یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب: استعاذہ (اللہ تعالی کے حضور پناہ طلبی)
منصنف: شہید محراب حضرت آیت اللہ سید عبد الحسین دستغیب شیرازی
مترجم: سید غضنفر حسین البخاری
تعداد: ۵۰۰۰
طع اول: محرم الحرام ۱۲۰۷ ہجری
ناشر: سازمان تبلیغات اسلامی روابط بین المللی
بسم اللہ الرحمن ارحیم
مقدمہ:
حقیقی پنا صرف وہی دے سکتاہے جو خود نجات یافتہ ہو.
حضرت شیہد محراب جناب آیت اللہ دستغیب کی یہ بے مثال تصنیف استعاذہ کے عنوان سے پیش خدمت ہے جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے شیطان لعین کے شر سے خدا ئے تعالی کے حضور پناہ طلبی اس کا موضوع ہے بے مثال تجرہ علمی اور آیات و اخبار پر کامل دسترس کے بل پر اہل بیت اطہار(ع) کی روایات صحیحہ کے حوالوں سے آپ نے صرف اسی ایک موضوع پر پینتیس مجالس ارشاد فرمائی ہیں استعاذہ کی حقیقت و اہمیت اس کے معنی و مفہوم اور اس کے ارکان پنجگانہ تقوی،تذکر،توکل،اخلاص اور تضرع پر اپ کے یہ ایمان افروز خطبات بڑے دلچسپ اور فکر انگیز ہیں اور بہت سے بصیرت افروز اور روشن نکات کے ححامل ہیں استدلال میں آپ نے آیات و اخباار و حکایات سے بکمال خوابی و خوش اسلوبی استفادہ کیا ہے اور حقائق کو بڑی سلیس اور سادہ زبان میں پوری تفصیل سے ایسے انداز میں بیان فرمایا ہے کہ ہر ذہن بآسانی سمجھ لے.
لیکن جو حقیقت خاص طور پر قابل توجہ اور غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ آپ کس طرح اور کیونکر اپنی زندگی میں اس قدر مرجع خلائق تھے کہ بوقت شہادت بھی اور اس کے بعد بھی دنیاآپ کے لئے سوگ نشین ہوئی اور سب نے آپ کے فراق میں نوحہ خوانی- اور آپ کی عظیم تصنیفات کو پھول کی پتیوں کی صورت خریدا اور دوسروں کو ہدیہ کیا.در اصل آپ خود صحیح معنوں میں استعاذہ پر عمل پیرا تھے عمر بھر آپ نے نفس امارہ اور ہوائے نفسانی کے خلاف مجاہدہ کیا اور ملکات فاضلہ کے حصول کے لئے جدوجہد کی،شیطان ملعون کے ساتھ طولانی جہاد میں مصروف رہے اور بالآخر اس پر فتحیاب ہوئے یہی وجہ ہے کہ آپ نہایت ہی دل نشین اور موثرانداز میں شیطان خبیث کی شناخت کرواتے ہیں اور انسان کو اس کے دام تزویر سے رہائی پانے کی کامیاب تدابی راو خود کو اس کے شرسے محفوظ رکھنے کے لئےاللہ تعال کی پناہ طلب کرنے کے مفصل طرق و اطوار بتاتے ہیں یہ کتاب اس مقدس بزرگ کے متبرک ترین آثار میں یے ہے جسے خاص و عام نے متعدد جریدوں اور مجلوں میں بے دریغ خراج عقیدت پیش کیا ہے اس کتاب کے مضامیں فکر انگیز روایات اور دلکش حکایات سے مزین و مرضع میں.ان کی وجہ سے قاری کو تھکن کا احساس نہیں ہوتا بلکہ اس کے انہماک و اشتیاق میں اضافہ ہوجاتاہے.
مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ جب ایک فلم بردار اپ کی کسی کتاب کے آفسٹ کے لئے اس کی فلم بنانے لگا تو اس کے مطالعہ میں کھوگیا خود اس کا بیان ہے کہ: مطالعے کخ دوران دفعتاً مجھے احساس ہوا کہ سٹڈیوبند کرنے کا وقت ہوگیا ہے در آنحالیکہ میں نے ایک صفحے کی بھی فلم نہیں لی تھی. اس کے بعد بھی کبھی دوران فلم بندی میری نظر کسی مضمون پر پڑگئی تو وہیں تک گئی اور پھر مجھے احساس نہ رہا کہ میںن کتنی دیر اس کے مطالعے میں محور ہا.
اےت رب غفار!ان کی روح کو اپنی رحمت کے سایہ میں رکھ اور ان کے نواسہ عزیز کی روح کو ان کے جملہ شہید رفقاء کے ساتھ غریق رحمت فرما-
۵/۱۳۶۰ شمسی ہجری
مطابق ۲۴/۲/۱۹۸ میلادی
سید محمد ہاشم دستغیب
مجلس ۱
( بسم الله الرحمن الر حیم.وَ قُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّیاطِینِ. وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ ) -(۲۳/۹۸)
قرآن و اخبار میں استعاذہ کی اہمیت:
قرآن مجید اور اخبار اہل بیت رسول(ص) میں موضوع پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہے وہ استعاہ ہے یعنی شیطان لعین کے شرسے اللہ تعالی کے حضور پر پناہ طلبی جو اعوذ بااللہ من الشطیطان الرجیم کے مقدس الفاظ سے کی جاتی ہے لیکن یہ نہایت ضوری ہے کہ قلب انسان ہمیں سچی کیفیت اس کے لئے پیدا ہوتا کہ اسے صحیح معنوں میں استعاذہ کہا جاسکے.
استعاذہ کی اہمیت واضح کرنے کے لئے اللہ تعالی نے کلام پاک میں ارشاد فرمایا ہے:
“( فَإِذا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِیم ) ”
(پس حب تو قرآن پاک کی تلاوت شروع کرلے تو شیطان مردود سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے)
نماز میں تکبیرة الا حرام کے بعد بھی استعاذہ کا حکم وارد ہواہے لیکن وہاں اسے آہستہ پڑھنا چاہئے مفسرین کرام نے آہستہ خوانی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ پناہ طلب اس شخص کی مانند ہے جو موقعہ سے فرار کرکے خود کو پوشیدہ رکھنا چاہتاہے، اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ اسے پناہ طلب !تو اپنے عدوئے مبین سے حالت فرار میں ہے جوکہ ہ رلحظ تیری گھات میں ہے پس اپنے آپ کو حتی الامکان اس سے پوشیدہ رکھ کر آاہستگی سے عظیم پناہ کا دروازہ کھٹکھٹا.
عبادت کی ابتدا میں استعاذہ:
استعاذہ کا ایک نہایت ضروی وقت عبادت کی ابتداء کا ہے.انسان جو بھی عبادت کرے اس پر لازم ہے کہ شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ مانگ لے کیونکہ جوجنس بشر کے ہر فرد کو گمراہ کرنے کے لئے ہر۳وقت گھات میں ہے.انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ انسان کے عمل خی رکو برباد کرے اور یا تو اسے پوراہی نہ ہونے دے کہ وہ اس کے ثواب سے محروم رہے اور یا کم از کم عبادت کے بارے میں اسے ریاء و غرور میں مبتلا کردے.
مثلاًآپ نے چاہا کہ وضو کریں تو آپ پر لازم ہے کہ پہلے استعاذہ کریں،ابلیس لعین سے خدا کی پناہت مانگیں. اس کے بعد وضو کریں آپ نے بارہا دیکھا ہے کہ یہی وضو شیطان کی بازی گاہ بن گیا کیونکہ بعض اوقات ان وسوسوں کی وجہ سے جو وہ انسان کے دل میں ڈالتاہے، ساری کی ساری عبادت اکارت ہوجاتی ہے اور بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے.
غرضیکہ استعاذہ امور عبادی میں سے ہے جنہیں صحیح معنوں میں اور کماحقہ بجالانے کے لئے ضروری ہے کہ شیطان ملعون کے شراور اس کے عمل دخل سے اللہ تعال کی پناہ حاصل کر لی جائے.
مباح امور میں استعاذہ کی تاکید:
مباح امور مثلاً کھانے پینے اور پہنے و غیرہ میں بھی استعاذہ کا حکم ہے اور ہر عمل کے لئے مخصوص دعائیں منقول میں مثلاً لباس پوشی کے وقت کہے:
“ اللَّهُم اسْتُرْ عَوْرَتِی وَ لَا تَجْعَلْ لِلشَّيْطَانِ فِیهِ نَصِیبا ”
(خداوند میری جائے ستر کو پوشیدہ رکھ اور اسے شیطان کے عمل دخل سے محفوظ فرما)
ہر پست و ذلیل اور ہر بلند و عزیز مقام پر شیطان سے پناہ مانگنی چاہئے اگر مسجد میں جائیں تو استعاذہ کریں کہ مبادا یہ دشمن عنید و ہاں بھی آپ کا پیچھا نہ چھوڑے حتی کہ یہ بیت الخلال جاتے وقت بھی استعاذہ کی تاکید وارد ہوئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں،
“اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخَبِیثِ الْمُخْبِثِ الرِّجْسِ النِّجْسِ الشَّيْطَانِ الرَّجِیم ”
(پروردگار میں شیطان خبیث و خباثت کار نجس و پلید سے آپ پناخ مانگتاہوں)
شیطان مسجد کے دوازے پر:
ایک متقی شخص کا بیان ہے: میں نے مکاشفہ میں شیطان لعین کو مسجد کے دروازے پر کھڑاپایا میں مے اس سے کہا:اے ملعون ازل یتو یہاں کیا کررہاہے؟اس نے جواب دیا:میرے ساتھی ادھرادھر ہوگئے ہیں،ان کا انتظار کرتاہوں.
میں سمجھ گیا کہ صاحبان عقل و شعور ہوں گے کر یہ ملعون کے ساتھ نہیں جاسکا.اور اتنی احتیاط انہوں نے ضرور کی ہوگی اور مسجد پر استعاذہ کیا ہوگا.
گھرسے نکلتے وقت استعاذہ :
پس استعاذہ ہرحال میں لازم ہے جب آپ گھر سے باہر جارہے ہوں تو شیاطین دروازے پر آپ کے منتظر ہوتے ہیں اس وقت آپ استعاذہ کیجئے اور یہ داعائے ماثور پڑھئے:
“بِسْمِ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ”
(اللہ تعال کے نام سے اور اسی کی توفیق سے میں اپنے کام سے جارہاہوں میرا اس ذات اقدس پر ایمان ہے اور اسی پر بڑ توکل ہے اور کوئی بھی طاقت وقوت اس ذات بزرگ و بر تر کے سوا(امور کائنات کی مدبر و مدیر نہیں.)
کلام پاک میں تاکیداً ارشا ہواہے:
إِنَّهُ يَراكُمْ هُوَ وَ قَبیلُهُ مِنْ حَيْثُ لا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیاطینَ أَوْلِیاءَ لِلَّذینَ لا يُؤْمِنُونَ
(شیطان اور اس کے قبیلہ والے تمہیں دیکھ رہے ہیں اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھ رہے ہو بیشک ہم نے شیاطین کو بے ایمان انسانوں کا دوست بنادیا ہے).
شیطان ملعون سے صرف ایک چیز اپ کو بچاسکتی ہے اور وہ استعاذہ ہے اللہ تعاليٰ کی پناہ کے علاوہ اس سے محفوظ رہنے کی اور کوئی راہ نہیں.
اس شخص کی طرح جوکسی بڑے آدمی کے خمیہ پر آنا چاہ رہاہوں جس کے دروازے پر ایک خونخوار کتابیٹھا ہے جو آپ کو اندر نہیں جانے دے رہا آپ کا فرض ہے کہ صاحب خیمہ سے پاناہ طلب کریں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہونا چاہتاہوں براہ کرم اس جان لیوارکاوٹ کو دور فرمائیے۔یہ بہر حال ایک مثال تھی جوبیان کی گئی۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو استعاذہ کا حکم:
انسان تو بھی چاہتاہے کہ بارگاہ قدس تک رسائی حاصل کرلے درآنحالیکہ شیطان کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ توہاں تک پہنچنے پائے وہ تیرے کام میں اس قدر خرابی اور رکاوٹ ڈالتاہے کہ تیرے لئےاپنی منزل مقصودتک رسائی محال ہوجاتی ہے اس صورت سے نجات کی واحد صورت خداسے استعاذہ ہے.
اللہ تعالی نے بنیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم دیا:
( وَ قُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّیاطِینِ. وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ ) اور کہئے اے حبیب:صلىاللهعليهوآلهوسلم :“اے اللہ میں شیطانوں کے وسوسوں اور قلب وروح پر ان کے دور و تسلط سے تیری پنان طلب کرتاہوں”۔
اسی طرح سورۀ معوذتین میں( قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، مَلِكِ النَّاسِ ، إِلهِ النَّاسِ ، مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ الْخَنَّاسِ ،الَّذِی يُوَسْوِسُ فِی صُدُورِ النَّاسِ ، مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ ) فرمایاہے۔
پس جب دشمن اس قدر جری اور قوی ہو تو آپ کو اور مجمے آرام نہیں کرنا چاہیئے اور اس سے غافل نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اپنے تمام قويٰ کو مجتمع کرے اس سے بچنے کی تدبیر اللہ تعاليٰ کی پناہ میں رہ کرکرنی چاہیئےورنہ دفعتاً آپ محسوس کریں گے کہ جس آستانہ پرآپ مدتوں سراطاعت وعقیدت خم کئے پڑے رہے وہ تو شیطان کا ہے جسے آپ نادانی اور بخیبری سے اللہ کا سمجھتے رہے اس مدت میں آپ پکارتے تو آپ خداکو تھے لیکن در اصل مخاطب آپ کا شیطان تھا منہ سے تو آپ یا اللہ کہتے تھے لیکن اطاعت آپ کی شیطان کی تھی۔
پوری عمر شیطان کی تھی:
منتخب التواریخ میں ایک حکایت نقل کی گئی ہے ،میرے استاد مرحوم سید علی الحائری نے اپنے ایک درس می فرمایا:“اصفہان کے کس گاؤں میں ایک مریض حالت نزع میں تھا گاؤں کے زاہد عالم سے درخواست کی گئی کہ اس کے سراہانے آکر تلقین کریں تلقین کے دروان جب وہ مریض“لاالہ الااللہ” کہہ کر خداے تعاليٰ کی وحدانیت کی شہادت دیتاتھا تو کمرے کے گوشے میں آوازآتی تھی،“صدقت عبدی”میرے بنے تونے سچ کہا،اور جب وہ یا اللہ کہتا تو کونے سے آوازآتی“لبیک عبدی”میرے بندے میں حاضرہوں۔عالم نے پوچھا:“اے صاحب آواز توکون ہے؟توجواب میں آواز بولی:
“میں اس کا معبود ہوں جس کی اس نے ساری عمرپرستش کی ہے میں شیطان ہوں”۔
جی ہاں حقیقت یہی ہے کہ اس کا معبود شیطان ہی تھا جس کی ہرصدا پر اس نے لبیک کہا صبح وشام اسی کے حکم پر ناچتا رہا زبان اس کی اسی کی تلقین سے گویا تھی آنکھ اس کی اسی کے ارادے سے دیکھتی تھی اور دل اس کا اسی کی خواہیش پر عمل پیرا تھا ساری عمر جب وہ اسی حالت میں رہاتو اب وہ “یارب” کہے یا “یاابلیس”مخاطب اور مجیب اس کا شیطان ہی ہوگا اور اگر دم نزع پر پردہ اٹھ بھی گیا تو سوائے حسرت وحرمان کے کیا حاصل ہوسکتاہے اور افسوس و ندامت کا کیافائدہ ہے،!۔
اہل ایمان کو شش کیجئے کی استعاذہ پر عمل پیرارہیں دشمن کو کمزور،اور اس کے کام کو معمولی نہ سمجھئے یہ خیال نہ کیجئے کہ “اغوذ باللہ من الشیطان الرجیم”کے الفاظ اداکردینا کافی ہے یادرکھئے کہ جب تک آپ ان کلمات کی حقیقت پر عمل پیرانہیں ہوں گے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
حکومت- نامحرموں سے خلوت- غصہ:
روایات اہل بیت علیہم السلام میں چند مواقع پراستعاذہ کی خصوصی تاکید وارد ہوئی ہے:
۱- قضاوت: قاضی کے لئے فریادرسی اور انصاف کے نازک موقعہ پر استعاذہ کے بغیر چارہ نہیں ۔
۲- خلوت یانامحرم:پرائی عورت کے ساتھ خلوت اتنانازک اورخطرناک موعقہ ہوتاہے کہ شیطان خواہ مخواہ سلط ہوجاتاہے اور ایسے انداز میں ظاہر ہوکر وسوسہ انداز ہوتاہے کہ انسان چاہ ہلاکت میں گرجاتاہے۔
۳- قضاوت اور خلوت یانامحرم تو اتفاق کی بات ہے لیکن غیظ وغضب کی حالت انسان کے لئے سخت ابتلاء کا وقت ہوتا ہے جب انسان غضبناک ہوتاہے تو اس کے خون میں جوش آتاہے اور شیطان پوری قوت سے اس پر سوار ہوجاتاہے۔
چونکہ شیطان اپنی خلقت کے اعتبار سے آتشی اور لطیف ہے لہذا بجلی کی سی قوت و سرعت سے انسان میں نفوذ کرجاتاہے۔
آپ اسی مثال سے جوشیطان نے حضرت نوحعليهالسلام سے بیان کی ،حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے شیطان کے الفاظ یہ ہیں:غیظ وغضب کے وقت انسان کی میرے ہاتھ وہ حالت ہوتی ہے جوبچے کے ہاتھ میں گیند کی ہوتی ہے۔
آپ نے دیکھا کہ بچہ گیند کو جس طرح چاہیئے ،جس طرف چاہیئے بآسانی پھینکتاہے اسی طرح شیطان بھی انسان پر غیظ وغضب کے عالم میں ایسا مسلط ہوجاتاہے کہ اس سے ہرحرام کام کرواتاہے اور تعجب نہیں اگر اس کے زیر اثر انسان سے کفر بھی سرزدہوجائے ۔اس خطرناک صورت احوال سے صرف وہ خوش قسمت افراد بچ سکتے ہیں جن پر اللہ تعاليٰ کی نظر خاص ہو۔
مجلس ۲
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم،وَ قُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّیاطِینِ. وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ ) (۲۳؛ ۹۸)
شب گذشتہ کی گذارشات کا خلاصہ یہ ہوا کہ مومنین کو چاہیئے کہ مسئلہ استعاذہ کو اہمیت دیں اور نص قرآنی کے مطابق ہر حال میں شیطان کے شرے سے اللہ تعاليٰ کی پناہ مانگیں کیونکہ انہوں نے نہ کبھی انسان کو اس کے اپنے حال پر آزاد چھوڑا ہے اور نہ کبھی چھوڑیں گے ان کی انتہائی کوشش یہی ہوتی ہے کہ انسان سے فعل خیرسرزد نہ ہو اور اگر کبھی وہ اس کی کوشش کرے تو اسے ناکام بندیں اور اسے خراب کرکے تکمیل تک نہ پہنچنے دیں۔
بعض مواقع پر ان کی یہ کوشش بہت ہی سخت ہوتی ہے اور بالخصوص تین مواقع ،قضاوت ،خلوت بانامحرم اور غیظ وغضب پر تو،جیسا کہ شب گذشتہ مثالوں سے واضح کیاگیا،وہ ہر ممکن طریق سے انسان کو تباہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
دام شیطان:
آج رات تین مزید اعمال خیر،عہد،نذر اور صدقہ کا ذکرکیاجائے گا جن کی انجام دہی میں شیطان فریب واغوا کی پوری توانائیوں کے ساتھ رخنہ انداز ہوتاہے۔
اگرکوئی شخص اللہ تعاليٰ سے کسی عمل کے کرنے یا اسے ترک کردینے کاعہد کرے یا ایسی نزر مانے جوفقہی اعتبار سے کتب اعمال میں مذکور شرائط صحت پوری اترتی ہو تو شیطان ہر ممکن طریقے سے اسے بار رکھنے کی سعی کرتاہے اور اس کی شکست کے لئے سرتوڑکوشش کرتاہے۔
اسی طرح جب کوئی راہ خدامیں صدقہ دینا چاہتاہے توشیطان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ صدقہ نہ دے سکے کیونکہ مومن کے صدقہ دینے سے شیطان کی کمر ٹوت جاتی ہے چنانچہ اخبار میں آیاہے کہ جونہی کوئی مومن صدقہ دینے کے ارادے سے اپناہاتھ جیب کی طرف لے جاتاہے تو شیطان ستر۷۰ چلیے اس کے ہاتھ سے چمٹ جاتے ہیں اور ہر ممکن وسوسہ سے اسے بازرکھنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی وہ جب تنبیہ خداوندی( الشَّيْطانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ يَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشاء ) شیطان تمہیں غریبی اور مفلس سے ڈراتاہے اور فواہش کے ارتکاب پر اکساتاہے۔
آپ کو اس بات سے ڈرائیں گے کہ صدقہ کی یہ رقم دے دینے کے بعد آپ مفلس ومحتاج ہوجائیں گے او رکبھی یہ وسوسہ آپ کے دل میں ڈرالےگاکہ اس کے بعد اگر کوئی ضروری ترموقعہ خرچ کرنے کا آگیا تو آپ پیسے کہاں سے لاائیں گے لہذا اس صدقہ سے بازرہے غرضیکہ اس کی انتہائی کوشش یہ ہوگی کہ آپ راہ خدا میں کوئی پیسہ خرخ نہ کریں۔
صدقہ کرکے اسے جتاؤنہیں:
اور اگر آپ نے صدقہ دے ہی دیا تو اب شیطان کی ہر ممکن کوشش یہ ہوگی اس کو کسی نہ کسی طرح سے باطل کردے اور اس کا ثواب آپ کو نہ مل سکے چنانچہ آپ کو احسان جتانے پر اکسائے گامثلاًآپ کے دل میں ڈالے گا کہ آپ صدقہ کرنے والے سے کہیں:“یہ میں ہی تھا جس نے رحم کھاکر اس آڑےوقت میں تمہاری مدد کردی ورنہ کوئی دوسراتمہاری دستگیری نہ کرتا”اورآپ ی زبان سے کہلواکرصدقہ وصولت کرنے والے کو ذہنی اذیت دلائی کہ اب تویہ لے لولیکن آیندہ کے لئے اس کامت سے بازآو... اور دوبارہ میرےپاس نہ آنا وغیرہ.
چنانچہ کلام پاک میں واضح ارشاد ہے کہ( لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْأَذى ) اپنے صدقہ کو احسان جتاکر اور ذہنی اذیت دیکر باطل نہ کرو.
بہرحال چونکہ آپ کادشمن ازلی شیطان یہی چاہےگا کہ آپ کاکارخیربےاثر ہوجائے لہذا آپ کو بھی اس کی منحوس کوشش کوباطل کرنے کی سعی بلیغ کرنی چاہیئے.
شیطان کی نظردل پر ہے:
سب تفاسیر میں خصوصاًمجمع البیان میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت نقل کی گئی ہے کہ شیطان ہمیشہ مومن کے دل پر نظر رکھتاہے اور جب اسے عبادت خدا میں مصروف پاتاہے تو فرارکرجاتاہے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کاارشاد ہے:“ إن الشّیطان واضع خطمہ على قلب ابن آدم. فإذا ذکر اللّہ خنس، و إذا نسی التقم قلبہ، فذلک الوسواس الخنّاس”. شیطان نے انسان کے دل پر نکیل ڈالی ہوئی ہے لیکن جب انسان اللہ کاذکر کرتاہے توشیطان وہاں سے کھسک جاتاے لیکن جب انسان اللہ کاذکر بھلادیتاہے توت شیطان اس کے دل کو نگل لیتاہے.
“ان الشیطان یلتقم الی قلب المومن فاذا ذکر لله هرب ” شیطان مومن کے دل کو نگل لینے کا ارادہ کرتاہے لیکن جب مومن اللہ کاذکرکرتاہے توشیطان بھاگ جاتاہے.
غرضیکہ شیطان آخردم تک انسان کا پچھیا نہیں چھوڑتا اس موضوع کو کلام پاک نے بھی بڑی اہمیت دی ہے اور انسان سے عہدلیاہے کہ وہ شیطان کی پیروی سےبازرہےگا اللہ تعاليٰ نے واضح الفاظ میں شیطان کو انسان کاکھلا دشمن قرار دیاہے کلام پاک میں ارشاد ہے:( أَ لَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ یا بَنِی آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّيْطانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِین ) اے اولاد آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی عبادت نہ کرنا کہ وہ تمہارا کِھلا ہوا دشمن ہے.
اللہ تعاليٰ نے انسان کو اپنے ازلی دشمن کی دوستی سے منع فرمایاہے اور اس کی پیروی کے خلاف اسے خبردار کیاہے.
شیطان کیاہے وہ کیوں پیداکیاگا:؟
دوموضوع ہمیشہ سے مورد بحث چلے آئے ہیں ایک یہ کہ شیطان کون ہے اور کیاہے اور اس کی خلقت میں کیا حکمت ومصلحت پوشیدہ ہے اور دوسرایہ کہ اس کے ہتھکنڈوں اور وسوسوں سے بچنے کی کیا صورت ہے.یہ دونوں بحثیں تفصیل طلب ہیں اور ان کے جوعلمی جواب دئے گئے ہیں وہ عوام کے لئے مفید نہیں ہیں اور چونکہ تفصیل ان کی کچھ مفید نہیں لہذا مختصر اًان کے جواب دے جاتے ہیں.
شیطان شناسی کاکیافائدہ ہے:
محققین کے بقول اگر کسی سچے مخبر نے آپ کو خبردی کہ آج رات مسلح چوروں کا ایک گروہ آپ کے گھر میں نقب لگائے گا آپ کے گھرویران کردے گا .آپ کا مال و دولت لوٹ لے گا اور آپ اور آپ کے اہل خاندان کو ہلاک کرے گا تو اگر آپ صاحب عقل وشعور ہوں گے تو اپنے کچھ حامی تلاش کریں گے دروازوں کو مضبوط و مستحکم کریں گڈ جن راہوں سے ان چوروں کے آنے کا اندشیہ ہو ان میں رکاوٹیں کھڑی کرں گے اور موچہ بندی کریں گے لیکن بصورت دیگر آپ صرف یہی پوچھنے پر اکتفاء کریں گے کہ یہ چورکون ہیں کہاں کے رہنے والے ہیں کیسا لباس پہنتے ہیں بوڑھے ہیں یاجوان ان کی نفری کتنی ہے وہ لُرہیں یا ترک...؟ توجب تک آپ کی یہ تحقیقا مکمل ہوگی،وہ لوگ اپناکام کرچکے ہونگےجوچیزآپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ شیطان سے بچنے کی راہ تلاش کریں اب اس کی خلقت کی کیفیت کیاہے اور اس کی وسوسہ اندازی کے انداز و اطوار کیا ہیں یا اس کی خلقت کی حکمت ومصلحت کیاہے،ان باتوں سے آپ کوکیامطلب ہے؟ آپ پرصرف یہ فر ض عائد ہوتاہے کہ اس سے بہر صورت بچیں.
اور اب جبکہ مخبر صاقد نے خبردے دی ہے کہ آپ کا دشمن ازلی دشمن شیطان آپ کی گھات میں ہے آپ کو چاہیئے کہ بے فائدہ باتوں میں وقت ضائع نہ کریں او راس سے نجات کاکوئی حیلہ تلاش کریں لیکن چونکہ اس قسم کے سوالات عموما ہوتے رہتے ہیں، ان کا جواب مختصراًپیش خدمت ہے.
شیطان آگ سے خلق ہواہے اورلطیف مخلوق ہے:
انسان اگرچہ چار عناصر ،آگ،پانی،مٹی،ہوا سے خلق کیاگیاہے لیکن اس کا خاکی جنبہ دوسرے تین جنبوں سے مقدار میں زیادہ اور ماہیت میں قوی ترہے اس لئے ثقل رکھتا ہے اور وزن دار ہے اور اسی وجہ سے اس کے ادارکات اور قوت عمل بہت محدود ہے.
اس کے برعکس شیطان کی خلقت میں آگ اور ہواکاعنصر غالب ہے اس لئے اس کی ساخت بہت لطیف او ردائرہ تصرف اس کا بہت وسیع ہے.
انسان خود کو بڑی طاقت اور قدرت ولاسمجھتاہے لیکن شیطان کو ایسی قدرت حاصل ہے کہ مثلاً وہ اپنے بدن کو اتنا چھوٹاکرسکتے ہیں کہ ایک چھوٹے سے سوراخ میں داخل ہوسکیں یااتنا بڑابناسکتے ہیں کہ وسیع جگہ پر محیط ہوجائیں وہ فاصلے جن کو انسان ایک ماہ میں بمشکل طے کرسکتاہے وہ ایک لحظ میں طے کرلیتے ہیں اورجن چیزوں کے اٹھآنے پر انسان ہرگز قادر نہیں ہوسکتا وہ بآسانی اٹھالیتے ہیں.
سورہ نمل میں اللہ تعاليٰ نے قصہ سلیمان اور تخت بلقیس کے ضمن میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایاہے:( قالَ عِفْریتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتیكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقامِكَ وَ إِنِّی عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمین ) تو جّنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے میں بڑا صاحبِ قوت اور ذمہ دار ہوں.
شیطان آپ کو دیکھتاہے:
پس یہ اغراض کہ اگرشیطان موجود ہے تو ہم اس کو کیوں نہیں دیکھ سکتے بے جاہے،آپ کی آنکھ صرف کثیف جسم کودیکھ سکتی ہے،لطیف چیزکونہیں آپ ہواکو نہیں دیکھ سکتے،اس کی لہروں کو نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ لطیف ہیں آپ کی آنکھ خاکی ہے او رصرف مجسم اشیاء ہی کو دیکھ سکتی ہے اسی لے کلام پاک میں ارشاد خداوندی ہے:( إِنَّهُ يَراكُمْ هُوَ وَ قَبیلُهُ مِنْ حَيْثُ لا تَرَوْنَهُم ) وہ اور اس کے قبیلہ والے تمہیں دیکھ رہے ہیں اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھ رہے.
ہاں بعض اوقات شیاطین اپنے آپ کو مجسم بھی کرسکتے ہیں جن کی وجہ سے انسان انہیں دیکھ سکتاہے چنانچہ بہت سے انبیاء مثلاً حضرت نوحعليهالسلام ،حضرت یحییعليهالسلام اور جناب خاتم الانبیاء محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور بعض دوسرے صالح بندوں نے شیطان کو دیکھا ہے اور اب بھی دیکھتے ہیں.
شیطان کی خلقت اور انسان کی سعادت:
جہاں تک اس کی خلقت کی حکمت کا تعلق ہے خالق علیم وحکیم جس چیزکی بھی تخلیق کاارادہ فرمائے ،درست ہے چنانچہ اس میں وہی حکمت کار فرماہے جو تخلیق بنی آدم اور حیوانات میں کار فرما ہے خواہ ہم اس کو سمجھیں یا نہ سمجھیں.
شیطان کی تخلیق میں بھی بڑی حکمت ہے لیکن اس کی تفصیل بہت علمی اور طولانی ہے او رعوام کو سمجھنے کی نہیں،جوکچھ امکانی طورپر بیان کیا جاسکتاہے وہ یہ ہے کہ:
تخلیق شیاطین کی حکمت ومصلحت اتنی ہی کافی ہے کہ انسان کی سعادت بھی ظاہر ہوسکے اور اس کی بدبختی بھی آشکار ہوسکے اور اس کے داخل بہشت ہونے یا واصل جہنم ہونے کا استحقاق بھی واضح ہوسکے.
خدانے حکم دیا صدقہ دو،شیطان کہتاہے نہ دو اگر دو گے تو تمہارا مال کم ہوجائے گا آگر آپ صاحب عقل ورشد ہیں اور صاحب ایمان وعزم ہیں تو اس منہ پر تھوکیں گے کہ ملعون !اللہ تعاليٰ توفرماتاہے صدقہ دو،مال میں برکت کاباعث ہے،تمہارے مال میں واقع ہونے والی کمی کو ہم پورا کریں گے( وَ ما أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَ هُوَ خَيْرُ الرَّازِقِینَ ) اور تم جو کچھ خرچ کروگے ہم پوار فرمائیں گے ہم( خَيْرُ الرَّازِقِینَ ) ہیں.!
اگر آپ عزم واستقلا میں پہاڑکی طرح مستحکم ہوں گے تو عقل ورشد آپ ا س مقام پر ثابت ہوجائے گا لیکن اگرخدانخواستہ کم عقل وضعیف العزم ہوں گے تو ایک ہی شیطان وسوسہ آپ کے قدم اکھیڑدے گا.
یہ شیاطین کی تخلیق کی برکت ہی ہے کہ اس سے سعادتمندوں کی سعادت اور اصحاب عقل و تمیز کی معقولیت نکھرکر سامنے آتی ہے.
شیاطین کی تخلیق کا مقصد انسان کی آزمائش ہے:
ہم سب خداوآخرت کا ذکر کرتے ہیں لیکن ہم دل سے ان پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں یہ صرف شیاطین ہی ہیں جہن کے ذریعے ہمارے جھوٹ کی ہمارے سچ سے تمیز ہوسکتی ہے.
اگر آپ اللہ کا نام پورے ایمان سے لیتے ہیں تو پھر اس کے وعدے پر کیوں ایمان نہیں رکھتے ،اگر خدانخواستہ آپ نے شیطان کے وسوسے کو قبول کرلیا تو آپ صرف زبان کے مومن ٹھہرے اگر آپ واقعی بہشت پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کو خرید اور اس کے اہل بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے اور جہنم سے بچنے کی تدبیر کیوں نہیں کرتے.
( وَ ما کانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطانٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْها فی شَكٍّ ) اور شیطان کو ان پر اختیار حاصل نہ ہوتا مگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں مبتلا ہے.
آپ دیکھتے ہیں کہ فلان خاتوں دیندار کی مدعی ہے ایک شیطان بصورت انسان اس تک پہنچتاہے اور کہتاہے کہ:وہ آپ بمی خرافاتی اور دقیانوسی ہوگئی ہیں کہ اتنی بڑی چادر سرپر اوڑھ رکھی ہے؛اورجب آپ دوسری بار اسے دیکھیں گے تو مردوں سے کچھ مختلف نظرنہ آئے گی شیطان کے اسی قسم کے وسوسوں اورتمسخرسے انسان گمراہ ہوجاتاہے.
یقیناً شیاطین کی خلیق کا مقصد یہی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ کون صاحب عزم واستقامت ہے اور کون نہیں اس کی تخلق کی سب سے بڑی حکمت مومن وفاجر کی تمیزہے.
اللہ کا وعدہ اور شیطان کاوعدہ:
انسان کیونکہ شیطان کے وعدے کو اہمیت دیتاہے اس کی اسی قسم کی وسوسہ اندازی کی وجہ سے کہ خداکی راہ میں خرچ نہ کر وغریب ہوجاؤں گے اور اگر اس ضروری ترموقعہ خرچ کرنے کا پیش آیاتوکیا کروگے؟
لیکن خداکے وعدے کوانسان ایک غیرمحسوس وعدہ سمجھتاہے کہ خدا کی راہ میں ایک روپے تک خرچ نہیں کرتا لیکن شیطان کی خدمت میں اس کی طرف سے اپنی معمولی سی مدح ثنا پر اور اخبارات یاریڈیوپر اپنانام سن کر ہزاورن روپیہ ہدیہ کردیتاہے.
خدا کے ساتھ معاملے میں توجب وہ فرماتاہے کہ اپنے غریب ہمسائے کے ساتھ اپنے مفلس رشتہ دار کے ساتھ نیکی کرو ارو اس کی مالی مددکرو،ہم کہتے ہیں کہ ہماری مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی ،لیکن اگر معاملہ شیطان کے ساتھ ہو اور خالص دنیاوی ہو تو کس طرح دوسروں سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں.
صدائے رحمانی اور صدائے شیطانی:
شیطان انسا ن کے امتحان کے لئے خلق فرمایاگیاہے اور ایسا ہی ہونا بھی چاہیئے وہ سینما بھی کھولتاہے اور انسانی شیطانوں کی تربیت بھی کرتاہے اور اس طرح وہ اس حیوان دوپایہ کو اپنے دام فریب میں پھنساتاہے.
کیاسینما کے برابر میں مغرف کے وقت اللہ تعاليٰ کاوعدہ بخشش “حی عليٰ الفلاح”کے الفاظ میں بلندنہیں ہورہا؟
یہ دونوں منظر ساتھ ساتھ ہونے ہی چاہتیں تاکہ “لیمیز الله الخبیث من الطیب ”نیکوکار کی بدکردار سے تمیز ہوسکے.کل ہی محشربپا ہوگا جس کے لئے ثواب وعقاب کی بیناد اور استحقاقات کی فراہمی آج مرتب ہونی چاہیئے.
شیطان کسی کو مجبور نہیں کرتا:
لیکن شیطان کسی کو طاقت سڈ حرام کاری پر مجبور نہیں کرتا اور کسی کے اختیار پر اس کا کوئی قابو نہیں یعنی وہ اس قدر قدرت نہیں رکھتاکہ اسنان کے عزم کواپنا محکوم بنالے“وماکان لی علیکم من سلطان”مجھے تم پر کوئی حکومت حاصل نہ تھی۔اس کا کام صرف وسوسہ و تحریک ہے اگر کوئی مسجد میں آتاہے تو اپنے اختیار اور مرضی سے آتاہے اور جوسینماجاتاہے وہ بھی اپنی مرضی ہی سے جاتاہے وہ تجھ پر حاکم نہیں ہے کہ تجھے مجبور کرے بلکہ خود تو اپنے پاؤں سے جہاں چاہتاہے جاتاہے۔
یہ قصور تیراہے کہ اس کے فریب ووسوسہ کاشکار ہوجاتاہے اور کل قیامت کے روزجب لوگ اس کے گرد جمع ہونگے اور اس سے جھگڑیں گے تووہ بالکل عقلی اور منطقی جواب دیگا اورکہے گا:میں تمہیں کھنیچ کردوزخ میں نہیں لے گیامیں نے صرف تمہیں دعوت گناہ دی تھی اور وسوسے میں مبتلاکیا تھا یہ قصور تمہارا ہے کہ تم نے دعوت قبول کی اب مجھے ملامت کیوں کرتے ہو اپنے آپ کو ملامت کرو میری تم پر کوئی حکومت توتھی نہیں کہ تمہیں مجبور کرتا۔
وَ ما کانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطانٍ إِلاَّ أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لی فَلا تَلُومُونی وَ لُومُوا أَنْفُسَكُم
مجلس۳
( بسم الله الرحمن الر حیم.وَ قُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّیاطِینِ. وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ ) -(۲۳/۹۸)
ابلیس کی حاسدانہ روش:
شیطان حاسد ہے چونکہ خود درگاہ خداوندی سے اند ہ جاچکا ہے اس لئے برداشت نہیں کرسکتاکہ انسان کو مقام قرب الہيٰ تک پہنچا ہوادیکھے وہی بشر جسے یہ ملعون حقیر جانتاتھا اور ارزوئے تفاخر واستحقا رکہتا تھا۔
( خَلَقْتَنِی مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِین ) مراز آتش اور ا زخاک آفریدی
تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے.اور آگ مٹی سے برترہے (اس لئے تیرامجھے اس کے لئے سجدے کا حکم انصاف پر مبنی نہیں).
لیکن وہی بشر ایسے مقام تک رسائی حال کرتاہے جہاں سے اس بدبخت کودھتکار دیاگیا اورکہا گیا:( فَما يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِیها فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِین ) نکل جا یہاں سے کہ تو پست و ذلیل ہے تجھے یہاں بڑائی جتانے کا کوئی حق نہیں۔
انسان چاہتاہے کہ عبادت کے ذریعے سے مقام قرب خداوندی حاصل کرلے لیکن شیطان اپنے پورے قويٰ و وسائل اور پوری توانائیوں کے ساتھ یہ کوشش کرتاہے کہ اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالے اور اسے اس مقام بلند تک نہ پہنچنے دے.تاکہ اپنے جذبہ حسد کی تسکین کرسکے اورایساملعون ہے کہ اگر بڑی برائی پر قادر نہ ہو تو چھوٹی ہی پر قناعت کرلیتاہے مثلاً اگر کفروشرک پر قادرنہ ہوسکا تو حرام ومکرہ یا اس سے کم درجہ کی برائی پر قانع ہوجائے گا.
حاسد اور متکبرکاجنت سے کوئی واسطہ نہیں:
حضرت امیرالمؤمنینعليهالسلام نہیج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ میں ارشاد فرماتے ہیں“اے لوگو!شیطان حسد کی وجہ سے ملعون ہوا اور بہشت سے نکالاگیا ایسانہ ہو کہ تم بھی حسد میں مبتلاہوکر ولیسے ہی ہوجاؤ شیطان کو اللہ تعاليٰ نے تکبرکی وجہ سے جنت بدر کیا جب وہ کبر وحسد کی وجہ سے راندۀ ہوا تو تم کبروحسدکی وجہ سے جنت میں کیسے جاسکتے ہو؟ناممکن ہے کہ فرشتوں کے استاد کو تو اس حرکت کی وجہ سے جنت سے نکال دیاجائے اور تمہیں اسی حرکت کی وجہ سے جنت میں داخلہ مل جائے...”.
باوجود اس ے کہ وہ ملعونمدتوں خدا کی عبادت میں مصروف رہا لیکن آخر میں اس نے تکبرکیا اور خود کو ہلاک کرلیا عظمت اور بڑائی صرف ذات واجب کوزیباہے“العظمة والکبریا ردای”عظمت و کبریا صرف مجھے (ذات خالق) کو زیباہے تو اے انسان !تجھے بڑہانکنے سےکیا حاصل؟آقائ وکبیریائ ترا لباس نہیں ہے .بڑائی جتانا تجھے سچا نہیں میں،مین کرنا تجھے چچتا نہیں تکبر تجھے زیب نہیں دیتا سب انسان اللہ تعاليٰ کے سامنے فقیر ومحتاج ہیں( یا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ وَ اللَّهُ هُوَ الْغَنِی ) “غنی مطلق ،سلطان مطلق صرف اللہ تعاليٰ ہے وہ خود فرماتاہے.
( لا إِلهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِی ) صرف میری عبادت کرو کہ میرے سواکوئی معبود نہیں.
غرضیکہ اگر انسان بڑائی اور تکبر کرے گا توشیطان کا ساتھی بن جائے گا.
ابلیس کی خواہش پوری ہوگئی:
روایت میں آیا ہے کہ جب شیطان لعین جنت سے نکال دیاگیا تو اللہ تعاليٰ سے یوں عرض گذار ہوا:
“خداوندا میری چھ ہزار سال عبادت کیا ہوئی؟”جواب ملا:
“اس کے بدلے میں جوچاہوہم دیں گے”کہنے لگا:
“مجھے قیامت تک مہلت دے”( َ أَنْظِرْنِی إِلى يَوْمِ يُبْعَثُون ) فرمایا:“تو مہلت یافتہ ہے”( فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِینَ إِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوم ) کہنے لگا :“میری دوسری خواہش یہ ہے کہ مجھے قدرت عطافرماکہ انسان کے دلوں میں شبہ اوروسوسہ ڈال سکوں.”
اس کی یہ خواہش بھی منظور ہوئی کیونکہ کئی الہيٰ حکمتوں اور مصلحتوں کی حامل تھی.
ابوالبشر حضرت آدمعليهالسلام بارگاہ احدیت میں گڑگڑائے کہ اے پروردگار!میری غریب اولاد پر مسلط یہ بدترین دشمن پہلے ہی کیا کم طاقتور تھا کہ آب آپ نے اسے قیامت تک مہلت عطا کرنے کے علاوہ اسے ان کے قلب وروح میں شبہ آفرینی اور وسوسہ اندازی کی قدرت بھی دے دی میری اولاد تواب بے بس ہوکررہ جائے گی.”جواب ملا:“اے آدم ماوس نہ ہو.ہم ہرشیطان کے ساتھ ایک فرشتے کوبھی پیدا کریں گے”جوشیطان وسوسہ انادزی کی خلاف تیری اولاد کے عزم کا معاون ہوگا.
ملائکہ میں بھی الہام کی طاقت ہے:
جب بھی شیطان انسان کے دل میں وسوسہ پیداکرتاہے تو فرشتہ اس کے مقابلے میں نیکی کاالہام کرتاہے شیطان کہتاہے“مسجد میں نہ جا فرشتہ الہام کرتاہے کہ ضرورجا”شیطان کہاتاہے فلاں فعل حرام کاارتکاب کر،بعد میں توبہ کرلینا ،فرشتہ کہتاہے ایسامت کرناممکن ہے کہ تجھے موت آجائے اور توتوبہ نہ کرسکے اوربالفرض ار توبہ کربھی سکاتوکیا ضروری ہے کہ تیر توبہ قبول ہی ہوجائے اور توبخشابھی جائے.
اپنے دل کی طرف توجہ کیجئے اس میں خیرکی خواہش پیدا ہویاشرک ،آپ ہمیشہ اس ے بارےمیں ششوپنج کی حالت میں ہوتے ہیں اگرشیطان آپ کو کسی بدی پراکساتاہے تو فرشتہ بھی آپ کو اس کی بدانجامی سے متنبہ کرتاہے اور اگر شیطان آپ کو کسی نیکی کے ترک پر آمادہ کرتاہے تو اس کے مقابلے میں فرشتہ آپ کو اس کی ترغیب دیتاہے.
دوراہے پر:
غرضیکہ اے انسان تو دوراہے، پرہے خواہ نفس کی پیروی میں ہويٰ وہوس کھوجا،یاعقل وروح او رفرشتہ خیر کی پیروی کرکے رستگار ہوجا قدرت وطاقت کو اللہ تعاليٰ نے پورے نظم وعدل سے خلق فرمایا ہے لیکن انسان خود اپنے آپ پرظلم کرتاہے چنانچہ کلام پاک میں واضح ارشاد خداوندی ہے کہ اللہ تعاليٰ توانسانوں پر کبھی کوئی ظلم نہیں کرتا یہ انسان ہی ہے جوخود پر ظلم کرتاہے.
( وَ ما کانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لكِنْ کانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُون ) .
توبہ کادروازہ کھلاہے:
مزید ارشاد خداوندی ہوا:اگر ہم نة نمہاری اولاد پر ابلیس کو غالب کیاہے اور اسے قیامت تک کی مہلت دی ہے تو اس کےعوض تمہاری اولاد کے لئے توبہ کادروازہ ہمیشہ کےلئےکھول دیاہے اگر آپ شیطان کے دام فریب میں گرفتار ہوگئے ہیں تو اپنے دادبزرگوار حضرت آدمعليهالسلام کی طرف جوتوبہ کریں اور ارگاہ خداوندی میں عاجزی اور زاری کریں تاکہ جناب آدمعليهالسلام کی طرح جو توبہ کی قبولیت کے بعد بالاتر اوربزرگ تر مقام پرپہنچ کردرجہ اصطفاء تک پہنچ( إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى آدَمَ وَ نُوحاً وَ آلَ إِبْراهِیمَ وَ آلَ عِمْرانَ عَلَى الْعالَمِین ) آپ بھی توابین کے مرتبہ پرفائز ہوکر اللہ تعاليٰ کےمحبوب بن جائیں کیونکہ( إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِین ) اللہ تعاليٰ توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتاہے.
رحمت کادامن آخری دم تک وسیع ہے:
ساری امم سابقہ کے لئے بھی توبہ کادروازہ کھلاتھا لیکن اس کی قبولیت کی شرطیں بہت تھیں یہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وجود اقدس کی برکت ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امت کے لئے جوامت مرحومہ کہلاتی ہے توبہ کادروازہ بہت وسیع وکشادہ ہے کیونکہ ہمارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم رحمة اللعاملین ہیں اور توبہ بھی شعبہ ہائے رحمت میں سے ایک ہے.
بحارالانوار جلد سوم کی ایک روایت کے مطابق حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ہروہ شخص جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرلے بخش دیاجاتاہے پھرفرمایا:ایک سال توزیادہ ہے اگر ایک مہینہ ہی قبل ازمرگ توبہ کرلے تو اللہ تعاليٰ اسے معاف فرمادیتے ہیں،پھرفرمایا: ایک مہینہ زیادہ اگر ایک دن بھی موت سے پہلے توبہ کرے توبخش دیاجاتاہے پھرفرمایا: ایک روز بھی زیادہ ہے ،برزخ اور عزارائیل کوآنکھوں سے دیکھ لینے سے پہلے توبہ کرلےتو اللہ تعاليٰ بخش دینگے ،غرضیکہ اگرکوئی مسلمان زندگی کے آخری لحظے پر بھی اپنے گناہوں پر نادم و پشیمان ہو تو اللہ تعاليٰ اسے معاف فرمادیتے ہیں.
خوشاحال اس دل کا جواللہ تعاليٰ کی یاد میں رہے کیاعجیب نظام ہے؟آیارحمت اس سے بھی زیادہ وسیع ہوسکتی ہے؟دیکھ لیجئے کہ شیطان کے وسوسوں کے مقابلے میں خدا کی رحمت کتنی بے پایاں ہے.
حسن بصری کاسوال امام زین العابدینعليهالسلام کاجواب:
روایت ہے کہ ایک دفعہ حج کے دوران حسن بصری نے کہا: العجب کل العجب ممن نجيٰ کیف نجيٰ “نہایت حیرانی کی بات ہے کہ بچنے ولاکیسے بچ گیا”بڑے تعجب کی بات ہے کہ انسان ابلیس کے اسقدر طاقتور دام فریب سے نجات پالے،حسن بصری کی یہ بات جناب سیدالساجدینعليهالسلام کی خدمت میں پہنچیں توآپ نے فرمایا:“العجب کل العجب ممن ہلک کیف ہلک ”تعجب ہے ہلاک ہونے والے سے کہ وہ کیسے ہلاک ہوا،تعجب ہے اس بدبخت پر جواللہ تعاليٰ کی اس قدر وسیع رحمت سے محروم ہوکر ہلاک ہوا جوکائنات کی ہرمخلوق پرمحیط ہے.
موت سے پہلے بیماری کوورودنعمت ہے:
ایک عمرہم نے گناہ میں گذاری اب کوچ کاوقت ہے غالباً موت سے پہلے اللہ تعاليٰ کے لطف وکرم ہی کا یہ ایک کرشمہ ہے کہ انسان بیماری میں مبتلا ہو اور کچھ مدت صاحب فراش رہ کراللہ تعاليٰ کی ملاقات کے لئے تیاری کرے.
یہی وجہ ہے کہ اچانک موت عام پور پر ایک مصیبت سمجھی گئی ہے.
اے رخصت ہونے والے کتنی زندگی تم نے شیطان کی پیروی میں گذاری ہے اب لحظہ بہ لحظہ موت قریب ہورہی ہے ،حقیقتا یہ چیز بڑی ہی عجیب ہوگی کہ پورا مہینہ بستر میں رہ کی بھی تم بیدا نہ ہوسکو.
مجلس ۴
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم،وَ قُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّیاطِینِ. وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ ) (۲۳؛ ۹۸)
شرشیطان سے بچاؤکی صورت صر استعاذہ ہے:
شیطان کے وسوسہ اور وہ مصائب وآلام و انسان کو اس بدذات سے پہنچتے ہیں کسی سے پوشیدہ نہیں سب جانتے ہیں کہ یہ انسان کا شدیدترین دشمن ہے جو آخری سانس تک اس کا پیچھانہیں چھوڑتا اس کا مقصد وحید یہ ہے کہ اسنان خدا اور آخرت پر ایمان نہ لائے یاکم ازکم کوئی نیکی اس سے سرزد نہ ہو بلکہ ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہے.
سب سے ضروری امر یہ ہے کہ انسان شیطا سےنجات حاصل کرے لیکن اس قدر طاقتور اورجھتے والے دشمن سے نجات کی سبیل ہے کیا؟کلام پاک اس کاواحد علاج “استعاذہ ”تجویز کرتاہے،اس میں واضح ارشاد ہے:( فَاسْتَعِذْ بِاللَّه ) خداکی پناہ طلب کر،کیونکہ اس کے سوا حق تک رسائی ممکن نہیں.
خیمہ سلطان اورخونخوار کتا:
ایک مثال میں نے عرض کیتھی کہ شیطان ایک ایسے خونخوار کتے کی مانند ہے جو خمیہ سلطانی کے دروازے پر بیٹھا ہوا ور جب بھی کوئی اندر جانا چاہے توہ اس پر لپکتاہے تاکہ وہ داخل نہ ہوسکے یہ ایسا کیمنہ خصلت دربان ہے جس کے شرسے سلطان کے خاص دوستوں کے علاوہ کوئی بھی محفوظ نہیں (صرف خاصان خداہی اس بدخودشمن سے بے نیاز ہوکر حریم قدس میں جاسکتے ہیں).بہرحال خیمہ میں داخل ہونے کے لئے ہمیں صاحب خیمہ سے اس دشمن ازلی کےشروعناسے پناہ مانگنی چاہیئے اور اس کی بارگاہ میں پہنچنے کے لئے اسی سے ہمت اور توفیق طلب کرنی چاہیئے کیونکہ صرف اسی کی قہر بھری تنبیہ سے یہ وحشی دشمن رام ہوسکتاہے اس کے علاوہ ہرگز کوئی چارہ کار نہیں.
پس ضروری ہے کہ اللہ تعاليٰ کی پناہ طلب کی جائے تاکہ اس کی توجہ خاص سے شیطان کے شرسے امان ملے سکے اسی ضمن میں اللہ تعاليٰ نے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:( وَ قُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّیاطِینِ وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ ) کہئے اے حبیبصلىاللهعليهوآلهوسلم :اےپروردگا میں شیاطین ے وسوسوں سے اور اپنے قلب وروح پرکے غلبے اور ورود سے آپ کی پناہ مانگتاہوں.
خصوصاًتنہائی کے وقت جب تک لطف وکرم ایزدی آپ کے شامل حال نہ وساوس شیطانی سےسے آپ کابچنا ممکن نہیں آپ کو پکار ناچاہیئے “يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِیثِینيَا مَلَاذَ اللَّائِذِین ”اے فریادیوں کی فریاد سننے والے اے پناہ طلبوں کی پناہ گاہ! مجھے شرشیطان سے محفوظ رکھ،کیونکہ اگر اللہ تعاليٰ کاحفظ و امان اور اس کی پناہ نہ ہو تو شیطان کے شرسے بچنا ممکن نہیں.
استعاذہ دل سے ہونہ کہ زبان سے:
لیک حقیقت استعاذہ کو سمجھنا چاہیئے کہ کیا صر ف زبان سے “اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم” یافارسی یااردو میں اس کا ترجمہ ادا کردینا کافی ہے،یقینا ایسا نہیں ہے بلکہ استعاذہ ایک معنوی اور روحانی کیفیت ہے جس کا اظہار ان الفاظ سے ہوتاہے اگر دلی کیفیت استعاذہ ی ہے تو استعاذہ مفیدہے ورنہ بارہا ایساہوا کہ استعاذہ کے یہ الفاظ شیطان کابازیچہ بنگئے ہیں کیونکہ استعاذے کی حقیقی قلبی کیفیت کے بغیر یہ الفاظ سراسر تکلف ہین جن کی ادائیگی شیطان کی انگیخت پرہوتی ہے.
استعاذہ کی تین قسمیں:
۱- نہ استعاذے کی کیفیت ہوتی ہے اور نہ ہی استعاذہ کے الفاظ کے مفہوم کا علم ہوتاہے مثلاً“اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم”کی ادائیگی اس صورت میں کہ نہ تہ دل سے یہ الفاظ نکلیں اور نہ ذہن کو ان کے معانی معلوم ہوں یہ صورت خالصتاً شیطانی مذاق ہے.
۲- استعاذہ کے الفاظ کے معنيٰ اور مفہوم کا علم ہو اور ان کی ادائیگی بھی درست ہو لیکن دل استعاذہ کی کیفیت سے بیگانہ ہو اور اعمال میں شیطان کی اطاعت صا ف نظرآتی ہو،اگرچہ زبان سے“لعنت بر شیطان”کہے لیکن درحقیقت استعاذہ اس کا اللہ کے حضور نہیں بلکہ شیطان سے ہوگا.
۳- استعاذے کے الفاظ کاپورا پورا احساس وادراک ہو اور انہیں تہ دل سے پوری سمجھ،سنجیدگی اور اخلاص سے اداکیا جائے اور دل اللہ تعاليٰ کی عظمت وجبروت کی معرفت سے سرشار ہو.استعاذہ کی صرف یہی صورت صحیح ومقبول ہے.
اللہ تعاليٰ کی اطاعت میں پناہ طلبی:
گناہ کے ہرمرتکب شخص کا اللہ تعاليٰ کی نافرمانی کے دوران معبود و مسجود شیطان ہوتاہے خواہ زبان سے وہ شیطان پرہزال لعنت ونفرین ہی کیوں نہ کرے اس سے واضح تر الفاظ میں کہوں کہ جب کوئی شخص منہ سے تو اعوذ باللہ من شیطان الرجیم کہے اور کردار اس کا یہ ہو کہ کسی پردہ تہمت لگائے کسی کو فحش بکے،کسی کی عزت کے ساتھ کھیلئے دوسروں کے رازون کوفاش کرے غرضیکہ کسی بھی گناہ صغیرہ یاکبیرہ سے اسے باک اور دریغ نہ ہو وہ کہتاہے تو“اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم”ہے لیکن علمی طور پر مقصود اس کا“اعوذ بالشیطان من الرحمان” ہوتاہے کہ میں“نعوذباللہ” خداسے فرار کرکے شیطان کی پناہ میں آتاہوں زبان سے تووہ کہتاہے کہ میں اللہ تعاليٰ کی اطاعت میں پناہ لیتاہوں لیکن عمل اس کا اس سے بالکل الٹ ہوتاہے اور جب نافہمی کاپردہ اٹھ جاتاہے توپتہ چلتاہے کہ اعوذباللہ کے الفاظ در اصل شیطان ہی نے اس کی زبان سے کہلوائے تھے تاکہ اس کے ناقص عقیدے اور کمزور ایمان کامذاق اڑاے.
شیطان کے ردمیں شیطانی تصنیف:
روایت ہے کہ ایک عالم نے شیطان کے وساوس ،اس کے ہتھکنڈوں اور اس کے ہاتھوں فریب خوری کے خلاف تنبیہ کی حامل ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا انہیں دنوں ایک پارسانے عالم مکاشفہ میں شیطان سے کہا:ملعون !اب دیکھنا کسی طرح تیری رسوائی اور روسیاہی ہوتی ہے فلاں مولانا عنقریب تیرے دجل وفریب کا تارپود بکھیردینگے اور دنیا کی نظروں میں تو ذلیل وخوار اور رسواہوجائے گا.شیطان نے استہزا سے ہسن کر جوابدیا: بڑی خوش فہمی میں مبتلاہو یہ کتاب تو میرے ہی امیاء پر لکھی جارہی ہے.انہوں پوچھا یہ کیسے ممکن ہے؟توشیطان نے جواب دیا :میں نے ہی اس کے دل میں وسوسہ ڈالاہے کہ تم بڑے عالم فاضل ہو اپنے علم کی نمائش کرو،اس کوتوشعورہی نہیں کہ نام تو کتاب کا اس نے“ردشیطان”رکھا ہ لیکن دراصل اس سے اس کاارادہ اپنےعلم وفضل کی نمائش اور اپنی عظمت کے اظہار کاہے.
وہ خود انسان کو اکساتاہے کہ اس پر لعنت کرے یا اس کی زبان غیرارادی طور پر “اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم”کہلواکر اسے بیوقوف بنائے.
استعماری طاقتوں کی سیاست:
معاون ومددگا ہوتتے ہیں بعض اوقات اپنے سیاسی مصالح کی وجہ سے وہ انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ ان کو برابھلا کہیں گالیاں دیں اور استعمار کی مذمت کریں لیکن یہ سب کچھ وہ اپنی سیاست کی پردہ پوشی اور اصلیت کو چھپانے کے لئے کرتے ہیں تاکہ ان افراد کے توسط سے اپنے استعماری منصوبوں کی تعمیل وتکمیل و بہترانداز میں کرسکیں.
شیطان کی سیاست کتنی عجیب ہے سب سے پہلا سیاستدان اور سب سیاستدانوں کااستاذ اور پیرو مرشدیہی ملعون ہے سیاست کامعنی ہی درپردہ کام کرنا ہے یہ ہر ایک کوبے وقوف بناتاہے لیکن اپنا نقش یاکہیں بھی نہیں چھوڑتاہرخراب اس کے اشارے سے ہوتی ہے لیکن کسی کو محسوس نہیں ہوتاکہ انگیخت اس کی تھی.
استعاذہ کی حقیقت گناہ سے فرار ہے:
پروردگارا!ہمیں ہمت دے کہ شیطان ملعون سے گریزکرسکیں گناہ سے فرار کرسکیں اور جرائم سے محفوظ رہ سکیں اللہ تعاليٰ سے یہ استعاذہ ہمیں گناہوں سے دورکھتاہے اور ہماری زبانوں کولگام میں رکھتاہے کہ لغوبات نہ کریں بلکہ اس کی بجائے اعوذ باللہ کہیں.خداوندعالم کے حضور شرورابلیس سے پناہ مانگیں بالفاظ دیگر اعوذ باللہ کامطلب ہواکہ:
“اعوذ بطاعة الله من طاعة الشیطان”
میں شیطان لعین کی جرم وگناہ سے بھر پور اطاعت سے فرار کرکے اطاعت الہيٰ کی پناہ میں آتاہوں.
ہاتھ شیرکے منہ میں اورپیروں سے فرار:
اگر کوئی شخص اپناہاتھ توشیرکے منہ میں ڈال دے اور زبان سے کہے کہ میں شیرسے بہت ڈرتاہوں اور اس سے کسی مستحکم ومضبوط قلعہ میں پناہ طلب کرتاہوں یہی مثال اس شخص کی ہے جومنہ سے توشرابلیس سے اللہ کی پناہ مانگتاہو لیکن بندہ مطیع وفرمابردار ی طرح پوری عاجزی کے ساتھ شیطان کے دام تزدویر میں جکڑاہواہو.
تازہربدزبانت کو تہ نیست
یک اعوذت اعوذ باللہ نیست
جب تک کسی کی زبان پر لغوجاری رہے گاوہ شیطان کاحلقہ بگوش غلام رہے گا اس صورت میں اس کا لعنت پر شیطان کہنا دروغ محض ہوگا “اعوذ باللہ گوئی”سے اسے استغفار کرنا چاہئیے.
بلکہ آن نزد صاحب عرفاں
نیست الااعوذ بالشیطان
گاہ گوئی اعوذ دگہ لاحول
لیک فعلت بود مکذب قول
لغوگوانسان کا عوذ باللہ کہنا صاحب عرفان کے نزدیک اعوذ بالشیطان ہے زبان سے کبھی وہ اعوذ کہتاہے اور کبھی لاحول لیکن اس کے عمل سے اس کے قول کی تکذیب ہوتی ہے.
اگر شیرآپ کے پیچھے لگا ہو تو آپ کو چاہیئے کہ کسی مضبوط پناہ گاہ میں خود کو محفوظ کریں نہ کہ مزید اس کے نزدیک ہوں اور اپنا ہاتھ تو اس کے منہ میں ڈال دیں اور زبان سے پناہ کے لئے چیخ وپکار کریں استعاذہ کی حقیقت در اصل یہی ہے کہ شرشیطان سے اللہ تعاليٰ کی حفاظت کے مضبوط ومحکم قلعے میں پناہ لی جائے.
سچا خواب اور شیطان کادام فریب:
جناب شیخ انصاری کے کسی شاگردسے روایت ہے کہ جس زمانے میں میں ان کے پاکیزہ درس کے فرشتگانہ ماحول میں زیر تعلیم تھا تو ایک رات میں نے عالم واقعہ میں شیطان ملعون کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ میں چند لگامیں پکڑے ہوئے ہے میں نے اس سے پوچھا یہ کسی لئے تونے پکڑی ہوئی ہیں؟کہنے لگا ان کو لوگوں کی گردنوں میں ڈال کر انہیں اپنی طرف کھینچتاہوں کل میں نے ایک شیخ مرتضيٰ انصاری کی گردن میں ڈال دی اور انہیں ان کے کمرے سے نکال کران کے گھر کے دروازے کے سامنے تک باہرگلی میں لے آیا لیکن وہ گلی کے نصف میں مجھ سے چھوٹ کرواپس چلے گئے.
جب میں بیدا ہوا تو شیخ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا خواب ان سے بیان کیا.
شیخ نے فرمایا: شیطان نے تم سے ٹھیک کہا کیونکہ کل اس ملعون نے چاہا تھا کہ اپنے دلفریب بہانوں سے مجھے اپنے دام پھانسے در اصل ہوایہ کہ گھر میں کوئی چیزدرکار تھی لیکن میرے پاس اس کے لئے پیسے نہ تھے دل میں آئی کہ سہم امامعليهالسلام میں سے کلام پاک کا ایک نسخہ جو میرے پاس بے مصرف پڑاہے اسے قرض کے ارادسے بیچ کر اس کی قیمت لے وہ حاجت پوری کروں اور بعد میں وہ قرض ادا کردوں.
اس کلام پاک کے نسخہ کو لے کر گھرسے باہر آیاحتيٰ گلی میں پہنچ گیا اور جب جنس خریدن نے لگا تو عین وقت پر مجھے خیال آیا کہ اس قسم کی حرکت کیوں کروں؟پس اپنے اس ارادے پر پچھتایا اورشرمندہ ہوکر گھرواپس آگیا اور قرآن پاک کو اس کی جگہ پرواپس رکھ دیا.
بعض لوگوں نے اس واقعے کو یوں بیان کیاہے کہ اس شاگرد نے بہت رسیاں شیطان کے ہاتھ میں دیکھیں ان میں سے ایک رسی بہت مضبوط اور موٹی تھی اس نے ملعون ازلی سے پوچھاکہ یہ رسیاں کسی لئے ہیں تو اس نے جوابدیا ان سے آدم کی اوراد کو اپنی طرف کھینچتاہوں اور انہیں گناہ میں گرفتار کرتا ہوں، اس نے پوچھا یہ بڑی رسی کس کے لئے ہے؟تو اس نے جواب دیا:یہ تمہارے استاد شیخ انصاری کے لئے کل اس سے میں انہیں بازارتک لے آیا تھا لیکن وہ اسے توڑکر آزادہوگئے اور واپس گئے،اس نے پوچھا :میرے لئے ان میں سے کونسی رسی ہے؟اس نے جواب دیا :تمہارے لئے رسی کی ضرورت نہیں تم باتوں ہی سے بآسانی شکار ہوسکتے ہو.
ارکان پنجگانہ استعاذہ
مجلس۵
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ )
لفظ سے مفہوم واضح ہونا چاہیئے:
استعاذہ دینی مقامات میں سے ایک مقام ہے اور ہر مسلمان پر واجب ہے او رجیساکہ عرض کیاگیا پورے عزم وارادہ سے اور اپنی پوری روح کے ساتھ ہونا چاہیئے نہ کہ صرف زبان سے کیونکہ صر ف لفظ ادا کردینا تو پڑھ دینا ہی ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں اور جو قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ( فَاسْتَعِذْ بِاللَّه ) اللہ تعاليٰ کی پناہ طلب کرو،اس سے مراد ان الفاظ کی حقیقت ہے نہ کہ ان کاظاہر محض او رحقیقت دو امروں کی متقاضی ہے:ایک شیطان لعین سے فرار اور دوسرے خدائے رحمان کے حضور اس راندہ درگاہ ایزدی سے پناہ طلبی اگر یہ دو مقصد حاصل ہوتے ہوں تو استعاذہ واقعی استعاذہ ہے ورنہ محض سخن گتری ہے غرضیکہ لفظ سے مفہوم واضح ہونا چاہیئے اور اس میں اس کی روح کی حقیقت جھلکنی چاہیئے.
استعاذہ کی حقیقت پر غور کرنے اور کلام پاک کے مطالعہ سے اس کے بارے میں یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ استعاذہ کے پانچ بنیادی رکن ہیں:
رکن اور جوشیطان لعین سے فرار ہے،تقويٰ پر مبنی ہے.
اس کےدوسرے ارکان:تذکر،توکل،اخلاص اور اللہ کے حضور عاجزی ہیں.اور ان کے مجموعی طور پر حاصل ہوجانے سے استعاذہ کی حقیقی کیفیت پیدا ہوتی ہے جب مومن ان ارکانت پنچگانہ پر عمل پیرا ہوتاہے تو شیطان لعین اس سے کوسوں دور ہوجاتاہے خواہ وہ زبان سے پر “اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم”کہے یا نہ کہے اور اس کی سچی اور بہترین صورت یہ ہے کہ شیطان مومن کے نزدیک آکر اسی طرح“آدم زدہ ”ہوجائے جس طرح ایک عام انسان جن کی نزدیکی سے“جن زدہ” ہوجاتاہے اس صورت میں ابلیس ملعون ہرگز مومن انسان کے قریب پھٹکنے کی جرات نہیں کرے گا.
شیطان پرہیزگاروں سے دوربھاگتاہے:
ارکان استعاذہہ کے شواہد کلام پاک سے مختصراً پیش کئے جاتے ہیں( إِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُون ) “پرہیزگاروں کو جب شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ محسوس ہوتاہے تو وہ خدا کے ذکر میں مشغول ہوجاتے ہیں پس یکایک ان کی بصیرت روشن ہوجاتی ہے. ”
پس اولین شرط ابلیس کے شرے سے خود کو محفوظ رکھنے کی یہ ہے کہ تقويٰ اختیار کیا جائے.جن لوگوں نے پرہیزگاری اختیار کی جوہنی کوئی وسوسہ ان کے دل میں وارد ہوا،وہ یاد خدامیں مشغول ہوگئے اور اللہ تعاليٰ سے مدد طلب کی،فوراًان پر روشن ہوگیا کہ یہ شیطان کی حرکت تھی چنانچہ اس سے فرار کرکے وہ حق تعاليٰ کی پناہ میں آگئے چنانچہ اس آیہ شریفہ میں تقويٰ و ذکر خداکی طرف اشارہ ہوا.
توکل اللہ تعاليٰ پر ہونا چاہئے:
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:( فَإِذا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِیم،إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذِینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) “قرآن پڑھتے وقت شیطان ملعون و مردود سے اللہ تعاليٰ کی پناہ مانگ لیاکرو ایمان والوں اور خدا پر توکل کرنے والوں پر اسے کوئی غلبہ ونفوذ حاصل نہیں”.
جوشخص اللہ تعاليٰ پر توکل کرتاہے شیطان کو اس پر کوئی تسلط و اختیار حاصل نہیں شیطان کی حکومت صرف ان لوگوں پر ہے جو اللہ تعاليٰ پربھروسہ نہیں کرتے ان کا سرابھروسہ مادی اسباب اور دنیاوی امور پر ہوتاہے لیکن اگر بھروسہ فقط ذات الہيٰ پر ہو تو یقین کیجئے کہ شیطانت بے چارہ بے بس اورناکارہ ہے.
