دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید
گروہ بندی ادعیہ اور زیارات کی کتابیں
مصنف حجة الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدی پور
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


صبحِ جمعہ ، دعائے ندبہ کے ہمراہ

تالیف: حجة الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدی پور

مترجم: حجة الاسلام جناب فیروز حیدر فیضی


صبح ِ جمعہ غم زدہ عاشقوں اور دل باختہ شیعوں کے پُر شکوہ اجتماعات، اہل بیت کے خلاف حلف بردار دشمنوں کو شدید آزار و اذیت پہنچاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے خواب راحت کو اڑا دیتے ہیں۔

لہٰذا اسی رہ گزر سے مدت مدید سے بہت سے سوالات، دعائے ندبہ کے متعلق اعتراض کے عنوان سے شک و شبہ ایجاد کرنے کے لیے دشمنوں کی طرف سے رونما اور بعض مقامات پر نا آگاہ دوستوں کے ذریعے منتشر ہوئے، جوانوں کے بعض گروہ کے درمیان شک و شبہ کا غبار پھیلایا اور ان کے اذہان میں علامتِ سوال پیدا کیا۔

ہم اس تحریر میں اس بات کے درپے ہیں کہ ان سوالات کو بیان کرکے صاف و شفاف اسی کے ساتھ ہی ان کے استدلالی و منطقی جوابات قارئین محترم کی خدمت میں پیش کریں۔

کچھ اپنی باتیں

بعض افراد دعائے ندبہ کی حقیقت و معرفت سے نا آگاہی اور غفلت کی بنیاد پر طرح طرح کے بے جا اعتراضات اپنے زعم ناقص سے کرتے رہتے ہیں۔

مثلاً کبھی کہتے ہیں: یہ اعصاب کو کمزور اور بے حس کردیتی ہے کیوں کہ ان کی نظر میں دعا لوگوں کو سرگرمیوں، سعی و کوشش، ترقی و سربلندی اور کامیابی و کامرانی کے اسباب کے بجائے اسی راستے پر گامزن کرکے صرف اسی پر قناعت کرنے کا درس دیتی ہے۔

کبھی اس بات کے قائل ہوتے ہیں: یہ دعا اصولاً خدا کے معاملات میں بے جا دخل اندازی کا نام ہے، اللہ کی جیسی جو مصلحت ہوگی اسے انجام دے گا وہ ہم سے محبت کرتا ہے وہی ہمارا خالق ہے اور ہمارے مصالح و منافع کو بہتر جانتا ہے پھر کیوں ہر وقت ہم اپنی مرضی کے مطابق اس سے سوال کرتے ہیں؟! یا یہ اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ دعائے ندبہ قرآنی تعلیمات سے ناسازگار ہے وغیرہ وغیرہ ۔


قارئین محترم ! جو لوگ اس قسم کے اعتراضات کرتے ہیں وہ دعا، گریہ و ندبہ اور نالہ و زاری کے نفسیاتی، اجتماعی، تربیتی اور روحانی و معنوی آثار سے غافل ہیں، انسان ارادے کی تقویت اور رنج و الم کے دور ہونے کے لیے کسی سہارے کا محتاج ہے اور دعا انسان کے دل میں امید کی کرن بن کر اس کے تمام وجود کو روشن و منور کردیتی ہے۔

کسی مشہور ماہر نفسیات کا قول ہے: ”کسی قوم میں دعا اور گریہ و زاری کا فقدان اس ملت کی تباہی کے مترادف و مساوی ہے ، جس قوم نے دعا کی ضرورت کے احساس کا گلا گھونٹ دیا ہے وہ عموماً فساد اور زوال پذیر ہونے سے محفوظ نہیں رہ سکتی“۔

البتہ اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ صبح کے وقت دعا اور عبادت کرنا پھر بقیہ مکمل دن کے تمام اوقات وحشی جانوروں کی طرح گزارنا، بے کار اور فضول امر ہے لہٰذا دعا کا سلسلہ مسلسل جاری رہنا چاہیے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان اس کے گہرے اثرات سے بہرہ مند نہ ہوسکے۔

مزید یہ کہ دعا انسان کے نفس میں اطمینان پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی فکر میں ایک طرح کی شگفتگی اور شادابی کیفیت پیدا کرتی ہے، مزید باطنی انبساط و سرور کا باعث ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ انسان کے لیے شجاعت و بہادری کی روح کو برانگیختہ کرتی ہے، دعا کے ذریعے انسان پر بہت سی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں سے بعض تو صرف دعا سے مخصوص ہیں، جیسے نگاہ کی پاکیزگی، کردار میں سنجیدگی، باطنی فرحت و مسرت، مطمئن چہرہ، استعدادِ ہدایت اور حوادث کا استقبال کرنے کا حوصلہ، یہ سب دعا کے اثرات و نتائج ہیں۔

مگر افسوس کی بات ہے کہ ہماری کائنات میں دعا کے حقیقی خدو خال کی شناخت و معرفت رکھنے والے بہت کم ہیں۔

دعائے ندبہ حقیقت میں حجتِ زمانہ سرکار امام زمانہ (ع) عجل اللہ فرجہ الشریف روحی و ارواح العالمین لہ الفدا کے پس پردئہ غیبت، جمعہ کے دن پڑھی جانے والی ایک زیارت ہے جو شیعوں کے برحق اصول عقائد پر مشتمل ہے اور وہ انہیں ان کے وظائف و ذمہ داریوں کی تعلیم دیتی ہے تاکہ صاحبان ایمان اپنے اعتقادات میں ولایت و امامت کے متعلق بھی اپنے عظیم فریضے سے غافل نہ ہوں اور ان کے دلوں میں انتظار فرج و گشائش اور امید کی ضیاء پاشی ہوتی رہے۔

کتاب ہذا میں دعائے ندبہ کے مختلف اعتراضات جو اب تک دنیا کے گوشہ و کنار میں سامنے آتے رہے ہیں اس کے خاطر خواہ جوابات قارئین کرام کو دست یاب ہوجائیں گے ساتھ ہی ساتھ وہ امام زمانہ - کی معرفت سے بھی مالا مال ہوں گے۔

انشاء اللّٰہ المستعان


(دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید)

عرض ناشر

مبارک دعائے ندبہ قدیم الایام سے شیعوں کے توجہات کا مرکز رہی ہے اور حضرت صاحب الامر (ارواحنا لہ الفداہ) کا انتظار کرنے والے طول تاریخ میں اپنے دل کی تپش کو اس دعا کی خنکی سے آرام بخشتے تھے ۔

دعائے ندبہ حقیقت میں حجتوں اور اولیاء الٰہی کے اس وسیع زمین پر حاضر رہنے کی مختصر تاریخ کی نشان دہی کرتی ہے ۔وہ سلسلہ جو حضرت آدم (ع) سے آغاز ہوا اور آخری حجت حضرت امام مہدی (ع) تک جاری رہے گا۔

جو شخص دعائے ندبہ سے مانوس ہو جائے اور دل کی گہرائی سے پیغمبر اکرم کے بر حق جانشینوں کی مظلومیت کو معلوم کرے ،تو ان کی ولایت و حجت کی شمع اس کے دل میں روشن و منور ہو گی اور اس کا تمام وجود حجت خدا کی ضرورت کا احساس کرے گا۔

دعائے ندبہ کے پڑھنے والے کو آخری حجت خدا کی غیبت کی وجہ سے جو انسانی معاشرے پر مصیبت وارد ہوئی ہے معلوم ہو جائے گی اور وہ عظیم مصیبت جو امام معصوم (ع) کے وجود سے محروم ہونے کی بنا پر عالمِ بشریت پر وارد ہوئی ہے اس سے بھی واقف ہو جائے گا اس لحاظ سے اس کو اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں کہ شب و روز گریہ و زاری میں بسر کرے اور موجودہ سیاہ ترین حالات میں گرفتار ہونے پر آنسو بہائے ۔ لیکن یہ گریہ و زاری ایک طرح سے ان افراد پر اعتراض ہے جنہوں نے آخری امام - کی غیبت کا زمینہ فراہم کیا، اور دوسری طرف سے اس سر زمین پر امام معصوم (ع) کے ظہور کا زمینہ فراہم کرنے اور ان کی خدمت کرنے کا اعلان ہے ۔ دعائے ندبہ اور اس کی استناد کے متعلق بہت سی باتیں کہی گئی ہیں اور متعدد رسالے اور کتابیں بھی اس سلسلہ میں تالیف ہوئی ہیں ،لیکن اب بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں زندگی بسر کرنے والے بعض ایسے بھی ہیں جو اس دعا میں شک و شبہ پیدا کرتے ہیں اور اس کی سند اور مضمون پر اعتراض کرتے ہیں ،اس وجہ سے لازم و ضروری ہے کہ دوسری مرتبہ اس دعا کے اعتراضات کو عمیق تحقیق کے ساتھ جواب دیا جائے ۔ کتابِ حاضر جو محقق محترم حجة الاسلام و المسلمین علی اکبر مہدی پور کے عزم و ہمت سے منظر عام پر آئی ہے ،اس کی ابتدائی بحثوں میں آخری حجت حضرت مہدی (ع) کے لیے گریہ و زاری کرنے کی تاریخ بیان ہوئی ہے اور اس کے بعد دعا ئے ندبہ کی تفصیلی سندی بحث ذکر کی گئی ہے مزید اس دعا کے متعلق بعض مضمونی اعتراضات کی تحقیق بھی کی گئی ہے ۔

کتاب کے محترم مولف کے شکریہ کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ یہ تالیف حضرت صاحب (ع)الامر (عج) کی خدمت میں شرفِ قبولیت حاصل کرے گی اور قارئین کرام کی رضایت بھی۔

انشاء اللہ


ابتدائیہ

صبح ِ جمعہ غم زدہ عاشقوں اور دل باختہ شیعوں کے پُر شکوہ اجتماعات، اہل بیت کے خلاف حلف بردار دشمنوں کو شدید آزار و اذیت پہنچاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے خواب راحت کو اڑا دیتے ہیں۔ شہر کی فضا میں ”یابن الحسن -“ کی ان اجتماعات سے آواز بلند ہوتی ہے اور ایک خون آلود تیر کی طرح دشمن کے سینے میں داخل ہوجاتی ہے اور ان کے آرام و سکون کو ان سے سلب کرلیتی ہے۔لہٰذا اسی رہ گزر سے مدت مدید سے بہت سے سوالات، دعائے ندبہ کے متعلق اعتراض کے عنوان سے شک و شبہ ایجاد کرنے کے لیے دشمنوں کی طرف سے رونما اور بعض مقامات پر نا آگاہ دوستوں کے ذریعے منتشر ہوئے، جوانوں کے بعض گروہ کے درمیان شک و شبہ کا غبار پھیلایا اور ان کے اذہان میں علامتِ سوال پیدا کیا۔ہم اس تحریر میں اس بات کے درپے ہیں کہ ان سوالات کو بیان کرکے صاف و شفاف اسی کے ساتھ ہی ان کے استدلالی و منطقی جوابات قارئین محترم کی خدمت میں پیش کریں۔ اس کے وہ بعض سوالات یوں ہیں کہ:

۱ ۔ کیا یہ معقول امر ہے کہ ایک فرد کی ولادت سے قبل اس کے فراق میں گریہ و زاری کی جائے؟

۲ ۔ کیا دعائے ندبہ کی کوئی معتبر سند پائی جاتی ہے؟

۳ ۔ کیا دعائے ندبہ پیغمبر (ص) کی جسمانی معراج سے ناسازگار ہے؟

۴ ۔ کیا دعائے ندبہ کیسانیہ عقائد سے نشاة پائی ہے؟

۵ ۔ کیا دعائے ندبہ گوشہ نشینی جیسی حالت کی حامل ہے؟

۶ ۔ کیا دعائے ندبہ بدعت ہے؟

۷ ۔ کیا دعائے ندبہ عقل کے منافی ہے؟

۸ ۔ کیا دعائے ندبہ بارہ ائمہ کی امامت کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟

۹ ۔ کیا دعائے ندبہ کا معصوم سے صادر ہونا معقول ہے؟

۱۰ ۔ کیا دعائے ندبہ کے فقرات قرآن کے مخالف ہیں؟

ان سوالات کے بعض حصّے عظیم القدر اور ارزش مند مجلّہ موعود میں بیان ہوئے ہیں ان کے استدلالی جوابات گراں قدر مجلّہ کے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیے،(۱) اب یہ ہماری سعادت ہے کہ ان کے مجموعی مقالات کو جس صورت میں آپ ملاحظہ کر رہے ہیں آپ قارئین گرامی کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

علی اکبر مہدی پور

____________________

۱۔ ماہ نامہ موعود، شمارہ ۱۴ تا ۱۹، خردار ماہ ۷۸ تا فروردین ۷۹۔


پہلی فصل

دعائے ندبہ سے آشنائی

۱ ۔ مہدی موعود کے فراق میں گریہ و زاری کا تاریخی پس منظر

اے نور یزداں! اے مہرتاباں! اے فروغ لامتناھی! اے دائمی روشن آفتاب! اے پرچم نجات کے مالک! اے چشمہ زار عطوفت و محبت کو پینے والے! اے وہ غائب جوناقابل فراموش ہے!

اے وہ کہ جہاں بھی فتنہ و فساد ہے تو اسے ختم کرنے والا ہے! اے وہ کہ جہاں کہیں بھی کوئی نظام چل رہا ہے تو اس کا ناظم ہے ! اے وہ کہ جہاں بھی کوئی قیام عمل میں آرہا ہے تو قائم ہے!

اے وہ کہ تو تمام ہم و غم کا منتہیٰ ہے! اے وہ کہ تو تمام درد و الم کا مداوا ہے! اے وہ کہ تو تمام بے اسباب افراد کا سرو سامان مہیا کرنے والا ہے !

آپ کی جاں گداز جدائی بہت طولانی ہو گئی ،تمام آنکھیں سو گئیں ،سوائے آپ کے عاشقوں کی ،جو غیبت کی طولانی شب میں آپ کے آفتاب عالم تاب کے طلوع کی متلاشی ہیں ،اے دنیا کے روشن آفتاب!

دریا طوفانی کیفیت کا حامل ہو گیا، تمام کشتیاں آپس میں ٹوٹ گئیں سوائے آپ کے چشم براہ لوگوں کے ،جو فتنوں کی موجوں کی بلندی پر آپ کے نجات بخش ساحل کی تلاش میں ہیں ، اے آرام بخش ساحلِ نجات!

تمام کرہ ارض خشک ہو گیا،ہر ایک گل بوٹے پژمردہ ہو گئے سوائے آپ کے عاشقوں کے گُل لالہ زار کے، اے موّاج چشمہ حیات!

ہاں! غیبت کی تاریک شب طولانی ہو گئی ،زندگی کا سیاہ دریا طوفانی صورت میں تبدیل ہو گیا، انسانیت کا وسیع صحرا گرم بے آب و گیاہ سر زمین میں بدل گیا اور میں اس شب تاریک میں وحشت زدہ ہو گیا، آپ کی آمد کے لیے تمام لمحات کو شمار کر رہا ہوں اور وہ بھی اس وحشت زدہ غار میں ،دل تنگ، تھکا ماندا آپ کے انتظار میں ستاروں کو گن رہا ہوں ، اے غم و درد کو ختم کرنے والے موعود امم!


یقینا ”وصل وہجران“کی تاریخ میں اور ”عشق وحرمان“ کے دفتر میں اس قسم کی دیرپا محبت اور ایسے پا برجا محب نیز ایسے گریز پا محبوب کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا ہے کہ جس کے ۱۱۶۶ سال گزرچکے ہوں اور وہ اس عشق و جذبہ ناز اور راز و نیاز کے ساتھ برقرار ہو۔

یہ صرف زمانہ غیبت کے افراد ہی نہیں ہیں جو ظلم و ستم سے رنجیدہ اور عاجز ہو چکے ہوں اور حجت خدا کے ظہور کے انتظار میں لحظہ شماری کر رہے ہوں ان کی آتش فراق میں جل رہے ہوں اور ان کی غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے خون کے آنسو رو رہے ہوں ،بلکہ تمام پیغمبروں نے یوسفِ زہرا کی غیبت اور ظہور کے متعلق گفتگو کی ہے ، ان کے فضائل و مناقب کا قصیدہ پڑھا ان کے ظہور کے انتظار کے لیے اپنی امت کو نصیحت فرمائی ہے۔

یہ حضرت داؤد ہیں جنہوں نے کتاب زبور کی ہر فصل میں حضرت کے ظہور موفور السرور کے متعلق بیان فرمایا ہے ،آسمانوں کی خوشی ،اہل زمین کی مسرت ،دریاؤں کی کڑک صحراؤں کا وجد میں آنا، جنگلوں کے درختوں کا نغمہ سرائی کرنا اور ان کے ظہور کے وقت کی خبر دی ہے۔ دنیا کا آباد ہونا، انسان اور سب کو سکون و اطمینان کی سانس میسر ہونا آپ کی بہترین حکومت میں نمایاں طور پر حاصل ہو گی ،مزید انتظار کا حکم بھی دیا ہے۔(۱)

یہ حضرت دانیال ہیں جنہوں نے عدل و انصاف کے پھیلنے اور حضرت قا ئم - کے ہاتھوں ظلم و ستم کے ختم ہونے کی خبر دی ہے اور مردوں کی رجعت کے متعلق گفتگو کی ہے نیز ظہور کے منتظرین کی تعریف کی ہے ۔(۲)

یہ حیقوق نبی ہیں کہ جنہوں نے ظہور کی بشارت دی ہے اور آپ کی طولانی غیبت کو بیان کیا ہے اور اپنی امت سے فرمایا:

اگر چہ تاخیر بھی کریں پھر بھی تم ان کا انتظار کرو اس لیے کہ یقینا وہ آئیں گے ۔ “(۳)

____________________

۱۔ عہد عتیق، مزامیر، مزمور ۳۷/ ۹۔۱۸ و مزمور ۹۶/ ۱۰۔ ۱۳۔

۲۔ عہد عتیق، اشعیانبی، ۱۱/ ۴۔ ۱۰۔

۳۔ عہد عتیق، حیقوق نبی، ۱۲/ ۱۔ ۱۳۔


یہ حضرت عیسیٰ - کی ذات گرامی ہے کہ جنہوں نے پچاس سے زائد مقامات پر عہد جدید (انجیل) میں حضرت کے ناگہانی ظہور کو بیان کیا ہے اور تعمیری انتظار کے موافق حکم دیا ہے مزید غفلت و بے توجہی سے ہوشیار کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:

”اپنی اپنی کمر کو باندھ لو اپنے چراغوں کو روشن رکھو وہ تمام غلام خوش نصیب ہیں کہ جب ان کے آقا و مولا آئیں تو انہیں بیدار دیکھیں“۔(۱)

یہ رسول اکرم (ص) ہےں جو شب معراج حضرت علی و فاطمہ زہرا اور دوسرے ائمہ معصومین کے انوار طیبہ کا مشاہدہ فرماتے ہیں ،نیز حضرت بقیةاللہ ارواحنا فداہ کے مقدس نور کا جب دیدار کرتے ہیں کہ ان کے درمیان روشن ستارے کی طرح نور افشانی کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں:” پروردگارا! یہ کون لوگ ہیں؟“ خطاب ہوتا ہے :

”یہ ائمہ ہیں اور یہ وہی ”قائم“ ہے جو میرے حلال کو حلال اور میرے حرام کو حرام کرے گا ،اسی کے بدست اپنے دشمنوں ،ظالموں ،کافروں اور منکرین سے انتقام لوں گا، وہ میرے دوستوں اور آپ کے شیعوں کے لیے آرام بخش ہونے کا وسیلہ ہے ، وہی لات و عزّیٰ (قریش کے دو بڑے بت) کو تروتازہ زمین کے اندر سے باہر لائے گا اور انہیں آگ کی نذر کرے گ“(۲)

_______________________

۱۔ عہد جدید، انجیل لوقا، ۱۲/ ۳۵ اور ۳۶۔

۲۔ عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق، ج۱، ص ۴۷۔


اس وقت ایک بہت طولانی حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:

طوبیٰ لمن لقیه و طوبی لمن احبّه و طوبی لمن قال به

”خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان سے ملاقات کرے ،خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کو دوست رکھے ،خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کا معتقد ہو“۔(۱)

اس طرح اشرف کائنات نے بھی منطق وحی سے دائمی منتظرین کی جماعت کے سوز و گداز آمیز انتظار سے پردہ اٹھایا جیسا کہ فرمایا:

( فقل انما الغیب للّه فانتظروا انی معکم من المنتظرین)

”آپ کہہ دیجیے کہ تمام غیب کا اختیار پروردگار کو ہے اور تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ۔ “(۲)

امام ناطق برحق حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا:

” اس آیت میں غیب سے مراد حجت غائب حضرت قائم ہیں ۔“(۳)

یہ امیر المومنین علی ہیں کہ جنہوں نے ایک نامور خطبہ میں حضرت مہدی کو بعنوان :

_____________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق ،ج۱،ص۲۶۸۔

۲۔ سورئہ یونس (۱۰) آیت ۲۰۔

۳۔ ینابیع المودة سلیمان بن ابراہیم قندوزی ،ص۵۰۸۔


”عرب کے بلند ترین پہاڑوں کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ہوں گے، علوم و فضیلت کے بحر زخار ہوں گے ۔وہ بے پناہوں کی پناہ ہوں گے ، ہمیشہ فاتح و سر بلند ، وہ شیر نر ہوں گے ، سب (ظالموں ) کو کاٹ کر رکھ دیں گے ، ظلم و ستم کے محلوں کو ڈھا دیں گے ، وہ اللہ تعالیٰ کی شمشیر برّاں ہو ں گے“

وغیرہ وغیرہ جیسی صفت سے یاد کرتے ہیں اور اپنا دست مبارک سینہ پر رکھ کر دل سے ایک آہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں :

هاه ، شوقا الی رویته

”آہ میں ان کے دیدار کا کتنا اشتیاق رکھتا ہوں ۔ “(۱)

دوسری حدیث میں حضرت کے ۳۱۳ ملکی اور فوجی کمانڈر کے متعلق حضرت نے خبر دی ہے ، دل کی گہرائیوں سے فرماتے ہیں:

” و یا شوقاه الی رویتهم فی حال ظهور دولتهم

”آہ ، میں ان کے ظہور کے وقت ان کی حکومت کا کتنا زیادہ شوق دیدار رکھتا ہوں ۔ “(۲)

اصبغ ابن نباتہ کا بیان ہے : ایک دن حضرت امیر المومنین کے خدمت میں شرفیاب ہوا میں نے دیکھا کہ دریائے فکر میں غوطہ زن ہیں اور اپنی انگشت مبارک

________________________

۱۔ بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسی، ج۵۱، ص ۱۱۵۔ بشارة الاسلام، سید مصطفی کاظمی، ص ۵۲۔

۲۔ الکافی، محمد بن یعقوب الکلینی، ج۱، ص ۱۷۰۔


زمین پر رکھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ میں آپ کو متفکر دیکھ رہا ہوں ؟ اپنی انگشت مبارک زمین پر رکھتے ہیں ،کیا آپ کو آب و گِل سے لگاؤ پیدا ہو گیا ؟ فرمایا:

”ہرگز نہیں ، خدا کی قسم! میں نے ایک دن کے لیے بھی اس آب و گِل سے تعلق نہیں پیدا کیالیکن میں اس مولود کے متعلق فکر کر رہاہوں جو میری نسل سے دنیا میں آئے گا ۔وہ میرا گیارہواں فرزند ہے ۔ وہ وہی مہدی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے پُر کر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہو چکی ہو گی۔ اس کے لیے زمانہ غیبت میں حیرانی و سرگردانی ہے۔ ان دنوں میں کچھ قومیں راہ حق سے منحر ف ہو جائیں گی اور کچھ قومیں راہ راست کی طرف ہدایت پائیں گی ۔“(۱)

یہ سوز و گداز اور اشتیاق دیدار کا اظہار کرنا صرف امیر المومنین میں منحصر نہیں ہے بلکہ تمام ائمہ - صمیم قلب سے اس آفتاب عالم تاب کے دیدار کے خواہش مند ہیں اور ہر ایک نے اپنی اپنی تعبیر میں اس اندرونی عشق و محبت سے پردہ اٹھایا ہے۔

یہ سبط اکبر حضرت امام حسن مجتبیٰ - ہیں جو حضرت کی با عظمت حکومت کی وضاحت کے بعد فرماتے ہیں:

_______________________

۱۔ کفایة الاثر فی النص علی الائمة الاثنی عشر ، ابو القاسم علی الخراز القمی ، ص۲۲۰۔ کمال الدین و تمام النعمة ،شیخ صدوق ، ج۱،ص ۲۸۹۔


”فطوبیٰ لمن ادرک ایامه و سمع کلامه “

”خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان کے ایام کو درک کریں اور ان کے احکام کی اطاعت کریں“۔(۱)

اور یہ سید الشہداء حضرت امام حسین ہیں جو ہمیشہ اپنے خون اور طول تاریخ کے دوسرے مظلوموں کے خون کا انتقام لینے والے کی یاد میں تھے اور حضرت کے عالمی قیام کو بیان کرتے وقت انہیں ” الموتور با بیہ“ (اپنے بابا کے خون کا انتقام لینے والے ) سے تعبیر کرتے ہیں ۔(۲)

”موتور“ ”صاحب خون“ اور ”منتقم“ کے معنی میں ہے ۔(۳)

آیہ کریمہ کی تفسیر میں :

( وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا فَلاَیُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّهُ کَانَ مَنصُورًا)

”اور جو مظلوم قتل ہوتا ہے ہم اس کے ولی کو بدلہ کا اختیار دے دیتے ہیں لیکن اسے بھی چاہیے کہ قتل میں حد سے آگے نہ بڑھ جائے کہ اس کی بہر حال مدد کی جائے گی۔ “(۴)

_______________________

۱۔ یوم الخلاص ،کامل سلیمان ،ص۳۷۴۔

۲۔ کمال الدین و تمام النعمة ، شیخ صدوق ،ج۱،ص ۳۱۸۔

۳۔ النھایة فی غریب الحدیث والاثر، ابن ا لاثیر، ج۵، ص ۱۴۸۔

۴۔ سورئہ اسراء (۱۷)، آیت ۳۳۔


امام صادق نے فرمایا:

”یہ آیت حضرت قائم آل محمد (ص) کے حق میں نازل ہوئی ہے جو ظہور کے بعد امام حسین- کے خون کا انتقام لیں گے ۔“(۱)

یہ امام سجاد ہیں جو اپنے مشہور خطبہ میں دربارِ یزید میں خاندان عصمت و طہارت کے امتیازات کو شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ نے ہمیں ، علم ،حِلم ،سخاوت ،شجاعت سے نوازا ہے اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت عطا کی ہے ، رسول خدا ہم میں سے ہیں،ان کے وصی کا تعلق ہمارے خاندان سے ہے ، سید الشہداء (جناب حمزہ ) جعفر طیار اور امت پیغمبر کے دو سبط ہم میں سے ہیں اور وہ مہدی جو دجّال کو قتل کریں گے وہ بھی ہم میں سے ہیں ۔“(۲)

یہ امام محمد باقر ہیں جو حضرت کے شوق دیدار کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

”و یاطوبیٰ من ادرکه “

”وہ شخص خوش نصیب ہے جو انہیں درک کرے ۔“(۳)

”ام ہانی “کو خطاب کر کے فرمایا:

_______________________

۱۔ کامل الزیارات، ابن قولویہ، ص ۶۳۔ البرہان فی تفسیر القرآن، سید ہاشم بحرانی، ج۲، ص ۴۱۸۔

۲۔ نفس المھموم، شیخ عباس قمی، ص ۲۸۵۔

۳۔بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسی، ج۵۱ ، ص ۱۳۷۔


”فان ادرکت زمانه قرّت عینک “

”اگر تم نے ان کے زمانہ کو درک کیا تو تمہاری آنکھیں روشن ہو جائیں گی۔“(۱)

یہ امام جعفر صادق ہیں کہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

” فطوبی لمن ادرک ذلک الزّمان “

”وہ شخص خوش نصیب ہے جو ان کے زمانہ کو درک کرے“ ۔(۲)

پھر بہت عظیم تعبیر نقل ہوئی ہے جو ایک طرف سے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی عظیم المرتبت عظمت کی حکایت کرتی ہے اور دوسری طرف سے امام جعفر صادق کا اپنے چھٹے فرزند ارجمند سے انتہائی عشق و محبت کی نشان دہی کرتی ہے ۔

”و لو ادرکته، لخدمته ایام حیاتی “

”اگر میں ان کے زمانہ کو درک کرتا تو تمام عمر ان کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہتا ۔“(۳)

اس وقت شیعوں کی مشکلات کو زمانہ غیبت میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

” و لتد معنّ علیه عیون المومنین “

”مومنین کی آنکھوں سے حضرت کے لیے آنسوؤں کا سیلاب امنڈ

____________________

۱۔ الکافی، محمد بن یعقوب الکلینی، ج۱، ص ۲۷۶۔

۲۔ بحار الانوار،محمد باقر مجلسی ،ج۵۱، ۱۴۴۔

۳۔ کتاب الغیبة ،محمد بن ابراہیم نعمانی ،ص۲۴۵۔


پڑے گا“ ۔(۱)

لیکن حضرت امام جعفر صادق - نے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے فراق میں کس قدر اشک فشانی کی سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔

”سدیر صیرفی “ کہتے ہیں:” ایک مرتبہ ہم ،”مفضل“ ،”ابو بصیر“ اور ”ابان“ اپنے مولا امام جعفر صادق کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور کاندھے پر ایک اونی خیبری عبا ہے جس کی آستینیں چھوٹی چھوٹی ہیں اور اس طرح گریہ فرمارہے ہیں جیسے کوئی ماں اپنے فرزند کی میت پر گریہ کرتی ہے۔

آپ کے چہرہ انور سے غم و اندوہ کے آثار نمایاں اور رخساروں کا رنگ بالکل متغیر تھا اور پرخون دل اور شدّت غم سے آنسوؤں کا سیلاب آپ کے رخساروں پر بہہ رہا ہے اور اس طرح مناجات کر رہے ہیں:

”سیدی غیبتک نفت رقادی ،وضیّقت علیّ مهادی ، و ابتزّت منّی راحة فوادی “

”اے میرے سید و سردار! آپ کی غیبت نے میری آنکھوں سے نیند اڑا دی ، عرصہ حیات مجھ پر تنگ کر دیا ہے میرے دل کا سکون جاتا رہا ہے “ ۔

سُدیر کا بیان ہے : امام صادق کو اس پر یشانی کے عالم میں دیکھ کر میری عقل جاتی رہی اور کلیجہ پاش پاش ہو گیا کہ کون سی جان لیوا مصیبت حجت خدا کے سر پر

________________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق ، ج۲، ص ۳۴۷۔ کتاب الغیبة، محمد بن ابراہیم نعمانی، ص ۱۵۲۔


آگئی؟ کون سا افسوس ناک عظیم واقعہ ان کے لیے رونما ہوا؟! ہم نے عرض کیا:

اے خیر خلق کے فرزند! آپ کے لیے یہ کون سا حادثہ پیش آگیا کہ اس طرح آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا ہے؟! اور آپ کے مبارک آنسو ابر بہاری کی طرح آپ کے چہرے پر رواں دواں ہیں؟! کس عظیم واقعہ کی بنا پر اس طرح کے سوگ میں بیٹھے ہوئے ہیں؟!

حضرت امام صادق نے یہ سن کر لرزتے ہوئے دل کی گہرائیوں سے ایک سرد آہ بھر کر ہماری طرف رخ کر کے فرمایا:

”آج صبح میں نے کتاب ”جفر“ دیکھی جو قیامت تک کے علم منایا و بلایا اور علم ما کان و ما یکون (یعنی: خواب اور آزمائشوں نیز جو کچھ ہوچکا ہے اور ہونے والا ہے ان امور کے علم) پر مشتمل ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد اور آپ کے بعد ائمہ طاہرین کے لیے مخصوص فرمادی ہے ،اس میں ہم نے اپنے قائم کے ولادت ،ان کی طولانی غیبت ،طول عمر اور زمانہ غیبت میں مومنین کے مصائب ،لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ کا پیدا ہونا ،اکثر لوگوں کا دین اسلام سے منحرف ہو جانا اور ہر انسان کا اپنے گلے سے اسلام کی حبل متین کا اتار پھینکنا دیکھا ہے ،میرا دل اس زمانے کے لوگوں کے لیے جل رہا ہے اور غم و اندوہ کی موجوں نے میرے جسم کو گھیر لیا ہے ۔“(۱)

_______________________

۱۔ کتاب الغیبة ، محمد بن حسن طوسی (شیخ طوسی)، ص۱۶۷۔


اس زمانے کے شیعوں کے حالات کے مطالعے نے امام صادق کی کیفیت کو یوں متغیر کر دیا ان کے چہرہ مبارک پر سیل اشک رواں ہو گئے ،لیکن ہمارے پاس تو امام کی طرح وہ استحکام اور مقاومت و پائیداری نہیں ہے اور ہم زمانہ کے تلخ حوادث کا بار سنگین اپنے شانوں پر محسوس کر رہے ہیں ،ا س وقت ہمارا کیا حال ہو گا؟ یا یہ کہ کیوں ہم حیران و پریشان ہو کر صحرا میں نہیں چلے جاتے ،اور ہمارے دل کی آتش اس عالم ہستی کو آگ کی نذر کیوں نہیں کرتی۔کیوں اسی دلیل اور علت کی بنا پر عظیم واقعہ کی مصیبت کی گہرائی کو جیسا درک کرنا چاہیے محسوس نہیں کرتے ۔

یہ امام موسیٰ کاظم ہیں جو امام عصر کے غیبت کے متعلق بیان کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی ”علی بن جعفر“ سے فرماتے ہیں:

”انّما هی محنة من اللّٰه عزّوجلّ امتحن بها خلقه “

”یہ غیبت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہو گی اس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لے گا۔“

اور جب علی بن جعفر مزید وضاحت طلب کرتے ہیں تو فرماتے ہیں :

”یا بنی عقولکم تضعف عن هذا و احلامکم تضیق عن حمله ولکن ان تعیشوا فسوف تدرکونه “

”اے میرے بیٹو! تمہاری عقلیں کوتاہ ہیں ،تم اس کا تصور بھی نہ کر سکو گے ،تمہاری عقل و فہم اتنی کم ہے کہ اس کی متحمل نہ ہو سکے گی ،لیکن اگر تم لوگ اس زمانہ تک زندہ رہے تو اس کو خود ہی دیکھ لو گے۔“(۱)

یہ حضرت امام رضا ہیں جو حضرت کی طولانی غیبت کو یاد کر کے فرماتے ہیں :

”یبکی علیه اهل السماء و الارض و کلّ حرّی و حرّان و کل حزین و لهفان “

”اس کے لیے تمام زمین و آسمان میں بسنے والے عاشقین گریہ کریں گے ،ہر مردوزن اس کے لیے محزون اور سب آہ و زاری کریں گے۔“(۲) جب ”دعبل خزاعی“ نے اپنے مشہور اشعار کو امام رضا کی خدمت میں پڑھا تو جیسے ہی آپ نے حضرت بقیة اللہ اور ان کے عظیم قیام کا ذکر کیا تو امام رضا اپنی جگہ کھڑے ہو گئے اور اپنا دست مبارک سر پر رکھا حضرت ولی عصر کے نام پر کھڑے ہو کر آپ کے ظہور کی دعا کی ۔(۳)

امام جعفر صاد ق سے سوال کیا گیا: قائم ، سن کر کھڑے ہونے کے لازم ہونے کا کیا سبب ہے ؟ فرمایا:

” صاحب الامر دراز مدت تک غیبت میں رہیں گے یہ لقب حضرت کی برحق حکومت کی نشان دہی کرتا ہے اور آپ کی غربت پر اظہار افسوس ہے ،لہذا جو شخص حضرت کو اس قائم لقب سے یاد کرے تو وہ اسے محبت

________________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة ، شیخ صدوق، ج۲،ص ۳۶۰۔۲۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج۵۱، ص ۱۵۲۔ ۳۔ قاموس الرجال، شوشتری، ج۴، ص ۲۹۰۔


آمیز نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔چونکہ اس وقت امام ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لہذا احترام کے لیے کھڑا ہونا چاہیے اور خدا سے آپ کے لیے تعجیل فرج کی دعا کرنی چاہیے“ ۔(۱)

یہ حضرت امام تقی الجواد ہیں جو چار سال کی عمر میں شدت غم واندوہ میں ڈوب جاتے ہیں،تو آپ کے پدربزرگوار اس ہمّ وغم کا سبب دریافت کرتے ہیں ۔

تو وہ اپنی مادرگرامی حضرت فاطمہ زہرا کے مصائب اور حضرت محسن کے خون کا انتقام لینے کو زمانہ ظہور میں بیان کرتے ہیں۔(۲)

دوسری حدیث میں امام عصر کے عظیم قیام کو بیان کرتے ہوئے آخر میں فرماتے ہیں:

” فاذا دخل المدینة اخرج اللات والعزّیٰ فاحرقهما“

”جب وہ مدینہ پہونچیں گے تو (قریش کے دو بڑے بت) لات و عزّیٰ کو زمین سے نکال کر جلا ڈالیں گے ۔“(۳)

یہ امام علی نقی ہیں جو سامرا کے زندان میں یوسف زہرا کی یاد میں ”صقر ابن ابی دُلف“ سے فرماتے ہیں:

”سنیچر کا دن رسول خدا سے مخصوص ہے جمعرات کا دن میرے فرزند

________________________

۱۔ منتخب الاثر، لطف اللہ صافی گلپائیگانی، ص ۵۰۶۔

۲۔ اعلام الوریٰ باعلام الھدیٰ، ابو علی الفضل بن حسن الطبرسی، ص ۴۰۹۔

۳۔ حلیة الابرار فی احوال محمد و آلہ الاطہار، ج۲، ص ۵۹۸۔ بیت الاحزان، شیخ عباس قمی، ص ۱۰۰۔


(امام حسن عسکری ) سے اور جمعہ کا دن میرے فرزند کے بیٹے (حضرت مہدی ) سے مخصوص ہے ۔“(۱)

یہ امام حسن عسکری کی ذات گرامی ہے کہ سامرا کے زندان میں اپنے فرزند ارجمند کی یاد میں نغمہ سرائی کرتے ہوئے اس بیت کو پڑھتے ہیں:

من کان ذا عضد یدرک ظلامته

انّ الذّلیل الذی لیست له عضد

یعنی : جو قوت بازو کا حامل ہوتا ہے وہ اپنے حقوق اخذ کرلیتا ہے

بے شک ذلیل وہ شخص ہوتا ہے جس کا کوئی قوت و بازو نہ ہو

زندان میں ساتھ رہنے والا شخص دریافت کرتا ہے:

”کیا آپ کا کوئی بیٹا ہے؟“

فرماتے ہیں:

”ای واللّه سیکون لی ولد یملا الارض قسطاً، فامّا الآن فلا “

”ہاں!خدا کی قسم! میرے لیے ایک فرزند ہو گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا لیکن ابھی میرا کوئی فرزند نہیں ہے ۔ “

اس وقت درج ذیل شعر کو بطور مثال پیش کیا:

________________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق ، ج۲، ص ۳۸۳۔


لعلّک یوما ان ترانی کانّما

بنیّ حوالیّ الاسود اللّوابد

یعنی: تم شاید مجھے ایک دن دیکھو گے جب میرے بیٹے شیروں کی طرح کہ ان کے بال ان کی گردن پر آویزاں ہوں گے اور وہ میرے اطراف میں جمع ہوئے ہوں گے۔“(۱)

اور جب آفتاب امامت افق سامرا سے طلوع ہوا تو احمد ابن اسحاق سے فرمایا:

”اللہ تعالیٰ کا شکر کہ مجھے دنیا سے نہ اٹھایا یہاں تک کہ میرے اس فرزند کا دیدار کرایا جو میرا جانشین ہے اور لوگوں میں خلقت اور سیرت میں رسول خدا سے سب سے زیادہ مشابہ ہے ۔“(۲)

ولادت کے دوسرے دن جب حکیمہ خاتون نے گہوارہ کو خالی پایا تو دریافت کیا: میرے آقا و مولا کہاں گئے ؟

فرمایا:

”یا عمّة استودعناه الذی استودعت امّ موسیٰ “

اے پھوپھی جان! میں نے ان کو اس ذات کے سپرد کر دیا ہے کہ جس کے سپرد مادر موسیٰ نے موسیٰ کو کیا تھا۔ “(۳)

________________________

۱۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج۵۱، ص ۱۶۲۔

۲۔ اعلام الوریٰ باعلام الھدی، ابو علی الفضل بن حسن الطبرسی، ص ۲۹۱۔

۳۔ کتاب الغیبة ، شیخ طوسی، ص ۲۳۷۔


یہ حضرت بقیة اللہ ہیں جو ہمیشہ زمانہ غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے اکثر اپنی ملاقات سے مشرف ہونے والوں سے سوز گداز کی حالت میں تعجیل فرج کے متعلق دعا کرنے کا حکم صادر فرماتے ہیں اور توقیع مبارک میں کہتے ہیں:

” واکثر وا الدعاء بتعجیل الفرج ،فانّ ذلک فرجکم “

”تعجیل فرج و کشائش کے لیے کثرت سے دعا کرو کہ اس میں تمہارے لیے کشائش و آسائش ہے ۔ “(۱)

محمد بن عثمان ۔ دوسرے نائب خاص۔ حضرت کا ”باب المستجار“ میں دیدار کرتے ہیں کہ وہ غلاف کعبہ کو پکڑ کر دعاگو ہیں :

”اللهم انتقم من اعدائی “

خدایا ! میرے دشمنوں سے میرا انتقام لے ۔(۲)

اور جب حضرت کی خدمت میں آخری مرتبہ پہونچتے ہیں تو حضرت کے وجود اقدس کا خانہ کعبہ کے کنارے مشاہدہ کرتے ہیں کہ پروردگار کی طرف دست بدعا ہو کر عرض کرتے ہیں :

”اللهم انجزلی ما وعدتنی “

”خدایا ! جو مجھ سے وعدہ ہے کیا وفا کر “(۳)

________________________

۱۔ الاحتجاج، ابو علی الفضل بن حسن طبرسی، ج۲، ص ۴۷۱۔ کتاب الغیبة، شیخ طوسی ، ص ۲۹۲۔

۲۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ج۵۲، ص ۳۰۔

۳۔ اعیان الشیعہ، السید محسن الامین العاملی، ج۲، ص ۷۱۔


یہ مختصر اشارہ ائمہ دین کی سیرت اور مذہب کے پاسبانوں کے متعلق تھا جو گزشتہ انبیاء، خود ذات پیغمبر اکرم ،امیر المومنین اور بقیہ ائمہ معصومین علیہم السلام آفتاب امامت کے طلوع ہونے سے صدیوں پہلے شدید عشق و محبت اپنے دل میں پوشیدہ رکھے ہوئے تھے اور حضرت کے فراق میں تڑپ رہے تھے نیز کبھی اس ماں کی طرح آنسو بہاتے تھے جس نے اپنے جواں سال بچہ کا داغ دیکھا ہو ،ان کی یاد کے ذریعے عشق و محبت کا اظہار کرتے تھے ، ان کے دیدار کے مشتاق ہوتے تھے اور جو افراد حضرت کے جمال آرائے عالم کے دیدار کی توفیق حاصل کریں گے ان پر رشک کرتے تھے ۔ ائمہ دین نہ صرف یہ کہ خود حضرت کے فراق میں تڑپتے تھے بلکہ حضرت کے شیعوں اور عاشقوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ بھی ہمیشہ عزیز زہرا کے غائب فرزند کی یاد میں رہ کر ان کی جدائی میں اشک بہائیں اور نالہ وشیون بلند کریں اور خود کثرت سے انہیں دعاؤں کی تعلیم دیتے تھے کہ جسے وہ خاص اوقات میں پڑھیں اور آئندہ نسلوں کو سپرد کریں کہ ان دعاؤں کو وہ زمانہ غیبت میں پڑھا کریں ۔یہ دعائیں حدیثی اور فقہی مصادر میں مختلف زمانوں اور صدیوں میں ضبط تحریر میں آچکی ہیں اور حضرت تمام کے شیعہ عاشق، مشاہد ِمشرفہ اور مقامات مقدسہ میں مختلف اوقات میں حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ سے اظہار عقیدت کے وقت ان دعاؤں کے ذریعہ اپنے آقاومولا سے راز دل کہتے ہیں ،غیبت کے طولانی ہونے کا شکوہ کرتے ہیں ، آپ کے جمال پر نور کے شوق دیدار کا اظہار کرتے ہیں اپنے کعبہ مقصود کے فراق میں نالہ و شیون کی صدائیں بلند کرتے ہیں ۔ مرحوم سید محمد تقی موسوی اصفہانی (متوفیٰ ۱۳۴۸ ھئق) جو اپنے زمانے میں مایہ افتخار و سر بلندی تھے انہوں نے اپنی مکمل قوت و تلاش سے ان دعاؤں کی جمع آوری کی اور ایک سو سے زائد فقرات ائمہ نور سے ماثورہ دعاؤں کو اس سلسلے میں بھی جمع کیا ہے اور اپنی گراں قدر کتاب مکیال المکارم کو دل سوختہ اور درد آشنا شیعوں کے اختیار میں قرار دیا ۔(۱)

مولف کتاب کے مقدمہ میں وضاحت فرماتے ہیں کہ میں ایک شب عالم خواب میں ،حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواحنا فداہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے فرمایا:

”اس کتاب کو تحریر کرو ،عربی میں لکھو اور اس کا نام ”مکیال المکارم فی فوائد الدعاء للقائم “رکھو۔“(۲)

یہ کتاب حسن اتفاق سے فارسی میں بھی ترجمہ ہو چکی ہے اور عام قارئین کی دست رس میں ہے ۔(۳)

ان دعاؤں میں سب سے جذّاب ،قابل توجہ ،جامع ترین اور پر سوز ترین دعا”دعائے ندبہ“ ہے جسے حضرت کے عاشقین ہر جمعہ کی صبح ہر شہر اور دیہات میں

________________________

۱۔مکیال المکارم فی فوائد الدعاء للقائم ،سید محمد تقی موسوی اصفہانی ،ج۲،ص ۲۔۱۰۳۔۲۔ گذشتہ حوالہ ،ج۱،ص ۴۔

۳۔ رجوع کریں۔ مکیال المکارم ،سید محمد تقی موسوی اصفہانی ،ترجمہ سید مہدی حائری ۔


جمع ہو کر خاص سوز و گداز کے ساتھ اس دعا کو پڑھتے ہیں اور اپنے محبوب اور ہر دل عزیز سے اپنے راز دل کو بیان کرتے ہیں نیز اپنے بہترین لحن اور یابن الحسن کے نغموں کی صدائے بازگشت کو بہت زیادہ نورانی اور معنوی فضا میں سنتے ہیں ، ساتوں آسمان کے فرشتوں کو گواہ بناتے ہیں کہ غیبت کی تاریک شب سے عاجز اور تھک چکے ہیں اور صبح ِامید کے اشتیاق میں لحظہ شماری کر رہے ہیں ۔

امام محمد باقر آیہ کریمہ

( و اللیل اذا یغشیٰ و النهار اذا تجلیّٰ ) (۱)

”رات کی قسم جب وہ دن کو ڈھانپ لے اور دن کے قسم جب وہ چمک جائے ۔ “

کی تفسیر میںفرمایا:

”اس جگہ ”و اللیل اذا یغشیٰ “ سے مراد باطل حکومتیں ہیں کہ جنہوں نے اپنے دور حکومت میں امیر المومنین کی ولایت و خلافت کے مقابلے میں قیام کیا ،عرصہ عالم کو اپنی جولان گاہ قرار دیا اور ”والنھار اذا تجلیٰ “سے مراد ہم اہل بیت میں سے امام قائم کے ظہور کا دن ہے کہ جب وہ ظہور کریں گے تو باطل حکومتوں کا صفحہ ہستی سے خاتمہ ہو جائے گا۔“(۲)

________________________

۱۔ سورہ لیل (۹۲) آیت ۱،۲۔

۲۔ تفسیر القمی، علی بن ابراہیم قمی، ج۲، ص ۴۲۵۔


دعائے ندبہ ہر جمعہ کی صبح میں مستکبرین عالَم سے اعلان نفرت اور ظلم و استبداد کے محلوں کو ویران کرنے والے کے ساتھ اور ایک عالمی حکومت عدالت و آزادی کی بنیاد پر قائم کرنے والے سے تجدید بیعت کا نام ہے۔

دعائے ندبہ امام برحق مصحف ناطق حضرت امام جعفر صادق نے اپنے دوستوں اور شیعوں کو تعلیم دی اور انہیں حکم دیا کہ اس دعا کو چارعظیم عیدوں یعنی عید فطر ،عید قربان ،عید غدیر اور عید جمعہ کے دنوں میں پڑھا کریں اور ہمیں حکم دیا کہ زمانہ غیبت میں اس دعا کے ذریعہ اپنے امام ، محبوب آقا و مولا اور اپنے مقتدا کے ساتھ درد دل اور تجدید عہد کریں۔

گزشتہ انبیاء، رسول اسلام، ائمہ معصومین اور حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ سے مذکورہ عبارتوں پر توجہ کرنے کے بعد ان لوگوں کا کثرت سے تعجیل فرج کے لیے دعا کرنے کا حکم دینا نیز ائمہ معصومین سے وارد شدہ دعاؤں کی تالیف و جمع آوری یہ تمام امور انتظار کے بہت زیادہ طولانی ہونے کی نشان دہی کرتے ہیں اور ائمہ معصومین کے امام غائب کے شوق دیدار کے پائے جانے کے ظریف نکات پر مشتمل ہیں۔ مزید ان کی طولانی غیبت کی شکایت بھی ہے ،پھر ایک اور مرتبہ دعائے ندبہ کے سب سے پہلے اعتراض کرنے والوں کے جواب کو دقت سے مطالعہ کرتے ہیں:

”کیا معقول ہے کہ ایک فرد کی ولادت سے پہلے اس کی جدائی میں گریہ و نالہ کیا جائے ؟!“

مزید وضاحت :دعائے ندبہ امام جعفر صادق سے منقول ہے امام صادق ۱۴۸ ھئق میں شہید ہوئے اور حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ ۲۵۵ ھئق میں پیدا ہوئے۔

لہٰذا جس وقت امام جعفر صادق نے دعائے ندبہ کو انشاء فرمایا تو اسے حضرت ولی عصر کی ولادت سے سو سال پہلے انجام دیا لہذا کس طرح ممکن ہے کہ انسان ایک ایسے انسان کی بہ نسبت جو ایک صدی کے بعد پیدا ہو گا اس کے لیے گریہ وزاری کرے ،اس کے فراق میں آنسو بہائے اور نالہ و فریاد بلند کرے؟!


