فلسفہ نماز شب
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف محمد باقرمقدسی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


فلسفہ نماز شب

تالیف محمد باقر مقدسی


مقدمہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد للّٰه رب العالمین والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین وآله الطاهرین ولعنة الله علیٰ اعدائهم اجمعین

اس دنیا امکان کا بہ نظر عائر مطالعہ کیا جائے تو اس کی ہر چیز چاہئیے عرض ہو یا جو ہر حضرت حق کے فضل وکرم کا محتاج نظر آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سویٰ کسی چیز کے و جود میں استقلال قابل تصور نہیں ہے لہٰذا ذات باری کے علاوہ تمام موجودات فقر ذاتی کا مجموعہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے حالات لحظہ بہ لحظہ غیر کی طرف محتاج اور زمان ومکان کے حوالے سے قابل تغیر ہے کہ جس کو سمجھے نے کے خاطر تدبر وتفکر کا حکم ہوا اور آیات وروایات میں تدبر کی بیحد تاکید کے ساتھ فرمایا فکر الساعتہ عبادہ تاکہ قانون فلسفی اور موجودات کے آپس میں نظر آنے والا تناقص اور تنافی دور، اور خلقت کے حقیقی ہدف کو( جو ترقی وتکامل ہے) درک کرسکے۔

اور تکامل وترقی کے اسباب میں سے اہم ترین ایک سبب مستحبات کی پائبندی بالخصوص نماز شب کی عادت ہے کہ جس کی اہمیت قرآن وسنت کی روشنی میں انشاء اللہ عنقریب ذکر کیا جائیگا۔

لیکن کاش کہ آج کل زمانہ کچھ ایسا ہوچکا ہے کہ ہم نماز شب جیسی عبادت کو انجام دینے سے محروم ہیں جبکہ قدیم زمانے میں علماء بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں مذہب پر اتنے خوف وہراس اور ہر قسم کی سختی اور دیگر وسائل کی کمی کے باوجود تہجد کے ذریعے مذہب اور قرآن کی حفاظت کرتے رہے لیکن آج کل علماء کی اتنی کثرت اور سہولیات کی فراوانی اور گذشتہ دور کی مانند خوف وہراس اور کسی کی طرف سے کوئی پابندی نہ ہونے کے باوجود تبلیغات میں استحکام نظر نہیں آتا۔


لہٰذا علما ء ر وحی طبیب ہونے کی حیثیت سے لوگ روز بہ روز علماء اور مذہب سے نزدیک ہونے کے بجائے دور ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ دور حاظر فہم وشعور اور علم وادراک کے حوالے سے کامل اور سہولیات کے اعتبار سے بنی امیہ اور بنی عباس کے دور سے مقائیسہ کرنا ہی غلط ہے پس اگر دین کا استحکام ،مذہب کی ترویج ،کلام میں جاذبیت ،کاموں میں اثر،علم میں برکت اور خدا کی رضایت کے خواہاں ہو تو مستحبات پر عمل کر کے اپنے آپ کو تہجد گزار بنائے تاکہ انتشار اور آپس میں جدائی ،مذہب کی نابودی ،تبلیغ کی ناکامی ،معاشرے میں بدنامی جیسی مشکلات کا سدباب کرسکےں۔

کیونکہ اس قسم کے تمام اخلاقی مشکلات کا سدباب اور راہ حل نماز شب ہے لہٰذا اگر کوئی شخص پابندی کےساتھ نماز شب انجام دے تو علم میں شہید صدر سیاست میں خمینی کی مانند بن سکتا ہے کہ خمینی نے بوڑھاپے میں ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کی طاقتوں کو خاک میں ملادیا جب کہ دینوی سپرپاور حکومتیں اور سیاست دان ایسا انقلاب اور کامیابی کو ناممکن سمجھتے تھے لیکن یہ حقیقت میں ان کے خام خیالی اور مادی فکر کا نتیجہ تھا کیونکہ خدا نے ہر انسان کو دوطاقتیں عنایت کی ہے مادی اور معنوی اگر کسی کی معنوی طاقت قوی ہو تو کبھی کوئی مادی طاقت اس پر غلبہ اور دیگر ذرائع اسے ناکام نہیں بنا سکتے لہٰذا اگر خمینی ؒجیسے عمر رسیدہ ہستی کے ہاتھوں دنیا کے کسی خطےّ میں اسلام کی حاکمیت اور انقلاب کی آبیاری ہو تو تعجب نہ کیجئے کیونکہ کوئی بھی عالم دین اپنے معنویات کو مستحکم کرنے کی کوشش کریگا تو اتنی معنوی طاقت خداوند عطاکرتا ہے کہ اس کا کوئی بھی مادی طاقت اور دیگر ذرائع مقابلہ نہیں کرسکتے اسی لئے قدیم زمانے میں مدارس دینیہ اور مراکز علمیہ میں علماء اور طلباء پرابتدائی مرحلے میں ہی نمازشب کو انجام دینے کی پابندی عائد کرتے تھے کیونکہ علماء اور طلباء اسلام کے حقیقی محافظ ہیں اور اسلام کی حفاظت معنوی استحکام بغیر ناممکن ہے ۔


لہٰذا اس عظیم عبادت کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اس مختصر کتاب میں نماز شب سے متعلق آیات کریمہ اور روایات مبارکہ کی جمع آوری کے ساتھ ان کی وضاحت کی گئی ہے اگر چہ سند کے حوالے سے روایات میں خدشہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس مو ضوع سے مربوط بہت سی روایات سند کے حوالے سے ضعیف ہے لیکن اس کا مضمون اور دلالت امام کے کلام ہونے پر قرینہ ہے لہٰذا سند کی تحقیق سے قطع نظر صرف دلالت کی وضاحت کی گئی ہے تاکہ مؤمنین نماز شب کی حقیقت سے آگاہ اور اس کے فوائد سے بہرہ مندہوں نیز نماز شب کی کیفیت کی طرف بھی اشارہ کے ساتھ نماز شب سے مربوط پیغمبر اکرم ؐاور ائمہ علہیم السلام سے منقول دعاؤں کو ترجمہ کے ساتھ بیان کیا ہے تاکہ خوش نصیب اور نماز شب کے عادی لوگوں کو نماز شب کی حقیقت اور بندگی کا ذریعہ ہونے پر مذید یقین اور یہ نورانی کلمات معنوی درجات کی بلندی کا وسیلہ بنے کیونکہ نماز شب شریعت اسلام میں پورے مستحباب کا نچوڑاور خلاصہ ہے لہٰذا گنہگار بندہ اپنے مولا ومالک حقیقی کی بارگاہ میںنماز شب پڑھنے کی تو فیق رات کی تاریکی میں رازونیاز کرنے میں کامیابی اور نماز شب کے فوائد سے دنیاوآخرت میں مالا مال ہونے کا خواہاں ہے ساتھ ہی امام عصر کے ظہور میں تعجیل اور اس نا چیز زحمت پر تائید کا طالب ہوں۔ (آمین)

والسلام۔

باقر مقدسی

١٥ /جمادی الثانی١٤٠٢٢ق ھ

حوزہ علمیہ قم مقدس


پہلی فصل:

نماز شب کی اہمیت

دنیا میں ہرانسان مفکر ہو یا غیر مفکر دانشمند ہو یا غیر دانشمندمحقق ہو یا غیر محقق جب کسی قضیہ اور مسئلہ کی اہمیت اور فضیلت کو ثابت کرنا چاہتا ہیں تو ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس کو برہان اور دلیل کے ساتھ بیان کریں تاکہ لوگ اس کی فضیلت اور اہمیت کے قائل ہوجائیں لیکن ہر قضیہ کی اہمیت استدلال اور برہان کے حوالے سے مختلف ہے چونکہ اگر کوئی مسئلہ عقلی ہو یا حکمت اور منطق سے مربوط ہو تو اس کی اہمیت اور فضیلت کو بھی منطقی اور فلسفی دلائل کے ذریع ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

پس عقلی اور منطقی مسئلہ کی اہمیت کو تاریخ کے شواہد اور دلیل نقلی سے ثابت کرنا اس کی اہمیت اور فضیلت شمار نہیں ہوتی لہٰذاہر قضے کو اس کی مخصوص روش اور نہج پر ثابت کرنا فصاحت وبلاغت کی چاہت اور محققین و دانشمنددوں کی سیرت ہے اگرچہ اس قضیے سے مربوط علم کے مبانی اور اصول میں لوگوں کے آراء میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ایسا اختلاف اس قضیہ کے ثبوت اور حقیقت کے اثبات میں کوئی اثر نہیں رکھتا ہے اسی طرح اگر کوئی مسئلہ اخلاقی مسئلہ ہوچاہیے عملی اخلاق سے مربوط ہویا نظری علماء اخلاق نے اس قیضہ کی اہمیت اور فضیلت کو علم اخلاق کے فارمولوں کی روشنی میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا علم اخلاق سے مربوط مسائل کی اہمیت اور فضیلت کوعقلی اور فلسفی اصول و ضوابط سے ثابت کرناآیندہ آنے والی نسلوں کے لئے توہم اور اشکالات کا باعث ہوگا۔

تب ہی تو زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اعتراضات اورتصورات بھی زیادہ ہوجاتے ہیں اسی طرح اگر کوئی مسئلہ تاریخی ہوتو اس کی اہمیت اور فضیلت کو تاریخ کے شواہد وضوابط کی روشنی میں بھی ثابت کرنا چاہئے نہ عقل اور منطق کے روشنی میں یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں واقعہ کربلا جیسی عظیم انسان ساز قربانی پر مادی ذہانت رکھنے والے افراد کی جانب سے ہونے والے بہت سی اعتراضات کا سبب تاریخی مسائل کو عقلی اورفلسفی دلائل سے مقائیسہ کرنے کا نتیجہ ہے نیز اگر کوئی مسئلہ فقہی ہو یعنی احکام الٰہی سے مربوط ہو تو اس کی اہمیت اور فضیلت کو کتاب وسنت کی روشنی میں ثابت کرنا چاہیے لہٰذا ہر مسئلہ کی اہمیت اور فضیلت پر دلالت کرنے والے استدلال اور براہین کی نوعیت کا مختلف ہونا طبعی ہے۔


اگر چہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ روز مرہ زندگی سے مربوط تمام مسائل کی اہمیت اور فضیلت کے اثبات کا سر چشمہ کتاب وسنت ہے چاہئے عقلی مسئلہ ہو یا فلسفی تاریخی ہو یا فقہی اخلاقی ہو یا ادبی اس لئے نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کو تین چیزوں کی روشنی میں بیان کیا گیاہے :

١۔ کتاب کی روشنی میں ۔

٢۔ سنت کی روشنی میں۔

٣)اہل بیت علیہم السلام اور مجتہدین کی سیرت کی روشنی میں۔

الف ۔کتاب کی روشنی

نماز شب کی اہمیت بیان کر نے والی آیات دوقسم کی ہیں کہ

(١) وہ آیات جو نمازشب کی اہمیت اور فضیلت کو صریحاََبیان کرتی ہیں

(٢) وہ آیات ہیں جو نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کو ظاہرابیان کرتی ہیں وہ آیات جو صریحاََ نماز شب کی اہمیت کوبیان کرتی ہیںوہ متعدد آیات ہیں ۔

پہلی آیت:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَکَ عَسَی أَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُودًا ) (١)

اور رات کے کچھ حصے میں تہجد(یعنی نماز شب ) پڑھا کر کہ امید ہے تمہارے پروردگار روز قیامت تجھے مقام محمود تک پونہچادے ۔

تفسیر آیہ :

آیہ شریفہ کی تفسیر کے بارے میں مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ خطاب

____________________

(١) سورہ بنی اسرائیل آیت ٧٩


پیغمبر اکرم )ص( کے ساتھ مخصوص ہے لہٰذا نماز شب پیغمبر اکرم )ص( پر واحب تھی جبکہ باقی انسانوں پر مستحب ہے جیسا کہ اس مطلب کی طرف حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ جس سے شیخ طوسی علیہ رحمہ نے سند معتبر کے ساتھ عمار ساباطی سے نقل کیا ہے :

'' عن عمارساباطی قال کناجلوسا عند ابی عبد الله بمنی فقال له رجل ماتقول فی النوافل فقال فریضة قال ففزعنا وفزع الرجل فقال ابوعبد الله علیه السلام انما اعنی صلوةالیل علی رسول الله صلی الله علیه واله ان الله یقول ومن الیل فتهجد به نافلة لک ''(١)

عمار ساباطی نے کہا کہ ہم منی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدامت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں کسی نے آپ سے نافلہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نافلہ واجب ہے (جب امام نے یوں بیان فرمایا) تو وہ شخص اور ہم سب پریشان ہوئے اسوقت آپ نے فرمایا میرامقصد یہ ہے کہ نماز شب پیغمبر اکرم )ص( پر واجب ہے کیونکہ خدا نے فرمایا : اے رسول تو،رات کے خاص حصے میں نماز شب انجام دے۔

____________________

(١)تہذیب ج٣ ص ٢٤٢


لہٰذا جب آیہ کریمہ کو روایت مبارکہ کے ساتھ رکھا جاتا ہے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے:

١) نماز شب پیغمبر اکرم )ص( پر واجب تھی۔

٢) نماز شب انسان سازی کابہترین ذریعہ ہے۔

٣) نماز شب مقام محمود پر پہچنے کا وسیلہ ہے ۔

لیکن مقام محمود کیا ہے یہ اپنی جگہ خود تفصیلی گفتگو ہے ۔

دوسری آیہ شریفہ:

( وَالْمُسْتَغْفِرِینَ بِالْأَسْحَار ) (١)

اور سحروں کے وقت گناہوں سے مغفرت مانگنے والے حضرات کہ اس آیہ کریمہ کی تفسیر اس طرح ہوئی ہے کہ'' والمستغفرین باالاسحار ''سے وترکے قنوت میں استغفراللہ کا ذکر تکرار کرنے والے حضرات مقصود ہیں ۔

چنانچہ ابوبصیرنے روایت موثقہ کواس طرح ذکر کیا ہے:

عن ابی بصیر قال قلت له المسغفرین باالاسحار فقال استغفررسول الله صلی الله علیه والیه فی وتره سیعین مرة (٢)

یعنی ابی بصیر نے کہا کہ میں نے امام سے پوچھا کہ''والمستغفرین

____________________

(١)آل عمران آیت ١٧

(٢)وسائل الشیعہ ج٤ باب ١٠ /ابواب قنوت


باالاسحار' ' سے کون مراد ہیں تو آپ نے فرمایا اس سے مراد حضرت پیغمبر اکرم )ص( ہیں کہ آپ نماز وترکے (قنوت میں ) ستر دفعہ استغفراللہ کا ذکر تکرار کرتے تھے ۔

مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں یوں تفسیر کی ہے:

'' المستغفرین باالاسحار ای المصلین وقت السحر'' (١)

یعنی المستغفرین باالاسحار سے مراد وہ حضرات ہیں جو سحر کے وقت نماز گذار ہیں کہ اس تفسیر کی تائید دوسری کچھ روایات بھی کرتی ہیں لہٰذا یہ ایہ شریفہ نماز شب کی ا ہمیت اور فضیلت پر واضح دلیل ہے ۔

تیسری آیہ شریفہ :

( تَتَجَافَی جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنفِقُون ) (٢)

رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے آشنا نہیں ہوئے اور عذاب کے خوف اور رحمت کی امید پر اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ انہیں عطاکیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں

____________________

(١)مجع البیان ج٢ ص٧١٣.

(٢)سورۃالم سجدۃ آیت ١٦


آیہ شریفہ کی وضاحت:

اس آیہ شریفہ کی تفسیر کے بارے میں معصوم سے چار روایات نقل ہوئی ہیں کہ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ'' تتجافا'' کا مصداق وہ حضرات ہیں جو خدا کی یادمیں رات کے وقت بستر کی گرمی اورنرمی سے اپنے آپ کو محروم کرکے نماز شب کے لئے کھڑے ہوجاتے اور پروردگار سے رازونیاز کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

چنانچہ اس مطلب کو سلمان بن خالد نے امام محمد باقرعلیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے :

''قال الا اخبرک باالا سلام اصله وفرعه وذروةسنامه قلت بلی جعلت فداک قال:امّااصله فالصلاةوفرعه الزکاة وذروة سنا مه الجهاد ثم قال ان شئت أخبرتک باأبواب الخبر ؟قلت نعم جعلت فداک :قال الصوم جنة من النار والصدقة تذهب بالخطئیة وقیام الرجل فی جوف اللیل بذکرالله ثم فرأعلیه السلام تنجافی جنوبهم عن المضاجع'' (١)

سلیمان بن خالد امام سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام نے فرمایا اے ابن خالد کیا میں تجھے اسلام کی حقیقت سے باخبر نہ کروں ؟کہ جس کی جڑتنا

____________________

(١) اصول کافی باب دعائم السلام حدیث ١٠ ج ٢


اور شاخیں ہوں تو سلیمان بن خالد نے عرض کیا میں آپ پر فدا ہوجاؤں کیوں نہیں اسوقت آپ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد اور جڑنماز اس کا تنا ،زکات اور اس کی شاخیںجہادہے پھر دوبارہ آپ نے فرمایا اگر تم راضی ہوتو میں تمام نیکوں کے دروازوں کا بھی تعارف کراؤں۔

تو سلیمان بن خالد نے عرض کیا آپ پر فدا ہوجاؤں تو آپ نے فرمایا روزہ انسان کو جہنم کی اگ سے نجات دیتا ہے صدقہ انسان کے گناہ کو مٹادیتا ہے اور اگر کوئی شخص رات کی تاریکی میں خدا سے رازونیاز کی خاطر بیدار ہوتو یہ خیر اور نجات کا وسیلہ ہے اور آپ نے اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی:

( تَتَجَافَی جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ )

یعنی رات کی تاریکی میں بیدار ہونے والے اس آیہ شریفہ کا مصداق ہے۔

اس روایت میں امام علیہ السلام نے اسلام کو ایک درخت سے تشبہہ دی ہے لہٰذا قرآن کریم میں بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اسلام شجرطیبہ کانام ہے کہ اس کی جڑ نماز یعنی نماز کے بغیر کوئی بھی عبادت اور نیکی قابل نہیں ہے اوراس کا تنازکوٰۃ اور اس کی شاخیں جہاد ہے اور تمام نیکوں کا دروازہ روزہ اور نماز شب ہے ۔


نیز مرحوم صدوق نے اپنی گرانبہا کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں مرسلہ کے طور پر اور دوسری کتاب( علل الشرائع) میں مسند کی شکل میں نقل کیا ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا :''فقال تتجافی جنوبهم عن المضاجع نزلت فی امیرالمؤمنین علیه السلام واتباعیه من شیعتنا ینامون فی اول اللیل فاذاذهب ثلثا الیل اوماشاالله فزعواالی ربهم راغبین راهبین طامعین فماعنده فذکرهم الله فی کتابه لنبیه (ص)وآخرهم بما اعطاهم وانه اسکنهم فی جواره وادخلهم جنةوامن خوفهم وامن روعتهم'' (١)

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے آیت تتجافی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ یہ آیت حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ہمارے ان پیروکاروں کے بارے میں نازل ہوئی جو رات کے آغاز میں سوجاتے ہیں لیکن رات کے دوحصے گذرنے کے بعد یا جب خدا چاہئے تو پروردگار کی بارگاہ مین خوف و رجاء اور شوق و رغبت کے ساتھ حاضر ہو جاتے اور اللہ سے اپنی آرزؤں کی تمنا کرتے ہیں اللہ تعالی نے اسی ایت کے ذریعہ پیغمبر کو خبردی اور ان لوگوں کو دئے جانے والے درجات اور ان کو پیغمبر اکرم )ص(کے جوارمیں جگہ عطاء فرمانے اور ان کو جنت میں داخل کرکے قیامت کے خوف وہراس سے نجات دینے کے وعدہ سے مطلع فرمایا ۔

____________________

(١) من لایحضرہ الفقیۃ ج١.


چھوتھی آیہ شریفہ :

( أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّیْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا یَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَیَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ) (١)

کیا وہ شخص جورات کے اوقات میں سجدہ کرکے اور کھڑے کھڑا خدا کی عبادت کرتا ہو اور آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہو۔

ناشکر کافرکے برابر ہوسکتا ہے (ہرگز ایسا نہیں ہے )۔

توضیح :

اس آیت کریمہ کی تفسیر کے بارے میں جناب زرارہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے :

فقلت (له)آنٰا اللیل ساجدا أو قائما سے مراد کیا ہے ؟

قال صلوةاللیل (٢)

یعنی زرارہ نے کہا کہ میں امام سے اس آیت کریمہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:

''آنٰا اللیل ساجدا أو قائما'' سے مراد نماز شب ہے لہٰذا اس تفسیر کی

بناء پر آیت شریفہ نماز شب کی فضیلت اور اہمیت بیان کرنے والی آیات میں سے شمارہوتی ہے ۔

پانچویں آیہ شریفہ:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ ) (٣)

____________________

(١)زمرآیت نمر٩

(٢)وسائل الشیعہ ج٣.

(٣)طو ر آیت نمبر٤٩.


اور رات کے خاص وقت میں خدا کی تسبح کرکہ جس وقت ستارے غروب ہونے کے قریب ہوجاتے ہیں۔

تفسیر مجمع البیان میں جناب طبرسی اس آیہ شریفہ کی تفسیر میں یوں بیان فرماتے ہیں:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ ) ۔

سے مراد نماز شب ہے کیونکہ جناب زرارہ اورحمران اور محمد بن مسلم نے امام باقر اور امام جعفرصادق علیہما السلام سے اس آیہ کریمہ کے بارے میں روایت کی ہے :

قالا (ان) رسول الله کان یقوم من اللیل ثلاث مراة ینظر فی افاق السماء ویقرا الخمس من ال عمران آخرها انک لاتخلف المیعاد ثم یفتح صلوة الللیل (١)

____________________

(١)مجمع البیان ج٩.


اما م محمد باقر اور امام جعفرصادق علیہالسلام دونوں نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم )ص( رات کو تین دفعہ جاگتے اورآسمان کے افق کی طرف نظر کرتے اور سورہ آل عمران کی ان پانچ آیات کی تلاوت فرماتے تھے کہ جن میں سے آخری آیہ (انک لاتخلف المیعاد) پر ختم ہوتی ہے پھر نمازشب شروع کرتے تھے ۔

نیز آیت مذکورہ کی تفسیر میں دوسری روایت یہ ہے کہ زرارہ امام باقرعلیہ السلام سے یوں نقل کرتے ہیں:

''قال قلت له وادبارالنجوم قال رکعتان قبل الصبح ''

یعنی زرارہ نے کہا کہ میں نے اما م باقر علیہ السلام سے وادبار النجوم کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد صبح سے پہلے پڑھی جانے والی دو رکعت نماز ہے لہٰذا ان دوروایتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلی روایت کی بناپر آیہ شریفہ نماز شب کی اہمیت اور فضیلت بیان کرتی ہے جبکہ دوسری روایت اورکچھ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیہ شریفہ سے مراد نماز شب نہیں ہے بلکہ نماز صبح سے پہلے پڑھی جانے والی دورکعت نافلہ مقصود ہے۔

چھٹی آیت:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ ) (١)

(اے رسول )اور تھوڑی دیر رات کو بھی اورنماز کے بعد بھی اس کی تسبیح کیا کرو۔

____________________

(١)سورہ ق آیت ٤٠.


تفسیر آیہ:

اس آیہ شریفہ کی تفسیر اور توضیح کے بارے میں دو قسم کی روایات پائی جاتی ہیں :

وہ روایات جو دلالت کرتی ہے کہ اس آیہ شریفہ سے مراد نماز شب ہے چنانچہ اس مطلب کو مرحوم صاحب مجمع البیان نے یوں ذکر کیا ہے کہ اس آیہ کریمہ سے مراد نمازوتر جورات کے آخری وقت نماز شب کے بعد صبح سے پہلے پڑھی جاتی ہے اور اسی کی تائید میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے ایک روایت بھی ذکر کیا ہے لیکن کچھ دوسری روایت اس طرح کی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیہ شریفہ سے مراد نماز وتر نہیں ہے بلکہ'' لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ.لہ الملک ولہ الحمد وہوعلی کل شئی قدیر ''مراد ہے لہٰذا پہلی تفسیر اور روایت کی بناپر یہ آیہ کریمہ بھی نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کیلے دلیل بن سکتی ہے لیکن دوسری تفسیر کی بناپر یہ آیت نماز شب سے مربوط نہیں۔

ساتویں آیہ شریفہ:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیلاً ) (١)

یعنی اور کچھ رات گئے اس کا سجدہ کرو اور بڑی رات تک اس کی تسبیح کرتے رہو۔

____________________

(١)سورہ دہرآیت ٢٦.


اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں مرحوم طبر سی نے مجمع البیان میں یوں بیان فرمایا ہے کہ آیہ شریفہ کے بارے میں امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے:

''انه سئل احمد بن محمد عن هٰذه الایةقال وماذلک التسبیح؟ قال صلوة اللیل''

یعنی احمد بن محمد نے امام رضا علیہ السلام سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ میں کلمہ تسبیح سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا اس سے مراد نماز شب ہے ۔

آٹھویں آیہ شریفہ:

( إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّیْلِ هِیَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِیلاً ) (١)

بیشک رات کا اٹھنا نفس کی پائمالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر کا بہترین وقت ہے۔

مشائخ ثلاثہ یعنی مرحوم کلینی صدوق اور شیخ طوسی رحمتہ اللہ علیہم معتبر سند کے ساتھ ہشام بن سالم سے وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے :

فی قول الله عزوجل ان ناشئة الیل هی اشد وطا واقوم قیلا یعنی بقوله واقوم قیلا قیام الرجل عن نراشه یریدبه الله عز

____________________

(۱) سورہ مزمل آیت ٦


وجل ولایرید به غیره (١)

جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیہ مذکورہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

''اقوم قیلا''

سے مراد وہ شخص ہے کہ جو رات کے وقت نیند اور بستر کے لطف اندوز لذتوں کو چھوڑکر صرف خدا کی بارگاہ میں کھڑاہوجاتاہے نیز صاحب مجمع البیان نے فرمایا:

''ان ناشة اللیل معناه ان ساعات اللیل لانها تنشاء ساعة بعد ساعة وتقدیره ان ساعات اللیل الناشیئة یعنی نایشة اللیل'' سے مراد رات کے اوقات ہیں کیونکہ رات کے اوقات لحظ بہ لحظ آتے اور گذار جاتے ہیں لہٰذا آیہ شریفہ کی حقیقت یوں ہے کہ'' ساعات اللیل النا شئة'' یعنی رات کے لحظ بہ لحظ آنے اور گذرنے والے اوقات مقصود ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر سے مروی ہے :

''انهما قالا هی القیام فی آخر اللیل الی صلوة اللیل هی اشد وطاای اکثر ثقلا وابلغ شفة لان اللیل وقت الراحة والعمل یشق فیه ۔''(٢)

____________________

(١) وسائل الشیعہ ج ٥.