اگر کسی شخص کو دل سے اللہ تعالی ٰ پر بھروسہ ہو تو زبان سے لاکھ کہتارہے میں اللہ تعاليٰ کی پناہ مانگتاہوں لیکن در اصل وہ مادی اسباب دنیاوی طاقت ، اثر ورسوخ ،مال و دولت اور رشتہ داریوں وغیرہ سے پناہ مانگ رہا ہوتا ہے، چنانچہ آیہ شریفہ مذکورہ کے مطابق شیطان اس پر مسلط ہے بعد کی آیہ مبارکہ میں اسی مفہوم کی طرف اشارہے.
( إِنَّما سُلْطانُهُ عَلَى الَّذِینَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَ الَّذِینَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُون ) شیطان کا تسلط ان پر ہے جو اس کی دوستی کادم بھرتے ہیں اور اس کے فرمان بردار ہیں اور اس کی حکومت ان پر ہے جو اسے اللہ تعاليٰ کا شریک گرادنتے ہیں.
وہ شخص جوذات باری مسبب الاسباب کو بھلاچکاہے وہ شیطان کا دوست ہے،اسے استعاذہ یا شیطان ملعون سے فرار سے کیاسروکار؟.
شیطان کا اہل اخلاص سے کوئی تعلق نہیں:
استعاذہ کا ایک رکن “اخلاص” ہے قرآن مجید میں شیطان کے یہ الفاظ مذکور ہیں:
قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ. إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِینَ
تیر ی عزت کی قسم اے پروردگار میں تیرے بااخلاص بندوں کے سوا سب انسانوں کو بہکاوں گا.
اخلاص کامعنيٰ کلام پاک الہی میں متعدد جگہ بیان کیاگیاہے ہم نے بقدر ضرورت تفسیر آیات میں متعدد مقامات پر اس سے بحث کی ہے اورہمارے خیال میں مزید تکرار کی ضرورت نہیں.
غرضیکہ استعاذہ صرف با اخلاص بندوں ہی کا درست اور انہیں کو زیباہے کیونکہ شیطان کا ان پر کوئی تسلط نہیں اور اس سے فرار کی صلاحیت انہیں میں ہے.
کیاہم تقويٰ اور تذکر کی صلاحیت رکھتے ہیں:
اتنی لمبی عمریں گذارنے کے باوجود ہم نے دینی تعلیمات سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا اب اللہ کرے کہ کم از کم جہل مرکب کا شکار تونہ ہوں استعاذہ کااولین رکن ہم نے عرض کیا کہ“تقويٰ”ہے جوشخص صاحب تقويٰ نہیں وہ شیطان سے کسے فرار کرسکتاہے کیونکہ صرف تقويٰ ہی سے شیطان کی اطاعت ترک کی جاسکتی ہے.
جوعورت بے پردہ کوچہ بازارمیں آتی ہے وہ سراپا شیطان ہے.اس کا ظاہر باطن شیطنت ہے.اور جونامرد اپنے ہمراہ ایسی عورت کو گھرسے باہر لاتاہے اور ادھر ادھر پھراتا اور کھیل تماشے دکھاتاہے وہ شیطان سے کیسے فرار کرسکتاہے؟مختصر یہ کہ جوشخص حرام سے نہیں بچتات وہ شیطان سے بھی دوری نہیں اختیار کرسکتا.استعاذہ اس کے نزدیک ایک مہمل لفظ ہے لاکھ منہ سے( اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ) کاورد کرتا پھرے شیطان اس پر بہرحال غالب وتسلط ہےاگر کوئی شخص کسی غصب کردہ مکان میں رہتاہو توتاوقتیکہ وہ اس سکونت کو ترک نہیں کرتا، شیطانت سے فرار نہیں کرسکتااور اگر کوئی شخص فواحش کاعادی ہو ،تو جب تک ان عادات کو ترک نہ کرے استعاذہ نہیں کرسکتا.
حرام خوری سب سے برامانع استعاذہ فعل ہے:
استعاذہ کے مسالہ میں کامل تقويٰ اور مکمل طور پر ترک حرام اور بالخصوص حرام خوری کو ترک کرنا نہایت ضروری ہے جس شخص کاکھانا پینا حرام ہو اس کا گوشت پوست شیطانی ہے اور وہ ہمیشہ ابلیس کے ساتھ متصل ہے کیونکہ “إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِی مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّم”شیطان خون بن کر اس کی رگوں میں دوڑتاہے.
جس زبان سے وہ( اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ) کہتاہے وہ شیطان ہی کی ہے کیونکہ حرام ہی کی خوارک سے اس کی زبان بنی ہے اور اسی کی طاقت سے وہ گویاہوکر( اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ) کہتی ہے یہ استعاذہ بھی کوئی استعاذہ ہے؟
مادرون را بنگریم وحال را
مابرون راننگریم وقال را
شہید ثانی نے“ آسرارالصلوة ”میں خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یہ روایت کی ہے:“ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ وَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ”اللہ تعاليٰ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتے ہیں تمہاری شکلوں کو نہیں دیکھتے.
یہاں یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ بے حقیقت زباںبازی اور سخن آرائی کی مخلوق کے نزدیک تو کچھ اہمیت ہو تو لیکن عالم الغیب اور علیم و خبیر خدا کے نزدیک جس کے لئے پنہاں و آشکار برابر ہیں سوائے حقیقت کے کوئی چیز مفید نہیں.
چنانچہ قرباینوں کے بارے میں جو آپ عموماً راہ خدا میں کرتے ہیں کلام پاک میں صاف صاف ارشاد ہے:( لَنْ يَنالَ اللَّهَ لُحُومُها وَ لا دِماؤُها وَ لكِنْ يَنالُهُ التَّقْوى مِنْكُم ) ان قربانیوں کا گوشت یا خون اللہ تعاليٰ کو نہیں پہنچتا بلکہ صرف تمہارا تقويٰ اس کی بارگاہ میںت پہنچتاہے.
جب تک حرام کے آثار برطرف نہیں ہوتے استعاذہ ممکن نہیں:
جب تک لقمۀ حرام انسان کے بدن میں ہے اس کی حیثیت شیطان کی ہے شیطان سے فرار کاڈھنڈورہ پٹینا اس کا دروغ محض ہے جب تک اس کے اثرات اس کی ذات سے زائل نہیں ہوتے اس سے فرار کی حالت اس میں پیدا نہیں ہوسکتی .اس صورت میں اس کی ساری عبادت محض ڈھونگ اور نمائشی ہوں گی.
بالخصوص رزق حلال کے بارے میں بہت سی روایات اہلبیت علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں.
رزق حلال ایک بیج کی مانند ہے جس پر پورے درخت کے وجود کا انحصار ہوتاہے اسے خراب نہ کرو تاکہ درخت بھی درست انداز سے اور صحت مندانہ طور پر پروان چھڑھے.
کلام پاک میں اراشاد خداوند ی ہے:
( یا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِی الْأَرْضِ حَلالًا طَيِّباً وَ لا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطان ) اے لوگو پاکیزہ اور حلال خوارک کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو.
یہ نہیں کہا کہ مرغ وگوشت اور پلاؤ وبریانی نہ کھاؤ خوب کھاؤلیکن حلال کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو.
مشکوک ومشتبہ غذا سے پرہیز :
جس غذا کے حلال ہونے میں شبہ ہو اس سے بھی پرہیز واجب ہے جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ آپ کی خوراک اور آپ کا لباس حلال میں ان کے استعمال سے پرہیزکریں.اس کا اتنا اثر ہوتاہے کہ نوبت یہان تک پہنچ جاتی ہے کہ حق اپنے کمال ظہور کے باوجود شک میں مبتلا انسان کے وسوسہ کی آماجگاہ بن جاتاہے.
ایسا شخص اللہ تعاليٰ کی ذات میں شک کرنے لگتاہے جوخود اس کا اور کائنات کا خالق ہے:( أَ فِی اللَّهِ شَكٌّ فاطِرِ السَّماواتِ وَ الْأَرْض ) اور اس کے اس کمال ظہور اور وجوب کے باوجود اس کے ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں شک کاشکار ہوجاتاہے.یہاں شیطان کہاں ہے جس نے اس کو اس گومگومیں ڈالا؛وہ شیطان یقیناً اس حرام و مشتبہ لقمے کے اندر تھا جسے اس نے کھایا اور جو غذا کے ذریعے اس کے ذہن کا حصہ بنا.
شیطان سے فرار نہ کرکے اس نے یہ روزبد دیکھا یعنی اپنے ہاتھوں سے شیطان کو اپنے گوشت پوست اور رگ و خون میں جگہ دی.
مجلس ۶
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
پچھلی راتوں کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ استعاذہ کی حقیقت در اصل شیطان ملعون سے فرار کرکے اللہ تعاليٰ کی پناہ میں آتاہے لہذا اس کا لازمہ تقويٰ ہے.شیطان سے پرہیز کامطلب یہ ہے کہ انسان سے واجبات فوت نہ ہوں اور حرام اس سے سرزد نہ ہو اور اگر وہ بے پرواہے تو شیطان سے فرار نہیں کرسکتا.اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص جسمانی طور پر تو کسی وحشی درندے سے گھتے گتھاہولیکن زبان سے کہتاہے جائےکہ میں اس درندے سے فرار کررہاہوں.
زبان سے کہتے رہتے( اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ) یعنی میں شیطان سے فرار کرکے اللہ تعاليٰ کی پناہ میں آتاہوں لیکن استعاذہ کے آداب سے بے پروا ہوکر آپ کیسے اس سے فرار کرسکتے ہیں.
( إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا ) جولوگ گناہ سے فرار کی حالت میں ہیں گرشیاطین ان پر غلبہ پانا چاہیں تووہ فوراًذکرالہيٰ میں مشغول ہوجاتے ہیں اور اس کی برکت سے غفلت کاپردہ ان کی نگاہوں سے اٹھ جاتاہے اور ان کی آنکھیں بیناہوکر شیاطین کی نقل و حرکت کو واضح طور پر دیکھنےلگتی ہیں اس لئے وہ اس کے دام فریب سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں.
اگر کوئی شخص شیطان کےدام سے بچ سکتاہے تو صرف اہل تقويٰ ورنہ دام اس کا ہمیشہ ہرجگہ موجود ہے.
ہم نے عرض کیا کہ تقويٰ کو خصوصاًکھانے پینے میں ملحوظ رکھنا چاہئے کیونکہ خوارک بمنزلہ بیج کے ہے جس سے بدن شیطانی یارحمانی نفس کے ساتھ مرکب ہورک پروان چڑھتاہے .اگر یہ تخم شیطانی ہوا تو بدن پر شیطان کی حاکمیت ہوگی.اگر لقمۀ حرام حقل سےنیچے اترگیا تو جس کی حکومت شیطان لعین کے ہاتھ آگئی اور جب تک بدن میں اس لقمۀ کا اثر رہے گابدن میں شیطان موجود رہیگا.
روایات میں آیاہے کہ صرف ایک لقمۀ حرام کھالینے سے پورے چالیس دن انسان کی نماز قبول نہیں ہوتی اور چالیس روز تک اس کی کوئی دعا درگاہ ایزدی میں بار نہیں پاتی .کیونکہ دعا کرنے والی زبان تو شیطان ہی کی ہے.اگر قرآن پڑھے گاتوشیطان ہی کی زبان سےاور اگر اعوذ باللہ کہے گا توبھی اسی کی زبان سے.
لقمۀ حرام کی پہچان:
ہروہ چیز جوآپ کے ہاتھ میں حرام ذریعے سے پہنچے وہ حرام ہے اگر روٹی آپ کے پاس ناجائز مال سے آئی ہے کسی کو دھوکا دے کے آپ نے پائی ہے یا اسے کسی سے غصب کیاہے وہ مال سود کا تھا یا کسی دوسرے حرام وناجائز طریقے سے اسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر تصرف میں لایاگیا تھا یا شرع مقدس کے قوانین کی خلاف ورزی کرکے حاصل کیاگیا تھا.تویہ سب حرام ہے.
اس کے بعد حرکت میں مردار کا درجہ ہے ہروہ چیز جسے مردار کہہ سکیں خواہ وہ حیوان حلال گوشت ہو لیکن باطبعی موت مرا ہو یا اسے شرع مقدس کے قانون کے مطابق ذبح نہ کیا گیا مثلاً ارادةً اور عمداً اس پر بسم اللہ نہ کہی گئی ہو اور اللہ کا نام بوقت ذبح نہ لیاگیاہو اس کا کھانا حرام ہے.( وَ لا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ) مت کھاؤ وہ چیز جس پر اللہ تعاليٰ کانام نہ لیاگیاہو.
اگر کسی حلال جانورکاسر بسم اللہ کہے بغیر کاٹاگیا ہو تووہ مردار ہے اور شیطانی بیج ہے جسے آپ کے حلق سے نیچے نہ اترناچاہئے.
آیت کے مفہوم سے استعاذہ کی عمومیت:
سیدابن طاووس نے اس آیہ شریفہ کو عموم کے معنی میں لیا ہے ہرچند کہ اس سے مراد حلال جانورکاگوشت ہے لیکن سید نے اسے عموم کے معنی دئے ہیں جن کے رعایت بہرحال خوب ہے اور مستحسن ہے .آپ فرماتے ہیں:“ہروہ خوارک جواللہ تعاليٰ کانام لئے بغیر بسم اللہ کہے بغیر تیار کی جائے میں اسے نہیں کھاتاوہ روٹی جس پر نانبائی نے پکاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا ،مومن اسے کھاسکتاہے؟!
نانبائی کا تنور اور شیطانی راگ:
عجب زمانہ تھا اور عجیب انداز میں وہ بدلاہے .اگر سید آج زندہ ہوں تو دیکھیں مجھے وہ بھی زمانہ یاد ہے جب کسی نانبائی کو لاتے تھے توہ تنورپر وارد ہو کر پہلھ حدیث کساء پڑھتااور پھر دعا کرتاتھا تاکہ اللہ تعاليٰ کی برکتیں اس کے شامل حال ہوں.
اور آج یہ زمانہ ہے کہ روٹی کو موسقی کی دھنوں اور نغمہ کےتال پر پکایاجاتاہے.“اناللہ وانا الیہ راجعون” روٹی کو شیطان کے ذکر کےت ساتھ پکاتے ہیں اور اسی شیطنت سرشتہ لقمے کو ہم اور آپ کھاتے ہیں.
ہم بے بس اور مجبور ہیں:
اگر کبھی کوئ یان حقائق پر غور کرے تو یقیناً پکار اٹھے گا.( أَمَّنْ يُجِیبُ الْمُضْطَر ) پروردگا یکا کریں؛یہ کھانے سراسرظلمت و تاریکی ہیں،ان میںکوئی روشنی نہیں جوروح کی تقویت کرم ہماری زبانیں بھی اسی سے متاثر ہیں اور جھوٹ ،لغو گمراہ کن لہو،غیبت ان کا شعار ہے ہمار ی آنکھیں اس کے زیر اثر خیانت کیش اور کان اس کے اثر سے لغو ولہو اور غیبت کے رساہوچکے ہیں.غرضیکہ ہمارے سب اعضائے جسمانی اس کے اثر سے حرام زدہ یا مکروہ ہوچکے ہیں یا کم از کم حرام وحلال کی تمیز کھوچکے ہیں کہ نفس کو ذکر خدا اور یاد الہيٰ سے انہوں نے غافل کردیاہے ہمارے تمام اعضاء وجوارح شیطان کی بازی گاہ بن گئے ہیں.
خوارک کی طہارت و نجاست:
اس کے علاوہ حرام خوارک کی ایک صورت نجس یا نجاست زدہ کھاناہےاگرناپاک خوارک حلق سے نیچے اترے گی توشیطانی بیج کی طرح اپنا اثر سارے بدن میں پھیلائے گی.
حتيٰکہ چھوٹے بچوں کو بھی نجس خوراک نہیں کھلانی چاہئے یہ کہیں کہ بچہ تکلیف شرعی سےآزاد ہے آپ تو آزاد نہیں آپ کا فرض ہے کہ اپنے بچے کے گوشتت وپوست کی پرورش حلا ل وپاک غذاسے کریں .کیونکہ باآلاخر اسی سے اس کی شخصیت کی تعمیر ہوگی اور حرام یا نجس خوراک اس کے بدن میں منفی ،غیر اسلامی اور غیر انسانی رجحانات پیدا کرے گی.ہاں حیوانات غیر ظاہر غذاکھاسکتے ہیں.
جن بعض مواقع پر حلال اور پاکیزہ خوارک سے بھی پرہیز واجب ہےت ان میں سے ایک سیری کی حالت میں کھانا ہے یہ سخت مکروہ اور شیطانی عمل ہے اور ایسے اوقات میں تو کہ جب یہ کھلے نقصان اورضرر فاحش کاباعث بن سکتاہو قطعی طور پر حرام ہے.
مجلس۷
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
شیطان سےدشمنی رکھو:
ہم نے عرض کیا کہ جب تک کوئی شخص شیطان سےدوری اختیار نہیں کرے گا حقیقت استعاذہ اس میں پیدانہیں ہوگی.گناہ کا مرتکب انسان کا اطاعتت گذارہےاللہ تعاليٰ( فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ) اسے اپنا دشمن جانو،وہ تمہارا ازلی دشمن ہےتم بھی اس سے دشمنی کرو،اس کے دوست نہ بنو .لیکن اگر تم گناہ کروگے تو یہ اس کی عین اطاعت ہوگی اور اطاعت دوستی کالازمہ ہے ہمیشہ خبردار ہورکہ یہ کینہ دشمن تمہاری گھات میں ہے.ایک لحظ بھی انسان سے غافل نہیں اور نہ انسان اس کے شرسے کوئی لحظ محفوظ ہے .اگر آپ خود کو اس سے امان میں سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی بے خبری اور بھول ہے.
کیاشیطان سوتاہے:
کسی نے ایک خدارسیدہ عالم سے دریافت کیاکہ کیا روایات میں شیطان کے بارے میں کہیں آیاہے کہ وہ سوتا اور آرام کرتاہے؛عالم عارف نے مسکرابڑاپرلطف جواب دیا فرمانے لگے:اگراس ملعون پر کبھی نیند طاری ہوسکتی تو ہمیں کچھ آرام مل جاتا.
جب آپ محوخواب ہوتے ہیں تویہ ملعون پوری طرح بیداہوتاہے وہ کبھی نہیں سوتا.بلکہ ہمیشہ آپ کی نگرانی کرتا ہے اور آپ کی ضرررسانی کے لئے آپ کی گھات میں رہتاہے.( إِنَّهُ يَراكُمْ هُوَ وَ قَبِیلُهُ مِنْ حَيْثُ لا تَرَوْنَهُم ) وہ اور اس کے کارندے ایسی جگہ سے آپ کو دیکھتے جہاں سے آپ نہیں دیکھ سکتے،وہ آخردم تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتاا.
آپ کو مسلح رہنا چاہیئے:
پھر ہمیں کیا کرنا چاہیئے اور جب دشمن اس قدر قوی و چالاک ہے اور ہر ظاہر اور مخفی طریقے سے ہمارے درپے ہے تو ہم پر کیا فرض عائد ہوتاہے یہی تاکہ ہم پورے طور پر مسلح ہوں اور ہمیشہ مسلح رہیں اور جب دشمن ہر لحظہ آپ کی معمولی سی غفلت کامنتظر ہے تو آپ کو بھی چاہیئے کہ کسی لحظہ اپنا اسلحہ نہ اتاریں اگر آپ نے ایک لحظہ کے لئے بھی اپنا اسلحہ اتاریا ایک لمحہ کے لئے بھی غافل ہوئے تو آپ کی خیر نہیں.
انسان کا اسلحہ تقويٰ ہے ابلیس کے مقابل آپ کو ہمیشہ خبردار اور مسلح رہنا چاہئیے.
مومن کا اسلحہ مستحبات اور ترک مکروہات:
اپنی قوت و استطاعت کے مطابق مستحبات انجام دینادفع دشمن اور اس کے رفع شرکے لئے بہت موثر ہے .اسی طرح ترک مکروہات حتيٰ کہ ترک غفلت بھی اس مقصد کے لئے بہت مفید ہے.
جتنا انسان دشمن سے غافل ہوگا اور گناہوں پر عمل پیراہوگا اتناہی خود کو اژدھا کے منہ سے قریب لے جائے گا اور اسی اندازے سے شیطان کا تقریب بھی حاصل کریگا لیکن اتنی دوستی اور قربت کے باوجود بھی اگر شیطانت بوقت مکافات عمل اس کے سرسے ہاتھ اٹھالے اور دوستی کا کوئی پاس نہ کرے تواس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے؟!
شیطان تدریجااپنے جملوں میں شدت لاتاہے:
اس کی ابتدائی کوشش یہ ہوتی ہےت کہ مومن کومکروہات کے ارتکاب پر اکسائے اس کے بعد وہ اس کے سامنے گناہاں صغیرہ کی راہ کھولتا ہے پھر ان پر اصرار پر اور انہیں معمولی سمجھنے پر جوخود ایک گناہ کبیرہ ہے.جناب مصنف کی کتاب “گناہاں کبیرہ” اور اسی طرح “قلب سلیم” میں یہ موضوع پوری شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اسے مجبور کرتاہے اس کے بعد اسے گناہاں کبیرہ پر لگادیتاہے اور آخرمیں اس کے قلب وروح پر غلبہ وتسلط حاصل کرکے اس کے ایمان پر حملہ آور ہوتاہے اور مومن کو وسوسہ اور شک میں مبتلا کرکے اسے اپنا صید زبوں بنالیتاہے کہ اس بچارے کویہ سمجھنے کے قابل بھی نہیں رہنے دیتا کہ وہ کس دام میں پھنس گیاہے.
صرف اہل تقويٰ ہی اپنے کاری اسلحہ کی مدد سے خود کو شیطان کے شرسے محفوظ کرسکتے ہیں بچارے نہتے لوگوں کی کیا مجال کہ ملعون دشمن کے مقابلے میںآئیں.
وضو مومن کا تیز دھار اسلحہ ہے:
بہت سے مستحبات ہیں جودفع دشمن کے لئے ضروری اسلحہ میں شمار ہوتے ہیں ان میں سے ایک وضوء ہے،حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ارشاد ہے“الوضوء سلاح المؤمن”وضوء مومن کا ہتھیار ہے،مومن کا فرض ہے کہ شیطان کے سامنے خود کو یوں سمجھے کہ دشمن کے مقابلے میں صف آرا ہے لہذا لازمی طورپر وضوء رہے اور جسم کو ہمیشہ پاک وطاہر رکھے.
اور سب سے بہتریہ ہے کہ ہمیشہ باوضوء رہے اور جب وضو کئے ہوئے کافی وقت گذرجائے ہرچند وضو نہ ٹوٹا ہو تو اس کی تجدید کرے کیونکہ“الوضوء نور والوضوء علی الوضوء نور علی نور”وضو نور ہے اور وضو پر وضو نور علی نور ہے،یہی وضو وہ نور ہے جوشیطانت کی افریدہ ظلمت کو دور کرکے ضلالت سے بازرکھتاہے.
سوتے وقت بھی وضو کرکے بستر پر جانا مستحب ہے آپ کو چاہئے کہ مسلح ہو کر سوئیں تاکہ آپ کے وضو کا نور نیند کے دوران شیطان کی ظلمت کو آپ سے درور کھے.
روزہ اور صدقہ سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے:
اس اسلحہ میں چند ہتھیار ایسے ہیں جن سے مسلح رہنے کی تاکید سرور عالم خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمائی ہے:“وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لِأَصْحَابِهِ أَ لَا أُخْبِرُكُمْ بِشَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ تَبَاعَدَ الشَّيْطَانُ عَنْكُمْ كَمَا تَبَاعَدَ الْمَشْرِقُ مِنَ الْمَغْرِبِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الصَّوْمُ يُسَوِّدُ وَجْهَهُ وَ الصَّدَقَةُ تَكْسِرُ ظَهْرَهُ وَ الْحُبُّ فِی اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ الْمُؤَازَرَةُ عَلَى الْعَمَلِ الصَّالِحِ يَقْطَعُ دَابِرَه ” “حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے صحابہ سے فرمایا...روزہ سے شیطان کامنہ کالا ہوتاہے صدقہ سے اس کی کمر توڑ تاہے استغفار سے اس کی رگ حیات کٹتی ہے اور اللہ تعاليٰ کی محبت اور عمل صالح سے اس کی جڑاکھڑجاتی ہے”.
روزہ سے،اگر آپ اس کی سکت رکھتے ہوں،آپ کے دشمن کو روسیاہی ملتی ہے.اگر غیب کے پردے آپ کی آنکھوں سے اٹھالئے جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ شیطان ملعون کا مکروہ چہرہ آپ کے روزے کے اثر سے سیاہ ہوگیاہے.
لیکن شیطان اتنا کمز ورناتوان بھی نہیں ہے کہ آسانی سے ایک روزہ رکھت کر آپ اس ک منہ کالاکردیں گے اور صدقہ کی ایک ہی ضرب سے اس کی کمر توڑدیں گے انسان کو چاہیئے کہ ہر عمل پورے اخلاص سے انجام دے اور ہفت حجاب سے گذرابلیس کی کمر توڑکراسے خاک ملادے.
پھر صدقہ ہے کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ارشاد کے مطابق شیطان کی کمر توڑتاہے ضرور توڑتاہے لیکن اس کے لئے اس کا بارگاہ الہيٰ میں مقبول ہونا شرط ہے.
میں نے شیطان کی ماں کو دیکھا:
انوراجزائری میں منقول ہے ایک دفعہ قحط سای کے دوران ایک واعظ مسجد کے منبر پر بیٹھا کہہ رہا تھا :اگر کوئی چاہئے کہ صدقہ دے تو ستر شیطان کے ہاتھ سے چمٹ جاتے ہیں اور اس سے باز رکھنےم کی کوشش کرتے ہیں.
ایک مومن جومنبر کے پائے کے ساتھ بیٹھا یہ سن کر تعجب سےاپنے ساتھیوں سے کہنے لگا:بھلا صدقہ سے شیطان کا کی تعلق ہے لومیرے پاس گھرمیں گندم موجود ہے میںابھی جاتاہوں اور اسے مسجد میں لاکر فقراء میں تقسیم کرتاہوں بھلادیکھوں شیاطین مجھے کیسے روکتے ہیں.پس اٹھا اور گھر چلاگیا.
جب گھر پہنچا اور اس کی بیوی اس کے ارادے سے آگاہ ہوئی تو اسے سرزنش کرنے اور ڈانٹنے لگی کہ اس قحط کے زمانے میں اپنی اور اپنے بیوی بچوںت کی پروا نہیں کرتے ہو شاید یہ قحط طول پکڑجائے تو ہم بھوکے مریں گے.وغیرہ وغیرہ..بہرحال وسوسہ میں مبتلا ہوکر وہ مرد مومن خالی ہاتھ مسجد میں اپنے ساتھیوں میں واپس آگیا.
دوستوں نے پوچھا :کیاہوا خالی ہاتھ لوٹ آئے ہو دیکھا !آخر وہ شیطان تمہارے ہاتھ سے چمٹ ہی گئے او رانہوں نے تمہیں صدقہ نہیں دینے دیا.اس نے جواب دیا:“شیطان تو مجھے نظر نہیں آئے البتہ ان کی ماں کو میں نے ضرور دیکھا جو اس کارخیر میں رکاوٹ بنی”.
الغرض انسان چاہتاہے کہ شیطان کا مقابلہ کرے لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات بیوی یا اس کی دوست عورتوں کی مصلحت بینی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکتا.
اور صدقہ یہ بھی نہیں ہے کہ جب کوٹٹول کھرچ کر ایک دورروپیہ نکاال کردے دیں کیونکہ( لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون ) تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کرو.
آپ کی مالی قوت کیا ہے؟اگر آپ واقعی مال دار ہیں تو تاوقتیکہ پانچ سو یا ہزار روپیہ کا چک جیب سے نہ نکالیں گے شیطان کی کمز نہیں ٹوٹے گی.اور وہ بھی اس شرط پر کہ اس عطئے کو جتلا کر یا اس کے بارے میں دوسرے شخص کو اذیت دیکر باطل نہیں کردیں گے.نمائش اور شہرت کا تو ذکر ہی کیا؟!
توبہ بھی ایک طاقتور ہتھیار ہے:
شیطان اپنی ہر ممکن کوشش سے انسان کو گناہ کی دلدل میں ڈالتاہے اس وقت اگر انسان سچے دل سے توبہ کرلے تو شیطان کا دل ٹکڑےٹکڑے ہوجاتاہے.
لیکن دشمن بہت ہوشیار ہےاور اپنی سی انتہائی کوشش کرتاہے کہ انسان توبہ تک نہ پہنچ سکے،وہ اس کے دل میں القاء کرتاہے آخر ہواکیا ؟کون اس اتنا بڑا گناہ تم نے کرلیا ہے کہ اب نادم ہو .نہیں دیکھتے کہ دوسرے کیا کچھ کرتے پھر تے ہیں ابھی تو تم جوان ہو اتنی جلدی بھی کیا ہے .اگر توبہ ضروی ہی کرنی ہے تو بڑھاپے میں کرلینا.اس وقت تو بہ ٹھیک رہے گی کیونکہ کمزوری اور ناتوان کی وجہ سے توبہ توڑنہیں سکو گے اور وہ قائم رہے گی.اب جوانی کے عالم میں کی ہوئی توبہ اس توبہ شکن دنیا میں کیسے قائم رہ سکتی ہے...
دوطاقتور شیطان کش ہتھیار:
مزید طاقتور ہتھیار جوکہ بنیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرمان کے مطابق شیطان کونابود کرسکتے ہیں دو ہیں : ایک خداکی مخلصانہ اطاعت اور دوسرے عمل صالح پر مداومت.
ہم نفس کے ماروں کو بہ ہنگام قیامت
افسوس بہت ہوگا کہ کیوں نفس نہ مارا
یہ جہاد اکبر ہے کہ اللہ تعاليٰ سے محض اسی کی ذات کے لئے اپنے منافع و مصالح اور خواہش نفس کو یکسر نظر انداز کرکے دوستی کی جائے یہ جہاد کفار کے ساتھ جہاد سے افضل ہے .کیونکہ اپنے حقیقی داخلی دشمن نفس امارہ سے ہے.اگر جہاد کامیاب نہ ہواتو کفار کے ساتھ جہاد بھی ناکام رہے گا بلکہ شیطان ہی کی انگیخت پر ہوگا جس میں جان بھی بہر حال جائیگی اور عاقبت بھی برباد ہوگی.
حضرت امام سجادعليهالسلام اپنی دعامیں یوں عرض کرتے ہیں:“اے پروردگار میں اس دشمن سے تیری پناہ طلب کرتاہوں.اے گھر کے مالک یہ کتامجھ پر حملہ آورہوتاہے میری فریاد کو پہنچ اور مجھے اس سے بچا”.
“واغوثاه من عدو استکلب علی ”
ابلیس پائے امام سجادعليهالسلام کوکاٹتاہے:
“مدینة المعاجز” میں مذکور ہے کہ جناب سید ساجدینعليهالسلام ایک روز نماز میں مصروف تھے ابلیس نے چاہا کہ امامعليهالسلام کی استغراق کی کیفیت می کمی ہوجائے .انپے ایک چیلے کو اس نے حکم دیا کہ امامعليهالسلام کو کوئی جسمانی اذیت پہنچا کر آپ کی توجہ الی اللہ استغراق فی اللہ میں خلل ڈالدے.وہ راضی ہوگیا اور روایت میںآیا ہے کہ اس نے ایک بڑے سے اژدھاکی شکل اختیار کی“ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ شیطاطین کوئی بھی شکل اختیار کرسکتے ہیں اور امامعليهالسلام کے پاس آیا آپ بدستور بے حس و حرکت عبادت میں مصروف رہے.اس ملعون نے پائے مبارک امامعليهالسلام کے انگوٹھے کو کاٹ لیا لیکن آپ کو اس کا ہر گز کوئی احساس نہ ہوا پس آسمان سے قہر الہيٰ کی ایک خوفناک گونج نے اس لعین کے اس فعل کو قطع کیا اور زمین وآسمان کے درمیان آواز بلندہوئی“انت زین العابدین” آپ واقعی عبادت گذاروں کی زینت اور ان کے لئے سرمایۀ فخر ونازہیں”.اس وصف عظیم کے مالک یہ فخر عبادت گذاران عالم اللہ کے حضور التجاء فرماتے ہیں کہ اے پروردگار مجھے ا س کتے سے اپنی پناہ میں رکھ اے صاحب آستانہ قدس مجھے اس کے حملے سے محفوظ رکھ.
شیطانی ہتھکنڈوں سے لوگوں کو آگاہ کرو:
سید الساجدین حضرت امام زین العابدینعليهالسلام کا حال بیان کیا گیا تو ہم ناچیز کس شمار قطار میں ہیں جو جہل میں اسیر اپنی ذات سے بھی بے خبر ہیں جس کی وجہ سے ہم شیطان کی ادانيٰ سی انگیخت پرراہ راست سے بھٹک جاتے ہیں.
اے اہل عقل شیطانی ہتھکنڈوں سے عوام کو رشناس کراؤ .فسا اخلاق کے ان اسباب نے شیطان کی آنکھیں آگے ہی بہت ٹھنڈی کردی ہیں تم مزید اس کے شیطانی کارناموں پر مہر تصدیق ثبت نہ کر نہی عن المنکر ہر انسان پر واجب ہے کم از کم ان شیطانی کاموں سے نفرت کا اظہار کرو.اس کے لئے تو کوئی شرط نہیں ہم سب کا فرض ہے کہاس غلط اور نازیبا صورت احوال سے نجات حاصل کریں.
ہروہ شخص جوکسی کے فعل بد کودیکھے اور اس پر ناراضگی کا اظہار ن کرے بلکہ اس سے خوش ہو،اس کے گناہ میں شریک سمجھاجائے گا.کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ ایک شخص صرف معاشرہ کی نظروں میں گرجانے کےخوف سے سینماتھیڑیا فسق وفجور کے دوسرے مقامات میں نہیں جاتا .لیکن ان جگہوں سے دلی طور پر نفرت نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا سے زیادہ بندوں سے ڈرتاہے.وہ بھی یقیناً گناہوں میں برابر کا شریک ہے.
بال سے باریک اور تلوار سے تیز:
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی شیطان ملعون کے ہی ساتھی ہوں اور وہ ہمارے رگ و پے او رگوشت پوست میں رچابسا ہواہو.ایسا نہ ہو کہ اپنےخیال کے مطابق توہم کار خیر انجام دےرہے ہوں اور بزعم خود حسنات بجالارہے ہوں لیکن در اصل یہ سب کچھ شیطان ہی کی انگیخت پر ہورہاہو.یہ مقام اتنانازک ہے کہ بال سے باریک اور تلوار سے تیزہے آپ کو معلوم ہی ہے کہ صرف ایک نقط کے اضافے سے محروم بن جاتاہے.
بقول حاجی نوری ،بعضی لوگ اسی غرور میں ہلاک ہوجاتے ہیں کہ وہ حضرت علیعليهالسلام کے محب ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ محبت کا صرف زبانی دعويٰ انہیں جنت میں لے جانے کے لئے کافی ہے.اگر دل سے حب علیعليهالسلام پرقائم ہوں تودین کے جملہ احکام کی پوری اخلاص سے تعمل کریں اور نہ عین ممکن ہے کہ حب علیعليهالسلام کے کھوکھلے دعوے بھی شیطان ہی کی انگیخت کے مرہون منت ہوں.
ایے بچارہ وبے بس مسلمان خبردار ہو کہ تیرے ایمان کی اصل خطرے میں ہے اگر شیطان نے تجھے وقت مرگ وسوسے میں مبتلا کردیاتو کیا کرے گا.اپنے زعم میں تو تُوعلیعليهالسلام کامحب ہے.
یہ زبان کیاہے تیرادل کس کے سامنے جھکاہواہے.کہاں جارہارہے ،کس کی اطاعت میں مبتلا ہے بس وہی تیرا محبوب و مطلوب بھی ہے خدانے چاہا تو حب علیعليهالسلام بھی موجود ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ اس پر کوئی اور محبت غالب آجائے سچ بتاتُواپنی نفسانی خواہشات کو دوست رکھتاہے یا علیعليهالسلام کو اپنی دنیاسے زیادہ پیار کرتاہے یا دین سے اگرتیری دنیادرست ہوجائے تو کیا تجھے آخرت کی کوئی فکر باقی نہیں رہے گی.....
امور آخرت بہ نیت دنیوی:
دلوں کو شیاطین شکار کرچکے ہیں.آخرت کی فکر کسے ہے جب حضرت ابوالفضل عباسعليهالسلام کی مجلس میں تو سل کے لئے جاتے ہیں کہ فلان دنیوی حاجت پوری ہوجائے پس یہ عبادت کار دنیا کے سدھرنے کی عرض سے کرتے ہیں اور بہانہ اس کا“توسل” کوبنالیتے ہیں.اگر بلاتوسل آپ کا یہ کام ہوجاتا تو جناب ابولفضل عباسعليهالسلام سے آپ کو کوئی سروکار نہ ہوتا.
کیا کبھی ایسا بھی ہواہے کہ اس ارادے سے آپ نے توسل کیا ہو کہ حب علیعليهالسلام پرزندگی کاانجام ہو ایسا نہ ہو کہ یہ مختصرسی دوستی دم نزع شیطانی تصرفات کی وجہ سے ہو.
تین لاکھ کافاصلہ:
روایات میںآیا ہے کہ بعضی محبان علیعليهالسلام تین لاکھ سال (کےعذاب کے)بعد حضرت امیر المؤمنینعليهالسلام تک پہنچیں گے.
یہ بات بالکل صحیح ہے کیونکہ آپ کا دل کاہزاروان حصہ علیعليهالسلام کے لئے تھا خدمت امام میں پہنچنے سے قبل یہ حجابات دور ہونے ضروری ہیں پہلے غیر کی بے حقیقت محبت کارنگ دل سے برطرف ہوگا تو علیعليهالسلام پہنچنا ممکن ہوگا اےامیرالمؤمنینعليهالسلام آپ خودہی نظر کرم فرمادیں.
ہمیں امید کرنی چاہئے کہ ہماری موت حب اہل بیت علیہم السلام پر ہو اور حق تعاليٰ کا فضل و کرم ہمارے شامل حال رہے.
رکن اول
تقويٰ
مجلس ۸
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
تقويٰ استعاذہ کاپہلا رکن:
ہماری بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ استعاذہ کا اولین رکن تقويٰ ہے تو سب سے پہلے ستوں کو درست اور مضبوط ہونا چاہئے تاکہ عمارت اس پر قائم رہ سکے.
تقويٰ“وقایة” سے ہے جس کا معنی نگہداشت اور حفاظت ہے شرعی اصطلاح میں اللہ تعاليٰ کے اوامر ونواہی کی مخالفت سے پرہیز کو تقويٰ کہتے ہیں.
یہ بہت ضروری ہے کہ تقويٰ ایک عادت اور ایک ملکہ کی طرح ہمارے اخلاق میں اتنا راسخ ہوجائے کہ گناہ ہمیں تلخ محسوس ہونے لگے اور مثلاً اگر سب لوگ مل کر بھی اگر چاہیں کہ ہمیں کسی کی غیبت پر آمادہ کریں تو کامیاب نہ ہوسکیں یعنی ایسی حالت ہمارے نفوس میں پیدا ہوجائے کہ اس کا برطرف کرنا محال یا کم از کم سخت مشکل ہو اور مداومت کی وجہ سے اپنے نفس اور شیطان ملعون پر قدرت وتسلط حاصل ہوجائے .اس کو ملکۀ تقويٰ کہتے ہیں.
ترک مکروہات برای محرمات:
اس مقام تک پہنچنے کے لئے مکروہات کا ترک کرنا بہت ضروری ہے تاکہ حرام کا ترک کرنا ہمارے لئے آسان ہوجائے اور اس پر تکرار ومداومت سےتقويٰ کا ملکۀ اور عادت ہم میں پیدا ہوجائے اور جب ہم مکروہات کو کہ جن کےارتکاب کی کوئی سزا نہیں ،ترک کردیں گے تو ترک حرام ہمارے لئے بہت آسان ہوجائے گا اور پھر بالتدریج ہماری عادت بن جائے گی.
اور جہان تک ممکن ہو ہمیں چاہئے کہ مستحبات کو ترک نہ کریں کیونکہ مستحبات کی انجام دہی کی برکت سے واجب کو ترک کرنا ہمارے لئے محال ہوجائے گا .ظاہر ہے کہ جوشخص نماز نافلہ کو ترک نہ کرتا ہو،نمازواجب اس سے کبھی فوت نہیں ہوسکتی.
پرخار جنگل اور پابرہنہ مسافر:
کسی عالم عارف نے تقويٰ کی بہت پرلطف تعریف فرمائی ہے اور بڑی دلچسپ مثال سے اسے واضح کیاہے فرماتے ہیں:
جب آپ کسی کانٹوں بھر سے جنگل میں نگے پاؤں چل رہے ہوں تو راستہ کیسے طے کریں گے کیا اسی طرح اٹھاکرنظریں افق میں جمائے چلتے رہیں گے یا پوری توجہ واحتیاط سے پھونک کرقدم رکھیں گے تاکہ پیرمیں کانٹا نہ لگ جائے اور آپ اذیت سے دورچانہ ہوجائیں.
بس تقويٰ کا یہی معنيٰ ہے کہ زندگی راہ میں قدم قدم پر شیطان کے بکھرے ہوئے کانٹوں سے آپ بچ جائیں.اور سلامتی کے ساتھ راہ حیات طے کریں.
دانہ ودام ابلیس:
یہ احتیاط اتنی ضروری ہے کہ حضرت امام سیدالساجدین زین العابدینعليهالسلام سے صحیفہ سجادیہ میں یہ دعا منقول ہے:اےپروردگار میں ابلیس کے پھندوں اور دام ہائے فریب سے آپ کی پناہ طلب کررہاہوں آپ نے بارہا دیکھا ہے کہ شکاری اپنے جال کو پوشیدہ کرکے یا اسے ہم رنگ زمین بناکر اس پر دانہ بکھیرتاہے.اس کا شکار دانے کو دیکھ لیتاہے لیکن دام اس کی نظروں سے پوشیدہ رہتاہے.دانے کے لالچ میںآتاہے لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے ہی دام میں پھنس جاتاہے.
ابلیس لعین کے دام بے شمار ہیں گناہ ومعصیت کے بے شمارگڑھےاس نے کھودکران کو خاشاک فریب سے پوشیدہ کیا ہواہےاور ترغیب و تحریص کے دانے ان پر ڈالے ہوئے ہیں تاکہ ناسمجھ انسان سے کےدلرباظاہر پر فریفتہ ہوکر دام پھنس جائے.
تقويٰ دام ابلیس کودیکھ لینے کی صلاحیت ہے:
تقويٰ کامقتضایہ ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھیں نگاہ کوکسی چیز کے خیرہ کن زرق برق ظاہر سے فریب نہ کھانے دیں دام ابلیس کو دیکھیں بندہ خوش بخت بس وہ ہے جو آخرین ہے.
اللہ تعاليٰ سے دعا کریں کہ ہمیں بصیرت دینی عطاہوتا کہ ہم ابلیس کے پھندوں اور اس کےدام ہائے فریب کو دیکھ سکیں نہ کہ دارنہ دنیاکے طمع میں اندھے ہوکر اس میں جاگریں.
کچھ ناگزیر مثالیں بازار دام شیطان ہے:
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے کہ بازار ابلیس کامیدان ہے:“عن النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم شَرَّ بِقَاعِ الْأَرْضِ الْأَسْوَاقُ وَ هُوَ مَيْدَانُ إِبْلِیسَ يَغْدُو بِرَايَتِهِ وَ يَضَعُ كُرْسِيَّهُ وَ يَبُثُّ ذُرِّيَّتَهُ فَبَيْنَ مُطَفِّفٍ فِی قَفِیزٍ أَوْ طَائِشٍ فِی مِیزَانٍ أَوْ سَارِقٍ فِی ذِرَاعٍ أَوْ كَاذِبٍ فِی سِلْعَةٍ ” روئے زمین کا بدترین حصہ بازار ہے،یہ شیطان کامیدان ہے جہاں وہ صبح کے وقت اپناجھنڈا گاڑدیتا اور اپنی کرسی لگالیتاہے اور بساط فریب بچھا کرناپ ،تول اور پیمائش میں بددیانتی کرتا اور ناخالص مال بیچتاہے.
یہی وجہ ہے کہ ازروئے فرمودات معصومین علیہم السلام بازار میں زیادہ دیرتک ٹھہرانا مکروہ ہے .کیونکہ بازار صرف جاجائے معاملات ہے اور بازار کے ساتھ خصوصی نسبت صاحبان فہم کے نزدیک پسندیدہ نہیں.
نیزسب سے پہلے بازرا میں داخل ہونا اور سب کے بعد وہاں سے نکلنا بہت مکروہ ہے کیونکہ اس دوران میں شیطان انسان کارفیق ہوتاہے چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ جناب امیرالمؤمنین علیعليهالسلام نے۱۸رمضان المبارک کے دن عبدالرحمن ابن ملجم کو کوفہ کے بازار میں گھومتے دیکھا تو اس سے فرمایا:“یہاں کیا کررہے ہو”اس نےعرض کیا:گھوم رہاہوں ،آپ نے فرمایا: بازار شیطانوں کی جگہ ہے.
یعنی بازرا میں بلاضرورت گھومنا خواہ مخواہ قابل اعتراض سرگرمیوں میں مصروفیت کو مستلزم ہے چنانچہ آج بھی بازار میں بلاوجہ گھومنا معیوب سمجھاجاتاہے.اگر آپ تقويٰ چاہتے ہیں تو آپ کو اسی طرح احتیاط کرناہوگی جس طرح راہ پرخارکامسافر کرتا ہے.
بازار میں داخلے کے وقت استعاذہ:
جب آپ بازار میں داخل ہوں تو اللہ تعاليٰ سے پناہ کی یوں التجاکیجئے :
پروردگار میری حفاظت فرماکہ گناہ میں نہ پھنس جاؤں،معاملے میں بددیانتی کامرتکب نہ ہوں جھوٹ نہ بولوں کسی کی بے عزتی اور توہین نہ کروں دھوکے اور فریب سے بچوں،غلط قسم کے خیالات کی تبلیغ نہ کروں اور حرص اورلالچ کا شکار نہ ہوں یہ سارے کے سارے شیطانی فریب اور ابلیسی ہتھکنڈے ہیں.
میں یہ نہیں کہتا کہ بازار مت جائیے اور لین دین نہ کیجئے بلکہ مقصد میراصرف یہ ہے کہ اپنے خداداد عقل وجود اس سے کام لیجئے اور محتاط رہئیے.
ایک شخص امام جعفرصادقعليهالسلام سے روایت کرتاہے:“میں نے آنجناب سے پوچھا میراایک عورت سے لین دین ہے مجھے ناچار اس کا چہرہ دیکھنا پڑتاہے.کیا مجھے اسےدیکھنا جائز ہے یا نہیں؟آ نے فرمایا:اتقی اللہ،بس خدا کا خوف دل میں رکھ اور احتیاط کر”.
ملاحظہ فرمائیں یہی نگاہ بار باراس عورت کےچہرے پر پڑنے سے شہوت زدہ ہوسکتی ہے اور حفظ نفس کاباعث بنکر اس کی بدبختی کی وجہ بن سکتی ہے.
بازار کےاندر شیطان کا پھندا:
حتی کہ آپ کو رستہ چلتے ہوئے بھی متوجہ ومحتاط رہناچاہئے اگر آپ سمجھتے کہ ایک راہ میں دام شیطان موجودہے تو دوسرا راست اختیار کیجئے خواہ وہ کتناہی دور ہو مثلاً اگر آپ کے رستے میں سینمایا دوسرے فواحش کاکوئی مرکز ہے،بازاری یا عریان وبے پردہ عورتیں یا ان کی تصویریں جوہیجان شہوت کاباعث ہوسکتی ہیں تودوسرا رستہ اختیار کریں تاکہ آپ کی نگاہ ایسے حرام مناظرپر نہ پڑے آپ یہ نہ کہیں کہ ہم ایسے فریب میں پڑنے والے نہیں ہیں لیکن پھربھی احتیاط بہت ضروری ہے کیونکہ کم ازکم ایسےمناظروں کو خدائے تعاليٰ سے غافل تو کرہی سکتےہیں.
رفیق سفر خطرناک پھندا:
کبھی کبھی خود انسان کار فیق سفر بھی ابلیس کادام ثابت ہوسکتاہے وہ بد زبان غیبت کرنے والااور نااہل ہوسکتاہے ایسے ساتھی کو فوراً بدل دینا چاہیئے.
دوہم نشینوں کابالخصوص جب وہ عورتیں ہوں جوعموماً کم حوصلہ ہوتی ہیں شیطان فریب میں پھنس جانے کا زیادہ اندیشہ ہے جب آپس میں باتیں کرتے کرتے دوسروں کا ذکر درمیان میں آتاہے تو کبھی کسی کااورکبھی کسی کاذکر کرتی ہیں اور رفتہ رفتہ مباح باتوں سے گذرکرغیبت ،تہمت ،افترا،استہزا،اور افشائے راز اورہتک حرمت تک پہنچ جاتی ہیں.
دام ابلیس ایسا ہی ہے ہ پہلے توخوش کلامی ،خوش گپیوں اور احوال پرسیوں کادانہ دکھاتاہے اور پھران کے نیچے چھپے ہوئے فعل حرام کے جال میں انہیں پھنسادیتاہے.
کئی بار آپ نے مشاہدہ کیاہے کہ دوشخص بڑی دوستانہ صحبت میں بیٹھ گئے،ان کی باتوں میں ابتداء میں کوئی عیب یاخرابی نہ تھی لیکن ایک گھنٹے ہی کے اندران کی باہمی باتوں نے انہیں دوزخ کے گہرے گڑھےمیں دھکیل دیا.اب وہاں سےنکلنا ایک طویل محنت ہی سے ممکن ہے .اس صورت میں اگروہ دونوں مسجد میں بھی جائیں گے تو یہ خیال نہ کیجئے کہ خداپرست ہوگئے کیونکہ شیطان بدستور ان کےہمراہ ہے.
اپنے آپ کو پہچانئیے:
الغرض ابلیس کے پاس اتنے دام ہیں کہ اگر انسان صاحب تقويٰ یا محتاط ہو تو اس کو اس طرح جکڑتاہے کہ جب تک جہنم میں نہ پہنچادے چھوڑتانہیں.
اے اہل عقل !احتیاط کیجئے اور خصوصاًزبان کو پورے قابومیں رکھے آپ کو دوسروں میں کیڑے نکالن سے کیا مطلب ؛!ہرشخص اپنے اعمال وافعال کے حساب کا ذمہ دارہے کسی ایک کابوجھ دوسرے کی گردن میں نہیں ڈالاجائے گا
. وَ لا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى
یادر کھے کہ ایک دوسرے کےخلاف باتیں کرنا ،چغلی کھانا یا غیبت کرنا شیطان کادام ہے جب آپ دوسروں کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھے ہوں تو اس دام سے محتاط رہئیے.
عورت سب سے خطرناک دام ہے:
سب سے اہم اور بقول صحیح شیطان کا خطرناک ترین دام عورت ہے ماسوائے ان عورتوں کے جنہوں نےعمر بھر شیطان سے مردانہ وار مقابلہ کیا.
مرد کے شکار میں تو کچھ وقت لگتاہے لیکن عورت بہت جلد شیطان کاشکار ہوکر مردبیچار ے کے لئے اس کا دام بن جاتی ہے .کیا آپ نے سنا نہیں کہ شیطان اپنے تمام قويٰ کے بھر پور استعمال کے باوجود جناب آدمعليهالسلام کو نہ بہکاسکا اور بالآخر حوا علیہا السلام کو اپنے دام فریب میں پھنسا کر ان کے ذریعے سے آدمعليهالسلام کو فریب دیا.
روایت میں آیا ہے کہ شیطانت نے جناب یحیی سے کہا:“جب کبھی بھی میں کسی کو اپنے دام میں لانے سے عاجز ہوجاتاہوں تو اپنی مقصد براری کے لئے کسی عورت کادامن پکڑتاہوں”.
جی ہاں عورت کی مددسے وہ اپنے مقصد کی طرف بڑھتاہے اور اس کی برکت سے اپنی مراد کو پہنچتاہے.
وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِیسُ ظَنَّه
یقیناًابلیس نے ان کے بارے میں اپنے گمان کو سچ کر دکھایا.
عورت کی ہمنشینی گناہ کا مقدمہ:
یہی وجہ ہے کہ روایات اہل بیت ؑ میں وارد ہواہے کہ عورت کی زیادہ ہمنشینی انسان کو سخت دل بنادیتی ہے.
اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت سے کنارہ کش ہوجانا چاہئے بلکہ احتیاط ضروری ہے کیونکہ اس کی قربت شیطان کے داموں میں سے ایک دام ہے چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک حرف آپ کی فکر کی راہیں بدل دیتاہے ، آپ کو جذباتی کردیتاہے اور بہت سے گناہوں کی وجہ بن جاتاہے.
اور بہت افسوس کامقام ہے اگر عورت بیگانہ ونامحرم ہو اور اس پرمستزادا گروہ آپ کے ساتھ اکیلی ہو تو پھر شیطان بڑاہی سخت اور خطرناک ہے.
بیگانہ یا اجنبی عورت سے مصافحہ یا اس کے ہاتھ میں لینا حرام ہے.ان غیر متقی حیوانوں کو ذاردیکھو کس قدر شیطان کےدام میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ عورت کے بدن کامرد کے بدن سے چھوجانا بھی شیطان کاایک دام ہے.
برصیصائے عابد کاواقعہ:
ایک عابد گوشہ نشین جس کانام برصیصا تھا،ہمیشہ عبادت الہی میں مصروف رہتاتھا لوگ اس کو مستجاب الدعوة کہتے تھے کہ اس کی دعا ہمیشہ بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت پاتی تھی بادشاہ وقت کی بیٹی کسی سخت مرض میں مبتلا ہوگئی اور کوئی علاج بھی اس پر کارگرثابت نہ ہوا آخر کار اس کے علاج اور شفایابی کو برصیصائے عابد کی دعا پر منحصر سمجھا گیا لیکن وہ اپنی عبادت کی خلوت کو چھوڑ کر شہر یا قصر شاہی میں جانے پرراضی نہ ہوا.
آخر کار لوگ مجبور ہوکر بیمار شہزادی کو برصیصا کی عبادت گاہ میں لائے تاکہ اس کی دعا سے وہ صحتیاب ہوجائے اور اسے اس کے پاس چھوڑکرچلے گئے.
یہ بدبخت عابد اگر واقعی صاحب تقويٰ ہوتا تو فریاد کرتا ،شورمچاتا کہ اجنبی لڑکی کو میرے عبادت خانے میں چھوڑناجائز نہیں اسے لے جاؤمیں اس کے لئے دعاکروں گاوہ صحتیاب ہوجائے گی...اس مقام پر اس نے احتیاط نہ کی تقويٰ کا تقاضا یہ تھا کہ بے گانہ لڑکی کے ساتھ خلوت میں نہ رہے لیکن ا س نے حقیقت کو اہمیت نہ دی اورشیطان کےدام میں پھنس گیا...
اس نے لڑکی کی طرف دیکھا اس کے حسن بیمارنے اس کی تماتر توجہ کو اپنی طرف مرکوز کرلیا وہ ساری عمر ایسی صورت حال سے دوچار نہ ہواتھا یہاں ذہنی اور جذباتی دلالی شیطان جیسا جغادری فریب کار کررہاتھا اتنے سالوں کی عبادت اس عابد کی شہوت کو قابو میں نہ رکھ سکی اور بالآخر اس نے منہ کالاکرہی لیا او رفعل حرام کامرتکب ہوگیا.
لیکن شیطان نے اس پر اکتفا نہ کی اور اس کے دل میں وسوسہ ڈالاکہ ظالم تونے خود کو رسواکرڈالا کل جب لوگوں کوپتہ چلے گا کہ تونے بادشاہ کی بیٹی سے زناکیا ہے تو تجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے اگرتوموت سے بچنا چاہتاہے تو اس لڑکی کو قتل کرکے زمین میں دفن کردے اور جب تجھ سے پوچھیں کہ لڑکی کہاں ہے تو کہنا کہ مجھے کیا خبر کہاں چلی گئی.
قصہ مختصر کہ اس اتنا وسوسہ زدہ کیا کہ اس نے لڑکی کوسوتے میں گلا گھونت کرہلاک کردیا پھر اس کو ایک گڑھے میں دفن کردیا اور اس پر مٹی وپتھر ڈال کر اسے ڈھک دیا.
یہ ملعون دشمن ایک ہی دام پر اکتفا نہیں کرتا اورتاوقتے کہ خود اپنے مقام پر نہ پہنچائے دم نہیں لیتا تاکہ ایمان وانسانیت کی اگرذرہ بھر بھی کوئی رمق اس میں باقی رہ گئی ہے تو اس سے بھی اسے محروم کردے.
دوسرے دن جب بادشاہ کے لوگ برصیصا ءکےپاس لڑکی کی خبر کو آئے تو اس نے تجاہل کیا اور کہا !میں نے دعا کی اور وہ ٹھیک ہوگئی،اس کے بعد کا مجھے کوئی علم نہیں.
روایت ہے کہ ابلیس لڑکی کو تلااش کرنے والوں میں سے ایک کے سامنے انسان کی شکل میں ظاہر ہوا اور اس سے کہنے لگا :میں جانتاہوں کہ لڑکی کہاں ہے.پھر ان سب کو اس کے مقام دفن پر لے گیا اور ان کو قبر کی جگہ دکھائی.
لوگوں نے برصیصاکاعبادت خانہ ڈھاڈالااور اس کو گھسیٹ کر بادشاہ کے پاس لے گئے سب اس کی شکل پر تھوکتے تھے
دیکھا آپ نے ایک لحظہ ہوس رانی یک عمر پشیمانی ایک لمحہ کی لذت نفس اور اس کے بعد مفاسد کاطوفان !
غرضیکہ بادشاہ نے اس کے قتل کاحکم صادر کیا اور اسے پھانسی دے دی گئی.
پرانے زمانے کی پھانسی آج جیسی نہیں ہوتی تھی کہ فوراً گلاگھونٹ کے ماردیابلکہ وہ کافی دیر لٹکارہا اور تڑپ کرہلاک ہوا بدبخت برصیصا کے پاس تختہ دار پر کوئی فریاد نہیں تھی جس وقت انتہائی فشار کے عالم میں اس کی جان نکلنے لگی تو شیطان اس کے سامنے نمودار ہوا اور کہنے لگا اگر اس وقت تو مجھے سجدہ کرلے تو تجھے بچالوں .جان بچانے کی خواہش میں وہ اس پر بھی راضی ہوگیا اس طرح شیطان نے دم آخر کو ایمان سے بھی محروم کردیا تاکہ اسفل السافلین میں اسے اپنا ہمنشین بنائے.
مجلس ۹
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
استعاذہ صرف تقويٰ کے ساتھ مفید ہے:
رات کی بحث کال خلاصہ یہ ہے کہ استعاذہ کارکن اول تقويٰ ہے.اگر تقويٰ موجود ہو تو استعاذہ کی حالت وکیفیت اور شرابلیس سے اللہ تعاليٰ کے حضور پناہ طلبی اور جملہ( اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ) کی زبان سے ادائیگی نتیجہ خیز ہیں ورنہ آپ ہزار بار اعوز باللہ کہیں اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا.
آج رات سے ایک اور مطلب جو اس آیہ شریفہ سے مستفاد ہوتاہے عرض کرتاہوں.
بے تقويٰ دل شیطان کا گھر:
جودل تقويٰ سے بےنصیب ہے یقین جانے کہ وہ شیطان کاڈیراہے ایسے دل سے شیطان آسانی سے رخصت نہیں ہوتا.
بے تقويٰ دل وہ دل ہے جس میں یادخدا نہیں ہے بلکہ وہ دنیوی شہوات،نفسانی خواہشات ،عارضی امیدوں،ہو ا وہوس حرص وآز،خودپسندی ،خودنگری اور شیطانی وسوسوں کی آماجگاہ ہے اور دنیا کی چند روزہ زینت وآرائش کی بے مصرف آروزوگاہ ہے ایسادل شیطان کی اقامت گاہ اور اس کی اخلاق سوزسرگرمیوں کامرکز ہے اور جب تک ان امراض سے یہ شفایاب نہ ہو اور شیطانی اہداف ومقاصد کی تحقیق میں تعاون سےدست بردار نہ ہونا ممکن ہے کہ ہمیں حقیقت استعاذہ پیداہو.
مرغن غذا اور بھوکاکتا:
آپ نے تجربہ کیا ہوگاکہ اگر کوئی بھوکا کتا درانحالیکہ آپ کے پاس روٹی اور گوشت ہو،آپ کی طرف رخ کرے تو کیاوہ صرف آپ کےدھتکار نے اور“ چیخ ”کہنے سےآپ کا پیچھا چھوڑدے گا .اگر آپ اس کو دفع کرنے کی غرض سے ڈنڈابھی اٹھائیں گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا اگروہ بھوکا ہے اور آپ کے پاس موجود خوراک پر اس کی نظر ہے تو اسے ڈنڈابھی مارلیجئے وہ دور نہیں ہوگا اور حصول غذا کے ارادے سے دست بردار نہیں ہوگا.
لیکن جب آپ کے پاس کچھ ہوگاہی نہیں تو اگر کتاآپ کی رخ کر یگا تو آپ کے صرف“ چیخ” کہنے سےدفع ہوجائے گا کیونکہ اس کی تیز قوت شامہ اسے بتادے گی کہ آپ کا پیچھا کرنے کی زحمت سے کوئی فائدہ نہیں.
بیمار دل شیطان کی ضیافت گاہ:
آپ کادل شیطان کی نظر میں ہے.اگر وہ دیکھتاہے کہ اس میں اس کی خو راک موجود ہے یعین اس میں جب جاہ ومال وزروزیوراور شہرت دنیوی کی آرزو موجود ہے تو سمجھ لیجئے یہ اس کا پسندیدہ اقامت خانہ ہے جب وہ دیکھتاہے اس میں ایسی حرص موجود ہے کہ سب کچھ پالینے کے باوجود کم نہیں ہوتی،اس میں ایسا بخل موجود ہے ہے جوہاتھ سے کچھ نہ دینے کے باوجود قائم رہتاہے اور بغض و حسد بھی اس میں فراواں مقدار میں موجود ہے تو بہت خوش ہوتا ہے کہ واہ واکیاخوب مزید ار جگہ ہے کہ ہر مومن بھائی چیزیہاں موجود ہے.چنانچہ وہیں براجمان ہوجاتاہے.لاکھ اعوذ باللہ من اشیطان الرجیم کا ورد کریں.اس معمولی سی“چیخ ”کا اس پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوگا. یہ دشمن بڑاضدی ہے( إِنَّ لشَّيْطانَ ُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِین ، إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِین ) یہ آپ کا کھلا دشمن ہے ، اس سے نجات پانے کے صرف ایک ہی صورت ہے کہ اس کی خوارک اور اس کی سب من بھاتی چیز یں وہاں سے نکلا دیں پھریہ ایک ہی( اعوذبالله ) سے بھاگ جائے گا .ایک ہی استعاذہ سے آپ جان چھڑاوے گا کیونکہ جس دل میں حب جاہ ومال ومنال دینا نہیں ہے اس ملعون ازلی کو وہاں سے کیامل سکتاہے.
اکثریت گرفتار ہے:
روایت ہے کہ ایک دفعہ جب شیطان جناب یحیی کے سامنے نمودار ہوا تو آپ نے بنی آدم کے ساتھ اس کے سلوک کے بارے میں سوال کیا اس نے جواب میں بتایا کہ انسان تین گروہوں میں منقسم ہیں.
پہلاگروہ تو ان برگزیدگان ایزدی کاہے جن پر ہماری کوئی دسترس نہیں .وہ گروہ انبیاء ومعصومین علیہم السلام کا ہے.
دوسراگروہ ان انسانوں کا ہے کہ ہم پوری قوت اور عزم وارادے سے اور بڑی زحمت اٹھا کر ان کو منحرف تو کرلیتے ہیں لیکن وہ توبہ و استغفار سے ہماری محنتوں پر پانی پھیردیتے ہیں اور اللہ تعاليٰ کے حضور تلافی مافات کرلیتے ہیں.اور پھر خرد ہوجاتے ہیں.
تیسرے گروہ میں وہ لوگ ہیں کہ جن کےدلوں میں ہما بسیراہے اور یہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں.
تو اے اہل ایمان ایسے اعمال بجالاؤ کہ شیطان تمہارے دلوں میں راہ نہ پاسکے ورنہ صرف زبانی طور پر استعاذے کا کوئی فائدہ نہیں.
چور نقیب کی فکر میں:
شیطان کو دل میں جاگزین ہونے سے باز رکھنے کے لئے سب سے پہلے تقويٰ کی ضرورت ہے یعنی ہر اس چیز سے جو اللہ تعاليٰ کی رضا کے خلاف ہے.از قسم ہو اوہوس ،رذیل اخلاق،کمینہ خصائل اور ایسی تمام صفات قبیحہ جو انسان کو حرام کاری اور حرام خوری پر اکساتی ہیں.دل پاک وصاف ہو.
جب دل ان رذائل سے پاک ہوگیا تو پھر اس میں تقويٰ ہوگا اور خوف خدا اور خوف روز آخرت اس میں ہوگا تو پھر شیطان کچھ نہیں کرسکتا لیکن اس کی یہ انتہائی خواہیش و کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرف سے کسی طرح سے اس دل میں راہ پالے لیکن اسے راہ ملتی نہیں یہ یاسے چور کی طرح ہے جو کسی قلعے میں داخل ہونے کے لئے اس کی مضبوط فصیل میں پاؤں رکھنے کی جگہ یا کسی سوراخ کی تلاش میں سرگردان ہو،لیکن جب وہ دیکھتاہےت کہ قلعے کے محافظ بیدا اور خبردار ہیں تو باہرہی سے کھسک جاتاہے.
ابلیس خانہ دل کے گرد:
( إِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوْا ) یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے دل ہر گناہ سے پاک ہیں.اور دل پاک ہو تو سب اعضاء وجوارح کی اصلاح ہوجاتی ہے اور ان سے کوئی شریابدی سرزد نہیں ہوتی چنانچہ ان کی زبان آنکھ ،کان،ہاتھ اور پیرسب گناہ سے پاک ہوجاتے ہیں.
( إِذا مَسَّهُمْ طائِف ) طائف یعنی طواف کرنے والا.چکر لگانے والا.یہاں مراد خانہ دل کے گردنقیب زنی کے لئے سوراخ وغیرہ کی تلاش میں گھومنے والے شیطانوں کا کوئی فرد ہے.
( مِنَ الشَّيْطان ) گروہ ابلیس سے یہ ان چوروں کذکر ہے جو خانہ دل کے گردنقب زنی کے لئے سوراخ کی تلاش میں سرگردان رہتے ہیں.لیکن یک بار گی.
( ِ تَذَكَّرُوا ) خانہ دل کا مالک مومن یا دخدا میں مشغول ہوجاتاہے اور کہتاہے “یا اللہ استغفر اللہ”“ اعوذ باللہ من الشیطاالرجیم”!پروردگار شرابلیس سے مجھے پناہ عطا فرما!
چنانچہ
( فَإِذا هُمْ مُبْصِرُون ) فوراً ان کی آنکھیں نور بصیرت سے روشن ہوجاتی ہیں اور وہ چور سے خبردار ہوجاتے ہیں.
یہاں میری غرض طائف من الشیطان کے الفاظ سے ہے یعنی مومن کے دل گرد اس میں وسوسہ اندازی کےاراد ے سے چکر لگانے والاشیطانی گروہ کافرد.
یادرکھئے اگردل میں اللہ تعاليٰ کا تقويٰ ہو تووہ پاک وپراخلاص ہوتاہے.اور تقويٰ کا چراغ اپنی تیز ورشنی کے جھماکوں سے چور کو رسوا کردیتاہے اور وہ وہاں سے فرار کرجاتاہے.افسوس ہے اس دل پر جس میں تقويٰ نہ ہو بلکہ اس کی بجائے حب دنیا ہو جس کی وجہ سے وہ شیطان کے چنگل سے کبھی رہائی نہ پاسکے اور آخرکار اس کے ہاتھوں ہلاک ہوجائے.
خودکشی کیوں کی؟!:
خوف خداسے محروم حریص تاجرنے اپنا تیس ہزار روپے کا مال ایک لاکھ میں بیج دیا اور بڑاخوش تھا کہ بہت نفع کمایا لیکن جب تیسرے ہی روزوہی مال تین لاکھ روپے میں فروخت ہوا تووہ دکھ سے بے حال ہوگیا کہ کیوں جلدی کرکے دولاکھ روپے کے نفع سے بے نصیب رہا اپنے ساتھی تاجروں کے حسدمیں انگاروں پر لوت گیا اور آہ وزاری میں مبتلارہا نہ دن کو چین نہ رات کو نیند نہ کھانا نہ پینا یہی حسرت اس کی جان کار روگ بنگئی کہ دولاکھ روپے کھودئے آخر کار چونا اور گندھک پھانک کرزندگی کے عذاب سے رہا ہوا اور شیطانی گروہ میں جاملا.اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس کا دل مال دنیاکی محبت میں مبتلاتھا اور وہ ہزار جان سے اس پرفداتھا .حب دنیا اس کے قلب وروح پر ایسا سوار تھا کہ اس کےلئے اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا.
استعاذہ کیوں کار گرنہیں؟:
ہم سب کو خواب غفلت سے بیدا ہونا چاہئے کیونکہ“ حب الدنیا راس کل خطیة”ہرگناہ کی جرحب دنیاہے.
آپ اپنے دل کو ہر آلودگی سے پاک رکھیں کیونکہ ارگ صرف زبان کی حرکت ہی کافی ہوتی تو کیاآپ ہر نماز کی ابتداء( اعوذ بالله من الشیطان الرجیم ) سے نہی کرتے.؟
آخر وجہ کیا ہے کہ نماز کے دوران آپ کے حواس سوائے نماز کے ہرجگہ موجود ہوتے ہیں حالانکہ دوران نماز آپ کی زبان پر بہر حال ذکر خداجاری ہوتاہے.اس کا صاف صاف مطلب یہی ہے کہ تنہا زبان کسی کام کی نہیں.
ایک شخص کابٹواکھوکیا،وہ صبح سے شام تک اس کی تلاش میں سرگدان رہا مغرب کے وقت نماز کے دران سے یاد آیا کہ بٹوا اس نے فلاں جگہ رکھا تھا چنانچہ سلام کے فوراً بعد اس نے نوکر کو بلاکر اس جگہ سے بٹوالانے کا حکم دیا .غلام نے عرض کیا حضورآپ نماز پڑھ رہے تھے یابٹواڈنڈرہے تھے.
یاد رکھئے کہ دل میں نور کی آمد کوروکنے والی چار چیزیں ہیں:
جب تک ہم ان سے نہیں بچیں گے دل پرتاریکی کاغلبہ رہے گا سب سے پہلی چیزجس کا دورکرنالازمی ہے،نجاست بدنی ہے.دوسری خداکی نافرمانی ،تیسری شراور وسوسہ شیطانی اور چوتھی چیز جس سے احتراز ضروری ہے،اخلاق رذیلہ ہیں جو انسان کو حیوان جیسا بنادیتے ہیں اور جب تک دلی اخلاقی رذیلہ میں گرفتار رہے گا.استعاذہ کی حقیقت سے بے بہرہ رہے گا.