جواب میں ہم عرض کریں گے: اگر یہ معنی معمولی اور عام افراد کے متعلق تصور کریں تو معترض حق بہ جانب ہے اور ہرگز معقول نہیں ہے کہ ایک عاقل انسان اپنے چھٹے پوتے کے لیے گریہ و زاری کرے اور اس کے فراق میں حسرت آمیز آنسو بہائے ،لیکن اگر مورد نظر ایسا فرد ہو جو دنیا کی خلقت کا باعث ہو اور سب سے خوش نما ، دل کش اور ہر دل عزیز شخصیت کا مالک ہو اور تمام انبیاء الٰہی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے آنے کی اپنے پیروکاروں کو خوش خبری دی ہو،اور اپنی امت کو اس کے انتظار کا حکم دیا ہو،اس کی طولانی غیبت کے متعلق گفتگو کی ہو، تو یہ بہت ہی فطری اور منطقی بات ہو گی کہ درد آشنا افراد زمانے اور صدیوں کی طویل مدت میں اس کے آنے کے انتظار میں لحظہ شماری کریں ، اس کے فراق میں حسرت آمیز اشک بہائیں اور اس کی طولانی غیبت کی وجہ سے گریہ و زاری کریں ۔

اس بات کے متعلق پہلے حصہ میں تفصیلی گفتگو اور گزشتہ انبیاء کے بیش بہا نمونے، رسول اسلام (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل کر چکے ہیں اور سدید صیرفی کی وہ روایت کہ جس میں وہ اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ امام جعفر صادق کی خدمت میں مشرف ہوئے اور حضرت کو زمین پر بیٹھے ہوئے دیکھا جیسے کوئی ماں اپنے فرزند کی میت پر گریہ اور نالہ و فریاد کرتی ہے ، جب اس کی وجہ دریافت کی تھی تو ایک جاں گداز بیان میں فرمایا کہ حضرت قائم کی طولانی غیبت اور مومنین کی اس دوران پریشانی کے پیش نظر یہ میرے اشک جاری ہیں ۔(۱) اب چند نکات کی اس سلسلے میں یاد آوری کرتے ہیں:

۱ ۔ امام محمد باقر نے زرارہ سے فرمایا:”جمعہ کے دن قبل اس کے کہ اپنے لیے دعا کرو اپنی نماز کے قنوت میں پڑھو:

”اللّٰهم انّا نشکو الیک فقد نبیّنا و غیبة ولیّنا و شدّة الزمان علینا ووقوع الفتن و تظاهر الاعداء و کثرة عدوّنا و قلّة عددنا ،فافرج ذلک یا ربّ عنّا بفتح منک تعجّله و نصرمنک تعزّه و امام عدل تظهر ه ، اله الحق آمین

”پروردگارا! ہم لوگ اپنے نبی کے جدا ہونے کی تجھ سے شکایت کرتے ہیں اور اپنے ولی عصر کی غیبت کی اور زمانے کی سختیوں کی ،اور ہر طرف فتنوں کے برپا ہونے کی اور دشمنوں کے غلبے کی ،اعداء کی کثرت اور زیادتی و فراوانی دشمن کی ، اور اپنی تعداد میں کمی کی (شکایت کرتے ہیں)

________________________

۱۔ کمال الدین و تمام النعمة ،شیخ صدوق ،ج۲،ص۳۵۳۔


اے اللہ ! اپنی طرف سے ان کی کشادگی کو جلد کھول دے۔ اور اپنی طرف سے عطا کردہ صبر کے ذریعے آسانی پیدا کر دے اور امام عادل کو ظاہر فرما اے معبود بر حق۔“(۱) آمین

۲ ۔ اسی قسم کی عبارت امام المتقین امیر المومنین حضرت علی سے روایت ہوئی ہے کہ جسے اپنے قنوت میں پڑھا کرتے تھے :

”اللّٰهم انّا نشکوالیک فقد نبیّنا و غیبة امامنا ففرّج ذلک اللّهم بعدل تظهره و امام حق نعرفه “

”خدایا! ہم لوگ اپنے نبی کے جدا ہونے کی تجھ سے شکایت کرتے ہیں اور اپنے امام عصر کی غیبت کی لہذا ایسی کشادگی فراہم فرما جو ایسی عدالت کے ہمراہ ہو جسے عام کیا جا رہا ہو اور اس امام بر حق کے ساتھ ہو کہ جس کی ہم شناخت رکھتے ہیں “(۲)

۳ ۔ شہید اول اس کو کتاب ذکری میں نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ابن ابی عقیل نے امیر المومنین کے اس قنوت کو دعاؤں سے منتخب کر کے کہا ہے :

”مجھ تک یہ خبر پہونچی ہے کہ امام جعفر صادق اپنے شیعوں کو حکم دیتے تھے کہ کلمات فرج کے بعد اس دعا کو قنوت میں پڑھا کریں“۔(۳)

________________________

۱۔ مصباح المتھجد ،شیخ طوسی ،ص۳۶۶۔

۲۔ مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ،مرزا حسین نوری طبرسی ،ج۴،ص ۴۰۴۔

۳۔ الذکری ،شہید اول ،ص۱۸۴۔


یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت علی امام موعود کی ولادت باسعادت سے دو صدی پہلے اپنی نماز کے قنوت میں اس قبلہ موعود کی غیبت کے متعلق خدا سے شکایت کرتے ہیں اور تمام عالم اسلام کی مشکلات کے حل اور اس عالمی مصلح کے ظہور کے لیے خدائے منان سے درخواست کرتے ہیں ۔

امام محمد باقر اس متن کو اپنی نماز کے قنوت میں پڑھتے ہیں اور زرارہ کو حکم دیا کہ اسے جمعہ کے دن ہر قنوت میں پڑھا کریں اور اسی طرح امام صادق اپنے شیعوں کو حکم دیتے ہیں کہ قنوت میں کلمات فرج کے بعد اس دعا کو پڑھا کریں۔

۴ ۔ آٹھویں امام حضرت علی رضا بھی اپنے شیعوں کو حکم دیتے ہیں کہ جمعہ کے دنوں میں نماز ظہر کے قنوت میں اس سلسلے میں ایک دعا پڑھا کریں۔(۱)

۵ ۔ امام جواد (تقی ) نے اپنی نماز کے قنوت میں تعجیل فرج کے لیے دعا کی ،اس کعبہ مقصود کے پیروکاروں کی توصیف میں فرماتے ہیں :

”فاصبحوا ظاهرین والی الحق داعین و للامام المنتظر القائم بالقسط تابعین“

”وہ لوگ کامیاب ہوئے ،حق کی طرف دعوت دیتے ہیں اور امام منتظر جو عدل و انصاف کو قائم کرنے والے ہیں ان کی پیروی کرتے ہیں“ ۔(۲)

____________________

۱۔ جمال الاسبوع ،سید علی ابن موسیٰ ابن طاووس ،ص۴۱۳۔

۲۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ، ج۸۵،ص ۲۲۶۔


۶ ۔ امام ہادی (نقی ) بھی اپنی نماز کے قنوت میں تعجیل فرج کے لیے دعا کرتے تھے ۔(۱)

۷ ۔امام حسن عسکری اپنی نماز کے قنوت میں بہت عظیم دعا اپنے فرزند ارجمند کے تعجیل فرج کے لیے پڑھا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے تھے کہ غیبت کی تاریک شب ختم ہونے کے بعد عدالت کے روز روشن کو ظاہر فرما۔(۲)

۸ ۔ جس وقت اہل قم نے ”موسیٰ بن بغی“ عامل متوکل کے مظالم کی امام حسن عسکری کی خدمت میں شکایت کی تو امام نے ان سے فرمایا : نماز مظلوم پڑھیں اور مذکورہ دعا کو اس کے قنوت میں پڑھیں۔“(۳)

۹ ۔ امام محمد باقر اپنی نماز کے قنوت میں غیبت کے طولانی ہونے کی بنا پر نالہ و شیون کرتے ہیں اور پروردگار کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:

اللّهمّ فانّ القلوب قد بلغت الحناجر ، والنّفوس قد علت التّراقی والاعمار قد نفدت با لانتظار “

”خدایا! قلوب حنجروں تک پہنچ گئے ہیں اور سانسیں سینوں میں مقید ہو گئی ہیں اور عمریں انتظار کی بنا پر اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔ “

اس وقت اللہ تعالیٰ سے مومنین کی آرزوؤں کی تکمیل کے خواہاں ہوتے ہیں کہ

____________________

۱۔ مھج الدعوات ،سید علی ابن موسیٰ ابن طاووس ،ص۶۲۔

۲۔ مھج الدعوات ،سید علی ابن موسیٰ ابن طاووس ،ص۶۴۔

۳۔ مکیال المکارم، محمد تقی موسوی اصفہانی، ج۲، ص ۸۵۔


مومنین کو ان کی آرزوؤں تک پہونچا دے ،دین کو نصرت عطا فرمائے ،اپنی حجت کو ظاہر کرے اور اس کے قوت بازو کے ذریعے دشمنوں سے انتقام لے ۔(۱)

۱۰ ۔ یحییٰ بن فضل نوفلی کہتے ہیں :بغداد میں امام موسیٰ کاظم کی خدمت اقدس میں پہنچا ، جب نماز عصر پڑھ چکے تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی جانب بلند کر کے عرض کیا:

ایک مفصل دعا کو نقل کیا ،آخر میں مزید عرض کرتے ہیں:

”و ان تعجّل فرج المنتقم لک من اعداء ک وانجزله ما وعد ته یا ذالجلال و الاکرام

”اور یہ کہ منتقم حقیقی کے ظہور میں تعجیل فرما، جو تیرے دشمنوں سے انتقام لے گا، لہذا جو اس سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر، اے صاحب جلالت و کرامت والے خدا!“

نوفلی نے دریافت کیا: یہ دعا کس کے حق میں ہے؟

فرمایا: مہدی آل محمد کے حق میں ہے ۔

اس وقت حضرت کے بعض اوصاف کو شمار کرتے ہیں اور آخر میں فرماتے ہیں:

”بابی القائم بامر اللّه “

”میرے باپ اس بزرگوار پر فدا ہو جائیں جو حکم خدا سے قیام کریں گے۔ “(۲)

________________________

۱۔ مھج الدعوات، سید علی ابن موسی ابن طاووس، ص ۵۲۔

۲۔ فلاح السائل ،سید علی ابن موسیٰ ، ابن طاووس ،ص۲۰۰۔


یہ سمندر کی رطوبت ،خرمن کا ایک خوشہ اور جو ائمہ معصومین نے دعا کے اوقات میں اپنی نمازوں کے قنوت یا تعقیبات میں گم گشتہ یوسف زہرا کے متعلق شکوے کیے تھے، ان کے فراق میں نالہ و فریاد بلند کی تھی مومنین کی عصر غیبت میں پریشانیوں پر سیلِ اشک جاری کیے ان کے تعجیل ظہور کے لیے دست نیاز بارگاہ رب العزت میں بلند کیا،اور بہت ہی عظیم تعبیروں کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں فرمایا۔ اگر ان تمام موارد کو ہم شمار کرنا چاہیں تو اس (مثنوی) کو تحریر کرنے کے لیے ستّر من کاغذ درکار ہو گا۔

ہم یہاں مزید یہ کہتے ہیں کہ انتظار کی یہ حالت اور شوق، ائمہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ بہت سے ایسے اصحاب جو رسول اکرم اور ائمہ دین کے زیر تربیت پروان چڑھے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی بہترین حکومت سے آشنا ہوئے ،جان لیوا عشق حاصل کیا، وہ شب و روز حضرت کے فراق میں اشک بہاتے تھے ،ان میں سے ایک مثا ل جناب سلمان کی ہے ۔(۱)

قابل توجہ یہ ہے کہ یہ سوز و گداز اصحاب پیغمبر اور ائمہ ہدیٰ کے اصحاب ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ بعض اکابر اہل سنت بھی اس عشق و محبت سے بہرہ مند تھے کہ ان میں سے ایک کی مثال ”عبادا بن یعقوب رواجنی “ کی ہے ۔

رواجنی اہل سنت کے بزرگوں میں سے تھے ،بخاری ،ترمذی ،ابن ماجہ ،ابو حاتم،

________________________

۱۔دلائل الامامة ،محمد بن جریر طبری،ص۴۴۹۔


بزّاز اور دوسرے محدثین اہل سنت نے ان سے روایت نقل کی ہے اور تمام اہل رجال نے ان کی وثاقت و صداقت کی تاکید کی ہے ۔(۱)

ان کا انتظار ،شوق دیدار اور سوز و گداز، گریہ و زاری ہی پر ختم نہیں ہوتا ،بلکہ ایک شمشیر آمادہ کیے ہوئے تھے کہ اگر امام مہدی کے زمانہ کو درک کریں گے تو اس شمشیر کے ذریعہ حضرت کی رکاب میں (دشمنوں سے ) جنگ کریں گے ۔

منقول ہے کہ قاسم ابن زکریّا حدیث سننے کے لیے رواجنی کی خدمت میں گئے، جب ان کے سر کے پاس ایک تلوار رکھی ہوئی مشاہدہ کی تو دریافت کیا، یہ کس کی تلوار ہے ،رواجنی نے جواب دیا:

”میں نے اسے اس لیے آمادہ کیا ہے کہ حضرت مہدی کے حضور میں اس تلوار کو چلاؤں“۔(۲)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ رواجنی کی وفات ۲۵۰ ھء ق میں واقع ہوئی ۔(۳) اور حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی ولادت ۲۵۵ ھئق میں واقع ہوئی ہے ۔

اس سے بھی زیادہ توجہ کے قابل یہ نکتہ ہے کہ ان کی ایک کتاب بطور یادگار باقی ہے جس کا نام اخبار المہدی المنتظر ہے ۔(۴)

_______________________

۱۔ سیر اعلام النبلاء ،محمد بن احمد بن عثمان ذہبی ،ج۱۱،ص ۵۳۷۔

۲۔میزان الاعتدال ،محمد بن احمد بن عثمان ذہبی ،ج۲،ص ۳۷۹۔

۳۔ التاریخ الکبیر ،محمد بن اسماعیل بخاری ،ج۶،ص۴۴۔

۴۔ الاعلام، خیر الدین زرکلی ،ج۳،ص ۲۵۸۔


رواجنی کی کتاب کی اہمیت اس جہت سے ہے کہ اسے حضرت بقیة اللہ کی ولادت باسعادت سے پہلے تحریر کیا ہے ۔

جس مقام پر ایک سنی مسلک شخص اس مہرتاباں کی ولادت سے پہلے اس سے عشق و محبت کا اظہار کرے اس کے فراق میں اشک فشانی کرے اس کے حریم سے دفاع کرنے کے لیے اسلحہ آمادہ کرے،اور ایک مقام پر سلمان جیسی شخصیت ان کی ولادت سے صدیوں پہلے ان کے فراق میں گریہ کرے ،اور جہاں ائمہ معصومین امیرالمومنین سے لے کر امام حسن عسکری تک اپنی نمازوں کے قنوت میں تعجیل فرج کے لیے دعا کریں ان کی طولانی غیبت کا شکوہ کریں،اور ایک سو سے زائد شیعوں کو تعلیم دیں اور یہ حکم دیں کہ زمانہ غیبت میں اسے پڑھنا ضروری سمجھیں۔(۱) پھر بھی اگر کوئی شخص دعائے ندبہ کا امام جعفر صادق سے صادر ہونے میں شک و شبہ کرے اور یہ کہے :”کیا یہ بات معقول ہے کہ امام صادق اس شخص کے لیے جس کی ابھی ولادت نہیں ہوئی ہے اشک بہائےں ؟!“ ایسا انسان یا نادان ہے یا غرض دار شخص ہے ،اس لیے کہ دعائے ندبہ سیکڑوں دعاؤں میں سے ایک ہے کہ جس کی زمانہ غیبت میں پڑھنے کی ائمہ معصومین علیہم السلام نے تاکید کی ہے ۔

آخر میں ہم یہ بھی یاد آوری کراتے ہیں کہ ہرگز کسی نے بھی اس بات کا دعوی نہیں کیا ہے کہ امام صادق دعائے ندبہ پڑھتے ہیں بلکہ شیعوں کو حکم دیا ہے کہ اس دعا کو

_______________________

۱۔ مکیال المکارم ،محمد تقی موسوی اصفہانی ،ج۲،ص ۲۔ ۱۰۳۔


چارعظیم عیدوں میں پڑھا کریں اس لحاظ سے دعائے ندبہ زمانہ غیبت میں شیعوں کے لیے ایک دستور العمل ہے ۔

لیکن اس بنیاد پر جو کچھ کہا گیا ہے ،اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ائمہ اپنے زمانے میں دعائے ندبہ پڑھا کرتے تھے تو کوئی مانع نہیں ۔ نہ ہی خلاف عقل ہے اور نہ ہی خلاف ذوق ۔

مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ امام سجاد نے عرفہ کے دن صحرائے عرفات میں مشہور دعائے عرفہ میں اس پُر سوز و گداز دعا کے بعض حصے کو حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ سے مخصوص کیا ہے اور فرماتے ہیں :

و اصلح لنا امامن اللّهم املا الارض به عدلاً و قسطاً و اجعلنی من خیار موالیه و شیعته و ارزقنی الشهادة بین یدیه(۱)

”خدایا! ہمارے امام کے امر (قیام و حکومت) کے اسباب عطا فرما خدایا! زمین کو ان کے دست مبارک کے ذریعے عدل و انصاف سے بھر دے خدایا! ہمیں ان کے بہترین دوستوں اور شیعوں میں قرار دے اور ہمیں ان کی رکاب میں شہادت کی توفیق کرامت فرما “

امام سجاد نے اس دعا کو مزید اوصاف اور مخصوص سوز و گداز کے ساتھ اس دعا کو

_______________________

۱۔ مصباح المتھجّد،محمد بن حسن طوسی، شیخ طوسی ،ص۶۹۸۔


صحرائے عرفات میں پڑھا اور ہر سال لاکھوں حاجی اس دعا کو عرفہ کے دن ہزاروں آہ و نالہ کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔

یہ کیسی جرات اور گستاخی ہے کہ بعض بد اندیش لوگوں کے سامنے جیسے ہی دعائے ندبہ کا نام دورانِ گفتگو آتا ہے تو اسے غیر معقول اور غیر منطقی شمار کرنے لگتے ہیںا ور دوسری سیکڑوں دعا جو اس سلسلے میں ائمہ معصومین علیہم السلام سے صادر ہوئی ہیں اس میں شک و شبہ کا اظہار نہیں کرتے ۔

شیعیان واقعی اور عاشقان حقیقی پر لازم ہے کہ دشمن شکن دعائے ندبہ کی مجالس میں سرگرم عمل ہوکر کج فکروں کو عملی جواب دیں ۔


۲ ۔ دعائے ندبہ کی سندی تحقیق

اعلیٰ معارف، درخشاں حقائق ، روشن معانی اور عمیق مطالب جو بدیع و نوآوری کے اسلوب ، بہترین و منطقی بیان بہت فصیح اور عظیم فقرات اس مبارک دعا میں وارد ہوئے ہیں ،جو ہمیں ہر قسم کی سند اور حوالے سے بے نیاز کرتے ہیں کہ ایسے روشن حقائق اور درخشاں نکات ، ہرگز کسی اور منبع و مصدر سے صادر نہیں ہو سکتے اس کا سرچشمہ سوائے ولایت اور خاندان عصمت و طہارت حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے صاف و شفاف چشمے کے کچھ اور نہیں ہو سکتا ، لیکن عاشقوں کی جماعت کے دل کی نورانیت کے لیے دعائے ندبہ کی نورانی مجالس کو ہر جمعہ کی صبح میں ،دعائے ندبہ کے استوار اور مستحکم منابع و مصادر کو زمانے کے تسلسل کے اعتبار سے ہم یہاں ذکر کررہے ہیں :

۱ ۔ ابو جعفر محمد بن حسین ابن سفیان بزوفری

سب سے پہلے با وثوق اور مورد اعتماد شخص کہ جنہوں نے دعائے ندبہ کی سند کو اپنے مکتوب میں برحق رہنما مصحف ناطق حضرت امام جعفر صادق سے روایت کی ہے وہ ابو جعفر محمد بن حسین بن سفیان بزوفری ہیں ۔

”بزوفری “”بزوفر“ نامی دیہات جو ”قوسان “ کے اطراف میں ”بغداد “ کے نزدیک ”موفّقی“ نہر کے ساحل پر دریائے دجلہ کے مغرب میں واقع ہے ۔(۱)

”بزوفری“ کا شمارشیخ مفید کے اساتذہ میں ہوتا ہے اور شیخ مفید نے ان سے کثرت سے روایت نقل کی ہے ۔ محدث نوری شیخ مفید کا نام شمار کرتے وقت ان کا نام ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”ابو علی ۔فرزند شیخ طوسی ۔نے امالی میں متعدد مرتبہ اپنے والد شیخ طوسی سے ،انہوں نے شیخ مفید سے ان سے روایت کی ہے اور ان کے لیے مغفرت طلب کی ہے ۔“(۲)

جناب آقابزرگ تہرانی کہتے ہیں:

”ان کی وثاقت و صداقت شیخ مفید کا ان سے کثرت سے نقل کرنا، ان

_______________________

۱۔ معجم البلدان ،یاقوت بن عبد اللہ حموی بغدادی ،ج۱،ص ۴۱۲۔

۲۔ مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ،حسین ابن محمد تقی نوری طبرسی ، ج۲۱، ص۲۴۴۔


کے لیے طلب مغفرت کرنے سے واضح و آشکار ہے ۔“(۱)

شیخ طوسی تہذیب الاحکام اور استبصار کی مشیخہ میں ان کا نام ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”میں نے جو روایت احمد ابن ادریس سے نقل کی ہے ،اسے شیخ مفید نے ”حسین بن عبید اللہ غضائری “ سے نقل کی ہے کہ دونوں نے ابو جعفر محمد بن حسین بن سفیان بزوفری سے روایت نقل کی ہے ۔“(۲)

بے مثال محقق،حجت تاریخ ،جناب آقا بزرگ تہرانی ان کی کتاب کے متعلق بحث کرتے وقت کہتے ہیں :

”کتاب الدعاء ابو جعفر محمد بن حسین بن سفیان بزوفری سے ،شیخ مفید کے اساتذہ سے ،کہ شیخ مفید نے ان سے احادیث کو نقل کیا ہے یہ حدیثیں امالی شیخ طوسی میں شیخ مفید کے طریق سے ان سے روایت کی گئی ہےں ۔

پھر کہتے ہیں :

”انہوں نے دعائے ندبہ کو اس کتاب میں ذکر کیا ہے ،محمد ابن ابی قرّہ نے ان سے روایت کی ہے اور محمد بن مشہدی نے اپنی کتاب مزار میں

________________________

۱۔ الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،آغا بزرگ طہرانی ،ج۱،ص ۱۹۴۔

۲۔ تہذیب الاحکام شیخ طوسی ،ج۱۰،ص ۳۵۔ الاستبصار ،ج۴،ص ۳۰۴،(المشیخہ)۔


ان سے روایت کی ہے “ ۔(۱)

۲ ۔ ابو الفرج محمد ابن علی ابن یعقوب ابن اسحاق ابن ابی قرّہ قُنّائی

دوسرے مورد اعتماد شخص کہ جنہوں نے دعائے ندبہ کی سند کو اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے وہ محمد بن علی بن ابی قرّہ ہیں کہ انہوں نے ”کتاب الدعاء“ میں بزوفری کی کتاب سے نقل کیا ہے ۔

علامہ تہرانی فرماتے ہیں :

”محمد بن مشہدی مزار میں اور سید ابن طاووس نے اقبال اور دوسری کتابوں میں کثرت سے ان کی کتاب سے نقل کیا ہے ۔ “(۲)

محمد بن ابی قرّہ نجاشی کے اجازہ روّاة میں شمار ہوتے ہیں ۔(۳)

قدمائے اہل رجال میں سے مرحوم نجاشی اپنی کتاب رجال میں کہتے ہیں:

”ابو الفرج ،محمد بن علی بن یعقوب بن اسحاق بن ابی قرّہ قنائی موثق تھے، کثرت سے روایات کو سنا بہت سی کتابیں تالیف کیںمنجملہ ان میں سے یہ ہے : عمل یوم الجمعہ ،عمل الشھور، معجم رجال ابی مفضل اور کتاب تھجّد کہ ان سب کی مجھے خبر دی ہے اور مجھے ان کی روایت نقل کرنے کا اجازہ دیا ہے ۔(۱)

_______________________

۱۔ الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،آغا بزرگ تہرانی ،ص۲۶۶۔

۲۔الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،آغا بزرگ تہرانی ،ص۲۶۶۔ طبقات اعلام الشیعہ، آغا بزرگ تہرانی (چوتھی صدی ہجری) ص ۲۶۶۔

۳۔ طبقات اعلام الشیعہ، آغا بزرگ تہرانی (پانچویں صدی ہجری) ص ۱۸۲۔


نجاشی نے ان کا لقب ”قنّائی “ذکر کیا ہے ،لیکن علامہ حلّی نے انہیں کبھی ”قنّائی“ اور کبھی ”قنّابی“ سے تعبیر کیا ہے ۔(۲) اور ان کی وثاقت کو ثابت کیا ہے(۳) اور نمازی علیہ الرحمہ کہتے ہیں:

”تمام اہل رجال کا ان کی وثاقت پر اتفاق ہے ۔“(۴)

۳ ۔ محمد ابن جعفر ابن علی ابن جعفر مشہدی حائری

ابن مشہدی چھٹی صدی ہجری کے ایک جلیل القدر علماء میں شمار ہوتے تھے جو تقریباً ۵۱۰ ھئق میں پیدا ہوئے اور ۵۸۰ ھء ق سے پہلے دنیا سے رحلت کر گئے ۔

صاحب معالم نے اجازہ کبیرمیں ان کے اساتذہ کی مخصوص تعداد کو شمار کیا ہے کہ منجملہ ان میں سے یہ ہیں: ورّام(صاحب مجموعہ ورّام) ، شاذان ابن جبرئیل ،ابن زہرہ، ابن شہر آشوب وغیرہ ۔(۵)

ان کی گراں قدر کتاب بطور یادگار موجود ہے جو مزار کبیر اور مزار ابن مشہدی سے مشہور ہے خوش نصیبی سے اس کے بہت سے خطی نسخے ہمارے زمانے تک محفوظ رہے ہیں :

________________________

۱۔ رجال نجاشی ،ص۳۹۸۔

۲۔ ایضاح الاشتباہ ،حسن بن یوسف حلی (علامہ حلی)،ص۲۶۶،۲۸۷۔

۳۔ رجال(خلاصہ ) حسن بن یوسف حلی (علامہ حلی) ،ص۱۶۴۔

۴۔ مستدرکات علم رجال الحدیث ،شیخ علی نمازی ،ج۷،ص۲۵۱۔

۵۔ طبقات اعلام الشیعہ ،قرن ششم آغا بزرگ تہرانی ،ص۲۵۲۔


۱ ۔ ایک نسخہ شیخ کاشف الغطاء کے کتاب خانہ نجف اشرف میں ۔

۲ ۔ایک نسخہ جناب مرزا محمد علی اردوبادی کے کتاب خانہ نجف اشرف میں ۔

۳ ۔ ایک نسخہ جناب محدث نوری کے کتاب خانہ نجف اشرف میں کہ انہوں نے کتاب مستدرک میں اس سے کثرت سے نقل کیا ہے ۔(۱)

۴ ۔ ایک نسخہ جناب علامہ امینی کے کتاب خانہ نجف اشرف میں کہ جس کی تاریخ کتابت ۳/ شوال ۹۵۶ ھئق ہے۔(۲)

۵ ۔ ایک نسخہ آیة اللہ مرعشی کے کتاب خانہ قم میں جس کا شمارہ ۴۹۰۳ ہے، کہ جس کے ۴۸۲ صفحات ہیں اور اس کے کتابت کی تاریخ گیارہویں صدی ہجری سے مربوط ہے ۔(۳)

اس کی فوٹو کاپی کتاب خانہ موسہ آل البیت قم میں ہے جس کا شمارہ ۵۲۰۹ ( قفسہ ۲۹ ردیف ۱۷۶ ش ۱۹) ہے ۔

یہ کتاب پہلی مرتبہ ماہ رمضان ۱۴۱۹ ھئقم میں ۷۰۴ صفحات کے ساتھ قم میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ۔

یہ کتاب مزار کبیر کے نام سے مشہور ہوئی اور زیارت کے متعلق جامع ترین کتاب

________________________

۱۔الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،آغا بزرگ طھرانی، ج۲۰،ص ۳۲۴۔

۲۔طبقات اعلام الشیعہ، آغا بزرگ طھرانی، قرن ششم ،ص۲۵۳۔

۳۔ فہرست کتاب خانہ آیة اللہ مرعشی ،سید احمد حسینی اشکوری ،ج۱۳،ص۸۳۔


ہے۔ جو مختلف طولانی زمانے اور صدیوں کے حوادث سے محفوظ رہی ہے اور ہمارے زمانے تک باقی ہے ۔

آٹھ صدی کی طویل مدت اس کی تاریخ تالیف سے گزرچکی ہے ،یہ کتاب ہمیشہ اکابر علمائے شیعہ کے مورد اعتماد رہی ہے اور ہر وہ صاحبان کتاب کہ جنہوں نے اس آٹھ صدی کے دوران دعاوزیارت کے متعلق کتاب تحریر کی انہوں نے واسطہ یا بغیر واسطہ کے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے ۔

ابن مشہدی اپنی کتاب کے مقدمہ میں تحریر کرتے ہیں:

”میں نے اس کتاب میں مقامات مقدسہ کی زیارات و اعمال ،مساجد کے اعمال ، منتخب دعائیں اور واجب نمازوں کی تعقیبات کی جمع آوری کی ہے جو متصل سند کے ساتھ مورد اعتماد راویوں کے ذریعے مجھ تک پہنچی ہے ۔“(۱)

آیة اللہ خوئی رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں:

”یہ جملہ صراحت کے ساتھ ان تمام راویوں کی وثاقت پر دلالت کرتا ہے جو اس کتاب کے سلسلہ سند میں واقع ہوئے ہیں۔“(۲)

جناب آقا بزرگ تہرانی نے مجموعاً راویانِ حدیث کے پندرہ افراد کا استخراج کیا ہے اور ان کی وثاقت کا حکم لگایا ہے ۔(۳)

________________________

۱۔ المزار الکبیر ،ابو عبد اللہ محمد بن جعفر ابن مشہدی ،ص۲۷۔

۲۔ معجم رجال الحدیث ،سید ابو القاسم خوئی ،ج۱،ص ۶۵۔

۳۔ الذریعہ ،آغا بزرگ تہرانی ،ج۲۰،ص ۳۲۴۔


ابن مشہدی اس کتاب میں ،دعائے ندبہ کو بہ عنوان ”وہ دعا جو حضرت صاحب الزمان کے لیے سزاوار ہے کہ چارعظیم عیدوں :عید فطر،عید قربان، عید غدیر اور عید جمعہ میں پڑھی جائے “ذکر کیا ہے۔

انہوں نے اس کتاب میں دعائے ندبہ کو محمد بن علی بن یعقوب بن ابی قرّہ کے توسط سے کتاب بزوفری سے نقل کیا ہے ۔

دعائے ندبہ کتاب خانہ آیت اللہ مرعشی کے نسخہ میں صفحہ ۸۲۱ سے ۸۳۷ تک اور آل البیت کے نسخہ میں صفحہ ۸۳۱ سے ۸۴۷ تک اور مطبوعہ نسخہ میں ۵۷۳ سے ۵۸۴ تک ذکر ہوئی ہے ۔(۱)

۴ ۔ صاحب کتاب مزار قدیم

مزار قدیم بھی گراں قدر اور بہت عظیم کتاب ہے کہ اس کے مولف بھی ابن مشہدی صاحب کے ہم عصر تھے

اس کتاب میں بہت سی دعائیں اور زیارتیں ہیں جو کسی دوسرے منابع میں نہیں مل سکتیں۔ اس کے مولف اپنے استاد کے ذریعہ ” مہدی بن ابی حرب حسینی“ الشیخ ابو علی (فرزند شیخ طوسی )سے روایت کرتے ہیں:

اس بیان کے مطابق وہ شیخ طبرسی رحمة اللہ علیہ صاحب احتجاج کے ہم عصر تھے ۔(۲)

________________________

۱۔صفحات کے اختلاف کا ارتباط شمارہ گزار ی سے ہے ورنہ نسخہ آ ل البیت کتاب خانہ مرعشی کے نسخہ کی فوٹو کاپی ہے۔

۲۔الذریعہ ،آغابزرگ تہرانی ،ص۳۲۲۔


اس کتاب کا ایک خطی نسخہ کتاب خانہ آیة اللہ مرعشی میں شمارہ ۴۶۲،۱۸۱ صفحات میں موجود ہے ۔(۱)

مزار قدیم کے مولف اپنی اس گراں بہا یاد گاری کتاب میں دعائے ندبہ کو محمد بن علی بن ابی قرّہ کے توسط سے ،کتاب ابو جعفر محمد بن حسین بزوفری سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”یہ دعا حضرت صاحب الزمان کے متعلق ہے اور مستحب ہے کہ چار عظیم عیدوں کے شب و روز میں پڑھی جائے ۔“

اس نسخہ میں دعائے ندبہ ۱۷۳ صفحہ سے شروع ہوتی ہے اور ۱۷۶ صفحہ تک ختم ہوتی ہے ۔

اس بات کے پیش نظر کہ کتاب مزار قدیم کے مولف غیر معروف ہیں لہذا اس پر ایک موثق منبع کے عنوان سے اعتماد نہیں کیا جا سکتا ، صرف اسے ابن مشہدی کی نقل کے لیے ابن ابی قرّہ اور بزوفری سے بطور تائید قرار دیا جا سکتا ہے ۔

۵ ۔ رضی الدین علی ابن موسیٰ ابن طاووس حلّی

سید ابن طاووس نے اپنی گراں قدر کتاب مصباح الزائر میں حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کی زیارتوں کے حصّے میں چھ زیارات نقل کی ہےں ،اس وقت دعائے ندبہ کو ساتویں زیارت کے عنوان سے ”محمد بن علی بن ابی قرّہ“ کے نقل کے مطابق ”محمد

_______________________

۱۔ فہرست کتابخانہ آیت مرعشی ، سید احمد حسینی اشکوری ،ج۲،ص ۶۸۔


بن حسین بن سنان بزوفری “ سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے :

”یہ دعا حضرت صاحب الزمان سے متعلق ہے اور مستحب ہے کہ چار عظیم عیدوں میں پڑھی جائے ۔ “(۱)

اسی طرح آپ کتاب اقبال میں بھی اسلامی عیدوں کی دعاؤں کی ایک مخصوص تعداد شمار کر تے ہوئے کہتے ہیں:

”ایک دوسری دعا ہے جو نماز عید کے بعد اور تمام چارعظیم عیدوں میں پڑھی جاتی ہے ۔“(۲)

اس وقت دعائے ندبہ کو نقل کرتے ہیں اور آخر میں مزید فرماتے ہیں:

”جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو پروردگار کے مقابل سجدہ کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور کہو:

جو کچھ ہم نے امام جعفر صادق سے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ فرمایا: اس دعا کے بعد اپنا داہنا رخسار زمین پر رکھو اور کہو ”سیدی ،سیدیکم من عتیق لک ای عزیز ای جمیل “۔(۳)

اس تعبیر سے استفادہ ہوتا ہے کہ سید ابن طاووس نے مزار کبیر کے علاوہ دعائے

________________________

۱۔ مصباح الزائر ،سید علی بن موسیٰ ابن طاووس ،ص۴۴۶۔ ۴۵۳۔

۲۔ اقبال الاعمال ،سید علی بن موسی ابن طاووس ،ص۲۹۵۔

۳۔ اقبال الاعمال ،سید علی بن موسی ابن طاووس ،ص۲۹۹۔


ندبہ کو دسرے طریقہ سے نقل کیا ہے ،اس لیے کہ مزار کبیر اور مزار قدیم میں یہ آخری حصہ موجود نہیں ہے اور سید نے تصریح کی ہے کہ اسے اپنی اسناد کے ساتھ امام صادق سے روایت کی ہے ۔

سید ابن طاووس عید قربان کے اعمال بیان کرتے وقت ان دعاؤں کو نقل کرتے ہیں کہ جسے نماز عید سے واپس ہونے کے بعد پڑھا جاتا ہے ،پھر کہتے ہیں:”منجملہ ان دعاؤں میں سے کہ جسے نماز عید قرباں کے بعد پڑھا جاتا ہے دعائے ندبہ ہے کہ جسے عید فطر کے باب میں ہم نے بیان کیا ہے “۔(۱)

۶ ۔ علی ابن علی ابن موسیٰ ابن طاووس

علی ابن علی ،فرزند سید ابن طاووس(۲) نے کتاب زوائد الفوائد(۳) میں دعائے ندبہ کو اپنے پدربزرگوار سے نقل کیا ہے ۔(۴)

_______________________

۱۔ اقبال الاعمال ،سید علی بن موسی ابن طاووس ،ص۴۴۹۔

۲۔ فرزند سید ابن طاووس ان کے پدر بزرگوار کی تحریر کے مطابق جمعہ کے دن ۸محرم ۶۴۷ھء ق نجف اشرف میں پیدا ہوئے (کشف المحجة ص۶۴۹) اور۶۸۰ھء ق میں ان کے بھائی جلال الدین محمد کے انتقال کے وقت سادات کی نقابت حاصل کی۔ (طبقات اعلام الشیعہ قرن ہفتم ،ص۱۰۷)

۳۔ اس کتاب کا خطی نسخہ سید محمد مشکات کے کتاب خانہ تہران میں موجود ہے۔(الذریعہ ،ج۱۲،ص ۶۰)

۴۔زوائد الفوائد ،علی بن علی بن موسیٰ حلی ،ص۴۹۳،نسخہ خطی کتاب خانہ مرکزی دانشگاہ تہران۔

۷۔علامہ محمد باقر مجلسی


علامہ مجلسی نے دعائے ندبہ کو اپنی گراں قدر کتاب بحار الانوار میں مصباح الزائر کے نقل کے مطابق سید ابن طاووس سے نقل کیا ہے ۔(۱) اور آخر میں رقم طراز ہیں :

محمد بن مشہدی نے مزار کبیر میں کہا ہے : محمد بن علی بن ابی قرّہ کا قول ہے :

”میں نے دعائے ندبہ کو کتاب ابو جعفر محمد بن حسین بن سفیان بزوفری سے نقل کیا ہے۔“(۲)

علامہ مجلسی نے کتاب زاد المعاد میں بھی دعائے ندبہ کو نقل کیا ہے اور اس کے آغاز میں کہتے ہیں:

”لیکن دعائے ندبہ جو برحق عقائد پر مشتمل ہے اور حضرت قائم کی غیبت پر اظہار افسوس ہے ،معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ اس دعا ئے ندبہ کو چارعظیم عیدوں میں پڑھنا سنت ہے یعنی جمعہ ،عید فطر ،عید قرباں اور عید غدیر۔“(۳)

علامہ مجلسی اسی طرح کتاب تحفة الزائر میں سرداب مقدس کے اعمال کے بعد کہتے ہیں:

____________________

۱۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۱۰۲،ص۱۰۴۔ ۱۱۰۔

۲۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ، ج۱۰۲،ص۱۱۰۔

۳۔ زاد المعاد ،محمد باقر مجلسی ، ص۴۸۶۔


”سید اور شیخ محمد بن مشہدی نے محمد بن علی بن (ابی) قرّہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے محمد بن حسین بن سفیان بزوفری سے نقل کیا ہے کہ ”دعائے ندبہ“ جو صاحب الزمان سے متعلق ہے مستحب ہے اسے چار عظیم عیدوں میں پڑھی جائے اور وہ دعا یہ ہے “۔

اس وقت دعائے ندبہ کو نقل کیا ہے ۔(۱)

جیسا کہ قارئین کرام نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ علامہ مجلسی نے ،کتاب زاد المعاد میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ دعائے ندبہ معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق سے روایت ہوئی ہے ،اور کتاب تحفة الزائر کے مقدمہ میں اس بات کے پابند ہوئے ہیں کہ اس کتاب میں صرف زیارات، ادعیہ اور ان آداب کو ذکر کریں گے جو معتبر اسناد کے ذریعہ ائمہ دین سے منقول ہےں ۔(۲)

۸ ۔ سید محمد طباطبائی یزدی

علامہ جلیل القدر ،صدر الدین سید محمد طباطبائی یزدی (متوفیٰ ۱۱۵۴ ھئق) اپنی گراں قدر کتاب شرح دعائے ندبہ کے آغاز میں دعائے ندبہ کے متن کو سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ یہ امام جعفر صادق سے مروی ہے ۔(۳)

_____________________

۱۔ تحفة الزائر ،محمد باقر مجلسی ، ص۴۳۴۔

۲۔ تحفة الزائر ، محمد باقر مجلسی ، ص۲۔

۳۔ فروغ ولایت ،لطف اللہ صافی گلپائیگانی ،ص۳۳۔

۹۔ سید حیدر کاظمی


علامہ جلیل سید حیدر حسنی کاظمی ،(متوفیٰ ۱۲۶۵ ھئق) نے اپنی گراں قدر کتاب عمدة الزائر میں دعائے ندبہ کو سید ابن طاووس اور دوسروں سے روایت کی ہے ۔(۱)

۱۰ ۔ محدّث نوری

محدث بزگوار آقا مرزا حسین نوری (متوفیٰ ۱۳۲۰ ھئق) نے اپنی گراں قدر کتاب تحیة الزائر میں دعائے ندبہ کو مزار کبیر،مزار قدیم سے نقل کیا ہے اور مصباح الزائر سید ابن طاووس سے بھی روایت کی ہے ۔(۳)

۱۱ ۔ صدر الاسلام ہمدانی

دبیر الدین صدر الاسلام علی اکبر ہمدانی (متوفیٰ ۱۳۲۵ ھئق) اپنی گراں قدر کتاب تکالیف الانام میں وظیفہ نمبر ۳۴ کے عنوان کے تحت تحریر کرتے ہیں:

”یہ مبارک دعا کثرت شہرت کی وجہ سے آفتاب عالم تاب کی طرح ہے۔ بہتر ہے کہ ہر جمعہ کو حضرت کے چاہنے والے مرد عورت مساجد میں سے کسی مسجد یا عبادت گاہوں میں سے کسی عبادت گاہ میں جمع ہوں اور اس مبارک دعا کو انتہائی گریہ و زاری اور نالہ وشیون کے ساتھ نہایت حزن و ملال اور بے قراری سے پڑھیں اشک بہائیں اور اس روشن

________________________

۱۔ عمدة الزائر ،سید حیدر کاظمی ،ص۳۵۲۔۳۵۹۔

۲۔ تحیة الزائر ،حسین بن محمد تقی نوری ،ص۲۴۸۔


آفتاب کی غیبت اور اس جان جاناں کی عدم موجودگی پر توجہ کریں فریاد و فغاں بلند کریں اور قلب پُر درد سے آہ سرد نکالیں۔

اور اس عظیم مصیبت کو آسان تصور نہ کریں، اس مصیبت عظمیٰ کو سہل گمان نہ کریں کہ ان کی غیبت کی وجہ سے اسلام بالکل ہمارے درمیان سے رخصت ہو گیا ہے اور صرف اس کا نام باقی رہ گیا ہے ۔”ظھر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدینا“۔

کفر اور فسق و فجور ناشکری تمام کرہ ارض پر چھا گئی ہے ،جو کچھ دستیاب نہیں ہے وہ مسلمان ہونے کے آثار ہیں اور جو کچھ ظاہر اور دستیاب ہے شیطانی آثار ہیں۔سب وادی غفلت اور ضلالت و جہالت کے لق و دق صحرا میں حیرا ن و سرگرداں شیطان کے سپاہیوں کے تابع ہیں اور حضرت صاحب الامر کے حکم کے نا فرمان ہیں ”اللّھمّ عجّل فرجہ و سھّل مخرجہ بمحمد و آلہ الطاھرین “۔(۱)

پھر اس وقت دعائے ندبہ کے متن کو صفحہ( ۱۹۰ سے ۱۹۶ تک) ذکر کیا ہے ،اپنے استاد (مرحوم آقا مرزا حسین نوری طاب ثراہ) سے نقل کیا کہ استاداعظم کہتے ہےں :

”مشہور و معروف دعائے ندبہ کا شب جمعہ اور روز جمعہ پڑھنا مستحب ہے جو حضرت مہدی سے متعلق ہے ۔ در حقیقت اس کے مضامین دل

_______________________

۱۔ تکالیف الانام ،علی اکبر ہمدانی (صدر الاسلام) ص۱۸۸۔


شگاف اور جگر کو پاش پاش کرنے والے ہیں اور اس شخص کو خون کے آنسو رلانے والے ہیں کہ جس نے حضرت کے شربت محبت کو پیا ہے اور ان کے فراق کے زہر کی تلخی چکھی ہے ،جمعہ کے دن بلکہ شب جمعہ میں بھی (جیسا کہ کسی ایک مزارات قدیم میں کہ جس کے مولف شیخ طبرسی صاحب احتجاج کے ہم عصر تھے ان سے مروی ہے) پڑھی جانی چاہیے ۔“(۱)

پھر مزید کہتے ہیں:

مولف کہتے ہیں :”اس مبارک دعا کے پڑھنے کے من جملہ خواص میں سے یہ ہے کہ تمام زمان و مکان میں مکمل خلوص اور حضور قلب سے پڑھی جائے اور اس کی خاصیتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اگر اس کے مضامین عالیہ اور روشن عبارات و اشارات کی طرف متوجہ رہے تو صاحب العصر و الزمان ارواحنا فداہ کی مخصوص عنایات اس صاحب مکان کے شامل حال ہو گی بلکہ حضرت کی بھی اس مجلس میںتشریف آوری کا باعث ہوگی۔ جیسا کہ بعض مقامات پر ایسا اتفاق ہوا ہے ۔“

پھر ایک واقعہ ملازین العابدین سلماسی کا نقل کیا ہے۔(۲)

_____________________

۱۔تکالیف الانام، علی اکبر ہمدانی (صدر اسلام) ،ص۱۹۷۔

۲۔ گزشتہ حوالہ ۔


۱۲ ۔ ابراہیم ابن محسن کاشانی

عالم ربّانی شیخ ابراہیم ابن محسن کاشانی (متوفیٰ ۱۳۴۵ ھئق) اپنی ارزش مند کتاب ”الصحیفة الھادیة و التحفة المھدیة“ میں جو آیت اللہ آقای سید اسماعیل صدر کی تقریظ کے ساتھ ایک صدی پہلے طبع ہوئی دعائے ندبہ کے متن کو کتاب بحار الانوار کے باب مزار سے نقل کیا ہے ۔(۱)

۱۳ ۔ مرزا محمد تقی موسوی اصفہانی

نادرہ زمان ،عاشق صاحب الزمان آقا مرزا محمد تقی موسوی اصفہانی (متوفیٰ ۱۳۴۸ ھئق) نے مبارک کتاب مکیال المکارم میں ایک سو سے زیادہ ائمہ معصومین سے ماثورہ دعاؤں کو اس آفتاب عالم تاب کے زمانہ غیبت کے لیے نقل کیا ہے ، منجملہ ان میں سے دعائے ندبہ کو علامہ مجلسی اور محدث نوری کے نقل کے مطابق ذکر کیا ہے ۔(۲)

صاحب مکیال المکارم مزکورہ کتاب کے علاوہ ،کتاب وظیفہ مردم در غیبت امام زمان ظ میں بھی ۵۲ نمبر کے وظیفہ کے عنوان سے بھی ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”جمعہ ،عید غدیر ،عید فطر اور عید قرباں کے دنوں میں دعائے ندبہ جو

____________________

۱۔ الصحیفة الھادیة ، ابراہیم بن محسن کاشانی (فیض کاشانی) ، ص۷۵۔۸۹۔

۲۔ مکیال المکارم ،السید محمد تقی موسوی اصفہانی ،ج۲،ص ۹۳۔۱۰۰۔

ظ یہ کتاب اردو زبان میں بھی ترجمہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہے ۔(مترجم)


سے متعلق ہے اور زاد المعاد میں موجود ہے توجہ کے ساتھ پڑھنی چاہیے ۔“(۱)

۱۴ ۔ محدّث قمّی

خاتم المحدّثین جناب شیخ عباس قمّی (متوفیٰ ۱۳۵۹ ھئق) اپنی با برکت کتاب مفاتیح الجنان میں جو مولف کے خلوص کے نتیجہ میں عالَم مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی ہے اور شیعیان اہل بیت کی ہر فرد کے گھر میں، ایک یا چند نسخے اس کے مل جائیں گے، سرداب مقدس کے اعمال کے ضمن میں اور حضرت صاحب الزمان کی زیارتوں کے ذیل میں دعائے ندبہ کو بھی مصباح الزائر سید ابن طاووس سے نقل کیا ہے ۔

۱۵ ۔ شیخ محمد باقر فقیہ ایمان

حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کے عاشق دل باختہ ،جناب شیخ محمد باقر فقیہ ایمانی (متوفیٰ ۱۳۷۰ ھئق) جو ۷۷ کتابوں کے مولف ہیں ،ان میں سے ۲۷ جلد کعبہ مقصود قبلہ موعود ،حضرت صاحب الزمان سے مخصوص ہے ۔اپنی گراں قدر کتاب فوز اکبر میں دعائے ندبہ کے متن کو ( ۱۱۵ سے ۱۲۵ تک ) ذکر کیا ہے ،اس کے پڑھنے کی بہت تاکید کی ہے اور اس کے پڑھنے کی علت کو تین عنوان میں بیان کیا ہے :

۱ ۔انسان کا آنکھوں کی روشنی کے لیے حضرت کے جمال اقدس کا مشاہدہ کرنا ۔

____________________

۱۔ وظیفہ مردم در غیبت امام زمانہ ، سید محمد تقی موسوی اصفہانی ، ص۷۹۔


۲ ۔ حضرت کے ہمّ و غم کو دور کرنے کے لیے ۔

۳ ۔ تعجیل فرج کے ارادے سے۔(۱)

۱۶ ۔ سید محسن امین

عظیم مورخ سید محسن امین عاملی مولف اعیان الشیعہ (متوفیٰ ۱۳۷۱ ھئق) نے دعائے ندبہ کے متن کو کتاب مفتاح الجنّات میں ذکر کیا ہے ۔(۲)

اگر تمام دعاؤں اور زیارتوں کو نقل کرنا چاہیں کہ جس میں دعائے ندبہ کو نقل کیا گیا ہے تو ہماری بات طولانی اور وہ اس کتاب کی وسعت سے خارج ہو جائے گی، اس لحاظ سے ہم اپنی گفتگو یہیں ختم کرتے ہیں اور اس کی وسیع بحث کو کسی اور موقع پر موقوف کرتے ہیں مزید قارئین کرام کو اس کے متعلق جو مستقل طور پر کتابیں تحریر کی جا چکی ہیں اس کا حوالہ دیتے ہیں۔(۳)

____________________

۱۔ فوز اکبر ،محمد باقر فقیہ ایمانی ،ص۱۱۸۔

۲۔ مفتاح الجنّات ،سید محسن امین عاملی ،ج۲،ص ۲۶۰۔

۳۔ اس سلسلہ میں مزید مطالعہ کے لیے رجوع کریں ۔پاسخ ما بہ گفتہ ھا ،سید محمد مہدی مرتضوی لنگرودی ، تحقیقی دربارہ دعائے ندبہ ،رضا استادی ،فروغ ولایت در دعائے ندبہ ،لطف اللہ صافی گلپائیگانی ، مدارک دعائے شریف ندبہ ،جعفر صبوری قمی ، نشریة ینتشربھا انوار دعاء الندبہ ، شیخ محمد باقر رشاد زنجانی ،نصرة المومنین در حمایت از دعائے ندبہ ،عبد الرضا ابراہیمی ،مزکورہ بالا عناوین کی کتاب شناسی توصیفی کو کتاب نامہ حضرت مہدی ،ج۱،ص ۱۹۶، ۲۲۴،ج۲،ص۵۵۴،۶۳۷،۷۵۰،ا۷۵ میں ملاحظہ فرمائیں۔

>>>مکتب اسلام نامی ارزش مند مجلے میں اس سلسلے میں مقالات بھی نشر ہو چکے ہیں۔ (سال ۱۳، شمارہ ۶،۷،۸،۹)

اس سلسلے میں دوسرے آثار بھی طبع اور نشر ہو چکے ہیں جن کے عناوین کتاب نامہ حضرت مہدی میں ذکر ہوئے ہیں۔(ج۱،ص ۳۴۶۔۳۴۸)

جناب آیت الله شیخ محمد باقر صدیقین (متوفیٰ ۱۴۱۴هئق) نے سات کتابچه درسهائی از ولایت کے عنوان سے نشر کیے هیں که ان میں سے ایک دعائے ندبه سے دفاع کے لیے مخصوص ہے


امام زمانہ کی دعائے ندبہ کی مجالس پر خاص عنایات

تجربه سے ثابت هوا ہے که حضرت ولی عصر ارواحنا فداه کے وجود اقدس کی طرف سے جن مجالس و محافل میں دعائے ندبه پڑهی جاتی ہے خاص عنایت هوتی ہے ، بعض تحریر شده کتابوں میں ان میں سے بعض عنایتوں کی طرف اشاره کیا گیا ہے اور اگر خدائے متعال توفیق عطا کرے تو ان میں سے بعض کو فرصت سے جمع آوری کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا، هم یهاں صرف اس کی فهرست کی طرف مختصر طور پر اشاره کر رهے هیں:

۱ سرداب مقدس میں ملّا زین العابدین سلماسی کا واقعه جسے صدر الاسلام همدانی نے نقل کیا ہے(۱)

۲ آیت الله جناب مرزا مهدی شیرازی کا واقعه جسے علامه قزوینی نے مولف کے لیے نقل کیا ہے

۳ آیت الله میر جهانی کا واقعه جسے مولف نے متعدد مرتبه خود ان سے سنا ہے

________________________

۱تکالیف الانام، علی اکبر همدانی (صدر الاسلام )ص۱۹۷


۴ بعض سعادت مند افراد کے واقعات که جسے علامه نهاوندی نے بغیر واسطه کے خود ان سے نقل کیا ہے(۱)

۵ بعض دوسری جماعت کے واقعات که جسے محدث نوری نے متصل سند کے ساته نقل کیا ہے(۲)

هم یهاں صرف ایک عاشق دل باخته کے واقعه کے نقل پر اکتفا کرتے هیں:

حضرت صاحب الزمان ارواحنا فداه کے عاشق دل باخته حضرت آیت الله شیخ محمد خادمی شیرازی (متوفیٰ ۱۴۱۹ هئق) جو گراں قدر تالیفات جیسے رجعت ، یاد مهدی اور فروغ بی نهایت کے مالک هیں مولف کے لیے نقل کیا ہے که تقریباً چالیس سال پهلے امام رضا کے حرم مطهر پر آستانه بوسی کے لیے مشرف هوا ،ایک شب جمعه کو اس مهربان امام کے حرم مطهر میں حضرت بقیة الله ارواحنا فداه کے فراق میں بهت زیاده آنسو بهایا ،جب اپنی قیام گاه پر پهنچا تو کچه دیر آرام اور عالم خواب میں حضرت مهدی کے چهره انور کو دیکها ،خدا حافظی کے وقت میں نے عرض کیا: میں آپ پر فدا هو جاؤں، کیا دوباره بهی مجه رو سیاه کو اپنے دیدار مبارک کی اجازت مرحمت فرمائیں گے؟ فرمایا: همارے وعده دیدار کا وقت کل صبح دعائے ندبه ہے میں نے عرض کیا : اے میرے مولا! میں زائر هوں مجهے نهیں معلوم که دعائے ندبه کهاں پڑهی جاتی هے؟ فرمایا: سید جواد مجتهدی کے گهر میں میں خواب سے بیدار هوا وضو کیا حرم کی طرف چلا اور امام رضا کی عنایات کا شکریه ادا کیا نماز صبح کے بعد حرم سے نکلا مسجد گوهر شاد کے صحن میں جس پهلے شخص کا دیدار کیا میں نے اس سے دریافت کیا: مشهد میں دعائے ندبه کهاں پڑهی جاتی هے؟ جواب دیا: جناب سید مجتهدی کے گهر میں میں نے ان کے گهر کا پته لیا اور تیزی سے اس پُر فیض مجلس میں خود کو پهنچایا ،که مجلس بهت نورانی اور معنوی تهی اور اس چهره منورکو که جس کا رات عالَم خواب میں مشاهده کیا تها اپنے عاشقوں کے درمیان حاضر پایا تهے

____________________

۱ العبقری الحسان ،علی اکبرنهاوندی ،ج۲،ص ۱۰۱،۱۹۸

۲ دار السلام ،حسین بن محمد تقی نوری ،ج۲،ص ۲۲۴


اسی طرح کا واقعه جناب محمد یزدی کے لیے بهی پیش آیا تها انهوں نے بهی امام رضا سے توسل کیا ان کو بهی سید مجتهدی کے گهر کی طرف رهنمائی هوئی تهی اور وهاں بهی کعبه مقصود کی خدمت میں ان کے لیے شرفِ حضور فراهم هوا تها یه نمونے حضرت بقیة الله ارواحنا فداه کی مجالس دعائے ندبه پر خاص عنایت کی نشان دهی کرتے هیں

کتاب کے اس حصه میں دوسرے سوال کے متعلق تفصیلی گفتگو کی ہے اور دعائے ندبه کے سلسله اسناد کی زمانوں اور صدیوں کے اعتبار سے تحقیق پیش کی ہے اور سند کی تاکید اور استحکام کے لیے عظیم شخصیتوں کے اقوال جیسے علامه مجلسی کے قول کو نقل کیا ہے یهاں پر هم مزید یه کهتے هیں که:

فقه شیعه میں رائج سخت گیریاں ان اخبار اور احادیث کے متعلق ہے جو ایک ضروری حکم (واجب یا حرام) کے استنباط کی راه میں قرار پاتی هیں، لیکن مستحبی مسائل میں ،بالخصوص دعاؤں اور زیارتوں میں وه سخت گیری اور سندی موشکافی مرسوم نهیں ہے ،بلکه اسی مقدار میں که اس کے مضامین شرع پسند اور مقبول هوں اور ایک مشهور کتاب میں نقل هو بس یهی کافی ہے

لهٰذا اگر ایک دعا کی سند معتبر نه هو اور اس کا (بالخصوص) معصوم سے صادر هونا ثابت نه هو چونکه عمومی طور پر دعا کے لیے حکم هوا ہے اور دعا اعمال راجحه اور عبادات موکده میں سے ہے ،ان کا پڑهنا قرآنی اور حدیثی عمومات کے مطابق راجح اور مستحب ہے اور مقام عمل میں سندی سخت گیری کی ضرورت نهیں ہے ،بلکه” قاعده تسامح در ادله سنن“ اس مقام پر جاری ہے اور اتنی مقدار بهر اخروی ثواب حاصل کرنے کے لیے کافی ہے قاعده تسامح در ادله سنن بهت زیاده حدیثوں پر متوقف ہے که اسے ”احادیث من بلغ“ کے عنوان سے جانا جاتا ہے یعنی : ان حدیثوں کی بنا پر ، اگر ایک نیک عمل میں اجر و ثواب خداوپیغمبر سے نقل هوا هو اور یه نقل کسی ایک فرد کو معلوم هو اور وه اس اجر و ثواب کو حاصل کرنے کے لیے اس عمل خیر کے لیے اقدام کرے تو خداوندمنّان اس ثواب کو اسے عنایت فرمائے گا اگر چه اس قسم کی کوئی حدیث حقیقت میں معصوم سے صادر نه هوئی هو

اس سلسلے میں معصومین سے بهت سی روایات نقل هوئی هیں(۱) اور شیخ انصاری

________________________

۱الکافی ،محمد بن یعقوب کلینی ،ج۲،ص ۸۷، المحاسن ،احمد بن محمد بن خالد البرقی ، ج۱،ص ۹۳، ثواب الاعمال شیخ صدوق ،ص۱۳۲، عدّّة الداعی ، احمد بن فهد حلّی ،ص۱۳، اقبال الاعمال سید ابن طاووس ،فلاح السائل سید ابن طاووس ،ص۱۲، مفتاح الفلاح شیخ بهائی ،ص۴۰۶، روضة المتقین ،محمد تقی مجلسی ،ج۱،ص ۴۵۵، مدارک الاحکام ، العاملی ، ج۱،ص ۱۸۷، وسائل الشیعه ،حرعاملی ،ج۱،ص ۸۰، بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ، ج۲،ص ۲۵۶، مرآة العقول ،محمد باقر مجلسی ،ج۸،ص ۱۱۲


نے جواز تسامح در ادلہ سنن کے متعلق مستقل رسالہ تحریر کیا ہے ۔

متن دعا قوی مضامین اور الفاظ کے استحکام بھی اس کے اعتبار میں اضافہ کا باعث ہےں ۔ اقوال معصومین کی روش گفتار کی معرفت اور شناخت رکھنے و الے افراد ایک متن کے مضمون اور مطالب کی تحقیق سے اس کا معصوم سے صادر ہونے یا صادر نہ ہونے کا اطمینان حاصل کرتے ہیں ۔

جب آیت اللہ کاشف الغطا سے ”دعائے صباح“ ک ی سند کے متعلق سوال کیا گیا تو کہا:

ہر ایک صاحبان علم و ثقاقت کے لیے ایک اسلوب ہوا کرتا ہے اور بشری معاشروں کے ہر گروہ کے لیے بلکہ ہر ملت اور تمام ملک کے باشندوں کے لیے طور و طریقہ ہوتا ہے ائمہ علیہم السلام کے لیے بھی مقام دعا میں تعریف اور پروردگار کی حمد و ثنا کے لیے مخصوص شیوہ سخن ہوتا ہے کہ جو شخص بھی ان کے اقوال سے مانوس ہو گا اسے تسلط اور کمانڈ حاصل ہو جائے گا کہ ان کے اقوال کو پہچانے اور ایسا شخص شک و شبہ نہیں کر ے گا کہ دعاء صباح ان سے صادر ہوئی ہے ۔(۱)

________________________

۱۔ فردوس الاعلی ،شیخ محمد حسین، کاشف الغطاء ،ص۵۰۔


بہت سے بزرگوں نے ”دعائے ندبہ “اور زیارت”جامعہ کبیرہ“ کے مضامین عالیہ اور متن کی تحقیق کے متعلق کہا ہے کہ وہی صرف اس کے اعتبار کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے اس کی سند کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)

ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی ان لوگوں کے مقابل میں جنہوں نے نہج البلاغہ کے بعض فقرات کا مولائے متقیان امیر المومنین سے صادر ہونے کے متعلق شک و شبہ کا اظہار کیا ہے یہی طریقہ استدلال پیش کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ نہج البلاغہ کے تمام فقرات حضرت کی طرف سے صادر ہوئے ہیں۔

انہوں نے ”خطبہ شقشقیہ “ کے متعلق مصدّق بن شبیب واسطی سے نقل کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے:

۶۰۳ ھ ق میں اس خطبہ کو میں نے شیخ ابو محمد ،عبد اللہ بن احمد ،عرفیت ”ابن خشّاب“ کی خدمت میں پڑھان سے دریافت کیا: ”کیا آپ اس خطبہ کے جعلی اور نقلی ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں؟“۔

فرمایا: نہیں خدا کی قسم !

