شیعہ اوراتہامات
گروہ بندی مناظرے
مصنف صادق حسینی الشیرازی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


شیعہ اوراتہامات

صادق حسینی الشیرازی


پیش لفظ

ساری تعریف عالمیں کے پروردگار کے لئے مخصوص اور درور و سلام ہو ،بشیر اور نظیر،خراغ ہدایت ،ہمارے اقا حضرت محمد مصطفی(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور ان کے پاک اور معصوم اہل بیت پر ۔اور ان کے دشمنوں پر لعنت ابدی ہو۔

تشیع اور اس کی فکر کی ساری پریشانی یہ ہے کہ اس کے پاس ان وسائل کی کمی ہے جو ان افکار کو دنیا تک تیزی سے پہچا سکے ورنہ شیعت کے پاس یہ طاقت موجود ہے کہ وہ عقلی اور نقلی دلیلوں کے ذریعہ تمام حق جو افراد کو اس مکتب اسلام کی دعوت دے ۔ان دلائل کی باطل صرف ان لوگوں نے مانا ہے جو فکر اور اعتقادی طور پر منحرف ہیں اور ان کے قلب بیمار۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی سہولت ابھی بھی فراہم نہیں ہے۔تمام ان محدودیتوں اور دوسری طرف منحرف کرنے والوں کے وسائل کی بہتات کو دیکھتے ہوئے ایک عاقل انسان حق کو پہچان سکتا ہے کہ ایک طرف زور و زبر ،تکفیر ،قتل،سختی اور دوسروں کی نفی ہے اور دوسری طرف :گذشت،نرمی،مہربانی دوسروں کی تعظیم اور اکرام تو ان میں سے اسلام محمدی (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے کون قریب ہے۔ اس طرح کی فضا میں یہ بات بھی روشن ہے کہ امت اسلام کو حق( جس کے بارے میں رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:’’علی مع الحق والحق مع علی،یدور معہ حیثما‘‘علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ،جہاں بھی علی ہوں حق بھی وہیں ہے)کی بلکل پہچان نہیں ہے اور گروہ وہابیت اور وہ گروہ جو ان کے جیسے ہیں اس فکر خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور تشیع کے چہرے کو داغدار کرنے کے لیئے ان پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ جب کہ خدا وند عالم نے قرآن کریم میں لوگوں کو عقائد اور ایمان کو عقل اور دلیل کے ساتھ تولنے کا حکم دیا ہے۔ارشاد اقدس ہوتا ہے:

( قل هاتوا برهنکم ان کنتم صدقین ) (سورہ بقرہ آیت ۱۱۱)" اے رسول کہہ دیجیئے کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل لے کر آؤں"۔

دوسری طرف کم علمی اور علم تفسیر ،حدیث،تاریخ اور سیرت رسول(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور ائمہ معصومیں سے سطحی اگاہی بھی نہ ہونے کی وجہ سے فتنہگروں کو فکری اور اعتقادی حملہ کرنے کا موقع ملتاہے۔ اسلئے امت مسلمہ کی دفاع اور اس کو بے راہی اور گمشدگی سے باہر نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ اہل تشیع اور اس کا درد رکھنے والے افراد کی فکری اور علمی معلومات ہو نکھار دیا جائے۔تاکہ حریف کی فکری چال سے ارشاد الہی کی روشنی میں سرفراز اور کامیاب میدان ہو سکیں۔ارشاد باری تعالی ہے:( وجدلهم بالتی هی احسن ) ۔۔۔سورہ نحل آیت ۱۲۵ "ان سے بہترین طریقہ سے بحث اور مجادلہ کرو" البتہ یہ ضمہداری ان لوگوں کیلئے اور بڑھ جاتی ہے جو فکری اور ثقافتی تحول ،اور دین اور راہ حق (محمد و ال محمد علیھم السلام)کو اپنا وظیفہ سمجھتے ہیں۔اسی لئے حقایق کو امت مسلمہ کے سامنے روشن کرنا ضروری ہے اور دوسری طرف تمام امتوں کو ہر طرح کہ تعصب سے دوری اختیار کرکے تشیع کے افکار کی تحقیق اور مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان پر یہ بات روشن ہو سکے کہ شیعوں کے عقاید خاندان رسالت کی تعلیمات ہیں اور یہ عقاید فطرت انسان سے شازگاری رکھتے ہیں۔یہ وہی چیز ہے جو خدا نے بشریت کے لئے چنی اور پسند کی ہے۔

کتاب حاضر ،۔۔’’حقایق عن الشیعہ‘‘کا ترجمہ ہے جو متن کے لحاظ سے مختضر اور بہترین ہے اور اس میں کوشش کی گئی ہے کہ شیعوں پر لگائے گئے بعض الزامات کا جواب دیا جاسکے۔ مولف ،مرجع عالی قدر حضرت ایت اللہ العظمی سید صادق حسینی شیرازی (مد ظلہ العالی)نے اس کتاب کو گفتگو کے ابداز میں پیش کیا ہے ،زبان سلیس اور الفاظ سادہ اور اعم فہم ہیںجس سے اس کی جزابیت دوچندان ہو گئی ہے ۔ مولف نے اس کتاب میں بیجا بحث سے پرہیز کیا ہے تااور علمی حقیقت اور دلیلوں کو اپنا محور قرار دیا ہے۔اسی سادگی بیان اور موضوع پر دلیل کو پیش کرنے کی وجہ سے یہ کتاب اتنا مقبول ہوئی ہیاور مکتب اہل بیت (ع) کے چاہنے والوں نے اس کو متعدد بار نشر کیا۔(اس کتاب کی تعداد نشر صحیح طرح سے معلوم نہیں ہے کیونکہ یہ کئی ملکوں میں متعدد بار چھپ چکی ہے۔ کتاب آخر میں ہم نے چند دوسری کتابوں کا ذکر کیا ہے جو تشیع اور تسنن کے موضوع پر اہمیت رکھتی ہیں۔اسی طرح وہ اہل سنت جو شیعہ ہو گئے ہیں اور ان کے انترویو چند رسالوں میں آئے ہیں ان کا بھی ہم ذکر کیا ہے۔ شاید یہ کتاب اور اس سے مشابہ دوسری کتابیں حقیقت کی جستجو کرنے والوں کو راہ راست دیکنے میں مدد گارثابت ہوں۔اس امید کے ساتھ کہ ہماری اس کوشش کو حضرت بقیت اللہ العظم امام زمان (عج)قبول کریں بارگاہ خداوند میں دعا کرتے ہیں کہ آپ (ع) کے ظہور میں تعجیل کرے اور ہم کو ان کی رکاب میں قرار دے۔ان شاء اللہ


مقدمئہ مؤلف

استعمار اور اس کے عوامل ہمیشہ اس کوشش میں رہے ہیں کہ امت مسلمہ کو اسلام سے دور کرکے ان میں فرقہ ایجاد کئے جائیں اور ان کو ایک دوسرے کے مقابل میں لاکھڑا کیا جائے اور ’’پھوٹ ڈالو حکومت کرو‘‘کی غلیظ سیاست پر عمل کرتے ہوئے اسلامی ملکوں پر اپنی حکومت کو دوام بخشیں ۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سیاست کے عملی ہونے کے نتیجہ میں کچھ مسلمان ،اس بات سے غافل کہ قرآن نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ہے نادانی میں حقیقت کی جستجو کئے بغیر شیعوں پر الزامات لگاتے ہیں ۔ کیوں کہ اس گروہ کے لوگ ان کے مذہب پر عمل نہیں کرتے اور اپنے فقہی مسائل کو ان کے امام یا فقیہ سے حاصل نہیں کرتے بلکہ ان کے فقیہ اور امام دوسرے ہیں ۔ یہ اس حال میں ہے کہ آج کے مسلمان کو اپنی صفوں کو متحد اور مضبوط کرنا چاہئے ،استعمار اور دین کے دشمنوں کو شکست دینے کو اپنا ہدف اور مقصد بنانا چاہئے کیوں کہ تفرقہ تمام مذاہب اسلام کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔

مذاہب اسلامی میں جن مسائل میں اختلاف ہے ان کو بھی آپس میں گفتگو اور بحث اور تنقید (ایسی تنقید جو گالی ،تہمت سے خالی ہو اور اصول اسلام جو تمام فرقوں کے درمیان قابل قبول ہیں )ان کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ اور بعض مسلمان اختلافی مسائل میں ایک دوسرے کو گالی اور ناسزاکہیں گے اور ایک اختلافی موضوع کی وجہ سے ایک دوسرے کی تکفیر کریں گے تو اسلام کی عظیم وحدت ختم ہوجائے گی اور فرقوں ،گروہ میں بٹ کر استعمار کی فکری، اقتصادی ،سماجی ...سلسلہ کا ضمینہ فراہم ہوجائے گا۔ لہذا ہم نے اس کتاب میں ان چیزوں (موضوعات)کی بررسی (جانچ)کی جن کو تفرقہ پھیلانے والے شیعوں کے خلاف دستاویز کی صورت میں استعمال کرتے ہیں ۔

شاید اس سے کوئی راستہ نکل آئے اور دیکھیں کہ شیعہ ان چیزوں پر عمل کرنے کی وجہ سے راہ گم کرگئے ہیں اور باطل کی طرف چلے گئے ہیں ؟یابہ معاملات عین حقیقت ہیں اور شیعہ امامیہ شاہراہ ہدایت پر گامزن ہیں ؟!

خدائے متعال سے دعا ہے کہ اس راہ میں ہمیں ثابت قدم رکھے اور حقائق کو دیکھنے کے لئے وہ آنکھ (بصیرت)دے جو تمام معنی اسلامی ہو تاکہ ہر چیز کو اسلامی مہک سے پر کرسکیں اور اس پر عمل کرسکیں !

وہ سننے والا اور اجابت کرنے والا ہے ۔

(۲۸ذی الحجہ ۱۳۸۰ھ؁ ق))


سجدہ گاہ پر سجدہ

سامی :

علی، (تم) آپ شیعہ لوگ سجدہ گاہ پر سجدہ کرکے جو ایک جمی ہوئی مٹی ہے شرک کرتے ہیں اور اس کو خدا کی جگہ پوجتے ہیں

علی:

اگر اجازت ہو تو ایک سوال کروں؟

سامی:

پوچھیئے !

علی:

کیا خدا کے (جسم) پر سجدہ واجب ہے ؟

سامی:

یہ بات کفر (محض) ہے ۔کیونکہ خداوند جسم نہیں رکھتا نہ آنکھ کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے،نہ ہی اسے ہاتھ کے لمس سے چھوا جاسکتا ہے ،اور اگر کوئی معتقد ہو کہ خدا جسم رکھتا ہے بی تردید کافر ہے ، اور سجدہ خدا کے لئے ہونا چاہیئے ،خدا پر سجدہ کفر ہے کیونکہ سجدہ کامقصد اللہ کے سامنے بندگی کا اقرار ہے ۔

علی:

آپ کا یہ بیان ثابت کرنا ہے کہ ہمارے سجدہ گاہ پر سجدہ شرک نہیں ہے کیونکہ ہم سجدہ گاہ پر سجدہ کو سجدہ نہیں کرتے۔

اور اگر (یہ فرض محال) ہو سجدہ گاہ کو خدا مانتے ( العیاذباللہ) تو ہم کو اس کے لئے سجدہ کرنا پڑتا نہ کہ اس کے اوپر کیونکہ سجدہ کرنے والا اپنے خدا پر سجدہ نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے سجدہ کرتا ہے ۔

سامی :

پہلی مرتبہ ایک صحیح تحلیل اس مسئلہ کے لئے سن رہا ہوں کہ اگر آپ لوگ سجدہ گاہ کو خدا مانتے تو اس پر سجدہ نہیں کرتے ، اس پر سجدہ کرنا ہی دلیل ہے کہ اس کے عبادت نہیں کرتے ۔

پھر علی سے کہا : اگر اجازت ہو تو ایک بات پوچھوں ؟

علی:

بسم اللہ

سامی:

پھر یہ اصرار کیوں کہ صرف سجدہ گاہ پر سجدہ کرتے ہیں اور دیگر اشیاء پر سجدہ نہیں کرتے ؟

علی:

تمام اسلامی فرقوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:’’جعلت لی الارض مسجدا وطهورا ‘‘زمیں میرے لئے مسجد ( سجدہ کرنے کی جگہ ) اور پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے(۱).

سامی :

زمیں پر جو خاک سے ڈھکی ہوئی تھی!

علی:

اس بنا پر ، رسول (ص) نے اپنی تمام نمازیں زمیں پر پڑھیں اور خاک پر سجدہ کہا اور اس زمانہ اور اس کے بعد کے مسلمانوں نے خاک پر سجدہ کیا ،اس وجہ سے خاک پر سجدہ پر سجدہ قطعی طریقہ سے صحیح ہے اور ہم رسول(ص) کی پیروی میں خاک پر سجدہ کرتے ہیں اور بے تردید ہماری نمازیں صحیح ہیں ۔

سامی:

آپ شیعہ حضرات صرف اس سجدہ گاہ پر جواب اپنے ساتھ رکھتے ہیں کیوں سجدہ کرتے اور دیگر اشیاء پر سجدہ نہیں کرتے ؟

علی :

اس سوال کے دو جواب ہیں :

(۱) مذہب شیعہ تمام اجزای زمیں ( خاک یا پتھر ) پر سجدہ کو صحیح مانتا ہے ۔

(۲) محل سجدہ کا پاک ہونا نماز صحیح ہونے کی شرط ہے اور خاک نجس پر سجدہ صحیح نہیں ہے ، لہذا ہم مٹی کا ایک تکڑا ساتھا میں رکھتے ہیں تا کہ یہ اطمینان رہے کہ نماز کے وقت ہم پاک مٹی پر سجدہ کریں ۔ البتہ اس جگہ یا خاد پر سجدہ جائز ہے کہ جس کے مورد میں شک ہو کہ پاک ہے یہ نہیں ۔

سامی:

اگر آپ کا مقصد خالص اور پاک مٹی پر سجدہ کرنا ہے تو آپ کچھ مقدار مٹی (خاک) کی اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھتے ؟

علی:

خاک یا مٹی کا ساتھ میں رکھنا ایک مشکل کام ہے کہ اس سے لباس بھی گندہ ہوجائے گا اس لیئے ہم کچھ خاک (مٹی) کو پانی میں ملاکر سخت کرہیتے ہیں اور پھر اس کو ساتھ رکھتے ہیں کہ جس سے لباس بھی خراب نہیں ہوتا ۔ دوسری طرف سوکھی ہوئی مٹی پر سجدہ کرنے سے زیادہ خضوع حاصل ہوتا ہے ، کیونکہ سجدہ خضوع کا بلند ترین مرتبہ ہے او رفقط خدا کے لئے مخصوص ہے اس بنا پر اگر سجدہ کا مقصد خدا کے حضور میں بندگی اور انکساری ہے تو جس چیز پر سجدہ کیا جائے اگر کم ارض ہوتو بہتر اور سایستہ تر ہے ۔ اور اسی وجہ سے مستحب ہے کہ سجدہ کی جگہ ہاتھا اور پیر رکھنے کی جگہ سے نیچے ہو تاکہ خدا کے حضور میں یہ سجدہ زیادہ خضوع کی نشاندہی کرے ۔ اسی طرح مستحب ہے کہ سجدہ کی حالت میں اپنے ناک بھی زمین پر لگائے کہ یہ بھی بندگی کا ایک طریقہ اور خضوع میں اضافہ کرتا ہے ۔ لہذا مٹی پر سجدہ بہتر ہے دوسری چیزوں سے جن پر سجدہ صحیح ہے کیونکہ اس حالت میں جسم کا سب سے قیمتی عضو یعنی پیشانی کو خاک پر رکھا جاتا ہے جو کہ خود کو اللہ کے سامنے ناچیز دیکھا ہے اور اگر سجدہ کرتے وقت پیشانی کو کسی قیمتی فرش یا قیمتی کپڑے یا سونے چاندی عقیق وغیرہ پر رکھے گا تو یہ بعید نہیں کہ اس خضوع کم ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو خدا کی عظمت اور جلالت کے سامنے چھوٹا اور ناچیز نہ سمجھے جو کچھ میں نے بیان کیا اس کی روشنی میں کیا ایسی چیز پر سجدہ کرنا شرک اور کفر جو خضوع کو بڑھائے ۔اور ان چیزوں پر سجدہ کرنا جو خضوع کو ختم کردیتی ہیں ’’وسیلہ تقرب‘‘ہے ؟ یہ بات ناحق اور نا درست ہے ۔

سامی:

آپ کی سجدہ گاہوں پر عبارتیں لکھیں ہوتی ہیں یہ عبارتیں کیا ہوتی ہیں ؟

علی:

تمام سجدہ گاہوں پر عبارت نہیں ہوتی ایسی بھی سجدہ گاہیں موجود ہیں جن پر کوئی عبارت نہیں ہوتی البتہ کچھ سجدہگاہوں پر عبادت کندہ ہوتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ یہ سجدہ گاہ خاک کربلا(۲) سے بنائی گئی ہے کیا آپ کے حساب سے یہ شرک ہے ؟ یا یہ کہ لکھنے کی وجہ سے اس پر سجدہ صحیح نہیں ہے ؟ نہیں یہ بات درست نہیں ہے! ۔

سامی:

وہ سجدہ گاہیں جو خاک کربلا سے بنائی جاتی ہیں کیا خصوصیت رکھتی ہیں کہ اکثر شیعہ حضرات اس پر سجدہ کرتے ہیں ۔

علی: اس کے بارے میں ایک حدیث آئی ہے جوکہ کہتی ہے،’’السجود علی تربة الحسین (ع)یحزق الحجب السبع ،(۳)

تربت حسین (ع) پر سجدہ سات حجابوں (آسمانوں )کو چاک کردیتا ہے )

اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سجدہ پر سجدہ (جو خاک کربلا سے بنی ہو ) قبولی نماز کا باعث بنتی ہے اور اس کے درجہ کو خدا بلند کرتا ہے ۔ البتہ اس کی وجہ خاک کربلا کی دوسری خاک پر برتری ہے ۔

سامی:

کیا خاک کربلا کی سجدہ گاہوں پر سجدہ کرنے سے باطل نماز بھی مقبول خدا وند ہو جاتی ہے ؟

علی۔:

شیعہ نظریہ ہے کہ وہ نمزیں جو شرایط صحت نماز نہ رکھتی ہوں اور صحیح طریقے سے نہ اداکی گئی ہوں وہ تمام باطل ہیں اور قابل قبول نہیں ہیں لیکن وہ نمازیں جو صحیح طریقہ سے بجالائی گئی ہوں مقبول خدا وند ہوتی اور کبھی کبھی مقبول نہیں ہوتی ہیں اور کوئی اجر نہیں پاتی ، لیکن اگر صحیح نماز تربت امام حسین(ع) پر پڑھی جائے تو وہ قبول و مقبول ہے اور اجر بھی زیادہ رکھتی ہے اس بنا پر نماز کا قبول ہونا ایک جدا مطلب ہے اور اس کا صحیح یا باطل ہونا ایک دوسری بحث ہے ۔

سامی:

کیا سرزمین کربلا دوسری زمینوں حتی مکہ مکرمہ اور مدینہ سے بھی با شرف اور برتر ہے کہ اس کی خاک پر سجدہ برتر اور فضیلت تر ہے ؟

علی:

آپ کی نظر میں یہ کیا معنی رکھتا ہے ؟

سامی:

کیا سر زمین مکہ جو ( آدم(ع)) کے زمانے سے ( حرم ) ہے اور زمین مدینہ کہ جس میں جسم مبارک رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) دفن ہے منزلت اور مرتبہ کے لحاظ سے کربلا سے کمتر ہے ؟ اور کیا حسین بن علی (ع) اپنے جد رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے برتر ہیں ؟ یہ بات عجیب و غریب ہے !

