یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب :خاندان کےاخلا ق و فرائض
مصنف:غلام مرتضیٰ انصاری
مقدمہ
اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ توفیق ہوئی کہ خاندان کے اخلاق وفرائض کے عنوان سے ایک کتاب تدوین کروں ، جس میں مبتلا نہ خاندانی اور معاشرتی چیدہ چیدہ مسائل کا ذکر کرکے ان کا حل بیان کروں ۔ یہ مختصر کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔
پہلا حصہ ایک کلیات اور پانچ فصلوں پر مشتمل ہے۔ کلیات میں حقوق کا مفہوم ،اور اس کے منابع کے ساتھ خاندان کی تعریف ،اور اس کی ضرورت وآداب، اور اصول کو بیان کیا گیا ہے۔
پہلی فصل میں والدین پر بچوں کی ذمہ داریاں اور اولاد کی تربیت کے مختلف (پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعدکے) مراحل کو مختلف اور موزون مثالوں اور واقعات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
دوسری فصل میں میاں بیوی کے متقابل حقوق اور فرائض کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
تیسری فصل میں خاندانی اخلاق اور اس کا اثر ، خاندانی خوش بختی کے اصول اور بداخلاقی کا سنگین نتیجہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
چوتھی فصل میں خاندان کے متعلق معصومین کے فرامین اور سفارشات کو بیان کیا گیا ہے۔
پانچویں فصل میں خاندانی اختلافات اور اس کا علاج اور اس کے ساتھ ان خوبیوں کو بیان کیا گیا ہے جسے خواتین اپنے شوہر میں دیکھنا پسند کرتی ہیں ، بیان کیا گیا ہے۔
دوسرے حصے میں خواتین کا مقام اور ان کے حقوق کو تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
پہلی فصل میں مختلف ممالک اور معاشرے خصوصاً دور جاہلیت میں عورت کی حیثیت اور مقام کو بیان کرکے ان کا اسلامی معاشرے میں عورت کو دی گئی حیثیت اور مقام سے مقایسہ کیا گیا ہے۔
دوسری فصل میں اسلام میں عورت کو مختلف زاویے ( ماں ، بیوی ، بیٹی ) سے دی ہوئی قدر منزلت، اجتماعی روابط کے ضوابط اور اصول اور حدود کوبیان کیا گیا ہے۔
تیسری فصل میں خواتین کے اجتماعی ، فرہنگی ، سیاسی، اور اقتصادی حقوق کو مختلف زاویے سے بیان کیا گیا ہے۔
چوتھی فصل میں خواتین کی اسلامی آزادی اورمغربی آزادی میں فرق کو بیان کیا گیا ہے۔
انشاء اللہ یہ کتاب اردو زبان میں ایک منفرد اور مفید کتاب ثابت ہوگی۔خدا وند اس معمولی سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں چہاردہ معصومین (ع) کے صدقے میں قبول فرمائے۔ ۔ آمین۔
غلام مرتضیٰ انصاری
یکم رجب المرجب
۱۴۳۰ ھ
پہلا حصہ
کلیات
حقوق کیا ہیں؟
حقوق سے مراد ا ن قواعد اور اصول کا مجموعہ ہے جن کی رعایت ایک معاشرہ یا خاندان کے افراد ایک دوسرے سے روابط کے دوران کرتے ہیں اور انہیں قواعد کے مطابق ہر ایک کے اختیارات اور آزادی کو متعین کیا جاتاہے(۱)
انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو ہمیشہ ایک دوسرے کا محتاج ہے،اجتماعی اور خاندانی زندگی اس وقت ممکن ہے کہ معاشرہ یا خاندان پر ایک جامع قانون حا کم ہو ، ورنہ ہر کوئی اپنی مرضی سے چلے گا، جس کا نتیجہ خاندان اورمعاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہوجائےگا۔اس لئے ہر ایک پر لازم ہے کہ ان قوانین کا احترام کریں۔انہی قوانین کو علمی اصطلاح میں حقوق کہتے ہیں۔جس کا مقصد لوگوں کی مکمل آزادی کیلئے حدود کا تعین کرنا ہے۔جن کی رعایت کرنے سے اجتماعی اور خاندانی زندگی محفوظ ہوسکتی ہے۔عورت بھی خاندان کا ایک اہم رکن ہے بلکہ یہ کہنا نامناسب نہ ہوگا کہ وہ خاندان کا محورہے، ان کے حقوق بھی اسلامی معاشرے میں بہت اہم ہے،جس کی رعایت کرنا باپ،شوہر اور اولاد پر فرض ہی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خاندان کے وجود میں آنے کی بنیاد تولید نسل کا انگیزہ ہے،کہ اس طریقے سے انسان اپنے وجود کی بقا کو محفوظ کرتا ہے ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عورتوں میں طبیعی طور پر ماں بننے کا شوق پایا جاتاہے اور یہی انگیزہ اسے خاندان کی تشکیل پر ابھارتا ہے۔ٹھیک ہے کہ یہ انگیزے اسباب بن توسکتے ہیں لیکن علت تامہ نہیں،کیونکہ بہت سے خاندان ایسے ہیں جن میں اولاد نہیں ہوتی یا زندہ نہیں رہتی،پھر بھی مرد اور عورت دونوں میں ایک دوسرے کیلئے عشق و محبت پائی جاتی ہے۔ اور کبھی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق دی جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی کرنے اور خاندان تشکیل دینے کے اور بھی علل و اسباب ہیں۔ چنانچہ پیامبراسلام فرماتے ہیں:جس نے شادی کرلی اس نے آدھا دین بچا لیا(۲)
کیونکہ شادی جوانوںکو لغزش ، انحرافات ،بے عفتی اور برائی سے بچاتی ہے۔
پس ان مشکلات کا حل قرآن مجید میں موجود ہے کہ انسان کی فطرت اور طبیعت میں جفت خواہی اور جنسی خواہشات ڈال دی جس کے نتیجے میں خاندان وجود میں آئی۔
میاں بیوی ایسے دو عنصر ہیں جو جب تک ایک دوسرے کو نہیں چاہتے یا آمیزش نہیں کرتے اور تعاون نہیں کرتے ،دونوں ناقص ہیں۔ یہ دونوں مل کر ایک دوسرے کی زندگی کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔یہ نہ صرف دو فزیکل یا جسمانی رابطہ اور تولید فرزند ہے کہ جو خوشیوں کا باعث ہے ۔اورنہ صرف ظاہری اور مادی امور ،جو میاں بیوی کو ایک دوسرے کے نزدیک کرے بلکہ ایک بہت ظریف نکتہ چھپا ہوا ہے کہ وہ وہی روحی اور جسمی احتیاج ہے کہ خالق کائنات نے تمام جانداروں کوایک دوسرے کا محتاج خلق کیا ہے۔
قرآن کی رو سے خلقت انسان ابتدا ہی سے جفت جفت وجود میں آئی ہے۔اورہر ایک اپنی فطرت کے مطابق اپنی جفت اور ہمسر کی تلاش میں رہتاہے ۔ اور دونوں اپنے خاص طور و طریقے سے فطری وظیفہ کو انجام دیتے ہیں نتیجتا ایک دوسرے کو کامل کر تے ہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے( وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا ) کہ ہم نے تمہیں جفت جفت پیدا کیا(۳)
( وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ) ۔(۴)
یہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ تمہارے لئے اپنے جنس میں سے ہمسر خلق کیا تاکہ سکون اور آرامش کا سبب بنے اور تمہارے درمیان دوستی اور محبت ایجاد کیاور فرمایا :( وَاللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا )
یعنی خدا نے تمہیں مٹی سے پیدا کیاپھر نطفہ سے اور پھر جفت جفت قرار دیا(۵)
____________________
۱ ۔ باقر عاملی ؛حقوق خانوادہ ،ص٢٠١.
۲ مجلسی،محمد تقی؛ روضةالمتقین،ج٨،ص٣٨.
۳. سورہ نبأ٨.
۴. سورہ روم٢١.
۵. فاطر١١.
پیدائش حقوق کی وجوہات:
انسان کو چونکہ اپنے آپ سے زیادہ محبت ہے اس لئے چاہتا ہے کہ جتنا ہوسکے زندگی کی نعمات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے اور بہتر زندگی کرنے کیلئے ان وسائل سے فائدہ اٹھائے، لیکن دیکھتا ہے کہ جس طرح بچہ بغیر ماں باپ کے اپنی زندگی کو جاری نہیں رکھ سکتا اور اکیلا زندگی کے تمام مسائل کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اسی وجہ سے وہ خاندانی اور اجتماعی طور پر زندگی کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے ،اور اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق مسئولیت اور ذمہ داری کو قبول کر لیتا ہے۔ایک شخص زمینداری کرتا ہے تو دوسرا مستری کا کام، ایک دفتر میں کام کرتا ہے تو دوسرا ہسپتال میں، اور جب اجتماعی زندگی کا دارومدار ایک دوسرے کے تعاون پر ہے تو ذمہ داریاں بھی متعین ہوتی ہیں ۔اس طرح معاشرے میں قوانین نافذ ہوتے ہیں تاکہ معاشرے میں افراط و تفریط پیدا نہ ہو۔
حقوق کے منابع
بعض دانشمندوں کا خیال ہے کہ قانون عقل اور وجدان کی وجہ سے قائم ہوا ہے، کہ ہماری عقل لوگوں کے اچھے اور برے اعمال میں تشخیص دے سکتی ہے یہی وجہ ہے عقل کہتی ہے کہ برائیوں سے روکنا اور اچھائیوں کی طرف رغبت پیدا کرناچاہئے۔
بعض کہتے ہیں کہ قانون خالق کائنات کی طرف سے عالم بشریت کیلئے بنایاگیا ہے جسے انبیاء کے ذریعے لوگوں پر لاگو کیاگیا ہے۔
ان دونوں نظریات کے ماننے والوں نے اپنےاپنے دعوے کوثابت کرنے کیلئے مختلف دلائل پیش کئے ہیں۔
ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حقوق کا سرچشمہ وہی قوانین اسلامی ہے جسے خدا تعالی نے نبیوں کے ذریعے خود تعیّن کیا ہے۔کیونکہ خدا کی ذات ہے جو افعال انسانی کے مصالح اور مفاسد سے زیادہ آ گاہ ہے۔اور ان قوانین کو دریافت کرنے کیلئے مکتب تشیع کے مطابق چار منبع اور سرچشمہ ہیں:
١۔ قرآن مجید
قرآن مجید میں حقوق کے بارے میں تقریبا پانچ سو آیات ذکر ہوئی ہیں،جنہیں آیات الاحکام کہا جاتا ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔یہ راہ ہدایت تک پہنچنے کیلئے محکم ذریعہ ہے،جو بھی اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجرملے گا،اور جس نے بھی اس کتاب کے مطابق فیصلہ کیااس نے عدل سے کام لیا ۔ اور جس نے بھی اس کتاب کی طرف کسی کی راہنمائی کی تو گویا اس نے صراط مستقیم کی طرف بلایا۔
٢۔ سنت
ممکن ہے یہ پانچ سو آیات قوانین زندگی کی تمام جزئیات پر تو دلالت نہیں کرتی،کیونکہ احکام جیسے نماز روزہ حج جھاد خمس و ۔۔۔کی بہت سی جزئیات پائی جاتی ہیں اور ان جزئیات کو بیان کرنا سنت کا کام ہے۔ہاں البتہ ان جزئیات کا بیان انہی آیات کی تفسیر ہوسکتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ انبیاء اپنی طرف سے بیان کرتے ہوں،چنانچہ قرآن مجید گواہی د ے رہا ہے:( وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) ۔ "(۱) اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے"اس طرح شیعہ عقیدے کے مطابق سنت سے مراد گفتار و رفتار و تقریر معصوم (ع)ہے ۔
____________________
۱ ۔ النجم٤،۳.
٣۔اجماع
اصطلاح میں اجماع سے مراد یہ ہے کہ تمام اسلامی دانشمندوں کا کسی شرعی حکم پر اتفاق نظر اور وحدت عقیدہ ہو۔لیکن اہل سنت کے نزدیک اجماع؛ قرآن و سنت سے ہٹ کر ایک مستقل اصل ہے یعنی امت کا اجماع اور اھل حلّ و عقد بھی اسلامی قانون کا سرچشمہ ہے۔بنا بر ایں اگر کتاب اور سنت سے کسی حکم پر دلیل نہ ملے لیکن علماء کا اتفاق رائے معلوم ہو جائے تو اسی اجماع پر بنا رکھ کر فقیہ فتوی دیتا ہے۔
لیکن شیعوں کے نزدیک اجماع، کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئی اور مستقل اصل نھیں ، بلکہ معتقد ہیں کہ یہ اجماع نظررأے معصوم کے درکار ہونے پر دلالت کرتا ہو۔قاعدۂ لطف کا تقاضا یہ ہے کہ اگر مجتہدین کسی غلط حکم پر متّفق ہو جائے تو امام پرلازم ہے کہ وہ اس میں اختلاف ڈالدے اور اجتماع کرنے سے بچائے۔
٤۔ عقل
اہل سنت کہتے ہیں کہ رأے ،اجتہاد اور قیاس وہی عقلی تشخیص ہے جو قوانین اسلامی کا
ایک الگ سرچشمہ ہے۔
اخبارئین کہتے ہیں چونکہ عقل ناقص اور خطاکار ہے اسلئے لوگوں کیلئے عقل حلال اور حرام کا تعین نہیں کر سکتی۔ ہاں صرف یہ کہ عقل کومددگار کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مجتہدین فرماتے ہیں عقل اور شریعت کے درمیان ایک مستحکم اور نہ ٹوٹنے والا رابطہ ہے ، اور کہا جاتا ہے :کلّما حکم به العقل حکم به الشرع و کلّما حکم به الشرع حکم به العقل ۔
امام سجاد(ع) منشأحقوق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بندوں کے تمام حقوق کا سرچشمہ وہی حقو ق اللہ ہے اور باقی حقوق اسی کی شاخیں ہیں ۔اگر سارے حقوق کو ایک درخت شمار کرلے تو اس درخت کی جڑ حق اللہ ہے۔اور باقی لوگوں کے حقوق اس کی شاخیں اور پتے ہیں(۱) ۔
اس بات کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح انسانوں پر ایک دوسرے کے حقوق ہیں اسی طرح اللہ تعالی کے حقوق بھی ہیں کیونکہ خداوندانسان کا مالک حقیقی ہے جسے حق تصرف حاصل ہے ۔ جس کی اجازت کے بغیر ہم کسی دوسرے کے حقوق میں تصرف نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام حقوق خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی،اخلاقی ہو یا فقہی، حق الہی کے تابع ہے۔پس انسان کبھی بھی اپنے لئے کسی حق کا خدا سے مطالبہ نہیں کرسکتا کیونکہ جب کسی چیز کا مالک ہی نہیں تو کس حق کا مطالبہ کرے گا ؟ یہاں تک کہ ہم اپنے اعضائے بدن پر تصرف نہیں کرسکتے۔مگر یہ کہ خدانے ہمارے لئے جائز قرار دیا ہو۔ کیونکہ یہ سب خدا کی دین اور عطا ہے۔اگر ہم ان حقوق خدا کو درک کرلیں گے تو اپنی ذمہ داریوں کوبھی ہر مرحلے میں پہچان سکیں گے۔ اس بحث سے جو نتیجہ نکلتا ہے و ہ یہ ہے کہ ہر قسم کے حقوق خواہ وہ حقوق والدین ہو یا حقوق اولاد یا بیوی کے حقوق ، سب کچھ خدا کی طرف سے عطا کردہ حقوق ہیں اور خدا ہی کا حکم ہے کہ ان حقوق کی رعایت کریں۔ تاکہ قیامت کے دن ہمیں جزا دی جائے۔
____________________
۱ ۔ محمد تقی مصباح یزدی؛نظریہ حقوقی اسلام،ص٢١١.
خاندان کی تعریف
خاندان ایک اجتماعی گروہ کا نام ہے جس کا مقصد لوگوں کی روحی اور ذہنی سلامتی کو برقرار رکھتا ہے۔
تاریخ بشریت کی ابتدا سے لیکر آج تک اس ر وئے زمین پر مرد اور عورت دونوں نے خاندان کو تشکیل دے کرایک دوسرے کیساتھ زندگی گزارتے ہوئے پیار و محبت کیساتھ اپنی اولاد کی پرورش کی ہیں۔اور اس دنیا سے اپنا رخت سفر باندھ لئے ہیں۔ اور تمام مصلحین جہاںجیسے انبیاء الہی کی یہی کوشش رہی ہے کہ خاندان کا نظام اتنا پائیدار اور مستحکم کرے کہ کوئی بھی اسے متلاشی اور درہم برہم نہ کرسکے۔
مختلف نظریوں اورزاویوں سے خاندان کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں،جن میں سے بعض سطحی ہیں اور بعض عمیق۔ یعنی جس قدر ہماری معرفت اور شناخت خاندان کی نسبت زیادہ ہوگی اتنا ہی اس مقدس اجتماع میں ہم رونق پیدا کر سکیں گے اور ناپائیداری کا خاتمہ کرسکیں گے۔جیسا کہ بیان کرچکا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خاندانی تشکیل کا واحد سبب جنسی خواہشات ہے کہ مرد اور عورت صرف اسی سلسلے میں پابندہیں کہ ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کریں ۔اس کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔درحا لیکہ اسلام میں اس کی بنیاد اس سے کہیں اہم چیز پر استوار ہے۔جس کی معرفت اور پہچان بہت ضروری ہے۔ تاکہ مرد اور عورت دونوں اس اہم اصول سے منحرف نہ ہو۔
خاندان کی ضرورت
مرد اور عورت کی سعادت اور خوشیاں اسی میں ہے کہ الہی سنت کے دائرے میں رہیں اور سطحی جذبات سے متأثر نہ ہوں۔اور دونوں کو جان لینا چاہئے کہ اب ایک جان دو قالب ہوگئے ہیں۔ اورہونے والی اولاد دونوں کا جگر کے ٹکڑے ہیں۔امام صادق سے روایت ہے کہ پیامبر اسلام (ص)نے ازدواجی زندگی کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَا بُنِيَ بِنَاءٌ فِي الْإِسْلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ التَّزْوِيجِ (۱)
یعنی اسلامی نقطہ نگاہ سے ازدواج کی بنیاد سے بڑھ کر زیادہ پسندیدہ بنیاد نہیں ڈالی گئی
کیونکہ ازدواج کی بنیاد عشق و محبت کی بنیاد ہے۔ اور اگر اسلامی معیاروں کے مطابق ہو تو یہ خاندان کبھی دربدر نہیں ہوگا ۔
اور فرمایا۷ :وہ بدترین شخص ہے جو غیر شادی شدہ مر جائے،اس کی پوری رات کی عبادت سے شادی شدہ کی دو رکعت نماز بہتر ہے۔اس با مقصد خاندان کی تشکیل دینے سے پہلے ضروری ہے کہ نیک اور با سیرت بیوی کا انتخاب ہو۔ کیونکہ پوری زندگی اور آنے والی نسلوں کی پرورش انہی کے ہاتھوں میں ہے۔اسی لئے بیوی کے انتخاب کرنے کا ایک معیار اس کی خاندان کی اصالت ہے۔ یعنی نہ صرف بیوی کا ایمان اور اخلاق دیکھا جائے بلکہ ان کے خاندان کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ کیونکہ خاندان کی صفات از طریق وراثت اولاد میں منتقل ہوتی ہے۔ اس لئے حقیقی ،با تقوی اور پسندیدہ صفات جیسے شجاعت و کرامت کے مالک خاندان میں شادی کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ پیامبر(ص)نے فرمایا:اخْتَارُوا لِنُطَفِكُمْ فَإِنَّ الْخَالَ أَحَدُ الضَّجِيعَيْنِ (۲) - یعنی ہمسر کا انتخاب میں خاندانی اصالت کا خیال رکھنا، کیونکہ اقرباء اور رشتہ دار تمھاری اولاد کی صفات میں تیرے شریک ہیں۔اسی طرح کم ذات خاندان میں شادی کرنے سےروکتے ہوئے فرمایا:قَالَ لِلنَّاسِ إِيَّاكُمْ وَ خَضْرَاءَ الدِّمَنِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا خَضْرَاءُ الدِّمَنِ قَالَ الْمَرْأَةُ الْحَسْنَاءُ فِي مَنْبِتِ السَّوْءِ (۳) - لوگو! تم لوگ خضراء دمن سے بچو ۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! خضراء دمن سے کیا مراد ہے؟! تو فرمایا: وہ خوبصورت عورت جو برے گھر اور ماحول میں پلی ہو۔
____________________
۱ ۔ روضةالمتقین ج٨،ص٨٢ا.من لا یحضرہ ج۳، ص۳۸۳۔
۲ ۔ مستدرک الوسائل ج١٤، ص۱۷۴.
۳ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ ، ج۳، ۳۹۱
تشکیل خاندان کے آداب
قرآن مجید نے متعدد بار خاندانی امور ،ارکان،احکام ،اخلاق اور اس کی حفاظت کے بارے میں ارشاد فرمایا : میاں بیوی پاکدامن ہوں اور نامحرم کیساتھ ہنسی مذاق نہ کرے کیونکہ خواتین کی کرامت ، شرافت اور عزت اسی میں ہے۔
اسی طرح خاندان کی چاردیواری اورمعاشرے کی عفت اور حرمت کے تجاوز کرنے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس سورہ میں آنے والے بچے کی ذہنی اور روانی صحت سے بحث کی گئی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُم بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ .(۱)
اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں خاندانی مسائل کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا:"اے ایمان والو! ضروری ہے تمہاری کنیزیں اور وہ بچے جو ابھی حدّبلوغ کو نہیں پہنچے ہیں ،تین اوقات میں تم سے اجازت لیکرکمرے میں داخل ہوا کریں:فجر کی نماز سے پہلے ، دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہواور عشاء کی نماز کے بعد، یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں ، اس کے بعد ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے میں نہ تم پر کوئی حرج ہے اور نہ ان پر۔اللہ تعالی اس طرح تمہارے لئے نشانیان کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ بڑا دانا ،حکمت والاہے"۔
اور جب تمہارے بچےّ بلوغ کو پہنچ جائیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اجازت لیا کریں ۔جس طرح پہلے (ان سے بڑے ) لوگ اجازت لیا کرتے تھے۔
ان آیات سے درج ذیل نکات حاصل ہوتے ہیں:
۱. جب بیوی کیساتھ خلوت میں بیٹھنے لگو تو بچوں کو بغیر اجازت اندر آنے سے منع کریں۔
۲. کبھی بھی ماں باپ نازک لباس( sleeping dress ) میں بچوں کے پاس نہ جائیں۔ نہ باپ کو حق پہنچتا ہے کہ نامناسب لباس پہن کربچوں کے سامنے آئے اور نہ ماں کو۔ تاکہ معمولی سی بھی تحریک آمیز منظر اولادوں کے سامنے پیدا نہ ہو۔
امام صادق(ع) سے منقول ہے :لا یجامع الرجل امرئته وفی البیت صبی فانّ ذالک یورث الزنا -(۲) یعنی کسی شخص کو حق نہیں ہے کہ وہ ایسے کمرے میں بیوی کیساتھ ہمبستری کرے جس میں بچہ بیدار ہو، کیونکہ یہ منظر بچے کا فساد اور فحشاء کی طرف انحراف کا باعث بنتا ہے۔اور آپ پیامبرخدا (ص)سےنقل کرتے ہیں:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَأَتَهُ وَ فِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ مُسْتَيْقِظٌ يَرَاهُمَا وَ يَسْمَعُ كَلَامَهُمَا وَ نَفَسَهُمَا مَا أَفْلَحَ أَبَداً إِذَا كَانَ غُلَاماً كَانَ زَانِياً أَوْ جَارِيَةً كَانَتْ زَانِيَة -(۳)
امام صادق نے پیامبر اسلام سے روایت کی ہے : اس ذات کی قسم جس کی قبضہٗ قدرت میں میری جان ہے ؛ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرے اور اس کمرے میں کوئی بچہ جاگ رہا ہو اور ان دونوں کو دیکھ رہا ہو اور ان دونوں کی آواز اور سانسوں کوسن رہا ہو، تو وہ پیدا ہونے والا کبھی نیک انسان نہیں ہوگا ، اگر وہ بچہ ہو تو زانی ہوگااور اگر بچی ہو تو زانیہ ہوگی۔
____________________
۱ ۔ سورہ نور، ۵۹ ۔۵۸
۲ ۔ وسائل الشیعہ،ج١٤،ص٩٤.
۳ ۔ الکافی ، ج۵، ص۵۰۰۔
خاندان تشکیل دینے کے تین اصول
شوہر اور بیوی کا باہمی عشق و محبت
یہ چیز اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں پوشیدہ رکھا ہے۔ اور یہ ضرورت ہم دوسرے جانداروں میں بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ انسان اگر تنہائی میں زندگی کرنے
پر مجبور ہوجائے تو زیادہ مغموم اورفکر مند ہوجاتا ہے .اسی لئے اپنے ہم نوع کے عطوفت و محبت کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈالتا ہے۔خدا تعالی نے تشکیل خاندان سے پہلے میاں بیوی کے درمیان کچھ یوں محبت اور مودت ایجاد کی ہے کہ جس کے بغیردونوں کو سکون نہیں ملتا۔ یہی محبت ہے جس کی وجہ سے مرد اور عورت ازدواجی زندگی میں داخل ہونے کیلئے قدم اٹھاتے ہیں ۔
ایک شخص نے حضرت رسولخدا (ص) کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اللہ(ص)! اس ازدواجی کام نے مجھے تعجب میں ڈال دیا ہے کہ ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہیں، جیسے ہی عقد ازدواج میں داخل ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کیلئے انتہائی محبت اور پیارکرنے لگتے ہیں۔رسولخدا (ص)نے فرمایا: ازدواجی امر کی بنیاد کو خدا نے انسانی فطرت میں رکھاہے جس کی ضرورت کو اپنے اندرشدت سے احساس کرتے ہیں ، اس کے بعد یہ آیہ شریفہ تلاوت فرمائی:( وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ) .(۱)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں.
الصَّدُوقُ فِي الْهِدَايَةِ، عَنِ النَّبِيِّ أَنَّهُ قَالَ مِنْ سُنَّتِي التَّزْوِيجُ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ۔(۲)
یہ عشق و محبت خدا تعالی کی عظیم عنایت ہے کہ جس پر رسولخدا (ص)نے فخر کرتے ہوئے فرمایا:نکاح میری سنت ہے جو بھی اس سنت سے منہ پھیرے گا وہ مجھ میں سے نہیں ہوگا۔ قرآن مجید نے بھی اس کام کی طرف شوق دلاتے ہوئے فرمایا:( وَأَنكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ) –(۳) اور اپنے غیر شادی شدہ آزاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل وکرم سے انہیں مالدار بنا دے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب علم ہے۔
____________________
۱ ۔ روم ۲۱.-۲ ۔ مستدرک الوسائل، ج۱۴، ص۱۵۲۔۳ ۔ نور ٣٢.
خاندان میں مرد کا احساس ذمہ داری
علامہ طباطبائی(رح) فرماتے ہیں :فا لنساء هن الرکن الاول والعامل الجوهری للاجتماع الانسانی -(۱) خواتین خاندانی اجتماع کی تشکیل اوراستحکام کی اصلی اور واقعی سنگ بنیاد ہیں، اس عظیم جاذبہ کو خدا نے عورت کے وجود میں قرار دیا ہے اور اسے آرام و سکون کا باعث قرار دیا ہے ۔ اور اس رکن اصلی کی حفاظت اور حراست کو مردوں کے ذمہ لگایا ہے،کیونکہ خدا نے مرد میں وہ توانائی اور قدرت پیدا کی ہے جس کے ذریعے وہ اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔قرآن مجید کہہ رہا ہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ (۲) ۔ مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انھوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے ۔ پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے۔
اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے۔اور ازدواجی زندگی میں مادی ضرورتوں کو پورا کرنا بھی مردوں کے ذمہ لگایا۔اور ناموس کی حفاظت اور دفاع بھی مرد پر واجب کردیا،جس کیلئے وہ اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا.
____________________
۱ ۔ المیزان ،ج٤،ص٢٢٣.
۲ ۔ نساء ٣٤
دوام زندگی اور اس کی حفاظت
سب جانتے ہیں کہ ایک کامیاب زندگی وہ ہے جس میں میاں بیوی دونوں ایک دوسرے پر راضی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں اپنے آپ کو برابر کے شریک جانتے ہوں۔ اور یہ رؤوف ورحیم اللہ کی انسانوں پر بہت بڑی مہربانی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان وہ محبت ڈال دی جس کی وجہ سے دونوں میں فداکاری کا جذبہ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں میاں بیوی ان اسباب سے پرہیز کرتے ہیں جو ان میں جدائی کا باعث ہوں۔اور دونوں کی یہی خواہش رہتی ہے کہ اس رشتے کی بنیادیں مستحکم تر ہوں ، اور آیہ شریفہ( وجعل بینکم مودة و رحمة) کا مصداق بنیں۔
آیہ شریفہ میں مودت سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے تین احتمال ذکر کئے ہیں :
مودت یعنی ازدواجی زندگی کے آغاز میں ایک دوسرے سے مرتبط ہونے کا شوق، لیکن ممکن ہے زندگی کو دوام بخشنے یا آخر تک پہنچانے میں دونوں میں سے کوئی ایک ناتوان اور ضعیف ہو جائے۔ اور دوسرے کی خدمت کرنے پر قادر نہ ہو۔ اس طرح رحمت بھی مودت کا جانشین بنے گی۔ یہ دونوں اس قدر ایک دوسرے سے عشق و محبت رکھتے ہیں کہ اگر کوئی اور آکر اس ناتوان کی مدد کرے تو اس مدد گار کا بھی احترام کرنے لگتے ہیں۔اور یہ دونوں ایک دوسرے کے خاطر اپنے آپ کو آب و آتش میں ڈال دیتے ہیں تاکہ دوسرا آرام و راحت میں رہے۔جبکہ اس وقت نہ خواہشات جنسی اور شہوانی درکار ہے اور نہ کوئی جوانی مسائل ۔ اس ضعف اور ناتوانی کے دور میں فقط ایک دوسرے کی حفاظت اور نگہداری ان کیلئے زیادہ اہم ہے۔
مودت بڑوں سے ہوتی ہے جو ایک دوسرے کی خدمت کرسکے لیکن رحمت چھوٹوں کیساتھ مربوط ہے کہ جو رحمت کے سائے میں پرورش پاتے ہیں۔چنانچہ رسولخدا (ص)نے فرمایا: ارحموا صغارکم۔تم اپنے چھوٹوں پر رحم کریں۔
مودت غالبا دو طرفہ ہوتی ہے لیکن رحمت یک طرفہ۔ لیکن کسی بھی معاشرہ ، اجتماع یا خاندان کی بقاء متقابل خدمات پر منحصر ہے جو مودت ہی سے ممکن ہے نہ محبت سے۔(۱)
____________________
۱ ۔ تفسیر نمونہ،ج١٦،ص٣٩١
پہلی فصل
والدین پر بچوں کی ذمہ داریاں
اولاد کی تعریف
قال الله تعالی :( وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ) -(۱) ۔ اور جان لو یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموا ل ایک آزمائش ہیں اور خدا کے پاس اجر عظیم ہے۔ قال رسول اللہ(ص):انّهم ثمرة القلوب وقرة الاعین –(۲) رسول اللہ (ص)نے فرمایا: اولاد دلوں کا ثمرہ ہے اور آنکھوں کی ٹھنڈک۔ اور فرمایا:انّ لکل شجرة ثمرة وثمرةالقلب الولد -(۳)
ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اور دل کا پھل اولاد ہے۔اولاد کی اتنی فضیلت کے باوجود ایک دن حسن بصری نے کہا: اولاد کتنی بری چیز ہے !اگر وہ زندہ رہے تو مجھے زحمت میں ڈالتی ہے اور اگر مرجائے تو مجھے مغموم کرجاتی ہے۔ امام سجاد(ع) نے یہ سنا تو فرمایا:
رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ بِئْسَ الشَّيْءُ الْوَلَدُ إِنْ عَاشَ كَدَّنِي وَ إِنْ مَاتَ هَدَّنِي فَبَلَغَ ذَلِكَ زَيْنَ الْعَابِدِينَ ع فَقَالَ كَذَبَ وَ اللَّهِ نِعْمَ الشَّيْءُ الْوَلَدُ إِنْ عَاشَ فَدَعَّاءٌ حَاضِرٌ وَ إِنْ مَاتَ فَشَفِيعٌ سَابِقٌ –(۴)
خدا کی قسم اس نے جھوٹ بولا ہے بہترین چیز اولاد ہے اگر یہ زندہ رہے تو چلتی پھرتی دعا ہے، اور اگر مر جائے تو شفاعت کرنے والا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روایت میں ملتا ہے کہ حضور (ص)نے فرمایا: سقط شدہ بچے سے جب قیامت کے دن کہا جائے گا کہ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ تو وہ کہے گا : حتی یدخل ابوای قبلی -۵ خدایا جب تک میرے والدین داخل نہیں ہونگے تب تک میں داخل نہیں ہونگا۔
____________________
۱ ۔ انفال٢٨.
۲ ۔ بحار الانوار،ج ١٠٤،٩٧.
۳ ۔ میزان الحکمة،٢٨٦٠٨.
۴ ۔ مستدرک الوسائل،ج١٥،ص١١٢
۵ ہمان،ص٩٦.
تربیت اولاد کیلئے زمینہ سازی
تربیت اولاد کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ہر مکتب اور مذہب انسانی تربیت کی ضرورت کو درک کرتے ہیں اگر اختلاف ہے تو روش اور طریقے میں ہے۔تربیت کی اہمیت کو پیامبر اسلام (ص)یوں فرماتے ہیں:وَ كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ يَدُورُ فِي سِكَكِ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ وَ هُوَ يَقُولُ عَلِيٌّ خَيْرُ الْبَشَرِ فَمَنْ أَبَى فَقَدْ كَفَرَ يَا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ أَدِّبُوا أَوْلَادَكُمْ عَلَى حُبِّ عَلِيٍّ فَمَنْ أَبَى فَانْظُرُوا فِي شَأْنِ أُمِّهِ -(۱) جابر بن عبداللہ انصاری مدینے میں انصار کے کانوںمیں یہ کہتے ہوئے گھوم رہے تھے : علی سب سے بہتر اور نیک انسان ہیں ۔پس جس نے بھی ان سے منہ پھیرا وہ کافر ہوگیا ۔ اے انصارو! تم لوگ اپنے بچوں کومحبت علی کی تربیت دو ،اگر ان میں سے کوئی قبول نہیں کرتا ہے تواس کی ماں کو دیکھو کہ وہ کیسی عورت ہے ۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: اپنی اولادوں کو تین چیزوں کی تربیت دو: اپنے نبی(ص) اور اس کی آل پاک A کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں اور قرآن مجید کی تعلیم دیں۔
رَوَى فُضَيْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَعْوَرُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ اللَّذَانِ يُهَوِّدَانِهِ وَ يُنَصِّرَانِهِ وَ يُمَجِّسَانِه (۲)
امام صادق نےپیامبر اسلام (ص)سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:دنیا میں آنے والا ہربچہ فطرت (توحید) پر پیداہوتا ہے۔لیکن اس کے والدین یا اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔
اسی لئے اسلام نے بچے کے دنیا میں آنے سے پہلے سے تربیت کرنے کا حکم دیا :
____________________
۱ ۔ من لا یحضر ،ج۳، ص ۴۹۳۔
۲ ۔ من لایحضرہ الفقیہ،ج۲، ص۴۹۔
پیدائش سے پہلے
باایمان ماں کاانتخاب
آپ (ص)نے فرمایا: اپنے نطفوں کیلئے مناسب اور پاکدامن رحم تلاش کرو۔پہلے ذکر کرچکا کہ خاندانی صفات بھی قانون وراثت کے مطابق اولادوں میں منتقل ہوتی ہیں خواہ وہ صفات اچھی ہو یا بری۔ اسی لئے حضرت زہرا کی شھادت کے بعد امیرالمؤمنین نے نئی شادی کرنا چاہی تو اپنے بھائی عقیل سے کہا کہ کسی شجاع خاندان میں رشتہ تلاش کرو۔تاکہ ابوالفضل جیسے شجاع اور با وفا فرزند عطا ہوں۔
دلہن باعث خیر و برکت
رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ ص عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ع فَقَالَ يَا عَلِيُّ إِذَا دَخَلَتِ الْعَرُوسُ بَيْتَكَ فَاخْلَعْ خُفَّيْهَا حِينَ تَجْلِسُ وَ اغْسِلْ رِجْلَيْهَا وَ صُبَّ الْمَاءَ مِنْ بَابِ دَارِكَ إِلَى أَقْصَى دَارِكَ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ أَخْرَجَ اللَّهُ مِنْ بَيْتِكَ سَبْعِينَ أَلْفَ لَوْنٍ مِنَ الْفَقْرِ وَ أَدْخَلَ فِيهِ سَبْعِينَ أَلْفَ لَوْنٍ مِنَ الْبَرَكَةَ وَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ سَبْعِينَ رَحْمَةً وَ تَأْمَنَ الْعَرُوسُ مِنَ الْجُنُونِ وَ الْجُذَامِ وَ الْبَرَصِ أَنْ يُصِيبَهَا مَا دَامَتْ فِي تِلْكَ الدَّارِ (۱)
ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول خد نے علی ابن ابی طالب نصیحت کی اور فرمایا : یا علی ! جب دلہن آپ کے گھر میں داخل ہوجائے تو اس کا جوتا اتارکر اس کے پاؤں دھلائیں ۔ اور اس پانی کو گھر کے چاروں کونوں میں چھڑکائیں ۔ جب آپ ایسا کروگے تو خدا تعالی ستر قسم کے فقر اور مفلسی کو آپ کے گھر سے دور کرے گا ، اور ستر قسم کی برکات کو نازل کرے گا، اور دلہن بھی جب تک تیرے گھر میں ہوگی ؛دیوانگی، جزام او ر برص کی بیماری سے محفوظ رہےگی۔
دلہن کچھ چیزوں سے پرہیز کرے
وَ امْنَعِ الْعَرُوسَ فِي أُسْبُوعِهَا مِنَ الْأَلْبَانِ وَ الْخَلِّ وَ الْكُزْبُرَةِ وَ التُّفَّاحِ الْحَامِضِ مِنْ هَذِهِ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْيَاءِ فَقَالَ عَلِيٌّ ع يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ لِأَيِّ شَيْءٍ أَمْنَعُهَا هَذِهِ الْأَشْيَاءَ الْأَرْبَعَةَ قَالَ لِأَنَّ الرَّحِمَ تَعْقَمُ وَ تَبْرُدُ مِنْ هَذِهِ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْيَاءِ عَنِ الْوَلَدِ وَ لَحَصِيرٌ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنِ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ فَقَالَ عَلِيٌّ ع يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْخَلِّ تَمْنَعُ مِنْهُ قَالَ إِذَا حَاضَتْ عَلَى الْخَلِّ لَمْ تَطْهُرْ أَبَداً بِتَمَامٍ وَ الْكُزْبُرَةُ تُثِيرُ الْحَيْضَ فِي بَطْنِهَا وَ تُشَدِّدُ عَلَيْهَا الْوِلَادَةَ وَ التُّفَّاحُ الْحَامِضُ يَقْطَعُ حَيْضَهَا فَيَصِيرُ دَاءً عَلَيْهَا (۲)
دلہن کو پہلے ہفتے میں دودھ، سرکہ ،پودینہ اور ترش سیب کھانے سے منع کریں ۔ امیر المؤمنین نے عرض کیا : یا رسول اللہ کس لئے ان چار چیزوں کے کھانےسے اسے منع کروں؟! تو فرمایا: ان چار چیزوں کے کھانے سے اس کی بچہ دانی ٹھنڈی اور نازا ہوجاتی ہے،اور گھر کے کونے میں محصور ہوکر رہنا بھانج عورت سے بہتر ہے۔پھر امیرالمؤمنین نے سوال کیا یا رسول اللہ !سرکہ یا ترشی سے کیوں روکا جائے؟ تو فرمایا: اگر ترشی پر حیض آجائے تو کبھی حیض سے پاک نہیں ہوگی۔اور پودینہ تو حیض کو عورت کے پیٹ میں پھیلاتی ہےاور بچہ جننے میں سختی پیدا کرتی ہے۔اور ترش سیب حیض کو بند کردیتا ہے، جو عورت کے لئے بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
____________________
۱ ۔ من لایحضرہ الفقیہ ،ج۳،ص ۵۵۱۔
۲ ۔ ہمان۔
آداب مباشرت
آپ (ص)نے حضرت علی (ع)سےمخاطب ہوکر ایک طویل خطبہ دیا جس کا پہلا حصہ اوپر کے دو عناوین میں بیان ہوا اور بقیہ حصہ مندرجہ ذیل عناوین میں تقسیم کر کے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان آداب کی رعایت کا سختی سے حکم دیا گیا ہے:
مہینے کی تاریخوں کا خیال رکھے:
یا علی !یاد کرلو ھ سے میری وصیت کو جس طرح میں نے اسے میرے
بھائی جبرائیل سے یاد کیا ہے۔
ثُمَّ قَالَ يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَأَتَكَ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ وَ وَسَطِهِ وَ آخِرِهِ فَإِنَّ الْجُنُونَ وَ الْجُذَامَ وَ الْخَبَلَ لَيُسْرِعُ إِلَيْهَا وَ إِلَى وَلَدِهَا ۔
اے علی! مہینے کی پہلی ،درمیانی اور آخری تاریخ کو اپنی بیوی کیساتھ مباشرت نہ کرو کیونکہ ان ایام میں ٹھہرا ہوا بچّہ پاگل، جزام اور ناقص الاعضاء پیدا ہوگا۔
* بعد از ظہر مباشرت ممنوع :يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَأَتَكَ بَعْدَ الظُّهْرِ فَإِنَّهُ إِنْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ يَكُونُ أَحْوَلَ وَ الشَّيْطَانُ يَفْرَحُ بِالْحَوَلِ فِي الْإِنْسَانِ ۔ اے علی! ظہرین کے بعد ہمبستری نہ کرو کیونکہ اس سے اگر حمل ٹھہرے تو وہ نامرد ہوگا ۔ اور شیطان انسانوں میں نامرد پیدا ہونے سے بہت خوش ہوتا ہے ۔
ذکر الہی میں مصروف رہے:
يَا عَلِيُّ لَا تَتَكَلَّمْ عِنْدَ الْجِمَاعِ فَإِنَّهُ إِنْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يَكُونَ أَخْرَسَ ۔
اے علی ! ہمبستری کرتے وقت باتیں نہ کرو ۔ اگر اس دوران بیٹا پیدا ہوجائے تو وہ گونگا ہوگا۔
شرم گاہ کو نگاہ نہ کرے :
وَ لَا يَنْظُرَنَّ أَحَدٌ إِلَى فَرْجِ امْرَأَتِهِ وَ لْيَغُضَّ بَصَرَهُ عِنْدَ الْجِمَاعِ فَإِنَّ النَّظَرَ إِلَى الْفَرْجِ يُورِثُ الْعَمَى فِي الْوَلَدِ –(۳) اے علی ! مباشرت کرتے وقت شرم گاہ کو نہ دیکھو ۔ اس دوران اگر حمل ٹھہر جائے تو وہ اندھا پیدا ہوگا۔
اجنبی عورت کا خیال ممنوع :
يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَأَتَكَ بِشَهْوَةِ امْرَأَةِ غَيْرِكَ فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ أَنْ يَكُونَ مُخَنَّثاً أَوْ مُؤَنَّثاً مُخَبَّلًا يَا عَلِيُّ مَنْ كَانَ جُنُباً فِي الْفِرَاشِ مَعَ امْرَأَتِهِ فَلَا يَقْرَأِ الْقُرْآنَ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ تَنْزِلَ عَلَيْهِمَا نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتُحْرِقَهُمَا قَالَ مُصَنِّفُ هَذَا الْكِتَابِ رَحِمَهُ اللَّهُ يَعْنِي بِهِ قِرَاءَةَ الْعَزَائِمِ دُونَ غَيْرِهَا –(۴) اے علی! اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرتے وقت کسی اور نامحرم کا خیال نہ آنے پائے۔ مجھے خوف ہے کہ اگر اس موقع پر کوئی بچہ حمل ٹھہر جائے تو وہ خنثیٰ پیدا ہوگا اور اگر بچی ہو تو وہ بھانج ہوگی۔
میاں بیوی الگ تولیہ رکھے:
يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَأَتَكَ إِلَّا وَ مَعَكَ خِرْقَةٌ وَ مَعَ أَهْلِكَ خِرْقَةٌ وَ لَا تَمْسَحَا بِخِرْقَةٍ وَاحِدَةٍ فَتَقَعَ الشَّهْوَةُ عَلَى الشَّهْوَةِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُعْقِبُ الْعَدَاوَةَ بَيْنَكُمَا ثُمَّ يُؤَدِّيكُمَا إِلَى الْفُرْقَةِ وَ الطَّلَاقِ –(۵) اے علی! بیوی کے ساتھ مباشرت کرتے وقت الگ الگ تولیہ رکھے ۔ ایک ہی تولیہ سے صاف نہ کرے کیونکہ ایک شہوت دوسری شہوت پر واقع ہوجاتی ہے جو میاں بیوی کے درمیان دشمنی پیدا کرتا ہے اور بالآخرہ جدائی اور طلاق کا سبب بنتا ہے۔
کھڑے ہوکر مباشرت نہ کرنا:
َیا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَأَتَكَ مِن قِيَامٍ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ فِعْلِ الْحَمِيرِ فَإِنْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ كَانَ بَوَّالًا فِي الْفِرَاشِ كَالْحَمِيرِ الْبَوَّالَةِ فِي كُلِّ مَكَانٍ -(۶) اے علی! کھڑے ہوکر مباشرت نہ کرنا کیونکہ یہ گدھے کی عادت ہے ۔ ایسی صورت میں اگر بچہ ٹھہر جائے تو وہ بستر میں پیشاب کرنے کی عادت میں مبتلا ہوجائے گا ۔
شب ضحی کو مباشرت نہ کرو:
يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَأَتَكَ فِي لَيْلَةِ الْأَضْحَى فَإِنَّهُ إِنْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ يَكُونُ لَهُ سِتُّ أَصَابِعَ أَوْ أَرْبَعُ –(۷) اے علی ! عید الضحیٰ کی رات کو مباشرت کرے تو اگر بچہ ٹھہر جائے تو اس کی چھ یا چار انگلیاں ہوگی۔
مضطرب حالت میں نہ ہو :
امام حسن مجتبی (ع) فرماتے ہیں:اگر آرامش ، سکون اور اطمنان قلب وغیر مضطرب حالت میں مباشرت کرے تو پیدا ہونے والا بچہ ماں باپ کی شکل میں پیدا ہوگا –(۸) لیکن اگر مضطرب حالت میں ہو تو ماموں اور ننھیال کی شکل و صورت میں پیدا ہوگا۔
جب ایک عورت نے پیامبر(ص)کی خدمت میں آکر عدالت الہی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: کہ میں خدا کو عادل نہیں مانتی کیونکہ اس نے ہمیں نابینا بیٹا دیا ، میرے بیٹے اور میرے شوہر کا کیا قصور تھا؟آپ (ص)نے کچھ تأمل کرنے کے بعد فریایا: کیا تیرا شوہر تیرے پاس آتے وقت نشے کی حالت میں تو نہیں تھا؟ تو اس نے کہا : ہاں ایسا ہی تھا کہ وہ شراب پیا ہوا تھا۔ تو اس وقت فرمایا: بس تو اپنے آپ پر ملامت کرو۔ کیونکہ نشے کی حالت میں مباشرت کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ بچہ اندھا پیدا ہوتا ہے۔ یہ تو جسمانی تأثیر ہے ۔روحانی تأثیر کے بارے میں امام صادق(ع) فرماتے ہیں:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَأَتَهُ وَ فِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ مُسْتَيْقِظٌ يَرَاهُمَا وَ يَسْمَعُ كَلَامَهُمَا وَ نَفَسَهُمَا مَا أَفْلَحَ أَبَداً إِنْ كَانَ غُلَاماً كَانَ زَانِياً أَوْ جَارِيَةً كَانَتْ زَانِيَة –(۹)
اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی
کیساتھ مباشرت کرے اور اس کمرے میں چھوٹا بچہ جاگ رہا ہو اور انہیں دیکھ رہا ہو اور ان کی باتوں اور سانسوں کو سن رہا ہو تو کبھی بھی وہ نیک اولاد نہیں ہوگی، اگر بچہ ہو تو وہ زانی ہوگا اور اگر وہ بچی ہو تو وہ زانیہ ہوگی۔
____________________
۱ ۔ ہمان، مکارم الاخلاق،ص.١٢٩
۲ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳،ص۵۵۱۔
۳ ۔ ہمان۔
۴ ۔ ہمان
۵ ۔ ہماان
۶ ۔ ہمان
۷ ۔ ہمان
۸ ۔ بحارالانوار۔
۹ ۔ وسائل الشیعہ ج۲۰، ص۱۳۳۔،الکافی،ج۵، ص۵۰۰۔
ہم فکرو ہم خیال بیوی
یعنی اعتقاد اور فکری لحاظ سے یک سو ہو۔ اور ایمان و عمل کے لحاظ سے برابر اور مساوی ہو۔ایک شخص نے امام حسن (ع) سے اپنی بیٹی کے رشتے کے بارے میں
رأے مانگی تو آپ نے فرمایا:زوّجها من رجل تقیّ فانّه ان احبّها اکرمها وان ابغضها لم یظلمها (۱)
اس کی شادی کسی پرہیزگار شخص کیساتھ کرو اگر وہ تیری بیٹی کو چاہتا ہے تو اس کا احترام کریگا ، اور اگر پسند نہیں کرتا ہے تو تیری بیٹی پر ظلم نہیں کریگا۔
____________________
۱. طبرسی، مکارم الاخلاق،ص۲۰۴۔
دلسوزاور مہربا ن ما ں
دلسوزاور مہربان ہونا پیامبر اسلام (ص) کا شیوہ ہے۔ چنانچہ آپ اس قدر اپنی امت پر دلسوز اور مہربان تھے کہ خدا تعالی کو کہنا پڑا :لعلّک باخع نفسک ۔ اے پیامبر ! تو اپنے آپ کو اپنی امت کے خاطر مت جلاؤ کیونکہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔
پیدائش کے بعد
کانوں میں اذان واقامت
امام حسن (ع) جب متولد ہوئے تو پیامبر اسلام (ص)نے ان کے کانوں میں اذان واقامت پڑھی۔ اور علی سے فرمایا :یا علی (ع) اذا ولد لک غلام اوجاریة فاذّن فی اذنه الیمنی و اقم فی الیسری فانّه لا یضرّه الشیطان ابداً -(۱)
اے علی ! اگر تمہیں بیٹا یا بیٹی عطا ہو تو ان کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہیں تاکہ اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے۔اور فرمایا:من ساء خلقہ فاذّنوا فی اذنہ –(۲) اگر بچہ روئے یا بد خلق ہوجائے تو اس کے کانوں میں اذان کہو۔
اور یہ عمل سائنسی طور پر بھی ثابت ہوچکی ہے کہ نوزائدہ بچہ نہ صرف پیدا ہوتے ہی ہماری باتوں کو سمجھ سکتا ہے بلکہ ماں کے پیٹ میں بھی وہ متوجہ ہوتا ہے اور اپنے ذہن میں حفظ کرلیتا ہے۔ ماں کے دل کی دھڑکن جو بچے کیلئے دینا میں آنے کے بعد آرام کا سبب بنتی ہے۔ جب ماں گود میں اٹھاتی ہے اور خصوصاً بائیں طرف، توروتا بچہ خاموش ہوجاتا ہے۔اسی لئے اگر ماں حاملہ گی کے دوران قرآن سنا یا پڑھا کرے تو بچے میں بھی وہی تأثیر پیدا ہوگی اور اگر گانے وغیرہ سنے تو بھی ۔ اس کی بہت ساری مثال دی جاسکتی ہے:
قم مقدس میں ایک قرآنی جلسے میں جب سید محمد حسین طباطبائی کے والد محترم سے سؤال کیا گیا کہ آپ کے خیال میں کیا سبب بنی کہ محمد حسین پانچ سال میں حافظ کلّ قرآن بنا؟ تو
فرمایا: جب یہ اپنی ما ں کے پیٹ میں تھا تو اس وقت وہ قرآن کی زیادہ تلاوت کیا کرتی تھی۔
گذشتہ علمائے کرام کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو ان میں بھی ایسے ہی واقعات ملتے ہیں، ان میں سے ایک سید رضی اور سید مرتضی کا واقعہ ہے۔ خود سید مرتضی R فرماتے ہیں: جب اپنے استاد محترم شیخ مفید (رح)کے درس میں حاضر ہوا تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ دروس پہلے سے ہی پڑھا ہوا ہے۔ جب اپنی مادر گرامی کے پاس آکر یہ ماجرا بیان کیا تو وہ کچھ تأمل کے بعد کہنے لگی: درست ہے جب آپ گہوارے میں تھے اس وقت آپ کے والد گرامی یہ دروس اپنے شاگردوں کو دیا کرتے تھے۔یہی ماں تھی کہ جب ان کو بیٹے کے مجتہد ہونے کی خبر دی گئی تو کہا : اس میں تعجب کی بات نہیں کیونکہ میں نے کبھی بھی انہیں بغیر وضو کے دودھ نہیں پلائی ۔ اور یہی ماں جناب شیخ مفید (رح)کی خواب کی تعبیر تھی، جنہوں نے حضرت فاطمہ(س) کوخواب میں دیکھا تھا کہ آپ حسن و حسین کے ہاتھوں کو پکڑ کے آپ کے پاس لاتی ہیں اور فرماتی ہیں : اے شیخ میرے ان دو بیٹوں کو دینی تعلیم دو۔ جب خواب سے بیدار ہوا تو بڑا پریشان حالت میں ، کہ میں اور حسنین کو تعلیم؟!!!