ایسا انسان موت کےوقت بھی شیطان ہی کے تصرف میں اور اللہ تعاليٰ سے دور ہوتاہے حدیث شریف میں آیاہے:“یحشرالناس علی نیاتہم”انسان اپنی نیتوں پر محشور ہوں گے،کیونکہ اللہ تعاليٰ ظاہر کو نہیں دیکھتا بلکہ باطن اور نیت کو دیکھتاہے چنانچہ ارشاد فرمایاگیاہے:( ان لله ینظر الی قلوبکم لاالی صورکم ) اللہ تعاليٰ تمہارے دلوں کو دیکھتاہے ،تمہارے چہروں کو نہیں دیکھتا.
مومت کی یاد حقیقت نماہے:
نہج البلاغہ میں جناب امیرالمؤمنینعليهالسلام کے بہت کم خطبے ایسے ہیں جن میں اس حقیقت کی طرف اشارہ موجود نہیں. آپ کا ارشاد ہے:“موت کو مت بھولو کیونکہ یہ قلب وروح کے امراض کاسب سم بڑا علاج ہے جو شخص اس حقیقت کو ہمیشہ نظر میں رکھتاہے یوں سمجھو کہ اپنی ہدایت واصلاح کادروازہ اس نے کھول لیاہے”.
دن کے کام کاج کے بعد جب شام کو گھر جاؤ تویہ یادر کھو کہ عین ممکن ہے کہ صبح تمہارا جنازہ اس گھر سے برآمدہو اور صبح کے وقت جب رزق کی تلاش میں گھر سے نکلو تو اس امکان کونظر انداز نہ کرو کہ گھر میں واپسی نصیب نہ ہوگی.
اگر انسان اس انداز فکر کو خود میں راسخ کرلے تو رفتہ رفتہ حسد،بخ ،حرص،نفاق،کینہ،وساس شیطانی ،غفلت وغیرہ جیسی بے وقعت اور فضول چیزوں سے نجات پالیتاہے.
مجھےجب معلوم ہی نہیں کہ کل تک میں زندہ بھی رہوں گا یا نہیں تو پھر میں حرص کیوں کر کروں اور خواہ مخواہ اپنی بے اعتدالیوں سے دوسروں کو ناراض کیوں کروں.
شہدکے گرد مکھیاں:
ایک دوسری مثال ملاحظہ فرمائیے:آپ نے بارہا دیکھا ہے کہ کڑے مکوڑے اور مکھیاں کس طرح مٹھاس اور چکنائی کے گرد موجود رہتے ہیں .کتنا ہی آپ چکھوں سے انہیں اڑائیں اور دور کریں وہ دور نہیں ہوں گے انہیں دفع کرنے کے لئے آپ کو چاہئے کہ شرینی اور چربی وغیرہ کو اٹھا لیں تاکہ یہ حشرات مایوس ہوکر خودبخود وہاں سے چلے جائیں یا پھر آپ کے ہلکے سے اشارے سے وہ جگہ چھوڑدیں.
اے مومن اپنے دل کو جملہ کشافتوں سے پاک کرتاکہ شیاطین ترے ایک ہی استعاذے سے اس سے دور ہوجائیں سیدسجاد جناب امام زین العابدینعليهالسلام دعائے حزین میں جسے آپ نماز شب کے بعد قرائت فرماتے (حاشیہ مفاتیح الجنان۷۷۲ )اللہ تعاليٰ کے حضور یوں عرض گذار ہیں :“فیاغوثاہ ثم واغوثاہ یا اللہ من ہوی قد غلبنی ومن کعدو قد استکلب علی”پرورددگا!میری مدد فرما شیطان میرے دل پر حملہ آور ہے.جب مومن کےدل میں شیطان کی خوراک بننے والی کوئی چیزہے ہی نہیں تو اگر وہ اہل ذکرت ہے تو اللہ تعاليٰ اس کے ایک ہی استعاذے سے شیطان لعین کو دفع فرمادے گا.
شیطان توبہ میں بڑی رکاوٹ ہے:
روایت ہے کہ جب ایہ( وَ الَّذِینَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِم... ) گناہ کا ارتکاب کرکے بعد میں توبہ کرنے والوں کو اللہ تعاليٰ معاف فرمادیتاہے ،نازل ہوئی شیطان چخیا اس کے چلیے اس کے گرد اکٹھے ہوگئے اور پوچھنے لگے: کیاہوا کیوں چیخ رہے ہو؟تو اس ملعون ازلی نے جواب دیا:
کیونکہ رنرچیخوں ہم اتنی زحمت اور کوشش سے انسان سے گناہ کراواتے ہیں اور وہ توبہ کرکے ہماری تمام محنتوں پر پانی پھیردیتاہے.
ہر شیطان نے اس بارے میں اپنی رائم دی لیکن کوئی بھی رائے تسلی بخش ثابت نہ ہوئی خناس نے کہا:اس کا صرف ایک راستہ ہے کہ انسان کو درتوبہ تک نہ پہنچنےت دیں اور اسے اس کی توفیق سے محروم رکھیں.
ابلیس بولا:ٹھیک ہے ،تیری رائے بالکل صحیح ہے یقیناً اس کا اگر کوئی علاج ہے تو صرف یہی ہے.
امام سجادعليهالسلام کا اسوہ:
آپعليهالسلام اللہ تعاليٰ کے حضور یوں فریاد کرتےہیں:“ومن عدو قداستکلب علی”خداوندا مجھے اس دشمن سے اپنی پناہ میں رکھنا جومیری ہلاکت کے درپے ہے.
“یاعون کل ضعیف” اے ہردرماندہ وبے چارہ کےمدگار!میں بے چارہ اور بے بس ہوں میری مددفرما.ایک طرف سے یہ کتامجھ پر حملہ اور ہے اور دوسری طرف سے دنیا اپنی تمام تر آرائشوں ،نیرنگیوں اور فریب کاریوں سے رجھارہی ہے جبکہ میرے قلب وباطن پرہوی ٰوہوس کاغلبہ ہے.“واغوثاہ من ہوی قد غلبنی”میں تجھ سے اس کے خلاف مددکار طالب ہوں.
زمان غیبت میں دعائے غریق:
جناب امام جعفرصادقعليهالسلام جب حضرت قائم آل محمدعليهالسلام کے زمانہ غیبت کی خبرد یتے ہوئے فرماتے ہیں:“ اس پرفتنہ زمانے کے مفاسد اتنے شدید اور عام ہوں گے کہ حالت ایمان میں مرنے والے پر فرشتے تعجب کریں گے”.
روای نے عرض کیا کہ اس عہد پرفتن کے لوگوں کو کیا کرنا چاہئے؟توآپعليهالسلام نے فرمایا:“انہیں چاہئے کہ دعائے غریق پڑھا کریں:“یااللہ یارحمن یارحیم یامقلب القول ثبت قلبی علی دینک”اے رحمان ورحیم اےدلوں کوہدایت دینے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ.
انسان کو چاہئے کہ خود کو واقعی بے بس اور بے چارہ سمجھےبالخصوص اس عہد میں جبکہ شیاطین دندناتے پھررہے یہں کوئی دل ان کا شکار ہونے سے بچاہوا نہیں پروردگار توہمارے دلوں کو شرشیاطین سے اپنے حفظ وامان میں رکھ.
مجلس۱۰
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
شب گذشتہ کےعروضات سے یہ ثابت ہوگیا کہ استعاذہ کارکن اعظم تقويٰ ہے اور اگر کوئی شخص شیطان کی مخالفت اور رحمان کی مطابعت کی توفیق سے محروم ہے تووہ دام شیطان میں گرفتار ہے اور اس کا استعاذہ بے معنی ہے.
استعاذہ کیوں؟:
یہاں یہ پوچھا جاسکتاہے کہ تقويٰ کی موجودگی میں استعاذہ کی کیا ضرورت ہے.اگر ایک شخص گناہ ہی نہیں کرتااورت اس سے کوئی خطا سرزدہی نہیں ہوتی تو پھر شرشیطان سے اللہ تعاليٰ کی پناہ طلب کرنے کی کیا ضرورت ہے.
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال ہی الٹاہے کیونکہ استعاذہ ہے ہی اہل تقويٰ کے لئے جوشخص اہل تقويٰ ہوگا ہمیشہ اللہ تعاليٰ کی بارگاہ سے پناہ کا طالب رہے گا کہ مباداشیطان اس کےدل و ضمیر پر غلبہ پالے کیونکہ اگر شیطان اس کے دل میں موجود ہے تو اس کے تمام افعال وحرکات کی انگیخت سے عمل میں آئیں گے.
اور وہ شخص جس کے دل پر شیطان کا تصرف نہیں اور جواللہ تعاليٰ سے لولگا ئے ہوئے ہے اس پر لازم ہے کہ شیاطین کے وسوسوںت سے اللہ تعاليٰ کی پناہ طلب کرے کیونکہ ان کی دست بردے کوئی شخص محفوظ نہیں اوروہ ہر وقت گھات میں رہتے ہیں کہ موقعہ ملے اور دل پر حملہ آور ہوکر اس پر قبضہ جمالیں.مومن کو محتاط رہنا چاہنا چاہئے کہ مبادا وہ اچانک اس کے دل پر قابو پالین اگر وہ ایک لحظہ کے لئے بھی غافل ہوا تو عین ممکن ہے کہ یہ موذی اور طاقتور دشمن اسی لحظہ میں اس کے دل پر قابض ہوجائے.
کارہائے خیررہنمائے شر:
شیطان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح مومن کے دل میں راہ پالے روایت میں آیاہے کہ مومن متقی ننانوے بار شیطان کو زک دیکر خیر کی توفیق سے ہمکنار ہوکر دسوویں بار بھی اس کے شرمیں مبتلا ہوسکتاہے او رعین ممکن ہے کہ ان ننانوے کارہائے خیر کی انگیخت بھی اسی کی ہو اور اسی نے اس کے سامنے ان کی راہ کھولی ہوتا کہ دسوویں بارا سے کسی ہلاکت خیر شرمیں مبتلا کرکے اس کا کیا کرایا خاک میں ملادے در اصل خیرا ور شرمیں فاصلہ اتنا تھوڑاہے کہ بے بصیرت انسان کو وہ نظر ہی آتا.اسی لئے امامعليهالسلام اللہ تعاليٰ کے حضور اپنی دعامیں عرض کرتے ہیں“َ هَبْ لِیبَصِیرَةً فِی دِینِی”پروردگار مجھے دین میں بصیرت عطا فرما ،تاکہ کارخیر کی انجام دہی کےدوران شیطان مجھے وسوسہ میں مبتلا کرکے شرمیں نہ دھکیل دے.
شربراہ خیر:
کسی کے عزیزوں کے ہاں کوئی محفل برپا ہے شیطان اسے ترغیب دیتاہے کہ صلہ رحم ایک کارخیر ہے تمہیں چاہئے کہ وہاں ضرور پہنچولیکن جب وہ شخص وہاں پہنچتاہے تو دیکھتاہے کہ زن و مرد یکجا ہیں محفل رقص و سرورجمی ہے،شراب کا دور چل رہاہے...اس کاذہن اس صورت حال کو پسند نہیں کرتا اس کی عقل کہتی ہے یہاں سے فوراً اٹھ چل ایسی محفلوں میں شرکت حرام ہے“لیکن شیطان کہتاہے” ان کی رونق خراب ہوگی،وہ ناراض ہوں گے او رتمہارا یہ اقدام قطع رحم کے مترادف ہوگا...
خیر کی راہ سے وہ انسان کو شرکی منزل کی طرف لے جاتا ہے اور آخرکار اسے گناہ کی دلدل میں پھنسادیتاہے.
ترک واجب کے لئے مستحبات کی ترغیب:
بعض اوقات شیطان انسان کو مستحب عمل پر اکساتاہے تاکہ اسے فعل واجب سے بازرکھے مثلاً وہ اس کے دل میں ڈالتاہے کہ زیارت حضرت امام رضاعليهالسلام بڑے ثواب کاکام ہے اور اتنے اصرا ر کے ساتھ اس مستحب عمل پر اسے اکساتاہے کہ وہ ماں باپ یابال بچوں کے نفقہ کی جو اس پر واجب ہے ،پروانہ کرتے ہوئے زیارت شریف کو چلاجاتاہے.
یا ایسے فعل واجب پر وہ آپ کو اکسائے گا کہ اہم ترواجب آپ سے فوت ہوجائے.
عبادت سے نفرت کی اکساہٹ:
بعض اوقات وہ انسان کو کسی مستحب عمل پر اس اندازسے اکساتاہے کہ اس کے دل میں واجبات سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے مثلاً وہ اس کے دل میں ڈالتاہے کہ کربلا معلی کی زیات کو جاتیرے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور جان ومال کی خیروبرکت او رسعادت دینا وآخرت تجھے حاصل ہوگی اور اگر غیر قانونی طور پر جائے تو ثواب دوگنا ملے بس اب دیر نہ کر جناب ابی عبداللہ الحسینعليهالسلام کی زیارت کو سدھار.
وہ وہاں پہنچ کر جب قانوں کی گرفت میں آکر قیدخانہ مین چلاجاتاہے توپچھتاتاہے کہ کاش میرے پاؤں ہی ٹوٹ جاتے اور میں یہاں نہ آتا.
دیکھا آپ نے ملعون ازلی نے پہلے تو اس کو فعل مستحب پر اکسایا اور پھر اسے اس عظیم عبادت سے متنفر کردیا.
پروردگار دین میں بصیرت عطافرما:
استعاذہ سے اہل تقويٰ کو کوئی چارہ نہیں.وہ شیطان کے تصرفات سے ہمیشہ ترساں رہتے ہیں کیونکہ وہ انہیں عبادت الہی سے منحرف کرتاہے اللہ تعاليٰ سے دعاہے کہ وہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطافرما ئے کہ جوبظاہر فعل خیر ہم انجام دے رہے ہیں،حقیقت میں شیطانی یا رحمانی .کیونکہ عام طور پر دیکھنے میں آیاہے کہ ایک کام بظاہر بہت اچھا ہو تا ہے لیکن حقیقت میں وہ براہوتاہے.
عبادت کے ذریعے شیطان کی فریب دہی کے امکان کی وضاحت کے لئے ایک روایت پیش کرتاہوں.
شیطان کافضا میں قیام نماز:
بحارالانوار میں اصول کافی سے جناب امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ زمانہ سلف میں ایک شخص ہر وقت اللہ تعاليٰ کی عبادت میں مصروف رہتاتھا اور اس کے انہماک کا یہ عالم تھا کہ شیطان اپنی تمام ترکوششوں کے باوجود اس کی توجہ میں خلل ڈالنے سے عاجز رہا ناکامی سے زچ ہو کر اس نے اپنے چلیون کو اپنے گرد اکٹھا کیا اور کہنے لگا:
میں اپنی انتہا ئی کوششوں کے باوجود اس عابد کو ورغلانے میں ناکام رہا ہوں کیا تم میں سے کسی کے پاس اس کی شکست کی کوئی سبیل ہے؟ایک کہنے لگا:
میں وسوسہ اندازی سے اس میں زناکی خواہش پیدا کروں گا.
شیطان نے جوا ب دیا.
اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ عورت کی خواہش اس میں ختم ہوچکی ہے.
دوسرا بولا:
اس کو لذیذکھانوں کےزریعے فریب دونگا کہ حرامخوری اور شراب نوشی سے ہلاک ہو.
اس نے کہا :اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اتنے سالوں کی عبادت کے بعد کھانے کی خواہش بھی اس کے دل سم رخصت ہوچکی ہے.
تیسرے نے کہا: عبادت ہی کی راہ سے کہ جس کاوہ راہی ہے میں اس کو فریب دے سکتاہوں.
شیطان نے جواب دیا:ہاں اگر تقدس کی راہ سے کچھ کرے تو کامیابی ممکن ہے.
بہر حال اس شوريٰ کانتیجہ یہ ہوا کہ وہی شیطان اس کام پر مامور ہوا(اکثر عبادت گذاروں کے بارے میں یہ مثال صادق آتی ہے)اس نے انسان کی شکل اختیار کی اور اس عبادت گذار کے سامنے زمین وآسمان کے درمیان فضامیں مصليٰ بچھا لیا اور نماز مشغول ہوگیاعبادت گذارنے دیکھا کہ عجیب انسان ہے کہ عبادت میں اس سے بدرجہابڑھا ہواہے اور فضا میں معلق مصلا پر قیام نماز میں کھڑا ہے اور کسی قسم کی تھکاوٹ یاخستگی محسوس نہیں کرتا.
آخرکار اس کےدل میں آئی کہ کیوں نہ اس کے پاس جاؤں اور اس سے پوچھوں کہ کونسے عمل کی برکت سے تو اس مقام تک پہنچا لیکن شیطان اپنی عبادت میں اتنا منہمک تھا کہ اس نے ذراسی بھی توجہ اس کی طرف نہ کی اور جونہی سلام نماز سے فارغ ہوتا فوراً دوسری نماز کی نیت کرکے اس میں مشغول ہوجاتا.
زچ ہوکر عابد نے اسے قسم دی کہ میرے صرف ایک سوال کاجواب دے دے شیطان نے نماز سے توقف کیا عابد نے پوچھا وہ کونسا عظیم کام تونے کیا ہے کہ جس کی دولت اس بلند مقام پر فائز ہے.
اس نے جواب دیا میں اس مقام تک ایک گناہ کے ذریعے سے پہنچا ہوں میں نے اس کا ارتکاب کرکے بعد میں توبہ کی اور اب ہر وقت اپنے کئے ہوئے گناہ کے لئے توبہ میں مصروف ہون اور روزبروز عبادت میں قوی ترہورہاہوں.اور تیری بھی بہتری (اگر تو اس مقامت کو حاصل کرنا چاہتاہے تو)اسی میں دیکھتاہوں کہ زناکا ارتکاب کر اور پھر میری طرح توبہ کراور عبادت میں مشغول ہوجاتا کہ اس مقام تک پہنچ سکے.
عابد نے کہا میں کیسے زنا کرسکتاہوں جبکہ میں اس کام سے واقف ہی نہیں اور نہ ہیں میرے پاس مال دنیا ہے.
شیطان نے اسے دودرہم دئے اور ایک فاحشہ عورت کے گھر کاپتہ دے دیا.
عابد پہاڑسے اترا اور شہر میں داخل ہوا او رلوگوں سے اس فاحشہ کے گھر کا پتہ پوچھنے لگا لوگوں نے سمجھا کہ فاحشہ کے پاس جاکراسے وعظ ونصیحت کرناچاہتاہے .فاحشہ کے پاس پہنچ کر اس نے پیسے پیش کئے اور اسے اس فعل حرام کا تقاضا کیا.
یہاں اللہ کی توفیق اس کی مدد کوآئی اور اس نے فاحشہ کے دل کو اس کی ہددات پر آمادہ کیا.
اس عورت نے دیکھا کہ اس شخص کے چہرے پرزہدوتقويٰ کا نور برس برہاہے اور وہ ایسی جگہوں پرآنے کاعادی نہیں لگتا.
اس سے پوچھنے لگی کہ تویہان کیسے آگیا ہے اسنے کہا تجھے اس سے کی مطلب ہے تو اپنی اجرت لے اور اپنا آپ کو میرے حوالے کر.
عورت نے کہا جب تک تجھ سے حقیقت دریافت نہ کرلوں گی،ہرگزراضی نہیں ہوں گی.آخر کارمجبور ہوکر عابدنے پوری صورت احوال اس کم گوش گذار کردی .فاحشہ نے کہا ے زاہد اگرچہ اس میں میرا نقصان ہی ہے لیکن خوب سمجھ لے کہ تجھے مجھ تک پہنچانے والا صرف شیطان ملعون ہے.
عابد نے کہا تو غلط کہتی ہے کیونکہ اس نے میرے ساتھ وعدہ کی ہے کہ میں اس فعل کے ارتکاب سے اس کے مقام تک پہنچ جاؤں گا.
عورت نے کہا اے عابد ہوش کے ناخوں لے تجھے کیسے یقین ہے کہ زنا کے بعد تجھے توبہ کی توفیق ملیگی یاتیری توبہ قبول ہی ہوجائیگی علاوہ از ین کپڑاسالم اچھا ہے یا پھاڑکر سیاہوا،یقین کر ہ توشیطان کم بہکاوےمیں آگیاہے.
لیکن جب عابد کو پھر بھی سمجھ نہ آئی تو فاحشہ نے اس سے کہا،اچھا میں تیارہوں لیکن تو ایک دفعہ واپس جااگر وہ شخص تجھے ویساہی عبادت میں مشغول ملاتوواپس آجانا میں تیری منتظرہوں گی اور اگروہ وہاں موجود نہ ہوا تویقین کرلینا کہ وہ شیطان ملعون تھا.چور جب پہچانا جائے تو فرار کرجاتاہے جب مومن شیطانی وسوسے کا ادراک کرلیتاہے توہلاکت سے بچ جاتاہے
جب عابد واپس آیاتو اس نے دیکھا کہ وہاں کوئی نہیں ہے پس اسے معلوم ہوگیا کہ شیطان ملعون اسے اپنے دام فریب میں الجھاکر ہلاک کرناچاہتاتھا.
چنانچہ اس نے اس فاحشہ کے لئے دعاکی .روایت میں آیاہے کہ جب اپنی زندگی کی آخری رات میں فاحشہ نے انتقال کیاتو صبح کے وقت اس زمانے کے پیغمبر کووحی ہوئی کہ اس کے جنازے میں شرکت کریں پیغمبر نے عرض کی پروردگار وہ تو ایک مشہور فاحشہ تھی جواب ملاہاں لیکن اس نے ہماری بارگاہ سے بھاگے ہوئے ہمارے ایک بندے کو واپس ہمارے دروازے تک پہنچایااور اس کی نجات کا سبب بنی ہے.
وعظ ونصیحت بڑی قیمتی شے ہے ہر ممکن کوشش کریں کہ گناہ گار گناہ سے باز رہے.اسے توبہ کی ترغیب دی اللہ تعاليٰ جزائے خیردے گا اور آپ کو بھی پاک کردے گا.
بڑی حیرانی کامقام ہے .اگر ہم شیطان ملعون کےوسوسوں اور فریبوں اور اپنی اخلاقی کمزوریوں کو دیکھیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا انجام کیاہوگا کیااپنی جان ہی بچاکر اس کے حضور میں پہچ سکیں گے یانہیں بس اس کا فضل وکرم شامل حال ہو تو امید ہےکہ نجات ہوجائے “یاراحم کل ضعیف”اے ہرکزور پر رحم فرمانے والے.ہم پر رحم فرما اور اپنی توفیق سے ہمیں محروم نہ رکھ.
“إِذَا رَأَيْتُ مَوْلَايَ ذُنُوبِی فَزِعْتُ وَ إِذَا رَأَيْتُ كَرْمَکطَمِعْت”
پروردگار اپنے گناہوں کو دیکھ کر مجھے ڈرلگتاہے لیکن جب ترے کرم عمیم دیکھتاہوں تو مجھے ڈھارس ہوتی ہے.
مجلس۱۱
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
شیطان محرک افعال:
گفتگو کاموضوع استعاذہ تھا کہ استعاذہ اہل تقويٰ کاخاصہ ہے ورنہ جولوگ پرہیزگار نہیں ہیں،شیطان خود ان کے وجود میں متمکن ہے اور ان کی جملہ حرکات وسکنات اسی کی انگیخت پرہوتی ہیں وہ کس سے فرار کریں گے اور کس سے اللہ تعاليٰ کی پناہ جائیں گے شیطان سے فرار تو وہی چاہے گا جو اہل تقويٰ ہوکر جونہی شیطان اس کےدل سے قریب ہوتاہے،وہ فوراًذکر خدامیں مصروف ہوکر اس ملعون کی وسوسہ اندازی پر مطلع ہوجاتاہے اور استعاذہ کی قوت سے اسے فرار پر مجبور کردیتاہے.
اہل تقويٰ ہمیشہ محتاط ہوتے ہیں کہ ان سے حرام سزد نہ ہو او رکوئی واجب ان سے فوت نہ ہو اگر شیطانی گروہ کا کوئی فرد ان کے دل سے نزدیک ہوتاہے تو انہیں فوراً خبرہوجاتی ہے اور وہ استعاذہ میں مصروف ہوجاتے ہیں اور جب شیطان دیکھتاہے کہ یہان اس کی خیر نہیں تو بھاگ جاتاہے.
اہل تقويٰ جب ذکر خدا میں مشغول ہوتے ہیں تو اپنے نور بصیرت ومعرفت سے دام ابلیس کو دیکھ لیتے ہیں.
میری عرض یہاں لفظ “مبصرون” سے ہے یعنی اہل تقويٰ ذکر خداسے بصیرت حاصل کرکے دام ابلیس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور جب اسےاپنی شامت نظر آتی ہے تووہ وہاں سے نودوگیارہ ہوجاتاہے.یہ بہت مبارک بات ہے کہ مومن شیطانی وسوسوں کے بارے میں صاحب بصیرت ہو خواہ وہ وسوسے عقائد کے ضمن میں ہوں یا اخلاقیات یاعبادات کے ضمن میں.
انبیاءعليهالسلام سے بھی باز نہیں آتا:
کچھ وسوسے اس کے اعتقادی نوعیت کے ہوتے ہیں اور اس باب میں وہ انبیاء کے دلوں میں بھی وسوسہ اندازی سے نہیں چوکتا.
روایت ہے کہ شیطان جناب عیسيٰعليهالسلام پر ظاہر ہوا جبکہ آنحضرت ایک پہاڑکی چوٹی پر کھڑے تھے اس نے آپعليهالسلام سے مخاطب ہوکر کہاائے روح اللہ اگر آپ اس پہاڑ پرسے نیچے گرجائیں تو کیا آپ کی جان بچاسکتاہے آپ نے فرمایا:ہاں میں اپنی بصیرت ومعرفت کی بناء پر پورے یقین سے کہہ سکتاہوں کہ وہ مجھے ضرور بچاسکتاہے. کہنے لگا اگر آپ کا کہنا درست ہے تو آپ کو گرادیجئے تاکہ وہ آپ کو بچالے.
عیسيٰ سمجھ گئے کہ اس ملعون کا کام ہی مغالطہ کاری اور وسوسہ انداز ہے لہذا جوا ب میںفرمایا: اسے ملعون تو یہ چاہتاہے کہ میں اللہ تعاليٰ کا امتحان کروں یہ تولفظ ہی غلط اور شیطانی ہے.جب میراایمان ہے کہ وہ ذات قدیر یقیناً مجھے بچاسکتی تو اس آزمائش کی غرض سے کہ آیا یہ ممکن ہے یا نہیں تو چاہتاہے کہ میں اپنے آپ کو گرادوں؟.
علاوہ از ین میرے خالق نے مجھے اس کام سے نہی فرمائی ہے کیونکہ خودکشی فعل حرام ہے.ہاں اگر توبے اختیار گرجائے اور اللہ تعاليٰ کی مشيّت یہ ہو کہ توبچ جائے توہ تجھے بچانے پر قادر ہے.
حضرت مسیحعليهالسلام کی شیطان لعین سے گفتگو:
روایت ہے کہ ایک دفعہ شیطان نے حضرت عیسيٰعليهالسلام سے کہا:اے روح اللہ آپ ہی خدائے محی وممیت ہیں.آپ ہی خدائے علیم وخیبر ہیں...جناب عیسيٰعليهالسلام نے فوراً ڈانٹ دیا کہ ملعون کیابکتاہے میں تو اس کا بنددہ اور غلام ہوں جس کی عاپر وہ ذات اقدس مردوں کو زندہ کرتی ہے.
جب جناب مسیحعليهالسلام نے اس طرح اس ملعون کے وسوسوں کو ردکیا تووہ فریاد کرتاہوا آپ کے پاس سے بھاگ گیا اس قسم کے اعتقادی وسوسے وہ اہل تقويٰ کے دل میں ڈالتاہے لیکن وہ ذکر الہی کے نورسے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ شیطانی وساوس ہیں مثلاًکبھی وہ کسی مومن متقی کے دل میں یہ بات ڈالتاہے کہ فلان آدمی جوان وتوانا ہے،گدا کیسے بن گیا ایسی وسوسہ کاری سے اس کامقصد یہ ہوتاہے کہ حکمت وقضائم الہی کے بارے میں مومن کےدل کو شک میں مبتلا کردے.لیکن ذکر الہيٰ سے شرفیاب مومن اس کے جواب میں کہے گا:استغفراللہ میری کیا مجال کہ حکمت ومشيّت خداوندی میں داخل انداز ہوں.منہ چھوٹا اور بڑی بات !میراایمان ہے کہ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا.
ابراہیمعليهالسلام اور شیطان کی وسوسہ اندازی:
اعمال کے بارے میں بھی چونکہ صاحب تقويٰ کی یہ تمناہوتی ہے کہ کاخیر انجام دے شیطان کی انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے کوئی نیک کام سزد نہ او راگر ہوجائے تو بعد میں اسے خراب کی کوشش کرتاہے مثلاً یہ کہ فاعل خیر کو تکبر یار یا وغیرہ میں مبتلا کردیتاہے قصہ مختصر یہ کہ یہ ملعون ہرنکی کا دشمن ہے.
مثال کے طور پر پھر ایک مثال اللہ تعاليٰ کے ایک برگزیدہ نبی کی پیش کی جاتی ہے.
آپ نے حضرت ابراہیمعليهالسلام کے بارے میں سناہوگا کہ جب آپ کو اللہ تعاليٰ کی طرف سے حکم ملاکہ اپنے نوجوان تیرہ سالہ جمال ظاہر وباطنی وار ایمان ومعرفت کے حاصل نورنظر اسماعیل کو منی پر لے جاکر قربان کرو تو شیطان سراسیمہ ہوگیا کیونکہ اسے خوب معلوم تھا کہ اگر ابراہیمعليهالسلام یہ کام کر گذرے تومقام خلّت پر فائز ہوجائیں گے لیکن کرے تو کیا کرے!
سب سے پہلا کام اس نے یہ کیا جناب ہاجرہ کےدل میں وسوسہ ڈالا اور ان سے کہا: میں نے ایک سن رسیدہ انسان کو دیکھا ہے کہ ایک لڑکے کو ہمراہ لئے جارہاتھا آپ کاوہ کیا لگتاہے؟ہاجرہ نے فرمایاوہ میرے شوہر ہے کہنے لگا آپ جانتی ہیں کہ ان کا ارادہ کیا ہے وہ آپ کے بچے کاسرکاٹیں گے جناب ہاجرہ نے فرمایا:ابراہیمعليهالسلام نے کبھی کسی دشمن کوبھی تکلیف نہیں پہنچائی ،بھلا اپنے ہی بیٹے کاسروہ کیوں کاٹنے لگا .ابلیس نے کہاان کاخیال ہے کہ انہیں اللہ تعاليٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے یہ عظیم خاتون نے فوراً سمجھ گیئں کہ یہ شیطان ہے اور انہیں وسوسے میں مبتلا کررہاہے فرمانے لگیں ملعون دور ہو اگر اللہ کا حکم ہے تو سب ٹھیک ہے.
ابلیس ایمان کی آزمایش:
ابلیس کی خلقت کا مقصد اس امر کا امتحان ہے کہ اللہ تعاليٰ اور روزجزاء پر ایمان میں کون ثابت قدم ہے اور کون کشمکش اور تذبذب کاشکار.چنانچہ واضح طور پر کلام پاک میں ارشادہے:( وَ ما کانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطانٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْها فِی شَک ) اور شیطان کو ان پر اختیار حاصل نہ ہوتا مگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں مبتلا ہے
اگرچہ جنبا ہاجرہ عورت ہیں لیکن ان کے ایمان کی پختگی اور ضبط نفس کا یہ عالم ہے کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو جوجمال ظاہری حسن باطن اور مکارم اخلاق کے اعليٰ مقام پر فائز ہے ،اللہ تعاليٰ کے نام پر قربان کرنے کے لئم بلاتوقف وتذبذب راضی ہوجاتی ہیں اور امرخدا کے سامنے اپنی ماتا کو ایک بے حقیت چیزسمجھ نظرانداز کردیتی ہے.
حضرت ابراہیمعليهالسلام پر شیطان کی وسوسہ اندازی:
اس کے بع ابراہیمعليهالسلام کے پاس آیا اور کہنے گلا آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟آپ نے فرمایا:اسماعلی کو قربان کرونگا شیطان کہنے لگا اس نے کوئی جرم توکیا نہیں ابراہیمعليهالسلام نے جواب دیا : اللہ کا حکمت ہے.شیطان نے کہا: اگرآپ اسے قتل کریں گے تو کیا خدا کی خوشنودی کے حصول کی غرض سے آپ کا یہ عمل دوسرں کے لئے سنت قرار نہیں پاجائے گا؛ابراہیمعليهالسلام نے پھر اپنا جواب دہرایا کہ خداکا حکم یہی ہے.شیطان بولا گیا یہ ممکن نہیں کہ یہ امر خداوندی نہ ہو اس پر حضرت ابراہیمعليهالسلام نے اس ملعون کو پتھر مارا اور اسی مناسبت پر دوران حج رمی جمرات سنت قرار پائی.
یہ چند مثالیں ہیں شیطان کی وسوسہ اندازی کی مومن کو چاہئے کہ ذکر خدا میں مصروف رہے تاکہ اس کے وساوس اس پر اثر انداز ہوسکیں بالخصوص خداکی راہ میں خرچ کرنے کے بارے میں تو اس کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ فعل محل میں نہ آئے پھر یہ ملعون ازلی اسماعیلعليهالسلام کی طرف متوجہ ہوا جو اپنے والد محترم کے پیچھے پیچھے جارہے تھے اور کہنے لگا صاحبزادے!جانتے ہو کہ تمہارے والد تمہیں کہاں لے جارہے ہیں اسماعیلعليهالسلام نے فرمایا:نہیں کہنےت لگا ان کا ارادہ ہے تمہیں ذبح کرنے کا ہے اسماعیلعليهالسلام نے پوچھا وہ یہ کام کیسے کرسکتے ہیں شیطان نے کہا ان کا کہناہے کہ یہ خدا کا حکم ہےت حضرت اسماعیلعليهالسلام نے جواب دیا اگر خدا کا حکمت ہے تو میری جان اس پر فدا ہے لیکن اس کے باجود جب شیطان وسوسہ اندازی پر مصر رہا تو جناب اسماعیلعليهالسلام نے فرمایا کہ باباجان یہ دیکھئے کون ہے جومیرے پیچھے پڑاہواہے آپعليهالسلام نے فرمایا شیطان ہے اسماعیلعليهالسلام نے بھی اس ملعون پر سنگ باری کی.
کیاہم نے بھی کبھی شیطانت کو دھتکار اہے:
جناب حاجی صاحب آپ نے جو حضرت ابراہیمعليهالسلام کی اقتداء میں شیطانت پررمی جمرات کیا یہ رمی جمرات صرف مناسک حج میں ہی منحصر نہیں ہوناچاہئے بلکہ آپ کی ساری عمر اسے اپنی لعنت کا نشانہ بنانا چاہئے.
کہااں میں وہ لوگ جوہروسوسہ شیطانی کم موقعہ پر اس پر لعنت کے پتھر برساتے ہیں مردانہ وار اس کے مقابلے میں قائم رہتے ہیں غیظ وغضب کے عالم میں خود کو قابومیں رکھتے ہیں اور فعل حرام کی خواہش کے جوش کے وقت اپنے اپ میں رہتے ہیں.
کبھی ایساہوتاہے کہ انسان کوئی کارخیر انجام دینا چاہتاہے تو شیطان دوسرے انداز سے کہتاہے فلان کام اس سےبدر جہابہتر ہے وہ شخص تردد میں متبلا ہوجاتاہے اور دونوںت میں سے کوئی کام بھی نہیں کرتا اور فعل خیرسے بھی محروم ہوجاتاہے
عظیم ترکون؟:
روایت ہے کہ جب دونوں باپ بیٹے نے امر الہيٰ کی تعمیل کے لئے مستعد ہوئے باپ بیٹے کو قربان کرنے کے لئے اوربیٹا خداکی راہ میں قربان ہونے کے لئے اور بوڑھےباپ نے بیٹے کے جوان چہر کو خاک پر اور تیز چھری کو اس کے گلے پر رکھا تو ملائکہت حیران ہوگئے اورآپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے باپ بیٹے سے عظیم ترہے یابیٹا باپ سے؛باپ عظیم ترہے جواپنی زندگی کے ثمر کو اس طرح قربان کررہاہے یابیٹا جوعنفوان شباب میں اپنی عزیز جان خدا کے حضور پیش کررہاہے.
دونوں اپنے امتحان میں کامیاب ہوئے لیکن( وَ فَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِیم ) اللہ تعاليٰ کی تقدیر یہ تھی کہ اسماعیل ذبح نہ ہو.
اے مومنت !حضرت ابراہیمعليهالسلام نے فرزند کی قربانی آمادہ ہوگے،اسماعیلعليهالسلام نے راہ خدا میں اپنی عزیزجان سے صرف نظر کردیا تو صرف اجنبی عورت کے جسم کو چھونے،نظر حرام اور لقمہ حرام ہی سے صرف نظر کرلے روحانی مقام اور الہيٰ درجات مفت نہیں ملتے.
رنج و محن بغیر نہ گنج گراں ملے
یہ میری اور آپ کی مرضی پر منحصر نہیں ہے کہ بدکارانسان جزا کا حقدار ہوجائے( لَيْسَ بِأَمانِيِّكُمْ وَ لا أَمانِيِّ أَهْلِ الْكِتابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِه ) کوئی کام نہ تمہاری امیدوں سے بنے گا نہ اہلِ کتاب کی امیدوں سے- جو بھی کام کرے گا اس کی سزا بہرحال ملے گی.
خداکے نیک بندوں کے مقام اور ہمنشینی انبیاء مقربین کو پانےت کے لئے عمل مجاہدہ نفس اور نفس امارہ پر پورے قابوکی ضرورت ہے.
گریہ ابراہیمعليهالسلام :
روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیمعليهالسلام نے دیکھا کہ چھری کاٹ نہیں رہی اور پھر جب معلوم ہوا کہ قربانی کا حکم منسوخ ہوگیا ہے تو انہیں بہت افسوس ہوا اور ان پرگریہ طاری ہوگیا جبرئیلعليهالسلام نازل ہوئے اور انہوں نے پوچھا آپ کیوں گریہ کررہے ہیں؛آپ نے جواب دیا معلوم ہوتاہے کہ میں اس قابل نہ تھا کی میری قربانی بارگاہ ایزدی میں قبول ہو جبرئیلعليهالسلام نے کہا :آپ نے امتحان کی ساری شرطین پور ی کردیں اوراس میں خوب کامیاب ہوئے پھر اس مقصد کے لئے آپ کے دل پر رقت طاری ہو اور بیٹے کے ذبح ہونے کا اجر آپ کو ملے ،جبرئیلعليهالسلام نے آپ کے سامنے مصائب سیدالشہدا امام حسینعليهالسلام بیان کئے.
مجلس۱۲
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
اس آیہ شریفہ میں حقیقت استعاذہ:
اگر اس آیہ شریفہ میں جوہماری بحث کاعنوان ہے،غور کیاجائے اور اس میں مذکورہ حقائق میں فکر کی جائے تو معلوم ہوگا یہی آیت حقیقت استعاذہ کی پورے طور سے آئینہ دار ہے.
وہ لوگ جنہوں نےہوس پرستی چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کی وہ گویا شیطان کےگھر سے نکل کر حریم خداونددی میں پہنچ گئے .وہ لوگ جن کے دلوں میں شیطان کابسیرانہیں ہے،جب بھی شیطان ان کے دل پر حملہ آور ہونے کے لئے ان کے گرد گھومتاہے تووہ ذکر خدا میں مشغول ہوجاتے ہیں جس سے ان کے دل میں روشنی آجاتی ہے اور وہ اس کی وسوسہ اندازی پر مطلع ہوکر استعاذہ کی قوت سے اسے بھگادیتے ہیں.
دعائے حضرت امام سجادعليهالسلام :
حضرت زین العابدینعليهالسلام صحیفہ سجادیہ میں اللہ تعاليٰ کے حضور یوں عرض گذار ہیں:
“وَ إِذَا هَمَمْنَا بِهَمَّيْنِ يُرْضِیكَ أَحَدُهُمَا عَنَّا، وَ يُسْخِطُكَ الْآخَرُ عَلَيْنَا، فَمِلْ بِنَا إِلَى مَا يُرْضِیكَ عَنَّا ”اے پروردگار جس وقت ہمارے سامنے دو مقصد ہوں کہ ایک میں تیری رضا اور دوسرا تیری ناراضگی کاباعث ہو.ایک تیری خوشنودی اور دوسرا تیرے غیظ وغضب کاموجب ہو تو ہمارے دل کو اس کی طرف پھیردے جس میں تیری رضا اور خوشنودی ہو اور اس سے متفرق فرمادے جس سے توناراض اور ناخوش ہو.
جب اللہ تعاليٰ دل کو کس طرف متوجہ کردے تو انسان اپنی سوچ بدل دیتاہے لیکن جب تک ہم تقويٰ کو اپنا شعار نہ بنائیں گے ہمارے دلوں پر شیطان کی حکومت رہے گی ایسی حالت مین ذکر الہيٰ سے ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوگا جب دل پر شیطان کا غلبہ و تسلط ہو تو انسان کیسے اپنی راہ عمل متعین کرسکتاہے.
اس مطلب کی وضاحت کے لئے پھر ایک حکایت پیش کرتاہوں.
بتی بجھا نے والاچور:
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں جب گھروں میں روشنی کے لئے موم یا چربی وغیرہ جلانے کا رواج تھا ایک رات ایک چور کسی گھر میں گھس گیا اور کمرے میں داخل ہو کر چیزیں اکٹھی کرنے لگا.
گھرکے مالک نے پیر کی آہٹ سنی تو اسے چوری کی موجودگی کا شک ہوا بستر پرسے اٹھا او رچراغ جلانے لگا چور کو جب معلوم ہوا کہ مالک بیدار ہوچگا ہے تو اس کے سرہانے کی طرف کھڑا ہواگیا اور جب اس نے چراغ کو دیا سلائی دکھائی تو آہستگی سے پھونک مارکر اسے بجھادیا.
جب اس نے دوبارہ چراغ جلانا چاہاتو چورنے اپنی انکلی لعاب دہن سے ترکرکے اس سے چراغ کی بتی کو گیلا کردیا تاکہت جل ہی نہ سکے.
نادان صاحب خانہ نہ سمجھ سکا کہ کوئی موجود ہے جو یہ حرکت کررہاہے وہ یہی سمجھتا رہا کہ ہواہے جوچراغ کو روشن نہیں ہونے دیتی آخر کار جب چراغ روشن ہوا اور پیروں کی آہٹ بھی اس کے بعد سنائی نہ دی تو مطمئن ہوکر سوگیا اور چور اپنا کام کرکے رخصت ہوا.
خانہ دل میں چور:
یقین کیجئے کہ عالم باطنی کی بھی یہی صورت ہے اگر شیطان دل میں جاگزین ہوجائے تو انسان کو اس قابل نہیں رہنے دیتاکہ وہ ذکر خدا کرسکے کیونکہ ذکر الہيٰ صرف اہل تقويٰ کا خاصہ ہے اگر تقويٰ نہ ہو تو انسان ہزرا ذکر کرے بصیرت حاصل نہیں کرسکےگا.
آپ نے ملاحظہ نہیں فرکایا کہ جھگڑسے فسادکے دروا ن غیظ و غضب کے عالم میں ذکر خدا کےت باوجود انسان نہیں سمجھتا کہ وہ شیطان کے دام فریب میں جکڑاہواہے اور اس کے قلب وروح پر اس کا تسلط و تصرف ہےت .اس حالت میں کتناہی اس کے لئے اللہ رسول اور ائمہ کا نام لیں،کوئی فائدہ نہ ہوگا شیطان اسے ذکر الہيٰ پر آنے ہی نہیں دے گا کیونکہ وہ صاحب تقويٰ نہیں.
حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے بچئے:
حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کاارشاد ہے کہ حق پرہوتے ہوئے بھی اگر کوئی جھگڑے سے بچے گا تومیں اس کے جنت میں اعليٰ مقام کا ضامن ہوں اور اگروہ حق پر نہیں اور جھگڑابھی نہیں کرتا تو جنت کے پست ترین درجہ میں اس کا مقامت ہوگا.
جھگڑے کو ترک کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان ہوس پرست نہ ہو ورنہ شیطان اسے کبھی بچنے دے گا.اور وہ اسی حالت میں مرجائے تو شیطان کےبندوں میں مشہور ہوگا.
نماز کے دوران بھی کیا پتہ ہے کہ انسان کس کے حکم سے حرکات نماز بجالاتا رہا اور کیا معلوم کہ اللہ کے گھر میں شیطان کی انگیخت پر ارکان عبادت نہیں ادا کرتارہا کیا وہ واقعی امر خداوندی سے مسجد میں آیا اگر اللہ ہی کے حکم سے مسجد میں آیا تو خود پرستی کیوں جھگڑے سے بچے گا ہی تو تقويٰ کی کیفیت اس میں پیدا ہوگی اور اس کی بصیرت ونجات کا سبب بنے گی.
ذوالکفل کا پیمان:
حضرت ذوالکفلعليهالسلام انبیائے سلف میں سے تھے ان کی قبر شریف حلہ کے قریب ہے اور ان کا ذکر کلام پاک الہيٰ میں موجود ہے بحار الانوار میں آپ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں یہ روایت بیان کی گئی ہے.
ان سے پہلے ایک پیغمبر تھے جن کانامت یسع تھا ان کا ذکر بھی کلام مجید میں موجود ہے( وَ الْيَسَعَ وَ ذَا الْكِفْل ) جناب ذوالکفل حضرت یسععليهالسلام کے اصحاب اور حواریوں میں سے تھے اپنی زندگی کے آخر ی ایام میں جناب یسع نے اپنے اصحاب سے کہا: آپ میں سے وہ شخص جو اس عہد پر جو میںآپ لوگوں سے کررہاہوں اللہ تعاليٰ کو حاضر ناضر جان کر قائم رہے گا،میرا وصی وجانشین ہوگا.میرا عہد یہ ہے کہ غصے کے وقت اپنے آ پ پر قابور کھؤ اپنے آپے میں رہو اور شیطان کی انگیخت کاشکار نہ ہوجاؤ .جناب ذوالکفل نے پورے یقین و اعتماد سے وعدہ دیا اور دل میں عہد کرلیا کہ کبھی غضب شیطانی میں مبتلا نہ ہونگے یہی وجہ تھی کہ وہ منصب نبوت پر فائز ہوئے اور اس کے بعد پیش آنے والے امتحانات سے بھی بخوبی عہدہ برہوئے.
یہ بھی ملحوظ رہے کہ جتناز یادہ کوئی انسان اپنے عہد پرسختی سے قائم رہتاہے ،شیطان ملعون اتنا ہی زیادہ دباؤ اس پر اس عہد کو توڑنے کے لئے ڈالتا ہے حضرت ذوالکفل نے غضب شیطانیت سے ہر قیمت پر دوررہنے کا عہدت کیا ہوا تھا لہذا شیطان نے بھی اس عہد کو توڑ نے کے لئے بڑی چوٹی کازورلگایا لیکن آپ اس کی ہرکوشش کے سامنے پہاڑکی طرح ثابت قدم رہے.
شیطان مدد طلب کرتاہے:
ایک روز شیطان نے اپنے چیلوں کو پکار جب وہ اس کے گرد اکٹھے ہوگئے تو ان سے کہنے لگا ذو الکفل کے ہاتھوں عاجز ہوگیا ہوں جو کوشش بھی میں انہیں غیظ وغضب میں لاکر ان کے عہد کو توڑ نے کے لئے کرتاہوں ،ناکام ہوجاتی ہے.
ایک شیطان جس کانام ابیض تھا بولا میں ذوالکفل کو غصے میں لاؤں گا شیطان نے اسے اس کام پر مامور کردیا.
جناب ذوالکفل کی یہ خاص عادت تھی کہ رات کوسوتے نہیں تھے اور ساری رات ذکر خدا میں مشغول رہتے تھے دن کو بھی ظہر سے پہلے اپنے اور دوسرے لوگوں کے کاموں میں مصروف رہتے ظہر سم ذراپہلے سوجاتے اور عصر کے وقت بیدار ہوکر پھر خلق خدا کےکاموں میں مصروف ہوجاتے.
شیطان کا دق الباب:
ایک دن جبکہ آپ قبل ظہر سوئے ہوئے تھے اس شیطان نے دروازہ پیٹا دربان نے پوچھا تجھے کیا کام ہے ؟کہنے لگا میری ایک فریاد ہے دربان نے کہا صبح آنا اس وقت وہ سوئے ہیں
شیطان نے چیخ وپکار اور فریاد شروع کردی کہ میں دور رہتاہوں کل نہیںآسکتا آخر کار جناب ذوالکفل اس شورسے بیدار ہوگئے اور انہوں نے نہایت ٹھنڈے دل سے اسے کہا اب چلاجا اپنے مدعا علیہ سے کہدے کہ کل آجائے میں بھی پہنچ جاوں گا.
شیطان کہنے لگا وہ نہیں آئے گا آپ نے فرمایا یہ میری انگوٹھی نشانی کے طورپر لے جا اور اسے کہہ کہ ذوالکفل نے تجھے بلایا ہے ا س دن آپ نہیں سوسکے.
شیطان چلاگیا اور دوسرے روزپھر اسی وقت جبکہ حضرت ذوالکفل ابھی سوئے تھے آکر پھر اس نے چیخ وپکالر شروع کردی جناب پھر نیندسے بیدا ہوئے اور بڑی نرمی اور ملامت سے اس کے ساتھ پیش آئے اور اسے مدعا علیہ کے نام ایک چھٹی لکھ دی کہ اسے بلالائے.
ابیض چلاگیا اور اس دن بھی آپ نہ سوسکے اور ساری رات بھی جب معمول عبادت میں مشغول رہے.
شیطان عاجز ہوگیا:
جب کوئی انسان تین دن رات نہ سوئے تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ کتنا چڑچڑا اوربد مزاج ہوجاتاہے لیکن تیسرے روزبھی شیطان نے عین اسی وقت جناب ذیالکفل کی نیند میں خلل ڈالا اورشور مچانے لگا کہ اس شخص نے آپ کے خط کی بخی کوئی پروانہیں کی اور یہاں آنے سے انکار کردیا .اور پھر آپ کے سامنے بے تحاشا چیخنےلگا کہ آپعليهالسلام کو غصہ دلائے اور غیظ و غضب میں لائے آخر کار کہنے لگا اگر آپ خود اس وقت میرے ساتھ چلیں تو میراکام ہوسکتاہے
روایت میں ہے کہ اس دن دھوپ اتنی سخت تیز تھی کہ گوشت کاٹکڑا اس میں جل کے کباب ہوجائے .اس نے اتنا شور مچایا کہ کہ آخر کار آپ اس کے ساتھ جانے پر رضامند ہوگئے.
اس جلادینے ولای دھوپ میں جب انہوں نے کچھ راستہ طے کیا توشیطان کو یقین ہوگیا کہ آپعليهالسلام کو غصہ میں لانا ناممکن ہے.
چنانچہ وہ فریاد زناں وہاں سے فرار ہوگیا.
بے تقويٰ دل میں ذکر الہيٰ کاالٹااثر ہوتاہے:
کبھی ذکر الہيٰ بے تقويٰ دل کی حالت کومزید خراب کردیتاہے اور اس کی بے دینی کو اشکار کردیتاہے.
کیا آپ نے سنا نہیں کہ ملعوں شقی ابن زیاد جب سرمقدس جناب سید الشہداعليهالسلام کو پکڑ اہواتھا تو سراقدس سے ایک خون کا قطرہ ٹپکا اور اس ملعون کی ران کو چھیدتا ہوا دوسری طرف نکل گیا اس ملعون نے سرکو نیچے رکھ دیا اور ہاتھ میں جو چڑری پکڑی تھی اس سےآپعليهالسلام کے لب ودندان سے گستاخی کرنے لگا.
زیدبن ارقم صحابی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے شہادت دی کی اے ابن زیاد میں بارہا بنیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان لب و ندان کو چومتے ہوئے دیکھا ہے اس سے بڑھ کر یاد دہانی اور کیا ہوسکتی ہے لیکن یہ ملعون بجائے اس کے کہ اس گواہی سے نصیحت حاصل کرے ہنے لگا افسوس ہے ہ توبوڑھا ہوچکا ہے ورنہ اسی وقت تیری گردن اڑادیتا اور زیدبن ارقم کو اپنے دربار سے نکا ل دیا.
ابن زیاد ہیں پر منحصر نہیں ہر وہ شخص جودل کاندھا اور بہرا ہوتاہے اس کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور اللہ تعاليٰ کے ذکر کی یاد دہانی کی نابینائی اور بہرے پن میں اضافے کا سبب بنتی ہے.
مجلس۱۳
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
تقويٰ مشق سے پیدا ہوتاہے:
جب ہم بچے کو مدرسے میں داخل کرتے ہیں تو پہلے روزنہ وہ کچھ پڑھ سکتاہے اور نہ ہی لکھ سکتاہے بلکہ کام کی ابتداء اس کے لئے سخت مشکل اور مشقت طلب ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ وہ پڑھنے لکھنے سے مانوس ہوجاتاہے اور پڑھائی لکھائی اس کی عادت بن جاتی ہے تو پھر اس کے لئے اس میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی.
بالکل یہی حقیقت تقويٰ کی بھی ہے اہل تقويٰ ہونا ترک گناہ پر منحصر ہے.
انسان کو چاہئے کہ وہ باربار گناہ ترک کرے جب بھی گناہ کاموقعہ ملے تو اس کے ارتکاب سے بچے جس طرح بچے کے لئے ابتداء میں لکھنا پڑھنا دشوار ہوتاہے لیکن مشق سےآسان ہوجاتاہے اور اس کی عادت بن جاتی ہے اس طرح اگر انسان پورے عزم وارادہ سے گناہ کوترک کرے اور اس سے ہرممکن کوشش سے اپنے نفس کو بچائے تو رفتہ رفتہ کچھ مدت کی مشق کے بعد اللہ تعاليٰ اس کے دل میں ایک نور روشن فرماتا ہے جس کی وجہ سے ترک گناہ اس کے لئے آسان ہوجاتاہے اور اپنی زبان پر اسے اتنی قدرت حاصل ہوجاتی ہے کہ ساری دنیا کی بادشاہت کے عوض میں بھی وہ جھوٹ کبھی نہ بولے گا.
وہی گناہ جس کا ترک کرنا اس کے لئے جان جوکھم تھا اب اس کاانجام دینا اس کےلئے سخت مشکل ہوجاتاہے انسان کو چاہیئے کہ خودمیں ایسی قوت وقدرت پیدا کرے کہ ہرگناہ کو آسانی تر ک کرسکے اس سے اس کے دل میں اطمینان اور لذت کی کیفیت پیدا ہوگی.
ترک گنہ میں لذت قلبی جسے ملےوہ لذت حیات سے بیگانہ ہوگیا.
یقیناً اللہ تعاليٰ:( وَ لا يَرْضى لِعِبادِهِ الْكُفْر ) اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں فرماتا:( وَ لكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِیمانَ وَ زَيَّنَهُ فِی قُلُوبِكُمْ وَ كَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْیانَ ) لیکن خدا نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر, فسق اور معصیت کو تمہارے لئے ناپسندیدہ قرار دے دیا ہے.
آخر کار گناہگار کو گناہ سے گھن آنے لگتی ہم اور وہ تقويٰ کے اس مقام کو پالیتاہے جہاں گناہ اسے ہرتلخی سے تلخ تراور ہر بدی سم بدتر نظر آنے لگتاہے اور ہر گناہ بلالحاظ شدت وخفت اس کے نزدیک قابل صد نفرین ہوجاتاہے.
تقويٰ کا ملکہ انسان میں بڑی محنت اور مشق سے پیدا ہوتاہے اور اس کے کچھ درجات و مراتب ہیں.
ترک مشتبہات:
جب انسان میں ترک حرام کا ملکہ پیدا ہوجاتاہے تو وہ ایک قدم آگے بڑھتاہےت اور مزید کوشش سے ترک مشتبہات کا ملکہ حاصل کرلیتاہے گویاوہ نہ صرف حرام سے مجتنب رہتاہے بلکہ جس چیز کے حرام ہونے کا شبہ بھی ہو اس سے بھی پرہیز کرتاہے اور احتیاط کرتاہے کہ شاید حرام ہو.
وہ ایسے بھی الفاظ سے پرہیز کرتاہے جن کے بارے میں اسے شبہ ہو کہ اللہ تعاليٰ کی رضا کے خلاف ہیں اور ان سے احتیاط کرتاہے کہ کہیں خلاف واقعہ نہ ہوں اس طرح رفتہ رفتہ اس میں ملکہ ترک مشتبہات راسخ ہوجاتاہے.
ترک مکروہات:
اس کےبعد وہ تقويٰ کے اس مقام کو پالیتاہے جہاں مکروہات بھی ترک ہوجاتے ہیں اور مستحبات کی انجام دہی کا پوراپورا اہتمام ہوتاہے یہاں پہنچ کر وہ مستحب کو غیرواجب سمجھ کراس کی کم اہمیتی کا قابل نہیں رہتا اور یہ نہیں کہتا کہ فلان کام اگر نہ کیا تو کیا حرج ہے مستحب ہی تو ہے !یا یہ کہ فعل مکروہ کا ترک جائز ہی تو واجب نہیں کیونکہ بظاہر تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا ذراباطنی ہی سے کراہت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ منہیات ضروریہ کے ذیل میں نہیںآتا .بہرحال مشق اور محنت سے راہ تقويٰ کا سالک ترک مکروہات کے ملکہ کوبھی حاصل کرلیتاہے.
ترک حرام کی غرض سےترک مباح:
بلکہ وہ ایسے مباحات سے بھی مجتنب ہوجاتاہے جن سے اسے اندیشہ ہوتاہے کہ ترک واجبات بن سکتےہیں.
مثلاً آدھی رات تک جاگتے رہنا او رخوش گپیاں کرنا مباح ہے اور اس دوران میں دوتین بار کھانا پینا اور پرخوری بھی شرعا ناجائز نہیں لیکن شکم پری کی حالت میں دیرسے سونا صبح کی نماز کے فوت ہونے کا سبب ہوسکتاہے اور ایک واجب سے محرومی کاباعث بن سکتاہے چنانچہ یہ ملکہ اس میں اتنا طاقتورت ہوجاتاہے کہ وہ ہر اس فعل مباح سے بھی پرہیز کرتاہے جس کےبارے میں اسے اندیشہ ہوکر فوت واجب کاسبب بن سکتاہے.
رمضان کے لئے روزانہ ایک پیسہ:
ایک نابنائی ہمار دوست تھا جو اپنے کام میں بہت سیانا اور کماؤ تھااتفاق سےاس سال روزے گرمیوں میں آئے اس نے پوری ماہ رمضان کام سے چھٹی کی ااس کا کہنا تھا کہ میں تنور کاماہر ہوںت لیکن گرمیوں مین تنور پر بیٹھ کر روزہ نہیں رکھ سکتا.اس مقصد کے لئے میںگیارہ مہنے تک ہرورز ایک پیسہ پس انداز کرتا ہوں تاکہ رمضان کا پورا مہینہ کام سے چھٹی کرکے روزہ رکھ سکوں.
اگرچہ ایک پیسہ ہروز خرچ کرنا مباح تھا لیکن با تقويٰ شخص اس مباح کامرتکب نہ ہوا کہ مبادا رمضان کاروزہ اس سے فوت ہوجائے اور وہ فعل واجب اس سے چھوٹ جائے.
ترک واجب کاسبب سفر:
روایت ہے کہ ایک شخص امامعليهالسلام کی خدمت حاضر ہوا او رکہنے لگا:مجھے ایک سردملک کاسفر درپیش ہے،ان دنوں وہاں اتنی برفباری ہوتی ہے کہ ساراملک برف سے ڈھک جاتاہے اور نہ وضو کے لئے پانی ملتاہے اور نہ تیمم کےلئے مٹی دستیاب ہوتی ہے ایسی حالت میں نماز کے بارے میں مجھ پر کیا حکم ہے؟
امامعليهالسلام نے اس پرعتبا فرمایا کہ ایسا سفر تو کیوں کرتاہے جس کی وجہ سے دین کےت ضروری واجبات کو انجام نہ دے سکے جب تجھے علم ہے کہ تیرے اس عمل سے تیری نماز فوت ہوجائے گی تو تجھے تقويٰ اختیار کرنا چاہئے اور اس ارادے سے بازرہنا چاہئے.
جب کسی محفل میں جانا مباح تو ہو لیکن وہاں گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہوتو آپ کو شروع ہی سے خبردار رہنا چاہئے کہ کہیں اس فعل مباح یا مستحب کے اقدام سےآپ ترک واجب کے مرتکب تونہیں ہورہے اور کوئی فعل حرام تو اس کی وجہ سے آپ سے سرزد نہ ہوگا.
لیکن یہ سب اندیشے ضعیف الاعتقاد اور کم تقويٰ لوگوں کے بارے میں ہیں اہل تقويٰ انسان کبھی ایسی لغزش نہ کھائے گاوہ جوبھی کرنا چاہئے گا پہلے اس کے انجام پر غور کرے گا اور یہ دیکھے گا کہ اس کا لازمی نتیجہ کیا ہے.
بیناہے وہ جودیکھ لے انجام کارکو
مادی وسعت:
بہت سے اسے مباحات ہیں جوانسان کو فعل حرام تک لے جات ہیں وہ سمجھتاہے کہ مادی لحاظ سے ان میں کافی وسعت ہے اور اگرچہ کوئی کام مستحب یا مباح ہو،اہل تقويٰ کی نظر اس کے لوازم اور انجام ونتائج پر بھی ہوتی ہے وہ خوب غور کرتاہے کہ اس کے ارتکاب سے اسے کس صورت حال سے دوچار ہونا پڑےگا.
اسباب دینوی میں فضول خرچی اور اسراف کیوں؟اورعمر کوفضول کاموں میں تلف کرنے سے کیا حاصل؟ جب انسان واجب خراجات سے صرف نظر کرے،اپنے غریب ومفلس اور محتاج ونادار اعزاکی مدنہ کرے اورنمائشی کاموں کو قرض لے کر بھی انجام دے تو اس کی عبادت ریا اور اس کی نماز بے کیف وبے حضور ہوجاتی ہے،وہ صرف اسی دنیاکا ہو کررہ جاتاہے اور حسن عاقبت سے بے نصیب ہوجاتاہے.
زندگی کے سارزوسامان یمں دلچسپی حرام نہیں بلکہ شرعاً جائز اور مباح ہے لیکن جب اسے غیر معمول اہمیت دی جائے گی توی ہ قطع رحمت کا ارتکاب کرائے گا فسود پر قرض لینے کی انگیخت کرے گا اور حرام پر حرام کے ارتکاب پر مجبور کردے گا.
دوسری مثال :خوشی مزاجی اور بذلہ سنجی جائز اور مباح ہے او ربعض اوقات کسی اچھے مقصد کے لئے مستحب بھی ہے.لیکن ہم دیکھتے ہیںکہ حد اعتدال سے متجاوز ہوکر یہی مستحب فعل فریق ثانی کی دل آزاری کاسبب بن جاتاہے اور ایذائے مومن کاباعث بنکر حرام مطلق ہوجاتاہے.
لہذا تقويٰ اختیار کرنا چاہئے او روضع مادی میں نارواوسعت سے اور غیر معتدل شوخی اور ہنسی مذاق سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ کسی برادار ایمانی کادل توڑکر حرام کے مرتکب نہ ہوں.
خلاصہ یہ کہ تقويٰ کے تین مراتب ہیں:
اولا:ملکہ ترک گنا.
ثانیا: ملکہ ترک مشتبہات ومکروہات .اور
ثالثاً: ایسے مباحات کے ترک کاملکہ جوترک واجب کاباعث یا ارتکاب حرام کاسبب بن سکتے ہوں.
رکن دوم
تذکرّ
مجلس۱۴
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
استعاذہ کا رکن دوم تذکر یعنی ذکر الہيٰ یا یا د خدا ہے جوشخص صاحب تقويٰ ہوجاتاہے اس کا قلب وضمیر شیطان کے غلبہ وتسلط سے آزاد ہوجاتاہے کیونکہ جب تک اس کا تسلط رہتاہے ،استعاذہ کی صلاحیت پیدانہیں ہوتی شیطان اہل تقويٰ انسان کے دل کے گرد گھومتاہے تاکہ اس میں داخل ہونے کی راہ پیدا کرے لیکن جب وہ متقی شخص ذکر خدا میں مشغول ہوجاتاہے تو فوراً ہی برق رحمت الہيٰ کوندتی ہے اوراس کے جھماکے میں اسے ابلیس کابچھا یاہواجال صاف نظر آتاہے اور وہ اس کے شر سے محفوظ ہوجاتاہے.
آئیے اب دیکھیں کہ اس آیہ شریفہ میں تذکرسے مقصود مراد لہيٰ کیا ہے.
خیال گناہ و یاد خدا:
تفسیر برہان میں اس آیہ کی تفسیر میں حضرت امام محمدباقرعليهالسلام اور جناب امام جعفرصادقعليهالسلام سے ایک روایت واردہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مومن کے دل میں دفعتاً کبھی گناہ کا خیال آتاہےتو گروہ ابلیس کی جانب سے اس پر اس گناہ کو کرگذرنے کے لئے پوری خیال سے باز آجاتاہے“ان الرجل یهم بالذبب فیذکرالله فیضعه ”یعنی انسان گناہ کاارادہ کرتاہے لیکن خدائے تعالی کی یاد آتے ہی وہ اس ارادے کو چھوڑدیتاہے.
ذکر خدا کے بھی درجات ہیں جوموقعہ ومحل کی مناسبت سے مختلف ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ گناہ کاخیال آتےوقت انسان کومعلوم ہونا چاہئے کہ اسے اس پر اکسانے والااس دشمن ہے اور دشمن کی مخالفت عقلاً واجب ہے علاوہ ازیں اس کا اللہ تعاليٰ سے یہ عہد ہے کہ وہ شیطان کی پرستش نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس کا کھلا دشمن ہے.
لہذا اسے نہیں چاہئے کہ اپنے عہدسے بے وفائی کرے اور عبد رحمان بننے کی بجائے عبدشیطان ثابت ہو چنانچہ ضروری ہے کہ اپنے عہدکا پاس کرتے ہوئے وہ شیطانی القاء کی مخالفت کرے کیونکہ اس کی پیروی کانتیجہ ہلاکت وگمراہی کے سواکچھ نہیں( وَ لَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلاًّ كَثیراً أَ فَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ ) اس شیطان نے تم میں سے بہت سی نسلوں کو گمراہ کردیا ہے تو کیا تم بھی عقل استعمال نہیں کرو گے.
ایک دوسری آیت میں زیادہ وضاحت و صراحت سے ارشاد ہوتاہے:( كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاَّهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَ يَهْدیهِ إِلى عَذابِ السَّعیر ) ان کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو شیطان کو اپنا دوست بنائے گا شیطان اسے گمراہ کردے گا اور پھر جہنمّ کے عذاب کی طرف رہنمائی کردے گا.
اگر کوئی شخص شیطانی خیالات کی پیروی کرے گا اور وسوسہ ابلیس کو قابل توجہ واعتنا سمجھے گا تو اللہ تعاليٰ ہدایت کی تمام راہیں اس پر ند کرکے اسے جہنم میں بھیج دے گا.
ذکر شیطانی وسوسہ سے نجات دیتاہے:
جب بھی کبھی شیطانی وسوسہ مومن کے دل میں داخل ہونےلگتاہے تو وہ فوراً یادخدا میں مصروف ہوجاتاہے اور سوچتاہے کہ اگر میں نے یہ گناہ کرلیا تو رحمت خداوندی سے دوری کی زندگی میرے کس کام کی ہوگی.
ممکن ہے کہ شیطا دوسری کوشش میں اس کے دل میں وسوسہ ڈالے کہ گناہ کی لذت سے خود کو محروم نہ کر.بعد میں توبہ کرلینا.تو صاحب تقويٰ اس کے وسوسہ کو ردکرنے کے لئے جواب دے گا کہ اس بات کا کیا یقین ہے کہ توبہ کی توفیق مجھے حاصل ہوگی اور اس کی کیاضمانت ہے کہ میری توبہ قبول ہوجائے گی؟محتصر یہ کہ خداکی یاد شیطان کومومن کے دل پرغلبہ نہیں پانے دیتی کبھی شیطان صاحب تقويٰ انسان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتاہے کہ یہ گناہ“صغیرہ”ہے لیکن اس کا یاد خدا میں مشغول دل جواب دیتاہے کہ دور ہو مردود!اللہ تعاليٰ کی نافرنانی بہرحال “کبیرہ” ہے.
کبھی ابلیس ملعون صاحب تقويٰ کو ڈراتا اور دھمکی دیتاہے کہ اگر تونے میرے کہے پر عمل نہ کیا تو اس کا انجام براہوگا یا ترغیب وتحریص کے طورپر اسے گناہ کی خوش انجامی کی نوید دیتاہے لیکن اس کی یہ تہدید و تحریص صرف ان پر اثر انداز ہوتی ہے جواس کی دوستی کو کوئی اہمیت دیتے ہوں کیونکہ( إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِیاءَه ) یہ شیطان صرف اپنے چاہنے والوں کو ڈراتا ہے.
لیکن صاصب تقويٰ شخص ذکر الہيٰ کی مدد وبرکتت سم فوراً سمجھ جاتاہے کہ ایسے خیالات محض شیطانی و ساوس ہیں جن سے ہرگز ڈرنا یامتاثر ہونا نہیں چاہئے کیونکہ مومن صرف اپنے خداسے ڈرتاہے( فَلا تَخافُوهُمْ وَ خافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنین ) لہذا تم ان سے نہ ڈرو اور اگر مومن ہو تو مجھ سے ڈرو.
کبھی شیطان انسان کو اس کے تدین یا حب اہلبیت علیہم السلام پر مغرور کرتاہے مثلا کہتاہے “ماشاءاللہ”تم کتنی ہی بار کربلائے معلی کے سفر کی سعادت حاصل کرچکے ہو اور اپنی زیارت کے دوران کتنے ہی نیک عمل انجام دے چکے ہو حسینعليهالسلام ضرور تمہاری شفاعت فرمائیں گے اب کوئی گناہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتا.
لیکن مومن کو چاہئے کہ ان الفاظ سے مغرور اور مطمئن ہونے کی بجائے یوں جواب دے“اگر مجھ سے گناہ سرزد ہوا تو میرے شفیع مجھ سے ناراض ہوں گے.اور یہ گناہ حسینعليهالسلام اور میرے درمیان حجاب بن جائے گا.واللہ اعلم کہ ایک گناہ کےارتکاب سے میں اپنے شفاعت کرنے والوں سے کتنا دور ہوجاؤں گا حسینعليهالسلام کی زیارت کی سعادت اور آپعليهالسلام کی سفارش کی نوازش پر غرور بھی تو ایک گناہ ہی ہے جومجھے آپعليهالسلام کی شفاعت سے محروم کرسکتاہے”.