مجھے یقین ہے کہ یہ خطبہ حضرت کے اقوال کا حصہ ہے ،جیسا کہ مجھے یقین ہے کہ تم اس کی تصدیق کرنے والے ہو۔

میں نے کہا: بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خطبہ سید رضی کے کلمات کا

________________________

۱۔ الانوار اللامعہ ،سید عبد اللہ شُبّر،ص۳۱۔


حصہ ہے ۔

فرمایا: نہیں نہ رضی اور نہ غیر رضی ، ان کا طرز گفتگو کہاں اس قسم کا تھا؟ میں نے رضی کے مکتوبات کو دیکھا ہے اور ان کے نثر کے طریقہ کلام سے میں آشنا ہوں ۔(۱)

اس بیان کی بنا پر ،اعلی معارف ،درخشاں حقائق ،روشن معانی اور عمیق مطالب جو پسندیدہ اسلوب، بہترین بیان ،منطقی نما اور نہایت عظیم و فصیح عبارتیں اس مبارک دعا میں مزکور ہیں ،وہ ہمیں ہر قسم کی سند اور منبع و مصدر پیش کرنے سے بے نیاز کرتی ہیں کہ ایسے تابناک اور روشن ظریف نکات جو کبھی بھی ولایت کے صاف و شفاف چشمہ کے علاوہ کسی اور منبع و مصدر سے نشاة نہیں پاتے ۔

ہمارے استاد دانا حضرت آیت اللہ سید مرتضیٰ شبستری (متوفیٰ ۱۴۰۱ ھء ق) جو قرآنی اور حدیثی مسائل میں ایک بے مثال انسان تھے ،جس زمانے میں ائمہ اطہار کی ولایت و امامت کی بحث محکمات قرآن کی بنیاد پر حوزہ علمیہ قم کے ممتاز علماء و فضلاء کی جماعت کے لیے درس دیتے تھے ایک دن مسند درس پر فرمایا:

”میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ دعائے ندبہ کے فقرات میں سے ہر فقرہ متواتر ہے اور تمام حوزہ علمیہ کے لوگوں کو اس سلسلے میں بحث و گفتگو کی دعوت عام دیتا ہوں۔ “

_______________________

۱۔ شر ح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ،ابو حامد ھبة اللہ مدائنی ،ج۱،ص ۲۰۵۔


جو لوگ اس استاد دانا کی علمی صلاحیت سے واقف تھے وہ جانتے ہیں کہ وہ اس مطلب کو آسانی سے ثابت کر سکتے تھے ۔

دعائے ندبہ کی شرح کرنے والوں میں سے ایک فرد نے اس راستہ کو اپنایا ،دعائے ندبہ کے متن کو ۱۲۴ فقرہ میں تقسیم کیا قرآنی اور حدیثی مصادر کو ہر ایک فقرہ کے ذیل میں تفسیر و حدیث کی جامع کتابوں سے ذکر کیا اور ان کی کوشش یہ رہی کہ ان کے اکثر مصادر کو اہل سنت سے ذکر کریں۔(۱)

ایک دوسری شرح کرنے والے نے ، اس مبارک دعا کے فقرات کی شرح میں انتہائی کوشش کی کہ اس کے فقرات کو قرآنی آیات سے تطبیق دیں اور ان کی تفسیر و تاویل میں تفسیر اور حدیث کے جامع مصادر سے استفادہ کیا ہے ۔(۲)

ایک اور دوسرے ہم عصر مولف نے اس پسندیدہ اسلوب کی تفسیر و توضیح میں ایک ظریف تعبیر کی ہے اور کہتے ہیں:

”اگر کوئی شخص سکونت کے لیے ایک منزل رکھتا ہے ،تو اس سے اس کی سند کا مطالبہ کیا جاتا ہے ،اگر وہ کسی اسباب کی بنا پر اس منزل کی سند نہ پیش کر سکے ، لیکن زمین خرید نے کی سند ساخت و ساز کا اجازت نامہ، اس کی تعمیر کی تکمیل اور ایک ایک سامان جو اس بلڈنگ میں اینٹ،

_______________________

۱۔ شرح دعائے ندبہ ،سید علی اکبر موسوی ،محب الاسلام ۔

۲۔ ندبہ و نشاط ،احمد زمرّدیان شیرازی ۔


سیمنٹ ، چونا ، تیر آہن دروازہ کھڑکی وغیرہ استعمال ہوئے ہیں اس کے خریدنے کی رسید دکھا دے تو پھر اس سے گھر کی سند کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ “

اس بیان کی بنا پر ،اگر دعائے ندبہ کے فقرات میںسے ہر فقرہ ،عقائد حقّہ کا جز اور عالم تشیع کی تعلیمات کے مسلّمات میں سے ہو اور اس عظیم المرتبت استاد کی تعبیر کے مطابق اس کے فقرات میں سے ہر ایک فقرہ متواتر ہواور اس کے ہر فقرہ کی سند قرآن و سنت میں موجود ہو۔ اور اس کے طرزِ انشاء کو روش شناسی کے نقطہ نظر سے بطور دقیق جو دوسری دعائیں خاندان عصمت و طہارت سے صادر ہوئی ہیں ان پر منطبق ہوتی ہو نیز مشہور اور معتبر کتابوں میں درج ہوئی ہوں۔تو پھر سند پیش کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ، جب کہ ہم نے اس مقام پر اسے معتبر سند کے ساتھ استناد کے قابل بنا کر قارئین محترم کی خدمت میں پیش کیا اور علامہ مجلسی جیسی عظیم المرتبت شخصیت کی اس کی سند کے معتبر ہونے پر صریحی تاکید پیش کی ہے جیسا کہ کہتے ہیں:

لیکن دعائے ندبہ جو بر حق عقائد اور حضرت قائم - کی غیبت پر اظہار افسوس پر مشتمل ہے ، ”معتبر سند“ کے ساتھ جو امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ اس دعائے ندبہ کا چار عظیم عیدوں میں پڑھنا مستحب ہے یعنی جمعہ، عید فطر، عید قرباں ،عید غدیر ۔(۱)

________________________

۱۔ زاد المعاد ،محمد باقر مجلسی ، ص۴۸۶۔


علامہ مجلسی جو علوم اہل بیت کے سمندر کے شناور تھے انہوں نے اس مختصر فقرہ میں گراں قدر نکات کی طرف اشارہ کیا ہے :

۱ ۔ دعائے ندبہ مطالب کے لحاظ سے صحیح اور بر حق عقائد پر مشتمل ہے ۔

۲ ۔ دعائے ندبہ ماثور ہے اور معصوم سے ہم تک پہنچی ہے ۔

۳ ۔ دعائے ندبہ سندی لحاظ سے معتبر ہے ۔

۴ ۔ دعائے ندبہ کی سند امام جعفر صادق تک پہنچتی ہے ۔

۵ ۔ دعائے ندبہ کا چار عظیم اسلامی عیدوں میں پڑھنا مستحب ہے ۔


دوسری فصل

اعتراضات اور اُس کے جوابات

۱ ۔ کیا دعائے ندبہ معراج جسمانی سے تضاد رکھتی ہے؟

اسلامی اعتقادات کے ضروریات میں سے ایک ضرورت رسول اسلام کی معراج ہے جس کا آغاز مکہ معظمہ سے مسجد اقصی اور وہاں سے آسمانوں کی طرف اختتام ہوا۔

رسول اکرم کی معراج قرآنی حیثیت کی حامل ہے ،اس رات کی معراج کا پہلا حصہ سورہ مبارکہ ”اسراء“ میں اور اس کا دوسرا حصہ سورہ مبارکہ ”نجم “ میں ذکر ہوا ہے۔

تمام مفسرین ،محدثین ،مورخین اور شیعہ متکلمین کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ سفر رات میں رسول اسلام کے خاکی بدن اور عنصری پیکر کے ساتھ انجام پذیر ہوا۔

شیخ طوسی اور علامہ طبرسی نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ تمام شیعہ علماء اور اکثر علمائے اہل سنت اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول اکرم کی معراج بیداری اور مکمل صحت اور معتدل مزاج کی حالت میں پیکر خاکی اور عنصری بدن کے ساتھ انجام پذیر ہوئی ۔(۱) علامہ مجلسی اس سلسلہ میں کہتے ہیں:

”معراج جسمانی کا عقیدہ رکھنا واجب ہے ، یعنی یہ کہ رسول اکرم اپنے مبارک بدن کے ساتھ آسمانوں تک گئے۔ اس سلسلے میں فلسفیوں کی بات نہ سنو جو وہ لوگ کہتے ہیں:” اگر معراج جسمانی ہو، تو افلاک میں خرق اور التیام (پھٹ جانا اور مل جانا) لازم آئے گا“! یہ کھوکھلی اور بے بنیاد بات ہے اور عقیدہ معراج ضروریات دین میں سے ہے اس لیے اس کا انکار کفر آمیز ہے ۔“(۲)

”معراج جسمانی“ کے متعلق عقیدہ رکھنا جیسا کہ علامہ مجلسی نے تصریح کی ہے، جو من جملہ شیعہ عقیدے کی ضروریات میں سے ایک شمار ہوتا ہے ،اس کا انکار کرنے والا شیعیت کے دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے ۔

اسی بنیاد پر بعض وہ فلاسفہ جو معراج جسمانی اور معاد جسمانی کا عقیدہ نہیں رکھتے انہیں کفر و فسق کا عنوان دیا گیا ہے ۔

بطور مثال : فرقہ شیخیہ کے بانی ”شیخ احمد احسائی “ جب افلاک کے خرق و التیام کے مسئلے کی وضاحت میں ایک ایسے مشکل مقام پر پہونچے اور معراج جسمانی کو

________________________

۱۔التبیان ،شیخ طوسی ،ج۶،ص۴۴۶، ج۹،ص۴۲۴۔ مجمع البیان ،طبرسی ،ج۶،ص۹، ج۹،ص۲۶۴ ۔

۲۔ اعتقادات ،محمد باقر مجلسی ،ص۳۴۔


ھیئت بطلیموس کی فکر کے دائرہ میں اس زمانے میں حل و فصل نہ کرسکے تو برزخی بدن کے معتقد ہوئے اور اسے ”ھور قلیا“ کا نام دیا تو علمائے شیعہ نے ان پر چاروں طرف سے اعتراض کیا اور کفر کی منزل پر پہنچا دیا۔(۱)

انہوں نے لفظ”هُوَر قلیا “ کو ایک سریانی لفظ سے متعارف کرایا(۲) لیکن تنکابنی نے آخوند ملا علی نوری سے نقل کیا ہے کہ لفظ ”ھورقلیا“یونانی ہے اور تعبیر ”ھُورقلیا“ غلطِ مشہور ہے صحیح ”ھُوَرقلیا “ ہے۔(۳)

جہاں تک ہمیں علم ہے ، سب سے پہلے جس نے اس لفظ کو اسلامی شہروں میں استعمال کیا ”شیخ شہاب الدین سہروردی“(متوفیٰ ۵۸۷ ھئق) ہیں۔(۴) اس وقت شیخ احمد احسائی نے اسے کثرت سے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔(۵)

جو کچھ احسائی ،کرمانی اور ہینری کاربن کی وضاحتوں سے استفادہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ”ھور قلیا“ سے مرا دقالبی مثال ہے نہ کہ عنصری بدن۔(۶)

شیخ احمد اپنے عقیدے کی وضاحت ”معراج هورقلیائی “ کے متعلق تحریر کرتے ہیں:

_______________________

۱۔اجساد جاویدان ،علی اکبر مہدی پور،ص۲۲۰۔

۲۔ مجموعة الرسائل الحکمیّہ،رسالہ ۲۱،ص۳۰۹۔

۳۔ قصص العلماء ،محمد تنکابنی ،ص۴۶۔

۴۔ حکمة الاشراق ،شہاب الدین سہروردی،ص۲۵۴۔

۵۔ جوامع الکلم ،احمد احسائی ،ج۵،پہلا حصہ ،ص۲۲ا۹،ج۳،دوسرا حصہ ،ص۱۱۹۔ ۱۲،۱۳۴، ج۲، دوسر ا حصہ، ص ۱۰۳ ۔

۶۔ شرح الزیارة، احمد احسائی ،ص۳۶۵، شرح عرشیہ، احمد احسائی،ص۱۱۹ ۔ تنزیہ الاولیاء ،ابو القاسم کرمانی ، ص۷۰۲۔


”جسم جس قدر صعودود عروج کی حالت میں بلند ہوتا جائے ہر کرہ کے مربوط عناصر کو وہیں ترک کر کے اوپر جاتا ہے جیسے عنصر ہوا کو کرہ ہوا میں عنصر آگ کو کرہ آتش میں۔ او رواپسی کے وقت جو کچھ وہاں ترک کیا ہوتا ہے واپس لے لیتا ہے ۔“(۱)

اس بنا پر پیغمبر اکرم نے شب معراج بدن کے عناصر اربعہ میں سے ہر ایک کو اپنے کرہ میں ترک کیا، اور وہ بدن جس میں یہ عناصر اربعہ موجود نہیں تھے اس کے ساتھ معراج پر گئے ہیں۔

اس قسم کا بدن عنصری بدن نہیں ہو سکتا ، بلکہ ایک برزخی بدن اور ان کی اصطلاح کے مطابق ”ھور قلیا“ ہو گا۔(۲)

جس وقت شیخ احمد احسائی نے قیامت اور معراج کے متعلق اپنے عقیدے کا اظہار کیا اور اسے ”ھور قلیا“ سے تعبیر کیا تو ، ملا محمد تقی برغانی ،جو شہید ثالث کے نام سے بھی مشہور ہیں ان سے ملاقات کی اور قیامت، معراج اور شیخ احمد کے دوسرے عقائد کے متعلق ان سے گفتگو کی تو ان کے عقائد کو شیعہ عقیدے کی ضروریات کے ناموافق پایا اور ان کے قیامت و معراج ”ھور قلیا“ کے عقیدے کی وجہ سے نیز ان کے دوسرے انفرادی اعتقادات کی بنا پر ان کی تکفیر کی ۔(۳)

_______________________

۱۔ جوامع الکلم ،احمد احسائی ،رسالہ قطیفیہ ،ص۱۲۷۔

۲۔ فروغ ابدیت ،جعفر سبحانی ،۱،ص ۳۱۵۔

۳۔ قصص العلماء ،محمد تنکاینی ،ص۴۳۔


ان کے بعد سید مہدی فرزند صاحب ریاض نے ملا محمد جعفر استر آبادی صاحب فصول اور شیخ محمد حسن صاحب جواہر نے بھی ان کے کفر کے متعلق اظہار نظر کیا۔(۱)

گزشتہ مطالب کے پیش نظر یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ معراج جسمانی پر عقیدہ رکھنا فقہائے شیعہ کی نظر میں کتنا زیادہ استوار و محکم ہے کہ اس کے انکار کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج جانتے ہیں اور اس کی پیشانی پر کفر کی علامت لگاتے ہیں ۔

اہل سنت کی اکثریت بھی اسی عقیدہ کی حامل ہے اور وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ معراج بیداری میں اور عنصری بدن کے ساتھ انجام پذیر ہوئی ہے ۔(۲) )

جائے تعجب ہے کہ بعض نادان علمائے عامہ معراج روحانی کے معتقد ہوئے ہیں اور انہوں نے حضرت عائشہ کی ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے :

شب ِ معراج جسمِ پیغمبر آنکھوں سے مخفی نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو معراج کرائی !!(۳)

جب کہ حضرت عائشہ اس تاریخ معراج میں ابھی کمسن بچی کے علاوہ کچھ نہ تھیں اور رسول اکرم کے گھر نہیں گئی تھیں۔لہذا یہی بات متن حدیث کے جعلی اور نقلی ہونے کے لیے کافی ہے ۔(۴)

______________________

۱۔ اجساد جاویدان ، علی اکبر مہدی پور ،ص۲۲۰۔

۲۔ نور الیقین ،محمد خضری ،ص ۶۹۔

۳۔ السیر و المغازی ،محمد ابن اسحاق، ص۲۵۹، السیرة النبویہ ،ابو محمد عبد الملک ابن ہشام ،ج۱،ص ۲۴۵۔

۴۔ تفسیر کاشف ،محمد جواد مغنیہ ،ج۵،ص۹۔


دعائے ندبہ کے ایک فقرہ میں فضائل و مناقب شمار کرنے کے ضمن میں بالخصوص جس میں رسول اکرم کی معراج کی طرف اشارہ کیا گیا یوں نقل ہوا ہے:

”واوطاته مشارقک و مغاربک و سخّرت له البراق و عرجت به الی سمائک “

”اور ان کے لیے تمام مشرق و مغرب کو ہموار کر دیا اور براق کو مسخر کر دیا اور انہیں اپنے آسمان کی بلندیوں تک لے گیا۔“(۱)

دعائے ندبہ کے اس مختصر فقرہ میں جو ایک سطر سے زیادہ تجاوز نہیں کرتا تین اہم مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے :

۱ ۔ مکہ مکرمہ سے مسجد اقصی تک راتوں رات سفر کرنا ۔(اوطاته )

۲ ۔آسمانوں کی بلندیوں تک لے جانا ۔(و عرجت به )

۳ ۔ اس معراج کا وسیلہ آسمانی سواری کا ہونا(و سخّرت له البراق )

پہلا موضوع سورہ مبارکہ ”اسراء“ میں واقع ہوا ہے اور دسیوں دوسری معتبر روایت رسول اکرم سے نقل ہوئی ہے ۔(۲)

دوسرا موضوع سورہ مبارکہ ”نجم “ میں ذکر ہوا ہے اس کی تفصیل دسیوں دوسری

_______________________

۱۔ المزار الکبیر ،ابو عبد اللہ محمد بن جعفر ابن المشہدی ،ص۵۷۵۔

۲۔سورہ اسر اء (۱۷)آیت۱کی طرف رجوع کریں :تفسیر عیاشی ، محمد بن مسعود بن عیاش اسلمی السمرقندی ،ج۲،ص ۲۷۶، تفسیر قمی ،ابو الحسن علی بن ابراہیم قمی ،ج۲،ص۳، تاویل الآیات الظاہرہ ،سید شرف الدین علی النجفی ،ج۱،ص ۲۶۵، بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۱۸،ص ۲۸۲۔۴۱۰۔


معتبر روایت میں خود رسول اکرم سے وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے ۔(۱)

تیسرا موضوع بھی رسول اکرم سے دسیوں مبارک حدیث کے ضمن میں اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔(۲)

بالا مذکورہ فقرہ جو دعائے ندبہ سے ہم نے ذکر کیا بطور دقیق ”معراج جسمانی “ پر منطبق ہوتا ہے کہ تمام مفسر ین ،محدثین ،مورخین اور شیعہ متکلمین، قرآن اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی متواتر احادیث کی روشنی میں اس بات پر متفق ہیں ۔لیکن جو بات کچھ نادان دوستوںاور کینہ پرور دشمنوں کے اعتراض کا باعث ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ دعائے ندبہ کے بعض نسخوں میں ”عرجت بہ“کی جگہ ”عرجت بروحہ “ کی تعبیر نقل ہوئی ہے !

اس صورت میں فقرہ بالا کا معنی یوں ہوگا:” ان کو مشرق و مغرب میں لے گیا،براق کو ان کے اختیار میں دیا اور ان کی ”روح “ کو آسمان کی طرف لے گیا!“۔

اس مقام پر دو مطلب کا بطور دقیق تجزیہ کرنا ضروری ہے :

________________________

۱۔ سورہ نجم (۵۳) آیات ۱تا ۱۸، رجوع کریں: تفسیر قمی ،ابو الحسن علی بن ابراہیم قمی ،ج۲،ص ۳۳۳، تفسیر فرات ابن ابراہیم فرات کوفی ،ج۲،ص ۴۵۲، تاویل الآیات الظاہرہ ،سید شرف الدین علی النجفی ،ج۲،ص ۶۲۴،تفسیر صافی ، ابراہیم بن محسن کاشانی (فیض کاشانی) ،ج۵،ص ۸۵، بحار الانوار، محمد باقر مجلسی ،ج۱۸،ص ۲۸۲،۴۱۰۔

۲۔ الکافی ،محمد بن یعقوب کلینی،ج ،ص۳۰۸، حدیث ۵۶۷، تفسیر کنز الدقائق ، محمد بن محمد رضا ابن المشہدی، ج۷،ص ۳۰۳، نور الثقلین، عبد العلی الحویزی ،ج۳،ص ۱۰۱، البرہان فی تفسیر القرآن ،سید ہاشم بحرانی ،ج۳،ص ۴۷۳، بحار الانوار، محمد باقر مجلسی ،ج۱۸،ص ۲۸۲۔۴۱۰۔


۱ ۔ ”عرجت بروحه “ والا نسخہ کس قدر اعتبار کا حامل ہے؟

۲ ۔ اس نسخہ کے صحیح ہونے کی بنا پر ، کیا دعائے ندبہ کا یہ فقرہ معراج جسمانی کے ساتھ ناساز گاری رکھتا ہے ؟

پہلے سوال کے متعلق حق وحقیقت کے متلاشی قارئین کرام کی خدمت میں عرض کریں گے:

۱ ۔ وہ قدیمی ترین کتاب کہ جس میں دعائے ندبہ کا یہ متن تحریر کیا گیا اور اس کا نسخہ حوادث زمانہ سے محفوظ ہے اور ہمارے زمانے تک بغیر کسی تغییر و تحریف کے باقی ہے، معتبر اور گراں قدر کتاب المزار الکبیر کے مولف ،محدث محترم شیخ ابو عبد اللہ محمد ابن جعفر مشہدی ہیں ۔

مذکورہ فقرہ اس کتاب میں ”و عرجت به الی سمائک “ ذکر ہوا ہے ۔(۱)

۲ ۔ اس کتاب کا خطی نسخہ ، گیارہویں صدی ہجری کی کتابت سے ۴۸۲ صفحات جس کے ہر صفحہ میں ۱۲ سطریں ہیں ،آیت اللہ مرعشی صاحب کے عمومی کتاب خانہ میں موجود ہے ۔(۲)

اس نسخہ کی ۴۹۰۳ نمبر کے عنوان سے مرعشی صاحب کے کتاب خانہ میں حفاظت ہو رہی ہے ،یہ فقرہ صفحہ نمبر ۸۲۴ کی ساتویں سطر میں ”و عرجت بہ “ ذکر ہوا ہے ۔

________________________

۱۔ تفسیر کنز الدقائق ، ابو عبد اللہ محمد بن جعفر ابن المشہدی ،ص۵۷۵۔

۲۔ فہرست نسخہ ہای خطی ،سید احمد حسینی اشکوری ،ج۱۳،ص۸۳۔


۳ ۔ اس کتاب کی فوٹو کاپی والا نسخہ موسسہ آل البیت کے کتاب خانہ میں موجود ہے ۔(۱)

اس نسخہ میں بھی مذکورہ فقرہ صفحہ ۴۲۲ ،( ۸۳۴ صفحات پر مشتمل ) پر ”و عرجت بہ“ ذکر ہوا ہے ۔

۴ ۔مزار کبیر کے بعد دعائے ندبہ کا قدیمی ترین منبع کتاب مزار قدیم ہے، جس کا خطی نسخہ ۱۸۱ صفحات پر مشتمل ہے جس کے ہر صفحہ میں سترہ سطریں ہیں جو آیت اللہ مرعشی صاحب کے عمومی کتاب خانہ میں موجود ہے ۔(۲)

اس نسخہ میں بھی جس کا نمبر ۴۶۲ ہے جو آیت اللہ مرعشی صاحب کے عمومی کتاب خانہ میں محفوظ ہے ۔ مذکورہ فقرہ صفحہ نمبر ۱۷۴ میں ”و عرجت بہ “ ذکر ہوا ہے ۔

دعائے ندبہ کے لیے تیسرا موجودہ منبع سید ابن طاووس (متوفیٰ ۶۶۴ ھئق) کی گراں قدر کتاب مصباح الزائر ہے ۔

اس کتاب کے مطبوعہ نسخہ میں مذکورہ فقرہ بجائے ” وعرجت بہ“ ”وعرجت بروحہ“ کی تعبیر کے ساتھ ذکر ہوا ہے ۔(۳)

یہ نسخہ یقینا غلط ہے ،اس لیے کہ:

________________________

۱۔قفسہ ۲۹،ردیف ۱۷۶، شمارہ ۱۹، مسلسل ۵۲۰۹۔

۲۔ فہرست نسخہ ہای خطی ، سید احمد حسینی اشکوری ،ج۲،ص ۶۹۔

۳۔ مصباح الزائر ،سید علی بن موسی ابن طاووس ،ص۴۴۷۔


سب سے پہلے یہ کہ:سید (سید ابن طاووس) نے اس دعا کو کتاب مزار کبیر سے نقل کیا ہے ،اس لیے کہ اس کے آغاز میں تحریر کرتے ہیں:

”ذکر بعض اصحابنا قال: قال محمد بن علی بن ابی قره: نقلت من کتاب محمد بن الحسین بن سنان البزوفری رضی الله عنه دعاء الندبة ، و ذکر انّه الدعاء لصاحب الزمان صلوات الله علیه و یستحب ان یدعی به فی الاعیاد الاربعة(۱)

”ہمارے بعض اصحاب کا بیان ہے کہ محمد ابن علی ابن ابی قرہ نے کہا ہے ہم نے محمد ابن حسین ابن سنان بزوفری رضی اللہ عنہ کی کتاب سے دعائے ندبہ کو نقل کیا ہے اور انہوں نے ذکر کیا ہے کہ یہ دعا امام زمانہ - کے لیے ہے اور مستحب ہے کہ اسے چار (عظیم) عیدوں میں پڑھا جائے“۔

اور یہ بطور دقیق صاحب مزار کبیر کی وہی تعبیر ہے جو دعائے ندبہ کے آغاز میں ہے ۔(۲)

اس بیان کی بنا پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ سید ابن طاووس نے اس دعا کو مزار کبیر کے واسطہ سے ابن ابی قرہ سے ، انہوں نے بزوفری سے نقل کیا ہے ،اور سید کے کلام

________________________

۱۔ گزشتہ حوالہ ،ص۴۴۶۔

۲۔ المزار الکبیر ،ابو عبد اللہ محمد بن جعفر ابن المشہدی ، ص۵۷۳۔


میں ”بعض اصحابنا “ سے مراد وہی ”ابن المشہدی“ ہیں ۔اور چونکہ مزار کبیر کے تمام نسخے جو سید (ابن طاووس) کے لیے بطور مستند و منبع واقع ہوئے ہیں وہ ان پر مقدم ہیں جس میں ”و عرجت بہ“ ذکر ہوا ہے ، بلا شک مصباح کا صحیح نسخہ بھی ” وعرجت بہ “ تھا۔

میں نے کتاب مصباح الزائر کے بعض نسخوں میں ”عرجت بہ “ دیکھا ہے۔(۱)

محدّث قمی نے بھی اپنے استاد کے قول کی تائید کی ہے ۔(۲)

تیسرے یہ کہ کتاب مزار قدیم میں بھی جو سید (ابن طاووس) پر مقدم ہے انہوں نے بھی اس دعا کو ابن ابی قرہ سے کتاب بزوفری سے نقل کیا ہے ۔”وعرجت بہ“ کی تعبیر اس میں ذکر ہوئی ہے ۔(۳)

مذکورہ تینوں نکات کے پیش نظر کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ کتاب مصباح الزائر کے صحیح نسخہ میں بھی ”عرجت بہ“ تھا لیکن افسوس یہ کہ بعد کے نسخوں اور فوٹو کاپیوں میں” عرجت بہ “ کی عبارت ”عرجت بروحہ “ کی تعبیر میں مورد تصحیف (لفظو ں کی تبدیلی ) واقع ہوئی ہے ۔

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہی تصحیف(لفظوں کی تبدیلی ) شدہ نسخہ علامہ مجلسی کے ہاتھوں لگا، انہوں نے دعائے ندبہ کو اسی تصحیف شدہ نسخہ سے نقل کیا

-____________________

۱۔ تحیة الزائر ،حسین بن محمد تقی نوری ،ص۲۶۰۔

۲۔ ھدیة الزائر ،شیخ عباس قمی ،ص۵۰۶۔

۳۔ المزار القدیم ،خطی نسخہ ،ص۱۷۳۔


اور نقل کرنے میں امانت کی رعایت کرنے کے لیے مذکورہ فقرہ کو ”عرجت بہ “ ذکر کیا ہے اور اس طرح یہ تصحیف شدہ نسخہ علمائے متاخرین کی کتابوں میں نقل ہوا ہے ۔(۱)

محدث قمی نے بھی کتاب مفاتیح الجنان میں دعائے ندبہ کو مصباح الزائر کے تصحیف شدہ نسخہ سے نقل کیا ہے ،لہذا ”عرجت بروحہ “ کی عبارت کو متن میں ذکر کیا ہے اور ”عرجت بہ “ کی عبارت کو حاشیہ میں نسخہ بدل کے عنوان سے نقل کیا ہے ۔لیکن مفاتیح کے تحقیقی نسخہ میں ”عرجت بہ “ والی عبارت متن میں واقع ہوئی ہے ۔(۲)

مذکورہ مطالب سے ہم یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ:

۱ ۔ المزار الکبیر کے تمام عکس ، مطبوعہ اور خطی نسخوں میں ۔

۲ ۔ المزار القدیم کے موجودہ خطی نسخوں میں ۔

۳ ۔ مصباح الزائر کے اصلی نسخوں میں ”عرجت بہ“تھا۔

اب ہم آخری صدی کے محققین کی کتابوں سے ایک دوسری تعداد کے عناوین کو بھی یہاں ذکر کر رہے ہیں کہ جس میں ہر ایک نے اپنی گراں قدر کتابوں میں ”عرجت بہ“ نقل کیا ہے ۔

۱ ۔ تحیة الزائر ،مرزا حسین نوری ،(متوفیٰ ۱۳۲۰ ھئق) ۔(۳)

________________________

۱۔ بحارالانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۱۰۲، ص۱۰۵، زاد المعاد ،ص۴۸۸۔

۲۔ مفاتیح الجنان ،شیخ عباس قمی ،ص۱۰۴۸، طبع موسسہ رسالت ،ص۶۵۱۔

۳۔ تحیة الزائر ،حسین بن محمد تقی نوری،ص۲۳۴۔


۲ ۔ مکیال المکارم ،مرزا محمد تقی فقیہ احمد آبادی ،(متوفیٰ ۱۳۴۸ ھئق) ۔(۱)

۳ ۔ مفتاح الجنات ،صاحب اعیان الشیعہ ، (متوفیٰ ۱۳۷۱ ھء ق)۔(۲)

۴ ۔ شرح دعائے ندبہ ،محی الدین علوی طالقانی ،(متوفیٰ ۱۳۸۷ ھئق)۔(۳)

۵ ۔ شرح دعائے ندبہ ،شیخ عباس علی ادیب ،(۴)

۶ ۔ سخنان نخبہ در شرح دعائے ندبہ ،عطائی اصفہانی ۔(۵)

۷ ۔ شرح دعائے ندبہ ،سید علی اکبر موسوی محب الاسلام ۔(۶)

۸ ۔ ندبہ و نشاط ،احمد زمردیان۔(۷)

۹ ۔ الصحیفة الرضویة الجامعة ،سید محمد باقر موحد ابطحی۔(۸)

۱۰ ۔ الصحیفة المبارکة المھدیة ،سید مرتضیٰ مجتہدی ۔(۹)

جو کچھ ذکر ہوا وہ دعائے ندبہ کے اسناد اور منابع کے متعلق تھا جو تالیف کے وقت

____________________

۱۔ مکیال المکارم ،السید محمد تقی موسوی اصفہانی ،ج۲،ص ۹۴۔

۲۔ مفتاح الجنات ،سید محسن امین عاملی ج۲،ص ۲۶۱۔

۳۔ شرح دعائے ندبہ ،سید محی الدین (علوی ) طالقانی ،ص۱۲، ۸۲۔

۴۔ دعائے ندبہ ، عباس علی ادیب ،موعود سال اول شمارہ ۶، بہمن و اسفند ،۱۳۷۶ئش ،ص۷۹۔

۵۔ سخنان نخبہ ،علی عطائی اصفہانی ،ص۴۷۔

۶۔ شرح دعائے ندبہ ،سید علی اکبر محب الاسلام ،ص۵۶، ۱۲۹۔

۷۔ ندبہ و نشاط ، احمد زمردیان ،ص۱۸۰۔

۸۔ الصحیفة الرضویة الجامعة ،سید محمد باقر (موحد)ابطحی ، ص۳۱۲۔

۹۔ الصحیفة المبارکة المہدیہ ،سید مرتضیٰ مجتہدی ، ص ۱۳۶۔


مولف کی دست رس میں تھے ورنہ کثرت سے منابع و مصادر میںصدیوں اور دراز مدت تک تعبیر ”عرجت بہ “ کو تحریر کیا گیاہے کہ ان سب کا شمار کرنا طولانی ہو جائے گا۔

یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ بہت سی عظیم المرتبت شخصیتوں نے دعائے ندبہ کے متعلق نقل ،ترجمہ ،شرح یا گفتگو کے وقت اس نکتہ پر خاص توجہ دی اور اپنی گراں قدر کتابوں میں تصریح کی ہے کہ لفظ ”عرجت بروحہ “ غلط اور صحیح ”عرجت بہ“ ہے ۔ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

۱ ۔ محدث نوری (متوفیٰ ۱۳۲۰ ھئق) نے کتاب تحیة الزائر میں ۔(۱)

۲ ۔ صاحب مکیال المکارم (متوفیٰ ۱۳۴۸ ھئق) نے کتاب مکیال المکارم میں ۔(۲)

۳ ۔ شیخ محمد باقر رشاد زنجانی ،(متوفیٰ ۱۳۵۷ ھئش)(۳)

۴ ۔ شیخ عباس علی ادیب ،صاحب ھدیة العباد در شرح حال صاحب بن عباد ،جو انہیں کے مقبرہ میں مدفون ہیں ۔(۴)

۵ ۔ علی عطائی اصفہانی نے شرح دعائے ندبہ میں۔(۵)

____________________

۱۔ تحیة الزائر ،حسین بن محمد تقی نوری ،ص۲۶۰۔

۲۔ مکیال المکارم ،سید محمد تقی موسوی اصفہانی ،ج۲،ص ۱۰۰۔حاشیہ ص۹۴۔

۳۔ نشریة ینتشر بھا انوار دعاء الندبہ ،محمد باقر رشاد زنجانی ،ص۱۶۔

۴۔ شرح دعائے ندبہ ،عباس علی ادیب ،موعود شمارہ ۶،ص۸۰۔

۵۔ سخنان نخبہ ، علی عطائی اصفہانی ،ص۴۸۔


۶ ۔ مجلہ مکتب اسلام کی ھیئت تحریریہ (اہل قلم کی ایک جماعت )نے۔(۱)

۷ ۔ آیت اللہ صافی نے فروغ ولایت میں ۔(۲)

۸ ۔ رضا استادی نے ،دہ رسالہ میں ۔(۳)

۹ ۔ احمد زمردیان نے شرح دعائے ندبہ میں ۔(۴)

۱۰ ۔ سید مرتضیٰ مجتہدی نے صحیفہ مہدیہ میں ۔(۵)

قابل توجہ یہ کہ دعائے ندبہ کے متن میں دو قوی شاہد اس بات پر موجود ہیں کہ نسخہ ”عرجت بہ “ صحیح ہے :

۱ ۔ جملہ ”و سخّرت لہ البراق “براق کو ان کے اختیار میں دیا ۔ اگر اس جملہ میں دقّت کی جائے تو ”عرجت بہ “ والے نسخہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے گا ،اس لیے کہ معراج روحانی کے لیے سواری کی ضرورت درکار نہیں ہے ۔(۶)

۲ ۔ جملہ ’ ’و اوطاتہ مشارقک و مغاربک “”اور ان کے لیے

____________________

۱۔ مجلہ مکتب اسلام ،ناصر مکارم شیرازی ، جعفر سبحانی ،سال ۱۳، شمارہ ۷، ص۶۶،پرسشھا و پاسخ ھا ،ناصر مکارم شیرازی، ج۲،ص ۱۱۷۔

۲۔ فروغ ولایت ، لطف اللہ صافی گلپائیگانی ،ص۴۸۔

۳۔ دہ رسالہ ،رضا استادی ،ص۲۹۸۔

۴۔ ندبہ و نشاط، احمد زمردیان، ص ۱۹۸۔

۵۔ الصحیفة المبارکة المھدیة، ص ۱۳۶۔

۶۔ مکیال المکارم، سید محمد تقی موسوی اصفہانی، ج۲، ص ۱۰۰۔


مشرق و مغرب کو ہموار کر دیا“ ۔ بھی معراجِ جسمانی ہونے پر صراحت کرتا ہے کہ روحانی سفر میں ہموار کرنے کا مطلب درکار نہیں ہے ۔(۱)

یہاں دو واقعہ قابل توجہ اور سننے کے قابل ہے جسے تاریخ کے دو سعادت مند افراد نے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی ذات با برکت سے نقل کیا ہے کہ جس میں ”عرجت بروحہ “ والے نسخہ سے منع کیا ہے ۔

۱ ۔ جناب آیت اللہ الحاج مراز مہدی شیرازی (متوفی ٰ ۱۳۸۰ ھئق) جو مرجع تقلید اور کربلا میں مقیم اور زہد و تقویٰ کا نمونہ تھے وہ کہتے ہیں:

”میں جس زمانہ میں سامرا تھا ،راتوں کو حضرت حجت کے سرداب میں جاتا تھا اور اس لیے کہ کوئی شخص میرے لیے مُخل نہ ہو دروازہ کا تالا بھی بند کر لیتا تھا اور صبح تک دعا و قرآن اور توسل و گریہ میں مشغول ہو جاتا تھا۔

ایک شب میں ،سرداب میں دعائے ندبہ پڑھنے میں مشغول تھا، یہاں تک کہ اس عبارت پر پہنچا ”وعرجت بروحہ الی سمائک“ یہاں کتاب مفاتیح میں بھی دو نسخہ درج ہے ،ایک ”و عرجت بہ “اور دوسرا ”و عرجت بروحہ “ اور دونوں صحیح بھی ہے چونکہ عرب لوگ مجموعی طور پر بدن کو ”روح ‘ ‘ بھی کہتے ہیں اور اب بھی ایسا ہے ،یعنی

________________________

۱۔ فروغ ولایت، لطف اللہ صافی گلپائیگانی، ص ۴۸۔


روح اور بدن کو بھی ”روح “ کہتے ہیں ۔لہٰذا میں نے ”وعرجت بروحہ “پڑھا چونکہ میری نظر میں اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔

ناگہاں میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ میرے کنارے بیٹھا اور مجھے خطاب کر کے فرمایا:” اصلی نسخہ میں ” و عرجت بہ الی سمائک“ ذکر ہوا ہے ۔

میں حیرت میں تھا کہ میں نے سرداب کا دروازہ بند کر دیا تھا ،یہ شخص کہاں سے آیا؟ پھر میں نے دیکھا کوئی نہیں ہے “۔

مولف نے پہلی مرتبہ اس واقعہ کو علامہ فقیہ آیت اللہ الحاج سید محمد کاظم قزوینی ، آیت اللہ شیرازی کے داماد سے سنا تھا،اور آخر میں ایک تحریری اورکتابی شکل میں حسینہ کربلا ئیھا اصفہان کے شعبہ نشریات سے طبع اور نشر ہوا۔(۱)

۲ ۔ آیت اللہ الحاج سید محمدحسن میرجہانی (متوفیٰ ۱۴۱۳ ھئق) جو بہت سی گراں قدر تالیفات کے مالک ہیں منجملہ ان میں سے ”نوائب الدھور فی علائم الظہور“ ہے وہ کہتے ہیں:

”آیت اللہ اصفہانی علیہ الرحمہ کی زعامت و کفالت کے زمانہ میں ،میں عازم سامرا ہوا ،مجھے بہت زیادہ مال مرحمت فرمایا اور حکم دیا کہ اس کا ایک تہائی حصہ ان کے وکیل کو سامرا میں دے دوں اس کا ایک تہائی حصّہ

____________________

۱۔ جوان امام زمانت را بشناس ،دار المہدی والقرآن الحکیم ،ص۵۶۔


طلاب کے درمیان تقسیم کروں اور بقیہ ایک تہائی حصہ کو حرم مطہر کے خادمین کے درمیان تقسیم کروں اسی لیے حرم مطہر کا خادم میرا بہت احترام کرتا تھا۔

اس سے میں نے درخواست کی کہ راتوں کو سرداب مقدس میں بسر کروں وہ میری بات سے متفق ہو گیا۔ تقریباً دس دن میں سامرا میں مقیم تھا، راتوں کو سرداب مقدس میں چلا جاتا تھا ،خادم سرداب کے دروازہ کو باہر سے بند کر دیتا تھا اور خود سرداب کے باہر امامین عسکریین علیہما السلام کے صحن مطہر میں آرام کرتا تھا۔ قیام کی آخری رات کہ جب شب جمعہ تھی، جس وقت سرداب میں وارد ہوا اور معمول کے مطابق اپنے ہمراہ ایک شمع بھی رکھے ہوئے تھا، میں نے دیکھا سرداب کی فضا روز روشن کی طرح منور ہے ،تو میں نے شمع کو چھوڑ دیا اور سیڑھیوں سے نیچے گیا،میں نے دیکھا ایک سید بزرگوار عبادت میں مشغول ہیں ۔اس لیے کہ میں ان کی عبادت میں خلل نہ ڈالوں بغیر سلام کے وارد ہوا، اور چبوترہ کے دروازہ پر کھڑا ہو کر حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی زیارت میں مصروف ہو گیا۔

اس وقت ان کے کنارے اور ان سے تھوڑا آگے نماز کے لیے کھڑا ہو گیا، پھر میں بیٹھ گیا اور دعائے ندبہ پڑھنے میں مشغول ہوا۔

جس وقت جملہ ”وعرجت بروحہ الی سمائک “ تک پہنچا تو ان آقا نے فرمایا:

”یہ فقرہ ہم سے نہیں صادر ہوا ہے ”وعرجت بہ “ صحیح ہے، اگر ”بروحہ“ تھا تو براق کی ضرورت درکار نہیں تھی۔ اصول کے اعتبار سے تم اپنے وظیفہ پر کیوں عمل نہیں کرتے کیوں امام کے آگے نماز پڑھتے ہو؟!“

میں نے اس لیے کہ دعا کے درمیان بات نہ کروں کچھ نہیں کہا، دعا کو ختم کیا نماز زیارت پڑھی سر کو سجدے میں رکھا،سجدے کی حالت میں ایک مرتبہ میں متوجہ ہوا کہ یہ آقا کون تھے جو فرمارہے تھے :

۱ ۔ یہ فقرہ ہم سے صادر نہیں ہوا ہے !

۲ ۔ کیوں امام کے آگے نماز پڑھ رہے ہو؟

حیرانی و پریشانی کی حالت میں سجدے سے سر اٹھایا میں نے سرداب کی فضا کو دیکھا کہ بالکل تاریک ہے اور ان آقاکی کوئی خبر نہیں ہے !


میں نہایت تیزی سے سیڑھیوں سے اوپر آیا اور سرداب کے دروازہ کو بندھا ہوا پایا، دروازہ کو کھٹکھٹایا خادم آیا اور دروازہ کو کھولا ،میں نے دیکھا کہ اذان صبح کا وقت نزدیک ہے ۔

اس سے میں نے سوال کیا کہ یہ آقا جو آج کی رات سرداب میں تھے وہ کون تھے؟

جواب دیا: سرداب میں تمہارے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ میں نے کہا: یہی آقا جو ابھی سرداب سے باہر گئے ۔کہا: نہیں کوئی بھی باہر نہیں گیا،سرداب کا دروازہ تو بند ہے اور حرم اور صحن کے دروازے بھی بند ہیں۔ اس وقت میں متوجہ ہوا کہ کتنی عظیم سعادت مجھے نصیب ہوئی ہے اور مفت میں نے اسے کھو دیا۔ “

مولف نے اس واقعہ کو متعدد مرتبہ آیت اللہ میرجہانی سے مشہد اور اصفہان میں سنا تھا اور جہاں تک میرا حافظہ میرا ساتھ دے رہا ہے اسے میں نے یہاں نقل کیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ یہ واقعہ مختصر فرق کے ساتھ بعض تحریری شکل میں کتابوں میں نشرہوا ہے ۔(۱)

گزشتہ مطالب سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ نسخہ ” وعرجت بروحہ “ کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور صحیح نسخہ ”وعرجت بہ “ ہے لیکن صحیح ہونے کی بنا پر بھی تعبیر ”وعرجت بروحہ“ معراج جسمانی کے عقیدہ کے متضاد و منافی نہیں ہے اس لیے:

سب سے پہلے یہ کہ: رسول اسلام کی معراج یقینا ایک مرتبہ سے زائد ہوئی تھی،اور امام صادق کی ایک روایت کی بنیاد پر ایک سو بیس مرتبہ آنحضرت معراج پر تشریف لے گئے ہیں۔(۲)

_______________________

۱۔ گنجینہ دانشمندان ،محمد شریف رازی ،ج۲،ص۴۱۰،کرامات صالحین ،محمد شریف رازی، ص۱۱۲، شیفتگان حضرت مہدی ،احمد قاضی زاہدی ،ج۱،ص ۲۳۹، دیدار یار ،علی کرمی ،ج۳،ص ۱۰۔

۲۔ کتاب الخصال ،شیخ صدوق ،ج۲،ص ۶۰۰۔


جس بات پر تمام مفسرین ،محدثین اور دوسرے علمائے شیعہ اتفاق نظر رکھتے ہیں یہ ہے کہ آنحضرت کی معراج جسم مبارک کے ساتھ ہوئی ،آنحضرت کی مشہور معراج وہ ہے کہ ایک رات مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی طرف ہوئی تھی۔

معراج کا یہ موقع ”لیلة الاسراء“ و”لیلة المعراج“ سے معروف ہے معراج بے شک جسمانی ہوئی تھی، لیکن اور دوسرے مواقع ہمارے لیے واضح نہیں ہیںاور کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ ان موقعوں کو بھی ہمیں معراج جسمانی جاننا چاہیے۔

اس بیان کی بنا پر اگر تعبیر”و عرجت بروحہ“صحیح ہو تو ممکن ہے اس کو روحانی معراجوں پر حمل کریں اور دوسرے دو فقرے یعنی ”اوطاتہ“ اور ”وسخّرت لہ البراق“ کو آنحضرت کی جسمانی معراج تسلیم کریں۔

دوسرے یہ کہ: ”وعرجت بروحہ“معراج روحانی پر نص نہیں ہے بلکہ معراج جسمانی پر بھی مشتمل ہے اس لیے کہ:

سب سے پہلے یہ کہ: کسی شئے کا اثبات کرنا دوسرے چیزوں کی نفی نہیں کرتا۔

دوسرے یہ کہ :”عربی زبان میں بعض کا استعمال کل میں بہت زیادہ عام ہے ،جیسے ”رقبہ“ یعنی ”گردن“ کا استعمال خود”انسان“ کے لیے جیسا کہ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے ۔(۱)

________________________

۱۔ سورہ نساء(۴) آیت ۹۲ ۔


روح کا استعمال مکمل جسم و جان کے لیے عربی زبان کے علاوہ فارسی زبان میں بھی عام ہے جیسا کہ سعدی شیرازی کہتے ہیں:

جانا ھزاران آفرین بر جانت از سر تا قدم

صانع خدایی کاین وجود آورد بیرون از عدم

اے ہزاروں جانوں کے خالق! تیری جان اور مکمل وجود پر ہم قربان

ایسا صنّاع ازل کہ جس نے ہمیںپردئہ عدم سے ظاہری وجود بخشا

ہمیں معلوم ہے کہ فارسی میں”جان “عربی میں ”روح“ کے مساوی ہے(۱) اور سعدی نے کلمہ ”جانت“”از سر تا قدم“ کے قرینہ سے اپنے ممدوح کی بدن کا ارادہ کیا ہے نہ صرف اس کی روح کا۔

آیت اللہ جناب مرزا ابو الفضل تہرانی شرح زیارت عاشورا میں فقرہ ”وعلی الارواح التی حلّت بفنائک “کی شرح میں رقم طراز ہیں:

”اور کبھی روح کو ”حال و محل“یا مناسبت کے تعلق سے روح کے ساتھ جسم کے معنی میں استعمال کرتے ہیں جیسا کہ عرب لوگ کہتے ہیں:”شال روحہ“یا ”جرح روحہ “یعنی ”اس کا بدن شل ہو گیا“یا ”اس کا بدن زخمی ہو گیا“ عراق اور حجاز میں یہ استعمال متعارف ہے اور یہ ایک ایسا تعلق ہے جو صحیح اور اس کا استعمال کرنا فصیح سمجھا جاتا

_______________________

۱۔ لسان العرب ،ابن منظور ،ج۵،ص ۳۶۱۔


ہے ۔اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دعائے ندبہ کی عبارت ”وعرجت بروحه الی سمائک “ میں معراج جسمانی کے اثبات کی اب کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے اور دلیل بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔“(۱)

سید صدر الدین محمد حسنی طباطبائی نے بھی دوسری وجہ بیان کی ہے۔(۲)

اس بیان کی بنا پر نسخہ ”وعرجت بروحه “ کا صحیح ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا اور اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے لیکن اگر اسے بنا بر فرض صحیح تسلیم کر لیا جائے پھر بھی معراج جسمانی کے ساتھ بالکل ناسازگاری نہیں رکھتا۔ اور اس طرح دعائے ندبہ کے متن کے صحیح اور مستحکم ہونے پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔

۲ ۔ کیا دعائے ندبہ فرقہ کیسانیہ کے عقیدوں کو بیان کر رہی ہے ؟

کیسانیہ فرقہ کا تاریخچہ

”کیسانیہ“ ایک ایسے فرقہ کا نام ہے جو پہلی صدی ہجری کے پچاس سال بعد شیعوں کے درمیان پیدا ہوا اور تقریباً ایک صدی تک چلتا رہا پھر بالکل ختم ہو گیا۔

یہ گروہ جناب ”محمد حنفیہ “ کی امامت کا عقیدہ رکھتا تھا اور انہیں امیر المومنین ،امام حسن اور امام حسین کے بعد چوتھا امام گمان کرتا تھا۔

____________________

۱۔ شفاء الصدور ،مرزا ابو الفضل تہرانی ،ج۱،ص ۲۳۷۔

۲۔ شرح دعائے ندبہ ،سید صدر الدین حسنی طباطبائی ،ص۱۱۶۔


”محمد حنفیہ “حضرت امیر المومنین کے فرزند ارجمند تھے اور حضرت کی ان پر خاص توجہ ہوا کرتی تھی ان کی شہرت ”حنفیہ“اس جہت سے ہے کہ ان کی ماں کا تعلق ”خولہ“ ”بنی حنیفہ“ کے قبیلہ سے تھا امیر المومنین نے انہیں آزاد کیا تھا پھر اپنے ساتھ عقد نکاح پڑھا۔(۱)

حضرت امیر المومنین اپنے اس فرزند ارجمند سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور ان کے متعلق تحسین آمیز کلمات فرمائے کہ منجملہ ان میں سے حضرت کی یہ تعبیر مشہور ہے کہ فرمایا:

انّ المحامدة تابی ان یعصی اللّه “

”محمد لوگ اجازت نہیں دیتے کہ خدا کی نا فرمانی ہو“۔

راوی نے دریافت کیا :”یہ محمد لوگ کون ہیں ؟“ فرمایا:

محمد بن جعفر ، محمد بن ابی بکر ،محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن امیر المومنین ۔(۲)

علامہ مامقانی معتقد ہیں کہ حضرت امیر المومنین کا یہ قول محمد حنفیہ کی وثاقت و عدالت پر دلالت کرتا ہے ،اس لیے کہ جب تک وہ اجازت نہ دیں تب تک دوسرا شخص خدا کی نا فرمانی نہیں کرسکتا تو پھر وہ خود بغیر کسی شک و شبہ کے خدا کی نا فرمانی نہیں کریں گے ۔(۳)

________________________

۱۔ شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ،ج۱،ص ۲۴۵۔

۲۔ اختیار معرفة الرجال ،شیخ طوسی ،ص۷۰۔

۳۔ تنقیح المقال ،عبد اللہ مامقانی ،ج۳،ص۱۱۱۔


جنگ جمل میں جناب محمد حنفیہ ،بہت ممتاز موقعیت و منصب کے حامل تھے ، فتح و ظفر کا پرچم ان کے با وفا ہاتھوں میں تھا ،بے مثال شجاعت و صلابت کے ساتھ دشمن کو پیچھے بھگایا ، صفوں کو درہم برہم کیااور بہترین امتحان دیا۔

جب حضرت امیر المومنین نے سپاہِ اسلام کے پرافتخار پرچم کو محمد حنفیہ کے ہاتھ میں دیا تو انہیں خطاب کر کے ایک قابل توجہ خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فنون جنگ کے گراں قدر نکات کی یاد آوری کی ۔(۱)

خزیمہ بن ثابت ، محمد حنفیہ کی حمد و ثنا کی غرض سے امیر المومنین کی خدمت میںحاضر ہوئے اور عرض کی:

”اگر آج پرچم اسلام دوسرے شخص کے ہاتھ میں ہوتا ،تو رسوائی نصیب ہوتی۔“(۲)

اسی جنگ میں محمد حنفیہ سے دریافت کیا گیا تھا۔

”کیسے سخت اور ہولناک حالات میں تمہارے باپ تمہیں خطرے کے منھ میں ڈال رہے ہیں اور تمہارے بھائی حسن و حسین علیہما السلام کو ہرگز ان موقعوں پر میدان جنگ میں نہیں بھیجتے؟“

محمد حنفیہ نے بہت لطیف تعبیر کے ساتھ جواب دیا تھا:

_______________________

۱۔ نہج البلاغہ ،شریف رضی ،صبحی صالح، خطبہ ۱۱، ص۵۵۔

۲۔ شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید ۔


”حسن و حسین علیہما السلام میرے والد گرامی کی آنکھوں کے تارے ہیں اور میں ان کا قوی ترین بازو ہوں میرے باپ اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کے تاروں کی حفاظت کرتے ہیں ۔“(۱)

اس بیان کی بنا پر کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ جناب محمد حنفیہ دقیق طور پر اپنے بھائیوں کی قدر و منزلت سے واقف تھے اور کوئی نہ تھا جو نا حق امامت کا دعویٰ کرے۔

امام حسین کی شہادت کے بعد ،ایک گروہ ان کی امامت کا معتقد ہوا اور سب سے پہلے ”امیر مختار “ کی مرکزیت پراعتماد کرتا تھا اور لوگوں سے ان کے نام پر بیعت لیتا تھا۔ لیکن محمد حنفیہ ان کے اس کام سے راضی نہیں تھے اور ان کے اس کام کی کبھی بھی تصدیق و تائید نہیں کی ۔

جب امیر مختار نے اپنی کارکردگی کی رپورٹ محمد حنفیہکی خدمت میں تحریر کی تو جناب محمد حنفیہ نے جواب نامہ میں یوں اظہار کیا:

”رحم اللّه من کفّ یده و لسانه و جلس فی بیته ،فانّ ذنوب بنی امیة اسرع الیهم من سیوف المسلمین “

”خدا اس شخص پر اپنی رحمت نازل کرے جو اپنے ہاتھ اور زبان کو محفوظ رکھے اور اپنے گھر میں بیٹھے، اس لیے کہ بنی امیہ کے تمام گناہ مسلمانوں

________________________

۱۔ وفیات الاعیان ،شمس الدین احمد بن خلکان ابن خلّکان ،ج۴،ص۱۷۲۔


کی تلواروں سے پہلے اس کی طرف تیزی سے آتے ہیں“۔(۱)