جب صبح ہوئی تو سید رضی اور مرتضی کے ہاتھوں کو اسی طرح سے جیسے خواب میں دیکھا تھا ، ان کی مادر گرامی پکڑ کے لاتی ہیں اور کہتی ہیں : جناب شیخ ! آپ میرے ان دو بیٹوں کو فقہ کی تعلیم دیں۔
ایک عالم کہتا ہے کہ ایک صابئی نے مجھ سے کہاکہ مجھے اسلام کی تعلیم دو تاکہ میں مسلمان ہوجاؤں۔ میں نے وجہ دریافت کی تو کہنے لگا کہ مجھے بچپنے سے ہی اسلام سے بہت لگاؤ ہے اور اسلام کا بہت بڑا شیدائی ہوں۔ اور جب بھی اذان کی آواز آتی ہے تو سکون ملتا ہے اور جب تک اذان تمام نہ ہو ، اذان کے احترام میں کھڑا رہتا ہوں۔ میں نے اس کی ماں سے وجہ دریافت کی تو اس کی ماں نے کہا : درست ہے جب میرا بیٹا اس دنیا میں آیا تو ہمارے ہمسائے میں ایک مسلمان مولانا رہتا تھا جس نے
اسکے کانوں میں اذان و اقامت پڑہی تھی(۳)
____________________
۱. تحف العقول،ص١٦ ۔
۲ ۔ محاسن برقی ج٢،ص٤٢٤
۳ ۔ مجمع البحرین، ص ٥٩٠.
دودھ کی تأثیر
بچے کی شخصیت بنانے میں ماں کی دودھ کا بڑا اثر ہے۔ اسی لئے امام المتقین –(۱) نے فرمایا:فانظروا من ترضع اولادکم انّ الولد یشبّ علیہ۔
دیکھ لو کون تمھاری اولادوں کو دودھ پلارہی ہے؟ کیونکہ بچے کی پرورش اسی پر منحصر ہے۔ امام صادق(ع) فرماتے ہیں:عَنْ أُمِّهِ أُمِّ إِسْحَاقَ بِنْتِ سُلَيْمَانَ قَالَتْ نَظَرَ إِلَيَّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع وَ أَنَا أُرْضِعُ أَحَدَ ابْنَيَّ مُحَمَّدٍ أَوْ إِسْحَاقَ فَقَالَ يَا أُمَّ إِسْحَاقَ لَا تُرْضِعِيهِ مِنْ ثَدْيٍ وَاحِدٍ وَ أَرْضِعِيهِ مِنْ كِلَيْهِمَا يَكُونُ أَحَدُهُمَا طَعَاماً وَ الْآخَرُ شَرَاباً (۲) ۔
اے ام اسحاق بچے کو دونوں پستانوں سے دودھ دیا کرو کیونکہ ایک چھاتی کا دودھ روٹی اور دوسری چھاتی کا دودھ پانی کا کام دیتا ہے۔
بچپنے کا دور
قَالَ الصَّادِقُ ع: دَعِ ابْنَكَ يَلْعَبْ سَبْعَ سِنِينَ وَ يُؤَدَّبْ سَبْعَ سِنِينَ وَ أَلْزِمْهُ نَفْسَكَ سَبْعَ سِنِينَ فَإِنْ أَفْلَحَ وَ إِلَّا فَإِنَّهُ مِمَّنْ لَا خَيْرَ فِيهِ –(۳)
امام صادق(ع) : فرمایا: اپنے بیٹے کو سات سال تک آزاد چھوڑ دو تاکہ وہ کھیلے کودے ،
دوسرے سات سال اسے ادب سکھائیں پھر تیسرے سات سال اسے اپنے ساتھ ساتھ کاموں میں لگادے۔
صَالِحُ بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبْدَ الصَّالِحَ ع يَقُولُ تُسْتَحَبُّ عَرَامَةُ الصَّبِيِّ فِي صِغَرِهِ لِيَكُونَ حَلِيماً فِي كِبَرِهِ ثُمَّ قَالَ مَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ إِلَّا هَكَذَا -(۴)
امام موسی کاظم(ع) نے فرمایا: اپنے بچوں کو بچپنے میں اچھلنے کودنے کا موقع دو
تاکہ بڑے ہوکر حلیم (اور خوش خلق)بن جائیں۔
____________________
۱ ۔ وسائل،ج٢١،ص٤٥٣.
۲ ۔ ھمان
۳ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳، ص۴۹۲۔
۴ ۔ الکافی،ج۶، ص۵۱۔
پاک اور حلال غذا کی تأثیر
اگر بچوں کو لقمہ حرام کھلائیں گے تو فرزند کبھی صالح نہیں ہوگا۔کیونکہ حرام لقمہ کا بہت برا اثر پڑتا ہے جس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ، چنانچہ امام حسین (ع) نے عاشور کے دن کئی مرتبہ فوج اشقیا کو نصیحت کی لیکن انہوں نے نہیں سنی توامام نے فرمایا:قد ملئت بطونکم من الحرام۔ تمہارے پیٹ لقمہ حرام سے بھر چکے ہیں جس کی وجہ سے تم پر حق بات اثر نہیں کرتی۔ پس جو ماں باپ اپنے بچوں کو لقمہ حرام کھلائے وہ بچوں کی اصلاح کی امید نہ رکھیں۔
بچے کی کفالت
قَالَ الصادق : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تُوُفِّيَ وَ لَهُ صِبْيَةٌ صِغَارٌ وَ لَيْسَ لَهُ مَبِيتُ لَيْلَةٍ تَرَكَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَ قَدْ كَانَ لَهُ سِتَّةٌ مِنَ الرَّقِيقِ لَيْسَ لَهُ غَيْرُهُمْ وَ إِنَّهُ أَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ مَا صَنَعْتُمْ بِهِ قَالُوا دَفَنَّاهُ فَقَالَ أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُهُ مَا تَرَكْتُكُمْ تَدْفِنُونَهُ مَعَ أَهْلِ الْإِسْلَامِ تَرَكَ وُلْدَهُ صِغَاراً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ –(۱)
حدیث میں ہے کہ اصحاب پیامبر(ص) میں سے ایک نے مرتے وقت زیادہ ثواب کمانے کی نیت سے اپنا سارا مال فقراء میں تقسیم کروایا۔ اور اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بالکل خالی ہاتھ چھوڑ دیا ، جو لوگوں سے بھیگ مانگنے پر مجبور ہوگئے ۔ جب یہ خبر رسولخدا (ص) تک پہنچی تو آپ سخت ناراض ہوگئے اور پوچھا : اس کے جنازے کیساتھ کیا کیا؟ لوگوں نے کہا قبرستان میں دفن کیا گیا۔ پیامبر (ص)نےفرمایا: اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے نہ دیتا۔کیونکہ اس نے اپنے بچوں کو دوسروں کا دست نگر بنادئے بچوں کا احترام بچوں کو جب بھی کوئی نصیحت کرنی ہو تو میرے بیٹے کہہ کر بلاؤ۔ قرآن بچوں کی تربیت اور نصیحت پر بہت زور دیتا ہے ۔ ائمہ کی سیرت میں بھی ہمیں یہی چیز ملتی ہے۔ایک دن امام حسین (ع) نماز کے دوران پیامبر اسلام (ص)کے کندھوں پرسوار ہوئے تو رسولخدا (ص)نے انہیں نیچے اتارا ۔جب دوسرے سجدے میں گئے تو دوبارہ سوار ہوئے۔ یہ منظر ایک یہودی دیکھ رہا تھا،کہنے لگا آپ اپنے بچوں سے اتنی محبت کرتے ہیں ؟ ہم اتنی محبت نہیں کرتے۔ تو آپ (ص)نے فرمایا: اگر تم خدا اور اسکے رسول پر ایمان لے آتے تو تم بھی اپنے بچوں سے اسی طرح محبت کرتے ، اس شخص نے متأثر ہوکر اسلام قبول کیا(۲)
امام حسن مجتبی (ع) اور بچے
ایک مرتبہ آپ کا گذر ایسی جگہ سے ہوا جہاں بچے کھیل کود میں مشغول تھے اور ایک روٹی ان کے پاس تھی اسے کھانے میں مصروف تھے۔ امام کو بھی دعوت دی ، امام نے ان کی دعوت قبول کرلی اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا شروع کیا۔ پھر سارے بچوں کو اپنے گھر لے گئے اور ان کو کھانا کھلایا اور لباس بھی دیا پھر فرمایا: ان بچوں کی فضیلت مجھ سے زیادہ ہے کیونکہ انہوں نے اپنا سب کچھ میرے لئے حاضر کئے،کہ ان کے پاس ایک روٹی کے علاوہ کچھ نہ تھا لیکن میں نے جو بھی کھلایا،اس کے علاوہ میرے پاس اور بھی موجود ہے(۳)
امام زین العبدین (ع)نے ایک بار نماز جلدی جلدی پڑھ لی ۔ لوگوں نے سوال کیا مولا ایسا کیوں کیا؟ تو فرمایا : کیونکہ صفوں میں بچے بھی نماز پڑھ رہے تھے جن کی رعایت کرتے ہوئے نماز جلدی جلدی تمام کی۔
اس طرح ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المؤمنین (ع)نے ایک یتیم بچے کو غمگین حالت میں دیکھا تو ان کو خوش کرنے کیلئے ان کیساتھ پیار سے باتیں کرنے لگے ، لیکن یتیمی کی اداسی کی وجہ سے کوئی اثر نہیں ہوا تو امیر المؤمنین (ع) اپنے گٹھنے ٹیک کر بھیڑ کی آوازیں نکالنے لگے تو تب جا کر یتیم بچے کی چہرے پر مسکراہٹ آگئی ، یہ منظر کسی نے دیکھ کر کہنے لگا مولا ! یہ آپ کیلئے مناسب نہیں ہے کہ ایک حکومت اسلامی کا سربراہ چوپائیوں کی آوازیں نکالے!۔ تو میرے مولا نے فرمایا : کوئی بات نہیں اس کے بدلے میں ایک یتیم کو میں نے خوش کیا۔
پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا: بہترین گھر وہ ہے جہاں یتیموں کی پرورش اور دیکھ بھال ہوتی ہو۔ اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیموں کی اہانت ہوتی ہو۔مزید فرمایا:وَ عَنْهُ ص أَنَّهُ قَالَ أَنَا وَ كَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَ أَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَ الْوُسْطَى ومن مسح یده برأس یتیم رفقاً به جعل الله له فی الجنة لکل شعرة مرّت تحت یده قصراًاوسع من الدنیا بمافیها وفیها ماتشتهی الانفس وتلذّالاعین وهم فیها خالدون (۴)
اور جو بھی یتیموں کی تعلیم و تربیت اور سرپرستی کرے گا وہ قیامت کے دن میرے
ساتھ ان دو انگلیوں کی مانند ہوگا۔اور جو بھی کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو خدا تعالی اس کیلئے ہربال جو اس کے ہاتھوں کے نیچے آئے ، کے بدلے بہشت میں ایک محل عطا کرے گا جو اس دنیا و مافیھا سے بھی بڑا ہوگا اور اس قصر میں وہ چیزیں ہونگی جنہیں نہ کسی نے چکھا ہوگا اور نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا۔علامہ رضی نے اپنی کتاب اقبال الاعمال میں لکھا ہے کہ آپ کی مراد کافل سے ابوطالب ہے(۵)
اسی طرح امام حسن مجتبی (ع) ایک دن دوش نبی پر سوار تھے۔ کوئی آکر کہنے لگا : اے حسن مجتبی !کتنی خوبصورت آپ کی سواری ہے؟ تو رسول اللہ (ص)نے فرمایا: اسے نہ کہو کہ تیری سواری کتنی اچھی ہے بلکہ مجھ سے کہو کہ تیرا شہسوار کتنا اچھا ہے؟! صرف وہ فخر نہیں کرتا کہ اس نے دوش نبوت پر پاؤں رکھا ہے ،بلکہ میں بھی فخر کرتا ہوں کہ وہ میرے دوش پر سوار ہے۔
____________________
۱ ۔ بحار،ج١٠٠، ص١٩٧
۲ ۔ بحار،ج١٠، ص ٨٣۔
۳ ۔ شرح ابن ابی الحدید،ج١١،ص۔١٩.
۴ ۔ میزان الحکمہ ،باب الیتیم۔ح۶۸۱۱۔
۵ ۔ الاقبال ، ص۶۶۲۔
بچوں کو ان کے ا حترام کی یقین دہانی
اگر ماں باپ ان کا احترام نہ کریں تو وہ ان کے قریب نہیں جائیں گے اورنہ ان کی باتیں سنیں گے۔اگر ہم چاہیں کہ ہمارے بچے ہماری بات مانیں اور ہم نصیحت کریں تو ضروری ہے کہ بچوں کیلئے احترام کے قائل ہوں ۔اور ان سے مشورت مانگیں ،ان کی باتوں کو بھی اہمیت دیں ۔ ہمارے لئے قرآن مجید میں نمونہ عمل موجود ہے کہ حضرت ابراہیم (ع) جو سو سالہ بزرگ ہوتے ہوئے بھی تیرہ سالہ بچے سے مشورہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بیٹا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے خدا کی راہ میں قربان کر رہا ہوں، اس میں تیری کیا رائے ہے؟!
بچوں کی تحقیر، ضد بازی کا سبب
ایک جوان کہتا ہے کہ میرے والدین گھر میں مجھے کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔اگر میں کوئی بات کرتا ہوں تو ٹوک دیتے ۔ مجھے کسی بھی گھریلو کام میں شامل نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی کام کروں تو اسے اہمیت نہیں دیتے ۔ اور دوسروں کے سامنے حتی میرے دوستوں کے سامنے میری تحقیر اور توہین کرتے ۔ اس وجہ سے میں احساس کمتری کا شکار ہوا ۔ اور حقارت اور ذلّت کا احساس کرنے لگا۔ اور اپنے آپ کو گھر میں فالتو فرد سمجھنے لگا ۔ اب جبکہ میں بڑاہوگیا ہوں پھر بھی دوستوں میں کوئی بات کرنے کی جرأت نہیں ۔ اگر کوئی بات کروں تو بھی گھنٹوں بیٹھ کر اس پر سوچتا ہوں کہ جو کچھ کہا تھا کیا غلط تو نہیں تھا ۔ اس میں میرے والدین کی تقصیر ہے کہ انہوں نے یوں میری تربیت کی ۔
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ دَعِ ابْنَكَ يَلْعَبُ سَبْعَ سِنِينَ وَ أَلْزِمْهُ نَفْسَكَ سَبْعاً فَإِنْ أَفْلَحَ وَ إِلَّا فَإِنَّهُ مِمَّنْ لَا خَيْرَ فِيهِ –(۱) اسی لئے امام باقر (ع)نے فرمایا:بچے کو پہلے سات سال بادشاہوں کی طرح ، دوسرے سات سال غلاموں کی طرح اور تیسرے سات سال وزیروں کی طرح اپنے کاموں میں اسے بھی شامل کرو اور ان سے بھی مشورہ لیا کرو۔ اگر بچے احساس حقارت کرنے لگے تو نہ وہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ دوسرے ترقیاتی کاموں میں ۔
ایک بچی کہتی ہے کہ :میری ماں ہمیشہ مجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتی تھی۔ ایک دفعہ امتحانات میں کم نمبر آنے کی وجہ سے میری خالہ کے سامنے توہین کرنا شروع کی تو انہوں نے میری ماں سے کہا: بہن !ان کی توہین نہ کرو مزید خراب ہوجائے گی۔ ماں نے کہا یہ ایسی ہے تو ویسی ہے۔ میری خالہ نے ماں سے اجازت لیکر مجھے امتحانات تک اپنے گھر لے گئی۔میری خالہ زاد بہن مہری میری ہمکلاس تھی ۔ان کے ساتھ تیاری کی تو مہری حسب سابق irst اور میں third آئی ۔جس پر مجھے خود یقین نہیں آرہی تھی۔
بچوں کی مختلف استعدادوں پر توجہ
والدین کو چاہئے کہ اپنے بچے کے اندر کیا صلاحیت اور استعداد موجود ہے، اس پر توجہ دینا چاہئے۔ اگر وہ تعلیم میں کمزور ہے تو آپ اس کو مجبور نہ کریں ، بلکہ دیکھ لیں کہ کس میدان (فیلڈ) میں وہ مہارت حاصل کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ بہزاد نامی ایک شخص تھا۔جو ایران کا بہت بڑا نامور نقّاش تھا ۔ یہ کلاس میں نہ خود پڑھتا تھا اور نہ دوسروں کو پڑھنے دیتا۔ لیکن شکل سے پڑھا لکھا اور ہنر مند نظر آتا تھا۔ ایک دن ایک ماہرنفسیات نے اسے اپنے پاس بلایا اور اسے نصیحت کرنے لگا۔ بہزاد خاموشی کے ساتھ ان کی نصیحت سننے کیساتھ ساتھ زمین پر ایک مرغے کی تصویر بنائی جو درخت پر بیٹھا ہے ۔ جب اس ماہرنفسیات نے یہ دیکھا تو سمجھ گیا کہ اس لڑکے میں بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے والد کو بلایا اور کہا یہ نقاشی میں بہت مہارت رکھتا ہے۔ اس شعبے سے ان کو لگاو اوردلچسپی ہے۔انہیں نقاشی کی کلاس میں بھیج دو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ جو بعد میں بڑا نامور اور معروف نقاش ایران کے نام سے پوری دینا میں مشہور ہوا۔(۲)
تشویق کرنے کا حیرت انگیز نتیجہ
اگر آپ کا بچہ تعلیمی میدان میں کمزور ہو تو آپ ان کی تحقیر نہ کریں ۔ کیونکہ خدا تعالی نے ہر کسی کو ایک جیسا ذہن عطا نہیں کیا ہے۔ ممکن ہے ایک شخص کند ذہن ہو یا تند ذہن۔ ایسی صورت میں تشویق کریں تاکہ بیشتر اپنے فیلڈ میں مزید ترقی کرسے۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میرا ایک دوست مداری تھا کہ جو مختلف شہروں میں لوگوں کو مختلف کرتب دکھاتا پھرتا تھا۔میں اس پر حیران تھا کہ کس طرح وحشی حیوانات (شیر،ببر،ہاتھی،کتا، ریچھ و۔۔۔)اس کے تابع ہوتے ہیں؟ ایک دن میں نے اس پر تحقیق کرنا شروع کیا تو معلوم ہواکہ وہ ہر حیوان کو معمولی سی کرتب دکھانے پر اسے گوشت کی چند بوٹیاں کھلا کراور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اس کی تشویق کرتا ہے۔جب جنگلی اور وحشی جانوروں میں تشویق اس قدر مؤثر ہے تو کیا انسانوں میں مؤثر نہیں ہوگا؟!۔
بچوں سے محبت
اسلام اس بات پر بہت توجہ دیتا ہے کہ بچوں کو پیا رو محبت دیا کریں۔ رسول خدا (ص) ایک دن اپنے بچوں کو زانو پر اٹھائے پیار ومحبت کیساتھ بوسہ دے رہے تھے اتنے میں دورجاہلیت کے کسی بڑے خاندان کا آدمی وہاں پہنچا ۔ اور کہامیرے دس بیٹے ہیں لیکن آج تک کسی ایک کو بھی ایک بار بوسہ نہیں دیا۔یہ سن کر آپ (ص) سخت ناراض ہوگئے۔ اور غصّے سے چہرہ مبارک سرخ ہوگیا۔ اور فرمایا: من لایَرحَم لا یُرحَم جس نے دوسروں پر رحم نہیں کیا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا ۔ اور تیرے دل سے رحم نکل گیا ہے تو میں کیا کروں؟!
ایک دفعہ جب آپ سجدے میں گئے تو حسن مجتبی (ع) کاندوں پر سوار ہوئے،جب اصحاب نے سجدے کو طول دینے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا:حسن میرے کاندہے پر سوار ہوا تھا اور میں انہیں اتارنا نہیں چاہتا تھا، جب تک خود اپنی مرضی سے نہ اترآے(۳)
بچوں کے درمیان عدالت اور مساوات
نعمان بن بشیر کہتا ہے کہ ایک دن میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دیا،لیکن دوسرے بھائیوں کو نہیں دیاتو میری ماں(عمرہ بنت رواحہ )نے میرے باپ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا : میں اس برتاؤ پر راضی نہیں ہوں جب تک تیرے اس عمل پر رسولخدا (ص) تأیید نہ کرے۔ میرے باپ نے عاجزانہ طور پر ماجرابیان کیا :تو آپ نے فرمایا: کیا سب کو دئے؟ کہا نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: پس خدا سے ڈرو۔ اور اولادوں کیساتھ مساوات و برابری سے پیش آؤ۔میں اس ظالمانہ رفتار پر گواہی نہیں دیتا(۴)
____________________
۱ ۔ وسائل الشیعہ ج ۱۵ ، ص ۱۹۴، الکافی،ج۶، ص۴۶۔
۲ ۔ جعفر سبحانی؛رمزپیروزی مردان بزرگ،ص١١.
۳ ۔ بحار،ج١٠، ص٨٤.
۴ میزان الحکمة،ج١٠،ص٧٠.
بچوں کے درمیان عادلانہ قضاوت
ِ أَنَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ كَانَا يَكْتُبَانِ فَقَالَ الْحَسَنُ لِلْحُسَيْنِ خَطِّي أَحْسَنُ مِنْ خَطِّكَ وَ قَالَ الْحُسَيْنُ لَا بَلْ خَطِّي أَحْسَنُ مِنْ خَطِّكَ فَقَالَا لِفَاطِمَةَ احْكُمِي بَيْنَنَا فَكَرِهَتْ فَاطِمَةُ أَنْ تُؤْذِيَ أَحَدَهُمَا فَقَالَتْ لَهُمَا سَلَا أَبَاكُمَا فَسَأَلَاهُ فَكَرِهَ أَنْ يُؤْذِيَ أَحَدَهُمَا فَقَالَ سَلَا جَدَّكُمَا رَسُولَ اللَّهِ ص فَقَالَ ص لَا أَحْكُمُ بَيْنَكُمَا حَتَّى أَسْأَلَ جَبْرَئِيلَ فَلَمَّا جَاءَ جَبْرَئِيلُ قَالَ لَا أَحْكُمُ بَيْنَهُمَا وَ لَكِنَّ إِسْرَافِيلَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ إِسْرَافِيلُ لَا أَحْكُمُ بَيْنَهُمَا وَ لَكِنَّ أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمَا فَسَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى ذَلِكَ فَقَالَ تَعَالَى لَا أَحْكُمُ بَيْنَهُمَا وَ لَكِنَّ أُمَّهُمَا فَاطِمَةَ تَحْكُمُ بَيْنَهُمَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ أَحْكُمُ [احْكُمْ] بَيْنَهُمَا يَا رَبِّ وَ كَانَتْ لَهَا قِلَادَةٌ فَقَالَتْ لَهُمَا أَنَا أَنْثُرُ بَيْنَكُمَا جَوَاهِرَ هَذِهِ الْقِلَادَةِ فَمَنْ أَخَذَ منهما [مِنْهَا] أَكْثَرَ فَخَطُّهُ أَحْسَنُ فَنَثَرَتْهَا وَ كَانَ جَبْرَئِيلُ وَقْتَئِذٍ عِنْدَ قَائِمَةِ الْعَرْشِ فَأَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ وَ يُنَصِّفَ الْجَوَاهِرَ بَيْنَهُمَا كَيْلَا يَتَأَذَّى أَحَدُهُمَا فَفَعَلَ ذَلِكَ جَبْرَئِيلُ إِكْرَاماً لَهُمَا وَ تَعْظِيماً –(۱)
امام حسن اور امام حسین (ع)اپنے بچپن کے دوران اکثر علوم وفنون اور معارف اسلامی میں مسابقہ کرتے تھے ۔ ایک دن دونوں نے خوشخطی کا مقابلہ کیا اور ،پیغمبر۷کے پاس لائے اور کہا :نانا جان ہم دونوں میں سے کس کا خط اچھا ہے؟ فرمایا: عزیزان میں لکھنا تو نہیں جانتا ،میں نے کبھی لکھا بھی نہیں نہ کسی مکتب میں پڑھا ہواہے اسے بابا علی (ع) کے پاس لے جاؤ وہ کاتب وحی بھی ہیں۔ دونوں نے فرمایا آپ کی بات بالکل درست ہیں ۔گئے اور بابا کے سامنے رکھ دئے۔علی (ع)نے فرمایا: دونوں لکھائی اچھی اور خوبصورت ہیں۔ بچوں نے کہا آپ یہ بتائیں کونسی لکھائی بہتر ہے ؟فرمایا اگر آپ دونوں مدرسہ جاتے اور اپنے استاد کو دکھاتے تو اچھا تھا ۔ لیکن آپ دونوں نے خود سیکھے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ اپنی ماں کے پاس لے جاؤ جو فیصلہ وہ کرے گی ،ہمارے لئے قبول ہے ۔ حسنین (ع)نے کہا ٹھیک ہے ۔جب اپنی ماں سے اسی طرح سوال کیا تو فرمایا:دونوں کی لکھائی اچھی ہیں۔ ان دونوں خطوں کے درمیان فرق پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔ جو چیز نانا اور بابا نے میرے پاس بھیجی ہیں اس میں مجھے زیادہ دقّت کی ضرورت ہے۔حضرتزہرا (س)نے اپنی گردن بند کو کھولا جس میں سات دانے تھے۔ کہا : میں یہ دانے زمین پر گراتی ہوں ،آپ دونوں میں سے جس نے بھی دانے زیادہ اٹھائے اسی کا خط بہتر ہوگا۔ جب گرائی تو دونوں نے ساڑھے تین ساڑھے تین دانے اٹھائے۔ نتیجہ مساوی نکلا،دونوں راضی ہوگئے۔ آخر جواب تو وہی نکلاجو بابا اور نانا نے دئے تھے۔اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ آپ کا یہ دانہ توڑ دے ۔ تو مادر گرامی نے فرمایا: اسے تم نے نہیں توڑے بلکہ خدا نے دوبرابر کیا۔ اور جسے خدا نے توڑا ہو وہ اس جیسے لاکھ دانے سے بہتر ہے۔
والدین نظم و حقوق کی رعایت کریں
المؤمنین (ع) فرماتے ہیں کہ ایک دن پیامبر اسلام (ص)میرے گھر پر آرام فرمارہے تھے، امام حسن (ع)نے پانی مانگا ۔ آپ اٹھے اور کچھ دودھ لیکر آئے اور امام حسن (ع)کو پیش کی ،امام حسین (ع)نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کاسہ خود لیکر پینا چاہا ۔ پیامبر اسلام (ص)کے امام حسن کی حمایت کی اور امام حسین کو نہیں دیا۔یہ منظر حضرت زہرا (س) دیکھ رہی تھی ،کہنے لگی: یا رسول اللہ(ص)!کیا حسن سے زیادہ محبت ہے؟تو فرمایا :نہیں بلکہ اس لئے حسن کا دفاع کررہا ہوں کہ اس نے پہلے پانی مانگا تھا۔میں نے اس کی نوبت کی رعایت کی ہے-(۲)
ایک شخص رسول خدا کی خدمت میں اپنے دو بچوں کیساتھ حاضر ہوا ،ایک بچے کو پیار کیا دوسرے سے کوئی محبت کا اظہار نہیں کیا ۔ تو آپ نے فرمایا: یوں اپنے بچوں میں غیر عادلانہ رفتار نہ کرو،بلکہ ان کے ساتھ اسی طرح مساوات اوربرابری کا رویہ اختیار کرو جس طرح دوسرے تمھارے ساتھ رویہ اختیار کرنا چاہتے ہو(۳)
بچے کو خدا شناسی کا درس دیں
بیٹے کے حقوق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :و اما حق ولدک ، فتعلم انه منک، ومضاف الیک فی عاجل الدنیا بخیره و شره؛ وانک مسؤل عما ولیته من حسن الادب و الدلالة علی ربه ، والمعونة علی طاعته فیک و فی نفسه ، فمثاب علی ذالک و معاقب، فاعمل فی امره عمل المتزین بحسن اثره علیه فی عاجل الدنیا المعذر الی ربه فیما بینک وبینه بحسن القیام علیه، والاخذ له منه ولاقوة الا بالله -(۴) یعنی بیٹے کا حق باپ پر یہ ہے کہ اسے اپنی اولاد سمجھے اور اس دنیا میں اس کی نیکی اور بدی کو تیری طرف نسبت دی جائے گی ، اور تو ہی اس کا ولی ہوگا ، اور تم پر لازم ہے کہ اسے با ادب بنائے اسے اصول دین کا سبق سکھائے اور خدا کی اطاعت اور بندگی کی راہ پر لگائے اور اس سلسلے میں ان کی مدد کرے تاکہ خدا کے نزدیک تو سرخ رو ہو سکے اور اجر پا سکے، اگر ان امور میں سستی کی تو عذاب الہی کو اپنے لئے آمادہ کیا ہے ، پس ضروری ہے کہ ان کو کچھ اس طرح تربیت دیں کہ تیرے مرنے کے بعد جب لوگ اسے دیکھے تو تجھے اچھے نام سے یاد کریں ، اور تو بھی خداکے سامنے جواب دہ ہو اور اجر وثواب پا سکے۔
شیخ شوشتری جو اپنے زمانے کے نامور عرفاء میں سے تھے ٨٠ سال کی عمر میں ٢٨٣ھ میں وفات پاچکے ہیں، کہتے ہیں: میں تین سال کا تھا کہ دیکھا میرے ماموں محمد بن سواد رات کے وقت نماز شب میں مصروف ہیں۔ مجھ سے کہا بیٹا کیا اپنےخدا کو یاد نہیں کروگے جس نے تجھے پیدا کیا ہے؟ میں نے کہا: کیسے اسے یاد کروں؟ تو جواب دیا جب سونے کا وقت آئے تو ٣بار دل سے کہو: (خدا میرے ساتھ ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے اور میں اس کے حضور میں ہوں )۔ کچھ راتیں گزر گئیں پھر مجھ سے کہا اس جملے کو سوتے وقت ٧ مرتبہ پڑھ لیا کرو۔ میں نے ایساکیا تو اس ذکر کی لذت اور مٹھاس کو میں محسوس کرنے لگا۔ ایک سال کے بعد مجھ سے کہا اسے اپنی پوری زندگی پڑھا کرو۔ یہی ذکر تمھیں دنیا و آخرت دونوں میں سرخ رو کریگا۔ اس طرح میرے پورے وجود میں بچپنے میں ہی خدا پر ایمان مضبوط ہوگیا تھا(۵)
____________________
۱ ۔ بحار الانوار،ج۴۳،ص۳۰۹۔
۲ ۔ ہمان،ج٢٣،ص٢٧٣۔
۳ ۔ بحار،ج٢٣،ص١١٣۔
۴ ۔ حقوق اسلامی،ص ۱۵۶۔
۵ ۔ الگوہائی تربیت کودکان ونوجوانان،ص٤٩۔
کاشف الغط(رح)اور بیٹے کی تربیت
حضرت آیةاللہ شیخ جعفر کاشف الغطاء(رح) اپنے بچے کی تربیت کرنے کیلئے ایک مؤثر طریقہ اپناتے ہیں ، وہ یہ ہے: آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بیٹا بھی سحر خیزی اور نماز شب کا عادی ہوجائے۔ اور آخر عمر تک اس عمل کو انجام دیتے رہے۔ ایک رات اذان صبح سے پہلے بیٹے کے بسترے کے قریب آئے اور بالکل آرام سے اسے بیدار کرنے لگا اور کہا عزیزم !اٹھو اور مولا علی (ع)کے حرم مطہر میں شرف یاب ہوجائیں ۔ بیٹے نے کہا بابا آپ جائیں میں بعد میں آوں گا ۔ کہا نہیں بیٹا میں منتظر رہوںگا۔ بیٹا اٹھا اور حرم کی طرف وضو کرکے روانہ ہوئے۔ ایک فقیرحرم مطہر کے سامنے بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا تھا۔
اس وقت آیةاللہ کاشف الغطاء (رح)نے کہا: بیٹا ! یہ شخص کس لئے یہاں کھڑا ہے؟
کہا : بھیک مانگنے کیلئے۔
کہا :اس کو کتنا درہم ملتا ہوگا؟
بیٹا :شاید کچھ رقم ملتا ہوگا اور واپس جاتا ہوگا۔
کیا یقینا اسے دینار ملتا ہوگا؟
بیٹا:البتہ یقینا تو پیش بینی نہیں کرسکتا لیکن کچھ نہ کچھ تو ضرور ملتا ہوگا ۔یا ممکن ہے خالی ہاتھ بھی جاتا ہوگا۔
یہاں جس نکتے کی طرف آپ بچے کو متوجہ کرانا چاہتے تھے ٹھیک اسی جگہ پر آگئے اوراپنے مطلب کیلئے زمینہ فراہم ہوگیااور فرمایا: بیٹا دیکھ یہ گدا گر کمانے کیلئے سویرے سویرے یہاں آتا ہے جبکہ اسے سوفیصد یقین تونہیں پھر بھی اتنی جلدی نیند سے بیدار ہوکر آتا ہے؛ لیکن تمھیں تو اس ثواب پر پورا پورا یقین ہے کہ جو خدا تعالی نے سحر خیزی کیلئے معین کیا ہے اور ائمہ طاہرین کے فرامین پر بھی یقین رکھتے ہو ، پس کیوں سستی کرتے ہو؟!!
