توبہ آغوش رحمت
گروہ بندی اخلاقی کتابیں
مصنف استادحسين انصاريان
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب:توبہ؛ آغوش رحمت

مؤلف:استادحسین انصاریان


عرض ناشر

نفس کو برائیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اس کو امن و امان میں رکھنا، اپنی روح و فکر کو گندی افکار سے بچانا، اخلاقی خوبیوںکو حاصل کرنا، کمال کے درجات تک پہنچنا، انسانی شرافت تک دست رسی پیدا کرنا، روحانی اور معنوی کمالات کو حاصل کرنا، الٰھی حقائق کا علم حاصل کرنا، فیض و کرم کے مرکز سے متصل ہونا، قرب الٰھی کے مقام تک پھونچنا، خداوندعالم کی محبت کے دائرہ میں داخل ہوکر فنا فی اللہ ہونا، انسانی تمام فضائل و شرافت کو حاصل کرنا اور سعادتِ آخرت کے بلند درجہ تک پھونچنا، غرض یہ تمام چیزیں کسی انسان کو حاصل ن ہیں ہوسکتی مگر گناھوں سے پرھیز کرنے کی صورت میں۔

پس گناھگار انسان جب تک گناھوں اور معصیت سے پرھیز ن ہیں کرتا تو اس وقت تک وہ فیوض الٰھی اور معنوی برکات سے محروم رہے گا، لہٰذا اس دنیا کی تمام خیر و نیکی کے مجموعہ تک پھونچنا ممکن ن ہیں ہے مگر گناھوں کو ترک کرنے کی صورت میں، چنانچہ وہ انسان جو گناہ اور معصیت میں ھمیشہ مبتلا رھتا ہے وہ اپنی جسمانی، روحانی اور معنوی استعداد کی صحیح پرورش ن ہیں کرسکتا کیونکہ اس کے گناہ اس کی معنوی ترقی میں سدّ باب بن جاتے ہیں ۔

لیکن خداوندعالم نے اپنے لطف و کرم کی بنا پر گناھگار انسانوں کے لئے ایک ایسا دروازہ کھول رکھاھے، جس سے انسان اپنے ماضی کی تلافی کرسکتا ہے اور وہ اس دروازے سے داخل ہوکر نہ صرف یہ کہ اپنے نفس سے گناھوں کی آلودگی کو دور کرسکتا ہے بلکہ اس کے ذریعہ اپنے معنوی درجات میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔

اور یہ دروازہ جسے آسمانی اور روحانی حقیقت کھتے ہیں ”توبہ“ کے علاوہ کچھ ن ہیں ہے، اور یھی توبہ ہے جو ” آغوش رحمت الٰھی“ ہے۔

اسی نورانی اور ملکوتی حقیقت” توبہ“ کے ذریعہ گناھگار انسان خداوند عالم سے قربت حاصل کرتا ہے۔

محترم قارئین ! توبہ کا رتبہ بھت بلند و بالا اور عظیم ہے، اس کتاب میں اسی عظیم الشان حقیقت کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی بحث کی گئی ہے، البتہ وہ آیات و روایات جو توبہ کے موضوع پر مشتمل ہیں وضاحت طلب ہیں یعنی ان آیات و روایات کو سمجھنے کے لئے دقیق طور پر تفسیر وتوضیح کی ضرورت ہے اوران کا علمی مطالب سے مستند ہونا ضروری ہے۔

چنانچہ مشھور دانشور، محقق بزرگ عالم باعمل جناب استاد حسین انصاریان مدظلہ نے ۱۳۶۳ھ ق میں توبہ سے متعلق تحقیقی بحث کی تھی جو اس زمانہ میں طلاب کرام، اسٹوڈینس اور جوانوں کے درمیان بھت مقبول ہوئی، جس کے بھت مفید آثار ظاھر ہوئے۔

مزکز تحقیقاتی دار الصادقین کے مدیر اعليٰ جناب حجة الاسلام حاج سید محمد جواد ھاشمی یزدی صاحب نے اس ”مجموعہ تقاریر“ کو کتابی شکل دینے کی فرمائش کی تاکہ دوسرے مومنین بالخصوص جوان طبقہ بھی اس سے فیضیاب ہوسکے۔

تقاریر کے مجموعہ کو موسسہ دار العرفان نے لکھا اور استاد محترم کی خدمت میں پیش کیا، موصوف نے علمی اور دقیق مبانی کے تحت مطالب کو دیکھا اور اس کتاب کو ترتیب دیا۔

اور بعض محققین کی فرمائش پر موسسہ دار العرفان نے اس کے مدارک و منابع کی بھی تحقیق کی اورآیات و روایات کی بھی فھرست تیار کی ۔

پس یہ تحقیقی مجموعہ درحقیقت استاد محترم کے قلم سے ہے لہٰذا توبہ کے سلسلہ میں بھت مفید واقع ہوگا۔ (ان شاء اللہ)

امید ہے کہ اھل تحقیق کے لئے توبہ کے موضوع میں دقیق و عمیق بحث کے لئے ایک فتح الباب ہوگا اور رحمت الٰھی کے امیدوار افراد کے لئے معنویت سے بھرا دسترخوان قرار پائے گا۔

مرکز علمی تحقیقاتی دار العرفان


عرض مولف

جس وقت ایران اور عراق کے درمیان جنگ ہورھی تھی، حقیر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے معنویت بھری فضا ”محاذ جنگ “پر حاضر ہوا، تو وھاں کچھ روحانی اور ملکوتی شخصیتوںسے آشنائی ہوئی ان با معرفت شخصیات نے حقیر سے خواہش کی کہ جس وقت محاذ پر سکون ہو اور راہ ِعشق کے مسافر اور مجاہدین فی سبیل اللہ اپنے بعض اداری امور کے لئے تھران آئےں تو ان کے لئے ایک ایسا جلسہ منعقد ہو جس میں قرآنی آیات اور احادیث معصومین علیھم السلام کی روشنی میں عاشقانہ اور عارفانہ گفتگو ہو، تاکہ اسلامی سپاھیوں کے اندر دینی معرفت حاصل ہو اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اور زیادہ جوش و ولولہ پیدا ہو۔

حقیر نے اس فرمائش کو قبول کرلیااور ہفتہ میں ایک بار منگل کی رات میں جلسہ کا وقت معین کیا گیا، جلسہ میں شرکت کرنے والے شروع شروع میں بیس افراد سے زیادہ ن ہیں تھے، لیکن بعد میں تعداد زیادہ ہوگئی، ھمارے اس جلسہ کا آغاز نماز جماعت سے ہوتا تھا اس کے بعد چند فقھی مسائل، معارف الٰھیہ اور ذکر مصائب اھلبیت علیھم السلام پر ختم ہوجاتا تھا، چنانچہ آہستہ آہستہ بھت سے پاک دل جوانوں کا اضافہ ہوتا رھا، اور ان کے ذریعہ اطلاع پانے والے افراد بھی اس جلسہ میں جوق در جوق آنے لگے، ان جلسوں میں ایک خاص معنویت ہوتی تھی جس میں نہ کوئی بینر ہوتا تھا او رنہ ہی کوئی صدر و سکریٹری، بر خلاف دوسرے تمام جلسوں کے کہ جن میں مدیر، ہدایت کار، اور صدر و سکریٹری ہوتے ہیں ، لیکن ھماراجلسہ جوش وولولہ، مھر و محبت او رعشق ونورانیت سے لبریز ہوتا تھا، برادران کے درمیان وحدت اور اتحاد پایا جاتا تھا، لوگ خدا کی خوشنودی کے لئے جلسہ میں شرکت کرتے تھے، رضائے الٰھی کے لئے پڑھتے تھے اوررضائے الٰھی کے لئے سنتے تھے، خلاصہ اس جلسہ میں وجد اور حال کے علاوہ کچھ ن ہیں ہوتا تھا۔

آخر کار جلسہ میں شرکت کرنے والوںکی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی، اس جلسہ کی اھمیت یہ تھی کہ حقیر ایران کے کسی بھی علاقے میں جھاں ک ہیں بھی ہوتاتھا وھاں سے واپس آجاتا تھا اور جلسہ میں شرکت کرنے والوں کا بھی یھی دستور تھا، یھاں تک کہ اس جلسہ میں شرکت کرنے کے لئے ملک کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے فوجی جنگجو اپنے سرداروں سے چھٹی لے لے کر شریک ہوا کرتے تھے۔

ھم یہ سوچتے تھے کہ یہ عشق و محبت اور معنویت سے بھر ایہ بھترین جلسہ سالوں سال چلتا رہے گا، لیکن بھت سے نیک اور پاک سیرت جوان درجہ شھادت پر فائز ہوگئے، اور بھت سے افراد بعثی صدامیوں کے ھاتھوں اسیر ہوگئے، ھمارے اس جلسہ کے افراد اس قدر شھید یا اسیر ہوئے کہ ھم سے ان کی خالی جگہ کو دیکھا ن ہیں جاتا تھا، ھمارے لئے یہ بھت گراںوقت تھا، دوسرے شرکت کرنے والے نئے لوگ ایسے افراد ن ہیں تھے جو ان کی خالی جگہ کو پُر کردےں، چنانچہ ھم نے غمگین حالت اور گریاں کناں آنکھوں کے ساتھ اس جلسہ کو الوداع کیا، اس طرح ھمیشہ کے لئے اس جلسہ کی تعطیل ہوگئی، ھمارے دل میں ان جیسے افراد کو دیکھنے کی تمنا آج تک باقی ہے، لیکن ابھی تک ایسے افراد نہ مل سکے اور نہ ہی اب ان جیسے افراد کے ملنے کا گمان ہے۔

ان جلسوں میں مختلف مطالب بیان ہوئے تھے منجملہ: توبہ، معرفت، عشق خدا، قیامت اور عرفان ۔اور خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ان جلسات کو ٹیپ بھی کیا گیا تھا، چند سال بعد بعض افراد نے فرمائش کی کہ ان جلسوںمیں بیان شدہ مطالب کو کتابی شکل دیدی جائے تاکہ عام مومنین بھی اس کے مطالعہ سے فیضیاب ہوسکیںلہٰذاموسسہ دار العرفان کے ذریعہ توبہ سے متعلق وہ ٹیپ لکھے گئے۔

قارئین کرام! کتاب ھذا ان ہی ۲۰ ھفتوں سے زیادہ منعقد ہوئے جلسوں کی یادگار ہے، وہ شبیں جن کی یادیں ابھی تک ھمارے لئے شیرین اور تلخ ہیں ، امید ہے کہ آپ حضرات” توبہ “کے سلسلہ میں جدید مطالب سے مستفیض ہوں گے، آخر میں خداوند منان سے دعا ہے کہ ھمیں توبہ کی توفیق عطا کرے اور اس سلسلہ میں بیان شدہ مطالب پر عمل کرنے کی سعادت عنایت فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین )

احقرالعبد: حسین انصاریان


نعمتیں اور انسان کی ذمہ داری

( فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ حَلاَلاً طَیبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ إِنْ كُنْتُمْ إِیاهُ تَعْبُدُونَ ۔) (۱)

”لہٰذا اب تم اللہ کے دئے ہوئے رزق حلال و پاکیزہ کو کھاؤ اور اس کی عبادت کرنے والے بنو، اور اس کی نعمتوں کا شکریہ بھی ادا کرتے رھواگر تم خدا کے عبادت گزار ہو“۔

خداوند متعال نے اپنے خاص لطف و کرم، رحمت ومحبت اور عنایت کی بنا پر انسان کو ایسی نعمتوں سے سرفراز ہونے کا اھل قرار دیا جن سے اس کائنات میں دوسری مخلوقات یھاں تک کہ مقرب فرشتوںکو بھی ن ہیں نوازا۔

انسان کے لئے خداوندعالم کی نعمتیں اس طرح موجود ہیں کہ اگر انسان ان کو حکم خدا کے مطابق استعمال کرے تو اس کے جسم اور روح میں رشد و نمو پیدا ہوتا ہے او ردنیاوی اور اُخروی زندگی کی سعادت و کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

قرآن مجید نے خدا کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں ۱۲ اھم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے:

۱۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت۔

۲۔ حصول نعمت کا راستہ۔

۳۔ نعمت پر توجہ ۔

۴۔نعمت پر شکر۔

۵۔نعمت پر ناشکری سے پرھیز۔

۶۔نعمتوں کا بے شمار ہونا۔

۷۔نعمت کی قدر کرنے والے۔

۸۔نعمتوں میں اسراف کرنا۔

۹۔نعمتوں کو خرچ کرنے میں بخل سے کام لینا۔

۱۰۔نعمت کے چھن جانے کے اسباب و علل۔

۱۱۔اتمام ِنعمت ۔

۱۲۔نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام۔

اب ھم قارئین کی توجہ قرآن مجید کے بیان کردہ ان عظیم الشان بارہ نکات کی طرف مبذول کراتے ہیں :

۱۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت

زمین و آسمان کے در میان پائی جانے والی تمام چیزیں کسی نہ کسی صورت میں انسان کی خدمت اور اس کے فائدے کے لئے ہیں ، چاند، سورج، ایک جگہ رکنے والے اور گردش کرنے والے ستارے، فضا کی دکھائی دینے والی اور نہ دکھائی دینے والی تمام کی تمام چیزیں خداوندعالم کے ارادہ اور اس کے حکم سے انسان کو فائدہ پہنچارھی ہیں ۔

پھاڑ، جنگل، صحرا، دریا، درخت و سبزے، باغ، چشمے، نھریں، حیوانات اور دیگر زمین پر پائی جانے والی بھت سی مخلوقات ایک طرح سے انسان کی زندگی کی ناؤ کو چلانے میں اپنی اپنی کارکردگی میں مشغول ہیں ۔

خداوندعالم کی نعمتیں اس قدر وسیع، زیادہ، کامل اور جامع ہیں کہ انسان کو عاشقانہ طور پر اپنی آغوش میں بٹھائے ہوئے ہیں ، اور ایک مھربان اور دلسوز ماں کی مانند، انسان کے رشد و نمو کے لئے ھر ممکن کوشش کررھی ہیں ۔

انسان کو جن ظاھری و باطنی نعمتوں کی ضرورت تھی خداوندعالم نے اس کے لئے پھلے سے ہی تیار کررکھی ہے، اور اس وسیع دسترخوان پر کسی بھی چیز کی کمی ن ہیں ہے۔

چنانچہ قرآن کریم میں اس سلسلے میں بیان ہوتا ہے:

( الَمْ تَرَوْا انَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْارْضِ وَاسْبَغَ عَلَیكُمْ نِعَمَهُ ظَاهرةً وَبَاطِنَةً ) ۔(۲)

”کیا تم لوگوں نے ن ہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو تمھارے لئے مسخر کر دیا ہے اور تمھارے لئے تمام ظاھری اور باطنی نعمتوں کو مکمل فرمایااور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو علم ہدایت اور روشن کتا ب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث کرتے ہیں “۔

۲۔ حصول نعمت کا راستہ

رزق کے حصول کے لئے ھر طرح کا صحیح کام اور صحیح کوشش کرنا؛ بے شک خداوندعالم کی عبادت اور بندگی ہے؛ کیونکہ خدائے مھربان نے قرآن مجید کی بھت سی آیات میں اپنے بندوں کو زمین کے آباد کرنے اور حلال روزی حاصل کرنے، کسب معاش، جائز تجارت اورخرید و فروخت کا حکم دیا ہے، اور چونکہ خداوندعالم کے حکم کی اطاعت کرنا عبادت و بندگی لہٰذا اس عبادت و بندگی کا اجر و ثواب روز قیامت (ضرور) ملے گا۔

تجارت، خرید و فروخت، اجارہ (کرایہ)، وکالت، مساقات (سینچائی)، زراعت، مشارکت، صنعت، تعلیم، خطاطی، خیاطی، رنگ ریزی، دباغی (کھال کو گلانا) اور دامداری(بھیڑ بکریاں وغیرہ پالنا)

جیسے اسلامی موضوعات اور انسانی قوانین کی رعایت کرتے ہوئے مادی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنے والاانسان خدا کی نظر میں محبوب ہے، لیکن ان راستوںکے علاوہ حصول رزق کے لئے اسلامی قوانین کے مخالف اور اخلاقی و انسانیت کے خلاف راستوں کو اپنانے والوں سے خدا نفرت کرتاھے۔

قرآن مجید اس مسئلہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَاكُلُوا امْوَالَكُمْ بَینَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ انْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ) ۔(۳)

”اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طریقہ سے نہ کھایا کرو۔مگر یہ کہ باھمی رضامندی سے معاملہ کرلو “۔

( یاایها النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِی الْارْضِ حَلاَلًا طَیبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ ) ۔(۴)

”اے انسانو! زمین میں جو کچھ بھی حلال و پاکیزہ ہے اسے استعمال کرو اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو بے شک وہ تمھاراکھلا دشمن ہے “۔

بھر حال خداوندعالم کی طرف سے جو راستے حلال اور جائز قرار دئے گئے ہیں اگر ان جائز اور شرعی طریقوں سے روزی حاصل کی گئی ہے اور اس میں اسراف و تبذیر سے خرچ ن ہیں کیا گیا تو یہ حلال روزی ہے اور اگر غیر شرعی طریقہ سے حاصل ہونے والی روزی اگرچہ وہ ذاتی طور پر حلال ہو جیسے کھانے پینے کی چیزیں؛ تو وہ حرام ہے اور ان کا اپنے پاس محفوظ رکھنا منع ہے اور ان کے اصلی مالک کی طرف پلٹانا واجب ہے۔

۳۔ نعمت پر توجہ

کسی بھی نعمت سے بغیر توجہ کئے فائدہ اٹھانا، چوپاؤں، غافلوں اور پاگلوں کاکام ہے، انسان کم از کم یہ تو سوچے کہ یہ نعمت کیسے وجود میں آئی ہے یا اسے ھمارے لئے کس مقصد کی خاطر پیدا کیا گیا؟ اس کے رنگ، بو اور ذائقہ میں کتنے اسباب و عوامل پائے گئے ہیں ، المختصر یہ کہ بغیر غور و فکر کئے ایک لقمہ روٹی یا ایک لباس، یا زراعت کے لائق زمین، یا بھتا ہوا چشمہ، یا بھتی ہوئی نھر، یا مفید درختوں سے بھرا جنگل، اور یہ کہ کتنے کروڑ یا کتنے ارب عوامل و اسباب کی بنا پر کوئی چیز وجود میں آئی تاکہ انسان زندگی کے لئے مفید واقع ہو ؟!!

صاحبان عقل و فھم اور دانشور اپنے پاس موجود تمام نعمتوں کو عقل کی آنکھ اور دل کی بینائی سے دیکھتے ہیں تاکہ نعمت کے ساتھ ساتھ، نعمت عطا کرنے والے کے وجود کا احساس کریں اور نعمتوںکے فوائد تک پہنچ جائیں، نیز نعمت سے اس طرح فائدہ حاصل کریں جس طرح نعمت کے پیدا کرنے والے کی مرضی ہو۔

قرآن مجید جو کتاب ہدایت ہے ؛اس نے لوگوں کوخداوندعالم کی نعمتوں پر اس طرح متوجہ کیاھے:

( یاایهاالنَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیكُمْ هل مِنْ خَالِقٍ غَیرُاللهِ یرْزُقُكُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْارْضِ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ فَانَّی تُؤْفَكُونَ ) ۔(۵)

”اے لوگو! اپنے اوپر (نازل ہونے والی) اللہ کی نعمت کو یاد کرو کیا، (کیا) اس کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے ؟وھی تو تم ہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے اس کے علاوہ کوئی خدا ن ہیں ، پس تم کس طرف بہکے چلے جارہے ہو“۔

جی ھاں! تمام نعمتیں اپنے تمام تر فوائد کے ساتھ ساتھ خداوندعالم کی وحدانیت کی دلیل، اس کی توحید ذاتی کاثبوت اور اسی کی معرفت و شناخت کے لئے آسان راستہ ہے۔

۴۔ نعمت پر شکر

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شکر کے معنی یہ ہیں کہ نعمت سے فائدہ اٹھانے کے بعد ”شکر لله “ (الٰھی تیرا شکر) یا ”الحمد لله“ کہہ دیا جائے، یا اس سے بڑھ کر ”الحمد لله رب العالمین“ زبان پر جاری کردیا جائے۔

یاد رہے کہ ان بے شمار مادی اور معنوی نعمتوں کے مقابلہ میں اردو یا عربی میں ایک جملہ کہہ دینے سے حقیقی معنی میں شکر ن ہیں ہوتا، بلکہ شکر، نعمت عطا کرنے والی ذات کے مقام اور نعمت سے ھم آہنگ ہونا چاہئے، اور یہ معنی کچھ فعل و قول اور وجد بغیر متحقق ن ہیں ہوں گے، یعنی جب تک انسان اپنے اعضاء و اجوارح کے ذریعہ خداوندمتعال کا شکر ادا کرنے کے لئے ان افعال و اقدامات کو انجام نہ دے جن سے پتہ چل جائے کہ وہ پروردگارعالم کا اطاعت گزار بندہ ہے، پس شکر خدا کے لئے ضروری ہے کہ انسان ایسے امور کو انجام دے جو خدا کی رضایت کا سبب قرار پائے اور اس کی یاد سے غافل نہ ہونے دیں۔

کیا خداوندعالم کے اس عظیم لطف و کرم کے مقابلہ میں صرف زبانی طور پر”الٰھی تیرا شکر “یا ”الحمد للہ“ کہہ دینے سے کسی کوشاکر کھا جاسکتا ہے؟!

بدن، اعضاء و جوارح: آنکھ کان، دل و دماغ، ھاتھ، پیر، زبان، شکم، شھوت، ہڈی اوررگ جیسی نعمتیں یا کھانے پینے، پہننے اور سونگھنے کی چیزیں یا دیدہ زیب مناظر جیسے پھاڑ، صحرا، جنگل، نھریں، دریا اور چشمے یا پھلوں، اناج اورسبزیوں کی مختلف قسمیں اور دیگر لاکھوں نعمتیں جن پر ھماری زندگی کا دارومدار ہے، کیا ان سب کے لئے ایک ”الحمد لله“ کہنے سے حقیقی شکر ہوجائے گا؟ اور کیا اسلام وایمان، ہدایت و ولایت، علم و حکمت، صحت و سلامتی، تزکیہ نفس و طھارت، قناعت و اطاعت اور محبت و عبادت جیسی نعمتوںکے مقابلہ میں ”الٰھی تیرا شکر“ کہنے سے انسان خدا کا شاکر بندہ بن سکتا ہے؟!

راغب اصفھانی اپنی عظیم الشان کتاب ”المفردات“ میں کھتے ہیں :

اَصْلُ الشُّكْرِ مِنْ عَینٍ شَكْريٰ “۔(۶)

شکر کا مادہ ”عین شَكْريٰ“ھے؛ یعنی آنسو بھری آنک ہیں یا پانی بھرا چشمہ، لہٰذا شکر کے معنی ”انسان کا یاد خدا سے بھرا ہوا ہونا ہے اور اس کی نعمتوں پر توجہ رکھنا ہے کہ یہ تمام نعمتیں کس طرح حاصل ہوئیں اور کیسے ان کو استعمال کیاجائے“۔

خواجہ نصیر الدین طوسی علیہ الرحمہ، علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی روایت کی بنا پر شکر کے معنی اس طرح فرماتے ہیں :

”شکر، شریف ترین اور بھترین عمل ہے، معلوم ہونا چاہئے کہ شکر کے معنی قول و فعل اور نیت کے ذریعہ نعمتوں کے مدّمقابل قرار پانا ہے، اور شکر کے لئے تین رکن ہیں :

۱۔ نعمت عطا کرنے والے کی معرفت، اوراس کے صفات کی پہچان، نیز نعمتوں کی شناخت کرنا ضروری ہے، اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ تمام ظاھری اور باطنی نعمتیں سب اسی کی طرف سے ہیں ، اس کے علاوہ کوئی حقیقی منعم ن ہیں ہے، انسان اور نعمتوں کے درمیان تمام واسطے اسی کے فرمان کے سامنے سرِتسلیم خم کئے ہیں ۔

۲۔ ایک خاص حالت کا پیدا ہونا، اور وہ یہ ہے کہ انسان عطا کرنے والے کے سامنے خشوع و خضوع اور انکساری کے ساتھ پیش آئے اور نعمتوں پر خوش رہے ، اور اس بات پر یقین رکھے کہ یہ تمام نعمتیں خدا وندعالم کی طرف سے انسان کے لئے تحفے ہیں ، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ خداوندعالم انسان پر عنایت و توجہ رکھتا ہے، اس خاص حالت کی نشانی یہ ہے کہ انسان مادی چیزوں پر خوش نہ ہو مگر یہ کہ جن کے بارے میں خداوندعالم کا قرب حاصل ہو۔

۳۔ عمل، اور عمل بھی دل، زبان اور اعضاء سے ظاھر ہونا چاہئے۔

دل سے خداوندعالم کی ذات پر توجہ رکھے اس کی تعظیم اور حمدو ثناکرے، اور اس کی مخلوقات اور اس لطف و کرم کے بارے میں غور و فکر کرے، نیز اس کے تمام بندوں تک خیر و نیکی پہنچانے کا ارادہ کرے۔

زبان سے اس کا شکر و سپاس، اس کی تسبیح و تھلیل اور لوگوں کو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرے۔

تمام ظاھری و باطنی نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کی عبادت و اطاعت میںاعضاء کو کام میں لائے، اور اعضاء کو خدا کی معصیت و مخالفت سے روکے رکھے“۔

لہٰذا شکر کے اس حقیقی معنی کی بنا پر یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ شکر، صفات کمال کے اصول میں سے ایک ہے، جو صاحبان نعمت میں بھت ہی کم ظاھر ہوتے ہیں ، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَقَلِیلٌ مِنْ عِبَادِی الشَّكُورُ ) ۔(۷)

”اور ھمارے بندوں میں شکر گزار بندے بھت کم ہیں “۔

تمام نعمتوں کے مقابلہ میں مذکورہ معنی میں شکر واجب عقلی اور واجب شرعی ہے، اور ھر نعمت کو اسی طرح استعمال کرنا شکر ہے جس طرح خداوندعالم نے حکم دیا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ خداوندعالم کی کامل عبادت و بندگی حقیقی شکر کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے:

( فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ حَلاَلاً طَیبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ إِنْ كُنْتُمْ إِیاهُ تَعْبُدُونَ ) ۔(۸)

”لہٰذا اب تم اللہ کے دئے ہوئے حلال و پاکیزہ رزق کو کھاو اور اس کی عبادت کرنے والے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکریہ بھی ادا کرتے رھو“-۔

( فَابْتَغُوا عِنْدَ اللهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَیهِ تُرْجَعُونَ ) ۔(۹)

”رزق خدا کے پاس تلاش کرواور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکربجالاؤ کہ تم سب اسی کی بارگاہ میں پلٹادئے جاوگے“۔

مصحف ناطق حضرت امام صادق علیہ السلام شکر کے معنی بیان فرماتے ہیں :

شُكْرُ النِّعْمَةِ اجْتِنابُ الْمَحارِمِ وَتَمامُ الشُّكْرِ قَوْلُ الرَّجُلِ :الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰالَمینَ(۱۰)

” نعمتوں پر شکر بجالانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان تمام حرام چیزوں سے اجتناب کرے، اور کامل شکر یہ ہے کہ نعمت ملنے پر ”الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمینَ“ کھے“۔

پس نعمت کا شکر یہ ہے کہ نعمت کو عبادت و بندگی اور بندگان خدا کی خدمت میں خرچ کرے، لوگوں کے ساتھ نیکی اوراحسان کرے اور تمام گناھوں سے پرھیز کرے۔

۵۔ نعمت پر ناشکری سے پرھیز

بعض لوگ، حقیقی منعم سے بے خبر اورخداداد نعمتوں میں بغیر غور و فکر کئے اپنے پاس موجودتمام نعمتوں کو مفت تصور کرتے ہیں ، اور خودکو ان کا اصلی مالک تصورکرتے ہیں اور جو بھی ان کا دل اور ہوائے نفس چاھتا ہے ویسے ہی ان نعمتوں کو استعمال کرتے ہیں ۔

یہ لوگ جھل و غفلت اور بے خبری اور نادانی میں گرفتار ہیں ، خدائی نعمتوں کو شیطانی کاموں اور ناجائز شھوتوں میں استعمال کرتے ہیں ، اور اس سے بدتر یہ ہے کہ ان تمام خداداد نعمتوں کو اپنے اھل و عیال، اھل خاندان، دوستوں او ردیگر لوگوں کو گمراہ کرنے پر بھی خرچ کرڈالتے ہیں ۔

اعضاء و جوارح جیسی عظیم نعمت کو گناھوں میں، مال و دولت جیسی نعمت کو معصیت و خطا میں، علم و دانش جیسی نعمت کو طاغوت و ظالموں کی خدمت میںاور بیان جیسی نعمت کو بندگان خدا کو گمراہ کرنے میں خرچ کرڈالتے ہیں !!

یہ لوگ خدا ئی نعمتوں کی زیبائی اور خوبصورتی کو شیطانی پلیدگی اور برائی میں تبدیل کردیتے ہیں ، اور اپنے ان پست کاموں کے ذریعہ خود کو بھی اور اپنے دوستوں کو بھی جہنم کے ابدی عذاب کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں !

( الَمْ تَرَی إِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللهِ كُفْرًا وَاحَلُّوا قَوْمَهم دَارَ الْبَوَارِجَهَنَّمَ یصْلَوْنَها وَبِئْسَ الْقَرَارُ ) (۱۱)

”کیاتم نے ان لوگوں کو ن ہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفران نعمت سے بدل دیا اور اپنے قوم کو ھلاکت کی منزل تک پہنچا دیا۔یہ لوگ واصل جہنم ہوں گے اور جہنم کتنا بُرا ٹھکانہ ہے “۔

۶۔ نعمتوں کا بے شمار ہونا

اگر ھم نے قرآن کریم کی ایک آیت پر بھی توجہ کی ہو تی تو یہ بات واضح ہوجاتی کہ خداوندعالم کی مخلوق اور اس کی نعمتوں کا شمار ممکن ن ہیں ہے، اور شمار کرنے والے چاھے کتنی بھی قدرت رکھتے ہوں ان کے شمار کرنے سے عاجز رہے ہیں ۔ جیسا کہ قر آن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَوْ انَّمَا فِی الْارْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ ابْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللهِ إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَكِیمٌ ) (۱۲)

”اور اگر روئے زمین کے تمام درخت، قلم بن جائیں اور سمندر میں مزید سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الٰھی تمام ہونے والے ن ہیں ہیں ، بیشک اللہ صاحب عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی “۔

ھمیں اپنی پیدائش کے سلسلے میں غور و فکر کرنا چاہئے اور اپنے جسم کے ظاھری حصہ کو عقل کی آنکھوں سے دیکھنا چاہئے تاکہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ خداوندعالم کی نعمتوں کا شمار کرنا ھمارے امکان سے باھر ہے۔

خداوندعالم، انسان کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے:

( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِینٍ ) (۱۳)

”اور ھم ہی نے انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے“۔

( ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِی قَرَارٍ مَكِینٍ ) (۱۴)

”پھر اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بناکر رکھا ہے“۔

( ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ انشَانَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللهُ احْسَنُ الْخَالِقِینَ ) (۱۵)

”پھر ھم ہی نے نطفہ کو جماھو اخون بنا یا اور منجمد خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا، پھر ھم ہی نے (اس) لوتھڑے میں ہڈیاں بنائیں، پھر ھم ہی نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ھم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنادیا ہے، تو کس قدر با برکت ہے وہ خدا جو سب سے بھتر خلق کرنے والا ہے“۔

جی ھاںیھی نطفہ ان تمام مراحل سے گزرکر ایک کامل انسان اور مکمل وجود میں تبدیل ہوگیاھے۔

اب ھم اپنے عجیب و غریب جسم اور اس میں پائے جانے والے خلیوں، آنکھ، کان، ناک، معدہ، گردن، خون، تنفسی نظام، مغز، اعصاب، اور دوسرے اعضاء و جوارح کو دیک ہیں اور ان کے سلسلے میں غور وفکر کریں تاکہ معلوم ہوجائے کہ خود اسی جسم میں خداوندعالم کی کس قدر بے شمار نعمتیں موجود ہیں ۔

کیا دانشوروں او رڈاکٹروں کایہ کہنا ن ہیں ہے کہ اگر انسان مسلسل(۲۴ گھنٹے ) ھر سیکنڈ میں بدن کے ایک ہزار خلیوں کا شمار کرتارہے تو ان تمام کو شمار کرنے کے لئے تین ہزار (۳۰۰۰) سال در کا ر ہوں گے۔

کیا دانشوروں او رڈاکٹروں کایہ کہنا ن ہیں ہے کہ انسان کے”معدہ“ (اس عجیب و غریب لیبریٹری کے اندر) کھانا اس قدر تجزیہ و تحلیل ہوتا ہے کہ انسان کے ھاتھوں کی بنائی ہوئی لیبریٹری میں اتنا کچھ تجزیہ و تحلیل ن ہیں ہوتا، اس معدہ میں یا اس لیبریٹری میں ۱۰ لاکھ مختلف قسم کے ذرات فلٹر ہوتے ہیں جن میں سے اکثر ذرات زھریلے ہوتے ہیں(۱۶)

کیا دانشوروں او رڈاکٹروں کا کہنا ن ہیں ہے کہ انسان کا دل ایک ”بند مٹھی “سے زیادہ بڑا ن ہیں ہوتا لیکن اتنی زیادہ طاقت رکھتا ہے کہ ھر منٹ میں ۷۰ مرتبہ کھلتا اور بند ہوتا ہے، اور تیس سال کی مدت میں ایک ارب مرتبہ یہ کام انجام دیتا ہے اور ھر منٹ میں بال سے زیادہ باریک رگوں کے ذریعہ پورے بدن میں دوبار خون پہنچاتا ہے اور بدن کے اربوں کھربوں خلیوں دھوتا ہے(۱۷)

اس طرح آکسیجن، ھائیڈروجن وغیرہ کے ذرات، ہوا، روشنی، زمین، درختوں کی شاخیں، پتے اور پھل نیز زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے، ایک طرح سے انسان کی خدمت میں مشغول ہیں ، اگر ھم اپنے بدن کے ساتھ ان تمام چیزوں کا اضافہ کرکے غور و فکر کریں تو کیا اس دنیا میں انسان کے لئے خداوندعالم کی نعمتوں کا شمار ممکن ہے؟!

اگر آپ ایک مٹھی خاک کود یک ہیں تو یہ فقط خالص مٹی ن ہیں ہے، بلکہ مٹی کا اکثر حصہ معدنی مواد سے تشکیل پاتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے سنگریزوں کی شکل میں ہوتے ہیں ، یہ سنگریزے بڑے پتھروں کے ٹکڑے ہیں جو طبیعی طاقت کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں ، مٹی میں بھت سی زندہ چیزیں ہوتی ہیں ، ممکن ہے کہ ایک مٹھی خاک میں لاکھوں بیکٹری موجود ہوں، بیکٹری کے علاوہ بھت سی رشد کرنے والی جڑیں، ریشے (مانند امر بیل) اوربھت سے کیڑے مکوڑے بھی پائے جاتے ہیں جن میں سے بھت سے زندہ ہوتے ہیں اور مٹی کو نرم کرتے رھتے ہیں تاکہ درختوں اور پودوں کی رشد و نمو میں مدد گار ثابت ہوسکیں(۱۸)

انسان کے اندر مختلف چیزوں کے ہضم کرنے کی مشینیں پائی جاتی ہیں ، جیسے منھ، دانت، زبان، حلق، لعاب پیدا کرنے والے غدود، معدہ، لوز المعدہ(۱۹) " Pancreas "، چھوٹی بڑی آنتیں نیز غذا کو جذب و ہضم کرنے کے لئے ان میں سے ھر ایک کا عمل اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے۔

اسی طرح ایک اھم مسئلہ سرخ رگوں، سیاہ رگوں، چھوٹی رگوں، دل کے درمیان حصہ، دل کے داہنا اور بایاں حصہ وغیرہ کے ذریعہ خون کا صاف کرنا اور خون کے سفید اور سرخ گلوبل، ترکیب خون، رنگ خون، جریان خون، حرارت بدن، بدن کی کھال اور اس کے عناصر، آنکھ اور اس کے طبقات وغیرہ بھی خداوندعالم کی تعجب خیز نعمتوں میں سے ہیں ۔

آسمان کی فضا، نور کا پہنچنا، گردش، کشش اور دریاؤں کا جز رو مدّ(۲۰) انسان کی زندگی میں کس قدراھمیت کے حامل ہیں ، ان کے عناصر اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ھم آسمان کے دکھائی دینے والے حصے کے ستاروں کو شمار کرنا چا ہیں اور ھر منٹ میں ۳۰۰ ستاروں کو شمار کریں تو اس کے لئے ۳۵۰۰سال کی عمر درکار ہوگی جن میں شب و روز ستاروں کو شمار کریں کیونکہ بڑی بڑی دوربینوں کے ذریعہ ابھی تک ان کی تعداد کے بارے میں تخمینہ لگایا گیا اس کی تعداد ایک لاکھ ملین ہے جس کے مقابلہ میں ھماری زمین ایک چھوٹے سے دانہ کی طرح ہے، بھتر تو یہ ہے کہ ھم یہ ک ہیں کہ انسان ان کو شمار ہی ن ہیں کرسکتا!!!

جس فضا میں ستارے ہوتے ہیں وہ اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اس کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے کے لئے پانچ لاکھ نوری سال درکار ہیں ۔

سورج اور منظومہ شمسی، آسمان کی کرنوں کا ایک ذرہ ہے جو ۴۰۰کیلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کررھا ہے اور تقریباً (۲۰۰۰۰۰۰۰۰) سال کا وقت درکار ہے تاکہ اپنے مرکز کا ایک چکر لگاسکے!

عالم بالا کا تعجب خیز نظام، سطح زمین اور زمین کے اندر اس کا اثر نیز بھت سے جانداروں کی زندگی کے لئے راستہ ھموار کرنا، یہ سب حیرت انگیز کھانیاں انسان کے لئے سمجھنا اتنا آسان ن ہیں ہے، انسان جس ایک قطرہ پانی کو پیتا ہے اس میں ہزاروں زندہ اور مفید جانور ہوتے ہیں اور ایک متر مکعب پانی میں ۷۵۰۰سفید گلوبل" Globule " اور پچاس لاکھ سرخ گلوبل ہوتے ہیں(۲۱)

ان تمام باتوں کے پیش نظر قرآن مجیدکی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نورانی قلب پر نازل ہونے والے قرآن مجید نے صدیوں پھلے ان حقائق کو بیان کیا ہے، لہٰذا خدا کی عطا کردہ نعمتوں کو ھرگز شمار ن ہیں کیا جاسکتا۔

( وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاَتُحْصُوها إِنَّ اللهَ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ ) (۲۲)

”اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاھو تو شمار ن ہیں کرسکتے، بیشک اللہ بڑا مھربان اور بخشنے والا ہے“۔

۷۔نعمتوں کی قدر شناسی

جن افراد نے اس کائنات، زمین و آسمان اور مخلوقات میں صحیح غور و فکر کرنے کے بعد خالق کائنات، نظام عالم، انسان اور قیامت کو پہچان لیا ہے وہ لوگ اپنے نفس کا تذکیہ، اخلاق کو سنوارنے، عبادت و بندگی کے راستہ کو طے کرنے اور خدا کے بندوں پر نیکی و احسان کرنے میں سعی و کوشش کرتے ہیں ، درحقیقت یھی افراد خداوندعالم کی نعمتوں کے قدر شناس ہیں ۔

جی ھاں، یھی افراد خداکی تمام ظاھری و باطنی نعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں اور اس طریقہ سے خود اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے افراد دنیا و آخرت کی سعادت و خوش بختی تک پہنچ جاتے ہیں ، اس پاک قافلہ کے قافلہ سالار اور اس قوم کےممتاز رھبر انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام ہیں ، تمام مومنین شب و روز کے فریضہ الٰھی یعنی نماز میں ان ہیں کے راستہ پر برقرار رہنے کی دعا کرتے ہیں :

( اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ انْعَمْتَ عَلَیهم غَیرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیهم وَلاَالضَّالِّینَ ) (۲۳)

”ھمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ ۔جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تونے نعمتیں نازل کی ہیں ، ان کا راستہ ن ہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں “۔

جی ھاں، انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام خداوندعالم کی تمام مادی و معنوی نعمتوں کا صحیح استعمال کیا کرتے تھے، اور شکر نعمت کرتے ہوئے اس عظیم مقام اور بلند مقام و مرتبت پر پہنچے ہوئے ہیں کہ انسان کی عقل درک کرنے سے عاجز ہے۔

خداوندمھربان نے قرآن مجید میں ان افراد سے وعدہ کیا ہے جو اپنی زندگی کے تمام مراحل میں خدا و رسول کے مطیع و فرمانبردار رہے ہیں ، ان لوگوں کو قیامت کے دن نعمت شناس حضرات کے ساتھ محشور فرمائے گا۔

( وَمَنْ یطِعْ اللهَ وَالرَّسُولَ فَاوْلَئِكَ مَعَ الَّذِینَ انْعَمَ اللهُ عَلَیهم مِنْ النَّبِیینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ اوْلَئِكَ رَفِیقًا ) (۲۴)

”اور جو شخص بھی اللہ اوررسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گا جن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اور یھی لوگ بھترین رفقاء ہیں “-

۸۔ نعمتوں کا بےجا استعمال

مسرف (فضول خرچی کرنے والا) قرآن مجید کی رُوسے اس شخص کو کھا جاتا ہے جو اپنے مال، مقام، شھوت اور تقاضوں کو شیطانی کاموں، غیر منطقی اور بے ہودہ کاموں میں خرچ کرتا ہے۔

خداکے عطا کردہ مال و ثروت اور فصل کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَآتُوا حَقَّهُ یوْمَ حَصَادِهِ وَلاَتُسْرِفُوا إِنَّهُ لاَیحِب الْمُسْرِفِینَ ) (۲۵)

”اور جب فصل (گندم، جو خرما اور کشمش) کاٹنے کا دن آئے تو ان (غریبوں، مسکینوں، زکوٰة جمع کرنے والوں، غیر مسلم لوگوں کو اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لئے، مقروض، فی سبیل اللہ اور راستہ میں بے خرچ ہوجانے والوں)(۲۶) کا حق ادا کردو اور خبردار اسراف نہ کرنا کہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست ن ہیں رکھتا ہے“۔

جو لوگ اپنے مقام و منصب اور جاہ و جلال کو لوگوں پر ظلم و ستم ڈھانے، ان کے حقوق کو ضائع کرنے، معاشرہ میں رعب ودہشت پھیلانے اور قوم و ملت کو اسیر کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ، ان لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

( وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْارْضِ وَإِنَّهُ لَمِنْ الْمُسْرِفِینَ ) (۲۷)

”اور یہ فرعون (اپنے کو) بھت اونچا (خیال کرنے لگا)ھے اور وہ اسراف اور زیادتی کرنے والا بھی ہے“۔

اسی طرح جو لوگ عفت نفس ن ہیں رکھتے یا جولوگ اپنے کو حرام شھوت سے ن ہیں بچاتے اور صرف مادی و جسمانی لذت کے علاوہ کسی لذت کو ن ہیں پہچانتے اور ھر طرح کے ظلم سے اپنے ھاتھوں کو آلودہ کرلیتے ہیں نیز ھر قسم کی آلودگی، ذلت اور جنسی شھوات سے پرھیز ن ہیں کرتے، ان کے بارے میں بھی قرآن مجید فرماتا ہے:

( إِنَّكُمْ لَتَاتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ انْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ ) (۲۸)

تم از راہ شھوت عورتوں کے بجائے مردوں سے تعلقات پیدا کرتے ہو اور تم یقینا اسراف اور زیادتی کرنے والے ہو“۔

قرآن مجیدان لوگوں کے بارے میں بھی فرماتا ہے جو انبیاء علیھم السلام اور ان کے معجزات کے مقابلہ میں تواضع و انکساری اور خاکساری ن ہیں کرتے اور قرآن، اس کے دلائل اور خدا کے واضح براھین کا انکار کرتے ہیں اور کبر و نخوت، غرور و تکبر و خودبینی کا راستہ چلتے ہوئے خداوندعالم کے مقابل صف آرا نظر آتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے:

( ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَانْجَینٰاهُمْ وَ مَن نَّشَآءُ وَ اهْلَكْنٰا الْمُسْرِفِینَ ) (۲۹)

پھر ھم نے ان کے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور ان ہیں اورا ن کے ساتھ جن کو چاھا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و بر باد کر دیا “۔

۹۔ نعمتوں کے استعمال میں بخل کرنا

بخل اور اضافی نعمت کو مستحقین پر خرچ نہ کرنے کی برائی کو ایک ان پڑھ اور معمولی کسان کی زبانی بھی سن لیجئے:

حقیر تبلیغ کے لئے ایک دیھات میں گیا ہوا تھا، تقریر کے خاتمہ پر ایک محنت کش بوڑھا ھمارے پاس آیا جس کے چھرے پر دن ورات کام کرنے کے آثار ظاھر تھے جس کے ھاتھوں میں گٹھے پڑے ہوئے تھے، اس نے کھا: ایک بزرگوار شخص آتا ہے اور ھمیں تیار زمین، بیج اور پانی دیتا ہے اور فصل کی کٹائی کے وقت وہ بزرگوار شخص پھر آتا ہے اور اس کاشتکار کے پاس آجاتا ہے جس کو اس نے زمین، بیج، پانی، سورج کی روشنی، بارش وغیرہ مفت اس کے اختیار میں دی تھی، اور اس سے کھتاھے: اس فصل میں سے زیادہ تر حصہ تیرا ہے مجھے اس میں سے کچھ ن ہیں چاہئے لیکن ایک مختصر سا حصہ جس کو میں کھوں اس کو ہدیہ کردو، کیونکہ اس کی مجھے تو بالکل ضرورت ن ہیں ہے، اگر یہ کاشتکار اس زمین سے حاصل شدہ تمام فصل کو اپنا حق سمجھ لے اور ایک مختصر سا حصہ اس کریم کے بتائے ہوئے افراد کو نہ دے تو واقعاً بھت ہی بُری بات ہوگی، اور اس کا دل پتھر کی طرح مانا جائے گا، ایسے موقع پر کریم کو حق ہے کہ اس سے منھ موڑلے اور اس کے برے اخلاق کی سزا دے، اور اس کو کسی بلا میں گرفتار کردے، اس کے بعد اس شخص نے کھا: کریم سے میری مراد خداوندکریم ہے کہ اس نے ھمیں آمادہ زمین عطا کی ہے، نھریں جاری کی ہیں ، چشموں کو پانی سے بھر دیا ہے، بارش برسائی ہے، سورج اور چاند کی روشنی ھمیں دی، ھمیں یہ سب چیزیں عطا کی ہیں جن کے ذریعہ سے ھم مختلف فصلیں حاصل کرلیتے ہیں جو درحقیقت ھمیں مفت حاصل ہوئی ہیں ، اس کے بعد ھم سے اپنے غریب بھائیوں کے لئے خمس و زکوٰة اور صدقہ دینے کا حکم دیا ہے، اگر ھم ان کے حقوق ادا کرنے میں بخل سے کام لیں، تو خداوندعالم کو حق ہے کہ وہ ھم پر اپنا غضب نازل کردے، اور ھمیں سخت سے سخت سزا میں مبتلا کردے۔

اس سلسلے میں قرآن مجید فرماتا ہے:

( وَلاَیحْسَبَنَّ الَّذِینَ یبْخَلُونَ بِمَا آتَاهم اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَیرًا لَهم بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهم سَیطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ یوْمَ الْقِیامَةِ وَلِلَّهِ مِیرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ ) (۳۰)

”اور خبردار جو لوگ خدا کے دیئے ہوئے میں مال میں بخل کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ سوچنا کہ اس بخل میں کچھ بھلائی ہے ۔یہ بھت برا ہے، اور عنقریب جس مال میں بخل کیا ہے وہ روز قیامت ان کی گردن میں طوق بنادیا جائے گا، اوراللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی ملکیت ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے “-

۱۰۔ نعمت، زائل ہونے کے اسباب و علل

قرآن مجید کی حسب ذیل آیتوں (سورہ اسراء آیت ۸۳، سورہ قصص آیت ۷۶تا۷۹، سورہ فجرآیت ۱۷ تا ۲۰، سورہ لیل آیت ۸تا۱۰) سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ درج ذیل چیزیں، نعمتوں کے زائل ہونے، فقر و فاقہ، معاشی تنگ دستی اور ذلت و رسوائی کے اسباب ہیں :

نعمت میں مست ہونا، غفلت کا شکار ہونا، نعمت عطا کرنے والے کو بھول جانا، خداوندعالم سے منھ موڑلینا، احکام الٰھی سے مقابلہ کرنا اور خدا، قرآن و نبوت اور امامت کے مقابل آجانا، چنانچہ اسی معنی کی طرف درج ذیل آیہ شریفہ اشارہ کرتی ہے:

( وَإِذَا انْعَمْنَا عَلَی الْإِنسَانِ اعْرَضَ وَنَای بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یئُوسًا ) (۳۱)

اور ھم جب انسان پر کوئی نعمت نازل کرتے ہیں تو وہ پھلو بچاکر کنارہ کش ہوجاتا ہے اور جب تکلیف ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے“۔

نعمت پر مغرور ہونا، مال و دولت پر حد سے زیادہ خوش ہونا، غریبوں اور مستحقوں کا حق نہ دے کر آخرت کی زادہ راہ سے بے خبر ہونا، نیکی اور احسان میں بخل سے کام لینا، نعمتوں کے ذریعہ شروفساد پھیلانا، اوریہ تصور کرنا کہ میں نے اپنی محنت، زحمت اور ہوشیاری سے یہ مال و دولت حاصل کی ہے، لوگوں کے سامنے مال و دولت، اور زر و زینت پر فخر کرنا اور اسی طرح کے دوسرے کام، یہ تمام باتیں سورہ قصص کی آیات ۷۶ تا ۸۳ میں بیان ہوئی ہیں ۔

یتیموں کا خیال نہ رکھنا، محتاج لوگوں کے بارے میں بے توجہ ہونا، کمزور وارثوں کی میراث کو ہڑپ لینا، نیز مال و دولت کا بجاری بن جانا، یہ سب باتیں حسب ذیل آیات میں بیان ہوئی ہیں ، ارشاد ہوتا ہے:

( كَلاَّ بَلْ لاَّ تُكْرِمُونَ الْیتِیمَ وَلَا تَحٰاضُونَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِینَوَتَاكُلُونَ التُّرَاثَ اكْلاً لَمَّاوَ تُحِبُّونَ الْمٰالَ حُبًّا جَمًّا ) (۳۲)

”ایسا ھر گز ن ہیں ہے بلکہ تم یتیموں کا احترام ن ہیں کرتے ہو، اور لوگوں کو مسکینوں کے طعام دینے پر آمادہ ن ہیں کرتے ہو، اور میراث کے مال کو اکھٹا کرکے حلال و حرام سب کھالیتے ہو، اور مال دنیا کو بھت دوست رکھتے ہو“۔

اسی طرح خمس و زکوٰة، صدقہ اور راہ خدا میں انفاق کرنے میں بخل سے کام لینے یا تھوڑا سا مال و دولت حاصل کرنے کے بعد خداوندعالم کے مقابل میں بے نیازی کا ڈنکا بجانے اورروز قیامت کو جھٹلانے، کے بارے میں بھی درج آیت اشارہ کرتی ہے:

( وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَ اسْتَغْنيٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنيٰ فَسَنُیسِّرُهُ لِلْعُسْريٰ ) (۳۳)

”اور جس نے بخل کیا اور لا پرواھی برتی اور نیکی کو جھٹلایا ہے، ھم اس کے لئے سختی کی راہ ھموار کردیں گے“۔

جس وقت انسان نعمتوں سے مالامال ہوجائے تو اس کو خداوندعالم اور اس کے بندوں کی بابت نیکی و احسان کرنے پر مزید توجہ کرنا چاہئے، خداوندعالم کی عطاکردہ نعمتوں کے شکرانہ میں اس کی عبادت اور اس کے بندوں کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا چاہئے، تاکہ اس کی نعمتیں باقی ر ہیں اور خداوندعالم کی طرف سے نعمت او رلطف و کرم میں اور اضافہ ہو۔

۱۱۔ اتمام ِنعمت

تفسیر طبری، تفسیر ثعلبی، تفسیر واحدی، تفسیر قرطبی، تفسیر ابو السعود، تفسیر فخر رازی، تفسیر ابن کثیر شامی، تفسیر نیشاپوری، تفسیر سیوطی اور آلوسی کی روایت کی بنا پر، اسی طرح تاریخ بلاذری، تاریخ ابن قتیبہ، تاریخ ابن زولاق، تاریخ ابن عساکر، تاریخ ابن اثیر، تاریخ ابن ابی الحدید، تاریخ ابن خلکان، تاریخ ابن حجر اور تاریخ ابن صباغ میں، نیز شافعی، احمد بن حنبل، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی، دولابی، محب الدین طبری، ذھبی، متقی ہندی، ا بن حمزہ دمشقی اور تاج الدین مناوی نے اپنی اپنی کتب احادیث میں نیز قاضی ابو بکر باقلانی، قاضی عبد الرحمن ایجی، سید شریف جرجانی، بیضاوی، شمس الدین اصفھانی، تفتازانی اور قوشچی نے اپنی اپنی استدلالی کلامی کتب کی روایت کے مطابق(۳۴) بیان کیا ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہدایت کے تداوم اور و دین کے تحفظ نیز دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت کے لئے خداوندعالم کے حکم سے امام و رھبر اور فکر و عقیدہ اور اخلاق و عمل میں گناھوں سے پاک شخصیت حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کو ۱۸ ذی الحجہ کو غدیر خم کے میدان میں اپنے بعد خلافت و ولایت اور امت کی رھبری کے لئے منصوب فرمایا، اس وقت خداوندعالم نے اکمال دین اور اتمام نعمت اور دین اسلام سے اپنی رضایت کا اعلان فرمایا کہ یھی دین قیامت تک باقی رہے گا، ارشاد ہوا:

( الْیوْمَ اكْمَلْتُ لَكُمْ دِینَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَیكُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا )(۳۵)

”آج میں نے تمھارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے“۔

جی ھاں، حضرت علی علیہ السلام کی ولایت، حکومت، رھبری اوردین و دنیا کے امور میںآپ کی طاعت کرنا اکمال دین اور اتمام نعمت ہے۔

وضو سے حاصل ہونے والی پاکیزگی و طھارت کے سلسلے میں حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے : ”وضو کا حکم اس لئے دیا گیا ہے اور عبادت کی ابتدا اس لئے قرار دی گئی ہے کہ جس وقت بندگان خدا اس کی بارگاہ میں کھڑے ہوتے ہیں اور اس سے راز و نیاز کرتے ہیں تو اس وقت ان ہیں پاک ہونا چاہئے، اس کے حکم پر عمل کریں، اور گندگی اور نجاست سے دور ر ہیں ، اس کے علاوہ وضو کے ذریعہ نیند او رتھکاوٹ بھی دور ہوجاتی ہے، نیز عبادت خدا اور اس کی بارگاہ میں قیام و عبادت سے دل کو روشنی اور صفا حاصل ہوتی ہے“۔(۳۶)

اسی طرح غسل و تیمم بھی موجب طھارت ہیں جن کے لئے خداوندعالم نے حکم دیا ہے، لہٰذا وضو، غسل اور تیمم اور نماز و عبادت کی حالت حاصل ہونے والے پر قرآن مجید کے مطابق اللہ کی نعمت اس پر تمام ہوجاتی ہے:

آخر میں طھارت اور نماز کے بارے میں بیان شدہ آیات پر غور و فکر کرتے ہیں :

( مَا یرِیدُ اللهُ لِیجْعَلَ عَلَیكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ یرِیدُ لِیطَهركُمْ وَلِیتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ) (۳۷)

”خدا تمھارے لئے کسی طرح کی زحمت ن ہیں چاھتا بلکہ وہ تو یہ چاھتا ہے کہ تم ہیں پاک و پاکیزہ بنا دے اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردے شاید تم اس طرح سے اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ“۔

اس قسم کی آیات سے نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ خداوندعالم کی طرف سے انسان پر اتمام نعمت معنوی مسائل کو انجام دینے اور احکام الٰھی کے بجالانے، صحیح عقائد اور اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونے کی صورت میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

۱۲۔ نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام

وہ مومنین و مومنات جن کے دل ایمان سے آراستہ اور نفس برائیوں سے پاک ہیں اور وہ اعمال صالحہ بجالانے والے، حق بات کہنے والے، اپنے مال سے جود و کرم اور سخاوت کرنے والے، صدقہ دینے والے اور بندگان خدا کی مدد کرنے والوں والے ہیں ؛ ان کے لئے اجر و ثواب اور رضوان و جنت اور ھمیشہ کے لئے عیش و آرام کا وعدہ دیا گیا ہے۔

قرآن مجید نے اپنی نورانی آیات میں یہ اعلان کردیا ہے کہ اھل ایمان کے اعمال کا اجر و ثواب ضائع ن ہیں کیا جائے گا۔

کتاب الٰھی بلند آواز میں یہ اعلان کرتی ہے کہ خداوندعالم کا وعدہ سچا اور حق ہے اور اس کا وعدہ خلاف ن ہیں ہوتا۔

قرآن مجید، اھل ایمان اور اعمال صالحہ بجالانے والے افراد یا یوں کھا جائے کہ قرآن نے مومنین، محسنین، مصلحین، متقین اورمجاہدین کے لئے کئی قسم کا اجر بیان کیا ہے:

اجر عظیم، اجر کبیر، اجر کریم، اجر غیر ممنون، اجر حسن۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَعَدَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهم مَغْفِرَةٌ وَاجْرٌ عَظِیمٌ ) (۳۸)

”اللہ نے صاحبان ایمان اور عمل صالح بجالانے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے “۔

( اِلاَّالَّذینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا لصّٰالِحاتِ اُولٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَاَجْرٌ كَبیرٌ ) (۳۹)

” وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے مغفرت ہے اور ”اجر عظیم“ یعنی بڑا اجرہے “۔

( مَنْ ذَا الَّذی یقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضاً حَسَناً فَیضٰاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ اَجْرٌ كَریمٌ ) (۴۰)

”کون ہے جو اللہ کو قرض الحسنہ دے تاکہ وہ اس کو دوگنا کردے اور اس کے لئے اجر کریم بھی ہو“۔

( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهم اجْرٌ غَیرُ مَمْنُونٍ ) (۴۱)

”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے ”اجر غیر ممنون“ (منقطع نہ ہونے والا اجر) ہے“۔

( فَإِنْ تُطِیعُوا یؤْتِكُمْ اللهُ اجْرًا حَسَنًا ) ۔(۴۲)

”تو اگر تم خدا کی اطاعت کرو گے تو وہ تم ہیں ”اجر حسن“ یعنی بھترین اجر عنایت فرمائے گا“۔

جی ھاں، اگر دل جیسی نعمت کو ایمان کے لئے بروئے کار لایا جائے، عقل جیسی نعمت سے حقائق کو سمجھنے کے لئے مدد لی جائے، اعضاء و جوارح جیسی نعمت کو اعمال صالحہ کے لئے استعمال کیا جائے، مال و دولت جیسی نعمت کو بندگان خدا کی مشکلات حل کرنے کے خرچ کیا جائے، المختصر یہ کہ اگر تمام نعمتوں سے عبادت خدا اور اس کے بندوںکی خدمت، ان کے ساتھ نیکی و احسان اور تقويٰ و عفت میں مدد لی جائے تو انسان کی دنیاوی سعادت کے علاوہ آخرت میں مذکورہ پانچ قسم کا اجر و ثواب عطا ہو گا، ظاھر ہے کہ ان خداداد نعمتوں کو صحیح راستہ میں خرچ کرنا کوئی مشکل کام ن ہیں ہے، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ھر عورت ومرد اس کو انجام دے سکتا ہے، اور اگر انسان خدا کی نعمتوں سے صحیح فائدہ اٹھائے تو پھر انسان اور خدا میں کوئی حجاب باقی ن ہیں رھتا، اور انسان قرب خدا کے وصال کی لذت سے محظوظ نظر آتا ہے۔

کیا ایسا ن ہیں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام، نعمتوں کی قدر پہچانتے ہوئے ان کو صحیح طور پر استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے سامنے سے تمام حجابات اٹھ گئے تھے یھاں تک کہ خداوندعالم اور ان کے درمیان کوئی پردہ ن ہیں تھا(سوائے اس کے یہ تمام بزرگوار بندگان خدا تھے)!

امام زمانہ (عجل اللہ تعاليٰ فرجہ)کی طرف سے شیخ بزرگوار ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید (قدس) کو جو توقیع شریف حاصل ہوئی تھی اس میں ھم پڑھتے ہیں :

وَآیاتِكَ وَ مَقاماتِكَ الَّتی لا تَعْطیلَ لَها فی كُلِّ مَکانٍ، یعْرِفُكَ بِها مَنْ عَرَفَكَ، لا فَرْقَ بَینَكَ وَ بَینَها اِلاَّ اَنَّهُمْ عِبادُكَ وَ خَلْقُكَ :(۴۳)

”خداوندا! پیغمبر اور ائمہ معصومین علیہم السلام تیری نشانیاں ہیں کہ ان سے ھر مقام پر نشانیاں ظاھر ہوں گی، اگر کوئی تیری ذات کو پہچانتا ہے تو ان کے ذریعہ پہچانتا ہے، تیرے اور ان کے درمیان کوئی جدائی اور مبانیت ن ہیں ہے سوائے اس کے وہ تیری مخلوق اور تیرے بندے ہیں “۔

ھمیں اس مطلب پر غور کرنا چاہئے کہ نعمتیں خود سے انسان اور خدا کے درمیان حجاب ن ہیں بن جاتیں، بلکہ ان کا غلط استعمال اور شیطانی کاموں میں خرچ کرنے سے انسان اور خدا کے درمیان حجاب پیدا ہوجاتا ہے، اگر نعمتوں سے صحیح فائدہ اٹھایا جائے تو یہ انسان کو مقام قرب تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔

انبیاء اور ائمہ علیھم السلام مختلف مادی اور معنوی نعمتوں سے فیضیاب ہوتے تھے، وہ بھی اھل و عیال رکھتے تھے، اپنی روزی کو زراعت، تجارت اوربھیڑ بکریاں چراکر حاصل کرتے تھے حالانکہ ان ذوات مقدسہ اور خدا کے درمیان کوئی حجاب ن ہیں تھا۔

اگر انسان کے اندر عباد ت و اطاعت اور بندگی و تسلیم کا حوصلہ مضبوط ہوجائے اور اس کا دل نور معرفت سے روشن ہوجائے اورنفس نیکیوںسے بھرجائے، تو انسان بے شک دنیاوی زندگی اور اس کے تمام وسائل و اسباب اور دوسری نعمتوں کے ذریعہ معنوی مقامات تک پہنچ سکتا ہے، لیکن جو شخص خدا کی عبادت و اطاعت کا حوصلہ ن ہیں رکھتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی نعمتوں سے صحیح فائدہ حاصل ن ہیں کررھا ہے، اور جب بھی اس کی نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس میںطغیان و سرکشی، غرور ونخوت مزید پیدا ہوتا رھتا ہے۔

دعائے کمیل میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے فرمان کے مطابق کیا یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ دل جس میں توحید (خدا) موجود ہو، وہ دل جو معرفت کا مکان ہو، وہ زبان جس سے ذکر خدا ہو، جس کے باطن میں خدا کی محبت ہو، وہ باطن جو صادقانہ اعتراف اور خداوندعالم کی بارگاہ میں خاضع ہو، پیشانی خاک پر رکھی ہو، جس زبان سے خدا کا شکر اور اس کی توحید کا اقرار کیا ہو، جس دل سے خدا کی الوھیت کا اقرار کیا ہو، جن اعضاء و جوارح سے شوق و رغبت کے ساتھ مساجد کا رخ کیا ہو، کیا کل روز قیامت ان سب کو جہنم میں جلادیا جائے گا!!

جن نعمتوں کے ذریعہ عبادت خدا اور خدمت خلق کی گئی ہو، ان کے ذریعہ کل روز قیامت رضائے الٰھی اور خلد بریں کے دروزاے کھول دئے جائیں گے۔

قارئین کرام! آخر میں دو اھم حقائق کا خلاصہ کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کرتے ہیں :

۱۔ مذکورہ تمام آیات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ ”عبادت، بندگی، اطاعت اور خدمت “ نام ہے نعمت و نعمت عطا کرنے والے کی معرفت اور معین کردہ راستے میں اس کی نعمتوں کو استعمال کرنے کا۔

۲۔ ”گناہ و معصیت، خطا و غلطی، شرک و کفر، فسق و فجور اور فحشا و منکر “ نام ہے نعمت عطا کرنے والے سے غفلت، نعمت پر غرور، ذات خدا سے بے رخی اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کو حرام اور و غیر اخلاقی کاموں میں خرچ کرنے کا۔

____________________

۱. سورہ نحل آیت۱۱۴۔

۲. سورہ لقمان آیت ۲۰۔

۳. سورہ نساء آیت ۲۹۔

۴. سورہ بقرہ آیت ۱۶۸۔

۵. سورہ فاطر آیت ۳۔

۶. مفردات، ۴۶۱ مادہ شکر۔

۷. سورہ سباء، آیت ۱۳۔

۸. سورہ نحل آیت، ۱۱۴۔

۹. سورہ عنکبوت آیت، ۱۷۔

۱۰. (۳)اصول کافی، ج۲، ص۹۵۔باب الشکر، حدیث ۱۰؛بحار الانوار :۶۸۴۰، باب ۶۱، حدیث ۲۹۔

۱۱. سورہ ابراھیم آیت، ۲۸۔۲۹۔

۱۲. سورہ لقمان آیت، ۲۷۔

۱۳. سورہ مومنون آیت۱۲۔

۱۴. سورہ مو منون آیت ۱۳۔

۱۵. سورہ مومنون آیت ۱۴۔

۱۶. راز آفرینش انسان ص ۱۴۵۔

۱۷. راہ خدا شناسی ص ۲۱۸۔

۱۸. علم و زندگی ص۱۳۴۔۱۳۵۔

۱۹. لوز المعدہ: معدہ سے قریب ایک بڑی سرخ رنگ کی رگ ہے جس کی شکل خوشہ کی مانند ہوتی ہے۔

۲۰. جزر ومد : دریا کے پانی میں ہونے والی تبدیلی کو کھا جاتا ہے، شب وروز میں دریاکا پانی ایک مرتبہ ن گھٹتا ہے اس کو ” جزر“ کھا جاتاھے اور ایک مرتبہ بڑھتا ہے جس کو ”مد“ کھا جاتاھے، اور پانی میں یہ تبدیلی سورج اور چاندکی قوہ جاذبہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مترجم

۲۱. گنجینہ ھای دانش ص ۹۲۷۔

۲۲. سورہ نحل آیت، ۱۸۔

۲۳. سورہ حمد آیت، ۶۔۷۔

۲۴. سورہ نساء آیت ۶۹۔

۲۵. سورہ انعام آیت، ۱۴۱۔

۲۶.سورہ توبہ آیت ۶۰۔

۲۷. سورہ یونس آیت ۸۳۔

۲۸.سورہ اعراف آیت ۸۱۔

۲۹. سورہ انبیاء آیت ۹۔

۳۰. سورہ آل عمران آیت ۱۸۰۔

۳۱. سورہ اسراء آیت ۸۳۔

۳۲.سورہ فجر آیت، ۱۷۔۲۰۔

۳۳. سورہ لیل آیت ۸۔۱۰۔

۳۴. الغدیر، ج۱، ص۶۔۸۔

۳۵. سورہ مائدہ آیت، ۳۔

۳۶.(۲)عن الفضل بن شا ذان عن الرضا (علیه السلام ) قال:انما امر بالوضوء و بدا به لان یکون العبد طاهرا اذا قام بین یدی الجبار عند مناجاته ایاه مطیعا له فیما امره نقیا من الادناس و الجناسة مع ما فیه من ذهاب الکسل وطرد النعاس و تزکیة الفواد للقیام بین یدی الجبار “۔

۳۷. سورہ مائدہ آیت ۶۔

۳۸. سورہ مائدہ آیت ۹۔

۳۹. سورہ ہود آیت ۱۱۔

۴۰. سورہ حدید آیت ۱۱۔

۴۱. سورہ فصلت آیت ۸۔

۴۲. سورہ فتح آیت، ۱۶۔

۴۳.مفاتیح الجنان دعای ص ۲۵۵، دعای هر روز ماه رجب.


گناہ اور اس کا علاج

( یاایها النَّاسُ قَدْ جَائَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُورِ وَهُدًی وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ ) (۴۴)

”پیغمبر کہہ دیجئے کہ یہ قرآن فضل و رحمت خدا کا نتیجہ ہے لہٰذا ان ہیں اس پر خوش ہونا چاہئے کہ یہ ان کے جمع کئے ہوئے اموال سے ک ہیں زیادہ بھتر ہے“۔

صلح و صفا کی کنجی

انسان کو جب یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جس ذات نے اس پر ظاھری و باطنی نعمتیں کامل اور وسیع پیمانے پر عطا کی ہے، لیکن اس نے گزشتہ عمر میں غفلت سے کام لیاھے، اور یہ بھی معلوم ہوجاتاھے کہ وہ تمام نعمتوں کو دنیا و آخرت کی سعادت اور خدا کے لطف و کرم کے دروازے کھولنے کے لئے بروئے کار ن ہیں لایاھے، بلکہ اکثر اوقات خدا کی مخالفت کی ہے جس کے نتیجہ میں گناھان صغیرہ و کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے جس سخت خسارہ میںھے اور ہوا و ہوس اور ظاھری اور باطنی شیطان کی بندگی کا ٹیکا اس کی پیشانی پر لگ گیا ہے، تو اس پر واجب ہے کہ اپنے شرمناک ماضی کے جبران وتلافی کے لئے، جھل و غفلت خطا و معصیت اور شرمناک اعمال اور شیطانی امور سے توبہ کرکے خدا کی بارگاہ میں استغفار کرے اور خدا کا بندہ بن جائے، اور اپنی زندگی میں صلح و صفا کا آفتاب چمکائے۔

جی ھاں، رحمت خدا سے مدد لینے اور اس کی عنایت خاص سے طاقت حاصل کرنے نیز اس کے ملکوتی فیض کو کسب کرنے کے لئے اس کو خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور اس راستہ کو عزم و ارادہ، اور عاشقانہ جھاد کی طرح ھمیشہ طے کرنا چاہئے تاکہ اس کا ظاھر و باطن فسق و فجور، برائیوں و خطاؤں اور برے اخلاق سے مکمل پاک ہوجائے، نیک و صالح اور عابد بندوں کی صف میں آجائے اور خدا کے غضب کے بدلے رحمت، اور دردناک عذاب کے بدلے جنت کا مستحق بن جائے۔

اس طرح سے اپنے ماضی کی نسبت بیداری اور توبہ و استغفار کرنا نیز اپنے ظاھر و باطن کو برائیوں اور گناھوں سے دھونا خدا سے صلح و دوستی کی کنجی ہے۔

چونکہ خداوندعالم کی بارگاہ میں توبہ و استغفار، عظیم ترین عبادت، مفید فرصت ہے، اور قرآن کریم کی آیات اور معصومین علیھم السلام کی تعلیمات کا ایک عظیم حصہ اسی حقیقت سے مخصوص ہے، لہٰذا توبہ کرنے والے شخص پر لازم ہے کہ توبہ کے سلسلہ میں غور کرے تاکہ اس عظیم عبادت، بھترین حقیقت اور سنھرے موقع سے فیضیاب ہوسکے۔

گناہ بیماری ہے

ھر انسان ذاتی طور پر اور باطنی لحاظ سے پاک و سالم اس دنیا میں آتا ہے۔

حرص، حسد، بخل، ریاکاری، فسق و فجور او ردیگر گناہ انسان کی ذات میں ن ہیں ہوتے بلکہ خاندان، معاشرہ اور دوستوں کی صحبت کی وجہ انسان گناھوں میں ملوث ہوتا ہے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہے:

كُلُّ مَولودٍ یولد عَلَی فِطْرَةِ الإسْلَامِ، حَتّی یكُونَ ابواه یهودانه وینصِّرانه “۔(۴۵)

”ھر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، مگر اس کے ماں باپ اس کو یھودی یا نصرانی بنادیتے ہیں ۔“

منحرف استاد، منحرف معاشرہ اور منحرف سماج، انسان کی گمراھی میں بھت زیادہ موثر ہوتے ہیں ۔

چنانچہ انسان ان ہیں اسباب کی بنا پر فکری و عملی اور اخلاقی لحاظ سے گمراہ ہوجاتا ہے، اور گناھوں

میں ملوث ہوجاتا ہے، لیکن ان تمام چیزوں کا علاج بھی موجود ہے قرآن مجید کی نظر سے یہ بیماری قابل علاج ہے اور اس مرض کے دوا بیان کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( یاایها النَّاسُ قَدْ جَائَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُورِ وَهُدًی وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ ) (۴۶)

”پیغمبر کہہ دیجئے کہ یہ قرآن فضل و رحمت خدا کا نتیجہ ہے لہٰذا ان ہیں اس پر خوش ہونا چاہئے کہ یہ ان کے جمع کئے ہوئے اموال سے ک ہیں زیادہ بھتر ہے“۔

قرآن کی نظر میں یہ بیماری خداوندعالم کی مغفرت اور بخشش کے ذریعہ قابل علاج ہے:

( إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَاصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) (۴۷)

”علاوہ ان لوگوں کہ جنھوں اس کے بعد توبہ کر لی اور اپنی اصلاح کرلی، یقینا خدا غفور اور رحیم ہے“۔

ناامیدی کفر ہے

جس وقت قرآن مجید کی آیات اور معصومین علیھم السلام کی روایت کے ذریعہ یہ معلوم ہوجائے کہ ظاھری اور مخفی طور پر کئے جانے والے گناہ ایک بیماری ہے، اور یہ بیماری قابل علاج ہے، اس پر خداوندعالم پردہ ڈال سکتا ہے، توگناھگار کو چاہئے کہ اس خطرناک اور مھلک کنویں سے باھر نکلنے کی کوشش کرے، اپنے گناھوں کی بخشش کی امید رکھے، خداوندعالم کے لطف و کرم اور عنایت سے توقع رکھے اور اس مثبت امید کے سھارے حقیقی توبہ اور عاشقانہ صلح نیز اپنے گزشتہ گناھوں کی تلافی کرے تاکہ اس بیماری اور خسارے کو دور کرسکے، کیونکہ انسان یہ کام کرسکتا ہے، توبہ و استغفاراور اس بیماری کے علاج کے علاوہ چھوٹے ہوئے واجبات کی ادائیگی کرے، اس سلسلہ میں ناامیدی ویاس، سستی اور کسالت، شیطانی اور انحرافی نعرہ لگانا مثلاً کہنا کہ ”اب تو ھمارے سر سے پانی گزرگیا ہے، چاھے ایک بالشت ہو یا سو بالشت“ غرض یہ سب چیزیں حرام اور کفر کے برابر ہے۔

( وَلَا تَایئَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ إِنَّهُ لَا یایئَسُمِنْ رَوْحِ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الكَافِرُونَ ) (۴۸)

”اور رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا کہ اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس ن ہیں ہوتا ہے “۔

البتہ جو شخص خدا کی رحمت و مغفرت اور بخشش کا امیدوار ہو، اس کے لئے اپنی امید کے اسباب و وسائل فراھم کرنا ضروری ہے مثلاً گناھوں پر شرمندہ ہونا، ان سے کنارہ کشی کرنا، ترک شدہ واجبات کو ادا کرنا، لوگوں کے حق کو ان تک واپس لوٹانا، اپنے عمل اور اخلاق کی اصلاح کرنا، کیونکہ یہ ایک مثبت امید ہے اور بالکل اسی کسان کی طرح ہے کہ جس نے سردیوں کے موسم میں اپنی زمین کو جوتا بویا ہو، اور کھاد پانی کا خیال رکھاھو اس امید کے ساتھ کہ وہ گرمی میں فصل کاٹے گا۔

لیکن اگر انسان اپنی امید کے پورا ہونے کے اسباب فراھم نہ کرے تو اس کی امید بے فائدہ اور بے ثمر ہوگی اور اس کسان کی طرح ہوگی جس نے زمین میں کوئی کام نہ کیا ہو اور نہ ہی زمین میں بیج ڈالا ہو، لیکن فصل کاٹنے کی امید رکھتا ہو، تو کیا ایسا شخص فصل کاٹنے کی امید رکھ سکتا ہے؟ایک معتبر حدیث میں صحیح اور غلط امید کے بارے میں اشارہ ہوا ہے:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ان لوگوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو گناھوں میں ملوث رھتے ہیں اور گناھوں سے آلودگی کی حالت میں کھتے ہیں : ”ھم خداکی رحمت و مغفرت اور اس کی بخشش کے امیدوار ہے“۔ یھاں تک کہ ان کی موت آجاتی ہے، امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”یہ لوگ غلط امید کے شکار ہیں ، کیونکہ جو شخص کسی چیز کی امید رکھتا ہے تو اس کو حاصل کرنے کے لئے ضروری قدم بھی اٹھاتا ہے اور اگر کسی چیز سے ڈرتا ہے تو وہ اس سے پرھیز کرنا چاہئے(۴۹)

علاج کرنے والے اطباء

جب ھمارے کے لئے یہ بات ثابت ہوچکی کہ گناہ کوئی ذاتی مسئلہ ن ہیں ہے بلکہ ایک بیماری کی طرح ہے جیسا کہ بعض اسباب کی بناپر انسان کے جسم میں بیماری پیدا ہوجاتی ہے، یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ جو انسان کے دل و دماغ، نفس اور ظاھر و باطن پر اثرانداز ہوتی ہے، اور جس طرح بدن کی بیماریاں طبیب کے پاس جانے اور اس کے لکھے ہوئے نسخہ پر عمل کرنے سے قابل علاج ہوتی ہیں ، اسی طرح معنوی بیماری کے لئے بھی علاج کرنے والے طبیب موجود ہیں ، لہٰذا ان کی طرف رجوع کیا جائے اور ان کے بتائے گئے احکام پر عمل کرتے ہوئے اپنے دل و دماغ سے اس بیماری کی جڑیں ختم کی جائیں، اگرچہ وہ بیماری بھت خطرناک مرحلہ تک پہنچ گئی ہو! اس طرح کی بیماریوں کے طبیب خود ذات پروردگار، انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام نیز علمائے ربّانی ہیں ۔

گناھگار کے علاج کا نسخہ قرآن کریم، انبیاء، ائمہ اور علمائے ربانی ہیں ، ان کی حکیمانہ باتیں اور مشفقانہ نصیحتیں اور دلسوز وعظ ان بیماریوں کا مرھم ہے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اھل گناہ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

اَیهاالنَّاسُ اَنْتُم كَالْمَرْضَيٰ وَرَبُّ العَالَمِینَ كَالطَّبِیبِ فَصَلاحُ الْمَرضَيٰ فِیمَا یعْمَلُهُ الطَّبِیبُ وَ یدَبِّرُهُ لَا فِیمَا یشْتَهِیهِ المَریضُ وَ یقْتَرِحُهُ “۔(۵۰)

”اے اھل گناہ! تم بیمار لوگوں کی طرح ہو، اور تمھارا پروردگار طبیب کی طرح، بیمار کی بھلائی طبیب تدبیر اور تجویز میں ہے، نہ کہ بیمار کے ذائقہ اور اس کی مرضی میں“۔

احادیث معصومین علیھم السلام میں بھی انبیاء کرام، ائمہ معصومین (علیھم السلام) اور علمائے ربانی کو بھی طبیب کا عنوان دیاگیا ہے۔

بیمار گناہ کو اپنے علاج کے لئے ان مھربان طبیبوں کے پاس جانا چاہئے اور ان کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور اپنے صحت و سلامتی کے بارے میں امیدوار ہونا چاہئے اور اس کے لئے توبہ کے علاوہ اور کوئی راستہ ن ہیں ہے۔

محترم قارئین ! واضح رہے کہ ھم یھاں ان طبیبوں کے چند معنوی نسخوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں تاکہ بیمارگناہ ان نسخوں کا مطالعہ کرکے اپنا علاج کرلے یا علمائے کرام کی زبانی سن کر اپنے دکھ درد کو مٹالے، ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی یحْبِبْكُمْ اللهُ وَیغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) (۵۱)

”اے! پیغمبر کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ خدا بھی تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناھوں کو (بھی) بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والاھے“۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ یجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَیكَفِّرْ عَنكُمْ سَیئَاتِكُمْ وَیغْفِرْ لَكُمْ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ) (۵۲)

”ایمان والو! اگر تم تقوی الٰھی اختیار کرو گے تو وہ تم ہیں حق و باطل میں فرق کی صلاحیت عطا کردے گا۔ تمھاری برائی کی پردہ پوشی کرے گا۔ تمھارے گناھوں کو معاف کردے گا، یقینا وہ بڑا فضل کرنے والا ہے“۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا یصْلِحْ لَكُمْ اعْمَالَكُمْ وَیغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ یطِعْ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا ) (۵۳)

”ایمان والو! اللہ سے ڈرو، او ر سیدھی بات کرو ۔ تا کہ وہ تمھارے اعمال کی اصلاح فرمادے اور تمھارے گناھوں کو بخش دے اور جوشخص بھی خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ عظیم کامیابی کے درجے پر فائز ہوگا“۔

( یاایها الَّذِینَ آَمَنُوا هل ادُلُّكُمْ عَلَی تِجَارَةٍ تُنجِیكُمْ مِنْ عَذَابٍ الِیمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ بِامْوَالِكُمْ وَانفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَیرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ یغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَیدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِها الْانْهارُ وَمَسَاكِنَ طَیبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) (۵۴)

”ایمان والو! کیا میں تم ہیں ایک ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں کہ جو تم ہیں درد ناک عذاب سے بچا لے۔ تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور راہ خدا میں اپنی جان و مال سے جھاد کرو کہ یھی تمھارے حق میں سب سے بھتر ہے، اگر تم جاننے والے ہو۔ وہ تمھارے گناھوں کو بھی بخش دے گا او رتم ہیں ایسی جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے نھریں جاری ہوںگی اور ان میں پاکیزہ محل ہو ںگے او ر یھی بھت بڑی کامیابی ہے“۔

( إِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا یضَاعِفْهُ لَكُمْ وَیغْفِرْ لَكُمْ وَاللهُ شَكُورٌ حَلِیمٌ ) (۵۵)

”اگر تم اللہ کو قرض الحسنہ دوگے تو وہ اسے دوگنا بنا دے گا اور تم ہیں معاف بھی کردے گا کہ وہ بڑا قدر داں اور برداشت کرنے والا ہے“۔

( وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّیئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِها وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِها لَغَفُورٌ رَحِیمٌ ) (۵۶)

”اور جن لوگوں نے برے اعمال کئے اور پھر توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو توبہ کے بعد تمھارا پروردگار بھت بخشنے والا اور بڑا مھربان ہے“۔

( فَإِنْ تَابُوا وَاقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِیلَهم إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) (۵۷)

” پھر اگر (وہ لوگ) توبہ کر لےں اور نماز قائم کریں اور زکاة اداکریں تو پھر ان کا راستہ چھوڑ دو، بے شک خدا بڑا بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

( وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهم خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیئًا عَسَی اللهُ انْ یتُوبَ عَلَیهم إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) (۵۸)

”اور دوسرے لوگ جنھوں نے اپنے گناھوں کا اعتراف کیا، انھوں نے نیک اور بد اعمال مخلوط کردئے ہیں ، عنقریب خدا ان کی توبہ قبول کر لے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

قارئین کرام! مذکورہ آیات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر کوئی گناھگار خداوندعالم کی رحمت و معرفت کو حاصل کرنا چاھتا ہے اور یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی توبہ قبول ہوجائے، اس کا سیاہ نامہ اعمال معنوی سفیدی اور نور میں تبدیل ہوجائے، اور روز قیامت کے دردناک عذاب سے چھٹکارا مل جائے تو اسے چاہئے کہ قرآن مجید میں بیان شدہ نسخوں کے پیش نظر حسب ذیل امور پر عمل کرے:

۱۔ سیرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اتباع و پیروی کرے۔

۲۔ تقويٰ و پرھیزگاری کی رعایت کرے اور اپنے آپ کو گناھوں سے دور رکھے۔

۳۔ حق بات کھے، اور وقت پر گفتگو کرے۔

۴۔ خداوندعالم کی اطاعت کرے۔

۵۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرے۔

۶۔ خدا پر ایمان رکھے۔

۷۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان رکھے۔

۸۔ مال و دولت کے ذریعہ راہ خدا میں جھاد و کوشش کرے۔

۹۔ راہ حق میں دل و جان سے کوشش کرے۔

۱۰۔ ضرورت مندوں کو قرض الحسنہ دے۔

۱۱۔ گناھوں سے دوری اختیار کرے اور خدا کی طرف پلٹ جائے۔

۱۲۔ غلط و باطل عقائد سے اجتناب کرے۔

۱۳۔ نماز قائم کرے۔

۱۴۔ زکوٰة ادا کرے۔

۱۵۔ خداوندعالم کی بارگاہ میں اپنے گناھوں کا اقرار و اعتراف کرے۔

جاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِی فَقالَ:يٰارَسُولَ اللّٰهِ، مٰاعَمَلُ اَهل الْجَنَّةِ؟ فَقالَ:اَلصِّدْقُ، اِذا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ، وَ اِذا بَرَّاَ مِنَ وَاِذا اَمِنَ دَخَلَ الْجَنَّةُفَقالَ يٰا رَسُولَ اللّٰهِ، مٰاعَمَلُ اَهل النّٰارِ، قٰالَ:اَلْكِذْبُ، اِذا كَذَبَ الْعَبْدُ فَجَرَ وَاِذا فَجَرَ كَفَرَ، وَاِذا كَفَرَ دَخَلَ النّٰارَ :“(۵۹)

”ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کی: یا رسول اللہ ! اھل بہشت کا عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: صداقت، کیونکہ جس وقت خدا کا بندہ سچ بولتا ہے تو اس نے نیکی انجام دی ہے، اور جب نیکی کرتا ہے تو امان مل جاتی ہے اور جب امان مل جاتی ہے تو جنت میں داخل ہوجاتا ہے، سوال کرنے والے نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اھل جہنم کا عمل کیا ہے؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جھوٹ، کیونکہ جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتا ہے او رجب گناہ کرتا ہے تو ناشکری اور کفر سے دچار ہوجاتا ہے اور کفر کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہوجاتا ہے“۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج مطھرات میں سے ایک زوجہ کھتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم سے سوال کیا:

بِمَ یعْرَفُ الْمُومِنُ ؟قٰالَ:بِوَقارِهِ، وَلینِ كَلامِهِ، وَصِدْقِ حَدیثِهِ :“(۶۰)

”یا رسول اللہ ! کن اعمال سے مومن کی پہچان ہوتی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وقار، نرم لہجہ اور صداقت سے“۔

حضرت داؤد علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کھا:

اِجْتَمِعُوا، فَاِنّی اُرِیدُ اَن اَقُومَ فیكُمْ بِكَلِمَتَین :فَاجْتَمَعُوا عَلٰی بابِهِ فَخَرَجَ عَلَیهِمْ فَقٰالَ:يٰا بَنی اِسْرائیلَ، لاٰ یدْخُلْ اَجْوافَكُمْ اِلاّ طَیبٌ وَلاٰ یخْرُجُ مِنْ اَفْواهِكُمْ اِلاّ طَیبٌ :“(۶۱)

”تم لوگ ایک جگہ جمع ہوجاؤ کہ میں تم سے کچھ گفتگو کرنا چاھتا ہوں، جب لوگ جناب داؤد علیہ السلام کے دروازہ پر جمع ہوگئے تو انھوں نے ان کے روبرو ہوکر خطاب کیا: اے بنی اسرائیل! پاک اور حلال چیزوں کے علاوہ کچھ نہ کھاؤ، اور صحیح اور حق بات کے علاوہ زبان مت کھولو“۔

جناب جابر کھتے ہیں : میں نے سنا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کعب بن عجرہ سے فرمارہے ہیں :

لا یدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنَ السُّحْتِ، اَلنّٰارُ اَوْلٰی بِهِ(۶۲)

”جس شخص کا گوشت حرام مال سے بڑھا ہو، وہ بہشت میں ن ہیں جاسکتا، بلکہ جہنم اس کے لئے زیادہ سزاوارہے “۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے:

مَنْ نَقَلَهُ اللّٰهُ مِنْ ذُلِّ الْمَعاصی اِلٰی عِزِّ التَّقْويٰ اَغْنٰاهُ بِلا مالٍ، وَاَعَزَّهُ بِلا عَشیرَةٍ، وَا ٓنَسَه بِلا اَنیسٍ :“(۶۳)

”جس شخص کو خداوندعالم گناھوں کی ذلت سے نکال کر تقويٰ کی عزت تک پہنچادے تو خدا اس کو بغیر مال عطاکئے بے نیاز بنادیتا ہے، اور بغیر قوم و قبیلہ کے عزت دیتا ہے، اور بغیر دوست کے انس و محبت عطا فرماتا ہے“۔

عَنِ اَمیرِ الْمُومِنینَ :اَلدُّنْیا مَمَرٌّ، وَالنَّاسُ فیها رَجُلاٰنِ:رَجُلٌ باعَ نَفْسَهُ فَاَوْبَقَهٰا، وَرَجُلٌ ابْتاعَ نَفْسَهُ فَاَعْتَقَها :“(۶۴)

”حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے: دنیا ایک گزرگاہ(یعنی راستہ) ہے جس سے دو طرح کے لوگ گزرتے ہیں : ایک وہ شخص جس نے اپنے آپ کو دنیا کے بدلے فروخت کردیا لہٰذا اس نے خود کو نابود کرلیا، دوسرے وہ شخص ہے جس نے دنیا سے اپنے آپ کو خرید لیا، لہٰذا اس نے خود کو آزاد کرلیا“۔

مروی ہے کہ ایک شخص حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوکر عرض کرتا ہے:

” میں ایک گناھگار شخص ہوں اورگناہ پر صبر ن ہیں کرسکتا، لہٰذا مجھے نصیحت فرمایئے، تو امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: تو پانچ چیزوں کو انجام دے اس کے بعد جو چاھے گناہ کرنا:

۱۔ خداکا عطا کردہ رزق مت کھا۔

۲۔ خدا کی حکومت و ولایت سے باھر نکل جا۔

۳۔ ایسی جگہ تلاش کر جھاں خدا نہ دیکھتا ہو۔

۴۔ جس وقت ملک الموت تیری روح قبض کرنے آئے تو اس بچ کر بھاگ جانا۔

۵۔ جب (روز قیامت) تجھے مالكِ دوزخ، دوزخ میں ڈالنا چاھے تو اس وقت دوزخ میں نہ جانا۔“(۶۵)

قالَ عَلِی بْنُ الْحُسینِ علیه السلام: اِنَّ الْمَعْرِفَةَ وَكَمالَ دینِ الْمُسْلِمِ تَرْكُهُ الْكَلامَ فیما لاٰ یعْنیهِ، وَ قِلَّةُ مِرائِهِ وَ حِلْمُهُ وَ صَبْرُهُ وَ حُسْنُ خُلْقِهِ :“(۶۶)

”حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :بے شک مسلمانوں کی معرفت اور دین کا کمال اس میں ہے کہ بے فائدہ گفتگو سے پرھیز کرے، نزاع و جھگڑے سے دور رہے ، صبر و حلم اور حسن خُلق سے کام لے“۔

عَنِ الْبَاقِرِ (عَلَیه السَّلام):مَنْ صَدَقَ لِسَانُهُ زَکيٰ عَمَلُهُ وَمَنْ حَسُنَتْ نِیتُهُ زِیدَفِی رِزْقِهِ وَمَنْ حَسُنَ بِرُّهُ بِاَهلهِ زِیدَفِی عُمْرِهِ “۔(۶۷)

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : جس شخص کی زبان سچ بولے اس کاعمل پاکیزہ ہوجاتا ہے، اور جس شخص کی نیت اچھی ہو اس کی روزی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور جو شخص اپنے اھل و عیال کے ساتھ نیکی و احسان کرے اس کی عمر بڑھ جاتی ہے“۔

عَن اَبی عَبْدِاللّٰهِ(عَلَیه السَّلام): اَوْرَعَ النّٰاسِ مَنْ وَقَفَ عِنْدَ الشُّبْهَةِ اَعْبَدُ النَّاسِ مَنْ اَقامَ الْفَرائِضَ اَزْهَدُ النَّاسِ مَنْ تَرَكَ الْحَرامَاَشَدُّ النَّاسِ اجْتِهاداً مَنْ تَرَكَ الذُّنُوبَ :“(۶۸)

”حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :سب سے زیادہ باتقويٰ وہ شخص ہے جو خود کو مشتبہ چیزوں سے محفوظ رکھے، سب سے اچھا بندہ وہ ہے جو واجبات الٰھی کو بجالائے، زاہد ترین شخص وہ ہے جو حرام چیزوں کو ترک کرے، اور سب سے زیادہ جدو جہد کرنے والا شخص وہ ہے جو گناھوں چھوڑ دے“۔

امام موسيٰ کاظم علیہ السلام نے ہشام بن حکم سے فرمایا:

رَحِمَ اللّٰهُ مَنِ اسْتَحْیيٰ مِنَ اللّٰهِ حَقَّ الْحَیاءِ، فَحَفِظَ الرَّاسَ وَما حَوٰی، وَالْبَطْنَ وَ ما وَعيٰ، وَذَكَرَ الْمَوْتَ وَالْبِليٰ، وَعَلِمَ اَنَّ الْجَنَّةَ مَحْفُوفَةٌ بِالْمَكٰارِهِ، وَ النَّارَ مَحْفُوفَةٌ بِالشَّهَواتِ :“(۶۹)

”خداوندعالم رحمت کرے اس شخص پر جو خداکے سامنے اس طرح شرم کرے جس کا وہ حقدار ہے، آنکھ، کان اور زبان کو گناھوں سے محفوظ رکھے، اپنے کو لقمہ حرام سے بچائے رکھے، قبر اور قبر میں بدن کے بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے، اور اس بات پر توجہ رکھے کہ جنت زحمت و مشکلات کے ساتھ ہے اور جہنم لذت شھوت کے ساتھ “۔

حضرات انبیاء کرام، اور ائمہ معصومین علیھم السلام نے ان نیک امور اور انسان کو شقاوت و ھلاکت سے بچانے والے اھم مسائل کو بیان کیا ہے جن کی تفصیل معتبر کتابوں میں بیان ہوئی ہے، مذکورہ احادیث اسی ٹھاٹے مارتے ہوئے قیمتی سمندر کے چند قطرے تھے ۔ اسی طرح علماء کرام سے وعظ و نصیحت نقل ہوئی ہیں جو انسان کی بیماری کے علاج کے لئے بھترین نسخے ہیں ، جن کے ذریعہ انسان اپنے نفس کو گناھوں کی گندگی اور کثافت سے بچاسکتا ہے، ذیل میں ان کے چند نمونے بھی ملاحظہ فرمالیں:

ایک عارف نے کھا: ھم نے چار چیزوں کو چار چیزوں میں طلب کیا لیکن راستہ کا غلط انتخاب کیا، اور ھم نے دیکھا وہ چار چیزیں دوسری چار چیزوں میں ہیں :

۱۔بے نیازی کو مال و دولت میں ڈھونڈا لیکن قناعت میں پایا۔

۲۔مقام و عظمت کو حسب ونسب میں تلاش کیا لیکن تقويٰ میں ملا۔

۳۔چین وسکون کو مال کی کثرت میں ڈھونڈا لیکن کم مال میں پایا۔

۴۔نعمت کو لباس، غذا اور لذتوں میں تلاش کیا لیکن اس کو بدن کی صحت و سلامتی میں دیکھا(۷۰)

جناب لقمان نے اپنے فرزند کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: کل روز قیامت خدا کی بارگاہ میں، چار چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا: اپنی جوانی کس چیز میں گزاری، اپنی عمر کو کس چیز میں تمام کیا، مال و دولت کھاں سے حاصل کی اور حاصل شدہ مال و دولت کھاں پر خرچ کیا؟ لہٰذا اس کے لئے جواب تیار کرلو(۷۱)

ایک عارف کھتے ہیں :دانشوروں نے چارچیزوں پر اتفاق کیا ہے اور میں نے ان کو چار چیزوں سے انتخاب کیا ہے:

۱۔توریت: جس شخص نے قناعت کی وہ سیر ہوگیا۔

۲۔زبور: جس شخص نے سکوت اختیار کیا وہ صحیح و سالم رہے ۔

۳۔انجیل: جس شخص نے ناحق چیزوں اور نامناسب لوگوں سے کنارہ کشی کی اس نے نجات پائی۔

۴۔ قرآن: جو شخص خدا کی پناہ میں چلا گیا وہ راہ مستقیم کی ہدایت پاگیا(۷۲)

”سلیمان علی “نے ”حمید طویل “سے کھا: مجھے موعظہ و نصیحت فرمائیے:تو ”حمید “نے کھا: اگر خلوت میںخدا کی معصیت کررہے ہو اور یہ جانتے ہو کہ خدا تم ہیں دیکھ رھا ہے، تو تم نے بھت بڑے کام کی جرئت کی اور اگر تم یہ سوچو کہ خدا ن ہیں دیکھ رھا ہے تو تم کافر ہوگئے(۷۳)

جناب جبرئیل نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! اگر روئے زمین پر ھم لوگ عبادت کیا کرتے تو تین کام انجام دیتے:

مسلمان کو پانی پلاتے، اھل و عیال رکھنے والوں کی مددکرتے، اور لوگوں کے گناھوں کو چھپایا کرتے(۷۴)

ایک عالم بزرگوار نے فرمایا: خداوندا! تجھ سے امید رکھنا، تیری سب سے بڑی عبادت ہے، اور تیری ثنا کرنامیری زبان پر شیرین ترین سخن ہے، اور تجھ سے ملاقات کا وقت، میرے نزدیک محبوب ترین وقت ہے(۷۵)

ایک عارف فرماتے ہیں : ابلیس پانچ چیزوں کی وجہ سے بدبخت اور ملعون ہوا ہے:

گناہ کا اقرار نہ کیا اور گناہ پر شرمندہ نہ ہوا، اپنی ملامت ن ہیں کی، توبہ کا ارادہ نہ کیا، اور رحمت خدا سے مایوس ہوگیا؛ لیکن جناب آدم پانچ چیزوں کی وجہ سے کامیاب ہوگئے: اپنی خطا کا اقرار کیا، شرمندہ ہوئے، اپنی ملامت کی، توبہ کرنے میں جلدی کی اور رحمت خدا سے ناامید ن ہیں ہوئے۔(۷۶)

یحيٰ بن معاذ کھتے ہیں : جو شخص زیادہ کھانا کھاتا ہے تو اس کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے، اور جس کی طاقت زیادہ ہوجاتی ہے اس کی شھوت میں (بھی) اضافہ ہوجاتا ہے، اور جس کی شھوت میں اضافہ ہوجاتا ہے اس کے گناہ بھی زیادہ ہوتے ہیں ، اور جس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں وہ سنگ دل بن جاتا ہے اور جو سنگ دل ہوجاتا ہے وہ دنیا کے زرق و برق اور اس کی آفات میں گرفتار ہوجاتا ہے(۷۷)

اولیاء کی صفات کے بارے میں کھا گیا ہے کہ ان میں تین خصلتیں پائی جاتی ہیں :

۱۔ سکوت اختیار کرتے ہیں اور اپنی زبان کو محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ یہ چیزیں نجات کا دروازے ہیں ۔

۲۔ ان کا شکم خالی رھتا ہے، جو خیرات کی كُنجی ہوتی ہے۔

۳۔ دن بھر کے روزے اور رات بھر کی عبادت کی وجہ سے اپنے نفس کو زحمت میں ڈالتے ہیں(۷۸)

قارئین کرام! اگر ھر گناھگار بندہ ؛خدا، رسول اور ائمہ معصومین علیھم السلام نیز علمائے کرام کے بتائے نسخہ پر عمل کرے تو یقینا اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور اس کی بیمار روح کاعلاج ہونا ممکن ہے۔

گناھگار انسان کو اس بات پر توجہ رکھنا چاہئے کہ انبیاء علیھم السلام کی بعثت، ائمہ علیھم السلام کی امامت اور علمائے کرام کے علم و حکمت کا اصلی مقصد انسانوں کی فکری، روحی، اخلاقی اور عملی بیماریوں کا علاج کرنا ہے، لہٰذا گناھگار بندے کا مغفرت سے ناامید ہونا کوئی معنی ن ہیں رکھتا، لہٰذا اپنے دل کو یاس و ناامیدی سے آلودہ ن ہیں کرنا چاہئے، اپنے کو گناھوں پر باقی ن ہیں رکھنا چاہئے، اور نہ ہی اپنی شقاوت و بدبختی میں اضافہ کرنا چاہئے، بلکہ گناھگار انسان اس پر لازم ہے کہ خداوندعالم، انبیاء و ائمہ علیھم السلام کی تعلیمات خصوصاً خداوندعالم کی رحمت واسعہ اور اس کے لطف و کرم کے مدنظر اپنے گناھوں سے توبہ کرلے۔

توبہ واجب ِفوری ہے

گزشتہ بحث میں ھم ثابت کرچکے ہیں کہ قرآن مجید اور الٰھی تعلیمات کی رو سے گناہ ایک بیماری ہے، اور بتاچکے ہیں کہ یہ بیماری قابل علاج ہے، نیز یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ اس بیماری کے علاج کرنے والے اطباء یعنی خدا، انبیاء، ائمہ علیھم السلام اور علمائے دین ہیں ، لہٰذا گناھگار بندے کو اپنی بیماری کے علاج کے لئے ان مقدس ترین اطباء کے پاس جانا چاہئے، اور ان کے تجویز کردہ نسخہ پر عمل کرنا چاہئے تاکہ اس بیماری سے شفا مل جائے، صحت و سلامتی لوٹ آئے، اورنیک و صالح بندوں کے قافلہ میں شامل ہوجائے۔

گناھوں کے بیمار کو اس چیز پر توجہ رکھنا چاہئے کہ جس طرح انسان عام بیمار ی کے معلوم ہونے کے فوراً بعد اس کے علاج کے لئے طبیب یا ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تاکہ درد و تکلیف سے نجات حاصل ہونے کے علاوہ بیماری بدن میں جڑ نہ پکڑلے، جس کا علاج ناممکن ہوجائے، اسی طرح گناہ کی بیماری کے علاج کے لئے بھی جلدی کرنا چاہئے اور بھت جلد الٰھی نسخہ پر عمل کرتے ہوئے توبہ و استغفار کرنا چاہئے، تاکہ گناہ و ظلمت، معصیت، شرّ شیطان اور ہوائے نفس کا اس کی زندگی سے خاتمہ ہوجائے، اوراس کی زندگی میں رحمت و مغفرت، صحت و سلامتی کا نور چمکنے لگے۔

گناھگار کو چاہئے کہ خواب غفلت سے باھر نکل آئے، اپنی نامناسب حالت پر توجہ دے اور یہ سوچے کہ میں نے خداکے ان تمام لطف و کرم، احسان اور اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں شب و روز اپنی عمر کو نور اطاعت و عبادت اورخدمت خلق سے منور کرنے کے بجائے معصیت و گناہ اور خطا کی تاریکی سے اپنے کو آلودہ کیا ہے، اس موقع پر اپنے اوپر واجب قرار دے کہ اپنے تمام ظاھری و باطنی گناھوں کو ترک کرے، ہوائے نفس اور شیطان کی بندگی و اطاعت سے پرھیز کرے، خداوندعالم کی طرف رجوع کرے، اور صراط مستقیم پر برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ حیا و شرم، عبادت و بندگی اور بندگان خدا کی خدمت کے ذریعہ اپنے ماضی کا تدارک کرے۔

فقھی اور شرعی لحاظ سے یہ واجب ”واجبِ فوری“ ہے، یعنی جس وقت گناھگار انسان اپنے گناھوں کی طرف متوجہ ہوجائے، اور یہ احساس ہوجائے کہ اس نے کس عظیم مقدس ذات کی مخالفت کی ہے اور کس منعم حقیقی کی نعمت کو گناہ میں استعمال کیا ہے، اور کس مولائے کریم سے جنگ کے لئے آمادہ پیکار ہوا ہے، اور کس مھربان کے روبرو کھڑا ہوگیا ہے، تو فوری طور پر اپنے علاج کے لئے توبہ کرے اور ندامت کی حرارت اور حسرت کی آگ کے ذریعہ اپنے وجود سے گناھوں کے اثر کو جلادے، اور اپنے دل و جان اور روح سے فحشاء و منکر کی گندگی کو پاک کردے، اور اپنے اندر خدائی رحمت و مغفرت کو جگہ دے کیونکہ توبہ میں تاخیر کرنا خود ایک گناہ ہے اور خود کو عذاب الٰھی سے محفوظ سمجھنا اور اس حالت پر باقی رہنا گناھان کبیرہ میں سے ہے۔

حضرت عبد العظیم حسنی علیہ الرحمہ نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے، انھوں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے، انھوںنے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے، انھوں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ عمرو بن عُبَید نے امام علیہ السلام سے سوال کیا: گناھان کبیرہ کون سے ہیں ؟ تو آپ نے قرآن سے گناھان کبیرہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:خود کو عذاب الٰھی سے محفوظ سمجھنا بھی گناہ کبیرہ ہے۔(۷۹)

کسی گناھگار کو یہ حق ن ہیں ہے کہ وہ توبہ و استغفار کے لئے کوئی زمانہ معین کرے اور خداوندعالم کی طرف بازگشت کو آئندہ پر چھوڑدے، اور اپنے درد کے علاج کو بوڑھاپے کے لئے چھوڑدے۔

کیونکہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جس امید کے سھارے اس بیماری کے علاج کو آئندہ پرچھوڑا جارھا ہے وہ اس وقت تک زندہ بھی رہے گا، کیا ایک جوان کا بوڑھاپے تک باقی رہنا ضروری ہے؟!! ہوسکتا ہے اسی غفلت کی حالت اور گناھوں و شھوت کے عالم میں ہی موت کا پیغام پہنچ جائے۔

ایسے بھت سے لوگ دیکھنے میں آئے ہیں جو کھتے تھے کہ ابھی تو جوانی ہے، بوڑھاپے میں توبہ کرلیں گے، لیکن موت نے ان کو فرصت نہ دی اور اسی جوانی کے عالم میں توبہ کئے بغیر چل بسے۔

بھت سے گناھگار جوانوں کو دیکھا گیا جو کھتے تھے کہ ابھی تو ھم جوان ہیں لذت و شھوت سے فائدہ اٹھائیں، بوڑھاپے کے وقت توبہ کرلیں گے، لیکن اچانک اسی جوانی کے عالم میں موت نے آکر اچک لیا!

اسی طرح بھت سے گناھگاروں کو دیکھا ہے جو کھتے تھے کہ ابھی تو وقت ہے بعد میں توبہ و استغفار کرلیں گے، لیکن گناھوں اور معصیت کی تکرار نے نفس کو ہوا و ہوس کا غلام بنالیا اور شیطان نے ان ہیں گرفتار کرلیا اور گناھوں کے اثر سے توبہ کی صلاحیت کھو بیٹھے، اور ھرگز توبہ و استغفار نہ کرسکے، اس کے علاوہ گناھوں کی کثرت، ظلمت کی سنگینی اور خدا کی اطاعت سے زیادہ دوری کی بنا پر وہ خدا کی نشانیوں اور اس کے عذاب ہی کو جھٹلانے لگے، اور آیات الٰھی کا مذاق اڑانے لگے، اور خود اپنے ھاتھوں سے توبہ و استغفار کا دروازہ بند کرلیا!

( ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِینَ اسَائُوا السُّوئَی انْ كَذَّبُوا بِآیاتِ اللهِ وَكَانُوا بِها یسْتَهْزِئُون ) (۸۰)

”اس کے بعد برائی کرنے والوںکا انجام برا ہوا کہ انھوں نے خدا کی نشانیوں کو جھٹلایادیا اور برابر ان کا مذاق اڑاتے رہے “۔

گناہ، جذام اور برص کی طرح گناھگار انسان کے ایمان، عقیدہ، اخلاق، شخصیت، کرامت اور انسانیت کو کھاجاتے ہیں ، انسانی زندگی اس منزل پر پھونچ جاتی ہے کہ انسان خدا کی آیات کی تکذیب کرنے لگتاھے، اور انبیاء، ائمہ معصومین علیھم السلام اور قرآن مجید کا مسخرہ کرتا ہوا نظر آتا ہے، اور اس پر کسی کے وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ن ہیں ہوتا۔

اللہ تعاليٰ کا ارشاد ہوتا ہے:

( وَسَارِعُوا إِلَی مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُها السَّمَاوَاتُ وَالْارْضُ اعِدَّتْ لِلْمُتَّقِین ) (۸۱)

”اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے اور اسے صاحبان تقويٰ لئے مھیا کیاگیاھے“۔

اس آیت کے پیش نظر واجب ہے کہ انسان اپنے ظاھر و باطن کو گناھوں سے پاک کرنے اور مغفرت و بہشت حاصل کرنے کے لئے توبہ و استغفار کی طرف جلد از جلد قدم اٹھائے، اور توبہ و استغفار کے تحقق کے لئے جتنا ہوسکے جلدی کرے کیونکہ توبہ میں ایک لمحہ کے لئے تاخیر کرنا جائز ن ہیں ہے، قرآن مجید کی رُوسے توبہ میں تاخیر کرنا چاھے کسی بھی وجہ سے ہو، ظلم ہے، اور یہ ظلم دوسرے گناھوں سے الگ خود ایک گناہ ہے۔

( وَمَنْ لَمْ یتُبْ فَاوْلَئِكَ هم الظَّالِمُونَ ) (۸۲)

”اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھ لو کہ یھی لوگ در حقیقت ظالموں میں سے ہے“۔

گناھگار کو اس حقیقت کا علم ہونا چاہئے کہ توبہ کا ترک کرنا اسے ستم گاروں کے قافلہ میں قرار دیدیتا ہے اور ستم گاروں کو خداوندعالم دوست ن ہیں رکھتا۔

( وَاللهُ لاَیحِبُّ الظَّالِمِین ) (۸۳)

”اور خدا، ظلم کرنے والوں کوپسند ن ہیں کرتا“۔

گناھگار کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے شخص سے خداوندعالم، انبیاء اور ائمہ علیھم السلام سخت نفرت کرتے ہیں اور اس سے ناراض رھتے ہیں چنانچہ حضرت عیسی اپنے حواریوں کو تہدید کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

یا مَعْشَرَ الْحَوارِیینَ، تَحَبَّبُوا اِلَی اللّٰهِ بِبُغْضِ اَهل الْمَعاصی، وَ تَقَرَّبُوا اِلَی اللّٰهِ بِالتَّباعُدِ مِنْهُمْ وَ الْتَمِسُوا رِضاهُ بِسَخَطِهِمْ(۸۴)

”اے گروہ حوارین! گناھگاروں اور معصیت کاروں سے دشمنی اور ناراضگی کا اظھار کرکے خود کو خدا کا محبوب بناؤ، آلودہ لوگوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے خدا سے نزدیک ہوجاؤ، اور گناھگاروں کے ساتھ غیض و غضب اورغصہ کا اظھار کرکے خداوندعالم کی خوشنودی حاصل کرلو“۔

گناھگار انسان کو اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ ھر گناہ کے انجام دینے سے خدا کے نزدیک انسان کی شخصیت اور کرامت کم ہوجاتی ہے یھاں تک کہ انسان حیوان کی منزل میں پہنچ جاتا ہے بلکہ اس سے بھی پست تر ہوتا چلا جاتا ہے، یھاں تک کہ ایسا شخص قیامت کے دن انسان کی صورت میں محشور ن ہیں ہوسکتا۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام براء بن عازب سے فرماتے ہیں : ”تم نے دین کو کیسا پایا؟ انھوں نے عرض کیا: مولا! آپ کی خدمت میں آنے اور آپ کی امامت و ولایت کا اقرار کرنے نیز آپ کی اتباع اور پیروی سے پھلے یھودیوں کی طرح تھا، ھمارے لئے عبادت و بندگی، اطاعت و خدمت بے اھمیت تھے۔ لیکن ھمارے دلوں میں ایمانی حقائق کی تجلی اور آپ کی اطاعت و پیروی کے بعد عبادت و بندگی کی قدر کا پتہ چل گیا، اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: دوسرے لوگ قیامت کے دن گدھے کے برابر محشور ہوں گے، اور تم میں سے ھر شخص روز محشر بہشت کی طرف جارھا ہو گا(۸۵)

توبہ واجب اخلاقی ہے

علمائے کرام، اھل عرفان حضرات اور پاک دل دانشوروں نے اخلاقی مسائل کے بارے میں بھت سی کتابیں لکھی ہیں ، اور اخلاق کی دوحصوں میں شرح کی ہے: اخلاق حسنہ، اور اخلاق سیئہ (برا اخلاق) غرور وتکبر، اور خود غرضی کو برے اخلاق اور تواضع و انکساری کو اخلاق حسنہ میں مفصل طور پر بیان کیاھے۔

ابلیس کے لئے پیش آنے والی صورتحال کی بنا پر خداوندعالم کی طرف سے ھمیشہ کے لئے لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیااور اس کو اپنی کی بارگاہ سے نکال دیا، کیونکہ اس نے حکم خداکے مقابلہ میں غرور و تکبر کیا تھا، لیکن دوسری طرف جناب آدم اور جناب حوّا کی توبہ قبول کر لی گئی، جس کی وجہ تواضع و انکساری تھی، قرآن نے واضح کردیا کہ چونکہ غرور و تکبر خدا کی بارگاہ سے نکال دئے جانے کا سبب ہے لہٰذا اس سے دوری اختیار کرنا واجب ہے اور تواضع و انکساری انسان کو خدا سے نزدیک کردیتا ہے اور اس کو عبادت و بندگی سے رغبت میں مدد ملتی ہے، نیز انسان اپنے گناھوں اور خطاؤں کے لئے خدا سے عذر خواھی کرتا ہے اور توبہ و استغفار کرتا ہے لہٰذا انسان پر واجب ہے کہ خودکو تواضع و انکساری سے آراستہ کرے، اور اس کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کردے، خشوع و خضوع اورآنسو بھری آنکھوں کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو اور اس سے یہ عہد کرے کہ آئندہ گناھوں سے پرھیز کرے گا نیز اپنے گزشتہ کی تلافی کرے گا۔

خدائے مھربان جناب موسی بن عمران سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:

یابْنَ عِمْرانَ، هَبْ لی مِنْ عَینَیكَ الدُّمُوعَ، وَمِنْ قَبلكَ الْخُشُوعَ، وَ مِنْ بَدَنِكَ الْخُضُوعَ ثُمَّ ادْعُنی فی ظُلَمِ اللَّیالی تَجِدْنی قَریباً مُجیباً :(۸۶)

”اے موسيٰ بن عمران! میری بارگاہ میں اشکبار آنکھوں، خاشع قلب اور لرزتے ہوئے جسم کے ساتھ حاضر ہو، پھر شب کی تاریکی میں مجھے پکارو، مجھے نزدیک اور جواب دینے والا پاؤگے“۔

قرآن ابلیس کے بارے میں فرماتا ہے:

( قَالَ مَا مَنَعَكَ الاَّ تَسْجُدَ إِذْ امَرْتُكَ قَالَ انَا خَیرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِینٍ قَالَ فَاهبطْ مِنْها فَمَا یكُونُ لَكَ انْ تَتَكَبَّرَ فِیها فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِینَ ) (۸۷)

”فرمایا: (اے ابلیس) تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ میرے حکم کے بعد بھی سجدہ ن ہیں کیا۔ اس نے کھا کہ میں ان سے بھتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور ان ہیں خاک سے بنایا ہے۔ فرمایا تو یھاں سے چلا جا، تجھے ھماری بارگاہ میں رہنے کا حق ن ہیں ہے تو نے غرور سے کام لےا، نکل جا کہ تو ذلیل لوگوں میں سے ہے“۔

قرآن مجید نے شیطان کی شقاوت اور بدبختی کی وجہ حکم خدا کے سامنے غرور و تکبر بیان کی ہے، اور اسی تکبر کی بنا پر وہ بارگاہ الٰھی سے نکال دیا گیا، لہٰذا انسان کو غرور و تکبر سے پرھیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ شیطانی صفت انسان کو حکمِ خدا کے مقابلہ میں لا کھڑ ا کرتی ہے۔

قرآن مجید، جناب آدم و حوا علیھما السلام کے بارے میں فرماتا ہے:

( قَالاَرَبَّنَا ظَلَمْنَا انفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) (۸۸)

”ان دونوں نے کھا کہ پروردگار! ھم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اب اگر تو معاف نہ کرے گا اور ھم پررحم نہ کرے گا، تو یقینا ھم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائےںگے“۔

قرآن نے جناب آدم و حوا علیھماالسلام کے اقرار و اعتراف اور طلب مغفرت کو جو واقعاً ایک پسندیدہ اور قابل تعریف عمل ہے، اس کوان کی توبہ کے عنوان سے بیان کیا ہے، سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۳۷ میں اس توبہ کا تذکرہ ہوا ہے، لیکن اس حقیقت پر بھی توجہ کرنا ضروری ہے کہ اقرار و اعتراف اور خداوندعالم کی طرف بازگشت، خشوع و خضوع، قلبی انکساری اور دل شکستگی کا ثمرہ ہے، چونکہ علمائے اخلاق کی نظر میں تکبر انسان اور ذات خدا کے درمیان ایک سخت حجاب ہے لیکن تواضع و خاکساری انسان اورذات خدا کے درمیان ایک سیدھا راستہ اور کھلا ہوا دروازہ ہے، کبر و تکبر کی حالت پر باقی رہنا، ایک عظیم گناہ ہے، اور نخوت سے پرھیز کرنا ایک عظیم واجب ہے، اورتواضع و انکساری سے آراستہ ہونا ایک عظیم عمل ہے اور اپنے کو گناھوں سے دھونا عظیم عبادت و بندگی ہے؛ لہٰذا گناھوں سے توبہ کرنا خدا کی بارگاہ میں تواضع و انکساری اور کبر و نخوت سے دور ہونے کی نشانی اور اخلاقی علامت ہے۔

تکبر کے بارے میں ایک حدیث کے ضمن میں بیان ہوا ہے:

عَن حَکیمٍ قالَ:سَالَتْ اَبا عَبْدِاللّٰهِ (علیه السلام ) عَنْ اَدْنَی الاِلْحادِ، فَقالَ:اِنَّ الْكِبْرَ اَدْناهُ :“(۸۹)

”حکیم کھتے ہیں : میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے ”الحاد“ یعنی انکار خداوندی کے سب سے کم درجے کے بارے میں سوال کیا، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کا پست ترین درجہ تکبر اور غرور ہے“۔

حسین بن اعلا کھتے ہیں : میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

اَلْكِبْرُ قَدْ یکونُ فی شِرارِ النَّاسِ مِنْ كُلِّ جِنْسٍ، وَالْكِبْرُ رِداءُ اللّٰهِ، فَمَنْ نازَعَ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ رِداءَ هُ لَمْ یزِدْهُ اللّٰهُ اِلاَّسَفالاً(۹۰)

” تکبر کسی بھی جنس میں ہو وہ بدترین لوگوں میں سے ہے، بزرگی ذات خدا ہی کے لئے سزاوارہے ، لہٰذا جو شخص خدا کی بزرگی میں جھگڑے اور اس کی ذات اقدس کے ساتھ شریک ہونا چاھے تو اس کو خدا ذلیل کردیتا ہے“۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَلْعِزُّ رِداءُ اللّٰهِ، وَالْكِبْرُ اِزارُهُ، فَمَنْ تَناوَلَ شَیئاً مِنْهُ اَكَبَّهُ اللّٰهُ فی جَهَنَّمَ :“(۹۱)

”عزت ردائے خدا ہے، بزرگی اس کا جامہ ہے، جو شخص ان کو اپنے لئے سمجھے تو خداوندعالم اس کو جہنم میں ڈال دیتا ہے“۔

تواضع کے بارے میں احادیث

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

اِنَّ فِی السَّماءِ مَلَكَینِ مُوَكَّلَینِ بِالْعِبادِ، فَمَنْ تَواضَعَ لِلّٰهِ رَفَعاهُ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعاهُ :“(۹۲)

”بے شک آسمان میں دو فرشتے ہیں ، جن کو خدا نے اپنے بندوں پر موکل قرار دیا ہے کہ جو شخص خدا کے سامنے تواضع و انکساری سے پیش آئے اسے سربلنداور جو شخص غرور و تکبر سے کام لے اسے ذلیل اور رسواکردیں“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

فَاِنَّ مَنْ تَواضَعَ لِلّٰهِ رَفَعَهُ اللّٰهُ، وَمَن تَكَبَّرَ خَفَضَهُ اللّٰهُ، وَمَن اقْتَصَدَ فی مَعیشَتِهِ رَزَقَهُ اللّٰهُ، وَمَنْ بَذَّرَ حَرَمَهُ اللّٰهُ، وَمَنْ اَكْثَرَ ذِكْرَ الْمَوْتِ اَحَبَّهُ اللّٰهُ :“(۹۳)

”بے شک جو شخص خداکے سامنے تواضع وانکساری سے پیش آئےگا خداوندعالم اس کو بلند کردیگا اور جو شخص اس کے سامنے غرور و تکبر دکھائےگا خداوندعالم اس کو ذلیل و رسوا کردے گا، جو شخص زندگی میں درمیانی راستہ اپنائےگا خداوندعالم اس کو روزی عنایت فرمادے گا، جو شخص اسراف اور فضول خرچی سے کام لے گاخداوندعالم اس پر اپنی عنایت حرام کردے گااور جو شخص موت کو بھت زیادہ یاد رکھے تو خداوندعالم اس کو اپنا محبوب بنالے گا“۔

ایک مقام پر خداوندعالم نے جناب داؤد سے خطاب فرمایا:

یا داوُد كَما اَنَّ اَقْرَبَ النَّاسِ مِنَ اللّٰهِ الْمُتَواضِعونَ، كَذٰلِكَ اَبْعَدُ النّٰاسِ مِنَ اللّٰهِ الْمُتَكَبِّرُونَ :“(۹۴)

”اے داؤد! جس طرح خداوندعالم سے زیادہ قریب متواضع افراد ہیں اسی طرح مغرور و متکبر لوگ خدا سے بھت زیادہ دور ہیں “۔

____________________

۴۴. سورہ یونس آیت، ۵۷۔

۴۵. عوالی اللئالی ج۱۳۵، الفصل الرابع، حدیث ۱۸؛بحار الانوارج۳۲۸۱؛باب ۱۱، حدیث ۲۲۔

۴۶. سورہ یونس آیت، ۵۷۔

۴۷. سورہ آل عمران آیت، ۸۹۔

۴۸. سورہ یوسف آیت ۸۷۔

۴۹.عن ابی عبدالله (ع) قال:قلت له:قوم یعملون بالمعاصی و یقولون نرجو فلا یزالون کذلک حتی یاتیهم الموت فقال:هولاء قوم یترجحون فی الامانی کذبوا لیسوا براجین ان من رجا شئیا طلبه ومن خاف من شیء هرب منه “۔

۵۰. عدة الداعی ص۳۷ الباب الاول فی لالحث علی الدعاء؛ارشاد القلوب ج ۱، ص۱۵۳، الباب السابع والاربعون فی الدعاء؛ بحار الانوار ج۸۱، ص۶۱، حدیث ۱۲۔

۵۱. سورہ آل عمران آیت ۳۱۔

۵۲. سورہ انفال آیت، ۲۹۔

۵۳. سورہ احزاب آیت، ۷۰۔۷۱۔

۵۴. سورہ صف آیت ۱۰۔۱۲۔

۵۵. سورہ تغابن آیت ۱۷۔

۵۶. سورہ اعراف آیت ۱۵۳۔

۵۷. سورہ توبہ آیت ۵۔

۵۸. سورہ توبہ آیت ۱۲۰۔

۵۹. مجموعہ ورام، ج۱، ص۴۳۔، باب ما جاء فی الصدق و الغضب لله، ارشاد القلوب، ج۱ص۸۵۱۔باب ۵۱۔

۶۰. مجموعہ ورام، ج۱، ص۴۳۔، باب ما جاء فی الصدق و لغضب لله، مستدرک الوسائل ج۸ص ۴۵۵ باب ۹۱ حدیث ۹۹۸۵۔

۶۱. مجموعہ ورام، ج۱، ص۶۰۔ باب العتاب۔

۶۲. مجموعہ ورام، ج۱، ص۶۱۔باب العتاب۔

۶۳. مجموعہ ورام، ج۱، ص۶۵۔باب العتاب۔

۶۴. مجموعہ ورام، ج۱، ص۷۵۔باب العتاب۔

۶۵.روی ان الحسین بن علی علیه السلام جاء ه رجل و قال:انا رجل عاص ولا اصبر عن المعصیة فعظنی بموعظةفقال علیه السلام:افعل خمسة اشیاء واذنب ما شئت فاول ذلک لا تاکل رزق الله واذنب ما شئت والثانی اخرج من ولایة الله واذنب ما شئت والثالث اطلب موضعا لا یراک الله واذنب ماشئت والرابع اذاجاء ملک الموت لیقبض روحک فادفعه عن نفسک واذنب ماشئت والخامس اذا ادخلک مالک فی النار فلا تدخل فی النار واذنب ماشئت “۔

۶۶. تحف العقول ص۲۷۹؛بحار الانوار، ج۷۵، ص۱۳۷، باب ۲۱، حدیث۳۔

۶۷. بحار الانوار ج۷۵، ص۱۷۵، باب۲۲، حدیث۵۔

۶۸. خصا ل ج۱، ص۱۶، حدیث ۵۶؛تحف العقول ص۴۸۹؛بحار الانوار ج۷۵، ص۱۹۲، باب ۲۳، حدیث۵۔

۶۹. تحف العقول ص۳۹۰؛بحار الانوار ج ۷۵، ص۳۰۵، باب ۲۵حدیث۱؛مستدرک الوسائل ج۸ص۴۶۴، باب ۹۳، حدیث ۱۰۰۲۲۔

۷۰. مواعظ العددیہ ص ۳۳۶۔

۷۱.عن ابی عبد الله علیه السلام قال :کان فیما وعظ به لقمان ابنی واعلم انک ستسال غدا اذا وقفت بین یدی الله عز وجل عن اربع :شبابک فیما ابلیته و عمرک فیما افنیته ومالک مما اکتسبته وفیماانفقته فتاهب لذلک واعد له جوابا “۔

۷۲. مواعظ عددیہ ص۲۴۰۔

۷۳. مجموعہ ورام ج۱، ص ۲۳۶ با ب محا سبة النفس ۔

۷۴. مجموعہ ورام ج۱، ص ۲۳۶، با ب ذکر الاشرار و الفجّار۔

۷۵. مواعظ عددیہ ص۱۹۰۔

۷۶. مواعظ عددیہ ص۲۷۸۔

۷۷. مواعظ عددیہ ص۲۸۰۔

۷۸. مواعظ عددیہ ص۱۹۲۔

۷۹. کافی ج۲، ص۲۸۵، باب الکبائر، حدیث ۲۴؛وسائل الشیعہ ج۱۵، ص۳۱۸، باب ۴۶، حدیث ۲۰۶۲۹۔

۸۰. سورہ روم آیت ۱۰۔

۸۱. سورہ آل عمران آیت، ۱۳۳۔

۸۲. سورہ حجرات آیت، ۱۱۔

۸۳. سورہ آل عمران آیت ۵۷۔

۸۴. مجموعہ ورّام ج۲، ص۲۳۵، الجزء الثانی ؛بحار الانوار، ج۱۴، ص۳۳۰، باب ۲۱، حدیث ۶۴؛مستدرک الوسائل ج۱۲، ص۱۹۶، باب۶، حدیث ۱۳۸۶۵۔

۸۵. رجال علامہ بحر العلوم، ج۲، ص۱۲۷۔

۸۶. عدة الداعی ۲۰۷، القسم الثالث فی الاداب المتاخرة؛بحار الانوار، ج۱۳، ص۳۶۱، باب۱۱، حدیث ۷۸۔

۸۷. سورہ اعراف آیت ۱۲۔۱۳۔

۸۸. سورہ اعراف آیت ۲۳۔

۸۹. اصول کافی، ج۲، ص۳۰۹، باب الکبر، حدیث ۱؛بحار الانوارج۷۰، ص۱۹۰، باب ۱۳۰، حدیث۱۔

۹۰. اصول کافی، ج۲، ص۳۰۹، باب الکبر، حدیث ۲؛بحار الانوارج۷۰، ص۲۰۹، باب ۱۳۰، حدیث۲۔

۹۱. اصول کافی، ج۲، ص۳۰۹، باب الکبر، حدیث ۳؛ثواب الاعمال ص۲۲۱، عقاب المتکبر؛بحار الانوار ج۷۰، ص۲۱۳، باب ۱۳۰، حدیث ۳۔

۹۲. اصول کافی، ج۲، ص۱۲۲، باب التواضع، حدیث ۲؛مشکاة الانوار ص۲۲۷، الفصل الثانی فی التواضع ؛بحار الانوار ج۷۰، ص۲۳۷، باب۱۳۰، حدیث ۴۴۔

۹۳. اصول کافی، ج۲، ص۱۲۲، باب التواضع، حدیث۳؛مجموعہ ورّام ج۲، ص۱۹۰، الجزء الثانی؛بحارالانوار ج۷۲، ص۱۲۶، باب ۵۱، حدیث ۲۵۔

۹۴. اصول کافی، ج۲، ص۱۲۳، باب التواضع، حدیث ۱۱؛وسائل الشیعہ ج۱۵، ص۲۷۲، باب ۲۸، حدیث ۲۰۴۹۴؛ بحار الانوار ج۷۲، ص۱۳۲، باب۵۱، حدیث۳۴ ۔


خداوند عالم کی طرف واپسی

( وَإِنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهتدَی ) (۹۵)

” میں زیادہ بخشنے والاھوں اس شخص کے لئے جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے اور پھر راہ ہدایت پر ثابت قدم رہے “۔

گناھگار اور توبہ کرنے کی طاقت

کوئی بھی ماں نے اپنے بیٹے کو گناھگار پیدا ن ہیں کرتی، رحم مادر سے کوئی بچہ بھی عاصی او رخطاکار پیدا ن ہیں ہوتا۔

جب بچہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو علم و دانش اورفکر و نظر سے خالی ہوتا ہے، اور اپنے اطراف میں ہونے والے واقعات سے بالکل بے خبر رھتا ہے۔

جس وقت بچہ اس دنیاکی فضا میں آتا ہے تو رونے اور ماں کا دودھ پینے کے علاوہ اور کچھ ن ہیں جانتا، بلکہ شروع شروع میں اس سے بھی غافل ہوتا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ اس میںاحساسات، خواہشیں اور شھوات پیدا ہونے لگتی ہیں ، اپنے کارواں زندگی کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے گھروالوںاور پھر باھر والوں سے سیکھتا جاتا ہے۔

اسی طرح اس کی زندگی کے دوران اس کے بدن میں مختلف بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں ، اس کی فکر و روح، نفس اور قلب میں خطائیں ہوجاتی ہیں ، اسی طرح عمل و اخلاق کے میدان میں گناھوںکا مرتکب ہونے لگتا ہے، پس معلوم یہ ہوا کہ گناہ بدن پر طاری ہونے والی ایک بیماری کی طرح عارضی چیز ہے، ذاتی ن ہیں ۔

انسان کے بدن کی بیماری طبیب کے تجویز کئے ہوئے نسخہ پر عمل کرنے سے ختم ہوجاتی ہے، بالکل اسی طرح اس کی باطنی بیماری یعنی فکر و روح اور نفس کی بیماری کا علاج بھی خداوندمھربان کے احکام پر عمل کرنے سے کیا جاسکتا ہے۔

گناھگار جب خود کو پہچان لیتا ہے اور اپنے خالق کے بیان کردہ حلال و حرام کی معرفت حاصل کرلیتا ہے یقینااس روحانی طبیب کے نسخہ پر عمل کرتے ہوئے گناھوں سے توبہ کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، اور خداوندمھربان کی ذات سے امید رکھتا ہے کہ وہ اس کو گناھوں کے دلدل سے باھرنکال دے گا اور پھر وہ اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے شکم مادر سے ابھی پیدا ہواھو۔

گناھگار یہ ن ہیں کہہ سکتا کہ میں توبہ کرنے کی طاقت ن ہیں رکھتا، کیونکہ جو شخص گناہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے بے شک وہ توبہ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔

جی ھاں، انسان کھانے پینے، آنے جانے، کہنے سننے، شادی کرنے، کاروبار میں مشغول ہونے، ورزش کرنے، زندگی گذارنے اور زورآزمائی کے مظاھرے پر قدرت رکھتا ہے، وہ اپنی خاص بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر کے کہنے پر بعض چیزوں سے پرھیز بھی کرسگتا ہے اور بیماری کے بڑھنے کے خوف سے جس طرح کچھ چیزیں ن ہیں کھاتا، اسی طرح جن گناھوں میں ملوث ہے ان سے بھی تو پرھیز کرسکتا ہے، اور جن نافرمانیوں میں مبتلا ہے اس سے بھی تو رک سکتا ہے۔

خداوندعالم کی بارگاہ میں توبہ کی قدرت نہ رکھنے کا عذر و بھانہ کرنا قابل قبول ن ہیں ہے، اگر گناھگار توبہ کی قدرت نہ رکھتا ہوتا تو خداوندعالم کبھی بھی توبہ کی دعوت نہ دیتا۔

گناھگار کو اس حقیقت پر یقین رکھنا چاہئے کہ وہ ھر موقع و محل پر تركِ گناہ پر قادرہے ، اور قرآنی نقطہ نظر سے خداوندعالم کی ذات گرامی بھی تواب و رحیم ہے، وہ انسان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور انسان کے تمام گناھوں کو اپنی رحمت و مغفرت کی بنا پر بخش دیتا ہے اگرچہ تمام ریگزاروں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، اور اس کے سیاہ نامہ اعمال کو اپنی مغفرت کی سفیدی سے مٹادیتا ہے۔

گناھگار کو اس چیزکا علم ہونا چاہئے کہ اگر تركِ گناہ اور اپنے ظاھر و باطن کی پاکیزگی کے لئے قدم نہ اٹھائے اور گناہ و معصیت میں اضافہ کرتا رہے ، تو پھر خداوندعالم بھی اس کو دردناک عذاب میں گرفتار کردیتا ہے اور سخت سے سخت عقوبت اس کے لئے مقرر فرماتاھے۔

خداوندعالم نے قرآن مجید میں خود کو اس طرح سے پہچنوایا ہے:

( غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَاب ) (۹۶)

”وہ گناھوں کا بخشنے والا، توبہ کا قبول کرنے والا اور شدید عذاب کرنے والا ہے “۔

امام معصوم علیہ السلام دعائے افتتاح میں خداوندعالم کی اس طرح حمد و ثنا فرماتے ہیں :

وَاَیقَنْتُ اَنَّكَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ فِی مَوْضِعِ الْعَفْوِوَالرَّحْمَةِ، وَاَشَدُّ المُعَاقِبِینَ فِی مَوْضِعِ النَّکالِ وَالنَّقِمَةِ “۔

”مجھے اس بات پر یقین ہے کہ تو رحمت و بخشش کے مقام میں سب سے زیادہ مھربان ہے، اور عذاب و عقاب کے مقام میں شدید ترین عذاب کرنے والاھے“۔

اسی طرح خداوندعالم نے قرآن مجید میں گناھگاروں سے خطاب فرمایا ہے:

( قُلْ یاعِبَادِی الَّذِینَ اسْرَفُوا عَلَی انْفُسِهم لاَتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ یغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) (۹۷)

”(اے )پیغمبر آپ پیغام پہنچا دیجئے کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہوں، اللہ تمام گناھوں کا

معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بھت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

لہٰذا ایک طرف خداوندعالم کا تواب و غفور ہونا اور دوسری طرف سے گناھگار انسان کا گناھوں کے ترک کرنے پر قادر ہونا اس کے علاوہ قرآن مجید کی آیات کا گناھگار انسان کو خدا کی رحمت و مغفرت کی بشارت دیناان تمام باتوں کے باوجود ایک گناھگار کو اپنے گناھوں کے ترک کرنے میں کوئی عذر و بھانہ باقی ن ہیں رہنا چاہئے، اسی لئے گناھگار کے لئے توبہ کرنا عقلی اور اخلاقی لحاظ سے ”واجب فوری“ھے۔

اگر گناھگار توبہ کے لئے قدم نہ بڑھائے، اپنے گزشتہ کا جبران وتلافی نہ کرے اور اپنے ظاھر و باطن کو گناہ سے پاک نہ کرے، تو عقل و شرع، وجدان اور حکمت کی نظر میں اس دنیا میں بھی محکوم و مذموم ہے، اور آخرت میں بھی خداوندعالم کے نزدیک مستحق عذاب ہے۔ ایسا شخص روز قیامت حسرت و یاس اور ندامت و پشیمانی کے ساتھ فریاد کرے گا:

( لَوْ انَّ لِی كَرَّةً فَاكُونَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ ) (۹۸)

”اگر مجھے دوبارہ واپس جانے کا موقع مل جائے تو میں نیک کردار لوگوں میں سے ہو جاوں “۔

اس وقت خداوندعالم جواب دے گا:

( بَلَی قَدْ جَائَتْكَ آیاتِی فَكَذَّبْتَ بِها وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنْ الْكَافِرِینَ ) (۹۹)

”ھاں ھاں تیرے پاس میری آیت یں آئی ت ہیں تو نے ان ہیں جھٹلا دیا اور تکبر سے کام لیا اور کافروں میں سے ہو گیا“۔

روز قیامت گناھگار شخص کی نجات کے لئے دین و عمل کے بدلے میں کوئی چیز قبول نہ ہوگی، اور اس کی پیشانی پر سزا کی مھر لگادی جائے گی:

( وَلَوْ انَّ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا مَا فِی الْارْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لاَفْتَدَوْا بِهِ مِنْ سُوءِ الْعَذَابِ یوْمَ الْقِیامَةِ وَبَدَا لَهم مِنْ اللهِ مَا لَمْ یكُونُوا یحْتَسِبُونَ ) (۱۰۰)

”اور اگر ظلم کرنے والوں کو زمین کی تمام کائنات مل جائے اور اتنا ہی اور بھی دیدیا جائے تو بھی یہ روز قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے میں سب دیدیں گے، لیکن ان کے لئے خدا کی طرف سے وہ سب بھر حال ظاھر ہوگا جس کا یہ وھم و گمان بھی ن ہیں رکھتے تھے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام دعائے کمیل میں فرماتے ہیں :

خدا کی بارگاہ میں گناھگار کے توبہ نہ کرنے میں کوئی عذر قبول ن ہیں کیا جائے گا، کیونکہ خدا نے گناھگار پر اپنی حجت تمام کردی ہے:

فَلَكَ الحُجةُ عَلَيَّ فی جَمیعِ ذٰلِكَ، وَلاٰحُجَّةَ لِی فِی مٰاجَريٰ عَلَيَّ فیهِ قَضٰاوكَ “۔

”تمام معاملات میں میرے اوپر تیری حجت تمام ہوگئی ہے اور اسے پورا کرنے میں تیری حجت باقی ن ہیں رھی “۔

بندوں پر خدا کی حجت کے سلسلے میں ایک اھم روایت

”عبد الاعليٰ موليٰ آل سام کھتے ہیں : میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: روز قیامت ایک حسین و جمیل عورت کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں اپنے حسن و جمال کی وجہ سے گناہ ومعصیت کو اپنا شعار بنایا تھا، وہ اپنی بے گناھی ثابت کرنے کے لئے کھے گی: پالنے والے! تو نے مجھے خوبصورت پیدا کیا، لہٰذا میں اپنے حسن و جمال کی بنا پر گناھوں کی مرتکب ہوگئی، اس وقت جناب مریم (سلام اللہ علیھا) کو لایا جائے گا، اور کھا جائے گا: تو زیادہ خوبصورت ہے یا یہ باعظمت خاتون؟ ھم نے اس کو بھت زیادہ خوبصورت خلق فرمایا، لیکن پھر بھی انھوں نے اپنے کو محفوظ رکھا، برائیوں سے دور ر ہیں ۔

اس کے بعد ایک خوبصورت مرد کو لایا جائے گاوہ بھی اپنی خوبصورتی کی بنا پر گناھوں میں غرق رھا، وہ بھی کھے گا: پالنے والے ! تو نے مجھے خوبصورت پیدا کیا، جس کی بنا پر میں نامحرم عورتوں کے ساتھ گناھوں میں ملوث رھا۔ اس وقت جناب یوسف (علیہ السلام) کو لایا جائے گا، اور کھا جائے گا: تو زیادہ خوبصورت ہے یا یہ عظیم الشان انسان، ھم نے ان ہیں بھی بھت خوبصورت پیدا کیا لیکن انھوں نے بھی اپنے آپ کو گناھوں سے محفوظ رکھااور فتنہ و فساد میں غرق نہ ہوئے۔

اس کے بعد ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا، جو بلاء اور مصیبتوں میںگرفتار رہ چکا تھا اور اسی وجہ سے اس نے اپنے کو گناھوں میں غرق کرلیا تھا، وہ بھی عرض کرے گا: پالنے والے! چونکہ تونے مجھے مصیبتوں اور بلاؤں میں گرفتار کردیا تھا جس سے میرا حوصلہ اور استقامت جاتی رھی اور میں گناھوں میں غرق ہوگیا، اس وقت جناب ایوب (علیہ السلام) کو لایا جائے گااور کھا جائے گا: تمھاری مصیبتیں زیادہ ہیں یا اس عظیم انسان کی، یہ بھی مصیبتوں میں گھرے رہے ، لیکن انھوں اپنے آپ کو محفوظ رکھا اور فتنہ وفساد کے گڑھے میں نہ گرے“( ۱ ۰۱)

توبہ، آدم و حوا کی میراث

جناب آدم علیہ السلام روئے زمین پر خداوندعالم کے خلیفہ اور اس کے نائب کے عنوان سے پیداکئے گئے، اور پتلہ بنانے کے بعد اللہ نے اس میں اپنی روح کو پھونکی(۱۰۲) اور ان کو ”اسماء“ کا علم دیا، فرشتوں نے ان کی عظمت و کرامت کے سامنے حکم خدا کے سے سجدہ کیا، اس وقت خدا کے حکم سے وہ اور جناب حوّابہشت میں رہنے لگے(۱۰۳) بہشت کی تمام نعمتیں ان کے اختیار میں دیدیں گئی، اور ان ہیں تمام نعمتوں سے فیضیاب ہونے کے لئے کوئی رکاوٹ ن ہیں تھی، مگر دونوں سے یہ کھا گیا کہ فلاں درخت کے نزدیک نہ ہونا، کیونکہ اس کے نزدیک ہونے کی صورت میں تم ظالمین اور ستمگاروں میں سے ہوجاؤگے(۱۰۴)

وہ شیطان جس نے جناب آدم کو سجدہ نہ کرنے میں حکم خدا کی مخالفت کی اور خدا کی بارگاہ سے نکال دیا گیا، اسے خدا کی لعنت تکلیف دی رھی تھی، اس کا غرور و تکبر اس بات کی اجازت ن ہیں دیتا تھا کہ خدا کی بارگاہ میں توبہ کرلے، کینہ اور حسد کی وجہ سے جناب آدم و حوا علیھماالسلام سے دشمنی نکالنے کی فکر میں لگ گیا تاکہ ان کا چھپا ہوا بدن ظاھر ہوجائے، اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی عظمت و کرامت سے ھاتھ دھو بیٹ ہیں ، اور بہشت عنبر سے باھر نکال دئے جائیں نیز خدا کے لطف و کرم سے منھ موڑلیں۔

چنانچہ ان جملوں کے ذریعہ اس درخت کا پھل کھلانے کے لئے ان ہیں وسوسہ میں ڈال دیا:

”اے آدم و حوا ! خداوندعالم نے اس درخت کا پھل کھانے سے اس لئے منع کیا ہے کہ اگر تم اس کا پھل کھالوگے تو فرشتے بن جاؤگے یا اس ھرے بھرے باغ میں ھمیشہ ھمیشہ کے لئے رہ جاؤگے“۔

اپنے وسوسہ کو ان دونوں کے دلوں میں ثابت و مستحکم کرنے کے لئے اس نے (جھوٹی) قسم کھائی کہ میں تمھارا خیرخواہ ہوں۔(۱۰۵) شیطان کا حسین وسوسہ اور اس کی قسم نے دونوں حضرات کے حرص کو شعلہ ور کردیا، ان دونوں کا حرص خداوندعالم کی نھی کے درمیان حجاب بن گیا شیطان ان دونوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگیا، او ر یہ خدا کی نافرمانی میں مبتلا ہوگئے ۔اس درخت کا پھل کھالیا، ان کا بدن ظاھر ہوگیا، وقار و ہیبت اور نور و کرامت کا لباس اترگیا، اپنے بدن کو بہشت کے درخت کے پتوں سے چھپانا شروع کیا، اس وقت خداوندعالم نے خطاب فرمایا کہ کیا ھم نے تم ہیں اس درخت کے قریب جانے سے منع ن ہیں کیا تھا اور اعلان نہ کیا تھا کہ شیطان تمھارا كُھلا دشمن ہے؟!( ۱ ۰۶)

جناب آدم و حوا بہشت سے نکال دئے گئے، مقام خلافت و علم اور مسجود ملائکہ ہونے سے کوئی کام نہ چلا، اور جو عظمت ان کو دی گئی تھی اس سے ھبوط کرگئے، اور زندگی کے لئے زمین پر بھیج دئے گئے۔

مقام قرب سے دوری، فرشتوں کی ھم نشینی سے محرومی، بہشت سے خروج، نھی خدا پر بے توجھی اور شیطان کی اطاعت کی وجہ سے دونوں غم و اندوہ اور حسرت میں غرق ہوگئے، خود پسندی کے خوفناک اور محدود زندان میں پہنچ گئے، کیونکہ اسی خود پسندی اور خود بینی کی وجہ سے رحمت و عنایت اور لطف و کرم سے محروم ہوچکے تھے، اورغیر اللہ کے جال میں پھنس گئے تھے، اور ایمان، عشق اور بیداری کی فضا میں وارد ہوگئے، جھاں سے دنیاوی فائدے اور آخرت کے لئے بے نھایت فوائد انسان کو ملنے والے ہیں ۔

جب آدم و حوّا (علیھما السلام) اس طرح اپنے آپ میں آئے تو فریاد کی کہ ھم انانیت اور غفلت کے سبب فراق یار کے زندان گرفتار ہوگئے ہیں ، خودخواھی اور حرص و غرور کے اندھیرے میں غرق ہوگئے اور( ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا ) سے دچار ہوگئے۔

اپنی حالت پر متوجہ ہونے، حرّیت و آزادی کے میدان میںوارد ہونے، شیطان کے جال سے نجات پانے، خداوندعالم کی طرف متوجہ ہونے اور بارگاہ خداوندی میں تواضع و انکساری سے پیش آنے کا سبب ہے، کہ اگر شیطان بھی اسی طریقہ سے اپنی حالت پر توجہ کرتا تو خداوندعالم کی بارگاہ سے مردود نہ ہوتا اوراس کے گلے میں ھمیشہ کے لئے لعنت کا طوق نہ ڈالا جاتا۔جناب آدم و حوا علیھماالسلام غور و فکر او راندیشہ، تعقل، توجہ، بینائی اور بیداری کی معنوی اور قیمتی فضاء میں وارد ہوئے، ندامت و پشیمانی اور اشک چشم کے ساتھ اس طرح ادب اور خاکساری دکھائی کہ یہ ن ہیں کھا کہ: ”اِغْفِرْ لَنَا “، بلکہ خدا کی بارگاہ میں عرض کیا:( وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا ) اگر ھمیں ن ہیں بخشے گا اور ھم پر رحم نہ کرے گا( لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ ۔) (۱۰۷) تو ھم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے۔

اس توجہ، بیداری، تواضع و انکساری، ندامت و پشیمانی، گریہ و توبہ اور خودی سے نکل کر خدائی بن جانے کی بنا پر ہی رحمت خدا کے دروازے کھل گئے، خدائے مھربان کا لطف و کرم شامل حال ہوا اور خدا کی عنایت و توجہ نے بڑھ کر استقبال کیا:

( فَتَلَقَّی آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیم ) (۱۰۸)

”پھر آدم نے پروردگار سے کلمات کی تعلیم حاصل کی اور ان کی بر کت سے خدانے ان کی توبہ قبول کر لی کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مھربان ہے “۔

نور ربوبیت نے کلمات میں تجلی کی اور جناب آدم کی روح نے درک کیا، اس تینوں حقیقت یعنی نور ربوبی کی تجلی، کلمات اور روح آدم کی ھم آہنگی کے سبب ہی توبہ وجود میں آئی، وہ توبہ جس نے ماضی کا تدارک کردیا، اور توبہ کرنے والوں کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنادیا۔

حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جن کلمات کے ذریعہ جناب آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی وہ کلمات یہ تھے:

اَللّٰهُمَّ، لا اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ، سُبْحانَكَ وَ بِحَمْدِكَ، رَبِّ اِنّی ظَلَمْتُ نَفْسی، فَاغْفِرْلِی، اِنَّكَ خَیرُ الْغٰافِرِینَ اَللّٰهُمَّ، لا اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ، سُبْحانَكَ وَ بِحَمْدِكَ، رَبِّ اِنّی ظَلَمْتُ نَفْسی، فَارْحَمْنی اِنَّكَ خَیرُالرّاحِمینَ اَللّٰهُمَّ، لا اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ، سُبْحانَكَ وَ بِحَمْدِكَ، رَبِّ اِنّی ظَلَمْتُ نَفْسی فَتُبْ عَلَی اِنَّكَ اَنْتَ التَّوّابُ الرَّحیمُ(۱۰۹)

”پالنے والے! تو پاک و پاکیزہ ہے میں تیری حمد کرتا ہو ںتیرے علاوہ کوئی خدا ن ہیں ہے، پالنے والے میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، لہٰذا مجھے معاف کردے، کیونکہ تو بھترین معاف کرنے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی خدا ن ہیں ہے، تو پاک و پاکیزہ ہے، میں تیری حمد کرتا ہو ں، پالنے والے ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تو میرے اوپر رحم فرما کہ تو بھترین رحم کرنے والا ہے، پالنے والے! تیرے علاوہ کوئی خدا ن ہیں ہے، تو پاک و پاکیزہ ہے میں تیری حمد کرتا ہو ں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، تو میری توبہ کو قبول کرے کیونکہ تو بھت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور مھربان ہے“۔

اس سلسلے میں یہ روایت بھی ملتی ہے : جناب آدم (علیہ السلام )نے عرش الٰھی پر چند عظیم الشان اسماء لکھے دیکھے، تو انھوں نے ان کے بارے میں سوال کیا تو آواز آئی: یہ کلمات مقام و منزلت کے اعتبار سے تمام موجودات عالم پر فضیلت رکھتے ہیں : اور وہ ہیں :

محمد، علی، فاطمہ، حسن و حسین (علیھم السلام)، جناب آدم نے اپنی توبہ کے قبول ہونے اور اپنے مقام کی بلندی کے لئے ان اسماء گرامی کی حقیقت سے توسل کیا اور ان اسماء کی برکت سے جناب آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوگئی(۱۱۰)

جی ھاں! جیسے ہی کلمات کی تجلیات کے لئے خداوندعالم کے الھامات کی بارش جناب آدم کے دانہ عشق و محبت پربرسی، تو اپنے نفس پر ظلم کے اقرار و اعتراف کا پودا اُگ آیا، جناب آدم نے دعا و گریہ اور استغاثہ کیا، احساس گناہ کا درخت ان کی روح میں تناور ہوگیا اور اس پر توبہ کا پھول کھل اٹھا:

( ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَیهِ وَهَدَی ) ۔(۱۱۱)

”پھر خدا نے ان ہیں چن لیااوران کی توبہ قبول کرلی اور ان ہیں راستہ پرلگادیا“۔

کیا کیاچیزیں گناہ ہیں ؟

حضرت امام صادق علیہ السلام ”توبہ نامہ “کے عنوان سے بھترین و خوبصورت کلام بیان فرماتے ہیں ، جس میں ان گناھوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ جن سے توبہ کرناواجب فوری، واجب شرعی اور واجب اخلاقی ہے، اور اگر ان گناھوں کا تدارک نہ کیا گیا اور حقیقی توبہ کے ذریعہ اپنے نامہ اعمال کو دھویانہ گیا تو روز قیامت عذاب الٰھی اور دردناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا، امام علیہ السلام گناھوں کو اس طرح بیان کرتے ہیں :

”واجبات الٰھی کا ترک کرنا، حقوق الٰھی جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، جھاد، حج، عمرہ، وضوء، غسل، عبادت شب، کثرت ذکر، کفارہ قسم، مصیبت میں کلمہ استرجاع کہنا، (انا لله و انا الیه راجعون ) وغیرہ سے غفلت کرنا، اور اپنے واجب و مستحب اعمال میں کوتاھی ہونے کے بعد ان سے روگردانی کرنا۔

گناھان کبیرہ کا مرتکب ہونا، معصیت الٰھی کی طرف رغبت رکھنا، گناھوں کا انجام دینا، بری چیزوں کو اپنانا، شھوات میں غرق ہونا، کسی خطا کو اپنے ذمہ لینا، غرض یہ کہ عمدی یا غلطی کی بنا پر ظاھری اور مخفی طور پر معصیت خدا کرنا۔

کسی کا ناحق خون بھانا، والدین کا عاق ہونا، قطع رحم کرنا، میدان جنگ سے فرار کرنا، باعفت شخص پر تھمت لگانا، ناجائز طریقہ سے یتیم کا مال کھانا، جھوٹی گواھی دینا، حق کی گواھی سے کترانا، دین فروشی، ربا خوری، خیانت، مال حرام، جادو، ٹوٹا، غیب کی باتیں گڑھنا، نظر بد ڈالنا، شرک، ریا، چوری، شراب خوری، کم تولنا اور کم ناپنا، ناپن تول میں خیانت کرنا، کینہ و دشمنی، منافقت، عہد و پیمان توڑدینا، خوامخواہ الزام لگانا، فریب اور دھوکہ دینا، اھل ذمہ سے کیا ہوا عہدو پیمان توڑنا، قسم، غیبت کرنایا سننا، چغلی کرنا، تھمت لگانا، دوسروں کی عیب تلاش کرنا، دوسروں کو بُرا بھلا کہنا، دوسروں کو بُرے ناموںسے پکارنا، پڑوسی کو اذیت پہچانا، دوسروں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، اپنے اوپر بلا وجہ فخر و مباھات کرنا، گناھوں پر اصرار کرنا، ظالموں کا ھمنوا بننا، تکبر کرنا غرور سے چلنا، حکم دینے میں ستم کرنا، غصہ کے عالم میں ظلم کرنا، کینہ و حسد رکھنا، ظالموںکی مدد کرنا، دشمنی اور گناہ میں مدد کرنا، اھل و عیال اور مال کی تعداد میں کمی کرنا، لوگوں سے بدگمانی کرنا، ہوائے نفس کی اطاعت کرنا، شھوت پرستی، برائیوں کا حکم دینا، نیکیوں سے روکنا، زمین پر فتنہ و فساد پھیلانا، حق کا انکار کرنا، ناحق کاموں میں ستمگروں سے مدد لینا، دھوکا دینا، کنجوسی کرنا، نہ جاننے والی چیز کے بارے میں گفتگو کرنا، خون اور یا سور کا گوشت کھانا، مردار یا غیر ذبیحہ جانور کا گوشت کھانا، حسد کرنا، کسی پر تجاوز کرنا، بری چیزوں کی دعوت دینا، خدا کی نعمتوں پر مغرور ہونا، خودغرضی دکھانا، احسان جتانا، قرآن کا انکار کرنا، یتیم کو ذلیل کرنا، سائل کو دھتکارنا، قسم توڑنا، جھوٹی قسم کھانا، دوسروں کی ناموس اور مال پر ھاتھ ڈالنا، برا دیکھنا، برا سننا اور برا کہنا، کسی کو بری نظر سے چھونا، دل میں بُری بُری باتیں سوچنااور جھوٹی قسم کھانا“(۱۱۲)

واجب چیزوں کو ترک کرنا اور حرام چیزوں کا مرتکب ہونا، حضرت امام صادق علیہ السلام کے اس ملکوتی کلام میں یہ سب باتیں گناہ کے عنوان سے بیان ہوئی ہیں جن سے توبہ کرنا ”واجب فوری“ ہے۔

گناھوں کے برے آثار

قرآن مجید کی آیات اور اھل بیت علیھم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں گناھوںکے برُے آثارنمایاں ہوتے ہیں کہ اگر گناھگار اپنے گناھوں سے توبہ نہ کرے تو بے شک ان کے برے آثار میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

( بَلَی مَنْ كَسَبَ سَیئَةً وَاحَاطَتْ بِهِ خَطِیئَتُهُ فَاوْلَئِكَ اصْحَابُ النَّارِ هم فِیها خَالِدُونَ ) ۔(۱۱۳)

”یقینا جس نے کوئی برائی کی اور اس کی غلطی نے اسے گھیر لیا، تو ایسے لوگوں کے لئے جہنم ہے اور وہ اس میں ھمیشہ رہنے والے ہیں “۔

( قُلْ هل نُنَبِّئُكُمْ بِالْاخْسَرِینَ اعْمَالًا الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیهم فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَهم یحْسَبُونَ انَّهم یحْسِنُونَ صُنْعًا اولَئِكَ الَّذِینَ كَفَرُوا بِآیاتِ رَبِّهم وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ اعْمَالُهم فَلاَنُقِیمُ لَهم یوْمَ الْقِیامَةِ وَزْنًا ) ۔(۱۱۴)

”اے پیغمبر کیا ھم تم ہیں ان لوگوں کے بارے میں اطلا ع دیں جو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجا م دیں رہے ر ہیں ، یھی وہ لوگ ہیں جنھوں نے آیات پروردگار اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، ان کے اعمال برباد ہو گئے ہیں اور ھم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم ن ہیں کریں گے “۔

( فِی قُلُوبِهم مَرَضٌ فَزَادَهم اللهُ مَرَضًا وَلَهم عَذَابٌ الِیمٌ ) ۔(۱۱۵)

”ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے نفاق کی بنا پر اسے اور بھی بڑھا دیا ہے، اب اس جھوٹ کے نتیجہ میں دردناک عذاب ملے گا“۔

( فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِهم مَرَضٌ یسَارِعُونَ فِیهم ) (۱۱۶)

”اے پیغمبر آپ دیک ہیں گے کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ دوڑ دوڑ کر ان کی طرف جا رہے ہیں “۔

( وَامَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِهم مَرَضٌ فَزَادَتْهم رِجْسًا إِلَی رِجْسِهم ) ۔(۱۱۷)

”اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے مرض میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں “۔

( إِنَّ الَّذِینَ یاكُلُونَ امْوَالَ الْیتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یاكُلُونَ فِی بُطُونِهم نَارًا وَسَیصْلَوْنَ سَعِیرًا ) ۔(۱۱۸)

”جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب واصل جہنم ہوں گے “۔

مذکورہ آیہ اور اس سے ملتی جلتی آیتوں کی بناپر بعض محققین کا عقیدہ ہے کہ روز قیامت گناھگاروں کو ملنے والا عذاب یھی اس کے گناہ ہوں گے، یعنی یھی انسان کے گناہ ہوں گے جو روز قیامت دردناک عذاب کی شکل میں ظاھر ہوں گے، اور گناھگار کو ھمیشہ کے لئے اپنا اسیر بناکر عذاب میں مبتلا رک ہیں گے۔

( إِنَّ الَّذِینَ یكْتُمُونَ مَا انزَلَ اللهُ مِنْ الْكِتَابِ وَیشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِیلًا اوْلَئِكَ مَا یاكُلُونَ فِی بُطُونِهم إِلاَّ النَّارَ وَلاَیكَلِّمُهم اللهُ یوْمَ الْقِیامَةِ وَلاَیزَكِّیهم وَلَهم عَذَابٌ الِیمٌ اوْلَئِكَ الَّذِینَ اشْتَرَوْا الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا اصْبَرَهم عَلَی النَّارِ ) ۔(۱۱۹)

”جو لوگ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب کے احکام کو چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور خدا، روز قیامت ان سے بات بھی نہ کرے گا اور نہ ان کا تذکیہ کرے گا (بلکہ) ان کے لئے دردناک عذاب قرار دے گا۔یھی وہ لوگ ہیں جنھوں نے گمراھی کو ہدایت کے عوض اور عذاب کو مغفرت کے عوض خرید لیا ہے، آخر یہ آتش جہنم پر کتنا صبر کریں گے “۔

( مَثَلُ الَّذِینَ كَفَرُوا بِرَبِّهم اعْمَالُهم كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیحُ فِی یوْمٍ عَاصِفٍ لاَیقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَی شَیءٍ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ ) ۔(۱۲۰)

”جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی مانند ہے جسے آندھی کے دن کی تند ہوا اڑا لے جائے کہ وہ اپنے حاصل کئے ہوئے پر بھی کوئی اختیار ن ہیں رکھتے اور یھی بھت دور تک پھیلی ہوئی گمراھی ہے“۔

لہٰذا اس طرح کی آیات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ گناھوں کے بُرے آثار اس سے ک ہیں زیادہ ہیں ، مثلاً:

آتش جہنم میں جلنا، عذاب کا ابدی ہونا، دنیا و آخرت میںنقصان اور خسارہ میں رہنا، انسان کی ساری زحمتوں پر پانی پھرجانا، روز قیامت (نیک) اعمال کا حبط (یعنی ختم) ہوجانا، روز قیامت اعمال کی میزان قائم نہ ہونا، توبہ نہ کرنے کی وجہ سے گناھوں میں اضافہ ہونا، دشمنان خدا کی طرف دوڑنا، انسان سے خدا کا تعلق ختم ہوجانا، قیامت میں تزکیہ نہ ہونا، ہدایت کا گمراھی سے بدل جانا، مغفرت الٰھی کے بدلہ عذاب الٰھی کا مقرر ہونا۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک تفصیلی روایت میں گناھوں کے برے آثار کے بارے میں اس طرح ارشاد فرماتے ہیں :

جن گناھوں کے ذریعہ نعمتیں تبدیل ہوجاتی ہیں :

عوام الناس پرظلم و ستم کرنا، کار خیر کی عادت چھوڑ دینا، نیک کام کرنے سے دوری کرنا، کفران نعمت کرنا اور شکر الٰھی چھوڑ دینا۔

جو گناہ ندامت اور پشیمانی کے باعث ہوتے ہیں :

قتل نفس، قطع رحم، وقت ختم ہونے تک نماز میں تاخیر کرنا، وصیت نہ کرنا، لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا، زکوٰة ادانہ کرنا، یھاں تک کہ اس کی موت کا پیغام آجائے اور اس کی زبان بند ہوجائے۔

جن گناھوں کے ذریعہ نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں :

جان بوجھ کر ستم کرنا، لوگوں پر ظلم و تجاوز کرنا، لوگوں کا مذاق اڑانا، دوسرے لوگوں کو ذلیل کرنا۔

جن گناھوں کے ذریعہ انسان تک نعمتیں ن ہیں پہنچتیں:

اپنی محتاجگی کا اظھار کرنا، نماز پڑھے بغیر رات کے ایک تھائی حصہ میں سونا یھاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے، صبح میں نماز قضا ہونے تک سونا، خدا کی نعمتوں کو حقیر سمجھنا، خداوندعالم سے شکایت کرنا۔

جن گناھوں کے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے:

شراب پینا، جوا کھیلنا یا سٹہ لگانا، مسخرہ کرنا، بیھودہ کام کرنا، مذاق اڑانا، لوگوں کے عیوب بیان کرنا، شراب پینے والوں کی صحبت میں بیٹھنا۔

جو گناہ نزول بلاء کا سبب بنتے ہیں :

غم زدہ لوگوں کی فریاد رسی نہ کرنا، مظلوموں کی مدد نہ کرنا، امر بالمعروف اور نھی عن المنکر جیسے الٰھی فریضہ کا ترک کرنا۔

جن گناھوں کے ذریعہ دشمن غالب آجاتے ہیں :

کھلے عام ظلم کرنا، اپنے گناھوں کو بیان کرنا، حرام چیزوں کو مباح سمجھنا، نیک و صالح لوگوں کی نافرمانی کرنا، بدکاروں کی اطاعت کرنا۔

جن گناھوں کے ذریعہ عمر گھٹ جاتی ہے:

قطع تعلق کرنا، جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی باتیں بنانا، زناکرنا، مسلمانوں کا راستہ بند کرنا، ناحق امامت کا دعويٰ کرنا۔

جن گناھوں کے ذریعہ امیدٹوٹ جاتی ہے:

رحمت خدا سے ناامیدھونا، لطف خدا سے زیادہ مایوس ہونا، غیر حق پر بھروسہ کرنا اور خداوندعالم کے وعدوں کو جھٹلانا۔

جن گناھوں کے ذریعہ انسان کا ضمیر تاریک ہوجاتا ہے:

سحر و جادو اور غیب کی باتیں کرنا، ستاروں کو موثر ماننا، قضا و قدر کو جھٹلانا، عقوق والدین ہونا۔

جن گناھوں کے ذریعہ (احترام کا) پردہ اٹھ جاتا ہے:

واپس نہ دینے کی نیت سے قرض لینا، فضول خرچی کرنا، اھل و عیال اور رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں بخل کرنا، بُرے اخلاق سے پیش آنا، بے صبری کرنا، بے حوصلہ ہونا، اپنے کو کاھل جیسا بنانااوراھل دین کو حقیر سمجھنا۔

جن گناھوں کے ذریعہ دعا قبول ن ہیں ہوتی:

بری نیت رکھنا، باطن میں برا ہونا، دینی بھائیوں سے منافقت کرنا، دعا قبول ہونے کا یقین نہ رکھنا، نماز میں تاخیر کرنا یھاں تک کہ اس کا وقت ختم ہوجائے، کار خیر اور صدقہ کو ترک کرکے تقرب الٰھی کو ترک کرنا اور گفتگو کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنا اور گالی گلوچ دینا۔

جو گناہ باران رحمت سے محرومی سبب بنتے ہیں :

قاضی کاناحق فیصلہ کرنا، ناحق گواھی دینا، گواھی چھپانا، زکوٰة اور قرض نہ دینا، فقیروں اور نیازمندوں کی نسبت سنگدل ہونا، یتیم اورضرورت مندوں پر ستم کرنا، سائل کو دھتکارنا، رات کی تاریکی میں کسی تھی دست اور نادار کو خالی ھاتھ لوٹانا۔(۱۲۱)

حضرت امیر المومنین علیہ السلام گناھوں کے سلسلے میں فرماتے ہیں :

”لَوْ لَمْ یتَوَعَّدِ اللّٰهُ عَلٰی مَعْصِیتِهِ لَکانَ یجِبُ ان لا یعْصيٰ شُكْراً لِنِعَمِهِ :“(۱۲۲)

”اگر خداوندعالم نے اپنے بندوں کو اپنی مخالفت پر عذاب کا وعدہ نہ دیا ہوتا، تو بھی اس کی نعمت کے شکرانے کے لئے واجب تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے“۔

قارئین کرام! خداوندعالم کی بے شمار نعمتوں کے شکرکی بنا پر ھمیں چاہئے کہ ھر طرح کی معصیت اور گناہ سے پرھیز کریں اور اپنے بُرے ماضی کی بدلنے کے لئے خداوندعالم کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں کیونکہ توبہ استغفار کی بنا پر خداوندعالم کی رحمت و مغفرت اور اس کا لطف و کرم انسان کے شامل حال ہوتا ہے۔

حقیقی توبہ کا راستہ

توبہ (یعنی خداوندعالم کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی تک پہنچنا، جنت میں پھونچنے کی صلاحیت کا پیدا کرنا، عذاب جہنم سے امان ملنا، گمراھی کے راستہ سے نکل آنا، راہ ہدایت پر آجانا اور انسان کے نامہ اعمال کا ظلمت و سیاھی سے پاک و صاف ہوجانا ہے)؛ اس کے اھم آثار کے پیش نظریہ کھا جاسکتا ہے کہ توبہ ایک عظیم مرحلہ ہے، توبہ ایک بزرگ پروگرام ہے، توبہ عجیب و غریب حقیقت ہے اور ایک روحانی اور آسمانی واقعیت ہے ۔

لہٰذا فقط ”استغفر الله“ کہنے، یا باطنی طور پر شرمندہ ہونے اور خلوت و بزم میں آنسو بھانے سے توبہ حاصل ن ہیں ہوتی، کیونکہ جولوگ اس طرح توبہ کرتے ہیں وہ کچھ اس مدت کے بعد دوبارہ گناھوں کی طرف پلٹ جاتے ہیں !

گناھوں کی طرف دوبارہ پلٹ جانا اس چیز کی بھترین دلیل ہے کہ حقیقی طور پر توبہ ن ہیں ہوئی اور انسان حقیقی طور پر خدا کی طرف ن ہیں پلٹا ہے۔

حقیقی توبہ اس قدر اھم اور باعظمت ہے کہ قرآن کریم کی بھت سی آیات اور الٰھی تعلیمات اس سے مخصوص ہیں ۔

امام علی علیہ السلام کی نظر میں حقیقی توبہ

امام علی علیہ السلام نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے زبان پر ”استغفر الله“ جاری کیا تھا:

اے شخص ! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، کیا تو جانتا ہے کہ توبہ کیا ہے؟ یاد رکھ توبہ علّیین کا درجہ ہے، جو ان چھ چیزوں سے مل کر محقق ہوتا ہے:

۱۔ اپنے ماضی پر شرمندہ اور پشیمان ہونا۔

۲۔ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا مستحکم ارادہ کرنا۔

۳۔ لوگوں کے حقوق کاادا کرنا۔

۴۔ ترک شدہ واجبات کو بجالانا۔

۵۔ گناھوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے گوشت کواس قدر پگھلادینا کہ ہڈیوں پر گوشت باقی نہ رہ جائے، اور حالت عبادت میں ہڈیوں پر گوشت پیدا ہو۔

۶۔ بدن کو اطاعت کی تکلیف میں مبتلا کرنا جس طرح گناہ کا مزہ چکھا ہے۔

لہٰذا ان چھ مرحلوں سے گزرنے کے بعد ”استغفر الله“ کہنا۔(۱۲۳)

جی ھاں، توبہ کرنے والے کو اس طرح توبہ کرنا چاہئے، گناھوں کو ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرلے، گناھوں کی طرف پلٹ جانے کا ارادہ ھمیشہ کے لئے اپنے دل سے نکال دے، دوسری، تیسری بار توبہ کی امید میں گناھوں کو انجام نہ دے، کیونکہ یہ امید بے شک ایک شیطانی امید اور مسخرہ کرنے والی حالت ہے، حضرت امام رضا علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں :

مَنِ اسْتَغْفَرَ بِلِسانِهِ وَلَمْ ینْدَمْ بِقَلْبِهِ فَقَدِ اسْتَهْزَا بِنَفْسِهِ(۱۲۴)

”جو شخص زبان سے توبہ و استغفار کرے لیکن دل میں پشیمانی اور شرمندگی نہ ہو تو گویا اس نے خود کا مذاق اڑایاھے!“

واقعاً یہ ہنسی کا مقام اور افسوس کی جگہ ہے کہ انسان دوا او رعلاج کی امید میں خود کو مریض کرلے، واقعاً انسان کس قدر خسارہ ہے کہ وہ توبہ کی امید میں گناہ و معصیت کا مرتکب ہوجائے، اور خود کو یہ تلقین کرتا رہے کہ ھمیشہ توبہ کا دروازہ كُھلا ہوا ہے، لہٰذا اب گناہ کرلوں، لذت حاصل کرلوں !! بعد میں توبہ کرلوں گا!

اگر حقیقی طور پر توبہ کی جائے اور اگر تمام شرائط کے ساتھ توبہ ہوجائے، تو پھر انسان کی روح یقینا پاک ہوجاتی ہے نفس میں پاکیزگی اور دل میں صفا پیدا ہوجاتی ہے، اور انسان کے اعضاء و جوارح نیز ظاھر و باطن سے گناھوں کے آثار ختم ہوجاتے ہیں ۔

توبہ بار بار ن ہیں ہونا چاہئے کیونکہ گناہ ظلمت و تاریکی اور توبہ نور و روشنی کا نام ہے، اندھیرے اور روشنی میں زیادہ آمد و رفت سے روح کی آنک ہیں خراب ہوجاتی ہیں ۔ اگر کوئی گناہ سے توبہ کرنے کے بعد دوبارہ پھر اسی گناہ سے ملوث ہوجائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ توبہ ہی ن ہیں کی گئی ہے، (یا مکمل شرائط کے ساتھ توبہ ن ہیں ہوئی ہے۔)

انسانی نفس جہنم کے منھ کی طرح ہے جو کبھی بھرنے والا ن ہیں ہے، اسی طرح انسانی نفس گناھوں سے ن ہیں تھکتا، اس کے گناھوں میں کمی ن ہیں ہوتی، جس کی وجہ سے انسان خدا سے دور ہوتا چلا جاتا ہے لہٰذا اس تنورکے دروازہ کو توبہ کے ذریعہ بند کیا جائے اور اس عجیب و غریب غیر مرئی موجود کی سرکشی کو حقیقی توبہ کے ذریعہ باندھ لیاجائے۔

توبہ؛ انسانی حالت میں انقلاب اور دل و جان کے تغیر کا نام ہے، اس انقلاب کے ذریعہ انسان گناھوں کی طرف کم مائل ہوتا ہے اور خداوندعالم سے ایک مستحکم رابطہ پیدا کرلیتا ہے۔

توبہ؛ ایک نئی زندگی کی ابتداء ہوتی ہے، معنوی اور ملکوتی زندگی جس میں قلب انسان تسلیم خدا، نفس انسان تسلیم حسنات ہوجاتا ہے اور ظاھر و باطن تمام گناھوں کی گندگی اور کثافتوں سے پاک ہوجاتا ہے۔

توبہ؛ یعنی ہوائے نفس کے چراغ کو گُل کرنا اور خدا کی مرضی کے مطابق اپنے قدم اٹھانا۔

توبہ؛ یعنی اپنے اندر کے شیطان کی حکومت کو ختم کرنا اور اپنے نفس پر خداوندعالم کی حکومت کا راستہ ھموار کرنا۔

ھر گناہ کے لئے مخصوص توبہ

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خدا کی بارگاہ میں اپنے مختلف گناھوں کے سلسلہ میں استغفار کرلیا جائے اور ”استغفرالله ربی و اتوب الیہ“ زبان پر جاری کرلیاجائے، یا مسجد اور ائمہ معصومین علیھم السلام کے روضوں میں ایک زیارت پڑھ لی جائے یا چند آنسو بھالئے جائیں تو اس کے ذریعہ توبہ ہوجائے گی، جبکہ آیات وروایات کی نظر میں اس طرح کی توبہ مقبول ن ہیں ہے، اس طرح کے افراد کو توجہ کرنا چاہئے کہ ھر گناہ کے اعتبار سے توبہ بھی مختلف ہوتی ہے، ھر گناہ کے لئے ایک خاص توبہ مقرر ہے کہ اگر انسان اس طرح توبہ نہ کرے تو اس کا نامہ اعمال گناہ سے پاک ن ہیں ہوگا، اور اس کے بُرے آثار قیامت تک اس کی گردن پر باقی ر ہیں گے، اور روز قیامت اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔

اور ان تمام گناھوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱۔ عبادت اور واجبات کو ترک کرنے کی صورت میں ہونے والے گناہ، جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، خمس اور جھاد وغیرہ کو ترک کرنا۔

۲۔ خداوند عالم کے احکام کی مخالفت کرتے ہوئے گناہ کرناجن میں حقوق الناس کا کوئی دخل نہ ہو، جیسے شراب پینا، نامحرم عورتوں کو دیکھنا، زنا، لواط، استمناء، جُوا، حرام میوزیک سننا وغیرہ ۔

۳۔ وہ گناہ جن میں فرمان خدا کی نافرمانی کے علاوہ لوگوں کے حقوق کو بھی ضایع کیا گیا ہو، جیسے قتل، چوری، سود، غصب، مالِ یتیم ناحق طور پر کھانا، رشوت لینا، دوسروں کے بدن پر زخم لگانا یا لوگوں کو مالی نقصان پہچانا وغیرہ وغیرہ۔

پھلی قسم کے گناھوںکی توبہ یہ ہے کہ انسان تمام ترک شدہ اعمال کو بجالائے، چھوٹی ہوئی نماز پڑھے، چھوٹے ہوئے روزے رکھے، ترک شدہ حج کرے، اور اگر خمس و زکوٰة ادان ہیں کیا ہے تو ان کو ادا کرے۔

دوسری قسم کے گناھوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان شرمندگی کے ساتھ استغفار کرے اور گناھوں کے ترک کرنے پر مستحکم ارادہ کرلے، اس طرح کہ انسان کے اندر پیدا ہونے والا انقلاب اعضاء و جوارح کو دوبارہ گناہ کرنے سے روکے رکھے۔

تیسری قسم کے گناھوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان لوگوں کے پاس جائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کرے، مثلاً قاتل، خود کو مقتول کے ورثہ کے حوالے کردے، تاکہ وہ قصاص یا مقتول کا دیہ لے سکیں، یا اس کو معاف کردیں، سود خورتمام لوگوں سے لئے ہوئے سود کے حوالے کردے، غصب کرنے والا ان چیزوں کو ان کے مالک تک پھونچادے، مال یتیم اور رشوت ان کے مالکوں تک پہنچائے، کسی کو زخم لگایا ہے تو اس کا دیہ ادا کرے، مالی نقصان کی تلافی کرے، پس حقیقی طور پر توبہ قبول ہونے کے تین مذکورہ تین چیزوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔

۱۔ شیطان

لفظ شیطان اور ابلیس قرآن مجید میں تقریباً ۹۸ بار ذکر ہوا ہے، جو ایک خطرناک اور وسوسہ کرنے والا موجود ہے، جس کا مقصد صرف انسان کو خداوندعالم کی عبادت و اطاعت سے روکنا اور گناہ و معصیت میں غرق کرنا ہے۔

قرآن مجید میں گمراہ کرنے والے انسان اور دکھائی نہ دینے والا وجودجو انسان کے دل میں وسوسہ کرتا ہے، ان کو شیطان کھا گیا ہے۔

شیطان، ” شطن“ اور ”شاطن“ کے مادہ سے ماخوذھے اور خبیث، ذلیل، سرکش، متمرد، گمراہ اور گمراہ کرنے کے معنی میں آیا ہے، چاھے یہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔

قرآن مجید اور اس کی تفسیر و توضیح میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے بیان ہونے والی احادیث وروایات میں شیطان جنّ وانس کی خصوصیات کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے:

قسم کھایا ہوا اور کھلم کھلا دشمن، برائی اور فحشاء و منکر کا حکم کرنے والا، خداوندعالم کی طرف ناروا نسبت دینے والا، صاحبان حیثیت کو ڈرانے والا کہ ک ہیں نیک کام میںخرچ کرنے سے فقیر نہ بن جائیں، انسانوں کو لغزشوں میں ڈالنے والا، گمراھی میں پھنسانے والا تاکہ لوگ سعادت و خوشبختی سے کوسوں دور چلے جائیں، شراب پلانے کا راستہ ھموار کرنے والا، جوا کھیلنے، حرام شرط لگانے اور لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی نسبت کینہ و دشمنی ایجاد کرنے والا، برے کام کو اچھا بناکر پیش کرنے والا، جھوٹے وعدے دینے والا، انسان میں غرور پیدا کرنے والا، اور اسے ذلت کی طرف ڈھکیلنے والا، راہ حق میں رکاوٹ پیدا کرنے اور جہنم میں پہنچانے والے کاموں کی دعوت دینے والا، میاں بیوی کو طلاق کی منزل تک پہنچانے والا، لوگوںمیں گناھوں اور برائیوںکا راستہ فراھم کرنے او ران ہیں دنیا کا اسیر بنانے والا، انسان کو توبہ کی امید میں گناھوں پر اُکسانے والا، خودپسندی ایجاد کرنے والا، بخل، غیبت، جھوٹ اور شھوت کو تحریک کرنے والا، کھلم کھلا گناہ کرنے کی ترغیب کرنے والا، غصہ اور غضب کو بھڑکانے والا۔

جب تک انسان شیاطین جن و انس کے جال میں پھنسا رھتا ہے تو پھر وہ حقیقی طور پر توبہ ن ہیں کرسکتا، کیونکہ جب تک اس کے دل پر شیطان کی حکومت رہے گی، تو توبہ کے بعد شیطان پھر گناہ کرنے کے لئے وسوسہ پیدا کردے گا، اور توبہ کے ذریعہ کئے گئے عہد کو توڑنے اور اپنی اطاعت کرنے پر مجبور کردے گا۔

توبہ کرنے والے کو چاہئے کہ خداوندعالم سے توفیق طلب کرتے ہوئے گناھوں سے ھمیشہ پرھیز کرے اور شیطان سے سخت بیزار رہے ، تاکہ آہستہ آہستہ اس خبیث وجود کے نفوذ کو اپنے وجود سے ختم کردے، اور اس کی حکومت کا بالکل خاتمہ کردے، تاکہ انسان کے دل میںتوبہ و استغفار کی حقیقت باقی رہے ، اور اس نورانی عہدو پیمان کو ظلمت کے حملے توڑ نہ سکےں۔

۲۔ دنیا

تمام مادی عناصر اور انسانی زندگی کی ضروری اشیاء سے رابطہ ہی انسان کی دنیا ہے۔

اگر یہ رابطہ خداوندعالم کی مرضی کے مطابق ہو تو بے شک انسان کی یہ دنیا قابل حمد و ثنا ہے، اور اُخروی سعادت کی ضامن ہے، لیکن اگر انسان کا یھی رابطہ مادی اور ہوائے نفس کی بنا پر ہو جھاں پر کسی طرح کی کوئی حد و حدود نہ ہو تو اس وقت انسان کی یہ دنیا مذموم اور آخرت میں ذلت کا باعث ہوگی۔

بے شک اگر ہوائے نفس کی بنیاد اور بے لگام خواہشات کے ساتھ مادی چیزوں سے لگاؤ ہو تو یقینا انسان گناھوں کے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

اسی ناجائز رابطہ کی بنا پر انسان شھوت اور مال و دولت کا عاشق بن جاتا ہے، اور اس راستہ کے ذریعہ خدا کے حلال و حرام کی مخالفت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

اس طرح کے رابطہ کے ذریعہ انسان ؛مادی چیزوں اور شھوت پرستی میں کھوجاتا ہے، جس کا بھت زیادہ نقصان ہوتا ہے، اور جس کی بدولت آخرت میں سخت خسارہ اٹھانا پڑے گا۔

حضرت علی علیہ السلام اس سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں :

اَلدُّنْیا تَغُرُّ وَ تَضُرُّوَ تَمُرُّ “۔(۱۲۵)

”دنیا، مغرور کرتی ہے، نقصان پہنچاتی ہے اور گزرجاتی ہے“۔

خداوندعالم نے اپنے محبوب رسول(ص) کو شب معراج اس مذموم دنیا میں گرفتار لوگوں کی خصوصیت کے بارے میں اس طرح فرمایا:” اھل دنیا وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا کھانا پینا، ہنسنا، رونا اور غصہ زیادہ ہوتا ہے، خدا کی عنایت پر بھت کم خوشنود ہوتے ہیں ، لوگوں سے کم راضی رھتے ہیں ، لوگوں کی شان میں بدی کرنے کے بعد عذر خواھی ن ہیں کرتے، اور نہ ہی دوسروں کی عذر خواھی کو قبول کرتے ہیں ، اطاعت کے وقت سست و کاھل اور گناہ کے وقت شجاع او رطاقتور ہوتے ہیں ، ان کی آرزوئیں طولانی ہوتی ہیں ، ان کی گفتگو زیادہ، عذاب جہنم کا خوف کم ہوتا ہے اور کھانے پینے کے وقت بھت زیاہ خوش و خرم نظر آتے ہیں ۔

یہ لوگ چین و سکون کے وقت شکر اور بلاء و مصیبت میں صبر ن ہیں کرتے، دوسروں کو ذلیل سمجھتے ہیں ، نہ کئے ہوئے کام پر اپنی تعریفیں کرتے ہیں ، جن چیزوں کے مالک ن ہیں ہوتے ان کی ملکیت کے بارے میں دعويٰ کرتے ہیں ، اپنی بے جا آرزوں کو دوسروں سے بیان کرتے ہیں ، لوگوں کی برائیوں کو اچھالتے ہیں ، اور ان کی اچھائیوں کو چھپاتے ہیں ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عرض کیا: پالنے والے! کیا ان عیوب کے علاوہ کوئی دوسرا عیب بھی ان میں پایا جاتا ہے؟ آواز آئی: اے احمد! دنیا والوں کے عیب زیادہ ہیں ، ان میں حماقت و ونادانی پائی جاتی ہے، اپنے استاد کے سامنے تواضع سے پیش ن ہیں آتے، اپنے کو (بھت) بڑا عاقل سمجھتے ہیں ، جبکہ وہ صاحبان علم کے نزدیک احمق ہوتے ہیں ۔(۱۲۶)

اگر کوئی شخص اپنے گناھوں سے توبہ کرلے لیکن توبہ کے ساتھ مادی زرق و برق میں اسیر ہو، تو کیا اس کی توبہ باقی رہ سکتی ہے اور توبہ کے میدان میں ثابت قدم رہ سکتا ہے؟۔

توبہ کرنے والا اگر اس طرح کی چیزوں کے نفوذ سے آزاد نہ ہو تو پھر اس کے لئے حقیقی طور پر توبہ کرنا ناممکن ہے، کیونکہ ایسا انسان توبہ تو کرلیتا ہے، لیکن جیسے ہی مادی چیزوں نے حملہ کیا تو وہ اپنی توبہ کو توڑلیتا ہے۔

۳۔ آفات

غلط رابطے، بے جا محبت، لذتوں میں بھت زیادہ غرق ہونا، نا محدود شھوات، بے لگام خواہشیں، حرام شھوت اورھوائے نفس یہ سب خطرناک آفتیں ہیں کہ اگر انسان کی زندگی میں یہ سب پائی

حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰھی تحفہ

معصوم علیہ السلام کا ارشادھے: خداوندعالم توبہ کرنے والوں کو تین خصلتیں عنایت فرماتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک خصلت بھی تمام اھل زمین و آسمان کو مرحمت ہوجائے تو اسی خصلت کی بنا پر ان کو نجات مل جائے:

( إِنَّ اللهَ یحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیحِبُّ الْمُتَطَهرینَ ) ۔(۱۲۷)

”بے شک خدا توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے“۔

لہٰذا جس کو خداوندعالم دوست رکھتا ہے اس پر عذاب ن ہیں کرے گا۔

( الَّذِینَ یحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ یسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهم وَیؤْمِنُونَ بِهِ وَیسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِینَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِیلَكَ وَقِهم عَذَابَ الْجَحِیمِ رَبَّنَا وَادْخِلْهم جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِی وَعَدْتَهم وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهم وَازْوَاجِهم وَذُرِّیاتِهم إِنَّكَ انْتَ الْعَزِیزُ الْحَكِیمُ وَقِهم السَّیئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّیئَاتِ یوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔(۱۲۸)

”جو فرشتے عر ش الٰھی کو اٹھا ئے ہوئے ہیں اور جواس کے گرد معین ہیں سب حمد خدا کی تسبیح کر رہے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور صاحبان ایمان کے لئے استغفار کررہے ہیں کہ خدایا! تیری رحمت اور تیرا علم ھر شئے پر محیط ہے لہٰذا ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستہ کا اتباع کیا ہے اور ان ہیں جہنم کے عذاب سے بچالے۔پروردگارا! ان ہیں اور ان کے باپ دادا، ازواج اور اولاد میں سے جو نیک اور صالح افراد ہیں ان کو ھمیشہ رہنے والے باغات میں جگہ عنایت فرما، جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے بیشک تو سب پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے۔اور ان ہیں برائیوں سے محفوظ فرما کہ آج جن لوگوں کو تونے برائیوںسے بچا لیا گویا ان ہیں پر رحم کیا ہے اور یہ بھت بڑی کامیابی ہے “۔

( وَالَّذِینَ لاَیدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَها آخَرَ وَلاَیقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَیزْنُونَ وَمَنْ یفْعَلْ ذَلِكَ یلْقَ اثَامًا یضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یوْمَ الْقِیامَةِ وَیخْلُدْ فِیهِ مُهانًا إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاوْلَئِكَ یبَدِّلُ اللهُ سَیئَاتِهم حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا ) ۔(۱۲۹)

”اور وہ لوگ خدا کے ساتھ کسی اور خدا کو ن ہیں پکارتے ہیں اور کسی بھی نفس کو اگر خدا نے محترم قرار دیدیا ہے تو اسے نا حق قتل ن ہیں کرتے ہیں اور زنا بھی ن ہیں کرتے کہ جو ایسا عمل کرے گا وہ اپنے عمل کی سزا بھی برداشت کرے گا۔جسے روز قیامت دوگنا کردیا جائے گااور وہ اسی میں ذلت کے ساتھ ھمیشہ ھمیشہ پڑا رہے گا۔ علاوہ اس شخص کے جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل بھی کرے کہ پروردگار اس کی برائیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کر دے گا، اور خدا بھت بڑا مھربان ہے“(۱۳۰)

توبہ جیسے باعظمت مسئلہ کے سلسلہ میں قرآن کا نظریہ

قرآن کریم میں لفظ ”توبہ“ اور اس کے دیگر مشتقات تقریباً ۸۷ مرتبہ ذکر ہوئے ہیں ، جس سے اس مسئلہ کی اھمیت اور عظمت واضح جاتی ہے۔

قرآن کریم میں توبہ کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱۔توبہ کا حکم۔

۲۔حقیقی توبہ کا راستہ۔

۳۔توبہ کی قبولیت۔

۴۔توبہ سے روگردانی۔

۵۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب۔

۱۔ توبہ کا حکم

( اَنِ اسْتَغْفِرُوارَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا اِلَیهِ ) ۔(۱۳۱)

”اور اپنے رب سے استغفار کروپھر اس کی طرف متوجہ ہو جاو“۔

( تُوبُوا إِلَی اللهِ جَمِیعًا ایها الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) ۔(۱۳۲)

”توبہ کرتے رھو کہ شاید اسی طرح تم ہیں فلاح اور نجات حاصل ہو جائے“۔

راغب اصفھانی اپنی کتاب ”مفردات“ میں کھتے ہیں :قیامت کی فلاح و کامیابی یہ ہے جھاں انسان کے لئے ایسی زندگی ہوگی جھاں موت نہ ہوگی، ایسی عزت ہوگی کہ جھاںذلت نہ ہوگی، ایسا علم ہوگا کہ جھاں جھالت کا نام ونشان تک نہ ہوگا، وھاں انسان ایسا غنی ہوگا جس کو تنگدستی ن ہیں ہوگی۔(۱۳۳)

( یا اَیهاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً ) ۔(۱۳۴)

”اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و“۔

ان آیات میں خداوندعالم نے مومنین اور غیر مومنین سبھی کو توبہ کی دعوت دی ہے، خدا کی اطاعت واجب اورباعث رحمت و مغفرت ہے، اسی طرح خدا وندعالم کی معصیت حرام اور باعث غضب الٰھی اور مستحق عذاب الٰھی ہے، جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں ذلت و خواری اور ھمیشہ کے لئے ھلاکت و بدبختی ہے۔

۲۔حقیقی توبہ کا راستہ

حقیقت تو یہ ہے کہ ”توبہ“ ایک سادہ اور آسان کام ن ہیں ہے، بلکہ معنوی اور عملی شرائط کے ساتھ ہی توبہ محقق ہوسکتی ہے۔

شرمندگی، آئندہ میں پاک و پاکیزہ رہنے کا مصمم ارادہ، برے اخلاق کو اچھے اخلاق و عادات میں بدلنا، اعمال کی اصلاح کرنا، گزشتہ اعمال کا جبران اور تلافی کرنااور خدا پر ایمان رکھنا اور اسی پر بھروسہ کرنا یہ تمام ایسے عناصر ہیں جن کے ذریعہ سے توبہ کی عمارت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے، اور ان ہیں کے ذریعہ استغفار ہوسکتا ہے۔

( إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا وَاصْلَحُوا وَبَینُوا فَاوْلَئِكَ اتُوبُ عَلَیهم وَانَا التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ) ۔(۱۳۵)

”علاوہ ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اپنے کئے کی اصلاح کر لیں اور جس کو چھپایا ہے اس کو واضح کر دیں، تو ھم ان کی توبہ قبول کرلیتے ہیں کہ ھم بھترین تو بہ قبول کر نے والے اور مھربان ہیں “۔

( إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اللهِ لِلَّذِینَ یعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهالَةٍ ثُمَّ یتُوبُونَ مِنْ قَرِیبٍ فَاوْلَئِكَ یتُوبُ اللهُ عَلَیهم وَكَانَ اللهُ عَلِیمًا حَكِیمًا ) ۔(۱۳۶)

”تو بہ خدا کے ذمہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جھالت کی بنا پر برائی کرتے ہیں لیکن پھر فوراً توبہ کرلیتے ہیں کہ خدا ان کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے وہ علیم ودانا بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی “۔

( فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاصْلَحَ فَإِنَّ اللهَ یتُوبُ عَلَیهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔(۱۳۷)

”پھر ظلم کے بعد جو شخص توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے، تو خدا(بھی) اس کی توبہ کو قبول کر لے گا اور اللہ بڑابخشنے والا اور مھربان ہے“۔

( وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّیئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِها وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِها لَغَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔(۱۳۸)

”اور جن لوگوں نے بُرے اعمال کئے اور پھر توبہ کر لی اور ایمان لے آئے، توبہ کے بعد تمھارا پروردگاربھت بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والاھے“۔

( فَإِنْ تَابُوا وَاقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِی الدِّینِ ) ۔(۱۳۹)

”پھر اگر یہ تو بہ کر لیںاور نماز قائم کریں اور زکواة ادا کریں، تو (یہ لوگ) دین میں تمھارے بھائی ہیں “۔

قارئین کرام! مذکورہ آیات کے پیش نظر، خدا و قیامت پر ایمان، عقیدہ، عمل اوراخلاق کی اصلاح، خدا کی طرف فوراً لوٹ آنا، ظلم و ستم کے ھاتھ روک لینا، نماز قائم کرنا، زکوٰة ادا کرنا اور لوگوں کے حقوق اداکرنا؛ حقیقی توبہ کے شرائط ہیں ، اور جو شخص بھی ان تمام شرائط کے ساتھ توبہ کرے گا بے شک اس کی توبہ حقیقت تک پہنچ جائے گی اور حقیقی طور پر توبہ محقق ہوگی نیزاس کی توبہ یقینا بارگاہ خداوندی میں قبول ہوگی۔

۳۔ توبہ قبول ہونا

جس وقت کوئی گناھگار توبہ کے سلسلہ کے خداوندعالم کی اطاعت کرتا ہے اور توبہ کے شرائط پر عمل کرتا ہے، اور توبہ کے سلسلہ میں قرآن کا تعلیم کردہ راستہ اپناتا ہے، توبے شک خدائے مھربان؛جس نے گناھگار کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، وہ ضرور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں توبہ قبول ہونے کی نشانی قرار دے دیتا ہے اور اس کو گناھوں سے پاک کردیتا ہے، نیز اس کے باطن سے ظلمت و تاریکی کو سفیدی اور نور میں تبدیل کردیتا ہے۔

( الَمْ یعْلَمُوا انَّ اللهَ هُوَ یقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ) ۔(۱۴۰)

”کیا یہ ن ہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے“۔

( وَهُوَ الَّذِی یقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَیعْفُو عَنْ السَّیئَاتِ ) ۔(۱۴۱)

”اور وھی وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور ان کی برائیوں کو معاف کرتا ہے“۔

( غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ ) ۔(۱۴۲)

”وہ گناھوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے“۔

۴۔ توبہ سے منھ موڑنا

اگر گناھگار خدا کی رحمت سے مایوس ہوکر توبہ نہ کرے تو اس کو جاننا چاہئے کہ رحمت خدا سے مایوسی صرف اور صرف کفار سے مخصوص ہے(۱۴۳)

اگر گناھگار انسان اس وجہ سے توبہ ن ہیں کرتا کہ خداوندعالم اس کے گناھوں کو بخشنے پر قدرت ن ہیں رکھتا، تو اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تصور بھی یھودیوں کا ہے۔(۱۴۴)

اگر گناھگار انسان کا تکبر، خدائے مھربان کے سامنے جرائت اور ربّ کریم کے سامنے بے ادبی کی بنا پر ہو تو اس کو جاننا چاہئے کہ خداوندعالم اس طرح کے مغرور، گھمنڈی اور بے ادب لوگوں کو دوست ن ہیں رکھتا، اور جس شخص سے خدا محبت نہ کرتا ہوتو دنیا و آخرت میں ان کی نجات ممکن ن ہیں ہے۔(۱۴۵)

گناھگار کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ سے منھ موڑنا، جبکہ باب توبہ کھلا ہوا ہے اور لازمی شرائط کے ساتھ توبہ کرنا ممکن ہے نیز یہ کہ خداوندعالم توبہ قبول کرنے والا ہے، لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر توبہ نہ کرنا اپنے اوپر اور آسمانی حقائق پر ظلم وستم ہے۔

( وَمَنْ لَمْ یتُبْ فَاوْلَئِكَ هم الظَّالِمُونَ ) ۔(۱۴۶)

”اگر کوئی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ درحقیقت یھی لوگ ظالم ہیں “۔

( اِنَّ الَّذینَ فَتَنُوا الْمُومِنینَ وَالْمُومِناتِ ثُمَّ لَمْ یتُوبُوا فَلَهُمْ عَذابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذابُ الْحَریقِ ) ۔(۱۴۷)

”بیشک جن لوگوں نے ایماندار مردوں اور عورتوں کو ستایا اور پھر توبہ نہ کی، ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اورا ن کے لئے جلانے والاعذاب بھی ہے“۔

۵۔ توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب

اگر گناھگار انسان کو توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے اور تمام تر لازمی شرائط کے ساتھ توبہ کرلے تو بے شک اس کی توبہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے، لیکن اگر توبہ کرنے کا موقع ھاتھ سے کھوبیٹھے اور اس کی موت آپہنچے اور پھر وہ اپنے گزشتہ سے توبہ کرے یا ضروری شرائط کے ساتھ توبہ نہ کرے یا ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائے تو ایسے شخص کی توبہ ھرگز قبول ن ہیں ہوسکتی۔

( وَلَیسَتْ التَّوْبَةُ لِلَّذِینَ یعْمَلُونَ السَّیئَاتِ حَتَّی إِذَا حَضَرَ احَدَهم الْمَوْتُ قَالَ إِنِّی تُبْتُ الْآنَ وَلاَالَّذِینَ یمُوتُونَ وَهم كُفَّارٌ اوْلَئِكَ اعْتَدْنَا لَهم عَذَابًا الِیمًا ) ۔(۱۴۸)

”اور توبہ ان لوگوں کے لئے ن ہیں ہے جو پھلے برائیاں کرتے ہیں اور پھر جب موت سامنے آجاتی ہے توکھتے ہیں کہ اب ھم نے توبہ کرلی اور نہ ان کے لئے ہے جو حالت کفر میں مرجاتے ہیں کہ ان کے لئے ھم نے بڑا دردناک عذاب مھیا کر رکھا ہے“۔

( إِنَّ الَّذِینَ كَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِهم ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهم وَاوْلَئِكَ هم الضَّالُّونَ ) ۔(۱۴۹)

”جن لوگوں نے کفر اختیار لیا اور پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے ان کی توبہ ھرگز قبول نہ ہوگی اور وہ حقیقی طورپر گمراہ ہیں “۔

توبہ، احادیث کی روشنی میں

حضرت امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: جناب آدم (علیہ السلام) نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کی: پالنے والے مجھ پر (اور میری اولاد) پرشیطان کو مسلط ہے اور وہ خون کی طرح گردش کرتا ہے، پالنے والے اس کے مقابلہ میں میرے لئے کیا چیز مقرر فرمائی ہے؟

خطاب ہوا: اے آدم یہ حقیقت آدم کے لئے مقرر کی ہے کہ تمھاری اولاد میں کسی نے گناہ کا ارادہ کیا، تو اس کے نامہ اعمال میں ن ہیں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ کے مطابق گناہ بھی انجام دے لیا تو اس کے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی گناہ لکھا جائے گا، لیکن اگر تمھاری اولاد میں سے کسی نے نیکی کا ارادہ کرلیا تو فوراً ہی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ پر عمل بھی کیا تو اس نے نامہ اعمال میں دس برابر نیکی لکھی جائےں گی؛ اس وقت جناب آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا: پالنے والے! اس میں اضافہ فرمادے؛ آواز قدرت آئی: اگر تمھاری اولاد میں کسی شخص نے گناہ کیا لیکن اس کے بعد مجھ سے استغفار کر لیا تو میں اس کو بخش دوں گا؛ ایک بار پھر جناب آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا: پالنے والے! مزید اضافہ فرما؛ خطاب ہوا: میںنے تمھاری اولادکے لئے توبہ کورکھا اور اس کے د روازہ کو وسیع کردیا کہ تمھاری اولاد موت کا پیغام آنے سے قبل توبہ کرسکتی ہے، اس وقت جناب آدم )علیہ السلام) نے عرض کیا: خداوندا! یہ میرے لئے کافی ہے۔(۱۵۰)

حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی ہے: جو شخص اپنی موت سے ایک سال پھلے توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: بے شک ایک سال زیادہ ہے، جو شخص اپنی موت سے ایک ماہ قبل توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک مھینہ بھی زیادہ ہے، جو شخص ایک ہفتہ پھلے توبہ کرلے اس کی توبہ قابل قبول ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک ہفتہ بھی زیاد ہے، اگر کسی شخص نے اپنی موت سے ایک دن پھلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک دن بھی زیادہ ہے اگر اس نے موت کے آثار دیکھنے سے پھلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے۔(۱۵۱)

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں :

اِنَّ اللّٰهَ یقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ ما لَمْ یغَرْغِرْ، تُوبُوا اِلٰی رَبِّكُمْ قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا، وَبادِرُوا بِالاَعْمالِ الزّاكِیةِ قَبْلَ اَنْ تُشْتَغِلُوا، وَ صِلُوا الَّذی بَینَكُمْ وَ بَینَهُ بِكَثْرَةِ ذِكْرِ كُمْ اِیاهُ :“(۱۵۲)

”خداوندعالم، اپنے بندے کی توبہ دم نکلنے سے پھلے پھلے تک قبول کرلیتا ہے، لہٰذا اس سے پھلے پھلے توبہ کرلو، نیک اعمال انجام دینے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ کسی چیز میں مبتلا ہوجاؤ، اپنے اور خدا کے درمیان توجہ کے ذریعہ رابطہ کرلو“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

لَاشَفیعَ اَنْجَحُ مِنَ التَّوْبَةِ(۱۵۳)

”توبہ سے زیادہ کامیاب کرنے والا کوئی شفیع ن ہیں ہے“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہے:

اَلتَّوْبَةُ تَجُبُّ ما قَبْلَها(۱۵۴)

”توبہ ؛ انسان کے گزشتہ اعمال کو ختم کردیتی ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَلتَّوْبَةُ تَسْتَنْزِلُ الرَّحْمَةَ :“۔(۱۵۵)

”توبہ کے ذریعہ رحمت خدا نازل ہوتی ہے“۔

نیز حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ وَ ادْخُلُوا فِی مَحَبَّتِهِ، فَاِنَّ اللّٰهَ یحِبُّ التَّوّابینَ وَ یحِبُّ الْمُتَطَهِّرینَ، وَالْمُومِنُ تَوّابٌ “۔(۱۵۶)

”خداوندعالم کی طرف لوٹ آؤ، اپنے دلوں میں اس کی محبت پیدا کرلو، بے شک خداوندعالم توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور مومن بھت زیادہ توبہ کرتا ہے“۔

حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے آباء و اجداد علیہم السلام کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں :

مَثَلُ الْمُومِنِ عِنْدِاللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ كَمَثَلِ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَ اِنَّ الْمُومِنَ عِنْدَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ اَعْظَمُ مِنْ ذٰلِكَ، وَلَیسَ شَیءٌ اَحَبَّ اِلَی اللّٰهِ مِنْ مُومِنٍ تائِبٍ اَوْ مُومِنَةٍ تائِبَةٍ “۔(۱۵۷)

”خدا وندعالم کے نزدیک مومن کی مثال ملک مقرب کی طرح ہے، بے شک خداوندعالم کے نزدیک مومن کا مرتبہ فرشتہ سے بھی زیادہ ہے، خداوندعالم کے نزدیک مومن او رتوبہ کرنے والے مومن سے محبوب تر کوئی چیز ن ہیں ہے۔“

امام ہشتم اپنے آباء و اجداد کے حوالے کے ذریعہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت فرماتے ہیں :

اَلتّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لا ذَنْبَ لَهُ “۔(۱۵۸)

”گناھوں سے توبہ کرنے والا، اس شخص کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

اِنَّ تَوْبَةَ النَّصوحِ هُوَ اَنْ یتوبَ الرَّجُلُ مِنْ ذَنْبٍ وَ ینْوِی اَنْ لا یعودَ اِلَیهِ اَبَداً “۔(۱۵۹)

”توبہ نصوح یہ ہے کہ انسان گناھوں سے توبہ کرے اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کا قطعی ارادہ رکھے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

لِلّٰهِ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الْعَقِیمِ الْوالِدِ، وَ مِنَ الضّالِّ الْواجِدِ، وَمِنَ الظَّمْآنٍ الْوارِدِ(۱۶۰)

” خداوندعالم اپنے گناھگار بندے کی توبہ پر اس سے ک ہیں زیادہ خوشحال ہوتا ہے جتنی ایک عقیم عورت بچہ کی پیدائش پر خوش ہوتی ہے، یا کسی کا کوئی کھویا ہوا مل جاتا ہے اور پیاسے کو بھتا ہوا چشمہ مل جاتا ہے“!