جو افراد کوفہ سے آتے تھے اور کوفہ کے حالات کی تفصیل ان کے لیے بیان کرتے تھے تو کہتے تھے:

”میں خوش حال ہوں کہ اللہ تعالیٰ ظالموں سے ہمارا انتقام لے ،لیکن میں راضی نہیں ہوں کہ تمام دنیا کا حاکم رہوں اور ایک بے گناہ انسان کا خون میری وجہ سے بہایا جائے“ ۔(۲)

جس وقت ”ابو خالد کابلی “نے جناب محمد حنفیہ سے دریافت کیا :”کیا آپ ہی واجب الاتباع امام ہیں ؟“ تو نہایت صراحت کے ساتھ جواب دیا:

”میرا تمہارا اور تمام مسلمانوں کا امام علی بن الحسین ہے“ ۔(۳)

اس وقت امر امامت تمام لوگوں کے لیے روشن کرنے کے لیے حضرت علی بن الحسین کے ساتھ گفتگو کے لیے بیٹھے اور حجر اسود کو حَکَم قرار دیا، حجر اسود نے حضرت امام سجاد کی امامت کی گواہی دی اور انہوں نے بھی تسلیم کیا۔(۴)

محمد حنفیہ نے اس سلسلہ میں ابو خالد کابلی سے کہا:

امام زین العابدین نے حجر اسود کو حَکَم قرار دیا ،حجر اسود نے مجھ سے کہا:

________________________

۱۔ مختصر تاریخ دمشق ، ج۲۳،ص ۱۰۳۔

۲۔ سیر اعلام النبلاء ،محمد ابن احمد ابن عثمان ذہبی،ج۴،ص۱۲۱۔

۳۔ اختیار معرفة الرجال ،شیخ طوسی ،ص۱۲۱، مناقب آل ابی طالب ،ابو جعفر محمد ابن شہر آشوب ،ج۴،ص ۱۲۱۔

۴۔ الامامة والتبصرة ،شیخ صدوق، ص۱۹۵ الکافی ،الکلینی ،ج۱،ص ۳۴۸، کتاب الغیبہ ،شیخ طوسی ،ص۱۸۔


”تم اپنے بھائی کے بیٹے کے مقابل تسلیم ہو جاؤ کہ وہی (امامت کا) زیادہ حق دار ہے“۔(۱)

وہ محققین جنہوں نے حوصلہ اور دقت کے ساتھ کیسانیہ فرقہ کے تاریخچہ کی تحقیق کی ہے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ امیرمختار کو محمد حنفیہ کی طرف سے قیام کے لیے رغبت و شوق نہیں دلایا گیا،

آخری نتیجہ یہ ہے کہ محمد حنفیہ نے امیر مختار کو اس کام سے صریحی طور پر منع نہیں کیا ہے۔(۲) لیکن کمال صراحت کے ساتھ ان سے کہا:

”میں ہرگز جنگ اور خون ریزی کا حکم نہیں دیتا “۔(۳)

اور جب اس بات سے با خبر ہوئے کہ امیر مختار نے یہ اظہار کیا ہے کہ ان کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو ان سے نفرت و بیزاری اختیار کی۔(۴) یہاں تک کہ بعض نقل تاریخ کی بنا پر ان پر لعنت بھیجنے کے لیے زبان کھولی ۔(۵)

ظ لیکن جب محمد حنفیہ عبد اللہ ابن زبیر کی طرف سے زمزم کے کنویں پر مقید تھے تو

____________________

۱۔ اعلام الوریٰ باعلام الھدی ،ابو علی فضل بن الحسن الطبرسی ، ج۱،ص ۴۸۶۔

۲۔ الکیسانیہ فی التاریخ و الادب ،وداد قاضی ،ص۹۱۔

۳۔ انساب الاشراف، احمد بن یحییٰ بلاذری ،ج۵،ص۲۱۸۔

۴۔ الملل و النحل ،شہرستانی ،ابو الفتح محمد بن عبد الکریم ج۱،ص ۱۴۹۔

۵۔ المقدمة ،عبد الرحمن ابن خلدون ،ص۱۹۸۔

ظ۔ ہمارے شیعہ مذہب میں ایسی تاریخ کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ جس کا ناقل معلوم نہ ہو دوسری بات یہ کہ ممکن ہے ایسی تاریخی روایت بنی امیہ کے کارندوں کی خود ساختہ ہو۔ (مترجم)


امیر مختار کو پیغام دیا،اور امیر مختار نے چار ہزار لوگوں کو ان کی مدد کے لیے بھیجا اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو قید سے آزاد کرایا ۔(۱)

محمد حنفیہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی تحقیق سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ امامت کے مدعی نہ تھے بلکہ اس سے گریزاں تھے ،جیسا کہ زہری کا بیان ہے :

”محمد لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند ، بہادر اور فتنوں سے دور تھے نیز جن چیزوں سے لوگ دل لگائے ہوئے تھے وہ ان سے پرہیز کرتے تھے ۔(۲)

جس وقت ان کے کسی چاہنے والے نے ان کو ”یا مہدی“ کے عنوان سے خطاب کیا تو وہ اس عنوان سے خوش نہیں ہوئے اور اس سے کہا:

”ہاں! میں ہدایت یافتہ ہوں اور نیکیوں کی طرف ہدایت کرتا ہوں ،لیکن میرا نام محمد اور کنیت ابو القاسم ہے ،جب مجھے آواز دو تو مجھے ان دوناموں سے پکارا کرو۔“(۳)

محمد بن حنفیہ کے مختصر کلمات اور بہت سے خطبات جو کتابوں میں نقل ہوئے ہیں ، ان میں ہمیں کوئی ایسی بات نہیں ملتی کہ جس میں انہوں نے اپنی طر ف لوگوں کو دعوت دی ہو، بلکہ اس کے برعکس مطلقاً خاندان عصمت و طہارت کی طرف مکمل احتیاط کے

____________________

۱۔ مختصر تاریخ دمشق ، ابن منظور ،ج۲۳، ص۹۹۔

۲۔ تذکرة الخواص ،سبط ابن جوزی ،ص۲۶۳۔

۳۔ الکیسانیة فی التاریخ و الادب ،وداد قاضی ،ص۱۲۳۔


ساتھ دعوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ،جیسے ایک خطبے کے ضمن میں فرماتے ہیں:

”الا انّ لاهل الحق دولة یاتی بها اللّٰه اذا شاء“

”اہل حق کے لیے ایک حکومت ہے کہ خداوند متعال جس وقت چاہے گا اسے فراہم کرے گا ،ہم میں سے جو شخص بھی اس حکومت کو درک کرے گا وہ سعادت کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہو گا“۔(۱)

جب ان سے اصرار کے ساتھ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی دعوت کو بیان کریں تو انہیں اس بات سے شدّت کے ساتھ منع کرتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں:

”و لامر آل محمد ابین من طلوع الشمس“

” امر آل محمد طلوع آفتاب سے زیادہ واضح و روشن ہے ۔“(۲)

قابل توجہ یہ ہے کہ ”امرنا“ یعنی ”ہمارے امر“ سے تعبیر نہیں کیا بلکہ ”امر آل محمد “ سے تعبیر کیا ہے ،اور ہم جانتے ہیں وہ پیغمبر اکرم (ص) کی نسل سے نہیں ہیں،اور ”آل محمد “ کی تعبیر خصوصی ترین معنی میں ان کے شامل حال نہیں ہوتی۔

ان کی عقل و درایت اور ہوش و ذکاوت کے لیے یہی کافی ہے کہ بادشاہ روم نے عبد الملک کو تہدید آمیز اورخوفناک خط لکھا،عبد الملک نے حجاج سے کہا کہ اس طرح کا ایک تہدید آمیز خط محمد حنفیہ کو لکھو اور اس کا جواب میرے پاس لے آؤ۔

____________________

۱۔ الطبقات الکبریٰ ،محمد ابن سعد کاتب ،ج۵،ص ۹۷۔

۲۔سیر اعلام النبلاء ، محمد احمد ابن عثمان ذہبی،ج۴،ص ۱۲۲۔


جب محمد حنفیہ کا جواب عبد الملک کے ہاتھ میں پہنچا تو حکم دیا کہ عین اسی جیسا جواب بادشاہ روم کے پاس لکھو:

بادشاہ روم نے عبدالملک کے جواب میں لکھا:

یہ بات تمہاری اور تمہارے خاندان کی طرف سے صادر نہیں ہوئی ہے، یہ کلام تو خاندان نبوت سے صادر ہوا ہے ۔(۱)

یہی گفتار کی متانت و لطافت ،نیک رفتار و کردار میں اعتدال پسندی،اس کے علاوہ علم سے سر شار،پُر بار عقل اور دوسری اخلاقی نیکیاں باعث ہوئیں کہ لوگوں کے دل ان کی محبت سے لبریز ہوجائیں اور سب ان کے بہترین معتقد ہو جائیں نیز یہی وجہ تھی کہ امیر مختار خود کو ان سے منسوب کرتے تھے تاکہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف موڑ سکےں ۔ لیکن جب وہ مختار کی دسیسہ کاریوں سے آگاہ ہو ئے تو ان سے نفرت کا اظہار کیا۔(۲) ظ

محمد حنفیہ اگر چہ امام حسین کی شہادت کے بعدبہت سی مشکلوں سے روبرو ہوئے، اور حجّاج ،عبد الملک اور عبد اللہ ابن زبیر کی طرف سے انہیں بیعت کی دعوت کے لیے بہت سی تہدید(دہمکی) اور طمع دی گئی انہیں خو ف دلایا ،لیکن اپنی نیک تدبیر سے کسی حد

____________________

۱۔ الطبقات الکبریٰ، محمد ابن سعد، ص۱۱۰۔

۲۔ الملل و النحل، ابو الفتح محمد بن عبد الکریم شہرستانی ۔

ظ۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی ناروا باتوں کو امیر مختار جیسی عظیم المرتبت شخصیت کو کم کرنے کے لیے بنی امیہ کے چاہنے والوں نے اپنی خود ساختہ تاریخوں میں جگہ دی ہے جس کا ہمارے شیعہ عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (مترجم)


تک ان کے شر سے محفوظ رہے ،یہاں تک کہ آخر میں محرم ۸۱ ھئق میں ۶۵ سال کی عمر میں مدینہ طیبہ میں دنیا سے رخصت ہوئے اور قبرستان بقیع میں دفن ہوئے ۔(۱)

محمد حنفیہ کے انتقال کی جگہ کے لیے تین اقوال ہیں:

۱ ۔ مدینہ

۲ ۔ طائف

۳ ۔ ایلہ (مکہ و مدینہ کے درمیان )(۲)

اور چوتھا قول بھی نقل ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ :ان کا انتقال ”رضوی“ کے مقام میں ہوا اور بقیع میں دفن کیا گیا۔(۳)

”رضوی“ایک بلند پہاڑ کا نام ہے مدینہ کے قریب جو ”یَنبُع“سے ایک منزل اور مدینہ سے سات منزل کا فاصلہ ہے ،جہاں اونچی اونچی پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں، کثرت سے درّے، درخت اور بہت سے صاف و شفاف چشمے پائے جاتے ہیں۔(۴)

محمد حنفیہ کی رحلت کے بعد،کیسانیہ فرقہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گیا کہ ان میں سے منجملہ یہ ہےں :

۱ ۔ سرّاجیّہ”حسّان سرّاج“ کے ماننے والوں نے کہا: محمد حنفیہ وفات پا

________________________

۱۔ سیر اعلام النبلاء ،محمد ابن عثمان ذہبی، ص۱۲۸۔

۲۔ تذکرة الخواص ،سبط ابن جوزی ،ص۲۶۸۔

۳۔ تنقیح المقال ،عبد اللہ مامقانی،ص۱۲۲۔

۴۔ معجم البلدان ،یاقوت حموی ،ج۳،ص۵۱۔


چکے ہیںکوہ رضوی میں مدفون ہیں ،لیکن ایک دن رجعت کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔(۱)

۲ ۔ کرنبیّہ”ابن کرنب“ کے ماننے والوں نے کہا: محمد حنفیہ زندہ ہیں اور کوہ رضوی میں سکونت پذیر ہیں اور بغیر ظہور کیے دنیا سے نہیں جائیں گے ،دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و ستم سے پُر ہوگی۔(۲)

ان کو اکثر منابع میں ”کربیّہ“ یا ”کریبّیہ“ ذکر کیا گیا ہے ۔(۳)

۳ ۔ ہاشمیہ ،”ابو ہاشم عبد اللہ “ کے ماننے والے جو محمد حنفیہ کے بعد ان کے فرزند ”عبد اللہ“ کی امامت کے معتقد ہوئے ۔(۴)

ہاشمیہ فرقہ بھی ابو ہاشم کی وفات کے بعد مختلف فرقوں میں جیسے :”مختاریّہ“ ”حارثیّہ“”روندیّہ“”بیانیّہ“ وغیرہ میں تقسیم ہو گیا۔(۵)

کیسانیہ کی اکثریت اس بات کی معتقد ہے کہ محمد حنفیہ کی وفات نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ کوہ رضوی میں مخفی ہیں ایک مدت کی غیبت کے بعد آخر میں ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

______________________

۱۔ البدء و التاریخ ،المطھّر بن طاہر مقدسی ،ج۵،ص ۱۲۹۔

۲۔ البدء والتاریخ ،المطھّر بن طاہر مقدسی،ج۵،ص ۱۲۸۔

۳۔ الکیسانیہ فی التاریخ و الادب، وداد قاضی ، ص۱۷۲۔

۴۔ الملل و النحل ، ابو الفتح محمد بن عبد الکریم شہرستانی ،ج۱،ص ۱۵۰۔

۵۔ المقالات و الفرق،سعد ابن عبد اللہ اشعری ،ص۲۶۔۴۰۔


وہ لوگ اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ محمد حنفیہ وہی مہدی موعود ہیں اور مکہ معظمہ سے ظہور کریں گے ۔(۱)

وہ لوگ کہتے ہیں:ہر دن صبح و شام محمد حنفیہ کی خدمت میں اونٹ آتے ہیں وہ ان کے دودھ اور گوشت کو کھاتے پیتے ہیں۔(۲)

سید اسماعیل حمیری ،خاندان اہل بیت کے مشہور شاعر پہلے ان کا تعلق فرقہ کیسانیہ سے تھا اور بہت سے اشعار محمد حنفیہ کی مدح میں کیسانیہ کے عقائد کی بنیاد پرنظم کیے وہ انہیں اشعار کے ضمن میں کہتے ہیں :

یا شعب رضوی ما لمن بک لا یری

و بنا الیه من الصّبابة اولق

حتی متیٰ، و الیٰ متیٰ و کم المدیٰ

یا بن الوصیّ وانت حیّ ترزق

اے غار رضوی! تمہارے اندر قیام کرنے والا کیسا ہے جو دکھائی نہیں دیتا،جب کہ ہم اس کے عشق میں دیوانے ہو گئے ہیں۔اے فرزند وصی! کب تک اور کس زمانہ تک اور کتنی مدت تک زندہ رہیں گے اور رزق کھاتے رہیں گے؟(۳)

کیسانیہ کے دوسرے مشہور شاعر،”کُثیّر عَزّه“ بھی اس سلسلہ میں کہتے ہیں :

_____________________

۱۔المقالات و الفرق، سعد بن عبد اللہ اشعری ،ص۳۱۔

۲۔ فرقہ الشیعہ ،حسن بن موسیٰ نو بختی ، ص۲۹۔

۳۔ مروج الذہب، علی ابن حسین مسعودی، ج۲،ص۹۶۔


تغیّب لا یری عنهم زمانا

برضوی عنده عسل و ماء

ایک مدت سے رضوی میں ان لوگوں سے مخفی ہوگئے ہیں لہذا دکھائی نہیں دیتے ان کے پاس پانی اور شہد ہے ۔(۱)

حمیری بعد میں محمد حنفیہ کے مہدی ہونے کے عقیدے سے برگشتہ ہو گئے اور حضرت امام جعفر صادق کی امامت کے معتقد ہو گئے اور مشہور شعر ”تجعفرت باسم اللّہ و اللّٰہ اکبر “ ”میں نام خدا پر جعفر میں سے ہوگیا اور اللہ بزرگ و برتر ہے“ کو اسی سلسلہ میں کہا ہے ۔(۲)

”کثیّر“ اہل بیت کے دل باختہ عاشقوں میں سے تھے، خود کو مرنے کے لیے آمادہ کیا ،کسی شخص کو تلاش کیا کہ ان کے اہل و عیال کی کفالت کرے ، اس وقت ایّام حج کے موقع پر اہل بیت سے دفاع کے سلسلے میں ولولہ خیز بیانات جاری کیے جس وقت چاہا کہ غاصبین فدک سے اظہار برائت کریں تو ان کے طرف دار لوگ کھڑے ہوئے اور ان کی طرف پتھر برسائے اور بہت بری طرح سے درجہ شہادت پر فائز کیا۔(۳)

______________________

۱۔ الدیوان ،الکُثَیر عزّہ، ج۲،ص ۱۸۶۔

۲۔ الدیوان ،سید اسماعیل حمیری ،ص۲۹۵۔طبقات الشعراء ،ابن المعتزّ،ص۳۳۔ الفصول المختارہ، سید مرتضیٰ علم الہدیٰ، ج۲،ص ۲۹۹۔

۳۔ الاغانی ،ابو الفرج اصفہانی ،ج۱۱،ص ۴۶۔


امیر مختار کے بعد جو کیسانیہ فرقے کے بانی کہلاتے تھے ،ان دونوں نے رزمیہ شاعری کے با معنی اور بہترین اشعار پیش کر کے کیسانیہ فرقہ کی ترقی میں بہت زیادہ موثر کردار ادا کیا۔

اس فرقہ کے ”کیسانیہ “نام کی وجہ تسمیہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں:

۱ ۔ کیسان امیر مختار کا لقب تھا۔(۱)

۲ ۔ کیسان امیر مختار کی فوج کے سردار کا نام تھا۔(۲)

۳ ۔ کیسان حضرت امیر المومنین کے غلاموں میں سے ایک غلام کا نام تھا کہ جس نے امیر مختار کو امام حسین کے خون کا انتقام لینے کے لیے شوق اور رغبت دلائی تھی۔(۳)

تیسراقول ضعیف ہے، کیوں کہ کیسان امیر المومنین کے غلام تھے جو جنگ صفین میں شہید ہوچکے تھے۔(۴)

پہلا نظریہ تاریخی لحاظ سے پایہ ثبوت تک نہیں پہونچا ہے ۔

لیکن دوسرا نظریہ معتبر ہے ،اس لیے کہ تاریخی لحاظ سے اس بات میں شک و شبہ نہیں پایا جاتا کہ مختار کی فوج کا سردار ایک کیسان نامی شخص تھا جو ”ابو عمرہ“ کے نام

_____________________

۱۔ البدء و التاریخ ،المطھّر بن طاہر مقدسی ،ص۱۳۱۔

۲۔ المقالات و الفرق، سعد بن عبد اللہ اشعری ،ص۲۱۔

۳۔ الملل و النحل ، ابو الفتح محمد بن عبد الکریم شہرستانی ،ص۱۴۷۔

۴۔ الکامل فی التاریخ ،عز الدین علی ابن اثیر،ج۳،ص ۲۹۹۔


سے مشہور تھا قبیلہ ”بجیلہ“(۱) سے جو قبیلہ ”عرینہ“کہ وہ بجیلہ کے گروہوں میں سے ایک ہے ۔(۲)

یہ کیسانیہ کے اعتقادات کے مختصر تاریخچہ کی طرف اشارہ تھا جو ۶۰ ھء کے بعد پیدا ہوا اور تیسری صدی ہجری میں ختم ہو گیا اور اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا۔

سید مرتضیٰ علم الہدی نے اپنی گراں قدر کتاب الفصول المختارہ میں جو کتاب العیون و المحاسن شیخ مفید سے منتخب شدہ ہے ،اس بات پر بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ روئے زمین پر کیسانیہ فرقہ میں سے ایک شخص بھی باقی نہیں ہے ۔(۳)

اس سے پہلے اشعری اور نوبختی نے بھی دوسری صدی ہجری کے اواخر میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ کیسانیہ کے فرقوں میں سے سوائے انگشت شمار افراد کے کوئی باقی نہیں ہے ۔(۴)

لیکن ”محمد حنفیہ “ کا ”کوہ رضوی “ سے ارتباط یہ ہے کہ ”عبد اللہ ابن زبیر “ نے جب بنی ہاشم کے مقابل میں اپنے ضعیف اور نابود ہونے کا خطرہ احساس کیا تو ”عبد اللہ ابن عباس “ کو ”طائف “ اور ”محمد حنفیہ “”کوہ رضوی“ کی طرف شہر بدر کیا۔(۵)

____________________

۱۔ انساب الاشراف ،احمد بن یحییٰ بلاذری ،ص۲۲۹۔

۲۔ جمہرة انساب العرب ،ابن حزم اندلسی ، ص۳۸۷۔

۳۔ الفصول المختار ہ ،سید مرتضیٰ علم الہدی ، ج۲،ص ۳۰۵۔

۴۔ المقالات و الفرق، سعد بن عبد اللہ اشعری ،ص۳۶، فرق الشیعہ ،حسن بن موسیٰ نوبختی ۔

۵۔ التاریخ یعقوبی ،ابن واضح یعقوبی ،ج۳،ص ۹۔


اس بیان کی بنا پر ”محمد حنفیہ “ نے اپنی عمر کا آخری حصّہ اسی سمت میں بسر کیا ہے بعض مورخین نے کہا ہے کہ ان کا اسی جگہ انتقال ہوا ہے ۔(۱)

لیکن اکثر مورخین معتقد ہیں کہ محمد حنفیہ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور بقیع میں مدفون ہیں۔(۲)

”عبد اللہ ابن عطا“ نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

”میں نے اپنے چچا محمد حنفیہ کو خود اپنے ہاتھ سے سپرد خاک کیا “۔(۳)

مذکورہ مطالب کی تحقیق سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ فرقہ کیسانیہ پہلی صدی ہجری کے پچاس سال بعد پیدا ہوا اور جناب محمد حنفیہ کی امامت کا معتقد ہوا اور دوسری صدی ہجری کے اواخر میں بالکل ختم ہو گیا۔

اس بات کے پیش نظر کہ ”رضوی“ چونکہ محمد حنفیہ کے شہر بدر کی جگہ تھی،کیسانیہ کے ایک گروہ نے اس مقام کو محمد حنفیہ کی غیبت کی جگہ جانا ہے ، اس بات کا منتظر تھا کہ ایک دن وہ کوہ رضوی سے ظاہر ہوں گے اور سر زمین مکہ سے قیام کریں گے اور دنیا کو عدل و انصا ف سے بھر دیں گے ۔

اس بیان کی بنا پر ”رضوی “ کا ”مہدی موعود“ کے ساتھ اور شیعہ اثنا عشری کا حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ پر اعتقاد رکھنے سے کوئی ربط نہیں ہے ۔

_____________________

۱۔ غایة النہایة ،شمس الدین ابن الجزری ،ج۲،ص۲۰۴۔

۲۔ الطبقات الکبریٰ ،محمد ابن سعد، ج۵،ص ۱۱۶۔

۳۔ الفصول المختارہ ،سید مرتضیٰ علم الہدی ، ج۲،ص ۲۹۸۔


لہٰذا ”دعائے ندبہ “ کے ایک فقرہ میں لفظ”رضوی “ استعمال ہوا ہے اور حضرت ولی عصر کی قیام گاہ کے ساتھ ایک مخصوص رابطہ پایا جاتا ہے ؟!

اور اب دعائے ندبہ کا متن ملاحظہ فرمائیں:

”لیت شعری این استقرّ ت بک النّوی؟بل ایّ ارض تقلّک او ثری؟ ابرضوی او غیرها ام ذی طوی؟ عزیز علیّ ان اریٰ الخلق و لا تری“

”اے کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تیری قیام گاہ کہاں ہے اور کس سر زمین نے تجھے بسا رکھا ہے ؟ مقام رضوی ہے ؟یا مقام طوی ہے ؟میرے لیے یہ بہت سخت ہے کہ ساری دنیا کو دیکھوں اور تو نظر نہ آئے “(۱)

اس سوال کا جواب ہر ایک فرد کی نظر میں واضح و روشن کرنے کے لیے ”رضوی“ اور ”ذی طوی“ کی حیثیت کو ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلمات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں تاکہ ان دونوں مقام کا ارتباط حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے وجود اقدس سے اور ان دونوں کاجناب محمد حنفیہ کے ساتھ عدم ارتباط کا مسئلہ واضح ہو سکے ۔

۱ ۔”کوہ رضویٰ“

”رضویٰ “”تہامہ “ کے پہاڑوں میں سے پہلا پہاڑ ہے جو ”ینبع“ سے ایک منزل اور ”مدینہ “ سے سات منزل ہے کہ بہت سی حدیثوں میں اس کا ذکر ہوا ہے

____________________

۱۔ مصباح الزائر ،سید علی ابن موسیٰ ابن طاووس ،ص۴۵۱۔


منجملہ ان میں سے :

۱ ۔ رسول اکرم نے فرمایا:

”رضوی، رضی اللّہ عنہ “۔

”رضویٰ ،خدا اس سے خوش ہے !“۔(۱)

۲ ۔ دوسری حدیث میں فرمایا:

”رضویٰ جنت کے پہاڑوں میں سے ہے“ ۔(۲)

۳ ۔ امام جعفر صادق ،جب سر زمین “رَوْحا “ پر وارد ہوئے تو ایک نظر اس پہاڑ پر ڈالی جو دشت روحا سے نزدیک تھا ،عبد الاعلی غلام آل سام جو حضرت کی خدمت میں تشریف فرماتھے فرمایا:

”اس پہاڑ کو دیکھ رہے ہو؟ اس کو ”رضویٰ“ پہاڑ کہا جاتا ہے جو فارس کی پہاڑیوں میں سے تھا، چونکہ اس نے ہمیں دوست رکھا تو خدا نے اس کو ہماری طرف منتقل کر دیا۔ اس میں ہر قسم کے میوے کے درخت موجود ہیں حیران اور خوف زدہ شخص کے لیے کتنی بہترین پناہ گاہ ہے ۔ “

اس جملہ کی دو مرتبہ تکرار کی پھر فرمایا:

”اما انّ لصاحب هذا الامر فیه غیبتین ،واحدة قصیرة ،و

______________________

۱۔ معجم البلدان ،یاقوت حموی ،ج۳،ص ۵۱۔

۲۔ وفاء الوفاء ،باخبار دار المصطفیٰ ،نور الدین سمہودی،ج۴،ص ۱۲۱۹۔


الاخریٰ طویلة “

”اس صاحب الامر کے لیے اس پہاڑ میں دو غیبت ہے ،ایک مختصر اور دوسری طولانی ۔“(۱)

۴ ۔ امام زین العابدین نے ایک طولانی حدیث کے ضمن میں ظہور کے وقت جبرئیل امین کا حضرت کی خدمت میں آنے کے متعلق بیان کیا ہے ،اس کے آخر میں فرماتے ہیں:

”و یجیئه بفرس یقال له البُراق، فیرکبه ،ثم یاتی الی جبل رضوی“

”اس وقت وہ گھوڑا کہ جسے براق کے نام سے جانا جاتا ہے ان کی خدمت میں لایا جائے گا۔ حضرت قائم اس پر سوار ہو ں گے پھر کوہ رضویٰ کی طرف حرکت کریں گے “۔

اس وقت حضرت کے ۳۱۳ اصحاب کی آمد، ظہور کے اعلان اور دعوت اسلام کے آغاز کے متعلق تفصیلی گفتگو فرماتے ہیں۔(۲)

۵ ۔ امام جعفر صادق نے ایک طولانی حدیث کے ضمن میں ارواح مومنین کا گلستان ”رضویٰ “ میں جمع ہونے کے متعلق بیان کیا ہے ،اور آخر میں فرماتے ہیں:

____________________

۱۔ کتاب الغیبة ،شیخ طوسی ،ص۱۶۳۔

۲۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۵۲،ص ۳۰۶۔


”ثمّ یزور آل محمد فی جنان رضوی ، فیاکل معهم من طعامهم ، و یشرب معهم من شرابهم ، و یتحدّث معهم فی مجالسهم ،حتی یقوم قائمنا اهل البیت ، فاذا قام قائمنا بعثهم اللّه فاقبلوا یُلبّون زمَراً زمراً“

”پھر وہ مومن جنت رضوی میں آل محمد کی زیارت کرتا ،کھاتا پیتا اور ان کے ساتھ ان کی مجالس میں بیٹھ کر ان حضرات سے گفتگو کرتا رہے گایہاں تک کہ ہم اہل بیت کا قائم ظہور کرے گا اور جب وہ ظہور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان مومنین کو دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں بھیجے گا پس وہ گروہ درگروہ لبیک کہتے ہوئے ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے“ ۔(۱)

پہلی اور دوسری حدیث سے رضوی پہاڑ کی فضیلت و قداست کا استفادہ ہوتا ہے۔

تیسری حدیث صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ ،غیبت صغریٰ اور کبریٰ میں اپنی مبارک عمر کا ایک حصّہ کوہ رضویٰ میں بسر کریں گے ۔

چوتھی حدیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ وہ عالمی مصلح ظہور کے موقع پر بھی رضویٰ پہاڑ سے گزریں گے اور وہاں سے مکہ معظمہ کی طرف جانے کا قصد کریںگے ۔

_____________________

۱۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ، ج۶،ص ۱۹۸، ج۵۳،ص۹۷۔


پانچویں حدیث سے بھی استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت کے بعض اصحاب اس پہاڑ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تاکہ حضرت کے ظہور کے وقت رجعت کریں اور حضرت کی خدمت کے لیے کمربستہ ہوں اور ان کے تمام فرمان کو ہوبہ ہو نافذ کریں۔

۲ ۔ ”ذی طُویٰ“

”طوی“ لغت میں سمٹنے اور لپٹنے کے ہیں اور اس کے بعض مشتقات جیسے ”طایہ“ ہموار سر زمین، چھت، چبوترہ اور وہ بڑے بڑے پتھر جو وسیع ریگ زاروں میں پائے جاتے ہیں ان پر اطلاق ہوتا ہے ۔(۱)

”ذی طوی“ مکہ کے ایک فرسخ کے درمیان ،حرم کے اندر واقع ہے اور وہاں سے مکہ کے گھروں کا مشاہدہ ہوتا ہے ۔(۲)

جو شخص یہ چاہتا ہے ”مَسفَلَہ “ (مکہ کی نیچی سطح) کی طرف سے مکہ معظمہ میں وارد ہو ،مستحب ہے کی ”ذی طوی “ کہ جگہ غسل کرے پھر شہر مکہ میں وارد ہو۔(۳)

یہ علاقہ ”حجون “اور ”فخّ“ کے درمیان واقع ہے ۔جو شخص مسجد تنعیم میں احرام باندھ کر مسجد الحرام کی طرف جانے کا قصد کرتا ہے ،علاقہ فخّ (شہید فخ

____________________

۱۔ معجم مقاییس اللغة ،ج۳،ص ۴۳۰۔

۲۔ مجمع البحرین ،فخر الدین الطریحی،ج۱،ص ۲۷۹۔

۳۔ النھایہ فی غریب الحدیث و الاثر،المبارک بن محمد ابن الاثیر ، ج۳،ص ۱۴۷۔


حسین کی شہادت کی جگہ ) کو عبور کرنے کے بعد ”ذی طوی “ کے مقام میں وارد ہوتا ہے، اس وقت قبرستان معلّیٰ (قبرستان حضرت ابو طالب علیہ السلام) کی طرف سے مکہ معظمہ میں وارد ہوتا ہے ۔(۱)

رسول اکرم نے ”حجة الوداع “ میں چوتھی ذی الحجة الحرام کو وہاں رات گزاری، وہاں نماز صبح ادا کی ،غسل کیا پھر ”ذی طوی“ کی سنگلاخ وادی سے جو حجون کے نزدیک ہے مکہ معظمہ میں وارد ہوئے ۔(۲)

”طوی“شام میں ایک پہاڑ کا نام ہے ”ذی طُوا“ الف ممدودہ کے ساتھ طائف کے راستہ میں ایک مقام ہے اور ”ذی طوی“ الف مقصورہ کے ساتھ مکہ کے مغربی علاقہ میں ایک جگہ کا نام ہے اور اس کے صدر دروازہ میں واقع ہے ۔(۳)

اب ”ذی طوی“ کے متعلق بعض روایات ملاحظہ فرمائیں:

۱ ۔ امام جعفر صادق سے دریافت کیا گیا: جس شخص نے عمرہ مفردہ کے لیے احرام باندھا اسے تلبیہ کو کہاں قطع کرنا چاہیے ؟فرمایا:

”اذا رایتَ بیوت ذی طوی فاقطع التلبیة“

”جب ذی طوی کے گھروں کا مشاہدہ کرو تو تلبیہ کو قطع کرو“۔(۴)

______________________

۱۔ اخبار مکہ ،ابو الولید محمد بن عبد اللہ الازرقی ،ج۲،ص ۲۹۷۔

۲۔ مرآة الحرمین ،پاشا ابراہیم رفعت ،ج۱،ص ۸۱۔

۳۔ لسان العرب ،ابن منظور ،ج۸،ص۲۳۸۔

۴۔ الاستبصار ،شیخ طوسی ،ج۲،ص۱۷۶۔


۲ ۔ امام رضا سے دریافت کیا گیا کہ عمرہ تمتع میں تلبیہ کو کہاں قطع کرنا چاہیے ؟ فرمایا:

”اذا نظر الی عراش مکّة ،عَقَبةَ ذی طوی “

”جب مکہ کے سائبانوں کو ذی طوی کے ابتدائی حصے میں مشاہدہ کرو“۔

راوی نے دریافت کیا:”مکہ کے گھروں کے متعلق فرمارہے ہیں؟“ جواب دیا: ہاں۔(۱)

۳ ۔ امام جعفر صادق نے رسول اکرم کے حج کی کیفیت کی وضاحت میں فرمایا:

”فلمّا دخل مکة دخل من اعلاها من العقبة ،و خرج حین خرج من ذی طوی “

”جب مکہ میں داخل ہوئے تو مکہ کی بالائی جگہ کے ابتدائی حصہ سے وارد ہوئے اور جب مکہ سے باہر نکلے تو ذی طوی سے نکلے ۔“(۲)

۴ ۔ امام جعفر صادق نے ،خانہ کعبہ کی ساخت و ساز کی وضاحت کے وقت فرمایا:

”فبنی ابراهیم البیت و نقل اسماعیل الحجر من ذی طوی“

____________________

۱۔ تہذیب الاحکام ، شیخ طوسی ،ج۵،ص ۹۵۔

۲۔ الکافی ،محمد بن یعقوب الکلینی ،ج۴،ص ۲۵۰۔


”حضرت ابراہیم نے خانہ خدا کی تعمیر کی اور حضرت اسماعیل نے ذی طوی سے پتھر لا کر دیے“ ۔(۱)

۵ ۔ امام محمد باقر نے اپنے دست مبارک سے ”ذی طوی“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

”یکون لصاحب هذا الامر غیبة فی بعض هذه الشّعاب“

”اس صاحب الامر کے لیے ان بعض درّوں میں غیبت واقع ہوگی ۔“(۲)

۶ ۔ امام محمد باقر حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے ظہور کی جگہ کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

”انّ القائم علیه السلام ینتظر من یومه فی ذی طوی ،فی عدّة اهل بدر، ثلاثماة عشر رجلاً حتی یسند ظهره الی الحجر و یهزّ الرایة المعلّقة“

”اس دن سے حضرت قائم اپنے تین سو تیرہ (اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق ) اصحاب کے ساتھ مقام ذی طوی میں انتظار کریں گے پھر حجر اسود کی طرف اپنی پشت کر کے کھڑے ہوں گے اور اپنا پرچم لہرائیں گے ۔“(۳)

____________________

۱۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۱۲،ص۹۹، ج۹۹، ص۳۸۔

۲۔ تفسیر عیاشی ،محمد مسعود بن عیاش سلمی سمرقندی (عیاشی) ،ج۲،ص ۵۶۔

۳۔ اثبات الھداة ،محمد بن حسن حر عاملی ،ج۳،ص ۵۸۲۔


۷ ۔ امام جعفر صادق بھی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

”کانّی بالقائم علیه السلام علی ذی طوی ،قائما علی رجلیه حافیا یرتقب بسنّة موسیٰ حتی یاتی المقام فیدعو فیه“

”گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ امام قائم مقام ذی طوی سے پا پیادہ حضرت موسیٰ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آرہے ہیں اور جب مقام (ابراہیم ) پر پہونچیں گے تو وہاں لوگوں کو دعوت دیں گے ۔ “(۱)

۸ ۔ امام محمد باقر ظہور کے عظیم الشان دن کو یوں بیان فرماتے ہیں :

”انّ القائم یهبط من ثنیّة ذی طوی ،فی عدّة اهل بدر، ثلاثمائة و ثلا ثة عشر رجلاً، حتی یسند ظهره الی الحجر الاسود، یهزّ الرّایة الغالبة“

”یقینا حضرت قائم ”ذی طوی“ کے ٹیلوں سے اپنے تین سو تیرہ اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق ان کے ساتھ نازل ہوں گے پھر حجر اسود کی طرف اپنی پشت کر کے کھڑے ہوں گے اور اپنا پرچم لہرائیں گے ۔(۲)

۹ ۔ دوسری حدیث میں شہادت نفس زکیہ کی وضاحت فرمائی اس مصلح غیبی کے عالمی قیام کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

_____________________

۱۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ، ج۵۲،ص ۳۸۵۔

۲۔ کتاب الغیبة ، ابن ابی زینب نعمانی ،ص۳۱۵۔


”فیهبط من عقبة طوی فی ثلاثمائة و ثلاثة عشر رجلاً ، عدّة اهل بدر،حتی یاتی المسجد الحرام ،فیصلّی فیه عند مقام ابراهیم اربع رکعات “

”پھر آپ اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق تین سو تیرہ افراد کو لے کر عقبہ طوی سے اتر کر مسجد الحرام میں تشریف لائیں گے اور مقام ابراہیم پر چار رکعت نماز پڑھیں گے “ ۔(۱)

پانچویں حدیث سے نویں حدیث تک کی تحقیق کے بعد کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ ”ذی طوی“ کے علاقے کا حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور حضرت اپنی غیبت کے کچھ زمانے تک وہاں زندگی بسر کریں گے اور ظہور کے وقت اس مقدس مکان میں حکم الٰہی کے منتظر رہیں گے اور وہاں اپنے ملک اور فوج کے ۳۱۳ افراد کو ترتیب دیں گے اور اپنے آخری قیام کو اسی مقام سے شروع کریں گے اور حرم امن الٰہی کی طرف قدم بڑھائیں گے ۔

ہر با انصاف شخص جو”رضویٰ“ اور ”ذی طوی“ سے متعلق حدیثوں کی تحقیق کرے، تو اسے اطمینان کامل حاصل ہو جائے گا کہ یہ دونوں مقدس مکان ایک مقدس مقامات میں سے ہیں کہ کعبہ مقصود او رقبلہ موعود کی عمر مبارک کے زمانہ غیبت کا ایک حصہ اس جگہ بسر ہو گااور نتیجہ میں بہت بجا اور مناسب ہے کہ منتظرین

____________________

۱۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۵۲، ص۳۰۷۔


ظہور اور عاشقین حضور حضرت نظروں سے غائب رہنے والے اس امام کی خدمت میں اپنی اشکبار آنکھوں سے نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس کا طولانی انتظار کرتے ہوئے عرض کریں:

اے کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تیری جائے سکونت کس سر زمین میں ہے؟! کیا مقام رضوی ہے یا مقام ذی طوی یا دوسری جگہ ۔

اس بیان کی بنا پر دعائے ندبہ کا یہ فقرہ جو امام صادق سے معتبر سند کے ساتھ صادر ہوا ہے کیسانیہ کے عقائد سے اس کا کوئی ربط نہیں پایا جاتا بلکہ دقیق طور پر شیعوں کے اعتقادات کے مطابق ہے اور ہم ائمہ معصومین علیہم السلام کے نورانی کلمات کی روشنی میں اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت بقیةاللہ ارواحنا فداہ زمانہ غیبت میں کبھی مکہ معظمہ ،کبھی مدینہ منورہ ،کبھی کوہ رضوی ، کبھی ذی طوی کے صحرا میں ،کبھی دور دراز سر زمینوں میں ،کبھی بیت الحرام وغیرہ میں تشریف فرماہوتے ہیں اور دعائے ندبہ کا مزکورہ فقرہ بطور دقیق اس عقیدہ سے ساز گار ہے اور کیسانیہ کے عقائد کے ساتھ کسی صورت میں سازگار نہیں ہے ۔اور اب ہم دعائے ندبہ کی کیسانیہ کے عقائد سے ناسازگاری کے دلائل کو فہرست وار نقل کر رہے ہیں:

۱ ۔ دعائے ندبہ میں سر زمین ”ذی طوی“ بھی ”رضو ی“ کے ساتھ ذکر ہوئی ہے ،جب کہ فرقہ کیسانیہ کا کوئی بھی شخص محمد حنفیہ کے قیام گاہ کا سر زمین ذی طوی میں معتقد نہیں ہے ۔

۲ ۔ دعائے ندبہ میں ،ان دونوں مقامات کے ساتھ ”اوغیرھا“ یا ”دوسری جگہ“ ،ذکر ہوا ہے جب کہ کیسانیہ فرقے والے افراد محمد حنفیہ کی قیام گاہ ”کوی رضوی“ کے معتقد ہیں اور وہ کسی دوسری جگہ کا عقیدہ نہیں رکھتے ۔

۳ ۔ دعائے ندبہ کے اس فقرہ کے بعد یہ جملہ نقل ہوا ہے :

”بنفسی انت من مغیّب لم یخل منّا “

”میری جان قربان! تو ایسا غائب ہے جو کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوا۔“

جب کہ فرقہ کیسانیہ میں سے کسی بھی شخص نے محمد حنفیہ کے سلسلے میں اس قسم کے عقیدہ کا اظہار نہیں کیا ہے ۔

۴ ۔ دعائے ندبہ میں امام غائب کے متعلق نقل ہوا ہے :

”این ابن النّبیّ المصطفیٰ ؟

”رسول مصطفی ٰ کا فرزند کہاں ہے ؟“

جب کہ محمد حنفیہ رسول اکرم کی نسل سے نہیں ہیں۔


۵ ۔ دعائے ندبہ میں حضرت مہدی کے متعلق ذکر ہوا ہے :

”و ابن خدیجة الغرّاء“

”اور خدیجہ کا نور نظر “

جب کہ جناب محمد حنفیہ حضرت خدیجہ علیہا السلام کے خاندان میں سے نہیں ہیں ۔

۶ ۔ مزید اس کے بعد نقل ہوا ہے :

”و ابن فاطمة الکبریٰ “

”اور فاطمہ کبریٰ کا لخت جگر ۔“

جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ محمد حنفیہ ”خَوْلہ“ کے فرزند ہیں نہ حضرت فاطمہ زہرا کے۔

۷ ۔ دعائے ندبہ میں دسیوں روشن تعبیر کے ساتھ جیسے ”یابن الحجج البالغة “ ”اے کامل حجتوں کے فرزند“ لوگوں کی نظروں سے امام غائب ،ائمہ اطہار علیہم السلام کی نسل سے مخاطب کیا ہے ،جب کہ محمد حنفیہ ایک امام کے فرزند ہیں نہ کہ اماموں کے فرزند ہیں ،ایک حجت کے فرزند ہیں نہ کہ مختلف حجتوں کے ۔

۸ ۔ دعائے ندبہ میں مکمل یقین اور صریحی تعبیر کے ساتھ امام غائب کو رسول اسلام کی نسل سے متعارف کرایا گیا ہے اور یہ ذکر ہوا ہے :

”هل الیک یابن احمد سبیل فتلقی “

”کیا فرزند رسول کوئی راستہ ہے جو تیری منزل تک پہنچا سکے؟ “

اس بیان کی بنا پر دعائے ندبہ کے تمام فقرات ،کیسانیہ کے اعتقادات کو درہم برہم کرتے ہیں اور کسی بھی صورت میں ذرہ برابر ان کے عقائد سے سازگار نہیں ہیں۔ اور یہ کہ ”ابِرضوی “ کی تعبیر اس مبارک دعا میں ذکر ہوئی ہے وہ اس جہت سے ہے کہ کوہ رضوی حضرت کی زمانہ غیبت میں دسیوں قیام گاہوں میں سے ایک ہے ۔ اور عقائد کیسانیہ کے ساتھ موافقت کے معنی میں نہیں ہے ۔


دوسری تعبیر میں : دعائے ندبہ کیسانیہ عقائد سے نشاة نہیں پائی ہے بلکہ ”عقائدِ کیسانیہ “ کو مہدویت (حضرت مہدی ) کے متعلقہ مسائل پر محمد حنفیہ کے سلسلے میں بے جا تطبیق دیا ہے ۔ لہٰذا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیسانیہ کے تمام عقائد، شیعہ عقائد سے ناقص طور پر نسخہ برداری ہے ،مثلاً کیسانیہ کہتے ہیں:

۱ ۔ محمد حنفیہ مکہ معظمہ سے ظاہر ہوں گے۔(۱)

۲ ۔ حجر اسود کے گوشے سے قیام کریں گے۔(۲)

۳ ۔ اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق ۳۱۳ افراد ان کی بیعت کریں گے۔(۳)

۴ ۔جو فرشتے بدر میں حاضر تھے ان کی مدد کے لیے تیزی سے پہنچیں گے۔(۴)

۵ ۔ ان کے ذریعہ شہر مکہ کو مسخّر کریں گے ۔(۵)

۶ ۔ محمد حنفیہ پیغمبر اکرم کے ہم نام اور ہم کنیت ہوں گے ۔(۶)

۷ ۔ پیغمبر کی شمشیر ان کے ہاتھ میں ہوگی ۔(۷)

۸ ۔ چالیس اصحاب ان کے ہمراہ ہیں ۔(۸)

____________________

۱۔ المقالات و الفرق، سعد بن عبد اللہ الاشعری ،ص۳۱۔ ۲۔ گزشتہ حوالہ ۔

۳۔ اصول النحل ،اکبر الناشی ء، ص۲۷۔

۴۔ اصول النحل ،اکبر الناشیء، ص۲۷۔

۵۔ المقالات و الفرق،اشعری ، سعد بن عبد اللہ ص۳۱۔

۶۔ تذکرة الخواص ،سبط ابن جوزی ،ص۲۶۳۔

۷۔ الطبقات الکبری ، محمد ابن سعد، ج۵،ص۱۱۲۔

۸۔ وفیات الاعیان ،شمس الدین احمد ابن محمد ابن خلّکان ،ج۴،ص ۱۷۳۔


۹ ۔ وہ حضرت سلیمان اور ذوالقرنین کی طرح تمام زمین پر حکومت کریں گے ۔(۱)

۱۰ ۔ وہ رحلت نہیں کیے ہیں اور نہ رحلت کریں گے یہاں تک کہ ظہور کریں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔(۲)

یہ سب دقیق طور پر شیعہ اثنا عشری کے عقائد ہیں وہ محکم دلائل ، معتبر روایات ، رسول اکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے مستند حدیثوں کے ذریعہ کعبہ مقصود اور قبلہ موعود حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے متعلق معتقد ہیں ۔

اس بیان کی بنا پر دعائے ندبہ عقائد کیسانیہ سے نشاة نہیں پائی ہے بلکہ کیسانیہ شیعوں کے اعتقادات کے معتقد ہیں اورانہوں نے امام منتظر کو اپنے خیالی امام (جناب محمد حنفیہ ) پر تطبیق کیا ہے ۔

کیسانیہ اور ان کے عقائد کی رد میں بعض بزرگ قدیم علماء نے کتابیں تحریر کی ہیں جیسے :

۱ ۔ شیخ صدوق (متوفیٰ ۳۸۱ ھئق) نے کمال الدین و تمام النعمة میں ۔

۲ ۔ شیخ مفید (متوفیٰ ۴۱۳ ھئق) نے العیون و المحاسن میں ۔

_____________________

۱۔ المقالات و الفرق ،سعد بن عبد اللہ الاشعری ،ص۳۱۔

۲۔ البدء و التاریخ ،مطھّر ابن طاہر المقدسی ،ج۵،ص ۱۲۸۔

۳۔ سید مرتضیٰ علم الہدی (متوفیٰ ۴۳۶ھئق) نے الفصول المختارہ میں ۔

۴۔ شیخ طوسی (متوفی ۴۶۰ھئق) نے کتاب الغیبة میں ۔


اور دسیوں عالم تشیع کی ممتاز شخصیتوں نے مختلف زمانے اور صدیوں کے دوران تفصیلی گفتگو کی ہے اور دوسری صدی ہجری کے اواخر میں ان کے تمام فرقے ختم ہو گئے اور ایک ہزار سال سے زائد ہو چکا ہے کہ ایک شخص بھی آسمان کے نیچے ان کا عقیدہ رکھنے والا نہیں پایا جاتا ہے ،لہذا اب اس سلسلہ میں ہمیں بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اور یہ کہ ہم نے اس کے متعلق نسبتاً بحث کو طولانی کر دیا تو اس کی دو جہت تھی:

۱ ۔ ابھی آخر میں کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں جو ائمہ علیہم معصومین السلام کی اولاد کے متعلق غلط پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ،تاکہ اس طرح معصومین علیہم السلام کے بلند مقام کو کم کریں ۔ اس گروہ نے زید شہید کے بعد اپنی شمشیر کی تیز دھار کا رخ جناب محمد حنفیہ کی طرف کر دیا ہے ،تاکہ انہیں اپنے خیالِ خام میں امامت کا دعوے دار متعارف کرائیں۔

گزشتہ مطالب کی تحقیق سے بھی اس نتیجہ تک پہونچیں گے کہ کیسانیہ فرقہ کا معاملہ جناب محمد حنفیہ سے جدا کرنا چاہیے اور ہم حضرت امیر المومنین کے اس فرزند کی پاکیزگی ِ نفس اور شائستگی میں کسی قسم کے شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔

۲ ۔ تیس سال قبل بیمار دل افراد کے ایک گروہ کو دعائے ندبہ کی باعظمت مجالس، جمعہ کے دنوں میں بر قرار کرنے سے نہایت تکلیف پہنچی اور پہنچ رہی ہے نیز ان کی یہ کوشش ہے کہ انتظار کرنے والوں کے دلوں میں شک و شبہ ایجاد کریں اور عاشق شیعوں کی متحد صفوں میں رخنہ اندازی کریں ۔

کبھی یہی گروہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ دعائے ندبہ کی سند کا انکار کرے اور کبھی ان کی سعی یہ ہوتی ہے کہ دعائے ندبہ کے فقرات کو شیعہ عقائد کے برخلاف شمار کریں۔

ان وجوہات کی بنا پر جناب محمد حنفیہ اور عقائد کیسانیہ کے متعلق تفصیلی گفتگو کی ۔

مولفین میں سے ایک شخص کا اصرار اس بات پر ہے کہ دعائے ندبہ ”کیسانیہ “ عقائد سے نشاة پائی ہے وہ اپنے آخری کلام میں کہتا ہے : ”دعائے ندبہ کے متن کے دقیق مطالعہ سے کہ جس میں ہمارے ائمہ علیہم السلام کے نام کی ترتیب و تصریح نہیں ہوئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت امیر علیہ السلام کے تفصیلی فضائل و مناقب کے بعد فوراً اور بغیر واسطہ کے امام غائب کو خطاب کرتے ہیں ،اور یہی سوال بار بار ذہن میں آتا ہے ۔ “(۱)

دعائے ندبہ کے متن کے بعض فقرات پر ایک مختصر نگاہ کرتے ہوئے مذکورہ کلام کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے روشنی ڈالتے ہیں، دعائے ندبہ کے فقرات میں ہم پڑھتے ہیں:

____________________

۱۔ انتظار مذہب اعتراض، علی شریعتی، ص ۱۴۔


۱ این الحسن این الحسین ؟

”کہاں ہیں حسن اور کہاں ہیں حسین علیہما السلام ؟“

۲ این ابناء الحسین ؟

”کہاں ہیں اولاد حسین علیہم السلام ۔ “

۳ صالح بعد صالح

”نیک کردار کے بعد نیک کردار “

۴ وصادق بعد صادق ؟

”اور صادق کے بعد صادق کہاں ہیں؟ “

۵ این السبیل بعد السبیل ؟

”را ہ ہدایت کے بعد دوسرا راہ ہدایت کہاں ہے ؟ “

۶ این الخیرة بعد الخیرة ؟

”ایک منتخب کے بعد دوسرا منتخب ِروزگار کہاں ہے ؟ “

۷ این الشموس الطّالعة ؟

”کہاں ہیں طلوع کرتے ہوئے آفتاب؟“

۸ این الاقمار المنیرة ؟

”کہاں ہیں چمکتے ہوئے ماہتاب ؟ “

۹ این الانجم الزاهرة ؟

”کہاں ہیں روشن ستارے؟“


۱۰ این اعلام الدین و قواعد العلم ؟

”کہاں ہیں دین کے لہراتے ہوئے پرچم اور علم کے مستحکم ستون ؟ “

یہ نورانی جملے صراحت کے ساتھ یہ ثابت کرتے ہیں کہ مکتب دعائے ندبہ کی نورانی ثقافت میں یہ بے مثال نغمے ، شیعہ دستور اور معارف حقّہ کے مطابق ہیں ،امام حسین کے بعد ائمہ نور سچے پیشوا ہیں جنہوں نے یکے بعد دیگرے اپنے تابناک انوار مقدسہ سے جہان ہستی کو معرفت کے صاف و شفاف چشمہ سے سیراب کیا،وادی ضلالت کے گم گشتہ راہ افراد کو گمراہی سے نجات دے کر شاہراہ ِ ہدایت اور اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائی۔

وہ صفات جو ان مذکورہ دس فقرات میں ائمہ نور علیہم السلام کے لیے بیان ہوئے ہیں وہ بہ ترتیب مندرجہ ذیل ہیں:

۱ ۔ امام حسین کی اولاد ہیں ۔

۲ ۔ امت کے نیک افراد ہیں ۔

۳ ۔ سچے لوگ ہیں ۔

۴ ۔ اللہ تعالیٰ کے برحق راستے ہیں ۔

۵ ۔ منتخب بندے ہیں ۔

۶ ۔ روشن آفتاب ہیں ۔

۷ ۔ تابناک ماہتاب ہیں ۔

۸ ۔درخشاں ستارے ہیں۔

۹ ۔دین کی روشن قندیلیں ہیں ۔

۱۰ ۔ علم کے مستحکم ستون ہیں ۔


کیا انصاف سے دور اور تحقیق سے خالی یہ بات نہیں ہے کہ اگر کوئی یہ کہے : دعائے ندبہ میں حضرت امیر علیہ السلام کے بعد دوسرے اماموں کا نام نہیں لیا گیا ہے لہذا یہ دعا کیسانیہ عقائد سے ساز گار ہے اور شیعہ اعتقادات کے موافق نہیں ہے ؟!