ہاں صاحب تقويٰ خودر روحانی طور پر اس سعادت پر ناز کرسکتاہے لیکن وہ صورت تشکر کی ہوگی جس کے لئے خارج سے وعظ و نصیحت کی ضرورت ہوگی کیونکہ خارج سے اس امر کی احتیاج اس وقت ہوتی ہے جب انسان کو خود ایسی سعادت کاشعور نہ ہو اور وہ اسے قابل تشکر نہ سمجھا ہو جناب امیرالمؤمنین حضرت علیعليهالسلام کاا رشاد ہے:“حقیقی طور پر سعادتمند وہ ہے جو خود اپنا واعظ اورناصح ہو”.
غیظ وغضب کی حالت میں شیطانی وسوسہ:
کبھی ایسا ہوتاہے کہ انسان جدال کے دوران غصے میں آجاتاہے جس کے نتیجے میں اس کا مخاطب اس سے بدکلامی کرتاہے شیطان اس کے دل میں ووسہ ڈالتاہے کہ توبھی ویسے ہی الفاظ جواب میں کہہ لیکن تقويٰ کی برکت سم وہ فوراً خداکو یاد کرتاہے.اس کی عقل اسے کہتی ہے کہ تمہارے مخاطب نے براکیا اگر تم بھی براکروگے اور فحش کلامی کروگے تو تم دونوں میں فرق کیارہا؟اس نے فحش گوئی سے شیطان کی پیروی کی تم بھی اگر فحش گوئی کروگے ویسے ہی ہوجاؤگے.!ذکر کے فیض سے اس کا ضمیر اس کی رہنمائی کرے گا کہ غلط الفاظ کاجواب خدائے تعاليٰ کے دستور کے مطابق دے کہ( :وَ إِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً ) جب جاہل لوگ ان سے غلط انداز میں بات کرتے ہیں توہ اخلاق کی سلامتی کے ساتھ انہیں جواب دیتے ہیں.اگر ذکر کی بدولت اس نے ابلیسی وسوسہ کا سدباب کرلیا تو بہتر ورنہ پھر ایک وہ کہے گا اور جواب میںادھر سےایک یہ کہے گا اور انجام کار دونوں ایک دوسرے سےدست بگریبان ہو ہوجائیں گے اور سوتے کاوہ سوراخ جو اس کے پھوٹتے وقت ایک مشت خاک سےبند سکتاتھا اب منوں مٹی سے بھی بندنہ ہوگا .اگر پہلے ہی ایک لفظ کووہ برداشت کر جاتا تو یہ جھگڑاوہیں ختم ہوجاتا اور نوبت یہاں تک نہ پہنچتی.
اب ہم وضاحت سے دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ کس قدر شیطان کے پھندے میں گرفتار ہیں حتيٰ کہ وہ بھی جوخود کو اہل تقويٰ سمجھتے ہیں متقی ہونے کے باوجود اگر تذکر سے محروم ہیں تو دام ابلیس میں ان کا الجھنا بالکل ممکن ہے.
آپ کےدل میں ایکناصح اور واعظ کاوجود ضروری ہے جوآپ کو نصیحت کرے کہ غرور سے بچیں اور طفلانہ تصرفات سے بازرہیں یادرکھئے کہ مردوہ ہے جوکام کے انجام کو دیکھے مثلا اوپرہی کی مثال میں اگر آپ غصے کے دوران دل کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے جوبھی کرتے نقصان رسان نہ ہوتا لیکن کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ دل کی اس ٹھنڈک نہ ہونے سے فساد کی کتنی آگیں بھڑکتی ہیں اورشیطان کی اس ایک لحظہ کی پیروی سے کتنے بڑے گناہ جنم لیتے ہیں؟!
ہر مومن پر لازم ہے کہ خود اس کے وجود میں وسائل تذکر موجود ہوں زمانہ قدیم میں ایسے مومن موجود رہے ہیں جو اپنی زندگی میں قبرتیار کرکے اس میں کلام پاکی تلاوت کرتے تھے تاکہ ان کے دل میں آخرت کی یاد تازہ رہے اور قبر کا اندرون نورتذکر سے روشن رہے.
حزقیل کی عبرت:
روایت ہے کہ جب حضرت داوودعليهالسلام سے ترک اوليٰ سرزد ہوا اور وہ کوہ وبیاباں میں جاکر آہ وزاری اور گریہ وزاری کرنے لگے تو چلتے چلتے وہ اس پہاڑپر پہنچے جہاں ایک غار میں حزقیل نبیعليهالسلام مصروف عبادت تھے جب حزقیل نے پہاڑوں اور حیوانوں کا گریہ سنا تو سمجھ گئے کہ داوودنبیعليهالسلام آئے ہیں کیونکہ داوود جب زبورکی تلاوت کرتے تھے تو شجر وحجر وحیوان سب ان کے ساتھ ہم آواز ہوتے تھے.داوودعليهالسلام نے غار کے نیچے آکر آواز دی:“اے حزقیلعليهالسلام !کیا”داوودعليهالسلام کو ترک اوليٰ کی وجہ سے سرزنش نہ کریں بلکہ ہم سے ان کے لئے عفو وعافیت طلب کریں کیونکہ جب ہم کسی کو اس کے حال پر چھوڑ تے ہیں تو اس سے خطا ضرورسرزد ہوتی ہے.
پس حزقیلعليهالسلام نے داوودعليهالسلام کا ہاتھ پکڑااور انہیں اپنے پاس لے گئے.
داوودعليهالسلام نےحزقیلعليهالسلام سے پوچھا:اے حزقیل !کیا آپ نے کبھی گناہ کا ارادہ کیا!انہوں نے جواب دیا:کبھی نہیں پھرانہوں نے پوچھا:
کبھی غرور مین مبتلا ہوئے ؟جواب دیا نہیں پھر پوچھا:
کبھی دنیا اور اس کی لذتوں پر آپ کا دل آیا؟کہنے لگے:ہاں پوچھا:تو آپ اس کا کیا علاج کرتے ہیں؟انہیں نے کہا:غار کے اس شگاف میں داخل ہوجاتاہوں اور جوکچھ وہاں دیکھتاہوں اس سے عبرت حاصل کرتاہوں.
داوودعليهالسلام ان کے ہمراہ اس شگاف میں داخل ہوئے اند ردیکھا تو ایک لوہے کا تخت نظر آیا جس پر بوسیدہ ہڈیاں پڑی ہیں اور ایک آہنی لوح اس تخت کےنزدیک رکھی ہے جس پر یہ عبارت لکھی ہے.
میں اورائی بن شلم نے ہزار سال حکومت کی ہزار شہر آباد کئے اور ہزار کنواریوں کی بکارت زائل کی لیکن میرا انجام یہ ہے میرا بستر خاک اور میراتیکہ پتھر ہے اور میرا جسم کیڑوں مکوڑوں کی آماج گاہ ہے پس جوکوئی مجھے دیکھے دنیا کافریب نہ کھائے.
دومٹھی خاک کابستر:
دیکھا آپ نے ،کہاں وہ شہنشاہانہ قدرت وسطوت وتصرف اور کہاں وہ جاہ نشینی اور خاک گزینی !مومن کو چاہئے کہ خود اپنی ذات کو تلقین کرے کہ:بالفرض میںنے شیطان اور ہوائے نفس کی اطاعت کی اور دنیا اور اس کے لوازم کے پیچھے بھاگا لیکن یہ سرگرمی آخرکب تک؟کیااپنی ذات کے لئے ضرورت سے زیادہ سرگرم شخص ہمیشہ زندہ رہتاہے ؟؟ مجھے چاہئے کہ جوکچھ بھی بن پڑے اور جیسے بھی ممکن ہو اس بادشاہ جیسا نہ بنوں اور اس جیسا میرا انجام نہ ہو...!
آخری جس کاٹھکانا ایک مٹھی خاک ہو کیون بنائے زندگی میں قصروہ گردوں شگاف
ہمارا موضوع سخن تذکر ہے جو انسان خود کو آزاد چھوڑدیتاہے اور خدا کو یاد نہیں کرتا وہ کہیں کانہیں رہتا .انسان کو چاہئے کہ کردار میں پہاڑ جیسا ہو نہ تنکے جیسا جوشیطان کے ہروسوسے کی لہر میں بہ جاتاہو.اسے چاہئے کہ دنیا کی ظاہری چکاچوندکو خاطر میں نہ لائے بلکہ اس کے انجام کو دیکھے جوبہر حال فنا اور نابودی ہے.
قبروں پرجانا چاہئے:
بہر حال یہ بہت ضروری ہے کہ خود آپ کا نفس آپ کا ناصح اور واعظ ہو یہ جو شرع مقدس میں قبروں اور بالخصوص والدین کی قبروں کی زیارت کی اتنی تاکید وارد ہوئی ہے کسی لئے ہے؟
اسی لئے ہے کہ ان کے لئے فاتحہ پڑھئے تاکہ انہیں ثواب واصل ہو ان کے لئے صدقہ دیجیئے کہ ان کی روحوں کو فائدہ پہنچے بلکہ ارشاد نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے کہ والدین کی قبر پر جاؤ کیوں کہ وہ دعا کی قبولیت کا مقام ہے...
اور اس کا سب سے بڑا فائدہ خود آپ کی ذات کو ہے کہ آپ جان لیں کہ والدنہیں رہے تو ہم بھی نہیں رہیں گئے جلد یا دیر ان سے جاملیں گے اس دور روزہ زندگی کا فریب مت کھائے شیطانی وسوسے میں نہ آئیے اور ہروقت خدا اور اس روز جزاء کو یادرکھئے
جناب زہراعلیہا السلام شہدائے احد کی قبور پر:
صدیقہ کبريٰ جناب فاطمہ زہرا علیہاالسلام کی سیرت طیبہ میں آیا ہے کہ بعد وفات حسرت آیات سرورکائنا ت ؐ آپ کو ایسی گستاخانہ باتیں سننا پڑیں جن سےآپ علیہاالسلام بیمار ہوگئیں لیکن پھر بھی سوموار اور جمعرات کو آپ علیہاالسلام اپنے شوہر نامدار علیعليهالسلام کی اجازت سے احد میں اپنے جدا مجد جناب حمزہ اور دیگر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لے جاتیں.
خود حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے مرض الموت کے دوران باوجود شدت بخار اور ضعف ونقاہت کے فرماتے تھے میری بغلوں میں ہاتھ دو او رمجھے قبرستان بقیع میں پہنچاؤ.
اے بار خدایا ہمیں اہل ذکر وتذکر بنا بحق محمد وآل محمد.
مجلس۱۵
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم إِنَّ الَّذینَ اتَّقَوْا إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ تَذَكَّرُوا فَإِذا هُمْ مُبْصِرُونَ
پچھلی رات ہم نے ارکان استعاذہ میں سے دوسرے رکن کے بارےمیں کچھ بیان کیا آج رات بھی ہم ابلیسی وسوسوں کے مقابل مین تذکر کے کچھ دیگر معانی کا ذکر کریں گے.
نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سےایک حدیث پاک مروی ہے جس کی صحت پر مسلمانوں کے تمام مکتب فکر متفق ہیں اور سب نے اسے نقل کیا ہے ارشاد نبوی ہے“وَ إِنَّمَا الْأُمُورُ ثَلَاثَةٌ أَمْرٌ بَيِّنٌ رُشْدُهُ فَيُتَّبَعُ وَ أَمْرٌ بَيِّنٌ غَيُّه وَ أَمْرٌ ٌ بَيْنَ ذَلِک ”ہدایت والے امور گمراہ کن امور اور ہدایت اور گمراہی کےدرمیانی امور.
یقینی طور پر اچھی چیزیں (ہدایت والے امور):
کس کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں انسان کے دل میں جتنے بھی خیالات آتے ہیں انہیں تیں صورتوں میں منحصر ہوتے ہیں اگر کوئی کام ایسا ہو کہ اس کی خوبی او راچھائی بالکل روشن ہو اور وہ سراسر خیر ہو تو اس کے بارم میں پاکیزہ اور رحمانی خیالات دل میں پیدا ہوں گے اور ایک روحانی تقاضا اس کی انجام دہی کاذہن میں بھرے گا اگر اس طرح کا خیال کسی کام کے بارے میںآپ کے دل میں آئے جس کے مکمل طور پر خیر ہونے کے بارے میں آپ کو سوفیصدی یقین ہو ااور ذراس بھی شائبہ شبھے کا اس میں نہ ہو تو پورے عزم صمیم اور اور پختہ ارادے کے ساتھ اسے انجام دیں ویسے اعمال واجبات کی ذیل میں آتے ہیں.
قطعی طور پر برے کام(گمراہ کن امور):
اگر آپ کے دل میں کسی ایسے کام کا خیال آئے جس کے شیطانی ہونے کا آپ کو یقین ہو اور اس کےت سراسر شرہونے میں کسی قسم کے شبہے کی گنجائش آپ کے ذہن میں نہ ہو تو انگیخت کے باوجود آپ تذکر کے فیض سے اسے کرنے کارادہ نہیں کریں گے اور اللہ تعاليٰ کے احکام سے شناسائی کی وجہ سے اسے گمراہی سمجھتے ہوئے اس کے خیال کو ردکردیں گے یہی مفہوم ہے( : فاذا هم مبصرون ) کے الفاظ کا.
شبہ کے مقامات (ہدایت اور گمراہی کے درمیانی امور):
تیسری قسم میں وہ خیالات ہیں جن کے بارے میں بہت سے ایسے مباحات ہیں جن کے متعلق ہمیں علم نہیں ہوتا تاکہ کہاں سے اور کیسے ہمارے دل میںآتے ایسے مواقع پر ہمیں کیا کرنا چاہئے.
وہ لوگ جوکامل تقويٰ کامرتبہ پاچکے ہیں اللہ تعاليٰ کے حضور معزز و مقر ب ہیں اور ایسے ورشن ضمیر میں کہ تقويٰ کےنور کا پورا احساس رکھتے ہیں خود بخودد سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی کام اچھا ہے یا برا. ان کی بصیرت اتنی قوی ہوتی ہے کہ پوری وضاحت سے کسی ارم کے رحمانی یاشیطانی ہونے کا ادراک کرلیتے لیکن ایسے افراد کی تعدا بہت کم ہے اور وہ انگلیوں پر شمارہوسکتے ہیں.
احتیاط ضامن نجات ہے:
اور اکثر لوگ جو اس حد کمال تک نہیں پہنچ سکے او رتقويٰ کے نچلے درجات پر فائز ہیں،وہ بھی تذکر کے فیض سےتاوقتے کہ انہیں کسی کام کے رحمانی ہونے کے بارے میں پورا یقین نہ ہوجائے وہ اسے کرنے کا خیال دل میں نہیں لاتے خواہ وہ ظاہر ہیں کتنا ہی جاذب نظر ہو کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس میں کوئی ایسی خرابی موجود ہو جس سے اس کے ایمان کو کوئی نقصان پہنچے اور وہ خطر ے سے دوچار ہوجائے اسی لئے ارشاد ہوا کہ “قف عند الشبہہ”
جب تمہیں کسی امر کے رحمانی اور حلا ل نے میں شبہ ہو تو اس پر عمل کرنے سے توقف کرو،جس لقمے پرتمہیں حرام ہونے کا شک ہو،یقین و اطمینان حاصل ہونےتک اسے کھانے سے باز رہو.
کسوٹی:
شرع مقدس میں امور دینا کے بارے میں حریت وتردد کے ازالے اور اچھے برے کی پرکھ کے لئے ائمہ ہديٰ کے ارشادات وارد ہیں جن کااہل تقويٰ تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیراہوکر اپنی عاقبت سنوراسکیں ان مقدس ہستیوں کا مقرر فرمودہ معیار یہ ہے: ہروہ عمل جوانسان کے نفس کی خواہش کے مطابق ہوگا شیطانی ہوگا اور جو اس کے میلان کے خلاف ہوگارحمانی ہوگا.
بعض کامت ایسےہوتے ہیں کہ نفس کامیلان ان کی طرف ہوتاہے مثلا ایک سفر درپیش ہے جو اس کے نفس کے میلان کے خلاف نہیں لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس میں خدا کی رضا ہے یاشیطان کی اور بعض اوقات تویہ سفر غیر معمولی طور ر اسے اچھا لگتاہے جب یہ صورت ہو تو اسے جان لینا چاہئے کہ اس عمل کامحرک کوئی ناپاک شیطانی خیال ہے جس کامقصد اسے اس سفر کے ذریعے کسی فعل حرام میں مبتلاکرنا ہم یا کم ازکم کسی فعل واجب سے محروم کرنا ہے.
لیکن جب آپ محسوس کریں کہ آپ کا نفس اس کی طرف مائل نہیں تو جان لیجئے کہ وہ ضرور رحمانی ہے اور آپ کو چاہئے کہ اسے کرگزریں کیونکہ وہ خیرہی خیر ہے.
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مخفی نہ رہے کہ یہ معیار شخص کے لئے نہیں کیونکہ اکثر لوگ ہوس پرستی کی طرف میلان رکھتے ہیں اور ان حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں.
استخارہ تردد میں رہنمائی کرتاہے:
روایات میں آیا ہے کہ جب آپ دوراہے پرہوں اور نہ جانتے ہوں کہ کون سا راستہ رحمانی ہے اور کونسا شیطانی تو اللہ تعاليٰ سےاستخارہ کرنے سے درست راہ ملی جاتی ہے.
استخارہ “طلب الخیرہ من اللہ”اللہ تعاليٰ سے خیر طلب کرنا،کہ اے اللہ میں حیران ہوں نہیں جانتا کہ اس کام میں تیر ی رضا ہے یا نہیں،اپنے فضل وکرم سے مجھ پر اپنی رضا روشن فرما.
لیکن یہ صورت حال ضروری طور پر دعا کو مستلزم ہے کیونکہ استخارہ حقیقت میں دعا ہی ہے.
بعض لوگ استخارے کو غلط سمجھے ہیں:
مسلمانوں نے خود ایک بری عادت پیدا کرلی ہے ،وہ استخارہ مالی منفعت کے حصول ے لئے کرتے ہیں یہ استخارہ تو نہ ہوا کیونکہ استخارہ تو جیسے عرض کیا گیا ایک دعا ہے جس کے ذریعے اللہ تعاليٰ سے خیر طلب کی جاتی ہے جس میں اس کی رضا ہو.
قبرمقدس نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جناب امام حسینعليهالسلام کا استخارہ:
جناب ابی عبداللہ الحسینعليهالسلام نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قبر مطہر پر حاضر ہوئے اور بہت روکر اللہ تعاليٰ سے یوں التجا ء کی پروردگار!آپ گواہ ہیں کہ میںامربالمعروف اور نہی عن المنکر چاہتاہوں اس بارے میں آپ مجھ پر اپنی رضا روشن فرمائیں.
اور پھر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپ کو اللہ کی رضا سے مطلع فرمایا کہ کربلا کو جائیں.
بہتریہ ہے کہ اس ضمن میںآپ اپنے آقا و مولا جناب امام زین العابدین سید الساجدینعليهالسلام کی اقتدا کریں آپ کی دعا کو جو صحیفہ سجادیہ میں ہے پڑھئے عرض کرتے ہیں:“پروردگار !جب کبھی میرادل دو خیالوں میں مبتلا ہو ایک خیال ایسے کام کا ہو جس میں آپعليهالسلام کی رضا ہو جب کہ دوسراایسے کام کے لئے ہو جوآپ کے غضب کاموردہو (شیطان کی اس میں رضا ہو)تو اے اللہ میرے ارادے کو اپنی رضا کےمطابق بنادیں.
استخارہ تسبیح یا قرآن مجید سے:
اگر دعا سے آپ کی حیرت و تردودہوگیافبہا اورنہ جیسا کہ رویات میںت وارد ہوا ہے آپ مجاز ہیں کہ تسبیح با قرآن مجید سے اپنا تردو رفع کریں لیکن است کی دوشرطیں ہیں ایک تو یہ کہ آپ کو حالت دعامیں ہونا چاہئے یعنی اس کیفیت میں کہ ائے پروردگار اپنے کلام پاک کی برکت سے مجھے ورطہ حیرت و تردو سےنجات عطا فرما اور دوسری شرط یہ کہ آپ قرآن پاک کی آیات کو سمجھ سکتے ہوں اور اسے اپنے موضوع کے بارے میں صحیح مطلب اخذ کرسکتے ہوں.
حکایت عجیب دربارہ استخارہ:
اصفہان میں ایک بڑا آدمی خسرہ کے مرض میں مبتلا ہوا علاج کے بعد پرہیز یہ تجویز ہوا کہ بالخصوص پرخوری سے بازر ہے ورنہ مرض واپس آسکتاہے اسی دوران میں اصفہانت کے ایک بڑے عالم نے اس کے خاندان کی دعوت کی جب دسترخوان پر انواع واقسام کے رنگین ولذیذکھانے چنے گئے تو یہ حضرت گومگومیں مبتلا ہوگئے کیونکہ اگر کھاتے ہیں تو پرہیز ٹوتا ہے اور یقینی ضرر کااندیشہ ہے اور اگر نہیں کھاتے تو خود پر بھی ناگوار ہے اور صاحب خانہ کو بھی ناگوار گذرے گا آخر کار اس نے کھانے کے بارے میں قرآن مجید سے استخارہ کیا سورہ نحل کی ۶۹ویں آیت( ثُمَّ كُلی مِنْ كُلِّ الثَّمَراتِ ) نکلی جوشہد کی مکھی کی طرف وحی تکوینی کے طور پر آتی ہےت کہ سب پھل کھا.اور خوب شہد تیارکر.
بس پھر کیا تھا ان صاحب نے آستین چڑھالیں ایک زمانے سے پر ہیز سے تو تھے ہی.اتنا کھا یا کہ اگلی پچھلی سب کسریں پوری کردیں.نتیجہ یہ ہوا کہ آپ الفاظ قرآن کی غلط فہمی کی وجہ سے بدپرہیزی کی بھینٹ جڑھ گئے مجلس دعوت مجلس تعزیت میں بدل گئی اور آپ کی بجائے آپ کا جنازہ اس گھر سے نکلا.
اس کے بعد استخارہ کے بارے میں گفتگو ہوئی تو ایک عالم نے فرمایا: اس آیہ مبارکہ کاروئے سخن شہد کی مکھی کی طرف ہے اگریہ حضرت مرحوم بھی ہرکھانے سے اتنا ساہی لیتے جتنا شہدکی مکھی ہر پھول یاپھل سے لیتی ہے اور تھوڑاکھاتے توہرگز کوئی ضرر نہ اٹھاتے یہ حکایت بیان کرنے سے غرض یہ ہے قرآن سے استخارہ کرنا اور اس سے صحیح مطلب اخذ کرنا آسان نہیں ہاں اگر صحیح کیفیت دعامیں ہوں اور قرآن پاک کی آیات سے استفادہ مفہوم کی صلاحیت موجودد ہو تو کوئی حرج نہیں.
قرآن استخارہ کے لئے نہیں نازل ہوا:
قرآن پاک استخارے کے لئے نہیں بلکہ اللہ کی معرفت عطا کرنے اور بندگی کی رسم وراہ اور آدا انسانیت سکھانے کےلئے نازل کیاگیا ہے اس کے نزول مبارک می غرض ہمیں یہ تبانانہیں کہ کسی دینوی معاملے میں ہمیں فائدہ ہوگا یا نقصان یا مثلا یہ کہ کیا گھر کا حوض تبدیل کرنا ہمارے لئے سودمند ہوگا یا برعکس یہ استخارہ نہیں فال ہے.
امور کے خیر وشرکی جانچ کے لئے جو معیار ہمیں دیا گیا ہے اس کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے یعنی ہروہ امر جوآپ کے نفس پر گران ہو خیر ہے اور رحمانی ہے خداکی راہ میں مال خرچ کرنے سے انسان زیر بار نہیں ہوتا.
ہم بہر حال مذکورہ بالادوشرطوں کی پابند ی کے ساتھ استخارہ لے کے منکر نہیں ہیں نماز کی تعقیبات میں“اللہم اہدنی من عندی”بارالہا مجھے اپنے فضل وکرم سے ہدایت فرما،نہ صرف حصول ثواب کے ارادے سے پڑھیں بلکہ اس عبارت اور معنی سے جدا ہوکر بھی اس کا ورد کریں کہ خدایامجھے ہلاکت وضلالت سےمحفوظ رکھ.اے اللہ میرے دل کو خیالات شرکی بے روی سے اپنی پناہ میں رکھ.
قرآن سے فال لینا درست نہیں:
قرآن پاک سےایسے استخارہ جات او رفال گیری جوآئندہ حالات کی پیش بینی کے لئے ہوں جائز نہیں مثلاً ماں اپنی بیٹی کو بیاہنا چاہتی ہے،اور یہ جاننے کے لئے کہ اس کا انجام کیاہوگا استخارہ کرتی ہے،یا اس مقصد کے لئے کسی بزرگ کے پاس جاتی ہے جو اس کاانجام برابتاتاہے او راس کا دل پریشان ہوجاتاہے پھر دوسری جگہ جاتی ہے .وہ عامل صاحب اس شادی کومبارک اور خوش انجام بتاتے ہیں تووہ دل ہی دل مین الجھ جاتی ہے کہ خدایا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی چیز اچھی اور خوش انجام بھی ہو اور بری اور بد انجام بھی.
لہذا سب سے پہلے اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اسنے کس جواز کی بناپر یہ کام کرکے یہ درد خرید ا .اسے شرع مقدس کے احکام کو دیکھنا چاہئے کہ وہ اس بارے میں کیا ہیں.
استخارہ کے بارے میں تصنیفات:
غواص بحور علوم آل محمد علیہم السلام مجلسی نے ایک مستقل کتاب مفاتیح الغیب کے نام سے تالیف کی ہے جس میں انہوں نے استخارہ کے متعلق واردشدہ تمام روایات کو جمع کیاہے .اس موضوع پر دوسرے علماء نے بھی رسالے تحریر کئے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت حقیقت سے بے خبر ہے.
علامہ مرحوم نے مذکروہ بالاکتا ب کے شروع میں استخارہ کی خوبی اور ضرورت کے بارے میں چند روایات نقل کرکے تمام امور میں اللہ تعاليٰ سے خیر وصلاح طلب کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں.
جاننا چاہئے کہ استخارہ کی چند اقسام ہیں:
۱- ہر اس کام میں جس کا آپ ارادہ کریں اللہ تعاليٰ سے وسیلہ پکڑیں اور اس سے اس امر میں خیر طلب کریں اور بعد میں جوکچھ بھی اس کاانجام ہو اس سے راضی بہ رضائے خدا رہیں اور سمجھ لیں کہ خیر وصلاح اسی میں ہے.
۲- اللہ تعاليٰ سے طلب خیر کرنے کے بعد اپنے دل کی طرف متوجہ رہیں او رجیساوہ چاہے ویسا کریں.
۳- اللہ تعاليٰ سے طلب خیر کے بعد کسی مومن سے مشورہ کریں او رجیساوہ کہے ویسا عمل کریں.
۴- استخارہ قرآن سے یاتسبیح سم یا پرچیوں سے یاگولہیوں سے کریں اس کی تفصیل آگے آرہی ہے.
پھر کہتے ہیں :بہت سی احادیث پہلی قسم کی استخارہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور بہت سے علماء کرام مثلاً شیخ مفید محقق طوسی اور ابن ادریس کو قسم چہارم میں تامل ہے لیکن چونکہ احادیث ہر چہار قسم کے بارے میں وارد ہیں لہذا کسی سے بھی انکار نہیں بہر حال استخارہ کی پہلی تین صورتیں بہترین ہیں جوکہ ہمارے زمانے میں تقریبامتروک ہوچکی ہیں.
بہت سی نوجوان مدرسی امتحانات کےزمانےمیں آتے ہیں کہ جناب ذرا استخارہ دیکھئے کہ میں کامیاب ہونگا یا نہیں ہم مختصرا شرع مقدس کے دستور کا اس بارے میں ذکرکرتے ہیں آپ براہ کرم دوسروں تک ہمارے یہ الفاظ پہنچادیجیئے کہ اس غلط روش کو چھوڑدیں اور دین سلیم کو خرافات سےآلودہ نہ کریں.
استخارہ کے بارے میں واضح تاکیدات:
استخارہ ان موضوعات میں سے ہے جن کے بارے میں مسلمانوں کےتمام مکاتب فکر کی روایات کے مطابق نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بہت تاکیدوارد ہوئی ہے چنانچہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ارشاد کے مطابق کسی بھی چھوٹے یابڑے کام میں اسے ترک نہ کرنا چاہئے.
امیر المؤمنین حضرت علیعليهالسلام کافرمان ہے یمن کے سفر میں جس پر میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم پر روانہ ہواتھا حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیگر ارشادات میں ایک یہ تھا کہ اے علی اس سفر کے دوران کسی مقام پر بھی استخارہ ترک نہ کرنا.“ مَا حَارَ مَنِ اسْتَخَارَ وَ لَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَار”استخارہ کرنے والا پریشان نہیں ہوتا اور نہ ہی دوسروں سے مشورہ کرلینے والاپھچتاتاہے.
ہر امام نے دوسرے امام کو استخارہ کی اتنی ہی تاکید فرمائی ہے جتنی قرأت قرآن کی
یہ استخارہ جس کی اتنی تاکید وارد ہوئی ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ تسبیح کے دانوں کا طاق جفت دیکھ لیا جائے بلکہ اس کا مقصد“طلب الخیرة من الله ”اللہ تعاليٰ سے طلب خیر ہے ہر کام جوآپ کریں اس کے بارے میں اللہ تعاليٰ سےخیر و رضاطلب کریں.
پھر استخارہ کی کیفیت ،اس کا طریقہ اور اس کی دعا کے بارے میں مختلف روایات ہیں ایک یہ ہے کہ جزوی کامورمیں سات مرتبہ“استخیراللہ برحمتہ خیرة فی عافیة”کہیں جبکہ ضروری امور مثلاً سفر،معاملہ یاجراحی وغیرہ میں یہی الفاظ ایک سو ایک بارکہیں .اور اگر یہ الفاظ سجد ے کی حالت مین کہے جائیں تو بہت بہتر اور اگر سجدہ نماز نافلہ کایانافلہ نماز صبح کاہو تو کیایہی کہنے میں !دعا کی یہ بہترین کیفیت ہے.
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدالساجدین حضرت امام زین العابدینعليهالسلام جزوی امور میں دس مرتبہ اور ضروری امور مثلاً سفرف،وغیرہ کے موقعہ پریہی الفاظ دوسو مرتبہ فرماتے تھے.
الغرض بہت تاکید اس امر کی واردہوئی ہے کہ اللہ تعاليٰ سے انسان طلب خیر سجدہ کی حالت میں کرے جواللہ تعاليٰ سےاس کے قریب کا وقت ہوتاہے اب اگر انسان یہی رویہ اختیار کرے اور اس میں متردد نہ ہو تو اس کے ہاتھوں ہونے والا ہر کام خیروبرکت کاحامل ہوگا اور اگر اسے ترددوحیرت حق ہو تو اسے رفع کرنے کے لئے شرع اطہر میں جو طریقے وارد ہوئے ہیں ان کا مطالعہ کرے.
رفع حیرت کے لئے مشورہ:
سب سے بہتر مشورہ ہے جو نص قرآن مجید( وَ شاوِرْهُمْ فِی الْأَمْر ) کے مطابق ہو او روہ ہر شخص سے نہیں بلکہ اس شخص سے کیاجائے جو.
۱- عاقل ،زیرک اور دوراندیش ہو.بنابریں بیوقوف آدمی سے مشورہ جائز نہیں.
۲- دیندار اور متقی ہو بے دین یا دین سے بے پرواشخص سے مشورہ نہیں کرنا چاہئے جو شخص اللہ تعاليٰ سے خیانت کرتا ہو آپ کے ساتھ کب دیانت برت سکتاہے.
۳- آپ کا محب،دوست اور خیر خواہ ہو ایسے انسان سے جوآپ کا دشمن ہو اور آپ کاخیر خواہ نہ ہومشورہ سے گریز کریں.
۴- آپ کاراز دار ہو اور اسے دوسروں پر فاش نہ کرے.
اگر کسی شخص میں یہ چار صفات ہوں،اس سے ضرور مشورہ کیجئے وہ خدا جس سے آپ نے طلب خیر کرلیا ہے اس شخص کی زبان سے آپ کو اس امر کی خیر وصلاح کے بارے میں مطلع فرمائے گا.
ائمہ علیہم السلام مشورہ کرتے تھے:
علامہ مجلسی نے حضرت امام رضاعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا: میرے والدبزرگوار جناب امام موسی بن جعفر الصادقعليهالسلام باوجود اس ے کہ خود عاقل ترین زمانہ تھا،کبھی اپنے غلام سے بھی مشورہ فرماتے تھے مثلاً کسی امر کا ارادہ فرماتے تو اپنے خیر اندیش غلام سےمشورہ فرماتے اور اگر اس کام میں مصلحت ہوتی تو اسے انجام دیتے.
آپ سے ایک دفعہ کہاگیا کہ آپ امام زمانہ ہوکر ایک غلام سے مشورہ کرتے ہیں مطلب یہ تھا کہ امام زمانہ ہونے کی حیثیت میں آپ کو ہر چیزکاہرشخص سےزیادہ واقف ہونا چاہئے آپ نے فرمایا: تم کیاجانو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعاليٰ میرے خیروصلاح کو اس کی زباں پر جاری فرمادے.
لہذا جن امور میں انسان متردد و متحیر ہو ان میں سے حسب روئہ نبی رحمتصلىاللهعليهوآلهوسلم وائمہ طاہرین معصومیں علیہم السلام اور حسب فرمودہ صریح قرآن مجید عمل کرنا چاہئے.
استخارہ ذات الرقاع(پرچیوں سےاستخارہ):
اگر کس وقت مشورہ میسر نہ ہو یا میسر تو ہو لیکن باہم معارض ہون (آپ نے چار شرطوں کےحامل ایک شخص سے مشورہ کیا تو اس نے آپ کے ارادے سے موافقت کی لیکن دوسرے برابر کے ثقہ شخص نے مخالفت کی تو اس صورت میں رفع حیرت و تردد کے لئے آپ کو اس ترکیب پر عمل کرنا چاہئے:چھ پرچیاں لیں او رہر ایک پرچی پر “بسم الله الرحمن الرحیم خیرة من الله العزیز الحکیم لفلان بن فلانه ”( اپنا اور اپنی والدہ کانا لکھیں)پھر ان میںمیں تین پر عبارت کے نیچے“افعل” اور باقی تین پر اسی جگہ “لاتفعل” تحریر کریں.
ان چھ عدد پرچیوں کو مصلائے نماز کے نیچے رکھیں اور دورکعت نماز استخارہ پڑھیں .سلام کے بعد (یا آخری سجدہ کے بعد)سجدہ میں جائیں اور ایک سومرتبہ “استخیرالله برحمته خیرة فی عافیه ”کہیں پھر فارغ ہوکر پرچیوں کوباہم گڈمڈکردین اور ایک ایک کرکے پرچیوں کو اٹھاکر کھولیں .اگر تیں پر یکے بعد دیگرے “افعل” نکلے تو بہت اچھا ہے اگر تین پر متواتر“لاتفعل” نکلے توبہت براہے اور اگر کچھ پر“افعل”اور کچھ پر“لاتفعل” ہو توپانچ پرجہاں نکلایں اگر تین پر “افعل” ہو او ردوپر“لاتفعل”تو اچھا ہے اس کام کو کرلیں اور اگر تین پر “لاتفعل” نکلے اور دوپر“افعل” تو برا ہے ،اس کو نہ کریں.
پرچیاں بہرحال بالکل ہم رنگ او رمشابہ ہونی چاہیں.
اور اگر دعا ونماز وغیرہ می فرصت نہ ہو تو فہم آیات اور ان کی مصداق استخارہ کے ساتھ تطبیق کی صلاحیت کی صورت میں قرآن مجید سے بھی استخارہ کیاجاسکتاہے.
شیخ طوسی نے تہذیب میں روایت کی ہے کہ سیع بن عبداللہ قمی ایک دن جنا ب امام جعفرصادقعليهالسلام کی خدمت میں یوں عرض گذار ہوئے:میں کسی کام کا ارادہ کرتاہوں لیکن میری رائے اثبات یانفی میں دوٹوک انداز میں قائم نہیں ہوتی ،آپعليهالسلام نے فرمایا: جب نماز کے ارادے سے قیام کرے تو دیکھ دل میں کیابات آئی ہے اسی پر عمل کرکیونکہ یہ وقت ہوتاہے کہ جب شیطان انسان سے دورترین ہوتاہے یا اس وقت قرآن مجید کھول اور اس کے مطابق عمل کر.
دوسروں کے لئے استخارہ:
یہ جو ہمار زمانے کی رسم ہوگئی ہے کہ قرآن کے اوپرنیک یابد لکھدیاجاتاہے یا کسی عالم کے پاس استخارے کےلئے جاتے ہیں .علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس نمونے کے طورپر کوئی ایسی روایت موجودنہیں کہ کبھی کوئی شیعہ امام کی خدمت استخارے کی غرض سے آیاہو .اس کام کی کوئی اصل نہیں ہے.
اس لئے بعض فقہاء دوسروںت کے لئے استخارہ کرنے میں اشکال دیکھتے ہیں لیکن علامہ مرحوم اور کچھ دوسرے علماء اعلام ایسے افراد کےلئے جو خود دعا استخارہ وغیرہ نہ کرسکتے ہوں وکیل کے طور پر ایک مومن کو دوسرے مومن کی خواہش کے احترام میں قرآن مجید کھولنے کی اجازت کے قائل ہیں بشرطیکہ قرآن کھولنے والا صحیح حالت دعامیں ہو اور قرآنی آیات شریفہ کامعنی سمجھتاہو.
بہت سے فقہاء قرآن سے استخارے کو جائز نہیں سمجھتے .اگر آپ کو کسی امر کے ارادے میں حیرت و تردد لاحق نہ ہو تو استخارہ کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعاليٰ کے توکل پر اس کو کرڈالنا چاہئے( ِ فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّه ) جب ارادہ کرلیا تو اللہ پر توکل کرکے اس کام کو کرڈالئے،لیکن اگر تردد موجود ہو تو اس طرح سے جیسا کہ ذکرکیاگیا یاالہام والقاء یامشورہ یا پرچیوں کے ذریعے اور یا پھر قرآن مجید سے بشرطیکہ کیفیت دعا اور فہم آیات کی صلاحیت ہو،یاتسبیح کے ذریعے استخارہ کرنا جائز ہے.جس نکتہ پر ہم نے زوردیاہے وہ اللہ تعاليٰ سے طلب خیر ہے اور وہی حقیقت استخارہ بھی ہے.
رکن سوم
توكُّل
مجلس ۱۶
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم.انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
توکل .توحید افعالی کالازمی جزو:
توکل کاموضوع دین مقدس اسلام کےاہم موضوعات میں سے ہے کیونکہ حقیقت توحید یعنی توحید افعال کا لازمہ اللہ تعاليٰ پر توکل ہے باالفاظ دیگر مسلمان وہ ہے جو نفع کے حصول اور ضرر کےدفع کرنے میں صرف اللہ تعاليٰ پر بھروسہ رکھے اور یہی معنی ومفہو“لااله الالله ولا حول ولا قوة الابالله العلی العظیم ”حوقلہ(یعنی لاحول ولاقوة الاباللہ کہنا)جنت کےدروازے کی چابی ہے اور توحید افعالی ہے یعنی انسان اس بات کا یقین کرلے وہ کوئی آزاد حیثیت نہیں رکھتا اور مشیت ایزدی کے مقابلے میں اس کی اپنی خواہش کی کوئی حیثیت نہیں اسے چاہئے کہ مسبب الاسباب یعین سبب ساز ہستی کے وجود کومانے“کن”کے اثر سے مخلوقات کے وجود میں آنے کاسبب پہچانے اور اس اثر کویعنی کائنات کے وجود کو اس مسبب حقیقی کی قدرت کا کرشمہ سمجھے اور خود بخود از خود وجود میں آئی ہوئی چیز نہ جانے.
اسباب کی پیروی اللہ کے بھروسے پر:
اسباب دنیا کے حصول کی کوشش انسان ضرور کرے لیکن مسبب اسباب جل شانہ پر توکل کے ساتھ کرے نفع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لئے خواہ دینی ہو یادینوی اس کےدل کی قوت کامنبع اللہ تعاليٰ پر توکل ہوناچاہئے دنیوی منفعت کے بارے میں اس کاعقیدہ وایمان یہ ہونا چاہئے کہ اگر خدا چاہئے گا اور الہيٰ مصلحت اس میں ہوگی تو دنیاوی نفع اسے ضرور ملے گا ورنہ نہیں اور اخروی نعمت کے متعلق اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کا فرض صرف یہ ہے کہ اللہ تعاليٰ کے احکام کماحقہا بجالاتارہے اور اس کی رحمت پربھروسہ کرکے بدانجامی کے کھٹکے کودل سے نکال دے.
اللہ تعاليٰ کافرمان ہم کہ اے انسان اپنے دنیوی کاربارکے لئے تک ودوضرور کرلیکن لالچ اور حرص سےآزاد رہو.
اسباب دنیا کے حصول کی کوشش ضرور کرلیکن حرامت کے قریب نہ جانا اگر تیراوکیل تجھے کہے کہ عدالت میں اپنی تمام اسناد کے ساتھ حاضر ہوتوکیا اس کے کہے کےخلاف کرے گا؟جب تونے خود کونا کافی سمجھ کر وکیل پکڑا تو تجھے ا س کی راہنمائی میں رہنا چاہئے.
وکیل پکڑنا ضروری ہے:
اے انسان تو عاجز ہے اور دنیا وعقبيٰ میں اکیلا کامیاب نہیں ہوسکتا اگر کسی طاقت پر تیرا بھر وسہ ہوتو کسی بھی خطر ے یا مشکل میں تو متزلز ل نہ ہوگا کیونکہ تیرا وکیل موجود ہے تیر تکیہ گاہ موجود ہے.
کیا تو اپنی نماز کی تعقیب نہیں پڑھتا:“ توکلت على الحی الذی لا یموت”میں اپنے کاموں کو اپنے زندہ ولایزال خداکے سپر کرتاہوں،وہ عظیم ترین وکیل اور بہترین مددگارہے.( نِعْمَ الْوَكِیل ِنعْمَ الْمَوْلى وَ نِعْمَ النَّصِیر ) .
متوکل سے شیطان دوربھاگتاہے:
روایت میں آیا ہے کہ جب صبح کے وقت انسان گھرسے باہر نکتاہے تو شیاطین دروازے پر اس کےمنتظر ہوتے ہیں .لیکن گھرسے نکلتے وقت جب وہ کہتاہے:( آمنت باللّه توکلت ) تجھی پرمہربان ایمان ہے اور تیرے ہی بھروسے میں کاروبار دینا کے لئے جاتاہوں،تو سب شیطان بھاگ جاتے ہیں.
یہ الفاظ آپ کسی بھی زبان میں کہیں کوئی حرج نہیں،یہ الفاظ دل کا سہارا اور جان کی امان ہیں یہ حقیقت ہے کہ اگر آپ اس کی امیداور اس کے سہارے پرہوں گے یقین رکھیں کہ آپ کاوکیل بہت طاقتور ہے آپ سے ہرمشکل اور ہر خطرے کودور رکھے گا .اور ہر نفع حسب مصلحت آپ کو پہنچائے گا اللہ تعاليٰ سے بڑا مہربان ،بے حد رحمت والا اور بے پایاں قوت کامالک وکیل اور کون ہوسکتاہے؟!.
واقعہ کربلا کے بعد ابن زبیرکا خروج:
اس موقعے پر مجھے اصول کافی سے ایک حدیث پاک یاد آئی ہے عبدالل بن زبیر جوکہ آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کابدترین دشمن تھا.یہان تک کہ نماز جمعہ کے خطبہ میں حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم پر بھی درود نہیں بھیجتا تھا جب اس پر اعتراض ہواتوکہنے لگا:بنیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود آل کے ذکر کے بغیر باطل ہے لیکن اگر میں آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذکر خطبہ میں کردں تو کئی گردنیں ماردی جائیں.
قصہ مختصر کربلا کے واقعے کے بعد اس نے مکہ میں خروج کیا او رخلافت اور حکومت کادعويٰ کیا عراق سے کچھ لوگ اس کے ساتھ ہوگئے اور اس کی حالت کچھ مضبوط ہوگئی.
یزید پلید کو جو قتل امام حسینعليهالسلام کے بعد اس تاک میں تھا کہ کوئی اور شخص آواز اٹھانے والانہ اٹھ کھڑاہو،خبر ملی کہ ابن زبیر حجاز پر قابض ہوگیا ہے.
اس نے مسلم بن عقبہ اور حصین بن نمیر کو ایک بڑی فوج کے ساتھ حجاز کی طرف بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ مدینہ کے راستے سے جائیں اور جہاں تک ممکن ہو مدینہ میں قتل عام، آبروریزی اور غرتگری کریں.
امام زین العابدینعليهالسلام اور نورانی وجود:
ایک طرف ابن زیبر کافتنہ اور دوسری طرف یزید کی لشکرکشی، سیدسجادعليهالسلام ابھی تھوڑے دنوں سے کربلا کے جانکاہ واقعات کے بعد کربلا سے واپس تشریف لائے تھے اس امرنے آپ کو بہت پریشان کیا.اپنی اس حالت کا آپعليهالسلام ابوحمزہ سے یوں ذکر فرماتے ہیں.
میں اپنے گھرسے باہر نکلا اور آکر اس دیوار کے سہارے کھڑاہوگیا .“روایت میں لفظ جدار”ہے جس کا معنی دیوار ہے لیکن غالباً اس سے مراد مدینہ منورہ کی فصیل ہے،دفعتاً میں نے ایک انسان کو دیکھا جودو قطعہ سفید لباس میں ملبوس میرے سامنے آگیا اور کہنے لگا:
علی بن الحسینعليهالسلام :“مالی ارايٰ کیسباً حزیناً ”کیا وجہ آپ پریشان نظر آتے ہیں،؟
“علی الدنیا،فرزق اللہ للبروالفاجر”کیا آپ اسباب دنیوی کی کمی پر پریشان ہیں؟اگر ایسا ہے تو پریشان نہ ہوں کیونکہ خداوند رزاق اچھے برے سب کو روزی دیتاہے! میںنے جواب دیا:مجھے دنیا کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں،اس نے کہا :“علی الآخرة فوعدصادق یحکم فیه ملک قادر ”تو پھر کیا آخرت کے لئے پریشان ہیںتو یہ بھی فکر کی بات نہیں کیونکہ اللہ تعاليٰ کاوعدہ سچاہے اور وہآپ کی دادگری کے گا،میں نے کہا:میں آخرت کے لئے بھی فکرمند نہیں ہوں،تو اس نے پوچھا :پھر کس لئے آپ غمگین ہیں ؟ میں نے جواب دیا: میں زبیر کے فتنے کی وجہ سے پریشان ہوں.
کیونکہ ایک تو اس دشمن امام واہلیبت علیہم السلام کے تصرفات کی فکر تھی دوسرے یزید ملعون کی لشکرکشی سے آپ فکرمند تھے اور تیسری وجہ آپ کی پریشانی اس کے بعد عبدالملک کے حکم سے حجاج خونخوار کی لشکر کشی تھی.امام فرماتے ہیں:
وہ شخص ہنس کر کہنے لگا :“هل رایت احداًتوکل علی الله فلم یکفه هل رایت احد ا سئال الله فلم یعطه ”کیا آپ نے کسی کودیکھا کہ اس نے اللہ پر توکل کیا اور اللہ تعاليٰ نے اس کی کفایت نہ کی اور کیا آپ نے ایسا کوئی شخص دیکھا جس نے اس سے سوال کیا اور خالی ہاتھ لوٹا؟؟.
میں نے کہا :نہیں اور وہ شخص میری نظروں سے غائب ہوگیا.
اس روایت کے ذیل میں علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ وہ نوارنی وجود یافرشتہ تھا اور یا پھر حضرت خضرعليهالسلام تھے
تسکین قلب کے لئے ہمکلامی:
علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ اس قسم کی بات چیت مقام امامت کے نقص کو مستلزم نہیں ہے بلکہ تذکر اور روحانی یادآوری کاایک ذریعہ ہے جس کی تدبیر اللہ تعاليٰ امام کے دل کی تسکین وتقویت کے لئے فرماتے ہیں.
اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کسی عالم ودانش مند انسان کابیٹا انتقال کرجائے تو لوگ اس سے کہیں گے صبر کرو امام حسینعليهالسلام کابھی جوان بیٹا شہید ہواتھا... اوریہ تذکرہے اور وعظ ونصیحت کم سنی یا کبرسنی پر موقوف نہیں ہے ہر چند کہ ناصحانہ کلام کرنے والاکم سن اور ناقص ہو او راس کامخاطب کبیر السن اور عالم وفاضل ہو کبھی اایسا بھی ہوتاہے کہ ایک بچہ ایسی بات کرتاہے کہ بڑا اسے سن کر تذکر کی کیفیت میں آجاتی او رمتنبہ اور خبردار ہوجاتاہے.
امام حسینعليهالسلام کی علی اکبرعليهالسلام سے گفتگو:
آپ نے سنا ہوگا کہ حضرت امام حسینعليهالسلام سفر کربلا کی ایک منزل میں نیند سےہڑبڑا کر بیدار ہوئے اور آپعليهالسلام کی طبیعیت غیر ہوگئی جناب علی اکبرعليهالسلام نے عرض کیا :باباجان کیا وجہ ہے کہ آپ پریشان ہیں؟آپ نے فرمایا: میں نے ایک منادی کو ندادیتے ہوئے سنا ہے کہ یہ گروہ موت کی طرف بڑھ رہاہے یہ سفر سفرشہادت وقتل ہے علی اکبرعليهالسلام نے عرض کیا:بابا جان !“السنا علی الحق”کیا ہم حق پرنہیں ہیں؟آپ نے فرمایا:کیوں نہیں ؟ہم سراسر حق پر ہیں.
عرض کیا :“اذاًلانبالی بالموت ”توپھر موت کی کیا پرواہے،اگر ہم راہ حق کے مسافر ہیں تو کیا ہی اچھا ہے کہ حق کی راہ میں حق کے نام پر قربان ہوجائیں،بیٹے کے ان الفاظ سے امامعليهالسلام کے دل کوبہت اطمینان ملا اور آپعليهالسلام نےدعا فرمائی کہ اےبیٹے اللہ تجھے جزائے خیر دے.
مجلس ۱۷
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم. انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
توکل علم حال اور عمل کانتیجہ ہے:
علماء ومحققین نے توکل کے بارے میں یوں فرمایاہے :توکل تین چیزوں ،علم،حال اور عمل سے پیدا ہوتاہے،ہر عنوانات پر ہم تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہیں .علم:جب تک انسان عالم نہ ہو توکل اسمنصیب نہیں ہوسکتا اور یہ تین چیزوں میں منحصر ہے.اولایقین یعنی سب سے پہلے اللہ تعاليٰ کی قدرت بے پایاں پر یقین کرے کہ وہ علی کل شئ قدیراو قارد علی کل شئ ہے سخت سے سخت کام جس کے سرانجام پر اسنان اپنی پور ی قوت وقدرت سے قادر نہیں ہوسکتا ،اللہ تعاليٰ کے لئے بہت آسان ہے کوئی بھی امراس کی قدرت کے لئے مشکل نہیں ہے.“یا من العسر علیه سهل یسیر ”اے وہ ذات جن کے لئے ہر مشکل کام آسان ہے.
دانائی اوربندوں پر شفقت:
ثانیا:یہ یقین ضروری ہے کہ اللہ تعاليٰ“ عالم السروالخفیات”تمام پوشیدہہ امور کا دانا ہے ہر چیز کو جانتاہے غیب وظہور اس کے لئے برابر ہے.
ثالثا:یہ یقین ہو کہ پروردگار“منتهی الشفقة علی عباده ”یعنی اپنے بندوں پر حددرجہ مہربان ہے مومن خدا کے نزدیک عزیز ومحبوب ہے ماں کو اپنے بچے سے کتنا پیار ہوتاہے، یہ محبت بھی خداکی طرف سے ہے اس سے ہزا ہاردرجے زیادہ وہ اپنے بندوں سے پیارکرتاہے بلکہ بندوں کے ساتھ اس کی محبت کی کوئی انتہاہی نہیں ہے.پالنہار ہےخلق کرتاہے،تربیت کرتاہے او راپنے پالے ہوئے سے محبت کرتاہے اس کے اثبات میں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن اس وقت حیات القلوب علامہ مجلسی سے ایک مختصر روایت عرض کی جاتی.
جب حضرت نوحعليهالسلام نے اپنی نافرمان پوم پر لعنت کی جس کے نتیجے میں سارے کفار غرق ہوگئے تو ایک فرشتہ حضرت نوحعليهالسلام کے پاس آیا حضرت نوحعليهالسلام کوزہ گرتھے مٹی سے کوزے بناکر آگ میں پکاتے تھے او رانہیں بیچ کر اپنی روزی کماتے تھے.
اس فرشتے نم سب کوزے آپعليهالسلام سے خرید لئے اور آپعليهالسلام کی آنکھوں کے سامنے انہیں ایک ایک کرکے توڑنا شروع کیا.
حضرت نوحعليهالسلام کوبڑادکھ ہوا اور انہوں نے فرشتے کے اس تصرف پر اعتراض و احجاج کیا لیکن فرشتے نے جواب دیا اب آپ کا ان پر کیا حق ہے میں نے انہیں خریدا ہے اور جوچاہوں ان سے کروں آپ کو بولنے کا حق نہیں ہے.
نوحعليهالسلام نے کہا:لیکن کیاتم نہیں جانتے کہ میں نے انہیں اپنے ہاتھ سے بنایاہے؟فرشتے نے کہا: بنایا ہی تو ہے خلق تو نہیں کیا اور اس پر بھی آپ ناراض ہوتے ہو جب اتنی مخلوق کو غرق کرایا تھا تو کیا خدا کو کوئی دکھ نہ ہوا ہوگا.
اس پر جیسے کہ علل الشرائع میں ہے کہ آپعليهالسلام نے سرجھکالیا اور اتناروئے اور اتنی مدت روئے کہ نام ہی نوحعليهالسلام ہوگیا.
نبیعليهالسلام نے کبھی لعنت نہیں فرمائی:
غرضیکہ اللہ تعاليٰ اپنے بندوں پر بڑا مشفق ہے کیونکہت پالنے والے کو اپنے پالے ہوئے سے محبت ہوتی ہے خدائے تعاليٰ اپنے مقرب بنی پر عتاب فرماتاہےکہ کیوں آپ نے لعنت کرکے میرے اتنے بندوں کو ہلاک کرواددیا؟!
جناب خاتم الانبیاء حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عظمت شان جملہ انبیاء پر اس حقیقت سے بھی ظاہر ہے کہ آپ نے کبھی لعنت نہیں فرمائی کیونکہ آپ رحمة للعالمین تھے اگر آپ بھی لعنت کے ارادے سے لبوں کو حرکت دیتے تو تمام مشرکین صفحہ ہستی سے مٹ جاتے
خدائی شفقت کانمونہ:
حتيٰ کہ اس روزجب کہ آپ کوکفار نے اتننا زدو کوب کیا کہ آپ اس حالت میں بے ہوش ہوکر گرپڑے کہ خون آپ کے سروچہرہ مبارک سے جاری تھا کسی نے جناب خدیجہ علیہاالسلام کو خبردی کہ آپ کے شوہر محترم بہت زخمی ہیں،معلوم نہیں کہ آپ انہیں زندہ دیکھ سکیں گی یا نہیں اس دن ملائکہت آپ کے پاس حاضر ہوئے اور حاجت دریافت کی لیکن رحمت عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کسی بھی صورت مںی مشرکین کی خلاکت کا تقاضا نہ فرمایا بلکہ ان کو ان الفاظ میں دعا دی کہ“اللہم اہد قومی”اے پروردگار میری قوم کی ہدات فرما، اور اس پہ طرہ یہ کہ خودہی ان کی طرف سے عذر خواہی فرماتے ہیں کہ “انہم لایعلمون”کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ میں تیرا فرستادہ ہوں،یہ بچارے جاہل ہیں ،ان پر اپنا غضب نازل نہ فرما.
لوگ خود جہنم کے طلبگار ہیں:
بہ مت کہئے گا کہ اگر صورت حال یہی ہے تو اللہ تعاليٰ نے دوزخ کو کیو خلق فرمایا: کیونکہ دوزخ کا خلق کرنا“الشفقة علی العباد”کے منافی نہیں ہے انسان خود انسان خود اس کی شفقت کی راہ سے فرار کرکےجہنم کا راستہ اختیار کرتاہے:( وَ لكِنْ کانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ) لوگ خود اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں.
اللہ تعاليٰ ان سے بہت زیادہ محبت کرتاہے اور قرآن مجید میں انہیں جہنم سے بہت ڈرتاہے،اس سےدور رہنے کا حکم فرماتا ہے اور سخت تاکید فرماتاہے کہش یطان ملعون کا فریب نہ کھائیں دنیا دھوکا اور فریب کا گھر ہے اور شیطان انسان کا کھلادشمن ہے( لا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورَ وَ مَا الْحَیاةُ الدُّنْیا إِلاَّ مَتاعُ الْغُرُورإِنَّ الشَّيْطانَ لَكُمْ عَدُوفَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ) مختصر یہ کہ جب تک آپ یقین نہ کرلیں گے کہ خداوند عالم طاقتور اور دانا ہے اور اپنے بندوں پر مہربانی اور شفقت فرماتاہےآپ توکل کی منزل کونہ پاسکیں گے.
بلی کے بچے پر شفقت:
تفسیر روح البیان میں ہے کہ کسی نے کسی مرد صالح کو اس کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور اس سے اس کا حال دریافت کیا.اس نے کہا :ایک نیک عمل نے میری بڑی مدد کی سردی کا موسم تھا ،موسلادھار بارش ہورہی تھی سردی کی شدت میں میں نے ایک بلی کے بچے کو دیکھا کہ پناہ کی تلاش میں مارامارا پھرتا ہے.وہ بھوکا اور بہت کمزور تھا میں نے اس کی حالت زار پر ترس کھاکر اس کو اٹھالیا او راپنی پوستین میں ڈھانک کراسے گھرلے گیا وہاں میں نے اسے کھانا کھلایا اور سردی سےمحفوظ کیا اور موسم ٹھیک ہونے پر اسے رہاکردیا اللہ تعاليٰ نے اس عمل کے عوض مجھ پر مہربانی فرمائی اور مجھے بخش دیا.
اس سے انداازہ کیجئے کہ اللہ تعاليٰ کسی بندہ مومن کے ساتھ اس طرح کے جن سلوک پر کتنا خوش ہوتاہوگا جب ایک حیوان پر شفقت اللہ تعاليٰ کی اس قدر خوشنودی کاباعث ہوتی ہے تو ایک بندۀ مومن ومتقی کے ساتھ محبت وشفقت پر اس کی خوشنودی کا کیا عالم ہوگا.اس محبت سے بلندتر ایک محبت ہے جسے قرآن مجید میں خدا کی محبت سم تعبیر فرمایاگیا ہے.اللہ تعاليٰ کلام پاک میں ایسے لوگوں کو اپنا محبوب قرار دیتاہے:( فَسَوْفَ يَأْتِی اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَه ) اللہ تعاليٰ ایسے لوگ لائے گا جن سےوہ محبت کرتاہے اور وہ بھی اس سے محبت کرتے ہیں.
غرضیکہ علم کی شرط محبت با خدا ور شفقت بر خلق خدا ہے .آپ کو یقین ہونا چاہئے کہ آپ کی شفقت بر خلق خدا کی وجہ سے اللہ تعاليٰ آپ سے محبت کرتاہے.
اب جب کہ صورت احوال یہ ہے تو پھر ہم خدا پرکیوں توکل نہیں کرتے ؟کیا ہماری نظروں میں اس سے بہتر بھی کوئی ہے؟کیا ہم کسی ایسی ہستی کو جانتے ہیں جو اللہ تعاليٰ سے دناتر توانا تر اور مہربان تر ہو؟خود جس کا خدا ایسا بخشنہار اور مہربان ہو وہ کسی دوسرے سے کیوں دل لگائے ؛کیوں اس کے علاوہ کسی دوسرے پر تکیہ کرے؟
پروردگار !ہمارے دلوں کو یقین کی طاقت عطا فرماکہ صرف تجھی کو اپنی امیدوں کامرگز سمجھیں ہر خطرے کے وقت تجھی کو پکار یں،ہروسوسہ شیطانی کے وقت تجھی سے پناہ مانگیں،زندگی کے ہرمقام پر تجھی پر توکل اور پورے مومن بن جائیں:( وَ عَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِین ) اگر مومن ہو تو صرف اللہ پر توکل کرو.
شیطان کو متوکلین سے کیا سروکار:
اگر آپ اپنے دل کو تمام تر طاقت وقوت کامنبع ومرجع اپنے پروردگار کوبنالیں اگر پورے اہل توکل بن جائیں تو شیطان آپ کے دل تک رسائی حاصل نہ کرسکے گا وہی کتے کی مثال یادرکھیں جو پہلے بیان ہوئی کہ خمیہ سلطانی کے دروازے پر بیٹھا ہوا کتا کسی غیر کووہاں سے بھگانے کی کوشش کرے گا لیکن جس شخص کی سلطان کے ساتھ شناسائی ہوگی وہ باہرہی سے پکارے گا کہ:اے صاحب خیمہ آپ کا یہ کتا میرے آزار کے درپے ہے مجھے اس سے بچائیے تو صاحب خمیہ کی ایک ہی جھڑکی اسے خاموش کردے گی.
اسی طرح اگر کسی شخص کی شناسائی اس کا ئنات کے مالک کے ساتھ ہوگی اور اسی پر اس کا توکل ہوگا تو اس کا استعاذہ بھی صحیح ہوگا اور شیطان اس تک رسائی نہ پاسکے گا.
دوستان خدا کو شیطان سے کوئی اندیشہ نہیں:
انسان کےدشمن بہت ہیں جب کبھی وہ اپنے پروردگار توانا کے حضور میں اپنی منزل مقصود( فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیكٍ مُقْتَدِرٍ ) با اختیار اور توانا بادشاہ کے حضور میں خوشنودی کے مقام تک پہنچنا چاہے گا تو یہ سب دشمن متحد ہوکر اس کی مزاحمت کرینگے اتنے سارے بڑےبڑے دشمنوں کو دور کرنا آسان کام آسان کام نہیں ان پر قابو پانے کی صرف ایک صورت اللہ تعاليٰ پر توکل ہے آپ اپنے توکل کو مضبوط کریں جب آپ کا پورا اعتماد صرف اللہ تعاليٰ پر ہوگا تو آپ کو کسی وسوسہ شیطانی سے خوف نہ رہے گا.( أَلا إِنَّ أَوْلِیاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُون ) اللہ تعاليٰ کے دوست نہ کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ انہیں کسی دکھ اور اندوہ کا سامنا ہے.
گھاس کا تنکا:
بدقسمت ہے وہ جوبے سہارا اور بے سرپرست ہو اور اس کی کوئی پناہ گاہ نہ ہو.وہ بالکل گھاس کے اس تنکے کی طرح ہے جو ہوا کے ہر جھونکے سے ہلتااور اپنی جگہ چھوڑدیتاہے.ایسے شخص کو شیطان ہلاک کرکے ہی دم لیتاہے اس کےبرعکس طاقتوروہ ہے جس کا تعلق قوی مطلق کے ساتھ ہو اور وہی اس کا سہار ہو.
ہماری زندگی گذرتی جارہی ہے ہمیں توکل سے بے نصیب نہیں رہنا چاہئے.
عقبيٰ میں بھی اللہ پر توکل لازم ہے:
جس طرح دنیا میں ہرسختی اور ہر خطرے کے وقت اللہ تعاليٰ پر توکل لازم ہے اسی طرح موت کے بعد جوکچھ پیش آئے گا.اس میں بھی اللہ تعاليٰ پرہی توکل ضروری ہے کیونکہ ہمارے تمام امور کامالک وہ ہے قبر میں ،برزخ میں،مواقف میں،قیامت میں ہمراتکیہ اور توکل اسی پر ہونا چاہئے جو ہمیں وہاںت لایا جس نے ہمیں عدم سےنکال جامہ وجود پہنایا اور مبد سے معادتک ہماری سرپرستی فرمائی.
( ُ وَ ما تَوْفِیقِی إِلاَّ بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ أُنِیب ) .
مجلس ۱۸
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم. انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
توکل میں توحید:
مومن کا توکل اور بھروسہ صرف خدائے تعاليٰ پر ہے( وَ عَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) اگر تم ایمان والے ہو تو صرف خدا پر توکلت کرو.توحید پر ایمان کالازمہ یہ ہے کہ توکل صرف اللہ تعاليٰ پہو اس کے ماسوا کسی انسان یا کسی چیز سے نہ ہی کوئی خوف کیا جائے اور نہ کوئی امید باندھی جائے.
اگر توحید پر انسان کا ایمان مکمل ہو توکبھی کسی قسم کے فقر کاندیشہ ممکن نہیں خوف واندیشہ صرف ضعف ایمان کا نتیجہ ہے ورنہ مومن کسی بھی حالت میں کسی امر سے متزلزل نہیں ہوتا کیونکہ اس کے دل کی طاقت کامنبع اور اس کا ہر طرح کاسہارا صرف اللہ تعاليٰ کی ذات ہے.
توحید پر عملی ایمان کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہم درجات کے تمام امور اورتذبذب و پریشانی کی تمام کیفیات میں اللہ تعاليٰ پر انسان کا توکل پختہ ترہوجاتاہے اور اس کے ایمان کو مزید جلاملتی ہے.
اللہ تعاليٰ پر توکل عقلاً واجب ہے:
مومن کا خدائے تعاليٰ پر بھر وسہ کرنا ایک عقلی امر ہے اور عقلاًواجب ہے کیونکہ سب امور اسی کے دست قدرت میں ہیں لیکن یہ توکل حقیقی ہونا چاہئے صرف زبانی سے یہ کہدینا کافی نہیں کہ میں اللہ تعاليٰ پر کل کرتاہوں( عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ أُنِیب ) یا کہ( وَ أُفَوِّضُ أَمْرِی إِلَى اللَّهِ ) میں اپنے جملہ امور اللہ تعاليٰ ے سپرد کرتاہوں.بلکہ اس کے لئے حال اور اخلاص قلب کی کیفیت کاہونا لازمی ہے انسان کی یہ ضرورت ہے کہ متوکل علی اللہ ہو او رتوکل جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں،علم،حال اور عمل کے سہ پایہ پر قائم ہے اس کی بیناد علم اور اس کی حقیقت وکیفیت جوعمل کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے ،حال ہے اور اس کی علامت عمل ہے.
متوکل ہونا کییے ممکن ہے:
توکل کی حقیقت کیا ہے اور کیا کیا جائے کہ توکل کا مقام حاصل ہو.
توکل کا مادہ وکالت ہے اس کی دو طرفیں ہیں :موکل اور موکل علیہ جب کوئی شخص اپنے لئے کسی کو وکیل بناتاہے تو اپنے موکل کہتے ہیں اور جیسے وکیل بنایا جائے اسےوکیل کہاجاتاہے.
اللہ تعاليٰ کو وکیل بنائیے اور تمام امور اس کے سپر کردیجئے یہی معنيٰ ہے( فَاتَّخِذْهُ وَكِیلا ) .پس اسی کو وکیل پکڑو.
توحید افعال پر پورا یقین ضروری ہے:
ہم کہہ چکے ہیں توکل کا انحصار علم ،حال اور عمل پر ہے لیکن بنیاد اس کی علم ہے یہاں علم سے مراد یہ ہے کہ بطور کلی توحید افعالی میں یقین کامل ہو او ربطور جزی ہر نفع کے حصول اور ہر ضرر کے دفعئے کو اللہ تعاليٰ کی طرف سے سجھا جائے اور اس حقیقت کے لئے عقلی اور نقلی دلائل موجود ہوں تاکہ توحید افعالی کاسہ پایہ درست ہوسکے.
کیا غیر خدا اسے نفع کا حصول ممکن ہے؟.ہرگز نہیں بلکہ ہر نفع بالواسطہ یا بلاواسطہ اللہ تعاليٰ ہی کی طرف ہے خوراک و لباس وازدواج اور مادی زندگی کے جملہ اسباب و وسائل سےلیکر روحانی زندگی کے تمام منافع ونعمات تک ہرچیزی کی طرف سےہے( أَلا إِلَى اللَّهِ تَصِیرُ الْأُمُور ) .
پانی پینے کا عمل ملاحظہ ہو:
کوئی شخص پانی کا گلاس آپ کو دیتاہے یہ پانی کہاں سے ایا؛کسی کی ملکیت ہے؟
کس نے اسے خلق فرمایا: کون اسے لایا؟ آپ تک لانے کی طاقت اسے کس نے دی کس نے اس کو آپ کے ارادے کاتابع بنایا....
غرضیکہ اگر آپ صرف پانی کے گلاس ہی کے بارے میں سوچیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ بھی خدا کی ہی طرف سے ہے.
لباس بھی اس کا دیاہوا ہے:
کیا یہ لباس جوہم پہنتے ہیں،اصل ابتداء سےلیکر قابل استفادہ ہونے کے وقت تک غیب کے سواء کوئی اور بھی اس کا ماخذ ہے ؛غور کریں کہ کپاس کو کس نے خلق کیا؟اسے چننے او ربننے والے ہاتھوں کو سکی نے پیدا کیا؟بننےکی عقل کس نے دی غور کریں تو( أَلا إِلَى اللَّهِ تَصِیرُ الْأُمُور ) .ہر امر کا ارادہ و انتظام و انصرام اسی کےدست قدرت میں ہے.اور( وَ ما بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّه ) ہرنعمت اسی کی طرف سے ہے.
دفع ضرر بھی اسی کی طرف سے ہے:
ضرر کا دفعیہ بھی اس کے سوا کسی سے ممکن نہیں غور کیجئے کہ مریض کو شفاکون دیتاہے ؟کیا دوا اور طبیب شفاءدیتے ہیں یا حقیقت شفاء غیب سےتعلق رکھتی ہے؟طبیب کو کسی نے علم دیا؟دواکو کس نے خلق فرمایا: طبیب کے ذہن او اس کی تشخیص کو کس نے کنٹر ول کیا ؟در اصل صحیح تشخیص اللہ تعاليٰ ہی کی ہدایت سےممکن ہے.
طبیب یا قاتل:
شیراز میں خسرہ کی وباکے دوران ایک مشہور طبیب کا ۱۸سالہ جوان بیٹا خسرہ میں مبتلا ہوا ظاہر ہے کہ جب مریض جوان بیٹا ہو اور معالج خود باپ ہو جو ایک کامیاب طبیب ہو تو علاج میں کوئی کسررہ جانے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟لیکن طبیب والد سے تشخیص میں غلطی ہوگئی اور اس نے غلط دوادے کر اپنےمریض بیٹے کی جان لے لی اللہ تعاليٰ کی رضا اس میں ہو مریض کی شفایابی اور دواکی تاثیر صرف اللہ تعاليٰ کی مشیئت پر منحصر ہے.
جب تک یہ معانی ذہن نشین نہ ہوں او ران کا صحیح علم حاصل نہ ہو ناممکن ہے کہ انسان کسی حقیقت کو جان سکے اگر آپ نے اسباب دنیا کو مستقل بالذات اور مسبب سم جدامانا تو حقیقت “لا الہ الا اللہ” سے غافل رہے کیونکہ فاعل مطلق صرف اس کی ذات ہے ،باقی جوکچھ بھی ہے وہ اس تک رسائی کے واسطے اور وسیلے ہیں.