(٢) مجمع البیان


امام جعفر صادق اور امام محمد باقر علیہما السلام نے فرمایا کہ اس آیت سے رات کے آخری وقت میں نماز شب کے لئے جاگنا مراد ہے اور'' اشد وطاً''کا مقصد حد سے بڑھ کر سنگین اور دشواری کا سامنا ہونا ہے کیونکہ رات معمولا لوگوں کے آرام کرنے کا وقت ہے لہٰذا اس وقت کسی اور کام کو انجام دینا دشوار اورمشکل ہوجاتا ہے اسی لے خدا نے اس وقت کے خواب کو چھوڑکر نماز شب میں مصروف ہونے والے حضرات کا تذکرہ اس آیہ شریفہ میں کیا ہے ۔

اسی طرح انس ومجاہد اور ابن زید سے روایت کی گئی ہے کہ جس میں امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس آیہ شریفہ سے مرادیہ ہے:

''قیام الرجل عن براشه لایرید به الا الله تعالی ''(١)

یعنی رات کے وقت بستر کی لذت کو چھوڑکر صرف خدا کی رضایت کے لئے جاگنا مقصود ہے :

نویں آیہ شریفہ :

( وَجَعَلْنَا فِی قُلُوبِ الَّذِینَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِیَّةً ابْتَدَعُوهَامَا کَتَبْنَاهَا عَلَیْهِمْ إِلاَّ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اﷲِ ) (٢)

____________________

(١)مجمع البیان

(٢) حدید آیت ٢٧


اور جن لوگوں نے انکے پیروی کی ہے ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور مہربانی ڈال دے اور رھبا نیت (یعنی لذت سے کنارہ کشی کرنا) ان لوگوں نے خود ایک نئی بات نکال تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (ان لوگوں نے ) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے خود ایجاد کیا ہے۔

تفسیر آیہ کریمہ :

بہت سے مفسرین نے اس آیہ شریفہ کی تفسیریوں بیان کئے ہیں رہبانیت سے مراد نماز شب ہے کہ اس کی تائید روایت بھی کرتی ہے کہ جس کو کلینیؓ نے اصول کافی میں صدوق ؓنے علل الشرائع ،من لایحضرہ الفقیہ اور عیون الا خبار میں اور جناب مرحوم شیخ طوسی نے تہذیب میں معتبر سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ محمد بن علی نے امام حسن علیہ السلام سے نقل کیا کہ جس میں آنحضرت سے اس آیہ شریفہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا رہبانیت سے مراد نماز شب ہے لہِذا اس تفسیر کی بناپر آیت نماز شب کی اہمیت اور فضیلت پر دلالت کرنے کے لئے بہترین دلیل ہے۔


دسویں آیہ کریمہ :

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ

( لَیْسُوا سَوَائً مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ یَتْلُونَ آیَاتِ اﷲِ آنَاءَ اللَّیْلِ وَهُمْ یَسْجُدُونَ ) (١)

اور یہ لوگ بھی سب کے سب یکسان نہیں ہیں بلکہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ خدا کے دین پر اس طرح ثابت قدم ہیں کہ راتوں کو خدا کی آیتیں پڑھا کرتے ہیں اور برابر سجدے کیا کرتے ہیں

تفسیر آیت :

اگر چہ مفسرین نے اس آیہ شریفہ کے شان نزول کے بارے میں عبداللہ بن سلام وغیرہ کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن یہ صرف انہیں کے ساتھ مخصوص ہونے کا سبب نہیں بنتا لہٰذا یہ آیہ شریفہ بھی ظاہر اََ نماز شب کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔

چنانچہ اسی مطلب پر مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں یوں اشارہ کیا ہے :

''وفی هذه الایة دلالة علی عظم مو ضع صلوة اللیل من الله تعالی ۔''

یعنی حقیقت میں یہ آیہ شریفہ اللہ کے نزدیک نماز شب کی عظمت زیاد ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔

اور اسی تفسیر پر ایک روایت بھی دلالت کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم )ص(سے منقول ہے کہ ''انه قال رکعتان یر کعهما العبد فی جوف اللیل

____________________

(١)ا ل عمران آیت ١١٣.


الآخرخیر له من الدنیا وما فیهما ولولا ان اشق علی امتی لفرضهما علیها .''

اپنے فرمایا اس سے مراد وہ دورکعت نماز ہے جو خدا کا بندہ رات کے آخری وقت میں انجام دیتاہے کہ ۔

یہ دو٢ رکعت نماز پڑھنا پوری کائنات سے افضل ہے اور اگر میری امت کے لئے مشقت کا باعث نہ ہوتی تو میں اپنی امت پر ان دورکعتوں کو واجب قرار دیتا۔

گیارہویں آیت :

( وَالَّذِینَ یَبِیتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِیَامًا ) .)(١)

اور جو لوگ راتوں کو اس طرح گذارتے ہیں کہ خدا کی بارہ میں کبھی سر بسجود رہتے ہیں اور کبھی حالت قیام میں رہتے ہیں۔

اس آیہ شریفہ کے آغاز میں وعبادالرحمن :کا جملہ ہے کہ زیل میں سجداََ وقیاماکی تعبیر آئی ہے کہ اس تعبیر کے بارے میں ابن عباس نے فرمایا کہ اس جملے سے مراد :

''کل من کان صلی فی اللیل رکعتین اواکثر فهومن هولائ''

____________________

(١) فرقان آیت ٦٤


یعنی کوئی بھی شخص رات کو دو٢ رکعت یا اس سے زیادہ نمار انجام دیے وہ عباد الرحمن اور سجداََ وقیاماََ کے مصداق ہے۔

لہٰذا اس تفسیر کو آیہ کریمہ کے ساتھ ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نماز شب کی طرف خداوند کریم تاکیدکے ساتھ دعوت دے رہاہے اور نماز شب کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔

خلاصہئ کلام چنانچہ اب تک نماز شب سے متعلق گیارہ آیات کو تفسیر کے ساتھ ذکر کیا گیا جو تین قسموں میں تقسیم ہوجاتی ہے پہلی قسم وہ آیات تھی جو نماز شب کی فضیلت اوراہمیت کو صریحاََ بیان کرتی ہے دوسری قسم وہ آیات اس طرح کی تھی جو تمام نمازوں کی عظمت وفضیلت پر دلالت کرتی تھی کہ جس میں نماز شب بھی شامل ہے تیسری قسم وہ آیات جو ظاہری طور پر نماز شب کی اہمیت اور فضیلت بیان کرتی تھی ۔

مذکورہ آیات کے علاوہ اور بھی آیات ہیں لیکن اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے پر اکتفاء کرتے ہیں، لہٰذا قرآن کی روشنی میں نماز شب ایک ایسی حقیقت ہے جو پورے انبیا ء علیہم السلام اور اوصیاء کی سیرت ہونے کے باوجود ہرمشکل اور دشواری کا حل اور لاعلاج افراد کے لئے علاج اور نجات کاذریعہ ہے اور اس سے غفلت اور گوتا ہی کرنا بدبختی کی علامت ہے۔


ب. سنت کی روشنی میں

قرآن کی روشنی میں نماز شب کی فضیلت واہمیت کو اختصار کے ساتھ بیان کرنے کے بعد اب نماز شب کی فضیلت کو سنت کی روشنی میں ثابت کریں گے تاکہ خوش نصیب مؤمنین کے لئے نورانیت قلب توفیقات میں اضافہ کا موجب بنے کیونکہ معصومین علیہم السلام کے ہرقول و فعل میں نورانیت الہیہ کے سوا کچھ نہیں ہے لہٰذا کائنات میں انسان اگر ہرعمل اور حرکت کا ملاک ومعیار سنت معصومین علیہم السلام قرار دے تو ہمیشہ کامیابی ہے اگر چہ خواہشات اور آرزو انسان کو اجازت نہیں دیتی لہٰذا ہزاروں کوشش اور زحمتوں کے باوجود بہت کم ایسے انسان ہیں جوسعادت دنیا اور آخرت دونوں سے مندہوں۔

نماز شب کی اہمیت اور فضیلت پر دلالت کرنے والی روایات بہت زیادہ ہیں جن میں سے کچھ روایات کو اختصار کو مدنظر رکھ کر پیش کیا جاتا ہے یہ روایات دو٢ قسم کی ہیں پہلی قسم کچھ روایات اس طرح کی ہے جو صریحاََنماز شب کی فضیلت اور اہمیت کو بیان کرتی ہیںدوسری قسم کچھ راوایات ظاہرانماز شب کی عظمت اور اس کے فوائد کو بیان کرتی ہیں لہٰذا روایات کو شروع کرنے سے پہلے ایک مقدمہ ضروری ہے کہ جو آنے والے مطالب کے لئے مفید ہے وہ مقدمہ یہ ہے جب علماء و مجتہدین کسی مطلب کو ثابت کرنے کے لئے روایات کو پیش کرتے ہیں تو اس کو ماننے کے لئے تین نکات کو ذہن میں رکھنا لازم ہے ایک سند روایات دو جہت روایات تین دلالت روایات کہ ان نکات کی تفسیر اور وضاحت علم اصول اور علم رجال کی کتابوں میں تفیصلا کیا گیا ہے تفصیلی معلومات کی خاطران کی طرف رجوع بہتر ہے۔

لہٰذا ہم سب سے پہلے ان روایات کی طرف اشارہ کریں گے جو صریحا َنماز شب کی عظمت اور اہمیت کو بیان کرتی ہیں ان کی تعداد بھی زیادہ ہے


پہلی روایت:

'' قال رسوالله (ص) فی وصیة بعلی علیه السلام علیک بصلاة اللیل یکررها اربعاً''

آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے وصیت میں فرمایا اے علی میں تجھے نماز شب انجام دینے کی وصیت کرتا ہوں کہ اسی جملے کو آنحضرت نے چار مرتبہ تکرار فرمایا۔

اس روایت کو جناب صاحب الوافی نے یوں نقل کیا ہے :

''معاویه بن عمارقال سمعت ابا عبدالله یقول کان فی وصیة النبی بعلی انه قال یاعلی اوصیک فی نفسک خصال فاحفظها عنی ثم قال اللهم اعنه الی ان قال وعلیک بصلوةاللیل وعلیک بصلوة اللیل وعلیک بصلوة اللیل (١)

معاویہ بن عمارنے کہا کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم )ص(نے حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کی اور فرمایا اے علی میں تجھے کچھ ایسے اوصاف کی سفارش کرتا ہوں کہ جن کو مجھ سے یاد کرلو اور فرمایا خدایا ان اوصاف پر عمل کرنے میں علی علیہ السلام کی مددکرو۔

یہاں تک آپ نے فرمایا اے علی میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ نماز شب انجام دینا نماز شب ترک نہیں کرنا ۔

روایت کی شرح:

یہاں اس روایت کے بارے میں اس سوال کا ذہن میں آنا ایک ظاہر بات ہے کہ پیغمبر اکرم )ص( رحمتہ العالمین ہونے کے باوجود اور حضرت علی امام المسلمین ہونے کی حیثیت سے کیوں اس جملے کو چار دفعہ یادوسری روایت میں تین دفعہ تکرار فرمایا ؟

جبکہ حضرت علی علیہ السلام آغاز وحی سے لیکر اختتام وحی تک لحظہ بہ لحظہ پیغمبر اکرم )ص( کے ساتھ تھے اور تمام احکام ودستورات اسلامی سے آگاہ تھے اور بعد از پیغمبر سب سے زیادہ عمل کرنے والی ہستی تھے اور ہمیشہ آنحضرت ؐ کے تابع محض رہے ہیں۔

____________________

(١) الوافی، ج ١و وسائل ج ٥


اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ایک مقدمہ لازم ہے تاکہ سوال کا جواب پوری وضاحت کے ساتھ پیش کرسکیں وہ مقدمہ یہ ہے کہ جب کسی زبان میں چاہئے عربی ہو یا غیر عربی کوئی جملہ یا کلمہ تکرار کے ساتھ کہا جاتا ہے تو اس کو ادبی اصطلاح میں تاکید لفظی یا معنوی کہا جاتا ہے لیکن کسی مطلب کو بیان کرنے کی خاطرح تاکید لانے کا مقصد اور ہدف کے بارے میں ادباء کے مابین آراء ونظریات مختلف ہیں۔

اس حدیث میں پیغمبر اکرم )ص( نے حضرت علی سے تاکید اََفرمایا کہ نماز شب فراموش نہ کرو بلکہ ہمیشہ نماز شب انجام دو اس تاکید کے ہدف اور مقصد کے بارے میں عقلاََتین قسم کے تصورقابل تصوریں ہیں۔

اسی لئے پیغمبر اکرم )ص(نے تاکید اََ ذکر فرمایا کہ مخاطب عام عادی انسان کی طبعت سے خارج ہے کیونکہ اس پر غفلت اور فراموشی کی بیماری لاحق ہے لہٰذا اگر تکرار کے ساتھ نہ فرماتے اور اس پر اصرار نہ کرتے تو غفلت اور فراموشی کی وجہ سے انجام نہیں دیتا کہ یہ صورت یہاںیقیناََ نہیں ہے کیونکہ مخاطب علی علیہ السلام ہے کہ جن کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ امام، وصی پیغمبراور عصمت کے مالک ہے ۔

دوسری صورت یہ ہے تاکید اسی لئے کسی زبان یا کسی حدیث میں بیان کیا جاتاکہ مخاطِب عام عادی حمکرانوں میںسے ایک حمکران ہے اور وہ تاکید اََکسی جملے یا کلمے کو بیان کر کے اپنا رعب دوسروں پر جمانا چاہتا ہے حقیقت میں یہ ایک قسم کی دھمکی ہے مورد نظر حدیث میں یہ ہدف بھی محال ہے کیونکہ متکلم اور مخاطب پیغمبر اکرم )ص(ہیں کہ وہ رحمۃ اللعالمین ہیں عام عادی حکمرانوں میں سے کوئی حکمران نہیں ہے تاکہ مخاطب اپنا جملہ تکرار کرکے دہمکی دینا مقصود ہوکہ ایسا سلوک ان کی سیرت اور رحمت العالمین ہونے کے منافی ہے۔

تیسری صورت یہ ہے کہ تاکید اور اصرار اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ کام اورفعل خدا کی نظر میں یا متکلم کی نگاہ میں بہت اہم اور عظیم ہے کہ جس میں پوری کائنات کی خیروبرکت مضمر ہے اور حقیقت میں اس تکرار اور تاکید کے ذریعے اس کام کی اہمیت اور عظمت کو بیان کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اس حدیث میں پیغمبر اکرم )ص( نے'' علیک باالصلوۃ اللیل'' کو چار دفعہ یا تین دفعہ تکرار کرنے کا مقصد آخری صورت ہے یعنی حقیقت میں پیغمبر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نماز شب تمام کامیابی اور خیرو سعادت کا ذریعہ ہے اور جتنی مشکلات انسان پر آپڑے تو اس وقت نماز شب سے مدد لینی چاہئے ۔


چنانچہ حضرت علی علیہ السلام نے نماز شب'' لیلۃالھریر'' کو امام حسین نے شب عاشورا کو حضرت زینب سلام اللہ علیہا شام غریباں کی شب نماز شب اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہانے تمام مشکلات اور سختیوں کے وقت نماز شب کبھی فراموش نہیں کی ہے۔

لہٰذا پیغمبر اکرم )ص(نے نماز شب کی عظمت اور فضیلت کو اس مختصر جملے کو تکرار کرکے پوری کائنات کے باشعو رانسانوں کو سمجھا دیا ہے اسی لئے سوال کا جواب اس تحلیل کی روشنی میں یوں ملتا ہے کہ نماز شب کی عظمت اور اہمیت بہت زیادہ ہے اسی کو بیان کرنے کی خاطر پیغمبر اکرم نے اپنے جملے کو تکرار فرمایا اور یہ ہر انسان کی فطرت اور ضمیر کی چاہت بھی ہے کہ جب کوئی اہم قضیہ کسی اور کے حوالہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کو باقی قضایا اور عام عادی مسائل کی طرح اس کے حوالہ نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کو اصرار اور تاکید کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ اس قضیہ کی اہمیت اور عظمت کا پتہ چل سکے لہٰذا روایت بھی حقیقت میں فطرت اور ضمیر کی عکاسی کرتی ہوئی نظر آئی ہے کیونکہ نظام اسلام کے دستورات فطرت اور عقل کے عین موافق ہیں۔

دوسری حدیث :

''قال رسول الله یاعلی ثلاث فرحات للمؤمن لقی الا خوان والا فطار من الصیام والتهجد من آخر اللیل'' (١)

حضرت پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا:

'' اے علی )ع( تین چیزین مؤمنین کے لئے خوشی کا باعث ہیں:

١) برادر دینی کا دیدار کرنا۔

____________________

(١) بحار الانوار ج ٢٩


٢) مغرب کے وقت روزہ کھولنا۔

٣) رات کے آخری وقت نماز شب پڑھنا۔

روایت کی تشریح:

اس حدیث میں پیغمبر اکرم )ص( نے تین مھم ذمہ داریوں کی طرف لوگوں کی توجہ کو مبذول کرائی ہے ایک لوگوں سے ملنا کہ یہ ہرکسی معاشرے کے استحکام اور بقاء کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے کیونکہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے ملتا ہے تو اس ملاقات کے نیتجے میں قدرتی طور پر ان کے آپس میں محبت اور دوستی پیدا ہوتی ہے اور نتیجتاً وہ ایک دوسرے کے خلاف زبانی تلوار وں سے حملہ نہیں کرتے جبکہ یہی زبانی حملے ایک دوسرے سے دوری اور جدائی اور آپس میں دشمنی کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

لہٰذا شریعت اسلام میں ایک دوسرے سے ملنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے کہ جس کا فلسفہ حقیقت میں معاشرہ کے نظام میں استحکام اور لوگوں کے آپس میں محبت ودوستی ہے لہٰذا پیغمبر اکرم )ص( نے اس حدیث میں ایک دوسرے سے ملنے کو خوشی کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ زندگی صلح وآئشی کے ساتھ گذار سکیں اور جھگڑا فساد جیسی اخلاقی بیماریوں سے دور رہ کر قدرتی صلاحیتوں کو بروی کار لاسکیں لیکن اس حدیث میں پیغمبر اکرم )ص( نے لوگوں سے ملنے اور دیدار کرنے کو صرف مومنین کے لئے باعث خوشی قرار دیا ہے جبکہ دنیا کے تمام انسانوں میں یہ رسم ہے کہ ایک دوسرے سے ملنے اور اظہار محبت کرتے ہیں جواب حقیقت میں یہ ہے کہ ملنے کی دو قسمیں ہیں:

١) ایمانداری سے ملنا۔

٢) عام عادی رسم ورواج کو پورا کرنے کی خاطر ملنا۔


اگر ایمانداری سے ایک دوسری کی زیارت کی تو وہ خوشی کا باعث ہوگا چاہئے اس کو ظاہراََمادی فائدہ ہو یا نہ کہ جس کا تذکرہ روایت میں پیغمبر اکرم )ص(نے فرمایا لیکن اگر ایک دوسرے سے ملنے کا سر چشمہ ایمان نہ ہو بلکہ عام عادی رواج کو پورا کرنے کی خاطر ہو جس سے اظہار خوشی بھی کر رہا ہوپھر بھی حقیقت میں خوشی کا باعث نہیں ہے کیونکہ جو نہی تھوڑی سی نارضگی پیدا ہوتی ہے فورا آپس میں رابطہ ختم ہوجاتا ہے لہٰذا پیغمبر اکرم )ص(نے فرمایا ملنا اور دیدار کرنا مؤمنین کے لئے باعث مسرت ہے کیونکہ مؤمنین کے تمام اقوال اور افعال کا سر چشمہ ایمان ہے لہٰذامختصر سی نارضگی سے وہ رابطہ ختم نہیں ہوتا اور اسلام کی نظر میں ہروہ کام باارزش اور باعث مسرت ہے جو ایمان کے ساتھ سر انجام پائے ۔

دوسری ذمہ داری کہ جس کا تذکرہ پیغمبر اکرم )ص(نے اس حدیث میں فرمایا ہے وہ روزہ دار کو افطار کے وقت حاصل ہو نے والی خوشی ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ جب کسی شخص پر کسی کی طرف سے کسی سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کو انجام دینے کا دستور دیا جا تا ہے تو اس کو انجام دینے کے بعد اس کا خوشی فطری تقاضا ہے لہٰذا روزہ شریعت اسلام میں ایک مہم ذمہ داری ہے جو کہ لوگوں کی نظر میں بہت سنگین اور تکالیف الہیہ میں سے بہت تکلیف دہ امر ہے لہٰذا جس کو بجا لانے کے بعد اختتام کے وقت روزہ داروں کو خوشی ہو نا فطری تقاضوں میں سے ایک ہے اسی لئے پیغمبر اکرم نے فرمایا روزہ کھولتے وقت مؤمنین کو خوشی ہوتی ہے۔

نیز تیسری ذمہ داری جو مؤمنین کے لئے خوشی اور مسرت کا باعث بنتی ہے اس کا اس حدیث میں پیغمبر اکرم )ص(نے تذکرہ کیا ہے وہ نماز شب ہے لہٰذا نماز شب کی توفیق حاصل ہونے میں ایک خاص درجہ کا ایمان درکار ہے جوایمان کے مراحل میں سے ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے کہ اس مرتبہ پر فائز شخص کو حقیقی مؤمن اور ایماندار کہا جاسکتا ہے اور ایمان کایہی مرحلہ ہے کہ انسانی طبیعت اور خواہشات کے برخلاف ہونے کے باوجود رات کی تاریکی میں ارام وسکون اور نیندکی لذتوں کو چھوڑکر زحمتوںکے ساتھ وضوکرکے قیام وسجود اور عبادت الٰہی بجالانے پر انسان کو آمادہ کرتا ہے اور ہرباایمان شخص سے نماز شب کی ادائیگی بعید ہے کیونکہ مؤ منین کے ایمان اس حدتک نہیں ہے کہ رات کے وقت بستر کی گرمی اور نیند کی لذت سے خود کومحروم کرکے اس عظیم نعمت سے اپنے آپ کو مالا مال اور بہر مند کرے بنابراین نماز شب کی اہمیت اور عظمت پر حدیث بہترین دلیل ہے اور اس عظیم عبادت کی عظمت کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ نماز شب کتنی عظیم اور کتنا محبوب عمل ہے کہ جس کو انجام دینے سے خوشی ہوتی ہے یعنی نفسیاتی امراض بر طرف ہوجاتے ہیں آرامش قلبی کا سبب بنتا ہے چونکہ یہ عبادت دنیا اور آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار کرتی ہے اور انسان کومقام محمود کے نزدیک کردیتی ہے۔


تیسری حدیث :

قال رسول الله ما اتخذ الله ابراهم خلیلا الا لا طعامه الطعام وصلاته باللیل والناس نیام (١)

پیغمبر اکرم )ص(نے فرمایا کہ خدا نے حضرت ابراہیم ؑکو صرف دو٢ کاموں کے نتیجہ میں اپنا خلیل قرار دیا ہے

(١) لوگوں کو کھانا کھلا نے

(٢) اور رات کے وقت نماز شب انجام دینا جب کہ باقی تمام انسان خواب غفلت میں غرق ہورہے ہوں۔

حدیث کی وضاحت :

دنیا میں تمام باشعور انسانوں کی یہ رسم رہی ہے کہ جب کوئی شخص کسی مقام یا منصب پر فائز ہوتا ہے تو اس کو کسی نہ کسی عنوان اور لقب سے پکارا جاتا ہے تاکہ اس کے مقام اور منصب پر دلالت کرے اسی طرح شریعت اسلام میں بھی ایسے عناوین اور القاب کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ جن کی تشریح اور انکی کمیت وکیفت کو ذکر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ صرف اشارہ کرنا مقصد ہے کہ خدا کی طرف

____________________

(١) علل الشرائع ص ٣٥


سے جو القاب یا مقام ومنزلت جن انسانوں کو ملی ہے وہ کسی سبب اور علت سے خارج نہیں ہے۔

خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو صفی اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ حضرت اسماعیل ؑکو ذبیح اللہ حضرت ابراہیم ؑکو خلیل اللہ اور حضور اکرم )ص(کو حبیب اللہ کے القاب سے یاد فرمایا ہے اسی طرح دوسرے انسان کو بھی مختلف القاب وعناوین سے پکارے جاتے ہیں تاکہ ان اشخاص کے منصب اور مقام ومنزلت پر دلالت کرے لیکن مقام اور منصب کی دو ٢ قسمیں ہیں ایک منصب اور مقام معنوی ہے دوسرا مادی منصب، اور کسی منصب کا حاصل ہونا بھی قانون علل واسباب سے ماوراء نہیںلہٰذا مقام اور منزلت کا ملنا کردار اور گفتار کی کمیت وکیفیت پر موقوف ہے اور کردار وگفتار کے اعتبار سے لوگوں کی نظر اور خدا کی نظر مختلف ہے لہٰذا ان دو ٢ منصبوں میں سے معنوی منصب کو مثبت اور ان کے اسبا ب کو شریعت اسلام کہا جاتاہے جب کہ مادی منصب کو منفی اور اس کے اسباب کو مادی نظام کہا جاتا ہے لہٰذا معنوی منصب کے علل واسبا ب میں سے ایک نماز شب ہے اس طرح لوگوں کو کھانا کھلانابھی مثبت منصب کے اسباب میں سے ہے لیکن شیطانی سیاست کرکے مقام ومنزلت کی تلاش کرنا منفی منصب کا سبب ہے کہ جس کا نتیجہ خسرالد نیا والا خرۃ ہے۔

اسی لئے پیغمبر اکرم )ص( نے اس روایت میں دو مطلب کی طرف اشارہ فرمایا ہے (١) نماز شب کا پڑ ھنا صرف میری ذمہ داری اورخصوصیت نہیں ہے بلکہ حضرت ابراہیم ؑجیسے پیغمبر کی بھی سیرت ہے (٢) حضرت ابراہیم ؑ کو خلیل اللہ کا لقب ملنے کا سبب بھی ذکرفرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑکو خلیل اللہ کا لقب اسی لئے دیا گیا کہ آپ لوگوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے اور نماز شب پڑھا کرتے تھے جب کہ اس وقت دوسرے لوگ خواب غفلت میں مشغول ہوتے ہیں اگر ہم بھی خدا کے محبوب اور خلیل بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی حضرت ابراہیم کی سیرت کو اپنانا ہوگا یعنی ضرورت مند مسلمان بھائیوں کو کھانا کھلا نا اور نماز شب کو پابندی کے ساتھ انجام دینا چاہئے۔


١۔نماز شب باعث شرافت

نماز شب کی اہمیت اورعظمت بیان کرنے والی روایات میں سے چوتھی روایت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی یہ روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :

''قال شرف المومن صلوته بااللیل وعز المؤمن کفه عن اعراض الناس ''(١)

نماز شب کا پڑھنا مؤمنین کی شرافت کا باعث ہے اور مومن کی عزت لوگوں کی آبرو ریزی سے پرہیزکرنے میں ہے۔

____________________

(١)کافی ج٣


حدیث کی توضیح:

اس حدیث شریف میں چھٹے امام نے چار چیزوں کو بیان فرمایا ہے:

١) مؤمنین کی شرافت۔

٢) ان کی عزت ۔

٣) نماز شب۔

٤) لوگوں کی ابرو کی حفاظت کرنا۔

اور یہ طبیعی امر ہے کہ ہرانسان اس خواہش کا متمنی ہے کہ معاشرے میں اس کی شرافت اورعزت میں روز بروزاضافہ ہو لہٰذا شرافت اور عزت کی خاطر پوری زندگی کا خاتمہ اور ہزاروں مشکلات کو برداشت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر خواہش رکھنے والا اس میدان میں کامیاب نہیں ہوتا اور ہر معاشرہ میں شاید ١٠/ فیصدافراد نماز شب سے حاصل ہونے والی شرافت اور عزت سے مالامال ہیں جب کہ باقی ٩٠/فیصد افراد اس شرافت اور عزت سے محروم ہیں کیونکہ شرافت اور عزت زحمت وہمیت کا نتیجہ ہے جو برسوں کی مشقت اٹھا نے کے بعد حاصل ہوتی ہے لیکن ہر زحمت باعث عزت وشرافت نہیں ہے کیونکہ زحمت اور ہمیت کی دو٢ قسمیں ہیں:

١) منفی زحمت۔

٢) مثبت زحمت۔


اگر شرافت اور عزت کے اسباب مثبت ہوں یعنی خدائی زحمات اور الٰہی ہمتوں پر مشتمل ہو تو اس حاصل ہوئی شرافت کو حقیقی اور الٰہی شرافت اور عزت سے تعبیرکیا جاتا ہے جیسے مؤمن بندہ رات کے وقت نیند کی لذت سے محروم ہو کر اپنے محبوب حقیقی کو راضی کرنے کے لئے رات کی تاریکی میں نماز شب کی زحمت اٹھانا اسی طرح دوسرے شخص کی آبرو کو اپنی آبرو سمجھتے ہوئے اس کی آبر وریزی کرنے سے پرہیز کرنا جبکہ وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قادر ہوتا ہے لیکن ان کی عزت کو اپنی عزت سمجھتے ہے چونکہ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دوسروں کو انسان سمجھا جائے لیکن آج کل بد قسمتی سے ایسا سلوک بہت کم نظر آتا ہے لہٰذامعصوم کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ مومن کی حقیقی شرافت اور عزت نماز شب پڑھنے اور دوسرے بھائیوں کی آبرو کی حفاظت کرنے میں پوشدہ ہے۔

٢۔نماز شب محبت خدا کا سبب:

امام محمد باقر علیہ السلام کی روایت ہے ۔

''قال الامام الباقر ان الله یحب المساهر باالصلوة ''(١)

آپ نے فرمایا کہ خدا اس شخص کو دوست رکھتا ہے جو سحر کے وقت نماز شب کی خاطر نیند سے بیدار ہوتا ہے

تشریح :

اس حدیث میں امام نے محبت خدا کا تذکرہ فرمایا ہے لیکن محبت ایک امر

____________________

(١) بحار الانوارج٧٦


باطنی ہے اور اس کے آثار اور نتائج ظاہری ہیں نیز محبت کا مفہوم متعدد مراتب اور مختلف درجات کا حامل ہے پس اگر کسی سے کہا جائے کہ فلانی اپنے محبوب کے ساتھ محبت کے آخری مرحلہ پر ہے تو اتفاق سے اگر وہ محبوب کو کھوبیٹھے تو وہ دیوانہ ہوجاتا ہے اور کبھی محبت اس مرتبے کی نہیں ہوتی کہ جس کے نتیجے میں محبوب کے نہ ملنے کی صورت میں وہ دیوانہ نہیں ہوتا لہٰذاہمیشہ محبت کا نتیجہ محبت کے مراتب اور مراحل کا تابع ہے اگر محبت آخری مرحلے کا ہو تو نتیجہ بھی حتمی ہے اور اگر محبت آخری مرحلے کا نہ ہو تو نتیجہ بھی حتمی نہیں ہے لیکن محبت کی حقیقت کے بارے میں محققین نے بہت سی تحقیقات کی ہیں مگر وہ تحقیقات محبت کی حقیقت سے دور ہیں اسی لئے ان پراعتماد نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اسلام کی روشنی میں محبت دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے:

(۱)الٰہی محبت یعنی خدا کا کسی سے محبت ودوستی رکھنا

(٢)انسانی محبت یعنی لوگوں کا ایک دوسرے سے محبت کرنا اور اظہار دوستی کرنا اگر خدا کسی بندے سے کہے کہ تو میرا محبوب ہے تجھ سے میں محبت کرتا ہوں ایسی محبت کو حقیقی اور واقعی کہا جاتا ہے کیونکہ اس محبت میں کیفیت اورکمیت کے لحاظ سے کوئی نقص اور کمی نہیں پائی جاتی لہٰذا اس کا نتیجہ اور آثار حتمی ہے یعنی اس کے نتیجے میں اس انسان کے لیے دنیا میں عزت وشرافت جیسی منزلت اور اخروی زندگی میں جنت جیسی عظیم نعمت عطا کیا جاتا ہے لیکن اگر محبت کی دوسری قسم ہو یعنی ایک شخص دوسرے شخص سے کہے کہ تو میرا محبوب ہے اس کو اعتباری اور غیر حقیقی محبت کہا جاتا ہے اگر چہ والدین اور اولاد کے مابین پائی جانے والی محبت ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ محبت ان کی ذاتی نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی طرف سے عطاہوئی ہے لہٰذا محبت اعتباری ہے لیکن دونوں قسم محبت کچھ علل واسباب کی مرہون منت ہیں۔

لہٰذا امام علیہ السلام نے اس حدیث میں حقیقی محبت کا سبب ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ خدا اپنے بندوں سے دوستی اور محبت اسوقت کرتا ہے کہ جب بندہ اپنی پسندیدہ اور محبوب چیزوں کو رضائے الہی کی خاطر ترک کرے جیسے نیندکی لذت بندے کی نظر میں بہت پسندیدہ ہے لیکن اس کو ترک کرکے وہ کوئی ایساکام انجام دے جو اس کی نظر میں بامشقت ہو اور خدا کی نظر میں بہت اہم ہو جیسے نماز شب کیلئے بیدار ہونا ایسے کاموں کو انجام دینے کی خاطر ایمان کا اعلی مرتبہ درکار ہے کہ جب عبد ایمان کے اس مرحلہ پر پہنچتا ہے اور اپنی خواہشات کو خدا کی چاہت پر فدا کرے تو خدا اس کو اپنا محبوب قرار دیتا ہے اور خدا اس سے دوستی کرنے لگتا ہے لہٰذا اس روایت سے معلوم ہوا کہ نماز شب خدا کی محبت کا سبب ہے اور یہی فضیلت نماز شب کے لئے کا فی ہے


٣۔نماز شب زنیت کا باعث

چنانچہ مذکورہ مطلب سے ہمیں معلوم ہوا کہ نماز شب کا میابی کا راز شرافت کا ذریعہ ،اور محبت خدا کا سبب ہے نیز نماز شب انسان کی زینت کا سبب بھی ہے اس مطلب کو امام جعفر صادق نے یوں ارشاد فرمایا :

''المال والبنون زینت الحیاة الدنیا ان الثمان رکعات یصلها اخراللیل زینة الاخرة '' (١)

(اے لوگو!) اولاد اور دولت دینوی زندگی کی زنیت ہے (لیکن)آٹھ رکعت نمازجو رات کے آخری وقت میں پڑھی جاتی ہے وہ اخرو ی زندگی کی زینت ہے ۔

حدیث کی تحلیل :

نماز شب کی اہمیت اور فضیلت پر دلالت کرنے والی روایات میں سے کئی روایات کو مختصر توضیحات کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نماز شب میں خیر وبرکت اور سعادت دنیا وآخرت مضمرہے اور اس ورایت میں امام جعفرصادق نے دومطلب کی طرف اشارہ فرمایا :

(١)ہر انسان کی دوقسم کی ز ندگی حتمی ہے دنیوی اور اخروی ۔

(٢) ہرایک زندگی کے لئے کچھ چیزیں باعث زینت ہوا کرتی ہیں کہ ان دونو ں مطالب کی مختصر وضاحت کرنا لازم ہے پہلا مطلب زندگی دوقسموں میں تقسیم ہوتی ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کے ثبوت اور اثبات کے قائل سارے مسلمان ہیں اگر چہ کچھ ملحد اس تقسیم سے انکار کرتے ہیں اور معادو قیامت کے

____________________

(١)وسائل ج١٣.


حساب وکتاب کے نام سے کسی چیز کے قائل نہیں ہیں بلکہ کہتے ہیں زندگی کا دارو مدار بس اسی دنیوی اور مادی زندگی پر ہے کہ جس کے بعد انسان نسیت ونابود اور فناء کے علاوہ کچھ نہیں ہے لہٰذا دنیا میں اپنی خواہشات کے منافی عوامل سے مقابلہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ دنیا میں زیادہ بہترزندگی گذار سیکیں اسلئے اسلام جیسے نظام کو جو فطرت اور عقل کے عین مطابق ہے مانع آذادی اور خواہشات کے منافی سمجھتے ہیں لہٰذا اسلام پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے میں حا لانکہ وہ اسلام کی حقیقت اور نظام اسلامی استحکام وبقاء سے بخوبی واقف ہیں۔

دوسرامطلب جو روایت میں مذکورہے کہ جس کا اعتراف سارے انسان کرتے ہیں چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم اس کے باوجود غیرمسلم اور مادہ پرست اسلام کو بد نام کرنے کی خاطر طرح طرح کی غیر منطقی باتیں منسوب کرنے میں سر گردان رہے ہیں لہٰذا کہا کرتے ہیںکہ اسلام زینت کے مخالف ہے جب کہ اسلامی تعلیمات انسانوں کو زینت کی طرف (چاہے مادی ہو یامعنوی)ترغیب دلاتی ہے لہٰذا اسلامی تعلیمات میں ملتا ہے کہ جمعہ کے روزغسل کرنا ناخن تراشنا بالوں کو خضاب لگانا اورآنکھوں کی زینت کے لیے سرمہ لگانا اور ہمیشہ خوشبولگا کر نمازپڑھنا وغیرہ مستحب ہے اگر چہ اسلام زینت کی حقیقت اور کمیت وکیفت کے حوالہ سے باقی نظریات کے مخالف ہے لیکن خود زینت کے مخالف نہیں ہے لہٰذا امام اس روایت میں زینت دنیوی کے علل واسباب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا اولاد اور دولت مادی زندگی کی زینت ہیں کہ اس مطلب کی طرف کلام مجید میں بھی اشارہ ملتا ہے :

''المال والبنون زینةالحیاة الدینا''

یعنی مال واولاد دنیوی زندگی کی زینت کا ذریعہ ہیں ۔


ابدی زندگی کی زینت کے علل واسباب میں سے ایک نمازشب ہے لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہناپڑتا ہے کہ جس طرح غیر مسلم، عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے اخروی زندگی کی سے محروم ہیں اسی طرح مسلمان حضرات بھی اخروی زندگی کی زینت سے عملاََبہت دور ہیںاگرچہ عقیدہ اور تصورکے مرحلے میں غیر مسلم کے مساوی نہیںہیں لیکن عملی میدان میں ان کے یکسان نظر آتے ہیں کہ یہ مسلمانوںکےلئے بہت دکھ کی بات ہے نیز نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا ارشاد ہے ۔

'' انه کان یقول ان اهلیبت امر نا ان نطعم الطعام ونوادی فی النائیه ونصلی اذ ا نام الناس (٣)

آپ نے فرمایا کہ ہم ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں کہ ہمیں خدا کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلائیں اور مشکل کے وقت ان کی مدد کریں اور جب وہ خواب غفلت میں سو رہے تو ہم نماز شب کو اداء کرنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

____________________

(٣) معانی الاخبار


تحلیل حدیث

اس روایت شریفہ میں امام المتقین والمسلمین نے تین عظیم ذمداریوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

١) لوگوں کو کھانا کھلانا ہماری سیرت ہے ۔

٢) لوگوں کی مشکلات میںمدد کرنا

٣) رات کے وقت نماز شب پڑھنا ۔

کہ یہ تینوں ذمہ داریاں آنجام دینا عام انسان کے لیے بہت مشکل ہے کیونکہ جب انسان کسی مال کو اپنا حقیقی مال سمجھتا ہے

توکسی اور کومفت کھلاناطبیعت وخواہشات کے منافی ہے کیونکہ مفت میں کسی کو دینا کمی اور خسارہ کا باعث ہے اگر چہ فطرت کی چاہت اسکے برعکس ہے یعنی ہم کسی چیز کا حقیقی مالک نہیں ہے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کسی مال کا حقیقی مالک نہ سمجھے بلکہ اعتبار ی مالک ماننے اور اس ملکیت کوزوال پیذیر ہونے کااعتراف کرے اور دوسروں کو کھلانا اپنی ابدی زندگی کی خوش بختی اور آبادی کا باعث سمجھے تو دوسروں کو کھلانے میں خوشی وحسرت کا احساس کرتا ہے کیونکہ فطرت کی چاہت کی بناء پر حقیقی مالک اسکی نظر میں صرف خدا ہے اور خدا نے ہی انسانوں کو استعمال کرنے کا حق دیا ہے اور اسی طرح اگرکسی شخص پر کوئی مشکل آپڑے لیکن دوسرا شخص آپنے آپ کو اس بری سمجھے تو اس کے لئے عملاََ مدد کرنا بہت مشکل ہے حتی اس کی مشکلات کو ذہن میں تصور کی حدتک بھی نہیں لاتا کہ اس کا لازمی نتیجہ، کائنات میں روز بروز طبقاتی نظاموں میں اضافہ اور فقر وتنگ دستی کا بازار گرم ہوناہے۔

لہٰذا بہت سے افراد اس ذمہ داری کو انجام دینے کے حوالے سے تصور کے مرحلہ سے بھی محروم ہیں ایسے حضرات کو قرآن میں'' بل ہم اضل''کی تعبیر سے یاد کیا گیا ہے لیکن کچھ حضرات اس طرح کئے ہیں کہ عملاً مدد کرنے سے محروم ہے جب کہ تصور کے مرحلے میں باعمل ہیں یعنی انکی مشکلات کو اعضاد وحواح کے ذریعے برطرف کرنے کی کوشش نہیں کرتے لیکن ان کی مجبوری کو ہمیشہ ذہن میں تصور کیا کرتے ہیں اسیے حضرات کوعالم بے عمل سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن کچھ حضرات ایسے ہیں کہ جو تصور اور عمل کے اعتبار سے لوگوں کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھ کر ہر وقت ان کو برطرف کرنے کیلئے زحمت ومشقت کو اپنی مشکلات سمجھ کر ہر وقت ان کو بر طرف کرنے کی خاطرہزاروںمشقتیں اٹھاتے ہیں لہٰذا بنی اکرم )ص(نے فرمایا :

''من لم یتهم بامورالمسلین فهو لیس بمسلم .''

یعنی جو مسلمانوں کی مشکلات کی بر طرفی کا اہتمام نہیں کرتے وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔


لہٰذا انسانی فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ ایسا ہو لیکن اس قسم کے حضرات سوائے انبیاء اور آئمہ کے کوئی دوسرا نظر نہیں آتا چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس حدیث میں فرمایا ہے ہم اہل بیت ہی ایسا کرتے ہیں لہٰذا جن افراد پر اہل بیت صادق آتا ہے ان تمام حضرات کی مخصوصیت اور سیرت یہ ہی ہے اگرچہ مذاہب کے مابین اہل بیت کے بارے میںاختلاف پایا جاتا ہے لیکن امامیہ مذہب جو حق اور نجات دلانے والا مذہب ہے اسکی نظر میں اہل بیت کے مصداق صرف چھاردہ معصومین ہیں لہٰذا تمام اہل علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلانا اور ان کی مشکلات میں مدد کرنااور رات کے آخری وقت نماز شب کے ذریعے خدا سے راز ونیاز کرنا یہ تمام چیزیں ان کی سیرت سے ثابت ہے لہٰذا آپ اگر سیرت اہل بیت پر چلنا چاہتے ہیں تو ان ذمداریوں کو کبھی فراموش نہ کریں اور انشاء اللہ مزید وضاحت بعد میں کی جائے گی۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

لاتدع قیام الیل فان المبغون من غبن بقیام الیل (١)

تم لوگ نماز شب کو ترک نہ کرے کیونکہ جو شخص اس سے محروم ہوا وہ خسارے میں ہے ۔

تحلیل حدیث :

اس روایت کی وضاحت یہ ہے کہ روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے دو مطالب کی طرف اشارہ فرمایا جو قابل توضیح ہے

____________________

(١) معانی الا خبار ص ٣٤٢


١) شب بیداری کرنا ۔

٢) اور شب بیداری کی حقیقت اور ہدف

پہلا مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ شب بیداری کرنے کی دوقسمیں قابل تصور ہیں :

١) عبادت الہٰی کی خاطر شب بیداری کرنا تاکہ خدا سے راز ونیاز کریں۔

٢) لہو ولعب یا کسی غیر عبادی امور کے لئے شب بیداری کرنا۔

روایت شریفہ میں اما م نے قیام اللیل کو مطلق ذکر فرمایا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ باقی روایات سے قطع نظر دیکھا جائے تو دونوں صورتیں روایت میں شامل ہیں یعنی شب بیداری کرنا چاہئے عبادت میں رات گذارے یا کسی لہوولعب میںدونوں کا اچھے ہیں لیکن جب ہم باقی روایات جو قیام اللیل سے مربوط ہیں اور قرائن وشواہد کو مدنظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں امام علیہ السلام کا ہدف وہ قیام اللیل ہے جو عبادت الٰہی کے لیے ہو۔

لہٰذا علماء اور فقہا نے بھی قیام اللیل سے یہی مراد لیا ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ روایت میں معصوم کی مراد صرف قیام اللیل نہیں ہے بلکہ عبادت کےلئے رات گذار نا مقصود ہے۔

دوسرا مطلب جو اس روایت میں قابل وضاحت ہے وہ یہ ہے کہ کیوں شب بیداری عبادت الٰہی کے لیے مہم ہے ؟کیا کسی اور وقت میں عبادت نہیں ہوسکتی کہ جسکی خبرامام نے نہیں دی ؟


جواب یہ ہے کہ شب بیداری اسی لئے مہم ہے کہ عبادت الٰہی کی خاطر جاگنا حقیقت میں طبیعت شب کے ہدف کے خلاف ہے چنانچہ اس مطلب کی طرف خداوند کریم نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ خدا نے رات کو سکون اور آرام کے لئے خلق کیا ہے لہٰذا رات کے وقت عبادت کی خاطرجاگنارات کی خلقت اور طبیعت کے منافی ہے لیکن جب انسان رات کے سکون اور آرام کو چھوڑکر عبادت الہٰی کے لیے شب بیداری کرے تو خدا کی نظر میں اسکی اہمیت اور عظمت بھی زیادہ ہوجاتی ہے اور نماز شب کی خصوصیت اور فضیلت کا وقت ہی وہی ہے جب باقی تمام انسان آرام وسکون کی گہری نیند سے لطف اندوز ہورہے ہوں لیکن خدا کے عاشق اور ایمان کے نور سے بہر مند حضرات اپنے محبوب حقیقی سے رازونیاز کی خاطر اس وقت اپنے آرام وسکون کو راہ خدا میں فدا کرتے ہیں لہٰذا امام علیہ السلام نے فرمایا کہ تم شب بیداری کو نہ چھوڑیں کیونکہ شب بیداری نہ کرنے والے افرادہمیشہ خسارہ اور نقصان کے شکار رہتے ہیں پس اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر شب بیداری کو نہ چھوڑے تو ہمیشہ فائدے میں ہوگا صحت جیسی نعمت سے بہرہ مند ہونگے۔

نماز شب کی اہمیت کو امام جعفرصادق نے یوں بیان فرمایا:

'' انی لا مقت الرجل قدقرأ القرآن تم یستیقظ من اللیل فلا یقوم حتی اذا کان عندالصبح قام ویبادر بالصلوة '' (٢)

____________________

(٢) بحار ج٨٣


مجھے اس شخص سے نفرت ہے کہ جو قرآن کی تلاوت کرے اور نصف شب کے وقت نیندسے جاگئے لیکن صبح تک کوئی نماز نافلہ نہ پڑھے بلکہ صرف نماز صبح پر اکتفاکرے

حدیث کی تحلیل :

اس روایت کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ امام نے اس روایت میں اپنے ان ماننے والوں سے جو رات کو نماز نافلہ انجام نہیںدیتے اظہار نفرت کیاہے لہٰذا اس روایت کے مصداق کو معین کر کے اس پر تطبیق کرنا لازم ہے تاکہ یہ شبہ نہ رہے کہ ہرنماز شب ترک کرنے والا معصوم کی نظر میں قابل نفرت ہے کہ اس مسئلہ میں چار صورتیں قابل تصور ہے:

١) نماز شب وہ شخص ترک کرتا ہے کہ جو خواب اور نیند سے بالکل بیدار نہیں ہوتا ایسے افراد کی دوصورت ہیں :

١) وہ شخص ہے جو سوتے وقت نماز شب انجام دینے کی نیت تو رکھتا ہے لیکن نیند اسے اٹھنے کی اجازت نہیں دیتی تاکہ نماز شب سے لذت اٹھاسکے۔

٢) وہ شخص ہے جو سوتے وقت نماز شب پڑھنے کے عزم کے بغیر سوجاتا ہے اور پوری شب نیند میں غرق ہو اور نماز شب سے محروم رہ جاتا ہے ایسا شخص امام کے اس جملے میں داخل نہیں ہے کہ فرمایا:

''لامقت الرجل ۔''

یعنی مجھے اس شخص سے نفرت ہے جو پوری رات سوتا رہے صرف نماز صبح انجام دے اگر کوئی شخص سوتے وقت نماز شب کے لئے جاگنے کی نیت کے ساتھ سوئے اور پھرنہ جاگ سکے تو ایسا شخص بھی امام علیہ السلام کے اس جملے سے خارج ہے ۔


کیونکہ اس قسم کے افراد سے نفرت کرنا خلاف عقل ہے اور بہت ساری رویات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے افراد سے امام علیہ السلام خوش ہیں کیونکہ وہ نماز شب پڑھنے کا ارادہ رکھتے تھے ایسا شخص اس حدیث : ''نیۃ المؤمن خیر من عملہ'' کے مصداق قرار پاتا ہے لہٰذا ایسا شخص یقیناََ روایت سے خارج ہے لیکن دوسری قسم کے افراد یعنی سوتے وقت جاگنے کی نیت کے بعیر حیوانات کی طرح سوتے ہیں ایسے اشخاص بھی خارج ہیں کیونکہ امام نے فرمایا:'' ثم یستیقظہ'' یعنی سوئے پھر جاگے اور نماز شب نہ پڑھے ایسے افراد سے مجھے نفرت ہے اگرچہ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیفیت اور حالات میں سوجانا باعث مذمت ہے لیکنلامقت الرجل میں داخل نہیں ہے کیونکہ نیند کی وجہ سے بیدار نہیں ہوتے اور نیند اپنی جگہ پر عذر شرعی شمار ہوتا ہے۔

٢) صورت وہ افراد ہے جو نصف شب کے وقت نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں لیکن نماز شب انجام نہیں دیتے کہ اس کی مزید تین قسمیں قابل تصور ہیں :

١) جاگنے کے بعد نماز شب پڑھنے کا شوق ہے لیکن کسی اور کام یا مصروفیات کی وجہ سے نماز شب سے محروم ہوجاتے ہیں جیسے مطالعہ یادیگر لوازمات زندگی کی فراہمی ایسے افراد بھی اس حدیث سے خارج ہیں کیونکہ لوازمات کی فراہمی کے لئے کوشش کرنا اور شب بیداری کرنا خود خدا کی عبادت ہے جیسا کہ امام نے فرمایا ۔

٢) دوسری صورت وہ افرادہیں جو نیند سے بیدار تو ہوتے ہیں لیکن غیر ضروری مباح یا مکروہ کام کی وجہ سے نماز شب ترک کربیٹھتے ہیں ایسے افراد اس حدیث میں داخل ہیں کہ انہیں کے بارے میں فرمایا کہ مجھے ان سے نفرت ہے۔

٣)تیسری صورت وہ شخص کہ جو نصف شب کے وقت جاگتے ہے لیکن کسی عذر کے بغیر سستی کی وجہ سے نماز شب ترک کرتے ہیں تو ایسے افراد سے امام نے اظہار نفرت کیا ہے لہٰذا فرمایا:

لا مقت الرجل یعنی رات کو بیدار ہوتا ہے اور نماز شب بجانہیں لاتا یہ افراد قابل مذمت ہیں ۔


نتیجہ نماز شب کسی عذر عقلی کے بغیر نہ پڑھنا امامَ کی نفرت کا باعث ہے اور امام کے ماننے والے حضرات کے لئے یہ بہت ہی سخت اور ناگوار بات ہے لہٰذا امام اس سے نفرت کریں۔

اور نماز شب کوانجام دینے میں کوتاہی اور سستی شیطان کے تسلط اور حکمرانی کا نتیجہ ہے اور نماز شب کی فضیلت پر دلالت کرنے والی روایات میں سے ایک پیغمبر اکرم )ص( کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا :

''اذا ایقظ الرجل اهله من الیل وتوضیا وصلیا کتبا من الذاکرین کثیرا والذاکرات'' (١)

ترجمہ :اگر کوئی شخص نصف شب کے وقت اپنی شریک حیات کو نیند سے جگائے اور دونوں وضو کرکے نماز شب انجام دے تو میاں بیوی دونوں کثرت سے ذکر کرنے والوں میں سے قرار دیاجائے گا ۔

تحلیل حدیث :

اس حدیث میں پیغمبر اکرم )ص(نے تین شرطوں کیلئے ایک جزاء کا ذکر کیا ہے :

١)اگر شوہر اپنی بیوی کو نیند سے جگائے ۔

٢)اگر دونوں وضوکرے ۔

٣) اور دونوں نماز شب انجام دیں۔

پھر''کتبامن الذاکرین کثیرا والذا کرات'' (اگرچہ علم اصول میں تعدد شرط اور جزاء واحد کی بحث مستقل ایک بحث ہے کہ اس کا نتیجہ اور حقیقت کیا ہے اس کا حکم کیا ہے یہ ایک لمبی چوڑی بحث ہے لہٰذا قارئین محترم کی

____________________

(٢)نورالثقلین ج٤۔


خدمت میں صرف اشارہ کرنا مقصود ہے تاکہ حدیث کی حقیقت اور مطلب واضح ہوجائیں) لہٰذا اس حدیث سے دومطلبوں کا استفادہ ہوتا ہے ایک نماز شب کی تاکید اور اہمیت نیز نماز شب صرف مردوں کے ساتھ مختص نہیں بلکہ خواتین بھی اس روح پرور عبادت سے بہرہ مند ہوسکتی ہیں لہٰذا نماز شب مرد اور عورت دونوں کے لئے مستحب ہے اگر چہ ہمارے معاشرے میں بعض جگہوں پر ایسی عبادت کو انجام دینے کا نظر یہ صرف مردوںکے بارے میں قائم ہے جب کہ نماز شب پڑھنا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب کبریٰ علیہاالسلام کی سیرت طیبہ میں سے اہم سیرت ہے اور روایت کا ماحصل اور مدلول بھی یہی ہے کہ مردوں اور عورتوں میں نماز شب کے استحباب کے حوالے سے کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا دونوں اس انسان ساز عبادت سے فیضیاب ہوسکتا ہیں ۔