اس خوبصورت تمثیل نے اتنا اثر کیا کہ بیٹے نے زندگی کے آخری لمحات تک نماز شب کو ترک نہیں کیا-(۱)
ہمارے لئے بھی یہی درس ملتا ہے کہ اگر چاہتے ہوں کہ ہمارے بچے بھی سحر خیز ہوں تو پہلے ہم اس پر عمل پیرا ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ(ص)کے پاس ایک ماں اپنے بیٹے کو لے آئی کہ اسے نصیحت کرے کہ وہ خرما نہ کھائے۔ کیونکہ حکیموں نے اس کیلئے منع کیا ہے۔ یا رسول اللہ (ص) اسے نبوت کی مبارک زبان سے سمجھائیں ممکن ہے وہ باز آجائے۔ آپ نے فرمایا:بہت اچھا آج اس کو لیجائیں کل لے آئیں۔ دوسرے دن جب آئی تو بڑی نرمی سے نصیحت کی : بیٹا ماں کی باتوں کو سنا کرو اور کھجور کھانے سے پرہیز کرو تاکہ تمھاری بیماری ٹھیک ہوجائے اور بعد میں تم زیادہ کھجور کھا سکے۔اور زیادہ کھیل کود سکے۔اور خوش وخرم زندگی کرسکے اور تیری ماں بھی تجھ پر راضی ہوسکے۔ بچے نے آپ کی باتوں کو قبول کرلی اور کہا: اب بات سمجھ میں آئی کہ کیوں کھجور نہ کھاؤں۔ اب میں دلیل سمجھ گیا ۔ جب باتیں ختم ہوئیں تو ماں نے تشکر کرنے کے بعدکہا:یا رسول اللہ (ص)یہی باتیں کل بھی تو آپ بتا سکتے تھے ۔ فرمایا : کیونکہ کل میں خود کھجور کھا چکا تھا ۔ اچھی بات اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب خود اس پر عمل کرے(۲)
امام خمینی(رح)اور بچوں کے دینی مسائل
امام خمینی کی بیٹی نقل کرتی ہے کہ امام خمینی(رح)بچوں پر بہت مہربان تھے۔ ہم گھر میں بڑے مہر ومحبت کیساتھ رہتے تھے لیکن ہم جب کوئی خلاف کام کرتے تو سختی سے منع کرتے تھے۔ عملی طور پر ہمیں سمجھایا ہوا تھا کہ کوئی کام ان کے میل یا مرضی کے خلاف نہیں کریں گے۔ ہم بھی فروعی کاموں میں آزاد لیکن اصولی کاموں میں سخت مقید تھے۔ ہم میں سے کسی کی مجال نہیں تھی کہ مخالفت کرے۔ ہمیشہ ہمیں مقید رکھتے تھے کہ کوئی گناہ نہ کریں اورآداب اسلامی کی پابندی کریں۔ اس کے علاوہ ہم جتنا شوروغل مچائیں کچھ نہیں کہتے تھے اور نہ کوئی اعتراض کرتے۔ ہاں اگر کسی پڑوسی کی طرف سے کوئی شکایت آئے تو سختی سے اعتراض کرتے تھے۔ ہم گھر کے صحن میں کھیل کود میں مصروف ہوتے تھے۔ نماز کے وقت بھی اگر کھیلتے رہے تو کبھی نہیں کہا ،بچو اذان کا وقت ہوگیا ہے آؤ وضو کریں نماز پڑھیں۔بلکہ خود اذان سے آدھا گھنٹہ پہلے مصلّی پر کھڑے ہو جاتے تھے اورآپ کو دیکھ کر ہم بھی نماز کیلئے تیار ہوجاتے۔اور جب بھی ہمیں کسی کام سے روکتے تھے زندگی بھر میں وہ کام انہیں انجام دیتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھے،حجاب اور پردے کے بارے میں سخت حساس تھے، اور گھر میں کوئی بھی غیر اخلاقی باتیں جیسے غیبت،جھوٹ ،کسی بڑے کی بے احترامی یا کسی مسلمان کی توہین نہیں کرنے دیتے ۔ آپ معتقد تھے کہ بچے آزادانہ کھیل کود کریں۔ فرماتے تھے اگر بچے شرارت نہ کرے تو وہ بیمار ہے اس کی علاج کرنا چاہئے۔
آپ کے بیٹے سید احمد خمینی(رح)سے جب انٹرویو لیا گیا تو فرمایا: میری بیوی گھریلو عادت کے مطابق بچی کو میٹھی نیند سے نماز صبح کیلئے اٹھایا کرتی تھی۔ جب امام خمینی کو یہ معلوم ہواتو پیغام بھیجا کہ : اسلام کی مٹھاس کو بچے کیلئے تلخ نہ کرو۔! یہ باتاس قدر مؤثر تھی کہ میری بیٹی اس دن کے بعد خود تاکید کرتی تھی کہ انھیں نماز صبح کیلئے ضرور جھگایا کریں ۔ اس وقت میں نے لااکراہ فی الدین کو سمجھا(۳)
بچوں کومستحبات پر مجبور نہ کریں
والدین کو چاہئے کہ ان پر سختی نہ کریں اور مستحبات پر مجبور نہ کریں، کیونکہ اس کا نتیجہ منفی ہوگا جیسا کہ اس مسیحی کا قصہ مشہور ہے کہ مسلمان بھائی نے جسے صبح سے لیکر رات تک مسجد میں قید رکھا ،دوسرے دن جب اسے جگانے گیا تو اس نے کہا : بھائی مجھے بال بچے بھی پالنا ہے تواورکسی بے کار آدمی کو تلاش کرو ۔ اس طرح وہ دوبارہ مسیحیت کی طرف چلاگیا۔
ایک جوان کہتا ہے کہ ہمارے والد صاحب ہم تمام بہن بھائیوں کو نماز شب کیلئے جگایا کرتے تھے۔میں بہت چھوٹا تھا نیند سے اٹھنا میرے لئے سخت ہوتاتھا، جب مجھے آواز دیتا تھا، حسن اٹھوتو میں بستر میں لیٹ کر ہی زور سےولا الضالین یا الله اکبر
کہتا تھا(۴)
____________________
۱ ۔ ہمان،ص٢٠٨۔
۲ ۔ ہماں،ص٣١٦۔
۳ ۔ خاطرات فریدہ خانم مصطفوی ،پابہ پای آفتاب،١٠٠۔
۴ ۔ قصص العلما،ص١٨٥۔
بچوں کی تربیت میں معلم کا کردار
ابوسفیان کا بیٹا معاویہ نے ٤١ھ میں مسند خلافت پر آنے کے بعد یہ ٹھان لی کہ علی (ع)کو لوگوں کے سامنے منفورترین آدمی کے طور پر پہچنوائیں ۔ اس مکروہ ہدف کے حصول کیلئے علی (ع)کے دوستوں کو تلوار اور نیزوں کے ذریعے فضائل على (ع)بیان کرنے سے منع کیا گیا، دوسری طرف علی (ع)کے دشمنوں کو بیت المال میں سے جی بھر کے مال وزر دیا گیا تاکہ آپ کے خلاف پیامبر(ص) کی طرف سے احادیث گڑھیں۔ اس کے علاوہ پورے عالم اسلام میں یہ حکم جاری کردیا گیاکہ نمازجمعہ کے بعد ہر مسجد سے ان پر لعن کیا جائے ۔یہ عملی بھی ہوا اور بچے باتوں باتوں میں آپ پر لعن کرنے لگے۔ عمر عبد العزیز جو اموی خلفاء میں سے ہے،بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ علی (ع) پر لعن کررہا تھا اس وقت وہاں سے ان کے استاد جو ایک مؤمن اور صالح انسان تھا کا گزر ہوا ۔ وہاں سے توخاموش نکل گئے،لیکن جب مدرسہ کا وقت ہوااور عمر آیا تو استاد نماز میں مشغول ہوا ۔ نماز کو طول دینا شروع کیا ، عمر سمجھ گیا کہ نماز تو صرف بہانہ ہے۔
عمر نے پوچھا :حضرت استاد کیا میں ناراضگی کی علت دریافت کر سکتا ہوں؟
تو استاد نے کہا : بیٹا کیا آج تم نے علی پر لعن کی؟
کہا: ہاں ۔
کب سے تمہیں معلوم ہوا کی اہل بدر پر خدا غضبناک ہوا ہے؟ جبکہ ان پر خدا راضی ہے۔کیا علی اہل بدر میں سے نہیں تھے؟
کہا: کیا بدر اور اہل بدر کیلئے ان کے صالح اعمال کے سوا کوئی اور چیزباعث افتخار ہے؟
عمر نے کہا: میں آپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد زندگی بھر ان پر لعن نہیں کرونگا۔ کئی سال اسی طرح گزرگئے۔ ایک دن ان کے والد جو حاکم مدینہ تھا نماز جمعہ کا خطبہ فصیح وبلیغ انداز میں دیتا تھا۔ لیکن جب علی پر لعن کرنے کا وقت آتا تھا تو اس کی زبان میں لکنت پیدا ہوجاتی جس سے عمر کو بہت تعجب ہوا۔
کہا بابا جان میں نہیں جانتا کہ کیوں کر آپ کی فصاحت وبلاغت ادھر آکر ماند پڑ جاتی ہے اور زبان بند ہوجاتی ہے؟!
کہا میرے بیٹے؛ اس پر تو متوجہ ہوا؟!
بیٹے نے کہا:جی ہاں۔
باپ نے کہا: میرے بیٹے صرف تمہیں اتنا بتادوں کہ اگر اس مرد الہی (علی (ع)) کے فضائل میں سے جتنا میں جانتا ہوں ان لوگوں کو پتہ چل جاتے تو یہ سب ان کی اولادوں کے گرویدہ ہوجاتے اور ہمارے پیچھے کوئی نہیں آتے۔
جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ سنا تو اپنے استاد کی نصیحت پربھی یقین ہوگیا۔اس وقت اس نے یہ عہد کرلیا کہ اگر کبھی برسر اقتدار آئے تو ضرور اس نازیبا عمل کو روک دوں گا۔
اور جب ٩٩ھ میں یہ برسر اقتدار آیا تو سب سے پہلا کام یہی کیا کہ علی پر لعن وشتم کو ممنوع قرار دیا ۔ اس لعن کے بدلے انّ اللہ یأمر بالعدل والاحسان کی تلاوت کرنے کا حکم دیا۔
بچوں کو تعلیم دینے کا ثواب
پیامبر اسلام (ص) نے فرمایا: جب استاد بچے کو تعلیم دیتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھواتا ہے تو اس وقت خدا وند اس بچے اور اس کے والدین اور معلّم کو آتش جہنم سے رہائی کا پروانہ عطا کرتا ہے-(۱)
امام صادق(ع) نے رسولخدا (ص)کے روایت کی ہے: ایک دن حضرت عیسیٰ A ایک قبر کے قریب سے گزرے اس صاحب قبر پر عذاب ہورہا تھا دوسرے سال جب وہاں سے گذرے تو عذاب ٹل چکا تھا۔ سوال کیا پروردگارا کیا
ماجراہے؟وحی آئی اس کے بیٹے نے ایک راستے کی مرمت کی اور ایک یتیم کو پناہ دی، اس نیک عمل کی وجہ سے اسے عذاب سے نجات دی۔
علم دین سکھانے پرثواب
عبد الرحمن سلمی نے امام حسین (ع) کے بیٹے کو سورۂ حمد یاد کرایا تو امام نے معلم کی قدر دانی کرتے ہوئے کچھ پیسے اور کپڑے دئے اور اس معلم کے منہ کو جواہر سے بھر دیا ۔ تو وہاں پر موجود لوگوں نے تعجب کیساتھ کہا: اتنا زیادہ انعام؟!تو امام (ع) نے فرمایا : کہاں یہ مالی انعام اس معلم کی عطا کے برابر ہوسکتا ہے؟(۲)
والدین سے زیادہ استاد کا حق
سکندر اپنے استاد کا بہت زیادہ احترام کرتا تھا ، جب اس سے وجہ پوچھی گءی تو کہا: کیونکہ میرے باپ نے مجھے عالم ملکوت سے زمین پر لایا اور استاد نے زمین سے اٹھا
کرآسمان پر لے گیا-(۳)
امام سجاد(ع) فرماتے ہیں : تیرے استاد کا تجھ پر یہ حق ہے کہ تو اسے بزرگ سمجھے اور مجالس میں اس کا احترام کرے۔ اس کی باتیں غور سے سنے اور ان پر توجہ دے۔ اپنی آواز اس سے بلند نہ کرے اور اگر کوئی شخص اس سے کچھ پوچھے تو تو جواب نہ دے اور لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے دے اس کے پاس کسی کی غیبت نہ کرے اور جب کوئی تیرے سامنے اس کی برائی کرے توتواس کا دفاع کرے ، تو اس کے عیوب پر پردہ ڈالے اور اس کی اچھائیاں ظاہر کرے۔ اس کے دشمنوں کے ساتھ مل کر نہ بیٹھے اور اس کے دوستوں سے دشمنی کا آغاز نہ کرے۔ اگر تو اس طرح کرے گا تو خدا تعالی کے فرشتے گواہی دینگے کہ تو نے اس جانب توجہ دی ہے اور تو نے علم لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کیلئے نہیں بلکہ خدا کیلئے حاصل کیا ہے۔اور شاگردوں کا حق تجھ پر یہ ہے کہ تو یہ جان لے کہ خدا تعالی نے تجھے جو علم بخشا ہے اور اس کی جو راہیں تجھ پر کھولی ہیں اس کے سلسلے میں تجھے ان کا سرپرست قرار دیا ہے ۔لہذا اگر تو انھیں اچھی طرح پڑھائے اور نہ انہیں ڈرائے اور نہ ہی ان پر غضبناک ہو تو خدا تعالی اپنے فضل سے تیرا علم بڑھائے گا اور اگر تو لوگوں کو اپنے علم سے دور رکھے اور جب وہ تجھ سے اس کی خواہش کریں تو انھیں ڈرائے اور ان پر غضبناک ہو تو عین مناسب ہوگا کہ خدا تعالی تجھ سے علم کی روشنی چھین لے اور لوگوں کے دلوں میں تیری حیثیت گھٹادے(۴)
والدین کی ظلم ستانی اور فراری بچّے
یہ ایک ستم رسیدہ بچی کا خط ہے جو اپنے باپ کے ظلم وستم سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے فرارہونے سے پہلے لکھا ہے:
بابا یہ اولین اور آخرین خط ہے جسے غور سے پڑھ لو شاید آپ کا ضمیر جو مردہ ہوچکاہے بیدا ر ہوجائے اور سمجھے کہ کس قدر تو خود خواہ اور پست فطرت انسان ہو!بابا میں تجھ سے متنفر ہوں دوبارہ تیرے منحوس چہرے کو نہیں دیکھوں گی،تو اس قابل نہیں کہ تجھے باپ کہہ کر پکاروں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ تو باپ ہونے کیلئے کبھی خلق نہیں ہوا۔تو ایک پلید اور کثیف بلا ہو۔ تو نے مجھے بچپن سے لیکر اب تک ساری چیزوں سے محروم رکھا ، میری پیاری ماں کو طلاق دیکر خوشی اور نشاط کا دروازہ مجھ پر بند کردیا۔جبکہ میرے لئے میری ماں کے علاوہ کوئی نہ تھا ۔ ایک بیٹی کیلئے ماں سے بڑھ کر اور کون دل سوز ہوسکتا ہے؟ میں کبھی بھی اس دن کو فراموش نہیں کروں گی جس دن تو نے میری ماں کو طلاق دی اور انہوں نے مجھے آخرین بار اپنے آغوش میں لے کرگرم آنسؤں سے میرے چہرے کو تر کرکے چلی گئی ۔ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں چلی گئی وہ زندہ ہے یا مردہ؟
لیکن اس دن جب تو نے مجھے آواز دی بیٹی میں تیرے لئے خوش خبری لایا ہوں ، کہ میری ماں مر گئی ہے ۔یہ کہہ کر قہقہہ لگانا شروع کیا ۔ اس دن ماں سے ملنے کی امید بالکل ختم ہوگئی ۔ اور جب میں اپنی ماں کی جدائی میں رونے لگی تو تو نے ٹھوکر مجھے ماری اور میں بیہوش ہوگئی اور میں نہ جان سکی کہ میں کہاں کھڑی ہوں؟!بابا کیا مجھے ماں کی جدائی میں رونے کا بھی حق نہ تھا؟ ارے بابا اب میں وہ نو سالہ نہیں رہی اب میں تیرے اس وحشی رویّے کو برداشت اور تحمل نہیں کرسکتی ۔ یہ رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے ہیں۔ جب کہ تو اور تیری بیوی فلم ہال سے واپس گھر نہیں پہنچے ہیں ۔ کل صبح میں اس جہنم سے ہمیشہ کیلئے نکل جاؤں گی۔ اور دنیا والوں کو بتادوں گی کہ ایسے ظالم ،بے رحم اور سنگدل باپ بھی دنیا میں
موجود ہیں ۔ مگر لوگوں کو یقین نہیں آئے گا-(۵)
____________________
۱ ۔ جامع احادیث شیعہ،ج١٥، ص٩۔
۲ ۔ مستدرک الوسائل،ج١، ص٢٩٠
۳. کشکول شیخ بہائی، ص٢٧۔
۴ ۔ مکارم الاخلاق،ص٤٨٤.
۵ ۔ الگوئی تربیت کودکان و نوجوانان،ص٢٤٨۔
اولاد صالح خدا کی بہترین نعمت
حسن بن سعید کہتاہے کہ خدا نے ہمارے دوستوں میں سے ایک دوست کو بیٹی عطا کی تو وہ بہت افسردہ حالت میں امامصادق (ع) کی خدمت میں آیا۔ امام (ع) نے فرمایا:کیوں مغموم ہو؟اگر خدا تعالی تجھ پر وحی نازل کرے اور کہے کہ تمہارے بارے میں میں فیصلہ کروں یا تم فیصلہ کروگے؟ تو تم کیا جواب دوگے؟اس نے عرض کیا: میں کہوں گا بار خدایا! جو تو انتخاب کرے وہی میرے لئے ٹھیک ہے۔امام نے قرآن کی اس آیہ کی تلاوت فرمائی جس میں حضرت خضر A کی داستان ذکر ہوئی ہے، کہ حضرت خضر (ع) نے ایک لڑکے کو پکڑ کر مارڈالا جس پر حضرت موسی (ع)کو سخت اعتراض کیا تھا،جس کی علت یوں بتائی :
( فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا ) –(۱) ۔
"تو میں نے چاہا کہ ان کا پروردگار انہیں اس کے بدلے ایسا فرزند دیدے جو پاکیزگی میں اس سے بہترہو اور صلئہ رحم میں بھی"
خدا تعالی نے اس بیٹے کے بدلے میں انہیں ایک بیٹی عطا کی جس کی نسل سے ٧۰ ستّر پیامبران الہی وجود میں آئے-(۲)
دوران جاہلیت میں بچیوں کی ولادت پر ماں باپ بہت مغموم ہوجاتے تھے۔ ایک دن امیر اسحاق بن محمد کو خبر ملی کہ ان کے ہاں بیٹی ہوئی ہے، تو ہو بہت مغموم ہوگیا اور کھانا پینا بھی چھوڑدیا۔ بہلول عاقل نے جب یہ خبر سنی تو کہا : اے امیر! کیا خدا نے سالم اور بے عیب ونقص بیٹی عطا کی اس لئے تم مغموم ہوگئے؟!کیا تیرا دل چاہتا تھا کہ مجھ جیسا ایک پاگل بچہ تجھے عطا ہو؟!
اسحاق بے اختیار اس حکیمانہ باتوں کو سن کر مسکرانے لگا اور خواب غفلت سے بیدار ہوا-(۳)
تحفہ بیٹی کو پہلے دے
رسولخدا (ص)نے فرمایا:جو بھی بازار جائے اور کوئی تحفہ اپنے گھر والوں کیلئے خریدے تو ایسا ہے کہ مستحق افراد میں صدقہ دیا ہو۔ اس تحفہ کو تقسیم کرتے وقت بیٹیوں کو بیٹوں پر مقدم رکھے۔کیونکہ جو بھی اپنی بیٹی کو خوش کرے تو ایسا ہے جیسے اولاد اسماعیل (ع) میں سے ایک غلام آزاد کیا ہو۔ اور اگر بچے کو خوش کیا تو خوف خدا میں گریہ کرنے کا ثواب ہے۔ اور جو بھی خوف خدا میں روئے وہ بہشتی ہے-(۴)
____________________
۱ ۔ الکہف،٨١.۲ ۔ سفینة البحار،ج١،ص١٠٨ ۳ ۔ مجموعہ قصص و حکایات بہلول عاقل .۴ ۔ آثار الصادقین،ج١٥،ص٣١٠۔
بچوں پر باپ کے حقوق
باپ تمام نعمتوں کا باعث
واما حق ابیک ، فتعلم انه اصلک ، وانک فرعه ؛ اونک لولاه ، لم تکن؛ فمهما رایت فی نفسک مما یعجبک فاعلم ان اباک اصل النعمة علیک فیه ، واحمدالله و اشکره علی قدر ذالک ولاقوة الا بالله -(۱)
اولاد پر باپ کا حق یہ ہےکہ جان لو وہ تمھارا اصل اور جڑ ہے اور تو اس کا فرع اورشاخ ۔ اگر وہ نہ ہوتا تو تو بھی نہ ہوتا ۔ اور خدا کی تچھ پر نعمتوں کا موجب وہ تھا ، اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرو۔اور کوئی بھی طاقت خدا کی طاقت سے زیادہ نہیں ہے ۔
اور یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہر انسان یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کا مہربان باپ نے اسے بہت ساری مشکلات اور سختیوں سے نجات دلائی ہے اور محفوظ رکھا ہے ، ہمارے بچپنے کازمانہ لیجئے کہ ہماری جسمانی طور پر پرورش کرنے کیلئے دن رات کوشش اور محنت کرتے ہیں اور اپنا سکون اور چین کھو دیتے ہیں۔ اسی لئے ہمیں چاہئے کہ خدا کی عبادت اور شکر گزاری کے بعد والدین کی شکر گزاری بھی ضرور کرنا چاہئے۔لیکن حدیث شریف کی روشنی میں پھر بھی کما حقہ ان کا شکر ادا نہیں کرسکتے:عَنْ حَنَانِ بْنِ سَدِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ع هَلْ يَجْزِي الْوَلَدُ وَالِدَهُ فَقَالَ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا فِي خَصْلَتَيْنِ أَنْ يَكُونَ الْوَالِدُ مَمْلُوكاً فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ أَوْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَيَقْضِيَهُ عَنْه -(۲) حنان بن سدیر نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ امام محمد باقر سے سوال کیا کہ کیا بیٹا اپنے باپ کا حق ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟! تو فرمایا : صرف دو صورتوں میں ممکن ہے : پہلا یہ کہ اگر باپ کسی کا غلام ہو اور اسے بیٹا خرید کر آزاد کردے ، یا اگر کسی کا باپ مقروض ہو اور بیٹا اس کا قرض ادا کرے ۔
باپ کا احترام واجب
قرآن مجید کی آیتوں کے علاوہ روایات اسلامی میں بھی ماں باپ کے حقوق اور احترام کا سختی سے حکم دیا گیا ہے، اور ساتھ ہی احترام کرنے کا ثواب اور اثر اور نہ کرنے کا عقاب اور اثر بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔ چنانچہ امام صادق سے منقول ہے :ان یوسف لما قدم علیه الشیخ یعقوب دخله عزالملک فلم ینزل الیه فهبط علیه جبرئیل فقال : یا یوسف ابسط راحتک فخرج منها نور ساطع فصار فی جوالسماء فقال یوسف : یا جبرائیل ما هذا النور الذی خرج من راحتی؟!! قال: نزعت النبوة من عقبک عقوبة لما لم تنزل الی الشیخ یعقوب فلا یکون من عقبک نبی -(۳) امام صادق (ع) سے مروی ہے کہ جب حضرت یعقوب مصر میں وارد ہوئے حضرت یوسف (ع) بھی بہت سارے لوگوں کے ساتھ ان کی استقبال کے لئے نکلے ۔ جب نزدیک ہوئے تو مقام و جلالت شہنشاہی سبب بنی کہ آپ سواری سے نیچے نہیں اترے ۔(اگرچہ نہ بعید نظر آتا ہے کہ خدا کا نبی ایسا کرے ! بہرحال روایت کے صحیح ہونے یا نہ ہونے بررسی کرنے کی ضرورت ہے) تو جبرئیل امین نے کہا : اے یوسف! ہاتھ کھولو۔اور جب یوسف نے اپنی مٹھی کھولی تو اس میں سے ایک نور آسمان کی طرف ساطع ہونے لگا۔ تو حضرت یوسف نے سوال کیا جبرئیل یہ کیا ہے؟! جبرئیل نے کہا : یہ نبوت کا نور تھا کہ تیری نسل سے خارج ہوگیا۔ اور یہ اس لئے تیری نسل سے خارج ہوگیا کہ تم اپنے باپ کے احترام میں سواری سے نیچے نہیں اترے۔اسی لئے سلسلہ نبوت آپ کے بھائی کے صلب سے جاری ہوا۔ پیامبر اسلام کے ایک قریبی رشتہ دار نے سوال کیا : میرے ماں باپ فوت ہوچکے ہیں اور ان کا میرے اوپر حق ہے کیسے اسے اتاروں؟ تو فرمایا: ان کے لئے نماز پڑھو، مغفرت طلب کرو، اور ان کی وصیت پر عمل کرو، اور ان کے دوستوں کا احترام کرو، اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک رکھو،اور فرمایا : ماں کا حق باپ کےحقوق کے دوبرابر ہے-(۴)
بچوں پر ماں کے حقوق
وحق امک ان تعلم انها حملتک حیث لا یحتمل احد احدا ، وطاعتک من ثمره قلبها ما لا یعطی احد احدا ، ووقتک بجمیع جوارحها ، ولم تبال انتجوع وتطعمک ، وتعطش وتسقیک ، وتعریٰ وتکسوک ، وتضحیٰ وتظلک ، وتهجر النوم لاجلک ، ووفقتک الحروا البرد لتکون لها ، فانک لا تطیق شکرها ال یعون الله وتوفیقه –(۵)
تیری ماں کا حق تجھ پر یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تجھے اٹھاتی رہی کہ کوئی بھی کسی کو اس طرح نہیں اٹھاتا۔ اور اپنےدل کا پھل کھلاتی رہی کہ آج تک کسی نے کسی کو نہیں کھلایا۔ اور وہ اپنی پوری طاقت اور پورے وجود کے ساتھ تمھاری حفاظت کرتی رہی۔ اور اپنی بھوک اور پیاس کی پروانہیں کی لیکن تجھے وہ سیر اور سیراب کرتی رہی۔ اور خود برہنہ رہی لیکن تجھے لباس کا بندوبست کرتی رہی ۔ اور خود کو دھوپ میں اورتجھے اپنی محبت کےسایہ میں رکھتی رہی،اور خود اپنی رات کی نیند اور آرام کی پروا نہیں لیکن تمھاری نیند اور آرام وسکون اور گرمی اور سردی سے محفوظ رکھتی رہی، تاکہ تو اس کا بن کے رہے، پس تو کسی بھی صورت میں اس کی شکرگزاری
نہیں کرسکتا مگر یہ کہ خدا تجھے اس کی توفیق دے۔
امام سجاد کے کلام میں باپ کے حقوق پر ماں کے حقوق کو مقدم کیا ہے ، شاید اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ بیٹے کی شخصیت سازی میں ماں کا زیادہ کردار ہوتا ہے۔ اور زیادہ زحمتیں اور مشقتیں برداشت کرتی ہیں۔اور یہ دین مبین اسلام کا طرہ امتیاز ہے وگرنہ دوسرے مکاتب فکر اور ادیان والے اتنی عظمت اور احترام کے قائل نہیں ہیں۔
عورت کو ماں کی حیثیت سے جو حقوق اسلام نے دئے ہیں وہ مغربی دنیا میں وجود نہیں رکھتے۔وہاں جب بچہ قانونی طور پر حد بلوغ کو پہنچتا ہے تو خاندان کو چھوڑ جاتا ہے۔ اور ماں باپ سے بالکل الگ زندگی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اور ایسا رویہ خاندانی ماحول کو بالکل بے مہر و محبت ماحول میں تبدیل کر دیتا ہے۔ کئی کئی سال گذرجاتے ہیں لیکن اولاد اپنے والدین کو دیکھنے اور ملنے بھی نہیں آتے ۔ اور حکومت بھی مجبور ہو جاتی ہے کہ ایسے والدین کو بوڑھوں کے گھر منتقل کریں۔
افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بیگانوں کی اندھی تقلید نے اسلامی معاشروں میں بھی یہ حالت وکیفیت پیدا کردی ہے۔ جہاں والدین خاندان کے چشم و چراغ ہیں وہاں آہستہ آہستہ انھیں خاندان سے دور اور الگ کرتے جارہے ہیں۔اور بوڑھوں کے گھر بھیجنا شروع کیا ہے۔
قرآن مجید نے اس غلط ثقافت پر مہر بطلان لگادی ہے ۔اور ماں باپ کے حقوق کے بارے میں سختی سے تاکید کی ہے ۔ یہاں تک کہ اپنی عبادت کا حکم دینے کیساتھ ساتھ ماں باپ پر احسان اور نیکی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی اللہ کی عبادت کے فورا بعد والدین کے حقوق کا خیال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان حقوق کو ہم چند عناوین میں بیان کریں گے۔
____________________
۱ ۔ حقوق اسلامی۔ ص۱۴۶۔
۲ ۔ بحار الانوار ، ج ۱۷، ص ۶۶۔
۳ ۔ حقوق اسلامی ص ۱۴۸۔
۴ ۔ ترجمہ رسالۃ الحقوق،ص۱۳۹۔
۵ ۔ ہمان ، ص ۱۳۱۔
حق احسان
متعدد آیات میں یکتا پرستی کی طرف دعوت کیساتھ ساتھ ماں باپ کیساتھ احسان کرنے کا بھی حکم آیا ہے:( وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ) –(۱) خدا کی عبادت کرو اور اس کیساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کیساتھ احسان کرو۔ دوسری جگہ فرمایا:( قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ) -(۲) کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے خبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا( وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ ) ۔ –(۳) اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبردار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا. اور احسان سے مراد کچھ محدود چیزیں نہیں بلکہ سب نیک اور شائستہ کام مراد ہے جو انسان کسی دوسرے کیلئے انجام دیتا ہے۔اولاد پر والدین کا بہت بڑا حق ہے خصوصاً ماں کا ۔ چنانچہ ایک جوان پیامبر اسلام (ص) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا :یا رسول اللہ (ص)میری ضعیفہ ماں ہے جو حرکت نہیں کرسکتی ۔ میں اسے اپنے دوش پر اٹھا کر ادھر ادھر لے جاتا ہوں ، اسے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہوں اور جو بھی میری ماں مجھ سے تقاضا کرے اسے پورا کرتا ہوں اسے خوش رکھتا ہوں ۔ کیا میں نے ان کی میرے لئے اٹھائی ہوئی زحمتوں کا ازالہ اور حق اداکیا یا نہیں؟
رسولخدا (ص) اس جوان کےحسن سلوک پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : آفرین ہو تجھ پر ، لیکن پھر بھی ماں کی زحمتوں کا ازالہ نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ تجھے نو ماہ بڑی مشقتوں کیساتھ پیٹ میں اٹھاتی رہی اور جب تو دنیا میں آیا تو اس کی پستانوں سے خوراک حاصل کرتے رہے۔ اور تجھے اپنی آغوش میں لیکرادھر ادھر پھراتی رہی ۔ اور ہمیشہ تیری مدد کرتی رہی اور ہر قسم کی اذیت و آزار سے تمھیں بچاتی رہی، اس کا دامن تیری آرام گاہ تھی اور وہ تیری رکھوالی۔ ماں دن رات اس شوق اور آرزو کیساتھ تیری پرورش کرتی رہی کہ تو بڑے اور قدرت مند ہو تاکہ تو اچھی زندگی گزارسکے، لیکن تو! اگرچہ ماں کی اس قدر خوش اسلوبی کیساتھ خدمت کرتے رہے ہو لیکن اس امید اور آرزو کے بغیر! اس لئے تو ماں کی زحمتوں کا ازالہ اور جبران نہیں کرسکتے –(۴)
امام صادق(ع) فرماتے ہیں: ایک شخص رسولخدا (ص)کی خدمت میں مشرف ہوا اور عرض کیا کہ میں ایک ایسا جوان ہوں جو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن میری ماں اس کام کی طرف ہرگز مائل نہیں۔
رسول اکرم(ص) نے فرمایا: واپس جا اور اپنی ماں کے پاس رہو ۔ اس خدا کی قسم جس نے ہمیں حق پر مبعوث فرمایا ہے ایک رات ماں کی خدمت کرنا خدا کی راہ میں ایک سال تک جہاد کرنے سے بہتر ہے-(۵)
اسلام ماں باپ سے نیکی کو فضیلت اور برتری کا معیار قرار دیتا ہے امام صادق A نقل کرتے ہیں : ایک دن رسول اکرم(ص) ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کی آپ کی رضاعی بہن وارد ہوئیں۔آنحضرت ۷ نے ان کی شایان شان عزت کی اور انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور ان کیلئے کپڑا بچھا دیا تاکہ اس پر بیٹھیں اور بعد میں ان سے گفتگو میں مشغول ہوگئے۔ کچھ دیر بعد وہ چلی گئیں اور تھوڑی ہی دیر بعد ان کا بھائی جو آنحضرت کا رضاعی بھائی تھا حاضر خدمت ہوا لیکن اب کے آنحضرت (ص)نے اس کیلئے ویسی تعظیم انجام نہ دی۔ حاضرین میں سے ایک نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اس فرق کی کیا وجہ تھی حالانکہ یہ شخص مرد ہے۔ آپ نے
فرمایا: اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لڑکی اپنے باپ اور ماں کا زیادہ احترام کرتی ہے۔(۶)
____________________
۱ ۔ نساء ۳۶۔
۲ ۔ انعام ۱۵۱۔
۳ ۔ بقرہ ۸۳ ۔
۴ ۔ الگوہای تربیت کودکان،ص٦٧
۵ ۔ جامع السعادات،ج٢،ص٢٦١ ۔
۶- ۔ جامع السعادات، ج٢،ص٢٦٠
دوسری فصل
میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں
شوہر کے حقوق اوربیوی کی ذمہ داریاں
میاں بیوی کے درمیان حسن ارتباط کی برقراری کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرے۔
امانت داری
اس سلسلے میں پیامبر اکرم۷نے فرمایا:فَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ وَ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ وَ مِنْ حَقِّكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ وَ لَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ فَإِذَا فَعَلْنَ ذَلِكَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَ لَا تَضْرِبُوهُن –(۱) ۔
لوگو! عورتوں پر تمھارے کچھ حقوق ہیں اور تمہارے اوپران کے کچھ حقوق ہیں ۔تمہارے حقوق یہ ہیں: وہ بیگانہ اور نامحرموں کیساتھ ناجائز تعلقات پیدا نہ کرے۔ اور جہاں تیری اطاعت ان پر واجب ہے اس سے سرپیچی نہ کرے۔تو اس کے بدلے میں انہیں ان کی شأن کے مطابق لباس ،نان ونفقہ اور دیگر اخراجات فراہم کرنا آپ کے ذمہ ہیں۔
غسل توبہ
امامصادق (ع)نے فرمایا: وہ عورت جو رات کو سو جائے جبکہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہو تو اس کی کوئی نما ز قبول نہیں ہوگی جب تک شوہر راضی نہ ہو۔اسی طرح جو بھی عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی نامحرم کے خاطر خوشبو لگائیں تو جب تک غسل جنابت نہیں کرتی ، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی(۲) اور ان کے جملہ حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شوہر کو ان پر نہ مارنے کا حق نہیں ہے۔ واضح ہے کہ مرد اور عورت دونوں ازدواجی زندگی میں مشترکہ حقوق کی ادائیگی کے ذمہ دار ہیں۔ مذکورہ حدیث میں بعض حقوق کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ خود کو یک طرفہ حقوق کا طلبگار اور بیوی کو مقروض سمجھ بیٹھیں،بلکہ دونوں کے حقوق متبادل اور متقابل ہیں۔ اور متقابل حقوق کے قائل ہونا ہی مہر و محبت بھری زندگی کیلئے مناسب مواقع فراہم کرتاہے۔
شوہر کی اطاعت باعث مغفرت
خداوند مہربان نے اطاعت گذار عورت کو نہ صرف دنیا میں پر سکون زندگی کی شکل میں اجر اور ثواب کا مستحق قرار دیابلکہ قیامت کے دن اس کے بدلے میں عورت کی مغفرت اور بخشش کا بھی بندوبست کیا ہے۔ :
قَالَ الصادق : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ص خَرَجَ فِي بَعْضِ حَوَائِجِهِ فَعَهِدَ إِلَى امْرَأَتِهِ عَهْداً أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا حَتَّى يَقْدَمَ وَ أَنَّ أَبَاهَا مَرِضَ فَبَعَثَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ص فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجِي خَرَجَ وَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَخْرُجَ مِنْ بَيْتِي حَتَّى يَقْدَمَ وَ إِنَّ أَبِي مَرِضَ أَ فَتَأْمُرُنِي أَنْ أَعُودَهُ فَقَالَ لَا اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ وَ أَطِيعِي زَوْجَكِ قَالَ فَمَاتَ فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي قَدْ مَاتَ أَ فَتَأْمُرُنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَا اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ وَ أَطِيعِي زَوْجَكِ قَالَ فَدُفِنَ الرَّجُلُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ ص إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى قَدْ غَفَرَ لَكِ وَ لِأَبِيكِ بِطَاعَتِكِ لِزَوْجِكِ –(۳)
چنانچہ امام صادق(ع) سے روایت ہے : ایک صحابی کسی کام سے سفر میں نکلتے وقت اپنی بیوی سے کہہ کر گیاکہ جب تک میں واپس نہ لوٹوں تو گھر سے باہر قدم نہ رکھنا ۔ اس فرمانبردار بیوی نے بھی اس کی اطاعت میں کوتاہی نہیں کی۔ اتّفاقاً انہی ایام میں اس عورت کا باپ بیمار ہوگیا، تو اس خاتون نے گھر میں سے کسی کو پیامبر(ص) کی خدمت میں بھیجا اگر اجازت ہو تو اپنے بیمار باپ کی عیادت کیلئے چلی جاؤں ، پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:اپنے گھر سے نہ نکلو اور اپنے شوہر کی اطاعت کرو۔ کچھ دن بعد اس کا باپ اس دار فانی سے چل بسے۔ اس خاتون نے پھر آپ سے باپ کی تشییع جنازے میں شرکت کی اجازت مانگی ،تو پھر فرمایا:نہیں گھر سے نہ نکلو اپنے شوہر کی اطاعت کرو۔اور جب اس کا باپ دفن ہوا تو خود پیامبر(ص)نے اس مؤمنہ کی طرف پیغام بہیجا: خدا نے تمھاری اس اطاعت کے بدلے میں تمہیں اور تیرے باپ دونوں کو بخش دیا ہے۔
آرام و سکون فراہم کرنا
رسول اسلام (ص) نے بیوی کیلئے چاردیواری کے اندر والا کام انتخاب کرتے ہوئے فرمایا:حقّ الرجل علی المرأة انارة السّراج واصلاح الطّعام وان تستقبله عند باب بیتها فترحّب و ان تقدّم الیه الطّست والمندیل وان لا تمنعه نفسها الاّ من علّة -(۴) شوہر کیلئے آرام و سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ گھریلوکاموں مثلا صفائی ، کھانا پکانا ، کپڑے اور برتن دھونا، اچھی غذا تیار کرنا،اور جب شوہر گھر میں داخل ہو تو سب سے پہلے تو اس کی استقبال کیلئے دروازے پر جانا اور خوش آمدید کہنا ۔۔۔۔آپ کی ذمہ داریوں میں سے ہیں جن کی رعایت کرنے سے دونوں کی زندگی پر لطف اور پائیدار ہوسکے گی۔ اور آپس میں پیار و محبت بڑھ جائے گی۔ اور آپس کی محبت کو قرآن نے خدا تعالی کا عظیم معجزہ کہا ہے:وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ –(۵) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ۔ آپ کی اس محبت آمیز رفتار سے شوہر پر بڑا اثر پڑیگا اور وہ کبھی بھی آپ کی یہ محبت آمیز باتیں اور ادائیں نہیں بھولے گا۔
____________________
۱ ۔ شیخ صدوق؛ الخصال ، ج۲،ص۴۸۷۔۲ ۔ وسائل الشیعہ،ج١٤،ص١١٣۔ ۳ ۔ مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۵۸۔۴ ۔ مستدرک الوسائل،ج١،ص٥٥١ ۔
۵ روم ۲۱۔
شوہر کی رضایت کا خیال رکھنا
رسول اللہ (ص)نے فرمایا:قَالَ ع أَيُّمَا امْرَأَةٍ آذَتْ زَوْجَهَا بِلِسَانِهَا لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهَا صَرْفاً وَ لَا عَدْلًا وَ لَا حَسَنَةً مِنْ عَمَلِهَا حَتَّى تُرْضِيَه (۱)
ہر وہ عورت جو زبان کے ذریعے اپنے شوہر کو اذیت و آزار پہنچاتی ہے تو خدا اس سے نہ کوئی صدقہ نہ کوئی حسنہ اور نہ کوئی کفارہ قبول کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کا شوہر راضی ہوجائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر شوہر راضی نہ ہوتو اس عورت کا صدقہ خیرات بھی قبول نہیں ہے۔
امام محمد باقر A نے اپنے جد گرامی امیرالمؤمنین (ع)سے نقل کیا ہے:آپ نے فرمایا : میں اور جناب فاطمہ(س) ایک دن آپ کے حضور۷ پہنچے تو دیکھا آپ سخت گریہ کررہے تھے،میں نے وجہ پوچھی، تو فرمایا: یا علی (ع) جس رات معراج پر گیا تو اپنی امت کی عورتوں پر مختلف قسم کے سخت عذاب کا مشاہدہ کیا جسے دیکھ کر سخت پریشان ہوں اور رو رہا ہوں۔پھر فرمایا:
وَ أَمَّا الْمُعَلَّقَةُ بِلِسَانِهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِي زَوْجَهَا وَ أَمَّا الْمُعَلَّقَةُ بِرِجْلَيْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا -(۲) دیکھا کہ عورتوں کے ایک گروہ کو زبانوں کیساتھ لٹکائی ہوئی ہیں جو اپنے شوہر کو زبان درازی کے ذریعے تنگ کیا کرتی تھیں ۔ دوسرے گروہ کو دیکھا کہ جن کو پیروں کیساتھ لٹکائی ہوئی تھیں، وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلتی تھیں۔
ایک اور روایت میں فرمایا :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا فَلَا نَفَقَةَ لَهَا حَتَّى تَرْجِعَ –(۳) اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اجاذت کے بغیر گھر سے نکلے تو واپس پلٹنے تک اس کا نان ونفقہ شوہر پر واجب نہیں ہے ۔ان روایات سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ خواتین اپنے شوہر کی اجازت اور رضایت کو ہر کام سے پہلے طلب کرے۔ اور شوہر کا حق ہے کہ اگر مصلحت جانتا ہو اجازت دیدے ورنہ نہ دے۔یہی وجہ ہے حضور نے فرمایا :سارے حقوق سے زیادہ شوہر کے حقوق اہم ہے۔ اور جس نے اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کیے تو اس نے خدا کی صحیح بندگی اور اطاعت نہیں کی-(۴)
پھر فرمایا :وَ لَوْ أَمَرْتُ أَحَداً أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا –(۵) غیر خدا کو اگر سجدہ کرناجائز ہوتا تو میں حکم دیتا کہ عورت اپنے شوہر کو سجدہ کریں۔
____________________
۱ ۔ وسائل الشیعہ،ج ۲۰، ص ۲۱۱۔ من لایحضرہ ج۴،ص ۱۳۔۲ ۔ وسائل الشیعہ ، ج۲۰، ص ۲۱۳۔۳ ۔ کافی،ج۵، ص۵۱۴۔
۴ ۔ کافی،ج٥،ص٥٠٨ ، مکارم اخلاق،ص٢١٥۔ ۵ ۔ مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۴۶۔
بدترین عورت
شارع اقدس نے اس عورت کو بدترین عورت قرار دیا ہے جو اپنے شوہر پر مسلط ہو، بغض و کینہ رکھتی ہو ،برے اعمال کی پروا نہیں کرتی ہو،شوہر کی غیر موجودگی میں بناؤ سنگار کرکے دوسروں کے سامنے آتی ہو، اور جب شوہر آتا ہے تو پردہ دار بن جا تی ہو اور شوہر کی بات نہیں مانتی ہو –(۱)
جنسی خواہشات پوری کرنا :
چونکہ مرد طبیعتاً تنوّع جنسی کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے تو عورت کو بھی چاہئے کہ جتنا ہوسکے مرد کی اس خواہش کو پوری کرے۔ اور یہ ان کا اہم ترین وظیفہ ہے۔ متعدد روایات اس بات کی طرف ہمیں توجّہ دلاتی ہیں ۔ رسول اللہ ۷نے فرمایا:
الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ الطَّبْرِسِيُّ فِي مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَنَامَ حَتَّى تَعْرِضَ نَفْسَهَا عَلَى زَوْجِهَا تَخْلَعَ ثِيَابَهَا وَ تَدْخُلَ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ فَتُلْزِقَ جِلْدَهَا بِجِلْدِهِ فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ فَقَدْ عَرَضَتْ –(۲)
یعنی عورت کو چاہئے کہ جب وہ سونے لگے تو اپنے شوہر کے ساتھ لباس اتار کر سوئے،اور اپنے جسم کو شوہر کے جسم سے مس کرکے سوئے ۔امام باقر (ع)نے فرمایا :جائت امرأة الی رسول الله(ص) فقالت یا رسول الله (ص)ما حقّ الزّوج علی المرأة ؟ فقال لها: ولا تمنعه نفسها وان کانت علی ظهر قتبٍ -(۳) ایک عورت رسولخدا (ص) کی خدمت میں آئی اور عرض کی شوہر کے متعلق ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟ تو رسولخدا (ص)نے جواب دیا کہ خود کو ان کیلئے ہمیشہ تیّا ر رکھیں خواہ سواری پر بھی کیوں نہ ہو۔یہ وہ دستورات ہیں جن پرعمل پیراہونا مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے
____________________
۱ ۔ نقش دین در خانوادہ، ج۱، ص۳۵۵۔
۲ ۔ وسائل الشیعہ،ج ۲۰، ص۱۷۶
۳ ۔ بحار الانوار،ج١٠٣،ص٢٤٨
بہترین عورت
اسلامی نقطۂ نگاہ سے بہترین عورت وہ ہے جو سب سے زیادہ شوہر کی اطاعت کرے اور اس سے عشق و محبت اور آمادگی کا اظہار کرے۔ لیکن اس کے مقابلے میں وہ عورت جو اپنے شوہر کی جنسی خواہشات کو پوری کرنے سے انکار کرے تو اسے بدترین عورت سمجھا گیا ہے۔ اسی لئے رسولخدا (ص)نے فرمایا:خیر نسائکم العفیفة و الغلیمة ۔ بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کی نسبت زیادہ شہوت پرست ہو لیکن نامحرموں کی نسبت عفیف اور پاکدامن-(۱)
عن أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع خَيْرُ النِّسَاءِ مَنِ الَّتِي إِذَا دَخَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا فَخَلَعَتِ الدِّرْعَ خَلَعَتْ مَعَهُ الْحَيَاءَ وَ إِذَا لَبِسَتِ الدِّرْعَ لَبِسْتَ مَعَهُ الْحَيَاءَ –(۲) ا مامباقر (ع) نے فرمایا :بہترین اور شائستہ ترین عورت وہ ہے جو خلوت میں شوہر کیساتھ ملتی ہے تو لباس کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کو بھی دور پھینکے ہو اور پوری محبت اور پیارکیساتھ اپنے شوہر کی جنسی خواہشات کو پورا کرے اور جب لباس پہن لے تو شرم و حیا کا لباس بھی زیب تن کرے۔اور اپنے شوہر کے سامنے جرأت اور جسارت سے باز آئے۔امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص)نے فرمایا:قَالَ الْمَرْأَةُ يَدْعُوهَا زَوْجُهَا لِبَعْضِ الْحَاجَةِ فَلَا تَزَالُ تُسَوِّفُهُ حَتَّى يَنْعُسَ زَوْجُهَا فَيَنَامَ فَتِلْكَ لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَ زَوْجُهَا -(۳) ۔
یعنی وہ عورت جسے اس کا شوہر جنسی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے کہے اوروہ بہانہ بناتی رہے ۔ یہاں تک کہ اس کا شوہر سو جائے تو صبح جاگنے تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔
خوشیاں لانے والی
رسولخدا (ص)نے اس عورت کو بہترین اور شائستہ ترین عورت قرار دیا ہے جسے دیکھ کر اس کا شوہر خوش ہوجائے۔ پس مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کیا کرو، جو زندگی میں محبت کے پھول اگانے کا سبب بنتا ہے۔اور پھول کو دیکھ کر ہر کوئی خوش ہوتا ہےٍ:عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ فِي رِسَالَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع إِلَى الْحَسَنِ فَإ ِنَّ الْمَرْأَةَ رَيْحَانَةٌ امام صادق فرماتے ہیں کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا: عورت پھول کی مانند ہے –(۴)
اسے چاہئے کہ ہمیشہ پھول کی طرح کھلتی رہے۔ اور خاندانی گلستان میں خوشیوں کا باعث بنے۔ دینی اور دنیوی کاموں میں شوہر کا معا ون بنے۔
امام صادق (ع)نے فرمایا:ثلاثة للمؤمن فیها راحة ٠٠٠وامرأة صالحه تعینه علی امرالدنیا والأخرة -(۵) یعنی تین چیزوں میں مؤمن کیلئے سکون اور راحت ہے ان میں سے ایک وہ شائستہ عورت ہے جو اس کے دینی اور دنیوی امور میں مددگار ثابت ہو کیونکہ عورت اگر چاہے تومرد کیلئے دینی اور دنیوی امور میں بہترین شوق دلانے والی بن سکتی ہے ۔یہاں تک کہ مستحبات کی انجام دہی اور مکروہات کے ترک کرنے میں ۔چنانچہ روایت ہے: حضرت زہرا (س)کی شادی کے بعد پیامبر (ص)نے علی سے پوچھا : یا علی؛ فاطمہ کو کیسا پایا؟ تو جواب دیا:نعم العون علی طاعة الله ۔ یعنی فاطمہ(س) کو خدا کی فرمان برداری میں بہترین مددگار پایا-(۶)
اور جب بیوی ایسی ہو تو اولاد بھی حسنین اور زینب و کلثوم جیسی ہوتی ہیں۔ہم اور آپ علی (ع) اور فاطمہ(س) جیسے تو نہیں بن سکتے لیکن ان کی پیروی کرنے کی کوشش کرکے معاشرے کو اچھی اور صالح او لاد تو دے سکتے ہیں۔اس عظیم مقصد کیلئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اصول وفروع دین کی تعلیم دیں ۔ اور مذہبی عبادات ورسوم جیسے نماز ، روزہ ، انفاق، تلاوت ، نماز جماعت اور مذہبی مراسم ،جلسے جلوس میں شرکت کرنے پر تأکید کیا کریں۔
امانت داری
یہ بھی عورتوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال ودولت اور اسرار کی امین ہوں۔ پیامبر اسلام (ص)نے(رح)فرمایا: خدا تعالی فرماتا ہے کہ جب بھی کسی مسلمان کو دنیا اور آخرت کی خوبیاں عطا کرنا چاہتا ہوں تو اسے چار چیزیں عطا کرتا ہوں:
۱. ایسی زبان جو ذکر الہی میں مصروف رہتی ہو۔
۲. قلب خاشع جو ہمیشہ متوجہ ہو.