جملہ امور میں ارادہ الہيٰ غالب ہے:
پس ہر وہ فائدہ جوآپ کو طبیب یا کسی اور سے حاصل ہوتا ہے یا کوئی ضرر جوآپ سےدفع ہوتاہے یا کوئی کامیابی جوآپ کو ملتی ہے سب خدا کی طرف سے ہیں مثلاً کسی شخص نے آپ کا قرض دیا تووہ کون ہے؟خدا کی مخلوق ! اسے کس نے اس کام پر آمادہ کیا؟اللہ تعاليٰ نےوہ کس کے ارادے کا محکوم ہے؛اللہ تعاليٰ ے امال کی محبت کو کس نے اس کے دل سے نکلالا؟اللہ تعاليٰ نے امال کو حال کہاہی اسی لئے جاتاہے کہ دل اس کی طرف مائل ہوتاہے“.انما سمی المال مالا لانها تمیل الیه القلوب ”اور جب مال کی محبت دل میں ہو تو صرف تسخیرالہيٰ ہی اسے آپ کا قرض چکا نے پر آمادہ کرسکتی ہے.
وسیلہ بھی ضروری ہے:
ارادہ خداوندی یقیناًوسیلہ جوئی سے کوئی منافات نہیں رکھتا اس مطلب کی وضاحت، ہم بعد میں کریں گے مقصد یہ ہے کہ آپ کے دل کی طاقت کامنبع ومبدا صرف اللہ کی ذات ہو اور آپ کا مکمل بھروسہ صرف اسی پر ہو اس کی شرح ہم ان شاء اللہ تیسری شق کے تحت عمل کے ضمن میں کریں گے فی الحال بات علم کی ہورہی ہے اور ضروری ہے کہ یہ حقیقت قرآن وحدیث کے حوالےت سے سمجھی جائے کہ کوئی طاقت مشیئت الہيٰ کے علی الرغم نفع رسانی اور دفع ضرر پر از خود قادر نہیں.
توکل علم کا نتیجہ ہے:
اگر علم صحیح ہو تو اس سے توکل حاصل ہوتاہے یعنی اللہ تعاليٰ کے ساتھ انسان کی وہی نسبت ہوجاتی ہے جو موکل کی وکیل کے ساتھ ہوتی ہے.
اگر کوئی شخص حصول انصاف میں مشکل سے دوچار ہو او بذات خود اس حالت سے نمٹنے سے عاجز ہو توہ کسی ایسے وکیل کی ضرورت محسوس کرے گا جو قانون دان اور امر زیر بحث پر تسلط رکھتاہو .اس مقصد کے لئے وہ لوگوں سے دریافت کرے گا کہ کون سا وکیل قانون کا کماحقہ دانا ہے پھر معلوم کرے گا کہ کیاوہ ہوشیار اور سیانا بھی ہے یانہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ قانون توجانتاہولیکن بزدل او رنا حوصلہ مندہو اور وکالت کی صحیح قابلیت وصلاحیت نہ رکھتاہو ایسا وکیل اس کے کام کانہ ہوگا.
تیسری شرط یہ ہے کہ اپنے موکل کےساتھ اس کا برتاو ہمدروانہ ہو، اس کے حق بھی دلوادے اور اس کے لئے کسی درد سر کاباعث بھی نہ ہو اگر مہربان نہ ہوگا یا ضمیر فورش ہوگا تو عین ممکن ہے اپنے موکل سے پیسے بھی زیادہ وصول کرے اور اسے بھری عدالت میں ذلیل بھی کرے.
اگر اسےتینوں شرطوں کا حامل وکیل مل گیا تو اسےبڑی خوشی اور پواطمینان ہوگا کہ وکیل لائق ملا ہے جس پر واقعی بھر وسہ کیا جاسکتاہے اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے یہ مقام توکل کے حال یا توکل کی کیفیت کاہے.
نعم الوکیل:
کیاان شروط سہ گانہ پر اللہ تعاليٰ سے زیادہ پورااترنے ولا ہماری دانست نیں کوئی ہے؟آیا اس کے علاوہ کوئی اور ہماری زندگی کے مصالح و مفاسد کا پورا علم رکھنے والاہے اور اس قابل ہے کہ ہمارے امور کو ایسی خوش اسلوبی سے چلائے کہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں سدھرجائیں؟!.
آیا ہم اپنے حصول منفعت اور دفع ضرر پر اللہ تعاليٰ سے زیادہ قادر وتوانا کسی کو جانتے ہیں جبکہ( عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیرٌ ) کا دعويٰ اس کے سوا کسی اور کوزیبا نہیں.
اور آیا اپنی مخلوق پر خوداس سے زیادہ کوئی مہربان ہے؟
بے شک تمام مہربانیوں کامنبع وہ ہے. مہر ومبحت وشفقت کا مبداوہی ہے ماں باپ کی یادویری کوئی بھی محبت اس کے بحر لطف وکرم کے مقابل میں زیادہ سے زیادہ ایک قطرہ ناچیز کی حیثیت رکھتی ہے.
ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں اگر میں اپنی کسی مطلوبہ منفعت کے حصول کے لئے اس کی طرف متوجہ ہوں اس پر پورا پورا بھروسہ کروں اور دل سے اسے نعم الوکیل مانوں تو میرے دل میں فرحت و اطمنیان پیدا ہوگا اور اگر کسی پیش آمدہ ضرر و مصیبت کو دفعیئے کے لئے صرف اس پر تکیہ کروں تو میری پریشانی ختم ہوجائے گی کیونکہ مجھے معلوم ہوگا کہ میرا قادر وتوانا نعم الوکیل میرے ساتھ ہے کوئی طاقت مجھے گزند نہیں پہچاسکتی.
پس یہ پریشانیاں اور یہ ہم ورجا اور عدم اطمینان کی کیفیت عدم توکل کے مظاہرہیں اور جب توکل نصیب نہ ہو تو( عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ أُنِیب ) کا زبانی وسکونت واطمینان کاباعث نہیں ہوسکتا.
متوکل غیر اللہ سے بے خوف ہے:
اہل توحید وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں یہ کہہ کر ڈارایا جاتاہے کہ تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں نے ایساکیا ہواہے ان سے ڈروتوان کے ایمان باللہ میں اضافہ ہوجاتاہے اور جواب میں کہتے ہیں کہ اللہ تعاليٰ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ سب سے اچھا وکیل ہے.
( الَّذِینَ قالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزادَهُمْ إِیماناً وَ قالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیل ) در اصل یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحیح معنوں میں اللہ تعاليٰ کو اپناوکیل پکڑاہواہے ہماری طرح نہیں کہ بس زبان سے کہہ دیا یا صرف قرآن میں “پرھ” لیا.قرآن صرف پڑھائی کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ اس کے نزول کامقصد اسے درست پڑھنا،سمجھنا اور اس پر عمل کرناہے.اسے پڑھ کر اگر توکل کا حال اور اس کی حقیقت و کیفیت پیدا نہ ہوئی تو اس کی ساری کی ساری نامفہوم تلاوت رائیگاں گئی کیایہ بدنصیبی نہیں ہے کہ ساری عمر ان ایات کو پڑھتے ہیں لیکن اللہ تعاليٰ کو شرائط سہ گانہ کے حامل عام دنیاوی وکیل کے برابر بھی نہیں سمجھتے حالانکہ زبانی دعوے کے مطابق تہم نے اسے نعم الوکیل مانا ہواہے.اگر دل سے اسے وکیل مانا ہوتا تو پھر چھوٹے چھوٹے وکیل پکڑنے کی کیا ضرورت تھی.
غیر اللہ سے امید رکھنے والاناکام رہتاہے:
عدةالدعی اور اصول کافی میں ہے کہ محمدب عجلان سخت قسم کے قرض میں دب گیا.اس نے سوچا کہ حاکم مدینہ حسن بن زید کےپاس جاؤں تاکہ اس کے اثرورسوخ سے استفادہ کروں راستے میں جناب محمدبن عبداللہ بن زین العابدینعليهالسلام سے اس کی ملاقات ہوگئی .آپ نے اس کی پریشانی کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ امیرکے پاس جاتاہوں تاکہ قرض سےنجات کی کوئی صورت نکل سکے.آپ نےفرمایا میں نے اپنے چچا زاد حضرت جعفرالصادقعليهالسلام سے ایک طولانی حدیث قدسی سنی ہے اس میں تمہاری صورت حال کے بارے میں یہ جملہ ہے:“لَأُقَطِّعَنَّ أَمَلَ كُلِّ مَنْ يُؤَمِّلُ غَيْرِی ”مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ہم کہ میں ہر اس شخص کی امید منقطع کردوں گا جو مجھ سےعلاوہ کسی پر امید رکھے.اس طرح وارد ہواہے وای ہو اس انسان پر کہ مانگے بغیر تو ہم نے اسے سب کچھ دے دیا تو اس کے مانگنے پر اسے نہ دیں گے.؟
کیا تونے اللہ تعاليٰ سے تقاضا کیا تھا کہ تجھے دیکھنے کے لئے آنکھ عطافرمائے یا سننے کے لئے کان دے؟تو جب یہ چیزیں جوتیری خلقت او رتکوین کی تکمیل کے لئے ضروری تھیں،تجھے اس نے مانگے بغیر دیں تو کیا مانگنے پر تجھے کچھ نہ دے گا؟.
محمد بن عجلان نےکہا: یہ حدیث دوبارہ پڑھئے،آپ نے دوبارہ پڑھی .اس نے تیری بار پڑھنے کی درخواست کی آپ نے اسے تیسری بار پڑھا وہ سن کر بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا: میں نے اپنا کام اس کے حوالے کیا.اور یہ کہہ کر مطمئین ہو کر چلا گیا.
روایت کے آخر میں ہے کہ زیادہ مدت نہیں گذری تھی کہ اس کی سب پریشانیاں دور ہوگئیں.
ہمیں اسباب نےاندھا اور بہرکردیاہے:
ہم ابھی تک توحید کے اس مقام تک نہیں پہنچے کہ صرف اللہ پر بھروسہ کرسکیں.
دعائے کمیل میں ہے“یامن علیہ معولی”اے وہ ذات جرمیرا واحد سہارا ہے.لیکن کیا ہم بقائی،ہوش و حواس حقیقت بیانی کرتے ہیں؟کیا واقعی ہم اسے اپنا واحد سہارا سمجھتے ہیں؟در اصل اسباب دنیا ہمیں اللہ تعاليٰ سے براہ راست مخاطب نہیں رہنے دیتے تاکہ ہم حقیقت“لاحولا ولاقوة الا بالله ” کو پاسکیں.
آپ نے بارہا سنا ہوگا کہ حوقلہ“لاحولا ولاقوة الا بالله ”بہشت کے دروازے کی چابی ہے. اس کا کہنے والا بہت بڑے ثواب کا مستحق ہے لیکن کیا یہ ثواب اور جنت کے دروازے کی چابی صرف یہ لفظ پڑھ دینے سےمل جاتی ہے؟.
نہیں ایسا نہیں ہے. لیکن اگر کوئی شخص اخلاص قلب سے پورے شعور کے ساتھ یہ الفاظ کہے تو جنت کے دروازے ضرور اس پر کھل جائیں گے لیکن دل کی زبان سے ان کا ادا ہونا اور حوقلہ کی حقیقی کیفیت کا حاصل ہونا جلدی ممکن نہیں اس کے لئےت ریاضت درکارہ ے.
عام طور پر انسان خود کو اور اسباب دنیا کو صاحب حول وقوت سمجھتا ہے.زبان سے تو“لاحولا ولاقوة الا بابی وبالاسباب ”!.
اگر مقصود توکل کی کیفیت کا حصول ہے تو ہمیں ایسے اعمال بجالانے چاہئیں کہ ہمارے دل میں درد پیدا ہوتا تاکہ صحیح طور پر دین کی پیروی کرسکیں یادرکھئے عمر کا صحیح مصرف اور زندگی کا حقیقی مقصد دین خدا میں فقیہ ہوناہے.
توکل کے مراتب ہیں:
یہ جوہم نے کہاہے کہ توکل یہ ہے کہ انسان اپنے خداکے ساتھ موکل و وکیل کا تعلق پیدا کرے تو یہ توکل کا پہلا درجہ ہے.اس بلندتر مرااتب کے حصول کے لئے جدوجہد اور تگ ودو کی ضرورت ہے اگر آپ فطری توکل کاندازہ کرنا چاہتے یہں تو اس توکل پر غور کیجئے جو بچے کاا اپنی ماں پر ہوتاہے کہ نفع وضرر دونوں کےلئے اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوتاہے بھوکا ہو تو ٹھوکرکھا گر گرے تو .کسی دوسرے سے پٹنے کاڈرہو تو اس کی توجہ کامرکز صرف اس کی ماں ہوتی ہے.ہر حال میں ماں ہی کو پکارتاہے یہ توکل کی فطری اور جبلی صورت ہے کہ ہر حالت میں اس کا ورد زبان “مان” ہو.
اگر ہم اس حالت کو پالیں تو سمجھئےکہ واسطہ درجے کا توکل ہمیں حاصل ہوگیا تیسرے درجہ کے توکل کی یہ مثال ہے کہ جیسے میت غسال کے ہاتھوں میں ہو یہاں اس کی تشریح کاموقعہ نہیںہے.یہ جویاددہانی کرائی گئی،اس لئے تھی کہ اگر ہم میں سے کسی کو توفیق الہيٰ سے توکل کامقام حاصل ہوجائےتوہم میں غرور نہ پیداہوکہ ہم توکل پر فائز ہوگئے کیونکہ ابھی توکل کے بہت سے مراحل طے کرناباقی ہیں.
توکل کی کیفیت دائمی ہونی چاہئے:
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جب توکل کی کیفیت دائمی ہو،یہ نہیں کہ کبھی توکل ہے اور کبھی نہیں ہے.یہ صورت حال قطعاًناکافی ہے.توکل کی صحیح کیفیت یہ ہے کہ ہمیشہ اللہ تعاليٰ پر بھروسہ ہو اور غیر اللہ پر تکیہ نہ کیاجائے اور اس میں دوام واستمرار کاحصول طویل ریاضت کامتقاضی ہے.
دیکھا آپ نے بچہ کسی کا احسانمند ہوکر بھی ماں ہی کی طرف دیکھتاہے کہ اے ماں میرے محسن کاشکرادا کرکے اس نے تیری خاطر مجھ پر احسان کیا ہے جب وہ احسان ودفع ضرر کے لئے سوائے ماں کے کسی طرف متوجہ نہیں ہوتا او رکسی دوسرے سے بھی اگر اسے کچھ حاصل ہوتاہے توبھی ماں ہی کا احسان مند ہوتاہے .توکیا ہمیں اتنا بھی نہیں چاہئے کہ کم از کم اپنے محسن حقیقی پراتناہی توکل کرنے لگیں جتنا بچے کااپنی ماں پر ہوتاہے.
مجلس ۱۹
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم. انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
رنج وراحت اللہ کی طرف سے ہے:
توکل کالازمہ یہ ہے کہ انسان سمجھ لے کہ( لَهُ مُلْكُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ اور وَ تَبارَكَ الَّذِی لَهُ مُلْک ) کہ ہرچیزپر اس کی بادشہای ہےاور کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیزکلی اور جزئی طور پر اس کی ملکیت ہے اور اس کے مشئیت واردہ کے زیر اثر ہے جیساکہ سورہ نجم میں بعض جزی افعال کو اپنی طرف نسبت دیتے ہوئے فرماتاہے:( وَ أَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَ أَبْکى ) اور وہی ہے جس ہنساتابھی ہے اور رلاتا بھی.مطلب یہ ہے کہ تمام اسباب خندہ وگریہ کوبھی وہی فراہم فرماتاہے اور:( وَ أَنَّهُ هُوَ أَغْنى وَ أَقْنى ) وہی مال و دولت عطا کرتاہے اور صاحب ثروت بناتاہے.
جس زمین پر آپ چلتے ہیں وہ بھی اس کی ہے جس گھر میں آپ رہتے ہیں وہ بھی اور ہر وہ چیز جوآپ کی ملکیت میں ہے آپ کی دولت وغیرہ وہ بھی اسی کی ہے .آپ کو اس کے علی الاطلاق مالک ہونے پر پختہ ایمان ہونا چاہئے.
علم کے بغیر عقیدہ توحید افعالی نہیں:
تاوقیتکہ آپ ان حقائق پر یقین نہ کریں ناممکن ہے کہ“لاحول ولاقوة الابالله ” کے حقیقی مفہوم کو سمجھ سکیں.انسان کو چاہئیے کہ تمام وسائل واسباب کو کلی اورجزی طور پر اللہ تعاليٰ کی طرف سے سمجھے اس حقیقت پر یقین کامل ہونے سے اسے صحیح مفہوم میں معلوم ہوگا کہ“لاحول ولاقوة الابالله ”کا مطلب غیر اللہ کی قدرت وطاقت کی مطلقا نفی ہے.لفظ لا“نفی جنس”کا معنی دیتاہے کہ ہرگز ہرگز کوئی بھی قوت اللہ کے سواکسی کو حاصل نہیں سب قوتوں کامنبع وسرچشمہ اور خالق ومالک وہی ہے.
مراتب وجود میں سے کوئی مرتبہ بھی اپنی ذات میں مستقل نہیں ہے.انسان کا زبان کو خیش دینا اور اس سے لفظ اداکرنا بھی صرف اسی کی مشیئت سے ممکن ہے.
منہ کھل کے بند نہیں ہوا:
چنددن ہوئے ایک خاتوں کوعلاج کے لئے لایاگیا.ان کے منہ کاجبڑالٹکا ہواتھا ان کا کہنا تھا کہ جمائی کے لئے منہ کھولاتھا لیکن پھربندنہ ہوسکا.
سچ ہے کہ دونوں جبڑوں کو باہم ملانا بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے خلاصہ بحث یہ ہے کہ امور میں اسباب کے صرف مستقل بالذات ہونے کی نفی کریں.لیکن انہیں بالکل ہی نظر انداز نہ کردیں.
اسباب غیب کے زیر اثر ہیں جوکچة غیب میں اللہ کی مشئیت میں ہوگا وہی ظہور میں آئے گا.اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے بہت تفکر وتدبر کی ضرورت ہے.
سورۀ توحید کی اہمیت:
قرآن مجید کا تقریباًایک تہائی توحید کے بارے میں ہے اور سورۀ توحید کی اتنی اہمیت ہے کہ معتبر روایات کےمطابق اس کی تلاوت کاثواب ایک تہائی قرآن کی تلاوت کے برابر ہے یعنی اگر کوئی شخص قرآن مجید کے ایک تہائی کا جمال چاہئے تو سورۀتوحید ہے جس کی تفصیل ایک تہائی قرآن کی حامل ہے.
یہ ثواب کس کے لئے ہے صرف اس کے لئے ہے جواہل توحید ہو.سورۀتوحید کو ایک بارپڑھ کر ثلث قرآن اور اسے تین مرتبہ تلاوت کرکے پورے قرآن مجید کی تلاوت کے ثواب کامالک بن جاتاہے.
جیساکہ ہم نے بیان کیا کہ حوقلہ“لاحول ولاقوة الابالله ”بہشت کے دروازے کی چابی ہے لیکن صرف اس کے لئے جوتوحید کی عملی حقیقت کوجان چکاہو ورنہ ایک جاہل انسان جس کی عقل درست نہ ہو جاہلانہ طورپر لاحول ولاکا ورد کرکےجنت کی چابی کیسے حاصل کرسکتاہے.
ابراہیم خلیل اللہ متوکلین کے لئے سرمایہ افتخار ہیں:
توکل کا پہلا درجہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعاليٰ کو کسی دنیا وی وکیل سے کم تر نہ جانے دوسرا درجہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعاليٰ پرکم از کم اتنا انحصار کرے جتنا ایک بچے کااپنی ماں پرہوتاہے.اس کا تیسرا درجہ خاصان خداسے مخصوص ہے جن کی ملکیت اور اوڑھنا بچھونا صرف رضائے الہيٰ ہے وہ صرف وہی کچھ کرتے ہیں جواللہ تعاليٰ کی مشیئت ہوتی ہے.
توکل کے اس مقام پر حضرت ابراہیم خلیل اللہعليهالسلام فائز تھے کہ جس وقت نمرود یوں نے آپ کو آگ میں پھنکنا چاہا تو جبرئیل نازل ہوئے اور انہوںت نے آپ سے کہا کہ اگر آپ کی کوئی حاجت ہو تو فرمائیں .فرمایا ہے تو سہی لیکن تم سےنہیں جبرئیل نے کہا پھر کس سے ہے؟آپ نے جواب دیا “(حسبى عن سؤالىعلمه بحالى ”اس کو میرے حال کی خبر ہے ،سوال کی ضرورت نہیں وہ خود دانا وبینا ہے جوکچھ وہ چاہتاہے میں بھی وہی چاہتاہوں.
کیاہم نے کبھی سچ بولا؟:
ہم نے زندگی میں ہزاروں با حسبی اللہ ونعم الوکیل کہا ہوگا میرے لئے اللہ تعاليٰ کافی ہے اوروہ بہترین وکیل ہے.لیکن کیا عملی طور پر کبھی ہم نے اسے اپنے دنیاوی یا خروی امور میں کلی ای جزئی طور پر اپنا وکیل سمجھا؟.
کیا ہم نے قرآن مجید کے فرمان( فَاتَّخِذْهُ وَكِیلا ) کہ اللہ تعاليٰ کو اپنا وکیل بناؤ.پر کبھی عمل کیا ؟اور اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر اغراض واضطراب اور ترددوتذبذب کیسا؟یقین جانیے کہ اس سب کچھ کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ عقیدہ ویقین کی کمی اور ضعف ایمان ہے.
متوکل لالچی نہیں ہوتا:
لیکن مقام عمل میں اگر کسی کو توکل نصیب ہوجائے تو اپنے لوازمات امور میں بھی وہ حرص اورلالچی سے باز رہتاہے.
عدة الداعی میںہے،حجة اولوداع کے موقعہ پر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خانہ کعبہ کی چوکھٹ کو پکڑا او رصحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:روح الامین نے میرے دل میں الہام کیا ہے کہ کوئی شخص نہیں مرےگا تاوقتیکہ اس کا اس دنیاسے رزق ختم نہ ہو یعنی کوئی شخص اپنے مقدر رزق کا آخری لقمہ کھانے سے پہلے نہیں مریگا.لہذا خدا سے ڈرو اور حرص نہ کرو مبادا احرامخوری میں مبتلا ہوجاؤ“أَلَا وَ إِنَّ الرُّوحَ الْأَمِینَ نَفَثَ فِی رُوعِی أَنَّهُ لَنْ تَمُوتَ نَفْسٌ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ أَجْمِلُوا فِی الطَّلَب ”لیکن اگر کسی شخص کا تکیہ اسباب دنیا پر ہو تو اسے جتنا بھی ملے سرنہ ہوگا گویا اسے کچھ ملا ہی نہیں.
میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ اپ روزگار کی تلاش میں نہ نکلیں ضرور جائیں لیکن اللہ تعاليٰ کے توکل پر جائیں،صرف سبب کے آسرے پر نہ جائیں.
وکیل کی اطاعت ضروری ہے:
توکل اور سبب کو جمع کرنے کے بارے میں اس مثال پر غور کیجئے آپ کسی سخت قانونی الجھن سے دوچار ہیں جس سے نمٹنا آپ کے اپنے بس کا روگ نہیں ہم نے آپ کو مشورہ دیا کہ کوئی دانا ہوشیار اور ہمدرد وکیل تلاش کیجئے اور اس کے مشورے پر عمل کیجئے تو آپ کا یہ عمل نہ صرف یہ کہ توکل کے منافی نہیں ہوگا ،بلکہ آپ کے لئے اس کے مشورے پر عمل بھی ضروری ہوگا کیونکہ وکیل خودایسا چاہتاہے اور آپ کا عمل اس کے حکم کے مطابق ہے نہ کہ اس کی مخالفت میں اور اس تدبیر سے وکیل آپ کے کام کودرست کرنا چاہتاہے.
اس مثال سے ثابت ہوگیا کہ وکیل کے حکم کی تعمیل میں اسباب کی پیروی توکل کے منافی نہیں اوریہی اللہ تعاليٰ کی بہمی سنت ہم کہ وہ اسباب کے ذریعے اپنے بندوں کے امور کی اصلاح فرماتاہے.“ ابى اللَّہ ان یجرى الامور الّا باسبابہا”بیماری سے شفاء اللہ تعاليٰ دیتاہے لیکن طبیب کے پاس جانے اور دوالینے کی ہدایت بھی فرماتاہے اور اس امر میں اس نے غفلت کی مذمت بھی فرمائی ہے.اسی طرح امرآخرت کے بارے میں فرمااہے کہ بہشت میں جانے کے لئے انسان کا توکل اللہ تعاليٰ پر ہے سچ تویہ ہے کہ آپ کا وکیل خود فرمارہاہے کہ آپ کا جنت میں جانا آپ کے اعمال پر موقوف ہے.
( أَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى ) لیکن آپ اپنی نجات کا انحصار صرف عبادت پر نہ رکھیں بلکہ اس میں بھی بھروسہ اس کے لطف وکرم پرکریں انپے عمل کو نہ دیکھیں کہ اس سے غرور وعجب پیدا ہوگا جو ہلاکت کا سبب بن سکتاہے لہذا جو اس کا حکم ہو بسر وچشم اس کی تعمیل کریں.
خالی دوکان میں اللہ کے سہارے:
یہی وجہ ہے کہ مزدور لوگ جب کسب معاش کے لئے گھر سے نکلتے ہیں تو کہتے ہیں اسے پروردگار رزق کے لئے حرکت و کوشش ہم کرتم ہیں اس میں برکت توعطافرما یہ الفاظ تو حیدی ہیں.ان کی تکرار وتعمیل سے انسان موحدبن سکتاہے.
روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک شخص نے حضرت امام جعفرصادقعليهالسلام سے تندگدستی کی شکایت کی آپ نے فرمایا:جب تو کوفہ واپس پہنچے تو ایک دوکان کرایہ پر لے اور اس میں بیٹھ .اس نے عرض کیا میرے پاس سرمایہ نہیں آپعليهالسلام نے فرمایا تجھے اس سے کیا؟جوکچھ تجھ سے کہا گیا ہے اس کی تعمیل کر.اس نے ایساہی کیا اور ایک دکان میں بیٹھ گیا ایک شخص کوئی جنس لے کر اس کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا .اسے خرید وگے وہ بولا میرے پاس پیسے نہیں ہیں صاحب جنس نے کہا:پیسےبیچنے کے بعددے دینا اور اپنا حق عمل بھی وصول کرلینا.
ایک دوسرا شخص کوئی اور جنس لے کر آگیا پھر تیسرا پھر چوتھا .دوسری طرف سے خریدار بھی آگئے اور تھوڑی ہی مدت اس کے پاس کافی سرمایہ ہوگیااور اس کے حالات سنور گئے.
بے کار جوان خدا کادشمن ہے:
بعض لوگ ایسے ہیں کہ کہیں سےسن لیا کہہ اللہ پر توکل ضروری ہے اورمغالطہ میں مبتلا ہوکرہاتھ پرہاتھ دھر کربیٹھ گئے کہ خدادے گا لیکن توکل کیا معنی نہیں ہے .ہم کہتے ہیں کہ کام ضرور کرنا چاہئے لیکن اللہ تعاليٰ کے حکم کی تعمیل میں نہ کم کویا مثلا فیکڑی یا کراگاہ کو رازق سمجھ کر.
سچا مسلمان جوکام بھی کرتاہے محض اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں کرتا ہے اسے معلوم ہے کہ بمطابق فرمان نبوی:“ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضالشَّابُّ الْفَارِغَ ”بےکار نوجوان خدا کا دشمن ہے اس لئےت وہ کسب معاش کے لئے کام تلاش کرتاہے اور اس کے لئے ضروری اسباب اختیار کرتاہے.
اہل علم کی روزی غیب سے!:
کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرے کہ پھر اہل علم کیوں دوسروں کی طرح کسب معاش نہیں کرتے؟کیونکہت حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں طالب علمی کاکام کسب معاش کے تمام کاموں سے منافات رکھتاہے یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص مختلف کام بھی کرے اور صحیح معنوں میں فقیہ بھی بن سکے.
بلکہ اسمساراوقت حقائق دینی کی تحصیل میں خرچ کرنا چاہئے.اللہ تعاليٰ ان کے رزق کو( مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِب ) وہاں سے جہاں کا سان گمان نہ ہو،مہیا فرماتاہے .چنانچہ روایا میں ہے“طالبعلم کے سواا ہرشخص کارزق اللہ تعاليٰ نم اسبا دنیامیں منحصر فرمایا ہے”.کیونکہ اس کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں کہ اپنا ساراوقت دینی امور کے لئے وقف کرے.
توکل اسباب پر منحصر نہیں:
توکل کی علامات میں سے ایک علامت عدم حرص ہے.دوسری علامت یہ ہے کہ ملنے سے اس کی کیفیت میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا.بعض اوقات انسان خود کو اہل توکل سمجھتا اور اپنا تمام ترتیکہ ذات الہيٰ پر جانتاہے لیکن عملاً جب وہ کسی کی پیروی کرکے حصور مقصود میں ناکام ہوتاہے تو رنجیدہ ہوجاتاہے یہ علامت اس حقیقت کی ہے کہ اس کا تکیہ سب پر تھانہ کہ اللہ تعاليٰ پر اگر توکل محض خدا ئے تعاليٰ پر ہو تو سبب کی ناکامی کومشیئت ایزدی سمجھ کر زبان شکایت درازنہ کرے کیونکہ عین ممکن ہے اس بب میں مصلحت نہ ہو نے کی وجہ سے اللہ تعاليٰ نے کسی دوسرے سبب سے اس کےمقصد کا حصول مقدر فرمایا ہو.دوسری طرف ارگ اسے اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی ہوئی لیکن اسے اس نے صرف سبب کا مرہوں منت سمجھا اور شکرخدا سے قطع نظر کرکے سبب ہی کی مدح وثنا کی تویہ علامت اس حقیقت کی ہے کہ سارم کا سارتکیہ سب پر تھانہ کہ مسبب الاسباب پر.
ضعف ایمان کی باتیں:
اسبا ب کی تعریف یا مذمت میں مبالغہ بھی عدم توکل کی علامت ہے اور توحید پر عدم ایمان یا ضعف ایمان کی دلیل ہے .کیونکہ اگر توحید پر ایمان ہوتو توکل بخی درست ہے اور اگر توکل درست ہوجائے تو انسان کے کردار و گفتار میں جھلکنے لگتاہے اور اس کی پندوناپسند میں منعکس ہوتاہے.
اگر کسی کو کسی سبب سے کوئی فائدہ حاصل ہولیکن وہ مشیئت ایزدی کاشکرگذارہونے کی بجائے سب کا احسان مند ہو اور صرف اسی کی تعریف میں رطب السان ہو تو وہ مشکر ہے اور اگر سب سےمایوس ہوکر اس کی مذمت کرنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنا مشکل کشااللہ تعاليٰ کو نہیں بلکہ اس کو سمجھا ہواتھا اور جب اس سے مایوس ہوا تو اس کی مذمت کرنے لگا یہ خصلت انسانوں میں عموماً پائی جاتی ہے.
لیکن جس کی امید صرف اللہ تعاليٰ سے ہو اور وہ حصول مقصد کے لئے کسی سبب کاسہار لے کر اس میں ناکام ہوتو سمجھ لیتا ہے کہ اللہ تعاليٰ کی مشئیت نہیں تھی اور اگر اس مین کامیاب ہو تو بھی اللہ تعاليٰ ہی کا شکرگذا ہوتاہے اور اسباب کو اللہ تعاليٰ کی رضا سے جدا سمجھ کر انہیں مورد مدح وذم نہیں سمجھتا.
توکل کا حصول واجب ہے:
توکل واجبات میں سے ہے اور اس سے بے اعتنائی برتنے ولا ترک واجب کامرتکب ہے جس طرح توحیدپر ایمان لازم ہے اسی طرح توکل بھی ضروری ہے .اور حقیقت یہ ہے جو انسان صحیح معنوں میں موحد ہوجائے ،اسے توکل کا مقام بھی حاصل ہوجاتاہے .اور ایمان کے تمام لوازم سے بھی آراستہ ہوجاتاہے .ایمان بالتوحید کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان جملہ امور کو مشئیت ایزدی سےوابستہ سمجھے اسی سے امید وار ہو،اسی سے خائف رہے اور اسی پر توکل رکھے.
محقق اردبیلی زبدھ البیان میں فرماتے ہیں کہ توکل کے بارے میں اللہ تعاليٰ کا جوحکم وارد ہواہے وہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مخصوص نہیں ہے کیونکہ آیۀ شریفہ( فَاتَّخِذْهُ وَكِیلا ) سب کے لئے ہے اور اس کی شاہد دوسری آیات کریمۀ ہیں جن میں عوام النسا سے ایسا خطاب کیاگیا ہے مثلاً( فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ) یعنی تم سب اللہ تعاليٰ پر توکل کرو اگر مومن ہو لہذا یہ حکم عمومی ہے.
یہاں ممکن ہے کہ یہ کہاا جائے کہ اس طرح کے یہ قرآنی احکام اخلاقی دستور کی حیثیت رکھتے ہیں.لیکن اس صورت میں پھر “لا الہ الا اللہ” کوبھی یہی کچھ ماننا پڑے گا.“ لا الہ الا اللہ”کامطلب یہ ہے کہ رب،معبود،مدبر مدیر لائق پرستش اورقادر مطلق ہے صرف اللہ تعاليٰ ہے کوئی دوسرا نہیں ہم یہی توحید افعالی ہے تو کیا اس پر بھی ایمان نہ لانے والے کے لئے مواخذہ نہیں ہےت پس ہر امر میں توحید پر ایمان لازمی ہے.
مشورہ اور توکل:
محقق اردبیلی فرماتے ہیں کہ آیہ شریفہ:( وَ شاوِرْهُمْ فِی الْأَمْرِ فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّه ) کی روسے ضروری ہے کہمومن ہر امر میں دوسروں سے مشورہ کرے لیکن یہ بھی سمجھے کہ اس کے امر کا صحیح ترین اور مناسب ترین حل صرف اس مشورے ہی میں ہے بلکہ حقیقت میں اس کا تکیہ خدائے تعاليٰ پر ہونا چاہئے جو مشورہ دینے والوں کی زبانوں پر اس حل کو جاری فرماتاہے.
اگر مشورے کی وجہ سے اس امر میں آپ کاکیابی ہوئی تو یہ نہ کہئے کہ مشورے ہی وجہ سے ہے بلکہ یوں سمجھے کہ اللہ تعاليٰ کے الہام کی برکت سےمشورہ دینے والوں نے درست رائے دی اور اگر کامیابی نہ ہوئی تو جان لیجئے کہ اللہ تعاليٰ کی مشیئت نہیں تھی.
غرضیکہ رائے آپ کی اپنی ہو یا کسی دوسرے کی،صرف مشورے پر انحصار نہ کیجئے بلکہ اللہ تعاليٰت سے بہتری کی امید رکھ کر اپنے معتمدین سے مشورہ کیجئے کہ اللہ تعاليٰ مشیئت کے مطابق صحیح رائے دیں.
توکل نہیں تو ایمان نہیں:
بلکہ فرماتے ہیں کہ جسے توکل حاصل نہیں وہ ایمان سے محروم ہے کیونکہ اللہ تعاليٰ کا ارشادہے:( وَ عَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِین ) اگر مومن ہو تو اللہ تعاليٰ پر توکل کرو.
لہذا اگر توکل نہیں تو ایمان بھی نہیں .اس کا مطلب یہی ہے کہ ایمان کی حقیقت اللہ تعاليٰ کو مسبب الاسباب ماننا ہے اور اس کا اولین اوربینادی تقاضا تکیہ برخاہے پس اگر آپ نے اپنی یا کسی دوسرے کی رائے کو مشیئت الہيٰ سے صرف نظر کرکے صرف فہم وفراست کی نظر سے دیکھا تو جان لیجئے کہ آپ نے اللہ تعاليٰ سے جدائی اختیار کی او ر اس صورت میں جب آپ مومن ہی نہیں تو کل آپ کو کیسے نصیب ہوجائے گا.
ادّعابازرسواہوتا ہے:
ایک ساٹھ سالہ شخص جسے ہر علم میں استاد ہونے کا دعويٰ تھا اور خاص طور پر طب میں خود کو ارسطوئے زماں سمجھتا تھا اور عام طور پر کہتا تھا کہ قواعد طب کے مطابق اپنے جسم کے بارے میں اتنا محتاط ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ چالیس سال اور جیوں گا.
دوسرے روز ظہرکم وقت اس نے دہی اور کھیراکھایا(دانتوں سے یہ حضرت محروم ہی تھے)اس کے دل میں درد اٹھا بجائے اس کے یہ سمجھے کہ یہ دردسردی سے ہے،اس نے درد کی تشخیص یوں کی کہ چونکہ وہی صفراء کا تریاق ہے اور مجھے صفراء کا غلبہ ہے لہذا ممکن ہے کہ دہی پورے طور پر اسے درست نہ کر سکا ہو لہذا اس نے اوپر سے لیموں کارس پی لیا تاکہ اپنے خیال کے مطابق اعتدال مزاج قائم ہوجائے لیکن اسی روز عصر کے وقت اس کا نتقال ہو گیا.
پس محض اپنے فہم پربھروسہ نہ کریں:
جوشخص صرف اپنے فہم پر تکیہ کرتاہے باالفاظ دیگر یہ سمجھتا ہے کہ کوئی بالائی طاقت موجود نہیں جو کائنات کے امور کے مدبر ہو اور اس کے فہم یا ارادے پر غالب آسکے ایسی کیفیت میں مبتلا انسان ایمان سے بے نصیب ہے.
آپ کو چاہئے کہ جب بھی کوئی ارادہ کریں تو اپنے عقل و فہم یا دوسروں کے مشورے کی مددسے اللہ تعاليٰ پر توکل کریں صرف سبب کو مستقل نہ سمجھیں کیونکہ نہ جانے اللہ تعاليٰ کی مصلحت اور اس کی مشئیت کیا ہے.
خلاصہ یہ کہ توکل نہ ہو تو ایمان بھی ممکن نہیں تو کل کامعنی دوسرے پر اعتماد ہے جوشخص اللہ تعاليٰ پر توکل کرتاہے وہ اپنے دوسروں کےاور ہر چز کے عجز کو خوب سمجھ کراپنا کام اللہ کے سپر کرتاہے اور اگر متوکل نہ ہو تو خدا کے سواسب کو کراکشاسمجھتاہے.
اعاذنا الله من ذلک والاسلام
مجلس ۲۰
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم. انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
یہ پچھلی بحث میں توکل کےوجوب کے بارے میں محقق اردبیلی کے فرمودات پیش کئےگئے( ْ وَ شاوِرْهُمْ فِی الْأَمْرِ فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّه ) اپنے کام کے بارم میں دوسرون سے مشورہ کرو، پھر جب ارادہ کرنو تو اللہ تعاليٰ کے ضمن میں انہوں نے کہا تھا کہ خواہ آپ کے ارادے کی بیناد آپ کی اپنی رائے ہو یادوسروں کا مشورہ ہو اللہ تعاليٰ پر آپ کا توکل لازمی ہے اور جوبھی کامیابی اپنی کوشش میںآپ کو حاصل ہوا سےاپنی اصابت رائے یادوسروں کے مشوروں کے مشورہ کانتیجہ نہ سمجھیں بلکہ توکل علی اللہ کا ایک کرشمہ جانیں کہ اسکی مشئیت نے آپ کے حق میں مناسب ترین فیصلہ فرمایا.
اسباب کی حقیقت:
آپ کوئی بھی کام کرنا چاہیں خواہ وہ طلب خیر کے لئے ہو یادفع ضرر کے لئے اس کےلئے اللہ تعاليٰ پر توکل کریں اور صرف اپنی ذاتی رائے یا دوسروں کے مشورہ پر تکیہ نہ کریں کیونکہ وہ بھی آپ کی ہی طرح ایک عاجز مخلوق ہیں.( إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبادٌ أَمْثالُكُم ) تم لوگ جن لوگوں کو اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو سب تم ہی جیسے بندے ہیں.
اس لئے ضروری ہے کہ اپ کے دل کی قوت کا سرچشمہ ذات الہيٰ کے سوا کوئی اور نہ ہو کیونکہ ہر شخص کی عقل و نظر محدودہے اور اصل واقعہ کی پور خبر نہیں رکھتا.
ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ مشورہ نہ کریں اور اپنی یا اپنے یہی خواہوں کی صواب دید پر عمل نہ کریں .بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے صر اپنی یادو سروں کی مصلحت اندیشی پر تکیہ نہ کریں بلکہ اپنی ساری کی ساری امیدخدائے تعاليٰ پر رکھیں اور اسی سے دعا کریں کہ آپ کی بہتری کو آپ کےمشیروں کی زبان پر جاری فرمائیں ارشاد ہوتاہے کہ:“ ما حار من استخار”اللہ تعاليٰ سےاستخارہ (طلب خیر) کرنے والاپریشان نہیں ہوتا،.کیونکہ اپنے غیب کے امور کے بارے میں وہ اس سے رہنمائی مانگتا ہے جو علام الغیوب اور قادر مطلق ہے اور اس کے ورد زبان یہ دعا ہوتی ہے:“اللَّهُمخِرْ لِی فِی أَمْرِی ”پروردگار میرے امر میںخیر فرما.
استخارہ اور توکل:
حضرت امام سجادعليهالسلام کے متعلق روایا میں وارد ہے کہ آپعليهالسلام کو جب بھی کوئی ضروری کام از قسم خرید مکان ، ازدواج یا صفر وغیرہ درپیش ہوتا تو دو سوبار،“ استخیر اللہ برحمتہ فی عافیة”کاورد فرماتے اور اس کے بعد اللہ تعاليٰ پر توکل کرکے اپنی صوابدید کےمطابق عمل فرماتے.
محقق فرماتے ہیں کہ توکل کی وجہ سے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے کام اللہ تعاليٰ پر چھوڑیں اور اپنے جملہ اموراس کے سپر د کریں اور پھر اس کے حسن مشئیت کے امید وار ہیں مثلاً کسان اللہ تعاليٰ پر تکیہ کرکے کھیت میں تخم ریزی کرتاہے تاکہ اس کی فصل اچھی ہو اور محنت اس کی کامیاب ہو آپ جب اپنے کسی مقصد میں کامیاب ہوں تو اسے اللہ تعاليٰ کی مشئیت سمجھیں اور خالصتاً اپنی کوششوں کا نتیجہ نہ جانیں ورنہ شرک کے مرتکب ہوگے.
انسان کو ئی بھی کام کرے،ایمان اس کا یہی ہونا چاہئے کہ توفیق اورحسن عاقبت اللہ تعاليٰ کے دست قدرت میں ہے.
علماء کرام کا فرمان ہم ااور علامہ طبرسی نے بھی تفسیر مجمع البیان میں تحریر فرمایا ہے کہ اپنے امور کو اس طرح اللہ تعاليٰ کے سپر د کرنا چاہئے کہ اپنی ذات کا تصو رمٹ جائے“جعل النفس کالمعدوم”اپنے نفس کو معدوم سمجھے.
کسان کی مانند جو تخم ریزی اور آبپاشی کے بعد اپنی ذات کودرمیان سے ہٹالیتاہے اور فصل کے بارے میں تمام امیدیں اللہ سے وابستہ کرکے اس کی مشئیت ورحمت کا منتظر ہوجاتاہے کہ:“ إن اللہ ہو الرازق”.کہ رازق صرف اسی کی ذات ہے.
سب انسانوں کو اپنے امور میں اللہ تعاليٰ پر ایسا ہی ایمان ہونا چاہئے.
سب کچھ مشئیت ایزدی سے ہے:
جس طرح کسان جانتاہےکہ فصل صرف اسی کی محنت ہی کانتیجہ نہیں ہے کیونکہ بہت سی کھیتیاں بے حاصل بھی رہتی ہیں اور کئی آسمانی آفات کاشکار ہوکر اجڑجاتی ہیں.اسی طرح تاجر کو بھی خوب معلومت ہونا چاہئے کہ تجارت میں منافع صرف اس کی سرمایہ کاری کی تدبیر یا محنت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ در حقیقت کسان کی عرق ریزی اور تاجر کی سرمایہ کاری کو نتیجہ خیزبنانے والا صرف اللہ تعاليٰ ہے جو سب انسانوں اور کائنات کی ہر چیز کا مالک و خالق ہے.مدبر ومدیربھی وہی ہے اور عطا فرمانے والا اور واپس لینے والا بھی وہی .اگر اس کی مشئیت نہ ہوتی تو کسان اور تاجر کو سوائے محنت و جان فشانی کے کچھ حاصل نہ ہوتا .لہذا انسان کو چاہئے کہ صرف اللہ تعالی ٰ پر توکل کرم ورنہ اسے رنج ومحنت اور ضیاع عمر کے سواکچھ نہیں ملے گا.
خطرے میں توکل:
ضررسے نجات بھی وہی دیتاہم دشمن سے مقابلے کے لئے اسلحہ کی تیاری اور طاقت کی فراہمی ضروری ہے لیکن دفاع کی کوشش میں کامیابی اس کے لطف وکرم پرمنحصر ہے لہذا اپنے جان ومال،اپنے ناموس اور بالخصوص اپنے دین کی حفاظت کے لئے آپ کا سارابھروسہ اللہ تعاليٰ پرہونا چاہئے.
توکل کا معنی یہ نہیں ہے کہ انسان حصول منفعت اور دفع ضرر کے لئم خود کچھ نہ کرے او رسب کچھ اللہ پر چھوڑدے .اس مطلب کی ہم بارہاتکرار کرچکے ہیں کہ جب وکیل خود کہتاہے کہ اسباب آپ اختیار کریں کام آپ کا میں درست کروں گا تو آپ کو چاہئے کہ سبب کی پیروی بھی ضرورکریں دشمن کے مقابلے میں اسلحہ ضرور مہاکریں یہ نہ سوچیں کہ اسلحہ کی موجودگی آپ کو عمل سے بے نیاز کردے گی دفاع آپ کو خود کرنا ہوگا لیکن اپنے دل کی طاقت کامنبع وسرچشمہ اس کی تائید کو قراردینا ہوگا اور فتح ونصرت کے لئے اس کے لطف وکرم کاامید رہنا ہوگا.
جاہلانہ توکل:
کافی سال ہوئے سامرہ بچھوؤں نے یلغار کردی اور ہردرودیوارسے ہرسوراخ سے نکلنے لگے سب طالب علم مدرسوں کو چھوڑکر بھاگ گئے ایک طالب علم نے مدرسے ہی میں رہنے کے بارے میں استخارہ کیا جو اتفاق سے اثبات میں آیا چنانچہ وہ مدرسے ہی میں رہا اور رات کوبھی وہیں سوگیا .صبح وہاں سے اس کا جنازہ برآمدہوا.
یہ ایک جاہلانہ مذاق ہے کہ اللہ تعاليٰ پرتوکل کرکے اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کردیا جائے بلکہ چاہئے تویہ کہ اس کے توکل پر دشمن سے فرار یاجائے نہ یہ کہ اللہ کی امید پر بیٹھ رہئے اور کچھ نہ کیجئے.
جس طرح توکل واجب ہے اسی طرح کسب رزق بھی واجب ہے اور اسی طرح اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالنا بھی حرام ہے اللہ تعاليٰ اپنے امور کو اسباب کے ذریعے جاری فرماتاہے.ہر چند کہ وہ بعض اوقات اسباب سے قطع نظر بھی کرتاہے اور سب کے بغیربھی اپنے امور سرانجام دیتاہے تاکہ اپنے قادر مطلق ہونے کا ثبوت مہیا فرمائے.
صادق آل محمدعليهالسلام اور شیر:
حضرت امام صادقعليهالسلام کوفے سے ایک قافلے کے ساتھ حج کے لئے تشریف لے جارہے تھے کہ ایک شیرنے راستہ روک لیا.قافلہ والوں کو جرات نہ ہوئی کہ آگےبڑھیں آپعليهالسلام نے خود آگے بڑھ کر شیر کو اشارہ کیا اور وہ ہٹگیا اور وہاں سے دور ہوگیا.پھرآپ نے حیرت زدہ اہل قافلہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:“ اگر تم بھی گناہوں سے محفوظ ہوئے تو یہ کچھ کرسکتے ”یعنی درندے بھی تمہاری اطاعت کرتے.
محقق اردبیلی فرماتے ہیں:ایسے قضیئے میں امام وقت خداوندی سے جانتاہے کہ اس مقام پر اللہ تعالی ٰبغیر کسی سبب کے نجات دے گا اور اپنے علم سے یہ ھی جانتاہے کہ یہ امر استثنائی ہے. لہذا اسے کلیہ سمجھ کر ہرجگہ منطبق نہ کیا جائے.
توکل کے دیگر مفہوم:
ہم کہہ چکے ہیں کہ توکل واجب اسباب کی پیروی اور اللہ تعاليٰ پرتکیہ سے عبارت ہے اس مقام پر ممکن ہے کہ زہن میں اشکال پیدا ہو کہ بعض کتابوں میں توکل اللہ تعاليٰ پر اعتما کے علاوہ دوسرے معنوں میںآیا ہے مثلاً مومن خداسے نہیں ڈرتا اب کیا توکل واجب یہ ہے کہ بھیڑئیے یاصاحب قدرت دشمن سے بھی نہ ڈراجائے اور فقر وبیماری سم بھی خوف نہ کیا جائے.
دوسری روایت میں توکل کا معنی یہ لکھاہے:جانا چاہئے کہ نفع وضرر کا مالک خدا کے سوا کوئی نہیں.اور ایک روایت میں ہے کہ غیر خداسے کوئی طمع نہ کرے اور نہ کسی سے کسی چیزکاطالب ہو.ان روایات کے صرف متن سے توکل کا صحیح مفہوم حاصل نہیں ہوتا.
سبب کاوجود مستقل نہیں ہے:
محقق اردبیلی فرماتے ہیں کہ ایسی رویات کی توجیہ ضروری ہے کہ کسی سے کچھ طلب نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کو عطا کنند ہ سمجھے مثلاً اگر روٹی کی خواہش ہے تونا نبائی کو رازقی نہ سمجھے وہ سوال جوصرف اور مطلقا اللہ تعاليٰ سے کیا جاسکتاہے مخلوق سے نہ کرے ورنہ شرک کا مرتکب ہوگا.
ان دنوں یہ بات زبان زدعوام ہے کہ تہران میں کچھ لوگ وہابی مسلک کی تبلیغ کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ“یامحمد”“یا علی”کہنا شرک ہے اور دلیل میں( إِنَّ الَّذینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبادٌ أَمْثالُكُم ) تم لوگ جن لوگوں کو اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو سب تم ہی جیسے بندے ہیں.یا( فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدا ) اللہ تعاليٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہ پکارو.جیساآیات شریفہ پیش کرتے ہیں.
معلوم ہوتاہے کہ یہ لوگ جاہل اوراندخے ہیں کہ ابھی تک دعاکامعنی بھی نہیں سمجھ سکے ہیں.
غیرخداکو پکار نا:
دعا کا معنی بلانا یا پکار نا ہے.صرف بلانا یا پکار ناممنوع نہیں ہے ہاں اس اندازمیں جیسے کہ خداکو پکار اجاتاہے مخلوق کو نہیں پکارنا چاہئے وہ پکار جو اللہ کے استھ مخصوص ہے“دعا”ہے کہ اگر اس اندازسے مخلوق کو پکارجائے تو شرک ہوگا.یعنی شفاء اللہ تعاليٰ سے مانگنی چاہئے لیکن اگر اس کودوایاطبیب سے مانگا جائےتو شرک ہوگا لیکن اگرتکیہ خدا پرہو او طبیب سے صرف تشخیص مرض یا دوا طلب کی جائے تو کوئی مضایقہ نہیں.اہل بیت اطہارعلیہم السلام سے توسل کی بھی یہی کیفیت ہے.اگر کوئی ان ذوات قدسیہ سے مثلاً حضرت ابوالفضل العباسعليهالسلام سے اس طرح سے مانگے جیسےخداسے مانگاجاتاہے تو شرک ہے.
لیکن ایسا کوئی نہیں کرتا.سب ان حضرات کو واسطہ و وسیلہ یا شفاعت کنندہ سمجھتے ہیں.
پس توکل کایہ معنی کہ غیر خدا سے کچھ بھی نہ طلب کیا جائے یہ ہے کہ اللہ تعاليٰ کے سواکسی کو عطاکنندہ نہ سمجھا جائے سب کو اس کی مشیئت کاتابع اور پابند سمجھاجائے اور تکیہ صرف ذات خداوندی پر کیاجائے کیا“یامحمد او ریا علی پر اعتراض کرنے والے خودہر روز کئی مرتبہ غیرخدا کو نہیں پکارتے؟.
مجلس ۲۱
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم. انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
توکل علم توحید کا لازمہ :
توکل کی اہمیت بہت ہے کہ یہ تو حید کے قطعی لوازم میں سے ہے انبیاء کی اولین دعوت توحیدتھی .قرآنت سارےکا سار توحید کے موضوع پر ہے وہ علم جس کا حصول سب پر واجب ہے علم توحید ہے “اول العلم معرفة الجبار وآخر تفویض الامرالیه ”علم کی ابتداء اللہ تعاليٰ کی معرفت ہے اور اس کی انتہاء اپنے امور کو اللہ تعاليٰ کی مشئیت کے سپر دکردیناہے.
جوشخص حقیقتا عالم بننا چاہئے اس کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنی توحید کو درست کرے اور اس کی تکمیل کرم یہ نہ کہئے کہ کیا ہم سب مسلمان نہیں ہیں اور کیا ہمار اتوحید پر ایمان نہیں ہے؟کیونکہت توحید کی کسوٹی قلبی یقین اور“ لا الہ الاللہ” کاحقیقی فہم ہے اور توحیدافعالی پر(کہ عالم ہستی میں جوکچھ بھی واقع ہوتاہے اللہ تعاليٰ کی مشئیت او راس کے ارادے سے ہوتاہے) بھی یقین ضروری ہے.نیز “فما بکم من نعمة فمن اللّه ”ہر نعمت کا عطا کنندہ اللہ تعاليٰ ہے.پربھی تہ دلی سے ایمان ہونا چاہئے صرف زبان سے اس کا اقرار کافی نہیں.
الفاظ اور حقیقت میں بڑافرق ہے:
دن رات میں ہم پانچ مرتبہ نماز پڑھتے ہیں اور کم از کم دس بار( رب العالمین ) کے الفاظ زبان سے ادا کرتے ہیں لیکن صرف یہ الفاظ ادا کردینے سے پروردگار کائنات پر ایمان مکمل نہیں ہوجاتا بلکہ دل سے یہ یقین ہونا چاہئے کہ سب انسانوں اور ربوبیت کے دعویداروں کاخالق وہی ہے پس الفاظ مقصود بالذات نہیں ہیں کیونکہ وہ صرف زبان پر جاری ہوکربدن کو پاک کردیتے ہیں تاکہ اس پراسلامی احکام لاگوہوسکیں،بلکہ اصل مقصود وہ حقیقت واقعی ہے جس پر ہر انسان کا ایمان ہے کہ وہ عالمین کا پروردگار ہے اور ذرہ خودسے لے کر ہاتھی اور انسان تک اور زمین وآسمان اور سب فلکی ستارگانی اور کہکشانی نظاموں سے لیکر جن وملک تک کاخالق اور ان کے امور کامدبر ومدیر ہے.تمام ذرات وجودابتدائے تحلیق سے لیکر کمال خلقت تک اسی کے دست تربیت کے پروردہ ہیں،وہ انسان کابھی رب ہے اور تمام مظاہر وجودکابھی .اورجب تک ایمان کی رسائی اس منزل تک متحقق نہ ہو توحید مکمل نہیں ہوسکتی.اگرچہ ہر ایک انسان کی بصیرت کے لئے خالق کائنات کا مشاہدہ ممکن نہیں لیکن کم از کم قرآن مجید پرایمان کی وجہ سے یقین قلب کا پختہ ہونا ضروری ہے تاکہ حقیقی اسلام حاصل ہوسکے.
امورکی تفویض:
کیاقرآن مجید کلام الہيٰ نہیں؟
اگرہے تو پھر دیکھ لیجئے شروع سے آخرتک اس میں توحید ہی کاذکر ہے.مبعود ،رب،مالک اورمدبر امور جزيٰ اوربھی کلی صرف اللہ تعاليٰ ہے جوکائنات کے ذرے ذرے کا خالق ومالک اور مختار مطلق ہے.یہ سب جان لینے کے بعد جب اس کی الوہیت مطلقہ پر ایمان مکملہوجائے تو اپنے جملہ امور اس کے سپرد کردینے چاہئیں.
توکل کے بارے میں بزرگان دین نے فرمایاہے:“التوکل کله الامرکله الی مالکه ”توکل یہ ہے کہ اپنے سب امورکلی اورجزئ طور پرمالک مطلق کے سپرد کردئے جائیں.اگر آپ خود کو اس کابندہ سمجھتے ہیں توآپ کو اس کے سامنے لاف وجود نہیں مارنی چاہئے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں ایسا چاہتاہوں یا میں یہ نہیں چاہتابلکہ جوکچھ و ہ کرے اور جیسابھی وہ چاہے اور جس حال میں بھی وہ رکھے اس کی رضا پرشاکر رہئے.
اسباب سے تمسک بہر حال توکل سے کوئی منافات نہیں رکھتا او رجیساکہ ہم کئی بار یاددلاچکے ہیں کہ( : أَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى ) انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہوتی ہے.لیکن اس کیا یہ معنی بھی نہیں کہ سارے کاسارا تکیہ اسباب پر ہو کیونکہ آپ کے وکیل ،آپ کے مالک نے فرمایاہے کہ میں رزق اسباب کے ذریعے دوں گا لیکن اسباب میری مشئیت کے بغیر کچھ نہیں دے سکتے.
آیات توحید میں غوروفکر:
توحید کو ہر چیز سم زیادہ اہمیت دیجئے قرآن مجید میں توحید سے متعلق آیات میں خوب تدبر کیجئے تاکہ آپ کے اس ایمان کوتقویت ملے کہ اسباب کی کوئی مستقل حیثیت نہیں کیونکہ بعض اوقات اسباب اپنی تاثیر کھوبیٹھے ہیں اور ان سمجوفوائد مربوط ومتوقع ہوں وہ ان سے حاصل نہیں ہوتے.
اسباب کال بے اثر ہوجانا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ اسباب سے بالاترکوئی کارفرماطاقت موجودہے جوقادر مطلق ہے اور اس کی مشئیت اسباب سے بے نیاز ہے افلاطونکے متعلق مشہور ہے کہ ایک دفعہ وہ سخت قسم کے اسہال میں مبتلا ہوا ہرچندعلاج کیا لیکن افاقہ نہ ہوا.
شاگردوں نے اس سے کہا آپ طب کے استاد ہیں اور اس قسم کے امراض کے علاج میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں کیا وجہ ہے کہ اس مرض پر قابو نہیں پاسکے افلاطون نے ان سے کہافلاں سفوف لاڈاس نےو ہ سفوف پانی کے ساتھ نگل لیا.اسہال فوراً بندہوگئے .وہ پھر شاگردوں کی طرف متوجہ ہوا اور بولا میں نے پہلے بھی یہ سفوف استعمال کیا تھا لیکن جب تک مشئیت الہيٰ نہ ہو کچھ بھی نہیںت ہوسکتا.
بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی امر بلاسبب واقع ہوگیا یا کسی ایسی وجہ سے ظہور پذیر ہوگیا جس سے بظاہر اس کا امکان نہ تھا.
چند سال ہوئے صدر الحکماء مرحوم نے جوایک متدین اور شریف النفس تھے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا کہنے لگے ایک دفعہ میرے پاس ایک مریض لایاگیا جوبے حد کمزر اور لاغر تھا. جب میں نے اس کا معائینہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ ہر طرح سے ختم ہو چکا ہے اور ا س کا دل اس کے گردے اور جگر وغیرہ بے کار ہوچکے ہیں اور وہ صرف چند روز کامہمان ہے میں نے اسے دوادینے سے انکار کردیا.اس کے متعلقین نے مجھ پرزبان طعن درازکی اورکہنے لگے معلوم ہوتاہے کہ نیم حکیم ہو کچھ بھی نہیں جانتے .میں دل میں ناراض تو ہوا لیکن ضبط کرے ان کے اہانت آمیز الفاظ کے جواب میں ازراہ مذاق کہا اسے برسیم کا جوشاندہ پلاؤ.
چنددنوں کے بعدوہی مریض جواب بالکل تندرست تھا میرے پاس آیا اس کے ساتھ اس کے عزیز بھی تھے اور وہ لوگ میرے لئے ایک دنیا اور بہت ساپنیر اور گھی تحفتاً لائے تھے مجھ سے کہنے لگے جب آپ ایسی اچھی دواجانتے تھے تو ہمیں مایوس کرکے واپس کیوں بھیج رہے تھے؟!
وہ قادر مطلق ہے بعض اوقات قوی سبب کوبے اثر کردیتاہے اور کبھی بلاسبب کسی امر کو ظاہر فرمادیتاہے مسبب لااسباب جوہواوہ خود اسبا ب کاخالق ہے ،بے اثر چیزوں میں اثر آفرینی اور قوی موثرات کااثر کھودینا اس کے دست قدرت کے ایک ادنيٰ سے اشارے کا کرشمہ ہے حصول نفع اور دفع ضرر کے اسباب کے پیچھے بھاگنے والے کو معلوم ہونا چاہئے کہ محض اسباب کی کوئی حقیقت و حیثیت نہیں کیونکہ امور کامدبر اورمدیر صرف وہ ہے ،چاہئے تو بلاکسی ادنی سبب کے کوئی عظیم الشان امر ظاہر فرمادے اور چاہئے توہزاروں یقینی اسباب منہ دیکھتے رہ جائیں اور ان کا کوئی نتیجہ ظاہر نہ ہو.
جناب موسيٰعليهالسلام کو ارشاد ہوتاہے کہ اپنی غذا کے لئے نمک بھی مجھ سے مانگو.اس کا بھی دینے والامیں ہوں اس کا معنيٰ یہ نہیں ہے آپ اپنی جگہ پربیٹھے رہیں اور اللہ تعاليٰ سے کہیں کہ تو میرے کھانے میں نمک ڈال دے بلکہ یہ مطلب ہے کہ اسی کے توکل پرنمک کے حصول کی کوشش کرو کیونکہ اگر اس کی مشئیت میں نہیں تو ساری دنیا نمک سے پر ہوجائے آپ کو نمک نصیب نہ ہوگا.
فقہ اور توحید:
جب تک توحید میں یقین کامل حاصل نہ ہو ،انسان عالم اور فقیہ نہیں ہوسکتا اور اس دینی بصیرت نصیب نہیں ہوسکتی کسبی علوم نوریقین کے حصول کامقدمہ ہیں اس کےلئے انسان کاعلم درست ہونا اور احکام شرعی سے اسے پوری پوری واقفیت ہونی چاہئے.
عوام عموماً شرک میں مبتلا کہ اسباب کو حاجت روامانتے ہیں جس طرف دیکھومادہ پرستی ہے،اسباب کی پوجا ہے اورجاہ ومال کی محبت ہے.
بعض لوگ محراب ومنبر کوبھی معبود سمجھتے لگتے ہیں.لیکن یہ یادرکھنا چاہئے کہ سبب کو مسبب سمجھ لینا شرک ہے.
تقويٰ اور توحید:
علم کے اس مقام تک رسائی کی کوشش ہمارا فرض ہے کہ جہاں ہمارا فرض ہے کہ جہاں ہماری توحید یقینی ہوجائے“فاعلم انه لااله الاالله ”خوب سمجھ لے کہ اللہ کے سوا ہرگز کوئی مبعود نہیں.
اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ تقويٰ ہے کیونکہ( فَاتَّقُوا اللَّه َوَ يُعَلِّمُكُمُ اللَّه ) جب آپ کا تقويٰ مضبوط ہوجائے تو اللہ تعاليٰ کے فضل سےآپ عالم بن جائیں گے .وہ آپ کو علم کی دولت نصیب فرمائے گا جس سے“لااله الاالله ”و“لاحول ولاقوة الابالله ”میں آپ کا یقین مکمل ہوجائے گا آپ کی دنیا بھی سدھر جائے گی اور جب آپ یہاں سے منزل عقبيٰ کی طرف روانہ ہوں گے توعلم وایمان ویقین کانورآپ کار ہنما ہوگا.آخرت کے درجات عالیہ بھی اسی روشنی میں آپ کو نظر آئیں گے اس میں کوئی شک نہیں کہ عمل بھی بہت ضروری ہے لیکن اگر آپ جانتے ہیں کہ مقربین سابقین کے مقام تک رسائی حاصل کریں تو یہ صرف یقین کامل کے ذریعے سے ممکن ہے( وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ. أُولئِكَ الْمُقَرَّبُون )
ایمان حقیقی :
حضرت امام محمدباقرعليهالسلام فرماتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ملاقات چند اشخاص سے ہوئی انہوں نے آپ کو سلام کیا .آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو.انہوں نے جواب دیا مومن ہیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دریافت فرمایا تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟یعنی محض ادعا ہے یا اس کی کوئی علامت بھی تمہارے پاس ہے.کہنے لگے جوکچھ ہمارے لئے اللہ تعاليٰ کی مشئیت ہے،اس پر اضی ہیں،اپنے امور کو ہم نے اس کے سپر دکردیا ہے اور اس کے امر پرہمارا سرتسلیم خم ہے.آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا دانا وحکیم ہو اور قریب ہے کہ حکمت کی بدولت انبیاء کے درجے تک پہنچو.
مطلب یہ کہ تم واقعی عالم اور اہل حکمت ہو، اس حکمت کے مالک ہو کہ جو کسی کونصیب ہوجائے تو خیر کثیر کامالک ہوجاتاہے.( وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِیراً ) .جس کو حکمت ملی گئی اسے خیر کثیر نصیب ہوگئی.تم راز ہستی کو جانتے ہو اور حقیقت غیب سے واقف ہو مادہ اور مادیت سے بلند ہوچکے ہو،ساری دینا محسوسات کی پجاری ہے لیکن تم مقام نبوت سے قریب پہنچ چکے ہو.
لہذا انسان کو چاہئے کہ ایسے اعمال بجالائے کہ علم ویقین کی دولت حاصل ہوجائے اور مقام توکل پر فائز ہو کر اپنے جملہ امور اللہ تعاليٰ کم سپرد کردے اور آخر کار“آخر العلم تفویض الا مر الیه ”کامصداق بن جائے.
حرص سم بچو:
پھر حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے فرمایا: اگرتم سچے ہو تووہ مکان تعمیر مت کرو جس میں تمہیں رہنا نہیں اور وہ رزق جمع نہ کرو جسے تمہیں کھانا نہیں اور اللہ تعاليٰ سے ڈرو کہ تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہے.
اگر تم واقعی صاحب تسلیم ورضا ہو اور اہل توکل ہو تو حرص سے بچو جوشخص جائداد بنانے کی فکر میں رہے اور ہروقت اس میں اضافے کی سکیمیں سوچتاہو وہ اس اندیشے میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کی دولت کم ہوجائے گی وہ آنے والے وقت سے خوفزدہ رہتاہے.اگر اللہ تعاليٰ پر توکل ہو تو آنی کافکر اور جانی کاغم نہ ہو اور فقر وفاقہ کااندیشہ نہ ہو یہ اس بات کی علامت ہے کہ دعوی توکل جھوٹا اور بے بیناد ہے. جوشخص قناعت اختیار نہیں کرتا اور ہمیشہ حرص میں مبتلا رہتاہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ مبب الاسباب پر اس کا ایمان نہیں اور وہ صرف سبب ہی کوحاجت روااور مشکل کشا سمجھتا ہے ورنہ جس مکان میں اسے کبھی سکونت ہی نہیں رکھنی وہ نہ بنائے اور وہ رزق جو اس کی اور اس کے خاندان کی ضرورت سے وافر ہو وہ نہ جمع کرے .ایک عروت کہہ رہی تھی کہ میرے پاس کچھ پیسے ہین جنہیں میں نے اپنے کفن دفن کے لئے محفوظ کیا ہواہے.میں نے کہا ازراہ بخل وحرص توانہیں خرچ نہیں کرنا چاہتی ورنہ کون ہے جومرا اور بے گوروکفن رہا جب تک انسان سبب کاپجاری بنارہے گا مال دنیا اس کا معبود رہے گا اسے چاہئے کہ موت کو یاد رکھے جگہ گرم کرنے سے پہلے ہی کوچ کانقارنہ بچ جائے.
بے نیاز کی طرف بازگشت:
ارشاد خداوند ہے:( اتّقوا اللَّه الذی الیه ترجعون ) اللہ سے ڈرو کہ تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہے.
آپ کا جو یہ عقیدہ ہے کہ ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانا ہے.( إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون ) توآپ پر کتنی احتیاط لازم ہے کہ آپ سے اس کی شان میں کوئی گستاخی سرزد نہ ہوجائے کہ اس کو کیا منہ دکھائیں گے غیر خداسے امید اللہ کے حضور تنی بڑی بڑی گستاخی ہے آدمی اس کے پاس جاتاہوا کتنا برالگتا ہے جس کی شان میں وہ اسری عمر گستاخیاں کرتارہاہو.
جناب امام حسن مجتبيٰعليهالسلام جب موت اور قبر اوربعث کو یاد فرماتے تو فرط گریہ سے آپعليهالسلام کی حالت غیر ہوجاتی اور جب بھی روز حشر اس سے روبرو ہونے کا تصور فرماتے غش کرجاتے کیونکہ علم ویقین کے بلند مقام پر فائز تھے اللہ تعاليٰ کی قوت وعظمت کی پوری معرفت رکھتے تھے او راس کے حضور پیش ہونے کی ہیبت سے واقف تھے.
حبیب ابن مظاہر فقیہ تھے:
آل محمد اہل علم وحکمت ہیں جس کسی کو بھی ان کے نور معرفت سے کوئی کرن نصیب ہوئی،عالم باعمل ہوگیا اس بات کو معمولی نہ جانیے ان حقائق کو سمجھنا بہت ضروری ہے ہمیں چاہئے کہ ان علماء میں شمار ہوں جنہیں آل محمد عالم سمجھیں نہ کہ جنہیں عوام عالم سمجھیں.
جناب امام حسینعليهالسلام نے کربلا کے سفر کے دوران ایک قاصد کے ہاتھ ایک خط جناب حبیب ابن مظاہر کو کوفہ بھیجا اس کاعنوان آپ نے“ایها الرجل الفقیه ” اے فقیہ مرد،تحریر فرمایا حبیب واقعی فقیہ تھے کہ خداشناس اور اما م شناس تھے اورمبداء کی بنیاد توحید کی معرفت ہے.علم دنیا سے توحید نہیں ملتی .رستہ گم نہ کیجئے اور اس جہل مرکب میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ اہل علم میں سے یہ غرور آپ کو ہلاک کردے گا.