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہے:

اَلتَّائِبُ اِذالَمْ یسْتَبِنْ عَلَیهِ اَثَرُ التَّوَبَةِ فَلَیسَ بِتائِبٍ، یرْضِی الْخُصَماءَ، وَیعیدُ الصَّلَواتِ، وَ یتَواضَعُ بَینَ الْخَلْقِ، وَیتَّقی نَفْسَهُ عَنِ الشَّهَواتِ، وَیهْزِلُ رَقَبَتَهُ بِصِیامِ النَّهارِ “۔(۱۶۱)

”جس وقت توبہ کرنے والے پر توبہ کے آثار ظاھر نہ ہوں، تو اس کو تائب (یعنی توبہ کرنے والا) ن ہیں کھا جانا چاہئے، توبہ کے آثار یہ ہیں : جن لوگوںکے حقوق ضائع کئے ہیں ان کی رضایت حاصل کرے، قضا شدہ نمازوں کو ادا کرے، دوسروں کے سامنے تواضع و انکساری سے کام لے، اپنے نفس کو حرام خواہشات سے روکے رکھے اور روزے رکھ کر جسم کو کمزور کرے “۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَلتَّوْبَةُ نَدَمٌ بِالْقَلْبِ، وَاسْتِغْفارٌ بِاللِّسانِ، وَ تَرْكٌ بِالْجَوارِحِ، وَاِضْمارٌ اَنْ لایعودَ “۔(۱۶۲)

” توبہ؛ یعنی دل میں شرمندگی، زبان پر استغفار، اعضاء و جوارح سے تمام گناھوں کو ترک کرنا اور دوبارہ نہ کرنے کا مستحکم ارادہ کرنا“۔

نیز حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

مَنْ تابَ تابَ اللّٰهُ عَلَیهِ، وَاُمِرَتْ جَوارِحُهُ اَنْ تَسْتُرَ عَلَیهِ، وَبِقاعُ الاَرْضِ اَنْ تَكْتُمَ عَلَیهِ، وَ اُنْسِیتِ الْحَفَظَةُ ما کانَتْ تَكْتُبُ عَلَیهِ “۔(۱۶۳)

” جو شخص توبہ کرتا ہے خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرتا ہے، اور اس کے اعضاء و جوارح کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس کے گناھوں کو مخفی کرلو، اور زمین سے کھا جاتا ہے کہ اس کے گناہ کو چھپالے اور جو کچھ کراماً کاتبین نے لکھا ہے خدا ان کو نظر انداز کر دیتا ہے “۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ خداوندعالم نے جناب داؤد نبی (علیہ السلام) پروحی فرمائی:

اِنَّ عَبْدِی الْمُومِنَ اِذا اَذْنَبَ ذَنْباً ثُمَّ رَجَعَ وَ تابَ مِنْ ذٰلِكَ الذَّنْبِ وَاسْتَحْیيٰ مِنّی عِنْدَ ذِكْرِهِ غَفَرْتُ لَهُ، وَاَنْسَیتُهُ الْحَفَظَةُ، وَ اَبْدَلْتُهُ الْحَسَنَةَ، وَلا اُبالی وَ اَنَا اَرْحَمُ الرّحِمینَ “۔(۱۶۴)

”بے شک جب میرا بندہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اورپھر اپنے گناہ سے منھ موڑلیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے، اور اس گناہ کو یاد کرکے مجھ سے شرمندہ ہوتا ہے تو میں اس کو معاف کردیتا ہوں، اور کراماً کاتبین کو(بھی) بھلادیتا ہوں، اور اس کے گناہ کو نیکی میں تبدیل کردیتا ہوں، مجھے کوئی پرواہ ن ہیں ہے کیونکہ میں ارحم الراحمین ہوں “۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک اھم روایت میں فرماتے ہیں :کیا تم جانتے ہوں ہو کہ تائب (یعنی توبہ کرنے والا) کون ہے؟ اصحاب نے کھا: یا رسول اللہ ! آپ بھتر جانتے ہیں ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جب کوئی بندہ توبہ کرے اور دوسروں کے مالی حقوق کو ادا کرکے ان کو راضی نہ کرلے تو وہ تائب ن ہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن خدا کی عبادتوں میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص (بھی) تائب ن ہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے (مال حرام سے بنے ہوئے ) لباس کو نہ بدلے وہ (بھی) تائب ن ہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی صحبت کو نہ بدلے تو وہ (بھی) تائب ن ہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے اخلاق اور اپنی نیت کو نہ بدلے تو وہ شخص(بھی) تائب ن ہیں ہے، جو شخص توبہ کرے اور اپنے دل سے حقائق کو نہ دیکھے، اور صدقہ و انفاق میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص(بھی) تائب ن ہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی آرزوں کو کم نہ کرے اور اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے، تو وہ شخص(بھی) تائب ن ہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے بدن سے اضافی کھانے کو خالی نہ کرے، تو وہ شخص(بھی) تائب ن ہیں ہے۔ بلکہ وہ شخص تائب ہے جو ان تمام خصلتوں کی پابندی کرے ۔(۱۶۵)

توبہ کے منافع اور فوائد

گناھوں سے توبہ کے متعلق قرآن کریم کی آیات اور اھل بیت علیھم السلام سے مروی احادیث و روایات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں توبہ کے بھت سے منافع و فوائد ذکر ہوئے ہیں ، جن کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:

( اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا یرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَیكُمْ مِدْرَارًا وَیمْدِدْكُمْ بِامْوَالٍ وَبَنِینَ وَیجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَیجْعَلْ لَكُمْ انْهارًا ) ۔(۱۶۶)

”اور کھا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بھت زیادہ بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار پانی برسائے گا۔اور اموال واولاد کے ذریعہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے لئے باغات اور نھریں قرار دے گا“۔

( تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً عَسٰی رَبُّكُمْ اَنْ یكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیئاتِكُمْ وَ یدْخِلَكُمْ جَنّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الاَنْهارُ ) ۔(۱۶۷)

”توبہ کرو، عنقریب تمھارا پرودگار تمھاری برائیوں کو مٹادے گا اور تم ہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نھریں جاری ہوں گی“۔

توبہ سے متعلق اکثر آیات خداوندعالم کی دو صفات ”غفور“ و ”رحیم“ پر ختم ہوتی ہیں ، جس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم حقیقی توبہ کرنے والے پر اپنی بخشش اوررحمت کے دروازے کھول دیتاھے۔(۱۶۸)

( وَلَوْ انَّ اهل الْقُرَی آمَنُواوَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیهم بَرَكَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْارْضِ ) ۔(۱۶۹)

”اور اگر بستی کے لوگ ایمان لے آتے ہیں اور تقويٰ اختیا رکر لیتے تو ھم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے “۔

”مجمع البیان“ جو ایک گرانقدر تفسیر ہے اس میں ایک بھترین روایت نقل کی گئی ہے:

” ایک شخص حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آکر قحط اور مہنگائی کی شکایت کرتا ہے، اس وقت امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے شخص اپنے گناھوں سے استغفار کرو، ایک دوسرے شخص نے غربت اور نداری کی شکایت کی، اس سے (بھی) امام علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گناھوں سے مغفرت طلب کرو، اسی طرح ایک اور شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کی: مولا دعا کیجئے کہ مجھے خداوندعالم اولاد عطا کرے تو امام علیہ السلام نے اس سے بھی یھی فرمایا: اپنے گناھوں سے استعفار کرو۔

اس وقت آپ کے اصحاب نے عرض کیا: (فرزند رسول!) آنے والوں کی درخواستیں اور شکایات مختلف تھی، لیکن آپ نے سب کو توبہ و استغفار کرنے کاحکم فرمایا! امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے یہ چیز اپنی طرف سے ن ہیں کھی ہے بلکہ سورہ نوح کی آیات سے یھی نتیجہ نکلتا ہے جھاں خداوندعالم نے فرمایا ہے:( استغفروا ربّکم ) (اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرو)، لہٰذا میں نے سبھی کو استغفار کے لئے کھا، تاکہ ان کی مشکلات، توبہ و استغفار کے ذریعہ حل ہوجائیں۔(۱۷۰)

بھر حال قرآن مجید اور احادیث سے واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ توبہ کے منافع و فوائد اس طرح سے ہیں : گناھوں سے پاک ہوجانا، رحمت الٰھی کا نزول، بخشش خداوندی، عذاب آخرت سے نجات، جنت میں جانے کا استحقاق، روح کی پاکیزگی، دل کی صفائی، اعضاء و جوارح کی طھارت، ذلت و رسوائی سے نجات، باران نعمت کا نزول، مال و دولت اور اولاد کے ذریعہ امداد، باغات او رنھروں میں برکت، قحطی، مہنگائی اور غربت کا خاتمہ۔

____________________

۹۵. سورہ طہ آیت ۸۲۔

۹۶. (ورہ مومن (غافر)آیت ۳۔

۹۷. سورہ زمر آیت ۵۳۔

۹۸. سورہ زمر آیت، ۵۸۔

۹۹. سورہ زمر آیت، ۵۹۔

۱۰۰. سورہ زمر آیت، ۴۷۔

۱۰۲. اصول کافی ج، ص۷۲۔

۱۰۳. سورہ بقرہ آیات ۳۳ تا ۳۵۔

۱۰۴. ((وَیاآدَمُ اسْكُنْ انْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلاَمِنْ حَیثُ شِئْتُمَا وَلاَتَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنْ الظَّالِمِینَ ))سورہ اعراف آیت نمبر۱۹۔

۱۰۵. ((فَوَسْوَسَ لَهما الشَّیطَانُ لِیبْدِی لَهما مَا وُورِی عَنْهما مِنْ سَوْآتِهما وَقَالَ مَا نَهاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ انْ تَكُونَا مَلَكَینِ اوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِینَ وَقَاسَمَهما إِنِّی لَكُمَا لَمِنْ النَّاصِحِینَ )) سورہ اعراف آیت نمبر۲۰۔۲۱۔

۱۰۶. ((فَدَلاَّهما بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهما سَوْآتُهما وَطَفِقَا یخْصِفَانِ عَلَیهما مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهما رَبُّهما الَمْ انْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّیطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِینٌ ))سورہ اعراف آیت نمبر۲۲۔

۱۰۷. سورہ اعراف آیت ۳۲۔

۱۰۸. سورہ بقرہ آیت ۳۷۔

۱۰۹. مجمع البیان، ج۱، ص۱۱۲؛بحار الانوار ج۱۱، ص۱۵۷، باب۳۔

۱۱۰. مجمع البیان، ج۱، ص۱۱۳؛بحار الانوار ج۱۱، ص۱۵۷، باب۳۔

۱۱۱. سورہ طہ آیت، ۱۲۲۔

۱۱۲. بحار الانوار ج ۹۴، ص ۳۲۸ باب ۲۔

۱۱۳. سورہ بقرہ آیت ۸۱۔

۱۱۴. سورہ کہف آیت، ۱۰۳۔۱۰۵۔

۱۱۵. سورہ بقرہ آیت ۱۰۔

۱۱۶. سورہ مائدہ آیت ۵۳۔

۱۱۷. سورہ توبہ آیت ۱۲۵۔

۱۱۸. سورہ نساء آیت، ۱۰۔

۱۱۹. سورہ بقرہ آیت ۱۷۴۔۱۷۵۔

۱۲۰. سورہ ابراھیم آیت، ۱۸۔

۱۲۱. معا نی الاخبار ۲۷۰، باب معنی الذنوب التی تغیر النعم، حدیث ۲؛وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۲۸۱، باب ۴۱، حدیث ۲۱۵۵۶؛ بحار الانوار، ج۷۰، ص۳۷۵، باب ۱۳۸، حدیث ۱۲۔

۱۲۲. نہج البلاغہ، حکمت ۸۴۲، حکمت ۲۹۰؛بحار الانوار ج۷۰، ص۳۶۴، باب ۱۳۷، حدیث ۹۶۔

۱۲۳. نہج البلاغہ، ۸۷۸حکمت ۴۱۷؛وسائل الشیعہ ج۱۶، ص۷۷، باب ۸۷، حدیث ۲۱۰۲۸؛بحار الانوارج۶، ص۳۶، باب ۲۰، حدیث۵۹۔

۱۲۴. کنزالفوائد ج۱، ص۳۳۰، فصل حدیث عن الامام الرضا(ع)؛بحار الانوار ج۷۵، ص۳۵۶، باب ۲۶، حدیث۱۱۔

۱۲۵. نہج البلاغہ، ۸۷۷، حکمت ۴۱۵؛غرر الحکم، ص۱۳۵، الدنیا دارالغرور، حدیث ۲۳۴۷؛روضة الواعظین ج۲ص۴۴۱، مجلس فی ذکر الدنیا۔

۱۲۶. ارشادالقلوب ج۱، ص۲۰۰، باب ۵۴؛ بحار الا نوارج۷۴، ص۲۳، باب ۲، حدیث۶۔

۱۲۷. سورہ بقرہ آیت ۲۲۲۔

۱۲۸. (۲)سورہ غافر(مومن)آیت ۷تا ۹۔

۱۲۹. سورہ فرقان آیت ۶۸تا۷۰۔

۱۳۰. کافی ج۲ص۴۳۲، حدیث ۵؛بحا الانوار ج۶، ص۳۹، باب۲۰، حدیث۷۰۔

۱۳۱. سورہ ہود آیت ۳۔

۱۳۲. سورہ نور آیت ۳۱۔

۱۳۳. مفردات راغب ص۶۴، مادہ (فلح)۔

۱۳۴. سورہ تحریم آیت ۸۔

۱۳۵. سورہ بقرہ آیت، ۱۶۰۔

۱۳۶. سورہ نساء آیت ۱۷۔

۱۳۷. سورہ مائدہ آیت ۳۹۔

۱۳۸. سورہ اعراف آیت ۱۵۳۔

۱۳۹. سورہ توبہ آیت ۱۱۔

۱۴۰. سورہ توبہ آیت ۱۰۴۔

۱۴۱. سورہ شوری آیت ۲۵۔

۱۴۲. سورہ غافر(مومن)آیت ۳۔

۱۴۳. سورہ یوسف آیت ۸۷۔

۱۴۴. سورہ مائدہ آیت ۶۴۔

۱۴۵. ((لاَجَرَمَ انَّ اللهَ یعْلَمُ مَا یسِرُّونَ وَمَا یعْلِنُونَ إِنَّهُ لاَیحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِینَ ))سورہ نحل آیت نمبر۲۳۔((إِنَّ اللهَ یدَافِعُ عَنْ الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ اللهَ لاَیحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ ))سورہ حج آیت ۳۸۔((إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَی فَبَغَی عَلَیهم وَآتَینَاهُ مِنْ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ اولِی الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لاَتَفْرَحْ إِنَّ اللهَ لاَیحِبُّ الْفَرِحِینَ ))سورہ قصص آیت ۶۷۔((وَلاَتُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلاَتَمْشِ فِی الْارْضِ مَرَحًا إِنَّ اللهَ لاَیحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ))سورهٴ لقمان آیت ۱۸((لِكَیلاَتَاسَوْا عَلَی مَا فَاتَكُمْ وَلاَتَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ وَاللهُ لاَیحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ))سورہ حدید آیت ۲۳۔

۱۴۶. سورہ حجرات آیت ۱۱۔

۱۴۷. سورہ بروج آیت ۱۰۔

۱۴۸. سورہ نساء آیت ۱۸۔

۱۴۹. سورہ آل عمران آیت ۹۰۔

۱۵۰. ”عن ابی جعفر علیه السلام قال:ان آدم علیه السلام قال :یارب ! سلطت علی الشیطان واجریته منی مجری الدم فاجعل لی شیئا فقال:یا آدم !جعلت لک ان من هم من ذریتک بسیئة لم تکتب علیه فان عملها کتبت علیه سیئة ومن هم منهم بحسنة فان لم یعملها کتبت له حسنة وان هو عملها کتبت له عشرا، قال:یا رب! زدنیقال: جعلت لک ان من عمل منهم سیئة ثم استغفر غفرت له قال: یارب ! زدنی قال: جعلت لهم التوبة وبسطت لهم التوبة حتی تبلغ النفس هذه قال:یا رب!حسبی “۔

۱۵۱.عن ابی عبد الله علیه السلام قال :قال رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم من تاب قبل موته قبل الله توبته ثم قال :ان السنة الکثیرة، من تاب قبل موته بشهر قبل الله توبته، ثم قال:ان الشهر لکثیر، من تاب قبل موته بجمعة قبل الله توبته ثم قال:ان الجمعة لکثیرة، من تاب قبل موته بیوم قبل الله توبته، ثم قال:ان الیوم لکثیر، من تاب قبل ان یعاین قبل الله توبته “۔

۱۵۲. دعوات راوندی، ص۲۳۷، فصل فی ذکر الموت ؛بحار الانوار، ج۶، ص۱۹، باب۲۰، حدیث۵۔

۱۵۳. نہج البلاغہ ص۸۶۳، حکمت ۳۷۱، من لایحضرہ الفقیہ ج۳، ص۵۷۴، باب معرفة الکبائر التی او عداللہ، حدیث ۴۹۶۵؛ بحار الانوار ج۶، ص۱۹، باب ۲۰، حدیث۶۔

۱۵۴. عوالی اللئالی ج۱، ص۲۳۷، الفصل التاسع، حدیث ۱۵۰؛مستدرک الوسائل ج ۱۲، ص۱۲۹، باب ۸۶، حدیث ۱۳۷۰۶؛ میزان الحکمہ، ج۲، ص۶۳۶، التوبة، حدیث۲۱۱۱ ۔

۱۵۵. غرر الحکم ص۱۹۵، آثار التوبة، حدیث ۳۸۳۵؛مستدرک الوسائل ج ۱۲، ص۱۲۹، باب ۸۶، حدیث ۱۳۷۰۷؛میزان الحکمہ، ج۲، ص۶۳۶، التوبة، حدیث ۲۱۱۲۔

۱۵۶. خصال ج۲، ص۶۲۳، حدیث ۱۰؛بحار، ج۶، ص۲۱، باب ۲۰، حدیث ۱۴۔

۱۵۷. عیون اخبارالرضاج۲، ص۲۹، باب۳۱، حدیث۳۳؛جامع الاخبارص۸۵، الفصل الحادی والاربعون فی معرفة المومن؛ وسائل الشیعہ ج۱۶، ص۷۵، باب ۸۶، حدیث ۲۱۰۲۱۔

۱۵۸. عیون اخبار الرضا ج۲، ص۷۴، باب ۳۱، حدیث ۳۴۷؛وسائل الشیعہ ج۱۶، ص۷۵، باب ۸۶، حدیث ۲۱۰۲۲؛بحار، ج۶، ص۲۱، باب ۲۰، حدیث ۱۶۔

۱۵۹. معانی الاخبار ص۱۷۴، باب معنی التوبة النصوح، حدیث ۳؛وسائل الشیعہ ج۱۶، ص۷۷، باب ۸۷، حدیث ۲۱۰۲۷؛ بحارالانوار، ج۶، ص۲۲، باب ۲۰، حدیث۲۳۔

۱۶۰. کنزل العمال ص۱۰۱۶۵؛میزان الحکمہ، ج۲، ص۶۳۶، التوبہ، حدیث ۲۱۲۳۔

۱۶۱. جامع الاخبار، ۸۷، الفصل الخامس والاربعون فی التوبة، مستدرک الوسائل ج۱۲، ص۱۳۰، باب ۸۷، حدیث ۱۳۷۰۹۔

۱۶۲. غرر الحکم ص۱۹۴، حدیث ۳۷۷۷؛مستدرک الوسائل ج۱۲، ص۱۳۷، باب ۸۷، حدیث ۱۳۷۱۵۔

۱۶۳. ثواب الاعمال ص۱۷۹، ثواب التوبة؛بحارالانوارج۶، ص۲۸، باب۲۰، حدیث۳۲۔

۱۶۴. ثواب الاعمال، ۱۳۰، ثواب من اذنب ذنباًثم رجع و تاب؛وسائل الشیعہ ج۱۶، ۷۴، باب ۸۶، حدیث۲۱۰۱۷۔

۱۶۵. جامع الاخبار ص۸۸، الفصل الخامس والاربعون فی التوبة ؛بحار الانوار ج۶، ص۳۵، باب۲۰، حدیث۵۲؛مستدرک الوسائل ج۱۲، ص۱۳۱، باب ۸۷، حدیث ۱۳۷۰۹۔قارئین کرام! اس روایت میں جن چیزوں کے بدلنے کا حکم ہوا ہے ان سے وہ چیزیں مراد ہیں جو حرام طریقہ سے حاصل کی گئی ہوںیا حرام چیزوں سے متعلق ہوں۔

۱۶۶. سورہ نوح آیت ۱۰۔۱۲۔

۱۶۷. سورہ تحریم آیت ۸۔

۱۶۸. آل عمران، ۸۹۔مائدہ، ۳۴۔اعراف، ۱۵۳۔توبہ، ۱۰۲۔نور، ۵۔

۱۶۹. سورہ اعراف آیت ۹۶۔

۱۷۰. مجمع البیان ج۱۰، ص۳۶۱؛وسائل الشیعہ ج۷، ص۱۷۷، باب ۲۳، حدیث ۹۰۵۵۔


توبہ کرنے والوں کے واقعات

( لَقَدْ كَانَ فِی قَصَصِهم عِبْرَةٌ لِاوْلِی الْالْبَابِ ) (۱۷ ۱ )

”یقینا ان کے واقعات صاحبان عقل کے لئے عبرت ہیں “۔

ایک نمونہ خاتون

آسیہ، فرعون کی زوجہ تھی، وہ فرعون جس میں غرور و تکبر کا نشہ بھرا تھا، جس کا نفس شریر تھا اور جس کے عقائد اور اعمال باطل وفاسد تھے۔

قرآن مجید نے فرعون کو متکبر، ظالم، ستم گر اور خون بھانے والے کے عنوان سے یاد کیا ہے اور اس کو ”طاغوت“ کا نام دیا ہے۔

آسیہ، فرعون کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھی، اور فرعونی حکومت کی ملکہ تھی، تمام چیزیں اس کے اختیار میں ت ہیں ۔

وہ بھی اپنے شوھر کی طرح فرمانروائی کرتی تھی، اور اپنی مرضی کے مطابق ملکی خزانہ سے فائدہ اٹھاتی تھی۔

ایسے شوھر کے ساتھ زندگی، ایسی حکومت کے ساتھ ایسے دربار کے اندر، اس قدر مال و دولت، اطاعت گزار غلام او رکنیزوں کے ساتھ میں اس کی ایک بھترین زندگی تھی۔

ایک جوان اور قدرتمند خاتون نے اس ماحول میں پیغمبر الٰھی جناب موسی بن عمران کے ذریعہ الٰھی پیغام سنا، اس نے اپنے شوھر کے طور طریقے اور اعمال کے باطل ہونے کو سمجھ لیا، چنانچہ نور حقیقت اس کے دل میں چمک اٹھا۔

حالانکہ اس کو معلوم تھا کہ ایمان لانے کی وجہ سے اس کی تمام خوشیاں اور مقام و منصب چھن سکتا ہے یھاں تک کہ جان بھی جاسکتی ہے، لیکن اس نے حق کو قبول کرلیا اور وہ خداوندمھربان پر ایمان لے آئی، اور اپنے گزشتہ اعمال سے توبہ کرلی اور نیک اعمال کے ذریعہ اپنی آخرت کو آباد کرنے کی فکر میں لگ گئی۔

اس کا توبہ کرنا کوئی آسان کام ن ہیں تھا، اس کی وجہ سے اسے اپنا تمام مال و دولت اور منصب ترک کرنا پڑا، اور فرعون و فرعونیوں کی ملامت ضرب و شتم کو برداشت کرنا پڑا، لیکن پھر بھی وہ توبہ، ایمان، عمل صالح اور ہدایت کی طرف قدم آگے بڑھاتی رھی۔

جناب آسیہ کی توبہ، فرعون اور اس کے درباریوں کو ناگوار گزری، کیونکہ پورے شھر میں اس بات کی شھرت ہوگئی کہ فرعون کی بیوی اور ملکہ نے فرعونی طور طریقہ کو ٹھکراتے ہوئے مذھب کلیم اللہ کو منتخب کرلیا ہے، سمجھا بجھاکر، ترغیب دلاکراور ڈرا دھمکاکر بھی آسیہ کے بڑھتے قدم کو ن ہیں روکا جاسکتا تھا، وہ اپنے دل کی آنکھوں سے حق کو دیکھ کر قبول کرچکی تھی، اس نے باطل کے کھوکھلے پن کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا، لہٰذا حق و حقیقت تک پہنچنے کے بعد اس کو ھاتھ سے ن ہیں کھوسکتی تھی اور کھوکھلے باطل کی طرف ن ہیں لوٹ سکتی تھی۔

جی ھاں، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کو فرعون سے، حق کو باطل سے، نور کو ظلمت سے، صحیح کو غلط سے، آخرت کو دنیا سے، بہشت کو دوزخ سے، اورسعادت کو بدبختی سے بدل لے۔

جناب آسیہ نے اپنے ایمان، توبہ و استغفار پر استقامت کی، جبکہ فرعون دوبارہ باطل کی طرف لوٹا نے کے لئے کوشش کررھا تھا۔

فرعون نے جناب آسیہ سے مقابلہ کی ٹھان لی، غضبناک ہوا، اس کے غضب کی آگ بھڑک اٹھی، لیکن آسیہ کی ثابت قدمی کے مقابلہ میں ھار گیا، اس نے آسیہ کو شکنجہ دینے کا حکم دیا، اور اس عظیم خاتون کے ھاتھ پیر کو باندھ دیا، اور سخت سے سخت سزا دینے کے بعد پھانسی کا حکم دیدیا، اس نے اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ اس کے اوپر بڑے بڑے پتھر گرائے جائیں، لیکن جناب آسیہ نے دنیا و آخرت کی سعادت و خوشبختی حاصل کرنے کے لئے صبر کیا، اور ان تمام سخت حالات میں خدا سے لَو لگائے رکھی۔

جناب آسیہ کی حقیقی توبہ، ایمان و جھاد، صبر و استقامت، یقین اور مستحکم عزم کی وجہ سے قرآن مجید نے ان کو قیامت تک مومن و مومنات کے لئے نمونہ کے طور پر پہنچوایا ہے، تاکہ ھر زمانہ کے گناھگار کے لئے عذر و بھانہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے اور کوئی یہ نہ کہہ دے کہ توبہ، ایمان اور عمل صالح کا کوئی راستہ باقی ن ہیں رھا تھا۔

( وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذینَ آمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعُوْنَ اِذْقالَتْ رَبِّ ابْنِ لی عِنْدَكَ بَیتاً فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّني مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَنَجِّنی مِنَ الْقَوْمِ الظّالِمینَ ) ۔(۱۷۲)

”اورخد ا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے درباریوںسے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا فرمادے “۔

توبہ، ایمان، صبر اور استقامت کی بنا پر اس عظیم الشان خاتون کا مرتبہ اس بلندی پر پہنچا ہوا تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے بارے میں فرمایا:

اِشْتاقَتِ الْجَنَّةُ اِلٰی اَرْبَعٍ مِنَ النِّساءِ :مَرْیمَ بِنْتِ عِمْرانَ، وَآسِیةَ بِنْتِ مُزاحِمٍ زَوْجَةِ فِرْعَوْنَ، وَخَدیجَةَ بِنْتِ خُوَیلَدٍزَوْجَةِ النَّبِی فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ، وَ فاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ :“۔(۱۷۳)

”جنت چار عورتوں کی مشتاق ہے، مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون، خدیجہ بنت خویلد دنیا و آخرت میں ھمسر پیغمبر، اور فاطمہ بنت محمد ۔“

”شعوانہ“ کی توبہ

مرحوم ملا احمد نراقی اپنی عظیم الشان اخلاقی کتاب ”معراج السعادة“ میں حقیقی توبہ کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب واقعہ بیان کرتے ہیں :

شعوانہ ایک جوان رقّاصہ عورت تھی، جس کی آواز نھایت سریلی تھی، لیکن اس کو حلال و حرام پر کوئی توجہ ن ہیں تھی، شھر بصرہ کے مالداروں کے یھاں فسق و فجور کی کوئی ایسی محفل نہ تھی جس میں شعوانہ بلائی نہ جاتی ہو، وہ ان محفلوں میں ناچ گانا کیا کرتی تھی، یھی ن ہیں بلکہ اس کے ساتھ کچھ لڑکیاں اور عورتیں بھی ہوتی ت ہیں ۔

ایک روز اپنے سھیلیوںکے ساتھ ایسی ہی محفلوں میں جانے کے لئے ایک گلی سے گزر رھی تھی کہ اچانک دیکھا کہ ایک گھر سے نالہ و شیون کی آواز آرھی ہے، اس نے تعجب کے ساتھ سوال کیا: یہ کیسا شور ہے؟ اور اپنی ایک سھیلی کو حالات معلوم کرنے کے لئے بھیج دیا، لیکن بھت دیر انتظار کے بعد بھی وہ نہ پلٹی، اس نے دوسری سھیلی کو بھیجا، لیکن وہ بھی واپس نہ آئی، تیسری کو بھی روانہ کیا اور ہدایت کردی کہ جلد لوٹ کر آنا، چنانچہ جب وہ گئی اور تھوڑی دیر بعد لوٹ کر آئی تو اس نے بتایا کہ یہ سب نالہ و شیون بدکار اور گناھگارافراد کا ہے!

شعوانہ نے کھا: میں خود جاکر دیکھتی ہوں کیا ہورھا ہے۔

جیسے ہی وہ وھاں پہنچی اور دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کو وعظ کررہے ہیں ، اور اس آیہ شریفہ کی تلاوت کررہے ہیں :

( إِذَا رَاتْهم مِنْ مَكَانٍ بَعِیدٍ سَمِعُوا لَها تَغَیظًا وَزَفِیرًا وَإِذَا الْقُوا مِنْها مَكَانًا ضَیقًا مُقَرَّنِینَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا ) ۔(۱۷۴)

”جب آتش (دوزخ) ان لوگوں کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کی آوازیں سنیں گے۔ اور جب ان ہیں زنجیروں میں جکڑ کر کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا تو وھاں موت کی دھائی دیں گے“۔

جیسے ہی شعوانہ نے اس آیت کو سنا اور اس کے معنی پر توجہ کی، اس نے بھی ایک چیخ ماری اور کھا: اے واعظ! میں بھی ایک گناھگار ہوں، میرا نامہ اعمال سیاہ ہے، میں بھی شرمندہ اور پشیمان ہوں، اگر میں توبہ کروں تو کیا میری توبہ بارگاہ الٰھی میں قبول ہوسکتی ہے؟

واعظ نے کھا: ھاں، تیرے گناہ بھی قابل بخشش ہیں ، اگرچہ شعوانہ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں!

اس نے کھا: وائے ہو مجھ پر، ارے میں ہی تو”شعوانہ “ھوں، افسوس کہ میں کس قدر گناھوں سے آلودہ ہوں کہ لوگوں نے مجھے گناھگار کی ضرب المثل بنادیا ہے!!

اے واعظ! میںتوبہ کرتی ہوں اور اس کے بعدکوئی گناہ نہ کروں گی، اور اپنے دامن کو گناھوں سے بچاؤں گی اورگناھگاروں کی محفل میں قدم ن ہیں رکھوں گی۔

واعظ نے کھا: خداوندعالم تیری نسبت بھی”ارحم الراحمین“ ہے۔

واقعاً شعوانہ نے توبہ کرلی، عبادت و بندگی میں مشغول ہوگئی، گناھوں سے پیدا ہوئے گوشت کو پگھلادیا، سوز جگر، اور دل کی تڑپ سے آہ وبکاکرتی تھی : ھائے ! یہ میری دنیا ہے، تو آخرت کا کیا عالم ہوگا، لیکن اس نے اپنے دل میں ایک آواز کا احساس کیا: خدا کی عبادت میں مشغول رہ، تب آخرت میں دیکھنا کیا ہوتا ہے۔

میدان جنگ میں توبہ

”نصر بن مزاحم“ کتاب واقعہ صفین میں نقل کرتے ہیں : ھاشم مرقال کھتے ہیں : جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے چند قاریان قرآن شریک تھے، معاویہ کی طرف سے طائفہ ”غسّان“ کا ایک جوان میدان میں آیا، اس نے رجز پڑھا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جسارت کرتے ہوئے مقابلہ کے لئے للکارا، مجھے بھت زیادہ غصہ آیا کہ معاویہ کے غلط پروپیگنڈے نے اس طرح لوگوں کو گمراہ کررکھا ہے، واقعاً میرا دل کباب ہوگیا، میں نے میدان کا رخ کیا، اور اس غافل جوان سے کھا: اے جوان! جو کچھ بھی تمھاری زبان سے نکلتا ہے، خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب و کتاب ہوگا، اگر خداوندعالم نے تجھ سے پوچھ لیا :

علی بن ابی طالب سے کیوں جنگ کی ؟ تو کیا جواب دے گا؟

چنانچہ اس جوان نے کھا:

میں خدا کی بارگاہ میں حجت شرعی رکھتا ہو کیونکہ میری تم سے جنگ علی بن ابی طالب کے بے نمازی ہونے کی وجہ سے ہے!

ھاشم مرقال کھتے ہیں : میں نے اس کے سامنے حقیقت بیان کی، معاویہ کی مکاری اور چال بازیوں کو واضح کیا۔ جیسے ہی اس نے یہ سب کچھ سنا، اس نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کی، اور توبہ کی، اور حق کا دفاع کرنے کے لئے معاویہ کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گیا۔

ایک یھودی نو جوان کی توبہ

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

ایک یھودی نوجوان اکثر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اس کی آمد و رفت پر کوئی اعتراض ن ہیں کیا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تو اس کو کسی کام کے لئے بھیج دیا کرتے تھے، یا اس کے ھاتھوں قوم یھود کو خط بھیج دیا کرتے تھے۔

لیکن ایک مرتبہ وہ چند روز تک نہ آیا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کے بارے میں سوال کیا، تو ایک شخص نے کھا: میں نے اس کو بھت شدید بیماری کی حالت میں دیکھا ہے شاید یہ اس کا آخری دن ہو، یہ سن کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چند اصحاب کے ساتھ اس کی عیادت کے تشریف لئے گئے، وہ کوئی گفتگو ن ہیں کرتا تھا لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وھاں پہنچے تو وہ آپ کا جواب دینے لگا، چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس جوان کو آواز دی، اس جوان نے آنک ہیں کھولی اور کھا: لبیک یا ابا القاسم! آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کھو: ”اشہد ان لا الہ الا الله، وانی رسول الله“۔

جیسے ہی اس نوجوان کی نظر اپنے باپ کی (ترچھی نگاھوں) پر پڑی، وہ کچھ نہ کہہ سکا، پیغمبر اکرم نے اس کو دوبارہ شھادتین کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی اپنے باپ کی ترچھی نگاھوں کو دیکھ کر خاموش رھا، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تیسری مرتبہ اس کو یھودیت سے توبہ کرنے اور شھادتین کو قبول کرنے کی دعوت دی، اس جوان نے ایک بار پھر اپنے باپ کی چھرے پر نظر ڈالی، اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر تیری مرضی ہے تو شھادتین قبول کرلے ورنہ خاموش رہ، اس وقت جوان نے اپنے باپ پر توجہ کئے بغیر اپنی مرضی سے شھادتین کہہ دیں اور اس دنیا سے رخصت ہوگیا! پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس جوان کے باپ سے فرمایا: اس جوان کے لاشے کو ھمارے حوالے کردو، اور پھر اپنے اصحاب سے فرمایا: اس کو غسل دو، کفن پہناؤ، اور میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس پر نماز پڑھوں، اس کے بعد اس یھودی کے گھر سے نکل آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کھتے جاتے تھے: خدایا تیرا شکر ہے کہ آج تو نے میرے ذریعہ ایک نوجوان کو آتش جہنم سے نجات دیدی!(۱۷۵)

ایک دھاتی کی بت پرستی سے توبہ

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی جنگ کے لئے تشریف لے جارہے تھے، ایک مقام پر اپنے اصحاب سے فرمایا: راستے میں ایک شخص ملے گا، جس نے تین دن سے شیطان کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی ہے، چنانچہ اصحاب ابھی تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ اس بیابان میں ایک شخص کو د یکھا، اس کا گوشت ہڈیوں سے چھپکا ہوا تھا، اس کی آنک ہیں دھنسی ہوئی ت ہیں ، اس کے ہونٹ جنگل کی گھاس کھانے کی وجہ سے سبز ہوچکے تھے، جیسے ہی وہ شخص آگے بڑھا، اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں معلوم کیا، اصحاب نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعارف کرایا، چنانچہ اس شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے درخواست کی: مجھے اسلام تعلیم فرمائےے: تو آپ نے فرمایا: کھو: ”اشهد ان لا اله الا الله، و انی رسول الله “۔چنانچہ اس نے ان دونوں شھادتوں کا اقرار کیا، آپ نے فرمایا: پانچوں وقت کی نماز پڑھنا، ماہ رمضان المبارک میں روزے رکھنا، اس نے کھا: میں نے قبول کیا، فرمایا: حج کرنا، زکوٰة ادا کرنا، اور غسل جنابت کرنا، اس نے کھا: میں نے قبول کیا۔

اس کے بعد آگے بڑھ گئے، وہ بھی ساتھ تھا لیکن اس کا اونٹ پیچھے رہ گیا، رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رک گئے، اور اصحاب اس کی تلاش میں نکل گئے، لشکر کے آخر میں دیکھا کہ اس کے اونٹ کا پیر جنگلی چوھوں کے بِل میں دھنس گیا ہے اور اس کی اور اس کے اونٹ کی گردن ٹوٹ گئی ہے، اور دونوں ہی ختم ہوگئے ہیں ، چنانچہ یہ خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچی۔

جیسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ خبر ملی فوراً حکم دیا، ایک خیمہ لگایا جائے اور اس کو غسل دیا جائے، غسل کے بعد خود آنحضرت خیمہ میں تشریف لے گئے اور اس کو کفن پہنایا، خیمہ سے باھر نکلے، اس حال میں کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ ٹپک رھا تھا، اور اپنے صحاب سے فرمایا: یہ دیھاتی شخص بھوکا اس دنیا سے گیا ہے، یہ وہ شخص تھا جو ایمان لایا، اور اس نے ایمان کے بعد کسی پر ظلم و ستم ن ہیں کیا، اپنے کو گناھوں سے آلودہ نہ کیا، جنت کی حوریں بہشتی پھلوں کے ساتھ اس کی طرف آئیں اور پھلوں سے اس کا منھ بھردیا، ان میں ایک حور کھتی تھی: یا رسول اللہ! مجھے اس کی زوجہ قرار دیں، دوسری کھتی تھی: مجھے اس کی زوجہ قرار دیں!(۱۷۶)

شقیق بلخی کی توبہ

شقیق ”بلخ“ ایک مالدار شخص کا بیٹا تھا، وہ تجارت کے لئے ”روم“جایا کرتا تھا، اور روم کے شھروں میں سیر و تفریح کے لئے جایا کرتا تھا، چنانچہ ایک بار روم کے کسی شھر میں بت پرستوں کا پروگرام دیکھنے کے لئے بت خانہ میں گیا، دیکھا کہ بت خانہ کا ایک خادم اپنا سرمنڈوائے ہوئے اور ارغوانی لباس پہنے ہوئے خدمت کررھا ہے، اس سے کھا: تیرا خدا صاحب علم و حکمت اور زندہ ہے، لہٰذا اسی کی عبادت کر، اور ان بے جان بتوں کی عبادت چھوڑ دے کیونکہ یہ کوئی نفع یا نقصان ن ہیں پہنچاتے۔ اس خادم نے جواب دیا: اگر انسان کا خدازندہ اور صاحب علم ہے تو وہ اس بات کی بھی قدرت رکھتا ہے کہ تجھے تیرے شھر میں روزی دے سکے، پھر تو کیوںمال و دولت حاصل کرنے کے لئے یھاں آیا ہے اور یھاں پر اپنے وقت اور پیسوں کو خرچ کرتا ہے؟

شقیق سادھو کی باتیں سن کر خواب غفلت سے بیدار ہوگئے، اور دنیا پرستی سے کنارہ کشی کرلی، توبہ و استغفار کیا، چنانچہ اس کا شمار زمانہ کے بڑے عرفاء میں ہونے لگا۔

کھتے ہیں : میں نے ۷۰۰ دانشورں سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کیا، سب نے دنیا کی مذمت کے بارے میں ہی بتایا: میں نے پوچھا عاقل کون ہے؟ جواب دیا: جو شخص دنیا کا عاشق نہ ہو، میں نے سوال کیا: ہوشیار کون ہے؟ جواب دیا: جو شخص دنیا (کی دولت) پر مغرور نہ ہو، میں نے سوال کیا: ثروتمند کون ہے؟ جواب ملا: جو شخص خدا کی عطا پر خوش رہے ، میں نے معلوم کیا: نادار کون ہے؟ جواب دیا: جو شخص زیادہ طلب کرے، میں نے پوچھا: بخیل کون ہے؟ تو سب نے کھا: جو شخص حق خدا کو غریبوں اور محتاجوں تک نہ پہنچائے۔(۱۷۷)

فرشتے اور توبہ کرنے والوں کے گناہ

سورہ توبہ کی آیات کی تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ فرشتے گناھگار کے گناھوں کو لوح محفوظ پر پیش کرتے ہیں ، لیکن وھاں پر گناھوں کے بدلے حسنات اور نیکیاں دیکھتے ہیں ، فوراً سجدہ میں گرجاتے ہیں ، اور بارگاہ الٰھی میں عرض کرتے ہیں : جو کچھ اس بندے نے انجام دیا تھا ھم نے وھی کچھ لکھا تھا لیکن اب ھم یھاں وہ ن ہیں دیکھ رہے ہیں ! جواب آتا ہے: صحیح کھتے ہو، لیکن میرا بندہ شرمندہ اور پشیمان ہوگیا اور روتا ہوا گڑگڑاتا ہوا میرے در پر آگیا، میں نے اس کے گناھوں کو بخش دیا اور اس سے درگزر کیا، میں نے اس پر اپنا لطف و کرم نچھاور کردیا، میں ”اکرم الاکرمین“ھوں۔(۱۷۸)

گناھگار اور توبہ کی مھلت

جس وقت شیطان لعنت خدا کا مستحق قرار دیا گیا تو اس نے خداوندعالم سے روز قیامت تک کی مھلت مانگی، اللہ نے کھا: ٹھیک ہے مگر یہ مھلت لے کر تو کیا کرے گا؟ جواب دیا: پروردگارا! میں آخری وقت تک تیرے بندوں سے دور ن ہیں ہوں گا، یھاں تک کہ اس کی روح پرواز کرجائے، آواز آئی: مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم، میں بھی اپنے بندوں کے لئے آخری وقت تک درِ توبہ کو بند ن ہیں کروں گا۔(۱۷۹)

گناھگار اور توبہ کی امید

ایک نیک اور صالح شخص کو دیکھا گیا کہ بھت زیادہ گریہ و زاری کررھا ہے، لوگوںنے گریہ و زاری کی وجہ پوچھی؟ تو اس نے کھا: اگر خداوندعالم مجھ سے یہ کھے کہ تجھے گناھوں کی وجہ سے گرم حمّام میں ھمیشہ کے لئے قید کردوں گا، تو یھی کافی ہے کہ میری آنکھوں کے آنسو خشک نہ ہوں، لیکن کیا کیا جائے کہ اس نے گناھگاروں کو عذاب جہنم کا مستحق قرار دیا ہے، وہ جہنم جس کی آگ کو ہزار سال بھڑکایا گیا یھاں تک کہ وہ سرخ ہوئی، ہزار سال تک اس کو سفید کیا گیا، اور ہزار سال اس کو پھونکا گیا یھاں تک کہ سیاہ ہوگئی، تو پھر میں اس میں کیسے رہ سکتا ہوں؟ اس عذاب سے نجات کی امید صرف خداوندعالم کی بارگاہ میں توبہ و استغفار اور عذر خواھی ہے۔(۱۸۰)

ایک سچا آدمی اور توبہ کرنے والا چور

”ابو عمر زجاجی “ایک نیک اور صالح انسان تھے، موصوف کھتے ہیں کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا، ان کی میراث میں مجھے ایک مکان ملا، میں نے اس مکان کو بیچ دیا اور حج کرنے کے لئے روانہ ہوگیا، جس وقت سر زمین ”نینوا“پر پہنچا تو ایک چور سامنے آیا اور مجھ سے کھا: کیا ہے تمھارے پاس؟

چنانچہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ سچائی اور صداقت ایک پسندیدہ چیزھے، جس کا خداوندعالم نے حکم دیا ہے، اچھا ہے کہ اس چور سے بھی حقیقت اور سچ بات کھوں، چنانچہ میں نے کھا: میری تھیلی میں پچاس دینا ر سے زیادہ ن ہیں ہے، یہ سن کر اس چور نے کھا: لاؤ وہ تھیلی مجھے دو، میں نے وہ تھیلی اس کو دیدی، چنانچہ اس چور نے ان دینار کو گنا اور مجھے واپس کردئے، میں نے اس سے کھا: کیا ہوا؟ اس نے کھا: میں تمھارے پیسے لے جانا چاھتا تھا، لیکن تم تو مجھے لے چلے، اس کے چھرے پرشرمندگی اور پشیمانی کے آثار تھے، معلوم ہورھا تھا کہ اس نے اپنے گزشتہ حالات سے توبہ کرلی ہے، اپنے سواری سے اترا، اور مجھ سے سوار ہونے کے لئے کھا: میں نے کھا: مجھے سواری کی کوئی ضرورت ن ہیں ہے، لیکن اس نے اصرار کیا، چنانچہ میں سوار ہوگیا، وہ پیدل ہی میرے پیچھے پیچھے چل دیا، میقات پہنچ کر احرام باندھا، اور مسجد الحرام کی طرف روانہ ہوئے، اس نے حج کے تمام اعمال میرے ساتھ انجام دئے، اور و ہیں پر اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔(۱۸۱)

ابو بصیر کا پڑوسی

ایک پڑوسی کو اپنے دوسرے پڑوسی کا خیال رکھنا چاہئے، بالکل ایک مھربان بھائی کی طرح، اس کی پریشانیوں میں مدد کرے، اس کی مشکلوں کو حل کرے، زمانہ کے حوادث، بگاڑ سدھار میں اس کا تعاون کرے، لیکن جناب ابوبصیر کا پڑوسی اس طرح ن ہیں تھا، اس کو بنی عباس کی حکومت سے بھت سا پیسہ ملتا تھا، اسی طرح اس نے بھت زیادہ دولت حاصل کرلی تھی۔ ابوبصیر کھتے ہیں : ھمارے پڑوسی کے یھاں چند ناچنے گانے والی کنیزیں تھی، اور ھمیشہ لھو و لعب اور شراب خوری کے محفلیں ہوا کرتی ت ہیں جس میں اس کے دوسرے دوست بھی شریک ہوا کرتے تھے، میں چونکہ اھل بیت علیھم السلام کی تعلیمات کا تربیت یافتہ تھا، لہٰذا میں اس کی اس حرکت سے پریشان تھا، میرے ذہن میں پریشانی رھتی تھی، میرے لئے سخت ناگوار تھا، میں نے کئی مرتبہ اس سے نرم لہجہ میں کھا لیکن اس نے اَن سنی کردی اور میری بات پر کوئی توجہ نہ دی، لیکن میں نے امر بالمعروف او رنھی عن المنکر میں کوئی کوتاھی ن ہیں کی، اچانک ایک دن وہ میرے پاس آیا اور کھا: میں شیطان کے جال میں پھنسا ہوا ہوں، اگر آپ میری حالت اپنے مولا و آقا حضرت امام صادق علیہ السلام سے بیان کرےں شاید وہ توجہ کریں اور میرے سلسلہ میں مسیحائی نظر ڈال کر مجھے اس گندگی، فساد اور بدبختی سے نجات دلائیں۔

ابو بصیر کھتے ہیں : میں نے اس کی باتوں کو سنا، اور قبول کرلیا، ایک مدت کے بعد جب میں مدینہ گیا اور امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا اور اس پڑوسی کے حالات امام علیہ السلام کو سنائے اور اس کے سلسلہ میں اپنی پریشانی کو بھی بیان کیا۔

تمام حالات سن کر امام علیہ السلام نے فرمایا: جب تم کوفہ پہنچنا تو وہ شخص تم سے ملنے کے لئے آئے گا، میری طرف سے اس سے کہنا: اگر اپنے تمام برے کاموں سے کنارہ کشی کرلو، لھو و لعب کو ترک کردو، اور تمام گناھوں کو چھوڑدو تو میں تمھاری جنت کا ضامن ہوں۔

ابوبصیر کھتے ہیں : جب میں کوفہ واپس آیا تو دوست و احباء ملنے کے لئے آئے، اور وہ شخص بھی آیا، کچھ دیر کے بعد جب و ہ جانے لگا تو میں نے اس سے کھا: ذرا ٹھھرو! مجھے تم سے کچھ گفتگو کرنا ہے، جب سب لوگ چلے گئے، اور اس کے علاوہ کوئی باقی نہ رھا، تو میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام کا پیغام اس کو سنایا، اور مزید کھا: امام صادق علیہ السلام نے تجھے سلام کھلوایا ہے!

چنانچہ اس پڑوسی نے تعجب کے ساتھ سوال کیا: تم ہیں خدا کی قسم! کیا واقعاً امام صادق علیہ السلام نے مجھے سلام کھلوایا ہے اور گناھوں سے توبہ کرنے کی صورت میں وہ میرے لئے جنت کے ضامن ہیں !! میں نے قسم کھائی کہ امام علیہ السلام نے یہ پیغام مع سلام تمھارے لئے بھیجا ہے۔

اس نے کھا: یہ میرے لئے کافی ہے، چند روز کے بعد مجھے پیغام بھجوایا کہ میں تم سے ملنا چاھتا ہوں، اس کے گھر پر گیا دق الباب کیا، وہ دروازہ کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا درحالیکہ اس کے بدن پر لباس ن ہیں تھا اور کھا: اے ابوبصیر ! میرے پاس جو کچھ بھی تھا سب کو ان کے مالکوں تک پہنچادیا ہے، مال حرام سے سبکدوش ہوگیا ہوں، اور میں نے اپنے تمام گناھوں سے توبہ کرلی ہے۔

میں نے اس کے لئے لباس کا انتظام کیا، اور کبھی کبھی اس سے ملاقات کے لئے جاتا رھا، اور اگر کوئی مشکل ہوتی تھی تواُس کو بھی حل کرتا رھا، چنانچہ ایک روز مجھے پیغام بھجوایا کہ میں بیمار ہوگیا ہوں، اس کی عیادت کے لئے گیا، چند روز تک بیمار رھا، ایک روز مرنے سے پھلے چند منٹ کے لئے بے ہوش ہوگیا، جیسے ہی ہوش آیا، مسکراتے ہوئے مجھ سے کھا: اے ابوبصیر امام صادق علیہ السلام نے اپنے وعدہ کو وفا کردیا، اور یہ کہہ کر اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔

ابو بصیر کھتے ہیں : میں اس سال حج کے لئے گیا، اعمال حج بجالانے کے بعد زیارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امام صادق علیہ السلام سے ملاقات کے لئے مدینہ منورہ گیا، اور جب امام علیہ السلام سے ملاقات کے لئے مشرف ہوا تو میرا ایک پاؤں حجرہ کے اندر تھا اور ایک پاؤں حجرہ سے باھر اس وقت حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے ابوبصیر! ھم نے تمھارے پڑوسی کے بارے میں کیا ہوا وعدہ پورا کردیا ہے!(۱۸۲)

ایک جیب کترے کی توبہ

حقیر (مولف) ایک شب قم میںفقیہ بزرگوار عارف باللہ، معلم اخلاق مرحوم حاج سید رضا بھاء الدینی کی نماز جماعت میں شریک تھا۔

نماز کے بعد موصوف کی خدمت میں عرض کیا: ھم آپ ھمیں کچھ وعظ و نصیت فرمائےے، چنانچہ موصوف نے جواب میں فرمایا: ھمیشہ خداوندعالم کی ذات پر امید کرو، اور اسی پر بھروسہ رکھو کیونکہ اس کا فیض و کرم دائمی ہے کسی کو بھی اپنی عنایت سے محروم ن ہیں کرتا، کسی بھی ذریعہ اور بھانہ سے اپنے بندوں کی ہدایت اور امداد کا راستہ فراھم کردیتا ہے۔

اس کے بعد موصوف نے ایک حیرت انگیز واقعہ سنایا: شھر ”ارومیہ“ میں ایک قافلہ سالار ھر سال مومنین کو زیارت کے لئے لے جایا کرتا تھا:

اس وقت گاڑیاں نئی نئی چلیں ت ہیں ، یہ گاڑیاں ٹرک کی طرح ہوتی ت ہیں جس پر مسافر اور سامان ایک ساتھ ہی ہوتا تھا، ایک کونے میں سامان رکھا جاتا تھا اور و ہیں مسافر بیٹھ جایا کرتے تھے۔

وہ قافلہ سالار کھتا ہیں : اس سال حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے جانے والے تقریباً۳۰ مومنین نے نام لکھوارکھا تھا، پروگرام طے ہوا کہ آئندہ ہفتہ کے شروع میں یہ قافلہ روانہ ہوجائے گا۔

میں نے شب چھار شنبہ حضرت امام رضا علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ ایک خاص محبت کے ساتھ مجھ سے فرمارہے ہیں : اس سفر میں ”ابراھیم جیب کترے “کو بھی لے کر آنا، میں نیند سے بیدار ہوا تو بھت تعجب ہواکہ کیوں امام علیہ السلام اس مرتبہ اس فاسق و فاجر اور جیب کترے کو (جو لوگوں کے درمیان بھت زیادہ بدنام ہے) اپنی بارگاہ کی دعوت فرمارہے ہیں ، میں نے سوچا کہ یہ میرا خواب صحیح ن ہیں ہے، لیکن دوسری رات میں نے پھر وھی خواب دیکھا، نہ کم نہ زیادہ، لیکن اس دن بھی میں نے اس خواب پر توجہ ن ہیں کی، تیسری رات میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کو عالم رویا میں قدرے ناراحت دیکھا اور ایک خاص انداز میں مجھ سے فرمارہے ہیں : کیوں اس سلسلہ میں کوئی قدم ن ہیں اٹھاتے ہو؟

بھر حال میں جمعہ کے دن اس جگہ گیا جھاں پر فاسد اور گناھگار لوگ جمع ہوتے تھے ان کے درمیان ابراھیم کو ڈھونڈا، سلام کیا اور اس سے مشہد مقدس کی زیارت کرنے کے لئے کھا، لیکن جیسے ہی میں نے مشہد کی زیارت کے لئے کھا تو اس کو بھت تعجب ہوا اور مجھ سے کھا: امام رضا علیہ السلام کا حرم مجھ جیسے گندے لوگوں کی جگہ ن ہیں ہے، وھاں پر تو پاک وپاکیزہ اور صاحبان دل جاتے ہیں ، مجھے اس سفر سے معاف فرمائیں، میں نے بھت اصرار کیا لیکن وہ نہ مانا، آخر کار اس نے غصہ میں کھا: میرے پاس سفر کے اخراجات کے لئے پیسے بھی تو ن ہیں ہیں !! میرے پاس یھی ۳۰ ریال ہیں اور یہ بھی ایک بڑھیا کی جیب سے نکالے ہوئے ہیں ! یہ سن کر میں اس سے کھا: اے برادر! میں تجھ سے سفر کا خرچ ن ہیں لوں گا، تمھارے آنے جانے کا خرچ میرے ذمہ ہے۔

یہ سن کر اس نے قبول کرلیا، اور مشہد جانے کے لئے تیار ہوگیا، ھم نے بروز اتوار قافلہ کی روانگی کا اعلان کردیا۔

چنانچہ حسب پروگرام قافلہ روانہ ہوگیا، ابراھیم جیسے جیب کترے کے ساتھ ہونے پر دوسرے زائرین تعجب کررہے تھے، لیکن کسی نے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ھمت نہ کی۔

ھماری گاڑی کچی سڑک پر روانہ تھی، اور جب ”زیدر“ نامی مقام پر پہنچی جوایک خطرناک جگہ تھی، اور وھاںاکثر زائرین پر راہزنوں کا حملہ ہوتا تھا، دیکھا کہ راہزنوں نے سڑک کو تنگ کردیا اور ھماری گاڑی کے آگے کھڑے ہوگئے، پھر ایک ڈاکو گاڑی میں گھس آیا، اور تمام زائرین کو دھمکی دی: جو کچھ بھی کسی کے پاس ہے وہ اس تھیلے میں ڈال دے، اور کوئی ھم سے الجھنے کی کوشش نہ کرے، ورنہ تو اس کو مار ڈالوں گا!

وہ تمام زائرین اور ڈرائیور کے سارے پیسے لے کر چلتا بنا۔

گاڑی دوبارہ چل پڑی، اور ایک چائے کے ہوٹل پر جارکی، زائرین گاڑی سے اترے اورغم و اندوہ کے عالم میں ایک دوسرے کے پاس بیٹھ گئے، سب سے زیادہ ڈرائیور پریشان تھا، وہ کھتا تھا: میرے پاس نہ یہ کہ اپنے خرچ کے لئے بھی پیسہ ن ہیں رہے بلکہ پٹرول کے لئے بھی پیسے ن ہیں ہیں ، اب کس طرح مشہد تک پہنچا جائے گا، یہ کہہ کر وہ رونے لگا، اس حیرت و پریشانی کے عالم میں اس ابراھیم جیب کترے نے ڈرائیور سے کھا: تمھارے کتنے پیسے وہ ڈاکو لے گیا ہے؟ ڈرائیور نے بتایا اتنے پیسہ میرے گئے ہیں ، ابراھیم نے اس کو اتنے پیسے دیدئے، پھر اسی طرح تمام مسافروں کے جتنے جتنے پیسہ چوری ہوئے تھے سب سے معلوم کرکے ان کو دیدئے، آخر میں اس کے پاس ۳۰ ریال باقی بچے، اور کھا کہ یہ پیسے میرے ہیں ، جو چوری ہوئے تھے، سب نے تعجب سے سوال کیا: یہ سارے پیسے تمھارے پاس کھاں سے آئے؟ اس نے کھا:جس وقت اس ڈاکو نے تم سب لوگوں کے پیسے لے لئے اور مطمئن ہوکر واپس جانے لگا، تو میں نے آرام سے اس کے پیسے نکال لئے، اور پھر گاڑی چل دی، اور ھم یھاں تک پہنچ گئے ہیں ، یہ تمام پیسہ آپ ہی لوگوں کے ہیں ۔

قافلہ سالار کھتا ہے:میں زور زور سے رونے لگا، یہ دیکھ کر ابراھیم نے مجھ سے کھا: تمھارے پیسے تو واپس مل گئے، اب کیوں روتے ہو؟! میں نے اپنا وہ خواب بیان کیا جو تین دن تک مسلسل دیکھتا رھا تھا او رکھاکہ مجھے خواب کا فلسفہ سمجھ میں ن ہیں آرھا تھا، لیکن اب معلوم ہوگیا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی دعوت کس وجہ سے تھی، امام علیہ السلام نے تیرے ذریعہ سے ھم سے یہ خطرہ ڈال دیا ہے۔

یہ سن کر ابراھیم کی حالت بدل گئی، اس کے اندر ایک عجیب و غریب انقلاب پیدا ہوگیا، وہ زور زور سے رونے لگا، یھاں تک کہ ”سلام“ نامی پھاڑی آگئی کہ جھاں سے حضرت امام رضا علیہ السلام کا روضہ دکھائی دیتا ہے، وھاں پہنچ کر ابراھیم نے کھا: میری گردن میں زنجیر باندھ دی جائے، اور حرم امام رضا علیہ السلام میں اسی طرح لے جایا جائے، چنانچہ جیسے جیسے وہ کھتا رھا ھم لوگ انجام دیتے رہے ، جب تک ھم لوگ مشہد میں رہے اس کی یھی حالت رھی، واقعاً عجیب طریقہ سے توبہ کی، اس بڑھیا کے پیسے امام رضا علیہ السلام کی ضریح میں ڈال دئے، امام رضا علیہ السلام کو شفیع قرار دیا تاکہ اس کے گناہ معاف ہوجائےں، تمام زائرین اس کی حالت پر رشک کررہے تھے، ھمارا سفر بخیر و خوشی تمام ہوا، تمام لوگ ارومیہ پلٹ گئے لیکن وہ تائب دیا یار میں رہ گیا!

توسّل اور توبہ

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : میں مسجد الحرام میں ”مقام ابراھیم“ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک ایسا بوڑھا شخص آیا جس نے اپنی سار ی عمر گناھوں میں بسر کی تھی، مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا:

نِعْمَ الشْفیعُ اِلی اللّٰه لِلْمُذْنِبِینَ “۔

”آپ خدا کے نزدیک گناھگاروں کے لئے بھترین شفیع ہیں “۔

اور پھر اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑا اور درج ذیل مضمون کے اشعار پڑھے:

”اے خدائے مھربان! چھٹے امام کے جد بزرگوار کا واسطہ، قرآن کا واسطہ، علی کا واسطہ، حسن و حسین کا واسطہ، فاطمہ زھرا کا واسطہ، ائمہ معصومین علیہم السلام کا واسطہ، امام مہدی علیہ السلام کا واسطہ، اپنے گناھگار بندے کے گناھوں کو معاف فرما!“

اس وقت ھاتف غیبی کی آواز آئی:

اے پیرمرد!

اگرچہ تیرے گناہ عظیم ہیں لیکن ان ذوات مقدسہ کی عظمت کے طفیل میں جن کی تونے قسم دی ہے، میں نے تجھے معاف کردیا، اگر تو تمام اھل زمین کے گناھوں کی بخشش کی درخواست کرتا تو معاف کردیتا، سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے ناقہ صالح اور انبیاء و ائمہ کو قتل کیا ہے۔(۱۸۳)

شراب خور اور توبہ مرحوم فیض کاشانی، جو خود فیض و دانش کا سر چشمہ اور بصیرت کا مرکز تھے موصوف اپنی عظیم الشان کتاب ”محجة البیضاء“ میں نقل کرتے ہیں :

ایک شراب خوار شخص تھا جس کے یھاں گناہ و معصیت کی محفل سجائی جاتی تھی، ایک روز اس نے اپنے دوستوں کو شراب خوری اور لھوو لعب کے لئے دعوت دی اور اپنے غلام کو چار درھم دئے تاکہ وہ بازار سے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لائے۔

غلام راستہ میں چلا جارھا تھا کہ اس نے دیکھا منصور بن عمار کی نششت ہورھی ہے، سوچا کہ دیکھوں منصور بن عمار کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو اس نے سنا کہ عمار اپنے پاس بیٹھنے والوں سے کچھ طلب کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کون ہے جو مجھے چار درھم دے تاکہ میں اس کے لئے چار دعائیں کروں؟ غلام نے سوچا کہ ان معصیت کاروں کےلئے طعام وشراب خریدنے سے بھتر ہے کہ یہ چار درھم منصور بن عمار کو کو دیدوں تاکہ میرے حق میں چار دعائیں کردیں۔

یہ سوچ کر اس نے وہ چار درھم منصور کو دیتے ہوئے کھا: میرے حق میں چار دعائیں کردو، اس وقت منصور نے سوال کیا کہ تمھاری دعائیں کیا کیا ہیں بیان کرو، اس نے کھا: پھلی دعا یہ کرو کہ خدا مجھے غلامی کی زندگی سے آزاد کردے، دوسری دعا یہ ہے کہ میرے مالک کو توبہ کی توفیق دے، اور تیسری دعا یہ کہ یہ چار درھم مجھے واپس مل جائیں، اور چوتھی دعا یہ کہ مجھے اور میرے مالک اور اس کے اھل مجلس کو معاف کردے۔

چنانچہ منصور نے یہ چار دعائیں اس کے حق میں کیں اور وہ غلام خالی ھاتھ اپنے آقاکے پاس چلا گیا۔

اس کے آقا نے کھا: کھاں تھے؟ غلام نے کھا: میں نے چار درھم دے کر چار دعائیں خریدی ہیں ، تو آقا نے سوال کیا وہ چار دعائیں کیا کیا ہیں کیا بیان تو کر؟ تو غلام نے کھا: پھلی دعا یہ تھی کہ میں آزاد ہوجاؤں، تو اس کے آقا نے کھا جاؤ تم راہ خدا میں آزاد ہو، اس نے کھا: دوسری دعا یہ تھی کہ میرے آقا کو توبہ کی توفیق ہو، اس وقت آقا نے کھا: میں توبہ کرتا ہوں، اس نے کھا: تیسری دعا یہ کہ ان چار درھم کے بدلے مجھے چار درھم مل جائیں، چنانچہ یہ سن کر اس کے آقا نے چار درھم عنایت کردئے، اس نے کھا: چوتھی دعا یہ کہ خدا مجھے، میرے مالک او راس کے اھل محفل کو بخش دے، یہ سن کر اس کے آقا نے کھا: جو کچھ میرے اختیار میں تھا میں نے اس کو انجام دیا، تیری، میری اور اھل مجلس کی بخشش میرے ھاتھ میں ن ہیں ہے۔چنانچہ اسی رات اس نے خواب میں دیکھا کہ ھاتف غیبی کی آوازآئی کہ اے میرے بندے! تو نے اپنے فقر وناداری کے باوجود اپنے وظیفہ پر عمل کیا، کیا ھم اپنے بے انتھا کرم کے باوجود اپنے وظیفہ پر عمل نہ کریں، ھم نے تجھے، تیرے غلام اور تمام اھل مجلس کو بخش دیا۔(۱۸۴)

آہ، ایک سودمند تائب

ایک ولی خدا کے زمانہ میں ایک شخص بھت زیادہ گناھگار تھا جس نے اپنی تمام زندگی لھو و لعب اور بے ہودہ چیزوں میں گزاری تھی اور آخرت کے لئے کچھ بھی زادہ راہ جمع نہ کی۔

نیک اور صالح لوگوں نے اس سے دوری اختیار کرلی، اور وہ نیک لوگوں سے کوئی سروکار نہ رکھتاتھا، آخر عمر میں اس نے جب اپنے کارناموں کو ملاحظہ کیا اور اپنی عمر کا ایک جائزہ لیا، اسے امید کی کرن نہ ملی، باغ عمل میں کوئی شاخ گل نہ تھی، گلستان اخلاق میں شفا بخش کوئی پھول نہ تھا، یہ دیکھ کر اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور دل کے ایک گوشے سے آہ نکل پڑی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، توبہ اور استغفار کے عنوان سے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا:

یامَنْ لَهُ الدُّنْیا وَالآخِرَةُ إِرْحَمْ مَنْ لَیسَ لَهُ الدُّنْیا وَالآخِرَةُ “۔

”اے وہ جودنیا وآخرت کا مالک ہے، اس شخص کے او پر رحم کر جس کے پاس نہ دنیا ہے او رنہ آخرت“۔

اس کے مرنے کے بعد شھر والوں نے خوشی منائی اور اس کو شھر سے باھر کسی کھنڈر میں پھینک دیا اور اس کے اوپر گھاس پھوس ڈال دی۔

اسی موقع پر ایک ولی خدا کو عالم خواب میں حکم ہواکہ اس کو غسل و کفن دو اور متقی افراد کے قبرستان میں دفن کرو۔

عرض کیا:اے دوجھاں کے مالک! وہ ایک مشھور و معروف گناھگار و بدکار تھا، وہ کس چیز کی وجہ سے تیرے نزدیک عزیز اور محبوب بن گیا اور تیری رحمت و مغفرت کے دائرہ میں آگیا ہے؟ جواب آیا:

اس نے اپنے کو مفلس اور درد مند دیکھا تو ھماری بارگاہ میں گریہ و زاری کیا، ھم نے اس کو اپنی آغوش رحمت میں لے لیا ہے۔

کون ایسا درد مند ہے جس کے درد کا ھم نے علاج نہ کیا ہو اور کون ایسا حاجت مند ہے جو ھماری بارگاہ میں روئے اور ھم اس کی حاجت پوری نہ کریں، کون ایسا بیمارہے جس نے ھماری بارگاہ میں گریہ و زاری کیا ہو اور ھم نے اس کو شفا نہ دی ہو؟(۱۸۵)

توبہ کے ذریعہ مشکلات کا دور ہونا

”جابر جعفی“ مکتب اھل بیت علیھم السلام کے معتبر ترین راویوں میں سے تھے، وہ حضرت رسول اکرمسے روایت کرتے ہیں : تین مسافر سفر کرتے ہوئے ایک پھاڑ کی غار میں پہنچے، وھاں پر عبادت میں مشغول ہوگئے، اچانک ایک پتھر اوپر سے لڑھک کر غار کے دھانے پر آلگا اسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ دروازہ بند کرنے کے لئے ہی بنایا گیا ہو، چنانچہ ان لوگوں کو وھاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہ دیا!

پریشان ہوکر یہ لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے: خدا کی قسم یھاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ن ہیں ہے، مگر یہ کہ خدا ہی کوئی لطف و کرم فرمائے، کوئی نیک کام کریں، خلوص کے ساتھ دعا کریں اور اپنے گناھوں سے توبہ کریں۔

ان میں سے پھلا شخص کھتا ہے: پالنے والے! تو(تو جانتا ہے)کہ میں ایک خوبصورت عورت کا عاشق ہوگیا تھا بھت زیادہ مال و دولت اس کو دیا تاکہ وہ میرے ساتھ آجائے، لیکن جونھی اس کے پاس گیا، دوزخ کی یاد آگئی جس کے نتیجہ میں اس سے الگ ہوگیا؛ پالنے والے ! اسی عمل کا واسطہ ھم سے اس مصیبت کو دور فرما اور ھمارے لئے نجات کا سامان فراھم فرمادے، بس جیسے ہی اس نے یہ کھا تو وہ پتھر تھوڑا سا کھسک گیا ہے ۔

دوسرے نے کھا: پالنے والے! تو جانتا ہے کہ ایک روز میں کھیتوں میں کام کرنے کے لئے کچھ مزدور لایا، آدھا درھم ان کی مزدوری معین کی، غروب کے وقت ان میں سے ایک نے کھا: میں نے دو مزدورں کے برابر کام کیا ہے لہٰذا مجھے ایک درھم دیجئے، میں نے ن ہیں دیا، وہ مجھ سے ناراض ہوکر چلا گیا، میں نے اس آدھے درھم کا زمین میں بیج ڈالدیا، اور اس سال بھت برکت ہوئی۔ ایک روز وہ مزدور آیا اور اس نے اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا، تو میں نے اس کو اٹھارہ ہزار درھم دئے جو میں نے اس زراعت سے حاصل کئے تھے، اور چند سال تک اس رقم کو رکھے ہوئے تھا، اور یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے انجام دیا تھا، تجھے اسی کام کا واسطہ ھم کو نجات دیدے۔ چنانچہ وہ پتھر تھوڑا اور کھسک گیا۔

تیسرے نے کھا: پالنے والے! (تو خوب جانتا ہے کہ) ایک روز میرے ماں باپ سورہے تھے میں ان کے لئے کسی ظرف میں دودھ لے کر گیا، میں نے سوچا کہ اگر یہ دودھ کا ظرف زمین پر رکھ دوں تو ک ہیں والدین جاگ نہ جائےں، اور میں نے ان کو خود ن ہیں اٹھایا بلکہ وہ دودھ کا ظرف لئے کھڑارھا یھاں تک کہ وہ خود سے بیدار ہوں۔پالنے والے توخوب جانتا ہے کہ میں نے وہ کام اور وہ زحمت صرف تیری رضا کے لئے اٹھائی تھی، پالنے والے اسی کام کے صدقہ میں ھمیں اس مصیبت سے نجات دیدے۔ چنانچہ اس شخص کی دعا سے پتھر او رکھسکا اور یہ تینوں اس غار سے باھر نکل آئے۔(۱۸۶)

عجیب اخلاق اور عجیب انجام

دور حاضر کی گرانقدر تفسیر”المیزان“کے فارسی مترجم استاد بزرگوار حضرت آقای سید محمد باقر موسوی ھمدانی صاحب نے۱۶شوال بروز جمعہ ۹بجے صبح اس خاکسار سے بیان فرمایا:

”گنداب“ (ھمدان ) علاقہ میں ایک شرابی اور بدمعاش شخص تھا جس کا نام علی گندابی تھا۔

اگرچہ یہ دینی مسائل پر کوئی توجہ ن ہیں رکھتا تھا اور ھمیشہ بدمعاشوں اور گناھگاروں کے ساتھ رھتا تھا، لیکن بعض اخلاقی چیزیں اس میں نمایاں تھی۔

ایک روز شھر کے بھترین علاقے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ چائے کے ہوٹل میں بینچ پر چائے پینے کے لئے بیٹھا ہوا تھا۔

اس کے صحت مند جسم اورخوبصورت چھرہ میں نھایت کشش پائی جاتی تھی۔

مخملی ٹوپی لگائے ہوئے تھا جس سے اس کی خوبصورتی میں مزید نکھار آیا ہوا تھا، لیکن اچانک اس نے اپنی ٹوپی سر سے اتاری اور پیروں کے نیچے مسلنے لگا، اس کے دوست نے کھا: ارے ! تم یہ کیا کررہے ہو؟ جواب دیا: ذرا ٹھھرو، اتنے بے صبرے مت بنو، بھر حال تھوڑی دیر بعد اس نے ٹوپی کو اٹھایا اور پھر اوڑھ لی۔ اور کھا: اے میرے دوست ابھی ایک شوھر دار جوان عورت یھاں سے گزر رھی تھی اگر مجھے اس ٹوپی کے ساتھ دیکھتی تو شاید یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی کہ یہ شخص تو میرے شوھر سے بھی زیادہ خوبصورت ہے، اور وہ اپنے شوھر سے خشک رویہ اختیار کرتی، میں یہ ن ہیں چاھتا تھا کہ اپنی اس چمک دار ٹوپی کی وجہ سے ایک میاں بیوی کے تعلقات کو تلخ کردوں۔

ھمدان میں ایک مشھور و معروف ذاکر جناب ”شیخ حسن“ بھی تھے جوواقعاً ایک متقی اور دیندار شخصیت تھے، موصوف فرماتے ہیں : حقیر عاشور کے دن عصر کے وقت ”حصار“ نامی محلہ میں مجلس پڑھنے کے لئے گیا ہوا تھا لیکن واپسی میں دیر ہوگئی شھر کے دروازہ پرپہنچا تو دروازہ بند ہوچکا تھا، میں نے دروزاہ کھٹکھٹایا تو علی گندابی کی آواز سنی جو شراب کے نشہ میں مست تھا اور زور زور کہہ رھا تھا: کون ہے کون ہے؟

میں نے کھا: میں شیخ حسن ذاکرحسین علیہ السلام ہوں، چنانچہ اس نے دروازہ کھولا اور چلاکر کھا: اتنے وقت کھاں تھے؟ میں نے کھا: حصار محلہ میں امام حسین علیہ السلام کی مجلس پڑھنے کے لئے گیا ہوا تھا، یہ سن کر اس نے کھا: میرے لئے بھی مجلس پڑھو، میں نے کھا: مجلس کے لئے منبر اور سننے والے مجمع کی ضرورت ہوتی ہے، اس نے کھا: یھاں پر سب چیزیں موجود ہیں ، اس کے بعد وہ شخص سجدہ کی حالت میں ہوا اور کھا: میری پیٹھ منبر ہے اور میں سننے والا ہوں، میری پیٹھ پر بیٹھ کر قمر بنی ھاشم حضرت عباس کے مصائب پڑھو!

خوف کی وجہ سے کوئی چارہ کار نہ تھا اس کی پیٹھ پر بیٹھا اور مجلس پڑھنے لگا، چنانچہ اس نے بھت گریہ کیا، اس کا رونادیکھ کر میری بھی عجیب حالت ہوگئی، زندگی بھر ایسی حالت ن ہیں ہوئی تھی، مجلس ختم ہوتے ہی اس کی مستی بھی ختم ہوگئی، اس کے اندر ایک عجیب و غریب انقلاب پیدا ہوچکا تھا!

اس مجلس، گریہ و زاری اور توسل کی برکت سے وہ شخص عتبات عالیہ کی زیارت کے لئے عراق گیا، ائمہ علیھم السلام کی زیارت کی اور اس کے بعد نجف اشرف پہنچا۔

اس زمانہ میں مرزا شیرازی (جنھوں نے تنباکو کی حرمت کا فتويٰ صادر کیا تھا) نجف اشرف میں قیام پذیر تھے، علی گندابی مرزا شیرازی کی نماز جماعت میں شرکت کیا کرتا تھااور بالکل ان ہیں کے پیچھے اپنا مصليٰ پچھایا کرتاتھا، اور مدتوں تک اس عظیم الشان مرجع تقلید کی نماز جماعت میں شرکت کرتا رھا۔

ایک روز نماز مغرب و عشاء کے درمیان مرزا شیرازی کو خبر دی گئی کہ فلاں عالم دین کا انتقال ہوگیا، چنانچہ یہ خبر سن کر موصوف نے حکم دیا کہ حرم امام علی علیہ السلام سے متصل دالان میں ان کو دفن کیا جائے، فوراً ہی ان کے لئے قبر تیار کی گئی، لیکن نماز عشاء کے بعد لوگوں نے آکر مرزا شیرازی کو خبر دی: گویا اس عالم دین کو سکتہ ہواتھا اور اب الحمد للہ ہوش آگیا ہے، لیکن اچانک علی گندابی جانماز پر بیٹھے بیٹھے اس دنیا سے چل بسے، یہ دیکھ کر مرزا شیرازی نے کھا: علی گندابی کو اسی قبر میں دفن کردیا جائے!(شاید یہ اسی کے لئے یہ قبر بنی تھی۔)

ایک کفن چور کی توبہ

معاذ بن جبل روتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت کو سلام کیا، آپ نے جواب سلام دیتے ہوئے فرمایا: تمھارے رونے کی وجہ کیا ہے؟ تو انھوں نے کھا: ایک خوبصورت جوان مسجد کے پاس کھڑا ہوا اس طرح رورھا ہے جیسے اس کی ماں مرگئی ہو، وہ چاھتا ہے آپ سے ملاقات کرے، چنانچہ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اس کو مسجد میں بھیج دو، وہ جوان مسجد میں داخل ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سلام کیا، آنحضرت نے جواب سلام دیا اور فرمایا: اے جوان ! رونے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: میں کیوں نہ روؤں حالانکہ میں نے ایسے ایسے گناہ انجام دئے ہیں کہ خدا وندعالم ان میں سے بعض کی وجہ سے مجھے جہنم میں بھیج سکتا ہے، میں تو یہ مانتا ہوں کہ مجھے میرے گناھوں کے بدلے دردناک عذاب دیا جائے اور خداوندعالم مجھے بالکل معاف ن ہیں کرسکتا۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کیا تو نے خدا کے ساتھ شرک کیا ہے؟ اس نے کھا: ن ہیں ، میں شرک سے پناہ چاھتا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کیا کسی نفس محترمہ کا قتل کیا ہے؟ اس نے کھا: ن ہیں ، آپ نے فرمایا: خداوندعالم تیرے گناھوں کو بخش دے گا اگرچہ بڑے بڑے پھاڑوں کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اس نے کھا: میرے گناہ بڑے بڑے پھاڑوں سے بھی بڑے ہیں ، اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: خداوندعالم تیرے گناھوں کو ضروربخش دے گا چاھے وہ ساتوں زمین، دریا، درخت، ذرات اور زمین میں دوسری موجوات کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، بے شک تیرے گناہ قابل بخشش ہیں اگرچہ آسمان، ستاروں اورعرش و کرسی کے برابر ہی کیوں نہ ہوں! اس نے عرض کیا: میرے گناہ ان تمام چیزوں سے بھی بڑے ہیں ! پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غیض کے عالم میںاسے دیکھا اور فرمایا: اے جوان! تیرے اوپر افسوس ہے! کیا تیرے گناہ زیادہ بڑے ہیں یا تیرا خدا؟

یہ سن کر وہ جوان سجدے میں گرپڑا اور کھا: پاک و پاکیزہ ہے میرا پروردگار، یا رسول اللہ ! اس سے بزرگتر تو کوئی ن ہیں ہے، میرا خدا تو ھر عظیم سے عظیم تر ہے، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کیا بڑے گناھوں کو خدائے بزرگ کے علاوہ بھی کوئی معاف کرسکتا ہے؟ اس جوان نے کھا: ن ہیں یا رسول اللہ! قسم بخدا ن ہیں ، اور اس کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے فرمایا: اے جوان وائے ہو تجھ پر! کیا تو مجھے اپنے گناھوں میں سے کسی ایک گناہ کو بتاسکتا ہے؟ اس نے کھا: کیوں ن ہیں ، میں سات سال سے قبروں کو کھول کر مردوں کو باھر نکالتا ہوں اور ان کا کفن چوری کرلیتا ہوں!

قبیلہ انصار سے ایک لڑکی کا انتقال ہوا، جب لوگ اس کو دفن کرکے واپس آگئے، میں رات میں گیا، اس کو باھر نکالا، اور اس کا کفن نکال لیا، اس کو برہنہ ہی قبر میں چھوڑدیا، جب میں واپس لوٹ رھا تھا شیطان نے مجھے ورغلایا، اور اس کے لئے میری شھوت کو ابھارا، شیطانی وسوسہ نے اس کے بدن اور خوبصورتی نے مجھے اپنے جال میں پھنسا لیا یھاں تک نفس غالب آگیا اور واپس لوٹا اور جوکام ن ہیں کرنا چاہئے تھا وہ کربیٹھا!!

اس وقت گویا میں نے ایک آواز سنی: اے جوان! روز قیامت کے مالک کی طرف سے تجھ پر وائے ہو! جس دن تجھے اور مجھے اس کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، ھائے تونے مجھے مردوں کے د رمیان برہنہ کردیا ہے، مجھے قبر سے نکالا، میرا کفن لے چلا اور مجھے جنابت کی حالت میں چھوڑ دیا، میں اسی حالت میں روز قیامت محشور کی جاؤں گی، واے ہو تجھ پر آتش جہنم کی!

یہ سن کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بلند آواز میں پکارا: اے فاسق! یھاں سے دور چلاجا، ڈرتا ہوں کہ تیرے عذاب میں میں بھی جل جاؤں! تو آتش جہنم سے کتنا نزدیک ہے؟!

وہ شخص مسجد سے باھر نکلا، کچھ کھانے پینے کا سامان لیا اور شھر سے باھر پھاڑ کی طرف چل دیا، حالانکہ موٹا اور کھردرا کپڑا پہنے ہوئے تھا، اور اپنے دونوں ھاتھوں کو اپنی گردن سے باندھے ہوئے تھااور پکارتا جاتا تھا: خداوندا! یہ بھلول تیرا بندہ ہے، ھاتھ بندھے تیری بارگاہ میں حاضر ہے۔ پالنے والے! تو مجھے جانتا ہے، میرے گناھوں کو بھی جانتا ہے، میں آج تیرے پشیمان بندوں کے قافلہ میں ہوں، توبہ کے لئے تیرے پیغمبر کے پاس گیا تھا لیکن اس نے بھی مجھے دور کردیاھے، پالنے والے تجھے تیری عزت و جلال اور سلطنت کا واسطہ کہ مجھے ناامید نہ کرنا، اے میرے مولا و آقا! میری دعا کو ردّ نہ کرنا اوراپنی رحمت سے مایوس نہ کرنا۔

وہ چالیس دن تک دعا و مناجات اورگریہ و زاری کرتا رھا، جنگل کے درندے اور حیوانات اس کے رونے سے روتے تھے! جب چالیس دن ہوگئے تو اپنے دونوں ھاتھوں کو بلند کرکے بارگاہ الٰھی میں عرض کیا: پالنے والے ! اگر میری دعا قبول اور میرے گناہ بخش دئے گئے ہوں تو اپنے پیغمبر کو اس کی خبر دےدے، اور اگر میری دعا قبول نہ ہوئی ہو اور میرے گناہ بخشے نہ گئے ہوں نیز مجھ پر عذاب کرنے کا ارادہ ہو تو میرے اوپر آتش نازل فرما تاکہ میں جل جاؤں یا کسی دوسری عقوبت میں مبتلا کردے تاکہ میں ھلاک ہوجاؤں، بھر حال قیامت کی ذلت و رسوائی سے مجھے نجات دیدے۔

چنانچہ اس موقع پر درج ذیل آیات نازل ہوئیں:

( وَالَّذِینَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اوْ ظَلَمُوا انْفُسَهم ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهم وَمَنْ یغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللهُ وَلَمْ یصِرُّوا عَلَی مَا فَعَلُوا وَهم یعْلَمُونَ ) ۔(۱۸۷)

”اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی نمایاں گناہ کرتے ہیں یا اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں تو خدا کو یاد کرکے اپنے گناھوں پر استغفار کرتے ہیں اور خدا کے علاوہ کون گناھوں کو معاف کرنے والاھے اور وہ اپنے کئے پر جان بوجھ کر اصرار ن ہیں کرتے “۔

( اوْلَئِكَ جَزَاؤُهم مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهم وَجَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِها الْانْهارُ خَالِدِینَ فِیها وَنِعْمَ اجْرُ الْعَامِلِینَ ) ۔(۱۸۸)

”یھی وہ لوگ ہیں جن کی جزا مغفرت ہے اور وہ جنت ہے جس کے نیچے نھریں جاری ہیں ۔وہ ھمیشہ اسی میں رہنے والے ہیں اور عمل کرنے کی یہ جزا بھترین جزاھے“۔

ان دونوں آیتوں کے نزول کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسکراتے ہوئے ان دو آیتوں کی تلاوت فرماتے ہوئے باھر تشریف لائے اور فرمایا: کوئی ہے جو مجھے اس توبہ کرنے والے جوان تک پہنچائے؟

معاذ بن جبل کھتے ہیں : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم !ھمیں خبر ملی ہے کہ وہ جوان مدینہ سے باھر پھاڑوں میں چھپا ہوا ہے، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے اصحاب کے ساتھ پھاڑ تک گئے لیکن جب وہ نہ ملا تو پھر پھاڑ کی بلندی پر پہنچے تو اس کو دو پتھروں کے درمیان دیکھا کہ اپنے دونوں ھاتھ گردن سے باندھے ہوئے ہے، گرمی کی شدت سے اس کے چھرہ کا رنگ سیاہ ہوگیا ہے، زیادہ رونے سے اس کی پلکیں گرچکی ہیں اور کھتا جاتا ہے: اے میرے مولا و آقا! میری پیدائش اچھی قرار دی، میراچھرہ خوبصورت بنایا، میں ن ہیں جانتا کہ میرے متعلق تیرا کیا ارادہ ہے، کیا مجھے آتش جہنم میں جگہ دے گا یا اپنے جوار رحمت میں جگہ دے گا؟

خدایا ! پروردگار! تو نے مجھ پر بھت احسان کئے ہیں اس ناچیز بندے پر تیری نعمتیں سایہ فگن ہیں ، میں ن ہیں جانتا کہ میرا انجام کیا ہوگا، کیا مجھے بہشت میں رکھے گا یا آتش جہنم میں ڈالے گا؟

خدایا ! میرے گناہ زمین و آسمان، عرش و کرسی سے بڑے ہیں ، میں ن ہیں جانتا میرے گناہ کو بخش دیگا، یا روز قیامت مجھے ذلیل وخوار کرے گا۔اس کی زبان پر یھی کلمات جاری ہیں ، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ، اور اپنے سر پر خاک ڈالتا جاتا ہے، حیوانات اس کے اردگرد جمع ہیں ، پرندوں نے اس کے اوپر سایہ کیا ہوا ہے، اور اس کے ساتھ رورہے ہیں ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے نزدیک آئے اس کے ھاتھوں کو کھولا، اس کے چھرہ کو صاف کیا اور فرمایا: اے بھلول ! تجھے بشارت ہو کہ خداوندعالم نے تجھے آتش جہنم سے آزاد کردیا ہے، اور اس کے بعد اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا: جس طرح بھلول نے گناھوںکی تلافی کی ہے تم بھی اسی طرح اپنے گناھوں کا جبران اور تلافی کرو، اور اس کے بعدان دونوں آیات کی تلاوت کی، اور بھلول کو بہشت کی بشارت دی۔(۱۸۹)

فضیل عیاض کی توبہ

فضیل اگرچہ شروع میں ایک راہزن تھا اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے قافلوں کو روک کر ان کا مال و دولت چھین لیا کرتا تھا، لیکن فضیل کی مروت و ھمت بلند تھی، اگر قافلہ میں کوئی عورت ہوتی تھی تو اس کا سامان ن ہیں لیتا تھا، اسی طرح اگر کسی کے پاس کم مال ہوتا تھا اس کو بھی ن ہیں لیتا تھا، اور جن سے مال و دولت لیتا بھی تھا ان کے پاس کچھ چیزیں چھوڑ دیتا تھا، اسی طرح خدا کی عبادت سے بھی منھ ن ہیں موڑتا تھا، نماز و روزہ سے غافل ن ہیں تھا، فضیل کے توبہ کے سلسلہ میں یوں رقمطرازھے:

فضیل، ایک عورت کا عاشق تھا لیکن اس تک رسائی نہ ہوتی تھی، کبھی کبھی اس عورت کے گھر کے پاس کی دیوار کے پاس جاتا تھا اور اس کی خاطر گریہ و زاری اور نالہ و فریاد کیا کرتا تھا، ایک رات کا واقعہ ہے کہ ایک قافلہ وھاں سے گزرھا تھا اور اس قافلہ میں ایک شخص قرآن پڑھ رھا تھا چنانچہ اس نے جب یہ آیت پڑھی:

( الَمْ یانِ لِلَّذِینَ آمَنُوا انْ تَخْشَعَ قُلُوبُهم لِذِكْرِ اللهِ ) ۔(۱۹۰)

”کیا صاحبان ایمان کے لئے ابھی وہ وقت ن ہیں آیا ہے کہ ان کے دل ذکر خدا اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کے لئے نرم ہو جائیں “۔

فضیل اس آیت کو سن کر دیوار سے گرپڑے اور کھا: پالنے والے! کیوں ن ہیں وہ وقت آگیا بلکہ اس کا وقت گزر گیا ہے، شرمندہ، پشیمان، حیران و پریشان اور گریہ و زاری کرتے ہوئے ایک ویرانہ کی طرف نکل پڑا، اس ویرانہ میں ایک قافلہ رکا ہوا تھا، جھاں پر لوگ آپس میں کہہ رہے تھے : چلو چلتے ہیں ، سامان تیار کرو، دوسرا کھتا تھا: ابھی چلنے کا وقت ن ہیں ہوا ہے، کیونکہ ابھی فضیل راستہ میں ہوگا، وہ ھمارا

راستہ روک کر سارا مال و اسباب چھین لے گا، اس وقت فضیل نے پکارا: اے قافلہ والو! تم لوگوں کو بشارت ہے کہ اس خطرناک چور اور کم بخت راہزن نے توبہ کرلی ہے!

غرض اس نے توبہ کی اور توبہ کے بعد ان لوگوں کو تلاش کرنا شروع کیا جن کا مال چھینا یا چوری کیا تھااور ان سے معافی مانگی(۱۹۱)

چنانچہ ایک مدت کے بعد وہ بھت بڑے اور حقیقی عارف بن گئے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت میں مشغول ہوگئے جن کے حکمت آمیز کلمات اب بھی تاریخ میں موجود ہیں ۔

تین توبہ کرنے والے مسلمان

جس وقت جنگ تبوک کا مسئلہ پیش آیا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تین صحابی ؛کعب بن مالک، مرارة بن ربیع اور ھلال بن امیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ باطل کے خلاف میدان جنگ میں جانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔

اور اس کی وجہ ان کی سستی، کاھلی اور آرام طلبی کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھی، لیکن جب لشکر اسلام مدینہ سے روانہ ہوگیا تو یہ تینوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے پشیمان اور شرمندہ ہوئے۔

جس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنگ تبوک سے مدینہ واپس پلٹے، یہ تینوں افراد آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی زبان سے عذر خواھی کی اور ندامت کا اظھار کیالیکن آنحضرت نے ایک حرف بھی ان سے نہ کھا، اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ کوئی بھی ان سے کلام نہ کرے۔

نوبت یھاں تک آئی کہ ان کے اھل و عیال بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا ھم بھی ان لوگوں سے دور ہوجائیں اور ان سے کلام نہ کریں!

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو اجازت نہ دی اور فرمایاکہ تم لوگ بھی ان کے قریب مت جاؤ اور نہ ان سے کلام کرو۔

مدینہ شھر میں ان کے رہنے کے لئے جگہ باقی نہ رھی ھر طرف سے ان کا بائیکاٹ ہونے لگا، یھاں تک کہ ان لوگوں نے اس مشکل سے نجات پانے کے لئے مدینہ کی پھاڑیوں پر پناہ لے لی۔

ان تمام مشکلات کے علاوہ ایک دوسرا جھٹکا یہ لگا جیسا کہ کعب کا بیان ہے:میں مدینہ کے بازار میں غم و اندوہ کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا، اسی اثنا میں ایک عیسائی مجھے تلاش کرتا ہوا میرے قریب آیا، تو جیسے ہی مجھے پہچانا ”سلطان غسّان“ کا خط مجھے دیا، جس میں لکھا ہوا تھا: اگر تمھارے پیغمبر نے تمھارا بائیکاٹ کردیا ہے تو تم ھمارے یھاں آجاؤ، کعب کے دل میں آگ لگ گئی اور کھا: خدایا! نوبت یہ آگئی ہے کہ دشمنان اسلام بھی میرے بارے میں سوچنے پر تیار ہیں !

بھر حال بعض رشتہ دار ان کے لئے کھانا لے جایا کرتے تھے لیکن کھانا ان کے سامنے رکھ دیا کرتے تھے لیکن ان سے کلام ن ہیں کرتے تھے۔

توبہ قبول ہونے کا بھت انتظار کیا کہ خداوندعالم کی طرف سے کوئی آیت یا کوئی نشائی آئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کی توبہ قبول ہوگئی ہے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے کھا: تمام لوگوں نے یھاں تک کہ خود ھمارے گھروالوں نے بھی ھم سے قطع تعلق کرلیا ہے آؤ ھم بھی ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیں، شاید خداوندعالم کی بارگاہ میں ھماری توبہ قبول ہوجائے۔

چنانچہ وہ سب ایک دوسرے سے جدا ہوگئے، اور ان میں سے ھر ایک الگ الگ پھاڑ کے گوشوں میںچلا گیا، خداکی بارگاہ میں گریہ و زاری اور نالہ و فریاد کی، اس کی بارگاہ میں شرمندگی کے ساتھ آنسو بھائے، تواضع و انکساری کے ساتھ سجدہ میں سر رکھا اور اپنے ٹوٹے ہوئے دلوں سے طلب مغفرت کی، غرض پچاس دن توبہ و استغفار اور گریہ و زاری کے بعد درج ذیل آیہ شریفہ ان کی توبہ قبول ہونے کے لئے بشارت بن کر نازل ہوئی:(۱۹۲)

( وَعَلَی الثَّلَاثَةِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیهم الْارْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیهم انفُسُهم وَظَنُّوا انْ لاَمَلْجَا مِنْ اللهِ إِلاَّ إِلَیهِ ثُمَّ تَابَ عَلَیهم لِیتُوبُوا إِنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ) ۔(۱۹۳)

”اوراللہ نے ان تینوں پر بھی رحم کیا جو جھاد سے پیچھے رہ گئے یھاں تک کہ زمین جب اپنی وسعتوں سمیت ان پر تنگ ہو گئی اور ان کے دم پر بن گئی اور انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب اللہ کے علاوہ کوئی پناہ گاہ ن ہیں ہے، تو اللہ نے ان کی طرف توجہ فرمائی کہ وہ توبہ کرلیں اس لئے کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے“۔

حر ّ بن یزید ریاحی کی توبہ

حر ّ بن یزید ریاحی پھلے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ تھا، لیکن آخر کار امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہوگئے، حر ّایک جوان اور آزاد انسان تھا، اس بے معنی جملہ ”المامور معذور “(یعنی مامور معذور ہوتا ہے) پر عقیدہ ن ہیں تھا، ظالم حکمراں کے حکم کی مخالفت کی اور اس سے مقابلہ کے لئے قیام کیا، اور استقامت کی یھاں تک کہ شھادت کے درجہ پر فائز ہوگئے۔

حر ّکا شمار کوفہ میں لشکر یزید کے عظیم کے سرداروں میں ہوتا تھا اور عرب کے مشھور خاندان سے اس کا تعلق تھا، امیر کوفہ نے اس کی موقعیت سے فائدہ اٹھایااور حر کو ایک ہزار کے لشکر کا سردار بنادیا اور حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی طرف روانہ کردیا تاکہ امام کو گرفتار کرکے کوفہ لے آئے۔

کھتے ہیں : جس وقت حر کو ّلشکر کی سرداری حکم نامہ دیا گیا اور ابن زیاد کے محل سے باھر نکلا، تو اس کو ایک آواز سنائی دی: اے حر ّتیرے لئے جنت کی بشارت ہے، حر نے مڑکر دیکھا تو کوئی ن ہیں دکھائی دیا، چنانچہ اس نے خود سے کھا: یہ کیسی بشارت ہے؟ جو شخص حسین سے جنگ کے لئے جارھا ہواس کے لئے یہ جنت کی بشارت کیسے؟!

حر ّایک مفکر اور دقیق انسان تھا کسی کی اندھی تقلید ن ہیں کرتا تھا وہ ایسا شخص نہ تھا جو مقام منصب کے لالچ میں اپنے ایمان کو بیچ ڈالے، بعض لوگ جتنے بلند مقام پر پہنچ جاتے ہیں وہ حاکم کی اطاعت گزاری میں اپنی عقل کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ، اپنے ایمان کو بیچ ڈالتے ہیں ، اور صحیح تشخیص ن ہیں دے پاتے، اوپر والے حاکم جس چیز کو صحیح کھتے ہیں وہ بھی صحیح کہہ دیتے ہیں ، اور جس چیز کو بُرا مانتے ہیں ، اس کو برا شمار کرنے لگتے ہیں ، وہ گمان کرتے ہیں کہ اوپر والے حاکم خطا و غلطی ن ہیں کرتے، جو کچھ بھی کھتے ہیں صحیح ہوتا ہے، لیکن حر ّایسا ن ہیں تھا، غور و فکر کرتا تھا اور اندھی تقلید اور بے جا اطاعت ن ہیں کرتا تھا۔

صبح کے وقت حر ّکی سرداری میں ایک ہزار کا لشکر کوفہ سے روانہ ہوا، عربستان کے بیابان کا راستہ اختیار کیا ایک گرمی کے عالم میں روز ظھر کے وقت امام حسین (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگئی۔

حر ّ پیاسا تھا، اس کا لشکر بھی پیاسا تھا، گھوڑے بھی پیاسے تھے اس علاقہ میں ک ہیں ک ہیں پانی بھی ن ہیں ملتا تھا ایسے موقع پر اگر حضرت امام حسین علیہ السلام پانی نہ پلاتے تو وہ اور اس کا لشکر خود بخود مرجاتا، اور بغیر جنگ کئے ایک کامیابی حاصل ہوجاتی، لیکن آپ نے ایسا نہ کیا اور دشمن سے دشمنی کرنے کے بجائے اس کے ساتھ نیکی کی اور اپنے جوانوں سے فرمایا:

حر ّ پیاسا ہے کہ اس کو پانی پلاؤ، اس کا لشکر بھی پیاسا ہے اس کو بھی پانی پلاؤ اور ان کے گھوڑے بھی پیاسے ہیں ان ہیں بھی سیراب کرو۔ جوانوں نے امام علیہ السلام کی اطاعت کی، حر اوراس کے لشکر یھاں تک کہ ان کے گھوڑوں کوبھی سیراب کیا ۔

ادھر نماز کا وقت ہوگیا موذن نے اذان دی، امام علیہ السلام نے موذن سے فرمایا: اقامت کھو، اس نے اقامت کھی، امام حسین علیہ السلام نے حر ّ سے فرمایا:کیا تم اپنے لشکر والوں کے ساتھ نماز ادا کروگے؟ ! حر ّ نے کھا: ن ہیں ، میں تو آپ کے ساتھ نماز پڑھوں گا!

ایک طاقتور سردار کی جانب سے یہ جملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حر کا اپنے اور اپنے لشکریوں پر کس قدر کنٹرول تھا کہ خود بھی امام حسین علیہ السلام کے سامنے تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آئے اور اپنے ساتھیوں کوبھی اس کام پر آمادہ کیا۔

حرّکا یہ ادب، توفیق کی ایک کرن تھی جس کی بنا پر ایک اور توفیق حاصل ہوگی، جس سے نفس پر غلبہ کے لئے روز بروز طاقت حاصل ہوگی، اور اس کو اس قدر طاقتور بنادے گی کہ جس وقت انقلاب آئے تو اور تیس ہزار لشکر کے مقابلہ میں اپنے فیصلہ پر قائم رہے اور اپنے حیثیت کو باقی رکھے اور اپنے نفس پر غالب ہوجائے۔

گویا حر ّ کے اندر ادب اور طاقت کے دو ایسے پھلو موجود تھے، جو ھر ایک اپنی جگہ ان صفات کے حامل کو ان صفات کی دنیا میں بادشاہ بنادیتا ہے، پس جس کے اندر یہ دونوں صفتیں پائی جائیں تو وہ طاقت اور ادب کی دنیا کا مالک بن جاتا ہے۔

حر ّ بن یزید ریاحی کا یہ سب سے پھلا روحانی اور معنوی فیصلہ تھا کہ امام علیہ السلام کے ساتھ نماز جماعت ادا کرے، اور اس سردار کا نماز جماعت میں شریک ہونا گویا حاکم سے لاپرواھی کا ایک نمونہ تھا۔

لیکن حر ّ کے لشکر کی یہ نماز اھل کوفہ کے تضاد اور ٹکراؤ کی عکاسی کررھی تھی کیونکہ ایک طرف تو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی امامت اور پیشوائی کا اقرار کررہے ہیں ، دوسری طرف یزید کی فرمانبرداری کررہے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کے قتل کے درپے ہیں !

اھل کوفہ نے نماز عصر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پڑھی، نماز مسلمان ہونے اور پیغمبر اسلام کی پیروی کی نشانی ہے۔

کوفیوں نے نماز پڑھی، کیونکہ مسلمان تھے، کیونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیروکار تھے، لیکن فرزند رسول، وصی رسول اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آخری نشانی کو قتل کردیا! یعنی کیامطلب؟ کیا یہ تضاد اور ٹکراؤدوسرے لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے؟

نماز عصر کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اھل کوفہ کو خطاب کرتے ہوئے اس طرح بیان فرمایا:

”خدا سے ڈرو، اور یہ جان لو کہ حق کدھر ہے تاکہ خدا کی خوشنودی حاصل کرسکو۔ ھم اھل بیت پیغمبر ہیں ، حکومت ھمارا حق ہے نہ کہ ظالم و ستمگرکا حق، اگر حق ن ہیں پہچانتے، اور ھمیں خطوط لکھ کر اس پر وفا ن ہیں کرتے تو مجھے تم سے کوئی مطلب ن ہیں ہے، میں واپس چلا جاتا ہوں“۔

حر ّ نے کھا: مجھے خطوط کی کوئی خبر ن ہیں ہے، امام علیہ السلام نے خطوط منگوائے اور حر ّ کے سامنے رکھ دئے، یہ دیکھ کر حر ّ نے کھا: میں نے کوئی خط ن ہیں لکھا ہے، میں ی ہیں سے آپ کو امیر کے پاس لے چلتا ہوں، امام علیہ السلام نے فرمایا: تیری آرزو کے آگے موت تجھ سے زیادہ نزدیک ہے، اس کے بعد اپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا: سوارھوجاؤ، چنانچہ وہ سوار ہوگئے، اور اھل حرم کے سوار ہونے کا انتظار کرنے لگے، سوارے ہونے کے بعد واپس ہوناچاھتے تھے لیکن حر کے لشکر نے راستہ روک لیا ۔

امام حسین علیہ السلام نے حر ّ سے کھا: تیری ماں تیری عزا میں بیٹھے، تو کیا چاھتا ہے؟ حرّ نے کھا: اگر عرب کا کو ئی دوسرا شخص مجھے یہ بات کھتااور آپ جیسی حالت میں ہوتا تو میں اس کو کبھی نہ چھوڑتا اور اس کی ماں کو اس کی عزا میں بٹھادیتا، چاھے جو ہوتا، لیکن خدا کی قسم مجھے یہ حق ن ہیں ہے کہ آپ کی ماں کا نام (اسی طرح) لوں، مگر یہ کہ نیکی اور احسان سے ۔

وَلَكِنْ وَاللّٰهِ مَالِی اِلَی ذِكْرِ اُمِّكَ مُنْ سِبیلٍ اِلاَّ بِاَحْسَنِ مَا یقْدِرُ عَلَیهِ(۱۹۴)

اس کے بعد حرنے کھا: مجھے آپ سے جنگ کرنے کا حکم ن ہیں ہے، آپ ایسا راستہ اختیار کرسکتے ہیں کہ نہ مدینہ جاتا ہو اور نہ کوفہ، شاید اس کے بعد کوئی ایسا حکم آئے کہ میں اس مشکل سے نجات پاجاؤں، اور اس کے بعد قسم کھاکر امام حسین علیہ السلام سے کھا کہ یااباعبد اللہ! اگر جنگ کریں گے تو قتل ہوجائیں گے۔

چنانچہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: تو مجھے موت سے ڈراتا ہے؟ تمھارا انجام کار یھاں تک پہنچ گیا ہے کہ مجھے قتل کرنے کی فکر میں ہو! اس کے بعد دونوں لشکر روانہ ہوگئے، راستہ میں کوفہ سے آنے والے امام حسین علیہ السلام کے مددگار آپہنچے، حرّ نے ان کو گرفتار کرکے کوفہ بھیج دینے کا ارادہ کیا، امام حسین علیہ السلام نے روکتے ہوئے فرمایا: میں ان کا بھی دفاع کروں گا، جس طرح اپنی جان کا دفاع کرتا ہوں، یہ سن کر حر ّ نے اپنا حکم واپس لے لیا، اور وہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہوگئے۔

آخر کار امام حسین علیہ السلام کو کربلا میں گھیر لائے، یزید کی فوج دستہ دستہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کے لئے کربلا میں جمع ہونے لگی، اور اس فوج کی تعداد بڑھتی گئی، عمر سعد یزیدی لشکر کا سردار تھا حرّ بھی سپاہ یزید کے سرداروں میں سے ایک تھا۔

جس وقت عمر سعد جنگ کے لئے تیار ہوگیا، حر ّ کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیروکار، فرزند رسول پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں گے، چنانچہ حر، عمر سعد کے پاس گیا اور سوال کیا: کیا واقعاً (امام) حسین سے جنگ ہوگی؟ عمر سعد نے کھا: ھاں ھاں! بڑی گھمسان کی جنگ ہوگی، حرّ نے کھا: کیوں (امام) حسین کی پیشکش کو قبول نہ کیا؟ عمر سعد نے کھا: مجھے مکمل اختیار ن ہیں ہے اگر مجھے اختیار ہوتا تو قبول کرلیتا، پورا اختیار امیر کے ھاتھوں میں ہے، ”المامور معذور “!

حر ّ نے اپنا ارادہ مضبوط کرلیاکہ مجھے امام حسین (علیہ السلام) سے ملحق ہونا ہے، البتہ یزیدی فوج کو اس بات کی خبر نہ ہو، اپنے پاس کھڑے چچازاد بھائی سے کھا: کیا تو نے اپنے گھوڑے کو پانی پلالیا ہے؟ ”قرہ“ نے جواب دیا: ن ہیں ، حرّ نے کھا: کیا اس کو پانی ن ہیں پلائے گا؟ قرہ نے اس سوال سے کچھ اس طرح اندازہ لگایا کہ حر جنگ ن ہیں کرنا چاھتا لیکن اپنی بات کسی پر ظاھرکرنا بھی ن ہیں چاھتا، شاید کوئی جاکر خبرکردے، لہٰذا اس نے اس طرح جواب دیا: ٹھیک ہے میں گھوڑے کو پانی پلاتا ہوں اور حر سے دور چلاگیا۔

مھاجر، حر ّ کا دوسرا چچا زاد بھائی حر کے پاس آیا اور کھا: کیا ارادہ ہے، کیا حسین پر حملہ کرنا چاھتا ہے؟

حر نے اس کو کوئی جواب نہ دیا، اور اچانک درخت بید کی طرح لرزنے لگا، جیسے ہی مھاجر نے اس کی یہ حالت دیکھی تو بھت تعجب کیا اور کھا: اے حر تیرے کام انسان کو شک میں ڈال دیتے ہیں ، میں نے اس سے پھلے تیری یہ حالت کبھی ن ہیں دیکھی تھی، اگر کوئی مجھ سے پوچھتا کہ کوفہ میں سب سے زیادہ شجاع اور بھادر کون شخص ہے؟ تو میں تیرا نام لیتا، لیکن آج یہ تیری کیا حالت ہورھی ہے؟

حر ّ نے زبان کھولی او رکھا: میں دو راہہ پر کھڑا ہوں میں اپنے کو جنت و دوزخ کے درمیان پارھا ہوں، اور پھر کھا: خدا کی قسم، کوئی بھی چیز جنت کے مقابلہ میں ن ہیں ہے، میں جنت کو ن ہیں کھوسکتا، چاھے میرے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں یا مجھے آگ میں جلاڈالیں، یہ کہہ کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور امام حسین علیہ السلام کی طرف روانہ ہوگیا۔

حر کا جنت و دوزخ پر یقین تھا وہ روز قیامت پر ایمان رکھتا تھا، یھی معنی ہے روز قیامت پر ایمان رکھنے کے۔

صاحبان دل جانتے ہیں کہ ایک لمحہ کے اندر انسان کے دل میں کیا کیا محل تیار ہوتے ہیں ، باتیں بنانے والے کیا کیا کھتے ہیں اور ایک شجاع انسان کو قطعی فیصلہ لینا ہوتا ہے، اور اسی کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے اور یقینا اس پر تدبیر اور ہوشیاری سے عمل کرنا ہوتا ہے تاکہ راستہ میں کوئی رکاوٹ اور مانع پیش نہ آجائے۔

جناب ابراھیم علیہ السلام وہ عظیم الشان سرباز تھے جنھوں نے تنھا دشمن کا مقابلہ کیا ہے اور اس طرح دشمن کے اہداف کو ناکام کیا کہ دشمن ان کی نیت سے آگاہ ہوگیا۔

حر نے بھی اپنے سامنے دونوں راستوں کو واضح پایا اور ان میں سے ایک کو عملی جامہ پہنانے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ دیکھا، اپنے ارادہ پر ثابت قدم رہے ان کے ارادوں کو فقط پروبال کی ضروت تھی تاکہ شکاریوں کے تیر سے بچ کر نکل سکےں۔

حر کے قدم دشمن کے جال سے نکل چکے تھے، وہ دنیاداری کو پیچھے چھوڑچکے تھے، مقام وریاست اور جاہ و جلال سب پیچھے رہ گئے تھے اس وقت اگر قدموں میں تھوڑا سا ثبات موجود ہو تو تمام آفات سے بھی گزر جائیں گے، ان کو یاد آیا کہ اس راستہ میں کوئی مشکل و آفت بھی ن ہیں ہے، اگر مجاہد اپنے گھر سے قدم نکالے اور راستہ میں ہی اس کی موت آجائے اور مقصد تک پہنچنے سے پھلے ہی اس دنیا سے کوچ کرجائے تو بھی خداوندعالم کا لطف و کرم اس کے شامل حال ہوتا ہے، اور خداوندعالم اس کو جنت الفردوس میں جگہ دےتا ہے۔

حر، جیسا آزاد انسان ان تین مرحلوں سے گزر چکا تھا جو واقعاًجادو تھے۔

۱۔ دشمن کی غلامی اور اس کے نفوذ سے۔

۲۔ دنیاوی زرق و برق سے۔

۳۔آفات کے مراحل سے۔

حرّ کے اندر حق و حقیقت سمجھنے کی طاقت اس حد تک تھی کہ اگر اس کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کرڈالیں تو بھی راہ حق و حقیقت اور بہشت سے منحرف ن ہیں کیا جاسکتا۔ ”اوس “نے مھاجرین کو جواب دیتے ہوا کھا: (حر ّ) اپنے کو جنت و جہنم کے درمیان دیکھتا ہے، اس وقت جناب حر نے کھا: خدا کی قسم میں جنت کے مقابلہ میں کسی بھی چیز کو اختیار ن ہیں کرسکتا، اور اس راستہ سے ن ہیں ہٹوں گا چاھے میرے ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائیں، اور چاھے مجھے آگ میں جلا دیا جائے! اس کے بعد گھوڑے کو ایڑ لگائی اور امام حسین علیہ السلام کی طرف روانہ ہوگیا جیسے ہی نزدیک پھونچا اپنی سپر کو اُلٹا کرلیا، امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں نے کھا: یہ شخص کوئی بھی ہے، امان چاھتا ہے، جو روتا ہوا، گریہ کرتا ہوا اور بے قراری کی صورت میں آرھا ہے۔

حر ّ، امام حسین علیہ السلام کی طرف روانہ تھے ھاتھ اپنے سر پر رکھے ہوئے کھتے جاتے تھے: پالنے والے! تیری بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے حاضر ہورھا ہوں لہٰذا میری توبہ قبول فرما کیونکہ میں نے تیرے ا ولیاء اور تیرے پیغمبر کی آل کو رنجیدہ خاطر کیا ہے۔

طبری کھتے ہیں : جیسے ہی حر ّ نزدیک ہوا، اوراس کو پہچان لیا گیا، اس نے حضرت امام حسین (علیہ السلام) کو سلام کیا، اور عرض کی: اے فرزند رسول! خدا مجھے آپ پر قربان کرے، میں نے آپ کا راستہ روکا اور آپ کو واپس نہ پلٹنے دیا، اور آپ کے ساتھ ساتھ چلتا رھا، تاکہ آپ کسی محفوظ جگہ میں پناہ گاہ تلاش نہ کرلیں، یھاں تک کہ آپ پر سختی کی اور آپ کو اس کربلا میں روک لیا، اور یھاں بھی آپ پر سختی کی گئی، لیکن اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی خدا ن ہیں ، میرا یہ گمان ن ہیں تھا کہ یہ قوم آپ کی باتوں کو ن ہیں مانے گی، اور آپ سے جنگ کے لئے تیار ہوجائے گی۔

میںشروع میں یہ سوچتا تھا کہ کوئی بات ن ہیں ، ان لوگوں کے ساتھ سازش سے کام لیتا رھوں تاکہ ک ہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ان کا مخالف ہوتا جارھا ہے، لیکن اگر خدا کی قسم مجھے یہ گمان ہوتا کہ یہ لوگ آپ کی باتوں کو قبول ن ہیں کریں گے، تو میں آپ کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرتا، اب میں آپ کی خدمت میں توبہ کرتے ہوئے اور جانثار کرتے ہوئے حاضر ہوں، تاکہ خدا کی بارگاہ میں توبہ کروں اور اپنی جان آپ پر قربان کردوں۔میں آپ پر قربان ہونا چاھتا ہوں، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ !

اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: ھاں خداوندعالم توبہ قبول کرنے والا ہے، تیری توبہ کو قبول کرلے گا اور تجھے بخش دے گا، تیرا نام کیاھے؟ اس نے کھا: حر ّ بن یزید ریاحی، امام علیہ السلام نے فرمایا:

حر ّ جیسا کہ تمھاری ماں نے تمھارا نام رکھا تم دنیا و آخرت دونوں میں ہی حر ّ(آزاد) ہو(۱۹۵)

عصر عاشور دوبھائیوں کی توبہ

اسلام میں توبہ یعنی گناھگار کا نادم اور پشیمان ہونا، اپنے کئے ہوئے سے پشیمان ہوکر خدا کی طرف پلٹ جانا، اور یہ راستہ ھمیشہ انسان کے لئے کھلا ہوا ہے؛ کیونکہ مکتب الٰھی امید و رجاء کا دین ہے، مھر و محبت، رحمت کا سرچشمہ اور عشق و وفا کا مرکز ہے۔ امام حسین علیہ السلام رحمت پروردگار کا مکمل آئینہ دار ہیں مخلوق پر رحم و کرم، دوست پر رحم و کرم اور دشمن پر (بھی) رحم و کرم، امام حسین کا وجود مھر و محبت کا مجسمہ تھا آپ کی گفتگو محبت تھی رفتار محبت تھی، جس وقت سے یزیدی لشکر آپ کے ساتھ ہوا اسی وقت سے آپ کی کوشش رھی کہ ان کو ہدایت فرمائیں، اور وہ صراط مستقیم کو اپنالیں، حتی الامکان آپ نے راہنمائی فرمائی اور ان کے سلسلے میں خیر خواھی سے کام لیتے رہے ۔

جنگ سے پھلے کوشش کی، میدان جنگ میں کوشش کی اور اپنی رفتار و گفتار سے کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں میں ہدایت کی صلاحیت تھی ان کو ہدایت کی اور ان کو جہنم سے نکال کر مستحق بہشت کردیا۔

امام حسین علیہ السلام کی آخری دعوت اس وقت تھی جب آپ تن تنھا رہ گئے جس وقت آپ کے تمام اصحاب واعزاء شھید ہوگئے، اس وقت کوئی نہ تھا، امام علیہ السلام نے استغاثہ بلند کیا اور فرمایا: کیا ھمارا کوئی ناصر و مددگار ن ہیں ہے؟ کیا کوئی ہے جو پیغمبر کے اھل حرم کا دفاع کرے:

اَلاَ نَاصِرٌ ینْصُرُنَا؟ اَمَا مِنْ ذَابٍّ یذُبُّ عَنْ حَرَمِ رَسُولَ الله “۔

اس آواز نے سعد بن حرث انصاری اور اس کے بھائی ابو الحتوف بن حرث کو خواب غفلت سے بیدار کردیا، یہ دونوں انصار سے تعلق رکھتے تھے، نیز ان کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھے لیکن آل محمد سے کوئی سروکار نہ تھا، دونوں دشمنان علی میں سے تھے، جنگ نھروان میں ان کا نعرہ یہ تھا: ”حکومت کا حق صرف خداوندعالم کو ہے، گناھگار کو حکومت کرنے کا کوئی حق ن ہیں ہے“۔

کیا حسین گناھگار ہیں لیکن یزید گناھگار ن ہیں ہے؟

یہ دونوں بھائی عمر سعد کے لشکر میں (امام ) حسین (علیہ السلام) سے جنگ کرنے اور اور آپ کے قتل کے لئے کوفہ سے کربلا آئے تھے، روز عاشورا جب جنگ کا آغار ہوا تو یہ دونوں یزید کی فوج میں تھے، جنگ شروع ہوگئی خون بہنے لگا، لیکن یہ لوگ یزید کے لشکر میں تھے، امام حسین علیہ السلام تن تنھا رہ گئے یہ لوگ یزید کی فوج میں تھے، لیکن جس وقت امام حسین علیہ السلام نے استغاثہ بلند کیا تو یہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوگئے، اور خود سے کہنے لگے: حسین فرزند پیغمبر ہیں ، ھم روز قیامت ان کے نانے کی شفاعت کے امیدوار ہیں ، یہ سوچ کر دونوں یزید کی فوج سے نکل آئے اور حسینی بن گئے، جیسے امام حسین کے زیر سایہ آئے تو یزیدوں پر حملہ کردیا اور ان سے جنگ کی، چند لوگوں کو زخمی کیا اور چند لوگوں کو واصل جہنم کیا یھاں تک کہ خود بھی جام شھادت نوش کرلیا۔(۱۹۶)

علامہ کمرہ ای جن کی طرف سے حقیر (مولف) صاحب اجازہ بھی ہے اپنی عظیم الشان کتاب ”عنصر شجاعت“ میں فرماتے ہیں :

جس وقت بچوں اور اھل حرم نے امام حسین علیہ السلام کی صدائے استغاثہ سنی:

اَلانَاصِرٌ ینْصُرْنَا ؟“۔

تو خیام حسینی سے رونے اور چلانے کی آواز بلند ہوئی، سعد اور اس کے بھائی ابو الحتوف نے جیسے ہی اھل حرم کے نالہ و فریاد کی دل خراش آوزایں سنیں تو ان دونوں نے امام حسین علیہ السلام کا رخ کیا۔

یہ میدان جنگ میں تھے اپنے ھاتھوں میں موجود شمشیر سے یزیدیوں پر حملہ ور ہوگئے، اور جنگ کرنا شروع کی، امام کی طرف سے تھوڑی دیر تک جنگ کی اور بعض لوگوں کوواصل جہنم کیا، آخر کار دونوں شدید زخمی ہوگئے اس کے بعد دونوں ایک ہی جگہ پرشھید ہوگئے۔(۱۹۷)

ان دو بھائیوں کے حیرت انگیز واقعہ میں امیدکی کرن کو دیکھنے کو ملتی ہے، امید کی کرن ناامیدی کو مارے ڈالتی ہے، اور غیب کی تازہ تازہ خبریں دیتی ہے، انبیاء کے لئے اچانک بشارتیں لے کر آتی ہے درحقیقت یہ (امید) انبیاء کے لئے نبی ہے۔

امید کی کرن کے ذریعہ سے انبیاء علیھم السلام ھر وقت غیب کی باتوں سے پردہ برداری کے منتظر رھتے تھے، ھر وقت ایک نئی کرن سے ناامید ن ہیں ہوتے تھے، یھاں تک کہ آخری وقت میں بھی، گناھگار کی آخری سانس کو مجرم کے ساتھ حساب ن ہیں کرتے جب تک کہ مجرم مکمل طور پر جرم انجام نہ دے لے، خداوندعالم کی طرف سے ایک نئی عنایت کے منتظر رھتے ہیں ، چونکہ خداوندعالم کی مخصوص عنایات سب پر مخفی ہے۔

جناب یعقوب علیہ السلام نے ایک عجیب وغریب فراق کا تحمل کیا، کئی سال گزر گئے یھاں تک کہ آپ کی آنک ہیں سفید ہوگئیں، لیکن جناب یوسف کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی، بھیڑئے کے کھالینے کی خبر سننے کے ساتھ ساتھ اپنے گم شدہ یوسف کی واپسی کے لئے خدا سے امید لگائے رہے ۔

اسی طرح ان دونوں جنگجو (بھائیوں) کے روحی انقلاب کو امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں جاکر جواب ملا کہ خلق خدا کی ہدایت کی امید صحیح اور بجا تھی، معلوم ہوتا ہے کہ خون کے پیاسے دشمنوں کے درمیان بھی نور ہدایت چمک سکتا ہے۔

ایک طرف تو ان دو بھائیوں کے انقلاب سے ایک عجیب و غریب اور نایاب امید کا پیداھونا، دوسری طرف امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ سے بھترین لطف و کرم کی امید، اسلامی مبلغین کے لئے بھترین نمونہ ہیں ، پس ان دو نوںبھائیوں کی سرشت اور طبیعت میں کچھ بھی ہو لیکن یہ لوگ امام حسین علیہ السلام سے بیس سال سے زیادہ چلی آرھی سخت دشمنی کے باوجودآخر وقت توبہ کرکے امام علیہ السلام کی طرف آگئے او رجناب یوسف علیہ السلام کی طرح تاریکیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے نمودار ہوئے۔

یہ وہ راز ہے جس کو خداوندعالم نے ھر انسان کی فطرت میں مخفی رکھا ہے، اسی راز کا معلوم نہ ہونا اسلامی مبلغین کو امیدواری اور دلداری دیتا ہوا کھتا ہے: کبھی بھی تبلیغ اور تاثیر سے مایوس نہ ہونا، انسان کسی بھی وقت ہدایت یافتہ ہوسکتا ہے، کسی بھی موقع پر اس کے دل میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے، اور عالم غیب سے اس کی ہدایت کا راستہ ھموار ہوسکتا ہے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام بارگاہ رب العزت میں ارشاد فرماتے ہیں :

اِلٰهی اِنَّ اخْتِلاَفَ تَدبِیرک وَسُرْعَةَ طَواءِ مَقَادِیرِكَ مَنَعا عِبَادَكَ العَارِفِینَ بِكَ عَنِ السُّكُونِ اِلٰی عَطَاءٍ، وَالْیاْسِ مِنْكَ فِی بَلاَءٍ(۱۹۸)

”پالنے والے! تیری تدبیر میںاختلاف، تیری مقدر کردہ چیزوںمیں جلدی اور تاخیر، تیرے عارف بندوں کو موجودہ عطا پر سکون اور بلاؤں میں ناامید کرنے سے روک دیتے ہیں “۔

بدن، روح کا ایک سایہ ہے، فکر پر ایک حجاب ہے جس سے اس کے رخسار کو چھپایا ہوا ہے، اسی طرح فکر بھی عقلانی قوت کے لئے ایک حجاب ہے جس نے عقل کو چھپارکھا ہے، اسی طرح عقلانی قوت بھی روح و روان کے لئے ایک حجاب ہے جس نے اس کو چھپا رکھا ہے، ان تمام مخفی چیزوں سے زیادہ مخفی انسان کی ذات میں ایک راز ہے جس کو روح و روان نے چھپا رکھا ہے، جھاں پر کسی بھی علمی طاقت کی کوئی رسائی ن ہیں ہے، جس کو کشف کرنے کے لئے کوئی قدرت ن ہیں ہے، یہ مخفی اور پردہ میں موجود چیزیں ایک دوسری طاقت کے ذریعہ کشف ہوتی ہیں ، پھلی مخفی قدرت ؛فکر ہے جس سے انسان میں ہوش پیدا ہوتی ہے، ہوشیار افراد پھلے فکر کا مطالعہ کرتے ہیں ، پردہ کے پیچھے سے انسان کی شکل اور اس کی فکر کو پڑھتے ہیں ۔

عقل جو کہ مخفی ہے اس کو نور فراست اور ایمان (جو خود ایک کشف کی غیر معمولی قدرت ہے) کو پھلے کشف کرتی ہے، اس کے بعد نور نبوت جو(انسان کی) تمام قدرتوں سے بالاتر ہے مقام روح و روان کو کشف کرتی ہے لیکن روان کو کوئی بھی کشف ن ہیں کرسکتا، وھاں پر خداوندعالم کی مخصوص شعائیں ہوتی ہیں ، وھاں پر صرف ذات (پروردگار) کا رابطہ ہوتا ہے، خداوندعالم کی کبریائی اور علام الغیوب کے پیش نظرخدا اور اس کی مخلوق میں کوئی واسطہ ن ہیں ہے، ھر شخص اپنے پروردگار سے ایک مخصوص رابطہ رکھتا ہے، اور یہ رابطہ کسی پر بھی کشف ن ہیں ہوتا، جب تک تبلیغ واجب ہے اور اس کے بارے میں حکم موجود ہے اس وقت تک اس کی تاثیر کے لئے امید پائی جاتی ہے۔

دینی رھبروں کو ھر موڑ پر ایک نئی امید ملتی رھتی ہے وہ عوام الناس کی ہدایت کے لئے مزید سعی و کوشش کرتے رھتے ہیں انقلاب و ہدایت کے مخفی اسباب کے ساتھ ساتھ خدائی معرفت کے ھمراہ ان کے پاس امید و انتظار کا حوصلہ ہوتا تھا، خدا کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی اسی قدر خدا کی ذات سے امید بھی زیادہ ہوگی، اور جس قدر امید ہوگی اسی لحاظ سے انسانی گھرائی کا مطالعہ کرتے ہیں اور نئی خبروں کے منتظر رھتے ہیں ۔

جی ھاں، اے مبلغین اسلام ! آپ حضرات سے اس امید کی کرن کو ک ہیں کوئی چھین نہ لے، مختلف مقامات پر پیش آنے والی مشکلات سے مایوس نہ ہونا، آپ حضرات کے حالات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ سے زیادہ سخت ن ہیں ہیں ۔

کھتے ہیں : شیخ محمد عبد (مشھور عالم اھل سنت) نے ایک مربتہ ایک نشست میں کھا:” میں اسلامی امت کی اصلاح سے مایوس ہوچکا ہوں“۔ چنانچہ اسی موقع پر ایک (بیرونی) معظمہ نے جواب دیا: اے شیخ ! آپ کی زبان پر ”مایوسی“ کے لفظ سے مجھے بھت تعجب ہے! اس وقت شیخ بھت شرمندہ ہوئے اور فوراً استغفار کیا اور اس خاتون کی بات کو صحیح مان لیا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام میں اپنے نانا کے علاوہ تمام انبیاء اور دینی رھبروں سے زیادہ امیدکی روح موجودتھی، آپ بلند ترین امکانی پرواز اور وجود کے عمیق ترین اسرار پر نظر رکھتے تھے، امیدکا پیغام حضرت امام حسین علیہ السلام سے لیجئے، کیونکہ امام حسین علیہ السلام کے پیغام سے آپ کو حوصلہ ملے گا۔

اے ھمارے مولا و آقا حسین علیہ السلام ! آپ پر ھماری جانیں قربان، کہ اگر آپ کو ھر میدا ن میں پکارا جائے تو بے جا نہ ہوگا، آپ کی ذات سے مبلغین کو درس ملتا ہے، آپ سے تلاش و کو شش کا معیار سیکھا جاتا ہے، ھمیں مصر کے شیخ اور اس کے والی سے کوئی سروکار ن ہیں ہے، آپ نے قربانی اور جانثاری کا درس دیا، صرف اپنوں ہی نے ن ہیں بلکہ غیروں نے بھی آپ کی ذات گرامی سے یہ درس حاصل کیا ہے، آپ کی زبان سے اسرار الٰھی کو سننا چاہئے، آپ نے انبیاء علیہم السلام سے بھی زیادہ صبر و استقامت کا مظاھرہ فرمایاھے، آپ کی گلی سے نسیم سحری کے جھونکے آرہے ہیں ، یھاں تک کہ خون بھانے والی شمشیر بھی آپ سے ہدایت حاصل کرلیتی ہے۔

آغاز میں آپ کا اقدام، اس میدان جنگ اور عصر عاشور، کوفہ کی طرف آپ کا متوجہ ہونا راستے میں پیش آنے والے واقعات اور راستہ بھر آپ کا تذکر اور یاد دھانی کرانا:

اَلاَ مْرُ ینْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَ كُلُّ یوْمٍ هُوَ فِی شَاْنٍ، فَاِنْ نَزَلَ الْقَضَاءُ فَالْحَمْدُلله، وَاِنْ حَالَ الْقَضَاءُ دُوْنَ الرَّجَاءِ

ان جاھلوں سے آپ کی رفتار و گفتار، برسر پیکار دشمنوں سے محبت بھری گفتگو ان میں سے ھر ایک ایسا مرحلہ تھا جس میں امید کی کرن پھوٹ رھی تھی جس سے دعائے عرفہ کو جلوہ ملتا تھا، جیسے کہ آپ فرماتے ہیں :

”اِلٰھی اِنَّ اخْتِلاَفَ تَدبِیرک وَسُرْعَةَ طَواءِ مَقَادِیرِكَ مَنَعا عِبَادَكَ العَارِفِینَ بِكَ عَنِ السُّكُوْ نِ اِلٰی عَطَاءٍ، وَالْیاْسِ مِنْكَ فِی بَلاَءٍ“۔

اور آخری وقت جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اس امید کے ساتھ کہ آپ کے ساتھ میں شھید ہونے والے اصحاب و انصار کی تربت سے زندہ دل افراد کو ہدایت ملے گی اور آپ کے آپ کے شہداء کی گلی سے گزریں گے تو نسیم حیات سے ان کے روحانی وجود میں انقلاب پیدا ہوجائے گا، لہٰذا ھماری ذمہ داری ہے کہ وھاں سے زندگی حاصل کرکے تبلیغ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور خلق خدا سے منھ نہ موڑ بیٹ ہیں ۔(۱۹۹)

برادران یوسف کی توبہ

تیسرے سفر میں جب یعقوب علیہ السلام کے تمام فرزند، جناب یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا:اے بادشاہِ بزرگ! ھمارے سارے علاقے میں قحط سالی پھیل چکی ہے، ھمارا خاندان سختی کی زندگی گزار رھا ہے، ھماری طاقت جواب دی چکی ہے یہ چند پرانے سكّے ھم اپنے ساتھ لائے ہیں ، لیکن ھم جتنا گندم خریدنا چاھتے تھے اس کی قیمت سے ک ہیں زیادہ کم ہے، تم ھمارے ساتھ نیکی اور احسان کرو، اور ھمارے سکوں کی قیمت سے زیادہ ھمیں گندم دیدو، خداوندعالم نیکی اور احسان کرنے والوں کو نیک بدلہ دیتا ہے۔

یہ گفتگو سن کر جناب یوسف علیہ السلام کی حالت بدل گئی اور اپنے بھائیوں اور خاندان کی یہ حالت دیکھی تو بھت پریشان ہوئے، ایک ایسی بات کھی جس سے یوسف کے بھائیوں کو ایک دھچکا لگا، چنانچہ جناب یوسف علیہ السلام نے گفتگو کا آغاز اس طرح کیا:

”کیا تم جانتے ہوں کہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے ساتھ تم نے کیا برتاؤ کیا، کیا تمھارا یہ کام کسی جھالت و نادانی کی وجہ سے تھا؟ تمام بھائی یہ سوال سن کر حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ آخر کار یہ قبطی ذات سے تعلق رکھنے والا بادشاہ یوسف کو کس طرح جانتا ہے، اور ان کے واقعہ سے کیسے باخبر ہوا، اسے برادران یوسف کے بارے میں کیسے معلوم ہوا اور یہ یوسف کے ساتھ ہوئے برتاؤکو کیسے جانتا ہے، حالانکہ یہ واقعہ کو صرف ان دس بھائیوں کے علاوہ کوئی ن ہیں جانتا تھا، یہ کیسے اس واقعہ سے آگاہ ہوا؟

یہ لوگ کافی دیر تک کچھ جواب نہ دے سکے، اور گزشتہ سفر کے واقعات کو یاد کرنے لگے، عزیز مصر سے سنی ہوئی باتیں ان کے دماغ میں گردش کررھی ت ہیں کہ اچانک سب نے ایک ساتھ مل کر سوال کیا: کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟

عزیز مصر نے جواب دیا: ھاں، میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی (یامین) ہے، خدا وندعالم نے ھم پر لطف وکرم کیا کہ ایک مدت کے بعد دو بچھڑے بھائیوں کو ملادیا، جو شخص بھی صبر کرتا ہے اور پرھیزگاری کا راستہ اپناتا ہے تو خدا اس کو نیک جزا سے نوازتا ہے اور اس کو اپنی منزل مقصود تک پہنچادیتا ہے۔

ادھر بھائیوں کے دلوں میں ایک عجیب و غریب خوف و وحشت تھا اور حضرت یوسف کی جانب سے شدید انتقام کو اپنے نظروں کے سامنے مجسم دیکھ رہے تھے۔

جناب یوسف کی بے پناہ قدرت، اور بھائیوں میں بے انتھا ضعف و کمزوری، جب یہ دوبے انتھا طاقت و کمزوری ایک جگہ جمع ہوجائیں تو کیا کچھ ن ہیں ہوسکتا؟!!

بھائیوں نے ابراھیمی قانون کے مطابق اپنے کو سزا کا مستحق دیکھا، محبت اور عطوفت کی نظر سے اپنے کو یوسف کی سزا کا مستحق مانا، اس وقت ان کی حالت ایسی تھی گویا ان پر آسمان گرنے والا ہو، ان کے بدن لرز رہے تھے، زبان سے قوت گویائی سلب ہوچکی تھی، لیکن انھوں نے کمر ھمت باندھ کر اپنی تمام طاقت کو جمع کیا اور اپنا آخری دفاع ان لفظوں میں کرنے لگے: ”ھم اپنے گناھوں کا اعتراف کرتے ہیں لیکن آپ سے عفو و بخشش کی درخواست کرتے ہیں ، بے شک خداوندعالم نے آپ کو ھم پر برتری اور فضیلت دی ہے، ھم لوگ خطاکار ہیں “۔ اور یہ کہہ کر خاموش ہوگئے، لیکن جناب یوسف کی زبان سے بھی ایسے الفاظ جاری ہوئے جس کی ان ہیں بالکل امید نہ تھی۔

جناب یوسف علیہ السلام نے کھا: میں نے تم لوگوں کو معاف کردیا، تم ہیں کوئی کچھ ن ہیں کھے گا، کوئی سزا ن ہیں ملے گی، میں کوئی انتقام ن ہیں لوں گا، اور خداوندعالم بھی تمھارے گناھوں سے درگزر کرے اور تم کو بخش دے ۔

جی ھاں! الٰھی نمائندے اسی طرح ہوتے ہیں ، لطف و کرم اور بخشش سے پیش آتے ہیں ، انتقام کی آگ ان کے دلوں میں ن ہیں ہوتی، کینہ ن ہیں ہوتا، اپنے دشمن کے لئے بھی خدا سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں ، ان کا دل خدا کے بندوں کی نسبت مھر و محبت سے لبریز ہوتا ہے۔

جناب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو سزا نہ دینے سے مطمئن کرکے فرمایا: اب تم لوگ شھر کنعان کی طرف پلٹ جاؤ اور میرا پیراہن اپنے ساتھ لیتے جاؤ، اس کو میرے باپ کے چھرے پر ڈال دینا، جس سے ان کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے تمام گھروالوں کو یھاں مصر لے کر چلے آؤ۔

یہ دوسری مرتبہ یوسف کے بھائی آپ کے پیراہن کو باپ کی خدمت میں لے کر جارہے ہیں ، پھلی مرتبہ اسی قمیص کو موت کا پیغام بناکر لے گئے تھے، یھی قمیص فراق و جدائی کی ایک داستان تھی، اور ایک برے حادثہ کی خبر تھی، لیکن اس مرتبہ یھی قمیص حیات کی مژدہ اور دیدار و وصال کی بشارت اور سعادت و خوشبختی کا پیغام ہے۔

پھلی مرتبہ اس کرتے نے باپ کو نابینا بنادیا، لیکن اس بار جناب یوسف کے کرتے نے باپ کی آنکھوں کو بینائی عطا کردی، اور خوشی اور مسرت کا پیغام دیا۔

وہ کرتا جھوٹے خون سے رنگین تھا، لیکن یہ کرتاایک زندہ معجزہ ہے، دیکھئے تو سھی کہ جھوٹ اور سچ میں کس قدر فاصلہ ہے؟!

بھر کیف بھائیوں کا قافلہ تیسری مرتبہ مصر سے روانہ ہوا، اور سر زمین کنعان کی طرف چل پڑا۔

ادھر آسمانی موبائل اور آسمانی بشارت نے اس قافلہ کی خبر جناب یعقوب علیہ السلام تک پہنچادی، چنانچہ جناب یعقوب علیہ السلام نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے افراد سے کھا:

مجھے یوسف کی خوشبو محسوس ہورھی ہے اور اس کے دیدار کا منتظر ہوں، اگرچہ تم لوگ یقین ن ہیں کرو گے ۔

حاضرین نے جناب یعقوب کو خطاکار قرار دیتے ہوئے کھا: ابھی تک تم نے یوسف کو ن ہیں بھلایا، اسی پرانے عشق میں مبتلا ہو!

جناب یعقوب علیہ السلام نے آنک ہیں بند کی اور کوئی جواب نہ دیا، کیونکہ مخاطبین کی فکریں ان حقائق کو ن ہیں سمجھ سکتی ت ہیں ۔

ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ جناب یعقوب علیہ السلام کی بات سچ ہوگئی، یعنی جس قافلے کی بشارت دی تھی وہ کنعان آپہنچا، اور جناب یوسف کے ملنے کی بشارت سنائی، یوسف کے کرتے کو باپ کے چھرہ پر ڈالا ہی تھا کہ جناب یعقوب کی بینائی لوٹ آئی، اس وقت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کی طرف رخ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں نے تم سے ن ہیں کھا تھا کہ میں خدا کی طرف سے ایسی چیزوں کے بارے میں جانتا ہوں جو تم ن ہیں جانتے، ان خطاکاروں کی سزا کا وقت آپہنچا، کیونکہ بیٹوں کا گناہ ثابت ہوچکا تھا۔

لیکن بیٹوں نے باپ سے عفو و بخشش کی درخواست کی، اور کھا کہ آپ خدا سے بھی ھماری گناھوں کی مغفرت طلب کریں۔

جناب یعقوب علیہ السلام نے ان کی خطا کو بخش دیا اور وعدہ کیا کہ اپنے وعدہ کو وفا کریں گے۔(۲۰۰)

جی ھاں، فرزندان یعقوب نے خدا کی بارگاہ میں اپنے گناھوں سے توبہ کی اور اپنے بھائی (یوسف علیہ السلام) اور اپنے باپ سے عذر خواھی کی، جناب یوسف نے بھی ان کو معاف کردیا اور یعقوب علیہ السلام نے بھی بخش دیا، نیز خداوندعالم نے ان پر اپنی رحمت و مغفرت کا دروازہ کھول دیا۔

ایک جزیرہ نشین مرد کی توبہ

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت ہے: ایک شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ دریا کا سفر کررھا تھا۔ اتفاق سے کشتی ڈوبنے لگی اور اس شخص کی زوجہ کے علاوہ تمام لوگ دریا میں ڈوب گئے۔ اور وہ بھی ایسے کہ وہ عورت ایک تختہ پر بیٹھ گئی اور اس دریا کے ایک جزیرہ پر پہنچ گئی۔

اس جزیرہ میں ایک چور رھتا تھاجس نے حرمت خدا کے تمام پردوں کو چاک کررکھا تھا، ناگاہ اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس کے پاس کھڑی ہے، اس نے سوال کیا کہ توانسان ہے یا جن؟ اس نے کھا انسان ہوں۔ چنانچہ وہ چور بغیر کچھ بولے ہی اس عورت کی بغل میںاس طرح آبیٹھا کہ جس طرح مرد اپنی زوجہ کے پاس بیٹھتا ہے، اور جب اس نے اس عورت کی عزت پر ھاتھ ڈالنا چاھا تو وہ عورت لرز گئی۔ اس چور نے کھا تو ڈرتی کیوں ہے ؟پریشان کیوں ہوگئی؟ وہ عورت بولی کہ خدا سے ڈرتی ہوں، اس چور نے کھا کہ کبھی اس طرح کا کام انجام دیا ہے ؟ تو اس عورت نے کھا: ن ہیں ، بخدا ھرگز ن ہیں ۔اس شخص نے کھا: تو خدا سے اس قدر خوف زدہ ہے حالانکہ تو نے ایسا کام انجام ن ہیں دیاھے اور میں جب کہ تم کو اس کام پر مجبور کررھا ہوں، خدا کی قسم، مجھے تو تجھ سے ک ہیں زیادہ خدا سے ڈرنا چاہئے۔ اس کے بعد وھاں سے اٹھا اور اپنے گھر چلا گیا، اور ھمیشہ توبہ و استغفار کی فکر میں رہنے لگا۔

ایک روز راستہ میں ایک راھب سے ملاقات ہوئی، دو پھر کا وقت تھا، چنانچہ اس راھب نے اس شخص سے کھا: دعا کرو کہ خدا ھمارے اوپر بادلوں کے ذریعہ سایہ کردے کیونکہ شدت کی گرمی پڑرھی ہے، تو اس جوان نے کھا کہ میں نے کوئی نیکی ن ہیں کی ہے اور خدا کی بارگاہ میں میری کوئی عزت و آبرو ن ہیں کہ میں اس سے اس طرح کا سوال کروں۔ اس وقت راھب نے کھا: تو پھر میں دعا کرتا ہوں اور تم آمین کہنا۔ اس جوان نے کھا: یہ ٹھیک ہے۔ چنانچہ راھب نے دعا کی اور اس جوان نے آمین کھا، اور دیکھتے ہی دیکھتے بادلوں نے ان دونوں پر سایہ کردیا، دونوں راستہ چلتے رہے یھاں تک کہ ان کا راستہ الگ الگ ہونے لگا، دونوں نے اپنے اپنے راستہ کو اختیار کیا، تو بادل اس جوان کے ساتھ ساتھ چلنے لگے!

چنانچہ یہ دیکھ کر اس راھب نے متعجب ہوکر کھا: تو تو مجھ سے بھتر ہے، تیری ہی وجہ سے دعا قبول ہوئی ہے، نہ کہ میری وجہ سے، اور اس جوان سے اس کے حالات دریافت کرنے لگا، چنانچہ اس نے اس عورت کا واقعہ بیان کیا۔ تب راھب نے کھا: چونکہ خوف خدا تیرے دل میں پیدا ہوگیا تھا تو خدا نے تیرے گناہ بخش دئے، لہٰذا آئندہ گناھوں سے پرھیز کرنا۔(۲۰۱)

اصعمی اور بیابانی تائب

اصعمی کھتے ہیں : میں بصرہ میں تھا، نماز جمعہ پڑھنے کے بعد شھر سے باھر نکلا، ایک شخص کو دیکھا جو اپنے اونٹ پر بیٹھا ہوا ہے جس کے ھاتھ میں ایک نیزہ ہے، جیسے ہی مجھے دیکھا تو اس نے کھا: تم کھاں سے آرہے ہو اور تمھارا کس قبیلہ سے تعلق ہے؟ میں نے کھا: میرا تعلق قبیلہ ”اصمع “سے ہے، اس نے کھا: تو وھی مشھور اصعمی ہی ہے؟ میں نے کھا: ھاں، میں وھی ہوں، اس نے کھا: کھاں سے آرہے ہو؟ میں نے کھا: خدائے عز و جلّ کے گھر سے، اس نے کھا:

اَوْلِلّٰهِ بَیتٌ فِی الْارْضِ ؟“۔

”کیا روئے زمین پر (بھی) خدا کا کوئی گھر ہے؟“

میں نے کھا: ھاں، خانہ کعبہ اور بیت اللہ الحرام، اس نے کھا: وھاں کیا کررہے تھے؟ میں نے کھا:

کلام خدا کی تلاوت کررھا تھا، اس نے کھا:

اَوْلِلّٰهِ كَلاٰمٌ ؟“

”کیا خدا کا کوئی کلام (بھی) ہے؟“

میں نے کھا: ھاں، شیرین کلام، اس نے کھا: مجھے بھی تھوڑ ا بھت کلام خدا سناؤ، میں نے سورہ ذاریات کی تلاوت شروع کردی یھاں تک کہ اس آیت تک پہنچا:

( وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ ) ۔(۲۰۲)

”اور آسمان میں تمھارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے سب کچھ موجود ہے “۔

اس نے کھا: کیا یہ خدا کا کلام ہے؟ میں نے کھا: ھاں یہ اسی کا کلام ہے جس کو اس نے اپنے بندہ اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل کیا ہے، یہ سنتے ہی اس کے بدن میں جیسے آگ لگ گئی ہو، اس کے اندر ایک سوز پیدا ہوا، ایک شدید درد اس کے اندر پیدا ہوا، اس نے اپنی شمشیر اور نیزہ پھینک دیا، اپنے اونٹ کو قربان کردیا، اور خالی ھاتھ ہوگیا، ظلم و ستم کا لباس اتاردیا اور کھا:

تريٰ یقبل من لم یخدمه فی شبابه “۔

”اے اصعمی! کیا تم گمان کرتے ہوں کہ جس نے جوانی میں خدا کی عبادت اور اس کی اطاعت نہ کی ہو، اس کو بارگاہ الٰھی میں قبول کرلیا جائے؟“

میں نے کھا: اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر اس نے کیوں انبیاء کو مبعوث برسالت فرمایا، انبیاء کی رسالت کا ہدف ہی یھی ہے کہ بھاگنے والے کو دوبارہ پلٹادےں اور خدا کا غضب، صلح و آشتی میں بدل جائے۔

اس نے کھا: اے اصعمی ! اس درد مند کے لئے کوئی علاج بتاؤ، اور گناھوں میں مبتلا ہونے والے کے لئے کوئی مرھم بتاؤ۔

میں نے اس کے بعد کی آیت کی تلاوت شروع کردی:

( فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالارْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَاانَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ ) ۔(۲۰۳)

”آسمان و زمین کے مالک کی قسم یہ قرآن بالکل برحق ہے جس طرح تم باتیں کررہے ہو“۔

جیسے ہی میںنے اس آیت کی تلاوت کی، اس نے چند بار اپنے کو زمین پر گرایا، اور نالہ و فریاد کی، دیوانوں کی طرح حیران و سرگردان بیابان کی طرف چل دیا۔

اس کے بعد میں نے اس کو ن ہیں دیکھا مگر خانہ کعبہ کے طواف میں کہ غلاف کعبہ کو پکڑے ہوئے کہہ رھا تھا:

من مثلی و انت ربّی، من مثلی و انت ربّی

”مجھ جیسا کون ہوگا کہ تو میرا خدا ہے، مجھ جیسا کون ہوگا کہ تو میرا خدا ہے“۔

میں نے اس سے کھا: تیری یہ گفتگو اور تیری یہ حالت لوگوں کے طواف میں رکاوٹ بن رھی ہے، چنانچہ اس نے کھا: اے اصعمی! گھر اس کا گھر ہے، اور بندہ اسی کا بندہ ہے، چھوڑئے مجھے اس کے لئے ناز کرنے دیجئے، اس کے بعد اس نے دو شعر پڑھے جن کا مضمون یہ ہے:

”اے شب بیداری کرنے والو! تم لوگ کس قدر نیک ہو، تمھارے اوپر میرے ماں باپ قربان، کس قدر خوبصورت اور زیبا ہو، اپنے آقا کے دروازے کوکھٹکھٹاتے ہو، واقعاً یہ دروازہ تمھارے لئے کھل جائے گا“۔

اس کے بعد وہ بھیڑ میں چھپ گیا، اور بھت تلاش کرنے پر بھی نہ ملا، مجھے بھت زیادہ حیرت اور تعجب ہوا، میری طاقت ختم ہوچکی تھی اور میں صرف گریہ زاری کرتا رہ گیا۔(۲۰۴)

صدق اور سچائی توبہ کے باعث بنے

راہزنوں کا ایک گروہ کسی مسافر کی تلاش میں تھا تاکہ اس کے مال و اسباب لوٹ سکیں، اچانک انھوں نے ایک مسافر کو دیکھا، تو اس کی طرف دوڑے اور کھا: جو کچھ بھی ہے، ھمیں دیدے، اس نے کھا: میرے پاس صرف ۸۰ دینار ہیں جس میں ۴۰ دینار کا مقروض ہوں، اور باقی میرے وطن تک پہنچنے کا خرچ ہے۔راہزنوں کے رئیس نے کھا: اس کو چھوڑو، معلوم ہوتا ہے کوئی بد بخت آدمی ہے اس کے پاس زیادہ پیسہ ن ہیں ہے۔

راہزن مسافروں کی کمین میں بیٹھے ہوئے تھے، اس مسافر کو جھاں جانا تھا گیا او راپنا قرض ادا کرکے واپس آگیا، اس وقت پھر راستہ میں چور مل گئے، انھوں نے کھا: جو کچھ بھی تیرے پاس ہے وہ سب دیدے ورنہ تجھے قتل کردیں گے، اس نے کھا: میرے پاس ۸۰دینار تھے جن میں سے ۴۰دینار قرض دے چکا ہوں اور باقی میرے خرچ کے لئے ہیں ، چوروں کے سردارنے حکم دیا کہ اس کی تلاشی لی جائے، چنانچہ اس کے سامان او رکپڑوں میں ۴۰ دینار کے علاوہ کچھ ن ہیں ملا!

چوروں کے سردار نے کھا: حقیقت بتاؤ کہ اس خطرناک موقع پر بھی تو نے صدق اور سچائی سے کام لیا اور جھوٹ نہ بولا؟

اس نے کھا: میں نے بچپن میں اپنی ماں کو وعدہ دیا تھا کہ عمر بھر سچ بولوں گا اور کبھی اپنے دامن کو جھوٹ سے آلودہ نہ کروں گا!

چور قہقہہ لگاکر ہنسے لگے، لیکن چوروں کے سردار نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کھا: ھائے افسوس! تو اپنی ماں سے کئے ہوئے وعدہ پر پابند ہے اور جھوٹ کا سھارا نہ لیا اور اپنے اس وعدہ پر اس قدر پابند ہے، لیکن میں خدا کے وعدے پر پابند نہ ہوں جس سے ھم نے وعدہ کیا ہے کہ گناہ نہ کریں گے، اس وقت اس نے ایک چیخ ماری اور کھا: خدایا! اس کے بعد تیرے وعدے پر عمل کروں گا، پالنے والے! میری توبہ!! میری توبہ!!

ایک عجیب وغریب توبہ

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں ایک شخص رھتا تھا جس کا ظاھر بھت اچھا اور بھت نیک صورت تھا، جیسے اھل ایمان کے درمیان ایک نایاب اور مشھور شخص ہو۔

لیکن وہ شخص بعض اوقات رات میں چھپ کر لوگوں کے یھاں چوری کرتا تھا۔

ایک رات کا واقعہ ہے کہ چوری کے لئے ایک دیوار پر چڑھ گیا، دیکھا کہ اس گھر میں بھت زیادہ مال و دولت ہے اور وھاں پر ایک جوان لڑکی کے علاوہ کوئی دوسرا بھی ن ہیں ہے!

اپنے دل میں کہنے لگا: آج تو مجھے دوھرا خوش ہونا چاہئے، ایک تو یہ سارا قیمتی سامان مجھے مل جائے گا، دوسرے اس لڑکی سے لذت بھی حاصل کروں گا!

اسی فکر میں تھا کہ اچانک غیبی بجلی اس کے دل میں چمکی، جس سے اس کی فکر روشن ہوگئی، غور و فکر میں ڈوب گیا اور سوچنے لگا: کیا ان تمام گناھوں کے بعد تجھے موت کا سامنا ن ہیں کرنا، کیا موت کے بعد خداوندعالم مجھ سے بازپرس ن ہیں کرے گا، کیا میں اس روز کے عذاب سے بھاگ سکتا ہوں؟

اس روز اتمام حجت کے بعد خدا کے غیظ و غضب میں گرفتار ہوں گا ھمیشہ کے لئے آتش جہنم میں جلوں گا، یہ سب باتیں سوچ کر بھت زیادہ پشیمان ہوااور خالی ھاتھ ہی وھاں سے واپس آگیا۔

جیسے ہی صبح ہوئی، اپنے اسی ظاھری چھرہ اور بناوٹی لباس میںپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اچانک اس نے دیکھا کہ وھی لڑکی جس کے گھر میں گزشتہ رات چوری کے لئے گیا تھا؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میری ابھی تک شادی ن ہیں ہوئی ہے، میرے پاس بھت زیادہ مال و دولت ہے، میرا شادی کرنے کا ارادہ ن ہیں تھا لیکن رات میں نے دیکھا کہ ایک چور میرے گھر میں آیا اگرچہ وہ کچھ ن ہیں لے گیا لیکن میں بھت زیادہ ڈر گئی ہوں، گھر میں تنھا رہنے کی ھمت ن ہیں رہ گئی ہے، اگر آپ مناسب سمج ہیں تو میرے لئے کوئی شوھر تلاش کریں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس چور کی طرف اشارہ کیا، اگر تو چاھتی ہے تو ابھی اس کے ساتھ تیرا عقد پڑھ دوں، چنانچہ اس نے عرض کیا: میری طرف سے کوئی مانع ن ہیں ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی وقت ان دونوں کا عقد کردیا، دونوں ایک ساتھ اس کے گھر میں آگئے، اس نے اپنا واقعہ اس عورت سے بیان کیاکہ وہ چور میں ہی تھا اگر میں نے چوری کی ہوتی اور تجھ سے ناجائز رابطہ کیا ہوتا، تو میں چوری کا مرتکب بھی ہوا ہوتا اور زنا کا گناہ بھی کرتا جبکہ یہ وصال ایک رات سے زیادہ نہ ہوتا، اور وہ بھی حرام طریقہ سے، لیکن چونکہ میں نے خدا اور قیامت کو یاد کرلیا اور گناہ کرنے میں صبر کیا اور خدا کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کیا، خداوندعالم نے بھی اس طرح مقدر فرمایا کہ اب گھر کے دروازہ سے داخل ہوا ہوں اور ساری عمر تیری ساتھ زندگی بسر کروں گا۔(۲۰۵)

بِشر حافی کی توبہ

بِشر ایک عیاش طبع اور اھل لھو و لعب افراد میں سے تھا اکثر اوقات اپنے گھر میں ناچ گانے اور گناھوں کی محفل سجائے رھتا تھا، ایک روز امام موسيٰ کاظم علیہ السلام اس کے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے، اس کے گھر سے ناچ گانے کی آواز بلند تھی۔ امام علیہ السلام نے دروازہ پر کھڑے اس کے نوکر سے فرمایا: اس گھر کا مالک غلام ہے یا آزاد؟ اس نے کھا: آزاد، اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: ٹھیک کھتے ہو، اگر غلام ہوتا تو اپنے مولا سے ڈرتا۔ یہ سن کر نوکر گھر میں داخل ہوا، بِشر (جو شراب پینے والا ہی تھا)اس نے دیر سے آنے کی وجہ معلوم کی، تو اس نوکر نے کھا: ایک شخص کو گلی میں دیکھا، جس نے مجھ سے اس طرح سوال کیا، اور میں نے یہ جواب دیا، چنانچہ امام کاظم علیہ السلام کا جملہ اس پر اس قدر موثر ہوا، کہ خوف و ھراس کے عالم میں ننگے پاؤں گھر سے باھر نکلا اور امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، اور امام علیہ السلام کی خدمت میں توبہ کی، بھت زیادہ روتا ہوا اپنے گھر میں داخل ہوا اور ھمیشہ کے لئے گناہ کے دسترخوان کو اٹھا پھینکا، آخر کار زاہدوں اور عرفاء کے دائرہ میں شامل ہوگیا۔(۲۰۶)

توبہ کرنے والا اھل بہشت ہے

معاذ بن وھب کھتے ہیں :ایک مرتبہ میں چند لوگوں کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوا، ایک بوڑھا شخص بھی ھمارے ساتھ تھا، جو بھت زیادہ عبادتیں کیا کرتا تھا لیکن ھماری طرح اھل بیت (علیھم السلام) کی ولایت اور حضرت امیر کو بلا فصل خلیفہ ن ہیں مانتا تھا، اسی وجہ سے اپنے خلفاء کے مذھب کے مطابق سفر میں (بھی) نماز پوری چار رکعتی پڑھتا تھا۔

اس کا ایک بھتیجہ بھی ھمارے قافلہ میں تھا، لیکن اس کا عقیدہ ھماری طرح صراط مستقیم پر تھا، وہ بوڑھا شخص راستہ میں بیمار ہوگیا، اس نے اپنے بھتیجے سے کھا: اگر اپنے چچا کے پاس آتا اور اس کو ”ولایت“ کے سلسلہ میں بتاتا تو بھتر ہوتا، شاید خداوندعالم اس کو آخری وقت میں ہدایت فرمادیتا اور گمراھی و ضلالت سے نجات عطا کردیتا۔

اھل قافلہ نے کھا: اس کو اپنے حال پر چھوڑ دو، لیکن اس کا بھتیجہ اس کے طرف دوڑا اور کھا:

عمّو جان! لوگوں نے سوائے چند افراد کے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد حق سے روگرانی کی، لیکن حضرت علی علیہ السلام بن ابی طالب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح واجب الاطاعت ہیں ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد حق علی کے ساتھ ہے، اور آپ کی اطاعت تمام امت پر واجب ہے، اس پیر مرد نے ایک چیخ ماری او رکھا: میں بھی اسی عقیدہ پر ہوں، یہ کہہ کر اس دنیا سے چل بسا۔

ھم لوگ جیسے ہی سفر سے واپس آئے، حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے، علی بن سری نے اس بوڑھے شخص کا واقعہ بیان کیا، اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ شخص جنتی ہے، اس نے عرض کیا: وہ شخص آخری لمحات میں اس عقیدہ پر پہنچا ہے، صرف اسی گھڑی اس کا عقیدہ صحیح ہوا تھا، کیا وہ بھی جنتی اور اھل نجات ہے؟ ! اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: تم اس سے اور کیا چاھتے ہو، بخدا وہ شخص اھل بہشت ہے۔(۲۰۷)

ابو لبابہ کی توبہ

جس وقت جنگ خندق تمام ہوگئی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے، ظھر کے وقت جناب جبرئیل امین نازل ہوئے اور خداوندعالم کی طرف سے بنی قریظہ کے یھودیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا پیغام سنایا، فوراً ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنگ کے لئے مسلح ہوگئے اور مسلمانوں کو حکم دیا: ھمیں نماز عصر بنی قریظہ نامی علاقہ میں پڑھنا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حکم نافذ ہوا، اسلامی فوج نے بنی قریظہ کا محاصرہ کرلیا، جب محاصرہ کے مدت طولانی ہوئی، تو یھودیوں پر زندگی سخت ہوگئی، لہٰذا انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس پیغام بھجوایا کہ ابولبابہ کو ھمارے پاس بھیج دیں تاکہ اپنی حالت کے بارے میں اس سے مشورہ کریں۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابولبابہ سے فرمایا: اپنے ھم پیمانوں کے پاس جاؤ اور دیکھو وہ کیا کھتے ہیں ؟

جس وقت ابولبابہ یھودیوں کے قلعہ میں پہنچے، تو یھودیوں نے اس سے سوال کیا: ھمارے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے؟ کیا ھم ان تمام شرائط کو مانتے ہوئے پیغمبر کے سامنے تسلیم ہوجائیں تاکہ وہ جو کچھ ھمارے ساتھ کرنا چا ہیں ، کرسکیں ؟ انھوںنے جواب دیا: ھاں تم لوگ تسلیم ہوجاؤ، اور اس جواب کے ساتھ ابولبابہ نے اپنے ھاتھوں سے گلے کی طرف اشارہ کیا، یعنی تسلیم ہونے کی صورت میں فوراً قتل کردئے جاؤگے، لیکن فوراً ہی اپنے کئے سے پشیمان ہوئے اور ایک فریاد بلند کی: آہ میں نے خدا و رسول کے ساتھ خیانت کرڈالی! کیونکہ مجھے یہ حق ن ہیں تھا کہ پوشیدہ راز کو بیان کروں۔

قلعہ سے باھر آئے اور سیدھے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، مسجد میں داخل ہوئے رسّی سے اپنی گردن کو ایک ستون سے باندھ لیا، جس ستون کو بعد میں ”ستون توبہ“ کا نام دیا گیا، او رکھا: میں اپنے کو ن ہیں کھولوں گا یھاں تک کہ میری توبہ قبول ہوجائے، یا میری موت آجائے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابولبابہ کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہوئے اور ان کے بارے میں سوال کیا، تو اصحاب نے ابولبابہ کا واقعہ بیان کیا، اس وقت آنحضرت نے فرمایا: اگر میرے پاس آتا تو میں خدا سے اس کے لئے طلب مغفرت کرتا لیکن جب وہ خدا کی طرف گیا تو خداوندعالم اس کی نسبت زیادہ حقدار ہے جیسے بھی اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔

ابولبابہ جتنے دن بھی وھاں بندھے رہے دن میں روزہ رکھتے تھے اور رات کو معمولی کھانا کھاتے تھے، رات کے وقت ان کی بیٹی کھانا لاتی تھی اور وضو کی ضرورت کے وقت اس کو کھول دیتی تھی۔

یھاں تک کہ جناب ام سلمہ کے گھر ایک شب میں ابولبابہ کی توبہ قبول ہونے کے سلسلہ میں آیت نازل ہوئی:

( وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهم خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیئًا عَسَی اللهُ انْ یتُوبَ عَلَیهم إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔(۲۰۸)

” اور دوسرے وہ لوگ جنھوں نے اپنے گناھوں کا اعتراف کیا کہ انھوں نے نیک اور بد اعمال مخلوط کردئے ہیں عنقریب خدا ان کی توبہ قبول کرلے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مھربان ہے “۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امّ سلمہ سے فرمایا: ابولبابہ کی توبہ قبول ہوگئی، ام سلمہ نے کھا: یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت فرماتے ہیں کہ ابولبابہ کو اس کی توبہ قبول ہونے کے بارے میں بشارت دیدوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اجازت مرحمت فرمائی، جناب امّ سلمہ نے اپنا سر حجرہ سے نکالا اور ابولبابہ کی توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔

ابولبابہ خدا کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنے لگے، چند افراد اس کوستون کے کھولنے کے لئے آئے، لیکن ابولبابہ نے ان کو روک دیا اور کھا: خدا کی قسم میں تم لوگوں سے یہ رسی ن ہیں کھلواؤں گا مگر یہ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خود آکر مجھے آزاد فرمائیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خود تشریف لائے اور فرمایا: تیری توبہ قبول ہوگئی ہے اب تم اس بچہ کی طرح ہو جو شکم مادر سے ابھی پیدا ہوا ہو، اور اس کی گردن سے وہ رسّی کھول دی۔

ابولبابہ نے کھا: یا رسول اللہ! کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ میں اپنا سارا مال راہ خدا میں خیرات کردوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ن ہیں ، اس کے بعد انھوں نے اپنے دو تھائی مال کے خیرات کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی بھی اجازت نہ دی، انھوں نےآدھا مال خیرات کرنے کی اجازت طلب کی لیکن آنحضرت نے اس کی بھی اجازت نہ دی، آخر کار انھوں نے ایک تھائی مال خیرات کرنے کی اجازت مانگی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اجازت مرحمت فرمادی۔(۲۰۹)

ایک لوھار کی توبہ

اس عجیب و غریب واقعہ کا راوی کھتا ہے: میں شھر بصرہ کے لوھاربازار میں وارد ہوا، ایک لوھار کو دیکھا کہ لوھے کو سرخ کئے ہوئے ہے او راس کو اپنے ھاتھ سے پکڑے ہوئے ہے، اوراس کا شاگرد اس پر ھتوڑا ماررھا ہے۔

مجھے بھت تعجب ہوا کہ سرخ لوھا اس کے ھاتھ کو ن ہیں جلارھا ہے؟ اس لوھار سے اس چیز کا سبب معلوم کیا، اس نے بتایا: ایک سال بصرہ میں شدید قحط پڑا، یھاں تک کہ لوگ بھوکے مرنے لگے، ایک روز میری پڑوسن جو جوان تھی میرے پاس آئی او رکھا:میرے بچے بھوک سے مرے جارہے ہیں ، میری مدد کر، جیسے ہی میں نے اس کے جمال اور خوبصورتی کو دیکھا تو اس کا عاشق ہوگیا، میں نے اس کے سامنے ناجائز پیشکش رکھی، وہ عورت شرماکر جلدی سے میری گھر سے نکل گئی۔

چند روز کے بعد وہ عورت دوبارہ آئی اور کھا: اے مرد! میرے یتیم بچوں کی جان خطرے میں ہے، خدا سے ڈر اور میری مدد کردے، میں نے د وبارہ پھر اپنی خواہش کی تکرار کی اس مرتبہ بھی وہ عورت شرمندہ ہوکر میرے گھر سے نکل گئی۔

دو دن بعد پھر میرے پاس آئی اور کھا: اپنے یتیم بچوں کی جان بچانے کے لئے میں تسلیم ہوں، لیکن مجھے ایسی جگہ لے چل جھاں تیرے اور میرے علاوہ کوئی نہ ہو، چنانچہ میں اس کو ایک مخفی جگہ لے کر گیا، جیسے ہی اس کے نزدیک ہونا چاھتا تھا وہ لرز اٹھی، میں نے کھا: تجھے کیا ہوگیا ہے؟ اس نے کھا: تو نے ایسی جگہ لانے کا وعدہ کیا تھا جھاں کوئی د یکھنے والا نہ ہو، لیکن یھاں تو اس ناجائز کام کوپانچ دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں ، میں نے کھا: اے عورت! اس گھر میں کوئی ن ہیں ہے، تو پانچ افراد کی بات کررھی ہے، اس نے کھا: دو فرشتے میرے موکل اور دو فرشتے تیرے موکل اور ان چار فرشتوں کے علاوہ خداوندمتعال میں ھمارے اس کام کو دیکھ رھا، میں کس طرح ان کے سامنے اس بُرے کام کا ارتکاب کروں؟!!

اس عورت کی باتوں نے مجھ پر اتنا اثر کیا کہ میرا بدن لرز اٹھا، اس شرمناک کام سے اپنے کو آلودہ ہونے سے بچالیا، اس کو چھوڑ دیا اور اس کی مدد کی، یھاں تک قحط کے خاتمہ تک اس کی اور اس کے یتیم بچوں کی جان بچالی، اس نے بھی میرے حق میں اس طرح دعا کی:

پالنے والے! جیسے اس مرد نے اپنی شھوت کی آگ کو خاموش کردیا تو بھی اس پر دنیا و آخرت کی آگ کو خاموش کردے۔ چنانچہ اسی عورت کی دعا ہے کہ دنیا کی آگ مجھے ن ہیں جلاتی ۔(۲۱۰)

قوم یونس کی توبہ

سعید بن جبیراور دیگر مفسرین نے قوم یونس کے واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے:

قوم یونس نینوا او رموصل کے علاقہ میں زندگی بسر کیا کرتی تھی۔اور اپنے نبی جناب یونس کی دعوت کو قبول ن ہیں کیا تھا، چنانچہ حضرت یونس ان ہیں ۳۳ سال تک خدا پرستی اور گناھوں سے دوری کا دعوت دیتے رہے لیکن دو افراد کے علاوہ کوئی ایمان نہ لایا، ان ایمان لانے والوں میںایک کا نام ”روبیل“ اور دوسرے کا نام ”تنوخا“ تھا۔

روبیل ایک صاحب علم و حکمت گھرانہ سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی جناب یونس سے دوستی تھی، تنوخا ایک عابد و زاہد شخص تھا، جو جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے ان کو فروخت کیا کرتا تھا۔

بھر کیف جب جناب یونس قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے، تو خداوندعالم کی بارگاہ میں اس قوم کی شکایت کی اور عرض کیا: پالنے والے! ۳۳ سال سے اس قوم کو توحید و عبادت او رگناھوں سے دوری کی دعوت دے رھا ہوں اور تیرے عذاب سے ڈرا رھا ہوں، لیکن یہ سرکشی پر تلے ہوئی ہے اور مجھے جھٹلارھی ہے، یہ لوگ مجھے ذلت کے ساتھ دیکھتے ہیں اور مجھے قتل کی دھمکی دیتے ہیں ۔ خداوندا! ان پر عذاب نازل کردے، اب یہ لوگ ہدایت کے قابل ن ہیں ہیں ۔ آواز آئی: اے یونس! اس قوم کے درمیان کچھ جاھل لوگ ہیں ، کچھ بچے شکم مادر میں اور کچھ آغوش مادر میں ہیں ، ان میں بعض بھت بوڑھے اور کمزور عورتیں ہیں ، میں خدائے حکیم اور عادل ہوں، میری رحمت میرے غضب سے زیادہ ہے، میں ن ہیں چاھتا کہ گناھگاروں کے ساتھ میں بے گناھوں پر بھی عذاب کروں، میں ان کے ساتھ دوستی اور مھربانی کا سلوک کرنا چاھتا ہوں، اور ان کی توبہ و استغفار کا منتظر ہوں، میں نے تم ہیں ان کے درمیان اس لئے بھیجا ہے کہ تم ان کی حفاظت کرواور ان کے ساتھ رحمت و مھربانی کے ساتھ پیش آؤ، اور عظیم الشان مقام نبوت کے ذریعہ ان کے سلسلہ میں صبر سے کام لو، اور ایک ماھر طبیب کی طرح ان کی بیماری کے علاج میں لگ جاؤ، ان کے گناھوں کا علاج مھربانی سے کرو!

صبر و حوصلہ کی کمی سے آپ ان کے لئے عذاب کی درخواست کرتے ہیں ، آپ سے پھلے نوح بھی میرے پیغمبر تھے جن کا صبر تم سے زیادہ تھا انھوں نے اپنی قوم کے ساتھ تم سے بھتر سلوک کیا، حضرت نوح نے اپنی قوم کے ساتھ دوستی اور مدارا سے کام لیا، ۹۵۰ سال کے بعد مجھ سے عذاب کی درخواست کی، تب میں نے ان کی درخواست کو قبول کیا۔

جناب یونس علیہ السلام نے عرض کیا: پالنے والے! میں تیری وجہ سے ان پر غضبناک ہوں، کیونکہ ان کو جتنا تیری اطاعت کی دعوت کی اس سے زیادہ انھوں نے گناھوں پر اصرار کیا، تیری عزت کی قسم! ان کے ساتھ (اب) نرم رویہ اختیار ن ہیں کروں گا اور خیر خواھی کی نگاہ سے ن ہیں دیکھوں گا، ان کے کفر اور تکذیب کے بعد ان پر عذاب نازل فرمادے، کیونکہ یہ لوگ ھرگز ایمان لانے والے ن ہیں ہیں ۔ چنانچہ جناب یونس کی دعوت بارگاہ الٰھی میں قبول ہوئی، خطاب آیا: نصف شوال بروز چھار شنبہ طلوع آفتاب کے وقت ان پر عذاب نازل کروں گا، ان کو خبر کردیں۔

نصف شوال کے چھار شنبہ سے پھلے ہی جناب یونس شھر سے کوچ کرگئے، لیکن ”روبیل“ چونکہ عالم و حکیم تھے، ایک بلندی پر گئے، او ربلند آواز سے کہنے لگے: اے لوگو! میں روبیل ہوں اور تمھاری بھلائی چاھتا ہوں، یہ ماہ شوال ہے جس میں تم ہیں عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے تم لوگوں نے پیغمبر خدا کو جھٹلایا ہے لیکن تم ہیں معلوم ہونا چاہئے کہ پیغمبر خدا نے سچ کھا ہے، خدا کا وعدہ کبھی جھوٹا ن ہیں ہوتا، اب دیکھو کیا ہوتا ہے۔

یہ سن کر لوگوں نے ان سے کھا: ھمیںکوئی چارہ کار بتاؤ کیونکہ تم صاحب علم و حکمت ہو اور ھم پر مھربان اور دلسوز ہو۔

انھوں نے کھا:میرے لحاظ سے عذاب الٰھی کے وقت سے پھلے تم لوگ شھر سے باھر نکل جاؤ، بچوں کو ان کی ماؤں سے الگ کردو، سب خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ اور گریہ و زاری کرو اور اس کی بارگاہ میں تضرع و زاری کرواور خلوص کے ساتھ توبہ کرلو اور کھو:

”خداوندا! ھم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے تیرے پیغمبر کو جھٹلایا ہے، لیکن (اب )ھم توبہ کرتے ہیں لہٰذا تو ھمارے گناھوں کو بخش دے، اگر تو نے ھمیں معاف نہ کیا اور ھم پر رحم نہ کیا تو ھم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے، پالنے والے ! ھماری توبہ قبول فرما، ھم پر رحم کر، خدایا! تیرا رحم سب سے زیادہ ہے“۔قوم نے ان کی بات مان لی، اور اس معنوی و روحانی منصوبہ کے لئے تیار ہوگئے، بدھ کا روز آگیا، روبیل ان سے دور ہوگئے اور ایک گوشہ میں چلے گئے تاکہ ان کی گریہ و زاری اور ان کی توبہ کو دیک ہیں ۔

چھار شنبہ کا سورج نکلا، شھر میں خطرناک اور ہولناک زرد ہوائےںچلنے لگیںجس سے خوف و وحشت پھیل گئی، بیابان میں زن و مرد، پیر و جوان غنی اور ضعیف غرض سب لوگوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں، اور سب دل کی گھرائی سے توبہ کرنے لگے اور خداوندعالم سے طلب مغفرت میں مشغول ہوگئے، بچے ماؤں کی فلک شگاف گریہ کی صدائیں سن کر رونے لگے، مائیں بچوں کے رونے کی وجہ سے فریادیں کرنے لگیں۔ اس وقت ان کی توبہ بارگاہ الٰھی میں قبول ہوئی، ان سے عذاب ٹل گیا اور قوم ہنسی خوشی اپنے گھروں میں واپس آگئی۔(۲۱۱)

ایک جوان اسیر کی توبہ

شیخ صدوق علیہ الرحمہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں : ایک مرتبہ اسیروں کی ایک تعداد کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لایا گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان میں سے ایک شخص کے علاوہ تمام لوگوں کے قتل کا حکم صادر فرمادیا۔اس اسیر نے کھا: ان تمام اسیروں کے درمیان صرف مجھے کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ حضرت نے فرمایا:

خداوندعالم کی طرف سے مجھے جبرئیل نے بتایا ہے کہ تو پانچ خصلتوں کا مالک ہے، جن کو خدا و رسول دوست رکھتے ہیں : تو اھل خانہ کا بھت زیادہ خیال رکھتا ہے، سخاوت اور حسن خلق سے کام لیتا ہے، سچ بولتا ہے اور تیرے اندر شجاعت او ردلیری پائی جاتی ہے۔ جیسے ہی اس جوان نے ان باتوں کو سنا تو فوراً مسلمان ہوگیا، اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا، اور بھترین جنگ کے کرنے کے بعد شھید ہوگیا۔(۲۱۲)

ستمکار حکومت میں ایک ملازم شخص کی توبہ

عبد اللہ بن حمّاد، علی بن ابی حمزہ سے نقل کرتے ہیں : میرا ایک دوست بنی امیہ کی حکومت میں نوکری کرتا تھا، اس نے مجھ سے کھا: حضرت امام صادق علیہ السلام سے میرے لئے اجازت لے لو تاکہ میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوسکوں، میں نے امام علیہ السلام سے اجازت لی، امام نے اجازت دی، چنانچہ وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، سلام کیا اور بیٹھتے ہوئے کھا: میں آپ پر قربان، میں بنی امیہ کی حکومت میں ملازم ہوں، میں نے بھت زیادہ مال و ثروت جمع کیا ہے، اور مال جمع کرنے میں شرعی قوانین کی مطلقاً رعایت ن ہیں کی ہے۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر بنی امیہ کو کوئی کاتب نہ ملتا اور مال غنیمت حاصل نہ ہوتا، اور ایک گروہ ان کی حمایت میں جنگ نہ کرتا تویہ میرے حق کو ن ہیں لے سکتے تھے، اگر لوگ ان کو چھوڑ دیتے اور ان کی تقویت نہ کرتے تو کیا وہ کچھ کرسکتے تھے؟

یہ سن کر اس جوان نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آیا میں اس عظیم بلاء سے نجات حاصل کرسکتا ہوں؟ اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا میرے کہنے پر عمل کروگے؟ اس نے کھا: جی ھاں! امام علیہ السلام نے فرمایا: بنی امیہ کی اس ملازمت سے جتنا مال حاصل کیا ہے اگر ان کے مالکوں کو جانتے ہو؟ تو ان ہیں دیدو او راگر ن ہیں جانتے تو ان کی طرف سے صدقہ دیدو، میں خدا کی طرف سے جنت کی ضمانت دیتا ہوں، وہ جوان کافی دیر تک خاموش رھا او رپھر عرض کی: میں آپ پر قربان جاؤں، آپ کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہوں۔

علی بن ابی حمزہ کھتے ہیں : وہ جوان ھمارے ساتھ کوفہ واپس آیا، اور حضرت کے حکم کے مطابق عمل کیا، اور اس کے پاس کچھ باقی نہ بچا۔

اس نے اپنا پیراہن بھی راہ خدا میں دیدیا، میں نے اس کے لئے پیسے جمع کئے اس کے لئے لباس خریدا اور اس کے اخراجات کے لئے مناسب خرچ بھیج دیا، چند ماہ کے بعد وہ مریض ہوگیا تو میں اس کی عیادت کے لئے گیا، اسی طرح چند روز اس کی عیادت کے لئے جاتا رھا، لیکن جب آخری روز اس کی عیادت کے لئے گیا، تو اس نے اپنی آنک ہیں کھولیں اور مجھ سے کھا: خدا کی قسم! امام صادق علیہ السلام نے اپنے وعدہ وفا کردیا ہے، اور یہ کھتے ہی وہ اس دنیا سے چل بسا، ھم نے اس کے کفن و دفن کا انتظام کیا، ایک مدت کے بعد حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہواتو امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم ھم نے تمھارے دوست کی نسبت اپنا وعدہ وفا کردیا ہے، میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان ہوجاؤں، آپ صحیح فرمارہے ہیں اس نے مرتے وقت مجھے اس بات کی خبر دی تھی۔(۲۱۳)

حیرت انگیز توبہ

حقیر بمناسب ولادت باسعادت حضرت امام عصر (عج) تبلیغ کے لئے بندر عباس گیا ہوا تھا، آخری شب جمعہ کو دعائے کمیل کا پروگرام تھا۔

چنانچہ دعائے کمیل شروع ہونے سے پھلے ایک ۲۰ سالہ جوان نے مجھے ایک خط دیا اس جوان کو اس سے پھلے ن ہیں دیکھا تھا۔

دعائے کمیل کے بعد گھر واپس آگیا، اس خط کو پڑھا، مجھے وہ خط پڑھ کر بھت تعجب ہوا، اس میں لکھا ہواتھا: میں پھلے میں اس طرح کے پروگرام میں شریک ن ہیں ہوتا تھا، گزشتہ سال دوپھر میں میرے ایک دوست نے فون کیا کہ چار بچے عصر تمھارے پاس آتا ہوں کیونکہ ایک جگہ جانا ہے، چار بج گئے، وہ آگیا اور میں اس کی گاڑی میں بیٹھ گیا اور اس سے کھا: کھاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کھا: میرے ماں باپ چند روز کے لئے ک ہیں گئے ہیں ھمارا گھر خالی ہے کوئی ن ہیں ہے، چلیں وھاں چلتے ہیں تاکہ دونوں مزے اڑائیں، جیسے ہی اس کے گھر پہنچے تو اس نے کھا: دو لڑکیوں کو بلایا ہے، اور وہ ی ہیں موجود ہیں ، وہ ھمارے لئے آمادہ ہیں ، چنانچہ اس نے مجھے ایک کمرہ میں بھیجا او رخود دوسرے کمرے میں چلا گیا، جیسے ہی کچھ کرنا چاھا، آپ سے متعلق تبلیغی بینر پر لکھا ہوا میرے ذہن میںآیا”شب جمعہ دعائے کمیل“ میں جانتا تھا کہ یہ دعا حضرت علی علیہ السلام کی دعا ہے، لیکن آج تک دعائے کمیل پڑھتے ہوئے ن ہیں دیکھا تھا، میں اس شیطانی حالت میں حضرت علی علیہ السلام سے بھت شرمندہ ہوا، شرم و حیا نے میرے بدن کو لرزا دیا، اپنے وجود سے نفرت کرنے لگا، (اس لڑکی کو چھوڑ کر واپس آگیا) سڑکوں پر حیران و پریشان گھومتا رھا، یھاں تک رات ہوگئی مسجد میں آیا رات کے اندھیرے میں آپ کے ساتھ دعائے کمیل پڑھنے لگا، شرم و حیا سے سر جھکائے آنسو بھاتا رھا، اور خدا کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرتا رھا نیز خدا سے دعا کی کہ میری شادی کے لئے راستہ ھموار کردے، اور مجھے گناھوں کی لغزشوں سے محفوظ فرما۔ دو تین ماہ کے بعد ہی والدین کے پیش کش پر ایک شریف خاندان کی بھت خوبصورت لڑکی سے شادی ہوگئی ایسی خوبصورت لڑکی جس کو کبھی خواب میں بھی ن ہیں دیکھا تھا صورت و سیرت میں بے نظیر تھی، میں اس نعمت کو گناہ کو ترک کرنے اور دعائے کمیل میں شرکت کرنے کی برکت سمجھتا ہوں، میں نے اس سال تمام جلسوں میں شرکت کی ہے اور یہ خط اس لئے لکھا ہے تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ یہ جلسے بالخصوص جوانوں کے لئےکس قدر مفید ہیں !

گناھگار نے پُر معنی جملہ سے توبہ کرلی

علامہ محمد باقر مجلسی علیہ الرحمہ کے مریدوں میں سے ایک صاحب نے موصوف سے عرض کیا:میرا پڑوسی بھت گناھگار ہے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر لھو لعب اور گناھوں کی محفل سجاتا ہے، جس سے ھمیں اور دوسرے پڑوسیوں کو اذیت ہوتی ہے، بھت ہی بدمعاش آدمی ہے، میں اس کو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرنے سے ڈرتا ہوں، اپنے مکان کو بھی ن ہیں بدل سکتا کہ اس کو فروخت کرک ہیں دوسری جگہ خریدلوں۔

علامہ محمد تقی مجلسی علیہ الرحمہ نے اس سے فرمایا: اگر کسی روز اس کی دعوت کرو اور اس کو اپنے یھاں مھمان بلاؤ تو میں اس سے گفتگو کرنے کے لئے شرکت کرسکتا ہوں، شاید خدا کا لطف اس کے شامل حال ہوجائے اور اپنے گناھوں سے پشیمان ہوکر توبہ کرلے۔

چنانچہ یہ بد معاش شخص ایک مومن شخص کے یھاں دعوت کے لئے مدعو کیا گیا اس نے بھی دعوت قبول کرلی، علامہ مجلسی اس دعوت میں شریک ہوئے، چند منٹ تک اس مجلس پر سکوت طاری رھا، لیکن وہ گناھگار شخص جو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کے آنے سے سخت تعجب میں تھا ؛علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی طرف رخ کرکے کھتے ہیں : اس دنیا میں تم روحانی (مولوی) لوگوں کا کیا کہنا ہے؟

علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے کھا: برائے مھربانی آپ ہی فرمائیے کہ آپ کیا کھتے ہیں ؟ چنانچہ اس شخص نے کھا: ھم جیسے لوگ بھت کچھ کھتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس کا نمک کھالیا ہواس کے نمک کی رعایت کی جائے، اور اس کے ساتھ خلوص کے ساتھ پیش آئیں، یہ سن کر علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے اس سے کھا: تمھاری کتنی عمر ہے؟ جواب دیا: ساٹھ سال، علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے فرمایا: اس ساٹھ سال میں کتنی بار خدا کا نمک کھایا ہے، کیا اس کے نمک کی رعایت کی ہے، اور اس کے ساتھ خلوص و صفا کا لحاظ رکھا ؟ اس گناھگار شخص کو جیسے ایک جھٹکا سا لگا، اس نے سر جھکالیا، اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، اس محفل کو ترک کیا، اس کو رات بھر نیند ن ہیں آئی، صبح سویرے اپنے پڑوسی کے پاس آیا اور اس سے سوال کیا: رات تمھارے گھر آنے والے مولانا کون تھے؟ اس نے کھا: وہ علامہ محمد تقی مجلسی تھے، اس سے ان کا ایڈرس معلوم کیا اور ان کی خدمت میں پہنچا اور ان کے سامنے توبہ کی اور نیک و صالح لوگوں میں ہوگیا!

گر نمی پسندی تغیر دہ قضا را

علامہ محمد تقی مجلسی علیہ الرحمہ امر بالمعروف، نھی عن المنکر اور گناھوں سے روکنے کے لئے بھت زیاہ دلسوزتھے جس محلہ میں رھتے تھے چند اوباش اور بدمعاش لوگ بھی رھتے تھے، جو جوا، شراب خوری اور رقص و سرور کی محفل سجایا کرتے تھے۔

اکثر اوقات جب ان سے ملاقات ہوتی تھی تو امر بالمعروف او رنھی عن المنکر فرماتے تھے اور ان ہیں گناھوں کے ترک کرنے اور خدا کی عبادت کی دعوت دیا کرتے تھے۔

وہ تمام غنڈے او ران کا سردار؛ علامہ مجلسی علیہ الرحمہ سے پریشان اور ایک ایسے موقع کی تلاش میں تھے جس سے مجلسی علیہ الرحمہ سے نجات پاجائیں۔

ایک روز علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کے مریدوں میں سے ایک نیک و صالح اور سادہ انسان کو دیکھاتو اس سے کھا: شب جمعہ اپنا مکان ھمارے لئے خالی کردے اور دعوت کا انتظام کر جس میں علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کو بھی دعوت دینا اور اس منصوبہ سے کوئی مطلع نہ ہونے پائے، ورنہ تیرے لئے آفت ہوجائے گی۔

چنانچہ پروگرام معمول کے مطابق برقرار ہوا، علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے اس خیال سے کہ ایک نمازی کے یھاں دعوت ہے، دعوت کو قبول کرلیا۔

تمام غنڈوں نے طے کیا کہ پھلے ھم سب لوگ وھاں جمع ہوجائیں گے اور ایک ناچنے والی عورت کو بلایا جائے گا، علامہ مجلسی کے آنے کے بعد جب محفل اچھی طرح سج جائے تو وہ رقّاصہ ننگے سر محفل میں وارد ہو اور طبل وغیرہ کے ساتھ ناچنے گانے میں مشغول ہوجائے!

اور اس وقت ایک شخص محلے کے مومنین کو جمع کرلے کہ یہ دیکھو کیا ہورھا ہے!!

واعظان کین جلوہ در محراب و منبر می کنند

چون بہ خلوت می روند آن کار دیگر می کنند

(واعظین مسجد و منبر پر تو وعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن جب خلوت میں جاتے ہیں تو دوسرے کام کرتے ہیں )

شاید اس پروگرام کو دیکھ مجلسی علیہ الرحمہ ذلیل ہوجائیں اور اور اس کے بعد ھمیں ان سے نجات مل جائے۔

علامہ مجلسی علیہ الرحمہجس وقت محفل میں وارد ہوئے تو صاحب خانہ دکھائی نہ دیا بلکہ اس کے بدلے وھاں پر بد معاش او رگناھگار لوگ جمع ہیں ، سب منھ بنائے ہوئے چاروں طرف بیٹھے ہوئے ہیں ، علامہ موصوف نے اپنی ایمانی ذکاوت سے اندازہ لگالیا کہ کوئی نہ کوئی چال ضرور ہے! کچھ ہی دیر گزری تھی کہ پردہ اٹھا اور بناؤ سنگھار کئے ایک رقاصہ نکلی اور طبل و طنبور کے ساتھ ناچنا گانا شروع کردیا، اور مطرب انداز میں یہ شعر پڑھتے ہوئے مخصوص انداز میں ناچنا شروع کردیا:

در کوی نیکنامان ما را گزر نباشد

گر تو نمی پسندی تغیر دہ قضا را

نیک اور صالح لوگوں کی گلی سے ھمارا گزر ن ہیں ہوسکتا، اگرتم ہیں پسند ن ہیں ہے توقضاکوبدل دو

علامہ مجلسی علیہ الرحمہ، عظیم الشان عارف و عابد کی آنک ہیں میں آنسو بھر آئے اور خداوندعالم کی طرف خلوص کے ساتھ توجہ کی اور بارگاہ الٰھی میں عرض کیا:

”گر تو نمی پسندی تغیر دہ قضا را“

(اگر تجھے پسند ن ہیں ہے تو قضا کو بدل دے)

اچانک کیا دیکھا کہ اس رقاصہ نے اپنا سرو صورت چھپانا شروع کردیا، ساز و طبل کو زمین پر دے مارا اور سجدہ میں گرپڑی، اور دلسوز آواز میں ذکر ربّ کرنے لگی: یا ربّ، یا ربّ، یا ربّ، اس نے توبہ او راستغفار کیا، دوسرے لوگ بھی خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور اس ماجرے کو دیکھ رونے لگے، ان تمام لوگوں نے اس عظیم الشان عالم دین کے سامنے توبہ کی اور اپنے تمام گناھوں سے دوری اختیار کرلی۔(۲۱۴)

ھارون الرشید کے بیٹے کی توبہ

صاحب کتاب ”ابواب الجنان“، واعظ سبزواری اپنی کتاب ”جامع النورین“ (ص۳۱۷) اور آیت اللہ نھاوندی نے اپنی کتاب ”خزینة الجواھر“ (ص۲۹۱) میں تحریر کیا ہے : ھارون کا ایک بیٹا نیک و صالح تھا ایک پاکیزہ گوھر، ناپاک صلب سے جیسے کوئی مروارید ہو، جو اپنے زمانہ کے عابد و زاہد لوگوں کی بزم سے فیضیاب ہوتا تھا جن کی صحبت کے اثر سے دنیاوی زرق و برق سے کنارہ کشی کئے ہوئے تھا، باپ کے طور طریقہ اور مقام و ریاست کے خواب کو ترک کئے ہوئے تھا، اس نے اپنے دل کو پاک و صاف کررکھا تھاحقیقت کی بلند شاخوں پر اپنا گھر بنائے ہوئے تھا اور دنیاوی چیزوں سے آنک ہیں بند کئے تھا۔

ھمیشہ قبرستان میں جاتا اور ان کو عبرت کی نگاھوں سے دیکھتا اور قبروں کو دیکھ دیکھ کر زار و قطار آنسو بھاتا تھا!

ایک روز ھارون کا وزیر محفل میں تھا اثناء محفل اس کا لڑکا وھاں سے گزرا جس کا نام قاسم اور لقب موتمن تھا، جعفر برمکی ہنسنے لگے، ھارون نے ہنسنے کی وجہ معلوم کی تو جواب دیا: اس لڑکے کی حالت پر ہنستا ہوں جس نے تجھے ذلیل کردیا ہے، کاش یہ تمھارا بیٹا نہ ہوتا! یہ دیکھئے اس کے کپڑے، چال چلن عجیب ہے اور یہ غریب اور فقیروں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، یہ سن کر ھارون بول اٹھا: اس کو حق ہے کیونکہ ھم نے ابھی تک اسے کوئی مقام و منصب دیا ہی ن ہیں ، کیا اچھا ہو کہ ایک شھر کی حکومت اس کو دیدی جائے، فرمان صادر کردیا اور اس کو اپنے پاس بلایا، اس کو نصیحت کرتے ہوئے اس طرح کھا: میں چاھتا ہوں تجھے کسی شھر کی حکومت پر منصوب کروں، کس علاقہ کی حکومت چاھتے ہو؟

اس نے کھا: اے پدر! مجھے اپنے حال پر چھوڑدیجئے، مجھے خدا کی عبادت کا شوق حکومت کے شوق سے ک ہیں زیادہ ہے، یہ سوچ لو کہ میں تمھارا بیٹا ن ہیں ہوں۔

ھارون نے کھا: کیا حکومتی لباس میں خدا کی عبادت ن ہیں کی جاسکتی؟ کسی علاقہ کی حکومت قبول کرلو، تمھارا وزیر بھی کسی شائستہ شخص کو قرار دے دوں گا تاکہ اکثر کاموں کو دیکھتا رہے اور تو عبادت خدا میں مشغول رہنا۔

ھارون اس چیز سے بے خبر تھا یا اپنے کو غافل بنائے ہوئے تھا کہ حکومت ائمہ معصومین اور اولیاء الٰھی کا حق ہے۔ ظالموں، ستمگروں، غاصبوں اور طاغوتوں کی حکومت میں کسی شھر کی امارت قبول کرنا جھاں پر حکم الٰھی کو نافذ نہ کیا جاسکے، اور اس کی درآمد سے کوئی بھی عبادت صحیح ن ہیں ہوگی کیونکہ یہ بالکل حرام مال ہے، اور اس عبادت سے خدا بھی راضی ن ہیں ہوگا، نیز ظالم حکومت کی طرف سے کسی علاقہ کی امارت لینا بغیر شرعی دلیل کے ایک گناہ عظیم ہے۔

قاسم نے کھا: میں کسی بھی طرح کا کوئی منصوبہ قبول کرنے کے لئے تیار ن ہیں ہوں اور نہ ہی حکومت و امارت قبول کروں گا۔

ھارون نے کھا: تو خلیفہ، حاکم اور ایک وسیع و عریض زمین کے بادشاہ کا بیٹا ہے کیا وجہ ہے کہ تو نے غریب و فقیر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مجھے ذلیل و رسوا کردیا ہے؟ اس نے جواب دیا: تو نے بھی مجھے نیک و صالح لوگوں کے درمیان ذلیل و رسوا کررکھا ہے کہ تو ایک ایسے باپ کا بیٹا ہے!

ھارون اور حاضرین مجلس کی نصیحت اس پر کارگر نہ ہوسکی، تھوڑی دیر کے لئے خاموش کھڑا رھا۔

مصر کی حکومت اس کے نام لکھ دی گئی حاضرین اس کو مبارکباد اور تہنیت پیش کرنے لگے۔

جیسے ہی رات کا وقت آیا بغداد سے بصرہ کی طرف بھاگ کھڑا ہوا، صبح جب ڈھونڈا گیا تو اس کو نہ پایا۔

بصرہ کے اطراف میں رہنے والے عبد اللہ ابصری کھتا ہے: بصرہ میں میرا ایک مکان تھا جس کی دیواریں خراب ہوچکی ت ہیں ، ایک روز سوچا مکان کی گری ہوئی دیوار کو بنوادیا جائے مزدور کی تلاش میں نکلا، مسجد کے پاس ایک جوان کو دیکھا جو قرآن پڑھنے میں مشغول ہے اور بیلچہ اور ٹوکری لئے ہوئے ہے، میں نے اس سے سوال کیا: کیا کام کرنے کے لئے تیار ہو؟ اس نے کھا: ھاں، خداوندعالم نے ھمیں حلال رزق حاصل کرنے کے لئے کام او رزحمت کے لئے پیدا کیا ہے۔

میں نے کھا: آؤ اور ھمارے مکان میں کام کرو، اس نے کھا: پھلے میری اجرت طے کرو، بعد میں تمھارے کام کے لئے جاؤں گا، اس نے کھا: ایک درھم ملے گا، اس نے قبول کرلیا، شام تک اس نے کام کیا، میں نے اندازہ لگایا کہ اس نے دو آدمیوں کے برابر کام کیا ہے میں نے اس کو دو درھم دینا چاھے لیکن اس نے انکار کردیا، او رکھا: مجھے زیادہ ن ہیں چاہئے، دوسرے روز اس کی تلاش میں گیا لیکن وہ نہ ملا، اس کے بارے میں لوگوں سے سوال کیا تو کچھ لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ صرف سنیچر کے روز کام کرتا ہے۔

سنیچر کے روز صبح صبح اس کی پھلی جگہ تلاش کے لئے گیا وہ مل گیا، اس کو لے گیا وہ دیوار بنانے میں مشغول ہوگیا، گویا غیب سے اس کی مدد ہوتی تھی، جیسے ہی نماز کا وقت ہوا، اس نے کام روک دیا، اپنے ھاتھ پیردھوئے اور نماز واجب میں مشغول ہوگیا، نماز پڑھنے کے بعد پھر کام میں مشغول ہوگیا، یھاں تک کہ سورج ڈوبنے لگا، اس کی مزدوری اس کو دی اور وہ چلا گیا، چونکہ میری دیوار مکمل ن ہیں ہوئی تھی دوسرے سنیچر تک صبر کیا تاکہ پھر اسی کو لے کر آؤں، سنیچر کے روز مسجد کے پاس اس کو تلاش کیا لیکن وہ ن ہیں ملا، اس کے بارے میں لوگوں سے سوال کیا تو کھا: دو تین دن سے بیمار ہے، اس کے گھر کا پتہ معلوم کیا ایک پرانے اور قدیم محلہ میں اس کا ایڈرس بتایا گیا، میں وھاں گیادیکھا تو بستر علالت پر پڑا ہوا ہے اس کے سرھانے بیٹھ گیااور اس کے سر کو اپنی آغوش میں لیا، اس نے آنک ہیں کھولی تو سوال کیا: تم کون ہو؟ میں نے کھا: میں وھی ہوں جس کے لئے تم نے دو دن کام کیا ہے، میرا نام عبد اللہ بصری ہے، اس نے کھا: میں نے تم ہیں پہچان لیا، کیا تم بھی مجھے پہچاننا چاھتے ہو؟ میں نے کھا: ھاں بتاؤ تم کون ہو؟

اس نے کھا: میرا نام قاسم ہے اور میں ھارون الرشید کا بیٹا ہوں!

جیسے اس نے اپنا تعارف کرایامجھے فوراً ایک جھٹکا لگا اور لرزنے لگا، میرے چھرے کا رنگ بدل گیا او رکھا: اگر ھارون کو معلوم ہوگیا کہ میں نے اس کے بیٹے سے مزدوری کرائی ہے تو مجھے سخت سزا دے گا، میرے گھر کو ویران کرنے کا حکم دےدے گا۔ قاسم سمجھ گیاکہ وہ بری طرح ڈرگیا ہے، اس نے کھا: خوف نہ کھاؤ اور ڈرو ن ہیں ، میں نے ابھی تک کسی سے اپنا تعارف ن ہیں کرایا ہے، اب بھی اگر مرنے کے قریب نہ ہوتا تو تم ہیں بھی ن ہیں بتاتا، میں تم سے ایک خواہش رکھتا ہوں اور وہ یہ کہ جب میں دنیا سے چل بسوں تو جو شخص میری قبر تیار کرے یہ بیلچہ اور ٹوکری اس کودیدینا اور یہ قرآن جومیرا مونس و ھمدم تھا کسی قرآن پڑھنے والے کو دیدینا، اس نے اپنی انگوٹھی مجھے دی او رکھا: میرے مرنے کے بعد اگر تیرا گزر بغداد سے ہو تو میرا باپ سنیچر کے روز عام لوگوں سے ملاقات کرتا ہے، اس کے پاس جانا اور اس کو یہ انگوٹھی دینا او رکہنا: تیرے بیٹا اس دنیا سے گزر گیا ہے، اور اس نے کھا ہے: تجھے مال دنیا جمع کرنے کا لالچ بھت زیادہ ہے، اس انگوٹھی کو بھی لے کر اپنے مال میں اضافہ کرلے، لیکن روز قیامت اس کا حساب بھی خود ہی دینا، کیونکہ مجھ میں حساب کی طاقت ن ہیں ہے، یہ کھتے کھتے اٹھنا چاھا لیکن اس کی طاقت جواب دی گئی، دوبارہ پھر اٹھنا چاھا لیکن نہ اٹھ سکا، اس نے کھا: اے عبد اللہ ! مجھے ذرا اٹھادو کیونکہ میرے مولا و آقا امیر المومنین علیہ السلام تشریف لائے ہیں ، میں نے اس کو اٹھایا اور اچانک اس کی روح پرواز کر گئی، گویا ایک چراغ تھا جس میں ایک چنگاری اٹھی اور خاموش ہوگیا!

ایک آتش پرست کی توبہ

مشھور و معروف فقیہ عارف نامدار فیلسوف بزرگوار جناب ملا احمد نراقی اپنی عظیم الشان کتاب ”طاقدیس“ میں تحریر فرماتے ہیں :

جناب موسيٰ علیہ السلام کوہ طور کی طرف چلے جارہے تھے، راستہ میں ایک بوڑھا آتش پرست ملا جو گمراھی اور گناھوں سے آلودہ تھا، اس نے جناب موسيٰ علیہ السلام نے کھا: کھاں جارہے ہیں ، کس سے باتیں کرنے جارہے ہو؟ چنانچہ جناب موسيٰ علیہ السلام نے جواب دیا: کوہ طور پر جارھا ہوں، جس جگہ وہ بے انتھا نور کا مرکز ہے، وھاں جاتا ہوں تاکہ حضرت حق سے راز و نیاز اور مناجات کروں، اور تمھارے گناھوں اور خطاؤں کی معذرت کروں۔

اس آتش پرست نے کھا: کیا میرا پیغام بھی خدا کے پاس پہنچا سکتے ہو؟ جناب موسيٰ علیہ السلام نے کھا: تیرا پیغام کیا ہے؟ اس نے کھا: میری طرف سے اپنے پروردگار سے کہنا کہ اس خلقت کے جھرمٹ اور آفرینش کے بھیڑ میں میں تجھ کو خدا مانوں یہ میرے لئے ننگ و عار ہے، مجھے ھر گز اپنے پاس نہ بلانا اور مجھے تیری روزی کی منت او رتیرے احسان کی بھی ضرورت ن ہیں ہے، نہ تو میرا خدا ہے او رنہ میں تیرا بندہ! جناب موسيٰ علیہ السلام نے اس بے معرفت آتش پرست کی گفتگو کو سنا اور اس گستاخ کی گفتگو پر بھت جوش آیا، اپنے دل میں کھا: میں اپنے محبوب سے مناجات کرنے کے لئے جارھا ہوں، مناسب ن ہیں ہے کہ اس کے سامنے یہ سب نازیبا گفتگو بیان کروں، اگر خدا کا احترام کرتا ہوں تو ان باتوں کو بیان نہ کروں تو اچھا ہے۔

جناب موسيٰ علیہ السلام طور کی طرف روانہ ہوگئے، اس نورانی وادی میں خداوندعالم سے راز و نیاز کرنے لگے، گریاں کناں آنکھوں سے مناجات شروع کردی، اس خلوت میں ایسا کیف تھا کہ دوسرے اس سے بے بھرہ ہیں ، خداوندعالم سے عاشقانہ گفتگو ہوئی، جب آپ راز و نیاز سے فارغ ہوئے اور وھاں سے واپس چلنے کا ارادہ کیا، خطاب ہوا: اے موسيٰ میرے بندے کا پیغام کیا تھا؟

عرض کیا: میں اس پیغام کو سناتے ہوئے شرم محسوس کرتا ہوں، تو خود علیم و بصیر ہے اور جانتا ہے کہ اس بوڑھے آتش پرست کافر نے تیرے شان میں کیا گستاخی کی ہے!

خطاب ہوا: اس زبان دراز کے پاس جانا اور میری طرف سے اس کو سلام کہنا اوراس کے بعد پیار و محبت سے اس کا یہ پیغام سنانا:

اگر تجھے مجھ سے عار ہے، تو مجھے تجھ سے کوئی عار ن ہیں ہے ھرگز تجھ سے جنگ ن ہیں کروں گا، اگر تو مجھے ن ہیں چاھتاتو میں تو تجھے بھت چاھتا ہوں، تو اگر میری روزی اور رزق ن ہیں چاھتا میں اپنے فضل وکرم سے تجھے روزی عنایت کروں گا، اگر میری روزی کا احسان ن ہیں چاھتا تو میں بغیر احسان کے روزی عنایت کروں گا، میرا فیض سب کے لئے اور عام ہے، میرا لطف و کرم بے نھایت، ھمیشگی اور قدیم ہے۔ تمام لوگ میرے نزدیک بچوں کی طرح ہیں اور میرا فیض دودھ پلانے والی ایک خوش اخلاق ماں کی طرح ہے۔ ھاں بچے کبھی غصہ میں اور کبھی پیار میں پستان مادر کو اپنے منھ سے نکال دیتے ہیں لیکن ان کی ماں ان سے ناراض ن ہیں ہوتی، بلکہ پھر اپنی پستان ان کے منھ رکھ دیتی ہے۔

بچہ منھ پھیر لیتا ہے اور اپنے منھ کو بند کرلیتا ہے، ماں اس کے بند منھ کے بوسہ لینا شروع کردیتی ہے، اور پیار بھرے انداز میں کھتی ہے: ارے میرے بچے! منھ نہ موڑ، دودھ بھری چھاتی کو منھ میں رکھ لے، اے میرے لاڈلے ! دیکھ تو سھی میرے پستان سے بھار میں ابلنے والے چشمہ کی طرح دودھ جوش مارھا ہے۔

جس وقت جناب موسيٰ علیہ السلام کوہ طور سے واپس آئے، اس بوڑھے آتش پرست نے کھا: اگر میرے پیغام کا جواب لائے ہو تو بیان کرو۔

جناب موسيٰ علیہ السلام نے خدا کا پیغام اس کافر اور آتش پرست کو سنایا، کلام الٰھی نے اس کافر اور ملحد کے دل سے کفر کے زنگ کو دور کردیا، وہ ایک گمراہ انسان تھا جو راہ حق سے دور ہوچکا تھا، خدا کا پیغام اس کے لئے ایک گھنٹی کی طرح تھا، وہ شب تاریک کی طرح اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، وہ جواب اس کے لئے نور خورشید کی طرح بن گیا۔

شرم و حیا کی وجہ سے سر جھک گیا، اپنی آنکھوں پر ھاتھ رکھے اور زمین کی طرف دیکھنے لگا، تھوڑی دیر بعد اس نے سر اٹھایا اور اشک بھری آنکھوں اور سوز جگر کے ساتھ کھا: اے موسيٰ! تم نے میرے جسم میں آگ لگادی ہے، جس سے میرا جسم و روح دھواں ہوگیا ہے، یہ کیا پیغام تھا جو میں نے خدا کی بارگاہ میں پیش کیا، میں بدبخت ہوں، افسوس مجھ پر، اے موسيٰ! مجھے ایمان کی تعلیم دیں، اے موسيٰ! مجھے حقیقت کا راستہ بتاؤ، خدایا کیا عجیب واقعہ پیش آیا، میری روح قبض کرلے تاکہ میں اس پریشانی سے نجات پاجاؤں!

جناب موسيٰ علیہ السلام نے ایمان، عشق، رابطہ کی گفتگو اور خدا سے راز و نیاز کا سلیقہ سکھایا، اور اس نے توحید کا اقرارکیا اوراپنے گزشتہ سے توبہ کی اور اس دنیا سے محبوب کی طرف کوچ کرگیا!

توبہ اور خدا سے صلح و صفا

۱۹۵۱ ء میں جب شیعہ مرجعیت کی ذمہ داری، حضرت آیت اللہ العظميٰ آقای بروجردی رحمة اللہ علیہ کے شانوں پر تھی، جو علم و عمل کے مجاہد اور باکمال نورانی چھرہ کے مالک تھے، اس وقت حقیر کی عمر نو سال تھی، توبہ کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جس کا ذکر کرنا مناسب ہے۔

شھر تھران کے ایک محلہ میں ایک بھت قدرت مند آدمی تھا، جو واقعاً ایک اوباش اور غنڈا تھا اکثر غنڈے اس سے خوف زدہ رھتے تھے اور چاقو چھری مارنے والے بد معاش بھی اس سے ڈرتے تھے۔

وہ کبھی شراب خوری، جوا، ڈکیتی اور جھگڑا فساد کرنے سے گریز ن ہیں کرتا تھا۔

چنانچہ جب اس غنڈا گردی پر عروج تھا اس وقت لطف خدوندی اور اس کی رحمت نے اس کے دل پر اثر کیا اور جو کچھ بھی اس کے پاس تھا ان سب کو بیچ کر نقد پیسہ بنایا اور ایک سوٹ کیس میں بھر کر توبہ کرنے کے لئے شھر مقدس قم میں آیا اور حضرت آیت اللہ العظميٰ آقای بروجردی علیہ الرحمہ کی خدمت میں پہنچا، اپنی مخصوص زبان میں اس عالم باعمل اور صاحب بصیرت سے گویا ہوا: جو کچھ بھی اس سوٹ کیس میں ہے سب مال حرام ہے، میں اکثر مال کے مالکوں کو ن ہیں جانتا، یہ میرے اوپر ایک بار ہے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تاکہ میں آپ کے سامنے توبہ کروں اور اپنی اصلاح کروں۔

آیت اللہ بروجردی علیہ الرحمہ ایسے افراد سے ملاقات کرکے بھت خوش ہوتے تھے، چنانچہ اس سے فرمایا: نہ صرف پیسوں سے بھرا سوٹ کیس بلکہ اپنی قمیص شلوار کے علاوہ بدن کے سارے کپڑے بھی یھاں رکھ دو اور چلے جاؤ۔

چنانچہ اس نے یہ سن کر اپنے اوپر کے کپڑے اتاردئے اور ایک شلوار قمیص میں ہی موصوف سے خدا حافظی کرکے روانہ ہوگیا۔

اس شخص کی توبہ کی وجہ سے حضرت آیت اللہ العظميٰ آقای بروجردی علیہ الرحمہکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، اس کو آواز دی، اور اس کو اپنے ذاتی پیسوں میں سے پانچ ہزار تومان دئے اور اس کے لئے اسی خشوع و خضوع کی حالت میں خلوص کے ساتھ دعا کی۔

وہ شخص اس حالت میںتھران پلٹاکہ تواضع و انکساری اور محبت و پیار کو اپنا پیشہ بنالیاتھا، چنانچہ اس نے ان ہیں پانچ ہزار تومان کو حلال روزی کے لئے سرمایہ قرار دیا اور آہستہ آہستہ جائز درآمد حاصل ہونے لگی، چنانچہ ایک بڑی دولت اس نے حاصل کرلی، سال کے شروع میں اپنی درآمد کا خمس نکالتا تھا اور غریبوںکی بھی بھت زیادہ مدد کیا کرتا تھا۔

آہستہ آہستہ اس نے دینی پروگراموں میں شرکت کرنا شروع کی، آخر کار شھر تھران کے ایک اھم جلسہ کا بانی بن گیا۔

اس کا مذھبی جلسہ ان دنوں میں تھا جب حقیر کی عمر ۲۵ سال تھی اور حوزہ علمیہ قم میں مشغول تحصیل علم تھا، محرم و صفر اور ماہ رمضان المبارک میں تھران کی مساجد اور امامبارگاھوں میں تبلیغ کے لئے جایا کرتا تھا۔

اسی حوالہ سے اس کے نورانی چھرہ سے آشنا ہوا، اس کے ایک دوست کے ذریعہ مرجع شیعہ کے ذریعہ اس کی توبہ کے بارے میں معلوم ہوا۔

اس سے دوستی ہوگئی اور کافی دنوں تک یہ دوستی برقرار رھی، چنانچہ جب وہ تقریباً ۱۹۸۷ء میں بیمار ہوئے، تو مجھے پیغام بھجوایا کہ اس کی عیادت کے لئے آجاؤں، حقیر نے روز جمعہ اس کی عیادت کے لئے پروگرام بنارکھا تھا لیکن شب جمعہ ۱۱بجے ہی اپنے اھل عیال کو اپنے پاس جمع کیا اور کھا: میں اس دنیا سے جانے والا ہوں۔

چنانچہ اس کے اھل خانہ نے حقیر سے بتایا کہ: مرنے سے آدھا گھنٹہ پھلے حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میںعرض کیا: ”اے میرے مولا و آقا! میں نے اپنے گزشتہ سے توبہ کی ہے، اور آپ کے راستہ پر چلنے کی کوشش کی، خلوص کے ساتھ آپ کے دربار میں خدمت کی اور اپنے مال کا ایک تھائی حصہ جوانوں کی شادی کے لئے صندوق قرض الحسنہ میں طولانی مدت کے لئے رکھ دیا ہے، میری کوئی آرزو ن ہیں ، صرف یہ کہ اس دنیا سے جاتے وقت آپ کے جمال پُرنورکی زیارت ہوجائے !! “ چنانچہ آخری سانس آنے سے پھلے بھت خوش لہجہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو عاشقانہ سلام کیا، (جیسے امام حسین علیہ السلام سامنے موجود ہوں) اس وقت اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی، اور اسی عالم اس دنیاچل بسے۔

____________________

۱۷۱. سورہ یوسف آیت ۱۱۱۔

۱۷۲. سورہ تحریم آیت ۱۱۔

۱۷۳. کشف الغمہ:۱۴۶۶:بحار الانوار: ۴۳ص۵۳، باب ۳، حدیث ۴۸، عبارت کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ۔

۱۷۴. سورہ فرقان آیت ۱۲۔۱۳۔

۱۷۵. امالی شیخ صدوق علیہ الرحمہ، ص ۳۹۷، مجلس ۶۲ حدیث ۱۰؛ بحار الانوار ج ۶ص ۲۶ باب ۲۰ حدیث ۲۷۔

۱۷۶. خرائج:ج ۱ص۸۸، فصل من روایات الخاصة؛ بحار الانوار: ۶۵ص۲۸۲، الاخبار، حدیث ۳۸۔

۱۷۷. روضات الجنات : ۴، ص۱۰۷۔

۱۷۸. روضات البیان: ۲، ص۱۷۹۔

۱۷۹. روح البیان: ۲، ص ۱۸۱۔

۱۸۰. روضات البیان: ۲، ص۲۲۵۔

۱۸۱. روضات البیان، ج ۲، ص ۲۳۵۔

۱۸۲. کشف الغمہ، ج۲، ص ۱۹۴؛ بحار الانوار ج ۴۷ ۱۴۵، باب ۵، حدیث ۱۹۹۔

۱۸۳. بحار الانوار: ۹۱ ۲۸، باب ۲۸، حدیث: ۱۴؛ مستدرک الوسائل: ۵ ۲۳۰، باب ۳۵، حدیث ۵۷۶۲۔

۱۸۴. محجة البیضاء: ۷، ص ۲۶۷، کتاب الخوف والرجاء۔

۱۸۵. منہج الصادقین، ج۸ص ۱۱۰۔

۱۸۶. نور الثقلین، ج۳ ص ۲۴۹۔

۱۸۷. سورہ آل عمران آیت ۱۳۵۔

۱۸۸. سورہ آل عمران آیت ۱۳۶۔

۱۸۹. امالی شیخ صدوق:۴۲، مجلس ۱۱، حدیث۳؛ بحار الانوار: ۶۳ ۲۳، باب ۲۰، حدیث ۲۶۔

۱۹۰. سورہ حدید آیت ۱۶۔

۱۹۱. تذکرة الاولیاء، ص۷۹۔

۱۹۲. تفسیر صافی: ۲۳۸۶ (مندرجہ ذیل آیت سورہ توبہ نمبر ۱۱۸)۔

۱۹۳. سورہ توبہ آیت ۱۱۸۔

۱۹۴. ارشاد القلوب: ۲ ۸۰؛ اعلام الوری: ۲۳۲، الفصل الرابع۔

۱۹۵. عنصر شجاعت، ج ۳ ص۵۴؛ پیشوای شھیدان ص ۲۳۹۔

۱۹۶. پیشوای شھیدان، ص ۳۹۴۔

۱۹۷. عنصر شجاعت، ج۳ص ۱۷۹۔

۱۹۸. حضرت امام حسین علیہ السلام کی دعاء عرفہ کا ایک حصہ۔

۱۹۹. عنصر شجاعت، ج۳ص۱۷۰۔

۲۰۰. حسن یوسف، ص۶۴۔

۲۰۱. اصول کافی ج۲ ص ۶۹، باب الخوف والرجاء حدیث۸؛ بحار الانوار ج ۶۷ ص ۳۶۱ باب ۵۹ حدیث ۶۔

۲۰۲. سورہ الذاریات آیت ۲۲۔

۲۰۳. سورہ الذاریات آیت ۲۳۔

۲۰۴. تفسیر کشف الاسرار، ج۹ص۳۱۹۔

۲۰۵. اسرار معراج، ص۲۸۔

۲۰۶. روضات الجنات، ج۲، ص۱۳۰۔

۲۰۷. اصول کافی، ج۲، ص۴۴۱، باب فیما اعطيٰ اللہ عزّ و جل ّ آدم (ع) حدیث ۴۔

۲۰۸. سورہ توبہ آیت ۱۰۲۔

۲۰۹. تفسیر قمی، ج۱، ص۵۳۵؛بازگشت بہ خدا، ۴۲۳۔

۲۱۰. اسرار معراج، ص۸۴۔

۲۱۱. تفسیر صافی، ج۱، ص۷۶۷بطور خلاصہ ۔

۲۱۲. امالی شیخ صدوق، ص ۲۷۱، مجلس ۴۶ حدیث۷؛ بحار، ج۶۸، ص۳۸۴، باب ۹۲ حدیث ۲۵۔

۲۱۳. کافی، ج۵ص۱۰۶ باب عمل السلطان و جوائزھم، حدیث ۴؛ بحار، ج۴۷، ص۳۸۲، باب ۱۱، حدیث ۱۰۵۔

۲۱۴. اس واقعہ کو تبلیغی سفر (۱۹۷۰ء ھمدان )کے دوران آیت اللہ مرحوم آخوند ھمدانی سے سنا ہے۔


تقويٰ و پرھیزگاری کے فوائد

( وَامَّامَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَويٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِی الْمَاويٰ ) (۲۱۵)

”اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روک لیاھے، تو بیشک، اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا“۔

انسان اور اس کی خواہشات

انسان بچپن سے آخری وقت تک دیکھتا، سنتا، چکھتا، لمس کرتا، سونگھتا اور سعی و کوشش کرتا ہے۔

جس چیز کو دیکھتا، سنتا، چکھتا، لمس کرتا، سونگھتا اور کوشش کرتا ہے اسی کوچاھتا ہے۔

دیکھنے، سننے، چکھنے، لمس کرنے او رسونگھنے والی چیزوں کے مناظر بھت زیادہ دلربا ہوتے ہیں ، چنانچہ ان ہیں مناظر کی وجہ سے انسان کے خواہشات بھی بھت زیادہ ہوجاتی ہیں ۔

دیکھی ہوئی، اورسنی ہوئی یا مزہ دار چیزوں میں، ان اشیاء کا استعمال کرنا جو خود اس کے لئے، یا اس کے اھل خانہ اور معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہو، حرام اور ممنوع ہیں ؛ خداوندعالم کے حکم سے حرام کردہ یہ سب چیزیں انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کی ذریعہ بیان ہوئی ہیں ، اور تمام چیزوں کا بیان کرنا رحمت پروردگار، انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کی محبت کا نتیجہ ہے۔

انسان روپیہ پیسہ، غذا، لباس، زمین و جائداد، گاڑی، خواہشات نفسانی اورجاہ و مقام کی آرزورکھتا ہے، لیکن یہ غور کرنا چاہئے کہ خواہشات بے قید و شرط کے نہ ہوں، ھماری خواہشات دوسروں کے حقوق کی پامالی کا سبب نہ بنیں، ھماری خواہشات کسی کا گھر یا معاشرہ کو درھم و برھم نہ کرڈالیں، ھماری خواہشات، انسانی شرافت کونہ کھوبیٹھے ھماری، خواہشات اس حد تک نہ ہو ںکہ انسان اپنی آخرت کو کھوبیٹھے اور غضب الٰھی کا مستحق بن جائے اور ھمیشہ ھمیشہ کے لئے نار جہنم میں جلتا رہے ، اس چیز کی اجازت نہ شریعت دیتی ہے اور نہ عقل و منطق، آپ کسی بھی صاحب فطرت اور صاحب وجدان اور عقل سلیم رکھنے والے شخص سے سوال کرلیں کہ میں مال و دولت، مقام ومنصب یا عورت کو حاصل کرنے کے بعد دوسرے کے حق کو پامال اور ان پر ظلم کرنا چاھتا ہوں، یا کسی کے دل کو جلانا یاکسی کا گھر برباد کرنا چاھتا ہوں تو دیکھئے وہ کیا جواب دیتا ہے، یا ان تمام سوالوں کو اپنی عقل و فکر اور وجدان سے پوچھ کر دیک ہیں تو کیا جواب ملے گا؟

خود آپ اور دوسروں کی عقل صرف یھی جواب دے گی کہ ناجائز خواہشات کو ترک کردو، اور جس چیز کی خواہش ہے اسے اس طرح حاصل کرو جس طرح تمھارا حق ہے، اگر اس طرح آپ نے خواہشات پر عمل کیا تونہ کسی کا کوئی حق ضائع ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم ہوگا۔

اگر یھی سوال خدا، انبیاء اور ائمہ علیھم السلام سے کریں گے تو جواب ملے گا اگر تمھارا حق ہے تو چاھو، اور اگر تمھارا حق ن ہیں ہے تو اس چیز کی خواہش نہ کرو، قناعت کے ساتھ ساتھ حلال طریقہ سے خواہشات کو پورا کرو لیکن اگر تمھاری خواہشات غیر شرعی طریقہ سے ہو یا اجتماعی قوانین کے خلاف ہے تو یہ ظلم و ستم ہے۔

اگر تمام خواہشات میں قوانین الٰھی اور معاشرتی حدود کی رعایت کی جائے تو زندگی کی سلامتی، حفظ آبرو، اور اخلاقی کمالات پر پہنچنے کا سبب ہیں ، لیکن اگر ان خواہشات میں معاشرہ اور الٰھی قوانین کی رعایت نہ کی جائے تو انسان کی زندگی برباد ہوجاتی ہے، اس کی عزت خاک میں مل جاتی ہے اور انسان میں شیطانی صفات اور حیوانی خصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں ۔

بھر حال انسانی زندگی میں پیش آنے والی تمام خواہشات دو قسم کی ہوتی ہیں : حساب شدہ خواہشات، اور غیر حساب شدہ خواہشات۔

حساب شدہ وہ خواہشات ہوتی ہیں جو خدا کی مرضی کے مطابق ہوں، اور اس کی مرضی کے مطابق ہی انسان آرزو کرے، جو قوانین الٰھی اور اس کے حدود کے مطابق ہوں۔ اس وقت انسان مال و دولت چاھتا ہے لیکن حلال مال و دولت، مکان چاھتا ہے لیکن حلال، شھوانی خواہشات کی آگ بجھانا چاھتا ہے لیکن شرعی نکاح کے ذریعہ، مقام و منصب چاھتا ہے لیکن رضائے الٰھی اور محتاج لوگوں کی مدد کرنے کے لئے، T.V دیکھنا چاھتا ہے لیکن صحیح او رمناسب پروگرام، ان تمام صورتوںمیں خواہشات رکھنے والا ایسا انسان مومن، بیدار، صاحب بصیرت، قیامت کو یاد رکھنے والا، ذمہ داری کا احساس کرنے والا، لوگوں سے نیکی اور مھربانی کرنے والا، معاشرے کے سلسلہ میں دلسوز، رضائے الٰھی کو حاصل کرنے والا، دین و دنیا کی سعادت چاہنے والا اور جھاد اکبر کرنے والاھوجاتا ہے۔

غیر حساب شدہ خواہشات وہ ہوتی ہیں جن میں صرف نفس شامل ہوتا ہے، جن میں انانیت کی بو آتی ہو، جن کی وجہ صرف تکبر و غرور اور خود خواھی ہوتی ہے اور وہ ضلالت و گمراھی سے ظاھر ہوتی ہیں ۔

اس صورت میں آدمی مال و دولت چاھتا ہے لیکن جس راہ سے بھی ہو اس کے لئے کوئی مشکل ن ہیں چاھے سود، چوری، غصب، مکاری، دھوکا فریب، رشوت وغیرہ کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو، مکان چاھتا ہے چاھے وہ اعزاء و دوستوں کے حق کو پامال کرنے سے ہو، شھوت کی آگ بجھانا چاھتا ہے چاھے استمناء، لواط زنا وغیرہ کے ذریعہ سے ہی کیوں نہ ہو، مقام و منصب چاھتا ہے، چاھے دوسروں کو ان کے حق سے نامحروم کرنے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو، کچھ سننا چاھتا ہے چاھے غیبت، تھمت اور حرام موسیقی اور گانا ہی کیوں نہ ہو۔

ایسی خواہشات رکھنے والا شخص بے دین، ضعیف الایمان، دل کا اندھا، بے بصیرت، آخرت کو خراب کرنے والا، غضب الٰھی کا خریدنے والا اور ظلمت و گمراھی کے میدان میں شیطان کا نوکر ہوتا ہے۔

قرآن مجید نے ایسی خواہشات رکھنے والے انسان کو ”ھوا و ہوس کے غلام“سے تعبیر کیا ہے۔

ھوا و ہوس انسان کی اس باطنی قوت کا نام ہے جو انسان پر حکومت کرتی ہے، اور خود خدا کی جگہ قرار پاتی ہے، خود اپنی کو معبود کھلواتی ہے، انسان کو اپنا غلام بنالیتی ہے اور انسان کو خدا کی عبادت و اطاعت کرنے کے بجائے اپنی عبادت کے لئے مجبور کرتی ہے:

( ارَایتَ مَنْ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ افَانْتَ تَكُونُ عَلَیهِ وَكِیلًا ) ۔(۲۱۶)

”کیا آپ نے اس شخص کودیکھاھے جس نے اپنی خواہشات ہی کو اپنا خدا بنا لیا ہے، کیا آپ اس کی بھی ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہے“۔

انسان اپنی زندگی کے آغازسے جس چیز کو دیکھتا ہے اس کو حاصل کرنا چاھتا ہے، جس چیز کو سنتا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے اور جس چیز کا دل چاھتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے پیٹ کو حلال و حرام کی پروا ہ کئے بغیر بھرتا ہے، شھوت کی آگ بجھانا چاھتا ہے چاھے جس طرح سے بھی ہو، مال و دولت کے حصول کے لئے، مقام و عہدہ پانے کے لئے کسی بھی حق کی رعایت ن ہیں کرتا، درحقیقت ایسا انسان ہوا وھوس کے بت سازکارخانہ میں داخل ہوجاتا ہے، جو کچھ ہی مدت کے بعد اپنے ھاتھوں سے بت تراشناشروع کردیتا ہے، اور اس بت کو دل میں بسالیتا ہے اور یھی ن ہیں بلکہ اپنے ھاتھ سے بنائے ہوئے بت کی پوجا شروع کردیتا ہے!