۳. صبور بدن جو مصیبت کے موقع پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرے۔
۴. با ایمان بیوی۔ کہ فرمایا:زوجة مؤمنة تسرّه اذا نظر الیها و تحفظه اذا غاب عنها فی نفسها و ماله ۔اور ایسی با ایمان اور با عفت بیوی جسے دیکھ کر شوہر خوش ہو اور جب وہ کہیں چلاجائے تو اس کی مال و دولت کی حفاظت کرے-(۷)
اسی طرح خاندانی خامیوں پر بھی امانت کے طور پر پردہ ڈالے۔ ایسی خاتون کبھی بیجا اور بے مورد اور فضول خرچ نہیں کرتی۔ بلکہ وہ زندگی کے وسائل کو بڑی دقّت سے خرچ کرتی ہے۔کھانا پکانے اور کھلانے میں بھی اسراف اور تبذیر سے پرہیزکرتی ہے۔ایک امانت دار خاتون کی کہانی ہے جس نے امانت داری کی مثال قائم کی : اصمعی نامی شخص کہتا ہے کہ میں نے بیابان میں ایک خیمہ دیکھاجس سے ایک بہت ہی خوبصورت خاتون نکلی گویا وہ چاند کا ایک ٹکڑا تھا، مہمانی کا رسم ادا کرتے ہوئے مجھے خوش آمدید کہا، میں گھوڑے سے اترا اور ایک گلاس پانی مانگا تو مجھ سے کہا: میں اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر پانی پلانے سے معذور ہوں۔ان کی اجازت کے بغیر ان کی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاتی ہوں،اور اس سے اجازت بھی نہیں مانگی ہے کہ مہمان کیلئے مہمان نوازی کروں۔ہاں اپنے لئے بقدر ضرورت پینے کی اجازت مانگی تھی کہ میں خود پیاسی تھی تو اپنا حصہ پی چکی ہوں۔اور ابھی میں پیاسی نہیں ہوں ورنہ اپنا حصّہ تمہیں ضرور پلاتی۔ہاں دودھ کا شربت ہے جو میری غذا ہے وہ تمہیں دوں گی۔ یہ کہہ کر دودھ والی برتن میرے سامنے رکھ دیا۔
اصمعی کہتا ہے کہ میں اس خاتون کی عقل مند، شیرین ، اور مدلل باتوں کو سن کر حیران رہ گیا۔ اسی دوران ایک عربی سیاہ چہرہ والا وہاں پہنچا اور مجھے خوش آمدید کہا۔ یہ عورت اس کی طرف دوڑی اور اس کی پیشانی سے پسینہ پو نجھی ، اور اس طرح اپنے شوہر کی خدمات کرنے لگی کہ کوئی لونڈی بھی اپنے آقا کی یوں خدمت نہیں کرتی۔دوسرے دن جب میں وہاں سے نکلنے لگاتو میں نے اس عورت سے کہا: بڑی تعجب کی بات ہے کہ تیری جیسی حسین و جمیل عورت اپنے بد شکل شوہر جیسے کی خدمت گذاری کرے۔تو اس خاتون نے کہا: میں نے پیامبر اسلام (ص) کی ایک حدیث سنی ہے جس میں پیامبر(ص)نے فرمایا: ایمان کا دو حصّہ ہے جس میں سے ایک حصہ صبر ہے دوسرا حصہ شکر ہے، اور خدا نے مجھے خوبصورتی دی ہے اس پر میں شکر کرتی ہوں اور میرے شوہر جو بدشکل ہے جس پر میں صبر کرتی ہوں۔ یہاں تک کہ میرا ایمان سالم اور محفوظ رہے۔اصمعی کہتا ہے اس خاتون کی مدلل باتوں سے بہت متأثر ہوا اور عفّت اور پارسائی میں اس سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا-(۸)
قناعت پسندی
پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:المرأة الصّالحة احد الکاسبین ، یعنی نیک اور شائستہ بیوی بھی کمانے والوں میں سے ایک ہے۔یعنی عورتوں کے وضائف اور ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی خواہشات اور فرمائشات میں تعدیل پیدا کرنا ہے۔ یعنی جتنی شوہر کی آمدنی ہوگی اس سے زیادہ خرچ کرنے سے گریز کرے۔ اس بارے میں پیا مبر اسلام (ص)نے فرمایا: ایّما امرأة لم ترفق بزوجھا و حملتہ علی مالا یقدر علیہ و مالا یطیق لم یقبل منھا حسنة و تلقی اللہ و ھو علیھا غضبان-(۹) یعنی اگر کوئی عورت اپنے شوہر کیساتھ محبت ا نہ کر ے اور زندگی کرنے میں شوہر پر ستم کرے ا ور اس سے بہت سخت کاموں کا مطا لبہ کرے اور اسے سختی میں ڈال دے اور اس کی زندگی اجیرن بنا د ے تو ایسی عورتیں اگرچہ نیک کام بھی انجام دیں تو خدا وند اس سے نیکیاں قبول نہیں کریگا۔ اور قیامت کے دن خدا تعالی اس سے ناراضگی کی حالت میں ملاقات کریگا۔ایک عقل مند اور با سلیقہ عورت خاندان کی خوش بختی کا باعث بنتی ہے ۔ حفاظت کرنے والے کی اہمیت کمانے والے سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ درآمد کی حفاظت،درآمد کی تلاش کی طرح ہے۔حضرت زہرا نے امیرالمؤمنین (ع)سے کہا: میرے بابا نے مجھ سے کہا: کبھی علی A سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرنا ۔ہاں اگر خود لے آئے تو کوئی بات نہیں-(۱۰)
بابرکت بیوی
امامصادق (ع)نے فرمایا:من برکة المرأة خفّة مؤنتها و تیسیر ولدها ۔-(۱۱) (بابرکت بیوی وہ ہے جو کم خرچ ہو اور بچہ آسانی سے جنم دیتی ہو۔ اس کے مقابلے میں اگر پُر خرچ ہو اور بچہ سختی سے جنم دیتی ہو تو یہ اس کا شوم ہوگا۔پس خواتین کو چاہئے کہ جس قدر ممکن ہو سکے زیادہ با برکت بننے کی کوشش کرنا چاہئے۔البتہ بیجا تنگ نظری اور احمقانہ کم خرچی آبرو ریزی اور بے عزتی اور بیماری کا موجب بنتی ہے۔ گویا تنگ نظری اور قناعت میں فرق ہے۔ بات آمدنی اور خرچ کا تناسب ہے نہ کنجوسی کی ۔کنجوس شخص بخل کی وجہ سے خاندان والوں اور اپنے لئے بھی خرچ نہیں کرتا ۔ اور خود کو سختی میں ڈالتا ہے۔
____________________
۱ ۔ وسائل ،ج١٤،ص ١٥۔
۲ ۔ تہذیب الاحکام،ج۷،ص۳۹۹۔
۳ ۔ روضة المتقین،ج٨،ص٣٧٦۔ من لا یحضرہ،ج۳،ص۴۴۲۔
۴ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ،ج٣،ص٥٥٦۔کافی ج۵، ص۵۱۰۔
۵ ۔ کافی،ج٥،ص٣٢٨۔
۶ ۔ بحار، ج٤٣،ص١١٧۔
۷ ۔ کافی،ج ۵ ،ص ٣٢٧۔
۸ ۔ ریاحین الشریعہ،ج٤۔
۹ ۔ مکارم اخلاق،ص٢١٤۔
۱۰. بحار،ج٤٣،ص٣١۔
۱۱ ۔ وسائل، ج١٤،ص٧٨۔
بیوی کے حقوق اورشوہر کی ذمہ داریا ں
امام سجاد نے فرمایا:واما حق رعیتک بملک النکاح، فان تعلم ان الله جعلها سکناً و مستراحاً و انساً و وافقیة ، و کذالک کل واحد منکما یجب ان یحمدالله علی صاحبه ، ویعلم ان ذلک نعمة منه علیه ووجب ان یحسن صحبة نعمة الله ، ویکرمها، ویرفق بها، ان کان حقک علیها اغلظ وطاعتک بها الزم فیما احببت وکرهت مالم تکن معصیة ، فان لها حق الرحمة والمؤانسة، وموضع السکون الیها قضاء الذة التی لا بد من قضائها وذالک عظیم ولاقوة الا بالله (۱)
لیکن رعیت جو نکاح کے ذریعے تیرے اختیار میں آئی ہے جو تیری بیوی ہے، کا حق تجھ پر یہ ہے کہ جان لو خداتعالی نےاسےتمھارے لئے آرام و سکون کا سبب بنایا اور غمخوار اور محافظ بنایا اور اسی وجہ سے دونوں پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے کا شکر گذار بنیں ۔اور یہ بھی جان لے کہ یہ خدا کی طرف سے تمھارے لئےایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اور انسان پر لازم ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی نعمت کی حفاظت کرے اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ اور اس کا احترام کرے ، اگرچہ مرد کا حق بیوی پر زیادہ اور اس کی فرمانبرداری بھی واجب تر ہے، کہ شوہر کی رضایت کا ہر حالت میں خیال رکھے۔مگر یہ کہ شوہر اسے گناہ کی طرف وادار کرے، وہاں اس کی اطاعت واجب نہیں ہے۔ بلکہ وہاں اس کی مخالفت کرنی چاہئے ۔ اس لئے کہ بیوی رحم ، پیار ومحبت اور حق سکونت کا زیادہ سزاوارتر ہے، کہ ان کے وسیلے سے لذت اٹھانے پرمجبور ہو۔اور یہ خدا کا بہت بڑاحکم ہے۔
امانت الہی کی حفاظت
اسلامی روایات کے مطابق عورت خدا کی امانت ہے جسے مردوں کے ہاتھوں سپرد کیا گیا ہے اس کیساتھ معمولی بے توجہی اور خطا امانت الہی میں خیانت محسوب ہوگی۔لذا خدا کی امانت اورنعمت عظمی کی حفاظت میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرے تاکہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں مورد عذاب قرار نہ پائے رسول گرامی۷نے جب اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ(س) کو علی (ع) کے گھر بھیجا تو اپنے داماد علی ابن طالب(ع)کو نصیحت کی: یا علی! میری بیٹی تیرے ہاتھوں امانت ہے۔یہ بات تاریخ میں بھی ثبت ہے۔ اس کے علاوہ خود علی (ع) کے بیانات سے بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ جب آپ فاطمہ I کو دفن کررہے تھے تو رسولخدا (ص)کے ہاتھوں میں اس ستم دیدہ امانت کو تحویل دیتے ہوئے فریاد کررہے تھے:
فلقد استرجعت الودیعة و اخذت الرهینة امّا حزنی فسر -(۲) ۔
اے پیامبر اعظم۷! فاطمہ ؛ خدا اور رسول کی ا مانت تھی، جسے تو نے میرے حوالے کردئے تھے واپس لوٹا رہاہوں ، لیکن آج کے بعد ہمیشہ مغموم رہوں گا۔اور یہ آنکھیں کبھی نہیں سوئیں گی۔
رسولخدا (ص)نے فرمایا: ہر عورت اپنے شوہر کے برابر نفع اور نقصان کی مالک تو نہیں لیکن یہ بات جان لو کہ یہ لوگ اپنے شوہروں کے ہاتھوں خدا کی امانت ہیں اس لئے مرد حق نہیں رکھتا کہ انہیں کوئی ضرر یا نقصان پہنچائے اور ان کے حقوق کو پامال کرے(۳)
عورت کے حقوق اورخدا کی سفارش
جب رسولخدا (ص) سے عورت کے حقوق کے بارے میں سوال کیا گیا:فَمَا لِلنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَخْبَرَنِي أَخِي جَبْرَئِيلُ وَ لَمْ يَزَلْ يُوصِينِي بِالنِّسَاءِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ لَا يَحِلَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يَقُولَ لَهَا أُفٍّ يَا مُحَمَّدُ اتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ عَوَانٍ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ عَلَى أَمَانَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ –(۴) آپ ۷نے فرمایا: میرے بھائی جبرئیل A نے خدا کی طرف سے اس قدر عورتوں کے حقوق کے بارے میں سفارش کی کہ میں گمان کرنے لگا کہ ان کیلئے اف کہنا بھی جائز نہ ہو۔ اور مجھ سے کہا اے محمد خدا سے ڈرو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آو،کیونکہ عورتیں ہمارے حکم کی تابع ہیں اور امانت الہی کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے۔اور ان کی جان اور ناموس پر مسلط ہو ئے ہیں ۔ان کے حق میں نیکی کے علاوہ کوئی کام نہ کرو۔ پیامبر اسلام (ص)کا یہ فرمان خواتین عالم کے حقوق کی حمایت کا اعلان ہے۔ اور انہیں وای کہنے سے بھی منع کرناایسا کلام ہے جس کی مثال اور کسی انسانی معاشرے میں نہیں پایا جاتا۔ عفو در گذر بیوی کا حق:
اسحا ق بن عمار کہتا ہے کہ امام صادق کی خدمت میں عرض کیا کہ عورتوں کاحق مردوں کے ذمہ کیا ہے؟ تو فرمایا: اسے کھانا دو، لباس پہناؤ اور اگر کوئی خطا کا مرتکب ہوجائے تو اسے معاف کرو(۵)
بداخلاق بیوی اور صبور شوہر
حضرت ہود پیغمبر (ع)کی بیوی بہت بداخلاق تھی آنحضرت کو بہت تنگ کرتی تھی پھر بھی آپ اس کیلئے دعائیں کردیتے تھے۔ وجہ پوچھی تو فرمایا: خدا تعالی کسی بھی مؤمن کو خلق نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کا کوئی نہ کوئی دشمن ضرور ہوتا ہے جواسے ہمیشہ اذیت اور آذار پہنچاتا رہتا ہے، اور میرا دشمن میری اپنی بیوی ہے۔ اور اپنا دشمن اپنے کنٹرول میں رہنا بہتر ہے اس سے کہ میں اس کے کنٹرول اور اختیار میں گرفتارہوجاؤں-(۶) رسول اللہ ۷نے فرمایا :أَلَا وَ مَنْ صَبَرَ عَلَى خُلُقِ امْرَأَةٍ سَيِّئَةِ الْخُلُقِ وَ احْتَسَبَ فِي ذَلِكَ الْأَجْرَ أَعْطَاهُ اللَّهُ ثَوَابَ الشَّاكِرِين -(۷)
یعنی جو بھی مرد اپنی بداخلاق بیوی کی بداخلاقی کو رضایت خدا کے خاطر تحمّل کرے تو اسے خدا وند شاکرین کا ثواب عنایت کرتا ہے۔ امام باقر سے منقول ہے:من احتمل من امرٍ¬أته ولو کلمة واحدة ، اعتق الله رقبته من النار، و اوجب الله له الجنة ، وکتب له ماتی الف حسنة ، ومحی عنه ماتی الف سیئة ، ورفع له ماتی الف درجة ، وکتب الله له بکل شعرة علی بدنه ، عبادة سنة -(۸)
کتاب مکارم الاخلاق سے نقل کیا ہے کہ امام باقر فرماتے ہیں کہ جو بھی اپنی بد اخلاق بیوی کی اذیت اور آزار کو برداشت کرے اور صبر کا مظاہرہ کرے تو قیامت کے دن اسے خداوند عالم جہنم کی آگ سے نجات دلائے گا اور بہشت اس پر واجب کردے گا۔ اور اس کے نامہ اعمال میں دولاکھ حسنہ لکھ دیگا اور دولاکھ برائی کو مٹادے گا۔ اور دولاکھ درجہ اس کا بلند کرے گا اور اس کے بدن پر موجود ہربال کے برابر ایک سا ل کی عبادت کا ثواب لکھ دے گا۔
یہ مرد جہنمی ہے
امام صادق(ع) نے فرمایا:حرّمت الجّنة علی الدیّوث -(۹) دیّوث پر بہشت حرام ہے۔ دیّوث اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی بیوی یا ناموس کا دوسروں کیساتھ آمیزش پر راضی ہو تاکہ اس طرح دولت جمع کرے۔ امام باقر (ع)نے فرمایا: کچھ اسیروں کو پیامبر(ص) کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو آپ نے سوائے ایک کے باقی سب کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس مرد نے کہا: کیوں صرف مجھے آزاد کیا؟آپ نے فرمایا:جبرئیل امین نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی ہے کہ تیرے اندر پانچ خصوصیات موجود ہیں جو خدا اور رسو ل کو پسند ہیں: تو غیر ت مند ہو ،سخا و ت مند ہو۔ خو ش خلا ق ہو، سچے ہواور شجاع ہو۔
جب اس شخص نے یہ فر ما ن سنا تو مسلما ن ہوا اور اسلا م کو پسند یدہ دین چن لیا اور حضور۷ کے ساتھ ساتھ جھاد کر تے ہو ئے بد ر جۂ شہا دت فا ئز ہو ئے ۔
دنیا و آخر ت کی خیر و خو بی چا ر چیز و ں میں
امام حسین (ع) نے اپنے بابا علی (ع)سے انہو ں نے رسو لخدا (ص)سےروایت کی ہے کہ آپ نے فر ما یا: جس شخص کو بھی اس دنیا میں چار چیز یں عطا ہو ئیں سمجھ لینا کہ دنیا اور آخر ت کی خیر و خو بی اسے عطا ہو ئی ہیں ۔
۱. قو یٰ اور پرہیز گاری جو اسے حرا م چیز وں سے بچائے ۔
۲. اچھا اخلا ق کہ اس کے سا تھ لو گو ں میں پرسکون اور باعزت زند گی گزارے ۔
۳. صبر اور برد بار ی کہ جس کے ذریعے لو گو ں کی نا دانی کو دور کرتا ہے۔
۴. نیک اور شائستہ بیوی جو اسے دین اور دنیا دونوں میں مددگار ثابت ہو۔
شوہر پر بیوی کے حقوق بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہے:
____________________
۱ ۔ حقوق اسلامی، ص۱۲۹۔
۲ ۔ نھج البلاغہ،خ١٩٣۔
۳ ۔ مستدرک الوسائل،ج٢،ص٥٥١۔
۴ ۔ مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۵۲۔
۵ ۔ وسائل الشیعہ۔ج١٥،ص٢٢٣۔
۶ ۔ سفینہ البحار، باب زوج۔
۷ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ،ج۴، ص۱۵۔
۸ ۔ حقوق اسلامی، ص۱۳۰۔
۹ ۔ ھمان۔
اچھے اخلا ق اور کر دار سے پیش آنا
اسلام نے زند گی کے تما م شعبو ں میں انسا ن کے ذمے کچھ حقو ق واجب کردیے ہیں ۔ جنہیں اسلام کے علا وہ کسی دین یا مذہب نے انہیں نہیں دیا۔ گذشتہ مذاہب میں عو رتوں کے سا تھ بہت برا سلوک ہو تا رہا ۔ جہا ں عو رت کو گذشتہ مذا ہب میں انسان نہیں سمجھتے تھے وہا ں اسلا م نے انکی عزت افزائی اور احتر م کو واجب قرار دیتے ہو ئے فر مایا:( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاء كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُواْ بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ) –(۱) اے ایمان والو تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جبرا عورتوں کے وارث بن جاؤ اور خبردار انہیں منع بھی نہ کرو کہ جو کچھ ان کو دے دیا ہے اس کا کچھ حصہّ لے لو مگر یہ کہ واضح طور پر بدکاری کریں اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرو اب اگر تم انہیں ناپسند بھی کرتے ہو تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور خدا اسی میں خیر کثیر قرار دے ۔
عن شهاب بن عبدریه قال : قلت لابیعبدالله ما حق المرئة علی زوجها؟ قال :یسدّ جوعها و یستر عورتها ولا یقبح لها وجهاً فاذا فعل ذالک فقد والله ادّی الیهاحقها -(۲)
شھاب بن عبدریہ سے روایت ہے کہ میں نے امامصادق (ع) سے جب پوچھا مردوں پر عورتوں کے کیا حقوق ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ان کی بھوک کو دور کرے لباس پہنائے اور بکھرے ہوئے چہرے کیساتھ پیش نہ آئے ، جب ایسا کیا تو خدا کی قسم اس کا حق ادا کیا۔ کہ یعنی روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ خوش روئی اور اخلاق سے پیش آنا بھی عورتوں کے حقوق میں سے ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محبت و مہربانی سے پیش آنا بھی ان کا حق ہے۔ ورنہ اذیت وآزار اور گالی گلوچ تو سب مسلمان پرحرام ہے۔ کہ رسول اللہ(ص)نے فرمایا: المسلم من سلم الناس من لسانہ و یدہ۔ یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔اور فرمایا:اوصانی جبرآئیل بالمرئة حتّی ظننت انّه لا ینبغی طلاقها -(۳) عورتوں کے حقوق کے بارے میں مجھے جبرائیل نے اس قدر تاکید کی کہ میں 'گمان کرنے لگا کہ طلاق دینا حرام ہے۔
حق سکو نت
قرآن نے ان کی رہا ئش کامسئلہ بھی حل کر تے ہو ئے فرمایا:أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى -(۴) اور ان مطلقات کو سکونت دو جیسی طاقت تم رکھتے ہو اور انہیں اذیت مت دو کہ اس طرح ان پر تنگی کرو اور اگر حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک انفاق کرو جب تک وضع حمل نہ ہوجائےپھر اگر وہ تمھارے بچوں کو دودھ پلائیں تو انھیں ان کی اجرت دو اور اسے آپس میں نیکی کے ساتھ طے کرو اور اگر آپس میں کشاکش ہوجائے تو دوسری عورت کو دودھ پلانے کا موقع دو۔
حق نفقہ
قرآن مجید اعراب جاہلیت کے بر خلاف کہ جو نہ صرف خواتین کو نان و نفقہ نہیں
دیتے تھے بلکہ بھوک اور پیاس کی خوف سے انھیں زندہ درگور کیا کرتے تھے، حکم دیتا ہے کہ عورت کو نان و نفقہ دیا کرو :الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (۵)
مرد عورتوں کے حاکم اور نگران ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انھوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے ۔ پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو ، انہیں خواب گاہ میں الگ کرو اور مارو اور پھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلند اور بزرگ ہے۔
نفقہ دینے کا ثواب
قال الصادق : قال رسول الله ما من عبد یکسب ثم ینفق علیٰ عیاله ، الا اعطاه الله بکل درهم ینفق علیٰ عیاله سبعمائة ضعف -(۶) رسول اللہ نے فرمایا : نہیں ہے کوئی مشقت برداشت کرکے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے والا مگر یہ کہ خدا وندمتعال ایک ایک درہم یا روپے کے بدلے میں اسے سات سوگنا زیادہ عطا کرتا ہے ۔
حق مہریہ
قرآن مجید حکم دیتا ہے و آتوا النساء صدقاتھنّ نحلة۔ کہ اپنی بیویوں کا مہریہ ہدیہ کے طور پر انھیں دیا کرو -۷
____________________
۱ ۔ سورہ نساء ۱۹۔۲ ۔ کافی،ج٥،ص٥١١۔۳ ۔ کافی۔ ۴ ۔ سورہ طلاق ۶ ۵ ۔ نساء ۳۴۔
۶ ۔ حقوق اسلامی، ص۱۳۱۔۷ ۔ نساء ۴۔
تیسری فصل
خاندان میں اخلاق کا کردار
یہ دین مقدّس اسلام کی خصوصیات میں سے ہے کہ خاندانی نظام پر زیادہ توجّہ دی جاتی ہے۔ آج باپ بیٹے کے درمیان اور میاں بیوی کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کرنے کیلئے شادی اور خاندان کا تشکیل دیناکس قدر مہم ہے،اس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اور یہ روابط اور تعلقات جس خاندان میں بھی اچھے ہوں وہ خاندان ہی پائیدار اور مستحکم نظر آتا ہے، اور خاندان ہر شخص کی کامیابی اور سعادت کیلئے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں سے ہی انسان کی کامیابی اور اندرونی استعداد وں کا پھلنا پھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان محبت اور دوستی پائی جائے تو معاشرے کیلئے مفید اور لائق فرزند دے سکتے ہیں۔ بلکہ سب سے زیادہ ماں باپ اس فرزند صالح اور با استعداد سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
شوہر کی خدمت کرنے کاثواب
اس بارے میں رسولخدا (ص)نے فرمایا: َقَالَ ع الِامْرَأَةُ الصَّالِحَةُ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ غَيْرِ صَالِحٍ وَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَدَمَتْ زَوْجَهَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ أَغْلَقَ اللَّهُ عَنْهَا سَبْعَةَ أَبْوَابِ النَّارِ وَ فَتَحَ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ تَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَتْ -(۱) امام نے فرمایا ایک اچھی عورت ہزار برے لوگوں سے بہتر ہے۔جب کوئی عورت اپنے شوہر کی سات دن خدمت کرے تو خدا تعالی جہنّم کے سات دروازے اس پر بند کردیتا ہے اور بہشت کے سارے دروازے کھول دیتا ہے کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہوسکتی ہے۔ مزید فرمایا: یہ خدمت بہترین عبادت ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح و صفائی ،گھریلو مشکلات پر صبر و تحمّل اور خاندان کی بھلائی ، میاں بیوی کے درمیان مہر ومحبّت اور اولاد کی صحیح تربیت جیسی ذمہ داری کا نبھانا بہت مشکل کام ہے۔ خواتین جنہیں اپنے سر لیتی ہیں تو خدا تعالی نے بھی انھیں کتنا عظیم اجر دیا کہ بہشت میں جوار فاطمہ زہرا (س) اس کی نصیب میں لکھ دیا۔اور جہنّم کو اس پر حرام قرار دیا۔
ایک برتن کا جابجا کرنے کا ثواب
امامصادق (ع)سے روایت ہے کہ رسولخدا (ص)نے فرمایا: ایّما امرأة رفعت من بیت زوجھا شیئا من موضع الی موضع ترید بہ صلاحاً نظراللہ الیھا و من نظراللہ الیہ لم یعذّبہ –(۲) جب بھی عورت اپنے شوہر کے گھر میں ایک چیز کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیتی ہے تاکہ گھرمیں نظم و ضبط اور سلیقہ پیدا ہو تو خداتعالی اسے نظر رحمت سے دیکھتا ہے اور جس پر نظر رحمت پڑے اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا(۳)
ایک گلاس پانی اور سال کی عبادت!
وَ قَالَ ع: مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَسْقِي زَوْجَهَا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَّا كَانَ خَيْراً لَهَا مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ صِيَامِ نَهَارِهَا وَ قِيَامِ لَيْلِهَا وَ يَبْنِي اللَّهُ لَهَا بِكُلِّ شَرْبَةٍ تَسْقِي زَوْجَهَا مَدِينَةً فِي الْجَنَّةِ وَ غَفَرَ لَهَا سِتِّينَ خَطِيئَةً –(۴)
امام صادق(ع) نے فرمایا : جو بھی عورت اپنے شوہر کو ایک گلاس پانی پلائے تو اس کا ثواب ایک سال کی عبادت (دن کو روزہ اور رات بھرنماز میں گزاری ہو)سے زیادہ ہے۔اس کے علاوہ خدا تعالی اسے بہشت میں ایک شہر عطا کریگا اور ساٹھ گناہوں کو معاف کریگا ۔رسول خدا (ص)نے فرمایا:طوبی لامرأةٍ رضی عنھا زوجھا-(۵) یعنی اس عورت کیلئے مبارک ہو جس پر اس کا شوہر راضی ہو۔کیونکہ شوہر کی رضایت اس کی عظمت اور مرتبہ میں اور اضافہ کرتی ہے۔
بہشت کے کس دروازے سے؟!
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَ صَامَتْ شَهْرَهَا وَ حَجَّتْ بَيْتَ رَبِّهَا وَ أَطَاعَتْ زَوْجَهَا وَ عَرَفَتْ حَقَّ عَلِيٍّ فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجِنَانِ شَاءَتْ –(۶) امام صادق(ع) کا فرمان ہے: ہر وہ عورت جو یومیہ نمازوں کو مرتّب پڑھتی ہو اور رمضان کا روزہ رکھتی ہو اورعلی ۷کی ولایت پر ایمان رکھتی ہواور اسے خلیفہ رسول ۷جانتی ہواور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرتی ہو، بہشت کے جس دروازے سے داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتی ہو۔
یہ حدیث بڑی تاکید کیساتھ عورت کو خاندانی مسائل ، بچوں کی تربیت اور شوہر کے حقوق کا پاس رکھنے کی ترغیب دلاتی ہے۔ اور اطاعت گذار بیوی کیلئے بہترین ثواب کا وعدہ کرتی ہے اور جو عورت اپنے شوہر کی ناراضگی کا سبب بیتی ہے اور خاندانی ذمہ داریوں کو نمٹنے میں سستی اور کوتاہی کرتی ہے اس کیلئے عذاب جہنّم ہے۔لہذا بہترین بیوی وہی ہے جو شوہر کی مطیع ہو،بچوں کی صحیح تربیت کرتی ہو اور خاندان میں خوشی کا باعث بنتی ہو۔
تین گروہ فاطمہ(س) کیساتھ محشور
عن الصادق:ثلاث من النساء یرفع الله عنهنّ عذاب القبرویکون حشرهنّ مع فاطمة بنت محمد: امرأة صبرت علی غیرزوجها و امرأة صبرت علی سوء خلق زوجها و امرأة وهبت صداقها یعطی الله کلّ واحدٍ منهنّ ثواب الف شهیدٍ و یکتب لکلّ واحدةٍ منهنّ عبادة سنةٍ (۷)
تین گروہ فشار قبر سے آزاد
قَالَ ع: ثَلَاثٌ مِنَ النِّسَاءِ يَرْفَعُ اللَّهُ عَنْهُنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ وَ يَكُونُ مَحْشَرُهُنَّ مَعَ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ص امْرَأَةٌ صَبَرَتْ عَلَى غَيْرَةِ زَوْجِهَا وَ امْرَأَةٌ صَبَرَتْ عَلَى سُوءِ خُلُقِ زَوْجِهَا وَ امْرَأَةٌ وَهَبَتْ صَدَاقَهَا لِزَوْجِهَا يُعْطِي اللَّهُ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ثَوَابَ أَلْفِ شَهِيدٍ وَ يَكْتُبُ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عِبَادَةَسَنَةٍ (۸)
امام صادق(ع) نے فرمایا: عورتوں کے تین گروہ کو عالم برزخ میں فشار اور عذاب قبر نہیں ہوگا ۔اور قیامت کے دن حضرت فاطمہ(س) کیساتھ محشور ہونگی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار شہید اور ایک سال کی عبادت کا ثواب عنایت کریگا:
* وہ عورت جس کا ایمان اس قدر قوی ہو کہ شوہر کی دوسری شادی سے اسے کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچے اور شوہر کیساتھ مہر و محبت میں کمی نہ آئے۔
* وہ عورت جو اپنے بداخلاق شوہر کی بداخلاقی پر صبر کرے اور اپنا وظیفہ پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔
* وہ عورت جو اپنا مہریہ اپنے شوہر کو بخش دے۔
اس حدیث میں عورتوں کے صبر و تحملّ اور بردباری کو بہت سراہا گیا ہے۔فاطمہ زہرا (س) کی ہم نشینی کے علاوہ عذاب قبر سے بھی رہائی ملی اور مجاہدین فی سبیل اللہ کا ثواب بھی انہیں عطا ہوا۔ان خدمت گذار خواتین کا اجر و ثواب کو مختلف صورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔
____________________
۱ ۔ وسائل الشیعہ،ج۲۰، ص۱۷۲۔
۲ ۔ ہمان،ج١٥،ص١٧٥۔
۳ ۔ الگوہای تربیت کودکان،ص٦٧۔
۴ ۔ وسائل الشیعہ ،ج ۲۰، ص١۷۲۔
۵ ۔ بحار ،ج ١٠٣،ص٢٤٦۔
۶ ۔ وسائل ،ج۲۰، ص۱۵۹۔
۷ ۔ وسائل الشیعہ،ج ١٥،ص٣٧۔
۸ ۔ وسائل الشیعہ،ج۲۱، ص۲۸۵
شوہر کی رضایت بہترین شفاعت
امام باقر نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :لَا شَفِيعَ لِلْمَرْأَةِ أَنْجَحُ عِنْدَ رَبِّهَا مِنْ رِضَا زَوْجِهَا الْحَدِيثَ (۱)
عورت کیلئے شوہر کی رضایت سے بڑھ کر کوئی شفاعت نہیں۔ پس وہ خواتین خوش قسمت ہیں جو اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے شوہرسے عشق و محبت کرتی ہیں اور ان کی رضایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
امام باقر (ع) روایت کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین (ع)نے فاطمہ زہرا (س) کی شہادت کے بعد جنازے کیساتھ کھڑے ہوکر فرمایا :اللهم انّی راضٍ عن ابنة نبیّک اللهم انّها قد اوحشت فآنسها -(۳) ۔ یا اللہ: یہ تیرے نبی کی بیٹی فاطمہ ہے میں ان پر اپنی رضایت کا اعلان کرتا ہوں اے میرے اللہ تو اسے وحشت قبرکے عذاب سے محفوظ فرما۔ اے اللہ ! ان پر لوگوں نے ظلم کئے ہیں تو خود فاطمہ(س) اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کر۔
ان تمام مطالب سے جو درس ملتا ہے وہ یہ ہے کی خواتین کیلئے شوہر کی رضایت اور شفاعت بلندی درجات کا باعث ہے۔ جہاں فاطمہ(س) خود شفیعہ محشر ہونے کے باوجود اپنے شوہر کی رضایت طلب کررہی ہے تو وہاں ہماری ماں بہنوں کو بھی چاہئیے کہ اپنے اپنے شوہر کی رضایت کو ملحوظ نظر رکھیں تاکہ عاقبت بخیر ہو۔
ثواب میں مردوں کے برابر
اسلامی معاشرے میں خواتین کو بڑا مقام حاصل ہے،جن کی روایتوں میں بہت ہی توصیف کی گئی ہے اور ثواب میں بھی مردوں کے برابر کے شریک ہیں۔
فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ص ذَهَبَ الرِّجَالُ بِكُلِّ خَيْرٍ فَأَيُّ شَيْءٍ لِلنِّسَاءِ الْمَسَاكِينِ فَقَالَ ع بَلَى إِذَا حَمَلَتِ الْمَرْأَةُ كَانَتْ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْمُجَاهِدِ بِنَفْسِهِ وَ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا وَضَعَتْ كَانَ لَهَا مِنَ الْأَجْرِ مَا لَا يَدْرِي أَحَدٌ مَا هُوَ لِعِظَمِهِ فَإِذَا أَرْضَعَتْ كَانَ لَهَا بِكُلِّ مَصَّةٍ كَعِدْلِ عِتْقِ مُحَرَّرٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ رَضَاعِهِ ضَرَبَ مَلَكٌ كَرِيمٌ عَلَى جَنْبِهَا وَ قَالَ اسْتَأْنِفِي الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكِ –(۴) ۔
ام المؤمنین حضرت امّ سلمہ(رض) نے ایک دن رسولخدا (ص)سے عرض کیا؛ یا رسول اللہ(ص)! مرد حضرات تمام نیکیاں بجا لاتے ہیں اور سارا ثواب کماتے ہیں لیکن ہم بیچاری عورتوں کیلئے بھی کوئی ثواب ہے؟ تو فرمایا:ہاں جب عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو اس کیلئے دن کو روزہ رکھنے اور رات کو عبادتوں میں گذارنے کا ثواب اور اپنی جان و مال کیساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے والے مجاھد کا ثواب دیا جائے گا۔ اور جب بچّہ جنم دیگی تو اسے اتنا ثواب عطا کریگا کہ کوئی بھی شمار کرنے والا شمار نہیں کرسکتا۔اور جب اپنے بچّے کو دودھ پلانے لگے گی تو بچّے کے ایک ایک گھونٹ لینے کے بدلے اولاد بنی اسرائیل میں سے ایک غلام ،خدا کی راہ میں آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔اور جب دو سال پورے ہوجائیں اور دودھ پلاناچھوڑدے تو ایک فرشتہ آتا ہے اور اس عورت کے شانوںپر آفرین کہتے ہوئے تھپکی مارتا ہے اور خوش خبری دیتا ہے کہ اے کنیز خدا :تیرے سارے گناہ معاف ہوچکے اب اچھے اور شائستہ عمل اور کردار کے ساتھ تو نئی زندگی شروع کر۔
فاطمہ(س) خواتین عالم کیلئے نمونہ
بغیر کسی تردید کے دیندار خواتین چاہتی ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو اسلامی قوانین کے مطابق ادا کریں اور چونکہ حضرت زہرا (س) ان کیلئے ایک بہترین نمونہ عمل ہے، اس لئے آپ کی سیرت اور کردار کو ان کیلئے بیان کرنا ضروری ہے۔
رسول اسلام (ص)نے فرمایا:عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ لَوْ لَا أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع لَمْ يَكُنْ لِفَاطِمَةَ ع كُفْوٌ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ ۔۵۔ اور فرمایا:لو لا علیّ لم یکن لفاطمة کفو -(۶) میری نظر میں فاطمہ(س) کا مقام اس قدر بلند وبالا ہے کہ اگر علی (ع) نہ ہوتے تو اس روئے زمین پرحضرت آدم(ع) کے زمانے سے قیامت تک فاطمہ(س) کے قابل کوئی ہمسر نہ ملتا۔
فاطمہ(س) کاگھر میں کام کرنا
ان تمام عظمتوں کے باوجودفاطمہ (س)گھر کا سارا کام خود کرتی تھیں۔ جیسا کہ امامصادق (ع)فرماتے ہیں :میرے جدّ گرامی علی (ع) نے رسولخدا (ص)کے فرمان کے مطابق گھریلو کام کو فاطمہ کیساتھ تقسیم کیا کہ آپ باہر کا کام کریں گے اور فاطمہ(س) چاردیواری کے اندر کا کام کریں گی
كَانَ عَلِيٌّ ع يَسْتَقِي وَ يَحْتَطِبُ وَ كَانَتْ فَاطِمَةُ ع تَطْحَنُ وَ تَعْجِنُ وَ تَخْبِزُ وَ تَرْقَع ۔ یعنی امیر المؤمنین پانی اور لکڑی کا بندوبست کرتے تھے اور میری جدّہ گرامی آٹا پیستی،خمیر بناتی ، روٹی پکاتی اور کپڑے دھوتی تھیں(۷)
پیامبر (ص) کا اپنی بیٹی کا دیدار کرنا
ایک دن جب رسول گرامی اسلام (ص)فاطمہ (س)کے گھر آپ کے دیدار کیلئے تشریف لائے،فاطمہ(س) کو دیکھ کر آپ کی آنکھیں پرنم ہوگئیں کہفاطمہ (س)اونی لباس میں ملبو س علی (ع)کے گھر میں چکّی بھی پیس رہی ہیں اور ساتھ ہی امام حسین (ع)کو دودھ بھی پلارہی ہیں ۔جب اتنی مشقت کی حالت میں دیکھا تو اشکبار آنکھوں کے ساتھ فرمایا: میری جان فاطمہ(س)! دنیا میں ایسی سختیاں جھیل لیں تاکہ قیامت کے دن اجر وثواب کے زیادہ مستحق ہوجاؤ۔اور اس راہ میں صبر و تحمّل کو ہاتھ سے جانے نہ دو۔فاطمہ(س) نے عرض کیا بابا جان! میں خدا کا ہر حال میں شکر ادا کرتی ہوں اور کسی وقت بھی خدا کی ذات کو فراموش نہیں کرونگی۔اس وقت وحی نازل ہوئی : ولسوف یعطیک ربّک فترضی –(۸) ۔
یعنی اے رسول! کیااپنی بیٹی کو اتنی سختیوں میں دیکھ کر زیادہ مغموم ہوگئے اورآپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے؟ ہم انہیں اس کا بدلہ ضرور دینگے۔اور شفاعت کا پرچم آپ اور آپ کی بیٹیفاطمہ (س)کو عطا کریں گے اور ان کی عظمت اور مقام کو اتنا بلند کرینگے کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ شیبہ نے اس واقعے کو کچھ اضافات کیساتھ حضرت سلمان سے یوں نقل کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ جب میں علی کے دولت سرا میں داخل ہواتو فاطمہ(س) کو دیکھا کہ چکّی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیں۔ میں نے کہا:اے بنت رسول! کیوں فضّہ سے مدد نہیں لیتیں؟ تو فرمایا : ایک دن فضّہ کام کرتی ہے اور ایک دن میں۔ اور آج میری باری ہے اور ان کی استراحت کا دن ہے۔ یہ واقعہ میں نے علی (ع)کو سنایاتو بہت روئے اورفاطمہ (س)کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ پھر کچھ لمحہ کے بعد مسکراتے ہوئے باہر آئے ۔ پیامبر اسلام (ص) نے خوشی کی وجہ پوچھی تو علی (ع)نے فرمایا: جب میں گھر میں گیا تو دیکھا کہ فاطمہ سورہی ہے اور حسین (ع) ان کے سینہ پر سورہا ہے اور چکّی خود بخود چل رہی ہے۔ پیامبر (ص)نے مسکرا کے کہا: اے علی!فرشتے محمد وآل محمد ۷سے محبت رکھتے ہیں جو چکّی چلارہے ہیں –(۹)
فاطمہ علی (ع) کے گھر میں بہت کام کرتی تھیں بچوں کی پرورش کرتی مشکلات کو برداشت کرتی بیشتر اوقات بھوکی رہتی لیکن کبھی بھی علی (ع)سے شکایت نہیں کی۔ ایک دن امام حسن و حسین (ع) اپنے نانا سے کہنے لگے نانا جان ہم بھوکے ہیں آئیں اور ماں زہرا –(۱۰) سے کہیں کہ ہمیں کھانا دیں۔:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَا لِي أَرَى وَجْهَكِ أَصْفَرَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجُوعُ فَقَالَ ص اللَّهُمَّ مُشْبِعَ الْجَوْعَةِ وَ دَافِعَ الضَّيْعَةِ أَشْبِعْ فَاطِمَةَ بِنْتَ!