دوسرا مطلب جو روایت سے ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نماز شب پڑھنے والے کا شمار ذاکرین میں سے ہوتا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ذاکرین کے حقیقی مصداق اہل بیت علہیم السلام ہیں لہٰذا نماز شب پڑھنے والے بھی ایسے درجات کے مالک ہوسکتے ہیں یعنی ذاکرین کے کئی مراتب ہے جس کے کامل ترین درجہ پر ائمہ اطہار فائز ہیں اور نماز شب پڑھنے والا مؤمن دوسرے مرتبہ پر فائز ہوگا جو عام انسانوں کی نسبت خود بہت بڑا کمال ہے۔


نیز نمازشب کی اہمیت کو بیان کرنے والی رویات میں سے ایک اور روایت جو اس آیہ شریفہ'' ان ناشئۃ اللیل'' کی تفسیر میں وارد ہوئی ہے امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ان ناشئتہ اللیل سے کیا مراد ہے ؟ آپ دونوں حضرات نے فرمایا :

''هیی القیام فی آخر الیل ''

یعنی اس آیہ شریفہ سے مراد رات کے آخری وقت نماز شب کی خاطر نیند سے جاگنا ہے۔

اسی طرح دوسری روایت جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہے جو امام جعفر الصادق علیہ السلام سے یوں نقل کی گئی ہے کہ ۔ ان ناشئتہ اللیل سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا:

''قیام الرجل عن فراشه بین یدی الله عزوجل لایریدبه غیره'' (١)

یعنی اس آیہ شریفہ سے مراد بارگاہ الٰہی میں نیند کے سکون اور آرام کو چھوڑکر نماز شب کی خاطر جاگنا کہ جس سے صرف رضایت خدا مقصود ہو لہٰذا ان دونوں روایتوں سے بھی نمازشب کی اہمیت اور فضیلت واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم کے معتقد حضرات جو ٢٤/ گھنٹوں میںسے ایک دفعہ تلاوت قرآن حکیم ضرور کرتے ہونگے اور اس آیہ شریفہ کی بھی تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہوگا

____________________

(١)بحار جلد ٨٧


اس کے باوجود نمازشب کا نہ پڑھنا سلب توفیق اور بدبختی کی علامت ہے پالنے والے ہمیں ایسی بدبختی اور سلب توفیق سے نجات دے یہاںممکن ہے کوئی شخص یہ خیال کرے کہ ہم اسلام کی خدمت کرتے ہیں مثلا مدرسے کی تاسیس کرنا یا کسی مسجد اور دیگردینی مراکزکی تعمیر کرانا یا کسی اور خدمت میں مصروف ہونا )لہٰذا نماز شب کیلئے نہ جاگے یا نہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ کتاب لکھ رہا ہے یا کوئی اور خدمت کو انجام دے رہا ہے تو ایسا خیال رکھنے والے حضرات بہت بڑے اشتباہ کا شکار ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نماز شب کے فوائد اور آثار اس قدر عظیم ہیں کہ اس کے مقابلے میں کوئی اور کام یا خدمت اس کا بدل نہیں ہوسکتی ۔

اسی طرح یہ روایت بھی ہمارے مطلب پر دلیل ہے کہ جس میں امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :

''لماسئل عن التسبیح فی قوله تعالٰی وسبحه لیلا طویلا صلوة اللیل ''

یعنی امام رضا علیہ السلام سے وسبحہ لیلا َطویلا کے بارے میں پوچھا گیا : رات دیر تک خدا کی تسبیح کرنے سے کیا مراد ہے ؟

اس وقت آپ نے فرمایا اس سے مراد نماز شب ہے یعنی نماز شب کے ذریعے خدا کی تقدیس و تسبیح ہوسکتی ہے کہ اس مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ ہمارے عقیدہ کی بناء پرکائنات کے تمام موجودات چاہے انسان ہو یا حیوان نباتات ہو یا جمادات سوائے اللہ تبارک وتعالیٰ کے حدوث وبقاء کے حوالے سے خدا کا محتاج ہیں لہٰذا تمام مخلوقات یعنی پوری کائنات اللہ تعا لیٰ کی تسبیح وتقدیس کرتی ہے کہ اس مطلب کی تصدیق قرآن نے یوں کی ہے:

''سبح لله مافی السموت والارض''

لیکن تسبیح کی کیفیت اور کمیت کے بارے میں مخلوقات کے مابین بہت پڑا فرق ہے یعنی اگر کوئی زبان سے تکلم کے ذریعہ خدا کی تسبیح کرے تو دوسرا زبان حال اور نطق گویا کے ذریعے خدا کی تسبیح میں مصروف ہے کہ اس آیہ شریفہ میں خدا نے رات دیر تک تسبیح کرنے کا حکم فرمایا اور امام نے اپنی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اس کی تفسیر فرمائی ہے کیونکہ حقیقی مفسر اور عاشق الٰہی وہی ہے لہٰذا عاشق معشوق کے کلام میں ہونے والے کنایات واشارات اور فصاحت وبلاغت کے نکات سے بخوبی واقف ہے جب کہ دوسرے لو گ ایسے نکات اور اشارات سے بے خبر ہوتے ہیں۔


لہٰذا آنحضرت نے وسبحہ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد نماز شب ہے پس نماز شب کی اہمیت وفضیلت کے لئے صاحبان عقل کو اتنا ہی کافی ہے لیکن دنیا میں نیاز مند افراد کا طریقہ یوں رہا ہے کہ کہیں سے کوئی معمولی سی چیز ملنے کی امید ہو تو ہزاروں قسم کی زحمات برداشت کرتے ہیں تاکہ اس چیز کے حصول سے محروم نہ رہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کتنا غافل ہے کہ مادی زندگی جو مختصر عرصے تک باقی رہتی ہے اس کی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر اتنی زحمات اور سختیاں برداشت کرتا ہے مگر نماز شب جیسی عظیم نعمت اور دولت کو ہاتھ سے جانے دیتا ہے جب کہ نماز شب عالم برزخ اور ابدی زندگی کےلئے بھی مفید ہے اور نماز شب انجام دینے میں صرف آدھ گھنٹہ نیند سے بیدار ہونے کی زحمت ہوتی ہے اور اس جاگنے میں کتنی لذت ہے کہ جس کا اسے اندازہ نہیں۔

لہٰذا اگر کوئی شخص فکر و تدبرسے کام لے لے تو یقینا اس مادی زندگی کے دوران میں ہی آخرت اور ابدی زندگی کے لئے نماز شب جیسی دولت کے ذریعے سرمایہ گذاری کرسکتاہے اور دنیامیں کامیاب اور سعادت مند ہو اور عالم برزخ میں سکون کے ساتھ سفر کے لمحات طے کرسکے اور ابدی زندگی میں جاودانہ نعمتوں سے مالامال ہوسکے۔


حضرت امام ہفتم علیہ السلام نے فرمایا:

''لما یرفع راسه من آخر رکعت الوتر (یقول ) هذا مقام حسنا ته نعمته منک وشکره ضعیف وذنبه عظیم ولیس له الا دفعک ورحمتک فانک قلت فی کتابک المنزل علی نبیک المرسل کانوقلیلا من اللیل ما یهجعون وباالاسحار هم مستغفرون کمال هجو عی وقل قیامی وهٰذا السحر وانا استغفرک لذنبی استغفارا من لم یجد نفسه ضراولا نفعا ولاموتا ولاحیواتا ولانشورا ثم یخرساجدا'' (١)

جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نماز وترکی آخری رکعت سے فارغ ہوتے تو فرمایا کرتے تھے کہ یہاںایک ایسا شخص کھڑا ہوا ہے کہ جس کی نیکیاں تیری طرف سے دی ہوئی نعمتیں ہیں کہ جس کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہے گناہ اس کے زیادہ ہے صرف تیری رحمت اور حمایت کے سواء کچھ نہیں ہے کیونکہ تونے ہی اپنے نبی مرسل پر نازل کئی ہوئی کتاب میں فرمایا ہے کہ کانو قلیلایعنی ہمارے انبیاء رات کے کم حصہ سوتے اور زیادہ حصہ ہماری عبادت کی خاطر شب بیداری کرتے تھے اور سحرکے وقت طلب مغفرت کرتے تھے لہٰذا (میرے پالنے والے) میری نیند اور خواب زیادہ اور شب بیداری کم ہے اس سحرکے وقت میں تجھے سے اپنے گناہوں کی مغفرت کا طلب اس شخص کی طرح کرتا ہوں کہ جس کو اپنے نفع ونقصان اٹھانے کی طاقت اور حساب وکتاب سے بچنے کے لیے کوئی راہ فرار نہیں ہے نہ ہی موت وحیات اس کے بس میں ہے پھر انھیں جملات کو بیان فرمانے کے بعد آپ سجدہ شکر اداء کیا کرتے تھے۔

تحلیل حدیث :

حضرت نے اس راویت میں کئی مطالب کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جن میں سے ایک یہ ہے کہ خالق کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے معافی

____________________

(١)الخیرص ١٧٥


مانگنے اور مغفرت طلب کرنے کا بہترین وسیلہ نماز شب اور بہترین وقت سحرکا وقت ہے کہ جس سے انسان کے گناہوں سے آلودہ شدہ قلب کی دوبارہ آبیاری ہوتی ہے اور کھوئی ہوئی خدا داد صلاحتیں پھر مل جاتی ہیں۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان جس مقام اور پوسٹ پر فائز ہو اس کے باوجود نماز شب جیسی نعمت سے بے نیاز اور مستغنی نہیں ہے لہٰذا امام خود امامت کے منصب ومقام پر ہونے کے باوجوداورپورے انبیاء علہیم السلام نبوت کے مقام ومنزلت پر فائز ہونے کے علاوہ بندگی اور شب بیداری اور نماز شب میں مشغول رہتے تھے لہٰذا تمام مشکلات اور سختیوں کے باوجود کبھی نمازشب کی انجام دہی میں کوتاہی اور سستی نہیں کرتے تھے لہٰذا نماز شب کا ترک کرنا حقیقت میں انبیاء اوصیاء اور محتہدین کی سیرت ترک کرنے کی مترادف ہے کہ ان کی سیرت قلب اور روح انسان کے نابود شدہ قدرت اور صلاحیتوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

لہٰذا ایک مسلمان کے لئے قرآن وسنت پر اعتقاد رکھنے والے انبیاء اوصاء کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے ضروری ہے کہ وہ اس پرلطف روح پرورمعنوی نعمت کے حصوں میں کوتا ہی اور سستی نہ کرے کیونکہ بہت امراض اور بیماریوں کے لئے باعث شفابھی یہی نماز شب ہے لہٰذا یہ چیزیںاہمیت اور فضیلت کے لئے بہترین دلیل ہے ۔

٤۔نماز شب پر خدا کا فرشتوں سے ناز

قدیم ایام میں غلام اور بندہ گی کنیزولونڈی کا سلسلہ معاشرے میں عروج پر تھا کہ جس کی حالات اور احکام کو انبیاء اور ائمہ کے بعد فقہا اور نائبین عام نے اپنے دور میں فقہی مباحث میں شعراء وآدباء نے آدبی کتابوں میں ، محققین نے اپنی تحقیقاتی کتابوں میں غلام وکنیز کے موضوع پر مستقل اور مفصل بحث کئی ہے لیکن عصر حاضر میں حقوق بشر اور متمدن معاشر کے قیام کا نعرہ عروج پر ہے لہٰذا شاید اس وقت دنیا میں کسی گوشے میں قدیم زمانے کی کیفیت وکمیت پر غلام وکنیز کا سلسلہ نہ پایا جائے اسی لئے آج کل فقہی مباحث میں بھی وہ بحث متروک ہوچکی ہے۔

لیکن آج کل کے مفکرین عبد وعبید کا سلسلہ معاشرے میں نہ ہونے کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ایک باشعور انسان کڑی نظر کے ساتھ مطالعہ کرے تو اسے معلوم ہوجائےگا کہ عبدو عبید کا سلسلہ اس زمانے کی بہ نسبت اس دورحاضر میں زیادہ عروج پر ہے اگر چہ کیفیت وکمیت میں ضرور فرق ہے کہ قدیم زمانے میں ایک شخص دوسرے کا غلام وکنیز ہوا کرتا تھا لیکن اس دور میں تمام انسان مادیات اور خواہشات کے غلام بن چکے ہیں لہٰذا قدیم زمانے کی غلامی دور حاضر کی غلامی سے بہترہے کیونکہ قدیم زمانے


میں اس کا مالک اور مولیٰ بھی ایک انسان تھا جب کہ ہمارے دور میں ہمارا مولیٰ اور مالک پیسہ اور دیگر مادیات بن گئے ہیں کہ یہ انسان کے لیے بہت خطرناک مسئلہ ہے کیونکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان فقط خدا کا بندہ ہے نہ مادیات اور دیگر لوازمات کا چونکہ انسان کے علاوہ باقی ساری چیزیں انسان ہی کےلئے خلق کئی گئی ہیں اسی لئے پیغمبر اکرم )ص(نے فرمایا :

''ان العبد اذا تخلی بسیده فی جوف اللیل المظلم وناجاه آشبت الله النور فی قبله ثم یقول جلّ جلاله الملائکة یا ملائکتی النظروا الی عبدی فقد تخلی فی جوف اللیل المظلم والبا طلون لاهون والغافلون نیام الشهدوا انی قد غفرت له ۔

جب کوئی بندہ اپنے آقا کو نصف شب کے وقت کہ جس وقت ہرطرف تاریک ہی تاریک ہے پکارتا ہے اور راز ونیاز کیا کرتا ہے تو خدا وند اس کے دل کو نور سے منور کردیتا ہے اور پھر فرشتوں سے کہتا ہے کہ اے میرے سچے ماننے والے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو رات کی تاریکی میں میری عبادت میں مشغول ہیں حالانکہ مجھے نہ ماننے والے لوگ کھیل وکود میں مصروف اور میرے ماننے والے غافل خواب غفلت میں غرق ہیں لہٰذا تم گواہ رہو کہ میں اس کے تمام گناہوں کو معاف کردیا۔

تحلیل وتفسیر:

اس حدیث میں کئی مطالب توضیح طلب ہیں ایک یہ ہے کہ خدا فرشتوں سے اپنے بند کے کردارپر فخر کررہا ہے کہ جس کی وضاحت کے لئے ایک مقدمہ ضروری ہے کہ وہ مقدمہ یہ ہے کہ جب کسی موضوع پر بندہ اور آقا کے درمیان گفتگو ہوتی ہے تو آقا کی نظر میں بندہ کے کردار وگفتار کے حوالے سے تین حالتیں قابل تصور ہیں:

١) بندہ کے کردار سے مولا خوش ہوجاتا ہے

٢)مولی اس کے کردار وگفتار سے ناراض ہوجاتا ہے ۔

٣)مولیٰ کو اس کے کردار وگفتار سے نہ خوشی ہوتی نہ ناراضگی ۔

پیغمبر اکرم )ص( نے اس حدیث میں غلام کے اس کردار کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جس سے آقا خوش ہوجاتا ہے مثلا ایک ایسا کام جو انسان کی نظر میں انجام دینا مثکل ہو لیکن خدا کی نظر میں اسے انجام دینا امستحب ہو اسے انجام دینے سے مولا خو ش ہوجاتا ہے جیسے نماز شب جس کو انجام دینے سے خدا فرشتوں کے سامنے ناز اور فخر کرتا ہے جب کہ فرشتے کائنات کی خلقت سے لیکر قیامت تک اللہ کے تابع کل ہیں ۔


دوسرا مطلب جو قابل دقت اور توضیح طلب ہے وہ یہ ہے کہ خدا فرشتوں کو اس شخص کے گناہوں کی معافی پر گواہ بنایا ہے جس کا لازمہ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسکی کیا وجہ ہے ؟ شاید اس کی علت یہ ہوکہ خدا کی نظر میں امین ترین مخلوق فرشتے ہیںلہٰذا اس نے وحی کو ہمیشہ جبرئیل کے ذریعہ انبیاء تک پہنچا دیا کیونکہ فرشتے عمل کے حوالے سے کبھی غفلت وفراموشی کاشکار اور اپنی خواہشات کے تابع ہونے کا احتمال نہیں ہے لہٰذا خدا نے اس مسئلہ پر فرشتوں کو گواہ بنایا تاکہ اپنے بندوں کو زیادہ سے زیادہ اطمینان دلاسکے پس اس روایت سے بخوبی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فرشتوں پر ناز کرنے کا سبب نماز شب کی آدائیگی ہے اورخدا کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے ۔

٥۔نماز شب پڑھنے والا فرشتوں کاامام

''قال رسول الله من رزق صلوة اللیل من عبد او امة قام لله عزوجل مخلصا فتوضیاوضوئً سابغاً وصلی الله عزوجل بنیة صادقة وقلب سیلم وبدن خاشع وعین دامعة جعل الله تبارک وتعالی سبعة صفوف من الملائیة فی کل صف مالایحصی عدد هم الا الله تبارک تعالی احد طرفی فی صف باالمشرق والاخر بالمغرب قال فاذا فرغ کتب له بعد دهم درجات ''(١)

اگر کسی (مرد یا عورت ) غلام یا کنیز کو نماز شب انجام دینے کی توفیق حاصل ہو اور وہ خدا کی خاطر اخلاص کے ساتھ نیند سے اٹھ کر وضو کرے پھر سچی نیت، اطمان قلب بدن میں خضوع وخشوع اور اشک بار انکھوں کے ساتھ نمازشب انجام دے تو خدا وند تبارک وتعالی اس کے پیچھے فرشتوں کی سات صفوں کومقرر فرماتا

____________________

(١)امالی صدوق ص ٢٣٠.


ہے کہ ان صفوں میں سے ہر ایک صف کاایک سرا مشرق اور دوسرا سرا مغرب تک پھیلا ہوا ہوگا کہ جس کی تعداد سوائے خدا کے کوئی اور شمار نہیں کرسکتا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جب وہ نماز سے فارغ ہوجائے توخدا ان فرشتوں کی تعداد کے مطابق اس کے درجات میں اضافہ فرماتا ہے

تحلیل وتفسیر حدیث :

اسلام میں امام جماعت کا منصب بہت ہی سنگین اور باارزش منصب ہے کہ جس پر فائز ہونے کی خاطر برسوں سال تز کیہ نفس کرنا اور دینی مسائل اور معارف اسلامی حاصل ہونے کی خاطر ہزاروں زحمات اور مشقتیںاٹھا نے اور خواہشات نفسانیہ کے خلاف جہاد کرنا پڑتا ہے پھر اس مقام کا لائق ہوجاتا ہے۔

اسی لئے پیغمبر اکرم )ص(نے خواہشات نفسانی اور تمیلات سے جنگ کرنے کو جہاد اکبر سے تعبیر فرمایا ہے جب کہ میدان کا رزار میں جاکر دشمنوں سے مقابلہ کرنے کو جہاد اصغر سے تعبیر کیا ہے لہٰذا کوئی شخص ان مراحل کو طے کرے تو امام جماعت کے منصب کا لائق ہوسکتا ہے کیونکہ امام جماعت کے شرائط میں سے اہم ترین شرط عدالت ہے اور عدالت ان مراحل کے طے کئے بغیر ناممکن ہے کہ یہی اس منصب کی اہمیت کو ثابت کرنے میں کافی ہے اگر چہ آج کل زمانے کے بدلنے سے امام جماعت کے منصب کو ایک معمولی منصب سمجھ کر ہر کس وناکس اس کے شرئط کو نظر انداز کرکے اس عظیم منصب پرقابض نظر آتا ہے یہاں تک کہ بعض جگہوں پر سفارش کے ذریعہ امام جماعت معین ہو جاتا ہے

اور دوسری طرف بہت دکھ کی بات یہ ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں امام جماعت جیسا عظیم مقام پر فائز ہونے والے افراد کو ذلت وحقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جب کہ اس کی عظمت اسلام میں کسی سے مخفی نہیں ہے شاید اسکی دو وجہ ہوسکتی ہے


١) ذاتی دشمنی کی بناء پر اس سے نفرت کی جاتی ہے یعنی امام جماعت عدالت اور ایمانداری سے اپنی ذمہ داری انجام دیتا ہے لیکن کچھ منفعت پر ست افراد اپنا الہ کار بنانا چاہتے تھے جن کے کہنے میں نہ آنے پر اسے برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں اور بعض غلط باتیں اسے منسوب کرتے ہیں کیونکہ امام جما عت ان کے منافع اور خواہشات کے منافی ہے۔

٢) دوسری وجہ شاید یہ ہو کہ خود امام جماعت میں عیب ہے یعنی امام جماعت تندکیہ نفس کے مراحل کو طے اور خواہشات نفسانیہ کے میدان میں کامیابی حاصل کئے بغیر اس منصب پرفائز ہے حقیقت میںوہ خدا کی نظر میں اس منصب کے لائق نہیں ہے اس کے باوجود سفارش اور اثروروسوخ کے ذریعہ اس منصب پر قابض ہوجاتا ہے نتیجہ آیات اور احادیث بتانے کے باوجود لوگوں پر اس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ آیات واحادیث کے آثر ہونے میں بیان کرنے والے کا تذکیہ نفس کے مراحل کو طے کرنا شرط ہے جب کہ اس میں یہ شرط نہیں پائی جاتی اسی لئے لوگوں کی نظر میں روز بروز حقیر اور ذلیل ہوتا ہے وگرنہ خدا وندمتعال صاف لفظوں میں فرماچکا ہے :

( ان تنصر الله ینصرکم فاذ کرونی اذکرکم )

تب بھی توپیغمبر اکرم )ص(نے اس حدیث میں فرشتوں کے امام جماعت کی شرائط کا تذکرہ فرمایا جس کے مطابق ہر نماز شب پڑھنے والے شخص کے پیچھے فرشتے اقتداء نہیں کرتے بلکہ فرشتوں کی اقتداء کرنے کے لیے امام جماعت میں درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ۔

١) اخلاص کے ساتھ نیند سے جاگنا چنانچہ اس شرط کی طرف یوں اشارہ فرمایا کہ''قام ﷲ عزوجل مخلصا .''

٢) کامل وضوء کے ساتھ ہو یعنی عام عادی وضو نہ ہو بلکہ ایسا وضو ہوکہ شرائط صحت کے علاوہ شرائط کمالیہ پربھی مشتمل ہو اور کسی بھی نقص وعیب سے خالی ہو چنانچہ اس شرط کی طرف یوں اشارہ فرمایا:فتوضا وضوء سابقا

٣) نماز کو سچی نیت کے ساتھ شروع کیا جانا چاہے یعنی دینوی فوائد اور آخروی نتائج کی خاطر اور خوف ورجاء کی خاطر نہ ہو بلکہ فقط خداوند کریم کو لائق عبادت سمجھ کر شروع کرنا چاہے کہ اس مطلب کو یوں بیان فرمایا :وصلی لله عزوجل بنیة صادقة .چنانچہ یہ اولیاء اللہ اور ائمہؑ اطہار کی سیرت بھی ہے جضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے ۔

٤)ا ضطراب قلبی اور وسوسہ شیطانی دل میں نہ ہو کہ جسکی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے ۔و قلب سلیم


٥) بدن میں خشوع وخضوع ہو یعنی پورے اعضاء وجوارح کی حالت اس غلام کی طرح ہو جو اپنے مولی کے حقیقی تابع ہے اور اس کے حضور میں نہایت ادب واحترام اور انکساری کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اس مطلب کی طرف یوں اشارہ فرمایا وبدن خاشع۔

٦) آنکھیں اشکبار ہوںکہ جس کی طرف یوں اشارہ فرمایا:وعین دامعة

ان تمام شرائط کے ساتھ نماز شب انجام دینے والا خوش نصیب شخص فرشتوں کا امام بن سکتا ہے اور خدا کی نظر میں وہ شخص محبوب تریں افراد میں شمار کیا جاتا ہے جو اس خاکی بشر کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے اور نماز شب کی اہمیت پر بہترین دلیل بھی ۔

٦۔نماز شب باعث خوشنودی خداوند

پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا :

''وثلاثة یحبهم الله ویضحک الهیم ویستبشر بهم الذی اذا انکشف فیئة قاتل وراتهم نفسه لله عزوجل فاما یقتل واما ینصره الله تعالیٰ ویکفیه فیقول انظر واالی عبدی کیف صبرلی نفسه والذی له امراةحسنا ء وفراش لین حسن فیقوم من الیل فیذر شهوته فیذ کرنی ویناجینی ولوشاء رقد والذی اذا کان فی سفر معه رکب فسهروا وسعتبوا ثم هجعوا فقام من السحر فی السراء والضرائ ''(١)

پیغمبر اکرم )ص(نے فرمایا کہ خدا وند تین قسم کے لوگوں سے محبت کرتا ہے اور ان سے خوش ہوجاتا ہے جن میں سے پہلا وہ شخص ہے جو راہ خدا میں اللہ کے دوشمنوں سے اس طرح جنگ کرتے کہ یا جام شہادت نوش کرتا ہے یا خدا کی طرف سے فتح ونصرت آجاتی اور وہ زندہ رہے جاتا ہے اس وقت خدا فرماتا ہے تم میرے اس بندہ کی طرف دیکھیں کہ اس نے میری خاطر کس قدر صبر اور استقامت سے کام لیا۔

(دوسرا) وہ شخص ہے کہ جس کی خوبصورت بیوی ہو اور آرام سکون کے ساتھ نرم وگرم بستر سے لطف انداز ہو اور جس طرح کا آرام وسکون کرنا چاہتے توکرسکتا تھا لیکن ان لذتوں اور خواہشات نفس کو چھوڑکر رات کے وقت اللہ کی عبادت کی خاطر اٹھ جاتے اور اللہ سے رازونیاز کرے ۔

(تیسرا )وہ شخص ہے جو مسافر ہے لیکن اپنے ہم سفر ساتھیوں کو رات کی

____________________

(١)الدرامنثور ج٢/ ٣٨٣


عدم خوابی اور تھکاوٹوں کی شدت کے موقع پر ان کو سلاتے اور خود (عشق الٰہی )میں اس طرح غرق ہوجاتا ہے کہ خوشی اورسختی کی حالت میں بھی سحر کے وقت اٹھاکر خدا کی عبادت کو فراموش نہیں کرتا ۔

تحلیل وتفسیر :

اس حدیث میں پیغمبر اکرم )ص( نے انسانوں کے تین طریقوں سے خداوند کے خوش ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے لہٰذاخلا صہ کے طورپر کہا جائے تو حدیث مجاہدین کی عظمت کو بیان کرتی ہے اورمجاہدین کے دو قسمیں ہیں

۱)خارجی دوشمنوں سے لڑنے والا مجاہد ۔

٢)اور اندارونی دشمنوں سے لڑنے والا مجاہد۔

دونوںقسموں کی تعریف قرآن وسنت میں آچکی ہے اور بیرونی دوشمنوں سے لڑنے والا مجاہدین کے خود اپنی جگہ دوقسمیں ہے

