یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المیہ جمعرات
تالیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیجانی سماوی (تیونس)
مترجم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مقصود احمد انصاری
ای بک کمپوزنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظی
نیٹ ورک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبکہ امامین حسنین علیھما السلام
اعوذ بالله من الشیطان الرجیم
بسم الله الرحمان الرحیم
الحمد الله رب العالمین
والصلواة والسلام والتحیة و الاکرام علی سید الاونبیاء والمرسلین
واهل بیته الطیبین الطاهرین المعصومین
الذین اذهب الله عنهم الرجس وطهر هم تطهیرا
وغضب الله علی اعدائهم الی یوم الدین
٭٭٭٭٭
مقدّمہ مؤلف
قارئین کرام !
ہر دور میں مسئلہ امامت وخلافت کے متعلق اہل علم نے کتابیں تصنیف کیں اور مقالات لکھے اور یہ مقالات سال کے چار موسموں کی طرح یکے بعد دیگرے لکھے جاتے رہے ۔
شہرستانی نے " الملل والنحل" میں بالکل بجا لکھا ہے کہ امت اسلامیہ میں مسئلہ خلافت پر جس قدر نزاع ہوا ہے اتنا نزاع کسی دوسرے مسئلہ پر دیکھنے میں نہیں آیا ۔
میں نے اپنی سابقہ کتابوں میں ان عوامل پر کافی بحث کی ہے جو مسلمانوں کی بد نصیبی اور زوال کا سبب بنے اور بحمد اللہ میری کتابوں کو قارئین کرام کے ایک طبقہ میں کافی نصیب ہوئی ۔اس پزیرائی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ میں خود زندگی کے ایک طویل عرصہ تک اندھی تقلید میں مبتلا رہا پھر اللہ تعالی نے مجھ پر خاص کرم کیا اور اس اندھی تقلید کے حلقہ سے مجھے باہر نکالا اور حقیقت کی معرفت عطا فرمائی اور ادراک حق میں مانع پردوں اور حجابات کو میری نگاہوں سے دور کردیا ۔
اس نعمت غیر مترقبہ کے شکرانے کا تقاضا بنتا تھا کہ میں حق کا دفاع کروں ۔اور اپنے قلم ،زبان ،اور ہاتھ کی تمام توانائیوں کو کام میں لا کر حق کی نصرت کروں ۔
الغرض یہ کتاب اسی شکرانہ نعمت کے طور پر لکھی گئی ہے ۔اور آپ نے اس کتاب کا ایک طویل عرصہ تک انتظار کیا ۔جس کے لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں ۔جب یہ کتاب لکھ رہا تھا تو بہت سے افراد مجھ پر خفا بھی ہوئے ۔جب کہ حق پرست احباب نے میری حوصلہ افزائی بھی فرمائی ۔ ناراض اذہان نے مجھ پر بعض غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہونے کا بھی الزام لگانے سے گریز نہیں کیا ۔اور حوصلہ شکن حالات کے باوجود میں بلا خوف لومتہ الائمہ کتاب لکھنے میں مصروف رہا اور اسے کے ساتھ میں نے دل ودماغ میں یہ فیصلہ کیا کہ دنیا کے ہر الزام کو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن ضمیر اور حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔
موجودہ کتاب "المیہ جمعرات " اس درد کی داستان ہے جسے سینکڑوں بر س بیت چکے ہیں ۔لیکن امت اسلامیہ کے وجود میں آج بھی اس درد کی ٹیسیں محسوس ہو رہی ہیں اور جب تک سلسلہ روز شب باقی ہے اس کا درد محسوس ہوتا رہے گا ۔
آپ اس ہولناک منظر کو ذہن میں لائیں ۔یہ وہ وقت تھا جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری زندگی کا چراغ بجھنے والا تھا ۔ رسول خدا نے اسامہ بن زید کی لشکر مقرر کیا ۔خلفائے ثلاثہ اور دیگر اکابر صحابہ کو اس لشکر میں جانے کا حکم صادر فرمایا ۔لیکن خلفائے ثلاثہ نے لشکر کی روانگی میں جان بوجھ کر تاخیر کرائی اور یہ کہہ کر لشکر کو جانے سے روکتے رہے کہ "حضور اکرم کی طبیعت ناساز ہے ۔اور ادھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے ام المومنین عائشہ انہیں لمحہ لمحہ کی خبر دے رہی تھیں ۔
ام المومنین اپنے والد محترم کو اس لئے خبریں فراہم کر رہی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے والد مدینہ آکر مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ۔اور پھر ان کی "امامت الصلواۃ"کو بنیاد بنا کر انہیں خلافت رسول کا حقدار ثابت کیا جائے ۔
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت تکلیف میں تھے ۔انھوں نے
جب لوگوں کا شور غوغا سنا تو پوچھا کہ معاملہ کیا ہے ؟اس وقت آپ کو بتایا گیا کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے ہیں ۔
جب آپ نے یہ الفاظ سنے تو اپنا تمام جسمانی درد بھول گئے اور حکم دیا کہ انہیں سہارا دے کر مسجد میں لے جائیں ۔ارشاد نبوی سن کر حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو سہارا دیا ۔ آپ ان کے کندھوں کا سہارا لے کر مسجد میں آئے اور آتے ہی حضرت ابو بکر کو مصلائے امامت سے پیچھے ہٹا دیا اور خود مسلمانوں کو نماز پڑھائی ۔
جناب رسول خدا نے خود جماعت کراکے مزعومہ خلافت وفضیلت کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر کر رکھ دیں اور اس گروہ کو اس قابل نہ چھوڑا کہ وہ امامت نماز کا بہانہ کر کے خلافت کا دعوی کر سکے ۔حضرت سید الانبیاء نے لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والوں پر کھلے لفظوں مین اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا بلکہ نفرین فرمائی ۔انہی دنوں مدینہ طیبہ میں ایک سانحہ پیش آیا :
حمعرات کا دن تھا ۔جناب رسول خدا (ص) بیماری کی وجہ سے بے تاب تھے اور لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والے افراد حضور کریم کے بیت الشرف میں بظاہر عیادت کرنے آئے ہوئے تھے اور اس گروہ میں حضرت عمر بن خطاب نمایا ں تھے ۔ حضور اکرم نے حاضرین سے کاغذ اور قلم طلب فرمایا تاکہ امت کو ہمیشہ کی گمراہی سے بچایا جاسکے اور اس کے ساتھ ارشاد فرمایا " انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اھل بیتی ما ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا بعدی ابدا ولن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض"
"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں : اللہ کی کتاب او راپنی عترت اہل بیت ۔تم جب تک ان دونوں سے تمسّک رکھو گے ۔میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے ۔یہاں تک کہ
میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں ۔"
حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو ٹھکرا کر کہا "حسبنا کتاب اللہ " ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے " اور یہ کہ محمد(ص) اس وقت ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ با اللہ )
حضرت عمر کے الفاظ سے آنحضرت سخت ناراض ہوئے اور فرمایا "قوموا عنی " میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ جب حضور اکرم کی زندگی میں ہی آپ کے فرمان کو لائق اعتنا نہیں سمجھا گیا تو آپ کے بعد آپ کے فرامین پر کیا عمل ہوا ہوگا ؟
حضرت عمر کے جواب کو کسی طرح سے بھی حسن نیت یا اجتہاد پر محمول نہیں کیا جا سکتا ۔
اس درد نکا واقعہ کی تفصیل اور علمائے اہل سنت کی جانب سے جو جوابات دیئے گئے ہیں اور وہ جواب جتنے کمزور ہیں ، اس کے لئے ہم اپنے قارئین کے سامنے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین اعلی اللہ مقامہ کی کتاب "النص و الاجتھاد"اور "المراجعات" سے اقتباسات پیش کرتے ہیں ۔
حدیث قرطاس:-
اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اصحاب صحاح اور اصحاب مسانید اور اہل سیر و تاریخ رقم طراز ہیں ۔
ہم بحث کی ابتدا امام بخاری سے کرتے ہیں :
اما م بخاری اپنی اسناد س عبید اللہ بن عبد اللہ بن مسعود سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ :رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقت آخر تھا اور اس وقت گھر میں بہت سے افراد جمع تھے جن میں عمربن خطاب بھی موجود تھے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" میں تمہیں ایسی تحریر لکھ کر دوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو گے "۔
حضرت عمر نے کہا نبی پر درد کا غلبہ ہے ۔تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔اس پر گھر میں بیٹھے ہوئے افراد تکرار کرنے لگے ۔کچھ کہتے تھے کہ قلم دوات لاؤ تاکہ حضور تمہیں وہ چیز لکھ دیں تمہیں گمراہی سے بچا سکے اور کچھ وہی کچھ کہتے تھے جو عمر نے کہا تھا ۔
جب حضور اکرم کے پاس شوروغوغا زیادہ ہوا تو آپ نے فرمایا :" میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ"۔
عبد اللہ بن مسعود کہا کرتے تھے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ : سب سے بڑا المیہ اور سانحہ یہی ہوا کہ لوگوں نے اپنے اختلاف اور شور وغوغا کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو نوشتہ لکھنے سے روکر دیا ۔ اسی حدیث کو امام مسلم نیشاپوری نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں " کتاب الوصیۃ" کے آخر میں درج کیا ہے ۔
اسی روایت کو امام احمد بن حنبل نے ابن عباس کی زبانی نقل کیا ہے ۔
اور اکثر محدثین نے "ان النبی لیھجر" کے الفاظ میں بے ادبی اور گستاخی کی جھلک دیکھ کر اس میں تصرّف معنوی سے کام لیتے ہوئے " ان النبی قد غلب علیہ الوجع " یعنی (حضور ص پر درد کا غلبہ ہے ) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر حضور کے فرمان کو لفظ "ہذیان" سے تعبیر کیا تھا ۔ لیکن بعد میں آنے والے محدثین نے اس لفظ کی کراہت کو کم کرنے کے لئے دوسرے الفاظ تراشے ۔
ہمارے اس دعوی کی تصدیق کے لئے ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوھری کی
کتاب "کتاب السقیفہ "کا مطالعہ فرمائیں ۔
علامہ مذکور ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ۔لمّا حضرت رسو ل الله (ص) الوفاة و فی البیت رجال فیهم عمر بن الخطاب قال رسول الله ایتونی بدواة وصحیفة اکتب لکم کتابا لاتصلون بعده قال ،فقال عمر کلمة معناها ان الوجع قد غلب علی رسول (ص) ثم قال عندنا القرآن حسبنا کتاب الله فاختلف ممن فی البیت و اختصموا فمن قائل قربو ا یکتب لکم النبی (ص) ومن قائل ما قال عمر فلمّا اکثروا اللغط واللغو والاختلاف غضب (ص) فقال قوموا ۔(الحدیث)
جب رسول خدا(ص) کاآخری وقت آیا اس وقت گھر میں بہت سے افراد موجود تھے ۔ ان میں عمر بن خطاب بھی تھے ۔رسول خدا نے فرمایا : میرے پاس دوات اور کا غذ لاؤ میں تمھیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہوگے ۔
یہ سن کر حضرت عمر نے ایک بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ اس وقت رسول خدا پر درد کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے افراد میں اختلاف ہوگیا اور آپس میں جھگڑنے لگے کچھ لوگ وہی کہتے تھے جو عمر نے کہاتھا ۔جب حضور کریم کے پاس اختلاف اور جھگڑا بڑھا تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا "اٹھ چلے جاؤ"الحدیث
جوہری کے الفاظ سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ "حضور پر درد کا غلبہ ہے " جیسے محتاط الفاظ " روایت بالعنی "کے طور پر وارد ہوئے ہیں ورنہ حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو صریحا "ہذیان "کہہ کر ٹھکرا دیا تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ آپ محدثین کی کتابوں میں یہ سب دیکھیں گے کہ جب وہ اس واقعہ کی روایت لفظ "ہذیان" سے کرتے ہیں تو انہیں ان کی مسلکی وابستگی اس بات کی
اجازت نہیں دیتی کہ کھل کر یہ بیان کر سکیں کہ "ہذیان" کی تہمت لگانے والا اور رسول خدا کے دماغ پر حملہ کرنے والا کون تھا ۔
اس مقام پر پہنچ کر واقعہ کے اہم کردار کو نمایاں کرنے کی بجائے اسے بے نام ونشان چھوڑ کر گزر جاتے ہیں ۔
جیسا کہ امام بخاری "کتاب الجہاد والسیر" کے باب "جوائز الوفد" میں لکھتے ہیں :-حدثنا قبیصة حدثنا ابن عیینة عن سلیمان الاحول عن سعید بن جبیر عن ابن عباس انه قال یو م الخمیس وما یو م الخمیس ثمّ بکی حتی خضب دمعه الحصیاء ،فقال اشتد برسول الله (ص) وجعه یو م الخمیس فقال ایتونی بکتاب اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعده ابدا فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازعوا فقالوا هجر رسول الله (ص) قال(ص) دعونی فالذی انا فیه خیر مما تدعوننی الیه واوصی عند موته بثلاث ،اخرجوا المشرکین من جزیرة العرب واجیزو ا الوقد بنحو ما کنت اجیزه (قال) ونسیت الثالثة ۔
(بحذف اسناد) ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ؛ ہائے وہ کیا دن تھا پنچ شنبہ کا ! یہ کہہ کر اتنا روئے کہ ان کے آنسو ؤں سے سنگریزے تر ہوگئے ۔پھر کہااسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا کی تکلیف بہت بڑھ گئی تر ہوگئے ۔ پھر کہا اسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا(ص) کی تکلیف بہت بڑھ گئ تھی ۔ آنحضرت نے فرمایا "میرے پا س کاغذ اور قلم لاؤ ۔میں تمھیں نوشتہ لکھ دوں تا کہ تم پھر کبھی گمراہ نہ ہوسکو "
اس پر لوگ جھگڑنے لگے ۔حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہیں ۔لوگوں نے کہا : رسول "بے ہودہ بک رہے ہیں (نعوذ با اللہ)۔اس پر آنحضرت نے فرمایا " مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اور آنحضرت نے وفات سے پہلے تین وصیتیں فرمائیں :ایک تو یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کرو اور دوسری وصیت یہ تھی کہ وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح باقی رکھو جس طرح میں بھیجا کرتا تھا ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ تیسری وصیت میں بھول گیا ۔"
جی ہاں ! تیسری بات جسے فراموش کردیا گیا وہی بات تھی جسے پیغمبر وقت انتقال نوشتہ کی صورت میں لکھ جانا چاہئے تھے تاکہ امت کے افراد گمراہی سے محفوظ رہیں یعنی امیر المومنین امام علی (علیہ السلام) کی خلافت ۔
سیاسی شاطروں نے محدثیں کو مجبور کیا کہ وہ اس چیز کو جانتے بوجھتے بھول جائیں ۔جیسا کہ مفتی حنفیہ شیخ ابو سلیمان داؤد نے صراحت کی ہے اس حدیث کو امام مسلم نے صحیح مسلم "کتاب الوصیۃ " کے آخر میں بواسطہ سعید بن جبیر ، ابن عباس سے ایک دوسرے طریقہ سے روایت کیا ہے ۔
"ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ، ہائے وہ دن کیا دن تھا پنچ شنبہ کا !
پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور رخساروں پر یوں بہتے دیکھے گئے جیسے موتی کی لڑی ہو۔
اس کے بعد ابن عباس نے کہا کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا :
"میرے پاس دوات اور کاغذ یا لوح ودوات لاؤ تا کہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم پھر کبھی گمراہ نہ ہو" تو لوگوں نے اس پر کہا :رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ باللہ)(۱)
صحاح ستہ کا مطالعہ کریں اور اس مصیبت کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جس شخص نے سب سے پہلے "ہذیان" کی بات کی وہ حضرت عمر ہی تھے ۔انہوں نے ہی سب سے پہلے یہ جملہ کہا تھا اور اس کے بعد ان کے ہم خیال افراد نے ان کی ہم نوائی کی تھی ۔
آپ ابن عباس کا یہ فقرہ پہلی حدیث میں سن چکے ہیں ۔ گھر میں موجود افراد آپس میں تکرار کرنے لگے ۔بعض کہتے تھے کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ رسول (ص)وہ نوشتہ
____________________
(۱):-صحیح مسلم جلد دوم صفحہ ۲۲۲ علاوہ ازاین اس حدیث کو انہی الفاظ میں امام احمد نے مسند جلد اول ص ۳۵۵ پر روایت کیا ہے ۔اس کے علاوہ بھی اجلہ حفاظ حدیث نے نقل کیا ہے ۔
لکھ جائیں اور بعض حضرت عمر کی موافقت کرتے رہے ۔یعنی وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ رسول ہذیان کہہ رہے ہیں ۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جو طبرانی نے اوسط میں حضرت عمر سے روایت کی ہے کہ : جب رسول خدا بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا : میرے پاس کا غذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔اس پر پردے کے پیچھے سے عورتوں نے کہا تم سنتے نہیں کہ رسول (ص) کیا کہہ رہے ہیں ؟ میں نے کہا :تم یوسف والی عورتیں ہو جب رسول (ص) بیمار پڑتے ہیں تو اپنی آنکھیں نچوڑ ڈالتی ہو اور جب تندرست ہوتے ہیں تو گردن پر سوار رہتی ہو ۔
رسول خدا نے فرمایا :"عورتوں کو جانے دو یہ تم سے تو بہتر ہی ہیں "(۱)
اس واقعہ سے آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ یہاں صحابہ نے ارشاد پیغمبر کی تعمیل نہیں کی ۔اگر حضور (ص) کی بات مان لیتے تو ہمیشہ
کے لیئے گمراہی سے بچ جاتے ۔
اے کاش کہ صحابہ رسول خدا (ص) کی بات مانتے ٹال دیتے لیکن رسول خدا کو یہ روکھا جواب تو نہ دیتے کہ "حسبنا کتا ب اللہ "(ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے )۔
اس فقرہ سے تو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ معاذاللہ جیسے رسول خدا جانتے ہی نہ تھے ۔ اس کے اسرار ورموز سے زیادہ واقف تھے ۔
اے کاش! اس پر اکتفا کر لیا ہوتا اور رسول خدا (ص) کے دماغ پر حملہ نہ کیا ہوتا اور یہ نہ کہتے کہ رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہے ہیں ۔یہ الفاظ کہہ کر رسول کریم کو ناگہانی صدمہ نہ پہنچاتے ۔
____________________
(۱):- اسی روایت کو امام بخاری نے عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا اور امام مسلم وغیرہ نے بھی اس کی روایت کی ہے ۔
رسول خدا چند گھڑی کے مہمان تھے ۔آپ کا دم واپسین تھا۔ ایسی حالت میں یہ ایذا رسانی کہاں تک مناسب تھی؟ کیسی بات کہہ کر رسول کو رخصت کررہے ہیں ؟
گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کتاب خدا کیا یہ واضح اعلان نہیں سنا تھا "ما آتاکم الرسول فخذوه وما نها کم عنه فانتهوا ۔۔۔۔۔"یعنی رسول جو کچھ تمہیں دیں اس کو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز ہو"
اور رسول خدا(ص) پر ہذیان کی تہمت لگاتے وقت انہیں قرآن مجید کی یہ آیت بھول گئی تھی "انه لقو ل رسول کریم ذی قوة عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین وما صاحبکم بمجنون " یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کی زبان کا پیغام ہے ۔جو بڑا قوی ،عرش کے مالک کی بارگاہ میں بلند مرتبہ ہے ۔ وہاں سب فرشتوں کا سردار اور امانت دار ہے اور تمہارے ساتھی (محمد) دیوانے نہیں ہیں "۔
اور کیا قول رسول کو ہذیان کہنے والوں نے یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟ "انه لقول رسول کریم وماهو بقول شاعر قلیلا ما یومنون ولا بقول کا هن قلیلا ما تذکرون تنزیل من رب العالمین "۔ یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا پیغام ہے اور یہ کسی شاعر کی تک بندی نہیں ۔تم لوگ تو بہت کم ایمان لاتے ہو اور نہ کسی کاہن کی خیالی بات ہے تم لوگ تو بہت کم غور کرتے ہو ۔یہ سارے جہاں کے پروردگار کا نازل کیا ہوا کلام ہے ۔"
اور کیا قول رسول (ص) کو ٹھکرانے والوں نے قرآن مجید کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟"و النجم اذا هوی ما ضل صاحبکم وما غوی وما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی علّمه شدید القوی "۔قسم ہے ستارے کی جب وہ جھکا ۔تمھارے رفیق( محمدص) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بہکے وہ تو اپنی نفسانی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے ۔ان کو بڑی طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے " نیز اس طرح دوسری واضح اور روشن آیات قرآن مجید میں بکثرت موجود
ہیں جن میں صاف تصریح ہے کہ رسول مہمل وبے ہودہ بات کہنے سے پاک و منزہ ہیں ۔ علاوہ ازاین خود تنہا عقل سلیم بھی رسول سے مہمل اور بے ہودہ باتوں کا صادر ہونا محال سمجھتی ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ صحابہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت رسول (ص)حضرت علی (ع) کے لئے خلافت کی بات کو مزید پکا کردینا چاہتے ہیں اور آج تک آپ نے حضرت علی (ع)کے جانشینی اور خلافت کے جتنے اعلانات کئے تھے انہیں تحریری صورت دینا چاہتے تھے اسی لئے حضرت عمر اور ان کے حامی افراد نے رسول خدا (ص) کی بات کو کاٹ دیا تھا ۔ یہ صرف ہمارا پیدا کردہ تخیل نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف حضرت عمر نے عبد اللہ بن عباس کے سامنے کیا تھا(۱) ۔
اگر آپ رسول خدا(ص)کے اس قول "میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ جاؤں کہ اس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے "۔
اور حدیث ثقلین کے اس فقرہ پر کہ :-
"میں تم میں دو گراں چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر تم ان سے وابستہ رہے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے : ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت " توجہ فرمائیں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ دونوں حدیثوں سے رسول خدا کا مقصود ایک ہی تھا ۔
پیغمبر نے زبر دستی نوشتہ کیوں نہ لکھا ؟:-
رسول خدا (ص) نے حالت مرض میں کاغذ اور قلم دوات اس لئے طلب کیا تھا کہ حدیث ثقلین کے مفہوم کو تحریری صورت لکھ کردے دیا جائے ۔
____________________
(۱):-ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص ۱۴۰ طبع مصر
اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے لوگوں کے اختلاف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نوشتہ کیوں نہ لکھا ۔اور جمعرات کے دن سے اپنے روز وفات یعنی سوموار تک کیوں نہ لکھا اور لکھنے کا ارادہ آخر انہوں نے کیوں ملتوی کردیا ؟
درج بالا سوال کا صحیح جواب یہ ہے کہ نوشتہ نہ لکھنے کا سبب حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہوں کا وہ فقرہ تھا جسے بو ل کر ان لوگوں نے رسول خدا (ص) کو دکھ دیا تھا اور یہی سن کر رسول خدا نے نوشتہ نہ لکھا کیوں اتنا سخت جملہ سننے کے بعد نوشتہ لکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا ۔اگر بالفرض لکھ بھی دیا جاتا تو فتنہ وفساد اور بڑھ جاتا اور اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہوجاتی ۔
اگر رسول (ص) لکھ بھی جاتے تو یہی لوگ کہتے کہ "اس نوشتہ کی کوئی اہمیت نہیں یہ حالت ہذیان لکھا گیا ہے "
جن لوگوں نے حضور کریم کے روبروان کی حدیث کو ہذیان قراردیا تھا تو کیا وہ بعد میں لکھے جانے والے نوشتہ کو تسلیم کر سکتے تھے ؟
اور اگر رسول اپنی بات پر مصر رہتے اور نوشتہ لکھ بھی دیتے تو وہ اور ان کے جواری نوشتہ رسول (ص) کو ہذیان ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور دگادیتے اور اثبات ہذیان کے لئے کئی کتابیں تصنیف ہوتیں ۔مباحثے کیے جاتے اور اس نوشتہ کو بے اثر بنا نے کےلئے ہر ممکنہ ترکیب استعمال کی جاتی ۔
اسی وجہ سے حکیم اسلام کی حکمت بالغہ کا تقاضا یہ ہوا کہ اب نوشتہ کا ارادہ ہی ترک کردیا جائے تاکہ رسول کے منہ آنے والے اور ان کے حاشیہ بردار آپ کی نبوت میں طعن کا دروازہ نہ کھول دیں ۔
اور اس کے ساتھ ساتھ رسول خدا (ص) یہ جانتے تھے کہ علی علیہ السلام اوران کے دوستدار اس نوشتہ کے مفہوم پر عمل کریں گے خواہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے اور اگر مخالفین کیلئے لکھ بھی دیا جائے تو وہ نہ تو اس کو مانیں گے اور نہ ہی اس پر عمل کریں گے ۔
واقعہ قرطاس اور علمائے اہل سنت کی تاویلات:
جب علامہ سید عبدالحسین شرف الدین عاملی نے حدیث قرطاس کی تفصیلات جامعہ ازہر مصر کے اس وقت کے وائس چانسلر علامہ شیخ سلیم البشری کو لکھ کر روانہ فرمائیں تو انہوں نے اس کے متعلق علمائے اہل سنت کی تاویلات لکھ کر بھیجیں اور اس کے ساتھ اپنا ناطق فیصلہ بھی تحریر فرمایا ۔
قارئین کرام کے لئے ہم موصوف کا جواب اور اس جواب پر خود ان کا عدم اطمینان انہی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں :-
"شایدآنحضرت (ص) نے جس وقت کاغذ اور قلم دوات لانے کا حکم دیا تھا اس وقت آپ کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے ۔دراصل آپ صرف آزمانا چاہتے تھے ۔عام صحابہ کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی مگر حضرت عمر سمجھ گئے تھے کہ آپ ہمیں صرف آزمانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے انہوں نے صحابہ کو کاغذ اور قلم دوات لانے سے روک دیا ۔ لہذا حضرت عمر کی ممانعت کو توفیق ایزدی سمجھنا چاہئے اور اسے ان ک ایک کرامت جاننا چاہئے ۔
لیکن انصاف یہ کہ رسول خدا(ص)کا فرمان "لن تضلوا بعدی "(تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے )اس کا جواب کو بننے نہیں دیتا ۔
کیونکہ یہ پیغمبر اکرم(ص) کا دوسرا جواب ہے ۔مطلب یہ ہے کہ اگر تم کاغذ اور قلم دوات لاؤ گے اور میں تمھارے لئے وہ نوشتہ دوں گا تو اس کے بعد تم گمراہ نہ ہوسکوگے ۔
اور یہ امر مخفی نہیں ہے کہ محض امتحان اور آزمائش کے لئے اس طرح کی خبر بیان کرنا کھلا ہو اجھوٹ ہے ۔جس سے انبیاء علیہم السلام کے کلام کا پاک ہونا لازم و لابد ہے اور اس موقع پر کاغذ اور قلم دوات لانا ،نہ لانے کی نسبت بہتر تھا۔
علاوہ ازیں یہ جواب اور بھی کئی لحاظ سے محل تامل ہے ۔لہذا یہ جواب صحیح نہیں ہے ۔ اس کے لئے کوئی اور عذر پیش کرنا چاہئے ۔اس مقام پر صفائی کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے کاغذ اور قلم دوات لانے کا جو حکم دیا تو یہ حکم انتہائی لازمی وضروری نہ تھا کہ اسکے متعلق مزید وضاحت چاہی نہ جا سکتی ۔
یہ حکم مشورہ کے طور پر تھا اورکئی مرتبہ ایسا ہوا کہ صحابہ رسول خدا کے بعض احکام دوبارہ پوچھ لیا کرتے تھے ۔مزید استصواب کیا کرتے تھے ۔خصوصا حضرت عمر تو بہت زیادہ ۔
انہیں اپنے متعلق یقین تھا کہ وہ مصالح کوبہتر سمجھتے ہیں اور وہ توفیق ایزدی کے حامل ہیں اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ ان کا ظن وتخمین غلظ نہیں ہوتا ۔
اسی لئے حضرت عمر نے چاہا کہ رسول کو زحمت نہ اٹھانی پڑے ۔کیونکہ رسول پہلے ہی سخت تکلیف میں تھے ۔اندریں حالات اگر لکھنے بیٹھ جاتے تو تکلیف اور بڑھ سکتی تھی۔
اسی لئے حضرت عمر نے مذکورہ فقرہ کہا ار ان کی رائے تھی کہ کاغذ اور قلم دوات نہ لانا بہتر ہے ۔
علاوہ ازایں حضرت عمر کو خوف تھا کہ رسول کہیں ایسی باتیں نہ لکھ ڈالیں،جن کے بجا لانے سے لوگ عاجز آجائیں اور نوشتہ رسول پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سزا کے مستحق ٹھہریں ۔کیونکہ جو کچھ رسول لکھ جاتے وہ تو بہر حال مخصوص اور قطعی ہوتا ۔ اس میں اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی ۔
یا حضرت عمر کو شاید منافقین کی طرف سے یہ خوف محسوس ہو ا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منافقین نوشتہ رسول پر معترض ہوں ۔کیونکہ وہ نوشتہ رسول پر معترض ہوں ۔کیونکہ وہ نوشتہ حالت مرض میں لکھا ہوا ہوتا اور اس وجہ سے بڑے فتنے وفساد کا اندیشہ تھا اسی لئے حضرت عمر نے کہاتھا "حسبنا کتاب الله " ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے اورحسبنا کتاب الله " کے
جملہ کی تائید قرآن مجید کی ان آیات سے بھی ہوتی ہے :"ما فرطنا فی الکتاب من شیء "ہم نے کتاب میں کوئی چیز چھوڑ ی جو بیان نہ کردی ہو۔
نیز یہ بھی ارشاد خداوندی ہے :- "الیوم اکملت لکم دینکم " آج کے دن دین میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے ۔
اسی وجہ سے حضرت عمر مطمئن تھے کہ امت گمراہ نہ ہوسکے گی ۔کیونکہ خداوند عالم دین کو کامل اور امت پر اپنی نعمت کا اتمام کرچکا ہے ۔
ان آیات کی وجہ سے امت کی گمراہی کا اندیشہ نہیں تھا ۔ اسی لئے مزید کسی نوشتہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی تھی ۔
یہ ان لوگوں کے جوابات ہیں اور یہ جوابات جتنے کمزور اور رکیک ہیں وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔کیونکہ رسول خدا کا فقرہ" لن تضلو بعدی "(تاکہ تم ہرگز گمراہ نہ ہوسکو) بتا تا ہے کہ آپ کا حکم ایک قطعی اور لازمی حکم تھا ۔
ایسے امر میں جو گمراہی سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہو ،قدرت رکھتے ہوئے ہر ممکن جدو جہد کرنا بلا شک وشبہ واجب اور لازم ہے ۔
نیز آنحضرت پر اس فقرہ کا ناگوار گزرنا اور بالخصوص حضرت عمر کے اس جملہ کا برا منانا اور ان لوگوں کے تعمیل حکم نہ کرنے پر آپ کا ارشاد فرمانا کہ "میرے پاس سے اٹھ چلے جاؤ " یہ اس بات کی قظعی دلیل ہے کہ آپ نے کاغذ اور قلم دولت لانے کا جو حکم دیا تھا ۔ وہ لازم اور واجب تھا ۔آپ نے مذکورہ حکم بغرض مشورہ نہیں دیا تھا ۔
اگر کوئی کہے کہ نوشتہ لکھنا ایسا ہی واجب ولازم تھا تو محض چند لوگوں کی مخالفت سے آپ نے لکھنے کا ارادہ ملتوی کیوں کردیا تھا۔
کفار آپ کی تبلیغ اسلام کےمخالف تھے مگر آپ نے ان کی مخالفت کی پروا
نہ کرتے ہوئے تبلیغ فرمائی تو اسی طرح سے اگر کچھ لوگ کاغذ اور قلم دوات لانے کے مخالف تھے تو آپ ان کی مخالفت سے بے نیاز ہو کر نوشتہ لکھ سکتے تھے ۔ مگر آپ نے ایسا کیوں نہ کیا ؟
تو اس کے جواب میں معترضین کی خدمت میں یہ عرض کروں گا کہ اگر آپ کا یہ اعتراض صحیح بھی ہو تو اس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ یہی نکلتا ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول پر واجب نہ تھا ممکن ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول پر واجب نہ ہو مگر حاضرین پر کاغذ اور قلم دوات لانا واجب تھا کیونکہ اطاعت رسول کا تقاضا کتھا کہ کہ کاغذ اور قلم دوات لائی جائے اور رسول خدا نے اس کا فائدہ بھی بتا دیا تھا کہ اس ذریعہ سے گمراہی سے محفوظ ہوجاؤ گے اور ہمیشہ راہ ہدایت پر باقی رہوگے اور فقہ کا مسلمہ اصول یہی ہے کہ امر کا وجوب فی الواقع مامور سے متعلق ہوتا ہے امر سے متعلق نہیں ہوتا اور خصوصا جب کہ امر کا فائدہ مامور کو پہنچتا ہے ۔
لہذا اس قاعدہ کے تحت بحث یہ ہے کہ حاضرین پر امر کا بجا لانا واجب تھا یا نہیں ؟ محل بحث یہ نہیں ہے کہ رسول پر لکھنا واجب تھا یا نہیں ؟
علاوہ بریں یہ بھی ممکن ہے کہ رسول پر لکھنا تو واجب تھا لیکن لوگوں کی مخالفت اور یہ کہنے سے کہ " رسول ہذیان کہہ رہے ہیں " رسول سے وجوب ساقط ہوگیا ہو ۔
اگر ان حالات میں رسول لکھ بھی دیتے تو فتنہ وفساد میں ہی اضافہ ہوتا اور جو چیز فتنہ کا سبب ہو وہ رسول پر کیسے واجب ہوسکتی ہے ؟
بعض حضرات نے یہ عذر بیان کیا ہے کہ حضرت عمر حدیث کا مطلب نہیں سکے تھے ۔ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی کہ وہ نوشتہ است کے ہر فرد کے لئے گمراہی سے بچنے کا ایسا ذریعہ کیونکر ہوگا کہ قطعی طور پر کوئی گمراہ ہی نہ ہوسکے ۔
حضرت عمر نے "لن تضلوا بعدی " (تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے)
کے جملہ کا یہ مطلب اخذ کیا کہ تم سب کے سب اور کل کے کل گمراہی پر مجتمع نہ ہوسکو گے ۔حضرت عمریہ پہلے ہی جانتے تھے کہ امت کا گمراہی پر اجتماع نہیں ہوگا اسی وجہ سے انہوں نے نوشتہ رسول کو " تحصیل حاصل " قرار دیا اور یہ تصور کرلیا کہ حضور اپنی شفقت کی وجہ سے ایک نوشتہ لکھنا چاہتے ہیں ۔ یہی سوچ کر حضرت عمر نے آپ کو مذکورہ جواب دیا ۔
حضرت عمر کی تندی طبع اورجلد بازی کی معذرت میں یہی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔
مگر واقعہ یہ ہے کہ اگر نظر عائر سے دیکھا جائے تو یہ تمام جوابات انتہائی رکیک ومہمل ہیں ۔ کیونکہ رسول خدا کا "لن تضلوا بعدی" فرمانا اس امر کی قطعی اور محکم دلیل ہے کہ یہ امر وجوب کے علاوہ کسی اور مقصدکے تحت نہیں تھا۔
رسول خدا (ص) کا ان لوگوں پر غضب ناک ہونا بھی دلیل ہے کہ صحابہ نے ایک امر واجب کو تر ک کیا تھا ۔لہذا سب سے بہتر جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ صحابہ کی سیرت کے منافی تھا اور ان کی شان بعید تھا ۔ اس واقعہ میں صحابہ سے واقعی غلطی سرزد ہوئی تھی ۔
شیخ الازہر کا خط آپ نے پڑھا ۔ علامہ موصوف نے واضح الفاظ میں حضرت کے موقف کی نفی کی۔
مذکورہ خط کے جواب میں علامہ عبد الحسین شرف الدین عاملی نے مزید اتمام حجت اور اثبات حق وابطال باطل کی خاطر درج ذیل مکتوب تحریر فرمایا ۔جسے ہم اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں :-
آپ کے جیسے اہل علم کے لئے یہی زیبا ہے کہ حق بات کہیں اور درست بات زبان سے نکالیں ۔
واقعہ قرطاس کے متعلق آپ نے اپنے ہم مسلک علماء کی تاویلات کی تردید
فرمائی ہے ۔ان تاویلات کی تردید میں اور بہت سےگوشے رہ گئے ہیں ۔جی چاہتا ہے کہ انہیں بھی عرض کردوں تاکہ اس مسئلہ میں آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں ۔پہلا جواب یہ دیا گیا ہے رسول خدا نے صرف آزمائش کی خاطر کاغذ اور قلم دوات طلب فرمایا تھا آپ در اصل کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے ۔
آپ نے درج بالا مفروضہ کی خوبصورت تردید فرمائی ۔اس کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ کا دم آخر تھا اور وقت اختیار وامتحان کا نہ تھا ۔ بلکہ یہ وقت اعذار وانذار کا تھا اور ہر ضروری امر کے لئے وصیت کر جانے کا تھا اور امت کے ساتھ پوری بھلائی کرنے کا موقع تھا ۔
ذرا سوچیں جو شخص دم توڑ رہا ہو بھلا دل لگی اور مذاق سے اس کا کیا واسطہ ہوسکتا ہے ؟ اسے تو اپنی فکر پڑی ہوتی ہے ۔اہم امور پر اس کی توجہ ہوتی ہے ۔اپنے متعلقین کی مہمات میں اس کا دھیان ہوتا ہے اور خصوصا جب دم توڑنے والا نبی ہو اور اس نے اپنے پورے عرصہ حیات میں کبھی اختیار و امتحان بھی نہ لیا ہو تو وقت احتضار کیسا اختبار اور کیسا امتحان؟
علاوہ ازایں شور غل کرنے والوں کو رسول خدا نے "قوموا عنی" (میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ ) کہہ کر نکال دیا تھا ۔
حضور کریم کا ان لوگوں کو "راندہ بارگاہ کرنا"اس حقیقت کی بین دلیل ہے کہ رسول کریم کو ان لوگوں سے صدمہ پہنچا اور آپ رنجیدہ ہوئے اور اگر معترضین کا موقف صحیح ہوتا تو رسول خدا (ص) ان کے اس فعل کو پسند کرتے اور مسرت کا اظہار کرتے ۔
اگر آپ حدیث کے گرد وپیش پر نظر ڈالیں اور خصوصا ان لوگوں کے اس فقرے پر غور فرمائیں :-" هجر رسول الله (ص) "
(رسول ہذیان کہہ رہے ہیں ) تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہ جانتے تھے کہ رسول مقبول ایسی بات لکھنا چاہتے تھے جو انہیں پسند نہیں تھی ۔
اسی وجہ سے مذکورہ فقرہ کہہ کر رسول مقبول کو اذیت پہنچائی گئی ۔ خوب اختلاف اچھالے گئے ۔
حضرت ابن عباس کا اس واقعہ کو یاد کرنا ،شدت سے گریہ کرنا اور اس واقعہ کو مصیبت شمار کرنا بھی اس جواب کے باطل ہونے کی بڑی قوی دلیل ہے ۔
معذرت کرنے والے کہتے ہیں کہ حضرت عمر مصلحتوں کے پہچاننے میں "موفق للصواب " تھے اور خدا کی جانب سے آپ پر الہام ہوا کرتا تھا ۔
یہ ایسی معذرت ہے جسے کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ اس معذرت سے تو معلوم ہو تا ہے کہ اس واقعہ میں حضرت عمر کا موقف صحیح اور حق پر مبنی تھا اور نعوذ باللہ رسول خدا (ص) کا موقف درست نہ تھا ۔ نیز حضرت عمر کا اس دن کا الہام اس وحی سے بھی زیادہ سچا تھا جسے روح الامین لے کر آئے تھے ۔ بعض حضرات نے حضرت عمر کی صفائی میں یہ معذرت پیش کی ہے کہ حضرت عمر جناب رسول خدا(ص) کی تکلیف کم کرنا چاہتے تھے ۔ بیماری کی حالت میں اگر رسول (ص) لکھتے تو انہیں زحمت ہوتی ،اور حضرت عمر رسول خدا(ص) کی زحمت برداشت نہ کرسکتے تھے ۔
مگر آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نوشتہ لکھنے میں قلب رسول (ص) کو راحت ہوتی ۔ آپ کی آنکھیں زیادہ ٹھنڈی ہوتیں اور امت کی گمراہی سے آپ زیادہ بے خوف ہوجاتے ۔رسول خدا(ص) کی فرمائش کا غذ اور قلم دوات کے متعلق تھی ۔کسی کاآپ کی تجویز کے خلاف قدم اٹھانا صحیح نہیں تھا ۔
ارشاد رب العزت ہے :"وما کان لمومن ولا مومنة اذا قضی الله و رسوله امرا ان یکون لهم الخیرة من امرهم ومن یعص الله ورسوله فقد ضل ضلالا مبینا " جب خدا اور رسول کسی بات کا فیصلہ کریں تو پھر کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو اس بات کی پسند اور ناپسند کا اختیار حاصل نہیں ہے اور جو کوئی اللہ اور رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں پڑجائے گا ۔
حضرت عمر اور ان کے حامیوں کی طرف سے نوشتہ رسول کی مخالفت کرنا ، اس اہم ترین مقصد میں رکاوٹ ڈالنا اور رسول خدا کے سامنے شو روغل مچانا ،جھگڑا فساد کرنا یہ سب امور نوشتہ کی بہ نسبت حضور اکرم کی زحمت کا موجب تھے ۔
سوچنے کی بات ہے کہ حضرت عمر سے رسول خدا(ص) کی اتنی سی زحمت تو دیکھی نہ گئی آپ بیماری کی حالت میں نوشتہ تحریر فرمائیں ،مگر ایسا کرنے میں انہیں کوئی تامل نہ ہوا کہ رسول کاغذ اور قلم دوات مانگیں اور وہ تکرار کرنے لگیں اور قول رسول کو ہذیان ثابت کرنے پر تل جائیں ۔
اگر نوشتہ لکھنے سے حضور کو زحمت ہوتی تھی تو اپنے متعلق ہذیان کا جملہ سن کرکیا انہیں راحت پہنچی تھی ؟
حضرت عمر کے وکلاء دور کی ایک کوڑی یہ بھی لاتے ہیں کہ حضرت عمر نے سمجھا کہ کاغذ اور قلم دوات نہ لانا ہی بہتر ہے ۔
کیا کہنا اس معذرت کا غور فرمائیے کہ رسول خود حکم دیں کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تو کاغذ اور قلم دوات نہ لانا کیسے بہتر قراردیا جاسکتا ہے ؟
تو کیا حضرت عمر یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول ایسی چیز کا حکم دیا کرتے ہیں جس چیز کا ترک کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔
حضرت عمر کی صفائی میں بعض حضرات نے یہ عذر تراشا ہے کہ حضرت عمر کو خوف ہوا کہ رسول مقبول (ص) کہیں ایسی بات نہ لکھ دیں جس پر لوگ عمل نہ کرسکیں اور نہ کرنے پر سزا کے حق دار ٹھہرے ۔
غور فرمائیے!رسول (ص)کہہ رہے ہیں کہ "تم گمراہ نہ ہوگے "تو اس قول کی موجودگی میں حضرت عمر کا ڈرنا کہاں تک درست تھا ؟
تو کیا حضرت عمر جناب رسول مقبول کی نسبت انجام سے زیادہ باخبر تھے اور حبیب خدا(ص) سے زیادہ محتاط تھے ؟
بعض حضرات نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ حضرت عمر کو منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ حالت مرض میں لکھے ہوئے نوشتہ کی صحت میں قدح کریں گے ۔مگر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول مقبول نے نوشتہ کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا "لن تضلوا بعدی" (میرے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ) تو اس فرمان کے بعد اس اندیشہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہی تھی ۔
اور اگر بالفرض حضرت عمر کو منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ نوشتہ کی صحت میں قدح کریں گے تو حضرت عمر نے خود ہی ان کے لئے زمین کیوں ہموار کی ؟
رسول مقبول(ص) کی بات کا جواب دے کر ،لکھنے سے روک کر ،ہذیان کی تہمت لگا کر انہوں نے اسلام اور رسول اسلام کی کون سی خدمت کی؟ حضرت عمر کے ہواخواہ ان کے فقرہ "حسبنا کتاب الله "(ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے )کی تائید کے لئے عموما کہا کرتے ہیں کہ اس فقرہ کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے "ما فرطنا فی الکتاب من شیء۔۔۔۔" (ہم نے کتاب میں کوئی چیز اٹھا نیں رکھی ) نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔"الیوم اکملت لکم دینکم "(آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کردیا )۔
اب اگر ان آیات کو مد نظر رکھ کر حضرت عمر نے مذکورہ فقرہ کہا تو اس میں کونسی قباحت تھی ؟
حضرت عمر کے حامیوں کی درج بالا دلیل درست نہیں ہے اور نہ ہی درج بالا آیات سے حضرت عمر کے مذکورہ فقرہ کی تائید ہوتی ہے ۔
درج بالا آیات کا ہرگز مفہوم یہ نہیں ہے کہ امت ہمیشہ کے لیے گمراہی سے محفوظ ہوگئی ہے ۔یہ آیات ہدایت خلق کی ضمانت فراہم نہیں کرتیں ۔ پھر ان آیات کا سہارا لے کر نوشتہ رسول(ص) سے اعراض کرنے کی کون سی تک تھی ؟
اگر قرآن کی موجودگی امت کی گمراہی دور کرنے کا موجب ہے تو آج بحمداللہ
قرآن مجید امت کے پاس موجود ہے مگر اس کے باجود افراد امت میں گمراہی کیوں پائی جاتی ہے ؟
اورقرآن کی موجودگی میں امت کے اتنے فرقے کیوں ہیں اور باہمی انتشار وتفریق کیوں ہے ؟
حضرت عمر کی صفائی میں آخری جواب یہی دیا جاسکتا ہے وہ ارشاد رسول کا مطلب نہیں سمجھے ۔ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ نوشتہ امت کے ہر فرد کے لئے گمراہی سے بچنے کا سبب ہوگا ۔
حضرت عمر جناب رسول خدا (ص) کے اس فقرہ "لن تضلوا بعدی " کایہ مفہوم سمجھے کہ رسول کا نوشتہ گمراہی پر مجتمع نہ ہونے کا سبب بنے گا ۔اس نوشتہ کا فائدہ یہ ہوگا کہ امت والے گمراہی پر مجتمع اور متحد نہ ہوں گے ۔
حضرت عمر کو یہ بات پہلے سے ہی معلوم تھی کہ امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی لہذا لکھنا "تحصیل حاصل" کے مترادف ہوگا ۔
اسی وجہ سے انہوں نے یہ جواب دیا اور نوشتہ لکھنے سے مانع ہوئے ۔
میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت عمر اس قدر نادان ہرگز نہ تھے کہ ایسی روز روشن حدیث ،جس کا مفہوم ہر چھوٹے بڑے ،شہری دیہاتی کے ذہن میں آسکتا ہے وہ اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنے سے قاصر رہے ہوں ۔
حضرت عمر یقینی طور پر جانتے تھے کہ رسول مقبول کو امت سے اجتماعی گمراہی کا اندیشہ نہیں ہے ۔کیونکہ حضرت عمر رسول خدا(ص) کا یہ فرمان بار ہا سن چکے تھے کہ "میری امت گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی ،خطا پر مجتمع نہ ہوگی ۔"
"میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت حق کی حمایتی ہوگی " نیز انہوں نے اللہ تعالی کا یہ ارشاد بھی سنا تھا ۔
وعد الله الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات یستخلفنهم فی
الارض ۔۔۔۔"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کا م کئے ان سے خداوند عالم نے وعدہ کررکھا ہے کہ وہ انہیں روئے زمین پر خلیفہ بنائے گا ۔جیسا کہ ان کے قبل کے لوگوں بنایا تھا ۔۔۔۔۔"اس طرح کی دوسری آیات بھی قرآن مجید میں موجود ہیں ۔ اور اس کے ساتھ پیغمبر اکرم کی صریح احادیث بھی سن چکے تھے کہ " امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی " اسی لئے حضرت عمر نے بھی حدیث رسول سے وہی کچھ سمجھا جو کہ تمام دنیا نے سمجھا تھا مگر اس کے باوجود بھی وہ نوشتہ رسول میں مانع ہوئے ۔
رسول خدا کا اظہار ناگواری کرنا اور اپنے دربار سے نکال دینا یہ سب اس حقیقت کی بین دلیل ہے کہ جس بات کو ان لوگوں نے ترک کردیا تھا واجب تھی ۔ کاغذ اور قلم ودوات جو رسول (ص) نے مانگا تھا وہ لانا ضروری تھا ۔
اسے نہ لاکر انہوں نے حکم رسول(ص) کی مخالفت کی اور واجب کو ترک کیا ۔
اور اگر بالفرض میں یہ جان بھی لوں کہ یہ سب کچھ سمجھی اور غلط فہمی کی وجہ سے رونما ہوا ۔توایسی حالت میں جناب رسول کا یہ حق بنتا تھا کہ آپ ان کے شکوک وشبہات زائل کرتے یا جس بات کا حکم دیا تھا اس پر مجبور کرتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رسول (ص) نے یہ سب کچھ نہیں کیا بلکہ اپنے پاس سے "قوموا عنی " کہہ کر اٹھا دیا ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص)جانتے تھے کہ حضرت عمر کی مخالفت غلط فہمی کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور جذبہ کے تحت وہ ایسا کہہ رہے تھے ۔ اسی لیے آپ نے انہیں اپنے گھر سے نکال دیا ۔
جناب ابن عباس کا گریہ فرمانا ،نالہ وفریاد کرنا یہ بھی ہمارے بیان کا موئد ہے انصاف تو یہ ہے کہ یہ حضرت عمر کی لائی ہوئی وہ زبردست مصیبت ہے جس میں کسی عذر کی گنجائش ہی نہیں ۔
حق بات تو یہ ہے کہ ان بزرگواروں نے نص کو اہمیت نہ دی اور اس کےمقابلہ میں اپنے اجتہاد سے کام لیا ۔
اگر نص کے مقابلہ میں کیا جانے والا عمل اجتہاد کہلا سکتا ہے تو واقعی وہ لوگ مجتہد تھے ۔
مگر اس مقام پر اللہ اور رسول کی نص جدا ہے اور بزرگوں کی اجتہادی رائے جداہے ۔"
درج بالا تفصیلی مکتوب کے بعد شيخ الازہر نے درج ذیل مکتوب تحریر فرمایا :-
"آپ نے معذرت کرنے والوں کی تمام راہیں کاٹ دیں اور ان پر تمام راستے بند کردئیے آپ نے جو کچھ فرمایا اس میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔۔۔۔۔"
ہم اس اجتہاد کے قائل ہیں جو کہ نصوص کے دائرہ میں رہ کر کیا جائے اور ہم ایسی کسی فکر ورائے کو اجتہاد تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جو کہ نصوص صریحہ کی مخالفت پر مبنی ہو ۔
اس کتاب کی تالیف کامقصد تاریخ کے درست مطالعہ کو پیش کرنا ہے تاکہ تاریخ کے غیر جانبدارانہ سے انسان حقیقت کے سر چشموں تک پہنچ سکے اور مقام ہدایت تک رسائی حاصل کرسکے ۔ہم مشرق ومغرب میں رہنے والے تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیے دین کی صحیح تعلیمات کو تلاش کریں اور اس حقیقت عظمی کی جستجو کریں جس کی پیغمبر اکرم منادی کیا کرتے تھے ۔
اور اگر ہم نے رسول اعظم (ص) کی سیرت وتعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیا تو ہم کبھی گمراہ نہ ہوسکیں گے ۔
ہمیں اتباع مصطفی کی ضرورت ہے ۔اس کے علاوہ ہمیں کسی زید وبکر کے
اجتہاد کی قطعاد احتیاج نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مجتہدین سے خطا ممکن ہے اور رسول اعظم کی ذات والا صفات سے خطا کا صدور ممکن نہیں ہے ۔
اور اس مقام پر یہ کہنا بھی صحیح نہ ہوگا کہ ہم کیا کریں ہم تو تاریخی طور پر بہت بعد میں پیدا ہوئے اور اس کی وجہ سے ہم روح اسلامی سے بہت دور ہوگئے تو اس میں ہمارا کیا دوش ہے ۔
اس کے لئے ہم اپنے قارئین کی خدمت میں دوبارہ یہ عرض کریں گے کہ ان حالات کے باوجود ہمیں اپنی مساعی کو ترک نہیں کرنا چاہئیے ۔کیونکہ آج مغرب ہمیں ہر سطح پر تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے اور ہم روز بروز اس کے لئے تر لقمہ بنتے جارہے ہیں ۔ توکیا آپ نے کبھی اس پر توجہ فرمائی ہے کہ ہماری کمزوری کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری کمزوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ ہم نے ان نظریات کو اسلام سمجھ کر اپنایا ہوا ہے جو ہماری مصلحتوں اور اغراض وافکار کے مطابق ہیں ۔اگر اس کی بجائے ہم نے صحیح اسلامی روح کا ادراک کیا ہوتا تو آج استعماری بھیڑئیے ہم پر یوں مسلط نہ ہوتے ۔
قارئین محترم!
میں نے یہ کتاب کسی قسم کی شہرت یا کثرت لقب کی غرض سے تالیف نہیں کی ۔اس کی تالیف کا اول وآخر مقصد انسانوں کے اذہان تک صحیح تاریخی حقائق کا پہنچانا ہے ۔ کیونکہ انسانوں کی اکثریت صحیح تاریخی حقائق سے واقف نہیں ہے ۔ اور اس عدم واقفیت کا اہم سبب یہ ہے کہ ہر دور میں حقائق کو چھپایا گیا اور حقیقت کے رخ زیبا پر دبیز پردے ڈالے گئے اور ہر زمانے میں سراب کو آب بنانے کی سعی نا مشکور کی گئی اور حقائق کا منہ چڑایا جاتا رہا اور ملمع کاری سے نا خوب کو خوب بنانے
کی جد وجہد کی گئی ۔
اسی لئے اکثریت کو آج تک حق وباطل کی تمیز نہ ہوسکی اور یوں رہنما اور رہزن کی تفریق نہ ہوسکی ۔
اندریں حالات میں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے تاریخی حقائق پیش کرنے کی جسارت کی ہے اور امید وار ہوں کہ اللہ تعالی اس کتاب کو متلاشیان حق کے لئے منارہ نور بنائے گا اور شب تار میں اسے شمع فروزاں قرار دے گا ۔
اللہ تعالی سے درخواست ہے کہ وہ ہمیں معرفت کی نعمت عطا فرمائے اور ہمیں اہل معرفت میں شامل فرمائے اور جہل وتقلید کے مرض سے محفوظ رکھے اور ہماری لغزشوں سے در گزر فرمائے کیونکہ وہ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے ۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و تب علینا انک انت التواب الرحیم
بجاه النبی و اهل بیته الطاهرین
اللهم صلّ علی محمدوآل محمد
٭٭٭٭٭
فصل اول
مسئلہ وصیت
خلافت کے متعلق امت اسلامیہ میں دونظریئے پائے جاتے ہیں ۔مسلمانوں کا ایک گروہ خلافت کو بیک وقت دینی اور دنیاوی مسئلہ قراردیتا ہے ۔
خلافت کا تعلق دین سے تو یہ ہے کہ خلیفہ کو تمام امور میں احکام دین کی پیروی کرنی پڑتی ہے ۔اور خلیفہ کو بھی اپنے منیب کی طرح معصوم عن الخطا ہونا چاہئیے اور اسے تمام امور دین کا عالم ہونا چاہئے اور خلافت کا تعلق دنیا سے یہ ہے کہ خلیفہ بھی انسان ہی ہوتا ہے اور اس پر وحی تشریعی کا نزول نہیں ہوتا اور وہ بھی احکام دین کا اسی طرح سے مکلف ہوتا ہے جیسا کہ امت کے باقی افراد ہوتے ہیں ۔اور خلیفہ کا انتخاب خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا اظہار نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور نبی کے بعد خلیفہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا محافظ ہوتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی تعلیمات کا نفاذ بھی اسی کی ذمہ داری ہے اس نظریہ کے تحت نبوت کے بعد خلافت کا درجہ ہے اور خلافت کو بھی اتنا ہی پاک وپاکیزہ ہونا چاہئیے جتنی کہ نبوت پاک وپاکیزہ ہے ۔
اس نظریہ کے حامل گروہ کی رائے یہ ہے کہ اللہ نے اپنے نبی (ص) کو جانشین مقرر کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی اکرم نے حکم خداوندی کے تحت حضرت علی (ع) کی امامت وخلافت کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن حضور اکرم کی وفات کے بعد چند لوگوں نے انہیں ان کے اس حق سے محروم رکھا اور انہوں نے اپنی خود ساختہ خلافت قائم کی ۔
مگر اس کے باوجود رسول خدا کے حقیقی اور پہلے جانشین حضرت علی (ص)ہی تھے اگر چہ وہ ایک طویل عرصہ تک اپنے فرائض کی کما حقہ ادائیگی سے قاصر رہے لیکن اس میں ان کی ذات کا کوئی دوش نہیں تھا ۔ ساری غلطی ان کے حریفوں کی تھی ۔
یہ گروہ مسئلہ امامت و خلافت کو دینی منصب ثابت کرنے کے لئے یہ استدلال کرتا ہے :
رسول خدا (ص) نے دین و دنیا کی تعلیم دی ہے اور حضور کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے کوئی رہبر و رہنما مقرر کرکے جائیں ۔تاکہ آپ کے بعد امت افتراق و انتشار کا شکار نہ ہو اور امت کی رہبری کے لئے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ہر لحاظ سے موزوں ہو اور دین ودنیا کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہو اور وہ مکارم اخلاق کا بلند ترین نمونہ ہو ۔ دین اسلام صرف قبیلہ قریش یا صرف سرزمین حجاز کے لوگوں کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ یہ دین پوری انسانیت کے لئے آیاتھا ۔تو اسی لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص کو نامزد کیا جائے جو ہر لحاظ سے لائق و فائق ہو ۔
۱:- اور مسئلہ خلافت کو امت کے سپرد کرکے چلے جانا کوئی معقول بات نہیں ہے اور اتنے اہم ترین مسئلہ کو لوگوں کی صوابدید پر چھوڑنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر اس حساس مسئلہ کو بھی عوام الناس کی پسند وناپسند پر چھوڑدیا جائے تو اس سے بہت زیادہ پیچیدگیاں جنم لیں گی ۔اور اگر بالفرض عوام کو ہی حق انتخاب حاصل ہے تو پھر یہ حق تمام مسلمانوں کو حاصل ہے یا ایک مخصوص گروہ کو حاصل ہے ؟
۲:- اور اگر یہ مخصوص گروہ کا حق ہے تو اس گروہ کی وجہ استحقاق کیا ہے ؟
اور اس گروہ کی آخر وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ امتیاز حاصل ہوا ہے ؟
۳:-اور کیا انتخاب خلیفہ کا حق صرف حضرت ابو بکر وحضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ اور ان دو چار انصار کو ہی حاصل ہے جو کہ سقیفہ میں موجود تھے ؟
۴:- اور کیا حضرت علی (ع)اور جملہ بنی ہاشم اور سعد بن عبادہ اور ان کے فرزند ،حضرت سلمان فارسی ،حضرت ابو ذر غفاری ،حضرت مقداد بن اسود ،حضر ت عمار
بن یاسر، حضرت زبیر بن عوام ،حضرت خالد بن سعید اور حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت بریرہ جیسے بلند صحابہ کی مخالفت کے باوجود بھی سقیفائی خلافت کو درست سمجھا جاسکتا ہے ؟۔
۵:-اور کیا جب اتنے عظیم المرتبت افراد بھی مخالف ہوں تو اس کے باوجود بھی خلافت کو کامل الشروط سمجھنا درست ہوسکتا ہے ؟
۶:- اور اگر مسلمانوں کو ایک افضل فرد کے انتخاب کا حق بھی دے دیا جائے تو کیا وہ فی الحقیقت ایک افضل ترین فرد کا ہی انتخاب کریں گے جب کہ ان میں قبائلی عصبیت بھی موجود ہو؟۔
۷:-اور کیا جناب رسول خدا(ص) ان قبائلی عصبیتوں کو جانتے ہوئے بھی خلیفہ کا انتخاب اس لئے ان کے حوالے کرکے گئے تھے کہ آپ ان عصبیتوں کو مزید برانگیختہ کرنا چاہتے تھے ؟
۸:-اور اگر لکھنا ضروری ہے تو یہ بتایا جائے کہ اس دور میں کتنے افراد خواندہ تھے جب کہ ان لوگوں کو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے "امیّین" کہا جاتا تھا؟ اور یہ بیان کیا جائے کہ یہ انتخاب کہاں عمل میں لایا جائے گا ۔
۱۰:- اور کیا تمام شہروں اور قصبوں میں اس کے لئے "پولنگ بوتھ" قائم کئے جائیں یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے گا ؟
۱۱:- اور امید وار کو اپنی پبلسٹی کا حق بھی دیا جائے گا یا نہیں ؟
۱۲:- اور یہ انتخاب کس طرح سے رو بہ عمل لایا جائے گا ؟
۱۳:- اور اس انتخاب کے لئے کتنے وقت کی ضرورت ہوگی ؟
۱۴:- اور وفات رسول (ص) اور خلیفہ کے انتخاب کے درمیانی عرصہ میں مسلمانوں کے امور کس کے سپرد ہوں گے ؟
درج بالا سوالات کے جواب انتہائی ضروری ہیں ۔
خلافت علی (ع) کے دلائل
مسلمانوں کا وہ گروہ جو خلافت و امامت کو مخصوص من اللہ قرار دیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں انکا موقف بڑا ٹھوس اور واضح ہے ۔وہ گروہ یہ کہتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے ہجرت کے دسویں سال حج بیت اللہ کا ارادہ کیا اور تمام عرب میں اس کی منادی کرائی گئی ۔مسلمان پورے جزیرہ عرب سے سمٹ کر حج کے لئے آئے اور اس حج کو حجۃ الوداع کہا جاتا ہے ۔
جناب رسول خدا(ص) مناسک حج سے فراغت حاصل کرنے کے بعد مدینہ واپس آرہے تھے اور جب غدیر خم پر پہنچے اور یہ مقام جحقہ کے قریب ہے اور یہاں سے ہی مصر اور عراق کی راہیں جداہوتی ہیں ۔
اس مقام پر اللہ تعالی نے اپنے حبیب پر یہ آیت نازل فرمائی :- "یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس ان الله لایهدی القوم الکافرین "(المائدہ نمبر ۶۷)"
اے رسول ! اس حکم کو پہنچائیں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا ۔ بے شک اللہ منکر قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔
اس آیت مجیدہ کے نزول کے بعد آپ نے اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنوایا اور تمام لوگ جمع ہوگئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور حضرت علی کے بازو کو بلند کرکے
اعلان کیا :-"ان الله مولای و انا مولی المومنین " اللہ میرا مولا ہے اور میں اہل ایمان کا مولا ہوں پھر فرمایا :- "من کنت مولاه فعلی مولاه "(۱) جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔
اس کے بعد اللہ تعالی نے تکمیل دین کا اعلان کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی :- "الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا " (المائدہ)
آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا ۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا(ص) نے شکر کرتے ہوئے کہا
"الحمد الله علی اکمال الدین واتمام النعمة و الولایة لعلی " تکمیل دین اور تمام نعمت اور ولایت علی پر اللہ کی حمد ہے ۔
اس مقام پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقعہ کی یاد گار کے طور پر شیعہ عید غدیر کا جشن منانے لگے ۔مقریزی نے اس جشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
"جاننا چا ہئیے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں عید غدیر کے نام سے کوئی عید نہیں منائی جاتی تھی اور سلف صالحین سے بھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ۔یہ عید سب سے پہلے سن ۳۵۲ ھ میں معز الدولہ علی بن بابویہ کے دور میں عراق میں منائی گئی اور اس کی بنیاد اس حدیث پر تھی ۔جس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند کبیر میں براء بن عازب کی زبانی کی ہے وہ کہتے ہیں :-
ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور مقام غدیر خم پر پہنچے تو "الصلواة جامعة " کی منادی ہوئی اور دو درختوں کے درمیان جھاڑو دی گئی اور
____________________
(۱):- تفصیلی حوالے کے لئے عبقات الانوار جلد حدیث ولایت کے مطالعہ فرمائیں
حضور اکرم نے نماز ظہر آدا کی اور خطبہ دیا ۔ خطبہ کے دوران لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا :-الستم تعلمون انی اولی بالمو منین من انفسهم " کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ میں مومنوں کی جان سے بھی زیادہ ان پر حق حکومت رکھتا ہوں ؟
سامعین نے کہا جی ہاں ! پھر آپ نے علی (ع) کا بازو پکڑ کر بلند فرمایا اور اعلان کیا :-من کنت مولاه فعلی مولاه ،اللهم وال من والاه وعادمن عاداه " جس کا میں ہوں اس کا علی مولا ہے ۔اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ ۔اس کے بعد حضرت عمر ،حضرت علی (ع) کو ملے اور کہا :-هنیا لک یا بن ابی طالب اصبحت مولی کل مومن ومومنة " ابو طالب کے فرزند ! تمہیں مبارک ہو تم ہر مومن مرد وعورت کے مولا بن گئے ہو ۔
غدیر خم کا مقام جحفہ سے بائیں طرف تین میل کے فاصلے پر ہے وہاں پر ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور اس کے ارد گرد بہت سے درخت ہیں ۔
اس واقعہ کی یاد کے طور پر شیعہ اٹھارہ ذی الحجہ کو عید مناتے تھے ۔ ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دورکعت نماز شکر انہ ادا کرتے تھے ۔ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے تھے اور اس دن نیا لباس پہنتے تھے اور غلام آزاد کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیرات بانٹتے اور جانور ذبح کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے جب ۔شیعوں نے یہ عید منانی شروع کی تو اہل سنت نے ان کے مقابلہ میں پورے آٹھ دن بعد ایک عید منافی شروع کردی اور وہ بھی اپنی عید پر خوب جشن مناتے تھے اور کہتے تھے کہ اس دن رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر غار میں داخل ہوئے تے(۱) ۔"
____________________
(۱):-کتاب المواعظ والاعتبار۔
سواد اعظم کا نظریہ خلافت
مسلمانوں کے دوسرے فریق کے نظریہ کے مطابق خلافت کے لئے اگر چہ دینی تعلیمات کی پابندی ضروری ہے لیکن بایں ہمہ وہ اول وآخر دنیاوی معاملہ ہے ۔ اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلافت کے لئے نص نہیں فرمائی ۔کیونکہ یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے نہیں تھا ۔
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا کے فورا بعد کچھ مسلمان سقیفہ بنی ساعدہ(۱) میں خلیفہ کے لئےجمع ہوئے ۔انہوں نے یہ عظیم منصب حضرت ابو بکر کے حوالہ کیا ۔ انہوں نے حضرت عمر کو نامزد کیا ۔انہوں نے شوری قائم کی ،شوری نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے حضرت علی کا انتخاب کیا ۔ یہ چاروں بزرگواروں خلفائے راشدین کہلاتے ہیں اور دینی اعتبار سے بھی ان کی فضیلت کی ترتیب یہی ہے ۔ اس نظریہ کے حامل افراد یہ کہتے ہیں کہ وفات رسول تک یہ دینی احکام کی تکمیل ہوچکی تھی اور زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق ضروری ہدایت بھی مل چکی تھیں اسی لئے کسی آسمانی خلافت کی امت کو ضرورت نہیں رہی تھیں اسی نظریہ کی ترجمانی کرتے ہوئے استاد عبد الفتاح عبد المقصود اپنی کتاب "الامام علی بن ابی طالب " میں لکھتے ہیں :-
"اسلامی خلافت کا تعلق دنیاوی نظام زندگی سے ہے اور دنیا کے دیگر رائج نظریات حکومت کی طرح خلافت بھی ایک نظریہ ہے ۔خلافت رائے اور فکر کی پیداوار ہے اس کا نص سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ کیونکہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کسی کو اپنی خلافت کیلئۓ صریح الفاظ میں نامزد نہیں فرمایا تھا ۔
____________________
(۱):-سقیفہ ایک جگہ تھی جہاں دور جاہلیت میں لوگ امور باطل کو سرانجام دینے کے لئے جمع ہوتے تھے اور مجازا بے ہودہ گفتگو کو بھی سقیفہ کہا جاتا ہے ۔غیاث اللغات طبع ہند مادہ "سقف"
ہاں یہ درست ہے کہ آپ (ص) نے وقتا فوقتا ایسے اشارات ضرورکئے تھے لیکن صحابہ اس کی تاویل سے قاصر رہے اس کے ساتھ چند احادیث ایسی بھی ہین جن میں خلافت کے لئے صریح الفاظ کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے ۔مثلا حدیث غدیر اور حدیث خاصف النعل ،تو ان جیسی احادیث کو صراحت استخلاف کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے(۱)
معتزلہ کا نظریہ خلافت
اسی مسئلہ کے متعلق ایک تیسرا نظریہ بھی ہے جو کہ ان دونوں فریقوں کے نظریات کے "بین بین " ہے ۔
اس نظریہ کے حامل افراد اہل سنت کے اس نظریہ سے اتفاق کرتے ہیں کہ خلافت ہر لحاظ سے ایک دنیاوی معاملہ ہے اور رسول خدا (ص) نے اس کے لئے کوئی نص صریح نہیں فرمائی ۔لیکن اس کے باوجود علی علیہ السلام ،حضرت ابو بکر کی بہ نسبت خلافت کے زیادہ حقدار ہیں ۔کیونکہ علی علیہ السلام ہر لحاظ سے پوری امت مسلمہ کے افضل فرد ہیں ۔
اسی نظریہ کے حامل افراد میں سے ابن ابی الحدید کی رائے کو ہم ان کی کتاب شرح نہج البلاغہ سے نقل کرتے ہیں :-
"ہمارے تمام شیوخ کا اتفاق ہے کہ حضرت ابو بکر کی بیعت صحیح اور شرعی تھی اور ان کی خلافت نص پر قائم نہیں ہوئی تھی ۔
ان کی خلافت اجماع اور اجماع کے علاوہ دوسرے طریقوں کے تحت قائم ہوئی تھی ۔ ہمارے شیوخ کا تفصیل میں اختلاف ہے ۔
____________________
(۱):-خلافت کی نصوص صریحہ کے لئے علامہ امینی کی مشہور کتاب "الغدیر کا مطالعہ فرمائیں یہ کتب گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔
ابو عثمان اور عمرو بن عبید جیسے متقدمین کہتے ہیں کہ ابو بکر ،علی سے افضل ہیں ۔اور خلفا ئے راشدین کی فضلیت کی ترتیب وہی ہے جو کہ ان کی خلافت کی ترتیب ہے ۔ہمارے بغداد ی شیوخ خواہ متقدمین ہوں یا متاخرین ان سب کی متفقہ رائے یہ ہے کہ :-
علی علیہ السلام حضرت ابو بکر سے افضل ہیں ۔ اور بصرہ کے مندرجہ ذیل علما بھی اس مسئلہ میں ان کے موید ہیں ۔ابو علی محمد بن عبد الوہاب الجبائی ،شیخ ابو عبداللہ الحسین بن علی البصیری اور قاضی القضاۃ عبد الجبار بن احمد اور ابو محمد حس بن متویہ وغیرہ ۔
علاوہ ازیں ابو حذیفہ واصل بن عطاء اور ابی الھذیل محمد بن الہذیل العلاف کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت علی (ع) اور حضرت ابوبکر کی تفصیل کے متعلق ہمیں خاموش رہنا چاہیئے البتہ علی علیہ السلام حضرت عثمان سے ہر لحاظ سے افضل تھے ۔
اور جہاں تک ہقا اپنا تعلق ہے تو ہم اپنے بغدادی شیوخ کے نظریہ کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت علی کو باقی تمام لوگوں سے افضل وبہتر سمجھتے ہیں "۔
فرقہ معتزلہ کے یہ فاضل شخص شرح نہج البلاغہ میں ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ کافی بحث وتمحیص کے بعد فرقہ معتزلہ نے تفضیل کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے :
"حضرت علی (ع) پوری امت اسلامیہ میں سے افضل ترین فرد تھے ۔ لوگوں نے چند مصلحتوں کی وجہ سے انہیں خلافت سے محروم رکھا ۔حضرت علی (ع) کی خلافت کے متعلق نصوص قطعیہ موجود نہ تھیں ہاں اگر نصوص موجود بھی تھیں تو بھی ان کے مفہوم میں اشتباہ موجود تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے پہلے پہل حضرت ابوبکر کی حکومت سے اختلاف کیا لیکن پھر مصالحت کرلی ۔اگر علی (ع) سابقہ مخالفت پر ڈٹے رہتے تو ہم حضرت ابوبکر کی خلافت کو غلط قرار دیتے الغرض ہمارا نظریہ یہی
ہے کہ : حضرت علی (ع)ہی خلافت کے اصل مالک ووارث تھے ۔خواہ خلافت پر فائز ہوتے تو بھی ان کا حق تھا اور اگر انہوں نے کسی اور کو خلافت پر فائز ہونے دیا تو بھی یہ ان کا استحقاق تھا ۔البتہ اس مقام پر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ انہوں نے اور لوگوں کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا اسی لیے ہم بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے بزرگوں کی خلافت کو تسلیم کرتے ہیں اور جس پر علی (ع)راضی تھے ہم بھی اس پر راضی ہیں(۱) "۔
تو اس فریق کے نظریہ کی تلخیص ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ یہ فریق حضرت علی علیہ السلام کو حضرت ابو بکر سے افضل مانتا ہے اور انہیں خلافت کا صحیح حقدار قرار دیتا ہے ۔البتہ ان کے لئے رسول اکرم (ص) کی طرف سے کسی نص کا قائل نہیں ہے ۔اس لحاظ سے صورت حال یہ ہوگی کہ شرعی تقاضوں کے تحت حضرت علی (ع) خلیفہ تھے اور حضرت ابو بکر چونکہ مخصوص حالات کی وجہ سے خلیفہ بن چکے تھے اور حضرت علی (ع) نے بھی مزاحمت نہیں کی تھی ۔ اسی لئے ان کی خلافت بھی درست ہے ۔
الغرض مسئلہ خلافت ہر دور میں اختلاف کا محور رہا ہے ۔اسی سے دوسرے اختلاف نے ہمیشہ جنم لیا ہے ۔وفات رسول (ص) سے لے کر آج تک یہ مسئلہ ہر دور میں نزاعی رہا ہے ۔مسئلہ خلافت کیلئے ہر فریق نے اپنی رائۓ کو درست قرار دیا اور دوسرے فریق کی رائے کو ہمیشہ جھوٹ اور بہتان کہہ کر ٹھکرایا ہے ۔
تاریخ کوئی شخص نص ووصیت کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ اس بات کا قائل
____________________
(۱):- شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ۲/۷۲ طبع اول مطبوعہ مصر ۔
ہے کہ پیغمبر خدا کو امت اسلامیہ کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں تھی ۔اور آپ کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ امت کے کتنے ٹکڑے ہوجائیں گے اور امت کتنی زبوں حالی کا شکار ہوجائے گی ۔
جب کہ تاریخی حقائق اس نظریہ کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں ۔آپ حدیث قرطاس کو ہی لے لیں ۔جس پر ہم سابقہ اوراق میں کافی بحث کرچکے ہیں لیکن اس مقام پر بھی ہم مذکورہ حدیث کو پیش کرنا چاہتے ہیں ۔
حدیث قرطاس
ابن اثیر اپنی کتاب الکامل فی التاریخ جلد دوم صفحہ نمبر ۲۱۷ پر تحریر کرتے ہیں :-اشتد برسول الله مرضه وجعه فقال ایتونی بدواة وبیضاء اکتب لکم کتابا لاتضلون بعدی ابدا ،فتنازعوا ،ولا ینبغی عند نبی تنازع ،فقالوا ان رسول الله یهجر ،فجعلوا یعیدون علیه ،فقال دعونی فما انا فیه خیر مما تدعوننی الیه ،فاوصی بثلاث ،ان یخرج المشرکون من جزیرة العرب وان یجازی الوفد بنحو ما کان یجیزهم ،وسکت عن الثالثة عمدا وقال نسیتها "
جناب رسول خدا (ص) کی بیماری اور درد میں اضافہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ :-میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمہیں تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے ۔ یہ سن کر لوگوں نے جھگڑنا شروع کردیا جبکہ نبی کے پاس جھگڑا کرنا نامناسب تھا ۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ رسول خدا ہذیان کہہ رہے ہیں اور بار بار یہی کہنے لگے ۔اس پر رسول خدا(ص)نے فرمایا : میں جس تکلیف میں ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلانا چاہتے ہو ۔آپ نے تین امور کی وصیت کی ۔
۱:- مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دیا جائے ۔
۲:- وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہنا چاہیئے جیسا کہ میں بھیجا کرتا تھا اور تیسری وصیت کو جان بوجھ کر چھپایا گیا اور کہا کہ وہ مجھے بھول گئی ہے ۔امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس روایت کو یوں نقل کیا ہے ۔
"حدّثنا سفیان عن سلیمان الاحول عن سعید بن جبیر قال قال ابن عباس ،اشتد برسول الله وجعه فقال ایتونی اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعده ابدا فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازع ،فقالوا ماشانه اهجر ؟ استفهموه فذهبوا یرددون علیه فقال دعونی فالذی انا فیه خیر مما تدعوننی الیه ،واوصاهم بثلاث قال اخرجوا المشرکین من جزیرة العرب ،واجیزوا الوفد بنحو ما کنت اجیزهم ،وسکت عن الثالثة او قال نسیتها "
رسول خدا (ص) کی تکلیف میں اضافہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمھارے لیئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے اس کے بعد لوگوں میں تنازعہ پیدا ہوگیا جب کہ نبی کے پاس تنازعہ نامناسب تھا ۔ پھر وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا نبی ہذیان کہہ رہے ہیں اور بار بار اسی جملہ کا تکرار کرنے لگے ۔اس پر حضور اکرم (ص) نے فرمایا :" میں جس تکلیف میں ہوں وہ تمہاری دعوت سے کئی گنا بہتر ہے اور آپ نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی :
۱:- جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو
۲:- وفد بھیجنے کا سلسلہ اس طرح جاری رہنا چاہئیے جیسا کہ میں بھیجا کرتا تھا ۔روای نے تیسری وصیت کے متعلق خاموشی اختیار کرلی یا اس نے کہا :مجھے تیسری بات بھول گئی ہے ۔
امام بخاری نے ایک اور سند سے اسی حدیث کو یوں بیان کیا ہے"لمّا حضر رسول الله صلّی الله علیه وسلّم وفی البیت رجال ،فقال النبی هلموا اکتب لکم کتابا لاتضلوا بعده ،فقال بعضهم ان رسول الله قد غلب علیه الوجع وعندکم القرآن ،وحسبنا کتاب الله ،فاختلف اهل البیت واختصموا
فلمّا اکثروا اللغو والاختلاف قال رسول الله قومو" ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضور کریم (ص) کا وقت آخر گھر میں بہت سے افراد موجود تھے ۔رسول خدا(ص) نے فرمایا : میں تمہیں ایسی تحریر لکھ کر دینا چاہتا ہوں کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہوگے ۔تو ان میں سے بعض نے کہا رسول خدا(ص) پر درد کا غلبہ ہے اور تمھارے پاس قرآن موجود ہے ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں موجود افراد کا اس بات پر اختلاف ہوگیا اور وہ جھگڑنے لگے ۔جب حضور کریم کے پاس اختلاف اور بے ہودہ گوئی زیادہ بڑھی تو آپ نے فرمایا اٹھ کر چلے جاؤ ۔
اسی حدیث کو ابن سعد نے اپنی کتاب طبقات کبری جلد ۴ ص ۶۰-۶۱ پر اس طرح نقل کیا ہے ۔
"ان رسول الله عند ما حضر ته الوفاة و کان معه فی البیت رجال فیهم عمر بن الخطاب قال ، هلموا اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعده ، فقال عمر ان رسول الله قد غلبه الوجع وعندکم القرآن حسبنا کتاب الله ،فاختلف اهل البیت واختصموا ،فلما کثر اللغط و الآختلاف قال النبی قوموا عنی "
حضور کریم (ص) کی وفات کے وقت گھر میں بہت سے افراد تھے ان میں عمر بن خطاب بھی موجود تھے ،حضور نے فرمایا تم کاغذ اور قلم دوات لاؤ ،میں تمہارے لئے تحریر لکھدوں جس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔حضرت عمر نے کہا اس وقت رسول خدا(ص) پر درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے افراد کا آپس میں اختلاف ہوگیا اور جھگڑنے لگے ۔جب حضور اکرم (ص) کے پاس شوروغوغا بڑھ گیا تو آپ نے فرمایا :میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ ۔
اس حدیث کے پڑھنے کے بعد آپ خد اپنے ضمیر اور وجدان کی عدالت میں فیصلہ کریں رسول کریم (ص) کے فرمان کو سن کر حضرت عمر نے جو جواب دیا
کیا وہ حضور اکرم (ص) کی شخصیت کے مطابق تھا؟ اور کیا آداب صحبت ایسے جواب کی اجازت دیتے ہیں ؟ اور کیا دین اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حضور اکرم (ص) کے فرمان کو ہذیان کہہ کر ان کی توہین کی جائے ؟
آپ حضرت عمر کے جواب کو ملحوظ خاطر رکھیں اور قرآن مجید کی اس آیت کو بھی پڑھیں "وما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی "(النجم ۳-۴)
رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتے وہ تو وہی کہتے ہیں جو وحی کہتی ہے اس آیت کی موجود گی میں حضرت عمر کے جواب کی شرعی حیثیت کیا قراردپائی ہے ۔اس کا فیصلہ ہم اپنے منصف مزاج قارئین کے حوالہ کرتے ہیں ۔عجیب بات تو یہ ہے کہ صحابہ نے حضور اکرم (ص) سے بہت سے ایسے سوال بھی دریافت کیے تھے جو کہ مسئلہ خلافت سے بہت ہی کم اہمیت کے حامل تھے ۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ :- صحابہ نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو غسل کون دے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے خاندان کے قریبی افراد مجھے غسل دیں ۔ اور صحابہ نے آپ سے دریافت کیا آپ کا کفن کیسا ہونا چاہیے تو فرمایا مجھے میرے اپنے کپڑوں کا ہی کفن پہنایا جائے یا مصری کپڑے کا کفن دیا جائے یا یمنی پارچہ کا کفن بنایا جائے ۔صحابہ نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ کو قبر میں کون اتارے ؟ تو فرمایا کہ میرے خاندان کے افراد مجھے قبر میں اتاریں ۔
اس روایت کو پڑھنے کے بعد لگتی کہیئے کہ صحابہ کفن ،دفن اور قبر میں اتارنے والے کے متعلق پوچھتے رہے ،کیا انہوں نے آپ سے یہ نہیں پو چھا ہوگا کہ آپ کا جانشین کون ہوگا ؟ یا خود حضور کریم نے صحابہ کو نہیں بتایا ہوگا کہ میرا جانشین کون ہے ؟
ابن خلدون اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ اس کے بعد رسول خدا نے فرمایا میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم
کبھی گمراہ نہ ہوگے ۔یہ سن کر لوگوں نے جھگڑنا شروع کردیا کچھ لوگوں نے کہا کہ حضور ہذیان کہہ رہے ہیں اور مسلسل فرمان پیغمبر کو ہذیان کہتے رہے آپ نے فرمایا : میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کی تم مجھے دعوت دے رہے ہو ۔(۱)
قارئین کرام !
