکث الشّهر والشّهرین ولانجد المائ ؟ فقال عمر: أمّا أنافاذا لم أجد المائ لم أکن لأصلّی حتّٰی أجد المائ (۱)

کیا حضرت عمر (رض) اور ان کے فرزند کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے

سوال ۲۱:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) اور ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہم سلفیوں کے امام کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے ؟ جیسا کہ امام مالک نے حدیث نقل فرمائی ہے :

عن عبدالله بن دینار قال:رأیت عبدالله بن عمر یبول قائما

ابن دینار کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا وہ کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے تھے

اسی امام ترمذی نقل فرماتے ہیں :عن عمر :رآنی النبیّ وأنا أبول قائما. فقال: یا عمر لاتبل قائما (۲)

پیغمبر نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے عمر ! کھڑے ہو کر مت پیشاب کرو.

امام عسقلانی حضرت عمر (رض) کے اس فعل کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

البول قائما أحفظ للدّبر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے گانڈ محفوظ رہتی ہے(۳)

امام عسقلانی مزید لکھتے ہیں ثابت ہو گیا کہ صحابہ کرام (رض)میں سے کچھ افراد کھڑے ہو کر پیشاب کیا

____________________

۱۔سنن نسائی ۱: ۸۶۱؛ امام بخاری نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن حضرت عمر (رض) کی عزت بچانے کی خاطر یہ جملہ کاٹ دیا کہ میں جنابت کی حالت میں ہوں اور پانی نہ ملتا تو نمازتر ک کردیا کرتا ہوں .بخاری ۱: ۰۷ ،باب المتیمم ھل ینفح فیھما.

۲۔سنن ترمذی ۱: ۸۱

۳۔فتح الباری شرح صحیح بخاری ۱: ۲۶۲؛ ارشاد الساری شرح صحیح بخار ی ۱: ۷۷۲


کرتے تھے جن میں حضرت عمر (رض) بھی شامل ہیں

جبکہ ہم یہ حدیث بھی نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: اقتدوا بالّذین من بعدی ( ۱ میرے بعد آنے والے یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی پیروی کرو .تو اس اعتبار سے کیا ہم پر واجب ہے کہ کھڑے ہو پیشاب کریں ؟ یا حضرت عمر (رض) کی اس سیرت سے فقط اس عمل کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے ؟ اور پھر کیا کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے جو چھینٹیں کپڑوںپڑ تی پیں ان سے لباس نجس ہو گا یا نہیں؟ اور حضرت عمر (رض) کا یہ عمل آنحضرت (ص) کے اس فرمان سے کیسے جمع ہو سکتا ہے جس میں فرمایا:

من الجفائ أن یبول الرّجل قائما (۲)

کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ظلم ہے

اب ہم اہل سنّت آنحضرت (ص) کی اس حدیث پر عمل کریں یا حضرت عمر (رض) کی سیرت پر ؟

حضرت ابو ہریرہ(رض) چور تھے

سوال ۲۲: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت ابو ہریرہ(رض) چور تھے اور انہوں نے بیت المال سے بہت زیادہ مال چرایا اور حضرت عمر(رض) بھی انہیں چور اور دشمن خدا کہا کرتے جیسا کہ ہماری معتبر کتب میں نقل کیا گیاہیکہ حضرت عمر (رض) انہیں کہا کرتے :

یا عدوّ الله وعدوّ کتابه سرقت مال الله (۳)

اے دشمن خدا و قرآن ! تو نے مال خداکوچرالیا

کیاحضرت عمر(رض) کا امّ کلثوم سے عقد نہیں ہوا

سوال ۲۳:کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر (رض) کے امّ کلثوم سے نکاح کا ماجرا ایک جھوٹی داستان ہے اس لئے کہ

۱: یہ داستان تفصیل کیساتھ صحاح ستّہ میں سے کسی ایک میں بھی نقل نہیں ہوئی

____________________

۱۔سنن ترمذی ۵: ۰۳۶

۲۔عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ۳: ۵۳۱

۳۔الطبقات الکبرٰی ۴: ۵۳۳؛ سیر اعلام النبلائ ۲: ۲۱۶


۲: بعض محققین کا تو کہنا ہے کہ حضرت علی (رض) کی کسی بیٹی کا نام اُمّ کلثوم نہیں تھا.(۱) بلکہ یہ حضرت زینب کی کنیت تھی اور ان کی شادی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی تھی

۳: نام میں مغالطہ ہوا ہے اس لئے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیٹی اُمّ کلثوم سے شادی کی خواستگاری کی تھی مگر حضرت عائشہ (رض) کی مخالفت کی وجہ سے شادی واقع نہ ہو سکی(۲)

۴: حضرت عمر (رض) کا اُمّ کلثوم نامی خاتون سے عقد تو ہوا لیکن اس کے باپ کا نام جرول تھا جو عبید اللہ بن عمر (رض) کی ماں تھیں(۳)

۵: تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ماجرا من گھڑت ہے اس لئے کہ کہتے ہیں امّ کلثوم کی شادی پہلے عمر(رض) سے ہوئی ان کی وفات کے بعد محمد بن جعفر سے ، ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی عون بن جعفر سے ہوئی جبکہ ہماری تاریخی کتب اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ دونوں بھائی حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں جنگ تستر شہید ہوگئے تھے(۴)

اور پھر ہماری کتب میںیہ بھی لکھا جاتاہے کہ ان دونوں بھائیوں کی وفات کے بعد ان کی شادی ان کے تیسرے بھائی عبداللہ بن جعفرسے ہوئی جبکہ ان کی شادی تو حضرت زینب سے ہوئی تھی اور وہ اس وقت تک اسی عبداللہ کے عقد میں ہی تھیں تو کیا اسلام میں ایک زمانہ میں دو بہنوں کے ساتھ شادی جائز ہے(۵) یا یہ کہ حقیقت میں ایسا عقد واقع ہی نہیں ہوا ۔

____________________

۱۔ حیات فاطمہ الزہرائ: ۹۱۲،باقر شریف قرشی؛علل الشرائع ۱: ۶۸۱،باب ۹۴۱

۲۔ الأغانی ۶۱: ۳۰۱

۳۔سیر اعلام النبلائ ( تاریخ الخلفائ): ۷۸

۴۔استیعاب ۳: ۳۲۴اور ۵۱۳؛ تاریخ طبری ۴: ۳۱۲؛ الاکمل فی التاریخ ۲: ۶۴۵

۵۔ الطبقات الکبرٰی ۸: ۲۶۴


۔چار ہزار کلو میٹر کے فاصلے لشکر کو کمانڈ کرنا

سوال۲۴: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) چار ہزار کیلو میٹر کے فاصلے پر بیٹھ کر اپنے لشکر کی نقل و حرکت کو دیکھتے رہتے تھے اور ان سے گفتگو بھی کرتے اور لشکر بھی ان کی باتوں کا جواب دیا کرتا جس کے نتیجہ میں انہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی جیسا کہ ہمارے مؤرخین نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے :

من کلام عمر قاله علی المنبرحین کشف له، عن ساریة وهوبنهاوند من أرض فارس (۱)

اگر شیعہ ہم سے یہ کہیں کہ تم حضرت عمر (رض) کے بارے میں غلوّ کرتے ہو جیسا کہ محمد بن درویش نے بھی کہا ہے(۲) تو ہمارے پاس کیا جواب ہے ؟اس لئے کہ ایسا واقعہ عقل و نقل کے خلاف ہے جیسا کہ عسقلانی نے بھی بیان کیا اور کیا ایسی بات پیغمبر (ص) کی طرف بھی نسبت دی جاسکتی ہے ؟

۔کیا حضرت علی(رض) ،حضرت عمر(رض) سے متنفر تھے

سوال ۲۵:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی (رض)، حضرت عمر (رض) کے ساتھ مل بیٹھنے یا ان سے ملاقات کرنے سے نفرت کرتے تھے یہاں تک کہ جب بھی حضرت ابوبکر (رض) ان سے ملنے کی خواہش کرتے تو وہ یہ شرط لگاتے کہ عمر (رض) کو اپنے ہمراہ نہ لانااس لئے کہ مجھے ان سے نفرت ہے جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اسے بیان کیا : أرسل ۔علیّ(رض)۔الی أبی بکر أن ائتنا ولا یأتنا أحد معک کراهیة لمحضر عمر ...(۳)

ان تمام تر شواہد کے باوجود کیسے یہ دعوٰی کیا سکتا ہے کہ خلفائ کے اہل بیت رسول (ص) کے ساتھ اچھے روابط تھے ؟

____________________

۱۔ ابن عساکر : ۷۴؛ البدایۃ والنھایۃ ۷: ۵۳۱؛ الکامل فی الضعفائ ۳: ۵۳۴؛ الجرح والتعدیل ۴: ۸۷۲؛ تہذیب التہذیب ۴: ۹۵۲

۲۔أسنیٰ المطالب : ۷۵۵،ح ۳۶۷۱

۳۔ صحیح بخاری ۳: ۵۵،کتاب المغازی (خیبر)


۔حضرت عمر (رض) وحفصہ (رض) کا تورات سے لگاؤ

سوال ۲۶: کیا یہ درست ہے کہ حضرت عمر (رض)اور حضرت حفصہ (رض) کو تورات سے بہت لگاؤ تھا یہاں تک کہ اسے قرآن کی طرح تلاوت کیا کرتے اور اس کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ؟ جیسا کہ عبدالرزاق نے لکھا ہے :

انّ عمر بن الخطّاب مرّبرجل یقرئ کتابا، سمعه ساعة فاستحسنه، فقال للرّجل : أتکتب من هذا الکتاب ؟ قال : نعم فاشترٰی أدیما لنفسه ، ثمّ جائ به الیه ، فنسخه، فی بطنه وظهره، ثمّ أتٰی بن النّبیّ فجعل یقرأه، علیه وجعل وجه رسول الله یتلوّن،فضرب رجل من الأنصار بیده الکتاب وقال : ثکلتک اُمّک یابن الخطاب ألا ترٰی الی وجه رسول الله منذ الیوم وأنت تقرئ هذا الکتاب؟! فقال النبیّ عند ذلک : انّما بعثت وفاتحا وخاتما وأعطیت جوامع الکلم وفواتحه، واختصر لی الحدیث اختصارا فلا یهلکنّکم المتهوکون (۱)

نیز حضرت حفصہ(رض) کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر (ص) کے حضور میں سابقہ امّتوں کے حالات ان کی کتب سے پڑھا کرتیں جس پر پیغمبر (ص) سخت ناراحت ہوئے یہاں تک کہ چہرہ مبارک کارنگ تبدیل ہوگیا اور فرمایا: اگرآج حضرت یوسف(ع) اس کتاب کو لے کر آئیں اور تم لوگ اس کی پیروی کرنا شروع کر دوتو گمراہ ہو جاؤ گے

عن الزهری : انّ حفصة زوج النبیّ جائت الی النبیّ بکتاب من قصص یوسف ، فی کتف فجعلت تقرئ علیه والنّبیّ یتلوّن وجهه،، فقال : والّذی نفسی بیده لو أتاکم یوسف وأنا فیکم فاتّبعتموه، وترکتمونی لضللتم (۲)

____________________

۱۔ المتحیّرون ؛ المصنّف ۶: ۳۳۱و ۱۱: ۱۱۱

۲۔ المصنّف ۶: ۳۱۱،ح ۶۱۰۱


اور کیا یہ صحیح ہے کہ مد ینہ منورہ میں مسکہ نامی ایک مقام ہے جہاں حضرت عمر (رض) تورات سیکھنے جایاکرتے جیسا کہ علاّمہ شبلی نعمانی نے اپنی کتاب فاروق اعظم میں لکھا ہے

۔توہین رسالت (ص) کاجرم

سوال ۲۷: کیا قاضی عیاض کی یہ بات درست ہے کہ جوشخص یہ کہے کہ پیغمبر نے جہاد سے فرار کیا تو وہ شخص توبہ کرے ورنہ اسے قتل کردیا جائے کیونکہ اس نے شان رسالت (ص) گھٹائی اور ان کی توہین کی ہے ؟(۱)

اسی قرطبی کا کہنا ہے : جو شخص بھی کسی صحابی کی توہین کرے یا اس پر اعتراض کرے تو اس نے خدا کو ٹھکرایا اور مسلمانوں کی شریعت کوابطل قرار دیاہے ۔(۲)

جی ہاں ! اگر یہ جملے توہین رسالت (ص) اور قتل کا باعث بنتے ہیں توکیا ایسے لوگ جنہوں نے پیغمبر (ص) کی طرف ہذیان کی نسبت دی یا مختلف مقامات پر ان کی مخالفت کی .ان کا خون مباح نہیں ہو گا ؟

امام بخاری نے سات مقامات پر اور امام مسلم نے تین مقامات پر لکھا ہے کہ حضرت عمر (ص) نے پیغمبر (ص) کے متعلق یہ جملات کہے تھے .( ۳ )

اما م غزالی کہتے ہیں :قال عمر : دعواالرّجل فانّه، لیهجر (۴)

سحضرت عمر (رض) نے کہا : یہ شخص (پیغمبر (ص))ہذیان بول رہا ہے اس کی بات پر مت توجہ دو.

____________________

۱۔المواہب اللّدنیۃ ۱: ۸۹

۲۔ تفسیر قرطبی ۶۱: ۷۹۲

۳۔ صحیح بخاری ۴: ۷، کتاب المرضیٰ ، باب ۷۱،اور۲: ۸۷۱،کتاب الجہاد ، باب ۲۷۱؛ اور ۲: ۲۰۲، باب ۶ و ۳: ۱۹، کتاب المغازی ، باب ۸۷؛ ۴: ۱۷۲، باب ۶۲؛ صحیح مسلم ۳: ۹۶، کتاب الوصیۃ ، باب۵، ح ۲۲، طبع مصر.

۴۔ سرّ العالمین : ۰۴، طبع دارالآفاق قاہرہ ، سال ۱۲۴۱ھ ؛ الطبقات الکبرٰی ۲: ۳۴۲ و ۴۴۲ ؛ مسند احمد ۳: ۶۴۳؛ مجمع الزوائد ۴: ۰۹۳،و ۱۹۳.


۔حضرت عمر(رض) کاوصیت رسول (ص) کی مخالفت کرنا

سوال ۲۸:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول مکر م اسلام کی وصیت کی سخت مخالفت کی تھی اور اسے ردّ کردیا ؟ جیسا کہ حضرت جا بر بن عبد اللہ فرماتے ہیں:

انّ النبیّ دعا عند موته بصحیفة لیکتب فیها کتابا لا یضلّون بعده، أبدا قال : فخالف عمر بن الخطاب حتّی رفضها (۱)

ایک اور مقام پر کہا :فکرهنا ذلک أشدّ الکراهة (۲)

ہم ان کی اس وصیت سے سخت متنفر تھے

۔حضرت عمر(رض) کا کعب الاحبار یہودی سے تعلق

سوال ۲۹:کیا یہ درست کہا جاتا ہے کہ کعب الاحبار جسے خلیفہ دوم اور بنو امیہ کی حکومت میں بہت مقام حاصل تھا وہ اسلام لانے کے بعد بھی ہمیشہ تورات کی ترویج کیا کرتا اور ہماری کتب کے اندر اسرائیلیات کے نفوذ کا سبب بھی وہ تھا جیسا کہ عظیم مفسّر قرآن ابن کثیر(۳) ،عبدالمنعم حنفی(۴) اور ان کے علاوہ دیگر مؤلفین نے اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے ۔

امام ذہبی فرماتے ہیں :کان یحدّثهم عن الاسرائیلیة وہ لوگوں کو اسرائیلیات سنایا کرتا(۵)

یہ وہ کتب تھیں جومعمولا جھوٹ اور افترائ پر مبنی تھیں جن کی وجہ سے اسلامی احادیث کو ناقابل جبران ضرر ہوا اور غیر مسلموں کو اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات ایجاد کرنے کا موقع میسر ہوا

____________________

۱۔ مجمع الزوائد ۴: ۰۹۳و ۸: ۹۰۶؛ مسند ابی یعلیٰ ۳: ۵۹۳؛ مسند احمد ۳: ۹۴۳

۲۔ حوالہ سابق

۳۔ تفسیر ابن کثیر ۳: ۹۷۳

۴۔موسوعۃ فلاسفۃ ومتصوفۃ الیھودیۃ : ۴۸۱

۵۔ سیر اعلام النبلائ ۳: ۹۸۴


۔فتوحات اسلام کا مقصد

سوال ۳۰: کیا یہ درست نہیں ہے کہ بعض مسلمان خلیفوں کی فتوحات کا مقصد شکم پر کرنااور کنزیں حاصل کرنا تھا جیسا کہ امام ذہبی نے لکھا ہے(۱)

کیا ان کا یہ مقصد پیغمبر (ص) کے مقصد سے مخالف نہیں ہے جو انہوں نے حضرت علی (رض) کو یمن روانہ کرتے ہوئے فرمایا:لئن یهدی الله بک رجلا خیرالک ممّا طلعت علیه الشّمس

اے علی (رض) ! اگر خداوند متعال آپ کے ذریعے ایک شخص کو ہدایت کردے تو وہ تمارے لئے پوری دنیا سے بہتر ہے ؟(۲)

۔حضرت عمر (رض) کا لوگوں کوحضرت علی(رض) کے خلاف ابھارنا

سوال ۳۱:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب (رح)(رض) اپنی غلطیوں پر پردہ پوشی کی خاطر قریش کو حضرت علی (رض) کے خلاف بھڑکایا کرتے کہ انہوں نے ان کے بڑوں کو قتل کیا ہے؟ جیسا کہ موفق الدین مقدسی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے.(۳)

۔حضرت عمر(رض) کتنے باادب تھے

سوال۳۲: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) باادب نہیں تھے اس لئے کہ جب بھی پیغمبر (ص) یا حضرت فاطمہ (رض) کا تذکرہ کرتے تو انہیں نازیبا الفاظ میں یاد کیا کرتے ؟یہی وجہ ہے کہ علمائے اہل سنّت نے حضرت عمر (رض) کو احمق سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ امام ذہبی نے امام عبدالرزّاق سے اس تعبیر کو نقل کیا ہے :

کان زید بن المبارک قد لزم عبدالرّزاق،فأکثر عنه ثمّ خرق کتبه ولزم محمد بن ثور ، فقیل له، فی ذلک، فقال: کنّا عند عبدالرزّاق ، فحدثنا حدیث معمر عن الزهری عن مالک بن اوس الحدثان فلمّا قرئ قول عمر لعلیّ و عبّاس :

____________________

۱۔سیر اعلام النبلائ ۳: ۱۳

۲۔ صحیح بخاری ، باب الجھاد : ۲۰۱، کتاب فضائل اصحاب النبی ّ : ۹ ، کتاب المغازی : ۸۳؛ فضائل الصحابۃ : ۵۳؛ مسند احمد ۵ : ۸۳۲

۳۔انساب القریش : ۳۹۱؛ بحار الأنوار ۹۱: ۰۸۲


فجئت أنت تطلب میراثک من ابن أخیه وهذا یطلب میراث امرأته .قال عبدالرزاق : انظروا الی هذا الأنوکل أی الأحمق یقول تطلب أنت میراثک من ابن أخیک ،ویطلب هذا میراث زوجته من أبیه ولا یقول : رسول الله .(۱)

۔تدوین احادیث پر پابندی

سوال۳۳:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں احادیث رسول (ص) کو نقل کرنے پر سزا دی جاتی تھی جیسا کہ حضرت ابوذر(رض)، ابوالدردائ، ابو مسعود انصاری اور دوسرے صحابہ کرام کو اس قانون کی مخالفت اور احادیث نبوی (ص) کے پھیلانے پر سزا دی گئی

امام ذہبی لکھتے ہیں:هکذا هو کان عمر یقول : أقلّو الحدیث عن رسول الله وزجر غیر واحد من الصحابة عن بثّ الحدیث وهذا مذهب لعمر و غیره ، فباللّه علیک اذا کان الأکثار من الحدیث فی دولة عمرکانوا یمنعون منه مع صدقهم وعدالتهم وعدم الأسانید (۲)

طبری لکھتے ہیں : جب بھی خلیفہ دوم کسی علاقہ میں کوئی گورنر یا حاکم بناکر بھیجتے تو اسے یہ دستور دیتے کہ قرآن سے زیادہ بیان کرو اور محمد سے احادیث کم نقل کرو(۳)

قرظہ بن کعب انصاری کہتے ہیں کہ جب ہم کوفہ کی جانب روانہ ہونے لگے توحضرت عمر (رض) نے صرار تک ہماری ہمراہی کی اور پھر وہاں پر الوداع کرتے ہوئے فرمایا:جانتے ہو میں کس لئے تمہیں یہاں تک چھوڑنے آیا ہوں ؟ ہم نے کہا :اس لئے کہ ہم اصحاب رسول (ص) ہیں فرامایا:تمہارا گذر ایسی ایسی بستیوں سے ہو گا جہاں لوگ قرآن پڑھتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ تم احادیث پڑھ پڑھ کر انہیں قرآنا

____________________

۱۔سیر اعلام النبلائ ۹: ۳۷۵

۲۔ سیر اعلام النبلائ ۲:۱۰۶

۳۔ تاریخ الأمم والملوک ۳: ۳۷۲


پڑھنے سے دور کر دو .پس جس قدر ممکن ہو پیغمبر (ص) سے کم احادیث نقل کرو.(۱)

امام ذہبی لکھتے ہیں: حضرت عمر (رض) نے تین صحابہ کرام حضرت ابو مسعود انصاری ، حضرت ابو الدّردائ اورحضرت عبداللہ بن مسعود کو احادیث نبوی نقل کرنے پر قید کردیا.(۲)

اسی طرح ایک اور مقام پر امام ذہبی اور حاکم سے نقل ہوا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت ابوالدردائ اور حضرت ابو ذر (رض) کو احادیث رسول(ص) نقل کرنے کی وجہ سے سر زنش کی اور اپنی خلافت کے آخری ایّام تک انہیں مدینہ دے باہر نہ نکلنے دیا.(۳)

۔نام پیغمبر (ص) رکھنے پر پابندی

سوال۳۴:کیا حضرت محمد یا انبیائ علیہم السلام میں سے کسی ایک کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھنا ممنوع اور حرام ہے ؟ اگر حرام نہیں ہے تو پھر کس لئے حضرت عمر (رض) نے ایک نامہ میں اہل کوفہ کو یہ حکم دیا کہ انبیائ کے نام پر نام نہ رکھا جائے اور اسی طرح مدینہ منورہ میں یہ دستور صادر کیا کہ جس بچے کا نامحمد ہے اسے تبدیل کر دیا جائے ؟ جیسا کہ امام عینی فرماتے ہیں :

کان عمر کتب الی أهل الکوفة : لا تسمّوا أحدا باسم نبیّ ، وأمر جماعة بالمدینة بتغییر اسمائ أبنائهم المسمّین بمحمد حتّی ذکر له، جماعة من الصّحابة انّه، أذن لهم فی ذلک فترکهم (۴)

____________________

۱۔ الطبقات الکبرٰی ۶ :۷ ؛ المستدرک علی الصحیحین : ۲۰۱.أردنا الکوفة فشیّعنا عمر الی صرار وقال: تدرون لم شیّعتکم ؟ فقلنا : نعم ،نحن أصحاب رسول الله فقال انّکمتأتون سأهل قریة لهم دوّی بالقرآن کدوّی النحل ، فلا تصدّوهم بالأحادیث ، فتشغلوهم ،جرّدوهم القرآن، وأقلّو االرّوایة عن رسول الله وامضوا ،وأنا شریککم

۲۔ تذکرۃ الحفّاظ ۱: ۷

۳۔سیر اعلام النبلائ ۷: ۶۰۲؛ مستدک حاکم ۱: ۰۱۱

۴۔عمدۃ القاری فی شرح صحیح بخاری ۵۱: ۹۳


کیا کہیں بنو اُمیہ کا علی نام رکھنے والوں کو قتل کرنا(۱) اور حضرت عمر(رض) کا نام پیغمبر(ص) رکھنے سے منع کرنا ایک مشترک ہدف کی تکمیل تو نہیں تھا ؟

____________________

۱۔ حافظ مزی لکھتے ہیں: کانت بنو اُمیۃ اذا سمعوا بمولود اسمہ ، علیّ قتلہ، .بنو امیہ کو اگر یہ معلوم ہو جاتا کہ فلاں بچے کا نام علی ہے تو اسے قتل کروا دیتے تہذیب الکمال ۳۱: ۶۶۲


حضرت علی(رض) اور اہل بیت رسول(رض)

۔کعبہ میں حضرت علی(رض) کی ولادت

سوال ۳۵:کیا یہ درست ہے کہ خانہ کعبہ میں حضرت علی (رض) کے علاوہ کوئی اور پیدا نہیں ہوا ؟ جیسا کہ ہمارے علمائ نے اسے واضح طور پر بیان کیا ہے :

۱ ۔ ابن صباغ مالکی:ولم یولد فی البیت الحرام قبله، أحد سواه، وهی فضیلة خصّه، الله بها اجلالا له، واعلائ لمرتبته واظهارا لتکرمته (۱)

حضرت علی (رض) سے پہلے کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہو ااور یہ ایسی فضیلت تھی جو انہیں کے ساتھ مخصوص ہے اور اس فضیلت کے ذریعہ سے خدا وند متعال نے ان کی عظمت و اکرام اور ان کے احترام کا اظہار کیا ہے

اسی طرح بدخشی، ابن قفال ، لکھنوی(مرأۃ المؤمنین)اور شبلنجی وغیرہ نے کہا ہے کہ خانہ کعبہ میں حضرت علی(رض) سے پہلے یا بعد میں کوئی دوسرا پید انہیں ہوا.(۲)

کیا وجہ ہے کہ ہمارے موجودہ علمائ آنحضرت کی اس فضیلت کو سر عام نقل نہیں کرتے ؟ کیا انہیں شیعوں کے پھیلنے کا خوف ہے ؟ اور پھر اس سے بدتر تو یہ ہے کہ اگر شیعہ بھی آنحضرت کی اس فضیلت کو نقل کریں تو ہم ان کی بھی مخالفت کرتے ہیں.