علی:

نہیں ، ایسا نہیں ہے ، حسین بن علی (ع) کی عظمت و بلندی رسول خدا(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی شرافت و عظمت کی ایک جھلک ہے ۔ امام حسین (ع) کو جو عظمت اور بندی حاصل ہوئی ہے وہ اس لئے کہ انھوں نے اپنے جد کے دین کے راستے پر چل کر شہادت پائی ،ہاں منزلت امام حسین ؐ منزلت رسول خداؐ کا ایک حصہ ہے لیکن چونکہ آپ ( امام حسین (ع) ) نے اپنے خاندان اور اصحاب کے ساتھ اسلام کو زندہ رکھنے کے لئے اور باطل کو شکست کامل دینے کے لئے جان قربان کردی ، اس لئے اللہ نے عنایت اور محبت سے نوازا اور تین چیزیں آپ کو عطا کیں ۔

(۱)آپ قبہ (حرم ) کے نیچے کی جانے والی دعا ، مستجاب ہوگی ۔

(۲) امام آپ کی نسل میں قرار دیئے

(۳) تمام دردوں کی شفا آپ (ع) کی تربت میں قرار دئے ۔(۴)

خدا نے اس لئے امام حسین(ع) کو عظمت و منزلت عطا کی کہ آپ راہ خدا اور دین مقدس اسلام کی دفاع میں بد ترین اور مظلوم ترین طریقہ سے شہید ہوئے ، آپ کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا گیا ،آپ کے ساتھیوں کو میدان جنگ میں شہید کیا گیا ، اور آپ فقط اسلام اور خدا کے لئے یہ سب تحمل کرتے گئے ، کیا اس فداکاری کے بعد آپ دی گئی فضیلت کے معنی سمجھ میں آتے ہیں ؟

کیا امام حسین (ع) کی تربت یا سجدہ گاہوں کو مدینہ اور دیگر خاکوں سے برتر ماننا ہے ؟ میرے بھائی قضیہ بالکل بر عکس ہے ، امام حسین (ع) کی تربت کا احترام امام حسین (ع) کا احترام ہے اور امام حسین (ع) کا احترام رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور خدا کا احترام اور بزرگ ماننا ہے

سامی:

آپ کا یہ بیان کا ملاً درست اور صحیح ہے آپ سے پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ آپ لوگ امام حسین (ع) کو رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے افضل اور بر تر مانتے ہیں ، آج حقیقت روشن ہوگئی ، آپ کے اس بیان کا شکر گزار ہوں اور اتنی مفید معلومات سے نوازنے کا بھی شکر یہ عدا کرتا ہوں ۔

آج ہمیشہ خاک کربلا اپنے ساتھ رکھوں گا اور اسی پر سجدہ کروں گا اور فرش اور دیگر چیزوں پر سجدہ کو ترک کردوں گا ۔

علی:

میری کوشش تھی کہ آپ کو ان الزمات اور تہمت سے آگاہ کردوں جو دشمنوں نے ہم پر لگائے ہیں دشمن جو اپنے کو مسلمان کہتا ہے لیکن در حقیقت تمام مسلمانوں کا دشمت ہے ، آپ سے میری فقط ایک گزارش ہے کہ آج کے بعد جو بھی شیعہ کے بارے میں سنیں اسے حقیقت نہ مانیں اور تلاش کرکے حقیقت تک پہونچے ۔


ضریع اور بارگاہ بنانا

فواد : جعفر ، اگر اجازت ہو تو آپ سے ایک اختلافی موضوع پر کچھ پوچھوں ؟

جعفر : پوچھئے ، میں پسند کرتا ہوں کہ انسان تحقیق کے ساتھ مطالب کو سمجھے نہ یہ کہ ان کے بند کر گئے ہر آواز پر دوڑ پڑے ۔

فواد:اگر ہم اہل سنت کی بات حقیقت پر ہو ، تو آپ اسے مان لیں گے ؟

جعفر:میں ان لوگوں میں ہوں کہ فقط حقیقت جاننے کے بعد تمام تن کے ساتھ اس کو مانتا ہوں اور چونکہ میں نے اس مذہب کو حقیقت پر پایا اس لئے اس کو قبول کیا آپ جانتے ہیں کہ میرے تمام رشتہ دار سب سنی مذہب پر ہیں اگر تمہاری بات مجھے حقیقت لکھی تو بے شک میں پہلا فرد ہوں گا جو اس طرف قدم بڑھائے ۔

فؤاد:آپ شیعہ(۵) لوگ اپنے پیغمبروں ، اماموں ،صالحین اور علماء کی قبروں پر گنبد اور بارگاہ بناتے ہیں ، ان قبروں کے نزدیک نماز ادا کرتے ہیں ،آپ کا یہ کا م قطعی طور پر شرک ہے اور مشرکوں کے طرح آپ لوگ بھی اپنے اولیاء کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں ۔

جعفر : انسان کو تعصب سے دوری اختیار کرنی چاہیئے اور واقیت کو جان کر بات کرنی چاہیئے حقیقت وہ ہے جو کتاب خدا ، سنت پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور صلح لوگوں کی سیرت کو مد نظر قرار دیا جائے ۔

فؤاد:صحیح ہے ، میں بھی یہی عقیدہ رکھتا ہوں ، اور پسند کرتا ہوں کہ علم و فھم کہ ذریعہ حقیقت کو جانوں نہ کہ اندھی تقلید کے ذریعہ !

جعفر: دو چیزوں کا بیان ضروری سمجھتا ہوں ،

(۱) فقط ہم شیعہ نہیں یہی جو بزرگوں اور اولیاء کی قبروں پر تعمیرات کرتے ہیں ، بلکہ تمام مسلمان اپنے پیغمبروں م اماموں ، اور بزرگوں کے مرقد بناتے ہیں ۔ مثال کے طور پر چبد کا ذکر کرتاہوں ،پیغمبر اسلام(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور دو خلیفہ کی قبر جو عظیم گنبد اور تعمیرات پر مشتمل ہے ۔

۔چند پیغمبروں کی قبر جن میں سے حضرت ابراہیم (ع) کی قبر شہر (الخلیل) اردن میں موجود ہے جس پر ضریع ، گنبد ،وغیرہ موجود ہے ۔

۔قبر حضرت موسیٰ (ع) جو کہ اردن میں بیت المقدس اور عمان کے بیچ میں واقع ہے اور اس پر تعمیرات موجود ہیں ۔

۔’’امام ابو حنیفہ‘‘کی قبر جو کہ بغداد میں ہے ان جگہ میں سے ایک ہے جس پر گنبد موجود ہے ۔

۔’’ابو ہریرہ‘‘ کی قبر جو کہ مصر میں ہے اس پر بھی زیارت گاہ بنی ہوئی ہے ،اور بلڈنگ اور گنبد موجود ہے ۔

۔قبر ’’عبد القادر جیلانی‘‘جو بغداد میں ہے اور صحن ، ضریع اور گنبد پر مشتمل ہے ۔ مسلم و اسلامی ممالک میں جگہ جگہ پر پیغمبروں اور اولیاؤں کی قبر یں موجود ہیں جن پر گبند وغیرہ جوجود ہیں ۔ بہت سے چیز اور زمین ان کے نام پر وقف ہیں ، اور ان وقفوں سے حاصل دولت ان مزاروں کی تعمیرات اور نگہداشت پر خرچ ہوتی ہے ۔

شروع سے مسلمان اس کام کو پسند کرتے تھے اور انجام دیتے آئے ہیں اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے کہ اس کام کو کریں ، ایک بار بھی لوگ اس کام کو کرنے سے نہیں روکا گیا ، اس بنا پر فقط ہم شیعہ نہیں ہے جو بارگاہ بناتے ہیں بلکہ دوسرے مسلمان بھی ہمارے ساتھ ساتھ اپنے اماموں اور پیشوا کی قبروں پر تعمیرات کرتے ہیں اور ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں ۔

(۲)ہم شیعہ اور دیگر مسلمان جب حرم کے اندر یا اولیای خدا کے قبر کے نزدیک نماز پڑھتے ہیں تو در اصل وہ نماز خدا کے لئے ہوتی ہے نہ کہ اولیاء خدا کے لئے ، کیونکہ ان جگہ پر ہم نماز کے لئے رو بہ قبلہ نماز پرھتے ہیں ، اگر نماز اولیاء یا پیغمبر کے لئے ہوتی تو نماز کے حال میں ان کی قبر کا رخ کرنا چاہئے تھا ۔

فؤاد: پھر آپ لوگ ان قبروں کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز کیوں ادا کرتے ہیں اور ان قبروں کو اپنا قبلہ قرار دیتے ہیں ؟ جعفر: جس وقت ہم ان قبروں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں تو ہمارا قبلہ فقط وفقط کعبہ ہوتا ہے اور یہ قبریں طبیعی طور پر ہمارے سامنے پڑجاتی ہیں اور ہمارا قصد ان کو قبلہ قرار دینا ہر گز نہیں ہوتا ، ایسی حالت میں نماز گزار کی مثال اس طرح بیان کی جا سکتی ہے کہ وہ رو بہ قبلہ کھڑا ہو اور اس کے سامنے ایک عمارت کھڑی ہو تو کیا اس نمازی کی نماز اس عمارت کے لئے مانی جائے گی ؟

اس سے بھی آگے چل کر علماء اسلام کا کہنا ہے کہ : نماز کا رو بہ قبلہ پڑھنا صحیح ہے حتی اگر مشرکین کے معبد (مندر) میں پڑھی جائے چاہے اس کے سامنے ایک بت ہی کیوں نہ رکھا ہو ، جو کہ خدا کی طرح پوجا جاتا ہے ، کیونکہ نماز گزار کی توجہ خدا کی طرف ہے نہ کہ اس بت کی طرف ۔ اس حال میں کیا نمازی کی نماز اس بت کے لئے مانی جائے گی !

فؤاد: اگر اس طرح ہے جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ قبروں پر تعمیرات کرنا شرک نہیں تو پھر علماء حجاز نے آپ کے اماموں کی قبروں پر بنی ضریح اور بارگاہوں کو ویران کردیا ۔

جعفر: تمام علماء حجاز نے اس کام کے لئے فتویٰ نہیں دیا بلکہ ان میں سے بعض نے فقط اس زمانہ میں اس کام کے لئے فتویٰ دیا ۔ ( مدینہ کے ایک بوڑھے نے مجھ سے نقل کیا) جس وقت ائمہ بقیع کے حرم اور بارگاہ کو ویران کرنے کا حکم دیا گیا حجاز کے چند علماء نے اس استدلال کے ساتھ کہ قبروں پر عمارت تعمیر کرنا شرک نہیں بلکہ شریعت اسلامی کی نظر میں ایک پسندیدہ اور مستحب کا م ہے ، کیونکہ خدا وند عالم فرماتا ہے ’’ومن یعظم شعائراللہ فانھامن تقوی القلوب".حج ۳۲۔وہ جس نے اللہ کی نشانیوں کا احترام کیا در اصل وہ اپنے دلوں کی پاکیزگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔(۶)

قبروں پر تعمیرات کو شرک جاننے کے دعووں کو باطل قرار دیا اس عمل کا سبب یہ ہوا کہ ان علماء میں سے بعض کو اپنے مذہبوں سے ہاتھ دھوناپڑا اس بنا پر فقط چند علماء حجاز نے اس کام کے شرک ہونے پر فتویٰ دیا۔

فؤاد: میں خود اس فکر میں تھا کہ اگر ضریح اور گنبد کا بنانا شرک اور حرام ہے تو پھر مسلمان پیغمبر کے زمانہ سے آج تک اس مسئلہ کو کیوں نہ سمجھ سکے اور ان تعمیرات کو کیوں نہیں روکا ؟ کیا تیرہ صدیوں میں وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ کام حرام ہے ؟

جعفر: غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ خود پیغمبر اسلام(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ضریح اور تعمیر کے کام کو منع نہیں فرمایا ۔

(حجر اسماعیل ) جو کہ حضرت اسماعیل(ع) اور جناب ھاجرہ کی قبر کا مقام ہے اس دعوے کے لئے بہتریں ثبوت ہے حضرت ابراہیم (ع) اور جناب موسیٰ (ع) کی قبر یں بھی ان مقامات میں شامل ہیں جو پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کے زمانہ سے آج تک حرم اور بارگاہ رکھتے ہیں لیکن پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور خلفاء نے اس چیز میں کوئی قباحت نہیں دیکھی اور نہ ہی لوگوں کو وہاں زیارت کرنے سے روکا چنانچہ اگر اس کام کو حرام اور شرک ماننے والوں کا دعویٰ صحیح ہے تو بیشک پیغمبر اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) ایک حکم سے ان تمام مقامات کو ویران کر سکتے تھے اور ان کی زیارت کو بھی منع کر سکتے تھے ، لیکن چونکہ پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ایسا نہیں کیا اس بناء پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اماموں اور صالحین کی قبروں پر تعمیرات کرنا ان کی زیارت کرنا اور وہاں نماز پڑھنا جائز ہے

دوسری طرف جس وقت رسول خدا ؐ نے رحلت فرمائی تو آپ کو آپ ہی کے حجرہ مین دفن کیا گیا اور اس کا دروازہ بند کردیا گیا ، اور اس طرح آپ کی قبر ایک کمرے میں آگئی جس کے چاروں طرف دیوار تھی اور چھت بھی تھی اس بنء پر اگر آپ کے صحابیوں میں سے کسی ایک نے بھی اس کام کے حرام یا ناجائز ہونے پر آنحضرت (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے کچھ سنا ہوتا تو بی شک وہ اعلان کرنا اور رسول کو وہاں دفن نہ ہونے دیتا یا اگر رسول وہاں دفن ہوگئے تھے تو اس حجرہ کو ویران کردیتا تا کہ وہ زبر پر تعمیرات کے حکم میں نہ آسکے لیکن چونکہ نہ ہی صحابہ آپ کے نزدیک رشتہ داروں نے ایسا کام کیا اور نہ ہی اس کو حرام جانا ، ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ قبر پر تعمیرات کرنا شرک اور حرام نہیں ہے ۔

فؤاد: حقیقت سے آشنا کردنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ قبروں پر تعمیرات شرک نہیں اور وہ تمام کام جو اس زمینہ میں ( خراب و ویران کے سلسلہ میں )کئے گئے ہیں کوئی شرعی سند نہیں رکھتے ،آپ کا شکر گزار ہوں ۔

جعفر: میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے حقیقت کو جان کر اس کو تہہ دل سے مانا اور صحیح راستہ دیکھنے پر اس کی طرف قدم بڑھایا اور عقل و منطق کی روشنی میہں صحیح کام انجام دیا ۔ اور اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ حقیقت اور دین سے اور زیادہ آشنا ہوں لہٰذا اگر آپ کے پاس وقت ہے تو آپ سے کچھ اور گفتگو کی جاسکے ۔

فؤاد: حق بات کا طلب گار ہوں اور تمام دل و جان سے تیار ہوں کہ آپ کی بات کو سنو جو بھی چاہیں بات کریں ؟

جعفر: ہماری بحث و گفتگو میں ثابت ہوا کہ اولیاء خدا کی قبروں پر تعمیرات کرنا جائز ہے اور کوئی حرمت نہیں رکھتی ؟

فؤاد: جی ہاں ، اور اس مسئلہ میں ، میں آپ کا ہم عقیدہ ہوں ۔

جعفر: اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اولیاء خداکی قبروں پر ضریع بنانا اور دوسری تعمیرات کرنا مستحب ہے اور جو بھی اس کام کو انجام دے گاوہ خدا سے اس کی جزاء خیر پائے گا ۔

فؤاد : کس طرح ؟

جعفر: خدا وند عالم ارشاد فرماتاہے ’’( ومن یعظم شعائرالله فانهامن تقوی القلوب ) ".حج ۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی ۔(۷) اس بنا پر ہر وہ چیز جو ’’شعار الٰھی ‘‘ہو اس کا احترام کرنا اسلام کی نظر مستحب ہے ۔

فؤاد: صحیح ، لیکن اولیاء خدا کی قبروں پر تعمیر کس طرح سے ’’شعار الھی ‘‘ہوسکتی ہے ؟

جعفر: ’’شعار‘‘اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ’’دین ‘‘کو دنیا کی نظر میںبڑا اور عظیم دیکھائے اور اس کی حرمت پر کوئی (نص) دلیل موجود نہ ہو ۔

فؤاد: کیا ان عمارتوں اور گنبدوں سے دین کو عظمت حاصل ہوتی ہے ؟

جعفر:ہاں

فؤاد: وہ کس طرح ؟

جعفر: اس با ت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ بزرگان اسلام کی قبروں پر عمارت بنانا اور اسی طرح ان عمارتوں کو خراب اور ویران کونے سے روکنا ، ان بزرگو ں کا احترام کانا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی قبر کے پاس ایک پیڑ لگادے تو کیا اس کا یہ کام ان قبر کا احترام کرنا نہیں مانا جائے گا ؟

فؤاد: بالکل اسی طرح ہے ۔

جعفر: اب اگر کوئی کسی قبر پر عظیم عمارت بنائے اور اس پر قبہ وغیرہ بنائے تو یہ کام اس صاحب قبر کا احترام کرنا ہے تو پھر دین کے بزرگوں کی قبروں کا احترام اصل میں اسلام کا احترام اور اس کی عظمت کو دیکھنا ہے ،کہ یہ بزرگان اس دین کی طرف دعوت دیتے تھے ، اور لوگوں کی اسی دین کی طرف راہنمائی کرتے تھے اگر کوئی شخص کسی پارٹی کے صدر یا کسی ...........کا احترام کرتا ہے تو کیا یہ احترام اس بڑی یا ....کا احترام نہیں مانا جائے گا ؟

فؤاد : بالکل ایس ہی ہے۔

جعفر :اسی بنا پر ،اولیاء خدا کی قبروں پر عمارت بنانا اور اس کا احترام کرنا ، خدا کا اکرام اور اسلام کا حترام کرنا ہے ۔ اور اسی طرح ہر وہ چیز جو جس کے ذریعہ خدا کی عظمت آشکار ہو اور اسلام کی سر بلندی کا باعث بنے وہ شعار (نشانی) ہے کہ جس کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ :( ومن یعظم شعائرالله فانهامن تقوی القلوب ) .حج۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی)