اب آپ فیصلہ کریں کہ رسول کو تحریر کیوں نہ لکھنے دی اور یہ مزاحمت کیوں کی گئی اور اس ہنگامہ دار و گیر کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی ؟
کیا ایسا تو نہ تھا کہ حضور اکرم اپنی زندگی کے مختلف اوقات میں جس شخصیت کی جانشینی کا ذکر کرتے رہتے تھے ،آخری وقت میں اسے تحریری شکل میں لکھ دینا چاہتے تھے ؟
تاکہ کسی کو ان کی جانشینی کے متعلق کوئی شک وشبہہ نہ رہ سکے اور حضرت عمر بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے ۔حضور اکرم کا ارادہ بھانپ کر انہوں نے اس کی بھر پور مخالفت کی اور عجیب و غریب بات یہ ہے کہ محدثین کہتے ہیں کہ حضور نے تین چیزوں
کے متعلق وصیت فرمائی تھی ۔ دو وصیتیں تو بیان بھی کی گئی ہیں اور حضرت ابو بکر نے ان دونوں پر عمل بھی کیا تھا ۔لیکن تیسری وصیت راوی کو بھول جاتی ہے ۔یا وہ اسے جان بوجھ کر بیان نہیں کرتا ۔
اسی تیسری وصیت کو رسول خدا (ص) تحریری صورت میں لانا چاہتے تھے اور اس پر ہذیان کہہ کر حضور کریم کی شان میں گستاخی کی گئی ۔تعجب تو یہ ہے کہ کل وصیتیں تین تھیں دو وصیتیں کے وقت حضور اپنے ہوش وحواس میں تھے لیکن تیسری وصیت کے وقت ان پر ہذیان طاری ہوگا تھا ۔(نعوذ باللہ)
____________________
(۱):- تاریخ ابن خلدون ج ۲ ص ۲۹۷
رسول خدا (ص) کیا لکھنا چاہتے تھے ؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری وقت میں رسول خدا (ص) کیالکھنا چاہتے تھے ؟ اس سوال کا جواب خود حضرت عمر نے اپنی زبان سے دیا ہے ۔جسے احمد بن ابی طاہر نے تاریخ بغداد میں اپنی اسناد سے لکھا ہے ۔اور ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد ۳ ص ۹۷ پر نقل کیا ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے :" حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت عمر کے ساتھ چل رہے تھے تو حضرت عمر نے ان سے کہا کہ ابن عباس !اگر تم نے اس بات کو چھپایا تو تم پر ایک اونٹ کی قربانی لازمی ہوگی ۔۔۔۔۔کیا اب بھی علی کے دل میں امر خلافت کے متعلق کوئی خلش باقی ہے ؟
ابن عباس نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر نے کہا :کیا علی یہ سمجھتے ہیں کہ رسول خدا نے ان کی خلافت پر نص فرمائی تھی ؟
ابن عباس نے کہا جی ہاں ! تو حضرت عمر نے کہا کہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ ایسے اشارے ضرور کئے تھے لیکن ان میں بات کی وضاحت موجود نہ تھی ۔ رسول خدا نے اپنے مرض الموت میں اس خواہش کو لکھنا چاہا تھا اور ان کا پورا ارادہ ہوگیا تھا کہ علی کانام تحریری طور پر رکھ دیں ۔ میں نے اسلام ومسلمین کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا نہ کرنے دیا ۔
میری مخالفت کی وجہ سے رسول خدا(ص) بھی سمجھ گئے کہ میں ان کے مافی الضمیر کو تاڑ چکا ہوں اسی وجہ سے رسول خدا(ص) رک گئے ۔"
اگر یہ روایت درست ہے تو اس کامقصد یہ ہے کہ حضرت عمر کو جناب رسول خدا سے بھی زیادہ اسلام کا مفاد عزیز تھا ۔ اگر امر واقعہ یہی ہے تو پھر اللہ تعالی کو (نعوذ باللہ) چاہئیے تھا کہ وہ حضور اکرم کی بجائے حضرت عمر کو ہی نبوت عطا فرماتا ۔
اگر ہم بحث وتحقیق کی سہولت کے مد نظر خلافت کے دنیاوی پہلو کو نظر انداز کردیں اور ان تاریخی حقائق سے بھی صرف نظر کرلیں جسے فریق اول پیش کرتا ہے اور ہم اپنے آپ کو صرف ان تاریخی حوالہ جات کا پابند بنالیں جسے فریق ثانی نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے تو بھی ہم کسی بہتر نتیجہ کو اخذ کرنے کے قابل رہیں گے ۔
اس مقام پر سوال یہ ہے کہ رسول خدا کی وفات کے بعد حضرت علی بر سر خلافت پر کیوں فائز نہ ہوسکے ؟
اس سوال کا اہل سنت کی کتابوں سے جواب دینے سے پہلے ہم یہ ضروری گزارش کریں گے کہ ہمارے یہ جوابات ،"اقناعی " ہوں گے ۔ کیونکہ اس موضوع کے متعلق اکثر تاریخی حقائق کو تلف کیا جاتا رہا ہے اور اموی اور عباسی دواقتدار میں ہر ممکن تحریف کی گئی ہے ۔
تاریخ میں ہم اس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ وفات رسول (ص) کے بعد نسل ابو طالب کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا اور اس دور کی حکومتیں اہل بیت طاہرین سے بد ترین عناد رکھتی تھیں ۔ اور "الناس علی دین ملوکهم " کے تحت اس زمانہ کے اہل علم ،راوۃ و قضاۃ نے بھی آل محمد (ع) کی تنقیص کو طلب دنیا کا وسیلہ بنایا اور آل محمد (ص) کی عداوت کو سلاطین وحکام کیلئے ذریعہ تقرب قرار دیا اور آل محد(ع) کی جو فضیلت چھپانے کے باوجود نہ چھپ سکی تو اس جیسی روایت اغیار کیلئے وضع کی گئی ۔
اس کے باوجود آل محمد(ع) کی صداقت کا یہ معجزہ ہے کہ ان کے فضائل ومناقب آج بھی کتابوں میں موجود ہیں اور ان کی مظلومیت کی داستان بھی سیر وتواریخ میں وموجود ہے ۔
اس کتاب میں ہم بھی حتی المقدور مستند کتب تاریخ و سیر کے حوالے جات پیش کریں گے ۔
دور معاویہ میں وضع حدیث
آل محمد(ع) اور بالخصوص حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت کیلئے درج ذیل واقعہ کو ملاحظہ فرمائیں :-
ابو الحسن علی بن محمد بن ابی سیف المدائنی اپنی کتاب "الاحداث" میں رقم طراز ہیں :-کتب معاویة الی عمّاله بعد عام الجماعة ان برئت الذمة ممّن روی شیا من فضل ابی تراب واهل بیته ،فقامت الخطباء فی کل کورة وعلی کل منبر یلعنون علیا و یبروؤن منه ویقعون فیه وفی اهل بیته و کتب معاویة الی عمّاله فی جمیع الافاق ،ان لایجیزوا لاحد من شیعة علی واهل بیته شهادة وکتب الیهم ان انظروا من قبلکم من شیعة عثمان و محبیه و اهل ولا یته و الذین یروون مناقبه وفضائله فادنوا مجالسهم وقربوهم واکرموهم واکتبوا لی بکل ما یروی کال رجل و اسمه و ابیه و عشریته ،ففعلوا ذالک حتی اکثروا فی فضائل عثمان ومناقبه لما کان یبعثه الیهم من الصّلات ثم کتب لی عمّاله ،ان الحدیث عن عثمان قد کثر فاذا جاء کم کتابی هذا فادعو االناس الی الروایة فی فضائل الصحابة والخلفاء الاولین ولا تترکوا خبرا یرویه احد من المسلمین فی ابی تراب الا واتو بمناقص له فی الصحابة فقرات کتابه علی الناس فرویت اخبار کثیرة فی مناقب الصحابة مفتعلة لاحقیقة لها ومضی علی ذالک الفقهاء والقضاة والولاة "
امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد معاویہ نے اپنے حکام کو لکھا کہ :جو شخص ابوتراب اور ان کے اہل بیت کی فضیلت کے متعلق کوئی روایت بیان کرے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں ۔
اس خط کے بعد ہر مقام اور ہر منبر پر لوگ حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کرنے
لگے اور ان سے برائت کرتے اور ان کے اور ان کے خاندان کے عیوب بیان کرتے ۔
اس کے بعد معاویہ نے اپنے جملہ حکام کو لکھا کہ : علی اور ان کے اہل بیت کے ماننے والوں کی گواہی قبول نہ کی جائے ۔
اور پھر اپنے حکام کو مزید تحریر کیا کہ عثمان سے محبت رکھنے والے افراد اور ان کے فضائل ومناقب بیان کنے والے لوگوں کو اپنا مقرب بناؤ اور ان کا احترام کرو اور جو شخص عثمان کی فضیلت میں کوئی روایت بیان کرے تو اس شخص کانام ونسب اور بیان کردہ روایت میرے پاس بھیجو۔
حکام نے معاویہ کے ان احکام پر حرف بحرف عمل کیا اور فضائل عثمان بیان کرنے والوں کو گراں بہا انعامات سے نوازا گیا ۔اس کا نتیجہ نکلا کہ عثمان کے فضائل ومناقب بہت زیادہ ہوگئے ۔
پھر مستقبل کے خطرہ کو بھانپتے ہوئے معاویہ نے اپنے حکام کو تحریر کا کہ :فضائل عثمان کی حدیثیں بہت زیادہ ہوچکی ہیں اور جب تمھیں میرا یہ خط ملے لوگوں سے کہو کہ وہ اب صحابہ اور پہلے دوخلفاء کے فضائل کی احادیث تیار کریں اور ہاں اس امر کو ہمیشہ ملخوظ خاطر رکھنا کہ ابو تراب کی شان میں کوئی حدیث موجود ہو تو اس جیسی حدیث صحابہ کے لئے ضرور تیار کی جانی چاہیئے ۔
معاویہ کے یہ خطوط لوگوں کر پڑھ کر سنائے گئے ۔اس کے بعد صحابہ اور پہلے دونوں خلفاء کی شان میں دھڑا دھڑ حدیثیں تیار ہونے لگیں جن کا حقیقت س ے کوئی واسطہ نہ تھا ۔اس دور کے فقہاء ،قاضی اور حکام ان وضعی احادیث کو پھیلاتے رہے
اب مذکورہ سوال یعنی علی علیہ السلام سریر آرائے مسند خلافت کیوں نہ ہو سکے ؟
اس سوال کو حل کرنے کےلئے ہمیں حضرت علی کی سیرت اور زندگانی رسول میں ان کی فدا کاری اور ان کے صلح وجنگ کے فلسفہ کو مدنظر رکھنا ہوگا اور
جب ان کی دور رسالت کی زندگی اور ان کا فلسفہ وصلح وجنگ ہمارے پیش نظر ہوگا تو ہم اس گتھی کو سلجھا سکیں گے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوال کو سمجھنے کے لئے اسے دو بنیادی سوالوں میں تقسیم کردینا چاہیئے :-
۱:- کیا علی علیہ السلام کی اہلیت رکھتے تھے ؟
۲:- اگر رکھتے تھے تو انہیں خلافت سے محروم کیوں رکھا گیا ؟
پہلے سوال کے جواب کو سمجھنے کے لئے ہمیں علی کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ علی کے والدین کی فدا کاری وایثار کو بھی اپنے سامنے رکھنا ہوگا ۔
ابو طالب(ع) کی اسلامی خدمات
تاریخ اسلام کے معمولی طالب علم کو بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ علی کے والد حضرت ابو طالب نے رسول خدا(ص) کی حفاظت کا فریضہ کس طرح سرانجام دیا ہے ۔اگر ہم حضرت ابو طالب کے ایثار کی داستان سنانا چاہیں تو اس کے لئے علیحدہ کتاب کی ضرورت ہوگی ۔
ذیل میں ہم سیرت ابن ہشام سے ابو طالب کی جان نثاری کا ہلکا سا نمونہ پیش کرتے ہیں :
جب رسول خدا(ص) نے تبلیغ دین شروع کی اور اہل مکہ توحید کی دعوت دی اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی برائیاں بیان کیں تو قریش کو اس پر سخت غصہ آیا اور انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا کہ ابو طالب رسول خدا(ص) کے محافظ ونگران بنے ہوئے ہیں تو انہوں نے اشراف قریش اور ابو سفیان سرفہرست تھے ۔
قریش کا یہ وفد ابو طالب کے پاس گیا اور ان سے کہا : ابو طالب ! تمھار
بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے اور ہمارے دین کے عیوب بیان کرتا ہے ۔آپ اسے بات سے روکیں یا آپ علیحدہ ہوجائیں ہم خود ہی نمٹ لیں گے ۔
ابو طالب نے ان لوگوں کو نرمی سے سمجھایا اور انہیں واپس بھیج دیا ۔چند دنوں کے بعد قریش دوبارہ ابو طالب کے پاس گئے ۔اس دفعہ بھی ابو طالب نے انہیں واپس بھیج دیا ۔ قریش کو جب یقین ہوگیا کہ ابو طالب محمد مصطفی کو ان کے حوالہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو وہ ایک خوبصورت نوجوان جس کانام عمارہ بن ولید تھا کو لے کر ابو طالب کے پاسے گئے ۔اور ان سے کہا ۔یہ عمارہ بن ولید ہے آپ اسے اپنے پاس ٹھہرا لیں اور اپنا بھتیجا ہمارے حوالے کردیں ۔
یہ سن کر ابو طالب نے کہا تم نے کتنا غلط فیصلہ کیا ہے ۔میں تو تمھارے بیٹے کو پالوں او راپنا تمہارے حوالے کردوں اور تم اسے قتل کردو۔ ابن سعد اپنی کتاب طبقات کبری جلد اول ص ۱۰۱ پر لکھتے ہیں : جب عبد المطلب کی وفات ہوئی تو ابو طالب نے رسول خدا کو اپنی گود میں لے لیا ۔ وہ رسول خدا(ص) سے اتنی محبت کرتے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔حد یہ ہے کہ انہیں اپنی اولاد سے بھی اتنی محبت نہیں تھی جتنی کہ وہ حضور اکرم (ص) سے کیا کرتے تھے ۔وہ رسول خدا(ص) کو اپنے پہلو میں سلایا کرتے تھے اور جہاں بھی جاتے رسول خدا (ص) کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ۔
ابو طالب کو محمد مصطفی سے ایسا عشق تھا کہ انہیں کسی چیز سے ایسا عشق نہیں تھا ۔
شعب ابی طالب
اسی جان نثاری ک داستان کو ابن اثیر نے الکامل فی التاریخ کی جلد دوم ص ۵۹-۶۲ پر یوں بیان کیا ہے :
"جب قریش نے محسوس کیا کہ دین اسلام روز بروز ترقی کر رہا ہے اور ان
کا قاصد عمرو بن العاص بھی نجاشی کے دربار سے ناکام ہوکر واپس آگیا ہے ۔تو انہوں نے اپنے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا ۔ جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کریں گے اور ان کے ساتھ کوئی رشتہ ناتا نہیں کیا جائے گا ۔
انہوں نے اپنے اس فیصلہ کو لکھ کر کعبہ میں نصب کردیا ۔حضرت ابو طالب بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب کو لے کر پہاڑ کی ایک گھاٹی میں چلے آئے ۔اس گھاٹی کو شعب ابی طالب کہا جاتا ہے ۔اس گھاٹی میں ابو طالب نے قریبا تین برس کا عرصہ گزارا ۔اس کے بعد اللہ تعالی نے رسول خدا (ص) کو وحی کے ذریعہ بتایا کہ صحیفہ کی عبارت کو دیمک چاٹ چکی ہے ۔اس میں صرف اللہ کانام باقی بچا ہے ۔آنحضرت (ص) نے اپنے چچا ابو طالب کو اس امر کی خبر دی ۔ابو طالب حضور اکرم کی کسی بات میں شک نہیں کرتے تھے ۔ جیسے ہی انہوں نے یہ خبر سنی تو فورا حرم میں آئے اور قریش سے کہا کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی ہے ۔اس میں صرف اللہ کا نام باقی وہ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔پھر انہوں نے فی البدیہہ یہ شعر پڑھے ۔
وقد کان فی امر الصحیفة عبرة متی ما یخبر غائب القوم یعجب
محاالله عنهم کفرهم وعقوقهموما نقموا من ناطق الحق معرب
فاصبح ما قالوا من الامر باطلا ومن یختلق مالیس بالحق یکذب
"صحیفہ کےمعاملہ سے عبرت حاصل کرو ۔جب ایک غیر موجود شخص خبر دے تو تعجب ہوتا ہے ۔اللہ نے ان کے کفر ونافرمانی کی عبارتوں کو مٹاڈالا ۔ان لوگوں کو حق کے داعی سے ناحق ضد تھی انہوں نے جو کچھ بھی کہا تھا باطل ہوگیا اور جو شخص جھوٹی بات بنائے گا وہ لازمی طور پر جھٹلایا جائے گا ۔"
جب تک ابو طالب زندہ رہے کسی کافر کی جراءت نہ تھی کہ وہ حضور(ص) کو اذیت دے سکتا ۔لیکن جب ان کی وفات ہوگئی تو کافروں کے لئے میدان صاف
ہوگیا اور انہوں نے دل کھول کر نبی کریم (ص) کو تکلیفیں پہنچائیں ۔نبی کریم(ص) نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :-
"ما نالت قریش شیا منی اکرهه حتی مات ابو طالب " جب تک ابو طالب زندہ رہے قریش مجھے اذیت نہ دیتے تھے :(۱) ۔
ابو طالب کی فدا کاری اور جاں نثاری کو ہم مورخ ابن خلدون کے ان الفاظ سے ختم کرتے ہیں ۔
رسول خدا(ص)آٹھ برس کے تھے کہ ان کے دادا عبد المطلب کی وفات ہوئی ۔عبد المطلب نے اپنی وفات سے پہلے محمد مصطفی (ص) کو ابو طالب کے حوالہ کیا تھا ۔ ابو طالب نے احسن انداز میں نبی کریم (ص) کی پرورش فرمائی ۔ابو طالب رسول خدا کی زندگی کے تمام لمحات کو بغور دیکھا کرتے تھے ۔انہوں نے آپ کے لڑکپن اور جوانی کا بہت اچھا مشاہدہ کیا اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ رسول خدا دورجاہلیت کی تمام رسومات سے دور رہاکرتے تھے ۔ہجرت سے تین بر س قبل ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی ۔شفیق چچا اور فدا کار زوجہ کی وفات رسول خدا(ص) کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا ۔ابو طالب کے خوف سے سہمے ہوئے قریش نے حضور اکرم (ص) کو ستانا شروع کیا اور اپ کی جائے نماز پر غلاظت ڈالی گئی ۔(۲)
حضرت علی علیہ السلام کے والد ماجد کی فدا کاری کی یہ مختصر سی تاریخ تی اور حضرت علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے رسول اسلام (ص) کی کیا خدمت سرانجام دی اوراق کتاب کی تنگ دامنی کی وجہ سے ہم اس کی تفصیل بتانے سے قاصر ہیں ۔ان کی عظمت کے لئے یہی بات ہی کافی ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو رسول خدا(ص) نے ان کے کفن کے لئے اپنی قمیص اتار کردی اور جب قبر تیار ہوئی تو رسول خدا(ص) چچی کے جنازے سے پہلے خود لحد میں اترے ۔لحد کی مٹی کو اپنے ہاتھوں
____________________
(۱):- الکامل فی التاریخ جلد دوم ص ۵۹-۶۲
(۲):- تاریخ ابن خلدون جلد دوم ص ۱۷۱
سے درست فرمایا اور کچھ دیر تک اپنی چچی اماں کے جنازہ کے ساتھ لحد میں لیٹے رہے(۱) ۔
ابو طالب جیسے عاشق رسول اور فاطمہ بنت اسد جیسی فداکار شخصیت کی گود میں حضرت علی (ع) پلے بڑھے اور جب ذرا بڑے ہوئے تو رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجہ نے ان کی پرورش کی ۔
علی (ع) کی اسلامی خدمات
یہ علی علیہ السلام کا خاندانی پس منظر تھا اب آئیے دیکھیں کہ علی علیہ السلام کا ذاتی کردار کیا تھا ۔اور انہوں نے رسول اسلام(ص) کی کیا خدمات کی اور خود اسلام کی کس قدر انہوں نے خدمت کی ؟
جہاں تک علی او راسلام کے باہمی ارتباط کاتعلق ہے تو ہم اس مقام پر مصر کے اسکالر "عقاد"کے ساتھ ہم نوا ہوکر کہیں گے :
"انّ علیا کا المسلم الخالص علی سجیّته المثلی و انّ الدین الجدید لم یعرف قظّ اصدق اسلاما منه ولا اعمق نفاذا فیه ۔(۲)
علی (علیہ السلام) اپنی آئیڈیل فطرت کی وجہ سے مسلم خالص تھے اور نئے دین نے علی (ع) سے بڑھ کر کسی کے سچے اورگہرے اسلام کا مشاہدہ نہیں کیا تھا ۔
ڈاکٹر طہ حسین اپنی کتاب الفتنتہ الکبری ،عثمان بن عفان صفحہ ۱۰۱پر لکھتے ہیں :- جب رسول خدا(ص) نے اعلان نبوت فرمایا تو علی (ع) اس وقت بچے تھے ۔انہوں نے فورا اسلام قبول کیا اور اسلام کےبعد وہ رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجۃ الکبری کی آغوش میں پرورش پاتے رہے ۔انہوں نے پوری زندگی میں کبھی بھی بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا ۔
سابقین اولین اور علی علیہ السلام میں سب سے واضح فرق یہ ہے کہ انہوں
____________________
(۱):-تاریخ ابن خلدون جلد دوم ص ۱۷۹-۱۸۰
(۲):-عبقریۃ الامام ۔ازاستاد عقاد ص ۱۳
نے منزل وحی میں پرورش پائی اور یہ شرف ان کے علاوہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوا ۔
اسی تربیت وکفالت کا اثر تھا کہ علی ایک عدیم المثال شخصیت بن کر ابھرے ۔بہر نوع علی علیہ السلام کی ذات کا مطالعہ علم النفس یا علم الاجتماع جس بھی حوالے سے کیاجائے علی ہر لحاظ سے لاجواب ،بینظیر اور لا شریک ہو کر سامنے آتے ہیں ۔
علی علیہ السلام کی ذات کو سمجھنے کے لئے درج ذیل مثالوں کو مدنظر رکھیں ۔علی علیہ السلام کی جانثاری اور فداکاری کیلئے شب ہجرت کے واقعات کا تصور کریں ۔
۱:- شب ہجرت
ابن ہشام لکھتے ہیں :- جب قریش نے دیکھا کہ اسلام روزبروز ترقی کر رہا ہے اور اسلام کے پیرو اب مکہ کے علاوہ دیگر شہروں بالخصوص یثرب میں بھی ہیں اور حضور کے کافی پیروکار ہجرت کرکے یثرب روانہ ہوچکے ہیں ۔اس کے ساتھ انہیں یہ یقین ہوگیا کہ رسول خدا (ص) بھی مکہ چھوڑ کر کسی وقت یثرب چلے جائیں گے ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے انہوں نے اپنے بزرگوں کو دارالندوہ میں دعوت دی ۔
کفار مکہ کے سربراہوں میں عتبہ ،شیبہ اور ابو سفیان بھی تھے ۔دوران بحث یہ مشورہ دیا گیا کہ حضور اکرم (ص)کو قید کیا جائے یا انہیں یہاں سے نکال دیا جائے ۔لیکن ان کے دونوں باتوں کو کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا ۔
چنانچہ رائے یہ قرار پائی کہ مکہ کے ہر قبیلہ کا ایک ایک فرد لیا جائے اور ایک مخصوص شب میں حضور (ص) کو قتل کردیا جائے ۔قتل میں زیادہ قبائل کی موجود گی کا یہ فائدہ ہوگا کہ عبد مناف کی اولاد بدلہ نہیں لے سکے گی ۔اور یوں ان کا خوف رائگاں ہوجائیگا ۔جب حضور نے متفرق قبائل کے افراد کو اپنے دروازے پہ دیکھا تو علی ابن ابی طالب کو حکم دیا کہ وہ ان کے بستر پر انہی کی چادر تان کر سوجائیں(۱) ۔
____________________
(۱):- سیرت ابن ہشام جلد دوم ص ۹۵
ابو طالب کے فرزند کے لئے قتل گاہ قریش گل تھی ۔جب رسولخدا(ص) نے فرمایا کہ میری جان کو خطرہ ہے تم میرے بستر پر سوجاؤ تو اس وقت علی (ع) نے بڑے جذباتی انداز میں پوچھا : یا رسول اللہ کیا میرے سونے سے آپ کی جان بچ جائیگی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! پھر حضور اکرم (ص) نے علی(ع) کو حکم دیا کہ وہ اہل مکہ کی تمام امانتیں ان تک پہنچائیں ۔
حضرت علی (ع) رسول خدا (ص) کی ہجرت کے بعد تین دن تک مکہ میں رہے اور کفار ومشرکین کی امانتیں واپس کیں ۔جب اس فریضہ سے فارغ ہوگئے تو پیادہ پا چلتے ہوئے مدینہ آئے اور پیدل چلنے کی وجہ سے انکے پاؤں متورم ہوچکے تھے(۱) ۔
۲:-موخات
ہجرت کے بعد رسول خدا (ص) نے مہاجرین وانصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔
جب علی علیہ السلام نے موخات کا یہ منظر دیکھا تو آبدیدہ ہوگئے ۔رسول خدا (ص) نے ان سے رونے کاسبب دریافت کیا تو انہوں نے عرض کیا آپ نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا ۔ تو رسول خدا(ص) نے فرمایا "انت اخی فی الدنیا و الآخرۃ " تو دنیا اور آخرت میں میر ا بھائی ہے(۲) ۔
۳:- جنگ احد اور علی (علیہ السلام)
جنگ احد میں جب اسلامی لشکر کو پسپائی ہوئی اور صحابہ کرام پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے تو اس وقت حضرت علی (ع) پوری جانفشانی سے لڑتے رہے اور کوہ
____________________
(۱):- تاریخ ابن خلدون جلد دوم ص ۱۸۷ و ابن اثیر الکامل فی التاریخ جلد دوم ص ۷۵
(۲):-سیرت ابن ہشام جلد دوم ص ۹۵-۱۱۱
استقامت بن کر دشمنوں سے نبرد آزمائی کرتے رہے ۔ الغرض ابو طالب کا بیٹا پورے میدان پر چھا گیا اسی مقام پر ہاتف غیبی نے ندا دی تھی "لا سیف الّا ذولفقار ولا فتی الاّ علی " اگر تلوار ہے تو ذولفقار ہے اور اگر جواں مرد ہے تو حیدر کرار ہے ۔
الغرض اسلام اور رسول اسلام کی حفاظت کے بعد جب واپس گھر آئے تو اپنی زوجہ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو اپنی تلوار پکڑاتے ہوئے یہ شعر کہے :-
افاطم هاک السیف غیر ذمیم فلست برعدیر ولا بملیم
لعمری لقد قاتلت فی حب احمدوطاعة رب بالعباد رحیم
فاطمہ ! یہ تلوار لو ،یہ تلوار تعریف کے قابل ہے ۔میدان جنگ میں میں ڈرنے اور کانپنے والا نہیں ہوں ۔
مجھے اپنی زندگی کی قسم میں نے محمد مصطفی کی محبت اور مہربان اللہ کی اطاعت میں جہاد کیا ہے(۱) ۔
۴:- علی(ع) اور تبلیغ براءت
محمد بن حسین روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ احمد بن مفضل نے بیان کیا وہ کہتے ہیں یہ روایت اسباط نے سدی سے کی ہے سعدی کہتے ہیں :-
جب سورہ براءۃ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول خدا نے حضرت ابو بکر کو امیر حج بنایا اور وہ آیات بھی ان کے حوالے فرمائیں اور ارشاد فرمایا کہ تم حج کے اجتماع میں یہ آیات پڑھ کرسناؤ ۔
ابو بکر آیات لے کر روانہ ہوئے ،جب وہ مقام ذی الحلیفہ کے درختوں کے قریب پہنچے تو پیچھے سے علی (ع) ناقہ رسول پر سوار ہو کر آئے اور آیات ابو بکر سے لے لیں ۔حضرت ابو بکر رسول خدا(ص) کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا
____________________
(۱):- تاریخ طبری جلد سوم ص ۱۵۴ ومروج الذہب مسعودی جلد دوم ص ۲۸۴۔
یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا میرے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔میری طرف سے پیغام کو یا میں خود پہنچاسکتا ہوں یا علی (ع) پہنچاسکتے ہیں ۔(۱)
۵:- علی (ع) تبلیغ اسلام کے لیے یمن جاتے ہیں
رسول خدا نے یمن میں تبلیغ اسلام کے لئے خالد بن ولید کوروانہ فرمایا لیکن اس کی دعوت پر کوئی بھی شخص مشرف بہ اسلام نہ ہوا ۔تو اس کے بعد حضور اکرم(ص) نے حضرت علی (ع) کو اسلام کو مبلغ بنا کر یمن روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ خالد اور اس کے ساتھیوں کو واپس بھیج دیں ۔
حضرت علی نے جاتے ہی خالد کو اس کے دوستوں سمیت واپس روانہ کردیا اور اہل یمن کے سامنے رسول خدا(ص) کا خط پڑھ کرسنایا ۔جس کے نتیجہ میں قبیلہ ہمدان ایک ہی دن میں مسلمان ہوگیا(۲) ۔
۶:- ہارون محمدی
حضرت علی (ص) غزوہ تبوک کے علاوہ باقی تمام جنگوں میں شریک ہوئے اور غزوہ تبوک کے موقع پر بھی جناب رسولخدا(ص) نے انہیں مدینہ میں اپنا جانشین بنا کر ٹھہرایا ۔
امام مسلم بن حجاج نے اس واقعہ کو یوں نقل کیا ہے :
حدثنا یحیی التمیمی وابو جعفر محمد بن الصباح وعبد الله القواریری وسریح بن یونس عن سعید بن المسیب عن عامر بن سعد بن ابی وقاص عن ابیه قال قال رسول الله (ص) لعلی (ع) انت منی بمنزلة هارون من
____________________
(۱):- تاریخ طبری جلد سوم ص ۱۵۴
(۲):- ابن اثیر الکامل فی التاریخ جلد دوم ص ۳۵
موسی غیر انه لانبی بعدی
وحدثنا ابوبکر بن شبیه عن سعد بن ابی وقاص قال خلف رسول الله (ص) علیا ،فی غزوه تبوک فقال یارسول الله (ص)تخلفنی فی النساء والصبیان ؟ قال اما ترضی ان تکون منی بمنزلة هارون من موسی غیر انه لانبی بعدی
سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے علی (ع) سے فرمایا تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی ۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔
سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا نے غزوہ تبوک کے موقع پر علی (ع) کو مدینہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں ٹھہرکر جارہے ہیں ؟
رسول خدا(ص) نے فرمایا : کیا تم اس اس بات پر راضی نہیں کہ تم کہ مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔
۷:- فاتح خیبر
جب صحابہ کرام خیبر فتح کرنے میں ناکام ہوئے اور لشکر یہود کے سامنے کئی دفعہ پشت دکھائی رسولخدا(ص) نے اعلان فرمایا :-لاعطین هذه الرّایة رجلا یحب الله ورسوله ویحبه الله ورسوله یفتح الله علی یدیه ۔"
"کل میں اسے علم دونگا جو مرد ہوگا ۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے ۔اللہ اس کے ہاتھ سے خیبر فتح کرائے گا "۔
حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے پوری زندگی میں بس اس دن امارت کی
تمنا کی تھی اور ساری رات نوافل میں گزاری کہ شاید صبح علم اسلامی مجھے مل جائے ۔
جب صبح ہوئی تو رسول خدا(ص) نے علی (ع) کو بلایا اور انہیں علم عطا فرمایا(۱) ۔
ان سب حقائق کے علاوہ منصب خلافت بلافصل کے لئے علی (ع)کی اہلیت کے لیے درج ذیل امور بھی مد نظر رکھنے چاہییں:-
الف :- حضرت علی (ع) دین اسلام کے جوہر کو خوب سمجھنے والے تھے ۔وہ ایمان کے جملہ اطراف وآفاق کا احاطہ رکھتے تھے ۔علی اکثر رسول خدا (ص) کے ساتھ خلوت میں بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے اور لوگوں کو اس گفتگو کوئی علم نہیں ہوتا تھا ۔
آپ قرآن مجید کے معانی ومفاہیم کے لئے رسول خدا(ص) سے زیادہ سے زیادہ استفسار کرتے تھے ۔
اور اگر علی سوال میں ابتدا نہ کرتے تو رسول خدا خود ہی ابتدا کردیتے ،جب کہ علی کے علاوہ باقی لوگ چند قسموں میں تقسیم تھے ۔
۱:- کچھ ایسے تھے کہ حضور اکرم سے سوال کرتے ہوئے گھبراتے تھے اور ان کی تمنا ہوتی تھی کہ کوئی اعرابی یا مسافر آکر حضور سے کچھ پوچھے اور وہ سن لیں ۔
۲:- کچھ ایسے تھے کہ حضور اکرم سے سوال کرتے ہوئے گھبراتے تھے اور ان کی تمنا ہوتی تھی کہ کوئی اعرابی یا مسافر آکر حضور سے کچھ پوچھے اور وہ سن لیں ۔
۳:- کچھ لوگ عبادت یا دنیاوی کاروبار کی وجہ سے فہم وادراک کی نعمت سنے خالی تھے ۔
۴:- کچھ اسلام سے عداوت وبغض کو چھپائے تھے اور وہ دینی مسائل کے یاد رکھنے کو وقت کا ضیاع تصور کرتے تھے ۔(۲) ۔
ب:- رسول خدا (ص) آپ کو جانشین بنانے کے لئے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی غرض سے آپ کو اہم مقامات پر روانہ کیا کرتے تھے ۔ جہاں سے آپ ہمیشہ مظفر
____________________
(۱):- صحیح مسلم جلد دوم ص ۳۲۴
(۲):- ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص ۱۷
منصور ہوکر لوٹا کرتے تھے ۔
رسول خدا (ص) نے جب بھی کوئی مہم روانہ فرمائی تو اگر اس مہم میں علی (ع) شامل ہوتے تھے تو علی اس مہم کے امیر اور انچارج ہوا کرتے تھے ۔
رسول خدا (ص) کی پوری زندگی میں علی (ع) کسی کی ماتحتی میں کبھی روانہ نہیں ہوئے اور اس کے برعکس حضرت ابو بکر وحضرت عمر کو متعدد مرتبہ لوگوں کی ماتحتی میں روانہ کیا گیا ۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ حضرت ابو بکر نے اپنے دور خلافت میں حضرت عمر کی ذہنی وعملی تربیت کی تھی ۔چنانچہ جس شخص کی انہوں نے خود تربیت کی تھی ۔اس کی خلافت کے لئے نامزدگی کا انہوں نے اعلان کردیا اور لوگوں نے بھی ان کی خلافت کو تسلیم کرلیا ۔ لیکن جس شخصیت کی تربیت معلم اعظم جناب رسول خدا نے کی انہیں لوگوں نے خلافت سے محروم کردیا ۔
ج:- جیش اسامہ :-
جناب رسول خدا(ص) اپنی وفات سے پہلے علی (ع۹ کی خلافت کے لئے میدان صاف کرنا چاہتے تھے اور جن لوگوں کے متعلق آپ کو مخالفت کا گمان تھا انہیں مدینہ سے باہر روانہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے لئے جیش اسامہ کا حال ابن سعد کی زبانی سنیئے ۔:-
ماہ صفر کے اختتام میں چار راتیں باقی تھیں سوموار کادن ۱۱ھ کو جناب رسول خدا(ص) نے رومیوں پر حملہ کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔
جب صبح ہوئی تو آپ نے اسامہ بن زید کو بلا کرفرمایا ۔تم لشکر لے کر وہاں چلے جاؤ جہاں تمہارے والد کو شہید کیا گیا تھا ۔اس علاقہ کو اپنے گھوڑوں س پامال کر دو ۔اہل ابنی پر صبح کے وقت یلغار کرنا اور اس بات کا خصوصی خیال رکھنا کہ وہ تمھارے آنے سے بے خبر رہنے چاہئیں اور اگر خدا تمہیں کا میابی عطا
فرمائے تو وہاں زیادہ دیر نہ رکنا ۔اپنے ساتھ راہ دکھانے والے افراد اور جاسوسوں کو لے کر روانہ ہوجاؤ ۔
جب بدھ کا دن ہوا تو حضور اکرم (ص) سخت بیمار ہوگئے اور پھر جمعرات کے دن آپ نے اپنے ہاتھوں سے پر چم تیار کیا اور فرمایا :
اسامہ! اللہ کا نام لے کر چلے جاؤ اور خدا کے لئے جہاد کرو اور منکرین توحید سے جنگ کرو ۔
آپ نے وہ پر چم بریدہ بن حصیب اسلمی کے حوالہ فرمایا ۔اسامہ کا لشکر "جرف" کے مقام پر فروکش ہوا ۔اس لشکر میں مہاجرین وانصار کے سرکردہ افراد بھی شریک تھے ۔ جن میں ابو بکر ،عمر اور ابو عبیدہ بن جراح سرفہرست تھے لوگوں نے اسامہ کی سربراہی پر اعتراض کیا اور کہنے لگے کہ مہاجرین وسابقین پر بچہ کو سربراہ بنادیا گیا ۔
جب رسول خدا(ص) کو لوگوں کے اعتراضات کا پتہ چلا تو آپ سخت ناراض ہوئے ۔آپ سرپر پٹی باندھ کر گھر سے باہر آئے اور منبر بیٹھے اور فرمایا :
لوگو! میں یہ کیسی گفتگو سن رہا ہوں کہ تم لوگوں نے اسامہ کے امیر لشکر ہونے پر اعتراض کئے ہیں اور سن لو اعتراض کی یہ عادت تمہیں آج سے نہیں ہے ۔اس سے پہلے بھی تم نے اسامہ کے والد زید کی امارت پر اعتراض کیاتھا ۔
خدا کی قسم ! وہ امارت کے لائق تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی امارت کے قابل ہے ۔اسامہ اوراس کے والد کا تعلق میرے محبوب ترین افراد سے ہے دونوں باپ بیٹے اچھے ہیں ۔تم لوگوں کو بھی ان سے اچھائی کرنے کی تلقین کرتا ہوں یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے ۔
خدا کی قسم! وہ امارت کے لائق تھا اور اس کےبعد اس کا بیٹا بھی امارت کے قابل ہے ۔اسامہ اور اس کے والد کا تعلق میرے محبوب ترین افراد سے ہے دونوں باپ بیٹے اچھے ہیں ۔تم لوگوں کو بھی ان سے اچھائی کرنے کی تلقین کرتا ہوں یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے ۔
اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا اور اپنے بیت الشرف تشریف لے گئے آپ نے یہ خطبہ دس ربیع الاول بروز ہفتہ دیا تھا ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی آپ بار بار فرماتے رہے ۔اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو ۔
جب اتوار کا دن ہواتو رسول خدا(ص) کی تکلیف بڑھ گئی ۔اسامہ آپ سے الوداع کرنے کے لئے آئے تو اس وقت آپ کی طبیعت انتہائی ناساز ہوچکی تھی ۔ اسامہ سے زیادہ گفتگو نہ کرسکے ،اپنے ہاتھوں کو آسمان کی جانب بلند فرمایا اور اسامہ کے سرپر ہاتھ رکھا ۔
اسامہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ آپ میرے لئے دعا فرمارہے ہیں ۔بعد ازاں اسامہ اپنے لشکر کے پاس آئے اور حکم دیا کہ خدا کا نام لے کرچل پڑوابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ حضور اکرم کی وفات ہوگئی(۱) ۔
ابن سعد کے بیان کردہ واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ :
۱:-حضور اکرم(ص) نے اپنی وفات سے چند ایام قبل شام وروم کی طرف ایک لشکر تیار فرمایا ۔
۲:- اسامہ بن زید جو کہ صغیر السن تھے ،انہیں اس لشکر کا امیر مقرر کیا گیا ۔
۳:-اسامہ کے لشکر میں سابقین اولین اور بالخصوص حضرات شیخین اور ابو عبیدہ بن جراح بھی شامل تھے ۔
۴:- جب لشکر نے تاخیری حربے شروع کئے تو رسول خدا ناسازی طبع کے باوجود سرپر پٹی باندھ کر مسجد میں تشریف لائے۔
۵:- امارت اسامہ پر اعتراض کرنے والوں پر کڑی تنقید فرمائی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ ان کی پرانی عادت ہے ۔یہی معترضین اسامہ کے والد زید کی امارت پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے ۔ مگر زید امارت کے حق دار تھے ۔ اسی طرح اعتراض کے باوجود بھی اسامہ امارت کے حقدار ہیں ۔
____________________
(۱):-طبقات ابن سعد جلد چہارم ص ۳-۴
۶:-رسول خدا(ص) کی جانب سے باربار لشکر اسامہ کو روانہ کرنے کے حکم کے باوجود اہل لشکر نے تعمیل حکم نہ کی اور "جرف" میں ٹھہرے رہے ۔
۷:- اپنی زندگی کے آخری ایام میں رسول خدا بار بار اسامہ کے لشکر کو بھیجنے کے خواہش مند کیوں تھے ؟
۸:- حضرات شیخین اور بزرگ مہاجرین کو کمسن اسامہ کی ماتحتی میں بھیجنے کا آخر کیا مقصد تھا ؟
۹:- تاکیدی احکام سننے کے باوجود بھی لوگوں نے جانے میں تاخیر کی ؟
کہیں حقیقت یہ تو نہیں ہے کہ رسول خدا (ص) اپنی وفات سے پہلے ہر ممکنہ مزاحمت کو ختم کرنا چاہتے تھے اور مدینہ کی سرزمین کو علی (ع) کی خلافت کے لئے سازگار بنانا چاہتے تھے ؟
اور کیا جیش اسامہ کو روانہ کرنے اور کاغذ اور قلم دوات طلب کرنے میں کوئی باہمی ارتباط تو نہیں تھا ؟
اے کاش ! اگر شیخین تاخیری حربوں سے اسامہ متاثر نہ ہوتے اور لشکر کو لے کر روانہ ہوجاتے تو آج اسلامی تاریخ کسی اور طرح سے لکھی جاتی اور آج مسلمان قوم یوں زبوں حالی کا شکار نہ ہوتی ۔
فصل دوم
سقیفہ کی کاروائی
۱:حضرت ابو بکر صدیق
سابقہ گفتگو کا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ : حضرت علی (ع) پوری طرح سے خلافت بلافصل کی اہلیت وقابلیت رکھتے تھے ۔ کیونکہ علی (ع) کا رسول اسلام اور خود اسلام سے گہرا ارتباط تھا اور اسلام اور رسول اسلام بھی انہیں خلافت وامامت کے لائق سمجھتے تھے ۔
اگر بالفرض سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمان علی علیہ السلام کے حق کے لئے یوں دلیل دیتے کہ
(۱):-علی رسالت مآب کے سب سے قریبی ترین فرد ہیں ۔
(۲):-علی رسول خدا کی آغوش کے پروردہ ہیں ۔
(۳):- ہجرت کی شب امانتوں کے امین وہی تھے ۔
(۴):- رسول خدا نے انہیں اپنا بھائی مقرر کیا تھا ۔
(۵):- رسول خدا کے داماد ہیں ۔
(۶):-رسول خدا کی نسل ان کے صلب سے جاری ہوئی ۔
(۷):-رسول خدا کی تمام غزوات میں امیر لشکر اور علمدار تھے ۔
(۸):- وہ ہارون محمدی ہیں ۔
(۹) :- وہ شہر علی کا دروازہ ہیں ۔
(۱۰):-وہ بیت حکمت کا دروازہ ہے ۔
(۱۱):- وہ صفات انبیاء کے آینہ دار ہیں ۔
(۱۲):- نور نبوی کے وہ شریک ہیں ۔(۱۳):-وہ نبوت کے مربّی کے فرزند ہیں ۔
(۱۴):-انکی ولادت کعبہ میں ہوئی ۔(۱۵) :-ان کی پیشانی کبھی بتوں کے سامنے نہیں جھکی ۔
(۱۶) :- ان کی مودت اجر رسالت ہے ۔(۱۷) :- وہ مباہلہ میں صداقت اسلام کے گواہ ہیں ۔
(۱۸) :- وہ چادر تطہیر کے طاہر فرد ہیں ۔(۱۹) :- وہ صاحب علم الکتاب ہیں ۔
(۲۰) :- وہ اپنی جان کے بد لے مرضات خداوندی کے خریدار ہیں ۔
الغرض اگر ایسا ہوتا اور مسلمان علی علیہ السلام کو ہی اپنی حکومت وزعامت کے لئے منتخب کرلیتے تو وہ انحراف ک شکار نہ ہوتے اور آج کے دور میں اسلامی تاریخ کو سنہری حروف سے لکھا جاتا ڈاکٹر طہ حسین نے اپنے موضوع سے انصاف کرتے ہوئے بالکل صحیح لکھا ہے :-
"علی اپنی قربت ،سبقت الی الاسلام ،اپنی فداکاریوں ،اپنی غیر منحرف سیرت ،دین سے تمسک ،کتاب وسنت کے علم اور استقامت رائے کے سبب بلاشبہ خلافت بلافصل کی صلاحیت رکھتے تھے(۱) "۔
ابن حجر عقلانی امام علی علیہ السلام کے اہم خصائص بیان کرتے رقم طراز ہیں :-
"علی ابن ابی طالب اکثر اہل علم کے قول کے مطابق مسلم اول ہیں نبی اکرم کی آغوش میں تربیت پائی ۔کسی مرحلہ میں نبی سے جدا نہیں ہوئے ۔غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک رہے ۔اور غزوہ تبوک میں بھی وہ رسول خدا کے حکم کے تحت مدینہ میں ٹھہرے اور رسول خدا نے فرمایا تھا "اما ترضی یا علی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لانبی بعدی " علی کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کی موسی سے تھی ۔مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔
اکثر غزوات میں حضرت علی ہی اسلامی لشکر کے علم بردار تھے ۔جب رسول خدا نے صحابہ میں مواخات قائم کی تو علی کو اپنا بھائی قرار دیا ۔آپ کے بے شمار مناقب ہیں ۔امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ :کسی صحابی کے لئے اتنی فضائل کی احادیث منقول نہیں ہیں ۔جتنی کہ علی کے لئے منقول ہیں(۲) ۔"
____________________
(۱):- الفتنتہ الکبری بن عفان ص ۱۰۲ -۱۰۳
(۲):- ابن حجر عسقلانی ۔الاصابہ فی تمیز الصحابہ ص ۵۰۱-۵۰۲
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی فضائل کی احادیث کی نشر واشاعت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بنی امیہ کے سلاطین نے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل ومناقب کو چھپانے کے لیے تمام حربے استعمال کئے ۔اسی لئے حفاظ حدیث نے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے فضائل علی (ع) کی احادیث کی نشر واشاعت کی ۔چشم فلک نے آج تک علی علیہ السلام جیسا عالم اور مفتی نہیں دیکھا ۔غزوہ خیبر میں رسول خدا(ص) نے اعلان کیاتھا ۔ :- "کل میں اسے علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (ص) سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور رسول (ص) کا محبوب ہوگا ۔ اللہ اس کے ہاتھ پر خیبر فتح کرے گا ۔ " دوسرے روز آپ نے علم علی علیہ السلام کے حوالہ فرمایا ۔حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ : مجھے صرف اسی دن ہی امارت کا شوق ہوا تھا ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ براءت کی آیات دے کر علی علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا کہ قرآنی آیات کی تبلیغ یا تو میں خود کرسکتا ہوں یا وہ کرسکتا ہے جو مجھ سے ہو ۔
علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "علی ولی فی الدنیا والآخرة " دنیا اور آخرت میں علی میرا جانشین ہے ۔
آپ نے علی وفاطمہ اور حسن وحسین علیھم السلام کو اپنی چادر میں داخل کرکے فرمایا :انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا " اے اہل بیت ! اللہ کا بس یہی ارادہ ہے کہ تم سے رجس کو دور رکھے اور تم کو اس طرح پاک رکھے جیسا کہ پاکیزگی کا حق ہے ۔
علی علیہ السلام شب ہجرت رسول خدا کی چادر پہن کر ان کے بستر پر سوئے تھے اور رسول خدا کی جان بچائی تھی ۔
رسول خدا نے علی علیہ السلام سے فرمایا تھا :انت ولی کل مومن من بعدی " تم میرے بعد ہر مومن کے سردار ہو ۔
رسول خدا (ص) نے مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرادئیے لیکن علی علیہ السلام کا دروازہ کھلا رہنے دیا ۔علی (ع) حالت جنابت میں بھی مسجد سے گزرا کرتے تھے ، مسجد کے علاوہ علی (ع) کے گزرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا رسول کریم نے پالانوں ک منبر بنا کر لاکھوں افراد کے سامنے علی (ع) کا بازو بلند کرکے اعلان فرمایا :- "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔
اور جب "فقل تعالوا ندع ابناءنا و ابناءکم ونساءنا ونسآءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله علی الکاذبین "۔ علم آجانے کے بعد جو تم سے جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹے بلائیں اور تم اپنے بیٹے اور ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنی جانوں کو لے آئیں اور تم اپنی جانوں کو لے آؤ پھر ایک دوسرے کو بد دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں " کی آیت مجیدہ نازل ہوئی تو رسول اکرم (ص) نے علی وفاطمہ وحسن وحسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا :-خداوندا ! یہ ہیں میرے اہلبیت ۔ امام ترمذی عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں رسول خدا (ص) نے فرمایا :-"ماتریدون من علی ؟ ان علیا منی وانا من علی وهو ولی کل مومن بعدی " آخر تم علی (ع) سے کیا چاہتے ہو ۔بلاشبہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ۔میرے بعد ہر وہ مومن کا سردار ہے ۔
اب پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے مناقب وفضائل کے باوجود علی خلافت سے محروم کیوں رہے ؟۔
اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں وفات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات کومد نظر رکھنا چاہیئے اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حضرت علی (ع) رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہز وتکفین ونماز جنازہ میں مصروف رہے ۔جب ان کے سیاسی حریف رسول خدا (ص) کے جنازہ کو چھوڑ کر سقیفہ
بنی ساعدہ میں چلے گئے اور وہاں اپنی خلافت قائم کی(۱) ۔
حضرت علی کو خلافت سے محروم رکھنے کی ایک وجہ حضرت عمر نے یہ بیان کی تھی کہ عرب ایک ہی خاندان میں نبوت اور خلافت کا اجتماع برداشت نہیں کرسکتے ۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ۱۱ھ میں رسولخدا (ص) نے وفات پائی اور حضرت علی رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں مشغول ہوگئے ۔
رسول خدا (ص) کے گھر سے باہر سیاسی فضا بڑی دھماکہ خیز تھی ۔جس میں سر فہرست خلیفۃ الرسول کا مسئلہ تھا ۔
سعد بن ابو عبادہ اوس وخزرج کے سرکردہ افراد کو لے کر سقیفہ بن ساعدہ میں آگئے ۔اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ مسجد میں مسئلہ خلافت پر بحث کر رہے تھے ۔ اور اس کے علاوہ کئی اور گروہ دوسرے مقامات پر مصروف مشورہ تھے ۔
حضرت ابو بکر نے جب وفات رسول(ص) کی خبر سنی تو محلہ سخ سے رسول خدا (ص) کے گھر آئے اور حضرت عمر کو دیکھا کہ وہ دروازے پر تلوار ننگی کرکے کھڑے ہوئے تھے اور لوگوں کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ جس نے رسول خدا (ص) کی وفات کی بات کی میں اسے قتل کردونگا ۔حضور کی وفات نہیں ہوئی ،وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح آسمان پر چلے گئے ۔کچھ دنوں بعد واپس آئیں گے اورمنافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے ۔
اس سانحہ دلخراش کی وجہ سے حضرت عمر بظاہر اپنے ہوش وحواس کھو
____________________
(۱):- اس واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے عارف رومی نے فرمایا تھا :-
"چوں صحابہ دنیا داشتند
مصطفی رابے کفن بگزاشتند "
حضرت بو علی قلندر پانی پتی نے حضرت علی(ع) کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا ۔"امامی کہ روز وفات پیمبر خلافت گزارد بہ ماتم نشیند "
بیٹھے تھے ۔عین سی وقت کسی آدمی نے انہیں سقیفہ کی کاروائی کی اطلاع دی ۔غم رسول میں "حواس باختہ " شخصیت فورا ہوش وحواس میں آگئی اور حضرت ابو بکر کے پاس ایک شخص کو بھیجا اور اس شخص نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ عمر آپ سے ایک عظیم کام کے متعلق مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔
یہ اطلاع ملتے ہی حضرت ابو بکر گھر سے باہر نکل آئے اور پھر یہ دونوں بزرگوار سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے ۔جہاں اوس وخزرج کے سرکردہ افراد سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنانے پر تلے ہوئے تھے ۔
مگر ان حالات میں حضرت علی (ع) نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہئیے تھا ۔ حضرت علی رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین کے معاملات میں مصروف رہے ۔رسول خدا (ص) کے چچا حضرت عباس وفات رسو(ص) کی وجہ سے بہت غمگین تھے مگر ان دردناک لمحات میں انہوں نے حضرت علی (ع) کی بیعت کرنے کاقصد کیا تھا جسے حضرت علی (ع) نے یہ کہ کہر ٹھکرادیا کہ :"ابھی تورسول کریم کا جسد مبارک بھی دفن نہیں ہوا میں خلافت کو کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟"
ابو سفیان بن حرب تین دفعہ حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور ان کو خلافت سنبھالنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اس ناپسندیدہ حکومت کو ختم کرنے کے لئے میں مدینہ کی گلیوں کو اونٹوں اور پیادہ لوگوں سے بھر دوں ۔مگر حضرت علی علیہ السلام نے اسے سختی سے ڈانٹ دیا اور کہا : تم اسلام کے خیر خواہ کب تھے ؟
اب تم خلیفہ گر کا کردار ادا کرنا چاہتے ہو؟۔
سقیفہ کا اجتماع اگر چہ انصار نے ہی منعقد کیا تھا لیکن اس اجتماع سے فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔اس کاروائی کی مختصرا روئیداد یہ ہے ۔:-
قبیلہ اوس وخزرج کے افراد سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے ۔ ان میں سعد بن عبادہ بھی موجود تھے ۔
سعد بیمار تھے اور بلند آواز سے گفتگو کرنے سے قاصر تھے ۔انہوں نے اپنے ایک فرزند سے کہا کہ تم میری گفتگو سن کر سامعین کو اس سے آگاہ کرتے رہو چنانچہ بیٹا ان کی مدہم گفتگو کو سن کر بلند آواز سے لوگوں کوسناتا ۔سعد نے کہا :-
"اے گروہ انصار ! تمہارا دین میں بڑا مقام ہے اور تمہیں اسلام میں فضیلت حاصل ہے اور ایسی فضیلت پورے عرب میں کسی قبیلہ کو حاصل نہیں ہے ۔جناب رسولخدا(ص) کئی سال تک مکہ میں اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کرنے اور بت پرستی چھوڑنے کی دعوت دیتے رہے ۔چند افراد کے سوا باقی قوم نے ان کی شدید مخالفت کی ۔اللہ تعالی نے تمہیں اس عزت سے سرفراز کیا ۔اللہ نے اپنے نبی کو تمہارے پاس بھیج دیا اور اللہ نے تمہیں دین کی مدد کیلئے منتخب فرمایا ۔
تم دین کے دشمنوں پر سخت ثابت ہوئے اور دوسرے مسلمان کی بہ نسبت اسلام میں تمہاری قربانیوں زیادہ ہیں اللہ نے اپنے حبیب کو اس حال میں وفات دی کہ وہ تم سے راضی تھے ۔اپنے آپ کو مضبوط بناؤ ۔تمام لوگوں کی بہ نسبت تم حکومت کے زیادہ حقدار ہو"۔
یہی اطلاع غم رسول میں "حواس باختہ "شخصیت حضرت عمر کو ملی ۔اطلاع ملتے ہی وہ رسول خدا کے دروازے پر آئے اور حضرت ابو بکر کو بلایا اور یہ دونوں دوست سقیفہ کی طرف چلے گئے ۔وہاں حضرت ابو بکر نے خطاب کرتے ہوئے کہا :-
"ہم مہاجرین سب سے پہلے اسلام لائے اور ہم رسول خدا(ص) کا خاندان ہیں ۔اور تم لوگ اللہ کے مدد گار ہو اور کتاب خدا میں ہمارے بھائی ہو اور دین میں ہمارے شریک ہو۔تم ہمیں تمام لوگوں سے محبوب ہو اور تم ہمیں بڑے عزیز ہو اور تم لوگوں نے ہمیشہ ایثار سے کام لیا ہے اور میں اب بھی تم سے اسی ایثار کی توقع رکھتا ہوئن اس وقت تمہارے درمیان ابو عبیدہ اور عمربن خطاب موجود ہیں ۔ان دونوں میں سے تم جس کی بھی چاہو بیعت کر سکتے ہو میں ان دونوں کو اس کا م کے اہل سمجھتا ہوں "۔
حضرت عمر اور ابو عبادہ نے کہا کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی اور شخص مسند خلافت کو نہیں سنبھال سکتا ۔آپ ہی مستحق خلافت ہیں ۔اس وقت انصار میں سے حباب بن منذر نے کھڑے ہوکر کہا ۔
گروہ انصار ! اپنے اتفاق واتحاد کو قائم رکھو ۔تمہاری ہی سرزمین پہ کھل کر اللہ کی عبادت ہوئی ہے ۔تم نے ہی رسول کو پناہ دی تھی تم نے ہی ان کی نصرت کی تھی اور رسول خدا ہجرت کرکے تمہارے ہی پاس آئے تھے ۔۔۔۔۔اگر اس کے باوجود یہ لوگ تمہاری حکومت پر راضی نہیں تو پھر ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ان میں سے ہو ۔
حضرت عمر نے کہا : ایسا ناممکن ہے ۔
بشیر بن سعد خزرجی نے دیکھا کہ انصار سعد بن سعادہ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کے ذہن میں اوس وخزرج کی سابقہ خانہ جنگیاں عود کر آئیں اور وہ سعد کو اس لئے ناپسند کرتا تھا کہ سعد کا تعلق اوس قبیلہ سے تھا اور بشیر نے سوچا کہ اگر حکومت اوس قبیلہ میں چلی گئی تو یہ ان کی نسلوں کے لئے اعزاز ثابت ہوگی ۔جب کہ خزرج کی کمزوری کا پیش خیمہ بنے گی ۔اسی لئے اس کے ذہن نے فیصلہ کیا کہ خلافت میرے قبیلہ میں تو ویسے ہی نہیں آسکتی تو اوس میں بھی نہیں جانی چاہئے ۔کیوں نہ کسی مہاجر کی حکومت کو تسلیم کرلیا جائے ۔
یہ سوچ کر وہ کھڑا ہوا اور حاضرین سے کہا :
گروہ انصار! یہ سچ ہے کہ ہم نے اسلام کی خدمت کی ۔لیکن یہ حقیقت بھی ہمیں پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ہمارے جہاد اور اسلام کا مقصود صرف اپنے اللہ کی رضا اور نبی کی اطاعت تھی ۔
محمد کا تعلق قریش سے تھا اور ان کی قوم ہی ان کی میراث کی حقدار ہے اللہ سے ڈرو اور ان سے مت جھگڑو۔
حضرت ابو بکر نے کھڑے ہوکر کہا ! یہ عمر اور ابو عبادہ ہیں ۔ان میں سے تم جس کی بیعت کرنا چاہتے ہوکرلو ۔
ان دونوں نے کہا ! خدا کی قسم ہم آپ پر حکومت نہیں کریں گے ۔ آپ ہاتھ بڑھائیں ۔ہم بیعت کرتے ہیں ۔
حضرت ابو بکر نے ہاتھ بڑھایا ،حضرت عمر اور ابوعبادہ سے پہلے بشیر بن سعد نے ان کی بیعت کی ۔
حباب بن منذر نے اسے آوازدی "اے نافرمان اور قوم کے دشمن بشیر ! تو نے یہ سب کچھ اپنے چچا زاد کے حسد کی وجہ سے کیا ہے ۔خزرج کے سردار بشیر بن سعد کی بیعت کے بعد اوس قبیلہ نے سوچا کہ اگر ہم بیعت میں پیچھے رہ گئے تو خزرج قبیلہ حکومت کا مقرّب بن جائے گا ۔اسی لئے اوس میں اسے اسید بن حضیر نے خزرج ک ضد اور سعد بن عبادہ کی مخالفت کی وجہ س بیعت کی ،اس کے بعد اس کے قبیلہ نے بھی بیعت کرلی ۔
بیمار سعد بن عبادہ کو چار پائی پر لٹا کر گھر لے گئے اور انہوں نے مرتے دم تک بیعت نہیں کی تھی ۔
پھر حضرت سعد شام چلے گئے اور حضرت ابوبکر کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں قتل کردیا گیا اور مشہور کیاگیا کہ رات کی تاریکی میں جنات نے انہیں تیر مار کر ہلاک کردیا ۔ جب کہ باخبر حلقے اس کو خالد بن ولید کی کارستانی قراردیتے ہیں ۔
اس بیعت کے کچھ دیر بعد براء بن عازب نبی اکرم کے گھر آئے ۔ابھی تک رسول خدا کا جسم بھی دفن نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے آتے ہی اطلاع دی کہ میں نے اپنی آنکھوں سے عمر اور ابو عبادہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہر گزرنے والے کا ہاتھ پکڑ کر ابو بکر کے ہاتھ پر رکھ کر بیعت لے رہے ہیں(۱) ۔
____________________
(۱):-عبد الفتاح عبد المقصود ۔الامام علی بن ابیطالب جلد اول ص ۱۴۹
واقعات سقیفہ کا تجزیہ
ہم سقیفہ کی کاروائی بلا کم وکاست اپنے قارئین کے حضور پیش کرچکے ہیں ۔
ان واقعات میں حضرت عمر کا جو کردار رہا ہے اس سے کوئی بھی صاحب نظر چشم پوشی نہیں کرسکتا ۔
۱:- خدارا ہمیں بتایا جائے کہ حضرت رسول خدا(ص) کے گھر میں تعزیت تسلی کے لئے کیوں نہیں گئے ۔اگر بالفرض انہیں علی (ع) اور اولاد علی (علیھم السلام) سے کوئی دلچسپی نہیں تھی تو اس دلخراش صدمہ کے وقت کم از کم اپنی بیوہ بیٹی کے سرپر ہی ہاتھ رکھنے کیلئے چلے جاتے اور یوں رسو لخدا(ص) کی تجہیز وتکفین میں شرکت کا اعزاز حاصل کرلیتے ۔
۲:-موصوف اگر غم زدہ خاندان کو تسلی دینا نہیں چاہتے تھے ۔تو جس وقت انہیں اوس وخزرج کے اجتماع کا علم ہوا تو اس وقت حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے خود اندر تشریف کیوں نہ لےگئے ؟
۳:- خود جانے کے بجائے انہوں نے کسی اور فرد کو حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے کیوں بھیجا اور خود دروازے پر کھڑے رہنے کو کیوں پسند فرمایا ؟
۴:- غم زدہ خاندان کے پاس اس وقت اور بھی اصحاب موجود ہوں گے اس کے باوجود حضرت عمر نے صرف حضرت ابوبکر کو ہی مشہورہ کیلئے طلب کیوں فرمایا ؟
۵:- ہمیں بتایا جائے کہ حضرت ابو بکر کا گھر کے اندرہونا اور حضرت عمر کا باہر دروازے پر کھڑا ہونا یہ محض ایک اتفاق تھا یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا ؟
۶:- حضرت ابوبکر کے آنے سے پہلے حضرت عمر اور ابو عبیدہ کی جو باہمی گفتگو ہوئی تھی ۔اس میں کن نکات پر اتفاق ہواتھا ؟
۷:- حضرت ابوبکر نے مہاجرین کی جو فضیلت بیان فرمائی تھی ۔اس فضیلت
میں تمام مہاجر برابر کے شریک تھے یا صرف حضرت عمر اور ابو عبیدہ ہی تمام فضیلت کے مالک تھے ؟
۸:-حضرت ابو بکر نےمہاجرین کے استحقاق خلافت کے لئے دو وجوہات بیان فرمائیں ۔
(الف):- انہیں اسلام میں سبقت کا شرف حاصل ہے ۔
(ب):- وہ حضور کریم کا خاندان ہیں
اگر مذکورہ بالا دو وجوہات ہی خلافت کا معیار ہیں تو اس معیار پر حضرت علی علیہ السلام زیادہ اترتے ہیں کیونکہ
(۱):- ان کی اسلام میں سبقت مسلم ہے ۔
(۲):- وہ حضرت ابو بکر کی بہ نسبت رسول خدا(ص) کے زیادہ قریب ہیں ۔
پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر کے بیان کردہ معیار کے مطابق علی علیہ السلام کو خلافت کا حق دار نہیں سمجھا گیا ؟
۹:- خلافت اگر مہاجرین کاہی حق ہے تو پھر حضرت ابو بکر نے مہاجرین میں صرف دو افراد یعنی حضرت عمر اور ابو عبیدہ کے نام ہی کیوں پیش کیے ؟
مذکورہ ناموں کی تخصیص کی کوئی وجہ بیان کی جاسکتی ہے ؟ اور کیا یہ "ترجیح بلا مرجح " تو نہیں تھی ؟
۱۰:-خلافت کو مہاجرین میں ہی محدود کرنا ضروری تھا تو کیا حضرت ابو بکر انصار کو یہ مشہورہ نہیں دے سکتے تھے کہ وہ جس مہاجر کو امیر بنانا چاہیں بنا لیں آخر ایسا کیوں نہیں کیا گیا ؟
۱۱:- بزم مہاجرین میں سے صرف دو افراد کے نام پیش کرنے میں کونسی حکمت تھی ؟طالبان تحقیق کے لئے اس حکمت کو آشکار کیا جائے ۔
۱۲:-حضرت عمر اور ابوعبیدہ نے اس پیش کش کو کیوں مسترد کردیا اور انہوں نے حضرت ابو بکر کی امارت کو کیوں ترجیح دی ؟ اس کی کوئی معقول وجہ بیان فرمائی جائے ۔
۱۳:- سقیفہ کی کاروائی کی تمام کڑیاں اتفاقیہ انداز میں ملتی گئیں یا پہلے سے کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت انہیں جوڑا گیا تھا ؟ علم تاریخ کے طلباء کے لئے اس سوال کا جاننا انتہائی ضروری ہے ۔
علمائے اہل سنت سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں تسلی بخش جواب دیں ۔
۱۴:- کیا سقیفہ کی کاروائی اور لشکر اسامہ کا بھی آپس میں کوئی تعلق ہے ؟ اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ نے مسجد میں بیٹھ کر جو مشورہ کیا تھا ۔سقیفہ کا اس مشورہ سے بھی کوئی واسطہ تھا ؟۔
حضرت ابو بکر کی رفاقت میں دونوں شخصیات جب سقیفہ کی طرف روانہ ہوئیں ،تو کیا تینوں بزرگوں کی رفاقت تو سقیفہ میں کامیابی کا ذریعہ نہیں بنی ؟
۱۵:- جب چند افراد خلافت کے لئے سقیفہ میں جمع ہوئے تھے تو اس وقت دوسرے مہاجرین کہاں تھے ؟
۱۶:- اوس وخزرج کی پرانی دشمنیاں سقیفہ میں عود کرآئی تھیں ۔کیا ایسا اتفاقی طور پر ہوا تھا یا کوئی خفیہ ہاتھ اس دشمنی کو بھڑکانے پر تلے ہوئے تھے ؟
۱۷:- اور اگر اس آتش عداوت کو بھڑکانے میں خفیہ ہاتھ کارفرما تھے تو ان خفیہ ہاتھوں کی نشاندہی کرنا آپ پسند فرمائیں گے ؟
۱۸:- کیا خلیفہ کا انتخاف تدفین رسول سے بھی زیادہ ضروری تھا ؟۔
۱۹:- کیا حضرت ابو بکر رسول خدا (ص) کی تدفین تک مسلمانوں کو انتظار کرنے کا مشورہ نہيں دے سکتے تھے ؟
آخر ایسی جلدی بازی کی بھی کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالی کے آخری پیغمبر جو کہ رشتہ میں ان کے داماد بھی تھے ،دفن نہیں ہوئے تھے کم از کم ان کے دفن ہونے کا تو انتظار ہی کرلیتے اور کیا اتنی جلدی بازی کرکے انہوں نے اپنے داماد
سے حق محبت ادا کرنے میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی ؟
۲۰:- کیا سقیفہ کی اس پیچیدہ کاروائی اور کاغذ اور قلم دوات مانگنے کی حدیث اور جیش اسامہ کے واقعات کا کوئی باہمی ارتباط تو نہیں ہے ؟ تاریخ کے طلاب کے لئے درج بالا سوالات کے جواب انتہائی لازمی ہیں ۔میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس پوری کاروائی میں حضرت عمر نے مرکزی کردار ادا کیا ۔انہوں نے ہی ابو عبیدہ سے اس معاملہ میں پہلے مشہورہ کرلیا تھا ۔اور ایک منصوبہ تیار کرلیا تھا ۔جس کی تکمیل کے لئے حضرت ابوبکرکو بلایا گیا بعد ازاں اسلام کے ان "چاند تاروں" نے اثنائے راہ اپنے منصوبے کی باقی جزئیات طے کرلیں ۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر فقط ان دو حضرات (عمر اور ابو عبیدہ)کو ہی پیش کرتے تھے اور یہ دونوں بزرگ حضرت ابو بکر کو پیش کرتے تھے ۔
تو کیا پوری ملت اسلامیہ نے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر سقیفہ میں بھیجا تھا ؟۔جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ سقیفہ کے اجلاس میں امت کے افراد کا ایک عشر عشیر تک نہ تھا ۔
تو اتنی اقل القلیل تعداد کو امت اسلامیہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت کس نے دی تھی ؟
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت ابو بکر کو جب بلا یا گیا تو نہ تو اس سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کسی مسلمان سے مشورہ کیا گیا تھا کہ اسلام کی قیادت کے لئے کون سی شخصیت سب سے زیادہ موزوں ہے ۔سقیفہ کی پوری کاروائی کو اتفاقی حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن ہے یہ ایک طویل منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔جس میں حضرت عمر کا کردار سب سے نمایاں ہے ۔
اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست
حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ
وفات رسول اور حضرت ابو بکر کی خلافت کا حال تو آپ پڑھ چکے ہیں حضرت علی کو خلافت کیوں محروم کیا گیا؟
اس کا ایک اہم سبب حافظ نے بیان کیا ہے ۔ہم اسے اپنے منصف مزاج قارئین کی نذر کرتے ہیں :-
علی علیہ السلام کے قریش سے تعلقات انتہائی پیچیدہ تھے ۔قریش علی (ع) سے سخت کینہ رکھتے تھے ۔کیونکہ علی علیہ السلام نے ان کے بزرگوں کو غزوات میں قتل کیا تھا اور ان کی قوت کو ضعف میں تبدیل کردیا تھا ۔ان کی تمام ترشان وشوکت کو خاک میں ملادیا تھا اسلام قبول کرنے سے دلوں کے کینے اور نفرتیں ختم نہیں ہوا کرتیں ۔
اس کے لئے آپ یہ فرض کریں کہ آپ خدا نخواستہ سال دو سال پہلے مشرک ہوتے اور ایک مسلمان نے اسلامی جنگ میں آپ کے بیٹے یا بھائی کو قتل کردیا ہوتا اور پھر چند دنوں کے بعد آپ کے دل کی تمام رنجشیں اور کینہ ختم ہوجائے گا؟ اور کیا آپ اپنے بیٹے یا بھائی کے قاتل کو گلے لگالیں گے ؟ایسا کرنا انتہائی دشوار ہے ۔ایسا کرنا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آپ دل کی گہرائیوں سے مسلمان ہوجائیں ۔
لیکن اس کے برعکس اکثر عربوں نے یا تقلیدی طور پر اسلام قبول کیا یا کسی منفعت ومفاد کی خاطر انہوں نے ایسا کیا ۔
بہت سے لوگوں نے تو اپنے خون کے تحفظ کے لئے کلمہ پڑھا تھا اور بعض لوگوں نے اپنے مخالف قبیلہ کو مزید زچ کرنے کے لئے اسلام قبول کیا تھا ۔آپ کو یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین کرنی چاہئیے کہ رسالت مآب کے زمانہ میں جتنے
غزوات ہوئے اور وہ تمام کفار جو علی کی تلوار سے قتل ہوئے یا کسی اور مسلمان کی تلوار سے قتل ہوئے ان کے ورثاء نے اپنے تمام تر قتل کی ذمہ داری علی (ع)پر ڈال دی تھی اور وہ علی کو اپنا دشمن اور قاتل سمجھتے تھے ۔ اور اتفاق یہ ہوا کہ مقتول کفار کے ورثا نے بوجوہ اسلام قبول کرلیا ۔اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ان کے سینے صاف نہیں ہوئے تھے ۔علی کی دشمنی اور بغض کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک رہی تھی اور وہ ہمیشہ علی (ع) سے اپنے انتقام کی پہلی قسط وصول کی تھی اور یہی جذبہ انتقام کربلا میں مکمل پروان چڑھ چکا تھا ۔ حضرت علی (ع) کے خاندان کو جس بے دردی سے کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر مارا گیا تھا وہ سب اسی انتقام کا شاخسانہ تھا(۱) ۔
اگر امت اسلامیہ کے سرکردہ افراد میں انصاف کی رمق ہوتی تو خلافت اور بیعت کے مسئلہ کو رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین تک موخر کردیتے ۔آج درد دل رکھنے والا ہر انسان یہ سوچ کر غم زدہ ہوجاتا ہے کہ جس عظیم شخصیت کی جانشینی کی خاطر ساری تگ و دو کی گئی ۔اس سے حق محبت کو یوں ادا کیا گیا کہ اس کے جنازہ میں شرکت نہیں کی گئی اور اس کے غم زدہ پسماندگان کے سر پر کسی نے شفقت سے ہاتھ تک نہ پھیرا ۔حضور اکرم (ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ محبت ودوستی کیوں عنقا ہوگئی ؟۔
علی علیہ السلام کو جو حضور اکرم سے الفت ومحبت تھی ،انہوں نے اس محبت کا حق ادا کیا انہوں نے اس لمحہ میں حکومت کے حصول کی بجائے جنازہ رسول (ص) کو ترجیح دی ۔اس سے علی علیہ السلام کے سیاسی حریفوں نے فائدہ اٹھایا ۔علی صلح وآشتی کو پسند کرنے والے تھے ۔علی کی عظمت کا اس سے اندازہ لگائیں کہ انہوں
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۲۸۳ مطبوعہ مصر ۔
نے سقیفہ میں تشکیل پانے والی حکومت سے پنجہ آزمائی نہیں کی ۔علی اسلام اور قرآن کے تحفظ کی خاطر خاموش ہوگئے ۔بلکہ جہاں اسلام اور امت اسلامیہ کی مصلحت کو دیکھتے تھے تو وہاں اپنے صائب مشوروں سے بھی نوازا کرتے تھے ۔
علی نے اسی صلح وآشتی کی پالیسی کو نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں یوں بیان فرمایا :-
"اما بعد ۔اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی (ص) کو تمام جہانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا اور جب ان کی وفات ہوئی تو مسلمانوں نے امر خلافت میں جھگڑا کیا ۔
خدا کی قسم! میرے وہم وگمان میں بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ عرب امر خلافت کو خاندان نبوت سے علیحدہ کریں گے اور میں نے کبھی یہ سوچا تک نہیں تھا ۔لوگ مجھے چھوڑ کر کسی اور کو حاکم بنا لیں گے ۔جب میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کی بیعت کررہے ہیں ،تو میں نے بھی ان سے کوئی جھگڑا کرنا پسند نہیں کیا ۔کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو لوگوں کی اکثریت اسلام کو ہی چھوڑ جائے گی ۔۔۔۔۔۔
ان حالات میں میں نے یہ محسوس کیا کہ میرا ذاتی نقصان ہوتا ہے تو ہوتا رہے مگر اسلام کا تحفظ کرنا چاہئیے ۔میں چند روزہ دنیا کی حکومت لے کر اسلام کو صدمات سے دوچار کرنا نہیں چاہتا تھا ۔کیونکہ حکومت حاصل نہ ہونے کے صدمہ کی بہ نسبت مجھے اسلام کا نقصان زیادہ ضرررساں نظر آتا تھا(۱) ۔" حضرت علی (ع) کی صلح پسندی کا اس سے بڑھ کر اورثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں اگر اختلاف کیا تو فقط دینی امور کے متعلق ہی کیا تھا ۔
تاریخ عالم علی (ع) صلح پسند افراد کی نظیر پیش کرنے قاصر ہے کیونکہ علی نے اپنے حقوق کی پامالی اور اپنی زوجہ کے حق سے محرومی کے باوجود بھی اسلام
____________________
(۱):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۴۴ ص ۱۶۴-۱۶۵
کے عظیم تر مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جن سے اجتناب کیا ۔حضرت فاطمہ زہرا(س) کو حق میراث اور حق ہبہ فدک سے محروم کیا گیا ۔اس کے باوجود بھی علی (ع) نے امن وصلح کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔علاوہ ازیں حضرت ابوبکر کی خلافت کے ابتدائی ایام میں چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ حضرت عمربن خطاب اپنے ہم نواز افراد کو لے کر علی (ع) کے دروازے پر آئے اور لکڑیاں بھی اپنے ساتھ لائے اور گھر جلانے کی باتیں کیں ۔کیا لوگوں کی زبان کو ان تاریخی واقعات کے بیان کرنے سے روکا جاسکتا ہے(۱) ۔
واقعہ فدک
واقعہ فدک کاخلاصہ یہ ہے کہ فدک حجاز کا ایک قریہ ہے اور مدینہ کے قریب ہے ۔مدتوں وہاں یہودی آباد تھے اور وہاں کی زمین بڑی زرخیزتھی ۔وہاں یہود کھیتی باڑی کیا کرتے تھے ۔
۷ھ میں اہل فدک نے حضور اکرم (ص) کے رعب ودبدبہ سے مرعوب ہوکر فدک کی زمین ان کے حوالہ کردی تھی اور فدک خالص رسول خدا(ص) کی جاگیر تھی ۔کیوں کہ سورہ حشر میں اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔"ومآ آفاء الله علی رسوله منهم فما اوجفتم علیه من خیل ولارکاب ۔۔۔۔۔۔۔" ان میں سے اللہ جو رسول کو عطا کردے جس پر تم نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ۔لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط کردے اور اللہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے ۔"
رسول خدا(ص) نے سر زمین فدک میں اپنے ہاتھ سے گیارہ کھجوریں بھی کاشت فرمائی تھیں ۔اس کے بعد آپ نے فدک کی ممکل کی مکمل جاگیر اپنی اکلوتی دختر حضرت فاطمہ زہرا کوہبہ فرمادی ۔فدک ہبہ ہونے کے بعد مکمل طورپر حضرت سیدہ
____________________
(۱):-عبدالفتاح بعد المقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد اول ص۲۱۶
کے تصرف میں رہتا تھا ۔جب حضور اکرم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر نے علی و فاطمہ کو اپنا سیاسی حریف سمجھتے ہوئے فدک پر قبضہ کرلیا ۔فدک خاندان محمد(ص) کے تصرف میں تھا ۔اس قبضہ اور تصرف کا ثبوت حضرت علی کے اس خط سے بھی ملتا ہے جو انہوں نے والی بصرہ عثمان بن حنیف کو تحریر کیا تھا ۔س خط کے ضمن میں آپ نے یہ الفاظ تحریر کیئے :
"بلی قد کانت فی ایدینا فدک من کل ما اظلته السمآء فشحت بها نفوس قوم وسخت عنها نفوس آخرین ۔۔۔۔۔۔"اس آسمان کے سایہ تلے لے دے کے ایک فدک ہمارے ہاتھوں تلے تھا ۔اس پر بھی لوگوں کے منہ سے رال ٹپکی اور دوسرے فریق نے اس کے جانے کی پروانہ کی ۔اور بہترین فیصلہ کرنے والا اللہ ہے ۔(۱) ۔
حضرت سیدہ فاطمہ زہرا (س) ہی شرعی لحاظ سے اس جاگیر کی بلاشرکت غیر ے مالک تھیں ۔
خلیفہ کافرض تھا کہ ہبہ رسول (ص) کو اصلی حالت پر رہنے دیتے اور اس میں کسی قسم کا تصرف نہ کرتے اور اگر بالفرض خلیفہ صاحب کو اس ہبہ پر کوئی قانونی اعتراض تھا تو بھی قانون کا تقاضہ یہ تھا کہ مقدمہ کے تصفیہ تک فدک کو حضرت سیدہ (س) کے تصرف میں رہنے دیا جاتا ۔
اور اس مقدمہ کا عجیب ترین پہلو یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کا یہ موقف تھاکہ فدک کی جاگیر حضرت سیدہ کی نہیں ہے بلکہ عامۃ المسلمین کی ہے اور یہ قومی ملکیت ہے اسی لئے اس جاگیر پر انہوں نے بزور حکومت قبضہ کرلیا ۔تو حضرت سیدہ نے اپنا قبضہ واپس لینے کا مطالبہ حضرت ابو بکر سے کیا ۔تو اب صورت حال یہ ہے کہ حضرت سیدہ(س) مدعیہ تھیں اور اس مقدمہ میں حضرت ابوبکر مدعی علیہ تھے ۔
____________________
(۱):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ۔ص ۲۸ مکتوب ۴۵
اس مقدمہ میں ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جو فریق ثانی تھا وہی منصف بھی تھا ۔حالانکہ سیدھی سی بات تھی کہ مقدمہ حضرت ابوبکر کرے خلاف تھا یا کم ازکم عوام الناس کے خلاف تھا جن کے سربراہ حضرت ابو بکر تھے تو ان دونوں صورتوں میں مقدمہ حضرت ابو بکر کے ہی خلاف تھا اب انہیں قانونی سطح پر اس مقدمہ کی سماعت کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔اور نہ ہی انہیں اس مقدمہ میں منصفی کا حق حاصل تھا ۔
فدک مختلف ہاتھوں میں
مقدمہ فدک کی تفصیل سے پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضرات شیخین کے دور اقتدار میں فدک قومی ملکیت میں رہا۔
خلیفہ ثالث کے دور میں فدک کی پوری جاگیر مروان بن حکم کو عطا کی گئی خدا را یہ بتایا جائے کہ حضرت ابو بکر وحضرت عمر کا طرز عمل صحیح تھا یا حضرت عثمان کا طرز عمل صحیح تھا ؟
علمائے اہل سنت اس مقام پر حضرت ابو بکر کے کردار کو مثالی بنا کر پیش کرتے ہیں "ان سے درخواست ہے کہ حضرت عثمان نے تو اس مسئلہ میں ان کے طرز عمل سے انحراف کیاتھا ۔اب ان دونوں خلفاء میں سے کون صحیح تھا اور کون غلط تھا ؟
فدک اگر بنت رسول (س) کے ہاتھ میں تو لوگوں کو اچھا نہ لگا اب جو مروان جیسے افراد کے ہاتھوں میں چلا گیا تو اس وقت امت اسلامیہ کیوں خاموش ہوگئی ؟جب کہ حضرت ابو بکر کہہ چکے تھے کہ فدک کسی فرد واحد کی نہیں پوری امت اسلامیہ کی ملکیت ہے ؟
اور جب معاویہ بن ابو سفیان کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے فدک کی جاگیر کو تین حصوں میں تقسیم کیا ۔ایک تہائی مروان بن حکم طرید رسول کے پاس
رہنے دی ۔ایک تہائی حضرت عثمان کے فرزند عمروبن عثمان بن عفان کو عطا کی گئی ۔ایک تہائی اپن بیٹے یزید بن معاویہ بن ابو سفیان کے حوالے کی گئی ۔
اور جب یزید کے بعد مروان کو حکومت ملی تو اس نے خلیفہ ثالث کے عمل کو حجت قراردیتے ہوئے اپنے دونوں شریکوں کو بے دخل کردیا اور خود سارے فدک پر قابض ہوگیا ۔
بعد ازاں یہی فدک اس کے بیٹے عبد العزیز کی ملکیت بنا اور جب عبدا لعزیز کا بیٹا حضرت عمر بن عبد العزیز بر سر اقتدار آیا تو اس نے فدک سےاپنے خاندان کو بے دخل کرکے اولاد فاطمہ کے حوالہ کردیا اورجب حضرت عمربن عبدالعزیز کی وفات ہوئی تو بنو امیہ میں سے یزید بر سر اقتدار آیا ۔اس نے اولاد فاطمہ سے فد ک چھین کر اولاد مروان کے حوالے کردیا ۔بنی امیہ کی حکومت کے خاتمہ تک فدک اولاد مروان کے پاس رہا ۔
اور جب بنی امیہ کی حکومت ختم ہوئی اور بنی عباس کا اقتدار شروع ہوا تو ابو العباس سفاح نے فدک اولاد فاطمہ کے حوالہ کیا ۔
منصور دوانیقی نے بنی فاطمہ سے چھین لیا ۔بعد از اں اس کے بیٹے مہدی نے فدک بنی فاطمہ کے حوالہ کیا ۔جسے ہادی اور رشید نے پھر واپس لے لیا ۔مامون الرشید عباسی نے فدک واپس کیا تھا جسے بعد میں معتصم نے واپس چھین لیا ۔ اس کے بعد کیا ہوا اس کے متعلق مورخین خاموش ہیں ۔
اس سے معلوم ہوتاہے کہ حکام کے ہاتھ میں فدک ایک ایسا کھلونا تھا ۔ جسے جب چاہتے وارثان بازگشت کو دے دیتے تھے اور جب چاہتے اپنے قبضہ میں لے لیا کرتے تھے ۔مامون الرشید عباسی نے فدک کی واپسی کے لئے جو تحریری احکام روانہ کیے تھے وہ انتہائی علمی قدروقیمت کے حامل ہیں ۔جس میں اس نے پوری تفصیل ووضاحت کے ساتھ وارثان فدک کی نشاندہی کی تھی ۔
مامون کی واپسی فدک
مامون الرشید عباسی کے خط کو مورخ بلاذری نے نقل کیا ہے ۔
سن ۲۱۰ ہجری میں مامون الرشید نے فدک کی واپسی کے احکام جاری کیے اور اس نے مدینہ کے عامل قثم بن جعفر کو خط تحریر کیا
اما بعد ، فانّ امیرالمومنین بمکانة من دین الله وخلافة رسوله والقرابة به اولی من ستنّ سنته ونفذ امره و سلّم لمن منحه منحة وتصدّق علیه بصدقة منحته و صدقته وقد کان رسول الله اعطی فاطمة بنت رسول الله فدک وتصدّق بها علیها وکان امرا ظاهرا معروفا لا اختلاف فیه فرای امیرالمومنین ان یردها الی ورثتها و یسلمها الیهم تقرّبا الی الله باقامة حقه وعدله والی رسول الله بتنقیذ امره وصدقته الخ "
"امیر المومنین کو اللہ کے دین میں جو مقام حاصل ہے اور انہیں رسالت مآب کی جانشینی اور جو قرابت حاصل ہے ، ان تمام چیزوں کا تقاضا یہ ہے کہ وہ رسول خدا(ص) کی سنت پر عمل پیرا ہوں اور نبی اکرم کے فرامین کو نفاذ میں لائیں اور رسول خدا نے جسے جو کچھ عطا کیا تھا اس عطا کو اس تک پہنچائیں ۔
جناب رسول خدا نے اپنی دختر حضرت فاطمہ زہرا (س) کو فدک عطا کیا تھا ۔یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔
اسی لئے امیر االمومنین کی یہ رائے ہے کہ فدک اس کے وارثوں کو واپس کردیا جائے اور اس عمل کے ذریعہ سے امیر المومنین اللہ کی قربت کے خواہش مند ہیں اور عدل وانصاف کی وجہ سے رسول خدا کی سنت پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں ۔" بعداز اں مامون الرشید نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ سرکاری ریکارڈ میں اس بات کو لکھا جائے ۔