۔حدیث منزلت صحیح ترین حدیث

سوال ۳۶:کیا یہ صحیح ہے کہ حدیث منزلتیا علی(رض) أنت منّی بمنزلة هارون من موسٰی ...اے علی(رض)! آپ کی مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسٰی (ع) سے تھی صحیح ترین اور محکم ترین احادیث میں

____________________

۱۔الفصول المہمۃ : ۰۳؛ مستدرک حاکم ۳: ۳۸۴

۲۔ازالۃ الخفائ ۲: ۱۵۲؛ کفایۃ الطالب : ۷۰۴؛ شرح عینیہ (آلوسی): ۵۱؛ المجدی (صوفی) :۱۱؛ تاریخ بناکتی : ۸۹؛ نورالأبصار: ۶۷


سے ہے ؟ جیسا کہ مفسّر عظیم قرطبی نے لکھا ہے:

وهو من أثبت الآثار و أصحّها (۱)

۔ولایت علی(رض) کا انکار

سوال ۳۷:کیا ہم دیوبندی حضرات ، حضرت علی(رض) کی ولایت کا انکار کر سکتے ہیں؟جب کہ حنفی علمائ حسکانی وغیرہ کہتے ہیںاُولو الأمر حضرت علی(رض) ہیں : أولوالأمر هو علیّ الّذی ولاه الله بعد محمد فی حیاته حین خلفه رسول الله بالمدینة (۲)

۔کیا پہلے اوردوسرے خلیفہ (رض) مقام پرست تھے

سوال ۳۸: کیا یہ صحیح ہے جو امام ذہبی نے امام غزالی سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے غدیر خم میں حضرت علی(رض) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی لیکن رسالت مآب (ص) کی رحلت کے بعد خواہشات نفس کی پیروی اور حکومت کے لالچ میں اس سے پھر گئے:

هذا تسلیم ورضیٰ ثمّ بعد هذا غلب الهوٰی حبّا للرئاسة (۳)

۔کیاصدیق حضرت علی(رض) کا لقب ہے

سوال ۳۹:کیا یہ درست ہے کہ ایک بھی صحیح حدیث میں نہیں آیا کہ رسالت مآب نے حضرت ابوبکر(رض) کو صدیق یا حضرت عمر (رض) کو فاروق کا لقب دیا ہو بلکہ یہ سب القاب حضرت علی (رض) کو دیئے تھے جیسا کہ امام طبری نے بھی لکھا ہے:

عن عباد بن عبدالله سمعت علیّا یقول : أنا عبدالله و أخو رسول الله وأنا الصّدیق

____________________

۱۔ استیعاب ۳: ۷۹۰۱

۲۔ تفسیر شواہد التنزیل۲: ۰۹۱

۳۔ سیر اعلام النبلائ ۹۱: ۸۲۳.ذکر ابو حامد فی کتابه السّرالعالمین وکشف ما فی الدارین فقال : فی حدیث من کنت مولاه فعلیّ مولاه انّ عمر قال لعلیّ : بخ ّ بخّ ، أصبحت مولٰی کلّ مؤمن قال أبو حامد : هذا تسلیم و رضیٰ ثمّ بعد هذا غلب الهوٰی حبّا للرّیاسة ، وعقد البنود وأمر الخلافة ونهیها ، فحملهم علی الخلاف فنبذوه ورائ ظهورهم واشتروا به ثمنا قلیلا فبئسما یشترون


الأکبر لا یقولها بعدی الاّ کاذب مفتر ،صلّیت مع رسول الله قبل النّاس بسبع سنین (۱)

حضرت علی (رض) نے فرمایا: میںاللہ کا بندہ اور اس کے رسول(ص) کا بھائی اور صدیق اکبر ہوں میرے بعد کوئی اور اس کا دعوٰی نہیں کرے گا سوا جھوٹے شخص کے. میں نے رسول خدا کے ساتھ سات سال تک سب سے پہلے نمازیں ادا کیں

۔علی(رض) نام کے بچوں کا قتل کردینا

سوال ۴۰:کیا یہ درست ہے کہ حکومت بنو اُمیہ حضرت علی (رض) کے نام کی بھی دشمن تھی اور اگر کسی بچے کانام ان کے نام پر رکھ دیا جاتا تو اسے قتل کروادیتے جیسا کہ رباح نامی شخص نے اپنے بیٹے کا نام ان کے ڈر سے عُلی کردیا!جیسا کہ امام مزی نے لکھا ہے:

کانت بنو اُمیة اذا سمعوا بمولود اسمه علیّ قتلوه ، ، فبلغ ذلک رباحا فقال: هو علی بن رباح عُلی وکان یغضب علیّ ویحرّج علی من سمّاه، به (۲)

لیکن اس کے باوجود ہمارے علمائ کیسے ان سفاک اور ظالم حکمرانوں کا دفاع کرتے ہیں ؟(۳)

۔کیا خلفائ نے بھی اپنے کسی بچے کا نام علی(رض) رکھا

سوال ۴۱:کیا یہ درست ہے کہ خلفائے ثلاثہ میں سے کسی ایک نے بھی اپنے بیٹوں کا نام حسن یا حسین نہ رکھا جبکہ حضرت علی (رض) کے بیٹوں کے نام ابو بکر ، عمر اور عثمان تھے ؟ تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ خلفائ اہل بیت (رض) کو اچھا نہیں سمجھتے تھے ورنہ وہ بھی اپنی اولاد کا نام ان کے نام پر رکھتے جبکہ ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے آپس کے تعلقات بہتر تھے ؟

____________________

۱۔تاریخ طبری ۱: ۷۳۵؛ مسند زید،ح ۳۷۹؛ سنن ابن ماجہ ۱: ۴۴؛ مستدرک حاکم ۳: ۴۴؛ اگرچہ حاکم نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق تھے لیکن امام ذہبی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیاہے.ج ۳، ص ۲۶.

۲۔تہذیب الکمال ۳۱: ۶۶۲؛ تہذیب التہذیب ۷: ۱۸۲

۳۔عمدۃ القاری ۶۱: ۷۰۲؛ فتح الباری۷: ۳۸؛ ارشاد السّاری ۶:۱۴۱؛ وفیات الاعیان ۱: ۷۷


۔کیا علی(رض) کے فضائل ذکر کرنے کی سزاپھانسی ہے

سوال ۴۲:کیا حضرت علی (رض) کے فضائل بیان کرنا ممنوع اور انہیں گالیاں دینا آزاد تھا یہاں تک کہ حکومتیں اس پر تشویق کیا کرتیں ؟ اس کی کیا وجہ تھی اور کس ہدف کے تحت ایسے لوگوں کی حمایت کی جاتی ؟ اس کے علاوہ نام علی (رض) لینا جرم بلکہ پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیتا تھا ؟

صحابی رسول (ص) حضرت عبد اللہ بن شداد(رض) فرماتے تھے : میری یہ آرزو ہے کہ مجھے پورا ایک دن صبح سے شام تک حضرت علی (رض) کے فضائل بیان کرنے دیئے جائیں اور اس کے بعد بے شک مجھے پھانسی دے دی جائے۔جیسا کہ امام ذہبی نے بھی اس بات کی اشارہ کیا ہے :

عبد الله بن شداد : انّی قمتُ علی المنبر من غدوة الی الظّهر ،فأذکر فضائل علیّ بن أبی طالب رضی الله عنه ثمّ أنزل فیُضرب عُنقی (۱)

۔کیا علی(رض) پر لعنت کروا نا بنو امیہ کا کام تھا

سوال ۴۳:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت معاویہ(رض) کے دور خلافت میں حضرت علی (رض) کو گالیاں دی جاتیں اور ان پر لعن طعن کی جاتی اور حکومت اس کی ترویج کیا کرتی جیسا کہ ہماری کئی ایک کتب میں موجود ہے:

۱ ۔حموی بغدادی سیستان(ایران کا ایک شہر) کے بارے میں لکھتے ہیں :

وأجلّ من هذا کلّه انّه لعن علیّ بن أبی طالب رضی الله عنه علی المنابر الشرق والغرب ولم یلعن علی منبرها الاّ مرّة وامتنعوا علی بنی امیة حتّی زادوا فی عهدهم أن لا یلعن علی المنبر أحد ...وأیّ شرف أعظم من امتناعهم من لعن أخی رسول الله علی منبر هم وهو یُلعن علی منابر الحرمین مکّة والمدینة (۲)

بنو امیہ کے دور میں شرق و غرب کے منبروں پر حضرت علی (رض) پر لعنت کی جاتی اور جن لوگوں نے اس بدعت کی مخالفت کی وہ تنہا اہل سیستان تھے اور یہ ان کے لئے بہت بڑائی کی بات ہے کہ انہوں نے

____________________

۱۔ سیر اعلام النبلائ ۳: ۹۸۴

۲۔ معجم البلدان ۳: ۱۹۱


رسول خدا (ص) کے بھائی پر لعنت کرنے سے انکار کردیا

۲ ۔ ابوالفرج اصفہانی کہتے ہیں :نال المغیرة من علیّ ولعنه ولعن شیعته

مغیرہ حضرت علی(رض) اور ان کے شیعوں پر لعنت کرنے پر ناز کیا کرتا(۱)

جبکہ امام احمد بن حنبل نے پیغمبر اکرم سے نقل کیاہے کہ آپ (ص) نے حضرت علی(رض) کے بارے میں فرمایا: من سبّک فقد سبّنی جس نے تجھے گالی دی اس نے مجھے گالی دی ۔(۲)

۔کیا امام مالک اور امام زہری بنوامیہ کے ہوادار تھے

سوال ۴۴:کیا یہ بھی صحیح ہے کہ امام زُہری اور امام مالک حضرت علی (رض) کے دشمنوں میں سے اور بنو اُمیہ کے طرف دارتھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خلیفہ چہارم کے متعلق ایک حدیث بھی نقل نہ کی جبکہ ان کے فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ پوری پوری کتب تألیف کی جاسکتی ہیں جیسا کہ ابن حبان اور ابن عساکر نے اس حقیقت کو عیاں کیا ہے :

۱ ۔ ابن حبان لکھتے ہیں:ولست أحفظ لمالک ولاللزّهری فیما رویا من الحدیث شیئا من مناقب علیّ بن أبی طالب رضی الله عنه )

۲ ۔ابن عساکر لکھتے ہیں:عن جعفر بن ابراهیم الجعفری قال : کنت عندالزّهری أسمع منه فاذا عجوز قد وقفت علیه فقالت یاجعفری لاتکتب عنه فانّه، مال الی بنی اُمیّة وأخذ جوائز هم .فقلت: من هذه .قال: أختی خرفت .قالت : خرفت أنت

____________________

۱۔الأغانی ۷۱: ۸۳۱

۲۔مسند احمد ۰۱:۸۲۲،ح۰۱۸۶۲

۳۔المجروحین ۱: ۸۵۲.اسی طرح کعبی نے لکھا ہے کہ اس نے حضرت علی(رض) کی فضیلت میںایک بھی روایت نقل نہیں کی بلکہ وہ تو مروانی تھا .قبو ل الاأخبار ۱:۹۶۲


کتمت فضائل آل محمّد (۱)

جعفر جعفری کہتے ہیں : میں زہری سے احادیث سن رہا تھا کہ اچانک ایک بوڑھی عورت آئی اور کہا : اے جعفری ! اس سے حدیث مت نقل کرنا کیونکہ یہ بنو اُمیہ کی طرف داری کرتا اور ان سے ہدیے وصول کرتا ہے ۔میںنے پوچھا کہ یہ عورت کون ہے تو زہری نے جواب میں کہا: یہ میری بہن ہے جو دیوانی ہو چکی ہے ۔

اس عورت نے جواب میں کہا : پاگل تو تو ہو گیا ہے جو آل محمد (ع) کے فضائل چھپاتا ہے !

۳ ۔ کعبی لکھتے ہیں: زہری بنو امیہ کا طرف دار تھا اس نے حضرت علی(رض) کی شان میں ہر گز کوئی فضیلت نقل نہیں کی۔(۲)

کیا ایسے افراد جو حضرت علی (رض) اور آل محمد (ص) کے دشمن اور بنو امیہ وعباس جیسی ظالم وسفاک حکومتوں کی حمایت کرتے تھے انہیں فقہ وحدیث کا ستون اور مذہب کا امام مانا جاسکتا ہے ؟

جبکہ امام ذہبی نے حضرت ابو سعید او ر حضرت جابر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا :

ما کنّا نعرف منافقی هذه الاُمّة الّا ببُغضهم علیّا (۳)

ہم اس اُمت کے منافقوںکوان کے بغض علی (رض) سے پہچانتے تھے

۔کیا امام ذہبی علی(رض) کے فضائل تحمل نہیں کرپاتے تھے ۔

سوال ۴۵: کیا یہ صحیح ہے کہ امام ذہبی حضرت علی (رض) کے فضائل برداشت نہیں کر پاتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی حدیث آنحضرت (رض) کی فضیلت کو بیان کر رہی ہوتی تو اسے کسی نہ کسی طرح ردّ کر دیتے .جیسا کہ غماری سنی نے لکھا ہے:

____________________

۱۔تاریخ دمشق ۲۴: ۷۲۲

۲۔قبول الأخبار ۱: ۹۶۲

۳۔ سیر أعلام النبلائ (الخلفائ): ۶۳۲؛ صحیح ترمذی ۷: ۱۷۳؛استیعاب ۳: ۶۴


الذّهبی اذا رأی حدیثا فی فضل علیّ رضی الله عنه بادر الی انکاره بحق ّ وبباطل،کان لایدری ما یخرج من رأسه (۱)

کیا امام بخاری حضرت علی(رض) کو چوتھا خلیفہ نہیں مانتے تھے

سوال ۴۶:کیا یہ صحیح ہے کہ امام بخاری حضرت علی(رض) کی کسی ایسی فضیلت کو ماننے کو تیار نہیں تھے جو دوسرے صحابہ سے ان کی برتری کو بیان کر رہی ہوتی ؟(۲) ور انہیں باقی صحابہ کرام(۳) کے برابر سمجھا کرتے ؟

اسی طرح کبھی کبھار حضرت علی (رض) کی خلافت پر بھی اعتراض کرتے اور ان کاعقیدہ یہ تھا کہ حضرت علی(رض) چوتھے خلیفہ نہیں ہیں .یہی وجہ ہے کہ اپنی کتاب الأوسط میں تمام خلفائ کی مدّت حکومت کا تذکرہ کیا ہے سوا حضرت علی(رض) کی حکومت کےقال فی الاوسط:حدّثنا عبدالله ...عن شهاب ، قال : عاش أبو بکر بعد ان استخلف سنتین وأشهر ، وعمرعشر سنین حجّها کلّها ،وعثمان اثنتی عشرة سنة الاّ أشهرا حجّها کلّها الّا سنتین ، ومعاویة عشرین سنة الاّ أشهرا حجّ حجتین و یزید ثلاث سنوات وأشهرا وعبدالملک بعد الجماعة بضع عشر سنة الاّ أشهرا،حجّ حجّة والولید عشر سنین الاّ أشهرا حجّ حجّة (۴)

____________________

۱۔ فتح الملک العلی: ۰۲

۲۔صحیح بخاری ، مناقب عثمان ؛ فتح الباری ۷: ۶۴. حدّثنی محمد بن حاثم ...عن ابن عمر : کنّا فی زمن النبی ّ لا نعدل بأبی بکر أحدا ثمّ عمر ثمّ عثمان ، ثمّ نترک أصحاب النبیّ لا نفاضل بینھم

۳۔ عجیب بات ہے کہ ہم اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے عبداللہ بن عمر کی بات کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ ہمارے علمائ اس کی اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے جیسا کہ امام علی بن جغد بغدادی متولد۴۳۱ھ عبداللہ بن عمر کی اس بات پر اعتراض کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس بچے کو دیکھیں کس طرح بکواس کر رہا ہے جبکہ اسے تو طلاق جاری کرنا بھی نہیں آتا .سیر اعلام النبلائ ۰۱: ۳۶۴ .اسی طرح علّامہ ابن عبدالبرّ نے بھی اس بات کو ردّ کیا ہے استیعاب ۳: ۹۱۱۱.

۴۔.الأوسط ۱: ۰۱۱


جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرما یا کہ امام بخاری نے حضرت علی(رض) کی حکومت کے علاوہ سب کا تذکرہ کیا ہے حتّیٰ یزید کی حکومت کا بھی .اور اگر کہیں ان کی خلافت کا تذکرہ کیا بھی ہے تو اسے فتنہ سے تعبیر کیا ہےولّی أبو بکرسنتین وستة أشهر وولّی عمر عشر سنین وستة أشهر وثمانیة عشر یوما وولّیٰ عثمان ثنتی عشرة سنة غیر اثنی عشر یوما وکانت الفتنة خمس سنین وولّی معاویة عشرین سنة وولّی یزید بن معاویة ثلاث سنین (۱)

کیا بنوامیہ نے شائع کیا کہ علی(رض) چوتھا خلیفہ نہیں ہے

سوال ۴۷:کیا یہ صحیح ہے کہ بنو اُمیہ حضرت علی (رض) کو چوتھا خلیفہ نہیں مانتے تھے اور انہوں نے ہی یہ معروف کیا کہ خلفائے راشدین تین ہی ہیں اور پھر ابن تیمیہ نے بھی انہیں کی پیروی کرتے ہوئے اس نظریہ کی ترویج کی ؟ جیسا کہ سنن ابو داؤد میں آیا ہے :

قال سعید : قلت لسفینة : انّ هؤلائ یزعمون انّ علیّا لم یکن بخلیفة ؟ قال : کذبت استاه بنی الزرقائ ،یعنی بنی اُمیّة .(۲)

۔ابن تیمیہ کا چوتھے خلیفہ کے خلاف سازش

سوال۴۸: کیا یہ صحیح ہے کہ امام ابن تیمیہ حضرت علی (رض) کو چوتھا خلیفہ نہیں مانتے تھے جبکہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ حدیث : خلافۃ نبوّۃ ثلاثون سنۃ بنو امیہ اور ان لوگوں کے ردّ میں آئی ہے جو حضرت علی(رض) کو چوتھا خلیفہ نہیں مانتے :

هذا حدیث فیه ردّ صریح... علی النّواصب من بنی اُمیّة ومن تبعهم من أهل الشّام فی انکارخلافة علیّ بن ابی طالب(رض)(۳)

ابن تیمیہ کہتے ہیں : نحن نعلم أنّ علیّا لمّا تولّی کان کثیر من النّاس یختار ولایة

____________________

۱۔الأوسط۱: ۸۱۲

۲۔ سنن ابو داؤد ۴: ۱۱۲

۳۔ شرح ابن ابی الحدید ۶: ۷؛ الامامۃ والسیاسۃ : ۶


معاویۃ وولایۃ غیرھما... ہم جانتے ہیں کہ جب علی (رض)نے خلافت سنبھالی تواس وقت بہت سارے لوگ حضرت معاویہ(رض) اور ان دونوں کے علاوہ کی ولایت کو تسلیم کر چکے تھے

اور پھر کہتے ہیں :انّ فیهم من یسکت عن علیّ فلا یربّع به فی الخلافة لأنّ الأمّة لم یجتمع علیه .وکان فی أ ندلس کثیر من بنی اُمیّة یقولون : لم یکن خلیفة وانّما الخلیفة من اجتمع النّاس علیه ولم یجتمعوا علی علیّ

کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو علی(رض) کی خلافت کے بارے میںساکت رہے اور ان کو چوتھا خلیفہ تسلیم نہ کیا اس لئے کہ ان کی خلافت پر مسلمانوں کا اتفاق نہیں ہوا اور اندلس میں موجود بنو امیہ یہ کہتے کہ وہ خلفیہ نہیں ہیں اس لئے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جس پر تمام لوگ متفق ہوں اور علی (رض)پر تمام لوگ متفق نہیں ہوئے

۔کیا امام احمد بن حنبل کے نزدیک خلافت علی(رض) کی مخالفت کرنے والاگدھاہے

سوال ۴۹: کیا یہ درست ہے کہ امام احمد بن حنبل حضرت علی(رض) کو چوتھا خلفیہ تسلیم نہ کرنے والو ں کو گدھے سے بھی زیادہ گمراہ سمجھتے ہیں:

من لم یثبت الامامة لعلیّ فهو أضلّ من حمار (۱)

امام احمد بن حنبل نے ایسے شخص سے قطع کلامی کا حکم دیا ہے اور ان سے نکاح تک کرنے سے منع فرمایا:من لم یربّع علیّ بن ابی طالب الخلافة فلا تکلّموه ولاتناکحوه (۲)

ایک اور مقام پر خلفائے ثلاثہ کا نظریہ رکھنے والوں پر حملہ آور ہوتے ہوئے فرمایا:

هذا قول سوئ ردّی یہ بہت پست اور برا نظریہ ہے(۳)

کیا حنبلیوں کے امام کے مطابق امام ابن تیمیہ گدھے سے بھی زیادہ گمراہ تھے اور ان سے رابطہ قطع

____________________

۱۔آئمّۃ الفقہ التّسعۃ : ۸۰۲

۲۔ طبقات الحنابلۃ ۱: ۵۴

۳۔السنّۃ حلال : ۵۳۲


کرنا واجب ہے؟ اسی طرح امام بخاری کا بھی تو یہی نظریہ تھا تو پھر کیا ہم انہیں اپنے مذہب کا اما م سمجھ سکتے ہیں ؟

کیا حضرت علی(رض) کے فضائل تمام صحابہ سے زیادہ تھے

سوال ۵۰:کیا یہ صحیح ہے کہ جتنی مقدار میں صحیح احادیث رسول(ص) ، حضرت علی(رض) کی شان میں نازل ہوئی ہیں کسی اور صحابی کی شان میں نازل نہیں ہوئیں؟ جیسا کہ امام احمد بن حنبل ، امام نسائی اور حاکم نیشاپوری نے اس حقیقت کو آشکار کیا ہے:

لم یرد فی حقّ أحد من الصّحابة بالأسانید الجیاد أکثر ممّا جائ فی علیّ رضی الله عنه (۱)

حسکانی حنفی کہتے ہیں : حضرت علی (رض) کے لئے ایک سو بیس ایسی فضیلتیں ہیں جن میں کوئی اور ان کے ساتھ شریک نہیں ہے اور جو جو فضیلت دوسرے صحابہ میں پائی جاتی ہے ان میں بھی وہ ان کے ساتھ شریک ہیں :

کان لعلیّ بن أبی طالب عشرون و مأة منقبة لم یشترک معه، فیها أحد من أصحاب محمد وقد اشترک فی مناقب النّاس (۲)

پس جو لوگ حضرت علی (رض) کو باقی صحابہ کرام(رض) کے برابر سمجھتے ہیں یا انہیں خلفائے ثلاثہ سے کمتر قرار دیتے ہیں ان کا کیا حکم ہو گا جیسے امام بخاری اور امام ابن تیمیہ وغیرہ؟

کیا حدیث غدیر چھپانے والے بیماری میں مبتلا ہو گئے

سوال ۵۱:کیا یہ درست ہے کہ بعض صحابہ کرام(رض) نے حضرت علی (رض) کے کہنے کے باوجود حدیث غدیر کا انکار

____________________

۱۔ فتح الباری ۷: ۹۸؛ الاصابۃ ۲: ۸۰۵،عن احمد لم ینقل لأحد من الصحابة مانقل لعلیّ وقال غیره :وکان سبب ذلک بغض بنی امیة له، ، فکان کلّ من کان عنده، علم من شیئ من مناقبه من الصحابة یثبته، وکلّما أرادو ا اخماده، وهدّدوه، من حدّث بمناقبه لایزداد الاّ انتشارا .

۲۔شواہد التنزیل ۱: ۴۲،ح ۵


کردیا اور آنحضرت نے ان کے حق میں بددعا کی جس سے وہ کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو گئے :(۱)

۱ ۔انس بن مالک برص کی بیماری میں مبتلا ہوئے(۲)

۲ ۔ برائ بن عازب اندھے ہوگئے

۳ ۔ زید بن ارقم اندھے ہوگئے

۴ ۔ جریر بن عبداللہ بجلی بدو ہوگئے(۳)

۵ ۔ معیقب (ابن ابی فاطمہ دوسی) جذام کی بیماری میں مبتلا ہوئے ؟(۴)

۔کیا حضرت علی (رض) کے فرزند ،پیغمبر(ص) کے فرزند تھے

سوال ۵۲:کیا یہ بھی درست ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جو پیغمبر کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے نواسوں کو ان بیٹا قراردیا گیا ؟جیسا کہ قلقشندی نے آنحضرت (ص)کا فرمان لکھا :

انّ الله جعل ذرّیّتی فی صُلب علیّ

خدا وند متعال نے میری اولاد کو علی (رض) کی نسل میں باقی رکھا ہے(۵)

لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام (رض)یا تابعی جو ان دو شہزادوں کے قتل میں ملوث رہے اور اسی طرح ایسے راوی جو ان جوانان جنّت کے سرداروں کوگالیاں دیا کرتے ، اس کے باوجود بھی وہ ہمارے نزدیک ثقہ اور قابل اعتماد ہیں نہ ان کے اس ظلم کا ان کی عدالت پر کوئی اثر پڑا اور نہ ہی ان کے

____________________

۱۔الفقہ علی المذاہب الأربعہ ۴: ۵۷ ؛ روح المعانی ۲۔ المعارف : ۰۸۵

۳۔انساب الأشراف ۲: ۶۵۱،ح ۹۶۱

۴۔ تاریخ دمشق ۳: ۴۷۱؛ المعارف : ۷۳۱؛ یہ وہ شخص ہیں جو حضرت عمر (رض) کی طرف سے بیت المال کمیٹی کے سر پرستوں میں سے تھے

۵۔مآثر الانافہ فی امر الخلافۃ ۱: ۱۰۱؛ المعجم الکبیر ۳: ۳۴؛ لسان المیزان ۳: ۳۸۶۱؛ موسوعۃ اطراف الحدیث ۳: ۸۴۱


دین پر؟ جیسا کہ عجلی نے عمر بن سعد کے بارے میں لکھا ہے :

وهو تابعی ثقة ، وهو الّذی قتل الحسین (۱)

وہ تابعی اور ثقہ ہے یہ وہی شخص ہے جس نے حسین کو قتل کیا تھا

واقعا اگر ہم یہی عقیدہ لے کر اس دنیا سے چل بسے تو روز قیامت اپنے نبی (ص) کو کیا منہ دکھائیں گے ؟

۔کیا حضرت علی (رض) جانشین پیغمبر (ص) تھے

سوال ۵۳:کیا یہ صحیح ہے کہ آںحضرت نے اسلام کی پہلی دعوت میں قریش کے سرداروںکے سامنے حضرت علی (رض) سے یہ فرمایاتھا :

أنت أخی ووزیری ووصیی ووارثی وخلیفتی من بعدی

آپ میرے بھائی ، میرے وزیر ، میرے وصی ، میرے وارث اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں

جیسا کہ اس مطلب کو قوشجی(۲) ، حلبی(۳) اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے. اگرچہ بعض نے اس عبارت کوحذف کر کے اس کی جگہ کذا وکذا لکھ دیا جیسے ابن کثیر(۴)

جب یہ روایت صحیح ہے تو پھر ہم حضرت علی(رض) کو خلیفہ اوّل ماننے سے انکار کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ فرمان رسول (ص) کی مخالفت نہیں ہے ؟ اسی طرح کلام رسالت (ص) کو مبہم کردینا یہ آنحضرت (ص) سے خیانت اور مشرکین مکّہ والا رویہ نہیں ہے؟

۔کیا امام بخاری نے حدیث غدیر کو مخفی رکھا

سوال ۵۴:کیا یہ صحیح ہے کہ امام بخاری نے حدیث غدیر کی سند صحیح اور متواتر ہونے کے باوجود نقل نہیں کیا اور اس کی وجہ وہی ان کا حضرت علی(رض) سے بغض ہے ؟ جبکہ ہمارے بڑے بڑے علمائ نے اس حدیث کی سند کی تائید کی ہے :

____________________

۱۔تہذیب الکمال ۴۱: ۵۷ ۲۔شرح تجرید : ۷۲۳ ۳۔ السیرۃ الحلبیہ۱: ۶۸۲

۴۔ البدایۃ والنھایۃ۳: ۸۳،فأیکم یوازرنی علی هذا الأمر علی أن یکون أخی وکذاکذا


۱ ۔ ابن حجر مکّی : حدیث غدیر بغیر کسی شک کے صحیح ہے اور بہت سے محدثین نے اسے نقل بھی کیا ہے جیسے ترمذی ، نسائی اور احمد اور یہ کئی ایک اسناد اور واسطوںسے نقل ہوئی ہے .اس کے راوی سولہ صحابی ہیں اور احمد بن حنبل نے لکھا ہے : تیس اصحاب پیغمبر نے اس حدیث کو سنا اور حضرت علی (رض) کے دور خلافت میں اس کی گواہی بھی دی .اس حدیث کی بہت سی اسناد صحیح اور حسن ہیں لہذا اگر کوئی اس کی سند پر اعتراض کرے تو اس کی بات پر توجہ نہیں دی جائے گی.(۱)

۲ ۔ امام ذہبی : وہ کہتے ہیں حدیث غدیر کی اسناد بہت اچھی ہیں اور میں نے اس بارے میں کتاب بھی لکھی ہے.(۲)

اسی طرح ایک اور مقام پر لکھا ہے: اس حدیث کی سند حسن او ر عالی ہے اور اس کا متن بھی متواتر ہے(۳)

۳ ۔طبری: امام ذہبی کہتے ہیں : طبری نے حدیث غدیر خم کی اسناد اور واسطوں کو چارجلدی کتاب میں جمع کیا ہے میں نے ان میں سے بعض کی اسناد کو دیکھا ہے ،ان روایات کی کثرت کو دیکھ کرحیران ہوگیااور مجھے واقعہ غدیر کے محقّق اور رونما ہونے کا یقین ہوگیا(۴)

۴ ۔ شمس الدین شافعی : یہ حدیث امیرالمؤمنین (رض) اور رسالت مآب (ص) سے متواتر نقل ہوئی ہے اور بہت سے

____________________

۱۔ الصواعق المحرقہ : ۴۶

۲۔تذکرۃ الحفاظ ۳:۱۳۲.أمّا حدیث (من کنت مولاه ، ) فله، طرق جیدة وقد أفردت ذلک أیضا

۳۔سیر اعلام النبلائ۸: ۵۳۳.هذا حدیث عال جدّا ومتنه فمتواتر .

۴۔سیر اعلام النبلائ ۴۱: ۷۷۲.جمع الطبری طرق حدیث غدیرخم فی أربعة أجزائ ، رأیت شطره، فبهرنی سعة روایاته وجزمت بوقوع ذلک أیضا


محدثین نے بھی اسے نقل کیا ہے .اور جو لوگ اس علم میں مہارت نہیں رکھتے ،ان کا اس حدیث کو ضعیف قرار دیناکوئی اعتبا ر نہیں رکھتا(۱)

۵ ۔ قرطبی : حدیث مؤاخات ، حدیث خیبر اور حدیث غدیر ساری کی ساری ثابت شدہ ہیں.(۲)

کیا وجہ ہے کہ علمائ و محدثین اسلام کی گواہی کے باوجود ہم اس حدیث کے مطابق حضرت علی(رض) کی خلافت بلا فصل کو ماننے کو تیار نہیں اور ہاں کیا اگر یہی حدیث حضرت ابو بکر (رض) کی شان میں نازل ہوئی ہوتی تو پھر بھی ہمارا رویہ یہی ہوتا؟ !