مجلس ۲۲
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم. انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
توکل ایمان کالازمہ ہے:
آیات جلیہ قرآنی اور عقل و وجدان کی شہادت کے مطابق توکل ایمان کی شرائط اور اس کے لوازم میں سے ہے چنانچہ قرآن مجید میں پوری صراحت سے یہ ارشاد خداوند ہے( وَ عَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنین ) اور اللہ پرتوکل کرو اگر تم صاحبانِ ایمان ہو.
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جیسا کہ حکم ایمان کے لئے ہے ویسا ہی توکل کے لئے بھی ہے خداپر ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو معلوم ہو کہ ایک خدا ہے بلکہ ایمان کا تقاضایہ ہے کہ آپ کا دل اس بات کا یقین ہو کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑی قوت وقدرت ولا ہے اور( آمَنُواباللّه ) اللہ پر ایمانت لاؤ.کا حکم اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ اسے خدائے بزرگ وبرتر جان کر پورے کاپورا بھروسہ اس کی رضا پر کریں اسباب کو اپنی تاثیر میں اس کی مشئیت سے بے نیاز نہ سمجھیں اور ہر قسم کی امید اس سے رکھیں پس اسباب کو شئیت ایزدی کا پابند زمانتاہو اس کا ایمان اللہ تعاليٰ پر نہیں .جو انسان مال و دولت ،طبیب یا دوا کو اپنے امور زندگی میں رضائے الہيٰ سے وابستہ نہیں سمجھتا وہ کفر کامرتکب ہے.
اسباب بمقابلہ مشئیت:
کفر کا معنيٰ“چھپانا”ہے نور حقیقت کو پوشیدہ کردیتاہے جب انسان اسباب ظاہری کے ذریعے سے کسی امر میں کامیاب ہوتاہے تو مسبب الاسباب تک اس کی نظر نہیں جاتی .وہ یہ سمجھ کر شفا صرف طبیب کی تشخیص اور اس کے علاج نے دی ہے،طبیب پر تو ایمان لے آتاہے لیکن طبیب کا خالق کہ جس کی مشئیت طبیب کی صحیح تشخیص اور اس کے کامیاب علاج میں کار علاج میں کار فرمارہی، اسی کی نظروں سے اوجھل رہتاہے.
لیکن توحید پر یقین رکھنے ولاانسان ان سب باتوں کو سمجھتا ہے .لہذا اس کا ایمان کبھی متزلزل نہیں ہوتا اور اگروہ کبھی کسی مقصد کے لئے اسباب دینوی کو اختیار بھی کرتاہے تو تکیہ اس کامکمل طور پر مسبب الاسباب پرہی ہوتاہے.
پس جوشخص صرف اسباب کی تاثیر کاقائل ہو وہ کافر ہے یہاں کفر سے میری مراد کفر حقیقی نے نہ وہ کفر جوظاہری اسلام کی ضدہے اور جو شہادتیں کے اقرار و اعلان سے برطرف ہوجاتاہے اور جس کے بعد انسان پر اسلامی شرعی احکام لااگو ہوجاتے ہیں ایسا نسان مسلمان تو ہوتاہے لیکن اس کا ایمان اتناکمز ور ہوتاہے کہ اسے سعادت و نجات کی منزل تک نہیں پہچاسکتا.
کیونکہ ابھی تک اس کی سمجھ میں نہیں آسکا کہ اسباب کی کوئی سمتقل حیثیت نہیں اور وہ مشئیت ایزدی کے زیر اثر ہیں.
قر آن مجید میں کئی ایسے امور کا ذکر ہے جوباعث عبرت ہیں ذرادریائے نیل کے شگافتہ ہونے پر غور کیجئے پانی کاخاصہ بہنا اور سیلان کی حالت میں رہنا ہے.اس کی اس خاصیت کو اس سے جدا کرنا قطعا محال ہے لیکن اللہ کےحکم سے اس میں براہ رستے پیدا ہوجاتے ہیں.پانی اکھٹا ہوکر دیوار کی صورت اختیار کرلیتاہے دریاکی تہ ایسی خشک ہوجاتی ہے کہ لوگوں اور ان کی سواریوں کےگزرنے سے اس میں سے گرد بلند ہوتی ہے .کیا یہ اس چیزکی علامت نہیں ہے کہ سبب نے اپنی تاثیر کھودی ہے.کیا اس سے یہ حقیقت ثابت نہیں ہوتی کہ سبب ارادہ غیب کے تابع ہے.
اگروہت راہ ارادہ فرمائے تو سخت پیاس پانی پیئے بغیر دور ہوجائے لیکن اس کی مشئیت میں نہ ہو تو جتنا بھی پی لو پیاس کی شدت میں کوئی کمی واقعی نہ ہو اور بعض بیماریوں کی صورت میں ایک گھونٹ بھی جان لیواثابت ہو جیسا کہ مرض استقاء میں عموماًواقع ہوتاہے.
عبد الملک اور مرض استقاء:
لکھاہے کہ عبدالملک مروان اموی مرض استقاء میں مبتلاہوا.اس کے طبیب خاص کا حکم تھا کہ ایک دوروزپانی اس کے حلق سے نیچے نہ اترنے ورنہ اس کی ہلاکت یقینی ہے.
لیکن بدبخت پر پیاس غالب ہوئی اور اس نے تاکیدی حکم دیا کہ اسے پانی پلایا جائے اور کہنے لگا “اسقونی ریا وان کا فی حیواتی” مجھے پانی دو خواہ اس سے میری جان جاتی ہو.اور آخرکار اس یقین کے باوجود کہ پانی اس کی موت کاپیاسی ہے،اس نے پانی پی لیا اور ہلاک ہوگیا.
جی ہاں وہی پانی زندگی کے لئے اتنالازمی اور ضروری ہے جب اللہ تعاليٰ کی مشئیت کے خلاف پیا جائے تو نہ صرف یہ کہ زندگی کاسبب نہیں رہتابلکہ ہلاکت کی یقینی وجہ بن جاتاہے.
امیر معاویہ کے متعلق لکھاہے کہ بنیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بددعاسے جوع البقر کی بیمای میں مبتلا ہوگیا اور جوکچھ بھی اورجتنا کچھ بھی کھالے سیر نہیں ہوتاتھا.
اصحاب فیل:
سورۀ فیل میں کیسے محیرالعقول واقعہ کا ذکر ہے کہ جب ابرہہ اور اس کا لشکر ہاتھیوںت پر سوار ہوکر کعبہ شریف کو ڈھانے کے لئے آرہے تھے تو آسمان میں اچانک ابابیلیں نمودار ہوگئیں جن میں سے ہر ایک کے منہ میں تین تین اور پاؤں میں دو دو ریت کے دانے کے برابر پتھریلی مٹی کے ڈھیلے تھے وہ ننھے ننھے ڈھیلے انہوں نے ابرہہ کے فیل سوا رلشکریوں پرپھینکے وہ ان کے جسموں میں گھس جاتے اور سواروں اور ہاتھیوں کے بدنوں کو چھید کر جسم کے پار ہوجاتے اس طرح سے وہ ہاتھی سواروں کا سارا لشکر تلف ہوگیا یہ خدائی مشئیت ہے کہ ہاتھیوں کی فوج کی تباہی کا کام مٹی کے ذذرات سے لےلے.
تاریخ جزیرہ عرب کے مطابق نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت مبارک اسی ہاتھیوں کے حملے والے سال میں ہوئی اسے عالم الفیل یعنی ہاتھیوں کاسال کہاگیا ہے.اور علیعليهالسلام کی ولات تیس عام الفیل میں ہوئی جبکہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت شریف چالیس عام الفیل میں ہوئی جب تک اسلامی سن ہجیری کا اجراء نہیں ہواتاریخ عرب میں عام الفیل والاکیلنڈر استعمال ہوتاتھا.
پھر آپ نے حلق اسماعیلعليهالسلام پر چھری کابیکارہوجانابھی سنا ہوگا کہ حضرت ابراہیمعليهالسلام نے ستربار تیزدھار والی چھری کوپوری طاقت سے فرزند کے نازک گلے پر چلایا لیکن اس پر کاٹ کا ہلکا سا بھی اثر نہ ہوا.کیونکہ جوچیزی اس کی مشئیت میں نہیں اس کا واقع ہونا ممکن نہیں .اگر اس کی مشئیت نہ ہوتو ساری دینا کا اسلحہ خانہ ایک ناچیز مخلوق کو بھی کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا اس کو سمجھنا از حد ضروی ہے کہ آپ کایقین راسخ ہوجائے کہ ایمان کا قطعی لازمہ توکل ہے.
یقین کی حدتوکل ہے:
روایت ہے کہ جناب امیرالمؤمنینعليهالسلام سے کسی نے پوچھا کہ“ماحد الایمان قال الیقین،قالوا احد الیقین؟قال عليهالسلام التوکل علی الله ”ایمان کی کیا حد ہے؟آپ نے فرمایا: انہوں نے پوچھا :یقین کی حد کیا ہے؟آپعليهالسلام نے فرمایا: اللہ تعاليٰ پرتوکل .یہ سبب کچھ اور مسبب اور ان کے باہمی تعلق کی معرفت کانتیجہ ہے.اگر کسی کو یقین ہوکہ اسباب کی تاثیر اس کی مشئیت پرمنحصر ہے تو اس یقین کی علامت توکل ہے یعنی اسباب کی بجائے اس کا اعتماد مسبب پر ہوتا ہے،اس کا مکمل تکیہ اس کی ذات قدیر پر ہوتاہے اور اپنے تمام امور کو اس نے اس کی مشئیت کے حوالے کیا ہوتاہے اور جب وہ ایک دفعہ اسباب کی قیدسے آزاد ہوگیا تو سبب آزاد ہوگیا تو سبب کا وجود وعدم اس کے لئے برابر ہوجاتاہے سبب موجود ہو یا نہ ہو اس کوئی فرق نہیں پڑتا.
روایت ہے کہ جناب امیرعليهالسلام نے فرمایا:“لَا يُصَدَّقُ إِیمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَكُونَ بِمَا فِی يَدِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ أَوْثَقَ مِنْهُ بِمَا فِی يَدِهِ ”بندے کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک اللہ کی مشئیت اس کے نزدیک اپنے خواہش واردادہ سے زیادہت قابل اعتماد نہ ہوجائے.
یعنی جب اس کا ایمان اس بات پر استوار ہوگیا کہ حصول مقصد کے لئے اللہ تعاليٰ اور اس کی مشئیت پر تکیہ اس کم اپنے اسباب وذرایع سے زیادہت مفید اور یقینی ہے تو پھر اسے اگر کوئی حادثہ بھی پیش آجائے توبھی اس کا اعتماد اپنے مال و دولت یا مقام و مرتبہ یا اپنے متعلقین کی بجائے اللہ تعاليٰ اور اس کی مشئیت پر رہے گا لیکن اگر صرف اسباب پرہی اسے اعتماد ہوا تو پھر طبیب اور دواہی شفاء دہندہ ہوں گے اور طبیب کو صحیح علاج کی ہدایت دینے والی ہستی اسباب کی گرد میں چھپ جائے گی.
کیا ایسا بھی وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے اور دوسروں کے امور میں اکیلے اسباب پر تکیہ کرنے کے نتائج بدسے عبرت پکڑیں.
شاہیں اور اسیر:
سیدجزائری نے انوار نعمانیہ میں لکھا ہے کہ ایک حاکم کو اس طریقے سے عبرت نصیب ہوئی کہ ایک دن وہ شکار کے لئے جنگل میں گیا.شکار کم دوران ظہر ہوگئی.اس کے غلاموں اور سپاہیوں نے دو پہرکا کھانا تیار کیا اور مرغ بھون کر اس کے دسترخوان پر رکھا اچانک ایک شاہین آسمان کی بلندیوں سے چھپٹا اور چشم زدن میں مرغ کو اچک کرلے گیا.حاکم نے غضبناک ہوکر سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کا پیچھا کریں.اور خودبھی ان کے ساتھ اس کے تعاقب میں روانہ ہوا. کچھ دور جاکر شاہین ایک پہاڑ کو کعبور کرکے دوسری طرف چلاگیا سب نے بھی پیادہ ہوکر پہاڑ عبور کیا اور دوسری طرف اتر گئے دیکھتے کیا ہیں کہ ایک انسان جس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں زمین پر پڑا ہے او رشاہین اپنی چونچ سے گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر اس کے منہ میں ڈال رہاہے گوشت ختم ہوجانے کے بعد شاہین نے اپنی چونچ میں پانی بھرا اور اسے پلادیا.
وہ لوگ اس قیدی کے نزدیک آئے اور اس سے اس کا حال دریافت کیا اس نے بتایا.میں ایک تاجرہوں سواد گی کے لئے جارہا تھا کہ یہاں چورں کے ہتھے چڑھ گیا.انہوں نے میر اسارا مال لوٹ لیا اور پھر مجھے بھی مارنا چاہا میں نے ان سے جان بخشی کی التجاء کی انہوں نے کہا ہمیں اندیشہ ہے کہ تم شہرمیں جاکر ہمارے خلاف مخبری کروگے اور پھر میرے ہاتھ پاؤن باندھ کر مجھے یہاں چھوڑکر چلے گئے .دوسرے دن یہ پرندہ میرے لئے روٹی لے آیا اور آج کہیں سے بھنا ہو امرغ لے آیا روزانہ دو مرتبہ میری خبرگیری کرتاہے.حاکم کاذہن اسی مقام پر بدل گیا کہنے لگا وائے ہو ہم پر کہ ہم ایسے خدا سےغافل ہوں جواپنے بندوں کی اس طرح خبر گیری کرتاہے.آخر کارتخت وتاج کو چھوڑکر اللہ کے عبادت گذار بندوں میں شامل ہوگیا غرضیکہ کہ عبرت کے اسباب ہر جگہ بکثرت ہیں لیکن ان سے عبرت حاصل کرنے والے بہت ہی کم ہیں.امیر المؤمیننعليهالسلام فرماتے ہیں:“ مَا أَكْثَرَ الْعِبَرَ وَ مَا أَقَلَّ الْمُعْتَبِرِینَ ”.
امام صادقعليهالسلام سورہ یوسف کی آیۀ شریفہ:( وَ ما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَ هُمْ مُشْرِكُون ) اور ان میں اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ.
کی تفسیر میں ایک سائل کے سوال پر کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایمان بھی لے آئے اورپھر بھی وہ مشرک ہو آپعليهالسلام نے مفصل جواب بیان فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شرک سے مراد شرک خفی ہے جس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلان نہ ہوتا تو میں یقیناً ہلاک ہوجاتا یا گر فلان نہ ہوتا میں اہل وعیال سے محروم ہوجاتا.من ذان قول الرجل لولا فلان لهلکت ،لولا فلان لضاع عیالی ،روای نے عرض کیا پھر کیا کہے آپعليهالسلام نے فرمایا یوں کہے کہ اگر اللہ تعاليٰ نے اپنے فضل و کرم سے فلان کو نہ بھیجاہوتا تو میں ہلاک ہوجاتا.لولاان من لله علی بفلان لهلکت ،.
خلاصہ یہ ہے کہ توکل اسباب سے قطعا دست بردار ہوجانا نہیں بلکہ دل سے یہ یقین ہونا ہے کہ سبب کا موثر ہونا اللہ تعاليٰ کی مشئیت پر منحصر ہے قوت وقدرت ساری کی ساری اس کے ہاتھ ہے اور بلا استثناء ذرے سے لیکر پہاڑتک،جرثومے سے لے کر ہاتھی تک اور تمام موجودات ،زمین وآسمان وستارگانی اور کہکشانی نظاموں کا ادارہ اس کے دست قدرت میں ہے.( فَسُبْحانَ الَّذِی بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْء ) .
اس حقیقت پر مکمل ایمان ضروری تاکہ مقام عمل میں رسوائی نہ ہو.اگریہ یقین وایمان موجود ہو تو قضا رسوا کن عمل و قدر پر اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی .اگر واقعاتی طور پر وہ کچھ ظہور میں نہ آئے جس کی طبیعت کو خواہش ہو تو ایسے مقام پر چون وچرایا اعتراض ایمان کے دعوے کے جھوٹاہونے کی علامت ہے.
غرض کہ انسان بعض اوقات سمجھتاہے کہ ایمان اس کا پختہ ہے.اہل توکل ہے اور صاحب تسلیم و رضا ہےت لیکن ایک ہی آزمائش میں اس کی ساری حقیقت کھل جاتی ہے اور اسے خود اپنی ذات پر شبہ ہوجاتاہے اللہ تعاليٰ سے دعاہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں دنیا وآخرت کی رسوائی سممحفوظ رکھے.
“اللهم لاتفضحق بخفی مااطلعت لعیه من سری ”.اور ہمیں صفت توکل سے نواز ے تاکہ ہمارا مکمل توکل اس کی ذات اقدس پرہو.
مجلس ۲۳
( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم. انَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطانٌ عَلَى الَّذینَ آمَنُوا وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُون ) .
امور آخرت میں توکل:
عام طورپرجب توکل کی بات ہوتی ہے تو ذہن دناوی امور کو اللہ تعاليٰ کی مشئیت کے حوالے کرنے کی طرف متوجہ ہوجاتاہے.حالانکہ مومن کاتوکل ہر امر میں خواہ وہ دنیاوی ہو یا دینی اللہ تعاليٰ پر ہوتا ہے اور صرف دنیاوی زندگی ہی تک محدود نہیں ہوتابلکہ چونکہ اخروی ابدی ہے اورزیادہ اہمیت والی ہے اس لئے انسان کافرض ہے کہ دونوں زندگیون کے بارے میں اللہ تعاليٰ پر توکل سے اور بالخصوص اخروی زندگی کے لئے تو یہ توکل بہت ضروری ہے.
جس طرح دنیاوی مادی امور میں حصول نفع اور دفع ضرر کے لئے خدا پر توکل ضروری ہے اور سبب کو اللہ تعاليٰ کی مشئیت کے تابع جاننا اور اسےتاثیر میں غیر مستقل سمجھنا لازمی ہے تاکہ شرک سے حفاظت رہے اسی طرح روحانی اور اخلاقی امور میں بھی اسباب کو اللہ تعاليٰ کے توکل پر اختیار کرنا چاہئے.
اخلاقی سعادت کے اسباب:
اخلاقی او رروحانی سعادت کے اسباب جو تہذیب نفس ،تحصیل علم ویقین اور اعمال صالحہ.....(یعنی وہ اعمال جو انسان کو جنت اور درجات عالیہ سے قریب اورجہنم او راللہ تعاليٰ کی عدم رضا سے باز رکھتےہیں)سےعبارت ہیں،انہیں اختیار کرنے میں بھی اللہ تعاليٰ پرتوکل اور اس کے حسن مشئیت پربھروسہ لازمی ہے مثلاً جنتی ہونے کی توقع عمل صالح کے بغیر بے جاہے.لیکن نماز یاحج یا روزہ یا راہ خدامیں خرچ کرنے کو یا کسی بھی عمل صالح کو مستقل تاثیرکا حامل نہیں سمجھنا چاہئے .اگر ان اعمال صالحہ کو اللہ تعاليٰ کی ضرورت سمجھا گیا اور ان کی قبولیت کے لئے اس کے لطف وکرم پربھروسہ نہ کیا گیا تو یہ اعمال بے اثر ہوجائیں گے اور انسان کو غرور میں مبتلا کرکے برعکس نتائج پیدا کریں گے .پس آپ کی امید اللہ تعاليٰ پرہونی چاہئے کہ آپ کا عمل مثلا آپ کی نماز اس کے فضل وکرم سے قبول ہوجائے کیونکہ غیر مقبول عمل کی بناء پر بہشت میں جانے کی امید خود فریبی ہے جس طرح گنہ گار ہونے کی صورت میں جہنم سے بچ جانے کی توقع غلط فہمی ہے یہ آپ کی پسند یاناپسند پرمنحصر ہے بلکہ یہ خدائی فیصلہ ہے کہ فعل بدکرنے ولااسزاپائے اور نیکوکارجزائے خیر کا مستحق ہولیکن بالکل دو اجیسی صورت ہے کہ مریض اس کے استعمال سے صرف اللہ تعاليٰ کی مشئیت ہی سے صحتیاب ہوسکتاہے اسی طرح حج بھی انسان کو جتنی بناسکتا ہے بشرطیکہ اللہ تعاليٰ کی رضاہو.
صرف عمل پر تکیہ ہلاکت کا موجب ہے:
اگر انسان کاتمام تر بھروسہ اپنے عمل پر ہو تو ہلاکت اس کا مقدرہے اگر کوئی نجات کاطالب ہو تو نجات دہندہ صرف اللہ تعاليٰ ہےنہ اس کا عمل!یہ درست ہے کہ اس نے عمل کیا لیکن اس میں اثر پیدا کرنے والا صرف اللہ تعاليٰ ہے اور تاوقیتکہ اس کی رضا ومشئیت نہ ہو یہ ممکن نہیں.
جیساکہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ جس طرح مادیات میں آپ کو صرف اپنی ہوشیاری و چالاکی،اپنے زوربازو،اپنے زور قلم یا فصاحت زبان پرنزا نہیں ہونا چاہئے کہ اسی طرح اخلاقیات وروحانیات میں بھی صرف نماز و روزہ کے عمل پر اعتماد درست نہیں انسان کو معلوم ہونا چاہئے کہ آتش دوزخ سے نجات صرف اس کی پارسائی اور پرہیزگاری پرنہیں بلکہ محض اللہ کی مشئیت اور اس کے لطف خاص پرمنحصر ہے کہ وہ اسے اس محفوظ فرمادیتاہے.اسی طرح بہشت کے حصول کےلئے انجام دئے ہوئے اعمال کی توفیق اور ان اعمال کی قبولیت بھی اس کی نظر کرم کانتیجہ ہے.
کبھی ایساہوتاہے کہ انسان اپنے خیال کے مطابق پہاڑوں جیسے عظیم اعمال کاذخیرہ اپنے پاس رکھتا ہے درانحالیکہ حقیقت میں ان کا وزن ایک ناچیز تنکے جتنا بھی نہیں ہوتا.لہذات امور مادی ہوں یا اخلاقی وروحانی،ان میں کامیابی کا دارو مدار اسبا ب پر نہیں بلکہ ہر حال میں اللہ تعاليٰ کے لطف و احسان پر ہے.
عمل اور رحمت خداوندی:
نبی اکرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آخری خطبہ مبارکہ جو بحارالانوار کی چھٹی جلد میں نقل کیا گیاہے،ایک جملہ کے الفاظ یہ ہیں: کوئی شخص غلط دعويٰ نہ کرے اور بے ہودہ آرزونہ کرے نجات عمل صالح او ررحمت خداوندی پر منحصر ہے.
لہذا انسان یہ تصور نہ کرے کہ اس نے راہ خدا میں کوئی عمل کیا تو بہر حال جنت میں جائے گا او ربصورت دیگر جہنم اس کا مقدر ہوگا یہ غلط ہے بلکہ ہر حال میں اس کا بھروسہ ذات خالق پرہونا چاہئے بالکل اس کسان کی طرح جوکھیتی میں ہل چلاکر ،بیچ بوکر اور آبپاشی کرکے اللہ تعاليٰ کی رحمت کامنتظر ہوجاتاہے.طالبعلم کی امید بھی اللہ تعاليٰ پرہونی چاہئے کہ اسے فہم عطا ہو صرف سبق پڑھ لینے سے اسے فہم نہیں مل جائے گا .کسی علوم میں بھی کہ جوبہت محنت طلب ہیں صرف کسب کافی نہیں کیونکہ بعض لوگ کسب علم میں بڑا جوش وخروش دکھانے کے باوجود کورے رہتے ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ سبق نہ پڑھیں بلکہ ہماراطلب یہ ہے کہ صرف فہم وحافظہ اور مطالعے پرانحصار غلط ہے.کامیابی کے لئے اللہ تعاليٰ پرتوکل کرنا چاہئے.
عجیب حادثہ:
کوئی چالیس سال پہلے جب اس درسگاہ کے انہی حجروں میں مشیر الملک شیرازی بھی مقیم تھے ایک نامور استاد جن کانام میں مصلحتاً ظاہر نہیں کررہا فقہ اور فلسفہ کادرس دیتے تھے اور اپنے حافظہ اور تبحر علمی کی وجہ سے مشہور تھے،رات کو بھلے چنگےاور صبح جب بیدار ہوئے تو معلوم ہوا کہ حافظہ کھو بیٹھے ہیں حتيٰ فجر کی نماز کے لئے سورہ فاتحہ بھی بھول چکے ہیں.سترسال نماز پڑھی لیکن اب یاد نہیں ہے .قرآن کوکھول کرپڑھنا چاہا لیکن پڑھ نہ سکے غرضیکہ پورے طور پر حافظہ سے محروم ہوگئے حتيٰ کہ الضباء بھی بھول گئے اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا.
محروم تکلم:
اے وہ لوگ جواپنے نطق اور زور بیان پر پھولے نہیں سماتے.برسوں ایک شخص نے جو خرم شہر سے آیاتھا بیان کیا کہ ایک صاحب (جنہیں اتفاق سے میں بھی جانتاہوں)دوماہ سے قوت گویائی سے محروم ہوچکے ہیں اور نوآموز بچے کی طرح توتلے پن سے بات کرتے ہیں اور اپنی اس حالت سے اتنے پریشان ہیں کہ بولنے سے گریز کرتےہیں .تہران جاکر انہوں نے اس بارے میں اطباء سے مشہور کیا ہے جس کےمطابق دوما ہسپتال میں رہیں گے شاید صحتیاب ہوجائیں.
یہ کچھ اس لئے بینا کررہاہوں کہ کوئی شبہ میں مبتلا نہ ہوجائے او رجوشبہے میںمبتلا ہے وہ شبہے سےآزاد ہوجائےاور ہر حال میںاللہ تعاليٰ کو یادر کھے .مختصر یہ کہ علوم کسبی میں درس ومطالعہ میں کوشش ضرور کریں لیکن اس کے فہم کی امید صرف اللہ تعاليٰ سے رکھیں.
نوریقین کسبی نہیں ہے:
حدیث شریف“ “لیس العلم بکثرة التعلم إنما هو نور یقذفه الله فی قلب من یشاء أن یهدیه ”علم بہت زیادہ بڑھنے پڑھنا سے نہیں آتا بلکہ وہ ایک نور ہے جسے اللہ تعاليٰ اس شخص کے دل میں ڈال دیتاہے جسے وہ ہدایت کرنا چاہے.مقام یقین اور اللہ تعاليٰ اس کے اسماء وصفات اور رورز جزاء کا علم غرض کہ علوم الہيٰ کاخزانہ صرف اللہ تعاليٰ کے فیضان کرم سے حاصل ہوتاہےاور محنت اور کوشش جتنی بھی آپ کرلیں علم کا وہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ صرف عطیہ خداوندی ہے جو بقدر ظرف طالب کو ملتاہے.“فسالت اودیة بقدرہا”وادیاں اپنی وسعت کےمطابق پانی کی مقدار لیتی ہیں.
اللہ تعاليٰ بندہ پر ورہے:
آپ کے سب کام ایسے ہونے چاہئیں کہ اللہ تعاليٰ ہرحال میں یادر ہے آپ کو یقین ہونا چاہئے کہ آپ کا عمل اثروالاہے .دعائے افتاح میں کیا خوبصورت جملہ ہے کہ “اعطانا فوق رقبتا”اس نے ہمیں ہماری طلب سے زیادہ عطافرمایا،نماز جماعت آپ اس کی رحمت کی امید اور اس کے توکل پر ادا کرتے ہیں حج کو جاتے ہیں توبھی اسی کے فضل وکرم کے بھروسے پرلیکن اگر نماز جماعت ادا کرنے اور چند بارحج کرنے سےآپ نے خود کو جنت کامالک سمجھ لیا اور جنت کو لازمی طور پرنماز جماعت اور حج کامعاوضہ سمجھاتو جان لیجئے کہ کام خراب کرلیا کیونکہ یہ مزدوری نہیں جوعمل کی مقدار کے مقالے میں لاماً ملتی ہے بلکہ یہ اللہ تعاليٰ کی رضا اور اس کی مشئیت پرمنحصر ہے کہ کسی کی محنت قبول ہوتی ہے.
روایت ہےکہ جنت کی ایک بالشت کی قیمت ساری دنیا ومافیہا ہے بہشت ایسی چیز نہیں ہے کہ جو آپ کےخیال کے مطابق اتنے سےعمل اور اس پر جاہلانہ غرور کےمعاوضےمیں خرید ی جاسکتی ہے .یہ بھی بحث طلب ہے کہ کیا جنت آپ کےکوہ نما عظیم اور صحیح اعمال کے بدلے میں بھی عدل الہيٰ کے مطابق آپ کو مل سکتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ آپ اور آپ کی ہرچیز اور آپ کی توفیق اطاعت بھی کچھ اسی کادیاہواہے اور اگر بالفرض معاوضہ بھی ہوتوکسی ایسی چیزکا ہو جوآپ کی اپنی ہو آپ کا یہ انداز فکر درست نہیں. پس چاہئے کہ آپ کی امید اور آپ کا توکل خداپر ہو.پروردگار!بحق محمد وآل محمد ہمیں ہمیت عطا فرما اور ہر مقام پر ہماری مدد فرما اور ہمیں صحیح معنوں میں اہل توکل و اخلاص بنا.
رکن چہارم
اخلاص
مجلس۲۴
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم - قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلى شاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدى سَبیلا
عمل اور خلوص نیت:
بارگاہ خداوندی میں اگر کسی چیزکی کوئی قیمت ہے توصرف خلوص نیت کی.ارشاد نبوی ہے“انماالاعمال بالنیات”اگر نیت رضائے الہيٰ کے حصول کی ہے اور عمل بھی اسی کی خوشنودی کے لئے انجام دیا جارہا ہے تو یہ چیز بلندمقام تک رسائی کی ضامن ہے.لیکن اگر نیست شیطانی ہو یا خالصتاً رحمانی نہ ہو تو دل و زبان پر رکھ“قربةالی اللہ”کاورد ہو اور ظاہریت بھی متاثر کن ہو،اس سے کوئی فائدہ نہیں ایساشخص کل قبر سے خالی ہاتھ اٹھے گا اور نامہ اعمال بھی اس کا کورا ہوگا.لیکن اگر صرف انسان کی نیت اخلاص پرمبنی ہوتو باقی سب کچھ خود بخود ٹھیک ہوجاتاہے.
اس موضوع پر جو آیہ شریفہ ہم نے پیش کی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب فرمادیجئے کہ ہرشخص کاعمل اس کے شاکلہ کے مطابق ہوتاہے .آپ کا پروردگار خوب جانتاہے کہ سب سے زیادہ ہدایت یافتہ کون ہے...
اب “شاکلة”کے معنی پر غور کیجئے اس کامعنی خصلت یا افتاد طبع ہے تو مطلب اس آیہ شریفہ کا یہ ہوا کہ ہرشخص اپنی خصلت یا افتادطبع کے مطابق کام کرتاہے جیسی اس کی خصلت یاافتاد طبع ہوگی ویسا ہی عمل بھی اس سے سرزد ہوگا اگر اس کی خصلت طبع رحمانیت اور صالحیت سے متاثر ہے تو اس کے بارے اعمال خیرورحمت ہوں گے اور پھر اگر ان میں کوئی کمی بھی رہ گئی ہو تو بھی وہ بارگاہر الہيٰ میں مقبول ہوجائیں گے لیکن اگر اس کی خصلت “شاکلہ ”خبرا ب اور شیطانی ہوئی اور مادہ پرستی ،دنیا طلبی اوربداندیشی پرمبنی ہوئی تو اس کے سارے اعمال ضائع اور سب دعوے ناکارہ ہوجائیں گے .لہذا سب سے پہلے اس شاکلہ یا افتاد طبع کو درست کرنا ضروری ہے تا کہ اس پر جس عمل کی بھی بنیاد رکھی جائے اس کاانجام اچھاہو.
اب آئیے غور کرتے ہیں کہ انسانی شاکلہ کو درست کرنے کا کیا طریقہ ہے اور کہ یہ شاکلہ کس وسیلے سےرحمانی بنتاہے ہم اسے سادہ الفاظ میں بیان کرتے ہیں.
دوراہے پر:
ہر انسان فطری طورپر خیزوشر کے دوراہے پر خلق کیاگیا ہے.اپنی ذات میں نہ وہ نیک ہے نہ بد بلکہ ایک صاف،بے نقش اور کرے صفحے کی مانند ہے جس پر جس طرح بہترین تحریر لکھنا یا حسین ترین نقش بناناممکن ہے اسی طرح اس پربدترین شکلیں،شیطانی تحریریں یامکروہ ترین ڈھانچے بھی نقش کئے جاسکتے ہیں مفید و ہدایت بخش مضامین بھی لکھے جاسکتے ہیں .اورمضر اور گمراہ کن باتیں بھی تحریر کی جاسکتی ہیں.انسان ابتداہیں سے رحمانی وشیطان .دنیاوی واخروی او رمادی وروحانی اعمال کے دوراہے پر ہے جس طرف بھی وہ راغب ہوتاہے اس کا شاکلہ بھی اسی طرف مائل ہوجاتاہے ہر حرکت جو اس سے سزد ہوتی ہے،ہر چیز جسے وہ دیکھتاہے یاکانوں سے سنتاہے حتيٰ کہ وہ لقمہ بھی جواس کے حلق سے نیچے اترتاہے ،سب کی سب چیزیں اس کی شاکلہ سازی کرتی ہیں ہر لفظ جوزبان سے نکلتاہے شاکلہ پراثر انداز ہوتاہے اور حقیقت ذات اس سے متاثر ہوتی ہے ہرچیز کا اولین اثر انسان کے نفس پرہی ہوتاہے.
اگر آپ نے کسی کے ساتھ بدزبانی کی یاآپ کسی کی اذیت کا خیال دل میں لائے تو اس سے سب سے پہلے آپ کی اپنی ذات متاثر ہوگی اس علم سے آپ حق وحقیقت سے دور ہوجائیں گے اور اپنےشاکلہ میں شرکو اثر اندا ہونے کاموقع فراہم کریں گے پھر آپ چاہئے کتنی ہی نماز یں پڑھیں لیکن نیت خالص اور اہتمام صادق کے ساتھ پورےحسن وخوبی سے ادا کی گئی نماز جیسی نہ ہونگی کیونکہ جب شاکلہ ہی خراب ہو تو نیت صادق سے اس پیدا نہیں ہوسکتی
روٹی کا ٹکڑا حلال ہو یاحرام،پاک ہو یا ناپاک جب آپ کے حلق سے نیچےاترتا ہے ،آپ کے شاکلہ پرپوری قوت سےاثر اندااز ہوتاہے اور اگروہ لقمہ حرام ہے تو رفتہ رفتہ شاکلہ طبع کو شیطانی بنادے گا او رجب شاکلہ شیطنت پر متشکل ہوگیا تو پھر ہرصادر ہونے والافعل شیطانی بن جائے گا.
قعر جہنم یا درجات بہشت:
انسانی اعمال سے شاکلہ کی تاثیر پذیر ی ابتداء میں اگرچہ بہت معمولی ہوتی ہے لیکن سن بلوغ کو پہنچ کر اس کی باقاعدہ تشکیل شروع ہوجاتی ہے اگر اس وقت زبان آنکھ،کان،پیٹ وغیرہ بند ہدایت سےآزاد ہو گئے اور ہوائے نفسانی کی انہونے اطاعت اختیار کرلی شاکلہ شیطانی سانچے میں ڈھل جائے گا ایساانسان اس دنیاسے رخصت ہوکر عالم ملکوت کے شیاطین کے گروہ میں شامل ہوجاتا ہےاور اس کاٹھکانا دوزخ کاآخری مقام اسفل اسافلین ہوتاہے لیکن اگر اس نے اپنی اصلاح کی کوشش کی اور چھوٹی چھوٹی حرکات پرکڑی نظر رکھی ،زبان کو قابومیں رکھا اور آنکھ یاکان کورضائےخداوندی کے علاوہ کسی امر میں نہ کھو لاتو وہ فرشتوں سے بلند مقام پاتاہے اور جنت کے اعليٰ درجات تک پہنچتاہے جہاں فرشتے اس کی غلامی پرفخر کرتے ہیں.
اس میں آپ ہی کی بہتری ہے:
یہ جو اسلامی تعلیمات میںاتنی تاکیدہے کہ مسلمان ہوس پرستی سے بازرہیں حدود شریعت کا احترام کریں اوربے لگام نہ ہوجائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالٰی کو آپ کی خوشی اچھی نہیں لگتی یا اسے آپ کی تفریح گوارا نہیں .ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ چونکہ اس سے آپ کے شاکلہ کو ضر پہچتاہے جس کے نتیجے میں آپ کے اسفل السافلین میں گرنے کا اندیشہ ہوتاہ اس لئے آپ کو نتائج بدکے حامل اعمال سے بازرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے.ہر نظر جوآپ ٹیلیویژیاسیمنار کے کسی ہیجان خیز منظر پر ڈالیں گے،آپ کے نفس پر اثربد جھوڑے گی اوررفتہ رفتہ آپ شیطان کے تسلط میں گرفتار ہوجائیں گے.اگر جلدی ہی آپ نے اس صورت حال کو درست کرلیا تو خیر ورنہ چالیس سال کی عمر کے بعد شاکلہ کا اصلاح پذیر ہونا بہت مشکل ہے.
شیطان کے کلیجے میں ٹھنڈک:
روایت ہے کہ شیطان اس چالس سال ہ انسان کی پیشانی کو چومتاہے جس کا شاکلہ بگڑچکا ہو اور کہتاہے قربان ہوجاؤں اس پر کہ جس کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے شخص کاسدھرنا ممکن نہیں.لیکن بہت مشکل ضرور ہے.یہ اگل بات ہے کہ لطف ایزدی شامل حال ہو اور دفعتاً ہی اس کا کاپاپلٹ جائے اور وہ اصلاح پذیر ہوجائے.
لہذا خود پر بھی رحم کیجئے اور دوسروں کو بھی سمجھائیے کہ شہوت پرستی اور ہوس رانی سے بچیں اور خود پر ظلم کرکے( وَ لكِنْ کانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُون ) کے مصداق نہ بنیں.
جب شاکلہ بگڑجائے تو نوبت یہان تک پہنچ جاتی ہے کہ انسان حج وزیارت سے بھی مشر ف ہوتا ہے .عزاداری امام مظلومعليهالسلام بھی کرتاہے لیکن رحمانی تقاضے سے نہیں بلکہ شیطان کی ایک اہٹ پر کرتاہے.مجالس عزا بپاکرتاہے لیکن نمودو نمائش کی یا کسی دوسری غرض سے حج و زیارات کو جاتاہے. لیکن تفریح وسیاحت یا تجارت کی غرض سے قصہ مختصر یہ کہ پھر اس ے کوئی کام بھی اخلاص سےسرزد نہیں ہوتا.
جہاد اکبر:
لہذا جہاد بالنفس کے لئے اور ہوا وہوس کی مخالفت میں یہ جو اتنی تاکید واردہوئی ہے بلاسبب نہیں ہے.اصول کافی میں مکرر نقل ہونے والی حدیث شریف آپ نے سنی ہوگی کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے محاذ جنگ سے واپسی پر صحابہ سے فرمایاکہ ہم جہاد اصغر سے تو فارغ ہوگئے ہیں لیکن جہاد اکبر ابھی باقی ہے صحابہ نے عرض کیا حضور وہ کونسا جہاد ہے تو آصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: وہ اپنے نفس سے جہاد ہے.
یعنی وہ جہاد کہ جس کا تحمل محاذ جنگ پر پہنچنے والے تیر وشمشیر کے سخت زخموں سے بھی بدرجہاد مشکل ہے اور اسی نسبت سے اس کا اجر بھی زیادہ ہے وہ یہی جہاد نفس ہے جسے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جہاد آکبر سے تعبیر فرمایا ہے.کیونکہ حرص و ہوس اور شہوات نفسانی کے طوفان میں ثابت قدم رہنے اور ان پر قابو پانے کے لئے محاذ جنگ سے کہیں زیادہ مردانگی اور ہمت وشجاعت درکار ہے.
لیکن جوانسان جہاد بالنفس میں اتنا کمزور ہو کہ حرام لقمے یا حرام نظر تک سے خود کو محفوظ نہ رکھ سکے اس میں اپنے شاکلہ اصلاح ناممکن اور مقام اخلاص تک اس کی رسائی محال محض ہے.
اصلاح شاکلہ خواہشات نفسانی پر پابندی کے بغیر ممکن نہیں.اگر آپ جاہتے ہیں کہ دل کے مضبوط قلعے کو فتح کرکے عرض الٰہی تک پہچیں(قلب المومن عرش الرحمان )تو آپ کافرض ہے کہ ہر حرام اور ہر مکروہ سے اجتناب کریں اور ہر واجب بلکہ ہر مستحب کو بھی بجالائیں(اس ضروری شرط کے ساتھ کہ آپ سے کوئی عمل ان کے منافی سرزد نہ ہو).
شاکلہ اور شریعت:
شاکلہ کی اصلاح یقیناً بہت محنت طلب کام ہے لیکن اگر شرع متین کے قوانین کی پیروی کریں اور بالکل ابتداءہی سے مثلاً والدین کے ازدواجی اختلاط،انعقاد نطفہ ،مدت حمل کےت دوران او راس کے بعد مولود کی صحیح تربیت شریعت کے احکام کے مطابق کریں تو منزل نجات ک پہنچنے کے لئے اس کی راہ آسان کرسکتے ہیں.
والدین کا فرض ہے کہ بچے کو کوئی ایسی غذا نہ دیں جس کے بارے میں انہیں یقین کامل نہ کہ حلال و طیب ہے اگر اس کےلئے دایہ کی خدمات حاصل کریں تو پہلے پوری تحقیقات کرلیں کہ وہ واقعی نیک اور پاکدامن ہے پھر جب بچہ سن تمز کو پہنچے تو پوری احتیاط کی جائے کہ اس کے سامنے بدزبانی ہو او رکوئی فعل ایسا سرزد نہ ہوجو حیا کے منافی ہو اور اس سے اس کےذہن پر برااثر مرتب ہونے کا اندیشہ ہو.
حتی کہ اگر والدین کے درمیان سوء تفاہم ہوجائے تووالدبچے کے سامنے اس کی والدہ سے ناراضگی کا اظہار نہ کرے ابتداء ہی سے کوشش کریں کہ کوئی بے ہودہ لفظ اس کےکانوں تک نہ پہنچے اسے اپنی نیکوکاری کے سائے میں رکھیں تاکہ اس کی عمر کے ساتھ کوئی برائی پروان نہ چڑھے.
بچہ سن رشد کو پہنچے تو اسے جائز خرچ کی مشق کرائیں تاکہ اسے سخاوت کی عادت پڑے اور آنے والی زندگی میں مال دنیا پر لوگوں سے جھگڑتانہ بھرے نئے لباس اور پیسوں وغیرہ کی اہمیت اس کے دل میں نہ بٹھائیں .اسے سمجھائیں کہ لباس کا مقصد صرف باعزت اور شریفانہ تن پوشی ہے.نیایا پرانا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا.
اسے ناپاک غذا نہ دیں یہ نہ خیال کریں کہ بچہ ہے اس پرکوئی تکلیف نہیں ہے .سخت افسوس کامقام ہے کہ اسے حرام غذادی جائے.خداایسے والدین پر لعنت فرمائے جو شراب نوشی پربچے کی ہمیت افزائی کرتے ہیں.کیامعلوم کل وہ اللہ تعالٰی کو کیا جوا دیں گے .وہ لوگ جو پاں بچوں کو سنیما یا فواحش کے مراکزمیں لے جاتے ہیں ان کو جان لینا چاہئے کہ بچے کے شاکلہ کی تشکیلیل و تعمیر کے لئے جو ذمہ داری اللہ تعالٰی نے ان کے سرپر ڈالی ہےت وہ اس سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں.
عفت و پاکدامنی کے منافی ہر منظر بچے کی حیاکو کم کرتاہے اسے گستاخ اور لوگوں کی توہین پربے باک بناتاہے.ایسا بدبخت بچہ بڑاہوکر اپنے نفس میں اپنے بے مروقت باپ کے چھوڑے ہوئے مفاسد کیسے دور کرسکے گا.!
جب بچہ آٹھ سال کا ہوجائے تو اسے نماز کاپابند بنائیں.اور جب دس سال کا ہو جائے تو وہ اپنے کسی بھائی یابیہ کے ساتھ ایک بستر میں نہ سوئےت اگر بارہ سال کا ہوکر بھی نمازی نہ بنے تو اس کی تادیب ضروری ہے اور اسے جسمانی سزادینی چاہئے لیکن صرف اس قدر کہ جوت اس کے شاکلۀرحمانی کی نشوونما میں معاون ہو.
آداب زناشوئ:
رحم مادر میں نطفہ قرار پانے کے وقت ہی سے احکام شرع کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے.والدین لقمۀ حرام سے پورا پرہیز کریں تاکہ نطفہ پربرا اثر نہ پڑے .وظیفہ زوجیت کے دوران خداکی یاد میں مصروف رہیں شروع میں بسم اللہ پڑیں تاکہ شیطان نطفہ میں شامل نہ ہو ماں اور باپ دونوں کے خیالات اس دوران میں رحمانی ہوں تاکہ پیدا ہونے ولاے بچے کا شاکلہ قبول رحمانیت کے لئے بہتر طور پر مستعد ہو .اگر انعقاد نطفہ کے وقت باپ پر شیطانیت غالب ہوئی تو بچے پر ضرور اثر اندزا ہوگی اور پھر اس بچے کو رحمانی سا بچے میں ڈھالئے کے لئے بہت طویل محنت در کار ہوگی لہذا والدین جتنے زیادہ رحمانی ہوں اتنا ہی بہتر ہے.
جناب زہرا سلام اللہ علیہا:
روح مجسم،صدیقہ کبری جناب فاطمہ زہرا صلواة اللہ علیما کے نطفہ طاہرہت کے انعقاد کی کیفیت کی حامل روایات پر غور کیجئے لکھاہے کہ جب اللہ تعالی کا ارادہ گیارہ ائمہ طاہرین علیہم السلا م کی والدہ محترمہ وماجدہ مخدومہ کونین حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو دنیا میں بھیجنے کا ہوا تو اس نے اس نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسا اہتمام فرمایا: کہ آپؑ کا جسم مقدس اتنا روحانی اور حمانی ہوجائے کہ روح کلی الٰہی کا متحمل ہوسکے .اور لطافت میں انسانی روح کے برابر ہو مخفی نہ رہے کہ آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اجسام مومنین کی ارواح جیسے لطیف ہیں.
اور چونکہ جناب سرورکونینصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جسم مبارک سراسر نور ولطافت ہے اور پورے طورپر رحمانی ہے اس لئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کاشاکلہ انتہائی سفا ونورانیت اور جلا ولطافت کاحامل ہوگا.
روایت ہے کہ حضور نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایکدن البطح میں تشریف فرماتھے،علیعليهالسلام اور عمار یاسر خدمت اقدس میں موجود تھے حضرت ابوبکر و حضرت عمر بھی موجود تھے جبرئیل ناز ل ہوئے اور اللہ تعالٰی کافرمان حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گوش گذرا کیا کہ آج رات سے گھر تشریف نہ لے جائیں چالیس دن تک مباح خواہشات نفسانی یعنی دن کو کھانے اور رات کو سونے اورزوجہ طاہرہ سے قربت سے بھی منع فرمادیاتاکہ شاکلہ محمديؐ لطیف سے لطیف تر،پاک سے پاک تر اور روحانی سے روحانی تر ہوجائے
حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عمار سے فرمایا خدیجہ ؑکے پاس جاؤ انہیں ہماری طرف سے سلام کے بعد پیغام دو کہ ہم چالیس دن گھر نہیں آئیں گے اور کہہ یہ غیر حاضری کسی رنجش کی بناء پر نہیں بلکہ حکم خداسےہے.
عمار نے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کاپیغام پہنچایا جناب خدیجهؑ نے جواب میں امر الہی پر اظہار تسلیم فرمایا اور جدائی پر صبر اختیار کرنے پر رضامندی کا پیغام بھیجا.وہ چالیس روز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی عمہ محترمہ جناب فاطمہ بنت اسد والدہ گرامی جناب امیر کے ہاں شب وروز عبادت الٰہی میں گذارے.
چالیسویں دن شام کو جبرئیل نازلؑ ہوئے اور اللہ تعالٰی کا حکم عرض کیا کہ آج افطار میں تاخیر فرمائیں حتٰی کہ غیب سےت افطاری کاسامان آئے نماز کےبعد جبرئیلؑ(اوران کےہمراہ میکائل اور اسرافیل بھی جومعمولاًانبیاء پر نازل نہیں ہوتے)آئے اور طعام جنت جوانگور ،کھجور اور چشمہ ہائے جنت کے پانی پر مشتمل تھا،لائے.
جناب امیرعليهالسلام فرماتے ہیں کہ کھانے کےوقت ہمیشہ آنحضرت مجھے گھر کادروازہ کھلارکھنے کی ہدایت فرماتے تھے تاکہ ہر آنے والا آپ کے ساتھ کھانے میں شریک ہوسکے لیکن اس رات آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خاص طور پر حکم دیا کہ کسی کو آپ کے پاس نہ آ نےدوں کہ اس کھانے میں کسی کو شرکت کا حق نہیں .کھانے کےبعد جبرئیل نے آپ کے ہاتھ دھالئے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارادہ فرمایا کہ روزانہ کی طرح آج بھی نافلہ شب کے لئے اٹھیں لیکن جبرئیل نے عرض کیا کہ آج نافلہ شب کی ضرورت نہیں.آپ اسی وقت(کہ مادہ بہشتی بدن مبارک میں تشکیل پاچکا ہے)خدیجهؑ کے پاس تشریف لے جائے.
جناب خدیجهؑ فرماتی ہیں کہ میں ابھی سوئی نہ تھی کہ دروازے پردستک ہوئی میں نے کہا کون ہے اس دروازے کو کھٹکھٹانے والا جسے محمدؐکے سوا کوئی نہیں کھٹکھٹا سکتا.حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا میں ہوں دروازہ کھولو.قصہ مختصر حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم تشریف لائے میں معمولاً آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وضوکے لئے پانی لاتی تھی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دورکعت نماز ادا فرماکر بستر میں تشریف لاتے .لیکن اس رات آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وضو نہ فرمایا اوربستر میں تشریف لے آئے.
اس طرح نورانی پیکر سےخالص روحانی مادہ پاکیزہ ترین رحم میں منتقل ہوا.
اس پاکیزہ نطفے کی حقیقت یقیناًعجیب ہے.جناب خدیجهؑ فرماتی ہیں میں نے فوراً محسوس کرلیا کہ استقرار حمل ہوگی ہے.دوسرے ہی دن سے جنین پاک نے اپنی مادر گرامی سے مخاطب اور حمد وتسبیح باری کا آغاز کردیا.یہ واقعات خوارق عادت ہیں اور صرف ارادہ ازدی پرمنحصر ہیں.
ہمارے مذہب کےمسلمات میں سےہے کہ روزقیامت شفاعت کبريٰ جناب زہراؑکے ہاتھ میںہوگی.
ولها جلال لیس فوق جلالها
الاجلال الله جل جلاله
مجلس ۲۵
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ. إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِین
عمل نیت سے ہے:
دین کی بنیاد اخلااص نیت پرہے .اگر اخلاص نہ ہو تو عمل لغومحض ہے.آپ کے اعمال پہاڑوں جیسے بڑے ہوں لیکن اگروہ اخلاص سےانجام نہیں دئے گئے تو روزحشران کا وزن تنکے جتنا بھی نہیں ہوگا بےاخلاص عبادات بھی ناقابل قبول ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کافرمان ہے:( وَ ما أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّین ) انہیں یہی حکم دیاگیا ہے کہ اللہ تعالٰی کی عبادت اخلاص نیت سے کریں.
شیعہ سنی کے نزدیک اصول کافی کی یہ حدیث متواتر میں سے ہے کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:“لاعمل الابالنیة”عمل کانحصار نیت پرہے.
اور دوسری جگہ حدیث پاک کے الفاظ یہ ہیں“انما الاعمال بالنیات ”نیت صادق کے بغیر اور صرف نمائشی طور پر انجام دئے گئے عمل کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ جو بھی اثرہے نیت کا نتیجہ ہے.اگر خالصتاً اللہ تعاليٰ کی خوشنودی کے لئے کوئی عمل کیا جائے تو سودمند ہے ورنہ لغو اور بے سود بلکہ اس کی رضا کے منافی عمل گناہوں کی فہرست میں درج ہوتاہے.
عبادت میں قصد قربت:
آپ خوب جانتے ہیں کہ عبادت نیت کے بغیر بےمعنی ہے ہر واجب عبادت میں قصد قربت ضروری ہے لیکن نیت صرف یہی نہیں کہ نماز ،روزہ،حج،خمس وغیرہ کے لئے چند الفاظ ادا کردئے یادل میں کہہ لئے جائیں جب آپ وضو کے ارادے سے وضوگاہ کی طرف جاتے ہیں تو یہ ارادہ ہی آپ کی نیت ہوتاہے خواہ زبان سےادا کریں یانہ کریں ،دل میں کہیں یا نہ کہیں.
اب آپ کو کسی نے اس کام پرآمادہ کیا؟اس کا محرک در اصل اللہ تعالٰی کا حکم ہے جوقربت جوئی کے وقت آپ کی نیت میں شامل ہوگیا نیت کے الفاظ زبان سے اداکردینے میں بھی قطعا کوئی حرج نہیں ہے لیکن نیت کی حقیقت وہی ادعیہ ہے جو آپ کو عمل پرآمادہ کرتاہے.لیکن اگر عمل کامحرک اللہ تعالٰی کے تقرب اوررضاجوئی کےعلاوہ کوئی امر ہو تو لاکھ آپ زبان سے قربتہ الی اللہ کاورد کیجئے،حقیقت سے اس کادور کابھی تعلق نہ ہوگا بلکہ دروغ گوئی جوآپ کے عمل کو خاک میں ملادے گی.لہذا یہ نہایت ضروری ہے کہ اولا عمل صمیم قلب اور خلوص نیت سےم ہو اور ثانیا صرف خدائے تعالٰی کےلئے ہو اور بلاشرکت غیر سے ہو.اس بارگاہ میں صرف سچائی قبول کی جاتی ہے. اگر اس میں ذارسابھی کھوٹ ہو تو سارا عمل بے کارہے.
ایک شخص اذان کہتا ہےلیکن اس سے اس کا مقصد عبادت نہیں بلکہ اپنی خوش آوازی یادینداری کی نمائش ہے تویہ کام شرعالغو اورباطل ہے اور ریاکی وجہ سے اس کے گناہوں میں شمار ہوگا بعض اوقات انسان خودشک میں پڑجاتاہے کہ آیا جوکام اس نے کیا قرب الٰہی تھا یانمائش کے ارادے سےتھا.اس کی آزمائش اس طرح ہوسکتی ہے کہ اگر کسی دوسرے شخص نے سبقت کی اور چاہا کہ آپ کی بجائے اذان دے اور آپ سےکہا کہ آپ بلاوجہ اذان دینے پربضد ہیں اور آپ نے اس سےبرامانا تو یہ دلیل اس بات کی ہے کہ آپ کی اذان دینے کی خواہش کامحرک اللہ تعالٰی کےنام کو بلند کرنے کا ارادہ نہیں بلکہ خود نمائی کا جذبہ تھا.ورنہ کیا فرق پڑتا ہے؟کیونکہ مقصد توصرف اتنا ہے کہ اذان دی جائے آپ نے نہ دی کسی اور نے دے دی .عموماً ایسا بھی ہوتاہے کہ افکار اور دعائیں بلانیت کی جاتی ہیں .اور انسان من گھڑت الفاظ میںدعا کرتاہے یہ درست نہیں ہے بلکہ دعا صرف روایت میں وارد شدہ الفاظ میں کہنی چاہئے.
نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعائے بارش:
اصول کافی میں روایت ہے کہ چند صحابہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گذار ہوئے کہ مدت سے بارش نہیں ہوئی اور دنیا پانی کوترس رہی ہے اللہ تعالی سے دعا فرمائیں کہ باران رحمت کانزول ہو.حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دست مبارک دعا کےلئے بلندکئے اورعرض کیا بار الہا بارش نازل فرما!لیکن اس دعا کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا.دوسری بار صحابہ نےباصرار دعا کے لئےعرض کیا حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دوبارہ ہاتھ اٹھائے اور کہاپروردگار دنیاباران رحمت کاسخت محتاج ہے .ان کے گناہوں کو ان کی محرومی نعمت کاسبب نہ بنا.ابھی ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ کالی گٹھا امنڈآئی اور اتنی بارش ہوئی کہ جل تھل ہوگیا.صحابہ نےعرض کیا حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم پہلی دفعہ کیوں قبول نہیں ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا:“دعوت ولم تکن لی نیة”دعا تو میںنے کی تھی لیکن پوری نیت سےنہیں.
علامہ مجلسی شرح کافی میں فرماتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہوسکتاہے کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پہلی بار مشیئت ایزدی کو مقدم سمجھتے ہوئے صرف صحابہ کادل رکھنے کے لئے دعائیہ الفاظ فرمادئے ہوں گے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آپ صحابہ کی دلجمعی او رتسکین خاطر کےلئے ان کی خواہش قبول فرمالیتے تھے.لہذا پہلی دعا صمیم قلب سے نہ تھی بلکہ صرف صحابہ کو مطمئن کرنے کی غرض سے تھی لیکن دوسری دعامیں لوگوں کی ضرورتمندی کی تصدیق فرمائی اور ان کی سفارش کی کہ ضرورتمند یہ لوگ ضرور ہیں.اگرچہ گناہگار ہونے کی وجہ سے تیرے انعام واکرام کے بہت مستحق نہیں ہیں لیکن اگر تیری مشئیت کی مصلحت ہو تو ان کو بچالے.اس سے ظاہر ہوا کہ صرف صمیم قلب ہی سے کی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے.
بےخلوص ظاہرداری:
آج کل بے خلوص اور رسمی آوبھگت ہمارے عوام میں رائج ہے جوصرف زبان بازی تک محدود ہوتی ہے .مثلاً آپ خوب جانتے ہیں فلاں شخص آپ کابدخواہ دشمن اور آپ کےخون کاپیاسا ہے لیکن جب آپ سے مخاطب ہوتاہے تو باور کرانے کی کوشش کرتاہے کہ آپ کادوست اور خیرخواہ ہے.کیاآپ کو اس کی یہ منافقت بری نہیں لگتی؟ظاہریت اور فریب سب کو برالگتاہے اور بے خلوص اور نمائشی اظہار دوستی کوکوئی بھی پسند نہیں کرتا تو پھر کیا اللہ تعاليٰ جوہر ظاہر وپوشیدہ کادناہے ،اسے پسند فرمائے گا؟جب آپ اللہ اکبراس یقین سے کہیں گے کہ وہ واقعی عظیم ہے،اسے صحیح معنوں میں کائنات کی ہربڑی سے بڑی ہستی سے برتراوربزرگ ترمانیں گے اور اس کی عظمت وجبروت سےمتاثر ہوکر یہ الفاظ کہیں گے توعبادت ہوگی ورنہ یہی الفاظ اس کے غیظ وغضب کاباعث ہونگے.
حمد اور شکر نعمت:
الحمد للہ کہنا بھی جبھی معقول ہے کہ تہ دل اور خلوص نیت سے اللہ تعالٰی کی حمد وثنا کرنا مقصود ہو.جب بھی اس کی طرف سے کسی خیرکانزول ہو تو ضرور الحمد للہ کہنا چاہئے بعض اوقات الحمد للہ کہنا ذربرابر بھی قدر وقیمت نہیں رکھتا .خصوصاجب یہ لفظ ظاہر داری کے طور پر کہاجائے کیونکہ اگر آپ منعم حقیقی صرف اللہ تعالٰیکو سمجھتے ہیں تو پھر زید،عمر و،خالد وغیرہ سے بھی خوشامدکیوں کرتے ہیں.اگر سب تعریف کے لائق صرف ذات باری تعالٰی ہی ہے توپھر آپ دوسروں کی حمد وثنا میں کیسے رطب اللسان ہوسکتے ہیں.اس سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ آپ کا الحمد للہ کہنا محض دکھاوا اور ظاہر داری ہے .لیکن اللہ تعالٰی آپ کے دل سے خوب واقف ہے اور دہ آپ کے حال کو آپ سے بہتر جانتاہے.
بے بیناد دعويٰ:
اگر آپ کا فرزند زبان سے توآپ کی اطاعت وفرماں برداری کادم بھرے او رحقیقت میں مکمل طورپر نافرماں اور سرکش ہو اور آپ جانتے بھی ہوں کہ وہ جھوٹا ہےت اور آپ کو اس کا تجربہ بھی بارہاہوچکا ہو تو آپ اس فرزندسے دی طورپر راضی ہوں گے جس کے قول وفعل میں اس قدرتضادہو.زبان سے تو کہے کہ میرےہیں جوکچھ بھی ہے آپ کا ہے لیکن بوقت ضرورت بہانہ سازیوں پر اترآتاہو.اگر آپ ایسے فرزند سے راضی نہیں ہوسکتے تو کیااللہ تعالٰی آپ سے آپ کی تمام ترمنافقتوں او رفریب کاریوں کے باوجود کبھی راضی ہوسکتاہے؟یقیناً نہیں.
فریب جائز نہیں:
ایک بزرگ کافرمان ہے کہ آپ لوگ دنیاوی معامعلات میں ظاہر داری اورفریب کو ناپسند کرتے ہیں مثلاً معمار کو آپ نے ہدایت دی کہ ایسامکان بنائے جوہر طرحسےمضبوط اور پائدار ہو.لیکن جب وہ اسے تیارکرکے آپ کے حوالے کرتاہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس نے تعمیر میں پختہ اینٹ کی بجائے کچی اینٹ لگائی ہے اور بوہے کی بجائے اس میں لکڑی استعمال کی ہے لیکن اس کی ظاہریت کورنگ روغن سے خوب سنوار ہے آپ یقیناً کہیں گے کہ یہ ظاہرفریب عمارت مجھے درکارنہیں.
یامثلاً آپ نے گھر میں حلوا پکانے کی فرمائش کی .تیارہوکر جب آپ کے سامنے آیاتوچکھنے پر آپ کومعلوم ہوا کہ بد مزہ ہے اور میٹھابھی نہیں.تو آپ کے گھرواے لاکھ کہتے رہیں کہ دیکھو تو اس کارنگ کتنا خوبصورت ہے خوشبو کیسی اچھی ہے لیکن آپ ان باتوں کو قبول نہیں کریں گے اورکہیں گے کہ اگر حلواہےتو اس کی مٹھاس کہاں ہے؟
توجب آپ دنیاوی کاموں میں فریب کو پسند نہیں کرتے اور اگر ان میں سچا ئی نہ ہو تو قبول نہیں کرتے تو کیا خدائی معاملات میں یہ توقع رکھ سکیں گے کہ آپ کی بے حقیقت ظاہرداری اس کی بارگاہ میں قبول ہوجائے گی؟.
بدنصیبی یہ ہے کہ ہم اپنے عیوب کو تسلیم کرے پرتیار نہیں ہیں ہمیں بہت پسند ہے کہ لوگ ہماری تعریف کریں اور جھوٹ بول کر ہمیں اچھا ثابت کریں.نفسانی نفس اتنا پستت ہے کہ جھوٹ سے خوش اور سچ سےناراض ہوجاتاہے.
دل کی اصلاح ضروری ہے:
عاقل وہ ہے جو پہلے اپنے مرض کو سمجھ لے اور پھر اس کے علاج کے درپے ہو .اگر مرض سےجاہل رہے گا تو غلط علاج سے ہلاک ہوگا.ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ بارگاہ خداوندی میں نیت صادق کے سواکوئی چیزی قابل قبول نہیں کیونکہ“ان اللہ ینظر الی قلوبکم لااليٰصورکم”اللہ تعالٰی آپ کے دلوں کو دیکھتاہےت نہ کہ آپ کی صورتوں کو.
پس اگر آپ کے دل میں حب دنیا کامرض ہے تو اس کا علاج کریں اور اس کے رحجانات و میلانات کی اصلا کریں.ایسانہ ہو کہ خودبینی اور خود پرستی کی وجہ سے آپ کے سب کام خراب ہوجائیں.
لہذا اگر آپ قلب صمیم اورنیت سلیم کےمالک ہیں تو زبان کی لغزش سے کوئی فرق نہیں پڑتا حتی کہ فقہی مسائل میں بھی مثلا آپ نے نیت نماز مغرب کی ہے لیکن زبانت سےنماز عشاکہہ دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ معیار ومیزان آپ کا دل اور آپ کی نیت ہے.
جنگ جمل اور اصحاب علیعليهالسلام :
روایت ہے کہ جنگ جمل کے دوران جناب امیرعليهالسلام کے ایک محب نے آہ بھر کرکہاکاش اس جہاد میں میرابھائی بھی میرے ساتھ موجود ہوتا.(اس کا بھائی شیعیان علیعليهالسلام میں سے تھا لیکن سو،اتفاق سے رکاب امامعليهالسلام میں جہاد کی سعادت سے مشرف نہ ہوسکا تھا).آپعليهالسلام نے پوچھا “اہويٰ اخیل معنا؟”کیاتمہارے بھائی کی خواہش ہمارے ساتھ ہے،یعنی کیاوہ پورے صمیم قلب او راخلاص نیت سے ہمارے ساتھ اس جہاد میں شرکت کامتمنی ہے؟اس نےعرض کی جی ہاں بخدا .آپعليهالسلام نے فرمایا فکرمت کرووہ ہمارے ساتھ ہی ہے.یعنی وہ اپنی سچی نیت کی وجہ سے ہماری رفاقت میں ہے.بلکہ آپعليهالسلام نےیہان تک فرمایا کہ بہت سے ایسے بھی ہمارے ساتھ اس جنگ حق وباطل میں شریک ہیں جوابھی تک اس دنیامیں آئے بھی نہیں اور ابھی والدین کی پشتوں میں ہیں.ظاہرہے کہ شرکت صرف نیت اور عزم قلبی کے اعتبار سے ہے.
اللہ تعالٰی صدق نیت عطا فرمائے:
ہم اللہ تعالٰی سےنیت کی سچائی طلب کرتےہیں اپنے امام زمانہعليهالسلام کی اقتدار کرنے میں اور دعامیں عرض کرتے ہیں.“اللهم ارزقنا توفیق الطاعة و بعد المعصیة و صدق النیة ”بار الہا ہمیں اطاعت کی توفیق گناہوں سےدوری کی ہمت وطاقت اور صدق نیت کی نعمت عطافرما.
بعض اوقات ایسا ہوتاہےکہ انسان اطاعت خداوندی میں مصروف ہوتاہے لیکن اس کی حرکات ہوائی نفس کے ایماءپر ہوتی ہیں.اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ عبادت کررہاہے لیکن اس کی حرکات اخلاص نیست کی نہیں بلکہ ہوائے نفس کی تابع ہیں.وہ سمجھتاہے کہ وہ قربة الی اللہ کام کررہا ہے لیکن در اصل اسے قریب شیطانی حاصل ہے.اے پروردگار.شرابلیس اور ہوائے نفس ے ہماری حفاظت فرما.
مجلس ۲۶
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ. إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِین
دشمن ایمان و عمل:
ہماری بحث کا موضوع اخلاص تھا ہم نے بیانکیا کہ اخلاص گناہوں سے بچنے کے لئے ایک مضبوط اور محکم پناہ گاہ ہے.اگر کوئی شخص شیطان کے شرسے محفوظ رہنا چاہئے تو اس کےلئے اس کے ہوا کوئی چارہ نہیں کہ راہ اخلاص کو طے کرے کیونکہ اس منزل کو پائے بغیروہ شیطان کے ہاتھوں یک گیند کی طرح ہے.
انسان کے دین وایمان کو غارت کرنے والاشیطان ہی ہے اور اگر غارت نہیں تو خراب تو ضرورہی کردیتاہے اور آخرت کے لئے ذخیرہ کئے ہوئے اعمال کوبھی ضائع کردیتاہے.وہ ہمارا دشمن ہے لہذا ہمیں بھی اس کے ساتھ دشمنی رکھنی چاہئے( فاتخذوه عدوا ) یہ دشمن بڑا طاقتور ہے ارو ہر دم ہمارے دین ودل پر حملہ آور ہونے کی کوشش میں ہے لہذا ہمیں اہل اخلاص بننا چاہئے تاکہ شرشیطان کی آماجگاہ نہ نہیں.
اخلاص کمال توحیدہے:
نہج البلاغہ کے خطبہ اول میں امیرالمؤمنین حضرت علیعليهالسلام گوہربار ملاحظہ ہوں ارشاد فرماتے ہیں“أَوَّلُ الدِّینِ مَعْرِفَتُهُ وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِیقُ بِهِ وَ كَمَالُ التَّصْدِیقِ بِهِ تَوْحِیدُهُ وَ كَمَالُ تَوْحِیدِهِ الْإِخْلَاصُ لَه ”.دین کی بیناد اللہ تعالٰی کی معرفت ہے،اس معرفت کاکمال اس کی خالقیت مطلقہ کی تصدیق ہے اور روزجزاء پر اعتقاد کامل ہے جوپیغمبر ان خداکی دعوت کی بنیاد ہے.تصدیق کا کمال توحید (پرایمان)ہے اور توحید کاکمال اخلاص ہے یعنی اسے وحدانیت اور ربوبیت کے تمام مظاہرمیں یکتا ولاشریک ماناجائے.
اگر ہمارا اور ساری موجودات کا رب ایک ہی ہے تو اس کے غیر سے ہماراکیا تعلق ہے اور کسی اور کوہم کیوں کار سازوکارفرما سمجھتے ہیں.اگر وہ واقعی ہمارا عقیدہ ہے کہ “لا الہ الا للہ بیدہ الخیر”.کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ،ہرخیراس کے دست قدرت میں ہے،سارے کام اس کی مشئیت پر منحصر ہیں ہر مشکل کاحل اسی کے پاس ہے ہر تکلیف کادور کرنے والا صرف وہی ہے اور“یاکاشف الضرو الکرب” کے الفاظ سے صرف اسی کو پکاراجاتاہے تو پھر ہمین یہ حق نہیں ہے کہ اس کے سوا کسی اور کے سامنے دست سوال درازکریں کیونکہ یہیں سے ریائی ابتداء ہوتی ہے اور جب انسان یہ سمجھنے لگتاہے کہ مخلوق سے بھی حاجت روائی ممکن ہے او راہل دنیا کی نظروں میں عزت کا حصول بھی فلاح کاضامن ہے تو وہ توحید سے بے گانہ ہوجاتاہے،اس کے سامنے شرک یا خدا کی راہ ہموار ہوجاتی ہے اور اس کی نیت میں شیطنت گھر کرلیتی ہے.
اگر ہم موحد میں تو ہماری دعا کا مخاطب صرف اللہ تعالٰی ہونا چاہئے .جب ہم اسے حاضرناظر سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہئے چہ جائے کہ اس کی طرف سے جس عمل پرہم مامور میں اس میں اس کے غیرکوبھی شریک کریں.یہ جائز نہیں کہ فعل واجب کی ادائیگی کی دوسروں کے سامنے نمائش کریں کہ ہماری تعریف ہوہمیں اپنے رب سے شرم آنی چاہئے اور ڈرنا چاہئے کہ مبادا اس کی غیرت جوش میں آجائے اور اس کے قہر وغضب کی بجلی ہمیں جلاڈالے اگر “کمال التوحید الاخلاص للہ”پرہمارا ایمان ہے اور ہم واقعی اسے اپنا پالنے والا اور اپنے تمام امور میں ولی التوفیق سمجھتے ہیں تو اس کے غیرسے ہمیں وابستہ نہیں ہونا چاہئے دوستی کے بارے میں بھی ہمیں موحد ہونا چاہئے اور ہمارا تمام ترتعلق صرف خدا اور اس کی رضا سے ہونا چاہئے.