پیامبر اسلام (ص)نے جب اپنی بیٹی کو دیکھا توفرمایا کیوں چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا ہے؟ عرض کیا: اے رسولخدا (ص) بھوک کی وجہ سے۔ اس وقت آپ (ص)نے فاطمہ(س) کے حق میں دعا کی ،خدایا ان کی بھوک اور پیاس کو رفع فرما۔
عزیزو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ علی (ع) کی آمدنی اتنی کم نہ تھی کہ گھر میں اتنی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی، بلکہ یہ لوگ ہمیشہ مال دولت کو راہ خدا میں ایثارکرتے تھے۔چنانچہ مولا نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:میں چاہتا ہوں کہ میں غریب ترین شخص کی طرح زندگی گزاروں۔
فاطمہ(س) اور خاندانی حقوق کا دفاع
جہاں فاطمہ(س) اپنا سارا مال راہ خدا میں دیتی ہیں وہاں اپنا حق دوسروں سے لینے میں بھی کوتاہی نہیں کیں۔جب بعض اصحاب رسول نے فدک غصب کیا تو آپ نے خطبہ دیا ، جس میں دنیا کی تمام خواتیں کیلئے اپنے حقوق کا دفاع اور حفاظت کرنے کا درس موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے یہ گمان کیا ہے کہ مجھے اپنے بابا کی وراثت نہیں ملے گی؟کیا دور جاہلیّت کا حکم دوبارہ جاری کرنے لگے ہو کہ اس دور میں خواتین کو کچھ نہیں ملتا تھا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میں رسولخدا (ص)کی بیٹی ہوں ؟ اے مسلمانو! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مجھے اپنے بابا کی وراثت سے محروم کیا جائے؟! اے ابی قحافہ کے بیٹے! کیا اللہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ تو اپنے باپ کا ارث لے اور میں اپنے باپ کا ارث نہ لوں؟! تو نے خدا پر بہت بڑی تہمت لگائی ہے اور ایک نئی چیز لے آئے ہو۔کیوں قرآن کے خلاف عمل کرتے ہو اور اسے پس پشت ڈالتے ہو؟!قرآن تو کہہ رہا ہے:( وورث سلیمان داوداً ) (نمل ١٦) سلیمان داودکے وارث بنے۔
اور زکریا A نے فرمایا:يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا –(۱۱) پروردگارا! مجھے اپنی طرفسے بیٹا عطا کر جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔وَالَّذِينَ آمَنُواْ مِن بَعْدُ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ مَعَكُمْ فَأُوْلَئِكَ مِنكُمْ وَأُوْلُواْ الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ -(۱۲) اور جو لوگ بعد میں ایمان لے آئے اور ہجرت کی اور آپ کے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمھیں میں سے ہیں اور قرابت دا ر کتاب خدا میں سب آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ اوّلیت اور قربت رکھتے ہیں بیشک اللہ ہر شے کا بہترین جاننے والا ہے۔اورجو لوگ بعد میں ایمان لے آئے اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دارایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلأُمِّهِ السُّدُسُ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَآؤُكُمْ وَأَبناؤُكُمْ لاَ تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعاً فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيما حَكِيمًا. (۱۳)
اللہ تمہاری اولادکے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔اب اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہیں تو انہین تمام ترکہ کا دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر ایک ہی ہے تو اسے آدھا اور مرنے والے کے ماں باپ میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ ہے۔ ان وصیتوں کے بعد جو کہ مرنے والے نے کی ہیں یا ان قرضوں کے بعد جو اس کے ذمہ ہیں ، یہ تمھارے ہی ماں باپ اور اولاد ہیں مگرتمھیں نہیں معلوم کہ تمھارے حق میں زیادہ منفعت رساں کون ہے ۔ یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ صاحب علم بھی ہے اور صاحب حکمت بھی۔
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ –(۱۴)
اگر موت کے وقت کچھ مال چھوڑ ے جارہے ہوتو اسے چاہئے کہ والدین اور رشتہ داروں کیلئے مناسب طور پر وصیت کرے۔متقی لوگوں پر یہ ایک حق ہے ۔اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ مجھے میرے بابا کا کوئی ارث نہیں ملے گا اور میرے بابا کیساتھ میرا کوئی تعلّق نہیں ؟ کیاخدا نے تجھ پر کوئی خاص آیة نازل کی ہے جسے میرے بابا اور میرے شوہر نہیں جانتے؟!کیا تم ان سے زیادہ قرآن کے خاص وعام سے واقف تر ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو تم غارت گر ہو، یہ اونٹ اور تم، لے جاؤ اپنے ساتھ ، میں خدا وند حکیم کی بارگاہ میں قیامت کے دن ملاقات کروں گی۔وہ دن کتنا اچھا وعدہ گاہ ہے اور محمد۷کتنے عظیم عدالت خواہ ہیں۔اس دن باطل راستے پر چلنے والے نقصان ، پریشانیاں اور ندامت اٹھائیں گے،ہر وعدہ کیلئے ایک وعدہ گاہ ہے اور ہر اچھائی کیلئے اپنی جگہ معیّن ہے اور بہت جلد تم جان لوگے کہ ذلّت آمیز عذاب کس کے اوپر نازل ہوگا،جو ہمیشہ کیلئے عذاب سرا ہوگا۔
کلام فاطمہ(س) میں خاندانی رفتار
آپ فرماتی ہیں: خیارکم ألینکم مناکبہ واکرمھم لنسائھم-(۱۵)
یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کیساتھ سب سے زیادہ نرم مزاج اور خوش خلق ہو، اور سب سے زیادہ ارزشمند وہ لوگ ہیں جو اپنی شریک حیات پر زیادہ مہربان اور بخشنے والا ہو۔
بیوی کیساتھ اچھا برتاؤ
قَالَ النَّبِيُّ ص: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ طَاهِراً مُطَهَّراً فَلْيَلْقَهُ بِزَوْجَةٍ وَ مَنْ تَرَكَ التَّزْوِيجَ مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ فَقَدْ أَسَاءَ الظَّنَّ بِاللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ –(۱۶)
رسول اسلام (ص)نے فرمایا: جو بھی تنگ دستی کے خوف سے بیوی کی سرپرستی چھوڑدے تو حقیقت میں وہ خدا تعالی پر بدظن اور بد گمان ہوا۔ واضح ہے کہ بیوی جیسی نعمت کا ہونا انسانی زندگی میں انحرافات سے دوری اور طہارت معنوی ایجاد کرتا ہے۔ وہ شخص جو مرنے کے بعد ابدی سعادت اور حیات جاودانی کا خواہان ہے تو جان لے کہ ایک اچھی اور پاک دامن بیوی اسے یہ مقام دلاسکتی ہے۔
____________________
۱ ۔ وسائل الشیعہ، ج۲۰، ص۲۲۲۔
۲ ۔ بحار الانوار،ج١٠٣، ص٢٥٦۔
۳ ۔ وسائل الشیعہ ،ج۲۱، ص۴۵۱۔
۴ ۔ تہذیب الاحکام،ج۷، ص۴۷۰۔
۵ ۔ آثارالصادقین،ج١٦،ص٤١٩۔
۶ ۔ سفینة،ج٢،ص١٩٥، الکافی ج۸،ص ۱۶۵۔
۷ ۔ سورہ ضحی ۵۔۸ ۔ جلاء العیون،ج١ ،ص١٣٧۔۹ ۔ الکافی،ج۵، ص۵۲۸۔۱۰ ۔ مریم ٦ ۔۱۱ ۔ انفال٧٥۔۱۲ ۔ نسآء ١١۔
۱۳ ۔ بقرہ١٨٠۔۱۴ ملکہ اسلام فاطمہ،چ٢،ص٣٦ ۔۱۵ ۔ فاطمہ نور الہی،چ١،ص١٥٣، دلائل الامامہ،ص۱۔
۱۶ ۔ من لایحضرہ الفقیہ،ج٣،ص ۳۸۵۔
خاندانی خوش بختی کے کچھ اصو ل
نظم و ضبط
کہ یہ اتنا اہم ہے کہ امیرالمؤمنین (ع)نے اپنی آخری وصیّت میں اپنے بیٹے حسن اور حسین کو نزدیک بلا کر فرمایا: اوصیکم بتقوی اللہ و نظم امرکم۔(نہج البلاغہ) یعنی تقوی الہی اختیار کرو اور اپنے معاملات میں نظم و ضبط قائم کرو۔ روایات میں جسے تقدیر المعیشہ سے تعبیر کیا ہے کہ جس کی زندگی میں نظم وضبط موجود ہو بہت ساری مشکلات سے دور ہوگی اور جس کی زندگی میں نظم وضبط نہ ہو تو اپنی توانائی کو ضائع کردینے کے برابر ہے۔ بعض اوقات تو لوگوں کے گھروں میں کئی کئی نوکر اور خدمت گذار اور دیگر بہت سارے وسائل زندگی ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے گھر کا نظام نہیں چلاسکتے اور اوضاع خراب ہونے کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ خواتین کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیّت معاشی فکر کا حامل ہونا ہے ، کہ وہ جان لے کہ زندگی کی ضروریات کیا ہیں اور خاندانی امور اور اپنے اوقات کو کیسے منظم کیا جاتا ہے۔اگر ایسی گھر والی نہ ہو تو آپ کتنا ہی کیوں نہ کمائیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بہت سے گھر والوں کی مشکل درآمد کی نہیں بلکہ استعمال میں بے نظمی ہے۔ جس طرح بڑی تعداد میں فوج موجود ہوں لیکن بد نظم ہوں تو ایک مختصر مگر منظم گروہ کے مقابلے میں اس کی شکست یقینی ہے۔
امام صادق(ع) فرماتے ہیں: مسلمانوں کو تین چیزوں کے سوا کوئی اور اصلاح نہیں کرسکتی :
* دین سے آگاہی۔
* مصیبت اور سختیوں کے وقت استقامت و برد باری۔
* زندگی میں نظم و ترتیب ۔
ان کلمات سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کے ہر شعبے خواہ معاشی زندگی ہویا
معاشرتی،سیاسی ہو یا سماجی ،میں نظم وضبط بہت ضروری ہے۔
اعتماد کرو تہمت سے بچو۔
اجتماعی زندگی اعتماد اور خوش گمانی کا محتاج ہے اگرچہ مسلمانوں کے بارے میں خوش گمان ہونا ضروری ہے کہ قرآن کا فرمان ہے :( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ) (۱)
یعنی اے ایمان والو!بہت سی بدگمانیوں سے بچوبعض بدگمانیاں یقیناً گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقیناً تم اسے برا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے ۔
ایک مشترک اور خاندانی زندگی میں مرد اور عورت کوایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور حسن ظن رکھنا چاہئے۔قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَنْ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِالزِّنَا خَرَجَ مِنْ حَسَنَاتِهِ كَمَا تَخْرُجُ الْحَيَّةُ مِنْ جِلْدِهَا وَ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ عَلَى بَدَنِهِ أَلْفُ خَطِيئَةٍ –(۲) ۔ پیامبر اسلام (ص) فرماتے ہیں: جو شخص اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کے سارے نیک اعمال اس سے جدا ہونگے جس طرح سانپ اپنے خول سے الگ ہوتا ہے اور اس کے بدن پر موجود ہر بال کے بدلے میں ایک ہزار گناہ لکھا جائے گا۔
وَ قَالَ ع: مَنْ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِالزِّنَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ وَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَ لَا عَدْلٌ –(۳) فرماتے ہیں: جوشخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگاتا ہے ، اس پر خدا کی لعنت پڑتی ہے اور اس سے نہ ایک درہم اور نہ ایک حسنہ قبول ہوتی ہے۔
پاکیزگی اور خوبصورتی
اسلام پاکیزگی اور زیبائی کا دین ہے اس لئے نظافت اور پاکیزگی کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔امامصادق (ع)نے فرمایا:قَالَ مِنْ أَخْلَاقِ الْأَنْبِيَاءِ التَّنَظُّفُ وَ التَّطَيُّب –(۴) اس حدیث میں انبیاءالہی کی چارخصوصیات بیان ہوئی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں: پاکیزگی اور خوشبو کا استعمال کرنا۔نظافت اور پاکیزگی پیامبروں کے اخلاق میں سے ہے۔ اپنے بدن اور لباس سے بدبو کو پانی کے ذریعے دورکرلو ، کیونکہ خداوند گندھے لوگوں سے بیزار ہے-(۵)
پیامبر (ص)نے فرمایا: جو بھی لباس پہن لے تو اسے پاک اور صاف رکھے –(۶) پاکیزگی کو اہمیت دینا اسلام کی معجزات میں سے شمار ہوتی ہے۔ اسلام نے اپنے اہم ترین احکام جیسے نماز وغیرہ پاکیزگی اور طہارت سے مشروط قرار دیا ہے۔ اسی لئے واجب غسل اور واجب وضو کے علاوہ مستحب وضو اور مستحب غسل کا بھی مختلف اوقات میں بڑی تاکید اور تشویق کیساتھ حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ ہفتے میں ایک بار ناخن کا تراشنا داڑھی کا اصلاح کرنا روزانہ کئی بار کلّی کرنا ،ناک میں پانی ڈالنا اور مسواک کرنا وغیرہ کو بہت اہمیّت دیتا ہے۔امام موسی کاظم A ارشاد فرماتے ہیں: کھانے کے بعد اخلال کریں تاکہ کھانے کے زرّات دانتوں کے درمیا ن باقی نہ رہے۔اخلال ایک قسم کی صفائی ہے اور صفائی ایمان کا جز ہے اور جو صاحب ایمان ہو اسے بہشت میں داخل کردیتا ہے –(۷) اسی طرح عورتیں بھی اپنے شوہر کو اسی طرح صاف ستھرا دیکھنا چاہتی ہیں جس طرح شوہر اسے دیکھنا چاہتا ہے۔
ایک دوسرے کا خیال
اگر کوئی گھر میں اکیلا زندگی گزارتا ہوتووہ آزاد ہے گھر میں جہاں بھی جس طرح بھی سوئے، کھائے، پڑھے، لباس پہنے یا نہ پہنے خاموش رہے یا شور مچائے۔ لیکن اس گھر میں اس کے علاوہ کوئی اور بھی رہنے لگے تو اسی قدر اس کی آزادی بھی محدود ہوتی جائے گی۔ اس کے بعد وہ پہلے کی طرح شور نہیں مچاسکتا، بلکہ اس پر لازم ہے دوسرے کا خیال رکھے ۔ خواہ وہ دوسرا شخص اس کی بیوی یا بچہ ہو یا کوئی اور۔ شوہر اپنے آپ کو بیوی بچوں کا مالک نہ سمجھے بلکہ ہر ایک کے جزبات کا خیال رکھنا چاہئے ۔
اچھی گفتگو
ہر کسی کیساتھ خصوصاً اہل خانہ کیساتھ اچھی اور پیاری گفتگو کرنی چاہئے۔ پیامبراکرم (ص)نے فرمایا : بدترین شخص وہ ہے جس کی بد کلامی اور گالی گلوچ کی وجہ سے اس کے قریب کوئی نہ آئے-(۸) ۔
امام سجا A د فرماتے ہیں: اچھی اور بھلی گفتگو رزق وروزی اور عزّت بڑھاتی ہے اوردوسروں کے نزدیک محبوب بناتی ہے اور بہشت میں داخل ہونے کا سبب بنتی ہے(۹)
انسان لالچی نہ ہو
میاں بیوی کے درمیان کدورت اور دشمنی پیدا ہونے کا ایک خطرناک ذریعہ اپنے آپ کو دوسروں کیساتھ مقایسہ کرنا ہے،جب دوسروں کی زندگی کی ظاہری کیفیت اپنے سے بالاتر دیکھتی ہے تو اپنے شوہر کو پست اور دوسروں کو اپنے شوہر سے بہتر تصوّر کرنے لگتی ہے۔اور شوہر بے چارہ بھی اسے اپنی بات نہیں منوا سکتا۔ایسے موقع پر بیوی کو چاہئے کہ جلدی فیصلہ نہ کرے۔ہر کسی میں بہت ساری خوبیوں کیساتھ خامیاں بھی ضرور پائی جاتی ہیں۔اور کوئی بھی ہرعیب و نقص سے خالی نہیں ہوتا ۔اور یہ بھی سمجھ لے کہ شیطان آپ کو اسطرح ورغلارہا ہے۔پس اپنی قسمت اور تقدیر پر راضی رہیں ۔
چنانچہ پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں اگر کوئی انہیں اپنے اندر جمع کرلیں تو دنیا اور آخرت کی بھلائی اسے مل گئی :
* اپنی قسمت پر راضی اور خوش رہنا .* مصیبت اوربلا کے موقع پر صبر کرنا۔* آرام اور سختی کے دوران دعا کرنا۔(۱۰)
ایسے مواقع پر اپنے سے کمتر لوگوں پر نظر رکھنا چاہئے تاکہ امیدوار اور خوش رہے۔ اور خدا کی نعمتوں پر شکر کرتے رہے۔اگر خدا نے سلامتی دی ہے،دین دیا ہے ۔اچھا اخلاق دیا ہے اور اچھی بیوی دی ہے تو پھر ان پر شکر کرنا اور افتخار کرنا چاہئے۔چنانچہ حضرت سلمان فارسی S فرماتے ہیں کہ رسولخدا (ص) نے مجھے نصیحت کی :
* اپنے سے کمتر پر نظر رکھو۔* فقیروں اور مسکینوں سے محبت کرو۔* حق بات کہو اگرچہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔
*اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھو ۔*کبھی بھی دوسروں سے کوئی چیز نہ مانگو۔*لاحول ولا قوّة الّا بالله کو زیاد ہ پڑھا کروجو بہشتی خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔(۱۱)
احساس بیداری
عقل اور احساس انسان کے اندر مسائل کے سمجھنے اور درک کرنے کے دو اہم ذریعے ہیں ۔ لیکن اکثر لوگوں میں عقل کی نسبت احساسات کی تأثیر زیادہ ہے ۔ اس احساس کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے جس سے خاندان میں صلاح مشورے ،باہمی تفاہم اور محبت زیادبڑھ جاتی ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بیوی سے ایسی باتیں کر بیٹھتا ہے کہ وہ احساس کمتری یا حقارت کا شکار ہوجاتی ہے۔ ایسے موقع پر شوہر کو احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
احساس غمخواری
میاں بیوی دونوں ازدواج کی حقیقت اور سعادت و خوش بختی سے آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی بنیاد ایک دوسرے کے ساتھ عشق و محبت کرنے پر استوار ہے۔ اور عشق و محبت پیدا کرنے کا اہم ترین عامل ایک دوسرے کے ساتھ غمخواری اور ہمدردی کا احساس دلانا ہے ۔ زندگی کی تلخیوں اور سختیوں میں بھی اسی طرح ایک دوسرے کو شریک سمجھیں جس طرح خوشیوں میں سمجھتے ہیں۔ اس وقت احساس ہوگا کہ زندگی کس قدر شیرین اور ہم آہنگ ہے۔ ایک دوسرے کی مدد کریں اور شوہریہ نہ کہیں کہ یہ تیرا کام ہے وہ میرا کام ۔ میرے ذمے صرف گھر سے باہر کا کام ہے ۔ لیکن دوسری طرف سے ایسا بھی نہ ہو کہ اگر شوہر گھریلو کاموں میں بیوی کی مدد کرنا شروع کرے تو وہ اس کی محبت کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے دوسرے دن اس سے جھاڑو لگوانا شروع کرے۔
ہرگز ناامید نہ ہونا
اگر خدانخواستہ خاندان میں کوئی مشکل پیش آئے خواہ بیوی کی طرفسے ہو یا شوہر کی طرف سے۔ دونوں کو حوصلے سے اس کا مقابلہ کرکے مشکل کو حل کرنا چاہئے۔اور کسی بھی وقت مایوس اور ناامید نہیں ہونا چاہئے۔اور نہ یہ سوچنے لگے کہ ہماری خوشبختی اور سعادتیں ختم ہوگئیں۔ نہیں ایسا نہیں۔ مشکلات اور سختیاں ابتدائی دنوں میں سنگین محسوس کرنے لگیں گے لیکن زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ سنگینیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ اگر بیوی بداخلاق ہو یا اس میں اور کوئی عیب موجود ہو تو شور وشرابہ کرنے کے بجائے وسعت فکر و نظر سے اس کا حل تلاش کرے۔ اور صبر سے کام لے جو انسان کی راہ سعادت میں بہت ہی مؤثر ہے۔ لہذا خداتعالی نے صبر کرنے والوں کو خوش خبری سناتے ہوئے فرمایا:( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ) –(۱۲)
اور ہم تمہیں کچھ خوف ، بھوک اور مال و جان اور ثمرات (کے نقصانات)سے ضرور آزمائیں گے۔ اوران صبر کرنے والوں کو خوش خبری دیجئے۔جو مصیبت میں مبتلا ہونے کی صورت میں کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ الصَّبْرُ مِنَ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ فَإِذَا ذَهَبَ الرَّأْسُ ذَهَبَ الْجَسَدُ كَذَلِكَ إِذَا ذَهَبَ الصَّبْرُ ذَهَبَ الْإِيمَانُ (۱۳)
امامصادق (ع)نے فرمایا: صبر کا ایمان کے ساتھ وہی رابطہ ہے جس طرح سر کا بدن سے۔ جس طرح سرکے بغیر بدن باقی اور سلامت نہیں رہ سکتااسی طرح صبر کے بغیر ایمان بھی بے معنی ہے۔ جی ہاں صبر کا پھل میٹھاہوتاہے۔ اور اپنے آپ کو صبر کی تلقین کرے تاکہ اس کا ثواب پالے۔ سورۂ العصر میں تو تاکید کیساتھ فرمایا: کہ صبر کی تلقین کرنے والے کے سوا سب خسارے میں ہیں۔
خوش اخلاق ہی خوش قسمت
پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَحْسَنُ النَّاسِ إِيمَاناً أَحْسَنُهُمْ خُلُقاً وَ أَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ وَ أَنَا أَلْطَفُكُمْ بِأَهْلِي –(۱۴) بہترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق بہترین ہواور اپنے گھر والوں کیساتھ زیادہ مہربان تر ہو اور میں تم میں سے سب سے زیادہ اپنے اہل وعیال کیساتھ زیادہ مہربان تر ہوں ۔ پھر فرمایا : قیامت کے دن اعمال کے محاسبہ کے وقت ترازو کے پلڑے میں اخلاق سے بہتر کوئی شئی نہیں ڈالی جا سکتی۔
خاندان میں بد اخلاقی کا نتیجہ
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص خَرَجَ فِي جِنَازَةِ سَعْدٍ وَ قَدْ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ص رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ مِثْلُ سَعْدٍ يُضَمُّ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّا نُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَخِفُّ بِالْبَوْلِ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مِنْ زَعَارَّةٍ فِي خُلُقِهِ عَلَى أَهْلِهِ ۔
سعد بن معاذ جو رسول۷کا خاص صحابی تھا ۔جب ان کا انتقال ہوا تو رسولخدا (ص)کے حکم سے اسے غسل و کفن دیا۔ اور خود بھی ان کی تشییع جنازے میں ننگے سرننگے پیر اور بغیر عبا کے شریک ہوئے کبھی دائیں طرف کندھا دیتے تو کبھی بائیں طرف۔ اور اپنے ہی دست مبارک سے اسے قبر میں اتارا اور قبر کو محکم طور پر تیار کیا اور برابر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کچھ دنوں کے بعد سعد کا بدن سڑ جائے گا لیکن بندہ جو کام بھی کرے محکم کرے۔فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ هَنِيئاً لَكَ يَا سَعْدُ قَالَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ص يَا أُمَّ سَعْدٍ لَا تَحْتِمِي عَلَى اللَّهِ -(۱۵) اس وقت سعد کی ماں نے آواز دی :اے سعد! تمھیں جنّت مبارک ہو۔ پیامبر اسلام (ص)نے سختی سے فرمایا:اے سعد کی ماں خاموش رہو اور خدا پر اتنی جرأت نہ کر۔ ابھی سعد فشار قبر میں مبتلا ہے۔ قبرستان سے واپس آتے وقت اصحاب نے سوال کیا : یا رسول اللہ(ص) : آج سعد کے جنازے کیساتھ بالکل انوکھا کام کیا جو کبھی کسی کے جنازے کیساتھ نہیں کیا تھا۔ تو فرمایا: میں سر پیر برہنہ اسلئے تھا کہ ملائکہ بھی سر اور پا برہنہ اس کے جنازے میں شریک تھے۔ جبریل امین A ستّر ہزار فرشتے کیساتھ شریک تھے ۔ تو میں نے بھی ان کی اقتدا کرتے ہوئے نعلین اور ردا اتاری ۔اصحاب نے کہا آپ کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف سے کاندھا دیتے تھے،تو آپ نے فرمایا: میرا ہاتھ جبریل A کے ہاتھ میں تھا، جس طرف وہ جاتا تھا اس طرف میں بھی جاتا تھا۔
اصحاب نے کہا : آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور میت کو خود قبر میں اتارا اس کے بعد آپ نے فرمایا : سعد فشار قبر میں مبتلا ہے! تو پیامبر اکرم۷نے فرمایا: ہاں ، یہ اپنے خاندان کیساتھ بدخلقی سے پیش آتا تھا۔اس سے معلوم ہو ا کہ بداخلاقی فشار قبر کا باعث ہے۔
سعد بن معاذ کو یہ شرف کیسے ملا؟عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّ النَّبِيَّ ص صَلَّى عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لَقَدْ وَافَى مِنَ الْمَلَائِكَةِ سَبْعُونَ أَلْفاً وَ فِيهِمْ جَبْرَئِيلُ ع يُصَلُّونَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ يَا جَبْرَئِيلُ بِمَا يَسْتَحِقُّ صَلَاتَكُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بِقِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَائِماً وَ قَاعِداً وَ رَاكِباً وَ مَاشِياً وَ ذَاهِباً وَ جَائِياً -(۱۶)
رسول خدا فرماتے ہیں کہ میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ اس میں کیا خوبی تھی کہ جس کی وجہ سے ملائکہ نے اس کے جنازے پر نماز پڑھائی ؟ تو جبرئیل نے فرمایا وہ ہمیشہ اور ہر حال میں خواہ وہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں ،پیدل ہو یا سوار ، آرہے ہوں یا جا رہے ہوں ؛ سورہ اخلاص کی تلاوت کیاکرتےتھے ۔
اچھے اخلاق کا مالک بنو
جو شخص اپنے بیوی بچوں کے بارے میں سخت غصّہ دکھانے کو اپنی مردانگی سمجھتا ہے تو وہ سخت غلط فہمی میں ہے۔
پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا : بدترین شخص وہ ہے جس کی بد اخلاقی کی وجہ سے لوگ ڈر کے مارے اس کا احترام کرنے لگیں۔ خاندان کوئی جیل خانہ تو نہیں کہ جہاں غصّہ دکھائے اور گھر کے افراد کو ڈرائے اوردھمکائے بلکہ خاندان صلح و صفا عشق و وفا اور فداکاری کا گہوارہ ہے جہاں انسا ن کے جسم و روح کی پرورش ہوتی ہے۔
____________________
۱ ۔ حجرات ۱۲۔
۲ ۔ بحارالانوار، ج١٠٠، ص٢٤٩۔
۳ ۔ بحارالانوار، ج١٠٠، ص٢٤٩۔
۴ ۔ وسائل الشیعہ،ج۲۰، ص۲۴۶۔
۵ ۔ لئالی الاخبار،ج٤، ص١٨.
۶. مکارم الاخلاق، ص٤١.
۷ ۔ لئا لی الاخبار،ج٢،ص٣٢٢.
۸ ۔ بحار،ج ١٦،ص٢٨١۔
۹ ۔ دارالسلامِ،ج٣،ص٤٢٦۔
۱۰ ۔ اصل کافی۔ج٤،ص٣٥٢۔
۱۱ ۔ وسائل الشیعہ۔ج٦،ص٣٠٩۔
۱۲ ۔ بقرہ ۱۵۵۔۱۵۶۔
۱۳ ۔ الکافی،ج۲، ص۸۹۔
۱۴ ۔ وسائل الشیعہ،ج۱۲، ص۱۵۳۔
۱۵ ۔ الکافی،ج۲، ص۲۳۶۔
۱۶ ۔ الکافی ج۲، ص۶۲۲۔
چوتھی فصل
خاندان کے متعلق معصومین کی سفارش
خاندان پر خرچ کریں
امام سجاد(ع) نے فرمایا: خدا تعالی سب سے زیادہ اس شخص پر راضی ہوگا جو اپنے اہل وعیال پر سب سے زیادہ خرچ کرتاہے
عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا ع قَالَ الَّذِي يَطْلُبُ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَا يَكُفُّ بِهِ عِيَالَهُ أَعْظَمُ أَجْراً مِنَ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ -(۱) ۔
امام رضا سے منقول ہے کہ جو شخص اپنے اہل وعیال کے خاطر خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے کسب کرتا ہے تو اس کے لئے اس مجاہد سے زیادہ ثواب ملے گا ،جو راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں۔آپ ہی سے منقول ہے :
أَبِي الْحَسَنِ ع قَالَ يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى عِيَالِهِ كَيْلَا يَتَمَنَّوْا مَوْتَه -(۲) یعنی جس کو بھی خدا تعالی کی نعمتوں پر دست رسی حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، تاکہ اس کی موت کی تمنا نہ کریں۔ امام صادق(ع) نے فرمایا: مؤمن خدا تعالی کے آداب پر عمل کرتا ہے جب بھی خدا تعالی اسے نعمت اور رزق میں وسعت عطا کرتاہے تو وہ بھی اپنے زیردست افراد پر زیادہ خرچ کرتاہے۔اور جب خدا وند نعمت کو روکتا ہے تو وہ بھی روکتا ہے-(۳) اور فرمایا: جو میانہ روی اختیار کرے گا اس کی میں ضمانت دونگا کہ وہ کبھی بھی مفلس نہیں ہوگا۔
پہلے گھر والے پھر دوسرے
ایک شخص نے امامباقر (ع) سے عرض کیا ، مولا !میرا ایک باغ ہے جس کی سالانہ آمدنی تین ہزار دینار ہے۔ جس میں سے دو ہزار دینار اہل و عیال پر خرچ کرتا ہوں ایک ہزار فقراء میں صدقہ دیتا ہوں۔ تو امام نے فرمایا: اگر دوہزاردینار سے اہل و عیال کا خرچہ پورا ہوتا ہے تو بہت اچھا ہے۔ کیونکہ تو اپنی آخرت کیلئے وہی کام کر رہے ہو جو تیرے مرنے اور وصیت کرنے کے بعد وارثوں نے کرنا تھا۔ تو اپنی زندگی میں اس سے نفع حاصل کر رہے ہو(۴)
اسراف نہ کرو
امام زین العبدین (ع)نے فرمایا: مرد کو چاہئے کہ اندازے سے خرچ کرے اور زیادہ تر اپنی آخرت کیلئے بھیجا کرے۔ یہ نعمتوں کا دوام اور زیادتی کیلئے زیادہ مفید ہے اور روز قیامت کیلئے زیادہ سود مند ہے۔
امام صادق(ع) نے فرمایا؛ میانہ روی ایسی چیز ہے جسے خدا تعالی بہت دوست رکھتا ہے۔ اور اسراف ایسی چیز ہے جس سے خدا تعالی نفرت کرتا ہے ، اسراف ایک دانہ کھجورہو یا بچا ہوا پانی کیوں نہ ہو۔(۵)
روز جمعہ کا پھل
قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع أَطْرِفُوا أَهَالِيَكُمْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ بِشَيْءٍ مِنَ الْفَاكِهَةِ كَيْ يَفْرَحُوا بِالْجُمُعَةِ –(۶) المؤمنین (ع) نے فرمایا: اپنے اہل و عیال کیلئے ہر جمعہ کوئی نہ کوئی تازہ پھل کھلایا کرو تاکہ روز جمعہ سے خوش ہوں۔
خاندان کیساتھ نیکی اورلمبی عمر
امامصادق (ع)نے فرمایا: من حسن برّ ہ باھلہ زاداللہ فی عمرہ ۔جو بھی اپنے خاندان کیساتھ نیکی کرے گا خدا تعالی اس کی زندگی میں برکت عطا کریگا۔اس کے مقابلے میں پیامبر اکرم(ص) نے فرمایاوَ قَالَ ع مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ ضَيَّعَ مَنْ يَعُولُ –(۷) لعنتی ہے لعنتی ہے وہ شخص جو اپنے زیر دست افراد کے حقوق دینے میں کوتاہی کرتا ہے۔
خاندان اور آخرت کی بربادی
قال علی (ع) : لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لَا تَجْعَلَنَّ أَكْثَرَ شُغُلِكَ بِأَهْلِكَ وَ وُلْدِكَ فَإِنْ يَكُنْ أَهْلُكَ وَ وُلْدُكَ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَوْلِيَاءَهُ وَ إِنْ يَكُونُوا أَعْدَاءَ اللَّهِ فَمَا هَمُّكَ وَ شُغُلُكَ بِأَعْدَاءِ اللَّهِ –(۸)
آپ نے اپنے بعض اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا: اپنے بیوی بچوں کے خاطر اپنے آپ کو زیادہ زحمت میں نہ ڈالو ، اگر وہ لوگ خدا کے صالح بندوں میں سے ہوں تو خدا تعالی اپنے نیک بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور اگر وہ خدا کے دشمنوں میں سے ہوں تو کیوں خدا کے دشمنوں کے خاطر خود کو ہلاکت میں ڈالتے ہو۔ پس ایسا نہ ہو کہ ان کی خاطر ہم خدا اور دین خدا کو فراموش کر بیٹھیں اور حلال حرام کی رعایت کئے بغیر ان کو کھلائیں اور پلائیں۔
محبت خاندان کی کامیابی کا راز
خاندان کی بنیاد ،عشق و محبت پر رکھنا چاہئے کیونکہ محبت کا اظہار میاں بیوی کے درمیان آرام و سکون کا باعث بنتا ہے۔ جس کا نتیجہ دونوں کی سعادت اور خوش بختی کی صورت میں پیدا ہوتاہے۔ اورمحبت کی پہلی شرط ایک دوسرے کی روش اور سوچ کی شناخت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو پہچان لیں کہ کن چیزوں سے خوش ہوتے ہیں اور کن چیزوں سے ناراض۔بیوی کومعلوم ہو کہ اس کا شوہرکس وقت تھکا ہوتا ہے اور کس وقت اس کے ساتھ گفتگو کرنا ہے۔اور یہ ایسے امور ہیں کہ ہر فرد میں مختلف ہیں ۔ معیار محبت یہ نہیں ہے کہ کسی بھی وقت غصہ میں نہ آئے بلکہ اگر گھر کا کوئی فرد غیر اخلاقی کام کربیٹھتا ہے تو سربراہ کو چاہئے کہ اپنی ناراضگی کا احساس دلائے اور نصیحت کرے۔ ہاں جب محبت زیادہ ہوجاتی ہے جسے عشق سے تعبیر کیا جاتا ہے غصّہ کرنے میں مانع بنتا ہے۔ لیکن کبھی بھی میاں بیوی ایک دوسرے سے ایسی گہری اور عمیق محبت کا انتظارنہ رکھے۔ میاں بیوی کے درمیان حد اعتدال میں محبت ہو تو کافی ہے۔ بہر حال جس قدر یہ محبت ارزشمند ہے اسی قدر اس کی حفاظت کرنا بھی ارزشمند ہے۔پس ہمیشہ میاں بیوی کو اس محبت کی مراقبت اور پاسداری کرنی چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ گھر کی اندرونی اور بیرونی مشکلات ہمیں اس قدر مشغول کردے کہ صفا اور وفا سے دور ہوجائیں ۔ لذا دونوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے درمیان پیار و محبت ، صلح و صفا اور مہرووفا کاسماں پیداکرے۔
کلام معصوم میں محبت کے عوامل
ایمان محبت کا محور
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَ أَبْغَضَ لِلَّهِ وَ أَعْطَى لِلَّهِ فَهُوَ مِمَّنْ كَمَلَ إِيمَانُهُ -(۹) امام صادق(ع) فرماتے ہیں جو بھی خدا کے خاطر کسی سے محبت کرے یا دشمنی کرے اور خدا ہی کے خاطرکسی کو کچھ دیدے تو وہ ان افراد میں سے ہوگا جن کا ایمان کامل ہوگیا ہو۔ امام باقر (ع)نے فرمایا: اگر تو جاننا چاہتا ہے کہ تیرے اندر کوئی خوبی موجود ہے یا نہیں تو اپنے دل کی طرف نگاہ کرو ، اگر اہل اطاعت اور خدا کے فرمان بردار وں سے محبت اور اہل معصیت سے نفرت موجودہے تو سمجھ لینا کہ تو اہل خیر ہو اور تجھ میں خوبی موجود ہے۔
خوش آمدید کہنا اور استقبال کرنا
ایک دوسرے کو ہاتھ ملانا ، مصافحہ کرنا اور خوش آمدید کہنا محبت میں اضافے کا سبب ہے۔قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص:تَصَافَحُوا فَإِنَّ الْمُصَافَحَةَ تَزِيدُ فِي الْمَوَدَّةِ -(۱۰)
چنانچہ رسولخدا (ص)نے فرمایا : لوگو!ایک دوسرے کیساتھ مصافحہ کروکیونکہ مصافحہ محبت میں اضافہ کرتا ہے۔
حسن ظن رکھنا
امیر المؤمنین (ع)نے فرمایا:من حسن ظنّه بالناس حازمنهم المحبة -(۱۱)
جو بھی لوگوں پر حسن ظن رکھتا ہے ان کی محبت کو اپنے لئے مخصوص کرتا ہے۔یعنی دوسروں کا دل جیت لیتا ہے۔
بے نیاز ی کا اظہار کرنا
امیرالمؤمنین (ع)نے فرمایا: لوگوں کے ہاتھوں میں موجود مال و متاع سے بے رغبت ہو کر اپنے کو ہر دل عزیز بناؤ(۱۲)
جب ایک شخص پیامبر اسلام (ص) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ (ص)! کیا کروں کہ لوگ مجھ سے محبت کریں؟ آپنے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے مال و متا ع پر نظر نہ جماؤ۔ اور طمع ولالچ نہ کر،تو تم ہر دل عزیز ہو جاؤ گے(۱۳)
سخاوت کرنا
حضرت علی (ع) نے فرمایا:لسخاء يكسب المحبة و يزين الأخلاق يمحص الذنوب و يجلب محبة القلوب -(۱۴) ۔ یعنی سخاوت محبت پیدا کرتی ہےاوراخلاق کی زینت ہے، اورگناہوں کو پاک کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں محبت ڈالتی ہے۔
رُوِيَ أَنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى مُوسَى ع أَنْ لَا تَقْتُلِ السَّامِرِيَّ فَإِنَّهُ سَخِيٌّ (۱۵)
خدا تعالی نے حضرتموسی(ع) پر وحی نازل کی کہ سامری کو قتل نہ کرو،کیونکہ وہ سخاوت مند ہے۔ اور اگر یہی سخاوت مندی ایک مسلمان یا مؤمن میں ہوتو کتنی بڑی فضیلت ہے۔
امام صادق(ع) نے فرمایا:اے معلّی اپنے بھائیوں کی خدمت کرکے ان کی محبت اور دوستی حاصل کر،کیونکہ خدا تعالی نے محبت کو بخشش میں اور دشمنی کو عدم بخشش میں رکھا ہے۔(۱۶)
____________________
۱ ۔ الکافی ،ج۵، ص۸۸۔۲ ۔ الکافی ، ج۴ ، ص۱۱۔۳ ۔ ھمان، ص ٢٥٩۔۴ ۔ ہمان،ص٢٥٧۔۵ ۔ ہمان،ج٢٥، ص٢٤٩ ۔ ۲۵۰۔
۶ ۔ بحار، ج١٠١،ص ٧٣۔۷ ۔ من لایحضرہ ،ج۳، ص ۵۵۵۔۸ ۔ بحار ج ۱۰۱، ص ۷۳۔ ۹ ۔ الکافی،ج۲، ص۱۲۴۔
۱۰ ۔ مستدرک الوسائل،ج۹، ص۵۷۱۱ ۔ غرر الحکم،ص۲۵۳ ۔۱۲ ۔ دار السلام ،ص٤١٣۔۱۳ ۔ سفینة البحار،باب سجد۔
۱۴ ۔ غرر الحکم،ص۳۷۸۔۱۵ ۔ وسائل الشیعہ،ج۹، ص۱۸۔۱۶ ۔ ہمان، ص ٤٢١۔
پانچویں فصل
خاندانی اختلافات اور اس کا عل
خاندانی اختلافات
جس طرح مختلف معاشرے اورممالک ایک جیسے نہیں ہوتے اسی طرح سب خاندان کے افراد بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ بعض اوقات اختلافات اور مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔اور دونوں میاں بیوی ایک دوسرے پر غم و غصہ نکالنا شروع کرتے ہیں۔اس طرح گلے شکوے سے اپنے سینوں کو خالی کرکے اپنے کو ہلکا کرتے ہیں۔کبھی کبھی یہ گلے شکوے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔اگر اظہار کا موقع نہ ملے تو شعلے کی مانند انسان کو اندر سے جلاتے ہیں ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جب میاں بیوی ایک دوسرے کی کمزوریوں اور خامیوںکو درک کرلیتے ہیں تو ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا گلے شکوے کو چھپانا مسئلہ کا حل نہیں ہے ،بلکہ ان پر پردہ ڈالنا مشکلات میں مزید اضافے کاباعث بنتا ہے۔۔لیکن دونوں کو احتیاط کرنا چاہئے کہ ان اعتراضات اور گلے شکوے کو انتقام جوئی اور جھگڑا فساد کی بنیاد قرار نہ دیں۔بلکہ ان کو باہمی تفاہم اور عشق و محبت کی ایجاد کیلئے زمینہ قرار دیں۔ کیونکہ زندگی کی لطافت اور خوشی ،صلح و صفا میں ہے نہ جنگ و جدل اور فسادمیں۔یہاں دونوں کو جان لینا چاہئے کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد پیار و محبت اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہے۔