۔کیا حضرت معاویہ(رض) کی مخالفت جرم ہے

سوال ۵۵: کیا یہ درست ہے کہ ہمارے علمائ حضرت معاویہ (رض) اور عمرو بن عاص کی مخالفت کو ناقابل بخشش گناہ سمجھتے ہیں جبکہ حضرت علی (رض) کی مخالفت کو اہمیت بھی نہیں دیتے اور اسے ایک معمولی سی بات تصور کرتے ہیں ؟ جیسا کہ امام ذہبی نے دو مقامات پر نسائی اور حریز بن عثمان کے بارے میں لکھا ہے :

امام نسائی کے متعلق لکھا ہے : وہ حضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن عاص سے منحرف تھے خدا ان کو معاف کرے(۳) جبکہ حریز بن عثمان جو حضرت علی(رض) پر لعنت کیا کرتا تھا اس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ثقہ اور عادل تھے!(۴)

۔سفیان ثوری کاحضرت علی(رض) سے کینہ رکھنا

سوال۵۶: کیا یہ درست ہے کہ سفیان ثوری جو ہم اہل سنّت کے بہت بڑے محدّث شمار ہوتے ہیں وہ حضر ت علی(رض) کے فضائل ومناقب کو ناپسند کرتے اور ناراض ہو پڑتے ہیں؟ جیسا کہ امام ذہبی نے لکھا ہے:

____________________

۱۔ اسنی المطالب : ۷۴.تواتر عن امیرالمؤمنین وهو متواتر أیضا عن النبیّ رواه، الجمّ الغفیر ولا عبرة بمن حاول تضعیفه ممّن لا اطلاع له، فی هذا العلم .

۲۔استیعاب ۲: ۳۷۳.حدیث المواخاةوروایة خیبر والغدیر هذه کلّها آثار ثابتة

۳۔سیر اعلام النبلائ ۴۱: ۲۳۱

۴۔العبر ۱: ۵۸۱؛میزان الاعتدال ۱: ۶۷۴؛ سیر اعلام النبلائ ۷: ۰۸؛تہذیب الکمال ۴:۳۳۲


عن سفیان ثوری قال: ترکتنی الرّوافض وأنا أبغض أن أذکر فضائل علیّ رضی اللّٰه عنه (۱)

شیعوں نے مجھے اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ میں حضرت علی (رض) کے فضائل بیان کرنے کو پسند نہیں کرتا

البتہ امام ذہبی نے صحابہ کرام کا یہ قول بھی نقل کیاہے :

ما کنّا نعرف المنافقین الاّ ببغض علیّ (۲)

ہم منافقین کو علی (رض) سے بغض کے ذریعہ پہچانا کرتے تھے

کیا یہ درست ہے کہ ایسے شخص کی روایات پر یقین کرلیا جائے اور اسے ا پنے زمانہ کا ابوبکر (رض) و عمر(رض) سمجھ لیا جائے :کان الثّوری عندنا امام النّاس وکان فی زمانه کأبی بکر وعمر فی زمانهما (۳) یا یہ کہ حضرت ابو بکر (رض)اور حضرت عمر (رض) بھی ایسے ہی تھے ؟

۔ہمارا حضرت فاطمہ(رض) کی مخالفت کرنا

سوال ۵۷: کیا یہ صحیح ہے کہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کائنات کی تمام عورتوں میں سے حضرت فاطمہ (رض) سب سے افضل اور سیدہ نسائ العالمین ہیں.(۴)

تو پھر کیا وجہ ہے کہ نماز جمعہ کے خطبے میں حضرت عائشہ (رض) کانام تو لیاجاتا ہے جبکہ سیدہ نسائ العالمین کا کبھی تذکرہ تک نہیں ہوتا ؟

____________________

۱۔سیر اعلام النبلائ ۷: ۳۵۲؛ حلیۃ الأولیائ ۷: ۷۲

۲۔سیر اعلام ( الخلفائ ): ۶۳۲

۳۔سیر اعلام ( الخلفائ ): ۶۳۲

۴۔ شرح ابن ابی الحدید ۰۲: ۷۱.کیف تکون عائشة أو غیرها فی منزلة فاطمة وقد أجمع المسلمون کلّهم من یحبّها ومن لا یحبّها منهم : أنّهاسیّدة نسائ العالمین .ابوبکر داؤد کہتے ہیں :لاأُفضل ببضعة من رسول الله صلی الله علیه وسلم ۔أحدا. ارشاد الساری فی شرح صحیح بخاری ۶: ۰۱؛ غالیۃ المواعظ ۱: ۰۷۲؛ تاریخ الخمیس ۱: ۵۶۲؛ الروض الأنف ۱:۰۶۱


حضرت عائشہ(رض) اور دیگر امہات المؤمنین(رض)

۔کیا ازواج پیغمبر(ص)دوگروہ میں بٹی ہوئی تھیں

سوال ۵۸: کیا یہ صحیح ہے جیسا کہ امام ذہبی وغیرہ نے بیان فرمایا ہے کہ پیغمبر (ص) کی ازواج مطہّرات دو گروہ میں بٹی ہوئی تھیں ایک گروہ میں حضرت عائشہ (رض) وحفصہ (رض) تھیں اور دوسرے میں حضرت امّ سلمہ وبقیہ ازواج مطہرات(۱) اور حکومتیں حضرت عائشہ(رض) کی حمایت کیا کرتیں .جس کے مندرجہ ذیل نمونے ذکر کر رہے ہیں :

۱ ۔ خلیفہ دوم پیغمبر (ص) کی تمام ازواج کو بیت المال میں سے دس ہزار دینار(درہم) دیا کرتے جبکہ حضرت عائشہ(رض) کو دو ہزار ،ان سے زیادہ دیا جاتا.

۲ ۔ حضرت معاویہ (رض) نے ایک لاکھ درہم (دینار) کا حوالہ حضرت عائشہ(رض) کی خدمت میں ارسال کیا ۔

۳ ۔ اسی طرح ایک لاکھ درہم کا ایک گردن بند بھی انہیں دیا۔

۴ ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر نے ایک لاکھ درہم حضرت عائشہ (رض) کے سپرد کیا(۲)

____________________

۱۔سیر اعلام النبلائ ۲: ۳۴۱و ۷۸۱؛صحیح بخاری ۲: ۹۸،کتاب الھبہ ؛المعجم الکبیر ۳۲: ۰۵،ح ۲۳۱؛ مقدمہ فتح الباری : ۲۸۲؛ تحفہ احوذی ۰۱: ۵۵۲

۲۔سیر اعلام النبلائ ۲: ۳۴۱و ۷۸ا


۔حضرت عائشہ(رض) پہلے سے شادی شدہ تھیں

سوال ۵۹:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عائشہ (رض) حضور علیہ الصلاۃ والسّلام سے پہلے کسی اور سے شادی کر چکیتھیں اور ان کے شوہر کا نام جبیر تھا پھر حضرت ابوبکر نے جبیر سے طلاق دلوا کر پیغمبر سے ان کا نکاح کروا دیا ؟

اور ان کا بار باریہ اصرار کرنا کہ جب رسول خدا سے میری شادی ہوئی تومیں کنواری تھی ،تویہ محض اس لئے تھا تاکہ کوئی ان کی پہلی شادی کے بارے میں شک نہ کر پائے

ابن سعد:خطب رسول الله عائشة الی أبی بکر الصّدیق : فقال : یارسول الله انّی کنت أعطیتها مطعما لابنه جبیر فدعنی حتّی أسلّمها منهم فطلقها ، فتزوّجها رسول الله (۱)

البتہ جہاں تک میرے علم میں ہے کوئی بھی شیعہ ایسا عقیدہ نہیں رکھتا اور نہ ہی ان کی کسی کتاب کے اندر کوئی ایسی بات ملتی ہے جبکہ افسوس یہ ہے کہ ہماری قدیمی ترین کتب میں یہ بات موجود ہے

لقد أعطیت تسعا ما أعطیتها امرأة بعد مریم:لقد نزل جبرائیل بصورتی ...ولقد تزوّجنی بکرا وما تزوّج بکرا غیری ...وان کان الوحی لینزل علیه وانّی لمعه فی لحافه (۲)

۔امام حسن (رض) کا جنازہ دفن نہ ہونے دینا

سوال ۶۰:کیا یہ درست ہے کہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ (رض)کے حکم پر جوانان جنّت کے سردار حضرت امام حسن مجتبٰی (رض)کاجنازہ پیغمبر (ص) کے روضہ مبارک کے پاس لانے سے روک دیا گیا؟ جبکہ خود حضرت عائشہ (رض) نے دستور دیا کہ سعد بن ابی وقاص کے جنازہ کو مسجد میں نبوی میں لا کر اس پر نماز جنازہ ادا کی جائے ) تو کیا حضرت عائشہ (رض) امّ المؤمنین نہ تھیں یا امام حسن (رض)مومن نہ تھے کہ ان کے جنازہ کو روک دیا گیا؟

____________________

۱۔لطبقات الکبرٰی ۸: ۹۵

۲۔ سیر اعلام النبلائ ۲: ۰۴۱و ۱۴۱ ۳۔سیر اعلام النبلائ ۲: ۵۰۶؛طبقات ابن سعد ۳: ۸۴۱


۔ابن زبیر کاحضرت عائشہ(رض) کو گمراہ کرنا

سوال ۶۱:کیا یہ بھی درست ہے کہ عبداللہ ابن زبیر نے حضرت عائشہ (رض) کو فریب دیکر جنگ جمل کے لئے آمادہ کیا جس میں کتنے مسلمانوں کا ناحق خون بہا .جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر(رض) نے یہ تلخ حقیقت حضرت عائشہ(رض) کے گوش گزار فرمائی اور امام ذہبی نے اسے یوں نقل کیا :

قالت عائشه اذا مرّ ابن عمر ، یا عبدالرحمن مامنعک أن تنهانی عن سیری ؟ قال : رأیت رجلا قد غلب علیک یعنی ابن الزّبیر (۱)

ان تمام تر حقائق کے باوجود ہمارے علمائ کس لئے جنگ جمل کی غلط توجیھات کر تے اور عبداللہ بن زبیرکی حمایت کرتے ہیں جو کتنے صحابہ کرام(رض) کے قتل کا باعث بنا ؟

۔حضرت عائشہ (رض) کا حضور(ص) کی توہین کرنا

سوال ۶۲:کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) ایسی ایسی روایات نقل کیا کرتیں جن میں پیغمبر کی توہین کی جاتی اور کوئی بھی غیرت مند مسلمان انہیں برداشت نہیں کر سکتا(۲) یقینا ان میں سے بعض جھوٹی اور شریعت وسیرت پیغمبر کے کاملا مخالف ہیں :

۱ ۔ حضرت عائشہ(رض) فرماتی ہیں: تزوّجنی بکرا جب پیغمبر(ص)نے مجھ سے شادی کی تو باکرہ تھی

۲ ۔ وہی فرماتی ہیں:کان رسول الله یأتیه الوحی ، وأنا وهو فی لحاف

جب آپ (ص) پر وحی نازل ہوتی تو ہم ایک ہی لحاف میں ہوتے(۳)

۳ ۔انّ عائشة تخبر النّاس أنّه صلّی الله علیه وسلّم کان یقبّل وهو صائم (۴)

____________________

۱۔سیر اعلام النبلائ ۲: ۳۹۱

۲۔سیر اعلام النبلائ ۲: ۳۹۱،۱۹۱و ۲۷۱

۳۔ حوالہ سابق

۴۔صحیح بخاری ۲: ۲، کتاب العیدین ، باب الحرب والدرق یوم العید ،اور ۴: ۷۴، کتاب الجھاد ، باب الدرق ؛ صحیح مسلم ۲: ۹۰۶، کتاب الصّلاۃ.


حضرت عائشہ (رض) لوگوں کو یہ بتایا کرتیں کہ آںحضرت (ص) حالت روزہ میں (اپنی بیوی کا) بوسہ لیا کرتے ۔

۴ ۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں:ایک دن حضور (ص) تشریف لائے تو میرے پاس گانے والی دو کنیزیں گانے میں مشغول تھیں لیکن آپ(ص) توجہ کئے بغیر اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئے .اتنے میں حضرت ابو بکر (رض) تشریف لائے تو ناراض ہوتے ہوئے فرمایا: گانا اور وہ بھی پیغمبر(ص) کے گھر میں !! آںحضرت (ص) نے فرمایا: انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو .(تاکہ وہ گانے گا سکیں)جیسے ہی حضرت ابوبکر (رض) نے توجہ ہٹائی تو میں نے ان دونوں کنیزوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا۔دخل علیّ رسول الله وعندی جاریتان تغنّیان بغنائ بعاث فاضطجع علی الفراش وحوّل وجهه ودخل أبو بکر فانتهزنی وقال مزمار الشیطان عند النبیّ فأقبل علیه رسول الله وقال دعها ...(۱)

۵ ۔ عید کے د ن پیغمبر(ص) نے مجھے کٹھ پتلیوں کا کھیل دکھایا(۲)

۶ ۔ ایک دن عید کے روز حبشہ سے کچھ رقص کرنے والی آئیں تو آنحضرت (ص) نے مجھے بلا کر میرا سر اپنے شانے پر رکھا اور ان کا رقص دیکھنا شروع کیا(۳)

۔جوان کا رضاعی بھائی بن سکنا

سوال ۶۳:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کا نظریہ یہ تھا کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کا پانچ مرتبہ دودھ پی لے تو وہ اس کا رضائی بیٹا اور محرم بن جائے گا یہی وجہ ہے کہ جب بھی حضرت عائشہ (رض) کسی مردکو گھر میں داخل ہونے کی اجازت دینا چاہتیں تو وہ اس سے کہتیں کہ پہلے جاؤ میری بہن اسمائ کادودھ پیو تا کہ اس طرح آپ ان کی خالہ اور محرم بن جائیں. جبکہ دوسری طرف پیغمبر اکرم کی تمام ترا زواج مطہّرات اس نظریے کی شدید مخالف تھیں جیسا کہ ابودؤود سے نقل ہوا ہے :

____________________

۱۔حوالہ سابق

۲۔ صحیح بخاری ۲: ۲۰۲

۳۔ صحیح مسلم ۲: ۹۰۶ ، کتاب صلاۃ العیدین


عن عائشة واُمّ سلمة أنّ أبا حذیفة کان تبنّیٰ سالما وأنکحه، ابنةأخیه...فجائت امرأة أبی حذیفة فقالت : یا رسول الله ! انّاکنّا نریٰ سالما ولدا وکان یأوی معی ومع أبی حذیفة فی بیت واحد ویرانی فضلا .وقد أنزل الله فیهم ماقد علمت فکیف ترٰی فیه ؟

فقال لها النبیّ : أرضعیه ، فأرضعته خمس رضاعات فکان بمنزلة ولدها من الرّضاعة .فبذٰلک کانت عائشة تأمر بنات أخواتها وبنات اخوتها أن یرضعن من أحبّت عائشة أن یراها ویدخل علیها وان کان کبیرا ، خمس رضاعات ثمّ یدخل علیها وأبت اُمّ سلمة وسائرأزواج النّبی أن یدخلن علیهنّ بتلک الرّضاعةأحدا حتّٰی یرضع فی المهد(۱)

حضرت عائشہ اورحضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ابو حذیفہ نے سالم کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا اور اس کا نکاح اپنی بھتیجی سے کیا ایک دن اس کی بیوی آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کرنے لگی : ہم نے سالم کو اپنا بیٹا بنا رکھا ہے جبکہ وہ ہمارے ساتھ رہتا اور ہمیں گھر کے لباس میںبھی دیکھتا ہے جبکہ حکم پروردگار بھی اس بارے میں نازل ہو چکا ہے جیسا کہ آپ (ص) (ص) جانتے ہیں تو اس سلسلے میں کیا حکم ہے ؟

آنحضرت نے فرمایا : اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دو تو وہ تمہارا رضاعی بیٹا بن جائے گا .یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) جب کسی کو اپنے پاس بلانا چاہتیں یا اسے دیکھنا چاہتیں تو اپنی بھتیجیوں اور بھانجیوں سے فرماتیں کہ اسے پانچ بار دودھ پلا دیں اگرچہ وہ شخص جوان ہی کیوں نہ ہوتا جبکہ پیغمبر

____________________

۱۔سنن ابوداؤد ۲: ۲۲۲؛ صحیح مسلم ۷: ۴


کی باقی بیویاں اس کی مخالفت کیا کرتیں اور ایسے افراد کو گھر میں داخل نہ ہونے دیتیں.

۔مصحف حضرت عائشہ(رض)

سوال ۶۴:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس ایک مصحف تھا جسے مصحف عائشہ کہا جاتا(۱) اور اسی طرح بعض صحابہ کرام کے پاس بھی اپنے اپنے مصحف موجود تھے جیسے مصحف سالم مولٰی حذیفہ ، مصحف ابن مسعود ، مصحف ابی بن کعب ، مصحف مقداد ، مصحف معاذ بن جبل ، مصحف ابو موسٰی اشعری وغیرہ(۲)

ان مصحف اور حضرت علی و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھما کے مصحف میں کیا فرق ہے ؟ اگر ایک ہی چیز ہیں تو پھر ہم شیعوں پر کیوں اعتراض کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں حضرت فاطمہ (رض) کے پاس ایک مصحف تھا !

۔ صحابہ کرام(رض)کا حضرت عائشہ(رض) پر زناکی تہمت لگانا

سوال ۶۵: کیا یہ حقیقت ہے کہ رسالت مآب کے بعض صحابہ جیسے مسطح بن اثاثہ ، حسان بن ثابت اور حمنہ(۳) نے اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر زنا کی تہمت لگائی تھی اور رسول نے ان پر تہمت کی حد بھی جاری کی تھی ؟ ایسی بری بات شیعوں کی کتب میں موجود نہیں ہے جبکہ ہم اس تہمت کو ان کی طرف نسبت دیتے ہیں تاکہ کوئی ہمارے بارے میںایسا گمان ہی نہ کرنے پائے!

۔امّ المؤمنین کا بیس ہزار اولادکو قتل کروادینا

سوال ۶۶: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے جنگ جمل میں مؤمنین اور اپنی اولاد کے بیس ہزار افراد مروا ڈالے اور اگر کوئی ان پر اس بارے میں اعتراض کرتا تو اسے دشمن خداقرار دے کر اس سے انتہائی سختی سے پیش آتیں .یہاں تک کہ امّ اوفٰی کو اسی بات کی وجہ سے اپنی محفل سے نکال دیا؟ جیسا کہ ابن عبد ربُہ

____________________

۱۔تفسیر نسائی ۲: ۰۷۳؛ تفسیر بغوی ۲: ۱۳۳۲۔اسدالغابہ ۴: ۶۱۲

۳۔اسد الغابہ ۵: ۸۲۴.کانت ممّن قال فی الافک علی عائشة ...انّهاجلدت مع من جلد فیه.اور ۴: ۵۵۳،شهد مسطح بدرا وکان ممّن خاض فی الافک علی عائشة فجلده، النبّی فیمن جلده اور ۲:۶، وکان حسان بن ثابت ممّن خاض فی الافک فجلد فیه.


نے لکھا ہے:

دخلت اُمّ اوفٰی العبدیة بعد الجمل علی عائشة فقالت لها:ما تقولین فی امرأة قتلت ابنا لها صغیرا؟ فقالت: وجبت لها النّار .قالت : فما تقولین فی امرأة قتلت من أولادها الأکابرعشرین ألفا فی صعید واحد : فقالت خذوا بید عدّوة الله (۱)

جنگ جمل کے بعدامّ اوفیٰ حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : ایسی عورت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس نے اپنے چھوٹے بچے کو قتل کر ڈالا ہو ؟ تو فرمایا: اس کی سزا جہنّم ہے .عرض کیا : اگر کوئی عورت اپنی بیس ہزار نوجوان اولاد مروا دے تو اس کا کیا حکم ہو گا ؟ تو اس پر حضرت عائشہ (رض) (ناراض ہو گئیں اور)فرمایا: اس دشمن خداکو پکڑلو.

۔بعض امّہات المؤمنین کا مرتدہوجانا

سوال۶۷:کیا یہ صحیح ہے کہ پیغمبر اکرم کی بعض بیویاں یعنی امّہات المؤمنین مرتد ہو گئی تھیں ؟ جیسے اشعث بن قیس کی بہن قتیلہ کہ جب اس نے پیغمبر کی وفات کی خبر سنی تو مرتد ہو گئی اور ابو جہل کے بیٹے عکرمہ سے جاکر شادی کر لی .یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) چاہتے تھے کہ عکرمہ کو آگ میں جلا دیں اس لئے کہ اس نے پیغمبر کی تو ہین کی تھی.جیسا کہ ابن اثیر نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے :

انّ النبّی توفّٰی وقد ملک امرأة من کندة، یقال لها قتیلة فارتدّت مع قومها فتزوّجها بعد ذلک عکرمة بن أبی جهل بکرا ، فوجد أبوبکر من ذلک وجدا شدیدا .(۲)

۔حضرت عمر (رض) کا نبی (ص) کی بیوی کو طلاق دینا

سوال ۶۸:کیا یہ درست ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ کی بعض بیویوں کو طلاق دے کر انہیں

____________________

۱۔لعقد الفرید ۴: ۵۰۳

۲۔اسد الغابہ ۷: ۰۴۲؛ السمتدرک علی الصحیحین ۴: ۰۴؛ کنزالعمال ۳۱: ۴۰۳؛ دلائل النبوّۃ ۷: ۸۸۲؛ الاصابۃ ۸:۲۹۲؛عن ابن عباس : أنّ النّبیّ تزوّج قتیلة أخت الأشعث ومات قبل أن یخبرها وهذا موصول قوی الاسناد


ام المومنین ہونے سے خارج کر دیا تھا ؟جیسا کہ علاّمہ طحاوی نے لکھا ہے:

عن الشعبی : أن نبیّ الله تزوّج قتیلة بنت قیس ومات عنها ثمّ تزوّج عکرمة فأراد أبو بکر أن یقتله، فقال له، عمر أنّ النّبی لم یحجبها ولم یقسّم لها ولم یدخل بها وارتدّت مع أخیها عن الاسلام وبرئت من الله تعالٰی ومن رسوله ،فلم یزل به حتّی ترکه ، (۱)ففی هذا الحدیث أنّ أبابکر أراد أن یقتل عکرمة لمّا تزوّج هذه المرئة لأنّها کانت عنده، من أزواج النبّی الّاتی کنّ حرمن علی النّاس بقول الله تعالٰی : وما کان لکم أن تؤذوا رسول الله ...وانّ عمر أخرجها من أزواج النبّی بردتها الّتی کانت منها اذاکان لایصلح لها معها أن تکون للمسلمین (۲)

____________________

۱۔مشکل الآثار ۲: ۹۱۱

۲۔مشکل الآثار ۲: ۳۲۱؛ دلائل النبوّۃ ۷:۸۸۲


صحابہ کرام رضی اللہ عنھم

۔پیغمبر (ص) نے فقط عبداللہ بن سلام کو جنّت کی بشارت دی

سوال ۶۹:کیا یہ صحیح ہے کہ حضور علیہ الصلاّۃ والسّلام نے عبداللہ بن سلام کے علاوہ کسی کو جنّت کی بشارت نہیں دی ؟ جیسا کہ سعد وقاص نے بیان کیا ہے :

ما سمعت النبیّ یقول لأحد یمشی علی الأرض انّه من أهل الجنّة الاّ لعبدالله بن سلام (۱) وبہ نقل صحیح مسلم :لاأقول لأحد من الأحیائ أنّه من أهل الجنّة الاّ لعبدالله بن سلام (۲)

پس اس حدیث کو عشرہ مبشرہ والی حدیث سے کیسے مطابقت دی جاسکتی ہے جب کہ یہ حدیث صحیح ہے اور صحیح بخاری و مسلم میں اسے نقل کیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس عشرہ مبشرہ والی حدیث ضعیف ہونے کے علاوہ نہ تو اسے امام بخاری نے نقل کیا ہے اور نہ ہی مسلم نے ؟

۔کیا بعض صحابہ کرام(رض) منافق تھے

سوال ۷۰:کیا یہ حقیقت ہے کہ پیغمبر کے کچھ صحابی منافق تھے اور کبھی بھی جنّت میں نہیں جا پائیں گے ؟ جیسا کہ ہماری معتبر کتاب صحیح مسلم میں پیغمبر (ص) کا فرمان نقل ہوا ہے:

فی أصحابی اثنا عشر منافقا ، فیهم ثمانیة لا یدخلون الجنّة حتٰی یلج الجمل فی

____________________

۱۔صحیح بخاری باب المناقب ، مناقب عبداللہ بن سلام

۲۔ صحیح مسلم ،باب فضائل عبداللہ بن سلام،ح ۳۸۴۲؛ فتح الباری ۷: ۰۳۱؛ سیر اعلام النبلائ ۴: ۹۴۳


سمّ الخیاط (۱)

میرے صحابہ میں بارہ افراد منافق ہیں جن میں سے آٹھ ایسے ہیں کہ جن کا جنّت میں جانا محال ہے.

۔کیا حضرت عثمان (رض) کے قاتل صحابہ کرام (رض) تھے

سوال ۷۱:کیا یہ درست ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل بھی صحابہ کرام ہی تھے جیسا کہ ہماری کتب میں نقل ہواہے :

۱ ۔فروہ بن عمرو انصاری جو بیعت عقبہ میں بھی موجود تھے(۲)

۲ ۔محمد بن عمرو بن حزم انصاری .یہ وہ صحابی رسول ہیں جن کا نام بھی پیغمبر (ص) نے رکھا تھا(۳)

۳ ۔جبلہ بن عمرو ساعدی انصاری بدری .یہ وہ صحابی رسول (ص) تھے جنہوں نے حضرت عثمان (رض) کے جنازہ کو بقیع میں دفن نہیں ہونے دیاتھا(۴)

۴ ۔ عبدا للہ بن بُدیل بن ورقا ئ خزاعی .یہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لاچکے تھے امام بخاری کے بقول یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے حضرت عثمان (رض) کا گلا کاٹا تھا(۵)

____________________

۱۔صحیح مسلم ۸: ۲۲۱، کتاب صفات المنافقین ؛ مسند احمد ۴: ۰۲۳؛البدایۃ والنھایۃ ۵: ۰۲

۲۔استیعاب ۳: ۵۲۳؛ اسدالغابہ ۴: ۷۵۳.قال ابن وضاح : انّما سکت مالک فی الموطأ عن اسمه لأنه ، کان ممّن أعان علی قتل عثمان

۳۔ استیعاب۳: ۲۳۴.ولد قبل وفاة رسو ل الله بسنتین ...فکتب الیه أی الی والده رسول الله سمّه محمد ...وکان أشدّ النّاس علی عثمان المحمّدون : محمد بن أبی بکر ،محمد بن حذیفة ،ومحمد بن عمرو بن حزم

۴۔انساب ۶:۰۶۱؛ تاریخ المدینۃ ۱: ۲۱۱.هو أوّل من أجترأ علی عثمان ...لمّا أرادوا دفن عثمان ، فانتهوا الی البقیع ، فمنهم من دفنه جبلة بن عمرو فانطلقوا الی حش کوکب فدفنوه ، فیه .

۵۔تاریخ الاسلام ( الخلفائ): ۷۶۵.أسلم مع أبیه قبل الفتح وشهد الفتح ومابعدها ...انّه ممّن دخل علی عثمان فطعن عثمان فی ودجه


۵ ۔ محمد بن ابو بکر(رض) : یہ حجۃ الوداع کے سال میں پیدا ہوئے اور امام ذہبی کے بقول انہوں نے حضرت عثمان(رض) کے گھر کا محاصرہ کیا اور ان کی ڈاڑھی کو پکڑ کر کہا : اے یہودی ! خدا تمہیں ذلیل و رسوا کرے(۱)

۶ ۔عمروبن حمق : یہ بھی صحابی پیغمبر(ص)تھے جنہوں نے امام مزی کے بقول حجۃ الوداع کے موقع پر پیغمبر (ص) کی بیعت کی تھی اور امام ذہبی کے بقول یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے حضرت عثمان (رض) پرخنجر کے پے در پے نو وار چلاتے ہوئے کہا: تین خنجر خداکے لئے مار رہا ہوں اور چھ اپنی طرف سے :

وثب علیه عمرو بن الحمق وبه عثمان رمق وطعنه، تسع طعنات وقال : ثلاث لله وستّ لمّا فی نفسی علیه .(۲)

۷ ۔ عبدالرحمن بن عدیس : یہ اصحاب بیعت شجرہ میں سے ہیں اور قرطبی کے بقول مصر میں حضرت عثمان(رض) (رض)کے خلاف بغاوت کرنے والو ں کے لیڈر تھے یہاں تک کہ حضرت عثمان(رض) کو قتل کر ڈالا(۳)

۔کیا ہم صحابہ کرام (رض) کو گالیاں دیتے ہیں

سوال ۷۲: کیا یہ درست ہے کہ ہم اہل سنّت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو گالیاں دیتے اور ان پر لعنت

____________________

۱۔تاریخ الاسلام : ۱۰۶.ولدته اسمائ بنت عمیس فی حجة الوداع وکان أحد الرّؤوس الّذین ساروا الی حصا ر عثمان.