فؤاد: اس صورت میں تو ان قبروں کا ویران کرنا اور عمارتوں کو نقصان پہچانا دین کی ہے حرمتی ہے اور اسلام کی منزلت کو گٹھنا ہے ، کیونکہ اس کام سے ہماری بزرگوں کی ہے حرمتی ہے ،اور ان کی ہے حرمتی اسلام کی توہین ہے اور ان کی منزلت کو گٹھانا خود اسلام کی منزلت کو کم کرنا ہے ۔

جعفر: اسی وجہ سے میں نے مذہب اہل بیت (ع) کو چنا اور شیعہ ہوگیا ۔ اور اپنا نام ’’ولید ‘‘سے (جعفر) تبدیل کرلیا ۔ جس وقت دوسروں کی رائے پر عمل کرتا تھا خود کو حق پر سمجھتا تھا ، لیکن جس وقت ’’حق‘‘کا خواہاں ہوا اور اس کی تلاش میں لگا تو اسی کو حقیقت پایا ۔اگر انسان مذہبی تعصب کو کنارے رکھ دے اور کشادہ روی کے ساتھ حق کو مانے تو یقینی طور پر اسے حاصل کرلے گا ۔

فؤاد : آج کے بعد میں حقیقت کی تلاش میں لگا رہوں گا اور جس جگہ بھی جس کسی کے پاس اس کو پاؤنگا اس کی پیروی کرونگا ۔اور آپ کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا کہ آپ نے مجھے حقیقت سے آگاہ کیا ۔ اگر اجازت ہو تو میں جانا چاہوں گا۔ کہ کسی سے ملنے کا وعدہ ہے ۔

جعفر: بالکل تشریف لے جائیے،خدا حافظ

فؤاد: خدا حافظ ۔


حرم اولیاء کی تزیین

صابر: سلام علیکم

باقر: علیکم السلام و رحمۃ اللہ

باقر: یہاں پر اپنے ایک بھائی سے ملنے آیا ہوں ۔

صابر: تو پھر مجھے یہ افتخار دیں کہ کچھ در آپ کی خدمت رہوں اور سر فراز ہو سکوں۔

باقر: میں بہت زیادہ مصروف ہوں اور بہت اہم کام صرف ’’صلہ رحم ‘‘اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے چھوڑ کر آیا ہوں اس لئے کہ وقت بہت کم ہے ۔ آپ سے چاہتا ہوں کہ مجھے معاف فرمائیں ۔

صابر: نا ممکن ہے ۔دو دوست ۱۰ سال کے بعد ایک دوسرے سے ملاقات کریں اور ایک گنٹھہ بھی ساتھ بیٹھ کر گفتگو نہ کریں ۔دوسرے طرف میں دینی بھائی ہونے کے لحاظ سے آپ پر حق رکھتا ہوں اور یہ کہ میری ایک مؤمن بھائی کے ساتھ شیعہ اور سنی ی بحث چل رہی ہے اور مجھے آپ پر اعتماد ہے اس لئے چاہتا ہوں کہ آپ سے اس بارے میں گفتگو کروں تا کہ حقیقت میرے لئے روشن ہوجائے ۔

باقر : ٹھیک ہے ،میں تیار ہوں ،

پھر دونوں صابر کے گھر کی طرف چل دئے اور جب دونوں دوستوں کے درمیان کچھ دیر گفتگو ہوچکی تو باقر نے صابر سے پوچھا: آپ کی اس برادر دینی سے کس مسئلہ پر بات ہورہی ہے ؟

صابر: پیغمبرو، اماموں ،علماء اور صالحین وغیرہ کی قبروں کی سونے ،چاندی اور دوسرے چیزوں سے زینت دینے کے بارے میں ۔

باقر: اس کام میں کیا پریشانی ہے ؟

صابر : کیا یہ کام حرام ہونا چاہیے؟

باقر: کس وجہ سے حرام ہونا چاہیئے ؟

صابر: کیا مردہ کو اس زینت سے کوئی فائدہ ملتا ہے ۔

باقر: نہیں

صابر: اس بنا پر یہ کام اسراف ہے اور خدا کا اس بارے میں ارشاد ہے کہ:( ولا تبنذر تبذیراً ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین ) (سورہ اسرء آیۃ۲۶۔۲۷)اور اسراف سے کام نہ لینا۔اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں ۔۔۔۔)

باقر: کعبہ کے زیورات ( اور وہ سونا چاندی جو اس پر لگا ہوا ہے ) کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

صابر: بولنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ، اس بارے میں کچھ نہیں معلوم ۔

باقر: جا ہلیت کے زمانے سے آج تک کثیر تعداد میں سونے اور چاندی کے زیورات ’’کعبہ‘‘ پر چڑ ھتے رہے ہیں ۔’’ابن خلدوں ‘‘(۹) نے ’’مقدمہ ‘‘میں لکھا ہے کہ ’’امت جہالت کے زمانے سے کعبہ کو عظیم مانتی تھی اور کسریٰ اور دیگر بادشاہی کعبہ کے لئے کثیر ہدیہ بھیجا کرتے تھے دو سونے کہ ہرن اور تلواریں جو جناب عبد المطلب کو ’’چاہ زم زم‘‘ گھودتے ہوئے ملے تھے جو کہ بہت مشہور قصہ ہے ،جس وقت رسول خداؐ نے مکہ کو فتح کیا اس وقت حرم میں موجود ’’کویں ‘‘میں آپ کو ۲۰ لاکھ سونے کے دینار ملے تھے (جو کہ کعبہ کو ہدیہ کئے گئے تھے )علی ابن ابی طالب (ع) نے رسول خدا(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے عرض کیا کہ ( یا رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) ، اس دولت کا استعمال کفار اور مشرکین سے جنگ کے لئے کتنا اچھا ہوگا ،)لیکن پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ایس نہیں کیا ۔ ابوبکر نے بھی ایسا کیا اور ان کو ہاتھ نہیں لگایا ۔ (ابن خلدون اسی طرح آگے کہتا ہے ) ’’ابو وائل نے شیبہ بن عثمان سے روایت کی ہے کہ شیبہ نے کہا : عمر کے پاس تھا ، عمر نے کہا کہ چھاہتا ہوں کہ خانہ کعبہ میں موجود تمام سونا اور چاندی مسلمانوں میں تقسیم کردوں ۔

میں نے کہا : کای کرنے جارہے ہو ؟ (یعنی تم یہ کرنے کا حق نہیں رکھتا )

عمر نے کہا : کیوں؟

میں نے جواب دیا : تم سے پہلے ( پیغمبر اور ابو بکر ) جو مسلمانوں کے حاکم تھے انھوں نے یہ کام نہیں کیا ۔

عمر نے کہا : پھر مجھے ان کی پیروی کرنی چاہیئے(۱۰)

اس حال میں صابر میرے بھائی تھے تم سے میں ایک سؤال کرتا ہوں کیا کعبہ اس سونے اور چاندی استعمال کرتا تھا یا خدا وند (جو ان چیزوں سے پاک ہے ) اس سے کوئی فائدہ اٹھاتا تھا ،

صابر: ان تمام حالات میں پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اس عظیم دولت کو ہاتھ نہیں لگایا جب کہ اس زمانے میں اسلام کو اس دولت کی ضرورت تھی تا کہ اسلام دنیا میں پھیل سکے ۔

شاید یہ سوال ہو کہ آخر پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ضرورت کے باوجود ایک بھی درہم یا دینار اس دولت سے نہیں کیا ۔

جواب واضع ہے کہ اس عظیم دولت کی کعبہ میں جوجودگی اس کی عظمت اور بزرگی کو لوگوں کی نظر میں بلند کرتی تھی ،البتہ یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ خدا کے نزدیک کعبہ کی عظمت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ جو ہم تصور بھی نہیں کرسکتے اور اس زینت کے نہ ہونے سے کعبہ کی عظمت میں کوئی کمی نہیںآئے گی ۔

لہٰذا اسی طرح سونے کے گنبد ، دروازہ وغیرہ جو اولیاء خدا کی قبروں پر بنائے جاتے ہیں جیسے حرم حضرت علی(ع) ، حرم حضرت امام حسین (ع) حرم حضرت امام رضا (ع) وغیرہ بھی اسی طرح ہیں کہ ان چیزوں کے ہونے سے آپ کی منزلت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر یہ چیزیں موجود نہ ہوں تو بھی ان مقامات کی منزلت میں کوئی کمی نہیں رہے گی مثال کے طور پر امام حسن (ع) کی قبر اگر چہ دھوپ اور سورج کی تپش میں بغیر کسی گنبد اور حرم کے ہے لیکن آپ کی منزلت امام حسین(ع) سے برتر ہے جن کے پاس وصیع حرم اور سونے کا گنبد اور دروازہ وغیرہ بھی موجود ہے ۔ لیکن ان تمام چیزوں کے ساتھ قیمتی پتھر اور سونے اور چاندی سے گنبد اور دروازوں کا بنانا ان اولیاء خدا کی مقام اور ان کی منزلت کے سامنے تعظیم ہے ۔

صابر: کیا اس کام سے اولیاء خدا لوگوں کی نظر میں معظم ومعزز ہوئے ہیں ؟

باقر: بالکل ، میں آپ کے سامنے ایک مثال دیتا ہوں ، اگر آپ یہودیوں کے قبر ستان میں جائے تو آپ دیکھیں گے کہ ان کے علماء کی قبریں ویران ہیں اور اس پر کوئی عمارت نہیں جہاں آنے والے سر کو چھپا سکے ۔لیکن مسیحیوں کے طرف معاملہ بر عکس ہے کہ ان کے علماء کی قبر یں سونے اور چاندی سے زینت دی گئی ہیں اور اس پر عمارتیں بھی بنی ہوئی ہیں ۔ اب آپ بتائیے کہ اگر چہ آپ مسلمان ہیں اور دونوں ہی آپ کی نظر میں باطل ہیں پھر بھی ان دونوں میں سے کوئی آپ کی نظر میں بڑا اور عظمت والا دیکھائی دیگا ۔

صابر: طبیعی بات ہے کہ ایسا منظر دیکھنے کے بعد مسیحی علماء کا مرتبہ بلند اور یہودی بہت نظر آئیں گے ۔

باقر: اسی بنا پر جب شیعہ اور سنی اپنے پیغمبروں ، اماموں اور پیشواں کی قبر وں پر زینت کرتے تو وہ ان کے مقام اور منزلت کی تعظیم کرتے ہیں ۔

صابر: آپ جو کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے ۔ لیکن کیا اس نظر یہ سے اسراف کا پہلو بھی ختم ہوجاتا ہے ؟

باقر : بالکل ، یہ کام نہ صرف یہ کہ اسراف نہیں ہے بلکہ یہ ثابت ہونے کے بعد کے اس کام اولیاء خدا کی تعظیم ہوتی ہے ، خود اسلام کی بھی تعظیم ہوتی ہے ۔کیونکہ پر وہ کام جو اسلام کے عظمت اور مقام کو بلند کرے وہ شعار الھی ہے اور خدا نے اس کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ : ’’( ومن یعظم شعائرالله فانهامن تقوی القلوب ) ".حج ۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی(۱۱)

اسی دلیل سے جو بھی یہ کام انجام دے گا وہ خداکے نزدیک اجر کا مستحق ہے ۔

صابر: آپ کا وقت لینے کے لئے معافی چاہتا ہوں ۔ لیکن آپ نے مجھے نادانی کی تاریکی سے علم کی روشنی کی طرف جو ہدایت کی اس کے لئے آپ کا شکر گزار ہوں ۔ آج سے پہلے میں ان مقامات کی زینت کے بارے میں زیادہ سوچتا تھا لیکن ان کام کے صحیح ہونے کو نہیں مانتا تھا لیکن آخر کار آپ کی باتو ں سے بات واضع و روشن ہوگئی اور آپ اس کا سبب ہوئے کہ کھوئی ہوئی چیز کو میں نے حاصل کر لیا ۔

باقر: تو آپ کے تمام شکوک بر طرف ہوگئے ؟

صابر : جی ہاں اور یہ کہ یہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام مستحب ہے اور قرآن کریم نے بھی اس کی طرف دعوت دی ہے ۔

باقر: پھر بھی میں اس ضمینے میں کسی بھی بات اور شک کہ دور کرنے کے لئے ہمیشہ حاضر ہوں ،تا کہ ہم دونوں ہی حقیقت کو جان سکے

صابر: آپ کا بہت بہت شکریہ ،خدا آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔


ضریح کا بوسا لینا

مالک : صادق صاحب آپ لوگ پیغمبروں اور اماموں کی ضریح چومنے کے سلسلہ میں اتنا اصرار کیوںکرتے ہیں ۔

صادق: اس کام میں کیا قباحت ہے

مالک: کہا جاتا ہے کہ یہ کام شرک ہے

صادق: یہ بات کون کرتا ہے

مالک: یہ بات مسلمان کہتے ہیں

صادق: عجیب بات ہے ضریح کو بوسہ کون لوگ دیتے ہیں ؟

مالک: کہا جاتا ہے کہ شیعہ یہ کام کرتے ہیں ،

صادق: کیا حج کرنے کے لئے مکہ گئے ہو ،

مالک: جی ہاں ،الحمد للہ

صادق : کیا مدینہ میں رسول اللہ کی قبر کی زیارت کی ہے ؟

مالک : جی ہاں اور اس توفیق کے لئے خدا کا شکر گزار ہوں ۔

صادق : تو پھر آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہزاروں اہل سنت مسلمان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ رسول خداکی ضرح کو بوسہ دیں لیکن (امر بالمعروف والے افراد ان کو مارتے ہیں اور اس کام سے روکتے ہیں ۔

مالک : ہاں ایسا ہی ہے ۔

صادق: اس بناء پر صرف ہم شیعہ نہیں ہے جو ضریح پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کو بوسہ دیتے ہیں بلکہ تمام مسلمان یہ کام کرتے ہیں ۔

مالک : تو پھر کچھ لوگ ضریح کو بوسہ دینے کو حرام کیوں سمجھتے ہیں

صادق: وہ لوگ جو حریح کو بوسہ دینے کو حرام اور شرک جانتے ہیں وہ مسلمانوں کی ایک بہت چھوٹی جماعت ہے کہ جو فقط اپنے آپ کو مسلمان واقعی سمجھتے ہیں اور اپنی فکروں کو حق پر سمجھتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو کافر مشرک اور غیر خدا کے پرستار سمجھتے ہیں،اسی وجہ سے تمام اسلامی فرقوں کو کافر کہتے ہیں ، آپ نے دیکھا ہوگا کہ انجمن امر بالمعروف والے حجاز میں ان مسلمانوں کو کہ جو رسول کی ضریح کو بوسہ دینے کے خواہاں ہوتے ہیں مارتے ہیں اور ان کو توہین آمیز جملوں جیسے کافر مشرک زندیق خنزیر اور دوسرے گالیوں سے خطاب کرتے ہیں ان کی نظر میں مخاطب شیعہ یا سنی حنفی مالکی شافعی حنبلی وغیرہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔(۱۲)

مالک: ہاں جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس سے بھی بدتر میں خود شاہد ہوں کہ کوئی ضریح پیغمبر ؐ کو بوسہ دینے کے لئے ضد کرتا تھا تو انجمن امر بالمعروف والے اپنے عصا سے ان کو مارتے تھے جس کی وجہ سے کبھی کبھی ان کے سر پھٹ جاتے تھے اور بات خونریزی تک پہنچ جاتی تھی ،اور کبھی کبھی زائرین کے سینوں پر گھونسے مارتے تھے جس سے وہ شدید درد میں مبتلا ہوجاتے تھے ،ان مناظر کو دیکھنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ۔

صادق : ہم اہنی گفتگو کی طرف واپس پلٹتے ہیں کیا اپنے بیٹے کو چومتے ہو؟

مالک: جی ہاں ،

صادق: کیا آپ کے اس کام سے آپ خدا کے لئے شرک کرتے ہیں ،

مالک : نہیں بالکل نہیں ،

صادق: آپ اس کام کو کرنے سے مشرک کیوں نہیں ہوئے ۔

مالک : میں محبت اور الفت کی وجہ سے اپنے بیٹے کو چومتا ہوں اور یہ کام شرک نہیں ہے ۔

صادق : قرآن کو بھی چومتے ہو؟

مالک: جی ہاں

صادق: اس کام کے کرنے سے تم مشرک نہیں ہوئے

مالک : نہیں

صادق: کیا قرآن کی جلد ( چمڑے یا گنہ) کو بھی چومتے ہو ،

مالک : بالکل اسی طرح ہے

صادق: اس بناء پر آپ خدا کے لئے شریک کے قائل ہوئے اور یہ شریک وہ چمڑا ہے جو حیواں کی کھال سے حاصل کیا گیا ہے اور خدا ان چیزوں سے برتر ہے ۔

مالک : نہیں نہیں ایسا نہیں ہے ہم قرآن کو جلد کو اس لئے چومتے ہیں کہ اس کے اندر کلام خدا محفوظ ہے اور کہ کام قرآن سے عشق و اشتیاق کی وجہ سے کرتے ہیں ، اب آپ بتائیں کہ یہ کام کہا ں سے شرک ہوگیا ؟ جب کہ قرآن کو چمنے کی وجہ سے مین ثواب کا مستحق بھی ہوتا ہوں کیوںکہ اس کی وجہ سے ہم ؟قرآن کی تعظیم کرتے ہیں جو کہ باعث ثواب ہے ،تو پھر یہ کام شرک سے کائی واسطہ نہیں رکھتا اور اس سے دور ہے ،

صادق: اب جبکہ ایسا ہے تو پھر اسی بات کو آپ ضریح پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور امام(۱۳) کے سلسلہ میں کیوں نہیں مان لیتے شاید آپ کہیں کہ جو لوگ ضریح کو بوسہ دیتے ہیں وہ لوگ لوہے کو خدا کا شریک قرار دیتے ہیں اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر وہ تمام لوہا جو ہر طرف دکھائی دیتا ہے اس کو کایں نہیں چوما جاتاایسا بالکل نہیں ہے ؟ ضریح کو اس لئے چاما جاتاہے کہ اس کے اندر پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) یا امام (ع) کی تربت پاک موجود ہے اور چونکہ ان بزرگان تک ہم نہیں پہنچ سکتے اپنا عشق و اشتیاق ان کی ضریح کو بوسہ دیکر جتاتے ہیں ، اس وجہ سے یہ کام خدائے متعال سے جزا لینے کا سبب بھی ہے کیونکہ ضریح کو بوسہ دینا خود پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور امام کی تعظیم کرنا ہے ، اور ان کی تعظیم اسلام کی تعظیم ہے ، اور ہر وہ چیز جو اسلام کی تع۔ظیم کا باعث بنے وہ شعائر الہی ہے کہ جس کے بارے میں خدا نے حکم دیا ہے کہ : ’’ومن یعظم شعائراللہ فانھامن تقوی القلوب".حج ۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی۔