افسوس کی بات ہے کہ بھت لوگوں کی عمر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا باطن بت خانہ بن جاتا ہے اور اس کی تلاش و کوشش کا ثمرہ ”ھواپرستی کا بت “ ہوتا ہے اور ان کا کام اس بت کی عبادت کرنا ہوتا ہے، ایک عارف کے بقول:

انسانی نفس خود سب سے بڑا بت ہے

اس بت کی پوجا کرنے والے یہ لوگ کسی جاندار کی جان کو جان ن ہیں سمجھتے، کسی کی عزت کو کوئی اھمیت ن ہیں دیتے، کسی کے حق کی رعایت ن ہیں کرتے، ایک معاشرہ کی عزت وناموس کو پامال کردیتے ہیں ، ھر چیز پر اپنا حق جتاتے ہیں لیکن دوسروں کے لئے کسی بھی طرح کے حق کے قائل ن ہیں ہوتے۔

خداوندعالم نے تمام بندوں کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کے لئے نفس اور اس کی بے حساب و کتاب خواہشات کی پیروی نہ کرنے کا حکم دیا ہے، اگرچہ ہوائے نفس کی مخالفت ظاھراً ان کے اور دوسروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہو۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَی انفُسِكُمْ اوْ الْوَالِدَینِ وَالْاقْرَبِینَ إِنْ یكُنْ غَنِیا اوْ فَقِیرًا فَاللهُ اوْلَی بِهما فَلاَتَتَّبِعُوا الْهَوَی انْ تَعْدِلُوا ) ۔(۲۱۷)

”اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاھے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقرباء ہی کے خلاف کیوں نہ ہوں جس کے لئے گواھی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ دونوں کے لئے تم سے اوليٰ ہے، لہٰذا تم ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو، اور عدالت سے کام لو “۔

قرآن مجید نے ہوائے نفس کے بت کی پیروی کو ضلالت و گمراھی، حق سے منحرف ہونے اورروز قیامت کو فراموش کرنے کا سبب بتایا ہے، اور قیامت کے دن درد ناک عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بیان کیا ہے۔

( وَلاَتَتَّبِعْ الْهَوَی فَیضِلَّكَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ إِنَّ الَّذِینَ یضِلُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ لَهم عَذَابٌ شَدِیدٌ بِمَا نَسُوا یوْمَ الْحِسَابِ ) ۔(۲۱۸)

”اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہ خدا سے منحرف کردے، بے شک جو لوگ راہ خدا سے بھٹک جاتے ہے ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انھوں نے روز حساب کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔“

قرآن مجید نے عظمت خدا سے خوف زدہ اورھوائے نفس سے مقابلہ کرنے کو بہشت میں داخل ہونے کا سبب بتایا ہے:

( وَامَّامَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَويٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِی الْمَاويٰ ) ۔(۲۱۹)

”اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے، تو جنت اس کا ٹھکانہ اور مرکز ہے“۔

قرآن مجید نے حضرت موسيٰ علیہ السلام کے زمانہ کے مشھور عالم ”بلعم باعورا“ کے ایمان سے ھاتھ دھونے، روحانیت اور معنویت سے جدائی، مادیت سے آلودہ ہونے اور اس کے اندر پیدا ہونے والی بُری صفات کی وجہ، ہوائے نفس کی پیروی بتایاھے:

( وَلَكِنَّهُ اخْلَدَ إِلَی الْارْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَیهِ یلْهَثْ اوْ تَتْرُكْهُ یلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِینَ كَذَّبُوا بِآیاتِنَا ) ۔(۲۲۰)

”لیکن وہ خود زمین کی طرف جھک گیااور اس نے خواہشات کی پیروی اختیار کر لی تو اب اس کی مثال کتے جیسی ہے کہ اس پر حملہ کرو تو بھی زبان نکالے رہے اور چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے ۔یہ اس قوم کی مثال ہے جس نے ھماری آیات کی تکذیب کی ۔۔“۔

قرآن مجید نے غافلوں، ہوائے نفس میں گرفتار اور ذلیل و پست افراد کی اطاعت کرنے سے سخت منع کیا ہے :

( وَلاَتُطِعْ مَنْ اغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ امْرُهُ فُرُطًا ) ۔(۲۲۱)

”اور ھرگز اس کی اطاعت نہ کرنا جس کے دل کو ھم نے اپنی یاد سے محروم کردیا ہے اور وہ اپنے خواہشات کا پیروکار ہے اور اس کاکام سراسر زیادتی ہے“۔

قرآن مجید کے مختلف سوروں(جیسے سورہ مائدہ، سورہ انعام، سورہ رعد، سورہ مومنون، سورہ قصص، سورہ شوريٰ، سورہ جاثیہ اور سورہ محمد۲۲۲) کے لحاظ سے ہوائے نفس کی پیروی کتب آسمانی کی تکذیب، گمراھی، ولایت خدا سے دوری، زمین و آسمان اوران میں رہنے والوں میں فساد، نبوت سے دوری، استقامت کو کھوبیٹھنے، غافل اور جاھل لوگوں کے جال میں پھنسنے اور ان کے دل پر مھر لگنے کا سبب ہیں ۔

ھوائے نفس کی غلامی کی پہچان درج ذیل چیزیں ہیں :

بُرا اخلاق، بُرا عمل، بے حساب و کتاب زندگی، دوسری مخلوق کے حقوق کی رعایت نہ کرنا، دوسروں پر ظلم و ستم کرنا، ترک عبادت، گناھان کبیرہ سے آلودہ ہونا، گناھان صغیرہ پر اصرار کرنا، غیظ و غضب اور غصہ سے کام لینا، لمبی لمبی آرزوئیں کرنا، نیک لوگوں کی صحبت سے دور ہونااورگناھگار او ر بُرے لوگوں کی صحبت سے لذت اٹھانا ۔

جھاد اکبر

اگر ہوائے نفس میں گرفتار شخص اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی چاھتا ہے، اگر اپنے ماتحت لوگوں کی خیرخواھی چاھتا ہے، اگر اپنے باطن و عمل اور اخلاق کی اصلاح کرنا چاھتا ہے تو ایسے شخص کے لئے چارہ کار یہ ہے کہ ایک شجاع و بھادر فوج کی طرح ہوائے نفس سے جنگ کے لئے کھڑا ہوجائے اور اس بات پر یقین رکھے کہ اس جنگ میں خدا کی نصرت و مدد اور اس کی رحمت شامل حال ہوگی اور سو فی صد اس کی کامیابی اور ہوائے نفس کی شکست ہے۔

اگر اس جنگ میں کامیابی ممکن نہ ہوتی تو پھر انبیاء علیھم السلام کی بعثت، ائمہ علیھم السلام کی امامت اور آسمانی کتابوں کا نزول لغو اوربے ہودہ ہوجاتا۔

چونکہ اس جنگ میں شریک ہونا اور اس میں کامیابی حاصل کرنا نیز ہوائے نفس کے بت کو شکست دینا سب کے لئے ممکن ہے، لہٰذا انبیاء علیھم السلام کی بعثت، ائمہ علیھم السلام کی امامت اور آسمانی کتابوں کا نزول ہوا، اور اس سلسلہ میں سب پر خدا کی حجت تمام ہوگئیں، اور اب کسی کے پاس دنیا میں یا آخرت میںکوئی قابل قبول عذر ن ہیں ہے ۔

لہٰذا انسان کو چاہئے کہ ہوائے نفس میں گرفتار ہونے اور اپنے باطن میں یہ خطرناک بت پیدا ہونے سے پھلے ہی خود اپنی حفاظت کرے اور ھمیشہ یاد خدا میں غرق رہے ، اور خودکو گناھوں سے محفوظ رکھے تاکہ یہ خطرناک بت اس کے دل میں گھر نہ بنالے اگر ایساکر لیااور اپنے نفس کو محفوظ رکھ لیا تو یھی عین کرامت اور شرافت ہے جس کے ذریعہ انسان میں تقويٰ اور انسانیت پیدا ہوتی ہے۔

لیکن جب انسان کے اندر غفلت کی وجہ سے یہ بت پیدا ہوجاتا ہے، اور ایک مدت کے بعد خدائی چمک یا نفسانی الھام، یا وعظ و نصیحت، یا نیک لوگوں کی سیرت کے مطالعہ کے بعد اس بت کے پیدا ہونے سے مطلع ہوجائے، اس کی حکومت کے خطرناک آثار سے آگاہ ہوجائے اور اس کے بعد بھی اس سے جنگ کے لئے قدم نہ اٹھائے، بلکہ ھاتھ پر ھاتھ رکھ کر بیٹھ جائے یا سستی سے کام لے توکم از کم ایک واجب کے عنوان سے یا واجب سے بھی بالاتر خداوندعالم کے حکم کی اطاعت، اور انبیاء و ائمہ علیھم السلام کی دعوت پر لبیک کھتے ہوئے اپنے اخلاق و اعمال کی اصلاح کے لئے آگے بڑھے اور اپنے گناھوں سے توبہ کرتے ہوئے واجبات کو انجام دے، خدا کی عبادت کرے، نیک اور صالح افراد کے ساتھ بیٹھے، مال حرام سے پرھیز کرتے ہوئے ”ھوائے نفس کے بت “سے جنگ کے لئے تیار ہوجائے کہ اس جنگ میں فتح کا سھرا اسی کے سر ہوگا، اس جنگ کو دینی تعلیمات میں ”جھاد اکبر“ کھا جا تا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

اِنَّ النَّبِی بَعَثَ سَریةً، فَلَمَّا رَجَعُوا قَالَ: مَرْحَباً بِقَوْمٍ قَضَوُا االْجِهادَ الاَصْغَرَ، وَ بَقِی عَلَیهم الْجِهادَ الاَكْبَرُ فَقِیلَ یا رَسُوْلَ اللهِ! وَمَا الْجِهادُ الاَكْبَرُ؟ قَالَ: جِهادُ النَّفْسِ(۲۲۳)

”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بعض اصحاب کو جنگ کے لئے بھیجا، جب وہ اسلامی لشکر جنگ سے واپس لوٹا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: مرحبا، اس قوم پر جو جھاد اصغر انجام دے کر آرھی ہے، اور جھاد اکبر ان کے ذمہ باقی ہے۔ لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! جھاد اکبر کیا چیزھے، توآپ نے فرمایا:

”جھاد بالنفس“ (یعنی اپنے نفس سے جنگ کرنا)

یہ بات واضح ہے کہ ”نفس سے جنگ “، خود نفس سے جنگ کرنا ن ہیں ہے بلکہ اس کے خطرناک پھلو سے جنگ کرنا مراد ہے جس کو قرآن کریم نے ”ھواو ہوس“ کا نام دیا ہے۔

ھوائے نفس کے مقابل لڑنا اور جھادکرنا ھر دوسرے جھاد سے بالاتر ہے، ہوائے نفس سے ہجرت کرنے والے کی ہجرت ھر ہجرت سے افضل ہے، ا ور اس جھاد کا ثواب ھردوسرے ثواب سے بھتر ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کہ خود آپ نفس سے جھاد کرنے والوں میں بے نظیر ہیں ؛ فرماتے ہیں :

مَاالْمُجَاهِدُ الشَّهِیدُ فِی سَبِیلِ اللهِ بِاَعْظَمَ اَجْراً مِمَّنْ قَدَرَ فَعَفَّ، لَكَادَ الْعَفِیفُ اَنْ یكُونَ مَلَکاً مِنَ الْمَلاَئِكَةِ(۲۲۴)

”راہ خدا میں جھاد کرکے شھید ہوجانے والا اس سے زیادہ اجر کا حقدار ن ہیں ہوتا ہے جتنا اجر اس شخص کے لئے ہے جو اختیارات کے باوجود عفت سے کام لے کہ عفیف و پاکدامن انسان قریب ہے کہ وہ صفوف ملائکہ میں شمار ہو “۔

اصلاح نفس کا طریقہ

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیھم السلام کی بعثت کے پیش نظر، معتبر اسلامی کتابوں اور قرآن مجید میں احکام الٰھی بیان ہوئے ہیں ، اسی طرح آسمانی کتابوں کے پیش نظر خصوصاً قرآن مجید میںجو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا زندہ جاوید معجزہ ہے، نیز ائمہ علیھم السلام کی امامت کہ جن کے ارشادات زندگی کے ھر پھلو کے لئے کتب حدیث میں موجود ہیں ، اسی طرح انسانی فطرت، عقل اور وجدان کے پیش نظر جو انسان کے پاس الٰھی امانتیں ہیں اور دنیا و آخرت کے لئے مفید سرمایہ ہیں ، لہٰذا ان تمام معنوی اور روحانی امور کے ذریعہ زندگی کے تمام پھلوؤں میں سب انسانوں پر خدا کی حجت تمام ہوچکی ہے، کیا یہ کھا جاسکتا ہے کہ انسان کے لئے اصلاح کا راستہ بندھوگیا ہے یا یہ کہ انسان میں اصلاح کے راستہ پرچلنے کی طاقت ن ہیں ہے، یا انسان اپنے اعمال و اعتقادات اور اخلاق میں مجبور ہے؟

مسلّم طور پر ان تمام مسائل کا جواب منفی ہے، اصلاح کا راستہ روز قیامت تک سب کے لئے کھلا ہے، اور اس راستہ پر چلنے کی طاقت ھر انسان میںموجود ہے، اور انسان کسی بھی اعتقاد و عمل اور اخلاق کے سلسلہ میں مجبور ن ہیں ہے۔

ھمیشہ تاریخ میں ایسے افراد ملتے ہیں جنھوں نے گناھوں میں مبتلا ہونے، معصیت سے آلودہ ہونے اور ہوائے نفس کا اسیر ہونے کے بعد اپنے گناھوں سے توبہ کی اور معصیت کی گندگی سے پاک اور ہوائے نفس کی غلامی سے آزاد ہوگئے، جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ نہ تو اصلاح کا راستہ بند ہے اور نہ انسان بُرے کام کرنے پر مجبور ہے۔

یقینا اس طرح کے بے بنیاد مسائل اور بے دلیل مطالب انسانی تہذیب میں ان لوگوں کی طرف سے داخل ہوگئے جو اپنے گناھوں پر عذر پیش کرنا چاھتے ہیں یا دنیاوی لذتوں کے شکار ہوچکے ہیں ، وہ خود بھی خواہشات اور ہوا و ہوس میںگرفتار ہوچکے ہیں اور دوسرے کو بھی گمراہ کرنا چاھتے ہیں ۔

یہ لوگ اپنی باتوں کے بے بنیاد ہونے سے آگاہ ہیں اور اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ باتیں بے دلیل اور علم و منطق کے برخلاف ہیں اگرچہ ان باتوں کو کبھی کبھی تہذیبی و نفسیاتی ماھرین یا مشرقی اور مغربی یونیورسٹی کے اساتید کی زبان سے سنتے ہیں جن پر شھوتوں کا بھوت سوار رھتا ہے:

( بَلْ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِهِ بَصِیرَةٌ وَلَوْ الْقَی مَعَاذِیرَهُ ) ۔(۲۲۵)

”بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے۔چاھے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے“۔

کیا وہ افراد جو حیلہ او رمکاری، دھوکا اور فریب اور ریاکاری کرتے ہیں ، اور دوسروں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں ، یا کسی بے بنیاد مسئلہ کو علمی رنگ دے کر پیش کرتے ہیں یا اپنا واقعی چھرہ مخفی رکھتے ہیں یا عوام الناس کو دھوکہ میں ڈال کر ان پر حکومت کرنا چاھتے ہیں یا کسی قوم و ملت کو بے بنیاد مکتب لیکن علمی رنگ دے کر لوگوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں ، کیا یہ لوگ خود معاشرہ میں پیش کرنے والے مسائل کے بارے میں آشنائی ن ہیں رکھتے؟!

قرآن مجید کے بیان کے مطابق یہ لوگ ان تمام مسائل کو جانتے ہیں لیکن یہ وہ افراد ہیں جنھوں نے انسانی زندگی کے آب حیات کو ھمیشہ مٹی سے آلودہ کردیا ہے تاکہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے خوب مچھلی پکڑسکیں۔

بے شک اس ماحول میں گمراھی اور ضلالت پائی جاتی ہے، یھاں پر نخوت و تکبر اور جھالت کا دور دورہ ہے۔

ایسے لوگ جو حقائق کائنات اورخالق کے وجود کا انکار کرتے ہیں ، اور خداوندعالم کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں ، ان لوگوں کایھی کام ہونا بھی چاہئے، بے بنیاد اور باطل مسائل ہی ان کے ذہن میں خطور کرسکتے ہیں ، اس کے بعد اس کو ایک ”آئین و مکتب فکر“ قرار دیدیتے ہیں ، تاکہ دوسرے لوگوں کو حقائق سے اور خداوندعالم سے دور کردیں۔

یہ لوگ زمین پر فتنہ و فساد، نسل کشی، تباھی و بربادی اور قوم و ملت کو گناہ و معصیت میں آلودہ کرنے کے علاوہ کوئی ہدف ن ہیں رکھتے۔

( وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الْارْضِ لِیفْسِدَ فِیها وَیهلكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لاَیحِبُّ الْفَسَادَ ) (۲۲۶)

”اور جب آپ کے پاس سے منھ پھیر تے ہیں تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کھیتیوں اور نسلوں کو برباد کرتے ہیں جب کہ خدا فساد کو پسند ن ہیں کرتا ہے“۔

صھیونیزم کے رہنماوں نے اپنی ”پروٹوکل“ " Protocole "کتاب میں لکھا ہے: ھم نے ”داروین“، ”مارکس“ اور ”نیچہ “کی کامیابی کو ان ہیں نظریات پر بنیاد رکھی ہے، اور جس کے برے اثرات ھمارے لئے بھت واضح ہیں (جس کا اثر غیر یھودی لوگوں پر ہورھا ہے)

یھودیت کے اپنے تین دانشوروں : مارکس، فرویڈاور ڈرکائم کے ذریعہ ”داروین“ اور ”تدریجی ترقی“پیش کی گئی جس سے یورپ میں موجود فضیلت کو بالکل ختم کردیا ہے، ان تینوں دانشوروں نے ھمیشہ دین کی توھین کی ہے، ان لوگوں نے دین کی صورت کو بگاڑ کر بد صورت بنا کر پیش کیا ہے۔(۲۲۷)

ان لوگوں نے اپنے سے وابستہ دانشوروں کے نظریات کی بدولت کسی بھی انسانی فضیلت کو خراب کئے بغیرن ہیں چھوڑا، کیونکہ انھوں نے خالق کائنات کے رابطہ سے لے کرعالم ہستی نوع بشر کے تمام رابطوں کو فاسد او رتباہ و برباد کردیا ہے، ان ہیں خرافات میں بدل دیا ہے۔

ان کے اصلی انحرافات خدا کے بارے میں ہیں اسی طرح انسان کا خدا سے کیا تعلق ہے یااس کائنات کا خداسے اور خدا کا اس سے کیا ربط ہے، نیزانسان کا رابطہ دنیا سے اور دنیا کا رابطہ انسان سے کیا ہے، خلاصہ یہ کہ انھوں نے ان تمام چیزوں میں انحراف پیدا کردیا ہے۔

زندگی کا تصور، زندگی کے اہداف و مقاصد، انسانی نفس، ایک انسان کا دوسرے انسان سے رابطہ، بیوی شوھر کارابطہ اورمعاشرہ کا رابطہ غرض یہ کہ زندگی کے تمام پھلوؤں میں انحراف پیدا کرڈالا ہے۔

انھی غلط اور خطرناک انحرافات کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی حقیقی زندگی ہوائے نفس سے متاثر ہوگئی، انسان طاغوت کے سامنے جھک گیا ہے، شھوت میں گرفتار ہوگیا ہے، چنانچہ ھر روز فتنہ و فساد میں اضافہ ہوتا چلا جارھا ہے، اور ان ھلاک کنندہ فساد کی انتھا اس وقت ہوگی جب ”خدا“ کو بے تاثیر معبود قرار دیا جانے لگے گا اور دوسرے باطل معبودوں کو انسانی زندگی پر قبضہ ہوجائے گا۔(۲۲۸)

یہ لوگ (بقول خود)اپنی علمی چھلانگ کے ذریعہ اس جگہ پہنچ چکے ہیں کہ دنیا کے اکثر لوگوں کو یہ یقین کرادیا کہ اقتصاد، اجتماع اور تاریخ کی طاقت ہی انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے اور انسان کو اس کی مرضی کے بغیر اپنے تحت لے کر اس کو مسخر کرلیا ہے۔

ان بے بنیاد اور باطل گفتگو نے امریکہ اور یورپ میں بھت سے لوگوں خصوصاً جوانوں کو اس جگہ پہنچا دیا ہے کہ آج کل کے انسان کی زبان پر یہ نعرہ ہے:

”میں قید و بند کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہوں، مجھے اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو منظم کرنا چاہئے!

میں اپنے عقائد اور طرز زندگی کو اپنی عقل کے لحاظ سے تنظیم کرنا چاھتا ہوں۔

میں اس وقت اور آئندہ کی زندگی کو مستقل طور پر اور خدا کی سرپرستی کے علاوہ ہی منظم کرنا چاھتا ہوں!“

چنانچہ انسان ان ہیں چیزوں کی وجہ سے خدا کی حمایت سے دور ہوتاجارھا ہے اور شیطان کے مکر و فریب میں پھنستا جارھا ہے ۔

اسی نظریہ اور غرور کی وجہ سے پوری دنیا میں ظلم و ستم کا بول بالا ہے، اور انسان مختلف غلامی کی ذلت میں گرفتار ہوگیا ہے بعض لوگ مال و دولت کے غلام، بعض لوگ حکومت کے غلام اور بعض لوگ ڈیکٹیٹری کے غلام اور بعض شھوت اور مستی کے غلام بن گئے ہیں ۔

اسی وجہ سے ساری دنیا میں فسق و فجور پھیلا ہوا ہے، اور تمام جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو گناھوں کے کھنڈر میں گرادیا ہے۔

اسی انحراف کی وجہ سے انسان جنون کی حد تک پہنچ گیاھے اور ماڈرن ممالک کے ہسپتالوںمیں ان دیوانوں کے لئے جگہ ن ہیں ہے، دوسری طرف سے مڈرنیزم پرستی، فلم اور فلمی ستاروں اور دوسری شھوتوں نے انسان کو اپنی حقیقت کے بارے میں غور وفکر کرنے سے روک دیا ہے جس سے اس کی تمام عمر یونھی غفلت و تباھی میں برباد ہوتی جارھی ہے۔

اس منحوس زندگی کے نتائج نے (جس نے انسان کے ظاھر و باطن کو آلودگی، انحراف اور فسق و فجور میں غرق کردیا ہے) دنیا بھر کے بھت سے لوگوں کو مایوس کردیا ہے ان کی روح میں یاس و ناامیدی پیدا ہوگئی ہے، اپنی فطرت کو برداشت نہ کرتے ہوئے کھتے ہیں کہ انسان کے لئے اصلاح کا راستہ بند ہے اور اگر کھلا بھی ہو تو انسان میں اس راستہ پر چلنے کی طاقت ن ہیں ہے، اور نسبتاً اپنے سکون کے لئے کھتے ہیں : انسان اپنے تمام امور میں قضا و قدر اور جبر کاتابع ہے، یعنی انسان خودکچھ ن ہیں کرسکتا جیسا اس کی تقدیر میں ہوگا ویسا ہوکر ہی رہے گا۔

حقیقی اسلام کی ثقافت نے مذھب شیعہ اثناعشری میں ایک خاص روشنی پیدا کردی ہے، قرآنی آیات اور ائمہ علیھم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر دلیل و حکمت او رمنطق و برھان کے ساتھ یہ اعلان ہوتا ہے کہ کسی بھی انسان کے لئے ”اصلاح کا راستہ “بند ن ہیں ہے اور قیامت تک کسی بھی انسان کے لئے بند ن ہیں ہوگا، نیز اس راستہ پر چلنا ھر خاص و عام کے لئے ممکن ہے، اگرچہ مختلف گناھوں سے آلودہ ہوں، اور انسان کے اعمال و عقائد اور اس کا اخلاق قضا و قدر کے تابع ن ہیں ہے، بلکہ انسان اپنے اختیار سے سب کچھ کرتا ہے۔

قارئین کرام! انسان کی خیر و بھلائی، پاکیزگی اور پاکدامنی کے لئے دینی تعلیمات کی طرف ایک اشارہ کرنا مناسب ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک شخص سے فرمایا:

اِنَّكَ قَدْ جُعِلْتَ طَبِیبَ نَفْسِكَ، وَبُینَ لَكَ الدّاءُ، وَعُرِّفْتَ آیةَ الصِّحَّةِ، وَ دُلِلْتَ عَلَی الدَّوَاءِ، فَانْظُرْكَیفَ قِیامُكَ عَلَی نَفْسِكَ(۲۲۹)

”بے شک تم اپنے کو ایک طبیب کی طرح قرار دو، تم ہیں مشکلات اور مرض کے بارے میں بتادیا گیا، اور صحت کی نشانیوں کو بھی بیان کردیا گیا ہے، تمھاری دوائی بھی بتادی گئی ہے، لہٰذا نتیجہ کے بارے میں غور و فکر کرو کہ کس طرح اپنی حالت کی اصلاح کے لئے قدم بڑھاسکتے ہو“۔

جی ھاں انسان اپنی حالت سے خوب واقف ہے اس کا درد باطل عقائد، شیطانی بد اخلاقی اور غیر صالح اعمال ہیں جن کی تفصیل قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہے، صحیح ایمان، اخلاق حسنہ، باطنی سکون اورعمل صالح یہ تمام چیزیں سلامتی اور صحت کی نشانی ہیں ، توبہ و استغفار، تقويٰ، عفت اور گناھوں سے مقابلہ ان تمام دردوں کی دوا ہے، لہٰذا انسان کو ان تمام حقائق کے ذریعہ مدد حاصل کرتے ہوئے اپنی اصلاح کے لئے قدم اٹھانا چاہئے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اپنے آباء و اجداد علیہم السلام کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا:

یاعَلِی، اَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ اَصْبَحَ لاَ یهُمُّ بِظُلْمِ اَحَدٍ(۲۳۰)

”یا علی! سب سے بھتر اور افضل جھاد یہ ہے کہ انسان صبح اٹھے تو کسی پر ظلم و ستم کا ارادہ نہ رکھتا ہو“۔

اگر انسان ھر روز گھر سے باھر نکلتے وقت کسی شخص پر یھاں تک کہ اپنے دشمن پر بھی ظلم کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور ان کی نسبت خیر و نیکی کی نیت ہو اور لوگوں کی خدمت کے علاوہ کوئی دوسرا قصد نہ ہو تو پھر اگر یھی صورت حال رھی تو انسان کے اندر نور ایمان پیدا ہوجاتا ہے اور ظاھری اصلاح و نیکی سے مزین ہوجاتا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

مَنْ مَلَكَ نَفْسَهُ اِذَارَغِبَ، وَاِذَا رَهِبَ، وَاِذَا شْتَهَيٰ، وَاِذَا غَضِبَ، وَاِذَا رَضِی، حَرَّمَ اللهُ جَسَدَهُ عَلَی النَّارِ(۲۳۱)

”اگر انسان رغبت، خوف، خواہشات، غیظ و غضب اور خوشی و غم کے وقت اپنے کو گناہ و معصیت اور ظلم و ستم سے محفوظ رکھے تو خداوندعالم اس کے بدن کو آتش دوزخ پر حرام کردیتا ہے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے:

نَبِّهْ بِالتَّفَكُّرِ قَلْبَكَ، وَجَافِ عَنِ اللَّیلِ جَنْبَكَ، وَاتَّقِ اللهَ رَبَّكَ(۲۳۲)

”اپنے دل کو غور و فکر کے ذریعہ بیدار رکھو، رات کو عبادت کرو، اور زندگی کے تمام امور میں تقويٰ الٰھی اختیار کرو“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

اَلتَّفَكُّرُ یدعُوا اِلَی الْبِرِّ وَالْعَمَلِ بِهِ(۲۳۳)

”تمام امور میں تفکر اور غور و فکر کرنے سے انسان میں نیکی اور عمل صالح کا جذبہ پیدا ہوتا ہے“۔

ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: مجھے اخلاقی کر امت اور شرافت تعلیم فرمائیں، تو اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:

اَلْعَفْوُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَصِلَةُ مَنْ قَطَعَكَ، وَاِعْطَاءُ مَنْ حَرَمَكَ، وَ قَوْلُ الْحَقِّ وَلَوْ عَلَی نَفْسِكَ(۲۳۴)

”جس نے تجھ پر ظلم کیا ہو اس کو بخش دے اور جس نے تجھ سے قطع تعلق کیا ہو اس سے صلہ رحم کر، جس نے تجھے محروم کردیا ہو اس کو عطا کر، اور حق بات کہہ اگرچہ تیرے لئے نقصان دہ ثابت ہو“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اگر کسی کے لئے بُرے کام یا حرام طریقہ سے شھوت بجھانے کا موقع آجائے لیکن خوف خدا کی وجہ سے اس کام سے اجتناب کرے تو خداوندعالم (بھی) اس پر آتش جہنم کو حرام کردیتا ہے، اور روز قیامت کی عجیب و غریب وحشت سے نجات دیدیتا ہے، اور اپنی کتاب میں دئے ہوئے وعدہ کو وفا کرتا ہے کہ جھاں ارشاد ہوتا ہے: ”جو شخص اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو جنت ہیں “۔

جان لو! کہ اگر کسی شخص نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تو روز قیامت اس حال میں خدا سے ملاقات کرے گا کہ عذاب الٰھی سے نجات دلانے والی کوئی نیکی اس کے پاس نہ ہوگی، لیکن اگر کوئی آخرت کو دنیا پر ترجیح دے اور فنا ہونے والی دنیا کو اپنا معبود قرار نہ دے تو خداوندعالم اس سے راضی و خوشنود ہوجاتا ہے اور اس کی برائیوںکو بخش دیتا ہے۔(۲۳۵)

راوی کھتا ہے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا:

قَوْمٌ یعْمَلُوْنَ بِالْمَعَاصِی وَ یقُولُونَ :نَرْجُو، فَلاَ یزالُونَ كَذَلِكَ حَتَّی یاتِیهُم الْمَوتُ !فَقَالَ:هٰولاَءِ قَومٌ یتَرَجَّحُوْنَ فِی الْاَمَانِی، كَذَبُوا، لَیسُوا بِراجینَ، اِنَّ مَنْ رَجَا شَیئاً طَلَبَهُ، وَمَنْ خَافَ مِنْ شَیءٍ هَرَبَ مِنْهُ(۲۳۶)

”ایک گروہ، گناھگار اور اھل معصیت ہے لیکن وہ لوگ کھتے ہیں کہ ھم ان گناھوں کے باوجود بھی امید وار ہیں ، اور اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور اسی حالت میں مرجاتے ہیں ! امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ لوگ امید کے اھل ن ہیں ہیں ، کیونکہ کسی چیز کی امید کرنے والا شخص اس سلسلہ میں کوشش کرتا ہے اور جس چیز سے ڈرتا ہے اس سے دور بھاگتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے درج ذیل آیت کے بارے میں فرمایا:

( وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ) ۔(۲۳۷)

مَنْ عَلِمَ اَنَّ اللهَ یرَاهُ، وَ یسْمَعُ مَایقُولُ، وَیعْلَمُ مَا یعْمَلُهُ مِنْ خَیرٍاَوْ شَرٍّ، فَیحْجُزُهُ ذَلِكَ عَنِ الْقَبِیحِ مِنَ الاَعْمَالِ، فَذَلِكَ الَّذِی خاَفَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الهَويٰ “۔(۲۳۸)

”جو شخص جانتا ہے کہ خدا مجھے دیکھتا ہے اور جو کچھ میں کھتا ہوں اس کو سنتا ہے، اور جو نیکی یا برائی انجام دیتا ہوں اس کو دیکھتا ہے، چنانچہ یھی توجہ اس کو برائیوں سے روکتی ہے، اور ایسا شخص ہی عظمت خدا سے خوف زدہ اور اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے روکتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے عمرو بن سعید سے فرمایا:

اُوصِیكَ بِتَقَوی اللهِ وَالْوَرَعِ وَالاِجْتِهادِ، وَاعْلَمْ اَنَّهُ لاَ ینْفَعُ اِجْتِهادٌ لاَ وَرَعَ فِیهِ(۲۳۹)

”میں تم کو تمام امور میں تقويٰ الٰھی، گناھوں سے دوری، عبادت میں کوشش، اور خدمت خلق کی سفارش کرتا ہوں، جان لو کہ جس کوشش میں گناھوں سے دوری نہ ہوں اس کا کوئی فائدہ ن ہیں ہے“۔

امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:

عَلَیكَ بِتَقْوَی اللهِ، وَالْوَرَعِ، وَالاِجْتِهَادِ، وَ صِدْقِ الْحَدِیثِ، وَاَدَاءِ الاَمَانَةِ، وَ حُسْنِ الْخُلْقِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ، وَكُونُوا دُعاةً اِلَی اَنْفُسِكُمْ ِبغَیرِ اَلْسِنَتِكُمْ، وَكُونُوا زَیناً وَلاَتَكُونُوا شَیناً، وَعَلَیكُمْ بِطُولِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَااَطالَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ هَتَفَ اِبْلِیسُ مِنْ خَلْفِهِ وَقاَلَ:یا وَیلَهُ، اَطَاعَ وَ عَصَیتُ، وَسَجَدَ وَاَبَیتُ(۲۴۰)

”تمام امور میں تقويٰ الٰھی اختیار کرو، گناھوں سے بچو، عبادت خدا اور خدمت خلق میں کوشش کرتے رھو، صداقت و امانت کا لحاظ رکھو، حسن خلق اپناؤ، پڑوسیوں کا خیال رکھو، اپنی زبانوں کے علاوہ اپنی نفسوں کے ذریعہ بھی دین حق کی دعوت دو، دین کے لئے باعث زینت بنو، دین کے لئے ذلت کا

باعث ن ہیں ، نمازوں میں اپنے رکوع و سجود طولانی کرو، ایسا کرنے سے شیطان فریاد کرتا ہے: ھائے افسوس! یہ شخص اطاعت کررھا ہے، اور میں نے خدا کی مخالفت کی، یہ سجدہ کررھا ہے اور میں نے ن ہیں کیا!

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امیر المومنین علیہ السلام سے فرمایا:

ثَلاثَةٌ مَنْ لَقِی اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ بِهِنَّ فَهُومِنْ اَفْضَلِ النَّاسِ :مَن اَتَی اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ بِمَا افْتَرَضَ عَلَیهِ فَهُوَ مِنْ اَعْبَدِ النَّاسِ، وَمَنْ وَرِعَ عَنْ مَحارِمِ اللّٰهِ فَهُوَمِنْ اَوْرَعِ النّاسِ، وَمَنْ قَنَعَ بِمَا رَزَقَهُ اللّٰهُ فَهُوَ مِنْ اَغْنَی النَّاسِثُمَّ قالَ:یا عَلِی! ثَلاثٌ مَنْ لَمْ یكُنَّ فِیهِ لَمْ یتِمَّ عَمَلُهُ:وَرَعٌ یحْجُزُهُ عَنْ مَعاصِی اللّٰهِ، وَخُلْقٌ یداری بِهِ النَّاسَ، وَحِلْمٌ یرُدُّ بِهِ جَهْلَ الْجاهِلِ - اِليٰ اَنْ قَالَ - یاعَلِی!الِاسْلامُ عُرْیانٌ، وَلِباسُهُ الْحَیاءُ، وَ زِینَتُهُ الْعِفافُ، وَمُرُوَّتُهُ الْعَمَلُ الصّالِحُ، وَعِمادُهُ الْوَرَعُ(۲۴۱)

”جو شخص تین چیزوں کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے گا وہ بھترین لوگوں میں سے ہوگا، جو شخص اپنے اوپر واجب چیزوں پر عمل کرے گا، وہ بھترین لوگوں میں سے ہوگا، اور جو شخص خدا کی حرام کردہ تمام چیزوں سے پرھیز کرے گا وہ بندوںمیں پارسا ترین شخص ہوگا، اور جو شخص خدا کی عطا کردہ روزی پر قناعت کرے گا، وہ سب سے بے نیاز شخص ہوگا، اس کے بعد فرمایا: یا علی! جس شخص میں یہ تین چیزیں نہ ہوں اس کا عمل تمام ن ہیں ، انسان میں ایسی طاقت نہ ہو جس کو گناھوں کی رکاوٹ میں لگاسکے، اور ایسا اخلاق نہ ہو جس سے لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرسکے، اور ایسا حلم اور حوصلہ نہ ہو جس سے جاھل کے جھل کو خود اس کی طرف پلٹادے، یھاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: یاعلی! اسلام برہنہ اور عریان ہے اس کا لباس حیاء، اس کی زینت عفت و پاکدامنی، اور اس کی شجاعت عمل صالح اور اس کے ستون ورع اورتقويٰ ہیں “۔حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

اِنَّ اَفْضَلَ الْعِبَادَةِ عِفَّةُ الْبَطْنِ وَالْفَرْجِ(۲۴۲)

”بے شک شکم و شھوت کو (حرام چیزوں) سے محفوظ رکھنا بھترین عبادت ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

اِنَّمَا شِیعَةُ جَعْفَرٍ مَنْ عَفَّ بَطْنُهُ وَ فَرْجُهُ، وَاشْتَدَّ جِهادُهُ وَعَمِلَ لِخالِقِهِ، وَرَجا ثَوابَهُ، وَخَافَ عِقابَهُ، فَاِذا رَایتَ اولٰئِكَ، فَاولٰئِكَ شِیعَةُ جَعْفَرٍ(۲۴۳)

”بے شک جعفر صادق کا شیعہ وہ ہے جو شکم اور شھوت کو حرام چیزوںسے محفوظ رکھے، راہ خدا میں اس کی سعی و کوشش زیادہ ہو، صرف خدا کے لئے اعمال انجام دے، اس کے اجر و ثواب کا امیدوار اور اس کے عذاب سے

خوف زدہ رہے ، اگر ایسے لوگوں کو دیکھو تو کھو وہ جعفرصادق کے شیعہ ہیں “۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

لاَ تَزالُ اُمَّتِی بِخَیرٍ ما تَحابُّوا وَ تَهادَوْا وَاَدُّواالاَمانَةَ، وَاجْتَنبُوا الحَرامَ، وَ قَرَوُالضَّیفَ، وَاَقامُوا الصَّلاةَ، وَآتُواالزَّکاةَ، فَاِذَا لَمْ یفْعَلُواذٰلِكَ ابْتُلُوبِالْقَحْطِ وَالسِّنینَ(۲۴۴)

”جب تک میری امت میں یہ اعمال باقی ر ہیں گے اس وقت تک ان پرکوئی مصیبت نازل نہ ہوگی: ایک دوسرے سے محبت کرنا، ایک دوسرے کو ہدیہ دینا اور دوسروں کی امانت ادا کرنا، حرام چیزوں سے پرھیز کرنا، مھمان کی مھمان نوازی کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰة ادا کرنا، لیکن ان چیزوں کے نہ ہونے کی صورت میں میری امت قحط اور خشک سالی میں مبتلا ہوجائے گی“۔

قارئین کرام! گزشتہ احادیث کے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اصلاح کا راستہ ھمیشہ ھر شخص کے لئے کھلا ہے، اور اس نورانی راستہ پر چلنا ھر شخص کے لئے ممکن ہے، انسان اپنے عمل، اعتقاد اور اخلاق میں مجبور ن ہیں ہے، انسان اپنے اختیار سے پاک نیت اور مصمم ارادہ کے ذریعہ مذکورہ بالا احادیث میں بیان شدہ خوبیوں سے مزین ہوسکتا ہے، ان تمام برائیوں اور شیطانی صفات کو چھوڑتے ہوئے ان تمام خیر و نیکی اور معنوی خوبیوںسے آراستہ ہوسکتا ہے، اور اپنے ھاتھوں سے البتہ خدا کی نصرت و مدد کے ساتھ ساتھ اخلاقی برائیوں اور برے اعمال کو ظاھری و باطنی نیکیوں میں تبدیل کرے، کیونکہ جوشخص بھی اصلاح کا راستہ اپناتا ہے تو خداوندعالم بھی اس کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے، اور جب برائیوں کی جگہ نیکیاں آجاتی ہیں تو پھر اس کی تمام گزشتہ برائیاں بخش دی جاتی ہیں ۔

( إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاوْلَئِكَ یبَدِّلُ اللهُ سَیئَاتِهم حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا ) ۔(۲۴۵)

”علاوہ اس شخص کے جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل بھی کرے تو پروردگار اس کی برائیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کردے گا اور خدا بھت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

( إِلاَّ مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّی غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔(۲۴۶)

”ھاں کوئی شخص گناہ کر نے کے بعد توبہ کر لے اور اپنی برائی کو نیکی سے بد ل دے، تو میں بخشنے والا مھربان ہوں“۔

اصلاح نفس سے متعلق مسائل کے عناوین

تمام لوگوں کی نسبت خیرو نیکی کی نیت رکھنا، رغبت، خوف، خواہش، خوشی اور غم کے وقت پرھیزگاری کرنا۔

تمام امور اور انجام کار کے بارے میں غور و فکر کرنا، عبادت کے لئے شب بیداری، تقويٰ و پرھیزگاری اختیار کرنا، ظلم و ستم کرنے والے سے چشم پوشی کرنا، جس نے قطع تعلق کرلیا ہو اس سے صلہ رحم کرنا، جس نے احسان نہ کیا ہو اس کے ساتھ احسان کرنا، گناھوں کو ترک کرنے کے ساتھ ساتھ خوف خدا اس دنیا کے ظاھر و باطن پر خدا کی حفاظت پر توجہ رکھنا، (کس طرح خدا انسان یا دوسری مخلوق کی حفاظت فرماتا ہے) عفت اورپاکدامنی، عبادت خدا اور خدمت خلق میں کوشش کرنا، صداقت، ادائے امانت اور خوش عادت ہونا، پڑوسیوں کا خیال رکھنا، خوبیوں اور نیکیوں سے آراستہ ہونا، طولانی رکوع اور سجدہ کرنا، حلال روزی پر قناعت کرنا، اپنی رفتار و گفتار میں نرم رویہ پیدا کرنا، حلم و حوصلہ، حیاء اور عفت سے کام لینا، نیک اور صالح عمل انجام دینا، شکم اور شھوت کے میدان باعفت رہنا، رضائے الٰھی کے لئے نیک عمل انجام دینا، ذات خدا سے امیدرکھنا، عذاب الٰھی سے خوف زدہ رہنا، ایک دوسرے سے محبت کرنا، ایک دوسرے کی ہدایت کرنا، برائیوں سے دور رہنا، مھمان کی عزت کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰة کا ادا کرنا۔

البتہ یہ عناوین گزشتہ احادیث میں بیان ہونے والے اصلاح کے راستہ سے متعلق ہیں جن کی فھرست ھم نے یھاں بیان کی ہے، اگر ھم اپنی، اھل خانہ اور معاشرہ کی اصلاح کے سلسلہ میں بیان ہونے والی تمام احادیث سے عناوین کو جمع کریں تو واقعاً ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔

اگر انسان اپنے ارادہ و اختیار سے خود کو ان تمام نیکیوں سے مزین اور آراستہ کرلے اور برے صفات خصوصاً مال حرام، مقام حرام اور شھوت حرام سے محفوظ کرلے تواس کو دنیا و آخرت میں فائدہ ہی فائدہ نصیب ہوگا۔

اس سلسلہ میں متقی و پرھیزگار افراد کو زندگی کے بعض پھلوؤں میں ہونے والے عظیم الشان فائدوں کی طرف اشارہ کیا جائے تو ممکن ہے خیر و سعادت حاصل کرنے والوں کے لئے ہدایت کا سبب بن جائے۔

ابن سیرین اور خواب کی تعبیر

ابن سیرین کا نام محمد بن سیرین بصری ہے، وہ خواب کی تعبیر کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب طاقت کا مالک تھا اس کی تعبیر خواب کا سر چشمہ ذوق سالم اور بلند فکر تھی۔

خواب کو انسان سے مطابقت کرتا تھا، اور خواب کی تعبیر میں قرآن مجید اور احادیث سے الھام لیتا تھا۔

اس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ایک شخص نے اس سے معلوم کیا: خواب میں اذان کہنے کی تعبیر کیا ہے؟ تو اس نے کھا: حج سے مشرف ہونا، دوسرے شخص نے اسی خواب کی تعبیر پوچھی تو کھا: چوری کرنا، لیکن جب اس سے ایک خواب کی دو مختلف تعبیروں کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے کھا: میں نے پھلے شخص کو دیکھا تو وہ ایک نیک اور صالح شخص دکھائی دیاتو اس کے خواب کی تعبیر کو اس آیت سے حاصل کیا:( وَاذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَج ) ۔۲۴۷ لیکن دوسرے شخص کا چھرہ صحیح ن ہیں تھا لہٰذا اس کے خواب کی تعبیر میں اس آیت سے الھام لیا:( اذَّنَ مُؤَذِّنٌ ایتُها الْعِیرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ ) ۔(۲۴۸)

ابن سیرین کھتا ہے:بازار میں میری کپڑے کی دکان تھی، ایک خوبصورت عورت کپڑا خریدنے کے لئے میری دکان پر آئی، جبکہ میں یہ ن ہیں جانتا تھا کہ یہ عورت میری جوانی اور جمال کی عاشق ہوگئی ہے، تھوڑا کپڑا مجھ سے خریدا اور اپنی گٹھری میں رکھ لیا، اور اچانک کہنے لگی: اے کپڑا فروش! میں گھر سے پیسے لانا بھول گئی، یہ گٹھری لے کر تم میرے گھر تک چلو وھاں پر اپنے پیسے بھی لے لینا! مجھے مجبوراً اس کے گھر تک جانا پڑا، گھر کی چوکھٹ پر مجھے بلایا اور جیسے ہی میں نے اندر قدم رکھا اس نے فوراً دروازہ بند کرلیا، اس نے اپنے کپڑے اتار پھینکے اور اپنے جمال و خوبصورتی کو میرے لئے ظاھر کردیا، او رکھا: ایک مدت سے تیرے جمال کی عاشق ہوں، اپنے وصال کے لئے میں نے یھی راستہ اختیار کیا ہے، اس وقت یھاں پر تیرے اور میرے علاوہ کوئی ن ہیں ہے، لہٰذا میری آرزو پوری کردے ورنہ تجھے ذلیل کردوں گی۔

میں نے اس سے کھا: خدا سے ڈر، اور زنا سے دامن آلودہ نہ کر، زنا گناہ کبیرہ ہے، جو جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ لیکن میری نصیحت کا کوئی فائدہ نہ ہوا، میرے وعظ کا کوئی اثر نہ ہوا، اس موقع پر میں نے بیت الخلا جانے کی اجازت مانگی، اس نے سوچا واقعاً قضائے حاجت کے لئے جارھا ہے لہٰذا اس نے چھوڑدیا۔ میں بیت الخلاء میں گیا اور اپنے ایمان اور آخرت اور انسانیت کو محفوظ کرنے کے لئے نجاست کو اپنے پورے بدن پر مل لیا، جیسے ہی اس حالت میں بیت الخلاء سے نکلا، فوراً ہی اس نے گھر کا دروازہ کھولا اور مجھے باھر نکال دیا، میں ایک جگہ گیا اور نھایا دھلا، میں نے اپنے دین کی خاطر تھوڑی دیر کے لئے بدبو دار نجاست کو اپنے بدن پر ملا، اس کے بدلے میں خداوندعالم نے بھی میری بُو کو عطر کے مانند کردیا اور مجھے تعبیر خواب کا علم مرحمت فرمایا۔(۲۴۹)

خداداد بے شمار دولت اور علم

عظیم الشان اصولی فقیہ، علم و عمل اور عبادت میں مشھور شخصیت حجة الاسلام شفتی سید کے نام سے مشھور، اپنی ابتدائے تعلیم کے دوران نجف اشرف میں زندگی بسر کیا کرتے تھے، بھت زیادہ غربت اور پریشانی کی زندگی تھی، اکثر اوقات ایک وقت کے کھانے کے لالے پڑجاتے تھے، نجف اشرف میں رہنا ان کے لئے مشکل تھا، لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود تحصیل علم کے لئے حوزہ اصفھان گئے جو اس موقع پر شیعوں کاایک پُر رونق حوزہ تھا لیکن وھاں پر بھی مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا رہے ۔

ایک روزان کے لئے ان کے لئے ک ہیں سے کچھ پیسہ آیا، اھل و عیال کے کھانے کے انتظام کے لئے بازار گئے، انھوں نے سوچا کہ اپنی اور اھل و عیال کی بھوک مٹانے کے لئے کوئی سستی سی غذا خریدیں۔

ایک قصائی کی دکان سے ایک جگر خریدا اور خوشی خوشی گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔

راستہ میں ایک ٹوٹے پھوٹے مکان کی طرف سے گزر ہوا دیکھا کہ ایک ضعیف اور کمزور سی کتیا زمین پر پڑی ہوئی ہے، اور اس کے چند پلّے اس کے سینہ سے چپکے ہوئے ہیں اور دودھ مانگ رہے لیکن اس بھوکی اور کمزور کتیا کے پستان میں دودھ ن ہیں ہے۔

کتیا کی حالت دیکھ کراور اس کے بچوں کی فریاد سن کر سید کھڑے ہوگئے، جبکہ خود موصوف اور ان کے اھل و عیال کو بھی اس غذا کی ضرورت تھی لیکن انھوں نے خواہش نفس پر کوئی توجہ ن ہیں کی اور تمام جگر اس کو کھلادیا، اس کتیا نے اپنی دم ھلائی اور اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا گویا خداوندعالم کی بارگاہ میں اپنی بے زبانی سے اس محسن اور ایثار گر کے حق میں دعا کررھی ہے۔

سید فرماتے ہیں : اس کتیا اور اس کے بچوں پر رحم کئے ہوئے زیادہ وقت ن ہیں گزرا تھا کہ ”شفت“ کے علاقہ سے بھت سا مال میرے پاس لایا گیا، اور کھا: وھاں کے رہنے والے ایک شخص نے ایک صاحب کو کاروبار کرنے کے لئے پیسہ دیا اور اس سے کھا: اس کا فائدہ سید شفتی کے لئے بھیج دیا جائے، اور میرے مرنے کے بعد میرا سارا مال اور اس کے تمام منافع سید کے پاس بھیج دیئے جائےں، اس میں مال کا منافع سید کے ذاتی اخراجات کے لئے اور اصل مال ان کی مرضی کے مطابق خرچ کیا جائے!

سید نے اپنے سے متعلق مال کو تجارت میں لگادیا اور اس کے فائدے سے کچھ زمین و باغات خریدے، موصوف اس کے منافع سے غریبوں کی امداد اور طلباء کو شھریہ دیا کرتے تھے، نیز لوگوں کی مشکلات کو دور فرماتے تھے، اور ایک عظیم الشان مسجد بنائی جو آج کل اصفھان کی ایک آباد اور سید کے نام سے مشھور ہے، موصوف کی قبر بھی اسی مسجد کے کنارے ایک پُر رونق مقبرہ میں ہے۔

ایک پرھیزگار اور بیدار جوان

قبیلہ انصار سے ایک شخص کھتا ہے: گرمی کے دنوں میں ایک روز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص آیا جس نے اپنا کرتہ اتار دیا، اور گرم ریت پر لوٹنا شروع کردیا، کبھی پیٹھ کے بل اور کبھی پیٹ کے بل اور کبھی اپنا چھرہ گرم ریت پر رکھتا ہے اور کھتا ہے: اے نفس! اس گرم ریت کا مزہ چکھ، کیونکہ خداوندعالم کا عذاب تو اس سے ک ہیں زیادہ سخت ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس واقعہ کو دیکھ رہے تھے، جس وقت وہ جوان وھاں سے اٹھا او راس نے اپنے کپڑے پہن کر ھماری طرف دیکھ کر جانا چاھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کوھاتھ کے اشارے سے بلایا، جب وہ آگیا تو آنحضرت نے اس سے فرمایا: اے بندہ خدا! میں نے اب تک کسی کو ایسا کام کرتے ن ہیں دیکھا اس کام کی وجہ کیا ہے؟ تو اس نے عرض کیا: خوف خدا، میں نے اپنے نفس سے یھی طے کرلیا ہے تاکہ شھوت اور طغیان سے محفوظ رہے !

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تو نے خدا سے ڈرنے کا حق ادا کردیا ہے خداوندعالم تیرے ذریعہ اھل آسمان پرفخر و مباھات کرتا ہے، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: سب لوگ اپنے اس دوست کے پاس جمع ہوجاؤ تاکہ یہ تمھارے لئے دعا کردے، سب اصحاب جمع ہوگئے تو اس نے اس طرح سے دعا کی:

اَللّٰهُمَّ اجْمَعْ اَمْرَنا عَلَی الْهُديٰ وَاجْعَلِ التَّقْويٰ زادَنا وَالْجَنَّةَ مَآبَنا(۲۵۰)

”پالنے والے! ھماری زندگی ہدایت پر گامزن رکھ، تقويٰ کو ھماری زادہ راہ، اور بہشت کو ھماری جایگاہ بناد ے“۔

ایک جوان عابد اور گناہ کے خطرہ پر توجہ

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے ایک جوان کو گمراہ کرنا چاھا، بنی اسرائیل کے بھت سے لوگ کھتے تھے: اگر فلاں عابد اس عورت کو دیکھے گا تو عبادت چھوڑ دے گا، جیسے ہی اس بدکار عورت نے ان کی باتوں کو سنا تو کہنے لگی: خدا کی قسم میں اس وقت تک اپنے گھر نہ جاؤں گی جب تک کہ اس کو گمراہ نہ کردوں، چنانچہ رات گئے اس عابد کے دروازہ پر آئی اور دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اس عابد نے دروازہ نہ کھولا، وہ عورت چلائی او رکھا: مجھے اندر آنے دے، لیکن اس نے نہ کھولا، اس عورت نے کھا: بنی اسرائیل کے کچھ جوان مجھ سے بُرا کام کرنا چاھتے ہیں اگر تو مجھے پناہ ن ہیں دے گا تو میں ذلیل و رسوا ہوجاؤں گی!

جیسے اس عابد نے یہ آواز سنی دروازہ کھول دیا، وہ عورت جیسی ہی اس کے گھر میں آئی تو اس نے اپنے کپڑے اتار دئے، اس عابد نے جیسے ہی اس کی زیبائی اور خوبصورتی کو دیکھا تو وسوسہ میں پڑگیا، اس کے بدن پر ھاتھ رکھا اور پھر ایک گھری سوچ میں پڑگیا، کچھ دیر سوچ کرچولھے کی طرف گیا اور آگ میں اپنا ھاتھ ڈال دیا، وہ عورت پکاری: ارے تو کیا کرتا ہے؟ اس نے کھا: جو ھاتھ نامحرم کے بدن تک پہنچا ہے اس کو جلانا چاھتا ہوں، چنانچہ یہ دیکھ کر وہ عورت بھاگ گھڑی ہوئی اور بنی اسرائیل کے لوگوں کے پاس جاکر کھا: دوڑو اور اس جوان کو پچاؤ کیونکہ اس نے اپنا ھاتھ آگ میں رکھ دیا ہے، جیسے ہی لوگ دوڑے تو دیکھا کہ اس کا ھاتھ جل چکا ہے۔(۲۵۱)

پوریائے ولی لیکن اپنے نفس سے جنگ کرنے والا

پوریائی ایک قدرتمند اور زبردست پھلوان تھا جس نے اپنے زمانہ کے تمام پھلوانوں سے کشتی لڑی اور سب کو پچھاڑ ڈالاتھا، جس وقت وہ اصفھان میں پہنچاتو اس نے اصفھان کے بھی تمام پھلوانوں سے کشتی لڑی اور سبھی پر فاتح رھا، چنانچہ اس نے شھر کے پھلوانو ں سے درخواست کی کہ میرے بازو پر بندھے ہوئے بازوبند پر مھر لگا کر میری پھلوانی کا اقرار کرتے ہوئے دستخط کرو تو شھر کے پھلوانوں کے رئیس کے علاوہ سب نے دستخط کردئے چونکہ اس نے ابھی تک اس سے کشتی ن ہیں لڑی تھی اس نے کھا کہ میں پوریا سے کشتی لڑوں گا اگر اس نے مجھے ھرادیا تب وقت دستخط کروں گا۔ میدان ”عالی قاپو میں جمعہ کے روز کشتی کا پروگرام رکھا گیا تاکہ اس بے نظیر کشتی کو دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہوسکیں، شب جمعہ پوریا ئی نے دیکھا کہ ایک بُڑھیاحلوا بانٹ رھی ہے اور التجا کے انداز میں کہہ رھی ہے: یہ حلوا کھاؤ او رمیرے لئے دعا کرو کہ خداوندعالم میری حاجت پوری کردے۔

پوریائی نے پوچھا! ماں تیری حاجت کیا ہے؟ اس نے کھا: میرا بیٹا اس شھر کا سب سے بڑا پھلوان ہے، وہ میری اور اپنے اھل و عیال کے لئے روزی لاتا ہے، کل اس کی کشتی پوریائی سے ہے، کچھ لوگ اس کی مدد کرتے ہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وہ کشتی ھار گیا تو ک ہیں وہ لوگ اس کو پیسہ دینا بند نہ کردیں اور ھماری زندگی سختی اور پریشانی میں گزرنے لگے!

پوریائی نے اسی وقت یہ ٹھان لی کہ شھر اصفھان کے مشھور پھلوان کو زیر کرنے کے بجائے اپنے نفس کو زیرکرے گا، چنانچہ اسی نیت سے اس نے کشتی لڑنا شروع کی، جس وقت کشتی ہونے لگی، تو اس نے اندازہ لگالیا کہ ایک وار میں اس کو زمین پر گرا سکتا ہے، لیکن اس نے اس طرح کشتی لڑی کہ خود اس پھلوان سے ھارگیا تاکہ چند لوگوں کی روزی روٹی بند نہ ہونے پائے، اس کے علاوہ اس بُڑھیا کے دل کو بھی خوش کردے، اور خود بھی رحمت الٰھی کا مستحق ہوجائے۔

آج بھی اس کا نام تاریخ پھلوانی میں ایک بلند انسان، شجاع اور بخشش کرنے والے کے نام سے باقی ہے، اس کی قبر گیلان میں ہے، اور لوگ اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لئے جاتے ہیں ۔(۲۵۲)

جن لوگوں نے ہوائے نفس اور ہوا و ہوس سے جنگ کی ہے اور بلند و بالا منصب اور ملکوتی درجات پرپہنچے ہیں ، ان کا نام قرآن، حدیث اور تاریخ میں بیان ہوا ہے ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر ان سب کے حالات کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو واقعاًچند جلد کتاب ہوجائے ۔

ھوائے نفس اور حرام شھوت سے مقابلہ کے سلسلہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام بھت سی احادیث بیان ہوئی ہیں ، جن میں چند کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے۔

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : خدا وندعالم کا فرمان ہے:

وَعَزَّتِی وَجَلَالِی وَ عَظَمَتی وَبَهائِی وَعُلُوِّارْتِفاعِی، لَایوثِرُ عَبْدٌ مُومِنٌ هَوای عَليٰ هَواهُ فِی شَیءٍ مِنْ اَمْرِالدُّنْیا اِلاَّ جَعَلْتُ غِناهُ فِی نَفْسِهِ، وَهِمَّتَهُ فِی آخِرَتِهِ، وَضَمَّنْتُ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ رِزْقَهُ، وَكُنْتُ لَهُ مِنْ وَراءِ تِجارَةِ كُلِّ تاجِرٍ(۲۵۳)

”مجھے اپنی عزت و جلال، بزرگی و حسن اور بلند و بالا مقام کی قسم کوئی بھی میرا بندہ اپنی خواہشات پر میری مرضی کو مقدم ن ہیں کرے گا مگر یہ میں اس کو بے نیاز بنادوں گا، اور اس کی ھمت و قصد کو آخرت کی طرف موڑ دوں گا، زمین و آسمان کو اس کی روزی کا کفیل بنادوں گا، اور خود میں اس کے لئے ھر تاجر کی تجارت سے بھتر منافع عطا کروں گا“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

اِذاکاَنَ یوْمَ القِیامَةِ تَقومُ عُنُقٌ مِنَ النَّاسِ فَیاتُونَ بَابَ الْجَنَّةِ (وسائل الشیعہ:ج۱۵، ص۲۷۹، باب۳۲، حدیث۲۰۵۱۰)

فَیضْرِبُونَهُ، فَیقالُ لَهُم:مَنْ اَنْتُم ؟فَیقُولُونَ:نَحْنُ اَهْلُ الصَّبْرِ، فَیقالُ لَهُمْ:عَلی مَاصَبَرْتُم ؟فَیقُولُونَ :كُنّا نَصْبِرُ عَلَی طاعَةِ اللّٰهِ وَنَصْبِرُ عَنْ مَعاصِی اللّٰهِ، فیقول الله عَزَّوَجَلَّ:صَدَقُوا، اَدْخِلُوهُمُ الجَنَّةَ (۲۵۴) وَهُوَ قَوْلُ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ :( إِنَّمَا یوَفَّی الصَّابِرُونَ اجْرَهم بِغَیرِ حِسَابٍ ) ۔(۲۵۵)

”جس وقت قیامت برپا ہوگی، کچھ لوگ اٹ ہیں گے اور جنت کے دروازہ کی طرف جانے لگےں گے، وھاں پہنچ کر دقّ الباب کریں گے، آواز آئے گی: تم کون لوگ ہو؟ تو وہ ک ہیں گے: اھل صبر، سوال ہوگا: تم لوگوں نے کس چیز پر صبر کیا: جواب دیں گے: ھم نے اطاعت خدا اور اس کی معصیت پر صبر کیا، اس وقت آواز قدرت آئے گی: یہ لوگ ٹھیک کھتے ہیں ، ان کو جنت میں داخل ہونے دو، اسی چیز کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ”پس صبر کرنے والے ہی وہ ہیں جن کوبے حساب اجر دیا جاتا ہے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

طُوبٰی لِمَنْ لَزِمَ بَیتَهُ، وَاَكَلَ قوتَهُ، وَاشْتَغَلَ بِطاعَةِ رَبِّهِ، وَبَکيٰ عَليٰ خَطِیئَتِهِ، فَكَانَ مِنْ نَفْسِهِ فی شُغُلٍ، وَالنّاسُ مِنْه فِی رَاحَةٍ(۲۵۶)

”خوش نصیب ہے وہ شخص جو اپنے گھر میں رہے ، اور اپنی روزی روٹی کھاتا رہے ، خدا کی اطاعت میں مشغول رہے ، اپنے گناھوں پر گریہ کرتا رہے ، اپنے ہی کاموں میں مشغول رہے اور دوسرے لوگوں کو پریشان نہ کرے“۔

یعقوب بن شعیب کھتے ہیں : میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

مَانَقَلَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ عَبْداً مِنْ ذُلِّ الْمَعاصِی اِليٰ عِزِّالتَّقْويٰ اِلاّ اَغْناهُ مِنْ غَیرِ مالٍ، وَاَعَزَّهُ مِنْ غَیرِ عَشِیرَةٍ، و۱آنَسَهُ مِنْ غَیرِ بَشَرٍ(۲۵۷)

” خداوندعالم کسی بھی بندہ کو گناھوں کی ذلت سے تقويٰ کی عزت کی طرف ن ہیں پھونچاتا مگر یہ کہ اس کو بغیر مال و دولت کے بے نیاز بنادیتا ہے اور اس کو بغیر قوم و قبیلہ کے عزت دیتا ہے اور اس کو بغیر انسان کے انس دیدیتا ہے“۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں :

”مَنْ ذَرَفَتْ عَیناهُ مِنْ خَشْیةِ اللّٰهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ قَطَرَتْ مِنْ دُموعِهِ قَصْرٌ فِی الجَنَّةِ مُكَلَّلٌ بِالدُّرِّ وَ الْجَوْهَرِ، فیهِ مَا لَا عَینٌ رَاتْ، وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ(۲۵۸)

”جو شخص خوف خدا میںآنسو بھائے، اس کے ھر قطرہ کے عوض بہشت میں ہیرے جواھرات سے بنا ہوا ایک محل ملے گا، اس قصر میں ایسی چیزیں ہیں جس کو کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اورنہ ہی کسی دل میں اس کے متعلق خطور ہواھو“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

كُلُّ عَینٍ باكِیةٌ یوْمَ القِیامَةِ اِلاَّ ثَلاثَةً:عَینٌ غُضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰهِ، وَعَینٌ سَهِرَتْ فِی طَاعَةِ اللّٰهِ، وَعَینٌ بَكَتْ فِی جَوْفِ اللَّیلِ مِنْ خَشْیةِ اللّٰهِ“ (۲۵۹)

وم قیامت ھر آنگھ گریہ کرے گی سوائے تین آنکھوں کے: جس آنکھ سے حرام خدا کو نہ دیکھا ہو، جو آنکھ اطاعت و عبادت خدا میں جاگی ہو، اور وہ آنکھ جو رات کے اندھیرے میں خوف خدا سے روئی ہو“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اِنَّ الصَّدَقَةَ تَزِیدُ صَاحِبَها كَثْرَةً، فَتَصَدَّقُوا یرْحَمْكُمُ اللّٰهُوَاِنَّ التَّواضُعَ یزِیدُ صاحِبَهُ رِفْعَةً، فَتَواضَعُوا یرْفَعْكُمُ اللّٰهُوَاِنَّ العَفْوَ یزِیدُ صَاحِبَهُ عِزّاً، فَاعْفُوا یعِزَّكُمُ اللّٰهُ(۲۶۰)

”بے شک صدقہ صاحب مال کے مال میں اضافہ کرتا ہے، پس راہ خدا میں صدقہ دیا کرو، خداوندعالم تم پر رحمت نازل کرے، تواضع و انکساری کرنے والے کی سربلندی میں اضافہ ہوتا ہے، پس تواضع و انکسار ی کرو، خداوندعالم تم کو سربلند و سرفراز فرمائے گا، عفو و بخشش کرنے والے کی عزت و سربلندی میں اضافہ ہوتا ہے، پس عفو و بخشش سے کام لو خداوندعالم تم کو عزت دےگا“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں فرمایا:

اَلاٰ اِنَّهُ مَنْ ینْصِفِ النَّاسَ مِنْ نَفْسِهِ لَمْ یزِدْهُ اللّٰهُ اِلاَّعِزًّا(۲۶۱)

”آگاہ ہوجاؤ کہ جو شخص دوسرے لوگوں سے انصاف کرے گا، خداوندعالم اس کی عزت و سربلندی میں اضافہ فرمادے گا“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں :

طُوبيٰ لِمَنْ طابَ خُلُقُهُ، وَطَهُرَتْ سَجِیتُهُ، وَصَلُحَتْ سَریرَتُهُ، وَحَسُنَتْ عَلانِیتُهُ، وَاَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مالِهِ، وَاَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِهِ، وَاَنْصَفَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِهِ(۲۶۲)

”خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا اخلاق اچھا ہو، جس کی طینت پاک ہو، جس کا باطن صالح اور نیک ہو، جس کا ظاھر نیک ہو، اپنے اضافی مال سے انفاق کرے، اور زیادہ گفتگو سے پرھیز کرے، اور لوگوں کے ساتھ انصاف سے کام لے“۔

قارئین کرام! گزشتہ صفحات میں بیان شدہ احادیث میں مختلف مسائل کو ملاحظہ کیا جن کا خلاصہ یہ ہے:” آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا، عبادت خدا میں صبر و ضبط کرنا، (یعنی عبادت کی مشکلات سے نہ گھبرانا) گناھوں کے مقابلہ میں استقامت دکھانا، حلال رزق پر قناعت کرنا، اطاعت الٰھی میں مشغول رہنا، گناھوں پر آنسو بھانا، اپنے کاموں میں مشغول رہنا، لوگوں کو اذیت دینے سے پرھیز کرنا، تقويٰ الٰھی کی رعایت کرنا، رات کے سناٹے میں خوف خدا سے آنسوبھانا، نامحرم پر نظر کرنے سے پرھیز کرنا، عبادت کے لئے شب بیداری کرنا، راہ خدا میں صدقہ دینا، تواضع و انکساری اور عفو و بخشش سے کام لینا، اپنی طرف سے تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا، اخلاق حسنہ رکھنا، پاک طبیعت رکھنا، شائستہ باطن رکھنا، پسندیدہ ظاھر رکھنا، اضافی مال کو راہ خدا میں خرچ کرنا، زیادہ گفتگو سے پرھیز کرنا“۔

اس میں کوئی شک ن ہیں ہے کہ ان تمام چیزوں کو عملی جامہ پہنانا، خواہشات نفسانی سے جنگ کئے بغیر ممکن ن ہیں ہے، جو شخص شیطانی چالوں سے دنیاوی اور مادی امور، ہوائے نفس اور بے لگام شھوت کے ساتھ مقابلہ کرے تو واقعاً اس نے جھاد اکبر کیا ہے اوراسے اس کا بھت زیادہ فائدہ ہوگا، وہ فائدہ جس کا وعدہ خداوندعالم نے انبیاء اور ائمہ علیھم السلام سے کیا ہے۔

فرصت کو غنیمت جاننا چاہئے

فرصت کو غنیمت جاننا چاہئیے بالخصوص اپنے پاس موجود فرصت کی قدر کرنا چاہئے، عمر کی فرصت کے بارے میں؛ خدا کا حکم، انبیاء و ائمہ علیھم السلام اور اولیاء الٰھی کی وصیت ہے، کیونکہ انسان اسی عمر کی فرصت میں اپنے گناھوں کو نیکیوں میں تبدیل کرسکتا ہے، برائیوں کی جگہ اچھائیوں کو قرار دے سکتا ہے، اور ظلمت و تاریکی کی جگہ نور و روشنی کو قرار دے سکتا ہے۔

اگر فرصت ھمارے ھاتھ سے نکل جائے، اور کوئی اچھا کام انجام نہ دیا جائے، اور موت کا پیغام پہنچ جائے، اور عمر کا چراغ اس موقع پر گل ہونے لگے کہ انسان توبہ کی فرصت نہ پاسکے، تو اس موقع پر شرمندگی اور پشیمانی کوئی فائدہ ن ہیں دے سکتی۔

جس وقت طلحہ جنگ جمل میں مروان بن حکم کے تیر سے زمین پر گرا، اور اس دنیا سے چلنے لگا تو کھتا ہے: میری بدبختی ہے کہ بزرگان قریش (حضرت علی علیہ السلام) کی بزرگی کو ن ہیں دیکھ سکا، لیکن طلحہ کو یہ احساس اس وقت ہوا جب فرصت ھاتھ نکل چکی تھی، اور اس کی زندگی کا دیا گُل ہونے والا تھا، طلحہ وہ پھلا شخص تھا جس نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی، لیکن حضرت علی علیہ السلام نے چونکہ اس کی ناجائز پیش کش کو قبول ن ہیں کیا تھا نیز اُدھر معاویہ نے اس کو بھڑکایا اور اس پر اثر ہوگیا، لہٰذا اس نے حضرت امیر کی بیعت توڑ ڈالی، اور اپنی دنیا و آخرت کو تاریک کرڈالا۔

جناب نوح اور جناب لوط علیھم السلام کی ازواج نے اپنے شوھروں کی مسلسل مخالفت کی، اور آخری لمحات اور فرصت کے ختم ہونے تک انھوں نے مخالفت جاری رکھی یھاں تک کہ دونوں پر عذاب الٰھی نازل ہوا اور اس دنیا سے چلی گئیں۔

جناب آسیہ زوجہ فرعون نے فرصت کو غنیمت شمار کیا اور خدا کی رضا کو اپنے شوھر کی رضا پر مقدم رکھا، جس کی بنا پر اسے خوشنودی خدا اور ھمیشہ کے لئے بہشت مل گئی۔

جناب خدیجہ نے فرصت کو غنیمت سمجھا، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے راستہ میں قربانی دی اور دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرلی، ان کی قوم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے شادی کرنے کی وجہ سے قطع تعلق کرلیا، لیکن جناب خدیجہ نے خدا سے رابطہ مستحکم کرلیا، اور اس طرح سے فوز عظیم پرفائز ہوگئیں۔حر ّ بن یزید ریاحی نے باقی بچی تھوڑی سی فرصت کو غنیمت شمار کیا اور اس غنیمت کے خزانہ سے ھمیشہ کے لئے عظیم الشان منفعت حاصل کرلی۔

جی ھاں! جس شخص نے فرصت کو غنیمت شمار کیا اگرچہ تھوڑی سی فرصت کیوں نہ ہو، نور الٰھی اس کے دل میں چمک اٹھتا ہے اور اس کی نصرت و مدد کرتا ہے۔اس موقع پر کھا جانا چاہئے : وہ نور ہدایت جس نے عابد و زاہد کے دل میں راہ خدا کو واضح کیااس نے تمام طاقتوں کا اختیار اپنے ھاتھ میں لے لیا، چنانچہ اس کے کان کو نغمہ الٰھی اور سخن حق کے علاوہ کوئی دوسری آواز سنائی ن ہیں دیتی، جس کا ذائقہ کسی بھی حرام چیز کو چکھنے کے لئے تیار ن ہیں ہے، آنک ہیں نامحرم کے بدن کی طرف اٹھنے سے رک گئیں، درحقیقت ایک عالم عارف کی نگاہ ایک معمولی آنکھ سے ک ہیں زیادہ دیکھتی ہے، کیونکہ اس کو اندر سے نور ہدایت طاقت پہنچاتا رھتا ہے، او راسی نور کے ذریعہ پھلے وہ خالق کائنات کی مخلوق کے جلال و جلووں کو دیکھتا ہے، اور اس کے بعد اپنی ظاھری آنکھوں سے اس دنیا کی چیزوں کو دیکھتا ہے۔

راہ خدا پر چلنے والا دوسروں کی طرح ن ہیں دیکھتا، کہ جھاںدوسرے لوگ زندگی کو لذت حاصل کرنے اور اپنے مقصد تک رسائی کے لئے دیکھتے ہیں ، اور آخر کار پشیمان ہوکر فریاد کرنے لگتے ہیں : ھائے کوئی چیز کام آنے والی باقی نہ رھی اور اب اپنے یا دوسروںکی کوئی امید ن ہیں ہے۔

جس شخص کو نور ہدایت حاصل ہوجاتا ہے اس کی زندگی کے اغراض و مقاصد بلند وبالا ہوتے ہیں ، اور وہ صرف ظاھری زندگی کی شناخت پر قناعت ن ہیں کرتا بلکہ زندگی کے اسرار و رموز کی گھرائی میں جاتا ہے اور اس حاصل شدہ بصیرت سے اپنی زندگی کے لمحات گزارتا ہے۔یھی وہ بصیرت ہے جس سے انسان ھمیشہ ذکر الٰھی میں مشغول رھتا ہے، یھاں تک کہ یہ کھا جاسکتا ہے کہ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی یاد خدا سے غافل ن ہیں ہوتا۔اگر انسان کو عالم ہستی کی اھمیت معلوم ہوجائے تو کیا وہ ایک لمحہ کے لئے غفلت کی زندگی بسر کرسکتا ہے؟ غفلت کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنی غفلت کی مقدار بھر اپنے وجود میں کمی اور نقصان کا تصور کرے۔(۲۶۳)

____________________

۲۱۵. سورہ نازعات آیت، ۴۰۔

۲۱۶. سورہ فرقان آیت ۴۳۔

۲۱۷. سورہ نساء، آیت ۱۳۵۔

۲۱۸. سورہ ص، آیت ۲۶۔

۲۱۹. سورہ نازعات آیت ۴۰۔

۲۲۰. سورہ اعراف، آیت ۱۷۶۔

۲۲۱. سورہ کہف، آیت ۲۸۔

۲۲۲. سوروں کی ترتیب کے لحاظ سے آیات نمبر ۷۷۔ ۱۵۰۔ ۳۷۔ ۷۱۔ ۵۰۔ ۱۵۔ ۲۳ ۔۱۶۔

۲۲۳. وسائل الشیعہ، ج۱۵، ص۱۶۱، چاپ آل البیت باب ۱ حدیث ۲۰۲۰۸۔

۲۲۴. نہج البلاغہ، حکمت ۴۷۴۔

۲۲۵. سورہ قیامت، آیت ۱۴۔۱۵۔

۲۲۶. سورہ بقرہ آیت۲۰۵۔

۲۲۷. جاھلیت قرن بستم، ۵۳۔

۲۲۸. جاھلیت قرن بستم، ۷۸۔

۲۲۹. من لا یحضر الفقیہ: ۴۳۵۲، باب النوادر، حدیث ۵۷۶۲؛ وسائل الشیعہ: ۱۵۱۶۲، باب ۱، حدیث ۲۰۲۱۴۔

۲۳۰. کافی: ۲۴۵۴، باب محاسبة العمل، حدیث ۶؛ وسائل الشیعہ: ۱۵۱۶۱، باب ۱، حدیث ۲۰۲۱۰۔

۲۳۱. امالی صدوق: ۳۲۹، مجلس ۵۳، حدیث۷؛ ثواب الاعمال : ۱۵۹؛وسائل الشیعہ :ج۱۵، ص۱۶۲، باب ۱، حدیث ۲۰۲۱۵۔

۲۳۲. کافی :۲۵۴، باب التفکر، حدیث۱؛ بحار الانوار: ۶۸۳۱۸، باب ۸۰، حدیث۱۔

۲۳۳. کافی :۲۵۵، باب التفکر، حدیث۵؛ وسائل الشیعہ؛ ۱۵۱۹۶، باب ۵، حدیث ۲۰۲۶۲۔

۲۳۴. امالی صدوق: ۲۸۰، مجلس ۴۷، حدیث ۱۰؛ وسائل الشیعہ: ۱۵۱۹۹، باب ۶، حدیث ۲۰۲۷۲۔

۲۳۵.عن رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم فی حدیث المناهی، قال: من عرضت له فاحشة او شهوة فاجتنبها مخافة الله عزوجل حرم الله علیه النار، وآمنه من الفزع الاکبر، وانجز له ما وعده فی کتابه فی قوله تعالي ٰ ((وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ))الا ومن عرضت له دنیا و آخرة فاختار الدنیا علی الاخرة، لقی الله عزوجل یوم القیامة و لیست له حسنة یتقی بها النار؛ ومن اختار الآخرة وترک الدنیا، رضی الله عنه و غفر له مساوی عمله ۔

۲۳۶. کافی: ۲۶۸، باب الخوف والرجاء، حدیث۵؛ وسائل الشیعہ: ۱۵۲۱۶، باب ۱۳، حدیث ۳۰۳۱۲۔

۲۳۷. سورہ رحمن، آیت ۴۶۔

۲۳۸. کافی: ۲۷۰، باب الخوف والرجاء حدیث ۱۰؛ بحار الانوار، ۶۷۳۶۴، باب ۵۹، حدیث۸۔

۲۳۹. کافی: ۲۷۸، باب الورع، حدیث۱۱؛ وسائل الشیعہ: ۱۵۲۴۳، باب ۲۱، حدیث ۲۰۳۹۲۔

۲۴۰. کافی:۲۷۷، باب الورع، حدیث۹؛ وسائل الشیعہ: ۱۵۲۴۵، باب ۲۱، حدیث ۲۰۴۰۰؛ بحار الانوار: ۶۷۲۹۹، باب ۵۷، حدیث۹۔۔

۲۴۱. وسائل الیشعہ، ج۱۵، ص۲۴۶، باب ۲۱، حدیث۲۰۴۰۵۔

۲۴۲. کافی، ج۲، ص۷۹، باب العفة، حدیث۲؛تحف العقول :۲۹۶؛وسائل الشیعہ:۱۵، ص۲۴۹، باب ۲۲، حدیث ۲۰۴۱۴۔

۲۴۳. خصال ج ج۱، ص ۲۹۵، حدیث ۶۳؛وسائل الشیعہ، ج۱۵، ص۲۵۱، باب۲۲، حدیث۲۰۴۲۵۔

۲۴۴. عیون اخبار رضا، ج۲ ص۲۹، باب ۳۱، حدیث ۲۵، وسائل الشیعہ، ج۱۵، ص۲۵۴، باب ۲۳حدیث ۲۰۴۳۴۔

۲۴۵. سورہ فرقان، آیت ۷۰۔

۲۴۶. سورہ نمل، آیت ۱۱۔

۲۴۷. سورہ حج، آیت ۲۷۔

۲۴۸. سورہ یوسف، آیت ۷۰۔

۲۴۹. سفینة البحار ج۴، ۳۵۲ باب السین بعدہ الیاء۔

۲۵۰. امالی صدوق :ص۳۴۰، ا؛المجلس الرابع والخمسون، حدیث ۲۶؛بحار الانوار، ج۶۷، ص۳۷۸، باب ۵۹، حدیث۲۳۔

۲۵۱. قصص راوندی ص ۸۳، حدیث ۲۲۲؛ بحار الانوار، ج ۶۷، ص ۳۸۷، باب ۵۹، حدیث ۵۲۔

۲۵۲. جامع النورین ص ۲۳۴۔

۲۵۳. کافی، ج۲، ص۱۳۷، حدیث۲؛وسائل

۲۵۴. کافی ج۲، ص۷۵، باب الطاعة والتقوی، حدیث ۴؛بحارالانوار، ج۶۷، ص۱۰۱، باب ۴۷، حدیث۵۔

۲۵۵. سورہ زمر، آیت ۱۰ ۔

۲۵۶. نہج البلاغہ :۴۰۳، خطبہ ۱۷۵؛بحارالانوار، ج۶۷، ص۱۱۱، باب ۴۹حدیث۱۳۔

۲۵۷. کافی ج، ۲، ص۷۶، باب الطاعة والتقوی، حدیث ۸؛وسائل الشیعہ :ج۱۵، ص۲۴۱، باب ۲۰، حدیث۲۰۳۸۵۔

۲۵۸. امالی صدوق :۴۳۱، مجلس ۶۶، حدیث ۱؛مجموعہ ورام ج، ۲ص ۲۶۳؛وسائل الشیعہ ج۱۵، ص۲۲۳، باب ۱۵، حدیث ۲۰۳۳۳۔

۲۵۹. کافی، ج۲، ص۴۸۲، باب البکاء، حدیث۴؛عوالی اللئالی:ج۴ص۲۱، حدیث۵۹؛وسائل الشیعہ: ج۱۵، ص۲۲۸، باب ۱۵، حدیث۲۰۳۴۶۔

۲۶۰. کافی، ج۲، ص۱۲۱، باب التواضع، حدیث۱؛بحارالانوار ج۷۲، ص۱۲۴، باب ۵۱، حدیث۲۳۔

۲۶۱. کافی ج۲، ص۱۴۴، باب الانصاف والعدل، حدیث ۴؛وسائل الشیعہ، ج۱۵، ص۲۸۳، باب ۳۴، حدیث۲۰۵۲۵۔

۲۶۲. کافی، ج۲، ص ۱۴۴، باب الانصاف والعدل، حدیث ۱؛وسائل الشیعہ ج۱۵، ص۲۸۴، باب ۳۴، حدیث ۲۸ ۲۰۵؛ بحارالانوار ج ۷۲، ص۲۹، باب ۳۵، حدیث۲۲۔

۲۶۳. شرح نہج البلاغہ، علامہ جعفری، ج۱۴ص۹۴۔


نیکیوں سے مزین ہونا اور برائیوں سے پرھیز کرنا (۱)

( كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ انَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوء اً بِجَهالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَاصْلَحَ فَانَّهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔(۲۶۴)

” تمھارے پروردگار نے اپنے اوپررحمت لازم قرار دے لی ہے کہ تم میں جو بھی از روئے جھالت برائی کرے گا اور اس کے بعد تو بہ کر کے اپنی اصلاح کرلے گا تو خدا بھت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

زیبائی اور برائی گزشتہ صفحہ میں بیان ہونے والے دو عنوان سے باطنی، معنوی، اخلاقی اور عملی زبیائی او ربرائی مراد ہے۔

جو شخص اپنے ارادہ و اختیار اور شناخت و معرفت کے ذریعہ الٰھی حقائق (اخلاقی حسنات) اور عملی واقعیات (احکام خداوندی) کو اپنے صفحہ دل پر نقش کرلیتا ہے، اس نقش کو ایمان کے روغن سے جلا دیتا ہے، اور زمانہ کے حوادث و آفات سے نجات پالیتا ہے، جس کے ذریعہ سے انسان بھترین سیرت اور خوبصورت وشائستہ صورت بنالیتا ہے۔

الٰھی حقائق یا اخلاقی حسنات خداوندعالم کے اسماء و صفات کے جلوے اور ارادہ پروردگار کے عملی واقعیات کے جلوے ہیں ، اسی وجہ سے یہ چیزیں انسان کی سیرت و صورت کو بازار مصر میں حُسن یوسف کی طرح جلوہ دیتے ہیں ، اور دنیا و آخرت میں اس کو خریدنے والے بھت سے معشوق نظر آتے ہیں ۔

لیکن وہ انسان جو اپنے قلم و ارادہ و اختیار سے جھل و غفلت غرور و تکبر، بُرے اخلاق اور برے اعمال کو اپنے صفحہ دل پرنقش کرلیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گناھوں میں غرق ہوتا چلا جاتا ہے، جو انسان کی ھمیشگی ھلاکت کے باعث ہیں ، ان ہیں کی وجہ سے ان کی صورت بدشکل اور تیرہ و تاریک ہوجاتی ہے۔

اخلاقی برائیاں، بُرے اعمال شیطانی صفات کا انعکاس اور شیطانی حرکتوں کا نتیجہ ہیں ، اسی وجہ سے انسان کی سیرت و صورت پر شیطانی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں ، جس کی بنا پر خدا، انبیاء اور ملائکہ نفرت کرتے ہیں اور دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی اس کے دامن گیر ہوجاتی ہے۔

معنوی و روحانی زیبائی و برائی کے سلسلہ میں ھمیں قرآن مجید کی آیات اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وائمہ معصومین علیھم السلام کی احادیث کا مطالعہ کرنا چاہئے، تاکہ ان الٰھی حقائق اور آسمانی تعلیمات سے آشنائی کے ذریعہ اپنے کو مزین کریں، اور توبہ و استغفار کے ذریعہ قرآن مجید کے فرمان کے مطابق اپنے ظاھر و باطن کی اصلاح کو کامل کرلیں:

( وَإِذَا جَائَكَ الَّذِینَ یؤْمِنُونَ بِآیاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ انَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوء اً بِجَهالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَاصْلَحَ فَانَّهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔(۲۶۵)

”اور جب وہ لوگ آپ کے پاس آئیں جو ھماری آیت وں پر ایمان رکھتے ہیں تو ان سے کہئے کہ سلام علیکم تمھارے پروردگار نے اپنے اوپررحمت لازم قرار دے لی ہے کہ تم میں جو بھی از روئے جھالت برائی کرے گا اور اس کے بعد تو بہ کر کے اپنی اصلاح کرلے گا تو خدا بھت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

اھل ہدایت و صاحب فلاح

( الَّذِینَ یؤْمِنُونَ بِالْغَیبِ وَیقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهم ینفِقُونَ وَالَّذِینَ یؤْمِنُونَ بِمَا انْزِلَ إِلَیكَ وَمَا انْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هم یوقِنُونَ اوْلَئِكَ عَلَی هُدًی مِنْ رَبِّهم وَاوْلَئِكَ هم الْمُفْلِحُونَ ) ۔(۲۶۶)

”جولوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔پابندی سے پورے اھتمام کے ساتھ نماز ادا کر تے ہیں اور جو کچھ ھم نے رزق دیا ہے اس میں سے ھماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں ۔وہ ان تمام باتوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جن ہیں (اے رسول) ھم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جو آپ سے پھلے نازل کی گئی ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔یھی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت کے حامل ہیں اور یھی لوگ فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں “۔

مذکورہ آیت سے درج ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں :

۱۔ غیب پر ایمان ۔

۲۔ نماز قائم کرنا۔

۳۔ صدقہ اور حقوق کی ادائیگی۔

۴۔ قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں پر ایمان۔

۵۔ آخرت پر یقین۔

غیب پر ایمان

غیب سے مراد ایسے امور ہیں جن کو ظاھری حواس سے درک ن ہیں کیا جاسکتا، چونکہ ان کو حواس کے ذریعہ ن ہیں درک کیا جاسکتا لہٰذا ان کو غیبی امور کھا جاتا ہے۔

غیب، ان حقائق کو کھتے ہیں جن کو دل اور عقل کی آنکھ سے درک کیا جاسکتا ہے، جس کے مصادیق خداوندعالم، فرشتے، برزخ، روز محشر، حساب، میزان اور جنت و جہنم ہے، ان کا بیان کرنا انبیاء، ائمہ علیھم السلام اور آسمانی کتابوں کی ذمہ داری ہے۔

ان حقائق پر ایمان رکھنے سے انسان کا باطن طیب و طاھر، روح صاف و پاکیزہ، تزکیہ نفس، روحی سکون اور قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے نیز اعضاء و جوارح خدا و رسول اور اھل بیت علیھم السلام کے احکام کے پابند ہوجاتے ہیں ۔

غیب پر ایمان رکھنے سے انسان میں تقويٰ پیدا ہوتا ہے، اس میں عدالت پیدا ہوتی ہے، اور انسان کی تمام استعداد شکوفہ ہوتی ہیں ، یھی ایمان اس کے کمالات میں اضافہ کرتا ہے، نیز خداوندعالم کی خلافت و جانشینی حاصل ہونے کا راستہ ھموار ہوتا ہے۔

کتاب خدا، قرآن مجید جو احسن الحدیث، اصدق قول اور بھترین وعظ و نصیحت کرنے والی کتاب ہے، جس کے وحی ہونے کی صحت و استحکام میں کوئی شک و شبہ ن ہیں ہے، اس نے مختلف سوروں میں مختلف دلائل کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کتاب خدا ہے، جن کی بنا پر انسان کو ذرہ برابر بھی شک ن ہیں رھتا، قرآن کریم کی بھت سی آیات میں غیب کے مکمل مصادیق بیان کئے گئے ہیں اور ان آیات کے ذیل میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے بھت اھم احادیث بیان ہوئی ہیں جن کے پر توجہ کرنے سے انسان کے لئے غیب پر ایمان و یقین کا راستہ ھموار ہوجاتا ہے۔

خدا

قرآن مجید نے خداوندعالم کو تمام کائنات اور تمام موجودات کے خالق کے عنوان سے پہچنوایا ہے، اور تمام انسانوں کو خدا کی عبادت کی دعوت دی ہے، اس کا شریک اس کی ضدو مثل اوراس کا کفوقرار دینے سے سخت منع کیا ہے اور اس کو غفلت و جھالت کا نتیجہ بتایا ہے، اور کسی چیز کو اس کے خلاف بیان کرنے کو فطرت و وجدان کے خلاف شمار کیا ہے، اس عالم ہستی میں صحیح غور و فکر کرنے کی رغبت دلائی ہے، اور فطری، عقلی، طبیعی اور علمی دلائل و شواہد کے ذریعہ غیر خدا کے خالق ہونے کو باطل قرار دیا ہے، اور اس جملہ کو بے بنیاد، بے معنی اور مسخرہ آمیز بتایا ہے کہ ”یہ چیزیں خود بخود وجود میں آگئی ہیں “ اس کی شدت کے ساتھ ردّ کی ہے اور علمی منطق اور عقل سلیم سے کوسوں دور بتایا ہے، المختصر: قرآن مجید نے اپنی آیات کے اندر انسان کے جھل اور غفلت جیسی بیماریوں کا علاج بتایا ہے، اورفطرت و وجدان کو جھنجھوڑتے ہوئے عقل و دل کی آنکھوں کے سامنے سے شک و تردید اور اوھام کے پردوں کو ہٹادیا ہے، اور خداوندعالم کے وجود کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے، نیز اس معنی پر توجہ دلائی ہے کہ آئینہ ہستی کی حقیقت روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہے، اور خدا کی ذات اقدس میں کسی کے لئے شک و تردید کا کوئی وجود ن ہیں ہے:

( افِی اللهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ یدْعُوكُمْ لِیغْفِرَ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ ) (۲۶۷)

” کیا تم ہیں اللہ کے وجود کے بارے میں بھی شک ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور تم ہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمھارے گناھوں کو معاف کردے۔۔“۔

( یاایها النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ الَّذِی خَلَقَكُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ الَّذِی جَعَلَ لَكُمْ الْارْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَانْزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلاَتَجْعَلُوا لِلَّهِ اندَادًا وَانْتُمْ تَعْلَمُونَ ) ۔(۲۶۸)

”اے انسانو! پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم ہیں بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پھلے والوں کو بھی خلق کیا ہے ۔شاید کہ تم اسی طرح متقی اور پرھیز گار بن جاو۔اس پروردگار نے تمھارے لئے زمین کا فرش اور آسمان کا شامیانہ بنایا ہے اور پھر آسمان سے پانی برسا کر تمھاری روزی کے لئے زمین سے پھل نکالے ہیں لہٰذا اس کے لئے جان بوجھ کر کسی کو ھمسر اور مثل نہ بناو“۔

جی ھاں! اس نے ھمیں اور ھم سے پھلے انسانوں کو خلق کیا، آسمانوں کو بنایا، تمھاری زندگی کے لئے زمین کا فرش بچھایا، تمھارے لئے بارش برسائی، جس کی وجہ سے مختلف قسم کے پھل اور اناج پیدا ہوئے، اگر یہ تمام عجیب و غریب چیزیں اس کا کام ن ہیں ہے تو پھر کس کا کام ہے؟

اگر کوئی کھتا ہے کہ ان تمام عجیب و غریب خلقت کی پیدائش کی علت ”تصادف“(یعنی اتفاقی) ہے تو اس کی مستحکم منطقی اور عقلی دلیل کیا ہے؟ اگر کھا گیاکہ یہ چیزیں خود بخود پیدا ہوگئیں تو کیا اس کائنات کی چیزیں پھلے سے موجود ن ہیں ت ہیں جو خود بخود وجود میں آگئیں، اس کے علاوہ جو چیز موجود ہے وہ خود بخود وجود میں آجائیں اس کے کوئی معنی ن ہیں ہیں ، پس معلوم ہوا کہ ان تمام چیزوں کا خالق اور ان کو نظم دینے والا علیم و بصیر و خبیر ”اللہ تعاليٰ“ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو وجود بخشا ہے، اور اس مضبوط اور مستحکم نظام کی بنیاد ڈالی ہے، لہٰذا انسان پر واجب ہے کہ اس کے حکم کی اطاعت کرے، اس کی عبادت و بندگی کرے تاکہ تقويٰ، پاکیزگی اور کمال کی معراج حاصل کرے:

( اعْبُدُوا رَبَّكُمْ الَّذِی خَلَقَكُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون ) ۔(۲۶۹)

”تم لوگ اس پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم ہیں بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پھلے والوں کو بھی خلق کیا ہے ۔شاید کہ تم اسی طرح متقی اور پرھیز گار بن جاو“۔

مفضل بن عمر کوفی کھتے ہیں : مجھ سے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

وجود خدا کی سب سے پھلی دلیل اس دنیا کا نظم و ترتیب ہے کہ تمام چیزیں بغیر کسی کمی و نقصان کے اپنی جگہ پر موجود ہیں اور اپنا کام انجام دے رھی ہیں ۔

مخلوقات کے لئے زمین کا فرش بچھایا گیا، آسمان پر زمین کے لئے روشنی دینے والے سورج چاند اور ستارے لٹکائے گئے، پھاڑوں کے اندر گرانبھا جواھرات قرار دئے گئے، ھر چیز میں ایک مصلحت رکھی گئی اور ان تمام چیزوں کو انسان کے اختیار میں دیدیا گیا، مختلف قسم کی گھاس، درخت اور حیوانات کو اس کے لئے خلق کیا تاکہ آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکےں۔

اس دنیا کے نظم وترتیب کو دیکھو کہ جھاں ھر چیز ذرہ برابر کمی و نقصان کے بغیر اپنی مخصوص جگہ پرہے جو اس بات کی بھترین دلیل ہے کہ یہ دنیا حکمت کے تحت پیدا کی گئی ہے، اس کے علاوہ تمام چیزوں کے درمیان ایک رابطہ پایا جاتا ہے اور سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں جو خود اس بات کی بھترین دلیل ہے کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ایک ہی ہے، ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے والے نے ان تمام چیزوں کے درمیان الفت پیدا کی ہے اور ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرا کا محتاج قرار دیا ہے!

مفضل کھتے ہیں : معرفت خدا کی گفتگو کے تیسرے دن جب امام ششم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: آج چاند، سورج اور ستاروں کے بارے میں گفتگو ہوگی:

اے مفضل! آسمان کا رنگ نیلا دکھائی دیتا ہے او رجھاں تک انسان آسمان کو دیکھتا چلا جاتا ہے اس کو کوئی تکلیف ن ہیں ہوتی، کیونکہ نیلا رنگ نہ صرف یہ کہ آنکھ کے لئے نقصان دہ ن ہیں ہے بلکہ آنکھ کی طاقت کے لئے مفید بھی ہے۔

اگر سورج نہ نکلتا اور دن نہ ہوتا تو پھر دنیا کے تمام امور میں خلل واقع ہوجاتا، لوگ اپنے کاموں کو نہ کرپاتے، بغیر نور کے ان کی زندگی کا کوئی مزہ نہ ہوتا، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہے۔

اگر سورج غروب نہ ہوتا اور رات کا وجود نہ ہوتا تو لوگوں کو سکون حاصل نہ ہوتا اور ان کی تھکاوٹ دور نہ ہوتی، ھاضمہ نظام غذا کو ہضم نہ کرپاتا او راس غذائی طاقت کو دوسرے اعضاء تک نہ پہنچاتا۔

اگر ھمیشہ دن ہوا کرتا تو انسان لالچ کی وجہ سے ھمیشہ کام میں لگارھتا جس سے انسان کا بدن رفتہ رفتہ جواب دیدیتا، کیونکہ بھت سے لوگ مال دنیا جمع کرنے میں اس قدر لالچی ہیں کہ اگر رات کا اندھیرے ان کے کاموں میں مانع نہ ہو تا تو اس قدر کام کرتے کہ اپاہج ہوجاتے!

اگر رات نہ ہوا کرتی تو سورج کی گرمی سے زمین میں اس قدر گرمی پیدا ہوجاتی کہ روئے زمین پر کوئی حیوان اور درخت باقی نہ رھتا۔

اسی وجہ سے خداوندعالم نے سورج کو ایک چراغ کی طرح قرار دیا کہ ضرورت کے وقت اس کو جلایاجاتا ہے تاکہ اھل خانہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوجائیں، اور پھر اس کو خاموش کردیتے ہیں تاکہ آرام کرلیں! پس نور اور اندھیرا جو ایک دوسرے کی ضد ہیں دونوں ہی اس دنیا کے نظام اور انسانوں کے لئے خلق کئے گئے ہیں ۔

اے مفضل! غور تو کرو کہ کس طرح سورج کے طلوع و غروب سے چار فصلیں وجود میں آتی ہیں تاکہ حیوانات او ردرخت رشد ونمو کرسکیں اور اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔

اسی طرح دن رات کی مدت کے بارے میں غور فکر کرو کہ کس طرح انسان کی مصلحت کا لحاظ رکھا گیا ہے اکثر آباد زمین پر دن ۱۵ گھنٹے سے زیادہ ن ہیں ہوتا اگر دن سو یا دوسو گھنٹے کا ہوتا تو کوئی بھی جانداز زمین پر باقی نہ بچتا۔

کیونکہ اس قدر طولانی دن میں دوڑ دھوپ کرتے ہوئے ھلاک ہوجاتے، درخت وغیرہ سورج کی گرمی سے خشک ہوجاتے!

اسی طرح اگر سو یا دوسو گھنٹے کی رات ہوا کرتی، تمام جاندار روزی حاصل ن ہیں کرسکتے تھے اور بھوک سے ھلاک ہوجاتے، درختوں اور سبزیوں کی حرارت کم ہوجاتی، جس کے نتیجہ میںان کا خاتمہ ہوجاتا، جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بھت سی گھاس اگر ایسی جگہ اُگ آئیں جھاں پر سورج کی روشنی نہ پڑے ہو تو وہ بر باد ہوجایا کرتی ہیں ۔

سردیوں کے موسم میں درختوں اور نباتات کے اندر کی حرارت او رگرمی مخفی ہوجاتی ہے تاکہ ان میں پھلوں کا مادہ پیدا ہو، سردی کی وجہ سے بادل اٹھتے ہیں ، بارش ہوتی ہے، جس سے حیوانوں کے بدن مضبوط ہوتے ہیں ، فصل بھار میں درخت اور نباتات میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ ظاھر ہوتے ہیں ، کلیاں کھلنے لگتی ہیں ، حیوانات بچے پیدا کرنے کے لئے ایک دوسرے کے پاس جاتے ہیں ، گرمی کے موسم میں گرمی کی وجہ سے بھت سے پھل پکنے لگتے ہیں ، حیوانات کے جسم میں بڑھی ہوئی رطوبت جذب ہوتی ہے، اور روئے زمین کی رطوبت کم ہوتی تاکہ انسان عمارت کا کام اور دیگر کاموں کو آسانی سے انجام دے سکے، فصل پائیز میں ہوا صاف ہوتی ہے تاکہ انسان کے جسم کی بیماریاں دور ہوجائیں اور بدن صحیح و سالم ہوجائے، اگر کوئی شخص ان چار فصلوں کے فوائد بیان کرنا چاھے تو گفتگو طولانی ہوجائے گی!