۲تهذیب الکمال۴۱:۴۰۲؛ تهذیب التهذیب ۸:۲۲.بایع النبیّ فی حجة الوداع وصحبه، ...کان أحد من ألّب علی عثمان بن عفان.وقال الذّهبی انّ المصریین أقبلوا یریدون عثمان ...وکان رؤوسائهم أربعة : ...وعمرو بن حمق الخزاعی ...تاریخ الاسلام (الخلفائ):۱۰۶و ۱۴۴

۳۔استیعاب ۲: ۳۸۳؛ تاریخ الاسلام ( الخلفائ): ۴۵۶.عبدالرّحمن بن عدیس مصری شهد الحدیبیة وکان ممّن بایع تحت الشجرة رسول الله وکان أمیر علی الجیش القادمین من مصر الی المدینة الّذین حصروا عثمان وقتلوه،


کرتے ہیں ؟جیسا کہ حضرت عثمان(رض) کے قاتلوں پر لعنت اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں جبکہ وہ سارے کے سارے صحابہ کرام ہی تھے ان میں سے بعض بدری ، بعض اصحاب شجری، بعض اصحاب عقبہ اور بعض نے جنگ احد و حنین میں رسالت مآب کے ساتھ شرکت کی

امام ذہبی فرماتے ہیں :کلّ من هؤلائ نبرئ منهم ونبغضهم فی الله ...نرجو له ، النّار (۱) ہم ان سب سے بری الذمہ ہیں ،ان سے خدا کی خاطر بغض رکھتے ہیں اور ان کے لئے جہنّم کی آرزو کرتے ہیں

امام ابن حزم لکھتے ہیں:

لعن الله من قتله، والرّاضین بقتله ...بل هم فسّاق محاربون سافکون دما حراما عمدا بلا تأویل علی سبیل الظّلم والعدوان فهم فسّاق ملعونون (۲)

خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے حضرت عثمان کو قتل کیا اور جو ان کے قتل پر راضی ہیں ...یہ لوگ فاسق ، محارب اور بغیر تاویل کے محترم خون بہانے والے ہیں لہذافاسق و ملعون ہیں

اسی طرح ہمارے ایک اور عالم دین لکھتے ہیں: کوفہ اور بصرہ کے بے دین باغیوں نے حضرت عثمان (رض) کے خلاف بغاوت کی ...یہ باغی اور ظالم جہنّمی ہیں(۳)

کیا وجہ ہے کہ جب امام حسین(رض) کے قاتلوں کی بات آتی ہے تو ہمارے علمائ فرماتے ہیں یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے اور ہمیں حق حاصل نہیں ہے کہ ہم یزید یا کسی دوسرے کو برابھلا کہیں جبکہ حضرت عثمان(رض) کے قاتل صحابہ کرام (رض) تھے پھر بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں کیا یہ امام حسین(رض) سے دشمنی کی علامت نہیں ہے؟

۔کیا صحابہ کرام(رض) ، پیغمبر (ص) کو قتل کردینے میں ناکام ہو گئے

سوال ۷۳ : کیا یہ حقیقت ہے کہ عقبہ والی رات جنگ تبوک سے واپسی پر جب پیغمبر ایک گھاٹی

____________________

۱۔تاریخ الاسلام ( الخلفائ ) ۴۵۶

۲۔الفصل ۳: ۴۷و ۷۷

۳۔شہسوار کربلا : ۱۲، ۲۲اور ۵۲


سے گذرنے لگے تو بارہ صحابہ کرام(رض) نے انہیں قتل کرنے کی خاطران پر حملہ کردیا...ہاں یہ کونسے صحابہ تھے ؟ جب میں نے امام حزم کا یہ قول پڑھا کہ جس میں انہوں نے ان میں سے پانچ کے نام ذکر کئے ہیں تو مجھے بہت تعجب ہوا:

أنّ أبا بکر وعمر وعثمان وطلحه وسعد بن أبی وقاص أرادوا قتل النبّی والقائه، من العقبة فی تبوک (۱)

اگرچہ امام ابن حزم نے اس حدیث کے راوی ولید بن جمیع کو ضعیف لکھا ہے لیکن ہمارے علمائے رجال جیسے ابو نعیم ، ابو زرعہ ، یحیٰی بن معین ، امام احمد بن حنبل ، ابن حبان ، عجلی اور ابن سعد اسے مؤثق راوی شمار کرتے ہیں(۲)

استاد بزرگوار یہ حدیث پڑھ کر مجھے بہت حیرانگی ہوئی کہ ہمارے سلف صالح صحابہ کرام(رض) کا اپنے نبی کے ساتھ کیسا رویہ تھا ؟!

۔کیا بعض صحابہ کرام (رض) خارجی تھے

سوال۷۴ : کیا یہ بھی صحیح ہے کہ کچھ صحابہ کرام (رض)خارجی اور حدیث پیغمبر کے مطابق کافر(۳) اور جہنّم کے کتّے تھے.(۴)

ان صحابہ کرام(رض) کے نام کچھ اس طرح ہیں :

۱ ۔ عمران بن حطان : اس نے عبدالرحمن بن ملجم حضرت علی(رض) کے قاتل کی تعریف کی ہے(۵)

____________________

۱۔المحلّیٰ ۱۱: ۴۲۲

۲۔ الثقات : ۵۶۴؛ تاریخ الاسلام ( خلفائ) : ۴۹۴؛ البدایۃ والنھایۃ ۵: ۵۲

۳۔سنن ابن ماجہ: ۲۶،ح۶۷۱، مقدمہ ، ب ۲۱

۴۔مسند احمد ۴۱: ۵۵۳،الخوارج کلاب اھل النّار.

۵۔الاصابۃ ۳: ۹۷۱


۲ ۔ ابووائل شقیق بن سلمہ : اس نے رسول اللہ سے ملاقات کی اور ان سے روایت بھی نقل کی ہے(۱)

۳ ۔ ذوالخویصرۃ : یہ خوارج کا سردار تھا(۲)

۴ ۔ حرقوص بن زہیرسعدی :یہ بھی خوارج کے بڑوں میں سے تھا(۳)

۵ ۔ ذوالثدیۃ : یہ جنگ نہروان میں مارا گیا تھا(۴)

۶ ۔ عبداللہ بن وہب راسبی : یہ بھی خوارج کے سرداروں میں سے تھا(۵)

کیا ایسے لوگ جنہیں پیغمبر نے کافر اور جہنّمی کتّے قرار دیا ہو وہ بھی عادل ہو سکتے ہیں جیسا کہ ہمارا نظریہ ہے کہ سارے کے سارے صحابہ عادل تھے اور ان میں سے جس کی پیروی کی جائے درست ہے!!(۶)

۔کیا حضرت ابوبکر وعمر (رض) کے فضائل جھوٹ ہیں

سوال ۷۵: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کی شان میں نقل کی جانے والی بہت سی احادیث جھوٹی اور جعلی ہیں جیسا کہ ا مام عسقلانی فرماتے ہیں :

ینبغی أن یضاف الیها الفضائل، فهذه أودیة الاحادیث الضعیفة والموضوعة ...أمّا الفضائل فلا تحصٰی کم من وضع الرّافضة فی فضل اهل بیت وعارضهم

____________________

۱۔اسد الغابہ ۳: ۳؛ الاصابہ ۲: ۸۴. دارالکتب العلمیۃ

۲۔البتہ کہا جاتا ہے کہ اس نے بعد میں توبہ کر لی تھی. شرح ابن ابی الحدید۴: ۹۹

۳۔حوالہ سابق

۴۔ تاریخ طبری : ۴؛ مسند احمد ۵۵۷۴۱؛ ااصابہ ۲: ۴۷۱

۵۔ الاصابۃ ۵: ۶۹؛ مختصرمفید ۱۱: ۶۳۱

۶۔الاصابۃ ۱: ۹


جهلة أهل السّنة بفضائل معاویة ، بدؤا بفضائل الشیخین (۱)

۔کیا حضرت ابو ہریرہ (رض) چور تھے

سوال ۷۶: کیا یہ حقیقت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) چور تھے اور انہوں نے بیت المال سے بہت زیادہ مال چرا یاتھا ؟ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے انہیں دشمن خدا کے لقب سے نوازتے ہوئے فرمایا :

یا عدوّ الله وکتابه، سرقت مال الله (۲)

اے دشمن خدا و قرآن ! تو نے مال خدا کو چرا لیا

کیا ایسے شخص کو احادیث رسول اور دین کا امین بنایا جاسکتا ہے جودنیا کے مال میں خیانت کر رہاہو اور پھر فاروق (رض) کی نظر میں شمن خداہو ؟!

۔ کیا ابوہریرہ(رض) کی روایات مردود ہیں

سوال ۷۷:کیا یہ درست ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) جو پانچ ہزار احادیث کے راوی اور امام بخاری نے بھی چار سو سے زیادہ احادیث انہیں سے بخاری شریف میں نقل کی ہیں وہ حضرت علی(رض) ، حضرت عمر (رض) اور حضرت عائشہ (رض) اُمّ المؤمنین کے نزدیک قابل اعتماد انسان نہیں تھے ؟ )

اسی طرح امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں : تمام صحابہ عادل ہیں سوا ابو ہریرہ اور انس بن مالک و...کے.(۴)

حضرت عمر (رض) نے اسے ڈانٹتے ہوئے فرمایا:یا عدوّ الله وعدوّ کتابه

اے دشمن خدا و قرآن(۵)

____________________

۱۔ لسان المیزان ۱: ۶۰۱، طبعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت

۲۔الطبقات الکبرٰی ۴: ۵۳۳؛ سیر اعلام النبلائ ۲: ۲۱۶

۳۔شرح ابن ابی الحدید ۰۲: ۱۳

۴۔شرح ابن ابی الحدید ۴: ۹۶.الصحابة کلّهم عدول ماعدا رجالا منهم ابو هریرة و انس بن مالک.

۵۔سیر اعلام النبلائ ۲: ۲۱۶؛ الطبقات الکبرٰی ۴: ۵۳۳


حضرت عائشہ(رض) نے ا س پر اعتراض کرتے ہوئے فرمایا:أکثرت عن رسول الله

تو نے رسول خدا(ص) سے احادیث نقل کرنے میں مبالغہ کیا ہے(۱) ایک اور مقام پر فرمایا:

ما هذه الاحادیث الّتی تبلغنا أنّک تحدّث بها عن النّبی هل سمعت الّا ما سمعنا ؟ وهل رأیت الاّ ما رأینا ؟ (۲) یہ کیسی احادیث ہیں جو ہم تک تمہارے واسطے سے پہنچی ہیںجنہیں تو پیغمبر (ص) سے نقل کرتا ہے. کیا تو نے کوئی ایسی بات آنحضرت (ص) سے سن لی تھی جو ہم نے نہ سنی یا کوئی ایسی چیز دیکھ لی تھی جو ہم نے نہ دیکھی ؟

مروان بن حکم نے اعتراض کرتے ہوئے ابوہریرہ سے کہا :

انّ النّاس قد قالوا: أکثر الحدیث عن رسول الله(ص) وانّما قد قبل وفاته بیسیر

لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس قدراحادیث کیسے رسول (ص) سے نقل کرلیں جبکہ وہ تو آن حضرت کی وفات سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے ان کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ؟(۳)

کبھی کبھار کہا کرتے میرے خلیل ابولقاسم (پیغمبر (ص))نے مجھ سے فرمایا،توحضرت علی (رض) روکتے ہوئے ان سے فرماتے : متی کان خلیلا لک کب پیغمبر (ص) تمہارے خلیل رہے ہیں !!(۴)

فخر رازی کہتے ہیں:انّ کثیرا من الصحابة طعنوا فی أبی هریرة وبیّناه من وجوه: أحدها : أنّ أبا هریرة روی أنّ النبیّ قال : من أصبح جنبا فلا صوم له، .فرجعوا الی عائشة وامّ سلمة فقالتا: کان النبّی یصبح ثمّ یصوم فقال: هما أعلم بذلک ،أنبأنی

____________________

۱۔ سیر اعلام النبلائ ۲: ۴۰۶

۲۔ حوالہ سابق

۳۔سیر اعلام النبلائ ۲: ۳۱۶

۴۔ اسرار الامامۃ ۵۴۳،(حاشیہ) ،المطالب العا لیۃ ۹: ۵۰۲


هذالخبر الفضل بن عباس واتّفق أنّه، کان میّتا فی ذلک الوقت (۱)

بہت سے صحابہ کرام(رض) ابو ہریرہ کو اچھا نہ سمجھتے اور اس کی چند ایک وجوہات بیان کی ہیں:

ان میں سے ایک یہ کہ ایک مرتبہ ابو ہریر ہ نے کہا : آنحضرت نے فرمایا: جو شخص جنابت کی حالت میں فجرکے بعد بیدار ہو تو اس پر روزہ واجب نہیں ہے جب یہی سوال حضرت عائشہ(رض) اور حضرت ام سلمہ (رض) سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: پیغمبر ایسی صورت میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے جب ابو ہریرہ کو اس کی خبر ملی تو کہنے لگے : وہ مجھ سے بہتر جانتی ہیں اور مجھے تو فضل بن عباس نے یہ خبر دی تھی جبکہ اس وقت فضل فوت ہو چکے تھے

ابراہیم نخعی اس کی ان کی احادیث کے بارے میں کہتے ہیں:

کان أصحابنا یدعون من حدیث أبی هریرة (۲)

ہمارے ہم مذہب ابوہریرہ کی احادیث کو ترک کر دیتے تھے

اسی طرح کہا ہے:ماکانوا یأخذون من حدیث أبی هریرة الاّ ماکان من حدیث جنّة أو نار (۳) ہمارے ہم مذہب افراد ابو ہریرہ کی احادیث میں سے فقط انہیں کو نقل کیا کرتے جو جنّت یا جہنّم کے متعلق ہوا کرتیں

۔حضرت ابوہریرہ(رض) کا توہین آمیز روایات نقل کرنا

سوال ۷۸: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت ابو ہریرہ (رض) انبیائ علیہم السّلام کے متعلق ایسی ایسی احادیث نقل کیا کرتے جن سے ان کی توہین ہوتی .جیسا کہ امام بخاری نے ان روایات کو اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے نقل کیا ہے:

____________________

۱۔حوالہ سابق

۲۔سیراعلام النبلائ ۲: ۹۰۶؛تاریخ ابن عساکر۹۱: ۲۲۱

۳۔حوالہ سابق


۱ ۔لم یکذب ابراهیم الاّ ثلاثة کذبات

حضرت ابراہیم (ص) نے تین بار جھوٹ بولا (نعوذ باللہ).(۱)

جبکہ امام فخر رازی فرماتے ہیں:لا یحکم بنسبة الکذب الیهم الاّ الزّندیق

انبیائ (ع)کی طرف جھوٹ کی نسبت زندیق ہی دے سکتا ہے(۲)

دوسرے مقام پر فرمایا: حضرت ابراہیم (ص) کی طرف جھوٹ کی نسبت دینے سے آسان یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی (ابوہریرہ) کو ہی جھوٹا کہا جائے(۳)

۲ ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں :ایک دن حضرت موسٰی (ع) غسل کرنے کے بعد ننگے بنی اسرائیل کے درمیان پہنچ گئے .(نعوذ باللہ)(۴)

۔کیا عشرہ مبشرہ والی حدیث جھوٹی ہے

سوال۷۹: کیا یہ درست ہے کہ حدیث عشرہ مبشرہ جھوٹی اور بنو امیہ و بنو عباس کی گھڑی ہوئی احادیث میں سے ہے اس لئے کہ اگر صحیح حدیث ہوتی تو صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں بھی اسے نقل کیا جاتا ؟

اور اگریہ حدیث صحیح تھی تو پھر روزسقیفہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے اس سے استدلال کیوں نہ کیاجبکہ اس کے علاوہ ہر ضعیف حدیث کا سہارا لیا درحالانکہ اس حدیث سے استدلال کرنا ان کے مدّعا کو بہت فائدہ پہنچا سکتا تھا ؟

کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کی دو سندیں ہیں ایک میں حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے جس نے اس حدیث کو اپنے باپ سے نقل کیا ہے جبکہ وہ اپنے باپ کی وفات کے وقت ایک سال کا تھا(۵)

____________________

۱۔صحیح بخاری ۴: ۲۱۱

۲۔تفسیر رازی ۲۲: ۶۸۱و۶۲: ۸۴۱ ۳۔حوالہ سابق

۴۔صحیح بخاری ۴: ۹۲۱؛ بدئ الخلق ۲: ۷۴۲،طبع دارالمعرفۃ

۵۔تہذیب التہذیب ۳: ۰۴


اور دوسری سند میں عبداللہ بن ظالم ہے جسے امام بخاری ،ابن عدی ، عقیلی اور دوسرے علمائے رجال نے ضعیف قرار دیا ہے(۱)

۔اصحاب عشرہ مبشرہ میں تناقض

سوال ۸۰: حدیث عشرہ مبشرہ کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ اس میں تضاد پایا جاتا ہے اور اس تضاد کا مطلب یہ ہے کہ خود دین اسلام میں نعوذ باللہ تضاد موجود ہے جبکہ دو متضاد چیزوں کا جمع ہونا عقلی طور پر محال ہے(۲) اس لئے کہ حضرت ابوبکر(رض) کی سیرت ،حضرت عمر(رض) سے مختلف تھی اور بعض اوقات تو ایک دوسرے کی نفی کردیتے ،اسی طرح حضرت عثمان (رض) کا طریقہ کار تو ان دونوں سے بالکل ہی مختلف تھا اور پھر حضرت علی (رض) کا عمل تو ان تینوں سے جد ارہا بلکہ وہ تو سیرت شیخین کو قبول ہی نہیں کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ شورٰی میں اس شرط کو تسلیم نہ کیا(۳) ورنہ حضرت علی (رض) تیسرے خلیفہ مسلمین ہوتے

حضرت عبدالرحمن بن عو ف کی روش ،حضرت عثمان(رض) سے الگ تھلگ اور ان سے متضاد تھی یہاں تک کہ تاآخر عمر ان سے ناراض رہے ، حضرت علی (رض) ، حضرت طلحہ(رض) و زبیر(رض) کے مخالف اور ان کا خون مباح سمجھتے تھے اسی طرح وہ بھی حضرت علی(رض) سے جنگ اورانہیں قتل کرنا جائز سمجھتے تھے .کیا اس کے باوجود بھی یہ سب لوگ عشرہ مبشّرہ ہیں اور دین پیغمبر (ص) ان سب کو قبول کرتا ہے ؟

۔خطبہ جمعہ سے نام پیغمبر(ص) کا حذف کردینا

سوال ۸۱:کیا یہ صحیح ہے کہ عبداللہ بن زبیر کتنے عرصہ تک نماز جمعہ کے خطبہ میں پیغمبر (ص) اور ان کی آل پر صلوات نہیں بھیجا کرتا تھا اور بہانایہ بنا تا کہ آنحضرت (ص) کا خاندان اس پر فخر کرتا ہے لہذا میں نہیں چاہتاکہ وہ اتنا غرور کریں .جیسا کہ ا بن ابی الحدید لکھتے ہیں:

____________________

۱۔ تہذیب التہذیب ۵: ۶۳۲؛ الضعفائ الکبیر ۲: ۷۶۲؛ تاریخ فی الضعفائ۴: ۳۲۲

۲۔القاموس ۵: ۴۲

۳۔اسد الغابہ ۴: ۲۳؛ تاریخ یعقوبی ۲: ۲۶۱؛ تاریخ طبری ۳: ۷۹۲؛ تاریخ المدینہ ۳: ۰۳۹؛تاریخ ابن خلدون ۲: ۶۲۱؛الفصول للجصاص ۴: ۵۵


قطع ابن الزبیر فی الخطبة ذکر رسول الله جُمُعا جُمُعا کثیرة فاستعظم النّاس ذلک فقال : انیّ لا أرغب عن ذکر ه ولکن له، أهیل سوئ اذا ذکرته، أتلعو ا أعناقهم فأنا أحبّ أن أکبتهم (۱)

اور ابن عبد ربّہ نے لکھا ہے :

وأسقط ذکرالنبّی من خطبته اس نے خطبہ سے پیغمبر (ص) کا ذکر حذف کر دیا(۲)

۔آل رسول (رض) کو جلادینے کی سازش

سوال ۸۲:کیا یہ درست کہا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے بنو ہاشم کو ایک زندان میں بند کر رکھا تھا تاکہ انہیں جلا دے اور اس ارادے سے زندان کے دروازے پر لکڑیاں جمع کر رکھی تھیں.جیساکہ ابن ابی الحدیدنے بیان کیا ہے:

جمع بنی هاشم کلّها فی سجن عارم وأراد أن یحرقهم بالنّار وجعل فی فم الشّعب حطبا کثیرا (۳)

۔پیغمبر(ص) کا ناحق لوگوں کو گالیاں دینا

سوال ۸۳:کیا یہ صحیح ہے کہ پیغمبر (ص) لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گالیاں دیتے اور انہیں برا بھلا کہا کرتے (نعوذ باللہ)؟ اور کیا ان کا یہ طریقہ خلق عظیم کے مطابق ہے؟ جیسا کہ صحیح مسلم(۴) میں پورا باب اسی موضوع پر کھولا گیا ہے :

باب من لعنه النّبی او سبّه او دعا علیه و لیس هو أهلالذلک

____________________

۱۔ شرح ابن ابی الحدید ۰۲: ۷۲۱

۲۔لعقد الفرید۴: ۳۱۴

۳۔ العقد الفرید ۴: ۳۱۴؛ شرح ابن ابی الحدید ۰۲: ۶۴۱

۴۔صحیح مسلم ج۵،کتاب البرّ والصّلۃ ،باب ۵۲،ح۷۹؛ سنن دارمی ۲: ۶۰۴،باب ۳۵؛ مسند احمد ۵: ۸۴۱.قال رسول الله ...انّما أنا بشر ،أرضی کما یرضی البشر وأغضب کما یغضب البشر ،فأیّما أحد دعوت علیه من أمّتی بدعوة لیس لها بأهل أن تجعلهاله، طهورا


یہ باب ایسے شخص کے بارے میں ہے جس پر نبی (ص) نے لعنت کی ہو یا اسے گالی دی ہو یا اس کے لئے بد دعا کی ہو جبکہ وہ اس کا اہل نہ ہو .اور اس کے بعد سات ایسی روایات نقل کی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبر کو ناحق گالیاں دیں!!

کیا ان روایات کے گھڑنے کامقصد ان لوگوں کا دفاع کران نہیں ہے جنہیں پیغمبر نے لعنت و نفرین کی ؟جیسے آنحضرت(ص) نے حضرت معاویہ (رض) کے لئے بددعا کرتے ہوئے فرمایا:

لاأشبع الله بطنه،

خدااس کے شکم کو پر نہ کرے

یا جیسے ابوسفیان اور اس کے دونوں بیٹوں پر لعنت کرتے ہوئے فرمایا:

اللّهمّ العن الرّاکب والقائد والسّائق

کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ روایات ا س لئے گھڑی گئیں تا کہ ان لوگوں کا دفاع کیا جاسکے جن پر پیغمبر (ص) نے لعنت فرمائی جیسے حضرت معاویہ(رض) کہ آنحضرت (ص) نے ان کے بارے میں فرمایا: لاأشبع اللہ بطنہ

اسی طرح ابوسفیان اور ان کے دو فرزند وں کے بارے میں فرمایا :

اللّهمّ العن الرّاکب والقائد والسابق (۱)

اسی طرح حضرت اسامہ بن زید کے لشکر سے روگردانی کرنے والوں پر .کہ فرمایا:

لعن الله من تخلّف عن جیش اسامة (۲)

کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ان افراد کا دفاع کرتے ہوئے رسالت مآب کی شان میں گستاخی کی جائے اور پھر دفاع ناموس رسالت (ص) کے نام پر سیمینار بھی کروائے جائیں ؟!

____________________

۱۔ تفسیر درّ المنثور ۲: ۱۷؛ مجمع الزوائد ۱: ۳۱۱و ۷: ۷۴۲

۲۔ مصنّف عبدالرزاق ۵: ۲۸۴،ح ۷۷۷۹


۔پیغمبر(ص) نے کن دو کو لعنت کی

سوال ۸۴:کیا یہ صحیح ہے کہ پیغمبر سجدے میں جانے سے پہلے فرمایا کرتے:

اللّهمّ العن فلاناو فلانا خدا یا ! فلاں و فلاں پر لعنت فرما .(۱)

یہ فلاں اور فلاں سے مراد کون ہیں ؟

۔صحابہ کرام (رض) کا یہودیوں سے پناہ دینے کی درخواست کرنا

سوال۸۵: کیا یہ درست نہیں ہے کہ جنگ احد میں دو جلیل القدر صحابی بھاگ نکلے اور یہودیوں کے ہاں پناہ لینے کا ارادہ کرلیا جس کی طرف مفسّرین نے اشارہ کیا.(۲) جبکہ قرآن نے یوں فرمایا ہے:( یاأیهاالّذین آمنوا لا تتخّذوا الیهود والنّصاریٰ اولیاء ) (۳)

اے صاحبان ایمان ! یہود ونصارٰی کو اپنا سر پرست مت قرار دو.

۔حضرت عمر(رض) کا اپنے بارے میں شک

سوال ۸۶: کیا یہ صحیح ہے کہ بہت سارے صحابہ کرام حتّٰی حضرت عمر (رض) بھی اپنے ایمان میں شک کرتے تھے کہ کہیں وہ منافق تو نہیں ہیں؟ جیسا کہ ابن ابی ملیکہ نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے.وہ کہتے ہیں :

میں نے پانچ سو صحابہ کرام (رض)کو پایا جو سارے کے سارے اس خوف کاشکار تھے کہ کہیں منافق تو نہیں ہیں ؟

اور ان کا خاتمہ کیسا ہو گا ؟

أدرکت أکثر من خمس مأة من أصحاب النبیّ کلّ منهم یخشٰی علی نفسه النّفاق ،لأنّه لایدری مایختم له ،(۴)

۔کیاصحابہ کرام (رض) ایک دوسرے کو گالیاں دیا کرتے

سوال ۸۷: کیا یہ درست ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کو گالیاں دیا کرتے اور لعنت بھی کرتے؟ جیسا کہ خالد بن ولید اور عبدالرحمن کے درمیا ن پیش آیا، خالد نے انہیں گالیاں دیں یا حضرت عمار اور

____________________

۱۔ المعجم الکبیر ۲۱: ۶۱۲؛ صحیح بخاری ۵: ۷۲۱؛ مسند احمد ۲: ۵۵۲

۲۔ تفسیر ابولفدائ ۲: ۸۶ ۳۔سورہ مائدہ : ۱۵۴۔اصول الدّین بغدادی ۳:۳۵۳؛بخاری ۱: ۸۱،کتاب الایمان ؛ابدأ حسین، صدفی : ۹۰۱


حضرت عثمان (رض) کے درمیان یا حضرت عائشہ(رض) و عثمان(رض) یا حضرت عائشہ(رض) وحفصہ(رض) کے درمیان گالی گلوچ کا ردّ وبدل ہوا(۱)

پس کیا وجہ ہے کہ اگر ایک صحابی دوسرے صحابی کو گالی دے تو وہ نہ تو کافر ہوتا ہے اور نہ ہی دین سے خارج جبکہ اگر کوئی عام مسلمان کسی صحابی کے متعلق صحیح بات کو نقل کر دے تو اس پر کفر کے فتوے لگنے لگتے ہیں کیا اسلام نے اس دوہرے معیار کا درس دیا ہے یا یہ کہ یہ ہمارا خود ساختہ نظریہ ہے؟!