رسول خدا کی وفات کے بعد سے ہمیشہ ایام حج میں ی اعلان کیا جارہا ہے کہ رسول خدا (ص) نے جس کسی کو کوئی صدقہ یاجاگیر عطا کی ہو تو وہ آکر وصول کرے اس کی بات کو قبول کیا جائیگا ۔اس کے باوجود آخر خدا کی دختر کو ان کے حق سے محروم رکھنے کا کیا جواز ہے ؟
مامون الرشید نے اپنے غلام خاص مبارک طبری کو خط لکھا کہ فدک کی مکمل جاگیر کو جملہ حدود کے ساتھ اولاد فاطمہ کو واپس کیاجائے اور اس کام کی تکمیل کے لئے محمد بن یحیی بن زیدبن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب اور محمد بن یحیی اور محمد بن عبد اللہ سے مدد حاصل کی جائے اور فدک کے لئے ایسے انتظامات کیے جائیں جس کی وجہ سے وہاں زیادہ پیدا وار ہوسکے ۔
درج بالا خط ذی الحجہ ۲۱۰ ھ میں لکھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔(۱) ۔
محاکمہ فدک
صبّت علیّ مصائب لوانها
صبّت علی الایام صرن لیالیا
مجھ پر اتنے مصائب آئے اگر وہ دنوں پر پڑتے تو وہ راتوں میں تبدیل ہوجاتے (ماخوذ از مرثیہ فاطمہ زہرا علیہا السلام )۔
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے فدک کی جاگیر عطا فرمائی پھر آپ نے وہ جاگیر حکم خداوندی کے تحت اپنی اکلوتی دختر حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کو ہبہ فرمائی ۔ رسول خدا کی حیات مبارکہ جناب فاطمہ اس جاگیر پر تصرف مالکانہ رکھتی تھیں اورجب جناب رسول خدا کی وفات ہوئی تو حضرت ابو بکر نے حضرت فاطمہ کے ملازمین کو فدک سے بے دخل کردیا اور اسے
____________________
(۱):- البلاذری ۔فتوح البلدان ص ۴۶ -۴۷
بحق سرکار ضبط کرلیا ۔جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو اس واقعہ کی خبر ملی تو وہ اپنے حق کی بازیابی کے لئے حضرت ابو بکر کے دربار میں تشریف لے گئیں اور اپنے حق کا مطالبہ کیا ۔
جس کے جواب میں حضرت ابو بکر نے ایک نرالی حدیث پڑھی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :- نحن معاشر الانبیاء لل نرث ولا نورث ما ترکناہ صدقۃ " ہم گروہ انبیاء نہ تو کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے ۔ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ۔
"لاوارثی "حدیث اور قرآن
اس حدیث کے متعلق عرض ہے کہ اس حدیث کے واحد راوی حضرت ابو بکر ہیں اسی حدیث کی طرح حضرت ابو بکر سے ایک اور حدیث بھی مروی ہے ۔
جس وقت رسول خدا کی وفات ہوئی اور مسلمانوں میں اختلاف ہوا کہ حضور اکرم کو کہاں دفن کیا جائے تو حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ جناب رسول خدا کا فرمان ہے :-
"ما قبض نبی الا ودفن حیث قبض " جہاں کسی نبی کی وفات ہوئی وہ اسی جگہ ہی دفن ہوا ۔جب کہ مورخ طبری ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام اپنی جائے وفات کے علاوہ دوسرے مقامات پر دفن ہوئے ہیں ۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس حدیث کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔کیونکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اگر انبیاء کی میراث ان کی اولاد کو نہیں ملتی تھی تو حق تویہ بنتا تھا کہ رسول خدا خود اپنی بیٹی سے کہہ دیتے کہ میری میراث تمہیں نہیں ملے گی ۔طرفہ یہ ہے کہ جس شخصیت کو میراث ملتی تھی اسے نہیں کہا اور چپکے سے یہ بات ایک غیر متعلقہ شخص کے کان میں کہہ دی گئی اور یہ "لاوارثی حدیث" حضرت علی نے بھی نہیں سنی تھی کیوں کہ اگر انہوں نے سنی ہوتی تو اپنی
زوجہ کو حق میراث کے مطالبہ کی کبھی اجازت نہ دیتے ۔علاوہ ازایں اتنی اہم بات حضور اکرم نے صرف حضرت ابو بکر کو ہی کیوں بتائی دوسرے مسلمانوں کو اس سے بے خبر کیوں رکھا ؟
"لا وارثی حدیث"قرآن کے منافی ہے
مذکورہ حدیث لاوارثی حدیث کے متعلق حضرت فاطمہ (س) کا موقف بڑا واضح اور ٹھوس تھا ۔ انہوں نے اس حدیث کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ یہ حدیث قرآن کے منافی ہے ۔
۱:- قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :یوصیکم الله فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین " اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے ۔بیٹےر کو بیٹی کی بہ نسبت دوحصے ملیں گے(۱) ۔
اس آیت میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے ۔
۲:-اللہ تعالی نے ہر شخص کی میراث کےمتعلق واضح ترین الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے : "ولکلّ جعلنا موالی ممّا ترک الوالدان و الاقربون" اور ہر کسی کے ہم نے وارث ٹھہرا دئیے اس مال میں جو ماں باپ اور قرابت چھوڑ جائیں(۲) ۔
قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ لفظ "ولکلّ" پر اچھی طرح سے غور فرمائیں اس آیت مجیدہ میں بڑی وضاحت سے "ہر کسی " کی میراث کا اعلان کیا گیا ۔
میراث سے تعلق رکھنے والی جملہ آیات کی تلاوت کریں ۔ آپ کو کسی بھی جگہ یہ نظر نہیں آئے گا کہ اللہ نے فرمایا ہو: کہ ہر کسی کے وارث ہوتے ہیں لیکن انبیاء کے نہیں ہوتے ۔میراث انبیاء کی اگر قرآن مجید میں کسی جگہ نفی وارد ہوئی ہے تو اس آیت مجیدہ کوبحوالہ سورت بیان کیا جائے اور قیامت تک تمام دنیا کو ہمارا یہ چیلنج ہے کہ اگر قرآن میں ایسی آیت ہے تو پیش کریں
____________________
(۱):-النساء ۱۱۔ (۲):- النساء ۳۳۔
لاوارثی حدیث کے تین اجزاء ہیں :-
۱:-انبیاء کسی کے وارث نہیں ہوتے ۔
۲:- انبیاء کی اولاد وارث نہیں ہوتی ۔
۳:- انبیاء کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ۔
قرآن مجید مذکورہ بالا تینوں اجزا کی نفی کرتا ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :-" وورث سلیمان داؤد " سلیمان علیہ السلام ،داؤد علیہ السلام کے وارث بنے(۱) ۔
اگر نبی کسی کا وارث نہیں ہوتا تو سلیمان علیہ السلام اپنے والد حضرت داؤد کے وارث کیوں بنے ؟
معلوم ہوتا ہے کہ "لاوارثی " حدیث کا پہلا جز صحیح نہیں ہے ۔
علاوہ ازیں مذکورہ آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ سلیمان "داؤد کے وارث بنے ۔
اب جس کے سلیمان وارث بنے وہ بھی تو نبی تھے ۔ اگر "لاوارثی" حدیث کا دوسرا جز صحیح ہوتا یعنی نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا تو داؤد کی میراث کا اجراء کیوں ہوا ۔ ان کی میراث کو صدقہ کیوں قراردیا گیا ۔تو گویا یہ ایک آیت "لاوارثی " حدیث کے تینوں اجزا کو غلط ثابت کرتی ہے ۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قرآن مجید میں مذکور ہے :-
"قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْباً وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيّاً (٤) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِراً فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً (٥) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيّاً (٦) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيّاً " زکریا نے کہا میرے رب میری
ہڈیاں کمزورہوگئیں اور سربڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوچکا اور اے رب میں تجھ سے دعا کرکے محروم نہیں ہوا اور میں اپنے پیچھے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری عورت بانجھ ہے مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کی جو میراث مجھے ملی ہے اس کا بھی وارث ہو اے میرے رب اسے نیک بنانا ۔اللہ تعالی نے کہا : اے زکریا ! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں جس کا نام یحیی ہے اس پہلے ہم نے کسی کا یہ نام نہیں رکھا(۱)
درج بالا آیت کو مکرر پڑھیں ،حضرت زکریا نے اللہ سے اپنا وارث مانگا اور اللہ نے انہیں وارث بھی دیا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز فرمایا ۔
اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو حضرت زکریا علیہ السلام نے وارث کی درخواست کیوں کی ؟
اور اگر بالفرض انہوں نے وارث کے لئے دعا مانگ بھی لی تھی تو اللہ نے انہیں یہ کہہ کر خاموشی کیوں نہ کرا دیا کہ تم تونبی ہو ۔تم یہ کیا کہہ رہ ہو؟
نبی کی میراث ہی نہیں ہوتی ۔لہذا تمہیں وارث کی دعا ہی سرے سے نہیں مانگنی چاہیے ؟
اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو اللہ تعالی نے انہیں وارث کیوں عطا فرمایا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز کیوں کیا؟
حضرت سیدہ سلام اللہ علیھا نے مذکورہ بالا آیات کی اور ان آیات سے "لا وارثی " حدیث کی تردید فرمائی ۔
لیکن حضرت ابوبکر نے تمام آیات سن کربھی حضرت سیدہ کو حق دینے سے انکار کردیا ۔
پھر حضرت سیدہ نے آخر میں فرمایا :-
____________________
(۱):- مریم :۴-۷
فدونکها مخطومة مرحومة نلقاک یو حشرک فنعم الحکم الله والموعد القیامة وعند الساعة یخسر المبطلون ۔
"اب تم اپنی خلافت کو نکیل ڈال کر اس پر سوار رہو ۔اب قیامت کے دن تجھ سے ملاقات ہوگی ۔اس وقت فیصلہ کرنے والا اللہ ہوگا اور وعدہ کا مقام قیامت ہے اور قیامت کے روز باطل پرست خسارہ اٹھائیں گے "
یابن ابی قحافة افی کتاب الله ان ترث اباک ولا ارث ابی لقد جیت شیا فریا افعلی عمد ترکتم کتاب الله ونبذتموه ورآء اظهرکم ؟
الم تسمع قوله تعالی واولوالارحام بعضهم اولی ببعض فی کتاب الله اخصّکم الله بایة اخرج ابی منها ؟ ام تقولون اهلی ملّتین لایتوارثان ؟
اولست انا وابی من ملّة واحدة ؟ اانتم اعلم بخصوص القرآن وعمومه من ابی وابن عمّی ؟
"ابو قحافہ کے فرزند ! کیا اللہ کی کتاب کا یہی فیصلہ ہے کہ تم تو اپنے باپ کے وارث بنو اور میں اپنے والد کی میراث سے محروم رہوں ؟ تم ایک عجیب چیز لائے ہو ۔
تو کیا تم نے جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا اور اسے پس پشت ڈال دیا ؟اور کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا کہ :رشتہ دار ہی ایک دوسرے کے اللہ کی کتاب میں وارث ہیں ؟ اور کیا اللہ نے تمہیں میراث کے لئے مخصوص کرنے کے لئے کوئی آیت نازل فرمائی ہے جس سے میرے والد کو مستثنی قرار دیا ہے ؟ یا تم یہ کہتے ہو کہ دو ملت والے افراد ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے ؟تو کیا میں اور میرے والد ایک ہی ملت سے تعلق نہیں رکھتے ؟ اور کیا تم میرے والد اور میرے چچا زاد کی بہ نسبت قرآن کے عموم وخصوص کو زیادہ جانتے ہو؟
ان دلائل قاہرہ اور آیات قرآنیہ پڑھنے کے بعد حضرت سیدہ نے ملاحظہ کیا کہ ان باتوں کا خلیفہ پر کوئی اثر مرتب نہین ہوا تو ناراض ہو کرروتی ہوئی واپس آئیں ۔
حضرت سیدہ کو پہلے سے ہی علم تھا کہ خلیفہ انہیں فدک کبھی بھی واپس نہیں کرے گا ۔آپ فقط اتمام حجت کے لئے تشریف لے گئی تھیں اور عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ جب چند روز پہلے میرے والد حدیث لکھانا چاہتے تھے تو اسی گروہ نے کہا تھا : ہمیں حدیث کی ضرورت نہیں ہمیں قرآن کافی ہے ۔اور جب حضرت سیدہ نے اپنی میراث کے لیے قرآن پڑھا تو مقابلہ میں "لاوارثی "حدیث پڑھ کر سیدہ کو محروم کردیا گیا ۔
تو گویا حضرت سیدہ نے دربار میں جاکر کا ئنات کو اس دوغلے پن سے آگاہ کیاکہ کل جو حدیث کا انکار کررہے تھے آج وہ قرآنی آیات کے تسلیم کرنے سے بھی انکار کررہے ہیں ۔ جناب سیدہ کو پہلے سے علم تھا کہ مجھے میرا حق فدک نہیں دیا جائے گا ۔کیونکہ جن لوگوں نے چند روز پہلے ان کے شوہر کی خلافت چھین لی تھی ،وہ ان سے فدک بھی چھین سکتے ہیں ۔
"لاوارثی " حدیث اور عقل ونقل کے تقاضے
آئیے !حضرت ابوبکر کی بیان کردہ حدیث کو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں دیکھیں ۔
رسول خدا(ص) نے اپنے آپ کو شریعت طاہرہ کے احکام سے کبھی بھی مستثنی نہیں فرمایا ۔
۱:- جس طرح سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ : ہم گروہ انبیاء نہ تو نماز پڑھیں گے اور نہ ہی روزہ رکھیں گے (نعوذ باللہ )
مذکورہ فقرہ اس لئے غلط ہے کہ نبی احکام شریعت سے مستثنی نہیں ہوتا ۔
تو جس طرح نبی نماز روزہ اور اسلام کے دیگر احکام سے مستثنی نہیں ہوتا ۔اسی طرح سے وہ اسلام کے احکام میراث سے بھی مستثنی نہیں ہوتا ۔
۲:- کیا فدک کا مسئلہ جو کہ خالص شرعی مسئلہ تھا ، اس کے نہ دینے میں کوئی سیاسی اغراض تو کار فرما نہیں تھیں ؟
۳:- کیا حضرت سیدہ کو محروم ورارث رکھ کر خلیفہ صاحب اپنے سیاسی حریف علی اور اس کے خاندان کو اپنے سرنگوں تو نہیں کرنا چاہتے تھے ؟
۴:- اور کیا اس مسئلہ کا تعلق اقتصادیات سے تو نیں تھا ؟
یعنی اس ذریعہ سے علی (ع) اور ان کے خاندان کو نان شبینہ سے محروم رکھنا تو مقصود نہ تھا ؟
۵:- اور کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ علی (ع) کی مالی حالت کمزور کرکے انہیں خلافت کا امیدوار بننے سے روکنا مقصود ہو؟
۶:- اور کیا فدک چھین لینے میں یہ حکمت عملی تو مد نظر نہ تھی کہ جن لوگوں نے حضرت ابو بکر کی خلافت کا انکار کیا تھا ۔انہیں مرتد اور مانعین زکواۃ کہہ کر ان پر لشکر کشی کی گئی تھی ۔ تو کیا فدک کے چھین لینے میں یہ تصور تو کار فرما نہ تھا کہ اگر فدک علی کے پاس ہوگا تو ممکن ہے کہ وہ ہمارے مخالفین کی مالی امداد کریں ؟
۷:- کیا فدک چھیننے میں یہ فلسفہ تو مضمر نہ تھا کہ آل محمد کے وقار کو لوگوں کی نگاہوں میں گرادیا جائے لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ :خود رسول خدا(ص) ان لوگوں کو اپنی میراث سے محروم کرگئے ہیں ؟
تو جن لوگوں کو رسول خدا کی میراث کا حق نہیں ہے انہیں ان کی خلافت کا حقدار کیسے سمجھاجائے ؟
۸:- کیا سلب فدک میں بہت سے عوامل کا فرما تھے ؟
۹:- اور اگر حضرت ابو بکر کی بیان کردہ حدیث کو درست بھی مان لیا جائے تو اس حدیث کا اطلاق صرف پیغمبر اکرم کے لئے ہوگا یا دوسرے انبیاء پر بھی اس کا انطباق ہوگا ؟
۱۰:-آخر رسول خدا اپنی پیاری دختر کو محروم ارث کیوں رکھنا چاہتے تھے ؟
۱۱:- کیا خدانخواستہ حضور کریم کو یہ اندیشہ تھا کہ ان کے بعد ان کی بیٹی اور داماد فدک کی کمائی کو غلط مصرف میں لائیں گے ؟
۱۲:- اگر حضور کریم کو یہی اندیشہ تھا تو انہوں نے اپنی حیات مبارکہ میں اپنی دختر کی تحویل میں کیوں دے دیا تھا ؟
۱۳:- اور کیا یہ "خدشہ اس لیے پیدا ہوا تھا کہ حضرت سیدہ نے اپنے والد کی حیات طیبہ میں اس جاگیر سے سو استفادہ کیا تھا ؟
۱۴:- اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو کب اور کیسے ؟
علامہ ابن ابی الحدید معتزلی نے اسی مسئلہ کے متعلق قاضی القضاۃ اور علم الہدی سید مرتضی کا ایک خوبصورت مباحثہ نقل کیا ہے ۔قاضی القضاۃ وراثت انبیاء کی نفی کرتے تھے ۔جبکہ سید مرتضی میراث انبیاء کا اثبات کرتے تھے ۔
قاضی القضاۃ کا موقف یہ تھا کہ قرآن مجید میں انبیاء کی میراث کا جو تذکرہ کیا گیا ہے اس سے علم وفضل کی میراث مراد ہے ۔مالی مراد نہیں ہے ۔
علم الہدی سید مرتضی کا موقف تھا کہ میراث کا اطلاق پہلے مال ودولت اور زمین پر ہوتا ہے ۔اور یہ اطلاق حقیقی ہوتا ہے ۔علم وفضل کے لئے مجازی طور پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے اور اصول قرآن یہ ہے کہ مجازی معنی صرف اس وقت درست قرار پاتا ہے جب کہ حقیقی معنی متعذر ومحال ہو ۔ انبیاء اگر مالی میراث حاصل کریں تو اس سے کونسی شرعی اور عقلی قباحت لازم آتی ہے کہ ہم حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں ۔اور اگر قاضی
القضاۃ کی بات کو تسلیم بھی کرلیاجائے کہ انبیاء کی میراث مالی کی بجائے معنوی یعنی علم وفضل پر مشتمل ہوتی ہے تو اس کا مقصد یہ بھی ہوگا کہ آل نبی پیغمبر کے علم وفضل کے وارث ہیں ۔
اور اگر آل نبی پیغمبر کے علم وفضل کے وارث ہیں تو ان وارثان علم وفضل کی موجودگی میں حضرت ابو بکر کی خلافت کا جواز کیاتھا(۱) ۔
فدک بعنوان ہبہ
جناب سیدہ نے فدک کا مطالبہ بطور ہبہ بھی کیا تھا جس پر خلیفہ صاحب نے گواہوں کا مطالبہ کیا ۔حضرت سیدہ کی طرف سے حضرت علی ، حضرت حسن اورحضرت حسین (علیھم السلام) اور حضرت ام ایمن نے گواہی دی ۔
مگر خلیفہ صاحب نے اس گواہی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ نصاب شہادت مکمل نہیں ہے ۔کیونکہ علی سیدہ کے شوہر ہیں ۔اور امام حسن اور امام حسین (علیھما السلام ) سیدہ کے فرزند اور ام ایمن ایک کنیز ہے ۔
حالانکہ شہادت ہر لحاظ سے کامل و اکمل تھی ۔
حضرت علی علیہ السلام کی گواہی کس قدر مستند ہے ۔اس کے لیے سورہ آل عمران کی اس آیت مجیدہ کی تلاوت کریں :-
شهد الله انه لا اله الا هو و الملائکة و اولو العلم قآئما بالقسط لا اله الا هو العزیز الحکیم ۔
"اللہ خود اس بات کا گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور ملائکہ اوروہ اہل علم جو عدل پر قائم ہیں کہ اس غالب اور صاحب حکمت اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔"
____________________
(۱):- شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ۔ص ۷۸-۱۰۳
اس آیت میں توحید کے گواہوں میں خود اللہ تعالی اور ملائکہ اور عدل پر قائم رہنے والے اہل علم کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
وہ اہل علم جو عدل پر قائم ہیں وہ توحید کے گواہ ہیں ۔اورعدل پر قائم رہنے والے علماء میں علی (ع) سر فہرست ہیں کیونکہ علی (ع) کے علم کے متعلق رسول خدا کی مشہور حدیث ہے ۔"انا مدینة العلم وعلی بابها " میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔
اور جہاں تک عادل ہونے کاتعلق ہے تو علی جیسا عادل چشم فلک نے نہیں دیکھا ۔جب علی توحید کے گواہ ہیں تو پھر فدک گواہ کیوں نہیں ہوسکتے ؟عجیب بات ہے ہے کہ توحید کی شہادت کے لئے تو علی کی گواہی مستند مانی جائے اور تھوڑی سی جائیداد کے لئے ان کی گواہی کو ٹھکرا دیا جائے ؟ علی صرف توحید کے گواہ نہیں ہیں وہ رسالت محمدیہ کے بھی گواہ ہیں ۔جیسا کہ سورہ رعد کی آخری آیت میں ارشاد خداوندی ہے :- "ویقول الذین کفروا لست مرسلا قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتاب ۔"
اور کافر کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے ۔کہ دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ جس کے پاس کتاب کا مکمل علم موجود ہے ۔قول اصح کے مطابق "من عندہ علم الکتاب "سے مراد حضرت علی (ع) ہیں۔
اس آیت مجیدہ میں حضرت علی علیہ السلام کو رسالت کا گواہ قرار دیا گیا ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو علی (ع) رسالت محمدیہ کے گواہ ہیں ۔ان کی گواہی کو فدک کے لیے معتبر کیوں نہیں تسلیم کیا گیا ؟
فرع کی اصل کے لئے گواہی
حسنین کریمین کی گواہی یہ کہہ کر رد کر دی گئی کہ یہ گواہی "فرع" کی "اصل" کے لیے ہے ۔ یعنی امام حسن اورامام حسین (علیھما السلام) چونکہ حضرت سیدہ کے فرزند ہیں اور اولاد کی گواہی والدین کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔
جب کہ قرآن مجید کی سورہ مریم میں میں حضرت عیسی کی پیدائش اور حضرت مریم کی پریشانی کا ذکر موجود ہے اورجب حضرت مریم کے نو مولود فرزند حضرت عیسی نے ہی اپنی نبوت اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی گواہی دی تھی ۔
اب اگر اولاد کی گواہی والدین کے حق میں قابل نہیں ہے تو اللہ نے حضرت عیسی کی زبانی ان کی ماں کی پاکدامنی کی گواہی کیوں دلائی ؟ اگر اس فارمولے کو تسلیم کرلیا جائے کہ ماں باپ کے حق میں اولاد کی گواہی قابل قبول نہیں ہے تو آپ ان روایات کے متعلق کیا کہیں گے جو حضرت عائشہ کی زبانی ان کے والد کے حق میں مروی ہیں ؟ خلیفہ صاحب کے دربار میں چار عظیم شخصیات موجود تھیں جن میں سے ایک مدعیہ تھیں کہ اور تین شحصیات گواہ تھیں ۔
اب ان چاروں شخصیات کی گواہی کتنی معتبر ہے ؟ اس کیلئے واقعہ مباہلہ کو مد نظر رکھیں ۔
مباہلہ کی گواہی
جب عیسائی علماء دلائل نبوی سن کر مطئمن نہ ہوئے تو اللہ تعالی نے آیت مباہلہ نازل کی اور ارشاد فرمایا :-"فمن حاجّک فیه من بعد ما جآ ء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابنا ءنا وابناءکم و نساءنا ونساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتهل
فنجعل لعنة الله علی الکاذبین "(۱) ۔
"جو علم آنے کے بعد تم سے جھگڑا کرے تو کہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹے بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ او ر ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنی جانوں کو لائیں اور تو اپنی جانوں کو لاؤ پھر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں ۔"
جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول خدا (ص) علی (ع) کے گھر تشریف لائے اور علی و فاطمہ اور حسن وحسین (علیھم السلام ) کو اپنی چادر پہنائی اور کہا پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں ۔
رسول خدا نہی عظیم شخصیات کو لے کر مباہلہ کے لئے روانہ ہوئے جب عیسائی علماء نے ان نورانی چہروں کو دیکھا تو جزیہ دینا قبول اور مباہلہ سے معذرت کرلی ۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چار شخصیات پورے اسلام کی گواہ ہیں اور ان کی گواہی کا عیسائیوں نے بھی احترام کیا تھا ۔
مباہلہ کے چند ہی دن بعد یہی چاروں شخصیات خلیفہ صاحب کے دربار میں گئیں ۔ان میں ایک مدعیہ تھیں اور تین گواہ تھے ۔
انسانی ذہن کو انتہائی تعجب ہوتا ہے کہ جن شخصیات کو اللہ نے پوری امت اسلامیہ میں سے بطور نمونہ جماعت صادقین بنا کر غیر مسلموں کے مقابلہ میں بھیجا تھا ، ان شخصیات کی گواہی کو خلیفۃ المسلمین نے رد کردیا ؟
علاوہ ازیں ان ذوات طاہرہ کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ نے ان کی طہارت کا قرآن مجید میں ان الفاظ سے ذکر فرمایا :-انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا : اے اہل بیت ! اللہ کا تو بس
____________________
(۱):- آل عمران ۔
یہی ارادہ ہے کہ وہ تم سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح سے پاک بنائے جیسا کہ پاکیزگی کا حق ہے(۱) "۔
حضرت ابو بکر کا حق تھا کہ حضرت سیدہ کے دعوی کے بےچون وچرا تسلیم کرلیے ۔کیونکہ تاریخ وحدیث کا مشہور واقعہ ہے کہ کہ حضور کے ساتھ ایک اعرابی نے ناقہ کے متعلق تنازعہ کیا ۔ ہردو فریق ناقہ کی ملکیت کے دعویدار تھے ۔اعرابی نے رسول خدا (ع) سے گواہ طلب کیا تو حضرت خزیمہ بن ثابت نے حضور کے حق کے متعلق گواہی دی ۔ اور جب حضرت خزیمہ سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ گواہی بغیر علم کے کیوں دے دی ہے ؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم محمد کی نبوت اور وحی کی بھی تو گواہی دیتے ہیں جب کہ ہم نے جبریل امین کو اپنی آنکھوں سے اترتے نہیں دیکھا ۔جب ہم نبوت ورسالت جیسے عظیم منصب کی ان دیکھے گواہی دے دیتے ہیں تو کیا ہم اپنے نبی کے لئے ایک اونٹنی نہیں دیں گے ؟ رسول خدا (ص) نے حضرت خزیمہ کی شہادت کو صحیح قراردیا اور انہیں "ذو الشہادتین " یعنی دو گواہیوں والا قراردیا ۔
حضرت خزیمہ کی طرح اگر حضرت ابو بکر بھی حضرت سیدہ کی روایت ہبہ کو بدون شہود تسلیم کر لیتے تو یہ ان کے لئے زیادہ مناسب تھا ۔اس کے برعکس حضرت ابو بکر کی "لاوارثی" حدیث کے متعلق جناب زہرا (س) نے ان سے گواہ نہیں مانگے تھے ۔جب کہ حضرت سیدہ اس روایت کی صحت سے بھی منکر تھیں ۔
اور علی (ع) جیسے صدیق اکبر کی گواہی رد کرنے کا بھی حضرت ابو بکر کے پاس کوئی جواز نہیں تھا ۔اور ام ایمن جو کہ رسولخدا (ص) کی دایہ تھیں جن کی پوری زندگی اسلام اور رسول اسلام کی خدمت میں گزری تھی ، ان کی گواہی کو رد کرنے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی تھی ۔
____________________
(۱):- الاحزاب
خلیفۃ المسلمین کا عملی تضاد
حضرت ابو بکر کا موقف میراث انتہائی عجیب وغریب ہے ۔
۱:- انہوں نے رسول خدا کی تلوار ان کی نعلین اور دستانے مبارک علی (ع) کے پاس رہنے دی تھی اور اس کے متعلق نہ تو انہوں نے علی (ع) سے کوئی تنازعہ کیا اور نہ ہی علی سے گواہ طلب کیے ۔
۲:-علاوہ ازیں رسول خدا (ص) نے مرض الموت میں حضرت علی (ع) کو اپنی تلوار اور انگشتری عطا فرمائی تھی ۔ حضرت ابو بکر نے علی (ع) سے ان دونوں چیزوں کی واپسی کا کوئی تقاضا نہیں کیا ۔
اگر تلوار اور انگشتری ہبہ ہوسکتی ہے اور خلیفہ اسے واپس نہیں لیتے اسی طرح سے فدک بھی تو ہبہ ہوچکا تھا ۔ اس کی واپسی کے لئے یہ ساری تگ و دو کیوں کی گئی ؟
۳:- جس لباس میں حضور اکرم نے وفات پائی تھی ،لباس حضرت فاطمہ (س) نے اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔حضرت ابوبکر نے لباس رسول (س) کی واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔
۴:- ازواج رسول (ص) سے بھی رسولخدا (ص) کے مکان خالی کرنے کامطالبہ نہیں کیا گیا۔
۵:-عامل بحرین علاء بن حضرمی سے خلیفہ صاحب کے پاس مال بھیجا ۔حضرت جابر نے خلیفہ صاحب سے کہا کہ رسول خدا(ص) نے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میرے پاس مال آیا تو میں تمہیں اتنا مال دون گا ۔اب جب کہ رسول خدا کی وفات ہوچکی ہے اورآپ اس وقت خلیفۃ المسلمین ہیں ۔لہذا مجھے اتنا مال دیں ۔ حضرت ابو بکر نے ان سے کسی گواہ کا مطالبہ نہیں کیا ان کی زبان پر اعتماد کرتے
ہوئے انہیں مطلوبہ مال فراہم کیا(۱) ۔
تو کیا حضرت خاتو ن جنت (س) جابر جتنی بھی صادق اللہجہ نہ تھیں ؟
۶:- جب خلیفہ صاحب کے پاس مال بحرین آیا تو ابو بشیر المازنی ان کے پاس گئے اور کہا کہ حضور اکرم (ص) نے فرمایا تھا جب بحرین سے مال آیا تو میں تجھے دوں گا ۔حضرت ابو بکر نے اس کی بات سن کر تین تھیلیاں بھر کر انہیں مال دیا ۔
تاریخ کا طالب علم اس وقت انتہائی پریشان ہوجاتا ہے کہ جب کہ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہے ایک گم نام صحابی اگر مطالبہ کرے تو اس کی بات کو سچ سمجھا جا تا ہے اور اگر بنت رسول (س) اپنا حق مانگیں تو ان سے گواہ طلب کیئے جاتے ہیں اور ستم یہ ہے کہ گواہوں کی گواہی کو بھی ٹھکرا دیا جاتا ہے اور رسول خدا (ص) کی خاتون جنت بیٹی کو خالی ہاتھ لوٹا دیا جاتا ہے ۔
اگر "لاوارثی"حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے بڑی قباحتیں لازم آئیں گی ۔اس حدیث کے تحت رسول خدا (ص) کو ان کے مکان میں دفن نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ رسول خدا(ص) کی وفات کی وجہ سے ان کا تمام ترکہ صدقہ بن جاتا ہے اور وہ عوامی ملکیت میں بد جاتا ہے ۔اب جب کہ آپ کی وفات ہوئی تو مکان بھی تو صدقہ میں شامل ہوگیا ۔رسول خدا (ص) کا اس مکان سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور جس مکان سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ وہ تو اس میں دفن کیسے ہوں گے ؟
اور عجیب بات یہ ہے کہ خود حضرت ابو بکر ہی دوسری حدیث کے راوی ہیں کہ "انبیاء کی جہاں وفات ہوتی ہے وہ وہاں ہی دفن ہوتے ہیں " اگر انبیاء اپنی جائے وفات پر دفن ہوتے ہیں تو وہ جگہ ان کی ہوتی ہے یا صدقہ کا مال ہوتا ہے ۔؟
اب اگر وہ مال وترکہ صدقہ ہوتا ہے تو انبیائے کرام کی وہاں تدفین صحیح نہیں ہے اور اگر تدفین صحیح اور درست ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ ان کا ترکہ
____________________
(۱):- صحیح بخاری سوم –ص ۱۸۰
صدقہ میں تبدیل نہیں ہوتا ۔
تعجب ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں جو واضح تناقض و تضاد ہے کیا حضرت ابو بکر کو اپنی ہی بیان کردہ دونوں حدیثوں کے تضاد کا ادراک نہیں ہوا تھا ؟
اگر مزید وضاحت کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے حدیث پڑھی کہ " نبی جہاں وفات پاتے ہیں ۔اسی جگہ ہی دفن ہوتے ہیں "
تو نبی کی جائے وفات دو میں سے ایک جگہ تو ضرور ہوگی ۔
۱:- یا تونبی اپنی ملکیت میں وفات پائے گا ۔
۲:- یا کسی غیر کی ملکیت میں وفات پائے گا ۔
اگر اپنی ملکیت میں نبی وفات پاتا ہے تو اس کی وفات پر وہ جگہ تو صدقہ بن گئی اور جو چیز مرنے والے سے متعلق ہی نہ ہو اس میں دفن ہونا ہی غلط ہے ۔
اگر بالفرض نبی کسی غیر کی زمین پر وفات پاتا ہے تو وہ زمین تو پہلے سے ہی غیر کی ہے اس میں تو دفن ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
لہذا اگر لاوارثی حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ آخر انبیاء کو کہاں دفن ہونا چاہئیے ؟
علاوہ ازیں حضرت ابو بکر کو یہ حق کس نے تفویض کیا تھا کہ وہ رسول خدا (ص) کے پہلو میں دفن ہونے کی وصیت کریں ۔ جب کہ وہ زمین خود رسول خدا (ص) کی ملکیت سے نکل کر صدقہ میں تبدیل ہوچکی تھی ؟ اور اس مقام پر یہ تسلیم کیاجائے کہ وہ حجرہ حضور اکرم (ص) کی ملکیت ہی تھا اور وہ وفات کے بعد بھی "بیت النبی " ہی تھا تو بیت النبی کے داخلہ کے لئے اللہ نے پہلی شرط یہ عائد کی ہے کہ پہلے نبی سے اجازت لی جائے بعد ازاں ان کے گھر میں قدم رکھا جائے تو کیا حضرت ابو بکر رسول خدا کی زندگی میں ان سے دفن ہونے کی اجازت حاصل کرچکے تھے ؟
یا رسول خدا(ص) اپنی زندگی میں یہ کہہ کر گئے تھے کہ خلیفہ اول کو میرے پہلو
میں دفن کیا جائے ؟
الغرض "لاوارثی " حدیث کو صحیح تسلیم کرنے سے یہ تمام قباحتیں جنم لیتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ اہل سنت مفسرین نے انبیاء کی میراث حاصل کرنے کی آیات کے متعلق ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا کہ ان آیات سے میرا ث علمی مراد ہے ۔اور ہماری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آسکی کہ علم وفضل کب سے میراث بنا ہے اگر علم وفضل میراث ہوتا تو ہر عالم باپ کا بیٹا عالم ہوتا ہے اور ہر جاہل باپ کا بیٹا جاہل ہوتا ہے ۔علم نفس اور علم اجتماع اس مفروضہ کی تردید کرتے ہیں اور طرفہ یہ کہ حضرت ابو بکر نے جناب سیدہ (س) کو محروم الارث کرکے بزعم خویش اس حدیث پر عمل کیا جس کے وہ واحد راوی تھے ۔
اور اپنی منفرد حدیث پر عمل کرتے وقت عالم اسلام کی اس مستند و موثق حدیث کو بھول گئے جس کی صحت کا انہیں خود بھی اقرار تھا ۔
رسول اکرم (ص) کی مشہور ترین حدیث ہے :-"فاطمة بضعة منّی من اذاها فقد آذانی ،ومن آذانی فقد آذی الله "(۱) ۔
"فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس سے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی "۔
اور حضرت سیدہ کو محروم رکھتے وقت حضرت ابو بکر کو ابو العاص بن ربیع کا واقعہ بھی مد نظر رکھنا چاہیۓ تھا ۔
اس واقعہ کی تفصیل مورخ ابن اثیر نے یوں بیان کی ہے :-
"جنگ بدر کے قیدیوں میں ابو العاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبد الشمس بھی تھا ۔یہ شخص زینب بنت خدیجہ (رض) کا شوہر تھا ۔
مکہ کے تمام جنگی قیدیوں نے فدیہ دے کر رہائی حاصل کی ۔زینب بنت
____________________
(۱):- درج بالا حدیث کا مفہوم صحیح بخاری میں موجود ہے ۔
خدیجہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے اپنا وہ ہار بھیجا جو ان کی ماں حضرت خدیجہ الکبری نے انہیں دیا تھا ۔
جب جناب رسول خدا (ص) نے اس بار کو دیکھا تو انہیں حضرت خدیجہ کی یاد آئی اور خدیجہ کی یاد سے بڑے متاثر ہوئے اور مسلمانوں سے فرمایا :-" اگر تم زینب کے قیدی کو رہا کرسکو اور اس کا بھیجا ہوا فدیہ بھی واپس کر سکتے ہوتو کرو ۔مسلمانوں نے ابو العاص کو حضرت زینب بنت خدیجہ کی وجہ سے رہا کردیا اور ان کا فدیہ بھی واپس کردیا ۔
فتح مکہ سے پہلے ایک دفعہ ابو العاص بن ربیع اپنا اور باقی قریش کے چند افراد کا مال لے کر شام جارہا تھا ۔راستہ میں مسلمانوں کے ایک سریہ سے مڈبھیڑ ہوگئی ۔مسلمانوں نے اس کا سامان لوٹ لیا اور جب رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی زینب بنت خدیجہ کے پاس آگیا ۔اور جب رسول خدا نماز صبح کے لئے مسجد جارہے تھے تو زینب نے آواز دی لوگو!" میں ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے چکی ہوں ۔"
رسول خدا نے لوگوں سے فرمایا کہ اگر تم مناسب سمجھو تو اس کا مال اسے واپس کر دو یہ میری خواہش ہے اور تم مال واپس نہ کرو پھر بھی تم پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی خواہش کے سامنے ہم اپنی گردن جھکائے دیتے ہیں اور ہم اس کا مال واپس کردیتے ہیں ۔ مسلمانوں نے اس کا تمام سامان حتی کہ اس کے ہاتھ کی لکڑی بھی اسے واپس کردی(۱) ۔"
درج بالا واقعہ میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ مسلمانوں نے وہ مال غنیمت جو کہ ان کا شرعی حق تھا ۔وہ بھی رسول خدا (ص) کی پروردہ جناب زینب کی وجہ سے ابو العاص بن ربیع کو واپس کردیا ۔اگر خدا نخواستہ بالفرض حضرت ابو بکر یہ سمجھتے تھے کہ حضرت سیدہ (س) کی میراث نہیں ہے تو بھی انہیں ابو العاص کے واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت سیدہ کی رضامندی کو مقدم رکھنا چاہئیے تھا ۔
یا حضرت ابو بکر کا یہ کردار سنت رسول کے مطابق تھا ؟
____________________
(۱):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ۔ص ۹۳-۹۴
سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ
ب :- حضرت عمر بن الخطاب
اما والله لقد تقمّصها ابن ابی قحافة و انّه لیعلم انّ محلّی منها محلّ القطب من الرحی ینحدر عنی السیل ولا یرقی الی الطیر فسدلت درنها ثوبا وطویت عنها کشحا وطفقت ارتای بین ان اصول بید جذآء او اصبر علی طخیه عمیاء یهرم فیها الکبیر و یشب فیها الصغیر ویکدح فیها مومن حتی یلقی ربّه فرایت انّ الصبر علی هاتا اجحی فصبرت وفی العین قذی وفی الحلق شجا اری تراثی نهیا حتی مضی الاول لسبیله فادلی بها الی ابن الخطاب بعده ثم تمثل بقول الاعشی "
شتّان ما یومی علی کورها ویوم حیّان اخی جابر
فیا عجبا بینا هو یستقیلها فی حیاته اذ عقدها لاخر بعد وفاته لشد ماتشطرّا ضرعیها "(۱)
خدا کی قسم ؛ فرزند ابو قحافہ نے پیراہن خلافت پہن لیا ۔حالانکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلافت میں وہی مقام ہے جوچکی کے اندر اس کی کیلی کا ہوتا ہے ۔میں وہ (کوہ بلند) ہوں جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گراجاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہیں مارسکتا ۔(اس کے باجود ) میں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکا دیا اور اس سے پہلو تہی کر لی اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہوجاتا ہے اور مومن اس میں جد وجہد کرتاہوا اپنے
____________________
(۱):-نہج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ ۔
پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا ۔ لہذا میں کیا ۔حالانکہ آنکھوں میں غبار اندوہ کی خلش تھی اور حلق میں غم ورنج کے پھندے لگے ہوئے تھے ۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابن خطاب کو دے گیا ۔پھر حضرت نے بطور تمثیل اعشی کا یہ شعر پڑھا :
"کہاں یہ دن جو ناقہ ی پالا ن پہ کٹتا ہے اور کہا وہ دن جو حیان برادر جابر کی صحبت میں گزرتا تھا ۔"
تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لئے استوار کرتا گیا ۔ بے شک ان دونوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا "۔
تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لیے استوار کرتا گیا ۔بے شک ان دو نوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا "۔
بے شک ایسا ہی ہوا ۔حضرت عمر کی محنت سے جو خلافت ابوبکر کو ملی تھی ۔انہوں نے وہ خلافت حضرت عمر کے حوالے کی ۔
حضرت عمر کی نا مزدگی سے پہلے انہوں نے حضرت عثمان بن عفان اور عبد الرحمان بن عوف کو بلایا اور ان سے حضرت عمر کی باقاعدہ نامزدگی کے لیے مشورہ طلب کیا ۔تو عبدالرحمان بن عوف نے کہا " آپ اس کے متعلق جو سوچتے ہیں وہ اس سے بہتر ہیں "عبدالرحمان یہ جانتے تھے کہ خلیفہ اول کے دور میں بھی مرکزی کردار عمر ہی ادا کرتے رہے ۔جب کہ وہ حضرت ابو بکر کے تصورات سے بھی زیادہ بہتر تھے یعنی چہ معنی دارد؟ اور حضرت عثمان بن عفان کا جواب یہ تھا کہ "ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے اور ہماری بزم میں ان جیسا کوئی اور نہیں ہے ۔"
اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بالکل بجا فرمایا ہے کیوں کہ سقیفائی حکومت کے کرداروں میں خلیفہ ثانی لاجواب شخصیت کے حامل تھے ۔
ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ ان دونوں مشیروں نے یہ مشورہ اپنے ضمیر کی آواز پر دیا تھا یا خلیفہ صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے یہ مشورہ دیا تھا ؟
خلیفہ اول کی حضرت عمر کے لئے وصیت
بہر نوع حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ وہ حضرت عمر کی نامزدگی کی وصیت تحریر کریں ۔
مورخین رقم طراز ہیں کہ حضرت ابو بکر اپنی وصیت تحریر کراتے گئے اور حضرت عثمان لکھتے گئے ۔ابھی حضرت عمر کا نام تحریر نہیں ہوا تھا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور حضرت عثمان نے اپنی فہم و فراست سے حضرت عمر کا نام تحریر کردیا اور جب حضرت ابو بکر کو ہوش آیا تو حضرت عثمان نے انہیں حضرت عمر کا نام پڑھ کر سنایا جسے حضرت ابوبکر نے درست قراردیا اور مذکورہ نام لکھنے پر حضرت عثمان کو آفرین وتحسین کہی ۔
۱:- آج تک ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ حضرت عثمان نے متوفی کی وصیت میں از خود حضرت عمر کا نام داخل کیوں کیا ؟
۲:- اور کیا یہ کارنامہ ان کی اولیات میں شمار کیا جائے گا ؟
۳:- اور کیا اگر ہم فرض کرلیں کہ حضرت ابو بکر اسی بے ہوشی کے دورہ سے ہی جانبرد نہیں ہوئے تھے تو اس وصیت نامہ کی شرعی حیثیت کیا قرار پائے گی ؟
۴:- حضرت عمر کی نامزدگی کے لئے پوری جماعت صحابہ میں سے صرف دوافراد وکو ہی مشہورہ کے قابل کیوں سمجھا گیا ؟
۵:- ان دونوں بزرگواروں میں آخر وہ کون سی خاصیت تھی جس سے دوسرے صحابہ محروم تھے ؟
۶:- حضرت ابو بکر کے اس اقدام کے متعلق یہ کہہ کر امت اسلامیہ کو مطمئن
کردیا جاتا ہے کہ انہوں نے امت اسلامیہ کی ہمدردی کے لئے ایسا کیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا رسول خدا کو اپنی امت س اتنی ہمدردی بھی نہ تھی جتنی حضرت ابو بکر کو تھی ؟
۷:-حضرت ابو بکر عالم نزع میں حضرت عمر کی نامزدگی تحریر کرائیں وہ تو درست ہے اور اگر جناب رسول خدا(ص) اپنے مرض موت میں کوئی وصیت تحریر کرانا چاہیں تو اسے ہذیان کہا جائے ؟
۸:- اگر سینکڑوں بر س بعد کوئی شخص یہ کہنے کی جسارت کرے کہ وہ وصیت نامہ حضرت ابو بکر کی بے ہوشی اور ہذیان کی حالت میں تحریر کیا گیا تھا ۔ تو کیا ایسا کہنے والے شخص کو دین اسلام کا دوست کہا جائے گا یا دشمن ؟ اور اس کے ساتھ امت اسلامیہ یہ فیصلہ بھی کرے کہ اگر کوئی شخص یہی الفاظ رسول خدا (ص) کے متعلق کہے تو اس کے لئے کیا کہاجائے ؟
۹:- حضرت ابو بکر و عمر کا نظریہ یہ تھا کہ رسول خدا نے کسی کو خلافت کے لئے نامزد نہیں کیا تھا اور اگر حضرت ابو بکر بھی رسول خدا کی پیروی کرتے ہوئے کسی کو اپنا جانشین نامزد نہ کرتے تو کیا یہ عمل سنت رسول کی اتباع نہ کہلاتا ؟
۱۰:-اگر حضرت علی کے لئے مشورہ کرلیا جاتا اور اس کے لئے مہاجرین و انصار سے رائے طلب کی جاتی تو اس میں آخر کیا قباحت تھی ؟
ان تمام سوالات کا سادہ سا اور حقیقت پسندانہ جواب یہی ہے کہ حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنانے میں حضرت عمر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا ۔
حضرت ابو بکر اس طرح سے حضرت عمر کے مقروض احسان تھے ۔چنانچہ انہوں نے یہ قرض اپنی وفات کے وقت ادا کردیا ۔
شوری
حتیّ اذا مضی الثانی لسبیله جعلها فی جماعة زعم انی احدهم فیا لله و للشوری حتی اعترض الریب فی مع الاول منهم حتی صرت اقرن الی هذه النظائر لکنی اسغفت اذا اسفوا وطرت اذا طارو فصغی رجل منهم لضغنه ومال الاخر لصهر مع هن وهن (الامام علی بن ابی طالب )
اور دوسرا جب جانے لگا تو خلافت کو ایک جماعت میں محدود کرگیا اور مجھے بھی اسی جماعت کا ایک فرد خیال کیا ۔اے اللہ مجھے اس شوری سے کیا لگاؤ ؟استحقاق وفضیلت میں کب شک تھا جو اب ان لوگوں میں بھی شامل کرلیا ہوں ۔مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب وہ زمین کے نزدیک پرواز کرنے لگیں تو میں بھی ویسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے ہو کر اڑنے لگیں تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں ۔یعنی الامکان کسی نہ کسی صورت سے نباہ کرتا رہوں ۔ان میں سے ایک شخص تو کینہ وعناد کی وجہ سے مجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسرا دامادی اور بعض ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا "(۱) ۔
ابن اثیر عمربن میمون کی زبانی شوری کی داستان یوں بیان کرتے ہیں :-
جب حضرت عمر قاتلانہ حملہ کی وجہ سے زخمی ہوئے تو انہیں کہا گیا کہ آپ کسی کو اپنا جانشین بنائیں ۔ تو انہوں نے کہا کسے اپنا جانشین بناؤں ؟
اگر آج ابو عبیدہ زندہ ہوتا تو میں اسے جانشین بنا تا اور اپنے رب کے حضور عرض کرتا کہ پروردگار میں اسے جانشین بنا کر آیاہوں جس کے متعلق میں نے تیرے حبیب سے سنا تھا کہ ابو عبیدہ میر ی امت کا امین ہے ۔
____________________
(۱):- نہج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ سے اقتباس ۔
اگر آج سالم مولی حذیفہ زندہ ہوتا تو میں اسے اپنا جانشین بناتا اور اگر میرا رب مجھ سے پوچھتا تو میں عرض کرتا کہ خداوند ا! میں نے اسے جانشین بنا کر آیا جس کے متعلق میں نے تیرے رسول (ص) سے سنا تھا کہ سالم اللہ سے بڑی محبت کرنے والا ہے "(۱) ۔
ہاں ہمیں بھی یقین ہے کہ اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو حضرت عمر انہیں ہی خلیفہ بناتے ۔شاید امین امت کی وجہ سے تو نہ بناتے البتہ اس لئے انہیں خلیفہ ضرور بناتے کہ وہ ان کے ساتھ سقیفہ میں شامل تھے اور اگر ایسا ہوتا تو خلفائے راشدین کی تعداد بھی اج چار کی بجائے پانچ ہوتی ۔بشرطیکہ خلافت اگر حضرت علی (علیہ السلام )کو ملتی۔
تاریخ کا طالب علم اس روایت کو دیکھ کر انتہائی متعجب ہوتا ہے کہ حضرت عمر کی زندگی کے آخری لمحات میں تو مسلمانوں نے ان ے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ ہمیں بے وارث چھوڑ کرم ت جائیں لیکن رسول خدا (ص) کی خدمت میں کسی نے یہ درخواست نہیں کی کہ آپ بھی اپنا جانشین بناکر جائیں ۔
اور اہل سنت کے نظریہ کے مطابق جناب رسول خدا (ص) کو امت کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں تھی ۔اسی لئے انہوں نے خلیفہ کا انتخاب امت کے افراد کے کاندھوں پہ ڈال دیا تھا اور انہیں اس بات سے قطعا سروکار نہ تھی کہ اس حساس مسئلہ کی وجہ سے امت میں کتنی خون ریز لڑائیاں ہوں گی اور امت کتنے فرقوں میں بٹ جائے گی ۔
ہاں اللہ بھلا کرے شیخین حضرات کا کہ انہوں نے اس مسئلہ کا بروقت ادراک کرلیا تھا اور امت کوممکنہ تباہی سے بچالیا ۔اگر ابو عبیدہ بن جراح یا سالم مولی حذیفہ اتنے ہی لائق وفائق تھے تو حضرت عمر نے سقیفہ مین انہیں خلیفہ کیوں نہ بنالیا تھا ؟ اور ان کا حق تھا کہ انصار سے کہتے کہ تم ابو عبیدہ کی بیعت کرو اور سب
____________________
(۱):- ابن اثیر۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ۳۴۔
سے پہلے میں بھی اس کی بیعت کرتاہوں کیونکہ رسول خدا (ص) نے انہیں اس امت کا امین قرار فرمایا تھا ؟
یا ان کی بجائے سالم مولی حذیفہ کی بیعت کر لیتے اور فرماتے کہ یہ اللہ سے شدید محبت رکھنے والے بزرگ ہیں؟
آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ رسول خدا(ص) نے ابو عبیدہ کو "امین الامت " قرار دیا تھا جب کہ حضرت ابو بکر کے لئے اس قسم کا کوئی لقب موجود نہ تھا تو پھر افضل کو چھوڑ کر مفضول کی بیعت کیوں کی گئی ؟اور اگر سقیفہ میں یہ کار خیر نہ ہوسکا تھا تو حضرت ابو بکر جب حضرت عمر کو نامزد کر رہے تھے تو حضرت عمر کا حق تھا کہ وہ خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کردیتے کہ آپ میری بجائے ابو عبیدہ کو اپنا جانشین مقرر فرمائیں کیونکہ وہ " امین الامت "ہیں ۔
علاوہ ازیں حضرت عمر نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ اگر سالم زندہ ہوتے تو میں آج انہیں اپنا جانشین بناتا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے سقیفہ میں ایک حدیث پڑھی تھی اور اسی کی وجہ سے انصار کے لئے خلافت کو شجرہ ممنوعہ قرار دیا تھا ، اس حدیث کے الفاظ یہ تھے :- الائمۃ من قریش" امام قریش سے ہوں گے ۔
تو کیا حضرت سالم کا تعلق بھی قریش سے تھا ؟
اگر نہیں تھا تو حضرت عمر نے ان کی خلافت کیلئے اپنی حسرت کا اظہار کیوں فرمایا تھا ؟
اگر سالم کا تعلق قریش سے نہ تھا تو حضرت عمر کی اس حسرت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کے لئے قریشی ہونا غیر ضروری ہے تو کیا اس صورت دونوں خلفاء کا موقف جداگانہ نہ تھا ؟ اور اگر دونوں کا موقف الگ الگ تھا تو ان میں سے کس کا موقف صحیح تھا اور کس کا موقف غلط تھا ؟۔
حضرت سالم کے خلیفہ بنانے کی حسرت اس لئے تھی کہ وہ اللہ سے شدید محبت رکھتے تھے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استحقاق خلافت صرف اسے حاصل ہے جو اللہ سے شدید محبت رکھتا ہو ۔
آیا حضرت عمر کے ذہن سے اس وقت یہ حدیث محو ہوچکی تھی جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ۔
"لااعطین هذه الرّایة غدا رجلا یحب الله ورسوله ویحبه الله ورسوله یفتح الله علی یدیه "
کل میں علم اسے عطا کروں گا جو مرد ہوگا ۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا ہوگا اور اللہ اور رسول کا محبوب ہوگا ۔اللہ اس کے ہاتھ پر خیبر فتح کرے گا(۱) ۔
اس حدیث میں رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے محب ہیں اور اللہ اور رسول (ص) کے محبوب ہیں ۔حضرت سالم کے متعلق تو صرف یہی حدیث تھی کہ وہ محب خدا ہیں لیکن ان کے محبوب خدا ہونے کی گواہی کسی حدیث میں نہیں ملتی ۔جب سالم صرف محب خدا ہونے کی وجہ سے مستحق خلافت قرار پائے تو علی (ع) جو کہ محب خدا بھی تھے اور محبوب خدا بھی تھے انہیں حضرت عمر نے اپنا خلیفہ نامزد کیوں نہ کیا ؟ بہر نوع حضرت عمر نے ایک شوری تشکیل دی جس میں حضرت علی (ع) ،حضرت عثمان ،سعد ابن اب وقاص اور عبدالرحمان بن عوف اور زبیر بن عوام کے ساتھ طلحہ بن عبیداللہ کو شامل کیا گیا ۔اور ان سے فرمایا میری وفات کے بعد تم تین دن مشورہ کرنا اور اسی دوران صہیب لوگوں کو نماز پڑھا ئیں گے ۔چوتھے دن تمہارا امیر ضرور ہونا
____________________
(۱):-صحیح مسلم ۔جلد دوم ۔ص ۲۲۴
چاہئیے۔میرا بیٹا عبداللہ بن عمر تمہارے اجلاس میں بطور مشیر شریک ہوگا لیکن اس کا خلافت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔بعد ازاں حضرت عمر نے ابوطلحہ انصاری کو بلا کر فرمایا کہ :- "تم پچاس افراد کا گروہ لے کر افراد شوری کی نگہبانی کرتے رہنا ۔یہاں تک کہ یہ لوگ کسی کو اپنا میر بنالیں ۔"
اس کے بعد مقداد بن اسود کو بلا کر فرمایا کہ :-
"میری تدفین کے بعد تم ان لوگوں کو اکٹھا کرنا یہاں تک کہ وہ اپنا حاکم مقرر کرلیں ۔اگر پانچ افراد ایک رائے پر جمع ہوں اور ایک انکار کررہا ہو تم تم تلوار سے اس کا سر قلم کردینا اور اگرچار ایک رائے ہوں اور دو مخالف ہوں تو دو کے سر قلم کردینا اور اگر ایک طرف بھی تین افراد ہوں اور دوسری طرف بھی تین ہوں تو میرے فرزند عبداللہ بن عمر کو حکم بنالینا ، اور اگر وہ لوگ میرے فرزند کے فیصلے کو قبول نہ کریں تو جس طرف عبدالرحمن بن عوف ہوں ،تم اسی کی حمایت کرنا اور دوسرے تین افراد کو قتل کردینا ۔
قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس مقام پر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جائیں اور سوچیں کہ حضرت عمر نے اپنی وصیت میں فرمایا کہ خلیفہ کا انتخاب میری تدفین کے بعد کیا جائے ۔تو کیا حضرت عمر نے رسول خدا کی وفات کے وقت بھی ایسا ہی کیا تھا ؟
جب کہ اسلامی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ رسول خدا(ص) کا جسد اطہر ابھی گھر میں ہی موجود تھا کہ سقیفہ کی کاروائی شروع ہوگئی ۔
تو جو شخصیت خلیفہ کے انتخاب کو اتنا اہم تصور کرتی تھی کہ رسول خدا کی تدفین پر بھی اسے فوقیت حاصل ہے ۔اپنی باری آنے پر انہیں سقیفائی تعجیل کا حکم کیوں نہ دیا ؟
یہ ایک جملہ معترضہ تھا ۔اب واقعات تاریخ کی جانب آئیں ۔اسکے بعد
حضرت عمر کی وفات ہوگئی اور صہیب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔جب حضرت عمر دفن ہوگئے تو مقداد نے اصحاب شوری کو جمع کیا جن میں طلحہ غیر حاضر تھے ۔
شوری کی کاروائی
شوری کی کاروائی شروع ہوئی ۔عبدالرحمن بن عوف نے کہا :- تم میں سے کوئی جو اپنے آپ کو خلافت سے علیحدہ کرلے اور اپنے سے بہتر شخص کا انتخاب کرے " عبدالرحمن کی تجویز پر کسی نے بھی لبیک نہ کی ۔انہوں نے خود کہا کہ میں اپنے آپ کو خلافت سے علیحدہ کررہا ہوں ۔ حضرت عثمان نے کہا :- "میں تمہارے اس اقدام کو بنظر استحسان دیکھتا ہوں " باقی لوگوں نے کہا کہ ہم بھی عبدالرحمن کے اس کام پر راضی ہیں ۔ اس دوران علی( علیہ السلام )خاموش بیٹھے یہ سب دیکھتے اور سنتے رہے ۔ عبدالرحمن نے حضرت علی (علیہ السلام) سے کہا :- ابو الحسن ! آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت علی نے فرمایا " پہلے تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم حق کو ترجیح دوگے اور خواہشات کی اتباع نہ کروگے اور امت اسلامیہ کی پوری خیر خواہی کروگے ۔"
"عبد الرحمن بن عوف نے ان باتوں کا حضرت علی (علیہ السلام ) سے وعدہ کر لیا ۔"(۱)
اس طویل بحث ومباحثہ کے بعد ابن عوف نے حضرت علی (علیہ السلام ) کی طرف دیکھ کر کہا کہ :- " میں آپ کی بیعت کرتاہوں اس کے لئے آپ کو اللہ کی کتاب ، رسول خدا (ص) کی سنت اور سیرت شیخین پر عمل کرنا ہوگا ۔
حضرت علی (علیہ السلام ) نے فرمایا :- " میں اللہ کی کتاب اور سنت رسول (ص) اور اپنے ذاتی اجتہاد پر عمل کروں گا "-
اس کے بعد عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عثمان سے کہا کہ میں آپ کی بیعت کرتاہوں مگر آپ کو اللہ کی کتاب ،سنت رسول (ص) اور سیرت شیخین
____________________
(۱):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ۳۵-۳۶
پر عمل کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا مجھے یہ تینوں شرائط منظور ہیں ۔
عبدالرحمن بن عوف نے تین مرتبہ حضرت علی کے سامنے اپنی شرائط پیش کیں لیکن حضرت علی (علیہ السلام) نے ہر مرتبہ سیرت شیخین ماننے سے انکار کردیا ۔
جب عبدالرحمن کو یقین ہوگیا کہ علی سیرت شیخین کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تو اس نے حضرت عثمان کی بیعت کرلی اورکہا :- السلام علیک یا امیر المومنین "۔
یہ دیکھ کر حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے علم تھا کہ تجھے خلیفہ گر کا کردار اسی لئے سونپا گیا تھا اور تو نے پہلے سے طے شدہ منصوبہ پر حرف بحرف عمل کیا(۱) ۔
چند سوال
اس مقام پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ
۱:- کیا عبدالرحمن نے اتفاقی طورپر حضرت عثمان کی بیعت کی تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انہوں نے ایسا کیا تھا ؟
۲:-کیا سیرت شیخین کا لاحقہ شامل کرنے کا مقصد حضرت علی کو خلافت سے علیحدہ کرنا تھا یا اس کا کوئی اور مقصد بھی تھا ؟
اس مقام پر ہم شوری پر وارد ہونے والے سوالات سے قبل دو امور کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں :
۱:-مورخ طبری رقم طراز ہیں کہ "جب حضرت عمر زخمی تھے تو انہیں ابو عبیدہ اور سالم کی بے وقت موت کا شدید احساس تھا اور بار بار اس حسرت کا انہوں نے ذکر بھی کیا کہ کاش اگر وہ زندہ ہوتے تو ان میں سے کسی ایک کو خلافت کی مسند پر متمکن کردیتے ۔صحابہ کی ایک جماعت ان کی عیادت کیلئے آئی ،ان میں حضرت
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد اول ۔ص ۵۰-۶۷
علی (علیہ السلام ) بھی موجود تھے ۔ حضرت عمر نے عیادت کرنے والوں سے کہا :میں چاہتاتھا کہ میں کسی ایسے شخص کو حاکم بنا کر جاؤں جو تم لوگوں کو حق کی راہ پر چلاسکے ۔یہ کہہ کر انہوں نے علی کی طرف اشارہ کیا ۔
پھر مجھے نیند آئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص باغ میں داخل ہوا اور اس مین پودے لگائے اورپودوں پر لگنے والے پھولوں کو اس نے چن چن کر اپنے رکھنا شروع کیا ۔ اس خواب کی تعبیر میں نے یہ لی کہ اللہ عنقریب عمر کو موت دینے والا ہے ۔
اب میں زندہ اور مردہ تمہارا بوجھ کیسے اٹھا سکتا ہوں ؟لہذا اب تم میرے میں اسے خلافت کے امیداواروں میں داخل نہیں کرنا چاہتا ۔ویسے میرا خیال یہ ہے کہ حکومت عثمان یا علی (ع) میں سے کسی ایک کو ملے گی ۔
اگر عثمان حاکم بن گئے تو ان میں نرمی بہت ہے ۔
اور اگر علی (ع) حاکم بن گئے تو ان میں مزاح ہے لیکن وہ لوگوں کو حق پر چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں(۱) "۔
ارکان شوری کے متعلق حضرت عمر کی رائے
۲:- ایک اور مورخ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک دفعہ طلحہ ۔زبیر۔ سعد،عبدالرحمن ،عثمان ،اور علی (علیہ السلام) کو بلایا اور کہا :
زبیر!تو کیا چیز ہے؟ایک دن انسان ہے اور دوسرے دن شیطان ۔
____________________
(۱):-مورخ طبری ۔تاریخ الامم والملوک ۔جلد دوم ۔ص ۳۴-۳۵
طلحہ ! تو کیا ہے ؟رسول خدا (ص) تیری اس گفتگو کی وجہ سے تجھ سے وقت وفات تک ناراض تھے اور تیری گفتگو کی وجہ سے ہی ازواج محمد(ص)کے ساتھ نکاح کی حرمت والی آیت نازل ہوئی ۔
ایک اور دوسری روایت کے لفظ یہ ہیں۔
طلحہ! کیا تو وہی شخص نہیں ہے جس نے یہ کہا تھا کہ اگر محمد کی وفات ہوگئی تو میں ان کی بیویوں سے شادی کروں گا ۔اللہ نے محمد(ص) کو ہماری چچا زاد لڑکیوں کا ہم سے زیادہ وارث نہین بنایا ۔اور تیری اسی گستاخی کی وجہ سے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی :-ما کان لکم ان توذوا رسول الله ولا ان تنکحوا ازواجه من بعده ابدا " تمہیں رسول خدا کو اذیت نہیں دینی چاہیے اورنہ ہی ان کی بیویوں سے تم کبھی نکاح کرسکتے ہو(۱)
"ہمارے شیخ ابو عثمان جاحظ کہاکرتے تھے کہ کہ کاش اس وقت کوئی شخص حضرت عمر سے کہہ دیتا کہ جب ان ہستیوں کی حقیقت یہ تھی تو پھر آپ نے ان کے متعلق یہ کیوں فرمایا تھا کہ رسول خدا (ص) بوقت وفات ان سے راضی تھے ؟ اور اگر ایسا ہوتا تویقینا حضرت عمر لاجواب ہوجاتے ۔
بعد ازاں سعد ابن ابی وقاص کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ۔تو تو لوٹنے والی جماعت کا امیر ہے ،تو ایک شکاری شخص کے تیر کمان سے کھیلنے والل انسان ہے ۔قبیلہ زہرہ کا خلافت اور عوام کے امور سے کیا تعلق ہے ؟
پھر عبد الرحمن بن عوف کی جانب متوجہ ہوکر کہا :" جس شخص میں تمہاری جتنی کمزوری پائی جائے وہ خلافت کے لئے ناموزوں ہوتا ہے اور پھر "زہرہ" کا خلافت سے تعلق ہی کیا ہے ؟"
پھر علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر کہا :اگر تمہارے اندر مزاح نہ ہوتی
____________________
(۱):- الاحزاب ۔۵۳
تو خدا کی قسم ! تم ہی خلافت کے حق دار تھے ۔ خدا کی قسم ! اگر حاکم بن گئے تو لوگوں کو واضح اور روشن راہ پر چلاؤگے ۔
پھر حضرت عثمان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا : میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ قریش تمہیں حاکم بنالیں گے اور تم کنبہ پرور انسان ہو ۔ تم بنی امیہ اور ابی معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر سوار کروگے اور مسلمانوں کا بیت المال ان کے ہی حوالہ کردوگے(۱) ۔"
بزم شوری میں حضرت علی (علیہ السلام)کا احتجاج
اس موقعہ پر حضرت علی(ع) نے ارکان شوری کے سامنے اپنے حق کے اثبات کے لئے طویل احتجاج فرمایا اور ان سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا :- "میں تمہیں اس خدا کا واسطہ دیتا ہوں جو تمہارے صدق وکذب سے باخبر ہے ۔مجھے بتاؤ کہ
۱:- تمہارے اندر میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے بھائی کو اللہ نے جنت میں دو پر دئیے ہیں ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کا چچا سیدالشہدا ہو ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳:- کیا میرے علاوہ کسی کی زوجہ سیدہ نساء العالمین ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴:- کیا میرے علاوہ کسی کے بیٹوں کو رسول اللہ کا بیٹا اللہ نے قرار دیا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
____________________
(۱):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہیج البلاغہ ۔جلد سوم ص ۱۷۰
۵:-کیا تم میں سے کسی کے بیٹے جوانان جنت کے سردار ہیں ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۶:- کیا تم میں مجھ سے زیادہ کوئی قرآن کے ناسخ وومنسوخ کا عالم ہے ؟
ارکان شوری نے کہا نہیں ۔
۷:- کیا تم میں سے کسی کے لئے آیت تطہیر نازل ہوئی ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۸:- کیا میرے علاوہ کبھی تم نے بھی جبریل امین کو دحیہ کلبی کی صورت میں دیکھا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۹:- کیا میرے علاوہ کسی کے لئے "من کنت مولاه " کا اعلان کیا گیا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۰:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسولخدا (ص) ن ےاپنا بھائی بنایا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی خندق کا فاتح ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۲:-کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو ہارون محمدی کا اعزاز نصیب ہوا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۳:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے اللہ نے قرآن کی دس آیات میں "مومن "کہا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۴:- کیا میرے علاوہ شب ہجرت رسول خدا(ص) کے بستر پر تم میں سے کوئی سویا تھا ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۵:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جنگ احد کے دن اس کے ساتھ فرشتے کھڑے ہوں ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۶:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جس کی گود میں رسول خدا(ص) کی وفات ہوئی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول خدا (ص) کو غسل دیا ہو اور ان کی تجہیز وتکفین کی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۸:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے پاس رسول خدا (ص) کا اسلحہ ،علم ،اور انگشتری ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۱۹:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسولخدا(ص) نے اپنے کندھوں پر سوار کیا ہو اور اس نے بت توڑے ہوں ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۰:- کیا میرے علاوہ ہاتف غیبی نے کسی کے لئے "لافتی الا علی لا سیف الا ذولفقار " کی ندا کی ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے حضور (ص) کے ساتھ بھنے ہوئے پرندے کا گوشت کھایا ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۲:- کیا میرے علاوہ کسی اور کے لئے رسول خدا نے کہا تھا کہ تو دنیا اور
آخرت میں میرا علمدار ہوگا ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۳:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی نے آیت نجوی پر عمل کیا تھا ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۴:-کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا کا "خاصف النعل " ہونے کا شرف حاصل ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۵:- کیا میرے رسول خدا نے کسی اور کے لئے کہا تھا کہ تو مجھے ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہے اور میرے بعد سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۶:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے سو کجھوروں کے عوض پانی کے سو ڈول نکال کر وہ کجھوریں رسول خدا (ص) کو کھلائی ہوں ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے بدر کے دن تین ہزار ملائکہ نے سلام کیا ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۸:- کیا میرے علاوہ تم کوئی مسلم اول بھی ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۲۹:- کیا میرے علاوہ تمہارے اندرکوئی ایسا ہے کہ رسول خدا(ص) جس کے گھر سے سب سے آخر میں نکلتے اور سب سے پہلے اس کے گھر جاتے ہوں ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۰:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس کے متعلق نبی اکرم نے فرمایا ہو "تو ہی میرا پہلا مصدّق ہے اور حوض کوثر پر تو ہی میرے پاس سب سے پہلے آئے گا ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جس کے افراد خاندان کو رسول خدا مباہلہ میں لے گئے ہوں ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۲:-کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس نے حالت رکوع میں زکوۃ دی ہو اور اللہ نے اس کے حق میں "انّما ولیکم الله ورسوله " کی آیت نازل فرمائی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۳:- کیا میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جسکے متعلق سورۃ دہر نازل ہوئی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۴:- کیا میرے علاوہ تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جس کے متعلق اللہ نے "اجعلتم سقایة الحاج وعمارة المسجد الحرام کمن آمن بالله والیوم الآخر و جاهد فی سبیل الله لا یستوؤن عند الله " کی آیت نازل کی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۵:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسول خدا(ص) نے ایسے ایک ہزار کلمات تعلیم کئے ہوں کہ ان میں سے ہر کلمہ ایک ہزار کلمات کی چابی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۶:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ رسولخدا (ص) نے سرگوشی کی ہو اور معترضین کویہ کہہ کر خاموش کیا ہو کہ "میں نے اس سے سرگوشی نہیں بلکہ اللہ نے کی ہے "؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے پیغمبر نے فرمایا وہ"انت و شیعتک الفائزون یوم القیامة "؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۸:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو۔"وہ جھوٹا ہے جو گمان کرے کہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور علی سے بغض رکھتا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۳۹:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے؟ جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو " جو میرے ٹکڑوں سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی ۔ آپ سے دریافت کیا کہ آپ کے ٹکڑے کون ہیں ؟تو فرمایا :- وہ علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین (علیھم السلام) ہیں ۔
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۰:- کیا میرے تم میں کوئی ایسا ہے جسے نبی اکرم نے فرمایا ہو "انت خیر البشر بعد النبیّین ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۱:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسول خدا(ص) نے حق وباطل کا میزان قرار دیا ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۲:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسول خدا (ص) نے چادر تطہیر میں داخل کیا ہو ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۳:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جو غار ثور مین رسالت مآب کے لئے کھانا لے کر جاتا ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۴:- کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو
"انت اخی و وزیری وصاحبی من اهلی "؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۵:-کیا تم میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو "انت اقدمهم سلما و افضلهم علما واکثرهم حلما "؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۶:- کیا تم میں سے میرے علاوہ کسی نے مرحب یہودی کو قتل کیا تھا ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس نے خیبر کے ایسے وزنی دروازے کو جسے چالیس انسان مل کر حرکت دیتے تھے ۔اکھاڑا ہو ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۸:-کیا میرے علاوہ کسی کے سب وشتم کو سول خدا نے اپنی ذات پر سب وشتم قرار دیا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۴۹:- کیا میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کی منزل جنت کے متعلق رسول خدا(ص) نے کہا ہو کہ تمہاری منزل میری منزل کے متصل ہوگی ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۰:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق رسول کریم (ص) کا فرمان ہو کہ تو بروز قیامت عرش کے داہنی جانب ہوگا اور اللہ تجھے دو کپڑے پہنائے گا ایک سبز ہوگا اور دوسرا گلابی ہوگا ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۱:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے تمام لوگوں سے سات برس قبل نماز پڑھی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۲:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کی محبت کو رسول خدا نے اپنی محبت اور جس کی عداوت کو اپنی عداوت قرار دیا ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۳:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کی ولایت کی تبلیغ اللہ نے اپنے رسول پر فرض کی ہو ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۴:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا (ص) نے "یعسوب المومنین "کہا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۵:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کے لئے رسول خدا(ص) نے "لابعثنّ الیکم رجلا امتحن الله قلبه للایمان " کہا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۶:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا (ص) نے جنت کا انا ر کھلایا تھا ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۷:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے رسول خدا نے فرمایا ہو " میں نے اپنے رب سے جو طلب کیا اس نے مجھے عطا کیا اور میں نے جو کچھ اپنے لئے طلب کیا وہی کچھ تیرے لئے طلب کیا ؟"
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۸:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کے لئے رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ "تو امر خداوندی پر قائم رہنے والا اور عہد خداوندی کو نبھانے والا اور تقسیم میں مساوات کا خیال رکھنے والا اور اللہ کی نظر میں زیادہ رتبہ والا ہے ؟"
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۵۹:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس کے متعلق رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہو کہ " اس امت میں مجھے وہی برتری حاصل ہےجوسورج کی چاند پر اور چاند کی دوسرے ستاروں پر ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۶۰:- کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے دوست کو جنت اور دشمن کو دوزخ کی بشارت دی گئی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۶۱:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق رسول خدا(ص) نے کہا ہو"لوگ مختلف درختوں سے ہیں اور میں اور تو ایک ہی درخت سے ہیں "؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۶۲:- کیا تم میں سے کسی کو رسول خدا(ص) نے "سید العرب "فرمایا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۶۳:- کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس کا جبرئیل مہمان ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۶۴:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس نے سورۃ براءت کی تبلیغ کی ہو؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۶۵:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی جنت اور دوزخ کے بانٹنے والا ہے ؟
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
اس کے بعد آپ نے ارکان شوری سے فرمایا جب تم میرے یہ فضائل جانتے ہو تو حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی نہ کرو ۔لیکن عبد الرحمن بن عوف اور اس کے ساتھیوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کو خلافت سے محروم کردیا (الاحتجاج ۔من المترجم عفی عنہ )
مجلس شوری کا تجزیہ
شوری اور شوری ممبران کے متعلق آپ نے حضرت عمر کے نظریات ملاحظہ فرمائے ۔انہون نےممبران کے متعلق اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار فرمایا ۔حضرت عمر نے محدود شوری تشکیل دی تھی جب کہ اس حساس مسئلہ کے لئے وسیع البنیاد شوری کی ضرورت تھی ۔
۱:- حضرت عمر نے شوری کو مشروط بنادیا تھا ، انہیں آزادی فکر کی اجازت نہیں دی گئی ۔
۲:- شوری کے ہاتھ پاؤں اس طرح سے باندھ دئیے گئے کہ محافظ کو یہ حکم صادر کیا گیا کہ ان میں سے جو بھی اکثریتی رائے سے اختلاف کرے ،اسے بلا تامل موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔
۳:- اگر دونوں طرف سے ممبران کی تعداد برابر ہو تو پھر عبدالرحمن بن عوف کی پارٹی کو ترجیح دی جائے آخر عبدالرحمن ابن عوف کی رائے کو ہی آخری اور حتمی رائے قراردینے کی کیا ضرورت تھی ؟
۴:-کیا عبد الرحمن بن عوف کی رائے کو اس لئے تو فیصلہ کن نہیں قرار دیا گیا کہ انہوں نے دس برس پہلے حضرت ابوبکر کے استفسار پرحضرت عمر کی حمایت کی تھی ؟
۵:- کیا قرآن وسنت میں اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ جو عبدالرحمن بن عوف کی رائے کی مخالفت کرے وہ واجب القتل ہے ؟
۶:- ایک مومن کے قتل کی سزا تو اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے "ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فیها وغضب الله علیه ولعنه واعدله عذابا عظیما " جو کوئی جان بوجھ کر مومن قتل کرے ان کی جزا جہنم ہے وہ اس
میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے "۔
جب کہ ایک عام مومن کے قتل کی یہ سزا یہے تو اصحاب رسول اور وہ بھی حضرت کے بقول جن سے رسول خدا راضی ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، ان کے قتل کی سزا کیا ہوگی ؟
۷:- برادران اہل سنت اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا : میرے بعد صحابی ستاروں ک طرح ہیں ۔تم جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔
توکیا مذکورہ حدیث حضرت عمر کے پیش نظر نہ تھی کہ ان ستاروں کا اختلاف امت اسلامیہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے ۔ آخر انہوں نے اختلافی ستاروں کو قتل کرنے کا فرمان صادر کیوں فرمایا ؟
۸:-کیا دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں حزب اختلاف کو قتل کرنا درست سمجھا جاتا ہے ؟
۹:- کیا عبدالرحمن بن عوف کی شخصیت حق وباطل کا معیار تھی کہ ان کی رائے سے اختلاف کرنے والا گردن زدنی قرار دیا جائے ؟
۱۰ :- حضرت عمر اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس نظریہ کے قائل رہے تھے کہ خلیفہ مقرر نہ کرنا سنت رسول ہے اور حضرت ابو بکر کی سنت ہے ۔تو آخر وہ کونسی وجوہات تھیں کہ جن کی وجہ سے حضرت عمر نے رسول خدا(ص) کی سنت کو چھوڑ کر سنت ابو بکر کی پیروی کی؟