جیسا کہ آپ سب نے ملاحظہ فرمایا دعائے ندبہ میں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے نام کے بعد دس فقرے ذکر ہوئے ہیں کہ ان کے ضمن میں ائمہ نور علیہم السلام کی دس صفتیں بیان ہوئی ہیں ،پھر پروردگار کی آخری حجت جو ذخیرہ الٰہی ، حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ ہیں ان کے متعلق اوصاف بیان ہوئے ہیں مزید فرماتے ہیں :

این بقیة اللّٰه التی لا تخلو من العترة الهادیة(۱)

”کہاں ہے وہ بقیة اللہ جس سے ہدایت کرنے والی عترتِ پیغمبر دنیا سے خالی نہیں ہو سکتی ۔ “

پھر اس وقت حضرت کے ظہور موفور السرور اور قبلہ موعود کے بعض حیات بخش پروگرام کی تعداد کو بیان کرتے ہیں اور حضرت کو خطاب کر کے کہتے ہیں:

یابن السادة المقرّبین ،یابن النُّجباء الاکرمینَ(۲)

______________________

۱۔ مصباح الزائر ،سید علی ابن موسیٰ ابن طاووس ،ص۴۴۹۔

۲۔ مصباح الزائر ،سید علی ابن موسیٰ ابن طاووس ،ص۴۴۹۔


”اے مقرب سرداروں کے فرزند! اے مکرّم اشراف کے فرزند!“ ۔

اگر ”فی الهادین بعد الهادین “کے بعد کے فقرات کو ”یابن النّعم السابغات “ کے جملہ تک جو امام حسین کے بعد والے ائمہ علیہم السلام سے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ تک کے لیے استعمال ہوا ہے انہیں شمار کریں ان جملوں میں ائمہ نور علیہم السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے تیس اوصاف بیان ہوئے ہیں ۔

کیا تیس جملے آٹھ اماموں (امام زین العابدین سے امام حسن عسکری تک ) کے لیے کافی نہیں ہیں جو یہ ثابت کریں کہ دعائے ندبہ میں ان کا ذکر ہوا ہے اور اچانک بغیر واسطہ کے امام غائب کو نہیں بیان کیا ہے ۔


۳ ۔ کیا دعائے ندبہ نشہ آور حالت کی حامل ہے؟

اسلام کے سخت ترین دشمن کہتے ہیں:”دعا ئے ندبہ نشہ آور حالت کی حامل ہے! وہ لوگ کہتے ہیں:

اسلام مسلمانوں کو ہر شبِ جمعہ میں مجالسِ دعائے کمیل اور جمعہ کے دنوں میں مجالس دعائے ندبہ میں مشغول رکھتا ہے تاکہ ایک مجلس میں جمع ہو کر ”یابن الحسن “ کہیں اپنا سر و سینہ پیٹیں اور وہ اس بات کی طرف متوجہ نہ ہوں کہ ان کے متعلق دنیا میں کیسے حالات گزر رہے ہیں۔

یہ ناروا تہمتیں مارکیسزم ( MARXISM ) کی طرف سے گڑھی گئی ہیں اور ان کے مکتب فکر کے فریب کھانے والوں نے آسمانی ادیان کے ماننے والوں کے درمیان پھیلائیں۔

کارل مارکس ( CARL MARXS ) نے اپنے مشہور جملے:”دین اقوام عالم کے لیے تریاک (نشہ آور شے) ہے “کو منتشر کر کے تمام الٰہی ادیان کو مورد سوال قرار دیا ۔ وہ کہتا تھا:” تمام ادیان طاقت وروں کے خدمت گزار ہیں ، اور لوگوں کو نصیحت کرتا ہے کہ اسلامی محکمہ کے مقابل تسلیم نہ ہوں ،اور کبھی بھی ان کی نافرمانی اور مخالفت کے در پے نہ ہوں۔اور اگر ان کی طرف سے مشکل میں گرفتار ہوں تو صبر و ضبط سے کام لیں تاکہ اخروی ثواب مل سکے ۔ “

اگر یہ تعبیر کلیسا ( CHURCH ) کے متعلق اور صاحبان کلیسا کی تعلیمات کے لیے کہی گئی ہوتی تو وہ وجود خارجی رکھتی اس لیے کہ تحریف شدہ انجیلوں میں نقل ہوا ہے :

”شریر شخص کے مقابل میں صلابت و مقاومت اور پائداری نہ اختیار کرو بلکہ اگر کوئی شخص تمہارے داہنے رخسار پر طمانچہ مارے تو دوسرے رخسار کو بھی اس کی طرف پھیر دو۔ اور اگر کوئی شخص تم سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے اور تمہاری قبا کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو اپنی عبا کو بھی اس کے حوالے کردو۔ اور اگر کوئی شخص تم کو ایک میل لے جانے پر مجبور کرے تو تم دو میل اس کے ہمراہ جاؤ۔“(۱)

______________________

۱۔ کتاب مقدس، انجیل متّی ،باب۴، بندنمبر ۳۹۔۴۱۔


لیکن ان تہمتوں سے اسلام کی جنگی بہادری کی روح اور اصول کی طرف توجہ کے بعد اسلام کے روشن چہرے کو مورد سوال نہیں قرار دیا جا سکتا۔ وہ اسلام جس نے خدا کی راہ میں جہاد کو اپنے ایک اصلی فرائض میں سے قرار دیا، میدان کارزار سے فرار کرنے کو بڑے گناہوں میں شمار کیا جو افراد ہجرت کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود ہجرت اختیار نہ کرتے ہوئے ظالموں کے ماتحت زندگی بسر کر کے ظلم کا نشانہ قرار پائے ان سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے۔(۱) اور جو شخص اپنے مال سے دفاع کرنے کی راہ میں قتل ہو جائے اسے شہید جانا ہے اور اعلان کر رہا ہے :”من قتل دون ماله فهو شهید(۲) ( جو شخص اپنے مال کے دفاع میں قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے ) ایسا دین ہرگز تریاک جیسی تہمت سے متہم نہیں ہو سکتا۔

قرآن کریم میں جہاد کی آیات کے پیش نظر خطبات رسول اکرم ،خطبات امیر المومنین ،خطبات امام حسین اور دوسرے ائمہ معصومین کے گہر بار اور انمول کلمات میں نمایاں نکات نظر آئیں گے دشمن سے جہاد کرنے کے متعلق شہید ہونے کا ثواب جہاد کی خلاف ورزی اور میدان جنگ سے فرار کرنے کا عذاب بھی مدّنظر قرار دیتے ہوئے جو شخص بھی اسلام کے مقدس قانون کو ”اقوام کے لیے تریاک ہونے سے“ متہم کرے وہ خود ذلیل و رسوا ہو گااور وہ کبھی بھی اسلام کے درخشاں چہرے کو مورد

____________________

۱۔ سورہ نساء ،(۴) ،آیت۹۷۔

۲۔ عیون اخبار الرضا، محمد ابن علی ابن الحسین الصدوق(شیخ صدوق) ،ج۲،ص۱۲۲۔


سوال نہیں قرار دے سکتا۔

لیکن دعائے ندبہ کے متعلق جو ایک مشہور ترین ، شجاعت آفرین اور ولولہ انگیز ترین اسلامی دعاؤں میں سے ہے ،ایسی ناروا تہمت کبھی بھی کار گر نہیں ہو سکتی۔

اس دعا میں ایک قابل توجہ تحقیق اور طولانی بحث کے بعد جنگ بدر،حنین ،خیبر، جمل ،صفین اور نہروان کے نتائج سامنے آتے ہیں وہ خاند ان عصمت و طہارت کے مظلوموں کی مدد کرنے والے کو بیان کرتے ہوئے فریاد کرتے ہیں:

ظلم و استبداد کے قصروں کو ویران کرنے والا کہاں ہے؟

فسق و معصیت اور سرکشی کرنے والوں کو تباہ کرنے والا کہاں ہے؟

پھر کلمہ ”این “ ”کہاں ہے ؟“کی ۳۸ مرتبہ تکرار ہوئی ہے اور ۳۸ فقروں میں سے ایک ایک فقرہ میں طول تاریخ میں ناحق بہائے گئے خون کا انتقام لینے والے کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔

یہ کتنی جواں مردی اور انصاف سے دور کی بات ہے کہ اس دعا کو اس کے مشہور اور شجاعت آفرین مضامین کے باوجود اسے نشہ آور اور لوگوں کے لیے تریاک سے متعارف کرائیں!

کتنا مناسب اور بہتر ہے کہ شب جمعہ دعائے کمیل سے مخصوص اور جمعہ کی صبح دعائے ندبہ سے کہ شب جمعہ ،شب رحمت ،شب استغفار ،شب انابہ و توبہ ہے۔ اور دعائے کمیل کے بہترین مناجات و استغفار کے الفاظ جو دل کے سیاہ نقطہ اور اصلاح طلب روح انسان کی گہرائیوں کی عکاسی کرتے ہیں،اور جمعہ کا دن جو روز موعود ،روز انتظار ، تمام منتظرین کی آمادگی کا دن اور عاشقین کو دعوت دینے کا بھی دن ہے صاف و شفّاف تعبیروں میں کہا جائے : ولولہ خیز ،آگاہی بخش ،حرکت آفرین ،الہام بخش اور بہترین سیاسی و اعتقادی نکات سے آغاز ہوا اور پورے دن کے لمحات لحظہ بہ لحظہ تحرّک و نشاط سے نشاة پائے ہیں وہ اسی دعائے پُر فیض کی برکت میں مزید اضافہ کا باعث ہوتے ہیں۔


۴ ۔ کیا دعائے ندبہ بدعت ہے؟

معترض کہتا ہے: دعائے ندبہ بدعت ہے ،اس لیے کہ بدعت ان اعمال اور عقائد کو کہا جاتا ہے جو اسلام میں نہیں تھے ،زمانہ پیغمبر اور ائمہ کے بعد پیدا ہوئے ہوں اور انہیں ان کی طرف منسوب کیا جائے ،جیسے یہی دعائے ندبہ جو رسول اکرم اور ائمہ ہدیٰ علیہم السلام کے زمانہ میں نہیں تھی ،اور کسی بھی شخص نے اس زمانے میں اس دعا کو نہیں پڑھا اور کسی بھی منبع میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے ۔

بدعت کا معنی ایک چیز کا دینی احکام میں داخل کرنا جو پیغمبر اکرم اور ائمہ ہدیٰ علیہم السلام سے خصوصی طور پر اس چیز کے متعلق کوئی حکم بیان نہ ہوا ہو اور عمومات میں بھی وہ شامل نہ ہوں۔

بعض منحرف جماعتوں نے بدعت کے معنی کو بہت وسیع کر دیا ہے اور بہت سے سنت کے مصادیق کو بدعت کا نام دے دیا ہے ،جیسے وہابیوں نے زیارت اہل قبور ، عزیزوں کے سوگ میں گریہ کرنا، قبر کی تعمیر ، اولیائے الٰہی کی قبروں کی بارگاہ کے اوپر گنبد بنانا، مجالس عزا برپا کرنا اور اس طرح کے دوسرے امور کو بدعت شمار کیا ہے جب کہ ان میں سے ہر ایک معتبر دلائل اور مورد اعتماد اسناد کے ساتھ خود رسول اکرم سے ہمیں ملے ہیں اور عمومات شرعی میں بھی وہ شامل ہیں اس سلسلے میں مربوطہ کتابوں میں تفصیلی بحث موجود ہے ۔

لیکن دعائے ندبہ کے متعلق :سب سے پہلے یہ کہ: بالخصوص یہ امام معصوم سے صادر ہوئی ہے جیسا کہ ہم نے کتاب کے دوسرے حصے میں تفصیلی گفتگو کی ۔

دوسرے یہ کہ: اگر کوئی خاص دلیل بھی ہمارے پاس نہ ہوتی تو وہ عمومات میں شامل ہوتی اس لیے کہ اس دعا کا متن حمدوثنائے الٰہی ، رسول اکرم اور اہل بیت عصمت و طہارت پردرود و سلام نیز ذکر فضائل و مناقب اہل بیت علیہم السلام پر مشتمل ہے جو سب کچھ شریعت مقدسہ کی نظر میں مطلوب ہے اور ہمارے پاس اور بھی بہت سے عمومات ہیں کہ ان کا ہمیں حکم دیا ہے اور اسے سب کو انجام دینے کا شوق و جذبہ فراہم کیا ہے ۔


تیسرے یہ کہ: اگر بالفرض کوئی شخص اس متن کو اس کے ذاتی خصوصیات کے ساتھ اسے انشاء کرتا پھر بھی اس میں کوئی اعتراض نہیں تھا، کیونکہ خطبہ کا انشاء کرنا، قصیدہ ،دعا،مناجات اور ہر وہ دوسرا متن جو صحیح مطالب اور عقائد پر مشتمل ہو تو شرعاً اس میں کوئی مانع نہیں ہے جیسا کہ مختلف روایات میں امام جعفر صادق سے یہ روایت ذکر ہوئی ہے کہ فرمایا:

”انّ افضل الدّعاء ماجری علی لسانک “

”بہترین دعاؤں میں سے وہ دعا ہے جو تمہاری زبان پر جاری ہوئی ہے۔“(۱)

وہ چیز جو قابل اہم ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دعا کو انشا کرے تو اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اسے معصوم کی طرف منسوب کرے اور وہ اس کے پڑھنے کا کسی خاص وقت یا جگہ میں مستحب ہونے کا فتویٰ بھی نہیں دے سکتا۔ اور اگر ایک دعا معصوم سے صادر ہوئی ہو تو اس میں تصرف نہیں کر سکتا کہ اس میں کسی چیز کا اضافہ کرے ۔لہذا علماء و محدثین کبار نے دعاؤں اور زیارتوں کی کتابوں میں بہت زیادہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ نسخہ بدل کو تحریر کریں تاکہ خطی نسخوں کے درمیان موجودہ (لفظی) اختلافات ختم نہ ہوں ،اور آئندہ نسلیں مزید تحقیق و تلاش کے ساتھ زیادہ قابل اعتماد متن کو حاصل کر سکیں۔

اس لحاظ سے اگر مفاتیح الجنان کے متعلق دقت و تحقیق کریں ،تو آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ اس کے صفحات میں سے ہر صفحہ میں مختلف نسخہ بدل اس کے اطراف میں تحریر شدہ مل جائیں گے ،تاکہ صحیح متن اور ماثور عبارت ضایع نہ ہو۔

محدث قمی نے زیارت وارثہ کے بعد ایک مفصل بحث کی ہے کہ ایک کتاب میں زیارت وارثہ کے متن میں ایک جملہ کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس سے شدید منع کیا ہے

_______________________

۱۔ الامان من اخطار الاسفار، سید علی بن موسیٰ ابن طاووس، ص۱۹۔


نیز ہوشیار کیا ہے ۔(۱)

محدث نوری نے اس سلسلے میں ایک مستقل کتاب تالیف کی ہے ،اس میں تمام طبقے کے لوگوں کو بالخصوص صاحبان منبر کو معصوم کے ماثورہ کلمات سے کم و بیش کرنے سے منع کیا ہے(۲)

۵ ۔ کیا دعائے ندبہ عقل کے منافی ہے؟

معترض کہتا ہے : اس دعا کو لوگ ہزاروں جگہ ،مساجد،امام بارگاہوں ،مشاہد مشرفہ ،مقامات مقدسہ اور اپنے اپنے گھروں میں انفرادی اور اجتماعی طور پر پڑھتے ہیں ،کیا امام زمانہ ان تمام جگہوں پر حاضر و ناظر ہیں؟

پھر مزید کہتا ہے : کتاب کافی میں باب زیارة النبی میں منقول ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:

”میں اپنی امت کے سلام کو دور کی مسافت سے نہیں سنتا بلکہ ملائکہ الٰہی اسے مجھ تک پہنچاتے ہیں!“

اس کے جواب میں ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ سب سے پہلے یہ : معترض صاحب! کتاب کافی کی حدیث کو آپ نے تحریف کر دیا ہے الکافی میں دو حدیث اس سلسلے میں موجود ہے کہ ان کے متن کو ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں:

________________________

۱۔ مفاتیح الجنان ،شیخ عباس قمی ،ص۵۲۴۔

۲۔ لو لو و مرجان ،حسین بن محمد تقی نوری ۔


۱ ۔ امام جعفر صادق نے اپنے اصحاب کو خطاب کر کے فرمایا:

”مرّوا بالمدینة فسلّموا علی رسول اللّٰه (صلّی اللّٰه علیه واٰله) من قریب ،و ان کانت الصلاة تبلغه من بعید“

”اپنا راستہ مدینہ کی طرف سے قرار دو اور رسول اکرم کو نزدیک سے سلام کرو، اگر چہ دور سے بھی درود وسلام آنحضرت تک پہنچتا ہے۔“(۱)

۲ ۔ دوسری حدیث میں فرمایا:

”صلّوا الی جانب قبر النّبی (صلّی اللّٰه علیه و آله) و ان کانت صلاة المومنین تبلغه اینما کانوا“

”قبر پیغمبر کے کنارے درود و سلام بھیجو، اگر چہ مومنین جہاں کہیں بھی ہوں ان کا درود و سلام آنحضرت کی خدمت میں پہنچتا ہے۔“(۲)

معترض کے نقل کے برخلاف ،دونوں مبارک حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دنیا کے جس گوشہ و کنار میں حضرت رسول اکرم پر درود و سلام بھیجا جائے آنحضرت تک پہنچتا ہے،اگر چہ بہتر یہ ہے کہ مومنین رخت سفر باندھیں اور سر زمین

________________________

۱۔ الکافی ، محمد بن یعقوب الکلینی ،ج۴،ص۵۵۲۔

۲۔ الکافی ،محمد بن یعقوب الکلینی ،ج۴،ص۵۵۲۔


مدینہ منورہ میں زیارت سے شرف یاب ہوں اور نزدیک سے اظہار عقیدت کریں۔

دوسرے یہ کہ :بہت سی حدیثوں کے مطابق تمام دنیا امام کے مقابل میں ان کی ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح نمایاں ہے اور دنیا کے مشرق و مغرب کی کوئی بھی شئے ایسی نہیں ہے جو امام سے پوشیدہ ہو، جیسا کہ امام جعفر صادق اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

”انّ الدنیا لتمثّل للامام فی مثل فلقة الجوز، فلا یعزب منها شئی ،و انّه لیتنا و لهامن اطرافها کما یتناول احدکم من فوق مائد ته ما یشاء “

”تمام دنیا امام کے مقابل میں ایک اخروٹ کے ٹکڑے کی طرح جلوہ نما ہوتی ہے ،اس کی کوئی شئے امام سے پوشیدہ نہیں،امام اس کے جس گوشہ میں چاہیں تصرف کریں جس طرح تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے دسترخوان سے جو چاہتا ہے اٹھالیتا ہے ۔“(۱)

دوسری حدیث میں فرمایا:

”انّه اذا تناهت الامور الی صاحب هذا الامر رفع اللّٰه تبارک و تعالیٰ له کلّ منخفض من الارض ،و خفض له کلّ مرتفع ،حتیٰ تکون الدنیا عنده بمنزلة راحته ، فایّکم لو کانت فی راحته شعرة لم یبصرها “۔

____________________

۱۔ الاختصاص ،محمد بن محمد بن نعمان (شیخ مفید) ص۲۱۷۔


”جب صاحب الامر کی حکومت ہو گی تو اللہ صاحب برکت و برتر زمین کی ہر پست جگہ کو بلند اور ہر بلند جگہ کو پست کر دے گا تاکہ آپ کے سامنے یہ دنیا ایک ہتھیلی کے مانند ہوجائے اور تم میں سے کون ایسا شخص ہے جس کی ہتھیلی پر بال رکھا ہوا ہو اور وہ اسے نہ دیکھ سکے؟!(۱)

مجھے نہیں معلوم کہ ہم امام ،حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے احاطہ علمی کو کس پیرایے میں بیان کریں تاکہ معترض صاحب کی سمجھ میں یہ بات آجائے کہ حضرت بقیة اللہ دنیا کے اطراف و اکناف میں تمام مجالس دعائے ندبہ کا مشاہدہ فرماتے ہےں اور ان کی ”یابن الحسن “ کی صداؤں کو سنتے ہےں اور شرکاء میں سے ہر ایک کے خلوص کی مقدار اوران کے ایک ایک حاضر ہونے والے کی نیت و جذبہ سے آگاہ ہےں اور ان میں سے ہر ایک کے خلوص کی مقدار بھر اپنی معرفت عنایت فرماتے ہےں ۔

مگر معترض صاحب نے آیہ مبارکہ:

( وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ)

”اور پیغمبر کہہ دیجیے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو اللہ، اس کا رسول ، اور صاحبان ایمان دیکھ رہے ہیں۔“(۲)

____________________

۱۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۵۲،ص۳۲۸۔

۲۔ سورہ توبہ (۹) آیت ۱۰۵۔


نہیں پڑھی ہے اور عرض اعمال کے معتقد نہیں ہیں اور انہیں اتنا علم نہیں ہے کہ بہت سی روایتوں کی بنیاد پر اس آیت میں مومنون سے مراد ائمہ معصوم علیہم السلام ہیں(۱)

مگر اس نے رسول اکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے گواہ ہونے سے متعلقہ آیات کو قرآن کریم میںنہیں پڑھا ہے(۲) اور نہیں جانتا کہ گواہوں سے مراد،ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں؟(۳) مگر کیا ایسا ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام جس چیز کو نہ دیکھے ہوں اس کی گواہی دیں؟!

ایک مقام پر رسول اکرم عام مُردوں کے متعلق فرماتے ہیں:

”حتّی انّه لیسمع قرع نعالهم“

”مردے راستہ چلنے والوں کے جوتے چپل کی آواز تک سنتے ہیں“۔(۴)

لہٰذا وہ کیسے اس بات کو کہنے کی جرات کرتا ہے کہ رسول اکرم دور سے لوگوں کے درود و سلام کو نہیں سنتے!!

کس قدر حماقت کی بات ہے کہ انسان تصور کرے کہ روزانہ دنیا کے گوشہ و کنار میں تمام بسنے والے ایک ارب سے زیادہ مسلمان اپنی واجب اور مستحب نمازوں میں کہیں:

”السّلام علیک ایّها النّبی و رحمة اللّه و برکاته “

____________________

۱۔ الکافی ،محمد بن یعقوب الکلینی،ج۱،ص۲۱۹۔

۲۔ سورہ نساء(۴) آیت ۴۵، سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۳۸، سورہ حج(۲۲) آیت ۷۸۔

۳۔ الکافی ،محمد بن یعوب الکلینی ،ج۱،ص ۱۹۰۔

۴۔ صحیح بخاری ،محمد بن اسماعیل بخاری ج۲،ص ۱۱۳۔


اور رسول اسلام ان میں سے کسی کے سلام کو نہ سنیں اور تمام مسلمان ان سلاموں کو جو حکم الٰہی کی بنیاد پر انجام دیتے ہیں ،لغو اور عبث انجام دیے ہوں!

وہ احکام جو دور سے رسول اکرم کی زیارت کے لیے وارد ہوئے ہیں اور دور سے پیغمبر اکرم کا بہت طولانی زیارت نامہ امام صادق سے نقل ہوا ہے(۱) کیا (نعوذ باللہ ) یہ سب لغو اور عبث ہے؟

اس شخص کے لیے کہ جس کی مسافت طولانی ہے اس قدر روایات ائمہ علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں ؟اور جو شخص حضرت سید الشہداء کی زیارت کی شرف یابی کی طاقت نہیں رکھتا ،وہ صحرا میں یا چھت پر جا کر کربلا کی طرف رخ کر کے حضرت کی دور سے زیارت کرے(۲) کیا یہ سب عبث اور بے کار ہے؟

جوافراد ان مسائل میں شک و شبہ رکھتے ہیں اور اہل کینہ و عداوت نہیں ہیں انہیں چاہیے کہ امام شناسی کے درس کا ایک مکمل کورس پڑھیں اور اپنے عقائد کو اپنے امام زمانہ کے متعلق صحیح کریں تا کہ یہ مبارک حدیث ان کے شامل حال نہ ہو:

”من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتة جاهلیة“

”جو شخص امام زمانہ کی معرفت کے بغیر دنیا سے چلا جائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے ۔“(۳)

_______________________

۱۔ مصباح الزائر، سید علی ابن موسیٰ ابن طاووس، ص ۶۶۔

۲۔ کامل الزیارات،ابو القاسم جعفر بن محمد ابن قولویہ ،ص۳۰۱۔

۳۔ کتاب او خواھد آمد میں اس مبارک حدیث کے دسیوں شیعہ و سنی منابع کو ہم نے ذکر کیا ہے ۔ (ص۷۳ ،۹۲ ) ۔


جو بہت بڑا خسارہ ہے اور ہرگز اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔

تیسرے یہ کہ: دعائے ندبہ کی شرط حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کا مجالس دعائے ندبہ میں حاضر رہنے کی نہیں ہے ،جو شخص یہ کہتا ہے کہ امام عصر کو ان مجالس میں ضرور حاضر رہنا چاہیے ورنہ دعائے ندبہ کا پڑھنا عقل کے خلاف ہے ،وہ ایسا ہی ہے کہ کہے چونکہ کروڑوں مسلمان اپنی نمازوں میں کہتے ہیں ”السّلام علیک ایّھا النبی و رحمة اللّٰہ و برکاتہ “ لہذا پیغمبر اکرم (ص) کو ایک ہی لمحہ میں کروڑوں جگہ حاضر رہنا چاہیے اور یہ غیر ممکن ہے ، لہذا یہ نمازیں بھی غیر معقول ہیں!۔

چوتھے یہ کہ : دعائے ندبہ میں ہم پڑھتے ہیں:

” بنفسی انت من مغیّب لم یخل منّا“

”میری جان قربان! تو ایسا غائب ہے جو کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوا“۔

اس بیان کی بنا پر اور ہمارے ضروری اعتقاد کے مطابق ،ہم ہمیشہ اور ہر مقام پر حضرت حجت کے زیر نظر اور ان کے لطف و عنایت کے ماتحت ہیں اور ہماری کوئی چیز حضرت کے لیے پوشیدہ نہیں ہے اور ہمیشہ ہر حال میں ہم ان کے احاطہ علمی میں ہوتے ہیں یعنی وہ ہمارے حالات سے باخبر ہیں۔اور اتنی ہی بات دعائے ندبہ کے معقول ہونے اور ”یابن الحسن- “ سے لوگوں کا انہیں خطاب کرنا صحیح ہونے کے لیے کافی ہے۔ اور اگر فرشتے رسول اسلام یا ائمہ نور کی خدمت میں سلام پہنچانے کے لیے معین ہوئے ہیں تو یہ ان کے استقبال اور خدمت کرنے کے آداب و رسوم کو ملحوظ خاطر رکھنے کے لیے ہے بالکل جیسے فرشتے بندوں کے اعمال تحریر کرنے کے لیے معین ہوئے ہیں،حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام مخفی اور آشکار اعمال سے باخبر ہے۔


۶ ۔ کیا دعائے ندبہ بارہ ائمہ کی امامت کے عقیدے سے ناسازگار ہے؟

جن دنوں میں دعائے ندبہ پر اعتراض کرنے کا بازار گرم تھا مولفین میں سے ایک مشہور مولف نے یوں لکھا:

دعائے ندبہ کے متن کے دقیق مطالعہ سے کہ جس میں ہمارے ائمہ کے نام کی ترتیب و ار تصریح نہیں ہوئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت امیر علیہ السلام کے تفصیلی فضائل و مناقب کے فوراًبعد اور بغیر واسطہ کے امام غائب کو خطاب کرتے ہیں،اور یہی سوال بار بار ذہن میں آتا ہے(۱)

مولف مذکور نے ”رضویٰ“ اور ”ذی طویٰ“ جیسے الفاظ کا دعاء ندبہ میں استعمال ہونے سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دعائے ندبہ کیسانیہ عقائد سے نشاة پائی ہے اور دعائے ندبہ کے مخاطب کو مہدی منتظر ارواحنا فداہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو تصور کیا ہے،اس وقت مذکورہ فقرہ کو اپنے دعوی کی دوسری دلیل گمان کیا ہے ۔

ہم نے اس بات کا واضح جواب چوتھے سوال کے ذیل میں تفصیلی طور پر بیان کر دیا ہے لہذا یہاں اس کے تکرار کرنے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی ۔

________________________

۱۔انتظار مذہب اعتراض ،علی شریعتی ، ص۱۰۔


۷ ۔ کیا دعائے ندبہ کا معصوم سے صادر ہونا معقول ہے؟

معترض کہتا ہے :دعائے ندبہ کا ائمہ معصومین علیہم السلام میں سے کسی ایک معصوم سے صادر ہونا ہرگز ممکن نہیں ہے ، کیونکہ سب سے پہلے یہ کہ: حضرت مہدی بھی اس زمانہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے ،وہ امام جو مکمل عقل کی طاقت رکھتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے فرد کو مورد خطاب قرار دے اور اس کے فراق میں آنسو بہائے ؟

دوسرے یہ کہ :اس کی جائے سکونت کے متعلق ”لیت شعری“ ”یعنی اے کاش، مجھے معلوم ہوتا!“ امام معصوم کے مقام و منزلت سے سازگار نہیں ہے ۔

ہم پہلے سوال کے جواب میں کتاب کے پہلے حصے میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں، اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے فقرات منجملہ حضرت امام صادق کے قول کو نقل کیا کہ حضرت کی ولادت سے ایک صدی پہلے انہوں نے حضرت کو مخاطب کر کے فرمایا:

” سیّدی! غیبتک نفت رقادی و ضیّقت علیّ مهادی ،و ابتزّت منّی راحة فوادی “

”اے میرے سید و سردار ! آپ کی غیبت نے میری آنکھوں سے نیند اڑا دی، عرصہ حیات مجھ پر تنگ کر دیا ہے میرے دل کا سکون جاتا رہا ہے “(۱)

اس بیان کی بنا پر اگر مورد نظر شخص ایک معمولی فرد نہ ہو، بلکہ سب سے خوشنما، دل کش اور ہر دل عزیز شخصیت کا مالک ہو، تو مناسب ہے کہ اس کی ولادت سے

____________________

۱۔ کتاب الغیبة ، محمد بن حسن شیخ طوسی ، ص۱۶۷۔


صدیوں پہلے ہی اس کے لیے عقل مند افراد اور امام معصوم گریہ و زاری کریں۔

اور یہ معنی حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ حضرت کے جدّ بزرگوار سید الشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین کے لیے بھی واقع ہوا ہے اور تمام انبیاء الٰہی حضرت آدم سے حضرت قائم تک ،سب نے حضرت کے مصائب پر حسرت آمیز آنسو بہائے ہیں(۱)

اس بیان کی بنا پر اس شخص کو مخاطب قرار دینا جو ابھی دنیا میں نہیں آیا ہے اس کے فراق میں گریہ وزاری کرنا یا اس کے مصائب پر رونا کسی بھی عقل سلیم کے نزدیک کوئی تضاد نہیں رکھتا، اگر چہ اسے بیمار دل افراد اپنے ذوق کی بنا پر ساز گار نہ پائیں۔

لیکن سوال کے دوسرے حصہ کے متعلق ہم یہ ضرور کہیں گے کہ جملہ ”لیت شعری“ ”اے کاش مجھے معلوم ہوتا !“ بعنوان سوال حقیقی نہیں ہے ،بلکہ ایک ادبی

____________________

۱۔ ہم اس مقام پر گزشتہ انبیاء کے گریہ وزاری کو جنہوں نے حضرت کی ولادت کے دسیوں سال پہلے امام حسین کے مصائب پر اشک بہائے اشارہ کرتے ہیں:

۱۔ حضرت آدم (بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۴۴، ص۲۴۵)۔

۲۔ حضرت نوح (بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۴۴،ص ۲۴۳)۔

۳۔حضرت ابراہیم (معانی الاخبار ،شیخ صدوق ،ص۲۰۱)۔

۴۔حضرت سلیمان ،بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ، ج۴۴،ص ۲۴۴۔

۵۔ حضرت خضر ،تفسیر قمی ،ابو الحسن علی بن ابراہیم قمی ، ج۲، ص۳۸۔

۶۔ حضرت موسیٰ ،امالی شیخ صدوق، شیخ صدوق ،ص۷۹۔

۷۔ حضرت عیسیٰ ،امالی شیخ صدوق ،شیخ صدوق ، ص۵۹۸۔


ظریف جملہ ہے جو اپنے اندر بہت سے ادبی ظریف نکات کا حامل ہے اور اسی جیسی عبارت اس زیارت نامہ میں بھی نقل ہوئی ہے جیسے سید ابن طاووس اور علامہ مجلسی نے حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے لیے نقل کیا ہے جس میں ذکر ہوا ہے:

” لیت شعری این استقرّت بک النّوی “ ”اے کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ تیری قیام گاہ کہاں ہے ؟“(۱)

اس بیان کی بنا پر یہ جملہ صرف دعائے ندبہ سے مخصوص ہے اور سرداب مقدس کے زیارت نامہ میں بھی ذکر ہوا ہے اور اس قسم کا ظاہری سوال مقام عصمت و امامت سے تضاد نہیں رکھتا۔

۸ ۔ کیا دعائے ندبہ کے فقرات قرآن کے مخالف ہیں؟

معترض کہتا ہے : دعائے ندبہ کے بعض فقرات قرآن کے ساتھ نا سازگار ہیں:

۱ ۔ دعائے ندبہ کا یہ جملہ جس میں کہا گیا ہے :

”وسالک لسان صدق فی الآخرین فاجبته و جعلت ذلک علیّاً“

”اور انہوں نے (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) نے آخری دور میں صداقت کی زبان کا سوال کیا تو تو نے ان کی دعا قبول کر لی اور اسے

____________________

۱۔ مصباح الزائر ،سید علی بن موسیٰ ابن طاووس ، ص۴۲۳، بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۱۰۲، ص۸۷۔


”علی “”بلند مرتبہ“ قرار دیا۔“

قرآن اور حضرت ابراہیم پر بہتان ہے ،اس لیے کہ قرآن کریم میں ”لسان صدق“ سے مراد نیک نام ہے نہ کہ حضرت علی علیہ السلام ۔

جواب میں ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ یہ مطلب قرآن کریم کے دو سورو ں کی دو آیتوں کے ضمن میں بیان ہوا ہے :

۱ ۔ سورہ مبارکہ شعراء میں حضرت ابراہیم کی زبانی نقل ہوا ہے کہ:

( وَاجْعَلْ لِی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِینَ)

”اور میرے لیے آئندہ نسلوں میں سچی زبان قرار دے ۔ “

۲ ۔ سورہ مبارکہ مریم میں حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان کے دو افراد اسحاق و یعقوب کے متعلق فرماتا ہے :

( وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِنْ رَحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا)

”اور پھر انہیں اپنی رحمت کا ایک حصہ بھی عطا کیا اور ان کے لیے صداقت کی بلند ترین زبان بھی قرار دے دیں ۔“(۲)

اس بیان کی بنا پر دعائے ندبہ کا مذکورہ فقرہ جو قرآن کریم کی ان دونوں آیات کے

____________________

۱۔ سورہ شعراء (۲۶) آیت ۸۴۔

۲۔ سورہ مریم ،(۱۹) ،آیت ۵۰۔


تناظر میں ہے اور ان سے بہت اچھا اقتباس ہے ،نہ صرف یہ کہ بہتان نہیں ہے ،بلکہ ان کا مطلوب و مقصود تھا جو قرآن کی تعبیر میں ”لسان صدق“ کے عنوان سے بیان ہوا،دعا میں بھی وہی تعبیر ذکر ہوئی ہے اور پروردگار کا مستجاب کرنا کہ جو قرآن کی تعبیر میں ”علیا“ کے عنوان سے بیان ہوا دعا میں بھی وہی تعبیر ذکر ہوئی ہے ۔

بہت سی روایات کے پیش نظر جو ائمہ نور علیہم السلام سے ان دونوں آیات کی تفسیر میں ذکر ہوئی ہے کہ آیہ مبارکہ میں لفظ ”علیاً“ سے مراد حضرت علی ہیں۔اب ہم بعض روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱ ۔ شیخ صدوق طاب ثراہ نے ایک بہت طولانی حدیث کے ضمن میں امام صادق سے روایت کی ہے کہ اس آیہ مبارکہ میں ”علیاً“ سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں(۱)

۲ ۔ علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے ،انہوں نے امام حسن عسکری سے روایت کی ہے کہ اس آیہ مبارکہ میں ”علیاً“ سے مراد امیر المومنین ہیں ۔(۲)

۳ ۔ ہاشم ،علی ابن ابراہیم کے جدّبزرگوار کہتے ہیں: میں نے امام حسن عسکری کی خدمت اقدس میںخط لکھا ،اور اس آیہ مبارکہ کی تفسیر کے متعلق حضرت سے سوال کیا ،انہوں نے خط لیا اور اس کے نیچے تحریر فرمایا:

____________________

۱۔ کمال الدین وتمام النعمة ،شیخ صدوق ،ج۱،ص ۱۳۹۔

۲۔ تفسیر قمی ،ابو الحسن علی بن ابراہیم قمی ،ج۲،ص ۵۱۔


”خداوند متعال تجھے توفیق عطا فرمائے اور تجھے بخش دے ،اس سے مراد امیر المومنین علی ہیں ۔“(۱)

۴ ۔ یونس بن عبد الرحمن نے امام رضا کی خدمت اقدس میں عرض کیا: ایک گروہ نے مجھ سے سوال کیا کہ امیر المومنین کا مقدس نام قرآن میں کہاں ذکر ہوا ہے؟ میں نے ان سے کہا:آیہ مبارکہ( وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا ) ‘ فرمایا: تم نے سچ کہا یہ مطلب اسی طرح ہے ۔“(۲)

۵ ۔ ابو بصیر، امام صادق سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیہ مبارکہ میں ”علیاً“ سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں۔(۳)

۶ ۔ مفضّل نے بھی امام صادق سے ایک مفصل حدیث کے ضمن میںروایت کی ہے کہ اس آیہ کریمہ میں ”علیاً“ سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب ہیں(۴)

اس بیان اور بہت سی روایات کی بنا پر کہ ہم نے ان میں سے چند روایات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ آیہ کریمہ( وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا ) میں(۵)

____________________

۱۔ تاویل الآیات الظاہرہ ،سید شرف الدین علی نجفی ،ج۱،ص ۳۰۴۔

۲۔ البرہان فی تفسیر القرآن ،سید ہاشم بحرانی ،ج۳،ص ۷۱۷۔

۳۔ مناقب آل ابی طالب ،ابن شہر آشوب ،ج۳،ص۱۲۹۔

۴۔ معانی الاخبار ،شیخ صدوق ، ص۱۲۹۔

۵۔ سورہ مریم (۱۹) ،آیت ۵۰۔


”علیاً“ سے مراد امیر المومنین ہیں ،لہذا اگر دعائے ندبہ میں ”لسان صدق“ کو حضرت امیر المومنین کے وجود مقدس سے تفسیر کیا جائے تو یہ بالکل واقع کے مطابق ہے اورکسی قسم کے بہتان اور تہمت کی بات نہیں ہے ۔حالانکہ دعائے ندبہ میں آنحضرت کی تصریح نہیں ہوئی ہے، بلکہ آیہ کریمہ کی طرح ”وجعلتَ ذلک علیّاً“ ذکر ہوا ہے ۔لہذا اگر قرآن میں ”علیّاً“ سے مراد حضرت علی ہیں تو یہاں بھی وہی حضرت مراد ہیں ،اور اگر قرآن میںا س کا لغوی معنی استعمال ہوا ہوتا تو یہاں بھی وہی مراد ہوتا۔

اس حصہ کے آخر میں ہم مزید یہ کہتے ہیں کہ اس آیہ کریمہ میں ”علیّاً “ کی تفسیر حضرت علی ہیں ، یہ صرف شیعوں کی احادیث سے مخصوص نہیں ہے بلکہ علامہ بحرانی نے عامّہ کے طرف سے بھی روایت نقل کی ہے کہ اس آیہ کریمہ میں ”لسان صدق“ سے مراد حضرت علی ہیں(۱)

قابل توجہ یہ ہے کہ حافظ حسکانی نے بھی ایک حدیث کے ذیل میں اسی معنی کا استفادہ کیا ہے(۲)

۲ ۔ معترض کا دوسرا اعتراض اس جملہ پر ہے :

”و اوطاته مشارقک ومغاربک “

________________________

۱۔ رجوع کریں:اللّوامع النّورانیہ ،سید ہاشم بحرانی ،ص۲۶۹۔

۲۔ شواہد التنزیل ،عبید اللہ بن عبد اللہ حسکانی ،ج۱،ص ۴۶۳۔


”اور ان کے لیے تمام مشرق و مغرب کو ہموار کر دیا۔ “

وہ کہتا ہے : دعا کا یہ فقرہ بھی قرآن کریم کے ساتھ سازگار نہیں ہے ،اس لیے کہ:

سب سے پہلے یہ کہ : پیغمبر اکرم نے قرآن کریم کی نص کے مطابق مسجد الحرام سے مسجد الاقصی تک سفر کیا نہ کہ دنیا کے مشرق و مغرب میں ۔

دوسرے یہ کہ: زمین میں مشرق و مغرب ایک سے زیادہ نہیں ہیں۔

تیسرے یہ کہ:اگر زمین کے لیے بھی بہت سے مشرق و مغرب متصور ہوں تو لا مکان خدا کے لیے مشرق و مغرب کا کوئی تصور نہیں ہے تاکہ لفظ مشارق و مغارب کو اس سے منسوب کیا جائے ۔

پہلے حصہ کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ جو کچھ رسول اکرم کی رات کی سیر سورہ مبارکہ ”اسراء“ میں بیان ہوئی(۱) صرف اس رات کی سیر کا ایک حصہ ہے اور اس کا دوسرا حصہ کہ جسے معراج کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ضروری اعتقادات میں سے ہے سورہ مبارکہ ”نجم“ میں بیان ہوا ہے۔(۲) اور یہ رات کے وقت کی سیر مسجد الحرام اور مسجد الاقصیٰ کے درمیان محدود نہیں ہے ،تاکہ معترض یہ کہے کہ یہ رات کے وقت کی سیر دنیا کے تمام مشرق و مغرب میں نہیں تھی۔

بلکہ یہ سیر نہ صرف یہ کہ نظام شمسی سے آگے ہوئی یہاں تک کہ ساتویں آسمان کی سیر کی(۱) بلکہ ساتویں آسمان سے بھی آگے سِدْرَةُ المنتہیٰ کی منزل تک ختم ہوئی۔(۲)

________________________

۱۔ سورہ اسراء(۱۷) آیت ۱۔

۲۔ سورہ نجم (۵۳) آیت ۹۔ ۱۸۔


رسول اکرم کی معراج بلا شک وشبہ ، عنصری بدن کے ساتھ بیداری کی حالت میں ہوئی اصطلاحاً جسمانی معراج ہوئی ہے۔(۳) جیسا کہ کتاب کے دوسرے حصہ میں اس کے متعلق گفتگو کر چکے ہیں۔(۴)

جب رسول اکرم نے ایک رات کے سفر میں نظام شمسی سے آگے آسمانوں کی طرف سفر کیا تو ”و اوطاتہ مشارقک و مغاربک “ کی تعبیر واضح طور پر محقق ہوئی ،اس لیے کہ سب سے پہلے یہ کہ : مشارق ومغارب تمام آسمانی کُر ے کا سفر کیا ہے ۔

دوسرے یہ کہ: جس شخص نے مکہ اور بیت المقدس کے درمیان تیس منزل کا ایک رات میں سفر طے کیا ہو، پھر کرہ خاکی کا آسمانی کُرے کے دیدار کے قصد سے سفر طے کیا ہو تو اس پر یہ بات صادق آتی ہے کہ اس نے زمین کے تمام مشارق و مغارب کا سفر طے کیا ہے ۔

تیسرے یہ کہ:اگر کوئی شخص ایک ملک کا سفر کرے اور اس کے بڑے شہروں کا

________________________

۱۔ السیرة النبویّہ،ابو محمد عبد الملک ابن ہشام ،ج۲،ص ۲۵۵۔

۲۔ مجمع البیان ، ابو علی الفضل بن الحسن الطبرسی ،ج۹،ص۲۶۵۔

۳۔ التبیان ،شیخ طوسی ،ج۹،ص۴۲۴،اعتقادات ،محمد باقر مجلسی ،ص۳۴۔

۴۔ معراج اور منحرف لوگوں کے اعتراضات کے جواب کے مسئلہ میں رجوع کریں: ہمہ می خواھند بدانند، ناصر مکارم شیرازی ۔ فروغ ابدیت ،جعفر سبحانی ،ج۱،ص ۳۰۵۔۳۲۰۔


مشاہدہ کرے ،تو اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں ملک کا سفر کیا اور اس کے شہروں کا دیدار کیا ہے ۔

چوتھے یہ کہ: خود رسول اکرم ،ایک مشہور حدیث میں فرماتے ہیں:

”زُویتْ لی الارض، فاریتُ مشارقها و مغاربها ،و سیبلغ ملک امّتی ما زُوِی لی منها“ (۱)

”زمین میرے لیے سمیٹی گئی ،پھر اس کے مشارق و مغارب کو مجھے دکھایا گیا اور عنقریب میری امت کی وسعت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک مجھے لے جایا گیا ۔ “

دوسرے حصہ کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ زمین کی کرویّت کے پیش نظر جس جگہ بھی آفتاب چمکتا ہے ”مشرق “ اور بالکل اس کے مقابل میں ”مغرب “ شمار ہوتا ہے نتیجہ میں زمین سکیڑوں مشرق و مغرب کی حامل ہوگی،لہذا قرآن کریم میں لفظ مشرق و مغرب تین :واحد ،تثنیہ ،جمع کی صورت میں استعمال ہوا ہے ۔

۱ ۔( رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ ) (۲)

۲ ۔( رَبُّ الْمَشْرِقَینِ وَ الْمَغْرِبَیْنِ ) (۳)

۳ ۔( فَلَا اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰارِقِ وَ الْمَغٰارِبِ ) (۴)

________________________

۱۔ مناقب آل ابی طالب ،ابن شہر آشوب ،ج۱،ص ۱۵۲۔

۲۔ سورہ مزمل (۷۳) آیت ۹۔

۳۔سورہ رحمن ،(۵۵)،آیت ۱۷۔ ۴۔ سورہ معارج (۷۰) آیت ۴۰۔


اس بیان کی بنا پر معترض کے اعتراض کا دوسرا حصہ بھی قابل قبول نہیں ہے ۔

تیسرے حصہ کے جواب میں بھی ہم عرض کریں گے کہ مشارق و مغارب کا کاف خطاب کی ضمیر کی طرف اضافہ ہے کہ جس کا مخاطب خداوند منّان ہے لہٰذا کسی کے اعتراض کا محل باقی نہیں رہتا۔ اس لیے کہ مشارق و مغارب بھی تمام موجودات عالم کی طرح پروردگار کا خلق کیا ہوا ہے اور ہر ایک مخلوق کو اس کے خالق و مالک کی طرف اضافہ کیا جا سکتا ہے ،جیسا کہ قرآن کریم میں خداوند منّان لفظ”بیت “ کو اپنی طرف اضافہ کر کے فرماتا ہے:

( و طهّر بیتی للطائفین و القائمین و الرّکّع السجود)

”اور تم ہمارے گھر کو طواف کرنے والوں ،قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک و پاکیزہ بناؤ۔ “(۱)

معترض نے یہ خیال کیا ہے کہ اگر لفظ مشارق و مغارب کو خداوند منّان کی طرف اضافہ کیا جائے تو اس کا معنی یہ ہے کہ خدا کرہ زمین کے ایک لفظ میں فرض کیا گیا ہے اور اس کے لیے ایک مشرق و مغرب تصور کیا گیا ہے ،لہذا کہتا ہے کہ لا مکان خدا کے لیے مشرق ومغرب کا کوئی مفہوم نہیں پایا جاتا!

________________________

۱۔ سورہ حج (۲۲) آیت ۲۶۔


البتہ دشمنی اور ہٹ دھرمی، فہم سلیم اور کسی مسئلہ کو تشخیص دینے کی قدرت کوانسان سے سلب کر لیتی ہے ۔

معترض کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ جملہ :

( و اودعته علم ما کان و مایکون الی انقضاء خلقک)

”اور تمام ماضی اور مستقبل کے علوم کا اسے (یعنی پیغمبر اکرم کو) خزانہ دار بنایا۔ “

آیات قرآنی کے برخلاف ہے !

وہ کہتا ہے :یہ جملہ آیات قرآنی سے ناسازگار ہے ،اس لیے کہ اس جملہ کی بنیاد پر پیغمبر اکرم تمام دنیا کی گزشتہ ظاہری اشیاء سے اور دنیا کے ختم ہونے تک کی چیزوں سے باخبر ہیں، حالانکہ قرآن کریم نے علم قیامت کو خدا سے مخصوص کیا ہے(۱) بعض حوادث کو بھی اپنے مخصوص علوم میں شمار کیاہے ۔(۲) اور امیر المومنین نے اس علم کے مخصوص ہونے کی تاکید کی ہے(۳) اور بعض مقامات پر صریحاً فرمایا ہے کہ پیغمبر اسے نہیں جانتے(۴) اور بعض جگہوں پر صراحت کے ساتھ کہا:

________________________

۱۔ سورہ اعراف (۷) آیت ۱۸۷ ۔

۲۔ سورہ لقمان (۳۱) آیت ۳۴۔

۳۔ نہج البلاغہ ،شریف رضی ،خطبہ ۱۲۸۔

۴۔ سورہ احقاف،(۴۶)آیت ۹۔


( فلا یظهر علی غیبه احداً)

”اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔“(۱)

اس اعتراض کے جواب میں ہم کہیں گے: تعبیر ”ما کان و ما یکون “(یعنی جو ہوا ہے اور جو ہونے والا ہے)بہت سی حدیثوں میں ذکر ہوئی ہے اور یہ دعائے ندبہ سے مخصوص نہیں ہے ، یہاں تک کہ شیخ کلینی نے کتاب کافی میں اس عنوان سے ایک باب مخصوص کیا ہے اور وہاں بہت سی احادیث کو جمع کیا ہے(۲)

انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے علم کے بارے میں بہت سے مسائل بیان ہوئے ہیں جو ان صفحات میں قلم بند نہیں کیے جا سکتے ہیں،ہم صرف اس کتاب کو اس اعتراض کے جواب سے خالی نہ ہونے کے لیے علامہ طباطبائی کی با برکت تحریر سے ایک فقرہ یہاں نقل کرتے ہیں آپ کہتے ہیں:

”امام عالم ہستی کے حقائق جن حالات کے تحت موجود ہوں ،اللہ تعالیٰ کی اجازت سے واقف ہیں ۔خواہ وہ حقائق محسوسات میں سے ہوں یا محسوسات کے دائرہ سے خارج ہوں ،جیسے آسمانی موجودات اور ماضی و مستقبل کے حادثات ۔

علم امام کو نقلی طور سے ثابت کرنے کے لیے ایسی متواتر روایات ہیں جو

________________________

۱۔ سورہ جن (۷۲) آیت ۲۶۔

۲۔ الکافی ،محمد بن یعقوب کلینی ،ج۱،ص ۲۶۰۔


شیعہ معتبر کتابوں میں جیسے : الکافی ،الوافی ،بصائرالدرجات ،کتب شیخ صدوق اور بحار الانواروغیرہ میں محفوظ ہیں۔

ان روایات کی بنا پر جن کی کوئی حد بندی نہیں ہے امام ،الٰہی وہبی راستے سے نہ اکتسابی طریقے سے تمام شئے سے آگاہ اور باخبر ہیں اور جو بھی چاہیں اذن ِخدا سے ایک ادنی توجہ سے جان لیتے ہیں۔

لیکن قرآن کریم میں ہمارے پاس ایسی آیات بھی ہیں جو علم غیب کو خداوند متعال کی ذات سے مخصوص اور حضرت احدیت ہی میں منحصر قرار دیتی ہیں،لیکن اس آیہ کریمہ :( عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَیُظْهِرُ عَلَی غَیْبِهِ احَدًا إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ ) (۱) ” وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے مگر جس رسول کو پسند کرلے“۔ میں ایک استثناء موجود ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہونے کا معنی یہ ہے کہ غیب کو بالذات اور مستقل طور پر سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا، لیکن ممکن ہے کہ منتخب انبیاء خدائی تعلیم سے جان لیں اور ممکن ہے کہ دوسرے برگزید ہ افراد بھی پیغمبر کی تعلیم کی بنا پر اس سے واقف ہو جائیں ،جیسا کہ بہت سی ان روایات میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اور ہر ایک امام اپنی زندگی کے آخری لمحات میں

____________________

۱۔ سورہ جن(۷۲) آیت ۲۷۔


علم امامت کو اپنے بعد والے امام کے سپرد کرتے ہےں ۔(۱)

اور عقلی لحاظ سے بھی ایسے ادلّہ و براہین موجود ہیں کہ ان کے باعث امام اپنی نورانیت کے مقام کے لحاظ سے نیز اپنے زمانے کے کامل ترین انسان ہونے ،اسماء و صفات الٰہی کا مکمل مظہر اور موجودہ طور پر دنیا کی تمام شئے اور ہر ذاتی واقعہ سے باخبر ہیں۔اور اپنے عنصری وجود کے لحاظ سے جس طرف بھی توجہ کریں ان کے لیے حقائق روشن ہو جاتے ہیں۔“(۲)

ائمہ نور علیہم السلام سے سیکڑوں حدیث جو علم امام کے بارے میں وارد ہوئی ہےں ہم ان میں سے ایک نمونہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

”ایک دن عمر بن فرج رخجی نے ،دجلہ کے کنارے امام جواد کی خدمت میں عرض کیا: آپ کے شیعہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ آب دجلہ کی مقداراور اس کے وزن کو جانتے ہیں۔امام نے فرمایا:”کیا خدا وند متعال اس بات پر قادر ہے کہ اس کا علم ایک مچھر کو سکھائے ؟“

عمر نے کہا:ہاں اللہ تعالیٰ قادر ہے ۔

تو فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک مچھر سے اور بہت سی مخلوقات خدا سے زیادہ عزیز و محبوب ہوں۔“(۳)

____________________

۱۔ الکافی ،محمد بن یعقوب کلینی ،ص۲۷۴۔

۲۔ بحث کوتاہی دربارہ علم امام ،سید محمد حسین طباطبائی ،ص۶۔۷۔

۳۔ الامام الجواد من المھدالی اللّحد،ص۲۸۳۔


حضرت علی نے بھی اس لیے کہ سبھی علم امام کو درک کر سکیں فرمایا:

”یا اخا کلب! لیس هو بعلم غیب ،و انّما هو تعلّم من ذی علم “

”اے برادر کلبی! یہ علم غیب نہیں ہے ،بلکہ وہ صاحب علم سے تعلیم حاصل کرنا ہے ۔“(۱)

جس طرح کہ ان دونوں بیان میں جو دو امام معصوم سے تعبیر کیا گیا اللہ تعالیٰ کا علم غیب ذاتی علم ہے جو اس کی عین ذات اور قدیم ہے ،اور انبیاء و ائمہ علیہم السلام اور فرشتوں کا علم ،ایسا علم ہے جو الہام کے ذریعے یا اور بھی دوسرے ذرائع سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں عطا ہوا ہے ،یہ علم ان کا عین ذات نہیں بلکہ حادث ہے ۔

اس بیان کی بنا پر رسول اکرم اور ائمہ ہدی ایک وہبی علم کے ذریعہ جو کچھ دنیا میں واقعات رونما ہوتے ہیں اور جو کچھ ماضی میں پہلے ہو چکے ہیں نیز جو کچھ آئندہ ظاہر ہو ں گے اللہ کے اذن سے آگاہ ہیں۔

پروردگار کے خصوصی علوم کے متعلق جو سورہ لقمان میں ذکر ہوا ہے ،سوائے قیامت کے علم کے کہ جس کے لیے مستقل بحث کی ضرورت ہے ،ان بہت سے موارد کے پیش نظر کہ جس کی خبر ائمہ معصومین علیہم السلام نے دی ہے(۲) معلوم ہوتا ہے کہ

_____________________

۱۔ نہج البلاغہ ،شریف رضی ،خطبہ ۱۲۸۔

۲۔ نوسو مقامات سے زائد غیب کے متعلق ایسی حدیثیں موجود ہیں جو ”الاحادیث الغیبة“ نامی کتاب کی تین جلدوں میں جمع کی گئیں ہیں ۔


ان کا علم بھی اللہ نے ذاتی طور پر اپنی ذات سے مخصوص قرار دیا ہے لیکن عرضی طور پر اپنی اجازت سے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اختیار میں بھی قرار دیا ہے اور حضرت امیر المومنین کی اس کے مخصوص ہونے کی تاکید اسی پہلے معنی (ذاتی علم) کے تناظر میں ہے نہ کہ دوسرے معنی (وہبی علم) کے لیے ۔

لیکن اس قسم کی آیات جو رسول اکرم کی ذات سے غیب کی نفی کرتی ہیں جیسے آیہ :

( وَمِنْ اهْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لاَتَعْلَمُهُمْ)

”اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں ۔ “(۱)

ان مقامات پر بھی علم کی نفی کرنا مقصود نہیں ہے ،بلکہ علم ذاتی کا نفی کرنا مراد ہے، یعنی قبل اس کے کہ اللہ اس کی تمہیں خبر دے دل کی گہرائیوں سے اس سے مطلع نہیں تھے ،یا (اس آیت کا) مقصد یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ان کے نفاق کی گہرائیوں سے باخبر ہے تمہیں اس حد تک آگاہی نہیں ہے ۔یا ان کے نفاق کی گہرائی و گیرائی اور وسعت مراد ہے کہ جسے اس طرح بیان کیا ہے ۔

لیکن وہ آیات کہ جن میں ”و ما ادریٰک“ (آپ کو کیا معلوم) کی تعبیر ذکر ہوئی ہے ،وہ سب ان موارد میں سے ہے ۔ کہ رسول اکرم ان کا علم رکھتے تھے ،خداوند