خواتین کو جاننا چاہئے کہ اگر مردوں کا جہاد محاذوں پر لڑنا اور دشمن پر حملہ آور ہونا اوردشمن کے تیروں کو اپنے سینوں پر لینا ہے تو خواتین کا جہاد جتنا ممکن ہو سکے اپنے شوہر کی خدمت کرنا اور بچوں کی تربیت کرنا ہے ۔ امام موسی کاظم(ع)نے فرمایا:جِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنُ التَّبَعُّل -(۱) عورت کا جہاد اچھی شوہر داری ہے ۔
جب اسماء بنت یزید کو مدینہ کی عورتوں نے اپنا نمائندہ بنا کرپیامبر اسلام (ص)کے پاس بھیجا اور اس نے عرض کی : یا نبی اللہ ! خدا نے آپ کو مقام نبوت پر فائز کیا ہم آپ پر ایمان لے آئیں، اور ہم گھروں میں بیٹھ کر اپنے شوہروں کی خدمت اور بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں جبکہ مرد لوگ نماز جماعت میں شریک ہوتے ہیں، بیماروں کی عیادت کیلئے جاتے ہیں ،تشییع جنازہ میں شرکت کرتے ہیں،جھاد میں حصہ لیتے ہیں، مراسم حج کی ادائیگی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر ثواب کماتے ہیں اور ہم بیچاری عورتیں مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے اموال کی حفاظت ،بچوں کی تربیت، گھر کی صفائی اور کپڑے دھونے میں مصروف رہتی ہیں،کیا ہم بھی ان کے ثواب میں برابر کی شریک ہیں ؟ پیامبر اسلام (ص)نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا :کیاتم لوگوں نے کبھی دینی مسائل اور مشکلات میں کسی خاتون کی زبان سے اس سے بہتر کوئی گفتگوسنی ہے؟
اصحاب نے عرص کیا یا نبی اللہ! اس قدر فصیح و بلیغ گفتگو آج تک کسی خاتون سے نہیں سنی تھی۔ اس کے بعد پیامبر(ص)نے فرمایا: جاؤ خواتین سے کہہ دو ، کہ اگر تم اپنے شوہروں کے ساتھ حسن سلوک کروگی اور اپنی ذمہ داری اچھی طرح انجام دوگی اور اپنے شوہروں کو خوش رکھنے کی کوشش کریں گی تو ان کے تمام اجر اور ثواب میں تم بھی برابر کی شریک ہونگی۔
یہ سن کر اسماء بنت یزید اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کا نعرہ بلند کرتی ہوئی پیامبر اسلام (ص) کی خدمت سے اٹھی اور مدینہ کی عورتوں کو یہ خوش خبری سنادی-(۲)
اس حقیقت کی طرف مرد اور عورت دونوں کو توجہ کرنی چاہئے کہ عورتوں کے وجود میں جنگی ، سیاسی ، اور ورزشی میدانوں میں بہادری نہیں پائی جاتی بلکہ انہیں اسلام نے ریحانۂ زندگی یعنی زندگی کی خوشبو کا لقب دیا ہے۔ جس میں خوبصورت پھولوں کی طرح لطافت اور طراوت پائی جاتی ہے۔ اور اس لطافت اور طراوت کو ظالم ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ پھول کی جگہ گلدستہ ،گلدان اور انس و محبت والی محفلیں ہواکرتی ہیں۔
امیر المؤمنین (ع)نے فرمایا:فَإِنَّ الْمَرْأَةَ رَيْحَانَةٌ وَ لَيْسَتْ بِقَهْرَمَانَةٍ -(۳) ۔
بیشک عورت گلزار زندگی کا پھول ہے نہ پہلوان۔لیکن یاد رکھو کہ مرد حضرات اپنی جسمانی قدرت اور طاقت کے زور پر کبھی بھی اس گلستان خلقت کے پھولوں کوجنہیں ما ں،بہن،بیٹی اور شریک حیات کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں، جو طراوت اور شادابی کیساتھ کھلا کرتی ہیں ؛اپنے مکہ، طمانچہ اور ٹھوکر کا نشانہ نہ بنائیں ۔دین مقدس اسلام مردوں کو اپنی ناموس خصوصاً شریک حیات کے بارے میں خبردار کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو اس لطیف اور نازک بیوی کو جوتیری زندگی کی خوشی ،سکون اور آرام کا باعث ہے ، ضائع کرے ۔:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص إِنَّمَا الْمَرْأَةُ لُعْبَةٌ مَنِ اتَّخَذَهَا فَلَا يُضَيِّعْهَا –(۴) پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا عورت گھر میں خوشی کا سبب ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی اسے اپنے تحویل میں لے لے اور اسے ضائع کردے۔
خاندانی اختلافات کا علاج
گھریلو اختلافات کا طولانی ہونا ایک سخت بیماری ہے جو خاندان کے جسم پر لاحق ہوتی ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا اور علاج کرنا بہت ضروری ہے۔
۱. پہلا علاج تو یہ ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے وضائف کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں ۔
۲. دوسرا علاج توقّعات کو کم کرنا ہے حقیقی اکسیر اوردوایہی ہے اور یہ شرطیہ علاج ہے۔ صرف ایک دفعہ آزمانا شرط ہے۔
۳. تیسرا علاج اپنی خواہشات نفسانی ، خودخواہی اور غرور و خودپسندی کے خلاف قیام کرنا ہے۔ جس سے نہ صرف اختلافات ختم ہوسکتی ہے بلکہ موجودہ اختلافات صلح و صفائی میں بدل سکتی ہے۔
۴. چوتھا علاج ایک دوسرے کے اعتراضات اور اشکالات کو سننا اور موافقت اور مفاہمت کیلئے قدم اٹھانا ۔چنانچہ قرآن مجید مردوں کو نصیحت کرتا ہے کہ طبیب اور حکیم کی طر ح علاج اور معالجہ کریں۔ اور گھریلو ماحول میں جزّابیت ، طراوت اور شادابی کو برقرار رکھیں۔
قرآن مجید کہہ رہا ہے کہ اگر بیوی نے نافرمانی شروع کی تو فوراً مارنا پیٹنا شروع نہ کریں بلکہ پہلے مرحلے میں وعظ و نصیحت کرکے اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کریں اور اگر پھر بھی نہ مانے تو دوسرا راستہ اختیار کریں۔یعنی ایک ساتھ سونا چھوڑدیں۔ اور پھر بھی بات نہ مانے تو مار کر اسے مہار کرلو۔ لیکن گھریلو اور خاندانی زندگی میں بہترین قاعدہ یہ ہے کہ شوہر مظہر احسان ہو ۔ بہترین انسان وہ ہے کہ اگر عورت خطا اور نافرمانی کا مرتکب ہو جائے تو اسے معاف کرتے ہوئے اس کی اصلاح شروع کرے۔اور راہ اصلاح اس سے دوری اختیار کرنا نہیں جو محبت اور آشتی کی راہوں کو بند کرتا ہوبلکہ صحیح راستہ وہی ہے جو محبت اور آشتی کی راہوں کو کھول دے۔قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا الَّذِي إِذَا فَعَلَهُ كَانَ مُحْسِناً قَالَ يُشْبِعُهَا وَ يَكْسُوهَا وَ إِنْ جَهِلَتْ غَفَرَ لَهَا -(۵) ۔ کسی نے امام صادق(ع) سے سوال کیا کہ بیوی کا مرد پر کیا حق ہے جسے اگر وہ ادا کرے تو مظہر احسان بن جائے؟ امام نے فرمایا : اسے کھانا دے بدن ڈھانپنے کیلئے کپڑا دے اور اگر کوئی جہالت یا نافرمانی کرے تو اسے معاف کردے۔
اوپر آیہ شریفہ میں تیسرے مرحلہ پر مارنے کا حکم آیا ہے ،لیکن مارنے کی کوئی حد بھی مقرر کی ہے یا نہیں؟یہ تو آپ جانتے ہیں کہ جس چیز کی اطاعت کرنا عورت پر واجب ہے وہ فقط مباشرت اور ہمبستری کیلئے تیار رہنا ہے کہ شوہر جب بھی اس چیز کا تقاضا کرے عورت تیار رہے اور انکار نہ کرے۔باقی کوئی کام بھی اس کے ذمہ نہیں ہے یہاں تک کہ بچے کو دودھ پلانا بھی۔ اور شوہر کو حق نہیں پہنچتا کہ اسے جھاڑو لگانے ، کپڑے دہلانے اور کھانا پکانے پر مجبور کرے بلکہ یہ وہ کام ہیں جو باہمی تفاہم اور رضامندی سے انجام دیے جائیں۔ورنہ شوہر کو ان کاموں میں مار پیٹ کرکے اپنی بات منوانا تو دور کی بات ،مواخذہ تک کرنا جائز نہیں ہے۔مرد کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ بیوی کو کنیز اور نوکرانی کی حیثیت سے گھر نہیں لائی گئی ہے بلکہ بحیثیت ہمسراور یار و مددگارلائی گئی ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ مار پیٹ کی حد کیا ہے ؟جواب یہ ہے کہ یہاں بھی مرد مارپیٹ کے حدود کو معین نہیں کرسکتا بلکہ اسلام نے اس کی مقدار اور حدود کو معین کیا ہے ۔اس قسم کی مار پیٹ کو ہم تنبیہ بدنی کے بجائے نوا زش اور پیار سے تشبیہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
اس سلسلے میں قرآن مجید میں ایک بہت دلچسپ اور سبق آموز داستان موجودہے جوحضرت ایوب اور ا ن کی زوجہ محترمہ کا قصہ ہے: حضرت ایوب A طویل عرصے تک بیمار رہے آپ کا اللہ اور اپنی زوجہ کے سوا کوئی اور سہارا نہ رہا۔وہ خادمہ سخت پریشان تھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان ملعون نے آکر کہا: اگر ایوب مجھ سے شفاء طلب کرے تو میں کوئی ایسا کام کروں گا کہ ایوب ٹھیک ہوجائے۔ جب یہ کنیز خدا اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس بات کا اظہار کیا تو حضرت ایوب A(۶) سخت ناراض ہوئے اور قسم کھائی کہ اگر میں ٹھیک ہوجاؤں تو تجھے سو کوڑے ماروں گا۔درحالیکہ آپ کی مہربان بیوی کے علاوہ کوئی اور دیکھ بھال کرنے والا نہ تھا۔ اور جب آپ بیماری سے شفایاب ہوگئے تو خدا نے انھیں دستور دیا:وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
اور ایوب A تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مٹھا لے کر اس سے مار و اور قسم کی خلاف ورزی نہ کرو - ہم نے ایوب A کو صابر پایا ہے - وہ بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا ہے ۔ صبر ایوب دنیا میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے اور روایات کی بنا پر انہوں نے واقعاً صبر کیا ہے ۔ اموال سب ضائع ہوگئے اولاد سب تلف ہوگئی ۔ اپنے جسم میں بھی طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوگئیں لیکن مسلسل صبر کرتے رہے ۔ ا ور کبھی فریاد نہ کی۔ ۔
اس واقعہ سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی ایسا موقع آئے تو ہاتھ اٹھانے سے پہلے یہ سوچ کراسے درگذر کرے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ہمیں معاف کریگا۔
جہنمی مرد
رسول اللہ(ص)نے فرمایا :مَنْ أَضَرَّ بِامْرَأَةٍ حَتَّى تَفْتَدِيَ مِنْهُ نَفْسَهَا لَمْ يَرْضَ اللَّهُ لَهُ بِعُقُوبَةٍ دُونَ النَّارِ لِأَنَّ اللَّهَ يَغْضَبُ لِلْمَرْأَةِ كَمَا يَغْضَبُ لِلْيَتِيم -(۷)
ہر وہ شخص جو اپنی بیوی کو اس قدر اذیت و آذار دے کہ وہ اپنا حق مہر سے دست بردار ہونے پر مجبور ہو جائے تو خدا تعا لی اس کیلئے آتش جہنم سے کم عذاب پر راضی نہیں ہوگاکیونکہ خداوند عورت کے خاطر اسی طرح غضبناک ہوتا ہے جس طرح یتیم کے خاطر غضبناک ہوتا ہے ۔
بس ہمیں چاہئے کہ اپنی آخرت کی فکر کرے۔ ثانیاًمرد اپنی مردانگی دکھاتے ہوئے اسے کچھ اضافی چیز دیکر آزاد کرے تاکہ اپنا وقار اور تشخّص برقرار رکھ سکے۔ چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ حضرت سلیمان A نے دیکھا کہ ایک چڑا چڑیا سے کہہ رہا ہے کہ اگرتوچاہے تو میں تخت سلیمان A کوتیرے قدموں میں نچھاور کردوں۔ جب یہ باتیں حضرت سلیمان۷ نے سنی تو فرمایا: کیا تجھ میں اتنی ہمّت ہے؟ توچڑے نے کہا یا نبی اللہ! اتنی ہمت تو کہاں ۔ لیکن مادہ کے سامنے نر کو اپنا وقار برقرار رکھنا چاہئے۔
جن ہاتھوں سے باہوں میں لیتے ہو!
پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا : َقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ يَظَلُّ مُعَانِقَهَا ؟(۸)
یعنی کیسے بیوی کو ان ہاتھوں سے باہوں میں لیتے ہو جن سے ان پر تشدد کرتے ہو؟! اور کیا تم میں سے کوئی ہے جو بیوی کو مارے اور پھراسے گلے لگائے؟!
بہت ہی احمقانہ رویّہ ہے کہ شخص اپنے ہاتھوں کو اپنی شریک حیات کے اوپر کبھی غیض و غضب اور مار پیٹ کا ذریعہ بنائے اورکبھی انہی ہاتھوں سے اپنی جنسی خواہشات پوری کرنےکیلئے اسے باہوں میں لے!
یہ مارنا پیٹنا بڑا گناہ ہے کیونکہ مارنے کا ہمیں حق نہیں ہے، اور مارنے کی صورت میں شریعت نے دیت واجب کردیا ہے۔جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
۱. شوہر کے مارنے کی وجہ سے بیوی کے چہرے پر صرف خراش آجائے تو ایک اونٹ دیت واجب ہے۔
۲. اگر خون بھی جاری ہوا تو دو اونٹ واجب ہے۔
۳. اگر بیوی کا چہرہ مارنے کی وجہ سے کالا ہوجائے تو چھ مثقال سونا واجب ہے۔
۴. اگر چہرہ سوجھ جائے تو تین مثقال سونا واجب ہے۔
۵. اگر صرف سرخ ہوگیاتو ڈیڑھ مثقال سونا واجب ہے۔ ہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ان دیات کے ساتھ قصاص لینے کا بھی حق رکھتی ہے۔
مار نا اور گالی دینا جہالت
کس قدر نادان اور جاہل ہیں وہ لوگ جو اپنی شریک حیات کومارتے اور گالی دیتے ہیں۔ایسے شوہر پر تعجب کرتے ہوئے رسول اسلام (ص) نے فرمایا:إِنِّي أَتَعَجَّبُ مِمَّنْ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ وَ هُوَ بِالضَّرْبِ أَوْلَى مِنْهَا لَا تَضْرِبُوا نِسَاءَكُمْ بِالْخَشَبِ فَإِنَّ فِيهِ الْقِصَاصَ وَ لَكِنِ اضْرِبُوهُنَّ بِالْجُوعِ وَ الْعُرْيِ حَتَّى تُرِيحُوا [تَرْبَحُوا] فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَة -(۹) ۔
میں اس شخص پر تعجب کرتا ہوں جو اپنی بیوی کو مارتاہے جبکہ وہ خود زیادہ سزا کا مستحق ہے۔ہاں مسلمانو!اپنی بیویوں کو لاٹھی سے نہ مارنا اگر ان کو تنبیہ کرنے پر مجبور ہوجائے تو انہیں بھوکے اور ننگے رکھ کر تنبیہ کرو۔ یہ طریقہ دنیا اور آخرت دونوں میں تیرے فائدے میں ہے۔
اور یہ حدیث اس آیہ شریفہ کی تفسیرہے جس میں فرمایا :وَ الَّاتىِ تخََافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَ اهْجُرُوهُنَّ فىِ الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُواْ عَلَيهِْنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللَّهَ كاَنَ عَلِيًّا كَبِيرًا .(۱۰)
اور جن عورتوں کی سرکشی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اگر باز نہ آئیں تو خواب گاہ الگ کردو(اور پھر بھی باز نہ آئیں تو )انہیں مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان کے خلاف بہانہ تلاش نہ کرو کہ خدا بلنداور بزرگ ہے ۔
____________________
۱ ۔ تفسیر المیزان،ج٤،ص٣٧٣۔،الکافی،ج۶، ص۹۔
۲ ۔ ہمان
۳ ۔ بحار الانوار،ج۷۴، ص۲۱۵۔
۴ ۔ ھمان
۵ ۔ وسائل الشیعہ،ج ۲۱، ص۵۱۱۔
۶ سورہ ص ۴۴۔
۷ ۔ وسائل الشیعہ،ج۲۲ ص ۲۸۲۔
۸ وسائل ،ج ۲۰ص ۱۶۷۔
۹. بحار،ج ۱۰۰، ص۲۴۹۔
۱۰ نساء ۳۴۔
شوہر میں بیوی کی پسندیدہ خصوصیات
مال و دولت
کیونکہ یہ گھریلو آرام وسکو ن اور زندگی میں رونق کا سبب بنتا ہے ، لہذا لوگوں کو چاہئے کہ معقول اور مشروع طریقے سے رزق و روزی کیلئے کوشش اور تلاش کریں۔اور گھر والوں کی ضروریات پوری کریں۔
قدرت اور توانائی
کیونکہ عورت مرد کو اپنا نگہبان اور محافظ سمجھتی ہے اور محافظ کو قوی ہونا چاہئے۔
باغیرت ہو
کیونکہ عورت چاہتی ہے کہ اس کا شوہر ہر کام میں دوسرے مردوں سے کمزور نہ رہے۔ خواہ دینی امور میں ہوں یا دنیوی امور میں ۔ اگر غیرت نہ ہو تو وہ شخص یقینا سست ہوگا۔ حدیث میں ملتا ہے کہ جس میں غیرت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔
مستقل زندگی گزارے
یعنی بیوی چاہتی ہے کہ اس کا شوہر خود مستقل زندگی کرے اور کسی پر محتاج نہ ہو ، تاکہ دوسرے کی منّت و سماجت نہ کرنا پڑے ۔
معاشرے میں معززہو
یہ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے لیکن بیوی کی زیادہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر معاشرے میں معزز ہو ۔ اور اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھتی ہے۔
نرم مزاج ہو
عورت کبھی نہیں چاہتی کہ اس کا شوہر خاموش طبیعت ہو کیونکہ خاموش بیٹھنے سے عورت کو سخت تکلیف ہوتی ہے لہذا وہ چاہتی ہے کہ اس کے ساتھ نرم لہجے میں میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہے ۔
صاف ستھرا رہے
یہ بات ہر انسان کی طبیعت میں اللہ تعالی نے ودیعت کی ہے کہ وہ صفائی کو پسند کرتا ہے اور گندگی اور غلاظت سے نفرت کرتا ہے ۔اس بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں : النضافة من الایمان۔ صفائی نصف ایمان ہے ۔ عورت بھی اپنے شوہر کو پاک و صاف دیکھنا پسند کرتی ہے، لہذا مردوں کو چاہئے کہ اپنی داڑھی اور بالوں کی اصلاح کرتے رہیں۔خوشبو استعمال کریں ۔سیرت پیامبر (ص)میں بھی ہمیں یہی درس ملتاہے۔
خوش سلیقہ ہو
وہ چاہتی ہے کہ اگر وہ کوئی کام کرے تو اس کوشوہر سراہاکرے اور اس سے غافل نہ رہے۔اگر بچّے گھر میں بد نظمی پیداکریں تو اس کی اصلاح کرے۔ اور منظّم کرے۔
مؤمن ہو
یہ ساری صفات میں سب سے اہم ترین صفت ہے ۔ اگر ایمان ہے تو سب کچھ ہے اور اگر ایمان نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ۔کیونکہ یہی ایمان ہے جو تمام خوبیوں اور اچھائیوں کی جڑ ہے۔ لہذا خدا تعالی سے یہی دعا ہے کہ ہمیں بھی ایمان کے زیور سے آراستہ اور مزیّن فرمائے۔
آمین یا رب العالمین ۔
دوسرا حصہ
خواتین کا مقام اور حقوق
پہلی فصل
:عورت تاریخ کی نگاہ میں
تاریخ بشریت میں عورت کا مقام
قبل اس کے کہ اصل موضوع عورتوں کے حقوق اسلام کی نگاہ میں گفتگو کروں ، اسلام سے پہلے عورتوں کی وضعیت اور موقعیت کا مختصر سا مطالعہ ضروری ہے تاکہ بہتر سمجھ سکے اور درک کرسکے کہ پیامبر اسلام (ص)نے کتنی زحمتوں کو برداشت کرکے ان کی چھینی ہوئی حیثیت اور حقوق کو دوبارہ انہیں دلادی۔
ابتدائی دورمیں عورت کی حیثیت
قدیمی ترین زمانے میں مختلف ممالک میں کلی طور پر عورتوں پر حکومت کرتے تھے کیونکہ ہر معاشرے میں مخصوص آداب اور رسوم حاکم تھا جو دینی اور قانونی نہ تھا ۔ عورت کی کوئی حیثیت نہ تھی بلکہ جانوروں کی طرح ان کی دیکھ بہال ہوتی تھی۔ جس طرح بہیڑ بکریوں کو گوشت کی خاطر یا فروخت کیلئے پالتے ہیں اسی طرح عورتوں کو بھی ایک وسیلہ کے طور پر کہ پیسہ کمائیں یا جنسی خواہشات کو پورا کروائیں نگہداری کرتے تھے۔ یہان تک کہ اگر قحط پڑجائے تو ذبح کرکے عورتوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔ عورت صرف شوہر کے گھر میں نہیں بلکہ اپنے باپ کے گھر میں بھی مظلوم واقع ہوتی تھی۔ کسی چیز پر اختیار نہیں تھا حتی شوہر کا انتخاب بھی باپ کی مرضی سے ہوتا تھا۔ اور حقیقت میں ایک قسم کا معاملہ تھا باپ اور شوہر کے درمیان۔ اگر گھر کا رئیس ، باپ ہو یا بھائی یا شوہر ،جسے چاہے اسے بخش دیتا یا فروخت کردیتا، یا فقط عیاشی کے عنوان سے نسل بڑھانے اور خدمت گذاری کیلئے کسی اور کو عاریہ دیتا تھا، یا قرض یا اجارہ لیتا تھا۔
ہم یہاں چند ممالک اور جوامع بشری میں عورتوں کی حیثیت کا جائزہ لیں گے:
یونان میں عورت کی حیثیت
یونان اور روم کو متمدن ممالک اور پیش رفتہ جامعہ تصور کرتے ہیں لیکن وہاں پر بھی خواتین کی زبون حالی یہ تھی کہ انہیں شیطان کی نسل اور نجس موجود سمجھتے تھے۔
اسپرٹی نامی ایک شخص کہتا ہے: (عورت ایک بلند بال اور کوتاہ فکر حیوان ہے)۔ یہ مقولہ اس قدر مشہور ہوگئی کہ ادبیات عرب میں ضرب المثل کے طور پر استعمال ہونے لگا۔ المرئة حیوان طویل الشعر وقصیر الفکر۔
یونان والے جب بھی عورت کے بچہ دینے سے مایوس ہوجاتے تو اسے موت کے گھاٹ اتاردیتے تھے ۔
ان کے ہاں یہ ضرب الامثال موجود ہیں:
: تین شر: طوفان، آگ اور عورت۔
شادی نہ کرو اگر کرلی تو بیوی کو حاکم نہ نباؤ۔
عورت کو جھوٹ اور کتے کو ہڈی کے ذریعے راضی کرو۔
اچھی اور بری بیوی دونوں کو کوڑے کی ضرورت ہے ۔
شوہر کی خوش بختی یا بد بختی اس کی بیوی ہے۔
شریر بیوی سے ہوشیار رہو اور اچھی بیوی پر اعتماد نہ کرو۔
شادی کرنا ایک بلا ہے ، جس کیلئے لوگ دعاکرتے ہیں-(۱)
اٹلی میں عورت کی حیثیت
عورت اور گائے کو اپنے ہی شہر یا گاؤں سے انتخاب کرو۔
خوبصورت عورت کا مسکرانا شوہر کے بٹوے کا رونا ہے۔
تین چیزیں قانون سے بالاتر ہے : عورت، خچر،اور سور۔
خوک بکرے سے زیادہ مزاحم ہے اور عورت ان دونوں سے بھی زیادہ۔
شیطان کو بھی خبر نہیں کہ عورت خنجر کو کہاں تیز کرتی ہے۔
اگر ساری عمر بیوی کو اپنے دوش پر اٹھاتے رہو اور ایک لمحہ کیلئے اسے اگر زمین پر رکھ دیا تو کہے گی : میں تھک گئی ہوں۔
ایران باستان میں عورت کی حیثیت
عورت ایک بلا ہے لیکن کوئی گھر اس بلا کے بغیر نہیں ہونا چاہئے۔
گھوڑا ،تلوار اور بیوی کیا کسی کا وفادار بنا ؟!
عورت اور اژدھا دونوں مٹی کے اندر ہی اچھا۔
عورت کا خدا اس کا شوہر ہے۔
بیوی ایک ، خدا ایک۔
عورت قلعہ ہے اور شوہر اس کا قیدی۔
روم میں عورت کی حیثیت
روم والے اگرچہ قوانین اور حقوق میں بڑی ترقی کرچکے لیکن عورتوں کے بارے میں عام لوگوں کی خشونت آمیز رویّے اورسر سخت نظریہ تھا ۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ چونکہ عورت میں روح انسانی نھیں پائی جاتی لہذا روز قیامت دوبارمحشور ہونے کے لائق بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مکمل طور پر شیطان اور مختلف روحوں کا مظہر ہے۔ اسلئے عورت کو ہنسنے اور بات کرنے کا حق نھیں تھا۔
رومی عورت کو ایک جنس تجارت شمار کرتے تھی اسلئے جب بھی گھر کا سردار یا مالک مرجاتا تھا تو عورتوں کو وراثت کے طور پر تقسیم کرتے تھے-(۲)
کہاوتیں:
عورتوں کو رونا آتا ہے تاکہ وہ جھوٹ بول سکیں۔
بہترین عورتیں بھی شیطان کی آلہ کار ہیں۔
اگر بوڑھی عورت کو دھوکہ دے سکے تو سمجھ لو شیطان کو جال میں پھنسا دیا۔
عورت صرف اپنی عمر اور ان چیزوں کو چھپاتی ہے جنہیں نہیں جانتی ۔
عورت اور بکری کو جلد ہی گھر میں بند کردینا چاہئے ، ورنہ وہ بھیڑیے کا شکار ہونگے۔
قرون وسطی میں عورت کا مقام
قرون وسطی میں بھی عورت کو اجتماعی حقوق حاصل نہ تھا ۔ بلکہ وہ ایک بردہ اور کنیز کی حیثیت سے زندگی گزارتی تھی ۔ یہاں تک کہ عورت کو عامل فساد اور منفور خدا تصور کرتے تھے اور معتقد تھے کہ آدم کو بھشت سے نکالنے کا سبب بھی یہی عورت ہے ۔
جب قرون وسطی میں ایک کشیش سے پوچھا گیا:کیا اس گھر میں داخل ہوسکتا ہے جس میں نامحرم عورت موجود ہو؟ جواب دیا ہرگز ہرگز۔ حتی محرم بھی داخل ہوجائے ، تب بھی حرام ہے اگرچہ نگاہ نہ بھی کرے-(۳) ۔
حضرت مسیح A نے بھی عورت کے بغیر زندگی کی ہے اگر کوئی حقیقی مسیح بننا چاہتے ہیں تو کبھی بھی شادی نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی پادری(روحانی پاپ) زندگی بھر شادی نہیں کرتے ۔ دلیل یہ ہے کہ شادی کرنا خدا کو ناراض کرنے کا سبب ہے کیونکہ ایک ہی دل میں خدا کی محبت اور عورت کی محبت جمع نہیں ہوسکتی۔ اور شادی شدہ روح القدس کا حامل نہیں ہوسکتا۔
روس میں عورت کی حیثیت
روس کی ثقافت میں بھی عورت کو ایک حیوان سے زیادہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی کہاوتیں کچھ یوں ہے:
نہ چوزے کو مرغی کہہ سکتے ہیں اور نہ عورت کو انسان۔
جب بچی کی ولادت ہوتی ہے تو چار دیواریں رونے لگتی ہیں۔
عورت سایہ کی مانند ہے اگر اس کے پیچھے دوڑیں تو وہ بھاگ جاتی ہے اور
اگر اس سے دور بھاگیں گے تو وہ پیچھے پیچھے آنے لگتی ہے۔
جس نے جواب بیوہ عورت سے شادی نہیں کی اس نے بدبختی کو نہیں چشا ہے۔
عورت کی بال لمبی ہے اور عقل پیچیدہ ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی خبر پوری دنیا تک پھیل جائے تو بیوی کو سناؤ۔
خوبصورت عورت آنکھوں کیلئے جنت ہے ، روح کیلئے جہنم اور جیب کیلئے برزخ ہے۔
آزادی نیک عورت کو بھی فاسد کرتی ہے۔
عورت صرف دو دن پیاری ہے : جس دن تیرے گھر پہلی مرتبہ قدم رکھے اور جس دن اسے دفن کردے۔
اپنی بیوی کو اپنی جان سے زیادہ پیار کرو ، لیکن اسے ڈرانے میں بھی کسی قسم کی کوتاہی نہ کرو۔
جتنا اسے زیادہ مارو گے اتنی ہی اچھی غذا کھاؤ گے۔
عورت ایک ہی وقت ۷۷ چیزوں کے بارے میں سوچتی ہے۔
عورت بےجا شکایت کرتی ہے ، عمداً جھوٹ بولتی ہے ، آشکارا روتی ہے اور چھپ چھپ کے خوشی مناتی ہے۔
عورت کے رونے اور کتے کے لنگڑانے سے دھوکہ نہ کھائیں۔
اگر شوہر اپنی خوبصورت بیوی کو دن میں تین بار نہ ماریں تو وہ چھت سے بھی اوپر جانے لگتی ہے ۔
عاقل انسان عورت کے رونے میں پانی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا۔
عورت کو ہتھوڑی کے ساتھ مارو اور سونے کے پانی سے علاج کرو-(۴)
مغربی دنیا میں عورت کی حیثیت
فرانس یورپی ممالک میں تمدن کا گہوارہ کے نام سے مشہور ہے ۔ ان ممالک میں عورت کی حیثیت کا صرف اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھی عورت شوہر سے جدا ہوجائے یا طلاق دی جائے تو اسے زرّہ برابر اپنے بچوں پر حق حاصل نہیں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ماں کی عطوفت کو پس پشت ڈال کرایک سادہ ترین اورطبیعی ترین حق جو ماں اور بیٹے کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے، ماں کو حاصل نہ ہو کہ وہ اپنے لخت جگر سے مل سکے ۔ جبکہ یہ حق تو حیوانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ تمدن نہیں بلکہ توحّش یا وحشت گری ہے۔
موجودہ تورات میں عورت کو موت سے زیادہ تلخ معرفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ عورت کمال انسانی تک نہیں پہنچ سکتی ۔ یہودی جو اپنے آپ کو بہترین اور پاک ترین قوم کہلاتے ہیں ، معتقد ہیں کہ عورتوں کی گواہی ، نذر ، قسم،۔۔۔ قبول نہیں ۔ اور نہ ارث کا مستحق ہے-(۵)
کہاوتیں:
عورت مردوں کیلئے صابون کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر کوئی مرد بہت زیادہ بوڑھا ہوجائے تو اس کی بیوی کی وجہ سے ہے۔
بدشکل عورت عشق کی بہترین دوا ہے۔
عورت کا انتخاب کرنا اور ہندوانہ کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہے۔
ہمیشہ پرہیزگاری کا دم بھرنے والی عورت پر اعتماد نہ کر۔
انگلستان میں عورت کی حیثیت
عورت ایک شر ہے لیکن ضرورت بھی۔
جو شخص کی بیوی ہو ایسا ہے جیسے وہ بندر پال رہا ہے ۔یعنی خراب کاری کا وہ وہ خود مسؤل ہے۔
عورت کے پاس زبان کے علاوہ کوئی اور اسلحہ نہیں ہے۔
بدشکل عورت درد دل ہے اور خوبصورت عورت دردسر۔
عورت دس سالگی میں فرشتہ ، پندرہ سالگی میں طاہرہ، چالیس سالگی میں ابلیس اور اس کے بعد عفریتہ (چالاک ) ہے۔
جسے عورت سے پیار نہیں اس نے سور کے پستان سے دودھ پیا ہے۔
کتا ہمیشہ قابل اعتماد ہے اور عورت پہلی فرصت ملنے تک۔
عورت تیرے سامنے مسکراتی ہے اور پیٹھ پیچھے تیرا گلہ کاٹ رہی ہوتی ہے۔
بیوی سے کہو بہت خوبصورت ہو ، تاکہ وہ خوشی سے دیوانہ ہو جائے۔
عورت جس قدر اپنی شکل وصورت میں زیادہ دقت کرتی ہے اسی قدر وہ گھر یلو زندگی سے بے قید ہوجاتی ہے۔
عورت کی مثال کشتی کے بادنما کی ہے ، کہ ہوا کا رخ جس طرف پھرجائے اسی طرف یہ بھی پھر جاتی ہے۔
عورت کی نصیحت کوئی مہم تو نہیں لیکن اگر کسی نے اسے قبول نہیں کیا تو وہ پاگل انسان ہے۔
عورت جب چاہے خوب روتی ہے اور جب چاہے ہنستی ہے۔
چونکہ عورت کے پاس منطقی دلیل نہیں ہے گھر میں اس کی بات ہی حرف آخر ہے۔
اگر اپنی بیوی سے تو نے خچر بنایا تو وہ تمہیں گائے بنادے گی۔
اچھی بیوی ، اچھے شوہر کی مرہون منت ہے۔
بیوہ عورت سے شادی نہ کرو ، مگر یہ کہ اس کے پہلے شوہر کو پھانسی دی گئی ہو۔
جس نے بھی اس بیوہ عورت سے شادی کی ،جس کے تین بیٹے ہو ؛ تو سمجھ لو اس نے چار چوروں سے شادی کی ہے۔
چین میں عورت کی حیثیت
بدشکل عورت اور کم مال کیلئے محافظ یا قلعے کی ضرورت نہیں۔
اگر عورت نے شوہرسے خیانت کی تو گویا گلی سے تھوک گھر کے اندر پھینکا ہے اور اگر مرد نے عورت سے خیانت کی ہے تو گھر سے تھوک گلی میں پھینگا ہے۔
بیٹے کو گھر میں اور بیوی کو بسترمیں نصیحت کریں۔
جس طرح گندم کے دانے توے پر پھولتے ہیں اسی طرح عورت بھی گھر کے راز کو افشا کرتی ہے۔
اگر کوئی کسی عورت پر دیوانہ ہوجائے تو صبر کر لو کہ وہ عورت ہی اسے عاقل بنا دے گی۔
عورت ہونٹوں سے جب نہ کہہ رہی ہے تو آنکھوں سے وہ ہاں کر رہی ہوتی ہے۔
جاپان میں عورت کی حیثیت
عورت کی زبان ایک ایسی تلوار ہے جسے کبھی زنگ نہیں لگتا۔
جوشخص اپنی بیوی کو مارے تو وہ تین دن بھوکا اور تین دن کا م سے فارغ ہوجاتا ہے۔
رات، عشق اور عورت انسان کو اشتباہ میں ڈال دیتا ہے۔
جس کی بیوی باوفا ہو اور شہد کی مکھی اس پر مہربان ہو تو وہ دولت مند ہوجاتا ہے۔
جب تک غلات کو گودام میں اور عورت کو قبر میں نہ اتارے ؛ اعتماد نہ کرو۔
جب خدا تعالی کسی پر اپنا غضب نازل کرنا چاہتا ہے تو اس کا عقد کسی کی اکلوتی بیٹی سے کراتا ہے۔
جرمنی میں عورت کی حیثیت
جہاں عورت کی حکومت ہے وہاں شیطان اس کی فرمان برداری کے لئے آمادہ ہے۔
عورت شکل سے فرشتہ ہے ، دل سے سانپ اور شعور کے لحاظ سے وہ گدھی ہے ۔
جو بھی مال دار عورت سے شادی کرے گا وہ اپنی آزادی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
جب بھی ایک عورت مرجاتی ہے تو ایک فساد یا فتنہ ختم ہوجاتی ہے ۔
بوڑھا مرد اگر جوان لڑکی سے شادی کرے تو اس کی موت خوشی اور قہقہ میں بدل جاتی ہے۔
عورت کے ہاں اور نہ کرنے کے درمیان ایک سوئی کے برابر بھی فاصلہ نہیں ہوتا۔
عورت منہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
شیطان کیلئے ایک مرد کو گمراہ کرنے کے لئے دس گھنٹے کی ضرورت ہے لیکن ایک عورت کے لئے دس مرد کو فریب دینے کے لئے ایک گھنٹہ درکار ہے۔
عورت جو رورہی ہوتی ہے وہ چھپ کر ہنس رہی ہوتی ہے(۶)
ہندوستان میں عورت کی حیثیت
ہندو مذہب کے پیروکار معتقد ہیں کہ عورت کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی ۔ اور کوئی روح ان میں نہیں پائی جاتی، اسلئے جب بھی شوہر مرجاتا تہا تو اسی کے ساتھ بیوی کو بھی جلایا جاتا تھا۔ اور شوہر پر تشریفاتی طور پر قربان کیا جاتا تھا ۔ اس سنت کا نام ستی ( sati ) ہے گذشتہ ایک قرن تک یہ سنت جاری رہی۔ اور اب بھی بعض متعصب ہندو اس سنت کو انجام دیتے ہیں۔
کہاوتیں:
عورت کو تعلیم دینا بندر کے ہاتھوں خنجر دینے کے مترادف ہے۔
عورت کے بغیر گھر شیطان رہنے کی جگہ ہے۔
عورت کا گھر میں داخل ہونا سعادت کی ابتدا ہے ۔
عورت شوہر کی عدم موجودگی میں روتی رہتی ہے اور زمین پانی کے نہ ہونے پر روتی رہتی ہے ۔
ہزار آدمی ایک بات پر متفق ہو سکتے ہیں لیکن دو بہنوں کا اتفاق ہونا محال ہے۔
مرد کوشہوت سے دلچسپی ہے اور عورت کو مرد سے ۔
بیوی اور بٹوا کو سخت طریقے سے باندھ کر اپنے ساتھ لیکر جائیں۔
خوبصورت عورت ہر کسی کی ہے اور بدشکل عورت اپنے شوہر کی ۔
اچھی عورت وہ ہے جو یا گھر میں رہے یا قبر میں۔
لوگ پہاڑ کی مانند ہے اور عورتیں اہرم کی ۔
____________________
۱ ۔ بہشت خانوادہ، ص ۳۳۵۔۲ ۔ حقوق زن در اسلام و جہان،ص٩ ۳ ۔ علی شریعتی؛ فاطمہ فاطمہ است،ص ٥٩۔۴ ۔ بہشت خانوادہ، ص ۳۲۹۔
۵ ۔ محمد تقی سجادی؛سیری کوتاہ در زندگانی فاطمہ ،ص٢٣.۶ ۔ بہشت خانوادہ،ص۳۲۱۔
عصر جاہلیت میں عورت کی حیثیت
اسلام سے پہلے عصر جاہلیت میں عورت نہ فقط ابتدائی حقوق (روٹی ، کپڑا اور مکان) سے محروم تھی بلکہ ہر حیوانوں سے پست تر اور بدتر شمار ہوتی تھی۔ اور اشیاء فروخت کے طور پر بازار میں خرید و فروخت ہوتی تھیں۔ اور بعض وجوہات جیسے فقر و تنگدستی اور جنگوں میں شکست کے موقع پر اسیرہونے کے خوف سے موت کے گھاٹ اتارتے تھے۔اور ویسے بھی عورت کی وجود کو اپنے لئے ننگ وعار سمجھتے ہوئے زندہ درگور کرتے تھے۔
دختر کشی عرب میں عام رواج بن گیا تھا ۔ بعض لوگ بچیوں کے پیدا ہوتے ہی سر قلم کرتے تھے تو بعض لوگ پہاڑی کے اوپر سے پھینک دیتے تھے۔ تو بعض لوگ پانی میں پھینک دیتے تھے تو بعض لوگ زندہ درگور کرتے تھے۔ جب بھی عورت بچے کو جنم دیتی تو ایک طرف گڑھا کھود کر رکھتے تھے اور دوسری طرف بچے کا لباس ۔ اوردیکھتے کہ بچی ہے تو گڑھے میں ڈال دیتے لیکن اگربچّہ ہو تو لباس فاخرانہ اسے پہناتے تھے۔
داستان قیس قساوت اور سنگدلی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔یہ شخص پیامبر اسلام (ص) پر ایمان لانے کے بعد رو رہا تھا ۔ پیامبر اسلام (ص)نے وجہ دریافت کی تو کہا : یا رسول اللہ(ص) اس بات پر افسوس کر رہا ہوں کہ دعوت اسلام کچھ سال پہلے ہم تک پہنچ جاتی تو میں اپنی بچیوں کو زندہ درگور نہ کرتا۔! یا رسول اللہ (ص) میں اپنی ہاتھوں سے تیرہ بچیوں کو زندہ درگور کرچکا ہوں۔ تیرہویں ۔ بچی جو میرے کہیں سفر کے دوران پیدا ہوئی تھی میری بیوی نے مجھ سے چھپا کر اپنے کسی عزیز کے ہاں رکھ دی تھی اور مجھ سے کہنے لگی بچہ جو دنیا میں آیا تھا وہ سقط ہوا اور مر گیا ۔ میں بھی اسی بات پر اطمنان کر کے بیٹھا۔ کچھ سال گذرنے کے بعد میں کسی سفر سے جب واپس گھر پہنچا تو دیکھا گھر میں بہت ہی لاڈلی اور خوبصورت لڑکی آئی ہوئی ہے۔ اپنی بیوی سے کہا یہ لڑکی کون ہے؟ اس نے تردد کے ساتھ جواب دیا یہ تمھاری بیٹی ہے ۔ تو میں اسے فوراً گھسیٹ گھسیٹ کر محلے سے دور لے جارہاتھا اور میری بیٹی زار زار رورہی تھی اور کہہ رہی تھی بابا میں کبھی آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی اور نہ آپ کے دسترخوان پر بیٹھوں گی اور نہ کبھی آپ سے لباس مانگوں گی ۔ لیکن مجھے رحم نہ آیا اور اسے بھی درگور کردیا۔ جب رسول گرامی۷نے یہ ماجرا سنا تو آنکھوں میں آنسو آئے اور فرمانے لگے من لا یرحم لا یرحم ۔ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا ۔ اور فرمایا: اے قیس ! تمھارے لئے برا دن آنے والا ہے۔ قیس نے کہا مولا ابھی میں اس گناہ کی سنگینی کو کم کرنے کیلئے کیا کرسکتا ہوں ؟ اس وقت رسول اللہ(ص)نے فرمایا: اعتق عن کلّ مولودةٍ نسمةً۔ یعنی اسی تعداد میں کہ تم نے زندہ درگور کیا ہے ، کنیزوں کو آزاد کرو-(۱)
جزیرة العرب میں ناجائز شادیاں
مساعات
بیگناہ بچیوں کی دردمندانہ موت اور قتل کے نتیجے میں عورتوں کی تعداد کم ہوتی
گئی۔ اور لوگوں کا بغیر بیوی کے زندگی گذارنا ناممکن تھا ،جس کا لازمہ یہ تھا کہ عورتوں کو کرایہ پر مہیّا کیا جاتا تھا ۔ یہ عورت کی بیچارگی کی انتہا تھی کہ چوپائیوں کی طرح کرائے پر دی جاتی تھی۔! عبداللہ بن جدعان اور عبداللہ بن ابی مکہ اور یثرب میں اپنی کنیزوں کو کرایہ پر دیکر بہت بڑا مال دار بن گئے ۔ اور یہ بھی رسم تھا اگر مقروض قرض نہ چکا سکا تو قرض دینے والا اس کی بیٹی یا بیوی کو لیکر زنا پر مجبور کرتے اور زنا کے پیسے سے اپنا قرض واپس لیتے تھے۔یہ رسوائی (مساعات ) کے نام سے مشہور تھی۔
اس کے علاوہ بھی قسم قسم کے نامشروع اور ذلّت آمیز نکاح رائج تھے۔ جن میں سے کچھ یہ ہیں:
نکاح الاستیضاع
یہ نکاح شرم آور ترین نکاح ہے۔ اگر کوئی شخص کسی شجاع ،دلیر،خوبصورت اورنامور شخص کا ہمشکل فرزند کا خواہاں ہو تو بغیر کسی شرم و حیا کے اپنی بیوی کو اسی صفت کا مالک فرد کے پاس بھیج دیتا تھا۔ اور جب حاملہ ہو اور زنا زادہ پیدا ہو جائے تورسم ورواج کے مطابق اسی شوہر کا سمجھا جاتا تھا۔!