سورج کی روشنی کی کیفیت پر غور و فکر کرو کہ جس کو خداوندعالم نے اس طرح قرار دیا ہے کہ پوری زمین اس کی روشنی سے فیضیاب ہوتی ہے، اگر سورج کے لئے طلوع و غروب نہ ہوتا تونور کی بھت سی جھتوں سے استفادہ نہ ہوتا، پھاڑ، دیوار اور چھت نور کی تابش میں مانع ہوجاتے، چونکہ خداوندعالم نور خورشید سے تمام زمین کو فیضیاب کرنا چاھتا ہے لہٰذا سورج کی روشنی کو اس طرح مرتب کیا ہے کہ اگر صبح کے وقت ک ہیں سورج کی روشنی ن ہیں پہنچتی تو دن کے دوسرے حصہ میں وھاں سورج کی روشنی پہنچ جاتی ہے، یا اگر کسی جگہ شام کے وقت روشنی نہ پہنچ سکے تو صبح کے وقت روشنی سے فیضیاب ہوسکے، پس معلوم ہوا کہ کوئی جگہ ایسی ن ہیں ہے جوسورج کی روشنی سے فائدہ نہ اٹھائے، واقعاً یہ خوش نصیبی ہے کہ خداوندعالم نے سورج کی روشنی کو زمین رہنے والے تمام موجودات چاھے وہ جمادات ہوں یا نباتات یا دوسری جاندار چیزیں سب کے لئے پیدا کی اور کسی کو بھی اس سے محروم نہ رکھا۔

اگر ایک سال تک سورج کی روشنی زمین پر نہ پڑتی تو زمین پر رہنے والوں کا کیا حال ہوتا؟ کیا کوئی زندہ رہ سکتا تھا؟

رات کا اندھیرا بھی انسان کے لئے مفید ہے جو اس کو آرام کرنے پر مجبور کرتا ہے، لیکن چونکہ رات میں بھی کبھی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، بھت سے لوگ وقت نہ ہونے یا گرمی کی وجہ سے رات میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں یا بعض مسافر رات کو سفر کرتے ہیں ان کو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، تو اس ضرورت کے تحت خداوندعالم نے چاند او رستاروں کو خلق فرمایا ہے تاکہ وہ اپنی نور افشانی سے خدا کی مخلوق کے لئے آسائش کا سامان فراھم کرےںاور اپنی منظم حرکت کے ذریعہ مسافروںکو راستہ کی طرف راہنمائی کریں اور کشی میں سوار مسافرین کو راستہ بھٹکنے سے روکے ر ہیں ۔

ستاروں کی دو قسم ہوتی ہیں ، ایک ثابت ستارے جو ایک جگہ اپنے معین فاصلہ پر رھتے ہیں ، اور دوسرے ستارے گھومتے رھتے ہیں ایک برج سے دوسرے برج کی طرف جاتے ہیں ، یہ ستارے اپنے راستہ سے ذرہ برابر بھی منحرف ن ہیں ہوتے، ان کی حرکت کی بھی دو قسمیں ہیں : ایک عمودی حرکت ہوتی ہے جو دن رات میں مشرق سے مغرب کی طرف انجام پاتی ہے، اور دوسری اس کی اپنی مخصوص حرکت ہوتی ہے، اور وہ مغرب سے مشرق کی طرف ہوتی ہے، جیسے اگر ایک چیونٹی چكّی کے پاٹ پر بیٹھ کر بائیں جانب حرکت کرے درحالیکہ چكّی داہنی جانب چلتی ہے، لہٰذا چیونٹی کی دو حرکت ہوتی ہیں ایک اپنے ارادہ سے اور دوسری چكّی کی وجہ سے، کیا یہ ستارے جن میں بعض اپنی جگہ قائم ہیں اور بعض منظم طور پر حرکت کرتے ہیں کیا ان کی تدبیر خداوندحکیم کے علاوہ ممکن ہے؟ اگر کسی صاحب حکمت کی تدبیر نہ ہوتی تو یا سب ساکن ہوتے یا سب متحرک، اور اگر متحرک بھی ہوتے تو اتنا صحیح نظم و ضبط کھاں پیدا ہوتا؟

ستاروں کی رفتار انسانوں کے تصور سے ک ہیں زیادہ ہے، اور ان کی روشنی اس قدر شدید ہے کہ اس کو دیکھنے کی تاب کسی بھی آنکھ میں ن ہیں ہے، خداوندعالم نے ھمارے اور ان کے درمیان اس قدر فاصلہ قرار دیا ہے کہ ھم ان کی حرکت کو درک ن ہیں کرسکتے، اور نہ ہی ان کی روشنی ھماری آنکھوں کے لئے نقصان دہ ہے، اگر اپنی مکمل رفتار کے ساتھ ھم سے نزدیک ہوتے، تو ان کے نور کی شدت کی وجہ سے ھماری آنک ہیں نابینا ہوجاتیں، اسی طرح جب پے در پے بجلی کڑکتی وچمکتی ہے آنکھ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، جس طرح سے اگر کچھ لوگ ایک کمرہ میں موجود ہوں اور وھاں پر تیز روشنی والے بلب روشن ہوں اور اچانک خاموش کردئے جائیں تو آنک ہیں پریشان ہوجاتی ہیں اور کچھ دکھائی ن ہیں دیتا۔

اے مفضل! اگر رہٹ کے ذریعہ کسی کنویں سے پانی نکال کر کسی باغ کی سینچائی کی جائے، عمارت، کنویں اور پانی نکالنے کے وسائل اس قدر منظم اور قاعدہ کے تحت ہوں کہ باغ کی صحیح سنچائی ہوسکے، اگر کسی ایسی رہٹ کو دیکھے تو کیا انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ خود بخود بن گئی ہے، اور کسی نے اس کو ن ہیں بنایا ہے اور کسی نے منظم ن ہیں کیا ہے، یہ بات واضح ہے کہ عقل سلیم اس کے دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ایک ماھر اور ہوشیار شخص نے اس رہٹ کو اس اندازسے بنایا ہے، اور جب انسان پانی نکالنے والی ایک چھوٹی سی چیز کو دیکھنے کے بعد اس کے بنانے والے کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ ان تمام گھومنے والے اور ایک جگہ باقی رہنے والے ستاروں، شب و روز، سال کی چار فصلوں کو حساب شدہ دیکھے جبکہ ان میں ذرا بھی انحراف اور بے نظمی ن ہیں پائی جاتی تو کیا انسان اس قدر عظیم اور عجیب و غریب چیزوں کو دیکھ کر ان کے پیدا کرنے والے کو ن ہیں پہچان سکتا؟( ۲ ۷۰)

ایک شخص حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضرھوکر عرض کرتا ہے: مجھے علم کے عجائبات سکھادیجئے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے اصل علم کے بارے میں کچھ خبر ہے جو عجائب کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاھتا ہے؟ تو اس نے کھا: یا رسول اللہ! اصل علم کیا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا: معرفت خدا، اور حق معرفت، اس نے کھا: حق معرفت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: خدا کی مثل و مانند اور شبیہ نہ ماننا، اور خدا کو واحد، احد، ظاھر، باطن، اول و آخر ماننا اور یہ کہ اس کا کوئی کفو و نظیر ن ہیں ہے، اور یھی معرفت کاحق ہے۔

پورے قرآن کریم میں اس مسلم اور ھمیشگی حقیقت پر توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ حقیقت اصل جھان اوراس دنیا کو پیدا کرنے والے اور اس کو باقی رکھنے والی کی ہے، انسان کے حواس کو ظاھری آنکھوں سے درک ن ہیں کیا جاسکتا، لہٰذا غیب کھا جاتا ہے، اور یہ تمام موجوات فنا ہونے والی ہیں لیکن اس کی ذات باقی ہے، نیز یہ کہ تمام موجوات کے لئے آغاز و انجام ہوتا ہے لیکن اس کے لئے کوئی آغاز اور انجام ن ہیں ہے، وھی اول ہے اور وھی آخر ۔

قرآن کریم کے تمام سوروں اور اس کی آیات میں اس حقیقت کو ”اللہ تعاليٰ“ کھا گیا ہے، اور ھر سورے میں متعدد بار تکرار ہوا ہے، اور تمام واقعیات اور تمام مخلوقات اسی واحد قھار کے اسم گرامی سے منسوب ہیں ۔

ھم جس مقدار میں خدا کی مخلوقات اور متعدد عالم کو ایک جگہ ضمیمہ کرکے مطالعہ کریں تو ھم دیک ہیں گے:

یہ تمام مجموعہ ایک چھوٹے عالم کی طرح ایک نظام کی پیروی کرتا ہے یھاں تک کہ اگر تمام وسیع و عریض عالم کو جمع کریں اور انسانی علم و سائنس کے جدید وسائل جیسے ٹلسکوپ " Telescop "وغیرہ کے ذریعہ کشف ہونے والی چیزوں کو ملاحظہ کریں تو جو نظام اور قوانین ایک چھوٹے نظام میں دیکھے جاتے ہیں ان ہی کو مشاہدہ کریں گے، اور اگر عالَموں کو ایک دوسرے سے جدا کرکے تجزیہ و تحلیل کریں یھاں تک کہ ایک چھوٹے سے ”مولکل“" Molecule " (یعنی کسی چیز کا سب سے چھوٹا جز )کو بھی دیک ہیں گے تو ملاحظہ فرمائیں گے کہ اس کا نظام اس عظیم جھان سے کچھ بھی کم ن ہیں ہے، حالانکہ یہ تمام موجودات ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں ۔

المختصر یہ کہ تمام عالموں کا مجموعہ ایک موجود ہے، اور اس پر ایک ہی نظام کی حکومت ہے، نیز اس عالم کے تمام اجزاء و ذرات اپنے اختلاف کے باوجود ایک ہی نظام کے مسخر ہیں ۔

( وَعَنَتْ الْوُجُوهُ لِلْحَی الْقَیوم ) (۲۷۱)

”اس دن سارے چھرے خدائے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوںگے۔“

اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا اور ان کی تدبیر کرنے والا خداوندعالم ہے۔

( وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ ) ۔(۲۷۲)

”اور تمھار ا خدا بس ایک ہے ۔اس کے علاوہ کوئی خدا ن ہیں ہے وھی رحمن بھی ہے اور وھی رحیم بھی “۔

فرشتے

قرآن مجید کی تقریباً ۹۰ آیات میں فرشتوں کا ذکر ہوا ہے۔

قرآن کریم نے فرشتوں کے دشمن کو کافر شمار کیا ہے، اور ملائکہ کا انکار کرنے والوں کو گمراہ قرار دیاھے۔

( مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِیلَ وَمِیكَالَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِینَ ) ۔(۲۷۳)

”اورجو بھی اللہ، ملائکہ، مرسلین، جبرئیل و مکائیل کا دشمن ہوگا، اسے معلوم رہے کہ خدا بھی تمام کافروں کا دشمن ہے“۔

( وَمَنْ یكْفُرْ بِاللهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْیوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلًا بَعِیدًا ) ۔(۲۷۴)

”اورجو شخص اللہ، ملائکہ، آسمانی کتابوں، رسولوں اور روز قیامت کا انکار کرے گا وہ یقینا گمراھی میں بھت دور نکل گیا ہے“۔

نہج البلاغہ کے پھلے خطبہ میںحضرت علی علیہ السلام فرشتوں کے سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں :

”بعض سجدہ میں ہیں تو رکوع کی نوبت ن ہیں آتی ہے، بعض رکوع میں ہیں تو سر ن ہیں اٹھاتے، بعض صف باندھے ہوئے ہیں تو اپنی جگہ سے حرکت ن ہیں کرتے، بعض مشغول تسبیح ہیں تو خستہ حال ن ہیں ہوتے، سب کے سب وہ ہیں کہ ان کی آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور نہ عقلوں پر سھوو نسیان کا، نہ بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ دماغ میں نسیان کی غفلت۔

ان میں سے بعض کو وحی کا امین بنایا ہے اور رسولوں کی طرف قدرت کی زبان بنایا گیا ہے جو اس کے فیصلوں اور احکام کو برابر لاتے رھتے ہیں ، اور کچھ بندوں کے محافظ اور جنت کے دروازوں کے دربان ہیں اوران میں بعض وہ بھی ہیں جن کے قدم زمین کے آخری طبقہ میں ثابت ہیں اور گردنیں بلند ترین آسمانوں سے بھی باھر نکلی ہوئی ہیں ، ان کی اطراف بدن اقطار عالم سے وسیع تر ہیں اور ان کے کاندھے پایہ ھای عرش اٹھانے کے قابل ہیں ، ان کی نگا ہیں عرش الٰھی کے سامنے جھکی ہوئی ہیں ، اور وہ اس کے نیچے پروں کو سمیٹے ہوئے ہیں ، ان کے اور دیگر مخلوقات کے درمیان عزت کے حجاب اور قدرت کے پردے حائل ہیں ، وہ اپنے پروردگار کے بارے میں شکل و صورت کا تصور بھی ن ہیں کرتے ہیں ، نہ اس کے حق میں مخلوقات کے صفات جاری کرتے ہیں ، وہ نہ اسے مکان میں محدود کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف اشباہ و نظائر سے اشارہ کرتے ہیں(۲۷۵)

جی ھاں، فرشتے بھی عالم غیب کے مصادیق ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید اور روایات میں بیان ہوا ہے، انسانی زندگی سے رابطہ کے پیش نظر خصوصاً نامہ اعمال لکھنے، انسان کے اچھے برے اعمال یا ان کی گفتگو اور زحمتوں کے لکھنے کے لئے معین ہیں ، یھی فرشتے ان کی روح قبض کرنے اور اھل جہنم پر عذاب دینے پر بھی مامور ہیں ، ملائکہ پر ایمان رکھنے سے انسان کی زندگی پر مثبت آثار پیدا ہوتے ہیں ، اور خداوندعالم کی اس نورانی مخلوق پر اعتقاد رکھنا معنوی زیبائیوں میں سے ہے۔

برزخ

موت کے بعد سے روز قیامت تک کی مدت کو قرآنی اصلاح میں برزخ کھا جاتا ہے۔

اس دنیا سے رخصت ہونے والے افراد پھلے برزخ میں وارد ہوتے ہیں ، اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کی بنا پر ان کی ایک زندگی ہوتی ہے، یہ ایک ایسی زندگی ہے جو نہ دنیا کی طرح ہے اور نہ آخرت کی طرح ہے۔

( حَتَّی إِذَا جَاءَ احَدَهم الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِی لَعَلِّی اعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَكْتُ كَلاَّ إِنَّها كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُها وَمِنْ وَرَائِهم بَرْزَخٌ إِلَی یوْمِ یبْعَثُونَ ) ۔(۲۷۶)

”یھاں تک کہ جب ان میں کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پروردگار مجھے پلٹا دے ۔شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں۔ھر گز ن ہیں یہ ایک بات ہے جو یہ کہہ رھا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے“۔

لیکن چونکہ قانون خلقت نہ نیک افراد کو اور نہ برے لوگوں کودنیا میں واپس پلٹنے کی اجازت دیتا، لہٰذا ان کو اس طرح جواب دیا جائے گا: ”ن ہیں ن ہیں ، ھرگز پلٹنے کا کوئی راستہ ن ہیں ہے“، اور یھی جواب انسان کی زبان بھی جاری ہوگا، لیکن یہ جملہ بے اختیار اور یونھی اس کی زبان پر جاری ہوگا، یہ وھی جملہ ہوگا کہ جب کوئی بدکار انسان یا کوئی قاتل اپنے کئے کی سزا کو دیکھتا ہے تو اس کی زبان پر بھی یھی جملہ ہوتا ہے، لیکن جب سزا ختم ہوجاتی ہے یا بلاء دور ہوجاتی ہے تو وہ انسان پھر وھی پرانے کام شروع کردیتا ہے۔

آیت کے آخر میں ایک چھوٹا سا لیکن پُر معنی اور اسرار آمیز جملہ برزخ کے بارے میں بیان ہوا ہے:” اس کے بعد روز قیامت تک کے لئے برزخ موجود ہے“۔

در اصل دو چیزوں کے درمیان حائل ہونے والی چیز کو برزخ کھتے ہیں ، اس کے بعد سے دو چیزوں کے درمیان قرار پانے والی چیز کو برزخ کھا جانے لگا، اسی وجہ سے دنیا و آخرت کے درمیان قرار پانے والے عالم کو ”عالم برزخ “کھا جاتا ہے۔

عالم قبر یا عالم ارواح کے سلسلہ میں منقولہ دلائل موجود ہیں ، قرآن مجید کی بھت سی آیات برزخ پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے بعض بطور اشارہ اور بعض صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں ۔

آیہ کریمہ( وَمِنْ وَرَائِهم بَرْزَخٌ إليٰ یوْمِ یبْعَثُوْنَ ) ، عالم برزخ کے بارے میں واضح ہے۔

جن آیات میں وضاحت کے ساتھ عالم برزخ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے وہ شہداء کے سلسلہ میں نازل ہوئیں ہیں ، جیسے:

( وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ امْوَاتًا بَلْ احْیاءٌ عِنْدَ رَبِّهم یرْزَقُونَ ) ۔(۲۷۷)

”اور خبر دار راہ خدا میں قتل ہونے والوںکو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یھاں رزق پارہے ہیں “۔

نہ صرف یہ کہ شہداء کے لئے برزخ موجود ہے بلکہ کفار، فرعون جیسے ظالم وجابر اور اس کے ساتھیوںکے بارے میں برزخ موجود ہے، سورہ مومن کی آیت نمبر ۲۶ میں اس چیزکی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

( النَّارُ یعْرَضُونَ عَلَیها غُدُوًّا وَعَشِیا وَیوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ ادْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اشَدَّ الْعَذَابِ )

”وہ جہنم جس کے سامنے ھر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو“۔

شیعہ سنی مشھور کتابوں میں بھت سی روایات بیان ہوئی ہیں جن میں عالم برزخ، عالم قبر اور عالم ارواح کے بارے میں مختلف الفاظ وارد ہوئے ہیں ، چنانچہ نہج البلاغہ میں وارد ہوا ہے کہ جب حضرت امیر المومنین علیہ السلام جنگ صفین کی واپسی پر کوفہ کے اطراف میں ایک قبرستان سے گزرے تو قبروں کی طرف رخ کرکے فرمایا:

”اے وحشت ناک گھروں کے رہنے والو! اے ویران مکانات کے باشندو! اور تاریک قبر کے بسنے والو! اے خاک نشینو! اے غربت، وحدت اور وحشت والو! تم ھم سے آگے چلے گئے ہو اور ھم تم سے ملحق ہونے والے ہیں ، دیکھو تمھارے مکانات آباد ہوچکے ہیں تمھاری بیویوں کا دوسرا عقد ہوچکا ہے اور تمھارے اموال تقسیم ہوچکے ہیں ، یہ تو ھمارے یھاں کی خبر ہے، اب تم بتاؤ کہ تمھارے یھاں کی خبر کیا ہے؟

اس کے بعد اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا: اگر ان ہیں بولنے کی اجازت مل جاتی تو تم ہیں صرف یہ پیغام دیتے کہ بھترین زاد راہ؛ تقويٰ الٰھی ہے“۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام سے روایت ہے:

اِنَّ الْقَبْرَ اِمّا رَوْضَةٌ مِنْ رِیاضِ الْجَنَّةِ، اَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النّیرانِ “۔

”قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

اَلبَرْزَخُ الْقَبْرُ، وَهُوَ الثَّوابُ وَالْعِقابُ بَینَ الدُّنْیا وَالْآخِرَةُوَاللّٰهِ مَانَخافُ عَلَیكُم اِلاَّ الْبَرْزَخَ “۔

”برزخ وھی قبر ہے کہ جھاں دنیا و آخرت کے درمیان عذاب یا ثواب دیا جائے گا، خدا کی قسم، ھم تمھارے بارے میں برزخ سے ڈرتے ہیں “۔

روای نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا: برزخ کیا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

القَبْرُ مُنْذُ حینِ مَوْتِهِ اِليٰ یوْمِ القِیامَةِ “۔

”موت سے لے کر روز قیامت تک قبر میں رہنے کا نام ہی برزخ ہے“۔

عظیم الشان کتاب ”کافی“ میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

فی حُجُراتٍ فِی الجَنَّةِ یاكُلُونَ مِنْ طَعامِها، وَ یشْرَبُونَ مِنْ شَرابِها، وَیقولُونَ :رَبَّنا اَقِمْ لَنَا السَّاعَةَ، وَانْجِزْ لَنا ما وَعَدْتَنا “۔

”مرنے کے بعد مومنین کی ارواح جنت کے حجروں میں رھتی ہے، (وہ لوگ) جنتی غذا کھاتے ہیں ، جنت کا پانی پیتے ہیں ، اور کھتے ہیں : پالنے والے! جتنا جلدی ہوسکے روز قیامت برپا کردے اور ھم سے کئے ہوئے وعدہ کووفا فرما“۔

عالم برزخ پر عقیدہ کے سلسلہ میں قرآن مجید اور روایات میں بیان موجود ہے، جو معنوی زیبائیوں میں سے ہے، جس پر توجہ رکھنے سے نیک افراد اور بدکار لوگوں کی زندگی پر مفید آثار برآمد ہوتے ہیں اور جس سے انسان تقويٰ، پرھیزگاری اور ظاھر و باطن کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔

محشر

روز قیامت اور روز محشرایک ایسی حقیقت ہے جس کے با رے میں تمام آسمانی کتابوں، انبیاء کرام اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے خبر دی ہے جھاں پر تمام لوگ اپنی نیکی یا بدی کی جزا یا سزا پائےں گے ۔

روز قیامت پر اعتقاد رکھنا ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کا انکار کرنا کفر ہے۔

قرآن مجید میں ایک ہزار آیات سے زیادہ اور بھت سی احادیث میں قیامت سے متعلق تفصیلی بیان ہوا ہے:

( رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیوْمٍ لاَرَیبَ فِیهِ إِنَّ اللهَ لاَیخْلِفُ الْمِیعَادَ ) ۔(۲۷۸)

” خدا یا! تو تمام انسانوں کواس دن جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک ن ہیں ہے ۔اور اللہ کا وعدہ غلط ن ہیں ہوتا “۔

( فَكَیفَ إِذَا جَمَعْنَاهم لِیوْمٍ لاَرَیبَ فِیهِ وَوُفِّیتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهم لاَیظْلَمُونَ ) ۔(۲۷۹)

”اس وقت کیا ہوگا جب ھم سب کو اس دن جمع کریں گے جس میں کسی شک اور شبہہ کی گنجائش ن ہیں ہے اورھر نفس کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر (ذرہ برابر) ظلم ن ہیں کیا جائے گا“۔

( وَلَئِنْ مُتُّمْ اوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَی اللهِ تُحْشَرُون ) ۔(۲۸۰)

”اور تم اپنی موت سے مرو یا قتل ہو جاوسب اللہ ہی کی بارگاہ میں حاضر کئے جاوگے“۔

( وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِی إِلَیهِ تُحْشَرُونَ ) ۔(۲۸۱)

”اور اس خدا سے ڈرتے رھو جس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے“۔

( لَیجْمَعَنَّكُمْ إِلَی یوْمِ الْقِیامَةِ لاَرَیبَ فِیهِ ) (۲۸۲)

”وہ تم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کسی شک کی گنجائش ن ہیں ہے“۔

( وَالْمَوْتَی یبْعَثُهم اللَّهُ ثُمَّ إِلَیهِ یرْجَعُونَ ) ۔(۲۸۳)

”اور مردوں کو تو خدا ہی اٹھا ئے گا اور پھر اس کی بارگاہ میں پلٹا دئے جائیں گے“۔

( وَسَیرَی اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیبِ وَالشَّهادَةِ فَینَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔(۲۸۴)

”وہ یقینا تمھارے اعمال کو دیکھ رھا ہے اور رسول بھی دیکھ رھا ہے اس کے بعد تم حاضر وغیب کے عالم خدا کی بارگاہ میں واپس کئے جاوگے اور وہ تم ہیں تمھارے اعمال سے با خبر کرے گا“۔

( ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَیتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ یوْمَ الْقِیامَةِ تُبْعَثُونَ ) ۔(۲۸۵)

”پھر اس کے بعد تم سب مر جانے والے ہو۔پھر اس کے بعد تم روز قیامت دوبارہ اٹھائے جاوگے“۔

( لاَ اقْسِمُ بِیوْمِ الْقِیامَةِ وَلاَاقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ایحْسَبُ الْإِنسَانُ الَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَی قَادِرِینَ عَلَی انْ نُسَوِّی بَنَانَهُ ) ۔(۲۸۶)

”میں روز قیامت کی قسم کھاتا ہوں۔اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ھم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے۔یقینا ھم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پورتک درست کرسکیں“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : جناب جبرئیل حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے او رآنحضرت کو قبرستان بقیع میں لے گئے، آپ کو ایک قبر کے پاس بٹھایا اور اس قبر کے مردہ کو آواز دی کہ بہ اذن الٰھی اٹھ کھڑا ہو، وہ فوراً باھر آگیا! ایک ایسا شخص جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے قبر سے باھر نکلادر حالیکہ اپنے منھ سے گردوخاک ہٹاتے ہوئے کھتا تھا:”الحمد لله و الله اکبر“، اس وقت جناب جبرئیل نے اس سے کھا: بہ اذن خدا واپس ہوجا، اس کے بعد پیغمبر اکرم کو ایک دوسری قبر کے پاس لے گئے اور اس سے کھا: حکم خدا سے اٹھ کھڑا ہو، چنانچہ ایک شخص نکلا جس کا چھرہ سیاہ تھا اور کہنے لگا: ھائے افسوس! ھائے ھلاکت و بیچارگی! چنانچہ جناب جبرئیل نے اس سے کھا: حکم خدا سے واپس ہوجا۔ اس کے بعد جناب جبرئیل نے کھا: اے محمد! تمام مردے اسی طرح سے روز قیامت محشور ہوں گے(۲۸۷)

لقمان حکیم اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :اے میرے بیٹے! اگر تم ہیں مرنے میں شک ہے تو سونا چھوڑو لیکن ن ہیں چھوڑسکتے، اگر روز قیامت قبر سے اٹھائے جانے میں شک رکھتے ہو تو بیدار رہنا چھوڑدو لیکن ن ہیں چھوڑسکتے، لہٰذا اگر سونے اور جاگنے میں غور و فکر کرو تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ تمھارا اختیار کسی دوسرے کے ھاتھ میں ہے، بے شک نیند موت کی طرح ہے اور بیداری اور جاگنا مرنے کے بعد قبر سے اٹھانے کی مانند ہے(۲۸۸)

بھر حال پورے قرآن کریم میں قیامت اور اس کے صفات کے بارے میں بھت زیادہ تکرار، تاکید اور وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، صرف بعض مقامات پر استدلال اور برھان بیان ہوا، برخلاف اثبات توحید کے کہ جھاں پر دلیل و برھان کے ساتھ ساتھ خداوندعالم کی قدرت و حکمت کا بیان بھی ہوا ہے، کیونکہ جب انسان توحید خدا کو قبول کرلیتا ہے تو اس کے لئے معاد اور قیامت کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے۔

اسی وجہ سے قرآن مجید میں روز قیامت کی تشریح و توصیف سے پھلے یا اس کے بعد خدا کی قدرت و توانائی کے بارے میں بیان ہوا ہے، درحقیقت خداوندعالم کے وجود کے دلائل یقینی طور پر معاد کے دلائل بھی ہیں ۔

جھاں پر روز قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے پر واضح دلیل بیان ہوئی ہے، وھاں بھی یھی دلیل و برھان قائم کی گئی ہے؛ کیونکہ کوئی بھی یہ ن ہیں کھتا: قیامت کا ہونا کیوں ضروری ہے؟ تاکہ گناھوں کے بارے میں فیصلہ ہوسکے، اور نیک افراد اور برے لوگوں کو جزا یا سزا دی جاسکے، اس پر کوئی اعتراض ن ہیں کرتا بلکہ انکار کرنے والوں کا اعتراض اور اشکال یہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ جسم خاک میں ملنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوگا؟ اسی وجہ سے خداوندعالم نے واضح طور پر یا دلائل توحید کے ضمن میںروز قیامت کے دلائل سے زیادہ منکرین کے لئے جواب دئے ہیں تاکہ منکرین سمجھ لیں کہ جس قدرت خدا کے ذریعہ یہ کائنات خلق ہوئی ہے اسی قدرت کے پیش نظر قیامت کوئی مشکل کام ن ہیں ہے، وھی خالق جس نے شروع میں حیات اور وجود بخشا تو اس کے لئے دوبارہ زندہ کرنا اور دوبارہ حیات دینا کوئی مشکل کام ن ہیں ہے۔

قرآن مجید نے منکرین، مخالفین اور ملحدین کے اعتراض کو سورہ يٰس میں اس طرح بیان کیا ہے:

( اوَلَمْ یرَ الْإِنسَانُ انَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِیمٌ مُبِینٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِی خَلْقَهُ قَالَ مَنْ یحْی الْعِظَامَ وَهِی رَمِیمٌ قُلْ یحْییها الَّذِی انشَاها اوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ ) ۔(۲۸۹)

”توکیا انسان نے یہ ن ہیں دیکھا کہ ھم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے اور وہ

یکبارگی ھمارا کھلا ہوا دشمن ہوگیا ہے۔اور ھمارے لئے مثل بیان کرتا ہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے کھتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے۔ (اے رسول!) آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پھلی مرتبہ پیدا کیا ہے وھی زندہ بھی کرے گا اور وہ ھر مخلوق کا بھتر جاننے والا ہے“۔

ان آیات میں پھلے انسان کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ تو پھلے تو کچھ ن ہیں تھا اور ایک نطفہ سے زیادہ ارزش ن ہیں رکھتا تھا، لہٰذا انسان کو غور و فکر کی دعوت دی جاتی ہے کہ کیا انسان تونے ن ہیں دیکھا، توجہ ن ہیں کی، غور وفکر ن ہیں کیا کہ ھم نے تجھے ایک نطفہ سے خلق کیا ہے اور اب اتناطاقتور، صاحب قدرت اور باشعور ہوگیا کہ اپنے پروردگار سے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوگیا اور علی الاعلان اس سے پر برسرپیکارہے ؟!

پھلے انسان کو مخاطب کیاگیا ہے، یعنی ھر انسان چاھے کسی مذھب کا ماننے والا ہو یا اس کا علم و دانش کسی بھی حد میں ہو اس حقیقت کو درک کرسکتا ہے۔

اس کے بعد نطفہ کے بارے میں گفتگو کی ہے، (لغت میں نطفہ کے معنی ناچیز او ربے ارزش پانی کے ہیں )تاکہ انسان مغرور نہ ہوجائے لہٰذا تھوڑا بھت اپنی ابتداء کے بارے میں بھی جان لے کہ وہ پھلے کیا تھا؟ اس کے علاوہ صرف یھی ایک ناچیز قطرہ اس کی رشد و نمو کے لئے کافی ن ہیں تھا بلکہ اس ایک قطرہ میں چھوٹے چھوٹے ہزاروں سلولز تھے جو آنکھوں سے ن ہیں دیکھے جاسکتے اور یہ زندہ سلولز رحم مادر میں بھت چھوٹے سلولز سے باھم ملے اور انسان ان چھوٹے موجود سے وجود میں آیا ہے۔

اپنے رشد و نمو کی منزل کو یکے بعد دیگرے طے کیا، سورہ مومنون کی ابتدائی آیات نے ان چھ مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے: نطفہ، علقہ (مضغہ) ہڈیوں کا ظاھر ہونا، ہڈیوں پر گوشت پیدا ہونا اور آخر میں روح کی پیدائش اور حرکت۔

انسان پیدائش کے وقت ضعیف و ناتواں بچہ تھا، اس کے بعد تکامل کے مرحلوں کو تیزی کے ساتھ طے کیا یھاں تک کہ عقلانی اور جسمانی بلوغ تک پہنچ گیا۔

یہ کمزور اور ناتواں بچہ اس قدر طاقتور ہوا کہ خدا کے مد مقابل کھڑا ہوگیا، اس نے اپنی عاقبت کو بالکل ہی بھلادیااور ”خصیم مبین“ کا واضح مصداق بن گیا۔

انسان کی جھالت کا اندازہ لگائیں کہ ھمارے لئے مثال بیان کرتا ہے اور اپنے زعم ناقص میں داندان شکن دلیل حاصل کرلی ہے، حالانکہ اپنے پھلے وجود کو بھول گیا ہے اور کھتا ہے: ان بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرنے والا کون ہے ؟!

جی ھاں، وہ منکر معاند(دشمن) خصیم مبین (کھلا ہوا دشمن) بغض و کینہ رکھنے والااور بھول جانے والا، جنگل بیابان سے ایک بوسیدہ ہڈی کو پالیتا ہے جس ہڈی کے بارے میں یہ بھی معلوم ن ہیں ہے کہ کس کی ہے؟ اپنی موت پر مرا ہے یا زمان جاھلیت کی جنگ میں دردناک طریقہ سے ماراگیا ہے یا بھوک کی وجہ سے مرگیا ہے؟ بھر حال ہڈی کو پاکر یہ سوچتا تھا کہ قیامت کے انکار پر ایک دندان شکن دلیل مل گئی ہے، غصہ اور خوشحالی کی حالت میں اس ہڈی کو اٹھاکر کھتا ہے: اسی دلیل کے سھارے میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) سے ایسا مقابلہ کروں گا جس کا کوئی جواب نہ دیا جاسکے!

تیزی کے ساتھ چل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آیا اور فریاد بلند کی: ذرا بتائےے تو سھی کہ اس بوسیدہ ہڈی کو کون دوبارہ لباس ِحیات پہناسکتا ہے؟ اس کے بعد اس ہڈی کو مسلتے ہوئے زمین پر ڈال دیا، وہ سوچتا تھا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے پاس اس کو کوئی جواب ن ہیں پن پائے گا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے ایک چھوٹے سے جملہ( نسی خلقہ) کے ذریعہ پورا جواب دیدیا، اگرچہ اس کے بعد مزید وضاحت اور دلائل بھی بیان کئے ہیں ۔

ارشاد ہوا: اگر تو نے اپنی پیدائش کو نہ بُھلایا ہوتا تو اس طرح کی بے بنیاد دلیل نہ دیتا؛ اے بھولنے والے انسان! ذرامڑکرتو دیکھ اور اپنی پیدائش کے بارے میں غور و فکر کر کہ اول خلقت میں کس قدر ذلیل پانی تیرا وجود تھا، ھر روز ایک نئی زندگی کی شروعات تھی، تو ھمیشہ موت و معاد کی حالت میں ہے، لیکن اے بھولنے والے انسان! تو نے سب کچھ بالائے طاق رکھ دیا اور اپنی خلقت کو بھول گیا اور اب پوچھتا ہے کہ کون اس بوسیدہ ہڈی کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے؟یہ ہڈی جب مکمل طور پر بوسیدہ ہوجائے گی تو خاک بن جائے گی، کیا تو روز اول خاک ن ہیں تھا؟! فوراً ہی پیغمبر کو حکم ہوتا ہے کہ اس مغرور اور بھولنے والے سے کہہ دو: ”وھی اس کو دوبارہ زندہ کرے گا جس نے روز اول اس کو پیدا کیا ہے“(۲۹۰)

اگر آج یہ بوسیدہ ہڈی باقی رہ گئی ہے تو پھلے تو یہ ہڈی بھی ن ہیں تھی یھاں تک کہ مٹی اور خاک بھی ن ہیں تھی، جی ھاں جس نے اس انسان کو عدم کی وادی سے وجود عطا کیا تو اس کے لئے بوسیدہ ہڈی سے دوبارہ پیدا کرنا بھت آسان ہے۔

اگر تو یہ سوچتا ہے کہ یہ بوسیدہ ہڈیاں خاک ہوکر تمام جگھوں پر پھیل جائیں گی، تو ان ہڈیوںکو کون پہچان سکتا ہے اور کون ان کو مختلف جگہ سے جمع کرسکتا ہے؟ تو اس چیز کا جواب بھی واضح اور روشن ہے کہ وہ تمام مخلوقات سے آگاہ ہے اور اس کی تمام خصوصیات کو جانتا ہے:

( وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ )

”اور وہ ھر مخلوق کا بھترین جاننے والا ہے“۔

جس کے پاس اس طرح کا علم اور قدرت ہو تو اس کے لئے معاد اور مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام ن ہیں ہے۔

ایک مقناطیس کے ذریعہ مٹی کے نیچے بکھرے ہوئے لوھے کے ذرات کو جمع کیا جاسکتا ہے جبکہ

یہ مقناطیس ایک بے جان چیز ہے، تو کیاخداوندعالم انسان کے بکھرے ہوئے ھر ذرہ کو ایک اشارہ سے جمع ن ہیں کرسکتا؟

وہ نہ صرف انسان کی خلقت سے آگاہ ہے بلکہ انسان کی نیتوں اور اس کے اعمال سے بھی آگاہ ہے، انسان کا حساب و کتاب اس کے نزدیک واضح و روشن ہے۔

لہٰذا اس کے اعمال، اعتقادات اور نیتوں کا حساب کرنا اس کے لئے کوئی مشکل ن ہیں ہے:

( وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی انفُسِكُمْ اوْ تُخْفُوهُ یحَاسِبْكُمْ بِهِ ) ۔(۲۹۱)

”تم اپنے دل کی باتوں کا اظھار کرو یا ان پر پردہ ڈالو، وہ سب کا محاسبہ کرلے گا“۔

اسی وجہ سے جناب موسيٰ علیہ السلام کو حکم ملا کہ فرعون (جو معاد کے بارے میں شک کرتا تھا اور صدیوں پرانے لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کے حساب و کتاب سے تعجب کرتا تھا)سے کہہ دو :

( عِلْمُها عِنْدَ رَبِّی فِی كِتَابٍ لاَیضِلُّ رَبِّی وَلاَینسَی ) ۔(۲۹۲)

”ان باتوں کا علم میرے پروردگار کے پاس اس کا کتاب میں محفوظ ہے، وہ نہ بہکتا ہے اور نہ بھولتا ہے“(۲۹۳)

بھر حال روز قیامت، روز محشر اورحساب و کتاب کا مسئلہ غیب کے مصادیق میں سے ہے، جس پرقرآنی آیات اور روایات کی روشنی میں اعتقاد اور ایمان رکھنا معنوی اور روحانی زبیائیوں میں سے ہے، جس سے انسان رشد و کمال کے درجات اور صحیح تربیت حاصل کرلیتاھے، جو انسانی زندگی میں بھت موثر اور ثمر بخش نتائج کا حامل ہے۔

حساب

روز قیامت میں تمام انسانوں کے عقائد، اخلاق اور اعمال کا حساب و کتاب ایک ایسی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم اور معارف الٰھی نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

یہ بات قابل قبول ن ہیں ہے کہ نیک افراد صدق و صفا، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ میں اپنی پوری عمر بسر کریں اور دوسروں کو بھی فیض پہنچائیں، اور ان کے مرنے کے بعد ان کے اعمال کی فائل بند ہوجائے اور ان کا حساب و کتاب نہ کیا جائے، ان کی زندگی کی کتاب کا دوبارہ مطالعہ نہ کیا جائے اور ان کو کوئی جزا یا انعام نہ ملے۔

اسی طرح یہ بات بھی قابل قبول ن ہیں ہے کہ ناپاک کفارو مشرکین، ملحداور اھل طاغوت، ظلم و ستم، جھالت و غفلت، پستی و ناپاکی، خیانت و ظلم اور غارت گری میں اپنی پوری عمر گزار نے والے، لوگوں پر ظلم و ستم کریں ان کو اذیت پہنچائیں، بھت سے افراد کو ان کے حق سے محروم کردیں، ان کے مرنے کے بعد ان کے اعمال کی فائل بند کردی جائے، ان کا کوئی حساب و کتاب نہ کیا جائے، ان کی زندگی کی کتاب کا دوبارہ مطالعہ نہ کیا جائے اور ان کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔

خداوندعالم کے عدل، حکمت، رحمت اور غضب کا تقاضا ہے کہ ایک روز تمام انسانوں کو جمع کرے، ان کے عقائد اور اعمال کا حساب کرے، اور ھر شخص کو اس کے نامہ اعمال کے لحاظ سے جزا یا سزا دے۔

نیک اور صالح افراد کے حساب و کتاب کے بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے:

( وَمِنْهم مَنْ یقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اوْلَئِكَ لَهم نَصِیبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللهُ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) ۔(۲۹۴)

”اور بعض کھتے ہیں کہ پروردگار ھمیں دنیا میں بھی نیکی عطا فرمااور آخرت میں بھی اور ھم کو عذاب سے محفوظ فرما۔یھی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور خدا بھت جلد حساب کرنے والا ہے“۔

( ثُمَّ رُدُّوا إِلَی اللَّهِ مَوْلاَهم الْحَقِّ الاَلَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اسْرَعُ الْحَاسِبِینَ ) ۔(۲۹۵)

”پھر سب اپنے مولائے برحق پروردگار کی طرف پلٹا دیئے جاتے ہیں آگاہ ہو جاو کہ فیصلہ کا حق صرف اسی کو ہے اور وہ بھت جلد ی حساب کرنے والاھے۔

( فَامَّا مَنْ اوتِی كِتَابَهُ بِیمِینِهِفَسَوْفَ یحَاسِبُ حِسَاباً یسِیراً ) ۔(۲۹۶)

”پھر جس کو نامہ اعمال داہنے ھاتھ میں دیا جائے گا۔اس کا حساب آسان ہوگا“۔

حضرت امام موسيٰ کاظم علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کے حوالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

لَا تَزولُ قَدَما عَبْدٍٴ یوْمَ الْقِیامَةِ حَتّی یسْالَ عَنْ ارْبَعٍ :عَنْ عُمْرِهِ فِیما اَفْناهُ، وَشَبابِهِ فِیما اَبْلاهُ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ اَینَ كَسَبَهُ وَفِیمااَنْفَقَهُ، وَعَنْ حُبِّنَا اَهل الْبَیتِ(۲۹۷)

”روز قیامت انسان کے قدم ن ہیں بڑ ہیں گے مگر یہ کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے : کس چیز میں اپنی عمر گزاری، جوانی کو کن چیزوں میں گزارا، مال و دولت کھاں سے حاصل کی اور کھاں خرچ کی، نیز محبت اھل بیت(علیھم السلام) کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔

بے شک جن مومنین نے اپنی عمر او رجوانی کو عبادت و اطاعت میں صرف کیا ہوگا، اور قرآن کے حکم کے مطابق اپنی دولت کو خرچ کیا ہے، اور محبت اھل بیت علیھم السلام میں اپنی عمر گزاری ہے، تو روز قیامت ایسے افراد کا حساب آسان ہوگا، اور حشر کے میدان میں ان کو کوئی پریشانی ن ہیں ہوگی، اور ان کا حساب و کتاب بھت جلد ہوجائے گا۔

ایک شخص امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے: اے فرزند رسول! میں آپ کی خدمت میں ایک حاجت رکھتا ہوں، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: مجھ سے مكّہ میں ملنا، میںمكّہ میں حضرت سے ملا اور اپنی حاجت کے بارے میں کھا تو حضرت نے فرمایا: منيٰ میں مجھ سے ملنا، چنانچہ میں منيٰ میں حضرت سے ملااور اپنی حاجت کے بارے میں کھا، تو امام علیہ السلام نے کھا: کھو کیا کہنا چاھتے ہو؟ میں نے کھا: میں ایک ایسے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی اس سے مطلع ن ہیں ہے، اس گناہ کا بوجھ مجھے مارے ڈال رھا ہے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تاکہ اس سے نجات مل جائے، اور اس گناہ کے بوجھ سے سبکدوش ہوجاؤں، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: جب خداوندعالم روز قیامت برپا کرے گا اور اپنے مومن بندوں کا حساب کرے گا تو ان کے تمام گناھوں سے آگاہ کرے گا، پھر اپنی رحمت و مغفرت میں جگہ دے گا اور اپنے بندے کے بخشے گئے گناھوں سے کسی فرشتہ یا رسول کو بھی باخبر ن ہیں کرے گا!(۲۹۸)

مومنین کے حساب کے سلسلے میں ایک بھت اھم روایت علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے اپنی گزانقدر کتاب بحار الانوار میں امالی شیخ طوسی علیہ الرحمہ کے حوالہ سے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کی ہے، جو واقعاً تعجب خیز اور امیدوار کرنے والی ہے! روایت یوں ہے:

یوقَفُ الْعَبْدَ بَینَ یدَی اللّٰهِ فَیقُولُ :قیسُوا بَینَ نِعَمی عَلَیهِ وَ بَینَ عَمَلِهِ، فَتَسْتَغْزِقُ النِّعَمُ الْعَمَلَ، فَیقولونَ:قَدِ اسْتَغْرَقَ النِّعَمُ الْعَمَلَ، فَیقُولُ : هَبُوا لَهُ نِعَمِی، وَ قیسُوا بَینَ الْخَیرِ وَ الشَّرِّ مِنْهُ، فَاِنِ اسْتَوَی الْعَمَلانِ اَذْهَبَ اللّٰهُ الشَّرَّ بِالْخَیرِ وَاَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ، وَاِنْ کانَ لَهُ فَضْلٌ اَعْطاهُ اللّٰهُ بِفَضْلِهِ، وَاِنْ کاَنَ عَلَیهِ فَضْلٌ وَهُوَ مِنْ اَهل التَّقْويٰ لَمْ یشْرِكْ بِاللّٰهِ تَعاليٰ وَاتَّقَی الشِّرْكَ بِهِ فَهُوَ مِنْ اَهل الْمَغْفِرَةِ یغْفِر اللّٰهُ لَهُ بِرَحْمَتِهِ اِنْ شاءَِ وَ یتَفَضَّلُ عَلَیهِ بِعَفْوِهِ(۲۹۹)

”بندہ کو خدا کی بارگاہ میں حاضر کیا جائے گا اور خدا فرمائے گا:میری نعمتوں اور اس کے اعمال کا موازنہ کرو، چنانچہ جب نعمتیں اس کے تمام اعمال کو چھپالیں گی تو فرشتے عرض کریں گے: پالنے والے! اس کے اعمال پر تیری نعمتیں غالب ہیں ، خطاب ہوگا: میری نعمتوں کو بخش دو، اس کی نیکیوں اور برائیوں کے درمیان موازنہ کرو، اگر اس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوگئیں تو اس کی برائیوں کو نیکیوں کے احترام میں بخش دو، اس کو بہشت میں وارد کردو، اور اگر اس کی نیکیاں زیادہ ہیں تو نیکیوں کی وجہ سے اس کو مزید عطا کردو، اوراگر اس کی برائیاں زیادہ ہیں لیکن اھل تقويٰ ہے اور خدا کے ساتھ شرک ن ہیں کیا ہے، تو یہ شخص مغفرت کا سزاوار ہے، خداوندعالم اگر چاھے تو اپنی رحمت کے ذریعہ اس کے گناھوں کو بخش دے گا اور اپنے عفو وکرم سے اس پر فضل و کرم کرے گا!“

علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب بحار الانوار میں اصول کافی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: روز قیامت نعمتوں، نیکیوں اور برائیوں کے درمیان مقائسہ کیا جائے گا۔

نعمتوں اور نیکیوں کا آپس میں موازنہ کیا جائے گا، نعمتیں، نیکیوں سے زیادہ ہوں گی، برائیوں کی فائل کی شکست ہوگی، مومن انسان کو حساب کے لئے بلایا جائے گا، اس وقت قرآن کریم بھترین صورت میں اس مومن بندے کے پاس حاضر ہوکر یوں گویا ہوگا: پروردگارا! میں قرآن ہوں اور یہ تیرا مومن بندہ، اس نے میری تلاوت کے لئے زحمتیں اٹھائی ہیں ، راتوں میری تلاوت میں مشغول رھا ہے، نماز شب میں اپنی آنکھوں سے آنسو بھائے ہیں ، پالنے والے! اس سے راضی ہوجا، اس وقت خدائے عزیز و جباربندہ مومن سے خطاب فرمائے گا: اپنا داہنا ھاتھ کھول، چنانچہ اس کے داہنے ھاتھ کو اپنی رضوان سے بھردے گا اور بائیں ھاتھ کو اپنی رحمت سے بھر دے گا، اور پھر اپنے مومن بندہ سے خطاب فرمائے گا: یہ بہشت تیرے لئے مباح ہے، قرآن پڑھتا جا اور بلند و بالادرجات کی طرف بڑھتا جا، چنانچہ انسان جس مقدار میں قرآن کی آیتوں کی تلاوت کرتا رہے گا اسی مقدار میں جنت کے درجات پر فائز ہوتا جائے گا۔

گناھگاروں، بدکاروں، ملحدوں اور بے دین لوگوں کے حساب اور ان کے نامہ اعمال کے پڑھے جانے کے سلسلہ میں قرآن مجید اور روایات میں پڑھتے ہیں :

( وَمَنْ یكْفُرْ بِآیاتِ اللهِ فَإِنَّ اللهَ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) ۔(۳۰۰)

”اور جو بھی آیات الٰھی کا انکار کرے گا تو خدا بھت جلد حساب کرنے والاھے“۔

( وَالَّذِینَ لَمْ یسْتَجِیبُوا لَهُ لَوْ انَّ لَهم مَا فِی الْارْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ اوْلَئِكَ لَهم سُوءُ الْحِسَابِ وَمَاوَاهم جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهادُ ) ۔(۳۰۱)

”اور جو اس کی بات کو قبول ن ہیں کرتے ان ہیں زمین کے سارے خزانے بھی مل جائیں اور اسی قدر اور بھی مل جائے تو یہ بطور فدیہ دے دیں گے لیکن ان کے لئے بد ترین حساب ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بھت بُرا ٹھکانا ہے“۔

( وَكَاینْ مِنْ قَرْیةٍ عَتَتْ عَنْ امْرِ رَبِّها وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاها حِسَابًا شَدِیدًا وَعَذَّبْنَاها عَذَابًا نُكْرًا ) ۔(۳۰۲)

”اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنھوں نے حکم خدا و رسول کی نافرمانی کی تو ھم نے ان کا شدید محاسبہ کر لیا اور ان ہیں بد ترین عذاب میں مبتلا کردیا“۔

( اِلاَّ مَنْ تَوَلّٰی وَكَفَرَفَیعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَاِنَّ اِلَینَا اِیابَهُمْثُمَّ اِنَّ عَلَینَا حِسَابَهُمْ ) ۔(۳۰۳)

”مگر منھ پھیرلے اور کافر ہوجائے۔تو خدا اسے بھت بڑے عذاب میں مبتلا کرے گا۔پھر ھمارے ہی طرف ان سب کی باز گشت ہے۔اور ھمارے ہی ذمہ ان سب کا حساب ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام درج ذیل آیہ قرآن( إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اوْلَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ) ۔(۳۰۴) کے بارے میں فرماتے ہیں :

یسْالُ السَّمْعَ عَمّا یسْمَعُ، وَالْبَصَرَ عَمّا یطْرِفُ، وَالْفُوادَ عَمّا عَقَدَ عَلَیهِ(۳۰۵)

”روز قیامت خدا وندعالم کانوں سے سنی ہوئی، آنکھوں سے دیکھی گئی اور دل میں پیدا ہونے والی چیزوںکے بارے میں سوال فرمائے گا“۔

ایک شخص نے حضرت امام سجاد علیہ السلام سے عرض کیا: اگر کسی مومن کا کوئی حق کافر کے ذمہ باقی رہ گیا ہے تو روز قیامت کافر سے مومن کے نفع میں کیا چیز لی جائے گی، حالانکہ کافر اھل جہنم ہوگا؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: کافر پر حق کے برابر مومن کے گناھوں کو کافر کی گردن پر ڈالدیا جائے گا اور کافر اپنے گناھوں اور اس حق کے گناھوں کے برابر عذاب میں گرفتار ہوگا!(۳۰۶)

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

ظلم و ستم کی تین قسمیں ہیں : ایک وہ ستم جس کو معاف ن ہیں کیا جائے، دوسرے وہ ستم جس کو چھوڑا ن ہیں جائے گا، تیسرے وہ ستم جو بخش دیا جائے گا اور اس کا مطالبہ ن ہیں ہوگا۔

لیکن وہ ستم جو معاف ن ہیں ہوگا وہ خدا کے ساتھ شرک کرنا ہے، جیسا کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ہے:

( إِنَّ اللهَ لاَیغْفِرُ انْ یشْرَكَ بِه ) ۔(۳۰۷)

”اللہ اس بات کو معاف ن ہیں کر سکتا کہ اس کا شریک قرا دیا جائے“۔

وہ ستم جو بخش دیا جائے گا، وہ انسان کا اپنے نفس پر ظلم و ستم ہوگا جو انسان نے گناھان صغیرہ کے ذریعہ انجام دیا ہوگا۔

لیکن وہ ستم جس کو چھوڑا ن ہیں جائے گا، وہ دوسروں پر کیا ہوا ظلم ہوگا، یہ ستم چاقو یا تازیانہ سے کیا ہوا ستم ن ہیں ہوگا بلکہ اس سے (بھی) کمتر اور چھوٹا ظلم ہوگا۔(۳۰۸)

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

یوتيٰ یوْمَ الْقِیامَةِ بِصاحِبِ الدَّینِ یشْكُو الْوَحْشَةَ، فَاِنْ کاَنَتْ لَهْ حَسَناتُ اْخِذَ مِنْهُ لِصاحِبِ الدَّینِ، وَقالَ:وَاِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَناتٌ اُلْقِی عَلَیهِ مِنْ سَیئاتِ صاحِبِ الدَّینِ ۔“

” ایک مقروض کو روز قیامت حاضر کیا جائے گا جو خوف و وحشت کی شکایت کرتا ہوگا، تو اگر اس کے پاس نیکیاں ہوں گی تو صاحب قرض کو اس کی نیکیاں دیدی جائیں گی، او راگر نیکیاں نہ ہوں گی تو صاحب قرض کی برائیاں اس کی گردن پر ڈال دی جائیں گی“۔

حساب و کتاب اور روز قیامت بندوں کے اعمال کی کتاب کا دوبارہ مطالعہ بھی غیب کے

مصادیق میں سے ہے، جس پر عقیدہ رکھنا قرآن و حدیث کی بنا پر ایمان کا جزء ہے اور معنوی زیبائیوں میں سے ہے۔

میزان

انسان کے اعمال کو پرکھنے کی میزان اور ترازو چاھے جس کیفیت کے ساتھ بھی ہو ایک اھم مسئلہ ہے، جس کا ذکر قرآن کریم اور اور احادیث اھل بیت علیھم السلام میں تفصیلی طور پر ہوا ہے، جو روز قیامت کے مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔

( وَالْوَزْنُ یوْمَئِذٍ الْحَق ) ۔(۳۰۹)

”آج کے دن اعمال کا وزن ایک برحق شئے ہے“۔

( وَ نَضَعُ المَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیوْمِ الْقِیامَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیئاً ) ۔(۳۱۰)

”اور ھم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کریں گے“۔

ہشام بن سالم کھتے ہیں : میں نے اس آیت کے بارے میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ روز قیامت ”میزان“ سے کیا مراد ہے؟ تو حضرت نے فرمایا: اس سے مراد انبیاء اور اوصیاء انبیاء علیھم السلام ہے۔(۳۱۱)

جی ھاں، روز قیامت میں بندوں کے اعمال، عقائد اور اخلاق کو انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ تولا جائے گا، اگر انسان کے عقائد، اعمال اور اخلاق انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کے عقائد و اعمال کے ساتھ ھم آہنگ ہوں گے تو ایسا شخص اھل نجات ہے، اور درحقیقت اس کا پلڑا بھاری ہوگا، اور اگر انسان کے اعمال انبیاء و ائمہ علیھم السلام سے ھم آہنگ نہ ہوں گے تو ایسا شخص نجات ن ہیں پاسکتا، چونکہ اس کا پلڑا ھلکا او ربے وزن ہوگا، قرآن مجید نے ان دونوں مسائل کے بارے میں یوں اشارہ کیا ہے:

( فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُهُ فَاوْلَئِكَ هم الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُهُ فَاوْلَئِكَ الَّذِینَ خَسِرُوا انفُسَهم بِمَا كَانُوا بِآیاتِنَا یظْلِمُونَ ) ۔(۳۱۲)

”پھر جن کے نیک اعمال کا پلہ بھاری ہو گا وھی نجات پانے والے ہیں ۔اور جن کا پلہ ھلکا ہوگیا یھی وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں رکھا کہ وہ ھماری آیت وں پر ظلم کر رہے تھے“۔

( وَاِنْ کاَنَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ اتَینَا بِهَا وَكَفَيٰ بِنَا حَاسِبِینَ ) ۔(۳۱۳)

”اور کسی کا عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہے تو ھم اسے لے آئیں گے اور ھم سب کا حساب کرنے کے لئے کافی ہیں “۔

( فَامَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِینُهُ فَهُوَ فِی عِیشَةٍ رَاضِیةٍوَامَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُهُ فَا مُّهُ هَاوِیةٌوَمَا ادْرَاكَ مَاهِیهْنَارٌ حَامِیةٌ ) ۔(۳۱۴)

”تو اس دن جس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا۔وہ پسندیدہ عیش میں ہوگا۔اور جس کا پلہ ھلکا ہوگا ۔اس کا مرکز ھاویہ ہے۔اور تم کیا جانو کہ ھاویہ کیا مصیبت ہے۔یہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے“۔

عقائد حقہ، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ خاص اھمیت سے برخوردار ہیں ، عدل الٰھی کی میزان میں ناقابل تصور وزن رکھتے ہیں اور سخت مقامات پر باعث نجات ہیں ۔

حضرت امام باقر علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کے سلسلے میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

حُبّی وَحُبُّ اَهل بَیتِی نافِعٌ فِی سَبْعَةِ مَواطِنَ اَهْوَالُهُنَّ عَظیمَةٌ، عِنْدَ الْوَفاةِ، وَفِی الْقَبْرِ، وَ عِنْدَ النُّشورِ، وَ عِنْدَ الْكِتابِ، وَعِنْد الْحِسابِ، وَ عِنْدَ الْمِیزانِ، وَ عِنْدَ الصِّراطِ(۳۱۵)

”ھماری اور ھمارے اھل بیت کی محبت سات خطرناک مقامات پر کام آئے گی، موت کے وقت، قبرمیں، قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کے وقت، نامہ اعمال کے وقت، حساب کے وقت، میزان پر، اور پُل صراط پر گزرتے وقت“۔

قارئین کرام! ھم جانتے ہیں کہ محب کی محبت محبوب سے کسب آثار کے لئے بھت اھم چیز ہے، جو محبت انسان کے لئے سات مقامات پر کام آنے والی ہے، جو انسان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آنحضرت کے اھل بیت علیھم السلام کی پیروی اور اطاعت کرنے کے لئے آمادہ کرے۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں :

ما یوضَعُ فی میزانِ امْرِیءٍ یوْمَ الْقِیامَةِ اَفْضَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ(۳۱۶)

”روز قیامت انسان کی ترازومیں حسن خلق سے بھتر کوئی چیز ن ہیں ہے“۔

حضرت امام رضا علیہ السلام مامون عباسی کے لئے ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں :

وَتُومِنُ بِعَذابِ الْقَبْرِ، وَمُنْكَرٍ وَنَكِیرٍ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْمِیزانِ وَالصِّراطِ(۳۱۷)

”عذاب قبر، منکر و نکیر اور مرنے کے بعد روز قیامت میں محشور ہونے، میزان اور پُل صراط پر ایمان رکھ“۔

میزان کا مسئلہ بھی گزشتہ مسائل کی طرح غیب کے مصادیق میں سے ہے، اور قرآن کریم اور حدیث کی بنا پر اس پر ایمان رکھنا واجب ہے، جس کے انسان کی زندگی میں بھت سے مفید آثار نمایاں ہوتے ہیں ۔

بہشت و جہنم

”بہشت “متقین کے لئے ھمیشگی اور ابدی مقام ہے، اور ”جہنم “اھل کفر و معصیت کا ھمیشگی مقام ہے، جن کے بارے میں قرآن مجید کی بھت سی آیات اور اسلامی تعلیمات خصوصاً احادیث اھل بیت علیھم السلام میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

ھم ان دونوں کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس ن ہیں کرتے، کیونکہ اکثر مومنین مجالس اور دیگر طریقوں سے یا اسلامی کتابوں میں ان دونوں کے بارے میں سن چکے یا پڑھ چکے ہیں ۔

جنت ودوزخ پر ایمان رکھنا دینی ضروریات میں سے ہے اور ان دونوں پر ایمان نہ رکھنا کفر کے برابر ہے۔

بہشت اپنی تمام تر مادی و معنوی نعمتوں کے ساتھ نیک اور صالح افراد کی جزا اور جہنم اپنے تمام ظاھری و باطنی عذاب کے ساتھ بدکاروں کے لئے جائے سزا ہے۔

بہشت و جہنم غیب کے مصادیق میں سے ہے، ان دونوں کے بارے میں بیان کرنا صرف اورصرف وحی الٰھی کی ذمہ داری ہے، انسان کا علم جس کے درک کرنے سے قاصرہے ، اسی وجہ سے انسان وحی الٰھی پر توجہ کئے بغیر ان دونوں کے بارے میں اپنا نظریہ بیان ن ہیں کر سکتا، اگرچہ علم و دانش کے لحاظ سے بلند مقام پر پہنچ چکا ہے۔

خداوندعالم ؛اھل صدق و صداقت اور نیک افراد کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

( قَالَ اللهُ هَذَا یوْمُ ینفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُهم لَهم جَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِها الْانهارُ خَالِدِینَ فِیها ابَدًا رَضِی اللهُ عَنْهم وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔(۳۱۸)

”اللہ نے کھا کہ یہ قیامت کا دن ہے جب صادقین کو ان کا سچ فائدہ پہنچائے گا تو ان کے لئے باغات ہوں گے جن کے نیچے نھریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ھمیشہ ھمیشہ ر ہیں گے ۔خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے راضی ہوں گے، اور یھی ایک عظیم کامیابی ہے“۔

اسی طرح خداوندعالم گناھگاروں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَالَّذِینَ كَسَبُوا السَّیئَاتِ جَزَاءُ سَیئَةٍ بِمِثْلِها وَتَرْهَقُهم ذِلَّةٌ مَا لَهم مِنْ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ كَانَّمَا اغْشِیتْ وُجُوهُهم قِطَعًا مِنْ اللَّیلِ مُظْلِمًا اوْلَئِكَ اصْحَابُ النَّارِ هم فِیها خَالِدُونَ ) ۔(۳۱۹)

”اور جن لوگوں نے برائیاں کمائی ہیں ان کے لئے ھر بُرائی کے بدلے ویسی ہی بُرائی ہے اور ان کے چھروں پر گناھوں کی سیاھی بھی ہوگی اور ان ہیں عذاب الٰھی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ۔ان کے چھرے پر جیسے سیاہ رات کی تاریکی کا پردہ ڈال دیا گیا ہو۔وہ اھل جہنم ہیں اور اسی میں ھمیشہ رہنے والے ہیں “۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : جس وقت روز قیامت برپا ہوگی، خداوندعالم ایک منادی کو حکم دے گا کہ اس کی بارگاہ میں یہ اعلان کرے: غریب اورنادار لوگ کھاں ہو؟ بھت سے لوگ جمع ہوجائیں گے، اس وقت خدا فرمائے گا: اے میرے بندو! تووہ آواز دیں گے: لبیک یا اللہ، اس وقت خدا فرمائے گا: میں نے تم لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے غریب و نادار ن ہیں بنایا تھالیکن اس لئے کہ آج کے دن تم ہیں نعمتوں سے مالامال کردوں، جاؤ اور لوگوں کو تلاش کرو کہ جس نے بھی تمھارے ساتھ نیکی کی ہو، اس کی نیکی میری خوشنودی کے لئے تھی، لہٰذا اس کے عمل کی جزا یہ ہے کہ اس کو بہشت میں داخل کردو۔(۳۲۰)

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر کوئی مومن کسی دوسرے مومن کی ضرورت کے وقت حاجت پوری نہ کرے، اپنی طرف سے یا دوسرے کے ذریعہ اس کی مشکل کو آسان نہ کرے تو خداوندعالم روز قیامت اس کے چھرہ کو سیاہ کردے گا، اس کی آنک ہیں اندھی ہوجائیں گی اور اس کے دونوں ھاتھ گردن سے بندھے ہوں گے، اور کھا جائے گا: یہ وہ خیانت کار ہے جس نے خدا و رسول کے ساتھ خیانت کی ہے، اس کے بعد حکم دیا جائے گا کہ اس کو آتش جہنم میں ڈال دو۔[۶۸]

حضرت امیر المومنین علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: یا علی!جو شخص مجھ سے محبت کا دعويٰ کرے درحالیکہ آپ سے دشمنی رکھتا ہو ایسا شخص جھوٹا ہے، یا علی! جس وقت قیامت برپا ہوگی اےک منادی عرش سے آواز دے گا، علی علیہ السلام کے عاشق اور ان کے شیعہ کھاں ہیں ؟ علی کے محب اور دوستدار اور جس کو علی دوست رکھتے ہیں کھاں ہو؟ جن لوگوں نے رضائے الٰھی کے لئے دوستی کی ہے اور ایک دوسرے سے محبت کی ہے، جنھوں نے خدا کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ کرم و بخشش سے کام لیا ہے، وہ لوگ جنھوں نے اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کی حاجت کو پورا کیا ہے، جن لوگوں کی زبان گرمی کے روزہ کی وجہ سے خشک ہوئی ہے، جنھوں نے رات کے اندھیرے میں عبادتیں کی ہیں جبکہ دوسرے لوگ سوئے ہوئے تھے، جن لوگوں نے خوف خدا سے گریہ کیا ہے؟ آج تم لوگوں کے لئے کوئی خوف و ھراس ن ہیں ہے، تم لوگ (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھی ہو، تمھاری آنک ہیں منور ہوں، تم اپنی ازواج کے ساتھ خوش و خرم بہشت میں داخل ہوجاؤ(۳۲۱)

جنت و دوزخ کے بارے میں قرآن مجید کی سیکڑوں آیات اور بھت سی احادیث بیان ہوئی ہیں اور امام صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق (بہشت و جہنم) اب بھی موجود ہیں اور یہ غیب کے مصادیق میں سے ہیں ، جس پر ایمان و عقیدہ رکھنے سے صالح مومنین اور بدکاروں کی زندگی پر مثبت آثار ظاھر ہوتے ہیں ، کیونکہ طالب بہشت اپنے کو عقائد حقہ، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونے کی کوشش کرتا ہے اور جہنم سے ڈرنے والا درد ناک عذاب کے باعث خود کوگناھوں سے محفوظ کرتاھے۔

قارئین کرام! گزشتہ صفحات میں خدا، فرشتوں، برزخ، قیامت، حساب و کتاب، میزان اور بہشت و جہنم کے بارے میں بیان کئے گئے مطالب آیہ( الَّذِینَ یومِنونَ بِالْغَیبِ ) ۔(۳۲۲) کی تفسیر تھی۔

قرآن کریم اور احادیث معصومین علیھم السلام پر غور و فکر کرتے ہوئے غیب پر ایمان رکھنا ھر مرد و زن کے لئے ممکن ہے، اور ان چیزوں پر اعتقاد و ایمان رکھنا شرعی اور عقلی طور پر واجب ہے، کیونکہ غیب پر ایمان رکھنا دین کے اصول اور ضروری دین میں سے ہے، ان عقائد کے بارے میں کسی انسان کو کسی کی تقلید کرنے کا کوئی حق ن ہیں ہے، کیونکہ ھر انسان کے دل میں ان چیزوں پر ایمان ہونا ضروری ہے۔

غیب پر ایمان رکھنے سے انسان کو بلند مقامات عطا ہوتے ہیں ، غیب پر ایمان رکھنے والا شخص محبوب خدا بن جاتا ہے، اس کے لئے دنیا و آخرت کی نجات کا دروازہ کھل جاتا ہے، اس کے لئے آج اور کل کی سعادت کا راستہ ھموار ہوجاتا ہے، جس سے انسان کو خدا کی عبادت اور پیغمبر و ائمہ علیھم السلام کی اطاعت کے لئے طاقت ملتی ہے۔

قرآن مجید نے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں غیب پر ایمان رکھنے کے بارے میں تاکید کی ہے اور اس کے بعد نماز و انفاق، آسمانی کتابوں اور قیامت کے دن پر ایمان کے بارے میں بیان کیا ہے جو غیب پر ایمان رکھنے کے آثار ہیں ۔

قرآن اور اس سے قبل نازل ہونے والی کتابوں(جن کی تصدیق قرآن کریم نے فرمائی ہے) پر ایمان رکھنا قرآن کریم کی آیات اور اس کی تفسیر میں غور و فکر کے بعدھی ممکن ہے۔

قرآن کریم کے ایک (چھوٹے سے )سورے جیسے سورہ توحید یا سورہ کوثر کا جواب اگر ممکن ہوتا تو دشمنان اسلام اپنی تمام تر ترقی کے باوجودجواب لے آئے ہوتے، لیکن قیامت تک کسی قوم و ملت میں اتنی طاقت ن ہیں ہے کہ وہ قرآن کی مثل لے آئے:

( وَإِنْ كُنتُمْ فِی رَیبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَاتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَائَكُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ كُنتُمْ صَادِقِینَ ) ۔(۳۲ ۳ )

”اگر تم ہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ھم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسا ایک ہی سورہ لے آو اور اللہ کے علاوہ جتنے تمھارے مددگار ہیں سب کو بلا لو اگر تم دعوے اور خیال میں سچے ہو“۔

( قُلْ لَئِنْ اجْتَمَعَتْ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی انْ یاتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لاَیاتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهم لِبَعْضٍ ظَهِیرًا ) ۔(۳۲۴)

”(اے رسول)آپ کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو بھی ن ہیں لاسکتے، چاھے سب ایک دوسرے کے مددگار و پشت وپناہ ہی کیوں نہ ہو جائیں“۔

ان دونوں آیات کے پیش نظر قرآن کریم کے خداوندعالم کی طرف نازل ہونے میں ذرہ برابر بھی شک باقی ن ہیں رھتا، لہٰذا قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب اور دیگر آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا، کوئی مشکل کام ن ہیں ہے۔

اسی طرح قرآنی آیات اور دلائل میں غور و فکر کے ذریعہ آخرت پر ایمان حاصل کرنا بھی ایک آسان کام ہے۔

غیب، قرآن کریم، دیگر آسمانی کتب اور آخرت پر ایمان و یقین رکھنا معنوی زیبائیوں میں سے ہے۔

نماز

نماز وہ حقیقت ہے جس سے انسان کے ظاھر و باطن میں مادی اور معنوی طھارت و پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، جس سے انسان کا ظاھر و باطن مزین ہوجاتا ہے، اور نمازی کے لئے ایک خاص نورانیت حاصل ہوتی ہے۔

قرآن کریم نے بھت سی آیات میں نماز کی طرف دعوت دی ہے، اور اس کو ایک فریضہ الٰھی کے عنوان سے بیان کیا ہے، نہ صرف یہ کہ نماز کاحکم دیا ہے بلکہ واجبی حکم دیا گیا ہے۔

( وَاقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِانفُسِكُمْ مِنْ خَیرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللهِ إِنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ ) ۔(۳۲۵)

”اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو کہ جو کچھ اپنے واسطے پھلے بھیج دوگے سب خدا کے یھاں مل جائے گا ۔خدا تمھارے اعمال کا دیکھنے والا ہے“۔

قرآن مجید نے بھت سی آیات میں مشکلات کے دور ہونے، سختیوں کے آسان ہونے اور بھت سے نیک کاموں میں امداد ملنے کے لئے نماز اور صبر کی دعوت دی ہے:

( وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَإِنَّها لَكَبِیرَةٌ إِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِینَ ) ۔(۳۲۶)

”صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو ۔نماز بھت مشکل کام ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو خشوع و خضوع والے ہیں “۔

البتہ یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ وھی نماز انسان کو طاقت و بلندی عطا کرتی ہے جس میں فقھی اور معنوی شرائط پائے جاتے ہوں، جس نماز میں لباس اور مکان مباح ہو، وضو اور غسل کا پانی اور تیمم کی مٹی مباح ہو، جس نماز میں ترتیب اور طمانینہ (یعنی اطمینان) اور وقت کی رعایت کی گئی ہو، جس نماز میں سستی اور بے توجھی نہ پائی جاتی ہو، جس نماز میں نیت پاک ہو اور اس میں اخلاص پایا جاتا ہو، تو اس طرح کی نماز انسان کی مشکلات اور سختیوں میںمددگار ثابت ہوتی ہے، اور پھر انسان کے لئے تمام نیک کام کرنے کا راستہ ھموار ہوجاتا ہے۔

قرآن مجید نے بھت سی آیات میں نماز کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے۔

( اِنَّمَا الْمُومِنُونَ الَّذِینَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَاِذَا تُلِیتْ عَلَیهِمْ آیا تُهُ زَادَتْهُمْ اِیمَاناً وَعَلٰی رَبِّهِمْ یتَوَكَّلُونَالَّذِینَ یقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ینْفِقُونَ ) ۔(۳۲۷)

”صاحبان ایمان در حقیقت وہ لوگ ہیں جن کے سامنے ذکر خدا کیا جائے تو ان کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہو اور اس کی آیات کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ لوگ اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں ۔وہ لوگ نماز کو قائم کرتے ہیں اور ھمارے دیئے ہوئے رزق سے انفاق بھی کرتے ہیں “۔

قرآن کریم نے سستی، حالت غنودگی اور حضور قلب میں مانع ہونے والی ھر چیز کو حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، بلکہ ایسے وقت میں نماز کی ادائیگی چاھی ہے کہ جب خوشی و نشاط، صدق و صفا اور خلوص اور حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھی جاسکے اور تمام ظاھری و باطنی شرائط کا لحاظ کیا جائے:

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَانْتُمْ سُكَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ) ۔(۳۲۸)

”اے ایمان والو ! خبر دار نشہ کی حالت میں نما زکے قریب بھی نہ جانا جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو“۔

قرآن مجید نے اپنے اھل و عیال کو نماز کی دعوت کو اخلاق انبیاء بتایا ہے، اور نمونہ کے طور پر حضرت اسماعیل کی دعوت کو بیان کیاھے:

( وَكَانَ یامُرُ اهلهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِیا ) ۔(۳۲۹)

”اور وہ اپنے گھر والوں کو نما ز اور زکوٰة کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے“۔

قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ نمازانسان کو فحشاء و منکر سے روکتی ہے۔ جی ھاں، یہ بات تجربہ سے ثابت ہوچکی ہے کہ واقعی نماز انسان کو برائیوں سے روک دیتی ہے، اور انسان کے دل و جان میں پاکیزگی بھر دیتی ہے، اعضاء وجوارح کو خدا کی اطاعت کرنے پر آمادہ کردیتی ہے۔

( وَاقِمْ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلاَةَ تَنْهَی عَنْ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ) (۳۳۰)

”اور نماز قائم کرو کہ نماز ھربُرائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے۔“

قرآن کریم نے بے نمازی، بخیل، اھل باطل اور قیامت کی تکذیب کرنے والوں کو جہنمی قرار دیا ہے:

( قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّینَوَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِینَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِینَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِیوْمِ الدِّینِ ) ۔(۳۳۱)

”وہ ک ہیں گے ھم نماز گذارن ہیں تھے۔اور مسکین کو کھانا ن ہیں کھلایا کرتے تھے۔ لوگوں کے بُرے کاموں میں شامل ہو جایا کرتے تھے۔اور روز قیامت کی تکذیب کیاکرتے تھے“۔

قرآن مجید نے حقیقت نماز سے غافل اور ریاکاری کرنے والے نمازی کو دین کا جھٹلانے والا قرا دیا ہے:

( فَوَیلٌ لِلْمُصَلِّینَ الَّذِینَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَالَّذِینَ هُمْ یرَآءُ ونَ ) ۔(۳۳۲)

”تو تباھی ہے ان نمازیوں کے لئے ۔جو اپنی نمازوں سے غافل رھتے ہیں ۔دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں “۔

نماز اور اس کے فقھی و معنوی شرائط کے سلسلہ میں بھت سی روایات بھی بیان ہوئی ہیں جن میں چند کو بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے:

حضرت امام باقر علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں کچھ چیزوں کی سفارش کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اپنی نماز کو بھی سبک نہ سمجھو کیونکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے آخری وقت میں فرمایاھے:

لَیسَ مِنّی مَنِ اسْتَخَفَّ بِصَلاتِهِ لَایرِدُّ عَلَی الْحَوْض لَا وَاللّٰهِ، لَیسَ مِنّی مَنْ شَرِبَ مُسْكِراً لَا یرِدُّ عَلَی الْحَوْضَ لَا وَاللّٰهِ ۔“( ۳ ۳۳)

”جو شخص نماز کو سبک سمجھے وہ مجھ سے ن ہیں ہے، خدا کی قسم حوض کوثر پر میرے پاس ایسا شخص ن ہیں پہنچ سکتا، اور ایسا شخص بھی مجھ سے ن ہیں ہے جو شراب پئے، خدا کی قسم ایسا شخص (بھی) میرے پاس حوض کوثر پر ن ہیں پہنچ سکتا“۔

حضرت موسيٰ علیہ السلام نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کیا:پالنے والے!ایسے وقت پر نماز پڑھنے والے کی کیا جزاء ہے ؟ تو خطاب ہوا:

اُعْطِیهِ سُولَهُ، وَاُبیحُهُ جَنَّتِی(۳۳۴)

”میںاس کے سوالوں کو پورا، ا اور اس کے لئے جنت مباح کردوں گا“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

اَحَبُّ الْعِبادِ اِلَی اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ رجلٌ صَدوقٌ فی حَدِیثِهِ مُحافِظٌ عَليٰ صَلَواتِهِ وَمَاافْتَرَضَ اللّٰهُ عَلَیهِ مَعَ اَداءِ الْاَمانَةِ(۳۳۵)

”خداوندعالم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو اپنی گفتگو میں صداقت سے کام لے، نماز و دیگر عبادتوں کی حفاظت کرے اور امانت ادا کرے“۔

ابن مسعود کھتے ہیں : میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا: کونساعمل خداوندعالم کے نزدیک سب سے بھترہے ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اَلصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا(۳۳۶)

”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

لَا تُضَیعُوا صَلاَتَكُمْ فَاِنَّ مَنْ ضَیعَ صَلَاتَهُ حُشِرَ مَعَ قَارُونَ وَهامانَ، وَکاَنَ حَقّاً عَلَی اللّٰهِ اَنْ یدْخِلَهُ النّارَ مَعَ الْمُنافِقینَ، فَالْوَیلُ لِمَنْ لَمْ یحافِظْ عَليٰ صَلَاتِهِ وَاَداءِ سُنَّةِنَبِیهِ(۳۳۷)

”اپنی نمازوں کو برباد نہ کرو، بے شک جس نے نماز کو ضایع کیا وہ قارون اور ھامان کے ساتھ محشور ہوگا، اور خداوندعالم اس کو منافقین کے ساتھ جہنم میں ڈال دے گا، پس وائے ہونماز اور سنت پیغمبر کی حفاظت نہ کرنے والے شخص پر !“

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

یعْرَفُ مَنْ یصِفُ الْحَقَّ بِثَلَاثِ خِصالٍ:ینْظَرُ اِليٰ اَصْحابِهِ مَنْ هُمْ؟وَاِليٰ صَلَاتِهِ كَیفَ هِی وَفِی اَی وَقْتٍ یصَلّیها، فَاِنْ كَانَ ذَا مالٍ نُظِرَ اَینَ یضَعُ مالَهُ ؟ “۔(۳۳۸)

”جو شخص حق کی معرفت کا دعويٰ کرے وہ تین خصلتوں کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے، اس کو دیکھا جائے کہ اس کی دوستی کن لوگوں سے ہے، اور اس کی نماز کس طرح کی ہے اور کس وقت پڑھتا ہے، اور اگر مالدار ہے تو اپنی دولت کھاں خرچ کرتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ھمارے شیعوں کو تین چیزوں کے ذریعہ پہچانو: نماز کے اوقات پر، کہ کس طرح اس کے معین وقت پر ادا کرتے ہیں ، دوسرے رازداری میںکہ کس طرح ھمارے دشمنوں سے اسرار کو چھپاتے ہیں ، تیسرے مال و دولت کے سلسلہ میں کہ اپنے دینی بھائیوں سے کس طرح مواسات کرتے ہیں ۔(۳۳۹)

انفاق

جو کچھ خداوندعالم مومنین کو عطا کرتا ہے وہ اس کو راہ خدا میں خرچ کردیتے ہیں ۔

( وَمِمَّا رَزَقْنَاهم ینفِقُونَ ) ۔(۳۴۰)

”اور جو کچھ ھم نے رزق دیا ہے اس میں سے ھماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں “۔

اھل ایمان لوگوں کی مشکلات دور کرنے کے لئے اپنے مال و دولت، مقام، آبرو، عہدہ اور موقعیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور خلوص و محبت کے ساتھ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کو کسی ریاکاری اور کسی احسان کے بغیر خرچ کرتے ہیں ۔

اھل ایمان کی زکوٰة پر توجہ، نماز، روزہ اور حج کی طرح ہوتی ہے، اور مالی واجبات کو نماز کی ادائیگی کی طرح اھمیت دیتے ہیں ۔

اھل ایمان زکوٰة، انفاق، صدقہ اور مومنین کے مدد کرنے میں ذرہ بھی بخل ن ہیں کرتے۔

قرآن مجید نے بھت سی آیات میں لوگوں کو انفاق کا حکم دیا ہے اور اس سلسلہ میں اس قدر اھمیت دی ہے کہ راہ خدا میں انفاق نہ کرنے کوخود اپنے ھاتھوں ھلاکت میں ڈالنے کے برابر مانا ہے۔

( وَانفِقُوا فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَتُلْقُوا بِایدِیكُمْ إِلَی التَّهلكَةِ وَاحْسِنُوا إِنَّ اللهَ یحِبُّ الْمُحْسِنِینَ ) ۔(۳۴۱)

”اور راہ خدا میں خرچ کرو اور اپنے نفس کو ھلاکت میں نہ ڈالو ۔نیک برتاو کرو کہ خدا نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

قرآن مجید نے انفاق نہ کرنے کو انسان کی آخرت خراب ہونے کا باعث بتایا ہے، اور اس کو کفر و ظلم کے برابر قرار دیا ہے، نیز یہ اعلان کرتا ہے کہ جن لوگوں نے انفاق میں بخل سے کام لیا وہ روز قیامت اپنا کوئی دوست یا شفیع ن ہیں پائیں گے۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا انفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ انْ یاتِی یوْمٌ لاَبَیعٌ فِیهِ وَلاَخُلَّةٌ وَلاَشَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هم الظَّالِمُونَ ) (۳۴۲)

”اے ایمان والو ! جو تم ہیں رزق دیا گیا ہے اس میںسے راہ خدا میں خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ تجارت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش ۔اور کافرین ہی اصل میںظالمین ہیں “۔

قرآن مجید انفاق کو انسان کے لئے خیر سمجھتا ہے، اور بخل سے محفوظ رہنے کو فلاح و بھبودی کا باعث مانتا ہے۔

( فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَاطِیعُوا وَانفِقُوا خَیرًا لِانْفُسِكُمْ وَمَنْ یوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَاوْلَئِكَ هم الْمُفْلِحُونَ ) ۔(۳۴۳)

”لہٰذا جھاں تک ممکن ہو اللہ سے ڈرو اور ان کی بات سنو اور اطاعت کرو اور راہ خدا میں خرچ کرو کہ اس میں تمھارے لئے خیر ہے اور جو اپنے ہی نفس کے بخل سے محفوظ ہو جائے وھی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں “۔

قرآن مجید راہ خدا میں انفاق کرنے کا اجز و ثواب ۷۰۰برابر اور اس سے بھی زیادہ شمار کرتا ہے، چنانچہ انفاق کے مسئلہ کو ھماری آنکھوں دیکھی حقیقت سے مثال بیان کی ہے تاکہ اس خداپسند عمل کے سلسلہ میں لوگوں کا ایمان پختہ ہوجائے:

( مَثَلُ الَّذِینَ ینفِقُونَ امْوَالَهم فِی سَبِیلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ انْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِی كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللهُ یضَاعِفُ لِمَنْ یشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ) ۔(۳۴۴)

”جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی م-ثال اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ھر بالی میں سو سو دانے ہوںاور خدا جس کے لئے چاھتا ہے اضافہ بھی کردیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورعلیم و دانا بھی“۔

شب و روز، ظاھر بظاھر اور مخفی طور پر انفاق کرنا ایک ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن کریم نے بھت زور دیاھے، اور یہ ایک خداپسند عمل ہے جس کا اجر بھی خداوندعالم عنایت فرماتا ہے، جس کی بدولت انسان کو موت اور قیامت کا خوف ن ہیں رھتا:

( الَّذِینَ ینفِقُونَ امْوَالَهم بِاللَّیلِ وَالنَّهارِ سِرًّا وَعَلاَنِیةً فَلَهم اجْرُهم عِنْدَ رَبِّهم وَلاَخَوْفٌ عَلَیهم وَلاَهم یحْزَنُونَ ) ۔(۳۴۵)

”جو لوگ اپنے اموال کو راہ خدا میں رات میں ۔دن میں خاموشی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ہیں ان کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ہے اوران ہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ حزن“۔

قرآن مجید نے آیات الٰھی کی تلاوت کرنے، نماز قائم کرنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کو ایسی تجارت قرار دیا ہے جس میں کسی طرح کا کوئی نقصان ن ہیں اور جس میںفائدہ ہی فائدہ ہے:

( إِنَّ الَّذِینَ یتْلُونَ كِتَابَ اللهِ وَاقَامُوا الصَّلَاةَ وَانْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهم سِرًّا وَعَلَانِیةً یرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُور ) ۔(۳۴۶)

”یقینا جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اورا نھوں نے نماز قائم کی ہے اور جو کچھ ھم نے بطور رزق دیا ہے اس میں سے ھماری راہ میں خفیہ اور علانیہ خرچ کیا ہے یہ لوگ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جس میں کسی طرح کی تباھی ن ہیں ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

”تمھارے بدن کے تمام اعضاء و جوارح پر زکوٰة واجب ہے، بلکہ ھر بال اور عمر کے ھر لمحہ پر زکوٰة واجب ہے“۔

آنکھ کی زکوٰة اور اس کا انفاق یہ ہے کہ دوسروں کو عبرت کی نگاہ سے دیکھے اور خدا کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے۔

کان کی زکوٰة یہ ہے کہ انسان علم و حکمت، قرآن اور موعظہ و نصیحت کو سنے، اور ان چیزوں کو سنے جن کے ذریعہ دنیا و آخرت کی نجات شامل ہو خصوصاً جھوٹ، غیبت ا ورتھمت وغیرہ جیسے شیطانی کاموں سے پرھیز کرے۔

زبان کی زکوٰة یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے ساتھ نیکی کرنے، خواب غفلت میں سوئے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور خداوندعالم کی تسبیح و تھلیل کرنے کے لئے اپنی زبان کھولے۔

ھاتھ کی زکوٰة یہ ہے کہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور مال و دولت کو اس کی راہ خرچ کرے، اس سے ایسے مطالب لکھے جس سے مسلمانوں کی فلاح و بھبودی ہو اور لوگوں کو اطاعت خدا پر آمادہ کرے، اور اپنے ھاتھ کو ظلم و ستم اور فساد سے محفوظ رکھے۔

پیروں کی زکوٰة یہ ہے کہ راہ خدا میں اٹ ہیں ، خدا کے حقوق کی ادائیگی میں چلیں، خدا کے مخلص بندوں کی زیارت کے لئے بڑ ہیں ، علمی مجالس میں شرکت کریں، اصلاح معاشرہ اورصلہ رحم کے لئے بڑ ہیں ، اور ایسے کاموں کی طرف اٹ ہیں جن سے دین و دنیا کی اصلاح ہوسکے۔

یہ ایسے مسائل ہیں جن کو ایک انسان انجام دے سکتا ہے، اور سبھی اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تمام چیزوں پر عمل کریں، لیکن وہ تجارت جس سے خدا کے مقرب بندوں کے علاوہ کوئی آگاہ ن ہیں ہے، اس سے ک ہیں زیادہ ہیں کہ ھم شمار کریں، صرف ارباب عمل ہی اس سے آگاہ ہیں ، اولیاء الٰھی کا شعار زکوٰة ِکامل کے سلسلہ میں دوسروں سے بالکل الگ ہے(۳۴۷)

حضرت امام عسکری علیہ السلام قرآن مجید میں بیان ہونے والی آیات میں( وَ آتُوْا الزَّکوٰة ) کے سلسلہ میں فرماتے ہیں :

مال، آبرو اور قدرت بدن کی زکوٰة دینا مراد ہے۔

مال کی نسبت اپنے مومن بھائیوں سے مواسات کرنامراد ہے۔

آبرو کے سلسلہ میں زکوٰة یہ ہے کہ اپنی عزت و آبرو کے ذریعہ اپنے دینی بھائیوں کی مدد کرے اور ان کی مشکلات کو دور کرے۔

طاقت کی زکوٰة انسان کااپنے برادر مومن کی ھر ممکن طریقہ سے مدد کرناھے۔

یہ تمام چیزیں یعنی مال، آبرواور طاقت کی زکوٰة کے ساتھ ساتھ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور پ کے اھل بیت علیھم السلام کی ولایت کا معتقد رہے ، اسی صورت میں خداوندعالم ھمارے اعمال کو پاکیزہ قرار دیتا ہے، اور ان کا چند برابر اجر دیتا ہے کیونکہ یہ عنایت اور توفیق ان حضرات کے لئے ہے جو ولایت محمد و آل محمد(ص) کو قبول کریں اور ان کے دشمنوں سے بیزار ر ہیں ۔(۳۴۸)

حضرت امیر المومنین علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت فرماتے ہیں :

قِراءَ ةُ الْقُرآنِ فِی الصَّلاةِ اَفْضَلُ مِنْ قِراءَ ِة الْقُرآنِ فِی غَیرِالصَّلاةِ، وَذِكْرُاللّٰهِ اَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ، وَالصَّدَقَةُ اَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ(۳۴۹)

”نماز میں قرآن پڑھنا غیر نماز میں پڑھنے سے بھتر ہے، اور زندگی کے تمام حالات میں یاد خدا کرنا صدقہ دینے سے بھتر ہے، اور صدقہ روزہ سے افضل ہے، اور روزہ آتش جہنم کے لئے سپر اور ڈھال ہے“۔

امام زین العابدین علیہ السلام حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں :

”بے شک جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے اوپر سے نئے لباس نکلتے ہیں ، اور اس کے نیچے سے خاکستری رنگ کے گھوڑے نکلتے ہیں ، جن پر زین اور لگام ہوتے ہیں ، ان گھوڑوں کے پر ہوتے ہیں ! وہ پیشاب پاخانہ ن ہیں کرتے، ان پر اولیاء الٰھی سوار ہوتے ہیں اور جنت میں جھاں جانا چا ہیں جاتے ہیں ۔

ان میں سے کم ترین درجہ والے افراد بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے: پالنے والے! کس چیز کی وجہ سے تیرے بندے اس عظیم مرتبہ پر پہنچے ہیں ؟ اس وقت خداوندعالم جواب دے گا: نماز شب، روزہ، دشمن سے بے خوف جھاد، اور راہ خدا میں صدقہ دینے میں بخل نہ کرنے کی وجہ سے یہ لوگ اس عظیم مرتبہ پر پہنچے ہیں “(۳۵۰)

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اَلا وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَلَهُ بِوَزْنِ كُلِّ دِرْهَمٍ مِثْلُ جَبَلِ اُحُدٍ مِنْ نَعِیمِ الْجَنَّةِ؛(۳۵۱)

”آگاہ ہوجاؤ! کہ جس شخص نے بھی راہ خدا میں صدقہ دیا تو اس کے ھر درھم کے بدلے جنت میں کوہ احد کے برابر نعمتیں ملیں گی“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کے متعلق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں :

كُلُّ مَعْروفٍ صَدَقَةٌ، وَالدَّالُّ عَلَی الْخَیرِ كَفَاعِلِهِ، وَاللّٰهِ یحِبُّ اِغاثَةَ اللَّهْفانِ(۳۵۲)

”ھر نیک کام صدقہ ہے، اور ھر خیر کے لئے رہنما ہے جیسے خود اس کا فاعل ہو، خداوندعالم صاحب حزن و ملال کی فریاد کو سنتا ہے“۔

صدقہ و انفاق کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب و اقعہ

حضرت امام موسيٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں : امام صادق علیہ السلام ایک قافلہ کے ساتھ ایک بیابان سے گزر رہے تھے۔ اھل قافلہ کو خبردار کیا گیا کہ راستے میں چور بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اھل قافلہ اس خبر کو سن کر پریشان اور لرزہ براندام ہوگئے۔ اس وقت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا ہوا؟ تو لوگوں نے بتایا کہ ھمارے پاس (بھت) مال و دولت ہے اگر و ہ لوٹ گیا تو کیا ہوگا؟! کیا آپ ھمارے مال کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں تاکہ چور آپ کو دیکھ کر وہ مال آپ سے نہ لوٹیں۔ آپ نے فرمایا: تم ہیں کیا خبر شاید وہ ھمیں ہی لوٹنا چاھتے ہوں؟ تو پھر اپنے مال کو میرے حوالے کرکے کیوں ضایع کرنا چاھتے ہو، اس وقت لوگوں نے کھا: تو پھر کیا کریں کیا مال کو زمین میں دفن کردیا جائے؟ آپ نے فرمایا: ن ہیں ایسا نہ کرو کیونکہ اس طرح تو مال یونھی برباد ہوجائے گا، ہوسکتا ہے کہ کوئی اس مال کو نکال لے یا پھر دوبارہ تم اس جگہ کو تلاش نہ کرسکو۔ اھل قافلہ نے پھر کھا کہ تو آپ ہی بتائےے کیاکریں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کو کسی کے پاس امانت رکھ دو، تاکہ وہ اس کی حفاظت کرتا رہے ، اور اس میں اضافہ کرتا رہے ، او رایک درھم کو اس دنیا سے بزرگ تر کردے اور پھر وہ تم ہیں واپس لوٹادے، اور اس مال کو تمھارے ضرورت سے زیادہ عطا کرے!!

سب لوگوں نے کھا: وہ کون ہے؟ تب امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ”ربّ العالمین“ ہے۔ لوگوں نے کھا: کس طرح اس کے پاس امانت رک ہیں ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: غریب اور فقیر لوگوں کو صدقہ دیدو۔ سب نے کھا: ھمارے درمیان کوئی غریب یا فقیر ن ہیں ہے جس کو صدقہ دیدیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: اس مال کا ایک تھائی حصہ صدقہ کی نیت سے الگ کرلو تاکہ خداوندعالم چوروں کی غارت گری سے محفوظ رکھے، سب نے کھا: ھم نے نیت کرلی۔ اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:

فَانْتُمْ فِی امَانِ الله فَامْضُوْا “۔

”پس (اب) تم خدا کی امان میں ہو لہٰذا راستہ چل پڑو“۔

جس وقت قافلہ چل پڑا راستہ میں چوروں کا گروہ سامنے دکھائی دیا، اھل قافلہ ڈرنے لگے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: (اب) تم کیوں ڈررہے ہو؟ تم لوگ تو خدا کی امان میں ہو۔ چور آگے بڑھے اور امام علیہ السلام کے ھاتھوں کو چومنے لگے اور کھا: ھم نے کل رات خواب میں رسول اللہ کو دیکھا ہے جس میں آنحضرتنے فرمایا: کہ تم لوگ اپنے کو آپ کی خدمت میں پیش کرو۔ لہٰذا اب ھم آپ کی خدمت میں ہیں تاکہ آپ اور آپ کے قافلہ والوں کوچوروں کے شر سے محفوظ رک ہیں ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تمھاری کوئی ضرورت ن ہیں ہے جس نے تم لوگوں کے شر کو ھم سے دور کیا ہے وہ دوسرے دشمنوں کے شر کو ھم سے دور کرے گا۔ اھل قافلہ صحیح و سالم شھر میں پہنچ گئے؛ سب نے ایک سوم مال غریبوں میں تقسیم کیا، ان کی تجارت میں بھت زیادہ برکت ہوئی، ھر ایک درھم کے دس درھم بن گئے، سب لوگوں نے تعجب سے کھا:واقعاً کیا برکت ہے؟

امام صادق علیہ السلام نے اس موقع پر فرمایا:

”اب جبکہ تم ہیں خدا سے معاملہ کرنے کی برکت معلوم ہوگئی ہے تو تم اس پر ھمیشہ عمل کرتے رہنا“(۳۵۳)

امام جواد علیہ السلام کے نام امام رضا علیہ السلام کا ایک اھم خط

بزنطی جوشیعہ دانشور راوی اور امام رضا علیہ السلام کے معتبر او رمطمئن صحابی ہیں ، بیان کرتے ہیں : میں نے اس خط کو پڑھا ہے جو امام رضا علیہ السلام نے خراسان سے حضرت امام جواد (محمد تقی) علیہ السلام کو مدینہ بھیجا تھا، جس میں تحریر تھا:

مجھے معلوم ہوا ہے کہ جب آپ بیت الشرف سے باھر نکلتے ہیں اور سواری پر سوار ہوتے ہیں تو خادمین آپ کو چھوٹے دروازے سے باھر نکالتے ہیں ، یہ ان کا بخل ہے تاکہ آپ کا خیر دوسروں تک نہ پہنچے، میں بعنوان پدر اور امام تم سے یہ چاھتاھوں کہ بڑے دروازے سے رفت و آمد کیا کریں، اور رفت و آمد کے وقت اپنے پاس درھم و دینار رکھ لیا کریں تاکہ اگر کسی نے تم سے سوال کیا تو اس کو عطا کردو، اگر تمھارے چچا تم سے سوال کریں تو ان کو پچاس دینار سے کم نہ دینا، اور زیادہ دینے میں خود مختار ہو، اور اگر تمھاری پھوپھیاں تم سے سوال کریں تو ۲۵ درھم سے کم ن ہیں دیں اگر زیادہ دینا چا ہیں تو تم ہیں اختیار ہے۔ میری آرزو ہے کہ خدا تم کو بلند مرتبہ پر فائز کرے، لہٰذا راہ خدا میں انفاق کرو، اور خدا کی طرف سے تنگدسی سے نہ ڈرو!(۳۵۴)

قارئین کرام! اس حقیقت پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید نے بھت سی آیات میں اس صدقہ سے منع کیا ہے جس میں دوسروں پر منت اور احسان یا اس میں اذیت پائی جاتی ہو، صدقہ و خیرات صرف اور صرف رضائے الٰھی کے لئے ہونا چاہئے، اور صدقہ لینے والے دوسروں کی منت اور احسان جتانے کی شرمندگی سے محفوظ ر ہیں ، ورنہ تو وہ صدقہ باطل ہوجائے گا او رخدا کی نظر میں اس کا کوئی اجر و ثواب ن ہیں ہوگا۔

( الَّذِینَ ینفِقُونَ امْوَالَهم فِی سَبِیلِ اللهِ ثُمَّ لاَیتْبِعُونَ مَا انفَقُوا مَنًّا وَلاَاذًی لَهم اجْرُهم عِنْدَ رَبِّهم وَلاَخَوْفٌ عَلَیهم وَلاَهم یحْزَنُونَ ) ۔(۳۵۵)

”جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد احسان ن ہیں جتاتے اور اذیت بھی ن ہیں دیتے ان کے لئے پروردگار کے یھاں اجر بھی ہے اور ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے نہ حزن“۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا لاَتُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاذَی ) ۔(۳۵۶)

”اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو منت گذاری اور اذیت سے برباد نہ کرو“۔

بھر حال نماز، انفاق اور معنوی زیبائیوں میں سے جو کچھ بھی خداوندعالم نے انسان کو عطا فرمایا ہے، اورگناھوں سے توبہ و استغفار کے بعد ظاھر و باطن کے اصلاح کرنے کے راستہ ہیں ۔

غیب پر ایمان رکھنا، نماز کا قائم کرنا، خدا داد نعمتوں میں سے اس کی راہ میں خرچ کرنا، قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں اور آخرت پر یقین وایمان جیسا کہ گزشتہ صفحات میں وضاحت کی گئی ہے ؛ یہ تمام ایسے حقائق ہیں کہ جس انسان میں بھی پائے جائیں وہ راہ ہدایت پر ہے اور دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہے۔

( اوْلَئِكَ عَلَی هُدًی مِنْ رَبِّهم وَاوْلَئِكَ هم الْمُفْلِحُونَ ) ۔(۳۵۷)

”یھی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت کے حامل ہیں اور فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں “۔

بعض اھل تحقیق جیسے راغب اصفھانی کے نزدیک فلاح و بھبودی کے معنی یہ ہیں : فلاح یعنی ایسی زندگی جس میںموت نہ ہو، ایسی عزت جس میں ذلت نہ ہو، ایسا علم جس میں جھالت کا تصور نہ ہو، ایسی ثروت جھاں فقر و تنگدستی نہ ہو، اور یہ فلاح آخرت میں مکمل طریقہ سے ان انسانوں کو نصیب ہوگی جو لوگ غیب( خدا، فرشتے، برزخ، محشر، حساب، میزان اور جنت و دوزخ) پر ایمان رکھتے ہوں، نماز قائم کرتے ہوں، زکوٰة ادا کرتے ہوں، صدقہ و انفاق کرتے ہوں، قرآن او ردیگر آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہوں اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں۔

یہ بات بھی معلوم ہونا چاہئے کہ انسان کو بارگاہ الٰھی میں مقبول ہونے کے لئے صرف گناھوں سے توبہ کرنا اور گناھوں سے دوری کرلینا کافی ن ہیں ہے بلکہ قرآن کریم کی آیات کے پیش نظر جن میں سے بعض کو آپ حضرات نے گزشتہ صفحات میں ملاحظہ فرمایا ہے، توبہ کے بعد اپنی حالت، اقوال اور اعمال کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہئے کہ عمل صالح، اخلاق حسنہ اور معنوی زیبائیوں کی طرف توجہ کے ذریعہ اپنی توبہ کو کامل کرے اور اپنے گزشتہ کی تلافی کرے اور برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے۔

( إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاوْلَئِكَ یبَدِّلُ اللهُ سَیئَاتِهم حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا ) ۔(۳۵۸)

”علاوہ اس شخص کے جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل بھی کرے، تو پروردگار اس کی برائیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کردے گا اور خدا بھت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

عمل صالح اور اخلاق حسنہ کے سلسلہ میں جو گناھوں سے توبہ کے بعدظاھر و باطن کے اصلاح کے اسباب میں سے ہے، قرآن مجید ماں باپ، رشتہ دار، یتیموں اور مسکینوںکے ساتھ نیکی اور احسان، تمام لوگوں کے ساتھ نیک گفتار، نماز قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے کا حکم دیتا ہے، چونکہ ھمارا ارادہ یہ ہے کہ لازمی حد تک قرآن مجید اور احادیث سے مدد لیتے ہوئے معنوی زیبائیوں کو بیان کریں تاکہ ھماری حالت اور عمل کی اصلاح ہوسکے، کچھ چیزیں گزشتہ صفحات میں بیان ہوچکی ہیں ان کی تکرار کی ضرورت ن ہیں ہے، صرف ھر آیت کے ذیل میں نئے اور جدید مطلب کی وضاحت کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں ، عزیز قارئین ! اب آپ قرآن مجید کی روشنی میں اخلاقی واقعیات کی طرف توجہ فرمائیں:

( لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ اللهَ وَبِالْوَالِدَینِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبَی وَالْیتَامَی وَالْمَسَاكِینِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَاقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ) ۔(۳۵۹)

”خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ، قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا۔لوگوں سے اچھی باتیں کرنا ۔نماز قائم کرنا۔ زکوٰة ادا کرنا“۔

گزشتہ صفحات میں عبادت خدا اور احکام الٰھی کی فرمانبرداری کے عنوان سے نمازاور انفاق کے سلسلہ میں لازمی حد تک وضاحت کی گئی ہے لہٰذا مذکورہ آیت کے ذریعہ ماں باپ، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیکی اور احسان، نیز دوسرے لوگوں کے ساتھ نیک گفتار کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کرتے ہیں :

ماں باپ کے ساتھ نیکی

قرآن مجید کی متعدد آیات نے تمام لوگوں کو خدا کی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کا حکم دیا ہے، اس حکم سے شرعی اور اخلاقی وجوب کی بُوآتی ہے، یہ ایک ایسا حکم ہے جس کی اطاعت خدا کی عین بندگی اور عبادت ہے اور اس کی مخالفت گناہ و معصیت اور روز قیامت کے عذاب کا باعث ہے۔

خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:

( وَاعْبُدُوا اللهَ وَلاَتُشْرِكُوا بِهِ شَیئًا وَبِالْوَالِدَینِ إِحْسَانًا ) ۔(۳۶۰)

”اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی شئے کو اس کا شریک نہ بناو اور والدین کے ساتھ نیک برتاوکرو“۔

ماں باپ کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا ان زحمتوں اور احسان کی تلافی ہے جس کو ان دونوں نے اپنی اولاد کے ساتھ کیا ہے، جنھوں نے پیدائش کے وقت سے اب تک کسی بھی طرح کے احسان اور زحمت سے دریغ ن ہیں کیا۔

انھوں نے تمام مقامات پر اپنی اولاد کو اپنے اوپر مقدم کیا، ان کے سلسلہ میں ایثار کیا قربانیاں دیں اور اپنی طرف سے درگزر کیا، بلاؤں کے طوفان اور سخت سے سخت حالات میں اولاد کی حفاظت کی، اور اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہوئے اپنی آغوش میں بٹھایا، اولاد کے چین و سکون کے لئے راتوں جاگتے رہے ، اور سخت سے سخت حالات کی تلخیوں کو خوش ہوکر برداشت کیا، اس کی تربیت میں بھت سی مصیتیں برداشت کیں، اور اپنے خون جگر سے ان کو غذا دی، بھت سی سختیوں اور پریشانیوں کو تحمل کیا تاکہ اولاد کسی مقام پر پہنچ جائے، لہٰذا اب اولاد کی ذمہ داری ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی اور احسان کرکے ان کی زحمتوں کے ایک معمولی سے حصہ کی تلافی کرے۔

( وَقَضَی رَبُّكَ الاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیاهُ وَبِالْوَالِدَینِ إِحْسَانًا إِمَّا یبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ احَدُهما اوْ كِلَاهما فَلاَتَقُلْ لَهما افٍّ وَلاَتَنْهرهما وَقُلْ لَهما قَوْلًا كَرِیمًا وَاخْفِضْ لَهما جَنَاحَ الذُّلِّ مِنْ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهما كَمَا رَبَّیانِی صَغِیرًا ) ۔(۳۶۱)

”اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاو کرنا اور اگر تمھارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو خبر دار ان سے اف نہ کہنا اور ان ہیں جھڑکنا بھی ن ہیں اور ان سے ھمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا ۔اور ان کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دینا اور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا کہ پروردگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح کہ انھوں نے پچپن میں مجھے پالا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ماں باپ کے سلسلہ میں جس احسان کی سفارش ہوئی ہے اس سے کیا مراد ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ان کے ساتھ نیکی اور بھلائی کے ساتھ زندگی کرو، ان کو مجبور نہ کرو کہ وہ تم سے کسی چیز کا سوال کریں اگرچہ وہ بے نیاز ہوں، بلکہ ان کے کہنے سے پھلے ہی ان کی ضرورتوں کو پورا کردو، کیا خداوندعالم نے قرآن مجید میں ن ہیں فرمایا ہے:

( لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ) ۔(۳۶۲)

”تم نیکی کی منزل تک ن ہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ دا میں انفاق نہ کرو“۔

ان کو ”اُف“ تک نہ کھو، اور ان کو اپنے سے دور نہ کرو، ان کو مایوس نہ کرو، اگر ان کی وجہ سے تم کو کوئی پریشانی ہے بھی تو اس کو برداشت کرو اور اپنی زبان پر کوئی ایسا لفظ نہ لاؤ جس سے وہ ناراحت ہوں، اگر انھوں نے تم ہیں مارنے کے لئے ھاتھ اٹھایا یا تم کو مار بھی دیا ہو تو صبر کرو، اور ان سے جدا نہ ہوں، اور ایسی حالت میں ان سے کھو: خداوندعالم تم سے درگزر فرمائے، اور اپنی مغفرت میں جگہ عنایت فرمائے، کہ”قول کریم“ سے مراد یھی ہے، پیار اور محبت بھری نگاھوں سے ان کی طرف دیکھا کرو، مھربانی کی نگاہ کے علاوہ ان کو نہ دیکھو، اپنی آواز کو ان کی آواز سے بلندتر نہ کرو، ان کے ھاتھ سے اپنا ھاتھ اوپر نہ اٹھاؤ، اور ان کے چلتے ہوئے ان سے آگے آگے نہ چلو(۳۶۳)

حضرت امام صادق علیہ السلام نیکی اور احسان کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر خداوندعالم کے نزدیک ”اُف“ سے کمتر کوئی لفظ ہوتا تو اولاد کو اپنے ماں باپ کے لئے کہنے سے منع فرماتا۔ نیز اولاد کو یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ عاق کا سب سے کم درجہ ماں باپ کے لئے لفظ ”اُف“ کا استعمال کرنا ہے۳(۶۴)

کتاب شریف”کافی“ میں روایت بیان ہوئی ہے کہ ماں باپ کی طرف ترچھی نگاھوں سے دیکھنا (بھی) عاق کا ایک مرحلہ ہے!۔(۳۶۵)

ایک شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا: اولاد پر باپ کا حق کیا ہے؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”لَا یسَمِّیهِ بِاسْمِهِ، وَلَا یمْشی بَینَ یدَیهِ، وَلَا یجْلِسُ قَبْلَهُ، وَلَا یسْتَسِبُّ لَهُ(۳۶۶)

”باپ کا نام لے کر نہ پکارے، اس کے آگے نہ چلے، اس کی طرف پیٹھ کرکے نہ بیٹھے اور اپنے برے کاموں کے ذریعہ اپنے بے گناہ باپ کو ذلیل و رسوا نہ کرے“۔

ایک روایت میں بیان ہوا ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین بار فرمایا: ذلیل و رسوا ہو، اصحاب نے سوال کیا: یا رسول اللہ! آپ کس کے بارے میں فرمارہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: جس کے ماں باپ ضعیف العمر ہوں اوروہ ان کے ساتھ نیکی و احسان نہ کرکے بہشت میں داخل نہ ہو۔(۳۶۷)

جناب حذیفہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا: میرا باپ مشرکین کی طرف سے میدان جنگ میں آیا ہوا ہے کیا آپ مجھے اس پر حملہ کرنے اوراس کو قتل کرنے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ن ہیں ، تم یہ کام نہ کرو، کوئی دوسرا اس سے مقابلہ کرے(۳۶۸)

تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہے:

افْضَلُ والِدَیكُمْ وَاَحَقُّهُما بِشُكْرِكُمْ مُحَمَّدٌ صلی الله علیه و آله و سلم وَعَلِی علیه السلام(۳۶۹)

”تمھارا سب سے بھترین باپ اور تمھارے شکریہ کے سزاوار ترین ذات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور علی علیہ السلام ہیں “۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے:

اَنَا وَ عَلَی اَبَوَاهٰذِهِ الْاُمَّةِ، وَلَحَقُّنا عَلَیهِمْ اَعْظَمُ مِنْ حَقِّ اَبَوَی وِلَادَتِهِمْ فَاِنَّا نُنْقِذُهُمْ اِنْ اَطاعونا مِنَ النّارِ اِليٰ دَارِالْقَرارِ، وَنُلْحِقُهُمْ مِنَ الْعُبودِیةِ بِخِیارِ الْاَحْرارِ(۳۷۰)

”میں اور علی دونوں اس امت کے باپ ہیں ، بے شک ھمارا حق اس باپ سے بھی زیادہ ہے جو اسے دنیا میں لانے کا سبب بنا، ھم اس امت کو آتش جہنم سے نجات دیتے ہیں اگر ھماری اطاعت کریں، اور ان کو جنت میں پہنچادیں گے اگر ھمارے حکم پر عمل کرے، اور ان کو عبادت کے سلسلہ میں منتخب بندوں سے ملحق کردیں گے“۔

رشتہ داروں سے نیکی کرنا

رشتہ داروں سے مراد ماں باپ کے حسبی اور نسبی رشتہ دار مراد ہیں ۔

انسان کا چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ، اولاد، داماد، بھو اور اولاد کی اولاد رشتہ دار کھلاتے ہیں ۔

بھائی، بہن، بھتیجے، بھانجے، داماد اور بھوویں اور ھر وہ شخص جو نسبی یا سببی رشتہ رکھتا ہو انسان کے رشتہ دار حساب ہوتے ہیں ۔

ان کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی یہ ہے کہ ان سے ملاقات کرے، ان کی مشکلات کو دور کرے اور ان کی حاجتوں کو پورا کرے۔

رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم اور نیکی کرنا خداوندعالم کا حکم اور ایک اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، جس کا اجر ثواب عظیم اور اس کا ترک کرنا عذاب الیم کا باعث ہے۔

قرآن مجید نے پیمان شکنی، قطع تعلق اور زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے کو خسارہ اور گھاٹااٹھانے والوں میں شمار کیا ہے:

( الَّذِینَ ینقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِهِ وَیقْطَعُونَ مَا امَرَ اللهُ بِهِ انْ یوصَلَ وَیفْسِدُونَ فِی الْارْضِ اوْلَئِكَ هم الْخَاسِرُونَ ) ۔(۳۷۱)

”جو خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یھی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ والے ہیں “۔

رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا ایک غیر شرعی عمل ہے اگرچہ انھوںنے کسی کو رنجیدہ خاطر بھی کیا ہو۔

رشتہ داروں کے یھاں آمد و رفت، ایک خداپسند عمل اور اخلاق حسنہ کی نشانی ہے۔

اگر چہ انسان کے بعض رشتہ دار دین و دینداری سے دور ہوں اور حق و حقیقت کے مخالف ہوں لیکن اگر ان کی ہدایت کی امید ہو تو ان کی نجات کے لئے قدم اٹھانا چاہئے اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے لئے ان کے یھاں رفت و آمد کرنا چاہئے۔

صلہ رحم کے سلسلہ میں بھت سی اھم روایات رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے بیان ہوئیں ہیں جن کے حکیمانہ مطالب پر توجہ کرنا ھر مومن پر لازم و واجب ہے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بھت سی اھم روایات صلہ رحم کے سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں جو واقعاً بھت ہی اھم ہیں :

اِنَّ اَعْجَلَ الْخَیرِ ثَواباً صِلَةُ الرَّحِمِ “۔

”بے شک ثواب کی طرف تیزی سے جانے والا کار خیر صلہ رحم ہے“۔

صِلَةُ الرَّحِمِ تُهَوِّنُ الْحِسابَ، وَتَقی میتَةَ السُّوءِ “۔

”صلہ رحم کے ذریعہ روز قیامت میں انسان کا حساب آسان ہوجاتا ہے، اور بُری موت سے محفوظ رھتا ہے“۔

صِلُوا اَرْحَامَكُمْ فِی الدُّنْیا وَلَوْ بِسَلامٍ “۔

”دنیا میں صلہ رحم کی رعایت کرو اگرچہ ایک سلام ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو“۔

صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَاَحْسِنْ اِليٰ مَنْ اَساءَ اِلَیكَ، وَقُلِ الْحَقَّ وَلَوْعَليٰ نَفْسِكَ “۔

”جن رشتہ داروں نے تجھ سے قطع تعلق کیا ہے اس کے ساتھ صلہ رحم کرو، اور جس نے تمھارے ساتھ بدی کی ہے اس کے ساتھ نیکی کرو، نیز ھمیشہ سچ بات کھو چاھے تمھارے نقصان میں تمام ہو“۔

اِنَّ الرَّجُلَ لَیصِلُ رَحِمَهُ وَقَدْ بَقِی مِنْ عُمُرِهِ ثَلاثُ سِنینَ فَیصَیرُهَا اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ ثَلاثینَ سَنَةً، وَیقْطَعُها وَقَدْ بَقِی مِنْ عُمُرِهِ ثَلاثُونَ سَنَةً فَیصَیرُهَا اللّٰهُ ثَلاثَ سِنینَ [۱۲۴]ثُمَّ تَلا :( یمْحُوا اللهُ مَا یشَاءُ وَیثْبِتُ وَعِنْدَهُ امُّ الْكِتَابِ ) ۔(۳۷۲)

”بے شک جب انسان صلہ رحم کرتا ہے تو اگرچہ اس کی عمر کے تین سال باقی رہ گئے ہوں تو خداوندعالم اس کی عمر تیس سال بڑھادیتا ہے، اور جو شخص رشتہ داروں سے قطع تعلق کرتا ہے اگرچہ اس کی عمر تیس سال باقی رہ گئی ہو توبھی خداوندعالم اس کی عمر تین سال کردیتا ہے، اس کے بعد (امام علیہ السلام نے) مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کی:( خداوندعالم جس چیز کو چاھے مٹادے اور جس چیز کو چاھے لکھ دے) “۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:

وَاكْرِمْ عَشِیرَتَكَ فَاِنَّهُمْ جَناحُكَ الَّذِی بِهِ تطیر، وَاَصْلُكَ الَّذِی اِلَیهِ تَصیرُ، وَیدُكَ الَّذِی بِها تَصولُ(۳۷۳)

”اپنے رشتہ داروں کے ساتھ لطف و کرم کرو، وہ تمھارے بال و پر ہیں جن کے ذریعہ تم پرواز کرسکتے ہو، اور وھی تمھاری اصل ہیں کہ ان کی طرف پلٹ جانا ہے، نیز تمھاری طاقت ہیں کہ ان ہیں کے ذریعہ اپنے دشمنوں پر حملہ کرسکتے ہو“۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام فرماتے ہیں : جناب موسيٰ علیہ السلام نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کیا:

فَما جَزاءُ مَنْ وَصَلَ رَحِمَهُ قَالَ:یا مُوسيٰ اُنْسِی ءُ لَهُ اَجَلَهُ، وَاُهَوِّنَ عَلَیهِ سَكَراتِ الْمَوْتِ(۳۷۴)

”خداوندا! صلہ رحم کرنے والے کی جزا کیا ہے؟ جواب آیا: اس کی موت دیر سے بھیجوں گا، اور اس کے لئے موت کی سختیوں کو آسان کردوں گا“۔

__ __________________

۲۶۴. سورہ انعام، آیت ۵۴۔

۲۶۵. سورہ انعام، آیت ۵۴۔

۲۶۶. سورہ بقرہ، آیت ۳۔۵۔

۲۶۷. سورہ ابراھیم، آیت ۱۰۔

۲۶۸. سورہ بقرہ، آیت ۲۱۔۲۲۔

۲۶۹. سورہ بقرہ، آیت ۲۱۔

۲۷۰. توحید مفضل :۳۹؛بحارالانوار، ج۳، ص۵۷، باب ۴، حدیث۱۔۸.جاء اعرابی الی النبی صلی الله علیه و آله و سلم فقال:یا رسول الله !علمنی من غرائب العلمقال:ما صنعت فی راس العلم حتی تسال عن غرائبهقال الرجل :ما راس العم یا رسول الله ؟قال:معرفة الله حق معرفته قال الاعرابی:وما معرفة الله حق معرفته؟قال:تعرفه بلا مثل و لاشبه ولاند، وانه واحد احد ظاهر باطن اول آخرلاکفو له ولا نظیر فذلک حق معرفته ۔