_______________________

۱۔ سورہ توبہ (۹) آیت ۱۰۱۔


منّان نے عظمت و منزلت بیان کرنے کے لیے مذکورہ مقامات میں ”و ما ادریٰک“ کی تعبیر استعما ل کی ہے ، شیخ طوسی اور شیخ طبرسی نے سفیان سے نقل کیا ہے کہ جس مقام پر مخاطب موضوع سے باخبر ہو وہاں اس کی شان و شوکت کو بیان کرنے کے لیے ”و ما ادریٰک “ استعمال کرتے ہیں،اس لیے کہ مخاطب صرف اس کی صفت کو جانتا ہے اور کسی بات کا سننااس کے دیکھنے کے مانند کہاں ہوتا ہے(۱)

لیکن آیہ مبارکہ( عالم الغیب فلا یظهر علی غیبه احداً ) اس کے بعد ذیل میں مزید یوں ذکر ہوا ہے :

( الّا من ارتضیٰ من رسول ) (۲)

لہذا آیہ مبارکہ کے معنی یوں ہوں گے :

”وہ غیب کے راز کا علم رکھتا ہے کسی شخص کو اپنے راز سے آگاہ نہیں کرتا، صرف اس پیغمبر کے کہ جسے منتخب کیا ہو“۔

اس بیان کی بنا پر ، یہ آیت نہ صرف یہ کہ علم غیب کو پیغمبروں سے نفی نہیں کرتی ،بلکہ اسے منتخب پیغمبروں کے لیے ثابت کرتی ہے ۔

____________________

۱۔ التبیان ،شیخ طوسی ،ج۱۰۔ص۹۴۔ مجمع البیان شیخ طبرسی ،ج۱۰،ص۵۱۶۔

۲۔ سورہ جن (۷۲) آیت ۲۶۔


اس بات کی دلیل دوسری آیت ہے کہ جہاں فرماتا ہے :

(و ما کان اللّه لیطلعکم علی الغیب ،و لکن ) منتخب کر لیتا ہے “(۱)

لهٰذا دعائے ندبه کا مذکوره فقره ،مکمل طور پر آیات قرآن سے سازگار اور موافق ہے

( اللّه یجتبی من رسله من یشاء)

”اور اللہ تعالیٰ تم کو غیب سے مطلع بھی نہیں کرنا چاہتا ہاں اپنے نمائندوں میں سے کچھ لوگوں کو اس کام کے لیے

۴ ۔ معترض نے چوتھے جملہ پر اعتراض کا جو دعوی کیاہے کہ وہ قرآن کریم سے سازگار نہیں ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:

”ثم جعلت اجر محمدٍ صلواتک علیہ و آلہ مودّتھم فی کتابک“

( قُلْ لاَاسْالُکُمْ عَلَیْهِ اجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی)

پھر تو نے مرکز رحمت محمد و آل محمد علیہم السلام کا اجر اپنی کتاب میں ان کی مودّت کو قرار دے کر اعلان کردیا اے پیغمبر! کہہ دو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ہوں سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔“(۲)

_______________________

۱۔ سورہ آل عمران (۳) آیت۱۷۹۔

۲۔ سورہ شوریٰ (۴۲) آیت ۲۳۔


معترض کہتا ہے : دعائے ندبہ کا یہ فقرہ قرآن کے منافی ہے ،چونکہ:

سب سے پہلے یہ کہ :یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت ابھی امام حسن اور امام حسین پیدا نہیں ہوئے تھے نیز اصولی طور پر اہل بیت اور آیہ تطھیر درکار نہیں تھی۔

دوسرے یہ کہ:خود مشرکین پیغمبر کو تسلیم نہیں کرتے تھے تاکہ پیغمبر ان سے اپنی خاندان والوں کی محبت کا مطالبہ کرتے۔

تیسرے یہ کہ: دوسری آیت میں فرمایا: ”میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا “(۱) لہٰذایہ آیت منسوخ ہو جائے گی ورنہ تناقض و تضاد لازم آئے گا۔

چوتھے یہ کہ:” قربیٰ “کا معنی پیغمبر کے رشتہ دار نہیں ہیں،بلکہ مندرجہ ذیل تین معانی میں سے کوئی ایک ہے :

۱ ۔ مطلقاً تمام رشتہ داریاں ،یعنی صلہ ارحام مراد ہے۔

۲ ۔ پیغمبر کی قریش کے ساتھ رشتہ داری ،یعنی اگر ایمان بھی نہیں لاتے پھر بھی تو میری رشتہ داری کے حقوق کی رعایت کرو۔

۳ ۔ پروردگار سے نزدیکی ،یعنی میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔

پہلے حصہ کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ معترض صاحب! آپ نے تفسیروں کی طرف رجوع کرنے سے پہلے اپنی بات کہی ہے ،ورنہ مفسرین نے تصریح

____________________

۱۔ سورہ ص(۳۸) آیت ۸۶۔


کی ہے کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے ۔ مثال کے طور پر علامہ طبرسی جو صف اول کے مفسرین میں سے ہیں انہوں نے سورہ شوریٰ کی ابتدا میں تحریر کیا ہے :

سورہ شوری مکہ میں نازل ہوئی سوائے چار آیتوں کے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں منجملہ ان میں سے یہ آیہ مبارکہ:( قل لا اسئلکم علیه اجراً الّا المودة فی القربیٰ ) ہے(۱)

انہوں نے اس بات کو ابن عباس اور قتادہ سے نقل کیا ہے(۲)

اگر شیعہ مفسرین کو نظر انداز کریں تو اہل سنت کے بہت سے مفسرین نے بھی تصریح کی ہے کہ یہ آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں منجملہ ان میں سے یہ ہیں:

۱ ۔ علامہ زمخشری (متوفیٰ ۵۲۸ ھئق) سورہ شوری کے آغاز میں تحریر کرتے ہیں ”یہ سورہ مکی ہے سوائے ان آیات ۲۳ سے ۲۷ تک جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔“(۳)

۲ ۔علامہ قرطبی (متوفی ۶۷۱ ھئق)سورہ شوریٰ کے آغاز میں ابن عباس اور قتادہ سے نقل کرتے ہیں کہ سورہ شوریٰ مکہ میں نازل ہوئی ،سوائے چار آیتوں کے، کہ جس سے مراد( قل لا اسئلکم علیه اجراً الّا المودّة فی القربیٰ ) سے لے کر آخر تک کی آیات ہیں(۴)

_______________________

۱۔ سورہ شوریٰ(۴۲) آیت ۲۳۔ ۲۔ مجمع البیان ،شیخ طبرسی ،ج۹،ص۳۱۔

۳۔الکشّاف عن حقائق غوامض التنزیل ،محمود بن عمر زمخشری ،ج۴،ص ۲۰۸۔

۴۔ الجامع لاحکام القرآن ،محمد بن احمد قرطبی ،ج۱۶،ص۱۔


۳ ۔مصر کے عظیم مفسر ”شیخ احمد مصطفی المراغی (متوفی ۱۳۷۱ ھئق) سورہ شوری کے آغاز میں رقم طراز ہیں:

”یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ،سوائے ان آیات ۲۳ سے ۲۷ تک جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔“(۱)

۴ ۔ ابو الحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری (متوفی ۴۶۸ ھئق) اس آیت کی شان نزول میں تحریر کرتے ہیں:

”جس وقت رسول اکرم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انصار کا ایک گروہ آپس میں جمع ہوا اور کہا:اللہ تعالیٰ نے اس پیغمبر کے ذریعہ ہماری ہدایت فرمائی، اور ان کا ہاتھ مالِ دنیا سے خالی ہے ،مناسب یہ ہے کہ اپنے مال و دولت کا ایک حصہ جمع کر کے ان کے اختیار میں دے دیں تاکہ مشکلات پیش آنے کے وقت ان کا ہاتھ کھلا رہے ۔

جب وہ لوگ آنحضرت کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے یہ پیش کش آنحضرت کے سامنے رکھی تو یہ آیت نازل ہوئی۔“(۲)

۵ ۔ امام فخر رازی (متوفی ۶۰۶ ھئق) نے اس بات کو ابن عباس سے نقل کیا اور مزید تحریر کیا :

_______________________

۱۔ تفسیر المراغی ،احمد مصطفی المراغی ،ج۹،ص۱۳۔

۲۔ اسباب النزول ،ابو الحسن علی بن احمد نیشاپوری (واحدی) ،ص۲۵۱۔


” لہٰذا اپنے مال و دولت کی کچھ مقدار کو جمع کیا اور آنحضرت کی خدمت میں لائے، رسول اکرم نے ان کے اس مال و دولت کو انہیں واپس کر دیا پھر آیہ( قل لا اسئلکم علیه اجراً ) نازل ہوئی ۔“(۱)

اس بیان کی بنا پر اس بات میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہے گا کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور معترض کے اعتراض کا پہلا حصہ ختم ہو جائے گا۔

اس کے اعتراض کا دوسرا حصہ بھی بنیادی طور پر جڑ سے ختم ہو جائے گا،اس لیے کہ اس آیت میں انصار کو خطاب کیا گیا ہے نہ کہ مشرکوں کو۔

لیکن معترض کے تیسرے حصےکے جواب میں ہم کہیں گے کہ قرآن کریم کے چھ سوروں میں ذکر ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم اپنی تبلیغ رسالت کے مقابل میں لوگوں سے اجر نہیں چاہتے اور وہ آیات یہ ہیں:

۱ ۔( قُلْ لاَاسْالُکُمْ عَلَیْهِ اجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِینَ ) (۲)

۲ ۔( قُلْ مَا اسْالُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ اجْرٍ إِلاَّ مَنْ شَاءَ انْ یَتَّخِذَ إِلَی رَبِّهِ سَبِیلًا ) (۲)

_______________________

۱۔ التفسیر الکبیر ،فخر رازی ،ج۲۷، ص۱۶۴۔

۲۔ سورہ انعام (۶) آیت ۹۰۔

۳۔ سورہ فرقان (۲۵) آیت ۵۷۔


۳ ۔( قل ما سالتکم من اجر فهو لکم ان اجری الّا علی الله ) (۱)

۴ ۔( قُلْ مَا اسْالُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ اجْرٍ وَمَا انَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِینَ ) (۲)

۵ ۔( امْ تَسْالُهُمْ اجْرًا فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ ) (۳)

۶ ۔( امْ تَسْالُهُمْ اجْرًا فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ ) (۴)

ان چھ آیتوں کے مقابل میں قرآن کریم کے چھ سورے جو صراحت رکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم تبلیغ رسالت کے بدلے لوگوں سے اجر و مزدوری نہیں طلب کرتے، سورہ مبارکہ شوری میں ذکر ہوا ہے :

( قل لا اسئلکم علیه اجرا الّا المودّة فی القربی ) (۵)

________________________

۱۔ سورہ سبا(۳۴) آیت۴۔

۲۔ سورہ ص(۳۸) آیت ۸۶۔

۳۔ سورہ طور(۵۲) آیت ۴۰۔

۴۔ سورہ قلم (۶۸) آیت ۴۶۔

۵۔ سورہ شوری (۴۲) آیت ۲۳۔


معترض کہتا ہے :قرآن اللہ کا کلام ہے اس کی آیات کے درمیان تناقض و تضاد نہیں پایا جانا چاہیے، لہذا یہ آیت گزشتہ آیات کے ذریعہ منسوخ ہوئی ہے ۔

جواب میں ہم یہ عرض کریں گے: جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا کہ شیعہ مفسرین کے علاوہ عظیم سنی مفسرین نے بھی جیسے فخر رازی ،زمخشری ،قرطبی اور مراغی نے تصریح کی ہے کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور مذکورہ چھ سوروں کے لیے تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئے ہیں،لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ مدنی آیات مکی آیات کے ذریعے منسوخ ہو؟!

علامہ قرطبی نے نسخ کے قول کو ضحّاک سے نقل کیا ہے ،پھر فرمایا ہے:

”ثعلبی نے کہا ہے :یہ بات بے بنیاد ہے ،کتنی بری بات ہے کہ کوئی یہ کہے :اللہ تعالیٰ سے اس کے پیغمبر اور اہل بیت پیغمبر کی اطاعت و مودت کے ذریعہ تقرب حاصل کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے؟! حالانکہ پیغمبر اکرم نے فرمایاہے: ”من مات علی حبّ آل محمد مات شهید(۱) جو شخص محبت آل محمد علیہم السلام پر مر جائے وہ شہید مرا ہے “۔

لیکن تناقض و تضاد کا مسئلہ ،تمام لوگوں کے لیے روشن ہے کہ اس آیت اور گزشتہ آیات میں کسی قسم کا کوئی تناقض و تضاد نہیں پایا جاتا ، اس لیے کہ اگر اس آیت میں مال دنیا سے کوئی چیز حکومت و سلطنت یا اسی طرح کی کوئی دوسری شئے طلب کی ہوتی تو اجر شمار کیا جاتا اور پہلی آیات کے ساتھ تضاد پیدا ہوتا۔ لیکن جو کچھ اس آیہ کریمہ میں طلب کیا ہے وہ خاندان پیغمبر کی محبت ہے جو

____________________

۱۔ الجامع لاحکام القرآن ،محمد بن احمد قرطبی ،ج۱۶،ص۲۲۔


اجر شمار نہیں ہوتی پھر یہ بھی ہے کہ قرآنی نص کے مطابق اس میں لوگوں ہی کا فائدہ ہے(۱)

طباطبائی نے اس سلسلے میں تفصیلی گفتگو کی ہے ،لہذا ہم محترم قارئین کو تفسیر المیزان کے مطالعہ کی تاکید کرتے ہیں(۲)

لیکن معترض نے ”قربیٰ“ کے جو مختلف معانی بیان کیے ہیں انہیں بھی علامہ طباطبائی نے تفصیل سے درج کیا ہے ،قارئین کرام وہاں رجوع فرمائیں(۳)

نتیجے کے طور پر ”مودت قربی“ کا صحیح اور معقول معنی خاندان عصمت و طہارت سے صرف اظہار عقیدت و محبت ہے ۔

اس سلسلے میں اگر ہم ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقولہ احادیث اور مفسرین کے اقوال نقل کریں تو اس مثنوی کے لیے بھی ستّر مَن کاغذ درکار ہوں گے ،لہذا صرف اہل سنت کی تفسیروں میں بعض موجودہ احادیث کو جو مولف کے اپنے ذاتی مخصوص کتاب خانہ میں موجود ہیں اسے نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

۱ ۔ طبرانی (متوفی ۳۶۰ ھئق) اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ ابن عباس

____________________

۱۔ سورہ سبا(۳۴) آیت ۴۷۔

۲۔ رجوع کریں ،المیزان فی تفسیر القرآن ،سید محمد حسین طباطبائی ،ج۱۸، ص۴۶۔

۳۔ رجوع کریں ،المیزان فی تفسیر القرآن ،سید محمد حسین طباطبائی ،ج۱۸، ص۴۶۔


سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

جب آیہ مبارکہ( قل لا اسئلکم علیه اجرا الّا المودّة فی القربیٰ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا:

”یا رسول اللہ ! آپ کے وہ قرابت دار کون لوگ ہیں کہ جن کی مودت ومحبت ہمارے لیے واجب قرار دی گئی ہے؟ فرمایا: ”علی ،فاطمہ اور ان کے دونوں فرزند ہیں“(۱)

۲ ۔ ابن مغازلی (متوفی ۴۸۳ ھئق) اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

”مذکورہ آیت کے نازل ہوتے وقت لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں کہ جن کی مودت ومحبت ہمارے لیے واجب قرار دی ہے؟ فرمایا: ”علی فاطمہ اور ان کے دونوں فرزند ہیں“(۲)

۳ ۔ حسکانی (جو پانچویں صدی ہجری کے بزرگوں میں سے ہیں) نے مذکورہ حدیث کو سات طریقوں سے اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ ابن عباس سے انہوں نے رسول اکرم سے روایت کی ہے(۳)

۴ ۔ زمخشری (متوفی ۵۲۸ ھئق) نے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت

_______________________

۱۔ المعجم الکبیر ،ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی ،ج۱۱،ص ۳۵۱۔

۲۔ مناقب علی بن ابی طالب ،ابو الحسن علی بن محمد ابن مغازی ،ص۳۰۹۔

۳۔ شواہد التنزیل لقواعد التفضیل ،عبید اللہ بن عبد اللہ حسکانی ،ج۲،ص ۱۸۹،۱۹۶۔


نازل ہوئی تو عرض کیا: یا رسول اللہ !آپ کے وہ قرابت دار کون ہیں کہ جن کی مودت ومحبت ہمارے لیے واجب قرار دی گئی ہے؟ فرمایا: ”علی ، فاطمہ اور ان کے دونوں فرزند ہیں“(۱)

۵ ۔ اخطب خوارزم (متوفی ۵۶۸ ھئق) نے مذکورہ حدیث کو ابن عباس کے طریقہ سے پیغمبر اکرم سے روایت کی ہے(۲)

۶ ۔ امام فخر رازی (متوفی ۶۰۶ ھئق) نے مذکورہ احادیث کو تفسیر الکشّاف سے نقل کیا ہے ،پھر قرآنی آیات اور رسول اکرم کی روایات سے خاندان عصمت و طہارت کی محبت و مودت پر استنادو استدلال پیش کیا ہے(۳)

۷ ۔ گنجی شافعی (متوفی ۶۵۸ ھئق) نے مذکورہ حدیث کو اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے(۴)

۸ ۔ قرطبی (متوفی ۶۷۱ ھئق) نے بھی اس حدیث کو سعید ابن جبیر کے طریقہ سے ابن عباس سے ،انہوں نے رسول اکرم سے روایت کی ہے۔(۵)

_____________________

۱۔ الکشّاف عن حقائق غوامض التنزیل ،محمود بن عمر الزمخشری ،ج۴،ص ۲۲۰۔

۲۔ مقتل الحسین ،موفق بن احمد الخوارزمی ،ج۱،ص ۵۷۔

۳۔ التفسیر الکبیر ،فخر رازی ،ج۲۷،ص۱۶۶۔

۴۔ کفایة الطالب ،محمد بن یوسف گنجی ،شافعی ،ص۹۱۔

۵۔ الجامع لاحکام القرآن ،محمد بن احمد القرطبی ،ج۱۶،ص۲۲۔


۹ ۔ محب الدین طبری (متوفی ۶۹۴ ھئق) نے بھی مذکورہ حدیث کو احمد ابن حنبل کے طریقہ سے ،ابن عباس سے ،انہوں نے رسول اکرم سے روایت کی ہے(۱)

۱۰ ۔ نظام الدین نیشاپوری (متوفی ۷۲۸ ھئق) نے بھی اپنی تفسیر میں جوتفسیر طبری کے حاشیہ کے ساتھ طبع ہوئی ،مذکورہ حدیث کو سعید ابن جبیر کے طریقہ سے پیغمبر اکرم سے روایت کی ہے(۲)

۱۱ ۔ ہیثمی (متوفی ۸۰۷ ھئق) نے اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ مذکورہ حدیث کو پیغمبر عظیم الشان سے روایت کی ہے(۳)

۱۲ ۔ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ ھئق) نے بھی اس حدیث کو مختلف طرق کے ساتھ ابن عباس سے انہوں نے پیغمبر اکرم سے روایت کی ہے۔(۴)

۱۳ ۔ ابن حجر (متوفی ۹۷۴ ھئق) نے بھی مختلف طرق سے مذکورہ حدیث کو ابن عباس سے، انہوں نے رسول اکرم سے روایت کی ہے۔(۵)

____________________

۱۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان ،در حاشیہ تفسیر طبری ،نظام الدین حسن بن محمد نیشاپوری ،ج۱۱،ص۳۵۔

۲۔ مجمع الزوائد ،نور الدین علی بن ابی بکر ہیثمی ،ج۷،ص۱۰۳، ج۹،ص۱۶۸۔

۳۔ الدّر المنثور ،جلال الدین سیوطی ،ج۶،ص۷۔

۴۔ الصواعق المحرقہ ،احمد بن حجر الہیتمی ، ص۱۷۰۔

۵۔ ذخائر العقبیٰ ،محب الدین طبری ،ص۲۵۔


۱۴ ۔ ابو نعیم اصفہانی (متوفی ۴۳۰ ھئق) جابر ابن عبد اللہ انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ:

”ایک اعرابی پیغمبر اکرم کی خدمت میں شرف یاب ہوا اور عرض کیا:” یا محمد! مجھے اسلام بتائیں“ فرمایا: گواہی دیتے ہو کہ سوائے خدائے وحدہ لاشریک کے کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں“ اس نے دریافت کیا:”تبلیغ رسالت کے مقابل میں آپ مجھ سے کون سا اجر چاہتے ہیں؟“ فرمایا: ”کوئی اجر نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ قرابت داروں سے مودت و محبت کرو“ اس اعرابی نے سوال کیا:” اپنے قرابت داروں سے ،یاآپ کے قرابت داروں سے ؟“ فرمایا: میرے قرابت داروںسے “۔

اعرابی نے کہا:” اپنا ہاتھ مجھے دیجیے میں بیعت کروں گا ،جو شخص آپ کو اور آپ کے قرابت داروں کو دوست نہ رکھے اس پر خدا کی لعنت ہو“(۱)

۱۵ ۔ سیوطی(متوفی ۹۱۱ ھئق) نے بھی مجاہد کے طریقے سے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا:

”لا اسئلکم علیه اجراً الّا المودّة فی القربی؛ان تحفظونی فی اهل بیتی و تودّوهم بی

_______________________

۱۔ حلیة الاولیاء ،ابو نعیم اصفہانی،ج۳،ص ا۲۰۔


”یعنی یہ کہ سوائے اپنے قرابت داروں کی مودت و محبت کے تبلیغ رسالت کے بدلے تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا اور وہ یہ ہے کہ میرے اہل بیت کا احترام کر کے میرے احترام کو محفوظ رکھو اور ان سے میری وجہ سے دوستی و محبت رکھو“(۱)

۱۶ ۔ حاکم نیشاپوری (متوفی ۴۰۵ ھئق) نے اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت علی کی شہادت کے دن ایک مفصل خطبہ کے ذیل میں فرمایا:

”میں ان اہل بیت میں سے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مودت و محبت کو تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں اپنے پیغمبر سے فرمایا:( قل لا اسئلکم علیه اجرا الّا المودّة فی القربیٰ ) (۲)

۱۷ ۔ محمد بن جریر طبری (متوفی ۳۱۰ ھئق) اپنے سلسلہ اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ:

”جب امام زین العابدین کو اسیر کر کے شام میں داخل کیا گیا تو ان کو ایک چبوترہ پر روکا گیا ایک ضعیف العمر آپ کے پاس آیا اور کہا:”خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ تمہارے مردوں کو ہلاک کیا اور فتنے کو جڑسے اکھاڑ

_______________________

۱۔ الدر المنثور ،جلال الدین سیوطی ،ج۶،ص۷۔

۲۔ المستدرک علی الصحیحین فی الحدیث ،ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری ،ج۳،ص ۱۷۲۔


پھینکا گیا“ امام سجاد نے دریافت فرمایا: کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟کہا : ہاں! ”کیا ”آل حامیم“ پڑھا ہے ؟“ کہا نہیں ،پھر دریافت فرمایا: کیا اس آیت کی تلاوت کی ہے( قل لا اسئلکم علیه اجرا الّا المودّة فی القربی ) ؟ کہا : ”کیا آپ وہی لوگ ہیں؟“ فرمایا: ”ہاں“۔(۱)

۱۸ ۔ احمد حنبل (متوفی ۲۴۱ ھئق) مفسرین کے اقوال کو شمار کرتے وقت سعید بن جبیر سے نقل کرتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں:

”قربیٰ آل محمد“

(مودت سے مراد) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ ) کے قرابت دار ہیں(۲)

۱۹ ۔بخاری (متوفی ۲۵۶ ھئق) طبری ،قرطبی اور سیوطی نے بھی عین اسی عبارت کو سعید ابن جبیر سے نقل کیا ہے(۳)

پھر فخر رازی نے اس کے اثبات کے لیے ایک لطیف تحقیق پیش کی ہے(۴)

اس بیان کی بنا پر دوست اور دشمن کے لیے یہ بات روشن ہو جائے گی کہ قرابت

_______________________

۱۔ جامع البیان فی تفسیر القرآن ،ابو جعفر محمد بن جریرطبری ،جزء ۲۵، ص۱۶۔

۲۔ المسند ، احمد ابن حنبل ، ج۱،ص ۲۸۶۔

۳۔ الصحیح ،اسماعیل ابن ابراہیم البخاری ،ج۶،ص۱۶۲،ابو جعفر محمد بن حریر طبری گزشتہ حوالہ ،ج۱۱،ص۱۷، تفسیر محمد ابن احمد قرطبی ،ج۱۶، ص۲۱، در منثور ،جلال الدین سیوطی ،ج۶،ص۵۔

۴۔ تفسیر کبیر ،فخر رازی ،ج۲۷،ص۱۶۶۔


داروں کی مودت ومحبت سے مراد خاندان پیغمبر کی مودت و محبت ہے اور گزشتہ مصادر صرف اہل سنت کی تفسیروں کا ایک گوشہ تھا جو مولف کے ذاتی مخصوص کتاب خانہ میں موجود ہے ۔ اور اگر کوئی شخص اس سلسلے میں تحقیق کرے تو اسے اس کے دسیوں برابر مطالب دست یاب ہو جائیں گے۔

لیکن دوسرے معانی جو معترض نے بعض منحرف افکار کی پیروی کرتے ہوئے ذکر کیے ہیں وہ آیہ کریمہ کے مقصد اور ذوق سلیم سے دور ہےں ،جیسا کہ علامہ طباطبائی نے تفصیلی تحقیق پیش کی ہے(۱)

نتیجے کے طور پر دعائے ندبہ کا یہ فقرہ بھی قرآن کے منافی و متضاد نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر آیات قرآن، مفسرین کے اقوال ،مفسرین کی روایات اور شریعت مقدسہ کے دوسرے معیاروں کے عین مطابق ہے ۔

۹ ۔ کیا دعائے ندبہ کے مضامین شرک آمیز ہیں؟

معترض کہتا ہے :خداوند متعال نے قرآن کریم کی سکیڑوں آیات میں فرمایا ہے کہ خدا کے علاوہ کسی کونہ پکارو ،اور غیر خدا کو پکارنا کفر و شرک ہے ۔ہمارے پاس اس کا کوئی منبع نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم یا ائمہ معصومین علیہم السلام سے کسی امام نے یہ فرمایا ہو کہ اپنی حاجتوں کو ہم سے طلب کرو۔لہٰذا دعائے ندبہ جو کہتی ہے :امام زمانہ کو

________________________

۱۔ المیزان ،سید محمد حسین طباطبائی ،ج۱۸، ص۴۳۔


پکارو اورفریاد کرو ،یہ کفر و شرک ہے ۔

ہم جواب میں عرض کریں گے کہ سب سے پہلے یہ کہ:

اولیائے خدا سے توسل اختیار کرنا قرآن و سنت کی نظر میں کوئی اشکال نہیں رکھتا بلکہ قرآن کریم نے بہت سے سوروں میں اس کو صحیح قرار دیا ہے اور اس کا حکم دیا ہے کہ ہم ایک نمونہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

( یا ایها الذین آمنوا اتقواللّه و ابتغوا الیه الوسیلة و جاهدوا فی سبیله لعلکم تفلحون)

”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جھاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہو جاؤ۔“(۱)

اس آیہ کریمہ میں خداوند منان مومنین کو صراحت کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ اللہ تک جانے کا وسیلہ تلاش کرو۔

بہت سی حدیثوں میں اولیائے الٰہی سے توسل کی کیفیت تعلیم دی گئی ہے کہ ہم ان میں سے ایک نمونہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

عثمان بن حنیف روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اکرم کی خدمت اقدس میں شرف یاب ہوا اور ان سے دعا کرنے کی درخواست کی تاکہ اللہ تعالیٰ اسے صحت و عافیت عنایت فرمائے ۔

________________________

۱۔ سورہ مائدہ (۵) آیت ۳۵۔


پیغمبر اکرم نے اسے تعلیم فرمایا کہ نئے سرے سے وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھو پھر کہو:

الّلّهم انّی اسئلک و اتوجه الیک بنبیّک نبیّ الرّحمة ، یا محمد انّی اتوجّه بک الی ربّی فی حاجتی لتقضی، اللّهم شفّعه فیّ

”خدایا ! میں تیرے پیغمبر رحمت کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہو رہا ہوں۔اے محمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے پروردگار کی طرف توجہ پیدا کر رہا ہوں تاکہ میری حاجت پوری ہو۔ پروردگار! ان کی شفاعت کو میرے حق میں قبول فرما۔“(۱)

رسول اکرم کی یہ حدیث ایک حاجت مند انسان کو اس بات کی تعلیم دے رہی ہے کہ وہ پیغمبراکرم کو کس طرح اپنا شفیع قرار دے اور آنحضرت کے وسیلہ سے خداوند منان سے اپنی حاجت کو طلب کرے ۔

اس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں نقل کر کے یہ تصریح کی ہے کہ بخاری اورمسلم کی حدیث شناسی کے تمام معیار کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے ۔ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس کے صحیح ہونے کی تاکید کی ہے(۲)

________________________

۱۔ مستدرک ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ،حاکم نیشاپوری ،ج۱،ص ۳۱۳۔


۲ ۔ تلخیص المستدرک ،شمس الدین احمد بن محمد ذہبی ،مستدرک کے ذیل میں ۔

ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اس کے صحیح ہونے کی تاکید کی ہے(۱)

اس بیان کی بنا پر اولیائے الٰہی میں کسی ایک سے توسل اختیار کرنا نہ صرف یہ کہ کفر و شرک نہیں ہے بلکہ قرآن کریم ،احادیث رسول (ص) سے ہم آہنگ اور اکابر محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے ۔

ہم نے معترض کی غرض و مقصد کو واضح کرنے کے لیے دعائے ندبہ کو چھ مخصوص حصوں میں تقسیم کیا اور ان چھ حصوں کے مضامین پر ایک اجمالی نظر ڈالیں گے تاکہ معلوم ہو کہ دعائے ندبہ کے فقرات میں سے کسی بھی فقرہ میں حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے وجود اقدس سے حاجت نہیں طلب کی گئی ہے ۔

وہ دعائے ندبہ جو اس کتاب میں تحریر کی گئی ہے ۱۴۸ سطروں پر مشتمل ہے اور اس کا پہلا حصہ پہلی سطر سے ۱۹ سطر تک تمام ہوتا ہے ،یہ حصہ پروردگار کی حمد و ثنا اس کی عظیم نعمتوں کے مقابلے میں جیسے ارسال رسل انزال کتب (رسولوں کے بھیجنے اور کتابوں کے نازل کرنے) کا حامل ہے اور جملہ ”الحمد للّٰہ ربّ العالمین“ سے آغاز ہوتا ہے ۔

دوسرا حصہ بیسویں سطر سے ۳۶ تک تمام ہوتا ہے ،یہ حصہ نبوت خاصہ، بعثتِ رسول اکرم کی عظیم نعمت اور آنحضرت کے بعض فضائل و مناقب سے مخصوص ہے اور جملہ ” الی ان انتھیت بالامر الی حبیبک و نجیبک “سے آغازہوتا ہے۔

________________________

۱۔ السنن ،ابو عبد اللہ ابن ماجہ ،ج۱،ص ۴۴۱۔


اس کا تیسرا حصہ چھتیسویں سطر سے ۵۸ سطر تک تمام ہوتا ہے ،یہ حصہ نصب امامت ،غدیر خم کے تاریخی واقعہ اور مولائے متقیان امیر المومنین علی بن ابی طالب کے فضائل و مناقب کے ذکر سے مخصوص ہے اور جملہ ” فلمّا انقضت ایّامہ ،اقام ولیّہ علی بن ابی طالب علیہ السلام “سے آغاز ہوتا ہے ۔

اس کا چوتھا حصہ انسٹھویں سطرسے ۷۲ سطر تک اختتام پذیر ہوتا ہے ،یہ حصہ عترتِ طاہرہ پر کیے گئے مصائب پر مشتمل ہے اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے آثار و برکات سے امت کی محرومیت کے اشک ِحسرت و ندامت سے مخصوص ہے اور جملہ”و لمّا قضیٰ نحبہ“ سے آغاز ہوتا ہے ۔

اس کا پانچواں حصہ بہترویں سطر سے ۱۲۱ سطر تک اختتام پذیر ہوتا ہے اور دوران غیبت کے طولانی ہونے کے تاثرات اور افسوس ناک ہونے کے اظہار پر مشتمل ہے ،درد ہجران اور دیدار یار کے اظہارِ شوق سے مخصوص ہے اور جملہ ”این بقیّة اللّٰہ الّتی لا تخلو من العترة الھادیة“ سے آغاز ہوتا ہے ۔

اس کا چھٹا حصہ ایک سو بائیسویں سطر سے ۱۴۸ سطر تک دعائے ندبہ کے آخری حصہ پر مشتمل ہے اور خداوند قاضی الحاجات کی بارگاہ میں دعا و مناجات سے مخصوص ہے اور جملہ” الّلھمّ انت کشّاف الکرب والبلوی“ سے آغاز ہوتا ہے ۔

دعائے ندبہ کے اس حصے میں اس بات کے پیش نظر کہ حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کو بارگاہ رب العزّت میں شفیع قرار دیا گیا ہے ،اس کے چند فقرات کو یہاں ذکر کر رہے ہیں تاکہ معترضین کا مقصد مزید واضح ہو جائے :


خدایا! ان کے ذریعہ حق کو قائم کر۔

باطل کو ان کے ذریعہ فنا کر دے ۔

اپنے دوستوں کو ان کے ذریعہ حاکم قرار دے ۔

اپنے دشمنوں کو ان کے ذریعہ ذلیل و رسوا کر ۔

ان کی برکت سے ہماری نماز کو مقبول بنا دے ۔

ان کی خاطر ہمارے گناہوں کو بخش دے ۔

ان کے احترام میں ہماری دعائیں مستجاب قرار دے ۔

ان کی برکت سے ہمارے رزق میں وسعت عطا فرما۔

ان کی خاطر ہمارے رنج و غم کو دور کر دے ۔

ان کے احترام میں ہماری حاجتوں کو پوری فرما۔

اس طرح خداوند منان سے حاجت طلب کرنا اور خالق دو جہاں کی بارگاہ میں حجت زمانہ کو شفیع قرار دینا کیا آیات قرآن اور رسول اسلام سے منقولہ احادیث سے ہم آہنگ نہیں ہے؟!تو پھر کیوں حسد و کینہ رکھنے والے اس کو کفر و شرک سے تعبیر کرتے ہیں؟!

۱۰ ۔ کیا مہدیّہ (نامی مقامات) کی تعمیر کرانا بدعت ہے ؟

معترضین دعائے ندبہ برقرار کرنے کے لیے کسی مخصوص جگہ کی تعمیر کرانا حرام اور بدعت جانتے ہیں!

”مہدیّہ“”قائمیّہ“ ،”منتظریّہ“ یا اسی جیسے دوسرے نام سے کسی مقام کی تعمیر کرانا بالکل بارگاہ حضرت ابا عبد اللہ الحسین میں اظہار عقیدت اور مجلس کے لیے ”حسینیہ“ بنانے کی طرح ہے ۔


اسی طرح سے کہ ایک جگہ”دارالشفاء“ کے نام سے بیماروں کے علاج کے لیے بنائی جائے ،”دار الایتام“ یتیموں کی حفاظت کے لیے ”دار الحفّاظ“ حافظین قرآن کی تربیت کے لیے،”دار التجوید“ تجوید قرآ ن کی تعلیم کے لیے ”دار القرآن “ قرآن کی تعلیمات عام کرنے کے لیے ”دار الحدیث “ احادیث اہل بیت کو نشر کرنے کے لیے اور اسی طرح کی دوسری جگہ تعمیر کرانے میں شرعاً کوئی مانع نہیں ہے ۔دعائے کمیل ،دعائے ندبہ ،زیارت عاشورا وغیرہ کو برقرار کرنے کے لیے بھی کسی جگہ کے تعمیر کرانے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔ اس بیان کی بنا پر، ”مہدیّہ“ ،”قائمیّہ“ ،”منتظریّہ“اور اسی طرح کی دوسری جگہوں کے تعمیر کرانے کی شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس آیہ مبارکہ کے ایک مصداق میں شامل ہے :

( تعاونوا علی البرّ و التقویٰ)

”نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ “(۱)

لہٰذا طول تاریخ اسلام میں ہر وہ مرکز جو بہ عنوان ”دار الکتب“، ”دار الحکمة“ ، ”‘دار العلم‘ ، ”دار الشفا“، ”دار القرّاء“، ”دار الحفّاظ“ اور اسی جیسی کوئی اور جگہ بنائی گئی ہو تو وہ کبھی بھی قابل اعتراض واقع نہیں ہوئی ہے ۔

سب سے زیادہ قدیم مقام کی تاسیس جو گزشتہ زمانے میں ایک امام معصوم کے ذریعہ عمل میں آئی اور اس آخری زمانہ تک محفو ظ تھی ،”بیت الاحزان “ حضرت فاطمہ زہرا تھا جو حضرت امیر المومنین کے ذریعہ رحلت پیغمبر اکرم کے بعد تعمیر کرایا گیا۔

استاد توفیق ابو علم ،مشہور مصری رائٹر اس سلسلے میں تحریر کرتے ہیں:

”حضرت علی نے حضرت فاطمہ زہرا کے لیے بقیع میں ایک گھر بنایا کہ جسے ”بیت الاحزان “کہا جاتا ہے ۔یہ گھر ہمارے زمانے تک باقی ہے“۔(۲)

مجد الدین فیروزآبادی (متوفی ۸۱۶ ھئق) صاحب قاموس اللغة ”بیت الاحزان “ کی وجہ تسمیہ میں رقم طراز ہیں:

”کیونکہ حضرت فاطمہ زہرا اپنے پدربزرگوار حضرت سید المرسلین کی رحلت کے بعد وہاں پناہ حاصل کر تی تھیں اور گریہ و نالہ میں مشغول ہوتی تھیں۔“(۳)

ابن جبیر، تاریخ اسلام کا مشہور سیّاح (متوفی ۶۱۴ ھئق) کہ جس نے چھٹی صدی

_____________________

۱۔ سورئہ مائدہ (۵)، آیت ۲۔

۲۔اہل البیت ،ابو علم ،ص۱۶۷۔

۳۔ وفاء الوفاء ،باخبار دار المصطفیٰ ،نور الدین علی بن احمد سمہودی ،ج۳،ص ۹۱۸۔


ہجری میں مدینہ منورہ کا دیدار کیا تھا تحریر کرتا ہے :

”عباس بن عبد المطلب کے گنبد کے پیچھے ،دخترِ پیغمبر فاطمہ زہرا کا بیت الشرف واقع ہے جسے ”بیت الحزن “کہا جاتا ہے ،مشہور یہ ہے کہ:

یہ وہی جگہ ہے کہ پیغمبر کی رحلت کے وقت حضرت فاطمہ زہرا وہاں جایا کرتی تھیں اور اس جگہ عزاداری اور گریہ و ماتم میں مشغول رہتی تھیں۔(۱)

مرزا حسین فراہانی جنہوں نے چودہویں صدی ہجری کے آغاز میں مدینہ منورہ کا دیدار کیا تھا تحریر کرتے ہیں:

”ائمہ بقیع کے گنبد کے پیچھے ایک چھوٹا گنبد ہے جو حضرت فاطمہ زہرا کا ”بیت الاحزان “ ہے اور اس میں ایک آ ہنی چھوٹی ضریح ہے ۔“(۲)

فراہانی کے بعد رفعت پاشا کی فوج کا سردار (متوفی ۱۳۵۳ ھئق) جس نے ۱۳۲۰ ھئق سے ۱۳۲۵ ھئق تک مصریوں کے امیر الحاج ہونے کی حیثیت سے مدینہ منورہ کا مشاہدہ کیا، تحریر کرتا ہے ۔

”وہاں ایک گنبد ہے جس کا نام ”قبّة الحزن“ ہے کہا جاتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا اپنے پدربزرگوار کی رحلت کے بعد وہاں پناہ گزیں ہوتی تھیں اور وہاں گریہ و ماتم کرتی تھیں۔“(۳)

____________________

۱۔ وفاء الوفاء ،باخبار دار المصطفیٰ ،نور الدین علی بن احمد سمہودی ،ج۳،ص ۹۱۸۔ ۔

۲۔ سفر نامہ ،مرزا حسین فراہانی ،ص۲۸۶۔

۳۔ مرآة الحرمین ،ابراہیم رفعت پاشا، ج۱،ص ۴۲۶۔


سمہودی بھی غزالی سے نقل کرتے ہیں جو اعمال بقیع کے بیان کے ضمن میں رقم طراز ہیں:

”مسجد حضرت فاطمہ میں نماز پڑھو۔ “

پھر مزید تحریر کرتے ہیں:

اور وہ وہی ”بیت الحزن “ کی مشہور جگہ ہے جہاں حضرت فاطمہ زہرا پدربزرگوار کی رحلت کے غم و اندوہ کے دنوں میں وہاں قیام کرتی تھیں اور گریہ و ماتم میں مصروف رہتی تھیں(۱)

اس بیان کی بنا پر ”بیت الاحزان “ ۱۱ ھئق میں مولائے متقیان حضرت امیر المومنین کے دست ِ مبارک سے تعمیر ہوا، بعد میں اس کے اوپر ضریح اور گنبد بنایا گیا،اور تمام صدیوں اور زمانوں میں مدینہ منورہ کے زائرین کی زیارت گاہ اور محل عبادت بنا رہا اور کبھی بھی کسی کے مورد اعتراض نہیں قرار پایا، یہاں تک کہ ۸ شوال ۱۳۴۴ ھئق میں وہابیوں کے شر پسند ہاتھوں سے منہدم اور برباد کیا گیا۔

اگر کوئی مقام بنام ”بیت المہدی“ ،”دار المہدی“، ”مہدیّہ“، ”قائمیّہ“، ”منتظریّہ“وغیرہ تعمیر کرایا جائے اور اس میں دعائے ندبہ برگزار ہو تو نہ صرف یہ کہ بدعت نہیں ہے بلکہ آیہ کریمہ ”تعاونوا علی البرّ و التّقوی“(۲) کے ایک مصداق میں شامل ہے ۔

_______________________

۱۔ وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ ،نور الدین علی بن احمد سمہودی ،ج۳،ص ۹۰۷۔

۲۔ سورئہ مائدہ (۵) آیت ۲۔


تیسری فصل

دعائے ندبہ کے متعلق چند نکات

پہلا نکتہ :

دعائے ندبہ کے بعض نکات سے چند عظیم شیعہ فقہا کا استناد کرنا ۔

عالم تشیّع کے بزرگ فقہاء نے اپنی استدلالی کتابوں میں دعائے ندبہ کے بعض حصے کو بطور شاہد و استناد پیش کیا ہے کہ جس میں سرِ فہرست استاد الفقہا و المجتہدین آیت اللہ شیخ مرتضیٰ انصاری رحمة اللہ علیہ (متوفی ۱۲۸۱ ھئق) ہیں ۔

انہوں نے کتاب المکاسب میں جو حوزہ علمیہ کی درسی کتاب ہے ،اس سلسلے میں کہ کیا ابتدائی التزامات (معاہدوں) پر شرط ، صادق آتی ہے یا نہیں دعائے ندبہ کے ایک حصہ کو جس کی عبارت یہ ہے :

قوله علیه السلام فی اوّل دعاء الندبه “بطور شاہد پیش کیا ہے۔(۱)

________________________

۱۔ المکاسب ،شیخ مرتضیٰ انصاری، ص۲۱۶۔


اور یہ اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ شیخ انصاری دعائے ندبہ کو امام معصوم علیہم السلام سے ماثور جانتے ہوئے اس سے استناد کرتے ہیں اور اسے ”قولہ علیہ السلام“ ”امام علیہ السلام “ کے قول سے تعبیر کرتے ہیں ۔

شیخ انصاری کے بعد ،کتاب المکاسب کی شرح اور حاشیہ تحریر کرنے والوں نے جو سبھی اپنے زمانے کے مراجع کرام میں سے تھے ،مکاسب کے اس مذکورہ حصہ کی شرح میں انہوں نے دعائے ندبہ سے استناد کیا ہے اور دعائے ندبہ کو امام معصوم سے استناد کرنے کے موقع پر شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا ہے کہ ہم ان میں سے بعض افراد کے اسماء کو اپنے صفحات کی زینت قرار دے رہے ہیں:

۱ ۔ آیت اللہ الحاج شیخ محمد حسن مامقانی ،(متوفی ۳۲۳ اھئق)(۱)

۲ ۔ آیت اللہ الحاج ملّا محمد کاظم خراسانی ،صاحب کفایہ (متوفی ۱۳۲۹ ء ھ ق)۔

۳ ۔ آیت اللہ الحاج سید محمد کاظم یزدی صاحب عروة الوثقیٰ (متوفی ۱۳۳۷ ھئق)۔

۴ ۔ آیت اللہ الحاج مرزا علی ایروانی (متوفی ۱۳۵۴ ھئق)(۲)

۵ ۔ آیت اللہ الحاج شیخ محمد حسین اصفہانی ،(متوفی ۱۳۶۱ ھئق) ۔

۶ ۔ آیت اللہ الحاج مرزا فتّاح شہیدی (متوفی ۱۳۷۲ ھئق)(۳)

________________________

۱۔ غایة الآمال ،الشیخ حسن مامقانی ،ج۲،ص ۲۔

۲۔ التعلیقةعلی المکاسب ،ایروانی ،ج۲،ص ۵۔

۳۔ ھدایة الطالب الی اسرار المکاسب ،مرزا فتّاح شہیدی ، ص۴۱۰۔


۷ ۔ آیت اللہ الحاج سید محمد شیرازی (ہم عصر)(۱)

اس بیان کی بنا پر ان تمام بڑے فقہا کہ جنہوں نے کتاب المکاسب پر شرح یا حاشیہ تحریر کیا ہے ان سب نے شیخ انصاری کی بات کا یقین اور اسے صحیح تسلیم کیا ہے اور جملہ ”قولہ علیہ السلام“ ”قول امام علیہ السلام“ ،پر اعتراض نہیں کیا ہے ۔ نتیجے کے طور پر دعائے ندبہ کے ماثور و منقول ہونے کی سب نے امضاء و تائید کی ہے۔

دوسرا نکتہ :

کیا یہ بات ممکن ہے کہ دعائے ندبہ بزرگ علماء میں سے کسی ایک کی خود ساختہ ہو؟

ہم جواب میں عرض کریں گے کہ یہ احتمال بہت سی دلیلوں سے بعید ہے :

۱ ۔دعائے ندبہ کی سند کو تفصیل کے ساتھ ہم نے بیان کیا۔

۲ ۔ اس کی قوّت سند اور اعتبار کو علامہ مجلسی سے ہم نے نقل کیا۔

۳ ۔ امام معصوم سے اس کے ماثور و منقول ہونے کے شواہد و دلائل کو ہم نے بیان کیا۔

۴ ۔ امام جعفر صادق سے اس کے منقول ہونے کے شواہد و دلائل کو ہم نے بیان کیا۔

۵ ۔ شیخ انصاری کے استناد اور ان کا دعائے ندبہ کی پیروی کرنے کو نیز اس کے ماثور ہونے کے سلسلے میں دوسرے عظیم فقہا کے اقوال کو ہم نے نقل کیا۔

_______________________

۱۔ ایصال الطالب الی المکاسب ،سید محمد حسینی شیرازی ،ج۱۱،ص۴۳۔


۶ ۔ سب سے پہلے جس نے دعائے ندبہ کو اپنی تحریر و تالیف میں ذکر کیا وہ ”بزوفری“ شیخ مفید کے استاد ہیں ،کہ جنہوں نے چار عظیم عیدوں میں دعائے ندبہ پڑھنے کے مستحب ہونے کا فتوی دیا ہے ۔(۱) لہذا اگر بزوفری کو اس دعا کے متعلق امام معصوم سے صادر ہونے کا اطمیان نہ ہوتا تو کبھی بھی اس کے مستحب ہونے کا فتوی نہ دیتے ،کیونکہ کسی شئے کے مستحب ہونے کا فتوی دینے کے لیے شرعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔

۷ ۔ ابن ابی قرّہ ،ابن مشہدی ، سید ابن طاووس ، محدث نوری ،محمدث قمی اور بہت سے فقہاء و محدثین نے بزوفری کے اس فتوی کو نقل کیا ہے اور اس کے صحیح ہونے کو تسلیم کیا ہے(۲)

۸ ۔ علامہ مجلسی نے اس کی سند کو معتبر قرار دینے کی تصریح کرنے کے بعد خود دعائے ندبہ کا چار عظیم عیدوں میں پڑھنے کے مستحب ہونے کا فتویٰ دیا ہے ۔(۳)

_______________________

۱۔ المزار الکبیر ،ابو عبد اللہ محمد بن جعفر ابن مشہدی ،ص۵۷۳۔

۲۔ المزار الکبیر ،ابو عبد اللہ محمد بن جعفر ابن مشہدی ،ص۵۷۳۔ مصباح الزائر، سید علی بن موسیٰ ابن طاووس، ص ۴۴۶، حسین بن محمد تقی نوری، ص ۶۴۸، مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، طبع رسالت، ص ۶۵۰۔

۳۔ زاد المعاد ،محمد باقر مجلسی ،ص۴۸۶۔


۹ ۔ اگر یہ دعا علماء میں سے کسی ایک کے ذریعہ انشاء ہوئی ہوتی تو یقینا اس کی تصریح کرتے ، اس لیے کہ علمائے شیعہ کا یہ شیوہ رہا ہے کہ اگر کوئی دعا یا زیارت نامہ کو انشاء کرے تو اس کی تصریح کرتے ہیں ۔

اور اب ہم چند چیزوں کی طرف بعنوان مثال اشارہ کرتے ہیں :

۱ ۔ شیخ صدوق نے ، حضرت فاطمہ زہرا کے زیارت نامہ کے متعلق(۱)

۲ ۔ سید ابن طاووس نے رویت ہلال کی دعا کے متعلق ۔(۲)

۳ ۔ فخر المحققین نے ، محدّث نوری کے نقل کے مطابق ”دعائے عدیلہ“ کے متعلق ۔(۳)

۴ ۔ آقا جمال خوانساری نے ، حضرت عبد العظیم کے زیارت نامہ کے متعلق(۴)

۵ ۔ محدث قمّی نے ،حکیمہ خاتون سلام اللہ علیہا کے زیارت نامہ کے متعلق(۵)

________________________

۱۔ من لایحضرہ الفقیہ ،شیخ صدوق ،ج۳،ص ۵۷۳۔

۲۔ اقبال الاعمال ،سید ابن طاووس ،ص۳۰۷۔

۳۔ مستدرک الوسائل ،حسین بن محمد تقی نوری ،طبع سنگی ،ج۱،ص ۹۳ ۔

۴۔ المزار ،جمال خوانساری ،ص۱۰۹۔

۵۔ مفاتیح الجنان ،شیخ عباس قمی ،طبع رسالت ،ص۶۳۴۔


تیسرا نکتہ :

اعتراض کرنے والا کون ہے ؟

ابتدائی دنوں میں کہ جب دعائے ندبہ قابل توجہ منابع میں جیسے المزار الکبیر ، المزار القدیم ،الاقبال ،مصباح الزائر اور بحار الانوار وغیرہ میں نقل ہوئی اور عاشقین و قارئین کی دست رس میں قرار پائی تو خاندان عصمت و طہارت کے عقیدت مندوں نے بغیر کسی خوف کے جمعہ کے دنوں میں صبح کے وقت اور دوسری اسلامی عیدوں میں اس کے پڑھنے کی طرف سبقت حاصل کی اور سبقت کرتے رہتے ہیں ،کوئی شک و شبہ بھی نہیں رکھے کہ اس کا متن امام معصوم سے صادر ہوا ہے ، اس کا زمانہ غیبت میں پڑھنا شیعہ منتظر کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے اور حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی خاص عنایت و توجہ کا مرکز ہے ۔ اس طریقے سے ،علمائے اعلام اور اسلام کے پاسبانوں نے اس کی سند کے متعلق بحث و تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔یہاں تک کہ تقریباً تیس سال پہلے ایک کتابچہ بغیر کسی نام و نشان کے ”بررسی دعائے ندبہ “ (یعنی دعائے ندبہ کی تحقیق) کے نام سے ایک نامعلوم مولف جس کا مستعار (دوسرے سے مانگاہوا) نام ”علی احمد موسوی“ ہے تہران میں نشر ہوا کہ جس نے اس کی سند میں شک و شبہ کا اظہار کیا ،اس کے مطالب پر ناجواں مردانہ دھاوا بول دیا تھا۔ اس لحاظ سے عہد کیے ہوئے علماء اور درد آشنا پاسبانوں نے خود کو ذمہ دار سمجھا کہ اس ناجواں مردانہ دھاوا بولنے والے کو بغیر جواب دیے خاموش نہیں بیٹھیں گے ،لہٰذا دعائے ندبہ کی سند، متن اور دوسرے مختلف پہلوؤوں سے دفاع سے متعلق بہت سی گراں قدر کتابیں تحریر کیں اور اس کے کھوکھلے اعتراضات کا جواب دیا کہ اس کے بعض عناوین سے آپ اس کتاب میں آشنا ہوں گے ۔


چوتھا نکتہ :

کیا دعائے ندبہ ناحیہ مقدسہ (امام زمانہ ) کی طرف سے صادر ہوئی ہے؟

جیسا کہ ہم نے کتاب کے دوسرے حصہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا، دعائے ندبہ کو حضرت امام جعفر صادق سے صادر ہونے کا شرف حاصل ہے ،جیسا کہ علامہ مجلسی اور بعض بزرگوں نے اس بات کی تصریح کی ہے ۔(۱) اور سید ابن طاووس کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے ۔(۲) لیکن ”محمد بن ابی قرّہ“ کی تعبیر کہ جس نے کہا ہے :

”کتاب”بزوفری“ میں ذکر ہوا ہے کہ یہ دعا صاحب الزمان صلوات اللہ علیہ کے لیے ہے ۔“(۳)

_______________________

۱۔ زاد المعاد ،محمد باقر مجلسی ،ص۳۹۴، مکیال المکارم ،سید محمد تقی موسوی اصفہانی ،ج۲،ص ۹۳ ،شرح دعائے ندبہ ، سید صدر الدین مدرس ،ص۱۔

۲۔ اقبال الاعمال ، سید ابن طاووس ،ص۲۹۵۔ ۳۔ المزار الکبیر ، ابن مشہدی ،ص۵۷۳، مصباح الزائر ،سید ابن طاووس،ص۴۴۶، زوائد الفوائد ، سید علی بن علی بن موسیٰ ابن طاووس (فرزند ابن طاووس ) خطی نسخہ ،ص۴۹۳۔


بعض ہم عصرلوگوں نے یہ تصور کیا ہے کہ یہ دعا ناحیہ مقدسہ (حضرت بقیة اللہ)کی طرف سے صادر ہوئی ہے(۱)

پانچواں نکتہ:

دعائے ندبہ اور وہ زیارت جو ”ندبہ “ کے نام سے مشہور ہے ۔

دعائے ندبہ کے علاوہ سرداب مقدس کے زیارت ناموں میں سے ایک زیارت نامہ ”ندبہ “ کے نام سے بھی موجود ہے اور وہ زیارت ”زیارت آل یٰسین “ کے نام سے مشہور ہے ۔

سید ابن طاووس اپنی مبارک کتاب مصباح الزائر میں سرداب مقدس کی زیارتوں کو شمار کرتے ہوئے ”زیارت آل یٰسین “ کو اس عنوان سے بیان کرتے ہیں:

”ہمارے مولا حضرت صاحب الزمان صلوات اللہ علیہ کی دوسری زیارت جو زیارت ”ندبہ “ کے نام سے مشہور ہے جو قداست ”ناحیہ مقدسہ“ کے عنوان سے مالا مال ہے اس نے ابو جعفر محمد ابن عبد اللہ حمیری کے لیے صدور کا شرف حاصل کیا، اور حکم دیا گیا ہے کہ سرداب مقدس میں پڑھی جائے: ”بسم اللّٰه الرّحمن الرحیم ،لا لامر ه تعقلون، ولا من اولیائه تقبلونسلام علی آل یاسین(۲)

________________________

۱۔ہفدہ رسالہ ،محمد تقی شوشتری ،ص۳۴۳، دہ رسالہ ،رضا استادی ،ص۲۸۴، ۳۱۰۔

۲۔مصباح الزائر ،سید ابن طاووس ،ص۴۳۰۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۱۰۲،ص۹۲۔