١) امام اور نبی ؐکے اذن سے ان کے ہمراہ دوشمنوں سے مقابلہ کرنے والے جس کو فقہی اصطلاح میں مجاہدکہا جاتا ہے اور اس جنگ کو جہاد کہلاتے ہیں ہے کہ جس کا مصداق عصر غیبت میں منتفی ہے کیونکہ اکثر مجتہدین اور فقہاء عصر غیبت میں جہاد ابتدائی واجب نہ ہونے کے قائل ہیں لہٰذا عصرغیبت میں ایسے مجاہد کے مصداق بھی منتفی ہیں۔

٢) دوسرا مجاہد وہ شخص ہے جو عصر غیبت میں اسلام اور مسلمین اور اسلامی سرزمین اور ناموس کی خاطر جنگ کرتے جس جنگ کو قرآن وسنت اور فقہی اصطلاح میں وفاع کہا جاتا ہے کہ اس کے واجب ہونے کے بارے میں مجتہدین اور صاحب نظر حضرات کے مابین کوئی اختلاف نہیںہے اور جہاد کی طرح یہ بھی واجب ہے اور لڑنے والے کو مجاہد کہا جاتاہے ۔

٣)تیسرا مجاہد وہ شخص ہے جو داخلی دشمنوں سے لڑتے اس داخلی جنگ کو جہاد اکبر کہا جاتا ہے اور لڑے والے کو مجاہد جبکہ اسلحہ لے کر بیرونی دشمنوں سے جنگ کرنے کو جہاد اصغر سے تعبیر گیا ہے یعنی خواہشات اور نفس امارہ سے لڑنے والے افراد کو پیغمبر اکرم )ص( نے مجاہدین اکبر فرمایا ہے کیونکہ اگر انسان کو داخلی دشمنوں پرفتح حاصل ہو تو مولیٰ حقیقی کی پرستش اور اطاعت آسانی سے کرسکتا ہے لہٰذا اگر تزکیہ نفس کرچکا ہو یعنی داخلی دشمنوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوا ہو تو راحت کی نیند چھوڑکر اور سفر کے سختیوں کو برداشت کرکے بھی نماز شب کو فراموش نہیںکرتا کہ اس حدیث میں ایسے ہی مجاہدین کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے افراد کے ساتھ خدا روز قیامت پیار ومحبت اور خندہ پیشانی سے پیش آئے گا اور یہ حقیقت میں خدا کی طرف سے بہت بڑا مقام اور عظیم مرتبہ ہے لہٰذا نماز شب کو فراموش نہ کیجئے کیونکہ نماز شب میں دنیوی اور ابدی زندگی کی کامیابیاں مضمر ہے اور انجام دینے والے مجاہد ہیں جو اس خاکی زندگی میں بڑااعزازہے۔


''قال الامام علی ثلاثة یضحک الله الهیم یوم القیامة رجل یکون علی فراشیه وهویحبها فیتوضاء ویدخل المسجد فیصلی ویناجی ربه'' (١)

حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا روز قیامت تین قسم کے انسانوں کے ساتھ خندہ پشیمانی سے پیش آئے گا کہ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جواپنی بیوی کے ساتھ بستر پر محبت کی لذت سے لطف اندوز ہو لیکن آپس کے پیارے ومحبت کو عشق الٰہی پر فدا کرتے ہوئے وضو کرتے اور مسجد میں جاکر اپنے پروردگار کے ساتھ راز ونیاز میں مشغول ہوجاتے اور نماز شب ادا کرتے ۔

توضح وتفسیر روایت :

آج دنیا میں اگر کوئی شخص نمازی ہو اور احکام اسلام کا پابند ہو تو بعض غیر اسلامی ذہانیت کے حامل کچھ افراد خیال کرتے ہیں کہ یہ شخص بہت بے وقوف ہے کیونکہ یہ مادی لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کررکھا ہے چونکہ انکی نظر میں اسلامی رسم ورواج اور احکام کے مطابق عمل کرنا اپنے آپ کو نعمتوں سے محروم کرکے بدبختی سے دوچار کرنے اور زندان میں بند کر نے کا مترادف ہے جب کہ حقیقت میں یہ ان کا اسلام سے ناآ شنا ہونے کی دلیل ہے کیونکہ تعلیمات اسلامی کبھی بھی مادی لذت سے محروم رہنے اوردیگر مادیات سے استفادہ نہ کرنے کا حکم نہیں دیا ہے لہٰذا اس قسم کی باتوں کا اسلام کی طرف نسبت دینا ناانصافی ہے کیونکہ نظام

____________________

(١) الاختصاص ص ١٨٨


اسلام انسان کو انسانی زندگی گزارنے کی ترغیب اور حیوانوں کی طرح زندگی کرنے سے منع کرتا ہے کہ جس کے نتیجے میں حیوانوں کے زمرے میں زندگی گذارنے والے افراد نظام اسلام کو سلب آزادی اور خواہشات کے منافی سمجھتے ہیں لہٰذا اس روایت میں ایسی خام خیالی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا، اگر کسی وقت مادی لذت اور معنوی اور روحی لذتوں کا آپس میں ٹکراؤہو یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ عشق انسانی عشق خدا کے ساتھ ٹکراجائے تو عشق الٰہی کو عشق انسانی پر مقدم کیا جائے کہ جس کے نتیجہ میں خدا وند ابدی زندگی میں خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئے گا لہٰذا نمازی اور اسلام کے اصولوں کی پابندرہنے والے کسی مادی لذت سے محروم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اگر کوئی شخص آدھا گھنٹہ کے ارام کو چھوڑدے اور نماز شب انجام دے تو خدا قیامت کے دن اس کے بدلے میں دائمی لذت عطا فرمائے گا لہٰذا اس مختصر وقت کی مادی لذت کا قیامت کی دائمی لذت کے حصول کی خاطر ترک کرنا لذت مادی سے محروم نہیں ہے ۔

٧۔نماز شب پڑھنے کا ثواب

انسان روز مرہ زندگی میں جو کام انجام دیتا ہے وہ دوطرح کا ہے۔

١۔ نیک ۔

٢۔ بد ۔

نیک عمل کو قرآن وسنت میں عمل صالح سے یادکیا گیا ہے جب کہ بداوربرُے اعمال کو غیر صالح اور گناہ سے یاد کیا گیا ہے مندرجہ زیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عمل صالح کا نتیجہ ثواب ہے اورہر بُرے اعمال کا نتیجہ عقاب ہے لیکن ثواب اور عقاب کا استحقاق اور کمیت وکیفیت کے بارے میں محققین اور مجتہدین کے مابین اختلاف نظر ہے علم اصول اور علم کلام میں تفصیلی بحث کی گئی ہیں اس کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے ۔

ثواب وعقاب کے بارے میں تین نظرئیے ہیں:

١) ثواب وعقاب اور جزاء وعذاب جعل شرعی ہے۔

٢)عقاب وثواب جعل عقلائی ہے ۔

٣) دونوں عقلی ہے یہ بحث مفصل اور مشکل ترین مباحث میںسے ایک ہے۔


جس کا اس مختصر کتاب میں نقدوبررسی کی گنجائش نہیں ہے فقط اشارہ کے طور پر ثواب وعقاب کے بارے میں استاد محترم حضرت آیت اللہ العظمی وحید خراسانی کا نظریہ قابل توجہ ہے کہ آپ نے درس اصول کے خارج میں فرمایا کہ ثواب وعقاب کا استحقاق عقلی ہے لیکن ثواب وعقاب کا اہدٰی اور اعطا امر شرعی ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی نیک کام کو انجام دے تو عقلا عمل کرنے والا مستحق ثواب ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کسی برے کام کا مرتکب ہو تو عقاب وسزا کا عقلا مستحق ہے لیکن ان کا اہدی کرنا اور دنیا امر شرعی ہے یعنی اگر مولٰی دنیا چاہے تو دے سکتا ہے نہ دنیا چاہے تو مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ عبد کسی چیز کا مالک نہیں ہے لہٰذا ثواب وعقاب کا مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں رکھتا ہے پس ثواب وعقاب ہر نیک اور بد عمل کا نتیجہ ہے کہ جس کی طرف حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے :

''مامن عمل حسن یعمله العبد الا وله ثواب فی القرآن الاصلوة اللیل فان الله لم یبین ثوابها لعظیم خطرها عنده فقال تتجا فاجنوبهم عن المضاجع فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قرة اعین جزاء بما کا نو یکسبون ''(٣)

یعنی ہر نیک کام جیسے بندہ انجام دیتا ہے تو اس کا ثواب بھی قرآن میں مقرر کیا گیا ہے مگر نماز شب کا ثواب اتنازیادہ ہے کہ جس کی وجہ سے قرآن میں اس کا ثواب مقرر نہیں ہوا ہے (لہٰذا )خدا نے (نماز شب کے بارے میں ) فرمایا کہ( تتجافا جنوبهم عن المضاجع ) یعنی نماز شب پرھنے والے اپنے پہلوں کو رات کے وقت بستروں سے دور کیا کرتے ہیں اور اس طرح فرمایا :( فلا تعلم نفس ما اخفی من قرة عین بما کا نو ایکسبون ) یعنی اگر کوئی شخص نماز شب انجام دے تو اس کا مقام اور ثواب مخفی ہے اسے وہ نہیں جانتے ۔

____________________

(٣)بحارج ٨ ص٣٨٢


توضیح وتفسیر

توضیح اس حدیث شریف میں فرمایا کہ ہر نیک کام کرنے کے نتیجہ میں ثواب ہے اور ان کا تذکرہ بھی قرآن میں کیا گیا ہے صرف نماز شب کے ثواب کو قرآن میں مقرر نہیں کیا گیا ہے اس کی علت یہ ہے کہ اس کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ جیسے خالق نے پردہ راز میں رکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب تمام مشکلات کو دور کرنے کا ذریعہ کامیابی کا بہترین وسیلہ اور سعادت دنیا وآخرت کے لیے مفید ہے لہٰذا خدا سے ہماری دعا ہے کہ ہم سب اس نعمت سے مالامال ہوں پس مذکورہ آیات وروایات سے نماز شب کی اہمیت اور عظمت قرآن وسنت کی روشنی میں واضح ہوگئی ۔

ج۔نماز شب اور چہاردہ معصومین )ع( کی سیرت

الف: پیغمبر اکرم )ص( کی سیرت

مذہب تشیع کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انبیاء وائمہ علیہم السلام کے علاوہ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) جیسی ہستی کو بھی معصوم مانتے ہیں کہ جو ہماری کتابوں میں چہاردہ معصومین کی عنوان سے مشہورہیں جن میں سے پہلی ہستی حضرت پیغمبر اکرم )ص(ہے اور پیغمبر اکرم )ص( اور باقی انسانوں کے مابین کچھ احکام الہیہ میں فرق ہے یعنی خدا کی طرف سے کچھ احکام پیغمبر اکرم )ص( پر واجب ہے جبکہ یہی احکام دوسرے انسانوں کے لئے مستحب کی شکل میں بیان ہوئے ہیں جیسے نماز شب پس اسی مختصر تشریح سے بخوبی یہ علم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم )ص(کی سیرت میں نماز شب کا کیا نقش واثر تھا لہٰذا پیغمبر اکرم کی سیرت طیبہ پر چلنے کی خواہش رکھنے والوں کو نماز شب ہمیشہ انجام دینا ہوگا کیونکہ آنحضرت بطور واجب ہمیشہ انجام دیتے تھے

ب۔حضرت علی کی سیرت

چہاردہ معصومین میں سے دوسری ہستی حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہیں اگر ہم نماز شب کے بارےے میں علی کی سیرت جاننا چاہے تو علی کے ذرین جملات سے آگاہ ہونا صروری ہے آپ نے فرمایا جب پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا نماز شب نورہے تو میں نے اس جملہ کے سننے کے بعد کبھی بھی نماز شب کو ترک نہیں کیا اس وقت ابن کویٰ نے آپ سے پوچھا یاعلی کیا آپ نے لیلۃ الھریر کو بھی نہیں چھوڑی ؟ جی ہاں.


توضیح :

لیلۃ الہریر سے مراد جنگ صفین کی راتوں میں سے ایک رات ہے کہ جس رات امرالمومنین کے لشکر نے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور خود حضرت علی نے دشمنوں کے پانچ سو تئیس (٥٢٣) افراد کو واصل جہنم کیا اس فضا اورماحول میں بھی حضرت علی نے نماز شب کو ترک نہیں فرمایا(١)

یہی نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کی بہترین دلیل ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے تمام تر سختیوں اور مشکلات کے باوجود قرآن وسنت کی حفاظت کی خاطر بہتر (٧٥) جنگہوں میں شرکت کی اور ہر وقت اصحاب سے تاکید کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ ہماری کامیابی صرف واجبات کی ادائیگی میں نہیں ہے بلکہ نماز شب جیسے نافلہ میں پوشیدہ ہے اسی لئے آپ سے منقول ہے کہ ایک دن ایک گروہ حضرت علی کے پیچھے پیچھے جارہے تھے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ماننے والے ہیں آپ نے فرمایا تو پھر کیوں ہمارے ماننے والوں کی علامات تم میں دیکھائی نہیں دیتی۔

تو انہوں نے پوچھا آپ کے ماننے والوںکی علامت کیا ہے ؟آپ نے فرمایا کہ ان کے چہرے کثرت عبادت سے زرد اور بدن کثرت عبادت کی وجہ سے کمزور ،زبان ہمیشہ ذکر الہی کے نتیجہ میں خشک اور ان پر ہمیشہ خوف الہی غالب آنا ہمارے پیروکاروں کی علامتیں ہیں کہ جو تم میں نہیں پائی جاتی ،(۲)

پس خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علی کی سیرت نماز شب کے بارے میں وہی ہے جو حضور اکرم اور باقی انبیاء علیہم السلام کی تھی

____________________

(١)کتاب صفات الشیعہ

(۲)بحارالانوار ج ٢١


ج۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت

چہاردہ معصومین )ع( میںسے تیسری ہستی حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) ہے کہ جو عبادات اور تہجد میں ایسی سیرت کے مالک ہے کہ جس کے پیغمبر اکرم )ص( اورعلی علیہ السلام تھے لہٰذا جب آپ محراب عبادت میں مشغول عبادت ہوتی تھی تو فرشتے دولت سراء میں حاضر ہوجاتے تھے اور آپ کے گھریلوکاموں کو انجام دیتے تھے کہ اس مطلب کو حضور اکرم کے مخلص صحابی جناب ابوذر غفاری نے یوں بیان کیا ہے کہ ایک دن پیغمبر اکرم نے مجھے حضرت علی کو بلانے کے لئے بھیجا تو میں نے دیکھا کہ علی اور زہرا (سلام اللہ علیہا ) مصلی پر عبادت الہٰی میں مشغول ہیں اور چکی بغیر کسی پسینے والے کے حرکت کر ر ہی تھی میں نے اس منظرکو پیغمبر ؐکی خدمت میں عرض کیا تو پیغمبر اکر م ؐنے فرمایا اے ابوذر تعجب نہ کیجئے کیونکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ) کی اتنی عظمت اور شرافت خدا کی نظر میں ہے کہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے گھریلو ذمہ داریوں میں سے ایک چکی چلانا بھی ہے لیکن جب زہرا (سلام اللہ علیہا ) خدا کی عبادت میںمصروف ہوجاتی ہے تو خدا ان کی مدد کےلئے فرشتے مأمور فرما تے ہیں لہٰذا چکی کو چلانے والے فرشتے ہیں نیز امام حسن مجتبٰی علیہ السلام نے فرمایا جب ہماری والدہئ گرامی شب جمعہ کو شب بیداری کرتی تھی تو نماز شب انجام دینے کے بعد جب صبح نزدیک ہوجاتی تو مؤمنین کے حق میں دعائیں کرتی تھی لیکن ہمارے حق میں نہیں کرتی تھی میں نے پوچھا ہمارے حق میں دعا کیوں نہیں فرماتیں تو آپ نے فرمایا پہلے ہمسائے کے حق میں دعا کرنا چاہیئے پھر خاندان پس حضرات زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر چلنے کی خواہش رکھنے والی خواتین کو چاہے کہ نماز شب نہ بھولے کیونکہ نماز شب ہی میں تمام سعادتیں پوشیدہ ہے ۔


د۔حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی سیرت

جس طرح جناب فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا )کی معرفت وعظمت سے ابھی تک اہل اسلام بخوبی آگاہ نہیں ہوسکے اسی طرح جناب زینب کبری (سلام اللہ علیہا ) کی انقلاب ساز شخصیت سے آشنا ئی نہیں رکھتے لہٰذا بی بی زینب (سلام اللہ علیہا ) زندگی کے ہر میدان میں انسانیت کے لئے ایک کامل نمونہ عمل ہے یہی وجہ ہے کہ آپ (سلام اللہ علیہا ) ہمیشہ اپنی والدہ گرامی کی طرح رات کی تاریکی میں محراب عبادت میںخدا سے راز ونیاز میں مشغول رہتی تھی۔

اس امر کا انکشاف تاریخ کر تی ہے کہ کربلا ء کوفہ اور شام میں درپیش عظیم مصائب کے باوجود بی بی تلاوت قرآن اور نماز شب انجام دیتی تھی اور ساتھ اپنے اہل بیت اور رشتہ داروں کو بھی اس کی تلقین فرماتی تھی اسی طرح نماز شب کا انجام دینا نہ صرف بی بی زہرا (سلام اللہ علیہا اور زینب (سلام اللہ علیہا ) کی سیرت ہے بلکہ زہرا (سلام اللہ علیہا کی خادمہ فضہ کی بھی سیرت تھی۔

پس خواتین اگر جناب زہرا (سلام اللہ علیہا ) جناب زینب (سلام اللہ علیہا ) اور فضہ خادمہ کی سیرت پر چلنا چاہتی ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ نماز شب فراموش نہ کریں ۔

ز۔نماز شب اور باقی ائمہ )ع(کی سیرت

آئمہ علیہم السلام میں سے دوسرا اور چہاردہ معصومین میںسے چوتھی ہستی حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ہے اگر آپ کی سیرت کا مطالعہ نماز شب کے حوالے سے کیا جائے تو وہی سیرت ہے جو پیغمبر اکرم )ص( کی سیرت طبیہ تھی لہٰذا آپ ہمیشہ رات کے آخری وقت میں نماز شب انجام دیتے تھے اسی لئے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد اس پر آشوب فضاء اور ماحول میں اسلام اور قرآن اور خاندان رسالت کے نام زندہ رہنا نا ممکن تھا لیکن آپ کی عبادت اور شب بیداری کے نتیجہ میں قرآن واسلام کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی حقانیت کو بھی ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے نیز حضرت امام حسین علیہ السلام کی پوری زندگی عبادت الہی اور قرآن وسنت کی حفاظت میں گزری۔


لہٰذا کہا جاتاہے کہ آپ کی سیرت طیبہ میں اہم ترین سیرت نماز شب ہے آپ رات کو خدا سے راز ونیاز کرنے کے اتنے عاشق تھے کہ جب کربلاء میں پہنچے تو آپ اپنے بھائی جناب عباس سے تاسوعا( نویں) محرم کے دن کہنے لگے کہ آپ دشمنوں سے ایک رات کی مہلت لیجئے تاکہ آخری شب قرآن کی تلاوت اور عبادت الہی میں گزار سکوں کیونکہ خدا جانتا ہے کہ مجھے نماز شب اور تلاوت قرآن سے کتنی محبت ہے نیز امام سجاد علیہ السلام کی سیرت بھی عبادت الہی کے میدان میں کسی سے مخفی نہیں ہے کیونکہ آپ کو دوست ودشمن دونوں سیدالساجدین اور زین العاہدین کے لقب سے یاد کرتے تھے لہٰذا آپ کی پوری زندگی یزید (لعنۃ اللہ علیہ) کی سختیوں کے باوجود سجدے اور شب بیداری میں گذاری چنانچہ اس کا اندازہ ہم ان سے منقول ادعیہ جو صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے کرسکتے ہیں یہ آپ کی شب بیداری کا نتیجہ تھا کہ جس سے دشمنوں کو ناکام ہونا پڑا اسی لئے آپ کی شب بیداری اور عبادت کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے :

''وکان علی ابن الحسین یقول العفو تلاثماة مرة فی الوترفی السحر ۔''

امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا یہ معمول تھا کہ آپ ہمیشہ وتر کے قنوت میں سحر کے وقت تین سو مرتبہ العفو کا ذکر کہا کرتے تھے۔

لہٰذا ہر سختی ومشکل کے موقع پر کام آنے والا واحد ذریعہ نماز شب ہے جو تمام انبیاء اور ائمہ کی تعلیمات سے بھی واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اس عظیم وسیلہ سے مددلی ہے اور دوسروں کو اس کی دعوت دی ہے اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت کا اندازہ ان سے منقول روایات سے بخوبی کرسکتے ہیں نیز امام موسی کاظم باب الحوائج علیہ السلام امام رضاعلیہ السلام امام محمد تقی علیہ السلام امام علی نقی علیہ السلام امام حسن العسکری علیہ السلام اور امام زمان علیہ السلام ان تمام حضرات کی سیرت میں بھی نماز شب واضح طور پر نظر آتی ہے کہ جو ہر سختی کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہے ۔


د۔علماء کی سیرت اور نماز شب

علم ومعنویت کے میدان میں ہماری ناکامی کی دووجہ ہوسکتی ہیں:

١) قرآنی تعلیمات اور چہاردہ معصومین کی سیرت کو اپنی روز مرہ زندگی کے لئے نمونہ عمل قرار نہ دینا۔

٢) بزرگ علمائے دین حضرات کی سیرتوں پر نہ چلنا جس سے انسان اخلاقی اور اصول وفروع کے مسائل سے بے خبر رہ جاتا ہے لہٰذا اگر انسان ان کی سیرت پر نہ چلے تو دنیوی زندگی میں ناکام اور شقاوت سے ہمکنار اوراخروی زندگی میں بد بختی اور نابودی کے علاوہ کچھ نہیں پا سکتا لہٰذا نماز شب کے بارے میں علماء اور مجتہدین کی سیرت کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ تہجد گزار حضرات کے لئے اطمنان قلب اور تشویق کا باعث بنے کیونکہ مجتہدین، عصر غیبت میں ائمہ علیہم السلام کے نائب اور حجت خدا ہیں تب ہی تو قرآن میں فرمایا:

''انما یخشی الله من عباده العلمائ ۔''

اور ائمہ علیہم السلام نے فرمایا:

''العلماء امنا العلماء ورثة الانبیاء ۔''

الف )نماز شب اورامام خمنی کی سیرت :

دور حاضر کے مجتہدین میں سے ایک آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی ہے جنہوں نے اسلام کے پرچم کو بیسویں صدی کے اواخر میں بلند کرکے مذہب تشیع کے اس نظرئیے کی ایک بار پھر تجدید کردی کہ علمائے ربانی ہی ائمہ علیہم السلام کے حقیقی وارث اور نائب ہیں اور انہیں کی پیروی، چاہے دنیوی امور میں ہو یا دینی تمام میں لازم ہے ان کی زندگی آنحضرت ؐاور ائمہ اطہار کی سیرت کے مطابق تھی یہی وجہ ہے کہ وہ تمام انسانوں میں ایک بڑے مقا م پر فائز ہوئے اور دنیا ان کے عظیم کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور دنیاء کے اہل علم حضرات کو چاہئے کہ وہ ان کہ اسلامی اورانقلابی افکار کو ہمیشہ اپنے لئے مشعل راہ بنائیں وہ عالم باالزمان تھے اسی لیئے انہوں نے معاشرے کو اسلامی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی اور شرق وغرب کے طاغوت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرکے رکھ دیا یہ تمام طاقت اور مدد اسلام کے انسان ساز عبادی پہلوںسے کما حقہ فیض اٹھانے کی وجہ سے حاصل ہوئی چنانچہ یہی وجہ ہے کہ فرعون ایران کے سپاہی آپ کوگرفتار کرکے تہران لے جارہے تھے


تو انہوں نے مامورین سے نماز شب انجام دینے کی اجازت مانگی اسی طرح جب وہ ایک روز بیمار ہوئے تو ہسپتال میں مرض کی حالت میں بھی نماز شب کو قضا نہ ہونے دیا.تیسرا موقع وہ ہے کہ جب امام خمینیؒ نجف اشرف سے کویت جانے پر مجبورہوئے توسفر کے باوجود انھوں نے نمازشب انجام دی اسی طرح اوربھی متعد دموارد ا ن کی حالات زندگی میں ملتے ہیں اسی لئے آج اکیسویں صدی کی دنیا حیران ہے کہ ایک عمررسیدہ ناتواں انسان نے اڈھائی ہزار سالہ شہنشا ہیت کے بت کو اس طرح سر نگون کر کے رکھ دیا اس کی وجہ کیا تھی؟جبکہ وہ کسی خاص سیاسی ترتیب گاہ کے ترتیب یا فتہ نہ تھے اورنہ ہی کسی سیاسی گھرانے میں پرورشںپائی تھی۔اس کا راز نماز شب جیسی انسان ساز عبادت اور اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہوناہے اسی لیے انہوں نے اس دنیا میںاپنے جانے سے پہلے اس فکرکو چھوڑا کہ اسلام کانظام ہی فقط دنیاء کے قوانین پرحاکم ہے اورکسی شرق وغرب کے قوانین کو یہ حق حاصل نہیںہے کہ وہ عوام پرحکومت کرلے.

(ب) شہیدمطہری کی سیرت

چنانچہ آپ جانتے ہیںکہ شریعت اسلام میںجام شہادت نوش کرنے کی فضیلت اوراہمیت کیاہے جام شہادت نوش کرنے کی توفیق ہرانسان کونہیںملتی تب ہی تو خداوندنے فرمایا(بل احیاء عند ربھم یرزقون) لہٰذا جام شہادت نوش کرنے کیلےئ کچھ خاص اسباب در کار ہیں شہید مطہری کو بار گاہ ایزدی میں سجدہ زیر ہونے کی توفیق حاصل ہوئی تھی اس لیے شہادت نصیب ہوئی شہید ہونے کا سبب ان کی نماز شب اور خدا سے راز ونیاز اوردیگرمستحبات کو انجام دنیا تھا کہ جس کوپابندی کے ساتھ انجام دینے کا سلسلہ طالب علمی کے زمانہ ہی سے شروع کررکھا تھاچنانچہ اس مطلب کو ان کے ساتھیوں میں سے کچھ نے یوں نقل کیا ہے کہ شہید مطہری مدرسہ میں نماز شب کے سختی سے پابند تھے اور ہمیں بھی تہّجد انجام دینے کی نصیحت کرتے تھے لیکن ہم شیطان کے فریب اور دھوکے کی وجہ سے بہانے کیا کرتے تھے جیساکہ کہاایک دن کسی دوست کو نماز شب انجام دینے کی نصیحت فرمائی لیکن انہوں نے کہا مدرسہ کاپانی میرے لیے مضرہے لہٰذا میںوضوء نہیں کرسکتا کیونکہ مدرسہ کاپانی نمکین ہے جومیری آنکھ کے لیے نقصان دہ ہے.شہیدمطہری نے دوست کے اس عذر کے پیش نظر آدھی رات کے وقت مدرسہ سے دورایک نالہ بہتا تھااس سے پانی لے آئے تاکہ ان کادوست نمازشب جیسی نعمت سے محروم نہ رہے۔


اسی طرح شہیدکے بارے میںرہبر نے نقل کیا کہ شہیدمطہری نماز شب کے بے حدپابند تھے یہی وجہ ہے کہ آج کل محققین پریشان نظرآتے ہیںکہ مطہری کے افکار کیوںاس قدرمعاشرے میںزیادہ مئوثر ہیں؟جبکہ ان کے نظریہ دوسرے محققین کے نظریات سے ذیادہ مستدل نہیں ہیں.اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نماز شب اورشب بیداری کے ساتھ نظریات کو جمع کیئے ہوئے تھے اس کے نتیجہ میں معاشرے پران کے افکارذیادہ مؤثر ہیں.