۲۷۱. سورہ طہ، آیت ۱۱۱۔

۲۷۲. سورہ بقرہ، آیت ۱۶۳۔

۲۷۳. سورہ بقرہ، آیت ۹۸۔

۲۷۴. سورہ نساء، آیت ۱۳۶۔

۲۷۵. نہج البلاغہ، ترجمہ علامہ جوادی علیہ الرحمہ، ص ۳۱۔

۲۷۶. سورہ مومنون، آیت ۹۹۔۱۰۰۔

۲۷۷. آل عمران، آیت ۱۶۹۔

۲۷۹. سورہ آل عمران، آیت ۲۵۔

۲۸۰. سورہ آل عمران، آیت ۱۵۸۔

۲۸۱. سورہ مائدہ، آیت ۹۶۔

۲۸۲. سورہ انعام، آیت ۱۲۔

۲۸۳. سورہ انعام، آیت ۳۶۔

۲۸۴. سورہ توبہ آیت ۹۴۔

۲۸۵. سورہ مومنون آیت ۱۵۔۱۶۔

۲۸۶. سورہ قیامت آیت ۱۔۴۔

۲۸۷. تفسیر قمی ج۲، ص۲۵۳، کیفیة نفخ الصور؛بحار الانوار ج۷، ص۳۹، باب ۳، حدیث۸۔۳۲.عن ابی جعفر علیه السلام قال:کان فیما وعظ به لقمان علیه السلام ابنه ان قال :یا بنی!ان تک فی شک من الموت فارفع عن نفسک النوم، ولن تستطیع ذلک، وان کنت فی شک من البعث فارفع عن نفسک الانتباه، ولن تستطیع ذلکفانک اذا فکرت فی هذا علمت ان نفسک بید غیرک، وانما النوم بمنزلة الموت، وانما الیقظة بعد النوم بمنزلة البعث بعد الموت ۔

۲۸۸. تفسیر نوین، ص : ۱۹۔

۲۸۹. سورہ یس آیت ۷۷۔۷۹۔

۲۹۰. سورہ یس آیت ۷۹۔((قُلْ یحْییها الَّذِی انشَاها اوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ ))

۲۹۱. سورہ بقرہ آیت ۲۸۴۔

۲۹۲. سورہ طہ آیت ۵۲۔

۲۹۳. تفسیر نمونہ ج۱۸، ص۴۵۶۔

۲۹۴. سورہ بقرہ آیت ۲۰۱۔۲۰۲۔

۲۹۵. سورہ انعام آیت ۶۲۔

۲۹۶. سورہ انشقاق آیت ۷۔۸۔

۲۹۷. اما لی صدوق :۳۹، مجلس ۱۰، حدیث ۹؛بحار الانوار ج۷، ص۲۵۸، باب ۱۱، حدیث ۱۔۴۳.عن ابی جعفر علیه السلام قال :قلت له: یاابن رسول الله ان لی حاجة، فقال:تلقانی بمکةفلقت :یا ابن رسول الله!ان لی حاجة فقال تلقانی بمنی، فقلت :یا ابن رسول الله !ان لی حاجة فقال:هات حاجتک فقلت یاابن رسول الله !انی اذنبت ذنبا بینی وبین الله لم یطلع علیه احد فعظم علی واجلک ان استقبلک بهفقال:انه اذاکان یوم القیامة وحاسب الله عبده المومن اوقفه علی ذنوبه ذنبا ذنبا، ثم غفر ها له لا یطلع علی ذلک ملکا مقربا ولا نبیا مرسلا ۔

۲۹۸. امالی طوسی ص۲۱۲، مجلس ۸، حدیث ۳۶۹؛بحار الانوار ج۷، ص۲۶۲، باب ۱۱، حدیث ۱۴۔

۲۹۹.عن یونس بن عمار، قال:قال ابو عبد الله علیه السلام :ان الدواوین یوم القیامة دیوان فیه النعم ودیوان فیه الحسنات، ودیوان فیه السیئات، فیقابل بین دیوان النعم ودیوان الحسنات، فتسغرق النعم دیوان الحسنات ویبقی دیوان السیئات، فیدعا ابن آدم المومن للحساب فیتقدم القرآن امامه فی احسن صورة فیقول:یارب !انا القرآن وهذا عبدک المومن قدکان یتعب نفسه بتلاوتی، و یطیل لیله بترتیلی، و تفیض عیناه اذا تهجد، فارضه کما ارضانی، قال:فیقول العزیز الجبار:ابسط یمینک فیملوها من رضوان الله العزیز الجبار، ویملا ٴشماله من رحمة الله ثم یقال:هذه الجنة مباحة لک، فاقرا واصعد فاذا قرا آیة صعد درجة

۳۰۰. سورہ آل عمران آیت ۱۹۔

۳۰۱. سورہ رعد آیت ۱۸۔

۳۰۲. سورہ طلاق آیت ۸۔

۳۰۳. سورہ غاشیہ آیت ۲۳۔۲۶۔

۳۰۴. سورہ اسراء آیت ۳۶۔(ترجمہ آیت:”سماعت، بصارت اور قوت قلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“

۳۰۵. تفسیر عیاشی ج۲، ص۲۹۲، حدیث ۷۵؛بحار الانوار ج۷، ص۲۶۷، باب ۱۱، حدیث ۳۰۔

۳۰۶. کافی ج۸، ص۱۰۴، حدیث ابی بصیر مع المراة، حدیث۷۹؛بحار الانوار ج۷، ص۲۷۰، باب۱۱، حدیث۳۵۔

۳۰۷. سورہ نساء آیت ۴۸۔۵۴.الا وان الظلم ثلاثة :فظلم لا یغفر، وطلم لا یترک، و ظلم مغفور لا یطلب فاما الظلم الذی لا یغفر :فالشرک بالله قال الله سبحانه ( إ ِنَّ اللهَ لاَیغْفِرُ انْ یشْرَكَ بِه ) واما الظلم الذی یغفر:فظلم العبد نفسه عند بعض الهناتوا ما الظلم الذی لا یترک :فظلم العباد بعضهم بعضا القصاص هناک شدید الیس هو جرحا بالمدی ولا ضربا بالسیاط ولکنه ما یستصغر ذلک معه ۔

۳۰۸. علل الشرایع ج۲، ص۵۲۸، باب ۳۱۲، حدیث۶؛بحار الانوارج۷، ص۲۷۴، باب۱۱، حدیث۴۶۔

۳۰۹. سورہ اعراف آیت ۸۔

۳۱۰. سورہ انبیاء آیت ۴۷۔

۳۱۱. معانی الاخبار ص۳۱، حدیث ۱؛بحار الانوار ج۷، ص۲۴۹، باب ۱۰، حدیث۶۔

۳۱۲. سورہ اعراف آیت ۸۔۹۔

۳۱۳. سورہ انبیاء آیت ۴۷۔

۳۱۴. سورہ قارعہ آیت ۶۔۱۱۔

۳۱۵. اما لی صدوق :۱۰، مجلس ۳، حدیث۳؛خصال ج۲، ص۳۶۰، حدیث ۴۹؛بحار الانوار ج۷، ص۲۴۸، باب ۱۰، حدیث ۲۔

۳۱۶. کافی ج۲، ص۹۹، باب حسن الخلق، حدیث۲؛بحار الانوار ج۷، ص۲۴۹، باب۱۰، حدیث۷۔

۳۱۷. عیون اخبار الرضا ج۲، ص۱۲۵، باب ۳۵، حدیث ۱؛بحار الانوار ج۷، ص۲۴۹، باب۱۰، حدیث۵۔

۳۱۸. سورہ مائدہ آیت ۱۱۹۔

۳۱۹. سورهٴ یونس آیت ۲۷۶۷. عن ابی جعفر علیه السلام قال:اذا کان یوم القیامة امر الله تبارک و تعالی منادیا ینادی بین یدیه: این الفقراء ؟فیقوم عنق من الناس کثیر، فیقول: عبادیفیقولون :لبیک ربنافیقول:انی لم افقرکم لهوان بکم علی، ولکن انما اخترکم لمثل هذا الیوم تصفحوا وجوه الناس، فمن صنع الیکم معروفا لم یصنعه الا فی فکافوه عنی بالجنة

۳۲۰. عن ابی عبدالله علیه السلام قال:ایما مومن منع مومنا شیئا مما یحتاج الیه وهو یقدر علیه من عنده اومن عند غیره، اقامه الله القیامة مسودا وجهه، مزرقة عیناه، مغلولة یداه الی عنقه، فیقال:هذا الخائن الذین خان الله ورسوله ثم یومر به الی النارکافی ج۲، ص۳۶۷، باب من منع مومنا سیئا، حدیث ۱؛بحا الانوار ج۷، ص۲۰۱، باب۸، حدیث(۸۴)

۳۲۱. عن عبد الله بن الحسین عن ابیه عن جده عن امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیهم السلام قال:قال رسول الله(ص) : یا علی! کذب من زعم انه یحبنی و یبغضک یا علی!انه اذا کان یوم القیامة نادی مناد من بطنان العرش :این محبو علی و شیعته؟این محبوا علی و من یحبه؟این المتحابون فی الله؟این المتباذلون فی الله ؟این الموثرون علی انفسهم ؟این الذین جفت الستنهم من العطش ؟این الذین یصلون فی اللیل والناس این الذین یبکون من خشیة الله؟لا خوف علیکم الیوم ولا؛انتم تحزنون انتم رفقاء محمد صلی الله علیه و آله و سلم قروا عینا ادخلوا الجنة انتم وازواجکم تحبرون

۳۲۲. سورہ بقرہ آیت ۳۔، ”جو لوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں -۔“

۳۲۴. سورہ اسراء آیت ۸۸۔

۳۲۵. سورہ بقرہ آیت ۱۱۰۔

۳۲۶. سورہ بقرہ آیت ۴۵۔

۳۲۷. سورہ انفال آیت ۲۔۳۔

۳۲۸. سورہ نساء آیت ۴۳۔

۳۲۹. سورہ مریم آیت ۵۵۔

۳۳۰. سورہ عنکبوت آیت ۴۵۔

۳۳۱. سورہ مدثر آیت ۴۳۔۴۶۔

۳۳۲. سورہ ماعون آیت ۴۔۶۔

۳۳۳. من لا یحضرہ الفقیہ ج۱، ص۲۰۶، باب فرض الصلاة، حدیث ۶۱۷؛علل الشرایع ج۲، ص۳۵۶، باب ۷۰، حدیث ۱؛بحار الانوار ج۸۰، ص۹، باب ۶، حدیث۳۔

۳۳۴. امالی صدوق ص۲۰۷، مجلس ۳۷، حدیث ۸؛بحا ر الانوار ج۸۰، ص۹، باب۶، حدیث ۶۔

۳۳۵. مشکاة الانوار، ۵۳، الفصل الرابع عشر فی اداء الامانة ؛بحار الانوار ج۸۰، ص۱۱، باب۶، حدیث ۱۰۔

۳۳۶. خصال ج۱، ص۱۶۳، حدیث ۲۱۳؛وسائل الشیعہ ج۴، ص۱۱۲، باب ۱، حدیث ۴۶۵۱۔

۳۳۷. عیون اخبار الرضا ج۲، ص۳۱، باب۳۱، حدیث ۴۶؛بحار الانوار ج۸۰، ص۱۴، باب ۶، حدیث ۲۳۔

۳۳۸. محاسن ج۱، ص۲۵۴، باب ۳۰، حدیث۲۸۱؛بحار الانوار ج۸۰، ص۲۰، باب ۶، حدیث۳۶؛مستدرک الوسائل ج۳، ص۹۶، باب۱، حدیث۳۱۰۶۔

۳۴۰. سورہ بقرہ آیت ۳۔

۳۴۱. سورہ بقرہ آیت ۱۹۵۔

۳۴۲. سورہ بقرہ آیت ۲۵۴۔

۳۴۳. سورہ تغابن آیت ۱۶۔

۳۴۴. سورہ بقرہ آیت ۲۶۱۔

۳۴۵. سورہ بقرہ آیت ۲۷۴۔

۳۴۶. سورہ فاطر آیت ۲۹۔

۳۴۷. مصباح الشریعہ :۱۵، باب الثانی والعشرون فی الزکاة؛بحار الانوار ج۹۳، ص۷، باب ۱، حدیث۱۔

۳۴۸.قوله عزوجل: ( وَآ تُوا الزَّکوٰةَ ) من المال والجاه وقوة البدنفمن المال:مواساة اخوانکم المومنین؛ ومن الجاه:ایصالهم الی ما یتقا عسو ن عنه لضعفهم عن حوائجهم المترددة فی صدورهم ؛وبالقوة:معونة اخ لک قد سقط حماره او جمله فی صحراء او طریق، وهو یستغیث فلا یغاث تعینه، حتی یحمل علیه متاعه، وترکبه (علیه)و تنهضه حتی تلحقه القافله، وانت فی ذلک کله معتقد لموالاة محمد وآله الطیبین، فان الله یزکی اعمالک ویضاعفها بموالاتک لهم، وبراء تک من اعدائهم ۔

۳۴۹. بصائر الدرجات ص۱۱، حدیث ۴؛بحار الانوار ج۹۳، ص۱۱۴، باب۱۴، حدیث۲۔

۳۵۰. زید بن علی عن ابیه عن جده علیهم السلام قال:قال امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیه السلام :ان فی الجنة لشجرة یخرج من اعلاها الحلل ومن اسفلها خیل بلق مسرجة ملجمة ذوات اجنحة لا تروث ولا تبول، فیرکبها اولیاء الله فتطیر بهم فی الجنة حیث شاء وا، فیقول الذین اسفل منهم:یا ربنا !ما بلغ بعبادک هذه الکرامة ؟فیقول الله جل جلاله :انهم کانوا یقومون اللیل ولا ینامون، ویصومون النهار ولا یاکلون ویجاهدون العدوا ولا یجبنون، ویتصدقون ولا یبخلون ۔

۳۵۱. من لایحضرہ الفقیہ ج۴، ص ۱۷، باب ذکر جمل من مناھی النبی، حدیث۴۹۶۸؛بحار الانوار ج۹۳، ص۱۱۵، باب ۱۴، حدیث ۵۔

۳۵۲. کافی ج۴، ص۲۷، باب فضل المعروف، حدیث ۴؛بحار الانوار ج۹۳، ص۱۱۹، باب ۱۴، حدیث ۲۰۔

۳۵۳. عیون اخبار الرضا ج۲، ص۴، باب ۳۰، حدیث ۹؛وسائل الشیعہ ج۹، ص۳۹۰، باب۱۰، حدیث۱۲۳۰۹؛ بحارالانوار ج۹۳، ص۱۲۰، باب ۱۴، حدیث ۲۳۔

۳۵۴. کافی ج۴، ص۴۳، باب الانفاق، حدیث ۵؛عیون اخبار الرضاج۲، ص۸، باب ۳۰، حدیث۲۰؛بحار الانوار ج۹۳، ص۱۲۱، باب۱۴، حدیث۲۴۔

۳۵۵. سورہ بقرہ آیت(۲۶۲)

۳۵۶. سورہ بقرہ آیت ۲۶۴۔

۳۵۷. سورہ بقرہ آیت ۵۔

۳۵۸. سورہ فرقان آیت ۷۰۔

۳۵۹. سورہ بقر ہ آیت ۸۳۔

۳۶۰. سورہ نساء آیت ۳۶۔

۳۶۱. سورہ اسراء آیت ۲۳۔۲۴۔

۳۶۲. سورہ آل عمران آیت ۹۲۔

۳۶۳. کافی ج۲، ص۱۵۷، باب البر بالوالدین، حدیث ۱؛بحارالانوار ج۷۱، ص۳۹، باب ۲، حدیث ۳۔

۳۶۴. عن حدید بن حکیم عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال ادنی العقوق اف ولو علم اللہ عز وجل شیئا اھون منہ لنھی عنہ۔

۳۶۵. کافی ج۲، ص۳۴۹، باب العقوق، حدیث۷۔

۳۶۶. کافی ج۲، ص۱۵۸، باب البر بالوالدین، حدیث ۵؛بحار الانوار ج۷۱، ص۴۵، باب۲، حدیث۶۔

۳۶۷. تفسیر صافی ج۳، ص۱۸۵، ذیل سورہ اسراء، آیت ۲۴۔

۳۶۸. تفسیر صافی ج۳، ص۱۸۶، ذیل سورہ اسراء، آیت ۲۴ ۔

۳۶۹. تفسیر امام حسن عسکری ص۳۳۰، حدیث ۱۸۹، ذیل سورہ اسرائآیت ۲۴ ؛بحار الانوار ج۲۳، ص۲۵۹، باب۱۵، حدیث۸۔

۳۷۰. تفسیر صافی ج۱، ص۱۵۰، ذیل سورہ اسرائآیت ۸۳، تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام ص۳۳۰، حدیث ۱۹۰؛بحار الانوار ج۲۳، ص۲۵۹، باب ۱۵، حدیث ۸۔

۳۷۱. سورہ بقرہ آیت ۲۷۔

۳۷۲. سورہ رعد آیت ۳۹۔

۳۷۳. نہج البلاغہ ص۶۴۲، نامہ ۳۱، فی الرای فی المراة ؛بحار الانوار ج۷۱، ص۱۰۵، باب۳، حدیث۶۷۔

۳۷۴. امالی صدوق ص۲۰۷، مجلس ۳۷، حدیث ۸؛بحار الانوار ج۶۶، ص۳۸۳، باب۳۸، حدیث۴۶۔


نیکیوں سے مزین ہونا اور برائیوں سے پرھیز کرنا (۲)

یتیموں پر احسان

قرآن مجید نے تقریباً ۱۸ مقامات پر یتیم سے محبت اور اس کے مال کی حفاظت اور اس کی تربیت و ترقی کی سفارش کی ہے۔

( وَیسْالُونَكَ عَنْ الْیتَامَی قُلْ إِصْلاَحٌ لَهم خَیرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهم فَإِخْوَانُكُمْ وَاللهُ یعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَاعْنَتَكُمْ إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَكِیمٌ ) ۔(۳۷۵)

”اور یہ لوگ تم سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دوکہ ان کے حال کی اصلاح بھترین بات ہے اور اگر ان سے مل جل کر رھو تو یہ بھی تمھارے بھائی ہیں اور اللہ بھتر جانتا ہے کہ مصلح کون ہے اور مفسد کون ہے اگر وہ چاھتا تو تم ہیں مصیبت میں ڈال دیتا لیکن وہ صاحب عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے“۔

( وَآتُوا الْیتَامَی امْوَالَهم وَلاَتَتَبَدَّلُوا الْخَبِیثَ بِالطَّیبِ وَلاَتَاكُلُوا امْوَالَهم إِلَی امْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِیرًا ) ۔(۳۷۶)

”اور یتیموں کو ان کامال دےدو اور ان کے مال کو اپنے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاجاو کہ یہ گناہ کبیرہ ہے“۔

( إِنَّ الَّذِینَ یاكُلُونَ امْوَالَ الْیتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یاكُلُونَ فِی بُطُونِهم نَارًا وَسَیصْلَوْنَ سَعِیرًا ) ۔(۳۷۷)

”جو لوگ ظالمانہ انداز سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب واصل جہنم ہوں گے“۔

( وَانْ تَقُومُوا لِلْیتَامَی بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَیرٍ فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِهِ عَلِیمًا ) ۔(۳۷۸)

”اور ان کمزور بچوں کے بارے میں انصاف کے ساتھ قیام کرو اور جو بھی تم کا ر خیر کروگے خدا س کا بخوبی جاننے والا ہے“۔

( وَلاَتَقْرَبُوا مَالَ الْیتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی هِی احْسَنُ حَتَّی یبْلُغَ اشُدَّهُ ) (۳۷۹)

”اور خبردار مال یتیم کے قریب بھی نہ جانا مگر اس طریقہ سے جو بھترین طریقہ ہو یھاں تک کہ وہ توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرماتے ہیں :

مَنْ قَبَضَ یتیماً مِنْ بَینِ الْمُسْلِمینَ اِليٰ طَعامِهِ وَشَرابِهِ، اَدْخَلَهُ اللّٰهُ الْجَنَّةَ اَلْبَتَّةَ اِلا اَنْ یعْمَلَ ذَنْباً لَا یغْفَرُ(۳۸۰)

”جو شخص کسی مسلمان یتیم بچہ کی پرورش اور خرچ کی ذمہ داری لے لے تو یقینا خداوندعالم اس پر جنت واجب کردیتا ہے، مگر یہ کہ غیر قابل بخشش گناہ کا مرتکب ہوجائے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

اِنَّ فِی الْجَنَّةِ داراً یقالُ لَها دارُ الْفَرَحِ، لَا یدْخُلُها اِلاَّ مَنْ فَرَّحَ یتامَی الْمُومِنینَ(۳۸۱)

”بے شک جنت میں ایک مکان ہے جس کو ”دار الفرح“ (یعنی خوشیوں کا گھر) کھا جاتا ہے، اس میں صرف وھی مومن داخل ہوسکتے ہیں جنھوں نے یتیم مومن بچوں کو خوشحال کیا ہو“۔

اَتَی النَّبِی رَجُلٌ یشْكُو قَسْوَةَ قَلْبِهِ، قالَ:اَتُحِبُّ اَنْ یلینَ قَلْبُكَ وَتُدْرِكَ حاجَتَكَ؟اِرْحَمِ الْیتیمَ، وَامْسَحْ رَاسَهُ، وَاَطْعِمْهُ مِنْ طَعامِكَ، یلِنْ قَلْبُكَ، وَتُدْرِكَ حاجَتَكَ(۳۸۲)

”ایک شخص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اپنی سنگدلی کی شکایت کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگرتم چاھتے ہو کہ تمھارا دل نرم ہوجائے، اور اپنی مراد حاصل کرلو؟ تم یتیم بچوں پر مھربانی کرو، ان کے سرپر دست شفقت پھیرو، ان کو کھانا کھلاؤ، تو تمھارا دل نرم ہوجائے گااور تم ہیں تمھاری مرادیں مل جائےں گی“۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

مامِنْ مُومِنٍ وَلَا مُومِنَةٍ یضَعُ یدَهُ عَليٰ رَاسِ یتیمٍ تَرَحُّماً لَهُ اِلّا كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ یدُهُ عَلَیهَا حَسَنَةً(۳۸۳)

”جب کوئی مومن کسی یتیم کے سر پر دست نوازش پھیرتا ہے تو خداوندعالم اس کے ھاتھ کے نیچے گزرنے والے ھر بال کے بدلہ نیکی اور حسنہ لکھ دیتا ہے“۔

مسکینوں پر احسان کرنا

مسکین یعنی وہ شخص جو زمین گیراورلاچار ہوگیا ہو، اور تھی دستی اور غربت کا شکار ہوگیا ہو، جس کے لئے درآمد کا کا کوئی طریقہ باقی نہ رہ گیا ہو۔

ھر مومن پر خدا کی طرف سے ذمہ داری اور وظیفہ ہے کہ اپنے مال سے اس کی مدد کرے، اور اس کی عزت کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کی مشکلات کو دور کرنے کوشش کرے۔

قرآن مجید نے مساکین پر توجہ کو واجب قرار دیا ہے، اور ان کی مشکلات کو دور کرنے کو عبادت خدا شمار کیا ہے، کیونکہ خداوندعالم مساکین پر خاص توجہ، اور ان کے چین و سکون کا راستہ ھموار کئے جانے کو پسند کرتا ہے۔

مساکین کی نسبت لاپرواھی کرنا بھت بُرا ہے اور قرآن مجید کے فرمان کے مطابق روز قیامت ایسا شخص عذاب الٰھی میں گرفتار ہوگا۔

( وَآتِ ذَا الْقُرْبَی حَقَّهُ وَالْمِسْكِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَلاَتُبَذِّرْ تَبْذِیرًا ) ۔(۳۸۴)

”اور دیکھو قرابتداروں، مسکین اور غربت زدہ مسافر کو اس کاحق دےدو اور خبردار اسراف سے کام نہ لینا“۔

( وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّهِ ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیتَامَی وَالْمَسَاكِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ ) (۳۸۵)

”اور محبت خدا میں قرابتداروں، یتیموں، مسکینوں، غربت زدہ مسافروں، سوال کرنے والوں اور غلاموں کی آزادی کے لئے مال دے“۔

( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیها وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهم وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللهِ وَاِبْنِ السَّبِیلِ فَرِیضَةً مِنْ اللهِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَكِیمٌ ) ۔(۳۸۶)

”صدقات و خیرات بس فقراء، مساکین اور ان کے کام کرنے والے اور جن کی تالیف قلب کی جاتی ہے اور غلاموں کی گردن کی آزادی میں اور قرضداروں کے لئے راہ خدا میں اور غربت زدہ مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والاھے اور صاحب حکمت ہے“۔

مساکین کی نسبت بے توجھی اور ان کی مدد نہ کرنا نہ صرف یہ کہ آخرت کے عذاب کا باعث ہے بلکہ انسان کی زندگی میں بھی اس کے برے آثار ظاھر ہوتے ہیں ۔

خداوندعالم نے سورہ ”ن و القلم“ آیات ۱۷ تا ۳۳ میں ان بھائیوں کی داستان کو بیان کیا ہے جن کو باپ کی میراث میں ایک بھت بڑا اور پھل دار باغ ملا، لیکن انھوں نے اپنے باپ کے برخلاف عمل کیا ان کا باپ غریب غرباء کا بھت خیال رکھتا تھا، انھوں نے باپ کی میراث ملتے ہی ایک میٹنگ کی اور یہ طے کیا کہ کل صبح جب باغ کے پھلوں کو اتارا جائے گا تو کسی بھی غریب و مسکین کی مدد ن ہیں کی جائے گی، اور باغ کے دروازہ کو بند کردیا جائے تاکہ کوئی غریب و مسکین آنے نہ پائے، لیکن ان کی اس شیطانی و پلید فکر کی وجہ سے بحکم خدا اسی رات بجلی گری اور پھلوں سے لدے ہوئے تمام باغ کو جلا ڈالا، اور اس سرسبز علاقے میں اس باغ کی ایک مٹھی راکھ کے علاوہ کچھ باقی نہ بچا۔

جیسے ہی وہ لوگ صبح صبح اپنے منصوبہ کے مطابق پھل اتارنے کے لئے باغ میں پہنچے تو باغ کی یہ عجیب و غریب حالت دیکھی تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے، اور فریاد بلند کی کہ افسوس !!ھمارے اوپر کہ ھم نے احکام الٰھی اور اس کے حدود سے تجاوز کیا اور اھل طغیان و تجاوز ہوگئے۔

قرآن مجید مشکلات نازل ہونے اورفقر و تنگدستی میں مبتلا ہونے کا باعث مساکین کی مدد نہ کرنے کو بیان کرتا ہے:

( وَامَّا اِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَیهِ رِزْقَهُ فَیقُولُ رَبِّی اهَانَنِ كَلَّابَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْیتِیمَوَلَا تَحَاضُّونَ عَلَيٰ طَعَامِ الْمِسْكِینِ وَتَاكُلُونَ التُّرَاثَ اكْلاً لَّماً وَتُحِبُّونَ الّمَالَ حُبًّا جَمّاً ) ۔(۳۸۷)

”اورجب آزمائش کے لئے روزی کو تنگ کردیا توکہنے لگا کہ میرے پروردگار نے میری توھین کی ہے۔ایسا ھرگز ن ہیں ہے بلکہ تم یتیموں کا احترام ن ہیں کرتے ہو۔اور لوگوں کو مسکینوں کوکھانا کھانے پر آمادہ ن ہیں کرتے ہو اور میراث کے مال کو اکٹھا کر کے حلال وحرام سب کھاجاتے ہو۔اور مال دنیا کو بھت دوست رکھتے ہو“۔

قرآن مجید نے سورہ الحاقہ میں ایک گروہ کے لئے بھت سخت عذاب کے بارے میں بیان کیا ہے جن کے عذاب کے دو سبب بیان کئے ہیں :

۱۔ خدا پر ایمان نہ رکھنا۔

۲۔ مساکین کو کھانے کھلانے میںرغبت نہ رکھنا۔

آیات کا ترجمہ اس طرح ہے:

”لیکن جس کا نامہ اعمال بائیں ھاتھ میں دیا جائے گا وہ کھے گا: ”اے کاش یہ نامہ اعمال مجھے نہ دیا جاتا۔ اور مجھے اپنا حساب نہ معلوم ہوتا۔ اے کاش اس موت ہی نے میرا فیصلہ کردیا ہوتا۔میرا مال بھی میرے کام نہ آیا۔ اور میری حکومت بھی برباد ہوگئی“۔ اب اسے پکڑو اور گرفتار کرلو۔ پھر اسے جہنم میں جھونک دو۔ پھر ایک ستر گز کی رسی میں اسے جکڑ لو۔ یہ خدائے عظیم پر ایمان ن ہیں رکھتا تھا۔ اور لوگوں کو مسکینوں کے کھلانے پر آمادہ ن ہیں کرتا تھا۔تو آج اس کا یھاں کوئی غمخوار ن ہیں ہے۔ اور نہ پیپ کے علاوہ کوئی غذا ہے۔ جسے گناھگاروں کے علاوہ کوئی ن ہیں کھاسکتا“(۳۸۸)

قارئین کرام! واقعاً غرباء اورمساکین کی طرف توجہ کرنا اتنااھم ہے کہ جس سے غفلت کرنے والا خداوندعالم کی نظر میں قابل نفرت ہے اور روز قیامت سخت ترین عذاب کا حقدار ہوگا۔

جناب جبرئیل سے نقل ہوا ہے کہ فرمایا:

اَنا مِنَ الدُّنْیا اُحِبُّ ثَلاثَةَ اَشْیاءَ:اِرْشادَ الضّالِّ وَاِعانَةَ الْمَظْلومِ وَمَحَبَّةَ الْمَساكِینِ(۳۸۹)

”میں دنیا کی تین چیزوں کو دوست رکھتا ہوں: راستہ بھٹکے ہوئے کی راہنمائی، مظلوم کی مدد اور مساکین کے ساتھ محبت“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

فَمَنْ واسا هُمْ بِحَواشِی مالِهِ وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَیهِ جِنانَهُ وَاَنالَهُ غُفْرانْهُ وْرِضْوانَهُ ( ۳ ۹۰)

”جو شخص اپنے پاس جمع ہوئے مال سے مساکین کی مدد اور ان کی پریشانیوں کودور کرے، تو خداوندعالم اس کے لئے جنت کو وسیع فرمادیتا ہے اور اس کو اپنی رحمت و مغفرت میں داخل کرلیتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”جو شخص کسی مومن کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے تو روز قیامت اس کی جزاکو کوئی ن ہیں جان سکتا، نہ مقرب فرشتے اور نہ پیغمبر مرسل، سوائے خداوندعالم کے، کہ صرف وھی اس شخص کے اجر کے بارے میں آگاہ ہے“۔

کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا باعث مغفرت و بخشش ہے اور اس کے بعد امام صادق علیہ السلام نے اس آیہ شریفہ کی تلاوت فرمائی(۳۹۱) :

( اَوْ اِطْعَامٌ فِی یوْمٍ ذِی مَسْغَبَةٍیتِیماً ذَا مَقْرَبَةٍاَوْ مِسْكِیناً ذَامَتْرَبَةٍ ) ۔(۳۹۲)

”یا بھوک کے دن میں کھانا کھلانا ۔کسی قرابتدار یتیم کو۔یا خاکسار مسکین کو“۔

نیک گفتار

قرآن مجید کی متعدد آیات زبان کے سلسلہ میںھونے والی گفتگو، زبان کی عظمت اور گوشت کے اس لوتھڑے کی اھمیت کو بیان کرتی ہے۔

زبان ہی کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت میں نجات پاتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ دنیا و آخرت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔

زبان ہی کے ذریعہ انسان گھر اور معاشرہ میں چین و سکون پیدا کرتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ گھر اور معاشرہ میں تباھی و بربادی پھیلادیتا ہے۔

زبان ہی یا اصلاح کرنے والی یا فساد برپا کرنے والی ہوتی ہے، اسی زبان سے لوگوں کی عزت و آبرو اور اسرار کو محفوظ کیا جاتا ہے یا دوسروں کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیا جاتا ہے۔

قرآن کریم تمام انسانوں خصوصاً صاحبان ایمان کو دعوت دیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ صرف نیک گفتار میں کلام کرو۔

زبان کے سلسلہ میں قرآنی آیات کے علاوہ بھت سی اھم احادیث بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے بیان ہوئی ہیں کہ اگر کتب احادیث میں بیان شدہ تمام احادیث کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

اِذا اَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ اَصْبَحَتِ الْاَعْضاءُ كُلُّها تَسْتَكْفِی اللِّسانَ، اَی تَقولُ:اِتَّقِ اللّٰهَ فِینَا، فَاِنَّكَ اِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنا، وَاِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنا(۳۹۳)

”جس وقت انسان صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء و جوارح بھی صبح کرتے ہیں ، چنانچہ تمام اعضاء زبان سے کھتے ہیں : ھمارے سلسلہ میں تقويٰ الٰھی کی رعایت کرنا کیونکہ اگر تو راہ مستقیم پر رہے گی تو ھم بھی مستقیم ر ہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ھم بھی ٹیڑھے پن میں گرفتار ہوجائیں گے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَللِّسانُ میزانُ الْاِنْسانِ(۳۹۴)

”زبان انسان کی میزان (اور ترازو) ہے (یعنی انسان کی شرافت اور اس کی بزرگی یا پستی اس کی زبان سے سمجھی جاتی ہے)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

”ٰیعَذِّبُ اللّٰهُ اللِّسانَ بِعَذابٍ لَایعَذِّبُ بِهِ شَیئاً مِنَ الْجَوارِحِ فَیقولُ:یارَبِّ عَذَّبْتَنِی بِعَذابٍ لَمْ تُعَذِّبْ بِهِ شَیئاً مِنَ الْجَوارِحِ، فَیقالُ لَهُ:خَرَجَتْ مِنْكَ كَلِمَةٌ فَبَلَغَتْ مَشارِقَ الْاَرْضِ وَمَغارِبَها فَسُفِكَ بِهَا الدَّمُ الْحَرامُ، وَانْتُهِبَ بِهِ الْمالُ الْحَرامُ، وَانْتُهِكَ بِهِ الْفَرْجُ الْحَرامُ(۳۹۵)

”خداوندعالم زبان کو ایسے عذاب میں مبتلا کرے گا کہ کسی دوسرے حصہ پر ایسا عذاب ن ہیں کرے گا، اس وقت زبان گویا ہوگی:خدایا! تو نے مجھے ایسے عذاب میں مبتلا کیا ہے کہ کسی حصہ کو ایساعذاب ن ہیں کیا ہے، چنانچہ اس سے کھا جائے گا: تجھ سے ایسے الفاظ نکلے ہیں جو مشرق و مغرب تک پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے بے گناہ کا خون بھا، بے گناہ کا مال غارت ہوا اور بے گناہ کی آبرو خاک میں مل گئی!“

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

كَمْ مِنْ اِنْسانٍ اَهْلَكَهُ لِسانٌ(۳۹۶)

”کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنی زبان کی وجہ سے ھلاک ہوجاتے ہیں “۔

بھر حال ھمیں شب و روز اپنی زبان کی حفاظت کرنا چاہئے، اور اس کو بولنے کے لئے آزاد ن ہیں چھوڑدینا چاہئے، کس جگہ، کس موقع پر، کس کے پاس اور کس موضوع پر گفتگو کرنے کے لئے غور و فکر کرنا ضروری ہے، نیز ھر حال میں خدا اور قیامت پر توجہ رکھنا ضروری ہے، ک ہیں ایسا نہ ہو کہ انسان زبان کے ذریعہ ایسا گناہ کر بیٹھے کہ اس سے توبہ کرنا مشکل اور ان کے نقصان کی تلافی کرنا محال ہو۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ”مومن اور مخالف سے نیکی اور خوبی کے ساتھ گفتگو کرو، تمھاری گفتگو صرف نیک اور منطقی ہونا چاہئے“۔

مومنین سے خنداں پیشانی اور خوش روئی کے ساتھ گفتگو کرنا چاہئے، اور وہ بھی نیکی اور اچھائی سے، اور مخالفوں (غیر شیعہ) سے اس طرح گفتگو کرو کہ ان کے لئے ایمان کے دائرہ میں داخل ہونے کا راستہ ھموار ہوجائے، اور اگر وہ ایمانی دائرے میں داخل نہ ہوسکے تو اس سے دوسرے مومنین حفظ و امان میں ر ہیں ، اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: دشمنان خدا کے ساتھ تواضع ومدارا ت سے پیش آنا، اپنے اور دوسرے مومنین کی طرف سے صدقہ ہے۔(۳۹۷)

حضرت امام باقر علیہ السلام سے آیہ شریفہ( وَ قولوا لِلنَّاسِ حُسناً ) کے ذیل میں روایت ہے کہ لوگوں سے اس طرح نیک گفتار کرو جس طرح تم اپنے ساتھ گفتگو کیا جانا پسند کرتے ہوکیونکہ خداوندعالم مومن اور قابل احترام حضرات کی نسبت بدگوئی اور نازیبا الفاظ پسند ن ہیں کرتا (یعنی مومنین کو برا بھلا کہنے والوں کو دوست ن ہیں رکھتا) اور باحیا، بردبار، ضعیف اور باتقويٰ لوگوں کو دوست رکھتا ہے(۳۹۸)

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

كَلامُ ابْنِ آدَمَ كُلُّهُ عَلَیهِ لَا لَهُ اِلاَّ اَمْرٌ بِالْمَعْروفِ، وَنَهْی عَنِ الْمُنْكَرِ، اَوْ ذِكْرُ اللّٰهِ(۳۹۹)

”تمام لوگوں کی گفتگو ان کے نقصان میں ہے سوائے امر بالمعروف، نھی عن المنکر اور ذکر خدا کے“۔

سورہ بقرہ آیت ۸۳ کے لحاظ سے جس کی شرح گزشتہ صفحات میں بیان ہوچکی ہے ماں باپ، رشتہ داروں اورمساکین کے ساتھ احسان اور تمام لوگوں سے نیک گفتار اور اچھی باتیں معنوی زیبائیوں میں سے ہیں ، گناہ خصوصاً گناہ کبیرہ سے توبہ کرنے والے کے لئے اپنی توبہ، عمل اور گفتار کی اصلاح کے لئے اس آیت کے مضمون پر پابندی کرنا ضروری ہے اور اس مذکورہ آیت میں بیان شدہ اھم مسائل پر خوشحالی اور نشاط کے ساتھ عمل کرے تاکہ اس کے اندر موجود تمام برائیاں دُھل جائیں اور اس کے عمل، اخلاق اور گفتار کی اصلاح ہوجائے۔

اخلاص

اخلاص اور خلوص نیت ایک بھت عظیم مسئلہ ہے جس پر قرآن مجید کی آیات اور روایات معصومین علیہم السلام میں بھت زیادہ تازور دیا گیا ہے۔

صرف مخلص افراد ہی کی فکر و نیت، عمل اور اخلاق قابل اھمیت ہے اور صرف وھی لوگ اجر عظیم اور رضوان الٰھی کے مستحق ہوتے ہیں ۔

اگر ھماری کوشش، اعمال اور اخلاقی امور غیر خدا کے لئے ہوں تو ان کی کوئی اھمیت ن ہیں ہے، اور خدا کے نزدیک اس کا کوئی ثواب ن ہیں ہے۔

جو شخص اپنے گناھوں سے توبہ کرتا ہے تو قرآن مجید کے فرمان کے مطابق اس کو اپنی حالت اور گفتگو کی اصلاح کرنا چاہئے، اور تمام امور میں خداوندعالم کی پناہ میں چلا جائے، اور اپنے دین اور تمام دینی امور میں خلوص خدا کی رعایت کرے، اور ریاکاری اور خودنمائی سے پرھیز کرے، اپنے دینی فرائض میں صرف اور صرف خدا سے معاملہ کرے، تاکہ اھل ایمان کی ھمراھی حاصل ہوجائے، اس سلسلہ میں درج ذیل آیہ شریفہ بھت زیادہ قابل توجہ ہے:

( إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا وَاصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللهِ وَاخْلَصُوا دِینَهم لِلَّهِ فَاوْلَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ وَسَوْفَ یؤْتِ اللهُ الْمُؤْمِنِینَ اجْرًا عَظِیمًا ) ۔(۴۰۰)

”علاوہ ان لوگوں کے کے جو توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اور خدا سے وابستہ ہوجائیں اور دین کو خالص اللہ کے لئے اختیار کریں تو یہ صاحبان ایمان کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب اللہ ان صاحبان ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا“۔

( الاَلِلَّهِ الدِّینُ الْخَالِصُ ) ۔(۴۰۱)

”آگاہ ہو جاو کے خالص بندگی اللہ کے لئے ہے“۔

جو شخص ریاکاری، خود نمائی اور شرک کا گرفتار ہو تو بارگاہ خداوندی سے اس کا کوئی سروکار ن ہیں ہے۔

( فَاعْبُدْ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّینَ ) ۔(۴۰۲)

”لہٰذا آپ (پیغمبر اکرم) مکمل اخلاص کے ساتھ خدا کی عبادت کریں“۔

جن لوگوں کے اعمال میں اخلاص ن ہیں ہوتا ان کے اعمال خدا کی نظر میں ہیچ ہوتے ہیں لیکن خلوص کے ساتھ اعمال انجام دینے والوں کے اعمال کا خریدار خداوندمھربان ہے۔

( وَلَنَا اعْمَالُنَا وَلَكُمْ اعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ ) ۔(۴۰۳)

”(اے پیغمبر! بدکار اور مشرکین سے کھو) ھمارے لئے ھمارے اعمال ہیں اور تمھارے تمھارے لئے اعمال اور ھم تو صرف خدا کے مخلص بندے ہیں “۔

ریاکاری کی وجہ سے عمل باطل ہوجاتا ہے اور اس کی اھمیت ختم ہوجاتی ہے، لیکن اخلاص سے عمل میں اھمیت پیدا ہوتی ہے اور اخلاص کے ذریعہ ہی آخرت میں جزائے خیر اورثواب ملنے والا ہے۔

توبہ کرنے والے کے لئے اپنی نیت کی اصلاح کرنا اور اپنے ارادہ کو خدا کی مرضی کے تابع قرار دےنالازم و ضروری ہے تاکہ توبہ کا درخت ثمر بخش ہوسکے۔

اخلاص پیدا کرنے کا طریقہ خدا اور قیامت پر توجہ اور اولیاء الٰھی کے حالات پر غور و فکر کرنا ہے، اور انسان اس بات کا معتقد ہو کہ جنت و جہنم کی کلید خدا کے علاوہ کسی کے پاس ن ہیں ہے، اور انسان کی سعادت و شقاوت کا کسی دوسرے سے کوئی تعلق ن ہیں ہے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اخلاص کے فوائد کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :

مَا اَخْلَصَ عَبْدٌلِلّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ اَرْبَعِینَ صَباحاً اِلّا جَرَتْ ینابِیعُ الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَليٰ لِسانِهِ(۴۰۴)

”جب کوئی بندہ چالیس دن تک خدا کے لئے اخلاص سے کام کرے تو خداوندمھربان اس کی زبان پر حکمت کا چشمہ جاری کردیتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشادھے:

اِنَّ الْمُومِنَ لَیخْشَعُ لَهُ كُلُّ شَیءٍ وَیهابُهُ كُلُّ شَیءٍ ثُمَّ قالَ:اِذاکانَ مُخْلِصاً لِلّٰهِ اَخافَ اللّٰهُ مِنْهُ كُلَّ شَیءٍ حَتّيٰ هَوامَّ الْاَرْضِ وَ سِباعَها وَ طَیرَ السَّماءِ؛(۴۰۵)

”بے شک” مومن انسان “کے لئے ھر چیز خاشع و خاضع ہے اور سبھی اس سے خوف زدہ ہیں ، اس کے بعد فرمایا: جس وقت مومن انسان خدا کا مخلص بندہ بن جاتاھے تو خداوندعالم اس کی عظمت اور ہیبت کو تمام چیزوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے، یھاں تک کہ روئے زمین پر وحشی درندے اور آسمان پر اڑنے والے پرندے بھی اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں “۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

سَبَبُ الْاِخْلاصِ الْیقینُ(۴۰۶)

”یقین وایمان کے ذریعہ اخلاص پیدا ہوتا ہے“۔

اَصْلُ الْاِخْلاصِ الْیاسُ مِمّا فِی اَیدِی النّاسِ(۴۰۷)

”اخلاص کی اصل، دوسروں کے پاس موجود تمام چیزوں سے ناامیدی ہے“۔

مَنْ رَغِبَ فِیما عِنْدَ اللّٰهِ اَخْلَصَ عَمَلَهُ(۴۰۸)

”جو شخص خداوندعالم کی رحمت و رضوان اور بہشت کا خواھاں ہے اسے اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرنا چاہئے“۔

د

صبر

قرآن و احادیث میں صبر و شکیبائی کے سلسلہ میں حکم دیا گیا ہے جو واقعاً ایک الٰھی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے، جس کو خداوندعالم پسند کرتا ہے، جو عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے۔ صبر حافظ دین ہے اور انسان کو حق و حقیقت کی نسبت بے توجہ ہونے سے روکتا ہے، صبر کے ذریعہ انسان کے دل و جان میں طاقت پیدا ہوتی ہے، نیز صبر انسان کو شیاطین (جن و انس) سے حفاظت کرنے والا ہے۔

اگر سخت حوادث و ناگوار حالات(جو دین و ایمان کو غارت کرنے والے ہیں )، عبادت و اطاعت اور گناہ کے وقت صبر سے کام لیا جائے تو انسان یہ سوچتے ہوئے کہ حوادث بھی قواعد الٰھی سے ھم آہنگ ہیں ، ان کو برداشت کرلیتا ہے، اور اپنی نجات کے لئے دشمنان خدا سے پناہ ن ہیں مانگتا، عبادت و اطاعت خدا کے وقت اپنے کو بندگی کے مورچہ پر کھڑا ہوکر استقامت کرتا ہے، اور گناہ و معصیت سے لذت کے وقت لذتوں کو چھوڑنے کی سختی کو برداشت کرتا ہے اور قرآن مجید کے فرمان کے مطابق خداوندعالم کی صلوات و رحمت کا مستحق قرار پاتا ہے۔

( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیءٍ مِنْ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنْ الْامْوَالِ وَالْانفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرْ الصَّابِرِینَ الَّذِینَ إِذَا اصَابَتْهم مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیهِ رَاجِعُونَ اوْلَئِكَ عَلَیهم صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهم وَرَحْمَةٌ وَاوْلَئِكَ هم الْمُهتدُونَ ) ۔(۴۰۹)

”اور ھم یقینا تم ہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدیں ۔ جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کھتے ہیں کہ ھم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں ۔کہ ان کے لئے پروردگار کی طرف صلوات اور رحمت ہے اور وھی ہدایت یافتہ ہیں “۔

( وَالْمَلَائِكَةُ یدْخُلُونَ عَلَیهم مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَیكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) ۔(۴۱۰)

”اور ملائکہ ان کے پاس ھر دروازے سے حاضر ی دیں گے ۔ک ہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو کہ تم نے صبر کیا ہے اور اب آخرت کا گھر تمھاری بھترین منزل ہے“۔

( مَا عِنْدَكُمْ ینفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِینَّ الَّذِینَ صَبَرُوا اجْرَهم بِاحْسَنِ مَا كَانُوا یعْمَلُونَ ) ۔(۴۱۱)

”جوکچھ تمھارے پاس ہے وہ سب خرچ ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وھی باقی رہنے والا ہے اور ھم یقینا صبر کرنے والوں کو ان کے اعمال سے بھتر جزا عطا کریں گے“۔

( اوْلَئِكَ یؤْتَوْنَ اجْرَهم مَرَّتَینِ بِمَا صَبَرُوا ) ۔(۴۱۲)

”یھی وہ لوگ ہیں جن کو دھری جزادی جائے گی چونکہ انھوں نے صبر کیا ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

مَنْ یتَصَبَّرْ یصَبِّرْهُ اللّٰهُ وَمَنْ یسْتَعْفِفُ یعِفَّهُ اللّٰهُ وَمَنْ یسْتَغْنِ یغْنِهِ اللّٰهُ وَمَا اُعْطِی عَبْدٌ عَطا ءً هُوَ خَیرٌ وَ اَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ(۴۱۳)

”جو شخص صبر سے کام لے تو خداوندعالم اس کو صبر کی توفیق عطا کرتا ہے، اور جو شخص عفت و پارسائی کو اپناتا ہے تو خداوندعالم اس کو پارسائی تک پہنچادیتا ہے اور جو شخص خداوندعالم سے بے نیازی طلب کرتا ہے تو خداوندعالم اس کو بے نیاز بنادیا ہے، لیکن بندہ کو صبر سے بھتر اور وسیع تر کوئی چیز عطا ن ہیں ہوتی“۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

اَلْحَقُّ ثَقِیلٌ، وَقَدْ یخَفِّفُهُ اللّٰهُ عَليٰ اَقْوامٍ طَلَبُوا الْعاقِبةَ فَصَبَرُوا نُفُوسَهُمْ، وَوَثِقُوا بِصِدْقِ مَوْعُودِ اللّٰهِ لِمَنْ صَبَرُوا، اِحْتَسِبْ فَكُنْ مِنْهُمْ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ(۴۱۴)

”حق کڑوا ہوتا ہے لیکن خداوندعالم اپنی عاقبت کے خواھاںلوگوں کے لئے شیرین بنادیتا ہے، جی ھاں، جو لوگ صبر کے سلسلہ میں دئے گئے وعدہ الٰھی کو سچ مانتے ہیں خدا ان کے لئے حق کو آسان کردیتا ہے، خدا کے لئے نیک کام انجام دو اور حقائق کا حساب کرو جس کے نتیجہ میں تم صبر کرو اور خدا سے مدد طلب کرو“۔

نیز آپ کا ہی کا ارشاد ہے:

اِصْبِرْ عَليٰ مَرارَةِ الْحَقِّ، وَاِیاكَ اَنْ تَنْخَدِعَ بِحَلاوَةِ الْباطِلِ(۴۱۵)

”صبر کے کڑوے پن پر صبر کرو اور باطل کی شیرینی سے فریب نہ کھاؤ“۔

ایک شخص نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے کسی مسئلہ کے بارے میں نظر خواھی کی تو امام علیہ السلام نے اس شخص کے نظریہ کے برخلاف اپنی رائے کا اظھار فرمایا، اور امام نے اس کے چھرے پر بے توجھی کے آثار دیکھے تو اس سے فرمایا:، حق پر صبر کرو، بے شک کسی نے صبر ن ہیں کیا مگر یہ کہ خداوندعالم نے اس کے بدلے اس سے بھتر چیز عنایت فرمادی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

اَلْجَنَّةُ مَحْفُوفَةٌ بِالْمَکارِهِ وَالصَّبْرِ، فَمَنْ صَبَرَ عَلَی الْمَکارِهِ فِی الدُّنْیا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَ جَهَنَّمُ مَحْفوفَةٌ بِاللَّذّاتِ وَالشَّهَواتِ، فَمَنْ اَعْطيٰ نَفْسَهُ لَذَّتها وَشَهْوَتَها دَخَلَ النّارَ(۴۱۶)

”(جان لو کہ) جنت پر ناگواری اور صبر کا پھرہ ہے، جس شخص نے دنیا میں ناگواریوں پر صبر کیا و ہ جنت میں داخل ہوجائے گا، اور جہنم پر خوشیوں اور حیوانی خواہشات کا پھرہ ہے چنانچہ جو شخص بھی لذات اور شھوات کے پیچھے گیا تو وہ جہنم میں داخل ہوجائے گا“۔

نیز آپ ہی کا ارشاد گرامی ہے:

اَلصَّبْرُ صَبْرانِ:صَبْرٌ عَلَی الْبَلاءِ حَسَنٌ جَمیلٌ، وَافْضَلُ الصَّبْرَینِ الْوَرَعَ عَنِ الْمَحارِمِ(۴۱۷)

”صبر کی دو قسمیں ہیں : بلاء و مصیبت پر صبر جو بھتر اور زیبا ہے، لیکن دونوں قسموں میں بھترین صبر اپنے کو گناھوں سے محفوظ رکھنا ہے“۔

یہ حقیقت ہے کہ تمام چیزوں میں صبر اس لئےضروری ہے کہ انسان کا دین، ایمان، عمل اور اخلاق صحیح و سالم رہے ، اور انسان کی عاقبت بخیر ہوجائے واقعاً انسان کے لئے کیا بھترین اور خوبصورت زینت ہے ۔

گناھوں سے توبہ کرنے والے انسان کو چاہئے کہ مشق و تمرین کے ذریعہ اپنے کو صبر سے مزین کرلے، گناھوں سے پاک رہنے کی کوشش کرے تاکہ ہوائے نفس، شیطانی وسوسہ اور گناھوں کی آلودگی سے ھمیشہ کے لئے آسودہ خاطر رہے کیونکہ صبر کے بغیر توبہ برقرار ن ہیں رہ سکتی، اور اس کے سلسلہ میں رحمت خدا کا تدوام ن ہیں ہوتا۔

مال حلال

خداوندمھربان نے اپنی تمام مخلوق کی روزی اپنے اوپر واجب قرار دی ہے خداوندعالم کسی بھی مخلوق کی روزی کو ن ہیں بھولتا۔

انسان کی روزی پہنچانے کے بھت سے مخصوص طریقے ہیں : منجملہ: میراث، ھبہ، خزانہ مل جانا اور ان سب میں اھم حلال کاروبار ہے۔

حلال کاروبار جیسے زراعت، صنعت، بھیڑ بکریاں چرانا، دستی ہنر، تجارت اور محنت و مزدوری کرنا۔

نا جائز طریقہ سے حاصل ہونے والا مال ؛حرام ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا روز قیامت میں درد ناک عذاب کا باعث ہے۔

چوری، غصب، رشوت، کم تولنا، غارت گری اور ظلم و ستم کے ذریعہ کسی کے مال کو ہڑپ لینا ممنوع ہے اور ان کاموں کا کرنے والا رحمت الٰھی سے محروم ہوجاتا ہے۔

قرآن مجید اوراحادیث معصومین علیہم السلام، حلال طریقہ سے مال حاصل کرنے کی تاکید کرتے ہیں ، یھاں تک کہ قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ پھلے حلال مال کھاؤ اس کے بعد عبادت خدا بجالاؤ:

( یاایها الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّیبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ) ۔(۴۱۸)

”اے میرے رسولو!تم پاکیز ہ غذائیں کھاو اور نیک کام کرو “۔

ام عبد اللہ نے افطار کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ایک پیالہ دودھ بھجوایا تو آنحضرت نے دودھ لانے والے سے فرمایا: اس دودھ کو لے جاؤ اور اس سے معلوم کرو کہ یہ دودھ کھاں سے آیاھے؟ وہ واپس گیا اور آکر عرض کیا: یہ دودھ گوسفند کا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پھر فرمایا: گوسفند کھاں سے آیا ہے: چنانچہ پیغام آیا: اس کو میں نے اپنے مال سے خریدا ہے، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ دودھ نو ش فرمایا۔

دوسرے روز ام عبد اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرتی ہیں : کل میں نے آپ کے لئے دودھ بھیجا لیکن آپ نے واپس کردیا اور سوال و جواب کے بعد نوش فرمایا، مسئلہ کیا تھا؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: مجھ سے پھلے تمام انبیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ صرف پاک اور حلال چیز یں کھائیں اور صرف عمل صالح انجام دو۔(۴۱۹)

قرآن مجید نے روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو حکم دیا کہ پاکیزہ اور حلال رزق کھاؤ اور روزی حاصل کرنے کے لئے شیطان کی پیروی نہ کرو، کیونکہ شیطان ان کو برائی، گناہ اور خدا پر تھمت لگانے کا حکم دیتا ہے۔

( یاایها النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِی الْارْضِ حَلاَلًا طَیبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ إِنَّمَا یامُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَانْ تَقُولُوا عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔(۴۲۰)

” اے انسانو!زمین میں جو کچھ بھی حلال و طیب ہے اسے استعمال کرو اور شیطانی اقدامات کا ا تباع نہ کرو کہ وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔وہ بس تم ہیں بدعملی اور بدکاری کا حکم دیتا ہے اور اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ خدا کے خلاف جھالت کی باتیں کرتے رھو“۔

اھل ایمان کو چاہئے کہ مال حاصل کرنے کے لئے اندازہ سے کام لیں، حلال خدا پر قناعت کریں، دوسروں کے مال پر آنک ہیں نہ جمائیں، اور اپنے دل وجان سے اس اھم حقیقت پر توجہ رک ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اعلان فرمایا ہے:

حُرْمَةُ مالِ الْمُسْلِمِ كَدَمِهِ(۴۲۱)

”مسلمان کا مال اس کے خون کی طرح محترم ہے“۔

یعنی جس طرح سے ایک مومن کی جان اور اس کی زندگی کی حفاظت کے لئے کوشش کرتے ہو اسی طرح اس کے مال کی حفاظت کے لئے بھی کوشش کرو، کیونکہ کسی مومن کے مال کو ناحق غارت کرنا اس کا ناحق خون بھانے کی طرح ہے۔

حلال روزی حاصل کرنا اورخداوندعالم کی عطا کردہ روزی پر قناعت کرنا، معنوی زیبائیوں میں سے ہے، بلکہ زیبائی اور نیکیوں سے آراستہ ہونے کے اصول میں سے ہے۔

ھر ایک توبہ کرنے والے پر یہ چیز فوراً واجب اور ضروری ہے کہ وہ اپنے مال کی اصلاح کرے، یعنی اگر کسی دوسرے کا حق اس پر ہے تو اپنی خوشی سے اسے الگ کرکے مالک تک پہنچا دے اور زندگی بھر یہ دھیان رکھے کہ صرف حلال لقمہ کھائے، اور حرام مال سے اجتناب کرے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

مَنْ اَكَلَ لُقْمَةً مِنْ حَرامٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ اَرْبَعِینَ لَیلَةً(۴۲۲)

”جو شخص ایک لقمہ حرام کھائے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول ن ہیں ہوتی“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کا فرمان ہے:

اِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ الّجَنَّةَ جَسَداً غُذِی بِحَرامٍ(۴۲۳)

”خداوندعالم نے حرام غذا کھانے والوں کے بدن پر جنت کو حرام قرار دیا ہے “۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک عجیب حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں :

تَرْكُ لُقْمَةٍ حَرامٍ اَحَبُّ اِلَی اللّٰهِ مِنْ صَلاةِ اَلْفَی رَكْعَةٍ تَطَوُّعاً(۴۲۴)

”ایک حرام لقمہ سے اجتناب کرنا خدا کے نزدیک مستحبی دو ہزار رکعت نماز سے زیادہ پسندیدہ ہے“۔

تقويٰ

اپنے کو گناھوں اور معصیتوں سے محفوظ رکھنا اور ھلاک کنندہ آفات و بلاؤں سے حفظ کرنا ایک ایسی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم اور دینی تعلیمات نے ”تقويٰ“ کے عنوان سے یاد کیا ہے۔

تقويٰ اس حالت کا نام ہے جو گناھوں سے اجتناب اور عبادت خدا سے حاصل ہوتی ہے اور تقويٰ دینی اقدار و معنوی زیبائی میں ایک خاص عظمت رکھتا ہے۔

صرف متقی افراد ہی میں ہدایت الٰھی کے آثار ظاھر ہوتے ہیں اور جنت بھی صرف اور صرف اھل تقويٰ کے لئے آمادہ کی گئی ہے:

( ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَرَیبَ فِیهِ هُدًی لِلْمُتَّقِینَ ) ۔(۴۲۵)

”یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش ن ہیں ہے۔یہ صاحبان تقويٰ اور پرھیز گار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے“۔

( وَازْلِفَتْ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِینَ ) ۔(۴۲۶)

”اورجس دن جنت پر ہیزگاروں سے قریب تر کردی جائے گی“۔

( وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) ۔(۴۲۷)

”اور اللہ سے ڈرو شاید تم کامیاب ہو جاو“۔

( وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا انَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ ) ۔(۴۲۸)

”اور اللہ سے ڈرتے رھو اور یہ سمجھ لو کہ خدا پر ہیزگاروں ہی کے ساتھ ہے“۔

( فَإِنَّ اللهَ یحِبُّ الْمُتَّقِینَ ) ۔(۴۲۹)

”بے شک خدا متقین کو دوست رکھتا ہے“۔

( فَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ) ۔(۴۳۰)

”لہٰذا اللہ سے ڈرو شاید تم شکر گذار بن جاو“۔

( وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) ۔(۴۳۱)

”اور اللہ سے ڈرو کہ وہ بھت جلد حساب کرنے والا ہے“۔

( لِلَّذِینَ احْسَنُوا مِنْهم وَاتَّقَوْا اجْرٌ عَظِیمٌ ) ۔(۴۳۲)

”ان کے نیک کام اور متقی افراد کے لئے نھایت درجہ اجر عظیم ہے“۔

( إِنَّمَا یتَقَبَّلُ اللهُ مِنْ الْمُتَّقِین ) ۔(۴۳۳)

”خدا صرف صاحبان تقويٰ کے اعمال قبول کرتا ہے “۔

( وَمَا عَلَی الَّذِینَ یتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهم مِنْ شَیءٍ ) ۔(۴۳۴)

”اور صاحبان تقويٰ پر ان کے حساب کی ذمہ داری ن ہیں ہے“۔

( وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) ۔(۴۳۵)

”اور اللہ سے ڈرتے رھو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے“۔

( وَاللهُ وَلِی الْمُتَّقِینَ ) ۔(۴۳۶)

”تو اللہ صاحبان تقويٰ کا سرپرست ہے“۔

( إِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتْقَاكُمْ ) ۔(۴۳۷)

”تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وھی ہے جو زیادہ پرھیزگار ہے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اھل تقويٰ کے کچھ نشانیاں بیان کی ہیں ، منجملہ:

صداقت، ادائے امانت، وفائے عہد، عجز و بخل میں کمی، صلہ رحم، کمزوروں پر رحم، عورتوں سے کم موافقت کرنا، خوبی کرنا، اخلاق حسنہ، بردباری میں وسعت، اس علم پر عمل جس کے ذریعہ خدا کے قریب ہوجائے، اور اس کے بعد فرمایا: خوش نصیب ہیں یہ افراد، کیونکہ ان کی آخرت سعادت بخش نیک اور اچھی ہوگی۔(۴۳۸)

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

لَوْاَنَّ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ کانَتا رَتْقاً عَليٰ عَبْدٍ ثُمَّ اتَّقَی اللّٰهَ لَجَعَلَ اللّٰهُ لَهُ مِنْهُما فَرَجاً وَمَخْرَجاً(۴۳۹)

”اگر کسی بندہ پر زمین و آسمان کے دروازے بند ہوجائیں، لیکن اگر وہ بندہ تقويٰ الٰھی اختیار کرے تو خدا اس کے لئے زمین و آسمان کے دروازے کھول دیتاھے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

خَصْلَةٌ مَنْ لَزِمَها اَطاعَتْهُ الدُّنْیا وَالْآخِرَةُ وَ رَبِحَ الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، قیلَ:وَما هِی یا رَسولَ اللّٰهِ؟ قالَ:التَّقْويٰ، مَنْ اَرادَ اَنْ یکونَ اَعَزَّ النّاسِ فَلْیتَّقِ اللّٰهِ(۴۴۰)

”ایک خصلت جس شخص میں بھی پائی جائے دنیا و آخرت اس کی اطاعت کرنے لگیں، اوراس کو جنت میں مقام ملے، اصحاب نے کھا: یا رسول اللہ! وہ کونسی خصلت ہے؟ تو آپ نے فرمایا: تقويٰ، جو شخص لوگوں میں سب سے زیادہ قابل احترام ہونا چاھتا ہے، اسے خدا سے تقويٰ اختیار کرنا چاہئے“۔

نیکی

قرآن مجید کے فرمان کے مطابق خدا، روز قیامت، ملائکہ، قرآن اور انبیاء علیھم السلام پر ایمان رکھنا، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، سفر میں بے خرچ ہونے والوں اور سائلین کی مالی مدد کرنا، نیز غلاموں کو آزاد کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰة ادا کرنا، وفائے عہد، سختیوں، بیماریوں اور کارزار میں صبر کرنا، یہ سب نیکی اور تقويٰ کی نشانیاں ہیں ۔(۴۴۱)

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

اِنَّ اَسْرَعَ الْخَیرِ ثَواباً الْبِرُّ، وَاَسْرَعَ الشَّرِّ عِقاباً الْبَغْی(۴۴۲)

”بیشک نیکی کا ثواب سب سے جلدی ملتا ہے اور سب سے جلدی عقاب خداوند عالم سے سر پیچی کا پھونچتاھے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نیک افراد کی دس خصلتیں بیان کی ہے:

یحِبُّ فِی اللّٰهِ وَ یبْغِضُ فِی اللّٰهِ، وَیصاحِبُ فِی اللّٰهِ، وَیفارِقُ فِی اللّٰهِ، وَ یغْضَبُ فِی اللّٰهِ، وَیرْضيٰ فِی اللّٰهِ، وَیعْمَلُ لِلّٰهِ، وَیطْلُبُ اِلَیهِ، وَ یخْشَعُ خَائِفاً مَخوفاً طاهراً مُخْلِصاً مُسْتَحْییاً مُراقِباً، وَیحْسِنُ فِی اللّٰهِ(۴۴۳)

”کسی سے محبت کرے تو خدا کے لئے، دشمنی کرے تو خدا کے لئے، دوستی کرے تو خدا کے لئے، کسی سے دوری کرے تو خدا کے لئے، غصہ کرے تو خدا کے لئے، کسی سے راضی ہو تو خدا کے لئے، اعمال انجام دے تو خدا کے لئے، خدا سے محبت کرے، اس کے سامنے خشوع کرے اورخوف، طھارت، اخلاص، حیاء اور مراقبت کی حالت میں رہے ، نیز خدا کے لئے نیکی کرے“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تین چیزیں نیکی کے راستے ہیں :

سَخاءُ النَّفْسِ، وَطیبُ الْكَلامِ، وَالصَّبْرُ عَلَی الْاَذيٰ“ (۴۴۴)

”راہ خدا میں جان کی بازی لگادینا، نیک گفتار اور لوگوں کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں کے مقابلہ میں صبر کرنا“۔

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَرْبَعٌ مِنْ كُنوزِ الْبِّرِّ:كِتْمانُ الْحاجَةِ، وَكِتْمانُ الصَّدَقَةِ، وَكِتْمانُ الْوَجَعِ، وَكِتْمانُِ الْمُصِیبَةِ(۴۴۵)

” نیکیوں کا خزانہ چار چیزیں ہیں : اپنی حاجت کو مخفی رکھنا، چھپاکرصدقہ دینا، اور مشکلات و پریشانیوں کو مخفی رکھنا“۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں :

مَنْ حَسُنَ بِرُّهُ بِاِخْوانِهِ وَاَهْلِهِ مُدَّ فِی عُمْرِهِ(۴۴۶)

”جس نے اپنے (دینی) بھائیوں کے ساتھ نیکی کی خدا اس کی عمر طولانی کردیتا ہے“۔

غیرت

غیرت اور حمیت، اخلاق حسنہ میں سے ہیں ، غیرت کی وجہ سے انسان کی ناموس اور اھل خانہ نامحرموں اور خائنوں کے شر سے محفوظ رھتے ہیں ۔

غیرت، انبیاء اور اولیاء الٰھی کے برجستہ صفات میں سے ہے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

”کانَ اِبْراهیمُ اَبِی غَیوراً، وَاَنااَغْیرُ مِنْهُ، وَاَرْغَمَ اللّٰهُ اَنْفَ مَنْ لَا یغارُ مِنَ الْمُومِنینَ(۴۴۷)

”جناب ابراھیم کے باپ غیور اور صاحب حمیت تھے اور میں ان سے زیادہ غیرت رکھتا ہوں، جو مومن غیرت نہ رکھتا ہو تو خدا اس کو ذلیل کردیتاھے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام اھل کوفہ کو نصیحت کرتے ہوئے بلند آواز میں فرماتے تھے:

” اَما تَسْتَحْیونَ وَلَا تَغارونَ؟!نِساوكُمْ یخْرُجْنَ اِلَی الْاَسْواقِ یزاحِمْنَ الْعُلوجَ(۴۴۸)

”تمھاری حیا کھاں چلی گئی ؟!کیا تم ہیں غیرت ن ہیں آتی، تمھاری عورتیں بازاروں میں جاتی ہیں اور نامحرم اور بدمعاش لوگ ان کو پریشان کرتے ہیں “۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اِنَّ الْجَنَّةَ لَیوجَدُ رِیحُها مِنْ مَسیرَةِ خَمْسِمائَةِ عَامٍ، وَلَا یجِدُها عاقٌّ وَلَادَیوثٌ، قِیلَ:یا رَسُولَ اللّٰهِ، مَا الدَّیوثِ؟قالَ:الَّذِی تَزْنِی امْرَاتُهُ وَهُوَ یعْلَمُ بِهَا(۴۴۹)

”بے شک جنت کی خوشبو پانچ سو سال کی دوری سے محسوس کی جاسکتی ہے، لیکن ماں باپ کا عاق کیا ہوا او ردیوث جنت کی بو ن ہیں سونگ سکتے، سوال ہوا کہ یا رسول اللہ! دیوث کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: دیوث وہ شخص ہے جس کی بیوی زنا کرے اور وہ جانتا ہو لیکن بے توجھی سے کام لے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ غَیورٌ، یحِبُّ كُلَّ غَیورٍ، وَمِنْ غَیرَتِهِ حَرَّمَ الْفَواحِشَ ظاهرها وَبَاطِنَها(۴۵۰)

”بے شک خداوندعالم غیور ہے اور غیرت رکھنے والے ھر شخص کو دوست رکھتا ہے، اس کی غیرت یہ ہے کہ اس نے تمام ظاھری و باطنی گناھوں کو حرام قرار دیا ہے“۔

عبرت

حوادث زمانہ سے عبرت حاصل کرنا، گزشتہ اور عصر حاضر کے لوگوں کے حالات سے پند حاصل کرنا عقلمندی کی نشانی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( لَقَدْ كَانَ فِی قَصَصِهم عِبْرَةٌ لِاوْلِی الْالْبَابِ ) ۔(۴۵۱)

”یقینا (قرآن میں بیان ہونے والے) ان واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے۔۔“۔

قرآن مجید، صاحبان عقل و فھم، اھل فکر و بصیرت اور آخر کار تمام ہی انسان کو حکم دیتا ہے کہ رشد و کمال حاصل کرنے اور پلیدی و برائی سے دوری کے لئے تمام چیزوں سے عبرت حاصل کرو:

( فَاعْتَبِرُوا یااولِی الْابْصَارِ ) ۔(۴۵۲)

”اے صاحبا ن نظر! عبرت حاصل کرو“۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

اَفْضَلُ الْعَقْلِ الْاِعْتِبارُ، وَاَفْضَلُ الْحَزْمِ الْاِسْتِظْهارُ، وَ اَكْبَرُ الْحُمْقِ الْاِغْترِارُ(۴۵۳)

”سب سے افضل عقل عبرت حاصل کرنے والی عقلھے، بھترین دور اندیشی یہ ہے کہ انسان غور و فکر کے ساتھ کسی امر میں مداخلت کرے، اور سب سے بڑی حماقت دنیا سے دھوکہ کھانا ہے“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام جاھلوں، گناھگاروں، ستمگروں اوربدمعاشی کرنے والوں کو چیلنج فرماتے ہیں کہ گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت حاصل کرو:

اِنَّ لَكُمْ فِی الْقُرونِ السّالِفَةِ لَعِبْرَةً، اَینَ الْعَمالِقَةُ وَاَبْناءُ الْعِمالِقَةُ؟ اَینَ الْفَراعِنَةُ وَاَبْناءُ الْفِرَاعِنَة؟اَینَ اَصْحابُ مَدائِنِ الرَّسِّ الَّذِینَ قَتَلُوا النَّبِیینَ، وَاَطْفَاواسُنَنَ الْمُرْسَلینَ، وَاَحْیواسُنَنَ الْجَبّارینَ؟!(۴۵۴)

”تمھارے لئے گزشتہ قوموں میں عبرت کا سامان فراھم کیا گیا ہے، کھاں ہیں (شام و حجاز کے) عمالقہ او ران کی اولاد، کھاں ہیں (مصر کے) فراعنہ اور ان کی اولاد؟ کھاں ہیں (آذربائیجان کے) اصحاب الرس؟ جنھوں نے انبیاء کو قتل کیا، اور مرسلین کی سنتوں کو خاموش کیا اور جباروںکی سنتوںکو زندہ کیا ؟کھاں گئے اور کیا ہوئے؟!

خیر

قرآن مجید اوراحادیث کی روشنی میں دنیا و آخرت میں کام آنے والے مثبت اور مفید کاموں پر” خیر “کا اطلاق کیا گیا ہے۔

قرآن کی زبان میں خیر کے معنی ثواب آخرت، رحمت الٰھی، مال حلال، نماز جمعہ، آخرت، ایمان، نصیحت پر عمل کرنا، توبہ، تقويٰ اور ان ہیں کی طرح دوسری چیزیں ہیں ۔

یہ چیزیں انسان کے ظاھر و باطن کی اصلاح کے لئے بھترین راستے ہیں ۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اَرْبَعٌ مَنْ اُعْطَیهُنَّ فَقَدْ اُعْطِی خَیرَ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ :بَدَناً صابِراً، وَلِساناً ذاكِراً وَقَلْباً شاكِراً، وَزَوْجَةً صالِحَةً(۴۵۵)

”جس شخص کو چار چیزیں مل جائیں اس کو دنیا و آخرت کا خیر مل جاتا ہے: جس کے بدن میں سختیوں اور بلاؤں پر صبر کرنے کی طاقت ہو، جو زبان ذکر خدا میں رطب اللسان رہے ، جو دل، شکرخدا کرتا رہے اور مناسب اور شائستہ بیوی“۔

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

جُمِعَ الْخَیرُ كُلُّهُ فِی ثَلاثِ خِصالٍ:اَلنَّظَرِ وَالسُّکوتِ وَالْكَلامِ، فَكُلُّ نَظَرٍ لَیسَ فِیهِ اعْتِبارٌ فَهُوَ سَهْوٌ، وَكُلَّ سُکوتٍ لَیسَ فِیهِ فِكْرٌ فَهُوَ غَفْلَةٌ، وَكُلُّ كَلامٍ لَیسَ فِیهِ ذِكْرٌ فَهُوَ لَغْوٌ(۴۵۶)

”تمام نیکی اور خیر تین خصلتوں میں جمع ہیں : نگاہ، سکوت اور قول، جس نظر میں عبرت ن ہیں ہے وہ سھو ہے، جس سکوت اور خاموشی میں غور و فکر نہ ہو وہ غفلت ہے اور ھر وہ کلام جس میں ذکر (خدا) نہ ہو تو لغو و بے ہودہ ہے“۔

تحصیل علم

علم، عالم اور متعلم کے سلسلہ میں قرآن مجید اور احادیث میں بھت زیادہ تاکید کی ہے۔

علم: چراغ راہ، حرارت عقل، بینائی وبصیرت، ارزش و اقدار اور شرافت وکرامت ہے۔

دنیا اور آخرت میں اھل ایمان کے درجات بلند ہیں لیکن ان سے زیادہ بلند درجات مومن علماء کے ہیں ۔

( یرْفَعْ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِینَ اوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ) ۔(۴۵۷)

”اور جب تم سے کھا جائے کہ اٹھ جاو تو اٹھ جاو کہ خدا صاحبا ن ایمان اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کرنا چاھتا ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اُطْلُبُوا العِلْمَ وَلَوُ بِالصِّینِ، فَاِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِیضَةٌ عَليٰ كُلِّ مُسْلِمٍ(۴۵۸)

”علم حاصل کرو چاھے چین جانا پڑے، بے شک علم حاصل کرنا ھر مسلمان پر واجب ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کا فرمان ہے:

طالِبُ الْعِلْمِ بَینَ الْجُهّالِ كَالْحَی بَینَ الْاَمْواتِ(۴۵۹)

” طالب عالم جاھلوں کی نسبت مردوں کے درمیان زندہ کی طرح ہے“۔

حضرت رسول خدا :صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علم حاصل کرنے والوں کے لئے فرمایا:

اِذا جاءَ الْمَوْتُ لِطالِبِ الْعِلْمِ وَهُوَ عَليٰ هٰذِهِ الْحالَةِ ماتَ وَهُوَ شَهِیدٌ(۴۶۰)

”جب تحصیل علم کے دوران کسی طالب علم کی موت آجائے تو وہ شھید ہوتاھے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک عجیب و غریب حدیث نقل ہوئی ہے:

مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ فَهُوَ كَالصَّائِمِ نَهارُهُ، الْقائِمِ لَیلُهُ، وَاِنَّ باباً مِنَ الْعِلْمِ یتَعَلَّمُهُ الرَّجُلُ خَیرٌ لَهُ مِنْ اَنْ یکونَ لَهُ اَبو قُبَیسٍ ذَهَباً فَاَنْفَقَهُ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ(۴۶۱)

”علم حاصل کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزہ رکھے اور رات بھر عبادت کرے، بے شک انسان جب علم کا ایک باب حاصل کرلیتا ہے تو اس سے ک ہیں بھتر ہے کہ ابو قبیس نامی پھاڑ کے برابر اس کو سونا مل جائے اور وہ راہ خدا میں خرچ کردے“۔

نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

مَنْ کانَ فِی طَلَبِ الْعِلْمِ کانَتِ الْجَنَّةُ فِی طَلَبِهِ(۴۶۲)

” جو شخص علم کا طلب گار ہو تو جنت بھی اس کے طلبگار ہوتی ہے“۔

توبہ کرنے والے کو اپنی حالت سنورانے کے لئے اس سے بھتر اور کیا راستہ ہوگا کہ نیکیوں اور برائیوں کو پہچانے اور احکام الٰھی کی معرفت حاصل کرکے ان پر عمل کرے؟

درج ذیل آیہ شریفہ کے پیش نظر انسان دینی معرفت کے بغیرکیا اخلاقی حقائق پر عمل کرسکتاھے؟

( ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَاصْلَحَ ) ۔(۴۶۳)

”اور اس کے بعد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلے “۔

امید

امید ایک ایسی حقیقت اور حالت ہے کہ جس سے اھل ایمان خصوصاً گناھوں سے توبہ کرنے والوں کے دل میں خداوندعالم کی رحمت و مغفرت کی روشنی پیداھوتی ہے۔

جن لوگوں کا خدا اور آخرت پر یقین ہوتا ہے، اور اپنی استعداد کے مطابق واجبات پر عمل کرتے ہیں اور حرام چیزوں سے پرھیز کرتے ہیں اور اپنے اندر غرور، خود پسندی اور انانیت کو جگہ ن ہیں دیتے، توان کو امیدرکھنا چاہئے کہ خداوندعالم روز قیامت ان پر توجہ فرمائے گا، اور ان کی مدد کرے گا، اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے گا، ان لوگوں کو خدا کی طرف سے حاصل ہوئی توفیق کے ذریعہ اس عظیم سرمایہ کے باوجود مایوس اور ناامیدن ہیں ہونا چاہئے، اور یہ جاننا چاہئے کہ قرآن مجید نے ان کے ایمان و عمل صالح کی وجہ سے نجات کی سند دی ان کے نجات کی سند ان کے ایمان اور عمل کے ذریعہ قرآن مجید ہے۔

قرآن مجید نے بھت سی آیات میں عمل صالح اور اخلاق حسنہ رکھنے والے مومنےن کو بہشت اور فوز عظیم کی بشارت دی ہے اور خدا کا وعدہ کبھی خلاف ن ہیں ہوسکتا۔

( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ هاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اوْلَئِكَ یرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔(۴۶۴)

”بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور راہ خدا میں جھاد کیا وہ رحمت الٰھی کی امید رکھتے ہیں اور خدا بھت بخشنے والا ہے اور مھربان ہے“۔

( وَبَشِّرْ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ انَّ لَهم جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِها الْانْهار ) ۔(۴۶۵)

”اے پیغمبر آپ ایمان رکھنے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو بشارت دیدیں کہ ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نھریں جاری ہیں “۔

قرآن مجید میں اس طرح کی بھت سی آیات موجود ہیں ، لہٰذا ان تمام مستحکم و مضبوط سندوں کے باوجود کسی مومن کے لئے رحمت خدا سے مایوس ہوجاناسزاوار ن ہیں ہے، اور اسی طرح قطعی طور پر دی جانے والی بشارت میں شک کرنا بھی سزاوار ن ہیں ہے۔

جن لوگوں کی ایک مدت عمر گناھوں میں گزری ہے، جنھوں نے اپنے واجبات پر عمل ن ہیں کیا ہے ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان پر رحمت خدا کا دروازہ بند ن ہیں ہوا ہے، خداوندمھربان توبہ قبول کرتا ہے، اور اس حقیقت پر یقین ہونا چاہئے کہ خداوندعالم کی قدرت بے نھایت ہے اور بندوں کے گناہ اگرچہ تمام پھاڑوں، دریاؤں اور ریگزاروں کے برابر ہی کیوں نہ ہو ں ان تمام کو بخش دینا اس کے لئے کوئی مشکل کام ن ہیں ہے۔

( لاَتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ یغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) ۔(۴۶۶)

”رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا، اللہ تمام گناھوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بھت زیادہ بخشنے والا اور مھربان ہے“۔

توبہ کرنے والے کو توبہ کے وقت خدا کی رحمت و مغفرت کا امید وار رہنا چاہئے، کیونکہ رحمت و مغفرت سے مایوسی قرآن مجید کے فرمان کے مطابق کفر ہے۔(۴۶۷)

توبہ کرنے والے کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی حالت بیمار کا طرح ہے اور اس کی بیماری کے علاج کرنے والا طبیب خدا ہے اور کوئی ایسا مرض ن ہیں ہے جس کی شفاء خدا کے یھاں نہ ہو۔

رحمت و مغفرت سے مایوسی کے معنی یہ ہیں کہ (نعوذ باللہ) خدا بیمار کا علاج کر نے کی طاقت ن ہیں رکھتا۔

بھر حال رحمت خدا کی امید کو ایمان و عمل اور توبہ کا ثمرہ حساب کرے کیونکہ ایمان و عمل اور بغیر توبہ کی امید رکھنا ایک شیطانی صفت ہے جس کو قرآن مجید کی زبان میں ”امنیہ“ کھا جاتا ہے۔

( یعِدُهم وَیمَنِّیهم وَمَا یعِدُهم الشَّیطَانُ إِلاَّ غُرُورًا ) ۔(۴۶۸)

”شیطان ان سے وعدہ کرتا ہے اور ان ہیں امیدیں دلاتا ہے اور وہ جو بھی وعدہ کرتا ہے وہ دھوکہ کے سوا کچھ ن ہیں ہے“۔

ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپ مجھے نصیحت فرمائیے، تو آپ نے فرمایا:

لَا تَكُنْ مِمَّنْ یرْجُوالْآخِرَةَ بِغَیرِ الْعَمَلِ وَیرَجِّی التَّوْبَةَ بِطولِ الْاَمَلِ، یقولُ فِی الدُّنْیا بِقَوْلِ الزّاهِدِینَ، وَیعْمَلَ فِیهَا بِعَمَلِ الرّاغِبِینَ(۴۶۹)

”ان لوگوں میں نہ ہوجانا جو عمل کے بغیر آخرت کی امید رکھتے ہیں اور طولانی امیدوں کی بنا پر توبہ کو ٹال دیتے ہیں ، دنیا میں زاہدوں جیسی باتیں کرتے ہیں اور راغبوں جیسا کام کرتے ہیں کچھ مل جاتا ہے تو سیر ن ہیں ہوتے اور ن ہیں ملتا ہے تو قناعت ن ہیں کرتے“۔

نیز آپ ہی کا ارشاد ہے:

”تمھاری امیدرکھنے والی چیزیں ان چیزوں سے زیادہ ہو جن کی امید ن ہیں رکھتے، جناب موسيٰ بن عمران آگ کی چنگاری کی امید میں اپنے اھل و عیال کے پاس سے گئے، تو ”کلیم اللہ “کے مرتبہ پر فائز ہوگئے اور منصب نبوت کے ساتھ واپس پلٹے، ملکہ سبا جناب سلیمان اور ان کے ملک کو دیکھنے کے لئے گئی لیکن جناب سلیمان کے ھاتھوں مسلمان ہوکر پلٹی، فرعون کے جادو گر

فرعون سے عزت ومقام حاصل کرنے کے لئے گئے لیکن حقیقی مسلمان ہوکر واپس پلٹے“(۴۷۰)

چھٹے امام علیہ السلام فرماتے ہیں :

لَا یكُونُ الْمُومِنُ مُومِناً حَتّی یكُونَ خائِفاً راجِیاً، وَلَا یكُونُ خائِفاً راجِیاً حَتّی یكُونَ عامِلاً لِمٰا یخافُ وَ َرْجُو(۴۷۱)

”مومن اس وقت مومن بنتا ہے جبکہ خوف و رجاء (امید) کی حالت میں رہے ، اور خوف و رجاء پیدان ہیں ہوتا مگرجب تک خوف وامید کے لحاظ سے عمل انجام نہ دیا جائے“۔

عدالت

قرآن مجید اور احادیث میں بیان ہونے والے اھم مسائل میں سے عدالت بھی ہے، عدل، خداوندعالم کی صفت اور انبیاء و اولیاء الٰھی کے خصائص میں سے ہے۔

عادل انسان ؛ محبوب خدا، اھل نجات اور زندگی کے لئے پُر نور چراغ ہوتا ہے۔

عدل، اس حقیقت کا نام ہے کہ جس کو نظام کائنات کی وجہ کھا گیا ہے:

بِالْعَدْلِ قامَتِ السَّماواتُ وَالْاَرْضُ(۴۷۲)

” عدل کے ہی ذریعہ زمین و آسمان قائم ہیں “۔

قرآن مجید نے عدالت کے سلسلہ میں بھت سی آیات میں گفتگوکی ہے، اور زندگی کے ھر موڑ پر تمام انسانوں کو عدالت سے کام لینے کا حکم دیا ہے:

( إِنَّ اللهَ یامُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِیتَاءِ ذِی الْقُرْبَی ) ۔(۴۷۳)

”بیشک اللہ عدل، احسان اور قرابتداروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتاھے“۔

( إِنَّ اللهَ یامُرُكُمْ انْ تُؤَدُّوا الْامَانَاتِ إِلَی اهلها وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَینَ النَّاسِ انْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ) ۔(۴۷۴)

”بیشک اللہ تم ہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اھل تک پہنچا دو اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو“۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلاَیجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی الاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اقْرَبُ لِلتَّقْوَی ) ۔(۴۷۵)

”اے ایمان والو ! خدا کے لئے قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواھی دینے والے بنو، اور خبردار کسی قوم کی عداوت تم ہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ انصاف ترک کردو ۔انصاف کرو کہ یھی تقويٰ سے قریب ترہے “۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

عَدْلُ ساعَةٍ خَیرٌ مِنْ عِبادَةِ سَبْعینَ سَنَةً، قیامٌ لَیلُها وَ صِیامٌ نَهارُها، وَجَوْرُ ساعَةٍ فِی حُكْمٍ اَشَدُّ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ مَعاصِی سِتّینَ سَنَةً(۴۷۶)

”ایک گھنٹہ عدالت سے کام لینا اس ستر سال کی عبادت سے بھتر ہے جس میں رات بھر عبادت کی جائے اور دن کو روزہ رکھا جائے، اور ایک گھنٹہ ظلم کرنا خدا کے نزدیک ساٹھ سال کے گناھوں سے زیادہ بُراھے!“

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ طابَقَ سِرُّهُ عَلَانِیتَهُ، وَوافَقَ فِعْلُهُ مَقَالَتَهُ، فَهُوَ الَّذِی اَدَّی الْاَمانَةَ وَتَحَقَّقَتْ عَدالَتُهُ(۴۷۷)

”جس شخص کا ظاھر و باطن ایک ہو، اور اس کے قول و عمل میں مطابقت پائی جاتی ہو، ایسا ہی شخص امانت ادا کرنے والا ہے اور اس کی عدالت ثابت ہے“۔

نیز آپ ہی کا فرمان ہے:

اَلْعَدْلُ اَساسُ بِهِ قَوامُ الْعالَمِ(۴۷۸)

”عدالت اس پایہ کا نام ہے جس پر دنیا قائم ہے“۔

ایک اور جگہ ھمارے مولا و آقا نے فرمایا:

اَلْعَدْلُ رَاسُ الاِْیمانِ، وَجِماعُ الاِْحْسانِ، وَاَعليٰ مَراتِبِ الْاِیمانِ(۴۷۹)

”عدالت سرچشمہ ایمان، جامع احسان اور ایمان کے بلند درجات میں سے ہے“۔

قارئین کرام! گزشتہ صفحات کا خلاصہ یہ ہے: ایمان، نماز، انفاق، آخرت پر یقین، ماں باپ کے ساتھ نیکی، رشتہ داروں کے ساتھ احسان، یتیموں کے ساتھ نیک سلوک، مساکین کا خیال رکھنا، نیک گفتار اپنانا، اخلاص، صبر، مال حلال، تقويٰ، نیکی، غیرت، عبرت، خیر، تحصیل علم، امید اور عدالت کو اپنانا۔

یہ تمام چیزیں بھترین اعمال اور بھترین اخلاق ہیں جو معنوی زیبائیوں سے تعلق رکھتی ہیں ، اور گناھوں سے توبہ کے بعد انسانی اصلاح کے بھترین اسباب ہیں ۔ان کے علاوہ نیت، نیکی، حریت، حکمت، قرض الحسنہ، محبت و مودت، انصاف، ولایت، صلح کرانا، وفائے عہد، عفو و بخشش، توکل، تواضع، صدق، خیرخواھی، الفت و معاشرت، جھاد اکبر، امر بالمعروف و نھی عن المنکر، زہد، شکر، ذمہ داری، سخاوت اور ان جیسی دوسری چیزیں اصلاح کے اسباب اور معنوی زیبائیوں میں سے ہیں کہ اگر گزشتہ آیات و روایات کی توضیح کے ساتھ بیان کیا جائے تو چند جلدیں کتاب ہوسکتی ہیں ، لہٰذا ان چیزوں کی زیادہ تفصیل سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے عزیز قارئین کو مفصل کتابوں کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں جیسے تفاسیر قرآن، اصول کافی، جامع السعادات، معراج السعادة، محجة البیضاء، عرفان اسلامی (۱۲جلدیں تالیف موئف کتاب ہذا) معانی الاخبار، خصال صدوق اورمواعظ العددیہ وغیرہ ۔

____________________

۳۷۵. سورہ۷ بقرہ آیت ۲۲۰۔

۳۷۶. سورہ نساء آیت ۲۔

۳۷۷. سورہ نساء آیت ۱۰۔

۳۷۸. سورہ نساء آیت ۱۲۷۔

۳۷۹. سورہ انعام آیت ۱۵۲۔

۳۸۰. الترغیب ج۳، ص۳۴۷۔

۳۸۱. کنزالعمال ص۶۰۰۸؛تفسیر معین ص۱۲،

۳۸۲. الترغیب ج۳، ص۳۴۹۔

۳۸۳. ثواب الاعمال ص۱۹۹، ثواب من مسح یدہ علی راس یتیم؛بحار الانوار ج۷۲، ص۴، باب۳۱، حدیث۹۔

۳۸۴. سورہ اسراء آیت ۲۶۔

۳۸۵. سورہ بقرہ آیت ۱۷۷۔

۳۸۶. سورہ توبہ آیت ۶۰۔

۳۸۷. سورہ فجر آیت ۱۶تا ۲۰۔

۳۸۸. سورہ حاقہ آیت ۲۵تا ۳۷۔

۳۸۹. مواعظ العددیہ ص۱۴۷۔

۳۹۰. تفسیر امام حسن عسکری ص۳۴۵، حدیث ۲۲۶؛تفسیر صافی ج۱، ص۱۵۱، ذیل سورہ بقرہ آیت ۸۳ ؛بحار الانوار ج۶۶، ص۳۴۴، باب۳۸۔

۳۹۱. کافی ج۲، ص۲۰۱، باب اطعام المومن، حدیث ۶؛وسائل الشیعہ ج۲۴، ص۳۰۹، باب ۳۲، حدیث۳۰۶۲۷۔

۳۹۲. سورہ بلد آیت ۱۴۔۱۶۔

۳۹۳. محجة البیضا ء ج۵، ص۱۹۳، کتاب آفات اللسان۔

۳۹۴. غررالحکم ص۲۰۹، اللسان میزان، حدیث ۴۰۲۱۔

۳۹۵. کافی ج۲، ص۱۱۵، باب الصمت و حفظ اللسان، حدیث۱۶؛بحار الانوار ج۶۸، ص۳۰۴، باب۷۸، حدیث۸۰۔

۳۹۶. غررالحکم ص۲۱۳، حظہ اللسان واھمیتہ، حدیث ۴۱۵۹۔

۳۹۷. تفسیر صافی ج۱، ص۱۵۲، ذیل سورہ بقرہ آیت ۸۳ ؛بحار الانوار ج۷۲، ص۴۰۱، باب ۸۷، حدیث ۴۲۔

۳۹۸. تفسیرعیاشی ج۱، ص۴۸، حدیث۶۳، ؛تفسیرصافی ج۱، ص۱۵۲، ذیل سورہ بقرہ آیت ۸۳؛بحار الانوار ج۷۱، ص۱۶۱، باب ۱۰، حدیث۱۹۔

۳۹۹. مواعظ العددیہ ص۸۷۔

۴۰۰. سورہ نساء آیت ۱۴۶۔

۴۰۱. سورہ زمر آیت ۳۔

۴۰۲. سورہ زمر آیت ۲۔

۴۰۳. سورہ بقرہ آیت ۱۳۹۔

۴۰۴. عیون اخبار الرضا ج۲، ص۶۹، باب ۳۱، حدیث ۳۲۱؛بحا رالانوار ج۶۷، ص ۲۴۲، باب ۵۴، حدیث ۱۰۔

۴۰۵. جامع الاخبار ص۱۰۰، الفصل ۵۶فی الاخلاص؛بحار الانوار ج۶۷، ۲۴۸، باب ۵۴، حدیث۲۱۔

۴۰۶. غررالحکم :۶۲، فوائد الیقین، حدیث۷۴۶۔

۴۰۷. غرر الحکم :۳۹۸، الفصل التاسع، حدیث ۹۲۴۹۔

۴۰۸. غررالحکم :۱۵۵، الاخلاص فی العمل، حدیث۲۹۰۷۔

۴۰۹. سورہ بقرہ آیت ۱۵۵۔۱۵۷۔

۴۱۰. سورہ رعد آیت ۲۳۔۲۴۔

۴۱۱. سورہ نحل آیت ۹۶۔

۴۱۲. سورہ قصص آیت ۵۴۔

۴۱۳. کنزل العمال حدیث۶۵۲۲۔

۴۱۴. نہج البلاغہ ص۶۹۹، نامہ ۵۳؛تحف العقول ص۱۴۲؛بحار الانوارج۷۴، ص۲۵۹، باب ۱۰، حدیث ۱۔

۴۱۵. غررالحکم :۷۰، الصبر علی الحق، حدیث ۹۹۳۔

۴۱۶. کافی ج۲، ص۸۹، باب الصب، حدیث ۷؛بحار الانوار ج۶۸، ص۷۲، باب ۶۲، حدیث ۴۔

۴۱۷. کافی ج۲، ص۹۱، باب الصبر، حدیث ۱۴؛وسائل الشیعہ ج۱۵، ص۲۳۷، باب ۱۹، حدیث ۲۰۳۷۱۔

۴۱۸. سورہ مومنون آیت ۵۱۔

۴۱۹. الدر المنثور ج۵، ص۱۰۔

۴۲۰. سورہ بقرہ آیت ۱۶۸۔۱۶۹۔

۴۲۱. تفسیر معین ص۲۵۔

۴۲۲. کنز العمال : ۹۲۶۶۔

۴۲۳. کنز العمال :۹۲۶۱؛ تفسیر معین ص۲۶۔

۴۲۴. تفسیر معین ص(۲۶)

۴۲۵. سورہ بقرہ آیت ۲۔

۴۲۶. سورہ شعراء آیت ۹۰۔

۴۲۷. سورہ بقرہ آیت ۱۸۹۔

۴۲۸. سورہ بقرہ آیت ۱۹۴۔

۴۲۹. سورہ آل عمران ۷۶۔

۴۳۰. سورہ آل عمران ۱۲۳۔

۴۳۱. سورہ مائدہ آیت ۴۔

۴۳۲. سورہ آل عمران ۱۷۲۔

۴۳۳. مائدہ آیت ۲۷۔

۴۳۴. سورہ انعام آیت ۶۹۔

۴۳۵. سورہ حجرات آیت ۱۰۔

۴۳۶. سورہ جاثیہ آیت ۱۹۔

۴۳۷. سورہ حجرات آیت ۱۳۔

۴۳۸. تفسیر عیاشی ج۲، ص۲۱۳، حدیث۵۰؛ بحار الانوار، ج۶۷، ص ۲۸۲، باب ۵۶، حدیث۲۔

۴۳۹. عدة الداعی ص۳۰۵، فصل فی خواص متفرقة ؛بحار الانوار ج۶۷، ص۲۸۵، باب ۵۶، حدیث۸۔

۴۴۰. کنزل الفوائد ج۲، ص۱۰، فصل من کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ؛بحار الانوار ج۶۷، ص۲۸۵، باب ۵۶، حدیث۷۔

۴۴۱. سورہ بقرہ آیت ۱۷۷۔

۴۴۲. خصال ج۱، ص۱۱۰، حدیث ۸۱؛ثواب الاعمال ص ۱۶۶؛بحار الانوار ج۷۲، ص۲۷۳، باب ۷۰، حدیث۱۔

۴۴۳. تحف العقول ص۲۱؛بحار الانوارج۱، ص۱۲۱، باب ۴، حدیث۱۱۔

۴۴۴. محاسن ج۱، ص ۶، باب۱ حدیث۱۴؛بحار الانوار ج۶۸، ص۸۹، باب ۶۲، حدیث۴۱۔

۴۴۵. تحف العقول ص۲۹۵؛بحار الانوار ج۷۵، ص۱۷۵، باب ۲۲، حدیث۵۔

۴۴۶. تحف العقول ص۳۸۷؛بحار الانوار ج۷۵، ص۳۰۲، باب ۲۵، حدیث۱؛مستدرک الوسائل ج۱۲، ص۴۲۱، باب ۳۲، حدیث ۱۴۴۹۸۔

۴۴۷. من لایحضرہ الفقیہ ج۳، ص۴۴۴، باب الغیرة، حدیث۴۵۴۰؛مکارم اخلاق ص۲۳۹؛بحار الانوار ج۱۰۰، ص۲۴۸، باب۴، ص۳۳۔

۴۴۸. کافی ج۵، ص۵۳۷، باب الغیرة، حدیث۶؛وسائل الشیعہ ج۲۰، ص۲۳۵، باب ۱۳۲، حدیث۲۵۵۲۱۔

۴۴۹. من لایحضرہ الفقیہ ج۳، ص۴۴۴، باب الغیرة، حدیث۴۵۴۲؛خصال ج۱، ص۳۷، حدیث۱۵؛بحار الانوار ج۷۶، ص۱۱۴، باب۸۴، حدیث۱۔

۴۵۰. وسایل الشیعہ ج۲۰، ص۱۵۳، باب ۷۷، حدیث۲۵۲۸۳۔

۴۵۱. سورہ یوسف آیت ۱۱۱۔

۴۵۲. سورہ حشر آیت ۲۔

۴۵۳. غرر الحکم ص۵۲، افضل العقل وکمالہ، حدیث۳۷۴؛تفسیر معین ص۵۴۵۔

۴۵۴. نہج البلاغہ :۴۱۵، خطبہ ۱۸۱، الوصیة بالتقوی؛بحار الانوار ج۳۴، ص۱۲۴، باب ۳۱، شرح نہج البلاغہ ج۱۰، ص۹۲۔

۴۵۵. جعفریات ص۲۳۰؛مستدرک الوسائل ج۲، ص۴۱۴، باب۶۴، حدیث۲۳۳۸۔

۴۵۶. امالی صدوق ص۲۷، مجلس ۸، حدیث۲؛تحف العقول ص۲۱۵؛بحار الانوار ج۶۸، ص۲۷۵، باب۷۸، حدیث۲۔

۴۵۷. سورہ مجادلہ آیت ۱۱۔

۴۵۸. روضة الواعظین ج۱، ص۱۱، باب الکلام فی ماھیة العلوم ؛مشکاة الانوار ص۱۳۵، الفصل الثامن ؛بحار الانوار ج۱، ص ۱۸۰، باب ۱، حدیث۶۵۔

۴۵۹. امالی طوسی ص۵۷۷، مجلس ۱۴، حدیث ۱۱۹۱؛بحار الانوارج۱، ص۱۸۱، باب۱، حدیث۷۱۔

۴۶۰. ترغیب و ترھیب ج۱، ص۹۷۔

۴۶۱. منیة المریدص۱۰۰، فصل ۲؛بحار الانوار ج۱، ص۱۸۴، باب۱، حدیث۹۶۔

۴۶۲. کنزل العمال ص۲۸۸۶۲۔

۴۶۳. سورہ انعام آیت ۵۴۔

۴۶۴. سورہ بقرہ آیت ۲۱۸۔

۴۶۵. سورہ بقرہ آیت ۲۵۔

۴۶۶. سورہ زمر آیت ۵۳۔

۴۶۷. سورہ یوسف آیت ۸۷۔

۴۶۸. سورہ نساء آیت ۱۲۰۔

۴۶۹. نہج البلاغہ ص۷۹۵، حکمت ۱۵۰؛بحار الانوار ج۶۹، ص۱۹۹، باب ۱۰۵، حدیث۳۰۔

۴۷۰.عن صادق عن ابائه عن علیعلیهم السلام قال:کن لما لا ترجو ارجی منک لما ترجو، فان موسی بن عمران علیه السلام خرج یقتبس لا هله نارا فکلمه الله عز وجل فرجع نبیا وخرجت ملکة سبا فاسلمت مع سلیمان علیه السلام وخرج سحرة فرعون یطلبون العزة لفرعون فرجعوا مومنین ۔

۴۷۱. کافی ج۲ ص ۷۱، باب الخوف الرجاء، حدیث ۱۱؛بحار الانوارج ۶۷، ص۳۶۵، باب۵۹، حدیث۹۔

۴۷۲. عوالی اللئالی ج۴، ص۱۰۲، حدیث۱۵۰۔

۴۷۳. سورہ نحل آیت ۹۰۔

۴۷۴. سورہ نساء آیت ۵۸۔

۴۷۵. سورہ مائدہ آیت ۸۔

۴۷۶. جامع الاخبار ص۱۵۴، الفصل لسادس عشر؛مشکاة الانوارص۳۱۶، الفصل الخامس فی الظلم والحرام؛بحار الانوار ج۷۲، ص۳۵۲، باب ۸۱، حدیث۶۱۔

۴۷۷. غررا لحکم ص۲۱۱، حدیث ۴۰۶۹۔

۴۷۸. بحار الانوارج۷۵، ص۸۳، باب ۱۶، حدیث۸۷۔

۴۷۹. غررالحکم ص۴۴۶، مدح العقل، حدیث ۱۰۲۰۶؛مستدرک الوسائل ج۱۱، ص۳۱۹، باب ۳۷، حدیث ۱۳۱۴۶۔


سیئات اور برائیاں

سیئات اور برائیاںیا گناھان کبیرہ و صغیرہ یا فحشاء و منکر اس قدر زیادہ ہیں کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان کا بیان کرنا اس کتاب کی گنجائش سے باھر ہے۔

کتاب کے اس حصہ میں گزشتہ کی طرح کہ جھاں پر حسنات، نیکی اورمعنوی زیبائیوں کی طرف بطور نمونہ توجہ دلائی ہے یھاں پر بھی نمونہ کے طور پر چند مسائل کو بیان کرتے ہیں جن کی تفصیل آپ تفصیلی کتابوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔

معنوی زیبائیوں سے مزین ہونے اور معنوی برائیوں سے دوری اختیار کرنے سے انسان ایک کامل او ررشید موجود میں تبدیل ہوجاتا ہے اور دنیا و آخرت کی سعادت اس کے قدم چومتی ہوئی نظر آتی ہے۔

معنوی زیبائیوں کے ذریعہ رحمت حق نازل ہوتی ہے اور انسان رضوان الٰھی میں داخل ہوجاتا ہے، اسی طرح برائیوں کے انجام دینے سے خداوندعالم ناراض ہوتا ہے جس سے انسان کی شخصیت تباہ و برباد ہوجاتی ہے، اور ان ہیں کی وجہ سے انسان روز قیامت میں درد ناک عذاب میں مبتلا ہوگا۔

قرآن مجید کے فرمان کے مطابق روز قیامت حسنات اور نیکیوں کا بدلہ جنت الفردوس ہوگی، اور برائیوں کے بدلے جہنم میں دردناک عذاب ہوگا، دوسرے الفاظ میں یوں کہئے کہ حسنات او رنیکیوں کے ذریعہ جنت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے اور برائیوں کے ذریعہ جہنم کا کنواں کھودا جاتا ہے۔

آئےں اور اس عمر جیسی فرصت کو غنیمت شمار کریں اور اس اپنی زندگی میں نیکیوں سے مزین ہوں اور برائیوں سے دوری کریں تاکہ ھمیشہ کے عذاب سے محفوظ اور جنت میں خداوندعالم کے دسترخوان سے فیضیاب ہوسکیں۔

جھوٹ

جھوٹ بولنا، بھت ہی ناپسند کام اور شیطانی صفت ہے۔

قرآن مجید کی بھت سی آیات میں جھوٹ کو گناھان کبیرہ میں شمار کیا ہے اور جھوٹ بولنے والے کو مستحق لعنت قرار دیا ہے، اور جھوٹے اور جھٹلانے والوں کو دردناک عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے۔

قرآن مجید نے نجران کے عیسائیوں کو جھوٹوں کے عنوان سے یاد کیا اور لعنت خدا کا مستحق قرار دیا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بحث و گفتگو کے لئے مدینہ میں آئے تھے، اور آخر کار رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مباھلہ ہونا طے پایا۔

جی ھاں، جھوٹ کا گناہ اس قدر سنگین ہے کہ انسان کو لعنت خدا کا مستحق بنادیتا ہے۔

( ثُمَّ نَبْتَهل فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْكَاذِبِینَ ) ۔(۴۸۰)

”اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قراردیں“۔

خداوندعالم نے قرآن مجید میں جھوٹ اور جھوٹے کو منافقین کے کی صفت سے یاد کیا ہے جو کہ دو زبان رکھتے (یھاں کچھ کھتے ہیں اور منافقین کے ساتھ بیٹھ کر کچھ اور باتیں کرتے ہیں )اور خود خداوندعالم ان کی جھوٹے ہونے کی گواھی دیتا ہے:

( وَاللهُ یشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَكَاذِبُونَ ) ۔(۴۸۱)

”اللہ گواھی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں “۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے:

كَبُرَتْ خِیانَةً اَنْ تُحَدِّثَ اَخاكَ حَدِیثاً هُوَلَكَ مُصَدِّقٌ وَانْتَ بِهِ کاذِبٌ(۴۸۲)

”اپنے دینی بھائی کے ساتھ سب سے بڑی خیانت اس سے جھوٹ بولنا ہے جبکہ وہ تم ہیں سچا مانتا ہو“۔

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

تَحَفَّظُوا مِنَ الْكِذْبِ، فَاِنَّهُ مِن اَدْنَی الْاخْلاقِ قَدْراً، وَهُوَ نَوُعٌ مِنَ الْفُحْشِ وَضَرْبٌ مِنَ الدَّناءَ ةِ(۴۸۳)

”اپنے کو جھوٹ سے بچاؤ کیونکہ یہ سب سے پست اخلاقی مرتبہ ہے، جھوٹ ایک بُرا عمل اور ذلت کی ایک قسم ہے“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اَعْظَمُ الْخَطایا اللِّسانُ الْكَذوبُ(۴۸۴)

”زبان کی سب سے بڑی خطا جھوٹ کا اپنی حد سے گزرجاناھے“۔

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

اِذاكَذَبَ الْعَبْدُ كِذْبَةً تَباعَدَ الْمَلَكُ مِنْهُ مَسیرَةَ میلٍ مِنْ نَتْنِ ما جَاءَ بِهِ(۴۸۵)

”جب انسان ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بُری بو کی وجہ سے فرشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے!“۔

حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ لِلشَّرِّ اَقْفالاًوَجَعَلَ مَفاتِیحَ تِلْكَ الْاَقْفالِ الشَّرابَ، وَالْكِذْبُ شَرٌّ مِنَ الشَّرابِ(۴۸۶)

”خداوندعالم نے بُرائیوں کے کچھ تالے مقرر کئے ہیں اور ان تالوں کی کنجی شراب ہے اور جھوٹ شراب سے بھی بدتر ہے“۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

اَلْكِذْبُ بابٌ مِنْ اَبْوابِ النِّفاقِ(۴۸۷)

”جھوٹ، نفاق کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے“۔

تھمت

واقعاً کتنی بُری بات ہے کہ انسان کسی پاکدامن مرد یا عورت کو لوگوں کے درمیان ذلیل و رسوا کرے، کتنا بُرا عمل ہے کہ انسان کسی کے سر ایسا گناہ تھونپے جس سے اس کا دامن پاک ہو، اور کس قدر ناپسند ہے کہ انسان ہوا و ہوس اور بے ہودہ چیزوں کی بنا پر کسی محترم انسان کوذلیل و رسوا کرے۔