مالک : پھر اس صورت میں کچھ لوگ آپ کو مشرک کیوں کہتے ہیں ۔

صادق: حدیث میں آیا ہے کہ (انما العمل بالنیات ) عمل کا دارو مدار نیت پر منحصر ہے )(۱۴) (اور اسی قاعدے پر جزا یا سزا دی جائیگی ۔ اسی طرح اور کوئی ضریح کو شرک کی نیت سے بوسہ دے تو مشرک ہے لیکن اگر ضریح کو عشق و محبت میں بوسہ دے تو وہ شعائر الھی کی تعظیم کرنے کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہے اگر آپ چاہیں تو شیعوں اور سنیوں سے ان کے ضریح کو بوسہ دینے کی نیت کے بارے میں سوال کرسکتے ہیں تو بیشک آپ کو جواب میں یہی ملے گا کہ یہ کام عشق و محبت اور ثواب حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور آپ کو ایک بھی جواب اس کے خلاف نہیں ملے گا ۔

مالک: صحیح بات ہے

صادق: اور اگر صرف ضریح کو بوسہ دینا ( بغیر شرک نیت کے ) انسان کو مشرک کردیتا ہے تو پھر آپ کو ایک بھی انسان ایسا نہ ملے گا جو مشرک نہ ہو کیونکہ مسلمان ضریح یا قرآن کو بوسہ دیتے ہیں اور ان دونوں حالتوں میں وہ مشرک ہوجائیں گے اب میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ کیا اس صورت میں کوئی مسلمان باقی بچے گا ۔

مالک: آپ کا بہت بہت شکر گزار ہوں اور اس مسئلہ پر مین اپنے والد سے بحث کروں گا کہ انھوں نے ہی یہ تعصبات میرے ذہن میں ڈالے ۔ آج میں جان گیا کہ حق آپ شیعوں کے ساتھ ہے اور یہ کہ آپ نے مجھے جو ان حقائق سے آشنا ئی کرائی ہمیشہ کے لئے میرے اوپر احسان رہے گا ، اور میں بھی آج کے بعد بغیر تحقیق کے کسی بھی بات کو تسلیم نہیں کروں گا ۔


اولیاء خدا سے توسل

وہ ایک درد بھری آہ بھر رہا تھا کہ وائے ہو ان مشرکین و کفار پر کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔

محمدنے اس سے سوال کیا کس کو کہہ رہے ہو

کمال: شیعوں کو کہہ رہا ہوں ،

محمد: ان کو گالی نہ دو اور نہ مشرک کہو کیونکہ وہ مسلمان ہیں

کمال: ان کو مارنا کافر کو مارنے بہتر ہے

محمد: اتنا جوش کس وجہ سے ہے اور کس دلیل سے ان کو مشرک کہہ رہے ہو ۔

کمال: خدا کے ساتھ ساتھ دوسرے خداؤں کو منتخب کر چکے ہیں اور خدا کی جگہ پر ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچاسکتی ۔

محمد: یہ بات کس طرح ممکن ہے ۔

کمال: وہ لوگ پیغمبروں اماموں اور اولیاء خدا سے توسل کرتے ہیں اور ان عبارتوں کے ساتھ ( کہ یا رسول اللہ یا علی ،یا حسین (ع) یا صاحب الزمان (ع) وغیرہ) ان سے چاہتے ہیں کہ اپنی حاجتوں کو حاصل کریں ، شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ اولیاء خدا ہیں اور یہ طاقت رکھتے ہیں کہ ان کی حاجتوں کو پورا کرسکتے ہیں ، آپ کی نظر میں یہ کام کھلا ہوا شرک نہیں ہے اور غیر خدا کی پرستش نہیں ہے ۔

محمد: اگر اجازت ہو تو ایک چھوٹی سی بات عرض کروں ۔

کمال: بولیئے

محمد: میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو شیعں کو گالیاں دیتا تھا اور ان پر بے جا الزامات لگا تا تھا ، جب بھی موقع ملتا تھا ان کو گالیاں دیتا تھا اور اپنا غصہ دکھاتا تھا ، کہ آخر کار ایک دفعہ حج کے سفر میں ایک شیعہ سے ملاقت ہوئی اور چونکہ میں شیعوں سے بد ظن تھا میں نے اپنی تمام نا گواری جتانے کے لئے سالوں سال کا غصہ ( جو ان سے تھا ) اپنی زبان پر لے آیا لیکن وہ (شیعہ ) خاموشی کے ساتھ ان تمام باتوں کو سنتا رہا اور صبر و تحمل سے کام لیتا رہا میری ان تمام باتوں کے جواب میں وہ صرف ہنستا تھا اور میں ہر چند اس کو گالی دیتا تھا تو وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتا تھا یہاں تک کہ میرا غصہ اس کی محبت اور اخلاق کی وجہ سے ٹھنڈا پڑ گیا جب میں چپ ہوگیا تو اس نے میری طرف مخاطب ہوکر کہا اے میرے بھائی محمد اگر اجازت ہو تو آپ سے کچھ باتیں کروں اس کے اور ہمارے درمیان مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں ان میں سے ایک موضوع کہ جس کی وجہ سے میں اس کی باتوں کو مان گیا یہی وہ موضوع (توسل بہ اولیا) تھا ۔

کمال: گویا آپ کے اور بھی ان کی شرک اور فریب کا اثر ہوگیا ہے دین اسلام سے تمہاری پہچان بہت کم ہے ۔

محمد : میں قرآن سنت اور صالحین کی سیرت پر اولیاء خدا سے توسل کے بارے میں تم سے بحث کرنے کو تیار ہوں ۔

کمال: خدا وند عالم تمام مخلوقات سے بر تر ہے اور اپنی مخلوق کے لئے سب سے زیادہ مہربان ہے اس کے اور مخلوق کے درماین کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے اور بغیر واسطہ کے بندہ جب اور جہاں چاہے اپنے خدا سے رابطہ بر قرار کرسکتا ہے اور اس سے توسل کرسکتا ہے اور غیر خدا سے توسل اگر چہ وہ پیغمبر امام فرشتے یا صالح بندے ہوں جائز نہیں ہے اگر چہ خداوند عالم کے نزدیک وہ ایک بلند ترین مقام رکھتے ہیں ۔

محمد: ان سے توسل کرنا کیوں جائز نہیں ہے ۔

کمال: انسان مرنے کے بعد ختم ہوجاتا ہے اور اس طرح کے اس سے کوئی بھی کسی طرح کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتا تو پھر آپ ایک ایسی چیز سے جو نابود ہوچکی ہے توسل کررہے ہیں ۔

محمد: کس دلیل سے آپ کہتے ہیںکہ مرنا نابود ہونا ہے اور کون یہ کہتا ہے ۔

کمال: امام محمد بن وہاب کہتے ہیں ( دنیا سے گذرجانے والے صالحین سے متوسل ہونا اصل میں ایک نابود چیز کی طرف ہاتھ بڑھانا ہے اور یہ کام عقل کی نظر میں ناپسند ہے اسی طرح انہی کہ ایک مرشد نے نقل کیا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کی موجودگی میں کہا گیا اور وہ اس سے راضی تھے کہ کہنے والے نے کہا کہ میرا یہ عصا محمد(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے بہتر ہے ( العیاذ باللہ ) اور فایدہ مند ہے کیونکہ اس عصا سے میں سانپ بچھو کو مارنے میں مدد لے سکتا ہوں جب کہ محمد(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) مرچکے ہیں اور ان سے کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوسکتا(۱۵) اس وجہ سے جو بات پہلے کہی گئی کہ مردوں سے توسل کرنا بے فائدہ ہے اگر چہ وہ مرد رسول اعظم(ص) جیسا پیغمبرہی کیوں نہ ہو ۔

محمد: بات اس کے برعکس ہے کیونکہ انسان کے مرنے کے بعد وہ چیزیں اس کے لئے اشکار ہوجاتی ہیں جو اس کے لئے مخفی تھیں خداوند عالم اس بارے میں فرماتا ہے:( فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید ) سورہ ق ،آیۃ۲۲ تو ہم نے تمہارے پردوں کو اٹھا دیا اور اب تمھاری نگاہیں بہت تیز ہوگئی ہے۔(۱۶)

( ولا تقوا الامن یقتلوا فی سبیل الله اموات بل احیاء ولا کن لا تشعرون ) ۔(۱۷) وہ لوگ جو راہ خدا میں قتل کئے گئے ان کو مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے: اور کہتا ہے "ولا تحسبن الذین قتلو افی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون" ہر گز ہرگز ان کو مردہ نہ سمجھنا کہ جو راہ خدا میں قتل کردئے گئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں ۔(۱۸)

صحیح بخاری میں آیا ہے کہ پیغمبر (ص) قلیب بدر ( وہ جگہ جہاں پر مشرکین کہ کشتوں کو ڈالا گیا تھا ) کے کنارے آئے اور مشرکین کہ کشتوں کو مخاطب کر کے فرمایا ’’خدا نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا اس کو میں نے حق پر پایا کیا تم لوگ اپنے خدا کے وعدوں کو پاسکے ؟ رسول اللہ (ص) سے کہا گیا مردوں سے جواب طلب کررہے ہیں ،

پیغمبر (ص) نے فرمایا ،تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو(۱۹)

اور غزالی ( مذہب شافعی کا ایک بزرگ ) نے بھی کہا ہے کہ کچھ لوگ موت کو نابود ی سمجھتے ہیں یہ عقیدہ ملحدوں ( اور کافروں ) کا ہے(۲۰)

غزالی نے یہ بات احیاء العلوم(۲۱) میں لکھی ہے اور تم اس کتاب میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہو ۔

کمال : غزالی کی یہ بات عجیب و غریب ہے ۔

محمد: غزالی کی بات عجیب و غریب نہیں ہے بلکہ تمہاری نادانی تعجب کی بات ہے کیا پیغمبر (ص) کا بدر کے کشتوں سے خطاب تم نے نہیں سنا اگر مرد ے ختم ہوچکے ہوتے تو پھر نہ وہ سمجھ رکھتے ہیں اور نہ ہی سننے کی طاقت اور پیغمبر (ص) کہ رہے ہیں کہ تم ان سے بہتر نہیں سن سکتے ،(۲۲) جو کچھ پیغمبر (ص) نے کہا اس بناء پر وہ ہماری طرح سنتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی اب تو آپ میری بات مانیں گے ۔

کمال: جی ہاں ، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اتنے سالوں میں میں نے ان آیتوں کی تفسیر اور مطلب پر غور کیوں نہین کیا ، کہ ان کا مقصد سمجھ سکتا اور کس طرح میں نے ایک بار بھی پیغمبر (ص) کی اس حدیث اور امام غزالی کے قول کو نہیں سنا ۔

محمد : اب تو آپ یہ مان لیں گے کہ شیعوں کمی انسان کے مرنے کے بعد نابود نہ ہونے کا دعویٰ ایک منصفانہ بات ہے اور واقعی ایک حقیقت ہے یا ابھی بھی آپ شک و تردید میں مبتلا ہیں ۔

کمال: نہیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ایک دوسری چیز ہے جو مجھے پریشان کررہی ہے ۔

محمد: کیا چیز آپ کو پریشان کرہی ہے

کمال: یہی کہ غزالی اس عقیدے پر تھے اور اس کے خلاف کو وہ کافراور ملحد سمجھتے تھے اور رسول اللہ نے مردوں کے زندہ ہونے کی تائید کی ہے لیکن محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد نابود ہوجاتا ہے اور دوسری طرف محمد بن عبد الوہاب کمال جسارت میں کہتا ہے کہ میرے ہاتھ کی لکڑی پیغمبر سے بہتر ہے کیونکہ یہ فائدہ پہچاتی ہے ۔

اور پیغمبر (ص)کوئی فائدہ نہیں پہچاسکتے(۲۳) یہی مسئلہ میرے لئے پریشان کھڑی کررہا ہے ۔

محمد: نہیں تم کو حیران اور متعجب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ لوگوں کو قرآن و سنت اور صالحین کی سیرت کے ترازو پر تولنا چاہیئے اگر ان کا کردار و گفتار قرآن سنت اور صالحین کی سیرت سے مطابقت رکھتا ہو تو اس کو مؤمن مانیں ، اور ہرگز دین کو لوگوں سے نہ سمجھو اگر ایک انسان کو مؤمن اور مخلص ہم نے سمجھا تو اس کی ہر بات اگر چہ وہ قرآن وسنت اور سیرت کے خلاف ہو اور کفر کا ریشہ رکھتی ہو عین اسلام سمجھ لیں نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ جب بھی کسی میں کوئی انحراف دیکھیں تو اس سے بچیں اور حقیقت کی پیروی کریں ۔

کمال: صحیح بات ہے ابھی تک میں اس شخص ( محمد بن عبد الوہاب ) سے بے حد عقیدت رکھتا تھا لیکن اب جب کہ آپ نے اس کی بہت بڑی غلطی جو کہ دین میں کفر و الحاد میں گنی جاتی ہے سے آگاہ کیا میرا عقیدہ اٹھ چکا ہے اور آج کے بعد میں اس سے اس لائق نہیں سمجھوں گا کہ دین کے مسئلہ میں اس کی پیروی کروں ۔

محمد: اس کی باتوں کو چھوڑو ہم اپنی باتوں کو آگے بڑھاتے ہیں ۔

کمال: ٹھیک ہے میں مانتا ہوں کہ انسان مرنے کے بعد ختم نہیں ہوتا لیکن اس فکر کے ساتھ کہ جو کہتا ہے کہ ( خلق خدا سے توسل کرنا شرک ہے اور دین سے جدائی ہے ) کس طرح ہم پیغمبر (ص) امام اور کسی صالح سے متوسل ہوسکتے ہیں ۔

محمد: کسی زندہ سے کچھ مانگنا یا کسی چیز کی درخواست کرنا یا دعا کرنے کے لئے کہنا یا یہ کہنا کہ اے باقر ، اے جعفر ، اے رضا مجھے کچھ مال دیدو یا خدا سے میرے لئے مغفرت کی دعا کرو یا میرا ہوتھ پکر کر مسجد کی طرح لے چلو ( شرع کی نظر ) میں جائز ہے ؟

کمال: البتہ جائزہے ۔

محمد: جب کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مردہ زندہ انسان کی طرحٍسنتا ہے تو اس سے کسی چیز کی طرح درخواست کرنے میں کیا پریشانی ہے ۔

کمال: (کچھ دیر سونچنے کے بعد ) صحیح کہہ رہے ہو بالکل ویسے ہی ہے جیسے کہہ رہے ہو ۔

محمد: ایک دوسری دلیل بھی ہے جو پیغمبر اور دوسرے صالحین سے توسل کرنے کو جائز قرار دیتی ہے ۔

کمال : کیا دلیل ہے

محمد : صحابہ(۲۴) نے پیغمبر (ص) کے زمانے میں اور ان کی وفات کے بعد ان سے توسل کیاہے پیغمبر (ص) نے اپنی زندگی میں اور ان کے بعد ان کے کسی ساتھی یا اصحاب نے اس کام کو کرنے سے نہیں روکا اور اگر غیر خدا سے توسل کرنا شرک ہوتا تو یہ اشخاص اس کام کو یقینا روکتے ۔

کمال: رسول اللہ کی وفات کے بود کون ان سے متوسل ہوا ۔

محمد: مثال کے طور پر میں چند نمونہ عرض کرتا ہوں ۔ بہیقی، اور ابن ابی شیبہ(۲۵) نے اسناد کے ساتھ روایت کی ہے ، اور احمد بن زینی و حلان سے بھی روایت ہوئی ہے کہ ( خلافت عمر کے زمانہ میں لوگ قحط کا شکار ہوئے بلال بن حرث رسول کی قبر کے پاس گئے اور کہا اے رسول خدا (ص) امت کے لئے بارش طلب کریں کہ بھوک اور خشک سالی سے وہ مرنے والے ہیں(۲۶) ہم یہ جانتے ہیں کہ بلال ایک مدت دراز تک رسول کے ہمنشین اور ساتھی تھے اور آپ کے صحابی تھے اور احکامات کو بلا واسطہ رسول سے حاصل کرتے تھے اگر رسول سے متوسل ہونا شرک ہوتا تو بلال ایسا کام نہیں کرتے ، یا اگر انہوں نے ایسا کیا بھی تو دوسرے اصحاب کو انہیں روکنا چاہییے تھا یہی بات ایک بہت مضبوط دلیل ہے کہ تسول سے متوسل ہوا جا سکتا ہے پھر بہیقی نے عمر بن خطاب سے نقل کیا ہے کہ رسول نے فرمایا کہ جب آدم (ع) سے خطا سر زد ہوئی تو انھوں نے فرمایایا رب اسئلک بحق محمد صلی الله و اله الا ما غفرت لی ،یا الله تجھ سے چاہتا ہوں کہ محمد (ص) کے واسطہ میرے گنا کو بخش دے(۲۷) اس وجہ سے اگر رسول اکرم (ص) سے حرام یا شرک ہوتا تو حضرت آدم (ع) ہرگز ایسا کام نہیں کرتے ۔ ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ جب منصور دوانیقی حج کے لئے روانہ ہوا تو قبر پیغمبر(ص) کی زیارت کے لئے بھی گیا وہاں اس نے مالک جو مالکیوں کا امام تھا ( یعنی مالک بن ادنس مالک بن غسیما ن بن خثیل بن عمرو ) سے کہا ادے ابو عبداللہ رو بہ قبلہ کھڑا ہو کر اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر دعا کروں یا پیغمبر (ص) کی قبر کی طرف رخ کروں ۔ مالک نے جواب دیا ، آخر پیغمبر (ص) کہ جو تمہارے اور تمہارے باپ آدم (ع) کے بارگاہ خدا میں وسیلہ بنے،ان سےکیوں منھ پھیررہے ہو، ان کی طرف رخ کرو اور ان کو اپنا شفیع قرار دو کہ بیشک خدا وند ان کی شفاعت کو تمہارے لئے قبول کریگا کہ خدا نے فرمایا ہے:"( ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوک فاستغفروا و الله و استغفر لهم الرسول لوجدنوا الله تواباً رحیمً ) (نساء ۶۴)(۲۸) ترجمہ:جب ان لوگوں نے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا او ر مہربان پاتے

یہ عبارت کہ ( وہ تمہارے اور تمہارے باپ آدم (ع) کا بارگاہ خدا سند میں وسیلہ ہیں )(۲۹) ایک محکم اور مضبوط دلیل ہے کہ رسول سے توسل کرنا جائز بلکہ مستحب ہے ۔