(ج) نماز شب اورعلاّمہ طباطبائی کی سیرت:

دنیاکاہردانشمند جانتاہے کہ علاّمہ طبا طبایئ دینی اورفلسفی مسائل میں اکیسویں صدی کے تمام محققین سے آگے تھے چنانچہ شہیدمطہری نے علاّمہ طباطبائی کے بارے میں یوں فرمایا علاّمہ طباطبائی کی شخصیت اوران کے عمیق نظریات کولوگ مزیدایک صدی کے بعد سمجھ سکیںگے کہ جس کی تائیدالمیزان جیسی تفسیرقرآن کے مطالعہ سے ہوتی ہے کہ اتنی توفیق ہمّت اورفہم وادراک کسی عام انسان کوحاصل ہونا محال عادی ہے۔

اسی لیئے سوال کیا جاتا ہے کیوں اتنی مالی مجبوری ہونے کے باوجودکوئی اورپشت پناہ نہ ہونے کے علاوہ علم کے سمندراوربے بہاگوہرآج حوزہ علمیہ قم اوردیگر جہاںکے گوشے میں علاّمہ طباطبائی کے نام سے منّورہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ علوم دینی کے حصول کی خاطر نجف اشرف تشریف لے گےئ تو کھبی کہبار مرحوم عارف زمان قاضی کی زیارت کو جاتے تھے انہوں نے ان کے حوالے دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن قاضی نے مجھ سے فرمایا:

.اے طباطبائی دنیاچاہتے ہویاآخرت؟اگر آخرت کے خواہاںہو تو نماز شب انجام دو کیونکہ آخرت کی زندگی نمازشب میں مخفی ہے اس بات نے مجھ پراتنا اثر کیاکہ نجف سے ایران آنے تک شب وروز قاضی کی مجلس میں جاتاتھا تاکہ ایسے مؤثرنصائح سے زیادہ متفید ہوسکوں اس وقعہ میں علاّمہ نے صریحاً نہیں کہا کہ میں ایران واپس آنے تک ہمیشہ ان کی نصیحت کی وجہ سے پابندی کے ساتھ نماز شب انجام دیتا رہا ہوںلیکن اشارتاً مطلب روشن ہے لہذا آپ کی تہجدّاور تقویٰ کانتیجہ ہے کہ آج ان کی عملی تالئیفات پر حوزے کے تمام دانشمدناز کرتے ہو ئے نظرآتے اور ان کے تربیت یافتہ شاگرد علم تقویٰ میں دوسروں سے آگے نظر آتے ہیںپس توفیق اور ہمّت کا عظیم سر چشمہ نماز شب ہے کہ جس سے ہمیں کھبی فراموش نہیں کرناچاہےئ.


(د) نمازشب اور شہید قدّوسی کی سیرت

شہیدقدّوسی مستحبّات کی انجام دہی اورمکروہات کو ترکرنے میں خاصہ پابندتھے.وہ نمازشب کی اہمیت کے اس قدر قائل تھے کہ مدارس دینیہ طلاّب اور علمائے کرام کے لیئے نمازشب کوپابندی کے ساتھ انجام دینا لازم سمجھتے تھے یعنی اگر کویئ طالب علم نماز شب انجام دینے میںکوتاہی کرے توان کی نظر میںطالب علم شمار نہیں ہوتا تھا اسی طرح بہت سی علماء اور مجتہدین کی سیرت نماز شب اوررات کو خداسے رازونیاز کرناہی رہی لہٰذااگر خلاصہ کہا جائے تویہ نتیجہ نکلتا ہے جتنے بھی مجتہدین گزرے ہیں یا اس وقت زندہ ہیں ان تمام حضرات کی زندگی نمازشب میںخلاصہ ہو جاتا ہے اور محترم اساتذہئ کرام مرحوم آیۃ اﷲ العظمیٰ بروجردی کے حوالہ سے نقل کرتے تھے کہ آقای بروجردی نے کہا مرحوم آیۃاﷲ محمدباقرآیۃاﷲمیرزا آیۃاﷲقوچانی وغیرہ نماز شب کے قنوت میں قیام کی حالت میں دُعائے ابوحمزہ ثمالی پڑھاکرتے تھے۔

(ر)نماز شب اور مرحو م شیخ حسن مہدی آبادی کی سیرت:

ہمارے استاد محترم مؤ سس مدارس دینیہ و مراکز علمیہ محسن ملت مرحوم شیخ مہدی آبادی کی سیرت ہم سب کے لئے نمونہ عمل ہے کیونکہ آپ ہمیشہ طلباء اور علماء سے تہجد کی سفارش کے ساتھ ہمیشہ پابند رہتے تھے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بلتستان جیسے پسماندہ علاقہ میں علوم آل محمد کے شمع جلائے اور بیسیوں مدارس سیکڑوں دینیات سینٹر ز مساجد امام بارگاہیں اور دینی مراکز قائم کر کے مذہب اہل البیت ؑ کی ترویج کا ایسا وسیلہ فراہم کیا جو رہتی دنیا تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ ان کو تہجد گذاروں کے ساتھ محشور فرمائیں۔


دوسری فصل

نمازشب کے فوائد

جب کسی فعل کے نتائج اور فوائدکے بارے میںگفتگوہوتی ہے تو ہر انسان کے ذہن میںفوراًیہ تصور پیداہوتا ہے کہ کیا چیز ہے کہ جس کے خاطرانسان ہرقسم کی زحمات کوبرداشت کرتاہے تاکہ اس فائدہ اورنتیجہ سے محروم نہ رہے لہٰذاضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے فائدہ کی حقیقت اورنتیجے کاخاکہ ذہن میںڈالیں تاکہ ہمیں اپنے کاموں میں زیادہ مطمئن ہوفائدہ اور نتیجہ کی دواصطلاح ہیں:

١)اصطلاح فقہی۔

٢)اصلاح عوامی وعرفی ۔

اصطلاح فقہی میںفائدہ اس چیزکو کہا جاتا ہے جوفعل کے مقدار سے ذیادہ ہو جیسے ایک شخص کسی کے ہاں مزدوری کرتاہے تواس کی اجرت کام کے گھنٹوں کی مقدارسے زیادہ ہو تواس وقت فائدہ کہا جاتا ہے لہذا اگر کوئی شخص کسی کے ہاں کام کرتاہو لیکن اجرت کی مقدارگھنٹوںکی مقدار سے کم ہوتواس کونقصان اورخسارہ کہاجاتا ہے.اسی طرح اگرکسی چیزکی اُجرت وقت کے مقدارکے برابرہو تواس وقت فائدہ اورنقصان دونوںتعبیراستعمال نہں ہوتے.

لیکن عرف اورعوامی اصطلاح میں فعل کے نتیجے کو فائدہ کہا جاتاہے چاہے وہ نتیجہ فعل کے مقدار سے کم ہویازیادہ ہویابرابرہواسی لیے عوامی اصطلاح میں فائدہ کا مفہوم فقہی اصطلاح سے زیادہ وسیع ہے اور ہماراموردبحث نمازشب کے فوائدکواصطلاح عرف میں بیان کرنامقصدہے کہ جس کوبیان کرنے سے عاشقین الٰہی کواطمینان حاصل ہواورفائدے کی حقیقت سے بھی آگاہ ہو ، لہٰذااس مختصرکتاب میں نماز شب کے فوائدکے اقسام کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے.

نماز شب کے اہم فائدے تین طرح کے ہیں:


١)دنیامیںنمازشب کے آثاراورفوائد۔

٢)نمازشب کے فوائدبرزخ میں۔

٣)نمازشب کے فوائداورنتائج آخرت میں۔

البتہ ان تین قسموں کوبعض علماء اورمحققین نے دوقسموں میں تقسیم کیئے ہیں:

نمازشب کے مادی فوائدیعنی دینوی فوائد کومادی کہا جاتا ہے اور اخروی فوائد۔

لہٰذااس تقسیم کے بنا پرعالم برزخ اورعالم آخرت سے مربوط فوائد کو معنوی کہاجاتا ہے۔لیکن وہ فوائدجودینوی اورمادی ہیںان کی خود متعددقسمیں ہیں۔

(١)نمازشب باعث صحت

اگرآپ نمازشب پڑھیں گے تو نماز شب آپ کی تندرستی اورصحت بدن کا باعث بنتا ہے کہ دنیا میںتندرستی اورصحت اتنااہم اوردوررس موضوع ہے جس کو ہرانسان شخصی اوراجتماعی طورپر سرمایہ اورنعمت سمجھتا ہے۔نیزدنیا کے ہرنظام خواہ اسلامی ہویاغیر اسلامی اسے ضروری اورمحبوب قرار دیتاہے لہٰذا اگرہم کڑی نظر سے دیکھیںاوردقت کریںتومعلوم ہوتا ہے کہ دنیاکے کسی گوشے میںایسی کوئی حکومت اورملک نہیں ہے کہ جس میںاس معاشرے کے صحت اور تندرستی کہ خاطر کوئی پروگرام اورشعبہ مقررنہ کیا گیا ہولہٰذاہرحکومت اورنظام کی کوشش یہی رہی ہے کہ معاشرہ ہر قسم کے امراض اور بیماریوںسے پاک ہواورا مراض سے روک تھام کی خاطر ایک ماہر شخص کو وزیر صحت کے نام سے مقررکیا جاتا ہے اور وزیر تعلیم کی کوشش اور جدو جہد بھی یہی رہی ہے کہ سائنس اور علم الطب میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنائے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ معاشرہ کے امراض اور بیماریوں کو صحیح طریقے سے ٹھیک کرسکیں لہٰذا ہر گورنمنٹ اور حکومت اپنی درآمدات کے حساب سے سب سے زیادہ رقم تندرستی کے لوازمات کو فراہم اور مہلک امراض سے تحفظ کرنے کی خاطر مقرر کرتی ہے تاکہ تندرستی اور صحت یابی سے معاشرہ محروم نہ رہے ۔

اس طرح ہر حکومت اور نظام انسان کی صحت اور تندرستی کو بحال رکھنے کی خاطر کھیلوں اور دیگر مفید تفریحی پروگرام کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے تاکہ معاشرہ صحت اور تندرستی جیسی نعمت سے مالامال ہو ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا میں تمام موضوعات سے اہم موضوع صحت اور تندرستی کا موضوع ہے لہٰذا اس موضوع میں کامیاب ہونے کی خاطرہر انسان ہزاروں زحمات اور تکالیف برداشت کرتا ہے اور کروڑوں روپیہ امراض سے بچنے اور تندرست رہنے کے لئے خرچ کرتا ہے چونکہ صحت اور تندرستی جیسی نعمت دنیا میں کمیاب ہے لیکن نظام اسلام اور باقی نظاموں میں صحت کے حوالے سے ایک فرق ہے وہ فرق یہ ہے


کہ غیر اسلامی نظاموں میں صرف مادی صحت اور تندرستی مورد نظر ہے لیکن اسلامی نظام کی نگاہ انسان کے دونوں پہلؤں کی طرف ہے یعنی روح اور بدن دونوں کی تندرستی اور صحت یابی مورد نظر ہے صحت کے اصولوں کی نشاندہی بھی کی ہے کہ جس کی رعایت کرنے سے انسان روحی اور جسمی تندرستی سے مالامال ہوسکتا ہے لہٰذا فقہ میں مستقل ایک بحث ہے کہ اگر کوئی شخص مریض ہو تو کیا علاج کروانا واجب ہے یا نہیں کہ اس مسئلہ میں مذاہب خمسہ کے آپس میں نظریات مختلف ہیں۔

١۔امام احمد نے اس مسئلہ کے بارے میں کہا ہے کہ علاج رخصۃٌ و ترکہ درجۃٌ اعلیٰ۔ یعنی علاج کرنا جائز ہے لیکن نہ کرنا بہتر ہے ۔

٢۔ شافعی نے کہاہے کہ التداوی افضل من ترکہ یعنی علاج کرنا نہ کرنے سے بہتر ہے۔

٣۔ ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ التداوی مؤاکد یعنی علاج کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

٤۔مالک نے کہا ہے کہ التداوی یستوی فعلہ و ترکہ یعنی علاج کرنا اور نہ کرنا مساوی ہے۔

٥۔ امامیہ کانظر یہ ہے کہ علاج کرنا واجب ہے۔(١)

لہٰذاعلاج کے بارے میں جتنی روایات امام رضاعلیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے جن کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صحّت اورتندرستی کے موضوع کوکتنااہم اورضروری قراردیاگیاہے لہٰذاصحت اورتندرستی کوہمیشہ برقراررکھنے کے طریقوں میں سے ایک شب بیداری اورنمازشب کاانجام دیناہے کہ جس کے بارے میںپیغمبر اکرم)ص(نے فرمایا:

____________________

(١)المسائل الطیبہ استاد:محسنی دامت عزہ.


''علیکم وصلوٰة اللّیل فانّهاسنّةنبیکم ودأب الصالحین فعلیکم و مطرة الداء عن اجسادکم ۔''(١)

آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نمازشب پڑھوکیونکہ نمازشب تمھارے نبی کی سیرت اورسنت ہے اورتم سے پہلے والے صالحین کی بھی سیرت ہے اورنمازشب پڑھنے سے تمھارے بدن کی بیماریاںدوراورٹھیک ہوجاتی ہے۔

تفسیروتحلیل روایت:

دنیامیںانسان کی عادت ہے کہ جب کوئی شخص کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے توفوراًکسی ڈاکٹرسے مراجعہ کرتاہے تاکہ علاج کرسکے لیکن بسااوقات کچھ امراض ایسے ہیںکہ جن کاعلاج ڈاکٹروںکی قدرت اورتجربے سے خارج ہے لہٰذاان امراض کولاعلاج امراض سے تعبیرکرتے ہیںچنانچہ یہ مطلب تجربے اور مشاہدات میںآچکاہے یعنی بہت سارے بیمارافرادکوڈاکٹروںنے لاعلاج قراردیاہے لیکن قوانین اسلام اورنظام اسلامی نے تمام امراض کے لےئ علاج اور دوائیوںکی نشاندہی کی ہے جسے نمازشب،دعاء وصدقات اوردیگرکارخیرکوانجام دینا۔

لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوتاہے اگرانسان کے بدن پرکوئی مرض ہوجوڈاکٹروںکے نزدیک قابل علاج ہویاقابل علاج نہ ہو،نمازشب ہرایک

____________________

(١)علل الشرائع.


بیماریوںکے علاج کاذریعہ ہے چنانچہ اس مطلب کی طرف یوںاشارہ فرمایا:نمازشب مطرۃ الداء عن اجسادکم یعنی نمازشب بدن سے امراض کے ٹھیک ہونے کاوسیلہ ہے لہٰذاآپ اگرصحّت بدن اورتندرستی جسمی کے جوا ہاں ہیں اور لاعلاج امراض کے علاج کوبغیرکسی خرچ اورزحمت کے کرناچاہتے ہیںتونمازشب پڑھیںکہ جس کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے بدن کوتندرست اورنفسیاتی امراض کوٹھیک کرتی ہے اسی طرح دوسری روایت۔

مولیٰ امیرؑکایہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا:شب بیداری صحت یابی بدن اورتندرستی جسمی کاذریعہ ہے :

''قیام اللیل مصححة للبدن'' ( ١)

اگرچہ اس روایت میںنمازشب کوصریحاً باعث صحت اورتندرستی قرار نہیں دیابلکہ مطلق شب بیداری کے فوائدمیںسے ایک صحّت بدن قراردیاہے لیکن دوقرینوںسے معلوم ہوتاہے کہ قیام اللیل سے مراد نماز شب ہے. ایک قرینہ یہ ہے کہ اگر ہر قیام اللیل بدن کے تندرست اور صحت کا ذریعہ ہو تو نماز شب کے لئے قیام اللیل کرنا بطریق اولیٰ صحت اور تندرستی بدن کا ذریعہ ہے ۔

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ دوسری روایت میں قیام اللیل کی وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد نماز شب ہے لہٰذا ان دونوں قرینوں کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے کہ

____________________

(١)۔کتاب الدعوات للراوندی ص٧٦.


اس روایت میں قیالم اللیل سے مراد نماز شب ہے کہ جس کے فوائد دنیوی میں سے ایک فائدہ صحت بدن اور تندرستی ہے ۔

تیسری روایت:

امام المسلمین والمتقین حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا:

'' قیام اللیل مصححة للبدن و مرضاة للرب عزوجلّ وتعرض للرحمة وتمسک باخلاق اللنبیین'' (١)

آپ نے فرمایا کہ شب بیداری صحت بدن اور تندرستی انسان کا ذریعہ اور خداوند تبارک وتعالیٰ کی رضایت حاصل ہونے ، رحمت پرورگار سے مالامال ہونے اور سارے انبیاء کے رفتار و کردار سے منسلک ہونے کا سبب ہے ۔

توضیح وتفسیر:

اس روایت میں مولائے کائنات امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نماز شب کے چار فوائد کا ذکر فرمایا.

١۔ نماز شب پڑھنے سے صحت ٹھیک اور تندرستی بحال ہوتی ہے کہ اس مطلب کی طرف تین روایات میں اشارہ فرمایا

٢۔دوسرا مطلب کہ نماز شب رضایت الٰہی حاصل ہونے کا ذریعہ ہے

____________________

(١)۔ بحار الانوار ج ٨٧.


اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ایک آسان کام ہے کیونکہ پورے کائنات کے مخلوقات کی خلقت کا ہدف ہی رضایت الٰہی کو حاصل کرنا اور خدا کی بندگی کا شرف حاصل کرنا ہے لہٰذا رضایت خداوند حاصل کرنا بہت مشکل اور دشوار کام ہے لیکن اگر کوئی شخص اس مشکل کام کو باآسانی حاصل کرنا چاہتا ہے تو نماز شب انجام دے کیونکہ نماز شب رضایت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لہٰذا نماز شب کو نہ چھوڑیں تاکہ اس کے فوائد سے محروم نہ ہو.

٣۔تیسرا فائدہ :

جو اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے کہ نماز شب انجام دینے سے اچھے اور صالحین کی سیرت پر گامزن ہوتا ہے کیونکہ نماز شب سارے صالحین کی سیرت ہے لہٰذا دنیا میں ہر انسان اچھے اور نیک حضرات کی سیرت کو اپنانے کی کوشش میں ہوتا ہے اور ان کی سیرت پر چلنے کی خاطر ہر قسم کے حربے مادی ہو یا معنوی اور دیگر وسائل سے کمک لیتے ہیں تاکہ ان کی سیرت پر گامزن ہو لہٰذا ہر معاشرہ میں اگر کوئی شخص اس معاشرہ کے اصول و ضوابط کے پابند ہو امانتدار ہو اور دیگر ہر قسم کے عیب و نقص سے ظاہراً مبرّیٰ ہو تو دوسرے لوگ نہ صرف اس کو قابل احترام سمجھتے بلکہ اس کی سیرت کو اپنے لئے نمونہئ عمل قرار دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں


لہٰذا نماز شب صالحین کی سیرت ہے کہ صالحین کے مصداق اتم انبیاء اور اوصیاء ہے پس نماز شب کا تیسرا فائدہ صالحین کی سیرت پر گامزن رہنا یعنی خود کو دوسروں اور آئندہ آنے والوں کے لئے نمونہئ عمل بنانا کہ جس سے بڑھ کر کوئی نعمت اور مقام انسان کے لئے قابل تصور نہیں چنانچہ اس مطلب کی طرف پیغمبر اکرم)ص( نے اشارہ فرمایا:

'' علیکم قیام اللیل فإنّه دأب الصالحین فیکم وإنّ قیام اللیل قربة الیٰ اﷲ ومنهاة عن الاثم'' (٣)

یعنی تم لوگ نماز شب انجام دو کیونکہ نماز شب نیکی کرنے والوں کی سیرت اور خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ اور گناہوں سے بچنے کا وسیلہ ہے نیز اسی مضمون کی روایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوںنقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''علیکم بصلاة اللیل فإنّها سة نبیکم و دأب الصالحین و مطرة الدّاء عن اجسادکم ۔ ''

جس کا ترجمہ اور تفصیل پہلے گذر چکی ہے لہٰذا پہلی روایت کی تحلیل اور حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اکرم)ص(نے اس روایت میں نماز شب کے فوائد میں سے تین فائدوں کی طرف اشارہ فرمایا :

١۔نماز شب صالحین کی سیرت پر گامزن ہونے کا وسیلہ ہے

٢۔ نماز شب خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ ہے کہ خدا سے قریب ہونےکی

____________________

(٣) کنز العمال.


چاہت ہر انسان کی فطرت میں مخفی ہے لیکن عوامل خارجی کی وجہ سے کبھی بظاہر یہ چاہت مردہ نظر آتی ہے لہٰذا صرف مسلمانوں کی چاہت سمجھا جاتا ہے لیکن خدا سے قریب ہونے سے مراد قرب مکانی اور زمانی نہیں ہے بلکہ معنوی مراد ہے کیونکہ خدا مکان و زمان کا خالق ہے لہٰذا خدا زمان و مکان سے بالاتر ہے یعنی خدا من جمیع الجہات مجرد محض ہے اور نماز شب پڑھنے والے حضرات کا رتبہ بلند ہوتاہے اور خدا کے نزدیک وہ عزیز ہے

٢۔نماز شب گناہوں سے بچنے کا ذریعہ

دوسرا فائدہ جو اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ نماز شب گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے یعنی اگر نمازشب انجام دینگے تو خدا آپ کو نافرمانی سے نجات دیتا ہے چنانچہ اس مطلب کی طرف خدا نے قرآن میں اشارہ فرمایا ہے :

( انّ الصلاة تنهیٰ عن الفحشاء والمنکر )

بیشک نماز ہی برائی اور نافرمانی سے نجات دیتی ہے کہ گناہ اور نافرمانی خدا اور انسان کے درمیان حجاب ہے کہ جس کی وجہ سے خالق حقیقی مخلوق سے دور اور مخلوق کو خالق حقیقی نظر نہیں آتا لہٰذا عبد اور مولا کے آپس کارابطہ ٹوٹ جانے کا سبب گناہ اور نافرمانی ہے لیکن اگر نماز شب انجام دی جائے تو یہ رابطہ دوبارہ بحال ہوجاتا ہے کیونکہ گناہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کی زندگی کو تباہ کرتی ہے اور اس کی عمر میں کمی کا سبب بھی بنتی ہے جبکہ گناہ سے پرہیز کرنے سے زندگی آباد اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور اسی طرح نفسیاتی امراض کو ٹھیک کرنے کا بھی ذریعہ ہے تب بھی تو معصوم نے ایک روحی طبیب کی حیثیت سے فرمایا :(ومطرۃ ا لد اء عن اجسادکم) یعنی نماز شب بیماریوں کو ٹھیک کرتی ہے ۔


٣۔رحمت الٰہی کا ذریعہ

اسی طرح نماز شب کے مادی فوائد اور دنیوی زندگی سے مربوط نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ نماز شب پڑھنے سے رحمت الٰہی شامل حال رہتی ہے چنانچہ اس مطلب کی طرف آپ نے یوں اشارہ فرمایا وتعرض للرحمۃ نماز شب پڑھنے سے رحمت الٰہی ہمیشہ شامل حال ہوجاتا ہے کہ معمولاً رحمان اور رحیم کے بارے میں مفسرین نے کہا ہے کہ ان دو لفظوں کے مابین فرق ہے اگرچہ مادّہ اور مآخذ کے حوالے سے دونوں ایک ہیں لہٰذا فرمایا رحمت صفت عام ہے جو دنیوی زندگی سے مربوط ہے اور رحیم صفت خاص ہے جو ابدی زندگی سے مربوط اور مؤمنین کے ساتھ مختص ہے اور شاید اس روایت میں رحمت سے مراد مؤمنین کے ساتھ مختص والی رحمت ہو۔

٤۔رضایت الٰہی کا سبب

نماز شب کے مادی فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رضایت الٰہی کے حصول کا سبب بنتی ہے کہ اس مطلب کی طرف یوں اشارہ فرمایا: ومرضاۃ للرب عزوجل کہ ایک ہی روایت میں کئی فوائد کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

١۔ رحمت الٰہی شامل حال ہونے کا ذریعہ ہے ۔

٢۔ صحت اور تندرستی کاسبب ہے۔

٣۔ انبیاء اور نیک افراد کی سیرت پر گامزن اور اخلاق حسنہ سے منسلک ہونے کا باعث ہے کہ ان تمام نتائج اور فوائد دنیوی کی طرف امیر المؤمنین علیہ السلام نے بھی یوں اشارہ فرمایا:


''قیام اللیل مصححة للبدن و مرضاة للرب عزوجل وتعرض للرحمة و تمسک بالاخلاق ۔''(١)

شب بیداری انسانی جسم کو تندرست رکھنے کا ذریعہ اور خداوند کی رضایت کا سبب اور رحمت الٰہی سے مستفیض اور اخلاق حسنہ سے متصف ہونے کا وسیلہ ہے لہٰذا نماز شب میں ہی انسان کی تمام کامیابیاں مخفی ہیں

٥۔نمازشب نورانیت کا سبب

نماز شب کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ نمازی کے چہرے پر نورانیت آجاتی ہے کیونکہ نماز شب نور ہے چنانچہ اسی مطلب کی طرف امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے:

''ماترکت صلاة اللیل منذ سمعت قول النبی صلاة اللیل نور فقال ابن الکواء ولا لیلة الهریر قال ولا لیلة الهریر'' (٢)

____________________

(١)بحار الانوار جلد ٨٧.

(٢)بحار الانوار ج٤١.