۱۱:-قرآن مجید میں رسول خدا کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے راستے سے انحراف کرنے سے منع کیاگیا ہے ۔اس کے باوجود وہ علل واسباب کیا تھے جن کی بنا پر اتباع رسول کو چھوڑنا پڑا ۔؟
۱۲:- خلافت کو صرف چھ افراد میں منحصر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور ان
کے علاوہ پوری امت اسلامیہ میں کوئی جوہر قابل نہیں تھا ؟
۱۳:- اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ ان سے رسول خدا (ص) راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ،تو ہمیں اس جواب کے تسلیم کرنے میں تامل ہوگا کیونکہ شوری ممبران میں سے طلحہ بن عبیداللہ کے متعلق خود حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ :
تمہاری اس غلط گفتگو کی وجہ سے رسول خدا (ص) مرتے دم تک تجھ سے ناراض تھے ۔ جب ایسے فرد بھی شوری میں شامل تھے تو یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ ان افراد کی تعیین رضائے رسول کی وجہ سے عمل میں آئی تھی ؟
۱۴:- اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ان افراد سے رسول خدا (ص) راضی تھے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان چھ افراد کے علاوہ حضور کریم باقی تمام صحابہ اور امت اسلامیہ سے ناراض تھے ؟
۱۵:- اگر کہا جائے کہ ایسا نہیں ہے تو پھر ان کی وجہ کیا قرارپائے گی کہ رسول خدا تو ہزاروں افراد سے راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوں اور خلافت کو صرف چھ افراد میں محدود کیا جائے ؟
۱۶:-سعید بن عمرو بن نفیل کے متعلق حضرت عمر نے خود اعتراف کیا کہ ان میں شوری کی شمولیت کی جملہ صفات موجود نہیں ہیں ۔اس کے باوجود انہیں شوری کا ممبر کیوں نہ بننے دیا گیا ؟
۱۷:- حضرت علی کے متعلق خلیفہ ثانی نے جو تبصرہ کیا کہ ان میں مزاح زیادہ ہے ۔تو کیا حضرت عمر کے علاوہ بھی کسی نے حضر ت علی کے متعلق یہ رائے دی تھی ؟
۱۸:- کیا حضرت علی کی زندگی کا مطالعہ صرف حضرت عمر کو ہی نصیب ہوا تھا ۔ان کے علاوہ حضرت علی کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل تھی ؟
اگر ان کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل نہ تھی تو باقی دنیا کو علی میں مزاح
کا عیب آخر کیوں نظر نہ آیا ؟
اس کے لئے ابن عباس کا یہ قول بھی ہمیشہ مدنظر چاہئیے کہ حضرت علی (ع) اتنے بارعب تھے کہ ہم ان کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے گفتگو کا آغاز کرنے سے گھبرایا کرتے تھے ۔
۱۹:-شوری کے لئے جن افراد کو چنا گیا ، کیا ان سب کی اسلامی خدمات یکساں تھیں یا ان میں کچھ فرق بھی تھا؟اوراگر فرق اور یقینا تھا تو پھر حضرت عمر نے ان سب کو ایک ہی صف میں کیوں لا کھڑا کیا ؟۔
۲۰:- کیا شوری ممبران کے ایک دوسرے سے خاندانی اور عائلی روابط تو نہ تھے ؟
۲۱:- اگر ان کے درمیان عائلی روابط موجود تھے تو کیا وہ قرابت داری کی وجہ سے کسی کی ناجائز حمایت بھی کرسکتے تھے یا نہیں ؟
۲۲:-کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ طلحہ کا تعلق حضرت ابو بکر کے خاندان بنی تمیم سے تھا اور اس خاندان کی علی سے تعلقات کی نوعیت پیچ پیچ تھی ؟
۲۳:- سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف کا تعلق بنی زہرہ سے تھا اور بنی زہرہ کے یہ دونوں چشم وچراغ بنی امیہ سے قریبی رشتہ داری رکھتے تھے ۔سعد بن ابی وقاص کی ماں حمنہ بنت سفیان تھی اور وہ حضرت عثمان کی بہن تھیں اور کیا اس نازک مرحلہ پر یہ امید کی جاسکتی تھی کہ عبدالرحمن اپنی بیوی کے بھائی کو چھوڑ کر کسی اور کی حمایت کریں گے؟
۲۴:- حضرت علی کے متعلق حضرت عمر کے ریمارکس کو اگر درست بھی
تسلیم کرلیا جائے تو کیا حس مزاح کی وجہ سے کسی کو حق سے محروم ٹھہرانا درست ہے ؟
۲۵:- مورخ طبری کی روایت آپ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عمر نے خود کہا تھا کہ علی لوگوں کو حق پرچلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اگر یہ بات درست تھی اور یقینا درست بھی ہے تو پھر وہ کونسے عوامل تھے جس کی بنیاد پر علی (ع) کے انتخاب کو مشکوک بنایا گیا؟ علاوہ ازیں شوری کے اجلاس میں جو "پھرتیاں " دکھائی گئیں وہ بھی قابل توجہ ہیں ۔
۲۶:-عبد الرحمن بن عوف نے بڑی چالاکی دکھائی اور اپنے آپ کو خلافت کی امیدواری سے دستبراری کرلیا تا کہ لوگ ان کی غیر جانبداری پر کوئی تنقید نہ کرسکیں ۔
تو اس سلسلہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی دست برادری ایک اتفاقیہ امر تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کی ایک کڑی تھی ؟
۲۷:- عبدالرحمن نے اپنی دست برداری کے بعد اپنے قریبی عزیز کو منتخب نہیں کیا تھا ؟
۲۸:-کیا حضرت عثمان کے انتخاب میں اقرباء پروری کا جذبہ تو کار فرما نہ تھا ؟
۲۹:- عبد الرحمن بن عوف نے خلافت کیلئے تین شرائط عائد کی تھیں (۱)اللہ کی کتاب(۲)سنت رسول (۳)سیرت شیخین ۔ان شرائط میں کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کی موجودگی کے باوجود"سیرت شیخین" کا اضافہ کیوں کیا گیا ؟
۳۰:- سیرت شیخین اگر قرآن وسنت کی تعبیر وتفسیر ہے تو شرائط میں کتاب وسنت کی شرط تو پہلے سے موجود تھی ۔ اس کے باوجود اس شرط کو الگ کیوں رکھا گیا ؟
۳۱:- اور اگر سیرت شیخین قرآن وسنت کے علاوہ کوئی اور چیز تھی تو خلافت کے لئے اسے ایک شرط کے طور پر کیوں پیش کیا گیا ؟
۳۲:- کتب تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے مواقع نظر آتے ہیں جہاں حضرت
ابو بکر کا موقف کچھ تھا اور حضرت عمر کا موقف کچھ اور تھا تو اب ان کے بعد میں آنے والا خلیفہ اگر سیرت شيخین کو قبول بھی کرلیتا تو جس مسئلہ میں خود شیخین کا باہمی اختلاف تھا۔ اس مسئلہ میں وہ کسی کی سیرت کو ترجیح دیتا اور کس کی سیرت سے انحراف کرتا؟ تاریخ وحدیث میں بہت سے ایسے مواقع ہیں جہاں حضرت عمر کا طرز عمل سیرت نبوی سے مختلف تھا۔
حضرت عمر کے بعض اجتہادات
۱:- جناب رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر اپنے اپنے دور میں تمام مسلمانوں کو یکساں طورپر عطیات وروزینے دیا کرتے تھے اور حضرت ابو بکر نے سابقین اولین کو بھی زیادہ روزینہ انکار کردیا تھا۔ لیکن حضرت عمر نے اس مسئلہ میں ان دونوں کی مخالفت کی اور اپنے زمانہ خلافت میں یکساں وظیفہ دینے کے طریقے کو ختم کردیا اور کسی کا وظیفہ کم اور کسی کا زیادہ مقررکیا(۱)
حضرت عمر ایک عجیب نفسیات رکھتے تھے" کبھی سلام پہ ناراض اور کبھی دشنام پہ خوش " تو ان کے کردار کو خلافت کے لئے شرط قرار دینا کسی طرح سے بھی قرین دانش نہیں تھا ۔حضرت عمر کی اس سیمانی فطرت کے واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ۔
۱:- ایک شخص ان کے پاس آیا اور فریاد کی ہے کہ : فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے آپ مجھے انصاف فراہم کریں ۔
حضرت عمر نے اپنا درہ فضا میں بلند کیا اور فریادی کے سر پر دے مارا اور کہا جب عمر نکما ہوتا ہے تو تم اس وقت نہیں آتے اور جب عمر امور مسلمین میں مصروف ہوتا ہے تو تم فریاد یں لے کر اس کے پاس آجاتے ہو۔
____________________
(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ۔ص ۹-۱۰
فریادی بے چارہ آہ زاری کرتا ہوا چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد انہوں نے کہا کہ اس فریادی کو دوبارہ لایا جائے اور جب وہ آیا تو درہ اٹھا کر اس ہاتھوں میں دیا اور کہا اب تم مجھ سے قصاص لے لو ۔
فریادی نے کہا میں نے اللہ اور تمہاری خاطر تمہیں معاف کیا ہے ۔
حضرت عمر نے کہا کہ : تم یا اللہ کے لئے معاف کردیا صرف مجھے میری خاطر معاف کرو ۔فریادی نے کہا تو پھر میں اللہ کے لئے تمہیں معاف کرتا ہوں ۔
اس کے بعد فریادی سے کہا کہ اب تم واپس چلے جاؤ(۱)
"عدل فاروقی " سیمابی کیفیت کا حامل تھا جہاں فریادی کو انصاف کی جگہ بعض اوقات کوڑے کھانا پڑتے تھے ۔
۲:- حضرت عمر نے نعمان بن عدی بن نفیلہ کو علاقہ "میسان" کا عامل مقرر کیا کچھ دنوں بعد حضرت عمر کو کسی نے نعمان کی ایک نظم سنائی ۔ جس میں رنگ تغزل وتشبیب نمایاں تھا۔ حضرت عمر نے انہیں لکھا کہ میں نے تجھے تیرے عہدہ سے معزول کردیا ہے ۔لہذا تم واپس آجاؤ ۔
جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے کبھی نہ تو شراب پی ہے اور نہ ہی کبھی عورتوں سے عشق لڑایا ہے ۔ یہ تو صرف شاعر انہ رنگ تھا جس کا اظہار میرے اشعار سے ہوا ہے ۔
حضرت عمر نے کہا درست ہے لیکن تم آج سے میری حکومت کے لئے کوئی کا م سرانجام نہیں دوگے ۔
۳:- ایک قریشی کو حضرت عمر نے عامل بنایا ۔اسکا ایک شعر حضرت عمر کو سنا یا گیا
اسقنی شربة تروی عظامی واسق بالله مثلها ابن هشام
مجھے ایک گھونٹ پلا جس سے میری ہڈیاں سیراب ہوں اور اس جیسا
____________________
(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد اول ۔ص ۲۰۰۔
ایک پیالہ ابن ہشام کو بھی پلا ۔
شعر سن کر حضرت عمر نے بلا یا ۔شاعر صاحب بڑے کایاں تھے جب آئے تو حضرت عمر پوچھا ۔مذکورہ شعرتم نے کہاتھا؟
اس نے کہا جی ہاں !کیا اس کے ساتھ والا دوسرا شعر آپ نے نہیں سنا ؟
کہا نہیں ۔ شاعر نے کہاکہ اس کا دوسرا شعر یہ ہے ۔
عسلا باردا بمآء غمام اننی لااحب شرب المدام
بارش کے ٹھنڈے پانی میں شہد ملا کر مجھے پلا ۔میں شراب پینے کو پسند نہیں کرتا ۔
اس کی اس حاضر جوابی کو سن کر حضرت عمر بڑے محفوظ ہوئے اور کہا تم اپنے فرائض بدستور سرانجام دیتے رہو۔
۴:- حضرت عمر نے ایک عامل سے قرآن واحکام کے متعلق سوالات کئے تو اس نے تسلی بخش جواب دئیے تو اسے کہا تم اپنا کام سرانجام دیتے رہو ۔جاتے ہوئے وہ واپس آیا اور رات میں نے ایک خواب دیکھاہے کہ آپ اس کی تعبیر بتائیں ۔حضرت عمر نے کہا خواب بیان کرو ۔اس نے کہا ۔رات میں نے سورج اور چاند کو ایک دوسرے سے لڑتے دیکھا اور ہر ایک کے پاس لشکر بھی تھا ۔ حضرت عمر نے پوچھا تم کس لشکرمیں تھے ؟ اس نے کہا کہ میں چاند کے لشکر میں شامل تھا ۔
حضرت عمر نے کہا۔ میں نے تجھے معزول کردیا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے "وجعلنا اللیل والنهار ایتین فمحونا آیة اللیل وجعلنا آیة النها ر مبصرة " ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ۔ہم نے رات کی نشانی کو مٹایا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا(۱)
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۹۸ ۔بنی اسرائیل ۱۲
۵:- مقام حدیبیہ پر رسول خدا اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ :مکہ کا جو فردمسلمانوں کے پاس جائے گا مسلمان اسے واپس کریں گے مسلمانوں کا کوئی شخص اگر مکہ والوں کے پاس پناہ لےگا تو واپس نہ کیا جائے گا ۔
اس شرط کو دیکھ کر حضرت عمر بہت ناراض ہوئے اور حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان کے سامنے احتجاج کیا پھر رسول خدا کے پاس آکر بیٹھے اور کہا ۔آپ ہمیں دین میں کیوں رسوا کرنا چاہتے ہیں ؟
رسول خدا (ص) نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کرونگا ۔
حضرت عمر ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا خدا کی قسم !اگر آج میرے پاس مددگار ہوتے تو میں رسوائی کبھی برداشت نہ کرتا(۱)
حضرت عمر ایک رات عبدالرحمن بن عوف کو ساتھ لے کر شہر میں چل رہے تھے انہوں نے چند افراد کو شراب پیتے ہوئے دیکھ لیا ۔ عبدالرحمن سے کہا میں انہیں پہچان چکا ہوں ۔جب صبح ہوئی تو ان لوگوں کو بلا کر کہا ۔رات تم شراب نوشی کیوں کر رہے تھے ؟
ان میں سے ایک شخص نے کہا :- آپ کو کس نے بتایا ؟
حضرت عمر نے کہا:- رات میں نے تمہیں اپنی آنکھوں سے مے نوشی کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ اس شخص نے کہا ۔ کیا اللہ نے آپ کو تجسس سے قرآن میں منع نہیں کیا ؟حضرت عمر نے اسے معاف کردیا ۔
____________________
(۱):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ص ۳۰
سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف
اس سے قبل ہم تقسیم غنائم اور صلح حدیبیہ کے متن میں حضرت عمر کے اختلاف کا تذکرہ کرچکے ہیں ۔ علاوہ ازیں مزید اختلافات بطور "مشتے از خردارے" نقل کرتے ہیں ۔سیرت کے اختلاف کی یہ چند مثالیں ہیں ورنہ :-
سفینہ چاہیئے اس بحر بے کراں کے لئے
۱:- فتح خیبر کے بعد رسول خدا (ص) نے یہود خیبر سے معاہدہ کیا تھا کہ خیبر کے باغات کی نگرانی کریں گے اور بٹائی میں انہیں آدھا حصہ دیاجائے گا ۔رسول خدا (ص) کی زندگی میں یہی ہوتا رہا ۔حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں بھی اسی معاہدہ پر عمل ہوتا رہا ۔حضرت عمر نے ان سے زمین وباغات واپس لے لئے اور انہیں جلاوطن کردیا ۔
۲:- رسول خدا نے وادی القری کو فتح کیا اور وہاں کے یہود سے بھی خیبر کے یہودیوں جیسا معاہدہ فرمایا ۔
حضرت عمر نے اپنے دور اقتدار میں انہیں جلاوطن کر کے شام بھیج دیا اور ان سے تمام زمین چھین لی(۱) ۔
سیرت شیخین کا باہمی تضاد
گزشتہ اوراق میں ہم کچھ اختلا فات کا تذکرہ کرچکے ہیں اور ان صفحات میں بطور نمونہ چند مزید اختلاف نقل کرتے ہیں اور صاحبان علم سے دریافت کرتے ہیں کہ جب ان دونوں بزرگوں کی سیرت ایک دوسرے سے ہی نہیں ملتی تھی تو سیرت شیخین کی اصطلاح وضع کیوں کی گئی اور اسے حصول خلافت کیلئے شرط کیوں قراردیا گیا ۔
____________________
(۱):- البلاذری ۔فتوح البلدان ۔ص ۳۶۔
۱:- عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان سے عرض کی ! اے خلیفۃ الرسول ! ہمارے پاس بنجر زمین پڑی ہوئی ہے اس میں کسی قسم کی کوئی زراعت وغیرہ نہیں ہوتی ۔اگر آپ وہ زمین ہمیں عنایت کردیں تو ہم وہاں محنت کریں گے ممکن ہے کسی دن وہ ہمیں فائدہ بھی دے جائے ۔
حضرت ابو بکر نے ان کی درخواست سن کر حاضرین سے مشورہ لیا ۔
حاضرین نے زمین دینے کی حامی بھری ۔پھر حضرت ابوبکر نے انہیں اس زمین کی ملکیت تحریر کردی اور گواہوں نے بھی دستخط کردئیے ۔لیکن اس وقت حضرت عمر موجود نہ تھے ۔ راستے میں حضرت عمر کی ان سے ملاقات ہوگئی اور ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ زمین کی ملکیت کا گوشوارہ ہے حضرت عمر نے ان سے مذکورہ تحریر لے کر اسے پھاڑ ڈالا اور انہیں کہا : رسول خدا (ص) جس زمانے میں تمہاری تالیف قلب کیا کرتے تھے وہ اسلام کی ذلت کے دن تھے اور آج الحمدللہ اسلام ترقی کرچکا ہے ۔ہمیں تمہاری تالیف قلب کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ سن کر وہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور حضرت عمر کے سلوک کا شکوہ کیا ۔اتنے میں حضرت عمر بھی پہنچ گئے اور بڑے ناراض لہجہ میں حضرت ابو بکر سے پو چھا : آپ نے ان دونوں کو جو زمین دی ہے کیا وہ آپ کی ذاتی جاگیر ہے یا تمام مسلمانوں کی ہے ؟
حضرت ابو بکر نے کہا: یہ تمام مسلمانوں کی جاگیر ہے ۔پھر حضرت عمر نے کہا آپ نے جماعت مسلمین کے مشورہ کے بغیر انہیں زمین کیوں دے دی ؟
حضرت ابو بکر نے کہا میں نے ان حاضرین سے مشورہ کیا تھا اور ان کے مشورہ اور اجازت سے ہی میں نے ان کو زمین دی تھی ۔
حضرت عمر نے کہا: کیا مسلمانوں کا ہر فرد صحیح مشورہ دینے کا اہل ہوتا ہے ؟؟(۱)
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۱۰۸ طبع اول
۲:- حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی سیرت کے اختلاف کو مالک بن نویرہ کے واقعہ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔
مالک بن نویرہ کا واقعہ
یہ تاریخ اسلام کا ایک افسوس ناک واقعہ ہے ۔اس واقعہ میں خالد بن ولید نے اجتماعی اور دینی لحاظ سے بہت غلطیاں کیں ۔
۱:- خلیفہ کی اجازت کے بغیر خالد نے مالک بن نویرہ پر لشکر کشی کی۔
۲:- دینی اعتبار سے مالک پر لشکر کشی ناجائز تھی ۔
۳:- خالد نے مالک کے قتل کرنے کا جن الفاظ میں حکم دیا اسے "غدر "سے تعبیر کرنا زیادہ مناسب ہے ۔جس کی اسلام میں گنجائش نہیں ہے ۔
۴:- ابھی مالک کی لاش بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ خالد نے مالک کی بیوی سے نکاح کرلیا ۔قانون عفت ،انسانی وجدان اور اسلامی شریعت اس نکاح کی اجازت نہیں دیتے مگر ان تمام جرائم کو حضرت ابو بکر نے معاف کردیا ۔جب کہ حضرت عمر نے خالد کی اس حرکت کوناپسند کیا اور جب خلیفہ مقرر ہوئے تو خالد کو معزول کردیا ۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے :
ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ "جب خالد فزارہ ، اسد اور بنی طے کی لڑائی سے فارغ ہوا تو اس نے "بطاح" کا رخ کیا ۔اس وادی میں مالک بن نویرہ اور اس کی قوم رہائش پزیر تھی ۔ خالد کے کچھ ساتھیوں نے اس کا ساتھ دینے سے معذرت کی اور کہا کہ ہمیں خلیفہ نے یہ حکم نہیں دیا ہے ۔خلیفہ نے ہمیں کہا تھا کہ جب ہم "بزاحہ" سے فارغ ہوجائیں تو خلیفہ کے حکم ثانی کا انتظار کریں ۔خالد نےکہا : میں تمھارا سالار ہوں ۔ مالک بن نویرہ میرے پنجے میں پھنس چکا ہے اگر تم میرے ساتھ نہیں چلتے تو مت چلو میں اپنے ساتھ مہاجرین کا دستہ لے کرچلا جاؤں گا ۔"
حضرت ابوبکر نے اپنے لشکر کو نصیحت کی تھی کہ جب تم کسی منزل پر قیام کرو تو وہاں اذان دو ، اگر مخالف بھی اذان دیں تو انہیں کچھ نہ کہو اور اگر وہ اذان نہ دیں تو ان سے جنگ کرو ۔اگر وہ اذان دیں تو ان سے زکواۃ کے متعلق سوال کرو اور اگر وہ زکواۃ کی فرضیت کا اقرار کریں تو ان کی بات قبول کرو اور اگر وہ زکواۃ کا انکار کریں تو ان سے جنگ کرو ۔
جب خالد اپنا لشکرلے کر وہاں پہنچا اور انہوں نے اذان دی تو اس کے جواب میں مالک کے قبیلہ نے بھی اذان دی اور نماز پڑھی اور اس امر کی گواہی خالد کے ایک فوجی ابو قتادہ نے بھی دی ۔
خالد کے لشکر نے اس مسلمان قبیلہ پر شب خون مارا ، دونوں طرف سے تلواریں چلنے لگیں ۔ مالک کے قبیلہ والوں نے حملہ آوروں سے پوچھا کہ تم کون ہو؟
انہوں نے کہا ہم مسلمان ہیں ۔تو مالک کے قبیلہ نے بھی کہا کہ ہم بھی مسلمان ہیں لہذا لڑائی کیسی ؟
خالد کے لشکر نے انہیں ہتھیار ڈالنے کو کہا انہوں نے مسلمانوں پر اعتماد کرتے ہوئے ہتھیارڈال دئیے تو خالد نے حکم دیا کہ انہیں گرفتار کرلو ۔انہیں گرفتار کرکے خالد کے پاس لایا گیا ۔ گرفتار شدہ گان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ اس کی بیوی اسے ملنے آئی وہ بڑی خوبصورت عورت تھی ۔خالد نے اسے دیکھا ا س وقت مالک نے بیوی سے کہا کہ "کاش تو نہ آتی تو ہم بچ جاتے ۔ اب خالد نے تجھے دیکھ لیا ہے اور اس کی للچائی ہوئی نظریں دیکھ کر میں سمجھتاہوں کہ یہ تجھے حاصل کرنے کے لئے ہمیں قتل کردے گا ۔"
وہ ایک سرد اور تاریک رات تھی ۔قیدی بے چارے سردی میں ٹھٹھر رہے تھے ۔ خالد نے منادی کو حکم دیا کہ اس نے بلند آواز میں ندا دی "ادفوو سراکم " بنی کنانہ کی لغت کے مطابق اس جملے کا ترجمہ یہ ہے کہ اپنے قیدیوں کو قتل کردو ۔
خالد کے فوجی اٹھے اور اس مسلمان قبیلے کے نمازی افراد کو بے گناہ تہ تیغ کردیا ۔
ابھی مقتولین کی لاشیں تڑپ رہی تھیں کہ خالد نے مالک کی بیوی ام عتیم سے شادی کرلی ۔یہی منظر دیکھ کر ابو قتادہ مدینہ آیا اور حضرت ابو بکر کو واقعہ کی اطلاع دی یہ خبر سن کر حضرت عمر نے کہا کہ خالد کی تلوار میں اسراف آگیا ہے لہذا اسے معزول کرکے سزا دیں ۔
حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس نے تاویل کی اور اس سے ایک غلطی سرزد ہوگئی۔ خالد تواللہ کی تلوار ہے ۔تم خالد کے متعلق اپنے منہ سے کچھ نہ کہو ۔چند دنوں بعد خالد بھی مدینہ آیا اور حضرت ابوبکر کے سامنے اپنی غلطی کی معذرت کی ۔حضرت ابوبکر نے اسے معاف کردیا اور اس کی شادی کوبھی جائز قرار دیا ۔
مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور مطالبہ کیا کہ اس کے بھائی کو خالد نے ناحق قتل کیا ہے اور ہمارے افراد کو ناحق قید کرکے مدینے لایا ہے ۔ لہذا مجھے قانون شریعت کے مطابق خالد سے قصاص دلایا جائےاور ہمارے قبیلہ کے قیدیوں کو رہا کیا جائے ۔ حضرت ابوبکر نے قیدیوں کو فی الفور رہا کردیا اور خالد پر قصاص نافذ کرنے کی بجائے بیت المال سے مالک کا خون بہا ادا کیا
متمم بن نویرہ اپنے بھائی مالک کے ہمیشہ مرثیے کہا کرتا تھا ۔ اس کے مرثیے ادب عربی میں آج بھی شہ پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں(۱) ۔
واقعہ مالک کا تجزیہ
۱:- یہ لشکر کشی خلیفہ کے حکم اور اطلاع کے بغیر کی گئی ۔
۲:- خلیفہ کی طرف سے لشکر کو حکم تھا کہ وہ اذان دیں ، اگر جواب میں مخالفین
____________________
(۱):-الکامل فی التاریخ جلد دوم ۔ص ۲۴۲-۲۴۳
بھی اذان دیں تو ان سے جنگ نہ کی جائے ۔ان سے زکواۃ کے متعلق دریافت کیا جائے کہ آیا وہ اس کی فرضیت کے قائل ہیں ؟ اگر وہ قائل ہوں تو ان سے کسی قسم کی چھیڑ خانی نہ کی جائے ۔
آخر مالک اور اس کے قبلہ کا جرم کیا تھا ؟ انہوں نے اذان دی اور نماز پڑھی ۔جس کی گواہی صحابی رسول ابو قتادہ نے دی ۔ اس کے باوجود بھی انہیں قتل کردیا گیا ۔آخر کیوں؟
۳:- خالد نے بھی ان کے قتل کا حکم جن الفاظ سے دیا وہ الفاظ ذومعنی تھے ۔ اس حملے کا ایک مطلب یہ بنتا تھا کہ "اپنے قیدیوں کو گرم کرو" اور لغت بنی کنانہ میں اس جملے کا مطلب تھا کہ "اپنے قیدیوں کو قتل کردو ۔"خالد نے دراصل یہ سمجھا کہ میں ان الفاظ کے ذریعے سے قیدیوں کو قتل کرادوں گا۔اور خلیفہ کی طرف سے سختی ہوئی تو میں کہہ کر بری الذمہ ہوجاؤں گا ۔کہ میں نے تو قیدیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ قتل کرنے کا حکم تو میں نے جاری نہیں کیا تھا ۔فوجیوں نے میرے الفاظ کا مطلب غلط سمجھا ۔لہذا اس پورے واقعہ میں میں با لکل بے گناہ سمجھاؤں گا ۔
۴:- اگرخالد کو نماز اور ذان کے باوجود بھی ان کے اسلام میں شک تھا تو انہیں خلیفہ کے پاس مدینہ بھیج دیتے ۔انہیں اس طرح سے قتل کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا ؟
۵:-شوہر کی لاش ! ابھی تڑپ رہی تھی اور خالد نے اس کی بیوی کو اپنی بیوی بنالیا ۔خالد کا یہ فعل ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ۔اس کی اجازت نہ تو دین اسلام دیتا ہے اورنہ ہی انسانیت اس کو جائز سمجھتی ہے ۔
۶:- حضرت ابو بکر خالد کے اتنے بڑے کو کیوں معاف فرمایا جبکہ حضرت عمر بھی خالد کو مجرم قرار دے کر حد شرعی کا مطالبہ کررہے تھے ؟
۷:- خالد نے بھی خلیفہ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معذرت طلب کی تھی اور خلیفہ صاحب نے معاف کردیا تھا ۔کیا اسلامی شریعت میں کوئی ایسی شق موجود ہے کہ مجرم اپنے گناہ کا اقرار کرکے معذرت کرے اس پر حد شرعی نافذ نہ کی جائے ۔
۸:-کیا نص کی موجودگی میں اجتہاد کی گنجائش ہے ؟
غالبا یہی وجہ تھی کہ حضرت علی (ع) نے سیرت شیخین کی شرط کو ٹھکراکر کہا تھا میری اپنی ایک بصیرت ہے ۔
۹:- حضرت ابو بکر کا طرز عمل بھی خالد کے غلط کار ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔کیونکہ انہوں نے قیدیوں کو رہا کردیا تھا اور مالک کا خون بہا مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کیا گیا ۔لیکن ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ خالد کے گناہ کے لئے مسلمانوں کے بیت المال پر کیوں بوجھ ڈالا گیا ؟ اس واقعہ کے بعد ابو قتادہ نے قسم کھالی تھی کہ آیندہ پوری زندگی خالد کے لشکر میں کبھی شامل نہ ہوں گے اور اس ظلم کو دیکھ کر وہ لشکر میں کبھی شامل نہ ہوں گے اور اس ظلم کو دیکھ کر وہ لشکر کو چھوڑ کر مدینہ آگئے اور حضرت ابوبکر کو تمام ماجرے کی خبر دی اور کہا کہ میں نے خالد کو مالک کے قتل سے منع کیا تھا لیکن اس نے میری بات نہیں مانی ۔اس نے اعراب کے مشورہ پر عمل کیا جن کا مقصد صرف لوٹ مار کرنا تھا۔
ابو قتادہ کی باتیں سن کر حضرت عمر نے کہا کہ اس سے قصاص لینا واجب ہوگیا ہے(۱) ۔اور جب خالد مدینہ آئے تو حضرت عمر نے کہا : اے اپنی جان کے دشمن ! تو نے ایک مسلمان پر چڑھائی کی اور اسے ناحق قتل کردیا اور تو نے اس کی بیوی کو ہتھیالیا ۔یہ صریحا زنا ہے ۔خدا کی قسم ہم تجھے سنگسار کریں گے ۔
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ۱۸۴
مورخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت عمر بر سر اقتدار ہوئے تو انہوں نے مالک کے خاندان کے بقیہ السیف افراد کو جمع کیا اور پھر مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس خاندان کا لوٹا ہوا مال و متاع فی الفور واپس کیا جائے ۔ حضرت عمر نے یہاں تک کیا کہ ان کی جن خواتین کو اس وقت کنیزیں بنا کر فروخت کردیا گيا تھا ان سب عورتوں کو لوگوں سے واپس کرایا اور ان میں سے بعض حواتین حاملہ بھی تھیں ان عورتوں کو سابق شوہروں کے حوالے کیا گیا ۔
علاوہ ازیں خالد وہی شخصیت ہیں جنہوں نے حضرت ابو بکر کے اواخر خلافت میں سعد بن عبادہ کو علاقہ شام میں رات کی تاریکی میں قتل کردیا تھا اور بعدمیں یہ مشہور کیا گیا کہ انہیں جنات نے قتل کیا ہے ۔
خالد بن ولید کے یہی کارنامے تھے جن کی وجہ سے حضرت عمر نے انہیں فوج کی سالاری سے معزول کردیا تھا ۔
ابن اثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے حکومت سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ انہوں نے اپنے سالار ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ وہ خالد کا لشکر سنبھال لیں ۔ کیوں کہ میں نے اسے معزول کردیا ہے اور جب تمہیں میرا یہ خط پہنچے تو خالد کے سر سے پگڑی اتار لینا او راس کا مال تقسیم کردینا(۱) ۔
درج بالا واقعات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں :- دینی اور دنیاوی لحاظ سے سیرت شیخین کوئی منظم اور مدوّن چیز ہی نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ کیونکہ حضرت علی یہ سمجھتے
____________________
(۱):- الکامل فی التاریخ جلد ۔جلد سوم ۔ص ۲۹۳
تھے کہ اسلامی حکومت کی بنیاد کتاب وسنت ہے ۔علاوہ ازیں کسی لاحقہ کی ضرورت نہیں ہے ۔علی موجود دور کے سیاست دان نہیں تھے کہ اقتدار کے لئے کسی ناجائز شرط کو تسلیم کرلیتے ۔
اس کے برعکس حضر ت عثمان نے تینوں شرائط کو قبول کرنے کا وعدہ کیاتھا ۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ وہ نہ تو کتاب وسنت پر کما حقہ عمل کرسکے اور نہی عمل سیرت شیخین پر عمل پیرا ہوئے ۔
سقیفہ کا تیسرا چہرہ
۳:- حضرت عثمان بن عفان:-
فقام ثالث القوم نافجا حفنیه بین نشیله و معتلفه وقام معه بنو ابیه یخصمون مال الله خصمة الابل نبتة الربیع الی ان انتکت قتله واجهز علیه عمله وکبّت به بطنته فماراعنی الا والناس کعرف الضبع الی ینثالون علی من کیل جانب حتی لقد وطئی الحسنان وشق عطفای مجتمعین حولی کربیضة الغنم ۔۔۔۔۔۔(الامام علی بن ابی طالب علیہ السلام)
"پھر اس قوم کا تیسرا شخص پیٹ پھلائے سرگین اور چارے کے درمیان کھڑاہوا اور اس کے ساتھ اس کے بھائی بند اٹھ کھڑے ہوئے ۔جو مال کو اس طرح نگلتے تھے جس طرح اونٹ فصل ربیع کا چارہ چرتا ہے ۔
یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کی بد اعمالیوں نے اس کا کام تمام کردیا اور شکم پری نے اسے منہ کے بل کرادیا ۔اس وقت مجھے لوگوں کے ہجوم نے دہشت زدہ کردیا جو میری جانب بجو کے ایال کی طرف سے لگا تار بڑھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ عالم یہ ہوا کہ حسن اور
حسین کچلے جارہے تھے اور میری ردا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے ۔مگر اس کے باوجود جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی ،دوسرا دین سے نکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کرلیا ۔گویا انہوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا کہ "یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے قراردیا ہے جو دنیا میں نہ بے جا بلندی چاہتے ہیں اور نہ فساد پھیلاتے ہیں اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہے ۔"
ہاں ہاں خدا کی قسم! ان لوگوں نے اس کو سنا تھا اور یاد کیا تھا ۔لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھب گیا اوراس کی سج دھج نے انہیں لبھا دیا ۔ دیکھو اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے ۔کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون وقرار سے نہ بیٹھی تو میں خلافت کی باگ دوڑ اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سےسیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کومیری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ قابل اعتنا نہ پاتے(۱) ۔"
حضرت عمر کی وفات کے بعد عبدالرحمن بن عوف کی "خصوصی عنایت " کے ذریعے سے حضرت عثمان بر سر اقتدار آئے ۔
اقتدار پر فائز ہوتے ہی انہوں نے پہلا کا یہ کیا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں بنی امیہ اور آل ابی معیط کو حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز کردیا ۔ان میں ایسے حکام بکثرت تھے جنہوں نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا ۔ان کے دلوں میں تعلیمات اسلام کی بجائے امیہ بن عبدالشمس اور حرب اور
____________________
(۱):-نہج البلاغہ خطبہ شقشقیہ سے اقتباس۔
ابو سفیان اور ہند بنت عتبہ اور معاویہ کی تعلیمات جاگزیں تھیں ۔
حضرت عثمان نے امور مملکت کے لئے اسلام دشمن عناصر اورمردان بن حکم جیسے لوگوں کی خدمات حاصل کیں اور یوں ان لوگوں کے ہاتھوں اسلامی تعلیمات مسخ ہوگئیں ۔
اموی اقتدار نے عالم عرب میں فساد وفسق کی تخم ریزی کی ۔ان کے اقتدار کے نتیجہ میں لوگوں میں ہوس زر پروان چڑھی اور احقاق حق اور ابطال باطل کے اسلامی جذبات کے بجائے قبائلی اور خاندانی عصبیوں نے جنم لیا ۔
اس مقام پر ہم عالم عرب پر اموی اقتدار کے منحوس نتائج پر بحث نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم اپنی اس بحث کو خلیفہ ثالث کے عہد تک محدود رکھنا چاہتے ہیں کہ اس دور میں بنی امیہ پر کیا کیا نوازشات ہوئیں اور ان نوازشات کی وجہ سے گمنام خاندان نے کس طرح اپنی حیثیت تسلیم کرائی ، اور کس طرح سے انہوں نے آئندہ کے لئے اپنی راہ ہموار کی ۔لیکن اس سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بنی امیہ کی اسلام دشمنی کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جائے ۔
بنی امیہ کی اسلام دشمنی
جنگ بدر
جنگ بدر کا معرکہ بنی امیہ کی اسلام دشمنی کی بولتی ہوئی تصویر ہے ۔اس میں معاویہ کا بھائی حنظلہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدالشمس قتل ہوا ۔
حضرت عثمان کے قریبی اعزا میں سے عاص بن سعید عاص اور عبیدہ بن سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ بن ربیعہ بن عبدالشمس اوریہ معاویہ بن ابی
سفیان کا ماموں تھا اور اس کی جگر خوار ماں ہند کا بھائی تھا اور شبیہ بن ربیعہ بن عبدالشمس اور عقبہ بن ابی معیط جو کہ حضرت عثمان کے مادری بھائی ولید کا باپ تھا ، یہ سب اموی قتل ہوئے تھے ۔ علاوہ ازیں بہت سے اموی جنگ بدر میں قیدی بھی ہوئے تھے جن میں ابو العاص بن ربیع بع بعدالعزی بن عبد الشمس اور حرث بن وجزہ بن ابی عمر بن امیہ بن عبد الشمس سرفہرست تھے اور ان کے علاوہ معاویہ کا بھائی عمر و بن ابی سفیان جو کہ عقبہ بن ابی معیط کا داماد تھا "وہ بھی قیدیوں میں شامل تھا ۔
ابو سفیان کے کسی ساتھی نے اسے مشورہ دیا کہ اپنے بیٹے کو چھڑانے کے لئے فدیہ ادا کرو ۔ابو سفیان نے کہا کیا میرے ہی گھرانے قتل ہوا ہے اور فدیہ بھی میں نے ہی دینا ہے ؟ میرے ایک بیٹے حنظلہ کو قتل کیا جاچکا ہے اور اب میں دوسرے بیٹے کا فدیہ دے کر محمد (ص) کو مالی طورپر مضبوط کروں ؟ کوئی بات نہیں مینن اپنے بیٹے کرے لئے فدیہ ادا نہیں کروں گا ۔اسی اثناء میں ایک مسلمان جس کا نام سعد بن نعمان اکال تھا وہ اپنے بیٹے کے بدلے قید کرلیا اور کہا کہ مسلمان اس کی آزادی کے بدلہ میں جو فدیہ مجھے دیں گے میں وہی فدیہ دے کر اپنے بیٹے کو آزاد کراؤں گا اور اس سلسلہ میں ابو سفیان کے شعر بھی مشہور ہیں ۔
معاویہ کا نانا عتبہ جنگ بدر میں قتل ہوا تھا ۔اس کی بیٹی اور معاویہ کی ماں ہند اپنے مقتول باپ پر یہ مرثیہ پڑھا کرتی تھی ۔
یریب علینا دهرنا فیسوؤنا ویا بی فما ناتی بشی نغالمه
فابلغ اباسفیان عنی مالکا فان القه یوما فسوف اعاتیه
فقد کان حرب یسعر الحرب انه لکل امری فی الناس مولی یطالبه
"آج زمانے ک گردش ہماری مخالف ہوچکی ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم زمانے کی گردش پہ غالب آسکیں ۔"
ابو سفیان !میری طرف سے مالک تک یہ پیغام پہنچادو اگر میں اس سے کسی دن ملی تو اسے ملامت کروں گی ۔
حرب تو جنگ کی آگ بھڑکا یا کرتا تھا اور یاد رکھ لو ہر شخص کا کوئی نہ کوئی وارث ہوتا ہے جو اس کے قصاص کا مطالبہ کرتا ہے "۔
جنگ بدر میں بنی امیہ کا بے تحاشا جانی اور مالی نقصان ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کی عداوت کے شعلے مزید بھڑک اٹھے تھے اور دلی کدورتوں کو مزید جلا مل گئی تھی اور وہ ہمیشہ بدر کا انتقام لینے کی سوچتے رہتے تھے ۔ دشمنان مصطفی میں ابو سفیان سر فہرست تھا ، اس نے کفار قریش کو ایک نئی جنگ کے لئے آمادہ کیا اور باقی عرب کو ہم نوا بنانے کے لئے افراد کو سفیر بنایا گیا ۔ جن میں عمرو بن عاص پیش پیش تھا ۔جنگ احد کے لئے ابو سفیان اپنے ساتھ کفار کا ایک لشکر لے کر روانہ ہو اور کفار کو مزید ترغیب دینے کے لئے عورتوں کو بھی ساتھ لایا گیا تھا ۔
جن میں معاویہ کی ماں ہند اور خالد بن ولید کی بہن فاطمہ بنت ولید اور عمر وعاص کی بیوی ریطہ بنت منبہ شامل تھیں ۔ یہ عورتیں دف بجا کر مردوں کو لڑنے کی ترغیب دیتی تھیں اور اپنے مقتولین پر مرثیہ خوانی کرتی تھیں ۔
دوران سفر ہند کا گزر جب بھی" وحشی " کے پاس سے ہوتات تو کہتی :" ابو دسمہ" میرے جذبات کو ٹھنڈا کر اور تو بھی آزادی حاصل کر "۔
خالد بن ولید سواروں کی ایک جماعت کا سالار تھا اور ابو سفیان لات و
عزی کو اٹھا کر لایا تھااور ان کے پیچھے ہند دل سوز آواز مین دف کی تال پر جنگی گانے گارہی تھی جس کے چند فقرات یہ ہیں ۔"
نحن بنات طارق نمشی علی النمارق
ان تقبلوا نعائق ونفرش النمارق
او تدبروا نفارقفراق غیر وافق
ہم ستاروں کی بیٹیاں ہیں ۔ نرم ونازک قالینوں پر چلنے والیاں ہیں ۔
آج تم اگر جنگ کروگے تم ہم تمہیں گلے لگائیں گی اور تمہارے لئے قالین بچھائیں گی
اور اگر آج تم نے پشت دکھائی تو ہم تم سے جدا ہوجائیں گی اور تم ہم سے ہماری کوئی رسم و راہ نہ ہوگی ۔"
جنگ احد میں عمر بن عاص بھی رجز پڑھ رہا اور شعر وشاعری کے ذریعے کفار کی ہمت افزائی میں پیش پیش تھا ۔
جنگ احد میں مسلمان تیر اندازوں کی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ خالد بن ولید مسلمان فوج کے عقب میں حملہ آور ہوا ،مسلمان فوج کے قدم اکھڑگئے ، صفیں منتشر ہوگئیں اور بہت سے جانبازان اسلام شہید ہوئے ۔جن میں رسول خدا کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہ بھی شامل تھے۔
جنگ کے اختتام پر امیر معاویہ کی "والدہ ماجدہ" نے شہدا ئے احد کی لاشوں کی بے ادبی کی ۔شہدائے اسلام کے ناک اور کان کاٹے ان سے ہار تیار کیا اور گلے میں پہنا ۔اس پر بھی اس کی آتش انتقام ٹھنڈی نہ ہوئی تو حضرت حمزہ کا سینہ چاک کرکے ان کے جگر کو چبانا شروع کردیا جگر چبانے کے بعد ایک چٹان پر کھڑی ہوکر کہا :
"آج ہم نے بدرکا بدلہ لے لیا ہے ۔آج میں نے اپنے باپ ،بھائی اور چچا کا انتقام لے لیا ہے ۔"
حلیس بن زبان کی روایت ہے کہ میں نے احد میں ابو سفیان کو دیکھا وہ امیر حمزہ کے مردہ جسم کو ٹھوکریں مار کر کہتا تھا میری ٹھوکروں کا مزہ چکھ۔
وہاں سے جاتے وقت پھر ابو سفیان نے اعلان کیا کہ آیندہ سال ہم پھر بدر کے مقام پر تم سے جنگ کریں گے ۔
اس کے بعد ابو سفیان نے اسلام اوررسول اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ابو سفیان کی بدولت ہی جنگ خندق پیش آئی۔ابو سفیان نے مسلمانوں کے مرکز مدینہ طیبہ کو تباہ کرنے کے لئے مدینہ کے یہودیوں سے سازباز کی ۔
یہی ابو سفیان ہی تھا جس نے مہاجرین حبشہ کو نجاشی کے ملک سے نکالنے کے لئے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ پر مشتمل سفارت روانہ کی ۔
الغرض ہر طرح کی حرکتیں کرنے کے باوجود بھی جب بنی امیہ اسلام کو نہ مٹاسکے تو انہوں نے اسلام کو مٹانے کی ایک او رتدبیر کی اور سوچا کہ ہماری مخالفت کے باوجود اسلام ختم نہیں ہوا تو ہمیں چاہئیے کہ ہم مسلمان ہوجائیں اور اس طرح سے دو فائدے حاصل کرسکیں گے ۔اول اپنی جان بچائیں گے دوم مستقبل میں اسلام کےپیکر پر کاری ضرب لگانے کے بھی قابل ہوجائیں گے یعنی ان کی سوچ صرف یہی تھی کہ اگر بیرونی جارحیت کی وجہ سے ہم اسلام کو نقصان نہیں پہنچاسکے تو اندرونی سازشوں کے ذریعے سے اسلام سے انتقام لیا جاسکتا ہے اور فتح مکہ کے وقت انہوں نے اپنی تدبیر پر حرف بہ حرف عمل کیا ۔
بنی امیہ کا اسلام
کفار مکہ کا قائد فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوگیا اور اس کے اسلام لانے کا واقعہ یہ ہے کہ جب جناب رسول خدا (ص) بھاری جمعیت لے کر مکہ سے باہر پہنچے تو اس وقت قریش کسی قسم کی مزاحمت کے قابل نہ تھے ابو سفیان نے رسولخدا(ص) کے چچا عباس کو مجبور کیا کہ وہ انہیں رسولخدا(ص) کی خدمت میں لے جائے ۔ جب عباس اسے لے کر حضور اکرم کی خدمت میں پہنچے تو رسول خدا (ص) نے فرمایا : " ابو سفیان کیا تمہارے لئے ابھی و ہ وقت نہیں آیا کہ تم اللہ کی وحدانیت کی گواہی دو؟"
ابو سفیان نے کہا ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔آپ کتنے شریف اور بردبار اورکریم ہیں ۔ اس چیز کے لئے میرے دل میں کچھ شک ہے ۔
عباس نے کہا : ابو سفیان اگر آج جان بچانی ہے تو مسلمان ہوجاؤ چنانچہ ابو سفیان مسلمان ہوگیا(۱) ۔
اسلام قبول کرنے کے بعد ابو سفیان نے اپنے کفر پر پروان چڑھنے والے اعصاب پر بظاہر کنٹرول کیا اور لوگوں کو دکھانے کے لئے بت پرستی چھوڑ ا اور نئے دین کا اعتراف کرنے لگا ۔لیکن رگوں میں رچی ہوئی بے دینی اور کفر کا گاہے گاہے اس سے اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔
فتح مکہ کے بعد ایک کافر جس کا نام حرث بن ہشام تھا اس نے
____________________
(۱):- تاریخ ابن خلدون ۔ جلد دوم ۔ص ۲۳۴
ابو سفیان سے کہا:- اگر میں محمد (ص) کو رسول مان لیتا تو اس کی ضرور پیروی کرتا ۔
ابو سفیان نے اس سے کہا :- میں کچھ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اگر آج میں کچھ کہوں گا تو یہ پتھر بھی میرے خلاف گواہی دیں گے(۱) ۔
عبارت بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو سفیان کا اسلام منافقت پر مبنی تھا اگر وہ دل سے مسلمان ہوچکا ہوتا تو کافر کو منہ توڑ جواب دیتا
فتح مکہ کے وقت ابو سفیان کی جگر خوار بیوی ہندہ نے بھی بامر مجبوری اسلام قبول کیا تھا ۔
جب رسول خدا(ص) نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت فرمایا کہ تم میری اس بات پر بیعت کرو کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کروگی ۔
یہ سن کر ہند نے کہا:- ہم نے تو انہیں پال کر جوان کیا تھا لیکن تم نے بدر میں انہیں قتل کردیا ۔
رسول خدا(ص) نے فرمایا :- تم میری بیعت کرو کہ تم زنا نہیں کروگی ۔
ہند نے کہا:- کیا آزاد عورت بھی زنا کرتی ہے ؟
جب رسول خدا نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب سنا تو عباس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔
اسلام دشمنی میں بنی امیہ کی مثال ڈھونڈ نے پر بھی کہین نہیں ملتی ۔
بنی امیہ جو حضرت عثمان کا خاندان تھا اس کے پیرو جواں غرضیکہ جن پر بھی نظر پڑتی ہے وہ اسلام دشمنی سے بھرا ہوا نظر آتا ہے ۔مروان کا باپ "حکم " رسول خدا (ص) کی نقلیں اتارا کرتا تھا ۔ اسی لئے رسول خدا (ص) نے اسے مدینہ سے جلاوطن کر کے طائف بھیج دیا تھا ۔
بلاذری لکھتے ہیےں :- حکم بن عاص بن امیہ حضرت عثمان کا چچا تھا ۔دور
____________________
(۱):- سیرت ابن ہشام ۔جلد چہارم ۔ ص ۳۳
جاہلیت میں رسول خدا کا پڑوسی تھا اور آپ کا بد ترین ہمسایہ تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی رسول خدا کو سخت اذیت پہنچایا کرتا تھا ۔ وہ بدبخت حضور کے پس پشت ان کی نقلیں اتارا کرتا تھا ۔"
ایک دفعہ رسول خدا اپنی کسی گھر والی کے حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے اس اپنی نقل کرتے ہوئے دیکھ لیا ۔آپ باہر آئے اور فرمایا کہیہ اور اسکی اولاد میرے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ اس کے بعد آپ نے اسے اولاد سمیت طائف کی طرف جلاوطن کردیا ۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے دور میں بھی وہ جلا وطن ہی رہا ۔جب عثمان بنے تو انہوں نے اپنے چچا کو وہاں سے مدینہ بلالیا(۱) ۔
حضرت عثمان کا ایک انتہائی معتمد ابن ابی سرح تھا اور یہ وہ شخص ہے جو کتابت وحی کیا کرتا تھا۔ اس نے وحی کی کتابت میں تحریف کی تو رسول خدا نے اسے واجب القتل قرار دیا ۔ حضرت عثمان کے دور حکومت میں ان کے مادری بھائی ولید بن ابی معیط کو بڑا رتبہ حاصل تھا اور یہ وہ شخص ہے جسے رسول خدا (ص) نے بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ موصوف جب اس خاندان کی آبادی کے قریب گئے تو ان سے ملے بغیر واپس چلے آئے اور رسول خدا کو بتایا کہ وہ لوگ تومیرے قتل کے درپے ہوگئے تھے ۔ مقدر اچھا تھا کہ میں بھاگ نکلا ۔
رسول خدا نے ان لوگوں کے خلاف فوج کشی کا ارادہ فرمایا ۔
اسی اثناء میں اس خاندان کے معزز افراد رسول خدا کے پاس آئے اور آکر بتایا کہ آپ کا عامل آیا تھا ۔ جب ہم نے اس کی آمد کی اطلاع سنی تو اس کے استقبال کے لئے آگے آئے لیکن آپ کا عامل ہم سے ملے بغیر واپس چلا گیا ۔
اللہ تعالی نے اس پر یہ آیت فرمائی "یا ایها الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا "
____________________
(۱):- بلاذری ۔انساب الاشراف جلد ۵ ص ۲۲
"ایمان والو! جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔"(۱)
اللہ تعالی نے حضرت عثمان کے اس مادری بھائی کو قرآن مجید میں لفظ "فاسق" سے یاد فرمایا ہے ۔
ابو سفیان اور اس کے ہم نوا افراد کو دوسرے مسلمان "طلقاء" کے نام سے یاد کیا کرتے تھے ۔اور جب معاویہ کا ذکر ہوتا تو اس وقت کے مسلمان فرمایا کرتے تھے کہ معاویہ جو قائد المشرکین ابوسفیان کا بیٹا ہے اور وہ معاویہ جو ہند جگر خوار کا نور نظر ہے(۲) ۔
زبیر بن بکار نے "موبقات میں مغیرہ بن شعبہ کی زبانی لکھا ہے کہ :- حضرت عمر نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اپنی کانی آنکھ سے بھی کچھ دیکھا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔
حضرت عمر نے کہا :- خدا کی قسم بنو امیہ تیری آنکھ کی طرح اسلام کو بھی کانا بنائیں گے اور پھر اسلام کو مکمل اندھا بنادیں گے کسی کو معلوم نہ ہوسکے گا کہ اسلام کہا ں سے آیا اور کہا ں چلا گیا ۔
امام بخاری اپنی صحیح میں لکھتے ہیں کہ :- ایک شخص نے رسول خدا (ص) سے پوچھا کہ کیا ہمارے ان اعمال کا بھی ہم سے محاسبہ ہوگا جو ہم نے دور جاہلیت میں سرانجام دئیے تھے ؟
آپ (ص) نے فرمایا نہیں ۔جس نے اسلام لاکر اچھے عمل کئے اس کا مواخذہ نہیں ہوگا اور جس نے اسلام لانے کے بعد بھی برےعمل کئے تو اس سے اگلے اور پچھلے اعمال کا محاسبہ ہوگا(۳) ۔ حضرت عثمان کی مالی پالیسی خالصتا اقربا ءپروری پر مشتمل تھی ۔ انہوں نے بنی امیہ پر بیت المال کا منہ کھول دیا ۔
____________________
(۱):-الحجرات ۔۶۔
(۲):-ڈاکٹر طہ حسین ۔علی وبنوہ ۔ص ۱۵۵
(۳):- صحیح بخاری ۔جلد ہشتم ص ۴۹
بنی امیہ پر نوازشات
حضرت عثمان نے مروان بن حکم کو دولاکھ دینار عطا فرمائے اور مروان کی بیٹی عائشہ کی شادی کے موقع پر اس کی بیٹی کو بھی دو لاکھ دینار عطا فرمائے ۔ علاوہ ازیں مروان کو بھاری جاگیریں بھی عطا فرمائیں ۔
حالت یہ ہوئی کہ بیت المال کے خازن زید بن ارقم نے استعفاء دے دیا ۔ مذکورہ بالا عطا تو حضرت عثمان کی انتہائی قلیل عطاؤں میں سے ہے ۔
انہوں نے خلافت سنبھالتے ہی ابو سفیان کو ایک لاکھ درہم عطا کئے(۱) ۔
اپنے ایک اور رشتہ دار کو بھاری رقم لکھ کر بیت المال کے خازن کے پاس بھیجا ۔خازن ایمان دار شخص تھا ۔ اس نے اتنی رقم دینے سے انکار کردیا ۔
حضرت عثمان نے خازن سے بار بار مطالبہ کیا کہ اسے مطلوبہ رقم خزانہ سے فراہم کی جائے لیکن خازن اپنی بات پرا ڑارہا ۔
حضرت عثمان نے اسے ملامت کرتے ہوئے کہا کہ تیری کیا حیثیت ہے ؟
تو بس ایک خزانچی ہے ۔لیکن اس نے کہا :- میں مسلمانوں کے بیت المال کا خزانچی ہوں ۔آپ کا ذاتی خزانچی نہیں ہوں ۔پھر اس نے خزانے کی چابیاں لاکر رسول خدا(ص) کے منبر پر رکھ دیں(۲)
بلاذری اس واقعہ کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں :-
عبداللہ بن ارقم بیت المال کے خازن تھے ۔ حضرت عثمان نے ان سے ایک لاکھ درہم کی رقم طلب کی اور ابھی رقم نکلی ہی تھی کہ مکہ سے عبداللہ بن اسید بن ابی العیص اپنے ساتھ افراد کو لے کر حضرت عثمان کے پاس آیا ۔حضرت
____________________
(۱):-عبداالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ص ۲۰-۲۱
(۲):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنۃ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۹۴
عثمان نے عبداللہ کے لئے تین لاکھ درہم اور اس کے تمام ساتھیوں کے لئے ایک ایک لاکھ درہم دینے کا حکم صادر فرمایا ۔
خازن ہے تجھے انکار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
خازن نے کہا :- جناب ! میں مسلمانوں کےبیت المال کا خازن ہوں اور آپ کا ذاتی خازن آپ کا غلام ہے ۔میں آپ کے اس رویہ کی وجہ سے استعفاء دے رہا ہوں ۔پھر اس نے چابیاں منبر رسول (ص) پر رکھ دیں اور خود ملازمت سے علیحدہ ہوگیا ۔
حضرت عثمان نے اسے منانے کے لئے اس کے پاس تین لاکھ درہم بھیجے لیکن اس نے لینے سے انکار کردیا ۔
حضرت عثمان کی سخاوت کی داستانیں لوگوں کے گوش گزار ہوئیں اس سے لوگوں میں نفرت کے جذبات پیدا ہونے لگے اور چند دنوں کے بعد لوگوں میں یہ افواہ پھیلی کہ بیت المال میں انتہائی قیمتی جواہر کا ہار موجود تھا جو حضرت عثمان نے اپنے کسی رشتہ دار کے حوالے کردیا ۔ لوگوں نے اس بات کا برا منایا اور حضرت عثمان سے شدید احتجاج کیا ۔اس احتجاج پر حضرت عثمان سخت ناراض ہوئے اور اعلان کیا ہم اپنی ضرورتوں کی تکمیل اس بیت المال سے کریں گے ۔اگر کسی کادل جلتا ہے تو جلتا رہے ۔اگر اس سے کسی کی ناک رگڑتی ہے تو رگڑتی رہے ۔حضرت عمار بن یاسر نے یہ سن کر کہا :- میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس اس فعل پرراضی نہیں ہوں ۔
حضرت عثمان نے کہا :- اسے گھٹیا شخص !تیری یہ جراءت کہ تو مجھ پر جسارت کرے؟ پھر پولیس کے افراد سے کہا اسے فورا پکڑلو۔
حضرت عمار کو پکڑ لیا گیا اور انہیں اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگئے ۔
انہیں اٹھا کر حضرت ام سلمہ کے حجرہ میں لایا گیا ۔حضرت عمار سارا دن بے ہوش رہے اور اسی بے ہوشی کی وجہ سے ان کی ظہر ،عصر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوگئیں جب انہیں ہوش آیا تو وضو کرکے انہوں نے نماز ادا کی اور کہا :- اللہ کا شکر ہے آج پہلی دفعہ مجھے اللہ کے دین کے لئے نہیں مارا گیا ۔
حضرت ام سلمہ یا حضرت عائشہ میں سے ایک بی بی نے رسول خدا کا لباس اور ان کی نعلین نکال کر اہل مخاطب کرکے کہا لوگو ! یہ رسول خدا کا لباس اور ان کا موئے مبارک اور نعلین ہے ۔ ابھی تک تو رسول خدا کا لباس بھی پرانا نہیں ہوا تم نے ان کی سنت کو تبدیل کردیا ۔
اس موقعہ کی وجہ سے حضرت عثمان کو خاصی شرمندگی اٹھانی پڑی اور ان سے اس کا جواب نہ بن آیا(۱)
اگر یہ روایت درست ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ حضرت عثمان نے بیک دوغلطیاں کیں :
۱:- بنو امیہ کو مسلمانوں کا مال ناحق دیا گیا ۔
۲:-رسول خدا(ص) کے ایک جلیل القدر صحابی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
حضرت عثمان کی "سخاوت "کی مثال نہیں ملتی
آپ نے مروان بن حکم کو افریقہ کا سارا خمس عطا فرمایا اور "حکم" کے دوسرے بیٹے حارث کو تین لاکھ درہم عطا فرمائے۔
عبداللہ بن خالد بن اسید اموی کو تین لاکھ درہم عطا فرمائے ۔
اس کے وفد میں شامل ہر شخص کو ایک ایک لاکھ درہم دیا گیا ۔
زبیر بن عوام کو چھ لاکھ درہم دئیے گئے
طلحہ بن عبیداللہ کو ایک لاکھ درہم دیا گیا
____________________
(۱):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔ "عثمان بن عفان" ۔بلاذری ۔انساب الاشراف جلد پنجم ص ۴۸
سعید بن عاص کو ایک لاکھ درہم ملے
سعید بن عاص نے اپنی چار صاحبزادیوں کی شادی کی تو اس کی ایک ایک بیٹی کو بیت المال سے ایک ایک لاکھ درہم دئیے گئے ۔ان واقعات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بلاذری رقم طراز ہیں ۔ سنہ ۲۷ھ میں اسلامی لشکر نے افریقہ فتح کیا اور وہاں سے بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ اس مال غنمیت کا خمس مروان بن حکم کو دیا گیا ۔علاوہ ازیں سنہ ۲۷ ھ میں عبداللہ بن ابی سرح جو کہ حضرت عثمان کے رضاعی بھائی تھے کی زیر سرکردگی افریقہ پر حملہ کیاگیا ۔مسلمان فوج نے افریقہ فتح کرلیا ۔فوج کے سالار نے ایک لاکھ درہم کے بدلے سارا خمس خرید لیا اور بعداز اں حضرت عثمان س انہوں نے مذکورہ رقم معاف کرنے کی درخواست کی ۔حضرت عثمان نے انہیں رقم معاف کردی۔
زکواۃ کے اونٹ مدینہ لائے گئے ۔حضرت عثمان نے تمام اونٹ حارث بن حکم بن ابی العاص کو عطا کردئیے۔
حضرت عثمان نے حکم بن عاص کو بنی قضاعہ کی زکواۃ کا عامل مقرر کیا اور وہاں سے تین لاکھ درہم کی وصولی ہوئی ۔وہ ساری رقم انہیں دے دی گئ۔
حارث بن حکم بن ابی العاص کو تین لاکھ درہم دیئے گئے ۔
اور زید بن ثابت انصاری کو ایک لاکھ درہم دئیے گئے ۔
بیت المال کا یہ استحصال حضرت ابو ذر سے نہ دیکھا گیا اور انہوں نے مدینہ کے بازاروں اور گلیوں میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھنی شروع کی :-والذین یکنزون الذھب والفضۃ ۔۔۔۔۔۔الایۃ "
"جو لو گ سونا چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیں ۔یہی سونا اور چاندی دوزخ کی آگ میں گرم کرکے ان کی پیشانیوں اور پہلوؤں میں داغا جائے گا اور ان
سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا وہ خزانہ ہے جسے تم جمع کیا کرتے تھے(۱)
"حضرت ابو ذر کے اس طرز عمل کی مروان نے حضرت عثمان کے پاس شکایت کی حضرت عثمان نے انہیں کہلا بھیجا کہ تم اس حرکت سے باز آجاؤ ۔
حضرت ابو ذر نے کہا: عثمان مجھے اللہ کی کتاب کی تلاوت سے باز رکھنا چاہتا ہے ؟ خدا کی قسم میں عثمان کی ناراضگی برداشت کرسکتا ہوں لیکن اللہ کی ناراضگی برادشت نہیں کرسکتا ۔
آپ نے حضرت عثمان کی مالی پالیسی ملاحظہ فرمائی ۔چند لمحات کے لئے اس مقام پر ٹھہر جائیں اور اس کے بر عکس حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی کا بھی ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔کیونکہ ۔
بضدها تتبین الاشیاء
حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی
حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں حضرت حسین (ع) کا ایک مہمان آیا ۔انہوں نے ایک درہم ادھار لے کر روٹی خریدی ۔سالن کے لئے ان کے پاس رقم موجود نہ تھی ۔انہوں نے اپنے غلام قنبر کو حکم دیا کہ یمن سے جو شہد آیا ہے اس میں سے ایک رطل کی مقداد میں شہد دیں ۔قنبر نے حکم کی تعمیل کی اور ایک رطل شہد انہیں لاکر دی ۔چند دنوں کے بعد حضرت علی نے تقسیم خاطر وہ شہد منگایا اور شہد کی مشک کو دیکھ کر فرمایا ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کچھ کمی ہوئی ہے ۔ قنبر نے عرض کی :- جی ہاں ! آپ کے فرزند حسین (ع) نے ایک مہمان کی خاطر ایک رطل شہد مجھ سے لی تھی ۔
یہ سن کر حضرت علی (ع) نا راض ہوئے اور فرمایا کہ حسین (ع) کو بلاؤ۔جب
____________________
(۱):- التوبہ ۳۴
حسین (ع) آگئے تو حضرت علی نے فرمایا :- حسین بیٹے ! تقسیم سے پہلے تم نے ایک رطل شہد بیت المال سے کیوں لی ہے ؟
حسین (ع) نے عرض کی :-بابا جان ! جب تقسیم ہوجائے گی تو میں اپنے حصہ سے اتنی مقدار واپس کردوں گا ۔
اس پر حضرت علی (ع) نے فرمایا :- یہ درست ہے کہ اس میں تمہارا بھی حصہ ہے لیکن تقسیم سے پہلے تم شہد لینے کے مجاز نہیں تھے ۔ بعد ازآں قنبر کو ایک درہم دے کر فرمایا کہ اس درہم سے بہترین شہد خرید کر دوسرے سہد میں شامل کردو ۔
حضرت علی (ع) کے عدل کے لئے عقیل کا واقعہ ہی کافی ہے ۔
اس واقعہ کو عقیل نے خود معاویہ بن ابی سفیان کے دربار میں اس وقت سنایا جب وہ علی (ع) ک عدل سے بھاگ کر وہاں پہنچے تھے کہ مجھے شدید غربت نے اپنی لپیٹ میں لیا تو میں اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر اپنے بھائی علی (ع) کے پاس گیا ۔میرے بچوں کے چہروں پر غربت ویاس چھائی ہوئی تھی اور بھوک کی وجہ سے ان کے چہرے زرد ہوچکے تھے ۔
میرے بھائی علی (ع) نے کہا کہ تم آج شام میرے پاس آنا ۔چنانچہ شام کے وقت میرا ایک بیٹا ہاتھ پکڑے ہوئے ان کے پاس لےگیا ۔انہوں نے میرے بچے کو مجھ سے ہٹا دیا اور مجھے کہا کہ اور قریب آجاؤ ۔میں سمجھا کہ علی مجھے زرد دولت کی تھیلی دیں گے لیکن انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر آگ کی طرح گرم لوہے رکھا اور اس کی وجہ سے میں یوں گرا جیسا کہ بیل قصاب کے ہاتھ سے گرتا ہے(۱) ۔
اس واقعہ کو خود حضرت علی (ع) نے اپنے ایک خطبہ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے ۔
"رایت عقیلا وقد املق حتی استما حنی مین برّکم صاعا ورایت
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغہ
صبیانه شعث الشعور ، غیر الالوان من فقرهم ،عاودنی موکّدا وکرّرا علیّ القول مرددا ۔۔۔۔۔"(الامام علی بن ابی طالب)
"بخدا میں نے عقیل کو سخت فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھا ۔یہاں تک کہ وہ تمہارے حصہ کے گیہوں میں ایک صاع مجھ سے مانگتے تھے اور میں نے ان کے بچوں کو بھی دیکھا جن کے بال بکھر ہوئے تھے اور فقر بے نوائی سے رنگ تیرگی مائل ہوچکے تھے گویا ۔ان کے چہرے نیل چھڑک کرسیاہ کردئیے گئے ہیں وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور اس بات کو باربار دہرایا ۔میں نے ان کی باتوں کو کان دے کر سنا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھوں اپنا دین بھیج ڈالوں گا اور اپنی روش چھوڑ کر ان کی کھینچ تان پر ان کے پیچھے ہوجاؤں گا مگر میں نے یہ کیا کہ ایک لوہے کے ٹکڑے کو تپایا پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ عبرت حاصل کریں ۔چنانچہ وہ اس طرح سے چیخے جس طرح بیمار درد وکرب سے چیختا ہے اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس داغ دینے سے جل جائے ۔ پھر میں نے ان سے کہا :- اسے عقیل ! رونے والیاں تم پر روئیں کیا تم لوہے کے اس ٹکڑے سے چیخ اٹھے ہو جسے ایک انسان نے ہنسی مذاق میں بغیر جلانے کی نیت کے تپا یا ہےاور مجھے اس آگ کی طرف کھینچ رہے ہو جسے خدائے قہار نے اپنے غضب س بھڑکایا ہے ۔تم اذیت سے چیخو اور میں جہنم کے شعلوں سے نہ چلاؤں ۔"(۱)
ہمیں علی علیہ السلام کی زندگی صداقت اور انسانی عزت نفس کابلند ترین نمونہ نظر آتی ہے ۔
آپ جانتے ہیں کہ خوارج سے حضرت علی علیہ السلام کو کتنی نفرت تھی ۔آپ انہیں باطل پر سمجھتے تھے ۔ اس کے باوجود حضرت علی (ع) کا ان سے طرز عمل کیا تھا ۔اس کے لئے ڈاکٹر طہ حسین مصری کے بیان کردہ واقعہ کو پڑھیں :-
____________________
(۱):-نہج البلاغہ کے خطبہ ۲۲۱ سے اقتباس ۔
"حضرت علی (ع)کے پاس حریث بن راشد السامی خارجی آیا اور کہا اللہ کی قسم میں نہ تو آپ کا فرمان مانوں گا اور نہ ہی آپ کے پیچھے نماز پڑوں گا ۔اس کے ان جملوں پر حضرت نے ناراضگی کا اظہار نہ کیا اور نہ ہی اسے اس پر کوئی سزا دی ۔آپ نے اسے بحث و مباحثہ کی دعوت دی اور فرمایا تم مجھ سے بحث کر لو تاکہ تمارے سامنے واضح ہوجائے اس نے دوسرے دن آنے کا وعدہ کیا اور آپ نے قبول کرلیا "(۱) ۔
ایک خارجی کے ساتھ حضرت علی (ع) کا سلوک ملاحظہ فرمائیں اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت عمار کے ساتھ حضرت عثمان کا بھی سلوک ملاحظہ فرمائیں ۔ تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ علی (ع) کیا تھے اور عثمان کیا تھے ؟
حضرت عثمان نے اسلامی خزانہ کو صرف اپنے اقرباء پر ہی نہیں لٹایا بلکہ اس دور کے مشاہیر کو بھی اس سے وافر حصہ دیا ۔حضرت عثمان نے زبیر بن عوام کو چھ لاکھ عطا کئے ۔طلحہ بن عبیداللہ کو ایک لاکھ عطا کئے اور تمام قرضہ بھی معاف کردیا ۔
ایک طرف سے اپنے رشتہ داروں پر یہ نوازشات جاری تھیں ۔جب کہ دوسری طرح عامتہ المسلمین بھوک وافلاس اور شدید ترین غربت کا شکار تھے ۔
کیونکہ بیت المال کا اکثر حصہ تو بنی امیہ اور مقربین کی نذر ہوگیا ۔غریب عوام کو دینے کے لئے خزانہ خالی تھا ۔
چند مشاہیر کی دولت
حضرت عثمان کے دور خلافت میں اشرافیہ طبقہ کی جائیداد کی ایک ہلکی سی جھلک مسعودی نے یوں بیان کی ہے ۔
صحابہ کی ایک جماعت اس زمانہ میں بڑی مالدار بن گئی اور انہوں نے
____________________
(۱):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۱۲۵
بڑی بڑی جاگیریں خریدلیں اور عظیم الشان محلات تعمیر کرلئے ۔ ان میں سے زبیر بن عوام نے بصرہ میں اپنا محل تعمیر کرایا جو اس وقت ۳۳۲ ہجری میں بھی اپنی اصل حالت میں پورے جاہ وجلال کے ساتھ موجود ہے ۔ اس میں تاجر اور سرمایہ دار آکر ٹھہرا کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ انہوں نے مصر ،کوفہ اور سکندریہ میں بھی عالی شان محل تعمیر کرائے ۔اسکے علاوہ اس کی دوسری جاگیروں کے متعلق بھی اہل علم جانتے ہیں ۔ زبیر کی وفات کے وقت اس کے گھر سے نقد سرمایہ پچاس ہزار دینار برآمد ہوئے ۔علاوہ ازیں انہوں نے اپنے پیچھے ایک ہزار گھوڑے اور ایک ہزار لونڈیاں چھوڑیں ۔
طلحہ بن عبیداللہ التمیمی نے بھی کوفہ میں عظیم الشان محل تعمیر کیا اور عراق سے طلحہ کے غلہ کی یومیہ آمدنی ایک ہزار دینار تھی ۔جب کہ دوسر ے مورخین اس سے بھی زیادہ بیان کرتے ہیں ۔عراق کے علاوہ باقی علاقوں سے اس کی کمائی اس سے بھی زیادہ تھی ۔ اس نے مدینہ میں ایک مثالی محل تعمیر کرایا جس میں جص اور ساج استعمال کیا گیا تھا ۔
عبدالرحمن بن عوف زہری نےبھی فلک بوس محل تعمیر کرایا اور اسے وسعت بھی دی ۔اس کے اصطبل میں ایک ہزار گھوڑے ہر وقت بندھے رہتے تھے ۔ اس کے پاس ہزار اونٹ اور دس ہزار بکریاں تھیں ۔ وفات کے وقت ان کی چار بیویا ں تھیں اور ہر بیوی کو چوارسی ہزار (۸۴۰۰۰) دینار ملے ۔"(۱)
"اہل جنت " کے سرمایہ کی آپ نے ہلکی سی جھلک مشاہدہ فرمائی ۔جب حاکم ہی بیت المال کو دونوں ہاتھوں سے لٹا رہا ہو تو آپ رعایا سے صبر وقناعت کی امید کیسے کریں گے ۔ اس دور کے عمّال وحکام سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ
____________________
(۱):- مسعودی ۔مروج الذہب ومعادن الجوہر ۔جلد ۲ ص ۲۲۲
انہوں نے اسی بہتی گنگا سے ہاتھ نہیں دھوئے ہوں گے ؟
حضرت عثمان نے بنی امیہ کو صرف درہم ودینار دینے پر ہی کتفاء نہیں کی بلکہ انہیں بڑی بڑی جاگیریں بھی عطا فرمائیں ۔ ممکن ہے کہ اس مقام پر حضرت عثمان کے بہی خواہ اہل سنت اور معتزلہ ان کی صفائی میں یہ کہین کہ انہوں نے یہ زمینیں اس لئے دی تھیں تا کہ زمینیں آباد ہوجائیں ۔
اس کے جواب میں شیعہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جواب تو حضرت عثمان نے بھی خود نہیں دیا تھا ۔یہ جواب ناقص اور " مدعی سست اور گواہ چست "والا معاملہ ہے ۔ اس کے جواب میں شیعہ یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ جاگیریں صرف بنی امیہ کو ہی کیوں دی گئی تھیں ؟ کیا بنی امیہ زمینوں کے اسپیشلسٹ تھے(۱) ؟
ڈاکٹر صاحب کے اس بیان کے بعد یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ حضرت عثمان کی اس مالیاتی پالیسی کے دو نتیجے نکلے اور دونوں ایک دوسرے سے خراب تر تھے ۔
۱:- مسلمانوں کے مال کو ناحق خرچ کیا گیا ۔
۲:- اور اس کی وجہ سے ایک نو دولتیے طبقہ نے جنم لیا جن کا مطمع نظر دوسروں کے حقوق کو غصب کرنا اور اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کرنا تھا ۔ اور یہ نو دولتیہ طبقہ اپنی دولت بچانے کے لئے کسی بھی برے سے برے حاکم کی اطاعت پر بھی کمربستہ ہوسکتا تھا اور مذکورہ طبقہ ایک خاص امتیاز اکا بھی خواہش مند تھا اور اپنی دولت کو تحفظ دینے کے لئے ہر اس حکومت کو خوش آمدید کہنے پر آمادہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لئۓ مضر لیکن ان کے لئے مفید ہو ۔
حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں یہی سرمایہ دار طبقہ ہی ان کی مخالفت میں پیش پیش تھا ۔ انہوں نے حضرت علی کی مخالفت اپنے سرمایہ اور جاگیروں کے تحفظ کے لئے کی تھی ۔
____________________
(۱):-ڈاکٹر طہ حسین ۔مصری الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۱۹۳۔۱۹۴
حضرت عثمان کی مالیاتی پالیسی کے بنیادی خدوخال آپ نے مشاہدہ کئے اور آئیے دیکھیں کہ ان کی دیگر حکومتی پالیسیاں کیا تھیں ؟
حضرت عثمان کی حکومتی پالیسی
حضرت عثمان کی دوسری حکومتی پالیسی کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ ان کی کوئی ذاتی پالیسی سرے سے تھی ہی نہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ بنی امیہ پر انحصار کیا اور اپنے سسرال اور دیگر رشتہ داروں کی بات کوانہوں نے ہمیشہ اہمیت دی تھی ۔
عثمانی دور میں مروان بن حکم کو خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔انہوں نے ہمیشہ مروان کے مشوروں کو درخور اعتنا سمجھا اور بنی امیہ کو مسلمانوں کی گردن پر سوار کیا ۔
بنی امیہ جیسے ہی حاکم بنے انہوں نے امت مسلمہ میں ظلم وستم کو رواج دیا ۔ ان کی وجہ سے ملت اسلامیہ شدید مشکلات کا شکار ہوگئی ۔مگر ظالم وجابر حکام پورے اطمینان سے مسلمانوں کا استحصال کرتے رہے انہیں امت اسلامیہ کے افراد کی کوئی پراہ تک نہ تھی ۔ کیونکہ خلیفۃ المسلمین ان سے خوش تھا اور دوسرے مسلمانوں کی ناراضگی کی انہیں کوئی فکر ہی نہیں تھی۔
حضرت عثمان ک شخصیت کا الم ناک پہلو یہ ہے کہ وہ بنی امیہ پر جس قدر مہربان تھے ، دوسرے صحابہ اور عامۃ المسلمین کے لئے وہ اتنے ہی سخت تھے ۔ انہوں نے عبداللہ بن مسعود اور ابو ذر غفاری اور عما بن یاسر جیسے جلیل القدر صحابہ تک سے ہتک آمیز سلوک کیا ۔ان جلیل القدر صحابہ کو ان کے حکم سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور حضرت ابوذر غفاری پر صرے تشددہی نہیں بلکہ انہیں جلا وطن کرکے ربذہ کے بے آب وگیاہ میدان میں مرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیاگیا ۔
ان اجلہ صحابہ کا جر صرف یہی تھا کہ وہ بنی امیہ کی لوٹ کھسوٹ اور بداعمالیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تیار نہ تھے ۔
بلاذری بیان کرتے ہیں کہ :-
"حضرت عثمان نے بنی امیہ کے ان افراد کو عامل مقرر کیا جنہیں رسول خدا (ص) کی صحبت میسر نہ تھی اور نہ ہی اسلام میں انہیں کوئی مقام حاصل تھا ۔ اور جب لوگ ان کی شکایت کرنے آتے تو حضرت عثمان عوامی شکایات کو کئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور انہیں معزول نہیں کرتے تھے ۔اپنی حکومت کے آخری چھ برسوں میں انہوں نے اپنے چچا کی اولاد کو حاکم مقررکیا ۔
اسی دور میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مصر کا حاکم مقرر ہوا ۔ وہ کئی برس تک مصر میں رہا ۔مصر کے لوگ اس کے ظلم کی شکایت کرنے کے لئے حضرت عثمان کے پاس آئے اور حضرت عثمان نے ان کے کہنے پر اسے ایک خط بھی تحریر کیا جس میں اسے غلط کاریوں سے باز رہنے کی تلقین کی گئی تھی لیکن اس نے حضرت عثمان کے خط پر کوئی عمل نہ کیا اور شکایت کرنے والوں پر بے پناہ تشدد کیا ۔ جس کی وجہ سے ایک شخص موقع پر ہی دم توڑگیا ۔
اس کے بعد اہل مصر کا ایک اور وفد ابن ابی سرح کے مظالم کی شکایت کرنے کے لئے مدینہ آیا اور اوقات نماز میں انہوں نے صحابہ سے ملاقات کی اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی ان لوگوں کو داستان سنائی ۔چنانچہ طلحہ حضرت عثمان کے پاس گئے اور ان سے سخت لہجہ میں احتجاج کیا ۔ بی بی عائشہ نے بھی عثمان کے پاس پیغام روانہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے عامل سے انصاف دلاؤ۔
کبار صحابہ جن میں حضرت علی (ع) مقداد اور طلحہ وزبیر شامل تھے ۔ انہوں نے حضرت عثمان کے نام ایک خط تیار کیا جس میں اس کے عمال کے مظالم کی تفصیل بیان کی گئی تھی اور خط کے ذریعے سے حضرت عثمان کو تنبیہ کی گئی تھی ۔
کہ اگر انہوں نے اپنے رویے کو درست نہ کیا تو پھر انہیں خلافت کرنے کا حق حاصل ہوگا ۔ عمار نے وہ خط لیا اور حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا ۔جب حضرت عثمان نے اسکی ایک سطر پڑھی تو انہیں بہت غصہ آیا اور عمار سے کہا :- تیری یہ جراءت کہ تو ان کا خط میرے سامنے لائے ؟
عمار نے کہا :- میں خط اس لئے لایا ہوں کہ میں آپ کا زیادہ خیر خواہ ہوں ۔حضرت عثمان نے کہا :- سمیہ کا فرزند تو جھوٹا ہے ۔
حضرت عمار نے کہا :- خدا کی قسم میں اسلام کی پہلی شہید خاتون سمیہ اور یاسر کا بیٹا ہوں ۔
حضرت عثمان نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اسے پکڑ کر لٹائیں ۔ نوکروں نے انہیں پکڑکر لٹادیا ۔حضرت عثمان نے جناب عمار کو اپنے پاؤں سے ٹھوکریں ماریں ۔ضربات اتنی شدید تھیں کہ انہیں "فتق" کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔ اور بے ہوش ہوگئے ۔"(۱)
جب حضرت عثمان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تویہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی مالیاتی اور حکومتی پالیسیوں کا مقصد امت اسلامیہ کے مقدر سے کھیلنا اور دین اسلام کے بہی خواہوں کو کمزور کرنا اور دشمنان اسلام بالخصوص بنی امیہ کے لئے مستقبل بنی امیہ کے لئے مستقبل کی حکومت کی راہ ہموار کرنا تھا ۔
حضرت عثمان کی پالیسی نہ یہ کہ قرآن وسنت سے علیحدہ تھی بلکہ بلکہ سیرت شیخین سے بھی جدا گانہ تھی ۔
واقدی بیان کرتے ہیں کہ :-
"جب حضرت عثمان نے سعید بن العاص کو ایک لاکھ درہم دئیے تو لوگوں نے اس پر تنقید کی اور اسے غلط قرار دیا ۔حضرت علی (ع) اور ان کے ساتھ دیگر صحابہ نے مل کر حضرت عثمان سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو حضرت عثمان نے کہا وہ
____________________
(۱):- بلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ۲۵ ۔ ۲۶
میرا قریبی رشتہ دار ہے ۔صحابہ نے کہا تو کیا ابو بکر وعمر کے اس جہان میں کوئی رشتہ دارنہیں تھے ؟
حضرت عثمان نے کہا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو محروم کرکے خوش ہوتے تھے جب کہ میں اپنے رشتہ داروں کو دے کر خوش ہوتا ہوں ۔"(۱)
حضرت عثمان کی یہ روش کسی طرح سے بھی سیرت شیخین سے مطابقت نیں رکھتی تھی اور ان کی اس روش کاروح اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا ۔
عثمانی عمّال کی سیرت
آئیے چند لمحات کے لئے عثمانی عمال پر بھی نظر ڈال لیں ۔ اس حقیقت میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان نے امور سلطنت کے لئے اپنے اقرباء پر ہی انحصار کیا تھا ۔اور خدا گواہ ہے کہ ہم اتنے تنگ نظر نہیں ہیں کہ ہم صرف رشتہ داری کی وجہ سے کسی پر اعتراض کریں ۔ہم جانتے ہیں کہ سلاطین کا قدیم الایام س یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ اہم مناصب پر اپنے بااعتماد اور باصلاحیت رشتہ داروں کو فائز کرتے رہے ہیں ۔
اگر رشتہ دار با صلاحیت ہوں تو انحصار کیا تھا کیا وہ باصلاحیت اور صاحب سیرت افراد تھے ؟
حضرت عثمان نے اپنی قرابت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے افراد کو بھی اہم عہدوں پر فائز کیا جن کے فسق وفجور اور نفاق وکذب کی اللہ نے قرآن میں گواہی دی تھی ۔
ذیل میں ہم بطور نمونہ اپنے قارئین کے لئے چند افراد کی سیرت کا تذکرہ
____________________
(۱):- بلاذری ۔انساب الاشراف ۔بحوالہ واقدی جلد ص ۔ص ۲۷۔
کرتے ہیں ۔لیکن ان واقعات کو "مشتے ازخردارے" کی حیثیت حاصل ہے ۔اگر ہم عمال عثمانی کی بد کرداریوں کی تفصیل بیان کرنے لگیں تو اس کے لئے علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے ۔
ولید بن عقبہ
عثمان عمال کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لئے ہم ولید بن عقبہ بن ابی معیط سے ابتدا کرتے ہیں ۔ حضرت عثمان نے انہیں کوفہ کا والی مقرر کیا تھا ۔
اس "اموی ستارہ " کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم (ص) نے اسے بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے کے لئے روانہ کیا ۔ یہ صاحب ان سے ملے بغیر واپس آگئے اور کہا کہ ان لوگوں نے مجھے قتل کرنا چاہا اور صدقات دینے سے انکار کردیا ۔ رسول خدا(ص) نے مذکورہ قبیلہ کے خلاف فوج کشی کا ارادہ کرلیا ۔ اس اثناء میں ان کا ایک وفد رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ! ہم نے آپ کے قاصد کی آمد کا سنا تھا اس کی تعظیم وتکریم کے لئے باہر آئے لیکن آپ کا قاصد ہمیں دیکھ کر دور سے ہی واپس چلاگیا ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی :-یا ایها الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا ان تصیبوا قوما بجهالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمیین "(۱) ۔
"ایمان والو!اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو ۔ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو تکلیف پہنچاؤ اور بعد میں اپنے کیے پر تمہیں ندامت اٹھانی پڑے ۔"
ولید وہ "شخص "ہیں کہ ایک دفعہ اس کی بیوی رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ اسے ناحق مارتا پیٹتا ہے ۔
____________________
(۱):- الحجرات ۔۶۔
رسول خدا (ص) نے اسے فرمایا کہ جا کر اپنے شوہر سےکہہ دو کہ مجھے رسول خدا(ص) نے امان دی ہے ۔ وہ بے چاری چلی گئی اور رسولخدا(ص) کا پیغام سنایا ۔
دوسرے دن عورت پھر حاضر ہوئی اور عرض کی :- یا رسول اللہ ! اس نے آپ کا پیغام سن کر مجھے مارا۔
رسول خدا(ص) نے اس کے کپڑے کا ایک حصہ پھاڑا اور کہا جاکر شوہر سے کہو کہ رسول خدا نے بطور نشانی اس کپڑے کو پھاڑا ہے ۔ لہذا مجھے مت مارو۔
وہ عورت چلی گئی ۔تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ روتی ہوئی رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی :- یا رسول اللہ ! میں نے آپ کا فرمان اسے سنا یا اور نشانی بھی دکھائی لیکن اس نے مجھے پہلے سے بھی زیادہ پیٹا(۱) ۔
کوفہ میں ولید شراب نوشی
حضرت عثمان نے اسی ولید کو کوفہ کا والی مقرر کیا اور یہ "بزرگوار" اپنے ہم پیالہ ساتھیوں کے ساتھ ساری ساری رات شراب پیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ صبح کی آذان ہوئی تو یہ صاحب نشہ میں دھت تھے اور نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں چلے گئے اور فجر کی نماز دورکعت کی بجائے چاررکعت پڑھائی ۔اور پھر مقتدیوں کی طرف منہ کرکے کہا :- اگر ارادہ ہوتو اور زیادہ پڑھادوں ؟
بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ جب وہ سجدہ میں تھے توکہہ رکہے تھے کہ :- خود بھی پیو اور مجھے بھی جام پلاؤ ۔