دار می نے اپنی صحیح میں ابو الجوزاء سے نقل کیاہے کہ ( مدینہ کے لوگ قحط سے دوچار ہوئے لہٰذا اپنی مصیبت کی شکایت عائشہ سے کی تو عائشہ نے کہا پیغمبر (ص) کی طرف نظر کرو اور اس کو اپنا وسیلہ قرار دو اس طرح سے کہ کوئی بھی چیز تمہارے اور آسمان کے درمیان حائل ہو ( یعنی خداوند کریم کی بارگاہ میں ان کو اپنا شفیع قرار دو ) ان لوگوں نے یہ کام انجام دیا جس کے نتیجہ میں آسمان پر بادل چھا گئے اور بارش کے بعد سبزہ اگ آیا ، اور اونٹ موٹے ہوگئے وہ سال ( موٹا پہ کا سال کے نام سے ) مشہور ہوگیا(۳۰) ایسے سینکڑوں قصے روایت کی کتابوں میں موجود ہیں کہ جو سب کے سب رسول سے ان کی وفات کے بعد توسل کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں اور جب کہ یہ ثابت ہوچکا کہ رسول سے توسل کرنا جائز ہے ، حرام اور شرک نہیں تو پھر اماموں فرشتوں اور صالحین سے توسل کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اگر یہ کام شرک ہے تو پھر پیغمبر (ص) کے لئے بھی منع ہونا چاہیئے اور اگر جائز ہے تو پھر صرف پیغمبر (ص) سے توسل کرنا صحیح نہیں بلکہ تمام صالحین سے توسل کرنا جائز ہوگا ۔ کمال: تعجب کی بات ہے ! جن روایتوں کی طرف آپ نے اشارہ کیا میں نے آج تک حتی ایک بار بھی نہ انھیں دیکھا تھا اور نہ ہی سنا تھا ۔

محمد : اگر آپ حدیثوں کی کتاب کی طرف رجوع کریں تو ایسی سینکڑوں مثالیں جو کہ رسول سے توسل کو جائز قرار دیتی ہیں کو آپ دیکھ سکتے ہیں جو کچھ میں نے بیان کیا وہ دریا کے مقابلہ میں ایک قطرہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آپ کا حدیث اور صالحین کی سیرت کے سلسلہ میں مطالعہ کم ہے ۔

کمال: میں مصروفیت کی وجہ سے اس کام کو انجام نہیں دے سکتا جبکہ میں بہت زیادہ حدیث اور سیرت کی کتابوں کے مطالعہ کا مشتاق ہوں ۔

محمد: اب جب کہ آپ کا حدیث کے سلسلہ میں مطالعہ بہت کم ہے تو کیا یہ صحیح ہے کہ آپ محمد بن عبد الوہاب کے کہنے پر شیعوں ور دوسرے مسلمانوں کو گالیاں دیں اور انہیں مشرک قرار دیں ؟ یہ کام صحیح نہیں ہے اگر اجازت دیں تو آپ کو ایک بات بتاؤں ۔

کمال : ( اس حال میں کہ ہنس رہاتھا ) جو جی میں آئے کہیں ہم دو دوست ہیں اور اسی دلیل سے اس موضوع کو بیان کیا تاکہ تمہاری معلومات سے استعفادہ کرسکوں ۔

محمد : تم بالکل قریش کے کافروں کی طرح ہو کہ اپنے باپ دادا کی بت پرستی کو بہانہ بنا کر کہتے تھے

( ان وجدنا اباء نا علی امة و انا علی آثار هم مقتدرون ) ۔(سورہ زخرف،ایۃ ۲۳)

ترجمہ:ہم نے اپنے باب دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں

اور اپنی بت پرستی پر اڑے رہتے تھے جانتے ہو خدا نے ان کی مذمت کیوں کی ؟ اس لئے کہ انھوں نے پیغمبر (ص) کے کہے کو نہیں مانا تا کہ اپنے راستے کو صحیح کرلیں اور یا اس لئے کہ ان کی بات کو سننے کے بعد بھی بت پرستی پر اڑے رہے میں تم سے چاہتا ہوں کہ آنکھ بند کرکے اپنے اجداد کی پیروی نہ کرو بلکہ فکر کا استعمال کرو اور حق کو ڈھونڈ و اور اپنی زندگی کو اس کے اوپر گذار و ، حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ ایک چھوٹا سا گروہ توسل تو شرک مانتا ہے اور باقی تمام اسلامی فرقے اس کو جائز مانتے ہیں کیا یہ بات تسلیم کروگے ۔

کمال: جی ہاں ، ظاہرا اس مسئلہ میں حق شیعوں اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ہے میں نے جو شیعوں کو گالیاں دیں اس کا کیا کروں ۔

محمد : خدا کی بارگاہ میں تو بہ کرو ہمیشہ حق کی جستجو کرو اور اسی کو مانو تا کہ خدا تمہیں معاف کر دے جو کچھ بھی شیعوں کے عقاید کے بارے میں سنو اس کی تحقیق کرو اور ان کی دلیلوں سے مطمئن ہو سکو اور تعصب سے دوری اختیار کرو کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے کہ بے جا ہر تعصب اپنے لئے آگ رکھتا ہے ۔

کمال: ایسا ہی کروں گا اور مجھ پر حقیقت کو روشنی کرنے کے لئے آپ کا شکر گذار ہوں ۔


قبروں کی زیارت

جمال: تم شیعہ حضرات اپنے لئے یہ کیا جنجال درست کرتے ہو ۔

جواد: کون سا جنجال ۔

جمال: یہی کہ رسول امام اور صالحین کی قبروں کو جاتے ہو ۔

جواد: اس کام میں کوئی پریشانی دکھتی ہے۔

جمال: یہ کام حرام ہے اور خدا کا شریک قرار دینا ہے ۔

جواد : تعجب کی بات ہے میں نہیں سمجھتا تھا کہ آپ بھی نادان اور کم آگاہ لوگوں کی طرح گفتگو کریں گے ،میں نہیں سمجھتا تھا کہ آپ کے جیس انسان بغیر کسی دلیل و برہان کے ایک تعصب سے بھری ہوئی بات کہے بہت پہلے سے میں آپ کی حقیقت جوئی کا احترا م کرتا تھا ۔

جمال: آپ کی نظر میں میری یہ بات تعصب سے بھری ہوئی ہے ۔

جواد : با لکل اس کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں ،

جمال: آپ اس نتیجہ تک کیسے پہنچے ۔

جواد : اپنے دعویٰ کو روشن کرنے کے لئے ہم قبروں کی زیارت کے موضوع پر بحث کریں گے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ حق پر کون ہے اور کون گمراہ ہے اور تعصب کی آگ میں جل رہا ہے۔

جمال: میں تیار ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ قبروں کی زیارت شرک ہے ۔

جواد: کس طرح اس کو شرک سمجھتے ہو ۔

جمال: اس طرح کہ یہ کام مشرکوں کی بت پرستی سے مشابہ ہے ۔

جواد: کیا اسی نقطہ سے اس کو شرک سمجھتے ہو

جمال: ہاں کیوں کہ جس طرح مشرکین کے گرد جمع ہوئے تھے یہ لوگ بھی قبروں کے گرد جمع ہوئے تھے ۔

جواد: یعنی قبروں کے گرد جمع ہونا ہی قبور کی زیارت کو شرک قرار دیتا ہے ۔

جمال: جی ہاں ۔

جواد: تو پھر تمام مسلمان مشرک ہیں اور تم بھی مشرک ہو

جمال: کیوں بھائی ، کس طرح ۔

جواد : حج پر گئے ہو۔

جمال : ہاں اللہ کا کرم ہے ۔

جواد : مسجد الحرام میں نماز بھی پڑھی ہوگی ۔

جمال: ہاں پڑھی ہے ۔

جواد: تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ نماز پڑھنے کی حالت میں لوگ کعبہ کی طرف رخ کر رہے ہونگے ، لیکن کچھ لوگ مغرب کی طرف کھڑے ہونگے تو کچھ لوگ شمال و جنوب کی طرف اور کچھ لوگ مشرق کی طرف ، ۔

جواد : اسی دلیل سے تمام مسلمان مشرک ہیں اور تم بھی مشرک ہو ۔

جمال: کیوں ۔

جواد : کیوںکہ عبادت کرتے وقت کعبہ کی طرف رخ کرنا بالکل اسی طرح ہے جس طرح بت پرست بتوں کی طرف رخ کرتے تھے فرق اتنا ہے کہ وہ لوگ عبادت کرتے وقت بتوں کی طرف رخ کرتے تھے اور تم ایک پھتر کی طرف رخ کرتے ہو ۔

جمال: کعبہ کی طرف رخ کرتے اور بتو کی طرف رخ کرنے میں ایک بہت بڑا فرق ہے ۔

جواد: کیا فرق ہے ۔

جمال : ہم اور دوسرے مسلمان جب حالت نماز میں کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کعبہ کی پرشتس کرتے ہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ایسا کرتے ہیں لیکن بت پرست بتوں کو خدا مانتے تھے ،اور ان کی پرشتس کرتے تھے اور عبادت کی حالت میں ان کی طرف رخ کرتے تھے ، اس وجہ سے جب وہ عبات کے وقت بتوں کی طرف رخ کرتے تھے تو اپنے تمام وجوہ کے ساتھ اللہ سے لو لگاتے ہیں وہ اپنے کام کی وجہ سے ایک کھلے ہوئے شرک میں مبتلا تھے اور ان کا کام شرک تھا لیکن یہ کہ ہم جب کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں اور اللہ کے حکم کو بجالاتے ہیں تو ہم مشرک کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ہمارے اور ان کی عبادت کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے ۔

جواد: اس لحاظ سے عمل کا مشابہ ہونا مشرک ہونے کی دلیل نہیں ہے کیوںکہ اگر شباہت شرک کی دلیل ہوتی تو پھر تمہارا کام بھی بت پرست کی طرح شرک ہوتا ،لیکن جو چیز بت پرستوں کے کام کو شرک اور تمہاے کام کو عبادت بتاتی ہے وہ ان کی نیت ہے نہ کہ عمل ، اور اسی وجہ سے تمہارا کعبہ کی طرف سجدہ کرنا ایک عمل شرک نہیں ہے کیونکہ تمہاری نیت کعبہ کی پرستش نہیں ہے

جمال: بالکل یہی بات ہے

جواد: ہم شیعہ اور دوسرے مسلمان جب مرقد پیغمبر (ص) امام یا صالحین کی زیارت کرتے ہیں تو ہماری نیت ان کی پرستش نہیں ہوتی اور اگر آپ ہمارے اور مشرکین کے عمل کو مشابہ قرار دیں تو فقط یہ شباھت دیکھنے کی ہے جب کہ ہماری نیت ان کی پرستش کی نہیں ہے ، اور جب ہم یہ مان لیں کہ کسی عمل کی شباہت کہ جس کے اندر غیر خدا کے پرستش کی نیت نہ ہو تو پھر زیارت نہ تو حرام ور نہ ہی شرک جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ نیت کے حساب سے جزا و سزا دی جائیگی(۲۵) ( اس رخ سے اگر ایک عمل غیر خدا کی پرستش کے لئے انجام نہ دیا جائے اور ایسی کوئی نیت ہمارے اندر نہ ہو تو وہ عمل جائز ہے مثال کے طور پر اگر آپ ایک ایسی جگہ نماز پڑھ رہے ہیں جہاں آپ کے سامنے ایک بت رکھا ہو تو اگر آپ کی نیت اس بت کی پرستش ہو تو آپ کی نماز باطل ہے اور آپ مشرک ہیں لیکن نماز اللہ کے لئے پڑھی جارہی ہے اور آپ کی نیت میں اس بت کے لئے کوئی جگہ نہ ہو تو آپ کی نماز صحیح ہے اور اس کام سے آپ مشرک نہیں ہونگے ۔ جمال: ( بہت دیر فکر کرنے کے بعد ) جو کچھ آپ نے فرمایا وہ بالکل صحیح ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کع جزا دے کہ آپ نے ایک اہم مسئلہ کو میرے لئے روشن کردیا جب کہ میں تعصب کی وجہ سے اس سے غافل تھا اب آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں

جواد : پوچھئے ۔

جمال: اب تک کی گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ قبروں کی زیارت حرام نہیں ہے بلکہ جائز ہے لیکن یہ کیا راز ہے کہ آپ شیعہ حضرات اس کام کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اس کی دلیل کیا ہے ۔

جواد : کیوںکہ یہ کام مستحب موکد ( وہ مستحب جس کی زیادہ تاکید کی گئی ہو ) ہے ۔

جمال: کیا یہ کام مستحب ہے ؟

جواد: جی ہاں اور اس کام کے مستحب ہونے پر بہت تاکید کی گئی ہے ۔

جمال: کیا ایسی کوئی حدیث موجود ہے کہ جو پیغمبر (ص) اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہو

جواد : جی ہاں بہت زیادہ اور اس کے علاوہ پیغمبر (ص) اور اسلام کے اوائل سے آج تک مسلمانوں کی سیرت اس کام کے مستحب ہونے پر تاکید کرتی ہے ۔

جمال : مہر بانی کرکے ان میں سے کچھ کو بیان کیجیئے ۔

جواد : ۱ ۔روایت میں آیا ہے پیغمبر اسلام (ص) شہدا ء احد کی قبروں کی زیارت کے لئے گئے(۲۶)

۲ ۔یہ بھی روایت ہوئی ہے کہ پیغمبر بقیع کی قبروں کی زیارت کے لئے گئے۔

۳ ۔سنن النسائی اور سنن ابن ماجہ اور احیاء العلوم میں ابوہریرہ نے پیغمبر (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا ۔زورو القبور فانھا تذکر کم علیٰ آخرۃ ۔قبروں کی زیارت کے لئے جاؤ کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہیں ۔(۲۷)

۴ ۔ابو ہریرہ سے یہ بھی روایت ہے کہ پیغمبر (ص) اپنی ماں آمنہ بنت وہب کی قبر کی زیارت کے لئے گئے اس قبر کے کنارے کھڑے ہوکر روئے اور حضرت کے چاروں طرف کھڑے لوگ بھی روئے پھر آپ نے فرمایا فزورو القبور فانھا تذکرکم با لآخرۃ ، قبروں کی زیارت کے لئے جاؤ کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں(۲۸)

۵ ۔ بہت سی حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ اہل قبور کی زیارت کس طرح کی جائے کہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب کوئی زائر بقیع جائے تو کہے ،السلام علیکم اهل الدیار من المؤمنین والمسلمین ...........سلام ہو آپ پر اے مومنو اور مسلمانو ں جو اس دیار میں رہتے ہیں(۲۹) .

اب تک جو کچھ بیان کیا گیا وہ صالحین اور مؤمنین کی اس قبروں کی زیارت کے مستحب ہونے کے بارے میں تھا ۔

اور بہت سی روایتوں میں خود پیغمبر (ص) کی قبر کی زیارت کے بارے میں اشارہ ہوا ہے کہ ان میں سے کچھ کو میں بیان کرتا ہوں ۔

( ۱) دار قطنی ، غزالی اور بہیقی نے روایت کی ہے کہ پیغمبر (ص) نے فرمایا ۔من زارنی وجبت لہ شفا عتی ،جس نے میری زیارت کی میری شفاعت اس کے لئے واجب ہے(۳۰)

( ۲) پیغمبر (ص) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:"...من زارنی با لمدینۃ محتسبا کنت لہ شفیعا و شھید ا یوم القیامۃ" ۔ جس کسی نے بھی خدا کے لئے مدینہ میں میری زیارت کی قیامت کے دن میں اس کا شفیع اور گواہ بنوں گا(۳۱)

( ۳) نافع نے عمر سے نقل کیاہے کہ پیغمبر (ص) نے نقل فرمایا:".من حج ولم یزرنی فقد جفانی "

.جو کوئی بھی حج کرے اور میری زیارت نہ کرے اس نے مجھ پر ظلم کیا (۳۲ )

( ۴) ابو ہریرہ نے پیغمبر(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:"..من زارنی بعد موتی نکانما زارنی حیا "

.جس نے میرے مرنے کے بعد میری زیارت کی وہ اسی طرح ہے کہ جس نے میری زندگی میں زیارت کی ۔(۳۳)

( ۵)من حج و قصد نی فی مسجدی کانت له حجتا ن مبرورتان ۔۔۔۔جس نے حج کیا اور میری مسجد میں میری زیارت کے لئے آیا اس کے لئے دو حج مقبول لکھے جائیگے(۳۴)

اور بہت سی روایتین موجود ہیں جو کافی شدت سے اس عمل کی تاکید کرتی ہیں کہ رسول خدا(ص) اور دوسرے مومنین کی قبروں کی زیارت کی جائے ۔کیا رسول (ص)کا یہ کہنا کہ جو حج کرے اور میری زیارت نہ کرے اس نے مجھ پر ظلم کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ(ص) کی زیارت کرنا مستحب ہے اور یہ عبارت کہ" مجھ پر اس کی شفاعت واجب ہے" اس بات کی دلیل نہیں کہ پیغمبر (ص) کی زیارت کرنا مستحب موکد ہے اور وہاں جہاں پر آپ نے فرمایا کہ قبروں کی زیارت کو جاؤ کیا یہ زیارت کا حکم نہیں ؟ البتہ یہ حکم اگر وجوب پر دلالت نہ کرے۔لیکن اس کے مستحب ہونے پر یقینا دلالت کرتا ہے ،

جمال: یہ روایت کہاں آئی ہے ۔

جواد: حدیثوں کی کتاب اس طرح کی روایتوں سے بھری ہوئی ہیں اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو آپ کو حقیقت معلوم ہوجائیگی ۔

جمال : میں نے آج تک ان میں سے ایک بھی روایت نہ پڑھی اور نہ ہی سنی ۔

جواد : صحیح بخاری(۳۵) پڑھی ہے ۔

جمال: یہ کتاب میرے پاس نہیں ہے ۔

جواد : صحیح مسلم(۳۶) پڑھی ہے ۔

جمال: میرے والد کے پاس یہ کتاب تھی لیکن ان کی موت کے بعد میرے چچا اسے لے گئے ۔

جواد: سنن نسائی(۳۷) ؟ کیا اس کو پڑھا ہے ۔

جمال: یہ کون سی کتاب ہے اور کس چیز کے بارے میں ہے ۔

جواد: حدیث کی کتاب ہے ۔

جمال: نہیں اس کو میں نے نہیں دیکھاہے ۔

جواد: تو پھر حدیث میں کیا پڑھا ہے ۔

جمال: معاف کیجیئے گا ،میں میڈیکل کا طالب علم ہوں ، اور میری تمام کوشش اپنے درس کو حاصل کرنے میں رہتی ہے باوجود اس کے کہ میں حدیث کو پڑھنا چاہتا ہوں لیکن اس کے لئے فرصت نہیں ملی پاتی ۔

جواد: جب آپ نے حدیث نہیں پڑھی ہے اور اس کے متعلق کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا ہے ،اور علم حدیث سے کوئی واقفیت نہیں رکھتے تو پھر آپ نے اپنے کو یہ اجازت کیسے دی کہ پیغمبر اور اماموں کی قبروں کی زیارت کو محکوم کریں ،آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ زیارت اہل قبور کو شرک کہنا بے بنیاد ہے ۔