یعنی جب میںنے پیغمبر اکرم)ص( سے یہ بات سنی کہ نماز شب نور ہے تو کبھی بھی میں نے نماز شب کو ترک نہیں کیا اس وقت ابن کواء نے پوچھا کیا آپ نے لیلۃ الہریر کو بھی نہیں چھوڑا آپ نے فرمایا لیلۃ الہریر کو بھی نہیں چھوڑا ۔

توضیح و تحلیل روایت:

اس روایت سے دومطلب کا استفادہ ہوتا ہے ۔

١۔ نماز شب کی اہمیت اور فضیلت۔

٢۔ نماز شب کا نور قرار دیا جانا کہ یہ مطلب توضیح طلب ہے جو نماز شب کے مادی فوائد میں سے ایک ہے اور پیغمبر اکرم)ص( نے اس روایت میں نماز شب کو نور سے تشبیہ دی ہے یعنی نور میں جو فوائد مضمر ہیں وہی نماز شب میں بھی پوشیدہ ہیں حقیقت نور کے بارے میں حکماء اور دیگر محققین کے آراء مختلف ہیں کہ جن کو بیان کرنا اور تجزیہ و تحلیل کرنا اس کتاب کی گنجائش سے خارج ہے کیونکہ حقیقت نور کا مسئلہ ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے کہ جس کا خاکہ ہر عام و خاص کے ذہن میں ڈالنا بہت ہی مشکل ہے لہٰذا صرف یہاں اشارہ کرنا مقصود ہے کہ قرآن مجیدمیں خدا نے خود کو نور سے تعبیر کیا ہے اور قرآن کو بھی نور کہہ کر پکارا ہے اسی طرح پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ معصومینؑ کو روایات اور آیات میں لفظ نور سے یاد کیاگیاہے نیزروایات میں علم اورنمازشب کو بھی لفظ نورسے تعبیرکیاگیاہے کہ ان چیزوں کو لفظ نور استعمال کرنے سے حقیقت نور کا تصور ذہن میں آجاتا ہے. یعنی نور ایک ایسی چیز ہے جو حق اور راہ راست کی نشاندہی کرے اور گمراہی اور ضلالت سے نجات دے. کیونکہ قرآن و سنت میں جن ہستیوں کو لفظ نور سے یاد کیا گیا ہے ان تمام کا کام راہ مستقیم کی نشاندہی کرنا اور لوگوں کو منزل مقصود پر پہنچانا ہے لہٰذا اگر کوئی شخص نبوت یا امامت کا دعویٰ کرے لیکن حق اور راہ مستقیم کی نشاندہی کرنے سے عاجز رہے تو اس کو کاذب کہا جاتا ہے لیکن اگر دعویٰ کے ساتھ ساتھ راہ مستقیم اور حق کی نشاندہی کرے تو امام اور نبی کہا جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی علم کا دعویٰ دار ہو لیکن اس کا علم حق اور باطل کی تشخیص نہ دے سکے تو وہ علم نہیں ہے بلکہ اس کو ہنر کہا جائے گا. لہٰذا جن چیزوں کو قرآن اور روایات نے لفظ نور سے تعبیر کیا ہے وہ تمام حق اور راہ مستقیم کی تشخیص کا ذریعہ ہیں. اسی لئے نماز شب کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ نماز شب نور ہے یعنی حق اور راہ راست پر گامزن رہنے کا ذریعہ ہے۔


٦۔نماز شب گناہوں کے مٹ جانے کا سبب

نظام ا سلام کے اصول و ضوابط اور احکام خداوندی کے خلاف انجام دئے جانے والے کاموں کو گناہ کہا جاتا ہے کہ جسکی حقیقت اور اقسام کے بارے میں علماء اور مجتہدین کے آپس میں اختلاف ہے. لہٰذا بعض مجتہدین اور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ گناہ دو قسم کا ہے (١) کبیرہ (٢) صغیرہ ۔

چنانچہ اس مطلب کو حضرت استاد محترم آیت اﷲ فاضل لنکرانی حفظہ اﷲ نے درس کے دوران کئی دفعہ اشارہ فرماتے ہوئے کہا کہ گناہ کی دو قسمیں ہیں. (١) کبیرہ (١) صغیرہ جسکی دلیل یہ ہے کہ اگر آیات قرآنی سے استفادہ نہ ہوئے تو روایات صحیح السند واضح طور پر اس مطلب کو بیان کرتی ہے. لیکن باقی مفسرین اور ہمارے استاد محترم مفسر قرآن عارف زمان نمونہئ علم و تقویٰ حضرت آیت اﷲ جوادی آملی حفظہ اﷲ نے سورہئ آل عمران کی ایک آیت کی تفسیر میں فرمایا:

اگرچہ کچھ آیات اور روایت سے گناہ کی دوقسم ہونے کا احتمال دیا جاسکتا ہے لیکن حقیقت میں گناہ ایک ہے جو مختلف مراتب کے حامل ہے لہٰذا گناہ ایسی چیز ہے کہ جس سے انسان کی ضمیر، فطرت اور باطنی خداداد صلاحیتیں کھوجاتی ہیں اسی لئے گنہکاروں کو جتنا بھی نصیحت کی جائے اور امر بالمعروف ، نہی عن المنکر کیا جائے ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا چونکہ انسان پر نصیحت اور امر بالمعروف نہی عن المنکر کے اثر ہونے کے لئے کچھ خاص اعضاء اور مواد عطاء کئے گئے ہیں کہ وہ اعضاء اور مواد گناہ کی وجہ سے مردہ ہو جاتے ہیں. لہٰذا گناہ کے عادی ہونے کے بعد جتنا بھی انہیں نصیحت کی جائے وہ مثبت اثر کرنے سے محروم رہتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص گناہگار ہو اور نماز شب پڑھنے کی توفیق حاصل ہوجائے تو اس کا گناہ مٹ جاتا ہے اور بصیرت میں اضافہ اور انسان کا قلب دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نصیحت کو قبول کرنے لگتا ہے اور اس طرح وہ روز قیامت عقاب و سزا سے نجات پاسکتا ہے کہ اس مطلب کو حضرت امام حعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے:


''فی قولہ ان الحسنات یذہبن السیأت صلاۃ المؤمن باللیل تذہب بما عمل بالنہار من الذنب ''(١)

آپؑ سے انّ الحسنات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا ان کے مصادیق میں سے ایک مؤمن کی نماز شب ہے کہ جس کو انجام دینے سے انسان کے دن میں انجام دئے گئے گناہ ختم ہوجاتے ہیں ۔

اور اس طرح آیات میں بھی ہے کہ گناہ کبیرہ سے اجتناب کرنے کے نتیجہ میں گناہ صغیرہ مٹ جاتے ہیں ۔

تحلیل و تفسیر:

ممکن ہے کہ اس روایت سے کوئی اس شبہ کا شکار ہوجائے کہ اگر رات کو گناہ کا مرتکب ہوا تو وہ گناہ نماز شب انجام دینے سے معاف نہیںہوتا کیونکہ مذکورہ حدیث میں امامؑ نے فرمایا ہے کہ تذہب بما عمل بالنہار من الذنب کہ اس شبہ کا جواب اس طرح دیا جاسکتا ہے کہ نماز شب گناہ کو ختم کرنے کاذریعہ بیان کرنے والی روایات میں سے ایک یہی ہے کہ جس میں دن کے گناہوں کو ذکر کیا گیاہے لیکن دوسری روایات میں تمام گناہوں کا ذکر ہے لہٰذا اس روایت میں منحصر نہیں ہے تاکہ کوئی اشکال کرے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ باقی روایات سے قطع نظر یعنی اگر کوئی اور روایات

____________________

(١) الکافی جلد٢.


اس مطلب پر نہ بھی ہو تو پھر بھی نماز شب تمام گناہوں کو معاف کرنے اور مٹانے کے اسباب میں سے ہونے پر ذکر شدہ روایت جو مورد اعتراض واقع ہوئی ہے دلالت کرتی ہے کیونکہ اس روایت میں امام )ع( نے فرمایا تذہب بما عمل بالنہار یہ جملہ توضیحی ہے نہ احترازی چونکہ انسان معمولاً گناہوں میں دن کے وقت مرتکب ہوجاتا ہے اسی وجہ سے روایت میں نہار کے قید کو ذکر فرمایا ہے. لہٰذا اگر کوئی شخص رات کو گناہ کرے یا دن کو دونوں گناہوں کو نماز شب انجام دینے کے نتیجے میں خدا معاف کردیتاہے مگر کچھ ایسے گناہ ہیں کہ جن کے بارے میں دلیل خاص ہے کہ اگر کوئی مبتلاہو تو کسی بھی اور نیک کام کے ذریعہ سے وہ معاف نہیں ہو سکتا جیسے اﷲ تعالیٰ کا شریک ٹہرانا یا معصوم بچے کا قتل کرنا وغیرہ

دوسری روایت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''صلاة اللیل تکفّر ماکان من ذنوب النهار ۔''(١)

نماز شب گناہوں کو مٹادیتی ہے کہ جو معمولاً دن کو کئے جاتے ہیں. تیسری روایات پیغمبر اکرم)ص( نے فرمایا :

''ان قیام اللیل قربة الی اﷲ ومنهاة عن الاثم و تکفّر السیّآت ۔''(٢)

____________________

(١)تفسیر عیاشی ج٢ ص١٦٤

(٢) بحار ج٨٧، ص١٢٣.


شب بیداری خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ اور گناہوں سے بچنے کاوسیلہ ہے.

توضیح:

اس آخری روایت میں نماز شب کے تین فائدوں کی طرف اشارہ ملتاہے

١۔ گناہ سے بچنے کا وسیلہ ہے ۔

٢۔ خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ ہے کہ ان دونوں مطالب کی طرف پہلے بھی اشارہ ہوچکا ہے ۔

٣۔ تکفّر السیّآت کہ اس مطلب کے بارے میں کئی روایات ذکر کی گئی ہے مزید تفصیلات انشاء اﷲ بعد میں آئیںگی

٧۔نماز شب خوبصورتی کا سبب

دنیامیںحسن وجمال اورخوبصورتی کاموضوع روزمرّہ زندگی میںبہت اہم موضوع ہے جس کے متعلق ہزاروں محققین نے اس مو ضوع پر کتابیںادرمقالات لکھے ہیںنیز ڈاکٹرز حضرات حسن وخوبصوتی کی نعمت کوزیادہ سے زیادہ کرنے کی خاطر سالوںسال اس موضوع پر تحقیق کرنے کے بعدنت نئی ایجادات کسی دوائی یا کریم کی صورت میں متعارف کراتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جو خوبصورتی اور حسن و جمال کے لئے بہت مؤثر ہوتاہے یہی وجہ ہے لوگ ڈاکٹروں کے نسخے لیکر دکانوں اور میڈیکل اسٹوروں میں حسن و جمال اور خوبصورتی بڑھانے کی اشیاء کی خریداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں چاہے غریب ہو یا امیر؛ یہ تمام شواہد خوبصورتی اور حسن و جمال کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں لیکن عصر حاضر میں جب حسن و جمال کا ذکر آتا ہے تو عورتوں کے حسن و جمال کا فوراً ذہن میں تصور پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا مرد حضرات خیال کرتے ہیں کہ حسن و جمال کا موضوع صرف عورتوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے جب کہ انسان دقت کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا خیال خام خیالی کا نتیجہ ہے کیونکہ اسلام میں ہر قول و فعل تابع دلیل ہے اور روایات و آیات جو حسن و جمال سے مربوط ہے ان میں حسن و جمال کا ذکر صرف عورتوں ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ روایات اس کے برعکس دلالت کرتی ہیں یعنی خوبصورت اور حسین افراد کو خداوند عالم دوست رکھتا ہے چاہے حسین عورتیں ہو یا مرد۔


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوبصورتی کا موضوع عورتوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لہٰذا مرد حضرات بھی اس نعمت سے مزین ہوسکتے ہیں لیکن حسن و جمال کی دوقسمیں ہیں۔

١۔ ذاتی خوبصورتی ۔

٢۔ عارضی خوبصورتی۔

یعنی ذاتی طور پر حسین نہیں لیکن اس کو حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے لیکن دونوں قسموں کی کیفیت اور راہ حل ڈاکٹروں کی نظر میں مختلف ہے اور ان کے لوازمات کا فراہم کرنا شاید ہر خاص و عام کے بس سے باہر ہو لہٰذا اگر آپ کسی خرچ اور زحمت اور کسی نسخے کے بغیر خوبصورتی کے حصول یا اپنی خوبصورتی کو مزید برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں تو ایسے خواہشمند افراد کے لئے ہم ایک ایسی نایاب کریم کا تعارف کراتے ہیں کہ شاید اس سے مؤثرتر کوئی اور پاؤڈر یا کریم حسن و جمال کےلئے دنیا میں دستیاب نہ ہو کہ اس بہترین کریم کا نام نماز شب ہے کہ جس کو پڑھنا شریعت اسلام میں مستحب ہے لیکن اس کو انجام دینے سے آپ کا چہرا دنیا اور اخرت دونوں میں حسین اور جمیل بن سکتاہے یہی نماز شب کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے کہ جس کی طرف امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے:

''صلاة اللیل تبیض الوجه و صلاة اللیل تطیب الریح و صلاة اللیل تجلب الرزق'' (١)

نماز شب انسان کے چہرے کو خوبصورت اور جسم کو خوشبودار اور انسان کی دولت و رزق میں اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔

تحلیل و تفسیر:

اس روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے نماز شب کے تین فوائد کا تذکرہ فرمایا ہے:

____________________

(١)علل الشرایع ص٣٦٣.


١۔ نماز شب خوبصورتی کا سبب ہے ۔

٢۔ نماز شب خوشبودار ہونے کا ذریعہ ہے ۔

٣۔ دولت اور رزق ملنے کا سبب ہے ۔

تینوں فوائد لوگوں کی نظر میں بہت اہم ہیں اگر آپ دقت کریں تو کسی خرچ کے بغیر نماز شب کے ذریعہ قدرتی طور پر آپ کی دولت اور آپ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجاتا جب کہ دولت مند بننے کی خاطر انسان پوری زندگی ہزاروں مشقتیں برداشت کرتاہے اسی طرح پیغمبر اکرم)ص( کی یہ حدیث مبارک بھی ہے کہ جس میں آپؐ نے فرمایا:

''من کثر صلاته باللیل حسن وجهه بالنهار'' (١)

اگر کوئی شخص نماز شب کثرت سے انجام دے تو دن کے وقت اس کا چہرہ حسین اور خوبصورت ہوجاتا ہے

تحلیل و تفسیر:

ان دونوں روایتوں کا آپس میں یہ فرق ہے کہ پہلی روایت میں جملہئ اسمیہ کی شکل میں کہ جو دوام اور ثبات پر دلالت کرتی ہے لیکن دوسری روایت میں جملہئ شرطیہ کے ساتھ خوبصورتی کا تذکرہ ہوا ہے اگر چہ نتیجہ کے حوالے سے دونوں روایتیں ایک ہیں کہ نمازشب چہرہ منور بنانے اور خوبصورتی کا سبب ہے اس طرح

____________________

(١)الفقیہ ج١ ص٤٧٤.


اگر روایت کے معانی پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب کی وجہ سے چہرہ منور اور حسین ہوجاتا ہے لیکن نماز شب کے ذریعہ کیوں حسین و جمیل بن جاتا ہے؟! اس کا جواب معصوم)ع( نے یوں بیان فرمایا ہے:

''لما سئل ما بال المجتهدین باللیل من احسن الناس وجهاً لأنّهم خلّوا باﷲ فکساهم اﷲ من نوره ''(١)

جب امام زین العابدین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ نماز شب پڑھنے والوں کا چہرہ دوسرے تمام انسانوں کے چہروں سے زیادہ خوبصورت نظر آنے کی وجہ کیا ہے؟!

آپؑ نے فرمایا: کیونکہ نماز شب پڑھنے والے تنہائی میں خدا سے راز و نیاز کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے خدا اپنے نور سے ان کے چہروں کو منور کردیتاہے اس طرح اور بھی روایات ہیں کہ جو نماز شب سے انسانی چہرہ کے خوبصورت اور حسین ہونے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی ایک روایت پر اکتفاء کرتاہوں اگر اس پر اطمئنان نہ ہو تو اس کا بہترین راہ حل تجربہ ہے ایک ہفتہ تجربہ کرکے دیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ نماز شب کی وجہ سے بدن میں تندرستی ،چہرا پرنور، دولت میں اضافہ اور دہن سے خوشبو آتی ہوئی محسوس ہوگی لہٰذا اس عظیم نعمت کو فراموش نہ کیجئے۔

____________________

(١) علل الشرایع.


٨۔نماز شب باعث دولت

دنیا میں دو چیزوں کو بہت بڑی اہمیت سے دیکھا جاتاہے

١۔ دولت۔

٢۔ اولاد۔

لہٰذا اگر کسی کی دولت اور سرمایہ زیادہ ہو تو معاشرے میں اس کی شہرت اور عزت بھی اسی کے مطابق ہوا کرتی ہے اگر چہ ایمان کے حوالے سے وہ ضعیف الایمان ہویا کافر ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کی عزت اور شہرت اس کی دولت و سرمایہ کی وجہ سے ہوتی ہے اسی لئے پورے معاشرے کی تقدیر اور تعلیمی، ثقافتی، سیاسی یا اجتماعی امور کو دولتمندوں کی دولت میں مخفی سمجھتے ہیں لیکن اگر ہم دنیامیں کڑی نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوتاہے کہ غریب طبقہ کے انسان کو چاہے وہ ایمان کے حوالے سے جتنا ہی امیر اور صوم وصلاۃ کا پابند ہی کیوں نہ ہو ،اجتماعی امور کا اہل نہیں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی زندگی کی ہر کامیابی و ناکامی کا تعلق بھی اسی سرمایہ دار کے مرہون منت نظر آتاہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو کسی مقام کا اہل نہیں سمجھنے لگتا جبکہ ایسا نہیں ہے اوراسلام ایسے خام خیال اور کج فکری کی سختی کے ساتھ مذمت اور مخالفت کرتاہے۔


لہٰذا اگر آپ زحمت اور نقصانات کے بغیر دولت اور سرمایہ کے مالک بننا چاہتے ہیں تو نماز شب فراموش نہ کریں کیونکہ نماز شب دولت میں اضافہ اور ترقی کا بہترین ذریعہ ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''وصلاة اللیل تجلب الرزق'' (١)

یعنی نماز شب دولت اور سرمایہ میں اضافہ اور رزق میں زیادتی کا سبب بنتی ہے اسی طرح دوسری روایت میں امام نے فرمایا: کہ نماز شب دولت اور رزق کی ضامن ہے.

''کذب من زعم انّه یصلی صلاة اللیل و هو یجوع انّ صلاة اللیل تضمن رزق النهار'' (٢)

وہ شخص جھوٹا ہے جو اس طرح گمان کرے کہ نماز شب انجام دینے کے بعد بھی وہ تنگ دست رہے گا کیونکہ رات کو انجام دی ہوئی نماز شب دن کی روزی کی ضامن ہوتی ہے

تفسیر و تحلیل:

معاملات میں ضمانت کا قانون معروف اور مشہور ہے کہ جس کی شرائط کو جاننے کے لئے فقہی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے لیکن یہاں ایک تذکر لازم ہے کہ ہر ضمانت میں تین چیزیں ضروری ہیں:

____________________

(١)میزان الحکمۃ ج٣.

(٢) بحار ج٨٧.


١۔ ضامن ۔

٢۔مضمون۔

٣۔ مضمون لہ ۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے نماز شب ضامن ہے دولت اور روزی کا آنا مضمون ہے اور نمازی مضمون لہ ہے لہٰذا آپ تجربہ کرکے دیکھ لیجئے کہ یہ روایت کہاں تک صحیح ہے اور کتنی مقدار سچائی اس میںمخفی ہے پھر فیصلہ کیجئے کیونکہ معصوم کاکلام ہمیشہ حقیقت پرمبنی ہوتاہے اورخلاف واقع کا ان کے کلام میں گنجائش نہیں ہے نیزاسی حوالے سے تیسری روایت ملتی ہے کہ جس میںامام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ'' صلاۃ اللیل تدرالرزق وتقض الدین ''یعنی نما زشب روزی میں اضافہ اورقرضہ کی ادائیگی کاسبب ہے اس روایت میںنمازشب کے دوفوائد کی طرف اشارہ فرمایاہے :

١۔ نماز شب روزی میں اضافہ اور زیادتی کاذریعہ ہے ۔

٢۔نمازسب پڑھنے سے اگرآپ مقروض ہیں توآپ کاقرضہ بھی اداہوجائیگااوریہی قرضہ دنیامیں لوگوں کو پریشانی اور ذلت و خواری میں مبتلا کردیتا ہے اور ان کی عزت و آبرو کے خاتمہ کا سبب بھی بنتا ہے اگر نماز شب انجام دے تو آپکی پریشانی ختم ہوسکتی ہے عزت و آبرو کو بھی خدا بحال فرمائے گا لہٰذا آزما کر دیکھیں کہ معصوم)ع( کے کلام میں کیا اثر ہیں؟

٩۔مشکلات برطرف ہونے میں مؤثر

پوری کائنات میں ہر انسان کی زندگی تین مراحل سے گذرتی ہے

١۔ بچپن۔

٢۔ جوانی ۔

٣۔ بڑھاپا ۔


کہ ان مراحل میں سے کسی ایک مرحلہ میں انسان کو ضرور مشکلات سے دوچار ہونا پڑتاہے لہٰذا کچھ محققین نے زندگی ہی کی تحلیل و تفسیر یوں کی ہے زندگی مشکلات اور آسائش کے مجموعہ کا نام ہے اور خدا نے بھی اس مطلب کو یوں بیان فرمایا ہے کہ: (لقد خلقنا الانسان فی کبد )بے شک ہم نے تمام انسانوں کو مشکلات میں خلق کیاہے لہٰذا کائنات میں ایسے افراد بہت کم پائے جاتے ہیں کہ جو آغاز زندگی سے لیکر آخری زندگی تک کسی مجبوری یا سختی سے دوچار نہ ہوئے ہوں پس زندگی کے مراحل میں سے کسی ایک مرحلہ میں یا تمام مراحل میں مشکلات کا سامنا ہوسکتاہے لیکن ایسی مشکلات کو غیر مسلم اور ضعیف الایمان افراد بدبختی کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ مسلمان اور مستحکم ایمان کے حامل اس کو رحمت الٰہی اور امتحان خداوندی سمجھتے ہیں اور جب کبھی مشکل سے دوچار ہوتے ہیں تو اسے دور کرنے کی خاطر اسلام نے اس کا راہ حل اس طرح بیان کیا ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :

''کان علی اذا هاله شیئ فزع الی الصلاة ثم تلیٰ هذه الآیة ( واستعینوا بالصبر والصلاة ) (١)

ترجمہ: جب بھی حضرت علی علیہ السلام کسی مشکل سے دوچار ہوتے تھے تو آپؑ نماز کے ذریعہ اس کو برطرف کرتے تھے اور اس آیہئ شریفہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے او ر تم صوم و صلاۃ کے ذریعہ اپنی مشکلات کی برطرفی کے لئے مدد لو۔

اسی طرح دوسری روایت پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جب بھی کوئی مشکل آپ کے اہلبیتؑ کو پیش آتی تھی تو اس کو دور کرنے کی خاطر پیغمبر اکرمؐ ان سے کہا کرتے تھے کہ آپ نماز مستحبی کے ذریعہ سے مشکلات کو برطرف کریں کہ یہ دستور میرے معبود کی طرف سے ہے(٢)

تیسری رویات :

پیغمبر اکرم)ص( کا یہ قول ہے کہ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے کہ جو مشکلات اور گرفتاری کی زنجیر سے آزاد ہو لیکن جب کسی سختی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو رات کے دو حصے گذر جانے کے بعد خدا کی طرف سے ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے اے لوگو! صبح نزدیک ہوچکی ہے خدا کی عبادت کے لئے اٹھو اسی وقت وہ اگر حرکت کرکے ذکر خدا میں مصروف ہو تو خدا ان کی گرفتاری کا ایک حصہ برطرف فرماتا ہے لیکن اگر اٹھ کر وضو کرکے نماز پڑھے تو پوری گرفتاری ختم ہوجاتی ہے گویا وہ

____________________

(١) وسائل ج٥.

(١)کتاب قصار الجمل ج١ ص٣٨٦.