پہلی صف میں کھڑے ہوئے ایک نمازی نے کہا:- مجھے تجھ پر کوئی حیرت نہیں ہے ۔مجھے تو اس پر تعجب آتا ہے جس نے تجھ جیسے شخص کو ہمارا والی بنا کر بھیجا ۔ولید نے ایک دفعہ خطبہ دیا تو لوگوں نے اس پر پتھراو کیا ۔صاحب
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ۱۹۵
موصوف پتھراو سے گھبرا کر اپنے محلے میں چلے گئے ۔
ولید زانی تھا ۔ شراب پیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ شراب پی کر مسجد میں نماز پڑھانے آیا تو اس نے محراب میں قے کردی اور قے میں شراب کا رنگ نمایاں تھا قے کرنے کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا ۔
علّق القلب الربابا بعد ما شابت و شابا
"میرا دل رباب سے اٹک گیا ۔ جب وہ جوان ہوگئی اور میں بھی جوان ہوگیا ۔"
اہل کوفہ نے حضرت عثمان کے پاس اس کی شکایت کی اورحد شرعی کا مطالبہ کیا ۔ناچار حضرت عثمان نے ایک شخص کو حد جاری کرنے کے لئے کہ ۔ جب وہ شخص درہ اٹھا کرولید کے قریب گیا تو ولید نے حضرت عثمان سے کہا :- آپ کو اللہ اور اپنی قرابت کا واسطہ دیتا ہوں کہ کہ مجھے معاف کردیں ۔حضرت عثمان نے اسے چھوڑدیا اور پھر خیال کیا کہ دنیا یہ کہے گی کہ عثمان نے حد شرعی کو چھوڑ دیا ہے اس خیال کے تحت انہوں نے خود ہی اسے اپنے ہاتھ سے دوچار کوڑے مار کر چھوڑ دیا ۔
اہل کوفہ دوبارہ ولید کی شکایت لے کر حضرت عثمان کے پاس آئے تو حضرت عثمان اہل کوفہ پر سخت ناراض ہوئے اور کہا :- تم لوگ جب بھی کسی امیر پر ناراض ہوتے ہو تو اس پر تمہتیں تراشتے ہو ۔
ان لوگوں نے حضرت عائشہ کے پاس جاکر پناہ لی ۔جب حضرت عثمان نے دیکھا کہ ان لوگوں کو ام المومنین نے پناہ دے رکھی ہے تو کہا :- عراق کے فاسق اور بدمعاشوں کو عائشہ کا گھر ہی پناہ دیتا ہے ۔یہ الفاظ بی بی عائشہ نے سنے تو رسول خدا کی نعلین بلند کرکے کہا :- تو نے اس تعلین کے مالک کی سنت کو چھوڑ دیا ہے(۱) ۔
____________________
(۱):- المسعودی ۔مروج الذہب ۔جلد دوم ۔ص ۲۲۴
ولید کو والی کوفہ کیوں بنایا گیا
ولید کے والی کوفہ بننے کی داستان بھی عجیب ہے ۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان جس تخت پر بیٹھا کرتے تھے ۔اس پر ایک اور شخص بیٹھنے کی گنجائش بھی موجود تھی ۔
حضرت عثمان کے ساتھ صرف چار افرادہی بیٹھا کرتے تھے اور وہ عباس بن عبدالمطلب ،ابو سفیان بن حرب ،حکم بن ابی العاص اور ولید بن عقبہ تھے ۔
ایک دن ولید حضرت عثمان کے ساتھ تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ حکم بن ابی العاص آگیا تو حضرت عثمان نے ولید کو کھڑا ہونے کا اشارہ کیا تاکہ حکم کو بٹھایا جاسکے ۔جب کچھ دیر بعد حکم چلا گیا تو ولید نے کہا:- آپ نے چچا کو اپنے چچا زاد پر ترجیح دی ہے اور اس کی وجہ سے میں نے دو شعر تخلیق کئے ہیں ۔
واضح رہے کہ مروان کا باپ حکم حضرت عثمان کا چچا تھا اور بنی امیہ کا بزرگ تھا اور ولید حضرت عثمان کا مادری بھائی تھا ۔
حضرت عثمان نے کہا وہ شعر مجھے سناؤ ۔
رایت لعمّ المرء زلفی قرابة دوین اخیه حادثا لم یکن قدما
فاملت عمرا ان یشبّ وخالدا لکی یدعوانی یوم نائبة عمّا
"میں نے دیکھا لیا ہے کہ بھائی کی نسبت لوگ چچا کا زیادہ احترام کرتے ہیں ۔ پہلے یہ بات رائج نہ تھی ۔ آپ کے دونوں فرزندوں یعنی عمر اور خالد کی عمر دراز ہو تاکہ وہ بھی ایک دن مجھے چچا کہہ کر مخاطب کریں ۔"
یہ شعر سن کر حضرت عثمان نے کہاکہ تم بھی کیا یاد رکھو گے ۔میں نے تمہیں کوفہ کا گورنر بنایا ۔
جی ہاں ! یہ وہی ولید ہے جسے قرآن میں فاسق کہا گیا ۔یہی وہ ولید ہے
جس نے رسول خدا(ص) کے فرمان کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔
گورنری کا پروانہ لے کر ولید کوفہ پہنچا اور والی کوفہ سعد سے ملاقات کی سعد نے پوچھا کہ تم یہاں سیروسیاحت کرنے آئے ہو یا یہاں کے حاکم بن کے آئے ہو؟
ولید نے کہا:- میں یہاں کا حاکم بن کر آیا ہوں ۔یہ سن کر سعد نے کہا خدا کی قسم مجھے علم نہیں ہورہا کہ میں پاگل ہوگیا ہوں یا تو دانا ہوگیا ہے ؟ ولید نے کہا :- نہ تو آپ پاگل ہوئے ہیں اور نہ ہی میں دانا ہوا ہوں ، جن کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہے یہ انہی کا فیصلہ ہے ۔(۱)
حضرت عثمان کے دیگر عمال کے متعلق بھی کتب تاریخ بھری ہوئی ہیں حضرت عثمان نے عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا والی مقررکیا ۔اس وقت اس کی عمرپچیس برس تھی ۔ جب کہ اس وقت کبار صحابہ اور تجربہ کا ر افراد بھی موجود تھے ۔
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مصر کا حاکم مقرر کیا گیا ۔یہ وہی شخص ہے جسے اللہ اور رسول خدا نے واجب القتل قرار دیا تھا اور فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا تھا کہ ہر شخص کو امان ہے مگر عبداللہ بن ابی سرح کیلئے کوئی امان نہیں ہے ۔یہ شخص اگرغلاف کعبہ سے بھی چمٹا ہوا ہو تو بھی اسے قتل کردیا جائے ۔(۲)
____________________
(۱):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ص ۱۸۷
(۲):- عبدالفتاح عبد المقصود ۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ص ۳۳
حضرت عثمان کا صحابہ سے سلوک
بنی امیہ کے ظالم حکام نے مسلمان سے جو سلوک کیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ۔لیکن حضرت عثمان نے بذات خود جو اجلہ صحابہ سے سلوک کیا وہ کسی طرح سے بھی مستحسن نہیں ہے ۔
تاریخ کے قارئین جانتے ہیں کہ عامۃ المسلمین کے ساتھ بنی امیہ نے اتنی بد سلوکی نہیں کی جتنی کہ حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابہ کے ساتھ کی ۔
جب صحابہ کرام کی ممتاز جماعت نے حضرت عثمان کے عمال کی ان کے پاس شکایت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ ایسے کہ ایسے قماش کے حکمرانوں کو معزول کیا جائے تو حضرت عثمان نے حسن تدبیر کی جگہ اکابر صحابہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔
حضرت عثمان کے تشدد کا نشانہ بننے والے افرادمیں حضرت عبداللہ بن مسعود شامل ہیں ۔قرآن مجید کی جمع وتدوین کے وقت ان کاآپس میں تنازعہ ہوا تو حضرت عثمان نے انہیں مطمئن کرنے کی بجائے انہیں درے مارنے کا حکم دیا ۔حضرت عثمان کے غلاموں نے ان پر بے تحاشہ تشدد کیا انہیں اٹھا کر زمین پر پٹکا گیا جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور اتنا تشدد کرکے بھی انہیں تسیکن نہ ہوئی تو انہوں نے ان کا وظیفہ بند کردیا ۔حضرت ابوذر غفاری کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا سلوک کیا گیا ۔
حضرت ابو ذر غفاری رسالت مآب کے عظیم المرتبت صحابی ہیں اور رسول خدا (ص) نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ :- جنت ابو ذر کی مشتاق ہے ۔ جناب رسول خدا(ص) نے ابو ذر غفاری کے زہد وتقوی کی تشبہیہ حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام ے دی تھی ۔ اور ان کے متعلق رسول خدا(ص) کی مشہور حدیث وارد ہے :- " مااظلّت الخضرآء ولا اقلّت الغبراء اصدق من ذی لھجۃ من ابی ذر " آسمان نے
سایہ نہیں کیا اور زمین نے اپنی پشت پر کسی ایسے انسان کو نہیں بٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو ۔"
حضرت عثمان کے دور میں سرمایہ داری نظام کے عروج کو دیکھ کر حضرت ابو ذر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے اور سارا دن مدینہ کے بازاروں میں سرمایہ داری کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔ اور سورۃ توبہ کی آیت کی تلاوت فرماتے تھے ۔" والذین یکنزون الذھب والفضۃ ۔۔۔۔۔۔" یعنی جو لوگ سونا چاندی کے ڈھیر اکٹھے کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ،انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو ۔جس دن دوزخ کی آگ میں سونا چاندی کو تپایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں ،پہلوں اور پشتوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ تمہارا ذخیرہ کردہ مال ہے ان کا مزہ چکھو ۔"
حضرت عثمان نے محسوس کیا کہ ابو ذر کی تعلیمات سے مدینہ کے غریب طبقہ کے لوگ متاثر ہورہے ہیں تو انہیں جلاوطن کرکے شام بھیج دیا گیا اور شام کے والی معاویہ بن ابی سفیان کو ان پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیاگیا ۔
حضرت ابو ذر کا شام میں بھی وہی رویہ وہا جو کہ مدینہ میں تھا ۔آخرالامر معاویہ نے انہیں درشت اونٹ پر سوار کرکے مدینہ روانہ کیا اور حضرت عثمان نے انہین مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ دی ۔ان کو عرب کے صحرائے ربذہ میں جلاوطن کیاگیا ۔ جہاں ان کے فرزند ذر کی وفات ہوگئی اور وہ اور ان کی بیٹی صحرا میں اکیلے رہ گئے ۔ چند دنوں کے بعد عالم غربت میں ان کی وفات ہوئی ۔اہل عراق کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا تو انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے اس جلیل القدر صحابی کی تجہیز وتکفین کی ۔
بلاذری بیان کرتے ہیں کہ جب خلیفہ عثمان کو حضرت ابو ذر کی وفات کی خبر ملی تو حضرت عثمان نے کہا : اس پر اللہ کی رحمت ہو ۔
حضرت عمار نے فرمایا :- اس کے جلا وطن کرنے والے کے متعلق کیا خیال ہے ؟ تو حضرت عثمان نے بڑے تیز وتند لہجے میں عمار سے کہا:- کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ میں ابو ذر کو جلاوطن کرکے نادم ہوں ۔
اس کے بعد حضرت عثمان نے جناب عمار بن یاسر کی جلاوطنی کے احکام جاری کئے اورکہا کہ تو بھی ربذہ چلا جا ۔
حضرت عمار نے جلاوطنی کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کرلی تو ان کے قبیلے بنو مخزوم کے افراد داد رسی کے لئے حضرت علی (ع) کے پاس آئے ۔ حضرت علی (ع) عثمان کے پاس گئے اور فرمایا :- خدا کا خوف کر تو نے پہلے ہی ایک صالح مسلمان کو جلاوطن کیا ہے ۔اور وہ بے چارہ جلاوطنی میں فوت ہوچکا ہے اور پھر تو اس واقعہ کو دہرانے کا خواہش مند ہے ۔ان دونوں کے درمیان کافی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ خلیفہ عثمان نے حضرت علی سے کہا :- عمار کے بجائے جلاوطنی کا زیادہ حقدار تو ہے ۔
حضرت علی (ع) ن ےفرمایا اگر تجھ میں جراءت ہے تو ایسا کرکے بھی دیکھ لے ۔بعد از اں مہاجرین جمع ہوکر خلیفہ کے پاس آئے اور کہا:- جب بھی کسی شخص نے تم سے گفتگو کی ہے تم نے اسے جلاوطن کردیا ہے ۔تمہاری یہ روش اچھی نہیں ہے ۔(۱)
حضرت عمار کی جلاوطنی کے احکام انہیں مجبورا واپس لینے پڑے ۔حضرت عمار جیسے جلیل القدر صحابی کو جس وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی مزید تفصیل علامہ عبد الفتاح عبد المقصود کی زبانی سماعت فرمائیں ۔" بہت سے صحابہ نے بنی امیہ کے ظالم عمال کی شکایات کے لئے ایک مشترکہ خط تحریر کیا ۔ حضرت عمار وہ خط لے کر خلیفہ صاحب کے پاس گئے ۔جب عمار خلیفہ عثمان کے دربار میں پہنچے تومروان نے حضرت عثمان سے کہا ۔ یہ کالا حبشی غلام لوگوں کو آپ کے خلاف
____________________
(۱):- انساب الاشراف ۔جلد پنجم ص ۵۴-۵۵
برانگیختہ کررہا ہے ۔اگر آج آپ اسے قتل کردیں تو آیندہ کے فتنہ سے محفوظ ہوجائیں گے ۔"
حضرت عثمان نے مروان کی رائے کو پسند کیا اور عصا اٹھا کر حضرت عمار کو بے تحاشا مارا ۔خلیفہ کے خاندان کے افراد نے بھی انہین مارنے میں کوئی کسرباقی نہ اٹھا رکھی ۔
ان ظالمانہ ضربات کی وجہ سے انہیں "فتق" کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔
حضرت عمار بے ہوش ہوگئے ۔خلیفہ کے نوکروں نے انہیں پکڑ کر برستی ہوئی بارش اور ٹھنڈے موسم میں سڑک کے کنارے ڈال دیا(۱) " اسی دور میں عدل اجتماعی ختم ہوچکا تھا اور اسلامیہ پر ظلم وجور کے سائے منڈلارہے تھے ۔
محقق معاصر ڈاکٹر طہ حسین نے بالکل درست لکھا ہے کہ :- دور عثمانی کے لئے اہل سنت اور معتزلہ کو حضرت عثمان کے عمال کی ہی صفائی نہیں دینی پڑے گی بلکہ انہیں حضرت عثمان کے اعمال کی بھی وجہ دینی ہوگی انہوں نے عظیم المرتبت صحابہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار بن یا سر کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ کسی طور پر صحیح نہیں ہے ۔
حضرت عمار کو اتنا مارا گیا کہ انہیں "فتق "لاحق ہوگیا اور حضرت عبداللہ بن مسعود کو بے عزت کرکے مسجد سے نکالا گیا اور تشدد کے ذریعے ان کی پسلیاں توڑ ڈالی گئیں ۔
ان دو عظیم المرتبت انسانوں کے ساتھ حضرت عثمان نے جو سلوک کیا تھا صرف اپنے عمال کی زبان پراعتماد کیاگیا تھا ۔ ان دونوں بزرگواروں پر باقاعدہ کوئی مقدمہ چلایا گیا تھا اور نہ ہی فریقین سے بیان لئے گئے تھے اور کسی واضح اور ٹھوس ثبوت کے بغیر ان کو وحشیانہ
____________________
(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلددوم ۔ص ۳۴
تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔
یقینا حضرت عثمان کو ایسا کرنے کا کوئی قانونی اور شرعی اختیار حاصل نہ تھا ۔ حضرت ابو ذر کی مثال کو ہی لے لیں ۔ ان کا جرم صرف یہی تھا کہ انہوں نے ان کی مالیاتی پالیسی بالخصوص اقرباء پروری یعنی بنی امیہ نوازی کو ہدف تنقید بنایا تو انہیں اس کی پاداش میں مدینہ سے نکال دیاگیا ۔
حضرت عثمان نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے حکام و عمال کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ جس کو چاہیں جلاوطن کریں اس کی اجازت کے ملنے کے بعد ان کے عمال کبھی اپنے مخالفین کو کوفہ سے شام جلاوطن کرنے لگے اور کبھی شام سے بصرہ اور کبھی بصرہ سے مصر جلاوطن کرتے تھے ۔ گویا جلاوطن کرکے معاویہ کے پاس بھیجتا تھا ۔ اور معاویہ لوگوں کو جلاوطن کرکے سعید کے پاس بھیجتا اور سعید عبدالرحمن بن خالد کی طرف جلاوطن کردیتا تھا ۔ مظلوم لوگوں کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا اور ان کو کسی قسم کی صفائی کا موقع بھی فراہم نہیں کیا جاتا تھا(۱) ۔
عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت
حضرت عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت خاصی عبرت انگیز ہے ۔ان کے مصائب کی ابتداء اس وقت ہوئی جب حضرت عثمان کا مادری بھائی ولید بن عقبہ کوفہ کا گورنر بن کے آیا ۔ جناب عبداللہ بن مسعود اس وقت کوفہ کے بیت المال کے خازن تھے ۔
ولید نے ان سے ایک بڑی رقم بطور قرض مانگی انہوں نے دے دی ۔چند دنوں کے بعد ولید نے ایک اور بھاری رقم نکالنے کا حکم دیا ۔ تو انہوں نے انکار
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۱۹۸-۱۹۹
کردیا ۔ولید نے حضرت عثمان کی طرف ایک خط لکھا جس میں بیت المال کے خازن کے اس طرز عمل کی شکایت کی ۔
حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو خط لکھا کہ تم ہمارے مال کے خازن ہو ۔لہذا تم ولید کو مال لینے سے منع نہ کرو
حضر ت عبداللہ بن مسعود نے یہ خط پڑھ کر چابیاں پھینک دیں اور کہا کہ :- میں اپنے آپ کو مسلمانوں کا خازن تصور کرتا تھا اور اگر مجھے تمہارا خازن بننا ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
بیت المال کو چھوڑنے کے بعد وہ کوفہ میں مقیم رہے ۔
ولید نے سارا واقعہ خط میں لکھ کر حضرت عثمان کو روانہ کیا ۔حضرت عثمان نے ولید کو لکھا کہ اسے کوفہ سے نکال کر مدینہ بھیج دو ۔حضرت ابن مسعود نے کوفہ چھوڑا اور اہل کوفہ نے ان کی مشایعت کی اور ابن مسعود نے انہیں اللہ کے تقوی اور تمسک بالقرآن کی وصیت کی ۔اہل کوفہ نے ان سے کہا ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔آپ نے ہمارے جاہلوں کو تعلیم دی اور دین کی سمجھ عطا کی ۔
ابن مسعود مدینہ آئے اس وقت حضرت عثمان منبر رسول پر خطبہ دے رہے تھے ۔جب ان کی نظر ابن مسعود پر پڑی تو کہا:- وہ دیکھو برائی کا کیڑا تمہارے پاس آیا ہے ۔
ابن مسعود نے کہا :- میں ایسا نہیں ہوں میں تو پیغمبر اکرم کا صحابی ہوں ۔حضرت عثمان نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ اسے مسجد سے ذلت کے ساتھ باہر نکال دیں اور عبداللہ بن زمعہ نے انہیں اٹھا کر پوری قوت کے ساتھ زمین پہ پٹکادیا ۔ جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود مدینہ میں رہے ۔عثمان انہیں مدینہ سے باہر
جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔
قتل عثمان سے دو برس قبل ان کی وفات ہوئی وفات سے چند روز قبل حضرت عثمان ان کی عیادت کے لئے آئے تو پوچھا ۔
عثمان :- آپ کو کونسی بیماری کی شکایت ہے ؟
ابن مسعود :- اپنے گناہوں کی ۔
عثمان :- کیا میں طبیب کو بلاؤں ؟
ابن مسعود :- طبیب نے تو بیماری دی ہے
عثمان :- آپ کیا چاہتے ہیں ؟
ابن مسعود :- اپنے رب کی رحمت ۔
عثمان :- کیا میں تمہار وظیفہ جاری کردوں ؟
ابن مسعود:- جب مجھے ضرورت تھی تو تم نے روک لیا تھا ۔ اب جبکہ میں موت کے استقبال کے لئے آمادہ ہوں تو میں وظیفہ لے کر کیا کروں گا؟
عثمان:- وظیفہ سے آپ کی اولاد کی گزر بسر اچھی ہوگی ۔
ابن مسعود :- ان کا رازق اللہ ہے ۔
عثمان :- عبدالرحمان کے ابا! میری بخشش کے لئے اللہ سے دعا مانگیں ۔
ابن مسعود :- میری خدا سے درخواست ہے کہ تجھ سے میرا حق وصول کرے ۔
حضرت ابن مسعود وصیت کرکے گئے تھے کہ ان کی نماز جنازہ میں عثمان شامل نہ ہوں(۱) -
حضرت عثمان کے طرز عمل پر لوگوں نے اعتراضات کئے ہیں ۔ کچھ اعتراضات تو ان واقعات کی وجہ سے ہوئے ہیں جو ہر لحاظ سے روح اسلام ،سنت نبوی اور سیرت شیخین کے خلاف تھے ۔
____________________
(۱):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد چہارم ۔ص ۲۷
صحابہ کرام نے حضرت عثمان کے دوسرے تصرفات پر بھی اعتراض کیا۔ ان میں سے کچھ کا تعلق قرآن وسنت کی مخالفت کی وجہ سے تھا ۔ ان تمام اعتراض کا جامع خلاصہ ڈاکٹر طہ حسین نے یوں بیان کیا ۔
مخالفین کے حضرت عثمان پر الزامات
حضرت عثمان کے مخالفین ان پر الزام عائد کرتے تھے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اللہ کی بیان کردہ حد شرعی کو معطل کیا ۔
۱:- انہوں نے حضرت عمر کے بیٹے عبیداللہ پر حد جاری نہیں کی تھی ۔جب کہ ان نے اپنے باپ کے قتل کے بدلے ہرمزان ،جفینہ اور ابو لولو کی بیٹی کو قتل کردیا تھا ۔ حالانکہ حق یہ تھا کہ وہ اپنے والد کے قتل کا مقدمہ عدالت میں پیش کرتے اور عدالت اس کے باپ قاتل کو سزادیتی ۔ اس نے عدالت سے رجوع کرنے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور ایک قاتل کے بدلے میں تین بے گناہ افراد کو قتل کردیا تھا۔جب کہ ہرمزان مسلمان تھا اور جفینہ اور ابولولو کی بیٹی اسلامی ریاست کے ذمی تھے ۔اور اسلام مسلمانوں اور ذمیوں کے خون کا تحفظ کرتا ہے ۔صحابہ کی ایک جماعت نے حضرت عثمان سے مطالبہ کیا تھا ۔ کہ حضرت عمر کے بیٹے سے قصاص لینا فرض ہے اور اس اسلامی قانون کو کسی صورت بھی معطل نہیں ہونا چاہیۓ ۔حضرت عثمان نے کوئی قصاص نہ لیا اور کہا کہ "کل اس کا باپ قتل ہوا اور آج اس کے بیٹے کومیں قتل کروں ؟ "چنانچہ انہوں نے حضرت عمر کے بیٹے کو معاف کردیا ۔اس دور کے مسلمانوں نے اس بات پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ قصاص نہ لینا قرآن وسنت کی عملی نفی ہے اور مزید یہ "سیرت شخین" کی بھی کھلم مخالفت ہے ۔
۲:-انہوں نے منی میں نماز پوری پڑھی ۔جب کہ رسول خدا(ص) اور شیخین نے
وہاں نماز قصر تھی اور خود حضرت عثمان بھی کئی برس تک وہاں نماز قصرپڑھتے تھے ۔
صحابہ کرام کو اس مقام پر پوری نماز دیکھ کر دکھ ہوا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے سنت نبوی کی مخالفت سمجھتے تھے اور بالخصوص مہاجرین کی نظر میں یہ ایک انتہائی خطرناک چیزتھی ۔کیونکہ رسول خدا(ص) نے جب مکہ سے ہجرت کی تو انہوں نے مدینہ کو ہی اپنے لیئے "دار اقامت " قرار دیا تھا ۔ اور مکہ کو اپنے لئے اجنبی شہر قرار دیا تھا ۔
اسی لئے رسول خدا(ص) اور ان کے اصحاب جب بھی مکہ آتے تو نماز ہمیشہ قصر پڑھا کرتے تھے ۔تاکہ ہرشخص سمجھ لے کہ وہ مکہ کو اپنا وطن نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہاں دوبارہ آباد ہونا چاہتے ہیں ۔ حضور اکرم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ ہجرت کے بعد کوئی صحابی مکہ میں فوت ہو ۔
۳:- صحابہ کرام نے حضرت عثمان کے دور کی زکاۃ پر بھی اعتراض کیا تھا۔ کیونکہ حضرت عثمان نے گھوڑوں پر بھی زکواۃ وصول کی ،جب کہ رسول خدا(ص) نے گھوڑوں کو زکواۃ سے مستثنی کیا تھا اور حضرات شیخین کے عہد حکومت میں بھی گھوڑوں کی زکواۃ وصول نہیں کی جاتی تھی ۔
۴:- صحابہ کرام نے چراگاہوں پر حضرت عثمان کے قبضہ کی مخالفت کی تھی ۔ کیونکہ اللہ اور رسول نے پانی ،ہوا اور چراگاہوں کو تمام لوگوں کی ملکیت قراردیا ہے ۔
۵:- حضرت عثمان کے دور میں زکواۃ کو جنگ میں بھی خرچ کیا جاتا تھا ۔ اسی لئے بہت سے صحابہ نے اس کی مخالفت کی تھی اور ان کی دلیل یہ تھی کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مصارف زکواۃ کی تفصیل بیان کردی ہے اور مذکورہ مصارف کے علاوہ زکواۃ کو کسی اور مصرف میں خرچ نہیں کیا جاسکتا ۔
۶:- قرآن مجید کی جمع وتدوین کے وقت بھی صحابہ کرام کی ایک جماعت نے ان پر سخت اعتراضات کئے تھے اور ان کا موقف یہ تھا کہ تدوین قرآن کے لئے جو
کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ چند منظور نظر افراد پر مشتمل ہے ۔جب کہ اس وقت قرآن کے قراء وحفاظ کی معتد بہ ایسی جماعت بھی موجود تھی جو ہر لحاظ سے کمیٹی ممبران سے قرآن مجید کا زیادہ علم رکھتی تھی ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی (ع) جیسی شخصیات کو قرآن کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ واضح ہو کہ حضرت عبداللہ بن مسعود قرآن مجید کے بہت بڑے قاری تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے رسول خدا (ص) سے ستر سورتیں اس وقت سنی تھیں جب زید بن ثابت ابھی بالغ بھی نہیں ہوئے تھے اور حضرت علی (ع) وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے متعلق اللہ نے خود فرمایا "ومن عندہ علم الکتاب " اور جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔" اتنی بڑی شخصیات کو چھوڑ کر زید بن ثابت اور ان کے دوستوں تدوین قرآن کیلئے مقرر کرنا درست نہیں تھا ۔
۷:- قرآن مجید کے باقی نسخوں کو نذر آتش کرنا بھی صحیح اقدام نہ تھا ۔
۸:- حضرت عثمان کے مخالفین ان پر اعتراض بھی کیا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے طرید رسول چچا حکم اور اس کے بیٹے مروان کو مدینہ واپس آنے کی اجازت دی ۔ جب کہ رسول خدا (ص) نے اسے مدینہ سے جلاوطن کیا تھا ۔
۹:- دور جاہلیت میں حکم بن ابی العاص کا گھر رسول خدا(ص) کے گھر کے قریب تھا اور وہ آپ کا بدترین ہمسایہ تھا ۔ ہمیشہ حضور اکرم (ص) کو اذیتیں دیا کرتا تھا ۔
فتح مکہ کے بعد اس نے اپنی جان بچانے کے لئے اسلام قبول کیا اور مدینہ آکر بھی وہ اپنی حرکات سے باز نہ آیا ۔ یہاں وہ جناب رسول خدا (ص) کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ ایک دفعہ رسول خدا نے اسے آپنی آنکھوں سے یہ حرکت کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمایا کہ حکم اور اس کی اولاد میرے ساتھ ایک شہر میں نہیں رہ سکتی ۔بعد ازاں اسے طائف جلاوطن کردیا گیا ۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے دور میں بھی وہ بدستور جلاوطن رہا ۔ حضرت عثمان نے اقتدار پر آتے ہی اپنے چچا اور اس کی
اولاد کو مدینہ بلالیا صحابہ کرام کہا کرتے تھے کہ جس منحوس صورت کو رسول خدا (ص) اپنی زندگی میں دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے ۔عثمان کو بھی چاہئے تھا کہ وہ مدینے بلاکر حضور کی اذیت کا موجب نہ بنتا ۔
۱۰:- حضرت عثمان نے طرید رسول چچا کو صرف مدینہ لانے پر ہی بس نہ کی بلکہ مسلمانوں کے بیت المال سے اسے لاکھوں دینا بھی عطا کئے تو کیا یہ انعام رسول خدا کو اذیت دینے کے صلہ میں دیا گیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی ؟
۱۱:- حکم کے بیٹے مروان بن الحکم کو اپنا مشیر مقرر کیا ۔تو کیا اس دور میں مروان کے علاوہ کوئی صالح مسلمان باقی نہیں رہا تھا؟
۱۲:- حارث بن حکم کو امور مدینہ کا انچارج مقرر کیا گیا ۔ اس نے وہ طرز عمل اختیار کیاجو کسی طور بھی امانت ودیانت کے تقاضوں کے مطابق نہ تھا ۔ اس سے خیانت کی باز پرس کی بجائے خصوصی نوازشات سے نوازا گیا(۱) ۔
اپنوں کی طوطا چشمی
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
حضرت عثمان کی سیاست اس وقت دم توڑنے لگی جب ان کے اپنوں نے بھی ان سے آنکھیں چرانی شروع کی ۔کثرت زر اور شکم سیری نے انہیں یہ روز بد دکھا یا کہ خود ان کے افراد خانہ اور ان کے مقربین اور جنہوں نے ان کو خلیفہ بنانے میں کردار ادا کیا تھا وہ بھی ان کی مخالفت کرنے لگے ۔
محمد بن ابی حذیفہ کی مثال آپ کے سامنے ہے اسے ان سے یہ شکوہ پیدا ہوا کہ حضرت عثمان ان پر اپنے دیگر افراد خاندان کو ترجیح دیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ عزوہ روم سے واپس آنے والوں سے گفتگو کرتا اور کہتا کہ : کیا تم جہاد سے واپس
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص – ۱۷۵ ۔ ۱۷۶
آرہے ہو؟
وہ کہتے کہ جی ہاں! حجاز کی طرف وہ انگلی کا اشارہ کرکے کہتا تھا ۔ ہمیں اس وقت تو عثمان سے جہاد کرنے کی ضرورت ہے
یہ "حضرت" مزید نفرتیں پھیلانے کے لئے مصر گئے ۔وہاں مخالفین عثمان کو منظم کرنے لگا اور ان سے کہتا تھا :- مصرو الو! اگر جہاد کرنا ہے تو مدینہ چلو اور عثمان سےجہاد کرو ۔
حضرت عثمان نے اس کا منہ بند کرنے کے لئے اس کے پاس تیس ہزار درہم اور شاہی خلعت روانہ کی ۔ اس نے مذکورہ رقم اور خلعت کو مسجد میں لاکے رکھا اور کہا لوگو! رہنا عثمان ان سکوں کے عوض میرے دین اور ضمیر کو خرید نا چاہتا ہے ۔مگر میں بکنے والا شخص نہیں ہوں ۔
اس واقعہ سے مصر میں حضرت عثمان کی مخالفت زیادہ پروان چڑھی ۔
ایک "زود پشیمان " کی پشیمانی
حضرت عثمان کی اقرباء نوازی اور غیر منصفانہ طرز عمل کو دیکھ کر انہیں خلافت دینے والا شخص عبدالرحمن بن عوف بھی ان کا مخالف ہوگیا اور کہتا تھا ۔ اگرمیں بعد والے کو پہلے لاتا تو عثمان کو میری جوتی کا تسمہ بھی خلیفہ نہ بناتا ۔
عبدالرحمن عالم نزع میں کہہ رہے تھے ۔ اسے باز رکھو ، اسے روکنے کی جلدی کرو ۔ایسا رہو کہ اس کی حکومت مزید مستحکم ہوجائے ۔
بلاذری بیان کرتے ہیں :- حضرت ابو ذر کی المناک وفات کے بعد حضرت علی (ع) نے عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا :- یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے ۔تم نے ہی اس کو حکومت دی تھی اور اس حکومت کی وجہ سے بے گناہ صحابی پر اتنے
____________________
(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد دوم ص ۷۲
مظالم ڈھائے گئے ہیں ۔ اس کے اصل مجرم تم ہو۔
عبدالرحمن نے کہا:- اگر آپ چاہیں تو میں اپنی تلوار اٹھا لیتا ہوں اور آپ اپنی تلوار اٹھالیں ۔دونوں مل کر اس سے جنگ کریں ۔اس نے میرے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا لحاظ نہیں رکھا ۔
عبدالرحمن یہ وصیت کرکے مرے تھے کہ :- ان کے جنازے میں عثمان شریک نہ ہوں ۔
عمرو بن العاص اور حضرت عثمان
حضرت عثمان نے عمر بن العاص کو مصر کی گورنری سے معزول کردیا ۔
اس لئے عمرو بن العاص بھی ان کا مخالف بن گیا اور اس نے لوگوں کو خلیفہ کے خلاف بھڑکانا شروع کیا اور ایک مرتبہ حضرت عثمان کے سامنے اس نے جراءت کرکے کہا تھا کہ :- تم نے لوگوں پر ظلم کئے اور ہم بھی ان مظالم میں تمہارے شریک تھے لہذا تم بھی توبہ کرو اور ہم بھی تیرے ساتھ توبہ کریں گے ۔
جب عمرو بن العاص نے دیکھا کہ اب حالات حضرت عثمان کے کنٹرول میں نہیں رہے اور ان کا منطقی نتیجہ ظاہر ہونے ہی والا ہے تو وہ فلسطین میں اپنی جاگیر پر چلا گیا اور مدینہ کی خبروں کا انتظار کرنے بیٹھ گیا ۔
فلسطین کی جاگیر میں عمر بن العاص اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھا کہ اسے حضرت عثمان کے قتل کی خبر ملی تو اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو مخاطب کرکے کہا :- عبداللہ ! میں تیرا باپ ہوں ۔میں نے آج تک جس زخم کو کریدا تو اس سے خون ضرور نکالا ۔
اسے جملے سے وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ میں نے عثمان کے قتل کی راہ ہموار کی
چنانچہ وہ اب قتل بھی ہوگیا ۔(۱)
عمرو بن عاص خود راوی ہیں کہ :-میں نے عثمان کے خلاف لوگوں کو برانگیختہ کیا یہاں تک کہ میں نے چرواہوں کو بھی عثمان کی مخالفت پرآمادہ کیا(۲) ۔
باغیوں ک جانب سے حضرت عثمان کا جو پہلا محاصرہ ہوا اس موقع پر عمرو بن العاص حضرت عثمان کے پاس گیا اور کہا :- تم نے لوگوں پر بہت ظلم کئے ہیں ۔ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو۔
حضرت عثمان نے کہا :- اے نابغہ کے فرزند ! لوگوں کو میرے خلاف جمع کرنے میں تیرا بڑا حصہ ہے کیوں کہ میں نے تجھے حکومت مصر سے معزول کیا ہے ۔
اس کے بعد عمرو بن العاص فلسطین آیا اور لوگوں کو حضرت عثمان کے خلاف بھڑکاتا رہا اور جب اس نے حضرت عثمان کے قتل کی خبر سنی توکہا :- میں عبداللہ کاباپ ہوں ۔میں نے آج تکاجس بھی زخم کو کریدا تو اس سے خون ضرور جاری وہا(۳) ۔
حضرت عثمان اور ام المومنین عائشہ
تمام امہات المومنین میں حضرت عائشہ نے حضرت عثمان کی بہت زیادہ مخالفت کی ۔
جب حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود کو برابھلا کہا تو اس وقت پردہ کی اوٹ سے ام المومنین نے حضرت عثمان کو خوب کھری باتیں سنائیں ۔
____________________
(۱):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنہتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۶۷۔۶۸
(۲):-عباس محمودا لعقاد ۔عبقریتہ الامام ۔ص ۸۳
(۳):-البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ۷۴
حضرت عثمان اور ان کے عمّال پر دل کھول کر تنقید کیا کرتی تھیں اور لوگ مخالفین عثمان میں ام المومنین کو سب سے بڑا مخالف تصور کرتے تھے ۔(۱)
ایک دفعہ حضرت عائشہ نے رسول خدا(ص) کی قمیص اٹھا کر مسجد میں دکھائی اور حاضرین مسجد سے فرمایا کہ دیکھ لو رسول خدا (ص) کی تو قمیص پرانی نہیں ہوئی لیکن عثمان نے ان کی سیرت کو پرانا کردیا ہے ۔" نعثل " کو قتل کرڈالو ۔اللہ نعثل کو قتل کرے(۲) ۔
حضرت عائشہ نے لوگوں کو حضرت ک عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا اور لوگوں کو متعدد مرتبہ ان کے قتل کا حکم دیا اور جب ستم زدہ عوام نے ان کے گھر کا محاصرہ کیا تو حضرت عائشہ حج وعمرہ کا بہانہ کرکے مکہ چلی گئیں اور اپنی لگائی ہوئی آگ کو انہوں نے بجھانے کی کوئی کو شش نہیں کی اور مکہ میں رہائش کے دوران ہروقت مدینہ کی خبر منتظر رہتی تھیں ۔
ایک دفعہ ایک جھوٹی خبر ان کے گوش گزار ہوئی کہ :- حضرت عثمان نے محاصرہ کرنے والے مخالفین کو قتل کرادیا ہے اور شورش دم توڑگئی ہے ۔ یہ سن کر بربی بی صاحبہ نے سخت غصہ میں فرمایا ۔یہ تو بہت برا ہوا ۔حق کے طلبگاروں کو قتل کردیا اور ظلم کے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔(۳)
ایک دفعہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ میں کافی تلخ کلامی ہوئی تو حضرت عثمان نے کہا امور سلطنت کے ساتھ تیرا کیا واسطہ ہے ؟ اللہ نے تجھے گھر میں بیٹھنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ الفاظ سن کر انہیں سخت غصّہ آیا اور رسول خدا کے چند بال اور ایک
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۲۹
(۲):- ابن ابی الحدید معتزلی ۔ شرح نہیں البلاغہ ۔جلدچہارم ۔ص ۴۰۸
(۳):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی ابن ابی طالب ۔جلد دوم ۔ص ۲۷۶-۲۷۷
لباس اور نعلین مبارک نکال کر فرمایا :- رسول خدا (ص) کے بال لباس اور ان کی نعلین تک بوسیدہ نہیں ہوئی تم نے ان کی سنت کو چھوڑ دیا ہے(۱) ۔
ام المومنین اور کبار صحابہ تمام ملت اسلامیہ میں مخالفت کی لہر دوڑ گئی اور باقی ممالک محروسہ کی نسبت حجاز ،مصر اور عراق میں مخالفت ک شدت زیادہ تھی ۔ اور تعجب خیز امر یہ ہے کہ حضرت عثمان کو مخالفت کی اس شدید لہر کا احساس نہیں تھا اور کبار صحابہ کے پر خلوص مشوروں کو درخور اعتنا نہ سمجھا ۔انہوں نے ہمیشہ مروان بن حکم اور اپنے دوسرے عمّال کے مشوروں کو اہمیت دی ۔ جب کہ تمام مشکلات ومسائل انہیں کے پیدا کردہ تھے۔
بنی امیہ کا اجلاس
جب چاروں طرف سے حضرت عثمان پر تنقید ہونے لگی تو انہوں نے اپنی کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا ۔ جس میں معاویہ بن ابی سفیان ،عبداللہ بن ابی سرح ، عبداللہ بن عامر اور سعید بن عاص نمایاں تھے ۔
حضرت عثمان نے معتمدین کے اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا :- ہر سربراہ کے وزیر کرتے ہیں اور تم لوگ میرے وزیر ہو ۔ موجودہ خلفشار تمہارے سامنے ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت ہے ۔
معاویہ نے تو صرف یہی جواب دیا کہ تمام عمال کو ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے اور وہاں کے تمام شرپسند افراد سے نمٹنے کی ان کو کھلی چھٹی دی جائے اور عمال کو چائیے کہ وہ کسی حکومت مخالف فرد کو مدینہ آنے کی اجازت نہ دیں ۔
____________________
(۱):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔ص ۴۸-۴۹
سعید بن العاص نے کہا :- شورش کے سربراہوں کو قتل کردیا جائے ۔ عبداللہ بن ابی سرح نے کہا :- قتل کرنے سے ہماری حکومت مزید بدنام ہوگی بیت المال سے ان لوگوں کو بھاری رقمیں دے کر خاموش کرادیا جائے ۔عبداللہ بن عامر نے کہا کہ :- لوگوں کو جہاد میں مشغول کیا جائے اور انہیں سرحدی علاقوں میں بھیج کر اس مشکل سے جان چھڑائی جائے ۔(۱)
مشیروں کے درج بالا مشوروں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اصل حقیقت کے ادراک سے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں ۔ اور وہ کسی ایک نتیجہ پر بھی نہیں پہنچے تھے اور انہوں نے اقرباء پروری اور مالی بدعنوانیوں کو ختم کرنے کی بجائے لوگوں کو بیرونی جنگوں میں الجھانے کا مشورہ دیا اور مذکورہ اجلاس میں حضرت عثمان بھی اپنی کوئی رائے پیش کرنے سے قاصر رہے تھے اور مشکلات کے وقتی اور دائمی خاتمہ کے لئے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا ۔
اس وقت ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوئی ہے کہ جب چند صحابہ نے انہیں پر خلوص مشورہ دیا تو انہوں نے ان سے کہا کہ :- ہر امت کے لئے کوئی نہ کوئی آفت ومصیبت ہوتی ہے اور اس امت کی آفت مجھ پر نکتہ چینی کرنے والے افراد ہیں ۔
اے گروہ مہاجرین وانصار ! تم کیسے لوگ ہو تم میرے ایسے کاموں پر بھی اعتراض کیا ہے جنہیں عمر بن خطاب بھی کیا کرتے تھے ۔ لیکن تم نے اس پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اب تم مجھ پر تم معترض ہوتے ہو ۔ تم عمر کے سامنے اس لئے اعتراض نہیں کرتے تھے کیونکہ اس نے تمہاری باگیں کھینچ رکھی
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۲۰۶-۲۰۷
تھیں تمہیں جان لینا چاہئیے کہ ابن خطاب کا خاندان چھوٹا خاندان تھا جب کہ میرا خاندان بہت بڑا ہے ۔
حضرت عثمان کی اس گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا ان سے مطالبہ یہی تھا کہ وہ اپنی حکومت کو قرآن وسنت اور سیرت شیخین کے مطابق چلائیں ۔مگر صحابہ کے اس جائز اور فطری مطالبہ کے جواب میں حضرت عثمان نے انہیں لالچی اور عیب جو قراردیا ۔جبکہ ان القاب کی بجائے ان کا حق یہ تھا کہ وہ اپنی اور اپنے عمال کی صفائی پیش کرتے اور بیت المال کو جس طرح سے بنی امیہ پر لٹا یا گیا تھا ۔ اس کا حساب پیش کرتے اور عجیب ترین امر یہ ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے اعمال کی صفائی دینے پر تو چنداں توجہ نہیں دی بلکہ انہیں طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی کام تو عمر بھی کیا کرتے تھے لیکن تمہاری زبانیں اس وقت خاموش رہتی تھیں اور خلیفہ صاحب نے اپنے خطبہ کا اختتام ڈرانے دھمکانے پر کیا ۔انہی بے تدبیریوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ لشکر میں بھی ان کی مخالفت سرایت کرتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ چنگاری شعلوں کی صورت اختیار کر گئی ۔یہی وجہ ہے جب عبداللہ بن عامر رومیوں کے بحری بیڑے کو شکست دے کر واپس آیا تو محمد ابن ابی حذیفہ اس کے لشکر کو اس کا مخالف بنا چکا تھا ۔کیوں کہ وہ لشکر گاہ میں لوگوں سے کہتا تھا کہ :- ہمیں مدینہ جاکر عثمان سے جہاد کرنا ہے ۔اصحاب رسول (ص) کو کلیدی عہدوں سے ہٹا کر فاسق اور خائن قرابت داروں کو ان عہدوں پر فائز کرچکا ہے ۔تم لوگ اپنے اسی حاکم اور قائد جہاد کو ہی دیکھ لو ۔
قرآن نے اس کے کفر کی تائید کی ہے اور رسول خدا(ص) نے اسے واجب القتل ٹھہرایا ہے ۔لیکن اس کے باوجود عثمان نے اسے تمہار حاکم مقرر کیا ہے کیوں کہ یہ اس کا رضاعی بھائی ہے ۔(۱)
الغرض اس وقت حضرت عثمان کے خلاف ایک ایسا محاذ بن گیا جہاں ان کے خلاف سینہ بہ سینہ خبریں جنم لیتی تھیں اور زبان زد عام وخاص ہوجاتی تھیں ۔لیکن ان خبروں کے اصل ذرائع کا لوگوں کو علم نہیں ہوتا تھا۔
حضرت عثمان نے مسجد نبوی کی توسیع کی تو اس وقت لوگوں کی زبانوں پر یہ عبارت جاری تھی کہ :- دیکھو رسول (ص) کی مسجد کی توسیع ہورہی ہے ۔لیکن ان کی سنت سے انحراف کیا جارہا ہے ۔
حضرت عثمان کے دور میں کبوتر زیادہ ہوگئے ۔مسجد نبوی مدینہ کے گھر اور اکثر چھتیں کبوتروں سے بھری ہوئی نظر آنے لگیں تو حضرت عثمان نے کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو اس وقت لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ :- پناہ حاصل کرنے والے بے چارے کبوتروں کو تو ذبح کرایا جارہا ہے اور طرید رسول (ص) حکم بن ابی العاص اور اس کے بیٹے مروان کو گھر میں بسایا جارہا ہے ۔(۲)
بلاذری نے یہی روایت سعید بن مسیب سے کی ہے کہ حضرت عثمان نے کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا کہ بے چارے پرندوں کو ذبح کرارہا ہے اور جن کو رسول خدا(ص) نے مدینہ سے نکالا تھا انہیں پناہ دی جارہی ہے(۳) ۔
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ ص ۱۶۸
(۲):- ایضا
(۳):- انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ۲۲
ایک سوال جس کا جواب ضروری ہے
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور اس کا جواب تلاش کرنا بھی بڑا ضروری ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ :-
حضرت عثمان کی سیاست کی مخالفت کہاں سے پیدا ہوئی ؟
کیا تحریک مخالفت خلافت کے مرکز مدینہ طیبہ میں پیدا ہوئی تھی ؟
یا
دوسرے شہروں میں اس تحریک نے جنم لیا اور پھر اس نے مدینہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ؟
واضح الفاظ میں یہ سوال ان الفاظ کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے کہ :-
حضرت عثمان کی تحریک مخالفت مہاجرین وانصار میں پہلے پہل پیدا ہوئی اور پھر وہاں سے دوسرے شہروں کو منتقل ہوئی؟
یا
یہ تحریک پہلے فوج میں پیدا ہوئی اور وہاں سے سفر کرکے مدینہ پہنچی اور مہاجرین وانصار کو اپنی طرف مائل کرلیا ؟
ہم جانتے ہیں کہ اندھی عقیدت رکھنے والے افراد کے لئے اس سوال کا جواب دینا بڑا مشکل ہے ۔
کیونکہ اگر پہلی صورت کو تسلیم کیاجائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عثمان کی سیاست کا انکار سب سے پہلے مہاجرین وانصار صحابہ نے کیا بعد ازاں دوسرے لوگوں نے ان کا اتباع کیا ۔
اور اگر دوسری صورت کو کم ضرر رساں سمجھ کر اختیار کیا جائے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت عثمان کی سیاسی ناہمواریوں کو دیکھ کر ان کے جانثار
لشکر نے ان کی مخالفت کا آغاز کیا اور صحابہ نے مخالفین کی پیروی کی ۔ لیکن ہمیں اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی ہوگی کہ کیا جلیل القدر صحابہ عام افراد کی باتوں میں آسکتے تھے اور ان کے ہاتھوں کھلونا بن سکتے تھے ؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمان کے خلاف جو تحریک چلی تھی اس کی ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی ۔ اس تحریک مخالفت کا سرچشمہ مدینہ میں ہی تھا اور مدینہ سے یہ تحریک باقی شہروں تک پہنچی(۱) ۔
ہمارے پاس اپنے اس جواب کی صداقت کے لئے بزرگ صحابہ کرام کا طرز عمل موجود ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ حضرت عثمان نے حضرت ابو ذر کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عثمان نے عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار یا سر پر کتنا تشدد روارکھا تھا ؟ اسلامی تاریخ میں حضرت عثمان کے اس "حسن سلوک " کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور اسی وجہ سے صحابہ کرام بھی ان کی مخالفت پراتر آئے تھے ۔
بلاذری کی زبانی جبلہ بن عمرو الساعدی کی گفتگو سماعت فرمائیں :" جس زمانے میں لوگوں میں حضرت عثمان کی مخالفت عام ہوچکی تھی ۔ انہی ایام میں حضرت عثمان جبلہ بن عمر الساعدی کے مکان کے پاس سے گزرے اس وقت جبلہ اپنے دروازے پر کھڑا ہوا تھا تو اس نے حضرت عثمان سے کہا :- اے نعثل ! اللہ کی قسم میں تجھے قتل کروں گا یا تجھے جلاوطن کرکے خارش زدہ کمزور اونٹنی پر سوار کروں گا ۔تو نے حارث بن الحکم کو بازار کا مالک بنایا ہے اور تو نے فلاں فلاں غلط کا م کئے ہیں ۔"(۲)
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفنتہہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ۱۳۶
(۲):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص۴۷
واضح ہو کہ حارث بن الحکم مروان کا بھائی تھا اور اس نے بازار مدینہ میں اندھیر مچایا ہوا تھا ۔ اسی لئے جبلہ بن عمرو الساعدی نے اعتراض کیا تھا ۔اور کسی نے حضرت جبلہ سے کہا کہ آپ اس مسئلہ میں حضرت عثمان کی مخالفت ترک کردیں تو انہوں نے کہا تھا کہ مجھے کل اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور میں یہ نہیں کہنا چاہنا :- " انّا اطعنا سادتنا وکبرآءنا فاضلّونا السبیلا "(الاحزاب)۶۷
"پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں گمراہ کیا ۔"
قتل عثمان
حضرت عثمان کے رشتہ داروں نے اسلامی مملکت میں وہ ادھم مچایا کہ خدا کی پناہ ۔غریب ومظلوم عوام نے وفد تشکیل دئیے اور انہیں مدینہ بھیجا شاید کہ اصلاح احوال کی کوئی صورت نکل آئے ۔ لیکن مروان بن الحکم نے حضرت عثمان کو ہمیشہ غلط مشورے دئیے اور وفد کے ارکان انصاف سے مایوس ہوکر اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے ۔
حضرت عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں بہت بڑا حادثہ یہ ہوا کہ مصر کے لوگ اپنے والی کی شکایت کرنے آئے اور حضرت عثمان سے مطالبہ کیا کہ اسے معزول کرکے کوئی اچھا سا حاکم مقرر کریں ۔
آخر کا ایک لمبی بحث وتمحیص کے بعد حضرت عثمان نے ان کا مطالبہ مان لیا ۔ایک نئے حاکم کا تقرر عمل میں لایا گیا اور سابق والی کی معزول کا فرمان بھی جاری کیا ۔
اہل مصر خوش ہوکر اپنے وطن جارہے تھے ۔ لیکن ابھی وہ لوگ ارض کنانہ تک پہنچے تھے کہ انہوں نے ایک اونٹنی سوار دیکھا جو معروف راستے سے
ہٹ کر جارہا ہے ۔ انہیں اونٹنی والے پر شک گزرا چنانچہ اس کا تعاقب کرکے اسے پکڑ لیا گیا ۔ اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے مشکیزے سے موم میں لپٹا ہوا ایک خط برآمد ہوا ۔ وہ خط حضرت عثمان کی جانب سے والی مصر کو لکھا گیا تھا ۔ جس میں اسے حکم دیا گیا تھا کہ جب یہ مفسد تیرے پاس آئیں تو ان کے سرغنوں کو قتل کردینا اور دوسروں کو سخت سزا دینا ۔
ان لوگوں نے اس حبشی غلام اور اونٹنی کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔حبشی غلام حضرت عثمان کا خادم تھا اور اونٹنی بھی بیت المال کی تھی ۔ خط کے نیچے حضرت عثمان کی مخصوص مہر بھی لگی ہوئی تھی۔
اہل مصر غلام اور اونٹنی سمیت واپس مدینہ آئے اور خلیفہ صاحب سے کہا کہ تم نے ہمارے ساتھ کیوں کیا ۔ تو خلیفہ صاحب نے حلفیہ طور پر کہا کہ یہ خط میں نے تحریر نہیں کیا ۔
ان لوگوں نے دریافت کی کہ کیا آپ س حبشی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ! جی ہاں یہ میرا خادم ہے ۔
انہوں نے پھر پوچھا اس اونٹنی کو بھی پہنچانتے ہیں ؟
خلیفہ صاحب نے فرمایا !جی ہاں یہ مہر بھی میری ہی ہے ۔
ان لوگوں نے کہا! جناب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اونٹنی بھی آپ کی ہو ۔غلام بھی آپ کا ہو اور مہر بھی آپ کی ہو لیکن خط آپ نے نہ لکھا ہو ۔
حضرت عثمان نے فرمایا ! خط میں نے نہیں لکھا ، یہ مروان کی کاروائی ہے ۔ ان لوگوں نے اس وقت نہایت معقول مطالبہ کیا کہ :-ہم آپ کی بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔آپ بالکل بے گناہ ہیں ۔ سارا قصور مروان کا ہے ۔ آپ مروان کو ہمارے حوالے کردیں ۔اس کے بعد ہمارا آپ سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔
حضرت عثمان نے ان لوگوں کے اس مطالبہ کو بھی پائے حقارت سے
ٹھکرادیا انہوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا اور یہ محاصرہ ایک ماہ سے بھی زیادہ دیر تک رہا ۔ اس دوران حضرت عثمان کے اقرباء میں سے کسی نے بھی ان کی مدد نہ کی اور نہ ہی مدینہ میں کسی صحابی نے ان کی جان بچانے کی قابل ذکر حمایت کی ۔ آخر کار طویل محاصرہ کے بعد ان لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کردیا(۱) ۔
قتل عثمان کے بعد بنی امیہ کی سازشیں
حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے ذکر سے پہلے ہم معاویہ اور مروان کی سازشوں کاذکر کرنا چاہتے ہیں ۔
حضرت عثمان کے قتل کے ساتھ ہی بنی امیہ نے حضرت علی علیہ السلام کی حکومت ختم کرنے کی سازشیں شروع کردی تھیں ۔
حضرت علی (ع) کے خلاف مسلحانہ تحریک شروع کرنے کے لئے انہوں نے مختلف افراد کو خط تحریر کئے ۔جن میں سے چند خطوط ہم اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں ۔:
قتل عثمان کے بعد مروان بن الحکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو خط لکھا کہ :
"میں آپ کو یہ خط قتل عثمان کے بعد تحریر کر رہاہوں ۔باغیوں نے اس پر حملہ کیا اور ناحق قتل کردیا اور باغی ابر کی طرح کھل کر برسے ۔اور بعد ازاں ٹڈی دل کی طرح علی ابن ابی طالب کے پاس چلے گئے ۔
لہذا تم بنی امیہ کو اپنے ارد گرد جمع کرو اور ثریا ستاروں کے جھرمٹ میں تم ۔
____________________
(۱):-اس واقعہ کی تفصیلات کے لئے الاصابہ فی تمیز الصحابہ کے صفحات ۴۰۰سے ۴۰۶ کا مطالعہ کیا جائے ۔ہم انے یہ واقعہ تلخیص کرکے نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام کتب تاریخ میں یہی واقعہ لکھا ہوا ہے ۔
مرکزی ستارہ بن جاؤ ۔ اے ابو عبدالرحمن ! اگر تم عثمان کا بدلہ لینا چاہو تو تم اس کے لئۓ ہر طرح سے موزوں ہو "
جب یہ خط معاویہ کے پاس پہنچا تو اس نے لوگوں کو جمع کیا اور پر درد تقریر کی ۔ تقریر سن کر لوگ بے ساختہ رونے لگے اور ان کی آہ وفغاں کی آوازیں بلند ہوئیں ۔معاویہ کی تقریر اتنی موثر ثابت ہوئی کہ عورتوں نے بھی جنگ میں حصہ لینے کی پیش کش کی ۔
اس کے بعد معاویہ نے طلحہ بن عبیداللہ ،زبیر بن العوام ،سعید بن العاص ،عبداللہ بن عامر ،ولید بن عقبہ اور یعلی بن امیہ کو خطوط تحریر کئے ۔
معاویہ نے طلحہ کو درج ذیل خط لکھا ۔
"اما بعد تو اپنے چہرے کی خوبصورتی اور سخاوت وفصاحت کی وجہ سے قریش میں منفرد مقام رکھتا ہے ۔ تجھے اسلام میں سبقت کا شرف حاصل ہے ۔تو ان افراد میں شامل ہے جنہیں جنت کی بشارت دی گئی تھی ۔ احد کی لڑائی میں تجھے خاص شرف وفضیلت حاصل ہوئی تھی ۔ اس وقت رعیت جو تجھے منصب عطا کرے تو وہ منصب قبول کرلے اور اس منصب کی قبولیت کی وجہ نے اللہ تجھ سے راضی ہوگا ۔ میں اپنی جانب سے معاملہ تیرے لئے مستحکم کروں گا ۔زبیر تم سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ۔تم دونوں میں سے جو بھی امام بن جائے صحیح ہے ۔
دوسرے فرد کو اس کا ولی عہد بن جانا چاہئیے ۔"
معاویہ نے زبیر کو درج ذیل خط تحریر کیا ۔
"اما بعد زبیر ! تو رسول خدا کی پھوپھی کا فرزند ہے ۔رسول کریم کا صحابی ہے اور حضرت ابو بکر کا داماد ہے اور مسلمانوں کا شہسوار ہے ۔
تمہیں معلوم ہوا چاہئے کہ اس وقت رعیت متفرق بھیڑوں کی مانند ہوچکی ہے اس کا کوئی چرواہا موجود نہیں ہے ،تمہیں چاہیئے کہ لوگوں کی جانیں بچاؤ۔
میں اپنی طرف سے معاملہ خلافت کو تیرے اور تیرے ساتھی کے لئے مستحکم کرنا چاہتا ہوں ۔تم میں سے ایک امیر بن جائے اور دوسرا وزیر بن جائے ۔"
اس کے بعد معاویہ نے مروان بن الحکم کو درج ذیل خط تحریر کیا :-
"مجھے تمہارا خط موصول ہوچکا کہے ۔تمہارے خط کی وجہ سے امیر المومنین کے حالات کی اطلاع ملی ہے ۔جب تمہیں یہ خط پہنچے تو تم چیتے کی سی پھرتی پیدا کرنا ۔دھوکے سے شکار پھانسنا اور لومڑی کی طرح محتاط ہوجانا اور بچ بچ کرراہ چلتے رہنا اور ان حالات میں اپنے آپ کو اس طرح سے چھپانا جس طرح سے خار پشت کسی کے ہاتھوں کے لمس کو محسوس کرکے اپنا سرچھپا لیتا ہے ۔ اس وقت اپنے آپ کو یوں حقیر وبو سیدہ قراردے دو جس طرح وہ شخص اپنے آپ کو حقیر بنا لیتا ہے جو قوم کی امداد سے مایوس ہوچکا ہوتا ہے ۔ تم حجاز چھوڑ کر شام چلے آؤ ۔"
معاویہ نے سعید بن العاص کو درج ذیل خط لکھا ۔:-
" بنی امیہ ! تمہاری ذلت وخواری کے دن آگئے ہیں ۔ تمہیں معمولی رزق کے حصول کے لئے دور دراز کی مسافت طے کرنی ہوگی ۔ تمہارے واقف بھی تمہارے لئے ان جان بن جائیں گے ۔ تم سے تعلق رکھنے والے بھی تم سے جدا ہوجائیں گے ۔میں اپنی آنکھوں سے بنی امیہ کا یہ مستقبل دیکھ رہا ہوں کہ وہ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں سر چھپاتے پھر رہے ہوں گے ۔تم لوگوں کو اپنی معاش کی فکر پڑجائے گی۔
امیر المومنین پر لوگ تمہاری وجہ سے ہی ناراض ہوئے تھے اور تمہاری وجہ سے ہی وہ قتل ہوئے ہیں ۔ اب تم نے اس کی مدد سے خاموشی کیوں اختیار کرلی ہے اور اس کے خون کے انتقام میں سستی کیوں روا رکھی ہے ؟
تم لوگ تو مقتول کے قریبی رشتہ دار ہو اور تم ہی اس کے خون کے وارث ہو ۔جب کہ تم نے معمولی متاع دنیا میں اپنے آپ کو مشغول کردیا ہے ۔
وہ تمام مال ومتاع جو تم نے امیر المومنین کی وساطت سے حاصل کیا تھا ۔ عنقریب تم سے چھن جائے گا ۔
علاوہ ازیں معاویہ نے عبداللہ بن عامر کو درج ذیل خط تحریر کیا :-
"بنی امیہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جلاوطن ہوکر اونٹوں کی پشت پر سوار ہو ۔ فساد پھیلنے سے پہلے تم مخالفین پر حملہ کردو۔
احتیاط کو اپنی سب سے بڑی ضرورت قرار دو اور ترغیب کے ہتھیار کو تیز کرو اور کانے مخالفین سے اپنی آنکھیں علیحدہ رکھو ۔جھگڑالو افراد سے کنارہ کشی کرو ۔دور رہنے والوں پر شفقت کرو ۔اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بلند کرو"۔
ولید بن عقبہ کویہ خط لکھا گیا :-
"اگر اقتدار تمہارے مخالفین کے ہاتھ میں چلا گیا تو تم شتر مرغ کی طرح ریت کے ٹیلوں میں سر چھپاتے پھروگے ۔ تمہیں گدلا پانی پینا پڑے گا اور خوف کا لباس زیب تن کرنا ہوگا ۔"
یعلی بن امیہ کو درج ذیل خط لکھا گیا :-
"مقتول خلیفہ پر جتنے الزامات عائد کئے گئے ہیں ان میں سر فہرست الزام یہی تھا کہ اس نے تجھے یمن کا حاکم بنایا تھا اور اتنے طویل عرصہ تک حکومت پر فائز رکھا تھا ۔ تجھ جیسے افراد کی وجہ سے لوگ خلیفہ پر ناراض ہوئے ۔انہیں قتل کردیا گیا ۔جب کہ وہ روزہ دار تھے اور قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے ۔
تو جانتا ہے کہ مقتول خلیفہ کی بیعت کا قلادہ ہماری گردنوں میں پڑا ہوا ہے اور ان کا انتقام لینا ہمارا فریضہ ہے ۔ تو عراق میں داخل ہونے کی تیاری کر۔
میں نے شام میں اپنی حکومت مستحکم کرلی ہے تجھے شام سے بے فکر ہوجانا چاہئیے اور میں نے طلحہ بن عبیداللہ کو خط لکھا ہے کہ وہ مکہ میں تجھ سے ملاقات کرے ۔میں چاہتا ہوں کہ تم دونوں اپنی دعوت کے اظہار اور خون ناحق کے انتقام کے لئے
کوئی مناسب منصوبہ بندی کرو۔میں نے عبداللہ بن عامر کو بھی لکھ دیا ہے کہ وہ تمہارے لئے عراق کی زمین کو ہموار کرے ۔علاوہ ازیں تجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ لوگ تجھ سے تیرا تمام مال عنقریب اگلوالیں گے ۔"
مروان نے معاویہ کے خط کے جواب میں تحریر کیا :-
"قوم کے محافظ عزتوں کے نگہبان معاویہ کو معلوم ہو کہ میں اپنی نیت کی درستگی اورعزم وارادہ کی پختگی اور رشتوں کی تقدیس پر قائم ہوں ۔ تمہاری طرح میرا خون بھی جوش مار رہا ہے ۔ لیکن میں کسی قول وفعل میں تم پر سبقت نہیں کرسکتا ۔
تو فرزند حرب ،انتقام لینے والا اور خود دار شخص ہے اور میں اس وقت اس گرگٹ کی طرح ہر وقت بھیس بدل رہا ہوں جو سخت گرمی میں تڑپ رہا ہو اور بڑی گہری نگاہوں سے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہوں ۔میری حالت اس وقت اس درندے کی سی ہے جو شکاری کے جال سے کسی طرح بچ گیا ہو اور اپنی ہی آواز سے خوف زدہ ہو ۔
میں تمہارے عزم وارادہ کامنتظر ہوں اور تمہارے احکام کے لئے گوش برآواز ہوں ۔ میں ہر حالت میں تمہارے حکم کی تعمیل کرنا چاہتا ہوں "۔
عبداللہ بن عامر نے معاویہ کے خط کے جواب میں تحریر کیا :-
"بلا شبہ امیر المومنین ہم پر سایہ کرنے والے پر کی طرح اور چھوٹے بچے اس کی پناہ لیا کرتے تھے ۔ لیکن افسوس ہے جب دشمنوں نے اس پناہ گاہ پر تیر چلائے تو ہم بھاگے ہوئے شتر مرغ کی طرح ان سے علیحدہ ہوگئے ۔میں تمہیں اس حقیقت سے باخبر کرنا چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں دس میں سے نو افراد آپ کے ہم نوا ہیں اور ایک آپ کا مخالف ہے ۔
خدا کی قسم ! ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے اور تو " حرب " کا فرزند ہے ۔ تو جنگوں کا جواں مرد ہے ۔بنی عبد شمس کی عظمت کا تو نگراں ہے ۔
اس وقت تمام تر تحریک تیری ذات سے ہی وابستہ ہے اور قبیلہ کو عزت دینے والا تو ہے اور عثمان کے بعد بنی امیہ کی امیدیں تجھ سے ہی وابستہ ہیں ۔ میں تمہارے حکم کا منتظر رہوں گا ۔"
ولید بن عقبہ نے معاویہ کو تحریر کیا :-
" تو عقل کے اعتبار سے قریش کا شیر ہے ۔فہم وفراست میں تو سب سے ممتاز ہے اور رائے کے لحاظ سے تو سب سے پختہ کار ہے ۔ تیرے پاس حسن سیرت کی دولت ہے اور تو ہی حکومت کی لیاقت رکھتا ہے ۔کیونکہ توجس بھی گھاٹ پر اترتا ہے تو دانش مندی سے اتر تا ہے اورجب تو کوئی گھاٹ چھوڑتا ہے تو علم وبصیرت سے چھوڑتا ہے ۔
نرمی کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔عار نقص ہے ۔۔۔۔۔کمزوری ذلت ہے ۔میں نے اپنے نفس کو موت کے لئے آمادہ کرلیا ہے اور اسے زنجیروں میں جکڑ کر قابو کیا ہوا ہے جس طرح سے اونٹ کو باندھ دیا جاتا ہے ۔اب میں یا تو عثمان کی طرح قتل ہوجاؤں گا یا اس کے قاتل کو قتل کروں گا ۔
اس کے ساتھ ساتھ میرا عمل آپ کی رائے کے تابع ہوگا ۔کیونکہ ہم آپ کے ساتھ وابستہ ہیں اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں ۔"
یعلی بن امیہ نے اپنے خط میں لکھا :-
"ہم گروہ بنی امیہ اس پتھر کی طرح ہیں جو گارے کے بغیر اس دوسرے پر رکھا نہیں جاسکتا اور ہم تیغ بّراں ہیں ۔ مجھے وہ روئے جس کا میں بیٹا ہوں اگر میں عثمان کے انتقام کو فراموش کربیٹھوں ۔عثمان کے قتل کے بعد میں زندگی کو کڑوا محسوس کررہا ہوں ۔"
سعید بن العاص کا جواب مذکورہ خطوط سے مختلف تھا ۔(۱)
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔ جلد ہشتم ۔ص ۸۴
فصل سوم
خلافت امیرالمومنین علیہ السلام
"الحمد الله علی احسانه لقد رجع الحق الی مکانه"
"اللہ کے احسان پر اسی کی حمد ہے ۔حق اپنے مقام پر واپس آگیا "
(الامام علی بن ابی طالب )
حضرت علی (ع) توفیق ایزدی سے مؤید تھے اور اس کے پورے خیر خواہ تھے ۔ انہوں نے ہر مصیبت پر صبر کیا اور اپنے حق کو تاراج ہوتا دیکھ کر بھی انہوں نے مسلمانوں کی خیر خواہی سے کبھی منہ نہ موڑا ۔
انہوں نے اسلام کے وسیع مفاد کے لئے خلفائے ثلاثہ سے جنگ نہ کی ۔ بلکہ جہاں اسلامی مفادات کا سوال ہوتا تھا حضرت علی (ع) اپنے قیمتی مشوروں سے بھی انہیں نوازا کرتے تھے ۔
فطری تقاضا تھا کہ حضرت عثمان کے قتل کے بعد حضرت علی (ع) اپنے آپ کو خلافت کے لئے پیش کرتے اور اس کے لئے ضروری گٹھ جوڑ کرتے ۔مگر حضرت علی اتنے عظیم انسان تھے کہ انہوں نے اس موقع پر بھی خلافت وحکومت کے حصول کے لئے کسی طرح کی کوئی تگ ودو نہ کی کہ جس وقت امت اسلامیہ نے آپ کو خلافت کے لئے مجبور کیا ۔تو گویا علی (ع) کو خلافت کی ضرورت نہ تھی بلکہ خلافت کو علی (ع) ک ضرورت تھی ۔
خلافت علی (ع) کی داستان طبری نے یوں بیان کی ہے :-
"جب حضرت عثمان قتل ہوئے تو مہاجرین وانصار جمع ہوئے ۔ ان میں طلحہ اور زبیر بھی موجود تھے ۔پھر تمام افراد حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں ۔
آپ نے فرمایا :-مجھے تمہاری حکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ تم لوگ جس بھی منتخب کروگے ۔میں اسے تسلیم کرلوں گا ۔
انہوں نے کہا :- ہم آپ کے علاوہ کسی اور کا انتخاب نہیں کریں گے ۔
حضرت علی (ع) نے اس پیشکش کو مسترد کردیا ۔
بعد ازاں مہاجرین وانصار کئی مرتبہ حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور باربار خلافت سنبھالنے کی درخواست کی ۔
اٹھارہ ذی الحجہ کے دن حضرت علی (ع) بازار گئے تو لوگ آپ کے پیچھے لگ گئے اور خلافت سنبھالنے کی التجا کی ۔
حضرت علی (ع) اس سے بے نیاز ہوکر بنی عمرو بن مبذول کے باغ میں چلے گئے ۔اس باغ کے ارد گرد بہت بڑی دیوار تھی ۔حضرت علی (ع) نے ابی عمرہ بن عمر بن محصن کو حکم دیا کہ دروازہ بند کردو مگر تمام لوگ دروازے پر جمع ہوگئے اور دستک دینی شروع کی ۔
دروازہ کھلا تو مہاجرین وانصار کا مجمع اندر آیا ۔طلحہ وزبیر نے حضرت علی (ع) سے خلافت سنبھالنے کی پھر درخواست کی اور بیعت کیلئے ہاتھ بڑھانے کی التجا کی ۔
مہاجرین وانصار کے مسلسل اصرار پر آپ نے ہاتھ بڑھایا تو سب سے پہلے طلحہ نے بیعت کی اس کے بعد زبیر نے بیعت کی ۔
طلحہ کا ایک ہاتھ شل تھا اور جب وہ بیعت کر رہا تھا تو حبیب بن ذئیب نے کہا :- بیعت کی ابتداء مشلول ہاتھ سے ہوئی ہے(۱) ۔"
بیعت لینے کے بعد حضرت علی (ع) نے اپنے پہلے خطبہ میں اپنی حکومت کے خدوخال بیان کرتے فرمایا :-
اللہ تعالی نے ہدایت دینے والی کتاب نازل فرمائی ۔اس میں خیر وشر کا بیان موجود ہے ۔تم خیر کو اپناؤ اور شر کو چھوڑدو اور فرائض ادا کرو ۔
____________________
(۱):- تاریخ الامم والملوک۔جلد پنجم ۔ص ۱۵۲۔۱۵۳
بندگان خدا! اللہ کے بندوں اور شہروں کیلئے اللہ سے ڈرو تم سے ان کے متعلق باز پرس کی جائیگی اور تم سے تمہارے جانوروں تک کے متعلق بھی پوچھا جائیگا(۱)
حضرت علی (ع) کا یہ خطبہ چند مختصر جملوں پر مشتمل ہے ۔ لیکن ان مختصر جملوں میں آپ نے رعایا کے تمام حقوق وفرائض بیان کردئیے ہیں ۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت علی (ع) اقتدار کے قطعی حریص نہ تھے انہوں نے بارحکومت اٹھانے سے کئی دفعہ معذرت کی اور جب لوگوں کا شدید اصرار ہوا تو فرمایا :-
"دعونی والتمسوا غیری فانّا مستقبلون امرا له وجوه والوان لاتقوم له القلوب ولا تشبت علیه العقول و انّ الافاق قد اغامت والمحجة قد کثرت واعلموا انی ان اجبتکم رکیت بکم ما اعلم ولم اصغر الی قول القائل وعتب العاتب "۔
"مجھے چھوڑو میرے علاوہ کسی اور کو تلاش کرو کیونکہ ہمارے سامنے ایسا امر ہے جس کے بہت سے چہرے اور مختلف رنگ ہیں ۔ جن پر دل قائم نہ رہ سکیں گے اور عقل اس پر ثابت نہ رہ سکے گی اس وقت آفاق ابر آلود ہوچکے ہیں اور راستے کا نشان مٹ چکا ہے اور تمہیں یہ بھی جاننا چائیے اگر میں نے تمہاری دعوت کو قبول کرلیا تومیں تمہیں اپنے علم کے مطابق چلاؤں گا اور کسی گفتگو کرنے والے کی بات پر کان نہیں دھروں گا اور کسی ناراض ہونے والے کی ناراضگی کو خاطر میں نہ لاؤنگا ۔"(۲)
اس کے باوجود بھی لوگوں کا اصرار کم نہ ہوا تو حضرت علی نے اپنی دینی ذمہ داری کو قبول کرلیا اور درج ذیل جملے فرما کر لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیکا کہ :- میں اپنے قول کا ضامن ہوں گا ۔جو عبرت آشنا ہو اسے تقوی شبہات میں نہیں پڑتےدیتا ۔یاد رکھو آج سے تمہاری آزمائش پھر اسی طرح شروع ہوگئی جس طرح اسلام کی ابتدائی تبلیغ کے وقت ہوئی تھی ۔
جناب رسول خدا(ص) کو مبعوث بہ رسالت بنانے والے کی قسم ! تم سے
____________________
(۱):-ابن ابی الحدید۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ص ۱۵۷
(۲):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البالاغہ ۔ جلد دوم ص ۱۷۰
سخت امتحان لیا جائے گا اور تمہیں آزمائش کی چھلنی میں سے گزارا جائے گا اور قضا وقدر کا کوڑا تم پر مسلط ہوگا ۔یہاں تک کہ تمہارے اسفل ،اعلی بن جائیں گے اور تمہارے طبقہ کے اعلی افراد اسفل بن جائیں گے اور پیچھے رہ جانے والے آگے بڑھ جائیں گے اور آگے بڑھنے والے پیچھے ہوجائیں گے ۔(۱)
امام عالی مقام نے مذکورۃ الصدر جملے اس لئے فرمائے کیونکہ آپ کو علم تھا کہ لوگوں میں حق پرستی کا سابقہ جذبہ نہیں رہا ہے اور لوگ زرودولت کےپجاری بن چکے ہیں اور وہ آپ کی شرعی عدالت کے متحمل نہیں ہونگے اور شرعی عدالت کی وجہ سے ان کے مفادات ختم ہونگے تو وہ آپ کی مخالفت کریں گے مگر آپ کو اپنے "خط" سے ہٹا نہیں سکیں گے ۔
آپ نے لوگوں کے اصرار اور اپنے انکار کی تصویر کشی ان الفاظ سے کی ہے ۔" وبسطتم یدی ۔۔۔۔۔۔"یعنی تم نے میرے ہاتھ کو کھولا تومیں نے اپن ہاتھ سمیٹ لیا ، تم نے میرے ہاتھ کو پھیلانا چاہا تو میں نے اسے بند کرلیا ۔ پھر تم میرے پاس یوں کشاں کشاں چلے آئے جیسے پیاسے اونٹ پانی پینے کے دن اپنے گھاٹ پر جاتے ہیں ۔
تمہارے ازدحام کی وجہ سے میرا جوتا پھٹ گیا ،چادر گر گئی اور کمزور پامال ہوا ۔ "(۲)
اس مفہوم کو آپ نے دوسرے خطبہ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا :-
"تمہارے ازدحام کی وجہ سے حسنین پامال ہوئے ۔میرےپہلو زخمی ہوئے اور تم بکریوں کے ریوڑ کی طرح میرے گرد جمع ہوگئے اور جب میں نے منصب سنبھالا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور ایک گروہ حلقہ اطاعت سے نکل گیا اور ایک گروہ حق سے تجاوز کرگیا ۔"(۳)
____________________
(۱):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد اول ۔ص ۹۰
(۲):- ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۱۸۱
(۳):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد اول ص ۶۷
فصل چہارم
ناکثین (بیعت شکن)
یہ حقیقت ہے ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے کہ ام المومنین عائشہ اور طلحہ اور زبیر نے لوگوں کو حضرت عثمان کی مخالفت پر برانگیختہ کیا اور ایسے حالات پیدا کردئیے جو کہ حضرت عثمان کے قتل پر منتج ہوئے تھے ۔
ان مخالفین میں زبیر بن عوام سب سے پیش پیش تھے اور طلحہ بن عبید اللہ اول الذکر کی بہ نسبت کچھ کم مخالف تھے ۔
حضرت عثمان نے بھی ایک دفعہ طلحہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا :-ویلی من طلحه ! اعطیته کذا ذهبا وهو یروم اللهم لا تمتعه به ولقه عواقب بغیه "
مجھے طلحہ پر سخت افسوس ہے میں نے اسے اتنا سونا دیا تھا اور وہ آج مجھے قتل کرنا چاہتا ہے پروردگا ر ! اسے دولت سے لطف اندوز نہ کرنا اور اسے بغاوت کے انجام بد تک پہنچا نا ۔ "(۱) ۔
حضرت عثمان کے قتل کے بعد مذکورہ تینوں افراد نے خون بدلہ کا جو ڈھونگ رچایا تھا وہ صرف اس لئے تھا کہ لوگوں کو مغالطہ میں مبتلا کیا جائے ورنہ حضرت عثمان کے قتل کے محرک یہ خود ہی تھے ۔
جن دنوں حضرت عثمان اپنے گھر میں محصور تھے ، حضرت علی نے طلحہ سے کہا تھا : تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ ان بلوائیوں کو عثمان سے ہٹاؤ ۔یہ سن کر طلحہ نے کہا ! خدا کی قسم میں اس وقت تک ایسا نہیں کروں گا جب تک بنی امیہ امت اسلامیہ کا لوٹا ہوا مال واپس نہ کردیں ۔
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین ۔الفنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۸
طبری لکھتے ہیں : حضرت عثمان نے طلحہ پچاس ہزار درہم کا قرض دیا تھا ۔ ایک دفعہ عثمان مسجد جارہے تھے ۔ راستے میں طلحہ سے ملاقات ہوئی تو طلحہ نے کہا ۔ میں نے قرض کی رقم اکٹھی کرلی ہے آپ جب بھی چاہیں مجھ سے لے لیں ۔حضرت عثمان نے کہا ۔ابو صحرا میں نے وہ رقم تمہیں معاف کردی ۔ایام محاصرہ میں طلحہ کے کردار کو دیکھ کر حضرت عثمان کہا کرتے تھے ۔ اس نے مجھے وہ جزا دی جو چور کسی شخص کو دیا کرتے ہیں ۔
مدائنی "قتل عثمان " میں تحریر کرتے ہیں : طلحہ نے حضرت عثمان کی لاش کو تین دن تک دفن نہیں ہونے دیا ۔ اور جب حکیم بن حزام اور جبیر بن مطعم ان کی لاش کو اٹھا کر جارہے تھے تو طلحہ نے راستے میں ایسے افراد کھڑے کر رکھے تھے جنہوں نے ان کی لاش پر پتھر پھینکے ۔"(۱)
ڈاکٹر طہ حسین رقم طراز ہیں ۔
طلحہ کی بلوائیوں سے ہمدردیاں پوشیدہ نہ تھیں اور انہیں برانگیختہ کرنے میں بھی ان کی کاوشیں شامل تھیں ۔اور حضرت عثمان طلحہ کے اس طرز عمل کی خلوت وجلوت میں شکایت کیا کرتے تھے ۔
ثقہ راوۃ کا بیان ہے کہ حضرت عثمان نے ایک دفعہ حضرت علی سے درخواست کی کہ وہ ان بلوائیوں کو اسی طرح سے واپس بھجوائیں ۔
حضرت علی طلحہ کے پاس گئے تو انہوں نے بلوائیوں کی ایک بڑی جماعت کو طلحہ کے پاس دیکھا ۔حضرت علی نے طلحہ سے فرمایا کہ تم انہیں واپس بھیج دو ۔ لیکن طلحہ نے انہیں واپس بھیجنے سے انکار کردیا تھا ۔(۲)
قتل عثمان میں حضرت عائشہ کا کردار تو بالکل اظہر من الشمس ہے
____________________
(۱):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد دوم ص ۵-۶ طبع مصر
(۲):- الفتنۃ الکبری ۔ علی وبنوہ ص ۸
حضرت عائشہ ہی وہ خاتون تھیں جنہوں نے کئی دفعہ رسول خدا (ص) کی قمیص دکھا کر حضرت عثمان کو کہا تھا کہ : رسول خدا کی ابھی قمیص بھی بو سیدہ نہیں ہوئی مگر تم نے ان کی سنت کو ترک کر دیا ۔
"اور کئی مرتبہ پردہ کے پیچھے سے کھڑے ہوکر انہوں نے فرمایا تھا ۔ "اقتلوا نعثلا " تم نعثل کو قتل کرو"۔
امّ المومنین کے متعلق یہ بلکل درست ہوگا کہ آپ حضرت عثمان کی سب سے بڑی مخالف تھیں ۔ سابقہ صفحات میں آپ یہ روایت پڑھ چکے ہوں گے کہ جب مکہ میں کسی نے حضرت عائشہ تک ایک افواہ پہنچائی تھی کہ حضرت عثمان نے بلوائیوں کو قتل کردیا ہے اور اب شورش ختم ہوگئی ہے ، تویہ سن کر بی بی نے سخت الفاظ میں اپنے طرز عمل کا اظہار فرمایا تھا :" یہ کہاں کا انصاف ہے کہ حق مانگنے والوں کو قتل کیاجائے اور ستم رسیدہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے تلوار کے گھاٹ اتارا جائے ۔"
او رحضرت علی کے تخت نشین ہوتے ہی حضرت عائشہ خون عثمان کی دعودیدار بن کر کھڑی ہوگئیں اور طلحہ وزبیر کے کہنے بصرہ کی تیاریوں میں مشغول ہوگئیں ۔اسی اثناء میں سعید بن العاص ام المومنین کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ آپ کیا چاہتی ہیں ؟ بی بی نے کہا : میں بصرہ جانا چاہتی ہوں سعید نے پھر پوچھا ۔آپ وہاں کیوں جانا چاہتی ہیں ؟ بی بی نے فرمایا :- عثمان کے خون کے مطالبہ کے لئے جارہی ہوں ۔
یہ سن کر سعید بن العاص نے کہا : ام المومنین ! عثمان کے قاتل تو آپ کے ساتھ ہیں ۔(۱)
تاریخی حقائق کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں جنگ جمل کے محرکین ہی
____________________
(۱):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔ جلد سوم ۔ص ۴۲۷
حضرت عثمان کے سب سے بڑے مخالف تھے ۔ اور حضرت عثمان کے خون کے چھینٹیں ان کے دامن پر لگے ہوئے تھے ۔ اور اس وقت مسلمانوں کی اکثریت بھی بخوبی جانتی تھی کہ قاتلین عثمان کون ہیں ؟
اس تاریخی حقیقت کے ادراک کے بعد ایک دل چسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جنگ جمل کے "ہیرہ"ہی دراصل قاتلین عثمان تھے ۔ تو پھر انہوں نے خون عثمان کا مطالبہ کیوں کیا تھا ؟ اور لوگوں کو علی (ع) کی مخالفت پر کمر بستہ کیوں کیا ؟
اور کیا اس وقت کچھ ایسے مخفی عوامل تھے جن کی وجہ سے قمیص عثمان کو بہانہ بنا کر حکومت وقت کی مخالفت کی گئی ؟
اور پھر طلحہ وزبیر نے حضرت علی کی بیعت کیوں کی ؟
اور اگر خون عثمان کے مطالبہ میں کوئی وزن تھا تو کیا اس کا طریقہ یہی تھا کہ حکومت کے خلاف بغاوت کردی جائے اور کیا حضرت عثمان اس دنیا سے "لاولد" ہوکر گئے تھے جب کہ ان کا بیٹا عمر موجود تھا ؟
ام المو منین اور طلحہ وزبیر کو قصاص عثمان کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہواتھا ؟
قصاص عثمان کے لئے بصرہ کا انتخاب کیوں کیا گیا ؟ اور بصرہ کی بجائے مصر کو اس "کارخیر " کے لئے منتخب کیوں نہ کیا گیا جب کہ بلوائیوں کی اکثریت کا تعلق بھی مصر سے تھا ؟
عائشہ کو علی سے پرانی عداوت تھی
تاریخ کے قارئین سے یہ امر مخفی نہیں ہے کہ حضرت عائشہ جناب علی سے حیات رسول (ص) میں ہی حسد کیا کرتی تھیں اور حضرت علی کی مخالفت ان کے رگ وریشہ میں سمائی ہوئی تھی ۔ام المومنین کے حسد کی دو وجوہات تھیں :
۱:- غزوہ بنی مصطلق کے وقت حضرت عائشہ پر جو تہمت لگی تھی ۔اس میں حضرت علی نے بی بی صاحبہ کے حامی کر کردار ادا نہیں کیا تھا ۔
۲:- بی بی عائشہ اپن بانجھ پن کی وجہ سے حضرت علی سے حسد کیا کرتی تھیں کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ رسالت مآب کی اولاد حضرت فاطمہ زہرا (س) کے بطن سے جاری ہوئی تھی۔ جب کہ حضرت عائشہ کی گود خالی تھی ۔ اسی لئے بی بی عائشہ وقتا فوقتا رسول خدا (ص) کی محبوب بیوی حضرت خدیجہ کی بھی مذمت کرنے سے باز نہیں رہتی تھیں ۔اور کئی دفعہ ام المومنین نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کے سامنے بھی ان کی مرحومہ والدہ کا شکوہ کرکے ان کے دل کو زخمی کیا تھا ۔
واقعہ افک کی تفصیل ام المومنین نے اس طرح بیان کی ہے :- رسول خدا (ص) جب سفر کرتے تو اپنی ازواج میں قرعہ اندازی کرتے تھے ۔جس کا قرعہ نکلتا تھا ۔ آپ اسے اپنے ہمراہ لے جاتے تھے ۔جب بنی مصطلق کا غزوہ ہوا تو قرعہ میں میرا نام نکلا ۔رسول خدا مجھے اپنے ساتھ لے گئے ۔
واپسی پر مدینہ کے قریب رات کے وقت ایک منزل پر قیام کیا ۔میں حوائج ضروریہ کے لئے باہر گئی ۔اس وقت میری گردن میں ایک ہار تھا ۔جب میں نے حوائج سے فراغت حاصل کرلی تو میرا ہار گم ہوگیا ۔میں اسے ڈھونڈ نے لگ گئی ۔اور دوسری طرف سے کوچ کا نقارہ بج گیا ۔
لوگ جانے لگے مگر میں ہار ڈھونڈتی رہی ۔ہار تو آخر کا مجھے مل گیا لیکن
جب میں پڑاؤ پر آئی تو وہاں کوئی شخص موجود نہ تھا میں چادر اوڑھ کر لیٹ گئی ۔
میں لیٹی ہوئی تھی کہ صفوان بن معطل سلمی جو کسی کا م کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا وہ آیا ۔جب اس نے مجھے دیکھا تو پہچان لیا کہ کیونکہ آیت حجاب کے نزول سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکا تھا ۔
وہ اپنے اونٹ کو میرے قریب لایا اور مجھے اونٹ پر سوار کیا اور اس نے مجھے تیزی سے اونٹ ہنکا کر مجھے مدینہ پہنچایا اور مدینہ میں میرے خلاف چہ مگوئیوں کیا ایک سلسلہ چل نکلا اور یہ سرگوشیاں رسول خدا (ص) اور میرے والدین کے کانوں تک بھی پہنچ گئیں ۔
اس کے بعد میں نے رسول خدا (ص) کے رویہ میں تبدیلی محسوس کی ۔ ان کی شفقت و مہربانی میں مجھے کمی نظر آئی ۔ تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں ؟ میری طبیعت ناساز ہے ، وہاں میری والدہ میری تیمار داری کرنے کے لئے موجود ہے ۔
رسول خدا (ص) نے اجازت دی تو میں نے اپنے والدین کے گھر آگئی ۔