نکاح الرھط
یہ نکاح اجتماعی اور گروہی نکاح کہلاتا ہے ۔ تقریباً دس افراد پر مشتمل ایک گروہ ایک دوسرے کی رضایت کے ساتھ ایک عورت کیساتھ ہمبستری کرتے رہتے۔ اگر بچہ پیدا ہوجائے تو ہو عورت اپنی مرضی سے کسی ایسے شخص کی طرف نسبت دیتی جو زیادہ خرچہ دیتا رہا ہو۔ لیکن اگر کوئی بچی پیدا ہوجائے تو اعلان نہیں کرتی۔ کیونکہ کوئی راضی نہیں ہوتے۔
عمرو عاص جس نے جنگ صفین میں حکمیت ایجاد کرکے خلافت کو علی (ع)سے لیکر معاویہ کیلئے برقراررکھا۔ اسی دست جمعی نکاح سے پیدا ہوا تھا، اس کی ماں لیلی نے اسے عاص بن وائل کی طرف منسوب کیا۔ جبکہ ابو سفیان اپنی آخری دم تک یہ ادعا کرتا رہا کہ عمرو میرے ہی نطفے سے پیدا ہوا تھا لیکن عاص بن وائل لیلی کو زیادہ پیسہ دیتا تھا اس وجہ سے اسے بعنوان باپ انتخاب کیا۔
نکاح البدل
یعنی اپنی بیوی کو دوسرے کو دینا اور اس کی بیوی کو اپنے پاس لانا۔جو ایک خاص
جملے کیساتھ مبادلہ ہوتا تھا۔ انزل الیّ عن امرائتک و انزل لک عن امرائتی۔
نکاح المقت
یہ بھی رائج تھا کہ اگر کوئی شخص مر جائے تو اس کی بیوی کو بھی ار ث کے ساتھ بڑا بیٹا اپنے تحویل میں لیتا تھا۔ اگر سوتیلا ماں ہو اور جوان و خوبصورت ہوتو استمتاع بھی کرلیتا تھا۔ یا کسی اور کو دیدیتا اور اس کا مہریہ لے لیتا تھا۔ یہاں بے چاری عورت سوائے تسلیم کرنے کے اور کچھ نہ کر سکتی تھی ۔
اسلام نے اس قسم کے نکاح کرنے سے سختی کیساتھ منع کرتے ہوئے فرمایا:
وَلاَ تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاء سَبِيلاً –(۲) اور ان کیساتھ تم نکاح نہ کریں جن سے تمہارے آباء و اجداد نے کیا ہےبیشک کھلی ہوئی برائی اور پروردگار کا غضب اور بدترین راستہ ہے
نکاح الجمع
عرب کے ثروتمند لوگ اپنے مال و ثروت کو بڑھانے کیلئے کنیزوں کو خریدتے یا بے بندو بار عورتوں کو ایک قرارداد کے ساتھ جمع کرتے اور انہیں اہل فن وادب، موسیقار اور عشوہ گرکے ہاں بھیجتے تاکہ بیشتر کما سکے اور ان میں سے ہر ایک کیلئے الگ گھر مہیا کرکے اس کے دروازے پر ایک خاص قسم کا جہنڈا کھڑا کرتے جو اس بات کی حکایت کرتا تھا کی ہر کوئی وارد ہوسکتا ہے اور اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرسکتا ہے۔ ایسی عورتیں قینات کے نام سے مشہور تھیں۔
نکاح الخدن
خندن لغت میں دوست یا معشوقہ کو کہا جاتا ہے کہ مرد اپنی معشوقہ کیساتھ محرمانہ رابطہ پیدا کرتا ہے ۔ عرف جاہلی میں اسے رسمی اور قانونی قرار دیا گیا تھا۔جبکہ قرآن مجید نے اس قسم کے روابط سے منع کرتے ہو ئے فرمایا: مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ-(۳) یعنی ان کنیزوں کے ساتھ شادی کرو جوپاکدامن ہوں نہ کہ کھلم کھلا زنا کار ہوں اور نہ چوری چھپے دوستی کرنے والی ہوں۔
نکاح الشغار
یہ نکاح مبادلی ہے یعنی اپنی بیوی کے مہریے میں اپنی بیٹی دوسرے کو دینا۔ یہ معاملہ بھی دو مردوں کے درمیان ہوتا تھا ، یہاں بھی بے چاری عورت فاقد رضایت اور ارادہ تہی(۴) ۔
____________________
۱ ۔ حقوق زن در اسلام،ص١٥۔
۲ ۔ نساء ۲۲۔
۳ ۔ نساء ۲۵۔
۴ ۔ حقوق زن در اسلام و جہان، ص٣٧
دوسری فصل
اسلام میں عورت کی قدر و منزل
اسلام نے بھی بالکل مناسب موقع پر کہ جب تمام جوامع بشری مختلف قسم کے انحرافات میں گرے ہوئے تھے بعض جامعہ یا سوسایٹیزکثرت شہوت کی وجہ سے عورت کو اپنا معبود بناچکے تھے تو بعض جامعہ غفلت کی وجہ سے عورت کو فاقد ارادہ حیوان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ عورت روح انسانی سے مبرّا ہے لہذا قابل تقدیر نہیں ہے۔ اور یہ مظلوم عورت بھی جہالت اور نادانی اور ناچاری کی وجہ سے خاموش رہتی۔
پیامبر اسلام (ص)،رحمة للعالمین بن کر خدا کی طرفسے مبعوث ہوئے اور ان تمام غلط اور نا روا رسومات اور انسان کی ناجائز تجاوزا ت کو ختم کرکے آپ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ عورت کو اپنا حق اور مرد کو اپنا حق دیکر ظلم و ستم اور بے انصافی کا خاتمہ کیا ۔
پوری کائنات میں اسلام اولین مکتب ہے جو مرد اورعورت کیلئے برابر حقوق کا قائل ہوا۔ اور عورت کو حق مالکیت اور استقلال عطا کیا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے۔ نہ صرف حق دیا بلکہ اس سے بھی بالا تر کہ مرد سے بھی زیادہ عورت کا احترام اور اس کی قدر و منزلت کا قائل ہوا۔ اور فرمایا: مرد کو عورت پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے خدا کے نزدیک سب برابر ہیں فضیلت ۔ اور برتری کا معیار صرف تقوی الہی قرار دیکر فرمایا:يَأَيهَُّا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكمُ مِّن ذَكَرٍ وَ أُنثىَ وَ جَعَلْنَاكمُْ شُعُوبًا وَ قَبَائلَ لِتَعَارَفُواْ إِنَّ أَكْرَمَكمُْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَئكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ -(۱) انسانو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہےاس آیہ شریفہ سے اس فاسد عقیدہ کا بھی قلع قمع ہوجاتا ہے کہ بعض جامعہ قائل تھے کہ عورت قیامت کے دن بہشت میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ وہ فاقد روح انسانی ہے اور وہی انسان کو بہشت سے نکالنے والی ہے۔ وہ شیطان کی نسل ہے جسے صرف مرد کی وجود کیلئے مقدمہ کے طور پر خدا نے خلق کیا ہے۔
دوسری آیة میں ارشاد فرمایا:( خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا ) –(۲) یعنی عورت بھی مرد کا ہم جنس اور بدن کا حصہ ہے۔اور فرمایا:( أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَآئِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ) –(۳) عورت تمھارے لئے عیوب کو چھپانے کیلئے لباس ہے جس طرح تم ان کیلئے عیوب کو چھپانے کا وسیلہ ہے۔ اس لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ جب عورت کو کسی چیز کا مالک نہیں سمجھتا تھا اس وقت فرمایا :( وَلاَ تَتَمَنَّوْاْ مَا فَضَّلَ اللّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْن ) ۔(۴)
کہ وہ بھی اپنے کسب کئے ہوئے اموال پر اسی طرح مالک اور مختار ہے جس طرح مرد مالک ہے۔
جب عورت کو اجتماعی امور میں شریک ہونے کا حق نہیں دیا جارہا تھا اس وقت اسلام نے عورت کو بھی مرد کے برابر ان اجتماعی امور میں شریک ٹہھراتے ہوئے فرمایا :( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ) –(۵)
اس طرح متعدد آیات اور روایات میں عورت کی قدر ومنزلت کو کبھی بیٹی کی حیثیت سے تو کبھی ماں کی ، کبھی بیوی کی حیثیت سے تو کبھی ناموس اسلام کی ، دنیا پر واضح کردیا ہے ۔ کیونکہ ہر انسان کیلئے ناموس کی زندگی میں یہ تین یا چار مرحلہ ضرور آتا ہے۔ یعنی ایک خاتون کسی کی ماں ہے تو کسی کی بیٹی۔اور کسی کی بہن ہے تو کسی کی بیوی ہوا کرتی ہے۔ اسلام نے بھی ان تمام مراحل کا خا ص خیال رکھتے ہوئے عورت کی شخصیت کو اجاگر کیا ہے۔ ہم ان مراحل کو سلسلہ وار بیان کریں گے، تاکہ عورتوں کے حقوق کو بہتر طریقے سے سمجھ سکے اور اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔
اسلام میں عورت کا مقام
پیامبر اسلام (ص) ہمیشہ عورتوں کیساتھ مہر و محبت اور پیار کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حُبِّبَتْ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَ الطِّيبُ وَ جُعِلَتْ فِي الصَّلَاةِ قُرَّةُ عَيْنِي -(۶) میں دنیا میں تین چیزوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں : عطر ،عورت اور نماز کہ جو میری آنکھوں کی روشنائی ہے-(۷)
یاد رہے آپ (ص) کا یہ فرمانا شہوت وغرائز جنسی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آپ (ص) ایسے فرامیں کے ذریعے عورت کی قدر و منزلت اور شخصیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس عرب جاہلیت کے دور میں عورتوں کی کوئی قدر وقیمت نہیں تھی۔ ہر قسم کے حقوق سے محروم تھی ۔ ان کی کسی اچھے عمل کو بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے ۔ لیکن جب اسلام کا ظہور ہوا جس نے نیکی میں مرد اور عورت کو برابر مقام عطا کیا ۔مؤمنہ عورت کے بارے میں امامصادق (ع)فرماتے ہیں:المرأة الصالحة خیر من الف رجل غیر صالحٍ –(۸) ایک پاک دامن عورت ہزار غیر پاک دامن مرد سے بہتر ہے۔اسی طرح ان سے محبت کرنے کو ایمان کی نشانی بتاتے ہوئے فرمایا:عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ مَا أَظُنُّ رَجُلًا يَزْدَادُ فِي الْإِيمَانِ خَيْراً إِلَّا ازْدَادَ حُبّاً لِلنِّسَاءِ –(۹) جب بھی ایمان میں اضافہ ہوتا ہے تو عورت سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسلام کی نگاہ میں ماں کا مقام
اسلام کی نگاہ میں ماں کا مقام بہت بلند ہے خدا تعالی کے بعد دوسرا مقام ماں کو حاصل ہے۔چنانچہ رسولخدا (ص)سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں: بہر بن حکیم نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے :جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أَبَاكَ –(۱۰) ۔
راوی کہتا ہے کہ تین مرتبہ میں نے سوال کیا کس کیساتھ نیکی کروں ؟ تو آپ نے فرمایا: ماں کیساتھ نیکی کر، اور چوتھی بار جب پوچھا تو فرمایا : باپ کیساتھ۔یعنی جب سوال ہوا کہ سارے خلائق میں کون سب سے زیادہ نیکی اور حسن معاشرت کا مستحق ہے؟ تو فرمایا: ماں ماں ماں اور چوتھی مرتبہ فرمایا: باپ۔ اور مزید فرمایا :الجنّة تحت اقدام الامّهات ۔ ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے۔اور فرمایا: اذا دعاک ابواک ، فاجب امّک۔-(۱۱) اور جب ماں باپ دونوں ایک ساتھ تمھیں بلائیں تو ماں کو مقدّم رکھو۔
اسلام کی نظر میں بیٹی کا مقام
بغیر مقدمہ کے احادیث اور ان کا ترجمہ بیان کرتا چلوں جنہیں پڑھ کر ہر مسلمان اپنے اندر خوشی اور مسرت کا احساس کرنے لگتا ہے کہ واقعا ہم ایسے رہبر اسلام کے پیروکار ہیں جہاں سے فقط مہر ومحبت ،شفقت، احسان اور نیکی کا درس ملتا ہے۔ بیٹی کی شأن میں فرماتے ہیں :خیر اولادکم البنات و یمن المرأة ان یکون بکرها جاریة -(۱۲) یعنی بہترین اولاد بیٹی ہے اور عورت کی خوش قدمی کی علامت یہ ہے کہ پہلا فرزند بیٹی ہو۔اسی طرح امام صادق نے فرمایا:عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ الْبَنَاتُ حَسَنَاتٌ وَ الْبَنُونَ نِعْمَةٌ فَالْحَسَنَاتُ يُثَابُ عَلَيْهَا وَ النِّعْمَةُ يُسْأَلُ عَنْهَا -(۱۳) ۔
بیٹیاں حسنہ ہیں اور بیٹے نعمت ہیں، اور حسنات پر ثواب دیاجاتا ہے اور نعمتوں پر حساب لیا جاتا ہے۔ابن عباس پیامبر اسلام (ص)سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا؛ وہ شخص جس کے ہاں لڑکی ہو اورکبھی اس کی اہانت نہ کی ہو اور بچّے کو اس بچی پر ترجیح نہ دی ہو تو خداوند اسے بہشت میں جگہ عطا کریگا۔ اور فرمایا : کوئی شخص بازار سے بچوں کیلئے کوئی چیز خریدے اور گھر پر آئے تو سب سے پہلے بچی کو دیدو بعد میں بچے کو۔ جس باپ نے بچیوں کو خوش کیا تو اسے خوف خدا میں رونے کا ثواب عطا کریگا ، یعنی قرب الہی حاصل ہوگا-(۱۴)
رسول گرامی اسلام (ص)نے فرمایا: جس شخص نے بھی تین بیٹیوں یا تین بہنوں کا خرچہ برداشت کیا تو اس پر بہشت واجب ہے-۱۵
جب امیرالمؤمنین (ع)حضرت فاطمہ(س) کی خواستگاری کیلئے تشریف لائے توباوجود اس کے کہ قرآن مجید نے صریحت پیامبر(ص) کو مؤمنین کی جان ومال میں تصرف کرنے کی مکمل طور پر اجازت دی ہے ،فاطمہ(س) کی عظمت کی خاطر آپ سے مشورہ کیلئے تشریف لاتے ہیں۔جب رضایت طلب کرنے کے بعد ہی علی (ع) کو ہاں میں جواب دیتے ہیں ۔جس سے دور جاہلیت میں زندگی گذارنے والوں پر واضح ہوگیا کہ عورتوں کو ان کا حق کس طرح دیا جاتا ہے۔اور یہ بھی بتا دیا کہ مشترک زندگی کا آغاز اور ازدواج کیلئے اولین شرط لڑکی کی رضایت ہے۔ جس کے بغیر والدین اپنی بیٹی کو شوہر کے ہاں نہیں بھیج سکتے ۔
____________________
۱ ۔ الحجرات١٣۔
۲ ۔ الزمر ۶۔
۳ ۔ البقرہ ۱۸۷۔
۴ ۔ نساء ۳۲۔
۵ ۔ توبہ ۷۱۔
۶ ۔ وسائل الشیعہ، ج۸، ص۱۱۶
۷ ۔ سیری کوتاہ در زندگانی حضرت فاطمہ،ص٣٥۔
۸ ۔ وسائل الشیعہ،ج١٤،١٢٣۔
۹ الکافی،ج۵، ص۳۲۰۔
۱۰ ۔ الکافی،ج۲، ص ۱۵۹۔
۱۱ ۔ ہمان۔
۱۲ ۔ مستدرک الوسائل،ج٢،ص ٦١٥۔٦١٤۔
۱۳ ۔ وسائل الشیعہ،جج١٥،ص١٠٤، من لایحضر،ج۳، ص۴۸۱۔
۱۴ ۔ محمد خاتم پیامبران،ج١،ص١٨٣۔
۱۵ ۔ آئین ہمسر داری،ص٥٠٤ ۔
اسلام میں بیوی کا مقام
جس قدر قدیم دور میں حتی موجودہ دور میں بھی زیادہ تر ظلم وستم بیویوں پر ہوتا تھا اور ہوتا ہے اسی قدر اسلام نے بھی ان سے متعلق شدید ترین دستورات اور مجازات بھی وضع کیا ہے۔ جو دین مقدس اسلام کی طرفسے بیویوں پر خاص عنایت ہے۔چنانچہ قرآن مجید نے حکم دیا:( وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ) -(۱) ،( هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ) –(۲) ۔ یعنی عورتوں کیساتھ نیکی او مہربانی کیا کرو ، وہ تمھارے لئے لباس ہیں اور تم ان کیلئے لباس ہوں۔پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا: اقربکم منّی مجلساً یوم القیامة.۔.خیرکم لاھلہ-(۳) ۔
قیامت کے دن میرے نزدیک تم میں سے سب سے قریب وہ ہو گا جو اپنی عیال پر زیادہ مہربان ہوگا۔اور فرمایا:من اخلاق الانبیاء حبّ النساء -(۴) یعنی عورت سے محبت اخلاق انبیا میں سے ہے۔احسن الناس ایماناً ...الطفهم باهله وانا الطفکم باهلی ۔یعنی ایمان کے لحاظ سے بہترین شخص وہی ہے جو اپنی اہلیہ کی نسبت زیادہ مہربان ہو۔ امام صادق(ع)-(۵) بیوی سے محبت کرنے کو ایمان میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہیں :العبد کلما ازداد للنسا ء حبّا ازداد فی الایمان فضلاً
میمونہ ہمسر پیامبر اسلام (ص) فرماتی ہیں : میں نے رسولخدا (ص)سے سنا کہ آپ فرماتے تھے میری امّت میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کیساتھ بہترین سلوک کرے اور بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کیساتھ بہترین گفتار و کردار ادا کرے اور جب بھی کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے ہر دن اور رات ہزار شہیدوں کا ثواب ملتا ہے۔ اور جو شخص اپنی بیوی کیساتھ نیک سلوک کرے تو اسے بھی ہر دن سو شہیدوں کا ثواب ملتاہے۔
عمر نے سوال کیا : یا رسول اللہ (ص)مرد اور عورت میں اتنا فرق کیوں؟ تو آپنے فرمایا: جان لو خدا کے نزدیک عورتوں کا اجر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ خدا کی قسم شوہر کا اپنی بیوی پر ستم کرنا گناہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ اے لوگو! دو ضعیفوں کی نسبت خدا کا خوف کرو: ایک یتیم دوسرا بیوی۔خدا تعالی روز قیامت تم سے پوچھے گا۔ جو بھی ان دونوں کیساتھ نیکی کریگا رحمت الہی اسے نصیب ہوگی اور جو بھی ان دونوں کیساتھ برائی کریگا خدا کا خشم و غضب اس پر نازل ہوگا-(۶)
آگے فرماتے ہیں :ما اکرم النساء الاّ کریم وما اهانهنّ الّالئیم ۔ یعنی کریم النفس ہے وہ انسان جو عورت کا احترام کرے اور پست فطرت ہے وہ انسان جو ان کی اہانت کرے۔
پیامبر اسلام (ص)بستر احتضار پر آرام کررہے ہیں اور اہم ترین اور حساس ترین مطالب کو مختصر اور سلیس الفاظ میں اپنی امت کیلئے بیان کررہے ہیں: من جملہ عورتوں کے بارے میں ان کے شوہروں سے مخاطب ہوکر فرما رہے ہیں:
الله الله فی النساء انّهن عوان بین ایدیکم اخذتموهن بامانة الله قال ها حتی تلجلج لسانه وانقطع کلامه -(۷)
عورتوں کے بارے میں خدا کو فراموش نہیں کرنا ان کیساتھ نیکی کرو ،ان کے حقوق کو ادا کرو ،ظلم نہ کرو یہ لوگ تمھارے گھروں میں زندگی کررہی ہیں اور تمھاری ہی کفالت میں ہیں ۔اور خدا کیساتھ تو نے وعدہ کیا ہے کہ ان کیساتھ نیکی ،عدالت ، مہرومحبت سے پیش آئیں گے ۔ کیونکہ فرمان خداوندی بھی ہے کہ ان وعدوں کو نہ بھلاؤ۔ یہ کلمات زبان مبارک پر جاری رکھتے ہوئے آپ کی روح مبارک بدن عنصری سے پرواز کر گئی اور ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئے۔انا لله وانا الیه راجعون ۔
امیر المؤمنین (ع)نے بھی پیامبر اسلام کی پیروی کرتے ہوئے اپنی آخری وصیت میں عورت کے بارے میں سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ْقَالَ ع اللَّهَ اللَّهَ فِي النِّسَاءِ وَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَإِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ نَبِيُّكُمْ أَنْ قَالَ أُوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ النِّسَاءِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ –(۸) فرمایا: اللہ اللہ عورتوں اور کنیزوں اور غلاموں کے بارے میں خدا کو فراموش نہ کرو۔ان کے ساتھ نیکی کرنا ۔ کیونکہ تمھارے نبی پاک نے اپنی آخری وصیت میں یہی تاکید کی تھی کہ دوضعیفوں (عورت اور غلام ) کا خیال رکھا جائے ۔ آپ ہی دوسری جگہ فرماتے ہیں: المرأة ریحانة لیست بقھرمانة-(۹) ۔
عورت پھول کی مانند ہے نہ پہلوان،بس اس کیساتھ پھولوں کی سی رفتار کیا کرو۔
جہاں خواتین کیلئے کام کرنا مناسب نہیں
اگرچہ اسلام نے عورت کو مکمل آزادی دی ہے وہ کمانا چاہے تو کما سکتی ہے،یا تجارت کرنا چاہے تو تجارت کر سکتی ہے ۔ لیکن انہی کی مصلحت کے پیش نظر خواتین کو چند موارد میں کام کرنے سے منع کیا گیا ہے:
جہاں کام اور اشتغال کی وجہ سے خواتین کی شرافت اور کرامت زیر سؤال چلاجائے۔
جہاں کام اور اشتغال کی وجہ سے خواتین کی سرپرستی اور سب سے بڑی مسؤلیت مادری پر آنچ پڑے۔
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ۔
کام اور اشتغال کا ماحول اور محیط خواتین کیلئے صالح اور مفید نہ ہو۔
ایسا بھاری کام جو ان کی جسمانی سلامتی کیلئے خطرہ ہو۔
اگر خود عورت کیلئے مالی ضرورت نہ ہو تو ایسی جہگوں پر کام کرنا مناسب نہیں۔
امام خمینی R نے فرمایا: البتہ دفتروں میں کام کرنا ممنوع نہیں اس شرط کیساتھ کہ حجاب اسلامی کی رعایت کی جائے۔
اجتماعی روابط کے حدود
دین مقدس اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان اجتماعی روابط کیلئے شرط قرار دیا ہے کہ کسی قسم کی ہیجان انگیزی پیدا نہ ہو۔ اگر وہ ہر قسم کی جنسی میلانات سے دور ہو کر اپنی عفت و کرامت اور تقوی کی حفاظت کرتے ہوئے اجتماع میں فعالیت کرسکتی ہے تو دین اسلام مانع نہیں بن سکتا۔
جہاں مرد و عورت پر رعایت واجب
روابط اجتماعی میں حجاب کی رعایت واجب ہے۔
نامحرموں پر نگاہ کرنا حرام ہے۔ قرآن مجید نے بھی سختی سے منع کرتے
ہوئے فرمایا:( قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ ) –(۱۰) ۔
آپ مؤمنین سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچا کر رکھیں یہ ان کیلئے پاکیزگی کا باعث ہے اللہ کو ان کے اعمال کا یقیناً خوب علم ہے اور مؤمنہ عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچائے رکھیں ۔
پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا:النّظرة سهم مسموم من سهام ابلیس (۱۱)
حرام نگاہ شیطانی تیروں میں سے زہر آلود تیر ہے۔کیونکہ یہی نگاہ جنسی غریزہ کو بیدار کرنے کا سبب بنتی ہے۔ چنانچہ اس کی مثال سورہ یوسف میں ملتی ہے:
( فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ. ) -(۱۲)
جب زلیخا نے مصر کی عورتوں کی ملامت اور مذمت سنی تو انہیں دعوت دی اور ایک عظیم محفل سجھائی ، ہر ایک کیلئے ایک ایک تکیہ گاہ بھی فراہم کیا ۔ ساتھ ہی ہر ایک کے ہاتھوں میں چھری بھی تھما دی اور پھل بھی۔ اس کے بعد حضرت یوسف کو سجھا کر اس مجلس میں آنے کا حکم دیا ۔جب مصری عورتوں نے یوسف A کو دیکھا تو آپ کاحسن وجمال دیکھ کر حیرانگی کے عالم میں تکبیر کہنے لگیں اور ترنج (پھل) کے بجائے اپنے ہاتھوں کو زخمی کردئے اور کہنے لگیں : تبارک اللہ ! یہ انسان نہیں بلکہ یہ حسین وجمیل فرشتہ ہے۔
جو چیز اس آیہ شریفہ میں حیران کن ہے وہ مصری عورتوں کا حضرت یوسف A کو دیکھ کر اپنے ہاتھوں کو زخمی کرناہے۔
غنی روز سیاہ پیر کنعان را تماشا کن کہ نو رو دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را گرش بہ بینی ودست از ترنج بشناسی روا بود کہ ملامت کنی زلیخا را ؟!!
اور ایک ہی نظر سے اپنے کنٹرول سے باہر ہوکر انسانی روح وروانی سلامت سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ اس وقت زلیخا بھی فاتحانہ انداز میں مصری خواتین سے کہنے لگی:فذالکن الّذی لمتننی فیه ... یہ ہے وہ غلام جس کی محبت میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔
خواتین اپنی زینتوں کو روابط اجتماعی میں نامحرموں سے چھپائے رکھیں
:ولاتبدین زینتهن الّا ما ظهر منها -(۱۳) کیونکہ یہ زینتیں اور زیورات بھی نامحرموں کو عورت کی طرف جلب کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔ اور تلذذ ایجاد کرتی ہیں ۔ اس لئے حرام قراردیا گیا۔ اسی لئے فقہاء و مجتہدین کا فتوی ہے کہ عورت کا چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ سارا بدن زینت ہے جس کا نامحرموں کے سامنے ظاہر کرنا حرام ہے۔
بات کرنے کا آہنگ ہیجان انگیز نہ ہو چنانچہ قرآن کا حکم ہے:فلاتخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبه مرض -(۱۴)
آگاہ ہوجاؤ مردوں کے ساتھ نرم اور نازک لہجے میں بات نہ کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیمار دل والے تیری طمع میں نہ پڑجائے۔
نامحرموں کیساتھ ہنسی مذاق نہ کرو ۔پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا؛من فاکه امرأة لایملکها حبسه الله بکل کلمة کلّمها فی الدنیا الف عام ۔جس نے نامحرم عورت کیساتھ مذاق کیا خداوند اسے ہر ایک کلمے کے مقابلے میں ہزار سال جہنم میں قید کریگا۔
عورتیں تنگ اور نازک لباس نہ پہنیں ، اور مغربی تہذیب کی یلغار کیلئے زمینہ فراہم نہ کریں۔ اور حق یہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون اپنی حقیقی اور خدائی حیثیت اور شخصیت کو ان محرمات سے دور رہ کر برقرار رکھیں ۔ اور اجتماعی و خاندانی بقا کی تلاش کرتے رہیں ۔اب ہمیں خود مطالعہ کرنا چاہئے کہ کون سی عورت جو حجاب اسلامی کی پابند ہے، بے عفتی اور ہتک عزت کا شکار ہوتی ہے یا بے پردہ عورت؟ کون سی عورت فساد جنسی میں مبتلا اور غیروں کے ہوا وہوس کا شکار ہوتی ہے؟ یقینا بے پردہ عورت ہی ان مصیبتوں میں مبتلا ہوتی ہے۔ اسی لئے اسلام نے حجاب پر زور دیکر عورتوں کی شخصیت ،حرمت اور عزت بچانے کا اہتمام کیا ہے۔
اسلام میں ضرب الامثال
گذشتہ مباحث اور آنے والے مباحث سے کلی طور پر جو نتیجہ نکالا گیاہے، ان کو ضرب الامثال کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے ۔ اور آخر میں نتیجہ نکالیں گے کہ اسلام نے جو مقام اور منزلت عورت کو دی ہے وہ کسی اور معاشرہ یا مکتب اور مذہب نے نہیں دی ہے:
عورت شوہر کے ہاتھوں خدا کی امانت ہے۔
عورت میاں کے لئے اور شوہر بیوی کے لئے لباس ہے۔
عورت ریحان ہے نہ پہلوان ۔
عورت وہ بچھو ہے جس کے کاٹنے میں بھی لذت ملتی ہے۔
عورت ایک ایسی بلا ہے جس سے فرار بھی ممکن نہیں۔
عورت ٹیڑی ہڈی کی طرح ہے جسے سیدھی کرنا چاہے تو وہ ٹوٹ جاتی ہے۔
عورت وہ اچھی ہے جومغرور، بخیل اور ڈرپوک ہو۔
فقط عقل مند عورتوں سے مشورہ کرو۔مرد کا بیجا غیرت دکھانے سے عورت برائی کی طرف جاتی ہے۔
چند نکتہ:
* ان ضرب المثالوں میں سے بعض حقائق پر مشتمل ہیں لیکن بعج بے ہودہ ہیں۔
* ان ضربالمثال میں سے بعض قابل تخصیص ہیں۔
* بعض مثالوں جیسے عورت منفور ترین مخلوق و۔۔۔ کو اس وقت کے یورپی ممالک قبول نہیں کرتے ہیں ، بلکہ یہ یورپی انقلاب سے پہلے کی بات ہے۔
* ان مثالوں میں اکثر تناقض پایا جاتا ہے۔
* اکثر مثالوں کو دین مبین اسلام قبول نہیں کرتا۔
* کوئی بھی ضرب المثل اسلامی ضرب المثل (امانت الہی) کی عظمت کو نہیں پہنچتا۔
* یہ مثالیں اس لئے نقل کی گئی ہیں تا کہ ان سے عبرت حاصل کریں۔( وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ) –(۱۵)
____________________
۱ ۔ نساء،۱۹ ۲ ۔ نساء ۱۸۷۔۳ ۔ فروع کافی،ج ٥،ص٣٢٠ - ۴ ۔ فروع کافی،ج٥،ص٣٢٠۔ ۵ ۔ بحار،ج١٠٣، ص٢٢٨۔ ۶ ۔ سیری در زندگانی حضرت زہرا،٣٧۔
۷ ۔ تحف العقول،ص٣۰۔ ۸ ۔ مستدرک الوسائل ،ج۱۴، ص ۲۵۴۔۹ ۔ نہج البلاغہ نامہ ٣١۔ ۱۰ ۔ نور ۳۰۔۳۱۔۱۱ ۔ نہج الفصاحہ٣١١٥۔
۱۲ ۔ یوسف ۳۱۔۱۳ ۔ نور ۳۱۔۱۴ ۔ احزاب ۳۲۔۱۵ ۔ سورہ حشر، ۲۱۔
تیسری فصل
خواتین کے حقوق
قرآن مجید نے مرد وعورت کو ابتدای خلقت سے لیکر بہشت میں سکونت اختیار کرنے تک برابر اور یکسان قرار دیا ہے۔ اور مؤمنہ عورتوں کو عالم بشریت کیلئے بعنوان نمونہ پیش کیا ہے: حضرت آسیہ (زن فرعون) اور حضرت مریم کو تمام مؤمنین کیلئے نمونہ قرار دیا ۔ قرآن نے رحمت ،مودت اور محبت کو زوجیت کا فلسفہ قرار دیاہے اور والدین کیساتھ احسان کرنے کو خدا کی عبادت کرنے کے باربر سمجھا ہے۔ اجتماعی امور میں بھی عورتوں کی مشارکت کو یاد کرتے ہوئے ملکۂ سباکا عاقلانہ فیصلہ اور حضرت شعیب A کی بیٹیوں کی کہانی کو بیان کیا ہے۔ جس میں ان کی شرم وحیا کو ان کی نیک رفتار و کردار کی نشانی کے طور پر دنیا کیلئے پیش کیا ہے۔
اجتماعی حقوق
اسلام نے خواتین کو مکمل طور پر اپنا حقوق دیا ہے جیسے حق حیات،حق تعلیم وتعلم،حق مالکیت،حق آزادی، حق انتخاب، حق معاملہ وتجارت،حق تصرف،حق نفقہ ،حق ارث ومہریہ و...اسلام نے مردوں سے زیادہ خواتین کے حقوق کا انتظام کیا ہے ۔
عورتوں کے حقوق اورامام خمینی R
اسلامی جمہوری ایران کے قانون اساسی میں عورت کے حقوق کو یوں مشخص کیا گیا ہے:
عورتوں کے مادی اور معنوی حقوق کا احیاء اور ان کی شخصیت کو رشدونکھار پیدا کرنے کیلئے مناسب زمینہ فراہم کرنا۔
ماؤں کی حمایت ،خصوصاً حاملگی اور بچوں کی حضانت کے دوران ان کا خاص خیال رکھنا۔ اور بچوں کی سرپرستی کے حوالے سے مشکلات کا دفع کرنا۔
خاندان کی بقا کیلئے صالح عدالت گاہ کا انعقاد کرنا۔
بیواؤں اور عمر رسیدہ عورتوں اور بے سرہرستوں کیلئے انشورنس کا قیام۔
امام خمینی(رح)کا امریکی خبر نگار کو انٹرویو
امام خمینی(رح)امریکی لاس انجلس ٹائمزمفسر کو ١٣٥٧ش میں یوں انٹرویو دے رہے ہیں :
س: عورتوں کے اجتماعی مسائل جیسے، یونیورسٹیز میں کام کرنا اورتعلیم حاصل کرنا آپکے نزدیک کیسا ہے؟آپ نے جواب دیا: خواتین ، اسلامی معاشرے میں آزاد ہیں ۔ اور یونیورسٹیز یا دوسرے سرکاری اداروں میں کام کرنے سے کبھی نہیں روکا جاسکتاہے ، جس چیز سے روکا جاسکتا ہے وہ اخلاقی مفاسد ہیں جو مرد اور عورت دونوں پر حرام ہے-(۱)
متخصص عورت اور واجب کفائی
اسلام نے نہ صرف عورتوں کو کام کرنے سے نہیں روکا بلکہ بعض مقام پر ان کی موجودگی کو واجب کفائی قراردیا ہے۔ جیسے ڈاکٹرنی اور جراح عورت کا ہسپتال میں ہونا ، اسی طرح استانی کا بچیوں کے سکول میں ہونا، خواتین کیلئے درزی عورت کا ہونا یا ایسے موارد جہاں خود عورتوں کے ساتھ لین دین ہو، وہاں خواتین کی فعلیت اور موجودگی کو اسلام واجب کفائی سمجھتا ہے۔
خواتین کے فرہنگی حقوق
فرہنگ اسلام میں جیسے تعلیم وتربیت ، ہنر وغیرہ کے حصول میں بھی خواتین کو آزادی دی گئی ہے۔ خصوصاًتعلیم وتربیت کے میدان میں تو اسلام نے اسی صراحت کیساتھ عورتوں پر تعلیم واجب قرار دیا ہے جس طرح مردوں پر ۔قال۷: طلب العلم فریضة علی کل مسلم ومسلمة -(۲)
اسلام نے اس مسئلہ پر اس قدر زور دیا ہے کہ شوہربھی بیوی کو تعلیم وتعلم سے نہیں روک سکتا اگرچہ دوسرے موارد میں شوہر کی اجازت کے بغیر وہ گھر سے وہ گھر سے نہیں نکل سکتی۔ چناچہ فقہاء نے بھی فتوے دئے ہیں:یحرم علی الزوج منع الزوجة من الخروج للتعلم ۔ –(۳) حرام ہے مرد پر کہ وہ بیوی کو علم سیکھنے کیلئے گھرسے باہر جانے نہ دے۔
خواتین کے سیاسی حقوق
اسلام نے مرد وعورت دونوں کو ان کے جو مشترکہ سیاسی حقوق دلایا ہے ،ان میں سے کچھ حقوق یہ ہیں:حق بیعت، حق انتخاب، حق شراکت ، حق رائی دہی ، حق دفاع وغیرہ۔
حق بیعت
اسلام نے چودہ سو سال پہلے خواتین کی سیاسی مسئولیت اور استقلال کا اعلان کیا ہے۔
اور اجازت دی ہے کہ اپنی تقدیر بدلنے ،ملکی سالمیت کو معین کرنے ،رہبریت کا انتخاب کرنے کیلئے پیامبر اسلام (ص)کی بیعت کرے۔ اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ابتداے اسلام میں خواتین نے پیامبر اسلام (ص)کے ہاتھوں بیعت کی ہیں۔ چنانچہ قرآن فرمارہاہے :( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) –(۴)
پیمبر اگرایمان لانے والی عورتین آپ کے پاس اس امر پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ کسی کو خدا کا شریک نہیں بنائیں گی۔ اور چوری نہیں کریں گی۔ زنا نہیں کریں گی۔ اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ اور اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان (لڑکا) لے کر نہیں آئیں گی۔ اور کسی نیکی میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی۔ تو آپ ان سے بیعت کا معاملہ کر لیں اور ان کے حق میں استغفار کریں کہ خد ابڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
یعنی پیامبر اسلام (ص) خدا کی طرف سے مأمور تھے کہ مردوں کیساتھ ساتھ عورتوں سے بھی بیعت لے۔
فاطمہ(س) محافظ ولایت
وفات پیامبر گرامی۷کے بعد خلافت علی (ع) کی بیعت لینے میں فاطمہ کی دن رات کوشش اور مہاجرین و انصار کے دروازوں پر حسنین (ع) کے ہاتھوں کوتھام کر جانا آپ کی سیاسی فعالیت کی عکاسی کرتا ہے۔
واقعہ فدک میں آپ کی حق طلبی اور مقام ولایت کی حمایت میں مصیبتیں برداشت کرنا ، یہاں تک کہ آپ کا محسن شہید ہوا اور آپ مجروح ہوگئیں ۔ اور شھادت پاگئیں۔ یہ سب آپ کی سیاسی فعالیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی سیاسی بصیرت اور علم وحکمت کے ذریعے ایک مفصّل خطبہ مسجد نبوی میں ابوبکر و عمر اور دیگر مہاجرین و انصار کی موجودگی میں دینا کہ جس سے مسجد کی در ودیوار بھی ہلنے لگی۔ آپ کی اور دیگر خواتین کی معاشرے میں سیاسی فعالیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
اگر مختصر جملے میں کہنا چاہے تو یوں کہہ سکتے ہیں : خلافت و حکومت اسلامی کے مسئلے کو لوگوں کے سامنے ترسیم کرنے والی آپ ہی کی ذات مبارک تھی۔
اسی طرح جنگ صفین ، نہروان اور جمل میں بھی امام حسن اور علی H کی شکل میں آپ کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔
کربلا میں سید شھداء کی شکل میں آپ ہی کا فاتحانہ کردار نظر آتا ہے۔ کوفہ و شام میں دیکھ لو حضرت زینب کی صورت میں آپ کا حکیمانہ نقش نظرآتا ہے۔ حتی خود پیامبر اسلام (ص)کی سیرت میں آپ کا کردار متجلّی ہورہا ہے، پیامبر اسلام (ص) فرماتے ہیں :فاطمة امّ ابیھا۔ ماں سے مراد جنم دینے والی نہیں بلکہ خاندان رسالت کی جڑ،اساس اور محور اصلی فاطمہ(س) کی ذات ہے۔ جب کفار قریش پیامبر اسلام (ص) کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دیتے تھے تو آپ کی مغموم اور اداس دل کی تسلی کی خاطر خدا وند متعال نے فاطمہ(س) کی شکل میں کوثر عطا کیا اور آپ ہی کے ذریعے پیامبر اسلام (ص) کی اولاد تا قیامت باقی رہ گئی۔
حدیث کساء میں تو آپ کی محوریت پر چار چاند لگا دیا ہے۔ جب سوال ہو ا : یہ پنجتن کون لوگ ہیں؟ تو جواب آیا :هم فا طمة وابوها وبعلها وبنوها ۔
اسی طرح فاطمہ زہرا (س) کی چاہنے والی خواتین نے بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے ولایت فقیہ کی حکومت کے قیام میں اور اہلبیت اطہار کے فرامین کو معاشرے میں عام کرنے کیلئے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنہوں نے اپنے عزیزوں اور جگر پاروں کو میدان جنگ میں بہیجنے سے کبھی گریز نہیں کیا، کیونکہ انہوں نے درسگاہ حضرتزہرا (س)سے سبق حاصل کی تھی ۔ اور جس نے بھی آپ کی پیروی کی کامیاب ہوا۔
انقلاب اسلامی ایران میں دیکھ، خمینی بت شکن کی شکل میں آپ کا کردار نظر آتا ہے کیونکہ جس نے سب سے پہلے ولایت اور رہبری کی حمایت کی وہ فاطمہ I کی ذات تھی۔ اور خمینی(رح)کا بھی یہی نعرہ تھا کہ ولایت فقیہ اور اہل بیت کی حکومت قائم ہونا چاہئے اور بفضل الہی قائم ہوکر ہی رہی۔ خدا تعالی اس انقلاب کو انقلاب امام زمان(عج) سے ملا دے اور ہم سب کو ان کے اعوان و انصار میں شمار فرما اور انہی کی رکاب میں شہادت نصیب فرما ۔آمین۔