۔کیا صحابہ کرام (رض) میں فقط کچھ اہل فتوٰی تھے

سوال ۸۸: کیا یہ صحیح ہے کہ ابن قیم کے بقول بہت کم تعداد یعنی ایک سو پینتیس صحابہ کرام(رض) فتوٰی دینے کی صلاحیت رکھتے تھے اور لوگ انہیں سے دین کے احکام لیا کرتے ؟ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہم کیسے یہ کہتے ہیں کہ تمام صحابہ(رض) کی پیروی دین میں نجات کا باعث ہے اور وہ سب ایک جیسے تھے ؟ کیا یہ صحابہ کرام کی شان میں غلو نہیں تو اور کیا ہے؟

ابن خلدون کہتے ہیں سارے صحابہ اہل فتوٰی نہیں تھے اور نہ ہی ان سے دین لیا جاتا تھا بلکہ دین فقط انہیں سے لیاجاتا جو حاملین قرآن تھے محکم ومتشابہ ، ناسخ و منسوخ اور پیغمبر کی دلیلوں سے آگاہ تھے یا وہ جنہوں نے پیغمبر سے سنا تھا(۲)

____________________

۱۔تاریخ المدینۃ ؛ سیر اعلام النبلائ ۱: ۵۲۴؛ مسّنف عبد الرزاق ۱۱: ۵۵۳،ح ۲۳۷۰۲

۲۔ تاریخ التشریع الاسلامی ،مناع القطان : ۵۶۲


۔اہل مدینہ اور صحابہ کرام (رض) کا قبر پیغمبر (ص) سے توسّل

سوال ۸۹: کیا یہ صحیح ہے کہ جب اہل مدینہ کو اس بات کی خبر ملی کہ حضرت معاویہ (رض) نے زیاد بن ابیہ کو مدینہ کا گورنر بنا دیا ہے تو چونکہ وہ لوگ زیاد کے مظالم سے آگاہ تھے لہذا پورا مدینہ قبر پیغمبر پر جمع ہوا اور تین دن تک مسلسل توسّل ودعا کرتا رہا .یہاں تک کہ ابن زیادمریض ہوا اور مدینہ پہنچنے سے پہلے کوفہ کے قریب پہنچ کر مر گیا

اب اگر صحابہ کرام (رض)توسّل کیا کرتے جیسا کہ عرض کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم توسّل واستغاثہ کو شرک قرار دیتے ہیں.اور اس کا ارتکاب کرنے والے کا مال وجان مباح سمجھتے ہیں ؟

اگر ہم سلف صالح کی پیروی کے دعوٰی دار ہیں تو ان کی سیرت تو یہی تھی جیسا کہ مسعودی نے بھی نقل کیا ہے:

فی سنة ثلاث وخمسین هلک زیاد بن ابیه وقد کان کتب الی معاویة أنّه، قد ضبط العراق بیمینه وشماله، فارغة فجمع لها الحجاز مع العراقین واتّصلت ولایته، المدینة فاجتمع الصغیر والکبیر بمسجد رسول الله وضجّوا الی الله ولاذوا بقبر النبّی ثلاثة أیّام لعلّهم بما هو علیه من الظّلم والعسف ، فخرجت فی کفّه بثره، ثمّ سرّت واسودّت فصارت آکلة سودائ فهلک بذلک (۱)

____________________

۱۔مروج الذہب ۳: ۲۳


حضرت امیر معاویہ(رض) اور بنو امیہ

۔حضرت معاویہ (رض) کا حقانیت علی(رض) کا اعتراف

سوال ۹۰: کیا یہ درست ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے حضرت محمد بن ابوبکر (رض) کے نام جو خط لکھا تھا اس میں اس بات کا اعترا ف کیا تھا کہ خلافت حضرت علی (رض) کا حق تھا اور حضرت ابوبکر (رض) و عمر (رض) نے اسے غصب کرلیا تھا جبکہ ان کے پاس کوئی شرعی جواز بھی نہ تھا

فلمّا اختار الله لنبیّه ماعنده، وأتمّ له، ما أظهردعوته وأفلج حجته، ، قبضه الله الیه فکان أبوک وفاروقه ، أوّل من ابتزه، وخالفه، علی ذلک .اتّفقا واتسقا ثمّ دعواه، الی أنفسهما (۱)

۔کیاحضرت معاویہ(رض) کے چار باپ تھے

سوال ۹۱: کیا یہ حقیقت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) کے چار باپ تھے اور ان کی ماں ہندہ اپنے زمانے کی مشہور بدکار عورت شمار ہوتی تھیںاور اس نے اپنے گھر پر پرچم لگا رکھا تھا جو بدکار عورتوں کی علامت ہوتاتھا؟جیسا کہ اس تلخ حقیقت کو زمخشری ،ابوالفرج اصفہانی ، ابن عبد ربّہ اور ابن کلبی نے نقل کیا ہے :

کان معاویة لعمارة بن ولید بن المغیرةالمخزومی ولمسافر بن أبی عمرو ولأبی سفیان ولرجل آخر سمّاه، وکانت هند أمة من المغیلمات وکان أحبّ الّرجال الیها السّودان (۲)

حضرت معاویہ (رض) کے چار باپ تھے عمارہ بن ولید ، مسافر بن ابو عمرو ، ابو سفیان اور ایک اور شخص .اسی طرح ان کی ماں ہندہ پرچم دار بدکار عورت تھیں اور وہ کالے حبشی مردوں کو بہت پسند کرتی تھیں

اسی طرح اما م زمخشری لکھتے ہیں: کہ حضرت معاویہ (رض) کے چار باپ تھے اور ان کے نام بھی ذکر کئے ہیں(۳)

____________________

۱۔شرح ابن ابی الحدید ۳: ۸۸۱ ۲۔مثالب العرب : ۲۷

۳۔ربیع الابرار ۳: ۹۴۵؛الاغانی ۹: ۹۴؛ العقد الفرید ۶: ۶۸و ۸۸


۔کیا حضرت معاویہ(رض) شراب پیا کرتے

سوال ۹۲:کیا یہ درست ہے کہ حضرت معاویہ (رض) اپنی خلافت کے دوران بیرون ممالک سے شراب منگوا کر پیتے تھے ؟ جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے ابن بریدہ سے نقل کیا ہے. وہ کہتے ہیں : ایک دن میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت معاویہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دستر خوان بچھوایا ، کھانا کھانے کے بعد انہوں نے خود بھی شراب پی اور میرے باپ کو بھی دی، لیکن میرے باپ نے یہ کہہ کر واپس پلٹا دی کہ جب سے پیغمبر نے اسے حرام قرار دیا ہے اس دن سے میں نے اسے لب سے نہیں لگایا:

عبدالله بن بریده قال : دخلت أنا وأبی علی معاویة فأجلسنا علی الفرش ، ثمّ أُتینا بالطعام فأکلنا ثمّ أُتینا بالشراب فشرب معاویة ثمّ ناول أبی ،ثمّ قال: ماشربنا منذ حرّمه، رسول الله (۱)

۔حضرت معاویہ (رض) کو جانشین مقرر کرنے کاحق نہ تھا

سوال ۹۳: کیا یہ درست ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے امام حسن بن علی(رض) کے ساتھ صلح میں یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر نہیں کریں گے؟ لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس شرط کی خلاف ورزی کی اور اپنے بعد یزید کو اپنا ولی عہد بنا دیا، پس اس اعتبار سے یزید کی حکومت شرعی نہیں ہوگی ؟

تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم جوانان جنّت کے سردار امام حسین (رض) کواس ناجائز حکومت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے باغی کہتے ہیں جبکہ ہم خود حکومتوں کی مخالفت کی دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ غیر شرعی ہیں ؟!

ابن حجر لکھتے ہیں:

هذا ما صالح علیه الحسن رضی الله عنه معاویة ...ولیس لمعاویة أن یعهّد الی أحد من بعده عهدا بل یکون الأمر بعده، شورٰی بین المسلمین (۲)

____________________

۱۔مسند احمد ۵: ۷۴۳

۲۔الصواعق المحرقہ : ۱۸


۔حضرت معاویہ(رض) کاغیر مسلم اس دنیا سے گذر جانا

سوال ۹۴: کیا یہ حقیقت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) دین اسلام پر نہیں مرے تھے ؟جیسا کہ اہل سنّت کے بزرگ علمائ حمّانی انہیں مسلمان نہیں سمجھتے تھے اور عبدالرزاق ، حاکم نیشاپوری اور علی بن جعد بغدادی ان سے شدیدمتنفر تھے

۱ ۔ مخلد شعیری کہتے ہیں: میں عبدالرزاق کے درس میں موجود تھا کہ کسی نے معاویہ(رض) کا ذکر کیا تو انہوں نے فورا فرمایا: مجلس کو ابو سفیان کے بیٹوں کے نام سے نجس و گند امت کرو.(۱)

۲ ۔ زیاد بن ایوب کہتے ہیں: میں نے یحیٰی بن عبدالحمید حمانی سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہے تھے معاویہ(رض) اسلام کے ماننے والے اور اس کے پیروکار نہیں تھے(۲)

۳ ۔ ابن طاہر کہتے ہیں: حاکم نیشاپوری حضرت معاویہ(رض) سے منحرف اور روگردان تھے وہ معاویہ اور اس کے خاندان کی توہین میں حد سے بڑھ چکے تھے اور کبھی بھی اس پر پشیمان نہ ہوئے

کہا جاتا ہے کہ جب بنو اُمیہ نے انہیں گھر میں نظر بند کر رکھا تھا اور درس وتدریس کی اجازت نہیں دیتے تھے توایک دن ابو عبدالرحمن سلمی ان کے پاس گئے اور کہا کہ کونسی بڑی بات تھی کہ معاویہ(رض) کی شان میں ایک ہی حدیث مسجد میں بیان کر دیتے اور اس مصیبت سے چھٹکارا پاجاتے ؟ تو اس پرحاکم نے تین بار کہا : لایجیئ من قلبی .میرا دل اسے قبول نہیں کرتا.(۳)

۴ ۔ امام علی بن جعد متوفٰی ۴۳۲ ھ کہتے ہیں:ولکن معاویة ماأکره أن یعذّبه الله (۴)

اگر خدا معاویہ کوعذاب میں مبتلا کردے تو مجھے اس کا کوئی دکھ نہیں ہے.

____________________

۱۔میزان الاعتدال ۲: ۰۱۶.کنت عندعبد الرزاق ،فذکر رجل معاویة فقال: لاتقذر مجلسنا بذکر ولد أبی سفیانا

۲۔میزان الاعتدال ۴: ۲۹۳.سمعت یحیٰی بن عبدالحمید الحمانی یقول : کان معاویة علی غیر ملّة الاسلام .

۳۔سیر اعلام النبلائ ۷۱: ۵۷۱؛ تذکرۃ الحفاظ ۳: ۴۵۰۱؛المنتظم ۷: ۵۷

۴۔سیر اعلام النبلائ ۰۱: ۴۶۴؛ تاریخ بغداد ۱۱: ۴۶۳


۔منبر پر ریح کا خارج کرنا

سوال۹۵: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت معاویہ (رض) منبر سے خطبہ دیتے وقت ریح خارج کردیا کرتے ؟ جیسا کہ علّامہ زمخشری نے اشارہ کیا ہے :

ایک دن حضرت معاویہ(رض) نے تقریر کرتے وقت ریح خارج کی اور اس کی توجیہ کرتے ہوئے کہا: اے لوگو ! خداوند متعال نے ہمارے جسم کو پیدا کرنے بعد اس میں ہوا بھر دی اور انسان اس ہوا کو نہیں روک سکتا .اچانک صعصہ بن صوحان کھڑے ہوئے اور کہا : ہاں یہ درست ہے لیکن اس کی جگہ لیٹرین ہے اور منبر پر انجام دینا بدعت ہے(۱)

۔ حضرت معاویہ(رض) کے تمام تر فضائل کا جھوٹا ہونا

سوال ۹۶: کیا یہ صحیح کہا جاتا ہے کہ حضرت معاویہ(رض) کی فضیلت میں جتنی بھی احادیث نقل کی جاتی ہیں ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں ہے جیسا کہ ہمارے علمائ اور سلف نے اس حقیقت کا اقرار کیا ہے جن میں سے ابن تیمیہ ، عینی ، ابن حجر اور فیروز آبادی ہیں:

۱ ۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں:طائفة وضعوا لمعاویة فضائل ورووا الحدیث عن النبی فی ذلک کلّها کذب (۲)

ایک گروہ نے معاویہ کی شان میں احادیث گھڑ ی ہیں اور انہیں نبی (ص) کی طرف نسبت دے دی ہے جبکہ یہ سب جھوٹی احادیث ہیں

۲ ۔ عینی کا کہنا ہے :فان قلت : قد ورد فی فضله معاویة أحادیث کثیرة .قلت :نعم ،لکن لیس فیه حدیث صحیح یصحّ من طرف الاسناد نصّ علیه ابن راهویه

____________________

۱۔ربیع الابرار ۴: ۲۷۱.أفلتت من معاویة ریح علی المنبر فقال: یاأیّهاالنّاس انّ الله خلق أبدانا وجعل فیها أرواحا فما تمالک النّاس أن یخرج منهم ،فقام صعصعه بن صوحان فقال: أمّا بعد فانّ خروج الأرواح فی المتوضأت سنّة وعلی المنابر بدعة،واستغفر الله لی ولکم

۲۔ منھاج السّنۃ ۲: ۷۰۲


والنسائی وغیرهما، ولذلک قال البخاری: باب ذکر المعاویة ولم یقل : فضله ولامنقبته (۱)

اگر کہو کہ معاویہ(رض) کی شان میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں تو ہم کہیں گے کہ یہ بالکل درست ہے لیکن ان میں سے کسی ایک کی بھی سند صحیح نہیں ہے اور اس کی تائید ابن راہویہ ، نسائی اور ان کے علاوہ دیگر علمائ نے بھی کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بخاری نے (باب ذکر معاویۃ(رض))یعنی معاویہ کے نام سے تو ایک باب لکھاہے لیکن یہ نہیں کہا کہ باب فضائل معاویہ(رض).(اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ ان روایات میں سے کوئی ایک بھی درست نہیں ہے.)

۳ ۔ شوکانی کہتے ہیں:اتّفق الحفّاظ علی أنّه لم یصحّ فی فضل معاویة حدیث

حفاظ حدیث کا اس پر اتفاق ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں ایک بھی صحیح حدیث بیان نہیں ہوئی(۲)

۴ ۔ ابن حجر نے اسحاق بن محمد سوسی کے حالات زندگی میں لکھا ہے:

ذلک الجاهل الّذی أتی بالموضوعات السّمجة فی فضائل معاویة ،رواها عبیدالله السقطی عنه فهو المتّهم بها أوشیخه (۳)

یہ وہی جاہل ونادان شخص ہے جس نے معاویہ (رض)کی شان میں جھوٹی احادیث گھڑ ی ہیں اور عبید اللہ سقطی نے اس سے نقل کی ہیں ان دونوں میں سے کوئی ایک احادیث جعل کرنے میں متہم ہے ۔

____________________

۱۔عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ۶۱: ۹۴۲

۲۔ الفوائد المجموعۃ : ۷۰۴و ۳۲۴،ح ۲۹۱

۳۔لسان المیزان ۱: ۴۷۳؛ سفر السعادۃ ۲: ۰۲۴،فیروز آبادی؛ کشف الخفائ : ۰۲۴،عجلونی ؛عمدۃ القاری ۶۱: ۹۴۲


۔مامون عباسی کا حضرت معایہ (رض) کو گالیاں دلوانا

سوال۹۷:کہا جاتا ہے کہ مامون الرّشید حضرت معاویہ (رض) کو منبروں پر گالیاں دینے کا حکم دیتا جیسا کہ ہمارے علمائ نے اسے بیان کیا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم پھر بھی اس کا احترام کرتے ہیں:

قیل للمأمون :لو أمرت بلعن معاویة ؟ فقال: معاویةُلایلیق أن یذکر فی المنابر ، لکن أفتح أفواه أجلاف العرب لیلعنوه فی السّوق والمحلّة والسّکة وطرفهم (۱)

۔قتل عثمان (رض) کی تہمت ایک سیاسی کھیل تھا

سوال ۹۸:کیا یہ درست ہے کہ حضرت علی (رض) پر حضرت عثمان (رض) کے قتل کی تہمت لگانا ایک سیاسی کھیل تھا اور اس کے اصلی کھلاڑی حضرت معاویہ (رض) اور بنو امیہ تھے جو حضرت علی (رض) کو حکومت سے دور رکھنا چاہتے تھے ؟ جیسا کہ ابن سیرین نے لکھا ہے:

ما علمت أنّ علیّا اتّهم فی قتل عثمان حتّٰی بُویع (۲)

مجھے نہیں معلوم کہ لوگوںکے حضرت علی(رض) کی بیعت کرنے سے پہلے ان پر قتل عثمان (رض)کی تہمت لگائی گئی ہو.

۔بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا

سوال ۹۹: کیا یہ حقیقت ہے کہ سب سے پہلے جس نے قبر پیغمبر کی زیارت سے روکا اور اسے پتھر سے تعبیر کیا وہ مروان بن حکم تھا جس کے باپ کو پیغمبر نے جلا وطن کیا تھا ؟ جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے لکھا ہے:

أقبل مروان یوما فوجد رجلا واضعا وجهه علی القبر .فقال : أتدری ما تصنع ؟ فأقبل علیه ،فاذا هو أبو أیوب ؟ فقال: نعم جئت رسول الله ولم آت الحجر .سمعت رسول الله یقول : لا تبکوا علی الدّین اذا ولیه أهله ولکن أبکوا علیه اذا ولیه غیر أهله (۳)

____________________

۱۔تاریخ الخلفائ : ۱۵۳؛ تاریخ طبری ۷: ۷۸۱؛اسرار الامامۃ : ۷۷۳

۲۔المصنف لابن ابی شیبہ ۵۱: ۹۲۲ ۳۔ مسند احمد ۵: ۲۲۴؛ المستدرک علی الصحیحین ۴: ۰۶۵،ح ۱۷۵۸فأخذ برقبتہ وقال:...


ایک دن مروان بن حکم نے دیکھا کہ کوئی شخص قبر پیغمبر (ص) پر چہرہ رکھے ہوئے(راز ونیاز کر رہاہے) تواس نے اس کی گردن سے پکڑ کر کہا : کیا تو جانتا ہے کہ کیا کررہاہے؟ جب آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ ابو ایوب انصاری تھے کہنے لگے : ہاں ! میں پیغمبر کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا.اور میں نے پیغمبر سے سنا ہے آپ (ص)نے فرمایا: جب دین کی سر پرستی اس کے اہل لوگ کر رہے ہوں تو اس پر مت گریہ کروبلکہ دین پر اس وقت روؤ جب اس کی سر پرستی نااہلوں کے ہاتھ میں آجائے

حاکم نیشاپوری اور امام ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرا ر دیا ہے

مروان کے بعد حجاج بن یوسف نے بھی قبر پیغمبر کو بوسیدہ ہڈیوں اور اور لکڑی سے تعبیر کیا اور آنحضرت کی زیارت کرنے والوں کو سختی سے منع کرتے ہوئے کہاجیسا کہ مبرّد(۱) نے لکھا ہے :

قال حجاج بن یوسف لجمع یریدون زیارة قبر رسول الله من الکوفة : تبّا لهم ! انّهم یطوفون بأعواد ورمّة بالیة ، هلاّ یطوفون بقصر أمیرالمؤمنین عبدالملک ألا یعلمون أنّ خلیفة المرئ خیر من رسوله (۲)

حجاج نے قبر پیغمبر کی زیارت کے لئے آنے والے کوفیوں سے کہا: وائے ہو تم پر لکڑیوں اور ریت کے ٹیلے کا طواف کرتے ہو ،امیرالمؤمنین عبدالملک کے قصر کا طواف کیوں نہیں کرتے .کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کسی شخص کے خلیفہ کا مقام اس کے رسول سے بلند ہوتاہے

کیا یہ نور رسالت (ص) کو محو کرنے کی سازش نہیں ہے ؟ اور کیا ہم جو سلف صالح کی پیروی کا دعوٰی کرتے ہیں کہیں مروان بن حکم یا حجاج بن یوسف کے پیروکار تو نہیں ہیں جس نے خانہ کعبہ کو منجنیقوں کا نشانہ بنایا ؟

____________________

۱۔ ان کا نام محمد بن یزید ابو العباس بصری متوفٰی ۶۸۲ھ تھا ذہبی نے ان کے بارے میں لکھا ہے:کان اماما ،علّامة ...فصیحا مفوها مؤثقا.سیر اعلام النبلائ ۳۱: ۶۷۵

۲۔الکامل فی اللّغۃ والأدب ۱: ۰۸۱؛ شرح ابن ابی الحدید ۵۱: ۲۴۲


البتہ اس میں شک بھی نہیں ہے اس لئے کہ امام محمد بن عبدالوہاب کا یہ جملہ کہ میرا عصا رسول اکرم سے بہتر ہے یہ حجاج بن یوسف کی پیروی کی واضح دلیل ہے:

قال بعض أتباعه بحضرته : عصای هذه خیر من محمد لأنّه، ینتفع بها فی قتل الحیّة والعقرب ونحوها ومحمّد قد مات ولم یبق فیه نفع،وانّما هوطارش (۱)

۔بنو امیہ عجمی مسیحی تھے

سوال ۱۰۰: کیا یہ درست ہے کہ بنو امیہ در حقیقت عجمی عیسائی تھے اور روم سے غلام بنا کر لائے گئے تھے ؟ جیسا کہ حضرت علی (رض) نے حضرت معاویہ (رض) کے نام ایک خط میں لکھا :ولا الصّریح کاللصّیق (۲)

اسی طرح ابوطالب نے اپنے ایک شعر میں امویوں کو اپنے دادا کا غلام کہا ہے جو سمند ر کی دوسری جانب سے جزیرۃ العرب میں لائے گئے اور ان کی آنکھیں بھینگی اور ٹیڑھی تھیں(۳)

قدیما أبوهم کان عبدا لجدّنا

بنی أمیّة شهلا ئ جاش بها البحر

۔ امیر معاویہ اور اہل مدینہ کے قتل کی سازش

سوال ۱۰۱: کیا یہ صحیح ہے کہ یزیدبن معاویہ (رض) کے دور خلافت میں مدینۃ الرّسول پر حملہ اور اس کے نتیجہ میں ہزاروں مؤمنین اور خاص طور پر صحابہ کر ام (رض) کے قتل اور اسی طرح یزید کے کمانڈر مسلم بن عقبہ اور اس کے فوجیوں کااہل مدینہ کی عورتوں سے زنا ائور اس کے بعد ہزاروں بچوں کا اس فعل حرام سے پید ا ہونا ، یہ ساری سازش حضرت معاویہ (رض) کے دور میں ہی تیارکی جاچکی تھی؟جیسا کہ سمہودی نے لکھا ہے:

أخرج ابن أبی خثیمه بسند صحیح الی جویریة بن أسمائ : سمعت أشیاخ أهل المدینة یتحدّثون أنّ معاویة رضی الله عنه لمّا احتضر دعا یزید،فقال له، : انّ لک

____________________

۱۔الدّرر السّنیۃ ۱: ۲۴.تالیف امام کعبہ زینی دحلانا

۲۔ شرح نہج البلاغہ ، محمد عبدہ ۳: ۹۱؛شرح ابن ابی ا لحدید ۵۱: ۷۱۱،مکتوب ۷۱

۳۔شرح ابن ابی الحدید ۵۱: ۴۳۲؛ ھاشم وامیہ فی الجاھلیۃ : ۷۲


من أهل المدینة یوما ،فان فعلوهافارمهم بمسلم بن عقبة .فانّی عرفت نصیحته ،(۱)

ابن ابی حیثمہ نے جویریہ بن اسمائ سے سند صحیح کے ساتھ نقل کیا ہے: کہ میں نے اہل مدینہ کے بزرگوں سے سنا ہے کہ حضرت معاویہ (رض) کی جب وفات کا وقت آیا تو اس نے یزید کو بلا کر کہا :آخر کار اہل مدینہ تمہاری مخالفت کریں گے اگر ایسی صورت حال پیش آئے تو مسلم بن عقبہ کو ان سے جنگ کے لئے بھیجنا.اس لئے کہ میں اس کی اپنے سے وفاداری اورخیر خواہی سے کاملا آشنا ہوں

پس جب یزید نے حکومت سنبھالی تو عبداللہ بن حنظلہ اور دوسرے افراد اس کے پا س آئے ، یزید نے ان کا بہت اچھا استقبال کیا اورتحائف سے نوازا لیکن چونکہ وہ اس کے غیر شرعی اعمال کو دیکھ چکے تھے جب واپس مدینہ پہنچے تو اہل مدینہ کو اس کے خلاف بھڑکایا اور اسے حکومت سے ہٹانے کا کہا لوگوں نے بھی اس کی حمایت کی لیکن جب یزید کو اس کی خبر ملی تو اس نے مسلم بن عقبہ کو روانہ کیا پہلے تو وہ مدینہ والوں کی تعداد دیکھ کر گھبرا گیا لیکن بنو حارثہ کی خیانت کی وجہ سے اس کا لشکر مدینہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا ...بہت سے لوگ مارے گئے اور اس شرط پر صلح ہوئی کہ پورا اہل مدینہ یزید کا غلام بن کر رہے گااور وہ جیسے چاہے گا ان سے سلوک کرے گا.

یزید کا اہل مدینہ کے قتل کا دستور صادر کرنا

سوال ۱۰۲: کیا یہ درست ہے کی یزید نے اہل مدینہ کے قتل عام ، لوٹ مار ، زخمی صحابہ کرام اور تابعین کوپھانسی لگا نے کا حکم دیا تھا جس کے نتیجہ میں انصار و مہاجریں میں سے سات سو صحابہ کرام(رض) اوردس ہزار سے زیاد ہ عام اہل مدینہ کا ناحق خون بہایاگیاجبکہ اس ناحق خون کے بدلے میں یزید اجر الہی کا مستحق قرار پایا اس لئے کہ وہ مجتہد تھا اور جب کوئی مجتہد خطا کرتا ہے تو اجر الہی کا مستحق قرار پاتا ہے ؟(۲)

____________________

۱۔وفا ئ الوفائ بأخبار دارالمصطفٰی ۱: ۰۳۱، دارالکتب العلمیہ بیروت

۲۔وفائ الوفائ ۱: ۲۳۱؛ تاریخ الاسلام : ۵۳۲


۔یزید اور ناموس مدینہ کی بے حرمتی

سوال ۱۰۳: کیا یہ بھی حقیقت ہے کہ صحابی رسول (ص) او ر یزید کے کمانڈر مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کو قیدی بنایااور مسلمان عورتوں سے بدفعلی کی ؟ جیسا کہ سمہودی نے نقل کیا ہے:

أنّهم سبوا الذریة واستباحو االفروج وانّه، اکن یقال: لأولٰئک الأولاد من النسائ اللاتی حملن : أولاد الحرّة .قال : ثمّ أُحضر الأعیان لمبایعة یزید فلم یرض الاّ أن یبایعوه، علی أنّهم عبید یزید فمن تلکّأ أمر بضرب عنقه.. .(۱)

____________________

۱۔تاریخ الاسلام ،حوادث سال ۰۸۔ ۱۶.ذہبی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے مسلم بن عقبہ سے انتقام لینے کی خاطر اس کی قبر کھودی تو کیا دیکھا کہ ایک سانپ اس کی ناک پر ڈس رہا ہے اس نے اس کی لاش نکالی اور پھانسی کے پھندہ پر لٹکا دی.