جمال: میں نے ، میرے باپ دادا نے ، اور میرے دوستوں مے اب تک جو کچھ بھی قبروں کی زیارت کے بارے میں سنا تھا وہ فقط ان کو محکوم کرنے والی باتیں تھیں ، اور ایک بھی ایسی بات یار وایت جو آپ نے بیان کیں میرے کانوں سے نہیں ٹکرائی تھیں ۔

جواد: انسان کو چاہیئے کہ حقیقت تک پہنچنے کے لئے تحقیق و مطالعہ کرے تا کہ ایسا عقیدہ اور کردار حاصل کرسکے جیسا کہ خدا چاہتا ہے اور دوسروں کے کہنے پر اکتفا نہ کرے ۔

جمال: میں مانتا ہوں کہ پیغمبر (ص) اماموں (ع) اور صالحین کی قبروں کی زیارت صرف یہ کہ مستحب موکد اور پسندیدہ عمل ہے بلکہ اس کی طرف بلایا گیا ہے ۔

جواد: آپ سے ایک درخواست ہے ۔

جمال: میں اس کو سننے کے لئے تیار ہوں کہئے ۔

جواد: بہت اصرار کے ساتھ میں آپ سے چاہتا ہوں کہ ہر آواز اور مہیا ہو کی طرف نہ بڑ ھو اور اپنے عقیدے کو تسلیم نہ کرو مگر یہ کہ تحقیق کے راستے سے اس آواز کی حقیقت کو سمجھو یا اس عقیدے کی اصیت تک پہونچو کہ اس صورت میں تم کامیاب ہوجاؤگے ۔

جمال: اب سے پہلے میں یہ مانتا تھا کہ قبروں کی زیارت شرک ہے لیکن اب جب کہ آپ نے اسلامی روایت کے ذریعہ یہ روشن کردیاکہ وہ مستحب موکد ہے تو میں اس کا قائل ہوں اور اس نتیجے پر بھی پہونچا ہوںکہ اختلافی مسائل کے حل کے لئے مطالعہ کروں اور آپ کی رہنمائی سے بھی استفادہ کروں ۔

ہمارے درمیان جو باتیں ہوئیں تو اس مسئلہ پر میں اپنے بزرگوں سے اور دوستوں سے بحث کروں گا ، کہ شاید وہ بھی صحیح راستہ پر چل پڑیں ۔

جواد: آپ کا شکر گذار ہوں ۔

جمال: میں بھی آپ کی روشب فکری کہ جس کی وجہ سے میں ہدایت پائی آپ کا شکر گزار ہوں ..............خداحافظ


متعہ

عبداللہ : جب تمام مسلمان متعہ کے حرام ہونے پر اجماع رکھتے ہیں تو آپ شیعہ حضرات اس کو جائز کیوں مانتے ہیں ۔

رضا: عمر خطاب کے قول کے مطابق ’’رسول خدا (ص) اس کو حلال اور جائز سمجھتے تھے ‘‘ہم بھی اس کو جائز مانتے ہیں ۔

عبد اللہ : پیغمبر (ص) نے کیا کہا تھا ۔

رضا : جاحظ ، قرطبی ، سرخسی حنفی ، فخر رازی اور بہت سے دوسرے اہل سنت اماموں نے نقل کیا ہے کہ عمر نے خطبہ میں کہامتعتان کانتا علیٰ عهد رسول الله (ص) و انا انهی عنها و اعاقب علیها متعة الحج و متعة النساء رسول (ص) کے زمانہ میں دو متعہ جائز تھے میں انہیں منع کررہا ہوں اور جو اس کا مرتکب ہوا اس کو سزادوں گا ، متعہ حج(۳۸) اور متعہ نسائ(۳۹) ( ازدواج موقت )۔

تاریخ ابن خلکان میں آیا ہے کہ عمر نے کہا دو متعہ پیغمبر (ص) اور بوبکر کے زمانہ میں جائز تھے اور انھیں منع کرتا ہوں۔(۴۰)

آپ کا اس کے بارے میں کیا نظریہ ہے کیا عمر کا یہ کہنا کہ دومتعہ رسول (ص) کے زمانے میں جائز اور حلال تھے ایک سچی بات ہے یا جھوٹ ہے ۔

عبداللہ: عمر سچ کہہ رہے ہیں ۔

رضا : تو پھر رسول (ص) کے کہنے کو چھوڑ دینا اور عمر کے کہنے کو مان لینے کی کیا وجہ ہے ۔

عبد اللہ: اس بات کی وجہ عمر کا منع کرنا ہے

رضا: تو پھر ( حلال محمد(ص) روز قیامت تک حلال ہے اور حرام محمد (ص) روز قیامت تک حرام ہے(۴۱) ) کا کیا مطلب یہ ایک ایسی بات ہے جس پر تمام علمائے اسلام بغیر کسی استثناء کے متفق ہیں ۔

عبداللہ: ( کچھ فکر کرنے کے بعد ) صحیح کہہ رہے ہیں ، لیکن پھر عمر بن خطاب نے اس کو حرام کیسے کردیا اور انکے پاس اس کے لئے کیا سند تھی ۔

رضا: یہ ان کا پنا اجتہاد تھا اگر چہ ہروہ اجتھاد جو نص کے مقابلہ میں کیا جائے قابل قبول نہیں ہے ۔

عبداللہ : حتی اگر وہ اجتہاد عمر بن خطاب کا ہو ؟!

رضا: اگر اس سے بھی بزرگ کا ہو تب بھی اس پر توجہ نہیں کی جاسکتی آپ کی نظر میں خدااور رسول(ص) کا فرمان پیروی کرنے لائق ہے یا عمر بن خطاب کی بات ؟

عبداللہ : کیا قرآن میں متعہ اور اس کے جائز ہونے کے سلسلہ میں کوئی آیت آئی ہے ؟

رضا: ہاں خداوند عالم فرماتا ہے :( فما استمتعتم به منهن فأتوهن اجورهن فریضة ) ۔۔۔۔ ؛؛؛سورہ نساء ۲۴ ۔ پس جو بھی ان عوتوں سے تمتح(متعہ)کرے ان کی اجرت انھیں بطور فریضہ دیدے ۔۔۔۔)

مرحوم علامہ امینی نے اہل سنت کی کتابوں سے بہت زیادہ مدارک اکٹھا کیے ہیں کہ جن میں سب کے سب اس آیت کی شان نزول کو متعہ کے بارے میں مانتے ہیں اور اسی کو متعہ کے جائز ہونے کی سند قرار دیتے ہیں(۴۲)

عبد اللہ: آج تک اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا ۔

رضا: کتاب الغدیر کا مطالعہ کرنے سے آپ دیکھیں گے کہ اس میں وہ تمام باتیں موجود ہیں جو میں نے کہیں اور یہ کہ حلال خدا ورسول(ص) کو صرف عمر کے کہنے سے کیسے کنارہ کردیا جئے ؟ آخر ہم کس کی امت ہیں رسول خدا(ص) کی یا عمر کی ؟

عبد اللہ : ہم تو رسول (ص) کی امت ہیں ، اور عمر کی فضیلت اس لئے ہے کہ وہ رسول کی امت میں سے ہیں ۔

رضا: تو پھر وہ کیا چیز ہے جو تم کو رسول کو کہے پر چلنے سے روکتی ہے ؟

عبد اللہ : متعہ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق مجھے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔

رضا: لیکن یہ مسئلہ مسلمانوں کا مورد اتفاق نہیں ہے ۔

عبداللہ : کس طرح ۔

رضا: جس طرح کہ تم نے ابھی کہا کہ شیعہ متعہ کوجائز سمجھتے ہیں شیعہ مسلمانوں میں تقریبا ً آدھے ہیں جو کہ ایک عرب تک ہیں(۴۳) اب جبکہ شیعوں کی اتنی بڑی جماعت اس کو جائز اور حلال سمجھتی ہے توپھر یہ اتفاق نظر کیسے وجود میں آئیگا ؟ ۔

اس بھی آگے بڑھ کر معصوم اماموں کہ جو رسول کے خاندان سے تھے کہ جن کی مثال پیغمبر(ص) نے کشتی نوح سے دی تھی

’’مثل اهل بیتی فیکم کمثل سفینة نوح ‘‘(۴۴) میرے اہل بیت(ع) کی مثال تمہارے درمیان کشتی نعح کی طرح ہے

اور یہ بھی فرمایا’’انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله وعتری اهل بیتی ‘‘(۴۵) ۔میں تمہارے دو گرانقدر چیزیں چھوڑیں جارہا ہوں ایک کتاب خدا دوسرے میرے اہل بیت‘‘۔ یہ بزرگان ( اہل بیت جن کی پیروی نجات کا راستے اور اللہ سے قربت حاصل کرنا ہے اور ان سے منھ پھیرنا اور دوسروں کی بات ماننا گمراہی ہے ) متعہ کو جائز سمجھتے تھے اور اس کے منسوخ ہونے کو نہیں مانتے تھے شیعوں نے بھی اس مسئلہ میں ان کی پیروی کی ہے ،امیرالمؤمنین (ع) سے روایت ہے کہ آپ (ع) نےفرمایا’’لولا ان عمر نهی عن المتعة ما زنی الاشقی ۔ اگر عمر متعہ سے نہ روکتے تو بیشک شقی کے علاوہ کوئی اپنے دامن کو زنا سے آلودہ نہ کرتا۔(۴۶)

حضرت علی (ع) کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عمر کے متعہ کو روکنے کی وجہ سے لوگ متعہ نہ کرسکے اور چونکہ ہر ایک دائمی بیوی کا خرچ نہیںاٹھا سکتا تو ناچار ہو کر وہ اپنے دامن کو زنا سے آلودہ کرتا ۔

مسلمانوں کے رہبروں کا متعہ کو جائز ماننا اور یہ کہ بہت سے صحابی ،تابعین اور مسلمانوں نے قرآن اور رسول کی اجازت سے استدلال کیا ہے اور عمر کے منع کرنے کو باطل مانا ہے تو پھر یہ کہنا کہاں جائز ہے کہ اس بات میں مسلمانوں پر اجماع ہے اور کس اتفاق نظر کی بات کہی جارہی ہے یہاں پر میں ان لوگوں میں سے کچھ کا ذکر کرتا ہوں جنھوں نے متعہ کو جائز مانا ہے ۔

( ۱) عمران بن الحصین کہتے ہیں: متعہ کی آیت قرآن میں آئی ہے اور دوسری آیت نے اس کو منسوخ نہیں کیا ہے ۔ رسول خدا(ص) نے ہم کو اس کی اجازت دی اور ہم نے ان کے ساتھ حج تمتع کیا اور جس وقت انھوں نے وفات کی انھوں نے اس تمتع سے نہیں روکا لیکن اس شخص ( عمر بن خطاب ) نے رسول کی وفات کے بعد اپنی رائے سے جو چاہا کہا(۴۷)

( ۲) جابر بن عبداللہ اور ابوسعید خذری ۔ یہ دونوں کہتے ہیں عمر کی خلافت کے درمیانی زمانہ تک ہم متعہ کرتے تھے ،یہاں تک کہ عمر نے عمر وبن حریث کے معاملہ میں اس کو لوگوں کے لئے حرام کردیا ۔

( ۳) ابن حزم نے ’’المحلی‘‘میں اور زرقانی نے ’’شرح المؤطا ‘‘میں عبداللہ بن مسعود کو ان لوگوں میں شامل کیا ہے جو متعہ کو جائز مانتے تھے حافظان حدیث نے بھی ان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا غزوہ میں رسول (ص) کے ساتھ جنگ کررہے تھے اور اپنی بیوی کو اپنے ساتھ نہیں لایا تھا ہم نے رسول (ص) سے کہا اور فرمایا یارسول خدا(ص)

رسول نے ہم کو اس کام سے روکا اور اجازت دی کہ ایک معین مدت تک کے لئے بیوی حاصل کرلیں ( متعہ کرلیں ) پھر یہ آپ آیت پڑھی:

"( یا ایها الذین امنوا لا تُحرموا طیبٰت ما احل الله لکم و لا تعتدوا اِنّ الله لا یُحب المعتدین ) " ( سورہ مائدہ آیت ۸۷ ) اے ایمان والو جن چیزوں کو خدا نے تمہاتے لیے حلال کیا ہے انھیں حرام نہ بناءو اور حد سے اگے نہ بڑھو کہ خدا تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(۴۸)

۴) عبد اللہ بن عمر ۔احمد بن حنبل ( حنبلیوں کے امام ) اپنی سند کے ذریعہ عبداللہ بن نعیم اعرجی سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ عبداللہ بن عمر کے پاس تھا ، ایک شخص نے متعہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا خدا کی قسم رسول (ص) کے زمانہ میں ہم زنا کار نہیں تھے (اپنی احتیاج کو متعہ کے ذریعہ پورا کرلیتے )(۴۹) ۔

۵) سلمہ بن امیہ بن خلف ابن حزم نے ’’المحلی ‘‘ میں اور زرقانی نے شرح المؤطامیں نقل کیا ہے کہ مسلمہ بن امیہ متعہ کو جائز اور مباح جانتے تھے

۶) معبدین امیہ بن خلف ،ابن حزم نے ان کو متعہ مباح جاننے والوں میں شمار کیا ہے ۔

۷) زبیر بن العلوام ، راغب کہتا ہے عبداللہ بن زبیر نے عبداللہ بن عباس کے متعہ کو جائز سمجھنے کی وجہ سے سر زنش کی ابن عباس نے اس سے کہا اپنی ماں سے پوچھو کہ کیسے .................اس نے اپنی ماں سے جاکر سوال کیا اس کی ماں نے جواب دیا تم متعہ کے ذریعہ دنیا میں آئے ہو(۵۰) یہ داستان متعہ کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔

۸) خالد بن مہاجربن خالد مخزمی ، وہ ایک شخص کے نزدیک بیٹھا تھا کہ ایک دوسرا آدمی آیا اور متعہ کے بارے میں سوال کیا خالد نے اس کے مباح ہونے کا جواب دیا ۔

ابن ابی عمرہ انصاری نے اس سے کہا ، آہستہ ( اتنی آسانی سے کیوں فتویٰ دے رہے ہو ) خالد نے کہا خدا کی قسم اس کام کو میں نے پرہیز گاروں کے سردار کے زمانہ میں انجام دیا ہے(۵۱)

۹) عمر بن حریث حافظ عبد اللہ الرزاق نے اپنی کتاب ’’مصنف ‘‘ میں ابن حریح سے نقل کیا ہے کہ ابوالزبیر نے میرے لئے نقل کیا کہ جابر نے کہا کہ عمربن حریث کوفہ آیا ، اور وہں ایک کنیز سے متعہ کیا اس کنیز کو جب وہ حاملہ تھی عمر کے پاس لایا گیا ، عمر نے اس ماجر ہ کو عمر سے پوچھا اس نے بھی تائید کی اسی وجہ سے عمر نے متعہ کو روک دیا(۵۲)

۱۰) ابن ابی کعب

۱۱) ربیعہ بن امیہ

۱۲) سمیر (سمرۃ ) بن جندب

۱۳) سعید بن جبیر

۱۴) طاؤس یمانی

۱۵) عطاابومحمد مدنی

۱۶) سدی

۱۷) مجاھد

۱۸) زفربن اوس مدنی ، اور دوسرے بزرگ صحابہ ، تابعین ، اور بزرگ مسلمانوں نے عمر کے اس فتویٰ واجتہاد کو محکوم کیا ہے ۔

اے عبد اللہ اتنی تفصیل کے ساتھ کہ اب بھی تم متعہ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کے اجماع کی بات کرو گے ۔

عبداللہ۔ میں معافی چاہتا ہوں جو کچھ میں نے آپ سے کہا وہ سب میری سنی ہوئی باتیں تھیں اور ان کے صحیح ہونے کے بارے میں کوئی مطالعہ و تحقیق نہیں تھی اب میں اس نتیجہ تک پہونچ ہوں کہ اسی طرح کے سائل میں تحقیق و مطالعہ کروں تاکہ حقائق کو بے جاتعصب مذہبی سے دور ہوکر حاصل کرسکوں اور ان کی حقیقت کو سمجھ سکوں ۔

رضا۔ تو اب آپ مانتے ہیں کہ متعہ جائز و مباح ہے ۔

عبدا للہ ۔ جی ہاں ، اور یہ بھی سمجھتاہوں کہ اس کے منع کرنے والوں صرف اپنی خاہشات پر عمل کیا اور قرآ ن نے جو حکم اس کے جائز ہونے کے لئے دیا ہے اس کو کسی دوسری آیت کے ذریعہ منسوخ نہیں کیا اور اس نتیجہ پر بھی احکام خدا کو نہیں بدل سکتے ، میں ابھی تک تعجب کررہا ہوں کہ کس طرح عمر نے یہ فتویٰ دیا اگر آپ یہ مہربانی کریں کہ مجھے کچھ کتابو ں کے نام بتادیں کہ جو بغیر کسی تہمت کے ان موضوع پر بحث کرتی ہو ۔

رضا ۔ علامہ امینی کی ’’الغدیر ‘‘علامہ شرف الدین کی ’’النص والاجتہاد ‘‘اور ’’الفصول المہمہ ‘‘ اور استاد توفیق الفکیکی کی ’’المتعہ‘‘ایسی کتابیں ہیں جن کا مطالعہ آپ کرسکتے ہیں ، ان کتابوں کو دقت کے ساتھ پڑھو ۔

عبد اللہ ۔ یقینا ایسا ہی کروں گا داور خدا سے آپ کے لئے نیکی چاہوں گا ۔

رضا۔ یہاں پر اہل سنت پر ایک اور اشکال وارد ہوتا ہے کہ جو ان کے عمر کے فتوء کو ماننیکے بارے میں ہے ۔

عبد اللہ ۔ کیا اشکال ہے ۔

رضا ۔عمر نے متعہ زنان اور متعہ حج دونوں سے روکا ہے پھر اہل سنت متعہ حج کو جائز کیوں مانتے ہیں اور متعہ زنان کو حرام کہتے ہیں اگر عمر کا فتویٰ صحیح تھا تو پھر دونوں متعہ حرام ہے اور اگر باطل تھا تو دونوں متعہ جائز ہے ۔

عبداللہ ۔ کیا اہل سنت متعہ حج کو جائز مانتے ہیں ۔

رضا ۔ ہاںاگر آپ ان کی کتابوں کی طرف رجوع کریں تو اس حقیقت کی طرف آگاہ ہوجائیں گے ۔

عبد اللہ ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ ۔

( سبحان ربک رب العزة عمایصفون و سلام علی المرسلین والحمد لله رب العالمین ) (صافات آیت ۱۸۰ ۔ ۱۸۲)

صادق حسینی الشیرازی


کتاب شناسی

المراجعات

یہ کتاب ان خطوط کا مجموعہ ہے جو امامت اہلبیت ٪کے سلسلے میں سید عبد الحسین شرف الدین اور ”سلیم البشری ،اہل سنت کے بڑے عالم اور جامعہ الازہر کے رئیس“کے درمیان لکھے گئے تھے ۔