کسی بے گناہ پر تھمت لگانا، اور پاکدامن انسان کو متھم کرنا بدترین کام ہے۔

( وَمَنْ یكْسِبْ خَطِیئَةً اوْ إِثْمًا ثُمَّ یرْمِ بِهِ بَرِیئًا فَقَدْ احْتَمَلَ بُهتانًا وَإِثْمًا مُبِینًا ) ۔(۴۸۸)

”اور جو شخص بھی کوئی غلطی یا گناہ کرکے دوسرے بے گناہ کے سر ڈال دیتا ہے وہ بھت بڑے بھتان اور کھلے گناہ کا ذمہ دار ہوتاھے “۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ بَهَتَ مُومِناً اَوْ مُومِنَةً قالَ فِیهِ مَا لَیسَ فِیهِ اَقَامَهُ اللّٰهُ تَعاليٰ یوْمَ الْقِیامَةِ عَليٰ تَلٍّ مِنْ نارٍ حَتّيٰ یخْرُجَ مِمّا قَالَهُ فِیهِ(۴۸۹)

”جو شخص کسی مومن پر تھمت لگائے یا اس کے بارے میں وہ چیز کھے جو اس میں نہ پائی جاتی ہو، تو ایسے شخص کو خداوندعالم آگ کی ایک بلندی پر کھڑا کرے گاتاکہ وہ اپنے مومن بھائی کی شان میں کھی جانے والی بات کو ثابت کرے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

مَنْ باهَتَ مُومِناً اَوْ مُومِنَةً بِما لَیسَ فِیهِمَا، حَسَبَهُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ یوْمَ الْقِیامَةِ فِی طِینَةِ خَبالٍ حَتّيٰ یخْرُجَ مِمّا قَالَقُلْتُ: وَمَا طِینَةُ خَبالٍ؟ قالَ:صَدیدٌ یخْرُجُ مِنْ فُروجِ الْمُومِساتِ - یعْنِی الزَّوانِی(۴۹۰)

” جو شخص کسی مرد مومن یا مومنہ پر تھمت لگائے اور ان کے بارے میں ایسی بات کھے جو ان میں نہ پائی جاتی ہو، تو خداوندعالم اس کو روز قیامت خَبال کی طینت میں مقید کردے گا تاکہ وہ اپنے کھے کو ثابت کرے، راوی کھتا ہے : میں نے حضرت سے سوال کیا: طینت خَبال کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ خون اور گندگی جو زناکرنے والوں کی شرمگاہ سے نکلتی ہے!“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اَلْبُهْتانُ عَلَی الْبَری ءِ اَثْقَلُ مِنَ الْجِبالِ الرّاسیاتِ(۴۹۱)

”کسی پاکدامن مومن پر تھمت لگانا مستحکم ترین پھاڑوں سے بھی زیادہ سنگین و بھاری ہے“۔

غیبت

دوسروں کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا پست ترین اور بری صفت ہے۔

جو صفات انسان میں پائے جاتے ہیں لیکن وہ ان کو دوسروں کے سامنے بیان ہونے پر ناراض ہوتا ہو تو اس کو غیبت کھتے ہیں ۔

قرآن مجید نے تمام لوگوں کو غیبت سے منع کیا ہے، اور اس کو اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے برابر شمار کیا ہے:

( وَلاَیغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ایحِبُّ احَدُكُمْ انْ یاكُلَ لَحْمَ اخِیهِ مَیتًا فَكَرِهتمُوهُ وَاتَّقُوا اللهَ ) (۴۹۲)

”دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے بُرا سمجھو گے، تو اللہ سے ڈرو“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابوذر سے فرمایا:

یا اباذَرٍّ، اِیاكَ وَالْغیبَةَ، فَاِنَّ الْغیبَةَ اَشَدُّ مِنَ الزِّنا قُلْتُ یا رَسُولَ اللّٰهِ! وَمَا الْغیبَةُ قَالَ:ذِكْرُكَ اَخاكَ بِمَا یكْرَهُقُلْتُ:یا رَسُولَ اللّٰهِ! فَاِنْ کانَ فِیهِ ذاكَ الَّذِی یذْكَرُ بِهِ؟قَالَ:اِعْلَمْ اِنَّكَ اِذا ذَكَرْتَهُ بِما لَیسَ فِیهِ بَهَتَّهُ “۔[۲۴۶]

” اے ابوذر! غیبت سے پرھیز کرو، بے شک غیبت زنا سے بدتر ہے، میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا: غیبت کیا ہے؟ تو آنحضرت نے فرمایا: اپنے دینی بھائی کی شان میں ناپسندیدہ الفاظ کہنا۔ میں نے کھا: اس کی پیٹھ پیچھے ایسی بات کہنا جو اس میں پائی جاتی ہو؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جان لو کہ اگر اس کے بارے میں وہ چیز کھو جو اس میں ن ہیں پائی جاتی تو وہ تھمت ہے“۔

نہ صرف یہ کہ غیبت کرنا حرام ہے بلکہ غیبت کا سننا بھی حرام اور گناہ ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

اَلسّامِعُ لِلْغیبَةِ كَاْلمُغْتابِ(۴۹۳)

”غیبت کا سننے والا (بھی) غیبت کرنے والے کی طرح ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

مَنِ اغْتیبَ عِنْدَهُ اَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَاسْتَطاعَ نَصْرَهُ وَلَمْ ینْصُرْهُ خَذَلَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ(۴۹۴)

”اگر کوئی شخص کسی کے سامنے اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کرے اور وہ اس کا دفاع کرسکتا ہو لیکن دفاع نہ کرے تو خداوندعالم اس کو دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا کردے گا“۔

استہزاء اور مسخرہ کرنا

دوسرے لوگوں کو ذلیل کرنا اور ان کی تحقیر کرنا بھت بُرا کام اور عظیم گناہ ہے۔

کسی انسان کا مسخرہ اور اس کو ذلیل نہ کیا کروچونکہ اس کا اولیائے خدا اور اس کے خاص بندوں میں سے ہونے کا امکان ہے۔

قرآن مجید نے شدت کے ساتھ ایک دوسرے کا مذاق اڑانے اور مسخرہ کرنے سے منع کیا ہے اور کسی کو ذلیل کرنے کی بھی اجازت ن ہیں دی ہے۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا لاَیسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَی انْ یكُونُوا خَیرًا مِنْهم وَلاَنِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَی انْ یكُنَّ خَیرًا مِنْهُن ) (۴۹۵)

”ایمان والو! خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بھتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے شاید وھی عورتیں ان سے بھتر ہوں“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کا مسخرہ کرنے والوں اور مومنین کو ذلیل کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:

اِنَّ الْمُسْتَهْزِئینَ یفْتَحُ لِاَحَدِهِمْ بابُ الْجَنَّةِ فَیقالَ:هَلُمَّ، فَیجیءُ بِكَرْبِهِ وَغَمِّهِ، فَاِذا جاءَ اُغْلِقَ دُونَهُ(۴۹۶)

”مسخرہ کرنے والوں کے لئے جنت کا ایک دروزاہ کھولا جائے گا اور ان سے کھا جائے گا: جنت کی طرف آگے بڑھو، جیسے ہی وہ لوگ اپنے غم و غصہ کے عالم میںبہشت کے دروازہ کی طرف بڑ ہیں گے تووہ فوراًبند ہوجائےگا“۔

جی ھاں، مومنین کا مسخرہ کرنے والوں کا روز قیامت مسخرہ کیا جائے گا اور مومنین کو ذلیل کرنے والوں کو ذلیل کیا جائے گا تاکہ اپنے برے اعمال کا مزہ چکھ سکیں۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

لَاتُحْقِرَنَّ اَحَداً مِنَ الْمُسْلِمِینَ، فَاِنَّ صَغِیرَهُمْ عِنْدَاللّٰهِ كَبِیرٌ(۴۹۷)

”کسی بھی مسلمان کا مسخرہ نہ کرو، بے شک ایک چھوٹا مسلمان بھی خدا کے نزدیک بزرگ ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

”حَسْبُ ابْنِ آدَمَ مِنَ الشَّرِّ اَنْ یحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ“ (۴۹۸)

”انسان کی بدی اورشر کے لئے بس یھی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا مذاق اڑائے“۔

جھوٹی قسم کھانا

بعض لوگ اپنے مادی اور خیالی مقاصد تک پہنچنے کے لئے جھوٹی قسم کھاتے ہیں اور خدا کی ذات اقدس کی بے احترامی کرتے ہیں ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلاَتَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لِایمَانِكُمْ انْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَینَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ۔(۴۹۹)

”خبردار خدا کو اپنے قسموں کا نشانہ نہ بناو کہ قسموں کو نیکی کرنے، تقويٰ اختیار کرنے اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے میں مانع بنا دو اوراللہ سب کچھ سننے اورجاننے والا ہے“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام علی علیہ السلام سے فرمایا:

لَا تَحْلِفْ بِاللّٰهِ کاذِباً وَلاصادِقاً مِنْ غَیرِ ضَرورَةٍ وَلَا تَجْعَلِ اللّٰهَ عُرْضَةً لِیمینِكَ، فَاِنَّ اللّٰهَ لَایرْحَمُ وَلَا یرْعيٰ مَنْ حَلَفَ بِاسْمِهِ کاذِباً(۵۰۰)

”خدا وندعالم کی جھوٹی قسم نہ کھاؤ، اور ضرورت کے بغیر سچی قسم سے بھی اجتناب کرو، خداوندعالم کو اپنی قسم کا ہدف نہ بناؤ، کیونکہ جو شخص خداوندعالم کے نام کی جھوٹی قسم کھاتا ہے خدا اس کو اپنی رحمت سے محروم کردیتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

مَنْ حَلَفَ عَليٰ یمینٍ وَهُوَ یعْلَمُ اَنَّهُ کاذِبٌ فَقَدْ بارَزَاللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ(۵۰۱)

”جو شخص خدا کی قسم کھائے اور جانتا ہو کہ اس کی قسم جھوٹی ہے تو گویا ایسا شخص خداوندعالم سے جنگ کے لئے آمادہ ہے“۔

حرام شھوت

انسان جو کچھ بھی اپنے شکم، جنسی لذت اور خیالی لذت کے لئے چاھتا ہے اور وہ رضائے الٰھی کے خلاف ہو تو اس کو حرام شھوت کھا جاتا ہے۔

انسان کو یاد خدا، قیامت پر توجہ رکھنا چاہئے اور انجام گناہ پیش کے نظر اپنے نفس کو ہوا و ہوس اور حرام شھوتوں سے محفوظ رکھناچاہئے کیونکہ ان چیزوں سے محفوظ رہنے کی جزا جنت کے علاوہ کچھ ن ہیں ہے۔

( وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهوَيٰفَاِنَّ الْجَنَّةَ هِی الْماوَيٰ ) ۔(۵۰۲)

”اور جس نے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے۔تو جنت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

طوبيٰ لِمَنْ تَرَكَ شَهْوَةً حَاضِرَةً لِمَوْعِدٍ لَمْ یرَهُ(۵۰۳)

”خوش نصیب ہے وہ شخص جو موجودہ لذت کو نہ دیکھے ہوئے وعدہ (جنت) کی وجہ سے ترک کردے!“

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

ثَلاثٌ اَخافُهُنَّ بَعْدِی عَليٰ اُمَّتِی:الضَّلالَةُ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ، وَمَضَلّاتُ الْفِتَنِ، وَشَهْوَةُ الْبَطْنِ وَالْفَرْجِ(۵۰۴)

”میں اپنے بعد اپنی امت کے لئے تین چیزوں سے ڈرتا ہوں: معرفت کے بعد گمراھی، گمراہ کرنے والے فتنے، اور شکم و جنسی شھوات“۔

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

عَبْدُ الشَّهْوَةِ اَذَلُّ مِنْ عَبْدِ الرِّقِّ(۵۰۵)

”شھوت کی غلامی، دوسروںکی غلامی سے زیادہ ذلیل و رسوا کرنے والی ہے“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اَلْحَقُّ ثَقیلٌ مَرٌّ، وَالْباطِلُ خَفیفٌ حُلْوٌ، وَرُبَّ شَهْوَةِ ساعَةٍ تُورِثُ حُزْناً طَوِیلًا(۵۰۶)

”حق ثقیل اور کڑوا ہے اور باطل سبک اور شیرین ہے، بعض اوقات ایک گھڑی کی شھوت سے بھت زیادہ حزن و ملال پیدا ہوجاتا ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

مَنْ عَرَضَتْ لَهُ فاحِشَةٌ اَوْ شَهْوَةٌ فَاجْتَنَبَها مِنْ مَخافَةِ اللّٰهِ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیهِ النّارَ، وَآمَنَهُ مِنَ الْفَزَعِ الْاَكْبَرِ ۔ “( ۵ ۰۷)

”جس شخص کے لئے گناہ یا لذت کا راستہ ھموار ہو لیکن وہ خوف خدا کی بنا پر اس سے پرھیز کرے تو خداوندعالم اس پر آتش جہنم کو حرام کردیتا ہے، اور روز قیامت کے عظیم خوف و وحشت سے امان عطا کردیتا ہے“۔

ظلم و ستم

ظلم و ستم اور حقوق الناس پر تجاوز کرنا، دوسروں کو اپنے حقوق تک پہنچنے میں مانع ہونا، یا مومنین کے دلوں میں ناحق اعمال اور بری باتوں کا ڈالنا، قانون شکنی، بدعت گزاری، حقوق کا پامال کرنا، بدمعاشی کرنا وغیرہ یہ سب ظلم و ستم کے مصادیق ہیں ۔

قرآن مجید نے ظلم و ستم کرنے والوں کو ہدایت کے قابل ن ہیں سمجھا ہے۔

( وَمَنْ اظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللهِ الْكَذِبَ وَهُوَ یدْعَی إِلَی الْإِسْلاَمِ وَاللهُ لاَیهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ۔(۵۰۸)

”اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹا الزام لگائے جب کہ اسے اسلام کی دعوت دی جارھی ہو اور اللہ کبھی ظالم قوم کی ہدایت ن ہیں کرتا ہے“۔

قرآن مجید نے ظلم و ستم کو ھلاکت و نابودی کا سبب قرار دیا ہے، اور ظلم و ستم کرنے والے معاشرہ کو بلاء و حوادث کا مستحق قرار دیا ہے۔

( وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِیمَ بِالْبُشْرَی قَالُوا إِنَّا مُهلكُو اهل هَذِهِ الْقَرْیةِ إِنَّ اهلها كَانُوا ظَالِمِینَ ) ۔(۵۰۹)

”اور جب ھمارے نمائندہ فرشتے ابراھیم کے پاس بشارت لے کر آئے اور انھوں نے یہ خبر سنائی کہ ھم اس بستی والوں کو ھلاک کرنا چاھتے ہیں کیونکہ اس بستی کے لوگ بڑے ظالم ہیں “۔

قرآن مجید نے ظلم و ستم کرنے والوں کو شفاعت سے محروم قراردیا ہے اور یہ لوگ قیامت میں بے کسی اور تنھائی کے عالم میں عذاب الٰھی میں گرفتار ہوں گے:

( وَانذِرْهم یوْمَ الْآزِفَةِ إِذْ الْقُلُوبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ كَاظِمِینَ مَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ حَمِیمٍ وَلاَشَفِیعٍ یطَاعُ ) ۔(۵۱۰)

”اور پیغمبر ان ہیں آنے والے دن کے عذاب سے ڈرایئے جب دم گھٹ گھٹ کر دل منھ کے قریب آجائیں گے اور ظالمین کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ شفاعت کرنے والا جس کی بات سن لی جائے“۔

قرآن مجید نے ظلم و ستم کرنے والوں کو ھمیشہ کے لئے مستحق عذاب قرار دیا ہے اور ان کے تابع افراد کے لئے آتش جہنم میں جگہ معین کی ہے:

( إِنَّ الْخَاسِرِینَ الَّذِینَ خَسِرُوا انفُسَهم وَاهلیهم یوْمَ الْقِیامَةِ الاَإِنَّ الظَّالِمِینَ فِی عَذَابٍ مُقِیمٍ ) ۔(۵۱۱)

”گھاٹے والے وھی افراد ہیں جنھوں نے اپنے نفس اور اھل کو قیامت کے دن گھاٹے میں مبتلا کردیا ہے، آگاہ ہو جاو کہ ظالموں کو بھر حال دائمی عذاب میں رہنا پڑے گا“۔

آخر کار قرآن مجید نے یہ اعلان کیا ہے کہ خداوندعالم ظالمین کو دوست ن ہیں رکھتا، اور یہ بات معلوم ہے کہ جس گروہ سے خداوندعالم محبت نہ کرتا ہو تو ایسے لوگ دنیا و آخرت کی بلاؤں میں گرفتار ہوتے ہیں !

( إِنَّهُ لاَیحِبُّ الظَّالِمِینَ ) ۔(۵۱۲)

”وہ یقینا ظالموں کو دوست ن ہیں رکھتا ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

بَینَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ سَبْعُ عِقابٍ اَهْوَنُهَا الْمَوْتُوَقالَ اَنَسٌ:قُلْتُ:یا رَسولَ اللّٰهِ !فَمَا اَصْعَبُها؟ قالَ:الْوُقوفُ بَینَ یدَی اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ اِذْ تَعَلَّقَ الْمَظْلُومُونَ بِالظّٰالِمینَ(۵۱۳)

”جنت و جہنم کے درمیان سات خطرناک مقام ہیں ، جن میں سب سے آسان تر موت کا وقت ہے، انس کھتے ہیں : میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا: ان میں سے سخت ترین کونسا مقام ہے؟ تو آنحضرت نے فرمایا: بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونا کہ جب مظلومین، ظالموں سے اپنے حق لینے کے لئے قیام کریں گے“۔

ایک حدیث قدسی میں بیان ہوا ہے:

اِشْتَدَّ غَضَبی عَليٰ مَنْ ظَلَمَ مَنْ لَایجِدُ ناصِراًغَیرِی(۵۱۴)

”میرا غیظ و غضب اس ظالم کی کی نسبت شدید تر ہے جو ایسے شخص پر ظلم و ستم کرے جس کا میرے علاوہ کوئی ناصر و مددگار ن ہیں ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

”اِتَّقُواالظُّلْمَ فَاِنَّهُ ظُلُماتُ یوْمَ الْقِیامَةِ“ (۵۱۵)

”ظلم و ستم سے پرھیز کرو کیونکہ روز قیامت، ظلم و ستم کی تاریکی اور ظلمت نمایاں ہو گی“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”اَلْعامِلُ بِالظُّلْمِ وَالْمُعینُ عَلَیهِ وَالرَّاضی بِهِ شُرَکاءُ ثَلاثَة(۵۱۶)

”ظلم کرنے والا، ظالم کی مدد کرنے والا اور ظلم پر راضی رہنے والا ؛ھر ایک ظلم میں شریک ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

وَاللّٰهِ لَوْ اُعْطیتُ الْاقالیمَ السَّبْعَةَ بِما تَحْتَ اَفْلاكِها عَليٰ اَنْ اَعْصِی اللّٰهَ فی نَمْلَةٍ اَسْلُبُها جُلْبَ شَعِیرَةٍ ما فَعَلْتُهُ(۵۱۷)

”خدا کی قسم، اگر ساتوں اقلیم اور جو کچھ افلاک کے نیچے ہے وہ سب مجھے دیا جائے تاکہ ایک چیونٹی کے منھ میں موجود چھلکاچھین لوں تو میں اس ظلم کا مرتکب ن ہیں ہوں گا!“۔

غیظ و غضب

بلا وجہ غیظ و غضب سے کام لینا، بے جا غصہ ہونا یااھل و عیال اور رشتہ داروں کی غلطی کی بناپر یا دینی بھائیوں کی غفلت و جھالت کی وجہ سے غیظ و غضب اختیار کرنا واقعاًایک شیطانی حالت، ابلیسی منصوبہ اور ناپسند عمل ہے۔

لہٰذا غیظ و غضب اور غصہ سے پرھیز کرنا ھر مسلمان کے لئے لازم و ضروری ہے، کیونکہ انسان غیظ و غضب کے عالم میں بھت سے گناھوں کا مرتکب ہوجاتا ہے اور ممکن ہے کہ ایسے اعمال کا مرتکب ہوجائے جس کی تلافی ناممکن اور محال ہو ۔

غیظ و غضب کو پی لینا اور لوگوں کے ساتھ عفو و بخشش سے کام لینا، ان کے ساتھ نیکی کرنا تقويٰ کی نشانی ہے جس سے خداوندعالم کے نزدیک محبوبیت پیدا ہوتی ہے۔

( وَالْكَاظِمِینَ الْغَیظَ وَالْعَافِینَ عَنْ النَّاسِ وَاللهُ یحِبُّ الْمُحْسِنِینَ ) ۔(۵۱۸)

”اور یہ لوگ غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اِذَا غَضِبَ اَحَدُكُمْ وَهُوَ قائِمٌ فَلْیجْلِسْ، فَاِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَاِلاَّ فَلْیضْطَجِعْ(۵۱۹)

”جب تم میں سے کوئی شخص غصہ ہوجائے تو اگر وہ کھڑا ہوا ہے تو بیٹھ جائے، اور اگر بیٹھنے کی حالت میں غصہ ختم ہوجائے تو کیا کہنا ورنہ تو پھلو کے بل لیٹ جائے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم امیر المومنین علیہ السلام سے سفارش فرماتے ہیں :

لَا تَغْضَبْ فَاِذَا غَضِبْتَ فَاقْعُدْ، وَ تَفَكَّرْ فِی قُدْرَةِ الرَّبِّ عَلَی الْعِبادِ وَحِلْمِهِ عَنْهُمْ وَاِذَا قِیلَ لَكَ، اتَّقِ اللّٰهَ فَانْبِذْ غَضَبَكَ، وَارْجِعْ حِلْمَكَ(۵۲۰)

”(تم لوگ غصہ نہ کیا کرو، اگر غصہ ہوگئے تو بیٹھ جاؤ، اور بندوں کی نسبت خدا کی قدرت اس کے حلم کے بارے میں غور و فکر کرو، اور اگر اس حال میں تم سے کھا جائے: خدا کا لحاظ رکھو، تو تمھارا غیظ و غضب ختم ہوجائے، اور حلم و بردباری کی طرف پلٹ جاؤ“۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

اِیاكَ وَالْغَضَبَ، فَاَوَّلُهُ جُنونٌ، وَآخِرُهُ نَدَمٌ(۵۲۱)

” غیظ و غضب اور غصہ سے پرھیز کرو کیونکہ اس کی ابتداء دیوانہ پن اور انجام پشیمانی ہوتی ہے“۔

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

مَنْ كَظَمَ غَیظاً وَهُوَ یقْدِرُ عَليٰ اِمْضائِهِ حَشَا اللّٰهُ قَلْبَهُ اَمْناً وَاِیماناً(۵۲۲)

”جو شخص غیظ و غضب اور غصہ پر قابو پالے جب کہ غیظ و غضب سے کام لینے پر قدرت رکھتا تو خداوندعالم اس کے دل کو امن وایمان سے بھر دیتا ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَلْغَضَبُ مِفْتاحُ كُلِّ شَرٍّ(۵۲۳)

”غیظ و غضب اور غصہ ھر فساد کی جڑ ہے“۔

بغض و کینہ

بغض و کینہ رکھنا اور کسی سے شرعی دلیل کے بغیر دشمنی کرنا، ممنوع اور حرام ہے۔

بغض و کینہ رکھنے والا اپنے کینہ کو ختم کرنے کے لئے مجبور ہے کہ ظلم و ستم کا سھارا لے اور بعض گناھوں کو انجام دے۔

کینہ رکھنے والا دوسروں پر مھربانی ن ہیں کرتا، اسی وجہ سے قرآن مجید کی آیات اور احادیث معصومین علیھم السلام کی رو سے ایسا شخص دنیا و آخرت میں خدا کی رحمت اور اس کے لطف سے محروم رھتاھے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَلْحِقْدُ الْامُ الْعُیوبِ(۵۲۴)

”بغض و کینہ، ھر برائی کی جڑ ہے“۔

نیز امام علیہ السلام ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں :

اَلْحِقْدُ مِنْ طَبایعِ الْاَشْرارِ(۵۲۵)

”بغض و کینہ، شریر لوگوں کی فطرت ہوتی ہے“۔

نیز آپ ہی کا فرمان ہے:

اَلْحِقْدُ نارٌ کامِنَةٌ، لَا یطْفیها اِلّا مَوْتٌ اَوْ ظَفَرٌ(۵۲۶)

”بغض و کینہ ایک ایسی مخفی آگ ہے جو مرنے سے پھلے یا مدّمقابل پر کامیابی کے بغیر خاموش ن ہیں ہوتی“۔

نیز یہ کلام بھی آپ سے منقول ہے:

اُحْصُدِ الشَّرَّ مِنْ صَدْرِ غَیرِكَ بِقَلْعِهِ مِنْ صَدْرِكَ(۵۲۷)

”بغض و کینہ کو اپنے سینہ سے نکال کر دوسروں کے دلوں سے بھی ختم کردو“۔

امام علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

سَبَبُ الْفِتَنِ الْحِقْدُ(۵۲۸)

”بغض و کینہ، فتنہ و فساد کی جڑ ہے“۔

نیز امام علیہ السلام نے فرمایا:

مَنِ اطَّرَحَ الْحِقْدَ اسْتَراحَ قَلْبُهُ وَلبُّهُ(۵۲۹)

”جو شخص بغض و کینہ کو اپنے دل سے نکال پھینکے تو اس کے دل و دماغ کو سکون ملتا ہے“۔

ایک دوسری جگہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

لَیسَ لِحَقُودٍ اِخْوَةٌ(۵۳۰)

”کینہ کرنے والے کے لئے کوئی اخوت (بھائی چارگی) ن ہیں ہوتی“۔

جیسا کہ ھم دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد لوگوں نے جو مصائب آپ کے اھل بیت علیہم السلام پرڈھائے، اور جتنے فتنہ و فساد برپا ہوئے اور دین ودنیا میں جو انحرافات ایجاد ہوئے کہ جن کی تلافی قیامت تک محال ہے، ان کی وجہ حاسدوں کے دل میں بغض و حسد تھا۔

بخل

بخل اس حالت کا نام ہے جو انسان کو مال، مقام اور عزت کو راہ خدا میں خرچ کرنے سے مانع ہوتی ہے، انسان کو مشکلات میں گرفتاراور دردمندوں اورکمزوں کی مدد کرنے سے روکنے والی حالت کو بخل کھتے ہیں ۔

بخل شیطانی حالت، ابلیسی اخلاق، ناپاک، شریراور حاسدوں کے اوصاف میں سے ہے۔

بخل اور بخل کرنے والوں کی قرآن مجید نے شدت کے ساتھ مذمت کی ہے، اور روزقیامت بخل کرنے والوں پر دردناک عذاب کی خبر دی ہے۔

( وَلاَیحْسَبَنَّ الَّذِینَ یبْخَلُونَ بِمَا آتَاهم اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَیرًا لَهم بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهم سَیطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ یوْمَ الْقِیامَةِ ) ۔(۵۳۱)

”اور خبردار جو لوگ خدا کے دیئے ہوئے مال میں بخل کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ سوچنا کہ اس بخل میں کچھ بھلائی ہے۔یہ بھت بُرا ہے اور عنقریب جس مال میں بخل کیا ہے وہ روز قیامت ان کی گردن میں طوق بنادیا جائے گا“۔

( وَالَّذِینَ یكْنِزُونَ الذَّهب وَالْفِضَّةَ وَلاَینفِقُونَها فِی سَبِیلِ اللهِ فَبَشِّرْهم بِعَذَابٍ الِیمٍ یوْمَ یحْمَی عَلَیها فِی نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَی بِها جِبَاهُهم وَجُنُوبُهم وَظُهُورُهم هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِانفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ) ۔(۵۳۲)

”اور جو لوگ سونے چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ ن ہیں کرتے، اے پیغمبر آپ ان ہیں دردناک عذاب کی بشارت دیدیں۔جس دن وہ سونا چاندی آتش جہنم میں تپایا جائے گا اور اس سے ان کی پیشانیوں اور ان کے پھلووں اور پشت کو داغا جائے گا کہ یھی وہ ذخیرہ جوتم نے اپنے لئے جمع کیا تھا اب اپنے خزانوں اور ذخیروں کا مزہ چکھو“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اَقَلُّ النّاسِ راحَةً الْبَخِیلُ(۵۳۳)

”لوگوں کے درمیان بخیل سب زیادہ پریشان رھتا ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

اَلْبُخْلُ جامِعٌ لِمَساوِیءِ الْعُیوبِ، وَهُوَ زِمامٌ یقادُ بِهِ اِليٰ كُلِّ سُوءٍ(۵۳۴)

” بخل کی وجہ سے تمام بُرائیاں جمع ہوجاتی ہیں ، یھی وہ لگام ہے جس کے ذریعہ انسان کو ھر بُرائی کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے“۔

حضرت امام موسيٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَلْبَخِیلُ مَنْ بَخِلَ بِمَا افْتَرَضَ اللّٰهُ عَلَیهِ(۵۳۵)

”بخیل وہ شخص ہے جو خداکے واجب کردہ اعمال کو انجام دینے میں بخل سے کام لے“۔

احتکار

احتکاریعنی لوگوں کی ضروری چیزوں مخصوصاً غذائی سامان کو مہنگا بیچنے کی غرض سے جمع کرنا، یہ واقعاً ایک ظلم ہے خصوصاً معاشرہ کے غریب اور کمزور لوگوں پر بھت بڑا ستم ہے۔

احتکار کرنے والا اپنی بے رحمی کی بنا پر اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں رحمت خدا سے محروم کرلیتا ہے۔

احتکار کے ذریعہ حاصل کئے ہوئے مال کا بیچنا حرام اور ایسے پیسے کا کھانا قرآن مجید کی لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

احتکار کے ذریعہ حاصل کئے ہوئے ناجائز مال کے سلسلہ میں قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے:

( وَمَنْ یفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَی اللهِ یسِیرًا ) ۔(۵۳۶)

”اور جو ایسا اقدام حدود سے تجاوز اور ظلم کے عنوان سے کرے گا ھم عنقریب اسے جہنم میں ڈال دیں گے اور اللہ کے لئے یہ کام بھت آسان ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ جَمَعَ طَعاماً یتَرَبَّصُ بِهِ الْغَلاءَ اَرْبَعِینَ یوْماً فَقَدْ بَرِیٴَ مِنَ اللّٰه وَ بَرِیٴَ اللّٰهُ مِنْهُ(۵۳۷)

”جو شخص بازاری اجناس کو مہنگی ہونے کے لئے چالیس دن تک احتکار کرے تو ایسا شخص خدا سے بیزار اور خدا بھی اس سے بیزار ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

مَنِ احْتَكَرَ طَعاماً اَرْبَعِینَ یوْماً وَ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ یقْبَلْ مِنْهُ(۵۳۸)

”جو شخص لوگوں کے کھانے پینے کی چیزوںکو چالیس دن تک احتکار کرے اور پھر رہ خدا میں اس کو صدقہ دےدے، تو اس کا صدقہ قبول ن ہیں ہے“۔

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

بِئْسَ الْعَبْدُ الْمُحْتَكِرُ اِنْ اَرْخَصَ اللّٰهُ الْاِسْعارَ حَزِنَ، وَاِنْ اَغْلاَهَا اللّٰهُ فَرِحَ(۵۳۹)

”احتکار کرنے والا بُرا آدمی ہے، اگر خداوندعالم اس مال کی قیمت کو کم کردے تو غمگین ہوجاتا ہے اور اگر مہنگا کردے تو خوش ہوجاتا ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رشاد ہے:

یحْشَرُ الْحَکاّرُونَ وَقََتَلَةُ الْاَنْفُسِ اِليٰ جَهَنَّم فِی دَرَجةٍ(۵۴۰)

”احتکار کرنے والے اور لوگوں کا قتل کرنے والے، جہنم کے ایک درجہ میں ر ہیں گے“۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

اَلْاِحْتِکارُ شِیمُ الْاَشْرارِ(۵۴۱)

” احتکار کرنا اشرار اور برے لوگوں کی عادت ہے“۔

حبّ دنیا

دنیا کو معقول اور جائز حد تک چاہناتاکہ انسان ایک پاک و سالم زندگی گزار سکے، تو یہ ایک پسندیدہ امر ہے۔

لیکن اگر انسان میں دنیا کی محبت حرص و لالچ اور ہوا و ہوس کی بنا پر ہو اور انسان ھر طریقہ سے مال حاصل کرے، حرام طریقہ سے لذت کی آگ بجھائے تو ایسی دنیا کی محبت نامعقول اور نامشروع ہے جس سے انسان کی آخرت تباہ و برباد ہوجاتی ہے اور ھمیشہ کے لئے لعنت و عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔

اگر ھم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث معصومین علیھم السلام میں دنیا یا دنیا کی محبت کو مذمت کی ہے تو اس سے ناجائز اور نامشروع کاموں کے ذریعہ مال جمع کرنا اور حرام طریقہ سے جسمانی لذت حاصل کرنا مراد ہے، جو واقعاً ظلم و ستم اور خیانت ہے۔

قرآن مجید میں دنیا کے بارے میں اس طرح کے مضامین بیان ہوئے ہیں کہ دنیا متاع غرور ہے، دنیاوی زندگی لھو لعب کے علاوہ کچھ ن ہیں ہے، دنیا کا مال قلیل ہے، دنیاوی زندگی کی زینت قابل توجہ ن ہیں ہے وغیرہ وغیرہ، یہ تمام چیزیں اس وقت کے لئے ہیں جب دنیا کی محبت حرص و لالچ اور جھل و غفلت کی بنا پر ہو۔

جی ھاں، دنیا کے چاہنے والے اور دنیا کے عاشق اس دنیا کے لالچ میں اپنی آخرت کو خراب کرلیتے ہیں ، اور خدا کا قھر و غضب اور اس کی نفرت خرید لیتے ہیں اور ھمیشہ کے لئے رضائے الٰھی اور جنت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔

انسان کا دل، عرش خدا اور حرم الٰھی ہوتا ہے اس کو دنیا کی محبت سے آلودہ ہونے سے محفوظ کیا جائے، کہ یہ محبت طمع و لالچ کا ثمرہ ہے۔

قرآن مجید اور احادیث معصومین علیھم السلام میں بیان شدہ صورت میں ہی دنیا سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

جائز طریقہ سے مال و دولت جمع کی جائے، اس کو زندگی سنوارنے اور راہ خدا میں خرچ کیا جائے۔

چنانچہ دنیا سے ایسا تعلق رکھنا، خداوندعالم پسند کرتا ہے جس سے انسان کی آخرت آباد ہوتی ہے، لیکن دنیا سے نامعقول محبت انسان کے لئے دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”اِنَّهُ ما سَكَنَ حُبُّ الدُّنْیا قَلْبَ عَبْدٍ اِلّا الْتاطَ فِیها بِثَلاثٍ:شُغْلٍ لَا ینْفَدُ عناوهُ وَ فَقْرٍ لَا یدْرَكُ غِناهُ، وَاَمَلٍ لَا ینالُ مُنْتَهاهُ(۵۴۲)

”جس شخص کے دل میں دنیا کی محبت پیدا ہوجاتی ہے وہ تین چیزوں میں مبتلا ہوجا ہے: ایسا کام جس کا رنج ختم نہ ہوتا ہو، ایسی غربت جو کبھی ختم نہ ہو، اور ایسی آرزو جو کبھی پوری نہ ہو۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

حَرامٌ عَليٰ كُلِّ قَلْبٍ یحِبُّ الدُّنْیا اَنْ یفارِقَهُ الطَّمَعُ(۵۴۳)

”جس دل میں دنیا کا عشق پیدا ہوجائے تو اس سے لالچ کبھی دور ن ہیں ہوسکتا“۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

مَنْ اَحَبَّ الدُّنْیا جَمَعَ لِغَیرِهِ(۵۴۴)

”دنیا کا عاشق دوسروں کے لئے مال و دولت جمع کرتا ہے“۔

کیونکہ دنیا کے عشق کی وجہ سے وہ خرچ بھی ن ہیں کرتا، اور انسان کا کام صرف مال جمع کرنا، اور اس کو دوسروں کے لئے چھوڑکر مرجانا ہے!

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

فَمَنْ اَحَبَّها اَوْرَثَتْهُ الْكِبْرَ، وَمَنِ اسْتَحْسَنَها اَوْرَثَتْهُ الْحِرْصَ، وَمَنْ طَلَبَها اَوْرَدَتْهُ الطَّمَعَ، وَمَنْ مَدَحَها اَكَبَّتْهُ الرِّیاءُ، وَمَنْ اَرادَها مَكَّنَتْهُ مِنَ الْعُجْبِ، وَمَنِ اطْمَانَّ اِلَیها رَكَّبَتْهُ الْغَفْلَةَ(۵۴۵)

”دنیا کا عاشق ہونے والا شخص غرور و تکبر کا شکار ہوجاتا ہے، اور دنیا کو اچھا ماننے والا لالچ کا شکار ہوجاتا ہے، اور جو شخص دنیا کا طالب ہوجائے وہ طمع کا شکار ہوجاتا ہے، اور جس نے دنیا کی مدح کی وہ ریاکاری کا شکار ہوجاتا ہے، اور جو شخص دنیا سے محبت کرے تو وہ خودپسندی کا شکار ہوجاتا ہے، اور جو شخص اس سے مطمئن ہوجائے وہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے“۔

خیانت

لفظ ”خیانت“، امانت کے مقابل اور ”خائن“ امین کے مقابلہ میں ہے، لہٰذا جو شخص امانات الٰھی اور دوسرے لوگوں کی امانتوں میں ناجائز تصرف کرے نیز اگر کوئی شخص کسی کو امین سمجھتا ہو اور وہ اس کے ساتھ خیانت کرے تو ایسے شخص کو ”خائن“ کھا جاتا ہے۔

خیانت بھت ہی ناپسند کام اور شیطانی صفت ہے نیز خیانت، بے دین اور کمزور عقائد رکھنے والوں کی خصوصیت ہے۔

قرآن کریم کی آیات میں خیانت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے مثلاً: آنکھوں کی خیانت (نامحرم کو دیکھنا) خود اپنے ذات کے ساتھ خیانت کرنا، (اپنی انسانی شخصیت کو خراب کرنا، اور آخرت کو تباہ و برباد کرنا)، امانت میں خیانت (چاھے الٰھی امانات ہوں جیسے اعضاء و جوارح اور دل و جان کی استعداد اور قابلیت، یا دوسروں کے مال اور اسرار میں خیانت ہو) کاروباری مسائل میں خیانت وغیرہ، نیز قرآن مجید میں اعلان ہوا ہے کہ خداوندعالم خیانت کرنے والے اور ناشکر انسان کو دوست ن ہیں رکھتا۔

( وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیانَةً فَانْبِذْ اِلَیهِمْ عَلَيٰ سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا یحِبُّ الْخَائِنِینَ ) ۔(۵۴۶)

”اورا گر کسی قوم سے کسی خیانت یا بد عہدی کا خطرہ ہے تو آپ بھی ان کے عہد کی طرف پھینک دیں کہ اللہ خیانت کاروں کو دوست ن ہیں رکھتا ہے“۔

خداوندعالم چونکہ خیانت سے بھت زیادہ نفرت کرتا ہے اسی وجہ سے مومنین کو خدا و رسول اور امانات میں خیانت سے سخت منع فرماتا ہے:

( یا ایهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللّٰهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا امَانَاتِكُمْ وَانْتُمْ تَعْلَمُونَ ) ۔(۵۴۷)

”ایمان والو! خداو رسول اور اپنی امانتوں کے بارے میں خیانت نہ کرو جب کہ تم جانتے بھی ہو “۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

لَیسَ مِنّا مَنْ خَاَن مُسْلِماً فِی اَهْلِهِ وَمالِهِ(۵۴۸)

”جو شخص کسی مسلمان کے مال یا اس کے اھل و عیال کے ساتھ خیانت کرے تو وہ مسلمان ن ہیں ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اِفْشاءُ سِرِّ اَخِیكَ خِیانَةٌ، فَاجْتَنِبْ ذٰلِكَ(۵۴۹)

”کسی مسلمان برادر کے راز کو فاش کرنا خیانت ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرو“۔

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :

لَا تَخُنْ مَنْ خَاَنَک فَتَكُنْ مِثْلَهُ(۵۵۰)

”جس شخص نے تمھارے ساتھ خیانت کی ہے اس کے ساتھ خیانت نہ کرو، کیونکہ اگرتم نے خیانت کی تو تم بھی اسی کی طرح ہوجاؤگے“۔

نیز آپ ہی کا فرمان ہے:

”چار چیزیں جس گھر میں بھی پائی جائیں وہ تباہ و برباد ہوجاتا ہے:

خیانت، چوری، شرابخوری اور زنا“(۵۵۱)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اَلْمَكْرُ وَالْخَدِیعَةُ وَالْخِیانَةُ فِی النّارِ(۵۵۲)

”فریب کاری (کرنے والا)، دھوکہ (دینے والا)اور خیانت(کرنے والا) آتش جہنم میں ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

اَلْخِیانَةُ دَلیلٌ عَليٰ قِلَّةِ الْوَرَعِ وَعَدَمِ الدِّیانَةِ(۵۵۳)

”خیانت کرنا، تقويٰ کی قلت اور دیانت نہ ہونے کی دلیل ہے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

یجْبَلُ الْمُومِنُ عَليٰ كُلِّّ طَبِیعَةٍ اِلّا الْخِیانَةَ وَالْكِذْبَ(۵۵۴)

”مومن ھر فطرت پر پیدا ہوسکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے “۔

شرابخوری

اسلامی تعلیمات کے پیش نظر شراب بنانے والا اور شراب خوری کی بنیاد ڈالنے والا ابلیس ہوتاھے۔

ھم ن ہیں سمجھتے کہ شراب خوری کا ضرر اور نقصان کسی پر مخفی ہو یھاںتک کہ شراب پینے والے پر بھی مخفی ن ہیں ہے۔

شر اب اور ھر مست کرنے والی چیز انسانی عقل و قدرت تفکر پر ایک کاری ضرب لگاتی ہے، اور آہستہ آہستہ انسان نابود ہوجاتا ہے۔

خداوندعالم کی ھر نعمت جو بدن کو خدا کی عبادت اور بندگان خدا کی خدمت کے لئے عطا کی گئی ہے اس قدرت کو شراب یا دوسری مست کرنے والی چیز کے ذریعہ نابودکرنا بھت ہی ناپسند کام اور گناہ عظیم ہے۔

شراب بنانے کے لئے انگور، خرمہ اور دوسری چیزوں کو بیچنا حرام ہے اور ایک ناپسند امر ہے اور یہ خدا وندعالم اور انسانیت کے ساتھ مقابلہ ہے۔

شراب بنانا، ادھر ادھر لے جانا، بیچنے میں واسطہ بننا، شراب کے کارخانہ میں کام کرنا اور شراب پینا یہ تمام چیزیں حرام اور موجب غضب الٰھی ہیں اور روز قیامت دردناک عذاب کا باعث ہیں ۔

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیسِرُ وَالْانصَابُ وَالْازْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا یرِیدُ الشَّیطَانُ انْ یوقِعَ بَینَكُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیسِرِ وَیصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنْ الصَّلاَةِ فَهل انْتُمْ مُنتَهُونَ ) ۔(۵۵۵)

”اے ایمان والو! شراب، جوا، بت، پانسہ یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہٰذا ان سے پر ہیز کرو تاکہ کامیابی حاصل کر سکو۔شیطان تو بس یھی چاھتا ہے کہ شراب اور جوے کے بارے میں تمھارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کردے اور تم ہیں یادِ خدا اور نماز سے روک دے تو کیا تم واقعاً رک جاوگے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

شارِبُ الْخَمْرِ لَا تُصَدِّقُوهُ اِذَا حَدَّثَ، وَلَاتُزَوِّجُوهُ اِذَا خَطَبَ، وَلَا تَعُودُوهُ اِذَا مَرِضَ وَلَا تُحْضِرُوهُ اِذَا مَاتَ، وَلا تَامَنُوهُ عَليٰ اَمانَةٍ“ ( ۵ ۵۶)

”شراب پینے والے کی باتوں کی تصدیق نہ کرو، اور اس سے اپنی بیٹی کی شادی نہ کرو، جب بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کے لئے نہ جاؤ، اور جب مرجائے تو اس کے جنازہ میں شریک نہ ہو اور اس کو دی ہوئی امانت پر مطمئن نہ ہو“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

یخْرُجُ الْخَمّارُ مِنْ قَبْرِهِ مَكْتُوبٌ بَینَ عَینَیهِ :آیسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ(۵۵۷)

”جس وقت شراب پینے والا روز قیامت قبر سے باھر آئے گا تو اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا: رحمت خدا سے مایوس“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اَلْخَمْرُ اُمُّ الْفَواحِشِ، وَاَكْبَرُ الْكَبائِرِ(۵۵۸)

”شراب خوری تمام ہی گناھان کبیرہ کا سرچشمہ ہے“۔

نیز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے:

لَعْنَ اللّٰهُ الْخَمْرَ وَعاصِرَ ها وَغَاِرسَها وَ شارِبَها وَساقِیهاوَ بائِعَها وَمُشْتَرِیها وَآكِلَ ثَمَنِها وَحامِلَها وَالْمَحْمُولَةَ اِلَیهِ(۵۵۹)

”خداوندعالم شراب، شراب بنانے والے، شراب بننے والے درختوں کو لگانے والے، شراب پینے والے، شراب پلانے والے، شراب خریدنے والے اور شراب بیچنے والے، اس کی تجارت سے حاصل کرنے والے، اس پیسہ کو لے جانے والے، اور (شراب )کو اٹھانے والے، سب پر خداوندعالم نے لعنت کی ہے“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک بھت اھم روایت میں فرماتے ہیں :

مَنْ کانَ یومِنُ بِاللّٰهِ وَالْیوْمِ الْآخِرِ فَلاَ یجْلِسْ عَليٰ مائِدَةٍ یشْرَبُ عَلَیها الْخَمْرُ(۵۶۰)

”جو شخص خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے لئے سزاوار ن ہیں ہے کہ شراب کے دسترخوان بیٹھے“۔

مفضل کھتے ہیں : میں نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ خداوندعالم نے مست کرنے والی چیز کو کیوں حرام کیا ہے؟

تو امام علیہ السلام نے فرمایا: کیونکہ اس سے فتنہ و فساد اور نقصان ہوتا ہے، شراب خور کے بدن میں رعشہ پیدا ہوجاتا ہے، اس کے دل سے نور ختم ہوجاتا ہے، اس کی مروت ختم ہوجاتی ہے، گناہ کرنے پر جرات پیدا ہوجاتی ہے، خونریزی کرتا ہے، زناکار ہوجاتا ہے، مستی کی حالت میں اپنے محرم پر تجاوز کرتا ہے، اور اپنی عقل کو گنوادیتا ہے اور اس کی برائیوں اور شر میں اضافہ ہوتاجاتا ہے۔!(۵۶۱)

گالیاں اور نازیبا الفاظ

لوگوں کو نازیباالفاظ کہنا اور گالیاں دینابھت ہی زیادہ بُری بات ہے، جو اخلاق سے دوری کی نشانی ہے، نیز دیندار ی اور انسانی وقار کے برخلاف ہے۔

قرآن مجید نے مومنین کو سبّ وشتم اور گالیوں کی اجازت دشمنان خدا تک کے لئے ن ہیں دی ہے، نیز روایت و احادیث میں لوگوں کو حیوانات اور دوسری اشیاء کے بارے میں ناسزا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔

( وَلاَتَسُبُّوا الَّذِینَ یدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَیسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَیرعلمٍ ) (۵۶۲)

”اور خبر دار تم لوگ ان ہیں بُرا بھلا نہ کھو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو بُرا بھلا ک ہیں گے۔۔“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

لَا تَسُبُّوا النّاسَ فَتَكْسِبُوا الْعَداوَةَ بَینَهُمْ ۔(۵۶۳)

”لوگوں کو گالیاں نہ دو، کیونکہ اس سے دشمنی پیدا ہوتی ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کا فرمان ہے:

سِبابُ الْمُومِنِ فُسُوقٌ، وَقِتالُهُ كُفْرٌ، وَاَكْلُ لَحْمِهِ مِنْ مَعْصِیةِ اللّٰهِ ۔(۵۶۴)

”مومن کو گالی دینا فسق ہے، اور اس کا قتل کفر ہے اور اس کی غیبت کرنا خدا کی معصیت ہے“۔

ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

لَا تَسُبُّوا الشَّیطانَ، وَتَعَوَّذُوبِاللّٰهِ مِنْ شَرِّهِ(۵۶۵)

”شیطان تک کو گالی نہ دو، صرف شیاطین کے شر سے خدا سے پناہ مانگو“

نیز فرمایا:

لاَ تَسُبُّوا لرِّیاحَ، فَاِنَّها مَامُورَةٌ، وَلَا تَسُبُّوا الْجِبالَ وَلَا السَّاعاتِ وَلَا الْاَیامَ وَلاَ اللَّیالِی فَتَاْثَمُوا وَتَرْجِعْ اِلَیكُمْ(۵۶۶)

”ھوا کو گالی نہ دوکیونکہ یہ خدا کی طرف سے ہے، پھاڑوں، وقت اور روز و شب کے بارے میں ناسزا نہ کھو، چونکہ یہ کام گناہ ہے، اور گناھوں کا نقصان خود تم کو پہنچے گا“۔

اسراف (فضول خرچی)

کھانے پینے، لباس، معاشرت و محبت، دنیاوی عشق اوربخشش و انفاق میں زیادہ روی کرنا اسراف کے مصادیق میں سے ہے، اور اسراف قرآن و حدیث کی نظر میں قابل مذمت اور بُرا عمل ہے۔

اسراف اس قدر بُرا کام ہے کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ اسراف کرنے والے کو خدا دوست ن ہیں رکھتا۔

( كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلاَتُسْرِفُوا إِنَّهُ لاَیحِبُّ الْمُسْرِفِینَ ) ۔(۵۶۷)

”کھاوپیو مگر اسراف نہ کرو کہ خدا اسراف کرنے والوں دوست ن ہیں رکھتا ہے“۔

اسراف کرنے والا، فضول خرچی کرنے والا اور مال و دولت کو تباہ و برباد کرنے والا؛ قرآن مجید کی نظر میں اسراف کرنے والاھے اور اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں :

( إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّیاطِینِ وَكَانَ الشَّیطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ) ۔(۵۶۸)

”اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی بند ہیں اور شیطان تو اپنے پروردگار کا بھت بڑا انکا ر کرنے وا لاھے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اِنَّ مِنَ السَّرَفِ اَنْ تَاكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَیتَ(۵۶۹)

”جس ھر چیز کو دل چاھے ان کا کھانا اسراف ہے“۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں :

اِنَّ لِلسَّخاءِ مِقْداراً فَاِنْ زادَ عَلَیهِ فَهُوَ سَرَفٌ(۵۷۰)

”سخاوت کی بھی ایک حد ہے اگر انسان اس حد سے گزر جائے تو اسراف ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

وَیحَ الْمُسْرِفِ، مَا اَبْعَدَ ُه عَنْ صَلَاحِ نَفْسِهِ وَاسْتِدْراكِ اَمْرِهِ(۵۷۱)

”افسوس ہے اسراف کرنے والے پر، کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور اپنی زندگی کو درک کرنے سے کس قدر دور ہے “۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

لِلْمُسْرِفِ ثَلاَثُ عَلاماتٍ:یشْتَری مَا لَیسَ لَهُ، وَیلْبِسُ مَا لَیسَ لَهُ، وَیاكُلُ مَا لَیسَ لَهُ ، “( ۵ ۷۲)

” اسراف کرنے والے کی تین نشانیاں ہیں : ایسی چیزیں خریدتا ہے، پہنتا ہے اور کھاتا ہے جو اس کی شان کے مطابق ن ہیں ہے“۔

نیز امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

اِنَّ الْقَصْدَ اَمْرٌ یحِبُّهُ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ، وَاِنَّ السَّرَفَ یبْغِضُهُ اللّٰهُ، حَتّی طَرْحَكَ النَّواةَ، فَاِنَّها تَصْلُحُ لِشَیءٍ وَحَتّی صَبَّكَ فَضْلَ شَرابِكَ(۵۷۳)

”بے شک میانہ روی ایک ایسی حقیقت ہے جس کو خداوندعالم دوست رکھتا ہے اور اسراف کرنے والے کو دشمن رکھتا ہے، خرمہ کی بوئی جانے والی گٹھلی کو دور پھینک دےنا اور اپنی ضرورت سے زیادہ پانی بھانا، اسراف اور فضول خرچی ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

مَنْ کانَ لَهُ مالٌ فَاِیاهُ وَالْفَسادَ، فَاِنَّ اِعْطائِكَ الْمالَ فِی غَیرِ وَجْهِهِ تَبْذِیرٌ وَاِسْرافٌ وَهُوَ یرْفَعُ ذِكْرَ صاحِبِهِ فِی النّاسِ، وَیضَعُهُ عِنْدَ اللّٰهِ(۵۷۴)

”جو شخص صاحب مال ودولت ہو اس کو فساد سے پرھیز کرنا چاہئے، بے شک اسراف و تبذیر یہ ہے کہ اپنے مال ودولت کو بلا وجہ صرف کرے، اس طرح خرچ کرنا صاحب مال کے نام کو مٹادیتا ہے، اور ایسا کرنے والا انسان خدا کے نزدیک ذلیل و رسوا ہوجاتا ہے“۔

ملاوٹ اور دھوکہ بازی کرنا

کسی بھی کام میں دھوکہ بازی کرنا اور بیچنے والی چیزوں میں ملاوٹ کرنا مثلاً عیب دار چیز کو بے عیب بناکر بیچنا وغیرہ، یا اسی طرح کے دوسرے کام غشّ اور دھوکہ بازی کے مصادیق ہیں ۔

ملاوٹ اور دھوکہ بازی کے سلسلہ میں اقتصادی مسائل سے متعلق آیات میں قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے، اسی طرح احادیث میں بھی اس بُرے کام کے سلسلہ میں تفصیل کے ساتھ بیان ملتا ہے۔

بے شک قرآن مجید اور حدیث کی روشنی میں ملاوٹ ایک حرام کام اور لوگوں کے ساتھ خیانت ہے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہے:

اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ وَلاَ یحِلُّ لِمُسْلِمٍ اِذا باعَ مِنْ اَخِیهِ بَیعاً فِیهِ عَیبٌ اَنْ لاَ یبَینَهُ(۵۷۵)

”مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، ایک مسلمان کے لئے جائز ن ہیں ہے کہ اپنے عیب دار مال کو فروخت کرتے وقت اس کے عیب کو نہ بیان کرے اور دوسرے مسلمان کو بیچ دے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

مَنْ غَشَّ الْمُسْلِمِینَ حُشِرَ مَعَ الْیهُودِ یوْمَ الْقِیامَةِ، لِاَ نَّهُمْ اَغَشُّ النّاسِ لِلْمُسْلِمینَ(۵۷۶)

”جو شخص مسلمانوں کے ساتھ ملاوٹ اور دھوکہ سے کام لے تو خداوندعالم اس کو روز قیامت یھودی محشور کرے گا کیونکہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ خیانت یھودی ہی کرتے ہیں “۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

مَنْ باعَ عَیباً لَمْ یبَینْهُ لَمْ یزَلْ فِی مَقْتِ اللّٰهِ، وَلَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ(۵۷۷)

”جو شخص کسی عیب دار چیز کو فروخت کرے لیکن اس کے عیب کو نہ بیان کرے تو ھمیشہ اس پر غضب پروردگار ہوتا رھتا ہے، اور فرشتے ھمیشہ لعنت کرتے رھتے ہیں “۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ غَشَّ النّاسَ فِی دِینِهِمْ فَهُوَ مُعانِدٌ لِلّٰهِ وَ رَسُولِهِ(۵۷۸)

”جو شخص اپنے مومن بھائی کے ساتھ ملاوٹ اور دھوکہ بازی سے کام لے تو ایسا شخص خدا و رسول کا دشمن ہے“۔

نیز حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

اِنَّ اَعْظَمَ الْخِیانَةِ خِیانَةُ الْاُمَّةِ، وَافْظَعَ الْغِشَّ غِشُّ الْاَئِمَّةِ(۵۷۹)

” بے شک سب سے بڑی خیانت ؛ امت (مسلمہ) کے ساتھ خیانت کرنا ہے اور سب سے بڑی دھوکہ بازی (دینی) رھبروں کے ساتھ دھوکہ بازی ہے“۔

ربا (سود)

لوگوں سے سود لینے کی غرض سے قرض دینا، یا کوئی پست چیز دے کر اچھی چیز لینے کی غرض سے معاملہ کرنا جیسے دس کیلو گھٹیا گیھوں، چاول یا خرمادے کر ۸ گلو بھترین گیھوں، چاول یا خرما لینا، یہ بھی ربا، سود کے مصداق اور گناھان کبیرہ میں سے ہے، جس کے سلسلہ میں خدا وندعالم نے قطعی عذاب کا وعدہ دیا ہے:

( یاایها الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِی مِنْ الرِّبَا إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِینَفَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَاذَنُوا بِحَرْبٍ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ ) ۔(۵۸۰)

”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرواور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم صاحبان ایمان ہو۔اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خداو رسول سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاو۔۔“۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

شَرُّالْمَکاسِبِ كَسْبُ الرِّبَا(۵۸۱)

”سب سے بُرا کسب معاش، سود کے ذریعہ کسب معاش ہے“۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

مَنْ اَكَلَ الرِّبا مَلَا اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ بَطْنَهُ مِنْ نارِ جَهَنَّمَ بِقَدْرِ مَا اَكَلَ، وَاِنِ اكْتَسَبَ مِنْهُ مَالاً لَایقْبَلِ اللّٰهُ مِنْهُ شَیئاً مِنْ عَمَلِهِ، وَلَمْ یزَلْ فِی لَعْنَةِ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ ماکانَ عِنْدَهُ قِیراطٌ(۵۸۲)

”جو شخص جس قدر سود خوری کرتا ہے خداوندعالم اسی مقدار میں اس کے پیٹ کو آتش جہنم میں بھر دیتا ہے، اگر انسان رباخوری کے ذریعہ دولت کمائے تو خداوندعالم روز قیامت اس کا کوئی عمل قبول ن ہیں کرے گا، اور سود کا ایک پیسہ بھی اس کے پاس ہوتو خداوندعالم اور فرشتہ ھمیشہ اس پرلعنت کرتے رھتے ہیں “۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

دِرْهَمُ رِبَا اَعْظَمُ عِنْدَاللّٰهِ مِنْ سَبْعِینَ زِنْیةً بِذاتِ مَحْرَمٍ فِی بَیتِ اللّٰهِ الْحَرامِ(۵۸۳)

”سود کا ایک پیسہ خدا کے نزدیک اس سے ک ہیں زیادہ بُرا ہے کہ خانہ خدا میں اپنے محرم (ماں بہن)سے ۷۰بار زنا کیاھو“۔

نیز امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ لَعَنَ آكِلَ الرِّبا وَمُوكِلَهُ وَکاتِبَهُ وَشاهِدَیهِ(۵۸۴)

خداوندعالم، سود لینے والے، سود دینے والے، سود کے معاملہ کو لکھنے والے اور اس معاملہ پر گواہ ہونے والے پر لعنت کرتا ہے“۔

قرآن مجید نے بھت سی آیات میں گزشتہ امتوں کی ھلاکت و تباھی اور ان کے مختلف عذاب کے اسباب و علل بیان کئے ہیں ۔

اگر انسان قرآن مجید کی ان آیات پر غور و فکر کرے جو گزشتہ امتوں کے عذاب کی وجوھات بیان کرتی ہیں تو انسان میں نفسانی کمال پیدا ہوجائیں اور ھلاکت و تباھی سے دور ہوجائے۔

قرآن مجید نے درج ذیل عناوین کو گزشتہ امتوں کی ھلاکت اور ان کے عذاب کے اسباب بتایا ہے:

اپنے نفس پر ظلم، دوسروں پر ظلم، اسراف، حق کا انکار و کفر، فسق، طغیان، غفلت اور جرم(۵۸۵)

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

اَمَّاالْمُهْلِکاتُ:فَشُحٌّ مُطاعٌ، وَهَوی مُتَّبِعٌ، وَاِعْجابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ(۵۸۶)

”ھلاک کرنے والی چیزیں یہ ہے: ھمیشہ بخل کرنا، ہوائے نفس کی پیروی کرنا، اور انسان کی خود غرضی “۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

اِنَّ الدّینارَ وَالدِّرْهَمَ اَهْلَکا مَنْ کانَ قَبْلَكُم وَهُما مُهْلکاكُمْ(۵۸۷)

”بے شک درھم و دینار نے گزشتہ قوموں کو ھلاک کردیااور یھی چیز تم لوگوں کو بھی ھلاک کرنے والی ہے“۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

مَنِ اسْتَبَدَّ بِرَایهِ هَلَكَ(۵۸۸)

”جو شخص اپنی رائے میں استبداد کرے اور قوانین الٰھی اور عاقل لوگوں سے مشورہ نہ کرے تو ھلاک ہوجائے گا“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

هَلَكَ مَنْ لَمْ یعْرِفْ قَدْرَهُ(۵۸۹)

”جو شخص اپنی قدر و منزلت نہ پہچانے اور اپنی موقعیت اور حالت سے آشنا نہ ہو وہ ھلاک ہوجاتا ہے“۔

نیز امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

یهْلِكُ اللّٰهُ سِتّاً بِسِتٍّ :الْاُمَراءَ بِالْجَوْرِ، وَالْعَرَبَ بِالْعَصَبِیةِ، وَالدَّهاقِینَ بِالْكِبْرِ، وَالتُّجارَ بِالْخِیانَةِ، وَاَهْلَ الرُّسْتاقِ بِالْجَهْلِ، وَالْفُقَهاءَ بِالْحَسَدِ(۵۹۰)

”خداوندعالم نے چھ گرھوں کو چھ چیزوں کے ذریعہ ھلاک کیا: حکام کو ظلم و ستم کی وجہ سے، عرب کو تعصب کی وجہ سے، روسا کو تکبر کی وجہ سے، تاجروں کو خیانت کی وجہ سے، دیھاتیوں کو جھالت کی وجہ سے اور (علماء و)فقھاء کو حسد کی وجہ سے“

تکبر

تکبر، شیطانی صفت، خدا کے مدمقابل قرار دینے والی وجہ اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے والی شئے ہے۔

تکبر چاھے خدا، قرآن انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کی نسبت ہو یا دوسرے لوگوں کی نسبت ہو (جو شاید اس سے بھتر ہوں) تو تکبر کرنے والا شیطانی گروہ اور ابلیس کا ساتھی، خدا کی طرف سے ملعون اور اس کی رحمت سے محروم ہے۔

جیسا کہ قرآن مجید کے فرمان کے مطابق ۵۹۱ ابلیس اپنے تکبر اور غرور کی وجہ سے خدا کی بارگاہ سے نکال دیا گیا اور لعنت کاطوق ھمیشہ ھمیشہ کے لئے اس کی گردن میں ڈال دیا گیا، اسی طرح تکبر کرنے والا شخص اپنے تکبر و غرور کی وجہ سے انسانیت اور مقام آدمیت کو کھوبیٹھتا ہے۔

قرآن مجید نے تکبر کرنے والوں اور تکبر کی عادت رکھنے والوں کو روز قیامت کے د ردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے:

( وَامَّا الَّذِینَ اسْتَنكَفُوا وَاسْتَكْبَرُوا فَیعَذِّبُهم عَذَابًا الِیمًا وَلاَیجِدُونَ لَهم مِنْ دُونِ اللهِ وَلِیا وَلاَنَصِیرًا ) ۔(۵۹۲)

”اور جن لوگوں نے انکار کیا اور تکبر سے کام لیا ہے ان پر دردناک عذاب کرے گا اور ان ہیں خدا کے علاوہ نہ کوئی سرپرست ملے گا اور نہ مدد گار“۔

قرآن مجید نے تکبر کرنے والوں کو خدا کی محبت سے خارج قرار دیتے ہوئے خدا کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے:

( إِنَّهُ لاَیحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِینَ ) ۔(۵۹۳)

”وہ مستکبرین کو ھرگز پسند ن ہیں کرتا ہے“۔

روز قیامت تکبر کرنے والوں کو سختی کے ساتھ حکم دیا جائے کہ جہنم کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔

( ادْخُلُوا ابْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیها فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَكَبِّرِینَ ) ۔(۵۹۴)

”اب جہنم کے دروازوں سے داخل ہوجاو اور اسی میں ھمیشہ رھو کہ اکڑنے والوں کا ٹھکانہ بھت بُرا ہے“۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:

اِجْتَنِبُوا الْكِبْرَ، فَاِنَّ الْعَبْدَ لَا یزالُ یتَكَبَّرُ حَتّی یقُولَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ:اكْتُبُوا عَبْدِی هٰذا فِی الْجَبَّارِینَ “۔

”تکبر سے اجتناب کرو، بے شک جب انسان ھمیشہ تکبر سے کام لیتا ہے تو خداوندعالم فرماتا ہے : میرے اس بندے کانام جباروں میں لکھ دیا جائے“۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

اِیاكَ وَالْكِبْرَ، فَاِنَّهُ اَعْظَمُ الذُّنُوبِ، وَاَلْامُ الْعُیوبِ، وَهُوَحِلْیةُ اِبْلِیسَ “۔

”تکبر سے پرھیز کرو، کیونکہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے اور بھت بُرا عیب ہے، تکبر ابلیس کی زینت ہے۔

نیز امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

عَجِبْتُ لِابْنِ آدَمَ، اَوَّلُهُ نُطْفَةٌ، وَآخِرُهُ جِیفَةٌ، وَهُوَ قائِمٌ بَینَهُما وِعاءً لِلْغائِطِ ثُمَّ یتَكَبَّرُ “۔

”واقعاً انسان پر تعجب ہوتا ہے جس کی ابتداء نطفہ اور جس کا انجام ایک بدبودار مردار ہو یعنی جس کی ابتداء اور انتھا نجاست ہو، لیکن پھر بھی تکبر کرتا ہے“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ اعلان عام تھا:

اِیاكّم وَالْكِبْرَ، فَاِنَّ اِبْلِیسَ حَمَلَهُ الْكِبْرُ عَلَی تَرْكِ السُّجُود لِآدَمَ “۔

”تکبر سے دوری اختیار کرو، کیونکہ اسی تکبر کی وجہ سے شیطان نے حکم خدا کی مخالفت کی اور جناب آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا“۔

قارئین کرام! گزشتہ صفحات میں بیان ہونے والے عناوین سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تمام بُرائیاں یھی ن ہیں ہیں بلکہ یہ تو بُرائیوں کے چند نمونہ تھے جن کی وجہ سے انسان دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوجاتا ہے۔

بعض دوسری معنوی بُرائیوں کا مرتکب انسان سب سے بُرے حیوانوں سے بھی بُرا ہوجاتا ہے، اور روز قیامت انسان کا باطن انسان کی شکل میں ظاھر ہوگا، وہ برائیاں کچھ یوں ہیں : اپنے کوکفار و مشرکین کی شبیہ بنانا، جھالت و نادانی میں باقی رہنا، نسل و اقتصاد میں فساد کرنا، بدعت گزاری، غرور، سستی اور کاھلی، چوری، قتل، حرام چیزوں میں دوسروں کی پیروی کرنا، دوسروں کی نسبت بدگمانی کرنا، خدا سے بدگمانی کرنا، وسوسہ، پستی و ذلت میں زندگی بسر کرنا، فتنہ و فساد پھیلانا، چغل خوری، شرک، بے جا تمنا کرنا، جلد بازی کرنا، قساوت قلب، لجاجت اور ہٹ دھرمی، جنگ و جدال کرنا، ناچ گانا، اختلاف کرنا، (غیر دینی)گروہ بنانا، غیظ و غضب اور جدائی، بے جا تعصب، لالچ، لوگوں کے عیوب ڈھونڈنا، حرص، زنا، حسد، ماں باپ، اھل و عیال اور دوسرے لوگوں کے حقوق ضائع کرنا۔

اگر ھم ان تمام عناوین کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کرنا چا ہیں تو چند جلد کتاب بن جائیں، ان چیزوں کی تفصیل کے سلسلہ قرآنی تفاسیر اور احادیث و اخلاق کی مفصل کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں۔

ھم اس فصل کو پوری کتاب میں بیان ہونے والے مطالب کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ختم کرتے ہیں :

اس کتاب کے ایک حصہ میں خداوندعالم کی مادی اور معنوی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے انسان عبادت و بندگی کی طاقت حاصل کرنے کے لئے فیضیاب ہوتا ہے، نیز اس بات پر بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ خداوندعالم کی مادی اور معنوی نعمتوں کو بے جا اور نامناسب طریقہ پر خرچ کرنا گناہ و معصیت ہے۔

اس کتاب میں اس بات پر بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ توبہ و انابہ اور خدا کی طرف بازگشت یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں کو اس کی معین کردہ راہ میں خرچ کرے، دوسرے الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ توبہ یعنی اپنے گزشتہ پر نادم و پشیمان ہونا اور اپنے گزشتہ کی تلافی اور جبران کرنا ہے، اور آئندہ میں اپنے اصلاح کے لئے کوشش کرنا۔

ایک حصہ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کتنا ہی گناھوں میں آلودہ ہو ایک بیمار کی طرح ہے اور خدا وندعالم کی طرف سے اس بیماری کے علاج اور شفاء کے لئے تمام دروازے کھلے ہیں ، لہٰذا انسان کو ھرگز ناامید ن ہیں ہونا چاہئے بلکہ اس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ خداوندعالم توبہ قبول کرنے والا ہے، اور خداوندعالم کی بے نھایت رحمت و قدرت اور اس کا لطف و کرم آسانی کے ساتھ توبہ کرنے والے گناھگار کے شامل حال ہوجاتا ہے، خداوندعالم انسان کے تمام گناھوں کو بخش دیتا ہے، اور اس پراپنی رحمت نازل کرتاھے، توبہ کرنے والے کو چاہئے کہ لوگوں کے مالی حقوق کو ادا کرے اور قرآنی روسے واجب مالی حقوق کو ادا کرے، قضا شدہ واجبات کی ادائیگی کرے، اور گناھوں کو ترک کرنے کا قطعی فیصلہ کرے، اور اس قطعی فیصلہ پر پابندرہے ۔

اس کتاب کے اھم حصہ میں توبہ سے متعلق آیات و احادیث کو بیان کیا گیا اور توبہ کرنے والوں کے واقعات بیان کئے گئے خصوصاً ایسے واقعات جن کو کم لکھا گیا اور سنا گیا ہے، اور آخر میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اصلاح نفس کے چالیس عنوان بیان کئے گئے ہیں ۔

حقیر کا نظریہ ہے کہ اگر گناھوں کا مرتکب انسان اس کتاب کا غورسے مطالعہ کرلے یا مجالس یا نماز جمعہ کے خطبوں میں اس کتاب کے مطالب کو بیان کرےں اور بعض گناھوں میں ملوث حضرات جو خود توبہ کی طرف مائل ہیں ؛ ان سبھی کے لئے یہ کتاب مفید ثابت ہوگی۔دینی مبلغ کو لوگوں کی ہدایت سے مایوس اور ناامید ن ہیں ہونا چاہئے، مبلغین عزیز، انبیاء علیھم السلام کی طرح گمراھوں کی نسبت ایک باپ جیسا سلوک کریں، اور گناھگاروں کے ساتھ اپنی اولاد جیسا برتاؤ کرے ان کو پیار و محبت کے ساتھ سمجھائے، بھت ہی پیار و محبت اور لطیف انداز میں حلال و حرام کی تعلیم دیں اور انسانی و اخلاقی حقائق کی وضاحت کریں اور اسی طرح صبر و حوصلہ کے ساتھ کام کرتے ر ہیں ۔

امام عارفین، مولائے عاشقین اور امیر المومنین علیہ السلام نے تمام مبلغین اور معاشرہ کی اصلاح کرنے والے دلسوز علماء کو ایک پیغام دیا ہے کہ بیمار گناہ کے علاج سے ناامید نہ ہوں۔

گناھگاروںکے ساتھ پیار و محبت اور لطف و کرم کا رویہ اختیار کریں ان کو دینی حقائق بتائیں اور ان کو نرم لہجہ میں توبہ کے لئے تیار کریںاور اس سلسلہ میں پیش آنے والی زحمتوں کو برداشت کریں، جو واقعاً دنیا و آخرت میں رحمت الٰھی شامل حال ہونے کا طریقہ ہے۔

ایک شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا:

اُحِبُّ اَنْ یرْحَمَنِی رَبّی، قالَ:ارْحَمْ نَفْسَكَ، وَارْحَمْ خَلْقَ اللّٰهِ یرْحَمْكَ اللّٰهُ “۔

”میں چاھتا ہوں کہ خدامجھ پر رحم و کرم کرے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تو خودا پنے اوپر اور دوسروں پر رحم کر تو خداوندعالم تجھ پر اپنی رحمت نازل فرمائے گا“۔

بعض وجوھات کی بنا پر انسان گناھوں میں گرفتار ہوجاتا ہے ان ہیں اپنے سے دور ن ہیں کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ سخت رویہ اختیار ن ہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کو ایک بیمار کی نگاہ سے د یکھنا چاہئے، بیمار کو فطری طور پر مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اپنی نجات کے لئے امداد چاھتا ہے، واقعاً بیمار قابل ترحم ہوتا ہے، اس کو بلائیں اگر وہ نہ آئے تو ھم خود جائیں، اور اس سے نرم لہجہ میں گفتگو کریں، دنیا و آخرت میں گناھوں کے خطرناک آثار کو بیان کریں، اس کو خدا کے لطف و کرم اور نعمتوں کی یاد دلائیںاور اس بات کی امیدرکھنا چاہئے کہ خداوندعالم تمھارے ذریعہ سے اس کو توبہ اور بازگشت کی توفیق عنایت فرمائے گا، کہ اگر کوئی شخص ھمارے ذریعہ سے ہدایت پاگیا اور اپنے گناھوں سے توبہ کرلی تو واقعاً یہ کام ھمارے ھر عمل سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے تبلیغ دین کے لئے یمن بھیجاتو مجھ سے فرمایا: کسی سے بھی جنگ نہ کرنامگر یہ کہ پھلے اس کو اسلام کی دعوت دینا، اور اس کے بعد فرمایا:

”وَایمُ اللّٰهِ لَاَنْ یهْدِی اللّٰهُ عَليٰ یدَیكَ رَجُلاً خَیرٌلَكَ مِمّا طَلَعَتْ عَلَیهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ “۔

”ذات خدا کی قسم! اگر کوئی شخص تمھارے ذریعہ ہدایت حاصل کرلے تو یہ تمھارے لئے ھر اس چیزسے بھترہے جس پرسورج چمکتاھے“۔

آخر میں خداوندعالم کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں :

”پالنے والے! ھمارے پاس آنسووں کے علاوہ کوئی سرمایہ ن ہیں ، سوائے دعا کے کوئی اسلحہ ن ہیں ، اور تیرے علاوہ کسی سے امید ن ہیں ہے؛ خدایا! ھمیں حقیقی توبہ کی توفیق عنایت فرما!، اور ھمیں تقويٰ و پرھیزگاری اور عبادت و بندگی سے مزین فرمادے، اور ھماری باقی ماندہ عمر کو ظاھری و باطنی گناھوں سے محفوظ فرما، اور ھماری زندگی و موت کو محمد و آل محمد (علیھم السلام) کی زندگی و موت کی طرح قرار دے۔(آمین یا رب العالمین بحق محمد آل محمد )


فھرست منابع و ماخذ

۱۔ قرآن کریم

۲۔ نہج البلاغہ

۳۔ اختصاص، شیخ مفید، کنگرہ شیخ مفید ”قم ۱۴۱۳ ھ ق“۔

۴۔ ارشاد القلوب، شیخ مفید، کنگرہ شیخ مفید ”قم ۱۴۱۳ ھ ق“۔

۵۔ اسرار معراج، شیخ علی قرنی گلپائیگانی۔

۶۔ اعلام الدین، حسن بن علی دیلمی۔

۷۔ اعلام الوری، فضل بن حسن طبرسی۔

۸۔الترغیب، زکی الدین عبد العظیم بن عبد القوی منذری۔

۹۔ الدر المنثور، سیوطی۔

۱۰۔ الزہد، احمد بن زیاد۔

۱۱۔ امالی، شیخ صدوق، کتابخانہ اسلامیہ ”۱۳۶۲ ھ ش“۔

۱۲۔ امالی، شیخ طوسی، دار الثقافہ ”قم ۱۴۱۴ ھ ق“۔

۱۳۔ امالی، شیخ مفید کنگرہ شیخ مفید ”قم ۱۴۱۳ ھ ق“۔

۱۴۔ بازگشت بہ خدا، علی اکبر ناصری۔

۱۵۔ بحار الانوار، علامہ مجلسی، الوفاء ”بیروت ۱۴۰۴ ھ ق“۔

۱۶۔بصائر الدرجات، محمد بن حسن بن فروخ صفار، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی۲ ”قم ۱۴۱۰ ھ ق“۔

۱۷۔ پیشوای شھیدان، سید رضا صدر۔

۱۸۔ تحف العقول، حسن بن شعبہ بحرانی، جامعہ مدرسین ”قم ۱۴۰۴ ھ ق“۔

۱۹۔ تذکرة الاولیاء، عطار نیشاپوری۔

۲۰۔ تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام ۔

۲۱۔ تفسیر برھان، سید ھاشم بحرانی،

۲۲۔ تفسیر صافی، فیض کاشانی، الاعلمی ”بیروت۔

۲۳۔ تفسیر عیاشی، عیاشی، مکتب العلمیہ الاسلامیہ۔

۲۴۔ توحید مفضل، امام صادق علیہ السلام ۔

۲۵۔ تفسیر فرات، فرات کوفی۔

۲۶۔ تفسیر قمی، علی بن ابراھیم قمی، الاعلمی ”بیروت“۔

۲۷۔ تفسیر کشف الاسرار، میبدی۔

۲۸۔ تفسیر معین، نور الدین محمد کاشانی۔

۲۹۔ تفسیر نمونہ، مکارم شیرازی، دار الکتب الاسلامیہ۔

۳۰۔ ثواب الاعمال، شیخ صدوق، رضی ”قم ۱۳۶۴ھ ش۔

۳۱۔ جامع الاخبار، تاج الدین شعیری، انتشارات رضی ”قم ۱۳۶۳ ھ ش“۔

۳۲۔ جامع النورین، ملا اسماعیل سبزواری۔

۳۳۔ جاھلیت قرن بیستم، صدر الدین بلاغی۔

۳۴۔ جعفریات، عبداللہ حمیری۔

۳۵۔ حسن یوسف، سید رضا صدر۔

۳۶۔ خرائج، قطب الدین راوندی۔

۳۷۔ خصال، شیخ صدوق، جامعہ مدرسین ”قم ۱۴۰۳ ھ ق“۔

۳۸۔ دعوات، قطب الدین راوندی، مدرسہ امام مہدی (عج) ”قم ۱۴۰۷ ھ “۔

۳۹۔ دیوان شمس، مولوی۔

۴۰۔ راز آفرینش انسان، کرسی موریسن۔

۴۱۔ راہ خدا شناسی، فھیمی۔

۴۲۔ رجال، علامہ بحر العلوم۔

۴۳۔ روح البیان، الشیخ اسماعیل حقی البروسوی۔

۴۴۔ روضات الجنات، سید احمد خوانساری۔

۴۵۔ روضة الواعظین، محمد بن حسن فتال نیشاپوری، رضی ”قم“۔

۴۶۔ سفینة البحار، حاج شیخ عباس قمی۔

۴۷۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید ۔

۴۸۔ شرح نہج البلاغہ جعفری، علامہ جعفری۔

۴۹۔طب النبی، میرزا ابو طالب نائینی۔

۵۰۔عدة الداعی، ابن فہد حلی، دارالکتب الاسلامیہ، ”۱۴۰۷ ھ ق“۔

۵۱۔ علل الشرائع، شیخ صدوق، سیدالشہداء ”قم ۱۳۶۶“۔

۵۲۔ علم و زندگی، ترجمہ احمد بیدشک۔

۵۳۔ عنصر شجاعت، حاج میرازا خلیل کمرہ ای۔

۵۴۔ عوالی اللآلی، ابن ابی جمھور احسائی، سید الشہداء ”قم ۱۴۰۵ ھ ق“۔

۵۵۔ عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق، جھان ”۱۳۷۸“۔

۵۶۔ غرر الحکم، عبد الواحد بن محمد تمیمی آمدی، دفتر تبلیغات ”قم ۱۳۶۶“۔

۵۷۔ کافی، شیخ کلینی علیہ الرحمہ، دار الکتب الاسلامیہ ”۱۳۶۵ ھ ش“۔

۵۸۔ کشف الغمہ، علی بن عیسيٰ اربلی، مکتبہ بنی ھاشمی ”تبریز ۱۳۸۱ “۔

۵۹۔ کنز العمال، علی المتقی الھندی، التراث الاسلامی ”بیروت ۱۳۸۹ ھ ق“۔

۶۰۔ کنز الفوائد، ابوالفتح کراجکی، دار الزخائر ”قم ۱۴۱۰ ھ ق“۔

۶۱۔ گنجینہ ھای زندگی۔

۶۲۔مجمع البیان، طبرسی، دار الاحیاء التراث العربی ”بیروت“۔

۶۳۔ مجموعہ ورام، ورام بن ابی فراس، مکتبة الفقیہ ”قم“۔

۶۴۔ محاسن، احمد بن محمد بن خالد برقی، دار الکتب الاسلامی ”قم ۱۳۷۱“۔

۶۵۔ محجة البیضاء، فیض کاشانی، دفتر انتشارات اسلامی۔

۶۶۔ مستدرک الوسائل، محدث نوری، آل البیت ”قم ۱۴۰۸ ھ ق“۔

۶۷۔ مشکاة الانوار، ابوالفضل علی طبرسی، حیدریہ، ”نجف ۱۳۸۵ ھ ق“۔

۶۸۔ مصباح الشریعہ، امام صادق علیہ السلام، الاعلمی للمطبوعات ”۱۴۰۰ھق“۔

۶۹۔معانی الاخبار، شیخ صدوق، جامعہ مدرسین قم۔

۷۰۔ مفاتیح الجنان، حاج شیخ عباس قمی۔

۷۱۔ مفردات، راغب اصفھانی، انتشارات ذوی القربيٰ ”قم ۱۴۲۳ ھ ق“۔

۷۲۔ مکارم الاخلاق، رضی الدین حسن بن فضل طبرسی، شریف رضی ”قم“۔

۷۳۔ من لا یحضر الفقیہ، شیخ صدوق، جامعہ مدرسین ”قم ۱۴۱۳ ھ ق“۔

۷۴۔منہج الصادقین، ملا فتح اللہ کاشانی۔

۷۵۔ منیة المرید، شھید ثانی۔

۷۶۔ مواعظ العددیة، مشکینی۔

۷۷۔ میزان الحکمہ ”مترجم“ محمدی ری شھری، دارالحدیث ”دوم ۱۳۷۹ “۔

۷۸۔ نوادر، سید فضل اللہ راوندی، دار الکتاب ”قم“۔

۷۹۔ نور الثقلین۔ شیخ عبد علی بن جمعہ العروسی الحیوزی۔

۸۰۔ وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، آل البیت ”قم ۱۴۰۹ “۔

____________________

۴۸۰. سورہ آل عمران آیت ۶۱۔

۴۸۱. سورہ منافقون آیت ۱۔

۴۸۲. مجموعہ ورام ج۱، ص۱۱۴، باب الکذب ؛الترغیب ج۳، ص۵۹۶۔

۴۸۳. تحف العقول ص۲۲۴؛مشکاة الانوار ص۱۸۰، الفصل الرابع والعشرون فی محاسن الافعال ؛بحار الانوار ج۷۵، ص۶۴، باب ۱۶، حدیث ۱۵۷۔

۴۸۴. مستدرک الوسائل ج۹، ص۸۵، باب ۱۲۰، حدیث ۱۰۲۸۳؛محجة البیضاء ج۵، ص ۲۴۳، کتاب آفات اللسان۔

۴۸۵. شرح نہج البلاغہ ج۶، ص۳۵۷، فصل فی ذم الکذب۔

۴۸۶. کافی ج۲، ص۳۳۸، باب الکذب، حدیث ۳؛بحار الانوار ج۶۹، ص۲۳۶، باب ۱۱۴، حدیث ۳۔

۴۸۷. مجموعہ ورام ج۱، ص۱۱۳، باب الکذب۔

۴۸۸. سورہ نساء آیت ۱۱۲۔

۴۸۹. عیون اخبار الرضا ج۲، ص۳۳، باب ۳۱، حدیث۶۳؛بحار الانوارج۷۲، ص۱۹۴، باب ۶۲، حدیث۵۔

۴۹۰. معانی الاخبار ص۱۶۳، باب معنی طینة خبال، حدیث۱؛بحار الانوار ج۷۲، ص۱۹۴، باب ۶۲، حدیث ۶۔

۴۹۱. خصال ج۲، ص۳۴۸، حدیث ۲۱؛بحار الانوار ج۷۵، ص۴۴۷، باب ۳۳، حدیث ۷۔

۴۹۲. سورہ حجرات آیت ۱۲۔

۴۹۳. امالی شیخ طوسی ص۵۳۷، مجلس یوم الجمعة، حدیث ۱۱۶۲؛بحار الانوار ج۷۴، ص۹۱، باب۴، حدیث ۳۔

۴۹۴. غررالحکم ص۲۲۱، سامع الغیبة، حدیث ۴۴۴۳؛تفسیر معین ص۱۰۲۔

۴۹۵. سورہ حجرات آیت ۱۱۔

۴۹۶. کنزل العمال ص۸۳۲۸۔

۴۹۷. مجموعہ ورام ج۱، ص۳۱، باب الرسوم فی معاشرة الناس۔

۴۹۸. مجموعہ ورام ج۲ص۱۲۱۔

۴۹۹. سورہ بقرہ آیت ۲۲۴۔

۵۰۰. تحف العقول ص۱۳؛بحار الانوار ج۷۴، ص۶۸، باب۳، حدیث ۶۔

۵۰۱. کافی ج۷، ص۴۳۵، باب الیمین الکاذبة، حدیث ۱؛بحار الانوار ج۱۰۱، ص۲۰۹، باب۱، حدیث ۱۵۔

۵۰۲. سورہ نازعات آیت ۴۰۔۴۱۔

۵۰۳. خصال ج۱، ص۲حدیث۲؛امالی مفید ص۵۱، مجلس ۶، حدیث ۱۱؛وسائل الشیعہ ج۱۵، ص۲۱۰، باب۹، حدیث۲۰۲۹۹۔

۵۰۴. کافی ج۲، ص۷۹، باب العفة، حدیث۶؛وسائل الشیعہ ج۱۵، ص۲۴۹، باب ۲۲، حدیث۲۰۴۱۷۔

۵۰۵. غررالحکم ص۳۰۴، فی الشھوات ذل ورق، حدیث۶۹۶۵۔

۵۰۶. مکارم الاخلا ق ص۴۶۵، الفصل الخامس ؛بحار الانوارج۷۴، ص۸۴، باب ۴، حدیث ۳۔

۵۰۷. من لایحضرہ الفقیہ ج۴، ص۱۳، باب ذکر جمل من مناھی النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، حدیث ۴۹۶۸؛بحارالانوار ج۶۷، ص۳۷۸، باب ۵۹، حدیث ۲۵۔

۵۰۸. سورہ صف آیت ۷۔

۵۰۹. سورہ عنکبوت آیت ۳۱۔

۵۱۰. سورہ غافر آیت ۱۸۔

۵۱۱. سورہ شوريٰ آیت ۴۵۔

۵۱۲. سورہ شوريٰ آیت ۴۰۔

۵۱۳. کنزل العمال ص۸۸۶۲۔

۵۱۴. امالی طوسی ص۴۰۵، مجلس۱۴، حدیث ۹۰۸؛وسائل الشیعہ ج۱۶، ص۵۰، باب ۷۷، حدیث ۲۰۹۵۵؛بحار الانوار ج۷۲، ص۳۱۱، باب ۷۹، حدیث۱۲۔

۵۱۵. کافی ج۲، ص۳۳۲، باب الظلم، حدیث ۱۰؛بحار الانوار ج۷۲، ص۳۳۰، حدیث۶۳۔ باب ۷۹۔

۵۱۶. خصال ج۱، ص۱۰۷، حدیث۷۲؛ تحف العقول ص۲۱۶؛ بحارالانوارج۷۲، ص۳۱۲، باب۷۹، حدیث۱۶۔

۵۱۷. نہج البلاغہ ص۴۹۴، خطبہ ۲۱۵؛مستدرک الوسائل ج۱۳، ص۲۱۱، باب۷۷، حدیث۱۵۱۴۰۔

۵۱۸. سورہ آل عمران آیت ۱۳۴۔

۵۱۹. الترغیب ج۳، ص۴۵۰۔

۵۲۰. تحف العقول ص۱۳؛بحار الانوار ج۷۴، ص۶۸، باب۳، حدیث۶۔

۵۲۱. غررالحکم ص۳۰۳، آثار اخری للغضب، حدیث ۶۸۹۸؛مستدرک الوسائل ج۱۲، ص۱۲، باب۵۳، حدیث ۱۳۳۷۶۔

۵۲۲. کافی ج۲، ص۱۱۰، باب کظم الغیظ، حدیث۷؛بحار الانوارج۶۸، ص۴۱۰، باب۹۳، حدیث۲۴۔

۵۲۳. کافی ج۲، ص۳۰۳، باب الغضب، حدیث۳؛خصال ج۱، ص۷؛حدیث ۲۲، بحار الانوارج۷۰، ص۲۶۶، باب۱۳۲، حدیث۱۷۔

۵۲۴. غرر الحکم ص۲۹۹، ذم الحقد، حدیث۶۷۶۳۔

۵۲۵. غرر الحکم ص۲۹۹، ذم الحقد، حدیث۶۷۶۷۔

۵۲۶. غرر الحکم ص۲۹۹، ذم الحقد، حدیث۶۷۶۶۔

۵۲۷. نہج البلاغہ ص۸۰۱، حکمت ۱۷۸؛غررالحکم ص۱۰۶، فی النھی عن الشر، حدیث۱۹۱۱۔

۵۲۸. غرر الحکم ص۲۹۹، بعض آثاالحقد، حدیث۶۷۸۱۔

۵۲۹. غرر الحکم ص۲۹۹، ذم الحقد، حدیث۶۷۷۴۔

۵۳۰. غررالحکم ص۴۱۹، جملة من علائم شر الاخوان، حدیث۹۶۰۲۔

۵۳۱. سورہ آل عمران آیت ۱۸۰۔

۵۳۲. سورہ توبہ آیت ۳۴۔۳۵۔

۵۳۳. امالی صدوق ص۲۰، مجلس ۶، حدیث ۴؛بحار الانوار ج۷۰، ص۳۰۰، باب ۱۳۶، حدیث۲۔

۵۳۴. نہج البلاغہ ص۸۶۸، حکمت ۳۷۸؛بحار الانوار ج۷۰، ص۳۰۷، باب ۱۳۶، حدیث ۳۶۔

۵۳۵. کافی ج۴، ص۴۵، باب البخل والشح، حدیث۴؛بحار الانوار ج۹۳، ص۱۶، باب۱، حدیث۳۶۔

۵۳۶. سورہ نساء آیت ۳۰۔

۵۳۷. طب النبی ص۲۲؛بحار الانوار ج۵۹، ص۲۹۲، باب۸۹۔

۵۳۸. کنز ل العمال ص۹۷۲۰۔

۵۳۹. کنز ل العمال ص۹۷۱۵۔

۵۴۰. کنز ل العمال ص۹۷۳۹۔

۵۴۱. تفسیر معین ص۸۳۔

۵۴۲. اعلام الدین ص۳۴۵، حدیث ۳۸؛بحار الانوار ج۷۴، ص۱۹۰، باب۷، حدیث۳۸۔

۵۴۳. مجموعہ ورام ج۲، ص۱۲۱۔

۵۴۴. بحار الانوار ج۷۵، ص۱۱، تتمہ باب ۱۵، حدیث(۷۰)

۵۴۵. مصباح الشریعةص۱۳۹، الباب الخامس والستون فی صفت الدنیا ؛بحار الانوارج۷۰، ص۱۰۵، باب ۱۲۲، حدیث۱۰۱۔

۵۴۶. سورہ انفال آیت(۵۸)

۵۴۷. سورہ انفال آیت ۲۷۔

۵۴۸. اختصاص، ص۲۴۸؛بحار الانوار ج۷۲، ص۱۷۲، باب ۵۸، حدیث۱۳۔

۵۴۹. مکارم الاخلاق ص۴۷۰، الفصل الخامس ؛بحار الانوار ج۷۴، ص۹۰، باب۴، حدیث۳؛مستدرک الوسائل ج۸، ص ۹۸ ۳، باب۵۹، حدیث۹۷۹۰۔

۵۵۰. جعفریات ص۱۸۸، باب فی المعروف والصدقہ؛مستدرک الوسائل ج۱۵، ص۱۸۳، باب ۷۱، حدیث۱۷۹۴۱۔

۵۵۱.عن الصادق جعفر بن محمد عن ابیه عن ابائه علیهم السلام قال:قال رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم :اربع لاتدخل بیتا واحدة منهن الا خرب ولم یعمر بالبرکة، الخیانة والسرقة و شرب الخمر والزناء ۔

۵۵۲. ثواب الاعمال ص۲۷۱؛جعفریات ص۱۷۱، باب المکروالخیانة؛مستدرک الوسائل ج۹، ص۸۰، باب۱۱۹، حدیث۵ ۶ ۲ ۰ ۱ ۔

۵۵۳. غررا لحکم ص۴۶۰، الخیانة، حدیث ۱۰۵۲۱؛تفسیر معین ص۹۶۔

۵۵۴. اختصاص ص۲۳۱؛بحار الانوار ج۷۲، ص۱۷۲، باب ۵۸، حدیث۱۱۔

۵۵۵. سورہ مائدہ آیت ۹۰۔۹۱۔

۵۵۶. وسائل الشیعہ ج۲۵، ص۳۱۲، باب۱۱، حدیث۳۱۹۸۸؛بحار الانوار ج۷۶، ص۱۲۷، باب۸۶، حدیث۷۔

۵۵۷. تفسیر معین ص۱۲۳۔

۵۵۸. کنزل العمال ص۱۳۱۸۲۔

۵۵۹. امالی صدوق ص۴۲۴، مجلس ۶۶، حدیث۱؛بحار الانوار ج۷۶، ص۱۲۶، باب ۸۶، حدیث۵۔

۵۶۰. خصال ج۱، ص۱۶۳، حدیث ۲۱۵؛وسائل الشیعہ ج۲، ص۵۰، باب ۱۶، حدیث۱۴۵۰؛بحار الانوارج۷۹، ص۱۲۹۔

۵۶۱.عن عبد الرحمن بن سالم عن المفضل قال:قلت لابی عبد الله علیه السلام :لم حرم الله الخمر؟ قال:حرم الله الخمر لفعلها وفسادها لان مدمن الخمر تورثه الارتعاش، وتذهب بنوره، وتهدم مروته، وتحمله علی ان یجتریٴ علی ارتکاب المحارم وسفک الدماء ورکوب الزنا ولا یومن اذا سکر ان یثب علی حرمه وهو لا یعقل ذلک، ولا یزید شاربها الاکل شر ۔

۵۶۲. سورہ انعام آیت ۱۰۸۔

۵۶۳. کافی ج۲، ص۳۶۰۔، باب السباب، حدیث۳؛بحار الانوارج۷۲، ص۱۶۳، باب۵۷، حدیث۳۴۔

۵۶۴. من لایحضرہ الفقیہ ج۴، ص۴۱۸، من الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، حدیث۵۹۱۳؛ثواب الاعمال ص۲۴۰؛بحار الانوار ج۷۲، ص۱۴۸، باب ۵۷، حدیث۶۔

۵۶۵. کنزل العمال ص۲۱۲۰۔

۵۶۶. علل الشرایع ج۲، ص۵۷۷، باب۳۸۳، حدیث۱؛بحا الانوار ج۵۷، ص۹، باب ۲۹، حدیث۸۔

۵۶۷. سورہ اعراف آیت ۳۱۔

۵۶۸. سورہ اسراء آیت ۲۷۔

۵۶۹. مجموعہ ورام ج۲، ص۲۲۹۔

۵۷۰. اعلام الدین ص۳۱۳؛بحار الانوار ج۷۵، ص۳۷۷، باب۲۹، حدیث۳۔

۵۷۱. غررالحکم ص۳۵۹، الفصل الاول ذم الاسراف، حدیث۸۱۳۲؛تفسیر معین ص۱۴۶۔

۵۷۲. خصال ج۱، ص۱۲۱، حدیث ۱۱۳؛بحار الانوار ج۶۹، ص۲۰۶، باب ۱۰۶، حدیث۷۔

۵۷۳. کافی ج۴، ص۵۲، باب فضل القصد، حدیث۲؛بحار الانوار ج۶۸، ص۳۴۶، باب ۸۶، حدیث۱۰۔

۵۷۵. تفسیر معین ص۳۷۴۔

۵۷۶. من لایحضرہ الفقیہ ج۳، ص۲۷۳، باب الاحسان و ترک الغش فی البیع، حدیث۳۹۸۷۔

۵۷۷. کنزل العمال ص۹۵۰۱۔

۵۷۸. غررالحکم ص۸۶، الدین ہو الملاک، حدیث۱۴۳۶۔

۵۷۹. نہج البلاغہ ص۶۰۵، نامہ ۲۶؛بحا رالانوار ج۳۳، ص۵۲۸، باب ۲۹، حدیث۷۱۹۔

۵۸۰. سورہ بقرہ آیت ۲۷۸۔۲۷۹۔

۵۸۱. من لایحضرہ الفقیہ ج۴، ص۳۷۷، من الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، حدیث۵۷۷۵؛وسائل الشیعہ ج۱۸، ص۱۲۲، باب۱، حدیث۲۳۲۸۲۔

۵۸۲. ثواب الاعمال ص۲۸۵، عقاب مجمع عقوبات الاعمال؛بحار الانوار ج۷۳، ص۳۶۴، باب ۶۷، حدیث۳۰۔

۵۸۳. عوالی اللئالی ج۲، ص۱۳۶، حدیث ۳۷۴؛بحار الانوار ج۱۰۰، ص۱۱۷، باب ۵، حدیث۱۳۔

۵۸۴. من لا یحضرہ الفقیہ ج۴، ص۸باب ذکر جمل من مناھی النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، حدیث۴۹۶۸؛بحار الانوار ج۱۰۰، ص۱۱۶، باب ۵، حدیث۸۔

۵۸۵. عناوین کے لحاظ سے :آل عمران آیت ۱۱۷۔((مَثَلُ مَا ینْفِقُونَ فِی هَذِهِ الْحَیاةِ الدُّنْیا كَمَثَلِ رِیحٍ فِیها صِرٌّ اصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا انْفُسَهم فَاهلكَتْهُ وَمَا ظَلَمَهم اللهُ وَلَكِنْ انْفُسَهم یظْلِمُونَ ))سورہ یونس آیت ۱۳۔((وَلَقَدْ اهلكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَائَتْهم رُسُلُهم بِالْبَینَاتِ وَمَا كَانُوا لِیؤْمِنُوا كَذَلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِینَ )) سورہ انبیاء آیت ۹۔((ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَینَاهُمْ وَمَنْ نَّشَاءُ وَاَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِینَ ))سورہ انبیاء ایت ۶۔((مَاآمَنَتْ قَبْلَهُم مِن قَرْیةٍ اَهْلَكْنَا هَا افَهُمْ یومِنُونَ ))سورہ اسراء آیت ۱۶۔ ((وَإِذَا ارَدْنَا انْ نُهلكَ قَرْیةً امَرْنَا مُتْرَفِیها فَفَسَقُوا فِیها فَحَقَّ عَلَیها الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاها تَدْمِیرًا ))سورہ حاقہ آیت ۵۔((فَامَّا ثَمُودُ فَاهلكُوا بِالطَّاغِیةِ ))سورہ انعام آیت ۱۳۱۔ ((ذَلِكَ انْ لَمْ یكُنْ رَبُّكَ مُهلكَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَاهلها غَافِلُونَ ))سورہ دخان آیت ۷ ۳۔ ((اهم خَیرٌ امْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهم اهلكْنَاهم إِنَّهم كَانُوا مُجْرِمِینَ ))

۵۸۶. خصال ج۱، ص۸۴، حدیث ۱۲؛بحار الانوار ج۶۷، ص۶، باب ۴۱، حدیث۳۔

۵۸۷. کافی ج۲، ص۳۱۶، باب حب الدنیا والحرص علیھا، حدیث۶؛مشکاة الانوارص۱۲۶، الفصل السادس فی الغنی والفقر۔

۵۸۸. نہج البلاغہ ص۷۹۹۔حکمت ۱۶۱۔

۵۸۹. غررالحکم ص۲۳۳، عرفان القدر، حدیث۴۶۷۷۔

۵۹۰. کشف الغمہ ج۲ ص۲۰۶؛بحار الانوارج۷۵، ص۲۰۷، باب ۲۳، حدیث۶۷۔

۵۹۱. سورہ اعراف آیت ۱۳۔

۵۹۲. سورہ نساء آیت ۱۷۳۔

۵۹۳. سورہ نحل آیت ۲۳۔

۵۹۴. سورہ غافر آیت ۷۶۔


فہرست

عرض ناشر ۴

عرض مولف ۶

نعمتیں اور انسان کی ذمہ داری ۸

۱۔ نعمت کی فراوانی اور وسعت ۹

۲۔ حصول نعمت کا راستہ ۹

۳۔ نعمت پر توجہ ۱۰

۴۔ نعمت پر شکر ۱۱

۵۔ نعمت پر ناشکری سے پرھیز ۱۳

۶۔ نعمتوں کا بے شمار ہونا ۱۴

۷۔نعمتوں کی قدر شناسی ۱۷

۸۔ نعمتوں کا بےجا استعمال ۱۷

۹۔ نعمتوں کے استعمال میں بخل کرنا ۱۸

۱۰۔ نعمت، زائل ہونے کے اسباب و علل ۱۹

۱۱۔ اتمام ِنعمت ۲۰

۱۲۔ نعمت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا انعام ۲۲

گناہ اور اس کا علاج ۲۷

صلح و صفا کی کنجی ۲۷

گناہ بیماری ہے ۲۸

ناامیدی کفر ہے ۲۸


علاج کرنے والے اطباء ۲۹

توبہ واجب ِفوری ہے ۳۷

توبہ واجب اخلاقی ہے ۴۰

تواضع کے بارے میں احادیث ۴۲

خداوند عالم کی طرف واپسی ۴۶

گناھگار اور توبہ کرنے کی طاقت ۴۶

توبہ، آدم و حوا کی میراث ۴۹

کیا کیاچیزیں گناہ ہیں ؟ ۵۲

گناھوں کے برے آثار ۵۳

حقیقی توبہ کا راستہ ۵۷

امام علی علیہ السلام کی نظر میں حقیقی توبہ ۵۷

ھر گناہ کے لئے مخصوص توبہ ۵۹

۱۔ شیطان ۶۰

۲۔ دنیا ۶۱

۳۔ آفات ۶۲

حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰھی تحفہ ۶۲

توبہ جیسے باعظمت مسئلہ کے سلسلہ میں قرآن کا نظریہ ۶۳

۱۔ توبہ کا حکم ۶۴

۲۔حقیقی توبہ کا راستہ ۶۴

۳۔ توبہ قبول ہونا ۶۵


۴۔ توبہ سے منھ موڑنا ۶۶

۵۔ توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب ۶۶

توبہ، احادیث کی روشنی میں ۶۷

توبہ کے منافع اور فوائد ۷۱

توبہ کرنے والوں کے واقعات ۷۷

ایک نمونہ خاتون ۷۷

”شعوانہ“ کی توبہ ۷۹

میدان جنگ میں توبہ ۸۰

ایک یھودی نو جوان کی توبہ ۸۱

ایک دھاتی کی بت پرستی سے توبہ ۸۱

شقیق بلخی کی توبہ ۸۲

فرشتے اور توبہ کرنے والوں کے گناہ ۸۳

گناھگار اور توبہ کی مھلت ۸۳

گناھگار اور توبہ کی امید ۸۳

ایک سچا آدمی اور توبہ کرنے والا چور ۸۴

ابو بصیر کا پڑوسی ۸۴

ایک جیب کترے کی توبہ ۸۶

توسّل اور توبہ ۸۸

آہ، ایک سودمند تائب ۸۹

توبہ کے ذریعہ مشکلات کا دور ہونا ۹۰


عجیب اخلاق اور عجیب انجام ۹۱

ایک کفن چور کی توبہ ۹۳

فضیل عیاض کی توبہ ۹۶

تین توبہ کرنے والے مسلمان ۹۶

حر ّ بن یزید ریاحی کی توبہ ۹۸

عصر عاشور دوبھائیوں کی توبہ ۱۰۳

برادران یوسف کی توبہ ۱۰۷

ایک جزیرہ نشین مرد کی توبہ ۱۱۰

اصعمی اور بیابانی تائب ۱۱۱

صدق اور سچائی توبہ کے باعث بنے ۱۱۲

ایک عجیب وغریب توبہ ۱۱۳

بِشر حافی کی توبہ ۱۱۴

توبہ کرنے والا اھل بہشت ہے ۱۱۴

ابو لبابہ کی توبہ ۱۱۵

ایک لوھار کی توبہ ۱۱۷

قوم یونس کی توبہ ۱۱۸

ایک جوان اسیر کی توبہ ۱۱۹

ستمکار حکومت میں ایک ملازم شخص کی توبہ ۱۲۰

حیرت انگیز توبہ ۱۲۱

گناھگار نے پُر معنی جملہ سے توبہ کرلی ۱۲۲


گر نمی پسندی تغیر دہ قضا را ۱۲۳

ھارون الرشید کے بیٹے کی توبہ ۱۲۴

ایک آتش پرست کی توبہ ۱۲۷

توبہ اور خدا سے صلح و صفا ۱۲۹

تقويٰ و پرھیزگاری کے فوائد ۱۳۳

انسان اور اس کی خواہشات ۱۳۳

انسانی نفس خود سب سے بڑا بت ہے ۱۳۵

جھاد اکبر ۱۳۷

”جھاد بالنفس“ (یعنی اپنے نفس سے جنگ کرنا) ۱۳۸

اصلاح نفس کا طریقہ ۱۳۹

اصلاح نفس سے متعلق مسائل کے عناوین ۱۴۷

ابن سیرین اور خواب کی تعبیر ۱۴۷

خداداد بے شمار دولت اور علم ۱۴۸

ایک پرھیزگار اور بیدار جوان ۱۴۹

ایک جوان عابد اور گناہ کے خطرہ پر توجہ ۱۵۰

پوریائے ولی لیکن اپنے نفس سے جنگ کرنے والا ۱۵۱

فرصت کو غنیمت جاننا چاہئے ۱۵۴

نیکیوں سے مزین ہونا اور برائیوں سے پرھیز کرنا (۱) ۱۵۹

اھل ہدایت و صاحب فلاح ۱۶۰

غیب پر ایمان ۱۶۰


خدا ۱۶۱

فرشتے ۱۶۷

برزخ ۱۶۸

محشر ۱۷۰

حساب ۱۷۵

میزان ۱۷۹

بہشت و جہنم ۱۸۱

نماز ۱۸۴

انفاق ۱۸۷

صدقہ و انفاق کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب و اقعہ ۱۹۱

امام جواد علیہ السلام کے نام امام رضا علیہ السلام کا ایک اھم خط ۱۹۲

ماں باپ کے ساتھ نیکی ۱۹۴

رشتہ داروں سے نیکی کرنا ۱۹۷

نیکیوں سے مزین ہونا اور برائیوں سے پرھیز کرنا (۲) ۲۰۵

یتیموں پر احسان ۲۰۵

مسکینوں پر احسان کرنا ۲۰۶

نیک گفتار ۲۰۹

اخلاص ۲۱۱

صبر ۲۱۴

مال حلال ۲۱۶


تقويٰ ۲۱۸

نیکی ۲۲۰

غیرت ۲۲۱

عبرت ۲۲۲

خیر ۲۲۳

تحصیل علم ۲۲۴

امید ۲۲۵

عدالت ۲۲۷

سیئات اور برائیاں ۲۳۵

جھوٹ ۲۳۵

تھمت ۲۳۷

غیبت ۲۳۸

استہزاء اور مسخرہ کرنا ۲۳۹

جھوٹی قسم کھانا ۲۴۰

حرام شھوت ۲۴۰

ظلم و ستم ۲۴۲

غیظ و غضب ۲۴۴

بغض و کینہ ۲۴۵

بخل ۲۴۶

احتکار ۲۴۷


حبّ دنیا ۲۴۸

خیانت ۲۵۰

شرابخوری ۲۵۲

گالیاں اور نازیبا الفاظ ۲۵۴

اسراف (فضول خرچی) ۲۵۵

ملاوٹ اور دھوکہ بازی کرنا ۲۵۶

ربا (سود) ۲۵۷

تکبر ۲۵۹

فھرست منابع و ماخذ ۲۶۴