رسول خدا (ص) نے اس معاملہ کے لئے علی ابن ابی طالب کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا تو علی نے کہا ۔ یا رسول اللہ ! آپ کے لئے عورتوں کی کوئی کمی نہیں اس کے بدلے آپ کسی اور عورت سے بھی شادی کرسکتے ہیں ۔ آپ کنیز سے سوال کریں وہ آپ کو بتا سکے گی ۔
رسول خدا نے بریرہ کو بلایا تو علی (ع) نے اسے سخت زد وکوب کیا اور کہا کہ رسول خدا (ص) کو سچی سچی بات بتا دے
خدا کی قسم ! رسول خدا ابھی اس مجلس سے اٹھنے نہ پائے تھے کہ ان پر وحی کی کیفیت طاری ہوگئی ۔کچھ دیر بعد آپ پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے اٹھے اور فرمایا عائشہ ! تمھیں مبارک ہو اللہ نے تمہاری برائت نازل کی ہے ۔ پھر مسطح
بن اثاثہ ، حسان بن ثابت اور حمنہ بن جحش اور ان کے ہم نوا افراد پر حد قذف جاری کی گئی ۔"(۱)
درج بالا روایت سے درج ذیل امور کا اثبات ہونا ہے :
۱:- غزوہ بنی مصطلق میں ام المومنین عائشہ رسول خدا کے ساتھ تھیں ۔
۲:- واپسی میں جب لشکر ایک پڑاؤ پر ٹھہر اہوا تھا ۔ وہ کسی کو بتائے بغیر حوائج ضروریہ کے لئے چلی گئیں ۔
۳:- فراغت حاصل کرنے کے بعد پھر پڑاؤ پر واپس تشریف لائی ہی تھیں کہ انہیں ہار کی گم شدگی کا احساس ہوا
۴:- ہار کو تلاش کرنے کے لئے دوبارہ اسی مقام تک گئیں ۔ہار مل گیا لیکن جب واپس آئیں تو پورا لشکر کوچ کرکے چلا گیا تھا ۔
۵:- مایوس ہو کر چادر اوڑھ کر آپ سوگئیں ۔حسن اتفاق سے صفوان اپنے ناقہ پر آرہا تھا اور اس نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ وہ آیت حجاب کے نزول سے پہلے انہیں دیکھ چکا تھا ۔
۶:- صفوان کی نگاہ خوب کا م کرتی تھی کہ اس نے رات کی تاریکی میں چادر کے اندر سے ہی دیکھ کر پہچان لیا تھا ۔
۷:- صفوان نے ام المومنین کو اپنی ناقہ پر بٹھا کر مدینہ لایا اور حسان بن ثابت اور چند دیگر افراد نے ام المومنین پہ تہمت لگائی ۔
۸:- جب رسول خدا نے علی (ع) سے مشورہ کیا تو انہوں نے ام المومنین کو طلاق دینے کا مشورہ دیا ۔
امام بخاری نے بھی اس روایت کو تفصیل سے لکھا ہے :- حضرت عائشہ کہتی ہیں :- جب رسو خدا درپیش سفر ہوتا تو آپ اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے
____________________
(۱):-طبری ۔تاریخ الامم و الملوک ۔جلد سوم ۔ص ۷۶-۷۷
تھے ۔جس بی بی کا قرعہ نکلتا وہ آپ کے ساتھ سفر میں جاتی تھی ۔
ایک جنگ میں قرعہ فال میرے نام کا نکلا ۔میں حضور کریم کے ساتھ روانہ ہوئی ۔رسول خدا جنگ سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف آرہے ھتے کہ مدینہ کے قریب ایک مقام پر اسلامی لشکر نے پڑاؤ کیا ۔
جب کوچ کا اعلان ہوا تو میں حوائج ضروریہ کے لئے باہر چلی گئی اور میں لشکر سے دور چلی گئی ۔قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد اپنے محمل تک آئی میں نے محسوس کیا کہ میرا ہار ٹوٹ گئی اور اسے ڈھونڈنے میں مصروف رہی ۔
اس اثناء میں میرے محمل کو اٹھانے والے افراد آئے اور میرے محمل کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ یدا اور ان کا خیال تھا کہ میں اس میں موجود ہوں ۔
اس زمانے میں عورتین بڑی ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں ۔ ان پر گوشت نہیں چڑھا تھا کیونکہ بہت قلیل مقدار میں انہیں کھانا نصیب ہوتا تھا ۔ اس وجہ سے میرے محمل اٹھانے والوں کو بھی وہم نہ ہوا کہ میں اس میں موجود نہیں ہوں میں اس وقت کم سن لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔لشکر کے جانے کے بعد مجھے ہار مل گیا ۔اور جب میں پڑاؤ پر پہنچی تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا اورنہ ہی کوئی جواب دینے والا ۔میں اسی جگہ پر بیٹھ گئی ۔مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آگئی ۔
کچھ دیر بعد صفوان بن معطل سلمی ثم الذکوانی لشکر کے پیچھے تا ۔جب میرے قریب آیا تو اس نے ایک سوئے ہوئے انسان کا ہیولا دیکھا تو مجھے پہچان لیا ۔ اس نے مجھے آیت حجاب کے نزول سے پہلے دیکھا ہوا تھا ۔ اس نے انّا للہ کی آیت زور سے پڑھی تو میں بیدار ہوگئی ۔اس نے اپنی ناقہ پہ مجھے سوار کیا اور مدینہ لے آیا "۔(۱)
____________________
(۱):- صحیح بخاری جلد سوم ۔ص ۱۵۴-۱۵۶
بخاری کی روایت سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں ۔
۱:- ام المومنین کی روانگی کے وقت پڑاؤ سے نکلی تھیں اور اس وقت کوچ کا نقارہ بج چکا تھا ۔
۲:-باہر نکالتے وقت انہوں نے کسی کو بتایا بھی مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
۳:-پورے لشکر میں سے کسی نے انہیں جاتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا ۔
۴:-محمل اٹھانے والوں کو بھی آپ کا پتہ نہ چل سکا کیونکہ اس زمانے میں تمام عورتیں بشمول ام المومنین کمزور و نحیف ہوا کرتی تھیں ۔
۵:- قلت خوراک اور کم سنی کی وجہ سے بی بی صاحبہ کا وزن کچھ تھا ہی نہيں ۔
۶:- ام المومنین نے جب میدان خالی دیکھا تو وہیں چادر اوڑ کر سوگئیں ۔
۷:- صفوان لشکر کے پیچھے تھا وہ آیا تو اس نے نیند میں پڑے ہوئے انسان کو دور سے ہی دیکھ کر پہچان لیا تھا ۔ کیونکہ وہ آیت حجاب سے پہلے آپ کو دیکھ چکا تھا ۔
۸:- صفوان نے ام المومنین کو ناقہ پہ بٹھایا اور مدینہ لے آیا ۔
حضرت ام المومنین اور مولا علی علیہ السلام کے درمیان حسد کی وجوہات میں واقعہ افک کا بھی دخل ہے اس کے علاوہ کچھ اور غیر ) indirect effects )
مستقیم عوامل بھی تھے جن کی وجہ سے ام المومنین ، بنت پیغمبر اور علی مرتضی سے حسد کیا کرتی تھیں ۔
جناب عائشہ کی خواہش رہتی تھی کہ وہ رسول خدا (ص) کے محبوب بن جائیں ۔ حضرت عائشہ میں سوکن پن کا حسد اتنا تھا کہ کئی دفعہ رسول خدا(ص) کے سامنے ان کی مرحوم بیوی جناب خدیجۃ الکبری پر بھی اعتراضات کئے تھے اور رسول خدا (ص) کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ خدیجہ ایک بڈھی عورت تھی جس کے دانت
ٹوٹے ہوئے تھے ۔اور اللہ نے اسکے بدلہ میں آپ کو نواجوان باکرہ بیوی دی ہے ۔
رسول خدا(ص) نے یہ الفاظ سن کر جناب عائشہ کو ڈانٹ دیا تھا کہ حضرت خدیجہ نے اس وقت میری تصدیق کی جب کہ لوگوں نے میری تکذیب کی تھی ۔ اس نے اپنا تمام مال اس وقت میرے قدموں میں نچھاور کیا تھا ۔جب لوگوں نے مجھے محروم کیا تھا اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اللہ نے اسے میری نسل کی ماں بنایا اور یہ عظیم شرف اس کے علاوہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوا ۔
جی ہاں ! حضرت عائشہ اور حفصہ یہ وہی بی بیاں ہیں جن کے متعلق سورۃ تحریم نازل ہوئی اور ان دونوں کو مخاطب کرکے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :ان تتوبا الی الله فقد صغت قلوبکما وان تظاهرا علیه فانّ الله هو مولاه وجبریل وصالح المومنین و الملائکة بعد ذالک ظهیرا " تم دونوں اگر توبہ کر لو تو بہتر کیونکہ تم دونوں کے دل حق سے منحرف ہوچکے ہیں اور اگر تم دونوں نبی کے خلاف چڑھائی کرو گی تو اللہ اس کا مدد گار ہے ۔ جبریل اور نیک مومن اس کے مدد گار ہیں اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کے پشت پناہ ہیں ۔
سورۃ تحریم کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو ازواج نے رسول خدا کے خلاف کوئی ایسا محاذ ضرور تیار کیا تھا کہ جس کے لئے اللہ نے اپنی اور جبریل اور صالح المومنین اور ملائکہ کی مدد کا ذکر کیا ہے ۔
اس مقام پر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کوئی محاذ نہیں تھا تو پھر اس سے پوچھنا چاہیئے کہ جب حالات بالکل اطمینان بخش تھے تو اللہ نے اتنے بڑے لشکر کا ذکر کیوں فرمایا اور ان دونوں بیویوں کو طلاق کی دھمکی کیوں دی اور ان کے دلوں کو حق سے منحرف کیوں قراردیا ؟
حضرت عائشہ کو اللہ تعالی نے اولاد سے محروم رکھا تھا ۔جب وہ حضرت سیدہ بنت رسول کو دیکھتی تھیں تو ان کے دل میں زنانہ حسد انگڑائیاں لیا کرتا تھا ۔
طلحہ وزبیر کی مخالفت کی وجہ
طلحہ وزبیر کی مخالفت کی وجوہ بھی چشم تاریخ سے مخفی نہیں ہیں ۔طلحہ وزبیر دونوں خلافت کے امید وار تھے اور چند دن پہلے ہی حضرت عمر نے ان دونوں کو شوری میں شامل کیا تھا ۔ لیکن شوری کے ذریعہ سے انہیں خلافت نہیں ملی تھی اور حضرت عثمان خلیفہ عثمان خلیفہ بن گئے تھے ۔ ان دونوں نے حضرت عثمان کی خلامت کے اوائل میں ان سے خوب مفادات حاصل کئے ۔
اور جب ان دونوں نے دیکھا کہ اب ہوا کا رخ بدل چکا ہے تو انہوں نے بھی اپنا رخ ہوا کی جانب کرلیا ۔ اور ان کا خیال یہ تھا کہ اگر ہم نے حضرت عثمان کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو ان کے بعد خلافت ہمیں نصیب ہوگی ۔لیکن
اے بسا آرزو کہ خاک شد
حضرت عثمان کے قتل کے بعد انہیں کسی نے خلافت کے قابل نہ سمجھا ،خلافت کی مسند پہ حضرت علی فائز ہوگئے ۔
یہ دیکھ کر ان کے غصّہ کی کوئی انتہا نہ رہی اور پھر انہوں نے نے اپنی سابقہ روش اپنائی ۔حضرت علی سے کوفہ اور بصرہ کی حکومت کا مطالبہ کیا جسے حضرت علی نے مسترد کردیا ۔
علاوہ ازیں حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی خلفائے ثلاثہ سے بالکل جدا گانہ تھی ۔علی کسی کی شخصیت سے کبھی مرعوب نہیں ہوتے تھے ۔اور مشہور شخصیات کو جاگیر یں دے کر اپنے ساتھ ملانے پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔ جب کہ یہ دونوں بزرگوار بڑی بڑی جاگیریں حاصل کرنے کے عادی ہوچکے تھے ۔
عثمانی دور میں ان دونوں نے بیت المال سے جو حصہ لیا تھا ۔ اس کی
تفصیل آپ سابقہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں ۔
عہد شیخین میں انہوں نے کیا کچھ حاصل کیا ؟ اس کی معمولی سی جھلک بلاذری کے اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے :
ہشام بن عروہ اپنے باپ سےروایت کرتے ہیں کہ : حضرت ابو بکر نے زبیر کو "حرف" اور قتاۃ" کی تمام جاگیر الاٹ کی تھی ۔
مدائنی نے مجھے بتایا کہ :-
"قتاۃ" ایک برساتی نالہ ہے جو طائف سے آتا ہے اور "ارحضیہ"اور "قرقرۃ الکدر" کے پاس سے گزرتا ہے پھر "معاویہ بند" آتا ہے اور پھر موڑ کاٹ کر یہ نالہ شہدائے احد کے پاس سے گزر تا ہے ۔
ہشام بن عروہ روایت کرتے ہیں :- حضرت عمر لوگوں کی جاگیریں الاٹ کرنے لگے تو وادی عقیق میں پہنچے اور کہا کہ زمین کے خواہش مند کہاں ہیں ؟ میں نے اس سے بہتر زمین کہیں نہیں دیکھی ۔زبیر نے کہا: یہ زمین مجھے الاٹ کر دیں ۔ حضرت عمر نے وہ تمام جاگیر انہیں الاٹ کردی "(۱) ۔
بلاذری کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخصیات کسی کی مفت حمایت کرنے کے عادی نہ تھیں ۔انھوں نے ہر دور میں اپنی حمایت کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کی تھی ۔
لیکن حضرت علی جیسا عادل امام جس نے اپنے بھائی کو ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں دیا تھا وہ ان دونوں کو کیا دیتا ؟
بعض مورخین نے ایک واقعہ لکھا ہے جس سے بخوبی علم ہوسکتا ہے کہ طلحہ وزبیر علی علیہ السلام پر ناراض کیوں تھے ؟
"طلحہ و زبیر نے خروج سے پہلے محمد بن طلحہ کو حضرت علی (ع) کی خدمت میں
____________________
(۱):-بلاذری ۔فتوح البلاذری ۔ص ۲۶۔
بھیجا اور اس نے آکر دونوں کا یہ پیغام آپ کے گوش گزار کیا :-
ہم نے آپ کی راہ ہموار کی ہم نے لوگوں کو عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگیا ۔ اور ہم نے دیکھا کہ لوگ آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی رہنمائی کی اور سب سے پہلے ہم نے آپ کی بیعت کی ہم نے آپ کے سامنے عرب کی گردنیں جھکادی ہیں ۔ ہماری وجہ سے مہاجرین و انصار نے آپ کی بیعت کی ہے ۔لیکن ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ جب آپ حاکم بن گئے تو آپ نے ہم سے منہ موڑ لیا اور ہمیں غلاموں اور کنیزوں کی طرح ذلیل کیا ۔
جب محمد بن طلحہ کی زبانی حضرت علی (ع) نے یہ پیغام سنا تو اسے فرمایا تم ان کے پاس جاؤ اور پوچھو وہ کیا چاہتے ہیں ؟
وہ گيا اور واپس آکر کہا کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ان میں سے ایک کو بصرہ کا حاکم بنایا جائے اور دوسرے کو کوفہ کا حاکم بنایا جائے ۔ یہ سن کر حضرت علی (ع) نے فرمایا :- ایسا کرنے سے فساد پھیل جائے گا اور یہ دونوں میرے لئے باقی شہروں کی حکومت کو بھی دشوار بنادیں گے اب جب کہ یہ دونوں میرے پاس مدینہ میں ہیں پھر بھی ان سے مطمئن نہیں ہوں اور اگر انہیں اہم علاقوں کا حاکم بنا دوں تو سازش کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔
جب یہ دونوں نے حضرت علی (ع) کا یہ ٹکاسا جواب سنا تو بڑے مایوس ہوئے اور انہیں اپنے تمام عزائم خاک میں ملتے ہوئے نظر آئے تو وہ حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہم عمرہ کرنے کے لئے مکہ جانا چاہتے ہیں ، آپ ہمیں جانے کی اجازت دیں حضرت علی نے فرمایا کہ پہلے تم قسم کھاؤ کہ میری بیعت نہ توڑو گے اور غداری نہ کروگے ۔اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ نہ کرو گے اور عمرہ کے بعد واپس اپن گھر کو آجاؤ گے ۔
ان دونوں نے حلفیہ طور پر یہ تمام باتیں تسلیم کیں تو حضرت علی (ع) نے انہیں
عمرے کے لئے جانے کی اجازت دی ۔اس کے بعد انہوں نے جو کیا سو کیا ۔"(۱)
اور جب یہ دونوں حضرات مکہ جارہے تھے تو حضرت علی (ع) نے ان سے فرمایا کہ تم دونوں مجھے یہ بتا سکتے ہو کہ کبھی میں نے تمہیں تمہارے کسی حق سے محروم کیا ہے ؟ یا میں نے تمہارے مقرر شدہ وظیفہ میں کسی طرح کی کوئی کمی کی ہے ؟ اور کیا تم نے کبھی ایسا موقع بھی دیکھا جب کسی مظلوم نے میرے پاس فریاد کی ہو اور میں نے اسے اس کا حق دلانے میں کوئی کوتاہی کی ہو ؟
خدا کی قسم ! مجھے خلافت کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہی حکومت کبھی میرا مطمع نظر رہی ہے ۔ تم نے ہی مجھے حکومت وامارات کی دعوت دی تو میں نے قبول کرلی اور جب میں نے حکومت سنبھالی تو میں نے قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کی قرآن نے مجھے حاکم اور رعیت کے باہمی حقوق وفرائض بتائے تومیں نے احکام قرآن کو اپنا رہنما اصول بنایا اور سنت نبوی کی میں نے اقتدا کی ۔
اس رہنمائی کے حصول کے لئے مجھے تمہاری رائے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی کسی اور کے مشورہ کی مجھے احتیاج محسوس ہوئی ۔ اور آج تک کوئی ایسا مقدمہ بھی میرے پاس نہیں لایا گیا ۔ جس کے لئے مجھے تمہارے مشورہ کی ضرورت پڑتی ۔
حضرت علی (ع) نے طلحہ وزبیر کے فتنہ کو ان الفاظ سے اجاگر کیا :- "خدا کی قسم ! وہ مجھ پر کوئی الزام ثابت نہیں کرسکتے اور انہوں نے میرے اور اپنے درمیان انصاف نہیں کیا ۔ وہ اس حق کے طلب کر رہے ہیں جسے انہوں نے خود چھوڑ ا تھا ۔۔۔۔اور اس خون کا بدلہ طلب کررہے ہیں جسے انہوں نے خود بہایا تھا ۔(۲)
____________________
(۱):-ابن ابی الحدید /شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ۴-۹ طبع مصر
(۲):- :-ابن ابی الحدید /شرح نہج البلاغہ ۔جلد دوم ۔ص۴۰۵
جنگ جمل کے محرّک بصرہ میں
طلحہ اور زبیر ام المومنین کو اپنے ساتھ لے کر بصرہ کی جانب روانہ ہوئے اور وہ اپنے تئیں خون عثمان کا مطالبہ کررہے تھے ۔
جب کہ ان کا یہ مطالبہ دینی اور معروضی حالات دونوں کے تحت ناجائز تھا ۔
۱:- دینی اعتبار سے انہیں مطالبہ کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا کیونکہ حضرت عثمان لاولد نہیں تھے ان کی اولاد موجود تھی۔ ان کے فرزند عمرو کو حق پہنچتا تھا کہ وہ خلیفۃ المسلمین کے پاس اپنے باپ کے خون کا دعوی کرتا ۔ اور خلیفۃ المسلمین تحقیق کرکے مجرمین کو سزا دیتے ۔
حضرت عثمان کی اولاد کی موجودگی میں طلحہ و زبیر اور ام المومنین کو خون عثمان کے مطالبہ کا کوئی جواز نہیں تھا ۔
۲:-خون کا مطالبہ لے کر اٹھنے والے افراد نے بہت سے غلط کام کئے ، انہوں نے بے گناہ افراد کو ناحق قتل کیا ۔ بصرہ کے بیت المال کو لوٹا اور بصرہ میں مسلمانوں بالخصوص حاکم بصرہ ناجائز تشدد کیا ۔ جس کی انسانیت اور شریعت میں اجازت نہیں ہے ۔
۳:- قاتلین کی تلاش کے لئے محرکین جمل مصر کی بجائے بصرہ کیوں گئے ؟
۴:- ام المومنین عائشہ کو گھر سے باہر نکلنے کا حق نہ تھا کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں "وقرن فی بیوتکن " کے تحت گھر میں بیٹھنے کاحکم دیا تھا ۔انہوں نے میدان میں آکر حق خداوندی کی نافرمانی کی ۔
۵:- کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ایک شورش کے ختم کرنے کے لئے اس سے بھی بڑی شورش بپا کی جائے ۔اور بالخصوص جب کہ شورشی افراد کو علم تھا کہ حضرت علی کا دامن خون عثمان کے چھینٹوں سے پاک ہے حضرت علی
نے قاتلین عثمان کو کسی قسم کے عہدے بھی تو نہیں دئیے تھے ۔محرکین جمل پہلے عثمان پر ناراض تھے اور بعد ازاں علی (ع) پر ناراض ہوئے لیکن ناراضگی کے اسباب میں فرق تھا ۔
حضرت عثمان پر اس لئےناراض تھے کہ ان کی مالی پالیسی غیر متوازن اور غیر عادلانہ تھی اور حضرت علی (ع) پر اس لئے ناراض تھے کہ ان کی پالیسی عدل کے مطابق تھی۔
اسی عادلانہ پالیسی کے مد نظر حضرت علی (ع) نے اقتدار پرست افراد کو کسی محکمہ کا سربراہ نہیں بنایا تھا اور حضرت علی (ع) کی یہ پالیسی ان کے لئے حضرت عثمان کی پالیسیوں سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی ۔
موجودہ سیاسی اصطلاح میں یہ کہنا بالکل مناسب ہوگا کہ :- حضرت علی اس انقلاب کے بعد تخت نشین ہوئے اور جس انقلاب میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا اور اس انقلاب کا ثمر حضرت علی کی جھولی میں آکر گرا تھا اور انقلابی افراد کو اس میں کچھ حصہ نہیں ملا تھا ۔
علاوہ ازیں طلحہ ، زبیر اور ام المومنین کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اگر علی (ع) کی حکومت مستحکم ہوگئی تو ان پر قتل عثمان کی فرد جرم عائد ہوسکتی تھی ۔
اسی خطرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے طلحہ وزبیر نے عہد شکنی کی اور ام المومنین کو ساتھ ملا کر بصرہ روانہ ہوئے ۔راستے میں ایک چشمہ کے پاس سے ان کا گزر ہوا اور وہاں کتے بی بی صاحبہ کے محمل کے گرد بھونگنے لگے جس سے بی بی کا اونٹ بدکنے لگا تو ایک ساربان نے کہا :-
اللہ "حواب" کے کتوں کو غارت کرے ۔یہاں کتے کتنے زیادہ ہیں ۔
جب "حواب " کے الفاظ بی بی صاحبہ نے سنے تو فرمایا ۔مجھے واپس لے چلو میں آگے نہیں جاؤں گی ۔ کیونکہ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا تھا کہ ایک دفعہ
انہوں نے فرمایا : میں دیکھ رہا ہوں کہ میری ایک بیوی کو "حواب " کے کتے بھونک رہے ہیں پھر مجھے فرمایا تھا کہ "حمیرا" وہ عورت تم نہ بننا ۔یہ سن کر زبیر نے کہا کہ ہم حواب سے گزر آئے ہیں بعد ازاں طلحہ و زبیر نے پچاس اعرابیوں کو رشوت دے کر بی بی کے پاس گواہی دلوائی کہ اس چشمہ کا نا م حواب نہیں ہے ۔
تاریخ اسلام میں یہ پہلی اجتماعی جھوٹی گواہی تھی ۔
حضرت علی نے والی بصرہ عثمان بن حنیف کو خط تحریر کیا جس میں آپ نے لکھا ۔باغی افراد نے اللہ سے وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے عہد شکنی کی ۔جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم انہیں اطاعت کی دعوت دو ۔اگر مان لیں تو ان سے اچھا سلوک کرو ۔
خط ملنے کے بعد والی بصرہ نے ابو الاسود دؤلی اور عمرو بن حصین خزاعی کو ان کے پاس بھیجا۔
بصرہ کی دونوں معززشخصیات کے پاس گئیں اور انہیں وعظ ونصیحت کی ام المومنین نے کہا تم طلحہ و زبیر سے ملاقت کرو ۔
چنانچہ وہ وہاں سے اٹھ کر زبیر کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ آپ بصرہ کیوں آئے ہیں ؟ زبیر نے کہا ہم عثمان کے خون کابدلہ لینے یہاں آئے ہیں ۔
بصرہ کے معززین نے کہا کہ "مگر عثمان بصرہ میں تو قتل نہیں ہوئے آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں ؟ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ عثمان کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں ۔تم دونوں نے ام المومنین ہی عثمان کے سب سے بڑے دشمن تھے ۔ تم نے ہی لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکایا اور جب وہ قتل ہوگئے تو تم ہی بدلہ لینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ علاوہ ازیں تم نے چند دن پہلے بلاجبر واکراہ حضرت علی (ع) کی بیعت کی تھی اور اب بیعت شکنی کرکے ان کے خلاف لشکر کشی کررہے ہو۔
یہ باتیں سن کر زبیر نے کہا کہ طلحہ سے جاکر ملاقات کرو زبیر کے پاس سے اٹھ کر امن کے خواہاں دونوں افراد طلحہ کے پاس گئے اس سے گفتگو کرکے وہ
اس نتیجہ پر پہنچے کہ :طلحہ کسی قسم کے صلح کے لئے آمادہ نہیں ہے وہ ہر قیمت پر جنگ کرنا چاہتے ہے ۔
اسی دوران بصرہ کا ایک معزز شخص عبداللہ بن حکیم تمیمی خطوط کا ایک پلندہ لے کر طلحہ و زبیر کے پاس آیا اور کہا کہ کیا یہ تم دونوں کے خطوط نہیں ہیں جو تم نے ہمیں روانہ کئے تھے ؟
طلحہ اور زبیر نے کہا جی ہاں ۔
عبداللہ بن حکیم نے کہا : پھر خدا کا خوف کرو ،کل تک تم ہمیں خط لکھا کرتے تھے کہ عثمان کو خلافت سے معزول کردو ،اگر وہ معزول نہ ہونا چاہے تو اسے قتل کردو اورجب وہ قتل ہوگیا تو تم اس کے خون کا بدلہ لینے کیلئے آگئے ہو۔
والی بصرہ عثمان بن حنیف طلحہ وزبیر کے پاس آگئے ۔انہیں اللہ ،رسول اور اسلام کے واسطے دے کر انہیں یاد لایا کہ وہ حضرت علی (ع) کی بیعت بھی کرچکے ہیں ۔ اسی لئے انہیں شورش سے باز رہنا چاہئیے ۔
ان دونوں نے کہا کہ ہم خون عثمان کابدلہ لینے آئے ہیں ۔
والی بصرہ نے کہا :- تم دونوں کاخون عثمان سے کیا تعلق ہے ؟ خون عثمان کے مطالبہ کاحق صرف اسکی اولاد کو حاصل ہے اور اسکی اولاد بھی موجود ہے ۔
طلحہ اور زبیر اور والی بصرہ کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا اور اس معاہدہ کو باقاعدہ تحریر کیاگیا ۔
اس معاہدہ میں یہ الفاظ تھ ےکہ فریقین خلیفۃ المسلمین کی آمد یا انتظار کریں گے اور کسی قسم کی جنگ نہ کریں گے ۔
چند دن تو بصرہ میں اس معاہدہ کی وجہ سے امن قائم رہا ۔بعدازاں طلحہ اور زبیر نے قبائل کے سربراہوں کو خطوط لکھے اور انہیں اپنی حمایت پر امادہ کیا ۔ ان کے بہکانے پر بنی ازد ،ضبہ ،قیس بن غیلان ،بنی عمرو بن تمیم ،بنی حنظلہ ،اور بنی دارم کے
افراد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی جبکہ بنی مجاشع کے دیندار افراد نے انکی مخالفت کی ۔
طلحہ وزبیر ن ےبعد آزاں ایک اور غداری کی انہوں نے اپنے بہی خواہوں کو ایک رات میں مسلح کیا اور زرہوں کے اوپر قمیصیں پہنائیں تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ افراد غیر مسلح ہیں ۔ اس رات بڑی بارش برس رہی تھی اور طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں ۔اسی ماحول میں یہ اپنے ساتھیوں کو لے کر مسجد میں داخل ہوئے والی بصرہ عثمان بن حنیف نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو طلحہ وزبیر کے مسلح ساتھیوں نے ایک شدید جھڑپ کے بعد انہیں پیچھے ہٹا کر زبیر کو آگے کردیا ۔بیت المال کے مسلح محافظوں نے مداخلت کرکے زبیر کوپیچھے ہٹایا اور عثمان بن حنیف کو آگے کھڑا کردیا ۔ اتنے میں زبیر کے اور مسلح ساتھی مسجد میں پہنچ گئے اور انہوں حکومتی افراد سے سخت جنگ کرکے زبیر کو مصلائے امامت پر کھڑا کردیا ۔ انہیں جھڑپوں کی وجہ سے سورج طلوع ہونے کا آگیا اور نمازیوں نے چیخ کر کہاکہ نماز قضا ہو رہی ہے ۔ چنانچہ زبیر نے مصلائے امامت پر جبرا قبضہ کرکے نماز پڑھائی ۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد زبیر نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ عثمان بن حنیف کو گرفتار کرکے سخت سزادو ۔زبیر کے ساتھیوں نے والی بصرہ کو پکڑ کر اسے سخت سزا دی اور اس بے چارے کی داڑھی ،ابرو اور سر کے بال نوچ ڈالے اور بیت المال کے محافظوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا اور مسلمانوں کے بیت المال کو طلحہ وزبیر کے حکم پر لوٹ لیا گیا ۔
بیت المال کے محافظین اور والی بصرہ کو قید کرکے ام المومنین کے پاس لایا گیا تو "مہربان ماں " نے محافظین کے قتل کا حکم صادرفرمایا(۱) ۔
"ناکثین " کی بحث کی تکمیل کے لئے ہم ایک اور روایت کو نقل کرنا پسند کرتے ہیں ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ :-
جب حضرت عثمان محصور تھے تو ام المومنین مکہ چلی گئی تھیں ۔اور حج
____________________
(۱):- تاریخ طبری وشرح ابن ابی الحدید ۔جلد دوم ۔ ص ۴۹۷۔۵۰۱
سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آرہی تھیں اور مقام "سرف "پہ پہنچیں تو بنی لیث کے خاندان کے ایک فرد سے جس کا نام عبیداللہ بن ابی سلمہ تھا ملاقات ہوئی ۔
بی بی نے اس سے مدینہ کے حالات پو چھے تو اس نے بتایا کہ عثمان قتل ہوچکے ہیں ۔ بی بی نے پھر پوچھا کہ عثمان کے بعد حکومت کس کو ملی ؟
اس نے بتایا کہ حکومت حضرت علی (ع) کو ملی ہے ۔
اس وقت شدّت تاسف سے ام المومنین نےکہا " کاش آسمان زمین پہ گر جاتا ۔ مجھے مکّہ واپس لے چلو اورکہہ رہی تھیں کہ ہائے عثمان مظلوم مارا گیا ۔
عبیداللہ بن ابی سلمہ نے کہا کہ بی بی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں ؟ آپ کل تک تو کہتی تھیں کہ "نعثل " کو قتل کردو یہ کافر ہوگیا ہے "۔
اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھے ۔
فمنک البداء ومنک الغبر ومنک الریاح ومنک المطر
وانت امرت بقتل الامام وقلت لنا انّه قد کفر
فهبنا اطعناک فی قتله وقاتله عندنا من قد امر
"ابتدا آپ کی طرفسے ہے ۔گردو غبار بھی آپ کی طرف سے ہے ۔تیزآندھی اور بارش بھی آپ کی طرف سے ہے ۔آپ نے ہمیں خلیفہ کے قتل کا حکم دیا تھا اور کہا کرتی تھیں کہ وہ کافر ہوگیا ۔ ہم نے آپ کا کہا مان کر اسے قتل کیا ہے ۔ اور ہماری نظر میں اس کا اصل قاتل وہ ہے جس نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے ۔"
اس کے بعد ام المومنین مکّہ آگئیں اور لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع کرنا شروع کیا اور کہتی تھیں کہ ناحق قتل ہوگیا ۔عثمان روئے زمین پر بسنے والے تمام افراد سے بہتر تھا۔ عبداللہ بن عامر بصرہ سے بہت سا مال لایا اور ام المومنین کی نذر کیا ۔اسی طرح سے یعلی بن امیہ بھی یمن سے بہت بڑی دولت لے کر آیا اور ساری دولت بی بی کے قدموں میں ڈھیر کردی ۔اوربی بی کو بصرہ کی طرف جانے کا مشورہ دیا ۔
اس وقت مکّہ میں اور بھی ازواج رسول موجود تھیں ۔بی بی عائشہ نے
انہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کا مشورہ دیا ۔
حضرت ام سلمہ نے اس کی شدید مخالفت کی اور عائشہ سے کہا:- خدا کا خوف کرو ،اللہ نے ہمیں اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے ۔جنگ کی کمان سنبھالنے کا حکم دیا ۔ حضرت حفصہ بنت عمر بی بی عائشہ کے ساتھ تیار ہونے لگیں تو ان کے بھائی عبداللہ بن عمر نے انہیں سمجھایا اور انہیں اس مہم جوئی سے باز رکھا ۔ ام المومنین طلحہ وزبیر کو ساتھ لے کر روانہ ہوئیں تو مروان بن حکم نے کہا کہ ان دونوں میں سے امامت کو ن کرائے گا ؟
عبداللہ بن زبیر نے کہا : میرا باپ امامت کرائے گا اور محمد بن طلحہ نے کہا کہ میرا باپ امامت کرائے گا ۔
جب اس جھگڑے کی اطلاع بی بی عائشہ کو ملی تو انہوں نے مروان کو پیغام بھیجا کہ تو ہمارے درمیان جھگڑا پیدا کرنا چاہتاہے ؟
نماز میرا بھانجہ عبداللہ بن زبیر پڑھائے گا ۔
اس گروہ سے تعلق رکھنے والا ایک فرد معاذ بن عبداللہ کہا کرتاتھا کہ : خدا کا شکر ہے کہ ہم ناکام ہوگئے ،اگر ہم بالفرض کامیاب ہوجاتے تو زبیر طلحہ کو کبھی حکومت نہ کرنے دیتا اور طلحہ بھی زبیر کو ایک دن کی حکومت کی اجازت نہ دیتا ۔اس طرح ہم آپس میں لڑکر ختم ہوجاتے ۔
جب باغیوں کا یہ گروہ بصرہ جارہا تھا تو راستے میں سعید بن العاص نے مروان بن الحکم سے ملاقات کی اورکہا کہ :جن لوگوں سے ہم نے بدلہ لینا تھا وہ تو تمہارے ساتھ ہیں ۔ قتل عثمان کے بدلہ کی صحیح صورت یہ ہے کہ ان محرکین کو قتل کردو اور بعد ازاں اپن ےگھر وں کی راہ لو ۔
بصرہ پہنچ کر طلحہ وزبیر ن ےحضرت عثمان کی مظلومیت کی درد بھری داستان لوگوں کو سنائی اور ان کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا اور ام المومنین
نے بھی کھلے عام تقریر کی ۔
اس پر جاریہ بن قدامہ سعدی نے کھڑے ہو کر کہا : ام المومنین ! عثمان جیسے ہزاروں افراد بھی قتل ہوجاتے تو بھی وہ اتنا صدمہ نہ ہوتا جتنا کہ تمہارے باہر آنے کا ہمیں صدمہ پہنچا ہے ۔زوجہ رسول ہونے کے ناطے اللہ نے آپ کو حرمت وعزت عطا کی تھی لیکن تم نے اس حرمت کے پردے کو خود ہی پھاڑ ڈالا اور پردے کو چھوڑ کر جنگوں میں آگئیں ۔
بنی سعد کا ایک اور نوجوان کھڑا ہوا اور طلحہ وزبیر کو مخاطب کرکے کہا :-کیا میدان میں تم دونوں اپنی بیویاں بھی ساتھ لائے ہو؟
اگر نہیں لائے تو تمہیں حیا آنی چاہئیے کہ اپنی بیویوں کو تم نے پردے کے پیچھے بٹھایا اور رسول خدا (ص) کی بیوی کو میدان کو میدان میں لے آئے ہو؟
بعد ازاں اس نے اسی مفہوم کی ادائیگی کے لئے کچھ اشعار بھی پڑھے ۔
پھر یہ لوگ بصرہ آئے اور وہاں انہوں نے عذر سے کام لیتے ہوئے عثمان بن حنیف کو گرفتار کیا اور اس کے بال نوچ ڈالے اور اس چالیس کوڑے مارے ۔ بصرہ سے ام المومنین نے زید بن صوحان کو درج ذیل خط لکھا :- رسول خدا (ص) کی پیاری بیوی عائشہ کی جانب سے اپنے خالص فرزند زید بن صوحان کے نام !
اما بعد : جب میرا یہ خط تجھے ملے تو ہماری مدد کے لئے چلا آ اور اگر تو نہ آسکے تو لوگوں کو علی (ع) سے متنفّر کر۔
زید بن صوحان نے اس خط کا جواب درج ذیل الفاظ میں دیا : اگر آپ واپس چلی جائیں اور اپنے گھر میں بیٹھ جائیں تو میں آپ کا خالص فرزند ہوں ، ورنہ میں آپ کا سب سے پہلا مخالف ہوں ۔
پھر زید نے حاضرین سے کہا کہ :- اللہ ام المومنین کے حال پر رحم فرمائے ۔اسے حکم ملا تھا کہ وہ گھر میں
بیٹھے اور ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ہم جنگ کریں ۔انہوں نے اپنے حکم کو پس پشت ڈال دیا اور وہ اس حکم پر عمل کرنے لگی ہیں جو کہ ہمیں دیاگیا تھا ۔
ایک دفعہ طلحہ وزبیر اجلاس عام سے خطاب کررہے تھے کہ بنی بعد قیس کے ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا :-
اے گروہ مہاجرین ! ہماری بات سنیں ۔جب رسول (ص) کی وفات ہوئی تو تم نے ایک شخص کی بیعت کرلی تھی ۔ہم نے اسے تسلیم کر لیا تھا ۔ اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے ہم سے مشہورہ کئے بغیر ایک شخص کو نامزد کیا تھا ۔ ہم نے اسے بھی تسلیم کیا تھا ۔ اور جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے خلافت کے لئے چھ افراد پر مشتمل شوری تشکیل دی تھی۔ اور اس شوری کے لئے ہم سے کسی نے مشورہ طلب نہیں کیا تھا ۔ اور پھر ایک شخص شوری کے ذریعہ سے منتخب ہوا تو ہم نے اسے بھی تسلیم کیا تھا ۔پھر تمہیں اس میں عیب نظرآئے ۔تم نے ہمارے مشورہ کے بغیر اسے قتل کردیا اور تم نے علی (ع) کی بیعت کی تم بھی ہم سے تم نے مشورہ نہیں لیا تھا اب آپ ہمیں بتائیں کہ علی (ع) سے کون سی خطا سرزد ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ہم اس کے خلاف جنگ کریں ؟
کیا اس نے اللہ کا مال کسی کو ناحق دیا ہے ؟
کیا اس نے حق کے دامن کو چھوڑ کر باطل کو اپنا لیا ہے ؟
یا اس سے کوئی غلط کام سرزد ہوا ہے ؟
آخر ہمیں بتائیں کہ علی (ع) نے وہ کون سا ایسا جرم کیا ہے جس کی وجہ سے اس سے جنگ ناگزیر ہوگئی ہے ؟
نوجوان کی اس جسارت کی وجہ سے چند لوگ اس کو قتل کرنے کے لئے اٹھے تو اس کے قبیلہ کے افراد نے اسے بچا لیا ۔
وہ دن تو جیسے تیسے گزر گیا ۔ دوسرے دن باغیوں نے اس کے گھر پہ حملہ کرکے
اسے قتل کردیا اور اس کے علاوہ اس کی قوم کے ستر دیگر افراد کو بھی قتل کردیا ۔
اس فتنہ کو فروکرنے کے لئے علی (ع) بصرہ آئے جہاں شدید جنگ ہوئی ۔ حضرت علی (ع) کامیاب ہوئے ۔طلحہ اور زبیر مارے گئے ۔
ام المومنین نے عبداللہ بن حلف کے مکال میں پناہ لی ۔حضرت امیر المومنین نے اپنے لشکر میں اعلان کردیا کہ کسی زخمی کو قتل نہ کیا جائے ،کسی عورت پہ ہاتھ نہ اٹھایا جائے ، کسی کے گھر میں داخل ہو کر مال نہ لوٹا جائے ۔
پھر امیر المومنین نے زوجہ رسول (ص) کو چالیس عورتوں کےہمراہ واپس مدینہ بھیج دیا اور اس کی مزید حفاظت کے لئے اس کے بھائی محمد بن ابو بکر کو ہمراہ روانہ کیا ۔ حضرت عائشہ نے بصرہ سے روانہ ہوتے وقت کہا ۔ہمیں ایک دوسرے پر ناراض نہیں ہونا چاہیئے ۔میرے اور علی (ع)کے درمیان تنازعات کی وہی نوعیت ہے جو کہ دیور اور بھابھی کے تنازعات کی ہوا کرتی ہے ۔
محرّکین جمل کے جرائم
گروہ ناکثین کی کارستانیاں آپ نے ملاحظہ فرمائیں ۔ اس پورے ہنگامے میں ان لوگوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ۔
۱:- طلحہ وزبیر نے پچاس افراد کو رشوت دے کر جھوٹی گواہی دلائی کہ اس چشمہ کا نام "حواب" نہیں ہے ۔اور یہ تاریخ اسلام کی پہلی اجتماعی جھوٹی گواہی تھی اور اسلام میں جھوٹی گواہی کتنا بڑا جرم ہے ؟
اس کے لئے صحیح بخاری کی اس حدیث کا مطالعہ فرمائیں ۔
"قال رسول الله اکبر الکبائر عندالله الاشراک بالله وعقوق الوالدین وشهادة الزور ثلاثا اقولها او اقول شهادة الزور فما زال یکرّرها قلنا لیته سکت "
رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بد ترین گناہ اس کے ساتھ شرک
کرنا ،والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی ہے ۔
آپ نے ان الفاظ کا بار بار تکرار کیا ۔ یہاں تک کہ ہم کہنے لگے : کاش کہ آپ خاموش ہوجائیں ۔
۲:- ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ام المومنین "حواب " کا سن کر واپس کبھی اپنے گھر نہ جاتیں کیونکہ جھوٹے گواہ انہیں بتارہے تھے کہ وہ تھوڑی دیرپہلے "حواب" سے گزر چکی ہیں ۔
ام المومنین کے دل میں فرمان رسول کا رتی برابر بھی احساس ہوتا تو بھی انہیں واپس چلے جانا چاہئے تھا ۔
۳:- طلحہ وزبیر نے حضرت علی کی بیعت کرکے عہد شکنی کی تھی اور بعد ازاں عثمان بن حنیف کے ساتھ معاہدہ کرکے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا ۔
۴:- انہوں نے مسجد اور نماز کی حرمت پامال کی اور بیت المال کے محافظین کو ناحق قتل کیا ۔ جب کہ قرآن مجید میں قتل مومن کی بہت بڑی سزا بیان ہوئی ہے ۔
۵:- محرکین جمل نے حضرت عثمان بن حنیف کے تمام بال نوچ ڈالے تھے اور ان کا "مثلہ" کیا تھا ۔ اب آئیے رسول اسلام (ص) کی تعلیمات کو بھی دیکھ لیں ۔
حضرت عمر نے رسول خدا (ص)کی خدمت میں عرض کی تھی کہ :سہیل بن عمرو کفار مکہ کا خطیب ہے ۔ وہ کفار کو ہمیشہ اپنے خطبات کے ذریعہ برانگیختہ کیا کرتا ہے ۔اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کے نچلے دودانت توڑ دیتا ہوں ۔اس کے بعد اس کی خطابت کے جوش میں وہ روانی نہیں رہے گی اور وہ یوں کسی کو اسلام کی مخالفت پر امادہ کرنے کے قابل نہ رہے گا ۔
رسول خدا (ص) نے حضرت عمر کو سختی س منع فرمایا اور ارشاد فرمایا :"میں کسی کی صورت نہیں بگاڑوں گا ورنہ اللہ میری صورت بگاڑدے گا اگر چہ کہ میں نبی ہوں :"(۱)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ رسول خدا (ص) نے تو بد ترین مشرک کا حلیہ بگاڑنے کی
____________________
(۱):- تاریخ طبری ۔جلد دوم ۔ص ۲۸۹
اجازت نہیں دی ۔لیکن طلحہ وزبیر نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ایک شریف اور امین مسلمان کا حلیہ تبدیل کردیا تھا کیا اسلام میں اس فعل شنیع کی اجازت ہے ؟
۶:- حضرت عثمان کے قتل ،اور بصرہ کے لوٹنے کا باہمی ربط کیا ہے ؟
۷:- جو کچھ بلوائیوں نے حضرت عثمان کے ساتھ سلوک کیا وہ نامناسب تھا جو سلوک طلحہ وزبیر نے عثمان بن حنیف کے ساتھ کیا ۔کیا وہ اسلامی طرز عمل کے مطابق تھا ؟
۸:- اسلام میں ایفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے اور عہد شکنی کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔جیسا کہ امام مسلم نے رسول خدا(ص) کی حدیث نقل کی ہے ۔
"قال رسول الله ص اربع من کنّ فیه کا منافقا خالصا ومن کا نت فیه خصلة منهن کانت فیه خصلة من نفاق حتی یدعها اذا حدّث کذب واذا عاهد غدر واذا اخلف خاصم فجر "
"رسول خدا(ص) نے فرمایا : جس میں چار علامتیں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ایک علامت ہو تو اس میں بھی منافقت کی علامت ہے ۔یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے :-
۱:- جب بو لے تو جھوٹ بولے ۔
۲:- جب معاہدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔
۳: جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ۔
۴:- جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے ۔"(۱)
اور گروہ ناکثین میں جتنی علامات پائی جاتی تھیں اس کا فیصلہ ہم اپنے انصاف پسند قارئین پر چھوڑتے ہیں ۔
اس کے ساتھ ساتھ اپنے قارئین سے یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ وہ ناکثین کے طرز عمل کے ساتھ ساتھ امیرالمومنین کے طرز عمل کو بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
ہمیں اپنے باضمیر اور انصاف پسند قارئین سے امید ہے کہ وہ خود ہی اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ علی (ع) اوران کے حریفوں کے درمیان زمین وآسمان ،حق وباطل اور نور وظلمت جتنا فاصلہ پایا جاتا ہے ۔
____________________
(۱):- صحیح مسلم ۔جلد اول ۔ص ۴۲
فصل پنجم
گروہ قاسطین (منکرین حق)
"ویحک عمّار تقتلک الفئة الباغیة تدعوهم الی الله ویدعونک الی النار"
(فرمان رسول اکرم ص)
عمّار ! تجھ کو پر افسوس ہے ۔تجھے باغی گروہ قتل کرے گا ۔تو انہیں اللہ کی طرف دعوت دے گا اور وہ تجھے دوزخ کی طرف بلائیں گے ۔
انزلنی الدّهر ثمّ انزلنی
حتی قیل علیّ ومعاویة
"زمانے نے مجھے میرے مقام سے نیچے کیا اور بہت ہی نیچے کیا ۔ یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے کہ علی اور معاویہ ۔"(الامام علی بن ابی طالب علیہ السلام )
ہم نے سابقہ فصل میں ناکثین کی تحریک کا اکیا جائزہ لیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تحریک نے اسلامی دنیا میں سرکشی اور بغاوت کی تخم ریزی کی تھی ۔
ناکثین کی تحریک کا نتیجہ حق وباطل کی جنگ کی صورت میں نمودار ہوا ۔
واقعہ جمل کی وجہ سے معاویہ اور اس کے ہم نواؤں کے حوصلے بلند ہوئے اور انہیں اسلامی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کرنے کی جراءت ہوئی اور واقعہ جمل کی وجہ سے معاویہ کو اتنی فرصت مل گئی جس میں اس نے شر اور بدی کی قوتوں کو جمع کیا اور دین حنیف کے مقابلہ میں علم بغاوت بلند کیا ۔معاویہ کے پرچم تلے وہ تمام افراد آکر جمع ہوئے جنہیں خدشہ تھا کہ علی ان پر حد جاری کرینگے وہ سب بھاگ کر معاویہ کے پاس آگئے تھے ۔ جس کی مثال عبیداللہ بن عمر بن خطاب ہے ۔
جب ابو لولؤ نے حضرت عمر پر وار کیا تھا اور حضرت عمر اس کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےچل بسے تھے ۔ تو ان کے فرزند عبیداللہ بن عمر نے تلوار اٹھا کر ابو لولؤ کو قتل کیا ۔اور اس کے علاوہ ایک ایرانی سردار جو کہ اسلام قبول کر چکا تھا اور اس کا نام ہرمزان تھا ، اسے اور ایک ذمی شخص جفینہ کو قتل کردیا ۔
حضرت عثمان جیسے ہی خلیفہ منتخب ہوتے تھے حضرت علی (ع) نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ عبیداللہ نے قانون ہاتھ میں لے کر شریعت نبوی کا مذاق اڑایا ہے ۔اس نے دو بے گناہ افراد کو ناحق قتل کیا ہے لہذا اس پر حد شرعی کو نافذ کرنا چاہیئے ۔
حضرت عثمان نے اس مطالبہ پر کوئی توجہ نہ دی اور کہا کہ کل اسکا باپ قتل ہوا اور آج اس کے بیٹے کو قتل کیا جائے ؟
الغرض حضرت عثمان نے مجرم کو مکمل تحفظ فراہم کیا اور اس سے کوئی بازپرس نہ کی ۔
حضرت عثمان کے بعد جیسے ہی حضرت علی (ع) نے اقتدار سنبھالا تو عبیداللہ کو اپنی جان کے لالے پڑگئے ۔حضرت علی (ع) کے مثالی عدل سے ڈر کر شام چلا آیا اور معاویہ نے اس کا خیر مقد م کیا ۔(۱)
اسی طرح سے مصقلہ بن ھبیرہ شیبانی نے خرّیت بن راشد اسامی خارجی کے بقیۃ السیف پانچ سو افراد کو خرید کو آزاد کیا ۔لیکن جب عبداللہ بن عباس نے اس سے قیمت کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ : اگر میں اس سے زیادہ رقم عثمان سے مانگتا تو وہ بے دریغ مجھے دے دیتے ۔
چنانچہ رقم کی ادائیگی کی بجائے وہ معاویہ کے پاس شام چلاگیا اور معاویہ نے اسے طبرستان کا گورنر بنا دیا ۔
بعد ازاں اس نے اپنے بھائی نعیم بن ھبیرہ کو بھی معاویہ کے پاس آنے
____________________
(۱):-المسعودی ۔مروج الذھب ومعادن لجوہر ۔جلد دوم ۔ص ۲۶۱
کی ترغیب دی ۔(۱)
جگر خوار ماں کا بیٹا حضرت علی (ع) کے مخالفین اور ان کی عدالت سے بھاگے ہوے افراد کے لئے کمین گاہ بن گیا تھا اور اس نے مسلم معاشرہ میں فساد کی تخم ریزی کی اور دین متین کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اور مخالفت دین کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ۔
معاویہ کے کردار کے اثرات صرف اس کے اپنے دور تک محدود نہیں رہے ۔بلکہ امت مسلمہ اس کا آج تک خمیازہ بھگت رہی ہے ۔
خون عثمان کا بہانہ کرکے معاویہ نے دین اسلام کے ضروریات کا انکار کیا ۔ہماری نظر میں عظمت انسانیت پر سب سے بڑا ستم یہ ہوا کہ علی (ع) جیسے انسان کے مقابلے میں معاویہ کو قابل ذکر انسان تصور کیا گیا ۔ جی ہاں ی وہ عظیم انسان تھے جن کے والد ابو طالب تھے جو کہ رسولخدا (ص) کے مربی تھے اور معاویہ کا باپ ابو سفیان تھا جس نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف ہمیشہ جنگیں کیں ۔
علی (ع) کی ماں فاطمہ بنت اسد تھیں جنہیں رسول خدا (ص) اپنی ماں قراردیا کرتے تھے اور معاویہ کی ماں ہند جگر خوار تھی ۔
معاویہ کی بیوی میسونہ عیسائیوں کی بیٹی تھی ۔ علی کی زوجہ حضرت فاطمہ زہرا (س) رسول خدا (ص) کے جگر کا ٹکرا تھیں جن کی تعظیم کے لئے رسول خدا (ص) اپنی مسند چھوڑ دیتے تھے ۔ اور انہیں سیدۃ نساء العالمین کے لقب سے یاد کرتے تھے ۔
معاویہ اور میسونہ کی مشترکہ تربیت کا مجسمہ یزید لعین تھا اور علی وزہرا (س) کی آغوش میں پلنے والے حسن وحسین تھے جو کہ جوانان جنت کے سردار تھے
معاویہ کا باپ ابو سفیان اور ماں ہند فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے جب کہ ان کے پاس اپنی جان ومال بچانے کے لئے اسلام قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین ۔الفتنتہ الکبری ۔ علی وبنوہ ۔ص ۱۲۷
نہیں تھا ۔
اگر معاویہ خون عثمان کے مطالبہ میں مخلص تھا تو اس کا فرض بنتا تھا کہ وہ امت اسلامیہ کے زعیم حضرت علی (ع) کی بیعت کرتا اور پھر حضرت عثمان کی اولاد کو ساتھ لے کر حضرت علی (ع) کے پاس ان کے خون کا مقدمہ درج کراتا اور انصاف حاصل کرتا ۔
لیکن حقیقت یہ کہ معاویہ صرف اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتاتھا اسے خون عثمان سے کوئی دل چسپی نہیں تھی اور اس کا تاریخی ثبوت یہ ہے کہ جب معاویہ حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو ان نے خون عثمان کو مکمل طور پر فراموش کردیا اور حضرت عثمان کے کسی قاتل سے اس نے کوئی تعرض نہیں کیا ۔
خون عثمان کا بہانہ کرکے معاویہ نے دولت بھی حاصل کرلی اور دشمنان علی کی پارٹی منظم کرنے میں کامیاب ہوگیا اور آخر کار حکومت بھی حاصل کرلی غرضیکہ معاویہ نے سب کچھ حاصل کیا لیکن صرف ایک چیز اسے حاصل نہ ہوئی اور وہ چیز خون عثمان کا بدلہ تھی ۔
حقیقت تویہ ہے کہ معاویہ خود ذہنی طور پر یہ چاہتا تھا کہ حضرت عثمان کسی نہ کسی طرح قتل ہوں اور وہ ان کا "دلی دم" بن کر اقتدار حاصل کرسکے ۔ حضرت عثمان کافی ایام تک اپنے گھر میں محصور رہے تھے اور اس دوران اگر معاویہ چاہتا تو فوج بھیج کر ان کی گلوخلاصی کراسکتا تھا لیکن اس نے جان بچا کر خاموشی اختیار کرلی تھی تاکہ حالات اپنے منطقی نتیجہ تک پہنچ سکیں اور اس کے بعد وہ خود بنی امیہ کا "ہیرو" بن کر منظر عام پر آسکے ۔
معاویہ نے ابو الطفیل کو ایک مرتبہ ملامت کرتے ہوئے کہا تھا کہ : تجھ پر افسوس ہے تو نے حضرت عثمان کی کوئی مدد نہیں کی تھی۔
ابو الطفیل نے کہا:- میں اس وقت باقی مہاجرین وانصار کی طرح خاموش رہا لیکن تمہارے پاس تو شام جیسا بڑا صوبہ تھا اسکے باوجود تو نے اسکی مدد کیو ں نہ کی ؟
معاویہ نے کہا : اس کے خون کے بدلہ کا نعرہ لگا کر میں عثمان کی مدد کررہا ہوں ۔ یہ سن کر ابو الطفیل ہنسنے لگے اور کہا کہ تیرا اور عثمان کا معاملہ بھی وہی ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا تھا "
لا لفینّک بعد الموت تندبنی ۔۔۔ وفی حیاتی ما زودتّنی زادا
"اپنے مرنے کے بعد میں تجھے اپنے اوپر روتا ہا دیکھوں گا جب کہ تونے میری زندگی میں کسی طرح کی مدد نہیں کی تھی ۔"
معاویہ نے مخالفین عثمان کو کلیدی مناصب پرفائز کیا ہوا تھا ۔
سابقہ صفحات میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ حضرت عثمان نے عمرو بن العاص کو حکومت سے معزول کردیا تھا ۔ اس کے بعد عمرو بن العاص نے لوگوں کو حضرت عثمان کے خلاف بھڑکانا شروع کیا ۔ان کے اپنے قول کے مطابق انہیں کوئی چرواہا بھی ملتا تو اسے بھی عثمان کی مخالفت پر آمادہ کرتے تھے ۔ اور جب حضرت عثمان قتل ہوگئے تو اس وقت عمر بن العاص نے اپنے بیٹے عبداللہ کو مخاطب کرکے کہا تھا :-
" میں عبداللہ کاباپ ہوں میں نے آج تک جس زخم کو بھی کریدا اس سے خون ضرور نکالا ۔"(۱)
حضرت عثمان کے اس مخالف کو معاویہ نے اپنے ساتھ ملایا اور وہ معاویہ کا مشیر اعظم تھا ۔
عمرو بن العاص جیسے عثمان دشمن شخص کو اتنا بڑا منصب دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معاویہ کو عثمان کے خون سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔اسے
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔
صرف حکومت کے حصول کی تمنا تھی ۔خون عثمان کو حصول مقصد کے لئے اس نے صرف ایک ذریعہ بنایا ہواتھا ۔ حضرت علی (ع) کے موقف کو ابن حجر عسقلانی یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا :-
"سب سے پہلی بات یہ ہے کہ معاویہ اور اس کے ساتھی سرکشی کی راہ چھوڑ کر میری بیعت کریں بعد ازاں عثمان بن عفان کے خون کا وارث ان کے خون کا دعوی میری عدالت میں دائر کرے اس کے بعد میں احکام شرع کے تحت فیصلہ کرو ں گا ،"(۱)
جنگ صفین کے بعد حضرت علی نے مختلف شہروں میں ایک گشتی مراسلہ روانہ کیا جس کی تحریر یہ تھی ۔
"وکان بدء امرنا انّا التقینا والقوم من اهل الشام "
ابتدائی صورت حال یہ تھی کہ ہم اور شام والے آمنے آئے ۔ اس حالت میں کہ ہمارا اللہ ایک ، نبی ایک اور دعوت اسلام ایک تھی ۔ نہ ہم ایمان باللہ اور اس کے رسول کی تصدیق میں ان سے کچھ زیادتی چاہتے تھے اور نہ وہ ہم سے اضافہ کے طالب تھے ، بالکل اتحاد تھا ۔ سوا اس اختلاف کے جو ہم میں خون عثمان کے بارے میں ہوگیا اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس سے بالکل بری الذمہ تھے ۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ آؤ فتنہ کی آگ بجھا کر اور لوگوں کا جوش ٹھنڈا کرکے اس مرض کا وقتی مداوا کریں ،جس کا پورا ستیصال ابھی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ صورت حال استوار وہموار ہوجائے اور سکون واطمینان حاصل ہوجائے اس وقت ہمیں اس کی قوت ہوگی ہم حق کو اس جگہ پررکھ سکیں لیکن ان لوگوں نے کہا ہم اس کا علاج جنگ و جدل سے کریں گے ۔"(۲)
____________________
(۱):- الاصابہ فی تمییز الصحابہ ۔جلد دوم ۔ ص ۵۰۱-۵۰۲
(۲):- نہج البلاغہ ۔جلد دوم ۔مکتوب نمبر ۔۵۸۔ص ۶۵۱
معاویہ کا خروج دراصل اس موروثی عداوت کا مظہر تھا جو اس کے خاندان کو بنی ہاشم سے تھی ۔بنی امیہ اور نبی ہاشم میں قبل اسلام بھی عداوت موجود تھی اور بنی امیہ نے ہمیشہ بنی ہاشم کو اپنے ظلم وجور کا نشانہ بنایا تھا ۔
حضرت عبدالمطلب کے زمانہ میں ان کا ایک یہودی غلام تھا جو کہ تجارت کرتا تھا ۔ یہ بات معاویہ کے دادا کو ناگوار گزری ۔چنانچہ حرب بن امیہ نے قریش کے چند نوجوانوں کو اس کے قتل اور اس کا مال لوٹنے پر آمادہ کیا ۔ اس کے بہکاوے میں آکر عامربن عبد مناف بن عبد الدار اور حضرت ابو بکر کے داد صخر بن حرب بن عمرو بن کعب التیمی نے اسے قتل کردیا اوراسکا مال لوٹ لیا تھا ۔(۱)
جنگ صفین
حضرت علی (ع) جنگ جمل سے فارغ ہوکر کوفہ تشریف لائے اور جریر بن عبداللہ بجلی کو اپنا قاصد بنا کر معاویہ کے پاس روانہ کی اور اسے اپنی خلافت وامارت کے تسلیم کرنے کی دعوت دی ۔
جریر حضرت علی (ع) کا خط لے کر معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے کافی دن تک اسے ملاقات کا وقت تک نہ دیا ۔ عمرو بن العاص سے مشورہ کیا کہ ہم کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے ؟
عمرو بن العاص نے اسے مشورہ دیا کہ اہل شام کا ایک اجتماع بلانا چاہئیے اور اس میں علی (ع) کو عثمان کا قاتل کہہ کر اس سے خون عثمان کا بدلہ لینے کی تحریک پیش کی جائے ۔اسی اثناء میں نعمان بن بشیر حضرت عثمان کی خون آلود قمیص مدینہ سے لے کے دمشق پہنچ گیا ۔
معاویہ نے خون آلود قمیص کو منبر پہ رکھا اور اہل شام کو قمیص دکھا کر
____________________
(۱):- ابن اثیر الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ص ۹
ایک جذباتی تقریر کی ۔اہل شام نے معاویہ کے سامنے قسم کھائی کہ جب تک وہ خون عثمان کا بدلہ نہ لیں گے اس وقت تک اپنی بیویوں سے مقاربت نہ کریں گے اور نرم بستر پر نہ سوئیں گے ۔ جریر دمشق سے واپس آئے اور حضرت علی (ع) کو اہل شام کی بغاوت اور ان کے اعلان جنگ کی اطلاع دی ۔
حضرت علی بھی اپنا لشکر لے کر چل پڑے اور مقام نخیلہ میں قیام کیا اور مالک اشتر کو مقدمۃ الجیش کا سالار مقرر کرکے آگے روانہ کیا اور انہیں نصیحت کی کہ :-
"جنگ میں پہل نہ کرنا اور مخالف لشکر کے اتنا زیادہ قریب نہ ہونا کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ یہ ہم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز مخالف لشکر سے اتنا دوربھی نہ ہونا کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ وہ ہم سے خوف زدہ ہوکر بھاگ گئے ہیں ۔ میرے آنے کا انتظار کرنا جب تک میں نہ آؤں جنگ نہ کرنا "۔
معاویہ کے لشکر نے فرات کے گھاٹ پر قبضہ کرلیا اور حضرت علی(علیہ السلام) کے لشکر کو پانی بھرنے سے روک دیا ۔ جب حضرت علی (علیہ السلام) آئے تو لشکر نے اپنی پیاس کی شکایت کی ۔حضرت علی (علیہ السلام ) نے صعصعہ بن صوحان کو معاویہ کے پاس بھیجا ۔،انہوں نے اس سے کہا کہ ہم تم سے بلاوجہ جنگ کرنا پسند نہیں کرتے مگر تم نے پانی بند کرکے ہمیں جنگ کی بالواسطہ دعوت دی ہے پانی پہر ہر جاندار کا حق ہے ۔تم اپنے فوجیوں کو حکم دو کہ وہ گھاٹ خالی کردیں تاکہ ہر شخص آزادی سے پانی پی سکے ۔معاویہ اپنی ضد پر اڑارہا ۔حضرت علی (ع) نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ :-معاویہ کی فوج کو گھاٹ سے دھکیل دیا جائے ۔
حضرت علی (ع) کی فوج نے معاویہ کی فوج پر حملہ کیا اور انہیں گھاٹ سے دور بھگا دیا اور پانی پر حضرت علی (ع) کی فوج کا قبضہ ہوگیا ۔ انہوں نے معاویہ کی فوج کو پانی دینے سے انکار کردیا ۔مگر حضرت علی (ع) کے سینہ میں ایک دردمند دل تھا انہوں نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۔
اگر معاویہ بھی پانی بند کرے اور علی (ع) بھی پانی بند کرے تو علی (ع) اور معاویہ میں کیا فرق رہ جائے گا ؟
حضرت علی نے ابو عمر ،بشیر بن محصین الانصاری ،سعید بن قیس الھمدانی ،اور شبث بن ربعی التمیمی کو بلایا اور انہیں فرمایا کہ تم معاویہ کے پاس جاؤ اور اسے اطاعت امام اور جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دو ۔
یہ افراد معاویہ کے پاس گئے ،بشیر بن محصین الانصاری نے کہا:-
"معاویہ ! میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ بغاوت سے باز آجاؤ اور امت اسلامیہ کی تفریق سے بچو اور امت کی خون ریزی سے پر ہیز کرو " معاویہ نے کہا :- کیا ہم عثمان کا خون رائیگان جانے دیں ؟ خدا کی قسم میں ایسا کبھی نہیں کروں گا ۔
شبث بن ربعی التمیمی نے کہا :- معاویہ ! تیرے مطالبہ کا مقصد ہمیں خوب معلوم ہے ۔لوگوں کو گمراہ کرنے اور اپنی طرف مائل کرنے اور اپنی حکومت کے قیام کے لئے تو نے یہ نعرہ لگا یا ہے کہ تمہارا امام مظلم ہو کر مارا گیا ہے ۔ اور ہم اس کے خون کا بدلہ چاہتے ہیں ۔
ہمیں بخوبی علم ہے کہ تو نے عثمان کی کوئی مدد نہیں کی تھی اور تو نے جان بوجھ کر ان کی نصرت سے تاخیر کی تھی ۔ تم درحقیقت یہی چاہتے تھے کہ وہ قتل ہوجائیں اور ان کے قتل کو تو اپنی سیاست کے لئے استعمال کے سکے ۔
معاویہ ! خدا کا خوف کرو اور خلیفۃ المسلمین کی اطاعت کرو ۔
معاویہ نے اسے سخت سست کہا اور کہا کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ اب ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی ۔
اس کے بعد سنہ ۳۶ ھ میں حضرت علی اور معاویہ کے درمیان عارضی جنگ بندی
ہوئی اور معاہدہ ہوا کہ ماہ محرم کے احترام کے پیش نظر جنگ بندی سے پرہیز کیا جائے ۔
معاویہ نے اس عارضی جنگ بندی سے سوء استفادہ کیا اور اپنے لشکر کی تعداد بڑھانی شروع کی ۔حضرت علی (ع) نے اس دوران معاویہ کے پاس قاصد روانہ کئے اور اسے جنگ سے باز رہنے کی تلقین کی ۔لیکن معاویہ نے ہر سفارت کو ناکام لوٹا دیا ۔
معاویہ کی حرکات کی وجہ سے جنگ ناگزیر ہوگئی ۔جنگ کے آغاز سے پہلے حضرت علی (ع) نے اپنے لشکر کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا :-
"جنگ کی ابتدا تمہاری طرف سے نہیں ہونی چاہیئے ۔تم لوگ دلیل وحجت پر ہو اور تمہاری طرف سے جنگ کی ابتدا نہ کرنا تمہاری حجت ہے اورجب تم دشمن کو شکست دے دو تو کسی بھاگنے والا کا تعاقب نہ کرنا ۔کسی زخمی کو قتل نہ کرنا اور کسی مقتول کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔کسی کی پردہ دری نہ کرنا ۔کسی مخالف کے گھر میں داخل نہ ہونا اور کسی عورت پہ ہاتھ نہ اٹھانا خواہ وہ تمہیں اور تمہارے حکام کو سب وشتم بھی کرے ۔
درج بالا واقعات سے یہ نتائج مستنبط ہوتے ہیں ۔
۱:- اما م عالی مقام نے تمام ممکنہ ذرائع سے معاویہ کو دعوت اتحاد دی اور اسے مرکزی حکومت کی اطاعت میں شامل ہونے کی تلقین کی ۔
۲:-معاویہ کو تفریق بین المسلمین سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کی ۔
۳:- قتل عثمان کے قصہ کے متعلق حضرت عثمان کے وارث ان کےپاس آکر اپنے خون کا مقدمہ دائر کریں اور ضرور ی تحقیق کے بعد مجرمین کو سزادی جائے ۔
۴:- معاویہ نے عثمان کی خون آلود قمیص لہرا کر مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی ۔
۵:-شامی لشکر کو ملا کر مرکز پر آورہوا ۔
۶:- دریائے فرات کے گھاٹ پر قبضہ کرکے حضرت علی (ع) کے ساتھیوں کو پانی سے محروم کردیا اس سے معاویہ کے غیر انسانی رویوں کا بخوبی اظہار ہوتا ہے ۔
۷:- حضرت علی (ع) کے لشکر نے بزور شمشیر گھاٹ خالی کرالیا ۔لیکن علی (ع) کی انسان دوستی ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے پانی سے کسی کو نہ روکا ۔
۸:- کربلا میں آل محمد (ع) کا جو پانی بند کیا گیا تھا وہ بھی کردار معاویہ کا ایک تسلسل تھا۔
۹:-حوصلہ شکن حالات کے باوجود بھی حضرت علی (ع) نے فریضہ دعوت کو فراموش نہیں کیا ۔معاویہ کے پاس معززین کا ایک وفد روانہ کیا اور اسے جنگ سے باز رہنے کی دعوت دی ۔
۱۰:- معاویہ نے علی (ع) کے فرستادہ وفد کے دو ارکان سعید اور شبث کے درمیان دورجاہلیت کی عصبیت کو برانگیختہ کیا ۔
۱۱:- جنگ صفین میں باطل اور نور کے مقابلہ میں ظلمت کو شکست ہوئی اور معاویہ نے محسوس کیا کہ اب اس کی زندگی کا چراغ بجھنے ہی والا ہے ۔تو اس نے فطری روباہی سے کام لیتے ہوئے نیزوں پرقرآن بلند کئے اور کہا کہ اہل عراق جنگ بند کردو ۔ہم اور تم قرآن کے مطابق اپنے تنازعات کا فیصلہ کریں ۔
۱۲:- معاویہ کی یہ مکاری کامیاب رہی ۔ حضرت علی (ع) کے لشکر میں پھوٹ پڑگئی اور خوارج نے جنم لیا اور امام عالی مقام (ع) ان کے ہاتھ سے شہید ہوگئے ۔
درج بالا نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم دوبارہ یہ کہیں گے کہ حضرت علی (ع) اور معاویہ کی جنگ دوایسے افراد کے درمیان جنگ تھی جو کہ ہر لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد تھے ۔
معاویہ کی سرشت یہ تھی کہ اپنے ہدف کے حصول کے لئۓ جائز اور ناجائز
ذرائع کی اس کے پاس کوئی تخصیص نہ تھی ۔اپنے ہدف کے حصول کے لئے اس نے ہر قسم کے حربے آزمائے ،زہر دے کر اپنے مخالفین کو قتل کرایا ۔ ہر طرح کی عہد شکنی کی ۔مجہول النسب افراد کو ابو سفیان کا بیٹا بنایا ۔اعاظم صحابہ کو قتل کیا مثلا ۔حضرت عمار بن یاسر ۔حضرت اویس قرنی ،حضرت خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین جیسے افراد اور حضرت حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کیا ۔
معاویہ کی نگاہ میں اخلاق عالیہ اور انسانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ معاویہ کے پاس طمع ولالچ کا ہتھیار تھا ۔ جب کہ حضرت علی کے پاس اسلامی اقدار کا ہتھیار تھا ۔ معاویہ کے سامنے ایک وسیع میدان تھا کیونکہ اس کی نگاہ میں جائز اور ناجائز کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ اس کے ہاں اگر اہمیت تھی تو صرف اور صرف اپنے مقصد کے حصول کی تھی ۔ جبکہ حضرت علی کے سامنے میدان بڑا تنگ تھا ۔علی علیہ السلام صرف وہی کرسکتے تھےجس کی اسلام اجازت دیتا تھا ۔
معاویہ کے مقربین اور حضرت علی کے مقربین میں بھی فرق تھا ۔
معاویہ کے مقرب بننے کا معیار استحصالی ہونا تھا اور حضرت عیل کا مقرب بننے کے لئۓ اسلامی تعلیمات کا عامل بننا ضروری تھا ۔
معاویہ کے احباب میں عمرو بن العاص اور بسر بن ارطاۃ جیسے افراد نمایاں تھے ۔ حضرت علی (ع) کے احباب میں حضرت عمّار یا سر اور اویس قرنی اور حضرت حجر بن عدی جیسے قائم اللیل اور صائم النہار افراد نمایاں تھے ۔
احباب کی طرح پیروکاروں کا بھی فرق تھا ۔
معاویہ کے پیروکاروں میں ایسے افراد شامل تھے جنہیں اونٹ اور اونٹنی کے فرق کا علم نہیں تھا ۔
اور اس کے برعکس حضرت علی علیہ السلام کے پیروکار اکثر فقیہ اور محدث تھے ۔ البتہ ایک صفت ایسی ضرور تھی جس میں معاویہ کو تفوق حاصل تھا اور وہ
صفت یہ تھی ۔ کہ معاویہ کا لشکر اس کا مثالی اطاعت گزار تھا ۔ جب کہ حضرت کے لشکر میں ٹال مٹول کرنے والے کافی افراد موجودتھے ۔
اہل شام کی اطاعت کی انتہا یہ ہے کہ معاویہ نے بدھ کے دن نماز جمعہ پڑھائی تو کسی نے بھی اعتراض نہ کیا(۱) ۔
معاویہ نے اپنی رعایا میں جہالت کو رائج کیا اور ایک طویل عرصہ تک اہل شام کی جہالت ضرب المثل بنی رہی ۔
مسعودی نے ایک دلچسپ حکایت لکھی ہے :-
"ایک اہل علم نے مجھے بتایا کہ اہل علم کی ایک جماعت ابو بکر وعمر اور علی ومعاویہ کے متعلق بحث کررہی تھی ۔ ایک عقل مند اور دور اندیش شامی نے کہا کہ تم علی ومعاویہ کی بحث کس لئے کررہے ہو ؟
ایک اہل علم نے اس سے پوچھا کہ تم علی (ع) کو جانتے ہو ؟
شامی نے کہا کیوں نہیں ؟ جنگ حنین میں علی رسول (ص) کے ساتھ شہید ہوگیا تھا ۔"
اہل شام کی جہالت کی ایک اور مثال پیش خدمت ہے :
مروان الحمار کی تلاش میں عبداللہ بن علی اپنا لشکر لے کر دمشق گیا ۔ اس نے دمشق سے چند بزرگ اور معزز افراد کو ابو العباس سفاح کے پاس بھیجا ۔جنہوں نےسفاح عباسی کے سامنے قسم کھا کر کہا کہ " تمہاری حکومت آنے سے پہلے ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ بنی امیہ کے علاوہ بھی رسول خدا (ص) کے کوئی رشتہ دار ہیں ۔ہمیں تو آج تک بنی امیہ نے یہی باور کرایا تھا کہ وہی رسول خدا (ص) کا خاندان اور ان کے وارث ہیں ۔"(۲)
____________________
(۱):- المسعودی ۔مروج الذھب ومعادن الجوہر ۔جلددوم ۔ص ۳۳۴
(۲):- المسعودی ۔مروج الذھب معادن الجوہر۔جلد دوم ۔ ص ۵۱
معاویہ نے اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لئے عوام میں جہالت کو فروغ دیا اور امت اسلامیہ کی نظریاتی سرحدوں کو کمزور کرنے کےلئے "وضع حدیث " سے کام لیا اور اس کے حکم وترغیب کی وجہ سے فضائل ثلاثہ کی ہزاروں احادیث وضع کی گئیں اور ابو ہریرہ اور اس کے ہم نوا دن رات حدیث سازی میں مصروف ہوگئے اور حدیث سازی کو باقاعدہ "صنعت" کا درجہ حاصل ہوگیا اور اس بہتی گنگا میں ہزاروں افراد نے ہاتھ دھوئے ۔
اپنے مخالفین کو زہر دےکر ختم کرانا معاویہ کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس نے حضرت علی (ع)کے حاکم مصر مالک اشتر کو ایک زمیندار کے ہاتھ سے زہر دلوایا اور زمیندار سے خراج کی معافی کا وعدہ کیا گیا ۔ معاویہ کے بہکاوے میں آکر اس زمیندار نے حضرت مالک کو کھانے کی دعوت دی اور شہد میں انہیں زہر دیا گیا ۔ جس کی وجہ سے حضرت مالک اشتر شہیدہوگئے ۔
اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمر وبن العاص بیٹھ کر کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا ایک لشکر ہے ۔
معاویہ نے امام حسن مجتبی علیہ السلام کو ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ذریعہ زہر دلوایا ۔
معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بعض اوقات خوشامد اور چاپلوسی سے کام لیتا تھا اور بعض اوقات اپنے مخالفین کے خلاف فوجی قوت کو بے دریغ استعمال کرتا تھا ۔
معاویہ نے اپنے ایک شقی القلب ساتھی بسر بن ارطاۃ کو ایک بڑا لشکر دے کر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ وہ حضرت علی کے زیر نگیں علاقے میں جاکر فوجی کاروائی کرے ۔
بسر نے حضرت علی (ع) کی مملکت میں بہت زیادہ خون ریزی کی ۔مسلمانوں
کے اموال کو لوٹا اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اور ان سے معاویہ کی جبری بیعت لی ۔
پھر وہ بدبخت یمن گیا حاکم یمن اس کی آمد کی خبر سن کر فرار ہوگیا ۔چنانچہ بسر نے یمن میں بے دریغ قتل عام کیا اور ہل یمن سے بھی معاویہ کی بیعت لی ۔
اس نے عبید اللہ بن عباس کے دو چھوٹے بچوں کو قتل کردیا ۔ حضرت علی (ع) کو ان واقعات کی اطلاع ملی تو انہوں نے جاریہ بن قدام کو بسر کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا ۔
حضرت علی (ع) کے فوجی دستہ کا سن کر وہ لعین شام بھاگ گیا ۔
جاریہ نے اہل یمن کو حضرت علی (ع) کی بیعت کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کرلی ۔پھر جاریہ مکہ مکہ آیا تو اسے معلوم ہوا کہ اسلام کا محافظ علی (ع) شہید ہوگیا ہے ۔(۱)
درج بالا حالات س معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ میں انسانیت کی بہ نسبت حیوانیت اور درندگی کا عنصر زیادہ پایا جاتا تھا اور اس کی حیوانیت کے تحت ہمیشہ بدلتی رہتی تھی ۔ کمزور افراد کو بھیڑئیے کی طرح چیر دیتا اور طاقت ور افراد کے سامنے روباہیت سے کام لیتا تھا ۔
اس کے برعکس حضرت علی کی زندگی خوف خدا ، انسان دوستی اور احکام شرع کی پابندی سے عبارت تھی ۔ حضرت علی (ع) عدالت کے داعی تھے ۔
مختصر الفاظ میں ان دونوں کی زندگی کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے :- جس قدر معاویہ میں خامیاں تھیں ۔اسی قدر علی علیہ السلام میں خوبیاں تھیں اور معاویہ کے پاس ظلم کا جتنا ذخیرہ تھا ،علی کے پاس اتنی ہی مقدار میں عدل تھا ۔ حضرت علی (ع) بخوبی جانتے تھے کہ بنی امیہ امت اسلامیہ کی تقدیر کے مالک بن جائیں گے اور اسی
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسیس مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔۱۵۰
کی پیش گوئی کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا "اما والذی نفسی بیده ۔۔۔۔۔"
"اس ذات برحق کی قسم جس کے اختیار میں میری جان ہے ! یہ لوگ تم پر غالب آجائیں گے ۔وہ اس لئے غالب نہیں ہونگے کہ وہ بر حق پر ہیں ۔ ان کے غلبہ کی وجہ ہے کہ وہ اپنے باطل کی بھی پیروی پر کمر بستہ رہتے ہیں جب کہ تم حق کے لئے بھی سستی اور تساہل سے کام لیتے ہو۔
حالت یہ ہے کہ رعایا کو اپنے استحکام کا خوف ہوتا ہے ۔لیکن آج میں اپنی رعایا کے ظلم سے خوف زدہ ہوں "۔
ایک اورمقام پر آپ نے اصحاب کی تساہل پسندی کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا "احمد الله علی ماقضی من امر وقدر من فعل وعلی ابتلائی بکم ۔۔۔۔"
"میں اللہ کی حمد وثناء کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا اس نے فیصلہ کیا اور اس کام پر جو اس کی تقدیر نے طے کیا ہو اس آزمائش پر جو تمہارے ہاتھوں اس نے میری کی ہے ۔
اے لوگو! کہ جنہیں کوئی حکم دیتا ہوں تو نافرمانی کرتے ہیں اور پکارتا ہوں کہ تو میری آواز پر لبیک نہیں کہتے ۔اگر تمہیں (جنگ سے ) کچھ مہلت ملتی ہے تو ڈینگیں مارنے لگتے ہو اور اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو بزدلی دکھاتے ہو اور جب لوگ امام پر ایکا کرلیتے ہیں تو تم طعن وتشنیع کرنے لگتے ہو اور اگر تمہیں (جکڑ باندھ کر ) جنگ کی طرف لایا جاتا ہے تو الٹے پیروں لوٹ جاتے ہو۔تمہارے دشمنوں کا برا ہو ۔تم اب نصرت کے لئے آمادہ ہونے اور اپنے حق کے لئے جہاد کرنے میں کس چیز کے منتظر ہو ۔موت کے یا اپنی ذلت ورسوائی کے ؟ خدا کی قسم ! اگرمیری موت کا دن آئے گا اور البتہ آکر رہے گا تو وہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دےگا ۔درآنحالیکہ میں تمہاری ہم نشینی سے بیزار اور (تمہاری کثرت کے باوجود )اکیلا ہوں ۔ اب تمہیں اللہ ہی اجر دے ۔کیا کوئی دین تمہیں ایک مرکز پر
جمع نہیں کرتا اور غیرت تمہیں (دشمن کی روک تھام پر) آمادہ نہیں کرتی ۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ معاویہ چند تند مزاج اوباشوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ بغیر کسی امداد واعانت اور بخشش وعطا کرے اس کی پیروی کرتے ہیں ۔اور میں تمہیں امداد کے علاوہ تمہارے معیّنہ عطیوں کے ساتھ دعوت دیتا ہوں مگر تم مجھ سے پراکندہ ،منتشر ہوجاتے ہو اور مخالفتیں کرتے ہو حالانکہ تم اسلام کے رہے سہے افراد اور مسلمانوں کا بقیہ ہو ۔تم تو میرے کسی فرمان پر راضی ہوتے اور نہ اس پر متحد ہوتے ہو چاہے وہ تمہارے جذبات کے موافق ہو یا مخالف ۔میں جن چیزوں کا سامنا کرنے والا ہوں ۔ ان میں سے سب سے زیادہ محبوب مجھے موت ہے میں نے تمہیں قرآن کی تعلیم دی اوردلیل وبرہان سے تمہارے درمیان فیصلے کئے اور ان چیزوں سے تمہیں روشناس کیا جنہیں تم نہیں جانتے تھے اور ان چیزوں کو تمہارے لئےخوشگوار بنایا جنہیں تم تھوک دیتے تھے ۔کاش کہ اندھے کو کچھ نظرآئے اور سونے والا (خواب غفلت سے بیدار ہو ۔وہ قوم اللہ کے احکام سے کتنی جاہل ہے کہ جس کا پیشرو معاویہ اور معلم نابغہ کا بیٹا ہے ۔"
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا ۔
تم نے میری بیعت اچانک نہیں کی اور میرا اور تمہارا معاملہ یکساں نہیں ہے ، میں تمہیں اللہ کے لئے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنی ذات کے لئے چاہتے ہو ۔
اے لوگو!تم اپنے نفس کے خلاف میری مدد کرو ۔خدا کی قسم ! میں مظلوم کو ظالم سے انصاف دلاؤں گا اور میں ظالم کو بالوں سے پکڑ کر اسے گھسیٹا ہوا حق کے گھاٹ پر لاؤں گا۔ اگر چہ اس کو ناپسند کرتا ہو۔
فصل ششم
تحکیم ۔مارقین ۔شہادت
حضرت علی نے جنگ سے بچنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن معاویہ جنگ کے شعلے کا خواہش مند تھا ۔ آخر کار فریقین میں جنگ چھڑ گئی ۔ جب معاویہ نے محسوس کیا کہ اس کا لشکر شکست کھانے والا ہے تو اس نے عمرو بن العاص سے کہا کہ : تمہارے ذہن میں کوئی ایسی ترکیب موجود ہے جس سے ہمارہ لشکر متحد ہوسکے اور ہمارے مخالفین منتشر ہوسکیں ؟
عمرو بن العاص نے کہا : جی ہاں ۔
معاویہ نے کہا :- تم وہ ترکیب یہ ہے تا کہ ہم حتمی شکست سے بچ جائیں ۔
عمرو بن العاص نے کہا کہ : ترکیب یہ ہے کہ قرآن مجید کو نیزوں پہ بلند کیا جائے اور اہل عراق سے کہا جائے کہ جنگ بند کردیں ۔قرآن کے مطابق فیصلہ کریں ۔اس سے اہل عراق میں انتشار پیدا ہوگا اور شامی لشکر مضبوط ہوجائے گا ۔
چنانچہ شامی لشکر نے قرآن مجید کو نیزوں پہ بلند کرکے کہا : اہل عراق ! لڑائی بند کرو اللہ کی کتاب کو فیصل قراردو۔
حضرت علی (ع) کی فوج نے جب قرآن مجید کو دیکھا توکہا ۔ہم اللہ کی کتاب کو لبیک کہتے ہیں ۔ حضرت علی نے فرمایا : بندگان خدا: اپنے حق پر قائم رہو اور اپنے حق کے اثبات کیلئے جنگ کرتے رہو ۔معاویہ ،عمرو بن العاص اور ابن ابی معیط نہ تو دیندار ہیں اور نہ ہی اہل قرآن ہیں ۔ میں تمہاری بہ نسبت ان لوگوں کو زیادہ بہتر جانتا ہوں ۔ میں انہیں بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے اس عمر تک بخوبی جانتا ہوں ۔انہوں نے قرآن کو صرف دھوکہ دینے کی غرض سے بلند کیا ہے ۔
حضرت علی (ع) کی فوج کی اکثریت نے کہا : یہ بات نازیبا ہے کہ مخالف
ہمیں قرآن کی دعوت دے او رہم اس دعوت کو قبول نہ کریں ۔
حضرت علی (ع) نے فرمایا : میں بھی تو ان سے اسی لئے جنگ کررہا ہوں تاکہ یہ لوگ قرآنی فیصلوں کو تسلیم کریں یہ لوگ احکام خداوندی کی نافرمانی کرچکے ہیں ۔
مگر اہل عراق کی اکثریت نے ہتھیار ڈال دیئے اور جنگ کرنے سے انکار کردیا ۔
حضرت علی کو مجبورا جنگ روکنا پڑی ۔
طے یہ ہوا کہ فریقین اپنا ایک ایک نمائندہ منتخب کریں اور فریقین کے نمائندے جو فیصلہ کریں وہ دونوں کوقبول ہوگا ۔
معاویہ کی طرف سے عمرو بن العاص نمائندہ مقرر ہوا اور اہل عراق نے ابو موسی اشعری کے تقرر کی خواہش کی ۔ حضرت علی نے فرمایا تم جنگ بند کرکے میری نافرمانی کرچکے ہیں اب دوسری مرتبہ میری نافرمانی مت کرو مجھے ابو موسی اشعری پہ اعتماد نہیں ہے ۔میری طرف سے میرا فرزند حسن نمائندگی کرے گا ۔
اہل عراق نے اس پہ اعتراض کیا کہ وہ آپ کا فرزند ہونے کے ناطے خود ایک فریق ہے ۔حضرت علی نے فرمایا اگر تم بیٹے پر راضی نہیں ہو تو پھر میری نمائندگی عبداللہ بن عباس کرےگا ۔
مگر اہل عراق کے عقل پر پتھر برس چکے تھے انہوں نے کہا کہ وہ بھی آپ کے ابن عم ہیں ،ابو موسی ہر لحاظ سے غیر جانبدار ہے ۔
حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ ابو موسی بھروسہ کے قابل نہیں ہے یہ ہمیشہ میری مخالفت میں پیش پیش رہا ہے اور لوگوں کو مجھ سے علیحدہ کرتارہا ہے مگر اہل عراق نے ابو موسی پر اصرار کیا ۔
مجبورا حضرت علی نے فرمایا پھر جو تمہارا جی چاہے کرتے رہو ۔
اس کے بعد حکمین کے لئے شرائط نامہ لکھا گیا جس کے چیدہ نکات
درج ذیل تھے :
یہ معاہدہ علی بن ابی طالب اورمعاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہے ۔
۱:- ہم اللہ کے فرمان کی پابندی کریں گے ۔
۲:- ہم کتاب اللہ کی پابندی کریں گے ۔
۳:- حکمین کتاب اللہ پر خوب غور وخوص کرکے اس کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔
۴::- کتاب اللہ میں اگر انہیں اس نزاع کا حل نہ مل سکے تو پھر "سنت جامعہ غیر مفرقہ" کی روشنی میں اس نزاع کا حل تلاش کریں گے ۔
پھر حکمین نے فریقین سے پنی جان ومال کی حفاظت کا وعدہ لیا(۱) ۔
معاہدہ پر حضرت علی اور معاویہ کے گروہوں میں سے سربرآوردہ افراد نے دستخط کئے اور اس کے ساتھ یہ طے ہوا کہ حکمین مقام "دومۃ الجندل " میں ملاقات کریں گے اور وہیں اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے ۔
حضرت علی اپنے لشکر کو لے کر کوفہ چلے آئے اور معاویہ دمشق روانہ ہوا ۔
جب مذکورہ تاریخ پر دومۃ الجندل کے مقام پر حکمین کی ملاقات ہوئی تو عمرو بن العاص نے ابو موسی اشعری سے کہا کہ تو معاویہ کو خلافت کیون نہیں سونپ دیتا ؟
ابو موسی اشعری :- نے کہا کہ معاویہ خلافت کے لائق نہیں ہے ۔
عمروبن العاص : کیا تجھے علم نہیں ہے کہ عثمان مظلوم ہو کر قتل ہوئے ہیں ؟
ابو موسی اشعری :جی ہاں !