بہت سے لوگ اخلاص کے مدعی ہیں:
انسان کے بیشترت اعمال اخلاص کے منافی ہیں.اگر رازق صرف خدائے تعالٰی ہے اور دینے والا،لیں والا،لانے والا،لے جانے والا وہی ہے اور تمام خیرات اسی کے دست قدرت میں ہیں تو ہم اسباب کو کیوں مؤثر کل سمجھتے ہیں اور جب زندگی میں کوئی نشیب و فراز آتاہے تو اللہ تعالٰی کی قضا وقدرپر کیوں اعتراض کرتے ہیں .یہ یہ امربڑا وقت طلب ہے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انسان ساری عمر اپنے آپ کو مخلص سمجھتارہتاہےلیکن جب وہ فناکی “دھلوان پر پہنچتاہے تو اس کی آنکھیں کھلتی ہے ،پھر ایسے معلوم ہوتاہے کہ اس کی ساری عرم اللہ تعالٰی سےعدم اخلاص میں گذرگئی بہت سے ایسے بھی ہیں جو بہت سے خداؤں کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے باجود خودد کو موحد کہتے ہیں.
ایک شخص نے ایک رات ارادہ کیا کہ مسجد میں جائے اور ساری رات یک سوئی اور خلوص نیت سے اللہ تعالٰی کی عبادت کرے نرم و گرم بستر چھوڑکروہ مسجد میں چلاگیا ارو وہاں چٹائی پر عبادت میں مصروف ہوگیا.گچھ دیر کے بعد تایکی میں ایک آوازاس کے کانوں سے ٹکرائی وہ سمجھا کہ ضرور کوئی دوسرا آدمی،بھی مسجد میں عبادت میں مشغول ہے.اس نے سوچا کہ یہ بہت اچھا ہوا صبح جب وہ مجھے دیکھے گا تو لوگوں سے میراذکر کرے گا کہ میں ساری ساری رات عبادت میں مصروف رہتاہوں چنانچہ اس نےارو زیادہ ذوق وشوق اورخشوع و خضوع سےعبادت شروع کردی ارو اپنی آواز میں بھی مزید عاجزی او رزاری پیدا کرلی اور اسی حالت میں صبح کردی جب شب کی تاریکی رخصت ہوئی تو اس نے دیکھا کہ مسجد کے کونے میں ایک تا دبکابیٹھا ہے جو غالباًبا ہر کی سردی سے بچنے کے لئے مسجد میںآگیا تھا معلوم ہوا کہ اس نے ساری رات کتے کی خاطر عیادت کی یایوں سمجھئے کہ اسی کی پرستش کی.
شیطان کی فریاد:
اگر آپ اہل اخلاص ہیں تو آپ کا سروکارصرف اسی کی ذات سے ہونا چائے اور صرف اسی کو اپنا کار سازا و اپنے جملہ امور میں کرکار فرما سمجھیں .جاہ و مال دنیا کو اپنی نیت پرہرگز اثر انداز نہ ہونے دیں کیونکہ عزت و ذلت کا مالک صرف وہ ہے،مرض وشفا کاناز کرنے ولابھی وہی ہے اور سب امور کی بازگشت اسی کی طرف ہے( أَلا إِلَى اللَّهِ تَصِیرُ الْأُمُور ) .
اخلاص ایمان کی اس منزل کو پہنچاہوا انسان جب مسجد میں داخل ہوتاہے تو شیطان کی جان پہ بن آتی ہے اور وہ نالہ و فریاد شروع کردیتاہے.
لیکن یہ مقام بڑامشکل اور محنت طلب ہے یہ بڑی مردانگی کا کام ہے کہ انسان شیطان سے الجھ جائے اور نفس امارہ اور ہوا وہوس سے جہاد اکبر کرے حتی کہ اہل اخلاص بنے جس کے بغیر پہاڑوں جیسے بڑے بڑے اعمال، ہباءً منثورا، ہوجاتے ہیں.
تین گروہوں کا حساب کتاب:
اس ضمن میں ایک روایت عرض کی جاتی ہے محجة البیضاء میں لکھا کہ روزقیامت سب سے پہلے تین گروہوں کا حساب کتاب ہوگا.
پہلاگروہ علماء کا ہوگا.اللہ تعالٰی ان سے سوال فرمائے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کیا اور جو علم ہم نے تمہیں دیاتھا اس کوکیسے استعمال کیا؟وہ کہیں گے پروردگار توشاہد ہے کہ ہم نے علم کو دنیا میں پھیلایا ،تعلیم و تدریس میں مصروف رہے کتابیں تصنیف کیں ارو لوگوں کی راہنمائی کی جواب میں کہاجائے گا تم جوٹ بولتے ہو کیونکہ یہ سب کچھ تم نے اس لئے کیا کہ لوگ تمہیں علامہ کہیں اور بڑا دانشمند سمجھیں یہ نمائش تھی اور اس کا معاوضہ تم لوگوں کی تعریف وتحسین کی شکل میں وصول کرچکے ہو اب ہم سے کیا چاہتے ہو.
دوسرا گروہت مال داروں کا ہوگا.ان سے پوچھا جائے گا کہ ہمارے دئے ہوئےت مال کو تم نے کیاکیا .وہ جواب دیں گے اے اللہ تو شاہد ہے کہ ہم نے اسے تیری راہ میں خرچ کیا،اعمال خیر انجام دئے ،فقراء کی دستگیر ی کی اور اس بارے میں کوئی حسرت اپنے ساتھ قبر میں نہیں لے گئے.انہیں جواب دیاجائے گا کہ جھوٹے ہو،تم نے اس لئے خرچ کیا کہ لوگ تمہاری تعریف کریں تمہیں سخی کہیں اور تمہارانام اخبار اور ریڈیوکے ذریعے شہرت پائے تم اپنے عمل کامعاوضہ دنیاہی میں وصول کرچکے ہو اب ہم سے کیا چاہتے ہو؟روایت میں آیاہے کہ روزقیامت سات گروہ عروش الهٰی کے سائے میں ہوں گے جن میں سے ایک ان لوگوں کا ہوگا جوپوشیدہ سخاوت کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ ان کےدوسرے ہاتھ تک کو خبر نہیں ہوتی اور خدا کے سوا ان کے اس عمل کو کوئی نہیں دیکھ سکتا.حضرت امام زین العابدینعليهالسلام جب اللہ کی راہ میں مال دیتے تو عباکو سرتک اوڑھ لیتے او رچہرہ مبارک چھپالتے تاکہ آپ کو کوئی پہچان نہ سکے حتی کہ بعض اوقات وہ لوگ بھی جن کی آپ نےمدد فرمائی ہوتی شکایت کرتے کہ آپ نے ہماری مدد نہیں کی کیونکہ مدد کے وقت انہیں اندازہ نہیں ہوسکا تھا کہ منعم کون ہے.
لہذا انسان خواہ لاکھوں روپے خرچ کرڈالے،اگر نمائش یانام ونمودکےلئے کرے گا تو پرکاہ جتنی بھی اس کے عمل کی قیمت نہ ہوگی.
تیسرا گروہ معرکہ جہاد میں شہیدنے والوں کا ہوگا .ان سے سوال ہوگا کہ تم نے دنیا میں کیا کیا؟تو وہ کہیں گے بارالہا تو خوب جانتاہے کہ ہم نے تیری راہ میں جان دی .زخم کھائے اور اذیتیں اٹھائیں.جواب میں کہا جائے گا تم میدان جہاد میں ہمارای راہ میں شہادت سے زیادہ اپنی شجاعت کی نمائش کے لئے گئے تھے اور تمہارا اصل مقصد مال غنیمت کا حصول تھا تم نے خالصتاًہماری راہ میں جان نہیں دی.بعض اوقات ایک شخص قرآن مجید بہت اچھا پڑھتا ہے لیکن گویوں کی طرح قرآن مجید کو گاتاہے تاکہ اپنی آوازہی کی نمائش کرے اس کابھی آخرت میں کوئی حصہ نہیں.
روایت میں ہے کہ ایک شخص کو اس بارے میں خوف محسوس ہوا اور اس نے حضرت امام صادقعليهالسلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی کہ مولا میں اپنے گھر میں قرآن پاک کی تلاوت کرتاہوں جسے میر ے اہل وعیال سنتے ہیں لیکن بعض اوقات میری آواز گھر سے باہر بھی چلی جاتی ہے جسے راہگیربھی سنتے ہیں .اس بارے میں کیا ارشاد ہے؟آپ نے فرمایا درمیانہ آوازسےپڑھو تاکہ ریا میں شمار ن ہو.
شاید اس میں یہ نکتہ ہے کہ انسان اپنے اہل وعیال کے لئے تو ریاء کر نہیں سکتا(الایہ کہ برےدرجے کا احمق ہو).
آپعليهالسلام نے اسے درمیانہ آواز سےتلاوت کرنے کے لئے اس غرض سے ارشاد فرمایا کہ اس کے اہل وعیال بھی سن سکیں اور گھرسے باہر بھی اس کی آواز نہ جائے کہ ریا سمجھی جائے.
یہ عجیب بات ہے کہ تاوقتےکہ انسان اخلاص کے قلعہ میں پناہ نہ لے شرشیطان سے محفوظ نہیں ہوسکتا اور شیطان کی زد میں رہتاہے .یہ مقام ہے جہان انسان صمیم دل سے دعا کرتاہے.( أَمَّنْ يُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذا دَعاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوء ) اے وہ ذات اقدس جومصیبت کے ماروں کی فریاد سنتی ہے اور ان سے مصیبت کو رفع فرماتی ہے.اے اللہ مشکل بہت بڑی ہے اور ہم اتنے غافل اوربے پرواہ ہیں تیری نظر کرم ہی اس صورت حال کی اصلاح فرماسکتی ہے ہم اتنے فریب خوردہ ہیں کہ عدم اخلاص کاشکارہونے کے باوجود خود کو اللہ تعالٰی کی مخلص بندگان میں شمار کرتے ہیں .ایک دفعہ حجاب اٹھ جائے اور موت کامنظر اور بعدالموت کی منزلیں ،عالم برزخ وغیرہ سامنے آجائے تو معلوم ہوکہ ہم کسی مہلک غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ اپنے آپ کو سلمان ثانی سمجھے بیٹھے تھے.
ساری عمراس خوش فہمی میں رہے کہ ہم کربلائے معلی اور مشہد مقدس کے زوارمیں سے ہیں لیکن یہ کیازواری تھی کہ زیارت کی زیارت اورسیاحت کی سیاحت !دل ادا س ہوا ور دنیا کے کاموں میں سےتھک گئے تو چلو تفریح کی خاطر زیارت ہی سہی .اس میں کوئی نہیں کہ زیارت ایک بڑی سعادت ہے جسے ترک نہیں کرنا چاہئے لیکن ہمار مطلب یہ ہے کہ اس کی تحریک اخلاص نیت کی طرف سےہونی چائے .روزمرہ کامشاہدہ ہے کہ ایک شخص حج کو اس لئے جاتاہے کہ نہ گیا تولوگ طعنے دیں گے یا اس مقصد سے جاتاہےکہ نام کے ساتھ حاجی کااضافہ ہوجائے ارو اس لقب سے اسے دنیاوی فائدہ حاصل ہو یا سفر حج میں تجارت کرسکے اور ایسی سوغاتیں لائے جن کی فروخت سے حج کی خرچ ہوئی رقم سے کئی گناوصول ہوجائے .مختصر یہ کہ نیت خالص کاوجود نہیں ہےۀمراتب اخلاص پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ اخلاص کامقام کتنا بلند ہے اور مخلصین کی تعداد کتنی کم ہے.
بلند ترین مراتب اخلاص:
شہدائےکربلاوجہ سادات شہدا نہیں کہا جاتا.ان میں دنیاوی رتبے کے لحاظ سے کمترین شہید ایک حبشی غلام ہے .عرض کرتاہےمولا میں حسب ونسب کے لحاظ سے پست اور ذلیل انسان ہوں.رنگ میراسیاہ ہے،بومیرے جسم کی ناگوار ہے.
یہ صحیح ہے کہ میں آپ پر قربان ہونے کے ہرگز قابل نہیں ہوں لیکن آپ مجھ پر احسان فرمائیے اور مجھے اپنا فدسہ قرار دیجئے.امامعليهالسلام اسے اجازت نہیں دیتے وہ روتا ہے اور عرض کرتا ہے.مولا میں خوش حالی میں آپ کے دسترخوان کاریزہ چین رہا،اس سختی کے عالم میں آپ کو کیسے چھوڑدوں قصۀ مختصر کہ اتنی عاجزی سےاصرار کرتا ہے کہ امام مظلوم کواجازت دینا ہی پڑتی ہے.اور وہ شہادت کی سعادت سے مشرف ہوتاہے .اس سے بہتر اور خالص ترعمل اور کیا ہوگا.
مجلس ۲۷
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ. إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِین
خلوص ا و رعمل خالص:
خالص وہ چیز ہوتی ہے جو کھری اور بے کھوٹ ہو اور اس میں اس کے غیر کی آمیزش نہ ہو مثلاً خالص ہونا جوصرف سونا ہوتاہے اورسونے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا.نہ اس میں تانبے کی اور نہ ہی کسی اور چیز کی کی ملاوٹ ہوتی ہے.یامثلاً خالص دودھ جس کاوصف قرآن مجید میں یوں فرمایاگیا ہے:( نُسْقِیكُمْ مِمَّا فِی بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَ دَمٍ لَبَناً خالِصاً سائِغاً لِلشَّارِبِین )
کہ ہم ان کے شکم سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکالتے ہیں جو پینے والوں کے لئے انتہائی خوشگوار معلوم ہوتا ہے.
یعنی باوجوداس کے کہ وہ خون اور فضلات شکم میں گھراہواہے پھر بھی نہ فضلات کی بوسےمتاثر ہے نہ ان کی گندگی سے مکد رہے اور نہ خون ہی کے رنگ سےمتغیر ہے.
اسی طرح عمل بھی کدورتہائے نفسانی سے غیر متاثرہونا چاہئے اور خالصتاً اللہ تعالٰی کے لئے ہونا چاہئے لہذا اللہ تعالٰی کے تقرب کے ساتھ دنیاوی طلب کی شرکت جائز نہیں ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ ایک روحانی ارم ہے جوزبان سےادا کرنے یا دل میں لانے پرمنحصر نہیں.
دنیاوی آبروبھی اسی کے ہاتھ میںہے:
عمل کے محرک کو دریافت کرنا ضروری ہے کہ کیا تقرب خالق اس کا محرک ہے یاتقرب مخلوق مثلاًاگر آپ منبر پرہو عظمت کےلئے جارہے ہیں تو کیا اللہ تعالٰی کے تقرب کے لئے جارہے ہیں یا حصول مال وجاہ کے لئے یادونوں یاتینوں کےلئے.یقین کیجئے کہ ان کا یکجا ہوناممکن نہیں کیونکہ کوئی کام یا اللہ کے لئے یاغیر اللہ کے لئے.یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے لئے بھی ہو اور غیر اللہ کے لئے بھی اور اگر پورے خلوص نیت کے ساتھ صرف اسی کے لئے انجام نہ دیاجائے اور اس میں اس کے غیر کی بھی شرکت ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کے حضور قبول نہیں ہوتا بلکہ دنیاوی مقصد بھی اس سے پورا نہیں ہوتا کیونکہ تمام انسانوں کے دل اللہ تعالٰی ے ہاتھ میں ہیں ارگ وہ چاہئے تو دنیاوی عزت بھی حاصل ہوسکتی ہے اور اگر اس کی مشئیت میں نہ ہو تو سوائے ذات کے کچھ ہاتھ نہیں آتا.
مالک دینار کاقصہ:
ابتدائےت عمرمیں ملاک دینار کاپیشہ صرافی تھا اور گذر اوقات بھی ان کی اچھی تھی.
مال میں زیادتی کےلالچ میں انہیں شام کی جامع مسجد اموی کی تولیت کی خواہش ہوئی ظاہر ہےکہ اس تولیت کے حصول سے بڑی بڑی رقوم ان کے ہاتھ لگتیں لیکن متولی بننے کے لئے از حد خلق یعنی سب سے زیادہ زاہد اور پرہیز گار ہونا شرط ہےانہیں نے تولیت کی ہوس میں اپنی ساری جائداد غرباء میں تقیسم کردی اور جامع مسجد میں گوشہ نشین ہوگئے اور جب دیکھتے کہ کوئی شخص مسجدمیں داخل ہوا ہے فوراً نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے اور خود پر خشوع وخصوع کی حالت طاری کرلیتے.
تعجب کی بات یہ تھی کہ ان کے پاس سے ہرگزرنے ولاان سے پوچھتاکہ اے مالک کیا ارادے ہیں کس چکر میں ہو،اسی حالت میں کافی زمانہ گذر گیا.ایک رات وہ اس سوچ میں پڑگئے کہ یہ میں نے کیا کیا او رمال دنیا کی حرص میں متبلا ہواکر میں کس حالت و پہنچ گیا .اپنا سارامال و متاع ہوس کی نذر کرکے آخر مجھے کیاملا.اب تو سب لوگ بھی میرے بھید سے واقف ہوگئےہیں اور مجھے جینے نہیں دے رہے میں نہ دین کا رہا نہ دنیا کا .اب تو خسرالدنیا والاخرة میرا مقدر ہوچگاہے....
اس رات انہوں نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ سچی نیت سے استغفار کیا.نمائشی عبادت سے توبہ کی او رصبح تک اللہ تعالٰی سے گڑگڑکر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہے.دوسرے دن وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ مسجد میں آنے والاہر شخص ان سے احترام سے پیش آتا اور ان سے التماس دعاکرتاہے او رسارے لوگ ان سے اظہار عقیدت وارادیت کرتے ہیں.رفتہ رفتہ سارے شام میں مشہور ہوگیا کہ مالک دینار ازہدخلق ہیں.اب لوگ ان کے پاس آئے اور انہیں مسجد اموی کے اوقاف کی تولیت انہوں پیش کی.لیکن انہوں نے جواب دیا نہ بابا بڑی مشکل سے اللہ تعالٰی کی کچھ ضا مجھے حاصل ہوئی ہے ،میرے حالات خوب سدھرگے ہیں،مجھے اب کسی چیزی کی احتیاج نہیں رہی.
وہ بدبخت انسان جو خلوص سے محروم ہو واقعی خسرالدنیا والآخرة سے دوچار ہوتاہے.
بے فائدہ عبادت:
ہم کہہ چکے ہیں کہ عبادت کی قبولیت خلوص سے مشروط ہے اور وہ عبادت جو خلوص سے عاری ہو قطعا بیکار ہے.پست ترین اور بدترین عبادت وہ ہے جس کے ذریعے انسان خالق اور مخلوق دونوں کا تقرب چاہئے .اسی میں وہ مبطل ایمان اعمال شرک دریابھی شامل ہیں جوگناہان کبیرہ میں شما ر ہوتے ہیں.اس سے بھی نچلے درجے کی عبادات وہ ہے جو حظِ نفس کے لئے بھی نہ ہو.
کبھی انسان کی نیت میں اس کی طبعیت کامیلان کارفرماہوتاہے مثلاً جمعہ کا دن ہو او رموسم گرم ہو تو اس کے دل میں آئے کہ چل کر سوئمنگ پول (حوض)میں نہاؤں جسم بھی ٹھنڈاہوجائے گا اور غسل جمعہ بھی ہوجائے گا.اب کون جانے کہ حقیقت میں وہ اپنا جسم ٹھنڈا کرنا چاہتاہے یا غسل جمعہ بجالانا چاہتاہے.یا مثلاً ہوا سرد ہے اور وہ گرم ہونا چاہ رہا ہے اس کے دل میں آتی ہے کہ حمام چلوں بدن میں گرمی بھی آجائے گی اور غسل جمعہ بھی ہوجائے گا .یہ عمل اخلاص سے عاری ہے.اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا عمل مکمل طور پر مخلصانہ ہو تو آپ کی نیت میں ذراسابھی شائبہ حظِ نفس کا نہیں ہونا چاہئے.
علاوہ از ایں کسی عمل کا ضیمہ اگرچہ مباح ہے لیکن اس کا دائمی طورت پر ضمنی صورت اختیار کرجانا بھی نفس علم کو باطل کردیتاہے .اخلاص سے ہمار امقصود یہ ہےت کہ عمل کے ساتھ اس کا کوئی ذیلی یاضمنی لاحقہ بھی موجود ہو مثلاً اگر کوئی شخص حقیقت میں تو غسل جمعہ ہی کرنا چاہتاہے لیکن ضمنا ٹھنڈا یا گرم بھی ہونا چاہتاہے تویہ غسل صحیح ہوگا لیکن اخلاص سے خالی ہوگا اور اگر غسل جمعہ کی نیت اور ٹھنڈایاگرم ہونے کی خواہش دونوں مساوی طور پر اس طرح غسل کے محرک ہوں کہ اان میں ایک اکیلا اسے غسل پرآمادہ کرنے پر قادر نہ ہو تو غسل ہی باطل ہے.
تحسین وآفرین خلق:
بڑا ناازک مقام ہے.اللہ تعالٰی سے پناہ طلب کرنی چاہئے بعض اوقات انسان کو محسوس تک نہیں ہوتا اور دنیا کے ایک نعرۀ تحسین پر وہ اللہ تعالٰی کونظر انداز کرکے اپنی عاقبت خراب کربیٹھتا ہے.اللہ تعالٰی کے ساتھ بقائے دوام کا معاملہ تو کرتانہیں لیکن دنیا کی ایک عارضی “واہ وا” پر اپنی عاقبت کاسودا کرلیتاہے اور پھر اسی کا ہوجاتاہے.
اس سے بدتر یہ ہے کہ اپنی موت کے بعد صرف دعائے مغفرت پر قناعت و اکتفاء نہیں کرتا بلکہ ایسے کام کرتاہے کہ دنیا موت کے بعد بھی اس یادرکھے اور اس کی تعریف کرے.وہم وخیال میں ایسا جکڑا ہواہے او رجب جاہ اس کا اتنا بڑاھاہواہے کہ سمجھتا ہے کہ موت کے بعد بھی جب وہ اس دنیا میں موجود نہ ہوگا تو اپنے کارہائے نمایاں کی وجہ سے اس دنیا کی تعریف وتوصیف سے محفوظ ومستفید ہوگا.سچارہ موت کے بعد بھی جاہ مقام کابھوکا ہے.
موت کے بعد نیک نامی البتہ مقید ہے بشرطیکہ اپنے اعمال سے انسان کا مقصد دنیاوی نیک نامی نہیں بلکہ محض اللہ تعالٰی کی رضا کا حصول ہو.یہ نیک نامی اچھی ہے بشرطیکہ آپ خود بھی نیک رہے ہوں وگرنہ اگر آپ کانفس خراب اور نیت آپ کی فاسد ہوئی تو دنیا چاہے آپ کی کتنی ہی تعریف کرے آپ کو اس سے کچھ نہیں ملیےگا.
کیا مدح مفید ہے؟:
اگرکوئی شخص دنیا میں غلط کردار کامالک ہو او رکسی مغالطے کے بناء پر لوگ اس کی تعریف ومدح کریں اور اس کے معتقد ہوں تو کیا یہ تعریفیں اس کے لئے سوئی کی نوک برابر کوئی فائدہ رکھتی ہیں یا اتنی ہی تخفیف اس کے عذاب میں کرسکتی ہیں.؟
دنیا کی نیک نامی اس شخص کے لئے جوبرزخ میں ہو کی فائدہ رکھتی ہے جوشخص عالم ملکوت میں ہواسے عالم ملک یعنی عالم محسوسات طبیعی سے کیا واسطہ ؟دونوں جگہوں کی اوضاع آپس میں مختلف ہیں.اگر کوئی یہاں سے ایمان کی سلامتی کے ساتھ رخصت ہو ا ہے اور اپنی زندگی میں نیکوکار اور بااخلاص کے لئے انسان یقیناً نیک اجرپائے گا لیکن بصورت دیگر خواہ اس کی قبر پر چراغاں ہوتی رہے یا خاک اڑتی رہے اسے کیا فرق پڑتاہے.
احمدبن طولون وقاری قرآن:
اگر کوئی اس دنیا سے باایمان رخصت ہوا ہے اور قرآن مجید پر اس کا ایمان کامل رہاہے تو بعد مرگ اس کی قبر پر قرآن خوانی کا اسے فائدہ پہنچ سکتاہے ورنہ احمدبن طولون کا قصہ آپ نے سنا ہوگا جسے علامہ دمیری نے حیواة الحیوان میں لکھا ہے.وہ شخص مصر کابادشاہ تھا.
جب اس کی وفات ہوئی تو حکومت مصر کی طر ف سے ایک قاری کو اس کی قبر پر تلاوت کے لئے مامور کیا گیا اور اس کی معقول تنخواہ مقرر کردی گئی.وہ ہر وقت اس کی قبر پر تلاوت میں مصروف رہتا.
ایک دن خبر ملی کہ قاری کہیں غائب ہوگیا ہے.کافی تلاش کے بعد سپاہیوں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور اس سے اچانک فرارکا سبب پوچھا .جواب کی جرات اسے نہیں ہوئی تھی بس استعفاء کامطالبہ کئے جارہا تھا ارباب حکومت نے اس سے کہا اگر تنخواہ کم سمجھتے ہو تو جتنا کہوہم اس میں اضافہ کئے دیتے ہیں .اس نے کہا کتنے ہی گنا بڑھا دو مجھے منظور نہیں.انہوں نے حیران ہوکر کہا جب تک حقیقت بیان نہیں کرے گا ہم تجھے نہیں چھوڑ یں گے.
کہنے لگا چند روز قبل صاحب قبر مجھ سے معترض ہوا اس نے میراگریبان پکڑلیا اور کہنے لگا میری قبر پر قرآنی خوانی کیوں کرتاہے.میں نے کہا مجھے اس پر مامور کیا گیا ہے تاکہ تمہاری روح کو ثواب پہنچے اس نے کہا مجھے اس سے فائدہ تو کوئی نہیںت پہنچا البتہ تمہاری تلاوت کردہ ہر آیت میرے عذاب کی آگ کو مزید بھڑکادیتی ہے اور مجھ سے کہا جاتاہے اب سن رہاہے؟دنیاوی زندگی میں اسے کیوں نہیں سنا اور کیوں اس پر عمل نہیں ہوا.لہذا مجھے معاف کریں میں اس خدمت سے باز آیا.
بارگاہ خداوی میں سچائی اور اخلاص کے سواکوئی چیزفائدہ نہیں پہنچاتی .اپ زبان سے لاکھ “قربة الی اللہ” کا ورد کریں لیکن اگر آپ کی نیت میں خلوص موجود ہے تو فبہا ورنہ صرف الفاظ بول دینا قطعا مفید نہیں.
غرضیکہ نفس انسانی عام طور یا تو دنیا والوں کے درمیان عزت حاصل کرنے کے لئے اور یاحظ نفس کی خاطر نیک کام انجام دیتاہے اور سمجھتا ہے کہ بڑاپارسا اور پرہیزگار ہوں.لیکن روزقیامت جب اپنا سیاہ نامہ دیکھے گا تو پتہ چلے گا کہ سب کچھ ریاکاری یا اغراض نفسانی کی وجہ سے تھا.
اگر عمل اخلاص کے ساتھ انجام دیاجائے تو اس کا ذرہ بھی انسان کے درجات میں بلندی کاسبب بن سکتاہے اور اس کی نجات کا باعث ہوسکتاہے .انسان دورکعت نماز بھی بہشتی بن سکتاہے بشرطیکہ پورے اخلاص ارو حضور قلب سے پڑھی ہو.ورنہ ساری عمر کی بے حضور نمائشی نمازوں سے کچھ حاصل نہیں.
سید بن طاوس فرماتے ہیں کہ وہ عبادت بھی جو دوزخ کے ڈرسے یابہشت کے طمع میں کی جائے حظ نفس میں شمار ہے.وہ عمل جوخلوص سے کی ہو اور صرف حظ نفس کے لئے کیا جائے البتہ شرعاًصحیح ہوگا اور دوسرے اعمال سے بہتر ہوگا لیکن درجات عالیہ کی نسبت سے جیسا کہ حضرت امیرالمؤمنینعليهالسلام نے فرمایا:“ مَا عَبَدْتُكَ خَوْفاً مِنْ نَارِكَ وَ لَا طَمَعاً فِی جَنَّتِكَ لَكِنْ وَجَدْتُكَ أَهْلًا لِلْعِبَادَةِ ”میں تیر عبادت دوزخ کے ڈریا جنت کے لالچ میں نہیں کرتا بلکہ صرف اس لئے کہ تو واقعی عبادت کے لائق ہے.وہ عمل بہت کم درجے کا ہوگا.
عالم کی عبادت:
آپ نے سناہوگا کہ عالم کی دورکعت نماز جاہل کی ایک سالہ عبادت سے بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم انسان حقائق کو جاننا اور ان کاا دراک رکھتا ہے.اور حظ نفس کی سب صورتوں کو سمجھتاہے لیکن جاہل نہیں جانتاہے کہ اس کے کسی عمل کا کیا مقصد ہے.وہ عموماً یا تو خود اپنی عبادت کرتاہے یا کسی دوسری کی لیکن سمجھتاہے کہ خدا کی عبادت کررہاہے.
اس طرح آپ نے یہ بھی سنا ہے کہ عالم امام کے پیچھے نماز جماعت ادا کرنے کاثواب عام نماز کے ثواب سے ہزار گنا ہوتاہے.کیونکہ وہ آفات نفس کادانا ہوتاہے اور اخلاص سے کبھی جدانہیں ہوتا جودین کی اصل حقیقت ہے.
باپ بیٹا:
سفر کربلاکے دوران ایک منزل پر جناب امام حسینعليهالسلام کو اونگھ آگئی اس کے بعد آپ نے اپنے رفقاء سے فرمایا میں نے ایک منادی کو سنا جوفضائے آسمانی میں باآواز بلند کہہ رہا تھا کہ یہ جماعت جارہی ہے اور موت ان کے ہمراہ چل ری ہے .علی اکبرعليهالسلام نے پوچھا بابا جان کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا ہماری موت اس کی راہ میں نہیں ہوگی.آپعليهالسلام نے جواب دیا .ہاں تو علی اکبرعليهالسلام نے عرض کیا“اذالانبالی بالموت ” پھر موت کی ہمیں کوئی پروانہیں ہے.کیونکہ اس سے بڑی سعادتت اور کیا ہے کہ حق کے لئے حق کی راہ میں شہید ہوں.یہ الفاظ ایک عبد مخلص کی دلی کیفیت کے آئنہ دار ہیں.“انما جعل الکلام علی فواد دلیلاً ” اللہ تعالٰی نے الفاظ کو دل کا ترجمان بنایا ہے. یہ اخلاص کابلند ترین مقام ہے اور یہاں مقصود صرف ذات خداہے.نہ یہاں حظ نفس کاکوئی خفیق ترین شائبہ موجود ہے اور نہ نام ونمود یاجاہ ومقام کی ذرہ بھر کوئی خواہش کارفرماہے کیونکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ شہادت مقدر ہو چکی ہے.
مجلس ۲۸
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ. إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِین
امید جنت وخوف دوزخ:
عمل واجب ہویا مستحب بہر حال اخلاص کے ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ اس کی قدر وقیمت اخلاص ہی سے ہے او ر اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں اخلاص کا ادنيٰ درجہ یہ ہے کہ انسان کے علم کامحرک دکھاوا یانمائش کا جذبہ نہ ہو بلکہ خوف عذاب یا طلب ثواب ہو.مثلاً جب وہ نماز فجر کے لئے آٹھے اور وضو کرے تو اس کا محرک یہ اندیشہ ہو کہ نما زواجب ہے اگر نہ پڑھی توترک صلواة کامجرم ہوکرکافر نبوں گا اور اس کی سزا میں پندرہ قسم کے عذاب ہائے خداوندی کانشانہ بنونگا.یا مثلاًجب وہ روزہ رکھے تو اس کے فاقہ بردشت کرنےت اور چودہ گھنٹے کےلئے خود کوروزہ شکن امور اور دگیر خواہشات نفسانی سے بازرکھنے کا محرک ثواب کاوہ وعدہ ہو جوروزہ دار کودیاگیاہے.
یہ دانی یا پہلا درجہ اخلاص کا ہے جس میں انسان کاعمل صحیح شمار ہوتاہے ،جس عذاب سے وہ ڈرتاہے اللہ تعالٰی اسےاس سے امان میں رکھتاہے اور جس ثواب کاوہ امید وارہوتاہے اللہ تعالٰی اپنے فضل وکرم سے اسے نوازتاہے.
لیکن اگر انسان کے عمل کامحرک محض دنیاوالوں کی نظروں میں برتری کاشوق یافضحیت کاخوفف ہو،مثلاً حج کو جانے سےاس کا مقصد طلب ثواب نہ ہو بلکہ اصل محرک دنیاکی نظرون میں برتری کی خواہش ہو یا اندیشہ ہو کہ اگر حج نہ کیا تو دنیا والے بخیل یا کنجوس کہیں گے.تواس کا عمل باطل او رحرام ہے.
یہ بڑا مشکل مقام ہے بعض اوقات انسان اپنی ذات میں الجھ جاتاہے ارو اپنا آپ اس کی نظروں میں مشکوک ہوجاتاہے.مثلاًوہ افعال بدسے بیزاری اورنفرت کااظہار کرتاہے یاامربالمعروف کرتاہے اور سمجھتاہے کہ اس نے اللہ تعالٰی کی طرف سے عائد کردہ ایک ضروری اور واجب عمل انجام دیاہو لیکن اصل محرک اس کے اس عمل کا محض دکھاوا اور دوسروں کو یہ بارو کرانا ہوتاہے کہ اس کے دل میں دین کابڑا دردہے اور ہر چند کہ یہ عمل بظاہر اچھا ہے لیکن اس کے گناہان کبیرہ میں شمار ہوتاہے.
تیس سالہ عبادت کا اعادہ:
یہ ایک عبادت گذار کا قصہ ہے جس میں خوب غور کرنا چاہئے کہ مباد ہمارابھی وہی انجام نہ ہو.
ایک صاحب تقويٰ شخص نماز با جماعت ادا کرنےت کی غرض سے ہمیشہ سب سے پہلے مسجد میں پہنچتا سب سے اگلی صف میں کھڑا ہوتا اور سب سے آخر میں مسجدسےنکلتا تھا.پورے تیس سال اس کا یہ رویہ رہا اور ایک وقت کابھی اس میں ناغہ واقع نہ ہوا.ایک دن اسے کوئی بہت ہی ضروری کام پیش آگیا جس کی وجہ سے اسے دیرہوگئی اور وہ مسجد میں اپنے وقت پرنہ پہنچ سکا.جب آیا تو نماز شروع ہوچکی تھی لہذا ناچار اسے آخری صف میں کھڑا ہونا پڑانماز سےفراغت کے بعد لوگ مسجدسے رخصت ہوتے وقت اسےتعجب سےدیکھتے تھے.اسے بہت دکھ ہوا کہ نمازیوں نےاسے آخری صف میں کیوں دیکھا ارووہ شرم سے پانی پانی ہوگیا.
پھر اسے خیال آیا کہ شرمندہ ہونے کی کیابات ہے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکرکہنے لگا اے بدبخت یہ جو تیس سال توصف اول میں کھڑا ہوتاہامعلوم ہوتاہے کہ ثواب کے لئے نہ تھا بلکہ صرف دنیا کے سامنے نمائش کےارادے سے تھا ورنہ اگر خدا کے لئے تھا تو آج اسے منظور نہ رہا ہوگا کہ توصف اول میں کھڑا ہو.اس کی مشئیت پرناراض ہونے کی جرأت تجھے کیسے ہوتی ...؟
آخر کار وہ تائب ہوا اور تیس سالوں کی نمازیں اس نے قضاکیں.
امراض نفسانی کاعلاج کیجئے:
یہ دستان ہم سب کے لئے باعث عبرت ہونی چاہئے ہم یہ نہیں کہتے کہ نماز کے لئے مسجد میں صف اول میں کھڑے نہ ہوں .ضرور کھڑے ہوں لیکن فضیلت اور ثواب کے حصول کےلئے نہ کہ دنیا کے دکھا وےکے لئے اگر کسی دن پہلی صف میں جگہ نہ ملی اور آپ کو دوسری ،تیسری یا آخریصف میں کھڑا ہونا پڑا تو اس میں توہین کی کوئی بات نہیں.یہ نہ کہیں کہ میں عالم ہوں مجھے ضرورہی صف اول میں جگہ ملنی چاہئے ،پچھلی صفیں میرے شایان شان نہیں بلکہ آپ کو پچھلی صفوف میں کسی بچے یا کسی جاہل کے ساتھ بھی کھڑاہونا پڑے تو آپ کو ترددلاحق نہیں ہونا چاہئے.
یہ نفسانی امراض ہیں جو انسان کو ہلاک کردیتے ہیں.امام جماعت کابھی فرض ہے کہ مقتدیوں کی تعداد کو اہمیت نہ دےت ورنہ گناہ گارہوگا.مقتدی خواہ ایک ہو یا دس ہزار ہوں اس کے لئے برابر ہونا چاہئے.
ریاء اور ذیلی محرکات سےتوبہ:
لہذا یہ ضروری ہے کہ انسان کے عمل کاادنيٰ محرک خوف عذاب یاامید ثواب ہو اس سے بہتر اور مکمل ترصورت یہ ہے کہ محرک خود ذات خداوندی ہو اس کے سوا جوکچھ بھی ہے ریا ہے او رباطل وحرام ہے اور اگر وہ عمل واجب تھا تو اس کا اعادہ او رضاءضروری ہے اور توبہ توہر حال میں لازم ہے خواہ وہ عمل واجب ہویامستحب.
اسی طرح ذیلی محرکات بھی ریاء ہی کے حکم میں داخل ہیں مثلاً کوئی شخص مشہد مقدس کی زیارت کو جائے لیکن اس کا محرک وہاںکی آب وہوا یا پھلون کی فراوانی یاسیاحت ہو کہ زیارت ثانوی حیثیت اختیار کرجائے.
کشتہ راہ خر:
پس اگر انسان سے کوئی نیک علم سرزدہو تو غرور وفریب میں نہ آجائے کہ میں نےخدا کی راہ میں یہ کام کیا بلکہ اسے چاہئے کہ اس کا م کےمحرک کی تعین کرے کیونکہ حقیقی ہدف اس کا وہی چیزہے جس نے اسے عمل پر اکسایا ارو اس کوخدا کی راہ میں قرار دینا صرف اس صورت میں ممکن ومعقول ہے کہ آپ نے پورے عزم سچی نیت اور دلی ارادہ سے محض اللہ تعالٰی کی رضا جوئی کے لئے اسےانجام دیاہو.
روایت ہے کہ عہد رسالتصلىاللهعليهوآلهوسلم میں ایک محاذ جہاد پر ایک کافر ایک خوبصورت سفید خچرپر سوار جنگ میں مصروف تھا ایک مسلمان کی نظرجو اس سفید راہوار پرپڑی تو اس پر لٹوہوگیا اور دل میں کہنے لگا اس کافر کوقتل کرکے اس خچر کوحاصل کرنا چاہئے.اس نیت سے وہ آگے بڑھا لیکن پیشتر اس کے کہ وہ اس کافر پر حملہ آور ہو اس کافر نے سبقت کی اور اسے قتل کردیا.صحابہ میں وہ مسلمان “قتیل الحمار” (کشتہ راہ خر)مشہور ہوگیا.
ملاحظہ کیا آپ نے کہ اس نےکس نیت سے حرکت کی اور اس سے اسےکیا حاصل ہوا.اس بازار میں صرف حق وحقیقت کالین دین ہوتاہے.ظاہر داری جیسے کھوٹے مال کی یہاں کوئی پرسش نہیں.پس وائے ہو اس بدبخت انسان پر جواپنے نفس کی غلامی میں جان دے کر“خسرالدنیا والاخرة” حاصل کرے اگر کوئی شخص اپنے نفس کی غلامی میں جان دے کر“خسر الدنیاا والآخرہ”حاصل کرکے.اگر کوئی شخص اپنے نفس کی خاطر سرگرم عمل ہوتو سکتاہے کہ اللہ تعالٰی کی حکمت و مشئیت سے بعض اوقات اپنے مقصد کو پابھی لے لیکن اس کا یقینی حصول صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ عمل کو پورے اخلاص نیت سے صرف اللہ تعالٰی کی خاطر انجام دیا جارہے .اس طرح سے نہ صرف یہ کہ حصول مقصد میں کامیابی حتمی ہوگی بلکہ اس کے فضل و کرم سے توقعات سے بڑھ کر چڑھ کر نتائج حاصل ہوں گے جیساکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ:( مَنْ کانَ يُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِی حَرْثِهِ وَ مَنْ کانَ يُرِیدُ حَرْثَ الدُّنْیا نُؤْتِهِ مِنْها وَ ما لَهُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ نَصِیب ) جو انسان آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کے لئے اضافہ کردیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی کا طلبگار ہے اسے اسی میں سے عطا کردیتے ہیں اور پھر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے.
ضمنی محرکات مبطل عمل نہیں:
اس مقام پر یہ یاددہانی ضروری ہے کہ ضمنی محرکات مبطل عمل نہیں ہیں مثلا ایک شخص حصول ثواب کی نیت سے حضرت امام رضاعليهالسلام کی زیارت کے لئے مشہدمقدس جاتاہے کیونکہ امام رضاعليهالسلام کاوعدہ ہے کہ وہ میزان اصراط اور نامہ اعمال کی تقسیم کے وقت اپنے محبین کی مدد کو پہنچنگے اسی وعدے کے وثوق میں وہ جاتاہے کہ امامعليهالسلام کی شفاعت سے اللہ تعالٰی اسے حج وغیرہ کا ثواب عطا فرمائے گا.
ضمناًوہ یہ سوچتاہے کہ ذارایک ہفتہ ٹھہرجاؤں تاکہ مشہد کی خوبانی خوب یا خبربوزے نے سفر مشہد پرآمادہ نہیں کیا بلکہ حقیقی محرک اس کے سفر کازیارت امامعليهالسلام ہے اور خوبانی خربوزہ یا ہواخوری اس کے ذیلی محرکات ہیں.
خانہ کعبہ تپتی سرزمین پر:
نہج البلاغہ میں حج اور اس کی حکمت کے بارم میں جناب امیرعليهالسلام نے اپنے خطبہ جلیلہ میں فرمایاہے کہ اللہ تعالٰی نے خانہ کعبہ شریف و تپتی سرزمین پر قرار دیا جس میں جسمانی آسائش کاسامان نہیں کیونکہ اس کے اطراف میں تپتے ہوئے پہاڑ ہیں اور زمین وہاں کی بنجرہے.اگر اللہ تعالٰی کی مشئیت ہوتی تو وہ اپنے مقدس گھر کو دنیا کے خوش موسم ترین خطہ میں قرار دیتالیکن ایسا کرنے سے لوگوں کی آزمائش نہ ہوسکتی
مثلاً اگر خانہ کعبہ لبنان میں ہوتا تو لوگ خوشکوار آب وہوا اور خوبصورت باغوں اور سبزہ زاروں کے فرحت بخش مناظرسے لطف اندوز ہونے کے لئے وہاں جاتے اور اس طرح تقرب خداوند ی سے محروم رہتےت کیونکہ اللہ تعالٰی کی عبادت سے زیادہ حظِ نفس ہوتا اور اس کا محرک اخلاص عبادت نہ ہوتا.
کچھ نہیں کہا جاسکتاہےھ کہ حالیہ سالوں میں عربستان میں نعمت کی جوفراوانی واقع ہوئی ہے او رسفرکی آسانی اور وسائل کی کثرت جوبہترین طریقے سے صورت پذیر ہوئی ہے ،آیا اس نے لوگوں کی نیتوں پر بھی کچھ اثر کیا ہے یا نہیں اور وہاں کا سفر بھی تجارت اورتفریح وغیرہ کا ذریعہ بناہے یا نہیں.خدانہ کرے کہ ایسی عظیم عبادت کامحرک حظِ نفس ہوسکے.
زاد سفر:
کسی کو ہماری باتوں سے بدگمانی نہیں ہونی چاہئے ہم یہ نہیں کہتے کہ مکہ معظمہ جاکر اچھی غذا نہ کھائیں ،زیو سفرسے غفلت برتیں اور کوئی تحفہ وغیرہ نہ خریدیں بلکہ بہترہے بہتر زادسفر کی فراہمی ایک مستحب فعل ہے اور اسی طرح سے گھر کی طرف لوٹنے والامسافر تحفہ یا سوغات بھی لاتاہے، اس میں بھی کوئی قباحت نہیں.ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ سفر حج کے لئے صرف یہی امور آپ کے محرک نہیں ہونے چاہئیں .بلکہ آپ کو حج کاشوق دلانے والی چیزکم ازکم یاخوف عذاب یاطلب ثواب ہوکیونکہ ہم کہہ چکے ہیں کہ جوشخص خوف عذاب سے یاطلب ثواب کے لئے کوئی نیک عمل بجالاتا ہے تو اللہ تعالٰی اسے مایوس نہیں فرماتا.لیکن اگرنیت ہی خالص نہیں تو عمل بیکارہے.
معانی الاخبار میں روایت ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علیعليهالسلام اپنے ایک شیعہ کے سرہانےت تشریف لائے جو حالت نزع میں تھا آپعليهالسلام نے احوال پرسی فرمائی تو اس نے جواب دیا“اخاف ذنبی وارجورحمة ربی” اپنے گناہوں کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہوں اور اللہ تعالٰی کی رحمت کاامید وارہوں.آپ نے فرمایایہ امیدوہمت جس دل میں ہو اللہ تعالٰی اسے اس چیزسے امان میں رکھتاہے جس سے وہ اندیشہ ناک ہو اور جس چیز کاوہ امید وارہو اسے عطافرماتا ہے.
خداسے معاملہ:
یہ معاملہ ایسا ہے جس میں نقصان کااندیشہ نہیں،اورنہ ہی اس میں دنیاوی معاملات کی طرح “لمن نشاء” کی شرط ہوتی ہے بلکہ یہاں قطعی وعدہ دیاگیا ہے او رنیک عمل کی کوشش کو سعی مشکور فرمایاگیاہے.وہ ہواوہوس والامعاملہ ہے جومتزلزل ہوتاہے. اللہ تعالٰی کے ساتھ معاملہ قطعی اور یقینی ہے اور اس میں کسی قسم کےنقصان کاکوئی اندیشہ نہیں.
سورۀ اسراء میں ارشاد باری ہے:
( مَنْ کانَ يُریدُ الْعاجِلَةَ عَجَّلْنا لَهُ فیها ما نَشاءُ لِمَنْ نُریدُ ثُمَّ جَعَلْنا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاها مَذْمُوماً مَدْحُوراً ،وَ مَنْ أَرادَ الْآخِرَةَ وَ سَعى لَها سَعْيَها وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ کانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً ) جو شخص بھی دنیا کا طلب گار ہے ہم اس کے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دے دیتے ہیں پھر اس کے بعد اس کے لئے جہنمّ ہے جس میں وہ ذلّت و رسوائی کے ساتھ داخل ہوگا ،اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور اس کے لئے ویسی ہی سعی بھی کرتا ہے اور صاحب ہایمان بھی ہے تو اس کی سعی یقینا مقبول قرار دی جائے گی.
مجلس ۲۹
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ. إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِین
ضمنی محرکات کی وضاحت:
یہ پچھلی رات ہم نے عرض کیا کہ ضمنی محرکات کی موجود گی صحت عمل کے لئےت مضرنہیں بشرطیکہ عمل کا حقیقی اوربنیادی محرک طلب ثواب یا خوف عذاب ہو آج ہم اس کے لئے مزید ایک مثال عرض کرتے ہیں:
ایک شخص سچے دل سے قربتہ الی اللہ اس سال حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنا چاہتاہے.اس کو یہ اندیشہ بھی لاحق ہے مبادا وہ حج سے پہلےت مرجائے اور اس کی موت دین یہود ونصاريٰ پرہو.اور ضمناًیہ بھی جانتاہے کہ ایک جنس جو اس کےت اپنے شہرمیں نایاب ہے حرمین شریفین کے بازاروں سے خرید کرے یا اپنے ساتھ کوئی قالین وغیرہ لیتاجائے جس کی وہاں فروخت سے اسے فائدہ حاصل ہو تو یہ امر اس کے حج کی صحت پر اثرانداز نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کی تحریک ضمنی اورداعیہ اس کا اضافی ہے.
اس کے مقابلے ایک اور شخص ہے جو حج کے سفر سے دنیاوی معاملہ کرنا چاہتاہے اور اس کا مقصد مالی فائدہ کا حصوتل ہے تو اس کا یہ سفر عبادت نہیں تجارت کے لئے ہوگا کسی دنیاوی فائدے کے لئے رخت سفرباندھنے سے عبادت کے ثواب کی امید نہیں رکھی جاسکتی .مختصر یہ کہ ہر عمل کی حقیقی تحریک کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے
معاوضہ جائز نہیں:
اب جبکہ بات یہانتک پہنچ گئی ہے مناسب ہے عروة الوثقيٰ میں سید کاذکرفرمودہ مسئلہ بیان کروں.پہلے ععرض کیا جاچکاہے کہ اگر عبادت خوف عذاب یاطلب ثواب سے کی جائے تو صحیح ہے بشرطیکہ کسی معاوضے کے عنوان سے نہ ہو جیساکہ عموماًمستحب اعمال ہوتاہے .مختصر یہ کہ ہروہ عمل جوکسی لین دین یامعاوضے کے لئے انجام دیاجائے عبادت نہیں معاملہ ہے اور اس کی صحت یقینی نہیں.
مثلاً ہم سنتے ہیں کہ کسی نے نماز جناب زہرا علیہاالسلام اداکی تو اس کی مشکل اسان ہوگئی .تویہ تو مزدوری ہوگئی عبادت نہ رہی اور اس سے جوکچھ حاصل ہوا ثواب نہیں بلکہ مزدوری کامعاوضہ ہے جو حاجت روائی کی شکل میں ملا.اس کا خیال ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس سے قضائے حاجت کے بدلے میں دورکعت نماز کی خواہش یادرخواست کی ہے کیونکہ باالفاظ دیگر وہ اس کی ااس ناچیز دورکعت کا محتاج ہے.
کس برتے پر؟:
خود کو اللہ تعالٰی کے مقابلے میں کسی چیزیا امر کامالک سمجھنا سراسر جھوٹ اور خلاف واقعہ ہے.آپ کے پاس ہے کیا جودینگےاور اس کے مقابلے میں اللہ تعالٰی سے معاوضہ طلب کرینگے.مثلاً اسی دورکعت نماز کو لیجئے جس کی ہم نے مثال دی ہے.آپ کھڑےہوتےہیں،جھکتے ہیں،پیشانی کوخاک پر رکھتے ہیں او رزبان سے ذکر کرتے ہیں.اچھا تو آپ کو پیدا کس نے کیا،آپ کےاعضاء کس نے بنائے اور کس نے انہیں تناسب واعتدال عطا فرماکر نوک پلک سے انہیںت سنوارتا کہ آپ پوری سہولت وآسانی کے ساتھ حرکات نماز بجالاسکیں.اور آپ کے منہ میں ٹکائے ہوئے اس گوشت کے متحرک لوٹھر ے کو کس نے گویائی عطافرمائی
حق بات یہ ہے کہ آپ کےپاس صرف ایک ارادے کے سواکہ وہ بھی اسی کی توفیق پرمنحصر ہے ،کچھ بھی نہیں ہے.آپ کے پاس کیا ہے جو خدا کو دے کر اس کے بدلے میں کچھ طلب کرینگے.موجودات عالم کی ہر مرئی اور غیر مرئی چیزاس کی ہے .یہ ہاتھ جوآپ اس کے سامنے پھیلاتے ہیں یہ کس کا ہے.آپ کے سرسے لیکر پیرتک آپ کا سارا وجود اور آپ کے صفات وملکات عارضی ہوں یا مستقل،اسی کے عطافرمودہ ہیں جنہیں اس نےاپنی قدرت کاملہ سے آپ کے ارادے کا تابع بنادیاہے.آپ جب نماز کاارادہ کرتے ہیں تو بڑی آسانی سے کھڑے ہوجاتے ہیں یہ کس نے آپ کے اس بوجھل وزن کو مسخرکیاہے.
مقناطیس سے عجیب تر:
بوعلی سینا کا قول ہے کہ لوگ مقناطیس سے جوکہ سوئ کو کھینچ لیتاہے تعجب کرتے ہیں لیکن اس امر پر متعجب نہیں ہوتے کہ خدائے حکیم نے کس طرح اس بوجھل جس کو نفس ناطقہ کے تابع قرار دیاہے“الناس یتعجبوں من جذب المقناطیس مثقالاً من حدید و لم یتعجوا من من النفس الناطقة هذا الهیکل العظیم ”
کبھی تابوت برداروں میں شامل ہوئے میت کو اٹھانا شخص واحد کے بس کاروگ نہیں.اسے اٹھانے کے لئے چند اشخاص کاہونا ضروری ہے .کیا ہے وہی جسم نہیں جو جب زندہ تھا تو جس طرح آپ چاہتے تھے پوری آسانی و سبکی سے حرکت کرتاتھا.
آپ کا ارادہ بھی خدا ہی نے آپ کو عطا فرمایاہے اور آپ خواست الٰہی کے خلاف کوئی خواہش کرہی نہیں سکتے( وَ ما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّه ) .
لہذا معاوضے یامباد لے کی بات نہ کریں.آپ حج کوجاتے ہیں .پیسے خرچ کرتے ہیں لیکن یہ پیسے کس کے ؟خود آپ کس کے ہیں؟.
ناچیز کیا جھگڑتاہے ناچیزکے لئے:
دنیا میں جوکچھ بھی ہے اللہ کا ہے. اس نے اپنے مصالح کی بناء پر شرع مقدس میں مالک ومملوک کے حقوق کی تعین فرمائی ہے ورنہ دینے والا اورلینے والا ہر اس چیزکا جس کا آپ حساب کرتے ہیں.بالآخروہی ہے کیونکہ سب امور کی بازگشت اسی کی طرف ہے.( لاالی الله تصیر الامور ) پس آپ کو اپنی عبادت میں معاملہ کرنے یامعوضہ کی طلب سے ہوشیار اور بازرہنا چاہئے کہ کیا کرایا خاک میں نہ مل جائے .یہ خیال نہ کریں کہ آپ نے مال دیا یا کام کیا اوراس میں اپنی طاقت صرف کی.یعنی کوئی چیزآپ نے ایسی دی جسے آپ اپنی ملکیت سمجھتے تھے.اور اب چاہتے ہیں کہ اس کا ماوضہ آپ کو ثواب کی شکل میں یا عذاب سے نجات کی صورت میں ملے.
یادرکھیں کہ انسان صرف ایک مشت خاک ہے جو امرومشئیت الٰہی سے ایک محدود مدت تک کے لئے ایک مخصوص شکل وصورت میں مجسم ہے.اس عارضی مدت کا خیال نہ کریں.موت کے بعد ایک مدت گذرجانے کےبعد جب اس کی قبر کو اکھیڑا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ وہ بدرستور مشت خاک ہی ہے.
وہ ہاتھ بہت قادر و توانا تھا جس نے اس مٹی کے پتلے کو جان دی ارو مشت خاک کو گیاوشنوا اور بینا و توانا بنایا اور آخر میں پھر اسے اپنی اصل خاک ہی کی طرف لوٹا دے گا.( مِنْها خَلَقْناكُمْ وَ فِیها نُعِیدُكُمْ وَ مِنْها نُخْرِجُكُمْ تارَةً أُخْرىٰ ) آپ زیارت عاشورا یا جامعہ پڑھتے ہیں،اس حقیقت سےآپ کو خبردار رہنا چاہئے کہ ی زبان آپ کوت کس نے دی اور اسے آپ کے ارادے کا تابع فرمان بنادیا.جب ہم اختیاری افعال کے مقدمات پر غور کرتے ہیں تو ہماری حیرت کی کوئی حدنہیں رہتی کہ کس ن ہمیں عقل و شعور عطاکیا ،اسباب زیست فراہم کئے ،توفیق عمل عطا کی اور موانع کو بر طرف فرمایا.
پس اول تو عمل کا معاوضہ ہی ممکن نہیں کیونکہ نہ ہمارے پاس مال ہی ہے اور نہ ہی اپنی ذاتی کوئی چیز ہے جس کا عوض وصول کریں بس ایک ارادہ ہے کہ وہ بھی اسی کی توفیق پر منحصر ہے.
کام کی اجرت ہے ہی کتنی؟:
اور پھراگر بفرض عمل کی اجرت نااگزیر ہی تو آئیے دیکھیں ہمارا حق کتنا بنتاہے.
کیونکہ اے نمازیو ،روزہ دارو،حاجیو،اگر آپ لوگوں کے عمل کامعاوضہ دیاجائے تو تمہارا کیا اندازہ ہے کہ وہ کتنا ہونا چاہئے.
یا اے شب زندہ دارو جوکہتے ہو کہ ہم ساری ساری رات عبادت می گذارتے ہیں اور بڑے فخر سے تہجد گذاری کی کیفیت بیان کرتے ہو تو ساری جاگ کر پہرہ دینے والے چوکیدار گی مزدوری جانتے ہو کتنی ہوتی ہے.
پس آپ ہی کے فیصلے کے مطابق کہ عمل کی مزدوری ملنی چاہئے. اپنے عمل کی پورے حساب سے انصاف کے ساتھ اجرت لگا کربتائیں کہ کیا بنتی ہے.آپ حج کو گئے ہیں تو اس کی کتنی اجرت آپ کو درکار ہے جبکہ اس زمانے میں حج کرکے آپ یقیناً مالی خسارے میں انہیں رہے ہوں گے.یا آپ نےروزہ رکھاہے یعنی ظہر کا کھانا چند گھنٹے لیٹ کھایا ہےتو دنیا میں کئی ایسے لوگ ہیں جوروزے سے نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے کام میں اتنے مشغول ہوتے ہیں کہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھاتے پیتے اور سارا دن انہیں بھوک یا پیاس کااحساس تک نہیں ہوتا...
بدبخت ہے وہ انسان جو یہ سمجھ کر کہ اپنے کسی عمل کے بدلے وہ اللہ تعالٰی سے معاوضے کاطلب گار ہے خودہی ترازوپکڑے اور حساب کتاب شروع کردے.
امید ثواب:
لہذا انسان کے عمل کا محرک اللہ کا اپنے فضل وکرم سے دیاگیا ثواب کاوعدہ ہونا چاہئے
صرف اسی صورت میں اس کا عمل عبادت شمار ہوسکتااور اسے اجر کے قابل سمجھا جاسکتاہے.
ہمیں اپنی عبادت کو درگاہ ایزدی میں انتہائی خشوع وخضوع کے ساتھ اس فہم وشعور کے ساتھ پیش کرنا چاہئے کہ وہ ذات غنی غفور و کریم ہماری عبادت کی ہزگز محتاج نہیں ہے اور اس کی قبولیت صرف اس کے لطف کریم ارو فضل عمیم پرمنحصر ہے.
انسان کو اللہ تعالٰی کے حضور غرور وخودبینی سے بچنے کے لئے اپنے نفس کو انتہائی ذلیل کرکے اور خود پر پورے خشوع وخضوع کی کیفیت طاری کرکے پیش کرنا چاہئے اور اس انداز سے سوچنا چاہئے کہ وہ باگارہ بارگاہ لطف وکرم ہے اس نے وعدہ فرمایا ہوا ہے وہی وعدہ صادقہ میرے عمل کا محرک ہے اور اسی کی وجہ سے میں پرامید ہوں ورنہ میرا عمل ہرگز بارگاہ الٰہی میں پیش کئے جانے کےلائق نہیںہے میری حقیقت ہی کیا ہے کہ عمل کادعوی کروں اور میرے پاس عمل ہی کیاہے جس پرناز کروں کیا میں نے کوئی ایسا عمل کیا ہے جس پر میں فخر کرسکوں....؟
عاقل عمل پرنازاں نہیں ہوتا:
لہذااہل عقل کبھی اپنے عمل پر نازاں نہیں ہوتے وہ شخص انتہائی جاہل اور بے خرد ہے جو اپنے ناچیزخیر اعمال کو حسنات سمجھ کر ثواب کاحساب کرتارہتاہے ارو ساری عمر خود کو فریب اور خوش فہمی میں مبتلا رکھتاہے لیکن دنیا سے رخصت ہوتے وقت جب آفتاب حقیقت طلوع کرتاہے تو اصلیت کھلتی ہے کہ جسے پہاڑ سمجھتا تھا تنکابھی نہ نکلا اس روزسب پوشیدہ چیزیں ظاہر ہوجائیگی.( يَوْمَ تُبْلَى السَّرائِرُ ) .
جگنواور ہیرا:
ایک شخص تاریک رات میں جنگل میں سفر کررہا تھا دورسے اس کی نگاہ ایک چمکتی ہوئی چیزپر پڑی وہ سمجھا کہ ہیرا ہے اور جاکر بڑی احتیاط سے اس نے اردگرد کی مٹی سمیت اسے اٹھاکر ایک ڈبیہ میں محفوظ کرلیا.دوسرے روزو ہ شہر کے سب سے بڑے جوہری کےپاس گیا اور اسےکہنے لگا میرے پاس ایک بہت بیش قیمت ہیرا ہےمیں اسے فروخت کرنا چاہتاہوں.جوہری نے کہا اسےلے آؤ،اس نے جواب دیا،بڑی احتیاط کی ضرورت ہے بہتر ہے کہ تم میرے ساتھ میرے مکان پر چلو.ناچار جوہری اس کے ساتھ گیا.اس نے پورے آداب ورسوم کے ساتھ ہیرے کی ڈبیہ کو صنددوق میں سے نکلاال.لیکن اسے کھولنے پر اس کے اندر مٹھی بھر خاک اور ایک کیڑے کےمردہ ڈھانچے کے سواکچھ نہ پایا.وہ حیرت و تعجب کے ساتھ اپنے آپ سے پوچھتا تھا میرا ہیر کیاہوا؟.
جوہری نےحقیقت واقعہ دریافت کی تو اس نے گذشتہ رات والاقصہ تدہرادیا.جوہری نے کہا بیوقوف انسان تو نے میراسارادن غارت کردیا.تو نے رات کو صرف ایک جگنور دیکھا تھا جسے ہیراسمجھ کر تونے اتنی پریشانی پیداکی.
جوکل ہوگا کردار کاپیش نامہ:
اے عقلمند تو جس عبادت کو اللہ تعالٰی کی ضرورت سمجھ کر اس کے ساتھ معاملے کے چکر میں ہے .جب کل حقیقت روشن ہوگی تو تجھے اس سے ندامت اور پریشانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا.
ملاحظہ ہو کہ پیشوایان دین کس طرح االلہ تعالٰی کے حضور عاجزی اورتذلل کااظہار کرتے ہیں.دعائے حمزہ ثمالی میں سید سجاد حضرت امام زین العابدینعليهالسلام بارگاہ خداوندی میں یوں عرض گذار ہیں:
“وماانا یاسیدی وما خطری ” پروردگار میں کیا شے ہوں کہ میرا عمل کویئ شے سمجھاجاسکے.
اے خدا ہمیں معرفت عطافرما کہ حقائق امور کو سمجھ سکیں پیشتر اس کے کہ سمجھنا بے فائدہ ثابت ہو.
رکن پنجم
تضرع
مجلس۳۰
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیم أَخَذْنا أَهْلَها بِالْبَأْساءِ وَ الضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُون
تضرع کیفیت استعاذہ کالازمہ ہے:
ارکان استعاذہ میں سے پانچواں رکن تضرع ہے بعض اوقات استعاذہ کا تقاضا ہوتاہے کہ انسان میں تضرع کی کیفیت پیدا ہوکیونکہ اس کے بغیر استعاذہ بے حقیقت رہتاہے.
تضرع کامعنی ہے اپنی ذلت و مسکنت اورناتوانی وبے چارگی کو آشکار کرنا اور استعاذہ کامعنی جیساکہ ہم ابتداء بحث میں بیان کرچکے ہیں،انسان کا ایسے دشمن سے فرار کرنا ہے جوہرلحظہ اس کے تعاقب میں ہے اور وہ نہ تو اس کے مقابلے کی طاقت رکھتاہے اور نہ اس کے حملوں سے اپنا دفاع ہی کرسکتاہےلہذا ناچارہ کسی ایسی ہستی سے پناہ طلب کرتاہے جو اس دشمن کو دفع کرنے اور اس کےشرکورفع کرنے کی قوت وقدرت رکھتی ہے.اس حالت میں اس کی ناتوانی اوربےچارہ گی اس بچے کی سی ہوتی ہے جس کے تعاقب میں زہرملاسانپ ہواور وہ چخیتاچلاتا بھاگ کر اپنی شیفق ماں کے بازووں میں پناہ گزین ہوتاہے.اسی حالت و کیفیت کانام استعاذہ ہے.
لہذا جب انسان سمجھ لیتاہے کہ شیطان ملعون جواس کاطاقتور وجانی دشمن ہے اس پر حملہ آور ہواچاہتاہے اور وہ اکیلا اس کےشر سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتاتو توانا چارنالہ وفریاد کرتاہوا اپنے قادر وتوانا او رمہربانت خداکی طرف متوجہ ہوتاہے اور دل وزبان سے پکار تاہے کہ اے پروردگار فریاد ہے اس دشمن سےجو خونخوارکتے کی طرح بھونکتاہوا مجھ پرلپک رہاہے.“واغواثاہ من عدوقداستکلب علی”(عائے حزین حاشیہ مفاتیح الجنان).
ماثور دعاؤں کے ذریعے کیفیت تضرع کابیان:
جب بھی کبھی اللہ تعالٰی کے حضور شرشیطان ملعون سے پناہ طلبی کی صورت پیداہوتی ہے تو تصرع کی مناسبت اپنی تمام تر اہمیت کے ساتھ دعاہائے واردہ کی شکل میں روشن ہوجاتی ہے ان دعاؤں میں سے ایک دعا ئے دفع شرابلیس ہے جو اس طرح ہے:
“اللهم إن إبلیس عبد من عبیدک یرانی من حیث لا أراه و أنت تراه من حیث لا یراک و أنت أقوى على أمره کله و هو لا یقوى على شیء من أمرک اللهم فأنا أستعین بک علیه یا رب فإنی لا طاقة لی به و لا حول و قوة لی علیه إلا بک یا رب اللهم إن أرادنی فأرده و إن کادنی فکده و اکفنی شره و اجعل کیده فی نحره برحمتک یا أرحم الراحمین و صلى الله على محمد و آله الطاهرین ”پروردگار ابلیس ترے بندوں میں سے ایک بندہ ہے جو ایسے مقام سے میری تاک میں ہے کہ میں اسے نہیں دیکھ سکتا لیکن تو اسے خوب دیکھ رہاہے جبکہ وہ تجھے دیکھنے پرقادر نہیں.اس کے حملہ تصرفات پر تیری قوت گرفت ہے جبکہ وہ تیرے کسی کام میں دخل اندازی نہیں کرسکتا.اے اللہ پس میں اس کے خلاف تجھ سےمدد کاطالب ہوں اے پروردگا رمجھ میں اس کے دفیعئے کی کوئی استطاعت نہیں ہے مگر صرف تیر ے وسیلے سے.اے اللہ اگر وہ میراقصد کرے تو تو اس کا قصد فرما،اگروہ میرے ساتھ برائی کااردہ کرے تو تو اس پر عذاب نازل فرما اور مجھے اس کے شرسے نجات دے اور اس کی دشمنی کو اسی کی گردن پر سوار کردے.میں ہوں تیری رحمت کاطالب .اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے و صلى اللہ على محمد و آلہ الطاہرین).
خدا اپنے بندوں کے لئے کافی:
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی شخص پورے تضرع کے ساتھ(یعنی خود کو واقعی اللہ تعالٰی کےحضور زاروذلیل کرکے پیش کرے اور صرف اسی سے مدد چاہے اور اسی کو نجات دہندہ مان کر نجات کاطالب ہو اور)اسی پروردگار توانا و مہربان سے شیطان ملعون کے شرسے پنامانگےتو وہ ضرور اسے پناہ دے گا اور اپنے حفظ وامان میں رکھے گا.
اس کی پناہ حاصل ہوجانے سے نجات یقینی ہوجاتی ہے.چانچہ وہ خود ارشاد فرماتاہے:( أَ لَيْسَ اللَّهُ بِکافٍ عَبْدَه ) کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے.
آثار تضرع:
نادیدہ شیطان سے فرار:اگر کہاجائے کہ انسان بے چارہ تو شیطان کو دیکھ ہی نہیں سکتا اور اسے پہچانتاہی نہیں اروت اس کے حملے کی کیفیت سے بے خبراور اس کے انداز شرانگیز سے ناواقف ہے تو پھر اس کے لئے کیسے ممکن ہے کہ اس سے فرار کرسکے اور اس سے بحضورپروردگار استعاذہ یا تضرع کرسکے اس سارے اشکال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس دشمن کی پہچان نہ ہوا اس سے فرار معقول ہی نہیں ،تضرع یاپناہ طلبی کا توذکرہی کیا؟!
علامات سے دشمن کی پہچان:
جواب اس کا یہ ہے کہ دشمن کو پہچاننا اور اس کے وجود سے خبردار ہونا صرف اسے آنکھ سے دیکھنے ہی پرمنحصر ہے.بلکہ قطعی علامات کے ذریعے اس سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے مثلاًاگر اندھیرے میں ایک سمت سے انسان کے سروچہرہ پر پتھر آکر لگیں یا اس پر تیروں کی بوچھاڑہو تو اسے خوب معلوم ہوتاہے کہ دشمن گھات میں بیٹھاہوا اس کی جان ومال کے درپے ہے.
ایسے موقع پردشمن کی موجودگی کی تحقیق سے پہلے انسان فوری طور پر کسی پناہ گاہ کی فکر کرتاہے ،اگر کوئی مکان نزدیک ہو تو اس کا دروازہ کھٹکھٹا تاہے ،صاحب خانہ سے مدد اور پناہ کی درخواست کرتاہے اور خود کو مکمل طورپر اس کے رحم و کرم پر چھوڑکر پورے عجزونیاز کے ساتھ دشمن کے خلاف اس سے اعانت وحفاظت چاہتاہے.لہذا اگر کوئی شخص شیطان کے حملے او رضرر رسانی کے اندیشے کو محسوس کرے تو ہر چند کہ اسے دیکھ نہ سکے،اسے پناہ گاہ کی فکر کرنی چاہئے.
شیطانی حملے:
اگر یہ کہا جائے کہ نہ صرف یہ کہ شیطان خود غیرمحسوس ہے بلکہ اس کے حملے یاوار بھی تو نظر نہیں آتے تو جوشخص دشمن کے وارہی کا احساس نہ کرسکے،کیسے اس سے فرار کرسکتاہے یا کسی دوسرے سے اس کے شرسے پناہ مانگ سکتاہے؟
تو جواب یہ ہے شیطان کے حملے غیر محسوس نہیں بلکہ وہ ان وسوسوں،ایمان شکن شکوک اور اندیشہ ہائے نارواکی شکل میں پوری طرح سے قابل احساس وشناخت ہوتے ہیں جووہ انسان کے قلب پرشب وروزوار د کرتاہے اور کسی لحظہ بھی اس عمل سے غافل نہیں ہوتا.