اس بحث کے نتیجہ میں الازہر کے استاد (رئیس)نے مذہب تشیع کو حق مانا اور اعلان کیا کہ تشیع فروع اور اصول دین میں خاندان رسالت سے اماموں کی پیروی کرتے ہیں ۔

)حقیة الشیعہ الاثنی عشریة(شیعہ دوازدہ امامی کی حقیقت)

یہ کتاب ڈاکٹر اسعد وحید قاسم (جو کہ غزہ (فلسطین)سے تعلق رکھتے ہیں)کی شیعہ مذہب کے بارے میں کی گئی تحقیق ہے اور یہی کتاب سبب بنی کہ ڈاکٹر امامت اہلبیت ٪ کو مان لیں اور مذہب تشیع کا انتخاب کریں ۔

مو لف نے اہلسنت کے مصادر سے کتاب لکھی ہے اور شیعوں کی حقانیت کو ثابت کیا ہے ،

ڈاکٹر اسعد کا” المنبر “ مجلہ کے ساتھ ایک انٹرویو ہے جس میں آپ فرماتے ہیں :

۱ ۔جب میں نے صحیح بخاری کی اسناد سے شیعوں کی حقانیت کو ثابت کیا تو وہابیوں نے میرے کفر کا فتویٰ دے دیا ۔

رسول اسلام (ص) کی رحلت کے بعد جو واقعات پیش آئے اس میں مذہب پنجم کی راہ و روش صحیح ہے میں اور میرے ساتھی کہا کرتے تھے :شیعہ اسلام کے لئے یہود و نصارا سے بھی زیادہ خطرناک ہیں لیکن میں حقیقت تک پہونچا۔

حدیث منزلت میں لفظ (بعدی)حضرت (ع)کے وصی اور خلافت بلا فصل کی تاکید ہے ۔

مذہب تشیع میں :عقائد صاف و روشن اور منطقی تر ،احکام سازگار اور اخلاقی ڈھانچا بہت بلند ہے ۔

رکبت السفینة(جب میں کشتی نجات پر سوار ہوگیا )

یہ کتاب ایک اردنی محقق ”مروان خلیفات “(فارغ التحصیل شریعت کالج اردن )(جس نے مذہب شیعہ کو اختیار کیا ہے )کی لکھی ہوئی ہے ۔

شیعہ ہونے سے پہلے اس کی اپنے ساتھیوں سے گفت وگو و بحث ہوئی جس کی وجہ سے اس نے مذہب اہل بیت ٪ کے بارے میں تحقیق کرنا شروع کی۔

آخر میں مذہب شیعہ کی حقانیت اس پر واضح ہوگئی اور یہ کہ یہ مذہب اصل اسلام ہے ۔

مو لف نے وہابیت کی رد ”رد ّوہابیت“اور اہل تسنن کے مدارس دینی کے نساب پر بھی انگلی اٹھائی ہے اس کا ماننا ہے کہ سنی مدارس ابھی اس بات کے محتاج ہی کہ اپنے مکتب کی درستی اور اس کے اصل اسلام سے نزدیک ہونے کو ثابت کریں ۔

الخدعہ (رحلتی من السنّةالی الشیعة)”تسنن سے تشیع کی طرف میرا سفر“

اس کتاب کا مولف ایک مصری صحافی ”صالح الوردانی“ہے،اس نے اس کتاب میں ان سختیوں کا ذکر کیا ہے ہے جو مذہب اہلبیت ٪ کو اختیار کرنے کے سلسلے میں پیش آئیں ۔

اس نے اپنی دلیلوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ مذہب اہلبیت ٪وہی اسلام ہے جو خدا نے خلق کے لئے بھیجا ہے ۔

اس زمینہ میں اس کی دوسری کتابیں بھی ہیں کہ جن میں تاریخ ،عقائد ومذاہب اسلامی پر الگ گفتگو ہوئی ہے ۔

رسالة المنبر(مجلہ المنبر شمارہ ۲۲ ،ذی الحجہ سال ۲۲۴۱ ھ)نے اس مولف سے ایک ملاقات کی اور انٹرویو لیا جس کے چندچیزیں مہم ذیل میں ذکر کررہے ہیں :

۔اہل تسنن کو ایک تحریک کی ضرورت ہے جس سے وہ صحابہ کے سلسلے کے توہم سے نجات حاصل کرسکیں ۔

۔سنی فکر امت کے لئے عدالت ،صلح اورامنیت بخشنے میں ناکام ہے ۔

۔سنی فکر میں تحقیق اور تفکر کے ذریعہ میں مذہب اہلبیت ٪ تک پہنچا نہ کہ شیعہ فکر سے ۔

۔وہ جوان جو شیعہ ہوگئے ہیں ان کو گھر والوں نے باہر کردیا ہے اور وہ ایک روٹی کی تلاش میں ہیں تاکہ اپنی بھوک مٹاسکیں ۔

۔تشیع نے تفکر اور دوسرے فکر کے ابزار کو محترم مانا ہے وہ باب اجتہاد کھلا رکھا ،حکومتوں کے ساتھ سازش نہیں کرتا جبکہ تسنن اس کے بالکل برعکس عمل کرتاہے ۔

۔سقافت تشیع ترقی یافتہ ذہن ،فکر کی آزادی اور رفتار کی برتری کی وجہ سے اہل تسنن پر برتری رکھتا ہے ۔

لماذا اخترت مذھب اہل البیت ؟(میں نے مذہب اہل بیت کیوں اختیار کیا؟)

شیخ محمد مرعی انطاکی (شام کے قاضی القضات) اس کتاب کے مو لف ہیں ۔

یہ شام (سوریا)کے سب سے مڑے سنی عالم دین اور مذہب شافعی کے ماننے والے تھے اور انھوں نے مذہب اہلبیت ٪ کو اختیار کیا ۔

مطالعہ اور تحقیق کے بعد وہ شیعہ ہوئے کیوں کہ وہ اسی نتیجہ پر پہونچے کہ اہلبیت ٪ اسلام حقیقی کے پہچنوانے والے ہیں اور احکام اسلام کے صحیح مفسر ہیں ۔

الحقیقة الضائعة (کھوئی ہوئی حقیقت)

شیخ معتصم سید احمد ،ایک بزرگ عالم دین ،اس کتاب کے مولف ہیں ۔

تحقیقات اور مطالعات کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہونچے کہ تنہا مکتب اہلبیت کا عقیدہ حق ہے ۔

ان کا ماننا ہے کہ مذہب تشیع اختیار کرنے سے پہلے وہ سرگردان اور گم ہوکرغلط راستے پر چل رہے تھے اور اب جب کہ مذہب اہلبیت اختیار کرلیا ہے اور اس پر عقیدہ رکھتے ہیں تو در اصل ساحل امن پر پہنچ گئے ہیں ۔

شبھائے پیشاور )پیشاور کی راتیں ) peshawar`sNights

پیشاور (جو پاکستان کا ایک شہر ہے)میں چار سنی علماءاور ایک شیعہ عالم دین سید محمد موسوی شیرازی (سلطان الواعظین)کے درمیان بحث ومناظرہ کے کئی جلسے ہوئے اخباروں نے ان بحثوں کو چھاپا جس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ شیعہ ہوئے ۔

سلطان الواعظین کی ایک اور کتاب (فرق ناجیہ )نام کی ہے جس میں ان کے اور چند سنی طلبہ کے بیچ مناظرہ اور ان سنی طلبہ کے شیعہ ہونے اس مناظرہ کی تمام تفصیل کو جمع کیا ہے ۔

المواجھة مع رسول اللہ (ص)وآلہ)پیامبر اور ان کی خاندان سے مقابلہ)

خط اہلبیت اور بنی امیہ کے درمیان موجود فاصلہ اور فرق جو حکومت حاصل کرنے کے لئے تھااس کتاب کا موضوع ہے جو کہ ایک اردنی وکیل احمد حسین یعقوب نے لکھی ہے اور یہی چیز اس کے شیعہ ہونے کا سبب بھی بنی ۔

تشیع اور تسنن کے موضوع پر ان کی کئی دوسری کتابیں بھی ہیں ۔

”المنبر “ جریدہ کو دئے گئے ایک انٹرویو میں اپنے شیعہ ہونے کی داستان سنائی ہے (شمارہ ۰۱ ،ذی الحجہ ۱۲۴۱ ھ)

کون عاقل اور متفکر ہے جو آل محمد ٪کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی کرے ؟

میں نے اپنے خدا سے عہد کیا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک اہلبیت کی حقانیت کا دفاع کروں گا ۔

کیا مسلمان یقین کریں گے کہ پیغمبر نے بتوں کے لئے قربانی کی اور اس قربانی کا گوشت کھایا ؟یہ بات بخاری نے اپنی (صحیح )میں لکھی ہے ۔

میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ شیعہ ہوا وہوس سے دور خدا کے حکم سے اور احکام شرعی کے اساس پر اہل بیت ٪ کی پیروی کرتے ہیں ۔

لقد شیعنی الحسین)امام حسین نے مجھے شیعہ کردیا )

یہ کتاب مغرب کے ایک صحافی ادریس الحسینی نے لکھی ہے جس میں مذہب اہلبیت ٪ کو بحث کا موضوع بنا کر اس کی حقانیت کو ثابت کرتے ہوئے اپنی شیعیت کا اعلان کیا ہے اور اس خاندان کے دشمنوں کی بدکاریوں کو بڑی جرائت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

(المنبر)کو دئے گئے انٹرویو میں قابل توجہ نکات کی طرف اشارہ کیا ہے (شمارہ ۳ ، جمادی الاول ۱۲۴۱ ھ)

مجھے آزادی بیان دیجئے ،پوری دنیا کے لوگوں کو شیعہ کردوں گا ۔

تشیع روح کی معراج اور مستقبل کی طرف توجہ دلانے والی ہے ۔

جی ہاں !امام حسین -نے مجھے شیعہ کیا !لیکن میں اب بھی سنی ہوں اس فرق کے ساتھ کہ اب میں اصل سنت رسول کی پیروی کرنے والا ہوں ۔

السلفیة بین اہل السنة والامامیہ

محمد الکثیری ،جو ایک مغربی محقق ہے جس نے مذہب اہلبیت ٪ کو اختیار کیا ،اس نے سلفی (وہابیوں)کی پیدائش اور اسلام کو پہنچنے والے نقصانات کو اس کتاب میں بیان کیا ہے ۔

وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سلفی (وہابیت )شیعہ سے پہلے سنیوں کی نظر میں باطل ہے ۔

فلسطینی لیڈر محمد شحادہ سے انٹرویو

محمد شحادہ فلسطین جہاد کے ایک لیڈر ،نے مذہب اہلبیت ٪ کو سب سے برتر مان کر اپنا یا (اختیار کیا)اور تمام نفرتوںاور کینوں کے باوجود ،ذریعہ اطلاععات کو انٹرویو دئے اور اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کیا اور من جملہ سعودی عرب کے جریدہ (المجلّہ ) میں بھی یہ اعلان کیا ۔

المنبر “نے بھی آپ سے ایک انٹرویو لیا ااس انٹرویو کے درمیان محمد شحاد نے ایک نکتہ بیان کیا جو ہم ذیل میں ذکر

کررہے ہیں:

۔میں اس لئے شیعہ ہوا کیوں کہ علی - کو مظلوم پایا۔

۔تشیع سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اتنی مدت سنی رہا ۔

میں امید کرتا ہوں کہ میں (پھر میں ہدایت پاگیا )کہنے والاآخری فرد نہ ہوں۔

فلسطین میں تشیع کے فروغ کے لئے ہم کوشش کریں گے اور خدا سے اس کام میں کامیابی کے خواہاں ہیں ۔

اپنے مولا امام زمانہ (عج)کی خدمت میں فریاد کرتا ہوں کہ اے مہدی !ہماری مدد کو آئیں کہ وقت آگیا ہے ۔

دفاع من وحی الشریعة ضمن السنة والشیعة

(شریعت کا دفاع اہل تسنن ااور اہل تشیع کی نظر میں)

یہ کتاب ایک سنی دانشمند شیخ حسین الرجاءکی کاوش ہے جو سوریا سے تعلق رکھتے ہیں ۔

اس میں مو لف نے ان تمام چیزوں کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے وہ شیعہ ہوئے ۔

وہ شہر ”حطلہ“کے ریش سفید اور سنی وقم کے سربراہ تھے لہذا لوگوں نے بھی آ پ کی پیروی کی اور شہر حطلہ کے کافی لوگ شیعہ ہوگئے اور کشتی نجات پر سووار ہوگئے ۔

”المنبر“نے آپ سے ایک انٹرویو کیا اور اس میں ان کے شیعہ ہونے کی داستان کو بیان کیا ،ہم ذیل میں چند نکات ذکرکرہے ہیں:

۔چار سال کے مطالعہ ااور تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچاکہ حق خاندان رسالت کے پا س ہے ۔

۔ہمارے قریہ کا ایک شخص شیعہ ہوگیا میں اپنے خیال میں اس کی ہدایت کرنے گیا تاکہ وہ اپنے سابق (پہلے)مذہب کی طرف لوٹ آئے لیکن اس نے مجھے حقیق ہدایت کردی ۔

۔جب مذہب شیعہ کی حقانیت مجھ پر آشکار ہوگئی تو میں نے طے کیا کہ چاہے جان چلی جائے لیکن شیعیت کو اختیار کروں گا ۔

۔شیعہ ہونے کے بعد اہل سنت کے ایک بزرگ سے مناظرہ کیا وہ جب مجھے قانع نہ کرسکا تو غصہ کے عالم میں اس نے اپنا عمامہ اتارا اور پھاڑ کر پھینک دیا ۔

۔تشیع ہمیشہ مظلوم رہی اور شیعہ تاریخ کے مظلوم اافراد ہیں ۔

شیخ شحاة (مصر کے ایک عالم دین) سے انٹرویو

شیخ حسن شحاة ”الازھر یونیورسٹی“کے ایک دانشمند نے مذہب تشیع اختیار کرلیا ا س کی وجہ سے مصر کے سنی علماءخصوصاً قاھرہ کے علماءمیں تنش پیدا ہوئی ،اخبارات نے اس پر بہت لکھا اور لوگوں کو ان کے خلاف ورغلایا ،آخر میں حکومت نے صحابہ کی توہین کے الزام میں ان کو جیل میں ڈال دیا کیوں کہ شیخ حسن شحاة نے جمعہ کے خطبہ میں ان حقائق کی طرف اشارہ کیا جو ان پر روشن ہوگئے تھے ۔

(رسالہ المنبر شمارہ ۱۱ ، محرم ۲۲۴۱ ھ )نے ان سے ایک انٹرویو لیا ،ہم اس میں سے چند نکات یہاں ذکر کررہے ہیں :

۔امیر المومنین حضرت علی -سے محبت کا اعلان میری تمام دارائی کے عوض میںتمام ہوا لیکن میرے پاس ان حضرت کو دینے کے لئے یہی چیز تھی ۔

۔مصر میں عاشور کے دن عید کی خوشی منائی جاتی ہے میرے تمام وجود نے فریاد کی کس طرح فرزند رسول کی شہادت پر تم لوگ تالی بجارہے ہواور خوش ہورہے ہو

۔یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ معاویہ ایک سرکش گروہ کا سردار تھا اس حال میں کوئی اس کو (معاوویہ کو)سرور،سردار،آقا اور جس سے خدا راضی ہو کیسے کہہ سکتا ہے ؟


حاشیہ

۱۔ صحیح بخاری ،ج۱ص۱۲۸،حدیث ۳۲۸ ، کتاب تیمم صحیح مسلم : ج۲ص ۹ حدیث ۵ کتاب مساجد و موانع الصلاۃ ،سنن ترمذی ، ج۲ ،ص ۱۳۱ ، باب ۳۶ حدیث ۳۱۷ شیخ صدوق من لا یحضرہ الفقیہ ،ج۱،ص۱۵۵ باب ۳۸حدیث ۱شیخ حر عاملی : وسائل الشیعہ ج۲،۹۶۹:۹۷، باب ۷،حدیث ۳ جواز تشیع

۲۔ایک روایت میں رسول اسلام (ص)نے فرمایا :میرا بیٹا حسین (ع)کربلا نام کی جگہ پر دفن کیا جائے گا زمین کا وہ حصہ ”قبّة الاسلام “یعنی اسلام کی ڈھال ہے اور خدا نے نوح کے ساتھ ی مومنوں کو ہیں توفان سے نجات دی تھی ۔

اسی طرح امام باقر (ع)نے ارشاد فرمایا : غاضریہ(کربلا کا ایک اور نام)وہ جگہ ہے جہاں موسیٰ بن عمران نے خداسے کلام کیا اور نوح نے خداسے مناجات کی اور یہسرزمین خدا کے نزدیک سب سے قیمتی ہے ۔

اور اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا ”اولیا“اور اپنے پیغمبر کی اولاد کی قبریں یہاں قرار نہ دیتا (دوسو پیغمبر اور دو سو وصی(جانشین پیغمبر)کربلا سے اپنے معبود سے ملاقات کے لئے گئے (انتقال کیا)

پس غاضریہ میں ہماری قبروں کی زیارت کرو ،خدا نے کعبہ کو امن و امان کی جگہ قرار دینے سے ۲۴ ہزار سال پہلے امن و مبارک حرم قرار دیا ،کربلا کی زمین اور فرات کا پانی وہ پہلی زمین اور پانی ہیں جنھیں خدا نے مقدس اور مبارک بنایا (کامل الزیارات ابن قولویہ ص۴۴۴،ب۸۸ فضیلت کربلا)

علاءابن ابی عاثہ کہتے یہں :راس الحالوت نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے : جب بھی کربلا پہونچتا تھا اپنی سواری کو تیز کردیتا تھا اور تیزی سے وہاں سے نکل جاتا تھا،میں نے اس کی وجہ پوچھی؟

جواب دیا: ہم اپنی باتوں میں کہا کرتے تھے کہ ایک پیامبر زادہ اس سرزمین پر مارا جائے گا اور میں اس ڈر سے کہ وہی مقتول ہوں اس جگہ سے تیزی سے گذر جاتاتھا ۔

جس وقت امام حسین (ع) شہید ہوئے ہم نے کہا کہ : یہ وہی واقعہ ہے جس کی باتیں ہوتی تھیں

میرے باپ نے کہا: اس واقعہ کے بعد میں کربلا سے جب بھی گذرتا بہت آہستہ حرکت کرتا (چلتا)(تاریخ طبری ج۵ ص۳۹۳ حوادث سال۶۰ہجری ۔الکامل فی التاریخ ج۴ ص۰۹ حوادث سال۶۱ہجری)

مصباح المتہجد ص۷۳۴میں آیا ہے: معاویہ ابن عمار نے روایت کی ہے کہ امام صادق (ع) کے پاس زرد رنگ کا ایک کپڑاتھا کہ جس میں کچھ مقدار میں امام حسین (ع)کی تربت موجود تھی جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ تربت کو اپنے سجادہ پر رکھتے اور اس پر سجدہ کرتے اور کہتے :”السجود علی تربة الحسین (ع) یفرق الحجب السبع “ ۔