مولف کہتے ہیں:”زیارت آل یٰسین “ کی شہرت قدماء کے درمیان ”زیارت ندبہ“ اور اس کا شرف صدور ناحیہ مقدسہ سے تھا ،جو احتمالاً اس بات کا باعث ہوا کہ بعض متاخرین یہ تصور کریں کہ مشہور دعائے ندبہ بھی ناحیہ مقدسہ سے صادر ہوئی ہے۔

چھٹا نکتہ :

کیوں دعائے ندبہ چار عظیم عیدوں میں پڑھی جاتی ہے؟

مستحب ہے کہ دعائے ندبہ چار عظیم عیدوں ،عید غدیر ،عید الفطر ،عید قربان اور جمعہ میں پڑھی جائے ۔اس دعا کے چار عظیم عیدوں سے مخصوص ہونے کی دلیل قول امام ہے اور شاید اس کا ان چار دنوں سے مخصوص ہونے کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہو کہ یہ چار دن سال بھر کی عظیم ترین اسلامی عیدوں میں سے ہے ،اور روایات کی بنیاد پر،ہر ایک عید کے دن خاندان عصمت و طہارت کا غم و اندوہ تازہ ہوتا ہے جیسا کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں:

”کسی عید کا دن مسلمانوں کے لیے نہیں آتاہے ،نہ عید الفطر ،نہ عید قرباں، مگر یہ کہ آل محمد کا غم و اندوہ اس میں تازہ ہوتا ہے “۔

راوی نے اس کی وجہ دریافت کی:تو امام نے فرمایا: ”کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا حق دوسروں کے ہاتھوں میں ہے(۱)

____________________

۱۔علل الشرائع ،شیخ صدوق ، ج۲،ص ۳۸۹۔


امام سجاد ان اشعار میں جو حضرت سے منسوب ہیں اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

یفرح ھذا الوری بعیدھم ونحن اعیادنا مَآ تمنا

یہ لوگ ایام عید میں اپنی عید آنے کی وجہ سے خوشی مناتے ہیں لیکن ہم خاندان اہل بیت کی عیدوں کا دن ہمارا گریہ و ماتم ہے(۱)

چار عظیم عیدوں میں سے جمعہ کا دن مخصوص حیثیت رکھتا ہے ،اس لیے کہ یہ حضرت صاحب الزمان سے مخصوص ہے ۔(۲) اور حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کا ظہور اسی دن واقع ہو گا۔

”علی بن فاضل “کی روایت میں ”جزیرة خضراء “ کے متعلق ذکر ہوا ہے کہ جزیرہ خضراء میں حضرت کے لشکر اور فوج کے تمام کمانڈر ہر مہینے کے وسط میں جمعہ کے دنوں میں اپنے اسلحے کو حمائل کر کے اپنی سواریوں پر سوار ہو کر باہر آتے ہیں اور صاحب الامر علیہ السلام کے ظہور کا انتظا ر کرتے ہیں۔(۳)

اس طریقے سے ہر آنے والا جمعہ کا دن کہ جس میں امر ظہور پر امضا اور تائید نہ ہو اہل بیت عصمت و طہارت اور ان کے عاشق دل باختہ کے لیے غم و اندوہ کا دن ہے اور مناسب ترین متن کہ جس کے پڑھنے سے ان کے دلوں پر مرہم رکھا جا سکے تاکہ ان کے پریشان دلوں کی تسلی کا باعث ہو سکے وہ دعائے ندبہ ہے ۔اس لحاظ سے ان

____________________

۱۔ مناقب آل ابی طالب ،ابو جعفر محمد بن علی ابن شہر آشوب ،ج۴،ص ۱۶۹۔

۲۔ جما ل الاسبوع ،سید ابن طاو وس ،ص۳۷۔

۳۔ بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی ،ج۵۲،ص ۱۷۱۔


کے ظہور کے منتظر اور عاشق شیعہ ہر جمعہ کی صبح میں،اپنے آقا ،مولا ،منجی،سید و سردار اور اپنے امام کی یاد منانے کے لیے دعائے ندبہ برقرار ہونے والے مراکز کی طرف سرنگوں ہوتے ہیں،فراق یار میں اشک بہاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ اپنے حجت کو ظہور کی اجازت دے تاکہ حضرت کے فرج سے بے سروسامانی کو دور کرے ، جرائم اور خیانتوں کا خاتمہ کرے ، مشکلات ،تمام گرانی اور نگرانی کو دور کرے ، عدل و انصاف کے پر افتخار پرچم کو اپنے ولی کے ہاتھ میں بلند کرے ، ایک عالمی حکومت کو عدالت و آزادی کی بنیاد پر قائم کرے ، وسیع دنیا کو ظلم وستم کی آلودگی ،جہل ،بے جا برتری ،تجاوز ،قتل ،فقر و فاقہ سے پاک و پاکیزہ کرے ،نور علم ،عدالت اور حق و حقیقت سے زینت بخشے اس دن کے انتظار کی امید میں

انشاء اللہ


چوتھی فصل

دعائے ندبہ مع ترجمہ

صرف اس لیے کہ کتاب دعائے ندبہ کے متن سے خالی نہ رہے اور مبارک دعائے ندبہ کی مجالس میں دعا کے قارئین کرام کے کام آئے ہم دعائے ندبہ کے متن کو سلیس اور سادہ ترجمہ(۱) کے ساتھ کتاب کے اس حصّے میں نقل کر رہے ہیں ۔ اس امید و کرم کے ساتھ کہ حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی لطف و عنایت اور رضایت ہمارے شامل حال ہوسکے۔

وہ متن جسے خاتم المحدثین، الحاج شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے مبارک کتاب مفاتیح الجنان میں نقل کیا ہے وہ سید ابن طاووس علیہ الرحمہ کی کتاب مصباح الزائر کے متن کے مطابق ہے۔ اگرچہ ہم کتاب المزار الکبیر ابن مشہدی کے مطبوعہ اور خطی نسخے تک دست رسی رکھتے تھے او وہ مصباح الزائر کے مقابلے میں زیادہ قدیمی اور اصل نسخہ کی حامل تھی۔ لیکن اس بات کے پیش نظر کہ مجالس دعائے ندبہ میں اکثر اس دعا کو مفاتیح یا ان کتابچوں سے قارئین پڑھتے ہیں جو اس سے ماخوذ ہے، ہم نے بھی صر ف اس لیے کہ نسخوں کا اختلاف درپیش نہ ہو اس متن کو مفاتیح الجنان کے مطابق نتیجے کے طور پر مصباح الزائر کے مطابق بھی نقل کیا ہے۔ اور نسخہ بدل کے موارد میں بھی ہم نے صرف اسی مقدار پر اکتفا کیا ہے کہ جس کی طرف محدث قمی نے اشارہ کیا ہے۔(۲)

_______________________

۱۔ یہ اردو ترجمہ مولانا ناظم علی خیر آبادی صاحب سے ماخوذ ہے ۔

۲۔ یہ عربی متن، مبارک کتاب مفاتیح الجنان، طبع انتشارات رسالت قم کے مطابق ہے جو مولف کی تصیح اور مقابلہ نگاری کے ساتھ زیور طبع سے آراستہ ہوا ہے۔


دعائے ندبہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بنام خدائے رحمن و رحیم

الْحمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ

ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے اور خدا رحمت نازل کرے ہمارے سردار

نَبِیِّهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ تَسْلِیماً اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَیٰ مَا جَریٰ بِهِ

اور پیغمبر حضرت محمد اور ان کی آل پر اور ان پر سلام ہو۔ خدا تیری حمد ان تمام فیصلوں پر جو تیرے اولیاء

قَضَاوکَ فِي اوْلِیَآئِکَ الَّذِینَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ لِنَفْسِکَ وَ

کے بارے میں جاری ہوئے ہیں۔ جن کو تو نے اپنے لیے خالص اور منتخب قرار دیا ہے اور اپنے

دِینِکَ، إِذِ اخْتَرْتَ لَهُمْ جَزِیلَ مَا عِنْدَکَ مِنَ النَّعِیمِ الْمُقِیمِ

دین کے لیے چن لیا ہے جب کہ تو نے ان کے لیے ان بہترین اور دائمی نعمتوں کو اختیار کیا ہے تو تیری

الَّذِي لاَزَوالَ لَهُ وَ لاَ اضْمِحْلاَلَ، بَعْدَ انْ شَرَطْتَ عَلَیْهِمُ

بارگاہ میں ہیں اور ان کے لیے کوئی زوال اور اضمحلال نہیں ہے اس کے بعدکہ تو نے ان سے ان

الزُّهْدَ فِي دَرَجَاتِ هٰذِهِ الدُّنْیَا الدَّنِیَّةِ وَ زُخْرُفِهَا وَ زِبْرِجِهَا،

دنیائے دنی کے درجات میں اور اس کی آرائش و زیبائش کے سلسلہ زہد کی شرط کرلی اور انہوں نے

فَشَرَطُوا لَکَ ذٰلِکَ، وَ عَلِمْتَ مِنْهُمُ الْوَفَآءَ بِهِ، فَقَبِلْتَهُمْ وَ

تجھ سے اس بات کا وعدہ کرلیا اور تجھے معلوم تھا کہ وہ اپنے وعدہ کو وفا کریں گے۔ تو تو نے انہیں

قَرَّبْتَهُمْ وَ قَدَّمْتَ لَهُمُ الذِّکْرَ الْعَلِيَّ وَ الثَّنَآءَ الْجَلِيَّ، وَ اهْبَطْتَ

قبول کرلیا اور اپنے سے قریب تر بنا لیا اور ان کے لیے بلند ترین ذکر اور واضح تعریف کو پیش کردیا

عَلَیْهِمْ مَلآئِکَتَکَ، وَ کَرَّمْتَهُمْ بِوَحْیِکَ، وَ رَفَدْتَهُمْ

اور ان کے یہاں اپنے ملائکہ کو اتار دیا اور انہیں اپنی وحی کے ذریعہ محترم بنا دیا۔ اور اپنے علم سے نواز دیا


بِعِلْمِکَ، وَ جَعَلْتَهُمُ الذَّرِیعَةَ إِلَیکَ، وَالْوَسِیلَةَ إِلَیٰ

اور انہیں اپنی بارگاہ کے لیے ذریعہ اور اپنی رضا کے لیے وسیلہ قرار دے دیا۔ ان میں سے بعض کواپنی

رِضْوَانِکَ، فَبَعْضٌ اسْکَنْتَهُ جَنَّتَکَ إِلَیٰ انْ اخْرَجْتَهُ مِنْهَا، وَ

جنت میں ساکن بنایا اور پھر انہیں وہاں سے رخصت کرکے جنت میں بھیج دیا۔ اور بعض کو اپنی کشتی

بَعْضٌ حَمَلْتَهُ فِي فُلْکِکَ، وَ نَجَّیْتَهُ وَمَنْ آمَنَ مَعَهُ مِنَ الْهَلَکَةِ

میں سوار کرکے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ہلاکت سے اپنی رحمت کے ذریعہ نجات دے دی

بِرَحْمَتِکَ، وَ بَعْضٌ اتَّخَذْتَهُ لِنَفْسِکَ خَلِیلاً، وَ سَالَکَ لِسَانَ

اور بعض کو اپنے لیے خلیل بنالیا۔ اور انہوں نے آخری دور میں صداقت کی زبان کا سوال کیا تو تو نے ان کی

صِدْقٍ فِي الآخِرِینَ فَاجَبْتَهُ، وَ جَعَلْتَ ذٰلِکَ عَلِیّاً، وَ بَعْضٌ

دعا قبول کرلیا اور اسے بلند بالا قرار دے دیا اور بعض سے درخت کے ذریعہ کلام کیا اور ان کے

کَلَّمْتَهُ مِنْ شَجَرَةٍ تَکْلِیماً ، وَ جَعَلْتَ لَهُ مِنْ اخِیهِ رِدْء اً وَ

لیے ان کے بھائی کو پشت پناہ اور بوجھ بٹانے والے قرار دے دیا اور بعض کو بغیر باپ کے پیدا کردیا۔

وَزِیراً،وَ بَعْضٌ اوْلَدْتَهُ مِنْ غَیْرِ ابٍ، وَ آتَیْتَهُ الْبَیِّنَاتِ، وَ ایَّدْتَهُ

اور انہیں واضح نشانیاں عطا کردیں اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کردی اور ہر ایک کے

بِرُوحِ الْقُدُسِ، وَ کُلٌّ شَرَعْتَ لَهُ شَرِیعَةً، وَ نَهَجْتَ لَهُ مِنْهَاجاً،

لیے ایک شریعت اور ایک طریقہ حیات مقرر کردیا اور ان کے لیے اولیاء منتخب کیا۔ جو ایک کے بعد ایک

وَ تَخَیَّرْتَ لَهُ اوْصِیَآءَ مُسْتَحْفِظاً بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ، مِنْ مُدَّةٍ إِلَیٰ

دین کے محافظ بنے ایک مدت سے دوسری مدت تک اپنے دین کو قائم کرنے والا اور اپنے

مُدَّةٍ، إِقَامَةً لِدِینِکَ، وَ حُجَّةً عَلَیٰ عِبَادِکَ ، وَ لِئَلَّا یَزُولَ

بندوں پر اپنی حجت تمام کرنے کے لیے اور اس لیے کہ حق اپنے مرکز سے ہٹنے نہ پائے اور باطل اہل حق


الحَقُّ عَنْ مَقَرِّهِ، وَ یَغْلِبَ الْبَاطِلُ عَلَیٰ اهْلِهِ، وَ لاَ یَقُولَ احَدٌ لَوْ

پر غالب نہ آنے پائے اور کوئی شخص یہ نہ کہنے پائے کہ تو نے ہماری طرف ڈرانے والا رسول کیوں

لاَ ارْسَلْتَ إِلَیْنَا رَسُولاً مُنْذِراً، وَ اقَمْتَ لَنَا عَلَماً هَادِیاً فَنَتَّبِعَ

نہ بھیج دیا اور ہمارے لیے نشانی ہدایت کیوں نہ قائم کردیا۔ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں

آیَاتِکَ مِنْ قَبْلِ انْ نَذِلَّ وَ نَخْزیٰ، إِلَیٰ انِ انْتَهَیْتَ بِالْامْرِ إِلَی

کا اتباع کرلیتے یہاں تک کہ تیرے امر کا سلسلہ تیرے حبیب تیرے شریف بندے حضرت محمد

حَبِیبِکَ وَ نَجِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ فَکَانَ کَمَا

مصطفی تک پہنچ گیا خدا ان پر اور ان کی آل پر رحمت نازل کرے وہ ویسے ہی شریف تھے جیسے تو نے

انْتَجَبْتَهُ سَیِّدَ مَنْ خَلَقْتَهُ، وَ صَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَیْتَهُ، وَ افْضَلَ مَنِ

انہیں بنایا تھا تمام مخلوقات کے سردار اور تمام منتخب بندوں میں منتخب اور تمام چنے ہوئے بندوں

اجْتَبَیْتَهُ، وَ اکْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهُ، قَدَّمْتَهُ عَلَیٰ انْبِیَآئِکَ، وَ بَعَثْتَهُ

سے افضل اور تمام معتبر افراد مکرم و محترم تو نے انہیں تمام انبیاء پر مقدم قرار دیا اور انہیں تمام انس و جن کی

إِلَی الثَّقَلَیْنِ مِنْ عِبَادِکَ، وَ اوْطَاتَهُ مَشَارِقَکَ وَ مَغَارِبَکَ، وَ

طرف مبعوث کیا اور ان کے لیے تمام مشرق و مغرب کو ہموار کردیا اور براق کو مسخر کردیا اور انہیں

سَخَّرْتَ لَهُ الْبُرَاقَ، وَ عَرَجْتَ بِهِ إِلَی سَمَآئِکَ، وَ اوْدَعْتَهُ عِلْمَ

اپنے آسمان کی بلندیوں تک لے گیا اور تمام ماضی مستقبل کے علوم کا خزانہ دار بنادیا اور دنیا کے خاتمہ تک

مَا کَانَ وَمَا یَکُونُ إِلَی انْقِضَآءِ خَلْقِکَ، ثُمَّ نَصَرْتَهُ بِالرُّعْبِ، وَ

اس کے بعد رعب کے ذریعے ان کی مدد کی اور جبرئیل اور میکائل اور ان تمام فرشتوں کے ذریعے

حفَفْتَهُ بِجَبْرَائِیلَ وَ مِیکَآئِیلَ وَ الْمُسَوِّمِینَ مِنْ مَلآئِکَتِکَ، وَ

محفوظ بنادیا جو تیری نمائندگی کی نشانیاں تھیں اور تو نے ان سے وعدہ کیا کہ ان کے دین کو تمام ادیان پر

وَعَدْتَهُ انْ تُظْهِرَ دِینَهُ عَلَیَ الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشرِکُونَ، وَ

غالب بنائے گا چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے اور یہ اس وقت ہوا جب تو نے انہیں صداقت


ذٰلِکَ بَعْدَ انْ بَوَّاتَهُ مُبَوَّا صِدْقٍ مِن اهْلِهِ، وَ جَعَلْتَ لَهُ وَ لَهُمْ

کے مرکز پر مستقر کردیا اور ان کے لیے اور ان کے اہل کے لیے اس پہلے گھر کو قرار دیا جسے تمام انسانوں

اوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَکَّةَ مُبَارَکاً وَ هُدًی لِلْعَالَمِینَ،

کے لیے بنایا گیا ہے اور جو مکہ میں ہے اور بابرکت اور عالمین کے لیے ہدایت ہے اس میں کھلی

فِیهِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِیمَ وَ مَنْ دَخَلَهُ کَانَ آمِناً، وَ قُلْتَ:

ہوئی نشانیاں اور مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہوجائے وہ محفوظ ہوجاتا ہے اور تو نے اعلان کر

( إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ

دیا ہے اے اہل بیت الله کا اراده بس یه ہے که تم کو هر برائی سے دور رکهے اور تمهیں اس طرح پاک

تَطْهِیراً) ، ثُمَّ جَعَلْتَ اجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ

و پاکیزہ قرار دے جو پاکیزگی کا حق ہے اس کے بعد تو نے مرکز رحمت محمد اور آل محمد کا اجر اپنی کتاب میں

مَوَدَّتَهُمْ فِي کِتَابِکَ، فَقُلْتَ: ( قُلْ لاَ اسْالُکُمْ عَلَیْهِ اجْراً إِلَّا

ان کی مودت کو قرار دے کر اعلان کردیا اے پیغمبر کهه دو که میں تم سے کوئی اجر نهیں مانگتا هوں علاوه

الْمَوَدَّة فِي الْقُرْبَیٰ) وَ قُلْتَ: ( مَا سَالْتُکُمْ مِنْ اجْرٍ فَ هُوَ لَکُمْ )

اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو اور تو نے کہہ دیا کہ میں نے جو اجر مانگا ہے وہ تمہارے ہی

وَ قُلْتَ: ( مَا اسْالُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ اجْرٍ إِلَّا مَنْ شَآءَ انْ یَتِّخِذَ إِلَیٰ

فائدے کے لیے ہے اور کهه دیا که میں تم سے کوئی اجر نهیں چاهتا مگر وه شخص که جو الله کی طرف

رَبِّهِ سَبِیلاً) فَکَانُوا هُمُ السَّبِیلَ إِلَیْکَ، وَ الْمَسْلَکَ إِلَیٰ

راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ تو یہ سب تیری بارگاہ کے لیے راہ ہدایت اور تیری رضا کے لیے

رِضْوَانِکَ فَلَمَّا انْقَضَتْ ایَّامُهُ اقَامَ وَلِیَّهُ عَلِيَّ بْنَ ابِي طَالِبٍ

بہترین مسلک بن گئے پھر جب ان کے دن تمام ہوگئے تو انہوں نے اپنے ولی علی ابن ابی طالب- کو

صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِمَا وَ آلِهِمَا هَادِیاً، إِذْ کَانَ هُوَ الْمُنْذِرَ وَ لِکُلِّ

قوم کا ہادی مقرر کردیا اس لیے خود عذاب الٰہی سے ڈرانے والے تھے اور ہر قوم کے لیے ایک


قَوْمٍ هَادٍ، فَقَالَ وَ الْمَلَا امَامَهُ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ،

ہادی ہے۔ انہوں نے مجمع عام کے سامنے اعلان کردیا جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔

اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ، وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَ

خدایا جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ اور جو اسے دشمن رکھے اسے دشمن رکھ اور جو اس کی مدد

اخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ، وَ قَالَ: مَنْ کُنْتُ انَا نَبِیَّهُ فَعَلِيٌّ امِیرُهُ، وَ قَالَ:

کرے اس کی مدد کر جو اس کو چھوڑ دے اسے نظر انداز کر اور اس رسول نے اعلان کیا کہ جس کا میں

انَا وَ عَلِيٌّ مِنْ شَجَرَةٍ وَاحِدَةٍ وَ سَائِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتَّیٰ، وَ

نبی ہوں اس کے علی امیر ہیں اور فرمایاکہ میں اور علی ایک ہی شجر سے ہیں اور تمام لوگ مختلف شجروں سے

احَلَّهُ مَحَلَّ هَارُونَ مِنْ مَوسیٰ، فَقَالَ لَهُ: انْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ

ہیں اور علی کو موسیٰ کے لیے ہارون کی منزل پر قرار دیا اور ان سے کہا کہ تم میرے لیے ویسے ہی

هَارُونَ مِنْ مُوسَیٰ إِلَّا انَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَ زَوَّجَهُ ابْنَتَهُ سَیِّدَةَ

ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے صرف میرے بعد نبی نہ ہوگا اور پھر اپنی بیٹی سردار نساء عالمین کا ان سے

نِسَآءِ الْعَالَمِینَ، وَ احَلَّ لَهُ مِنْ مَسْجِدِهِ مٰا حَلَّ لَهُ وَ سَدَّ

عقد کردیا اور ان کے لیے مسجد میں وہ سب حلال کردیا جو خود ان کے لیے حلال تھا اور ان کے

الْابْوَابَ إِلَّا بَابَهُ، ثُمَّ اوْدَعَهُ عِلْمَهُ وَ حِکْمَتَهُ، فَقَالَ: انَا مَدِینَةُ

دروازے کے علاوہ سب کے دروازے بند کردیئے پھر انہیں علم و حکمت کا خزانہ دار بنادیا اور اعلان کیا

الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ ارَادَ الْمَدِینَةَ وَ الْحِکْمَةَ فَلْیَاتِهَا مِنْ

کہ میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے تو جو شہر میں داخل ہونا چاہے اسے دروازہ پر آنا

بَابِهَا، ثُمَّ قَالَ: انْتَ اخِي وَ وَصِیِّي وَ وَارِثِي، لَحْمُکَ مِنْ

چاہیے پھر فرمایا ہے یا علی تم میرے بھائی ، وصی اور وارث ہو۔ تمہارا گوشت میرے گوشت سے تمہارا

لَحْمِي وَ دَمُکَ مِنْ دَمِي، وَ سِلْمُکَ سِلْمِي، وَ حَرْبُکَ

خون میرے خون سے ہے تمہاری صلح میری صلح ہے اور تمہاری جنگ میری جنگ ہے۔ اور ایمان


حَرْبِي، وَ الإِیمَانُ مُخَالِطٌ لَحْمَکَ وَ دَمَکَ کَمَا خَالَطَ

تمہارے گوشت اور خون میں اس طرح پیوست ہے جس طرح میرے گوشت اور خون میں ہے اور تم

لَحْمِي وَ دَمِي، وَ انْتَ غَداً عَلَی الْحَوْضِ خَلِیفَتِي، وَ انْتَ

میرے قرض کو ادا کرو گے۔ اور میرے وعدوں کو پورا کرو گے۔ اور تمہارے شیعہ نور کے منبر پر

تَقْضِي دَیْنِي، وَ تُنْجِزُ عِدَاتِي، وَ شِیعَتُکَ عَلَیٰ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ

ہوں گے ان کے چہرے تابناک ہوں گے وہ میرے گرد جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے۔ اور اے علی

مُبْیَضَّةً وُجُوهُهُمْ حَوْلِي فِي الْجَنَّةِ وَ هُمْ جِیرَانِي، وَلَوْ لاَ انْتَ یَا

اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنین کی شفاعت بھی نہ ہوسکتی اور وہ پیغمبر کے بعد گمراہی میں

عَلِيُّ لَمْ یُعْرَفِ الْمُومِنُونَ بَعْدِي، وَ کَانَ بَعْدَهُ هُدیً مِنَ

ہدایت اور تاریکی میں نور اللہ کی مضبوط ریسمان ہدایت اور اس کا سیدھا راستہ تھے۔ ان سے کوئی آگے

الضَّلاَلِ، وَ نُوراً مِنَ الْعَمیٰ، وَ حَبْلَ اللّٰهِ الْمَتِینَ، وَ صِرَاطَهُ َ

نہیں بڑھ سکتا نہ رشتہ داری کی قرب میں اور نہ دین کے سوابق میں اور کوئی ان کو ان کے مناقب

الْمُسْتَقِیمَ، لا یُسْبَقُ بِقَرَابَةً فِي رَحِمٍ، وَ لاَ بِسَابِقَةٍ فِي دِینٍ، وَ لاَ

میں پا بھی نہیں سکتا ہے وہ ہر امر میں رسول اکرم کے نقش قدم پر تھے ان دونوں اور ان کی اولاد پر رحمت

یُلْحَقُ فِي مَنْقَبَةٍ مِنْ مَنَاقِبِهِ، یَحْذُو حَذْوَ الرَّسُولِ صَلَّی اللّٰهُ

نازل کرے اور وہ تاویل قرآن پر اس شان سے جہاد کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت

عَلَیْهِمَا وَ آلِهِمَا، وَ یُقَاتِلُ عَلَی التَّاوِیلِ، وَ لاَ تَاخُذُهُ فِي اللّٰهِ

کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں تھی انہوں نے اس راہ میں عرب کے سرداروں کو زیر کیا ان کے

لَوْمَةُ لآئِمٍ، قَدْ وَ تَرَفِیهِ صَنَادِیدَ الْعَرَبِ، وَ قَتَلَ ابْطَالَهُمْ، وَ

بہادروں کو قتل کیا ان کے بھیڑیوں کو فنا کردیا تو ان کے دلوں میں بدر اور خیبر اور حنین وغیرہ کے کینے ذخیرہ

نَاوَشَ ذُوبَانَهُمْ، فَاوْدَعَ قُلُوبَهُمْ احْقَاداً بَدْرِیَّةً وَ خَیْبَرِیَّةً وَ

ہوگئے اور انہوں نے ان کی عداوت پر اتفاق کرلیا اور ان سے مقابلہ پر سرجوڑ کر متحد ہوگئے یہاں


حُنَیْنِیَّةً وَ غَیْرَهُنَّ، فَاضَبَّتْ، عَلَیٰ عَدَاوَتِهِ، وَ اکَبَّتْ عَلَی

تک کہ بیعت توڑنے والوں، دشمنان اسلام کو مقابلہ پر لانے والوں اور دین سے نکل جانے والوں کوقتل

مُنابَذَتِهِ، حَتَّیٰ قَتَلَ النّاکِثِینَ و الْقَاسِطینَ وَ الْمَارِقِینَ، وَ لَمَّا

کردیا اور جب اپنی مدت حیات پوری کرلی اور انہیں دور آخر کے بدترین انسان نے قتل کردیا دور

قَضَیٰ نَحْبَهُ وَ قَتَلَهُ اشْقَی الآخِرِینَ یَتْبَعُ اشْقَی الْاوَّلِینَ لَمْ یُمْتَثَلْ

قدیم کے بدترین انسان کا تابع تھا تو پھر رسول اکرم کے حکم کی ہدایت کرنے والوں کے بارے میں ایک

امْرُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ فِي الْهَادِینَ بَعْدَ الْهَادِینَ،

کے بعد ایک مخالفت ہوتی رہی اور امت ان کی ناراضگی پر مصر اور ان سے تعلقات قطع کرلینے اور

وَ الْامَّةُ مُصِرَّةٌ عَلَی مَقتِهِ، مُجْتَمِعَةٌ عَلَی قَطِیعَةِ رَحِمِهِ، وَ إِقْصَآءِ

ان کی اولاد کو دور کردینے پر متفق رہی علاوہ ان چند افراد کے جنہوں نے آل رسول کے بارے میں حق

وُلْدِهِ، إِلَّا الْقَلِیلَ مِمَّنْ وَفیٰ لِرِعَایَةِ الْحَقِّ فِیهِمْ، فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ،

کی رعایت کے لیے وفاداری سے کام لیا تو جو قتل کیے گئے وہ قتل کردیئے گئے اور جو گرفتار کرلیے

وَ سُبِيَ مَنْ سُبِيَ، وَ اقْصِيَ مَنْ اقْصِيَ، وَ جَرَی الْقَضَآءُ لَهُمْ بِمَا

گئے اور جو دربدر کردیئے گئے اور ان کے حق میں فیصلہ الٰہی اس طرح جاری ہوا جس میں بہترین ثواب کی

یُرْجیٰ لَهُ حُسْنُ الْمَثُوبَةِ، إِذْ کَانَتِ الْارْضُ لِلّٰهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَآءُ

امید کی جاتی ہے اس لیے کہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے اس کاوارث

مِنْ عِبَادِهِ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ، وَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا

قرار دیتا ہے اور آخرت صرف صاحبان تقویٰ کے لیے ہے۔ اور ہمارا پروردگار پاک و بے نیاز ہے۔ اس

لَمَفْعُولاً، وَ لَنْ یُخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَ هَُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ، فَعَلَیَ

کا وعدہ بہرحال پورا ہونے والا ہے وہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور وہ صاحب

الْاطَآئِبِ مِنْ اهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَ عَلِيٍّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِمَا وَ

عزت اور صاحب حکمت ہے تو اب حضرت محمد و علی کے اہل بیت کے پاکیزہ کردار افراد (خدا ان دونوں


آلِهِمَا فَلْیَبْکِ الْبَاکُونَ وَ إِیَّاهُمْ فَلْیَنْدُبِ النَّادِبُونَ، وَ لِمِثْلِهِمْ

اور ان کی اولاد پر رحمت نازل کرے) پر رونے والوں کو رونا چاہیے اور انہیں پر ندبہ کرنے والوں

فَلْتُذْرَفِ الدُّمُوعُ، وَلْیَصْرُخِ الصَّارِخُونَ، وَ یَضِجَّ الضَآجُّونَ،

کو ندبہ کرنا چاہیے اور انہیں جیسے افراد کے مصائب پر آنسو بہانا چاہیے اور فریاد کرنے والوں کو فریاد کرنی

وَیَعِجَّ الْعَآجُّونَ، ایْنَ الْحَسَنُ ایْنَ الْحُسَیْنُ ایْنَ ابْنَآءُ الْحُسَیْنَ

چاہیے اور نالہ و شیون کرنے والوں کو نالہ و شیون اور شور گریہ بلند کرنا چاہیے۔ کہاں ہےں حسن اور

صَالِحٌ بَعْدَ صَالِحٍ، وَ صَادِقٌ بَعْدَ صَادِقٍ، ایْنَ السَّبِیلُ بَعْدَ

کہاں ہیں حسین۔ کہاںہیں اولاد حسین نیک کردار کے بعد نیک کردار صادق کے بعد صادق کہاں ہے

السَّبِیلِ ایْنَ الخِیَرَةُ بَعْدَ الْخِیَرَةِ ایْنَ الشُّمُوسُ الطَّالِعَةُ، ایْنَ

راہ ہدایت کے بعد دوسرا راہ ہدایت کہاں ہے ایک منتخب کے بعد دوسرا منتخب روزگار کہاں ہے

الْاقْمَارُ الْمُنِیرَةُ ایْنَ الْانْجُمُ الزَّاهِرَةُ اینْ اعْلاَمُ الدِّینِ وَقَوَاعِدُ

طلوع کرتے ہوئے ہوئے آفتاب کہاں ہیں چمکتے ہوئے ماہتاب کہاں ہیں روشن ستارے کہاں ہیں

الْعِلْمِ ایْنَ بَقِیَّةُ اللّٰهِ الَّتِي لاَ تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الْهَادِیَةِ ایْنَ الْمُعَدُّ

دین کے لہراتے ہوئے پرچم اور علم کے مستحکم ستون کہاں ہے وہ بقیة اللہ جس سے ہدایت کرنے

لِقَطْعِ دابِرِ الظَّلَمَةِ، ایْنَ الْمُنْتَظَرُ لإِقَامَةِ الْامْتِ وَ الْعِوَجِ ایْنَ

والی عترت پیغمبر سے دنیا خالی نہیں ہوسکتی کہاں ہے وہ جسے سلسلہ ظلم قطع کرنے کے لیے مہیا کیا گیا کہاں

الْمُرتَجیٰ لإِزَالَةِ الْجَورِ وَ الْعُدْوَانِ ایْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیدِ

ہے جس کا کجی اور انحراف کو درست کرنے کے لیے انتظار ہورہا ہے کہاں ہے وہ جس سے ظلم و

الْفَرَآئِضِ وَ السُّنَنِ، ایْنَ الْمُتَخَیَّرُ لإِعَادَةِ الْمِلَّةِ و الشَّرِیعَةِ ایْنَ

تعدی کو زائل کرنے کی امیدیں وابستہ ہیں، کہاں ہے وہ جسے فرائض و سنن کی تجدید کے لیے ذخیرہ کیا

الْمُومَّلُ لإِحْیَآءِ الْکِتَابِ وَ حُدُودِهِ، ایْنَ مُحْیِي مَعَالِمِ الدِّینِ وَ

گیا ہے کہاں ہے وہ جسے مذاہب اور شریعت کو دوبارہ منظر عام پر لانے کے لیے منتخب کیا گیا کہاں


اهْلِهِ ایْنَ قَاصِمُ شَوْکَةِ الْمُعْتَدیِنَ ایْنَ هَادِمُ ابْنِیَةِ الشِّرْکِ وَ

ہے وہ جس سے کتاب اور خدا اور اس کے حدود کی زندگی کی امیدیں وابستہ ہیں کہاں ہے دین اور اہل دین

النِّفَاقِ، ایْنَ مُبِیدُ اهْلَ الْفُسُوقِ وَ الْعِصْیَانِ وَ الطُّغْیَانِ ایْنَ

کے آثار کا زندہ کرنے والا کہاں ہے اہل ستم کی شوکت کی کمر توڑنے والا کہاں ہے شرک و نفاق کی

حَاصِدُ فُرُوعِ الْغَيِّ وَ الشِّقَاقِ ایْنَ طَامِسُ آثَارِ الزَّیْغِ وَ

عمارت کو منہدم کرنے والا کہاں ہے فسق اور معصیت اور سرکشی کرنے والوں کو تباہ کرنے والا کہاں ہے

الْاهْوَآءِ، ایْنَ قَاطِعُ حَبَآئِلِ الْکِذْبِ وَ الْاِفْتِرَآءِ ایْنَ مُبِیدْ الْعُتَاةِ وَ

گمراہی اور اختلاف کی شاخوں کا کاٹ دینے والا کہاں ہے انحراف اور خواہشات کے آثار کو محو

الْمَرَدَةِ ایْنَ مُسْتَاصِلْ اهْلِ الْعِنَادِ وَ التَّضْلِیلِ وَ اْلإِلْحَادِ ، ایْنَ

کردینے والا کہاں ہے کذب اور افتراء پردازیوں کی رسیوں کو کاٹ دینے والا کہاں ہے سرکشوں

مُعِزُّ الْاوْلِیَآءِ وَ مُذِلُّ الْاعْدَآءِ ایْنَ جَامِعُ الْکَلِمَةِ عَلَی التَّقْوَی

اور باغیوں کو ہلاک کرنے والا کہاں ہے عناد و الحاد و گمراہی کے ذمہ داروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے

ایْنَ بَابُ اللّٰهِ الَّذِي مِنْهُ یُوتیٰ، ایْنَ وَجْهُ اللّٰهِ الَّذِي إِلَیْهِ یَتَوَجَّهُ

والا کہاں ہے دوستوں کو عزت دینے والا اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا کہاں ہے تمام کلمات کو

الْاوْلِیَآءُ ایْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ بَیْنَ الْارْضِ وَ السَّمَآءِ ایْنَ

تقویٰ پر جمع کرنے والا کہاں ہے وہ دروازہ فضل خدا جس سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوا جاتا ہے کہاں

صَاحِبَ یَوْمِ الْفَتْحِ وَ نَاشِرُ رَایَةِ الْهُدیٰ ایْنَ مُولِّفُ شَمْلِ

ہے وہ جو اللہ جس کی طرف اس کے دوست متوجہ ہوتے ہیں کہاں ہے وہ سلسلہ جو زمین و آسمان کا

الصَّلاَحِ وَ الرِّضَا، ایْنَ الطَّالِبُ بِذُحُولِ الْانْبِیَآءِ وَ ابْنَاءِ الْانبِیَآءِ

اتصال قائم کرنے والا ہے کہاں ہے وہ جو روز فتح کا مالک ہے اور پرچم ہدایت لہرانے والا ہے کہاں

ایْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِکَرْبَلاَءِ ایْنَ الْمَنصُورُ عَلَیٰ مَنِ

ہے وہ جو نیکی اور رضا کے منتشر اجزاء کو جمع کرنے والا ہے کہاں ہے انبیاء اور اولاد انبیاء کے خون


اعْتَدَیٰ وَ افْتَریٰ ایْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذِي یُجَابُ إِذَا دَعَا، ایْنَ صَدْرُ

ناحق کا بدلہ لینے والا کہاں ہے شہید کربلا کے خون ناحق کا مطالبہ کرنے والا کہاں ہے وہ جس کی ہر ظلم اور

الْخَلآئِقِ ذُو الْبِرِّ وَ التَّقْوَیٰ ایْنَ ابْنُ النَّبْيِّ الْمُصْطَفَیٰ، وَ ابْنُ

افتراء کرنے والے کے مقابلہ میں مدد کی جانے والی ہے کہاں ہے وہ مضطر جس کی دعا مستجاب

عَلِيٍّ الْمُرْتَضیٰ، وَابْنُ خَدِیجَةَ الْغَرَّآءِ، وَ ابْنُ فَاطِمَةَ الْکُبْریٰ،

ہونے والی ہے وہ جب بھی دعا کرے کہاں ہے ساری مخلوقات کا سربراہ صاحب صلاح و تقویٰ کہاں ہے

بِابِي انْتَ وَ امِّي وَ نَفْسِي لَکَ الْوِقَآءُ وَ الْحِمیٰ، یَابْنَ السَّادَةِ

رسول مصطفی کا فرزند اور علی مرتضیٰ کا دلبر اور خدیجہ کا نور نظر اور فاطمہ کبریٰ کا لخت جگر تجھ پر میری

الْمُقَرَّبِینَ، یَابْنَ النُّجَبَآءِ الْاکْرَمِینَ، یَابْنَ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ، یَابْنَ

ماں باپ قربان اور میرا نفس تیرے لیے سپر اور محافظ ہے اے مقرب سرداروں کے فرزند! اے مکرم اشراف

الْخِیَرَةِ الْمُهَذَّبِینَ، یَابْنَ الْغَطَارِفَةِ الْانْجَبِینَ ، یَابْنَ الْاطَائِبِ

کے فرزند! اے ہدایت یافتہ ہدایت کرنے والوں کے فرزند! اے مہذب اور پاکیزہ خصال منتخب

الْمُطَهَّرِینَ، یَابْنَ الْخَضَارِمَةِ الْمُنْتَجَبِینَ یَابْنَ الْقَمَاقِمَةِ

افراد کے فرزند! اے شریف ترین بزرگوں کے فرزند! اے پاکیزہ اور طیب حضرات کے فرزند! اے منتخب

الْاکْرَمِینَ، یَابْنَ الْبُدُورِ الْمُنِیرَةِ یَابْنَ السُّرُجِ الْمُضِیئَةِ، یَابْنَ

روزگار سرداروں کے فرزند! اے مکرم اور محترم ہدایت کے مناروںکے فرزند! اے چمکتے ہوئے

الشُّهُبِ الثَّاقِبَةِ، یَابْنَ الْانجُمِ الزَّاهِرَةِ، یَابْنَ السُّبُلِ الْواضِحَةِ،

ماہتابوں کے فرزند! اے روشن چراغوں کے فرزند! اے ضو دیتے ہوئے شہابوں کے فرزند! تابناک

یَابْنَ الْاعْلاَمِ اللََّآئِحَةِ، یَابْنَ الْعُلوُمِ الْکَامِلَةِِ، یَابْنَ السُّنَنِ

ستاروں کے فرزند! اے واضح راہ ہائے ہدایت کے فرزند! اے روشن پرچم ہائے دین کے فرزند!

الْمَشْهُورَةِ ، یَا بْنَ ا لْمَعَالِمِ ا لْمَاثُورَةِ ، یَابْنَ الْمُعْجِزَاتِ

اے کامل علوم کے فرزند! اے مشہور سنن کے فرزند! اے ماثور آثار دین کے فرزند! اے موجود معجزات


الْمَوْجُودَةِ، یَابْنَ الدَّلآئِلِ الْمَشْهُودَةِ یَابْنَ الصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ،

کے فرزند! اے واضح دلائل کے فرزند! اے صراط مستقیم کے فرزند! اے ضیاء عظیم کے فرزند! اے

یَابْنَ النَّبَإِ الْعَظِیمِ، یَابْنَ مَنْ هُوَ فِي امِّ الْکِتَابِ لَدَی اللّٰهِ عَلِيٌّ

اس کے فرزند! جو کتاب خدا میں خدا کے نزدیک علی اور حکیم ہے۔ اے آیات و بینات کے فرزند! اے

حَکِیمٌ، یَابْنَ الآیَاتِ وَ الْبَیِّنَاتِ، یَابْنَ الدَّلآئِلِ الظَّاهِرَاتِ یَابْنَ

ظاہر اور روشن دلائل کے فرزند! اے واضح اور ظاہر برہانوں کے فرزند! اے کامل دلیلوں کے فرزند! !

الْبَرَاهِینِ الْوَاضِحَاتِ الْبَاهِرَاتِ، یَابْنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَاتِ، یَابْنَ

اے وسیع ترین نعمتوں کے فرزند! اے طہٰ و محکمات کے فرزنداے یٰسین اور ذاریات کے فرزند! اے طور

النِّعَمِ السَّابِغَاتِ، یَا بْنَ طٰهٰ وَ الْمُحْکَمَاتِ، یَابْنَ یٰسٓ وَ

اور عادیات کے فرزند! اے اس کے فرزند جو قرب خدا میں اس قدر بڑھا کہ دو کمانوں کا یا اس سے کم

الذَّارِیَاتِ، یَابْنَ الطُّورِ وَ العَادِیَاتِ، یَابْنَ مَنْ دَنَا فَتَدَلَّیٰ فَکَانَ

فاصلہ رہ گیا اور وہ خدائے علی اعلیٰ سے قریب ہوتا چلا گیا اے کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ تیرا مستقر اور مرکز

قَابَ قَوْسَیْنِ اوْ ادْنیٰ دُنُوّاً وَ اقْتِرَاباً مِنَ الْعَلِيِّ الْاعْلَیٰ، لَیْتَ

دوری نے کہاں پایا ہے اور کس زمین نے تجھے بسا رکھا ہے مقام رضویٰ ہے یا کوئی خط ارض یا مقام طویٰ

شِعْرِي ایْنَ اسْتَقَرَّتْ بِکَ النَّوَیٰ بَلْ ايُّ ارْضٍ تُقِلُّکَ اوْ ثَرَیٰ

ہے میرے لیے یہ بہت سخت ہے کہ ساری دنیا کو دیکھوں اور تو نظر نہ آئے اور نہ تیری آواز سنوں نہ

ابِرَضْویٰ اوْ غَیْرِهَا امْ ذِي طُویٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ ارَی الْخَلْقَ وَلاَ

تیری گفتگو۔ میرے لیے یہ بہت سخت ہے کہ بلائیں احاطہ کیے رہیں اور تجھ تک نہ میری فریاد پہنچے اور

تُریٰ وَلاَ اسْمَعُ لَکَ حَسِیساً وَلاَ نَجْویٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ

نہ شکایت۔ میری جان قربان تو ایسا غائب ہے جو کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوا میری جان قربان تو ایسا

تُحِیطَ بِکَ دونِيَ الْبَلْوَیٰ وَلاَ یَنَالُکَ مِنّي ضَجِیجٌ وَلاَ

بعید ہے جو کبھی ہم سے دور نہیں ہوا میری جان قربان تو ہر مشتاق کی آرزو ہے وہ مومن مرد یا عورت


شَکْویٰ، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ مُغَیَّبٍ لَمْ یَخْلُ مِنَّا، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ

جس نے تجھے یاد کیا اور تجھ سے اظہارمحبت کیا۔ میری جان قربان تجھ عزت کے پاسبان پر جس کی

نَازِحٍ مَا نَزَحَ عَنَّا، بِنَفْسِي انْتَ امْنِیَّةُ شَائِقٍ یَتَمَنَّیٰ مِنْ مُومِنٍ وَ

برابری نہیں ہوسکتی میری جان قربان تجھ بزرگی کے بنیادی حصہ پر جس کا مقابلہ ممکن نہیں میری جان

مُومِنَةٍ ذَکَرٰا فَحَنَّا، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ عَقِیدِ عِزٍّ لاَ یُسَامیٰ بِنَفْسِي

قربان تجھ نعمتوں کے قدیم ترین مرکز پر جس کی مماثلت نہیں ہوسکتی میری جان قربان تجھ شرف کے برابر

انْتَ مِنْ اثِیلِ مَجْدٍ لاَ یُجارَیٰ، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ تِلاَدِ نِعَمٍ

کے شریک پر جس کی کوئی برابری نہیں کرسکتا میرے مولا کب تک میں آپ کے بارے میں حیران و

لاَتُضَاهیٰ، بِنَفْسِي انْتَ مِنْ نَصِیفِ شَرَفٍ لاَ یُسَاوَیٰ، إِلیٰ مَتَیٰ

سرگرداں رہوں گا اور کس انداز سے تیرے بارے میں خطاب کروں گا اور کیسے راز و نیاز کروں گا

احَارُ فِیکَ یا مَوْلاَيَ وَ إِلَیٰ مَتَیٰ وَ ایَّ خِطَابٍ اصِفُ فِیکَ وَ

میرے لیے یہ بڑی سخت بات ہے کہ سب کا جواب سنوں اور تیرا جواب نہ سنوں۔ یہ بڑی سخت

ایَّ نَجْوَیٰ عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ اجَابَ دُونَکَ وَ انَاغَیٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ

منزل ہے کہ میں گریہ کروں اور دنیا تجھے نظر انداز کردے۔ میرے لیے یہ بڑی سخت بات ہے کہ

انْ ابْکِیَکَ وَ یَخْذُلَکَ الْوَرَیٰ، عَزِیزٌ عَلَيَّ انْ یَجْرِيَ عَلَیْکَ

سارے حالات و مصائب صرف تجھ ہی پر گزرتے ہیں کیا کوئی میرا مددگار ہے جس کے ساتھ مل کر

دُونَهُمْ مَا جَرَیٰ، هَلْ مِنْ مُعِینٍ فَاطِیلَ مَعَهُ الْعَوِیلَ وَ الْبُکَآءَ، هَلْ

گریہ و زاری کروں کیا کوئی فریادی ہے جس کی تنہائی میں اس کی مساعدت کروں کیا کوئی اور آنکھ ہے

مِنْ جَزُوعٍ فَاسَاعِدَ جَزَعَهُ إِذَا خَلاَ، هَلْ قَدِیَتْ عَیْنٌ فَسَاعَدَتْهَا

جس میں خس و خاشاک ہوں تو میں اس کا بے چینی میں ساتھ دے سکوں کیا فرزند رسول کوئی راستہ

عَیْنِی عَلَی الْقَذَیٰ، هَلْ إِلَیْکَ یَابْنَ احْمَدَ سَبِیلٌ فَتُلْقیٰ، هَلْ

ہے جو تیری منزل تک پہنچا سکے اور کیا ہمارا آج کا دن اپنے کل سے متصل ہوگا کہ ہم اس سے استفادہ


یَتَّصِلُ یَوْمُنَا مِنْکَ بِعِدَةٍ فَنَحْظیٰ، مَتَیٰ نَرِدُ مَنَاهلکَ الرَّوِیَّةَ

کرسکیں آخر ہم کب آپ کے سیراب کرنے والے چشموں پر وارد ہوں گے اور کب آب شیرین

فَنَرْوَیٰ، مَتَیٰ نَنْتَقِعُ مِنْ عَذْبِ مَائِکَ فَقدْ طَالَ الصَّدیٰ، مَتیٰ

سے سیراب ہوں گے کہ اب پیاس کا عرصہ بہت طویل ہوگیا ہے آخر کب ہماری صبح و شام آپ کی

نُغَادِیکَ وَ نُرَاوِحُکَ فَنُقِرَّ عَیْناً مَتیٰ تَرَانَا وَ نَرَاکَ وَ قَدْ

خدمت میں ہوگی کہ ہم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرسکیں کب آپ ہمیں اور ہم آپ کو دیکھیں گے کہ

نَشَرْتَ لِوَآءَ النَّصْرِ تُرَیٰ اتُرَانَا نَحُفٌّ بِکَ وَ انْتَ تَومُّ الْمَلَا،

آپ نصرت الٰہی کا پرچم لہرا رہے ہیں کب آپ دیکھیں گے کہ ہم آپ کے گرد حاضر ہیں اور آپ

وَ قَدْ مَلَاتَ الْارْضَ عَدْلاً، وَ اذَقْتَ اعْدَائَکَ هَوَاناً وَ عِقَاباً، وَ

قوم کی قیادت کر رہے ہوں اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا ہو اور دشمنوں کو ذلت اور عذاب

ابَرْتَ الْعُتَاةَ وَ جَحَدَةَ الْحَقِّ ، وَ قَطَعْتَ دَابِرَ الْمُتَکَبِّرِینَ ، وَ

کا مزہ چکھا دیا ہو اور سرکشوں اور حق کے منکروں کو ہلاک کردیا ہو اور مغروروں کے سلسلہ کو قطع

اجْتَثَثْتَ اصُولَ الظَّالِمِینَ، وَ نَحْنُ نَقُولُ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ

کردیا ہو اور ظالموں کی جڑوں کو اکھاڑ دیا ہو اور ہم کہہ رہے ہیں کہ ساری تعریف اللہ کے لیے

الْعَالَمِینَ اَللّٰهُمَّ انْتَ کَشَّافُ الْکَرْبِ وَ الْبَلْوَیٰ، وَ إِلَیْکَ

ہے جو رب العالمین ہے خدایا تو رنج و غم اور بلاؤں کو دور کرنے والا ہے اور تجھ سے فریاد کرتے

اسْتَعْدِي فَعِنْدَکَ الْعَدْوَیٰ، وَ انْتَ رَبُّ الآخِرَةِ وَ الدُّنْیَا،

ہیں کہ تیرے پاس مدد کا سارا سامان ہے اور تو آخرت اور دنیا والوں کا مالک ہے تو اسے فریاد کرنے

فَاغِثْ یَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ عُبَیْدَکَ الْمُبْتَلیٰ، وَ ارِهِ سَیِّدَهُ یَا

والوں کی فریاد رسی کرنے والے اپنے مصیبت زدہ بندے کی مدد کر اور اسے مستحکم طاقت والے

شَدِیدَ الْقُوَیٰ، وَ ازِلْ عَنْهُ بِهِ الْاسَیٰ وَ الْجَوَیٰ، وَ بَرِّدْ غَلِیلَهُ یَا

اسے اس کے مولا کی زیارت کرادے اور اس کے رنج و غم اور درد و تکلیف کو زائل کردے اور اس


مَنْ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ، وَ مَنْ إِلَیْهِ الرُّجْعَیٰ وَ الْمُنْتَهَیٰ اَللّٰهُمَّ

کی تشنگی کورفع کردے اے وہ خدا جو عرش کا حاکم ہے اور جس کی طرف سب کی بازگشت اور انتہا

وَ نَحْنُ عَبِیدُکَ التَّآئِقُونَ إِلَیٰ وَلِیِّکَ الْمُذَکِّرِ بِکَ وَ

ہے خدایا ہم تیرے بندے ہیں تیرے ولی کی زیارت کے مشتاق جو تجھے اور تیرے نبی کو یاد دلانے

بِنَبِیِّکَ، خَلَقْتَهُ لَنَا عِصْمَةً وَ مَلاذاً، وَ اقَمْتَهُ لَنَا قِوَاماً وَ مَعَاذاً،

والا ہے اور جس کو تو نے ہمارے لیے پناہ گاہ اور سہارا بتایا ہے اور ہمارے لیے قیام کا ذریعہ اور پناہ

وَ جَعَلْتَهُ لِلْمُومِنِینَ مِنَّا إِمَاماً، فَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّةً وَ سَلاَماً وَ زِدْنَا

کا سہارا بناکر قائم کیا اور ہم صاحبان ایمان کے لیے امام بنایا تو اب ہماری طرف سے تحیت او ر

بِذٰلِکَ یَا رَبِّ إِکْرَاماً، وَ اجْعَلْ مُسْتَقَرَّهُ لَنَا مُسْتَقَرّاً وَ مُقَاماً، وَ

سلام پہنچا دے اور اس طرح ہمارے اعزاز میں اضافہ فرما اور ان کے مرکز کو ہمارا مرکز اور ہماری

اتْمِمْ نِعْمَتَکَ بِتَقْدِیمِکَ إِیَّاهُ امَامَنَا حَتَّیٰ تُورِدَنَا جِنَانَکَ وَ

منزل قرار دے اور اپنی نعمت کو اس طرح مکمل کردے کہ انہیں ہمارے سامنے منظر عام پر لے آ

مُرَافَقَةَ الشُّهَدَاءِ مِنْ خُلَصَآئِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ

یہاں تک کہ ہمیں اپنی جنت میں وارد کردے اور اپنے مخلص شہیدوں کی رفاقت نصیب کر خدایا

مُحَمَّدٍ وَ صَلِّ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ جَدِّهِ وَ رَسُولِکَ السَّیِّدِ الْاکْبَرِ وَ

محمد و آل محمد پر رحمت نازل کر اور صلوات نازل فرما حضرت محمد پر جو ان کے جد اور تیرے رسول

عَلَیٰ ابِیهِ السَّیِّدِ الْاصْغَرِ وَ جَدَّتِهِ الصِّدِّیقَةِ الْکُبْریٰ فَاطِمَةَ

سردار اکبر ہیں اور ان کے باپ پر جو سردار اصغر ہیں۔ اور ان کی جدّہ ماجدہ جو صدیقہ کبریٰ فاطمہ

بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ، وَ عَلَیٰ مَنِ اصْطَفَیْتَ مِنْ

بنت محمد ہیں اور جن کو بھی تو نے ان کے نیک کردار آباء و اجداد میں منتخب قرار دیا ہے اور خود ان پر

آبَائِهِ الْبَرَرَةِ وَ عَلَیْهِ افْضَلَ وَ اکْمَلَ وَ اتَمَّ وَ ادْوَمَ وَ اکْثَرَ وَ

بھی بہترین مکمل تربیت تام و تمام دائم و قائم اور کثیر و وافر صلوات جو تو نے کسی منتخب مختار اور چنے


اوْفَرَ،مَا صَلَّیْتَ عَلَیٰ احَدٍ مِنْ اصْفِیَائِکَ وَ خِیَرَتِکَ مِنْ

ہوئے بندے پر نازل کی ہے اور ان پر وہ رحمت نازل کر جس کے عدد کی حد نہیں ہے اور جس کی

خَلْقِکَ وَ صَلِّ عَلَیْهِ صَلاةً لاَ غَایَةَ لِعَدَدِهَا وَ لاَ نِهَایَةَ لِمَدَدِهَا،

مدت کی انتہا نہیں ہے اور جس کی وسعت کا خاتمہ نہیں ہے خدایا ان کے ذریعہ حق کو قائم کر اور

وَ لاَ نَفَادَ لِامَدِهَا، اَللّٰهُمَّ وَ اقِمْ بِهِ الْحَقَّ، وَ ادْحِضْ بِهِ الْبَاطِلَ، وَ

باطل کو فنا کردے۔ اپنے دوستوں کو بلندی عطا فرما اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر اور ہمارے

ادِلْ بِهِ اوْلِیَاءَ کَ، وَ اذْلِلْ بِهِ اعْدَاءَ کَ، وَصِلِ اللّٰهُمَّ بَیْنَنَا وَ

اور ان کے درمیان رفاقت حاصل ہو اورہمیںاس طرح کا رابطہ قائم کردے کہ اس کے نتیجہ میں

بَیْنَهُ وُصْلَةً تُودِّي إِلیٰ مُرَافَقَةِ سَلَفِهِ، وَ اجْعَلْنَا مِمَّنْ یَاخُذُ

ہمیں ان کے بزرگوں کی رفاقت حاصل ہو اور ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان کے دامن

بِحُجْزَتِهِم، وَ یَمْکُثُ فِي ظِلِّهِمْ، وَ اعِنَّا عَلَیٰ تَادِیَةِ حُقُوقِهِ إِلَیْهِ،

سے وابستہ ہوں اور ان کے سایہ میں پناہ لے سکیں۔ اور ہماری مدد کر کہ ہم ان کے حقوق کو ادا

وَ الْاِجْتِهَادِ فِي طَاعَتِهِ، وَ اجْتِنَابِ مَعْصِیَتِهِ، وَ امْنُنْ عَلَیْنَا

کرسکیں اور ان کی اطاعت کی کوشش کریں اور ان کی نافرمانی سے پرہیز کریں۔ اور ہم پر یہ

بِرِضَاهُ، وَ هَبْ لَنَا رَافَتَهُ وَ رَحْمَتَهُ وَ دُعَاءَ هُ وَ خَیْرَهُ مَا نَنَالُ بِهِ

احسان کر کہ ان کی رضا حاصل ہوجائے۔ اور ہمیں ان کی مہربانی اور رحمت اور دعا و خیر عطا فرما کہ

سَعَةً مِنْ رَحْمَتِکَ، وَ فَوْزاً عِنْدَکَ، وَ اجْعَلْ صَلاَتَنَا بِهِ

جس سے ہم تیری وسیع رحمتوں کو حاصل کرسکیںاور تیرے نزدیک کامیاب ہوسکیں اور ہماری نماز کو

مَقْبُولَةً، وَ ذُنُوبَنَا بِهِ مَغْفُورَةً، وَ دُعَاءَ نَا بِهِ مُسْتَجَاباً، وَ اجْعَلْ

ان کے ذریعہ مقبول بنادے اور ہمارے گناہوں کو بخش دے اورہماری دعائیں مستجاب قرار دے

ارْزَاقَنَا بِهِ مَبْسُوطَةً، وَ هُمُومَنَا بِهِ مَکْفِیَّةً، وَ حَوَائِجَنَا بِهِ مَقْضِیَّةً،

اور ہمارے رزق میں وسعت عطا فرما اور ہمارے رنج و غم میں ہماری کفایت فرما اور ہماری


وَ اقْبِلْ إِلَیْنَا بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ، وَ اقْبَلْ تَقَرُّبَنَا إِلَیْکَ، وَ انْظُرْ

حاجتوں کو پوری فرما اور ہماری طرف اپنے صاحب کرم چہرے سے توجہ فرما اور ہمارے تقرب کو

إِلَیْنَا نَظْرَةً رَحِیمَةً نَسْتَکْمِلُ بِهَا الْکَرَامَةَ عِنْدَکَ، ثُمَّ لاَ تَصْرِفْهَا

قبول فرما اور ہماری طرف ایسی نظر کرم فرما جس کے ذریعہ ہم تیری بارگاہ میں عزت کی تکمیل

عَنَّا بِجُودِکَ، وَ اسْقِنَا مِنْ حَوْضِ جَدِّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ

کرسکیں اور اس کے بعد اپنے جود و کرم کے رخ کو ہماری طرف سے موڑنا اور ہمیں ان کے جد

بِکَاسِهِ وَ بِیَدِهِ رَیّاً رَوِیّاً هَنِیئاً سَآئِغاً لاَ ظَمَا بَعْدَهُ،

کے جام کوثر اور ان کے دست کرم سے مکمل طور پر سیراب فرما جس کے بعد پھر تشنگی نہ پیدا ہو

یَا ارْحَمَ الرَّاحِمِینَ

اے سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والے!