لطیفہ:
کسی نے ایک دانا سے پوچھاکیاشیطان بھی انسانوں کی طرح سوتاہے تو اس نے جواب دیا اگر ایسا ہوتا تو کم ازکم اپنی نیندہی کے دوران انسان سے غافل رہتا اور انسان اس وقفے میں اس کے شرسے محفوظ رہتا .لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان ایک لحظہ کےلئے بھی اس کے شرو فریب سے محفوظ نہیں،پس وہ نیند یاغفلت سے آزادہے(علمی جواب اس کا یہ ہے کہ شیطان عالم مادہ سے نہیں کہ اسے نیند کی حاجت ہو.مذکورہ بالاجواب محض ایک لطیفے کے طورپر دیاگیاہے).
شیطانی حملے کی علامت:
اگر کہا جائے کہ انسان کیسے جان سکتاہے کہ فلاں وسوسہ یااندیشہ شیطانی ہے اور اس کے شرکی کمان سے چھٹاہوا تیرہے جو سیدھا اس کے دل پر آکرلگا ہے تاکہ وہ نالہ وفریاد کرتاہو اللہ تعالٰی کے حضور پناہ طلب ہو.
توجواب یہ ہے کہ اصولی طور پر وہ اندیشہ یاوسوسہ جس کا تقاضا اللہ تعالٰی سے قطع تعلق اور خدا ورسولصلىاللهعليهوآلهوسلم او ر آخرت کے بارے میں شک ہوا اور نتیجہ اس کا اضطراب قلبی ہو،یقیناًشیطانی ہے،اور اس کے مقابلے میں ہر خیال اور فکر جس کااثر امید برخدا،حیات جاودانی پر ایمان پختگی اور اطمینان قلبی ہو،بہر حال رحمانی ہے.نیزہر وہ وسوسہ بھی جو اللہ تعالٰی سے دوری ،ثواب سے محرومی اور قہر عذاب الٰہی کے ورد کے بارے میں ہو ،یقیناً شیطانی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ہروہ فکر جوقرب خداوندی کااحساس دلائے اور ثواب کی امید پیداکرے ،خالصتاً رحمانی ہے.
رحمانی فکر:
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کے دل پر شب وروز واردہونے والے افکار وخیالات کہ جس سے پیداشدہ شوق واردہ یا حوصلہ شن تاثیر سے عمل صورت پذیر ہوتاہے.تین قسم کے ہیں:پہلی قسم وہ ہے جس کے متعلق انسان کو یقینی علم ہوتاہے کہ وہ رحمانی ہیں.مثلاًنماز کے وقت اس کا دل سے کہتاہے کہ نماز اداکریاجب کوئی موقعہ خرچ کرنے کاآتاہے تو اس کے دل میں آتاہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کربخل نہ کر ،صلہ رحم کر جوتیر پاس سائل بنکر آتاہے اسے محروم نہ کر اور جس قدر جلد ممکن ہو اس کی حاجت پوری کر.فلان فلان سے جنہوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے درگذر لین دین میں انصاف کر کمزوروں کی دستگیری کرو غیرہ .قصہ مختصر ہروہ امر جو اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق ہے،رحمانی ہے.
شیطانی فکر:
دوسری قسم وہ ہے جن کے شیطانی ہونے میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی او رپہلی قسم کی عین ضدہوتے ہیں.ان میں وہ سب اندیشے اور وسوسے شامل ہیں جوعقل وشرع کے منافی ہوں مثلاً خداکی راہ میں خرچ کرتے وقت وہ مال کی کمی اور فقرسے اندیشہ ناک ہو( الشَّيْطانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْر ) یا اس کے دل میں یہ اندیشہ آئے کہ کیا ضروری ہے کہ اسی ایک موقعے پر خرچ کیاجائے ممکن ہے کہ اس سے بھی زیادہ اہمیت دلاکوئی موقعہ آجائے .یا خیال کرے کہ یہ خرچ فلان شخص پرزیادہ ضروری ہے کیونکہ وہ مجھ سے مالدار تر ہے یا اسے کسی سے کوئی تکلیف پہنچے تو انتقاماً اسے اس سےکئی گنازیادہ اذیت دینے کااراردہ کرے،اگر اپنے کسی عزیزسے اسے رنج پہنچے تو اس سے قطع تعلق کرے یااگر وہ سنے کہ کسی نے اس کی چغلی کھائی ہے اور اس کے کسی غیب کو ظاہر کیاہے تو اس کے جواب میں وہ اس کے جملہ عیوب کو جو اس کے علم میں ہیں فاش کرکے اس کی فضیحت کاسامان کرے حتی کہ اس پرتہمت لگانے سے بھی نہ چُوکے اورگر اس کے دل میں کسی کے لئے حسد جاگزین ہوجائے تو اس کی تمام خوشیاں اس سے چھین جانے کے لئے سازشیں کرے.
مجموعی طور پر انسانی معاملات میں شیطانی افکار دخل حدوحساب سے زیادہ ہے جنہیں شرع مقدس کے اوامر ونواہی کاعالم شخص پوری تفصیل سے جانتاہے.
غور طلب افکار:
تیسری قسم کے افکار وہ ہیں جوواضح طور پر شیطانی نہیں ہو تے لیکن ان کا شیطانی ہونا اس وقت ثابت ہوتاہے جب ان کے ہاتھوں انسان ہلاکت میں گرفتار ہوچکا ہے.
اس قسم کے افکار سے شیطان کامقصد انسان کو یادخداسے غافل کرنا ہوتاہے.وہ انہیں حالت نماز یادوسری عبادت کےدوران انسان کےدل پر وارد کرتاہے تاکہ وہ حضور قلب سے محروم ہوجائے اور بعض اوقات توانسانی نفس میں اتنا نفوذ کرجاتاہے کہ اس کا وہ عمل ہی شیطان کی بازی گاہ بن جاتاہے اس کی وضاحت کے لئے یہ حکایت پیش کی جاتی ہے.
شیرفروش شیخ چلی:
کہتے ہیں ایک شیرفروش دودھ سے بھراہوامٹکا سرپر رکھ کراپنے گاوں سے شہرکی طرف جارہاتھا .اس نے سوچاکب تک اس مصیبت میں پڑا رہوں گا آج سے جوکچھ بیچونگا روزانہ اس میں سے فلان مقدار پس انداز کرونگا حتی کہ فلان مہینے میں میرے پاس فلان قدر رقم جمع ہوجائے گی چند مہینوں کےت بعد ایک بھیڑخریدوں گا اور اس کے دودھ اور اون کی فروخت سے ایک اوربھیڑ خریدوں گا.ان کی نسل بڑھےگی اور فلان مدت میں میرے پاس بھیڑوں کا پورا گلہ ہوجائے گا.اس گلے کو میرابیٹا جنگل میں چرانے کے لئے جایاکرے گا.فلان جگہ پرممکن ہے کسی روزاس کاکسی شخص سے جھگڑاہوجائے اگر اس نے میرے لڑکے سے زیادتی کی تو میں اسے ضرور سزادونگا اس تصور میں اس نے اپنے بیٹے کےموہوم حریف کومارنے کے لئےاپنے ہاتھ بلند کئے جودودھ کے مٹکے سے ٹکرائے اور وہ گرِکر چکناچور ہوگیا اور سارا دودھ ضائع ہوگیا.
ماضی یا مستقبل کادکھ:
بعض اوقات شیطان کسی گذشتہ حادثے کے تلخ یاد انسان کےدل پروارد کرتاہے تاکہ اسے رنجیدہ کرکے اللہ تعالٰی کی مشئیت پر اسے غضبناک کرے اور اسے صبر و رضا کے مقام سے محروم کردے.
اور اس کے بدتریہ کہ اسے مستقبل کے بارے میں غم انگیز افکار ووساوس میں مبتلا ءکردیتاہے مثلاً کہ کل کیا ہوگا شاید یوں ہوجائے یا یوں ہوجائے اب میں کیا کروں.نہ اسے نماز اچھی لگتی ہے اور نہ کوئی اور عمل خیر !لیکن وہ یہ نہیں سوچتاکہ عین ممکن ہے کہ یاس وقنوطیت کی یہ حالت ختم ہونے سے پہلے ہی اسے موت آجائے اوروہ ترک واجب کا مجرم ہو کردنیاسے رخصت ہو.اس قسم کے وسوسے بعض اوقات انسان کو ابدی ہلاکت کے گڑھے میں جھونک دیتے ہیں.
حسرتناک:
چند سال ہوئے ایک شخص نے ایک قطعہ زمین جو اس نے تین روپے فی میٹر کے حساب سے خریدا تھا،تیس روپے فی میٹر کے حساب سے بیچا ،چند دن کے بعدخریدا رنے اس زمین کونوے روپے فی میٹر کے حساب سم بیچ دیا جبکہ نئے خریدارنے چندروز بعد اسی زمین کو تین سوروپے فی میٹر کے حساب سے فروخت کیا.
زمین کااصل مالک شیطانی وساوس کا شکار ہوگیا ارو خود کو ملامت کرنے لگا بیچنے میں جلدی کیوں کی.اگرصرف چندروز صبر کرتا تو زمین دس گنا قیمت یمں بکتی.
اسی غم میں ایک ہفتہ رودھوکر آخر کار اس نے چونا اورگندھک کھاکر اپنی زندگی کاخاتمہ کرلیا.
ایک ددسرے شخص نے اپنی ساری جائداد بیچ کرد ولاکھ پچاس ہزار روپے میں ایک دوسری جائداد خریدلی .قبضہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ دھوکہ ہوا کیونکہ نئی جائداد نمکی ثابت ہوئی اور کوئی اسے نصف بلکہ تہائی رقم پر بھی خرید نے کو تیار نہ ہو انتیجتاً وہ شخص حسرت واندہ کا شکار ہوگیا.
غم فردا:
تیس سال ہوئے شیراز کا ایک تاجردیوالیہ ہوگیا ارو اس غم میں اس نے گھرے باہر آنا چھوڑدیا جوکچھ اثاثہ اس کے پاس تھا آہستہ آہستہ اسے بیچ کرکذاراوقات کرنے لگا .ایک دن اس فکر میں پڑاگیا کہ اگر یہی حالت رہی تو کتنے دن اور میرارزق چلے گا جوکچھ باقی موجود تھا اس نے اس کی قیمت لگائی اور اسے روزانہ کے خرچ پر تقسیم کیا تو معلوم ہوا کہ اس سے بمشکل تین سال گذرسکتے ہیں.سوچنے لگا تین سال کے بعد کیاہوگایقیناً مجھے گداگری کرنی پڑے گی،میں نے ساری عمر تجارت کی او رعزت و شرافت کی زندگی گذاری ،اب جانے پہچانے لوگوں کے سامنے ہاتھ کیسے پھیلاوں گا.
آخر کار شیطانی افکار ووساوس سے مغلوب ہوکر اس نے زہر کھاکر خودکشی کرلی.
اس طرح کی مثالین بے شمار ہیں اور جتنا کچھ بیان کیاجاچکا ہے عبرت گیری اور قلب انسانی شیطان کے حملوں اورضربات کی تباہ کاریوں کاندازہ کرنے کے لئے کافی ہے.
عام طور پر سنتے ہیں کہ فلان طالبعلم نے امتحان میں فیل ہوکر خودکشی کرلی یا فلان نوجوان مقابلے میں شکست کھاکر دماغی توازن کھوبیٹھا.
اگر کہا جائے کہ انسان ابلیسی وساوس اور اس کے حملوں کی مقاومت کی تاب نہیں لاسکتا اور اپنی انتہائی کوششوں کے باوجود ان سے محفوظ رہتا،اس کے بس کاروگ نہیں.لہذا وہ معذور ہے.
ہم کہتے ہیں کہ یہ کمزوری یا عدم استطاعت اللہ تعالٰی پر عدم ایمان یاقلت ایمان کیوجہ سے ہے .ایسے شخص کو اس کی رازقیت مطلقہ میں یقین حاصل نہیں جوبحید وحساب نعمتیں اس کو عطا کی گئی ہیں انہیں تو دونوں ہاتھوں سے سمیٹتاہے لیکن ان کے لئے اللہ تعالٰی کا شکرگذار ہونے کی بجائے کفران نعمت کرتاہے.سبب کوتاثیر میں مستقل مانتاہے اور اللہ تعالٰی پر توکل کرنے کی بجائے اسباب ہی پربھروسہ کرتاہے اورموت اورفناسے غافل ہے.
فرشتہ مقابل شیطان:
لیکن اگر ایک طرف شیطان انسان کے دل میں ایمان شکن وسوسے ڈالتا ہے تو دوسری طرف اللہ تعالٰی کی طرف سے مامور فرشتہ رحمت افکار رحمانی بھی اس کےدل میں القاء کرتاہے.یقیناً اگرشیطان کسی انسان کو کہتاہے کہ خودکشی کرلے ،دیناکی مصیبتوں سے نجات پالے گا.تو فرشتہ بھی اسے کہتاہے ایسا نہ کر بدبخت ہوجائے گا اور اپنی عاقبت برباد کرےگا.لیکن جس شخص نے ساری عمر شیطان کی اطاعت کی ہواس پر رحمانی ترغیبات اثر نہیں کرسکتیں.( أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَکانٍ بَعِید ) شیطان کے حملے کی ایک اور قسم وہ افکار ہیں جوابتداء میں خیرخوبی کے حامل نظرآتے ہیں لیکن نتیجہ ان کاشرو ہلاکت ہوتاہے .مثلاًانسان کے دل میں کوئی مستحب امر ڈالتا ہے تاکہ اس سے کوئی واجب فوت ہوجائے یافعل حرام سرزد ہوجائے اور یافعل حرام یاگناہ کو عبادت واطاعت کی شکل میں اس کے سامنے پیش کرتاہے جسے وہ کرگذرتاہے اور یا پھراسے کسی واجب پرآمادہ کرتاہے لیکن خود اس پر سوار رہتاہے حتی کہ ریاء اور غیرور کواس کے عمل داخل کرکے اسے اس کے گناہوں کا حصہ بنادیتاہے.
چونکہ اس طرح کے شیطانی ہتھکنڈے بہت خفیہ اور پوشیدہ ہوتے ہیں اور انسان عموماً ان میں گرفتار ہوجاتا ہے اس لئے ان کاجاننا بہت ضروری ہے وضاحت کے لئے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں.
۱- نہی عن المنکر میں ارتکاب منکر:
ایک شخص کسی کو قبلہ روپیشاب کرتے ہوئے دیکھتا ہے بجائے اس کے کہ یہ سمجھے کہ ممکن ہے اسے اس عمل کہ حرمت کہ علم نہ ہویاعین ممکن ہے کہ اسے صحیح سمت کااندازہ نہ رہا ہو اور اسے اخلاق کے ساتھ مہذب اندا ز میں سمجھاجائے کہ روبقبلہ یا پشت بقبلہ پیشاب کرنا حرام ہے اور اگر اسےسمت کاندازہ نہ تو صحیح سمت بتائے الٹاشیطان کی انگیخت سے اسے ڈانٹنا شروع کردے خوش خلاتی سے پیش آنے کی بجائے اس کے ساتھ بداخلاقی کرے اور بجائےاس کے کہ اسے سمجھاجائے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے چھینٹے اڑ کر لباس کو نجس کردیتے ہیں ،یہ کہے کہ کتے کی طرح کیوں پیشاب کررہاہےت یاڈانٹ ڈپٹ یابد زبانی اور گالی گلوچ کے ساتھ اس سے مخاطب ہوتو گناہ کبیرہ کا مجرم ہوگا او رنہی عن المنکر کرتا کرتا خود منکر کامرتکب ہوجائیگا.
۲- اولاد کی دینی تربیت:
ایک شخص کابیٹانماز نہیں پڑھتا.اس کا سب سے پہلے یہ فرض ہے کہ اسے نصحیت کرے اور نرمی اور شفقت سےاسے نماز پرآمادہ کرے اور اگر ابتداء ہی سے اس نے انہیں ڈانٹ ڈپٹ شروع کردی ،جسمانی سزادی یا گھرسے نکال دیا،یا اس کا خرچ بند کردیا تو وہ چوری کرنے لگے گا اور آوارہ واوباش لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا.ایسی صورت میں باپ گناہ گار ہوگا بلکہ عبادت اور نہیں عن المنکر کے نقطہ نگاہ سے گناہ کبیرہ کا مجرم ہوگا.
۳- ریاکارانہ تلاوت:
ایک شخص کی آواز اچھی ہے اور تجوید کے اصول کے مطابق خوش الحانی سے تلاوت کرتاہے .شیطان اسے اکساتاہے کے کہ بآواز بلند پڑھ تاکہ لوگ زیادہ مستفید ہوں اور طرفین کوثواب حاصل ہو.لیکن چونکہ اس کہ یہ تلاوت شیطان کی اکساہٹ کی وجہ سے ہے اور وہ تلاوت کے دوران اس کے نفس پر سوار رہتاہے لہذا بجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالٰی کی قربت جوئی کے لئے تلاوت کرے،اپنی خوش آوازی کی نمائش اورلوگوں کی تحسین وآفرین سے لذت اندوزی کے لئے قرآن پاک پڑھتاہے.اس طرح نہ صرف وہ ایک نہایت مستحب عمل کے ثواب سے محروم ہوجاتاہے بلکہ شیطان کی انگیخت پرریا،کامرتکب ہوکر گناہگار و مردود ہوجاتاہے.
۴- منبر ومحراب – بازی گاہ ابلیس:
ایک شخص علوم دینی سے بہرہ مندہے.شیطان اسے تلقین کرتا ہے کہ قلم کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی کراو ر مشکل سوالات کے جواب دے .لیکن اس کے دل میں شہرت طلبی اور اپنے علم کی نمائش کاداعیہ پیدا کردیتاہے.وہ کتاب لکھتاہے جو یقیناً ایک دینی خدمت ہے لیکن اللہ تعالٰی کے حضور اس کی خدمت قطعا ناقبول ہے اور اس کی عاقبت کے لئے مضر ہے.
ایک دوسرے عالم سے جو اہل نطق وبیان ہے،ابلیس کہتاہے کہ محراب ومنبر بنی اور امام کامقام ہے اور توانہیں کاجانشین ہے.تجھے چاہئے کہ دنیاکی راہنمائی کرے،انہیں نماز اور دیگر عبادات کے ثواب سے آگاہ کرے اور خداترسی، تقويٰ اور توکل پرآمادہ کرے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے نفس میں جاہ طلبی مال اندوزی ،مرید سازی اور دنیا کی تحسین وآفرین کی محبت راسخ کردیتاہے .اس طرح جوں جوں محراب ومنبر میں اس کی دلچسپی میں اضافہ ہوتاہے،توں توں اس کے درجات میں تنزل واقع ہوتاہے اور نتیجتاً مبری کی سیڑھیاں ہی اس کے لئے درکات جہنم بن جاتی ہیں.اور محراب اس کے لئے دوزخ کا گڑھاثابت ہوتاہے.
۵- زن بیگانہ کے ساتھ خلوت:
نامحرم عورت سے تنہائی میں ہر قابل تصور گناہ ممکن ہے شیطان ہمیشہ اس موقعے کی تاک میں رہتاہے کیونکہ یہ صورت حال انسان کی تباہی کی کوششوں میں کامیابی کے لئے اس کی بڑی معاون ثابت ہوتی ہے اور وہ اسے حرام وہلاکت میں مبتلا کئے بغیر نہیں چھوڑتا.
انسان کو سمجھنا چاہئے کہ نامحرم کے ساتھ خلوت جہاں فساد کا اندیشہ ہو قطعا حرام ہےخواہ وہ عبادت ہی کے لئے یکجا ہوں.ایسی صورت میں ان کی نماز بھی باطل ہے.
اجنبی عوت کے ساتھ خلوت کے فساد کو سمجھنے کے لئے مجلس ہشتم میں داستان برصیصائے عابد پرغور کریں.
خیروشرکا میزان شرع مقدس ہے:
اگر کہا جائے کہ اس طرح تو کسی بھی فکر پر جوانسان کے دل میں گذرے عمل نہیں کرناچاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ شیطانی ہو.یا اگر وہ رحمانی بھی ہو تو بھی احتمال ہے کہ وہ انسان کے نفس پرتسلط پاکر اس کے عمل کو فاسد کرکے اسے گناہ بنادے.
جواب یہ ہے کہ ان گذارشات کا مقصد خدانخواستہ یہ نہیں ہے کہ اعمال صالحہ اور عبادات واطاعت خداوندی کو ترک کیاجائے بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ شرشیطان سے اللہ تعالٰی کے حضور استعاذہ کی حالت وکیفیت پیدا کی جائے.اس مطلب کی وضاحت کے لئے یہ کہنا ضروری ہے کہ ہروہ فکر جوانسانی دل پروارد ہواسےمیزان شریعت میں تولنا چاہئے اگر امر خداکے مطابق ثابت ہو توپھر وسوسہ شیطانی سے خبردار رہ کر خالصتاً اللہ تعالٰی کی رضاجوئی کے لئے اسے انجام دینا چاہئے .یہ بہت ضروری ہے کیونکہ شیطان ہمیشہ انسان کی گھات میں ہےوہ کبھی گوار نہیں کرسکتاکہ وہ عبادت کے ذریعے اللہ تعالٰی کا قرب حاصل کرسکے.
علاج استعاذہ حقیقی ہے:
اس کاعلاج صرف یہ ہے کہ شیطان سے دوری اور فرار اختیار کیاجائے اور اللہ تعالٰی کے حضور اس کے شرسے پناہ طلب کی جائے.لہذا انسان پرلازم ہے کہ ہر عمل خیر کی ابتداء میں خواہ وہ مستحب ہو یاواجب تہ دل سے استعاذہ کرے اوراعوذباللہ من الشیطان الرجیم”اس طریقے سےکہے کہ دل بھی پورے طور پرزبان کے ساتھ ہمنوا ہو.خلاصہ یہ کہ خوش انجام علم جس کے شرعی ہونے کے بارے میں انسان کو پورا یقین ہو،فوری طور پر بلاپس وپیش انجام دینا چاہئے لیکن دوران عمل میں شرشیطان سے اللہ تعالٰی کے حضور پناہ طلبی جاری رہے تاکہ عمل کا صحیح طریقے سے سر انجام ہو اور اللہ تعالٰی کے قربت اور ثواب آخرت حاصل ہو.
قرآن مجید میں شیطان کی پہچان:
پروردگار عالم نے قرآن میں کئی جگہ شیطان کو انسان کے دشمن کی حیثیت سے روشناس کرایا ہے اور انسا ن کو اس کے مکروفریب سے خبردار کرکے اسےاس دور رہنے اور اسے اپنا دشمن سمجھنے کی ہدایت فرمائی ہے
إِنَّما يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَ الْفَحْشاءِ وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ ما لا تَعْلَمُون
وہ بس تمہیں بدعملی اور بدکاری کا حکم دیتا ہے اوراس بات پر آمادہ کرتاہے کہ خدا کے خلاف جہالت کی باتیں کرتے رہو.
( ِ أَ فَتَتَّخِذُونَهُ وَ ذُرِّيَّتَهُ أَوْلِیاءَ مِنْ دُونی وَ هُمْ لَكُمْ عَدُو ) کیا تم لوگ مجھے چھوڑ کر شیطان اور اس کی اولاد کو اپنا سرپرست بنا رہے ہو جب کہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں.
( إِنَّ الشَّيْطانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ) بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو اسے دشمن سمجھو.
( أَ لَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ یا بَنی آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّيْطانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبینٌ ) اے اولاد آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی عبادت نہ کرنا کہ وہ تمہارا کِھلا ہوا دشمن ہے.
لہذا جوشخص خدا ور سولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور قرآن پرایمان رکھتاہے اسے چاہئے شیطان کی دشمنی کو اپنی ذات پر واجب سمجھے اور اس کی دوستی کو مہلک جانے.
ان بیانات سے بخوبی واضح ہے کہ شیطان کی دوستی سے مراد اس کی وسوسہ اندازی اور اس کے احکام کی تعمیل ہے اور اس کی دشمنی سے مراد اس کی جملہ انگخیتوں کی مخالفت اور اس کے احکام و وساوس سے سرکشی ہے.
شیطان کی مخالفت بہت مشکل کام ہے:
چونکہ شیطان کی انگخیتیں اور اس کے احکام ووساس انسان کی نفسانی خواہشات،اس کے فطری تقاضوں اور حیوانی شہوات کے مطابق ہوتے ہیں اس لئے ان کی مخالفت سخت مشکل اور نفس پربڑی ناگوار ہوتی ہے.
مثلاًاگر کوئی شخص شہد کا بہت رسیاہو اور شہد اس کے پاس موجودبھی ہو.لیکن جب وہ اسے کھانا چاہئے تو ایک حاذق حکیم جو اتفاقاًوہاں موجود ہے اسے بتائے کہ شہد اس کے لئے مضرہے او راس سے پرہیز کرنے کی ہدایت کرے لیکن کوئی دوسرا شخص کہے کہ یہ کہاں کا طبیب ہے اور کیسی اس کی تشخیص ہے کہ شہد سے منع کرتاہے.
در اصل وہ شہد کے بارے میں تم سے حسد کرتاہے.میرےخیال میں شہد تمہارے لئے نعمت سے کم نہیں ...وغیرہ..تو ایسی صورت میں طبیب کی باتوں پہ کون کان دھرے گا.
یا کوئی جوان آدمی کسی بیگانہ جوان عورت کے ساتھ آزادا نہ خلوت میں بیٹھا ہو اور ادھر سے شیطان ملعون بھی دونوں کو فعل حرام کی ترغیب وتحریض میں اپنی قوت صرف کررہاہو تو ایسی حالت میں شیطان کی مخالفت اورفکر رحمانی کی پیروی بہت مشکل کام ہے.
عمرسعد او رشیطانی ورحمانی فکر:
چنانچہ عمربن سعد نے جوسخت دنیادار اور حکومت وریاست کالالچی تھا شیطانی فکر کو کہ امام حسینعليهالسلام کے ساتھ جنگ کے عوض رے کی حکومت ملے گی،انسانی شیطان عبیداللہ ابن زیاد کےذریعے قبول کرلیا لیکن رحمانی فکر یعنی سیدالشہداء کے ساتھ جنگ سے بازرہنے کو جیساکہ اس کے باپ سعدوقاص کےدوست کامل کے ذریعے اسے اشارہ ہوا،قبول نہ کیا(کتب مقاتل میں اس کی تفصیل موجودہے)اور اس کی نصحیتوں کو جو اس کے اپنے میلان طبع کے خلاف تھیں ردکردیا.
شیطان کاکام شہوات پراکسانا ہے:
جس طرح بھوکا کتا اس جگہ کو نہیں چھوڑتاجہاں مردار اور ہڈیاں ہوں اسی طرح وہ دل جس میں حب دنیا اور شہوات نفسانی کی گندگی ہوگی شیطان اسے نہیں چھوڑےگا.اور اس سے صحت واخلاص کے ساتھ کوئی عمل سرزد نہیں ہونے دے گا.
ہمارے اس بیان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ انسان کی ہلاکت کاباعث اس کی ہوائے نفس ہے او رشیطان کاکام یہ ہے کہ اس کی تکمیل و تعمیل پر اسے اکسائے اور اس کے شوق ورغبت میں شدت پیدا کرے.
( وَ قالَ الشَّيْطانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَ ما کانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطانٍ إِلاَّ أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لی فَلا تَلُومُونی وَ لُومُوا أَنْفُسَكُمْ ما أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ ما أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّی كَفَرْتُ بِما أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمینَ لَهُمْ عَذابٌ أَلیمٌ ) رز حشر جب سب فیصلے ہوچکیں گے (اور شیطان تمام امور کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کہے گا کہ اللہ نے تم سے بالکل برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا پھر میں نے اپنے وعدہ کی مخالفت کی اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کرلیا تو اب تم میری ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کی ملامت کرو کہ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا اور بیشک ظالمین کے لئے بہت بڑا دردناک عذاب ہے
مختصر یہ کہ انسان کی ہلاکت میں شیطان کے عمل دخل کابڑا سبب انسان کی اپنی نفسانی خواہشات ہیں.
دوسرے الفاظ میں انسان کا داخلی دشمن یعنی اس کا نفس اور اس کا خارجی دشمن شیطان دونوں مل کر انسان کو بے بس اور مجبور کردیتے ہیں.
فریادرس بے چارگان:
لیکن اگر اس حال میں انسان اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو،اسے اپنی بے بسی وبے چارگی کاواسطہ دے کر شیطان سے اس کی پناہ طلب کرے اور اس کے مقابلے کی طاقت مانگے تو اللہ تعالٰی یقیناً اس کی فریاد سنے گا اور اسےدشمن پر غالب آنے کی ہمت وتوفیق عطافرمائے گا.( أَمَّنْ يُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذا دَعاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوءَ ) اللہ تعالٰی بیچاروں کی فریاد سنتاہے او رانہیں مصیبت سے نجات دیتاہے.
سید سجادعليهالسلام کی دعا کے الفاظ یہ ہیں:
“وَ لا يُجِیرُ مِنْ عِقَابِكَ إِلَّا رَحْمَتُكَ، وَ لَا يُنْجِینِی مِنْكَ إِلَّا التَّضَرُّعُ إِلَيْكَ وَ بَيْنَ يَدَيْكَ ” تیرے عذاب سے مجھے صرف تیری رحمت بچاسکتی ہے یا میری عاجزی وزاری نجات دے سکتی ہے.(صحیفہ سجادیہ:دعائے جمعہ)
ایک دوسری عاد میں عرض کرتے ہیں:“نَحْنُ الْمُضْطَرُّونَ الَّذِینَ أَوْجَبْتَ إِجَابَتَهُمْ، وَ أَهْلُ السُّوءِ الَّذِینَ وَعَدْتَ الْكَشْفَ عَنْهُم ”ہم وہ بے بس ہیں جنکی فریاد رسی تونے خود پر واجب فرمائی ہے اور وہ مصیبت زدہ ہیں جنکی نجات کا تونے وعدہ فرمایاہے.
پھر ایک دعا کی الفاظ یوں ہیں:
“قَدْ مَلَكَ الشَّيْطَانُ عِنَانِی فِی سُوءِ الظَّنِّ وَ ضَعْفِ الْيَقِینِ، فَأَنَا أَشْكُو سُوءَ مُجَاوَرَتِهِ لِی، وَ طَاعَةَ نَفْسِی لَهُ، وَ أَسْتَعْصِمُكَ مِنْ مَلَكَتِهِ، وَ أَتَضَرَّعُ إِلَيْكَ فِی صَرْفِ كَيْدِهِ عَنِّی.”
بدکمانی اور صعف یقین کی وجہ سے شیطان نےمیری مہارت لی ہےمیں اس کی بڑی ہمسائیگی سے نالاں ہوں اور قریاد کرتاہوں میرا نفس اس کی اطاعت میں قیدہوگیا ہے،اس کے تسلط سےمیں تیری پنا ہ کا طالب ہوں اور عاجزانہ لتجاء کرتاہوں کہ اس دام فریب سے مجھے رہائی عطا فرما.
عجز ونیاز بدرگارہ ایزدی:
شرشیطان سے نجات کاتنہا ذریعہ بارگاہ الٰی میں تضرع وزاری ہے اوراللہ تعالٰی عاجزی سے فریاد کرنے والے کی ضرور دستگیری فرماتاہے.ارشاد ب العزت ہے:.
( فَلَوْ لا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا وَ لكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ ما کانُوا يَعْمَلُون ) پھر ان سختیوں کے بعد انہوں نے کیوں فریاد نہیں کی بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے.
یعنی اگر گرفتار بلاہوتے وقت اللہ تعالی و یاد کرتے اورخودکواس کا محتاج ونیازمند سمجھ کر اس کےحضور عاجزی اورزاری کرتے تووہضرور انہیں نجات بخشتالیکن شیطان نےان کویاد سےبازرکھا اور وہ شہوات نفسانی میں سرگرم ہوگئے.
جوشخص اللہ تعاليٰ کو فراموش کردیتاہے ،حصول منفعت اور دفع مضرت کے لئے صرف اسباب پر بھروسہ کرتاہے اور اللہ تعالٰی کے حضور تضرع وزاری کو غیر ضروری سمجھتاہے وہ بوقت مصیبت اللہ تعالٰی کی نظر کرم سےمحروم ہوجاتاہے اپنے دشمن کے شرسے خود کومحفوظ نہیں رکھ سکتا.
سرگذشت یوسفعليهالسلام :
حضرت یوسفعليهالسلام کی داستان اور آپ کازلیخا کے ساتھ خلوت میں گرفتار ہوجانا اہل نظر کے لئے ملحہ فکریہ مہا کرنے والاواقعہ ہے.زلیخا کےدام تیزوتیرسے بچنے کے لئے آپ انتہائی بے بس کے عالم میں اللہ تعالٰی کے حضور پناہ طلب ہوئے اور ذات باری تعالٰی نے انہیں عجیب طریقے سے نجات بخشی اور قرآن مجید کا ایک پورا سورہ ان کے ذکر کے لئے مخصوص فرمایا تاکہ مسلمان اس سے نصیب وعبرت حاصل کریں.اور مصیبت کے وقت ان کے نقش قدم پر چل کر نجات پاسکیں یہ سورۀ شریفہ سعادت اورنیک بختی تک پہنچنے کےلئے ایک رہنمادستور ہے .اللہ تعالٰی نے ایسی داستانوں کو صاحبان عقل کےلئے وجہ عبرت بنایاہے( لَقَدْ کانَ فی قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِی الْأَلْباب ) یقینا ان کے واقعات میں صاحبانِ عقل کے لئے سامان عبرت ہے.(یوسف:۱۱۱)
مناسب ہے کہ داستان یوسفعليهالسلام کے اس موضوع سےمتعلق حصے کامختصر ذکر کیاجائے.
عشق کےسامنے بےبس:
ہرچند کہ یوسفعليهالسلام بظاہر عزیز مصر کے زرخرید غلام تھے لیکن حسن صورت ،پر وقار شخصیت اور عظمت کرداری کی وجہ سے عزیز مصر کی نظروں میں بہت مکرم ومحترم تھے عزت واکرام کے ساتھ قصر شاہی میں رہتے تھے اور وہیں سن رشد کو پہنچے اور جوان ہوئے عزیز نے اپنی ملکہ زلیخا سے ان کے بارے میں نیک رفتاری کی سفارش کی ہوئی تھی.
زلیخا اپنے شوہر کی سفارض کے علاوہ بھی ان کے حسن و جمال اور خوش سیرتی کی وجہ سے ان پر فریفتہ تھی اور انہیں بہت محبوب رکھتی تھی اور جب وہ جوان ہوئے تو ان پر مرمٹی اور اپنے جذبات پر قابونہ رکھ سکی اور ان کے عشق میں دیوانی ہوگئی محبت کا طوفان سلطنت کے رعب وجلال کو خس وخاشاک کی طرح بہالے گیا اور وہ اپنے نام نہاد غلام کے آگے بےبس ہوگئی .اور ہر لحظہ وصال کی تدبیروں میں مصرف رہنے لگی لیکن جتنی بھی اس نے کوشش کی کہ دلربایا نہ کہ شموں ،شہوت انگیز اشاروں اور اپنے حسن کی نمائش سے یوسفعليهالسلام کے دل کو شکار کرلے کامیاب نہ ہوسکی اور آپ کی طرف سے اسے خاموشی اوربے التفاتی کے سواکچھ بھی حاصل نہ ہوا.
دلدادہ حسن حقیقی:
حضرت یوسفعليهالسلام شہوات حیوانی سے آزاد وبے نیاز اورعشق خداندی سے سرشار تھے اور حسن مطلق کے نظاورں میں اتنے وارفتہ تھے کہ جزئ،عارضی اورفانی حسن سےمتاثر نہیں ہوسکتےتھے.
زلیخا ان کی ترغیب و تحریص کی انتہائی کوششوں میں شکست فاش کھاکر بے تاب ہوگئی ا س میں تاب صبر وشکیبا نہ رہی اور جذبات کےہاتھوں لاچار ہوکر اس نے آخر ی قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا.
اپنے محل کے ایک دوسرے کے ساتھ ملحق کمروں میں سے آخری کمرے کواس نے تخلیہ گہ بنایا اور اسے انتہائی زینت وآرائش دیکر اس میں شہوت انگیزی کے پورے محرکات مہیا کئے پھر خود کو انتہائی حسن اور جوانی کے بھرپور جوبن میں تھی شہوت انگیزانہ انداز میں پورے آراستہ کرکے کمرے کے پردے لٹکادیے اور یوسفعليهالسلام کو اپنے پاس بلایا.اسے پورایقین او رعتماد تھا کہ یوسفعليهالسلام آج ضرور اس کے حسن کی چکاچوندسے مسحور ہوجائیں گے اوراس کی خواہش کی تکمیل سےسرتابینہ کرسکیں گے.اور پھر وہ اس کے زرخرید غلام بھی توتھے.!
آپ کے داخل ہوتے ہی اس نے کمرے کے دروازے بندکرلئے اور اپنا آپ پوری اشتغال انگیزیوں اور عنائیوں کے ساتھ انہیں پیش کیا اور پھر حاکمانہ انداز میں انہیں کہا “وَ غَلَّقَتِ الْأَبْوابَ وَ قالَتْ هَيْتَ لَک”آو میر خواہش پوری کرو.
اللہ کے سواکوئی مدد گار نہیں:
اس مقام پر یوسفعليهالسلام کے حال پر غور کریں کہ آپ کتنی بڑی ہلاکت ،تباہ کن حادثے سےدوچار اور کتنے عظیم الشان اور سخت امتحان میں مبتلا ہوگئے تھے .ایک طرف حسن وشباب سے کمک یافتہ صف بستہ فطری حیوانی تقاضے ، شہوانی انگیختیں اور دشمن صبر وشیکب ماحول اور دوسری طرف عزیز مصر کی خوبروبیوی کی بے باکانہ وبے تکلفانہ ارو مالکانہ تحکم کے ساتھ بے دریغ دعوت گناہ اور کسی مانع کی غیر موجودگی سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی قوت وقدرت کے سواکوئی بچانے والانہیں تھا.
لیکن یوسفعليهالسلام کہ جن کادل ایمان باللہ سے لبریز اور اس کی محبت میں سرشار ہے،مخلوق کی شریرخواہش کو خاطر میں نہیں لاتے اور اس لغزش ناک حادثہ سے ان کا پائے ثبات متاثر نہیں ہوتا خود کو پوری شعور ی کوشش سے قابومیں رکھتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے حضور شیطان کے اس شرعظیم سے پناہ طلب ہوتےہیں.
اللہ تعالٰی کےحضور آپ کااستعاذہ:
اس مقام پر آپعليهالسلام نے فرمایا:( َ قالَ مَعاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّی أَحْسَنَ مَثْوايَ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) (یوسف :۲۳) یوسف نے کہا کہ معاذ اللہ وہ میرا مالک ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے اور ظلم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے.(نہ تو ہے اے زلیخا اور نہ تیرا شوہر)وہی میرے جملہ امور کا مالک ہے اس نےمیرے مقام کو عزت بنایا اور مجھے خوش بخت اور نجات یافتہ قراردیا وہ ظالموں کو کبھی سرخرونہیں کرتا).یعنی تیری اور تیرے شوہر کی طرف سے میرااکرام واحترام اور عزت افزائی درحقیقت اللہ تعالٰی ہی کی مشئیت وتدبیر سم ہے اور اسی نے تم لوگوں کو اس پر مائل فرمایا ہے لہذا مجھے اسی کی فرمابرداری اور اطاعت کرنی چاہئے اور تیرے دام فریب حسن سے نجات پانے کے لئے اسی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور چونکہ تیری خواشہ شیطانی ہے اور اللہ تعالٰی کی نافرمانی کو مستلزم ہے لہذا مجھ سے ہرگز پوری نہ ہوگی.کیونکہ اس منعم حقیقی کے اتنے احسانات کےبعد جو اس نے بلاواسطہ یاتم لوگوں کے ذریعےت سے مجھ پرفرمائے ہیں اس کے احکام سے سرتابی بہت ظلم ہے جومجھ سےہرگز سرزدنہ ہوگا کیونکہ ظالم لوگ اللہ تعالٰی کے دشمن ہیں اور وہ نجات سے قطعا محروم رہیں گے.
حقیقی پناہ گاہ:
یوسفعليهالسلام جو اللہ تعالٰی کے مخلص بندے اور اس کے عاشق صادق تھے اس پر لغزش حادثے پر اللہ تعالٰی کے حصور پناہ طلب ہوئے اور اسی سے اس شرعظیم کےدفعیئے کے لئے مدد خواہ ہوئے ذات باری نے بھی ان کے نورایمان ومعرفت سے پردل کو ایسی قوت بخشی کہ نہ صرف یہ کہ وہ گناہ کے نزدیک نہ گئے بلکہ اس کے قصد وارادہ سے بھی محفوظ رہے ارو زلیخا کی تمام ترہیجان انگیز کوششیں،ایمان وتقويٰ شکن تدبیریں مالکانہ تحکم ،کوئی حربہ بھی ان پر کارگر نہ ہوا بلکہ اس کے شرسے بچنے کے لئے وہ دروازے کی طرف دوڑے.زلیخا نے ان کا پیچھا کیالیکن آپ اس سے پہلے دروازے تک پہنچ گئے .مست مے شہوت زلیخا نے آپ کا قمیص پکڑلیا تاکہ آپ کا ہاتھ دروازے تک نہ پہنچ جائے.اس کھینچاتانی میں آپعليهالسلام کے تعاقب میں دوڑی لیکن رستے میں عزیز مصر کھڑا تھا...
زلیخا نے پہلی کرتے ہوئے خود کو شوہر کے سامنے بےگناہ ثابت کرنے کے لئے یوسفعليهالسلام پربدنیتی اور دست درازی کا الزام لگادیا .اور عزیز سے آپ کی سزایاقید کامطالبہ کیا.
اب یوسفعليهالسلام کو حقیقت بتانی پڑی .آپ نے عزیز مصر کو بتادیا کہ خود زلیخا کااردہ انکے ساتھ بدی کا تھا.
پنگوڑے میں موجود ایک شیرخوار بچے کو اللہ تعالٰی نے گویائی عطافرمائی اس نے کہا اگر یوسف کا قمیص آگے سے پھٹا ہمتو یوسف قصوروار ہیں اور اگر وہ پیچھے سے پھٹا ہو اہے تو زلیخا مجرم ہے .یہ گواہی یوسفعليهالسلام کے حق میں گئی اور اللہ تعالٰی نے آپ کو مصیبت سے نجات دی.( كَذلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَ الْفَحْشاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصینَ ) ) یوسف:۲۴) یہ تو ہم نے اس طرح کا انتظام کیا کہ ان سے برائی اور بدکاری کا رخ موڑ دیں کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے.
مزید امتحان:
اشراف مصر کی چند بگیات نے زلیخا کو ایک غلام کے عشق میں متبلا ہوجانے پر ملامت کی زلیخانے ان پر یہ ثابت کرنے کی تدبیر کی کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں بلکہ یوسف کے مردانہ حسن وجمال کے سامنے کوئی بھی مغرور سےمغرور عورت اپنے ہوش وحواس قائم نہیں رکھ سکتی ،اور اگر وہ خود بھی انہیں ایک نظر دیکھ لیں گی تو ان کا ساراغرور حسن خاک میں مل جائے گا اور وہ یوسف کے عشق میںاندھی ہوجائیں گی.
اس نے سب ملامت کرنے والیوں کی دعوت کی اورضیافت کے عین درمیان یوسفعليهالسلام کو بلابھیجا جب آپ آئے تو انہوں نے آپ کو دیکھ کر پہلی ہی نظر میں ہوش وحواس کھودے اور ان کے عشق میں مبتلا ہوکر اسقدر بد حواس ہوگیئں کہ ہاتھوں میں پکڑی ہوئی نارنجیوں کو کاٹنے کی بجائے اپنےہاتھ زخمی کرلئے یہاں یوسفعليهالسلام پرابتلاء سخت ترہوگئی .اگر پہلے صرف زلیخا کاسامنا تھا تو آپ محفل ضیافت میں موجود تمام حسین وجوان عورتوں کے چنگل میں پھنس گئے کیونکہ انہوں نے بھی آپ سےزلیخا ہی والامطالبہ کردیا.آپ نے بے بس ہوکر اللہ تعالٰی کے حضور تضرع و زاری کی کہ ائے پروردگار ان عورتوں کے شرسے مجھے محفوظ فرمااگر تونے(میرے نور علم اور یقین قلبی کو) نہ بچایا تومیں اس دام میں پھنس کر جاہلوں میں سے ہوجاوں گا.( ِ وَ إِلَّا تَصْرِفْ عَنِّی كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَ أَكُنْ مِنَ الْجاهِلِین ) اور اگر تو ان کے مکر کو میری طرف سے موڑ نہ دے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوسکتا ہوں اور میرا شمار بھی جاہلوں میں ہوسکتا ہے.
اللہ تعالٰی نے آپ کو شرشیطان سے اپنی پناہ میں رکھا اور آپ کے دل کو نوریقین سےایسی قوت عطافرمائی کہ وہ ان سب پر غالب آئے اور ان کا فریب ناکام ہوا حتی کہ آپ زندان خانے میں جانے کے لئے توتیار ہوگئے لیکن ان عورتوں کی خواہش کے آگے نہیں جھکے( فَاسْتَجابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمیعُ الْعَلیمُ ) تو ان کے پروردگار نے ان کی بات قبول کرلی اور ان عورتوں کے مکر کو پھیر دیا کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کا جاننے والا ہے(فریاد دیوں کی فریادسنتا ہے اور پوشیدہ امور کا دانا ہے).
داستان عبرت:
اگر اس داستان کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو ہر وہ شخص جو اللہ تعالٰی پر کامل ایمان رکھتاہے،جب بھی اس پرہوائے نفس یاشیاطین جن و انس کےوسوسوں کا غلبہ او ردباؤہو اور وہ اسے اللہ تعالٰی کین نافرمانی پر اکسائیں تو وہ اپنے پزوردگار کے حضور پناہ کا طالب ہوگا اور اس سے شرشیطان سےنجات کی دعاکرے گا .اور اللہ تعالٰی اس کی دعا کوشرف قبولیت سے نواز تے ہوئے اس شرسے اس کی حفاظت فرمائے گا.
اس بحث کے خاتمے پر ہم آپ کو جناب امیرالمؤمنین حضرت علیعليهالسلام کی ایک سفارش کی طرف متوجہ کرتے ہیں.
استعاذہ علیعليهالسلام :
نوف بکالی کہتے ہیں میں نے جناب امیرعليهالسلام کو دیکھا کہ شہر سے نکل کرتیزتیز قدم اٹھاتے ہوئے صحراء کو تشریف لے جارہے ہیں میں نےعرض کیا مولا کہاں کا ارادہ ہے تو آپ نے فرمایا اے نوف مجھے جانے دے میری تمنائیں ارو احتیاجات مجھے محبوب حقیقی کی طرف بلارہی ہیں.
میں نے عرض کیا مولاآپ کی آرزوئیں کیا ہیں. تو آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی جومیری امید وآرزوکا مرکزہیں وہ خود انہیں خوب جانتاہے اور اس کے غیرکوان کا بتانا ضروری نہیں اورباادب بندے کو نہ چاہئے کہ اپنی ینازمند یوں کے بارے میں کسی دوسرے کو اپنے پروردگار کے ساتھ شریک ٹھہرئے.
پس میں عرض کیا اے امیرالمؤمنینعليهالسلام میں اپنے آپ میں اندیشہ ناک ہوں کہ ہروقت دنیا اور مال دنیا کےجمع کرنے اور اپنی توجہات کو دنیا کے نمودونمائش پرمرکوز کرنے میں سرگرم رہنے کی وجہ سے سعادت اخروی سے محروم نہ ہوجاؤں.
آپ نے فرمایا:اس رب کریم کے دامن رحمت سے وابستہ ہوجوخو فزدوں کامحافظ او رعارفوں کی پناہ گاہ ہے
میں نے عرض کیا مولا: اس کی بارگاہ کرم تک میری زہنمائی فرمائیے.
آپ نے فرمایا:
وہ خدا رحیم وبزرگ وبرترکسی کومایوس نہیں کرتا پس صدق دل اور پورے عزم وارادہ کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتاکہ اس کے فضل عمیم اور لطف کریم سے تو اپنے مقصدتک رسائی حاصل کرے.
(بحارالانوار :جلد۱۹،کتاب الدعا،باب ادعیة المناجاة)
(اللهم صلى على محمد و آله الطاهرین )
فہرست
مقدمہ: ۴
حقیقی پنا صرف وہی دے سکتاہے جو خود نجات یافتہ ہو ۴
مجلس ۱ ۶
قرآن و اخبار میں استعاذہ کی اہمیت: ۶
عبادت کی ابتدا میں استعاذہ: ۶
مباح امور میں استعاذہ کی تاکید: ۷
شیطان مسجد کے دوازے پر: ۷
گھرسے نکلتے وقت استعاذہ : ۷
پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کو استعاذہ کا حکم: ۸
اللہ تعالی نے بنی صلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم دیا: ۸
پوری عمر شیطان کی تھی: ۹
حکومت- نامحرموں سے خلوت- غصہ: ۹
مجلس ۲ ۱۱
دام شیطان: ۱۱
صدقہ کرکے اسے جتاؤنہیں: ۱۲
شیطان کی نظردل پر ہے: ۱۲
شیطان کیاہے وہ کیوں پیداکیاگا:؟ ۱۳
شیطان شناسی کاکیافائدہ ہے: ۱۳
شیطان آگ سے خلق ہواہے اورلطیف مخلوق ہے: ۱۳
شیطان آپ کو دیکھتاہے: ۱۴
شیطان کی خلقت اور انسان کی سعادت: ۱۴
شیاطین کی تخلیق کا مقصد انسان کی آزمائش ہے: ۱۵
اللہ کا وعدہ اور شیطان کاوعدہ: ۱۶
صدائے رحمانی اور صدائے شیطانی: ۱۶
شیطان کسی کو مجبور نہیں کرتا: ۱۶
مجلس۳ ۱۸
ابلیس کی حاسدانہ روش: ۱۸
حاسد اور متکبرکاجنت سے کوئی واسطہ نہیں: ۱۸
ابلیس کی خواہش پوری ہوگئی: ۱۹
ملائکہ میں بھی الہام کی طاقت ہے: ۱۹
دوراہے پر: ۲۰
توبہ کادروازہ کھلاہے: ۲۰
رحمت کادامن آخری دم تک وسیع ہے: ۲۱
حسن بصری کاسوال امام زین العابدین عليهالسلام کاجواب: ۲۱
موت سے پہلے بیماری کوورودنعمت ہے: ۲۱
مجلس ۴ ۲۲
شرشیطان سے بچاؤکی صورت صر استعاذہ ہے: ۲۲
خیمہ سلطان اورخونخوار کتا: ۲۲
استعاذہ دل سے ہونہ کہ زبان سے: ۲۳
استعاذہ کی تین قسمیں: ۲۳
اللہ تعاليٰ کی اطاعت میں پناہ طلبی: ۲۳
شیطان کے ردمیں شیطانی تصنیف: ۲۴
استعماری طاقتوں کی سیاست: ۲۴
استعاذہ کی حقیقت گناہ سے فرار ہے: ۲۵
ہاتھ شیرکے منہ میں اورپیروں سے فرار: ۲۵
سچا خواب اور شیطان کادام فریب: ۲۶
ارکان پنجگانہ استعاذہ ۲۷
مجلس۵ ۲۷
لفظ سے مفہوم واضح ہونا چاہیئے: ۲۷
رکن اور جوشیطان لعین سے فرار ہے،تقويٰ پر مبنی ہے ۲۷
شیطان پرہیزگاروں سے دوربھاگتاہے: ۲۸
توکل اللہ تعاليٰ پر ہونا چاہئے: ۲۸
شیطان کا اہل اخلاص سے کوئی تعلق نہیں: ۲۹
کیاہم تقويٰ اور تذکر کی صلاحیت رکھتے ہیں: ۲۹
حرام خوری سب سے برامانع استعاذہ فعل ہے: ۲۹
جب تک حرام کے آثار برطرف نہیں ہوتے استعاذہ ممکن نہیں: ۳۰
مشکوک ومشتبہ غذا سے پرہیز : ۳۱
مجلس ۶ ۳۲
لقمۀ حرام کی پہچان: ۳۲
آیت کے مفہوم سے استعاذہ کی عمومیت: ۳۳
نانبائی کا تنور اور شیطانی راگ: ۳۳
ہم بے بس اور مجبور ہیں: ۳۳
خوارک کی طہارت و نجاست: ۳۴
مجلس۷ ۳۵
شیطان سےدشمنی رکھو: ۳۵
کیاشیطان سوتاہے: ۳۵
آپ کو مسلح رہنا چاہیئے: ۳۵
مومن کا اسلحہ مستحبات اور ترک مکروہات: ۳۶
شیطان تدریجااپنے جملوں میں شدت لاتاہے: ۳۶
وضو مومن کا تیز دھار اسلحہ ہے: ۳۶
روزہ اور صدقہ سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے: ۳۷
میں نے شیطان کی ماں کو دیکھا: ۳۷
توبہ بھی ایک طاقتور ہتھیار ہے: ۳۸
دوطاقتور شیطان کش ہتھیار: ۳۹
ابلیس پائے امام سجاد عليهالسلام کوکاٹتاہے: ۳۹
شیطانی ہتھکنڈوں سے لوگوں کو آگاہ کرو: ۴۰
بال سے باریک اور تلوار سے تیز: ۴۰
امور آخرت بہ نیت دنیوی: ۴۱
تین لاکھ کافاصلہ: ۴۱
رکن اول ۴۲
تقويٰ ۴۲
مجلس ۸ ۴۲
تقويٰ استعاذہ کاپہلا رکن: ۴۲
ترک مکروہات برای محرمات: ۴۲
پرخار جنگل اور پابرہنہ مسافر: ۴۳
دانہ ودام ابلیس: ۴۳
تقويٰ دام ابلیس کودیکھ لینے کی صلاحیت ہے: ۴۳
کچھ ناگزیر مثالیں بازار دام شیطان ہے: ۴۴
بازار میں داخلے کے وقت استعاذہ: ۴۴
بازار کےاندر شیطان کا پھندا: ۴۵
رفیق سفر خطرناک پھندا: ۴۵
اپنے آپ کو پہچانئیے: ۴۶
عورت سب سے خطرناک دام ہے: ۴۶
عورت کی ہمنشینی گناہ کا مقدمہ: ۴۶
برصیصائے عابد کاواقعہ: ۴۷
مجلس ۹ ۴۹
استعاذہ صرف تقويٰ کے ساتھ مفید ہے: ۴۹
بے تقويٰ دل شیطان کا گھر: ۴۹
مرغن غذا اور بھوکاکتا: ۴۹
بیمار دل شیطان کی ضیافت گاہ: ۵۰
اکثریت گرفتار ہے: ۵۰
چور نقیب کی فکر میں: ۵۱
ابلیس خانہ دل کے گرد: ۵۱
چنانچہ ۵۱
خودکشی کیوں کی؟!: ۵۲
استعاذہ کیوں کار گرنہیں؟: ۵۲
مومت کی یاد حقیقت نماہے: ۵۳
شہدکے گرد مکھیاں: ۵۳
شیطان توبہ میں بڑی رکاوٹ ہے: ۵۴
امام سجاد عليهالسلام کا اسوہ: ۵۴
زمان غیبت میں دعائے غریق: ۵۵
مجلس۱۰ ۵۶
استعاذہ کیوں؟: ۵۶
کارہائے خیررہنمائے شر: ۵۶
شربراہ خیر: ۵۷
ترک واجب کے لئے مستحبات کی ترغیب: ۵۷
عبادت سے نفرت کی اکساہٹ: ۵۷
پروردگار دین میں بصیرت عطافرما: ۵۸
شیطان کافضا میں قیام نماز: ۵۸
مجلس۱۱ ۶۱
شیطان محرک افعال: ۶۱
انبیاء عليهالسلام سے بھی باز نہیں آتا: ۶۱
حضرت مسیح عليهالسلام کی شیطان لعین سے گفتگو: ۶۲
ابراہیم عليهالسلام اور شیطان کی وسوسہ اندازی: ۶۲
ابلیس ایمان کی آزمایش: ۶۳
حضرت ابراہیم عليهالسلام پر شیطان کی وسوسہ اندازی: ۶۳
کیاہم نے بھی کبھی شیطانت کو دھتکار اہے: ۶۴
عظیم ترکون؟: ۶۴
گریہ ابراہیم عليهالسلام : ۶۵
مجلس۱۲ ۶۶
اس آیہ شریفہ میں حقیقت استعاذہ: ۶۶
دعائے حضرت امام سجاد عليهالسلام : ۶۶
بتی بجھا نے والاچور: ۶۷
خانہ دل میں چور: ۶۷
حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے بچئے: ۶۷
ذوالکفل کا پیمان: ۶۸
شیطان مدد طلب کرتاہے: ۶۸
شیطان کا دق الباب: ۶۹
شیطان عاجز ہوگیا: ۶۹
بے تقويٰ دل میں ذکر الہيٰ کاالٹااثر ہوتاہے: ۷۰
مجلس۱۳ ۷۱
تقويٰ مشق سے پیدا ہوتاہے: ۷۱
ترک مشتبہات: ۷۲
ترک مکروہات: ۷۲
ترک حرام کی غرض سےترک مباح: ۷۲
رمضان کے لئے روزانہ ایک پیسہ: ۷۳
ترک واجب کاسبب سفر: ۷۳
مادی وسعت: ۷۴
رکن دوم ۷۵
تذکرّ ۷۵
مجلس۱۴ ۷۵
خیال گناہ و یاد خدا: ۷۵
ذکر شیطانی وسوسہ سے نجات دیتاہے: ۷۶
غیظ وغضب کی حالت میں شیطانی وسوسہ: ۷۷
حزقیل کی عبرت: ۷۸
دومٹھی خاک کابستر: ۷۹
قبروں پرجانا چاہئے: ۷۹
جناب زہراعلیہا السلام شہدائے احد کی قبور پر: ۸۰
مجلس۱۵ ۸۱
یقینی طور پر اچھی چیزیں (ہدایت والے امور): ۸۱
قطعی طور پر برے کام(گمراہ کن امور): ۸۱
شبہ کے مقامات (ہدایت اور گمراہی کے درمیانی امور): ۸۲
احتیاط ضامن نجات ہے: ۸۲
کسوٹی: ۸۲
استخارہ تردد میں رہنمائی کرتاہے: ۸۳
بعض لوگ استخارے کو غلط سمجھے ہیں: ۸۳
قبرمقدس نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم پر جناب امام حسین عليهالسلام کا استخارہ: ۸۳
استخارہ تسبیح یا قرآن مجید سے: ۸۴
حکایت عجیب دربارہ استخارہ: ۸۴
قرآن استخارہ کے لئے نہیں نازل ہوا: ۸۵
قرآن سے فال لینا درست نہیں: ۸۵
استخارہ کے بارے میں تصنیفات: ۸۵
جاننا چاہئے کہ استخارہ کی چند اقسام ہیں: ۸۶
استخارہ کے بارے میں واضح تاکیدات: ۸۶
ہر امام نے دوسرے امام کو استخارہ کی اتنی ہی تاکید فرمائی ہے جتنی قرأت قرآن کی ۸۷
رفع حیرت کے لئے مشورہ: ۸۷
ائمہ علیہم السلام مشورہ کرتے تھے: ۸۸
استخارہ ذات الرقاع(پرچیوں سےاستخارہ): ۸۸
دوسروں کے لئے استخارہ: ۸۹
رکن سوم ۹۰
توكُّل ۹۰
مجلس ۱۶ ۹۰
توکل .توحید افعالی کالازمی جزو: ۹۰
اسباب کی پیروی اللہ کے بھروسے پر: ۹۰
وکیل پکڑنا ضروری ہے: ۹۱
متوکل سے شیطان دوربھاگتاہے: ۹۱
واقعہ کربلا کے بعد ابن زبیرکا خروج: ۹۱
امام زین العابدین عليهالسلام اور نورانی وجود: ۹۲
تسکین قلب کے لئے ہمکلامی: ۹۳
امام حسین عليهالسلام کی علی اکبر عليهالسلام سے گفتگو: ۹۳
مجلس ۱۷ ۹۴
توکل علم حال اور عمل کانتیجہ ہے: ۹۴
دانائی اوربندوں پر شفقت: ۹۴
نبی عليهالسلام نے کبھی لعنت نہیں فرمائی: ۹۵
خدائی شفقت کانمونہ: ۹۵
لوگ خود جہنم کے طلبگار ہیں: ۹۶
بلی کے بچے پر شفقت: ۹۶
شیطان کو متوکلین سے کیا سروکار: ۹۷
دوستان خدا کو شیطان سے کوئی اندیشہ نہیں: ۹۷
گھاس کا تنکا: ۹۸
عقبيٰ میں بھی اللہ پر توکل لازم ہے: ۹۸
مجلس ۱۸ ۹۹
توکل میں توحید: ۹۹
اللہ تعاليٰ پر توکل عقلاً واجب ہے: ۹۹
متوکل ہونا کییے ممکن ہے: ۹۹
توحید افعال پر پورا یقین ضروری ہے: ۱۰۰
پانی پینے کا عمل ملاحظہ ہو: ۱۰۰
لباس بھی اس کا دیاہوا ہے: ۱۰۰
دفع ضرر بھی اسی کی طرف سے ہے: ۱۰۱
طبیب یا قاتل: ۱۰۱
جملہ امور میں ارادہ الہيٰ غالب ہے: ۱۰۱
وسیلہ بھی ضروری ہے: ۱۰۲
توکل علم کا نتیجہ ہے: ۱۰۲
نعم الوکیل: ۱۰۲
متوکل غیر اللہ سے بے خوف ہے: ۱۰۳
غیر اللہ سے امید رکھنے والاناکام رہتاہے: ۱۰۴
ہمیں اسباب نےاندھا اور بہرکردیاہے: ۱۰۴
توکل کے مراتب ہیں: ۱۰۵
توکل کی کیفیت دائمی ہونی چاہئے: ۱۰۵
مجلس ۱۹ ۱۰۶
رنج وراحت اللہ کی طرف سے ہے: ۱۰۶
علم کے بغیر عقیدہ توحید افعالی نہیں: ۱۰۶
منہ کھل کے بند نہیں ہوا: ۱۰۷
سورۀ توحید کی اہمیت: ۱۰۷
ابراہیم خلیل اللہ متوکلین کے لئے سرمایہ افتخار ہیں: ۱۰۷
کیاہم نے کبھی سچ بولا؟: ۱۰۸
متوکل لالچی نہیں ہوتا: ۱۰۸
وکیل کی اطاعت ضروری ہے: ۱۰۸
خالی دوکان میں اللہ کے سہارے: ۱۰۹
بے کار جوان خدا کادشمن ہے: ۱۱۰
اہل علم کی روزی غیب سے!: ۱۱۰
توکل اسباب پر منحصر نہیں: ۱۱۰
ضعف ایمان کی باتیں: ۱۱۱
توکل کا حصول واجب ہے: ۱۱۱
مشورہ اور توکل: ۱۱۲
توکل نہیں تو ایمان نہیں: ۱۱۲
ادّعابازرسواہوتا ہے: ۱۱۳
پس محض اپنے فہم پربھروسہ نہ کریں: ۱۱۳
مجلس ۲۰ ۱۱۴
اسباب کی حقیقت: ۱۱۴
استخارہ اور توکل: ۱۱۵
سب کچھ مشئیت ایزدی سے ہے: ۱۱۵
خطرے میں توکل: ۱۱۶
جاہلانہ توکل: ۱۱۶
صادق آل محمد عليهالسلام اور شیر: ۱۱۶
توکل کے دیگر مفہوم: ۱۱۷
سبب کاوجود مستقل نہیں ہے: ۱۱۷
غیرخداکو پکار نا: ۱۱۸
مجلس ۲۱ ۱۱۹
توکل علم توحید کا لازمہ : ۱۱۹
الفاظ اور حقیقت میں بڑافرق ہے: ۱۱۹
امورکی تفویض: ۱۲۰
کیاقرآن مجید کلام الہيٰ نہیں؟ ۱۲۰
آیات توحید میں غوروفکر: ۱۲۰
فقہ اور توحید: ۱۲۲
تقويٰ اور توحید: ۱۲۲
ایمان حقیقی : ۱۲۲
حرص سم بچو: ۱۲۳
بے نیاز کی طرف بازگشت: ۱۲۳
حبیب ابن مظاہر فقیہ تھے: ۱۲۴
مجلس ۲۲ ۱۲۵
توکل ایمان کالازمہ ہے: ۱۲۵
اسباب بمقابلہ مشئیت: ۱۲۵
عبد الملک اور مرض استقاء: ۱۲۶
اصحاب فیل: ۱۲۷
یقین کی حدتوکل ہے: ۱۲۷
شاہیں اور اسیر: ۱۲۸
مجلس ۲۳ ۱۳۰
امور آخرت میں توکل: ۱۳۰
اخلاقی سعادت کے اسباب: ۱۳۰
صرف عمل پر تکیہ ہلاکت کا موجب ہے: ۱۳۱
عمل اور رحمت خداوندی: ۱۳۱
عجیب حادثہ: ۱۳۲
محروم تکلم: ۱۳۲
نوریقین کسبی نہیں ہے: ۱۳۲
اللہ تعاليٰ بندہ پر ورہے: ۱۳۳
رکن چہارم ۱۳۴
اخلاص ۱۳۴
مجلس۲۴ ۱۳۴
عمل اور خلوص نیت: ۱۳۴
دوراہے پر: ۱۳۵
قعر جہنم یا درجات بہشت: ۱۳۵
اس میں آپ ہی کی بہتری ہے: ۱۳۶
شیطان کے کلیجے میں ٹھنڈک: ۱۳۶
جہاد اکبر: ۱۳۶
شاکلہ اور شریعت: ۱۳۷
آداب زناشوئ: ۱۳۸
جناب زہرا سلام اللہ علیہا: ۱۳۸
مجلس ۲۵ ۱۴۱
عمل نیت سے ہے: ۱۴۱
عبادت میں قصد قربت: ۱۴۱
نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعائے بارش: ۱۴۲
بےخلوص ظاہرداری: ۱۴۳
حمد اور شکر نعمت: ۱۴۳
بے بیناد دعويٰ: ۱۴۳
فریب جائز نہیں: ۱۴۴
دل کی اصلاح ضروری ہے: ۱۴۴
جنگ جمل اور اصحاب علی عليهالسلام : ۱۴۵
اللہ تعالٰی صدق نیت عطا فرمائے: ۱۴۵
مجلس ۲۶ ۱۴۶
دشمن ایمان و عمل: ۱۴۶
اخلاص کمال توحیدہے: ۱۴۶
بہت سے لوگ اخلاص کے مدعی ہیں: ۱۴۷
شیطان کی فریاد: ۱۴۸
تین گروہوں کا حساب کتاب: ۱۴۸
بلند ترین مراتب اخلاص: ۱۵۰
مجلس ۲۷ ۱۵۱
خلوص ا و رعمل خالص: ۱۵۱
دنیاوی آبروبھی اسی کے ہاتھ میںہے: ۱۵۱
مالک دینار کاقصہ: ۱۵۲
بے فائدہ عبادت: ۱۵۲
تحسین وآفرین خلق: ۱۵۳
کیا مدح مفید ہے؟: ۱۵۳
احمدبن طولون وقاری قرآن: ۱۵۴
عالم کی عبادت: ۱۵۵
باپ بیٹا: ۱۵۵
مجلس ۲۸ ۱۵۶
امید جنت وخوف دوزخ: ۱۵۶
تیس سالہ عبادت کا اعادہ: ۱۵۶
امراض نفسانی کاعلاج کیجئے: ۱۵۷
ریاء اور ذیلی محرکات سےتوبہ: ۱۵۷
کشتہ راہ خر: ۱۵۸
ضمنی محرکات مبطل عمل نہیں: ۱۵۹
خانہ کعبہ تپتی سرزمین پر: ۱۵۹
زاد سفر: ۱۵۹
خداسے معاملہ: ۱۶۰
مجلس ۲۹ ۱۶۱
ضمنی محرکات کی وضاحت: ۱۶۱
معاوضہ جائز نہیں: ۱۶۱
کس برتے پر؟: ۱۶۲
مقناطیس سے عجیب تر: ۱۶۲
ناچیز کیا جھگڑتاہے ناچیزکے لئے: ۱۶۳
کام کی اجرت ہے ہی کتنی؟: ۱۶۳
امید ثواب: ۱۶۴
عاقل عمل پرنازاں نہیں ہوتا: ۱۶۴
جگنواور ہیرا: ۱۶۵
جوکل ہوگا کردار کاپیش نامہ: ۱۶۵
رکن پنجم ۱۶۶
تضرع ۱۶۶
مجلس۳۰ ۱۶۶
تضرع کیفیت استعاذہ کالازمہ ہے: ۱۶۶
ماثور دعاؤں کے ذریعے کیفیت تضرع کابیان: ۱۶۶
خدا اپنے بندوں کے لئے کافی: ۱۶۷
آثار تضرع: ۱۶۷
علامات سے دشمن کی پہچان: ۱۶۸
شیطانی حملے: ۱۶۸
لطیفہ: ۱۶۸
شیطانی حملے کی علامت: ۱۶۹
رحمانی فکر: ۱۶۹
شیطانی فکر: ۱۶۹
غور طلب افکار: ۱۷۰
شیرفروش شیخ چلی: ۱۷۰
ماضی یا مستقبل کادکھ: ۱۷۱
حسرتناک: ۱۷۱
غم فردا: ۱۷۱
فرشتہ مقابل شیطان: ۱۷۳
۱- نہی عن المنکر میں ارتکاب منکر: ۱۷۳
۲- اولاد کی دینی تربیت: ۱۷۳
۳- ریاکارانہ تلاوت: ۱۷۴
۴- منبر ومحراب – بازی گاہ ابلیس: ۱۷۴
۵- زن بیگانہ کے ساتھ خلوت: ۱۷۴
خیروشرکا میزان شرع مقدس ہے: ۱۷۵
علاج استعاذہ حقیقی ہے: ۱۷۵
قرآن مجید میں شیطان کی پہچان: ۱۷۵
شیطان کی مخالفت بہت مشکل کام ہے: ۱۷۶
عمرسعد او رشیطانی ورحمانی فکر: ۱۷۷
شیطان کاکام شہوات پراکسانا ہے: ۱۷۷
فریادرس بے چارگان: ۱۷۸
سید سجاد عليهالسلام کی دعا کے الفاظ یہ ہیں: ۱۷۸
عجز ونیاز بدرگارہ ایزدی: ۱۷۸
سرگذشت یوسف عليهالسلام : ۱۷۹
عشق کےسامنے بےبس: ۱۷۹
دلدادہ حسن حقیقی: ۱۸۰
اللہ کے سواکوئی مدد گار نہیں: ۱۸۰
اللہ تعالٰی کےحضور آپ کااستعاذہ: ۱۸۱
حقیقی پناہ گاہ: ۱۸۱
مزید امتحان: ۱۸۲
داستان عبرت: ۱۸۳
استعاذہ علی عليهالسلام : ۱۸۳