عمرو بن العاص : معاویہ عثمان کے خون کا طالب ہے ۔
ابو موسی اشعری : عثمان کا بیٹا عمرو موجود ہے اس کی موجودگی میں معاویہ عثمان کا وارث نہیں بن سکتا ۔
____________________
(۱):- ابن اثیر /الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ۱۶۰ ۔۱۶۸
عمرو بن العاص :اگر آپ میرا کہنا مان لیں تو اس سے عمربن الخطاب کی سنت زندہ ہوجائےگی ۔ آپ میرے فرزند عبداللہ کو خلیفہ بنائیں ۔
ابو موسی اشعری : تیرے بیٹے کو خلیفہ بنانے کی بجائے عبداللہ بن عمر کو کیوں نہ خلیفہ نامزد کیا جائے ؟
عمر بن العاص : عبداللہ بن عمر خلافت کے لائق نہیں ۔خلافت کے لئے ایسے شخص کی ضرورت ہے جس کی دو داڑھیں ہوں ۔ایک داڑھ سے خود کھائے اور دوسری سے لوگوں کو کھلائے ۔
ابو موسی اشعری :" میں یہ چا ہتا ہوں کہ ہم علی (ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کردیں اور مسلمانوں کو کھلی چھٹی دے دیں و ہ جسے چاہیں اپنا خلیفہ منتخب کریں ۔"
عمر و بن العاص :- مجھے آپ کی یہ بات پسند ہے ۔اور اسی میں لوگوں کی بھلائی ہے ۔آپ چلیں اور مجمع عام میں اپنے اس فیصلہ کا اعلان کریں ۔
حکمین باہر آئے اور ابو موسی نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا ۔ ہم دونوں ایک نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں اور ہم خلوص دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں امت کی بھلائی ہے ۔
عمرو بن العاص نے کہا : بے شک آپ سچ کہتے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے ابو موسی اشعری کو کہا کہ احتیاط کرو ، اگر تم نے کوئی متفقہ فیصلہ کرلیا ہے تو پہلے عمرو بن العاص سے کہو کہ وہ آکر حاضرین کے سامنے اپنا فیصلہ بیان کرے تم بعد میں گفتگو کرنا ۔ تمہیں شاید علم نہیں ہے کہ تمہارا واسطہ ایک مکار اور عیار شخص سے ہے ۔ لہذا اس پر ہرگز اعتماد نہ کرو اور بولنے میں سبقت نہ کرو ۔
ابو موسی نے عمرو بن العاص سے کہا کہ پہلے تم آؤ اور فیصلے کا اعلان کرو لیکن مکار عمرو بن العاص نے کہا کہ آپ رسول خدا (ص) کے برگزیدہ صحابی ہیں میری
کیا مجال کہ میں آپ پر سبقت کروں آپ ہی اعلان میں پہل فرمائیں ۔
ابو موسی اشعری اس کے دھوکے میں آگیا اور اعلان کیا :- اے بندگان خدا! ہم نے اس مسئلہ پر تفصیلی غور کیا ہے اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم علی (ع) اور معاویہ دونوں کو معزول کردیں ۔ اسے کے بعد لوگ جسے چاہیں اپنا خلیفہ مقرر کریں ۔میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرتا ہوں ۔
یہ اعلان کرکے ابو موسی اشعری پیچھے ہٹ گیا اور عمرو بن العاص نے آکر کہا : جو کچھ ابو موسی اشعری نے کہا ہے وہ تم نے سن لیا ہے اس نے اپنے ساتھی علی کو معزول کیا میں بھی اسے معزول کرتا ہوں اور میں اپنے ساتھی معاویہ کو خلافت پر بحال کرتاہوں کیوں کہ وہ عثمان بن عفان کا وارث اور اس کے خون کے بدلہ کا طالب ہے اور وہی اس کی نیابت کے قابل ہے ۔
ابو موسی اشعری : -عمرو بن العاص !خدا تجھے غارت کرے تو نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی تیری مثال کتے کی جو ہر حالت میں بھونکتا رہتا ہے ۔
عمرو بن العاص ؛- تیری مثال گدھے کی ہے جس پر کتابوں کا بو جھ لدا ہو ۔
اہل شام نے ابو موسی کی زبان درازی پر اسے سزا دینی چاہی اور اسے تلاش کیا ابو موسی چھپ گيا اور بعد ازاں مکہ چلا گیا ۔
حکمین کے اس فیصلہ کو کسی صورت بھی قرین عد ل نہیں کہا جا سکتا اس فیصلہ میں حق وصداقت کو قتل کیا گیا ہے ۔ابو موسی نے اس فیصلہ میں برادر حضرت علی (ع) سے اپنی دشمنی کا اظہار کیا ہے اور اپنی سادگی اور جہالت کی وجہ سے عمروبن العاص سے دھوکا بھی کھایا ہے اس لئے حضرت علی (ع) نے قرآن بلند کرنے کے وقت ہی فرمایا تھا کہ :- یہ دشمن کی چال ہے تم اس کے دام فریب میں مت پھنسو اور مزید یہ کہ معاویہ ،عمروبن العاص اور ابن ابی معیط کا قرآن سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کا دین سے کوئی تعلق ہے ۔
عمر بن العاص کی شخصیت
تحکیم کی بحث سے پہلے ہم عمرو بن العاص کی شخصیت کے متعلق کچھ معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ قارئین کرام کو معاویہ کے "دست راست" کے متعلق زیادہ معلومات حاصل ہوسکیں ۔عمرو کا باپ عاص السہمی ان لوگوں میں شامل تھا جو حضور کریم کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور انہیں کے متعلق اللہ تعالی نے سورۃ کوثر میں ارشاد فرمایا : انّ شائنک ھو الابتر" بے شک تیرا دشمن ہی بے نام ونشان ہوگا ۔(۱)
"مستہزئین" یعنی حضور اکرم (ص) کا ٹھٹھہ مذاق اڑانے والی جماعت کے دوسرے افراد کا ذکر کرتے ہوئے ابن خلدون لکھتے ہیں :- جب قریش نے دیکھا کہ رسول خدا کا چچا اور ان کا خاندان محمد مصطفی (ص)کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہیں اوروہ کسی بھی قیمت پر رسول خدا (ص) پر آنچ نہیں آنے دیتے تو انہوں نے یہ وطیرہ بنایا کہ باہر سے جو بھی شخص مکہ آتا وہ اس کے پاس پہنچ جاتے اور اسے بتاتے کہ ہمارے ہاں ایک جادوگر ،شاعر اور مجنون موجود ہے ۔تم اس کی باتوں میں نہ آنا ۔(نعوذ باللہ)
اور رسول خدا کی اذیت وجماعت کے لئے ایک پوری جماعت تشکیل دی گئی جس میں ربیعہ کے دو بیٹے عتبہ اور شبہ اور عقبہ بن ابی المعیط اور ابو سفیان اور حکم بن امیہ اور عاص بن وائل اور اس کے دو چچا زاد نبیہ اور منبہ شامل تھے ۔
یہ لوگ ہر جگہ رسولخدا (ص)کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔اور اگر کبھی موقع پاتے تو حضور اکرم کو اپنے ہاتھوں سے بھی اذیت پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے تھے ۔
عمرو بن العاص کی ماں اپنے زمانہ کی مشہور بدکردار عورت تھی جو اہل ثروت کے بستر کی زینت بنا کرتی تھی اور اس کے گھر پر اس دور کے دستور کے مطابق
____________________
(۱):- ابن اثیر ۔ الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ۔ص ۴۹-۵۰
جھنڈا بندھا رہتا تھا
جب عمرو کی پیدائش ہوئی تو اس پر عاص اور ابو سفیان کا جھگڑا ہوا ، دونوں اسے اپنے نطفہ کا ثمر قرار دیتے تھے ۔چنانچہ جب ان کے درمیان اختلاف بڑھا تو فیصلہ کے لئے اس کی ماں کی رائے دریافت کی گئی اس نے کہا کہ یہ عاص کا بیٹا ہے ۔
جب اس عورت سے پوچھا گیا کہ تو نے اپنے بیٹے کا الحاق ابو سفیان کی بجائے عاص سے کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا کہ ابو سفیان کنجوس ہے جب کہ عاص مجھ پر بے تحاشہ دولت لٹا تا ہے ۔
ماں کی گود بچہ کا پہلا مدرسہ ہوتی ہے ۔اور ماں کی شخصیت بچہ پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ عمرو اسی ماں کا دودھ پی کر بڑھا اور دشمن رسول (ص) باپ کی تربیت میں رہا ۔جب ماں اس قماش کی ہو اور باپ کا طرز عمل یہ ہو تو اولاد کب نجیب ہو سکتی ہے ۔(۱)
عمر وبن العاص عنفوان شباب میں اسلام کا بد ترین دشمن تھا اور غزوہ احد میں کفار کے ساتھ شامل تھا اور غزوہ احد کیلئے اس کے شعر بھی بڑے مشہور ہیں ۔
جب عمرو نے دیکھا کہ رسول خدا(ص) ہر مقام پر فاتح بن رہے ہیں تو اسے اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ۔اس نے کھلم کھلا دشمنی کے بجائے دغا بازی اور مکاری سے کام کیا ۔
ابن ہشام عمرو کی زبانی نقل کرتے ہیں ۔
جب ہم غزوہ احزاب سے بے نیل ومرام واپس آئے تو میں نے قریش کے ان چند سرکردہ افراد کو جمع کیا جو میری بات سنتے اور مانتے تھے ۔
میں نے ان سے کہا کہ : میں دیکھ رہا ہوں کہ محمد کا امرروز بروز ترقی کررہا
____________________
(۱):- ابن خلدون ۔کتاب العبرودیوان المبتداوالخبر ۔جلد دوم ۔ص ۱۷۷
وعبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد دوم ۔ص ۲۷۰
ہے ،میرا خیال یہ ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اگر محمد ہماری قوم پر غالب آگئے تو ہمارے لئے محمد کی غلامی کی بہ نسبت نجاشی کی غلامی ہزار گنا بہتر ہوگی اور اگر ہماری قوم محمد غالب آگئی تو ہم اپنی قوم کا ساتھ دیں گے ۔(۱)
عمرو بن العاص وہی شخص ہے جس نے عثمان بن عفان کو عبیداللہ بن عمر پر جاری کرنے سے منع کیا تھا ۔ اور انہیں کہا تھا کہ ہرمزان اور جفینہ کا بدلہ آپ پر واجب ہی نہیں ہے کیونکہ جس وقت عبیداللہ نے ان کو قتل کیا تھا اس وقت آپ حاکم نہیں تھے ۔(۲)
ہمیں عمرو بن العاص پر تعجب ہے کہ اس نے حضرت عثمان کو ہرمزان اورجفینہ کے قتل کے بدلہ سے اس لئے بری قراردیا تھا کہ جب مذکورہ افراد قتل ہوئے تو اس وقت حضرت عثمان کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی لیکن قتل عثمان کے بعد حضرت علی سے قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے میں یہ شخص پیش پیش تھا تو کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب عثمان قتل ہوئے اس وقت حضرت علی کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی ۔
عمرو بن العاص ،معاویہ کے پاس
عمرو بن العاص کے متعلق ہم سابقہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ موصوف حضرت عثمان کے شدید ترین مخالفوں میں سے ایک تھے اور اپنے ہر ملنے والے کو حضرت عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا کرتے تھے اور اپنے قول کے مطابق "میں نے جس چرواہے سے بھی ملاقات کی ۔اسے عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا ۔"
موصوف نے معاویہ بن ابی سفیان کا ساتھ مفت میں نہیں دیا تھا اس کی
____________________
(۱):- سیرت ابن ہشام ۔جلد دوم ص ۱۷۷
(۲):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد چہارم ۔ص ۸۳
باقاعدہ معاویہ سے قیمت وصول کی تھی ۔عمرو بن العاص خلیفہ ثالث کے عہد میں مصر کا گورنر تھا ۔ لیکن حضرت عثمان نے انہیں گورنری سے معزول کرکے ابن ابی سرح کو وہاں کا حاکم بنایا ۔
عمرو بن العاص کو اس پر بہت غصہ آیا اور عثمان کے ساتھ اس کی اچھی خاصی جھڑپ ہوئی اور بعد ازاں اپنی جاگیر پر آیا اس کی جاگیر فلسطین میں واقع تھی ۔وہاں اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ رہنے لگا اور مقامی آبادی کو حضرت عثمان کے خلاف ابھارتا رہا ۔ آخر کار وہ وقت آیا جس کا اسے انتظار تھا اس کو اطلاع ملی کہ حضرت عثمان مارے گئے اور حضرت علی (ع) خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے ہیں اور معاویہ نے مرکزی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہوا ہے ۔
معاویہ نے اسے اپنے ساتھ شمولیت کی دعوت دی تو اس نے مصر کی حکومت کا تحریری وعدہ لکھ کر دینے کا مطالبہ کیا ۔ معاویہ نے اسے تحریر لکھ دی کہ اگر وہ مصر پر قابض ہوا تو وہاں گورنری اس کے حوالے کرے گا ۔
اس نے اپنے دونوں بیٹوں سے اپنے مستقبل کی سیاسی زندگی کے لئے مشورہ لیا ۔ عبداللہ نے کہا کہ اگر تجھے ہر صورت حصہ لینا ہی ہے تو پھرعلی (ع)جماعت میں شامل ہو جا ۔
عمرو نے بیٹے ے کہا : اگر میں علی (ع) کی جماعت میں شامل ہوجاؤں تو مجھے وہاں سے کوئی مفاد حاصل نہیں ہوگا ۔
علی (ع) میرے ساتھ عام مسلمان کا سابرتاؤ کریں گے اور اس کے برعکس اگرمیں معاویہ کے پاس چلا گیا تو وہ میری بڑی عزت کرے گا اور اپنا مشیر خاص بنائے گا اور حسب وعدہ مصر کی حکومت بھی میرے حوالے کرے گا ۔
اس کے دوسرے بیٹے محمد نے معاویہ کے پاس جانے کا مشورہ دیا ۔ عمرو بن العاص نے اپنے بیٹے عبداللہ کے متعلق کہا کہ : تو نے مجھے آخرت سنوارنے کا
مشورہ دیا ہے اور میرے دوسرے بیٹے محمد نے مجھے دنیا سنوارنے ک مشورہ دیا ہے ۔ آخرت ادھار ہے اور دنیا نقد ہے ، عقلمند وہی ہے جو ادھار کو چھوڑ کر نقد کو اپنا ئے ۔
عمرو بن العاص ، معاویہ کے پاس آیا اور دوران ملاقات کہا کہ : معاویہ خدا لگتی بات یہی ہے کہ ہم علی (ع) سے افضل نہیں ہیں کہ اس کی مخالفت کریں ، ہم تو علی (ع) کی مخالفت حصول دنیا کی خاطر کررہے ہیں ۔(۱)
تحکیم میں معاویہ کا نمائندہ یہی عمرو بن العاص تھا ۔
حضرت علی کانمائندہ ابو موسی اشعری تھا اوروہ جب کوفہ کا والی تھا تو لوگوں کو حضرت علی (ع) کی حمایت سے منع کرتا تھا ،آخر کار حضرت علی نے مجبورا اسے معزول کردیا تھا ۔
تحکیم اور موقف علی (ع)
حضرت علی (ع) کے موقف تحکیم کو سمجھنے کے لئے تحکیم کی اصلیت وماہیت کا جاننا ضروری ہے ۔
دینی اعتبار سے پوری امت اسلامیہ کا مشترکہ عقیدہ ہے کہ باہمی مشاجرات وتنازعات کے حل کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئیے اور حضرت علی کا بھی روز اول سے یہی نظریہ تھا ۔
حضرت علی (ع) کی سیاست کی بنیاد ہی قرآن مجید پر تھی آپ نے ہمیشہ اپنوں اور غیروں سے وہی سلوک کیا جس کا قرآن حکم دیتا تھا ۔
اور اسی تمسّک بالقرآن اور عدل قرآنی پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ آپ کو چھوڑ کر مخالفین کے پاس چلے گئے تھے لیکن آپ نے عدل قرآنی کو ہمیشہ مقدّم رکھا ۔
____________________
(۱):-عباس محمود العقاد ۔"معاویہ بن ابی سفیان ۔ص ۵۳-۵۵
حضرت علی قرآن کے فیصلہ کے حامی تھے قیام صفین میں حضرت علی نے تحکیم کی مخالفت صرف اس لئے فرمائی تھی کہ دشمن قرآن کو بلند کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ۔
تحکیم کی دعوت ہی وہ افراد دے رہے تھے جنہوں نے ہمیشہ قرآن اور صاحب قرآن سے جنگیں کی تھیں اور تحکیم کی دعوت دینے والے وہ افراد تھے جنہوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن کی کبھی پیروی نہ کی تھی ۔
عمرو بن العاص نے قرآن بلند کرنے کا مشورہ اتباع قرآن کے اشتیاق میں نہیں دیا تھا بلکہ اپنی حتمی شکست سے بچنے کے لئے دیا تھا ۔
قرآن مجید بلند کرنے کےلئے پورا پروگرام رات کی تاریکی میں مکمل کیا گیا ۔ دمشق کے مصحف اعظم کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے پانچ نیزوں کے ساتھ باندھا گیا ۔ علاوہ ازیں لشکر معاویہ میں جتنے قرآن مجید کے نسخے موجود تھے ، ان سب کو یکجا کیا گیا اور نیزوں کے ساتھ باندھا گیا ۔
صبح صادق کے وقت شامی قرآن اٹھا کر عراقی لشکر کے سامنے آیا ۔ روشنی پھیلنے سے قبل عراقی لشکر کو پتا ہی نہ چل سکا کہ شامی لشکر نے کیا بلند کیا ہوا ہے ۔
جیسے ہی صبح کی روشنی پھیلی تو لشکر شام کا ایک افسر ابو الاعور السلمی گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھا ، اس نے اپنے سر پر قرآن رکھا تھا اور یہ اعلان کررہا تھا :
"اے اہل عراق ! اللہ کی کتاب تمہارے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی یہ سن کر حضرت علی نے فرمایا ۔
بندگان خدا! میں سب سے پہلے کتاب اللہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتاہوں لیکن یاد رکھو کہ یہ لوگ قرآن کی آڑ میں تمہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں اب یہ لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں اور چند حملوں کے بعد انہیں شکست فاش ہونے والی ہے
یہ لوگ قرآن بلند کرکے قضائے مبرم کو ٹالنا چاہتے ہیں ۔
ان سب حقائق کے علم کے باوجود بھی میں کتاب اللہ کو بطور حکم تسلیم کرتاہوں میں نے اہل شام سے جنگ قرآن کی حاکمیت اعلی تسلیم کرانے کے لئے کی ہے ۔(۱)
حضرت علی (ع) نے نامناسب وقت اور حالات کے باوجود بھی قرآن کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا اور ابو سفیان کے بیٹے کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا :
"بغاوت اور جھوٹ انسان کے دین ودنیا کو تباہ کردیتے ہیں اور مخالفین کے سامنے اس کے نقائص کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں اور تجھے معلوم ہوا چاہیے کہ تیرے ہاتھ سے وقت اور موقع نکل چکا ہے ۔
جب کبھی لوگوں نے ناحق دعوے کئے اور کتاب خدا کو اپنے غلط دعوی کے اثبات کے لئے پیش کیا مگر اللہ نے انہیں جھٹلایا اور آج تو نے ہمیں قرآن کی دعوت دی میں جانتا ہوں کہ اہل قرآن نہیں ہے ۔ میں نے تیری بات کو تسلیم نہیں کیا ، میں نے قرآن کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کیا ہے ۔"
حضرت علی (ع) نے ایک اور موقع پر معاویہ کو مخاطب کرکے کہا :- اللہ نے تیرے ذریعہ سے میری آزمائش کی اور میرے ذریعہ سے تیری آزمائش کی ہے ۔ہم اور مجھ سے اس چیز کا مطالبہ کیا ہے ۔جس میں میری زبان اور ہاتھ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔
تو نے اہل شام کو اپنے ساتھ ملا کر میری نافرمانی کی ۔تمہارے علما نے تمہارے جہال کو گمراہ کیا اور مخالفت کرنے والوں نے گھر بیٹھے ہوئے افراد کو میری مخالفت پر آمادہ کیا ۔(۲)
____________________
(۱):- الدینوری ۔الاخبار الطوال۔ص ۱۹۱-۱۹۲
(۲):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ۱۱۳-۱۶۰
درج بالا حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی (ع) قرآن کی حاکمیت اعلی کے خواہاں تھے لیکن جن حالات میں معاویہ نے دعوت تحکیم دی وہ حضرت علی (ع) کے لئے قابل قبول نہیں تھی اس کے علاوہ حضرت علی (ع) کو ابو موسی اشعری کے نمائندے بننے پر بھی اعتراض تھا ۔
عمرو بن العاص معاویہ کی نمائندگی کے لئے ہر طرح موزوں تھا ،جبکہ ابو موسی اشعری حضرت علی (ع) کی نمائیندگی کے لئے کسی طور بھی موزوں نہ تھا ۔مگر اہل عراق کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ نے اسے بھی بادل نخواستہ قبول کر لیا اور آپ نے یہ سوچا کہ جب حکمین فیصلہ کے لئے اکٹھے ہوں گے تو ممکن ہے کہ ابو موسی اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرلے ۔
اور آپ کا یہ خیال کہ حکمین درج ذیل نکات پر بحث کریں گے ۔
۱:- کیا حضرت عثمان ناحق قتل ہوئے ہیں ؟
۲:- کیا معاویہ کو خون عثمان کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ؟
۳:- اگر بالفرض عثمان مظلوم ہو کر مارے گئے ہیں تو اس کے خون کا بدلہ لینے کے لئے خلیفہ کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟
مگر حکمین نے اصل موضوع پر بحث ہی نہیں کی اور عمرو بن العاص نے ابو موسی کے کان میں یہ فسوں پھونکا کہ امت کی سلامتی اس میں ہے کہ دونوں کو رخصت کردیا جائے ۔ ابو موسی اشعری اپنی علی (ع) دشمنی اور سادگی کی وجہ سے عمرو بن العاص کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنستا چلا گیا اور آخر وقت تک اسے عمرو بن العاص کی چالاکی اور مکاری کا ادراک نہ ہوسکا ۔
اور عمرو بن العاص نے ایک سیدھے سادے بدو کی جہالت سے خوب فائدہ اٹھایا اور میدان میں ہاری ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ۔
حضرت علی (ع) کی مشکلات
تحکمیم کے نتیجہ میں خوارج کا ظہور ہوا ۔ خوارج کا گروہ فرومایہ اور جذباتی افراد پر مشتمل تھا ۔ جن کی نظر میں دلیل ومنطق کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔
حضرت علی (ع) کی مشکلات بیان کرتے ہوے ڈاکٹر طہ حسین رقم طراز ہیں :-
"حضرت علی (ع) کے لئے خوارج درد سر بن گئے نہروان میں تمام خوارج کا خاتمہ نہیں ہوا تھا البتہ ان کی ایک جماعت قتل ہوگئی تھی لیکن وہ ابھی کوفہ میں آپ کے ساتھ رہتے تھے اور بصرہ میں آپ کے گورنر کے ساتھ علاوہ ازیں کوفہ وبصرہ کے قرب وجوار میں پھیلے ہوئے تھے ۔
یہ خارجی نہروان میں قتل ہونے والے اپنے بھائیوں کا قصاص دل سے بھلانہ سکے تھے اور نہروان کی شکست ان کے فکر ونظر کے کسی گوشہ میں کوئی تبدیلی پیدا نہ کرسکی بلکہ اس سے ان کی قوت میں اور اضافہ ہوا اور ان کو وہ مذموم اور ہولناک طاقت بھی ملی جس کا سرچشمہ بغض ،کینہ اور انتقام کے جذبات ہیں ۔
حالات و واقعات نے ان خارجیوں کے لئے ایک محاذ اور ایک پالیسی بنادی جس سے وہ اپنی طویل تاریخ میں کبھی منحرف نہیں ہوئے۔اور وہ محاذ اور پالیسی یہ تھی کہ خلفاء کے ساتھ مکاری اور فریب کیا جائے لوگوں کو ان کے خلاف ابھاراجائے ۔کسی بات میں ان کا ساتھ نہ دیا جائے اگڑ اقتدار اور قوت نہ ہو تو اپنے مسلک کی دعوت پیدا ہوجائے تو چھپ چھپا کر یا کھلے بندوں شہر سے دور باہر نکال کر ایک جگہ جمع ہوجائیں اور مقابلہ کی صورت میں اپنی نافرمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تلواریں بے نیام کرلیں ۔
چنانچہ کوفہ میں حضرت علی کے گرد وپیش یہ لوگ مکروفریب کی کاروائیاں
کرتے رہے اور گھات میں لگے لوگوں کے خیالات اور دلوں کو پھراتے رہے ۔ آپ کے ساتھ نمازوں میں شریک ہوتے ،آپ کے خطابات اور آپ کی باتیں سنتے ،بعض اوقات خطبے اور گفتگو میں قطع کلامی بھی کرتے لیکن اس کے باوجود آپ کے انصاف سے مطمئن اور آپ کی گرفت سے بے خوف تھے ۔خوب جانتے تھ ےکہ جب تک پہل خود ان کی طرف سے نہ ہوگی ،آپ نہ ان پر ہاتھ اٹھائیں گے نہ ان کی پردہ دری کریں گے اور یہ مال غنیمت میں حصہ پاتے رہیں گے اور وقتا فوقتا جو کچھ ملتا رہے گا اس سے مقابلہ کی تیاری کریں گے ۔
حضرت علی (ع) کے اس عفو وعدل نے خارجیوں کے حوصلے بڑھا دیئے تھے ۔
آپ ان کے ارادوں سے پوری طرح باخبر اور اکثر اپنی داڑھی اور پیشانی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کرتے تھے کہ یہ ان سے رنگین ہورکر رہے گی چنانچہ جب آپ ساتھیوں کی نافرمانیوں سے اکتا جاتے تو خطبوں میں اکثر فرمایا کرتے "بد بخت نے کیوں دیر لگا رکھی ہے "
خوارج کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی آپ کے سامنے آجاتے اور بلاتردد اپنے خیالات کا اظہار کرتے چنانچہ ایک دن حریث بن راشد سامی آیا اور کہنے لگا :
خدا گواہ کہ میں نے نہ آپ کی اطاعت کی اور نہ آپ کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے فرمایا : خدا تجھے غارت کرے تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ، اپنا عہد توڑا اور اپنے آپ کو دھوکا دیتا رکہا آخر تو ایسا کیوں کرتا ہے ؟
اس برملا مخالت کے باوجود بھی حضرت علی (ع) نہ تو اس پر خفا ہوئے اور نہ ہی اسے گرفتار کیا بلکہ اسے مناظرے کی دعوت دی شاید وہ حق کی طرف لوٹ سکے ۔
اس کے بعد وہ رات کی تاریکی میں کوفہ سے لڑائی کے ارادے سے نکل گیا ۔راستے میں اس کو اور اس کے ساتھیوں کو دو آدمی ملے جن سے ان کا مذہب پوچھا گیا ۔ ان میں سے ایک یہودی تھا ۔ اس نے اپنا مذہب بتا دیا ۔ اس کو ذمّی
خیال کرکے چھوڑ دیا گیا اور دوسرا عجمی مسلمان تھا ۔جب اس نے اپنا مذہب بتایا تو اس سے حضرت علی (ع) کے بارے میں سوال پوچھا گیا ۔اس نے حضرت علی (ع) کی تعریف کی تو اس کے ساتھی اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو قتل کردیا ۔(۱)
ناکثین ، قاسطین ، اور مارقین غرضیکہ یہ تینوں گروہ حضرت علی کے مخالفین تو تھے ہی لیکن حضرت علی کو غیروں کے علاوہ اپنوں کی طوطا چشمی کی بھی شکایت تھی ۔ عبداللہ بن عباس جو حضرت علی کی طرف سے بصرہ میں گورنر تھے اور حضرت علی (ع) کے ابن عم تھے اور ان کے پاس دین ودنیا کا بھی وسیع علم تھا اور انہیں قریش میں عمومی اور بنی ہاشم میں خصوصی مقام تھا وہ بھی حضرت علی (ع) کے مخلص نہ رہے ۔
ابو الاسود ؤلی بصرہ کے بیت المال کے خازن تھے انہوں نے عبداللہ بن عباس کی طرف سے مالی بے ضابطہ گیاں ملاحظہ کیں تو انہوں نے حضرت علی (ع) کو خط لکھ کر مطلع کیا حضرت علی (ع) نے ابن عباس کو خط لکھا جس میں تحریر کیا :
"مجھے تمہارے متعلق کچھ باتیں معلوم ہوئی ہیں اگر تم نے واقعی ایسا کیا ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اپنی امانت میں خیانت کی اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور مسلمانوں کے مال میں خیانت کے مرتکب ہوئے لہذا تمہارا فرض ہے کہ اپنا حساب لے کرمیرے پاس آجاؤ اور یہ بھی جان لو کہ اللہ کا حساب لوگوں کے حساب سے سخت ہے ۔"
حضرت علی (ع) مالی بے ضابطگی کو کسی بھی صورت معاف کرنے کے عادی نہیں تھے اور مسلمانوں کے مال کے متعلق کسی مداہنت کے قائل نہیں تھے ۔
لیکن ابن عباس نے حساب دینے کے بجائے بصرہ کی گورنری کو چھوڑ دیا اور مکہ چلے گئے ،لیکن مقام افسوس تو یہ ہے کہ وہ بصرہ سے خالی ہاتھ نہیں گئے ۔
____________________
(۱):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۱۳۳
بصرہ کے بیت المال کو صاف کرکے روانہ ہوئے اور بنی تمیم نے ان سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی حالات کے تغیر کو دیکھ کر ابن عباس نے اپنے ماموؤں یعنی بن ازد کی پناہ لی ۔ اور مذکورہ مال کی وجہ سے بنی ازد اور بنی تمیم میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی ۔آخر کا ابن عباس مال لے جانے میں کامیاب ہوگئے جب کہ ابن عباس کو بخوبی علم تھا کہ یہ مال ان کا نہیں ہے ۔(۱)
دن گزر نے کے ساتھ ساتھ حضرت علی کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ، گورنروں کی جانب سے خیانت سامنے آئی اور دشمنوں کی طرف سے جفائیں سامنے آئیں مگر ان حوصکہ شکن حالات میں بھی حضرت علی نے جادہ حق سے سرمو انحراف نہ کیا اور اپنی قرآنی سیاست سے ایک انچ ہونا گوارا نہ کیا ۔ یکے بعد دیگرے مشکلات بڑھتی گئیں مگر شیر خدا نے مشکلات میں گھبرانا نہیں سیکھا تھا ۔ حضرت علی (ع) نے زندگی کے آخری نفس تک حق وصداقت کے پر چم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا اور انہوں نے ہمیشہ حق کی سربلندی کے لئے مصائب کے دریا عبور کیا یہاں تک کہ ابن ملجم لعین نے آپ کو شہید کردیا ، لیکن حضرت علی (ع) کے عدل کو ملاحظہ فرمائیں کہ اپنے قاتل کے لئے بھی حق سے ہٹنا قبول نہ کیا اور اپنی اولاد کو آخری وصیت میں ارشادفرمایا :" اپنے قیدی کو اچھا کھانا دینا ۔اگرمیں اس ضرب سے بچ گیا تو میں اپنے قصاص کا خود مالک ہوں مجھے اختیار ہوگا کہ اسے معاف کروں یا اس سے بدلہ لوں اور اگر میں شہید ہوجاؤں تو تم قاتل کو ایک ضرب سے زیادہ ضربیں نہ مارنا کیوں کہ اس نے مجھ پر ایک ضرب چلائی تھی اور قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔اللہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔"
____________________
(۱):- الفتنتہ الکبری ۔ علی وبنوہ ۔۱۲۹
فصل ہفتم
سیرت امام (ع) سے چند اقتباسات
ہم سابقہ فصول میں بہت سے واقعات کی جانب اشارہ کرچکے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امام عالی مقام کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کے کتنے شیدائی تھے اورآپ نے ہمیشہ کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کو اپنے لئے مشعل راہ بنایا تھا ۔
آپ کی صلح اور جنگ ہمیشہ احکام قرآنی کے تابع تھی اور آپ نے ہمیشہ اپنے دوستوں اور دشمنوں سے وہی سلوک کیاجس کا حکم قرآن مجید اور سنت رسول نے دیا تھا ۔
اس فصل میں ہم آپ کی سیرت کے چند ایسے گوشے اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں جنہیں عظیم مسلمان مورخین نے نقل کیا ہے ۔
آئین حکومت
درج ذیل دستاویز کو مالک اشتر نخعی کے لئے تحریر فرمایا ۔قارئین کرام سے ہم التماس کرتے ہیں کہ وہ حضرت علی (ع) کی اس دستاویز کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں کیونکہ اس خط میں آپ نے اسلام کے آئین جہانبانی کی مکمل وضاحت کی ہے ۔
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
یہ ہے وہ فرمان جس پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے خدا کے بندے علی امیر المومینن نے مالک بن حارث اشتر کو جب مصر کا انہیں والی بنایا تاکہ وہ خراج جمع کریں اور دشمنوں سے لڑیں ،رعایا کی فلاح وبہبود اور شہروں کی آبادی کا انتظام کریں ۔انہیں حکم ہے کہ اللہ کا خوف کریں ، اس کی اطاعت کو مقدّم سمجھیں اورجن فرائض وسنن کا اس نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے ،ان کا اتباع کریں کہ انہیں کی پیروی سے سعادت اور انہیں کے ٹھکرانے اور برباد کرنے سے بد بختی دامن گیر ہوتی ہے اور یہ کہ اپنے دل اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے اللہ کی نصرت میں لگے رہیں کیوں کہ خدائے بزرگ وبرتر نے ذمہ لیا ہے ،جو اس کی نصرت کرےگا اور جو اس کی حمایت کے لئے کھڑا ہوگا ، وہ عزت و سرفرازی بخشے گا ۔
اس کے علاوہ اہنین حکم ہے کہ وہ نفسانی خواہشوں کے وقت اپنے نفس کو کچلیں اور اس کی منہ زوریوں کے وقت اسے روکیں ۔کیونکہ نفس برائیوں ہی کی طرف لے جانے والا ہے مگر یہ کہ خدا کا لطف وکرم شامل حال ہو۔
اے مالک! اس بات کو جانے رہو کہ تمہیں ان علاقوں کی طرف بھیج رہا ہوں ۔جہاں تم سے پہلے عادل اور ظالم کئی حکومتیں گذر چکی اور تمہارے طرز عمل کو اسی نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے تم اپنے اگلے حکمرانوں کے طور
طریقے کو دیکھتے رہے ہو اور تمہارے بارے میں بھی وہی کہیں گے جو تم ان حکمرانوں کے بارے میں کہتے ہو۔
یہ یاد رکھو کہ خدا کے نیک بندوں کا پتہ اسی نیک نامی سے چلتا ہے جو انہیں بندگان الہی میں خدا نے دے رکھی ہے ۔ لہذا ہر ذخیرہے سے زیادہ پسند تمہیں نیک اعمال کا ذخیرہ ہونا چاہئیے تم اپنی خواہشوں پر قابو رکھو اور جو مشاغل تمہارے لئے حلال نہیں ہیں ۔ ان میں صرف کرنے سے اپنے نفس کےساتھ بخل کرو کیونکہ نفس کے ساتھ بخل کرنا ہی اس کے حق کو ادا کرنا ہے چاہے وہ خود اسے پسند کرے یا ناپسند ۔
رعایا کے لئے اپنے دل کے اندر رحم ودرافت اور لطف ومحبت کو جگہ دو اور ان کے لئے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جاؤ کہ انہیں نگل جانا غنیمت سمجھتے ہو اس لئے کہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں : ایک تو تمہارے دینی بھائی اور دوسرے تمہاری جیسی مخلوق خدا ۔ان کی لغزشیں بھی ہوں گی ۔خطاؤں سے بھی انہیں سابقہ پڑے گا اور ان کے ہاتھوں سے جان بوجھ کر بھولے چوکے سے غلطیاں بھی ہوں گی ۔تم ان سے اسی طرح عفودرگذر س کام لینا ۔جس طرح اللہ سے اپنے لئے عفودرگذر کر پسند کرتے ہو اس لئے کہ تم ان پر حاکم ہو ۔ اور تمہارے اوپر تمہارا امام حاکم ہے اور جس امام نے تمہیں والی بنایا ہے اس کے اوپر اللہ ہے اور اس نے تم سے ان لوگوں کے معاملات کی انجام دہی چاہی ہے اور ان کے ذریعہ تمہاری آزمائش کی ہے اور دیکھو خبردار ! اللہ سے مقابلہ کے لئے نہ اترنا اس لئے کہ اس کے غضبکے سامنے تم بے بس ہو ،اور اس کے عفو رحمت سے بے نیاز نہیں ہوسکتے تمہیں کسی معاف کردینے پر پچھتانا اور سزا دینے پر اترنا نہ چاہیے ۔
غصّہ میں جلد بازی سے کام نہ لو جبکہ اس کے ٹال دینے کی گنجائش ہو کبھی یہ نہ کہنا کہ میں حاکم بنایا گیا ہوں ۔لہذا میرے حکم کے آگے سر
تسلیم خم ہونا چاہیے کیونکہ یہ تصور دل میں فساد پیدا کرنے ،دین کو کمزور بنانے اور برباد دیوں کو قریب لانے کاسبب ہے ۔
اور کبھی حکومت کی وجہ سے تم میں غرور و تمکنت پید ہو تو اپنے سے بالاتر اللہ کے ملک کی عظمت کو دیکھو اور خیال کرو کہ وہ تم پر قدرت رکھتا ہے کہ جو تم خود اپنے آپ پر نہیں رکھتے ،یہ چیز تمہاری رعونت وسرکشی کو دبا دے گی ۔اور تمہاری طغیانی کو روک دےگی ۔
خبردار! کبھی اللہ کے ساتھ اس کی عظمت میں ہ ٹکرو اور اس کی شان و جبروت سے ملنے کی کوشش نہ کرو ،کیونکہ اللہ ہر جبار و سرکش کو نیچا دکھاتا ہے اور ہرمغرور کے سر کا جھکا دیتا ہے ۔
اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد سے معاملے میں حقوق اللہ کو اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہروگے اور جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتاہے تو بندوں کے بجائے اللہ اس کا حریف ودشمن بن جاتا ہے ،اور جس کا اللہ حریف ودشمن ہو ،اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا اور وہ اللہ سے بر سر پیکار رہے گا یہاں تک کہ بازآئے اور توبہ کر لے ،اور اللہ کی نعمتوں کو سلب کرنے والی ،اور اس کی عقوبتوں کو جلد بلاوا دینے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ظلم پر باقی رہا جائے کیوں کہ اللہ مظلوموں کی پکار سنتا ہے اور ظالموں کیلئے موقع کا منتظر رہتا ہے ۔
تمہیں سب طریقوں سے زیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہیئے جو حق کے لحاظ سے بہترین ،انصاف کے لحاظ سب کو شامل اور رعایا کے زیادہ سے زیادہ افراد کی مرضی کے مطابق ہو کیونکہ عوام کی ناراضگی خواص کی رضامندی کو بے اثر بنادیتی ہے اور خواص کی ناراضگی عوام کی رضامندی کے ہوتے ہوئے نظر انداز کی جاسکتی ہے ۔
اور یہ یاد رکھو ! کہ رعیت میں خواص سے زیادہ کوئی ایسا نہیں کہ جو
خوش حالی کے وقت حاکم پر بوجھ بننے والا ، مصیبت کے وقت امداد سے کتراجانے والا ، انصاف پر ناک بھوں چڑھانے والا ،طلب وسوال کے موقعہ پر پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑجانے والا ، بخشش پر کم شکر گزار ہونے ہونے والا ،محروم کردئیے جانے پر بمشکل عذر سننے والا ، اور زمانہ کی ابتلاؤں پر بے صبری دکھانے والا ہو ۔ اور دین کا مظبوط سہارا ، مسلمانوں کی قوت اور دشمن کے مقابلہ میں سامان دفاع یہی امت کے عوام ہوتے ہیں ۔
لہذا تمہاری پوری توجہ اور تمہارا پورا رخ انہی کی جانب ہونا چاہئیے اور تمہاری رعایا میں تم سے سب سے زیادہ دور اور سب سے تمہیں زیادہ ناپسند وہ ہونا چاہیئے جو لوگوں کی عیب جوئی میں زیادہ لگا رہتا ہو ۔ کیونکہ لوگوں میں عیب تو ہوتے ہی ہیں ۔ حاکم کے لئے انتہائی شایان یہ ہے کہ ان پر پردہ ڈالے لہذا جو عیب تمہاری نظروں سے اورجھل ہوں ، انہیں نہ اچھالنا ۔کیونکہ تمہارا کا م انہی عیبوں کو مٹانا ہے کہ جو تمہارے اوپر ظاہر ہوں ،اور جو چھپے ڈھکے ہوں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے ۔اس لئے جہاں تک بن پڑے ،عیبوں کو چھپاؤ تاکہ اللہ بھی تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کے جنہیں تم رعیت سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہو۔
لوگوں سے کینہ کی ہر گرہ کو کھو ل دو اور دشمنی کی ہر رسی کاٹ دو اور ہر ایسے رویہ سے جو تمہارے لئے مناسب نہیں بے خبر بن جاؤ اور چغل خور کی جھٹ سے ہاں میں ہاں نہ ملاؤ کیونکہ وہ فریب کاراہوتا ہے اگر چہ خیر خواہوں کی صورت میں سامنے آتاہے ۔
اپنے مشورہ میں کسی بخیل کو شریک نہ کرنا کہ وہ تمہیں دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے روکے گا ، اور فقرو افلاس کاخطرہ دلائے گا اور نہ کسی بزدل سے مہمات میں مشورہ لینا کہ وہ تمہاری ہمت پست کردے گا اور نہ کسی لالچی سے مشورہ کرنا کہ وہ ظلم کی راہ سے مال بٹورنے کی تمہاری نظروں میں سج دے گا ۔
یاد رکھو ! کہ بخل ،بزدلی ، اور حرص اگر چہ الگ الگ خصلتیں ہیں مگر اللہ سے بد گمانی ان سب میں شریک ہے ۔ تمہارے لئے سب سے بد تر وزیر وہ ہوگا ۔جو تم سے پہلے بد کرداروں کا وزیر اور گناہوں مں ان کا شریک رہ چکا ہے ۔ اس قسم کے لوگوں کو تمہارے مخصوصین میں سے نہ ہونا چاہئے کیونکہ وہ گنہگاروں کے معاون اور ظالموں کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کی جگہ تمہیں ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو تدبیرو رائے اور کارکردگی کے اعتبار س ان کے مثل ہوں گے مگر ان کی طرح گناہوں کی گر انباریوں میں دبے ہوئے نہ ہوں ۔جنہوں نے نہ کسی ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کی ہو اور نہ کسی گنہگار کا اس کے گناہ میں ہاتھ بٹایا ہو ۔ان کا بو جھ تم پر ہلکا ہوگا اور یہ تمہارے بہترین معاون ثابت ہوں گے اور تمہاری طرف محبت سے جھکنے والے ہوں گے اورتمہارے علاوہ دوسروں سے ربط ضبط رکھیں گے ۔ انہی تو تم خلوت وجلوت میں اپنا مصاحب خاص ٹھہرانا ۔ پھر تمہارے نزدیک ان میں زیادہ ترجیح ان لوگوں کو ہونا چاہئے کہ جو حق کی کڑوی باتیں تم سے کھل کر کہنے والے ہوں اور ان چیزوں میں کہ جنہیں اللہ اپنے مخصوص بندوں کے لئے ناپسند کرتاہے ۔ تمہاری بہت کم مدد کرنے والے ہوں چاہے وہ تمہاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں ۔پرہیزگاروں اور راست مازوں سے اپنے کو وابستہ رکھنا ۔پھر انہیں اس کا عادی بنانا کہ وہ تمہارے کسی کارنامہ کے بغیر تمہاری تعریف کرکے تمہیں خوش نہ کریں ۔کیونکہ زیادہ مدح سرائی غرور پیدا کرتی ہے اور سرکشی کی منزل سے قریب کردیتی ہے اور تمہارے نزدیک نیکوکار اور بد کردار دونوں برابر نہ ہوں ۔ اس لئے کہ ایسا کرنا نیکوں کو نیکی سے بے رغبت کرنا اور بدوں کوبدی پر آمادہ کرنا ہے ۔
ہر شخص کو اسی کی منزلت پر رکھو ،جس کاوہ مستحق ہے اور اس بات کو یاد رکھو کہ حاکم کو اپنی رعایا پر پورا اعتماد اسی وقت کرنا چاہیئے جب کہ وہ ان سے
حسن سلوک کرتا ہو اور ان پر بوجھ نہ لادے اور انہیں ایسی ناگوار چیزوں پر مجبور نہ کرے ۔جو ان کے بس میں نہ ہوں ۔
تمہیں ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئیے کہ اس حسن سلوک سے تمہیں رعیت پر پورا اعتماد ہوسکے ۔کیونکہ یہ اعتماد تمہاری طویل اندرونی الجھنوں کو ختم کردےگا اور سب سے زیادہ تمہارے اعتماد کے وہ مستحق ہیں جن کے ساتھ تم نے اچھا سلوک کیا ہو اور سب سے زیادہ اعتمادی کے مستحق وہ ہیں جن سے تمہارا برتاؤ اچھا نہ رہا ہو۔
اور دیکھو ! اس اچھے طور طریقے کو ختم نہ کرنا کہ جس پر اس امت کے بزوگ چلتے رہے ہیں اور جس سے اتحاد و یک جہتی بیدر اور رعیت کی اصلاح ہوئی ہو۔
اور ایسے طریقے ایجاد نہ کرنا جو پہلے طریقوں کو کچھ ضرر پہنچائیں اگر اینا کیا گیا تو نیک روش کے قائم کرجانے والوں کو ثواب تو ملتا رہے گا ۔مگر انہیں ختم کردینے کا گناہ تمہاری گردن پر ہوگا ۔اور اپنے شہروں کے اصلاحی امور کو مستحکم کرنے اور ان چیزوں کے قائم کرنے مں کہ جن سے اگلے لوگوں کے حالات مضبوط رہے تھ ےعلماء وحکماء کے ساتھ باہمی مشورہ اور بات چیت کرتے رہنا ۔
اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں جن کی سود و بہبود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہے ۔اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے ان میں ایک طبقہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں کام آنے والے فوجیوں کا ہے ۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو عمومی وخصوصی تحریروں کا کام انجام دیتاہے ۔ تیسرا طبقہ انصاف کرنے والے قضاۃ کا ہے ۔ چوتھا حکومت کے وہ عمال جن سے امن وانصاف قائم ہوتاہے ۔پانچواں خراج دینے والے مسلمانوں اور جزیہ دینے والے ذمیوں کا ۔چھٹا تجارت واہل حرفہ کا ۔ساتواں فقرا ء ومساکین کا وہ طبقہ ہے جو
سب سے پست ہے ۔اوراللہ نے ہر ایک کا حق معین کردیا ہے اور اپنی کتاب یا سنت نبوی میں اس کی حد بندی کردی اور وہ دستور ہمارے پاس محفوظ ہے ۔
(پہلا طبقہ) فوجی دستے یہ بحکم خدا رعیت کی حفاظت کا قلعہ وفرمان رواؤں کی زینت ،دین ومذہب کی قوت اور امن کی راہ ہیں ۔ رعیت کا نظم ونسق انہی سے قائم وہ سکتا ہے اور فوج کی زندگی کا سہارا وہ خراج ہے جو اللہ نے ان کے لئے معین کیا ہے ۔کہ جس سے وہ دشمنوں سے جہاد کرنے میں تقویت حاصل کرتے اور اپنے حالات کو درست بناتے اور ضروریات کو بہم پہنچاتے ہیں ۔پھر ان دونوں طبقوں کے نظم وبقاء کے لئے تیسرے طبقے کی ضرورت ہے کہ جو قضاہ عمال اور منشیان دفاتر کا ہے جس کے ذریعہ باہمی معاہدوں کی مضبوطی اور خراج او ردیگر منافع کی جمع آوری ہوتی ہے اور معمولی اور غیر معمولی معاملوں میں ان کے ذریعے وثوق واطمینان حاصل کیا جاتا ہے اور سب کا دارو مدار سوداگروں اور صناعوں پر سے ان کی ضروریات کو فراہم کرتے ہیں ۔بازار لگاتے ہیں اور اپنی کاوشوں سے ان کی ضروریات کو مہیا کرکے انہیں خود مہیا کرنے سے آسودہ کردیتے ہیں اس کے بعد پھر فقیروں اور ناداروں کا طبقہ ہے جن کی اعانت ودستگیری ضروری ہے اللہ تعالی نے ان سب کے گزارے کی صورتیں پیدا کر رکھی ہیں اور ہر طبقے کا حاکم پر حق قائم ہے کہ وہ ان کے لئے اتنا مہیا کرے جو ان کی حالت درست کرسکے اور حاکم خدا کےان تمام ضروری حقوق سے عہدہ بر آ نہیں ہوسکتا مگر اسی صورت میں کہ پوری طرح کوشش کرے اور اللہ سے مدد مانگے اور اپنے کو حق پر ثابت وبرقرار رکھے اور چاہے اس کی طبیعت پر آسان ہو یا دشوار بہر حال اس کو برداشت کرے ۔فوج کا سردار اس کو بنانا جو اپنے اللہ کا اور اپنے رسول کااور تمھارے امام کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہو سب سے زیادہ پاک دامن ہو ۔اور بردباری میں نمایاں ہو ۔جلد غصہ میں نہ آجاتا ہو عذر معذرت پر مطمئن ہوجاتا ہو ۔کمزوروں پر رحم کھاتا
ہو اور طاقتوں کے سامنے اکڑجاتا ہو۔ نہ بد خوئی اسے جوش میں لے آتی ہو اور نہ پست ہمتی اسے بٹھادیتی ہو،پھر ہونا چاہئے کہ تم بلند خاندان ،نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والے اور ہمت وشجاعت اور سخاوت کے مالکوں سے اپنا ربط وضبط بڑھاؤ کیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سرچشمہ ہوتے ہیں ۔پھر ان کے حالات کی اسطرح دیکھ بھال کرنا جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کی دیکھ بال کرتے ہیں ۔ اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرو کہ جوان کی تقویت کا سبب ہو تو اسے بڑا نہ سمجھنا ،اور اپنے کسی معمولی کو بھی غیر اہم نہ سمجھ لینا (کہ اسے چھوڑ بیٹھو)کیونکہ اس حسن سلوک سے ان کی خیر خواہی کا جذبہ ابھرے گا اور حسن اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس خیال سے کہ تم نے ان کی بڑی ضرورتوں کو پورا کردیا ہے ۔کہیں ان کی چھوٹی ضرورتوں سے آنکھ بندنہ کرلینا کیونکہ یہ چھوٹی قسم کی مہربانی کی بات بھی اپنی جگہ فائدہ بخش ہوتی ہے اور وہ بڑی ضرورتیں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں ۔ اور فوجی سرداروں میں تمہارے یہاں وہ بلند منزلت سمجھا جائے ،جو فوجیوں کی اعانت میں برابر کا حصہ لیتا ہو اوراپنے روپے پیسے سے اتنا سلوک کرتا ہو کہ جس سے ان کا اور ان کے پیچھے رہ جانے والے بال بچوں کا بخوبی گزار ہوسکتا ہو۔ تاکہ وہ ساری فکروں سے بے فکر ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ دشمن سے جہاد کریں ۔ اس لئے فوجی سرداروں کے ساتھ تمہارا مہربانی سے پیش آنا ان کے دلوں کو تمھاری طرف موڑدے گا ۔
حکمرانوں کے لئے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک اس میں ہے کہ شہروں میں عدل وانصاف برقرار رہے اور رعایا کی محبت ظاہر رہے اور ان کی محبت اسی وقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ جب ان کے دلوں میں میل نہ ہو اور ان کی خیر خواہی اسی صورت میں ثابت ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گرد حفاظت کیلئے گھیرا ڈالے رہیں ان کا اقتدار سر پر بو جھ نہ سمجھیں اور نہ ان کی حکومت
کے خاتمے کے لئے گھڑیاں گئیں ۔ لہذا ان کی امیدوں میں وسعت وکشش رکھنا ،انہیں اچھے لفظوں سے سراہتے رہنا اور ان میں کے اچھی کارکردگی دکھانے والوں کے کارناموں کا تذکرہ کرتے رہنا ۔اس لئے ان کے اچھے کارنا موں کا ذکر بہادروں کو جوش میں لے آتا ہے اور پست ہمتوں کو ابھارتا ہے ۔جو شخص جس کارنامے کو انجام دے اسے پہچانتے رہنا اور ایک کا کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کردینا اور اس کی حسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا اور کبھی ایسا نہ کرنا کسی شخص کی بلندی ورفعت کی وجہ سے اس کے معمولی کام کو بڑا سمجھ لو یا کسی کے بڑے کام کو اس کے خود پست ہونے کی وجہ سے معمولی قراردے لو۔
جب ایسی مشکلیں تمہیں پیش آئیں کہ جن کا حل نہ ہوسکے اور ایسےے معاملات کو جو مشتبہ ہوجائیں تو ان میں اللہ اور رسول (ص) کی طرف رجوع کرو ۔کیونکہ خدانے جن لوگوں کو ہدایت کرنا چاہی ہے ان کے لئے فرمایا ہے " اے ایماندارو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور ان کی جو تم میں صاحبان امر ہوں " تو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کتاب کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے اور رسول (ص) کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ان متفق علیہ ارشادات پر عمل کیا جائے جن میں کوئی اختلاف نہیں ۔
پھر یہ کہ لوگ معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمھارے نزدیک تمھاری رعایا میں سب سے بہتر ہو جو واقعات کی پیچید گیوں سے ضیق میں نہ پڑجاتا ہو ۔اور نہ جھگڑا کرنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو ۔نہ اپنے کسی غلط نقطہ نظر پر اڑتا ہو ۔نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتاہو نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھک پڑتا ہو ، اور ہ بغیر پوری طرح چھان بین کئے ہوئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتاہو ۔شک وشبہ کے موقعہ پر قدم روک لیتا ہو اور دلیل وحجت کو سب سے زیادہ
اہمیت دیتاہو ۔ فریقین ک بخشا بخشی سے اکتا نہ جاتا ہو ۔معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر وضبط سے کام لیتاہو ۔ اور جب حقیقت آئینہ ہوجاتی ہو تو بے دھڑک کردے ۔اگر چہ ایسے لوگ کم ملتے ہیں ۔ پھر یہ کہ تم خود ان کے فیصلوں کابار بار جائزہ لیتے رہنا ۔دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جو ان کے ہر عذر کو غیر مسموع بنا دے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج ن رہے ۔اپنے ہاں انہیں ایسے باعزت مرتبہ پر رکھو کہ تمہارے دربار میں لوگ انہیں ضرر پہنچانے کاکوئی خیال نہ کرسکیں ،تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں ک سازش سے محفوظ رہیں ۔
اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا ۔ کیونکہ (اس سے پہلے ) یہ دین بدکرداروں کے پنجے کا اسیر رہ چکا ہے جس میں نفسانی خواہشوں کی کارفائی تھی ۔اور اسے دنیا طلبی کا ذریعہ بنایا گیا تھا ۔
پھر اپنے عہدہ داروں کے بارے میں نظر رکھنا ۔ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا ۔کبھی صرف رعایا اور جانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطانہ کرنا اس لئے کہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سرچشمہ ہیں ۔اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ اور غیرت مند ہوں ۔ ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کے سلسلہ میں پہلے سے ہوں ۔کیوں کہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں ،حرص وطمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب ونتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا ۔کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مددملےگی اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے جو ان کے ہاتھوں میں بطور امانت ہوگا ۔ اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم ک خلاف ورزی یا امانت میں رخنہ اندازی کریں تم تمہاری حجت ان پر قائم ہوگی ،پھر ان کے کاموں کو دیکھتے بھالتے رہنا اور سچے اور وفادار مخبروں کو ان پر
چھوڑ دینا ، کیونکہ خفیہ طورپر ان کے امور کی نگرانی انہیں امانت کے برتنے اور رعیت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کا باعث ہوگی ۔ خائن مددگاروں سے اپنا بچاؤ کرتے رہنا ۔اگر ان میں سے کوئی خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور متفقہ طورپر جاسوسوں کی اطاعات تم تک پہنچ جائیں ۔ تو شہادت کے لئے بس اسے کافی سمجھنا ۔اسے جسمانی طور پر سزا دینا اور جو کچھ اس نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمیٹا ہے ۔اسے واپس لے لینا اور اسے ذلت کی منزل پر کھڑا کردینا ۔اور خیانت کی رسوائیوں کے ساتھ اسے روشناس کرانا اور ننگ ورسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا ۔
مال گزاری کے معاملہ میں مال گزاری کا مفاد پیش نظررکھنا ،کیونکہ باج اور باج گزاروں کی بدولت دوسروں کے حالات درست کئے جاسکتے ہیں ۔سب اسی خراج اور خراج دینے والوں کے سہارے پر جیتے ہین اور خراج کی جمع آوری سے زیادہ زمین کی آبادی کا خیال رکھنا ۔کیونکہ خراج بھی تو زمین کی آبادی سے حاصل ہوتا ہے ۔اور جو آباد کئے بغیر خراج چاہتا ہے وہ ملک کی بربادی اور بندگان خدا کی تباہی کا سامان کرتا کہے اور اس کی حکومت تھوڑے دنوں سے زیادہ نہیں رہ سکتی ۔
اب اگر وہ خراج کی گراں باری یا کسی آفت ناگہانی یا نہری و بارانی علاقوں میں ذرائع آپ پاشی کے ختم ہونے یا زمین کے سیلاب میں گھر جانے یا سیرابی کے نہ ہونے کے باعث اس کے تباہ ہونے کی شکایت کریں تو خراج میں اتنی کمی کر دو جس سے تمہیں ان کے حالات سدھر نے کی توقع ہو ۔اور ان کے بوجھ کو ہلکا کرنے سے تمہیں گرانی محسوس نہ ہو ۔کیونکہ انہیں زیرباری سے بچانا ایک ایسا ذخیرہ ہے کہ جو تمہارے ملک کی آبادی اور تمہارے قلم رو حکومت کی زیب وزینت کی صورت میں تمہیں پلٹادیں گے ارو اس کے ساتھ تم ان سے
خراج تحسین اور عدل قائم کرنے کی وجہ سے بے پایاں مسرت بھی حاصل کر سکو گے ۔ اور اپنے اس حسن سلوک کی وجہ سے کہ جس کا ذخیرہ تم نے ان کے پاس رکھ دیا ہے تم (آڑے وقت پر)ان کی قوت کے بل بوتے پر بھروسہ کرسکوگے ۔ اور رحم ورافت کے جلو میں جس عادلانہ سیرت کا تم نے انہیں خو گر بنایا ہے اس کے سبب سے تمہیں ان پر وثو ق و اعتماد ہوسکے گا ۔
اس کے بعد ممکن ہے کہ ایسے حالات بھی پیش آئیں کہ جس میں تمہیں ان پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہو تو وہ انہیں بطیب خاطر جھیل لے جائیں گے کیوں کہ ملک آباد ہے تو جیسا بو جھ ان پر لادوگے ،وہ اٹھالے گا " اور زمین کی تباہی اس سے آتی ہے کہ کاشت کارواں کے ہاتھ تنگ ہوجائیں اور ان کی تنگ دستی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ حکام مال ودولت کے سمٹنے پر تل جاتے ہیں اور انہیں اپنے اقتدار کے ختم ہونے کا کھٹکا لگا رہتا ہے اور عبرتوں سے بہت کم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔
پھر یہ کہ اپنے منشیان دفاتر کی اہمیت پرنظر رکھنا ۔اپنے معاملات ان کے سپرد کرنا جو ان میں سے بہتر ہوں اور اپنے ان فرامین کو جن میں مخفی تدابیر اور (مملکت کے ) اسرار ورموز درج ہوتے ہیں خصوصیت کے ساتھ ان کے حوالے کرنا جو سب سے اچھے اخلاق کے مالک ہوں ۔جنہیں اعزاز کا حاصل ہونا سرکش نہ بنائے کہ وہ بھری محفلون میں تمہارے خلاف کچھ کہنے کی جرات کرنے لگیں اور ایسے بے پروانہ ہو کہ لین دین کے بارے میں جو تم سے متعلق ہوں تمہارے کارندوں کے خطوط تمہارے سامنے پیش کرنے اور ان کے مناسب جوابات روانہ کرنے میں کوتاہی کرتے ہوں اور وہ تمہارے حق میں جو معاہدہ کریں اس میں کوئی خامی نہ رہنے دیں اور نہ تمہارے خلاف کسی سازباز کا توڑ کرنے میں کمزور ی دکھائیں اور وہ معاملات میں اپنے صحیح مرتبہ اور مقام سے ناآشنا نہ ہوں کیونکہ جو اپنا صحیح مقام
نہیں پہنچانتا وہ دوسروں کے قدرو مقام سے بھی زیادہ واقف ہوگا ۔ پھر یہ کہ ان کا انتحاب تمہیں اپنی فراست ،خوش اعتمادی اور حسن ظن کی بنا پر نہ کرنا چاہیئے ۔کیونکہ لوگ تصنع اور حسن خدمات کے ذریعہ حکمرانوں کی نظروں میں سما کر تعارف کی راہیں نکال لیا کرتے ہیں ۔حالانکہ ان میں ذرا بھی خیر خواہی اور امانت داری کا جذبہ نہیں ہوتا لیکن تم انہیں ان خدمات سے پر کھو ،جو تم سے پہلے وہ نیک حاکموں کے ماتحت وہ کر انجام دےچکے ہوں توجو عوام میں نیک نام اور امانت داری کے اعتبار سے زیادہ مشہور ہوں ان کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ کرو اس لئے کہ ایسا کرنا اس کی دلیل ہوگا کہ تم اللہ کے مخلص اور اپنے امام کے خیرخواہ ہو ۔تمہیں محکمہ تحریر کے ہر شعبہ پر ایک ایک افسر مقرر کرنا چاہیئے جو اس شعبے کے بڑے سے بڑے کام سے عاجز نہ ہو اور کام کی زیادتی س بوکھلا نہ اٹھے ۔
یاد رکھو ! ان منشیوں میں جو بھی عیب ہوگا ۔اور تم اس سے آنکھ بند رکھو گے تو اس کی ذمے داری تم پر ہوگی ۔
پھر تمہیں تاجروں اور صناعوں کے خیال اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ہدایت کی جاتی ہے اور تمہیں دوسروں کو ان کے متعلق ہدایت کرنا ہے خواہ وہ ایک جگہ رہ کر بیوپار کرنے والے ہوں یا پھیری لگا کر بیچنے والے ہوں یا جسمانی مشقت (مزدوری یا دستکاری ) سے کمانے والے ہوں کیوں کہ یہی لوگ منافع کا سرچشمہ اور ضروریات کے مہیا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔
یہ لوگ ان ضروریات کو خشکیوں ،تریوں ،میدانی علاقوں اور پہاڑوں ایسے دور اقتادہ مقامات س درآمد کرتے ہیں اور ایسی جگہوں سے جہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے او ر نہ وہاں جانے کی ہمت کرسکتے ہیں ۔
یہ لوگ امن پسند اور صلح جو ہوتے ہیں ۔ ان سے کسی فساد اور شورش کا اندیشہ نہیں ہوتا ۔یہ لوگ تمہارے سامنے یا جہاں جہاں دوسرے شہروں میں
پھیلے ہوئے ہوں ۔تم ان کی خبر گیری کرتے رہنا ۔ ہاں اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو انتہائی تنگ نظر اور بڑے کنجوس ہوتے ہیں جو نفع اندوزی کے لئے روک رکھتے ہین اور اونچے نرخ معین کرلیتے ہیں ۔ یہ چیز عوام کے لئے نقصان دہ اور حکام کے لئے بدنامی کا باعث ہوتی ہے ۔ لہذا ذخیرہ اندوزی سے منع کرنا کیونکہ رسول خدا (ص) نے اس کی ممانعت فرمائی ہے اور خرید وفروخت صحیح ترازوؤں اور مناسب نرخوں کے ساتھ بسہولت ہونا چاہئے کہ نہ بیچنے والے کا نقصان ہو اور نہ خرید نے والے کا خسارہ ہو۔
اس کے بعد بھی کوئی ذخیرہ اندوزی کرے جرم کا مرتکب ہو تو اسے مناسب حد تک سزا دینا ۔پھر خصوصیت کے ساتھ اللہ کا خوف کرنا ۔پسماندہ اور افتادہ طبقہ کے بارے میں ۔جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا ۔وہ مسکینوں ،محتاجوں ،فقیروں اور معذوروں کا طبقہ ہے ان میں کچھ تو ہاتھ پھیلا کرمانگنے والے ہوتے ہیں اور کچھ صورت سوال ہوتی ہے ۔اللہ کی خاطر ان بے کسوں کے بارے میں اس کے اس حق کی حفاظت کرنا جس ک اس نے تمہیں ذمہ دار بنایا ہے ۔
ان کے لئے ایک حصہ بیت المال سے معین کردینا اور ایک حصہ ہر شہر کے اس غلہ سے دینا جو اسلامی غنمیت کی زمینوں سے حاصل ہواہو ۔کیونکہ اس میں دور والوں کا اتنا ہی حصہ ہ ےجتنا نزدیک والوں کا ہے اور تم ان سب کے حقوق کی نگہداشت کے ذمہ دار بنائے گئے ہو ۔
لہذا تمہیں دولت کی سرمستی ان سے غافل نہ کردے ۔کیونکہ کسی معمولی بات کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جائے گا کہ تم نے بہت سے اہم کاموں کو پورا کردیا ہے ۔ لہذا اپنی توجہ ان سے نہ ہٹانا اور نہ تکبر کے ساتھ ان کی طرف سے اپنا رخ پھیرنا اور خصوصیت کے ساتھ ایسے افراد کی خبر رکھو جو تم تک نہیں پہنچ سکتے ۔
جنہیں آنکھیں دیکھنے سے کراہت کرتی ہے ہوں گی اور لوگ انہین حقارت سے ٹھکراتے ہوں گے ۔تم ان کے لئے اپنے کسی بھروسے کے آدمی کو جو خوف خدا رکھنے والا اور متواضع ہو ۔مقرر کرنا کہ وہ ان کے حالات تم تک پہنچاتا رہے ۔ پھر ان کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا جس سے قیامت کے روز اللہ کےسامنے حجّت پیش کرسکو ۔کیونکہ رعیت میں دوسروں س زیادہ یہ انصاف کے محتاج ہیں اور یوں تو سب ہی ایسے ہیں کہ تمہیں ان کے حقوق سے عہدہ برآ ہو کر اللہ کے سامنے سرخرو ہونا ہے ۔
اور دیکھو یتیموں اور سال خوردہ بوڑھوں کا خیال رکھنا کہ جو نہ کوئی سہارا رکھتے ہیں اور نہ سوال کے لئے اٹھتے ہیں اور یہی کام ہے جو حکام پر گراں گزرا کرتاہے ۔ہاں خدا ان لوگوں کے لئۓ جو عقبی کے طلب گار ہوتے ہیں اس کی گرانیوں کو ہلکا کردیتا ہے ۔ وہ اسے اپنی ذات پر جھیل لے جاتے ہیں اور اللہ نے جو ان سے وعدہ کیا ہے اس کی سچائی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔
اور تم اپنےاوقات کا ایک حصہ حاجب مندوں کے لئے معین کردینا جس میں سب کام چھوڑ کر انہی کے لئے مخصوص ہوجانا انو ان کے لئے ایک عام دربار کرنا اور اس میں اپنے پیدا کرنے والے اللہ کے لئے تواضع وانکساری سے کام لینا اور اس موقع پر فوجیوں ۔نگہبانوں اور پولیس والوں کو ہٹا دینا تاکہ کہنے والے بے دھڑک کہہ سکیں ۔کیوں نکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کئی موقعوں پر فرماتے سنا ہے کہ " اس قوم میں پاکیزگی نہیں آسکتی جس میں کمزوروں کو کھل کر طاقتوروں سے حق نہیں دلایا جاتا "
پھر یہ کہ ان کے تیور بگڑیں یا صاف صاف مطلب نہ کہہ سکیں تو اسے برداشت کرنا اور تنگ دلی اور نخوت کو ان کے مقابلہ میں پاس نہ آنے دینا ۔اس کی وجہ سے اللہ تم پر اپنی رحمت کے دامنوں کو پھیلا دے گا اور اپنی فرماں برداری
کا تمہیں ضرور اجر دے گا اور جو حسن سلوک کرنا اس طرح کہ چہرے پر شکن نہ آئے اور نہ دینا تو اچھے طریقے سے عذر خواہی کرلینا ۔پھر کچھ امور ایسے ہیں جو خود تم ہی کو انجام دینا چاہئیں ۔
ان میں سے ایک حکام کے ان مراسلات کاجواب دینا ہے جو تمہارے منشیوں کے بس میں نہ ہوں اور ایک لوگوں کی حاجتیں جب تمہارے سامنے پیش ہوں اور تمہارے عملہ کے ارکان ان سے جی چرائیں ،تو خود انہیں انجام دینا ہے ۔ روز کا کام اسی روز ختم کردیا کرو ۔ کیوں کہ ہر دن اپنے ہی کام کے لئے مخصوص ہوتا ہے اور اپنے اوقات کا بہتر اور افضل حصہ اللہ کی عبادت کے لئے خاص کردینا ۔
ان مخصوص اشغال میں سے کہ جن کے ساتھ تم خلوص کے ساتھ اللہ کے لئے اپنے دینی فریضہ کو ادا کرتے ہو ان واجبات کی انجام دہی ہوناچاہئیے جو اس کی ذات س مخصوص ہیں ۔ تم شب وروز کے اوقات میں اپنی جسمانی طاقتوں کا کچھ حصہ اللہ کے سپرد کردو اورجو عبادت بھی تقرب الہی کی غرض سے بجا لانا وہ ایسی ہو کہ نہ اس میں کوئی خلل ہو ، اور نہ کوئی نقص ۔چاہے اس میں تمہیں کتنی جسمانی زحمت اٹھانا پڑے ۔
اور دیکھو ! جب لوگوں کو نماز پڑھانا تو ایسی نہیں کہ (طول دے کر) لوگوں کو بے زاری کردو اور نہ ایسی مختصر کہ نماز برباد ہوجائے ۔اس لئے کہ نمازیوں میں بیمار بھی ہوتے ہیں اور ایسے بھی جنہیں کوئی ضرورت پیش ہوتی ہے ۔
چنانچہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف روانہ کیا تو میں نے آپ سے دریافت کیا کہ انہیں نماز کس طرح پڑھاؤں ؟ تو فرمایا کہ جیسی ان میں کے سب سے زیادہ کمزور و ناتواں کی نماز ہوسکتی ہے اور تمہیں مومنوں کے حال پر مہربان ہونا چاہئیے ۔
اس کے بعد یہ خیال کہ رعایا سے عرصہ تک روپوشی اختیار نہ کرنا ، کیونکہ حکمرانوں کا رعایا سے چھپ کر رہنا ایک طرح کی تنگ دلی اور معاملات سے بے خبر رہنے کا سبب ہے اور یہ روپوشی انہیں بھی ان امور پر مطلع ہونے سے روکتی ہے کہ جن سے وہ ناواقف ہیں ۔ جس کی وجہ سے بڑی چیز ان کی نگاہ میں چھوٹی اور چھوٹی چیز بڑی ، اچھائی برائی اور برائی اچھائی ہوجایا کرتی ہے اور حق وباطل کے ساتھ مل جل جاتا ہے اور حکمران بھی آخر ایسا ہی بشر ہوتا ہے وہ بھی ان معاملات سے ناواقف رہے گا جو لوگ پوشیدہ رکھیں گے اور حق کی پیشانی پر کوئی نشان تو ہوا نہیں کرتے کہ جس کے ذریعے سے جھوٹ سے سچ کی قسموں کو الگ کر کے پہچان لیا جائے اور پھر تم دوہی طرح کےآدمی ہوسکتے ہو ۔ یا تو تم ایسے ہو کہ تمہارا نفس حق کی ادائیگی کے لئے آمادہ ہے تو پھر واجب حقوق اداکرنے اور اچھے کا م کرگزرنے سے منہ چھپانے کی ضرورت کیا ؟ اور یا تم ایسے ہو کہ لوگوں کو تم سے کورا جواب ہی ملنا ہے تو جب تمہاری عطا سے مایوس ہوجائیں گے تو خود ہی بہت جلد تم سے مانگنا چھوڑدیں گے اور پھر یہ کہ لوگوں کی اکثر ضرورتیں ایسی ہوں گی جن سے تمہاری جیب پر کوئی بار نہیں پڑتا ۔جیسے کسی کے ظلم کی شکایت یا کسی معاملے میں انصاف کا مطالبہ ۔
اس کے بعد معلوم ہونا چاہئے کہ حکام کے کچھ خواص اور سرچڑھے لوگ ہوا کرتے ہیں ۔ جن میں خود غرضی ،دست درازی اور بد معاملگی ہواکرتی ہے ۔ تم کو ان حالات کے پید ا ہونے کی وجوہ ختم کرکے اس گندے مواد کو ختم کردینا چاہئے ۔
اور دیکھو! اپنے کسی حاشیہ نشین اور قرابت دار کو جاگیر نہ دینا اور اسے تم سے توقع نہ بندھا چائیے ۔کسی ایسی زمین پر قبضہ کرنے کی جو آبپاشی یا کسی مشترکہ معاملہ میں اس کے آس پاس لوگوں کے لئے ضرر کا باعث ہو یوں کہ اس کا بوجھ دوسرے پر ڈال دے ۔اس صورت میں اس کے خوش گوار مزے تو
اس کے لئے ہوں گے نہ تمہارے لئے ۔مگر اس کا بدنما دھبہ دنیا وآخرت میں تمہارے دامن پر رہ جائے گا ۔
اور جس پر جو حق عائد ہوتا ہو ، اس پر اس حق کو نافذ کرنا چاہئے ۔وہ تمہارا اپنا ہو یا بیگانہ ہو اور اس کے بارے میں تحمل سے کام لینا اور ثواب کے امید وار رہنا ،چاہئے اس کی زد تمہارے کسی قریبی عزیز یا کسی مصاحب خاص پر کیسی ہی پڑتی ہو اور اس میں تمہاری طبیعت کو جو گرانی محسوس ہو ، اس کے اخروی نتیجہ کو پیش نظر رکھنا کہ اس کا انجام بہرحال اچھا ہوگا ۔
اگر رعیت کو تمہارے بارے میں کبھی یہ بد گمانی ہوجائے کہ تم نے اس پر ظلم وزیادتی کی ہے تو اپنے عذر کو واضح طور پر پیش کرو اور عذر کرکے ان کے خیالات کو بدل دو ۔اس سے تمہارے نفس کی تربیت ہوگی اور رعایا پر مہربانی ثابت ہوگی ۔ اور اس عذر آوری سے ان کو حق پر استوار کرنے کا تمہارا مقصد پورا ہوگا۔ اگر دشمن ایسی صلح میں تمہارے لشکر کے لئے آرام وراحت اور خود تمہارے لئے فکر وں سے نجات اور شہروں کے لئے امن کا سامان ہے ۔ لیکن صلح کے بعد دشمن سے چوکنا اور خوب ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دشمن قرب حاصل کرتا ہے تاکہ تمہاری غفلت سے فائدہ اٹھائے ۔ لہذا احتیاط کو ملحوظ رکھو اور اس بارے میں حسن ظن سے کام نہ لو اور اگر اپنے اور دشمن کے درمیان کوئی معاہدہ کرو ، یا اسے اپنے دامن میں پناہ دو تو اپنی جان کو سپر بنادو ۔کیونکہ اللہ کے فرائض میں سے ایفائے عہد کی ایسی کوئی چیز نہیں کہ جس کی بناء پر دنیا اپنے الگ الگ نظریوں اور مختلف رایوں کے باوجود یک جہتی سے متفق ہو ۔ اور مسلمانوں کے علاوہ مشرکوں تک نے اپنے درمیان معاہدوں کی پابندی کی
ہے اس لئے عہد شکنی کے نتیجہ میں انہوں نے تباہویں کا انداز کیا تھا ۔ لہذا اپنے عہد وپیمان میں غداری اور قول وقرار میں بدعہدی نہ کرنا اور اپنے دشمن پر اچانکہ حملہ نہ کرنا ۔ کیونکہ اللہ پر جراءت جاہل بدبخت کے علاوہ دوسرا نہیں کرسکتا اللہ نے عہد وپیمان کی پابندی کو امن کا پیغام قراردیا ہے کہ جسے اپنی رحمت سے بندوں میں عام کردیا ہے اور ایسی پناہ گاہ بنا یا ہے کہ جس کے دامن حفاظت میں پناہ لینے اور اس کے جوار میں منزل کرنے کے لئے وہ تیزی سے بڑھتے ہیں ۔ لہذا اس میں کوئی جعل سازی ،فریب کاری اور مکاری نہ ہونا چاہیے اورایسا کوئی معاہدہ سرے سے ہی نہ کرو جس میں تاویلوں کی ضرورت پڑنے کا امکان ہو اور معاہدہ کے پختہ اور طے ہوجانے کے بعد اس کے کسی مبہم لفظ کے دوسرے معنی نکال کر فائدہ اٹھا نے کی کوشش نہ کرو اور اس عہد وپیمان خداوندی میں کسی دشواری کا محسوس ہونا تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہونا چاہئے کہ تم اسے ناحق منسوخ کرنے کی کوشش کرو ۔ کیونکہ ایسی دشواریوں کو جھیل لے جانا کہ جن سے چٹکارے کی اور انجام بخیر ہونے کی امید ہو ۔اس بد عہد ی کرنے سے بہتر ہے جسکے برے انجام کا تمہیں خوف اور اس کاا ندیشہ ہو کہ اللہ کے یہاں تم سے اس پر کوئی جواب دہی ہوگی اور اس طرح تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی ہوگی ۔
دیکھو ! ناحق خونریزیوں سے دامن بچائے رکھنا کیونکہ عذاب الہی سے قریب اور پاداش کے لحاظ سے سخت اور نعمتوں کے سلب ہونے اور عمر کے خاتمے کا سبب ناحق خونریزی سے زیادہ کوئی شے نہیں ہے ۔
قیامت کے دن سبحان سب سے پہلے جو فیصلہ کرے گا وہ انہیں خونوں کا ہوگا جو بندگان خدا نے ایک دوسرے کے بہائے ہیں ۔ لہذا خون ناحق بہا کراپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ چیز اقتدار کو کمزور اور کھوکھلا کردینے والی ہوتی ہے بلکہ اس کو بنیادوں سے ہلا کر دوسروں کو
سونپ دینے والی ۔اور جان بوجھ کر قتل کے جرم میں اللہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر چل سکے گا نہ میرے سامنے ،کیونکہ اس میں قصاص ضروری ہے ،اور اگر غلطی سے تم اس کے مرتکب ہوجاؤ اور سزا دینے میں تمہارا کوڑا یا تلوار یا ہاتھ حد سے بڑھ جائے اس لئے کہ کبھی گھونسا اور اس سے بھی چھوٹی ضرب ہلاکت کا سبب ہو جایا کرتی ہے تو ایسی صورت میں اقتدار کے نشہ میں بے خود ہو کر مقتول کا خون بہا اس کے وارثوں تک پہنچانے میں کوتا ہی نہ کرنا ۔
اور دیکھو! خود پسندی سے بچنے رہنا اور اپنی جو باتیں معلوم ہوں ان پر نہ اترانا اور نہ لوگوں کے بڑھاچڑھا کر سراہنے کو پسند کرنا ۔کیونکہ شیطان کو جو مواقع ملاکرتے ہیں ،ان میں یہ سب سے زیادہ اس کے نزدیک بھروسے کا ذریعہ ہے کہ وہ اس طرح نیکو کاروں کی نیکیوں پر پانی پھیر دے اور رعایا کے ساتھ نیکی کرکے کبھی احسان نہ جتانا اور جو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اسے زیادہ نہ سمجھنا اور ان سے وعدہ کرکے بعد میں وعدہ خلافی نہ کرنا ۔کیونکہ احسان جتانا نیکی کو اکارت کردیتا ہے اور اپنی بھلائی کو زیادہ خیال کرنا حق کی روشنی ختم کردیتا ہے اور وعدہ خلافی سے اللہ بھی ناراض ہوتاہے اور بندے بھی چنانچہ اللہ تعالی خود فرماتا ہے ۔
"خدا کے نزدیک یہ بڑی ناراضی کی چیز ہے کہ تم جو کہو اسے کرو نہیں ۔"
اور دیکھو ! وقت سے پہلے کسی کام میں جلد بازی نہ کرنا اور جب اس کا موقع آجائے تو پھر کمزوری نہ دکھانا اور جب صحیح صورت سمجھ میں نہ آئے تو اس پر اصرار نہ کرنا ۔ اور جب طریق کا ر واضح ہوجائے تو پھر سستی نہ کرنا ۔مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھو اور ہر کام کو اس کے موقع پر انجام دو ۔
اور دیکھو! جن چیزوں میں سب لوگوں کا حق برابر ہوتا ہے ۔اسے اپنے لئے مخصوص نہ کرلینا اور قابل لحاظ حقوق سے غفلت نہ برتنا جو نظروں کے سامنے نمایاں ہوں ۔کیونکہ دوسروں کے لئے یہ ذمہ داری تم پر عائد ہے اور مستقبل قریب
میں تمام معاملات سے پردہ ہٹادیا جائے گا اور تم سے مظلوم کی داد خواہی کرلی جائے گی ۔
دیکھو! غضب کی تندی ،سرکشی کے جوش ،ہاتھ کی جنبش اور زبان کی تیزی پر ہمیشہ قابو رکھو، اور ان چیزوں سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ جلد بازی سے کام نہ لو اور سزا دینے میں دیر کرو ۔ یہاں تک کہ تمہارا غصہ کم ہوجائے اور تم اپنے اوپر قابو اور کبھی یہ بات تم اپنے نفس میں پورے طورپر پیدا نہیں کرسکتے جب تک اللہ کی طرف بازگشت کو یاد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ان تصورات کو قائم نہ رکھو ۔
اور تمہیں لازم ہے کہ گزشتہ زمانے کی چیزوں کویاد رکھو ۔خواہ کسی عادل حکومت کا طریق کا ر ہو ، یا کوئی اچھا عمل درآمد ہو ۔ یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث ہو یا کتاب اللہ میں درج شدہ کوئی فریضہ ہو ۔ تم ان چیزوں کی پیروی کرو جن پر عمل کرتے ہوئے ہمیں دیکھا ہے اور ان ہدایات پر عمل کرتے رہنا جو میں نے اس عہد نامہ میں درج کی ہیں اور ان کے ذریعہ سے میں نے اپنی حجت تم پر قائم کردی ہے ۔تاکہ تمہارا نفس اپنی خواہشات کی طرف بڑھے تو تمہارے پاس کوئی عذر نہ ہو ۔اورمیں اللہ تعالی سے اس کی وسیع رحمت اور ہرحاجت کے پورا کرنے پر عظیم قدرت کا واسطہ دے کر اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں اس کی توفیق بخشے جس میں اس کی رضا مندی ہے کہ ہم اللہ کے سامنے اور اس کے بندوں کے سامنے ایک کھلا ہوا عذر قائم کرکے سرخرو ہوں اور ساتھ ہی بندوں میں نیک نامی ملک میں اچھے اثرات اور اس کی نعمتوں میں فراوانی اور اروز افزوں عزت کو قائم رکھیں ۔اور یہ میرا اور تمہارا خاتمہ سعادت اور شہادت پر ہو ۔بے شک ہمیں اس کی طرف پلٹنا ہے ۔
والسلام علی رسوله صلّی الله علیه وآله والطیّبین الطاهرین وسلّم تسلیما کثیرا والسلام
قارئین کرام!
آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے عہد نامہ کا مطالعہ فرمایا ۔اس عہد نامہ کو اسلام کا دستور اساس کہا جاتا ہے یہ اس ہستی کاترتیب دیا ہوا ہ ےجو قانون الہی کا سب سے بڑا واقف کار اور سب سے زیادہ اس پر عمل پیرا تھا ۔ ان اوراق سے امیرا لمومینن کے طرز جہانبانی کا جائزہ ل ےکہ یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پیش نظر صرف قانون الہی کا نفاذ اور اصلاح معاشرت تھا ۔ نہ امن عامہ میں خلل ڈالنا نہ لوٹ کھسوٹ سے خزانوں کا منہ بھرنا اور نہ توسیع سلطنت کے لئے جائزہ و ناجائز مسائل سے آنکھ بند کرکے سعی وکوشش کرنا ان کا مقصود تھا۔
بیت المال اور علی (ع)
حضرت علی علیہ السلام بیت المال کے معاملہ میں انتہائی حساس تھا ۔ انہوں نے بیت المال کو ہمیشہ مسلمانوں کامال تصور کیا اور اپنے ذاتی تصرف میں اسے کبھی نہ لائے ۔
سابقہ اوراق میں ہم حضرت عقیل کا واقعہ بیان کرچکے ہیں ۔حضرت علی نے اپنے سگے بھائی کو ان کے حق سے زیادہ ایک درہم دینا بھی گوارا نہ فرمایا ۔ اور شہید کے لئے اپنے فرزند کو نصیحت فرمائی ۔
درج بالا واقعات کے علاوہ اور واقعات بھی بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
ہارون بن عنترہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے موسم سرما میں مقام خورنق پر علی علیہ السلام کو دیکھا ۔انہوں نے بوسیدہ لباس پہنا ہوا تھا اور سردی کی وجہ سے کانپ رہے تھے ۔میں نے ان سے کہا ۔
امیر المومنین ! بیت المال میں اللہ نے آپ کا اور آپ کے خاندان کا حصہ رکھا ہے مگر اس کے باوجود آپ نے کوئی گرم چادر تک نہیں خریدی جو آپ
کو سردی کی شدت سے بچائی ؟
میرے الفاظ سن کر حضرت علی نےفرمایا ۔میں اس میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا میں یہ معمولی چادر مدینہ سے لے کر آیا تھا(۱) ۔
حضرت علی (ع) نے کوفہ کے دارالامارہ میں قیام نہیں کیا تھا ۔انہوں نےایک کچے مکان میں رہائش اختیار کی تھی اور دارالامارہ میں غرباء کو رہائش دی تھی اور آپ نے کپڑے اور غذا خریدنے کے لئے کئی مرتبہ اپنی تلوار فروخت کی تھی ۔ عقبہ بن علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں علی کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں خشک روٹی کا ٹکڑا کھاتے ہو ئے دیکھا ۔ میں نے کہا ۔:
امیر المومنین ! آپ روٹی کے خشک ٹکڑے کھارہے ہیں ؟
آپ نے فرمایا : ابو الجنوب ! رسول خدا اس سے بھی زیادہ سوکھی روٹی کھایا کرتے تھے اور میرے کپڑوں کی بہ نسبت زیادہ کھردرے کپڑے پہنا کرتے تھے اور اگر میں نے حضور اکرم کے طریقہ کو چھوڑ دیا تو ڈر ہے کہ میں ان سے بچھڑ جاؤں گا ۔(۲)
ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ علی کے پاس اصفہان سے مال لایا گیا تو آپ نے اس کے سات حصے کئے اور اس کے بعد قرعہ اندازی کی کہ پہلے حصہ کسے دیا جائے(۳) ۔
یحی بن مسلمہ راوی ہیں کہ حضرت علی نے عمرو بن مسلمہ کو اصفہان کا والی مقرر کیا ۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ بہت سا مال لے کر دربار خلافت میں آیا اور اس مال میں چند مشکیں بھی تھیں جن میں شہد اور مکھن تھا ۔
____________________
(۱):- استاد عقاد ۔عبقریۃ الامام علی ۔ص ۱۳۔ و کامل ابن اثیر
(۲):- عباس محمود عقاد ۔ عبقریۃ الام علی ۔ ص ۲۰
(۳):- الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ ص ۲۰۰-۲۰۲
امیر المومنین کی صاحبزادی ام کلثوم نے عمرو کو پیغام بھیجا کہ ان کے پاس مکھن اور شہد بھیجا جائے ۔
عمرو نے دو مشکیزے روانہ کردیئے ۔دوسرے دن حضرت علی علیہ السلام آئے اور مال کی گنتی کی تو اس دومشکیزے کم نظر آئے ۔عمرو سے ان کے متعلق دریافت کیا تو وہ خاموش رہا ۔ آپ نے اسے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں نے دو مشکیزے آپ کی صاحبزادی کے پاس بھجوائے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی کے گھر سے دونوں مشکیزے طلب کئے ۔مشکیزے جب واپس آئے تو اس میں تین درہم کی مقدار کم ہوچکی تھی ۔ آپ نےتین درہم کی مقدار میں بازار سے شہد اور مکھن خرید کر انہیں پورا کیا اور بعد ازاں مستحقین میں تقسیم کردیا ۔"
سفیان کہتے تھے کہ علی علیہ السلام نے محلات نہیں بنائے اور نہ ہی جاگیر یں خریدیں اور نہ ہی کسی کا حق غصب کیا ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے تلوار فروخت کی اور فرمایا کہ " اگر آج میرے پاس چار درہم ہوتے تو میں اپنی تلوار نہ بیچتا ۔"
آپ کا دستور تھا کہ آپ واقف دکان دار سے سودا نہیں خریدتے تھے اور آپ جو کے آٹے کی تھیلی پر مہر لگادیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں صرف وہی غذا کھانا پسند کرتا ہوں جس کے متعلق مجھے علم ہوتا ہے کہ یہ بلکل طیب وحلال ہے ۔مشتبہ غذا کھانا مجھےپسند نہیں ہے ۔(۱)
۳ ۔آپ کی تواضع اور عدل
ابن اثیر شعبی کی زبانی رقم طراز ہیں :
حضرت علی (ع) کی زرہ گم ہوگئی ۔آپ نے وہ زرہ ایک نصرانی کے پاس
____________________
(۱):- الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔۲۰۳۔
دیکھی تو اس نصرانی کو لے کے قاضی شریح کی عدالت میں آئے اور قاضی کے ایک سمت بیٹھ کر نصرانی سے مباحثہ کرنے لگے اور فرمایا کہ یہ میری زرہ ہے اسے نہ تو میں نے فروخت کیا اور نہ ہی ہبہ کیا ہے ۔
شریح نے نصرانی سے کہا کہ تم امیر المومنین کے دعوی کے جواب میں کیا کہنا چاہتے ہو؟
تو نصرانی نے کہا ! زرہ میری ہے لیکن امیر المومنین جھوٹے نہیں ہے ۔
شریح حضرت علی کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ کیاآپ کے پاس کوئی ثبوت ہے ؟
حضرت علی علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا کہ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ۔
شریح نے زرہ نصرانی کے حوالے کردی اور وہ زرہ لےکر چل پڑا لیکن چند قدم چلنے کے بعد پھر واپس آیا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیا ء کافیصلہ ہے ۔
امیرالمومنین قدرت رکھنے کے باوجود مجھے قاضی کی عدالت میں لائے اور ان کے قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ دیا اور انہوں نے کشادہ روئی سے فیصلہ قبول کرلیا ۔
یہ زرہ امیرالمومنین کی ہے اور پھر نصرانی نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا ۔
ڈاکٹر طہ حسین لکھتے ہیں کہ :-
حضرت علی علیہ السلام کی عادت تھی کہ واقف دکاندار سے سودا نہیں خرید تے تھے ۔ تاکہ وہ آپ کو حاکم وقت سمجھ کر رعایت نہ کرے ۔حضرت علی رات کے وقت کھانے کی چیزیں اپنی پشت پر اٹھاتے اور غرباء ومساکین کے گھروں میں پہنچاتے اور انہیں آپ نے کبھی یہ علم نہیں ہونے دیا کہ رات کے وقت ان کی دست گیری کرنے والا کون ہے ۔ جب آپ کی شہادت ہوئی تو پھر فقراء ومساکین کو علم ہوا کہ تاریکی شب میں ان کی مدد کرنے والے علی تھے ۔
لوگوں کی دینی خدمت کا فرض جب تک ادا نہ کرلیتے حضرت علی مطمئن
نہ ہوتے چنانچہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ،اپنے قول وعمل سے انہیں تعلیم دیتے ،فقراء ومساکین کو کھانا کھلاتے اور ضرورت مندوں اور مسکینوں کو تلاش کرکے ان کو سوال سے بے نیاز کردیتے اور پھر جب رات ہوتی تو لوگوں سے الگ ہوجاتے اور تنہائی میں معمولات عبادت میں مشغول ہوجاتے ۔تہجد کی نماز اداکرتے اور رات زیادہ ہوجانے پر آرام فرماتے اور پھر صبح اندھیرے ہی مسجد میں چلے آتے اور فرماتے رہتے ۔ نماز نماز اللہ کے بندو نماز ! گویا مسجد کے سونے والوں کو بیدار کرتے ،اس طرح آپ رات میں کسی بھی وقت اللہ کی یاد سے غافل نہ رہتے ۔
خلوت میں بھی یاد کرتے اور اس وقت بھی جب لوگوں کے مختلف معاملات کے لئے تدبیریں کرتے رہتے اور اس بات کی طرف لوگوں زیادہ متوجہ کرتے کہ آپ سے دینی مسائل دریافت کریں ۔
آپ کو اس کا بے حد خیال تھا کہ مال تقسیم کرتے وقت آپ اپنے قول وفعل میں اپنے ارادے اور تقسمی میں مساوات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔بلکہ سوال کرنے پر جو کچھ آپ دیتے تھے اس میں بھی مساوات کا سخت خیال رکھتے ۔ ایک دن آپ کے پاس دو عورتیں آئیں اور اپنی محتاجی کا اظہار کرکے سوال کیا ۔ آپ نے مستحق جان کر حکم دیا کہ ان کو کپڑا اور کھانا خرید کردیا جائے مزید برآں کچھ مال بھی دے دیا لیکن ان میں سے ایک نے کہا کہ اس کو کچھ زیادہ دیجئے کہ وہ عرب ہے اور اس کی ساتھی غیر عرب ۔
آپ نے تھوڑی سی مٹی ہاتھ میں لی اسے دیکھ کر کہا مجھے معلوم نہیں کہ اطاعت اور تقوی کے علاوہ کسی اور وجہ سے بھی اللہ نے کسی کو کسی پر فوقیت دی ہے ۔(۱)
____________________
(۱):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ۔ص۔۱۰۹
۴۔آپ کی سیاست عامہ کا تجزیہ
حضرت علی علیہ السلام کی حقیقت وفضیلت سےناآشنا افراد کا یہ خیال ہے کہ حضرت عمربن خطاب حضرت علی (ع) سے زیادہ سیاست دان تھے ۔ اگرچہ کہ علی علیہ السلام ان سے علم رکھتے تھے ۔
ابو علی سینا اور اس کے ہم مکتب افراد کا یہی نظریہ ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ علی سیاست کے میدان میں اس لئے کا میاب نہیں ہوسکے کیونکہ وہ ہمیشہ شریعت کی حدود وقیود کی پابندی کرتے تھے اور انہوں نے صلح وجنگ اور سیاست عامہ میں مصلحت عامہ کو مد نظر رکھا جبکہ حضرت عمر مصلحت عامہ کو مد نظر رکھ کر اجتہاد کیا کرتے تھے اور موقع کی مناسبت کے مطابق نص عمومی میں تخصیص کرتے تھے ارو اپنے مخالفین کے ساتھ حیلہ وفریب کرتے تھے اور درہ اور کوڑے کا بے تحاشہ استعمال کرتے تھے اور بعض اوقات مصلحت کے پیش نظر مجرمین سے در گزر کرتے تھے ۔اور حضرت علی کا طرز عمل اس سے بالکل جداگانہ تھا ۔ آپ نصوص شرعیہ سے سر مو انحراف نہیں کرتے تھے اور اجتہاد اور قیاس کے روادار نہیں تھے ۔ اور دنیاوی امور کی مطابقت ہمیشہ دینی امور سے کیا کرتے تھے اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے تھے اور ہرمعاملہ میں کتاب وسنت کی پیروی کرتے تھے ۔ دینی اور دنیاوی سیاست کی خاطر شریعت کی مخالفت کو جائز نہیں سمجھتے تھے ۔
دنیاوی سیاست کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا اور اس نے یہ بات کئی لوگوں کے سامنے بھی کہی تھی اور جب اس ملزم کو علی علیہ السلام کی عدالت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں کسی کو جرم سے پہلے سزا نہیں دے سکتا ۔
دینی سیاست کی مثال ملاحظہ فرمائیں ۔ایک شخص کو چوری کی الزام میں
آپ کی عدالت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا : جب تک واضح ثبوت یا ملزم کی طرف سے اقرار نہ ہومیں محض شک کی بنا پر اس پر حد جاری نہیں کرسکتا ۔
حضرت علی (ع) کی نظر میں کسی فاسق کو والی مقرر کرناجائز نہیں تھا اور آپ معاویہ بن ابی سفیان کو فاسق سمجھتے تھے ۔ اور انہیں ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہیں تھے ۔
مغیرہ بن شعبہ اور دوسرے سیاست مداروں نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ فی الحال معاویہ سے تعرض نہ کریں اور جب دیکھیں کہ حکومت مستحکم ہوگئی ہے تواسے معزول کردیں ۔
آپ نے فرمایا کہ میں ایک سال اسلامی صوبہ پر معاویہ جیسے فاسق کی حکومت برداشت نہیں کرسکتا اور میں اس کے لئے کسی مداہنت اور فریب کاری کو جائز نہیں سمجھتا ۔طلحہ وزبیر نے حضرت علی (ع) کی بیعت کی اور پھر وہ نقض عہد پر تل گئے ۔حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور عمرہ کی اجازت طلب کی ۔آپ نے فرمایا پہلے تو وعدہ کرو کہ مسلمانوں میں تفریق پیدانہ کروگے جب انہوں نے وعدہ کرلیا تو آپ نے انہیں جانے کی اجازت دی ۔
حضرت علی (ع) نے انہیں محض شک وشبہ کی بنا پر مدینہ میں رہنے پر مجبور نہیں کیا ۔
یہ حضرت علی (ع) نے ہمیشہ اصول عدل کی سربلندی کے لئے کا م کیا ۔آپ کے اقتدار کا عرصہ اگرچہ قلیل تھا لیکن دنیا نے سیاست الہیہ کا نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تاریخ انسانی نے مسجد کوفہ سے قرآن کے سائے میں قائم ہونے والی ایک عظیم فلاحی ریاست کا نقشہ عملی طورپر دیکھ دلیا ۔
۵- آپ کے چند اقوال زریں
۱:- جب دنیا کسی پر مہربان ہوتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے دے دیتی ہے اور جب کسی سے منہ موڑتی ہے تو اس کی ذاتی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے ۔
۲:- میرے بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں حق سے زیادہ مخفی کوئی چیز نہ ہوگی ۔اور باطل سے زیادہ کوئی چیز واضح نہ ہوگی اور اس دور میں اللہ پر زیادہ جھوٹ بولے جائیں گے ۔نیکی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھا جائے گا ۔
۳:- لوگوں سے ایسی معاشرت رکھو اگر تم مرجاؤ وہ تم پر روئیں اور اگر تم زندہ رہو تو تم سے ملاقات کے خواہش مند ہوں ۔
۴:- بھوکے شریف اور شکم سیر کمینے کے حملہ سے بچو ۔
۵:- میرے متعلق دو شخص ہلاک ہوں گے ۔ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے ۔
۶:- منافقین سے بچو کیونکہ وہ گمراہ کنندہ ہیں ۔
۷:- حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائیدار نہیں ہوئی ۔اسے چھوٹا سمجھا جائے تاکہ وہ بڑی قراری پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو ۔ اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہو ۔
۸:- ہر اس عمل سے بچو جس کا کرنے والا اسے اپنے لئے پسند کرے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے ناپسند کرے اور ہر اس عمل سے بچو جسے خلوت کی گھڑیوں میں کیا جائے اور جلوت میں اس سے پرہیز کیا جائے اور ہر اس عمل سے بچو جب اس کے عمل کرنے والے سے اس کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ اس کا انکار کرے اور معذرت پیش کرے ۔
۹:-نیکی کے والا نیکی سے بہتر اور برائی کرنے والی برائی سے بدتر ہے۔
۱۰:- صبر دوطرح کا ہے ۔ایک ناپسند امر پر صبر کرنا اور دوسرا پسندیدہ امر سے صبر کرا ۔
۱۱:- مقام رہنمائی پر فائز ہونے والے کوچاہئے کہ دوسروں کی تعلیم سے قبل خود تعلیم حاصل کرے اور لوگوں کو اپنی زبان سے ادب سکھانے نے قبل خود ادب حاصل کرے -
۱۲:- دنیا اور آخرت ایک دوسر ے کی ضد اور نقیض ہیں اور علیحدہ علیحدہ راستے ہیں ۔ جو دنیا سے محبت کرتا ہے وہ آخرت سے نفرت کرتا ہے ۔ اور دنیا اور آخرت مشرق ومغرب کی طرح ہیں جتنا کوئی کسی کے قریب ہوتا ہے اتنا ہی دوسرے سے دور ہوتا ہے ۔
۱۳:- شاہ کا مصاحب شیر پر سواری کرنے والے کی مانند ہوتاہے لوگ تو اس پررشک کرتے ہیں جب کہ اسے خود معلوم ہوتاہے کہ وہ کس پر سوال ہے ۔
۱۴:- جس کی نظر میں اس کے نفس کی عزت ہوتی ہے ، اسے خواہشات کم قیمت نظر آتی ہیں ۔
۱۵:- عدل کی ایک صورت ہے اور ظلم کی کئی صورتیں ہیں اسی لئے ظلم کا ارتکاب آسان اور عدل کا جاری کرنا مشکل ہے اور عدل وظلم کی مثال تیرکے نشانے پرلگنے اور خطا ہوجانے کی مانند ہے ۔
صحیح نشانہ کے لئے کافی محنت اور ریاضت کی ضرورت ہے جبکہ غلط نشانے کے لئے محنت اور ریاضت کی ضرورت نہیں ہے ۔
۱۶:- دنیا دوسری چیزوں سے غافل کردیتی ہے ۔دنیا دار جب ایک چیزحا صل کرلیتا ہے تو اسے دوسروی چیز کا حرص لاحق ہوجاتا ہے ۔
۱۷:- تم ایسے زمانے میں رہ رہے ہو جس میں اچھائی منہ موڑ رہی ہے اور برائی
آگے بڑھ رہی ہے ۔
لوگوں کے مختلف طبقات پر نگاہ ڈال کر دیکھو تو تمہیں ایسے فقیر نظر آئیں گے جو اپنے فقر کی شکایات کرتے ہوں گے اور تمہیں ایسے دولت مند نظر آئیں گے جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کررہے ہوں گے ۔تمہیں ایسے بخیل نظر آئیں گے جو حقوق الہی میں کنجوسی کرتے ہوں گے اور ایسے سرکش نظر آئیں گے جن کے کان مواعظ کے سننے سے بہرے ہوچکے ہوں گے ۔ اللہ کی لعنت ہو ان لوگوں پر جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔اور برائی سے ورکتے ہیں لیکن خود اس پر عمل کرتے ہیں ۔
۱۸:- مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے اور منافق کا دل ان کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے ۔کیونکہ مومن جب کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے اس پر خوب غور وخوص کرتا ہے ۔اگر بات اچھی ہوتی ہے تو اسے ظاہر کرتا ہے اگر بات اچھی نہ ہو تو اسے چھپا لیتا ہے ۔اور منافق ہر وہ بات کہتا ہے جو اس کی زبان پر آتی ہے اور وہ اس بات کی کبھی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کا فائدہ کس بات میں ہے اور نقصان کس بات میں ہے ۔
۱۹:- خدا کی قسم ! معاویہ مجھ سے زیادہ دانا نہیں ہے لیکن وہ غداری اور مکر وفریب سے کام لیتاہے ۔
حسن علیہ السلام کو وصیت
۲۰:- صفّین سے واپسی پر اپنے فرزند حسن مجتبی کو درج ذیل وصیت لکھائی ،جس کے چیدہ چیدہ نکات ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں :
یہ وصیت ہے اس باپ کی جو فنا ہونے والا اور زمانے کی چیرہ دستیوں کا اقرار کرنے والا ہے ۔ جس کی عمر پیٹھ پھرائے ہوئے ہے اور جو زمانے کی سختیوں
سے لاچار ہے اور دنیا کی برائیوں کو محسوس کرچکا ہے اور مرنے والوں کے گھروں میں مقیم اور کل کو یہاں سے رخت سفر باندھ لینے والا ہے ۔
اس بیٹے کے نام ۔جو نہ ملنے والی باتوں کا آرزو مند ،جادہ عدم کا راہ سپار ،بیماریوں کا ہدف ۔زمانے کے ہاتھ گروی ،مصیبتوں کا نشانہ ، دنیا کا پابند اور اس کی فریب کاریوں کا تاجر ، موت کا قرض دار ،اجل کا قیدی غموں کا حلیف ،حزن وملال کا ساتھی ،آفتوں میں مبتلا ،نفس سے عاجز اور مرنے والوں کا جانشین ہے ۔
میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا ،اس کے احکام کی پابندی کرنا اور اس کے ذکر سے قلب کو آباد رکھنا اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا ۔تمہارے اور اللہ کے درمیان جو رشتہ ہے اس سے زیادہ مضبوط اور رشتہ ہو بھی کیا سکتاہے ؟
بشرطیکہ مضبوطی سے اسے تھامے رہو ۔وعظ وپند سے دل کو زندہ رکھنا اور زہد سے اس کی خواہشوں کو مردہ اور یقین سے اسے سہار دینا اور حکمت سے اسے پر نور بنانا ۔موت کی یادہ سے اسے قابو میں کرنا ۔فنا کے اقرار پر اسے ٹھہرانا ۔ دنیا کے حادثے اس کے سامنے لانا ۔گردش روزگار سے اسے ڈرانا ۔ گزرے ہوؤں کے واقعات اس کے سامنے رکھنا ۔تمہارے والے لوگوں پر جو بیتی ہے اسے یاد لانا ۔ان کے گھروں اور کھنڈروں میں چلنا پھرنا ۔
اپنی اصل منزل کا انتظام کرو اور اپنی آخرت کا دنیا سے سودا نہ کرو اور جس بات کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ اور جس راہ میں بھٹک جانے کا اندیشہ ہو اس راہ میں قدم نہ اٹھاؤ ۔نیکی کی تلقین کرو تاکہ خود بھی اہل خیر میں محسوب ہو ۔ہاتھ اور زبان کے ذریعہ سے برائی کو روکتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو بروں سے الگ رہو ۔خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اثر نہ لو ۔حق جہاں ہو ۔
سختیوں میں پھاند کر اس تک پہنچ جاؤ ۔دین میں سوجھ بوجھ پیدا کرو سختیوں کو جھیل لے جانے کے خو گر بنو ۔اپنے ہر معاملہ میں اللہ کے حوالے کردو ۔
میرے فرزند! میری وصیت کو سمجھو اور یہ یقین رکھو کہ جس کے ہاتھ میں موت ہے اسی کے ہاتھ میں زندگی بھی ہے اور جو پیدا کرنے والا ہے ۔وہی مارنے والا بھی ہے ۔اور جو نیست ونابود کرنے والا ہے ،وہی دوبارہ پلٹانے والا بھی ہے ، اورجو بیمار کرنے وال ہے وہی صحت عطا کرنے والا بھی ہے ۔
اے فرزند ! اپنے اور دوسروں کے درمیان ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قراردو اورجو اپنے لئے پسند کرتے ہو ،وہی دوسروں کے لئے پسند کرو اور جو اپنے لئے نہیں چاہتے ، وہ دوسروں کے لئے بھی نہ چاہو ۔ جس طرح چاہتے ہو کہ تم پرزیادتی نہ ہو ۔یو نہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ ہو۔ اور جس طرح چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ حسن سلوک ہو ،یونہی دوسروں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ دوسروں کی جس چیز کو برا سمجھتے ہو اسے اپنے میں بھی ہو تو برا سمجھو اور لوگوں کے ساتھ تمہارا جو رویہ ہو اسی رویہ کو اپنے لئے بھی درست سمجھو ۔دوسروں کے لئے وہ بات نہ کہو ۔جو اپنے لئے سننا پسند نہیں کرتے ۔دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محنت مزدوری کرلینا بہتر ہے ۔جو زیادہ بولتا ہے وہ بے معنی باتیں کرنے لگتا ہے ۔اور سوچ وبچار سے کام لینے والا صحیح راستہ دیکھ لیتا ہے ۔نیکوں سے میل جول رکھوگے تو تم بھی نیک ہوجاؤ گے ۔ بروں سے بچے رہوگے تو ان کے اثرات سے محفوظ رہو گے ۔
بد ترین کھانا وہ ہے جو حرام اور بد ترین ظلم وہ ہے جو کسی کمزور اور ناتوان پر کیا جائے ۔خبردار امیدوں کے سہارے پر نہ بیٹھنا ۔کیونکہ امیدیں احمقوں کا سرمایہ ہوتی ہیں ۔ تجربوں کو محفوظ رکھنا عقل مندی ہے ۔بہترین تجربہ وہ
ہے جو پندو نصیحت دے ۔ جو تم سے حسن ظن رکھے ،اس کے حسن ظن کو سچا ثابت کرو ۔باہمی روابط کی بنا پر اپنے کسی بھائی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ پھروہ بھائی کہاں رہا جس کا حق تم تلف کرو ۔یہ نہ ہونا چاہیئے کہ تمہارے گھر والے تمہارے ہاتھوں دنیا جہاں میں سب سے زیادہ بد بخت ہوجائیں ۔جو تم سے تعلقات قائم رکھنا پسند ہی نہ کرت ہو۔ اس کے خواہ مخواہ پیچھے نہ پڑو تمہار دوست قطع تعلق کرے ۔تو تم رشتہ محبت جوڑنے میں اس پر بازی لے جاؤ اور وہ برائی سے پیش آئے تو تم حسن سلوک میں اس سے بڑھ جاؤ ۔
اے فرزند ! یقین رکھو رزق دو طرح کا ہوتاہے ۔ایک وہ جس کی تم جستجو کرتے ہو اور ایک ہو جو تمہاری جستجو میں لگا ہوا ہے ۔ اگر تم اس کی طرف نہ جاؤگے تو بھی وہ تم تک آکر رہے گا ۔
پردیسی وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو ۔ اور جو حق سے تجاوز کرجاتا ہے اس کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے ۔ جو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھتا ۔اس کی منزلت برقرار رہتی ہے ۔ جاہل سے علاقہ توڑنا ، عقل مند سے رشتہ جوڑنے کے برابر ہے ۔جو دنیا پر اعتماد کرکے مطمئن ہوجاتا ہے ۔ دنیا اسے دغا دے جاتی ہے جو اسے عظمت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے وہ اسے پست وذلیل کرتی ہے ۔
راستے سے پہلے شریک سفر اور گھر سے پہلے ہمسایہ کے متعلق پوچھ گچھ کرلو ۔ خبردار ! اپنی گفتگو میں ہنسانے والی باتیں نہ لاؤ ۔اگر چہ وہ نقل قول کی حیثیت سے ہوں ۔عورتوں سے ہرگز مشورہ نہ لو کیونکہ ان کی رائے کمزور اور ارادہ سست ہوتا ہے ۔انہیں پردہ میں بٹھا کران کی آنکھوں کو تاک جھانک سے روکو ۔کیونکہ پردہ کی سختی ان کی عزت وآبرو کو برقرار رکھنے والی ہے ۔ان کا گھر وں سے نکلنا اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا کسی ناقابل اعتماد کو گھر میں آنے دینا اور اگر بن پڑے تو ایسا کرنا تمہارے علاوہ کسی اور کو وہ پہچانتی ہی نہ ہو ۔
عورت کو اس کے ذاتی امور کے علاوہ دوسرے اختیارات نہ سونپو کیونکہ عورت ایک پھول ہے وہ کارفرما اور حکمران نہیں ہے ۔
۲۱:- انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے ۔
۲۲:- جو شخص اپنی قدر ومنزلت کو نہیں پہنچانتا وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔
۲۳:- جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بد ظن ہو ۔
۲۴:- جو خود رائی سے کام لے گا وہ تباہ وبرباد ہوگا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہوجائے گا ۔
۶- حضرت علی (ع) اور انطباق آیات
حضرت علی علیہ السلام کے حق میں قرآن مجید کی بہت سے آیات نازل ہوئیں ۔بقول ابن عباس ان کے حق میں تین سو ساٹھ آیات نازل فرمائیں ۔
حضرت علی (ع) کی زندگی پر درج ذیل آیات مکمل طورپر منطبق ہوتی ہیں :
۱:-ومن یطع الله والرسول فاولآءک مع الذین انعم الله علیهم من النبین والصدیقین والشهداء والصالحین وحسن اولآءک رفیقا "۔
اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے تعمتیں نازل فرمائیں یعنی انبیاء اور صدّیقین اور شہداء اور صالحین اور وہ بہت اچھے رفیق ہیں (سورۃ النساء)
۲:-ان الذین قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتزل علیهم الملائکة الّا تخافوا ولا تحزنو! وابشروا بالجنة التی کنتم توعدون نحن اولیاء وکم فی الحیاة الدنیا وفی الآخرة ولکم فیها ما تشتهی انفسکم ولکم فیها ما تد عون ۔"
بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ( اور کہتے ہیں کہ ) تم نہ ڈرو اور نہ گھبراؤ اور تمہیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیاجاتا تھا ۔ ہم دنیا اور آخرت کی زندگی میں تمہارے دوست ہیں ۔ اور تمہارے لئے جنت میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی خواہش تمہارے دل کریں اور جو کچھ تم پکارو وہ سب موجود ہے (سورۃ فصّلت )
۳:- "واما من خاف مقام ربه ونهی النفس عن الهوی فانّ الجنة هی الماوی "۔
اور جو کوئی اپنے رب کے مقام عظمت سے خوف کرے اور نفس کو خواہشات سے روک لے تو بے شک جنّت (اسکا ) ٹھکانہ ہے (سورۃ النازعات)
فصل ہشتم
کردار معاویہ کی چند جھلکیاں
حضرت علی علیہ السلام کے طرز زندگی کے بعد ہمیں اس بات کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے حریفوں کے کردار کا تذکرہ کریں کیونکہ "تعرف الاشیاء باضدادھا "چیزوں کی پہچان ا ن کے متضاد سے ہوتی ہے ۔
اسی قاعدہ کے پیش نظر ہم امیر المومینین کے بد ترین مخالف کے کردار کی تھوڑی جھلکیاں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔کیونکہ اگر شب تاریک کی ہولناکی نہ ہو تو روز روشن کی عظمت واضح نہیں ہوسکتی اور اگر کسی نے تپتی ہوئی دھوپ کو سرے سے دیکھا ہی نہ ہو تو اس کے لئے نخلستان کی ٹھنڈی چھاؤں کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل ہوجائے گا ۔
اسی طرح سے جس کو ابو جہل کی خباثت کا علم نہ ہو اسے محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہ سلم رافت کا صحیح علم نہ ہوسکے گا اور جب تک کردار معاویہ پیش نظر نہ ہو اس وقت تک علی علیہ السلام کی عدالت اجتماعی کی قدر منزلت کاپتہ نہیں لگ سکے گا ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ علی کا معاویہ سے موازنہ کرنا ضدین کے مابین موازنہ قرار پاتا ہے اور حضرت علی (ع) اور معاویہ کے کردار میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔
مختصر الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی جس قدر عدل اجتماعی کے لئے وقف تھی ۔ویسے ہی معاویہ کی پوری زندگی بے اصولی اور لوٹ مار اور بے گناہوں کے قتل عام کے لئے وقف تھی ۔ حضرت علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحیح جانشین تھے ۔ اسی طرح سے معاویہ اپنے باپ کے کردار وفضائل کا صحیح جانشین تھا ۔
حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ بنت اسد (رض) اور حضرت خدیجہ (رض) کی صفات جمیلہ کے وارث تھے جبکہ معاویہ اپنی ماں ہند جگر خوار کی خوانخوار عادات کا وارث تھا ۔
معاویہ نے مکر وفریب سے اپنا مقصد کیا اور امت اسلامیہ آج تک اس کے منحوس اثرات سے نجات حاصل نہیں کرسکی ۔
معاویہ نے قبائلی عصبیتوں کو ازسرنو زندہ کیا اور مجرمانہ ذہنیت کو جلا بخشی جس کے شعلوں کی تپش آج بھی امت اسلامیہ اپنے بدن میں محسوس کررہی ہے ۔ ہم نے اس فعل میں اس کے کردار کی چند جھلکنا پیش کی ہیں تاکہ انصاف پسند اذہان علی علیہ السلام اور معاویہ کی سیاست کے فرق کو سمجھ سکیں
وبضدّها تتبین الاشیاء
حضرت حجر بن عدی کا المیہ
مورخ ابن اثیر تاریخ کامل لکھتے ہیں :-
۵۱ ہجری میں حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا ۔ اور اس کا سبب یہ کہ معاویہ نے ۴۱ ہجری میں مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ :- " میں تجھے بہت سی نصیحتیں کرنا چاہتا تھا لیکن تیری فہم وفراست پر اعتماد کرتے ہوئے میں زیادہ نصحیتیں نہیں کروں گا لیکن ایک چیز کی خصوصی طور پر تجھے نصیحت کرتا ہوں ۔ علی کی مذمت اور سبّ وشتم سے کبھی باز نہ آنا اور عثمان کے لئے دعا ئے خیر کو کبھی ترک نہ کرنا اور علی کے دوستوں پر ہمیشہ تشدد کرنا اور عثمان کے دوستوں کو اپنا مقرب بنانا اور انہیں عطیات سے نوازنا "
مغیرہ نے معاویہ کے حکم پر پورا عمل کیا وہ ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حجر بن عدی اسے برملا ٹوک کر کہتے تھے کہ
لعنت اور مذمت کا حق دار تو اور تیرا امیر ہے اور جس کی تم مذمت کررہے ہو وہ فضل وشرف کا مالک ہے ۔مغیرہ نے حجر بن عدی اور اس کے دوستوں کے وظائف بند کردئیے حضرت حجر کہا کرتے تھے کہ بندہ خدا ! تم نے ہمارے عطیات ناحق روک دئیے ہیں تمہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہمارے عطیات بحال کرو ۔
مغیرہ مرگیا اور اس کی جگہ زیاد بن ابیہ کوفہ کا گورنر مقرر ہوا ۔ زیادہ نے بھی معاویہ اور مغیرہ کی سنت پر مکمل عمل کیا اور وہ بد بخت امیرالمومنین علیہ السلام پر سبّ وشتم کرتا تھا ۔ حجر بن عدی ہمیشہ حق کا دفاع کرتے تھے ۔زیاد نے حجر بن عدی اور ان کے بارہ ساتھیوں کو گرفتار کرکے زندان بھیج دیا اور ان کے خلاف ان کے "جرائم" کی تفصیل لکھی اور چار گواہوں کے دستخط لئے اور حضرت حجر بن عدی کی مخالفت میں جن افراد نے دستخط کئے تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اکے دو بیٹے استحاق اور موسی اور زبیر کا بیٹا منذرعماد بن عقبہ بن ابی معیط سر فہرست تھے پھر زیادہ نے قیدیوں کو وائل بن حجر الحضرمی اور کثیر بن شہاب کے حوالے کرکے انہیں شام بھیجا۔
زیاد کے دونوں معتمد قیدیوں کو لے کر شام کی طرف چل پڑے جب "مقام غریین" پر یہ قافلہ پہنچا تو شریح بن بانی ان سے ملا اور وائل کو خط لکھ کر دیا کہ یہ خط معاویہ تک پہنچا دینا ۔ قیدیوں کا قافلہ شام سے باہر" مرج عذرا" کے مقام پر پہنچا تو قیدیون کو وہاں ٹھہرایا گیا اور وائل اور کثیر زیاد کا خط لے کر معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ کو زیاد کا خط دیا جس میں زیاد نے تحریر کیا تھا کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھی آپ کے شدید دشمن ہیں اور ابو تراب کے خیر خواہ ہیں اور حکومت کے کسی فرمان کو خاطر میں نہیں لاتے یہ لوگ کوفہ کی سرزمین کو آپ کے لئے تلخ بنانا چاہتے ہیں لہذا آپ جو مناسب سمجھیں انہیں سزا دیں تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہوسکے ۔
اس کے بعد وائل نے شریح بن ہانی کا خط معاویہ کے حوالے کیا جس میں تحریر تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے زیاد نے اپنے محضر نامہ میں میری گواہی بھی لکھی ہے اور حجر کے متعلق میری گواہی یہ ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکواۃ دیتے ہیں اور حج وعمرہ کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ اس کا خون اور مال تم پر حرام ہے ۔
زیادنے جن محبان علی کو گرفتار کیا تھا ان کے نام درج ذیل ہیں
۱):- حجر بن عدی کندی ۲):- ارقم بن عبداللہ کندی ۳):- شریک بن شداد حضرمی ۴):- صیفی بن فسیل شیبانی۵):- قبیصہ بن صنیع عبسی ۶):- کریم بن عفیف خثمی ۷):- عاصم بن عوف بجلی ۸) :- ورقا بن سمی بجلی ۹):- کدام بن حسان عنزی ۱۰):- عبدالرحمن بن حسان غزی ۱۱):- محرر بن شہاب تمیمی (۱۲:- عبداللہ بن حویہ سعدی ۔
درج بالا بارہ افراد کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد دو افراد عتبہ بن اخمس سعد بن بکر اور سعد بن نمران ہمدانی کو گرفتار کرے کے شام بھیجا گیا تو اس طرح سے ان مظلوموں کی تعداد چودہ ہوگئی ۔
حضرت حجر بن عدی کے واقعہ کو مورخ طبری نے یوں نقل کیا ہے :-
قیس بن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی بن فسیل اصحاب حجر کا سرگروہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے ۔زیاہ نے اسے بلایا ۔جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ "دشمن خدا تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے "؟
اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا ۔
زیاد نے کہا!کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟
صیفی نے کہا:- جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں ۔
زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے ۔
صیفی نے کہا!ہرگز نہیں وہ حسن اور حسین کے والد ہیں ۔
پولیس افسر نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے؟ حضرت صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کردوں ؟
زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کررہے ہو ۔میرا عصا لایا جائے ۔
جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو؟
صیفی نے فرمایا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے ۔
یہ سن کر زیادہ نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب زیاد ظلم کرکے تھک گیا تو پھر حضرت صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیاکہتے ہو؟
انہوں نے فرمایا ! اگرمیرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائیں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں ۔ زیاد نے کہا تم باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا ۔
حضرت صیفی نے فرمایا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہوگا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی ۔
زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کردیا ۔چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا ۔بعد از اں زیاد نے حضرت حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کئے ۔
ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ " میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے ۔
زیادہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں ۔میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں ۔
عناق بن شر جیل بن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو ۔مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لئے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو ۔
چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق بن طلحہ بن عبیداللہ اور موسی بن طلحہ اور اسماعیل بن طلحہ اور منذر بن زبیر اور عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط ،عبدالرحمان بن ہناد ،عمربن سعد بن ابی وقاص ،عامر بن سعود بن امیہ ،محرز بن ربیعہ بن عبدالعزی ابن عبدالشمس ،عبیداللہ بن مسلم حضرمی ، عناق بن وقاص حارثی نے دستخط کئے
ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح بن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے ۔
شریح بن ہانی حارثی کو علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کردی ہے میں دنیا وآخرت میں اس گواہی سے بری ہوں ۔ پھروہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل بن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط
معاویہ تک ضرور پہچانا ۔اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ نے حجر بن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ،زکواۃ دیتا ہے ، حج وعمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان ومال انتہائی محترم ہے ۔
قیدیوں کو دمشق کے قریب "مرج عذرا " میں ٹھہرا یا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کردیاگیا ۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں –
۱):- حجربن عدی رضی اللہ عنہ ۲):- شریک بن شداد حضرمی ۳):- صیفی بن فسیل شیبانی ۴):- قبیصہ بن ضبیعہ عبسی ۵):- محرز بن شہاب السعدی ۶):- کدام بن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین ۔
اس کے علاوہ عبدالرحمن بن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کےپاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو ۔زیاد نے انہیں زندہ دفن کرادیا(۱) ۔
خدا کی رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر ہند بنت زید نے یہ مرثیہ پڑھا تھا :-
ترفع ایها القمر المنیر تبصر هل تری حجر الیسیر
یسیر الی معاویة بن حرب لیقتله کما زعم الامیر
الا یا حجر حجر بن عدی ترفتک السلامة والسرور
یری قتل الخیار علیه حقا له شر امته وزیر
"اے قمر منیر! دیکھو تو سہی حجر جارہا ہے ۔حجر معاویہ بن حرب کے پاس جارہا ہے ۔امیر زیاد کہتا ہے کہ معاویہ اسے قتل کرےگا ، اے حجر بن عدی !
____________________
(۱):- تاریخ طبری ۔جلد ششم –ص ۱۵۵
تجھے ہمیشہ سلامتی اور خوشیاں نصیب ہوں ،معاویہ شریف لوگوں کو قتل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے اور امت کا بد ترین شخص اس کا وزیر ہے ۔"
ڈاکٹر طہ حسین لکھتے ہیں :-
ایک مسلمان حاکم نے اس گناہ کامباح اور اس بدعت کو حلال سمجھا اپنے لئے کہ ایسے لوگوں کو موت کی سزا دیدے جس کے خون کی اللہ نے حفاظت چاہی تھی اور پھر موت کا حکم بھی حاکم نے ملزموں کو بلا دیکھے اور ان کی کچھ سنے اور ان کو اپنے دفاع کا کچھ حق دیئے بغیر دیدیا ۔حالانکہ انہوں نے باربار مطلع کیا کہ انہوں نے حاکم کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا ۔
اس سانحہ نے دور دور کے مسلمانوں کے دل ہلادیئے ۔حضرت عائشہ کو جب معلوم ہوا کہ اس جماعت کو شام بھیجا جا رہا ہے تو انہوں نے عبدالرحمن بن حارث ابن ہشام کو معاویہ کے پاس بھیجا کہ ان کے بارے میں اس سے گفتگو کریں ۔ لیکن جب عبدالرحمن پہنچے تو یہ جماعت شہید ہوچکی تھی ۔
اسی طرح عبداللہ بن عمر کو جب اس دردناک واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے عمامہ سر سے اتارکر لوگوں سے اپنا رخ پھیر لیا اور رونے لگے اور لوگوں نے ان کے رونے کی آواز سنی ۔
حجر کا قتل ایک سانحہ ہے ۔ اس دور کے بزرگوں میں سے کسی نے اس بات پر شک نہیں کیا کہ کہ یہ قتل اسلام کی دیوار میں ایک شگاف تھا اور معاویہ کو بھی اس کا اعتراف تھا چنانچہ وہ اسے اپنے آخری دنوں تک حجر کو نہ بھول سکا اور مرض الموت میں سب سے زیادہ اسے یاد کیا ۔مورخوں اور راویوں کا بیان ہے کہ معاویہ مرض الموت میں کہتا تھا :-حجر تو نے میری آخرت خراب کردی ۔ ابن عدی کے ساتھ میرا حساب بہت لمبا ہے ۔"(۱)
____________________
(۱):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۲۴۳
غدر معاویہ کے دیگر نمونے
معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے انسانی قدروں کو پامال کرنےمیں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا ۔
اس نے حضرت مالک اشتر کے متعلق سنا کہ حضرت علی نے انہیں محمد بن ابی بکر کی جگہ مصر کا گورنر مقررکیا ہے تو اس نے ایک زمین دار سے سازش کی کہ اگر تو نے مصر پہنچنے سے پہلے مالک کو قتل کردیا تو تیری زمین کا خراج نہیں لیا جائے گا ۔
چنانچہ جب حضرت مالک اس علاقے سے گزرے تو اس نے انہیں طعام کی دعوت دی اور شہد میں زہر ملا کر انہیں پیش کیا ۔جس کی وجہ سے حضرت ومالک شہید ہوگئے۔
اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمرو بن العاص کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا لشکر ہے ۔امام حسن مجتبی علیہ السلام سے معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور حضرت حسن علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث سے ساز باز کی کہ اگر وہ انہیں زہر دے کر شہید کردے تو اسے گراں قدر انعام دیاجائے گا اور اس کی شادی یزید سے کی جائے گی ۔
امام حسن علیہ السلام کی بیوی نے معاویہ کی انگیخت پر انہیں زہر دیا جس کی وجہ سے وہ شہید ہوئے ۔
مورخ مسعودی لکھتے ہیں کہ ابن عباس کسی کام سے شام گئے ہوئے تھے اور مسجد میں بیٹھے تھے کہ معاویہ کے قصر خضرا ء
سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی ۔آواز سن کر معاویہ فاختہ بنت قرظہ نے پوچھا کہ آپ کو کونسی خوشی نصیب ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے تم نے تکبیر کہی ہے ؟ تو معاویہ نے کہا ! حسن کی موت کی
اطلا ع ملی ہے ۔ اسی لئے میں نے باآواز بلند تکبیر کہی ہے ۔(۱)
زیاد بن ابیہ کا الحاق
زیاد ایک ذہین اور ہوشیار شخص تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ان کا عامل تھا ۔ معاویہ اپنی شاطرانہ سیاست کے لئے زیاد کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا اور اس نے زیاد کو خط لکھا کہ تم حضرت علی علیہ السلام کو چھوڑ کر میرے پاس آجاؤ کیونکہ تم میرے باپ ابو سفیان کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہو ۔
زیاد کے نسب نامہ میں اس کی ولدیت کا خانہ خالی تھا ۔اسی لئے لوگ اسے زیاد بن ابیہ ۔یعنی زیاد جو اپنے باپ کا بیٹا ہے ، کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔
حضرت علی علیہ السلام کو جب معاویہ کی اس مکاری کا علم ہوا تو انہوں نے زیاد کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا ۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ معاویہ تمہاری طرف خط لکھ کر تمہاری عقل کو پھسلانا اور تمہاری دھار کو کند کرنا چاہا ہے ۔ تم اس سے ہوشیار رہو کیونکہ وہ شیطان ہے جو مومن کے آگے پیچھے اور داہنی بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے غافل پاکر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کی عقل پر چھاپہ مارے ۔واقعہ یہ ہے کہ عمر بن خطاب کے زمانہ میں ابو سفیان کے منہ سے بے سوچے سمجھے ایک بات نکل گئی تھی جو شیطان وسوسوں میں سے ایک وسوسہ تھی ۔ جس سے نہ نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ وارث ہونے کا حق پہنچتا ہے ۔ جو شخص اس بات کا سہارا لے کر بیٹھے وہ ایسا ہے جیسے بزم مے نوشی میں مبتلا بن بلائے آنے والا کہ اسے دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے یا زین فرس میں لٹکے ہوئے اس پیالے کی مانند جو ادھر سے ادھر تھرکتا رہتا ہے(۲) ۔
____________________
(۱):- مروج الذہب ومعادن الجوہر ۔جلد دوم ۔ص ۳۰۷
(۲):- نہج البلاغہ مکتوب ۴۴
مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ :-
۴۰ ہجری میں معاویہ نے زیاد کو اپن بھائی بنا لیا اور گواہی کے لئے زیاد بن اسماء مالک بن ربیعہ اور منذر بن عوام نے معاویہ کے دربار میں زیاد کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے ابو سفیان کی زبانی سنا تھا کہ زیاد نے میرے نطفہ سے جنم لیا ہے ۔اور ان کے بعد ابومریم سلولی نے درج ذیل گواہی دی کہ زیاد کی ماں حرث بن کلدہ کی کنیز تھی اور عبید نامی ایک شخص کے نکاح میں تھی طائف کے محلہ "حارۃ البغایا" میں بدنام زندگی گزار تی تھی اور اخلاق باختہ لوگ وہاں آیا جایا کرتے تھے اور ایک دفعہ ابو سفیان ہماری سرائے میں آکر ٹھہرا اور میں اس دور میں مے خانہ کا ساقی تھا ۔ ابو سفیان نے مجھ سے فرمائش کی کہ میرے لئے کوئی عورت تلاش کرکے لے آؤ ۔
میں نے بہت ڈھونڈھا مگر حارث کی کنیز سمیہ کے علاوہ مجھے کوئی عورت دستیاب نہ ہوتی ۔ تو میں نے ابو سفیان کو بتایا کہ ایک کالی بھجنگ عورت کے علاوہ مجھے کوئی دوسری عورت نہیں ملی ۔ تو ابو سفیان نے کہا ٹھیک ہے وہی عورت ہی تم لاؤ ۔
چنانچہ میں اس رات سمیہ کو لے کر ابو سفیان کے پاس گیا اور اسی رات کے نطفہ سے زیادکی پیدائش ہوئی ۔ اسی لئے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ معاویہ کا بھائی ہے ۔ اس وقت سمیہ کی مالکہ صفیہ کے بھائی یونس بن عبید نے کھڑے ہو کر کہا ۔
معاویہ ! اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے کہ " بچہ اسی کا ہے جس کے گھر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں " اور تو فیصلہ کررہا ہے کہ بیٹا زانی کا ہے ۔یہ صریحا کتاب خدا کی مخالفت ہے ۔عبدالرحمن بن ام الحکم نے اس واقعہ کو دیکھ کریہ شعر کہے تھے :-
الا بلغ معاویه بن حرب مغلغة من الرجل الیمانی
اتغضب ان یقال ابوک عف--- وترضی ان یقال ابوک زانی
فاشهد ان رحمک من زیاد کرحم الفیل من ولد الاتان
" ایک یمنی آدمی کا پیغام معاویہ بن حرب کو پہنچادو ۔ کیا تم اس بات پر غصّہ ہوتے ہو کہ تمہارے باپ کو پاک باز کہا جائے اور اس پر خوش ہوتے ہو کہ اسے زانی کہا جائے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا زیاد سے وہی رشتہ ہے جو ہاتھی کا گدھی کے بچے سے ہوتا ہے ۔"
ابن ابی الحدید نے اپنے نے اپنے شیخ ابو عثمان کی زبانی ایک خوبصورت واقعہ لکھا ہے :
"جب زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا اور تازہ تازہ ابو سفیان کا بیٹا بنا تھا اس دور میں زیاد کا گزر ایک محفل سے ہوا جس میں ایک فصیح وبلیغ نابینا ابو العریان العددی بیٹھا تھا ۔ ابو العریان نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ گزرے ہیں ؟
تو لوگوں نے اسے بتایا زیاد بن ابی سفیان اپنے مصاحبین کے ساتھ گزرا ہے ۔ تو اس نے کہا ! اللہ کی قسم ابو سفیان نے تو یزید ،معاویہ ،عتبہ، عنبہ ،حنظلہ اور محمد چھوڑے ہیں ۔ یہ زیاد کہاں سے آگیا ؟
اس کی یہی بات زیاد تک پہنچی تو زیاد ناراض ہوا ۔کسی مصاحب نے اسے مشورہ دیاکہ تم اسے سزا نہ دو بلکہ اس کا منہ دولت سے بند کردو۔
زیاد نے دوسو دینار اس کے پاس روانہ کئے ۔ دوسرے دن زیاد اپنے مصاحبین سمیت وہاں سے گزرا اور اہل محفل کو سلام کیا ۔
نابینا ابو العریان اسلام کی آواز سن کر رونے لگا۔ لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ! زیاد کی آواز بالکل ابو سفیان جیسی ہے(۱) ۔
____________________
(۱):- شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ۶۸
حسن بصری کہا کرتے تھے کہ معاویہ میں چار صفات ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے اس میں ایک بھی ہوتی تو بھی تباہی کے لئے کافی تھی ۔
۱:- امت کے دنیا طلب جہال کو ساتھ ملاکر اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ اس وقت صاحب علم و فضل صحابہ موجود تھے ۔
۲:- اپنے شرابی بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا جو کہ ریشم پہنتا تھا اور طنبور بجاتا تھا ۔
۳:- زیاد کو اپنا بھائی بنایا ۔ جب کہ رسول خدا کا فرمان ہے کہ لڑکا اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں ۔
۴:- حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کیا(۱) ۔
اقوال معاویہ
معاویہ نے اپنی مرض موت میں یزید کو بلایا اور کہا کہ دیکھو میں نے تمہارے لئے زمین ہموار کردی ہے ار سرکشان عرب وعجم کی گردنوں کو تمہارے لئے جھکا دیا ہے اور میں نے تیرے لئے وہ کچھ کیا جو کوئی باپ بھی اپنے بیٹے کے لئے نہیں کرسکتا ۔مجھے اندیشہ ہے کہ امر خلافت کے لئے قریش کے یہ چار افراد حسین بن علی ۔عبداللہ بن عمر ،عبدالرحمن بن ابو بکر اور عبداللہ بن زبیر تیری مخالفت کریں گے ۔
ابن عمر سے زیادہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر باقی لوگ بیعت کرلیں گے تو وہ بھی تیری بیعت کرے گا ۔
حسین بن علی کو عراق کے لوگ اس کے گھر سے نکالیں گے اور تجھے ان سے جنگ کرنا پڑے گی ۔
عبد الرحمن بن ابو بکر کی ذاتی رائے نہیں ہے وہ وہی کچھ کرے گا جو اس
____________________
(۱):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ۲۴۸
کے دوست کریں گے ، وہ لہو ولعب اور عورتوں کا دلدادہ ہے ۔ لیکن ابن زبیر سے بچنا وہ شیر کی طرح تجھ پر حملہ کرے گا اور لومڑی کی طرح تجھے چال بازی کرے گا ۔ اگر تم اس پر قابو پاؤ تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردینا(۱) ۔
۲:- طبری نے مختلف اسناد سے ابو مسعودہ فرازی کی روایت نقل کی ہے کہ :- معاویہ نے مجھ سے کہا :- ابن مسعدہ ! اللہ ابو بکر پر رحم کرے نہ تو اس نے دنیا کو طلب کیا اور نہ ہی دنیا نے اسے طلب کیا اور ابن حنتمہ کو دنیا نے چاہا لیکن اس نے دنیا کو نہ چاہا ۔عثمان نے دنیا طلب کی اور دنیا نے عثمان کو طلب کیا اور جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تو ہم تو دنیا میں لوٹ پوٹ چکے ہیں ۔
۳:- جب معاویہ کی سازش سے حضرت مالک اشتر شہید ہوگئے تو معاویہ نے کہا! علی کے دو بازو تھے ایک ( عمّار یاسر) کو میں نے صفین میں کاٹ دیا اور دوسرے بازو کو میں نے آج کاٹ ڈالا ہے ۔
۴:-معاویہ کو رسولخدا (ص) نے بد دعا دی تھی کہ اللہ اس کے شکم کو نہ بھرے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا نے پورا اثر دکھایا تھا ۔ چنانچہ معاویہ دن میں سات مرتبہ کھانا کھاتا تھا اور کہتا تھا کہ خدا کی قسم پیٹ نہیں بھرا البتہ میں کھاتے کھاتے تھک گیا ہوں ۔
بنی ہاشم اور بنی امیہ کے متعلق حضرت علی (ع) کا تبصرہ
ہم اپنی کتاب کا اختتام بنی ہاشم اور بنی امیہ کے باہمی فرق کے بیان پر کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہم نے حضرت علی علیہ السلام کے ایک خط کا نہج البلاغہ سے انتخاب کیا ہے ۔ یہ خط آپ نے معاویہ کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا اور اس کے متعلق جامع نہج البلاغہ سید رضی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے
____________________
(۱):-الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ ص ۲۵۹-۲۶۰
ہیں کہ :- " یہ مکتوب امیر المومنین کے بہتر ین مکتوبات میں سے ہے ۔"
" تمہارا خط پہنچا ۔تم نے اس میں ذکر کیا ہے کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دین کے لئے منتخب فرمایا اور تائید ونصرت کرنے والے ساتھیوں کے ذریعے ان کو قوت وتوانائی بخشی ۔
زمانہ نے تمہارے عجائبات پر اب تک پردہ ہی ڈالے رکھا تھا جو یوں ظاہر ہورہے ہیں کہ تم ہمیں ہی خبر دے رہے ہو ۔ ان احسانات کی جو خود ہمیں پر ہوئے ہیں اور اس نعمت کی جو ہمارے رسول (ص) کے ذریعے ہم پر ہوئی ہے ۔اس طرح تم ویسے ٹھہرے جیسے "ہجر"(۱) کی طرف کھجوریں لاد کر جانے والا یا اپنے استاد کو تیر اندازی کی دعوت دینے والا ۔
تم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اسلام میں سب سے افضل فلاں اور فلاں (ابو بکر وعم) ہیں ۔یہ تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر صحیح ہو تو تمہارا اس سے واسطہ نہیں اور غلط ہو تو تمہارا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔
اور بھلا تم کہاں اور یہ بحث کہاں ؟ افضل کون ہے اور غیر افضل کون ہے ۔ حاکم کون ہے اور رعایا کون ہے ؟
بھلا ۔"طلقاء" (آزاد کردہ لوگوں ) اور ان کے بیٹوں کو یہ حق کہاں ہوسکتا ہے کہ وہ مہاجرین اولین کے درمیان امتیاز کرنے ان کے درجے ٹھہرانے اور ان کے طبقے پہنچوانے بیٹھیں ؟
کتنا نامناسب ہے کہ جو ئے کے تیروں میں نقلی تیر آواز دینے لگے اور کسی معاملہ میں وہ فیصلہ کرنے بیٹھ جس کے خود خلاف ۔بہر حال اس میں فیصلہ ہوتا ہے ۔
اسے شخص ! تو اپنے پیر کے لنگ کو دیکھتے ہوئے اپنی حد پر ٹھہرتا کیوں
____________________
(۱):- "ہجر" ایک جگہ کا نام ہے جہاں کجھوریں بکثرت ہوتی ہیں ۔
نہیں اور اپنی کوتاہ دستی کو سمجھتا کیوں نہیں اور پیچھے ہٹ کر رکتا کیوں نہیں ؟
جبکہ قضا وقدر کا فیصلہ تجھے پیچھے ہٹا چکا ہے ۔آخر تجھے کسی مطلوب کی شکست سے اور فاتح کی کامرانی سے سروکار ہی کیا ہے ؟
تمہیں محسوس ہونا چاہئیے کہ تم حیرت وسرگشتگی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہو اور راہ راست سے منحرف ہو ۔آخر تم نہیں دیکھتے اور یہ میں جو کہتا ہوں ۔ تمہیں کوئی اطلاع دینا نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا ہے کہ مہاجرین و انصار اکا ایک گروہ خدا کی راہ میں شہید ہوا اور سب کے لئے فضیلت کا ایک درجہ ہے ۔مگر جب ہم میں سے شہید نے جام شہادت پیا تو اسے سید الشہدا کہا گیا(۱)
اور پیغمبر نے صرف اسے یہ خصوصیت بخشی کہ اس کی جنازہ میں ستر تکبیریں کہیں اور کیا تم نہیں دیکھتے کہ بہت لوگوں کے ہاتھ خدا کی راہ میں کاٹے گئے اور ہر ایک کے لئے ایک حد تک فضیلت ہے مگر جب ہمارے آدمی کے ساتھ یہی ہوا جو اوروں کے ساتھ ہوچکا تھا تو اسے "الطیار فی الجنة " (جنت میں پرواز کرنے والا) اور "ذوالجناحین " (دو پروں والا) کہا گیا(۲)
اور اگر خدا نے خود ثنائی سے روکا نہ ہوتا تو بیان کرنے والا اپنے وہ فضائل بیان کرتا کہو مومنوں کے دل جن کا اعتراف کرتے ہیں اور سننے والوں کے کان انہیں اپنے سے الگ نہیں کرنا چاہتے ۔ایسوں کا ذکر کیوں کرو جن کا تیر نشانوں سے خطا کرنے والا ہے ۔
ہم وہ ہیں براہ راست اللہ سے نعمتیں لے کر پروان چڑھے ہیں اور دوسرے ہمارے احسان پروردہ ہیں ۔ ہم نے اپنی نسل بعد نسلی چلی آنے والی
____________________
(۱):- رسول خدا نے حضرت حمزہ کو سید الشہدا کا لقب دیا تھا ۔
(۲):- حضرت علی کے بڑے بھائی حضرت جعفر کے دونوں بازو جنگ موتہ میں قلم ہوئے تھے تو رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا : میں نے جعفر کو دیکھا کہ وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کررہا ہے ۔ اللہ نے اسے دو زمرد کے پر عطا کئے ہیں ۔
عزت اور تمہارے خاندان پر قدیمی برتری کے باوجود کوئی خیال نہ کیا اور تم سے میل جول رکھا اور برابر والوں کی طرح رشتے دیئے لئے حالانکہ تم اس منزلت پر نہ تھے ۔
اور تم ہمارے برابر ہوکیسے سکتے ہو جب کہ ہم میں نبی ہیں اور تم میں جھٹلانے والا(۱) ۔ اور ہم میں اسد اللہ اور تم میں اسد الاحلاف(۲) ۔ اور ہم میں دو سردار جوانان اہل جنت اور تم میں جہنمی لڑکے(۳) ۔ہم میں سردار زنان عالمیان اور تم میں "حمّالۃ الحطب"(۴)
اور ایسی ہی بہت سی باتیں جو ہماری بلندی اور تمہاری پستی کی آئنہ دار ہیں ۔چنانچہ ہمارا ظہور ۔اسلام کے بعد کا دور بھی وہ ہے جس کی شہرت ہے اور جاہلیت کے دور کابھی ہمارا امتیار ناقابل انکار ہے اور اس کے باوجود جورہ جائے وہ اللہ کی کتاب ہمارے لئے جامع الفاظ میں بتا دیتی ہے ۔ ارشاد الہی ہے : "قرابت دار آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں "
اور دوسری جگہ پرارشاد فرمایا :-
"ابراہیم کے زیادہ حقدار وہ لوگ تھے۔ جو ان کے پیروکار تھے اور یہ نبی
____________________
(۱):- جھٹلانے والوں میں سر فہرست معاویہ کاباپ ابو سفیان تھا ۔
(۲):- رسول خدا(ص) نے حضرت حمزہ کو "اسد اللہ" (اللہ کا شیر ) کا لقب دیا تھا اور معاویہ کا نانا عتبہ بن ربیعہ "اسد الاحلاف" ہونے پر نازاں تھا ۔یعنی حلف اٹھانے والی جماعت کا شیر ۔
(۳):- امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے متعلق رسول خدا کی مشہور حدیث ہے "الحسن والحسین سید الشاب اهل الجنة " حسن وحسین جوانان جنت کے سردار ہیں ۔ اور جہنمی لڑکوں س مراد عتبہ بن ابی معیط کے لڑکوں کی طرف اشارہ ہے ۔ پیغمبر اکرم نے عتبہ سے کہا تھا ۔ :-لک ولهم النار " تیرے اور تیرے لڑکوں کے لئے جہنم ہے ۔
(۴):- حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے لئے رسول خدا (ص) کا فرمان ہے :-"الفاطمة سیدة نساء العالمین " فاطمہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہے " حمّالۃ الحطب "معاویہ کی پھوپھی ام جمیل بنت حرب ہے جو کہ ابو لہب کے گھر میں تھی اور یہ کانٹے جمع کرکے رسول خدا کی راہ میں بچھایا کرتی تھی ۔قرآن مجید میں ابو لہب کے ساتھ اس کا تذکرہ ان لفظوں میں ہے :-سیصلی نارا ذات لهب وامراته حمّالة الحطب " وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں داخل ہو گا اور اس کی بیوی لکڑیوں کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہے ۔
اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اللہ بھی ایمان والوں کا سرپرست ہے ۔"
تو ہمیں قرابت کی وجہ سے بھی دوسروں پر فوقیت حاصل ہے اور اطاعت کے لحاظ سے بھی ہمارا حق فائق ہے ۔
اور سقیفہ کے دن جب مہاجرین نے رسول (ص) کی قرابت کو استدلال میں پیش کیا تو انصار کے مقابلے میں کامیاب ہوئے ۔تو ان کی کا میابی اگر قرابت کی وجہ سے تھی تو پھر خلافت ہمارا حق ہے نہ کا ۔
اور اگر استحقاق کا کوئی اور معیار ہے تو انصار کا دعوی اپنے مقام پر برقرار رہتا ہے ۔ اور تم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ میں نے سب خلفا پر حسد کیا ہے اور ان کے خلاف شورشین کھڑی کی ہیں اگر ایسا ہی ہے تو اس سے میں نے تمہارا کیا بگاڑ ا ہے کہ تم سے معذرت کروں ۔بقول شاعر
"یہ ایسی خطا ہے جس سے تم پر کوئی حرف نہیں آتا "
اور تم نے لکھا ہے کہ مجھے بیعت کے لئے یوں کھینچ کر لایا جاتا تھا جس طرح نکیل پڑے اور اونٹ کو کھینچا جاتا ہے ۔
تو خالق کی ہستی کی قسم ! تم اترے تو برائی کرنے پر تھے کہ تعریف کرنے لگے ۔چاہا تویہ تھا کہ مجھے رسوا کرو کہ خود ہی رسوا ہوگئے ۔بھلا مسلمان آدمی کے لئے اس میں کون سی عیب کی بات ہے کہ وہ مظلوم ہو جب کہ وہ نہ اپنے دین میں شک کرتا ہو اور نہ اس کا یقین ڈانوں ڈول ہو اور میری اس دلیل کا تعلق اگرچہ دوسروں سے ہے مگر جتنا بیان یہاں مناسب تھا تم سے کردیا ۔
پھر تم نے میرے اور عثمان کے معاملہ کا ذکر کیا ہے تو وہاں اس میں تجھے حق پہنچتا ہے کہ تجھے جواب دیا جائے کیونکہ تمہاری ان سے قرابت ہے ۔اچھا تو پھر سچ سچ بتاؤ کہ ہم دونوں میں اس کے ساتھ زیادہ دشمنی کرنے والا اور ان کے قتل کاسرو سامان کرنے والا کون تھا ؟
وہ کہ جس نے اپنی امداد کی پیش کش کی اور انہوں نے اسے بٹھادیا اور روک دیا یا وہ کہ جس سے انہوں نے مدد چاہی اوروہ ٹال گیا اور ان کے لئے موت کے اسباب مہیا کئے ؟
یہاں تک کہ ان کے مقدر کی موت نے انہیں گھیرا ۔
خدا کی قسم ! اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو جنگ سے دوسروں کو روکنے والے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آؤ اور خود بھی جنگ کے موقع پر برائے نام ٹھہرتے ہیں ۔
بے شک میں اس چیز کے لئے معذرت کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ میں ان کی بعض بدعتوں کو ناپسند کرتا تھا ۔ اگرمیری خطا یہی ہے کہ میں انہیں صحیح راہ دکھاتھا اور ہدایت کرتا تھا تو اکثر ناکردہ گناہ ملامتوں کانشانہ بن جایا کرتے ہیں ۔اور کبھی نصیحت کرنے والے کو بدگمانی کا مرکز بن جانا پڑتا ہے میں نے تو جہاں تک بھی بن پڑا یہی چاہا کہ اصلاح ہوجائے اور مجھے توفیق حاصل ہونا ہے تو اللہ سے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی سے لولگاتا ہوں ۔
تم نے لکھا کہ !" میرے ساتھیوں کے لئے تمہارے پاس بس تلوار ہے " یہ کہہ کر تو تم روتوں کو ہنسانے لگے بھلا بتاؤ کہ تم نے عبدالمطلب کی اولاد کو کب دشمن سے پیٹھ پھراتے ہوئے پایا اور کب تلواروں سے خوف زدہ ہوتے دیکھا ؟
عنقریب جسے تم طلب کررہے ہو وہ خود تمہاری تلاش میں نکل کھڑا ہوگا اور جسے دور سمجھ رہے ہو وہ قریب پہنچے گا ۔میں تمہاری طرف مہاجرین وانصار اور اچھے طریقے سے ان کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین کالشکر جرار لے کر عنقریب اڑتا ہوا آراہا ہوں ۔ایسا لشکر کہ جس میں بے پناہ ہجوم اور گرد وغبار ہوگا وہ موت کے کفن پہنے ہوئے ہوں گے اور ہر ملاقات سے زیادہ انہیں لقائے پروردگار
محبوب ہوگی اور ان کے ساتھ شہدائے بدر کی اولاد اور ہاشمی تلواریں ہوں گی جن کی تیز دھار کی کاٹ تم اپنے ماموں ۔بھائی ۔ نانا اور کنبہ والوں میں دیکھ چکے ہو وہ ظالموں سے اب بھی دور نہیں ہے ۔
٭٭٭٭٭
کتاب ہذا کے مصادر
۱:-قرآن مجید
۲:- صحیح بخاری ۔دار لطباعۃ العاصرہ ۔استنبول
۳:- صحیح مسلم ۔دار لکتب العربیہ الکبری ۔مصر
۴:- طبقات ابن سعد ۔قاہرہ
۵:- سیرت ابن ہشام ۔مطبعہ حجازی محمد ۔مصر
۶:- الاصابہ فی تمیز الصحابہ ۔مطبعہ مصطفی محمد ۔ مصر
۷:- فتوح البلدان ۔ بلاذری ۔مطبعہ مصریہ ۔قاہرہ طبع اول
۸:- انساب الاشراف ۔ بلاذری مطبعہ عربیہ ۔القدس ۔مقبوضہ فلسطین
۹:- تاریخ طبری ۔مطبعہ حسینیہ ۔مصر
۱۰:- شرح نہج البلاغہ ۔ابن ابی الحدید ۔ دارالکتب العربیہ الکبری ۔مصر
۱۱:-تاریخ کامل ۔ ابن اثیر ۔مطبعہ منیریہ ۔مصر
۱۲:- شرح نہج البلاغہ ۔ابن ابی الحدید۔ دار الکتب العربیہ الکبری ۔مصر
۱۳:- تاریخ ابن خلدون۔ مطبعہ نہضت ۔مصر
۱۴:- کتاب المواعظ والاعتبار بذکر الخطط والآثار ۔مقریزی ۔دار الطباعۃ المصریہ ۔قاہرہ
۱۵:- اخبار طوال ۔دینوری ۔مطبعہ السعادۃ ۔مصر
۱۶:- عبقریۃ الامام علی علیہ السلام ۔ استاد عقاد ۔ مطبعہ المعارف ۔ قاہرہ
۱۷:- الامام علی ابن ابی طالب ۔عبد الفتاح عبدالمقصود ۔لجنۃ النشر ۔قاہرہ
۱۸:- الفتنہ الکبری ۔ڈاکٹر طہ حسین
۱۹:- معاویہ بن ابی سفیان ۔استاد عقاد ۔کتاب الحلال ۔مصر
فہرست
مقدّمہ مؤلف ۵
حدیث قرطاس:- ۹
پیغمبر نے زبر دستی نوشتہ کیوں نہ لکھا ؟:- ۱۶
واقعہ قرطاس اور علمائے اہل سنت کی تاویلات: ۱۸
فصل اول ۳۲
مسئلہ وصیت ۳۲
خلافت علی (ع) کے دلائل ۳۵
سواد اعظم کا نظریہ خلافت ۳۸
معتزلہ کا نظریہ خلافت ۳۹
حدیث قرطاس ۴۲
رسول خدا (ص) کیا لکھنا چاہتے تھے ؟ ۴۷
دور معاویہ میں وضع حدیث ۴۹
ابو طالب(ع) کی اسلامی خدمات ۵۱
شعب ابی طالب ۵۲
علی (ع) کی اسلامی خدمات ۵۵
۱:- شب ہجرت ۵۶
۲:-موخات ۵۷
۳:- جنگ احد اور علی (علیہ السلام) ۵۷
۴:- علی(ع) اور تبلیغ براءت ۵۸
۵:- علی (ع) تبلیغ اسلام کے لیے یمن جاتے ہیں ۵۹
۶:- ہارون محمدی ۵۹
۷:- فاتح خیبر ۶۰
ج:- جیش اسامہ :- ۶۲
فصل دوم ۶۶
سقیفہ کی کاروائی ۶۶
۱:حضرت ابو بکر صدیق ۶۶
واقعات سقیفہ کا تجزیہ ۷۵
حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ ۷۹
واقعہ فدک ۸۲
فدک مختلف ہاتھوں میں ۸۴
مامون کی واپسی فدک ۸۶
محاکمہ فدک ۸۷
"لاوارثی "حدیث اور قرآن ۸۸
"لا وارثی حدیث"قرآن کے منافی ہے ۸۹
"لاوارثی " حدیث اور عقل ونقل کے تقاضے ۹۴
فدک بعنوان ہبہ ۹۷
فرع کی اصل کے لئے گواہی ۹۹
مباہلہ کی گواہی ۹۹
خلیفۃ المسلمین کا عملی تضاد ۱۰۲
سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ ۱۰۷
ب :- حضرت عمر بن الخطاب ۱۰۷
خلیفہ اول کی حضرت عمر کے لئے وصیت ۱۰۹
شوری ۱۱۱
شوری کی کاروائی ۱۱۶
چند سوال ۱۱۷
ارکان شوری کے متعلق حضرت عمر کی رائے ۱۱۸
بزم شوری میں حضرت علی (علیہ السلام)کا احتجاج ۱۲۰
مجلس شوری کا تجزیہ ۱۲۹
حضرت عمر کے بعض اجتہادات ۱۳۴
سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف ۱۳۸
سیرت شیخین کا باہمی تضاد ۱۳۸
مالک بن نویرہ کا واقعہ ۱۴۰
واقعہ مالک کا تجزیہ ۱۴۲
سقیفہ کا تیسرا چہرہ ۱۴۷
۳:- حضرت عثمان بن عفان:- ۱۴۷
بنی امیہ کی اسلام دشمنی ۱۴۹
جنگ بدر ۱۴۹
بنی امیہ کا اسلام ۱۵۴
بنی امیہ پر نوازشات ۱۵۸
حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی ۱۶۲
چند مشاہیر کی دولت ۱۶۵
حضرت عثمان کی حکومتی پالیسی ۱۶۸
عثمانی عمّال کی سیرت ۱۷۱
ولید بن عقبہ ۱۷۲
کوفہ میں ولید شراب نوشی ۱۷۳
ولید کو والی کوفہ کیوں بنایا گیا ۱۷۵
حضرت عثمان کا صحابہ سے سلوک ۱۷۷
عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت ۱۸۱
مخالفین کے حضرت عثمان پر الزامات ۱۸۴
اپنوں کی طوطا چشمی ۱۸۷
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ۱۸۷
ایک "زود پشیمان " کی پشیمانی ۱۸۸
عمرو بن العاص اور حضرت عثمان ۱۸۹
حضرت عثمان اور ام المومنین عائشہ ۱۹۰
بنی امیہ کا اجلاس ۱۹۲
ایک سوال جس کا جواب ضروری ہے ۱۹۶
قتل عثمان ۱۹۸
قتل عثمان کے بعد بنی امیہ کی سازشیں ۲۰۰
فصل سوم ۲۰۶
خلافت امیرالمومنین علیہ السلام ۲۰۶
فصل چہارم ۲۱۰
ناکثین (بیعت شکن) ۲۱۰
عائشہ کو علی سے پرانی عداوت تھی ۲۱۴
طلحہ وزبیر کی مخالفت کی وجہ ۲۲۰
جنگ جمل کے محرّک بصرہ میں ۲۲۴
محرّکین جمل کے جرائم ۲۳۳
فصل پنجم ۲۳۶
گروہ قاسطین (منکرین حق) ۲۳۶
جنگ صفین ۲۴۲
فصل ششم ۲۵۳
تحکیم ۔مارقین ۔شہادت ۲۵۳
عمر بن العاص کی شخصیت ۲۵۸
عمرو بن العاص ،معاویہ کے پاس ۲۶۰
تحکیم اور موقف علی (ع) ۲۶۲
حضرت علی (ع) کی مشکلات ۲۶۶
فصل ہفتم ۲۷۰
سیرت امام (ع) سے چند اقتباسات ۲۷۰
آئین حکومت ۲۷۱
بیت المال اور علی (ع) ۲۹۲
۳ ۔آپ کی تواضع اور عدل ۲۹۴
۴۔آپ کی سیاست عامہ کا تجزیہ ۲۹۷
۵- آپ کے چند اقوال زریں ۲۹۹
حسن علیہ السلام کو وصیت ۳۰۱
۶- حضرت علی (ع) اور انطباق آیات ۳۰۵
فصل ہشتم ۳۰۷
کردار معاویہ کی چند جھلکیاں ۳۰۷
حضرت حجر بن عدی کا المیہ ۳۰۸
غدر معاویہ کے دیگر نمونے ۳۱۵
زیاد بن ابیہ کا الحاق ۳۱۶
اقوال معاویہ ۳۱۹
بنی ہاشم اور بنی امیہ کے متعلق حضرت علی (ع) کا تبصرہ ۳۲۰
کتاب ہذا کے مصادر ۳۲۷