شیعہ

۔عامر شعبی کے شیعوں پر تہمت لگانے کی وجہ

سوال ۱۰۴: کیا یہ صحیح ہے کہ ہم اہل سنّت نے پیغمبر پر لگائی جانے والی تہمتوں سے بچنے کے لئے جن کاتذکرہ سوال نمبر۷۱ میں ہوا .شیعوں کی طرف اس بات کی نسبت دے دی ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل نے وحی پہنچانے میں غلطی کر دی .کیونکہ طے یہ تھا کہ حضرت علی(رض) کو وحی پہنچائیں جبکہ غلطی سے پیغمبر کو پہنچابیٹھے ؟ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ بات شیعوں کی کسی کتاب میں نہیں ملتی .میں نے ا س بارے میں پوری تحقیق کی ہے بلکہ جس نے سب سے پہلے اس جھوٹ کی نسبت شیعوں کی طرف دی ہے وہ عامر شعبی ہے جو حضرت علی (رض) اور ان کے شیعوں کا سخت دشمن تھا اور پھر ابن عبد ربہ نے بھی بغیر تحقیق کئے اسے نقل کر ڈالا.(۱)

۔مذہب شیعہ پیغمبر (ص) کے زمانے میں وجود میں آیا

سوال ۱۰۵: کیا یہ درست ہے کہ پیغمبر اکرم کے صحابہ کرام(رض) میں سے بہت زیادہ شیعہ تھے ؟ جیسا کہ ابو حاتم ، ابن خلدون ، احمد امین اور صبحی صالح نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے:

۱۔ابو حاتم :انّ أوّل اسم لمذهب ظهر فی الاسلام هو الشیعة وکان هذا لقب أربعة من الصحابة : ابو ذر ،عمار ، مقداد و سلمان (۲)

اسلام میں سب سے پہلا نام جو کسی مذہب کے لئے ظاہر ہوا وہ شیعہ ہے .اور یہ پیغمبر کے چار صحابیوں ابوذر، عمار، مقداداور سلمان (رض)کا لقب تھا

____________________

۱۔العقد الفرید ۲: ۱۱۴؛ افقہ علی المذاہب الاربعہ ۴: ۵۷

۲۔الزینۃ فی الکلمات الاسلامیۃ ۳: ۰۱


۲ ۔ ابن خلدون :کان جماعة من الصحابة یتشیّعون لعلیّ ویرون استحقاقه، علی غیره (۱)

صحابہ کرام (رض) کا ایک گروہ حضرت علی(رض) کے شیعہ تھے اور انہیں دوسروں پر مقدم سمجھتے تھے

۳ ۔احمد امین :وقد بدأ التشیّع من فرقة من الصحابة کانوا مخلصین فی حبّهم لعلیّ یرونه، أحقّ بالخلافة لصفات رأوها فیه .ومن أشهرهم سلمان وابوذر والمقداد (۲)

تشیع کی ابتداحضور کے صحابہ کرام (رض) سے ہوئی جو حضرت علی(رض) کی محبت میں مخلص اور خلافت کے سلسلے میں ان کے اندر پائی جانے والی صفات کی وجہ سے انہیں زیادہ حقدار سمجھتے تھے اور ان میں سے مشہور ترین صحابہ سلمان ، ابوذر اور مقداد تھے

۴ ۔ صبحی صالح: کان بین الصحابة حتّٰی فی عهد النبیّ شیعة لربیبة علیّ .منهم ابوذر ، المقداد ...جابر بن عبدالله ،أبی بن کعب ،ابو طفیل ، عباس بن عبدالمطلب وجمیع بنیه و عمار وابو ایوب (۳)

پیغمبر اکرم کے زمانہ میں ہی صحابہ کرام (رض) کے درمیان حضرت علی (رض) کے شیعہ اور ان کے خیر خواہ موجود تھے جن میں ابوذر ، مقداد، جابر بن عبداللہ ، ابی بن کعب ، ابوطفیل ، عباس بن عبدالمطلب ،ان کے تمام بیٹے اور عمار وابوایوب (رض)تھے

ہم جو حبّ صحابہ رحمۃ اللہ اور بغض صحابہ لعنۃ اللہ کے نعرے لگاتے ہیں اور شیعوں کو کافر و مشرک سمجھتے ہیں تو کیا یہ ان صحابہ (رض) کو کافر و مشرک کہنا نہیں ہے ؟ اور پھر اگر شیعہ ان صحابہ (رض) کی پیروی کرتے ہوئے حضرت علی(رض) کو خلافت کا حق دار سمجھتے ہیں تو ان کو برا بھلا کیوں کہتے ہیں ؟ جبکہ ہمارا

____________________

۱۔ مقدمہ ابن خلدون ۳: ۴۶۴

۲۔ ضحی الاسلام ۳: ۹۰۲

۳۔النظم الاسلامیۃ : ۶۹


نظریہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام (رض) ہدایت کے چراغ ہیں جس کی پیروی کرلیںکامیاب ہوں گے؟ اس کامطلب تو یہ ہے کہ شیعہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر اس لئے کہ ہم اتنے سارے صحابہ کرام (رض) کو کافر سمجھ رہے ہیں!!

۔صحابہ کرام(ص) بھی شیعہ تھے

سوال ۱۰۶ : کیا یہ صحیح ہے کہ صحابہ کرام (رض)اور تابعین وفقہائ کے درمیان ایسے افراد بھی تھے جوحضرت علی(رض) کو تمام صحابہ کرام(رض) سے افضل سمجھتے تھے ؟ جیسا کہ ہمارے علمائ نے لکھاہے:

۱ ۔ ابن عبدالبر:روی عن سلمان و ابی ذر والمقداد وخباب وجابر وأبی وسعید الخدری وزید بن أرقم رضی الله عنهم : أنّ علیّ بن أبی طالب رضی الله عنه أوّل من أسلم وفضّله هٰؤلائ علی غیره (۱)

۲ ۔شعبہ بن حجاج:وہ کہتے ہیں : حکم بن عتیبہ حضرت علی(رض) کو حضرت ابوبکر(رض) وعمر(رض) پر ترجیح دیا کرتے تھے(۲)

۔عام لوگ بھی علم غیب رکھتے ہیں

سوال ۱۰۷: کیا یہ صحیح ہے کہ علمائے اہل سنّت جیسے آلوسی ، نووی اور ابن حجر بعض لوگوں کے لئے علم غیب کو جائز قرار دیتے ہیں ؟ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہمارے اور شیعوں کے عقیدہ میں کیا فرق ہے وہ بھی تو پیغمبر اور اپنے آئمہ معصومین کے لئے علم غیب کاجاننا جائز سمجھتے ہیں لیکن ہم ان پر اعتراض کرتے ہیں :

۱ ۔ آلوسی:اس آیت مجیده قل لایعلم من فی السّمٰوٰت والأرض الغیب (۱)

کے ذیل میں لکھتے ہیں :

لعلّ الحقّ أنّ علم الحقّ المنفی عن غیره جلّ وعلاهو ماکان للشخص بذاته أی

____________________

۱۔تہذیب الکمال۰۲: ۸۴،مؤسسۃ الرّسالۃ

۲۔سیر اعلام النبلائ ۵: ۹۰۲

۳۔النمل : ۵۶


بلا واسطة فی ثبوته له ، وماوقع للخواص لیس من هذاالعلم المنفی فی شیئ وانّما هو من الواجب عزّوجلّ افاضة منه علیهم بوجه من الوجوه فلایقال: (انّهم یعلمون بذلک المعنٰی فانّه کفر) بل یقال : انّهم أظهروا وأطلعوا علی الغیب (۱)

حق یہ ہے کہ وہ علم غیب جس کی خدا کے غیر سے نفی کی گئی ہے وہ ذاتی اور بغیر واسطے کے ہے .اور وہ علم غیب جو خاص لوگوں کے پاس ہے وہ عنایت پروردگار ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ذاتی علم رکھتے ہیںکیونکہ یہ کفر ہے بلکہ یہ کہاجائے گا کہ انہوں نے علم غیب پر اطلاع حاصل کی ہے

۲ ۔ نووی:لایعلم ذلک استقلالا الاّ باعلام الله لهم

علم غیب مستقل طور پر حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ خدا وند متعال کی طرف سے انہیں عنایت کیا جاتا ہے.

۳ ۔ ابن حجر :اعلام الله تعالٰی للأنبیائ والأولیا ئ ببعض الغیوب ممکن لایستلزم محالا بوجه وانکار وقوعه عناد لأنّهم علموا باعلام الله واطلاعه لهم (۲)

خدا کا اپنے انبیائ واولیائ کوکچھ علم غیب عطا کرنا ممکن ہے اور اس کا انکار کرنا عناد اور دشمنی ہے کیونکہ خدا نے ان کو یہ علم غیب عطا کیا ہے ۔

۔مُردوں کا اسی دنیا میں دوبارہ زندہ ہونا

سوال ۱۰۸: کیا یہ صحیح ہے کہ صدراسلام میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے اور کلام بھی کیا جسے رجعت کہا جاتا ہے جیسا کہ زید بن خارجہ(۳) حضرت عثمان (رض) کے دور میں مرے اور دوبارہ زندہ ہوگئے .اسی طرح کے دسیوں نمونے ابن ابی الدنیا متوفی ۱۸۲ ھ نے اپنی کتاب میں ذکر کئے ہیں اور صحابہ کرام(رض) و تابعین میں سے بھی ابو الطفیل(۴) اور اصبغ بن نباتہ رجعت کے قائل تھے.(۵)

____________________

۱ ۔روح المعانی ۲: ۱۱ ۲۔الفتاوٰی الحدیثۃ : ۳۲۲ ۳۔ من عاش بعد الموت : ۰۲، شمارہ ۱؛ اسدالغابہ ۲: ۷۲۲

۴۔ المعارف :۱۴۳

۵۔ تہذیب الکمال ۳: ۸۰۳


کیا وجہ ہے کہ ہم اسی عقیدہ کی وجہ سے شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں جبکہ خود صحابہ کرام (رض) اورعلمائے اہلسنّت بھی اس کے معتقد تھے ؟

اور کیا وجہ ہے کہ جابر بن یزید جعفی جیسے محدّث کو اس عقیدہ کی وجہ سے ترک کردیا جائے جیسا کہ صحیح مسلم کے شروع میں ان تلخ اعترافات کو بیان کیا گیا ہے(۱)

۔علمائے سلف تقیہ کیا کرتے

سوال۱۰۹ :کیا یہ درست ہے کہ امام شافعی،امام رازی ، امام یحیٰی بن معین ، اور اسی طرح اہل سنّت کے بہت سے مسلمانوں کے سامنے تقیہ کرنے کو جائز سمجھتے ہیں ؟ جیسا کہ معروف مفسّر اہل سنّت فخر رازی نے اس آیت مجیدہ : الاّ أن تتّقوامنھم تقاہ(۲) کے ذیل میں اس بات کو واضح طور پر بیان کیا اور امام شافعی سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے: اس آیت مجیدہ کا ظاہر کافروں کے سامنے تقیہ کرنے پر دلالت کر رہاہے لیکن اگر مسلمانوں کے درمیان بھی ایسی صورت حال پیش آجائے تو بھی جان ومال بچانے کی خاطر تقیہ کرنا جائز ہے ۔(۳)

امام ذہبی ،یحیٰی بن معین جو خلق قرآن کے مسئلہ میں حکومت کی ہمراہی کر رہے تھے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں :هذا أمر ضیق ولاحر ج علی من أجاب فی المحنة ،بل ولا أکره، علی صریح الکفر عملا بالآیة .وهذا هو الحقّ وکان یحیٰی بن معین من آئمّة السّنة فخاف من سطوة الدولة وأجاب تقیّة (۴)

امام یحیٰی بن معین نے حکومت کے خوف کی وجہ سے تقیہ کرتے ہوئے جواب دیا.

____________________

۱۔ صحیح مسلم ۱:۰۱، باب الکشف عن معایب رواۃ الحدیث

۲۔آل عمران : ۸۲

۳۔التفسیر الکبیر ۸: ۳۱

۴۔سیر اعلام النبلائ ۱۱: ۷۸


پس کس لئے ہم تقیہ کرنے کی وجہ سے شیعوں پر اعتراض اور انہیں کافر کہتے ہیں جبکہ ہمارے مذہب میں بھی مسلمانوں کے سامنے تقیہ جائز ہے ؟ اگر آپ یہ جواب دیں کہ فقط کافروں کے سامنے تقیہ جائز ہے تو پھر کیا بنو امیہ اور بنو عباس کافر تھے کہ امام یحیٰی بن معین ان کے سامنے تقیہ کیا کرتے ؟

۔قبر زہری و بخاری پر روضوں کا بنایا جانا

سوال ۱۱۰: کیا یہ صحیح ہے کہ امام زہری کی قبر پکی اینٹوں سے بنائی گئی ہے او ر اسے پلستر بھی کیا گیا ہے ؟جیسا کہ امام ذہبی کا کہنا ہے(۱) محمد بن سعد عن حسین بن متوکل العسقلانی ...رأیت قبره زهریمسنما مجصصّا .جبکہ ہمارے پاس حدیث ہے کہ : نھی النبیّ أن یجصص القبور(۲)

رسول اللہ نے پکی قبریں بنانے سے منع فرمایاہے.

کیا اب بھی امام بخاری کی قبر خوقند میں پکی نہیں بنائی گئی ہے اور اس کے اوپر مقبرہ موجود نہیں ہے اسی طرح کیا پیغمبر اسلام اور حضرت ابوبکر(رض) و عمر (رض) کی قبریں زمین سے ایک میٹر بلند اور ان پر روضہ موجود نہیں ہے ؟تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم شیعوں پر پکی قبریں بنانے کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں اور انہیں قبروں کے پجاری کہتے ہیں جبکہ ہم خود یہ سب اعمال انجام دیتے ہیں ؟!

____________________

۱۔سیر اعلام النبلائ ۵: ۹۴۳

۲۔صحیح مسلم ۳:۳۶؛ سنن ترمذی ۳: ۸۰۲؛ سنن ابن ماجہ ۱: ۳۷۴؛ ابوداؤد ۳: ۶۱۲


فقہائ ومحدثین سلف

۔چوتھی اور پانچویں صدی میں مذاہب اربعہ کا وجود میں آنا ۔

سوال ۱۱۱: کیا یہ حقیقت ہے کہ اہل سنّت کے موجودہ چار مذہب پانچویں صدی میں قادر باللہ کے حکم پر باقاعدہ طور پروجود میں آئے اور اس کی وجہ مالی واقتصادی مشکلات تھیں کیونکہ قادر باللہ نے اعلان کیا کہ جو مذہب اس قدر پیسے اداکرے گا اسے حکومتی سطح پر تسلیم کیا جائے گا.ان چاروں مذاہب نے پیسے مہیا کرلئے لیکن شیعہ عالم سید مرتضیٰ اتنے پیسے مہیا نہ کرسکے لہذا ان کا مذہب تسلیم نہ کیا گیا جبکہ اس سے پہلے کسی خاص مذہب کی پیروی کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا جیس کہ دہلوی نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے(۱)

امام یحیٰی بن معین کا نامحرم عورتوں کو چھیڑنا ۔

سوال ۱۱۲: کیا یہ درست ہے کہ علمائے اہل سنّت میں سے علم رجال کے ماہر امام یحٰیی بن معین خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر نازیبا جملات کہا کرتے جیسا کہ ہماری کتب میں موجود ہے :

صلّی الله علیها أی علی الجاریة الجمیلة ...وعلی کلّ ملیح (۲)

درود خداہوخوبصورت لڑکی اور ہر جذب کرنے والی عورت پر

____________________

۱۔ادوار اجتہاد : ۴۰۲؛ روضات الجنّات ۴: ۶۰۳.کتاب دین اور زندگی کے سلفی مؤلف صفحہ نمبر ۴۲ پر لکھتے ہیں : حنفی مذہب ابو حنیفہ کے مرنے کے بعد چوتھی اور پانچویں صدی میں غزنویوں،سلجوقیوں ااور عثمانیوں کی حمایت رائج ہوا.

۲۔تہذیب الکمال ۰۲: ۱۳۲


کونسا امام جماعت افضل ہے

سوال ۱۱۳: کیا یہ صحیح ہے کہ ہم حنفیوں کے نزدیک اگر چند امام جماعت ایک جگہ پراکٹھے ہو ں تو وہی امامت کروائے گا جس کی بیوی سب سے زیادہ خوبصورت ہو یا جس کا آلہ تناسل سب سے بڑا ہو؟ جیسا کہ شرنبلانی حنفی متوفٰی ۹۶۰۱ ھ نے اپنی کتاب میں یہی فتوٰی دیا ہے:

اذا اجتمع قوم ولم یکن بین الحاضرین صاحب منزل اجتمعوا فیه ...فالأحسن زوجة لشدة عنقه فأکبرهم رأسا ،وأصغر هم عضوا فأکثر هم مالا فأکبرهم جاها (۱)

۔ہمارے بعض علمائ حرام زادے تھے

سوال۱۱۴: کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارے مذہب کے بہت سے آئمہ ،فقہائ ، محدثین سلف،بزرگان ولد زنا اور حرام زادے تھے جیسا کہ امام زہری نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ؟ میں نے یہ بات امام ابن حزم کی کتاب المحلّیٰ میں پڑھی تو بہت فکر کی کہ کیا ہمارے لئے حرام زادوں کی پیروی کرنا واجب ہے؟!

جہاں پہ انہوں نے حرام زادے کی امامت میں نماز ادا کرنے کو جائز قرار دیا ہے وہاں پر امام زہری سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

عن الزهری قال: کان آئمّة من ذلک العمل ، قال وکیع : یعنی من الزّنا (۲)

امام زہری نے کہا : آئمہ اسی عمل سے پیدا ہوئے تھے وکیع کہتے ہیں : یعنی زناسے

شعبہ اپنے باپ کی وفات کے دوسال بعد ، ہرم(ذہبی کہتے ہیں : وہ انتہائی عابد اور حضرت عمر و ابوبکر (رض) کی خلافت کے دوران فارس کی جنگوں میں لشکر کے کمانڈر اور حضرت عمر (رض) کی خلافت میں گورنر بھی رہے اور حضرت عمر (رض) کے نزدیک قابل اعتماد تھے لیکن چونکہ کئی سال ماں کے شکم میں رہے تھے لہذا پیدا ہونے سے پہلے ان کے دانت نکل چکے تھے اسی لئے ان کا نام ہرم رکھ دیاگیا.(۳)

____________________

۱۔مراقی الفلاح شرح نور الأیضاح : ۰۷

۲۔ المحلّٰی ۴: ۳۱۲؛ مصنّف ابن ابی شیبہ ۲: ۰۲۱، باب ۷۲،ح ۱ ، طبع دارالفکر ۳۔سیر اعلام النبلائ ۴: ۰۵


ابن حیان چار سال بعد ، امام مالک تین سال سے بھی زیادہ عرصہ بعد، اسی طرح امام شافعی اپنے باپ کی وفات کے چار سال بعدپیدا ہوئے ۔(۱)

۔ہم حنفیوں کا مقام تو حیوان کے برابر ہے

سوال ۱۱۵:کیا یہ صحیح ہے کہ ہم حنفی ، شافعیوں ، مالکیوں اور حنبلیوں کے نزدیک کتّے کے برابر اور نجس ہیں؟ جیسا کہ وہ فتوٰی دیتے ہیں :

اذا صبّت قطرة نبیذ فی طعام یُرمٰی الی الکلب أو الی حنفی (۲)

اگر کھانے میں شراب کا قطرہ گر جائے تو اسے کتے یا حنفی کے سامنے پھینک دیا جائے

____________________

۱۔خزائن : ۷۱۲؛ المعارف : ۴۹۵؛ سیر اعلام النبلائ ۸: ۲۳۱؛ المعرفۃ والتاریخ ۳: ۹۳۲

۲۔شرح ابن قاسم ۱: ۲۵۱


امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ

۔پست ترین بچہ

سوال ۱۱۶: کیا یہ صحیح کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ سے پست تر کوئی بچہ اسلام میں پیدا نہیں ہوا ،وہ اسلام لانے کے بعد دوبارہ کافر ہوگئے تھے اور پھر توبہ کرلی تھی؟

امام بخاری نے لکھا ہے :أستتیب ابوحنیفه من الکفر مرّتین

اور سفیان بن عیینہ نے جب امام ابو حنیفہ کی وفات کی خبر سنی تو کہا: کان یهدم الاسلام عروة عروة ، وما ولد فی الاسلام مولود أشأم منه .

پس کیسے ممکن ہے کہ ہم اسے اپنے مذہب کا امام مان لیں ؟

۔امام ابوحنیفہ(رح) نصرانی پیدا ہوئے

سوال ۱۱۷: کیا یہ درست ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ نصرانی تھے یعنی جب پیدا ہوئے تو ان کے والد نصرانی اور پھر بعد میں اسلام اختیار کیا جیسا کہ خطیب بغدادی نے ابن اسباط سے نقل کیا ہے : ولدأبوحنیفہ وابوہ نصرانیّ(۱)

۔امام اعظم (رح) کی رائے مردود ہے

سوال ۱۱۸:کیا یہ درست ہے کہ علمائے اسلام کی نظر میں امام ابو اعظم (رح)کا کوئی مقام نہیں ہے اور ان کے فتوٰی پر عمل کرنا جائز نہیں ہے ؟ جیسا کہ امام ابن حبان کا کہنا ہے:

لا یجوز احتجاج به لأنّه، کان داعیا الی الارجائ والدّاعیة الی البدع لایجوز أنا

____________________

۱۔تاریخ بغداد ۳۱: ۴۲۳


یحتج به عندآئمّتنا قاطبة ، لاأعلم بینهم فیه خلافا علی أنّ آئمّة المسلمین وأهل الورع فی الدین فی جمیع الأمصار وسائر الاقطارجرحوه، وأطلقوا علیه القدح الّا الواحد بعد الواحد (۱)

۔امام اعظم(رح) علم حدیث سے ناآشنا تھے

سوال ۱۱۹: کیا یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) پیغمبر کی ہزاروں احادیث میں سے فقط ایک سو تیس حدیث جانتے تھے اور ان میں سے بھی ایک سو بیس میں غلطیاں پائی جاتی تھی یعنی فقط دس احادیث جانتے تھے اور علم حدیث میں بھی ذرہ بھر مہارت نہیں رکھتے تھے ؟ جیسا کہ امام ابن حبان نے تحریرفرمایاہے:

کان رجلا ظاهر الورع لم یکن الحدیث صناعة ، حدّث بمأة وثلاثین حدیثا مسانید ماله، حدیث فی الدّنیا غیرها .أخطأ فی مأة وعشرین حدیثا : امّا أن یکون أقلب اسناده، أو غیّر متنه، من حدیث لایعلم فلمّا غلب خطؤه، علی صوابه استحق ترک الاحتجاج به فی الأخبار (۲)

تو کیا ایسے شخص کو اپنے مذہب کاامام وپیشوا بنایا جاسکتا ہے جو دس سے زیادہ حدیثیںنہ جانتا ہو؟

____________________

۱۔المجروحین ۳: ۴۲۳.خطیب بغدادی نے کئی ایک علمائ کے نام ذکر کئے ہیں جو امام ابوحنیفہ (رح) کو مردود شمار کرتے ہیں .وہ کہتے ہیں: ذکر القوم الّذین ردّوا علی أبو حنیفہ: ۱۔أیوب سختیانی ۲۔جریر بن حازم ۳۔ ہمام بن یحییٰ ۴۔حمادبن زید۵۔ حماد بن سلمۃ ۶۔ ابو عوانہ ۷۔ عبدالوارث ۸۔ سوّار العنبری القاضی ۹۔ یزید بن ربیع ۰۱۔ علی بن عاصم ۱۱۔ مالک بن انس ۲۱۔ جعفر بن محمد ۳۱۔ عمرو بن قیس ۴۱۔ ابو عبدالرّحمن المفزی ۵۱۔ سعید بن عبدالعزیز ۶۱۔ اوزاعی ۷۱۔ عبداللہ بن مبارک ۸۱۔ ابو اسحاق الفزاری ۹۱۔ یوسف بن اسباط ۰۲۔ محمد بن جابر ۱۲۔ سفیان ثوری ۲۲۔سفیان بن عیینہ۳۲۔ حماد بن ابی سلیمان ۴۲۔ ابن ابی لیلٰی ۵۲۔ حفص بن غیاث ۶۲۔ ابوبکر بن عیاش ۷۲۔ شریک بن عبداللہ ۸۲۔ وکیع بن جراح ۹۲۔ رقبۃ بن مصقلہ ۰۳۔ فضل بن موسٰی ۱۳۔ عیسٰی بن یونس ۲۳۔ حجاج بن ارطاۃ ۳۳۔ مالک بن مقول ۴۳۔ قاسم بن حبیب ۵۳۔ ابن شبرمہ.تاریخ بغداد ۳۱: ۰۷۳.

۲۔المجروحین ۳: ۳۶


امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

۔امام بخاری احادیث میں تبدیلی کے ماہر تھے ۔

سوال ۱۲۰: کیا یہ صحیح کہا جاتا ہے کہ بعض صحابہ کی شان میں احادیث کو تبدیل کر کے بیان کرنے میں امام بخاری کو اچھی خاصی مہارت حاصل تھی جہاں کہیں صحابہ کے فسق و فجور کی بات آتی تو فورا حدیث کو تبدیل کر ڈالتے جیسا کہ سمرہ بن جندب کے شراب بیچنے اور حضرت عمر(رض) کا اسے لعنت کرنے کا واقعہ امام مسلم نے کتاب البیع میں بڑی صراحت سے نقل کیا ہے جبکہ امام بخاری نے سمرہ کا نام ذکر کرنے کے بجائے کلمہ فلاں لکھ دیابلغ عمر أنّ فلانا باع خمرا ،فقال : قاتل الله فلانا ... جبکہ یہی حدیث صحیح مسلم میں یوں بیان کی گئی :قاتل الله سمرة بن جندب

امام بخاری ناصبی تھے

سوال ۱۲۱: کیا یہ صحیح کہا جاتا ہے کہ امام بخاری ناصبی اور اہل بیت رسول (ص) کے دشمن تھے ؟اس لئے کہ انہوں نے ناصبیوں اور خوارج سے تو روایات نقل کی ہیںجبکہ امام جعفر بن محمد (رض) سے جو اہل سنت کے ہاں انتہائی محترم ہیں ان سے ایک بھی حدیث نقل نہیں کی جبکہ خوارج وہ ہیں جو حضرت علی (رض) کو گالیاں دیتے جیسے حریز بن عثمان حمصی جو ہر روز صبح و شام ستر مرتبہ حضرت علی (رض) پر لعنت کیا کرتا(۱)

اسحاق بن سویدبن ہبیرہ ) ،ثور بن یزید حمصی ) ،

____________________

۱۔تہذیب التہذیب ۲: ۷۰۲؛ مقدمہ فتح الباری

۲۔تہذیب التہذیب ۳: ۳۰۳

۳۔تہذیب التہذیب ۴: ۰۳؛کان اذا أذکر علیّا یقول :لا أحبّ رجلا قتل جدّی .


حصین بن نمیر واسطی(۱) ، زیاد بن علاقہ ثعلبی جو امام حسن و حسین (رض) کوگالیاں دیا کرتا،(۲) ،سائب بن فروخ جو دشمن اہل بیت رسول (ص) تھا اور اپنے اشعار میں ان کا مذاق اڑایا کرتا ،(۳) عمران بن حطان جو حضرت علی (رض) کے قاتل کی تعریف کیا کرتا ،(۴) اور قیس بن ابو حازم ، ) اور اسی طرح منافقین و خوارج میں سے تیس افراد سے اپنی کتاب صحیح بخا ری میں ا حادیث نقل کی ہیں ۔

۔ایک گائے کا دودھ پینے سے بہن بھائی بن جانا

سوال ۱۲۲: کیا یہ صحیح ہے کہ امام بخاری فرماتے ہیں : اگر دو بچے ایک گائے یا ایک بکری اک دودھ پی لیں تو وہ رضائی بہن بھائی اور ایک دوسرے کے محرم بن جائیں گے اور پھر بڑے ہو کر ایک دوسرے سے شادی بھی نہیں کر سکتے چونکہ انہوں نے ایک جگہ سے دودھ پیا ہے !!!اگر ایسا ہو تو پھر تو دنیا کے بہت سے لوگ آپس میں بہن بھائی اور محرم ہوں گے !جیسا کہ امام سرخصی نے لکھا ہے:

لو أنّ صبّیین شربا من لبن شاة أوبقرة لم تثبت به حرمة الرّضاع معتبر بالنسب ...وکان محمد بن اسماعیل بخاری صاحب التاریخ یقول: تثبت الحرمة (۶)

۔امام بخاری اور زہری سے احادیث کا لینا ۔

سوال ۱۲۳:کیا یہ صحیح ہے کہ صحیح بخاری کی احادیث کا ایک چوتھائی حصہ زُہری سے لیا گیا ہے جبکہ وہ:

۱ ۔ حضرت علی(رض) سے منحرف تھا ؟(۷)

____________________

۱۔تہذیب التہذیب ۲:۷۳۳ ۲۔تہذیب التہذیب ۷: ۸۰۳ ۳۔ تہذیب التہذیب ۳: ۰۹۳؛ العتب الجمیل :۵۱۱ ۴۔ تہذیب التہذیب ۸: ۳۳۱

۵۔تہذیب التہذیب ۸: ۷۴۳ ۶۔المبسوط ۰۳: ۷۹۲؛ شرح العنایۃ علی الھدایۃ ۳: ۶۵۴ ۷۔شرح نہج البلاغہ ۴: ۲۰۱


۲ ۔ ظالموں کی حمایت کیا کرتا جیسا کہ امام ذہبی و آلوسی فرماتے ہیں.(۱)

امام ذہبی نے امام جعفر صادق(رض) سے نقل کیا ہے کہ :اذا رأیتم الفقهائ قد رکنوا الی السّلاطین فاتّهموهم (۲)

بنو اُمیہ کے مظالم کی توجیہ اور ان پر پردہ ڈالا کرتا .جیسا کہ عمرو بن عبدی کہتے ہیں: مندیل الأمرائ(۳) مکحول نے اس کے بارے میں لکھا ہے:أفسد نفسه بصحبته الملوک اس نے بادشاہوں کی ہم نشینی کی وجہ سے اپنے کو خراب کر ڈالا ۔(۴)

محمد بن اشکاب کہتے ہیں : کان جندیا لبنی اُمیۃ وہ بنو امیہ کا سپاہی بنا ہوا تھا.(۵)

خارجہ بن مصعب کہتے ہیں: کان صاحب شرط بنی امیۃ وہ بنو امیہ کے ساتھ معاہدہ کر چکا تھا(۶)

اسی طرح کہا گیا ہے کہ :کان یعمل لبنی امیة (۷) ...وکان مندیل الامرائ (۸)

بخاری کی احادیث میں اختلاف ۔

سوال ۱۲۴: کیا یہ صحیح ہے کہ بخاری شریف کی روایات کی تعداد میں اختلاف پایاجاتاہے؟ ابن حجر کے

____________________

۱۔سیر اعلام النبلائ ۵: ۷۳۳؛روح المعانی ۳: ۹۸۱

۲۔سیر اعلام النبلائ ۶: ۲۴۲

۳۔تاریخ مدینہ دمشق ۵۵: ۰۷۳

۴۔سیر اعلام النبلائ ۵:۹۳۳

۵۔ تاریخ الاسلام : ۰۴۱، حوادث سال ۱۲۱.