پانچویں فصل

کتاب نامہ دعائے ندبہ

جب بعض ناآگاہ اہل قلم نے اپنے مقصد کو پورا کرنے اور ناجواں مردانہ حریم دعائے ندبہ پر دھاوا بولنے کے لیے اس مستحکم دشمن شکن دعا کے متعلق اعتراضات کا اظہار کرنا شروع کیا تو علماء و دانشمندوں کے ایک گروہ اور متعہد مولفین نے حریم دعائے ندبہ سے دفاع کیا مزید اس سلسلہ میں گراں قدر کتابیں تحریر کیں اور عظیم مکتب تشیع کے حریم کی صمیمی طور پر حمایت کی۔

مولف نے ان گراں قدر کتابوں میں سے بعض کو کتاب نامہ حضرت مہدی علیہ السلام(۱) میں جمع کیا ہے اور ان کی کتاب شناسی توصیفی میں تفصیلی وضاحت دی ہے ۔

دعائے ندبہ سے متعلق جو کتابوں کے مختلف عناوین نشر ہو چکے ہیں خواہ شرح،ترجمہ، سند یا اس کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں رہے ہوں جہاں تک مولف کی رسائی ہو سکی وہ سب مندرجہ ذیل ہیں:

_______________________

۱۔ کتابشناسی توصیفی،جو حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے متعلق /۲۰۰۰ سے زائد مستقل کتابوں پر مشتمل ہے ۔


۱ ۔ انوار الولایة ،دعائے ندبہ کے متعلق کیے گئے اعتراضات کے جواب میں ۔

تالیف :آیت اللہ الحاج شیخ لطف اللہ صافی گلپایگانی (ہم عصر(

تعارف: عرفان محمود

طبع :بیروت ،دار الہادی، ۱۴۱۹ ھئق

۲ ۔ بہ عشق مہدی ،منظومہ دعائے ندبہ ۔

ناشر:محمد شائق قمی (ہم عصر(

طبع:قم،رووف ۱۳۷۰ ئش

۳ ۔ پاسخ ما بہ گفتہ ھا،دعائے ندبہ کے متعلق کیے گئے اعتراضات کے جواب میں۔

تالیف :عبد الصاحب سید محمد مہدی مرتضوی لنگرودی (ہم عصر(

طبع:قم ،انتظاری ، ۱۳۵۱ ئش

۴ ۔ تحقیقی دربارہ دعائے ندبہ ،کیے گئے اعتراضات کے جواب میں ۔

تالیف: رضا استادی (ہم عصر(

طبع: قم، مولف، ۱۳۵۱ ئش

۵ ۔ ترجمہ دعائے ندبہ ،شرح اور ترجمہ دعائے ندبہ ۔

شارح: مولی رفیع گیلانی۔ بارہویں صدی ہجری ۔

تاریخ کتابت ۱۱۵۳ ھئق(۱)

________________________

۱۔الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،آغا بزرگ طہرانی ،ج۲۶، ص۱۹۷۔


۶ ۔ ترجمہ دعائے ندبہ ،متن اور دعائے ندبہ کا ترجمہ ۔

مترجم :الٰہی قمشہ ای (متوفی ۱۳۹۳ ھئق(

متعدد مرتبہ طبع ہو چکی ہے ۔

۷ ۔ ترجمہ وسیلة القربة در شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف: علی بن علی رضا خوئی ،(متوفی ۱۳۵۰ ھئق(

مترجم : سید جلال الدین محدث ارموی ،(متوفی ۱۳۹۹ ھئق(

۸ ۔جمال حضور در آئینہ غیبت ،شرح و تفسیر دعائے ندبہ ۔

تالیف:سید حسین خادمیان (ہم عصر(

طبع: اصفہان ،مولف ، تاریخ طبع نامعلوم

۹ ۔ درس ہایی از ولایت ، کیے گئے اعتراضات کے جواب میں ۔

تالیف: الحاج شیخ محمد باقر صدّیقینی (متوفی ۱۴۱۴ ھئق(

طبع: اصفہان ،مولف،تاریخ طبع نامعلوم

۱۰ ۔ دعائے ندبہ با ترجمہ فارسی ۔

مترجم :غلام رضا ناصرنیا(ہم عصر(

طبع : مشہد مقدس،طوس، ۱۳۵۰ ئش


۱۱ ۔ دعائے ندبہ با ترجمہ فارسی ۔

مترجم و خطّاط: الحاج شیخ عباس مصباح زادہ (ہم عصر(

طبع : تہران ،اقبال ،سنگی

۱۲ ۔ دعائے ندبہ با ترجمہ منظوم فارسی ،انگریزی ترجمہ کے ساتھ۔

ناشر :الحاج شیخ عباس مصباح زادہ(ہم عصر(

طبع: ویرجینیا ،امریکا ،موسسہ اہل البیت ۔

۱۳ ۔ دعائے ندبہ با ترجمہ منظوم فارسی ۔

ناشر:ابو القاسم امین زادہ (ہم عصر(

طبع :تہران ،نعیمی ، ۱۳۵۳ ئش

۱۴ ۔ دعائے ندبہ با ترجمہ فارسی منظوم ۔

ناشر: رضا موحّد ،تخلّص، ”حقیر تہرانی“۔

طبع : مکان و تاریخ طباعت نامعلوم ۔

۱۵ ۔ دعائے ندبہ بر اساس قدیمی ترین نسخہ ھا، متن، ترجمہ اور سندی بحث۔

تالیف: ڈاکٹر باقر قربانی زرّین (ہم عصر(

طبع : تہران ،بشارت ، ۱۳۷۵ ئش۔


۱۶ ۔ دعائے ندبہ و ترجمہ آن ،اردو زبان میں ۔

مترجم:محمد متقی ۔

طبع :ہند

۱۷ ۔ دعائے ندبہ و ترجمہ آن، اردو زبان میں ۔

مترجم :ناصر رضوی

طبع :حیدر آباد دکن ، ۱۹۶۹ ءء

۱۸ ۔ دعائے ندبہ و ترجمہ آن،دعائے ندبہ کا متن اور فارسی ترجمہ ۔

مترجم:سرتیپ شمس الدین رشدیّہ۔

طبع :تہران ،کتاب فروشی حافظ (تاریخ طباعت نامعلوم(

۱۹ ۔ دعائے ندبہ و تفسیر آن ، شرح وتفسیر دعائے ندبہ ۔

تالیف: سید محمد حسن میرجہانی (متوفی ۱۴۱۳ ھئق(

طبع :تہران ،مکتب الغدیر ، ۱۳۸۵ ھئق(

۲۰ ۔ دعائے ندبہ و زیارت حضرت صاحب الزمان علیہ السلام ،متن ،ترجمہ و آثار دعائے ندبہ ۔

تالیف : علی اکبر شفیعی ۔

طبع :اصفہان ،دین و دانش ، ۱۳۸۵ ھئق


۲۱ ۔ سخنان نخبہ ،در شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف :علی عطائی اصفہانی ۔

طبع : قم ،علامہ ، ۱۳۵۱ ئش۔

۲۲ ۔ شرح دعائے ندبہ ،دعائے ندبہ کے فقرات کی شرح اور معترضین کا جواب۔

تالیف: مولی حسین تربتی سبزواری (متوفی ۱۳۰۰ ھئق(

مولف کا خطی نسخہ کتاب خانہ سید عبد اللہ برہان سبزوار میں موجود ہے ۔(۱)

________________________

۱۔الذریعہ ،آغا بزرگ تہرانی ،ج۳ا،ص ۲۶۰۔


۲۳ ۔ شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف:صدر الدین ،سید محمد بن نصیر الدین محمد طباطبائی یزدی (متوفی ۱۱۵۴ ھئق(

طبع :یزد۔

۲۴ ۔ شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف: سید علی رضا ریحان یزدی(متوفی ۱۳۶۳ ئش)صاحب آئینہ دانشوران، از منابع ناصر رضوی در کتاب دعائے ندبہ و ترجمہ آن ،اردو زبان میں ۔

۲۵ ۔ شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف: محمد باقر شریعت پناہ(ہم عصر(

مولف کا خطی نسخہ مولف کے کتاب خانہ تہران میں موجود ہے ۔

۲۶ ۔ شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف: سید محمود بن سید سلطان علی شوشتری مرعشی (متوفی تقریباً ۱۳۵۵ ھئق(

اس کے خطی نسخہ کی رپورٹ شیخ آغا بزرگ نے الذریعہ میں ذکر کی ہے(۱)

۲۷ ۔ شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف: سید محی الدین علوی طالقانی (متوفی ۱۳۷۸ ھئق(

طبع: تہران ،صدوق، ۱۳۷۰ ئش۔

مولف نے اس کا نام کشف العقدہ فی شرح دعائے الندبہ رکھا ہے لیکن شرح

____________________

۱۔ الذریعہ ،آغا بزرگ تہرانی ،ج۳ا،ص۲۶۱۔


دعائے ندبہ کے عنوان سے طبع ہوئی ہے(۱)

۲۸ ۔ شرح دعائے ندبہ از کتاب وسنت ،با استناد بہ احادیث فریقین ۔

تالیف: سید علی اکبر موسوی محب الاسلام (ہم عصر(

طبع: تہران،مولف ، ۱۳۶۳ ئش۔

۲۹ ۔ شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف: مرزا حیدر قلی خان ،سردار کابلی (متوفی ۱۳۷۲ ھئق)۔

اس کے خطی نسخہ کی رپورٹ مرحوم خیابانی نے ذکر کی ہے(۲)

۳۰ ۔ شفاء الامة ، ترجمہ شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف:محمد جعفر شاملی شیراز۔

طبع: شیراز ،مولف ، ۱۳۷۳ ھئق۔

۳۱ ۔ عقد الجمان لندبة صاحب الزمان۔

تالیف: مرزا عبد الرحیم کلیبری تبریزی،(متوفی ۱۳۳۴ ھئق۔

کتاب کا خطی نسخہ مرحوم محدّث ارموی کے کتاب خانہ تہران میں موجود ہے ۔

۳۲ ۔ فروغ ولایت و دعائے ندبہ ،معترضین کے اعتراضات کا جواب۔

تالیف: آیت اللہ الحاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائیگانی (ہم عصر(

طبع: تہران، بنیاد بعثت ، ۱۳۶۰ ئش۔

________________________

۱۔ شرح دعائے ندبہ ،سید محی الدین علوی طالقانی ،ص۱۷۔

۲۔علمائے معاصرین ،ملا علی واعظ خیابانی ،ص۲۹۳۔


۳۳ ۔ فریاد منتظرین ،ترجمہ و شرح دعائے ندبہ ،اردو زبان میں۔

تالیف: سید علی شرف الدین بن سید محمد موسوی۔

طبع :پاکستان۔

۳۴ ۔ کشف الکربة فی شرح دعائے الندبہ، دعائے ندبہ کی سب سے مفصل شرح۔

تالیف: سید جلال الدین محدث ارموی ،(متوفی ۱۳۹۹ ھئق(

اس کا خطی نسخہ متعدد جلدوں میں مولف کے کتاب خانہ تہران میں موجود ہے ۔

۳۵ ۔ مدارک دعائے شریف ندبہ ۔

تالیف: جعفر صبوری قمی(ہم عصر)

طبع: تہران ۱۹۷۷ ءء۔

۳۶ ۔ معالم القربة فی شرح دعائے الندبہ ،عقدالجمان و وسیلة القربة کے ہمراہ ۔

تالیف: سید جمال الدین محدث ارموی (متوفی ۱۳۹۹ ھئق(

مولف کا خطی نسخہ مولف کے کتاب خانہ تہران میں موجود ہے ۔

۳۷ ۔ النخبة فی شرح دعائے الندبہ ۔

تالیف: سید محمود مرعشی (متوفی ۱۴۰۸ ھئق(

تاریخ تالیف: ۱۳۶۱ ھئق۔

۳۸ ۔ ندبہ و نشاط ،دعائے ندبہ کا منظوم ترجمہ اور مفصل شرح۔

تالیف :الحاج احمد زمّردیان (متوفی ۱۴۲۰ ھئق(

طبع :تہران ،دفتر نشر فرہنگ اسلامی ، ۱۳۷۱ ئش۔


۳۹ ۔ نشریة ینتشربھا انوار دعائے الندبہ،منحرف افکار کے جواب میں ۔

تالیف: شیخ محمد باقر رشاد زنجانی (متوفی ۱۳۵۷ ئش(

طبع: تہران ،مولف ، ۱۳۵۱ ئش۔

۴۰ ۔ نصرة المومنین ،دعائے ندبہ کی حمایت میں ۔

تالیف :عبد الرضا ابراہیمی ۔

طبع :کرمان ،سعادت ، ۱۳۵۲ ئش۔

۴۱ ۔ نوید بامداد پیروزی ،شرح دعائے ندبہ۔

تالیف: سید مصطفیٰ طباطبائی۔

طبع: تہران ،کتاب خانہ صدر ۱۳۸۸ ھئق۔

۴۲ ۔ وسیلة القربة فی شرح دعاء الندبہ ۔

تالیف: علی بن علی رضا خوئی (متوفی ۱۳۵۰ ھئق(

تاریخ تالیف: ۱۳۴۵ ھئق۔مولف کا خطی نسخہ محدث ارموی کے کتاب خانہ میں موجود ہے۔

۴۳ ۔ وظائف الشیعہ ،شرح دعائے ندبہ ۔

تالیف: شیخ عباس علی ادیب اصفہانی ،(متوفی ۱۴۱۲ ھئق(

طبع: اصفہانی ،مولف ، ۱۳۸۲ ھئق۔


۴۴ ۔ ھدیّة مھدویّہ ، ترجمہ دعائے ندبہ اور حضرت کی طولانی عمر کے متعلق بحث۔

تالیف:صالحی کرمانی ۔

طبع:مولف ۱۳۸۹ ھئق۔

ہم آخر میں چند مقالوں کے عناوین کی طرف اشارہ کریں گے جو اس سلسلے میں نشر ہو چکے ہیں۔

۴۵ ۔ اسناد دعائے ندبہ ۔

اہل قلم کی ایک جماعت ۔

مجلہ ماہانہ مکتب اسلام ،سال ۳ اشمارہ ۷ ،ص ۶۵ ۔ ۶۸ ۔

طبع قم ،تیرماہ ۱۳۵۱ ئش۔

۴۶ ۔ تحقیقی دربارہ دعائے ندبہ ۔

اہل قلم کی ایک جماعت ۔

مجلہ ماہانہ مکتب اسلام ،سال ۱۳ ،شمارہ ۶ ،ص ۶۰ ۔ ۶۵ ۔

یہ دونوں مقالے بعد میں ایک مجموعہ کے ضمن میں بعنوان پرسشھا و پاسخھا بھی نشر ہو چکے ہیں(۱)

۴۷ ۔ پیرامون دعائے ندبہ و سند آن۔

مولف :الحاج شیخ محمد تقی شوشتری ،صاحب قاموس الرجال (متوفی ۱۴۱۵ ھئق(

مجلہ نور علم ،حوزئہ علمیہ قم۔

____________________

۱۔ پرسشھا و پاسخھا ،ناصر مکارم شیرازی و جعفر سبحانی ،ج۲،ص۱۱۶۔۱۳۷۔


یہ مقالہ بعد میں بعنوان پاسخ معقول و منطقی بہ یک سوال ،ہفدہ رسالہ فارسی کے ضمن میں نشر ہوا۔(۱)

۴۸ ۔ تحقیقی دربارہ دعائے ندبہ ۔

مولف:رضا استادی ۔

دہ رسالہ: رسالہ ششم،ص ۲۷۹ ۔ ۳۱۸ ۔

یہ مقالہ مفصل طور پر مستقلاً اسی عنوان سے مقالہ نگار کی طرف سے اسی کتاب نامہ میں متعارف ہو چکا ہے ۔

________________________

۱۔ ہفدہ رسالہ فارسی ،رضا استادی ،ص۳۳۷،۳۴۵۔


آخری سخن

یہ معمولی عقیدت مندی کا اظہار، کم بضاعتی کے ساتھ، حضرت بقیة اللہ روحی و ارواح العالمین لہ الفداء کی مقدس بارگاہ میں حضرت جواد الائمہ امام محمد تقی کی بابرکت ولادت کے دن ان کی محترمہ پھوپھی کریمہ اہل بیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کے جوارِ مبارک میں مجلہ موعود کے چیف ایڈیٹر کی پیش کش کی بنا پر اختتام پذیر ہوا۔

یہ سال جو (امیر المومنین -) کے مقدس نام سے مزین ہوا ہے اور چودہ سو چوالیس ( ۱۴۴۴) سال مولائے کائنات امام المتقین سید الصالحین، اسوئہ منتظرین حضرت علی ابن ابی طالب - کی ولادت با سعادت کے مکمل ہورہے ہیں لہٰذا خداوند منان سے درخواست کرتا ہوں کہ اولین مظلوم کائنات”مولود کعبہ“ کے احترام میں ”موعود کعبہ“ اور مظلوموں کے خون کا انتقام لینے والے کے ظہور میں تعجیل فرما، مولف اور ان کا طباعت و اشاعت کے مرحلے میں تعاون کرنے والوں نیز تمام قارئین کرام کے اسماء کو اپنے فضل و کرم سے حضرت کی برحق حکومت کے دوران حضرت کے دیدار سے مشرف ہونے والوں کی فہرست میں درج فرما۔

اس عقیدت مندی کے اظہار کو ہم سے اور تمام عاشقین اور دعائے ندبہ کی مجلسوں میں ”یابن الحسن-“ کہنے والوں کی طرف سے تمام جمعہ کی صبح میں قبول فرما۔ انشاء اللہ

و آخر دعوانا ان الحمد للّٰه ربّ العالمین


منابع و مآخذ

۱ ۔ نصرة المومنین در حمایت از دعائے ندبہ، عبد الرضا، ابراہیمی،کرمان۔

۲ ۔ الصحیفة الرضویة الجامعة، سید محمد باقر (موحد) ابطحی، قم ۔

۳ ۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ابو حامد بن ھبة اللہ المدائنی (متوفی ۶۵۶ ء) قاہرہ۔

۴ ۔ السیر و المغازی، محمد ابن اسحاق (متوفی ۱۵۱ ھ ء ق) بیروت ۱۳۹۸ ء ھ ق۔

۵ ۔ الکامل فی التاریخ، عز الدین علی ابن الاثیر، (متوفی ۶۳۰ ھئق بیروت۔

۶ ۔ النھایة فی غریب الحدیث والاثر، مجد الدین ابو السعادات مبارک بن محمد جزری ابن الاثیر (متوفی ۶۰۶ ھء ق) مصر۔

۷ ۔ غایة النھایة، شمس الدین ابن الجزری (متوفی ۶۰۶ ء ھ ق) بغداد۔

۸ ۔ تذکرة الخواص، سبط ابن الجوزی (متوفی ۶۵۴ ء ھ ق)، نجف اشرف۔

۹ ۔ جمال الاسبوع، السید علی بن موسی ابن طاووس (متوفی ۶۶۴ ھ ق)، طبع سنگی، تہران، ۱۳۳ ھء ق۔

۱۰ ۔ فلاح السائل، السید علی بن موسی ابن طاووس، قم۔

۱۱ ۔ معجم مقاییس اللغة، احمد ابن الفارس بن زکریّا (متوفی ۳۹۵ ء ھ ق) مصر ۱۳۸۹ ء ھ ق۔

۱۲ ۔ تفسیر کنز الدقائق، محمد بن محمد رضا ابن مشہدی، (بارہویں صدی) تہران۔

۱۳ ۔ المزار الکبیر، ابو عبد اللہ محمد بن جعفر ابن مشہدی (چھٹی صدی ہجری) قم ۱۴۱۹ ء ھ ق۔

۱۴ ۔ طبقات الشعراء، ابن المعتزّ۔

۱۵ ۔ مناقب علی ابن ابی طالب، ابن المغازلی، (متوفی ۴۸۳ ء ق)۔

۱۶ ۔ الصواعق المحرقہ، احمد ابن حجر ھیثمی مکی، (متوفی ۹۷۴ ء ق) قاہرہ۔

۱۷ ۔ جمھرة انساب العرب، ابن حزم اندلسی (متوفی ۴۵۶ ء ق ) مصر ۱۹۶۲ ء م۔

۱۸ ۔ المسند، احمد ابن حنبل (متوفی ۲۴۱ ھ ق) قاہرہ ۱۳۱۳ ھ ق۔

۱۹ ۔ المقدمة، عبد الرحمن ابن خلدون مغربی، بیروت۔


۲۰ ۔ وفیات الاعیان، شمس الدین احمد بن محمد بن ابوبکر ابن خلّکان (متوفی ۶۸۱ ھ ق) بیروت۔

۲۱ ۔ الطبقات الکبری، محمد ابن سعد الکاتب (ابن واقدی) متوفی ۲۳۰ ھء ق، لیدن۔

۲۲ ۔ مناقب آل ابی طالب، ابو جعفر محمد بن علی ابن شہر آشوب (متوفی ۵۸۸ ھ ق) بیروت۔

۲۳ ۔ فلاح السائل، ابن طاؤوس (متوفی ۶۶۴ ء ھ ق) قم۔

۲۴ ۔ زوائد الفوائد، السید علی بن علی بن موسی (فرزند ابن طاووس) نسخہ خطبی کتابخانہ مرکزی دانشگاہ تہران۔

۲۵ ۔ اقبال الاعمال، السید علی بن موسیٰ بن طاووس (متوفی ۶۶۴ ، ھ ق)، قم ۱۴۱۷ ء ھ ق۔

۲۶ ۔ الامان من اخطار الاسفار، السید علی بن موسیٰ بن طاووس (متوفی ۶۶۴ ، ھ ق) ۱۴۰۹ ء ھ ق، قم۔

۲۷ ۔ مصباح الزائر، السید علی بن موسیٰ بن طاووس (متوفی ۶۶۴ ، ھ ق)۔

۲۸ ۔مھج الدعوات ،طبع سنگی،تہران۔

۲۹ ۔ کامل الزیارات ،ابو القاسم جعفر بن محمد ابن قولویہ (متوفی ۳۶۸ ھئق) قم۔

۳۰ ۔ السنن ،حافظ ابو عبد اللہ ابن ماجہ ،(متوفی ۲۷۵ ھئق) بیروت۔

۳۱ ۔ مختصر تاریخ دمشق ،محمد ابن مکرم ابن منظور (متوفی ۷۱۱ ھ ق) ،بیروت۔

۳۲ ۔ لسان العرب ، محمد ابن مکرم، ابن منظور ، ۱۴۰۸ ھئق، بیروت۔

۳۳ ۔ السیرة النبویّة ،ابو محمد عبد الملک ابن ہشام ،(متوفی ۲۱۳ ھء ق ) بیروت۔

۳۴ ۔ اہل البیت ،استاد ابو علم توفیق،قاہرہ ۔

۳۵ ۔ جوامع الکلم ،احمد احسائی (متوفی ۱۲۴۳ ھئق) طبع سنگی۔

۳۶ ۔ شرح الزیارة،احمد احسائی (متوفی ۱۲۴۳ ء ھ ق) طبع سنگی۔

۳۷ ۔ شرح عرشیہ، احمد احسائی (متوفی ۱۲۴۳ ء ھ ق) طبع سنگی، تبریز۔

۳۸ ۔ مجموعة الرسائل الحکمیّة ،احمد احسائی (متوفی ۱۲۴۳ ء ھ ق) طبع سنگی۔

۳۹ ۔ شرح دعائے ندبہ ،عباس علی ادیب ،موعود سال اول شمارہ ۶ بہمن و اسفند ۱۳۷۶ ھئق۔

۴۰ ۔ اخبار مکہ،ابو الولیدمحمد بن عبد اللہ بن احمد الازرقی،(متوفی ۲۴۴ ھئق) مکہ۔


۴۱ ۔ تحقیقی دربارہ دعائے ندبہ ،رضا استادی ،قم، ۱۳۵۱ ئش۔

۴۲ ۔ دہ رسالہ ،رضا استادی، قم ، ۱۳۷۰ ئش۔

۴۳ ۔ ہفدہ رسالہ فارسی، رضا استادی۔

۴۴ ۔ المقالات و الفرق، سعد بن عبد اللہ الاشعری ،(متوفی ۳۰۱ ھئق) تہران ، ۱۹۶۳ ءء

۴۵ ۔ الاغانی ،ابو الفرج الاصفہانی (متوفی ۳۵۶ ھئق) بولاق مصر۔

۴۶ ۔ حلیة الاولیاء ،ابو نعیم الاصفہانی (متوفی ۴۳۰ ھئق) ۱۳۵۷ ھء ق)۔

۴۷ ۔ اعیان الشیعہ ،السید محسن الامین العاملی (متوفی ۱۳۷۱ ھئق) بیروت۔

۴۸ ۔ مفتاح الجنات، السید محسن الامین العاملی (متوفی ۱۳۷۱ ھ ق) بیروت۔

۴۹ ۔ المکاسب ،مرتضی انصاری (شیخ انصاری) (متوفی ۱۲۸۱ ھئق) تبریز، ۱۳۷۵ ھئق۔

۵۰ ۔ التعلیقہ علی المکاسب ،الایروانی ۔

۵۱ ۔ حلیة الابرارفی فضائل محمد و آلہ الاطہار ، السید ہاشم بن سلیمان البحرانی (متوفی ۱۱۰۹ ھئق) طبع سنگی۔

۵۲ ۔ البرہان فی تفسیر القرآن ، السید ہاشم بن سلیمان البحرانی (متوفی ۱۱۰۹ ء ھ ق ) طبع جدید تحقیق شدہ۔

۵۳ ۔ اللوامع النورانیّة ،السید ہاشم بن سلیمان البحرانی (متوفی ۱۱۰۹ ء ھ ق ) اصفہان ، ۱۴۰۴ ھئق۔

۵۴ ۔ التاریخ الکبیر،محمد ابن اسماعیل البخاری،متوفی ۲۵۶ ھئق،بیروت۔

۵۵ ۔ صحیح بخاری ،محمد بن اسماعیل البخاری متوفی ( ۲۵۶ ھ ق) ۹ جلدی، قاہرہ۔

۵۶ ۔ المحاسن ،احمد بن محمد بن خالد البرقی(متوفی ۲۸۰ ھئق)قم ، ۱۴۱۳ ھئق۔

۵۷ ۔ انساب الاشراف،احمد بن یحییٰ البلاذری(متوفی ۲۷۹ ھئق) قاہرہ۔

۵۸ ۔ قاموس الرجال ،شیخ محمد تقی شوشتری(متوفی ۱۴۱۵ ھئق) قم۔

۵۹ ۔ ہفدہ رسالہ، شیخ محمد تقی شوشتری (متوفی ۱۴۱۵ ء ھ ق ) قم۔

۶۰ ۔ قصص العلماء ،محمد تنکابنی (متوفی ۱۳۰۲ ھئق) تہران ۱۳۶۴ ئش۔


۶۱ ۔ شفاء الصدور فی شرح زیارة العاشور، مرزا ابو الفضل تہرانی (متوفی ۱۳۱۶ ھ ئق)قم۔

۶۲ ۔ المستدرک علی الصحیحین فی الحدیث ،ابو عبید اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیشابوری (متوفی ۴۰۵ ھئق) حیدر آباد دکن۔

۶۳ ۔ اثبات الھداة ،محمد بن الحسن الحر العاملی ،(متوفی ۱۱۰۴ ھئق) قم ۱۳۹۹ ء ھ ق۔

۶۴ ۔ وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعة ،محمد بن الحسن الحر العاملی (متوفی ۱۱۰۴ ء ھ ق) طبع ۳۰ ،جلدوں میں ،موسسة آل البیت ،قم۔

۶۵ ۔ شواہد التنزیل لقواعد التفضیل ،عبید اللہ بن عبد اللہ الحسکانی ،پانچویں صدی ہجری ،تہران ۱۴۱۱ ھئق۔

۶۶ ۔ فہرست کتاب خانہ آیت اللہ مرعشی ،سید احمد حسینی اشکوری،قم ۔

۶۷ ۔ عدّة الداعی ،احمد بن فہد الحلی (متوفی ۵۴۱ ھئق) بیروت۔

۶۸ ۔ ایضاح الاشتباہ ،حسن بن یوسف الحلی( علامہ) (متوفی ۷۲۶ ھئق) قم، ۱۴۱۱ ھئق۔

۶۹ ۔ رجال ،حسن بن یوسف الحلّی (علامہ) متوفی ۷۲۶ ئھ ق نجف اشرف۔

۷۰ ۔ معجم البلدان،یاقوت بن عبد اللہ الحموی البغدادی، متوفی ۶۲۶ ھئق، بیروت ، ۱۳۹۹ ھئق۔

۷۱ ۔ الدیوان ،السید اسماعیل الحمیری، (متوفی ۱۷۳ ھئق)،بیروت۔

۷۲ ۔ نور الثقلین ،عبد العلی الحویزی، (متوفی ۱۱۱۲ ھئق) قم، ۱۳۸۳ ھئق۔

۷۳ ۔کفایة الاثر فی النّص علی الائمة الاثنی عشر، ابو القاسم علی بن محمد بن علی الخراز القمی (چوتھی صدی ہجری ) قم۔

۷۴ ۔ نور الیقین ،محمد خضری ،مصر۔

۷۵ ۔ معجم رجال الحدیث ،السید ابو القاسم الخوئی ،(متوفی ۱۴۱۴ ء ھ ق) قم۔

۷۶ ۔ مقتل الحسین ، موفق بن احمد الخوارزمی ،(متوفی ۵۶۸ ء ھق نجف اشرف۔

۷۷ ۔ المزار ،جمال خوانساری ۔

۷۸ ۔ تلخیص المستدرک ،ذیل المستدرک الصحیحین ،شمس الدین احمد بن محمد الذہبی ، (متوفی ۸۴۸ ء ھ ق) بیروت ۱۳۹۸ ھئق۔


۷۹ ۔ سیر اعلام النبلاء ، شمس الدین احمد بن محمد الذہبی (متوفی ۱۴۲۱ ء ھ ق) بیروت ، ۱۴۰۱ ھئق۔

۸۰ ۔ میزان الاعتدال ، شمس الدین احمد بن محمد الذہبی (متوفی ۱۴۲۱ ء ھ ق) بیروت۔

۸۱ ۔ کرامات صالحین ، شریف محمد رازی (متوفی ۱۴۲۱ ھئق)قم ۔

۸۲ ۔ گنجینہ دانشمندان ،شریف محمد رازی (متوفی ۱۴۲۱ ء ھ ق) تہران۔

۸۳ ۔ نشریة ینتشر بھا انوار دعاء الندبة ،شیخ محمد باقر رشاد زنجانی (متوفی ۱۳۵۷ ھئق) تہران ۔

۸۴ ۔ مرآة الحرمین ابراہیم رفعت پاشا(متوفی ۱۳۵۳ ھئق)سعودی۔

۸۵ ۔ الاعلام ،خیر الدین الزرکلی،(متوفی ۱۳۹۶ ھئق)طبع پنجم، بیروت، ۱۹۸۰ ءء۔

۸۶ ۔الکشّاف عن حقائق غوامض التنزیل ،محمود بن عمر الزمخشری (متوفی ۵۲۸ ھئق) بیروت۔

۸۷ ۔ ندبہ و نشاط ،احمد زمردیان شیرازی،(متوفی ۱۴۲۰ ھئق) تہران۔

۸۸ ۔ فروغ ابدیت ، جعفر سبحانی ،قم ۱۳۵۱ ھئش۔

۸۹ ۔ تفسیر العیاشی ،محمد بن مسعود بن عیاشی السلمی السمرقندی (العیاشی) (تیسری صدی ہجری) تہران۔

۹۰ ۔ یوم الخلاص ،کامل سلیمان ،طبع چہارم ،بیروت۔

۹۱ ۔ وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ ،نور الدین علی بن احمد السمہودی (متوفی ۹۱۱ ھئق) بیروت ۱۴۰۱ ھئق۔

۹۲ ۔حکمة الاشراق،شہاب الدین سہروردی،(متوفی ۵۸۷ ھئق)

۹۳ ۔ الدرّ المنثور ،جلال الدین سیوطی،(متوفی ۹۱۱ ھئق) قم۔

۹۴ ۔ کفایة الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب ،محمد ابن یوسف الشافعی (الگنجی) (متوفی ۶۵۸ ھئق) تہران۔

۹۵ ۔ الانوار اللامعة ،السید عبد اللہ شبّر،(متوفی ۱۱۸۸ ھئق) تہران۔

۹۶ ۔انتظار مذہب اعتراض ،علی شریعتی، تہران۔

۹۷ ۔ نہج البلاغہ ،الشریف الرضی (متوفی ۴۰۴ ھئق) طبع صبحی صالح، بیروت۔

۹۸ ۔ الملل و النحل ، ابو الفتح محمد بن عبد الکریم ،(متوفی ۵۴۸ ھئق) بیروت۔


۹۹ ۔ ہدایة الطالب الی اسرار المکاسب ،مرزا فتاح الشہیدی،(متوفی ۱۳۷۲ ھئق) تبریز ۱۳۷۵۷ ئھ ق ۔

۱۰۰ ۔ ایصال الطالب الی المکاسب ، سید محمد الشیرازی (الحسیني)،تہران۔

۱۰۱ ۔ منتخب الاثر، لطف اللہ صافی گلپائیگانی ،قم ۱۳۷۳ ھئق۔

۱۰۲ ۔ فروغ ولایت در دعائے ندبہ ،لطف اللہ صافی گلپائیگانی، طبع سوم ،قم ۔

۱۰۳ ۔ مدارک دعائے شریف ندبہ ،جعفر صبوری قمی ،تہران

۱۰۴ ۔ علل الشرایع ،محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدق) (متوفی ۳۸۱ ھئق)۔

۱۰۵ ۔ الامالی ،محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق) بیروت ۱۴۰۰ ء ھ ق۔

۱۰۶ ۔ الامامة والتبصرة ،محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق) بیروت۔

۱۰۷ ۔ الخصال ،محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق)قم، ۱۳۶۲ ء ھ ش۔

۱۰۸ ۔ عیون اخبار الرضا،محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق) نجف اشرف۔

۱۰۹ ۔ کمال الدین و تمام النعمة، محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق) تہران ۔

۱۱۰ ۔ معانی الاخبار ، محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق)قم، ۱۳۶۱ ھئش۔

۱۱۱ ۔ من لایحضرہ الفقیہ، محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق) بیروت۔

۱۱۲ ۔ ثواب الاعمال ، محمد بن علی بن الحسین الصدوق(شیخ صدوق)نجف اشرف، ۱۳۸۷ ھئق۔

۱۱۳ ۔ درس ھایی از ولایت ،محمد باقر صدیقین۔

۱۱۴ ۔ شرح دعائے ندبہ ،سید محی الدین طالقانی (علوی) (متوفی ۱۳۴۷ ء ھ ش) تہران ۱۳۷۰ ھئش۔

۱۱۵ ۔ المیزان فی تفسیر القرآن ،السید محمد حسین الطباطبائی، (متوفی ۱۴۰۲ ء ھ ق) بیروت۔

۱۱۶ ۔ بحث کوتاہی در بارہ علم امام، السید محمد حسین الطباطبائی (متوفی ۱۴۰۲ ھ ق) دار التبلیغ اسلامی ، قم۔

۱۱۷ ۔شرح دعائے ندبہ ،سید صدر الدین طباطبائی (حسنی) متوفی ۱۱۵۴ ء ھ ق، یزد۔

۱۱۸ ۔ المعجم الکبیر، ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی(متوفی ۳۶۰ ھئق) بیروت۔


۱۱۹ ۔ اعلام الوری باعلام الھدی،ابو علی الفضل بن حسن الطبرسی (چھٹی صدی ہجری) قم ، ۱۳۹۹ ھئق۔

۱۲۰ ۔ الاحتجاج ، ابو علی الفضل بن حسن الطبرسی (چھٹی صدی ہجری) بیروت۔

۱۲۱ ۔ مجمع البیان ، ابو علی الفضل بن حسن الطبرسی (چھٹی صدی ہجری) بیروت۔

۱۲۲ ۔ جامع البیان فی تفسیر القرآن ،ابو جعفر محمد بن جریر الطبری ،(متوفی ۳۱۰ ھئق) بیروت۔

۱۲۳ ۔ دلائل الامامة،ابو جعفر محمد بن جریر الطبری ، ۱۴۱۳ ھئق،قم ۔

۱۲۴ ۔ ذخائر العقبیٰ ، محب الدین الطبری،(متوفی ۶۹۴ ھئق) قاہرہ۔

۱۲۵ ۔ مجمع البحرین ،فخر الدین الطریحی ،تہران ، ۱۳۶۵ ھئش۔

۱۲۶ ۔ التبیان فی تفسیر القرآن ، محمد بن الحسن الطوسی (شیخ طوسی)(متوفی ۴۶۰ ھئق) بیروت۔

۱۲۷ ۔ اختیار معرفة الرجال ، محمد بن الحسن الطوسی (شیخ طوسی)(متوفی ۴۶۰ ھئق) طبع سنگی،مشہد۔

۱۲۸ ۔ الاستبصار ، محمد بن الحسن الطوسی (شیخ طوسی)(متوفی ۴۶۰ ھئق) بیروت۔

۱۲۹ ۔ تہذیب الاحکام ، محمد بن الحسن الطوسی (شیخ طوسی)(متوفی ۴۶۰ ھئق) بیروت۔

۱۳۰ ۔ مصباح المتہجّد، محمد بن الحسن الطوسی (شیخ طوسی)(متوفی ۴۶۰ ھئق) بیروت، ۱۴۱۱ ھئق۔

۱۳۱ ۔ کتاب الغیبة ، محمد بن الحسن الطوسی (شیخ طوسی)(متوفی ۴۶۰ ھئق) طبع تحقیق شدہ ،قم ۔

۱۳۲ ۔ الذریعہ الی تصانیف الشیعہ،آغا بزرگ الطہرانی ،(متوفی ۱۳۸۹ ھئق) بیروت۔

۱۳۳ ۔ طبقات اعلام الشیعہ، آغا بزرگ الطہرانی ،(متوفی ۱۳۸۹ ھئق) بیروت۔

۱۳۴ ۔ مفتاح الفلاح ،محمد بن الحسین العاملی (شیخ بہائی) (متوفی ۱۰۳۰ ھئق) قم۔

۱۳۵ ۔ الدیوان ،الکُثَیَّر عزّة (متوفی ۱۰۵ ھئق) بیروت ، ۱۹۷۱ ءء۔

۱۳۶ ۔ سخنان نخبہ ،علی عطائی اصفہانی ،قم ۱۳۵۰ ئش۔

۱۳۷ ۔ الفصول المختارة ،السید مرتضی علم الہدی ،(متوفی ۴۳۶ ھئق) نجف اشرف۔

۱۳۸ ۔ التفسیر الکبیر ، الفخر الرازی ،متوفی ۶۰۶ ھئق) بیروت۔


۱۳۹ ۔ تفسیر فرات ، ابو القاسم فرات بن ابراہیم فرات الکوفی (تیسری صدی ہجری )بیروت۔

۱۴۰ ۔ سفر نامہ ،مرزا حسین فراہانی (متوفی ۱۳۰۳ ھئق کے بعد) دانشگاہ تہران۔

۱۴۱ ۔ فوزاکبر، محمد باقر فقیہ ایمانی (متوفی ۱۳۷۰ ھئق) مشہد ۱۳۶۷ ھئش۔

۱۴۲ ۔ شیفتگان حضرت مہدی ،احمد قاضی زاہدی ،طبع حاذق، قم۔

۱۴۳ ۔ الکیسانیة فی التاریخ و الادب،ودادالقاضی ،بیروت، ۱۹۷۴ ءء۔

۱۴۴ ۔ الجامع لاحکام القران ،محمد بن احمد القرطبی، (متوفی ۶۷۱ ھئق) بیروت۔

۱۴۵ ۔ الامام الجواد من المہد الی اللّحد، السید محمد کاظم القزوینی ،(متوفی ۱۴۱۵ ھئق) طبع سوم ،قم ۱۴۱۴ ھئق۔

۱۴۶ ۔ تفسیر القمی ،ابو الحسن علی بن ابراہیم القمی ۔

۱۴۷ ۔ مفاتیح الجنان ،شیخ عباس قمی (متوفی ۱۳۵۹ ھئق) قم ،رسالت۔

۱۴۸ ۔ ہدیة الزائر ، شیخ عباس قمی (متوفی ۱۳۵۹ ھئق) تبریز۔

۱۴۹ ۔ بیت الاحزان، شیخ عباس قمی (متوفی ۱۳۵۹ ھئق)۔

۱۵۰ ۔ ینابیع المودة ،سلیمان بن ابراہیم القندوزی (متوفی ۱۲۹۴ ھئق) استنبول۔

۱۵۱ ۔الصحیفة الھادیة و التحفةالمھدیّة ،ابراہیم بن محسن الکاشانی (فیض کاشانی)(متوفی ۱۳۴۵ ھئق) طبع سنگی ،تہران ۱۳۱۸ ھئق۔

۱۵۲ ۔ الفردوس الاعلی ،شیخ محمد حسین کاشف الغطاء ،(متوفی ۱۳۷۳ ھئق) تبریز ۔

۱۵۳ ۔ بشارة الاسلام ،السید مصطفی الکاظمی (متوفی ۱۳۳۹ ھئق) نجف اشرف۔

۱۵۴ ۔ عمدة الزائر ،سید حیدر الکاظمی ۔

۱۵۵ ۔ کتاب مقدس، (مشتمل بر عہد عتیق و جدید) ۔

۱۵۶ ۔ تنزیہ الاولیاء ،ابو القاسم کرمانی ،کرمان ، ۱۳۶۷ ھئق۔

۱۵۷ ۔ دیدار یار،علی کرمی ، حاذق ،قم ۱۳۷۷ ھئش۔

۱۵۸ ۔ الکافی ،محمد بن یعقوب الکلینی (متوفی ۳۲۹ ھئق) بیروت۔


۱۵۹ ۔ غایة الآمال ،الشیخ حسن المامقانی (متوفی ۱۳۲۳ ھئق) نجف اشرف۔

۱۶۰ ۔ تنقیح المقال ،عبد اللہ المامقانی (متوفی ۱۳۵۱ ھئق) طبع سنگی نجف اشرف۔

۱۶۱ ۔ الصحیفة المبارکة المھدیہ ،سید مرتضی مجتہدی،قم ۔

۱۶۲ ۔ بحار الانوار، محمد باقر المجلسی(متوفی ۱۱۱۰ ھ ق) تہران۔

۱۶۳ ۔ تحفة الزائر ، محمد باقر المجلسی(متوفی ۱۱۱۰ ھ ق) طبع سنگی۔

۱۶۴ ۔ زاد المعاد، محمد باقر المجلسی(متوفی ۱۱۱۰ ھ ق) طبع سنگی۔

۱۶۵ ۔ اعتقادات ، محمد باقر المجلسی(متوفی ۱۱۱۰ ھ ق) قم ۔

۱۶۶ ۔ روضة المتقین ،محمد تقی المجلسی ، (متوفی ۱۰۷۰ ھئق) قم ۱۴۰۶ ھئق۔

۱۶۷ ۔ نفس المہموم ،الحاج شیخ عباس محدث قمی (متوفی ۱۳۵۹ ھئق)، تہران۔

۱۶۸ ۔ شرح دعائے ندبہ ،سید صدر الدین مدرس،(متوفی ۱۱۵۴ ھئق) یزد۔

۱۶۹ ۔ تفسیر المراغی ،احمد مصطفی المراغی (متوفی ۱۳۷۱ ھئق) بیروت۔

۱۷۰ ۔ پاسخ ما بہ گفتہ ھا، سید عبد الصاحب مرتضوی لنگرودی ،قم ۱۳۵۱ ئش۔

۱۷۱ ۔ مروج الذہب ،علی بن الحسین المسعودی (متوفی ۳۴۵ ھئق) قاہرہ ۔

۱۷۲ ۔ تفسیر الکاشف، شیخ محمد جواد مغنیہ (متوفی ۱۴۰۰ ھئق) بیروت۔

۱۷۳ ۔ الاختصاص ،محمد بن محمد بن نعمان المفید، (شیخ مفید) (متوفی ۴۱۳ ھئق) قم ۔

۱۷۴ ۔ البدء و التاریخ ،المطہربن طاہر المقدسی،(متوفی ۳۵۵ ھئق) پیرس۔

۱۷۵ ۔ پرسش ھا و پاسخ ھا، ناصر مکارم شیرازی ،جعفر سبحانی تبریزی ،قم ۱۳۹۴ ھئق ۔

۱۷۶ ۔ مجلہ ، ناصر مکارم شیرازی ،جعفر سبحانی تبریزی ،قم ، مکتب اسلام ۔

۱۷۷ ۔ ہمہ می خواھند بدانند، ناصر مکارم شیرازی ،قم ۔


۱۷۸ ۔ الذکری ، محمد بن جمال الدین مکی العاملی (شہید اول) (متوفی ۷۸۶ ھئق) طبع سنگی۔

۱۷۹ ۔ مکیال المکارم فی فوائد الدعاء للقائم،السید محمد تقی الموسوی الاصفہانی (متوفی ۱۳۴۸ ھئق) قم ۔

۱۸۰ ۔ وظیفہ مردم در غیبت امام زمان ، السید محمد تقی الموسوی الاصفہانی (متوفی ۱۳۴۸ ھئق) قم ۔

۱۸۱ ۔ مدارک الاحکام ،السید محمد بن علی الموسوی العاملی (متوفی ۱۰۰۹ ھئق) قم، موسسة آل البیت ۔

۱۸۲ ۔ شرح دعائے ندبہ ،سید علی اکبر موسوی (محب الاسلام ) تہران ۔

۱۸۳ ۔اجساد جاویدان ،علی اکبر مہدی پور ،قم ۱۳۷۷ ئش۔

۱۸۴ ۔ کتاب نامہ حضرت مہدی ، علی اکبر مہدی پور، قم ۔

۱۸۵ ۔ اصول النحل ، اکبر الناشی ، ویسبادن، ۱۹۷۱ ءء۔

۱۸۶ ۔ رجال ،ابوالعباس احمد بن علی نجاشی (متوفی ۴۵۰ ھئق) قم ۔

۱۸۷ ۔ تاویل الآیات الظاہرة،سید شرف الدین علی النجفی ،(متوفی ۹۶۵ ھئق کے بعد) قم۔

۱۸۸ ۔ کتاب الغیبة ، ابن ابی زینب محمد بن ابراہیم النعمانی (چوتھی صدی ہجری) تہران ۔

۱۸۹ ۔ مستدرکات علم رجال الحدیث ،شیخ علی نمازی (متوفی ۱۴۰۵ ھئق) قم۔

۱۹۰ ۔ فرق الشیعة ، حسن بن موسی النوبختی ،(متوفی ۳۰۰ ھئق کے بعد) نجف اشرف۔

۱۹۱ ۔ مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ،حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی، (متوفی ۱۳۲۰ ھئق) قم ،موسسة آل البیت ۔

۱۹۲ ۔ لو لو و مرجان ،حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی (متوفی ۱۳۲۰ ھ ق) تہران۔

۱۹۳ ۔ تحیة الزائر ، حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی (متوفی ۱۳۲۰ ھ ق) تہران ۱۳۲۷ ھئق۔

۱۹۴ ۔ دار السلام ، حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی (متوفی ۱۳۲۰ ھ ق) قم ۔

۱۹۵ ۔ العبقری الحسان ،علی اکبر نہاوندی ،(متوفی ۱۳۶۶ ھئق) طبع سنگی ، رحلی۔

۱۹۶ ۔ اسباب النزول ،ابو الحسن علی بن احمد النیشابوری (الواحدی) (متوفی ۴۶۸ ھئق) بیروت۔

۱۹۷ ۔ غرائب القرآن و رغائب الفرقان ، نظام الدین حسن بن محمد النیشابوری،(متوفی ۷۲۸ ھ ق) تفسیر طبری، کے حاشیہ میں۔


۱۹۸ ۔ علمائے معاصرین ،ملا علی واعظ خیابانی (متوفی ۱۳۶۷ ھئق)تبریز ، ۱۳۶۶ ھئق۔

۱۹۹ ۔ تکالیف الانام فی غیبة الامام ،علی اکبر ہمدانی (صدر الاسلام )(متوفی ۱۳۲۵ ھئق) تہران ۱۳۵۴ ھئش۔

۲۰۰ ۔ مجمع الزوائد ، نور الدین علی بن ابو بکر الہیثمی ، (متوفی ۸۰۷ ھئق) بیروت۔

۲۰۱ ۔ التاریخ ،ابن واضح الیعقوبی، (متوفی ۲۹۲ ھئق کے بعد) نجف اشرف۔


فہرست

کچھ اپنی باتیں ۴

(دعائے ندبہ کی سندی اور مضمونی اعتراضات کی تحقیق و تنقید) ۶

عرض ناشر ۶

ابتدائیہ ۷

پہلی فصل ۸

دعائے ندبہ سے آشنائی ۸

۱ ۔ مہدی موعود کے فراق میں گریہ و زاری کا تاریخی پس منظر ۸

آیہ کریمہ کی تفسیر میں : ۱۴

امام محمد باقر آیہ کریمہ ۲۵

۲ ۔ دعائے ندبہ کی سندی تحقیق ۳۷

۱ ۔ ابو جعفر محمد بن حسین ابن سفیان بزوفری ۳۷

۲ ۔ ابو الفرج محمد ابن علی ابن یعقوب ابن اسحاق ابن ابی قرّہ قُنّائی ۳۹

۳ ۔ محمد ابن جعفر ابن علی ابن جعفر مشہدی حائری ۴۰

۴ ۔ صاحب کتاب مزار قدیم ۴۳

۵ ۔ رضی الدین علی ابن موسیٰ ابن طاووس حلّی ۴۴

۶ ۔ علی ابن علی ابن موسیٰ ابن طاووس ۴۶

۸ ۔ سید محمد طباطبائی یزدی ۴۸

۱۰ ۔ محدّث نوری ۴۹

۱۱ ۔ صدر الاسلام ہمدانی ۴۹


۱۲ ۔ ابراہیم ابن محسن کاشانی ۵۲

۱۳ ۔ مرزا محمد تقی موسوی اصفہانی ۵۲

۱۴ ۔ محدّث قمّی ۵۳

۱۵ ۔ شیخ محمد باقر فقیہ ایمان ۵۳

۱۶ ۔ سید محسن امین ۵۴

امام زمانہ کی دعائے ندبہ کی مجالس پر خاص عنایات ۵۵

دوسری فصل ۶۴

اعتراضات اور اُس کے جوابات ۶۴

۱ ۔ کیا دعائے ندبہ معراج جسمانی سے تضاد رکھتی ہے؟ ۶۴

۲ ۔ کیا دعائے ندبہ فرقہ کیسانیہ کے عقیدوں کو بیان کر رہی ہے ؟ ۸۴

کیسانیہ فرقہ کا تاریخچہ ۸۴

۱ ۔”کوہ رضویٰ“ ۱۰۰

۲ ۔ ”ذی طُویٰ“ ۱۰۴

۳ ۔ کیا دعائے ندبہ نشہ آور حالت کی حامل ہے؟ ۱۱۹

۴ ۔ کیا دعائے ندبہ بدعت ہے؟ ۱۲۲

۵ ۔ کیا دعائے ندبہ عقل کے منافی ہے؟ ۱۲۴

۶ ۔ کیا دعائے ندبہ بارہ ائمہ کی امامت کے عقیدے سے ناسازگار ہے؟ ۱۳۱

۷ ۔ کیا دعائے ندبہ کا معصوم سے صادر ہونا معقول ہے؟ ۱۳۲

۸ ۔ کیا دعائے ندبہ کے فقرات قرآن کے مخالف ہیں؟ ۱۳۴

آیات قرآنی کے برخلاف ہے ! ۱۴۳


”قربیٰ آل محمد“ ۱۶۳

۹ ۔ کیا دعائے ندبہ کے مضامین شرک آمیز ہیں؟ ۱۶۴

۱۰ ۔ کیا مہدیّہ (نامی مقامات) کی تعمیر کرانا بدعت ہے ؟ ۱۶۹

تیسری فصل ۱۷۳

دعائے ندبہ کے متعلق چند نکات ۱۷۳

پہلا نکتہ : ۱۷۳

دعائے ندبہ کے بعض نکات سے چند عظیم شیعہ فقہا کا استناد کرنا ۔ ۱۷۳

دوسرا نکتہ : ۱۷۵

تیسرا نکتہ : ۱۷۸

اعتراض کرنے والا کون ہے ؟ ۱۷۸

چوتھا نکتہ : ۱۷۹

کیا دعائے ندبہ ناحیہ مقدسہ (امام زمانہ ) کی طرف سے صادر ہوئی ہے؟ ۱۷۹

پانچواں نکتہ: ۱۸۰

چھٹا نکتہ : ۱۸۱

کیوں دعائے ندبہ چار عظیم عیدوں میں پڑھی جاتی ہے؟ ۱۸۱

چوتھی فصل ۱۸۴

دعائے ندبہ مع ترجمہ ۱۸۴

دعائے ندبہ ۱۸۵

پانچویں فصل ۲۰۱

کتاب نامہ دعائے ندبہ ۲۰۱


آخری سخن ۲۱۳

منابع و مآخذ ۲۱۴