۴۔کامل الزیارات ،ص ۲۷۴

۵۔اہل سنت کے علماءنے شیعہ کی تعریف (معانی)یوں بیان کی ہیں :”شیعہ وہ گروہ ہے جو فقط علی (کرم اللہ وجہہ )کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی محبت کو اپنے دل میں رکھتے ہیں ،ان کی امامت اور خلافت کو ”نص“اور ”وصیت“مانتے ہیں ،وہ معتقد ہیں کہ امامت ان کی اولاد پر منحصر ہے اور اگر ان کے ہاتھ سے نکل جائے تو بے شک ظلم و ستم کی وجہ سے ایسا ہوا ہے جو دوسروں نے آپ حضرات پر کیا ہے یا اس امام کی تقیہ کی وجہ سے ہے“(الملل والنحل ،شہرستانی ج۱ ص ۶۴۱۔۷۴۱،فصل ۶)

(اشیاع )شیعہ کی جمع ہے ”شیعہ“کسی ایک فرد یا گروہ کے دوستوں اور مددگاروں کو کہا جاتا ہے لیکن صدر اسلام میں یہ کلمہ علی اور ان کے گھر والوں کے دوستوں کے لئے استعمال کیا جانے لگا ۔

شیعہ عامہ کے مقابلہ میں بھی ہےں اس لئے ”خاصہ “کہلاتے ہیں ۔

خاصہ نزدیک کے رشتہ داروں کے معنی میں ہے جو ”تغلیب “کی وجہ سے علی (ع) کے چاہنے والوں کو کہا گیا ہے ۔

شیعہ ایک پرانا نام ہے ۔

مرحوم کاشف الغطاءکہتے ہیں : تشیع اسلام کے ساتھ پنپا ہے اور اس مدعا پر شاہد وہ روایات ہیں جو اہل سنت کے علماءنے نقل کی ہیں اور ان کے موثق ہونے میں کوئی شک نہیں اور کسی طرح کا کوئی جھوٹ اس میں داخل نہیں ہوسکتا ان میں سے ایک وہ تفسیر ہے جو ”سیوطی“نے آیہ ”اولئک هم خیر البریة وہی لوگ بہترین خلق ہیں “کے ذیل میں لکھی ہے ۔

وہ کہتے ہیں :ابن عساکر نے جابر ابن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا :ہم پیغمبر کی خدمت میں تھے علی (ع) تشریف لائے پیامبر نے فرمایا: اس کی قسم کہ جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ شخص اور اس کے شیعہ روز قیامت سچے ہیں ،رسول اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کے اس قول کے بعد یہ آیت نازل ہوئی

(الدرالمنثور فی تفسیر کتاب اللہ الماثور)

ابن ہشام لکھتے ہیں :امت عرب سقیفہ کے دن شیعہ اور سنی کے دو گروہ میں بٹ گئی ۔

محمد ابو زہرہ اس مسئلہ میں کہتے ہیں :شیعہ اسلام کا سب قدیم سیاسی اسلامی مذہب ہے جو عثمان کی حکومت کے آخری حصہ میں ظاہر ہوا اور خلافت علی (ع) کے زمانہ میں رشد حاصل کیا ،کیوں کہ علی لوگوں سے جتنے نزدیک ہوتے لوگوں کے دلوں میں ان کی دینداری ،علم و دانش ااور ہیبت اور زیادہ ہوجاتی

(تاریخ المذاہب الاسلامیہ)

ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی شرح نہج البلاغہ نے لکھا ہے :ایک شعی معاویہ کے زمانے میں اپنے آپ کو کتابی (یہودی و مسیحی )کہلانے پر راضی تھا لیکن شیعہ نہ کہا،تشیع کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ فضائل اہل بیت ٪ ،ان کے علم و دانش ک یپیروی ،بدعت گذاروں سے دوری اور بہترین اخلاق سے آراستہ پاک طینت رکھنے والوں کی پیروی کرتے ہیں۔

(شیخ محمد خلیل الدین : تاریخ الفرق الاسلامیہ ص۸۰۱۔۹۰۱)

لفظ سنّت روش ،طریقت کے معنی میں ہے لیکن فرقہ شناسوں کے درمیان ایک دوسرا معنی رکھتا ہے ۔

فقہ اور حدیث کے اعتبار سے ”فعل ،قوقل اوراستقرار(خاموشی) پیامبرپر اطلاق ہوتا ہے ۔

سنت شیعہ کے مقابلہ میں قرار دی گئی :اہ؛ سنت وجماعت خاصہ کے مقابلہ میں ہے ۔

ابن تیمیہ کے نزدیک سنت یعنی عثمانی اور علی ؑ سے محبت اور ابو بکر و عمر کو ان دونوں پر مقدم کرنا ۔فرق و مذاہب کی تعداد زیادہ ہونے سے بعض کا خیال یہ ہے ”سنی“ان کو کہا جاتا ہے جو شیخین (ابوبکر و عمر) سے محبت کریں اور ان دو کی پیروی کریں (تاریخ الفرق الاسلامیہ ص۴۴۔۵۴)

۶۔سورہ حج ۲۲ آیت ۳۲

۷۔ سورہ حج ۲۲ آیت ۳۲

۸۔سورہ اسراء ۱۷ آیت ۲۶۔۲۷

۹۔ابن خلدون ۔عبدالرحمن بن خلدون حضرمی،۷۳۲ ھجری میں تیونس میں پیدا ہوا ۔اصل میں اشبیلیہ(سیویل) اندلس(اسپین)کا تھا ۔ابن الخطیب نے اپنی کتاب "الاحاطۃ فی اخبار غرناطہ " میں اس طرح لکھا ہے کہ :"وہ (ابن خلدون)مغرب کا رہنے والا ہے (بردۃ)کی اتنی بھترین شرح کی ہے کہ وہ اس کی حافظہ کی سرشاری اور ادراک کی تنوع کی دلیل بن گیں ہے۔ابن رشد کی بھت سی کتابوں کا خلاصہ کیا اور سلطان ابو سالم کے واسطہ فلسفہ اور دیگر کتابوں پر تعلیقہ لگایا۔

سن ۸۰۸ ھجری میں مصر میں وفات کی۔اس کی معروفترین کتاب "تاریخ ابن خلدون " ہے۔

۱۰۔تاریخ ابن خلدون ج۱،ص۳۵۳

۱۱۔ سورہ حج ۲۲ آیت ۳۲

(علی ابن احمد معروف بہ ”ابن حزم ظاہری“)کیالفصل فی الملل والامواءوالنحل ،(شہرستانی الملل والنحل)۱۲۔

حسن ابن موسیٰ نوبختی کی” فرق الشیعہ“

محمد خلیل الزبن کی ”تاریخ الفرق الاسلامیہ“

امام ترتیب کے ساتھ علی ابن ابی طالب - ،جوانان جنت کے سردار اور رسول کے نواسے حسن و حسین ٭(علی (ع)کے بیٹے) اور حسین - کے ۹ بیٹے ۱۳۔

اکثر فرق اسلامی کے نزدیک متواتر روایات نے امات کو قریش سے ۱۲افراد کو مانا ہے جو اس طرح ہیں

علی ابن ابی طالب - ،حسن ابن علی -، حسین ابن علی -،علی ابن حسین -، محمد ابن علی - ، جعفر ابن محمد -، موسیٰ ابن جعفر -، علی ابن موسیٰ -، محمد ابن علی - ، علی ابن محمد -،حسن ابن علی - ،حجة ابن الحسن - جن کا لقب(صاحب الزمان اور مہدی ہے )

۱۴۔صحیح بخاری ،ج۱،ص۳،حدیث ۱ ،باب ۱،کتاب (بدء الوحی الی رسول اللہ(ص)؛تفسیر الکبیر ،فخر رازی ،ج۴،ص۵،مساٗلہ ۴ تفسیر آیت ۱۱۲ سورہ بقرہ تھذیب الاحکام ،ج۱ ص ۸۳

۱۵۔(کشف الارتیاب ص۱۳۹)(خلاصۃ الکلام ،ص۲۳۰ سے نقل کی گئی )

۱۶۔سورہ ق ایت ۲۲

۱۷۔سورہ بقرہ ۲،آیت ۱۵۴

۱۸۔سورہ ال عمران ۳،آیت ۱۶۹

۱۹۔صحیح بخاری،ج۱،ص ۴۶۲ باب ۸۵ حدیث ۱۳۰۴ بخاری نے اس روایت کو اس طرح بھی نقل کیا ہے : پیامبر” قلیت بدر“سے گذرے اور مشرکین کی لاشوں (کشتوں )سے کہا: تمہارے خداوں جو وعدہ کیا تھا کیا اسے سچا مانا ؟

ساتھیوں نے کہا :”مردوں سے بات کررہے ہیں ؟“

پیامبر نے فرمایا: تم لوگ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔

۲۰۔احیاء العلوم ج۴،ص ۴۹۳،باب ۷

۲۱۔ احیاء العلوم ج۴،ص ۴۹۳،باب ۷

۲۲۔صحیح بخاری(صحیح بخاری ج۱ ص۴۶۲ باب ۸۵ حدیث ۱۳۰۴)

۲۳۔کشف الارتیاب ،ص ۱۳۹

۲۴۔صحابی اس کو کہتے ہیں جس نے رسول (ص) پر ایمان رکھتے ہوے آپ سے ملاقات کی ہو اور مسلمان مرا ہو۔اگر چہ اس بیچ کے زمانہ وہ مرتد ہو گیا ہو(الرعایۃ فی علم الدرایۃ،ص ۳۳۹)

۲۵۔سنن کبری،بیھقی؛المصنف،ابن ابی شیبہ،ج۷،ص۴۸۱اور سیرہ،احمد بن زینی دحلان۔

۲۶۔( الدرالسنیۃ ص ۱۸)یا رسول الله استسق لامتک فانهم هلکوا

۲۷۔ سمہودی خلاصۃ الکلام ص۱۷چاپ مصر ۱۳۰۵قمری اور طبرانی نے معجم الکبیر ج۹ ، ص۱۸ )

۲۸۔خلاصۃ الکلام ص۱۷

۲۹۔خلاصۃ الکلام ص۱۷

۳۰۔ سنن دارمی جلد ۱ ص ۴۳ ،۴۴

۲۵۔ صحیح بخاری ج۱ ص۳ اس طرح تفسیر کبیر ج۴ ص۵،تفسیر ایۃ۱۱۲ سورہ بقرہ )

۲۶۔ صحیح مسلم ج۲،ص۶۳ ،سنن نسائی ج۳، ص۷۶ )

۲۷۔ سنن ابن ماجہ ج۱،ص۵۰۰،احیاء علوم الدین ج۴،ص۴۹۰

۲۸۔ سنن ابن ماجہ ج۱، ص۵۰۱۔

۲۹۔ صحیح مسلم ج۲، ص۳۶۵۔ منتخب کنز العمال (حاشیہ سند احمد ج۲، ص ۸۹ میں عبارت ’’من المؤمنین والمؤمنات"

۳۰۔( علی بن عمر دار قطنی سنن ج،۲ص ۲۷۸۔ احیاء العلوم ج۴ص، ۹۱۔۴۹۔ سنن کبریٰ ج۵، ص ۲۵۴

۳۱۔.(احیاء العلوم ج۴، ص۴۹۱ ۔۔منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج۲، ص۳۹۲)

۳۲۔( کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج۲، ص ۲۹۳

۳۳۔۔۔(کنز العمال حاشیہ مسند احمد ج۲، ص۳۹۲)

۳۴۔کنزالعمال حاشیہ مسند احمد ج۲، ص۳۹۲)

۳۵:۔احیاء علوم الدین ج۴،ص،۴۹۰۔۴۹۱

۱۲۔سنن ابن ماجہ ج۱،ص۵۰۰،باب ۴۷،حدیث ۱۵۶۹

۳۵۔محمد بن اسماعیل (بخاری)،کے بارے میں حافظ عقیلی کہتے ہیں جب بخاری نے اپنی کتاب "صحیح"لکھ لی تو اس کو احمد بن حمبل ،یحیی بن معین ،علی بن المدینی و غیرہ کو دکھایا،سب نے اس کی تعریف کی اور چار موارد کے علاوہ اس کو صحیح جانا۔

نساءی نے کتاب بخاری کے بارے میں کہا ہے کہ :تمام کتابوں میں محمد بن اسماعیل بخاری کی کتاب سب سے بھتر ہے۔

حاکم نیشاپوری کھتے ہیں:خدا رحمت کرے محمد بن اسماعیل پر،جس نے اصول(حدیث)کو جمع کیااور دوسروں کے لیے سنگ بنیادرکھ دی ،اس کے بعد جس نے بھی اس میدان میں قدم رکھا ہے یقیناً اس نے صحیح بخاری سے مدد حاصل کی ہے۔

۳۶۔مسلم بن حجاج قشیری۔حافظ،ابو علی نیشاپوری صحیح کے بارے میں کہتے ہیں"اسمان کے نیچے علم حدیث میں صحیح مسلم سے بہتر کتاب موجود نہیں ہے۔

۳۷۔احمد ابن شعیب نساءی۔ابن رشید فھری نساءی کی کتاب کے بارے میں کہتے ہیں :"نساءی کی کتاب 'سنن'میں بدیع ترین کتاب ہے۔نساءی کی کتاب میں مسلم اور بخاری دونوں کا تریقہ اخیتار کیا گیا اور کتاب العلل سے بھی مدد حاصل کی ہے۔

۳۸۔ جب حاجی حج تمتع کا عمرہ انجام دے اور احرام سے باہر آجائے تو پھر جب تک وہ دو بارہ حج تمتع کا احرم نہ باندھے اس وقت تک وہ تمام مباح کاموں کو انجام دے سکتا ہے جو حالت احرام پہ اس پر حرام تھے ۔

۳۹۔جاحظ البیان و التبیان ج۲ ، ص۲۲۳ ۔تفسیر قرطبی ج۲، ص۹۱۔۳۹۰ ۔تفسیر کبیر ج۲، ص۱۶۔۲۰۲ ۔۲۰۱

۴۰۔تاریخ ابن خلکان ،ج۲ ص۳۵۹

قال رسول اللہ (ص): ”حلال محمد حلال الی یوم القیامة وحرامہ حرام الی یوم القیامة“۴۱۔

سنن ابن داؤد سجستاتی ،ج۱،ص۶ باب دو حدیث ۱۲۔کافی ج۱، ص۵ حدیث ۱۹ ۔ وسائل الشیعہ ج۱۸، ص۱۲۴

۴۲۔(الغدیر ج۶ ،ص۲۳۶ ۔۲۲۹)

۴۳۔ آج مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو عرب ہے کہ ان میں سے آدھے شیعہ ہیں (انور سادات صدر جہور مصر نے اسلامی کنفرنس جو قاہرہ میں منعقد ہوئی تھی میں کہا تھا کہ (سروے)کے مطابق شیعہ مسلمان جمیعت کے آدھے کو تشکیل دیتے ہیں

۴۴۔(بحار انوار ج۱۰، ص۱۱۱)

۴۵۔( مسند احمد بن حنبل ج۳ ،ص۱۷۔۲۶۔۹ ۵۔ج،۴ ص۳۶۸

۴۶۔ محمد ابن مسلم نے امام باقر -سے جابر ابن عبد اللہ سے نقل کرتے ہیں :مسلمان رسول خدا (ص) کے ساتھ جنگ پر گئے اور آپ نے ان کے لئے (متعہ )حلال کیا اور اس کوحرام نہیں کیاحضرت علی -کہا کرتے تھے : اگر خطاب کے بیٹے (عمر)حکومت حاصل کرنے میں مجھ سے آگے نہ بڑھا ہوتا تو شقی کے علاوہ کوئی زنا نہ کرتا۔(بحار الانوار ج۰۰۱، ص۴۱۳ ، باب ۰۱، حدیث ۵۱۔تفسیر مجمع البیان ج۵، ص۹ صحیح سند کے ساتھ ( بحار انوار ج،۱۰۰ص۳۱۴۔ تفسیرمجمع البیان ج۵،ص۹ )

۴۷۔ تفسیر قرطبی ج۲، ص ۳۸۵ حدیث۱۰۲۶۔روایت کے آگے اس طرح ہے ”آیہ متعہ قرآن میں آئی ہے اور پیامبر نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے لیکن اس کو نسخ کرنے والی آیت نازل نہیںہوئی اور رسول خدا (ص)نے بھی اپنی زندگی میں ہمیں اس سے نہیں منع کیا (آپ کے بعد)اس شخص نے جو چاہا کہا “

۴۸۔ صحیح بخاری ج۵،ص۱۹۵۳ ۔ صحیح مسلم ،ج۳ص۱۵۳۔۱۹۲۔سنن کبریٰ ۲۰۰۔ الدرمنثور ج۲،ص۳۰۷

۴۹۔ مسند احمد ج۲ ص۹۵

۵۰۔ المحاضرات ج۲،ص۹۴

۵۱۔ صحیح مسلم ج۳ ،ص۱۹۸ ۔۱۹۷ ،سنن الکبریٰ ،ج۷ ،ص۲۰۵

۵۲۔ فتح الباری ،ج۹ ص۱۴۱


فہرست

پیش لفظ ۴

مقدمئہ مؤلف ۶

سجدہ گاہ پر سجدہ ۷

ضریع اور بارگاہ بنانا ۱۲

حرم اولیاء کی تزیین ۱۷

ضریح کا بوسا لینا ۲۱

اولیاء خدا سے توسل ۲۴

قبروں کی زیارت ۳۱

متعہ ۳۷

کتاب شناسی ۴۲

المراجعات ۴۲

)حقیة الشیعہ الاثنی عشریة(شیعہ دوازدہ امامی کی حقیقت) ۴۲

رکبت السفینة(جب میں کشتی نجات پر سوار ہوگیا ) ۴۲

الخدعہ (رحلتی من السنّةالی الشیعة)”تسنن سے تشیع کی طرف میرا سفر“ ۴۳

لماذا اخترت مذھب اہل البیت ؟(میں نے مذہب اہل بیت کیوں اختیار کیا؟) ۴۳

الحقیقة الضائعة (کھوئی ہوئی حقیقت) ۴۴

شبھائے پیشاور )پیشاور کی راتیں ) peshawar`sNights ۴۴

المواجھة مع رسول اللہ (ص)وآلہ)پیامبر اور ان کی خاندان سے مقابلہ) ۴۴

لقد شیعنی الحسین)امام حسین نے مجھے شیعہ کردیا ) ۴۵


السلفیة بین اہل السنة والامامیہ ۴۵

فلسطینی لیڈر محمد شحادہ سے انٹرویو ۴۵

دفاع من وحی الشریعة ضمن السنة والشیعة ۴۶

(شریعت کا دفاع اہل تسنن ااور اہل تشیع کی نظر میں) ۴۶

شیخ شحاة (مصر کے ایک عالم دین) سے انٹرویو ۴۷

حاشیہ ۴۸