۶۔ میزان الاعتدال ۱:۵۲۶

۷۔معرفۃ علوم الحدیث نیشاپوری :۵۵؛ تاریخ دمشق ۵۵: ۰۷۳

۸۔ حوالہ سابق


بقول ۲۸۰۹ ،بعض نے ۲۸۰۹ ،بعض نے ۵۷۲۷ ،بعض چالیس ہزار اورخود بخاری کے بقول ۱۶۷۲ اور بعض نے ۳۱۵۲ تعداد بیان کی ہے .بالآخر ان میں سے کونسی تعداد صحیح ہے ؟(۱)

اسی طرح یہی مشکل باقی کتب صحاح میں بھی پائی جاتی ہے.

شیطان کا وحی میں نفوذ

سوال ۱۲۵: کیا یہ صحیح ہے کہ نزول وحی کے وقت شیطان آنحضرت (ص) پر غلبہ کر جاتا اور ایسی ایسی باتیں ان کی زبان پر جاری کروا دیتا کہ آپ (ص) سمجھتے کہ یہ وحی ہے لیکن خداوند متعال آپ (ص) کی مدد فرماتا .جیسا کہ صحیح بخاری میں سورہ حج کی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے:فی أمنیته اذا حدّث ألقی الشیطان فی حدیثه فیبطل الله مایلقی الشیطان ویحکم آیاته ،...(۲)

عسقلانی کہتے ہیں :جرٰی علی لسانه حین أصابه، سنة وهولایشعر وقیل : انّ الشیطان ألجأه الی أن قال بغیر اختیار (۳)

یعنی اس آیت کی تفسیر یوں ہے کہ :

۱ ۔ شیطان نے پیغمبر (ص) کو مجبور کیا کہ وہ ایسے مطالب زبان پر جاری کریں !!

۲ ۔ نیند یا اونگھ کی حالت میں بدون اختیار ان کی زبان پر کچھ مطالب جاری ہو جایا کرتے تھے !!

۔امام بخاری کا بعض صحابہ کرام (رض) سے احادیث نقل نہ کرنا

سوال ۱۲۶:کیا یہ صحیح ہے کہ امام بخاری نے بعض صحابہ کرام (رض) سے صرف اس لئے روایت نقل نہ کی کہ وہ

حضرت علی (رض) کے حامی تھے جیساکہ خطیب بغدادی نے ابوطفیل کے بارے میں لکھا گیا ہے:

عن أبی عبداللہ بن الاحزم الحافظ انہ، سئل : لم ترک البخاری الرّوایۃ عن الصحابی أبی طفیل ؟ قال: لأنہ، کان متشیّعا لعلیّ بن أبی طالب(۴)

____________________

۱۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث : ۳۲؛کشف الظنون ۱:۴۴۵؛فتح الباری :۷۷۴

۲۔ صحیح بخاری ۳: ۰۶۱،تفسیر سورہ حج۳۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری ۸: ۴۹۲،کتاب تفسیر الحجّ ۴۔الکفایۃ :۹۵۱


۔امام بخاری کا علم رجال سے آگاہ نہ ہونا ۔

سوال ۱۲۷:کیا یہ صحیح ہے کہ امام بخاری علم رجال اور احادیث کی سند کی جانچ پڑتال کرنے میں ضعیف تھے اور انہوں نے اس سلسلے میں بہت زیادہ غلطیاں کی ہیں ؟ جیسا کہ دارقطنی نے کتاب الالزامات والتّتبع اور رازی نے کتاب خطائ البخاری ، خطیب بغدادی نے کتاب موضع الاوہام میں لکھا ہے کہ بخاری علم رجال سے آشنائی نہیں رکھتے تھے .اسی طرح امام ذہبی نے چند مقامات پر لکھا ہے : ھذامن أوھام البخاری(۱) یا ھذا وھم البخاری یعنی یہ بخاری کے وہموں میں سے ایک وہم ہے۔(۲)

تو جوشخص علم رجال میں مہارت نہ رکھتا ہو وہ حدیث کی کتاب کیسے لکھ سکتا ہے ؟اور پھر کس دلیل کے تحت اس کی کتاب کو صحیح اور قرآن مجید کے بعد معتبر ترین کتاب قرار دیا جاسکتاہے؟ !

ابن عقدہ نے واضح طور پر کہا ہے:

یقع لمحمد یعنی البخاری الغلط فی أهل الشّام (۳)

امام بخاری کے بعض اساتیذ نصرانی تھے

سوال ۱۲۸: کیا یہ صحیح ہے کہ امام بخاری کے بعض استاد ملعون اور بعض نصرانی تھے ؟ جیسے اسحاق بن سلیمان المعروف شمخصہ جسے ابن معین نے ملعون سے تعبیر کیا ہے(۴)

____________________

۱۔تاریخ الاسلام : ۲۱۱،حوادث سال ۰۰۱

۲۔سیر اعلام النبلائ ۵: ۴۹۱، ترجمہ قاسم بن عبدالرحمن دمشقی

۳۔شروط الآئمّۃ السنّۃ لأبی بکر المقدسی : ۷۰۵. البتہ کئی ایک علمائ نے امام بخاری پر اعتراض کیا ہے .جن میں باجی متوفٰی ۴۷۴،جبائی متوفٰی ۸۹۴،ابن خلفو ن متوفٰی ۶۳۶، دمیاطی متوفٰی ۳۲۵، ابن رشد متوفٰی ۱۲۷، ابو زرعہ ۶۲۸، عراقی ۶۰۸وغیرہ اس بارے میں مزید اطلاع کے لئے کتاب الامام البخاری وصحیحہ الجامع صفحہ نمبر ۰۲۵پر رجوع کریں.

۴۔سیر اعلام النبلائ ۲۱: ۹۷


اور ابن کلاب جس کے بارے میں کہا ہے:وهو نصرانیّ بهذاالقول (۱)

۔صحیح بخاری اور اسرائیلیات

سوال ۱۲۹: کیا یہ صحیح ہے کہ صحیح بخاری جھوٹی اور اسرائیلی حدیثوں سے بھری ہوئی ہے ؟جیسا کہ سید عبدالرحیم خطیب کہتے ہیں : یہ حدیث قلم ودوات جو بخاری میں پانچ مقامات پر ذکر ہوئی ہے جھوٹٰ اور دشمن کی سازش تھی جو ہماری حدیث کی کتابوں میں داخل کر دی گئی جبکہ اس میں پیغمبر کی شان گھٹائی گئی ہے اور صحابہ کرام (رض) کی توہین کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا: پیغمبر (ص) ہذیان بول رہا ہے...اور پھر یہ حدیث سادہ لوح مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئی(۲)

اور پھر حاشیہ میں لکھا ہے کہ پرانے لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جو بھی خبر حدیث کے نام پرپیش کی جاتی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے اگرچہ وہ اسرائیلیات پر ہی کیوں نہ مشتمل ہوتی(۳)

تو کیا ایسی جھوٹ و افترائ پر مشتمل کتاب کو صحیح کا درجہ دیا جاسکتا ہے؟!

____________________

۱۔فتح الباری ۱: ۳۲۴؛سیر اعلام النبلائ ۱۱: ۵۷۱

۲۔شیخین : ۲۴۱

۳۔حوالہ سابق: ۴۴۱


سنّت اور بدعت

۔حدیث ثقلین کی صحیح عبارت

سوال ۱۳۰:کیا یہ صحیح ہے کہ حدیث ثقلین جو متواتر ہے اس میں کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی ہے جیسا کہ امام مسلم و ترمذی نے نقل کیا اور البانی نے اس کی تصریح کی ہے

اور جس حدیث میں کتاب اللہ وسنّتی ہے وہ ضعیف ہے جیسا کہ امام مالک نے بھی اسے مرسل قرار دیا ہے(۱) .

جبکہ حضرت عمر (رض) رسالتمآب (ص) کی رحلت کے دن باربار اصرار کر رہے تھے کہ حسبنا کتاب اللہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے اور ہمیں سنّت کی ضرورت نہیں ہے تو پھر ہم ہمیشہ خطبوں اور محافل میں سنّت والی عبارت کو کیوں نقل کرتے ہیں ؟

۔ہماری کتب میں خرافات

سوال ۱۳۱: کیایہ صحیح ہے کہ ہم اہل سنت کی کتابوں میں ایسے مطالب کثرت سے پائے جاتے ہیں جو جھوٹ ،غلو اورخلاف عقل ہیں؟ مثال کے طور پر امام ذہبی لکھتے ہیں :

بکر بن سہل دمیاطی متوفی ۹۸۲ ھ صبح سے عصر تک آٹھ مرتبہ پورا قرآن ختم کر لیا کرتےسمعت بکر بن سهل الدمیاطی یقول: هجرت أی بکرت یوم الجمعة فقرأت الی العصر ثمان ختمات (۲) اسی طرح فضائل اعمال میں لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ (رح) جھڑتے گناہوں کو دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ کون کیا گناہ کرتا ہے ۔

____________________

۱۔ مؤطا امام مالک ۲: ۹۹۸

۲۔ سیر اعلام النبلائ ۳۱: ۷۲۴؛تاریخ بغداد ۸: ۲۹؛ المنتظم ۶: ۶۳؛ البدایۃ والنھایۃ ۱۱: ۵۹؛ طبقات الحفاظ : ۵۹۲؛شذرات الذھب ۲:۱۰۲


کیا یہ غلو ،جھوٹ اور خلاف عقل نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟

۔ صحابہ کرام (رح) اور تابعین کا متعہ کرنا ۔

سوال ۱۳۲: کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارے موجودہ علمائ متعہ کو حرام قرا ر دیتے ہیں جبکہ صحابہ کرام اور تابعین اسے جائز سمجھتے اور اس پر عمل بھی کیا کرتے تھے ؟ جیسے عمران بن حصین، ابو سعید خدری ، جابر بن عبداللہ انصاری ، زید بن ثابن ، عبداللہ بن مسعود ، سلمہ بن الاکوع ، حضرت علی(رض) ، عمرو بن حریث ، حضرت معاویہ(رض) ، سلمہ بنامیہ ، عمرو بن حوشب ،ابی بن کعب ، اسمائ بنت ابوبکر(رض) ،اسی طرح عبداللہ بن زبیر تو پیدا ہی متعہ سے ہوئے تھے(۱) انس بن مالک ، اسی طرح تابعیں و محدثین میں سے امام مالک بن انس ، احمد بن حنبل ،سعید بن جبیر ،عطا بن رباح ، طاوؤس یمانی ،عمرو بن دینار، مجاہد بن جبر ،سدّی ، حکم بن عتیبہ ،ابن ابی ملیکہ،افر ، فربن اوس وغیرہ.(۲)

اور پھر مزے کی بات تو یہ کہ عبداللہ بن جریج جن کی عدالت پر تمام اہل سنّت کااتفاق ہے اور صحاح ستہ میں ان سے روایات بھی نقل کی گئی ہیں.امام ذہبی ان کے متعلق لکھتے ہیں:

تزوّج نحوا من سبعین امرأة نکاح متعة ...وعن الشّافعی استتمع ابن جریج بتسعین امرأة

انہوں نے ستر عورتوں سے نکاح متعہ کیا اور شافعی کا کہناہے: اس نے نوّے عورتوں سے متعہ کیا(۳)

____________________

۱۔محلٰی ۹:۹۱۵؛ مسند طیالسی:۷۲۲؛ زادالعاد ۱ : ۹۱۲؛ العقد الفرید ۴: ۳۱

۲۔ المحبّر : ۹۸۲؛ تفسیر کبیر ۰۱: ۳۵؛ شرح زرقانی ۳:۳۵۱؛ المحلّیٰ ۹: ۹۱۵؛ صحیح مسلم ۱: ۳۲۶؛ مصنّف عبدالرزاق ۷: ۹۹۴؛مبسوط سرخسی ۵: ۲۵۱؛الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی۱ :۰۹۱؛المغنی ۶:۴۴۶؛الدر المنثور ۲: ۰۴۱

۳۔سیر اعلام النبلائ ۴: ۱۲۳؛ تذکرۃ الحفاظ : ۰۹؛میزان الاعتدال ۲: ۹۵۶


نماز میں ہاتھ باندھنے پرصحیح حدیث کا موجود نہ ہون ۔

سوال ۱۳۳: کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارے پاس نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق ایک بھی صحیح حدیث رسول (ص) موجود نہیں ہے اور سب سے مستند دلیل جو ہم پیش کرتے ہیں وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے جبکہ ان دونوں کی سند مرسل ہونے کے علاوہ ان کے متن میں بھی مشکل پائی جاتی ہے جیسا کہ امام عینی ،(۱) ، اور سیوطی(۲) نے اسے صراحتا بیان کیا ہے۔

جبکہ آئمہ اربعہ ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کی بھی اجازت دیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہم نماز میں ہاتھ باندھنے پر اس قدراصرار کرتے ہیں ؟ کیا یہ ایک واضح بدعت نہیں ہے ؟

پیغمبر (ص) اور صحابہ کرام(رح) کا پتھر اور مٹی پر سجدہ کرنا

سوال ۱۳۴: کیا یہ بھی درست کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم اور صحابہ کرام(رض) خاک ،پتھر یا کھجور کی چٹائی کے ٹکڑے پر سجدہ کیا کرتے جسے خمرہ کہا جاتا ہے ؟ جیسا کہ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں:

کان رسول الله یصلی علی الخمرة ویسجد علیها (۳)

رسول اللہ (ص) چٹائی پر نماز پڑھتے اور اسی پر سجدہ کیا کرتے

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) فرماتے ہیں :کنت أصلّی مع رسول الله الظهر فآخذ قبضة من الحصٰی فی کفّی حتّٰی تبرد وأضعها بجبهتی اذا سجدت من شدة الحرّ

میں ظہر کی نماز رسول اللہ (ص) کے ہمراہ باجماعت ادا کیا کرتا تو کنکروں کی ایک مٹھی بھر کر رکھ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈے ہوجائیں اور جب سجدے میں جاتا تو ان پر سجدہ کیا کرتا )

____________________

۱۔عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ۵: ۷۸۲) شوکانی(نیل الاأوطار ۲:۷۸۱

۲۔ التوشیح علی الجامع الصحیح ۱: ۳۶۴

۳۔صحیح مسلم ۱: ۱۰۱؛ مجمع الزوائد ۲: ۷۵

۴۔ السنن الکبرٰی ۲: ۹۳۴،طبع دارالفکر


میرا سوال یہ ہے کہ ہم کس لئے شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں جبکہ خود پیغمبر (ص) اور صحابہ کرام (رض) بھی مٹی یا

پتھر کے کنکروں پر سجدہ کیا کرتے ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم کس دلیل کی بنا پرقالین پر سجدہ کر تے ہیں جبکہ سیرت رسول(ص) و صحابہ کرام (رض) کے عمل میں اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی ؟

۔حنبلی تحریف قرآن کے قائل

سوال ۱۳۵: کیا یہ صحیح ہے کہ اہل سنّت میں سے حنبلی حضرات قرآن میں تحریف کے قائل ہیں اس لئے کہ وہ نماز کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھتے اور نہ ہی اسے قرآن کا جزئ سمجھتے ہیں جبکہ یہ قرآن کی تمام سورتوں کے شروع میں موجود ہے اوران کے اس عقیدے کامطلب تو یہ ہے کہ قرآن میں اسے اضافہ کر دیا گیا ہے اور یہی تحریف قرآن ہے جیسا کہ امام ذہبی نے لکھا ہے :

ثارت الحنابلة ببغداد ومقدمهم ابویعلٰی وابن التمیمی وأنکروا الجهر بالبسملة (۱)

۔عورت کی دُبر میں جماع کرنا

سوال ۱۳۶: کیا یہ صحیح ہے کہ ذہبی اور دیگر علمائے اہل سنّت اپنی بیوی کی دُبر میںجماع کرنے کو حراما ور گناہ کبیرہ سمجھتے ہیںجبکہ عبداللہ بن عمر ، زید بن اسلم ، نافع ،مالک اور نسائی اسے مباح سمجھتے تھے ؟

۱ ۔ امام مالک فرماتے ہیں: مجھے کوئی ایسا فقیہ نہیں ملا جو دُبر میں جامع کو حلال نہ سمجھتا ہو.(۲)

۲ ۔امام نسائی سے اس کے حرام ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس پر کوئی دلیل نہیں ہے(۳)

تو اب ہم کس کے نظریہ کومانیں ؟

____________________

۱۔تاریخ الاسلام :۳۲،حوادث سال ۷۴۴

۲۔المغنی : ۲۲؛کتاب الکبائر :۴۲؛المجموع ۶۱: ۰۲۴

۳۔سیر اعلام النبلائ ۴۱: ۸۲۱


۔لوگوں کا متعہ حرام قرار دینے پر اعتراض ۔

سوال ۱۳۷: کیا یہ صحیح ہے کہ جب حضرت عمر (رض)نے متعہ کو حرام قرار دیا تو لوگوں نے ان پر شدید اعتراض کیا ؟ جیسا کہ طبری نے لکھا ہے:

عمران بن اسود نے حضرت عمر(رض) سے کہا : لوگ کہتے ہیں آپ نے ہم پر متعۃ النسائ کو حرام قرار دیا جبکہ خدانے اس چھوٹ دے رکھی تھی اور ہم تھوڑے سے پیسوں یا مٹھی بھر گندم(۱) دے کر متعہ کر لیا کرتے تھے.(۲)

نماز تراویح حضرت عمر(رض) کی بدعت ۔

سوال ۱۳۸: کیا یہ درست نہیں ہے کہ نماز تراویح حضرت عمر کی بدعات میں سے ہے اور پیغمبر(ص) کے زمانے میں اس کا مسلمانوں کے درمیان نام و نشان تک نہ تھا جیسا کہ ہمارے جید علمائ نے اس حقیقت کو عیاں کیا ہے :

۱ ۔ ابن ہمام: تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کا آغاز حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ہوا(۳)

۲ ۔ جب پیغمبر (ص) کی رحلت ہوئی تب تک مسلمان نماز تراویح نہیں پڑھا کرتے تھے جیسا کہ ثبت ہوا ہے کہ عمر (رض) نے لوگوں کو ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا(۴)

۳ ۔ عینی: جب پیغمبر (ص) کی رحلت ہوئی تب تک مسلمان نماز تراویح نہیں پڑھا کرتے تھے اور میراخیال یہ ہے

کہ یہ حضرت عمر (رض) کے اجتہاد کانتیجہ ہے(۵)

____________________

۱۔ادوار الاجتہاد :۶۱

۲۔طبری ۲: ۹۷۵

۳۔ فتح القدیر ۱: ۷۰۴

۴۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری ۴: ۶۹۲

۵۔ عمدۃ القاری فی شرح صحیح بخاری ۱: ۲۴۳


۴ ۔ امام بخاری نے عبداللہ بن عبدالقاری سے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضرت عمر مسجد کے پاس سے گذرے تو کای دیکھا کہ لوگ جداجدا نماز میں مشغول ہیں لہذا سوچا کہ اگر یہ سب ایک شخص کی امامت میں نماز ادا کریں تو کتنا بہتر ہوگا لہذا ابی بن کعب کو اس کا حکم دیا ۔دوسری رات وہاں سے گذرے تو حضرت عمر (رض) دیکھا کہ لوگ ابی کے پیچھے نماز اداکررہے ہیں تو فرمایا : نعم البدعۃ ھذہ یہ کتنی اچھی بدعت ہے.(۱)

کیا رسول اکرم (ص) نے بدعتی شخص کو گمراہ اور جہنمی قرار نہیں دیا؟کلّ بدعة ضلالة وکلّ ضلالة فی النار .(۲)

تو جب نماز تراویح نہ تو پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں تھی ا ور نہ ہی حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ میں .تو پھر ہمیں اس قدر اس پر اصرارکرکے جہنّم خریدنے کی کیا ضرورت ہے ؟

بسم اللہ کا آہستہ پڑھنا بنو امیہ کی بدعت ۔

سوال ۱۳۹: کیا یہ صحیح ہے کہ نماز میں آہستہ بسم اللہ الرّحمن الرّحیم پڑھنا امویوں کی بدعات میں سے اور سنّت رسول (ص) کے خلاف ہے جیسا کہ امام زہری نے اس کی وضاحت کی اور حضرت ابوہریرہ اور امام علی بن موسٰی الرّضا بھی بلند آواز سے پڑھا کرتے .اسی معروف مفسّر اہل سنّت علاّمہ فخر رازی کے بقول یہ بات تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ حضرت علی (رض) بلند آواز سے بسم اللہ پڑھا کرتے(۳)

امام زہری کہتے ہیں :اوّل من قرأ بسم الله الرّحمن الرّحیم سرّا بالمدینة عمرو بن سعید بن العاص

مدینہ میں سب سے پہلے جس شخص نے آہستہ بسم اللہ پڑھی وہ عمرو بن سعید بن عاص تھا ۔

____________________

۱۔صحیح بخاری ۱: ۲۴۳

۲۔ سبل السلام ۲: ۰۱؛ مسند احمد ۳: ۰۱۳

۳۔التفسیر الکبیر ۱: ۵۰۲


بنو امیہ کا سنّت پیغمبر (ص) کی مخالفت کرنا ۔

سوال ۱۴۰: کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت معاویہ (رض) ،حضرت علی (رض) سے بغض کی وجہ سے سنّت نبوی پر عمل نہیں کیا کرتے تھے؟ جیسا کہ بیہقی نے لکھا ہے کہ حضرت معاویہ (رض)نے حضرت علی(رض) کی مخالفت میں عرفہ کے دن تلبیہ سے روک دیا

سعید بن جبیر کہتے ہیں :ہم عرفہ کے دن عبداللہ بن عباس(رض) کے پاس بیٹھے تھے کہ ابن عباس (رض)نے کہا: اے سعید ! آج لوگوں کے تکبیر بلند کرنے کی آواز سنائی نہیں دے رہی ؟ میں نے کہا: لوگ معاویہ (رض) سے ڈرتے ہیں.اتنا سنتے ہی ابن عباس اچانک اٹھے اور بلند آواز سے کہا:

لبیک اللّهمّ لبیک وان رغم عنف معاویة ،اللّهمّ العنهم فقد ترکواالسّنة من بغض علیّ رضی الله عنه (۱)

لبیک اللّھمّ لبیک ،ہم حضرت معاویہ(رض) کی ناک زمین پر رگڑ دیں گے .اے خدا! ان پر لعنت فرما .انہوں نے علی (رض) کے بغض میں سنّت رسول کو چھوڑ دیا ہے

سنن نسائی کے شارح سندی اس جملے کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:

أی لأجل بغضه أی هوکان یتقیّد بالسنن فهؤلائ ترکوها بغضا له،

یعنی انہوں نے حضرت علی (رض) کے بغض میں سنّت کو چھوڑ دیا اس لئے کہ وہ سنّتوں کے پابند تھے

سلف اور مستحبات

سوال ۱۴۱:کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارا نعرہ شیعوں کی مخالفت کرناہے اگرچہ ان کا کوئی کام سنّت رسول (ص) کے مطابق ہی کیوں نہ ہو ؟ جیسے قبر کو ہموار کرنا، باقی انبیائ پر صلوات بھیجنا اور دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا ...۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ کہتے ہیں :

شیعوں کی مخالفت اور ان رابطہ ختم کرنے کے لئے شیعوں کو پہچاننا ایک مستحب کو انجام دینے سے

____________________

۱۔السنن الکبرٰی ۷: ۵۴۲، طبع دارالفکر ،۵: ۳۸۱، طبع دارالکتب العلمیہ ؛ سنن نسائی ۵: ۳۵۲


زیادہ مہم ہے یہی وجہ ہے کہ بعض فقہائ کا کہنا ہے کہ اگر بعض مستحبات شیعوں کا شعار ہوں تو انہیں ترک کردینا چاہیے(۱)

قبر کو ہموار کرنے کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ سنّت یہ کہ قبر ہموار ہو لیکن افضل یہ ہے کہ ہموار نہ ہو اس لئے کہ یہ شیعوں کا شعار ہے اور بہتر یہ ہے کہ اس سنّت کو چھوڑ دیا جائے تاکہ ان کی مخالفت ہوسکے(۲)

اسی طرح پیغمبر کے علاوہ باقی انبیائ پر صلوات بھیجنا ،(۳) باقی انبیا ئ پر سلام بھیجنا،(۴) عمامہ باندھنے کا طریقہ(۵) .کیا یہ اسلام و پیغمبر سے انحراف اور ان کی مخالفت کرنا نہیں ہے ؟

اور کہیں اسی وجہ سے تو ہم اذان میں حضرت علی (رض) کے خدا کے ولی ہونے کی گواہی سے نہیں بھاگتے ہیں کہ وہ شیعوں کا شعار بن چکا ہے ؟

۔صحابہ کرام (رض) اور تابعین(رح) کا پاؤں کا مسح کرنا

سوال ۱۴۲: کیا یہ صحیح ہے کہ بہت سارے صحابہ کرام(رض) وتابعین وضو میں پاؤں کا مسح کیا کرتے تھے اور بعض تو اسے واجب سمجھتے تھے ؟ جیسے حضرت علی (رض) ، عبداللہ بن عباس ،عکرمہ ، انس بن مالک ، شعبی ، حسن بصری ، ابو جعفر محمد باقر رضی اللہ عنہ(۶)

____________________

۱۔منہاج السّنۃ ۲: ۳۴۱.ومن هنا ذهب من ذهب من الفقهائ الی ترک بعض المستحبات اذا صارت شعارا لهم

۲۔ المجموع نووی ۵: ۹۲۲؛ ارشاد السّاری ۲: ۸۶۴

۳۔تفسیر کشاف ۳: ۱۴۵

۴۔ فتح الباری ۱۱: ۲۴۱

۵۔شرح المواہب اللدنیۃ ۵: ۳۱

۶۔المحلّیٰ ۲: ۶۵؛تفسیر کبیر ۱۱: ۱۶۱؛ مغنی ۱: ۲۳۱


جیسا کہ ابن حزم ، فخر رازی اور ابن قدامہ وغیرہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے.پس کیا وجہ ہے کہ ہم پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے ہیں اور جو نہ دھوئے اس کے وضو کو باطل سمجھتے ہیں؟

انس بن مالک جو دس سال تک حضور علیہ الصلّاۃ والسّلام کے خادم رہے اور حضرت علی(رض) تیس سال تک آپ(ص) کے ساتھ ساتھ رہے .کیا یہ دونوں جلیل القدر صحابی جھوٹ اور غلط کام پر اصرار کر رہے ہیں؟!