اما م خمینی(رح)اور خواتین کے سیاسی مسائل
امام خمینی(رح)فرماتے ہیں: خواتین کو بھی چاہئے کہ ملک کی بنیادی مقدرات اور اپنی تقدیر معین کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسلامی قوانین مرد وعورت دونوں کے مفاد میں ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ خواتین بھی انسانیت کے عظیم مقام پر فائزہوں۔ آپ فرماتے ہیں خواتین ہمارے انقلاب اور نہضت کی رہنما ہیں اور ہم ان کے پیچھے پیچھے ہیں۔ اور میں خواتین کی رہبری کو قبول کرتا ہوں-(۵)
مقام معظم رہبری حضرت آیةاللہ خامنہ ای(مدظلہ) فرماتے ہیں : ایرانی قوم اور انقلاب اسلامی کی آزادی وکامیابی میں خواتین کا نمایاںکردار ہے۔ اگر خواتین شریک نہ ہوتیں تو انقلاب اسلامی اس قدر کامیاب نہ ہوتا، یا اصلاً کامیاب نہ ہوتا یا بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا-(۶) ۔
خواتین کے اقتصادی حقوق
اسلام نے جس قدر مردوں کو اپنی دولت اور ثروت میں حق تصرف اور مالک ہونے کی مکمل اجازت دی ہے اسی طرح خواتین کو بھی اجازت دی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں صراحتاً فرمایا ہے:( للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنساء نصیب مما اکتسبن ) –(۷) شوہر یا کسی اورکوحق تصرف نہیں اور نہ یہ لوگ عورت کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک سکتے ہیں:( لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ) –(۸) کیونکہ ملکیت ایک مستقل حق ہے اور ہرمرد وعورت اپنے اموال پر خودحق تصرف رکھتا ہے۔ عورت بھی مشروع اور جائزتجارت اور کسب وکار میں مردوں کی طرح آزاد ہے۔ حتی بعض شعبوں میں جو ان کی استعداد کیلئے مناسب ہیں۔ اور بہتر شرائط موجود ہیں وہاں ان کا ہونا زیادہ بہتر ہے۔
ملک سازی میں عورتوں کا کردار
امام خمینی R فرماتے ہیں کہ ملک سازی میں ہماری خواتین کا بڑا کردار رہا ہے۔ جب اش ایران کو نکال دیا گیا تو اپنی تقریر میں فرمایا: اے ایران کے خواتین و حضرات!آؤ ہم سب مل کر اس کھنڈر میں تبدیل شدہ ملک کو دوبارہ تعمیر کرتے ہیں۔ جس طرح آپ خواتین ،انقلاب اسلامی میں حصہ دار تہیں اسی طرح اس خرابہ کی تعمیر میں بھی حصہ دار بنیں اور مردوں کا ہاتھ بٹائیں-(۹)
حق ارث
خواتین کی اقتصادی اور مالی حقوق میں سے ایک ، حق ارث ہے کہ ظہور اسلام سےقبل دینا کے اکثر ممالک میں عورت اس حق سے محروم تھی ۔ حتی عرب جاہلیت میں تو انہیں ارث کے طورپر آپس میں تقسیم کیاکرتے تھے، اسلام نے آکر دور جاہلیت کی ان غلط رسومات کو توڑ کر انہیں باقاعدہ وارث متعارف کرایا ۔ چنانچہ قرآن مجید کا ارشاد ہے:( لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ) (۱۰)
اور جو مال ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں اس میں مردوں کا ایک حصہ اور (ایسا ہی) جو مال ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں اس میں تھوڑا ہو یا بہت ، عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، یہ حصہ ایک طے شدہ امر ہے۔لیکن بعض اسلام دشمن عناصر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام عورت کو مرد کی نسبت کم ارث دیتا ہے۔ اور یہ اسلام ہے جس نے مرد اور عورتوں کے حقوق میں مساوات اور برابری کو نظراندازکیا ہے۔ تو ہم جواب دینگے کہ انہوں نے صرف ایک زاویہ سے نگاہ کی ہے۔ اگردوسرے نکتہ نگاہ سے بھی دیکھتے تو وہ خود سمجھ جاتے کہ خواتین کا جو حصہ نسبتاً مردوں سے کم ہے پھر بھی زیادہ ہے۔! کس طرح؟! کیونکہ مرد کو جو ارث ملتا ہے وہ خود بیوی بچوں پر خرچ کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ لیکن جو ارث عورت کو ملتا ہے وہ خرچ کرنے کیلئے نہیں بلکہ جمع کرنے کیلئے ہے ۔ کیونکہ اسلام نے ان کا نان و نفقہ مردوں کے ذمہ لگا دیا ہے۔دوسرے الفاظ میں عورتوں کو جو ارث ملتا ہے وہ ان کا جیب خرچ ہے ۔ اب اعتراض کرنے والے خود بتائیں کہ کس کا حق اور حصہ زیادہ ہے۔
____________________
۱ ۔ صحیفہ نور،ج٤،ص٣٩۔
۲ ۔ محجة البیضائ،ج١،ص١٨۔
۳ ۔ جواہر الکلام،کتاب النکاح۔
۴ ۔ الممتحنہ ۱۲۔
۵ ۔ صحیفہ نور،ج٦،ص٨٥۔
۶ ۔ روزنامہ قدس، ٢٧ شھریور ١٣٧١ش۔
۷ ۔ نساء ۳۱۔
۸ ۔ بقرہ ۲۸۶۔
۹ ۔ صحیفہ نور،ج ١١،٢٥٤۔
۱۰ ۔ نساء ۷۔
چوتھی فصل
اسلام کی نگاہ میں خواتین کی آزادی
جب عورت قبیلہ کے سردار ،باپ،بھائی یا دوسرے لوگوں کی ظالمانہ ارادہ کے ما تحت ہوتی تھی اور ہر قسم کے حقوق سے بھی محروم تھی، اسلام نے اسے آزادی جیسی نعمت عطا کی ۔ اس طرح ہمسر کا انتخاب کرنے ، اپنے مال ودولت خرچ کرنے ، اور اظہار خیال کرنے میں استقلال اور آزادی عطا کی۔ تاکہ ان کی قدروقیمت پہچان سکے۔
پھر بھی اسلام دشمن عناصر کہتے ہیں: کبھی اسلام نے انھیں مکمل آزادی نہیں دی ہے۔ جیسے شادی کرنے میں باپ یا دادا کی رضایت کو لازمی ٹھہرا کر لڑکیوں کی خودمختاری سلب کی ہے۔ ٹھیک ہے اسلام نے باپ یا دادا کی رضایت کو لازمی ٹھہرا یا لیکن اس کی حکمت عملی اور فلسفہ پر نگاہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس میں بھی خود لڑکی کے فائدے کا لحاظ رکھا گیاہے۔ کیونکہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی جوانی کے دور میں احساسات اور شاعرانہ تخیّلات اور میٹھی خوابوں میں مست رہتے ہیں، انہیں اس دوران ،زندگی کی نشیب وفراز ، تلخ یا مٹھاس کا خاص احساس نہیں ہوتا ۔ احساسات اور جذبات میں آکر انہیں نفع و نقصان ایک ہی نظر آنے لگتا ہے۔ اب اس حالت میں ایک دلسوز، مہربان اور تجربہ کار نگاہ کی ضرورت ہے جو اپنی تجربات کی روشنی میں لڑکی یا لڑکے کی منفعت اور مصلحت کے تحت قدم اٹھائے۔اگرچہ روایات مختلف ہیں : بعض روایات میں باپ یا دادا کی اجازت کو ضروری سمجھا گیا ہے ۔ جیسے: امامصادق (ع)فرماتے ہیں :( لا تزوّج ذوات الآباء من الابکار الّا باذن آبائهن- ) (۱)
امام (ع) نے فرمایا کہ ان باکرہ لڑکیوں سے شادی ان کے آباء و اجداد کی اجازت کے بغیرنہ کرو۔ لیکن بعض روایات اس کے برعکس ہیں: امام صادق(ع) سے ہی مروی ہے:لا بئس بتزویج البکر اذا رضیت من غیراذن ابیها -(۲)
فرمایا: باکرہ لڑکیوں سے ان کے آباء واجداد کی اجازت بغیر شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ان دونوں روایات کو اگر جمع کریں تو باپ کی رضایت اور موافقت کو لڑکے یا لڑکی کی رضایت کیساتھ منضم کرکے عقد برقرار کرسکتا ہے۔
ایک تیسری روایت میں ایک شخص نے امام A سے اپنی بیٹی کی شادی کے بارے میں سوال کیا تو امام A نے جواب دیا :افعل و یکون ذالک برضاها فانّ لها فی نفسها نصیباً و حظاً -(۳)
فرمایا :تو اسی شخص کو اپنی بیٹی کیلئے انتخاب کر جسے تیری لڑکی پسند کرے،اور لڑکی کی مرضی کے خلاف دوسرے کی زوجیت میں نہ دو۔
ان فرامیں کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں عورتوں پر کوئی جبر اور قید و بند نہیں بلکہ دین مقدس اسلام نے ان کی مرضی کو ہرچیز پر مقدّم رکھتے ہوئے انھیں مکمل آزادی عطا کی ہے۔
مسلمان خواتین کی آزادی سے کیا مراد ؟
اسلام میں عورت کی آزادی اور حریت کے پیش نظر اسلامی ممالک میں خواتین کا ، آزادی کا نعرہ بلند کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ ہم ان خواتین سے سوال کرتے ہیں کہ : کس حق کے حصول کیلئے نعرہ بلند کرتی ہوجو تم سے چھین چکا ہے؟ کونسی مشکلات ہے جسے اسلام نے حل نہیں کئے ہوں؟
اگر مسلمان عورتوں کا مقصد یہ ہو کہ انھیں شریک حیات کا انتخاب کا حق نہیں ملا ہے تو اسلام نے ابتداء ہی سے یہ حق عطا کیاہے ۔چنانچہ حضرت خدیجہ I کی سوانح حیات کا مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے شریک حیات انتخاب کرنے کا حق بھی دیا گیا اور اپنے اموال میں پورا پورا تصرف کرنے کا حق بھی۔ آپ اسلام میں پہلی خاتون ہے جس نے اپنے رشتے کیلئے پیغام بھیجا۔ اگر مسلمان عورتوں کا مقصد حق طلب العلم فریضة علی کلّ مسلم ومسلمة تعلیم و تعلّم کا مطالبہ ہے تو اسلام نے نہ صرف یہ حق انھیں عطا کیا ہے بلکہ ، کہہ کر ان پر بھی واجب قرار دیا ہے۔
اگر مسلمان عورتوں کا مقصد قانون اسلامی میں مرد و عورت میں برابری ہے تو اسلام نے یہ حق تمام انسانی گروہوں ،خواہ وہ حبشی ہوں یا قرشی، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ،سب کو برابر اور مساوی دیا ہے۔ اسلام کے اس پیغام کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایا ز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازاور اگر مسلمان خواتین کا غوغا اور شور وشرابہ کرنے کا مقصد ایک آبرو مندانہ زندگی گذارنا ہے جہاں کوئی اجنبی اس کی طمع نہ کرے، اور ایک شرافت مندانہ خاندان کی تشلیکل دینا ہے جو بے بندوبار افراد کی شر سے محفوظ رہے تو اسلام نے بہترین طریقے سے اس ماحول کو عورتوں کیلئے فراہم کیا ہے ،شاید کسی اور مکتب نے فراہم نہیں کیا ہے۔
لیکن اگر ان کا مقصد بے عفّتی ، شہوت رانی ، اخلاقی حدود کو پامال کرنا ،بے پردہ ہو کر گھر سے نکلنا ،محرم نا محرم کی تمیز کئے بغیر لوگوں میں مغربی طرز پر رہن سہن رکھنا ہو اور خاندانی آشیانے کو ویران کرکے نسلوں کو خراب اور بے سرپرست قراردینا ہے تو ہم قبول کرتے ہیں کہ اسلام نے ایسی آزادی عورت کو نہیں دی ہے۔یہ آزادی تو اسلام میں مردوں کیلئے بھی نہیں دی گئی ۔
اس قسم کی ننگین آزادی کے حصول کیلئے پارلیمنٹ ۔ اسمبلی اور دوسرے سرکاری ادارے بنانے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ کافی ہے کہ شرم وحیا کے پردے کو اتار پھینک دیں تاکہ مکمل طور پر بدن برہنہ اور عریان ہو جائے ۔ بجائے اس کے کہ ابھی سینہ اور ٹانگین عریان ہے، اور اس طرح بجای اس کے کہ رات کی تاریکی میں نامحرموں کے ساتھ رقص اور جنسی خواہشات پوری کرے، علنی طور پر دن کو ایسا کرے!!!(۴)
امام خمینی(رح)اور یوم خواتین
اس دن کی مناسبت سے ٢٦ .٢ ١٣٥٨ش کو خواتین کو اپنے پیغام میں یوں مخاطب ہوا :افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کی خواتین تاریخ بشریت میں دو مرحلے میں مظلوم واقع ہوئی ہیں:
١. دور جاہلیت میں کہ جس کی تفصیل گذر گئی۔ اور اسلام نے ان پر بڑا احسان کرکے انہیں اس مظلومیت سے نکالا، کہ جہاں عورت حیوان بلکہ اس سے بھی پست تر سمجھتی جاتی تھی۔
٢. شاہ سابق رضا شاہ اور ان کے بیٹے کے دورن ایران میں عورت مظلوم واقع ہوئی۔اس نعرے کیساتھ کہ عورت کو آزادی دلائیں گے، بڑا ظلم کیا۔عورت کو اپنی شرافت اور عزت والی حیثیت سے گرایا ۔ اور ان کی آزادی اور مقام کو آزادی ہی کے نام سے ان سے سلب کیا۔ جوان لڑکے اور لڑکیوں کو فاسد کیا۔ اور عورت کو ایک کھلونا بنایا درحالیکہ عورت شائستہ اور برجستہ افراد کی مربّی ہوا کرتی ہے۔ کسی بھی ملک کی سعادت یا شقاوت عورت ہی کے وجود سے وابستہ ہے۔ ان باپ بیٹے (شاہ سابق ولاحق) نے خصوصاً بیٹے نے جس قدر خواتین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اس قدر مردوں پر نہیں توڑے۔ جوانوں کیلئے فحشاء اور منکرات کے مراکز بنائے گئے۔ آزادی اور تمدن کے نام سے مرد و عورت کی آزادی کو ان سے چھین لیا گیا-(۵)
ہمیں چاہئے کہ اسلام کے حقیقی احکام کو بیان کرتے ہوئے عورتوں کے حقوق اور مقامات عوام تک پہنچائیں اور مختلف شخصیات کی غیر اسلامی نظریے اور افکار کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ مسئلہ بہت ہی پیچیدہ ہے اگر تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے خواتین پر دو طریقوں سے ظلم ہوا ہے:
١. قدرت مند افراد کی طرفسے ، کیونکہ ہر لحاظ سے جامعہ میں کچھ لوگ قوی تر ہوا کرتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کے خاطر معاشرے میں موجود خواتین کی طرف دستدرازی کرتے ہیں، اس لحاظ سے معاشرہ مغربی ہونے یا مشرقی ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اسلامی معاشروں میں بھی ایسی ہی وضعیت پائی جاتی ہے۔
٢. عورت کو مال و دولت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ تفصیلی گفتگو گذر گئی ۔ آج بھی عورت کے حقوق کا دفاع کے نام پر پہلے سے زیادہ ان پر ظلم ہورہا ہے۔ یورپی ممالک میں جو عورت کے حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں اور ان کیلئے قانون وضع کرتے ہیں ۔تو یہ سب کچھ اسلئے ہے کہ عورت کو کا رخا نو ں ، ملوں اور دفتروں میں ملازمت دے کر بد اخلا قی کی جڑوں کو پہلایا جا ئے۔ اور آذاد ی کا مطلب اس طرح ذہن نشین کر ایا جائے کہ زیا دہ سے زیا دہ سے عو رت اپنی جسما نی نمائش کریں۔ اس کا منہ بولتا ثبو ت آپ کوہر سال مغر بی حتیٰ مشر قی دنیا نیں بھی خو بصورتی کے مقا بلے کی شکل میں ملے گا کہ کو نسی عور ت زیادہ خوبصورت ہے تاکہ دنیا میں سب سے خو بصور ت خا تو ںکہلا سکے۔ اس طرح آزاد ی کے نام سے نا مشروع اور نا جائز طر یقے سے عورتوں اور مرد وں کے درمیان زیادہ سے زیا دہ تعلقات پید ا کرنے کیلئے زمینہ فراہم کرتے ہیں۔جوان لڑکیا ں کا لجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے لئے بوائے فرینڈ انتخاب کرتی ہیں، لڑکی کے والدین بھی اس چیز کو معیوب نہیں سمجھتے ۔ حتی مشاہدہ ہو ا ہے کہ لڑکی اپنے گھر پر اس بوائے فرینڈ کو لیکر آتی ہے اور ماں باپ سے ملاتی ہے اور ماں باپ بھی فاخرانہ انداز میں کہتے ہیں یہ لڑکا ہماری بیٹی کا دوست ہے۔ اور جان لو یہ سب مغربی فرہنگ ہماری طرف منتقل ہوئی ہے۔ ایسے میں ہمیں چاہئے کہ اسلامی افکارلوگوں تک پہنچائے اور بتا دے کہ یہ آزادی نہیں بلکہ نفسانی خواہشات کی غلامی ہے۔ اصل آزادی جو دین مقدس اسلام نے عورتوں کو عطا کی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو ایسے مطلوب مواقع فراہم کیا جائے جہاں پر وہ اپنی پوشیدہ استعداد اور صلاحیتوں کو اجاگر کرسکیں ۔تاکہ وہ لوگ بھی مردوں کی طرح کمال انسانیت کے مقام پر فائز ہو سکیں ۔ اسلام نے جس دن عورتوں کے بارے میں خطاب کیا اور اپنی تعالیم اور مطالب کو دنیا کے سامنے پیش کیا تو عورت کو ان دونوں قسم کے مظالم سے نجات مل گئی۔
اسلام نے اجازت نہیں دی کہ عورت پر ظلم کرے ،حتی اس سے گھریلوکام لے لے یا انہیں برا بلا کہے۔ واقعاً جاہل معاشرے کیلئے یہ بات قابل تعجب ہے کہ کیوں مردوں کو یہ حق حاصل نہیں؟ اسلام نے قطعی طور پر ان ناجائز نظریے کو کہ( عورت کو صرف مردوں کے آرام وسکون کیلئے پیدا کیا ہے) باطل قرار دیا ۔ اور کہا میاں بیوی کے درمیان حقوق دوطرفہ ہیں ۔ جسے باہمی تفاہم اور محبت کیساتھ ادا کریں ۔ اسلام نے میان بیوی کے وظائف کے حدود کو بھی معیں کیا ہے جو کاملاً مرد و عورت کی طبیعت کے مطابق ہے۔
لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مغرب والوں کی غلط پروپیگنڈوں کی وجہ سے ان اسلامی حدود کی رعایت کرنا مسلمان خواتین بھی اپنے لئے ننگ وعار سمجھتی ہیں۔یہاں تک کہ اخباروں ، میگزین اور سنیما گروں اور مجالس ومحافل میں چادر کوکالا کفن کے طور پر تشہیر کرنے لگیں۔ اور بے حجاب اور بے پردہ عورتوں کو متمدن اور ترقی یافتہ سمجھنے لگیں۔ اسی طرح نیم عریانی کو آزادی کا نام دینے لگیں۔ ان کے غلط پروپیگنڈے اس قدر مؤثر تھے کہ عورتیں واقعا حجاب اور چادر کو اپنے لئے اہانت سمجھنے لگیں۔
رہبر معظم (مد ظلہ) اور یوم خواتین
رہبر معظم انقلاب حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای(مدظلہ العالی)نے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے: کہ جب آپ بعنوان صدر بیرون ملک کے دورے پر افریقہ میں پہنچے تو مختلف ممالک کے اخباری نمائندے آپ سے انٹرویو لینے لگے جن میں ایک بے پردہ نوجوان لڑکی بھی تھی اسے کہا گیا کہ دوپٹہ کو صحیح طور پر سر پر رکھیں ۔ یہ بات ان کیلئے بہت گراں گذری ۔ جب مجھ سے خواتین کے بارے میں سوال ہورہاتھا تو یہ خاتون اپنی جہگہ سے اٹھی اور دو سوال کی ۔ اس کے بعد رونا شروع کیا۔ اس کی احساسات کو اس قدر ٹھیس لگی تھی کہ کہنے لگی : کیوں آپ نے حکم دیا کہ دوپٹہ سر پر رکھوں؟یہ عورت اسے حقیقتا اپنے لئے بے عزتی اور اہانت سمجھ بیٹھی تھی۔ واقعا اگریہ ان کیساتھ اہانت تھی تو یہ اس پر ظلم ہوا۔ لیکن یہ دنیا میں رائج غلط فرہنگ ہے جو عورتوں اور مردوں کی ذہنوں پر سوار ہوچکی ہے-(۶)
جبکہ حجاب کو ضروری قرار دینے کا اسلام کا مقصد یہ تھا کہ یہ مسلمان خواتین کی حرمت اور شخصیت کا پاسبان ہے۔ جو اجنبی لوگوں کی مزاحمتوں سے اسے دور رکھتاہے۔ جب اسلام نے عورت کی شخصیت اور حرمت کو گرانبہا گوہر سے تعبیر کیا تو اس کی حفاظت کا انتظام بھی ضروری سمجھا۔ اس لئے عورت کو حجاب میں مستور کیا ۔ کیونکہ تکوینی طور پر عورت میں کشش اور جازبہ پایا جاتاہے۔ اگر حجاب اور پردہ نہ ہوتو طمع کاروں کا شکار بنتی ہے۔ جس طرح بادام اور اخروٹ کے مغز کی حفاظت کیلئے مناسب چھلکے خدا نے خلق کیا اور جواہرات کو سمندر کے تہہ میں رکھا ، اسی طرح عورت کو پردے میں رکھ کر تجا وزگروں سے دور رکھنا مقصود تھا۔
مغربی آزادی کا تلخ تجربہ
آج اس جدید اور متمدن دور میں خواتین پرظلم و ستم بھی جدید طریقے سے ہورہا ہے۔ جھوٹے نعرے اور دہوکہ کے ذریعے ڈیموکریسی اور خواتین کی آزادی وحقوق کے نام پر عورتوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں خصوصاً یورپی ممالک میں عورت کو اپنا سرمایہ اور مال و دولت کی خرید وفروخت کیلئے پبلسٹی کا وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ سوپر مارکٹوں دفتروں، بینکوں ، دکانوں ، میں عورتوں کو اسی لئے رکھا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں اور خریداروں کو اپنی طرف مائل کرسے۔ اور اسی طرح شہوت رانی ، فحشا اور فلموں میں لا کر زیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کا وسیلہ بنایا ہے۔ اس طرح خاندان جو ہر انسان کی تشخص برقرار رکھنے کا ایک شرافت مندانہ وسیلہ تھا، درہم برہم کردیا ۔یہاں نمونے کے طور پر کچھ نام نہادترقی یافتہ اور متمدن ممالک کا تذکرہ کریں گے:
روس
اعداد وشمار کے مطابق روس میں پچاس فی صدناجائز بچے پیدا ہوتے ہیں۔ عورتیں اپنے بچوں سے نفرت کرنے لگتی ہیں۔
١٩٨٠ع کے اعداد وشمار کے مطابق ساٹھ ہزارعورتیں شراب کا نشہ کرتی ہیں۔
١٩٩٠ع کے اعداد وشمار کے مطابق سالانہ تین لاکھ سے پانچ لاکھ خواتین جنسی تجاوزات کا شکار ہوتی ہیں۔
امریکہ
کچھ سال پہلے کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں تین لاکھ لڑکیاں جو اٹھارہ سال سے کم عمر والی ہیں اور ہر تیسری عورت ، تجاوز کا شکار ہوتی ہے۔اور ناجائزجنسی ملاپ کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر ہزاروں عورتیں اور مرد ہر سال لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔اس کے علاوہ چند سالوں کے دوران اٹھارہ ملین بچے کو سقط کرکے قتل کردئے گئے-(۷)
انگلستان
انگلستان نے اعلان کیا کہ ہر ہفتہ پچاس حاملہ لڑکیاں جو چودہ سال سے کمتر عمر والی ہیں ،حمل گرادیتی ہیں ۔ ایک اعلامیہ کے مطابق ہر تیسری شوہر دار خاتون اجنبی مرد کیساتھ دوستی قائم کی ہوئی ہوتی ہے۔
جاپان
جاپان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو پانچ لاکھ فاحشہ عوروں کی وجہ سے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے گزارش دی ہے کہ سالانہ دنیا کی اسّی ملین خواتین نہ چاہتے ہوئے حاملہ ہوتی ہیں-(۸)
تھائلینڈ
ہفتہ وار مجلہ اشپیگل یکم جولائی ١٩٨٥ع میں ایک گزارش دی تھی کہ جس کے مطابق دلالوں کے ذریعے تھائلینڈ کی فقیر دیہاتوں سے دوشیزہ جوان لڑکیوں کی ظاہرا خدمت گزاری کیلئے لیکن درحقیقت فاحشہ گری کیلئے ایک ہزار مارک میں فروخت ہوتی ہیں ۔ جو بنکاک اور ہانکونگ،جاپان اور جرمن کے نائٹ کلب میں لائی جاتی ہیں ۔ بنکاک پولیس کے ایک اعداد وشمار کے مطابق تھائلینڈ سے سولہ ہزار عورتیں اور لڑکیاں دوسرے ممالک میں صادر ہوتی ہیں۔ان میں سے مغربی جرمنی میں تین ہزار درآمد ہوتی ہیں۔ جہاں پر قانونی طور پر ایجنسیاں پائی جاتی ہیں جن کا کام فاحشہ عورتوں اور لڑکیوں کو ملک میں وارد کرنا ہے۔ بہت سے لوگ ان ایجنسیوں کے ہاں رجوع کرتی ہیں اور لڑکیوں یا عورتوں کو خریدنے کے بعد انہیں بازاروں میں بہیجتے ہیں، تاکہ بدن فروشی کرکے مالک کیلئے پیسہ جمع کرے۔ اور مالک کا اقتصاد بحال ہوجائے۔
مغربی جرمنی
صرف مغربی جرمنی میں دوہزار کمپنیاں موجود ہیں جو عورتوں اور لڑکیوں کو خریداروں کیلئے فراہم کرتی ہیں ۔ اور پانچ ہزار سے بارہ ہزار تک عورتیں اور لڑکیاں تیار رکھتی ہیں۔ ہر مہینہ میں تین ہزار کے قریب عوتوں اور لڑکیوں کا معاملہ ہوتا ہے-(۹)
افسوس کا مقام ہے کہ آج بھی آزادی کے نام سے عورتوں کی یہ درد ناک حالت باقی ہے اور خود عورتیں بھی اسے آزادی سمجھ کر بہت خوش ہیں۔
خدا تعالی سے یہی دعا ہے کہ جناب زینب I کی لٹی ہوئی چادر کا واسطہ ہماری ماں بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی چادر اور پردے کی حفاظت کرنے کی توفیق اور باپ بیٹوں اور بھائیوں کو غیرت ناموس عطا فرما۔
آمین یا ربّ العالمین
____________________
۱ من لایحضرالفقیہ ،ج٣، ص٣٩٥ ۔
۲ ۔ التھذیب،ج٥۔
۳ ۔ ہمان۔
۴ ۔ حقوق زن در اسلام وجہاں ،ص١٦٠ ۔
۵ ۔ فاطمہ گل واژہ آفرینش،ص٦٧۔
۶ ۔ حجاب و آزادی،ص٢٤۔
۷ ۔ اخبار جمہوری اسلامی۔٨.٣.١٣٦٤ ۔
۸ ۔ فقہ و حقوق، ج٣، ص١٨۔
۹ ۔ حجاب و آزادی، ص١٣٧۔
فہرست منابع
۱. قرآن کریم
۲. ابن ابی الحدید؛شرح نہج البلاغہ ،مؤسسہ اسماعیلیاں،قم۔
۳. طبابطائی؛ محمد حسین ؛ تفسیر المیزان، جامعہ مدرسین، قم ۔
۴. شیرازی ؛ناصر مکارم ؛ تفسیر نمونہ، قم۔
۵. شیخ کلینی ؛ یعقوب؛ کافی و فروع کافی، دارالمکتبہ اسلامیہ،چ٣، ١٣٨٨ھ.
۶. مجلسی؛ محمد باقر ؛ بحار الانوار، مؤسسہ الوفاء ، بیروت لبنان، ١٤٠٣ھ.
۷. حر عاملی؛ وسائل الشیعہ ، مؤسسہ آل البیت ، قم،١٤١٤ھ.
۸. محدث نوری؛ ۱۲۵۴ مستدرک الوسائل،مؤسسہ آل البیت،قم، ۱۴۰۸ ۔
۹. سید ابن طاؤس م ۶۶۴ ، ؛اقبال الاقبال، دارالکتب الاسلامیہ،تہران، ۱۳۶۷ ھ۔
۱۰. سپہری ؛محمد؛ترجمہ و شرح رسالۃ الحقوق، انتشارات دارالعلم،قم ۱۳۸۰ ھ۔
۱۱. طبرسی؛ رضی الدین ؛ مکارم الاخلاق، منشورات شریف رضی، ١٣٩٢ھ.
۱۲. نوری طبرسی ؛میرزا حسین ؛ مستدرک الوسائل، مؤسسہ آل البیت،١٤٠٨ھ.
۱۳. شیخ صد وق محمد بن علی ؛ من لایحضرہ الفقیہ،بیروت ، ١٤١٣ھ.
۱۴. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؛ الخصال، جامعہ مدرسین، قم ۱۴۰۳ ھ۔
۱۵. مجلسی ؛محمد تقی ؛ روضة المتقین؛ بنیاد فرہنگ اسلامی، نیشاپور.
۱۶. شیخ طوسی م ۴۶۰ ھ؛تہذیب الاحکام،دارالکتب الاسلامیہ،تہران، ۱۳۶۵
۱۷. فیض کاشانی؛ وافی، مکتبہ امیرالمؤمنین ، اصفہان،١١٥ھ۔
۱۸. بھشتی ؛ڈاکٹر احمد ؛ خانوادہ در قرآن، چ٢، دفتر تبلیغات، قم، ١٣٧٧ش.
۱۹. محمد حسین نجفی؛ جواہر الکلام، مکتبہ اسلامیہ، تہران،١٣٩٥ھ۔
۲۰. ابی محمد الحسین؛ التھذیب فی فقہ الامام الشافعی،دارالکتب العلمیہ ، بیروت۔
۲۱. قزوینی ؛سید کاظم ؛ فاطمہ ولادت تا شھادت، نشر مرتضی ٢٣٧٥ھ۔
۲۲. ابن ہشام؛ سیرة النبی ،صیدا مکتبہ عصریہ ، بیروت ١٤١٩ھ۔
۲۳. مؤسسہ؛ محمد خاتم پیامبران؛مؤسسہ حسینیہ ارشاد، تہران، ١٣٤٧ش۔
۲۴. علی اکبر رشاد؛ دانشنامہ امام علی، فرہنگ اندیشہ اسلامی ، تہران، ١٣٨٠ش۔
۲۵. نوری ؛یحی ؛ حقوق زن در اسلام و جہاں،مؤسسہ فراہانی، گیلان، ١٣٤٣ش۔
۲۶. سجادی ؛محمد تقی ؛ سیری کوتاہ درزندگی فاطمہ، انتشارات نبوی، ١٣٧٤ش۔
۲۷. علی شریعتی؛ فاطمہ فاطمہ است، حسینیہ ارشاد، تہران،١٣٥٠ش۔
۲۸. واحد خواہران؛ فاطمہ گل واژۂ آفرینش، دفتر تبلیغات اسلامی۔
۲۹. مجموعہ سخنرانی ؛ حجاب وآزادی، سازمان تبلیغات اسلامی۔
۳۰. گروہی؛ فقہ و حقوق، جشنوارہ شیخ طوسی، قم،١٣٧٩ش۔
۳۱. صادق احسان بخش؛ نقش دین در خانوادہ، چ٢، رشت، ١٣٧٤ش.
۳۲. احمدی ؛حبیب اللہ ؛ فاطمہ الگوی زندگی، چ١،قم، ١٣٧٤ش.
۳۳. آستانہ حضرت معصومہ ؛ فرہنگ کوثر، ش٥٤،سال٦،١٣٨٢ش.
۳۴. علی ثقفی ؛ فاطمہ نور الہی،انتشارات ہادی، چ١،١٣٧٧ش.
۳۵. کمرہ ای ؛میرزا خلیل ؛ ملکہ اسلام فاطمہ الزہرآء ، مؤلف، ١٣٤٨ش.
۳۶. واحد خواہران؛ گل واژہ آفرینش، قم، ١٣٦٨ش.
۳۷. جمعی از نویسندگان؛ شخصیت و حقوق زن در اسلام ، جشنوارہ شیخ طوسی ، قم، ١٣٨٣ش.
۳۸. قربانی؛ زین العابدین ؛ اسلام و حقوق بشر ، نشر فرہنگ اسلامی ، ١٣٦٧ش.
۳۹. انجمن اولیاء مربیان؛ مجموعہ مقالات، انجمن ہای کشور، تہران، ١٣٧٣ش.
۴۰. مصباح یزدی ؛محمد تقی ؛ نظریہ حقوق اسلام، مؤسسہ آموزش ا مام خمینی ، قم، ١٣٨٠ش
۴۱. توسیر کانی ؛محمد بن احمد ؛ لئالی الاخبار، مکتبہ محمدیہ ، قم، ١٣٠٠.
۴۲. نجفی یزدی ؛ سید محمد ؛ اخلاق و معاشرت، سازمان تبلیغات اسلامی،قم ١٣٧٣ش.
۴۳. محلاتی ؛ذبیح اللہ؛ ریاحین الشریعہ ، دار الکتب اسلامیہ،تہران، ١٣٤٩.
۴۴. نوری ؛حسین بن محمد تقی ؛ دار السلام، اسلامیہ، تہران، ١٣٧٧.
۴۵. عبداللہ شبّر ؛ جلاء العیون، مطبعة الحیدریہ، نجف، ١٣٧٤ھ.
۴۶. ناصری؛علی اکبر؛ حقوق اسلامی، شرکت سہامی طبع کتاب، تہران، ۱۳۸۴ ھ۔
۴۷. مصطفوی؛ سید جواد؛ بہشت خانوادہ، دارالفکر، قم ، ۱۳۷۷ ش۔
فہرست
مقدمہ ۴
پہلا حصہ ۶
کلیات ۶
حقوق کیا ہیں؟ ۶
پیدائش حقوق کی وجوہات: ۸
حقوق کے منابع ۸
١۔ قرآن مجید ۸
٢۔ سنت ۹
٣۔اجماع ۱۰
٤۔ عقل ۱۰
خاندان کی تعریف ۱۲
خاندان کی ضرورت ۱۲
تشکیل خاندان کے آداب ۱۴
خاندان تشکیل دینے کے تین اصول ۱۶
شوہر اور بیوی کا باہمی عشق و محبت ۱۶
خاندان میں مرد کا احساس ذمہ داری ۱۷
دوام زندگی اور اس کی حفاظت ۱۸
پہلی فصل ۱۹
والدین پر بچوں کی ذمہ داریاں ۱۹
اولاد کی تعریف ۱۹
تربیت اولاد کیلئے زمینہ سازی ۲۰
پیدائش سے پہلے ۲۱
باایمان ماں کاانتخاب ۲۱
دلہن باعث خیر و برکت ۲۱
دلہن کچھ چیزوں سے پرہیز کرے ۲۱
آداب مباشرت ۲۳
مہینے کی تاریخوں کا خیال رکھے: ۲۳
ذکر الہی میں مصروف رہے: ۲۳
شرم گاہ کو نگاہ نہ کرے : ۲۳
اجنبی عورت کا خیال ممنوع : ۲۴
میاں بیوی الگ تولیہ رکھے: ۲۴
کھڑے ہوکر مباشرت نہ کرنا: ۲۴
شب ضحی کو مباشرت نہ کرو: ۲۴
مضطرب حالت میں نہ ہو : ۲۴
ہم فکرو ہم خیال بیوی ۲۶
دلسوزاور مہربا ن ما ں ۲۷
پیدائش کے بعد ۲۷
کانوں میں اذان واقامت ۲۷
دودھ کی تأثیر ۲۹
بچپنے کا دور ۲۹
پاک اور حلال غذا کی تأثیر ۳۰
بچے کی کفالت ۳۰
امام حسن مجتبی (ع) اور بچے ۳۱
بچوں کو ان کے ا حترام کی یقین دہانی ۳۳
بچوں کی تحقیر، ضد بازی کا سبب ۳۳
بچوں کی مختلف استعدادوں پر توجہ ۳۴
تشویق کرنے کا حیرت انگیز نتیجہ ۳۴
بچوں سے محبت ۳۴
بچوں کے درمیان عدالت اور مساوات ۳۵
بچوں کے درمیان عادلانہ قضاوت ۳۶
والدین نظم و حقوق کی رعایت کریں ۳۷
بچے کو خدا شناسی کا درس دیں ۳۷
کاشف الغط(رح)اور بیٹے کی تربیت ۳۹
امام خمینی(رح)اور بچوں کے دینی مسائل ۴۰
بچوں کومستحبات پر مجبور نہ کریں ۴۰
بچوں کی تربیت میں معلم کا کردار ۴۲
بچوں کو تعلیم دینے کا ثواب ۴۳
علم دین سکھانے پرثواب ۴۳
والدین سے زیادہ استاد کا حق ۴۳
والدین کی ظلم ستانی اور فراری بچّے ۴۴
اولاد صالح خدا کی بہترین نعمت ۴۶
تحفہ بیٹی کو پہلے دے ۴۶
بچوں پر باپ کے حقوق ۴۷
باپ تمام نعمتوں کا باعث ۴۷
باپ کا احترام واجب ۴۷
بچوں پر ماں کے حقوق ۴۸
حق احسان ۵۰
دوسری فصل ۵۲
میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں ۵۲
شوہر کے حقوق اوربیوی کی ذمہ داریاں ۵۲
امانت داری ۵۲
غسل توبہ ۵۲
شوہر کی اطاعت باعث مغفرت ۵۲
آرام و سکون فراہم کرنا ۵۳
شوہر کی رضایت کا خیال رکھنا ۵۴
بدترین عورت ۵۵
جنسی خواہشات پوری کرنا : ۵۵
بہترین عورت ۵۶
خوشیاں لانے والی ۵۶
امانت داری ۵۷
قناعت پسندی ۵۸
بابرکت بیوی ۵۹
بیوی کے حقوق اورشوہر کی ذمہ داریا ں ۶۰
امانت الہی کی حفاظت ۶۰
عورت کے حقوق اورخدا کی سفارش ۶۱
بداخلاق بیوی اور صبور شوہر ۶۱
یہ مرد جہنمی ہے ۶۲
دنیا و آخر ت کی خیر و خو بی چا ر چیز و ں میں ۶۲
اچھے اخلا ق اور کر دار سے پیش آنا ۶۴
حق سکو نت ۶۴
حق نفقہ ۶۵
نفقہ دینے کا ثواب ۶۵
حق مہریہ ۶۵
تیسری فصل ۶۶
خاندان میں اخلاق کا کردار ۶۶
شوہر کی خدمت کرنے کاثواب ۶۶
ایک برتن کا جابجا کرنے کا ثواب ۶۶
ایک گلاس پانی اور سال کی عبادت! ۶۷
بہشت کے کس دروازے سے؟! ۶۷
تین گروہ فاطمہ(س) کیساتھ محشور ۶۸
تین گروہ فشار قبر سے آزاد ۶۸
شوہر کی رضایت بہترین شفاعت ۷۰
ثواب میں مردوں کے برابر ۷۰
فاطمہ(س) خواتین عالم کیلئے نمونہ ۷۲
فاطمہ(س) کاگھر میں کام کرنا ۷۲
پیامبر (ص) کا اپنی بیٹی کا دیدار کرنا ۷۲
فاطمہ(س) اور خاندانی حقوق کا دفاع ۷۳
کلام فاطمہ(س) میں خاندانی رفتار ۷۵
بیوی کیساتھ اچھا برتاؤ ۷۵
خاندانی خوش بختی کے کچھ اصو ل ۷۶
نظم و ضبط ۷۶
اعتماد کرو تہمت سے بچو۔ ۷۷
پاکیزگی اور خوبصورتی ۷۷
ایک دوسرے کا خیال ۷۸
اچھی گفتگو ۷۸
انسان لالچی نہ ہو ۷۸
احساس بیداری ۷۹
احساس غمخواری ۷۹
ہرگز ناامید نہ ہونا ۷۹
خوش اخلاق ہی خوش قسمت ۸۰
خاندان میں بد اخلاقی کا نتیجہ ۸۰
اچھے اخلاق کا مالک بنو ۸۱
چوتھی فصل ۸۳
خاندان کے متعلق معصومین کی سفارش ۸۳
خاندان پر خرچ کریں ۸۳
پہلے گھر والے پھر دوسرے ۸۳
اسراف نہ کرو ۸۴
روز جمعہ کا پھل ۸۴
خاندان کیساتھ نیکی اورلمبی عمر ۸۴
خاندان اور آخرت کی بربادی ۸۴
محبت خاندان کی کامیابی کا راز ۸۵
کلام معصوم میں محبت کے عوامل ۸۵
ایمان محبت کا محور ۸۵
خوش آمدید کہنا اور استقبال کرنا ۸۵
حسن ظن رکھنا ۸۶
بے نیاز ی کا اظہار کرنا ۸۶
سخاوت کرنا ۸۶
پانچویں فصل ۸۷
خاندانی اختلافات اور اس کا عل ۸۷
خاندانی اختلافات ۸۷
خاندانی اختلافات کا علاج ۸۸
جہنمی مرد ۹۰
جن ہاتھوں سے باہوں میں لیتے ہو! ۹۰
مار نا اور گالی دینا جہالت ۹۱
شوہر میں بیوی کی پسندیدہ خصوصیات ۹۳
مال و دولت ۹۳
قدرت اور توانائی ۹۳
باغیرت ہو ۹۳
مستقل زندگی گزارے ۹۳
معاشرے میں معززہو ۹۳
نرم مزاج ہو ۹۳
صاف ستھرا رہے ۹۳
خوش سلیقہ ہو ۹۴
مؤمن ہو ۹۴
دوسرا حصہ ۹۵
خواتین کا مقام اور حقوق ۹۵
پہلی فصل ۹۵
:عورت تاریخ کی نگاہ میں ۹۵
تاریخ بشریت میں عورت کا مقام ۹۵
ابتدائی دورمیں عورت کی حیثیت ۹۵
یونان میں عورت کی حیثیت ۹۶
اٹلی میں عورت کی حیثیت ۹۶
ایران باستان میں عورت کی حیثیت ۹۷
روم میں عورت کی حیثیت ۹۷
کہاوتیں: ۹۷
قرون وسطی میں عورت کا مقام ۹۸
روس میں عورت کی حیثیت ۹۸
مغربی دنیا میں عورت کی حیثیت ۹۹
کہاوتیں: ۹۹
انگلستان میں عورت کی حیثیت ۱۰۰
چین میں عورت کی حیثیت ۱۰۰
جاپان میں عورت کی حیثیت ۱۰۱
جرمنی میں عورت کی حیثیت ۱۰۱
ہندوستان میں عورت کی حیثیت ۱۰۲
کہاوتیں: ۱۰۲
عصر جاہلیت میں عورت کی حیثیت ۱۰۳
جزیرة العرب میں ناجائز شادیاں ۱۰۴
مساعات ۱۰۴
نکاح الاستیضاع ۱۰۴
نکاح الرھط ۱۰۴
نکاح البدل ۱۰۵
نکاح المقت ۱۰۵
نکاح الجمع ۱۰۵
نکاح الخدن ۱۰۵
نکاح الشغار ۱۰۶
دوسری فصل ۱۰۷
اسلام میں عورت کی قدر و منزل ۱۰۷
اسلام میں عورت کا مقام ۱۰۸
اسلام کی نگاہ میں ماں کا مقام ۱۰۹
اسلام کی نظر میں بیٹی کا مقام ۱۰۹
اسلام میں بیوی کا مقام ۱۱۱
جہاں خواتین کیلئے کام کرنا مناسب نہیں ۱۱۲
اجتماعی روابط کے حدود ۱۱۳
جہاں مرد و عورت پر رعایت واجب ۱۱۳
خواتین اپنی زینتوں کو روابط اجتماعی میں نامحرموں سے چھپائے رکھیں ۱۱۴
اسلام میں ضرب الامثال ۱۱۴
چند نکتہ: ۱۱۵
تیسری فصل ۱۱۶
خواتین کے حقوق ۱۱۶
اجتماعی حقوق ۱۱۶
عورتوں کے حقوق اورامام خمینی R ۱۱۶
امام خمینی(رح)کا امریکی خبر نگار کو انٹرویو ۱۱۷
متخصص عورت اور واجب کفائی ۱۱۷
خواتین کے فرہنگی حقوق ۱۱۷
خواتین کے سیاسی حقوق ۱۱۷
حق بیعت ۱۱۸
فاطمہ(س) محافظ ولایت ۱۱۸
اما م خمینی(رح)اور خواتین کے سیاسی مسائل ۱۱۹
خواتین کے اقتصادی حقوق ۱۲۰
ملک سازی میں عورتوں کا کردار ۱۲۰
حق ارث ۱۲۰
چوتھی فصل ۱۲۲
اسلام کی نگاہ میں خواتین کی آزادی ۱۲۲
مسلمان خواتین کی آزادی سے کیا مراد ؟ ۱۲۳
امام خمینی(رح)اور یوم خواتین ۱۲۴
رہبر معظم (مد ظلہ) اور یوم خواتین ۱۲۵
مغربی آزادی کا تلخ تجربہ ۱۲۶
روس ۱۲۶
امریکہ ۱۲۷
انگلستان ۱۲۷
جاپان ۱۲۷
تھائلینڈ ۱۲۷
مغربی جرمنی ۱۲۸
فہرست منابع ۱۲۹