۔الصّلاة خیر من النّوم حضرت عمر (رض) کی بدعت

سوال۱۴۳:کیا یہ حقیقت ہے کہ اذان میںالصّلاة خیر من النوم حضڑت عمر (رض) کی ایجاد کردہ بدعت ہے جبکہ پیغمبر کے زمانہ میں یہ جملہ اذان میں موجود نہیں تھا ؟

جیسا کہ امام ابن حزم ، امام مالک او رامام قرطبی نے واضح طور پر کہا ہے:

۱ ۔ امام مالک:انّ المؤذن جائ الی عمر بن الخطاب یؤذنه، لصلاة الصبح فوجده، نائما فقال :الصّلاة خیر من النوم فأمره، أن یجعلها فی ندائ الصبح (۱)

مؤذن حضرت عمر (رض) کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کرنے آیا تو دیکھا کہ وہ سو رہے ہیں کہا : نماز نیند سے بہتر ہے .پس عمر (رض) نے اسے حکم دیا کہ جملہ آج کے بعد صبح کی اذان میں کہا جائے

۲ ۔امام ابن حزم :الصّلاة خیر من النوم ،ولانقول بهذا أیضا لأنّه، لم یأت عن رسول الله (۲)

ہمالصلاة خیر من النوم نہیں کہتے اس لئے کہ یہ جملہ آنحضرت سے نقل نہیں ہوا۔

۔اذان میں حاکم وقت پر سلام کرنا

سوال ۱۴۴: کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارے مذہب میں اذان میں حی علی الصلاۃ سے پہلے’’السّلام علیک ایّھاالأمیر ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،،، کہنا جائز ہے ؟ جیسا کہ حلبی ، سرخسی اور دوسرے علمائ نے لکھاہے:

۱ ۔ سرخسی :قد روی عن أبی یوسف رحمة الله أنّه، قال: لا بأس بأن یخصّ الأمیر

____________________

۱۔موطأ ۱: ۲۷

۲۔المحلّی ۳: ۱۶۱


بالتثویب فیأتی بابه، فیقول : السّلام أیّها الامیر ورحمة الله وبرکاته، ،حی ّعلی الصلاة مرّتین حیّ علی الفلاح مرّتین ، الصلاة یرحمک ا للہ(۱)

۲ ۔حلبی :عن أبی یوسف : لاأری بأسا أن یقول المؤذن السّلام علیک أیّهاالأمیر ورحمة الله وبرکاته، ،حیّ علی الصّلاة ،حیّ علی الفلاح ،الصّلاة یرحمک الله لاشتغال الأمرائ بمصالح المسلمین أی ولهذا کان مؤذن عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنه یفعله، (۲)

اگر ہمارے مذہب میں کسی جملے کااذان میں اضافہ کرنا جائز ہے جو پیغمبر کے زمانہ مبارک میں نہ تھا تو پھر ہم شیعوں پر کیوں اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اذان میں ’’أشھد أنّ علیّا ولیّ اللہ ،، کیوں کہتے ہیں جبکہ یہ جملہ اذان میں نہیں تھا ؟

۔حمار یعفور کا کلام کرنا

سوال ۱۴۵: کیا یہ بھی صحیح ہے کہ حمار یعفور کا پیغمبر سے باتیں کرنے والا قصّہ ہماری کتب میں بھی موجود ہے.(۳) ؟ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس قصّہ کے شیعوں کی کتاب کافی کے اندر موجود ہونے کی وجہ سے ان کی اس پوری کتاب کو ضعیف قرار دیتے ہیں جبکہ وہ خود بھی اس قصّہ والی روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں؟

۔قرآن کو جلانا جائز ہے ؟

سوال۱۴۶: کیا یہ صحیح ہے کہ ہماری حدیث کی کتب میں بیان ہوا ہے کہ قرآن کو زمین پر رکھنا جائز نہیں جبکہ اسے جلادینا جائز ہے ؟ جیسا کہ ابن ابی داؤد نے اسی باب سے ایک مکمل باب کھولا ہے:’’ حرق

____________________

۱۔المبسوط ۱: ۱۳۱

۲۔سیرۃ الحلبیہ ۳: ۴۰۳؛الھدایۃ فی شرح البدایۃ ۱: ۲۴؛ جامع صغیر ۱: ۸۳؛ تاریخ دمشق ۰۶: ۰۴؛شرح زرقانی ۱: ۵۱۲؛ تنویر الھوالک ۱: ۱۷؛ الذخیرۃ ۲:۷۴؛مواہب الجلیل ۱: ۱۳۴؛ الطبقات الکبرٰی ۵:۴۳۳اور ۹۵۳

۳۔حیاۃ الحیوان ۱: ۵۵۳؛ تاریخ دمشق ۴: ۲۳۲؛ البدایۃ والنھایۃ ۲:۹۳


المصحف اذا استغنی عنه،،، اور پھر لکھا ہے: انّه، لم یر بأسا أن یحرق الکتب وقال : انّما المائ والنّار خلقان من خلق الله تعالٰی (۱)

جب قرآن کی ضرورت نہ ہو تو اسے جلادینا

۔حضرت عائشہ (رض) کی بکری کا قرآن کھا جانا

سوال ۱۴۷: کیا یہ صحیح ہے کہ قرآن مجید کا کچھ حصّہ حضرت عائشہ (رض) کی بکری کھا گئی تھی اور اب اس کا نام و نشان تک نہیں ہے ؟جیسا کہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں :

زنا کار کو سنگسار کرنے اور جوان کی رضاع والی آیت قرآن کا حصّہ تھی اور ایک ورق پر لکھی ہوئی تھی جب پیغمبر کی وفات ہوئی تو ہم ان کے سوگ میں مشغول تھے کہ اتنے بکری آئی اور اس نے ان آیات کو کھا لیا :

لقد نزلت آیة الرّجم والرّضاع الکبیر عشرا ،ولقد کان فی صحیفة تحت سریری فلمّا مات رسول الله وتشاغلنا بموته دخل داجن فأکلها (۲)

۔حضرت عمر (رض) کا تحریف قرآن کا فتوٰی

سوال ۱۴۸: کیا یہ درست ہے کہ حضرت عمر (رض) قرآن کے قائل تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ آیت رجم گم ہوچکی ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) سورہ احزاب کے دوتہائی گم ہوجانے کی قائل تھیں ؟ اور حضرت موسٰی اشعری قرآن کی دو سورتوں بنام خلع و حفد کے گم ہو جانے کے قائل تھے ؟ کیا اس قسم کے دعوؤں کا معنٰی یہ نہیں ہے کہ قرآن میں تحریف ہو چکی ہے اور وہ پورا قرآن اس وقت ہمارے پاس موجود نہیں ہے؟

کیا ہم عیسائیوں اور یہودیوں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تورات و انجیل میں تو تحریف واقع ہوئی ہے لیکن قرآن محفوظ ہے ؟ !

اور پھر کیسی عجیب بات ہے کہ ہمارے بڑے تحریف قرآن کے قائل ہیں جبکہ ہم یہ تہمت شیعوں پر

____________________

۱۔کتاب المصاحف ۲: ۶۶۶،طبع دارالبشائر

۲۔سنن ابن ماجہ ۱: ۶۲۶


لگاتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے علمائ تحریف قرآن کی نفی پر کئی ایک کتب تألیف کر چکے ہیں؟

۱ ۔ حضرت عمر (رض) نے منبر پر کہا :

انّ الله قد بعث محمّدا بالحقّ وأنزل علیه الکتاب ، فکان ممّا أنزل الله آیة الرّجم فقرأنا ها وعقلناها ووعیناها ، فلذا رجم رسو ل الله ، ورجمنا بعده، فأخشٰی ان طال بالنّاس زمان أن یقول قائل : والله ما نجد آیة الرّجم فی کتاب الله فیضلّوا بترک فریضة أنزلها الله ، والرّجم فی کتاب الله حقّ علی من زنی اذا أحصن من الرّجال ...ثمّ انّ کنّا نقرأ فیما نقرأ من کتاب الله أن لا ترغبوا عن آبائکم فانّه، کفر بکم أن ترغبوا عن آبائکم (۱)

سیوطی نے حضرت عمر (رض) سے یوں نقل کیا ہے :اذا زنی الشیخ والشیخةفارجموهما البتة نکالا من الله والله عزیز حکیم (۲)

۲ ۔ حضرت عائشہ(رض) فرماتی ہیں:

کانت سورةنقرأ فی زمن النّبی مأتی آیة ، فلمّا کتب عثمان المصاحف لم نقدر منها الاّ هو الآن (۳)

۳ ۔ ابو موسٰی اشعری : انہوں نے ایک دن کوفہ والوں سے کہا: ہم پیغمبر کے زمانہ میں ایک سورہ پڑھا کرتے تھے جو سورہ برائت کے برابر تھی جو ابھی بھول گئی ہے مگر یہ کہ اس میں سے فقط ایک آیت مجھے یاد ہے:

____________________

۱۔صحیح بخاری ۸: ۶۲؛صحیح مسلم ۵: ۶۱۱؛ مسنداحمد ۱: ۷۴

۲۔الاتقان ۱:۱۲۱

۳۔ الاتقان ۲: ۰۴


لوکان لابن آدم وادیان من مال لابتغی وادیا ثالثا ولایمل الجوف ابن آدم الاّالتّراب

وہی کہتے ہیں : سورہ سبّح کی طرح کی ایک اور سورہ بھی موجود تھی جو مجھے بھول گئی ہے اور اس کی ایک ہی آیت اب ذہن میں ہے او روہ یہ ہے :

یاأیّها الّذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون ،فتکتب شهادة فی أعناقهم فتسأ لون عنها یوم القیامة (۱)

۴ ۔نیز حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں:

کان فیما انزل من القرآن : عشر رضعات معلومات یحرّمن ،ثمّ نسجن معلومات ،فتوفٰی رسو ل الله وهنّ فیما یقرئ من القرآن (۲)

۵ ۔مسلمہ بن مخلد انصاری فرماتے ہیں:

أخبرونی بآیتین فی القرآن لم یکتبا فی المصحف فلم یخبروه، ، وعندهم سعد بن مالک ، فقال ابن مسلمه : انّ الّذین آمنوا وهاجروا وجاهدوا فی سبیل الله بأموالهم وأنفسهم آلا أبشروا أنتم المفلحون والّذین آووهم ونصروهم وجادلوا عنهم القوم الّذین غضب الله علیهم أولئک لا تعلم نفس ما أخفی لهم من قرّة أعین جزائ بما کانوا یعلمون (۳)

۶ ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں:

____________________

۱۔صحیح مسلم ۳ : ۰۰۱

۲۔صحیح مسلم ۴: ۷۶۱

۳۔الاتقان ۲: ۲۴۔۱۴۔۰۴


قرآن کی بہت سی آیات گم ہوچکی ہیں لیقولنّ أحدکم قد أخذت القرآن کلّہ وما یدریہ ماکلّہ، ؟ قد ذھب منہ، قرآن کثیر ولیقل قدأخذت منہ ما ظھر(۱)

کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے پورا قرآن حاصل کر لیا ہے اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ پورا قرآن کس قدر تھا کیونکہ اس کا بہت زیادہ حصہ ضائع ہو چکا ہے .بلکہ اسے چاہیے کہ وہ یہ کہے کہ میں نے جوقرآن موجود ہے اس میں سے حاصل کر لیا ہے

۷ ۔نیز حضرت عائشہ (رض) کے مصحف میں یوں ذکر ہوا ہے :

انّ الله وملائکته یصلّون علی النبی یاأیّهاالّذین آمنوا صلّوا علییه وسلّمو ا تسلیما وعلی الّذین یصلّون الصفّوف الاوّل (۲)

۔حضرت عائشہ (رض) کا ماتم کرنا

سوال ۱۴۹: کیا یہ بھی صحیح ہے کہ سب سے پہلے ماتم اور عزاداری کرنے والی حضرت عائشہ(رض) تھیں ؟اس لئے کہ وہ فرماتی ہیں:

عن عبّاد : سمعت عائشة تقول: مات رسول الله ثمّ وضعت رأسه، علی وسادة وقمت ألتدم أی أضرب صدری مع النّسائ وأضرب وجهی (۳)

پیغمبر کی وفات ہوئی تو میں نے ان کا سر تکیے پر رکھا اور دوسری عورتوں کے ہمراہ اپنا سراور منہ پیٹنا شروع کیا

اسی طرح شام میں بنو سفیان کی عورتوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اپنا سینہ پیٹا .جیسا کہ ابن عبد ربہ، اندلسی لکھتے ہیں:

____________________

۱۔الاتقان ۲: ۲۴۔۱۴۔۰۴

۲۔ حوالہ سابق

۳۔السیرۃ النبویۃ ۴: ۵۰۳


قالت فاطمة : فدخلت الیهنّ فماوجدت فیهنّ سفیانیة الاّ ملتدمة تبکی (۱)

۔شامیوں کا ایک سال تک حضرت عثمان(رض) کی عزاراری کروانا

سوال ۱۵۰: کیا یہ درست ہے کہ حضرت عثما ن (رض) کی شہادت پر شامیوں نے ایک سال تک عزاداری اور گریہ کیا؟ اگر یہ درست ہے کہ ُمردے پر گریہ کرنا جائز نہیں ہے تو پھر حضرت معاویہ (رض) کے سامنے کیوں ایک سال تک عزاداری و گریہ ہوتا رہا اور انہوں نے روکاہی نہیںبلکہ ان کی حمایت بھی کی ؟جیسا کہ امام ذہبی نے لکھا ہے:

نصب معاویة القمیص علی منبر دمشق والأصابع معلقة فیه والآلیٰ رجال من أهل الشّام لایأتون النسائ ، ولا یمسّون الغسل الاّ من حلم ،ولا ینامون علی فراش حتٰی یقتلوا قتلة عثمان او نفنی أرواحهم وبکوه، سنة(۲)

حضرت معاویہ (رض) نے حضرت عثمان(رض) کی قمیص اور ان کی انگلیاں منبر پر لٹکا دیں .اور کچھ شامیوں نے یہ قسم کھائی کہ جب تک عثمان(رض) کے قاتلوں سے انتقام نہ لے لیں یا خود نہ مارے جائیں تب تک نہ تو آرام سے سوئیں گے اور نہ ہی اپنی بیویوں کے پاس جائیں گے .اور پھر ایک سال تک ان پر گریہ کیا

کیا وجہ ہے کہ ان میت پر رونے والوں پر کسی عالم دین نے کفر یا شرک کا فتوٰی نہیں لگایا جبکہ حضرت حسین (رض) پر رونے والوں کے کفر وشرک کے فتوے آئے دن جاری کئے جاتے ہیں ؟ کیا یہ اہل بیت پیغمبر سے بغض وعناد کی علامت نہیں تو او ر کیا ہے؟ !

۔ہمارے نزدیک عورت کا مقام

سوال ۱۵۰: کیا ہمارے مذہب میں عورت کا مقام کتّے ، گدھے اور خنزیر کے برابرہے ؟ جیسا کہ ہماری

____________________

۱۔العقد الفرید ۴: ۳۸۳

۲۔تاریخ الاسلام ( الخلفائ) : ۲۵۴


کتب میں درج ہے کہ نماز پڑھتے وقت سامنے کوئی چیز رکھ دو تاکہ اگر عورت ، گدھا یا اونٹ سامنے سے گذرے تو نماز کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑے:

قال : والظُّعن یمرّون بین یدیه : المرأة والحمار والبعیر (۱)

حضرت ابو ہریرہ (رض) کہتے ہیں:

یقطع الصّلاة المرأة والحمار والکلب (۲)

نمازی کے سامنے سے عورت ، گدھے یا کتّے کے گذرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے.

امام احمد بن حنبل کہتے ہیں :

یقطع الصلاة الکلب الأسود والحمار والمرأة (۳)

کالا کتّا ، گدھا اور عورت نماز کو باطل کردیتے ہیں.

عکرمہ کہتے ہیں:

یقطع الصّلاة الکلب والمرأة والخنزیر والحمار والیهودی والنصرانی والمجوسی (۴)

کتّا ، عورت ، خنزیر ، گدھا ، یہودی ، نصرانی اور مجوسی نماز کو باطل کردیتے ہیں.

کیا اسلام میں عورت کا یہی مقام ہے کہ اسے کتّے ،خنزیر اور گدھے کے برابر قرار دیاجائے ؟ کیا یہ انسانی کرامت کی توہین نہیں ہے؟!!

____________________

۱۔السنن الکبرٰی ۳: ۶۶۱اور ۴: ۵۵۳؛ مصنّف ابن ابی شیبہ ۱: ۵۱۳

۲۔صحیح مسلم ۱: ۵۴۱؛ المحلّٰی ۴: ۸

۳۔المحلّیٰ ۴: ۱۱، مسئلہ یقطع صلاۃ المصلّی ، طبع دارالآفاق الجدیدۃ بیروت

۴۔المحلّیٰ ۴: ۱۱؛ مصنّف ابن ابی شیبہ ۱: ۵۱۳


آخر میں استاد محترم سے یہ امید رکھتا ہوں کہ اگرچہ یہ سوالات آپ کے لئے انتہائی معمولی ہیں لیکن ان کا جواب عنایت فرمائیںگے تاکہ یوں نوجوان نسل کی خدمت ہو سکے اور انہیں ہر طرح کے فکری واعتقادی انحراف سے بچایا جا سکے

.انشاء الله

والسّلام علیکم ورحمة الله وبرکاته،


فہرست

سخن ناشر ۴

چند سوال ۵

خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ ۶

۔حضرت ابوبکر (رض) کا پچاس لوگوں کے بعد اسلام لانا ۶

۔خالد بن سعید کا حضرت ابوبکر (رض) سے پہلے اسلام لانا ۶

۔حضرت ابو بکر (رض) کاجنگوں میں کردار ۷

۔یار غار کونا ۷

۔علی(رض) کے بغیر اجماع ملعون ہے ۹

۔حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت اجماع یاشورٰی سے ۹

۔مہاجرین وانصار کاخلیفہ اول (رض) کی خلافت کی مخالفت کرنا ۱۰

حضرت علی (رض) کا بیعت نہ کرنا ۱۰

۔حضرت علی(رض) کی نظر میں شیخین کی حکومت ۱۱

امام بخاری کی احادیث میں ردُّوبدل کی مہارت ۱۲

۔حضرت علی(رض) کے قتل کی سازش ۱۲

کیا امامت اصول دین میں سے ہے ۱۲

۔کون افضل ؟ پیغمبر(ص) یا ابوبکر(رض) ۱۳

۔احادیث رسول (ص) کا نذر آتش کرنا ۱۴

حضرت ابوبکر و عمر (رض)کے تعلقات ۱۴

خلیفہ دو م رضی اللہ عنہ۔ ۱۵


خلیفہ دوم کا اپنے ایمان میں شک کرنا ۱۵

۔کیا حضور (ص) نے خود کشی کرنا چاہی ۱۵

۔کیا حضرت عمر (رض) کند ذہن تھے ۱۶

۔حضرت عمر(رض) کی خلافت پر لوگوں کااعتراض ۱۶

۔کیا حضرت عمر (رض) حکم تیمم نہیں جانتے تھے ۱۶

کیا حضرت عمر (رض) اور ان کے فرزند کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے ۱۷

حضرت ابو ہریرہ(رض) چور تھے ۱۸

کیاحضرت عمر(رض) کا امّ کلثوم سے عقد نہیں ہوا ۱۸

۔چار ہزار کلو میٹر کے فاصلے لشکر کو کمانڈ کرنا ۲۰

۔کیا حضرت علی(رض) ،حضرت عمر(رض) سے متنفر تھے ۲۰

۔حضرت عمر (رض) وحفصہ (رض) کا تورات سے لگاؤ ۲۱

۔توہین رسالت (ص) کاجرم ۲۲

۔حضرت عمر(رض) کاوصیت رسول (ص) کی مخالفت کرنا ۲۳

۔حضرت عمر(رض) کا کعب الاحبار یہودی سے تعلق ۲۳

۔فتوحات اسلام کا مقصد ۲۴

۔حضرت عمر(رض) کتنے باادب تھے ۲۴

۔تدوین احادیث پر پابندی ۲۵

۔نام پیغمبر (ص) رکھنے پر پابندی ۲۶

حضرت علی(رض) اور اہل بیت رسول(رض) ۲۸

۔کعبہ میں حضرت علی(رض) کی ولادت ۲۸


۔حدیث منزلت صحیح ترین حدیث ۲۸

۔ولایت علی(رض) کا انکار ۲۹

۔کیا پہلے اوردوسرے خلیفہ (رض) مقام پرست تھے ۲۹

۔کیاصدیق حضرت علی(رض) کا لقب ہے ۲۹

۔علی(رض) نام کے بچوں کا قتل کردینا ۳۰

۔کیا خلفائ نے بھی اپنے کسی بچے کا نام علی(رض) رکھا ۳۰

۔کیا علی(رض) کے فضائل ذکر کرنے کی سزاپھانسی ہے ۳۱

۔کیا علی(رض) پر لعنت کروا نا بنو امیہ کا کام تھا ۳۱

رسول خدا (ص) کے بھائی پر لعنت کرنے سے انکار کردیا ۳۲

۔کیا امام مالک اور امام زہری بنوامیہ کے ہوادار تھے ۳۲

۔کیا امام ذہبی علی(رض) کے فضائل تحمل نہیں کرپاتے تھے ۔ ۳۳

کیا امام بخاری حضرت علی(رض) کو چوتھا خلیفہ نہیں مانتے تھے ۳۴

کیا بنوامیہ نے شائع کیا کہ علی(رض) چوتھا خلیفہ نہیں ہے ۳۵

۔ابن تیمیہ کا چوتھے خلیفہ کے خلاف سازش ۳۵

۔کیا امام احمد بن حنبل کے نزدیک خلافت علی(رض) کی مخالفت کرنے والاگدھاہے ۳۶

کیا حضرت علی(رض) کے فضائل تمام صحابہ سے زیادہ تھے ۳۷

کیا حدیث غدیر چھپانے والے بیماری میں مبتلا ہو گئے ۳۷

۔کیا حضرت علی (رض) کے فرزند ،پیغمبر(ص) کے فرزند تھے ۳۸

۔کیا حضرت علی (رض) جانشین پیغمبر (ص) تھے ۳۹

۔کیا امام بخاری نے حدیث غدیر کو مخفی رکھا ۳۹


۔کیا حضرت معاویہ(رض) کی مخالفت جرم ہے ۴۱

۔سفیان ثوری کاحضرت علی(رض) سے کینہ رکھنا ۴۱

۔ہمارا حضرت فاطمہ(رض) کی مخالفت کرنا ۴۲

حضرت عائشہ(رض) اور دیگر امہات المؤمنین(رض) ۴۳

۔کیا ازواج پیغمبر(ص)دوگروہ میں بٹی ہوئی تھیں ۴۳

۔حضرت عائشہ(رض) پہلے سے شادی شدہ تھیں ۴۴

۔امام حسن (رض) کا جنازہ دفن نہ ہونے دینا ۴۴

۔ابن زبیر کاحضرت عائشہ(رض) کو گمراہ کرنا ۴۵

۔حضرت عائشہ (رض) کا حضور(ص) کی توہین کرنا ۴۵

۔جوان کا رضاعی بھائی بن سکنا ۴۶

۔مصحف حضرت عائشہ(رض) ۴۸

۔ صحابہ کرام(رض)کا حضرت عائشہ(رض) پر زناکی تہمت لگانا ۴۸

۔امّ المؤمنین کا بیس ہزار اولادکو قتل کروادینا ۴۸

۔بعض امّہات المؤمنین کا مرتدہوجانا ۴۹

۔حضرت عمر (رض) کا نبی (ص) کی بیوی کو طلاق دینا ۴۹

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ۵۱

۔پیغمبر (ص) نے فقط عبداللہ بن سلام کو جنّت کی بشارت دی ۵۱

۔کیا بعض صحابہ کرام(رض) منافق تھے ۵۱

۔کیا حضرت عثمان (رض) کے قاتل صحابہ کرام (رض) تھے ۵۲

۔کیا ہم صحابہ کرام (رض) کو گالیاں دیتے ہیں ۵۳


۔کیا صحابہ کرام(رض) ، پیغمبر (ص) کو قتل کردینے میں ناکام ہو گئے ۵۴

۔کیا بعض صحابہ کرام (رض) خارجی تھے ۵۵

۔کیا حضرت ابوبکر وعمر (رض) کے فضائل جھوٹ ہیں ۵۶

۔کیا حضرت ابو ہریرہ (رض) چور تھے ۵۷

۔ کیا ابوہریرہ(رض) کی روایات مردود ہیں ۵۷

۔حضرت ابوہریرہ(رض) کا توہین آمیز روایات نقل کرنا ۵۹

۔کیا عشرہ مبشرہ والی حدیث جھوٹی ہے ۶۰

۔اصحاب عشرہ مبشرہ میں تناقض ۶۱

۔خطبہ جمعہ سے نام پیغمبر(ص) کا حذف کردینا ۶۱

۔آل رسول (رض) کو جلادینے کی سازش ۶۲

۔پیغمبر(ص) کا ناحق لوگوں کو گالیاں دینا ۶۲

۔پیغمبر(ص) نے کن دو کو لعنت کی ۶۴

۔صحابہ کرام (رض) کا یہودیوں سے پناہ دینے کی درخواست کرنا ۶۴

۔حضرت عمر(رض) کا اپنے بارے میں شک ۶۴

۔کیاصحابہ کرام (رض) ایک دوسرے کو گالیاں دیا کرتے ۶۴

۔کیا صحابہ کرام (رض) میں فقط کچھ اہل فتوٰی تھے ۶۵

۔اہل مدینہ اور صحابہ کرام (رض) کا قبر پیغمبر (ص) سے توسّل ۶۶

حضرت امیر معاویہ(رض) اور بنو امیہ ۶۷

۔حضرت معاویہ (رض) کا حقانیت علی(رض) کا اعتراف ۶۷

۔کیاحضرت معاویہ(رض) کے چار باپ تھے ۶۷


۔کیا حضرت معاویہ(رض) شراب پیا کرتے ۶۸

۔حضرت معاویہ (رض) کو جانشین مقرر کرنے کاحق نہ تھا ۶۸

۔حضرت معاویہ(رض) کاغیر مسلم اس دنیا سے گذر جانا ۶۹

۔منبر پر ریح کا خارج کرنا ۷۰

۔ حضرت معاویہ(رض) کے تمام تر فضائل کا جھوٹا ہونا ۷۰

۔مامون عباسی کا حضرت معایہ (رض) کو گالیاں دلوانا ۷۲

۔قتل عثمان (رض) کی تہمت ایک سیاسی کھیل تھا ۷۲

۔بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا ۷۲

۔بنو امیہ عجمی مسیحی تھے ۷۴

۔ امیر معاویہ اور اہل مدینہ کے قتل کی سازش ۷۴

یزید کا اہل مدینہ کے قتل کا دستور صادر کرنا ۷۵

۔یزید اور ناموس مدینہ کی بے حرمتی ۷۶

شیعہ ۷۷

۔عامر شعبی کے شیعوں پر تہمت لگانے کی وجہ ۷۷

۔مذہب شیعہ پیغمبر (ص) کے زمانے میں وجود میں آیا ۷۷

۔صحابہ کرام(ص) بھی شیعہ تھے ۷۹

۔عام لوگ بھی علم غیب رکھتے ہیں ۷۹

۔مُردوں کا اسی دنیا میں دوبارہ زندہ ہونا ۸۰

۔علمائے سلف تقیہ کیا کرتے ۸۱

۔قبر زہری و بخاری پر روضوں کا بنایا جانا ۸۲


فقہائ ومحدثین سلف ۸۳

۔چوتھی اور پانچویں صدی میں مذاہب اربعہ کا وجود میں آنا ۔ ۸۳

امام یحیٰی بن معین کا نامحرم عورتوں کو چھیڑنا ۔ ۸۳

۔ہمارے بعض علمائ حرام زادے تھے ۸۴

۔ہم حنفیوں کا مقام تو حیوان کے برابر ہے ۸۵

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ۸۶

۔پست ترین بچہ ۸۶

۔امام ابوحنیفہ(رح) نصرانی پیدا ہوئے ۸۶

۔امام اعظم (رح) کی رائے مردود ہے ۸۶

۔امام اعظم(رح) علم حدیث سے ناآشنا تھے ۸۷

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ۸۸

۔امام بخاری احادیث میں تبدیلی کے ماہر تھے ۔ ۸۸

امام بخاری ناصبی تھے ۸۸

۔ایک گائے کا دودھ پینے سے بہن بھائی بن جانا ۸۹

۔امام بخاری اور زہری سے احادیث کا لینا ۔ ۸۹

بخاری کی احادیث میں اختلاف ۔ ۹۰

شیطان کا وحی میں نفوذ ۹۱

۔امام بخاری کا بعض صحابہ کرام (رض) سے احادیث نقل نہ کرنا ۹۱

۔امام بخاری کا علم رجال سے آگاہ نہ ہونا ۔ ۹۲

امام بخاری کے بعض اساتیذ نصرانی تھے ۹۲


۔صحیح بخاری اور اسرائیلیات ۹۳

سنّت اور بدعت ۹۴

۔حدیث ثقلین کی صحیح عبارت ۹۴

۔ہماری کتب میں خرافات ۹۴

۔ صحابہ کرام (رح) اور تابعین کا متعہ کرنا ۔ ۹۵

پیغمبر (ص) اور صحابہ کرام(رح) کا پتھر اور مٹی پر سجدہ کرنا ۹۶

۔حنبلی تحریف قرآن کے قائل ۹۷

۔عورت کی دُبر میں جماع کرنا ۹۷

۔لوگوں کا متعہ حرام قرار دینے پر اعتراض ۔ ۹۸

نماز تراویح حضرت عمر(رض) کی بدعت ۔ ۹۸

بسم اللہ کا آہستہ پڑھنا بنو امیہ کی بدعت ۔ ۹۹

بنو امیہ کا سنّت پیغمبر (ص) کی مخالفت کرنا ۔ ۱۰۰

سلف اور مستحبات ۱۰۰

۔صحابہ کرام (رض) اور تابعین(رح) کا پاؤں کا مسح کرنا ۱۰۱

۔ الصّلاة خیر من النّوم حضرت عمر (رض) کی بدعت ۱۰۲

۔اذان میں حاکم وقت پر سلام کرنا ۱۰۲

۔حمار یعفور کا کلام کرنا ۱۰۳

۔قرآن کو جلانا جائز ہے ؟ ۱۰۳

۔حضرت عائشہ (رض) کی بکری کا قرآن کھا جانا ۱۰۴

۔حضرت عمر (رض) کا تحریف قرآن کا فتوٰی ۱۰۴


۔حضرت عائشہ (رض) کا ماتم کرنا ۱۰۷

۔شامیوں کا ایک سال تک حضرت عثمان(رض) کی عزاراری کروانا ۱۰۸

۔ہمارے نزدیک عورت کا مقام ۱۰۸