شخص اس معصوم بچے کی مانند ہے کہ جو ہر گناہ سے بالکل پاک ہو ۔

تحلیل و تفسیر:

مذکورہ روایات سے بخوبی معلوم ہوا کہ نماز مستحبی اور نافلہ مشکلات کی برطرفی کے لئے بہت مؤثر ہیں اور سختیوں کی صورت میں آئمہئ معصومینؑ کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ دورکعت نماز مستحبی کو خدا وند تبارک وتعالیٰ کے لئے انجام دیا کرتے تھے اور اگر کوئی شخص اشکال کرے کہ ہماری مورد بحث نماز شب ہے جبکہ مذکورہ روایات نماز نافلہ سے مربوط ہیں اس کاجواب یہ ہے کہ روایات مذکورہ میں اطلاق پایا جاتا ہے جس میں نماز شب بھی شامل ہے اسی سے بخوبی اس بات کا استفادہ ہوتاہے کہ نماز شب کے دنیوی فوائد میں سے ایک مشکلات کی برطرفی ہے لہٰذا اگر کوئی شخص مشکلات اور سختیوں سے نجات چاہتا ہے تو نماز شب جیسی نعمت کو فراموش نہ کریں۔

١٠۔خدا کی ناراضگی کے خاتمہ کا سبب

نماز شب کے فوائد میں سے ایک اور فائدہ کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں نماز شب رحمت الٰہی انسان کے شامل حال ہونے کا سبب ہے یعنی اگر آپ نماز شب سے محروم نہ رہے تو خدا ہی اپنے غضب اور ناراضگی سے نجات دلاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہوں کہ دنیامیں غضب الٰہی اور عذاب سے انسان کو نماز شب نجات دیتی ہے کہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم)ص(نے یوں ارشاد فرمایا:

''فإنّ صلاة اللیل تطفیئ غضب الرب تبارک و تعالیٰ ''(١)

ترجمہ: بے شک نماز شب غضب الٰہی کو خاموش کرتی ہے یعنی جب خداوند کسی بندے سے ناراض ہو تو نماز شب انجام دینے سے خدا وند کی ناراضگی ختم ہوجاتی ہے اور جب ناراضگی اور غضب الٰہی ختم ہو تو رحمت الٰہی شامل حال ہوجاتی ہے لہٰذا اس روایت سے معلوم ہوا کہ نماز شب خدا کی ناراضگی کو ختم کرنے کابہترین ذریعہ ہے ۔


١١۔نماز شب استجابت دعا کا سبب

نماز شب کے فوائد میں سے ایک استجابت دعا ہے یعنی اگر انسان نماز شب انجام دے تو خدا نماز شب کی برکت سے اس کی دعا قبول فرماتاہے کہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں بیان فرمایاہے:

'' من قدّم اربعین رجلاً من اخوانه فدعا لهم ثم دعا لنفسه استجیب لهم فیهم و فی نفسه'' (٢)

ترجمہ: اگر کوئی شخص وتر کے قنوت میں چالیس مؤمنین کا نام لیکر ان کے حق میں دعا مانگے تو خداوند اس کی دعا کودونوں کے حق میں مستجاب فرماتے ہیں ۔

تحلیل حدیث:

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ دعا انسان کی نفسیاتی بیماریوں کی دواء اور ہر مرض کے لئے مفیدہے لیکن دعا کی قبولیت میں بہت سی شرائط درکار ہیں لہٰذا ہر دعامستجاب نہیں ہوتی بلکہ کچھ دعاؤں کے نتائج و آثار ابدی زندگی میں رونما ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ دعائیں بالکل قبول ہی نہیں ہوتی اور کچھ دعائیں کچھ مدت گذر جانے کے بعد قبول ہوجاتی ہیں لہٰذا نماز شب کے ساتھ کی ہوئی دعا یقینا جلد قبول ہو جاتی ہے اسی لئے انبیاء او ر آئمہ معصومینؑ اور مجتہدین کی سیرت یہی رہی ہے کہ وہ نماز شب کے ساتھ راز و نیاز کرتے تھے لہٰذا محترم قارئین آپ بھی تجربہ کیجئے کہ نماز شب دعا کی قبولیت میں کس قدر مؤثر ہے ۔

١٢۔نماز شب نورانیت قلب کا ذریعہ

نیز نماز شب کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کے جسم میں نورانیت آجاتی ہے کہ اسی مطلب کو بیان کرنے والی روایات میں سے کچھ چہرے کی خوبصورتی سے مربوط تھی جن کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے لیکن دوسری کچھ روایات سے بخوبی استفادہ ہوتاہے کہ نماز شب جس طرح ظاہری اعضاء اور جوارح کو رعنا اور خوبصورت بناتی ہے اسی طرح قلب جیسے باطنی اعضاء اور جوارح کو بھی منور کردیتی ہے کہ انسان کے دل کو پورے اعضاء و جوارح میں مرکزیت حاصل ہے لہٰذا جب شیطان انسان پر مسلط ہونا چاہتا ہے تو سب سے پہلے انسان کے دل پر قابض ہونے کی کوشش کرتا ہے تاکہ باقی اعضاء پر بھی قبضہ جما سکے لیکن اگر کوئی نماز شب انجام دینگے تو انشاء اﷲ اس کا دل بھی نماز شب کی برکت سے منور اور شیطان کے قبضہ سے بچ سکتا ہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم)ص( نے یوں ارشاد فرمایا ہے:


'' ان العبد اذا تخلیٰ لسیده من جوف اللیل المظلم و ناجاه اثبت اﷲ النور فی قلبه'' (١)

اگر کوئی بندہ اپنے مولا کے ساتھ رات کی تاریکی اور تنہائی میں راز ونیاز کرے تو خداوند اس کے دل کو نور سے منور کردیتا ہے ۔

تفسیر روایت:

معصومینؑ کے فرامین پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعضاء اور جوارح میں قلب ہی ایسا عضو ہے کہ جسے پورے جسم میں مرکزیت حاصل ہے اسی لئے باقی تمام اعضاء ظاہری ہو یا باطنی دل کے تابع ہیں لہٰذا اگر قلب نورانی ہو تو باقی اعضاء بھی نورانی نظرآنے لگتے ہیں لیکن اگر برعکس ہو یعنی قلب نور سے منور نہ ہو تو باقی سارے اعضاء بھی نور سے محروم اور ایسے شخص کی تمام حرکات و سکنات بھی غیر الٰہی نظر آنے لگتے ہیں اور ممکن ہے کہ اسی محرومی کے نتیجے میں آہستہ آہستہ فرائض کے انجام دینے سے غافل اور گناہوں کا مرتکب ہو یہ تمام اثرات قلب کے نور سے محروم ہونے کا نتیجہ ہے پس اگر کوئی شخص قلب کو نور سے منور کرنا چاہتاہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب انجام دے نماز شب نہ صرف چہرہ اور قلب کے لئے باعث نور ہے بلکہ پورے اعضاء و جوارح منور ہونے کے ساتھ نماز شب پڑھنے کی جگہ کو بھی منور کردیتی ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر

____________________

(١) میزان الحکمہ ج٣.


صادق علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے:

''ان البیوت التی یصلی فیها باللیل بتلاوة القرآن یضیئ لأهل السماء کما تضیئ النجوم السماء لأهل الارض'' (١)

ترجمہ: بے شک جب کسی گھر میںنماز شب قرآن کی تلاوت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے تو وہ گھر آسمان کی مخلوقات کو اس طرح منور نظر آتاہے جس طرح اہل زمین کو آسمان میں چمکتے ہوئے ستارے نظر آتے ہیں ۔

تفسیر روایت:

طبیعی طور پر ہر انسان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے رہنے کی جگہ دوسروں کو خوبصورت نظر آئے لیکن اس مسئلہ میں دوسروںکی نظر ملاک قرار دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ معیار اسلام کی نظر میں صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح معیار اسلام کی نظر میں خدا اورتمام مخلوقات ہیں لہٰذا آسمانی وملکوتی مخلوق کو اس وقت ہمارے رہنے کی جگہ منور نظر آئے گی کہ جب اس میں تلاوت قرآن اور نماز شب پڑھی جاتی ہو لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نماز شب تین چیزوں کو منور کرنے کا ذریعہ ہے ۔

١۔انسان کا چہرہ۔

٢۔انسان کاقلب۔

____________________

(١) ثواب الاعمال ص٧٠.


٣۔ وہ جگہ جہاں نماز شب پڑھی جاتی ہے۔

١٣۔نماز شب باعث خوشبو

نماز شب کے دنیوی اور مادّی فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کسی کو نماز شب جیسی نعمت انجام دینے کی توقیق مل جائے تو اس سے معاشرے میں خوشبو آجاتی ہے یعنی نماز شب کی برکت سے وہ شخص ہر قسم کی آلودگی اور برائی سے صاف و ستھرا ہوجاتاہے اور اس کے وجود سے معاشرہ معطر اور خوشبو والا بن جاتا، لیکن اس بات کی تصدیق ضعیف الایمان اور ملحدین کی طرف سے مشکل نظر آتی ہے کیونکہ ان کی نظر میں خوشبو کا آنا صرف پھولوں اور عطر وغیرہ سے ہی ممکن ہے نہ کسی انسانی عمل کی وجہ سے لیکن اگر انسان خوشبو کی حقیقت کی تحلیل و تفسیر کرے تو معلو م ہوجائے گا کہ خوشبو کی دو قسمیں ہیں:

١۔جسمی۔

٢۔روحی۔


ان دونوں قسموںمیں فرق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روحی خوشبو کا مالک بن جائے تو جسمی خوشبو اس کا لازمہ ہے لیکن اگر کوئی شخص صرف جسمی خوشبو سے مالامال ہوجائے مگر روحی خوشبو سے محروم رہے تو شہوت اور تکبر کی کثرت اس کا لازمہ ہے لہٰذا تعجب نہ کیجئے اگر کوئی شخص واقعی مومن ہو تو یقینا اس سے خوشبو آجائے گی اگر چہ مادّی اور جسمی خوشبو کے وسائل و لوازمات سے استفادہ نہ بھی کرے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فرشتے خدا کے محبوب ترین مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہونے کے باوجود نماز شب پڑھنے والے کی خوشبو کی وجہ سے اس کے عاشق ہوجاتے ہیں اور اس سے ملنے کی تمنا کرتے ہیں چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے۔

''صلاة اللیل تطیب الریح'' (١)

ترجمہ:یعنی نماز شب انجام دینے والے افراد سے خوشبو آتی ہے ۔

اسی طرح دوسری روایت یہ ہے :

''صلاه اللیل تحسن الوجه و تحسن الخلق و تطیب الریح و تدر الرزق و تقضی الدین و تذهب بالهمّ وتجلّو البصر'' (٢)

نمازشب انسان کے چہرے کی خوبصورت ،اخلاق کی اچھائی ،خوشبو سے معطّر،دولت میں اضافہ ،قرضے کی ادائیگی،پریشانی کی برطرفی اورآنکھوں کی بصیر ت کابہترین وسیلہ ہے ۔

روایت کی توضیح :

امام ؐنے اس روایت میں دنیوی کئی فائد کی طرف اشارہ فرمایاہے کہ ان میں ایک خوشبودارہوناہے کہ جس کی مختصر تشریح ہوچکی ہے دوسرافائدہ یہ ہے کہ

____________________

(١)میزان الحکمہ ج٥.

(٢)ثواب الاعمال.


نمازشب انجام دینے سے اچھے اخلاق اورنیک سیرت کامالک بن جاتاہے چنانچہ اس مطلب کویوں ذکرفرمایاہے :وتحسن الخلق کہ خوش اخلاق اورنیک سیرتی کی اہمیت اورضرورت کے تمام انسان قائل ہیں اگرچہ کسی قانون اورمذہب سے منسلک نہ بھی ہو لہٰذااگرکوئی شخص خوش رفتار اوراچھے اخلاق کامالک بنناچاتاہے تونمازشب کوہرگزفراموش نہیں کرناچاہئے کیونکہ نمازشب کانتیجہ خوش اخلاقی اورنیک سیرتی ہے ۔

١٤۔نمازشب بصیرت میں اضافہ کاسبب

دنیوی فوائد میں سے ایک جسکا امامؑ نے مذکورہ روایت میں تذکرہ فرمایا ہے بصیرت اور بینائی میں اضافہ ہے کہ اس مطلب کو یوں بیان فرمایا ہے:وتجلّواالبصر یعنی نماز شب کی وجہ سے آنکھوں کی بصیرت میں اضافہ ہوتاہے ۔

توضیح : دنیا میں انسان کو دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک اہم ترین نعمت بصیرت ہے کہ جس کی حفاظت کے لئے خود خدا نے ہی ایک ایسا نظام اور سسٹم مہیا فرمایا ہے کہ جس کی تحقیق کرنے والے حضرات اس سے واقف ہیں لہٰذا انسان کی کوشش بھی اسی کی حفاظت اور بقا رکھنے میں مرکوزہے پس اگر ہم بصیرت میں اضافہ اور نوراینیت میں ترقی کے خواہاں ہیں تو نماز شب پڑھنا ہوگا

١٥۔ قرضہ کی ادائیگی کا سبب نماز شب

نیز دنیوی فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ نماز شب قرضہ کی ادائیگی کا سبب ہے چنانچہ امام نے فرمایا و تقضی الدین یعنی نماز شب قرضہ کو ادا کرتی ہے کہ دنیا میں انسان کے لئے مشکل ترین کاموںمیں سے ایک قرضہ کی ادائیگی ہے کہ اس سے نجات ملنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے لہٰذا مقروض حضرات کو ہمیشہ سرزنش اور اہانت کا سامنا کرنا پڑتاہے اگر ہم اس سے نجات او معاشرے میں باوقار رہنا چاہتے ہیں تو نماز شب کا پابند رہنا ہوگا چنانچہ امام نے فرمایا: تدر الرزق نیز پریشانی کی برطرفی کا سبب بھی نماز شب ہے


١٦۔نماز شب دشمن پر غلبہ پانے کا ذریعہ

اگرہم نمازشب انجام دیناشروع کردیں توانشاء اﷲہم اپنے دشمنوں پرہمیشہ غالب اورہروقت ہماری قسمت میں فتح ونصرت ہوگی خواہ ہمارادشمن ظاہری ہویاباطنی اگرکوئی شخص نمازشب جیسے اسلحے کے ساتھ مسلّح ہوکرمیدان جنگ میں واردہوجائے تویقیناکامیابی اورفتح سے ہمکنارہوجائے گالہٰذامسلمانوں کابہترین اسلحہ یہی نمازشب ہے چنانچہ مولاعلی علیہ السلام کی سیرت طیبہ کومطالعہ کرنے سے اس مطلب کی وضاہت ہوجاتی ہے کہ آپ نے بہتّرجنگوںمیں دشمنوںسے مقابلہ کیااورہمیشہ مشکلات میں کامیاب ہوئے کہ اس کامیابی کے پیچھے نمازشب جیسے عظیم معنوی اسلحہ کی طاقت تھی کہ جس سے آپ مددلیاکرتے تھے اس طرح امام حسین علیہ السلام نے کربلامیں اس انسان ساز عظیم قربانی کے موقع پردشمنوں سے جنگ کرنے سے پہلے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ نمازشب انجام دیں اوراپنی بہن بی بی زینب سے نماز شب کی سفارش بھی کی لہٰذانمازشب کے فوائد میں سے ایک دشمنوں پرغلبہ ہے کہ اس مطلب کو امام )ع(نے یوںارشادفرمایا:صلاة ا لیل سلاح علیٰ الاعدائ (١)

یعنی نمازشب دشمنوںپرفتح پانے کے لئے بہترین اسلحہ ہے اسی مضمون کے مانندکچھ اورروایات کاتذکرہ پہلے ہوچکاہے ان تمام روایات کانتیجہ یہ ہے کہ نمازشب مشکلات کی برطرفی اوردشمنوںپرکامیابی کابہترین ذریعہ ہے اگرکسی کادشمن طاقت اوراسلحہ وغیرہ کے حوالے سے کسی پرغالب نظرآئے تواسے چاہئے کہ وہ نمازشب انجام دے کیونکہ نماز شب ہی انسان سے ہرلمحات پرحملہ آورہونے والے دشمن کودورکردیتی ہے کہ جس دشمن کوقرآن میں عدوء مبین کی تعبیرسے یادفرمایاہے۔

چنانچہ اس مطلب کوامام علی علیہ السلام نے یوں بیان فرمایاہے ''صلاة الیل کراهته الشیطان'' نمازشب پڑھنے والوں کوشیطان نفرت کی نگاہ سے دیکھتاہے لہٰذاعدومبین ہے یعنی انسان کاآشکار دشمن شیطان ہے کہ اس کے بارے میں سب کااجماع ہے اگرچہ خودشیطان کی حقیقت کے بارے میںعلماء اورمحققین کے درمیان اختلاف نظرپائی جاتی ہے کہ جن کاخلاصہ یہ ہے شیطان کی حقیقت کے بارے میں تین نظریے پائے جاتے ہیں ۔

١۔شیطان انسان کی مانندایک مستقل موجود ہے جوانسان کونظرنہیں

____________________

(١)بحارج٨٧.


آتاہے لیکن ہمیشہ انسان پرمسلط رہتاہے لہٰذاانسان کی اعضاء وجوارح پرغیرشرعی تصرف کرتاہے جس اس کی حرکتیں شیطانی نظرآتاہے ۔

٢۔یہی دنیا عین شیطان ہے شیطان کوئی مستقل چیزنہیں ہے ۔

٣۔خودانسان ہی عین شیطان ہے ہمارے محترم استاد حضرت آیت اﷲمصباح یزدی نے اپنے فلسفہ اخلاق کے لیکچرمیں ان نظریات میں سے پہلے نظریے کوقبول کیاہے اورکہتے ہیںکہ شیطان ایک مستقل موجودہے لہٰذا مزید تفصیلات کے لئے ان کے فلسفہئ اخلاق کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب کی طرف مراجعہ فرمائےے۔

خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کاوجوداوراس کاانسان کے لئے عدو مبین اورسب سے خطرناک دشمن ہوناایک واضح اورمسلم حقیقت ہے جس کاقرآن مجیدمیں بھی متعددبارذکرہواہے جیساکہ ارشادہے( انّ الشیطان لکم عدو مبین ) اورخالق رحیم نے اس خطرناک اورعیاردشمن سے بچاؤکے متعددذریعے فراہم فرمایاہے جن میں سے ایک اہم ذریعہ نمازشب ہے ۔


١٧۔نمازشب باعث خیروسعادت

نماز شب کے مادّی فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ نماز شب انجام دینے سے مؤمن کو خیر و سعادت نصیب ہوتی ہے کہ علم اخلاق کے دانشمندوں نے خیر و سعادت کے اصول و ضوابط کے بارے میں مختلف نظریات کو ذکر کیا ہے کہ جن کی آراء کا تذکرہ کرنا اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے لہٰذا اختصار کے پیش نظر راقم الحروف اس کی طرف صرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہے کیونکہ نماز شب ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کی برکت سے دنیا میں ہی انسان سعادت مند بن جاتا ہے اور ہر باشعور انسان کی یہی کوشش رہی ہے کہ سعادت مند بن جائے اسی لئے انسان ہزاروں زحمتیں اور مشکلات اٹھاتا ہے تاکہ سعادت جیسی عظیم نعمت حاصل کرنے سے محروم نہ رہے پیغمبر اکرم)ص( نے جنگ تبوک میں اپنے صحابی معاذ ابن جمیل سے فرمایا کیا میں تجھے خیر و سعادت کے اسباب سے مطلع نہ کروں تو معاذ ابن جمیل نے کہا: یارسول اﷲ کیوں نہیں! اس وقت پیغمبر اکرم)ص( نے فرمایا روزہ رکھنے سے جہنم کی آگ سے نجات مل جاتی ہے اور صدقہ دینے کے نتیجے میں اشتباہات کا خسارہ ختم ہوجاتا ہے جبکہ اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرنے سے سعادت مند ہوجاتا ہے پھر اس آیہئ شریفہ کی تلاوت فرمائی:

( تَتَجَافَی جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ ) (١)

یعنی نماز شب پڑھنے والے اپنے پہلو کو بستروں سے دور کیا کرتے ہیں۔(٢) لہٰذا جو انسان باعزت اور سعادت مند ہونےکا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب انجام دے ۔

____________________

(١) سورہئ سجدہ آیت ١٦.

(٢)بحار ج٨٧.


١٨۔انسان کے اطمئنان کا ذریعہ

اسی طرح نماز شب کے فوائد مادّی میں سے ایک یہ ہے کہ نماز شب پڑھنے سے انسان کو سکون اور آرام حاصل ہوجاتا ہے کہ آج انسان اکیسویں صدی میں داخل ہے اور آبادی چھہ ارب سے بھی تجاوز کرچکی ہے لیکن ان میں بہت سارے انسان سکون او ر آرام جیسی نعمت کے حصول کی خاطر منشیات اور مضر اشیاء کے عادی بن چکے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے وسائل انسان کو حقیقی آرام و سکون مہیا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ کچھ عرصہ شراب اور دیگر مضر چیزوں کے استعمال سے سکون اور آرام پیدا ہونے کے بعد نتیجتاً خودکشی کرلیتا ہے یا پھر انسانیت کے دائرے سے ہی نکل جاتا ہے اسی لئے شریعت اسلام میں اس قسم کے مضر چیزوں کے استعمال کوحرام قراردیاگیاہے لہٰذااگرہم ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلامی تعلیمات کاپوری طرح سے پابندہوجائے تومعلوم ہوتاہے کہ اس میں کس قدرلذت اورسکون ہے کہ جس کاہم اندازہ نہیں لگاسکتے اوراسی کے طفیل ہمارے نفسیاتی تمام امراض دور ہوجاتے ہیں کہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم)ص( نے یوں بیان فرمایا ہے:

صلاة اللیل راحة الابدان (١)

یعنی نماز شب کی وجہ سے بدنوں میں آرام و سکون پید اہوجاتا ہے ۔

____________________

(١)بحار ج٨٧


١٩۔نماز شب طولانی عمر کا ذریعہ

اگر انسان غور کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے نزدیک عمر اور زندگی سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نظر نہیں آتی بہت سار ے محققین نے عمر میں ترقی اور اضافہ کی خاطر مختلف راستوں کو بیان کیا ہے لیکن جس حقیقی راستے کی نشاندہی اسلامی تعلیمات اور آئمہ معصومینؑ کے اقوال میں کی گئی ہے اس کا اور کسی محقق کی بات یا نظریہ میں ملنا مشکل ہے لہٰذا اگر قرآنی تعلیمات یا انبیاء اور آئمہ کے اقوال کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے ان کے فرمودات میں انسان کی روز مرہ زندگی کی تمام ضروریات کی طرف رہنمائی پائی جاتی ہے اگر چہ انسان یہ خیال کرے کہ نماز شب اور طولانی عمر کا آپس میں کیا رابطہ ہوسکتا ہے؟ لیکن انبیاء اور آئمہ کے اقوال اور ان کے عمل و کردار میں فائدہ ہی فائدہ ہے جس کی حقیقت کو درک کرنے سے اکثر لوگ قاصرہیں پس اگر انسان اپنی عمر میں ترقی دولت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو ایک مہم ترین سبب نماز شب ہے اس کو فراموش نہ کیجئے کہ اس مطلب کو امام رضا علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا: تم لوگ نماز شب انجام دو کیونکہ جو شخص آٹھ رکعت نماز شب پڑھے دو رکعت نماز شفع اور ایک رکعت نماز وتر (کہ جس کے قنوت میں ستر دفعہ استغفراﷲ کا ذکر تکرار کیا جاتا ہے) انجام دیگا تو خداوند اسکو عذاب قبر اور جہنم کی آگ سے نجات اور اس کی عمر میں اضافہ فرماتا ہے۔(١)

____________________

(١) بحار الانوار ج٨٧.


لہٰذا اس روایت کی بنا پر عمر میں ترقی ہونا حتمی ہے لیکن اس کے باوجود توفیق کا نہ ہونا ہماری بدقسمتی ہے

ب۔ عالم برزخ میں نماز شب کے فوائد

مقدمہ :

جب ہم دور حاضر کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عالم کو محققین اور فلاسفرنے تین قسموں میں تقسیم کیا ہے ۔

١۔عالم طبیعت :۔ کہ اس عالم کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ تمام حرکات و سکنات مادہ یا مادیات سے وابستہ ہے اور نماز شب کے کچھ فوائداس عالم سے مربوط ہیں کہ جن کا بیان ہوچکا ہے ۔

٢۔عالم برزخ :۔ کہ جس کا آغاز موت سے ہوتاہے اور اس کا انتہاء قیامت ہے یعنی عالم دنیا کے بعد اور عالم آخرت سے پہلے درمیانی اوقات کا نام عالم برزخ ہے کہ جس کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان دنیوی اور مادی لوازمات سے استفاہ نہیں کرسکتاہے ۔

٣۔عالم آخرت:۔کہ جس کی وضاحت عنقریب کی جائے گی (تاکہ خوش نصیب افراد نماز شب کے عادی ہوں اور اس کے نتائج سے مستفیض ہوں) لہٰذا اب ان فوائد کی طرف اشارہ کرنا لازم سمجھتاہوں جو عالم برزخ سے مربوط ہیں۔

١۔نماز شب قبر میں روشنی کا ذریعہ

اگر انسان ایک لمحہ کے لئے عالم برزخ کا تصور کرے تو اس سے معلوم ہوجائے گا کہ وہ عالم انسان کے لئے کتنا مشکل اور سخت عالم ہے کہ اس کی حقیقت کو ہم درک نہیں کرسکتے اور ہم میں سے کسی کو خبر نہیں ہے صرف آئمہ معصومینؑ کے اقوال اور سیرت طیبہ کے مطالعات سے یہ پتا چلتا ہے کہ عالم برزخ میں دوست و احباب اورتمام لوازمات زندگی اور مادی وسائل سے منقطع اور محروم ہوجاتاہے اسی لئے اس کو قیامت صغریٰ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ انسان اس میں ہر قسم کی سختیوں اور دشواریوں سے دوچار ہوگا ہم عالم برزخ کے عذاب اور اس کی سختیوں سے نجات کے خواہاں ہیں تو نماز شب جیسی عبادات کوانجام دینے میں کوتاہی نہیں کرنا ہوگی کیونکہ عالم برزخ میں ہونے والی سختیوں میں سے ایک قبر کی بھیانک تاریکی ہے کہ جس سے انسان کا موت کے آتے ہی سامنا ہوجاتاہے


کہ تاریکی اور اندھیرا ایک ایسی بھیانک چیز ہے جس سے انسان دنیا میں خوف زدہ ہوجاتاہے کہ ایک لمحہ بھی تاریکی میں گذارنا اس کے لئے کتنا مشکل ہوجاتاہے اسی طرح جب انسان عالم برزخ میں پہنچے گاتو وہ لمحات بہت ہی سخت ہوںگے کیونکہ دنیا میں ہر قسم کی سہولیات جیسے بجلی سورج چاند ستارے اور دوسرے وسائل کا سلسلہ موجود ہے لہٰذا دنیوی اندھیرے اور تاریکی سے نجات مل سکتی ہے لیکن عالم برزخ میںان تمام ذرایع سے محروم ہوگا لہٰذا عالم برزخ کی تاریکی سے نجات کا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ اس غربت کے زاد راہ کا فکر کریں اور اس تاریک گھر (قبر) کی روشنی کا اس دنیا سے جانے سے پہلے بندوبست کریں اور قبر میں کام آنے والے اور قبر کی تاریکی کو نور میں بدلنے والے اعمال میں سے ایک مہم عمل نماز شب ہے نماز شب عالم برزخ میں بجلی کے مانند ہے اور اس کی وجہ سے قبر منور ہوگی چنانچہ اس مطلب کی طرف حضرت علی علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا اگر کوئی شخص پوری رات عبادت الٰہی میں بسر کرے یعنی رات کو تلاوت قرآن کریم اور نماز شب انجام دے کہ جس کے رکوع و سجود ذکر الٰہی پر مشتمل ہو تو خدا وند اس کی قبر کو نور سے منور کرتا ہے اور دل حسد کی بیماری اور دوسرے گناہوں کی آلودگیوں سے شفاء پاتا ہے اور اس کو قبر کے عقاب و عذاب اور جہنم کی آگ سے نجات ملتی ہے، چنانچہ معصوم علیہ السلام نے فرمایا:

''یثبت النور فی قبر ه و ینزع الاثم والحسد من قلبه ویجار من عذاب القبر و یعطی برأة من النار ۔''(١)

اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح انسان کے لئے دنیا میں نور اور روشنی کے وسائل خدا نے مہیا فرمائے ہیں اسی طرح عالم برزخ میں بھی روشنی اور نور کے اسباب کو فراہم کیا لیکن دنیوی نور کے ذرایع مادّی ہیں جبکہ عالم برزخ کی روشنی اور نور کاذریعہ معنوی چیزیں ہیں جیسے نماز شب. لیکن نماز شب سے قبر میں نور حاصل

____________________

(١)ثواب الاعمال ص١٠٢.


ہونے میں شرط یہ ہے کہ اس کو اخلاص کے ساتھ انجام دیا جائے ۔

نیز حضرت پیغمبر ؐ کا یہ قول ہے:

''صلاة اللیل سراج لصاحبها فی ظلمة القبر'' (١)

نماز شب قبر کی تاریکی میں نمازی کےلئے ایک چراغ کے مانند روشنی دیتی ہے ۔

٢۔ وحشت قبر سے نجات ملنے کا ذریعہ

نماز شب کے برزخی فوائد میں سے دوسرا فائدہ یہ ہے کہ نماز شب انجام دینے سے خداوند انسانوں کو وحشت قبر سے نجات دیتا ہے اور یہاں وحشت قبر کی تفصیل و حالات بیان کرنا اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے لہٰذا مذہب حق جو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور اہل بیت اطہار کے نام سے موسوم ہے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ موت کیوجہ سے فنا نہیں ہوتاہے بلکہ موت کے بعد مزید دو زندگی کا آغاز ہوتا ہے

١۔ مثالی زندگی ۔

٢۔ابدی زندگی ۔

مثالی زندگی سے مراد وہ زندگی ہے جو عالم برزخ میں گذارا جاتا ہے کہ اس عالم میں ہر انسان کو مختلف قسم کے عذاب اور طرح طرح کی سختیوں سے دوچار

____________________

(١) بحار ج٨٧


ہونا یقینی ہے جیسے وحشت قبر لیکن خدا اپنے بندوں سے محبت رکھتا ہے اسی لئے وہ انھیں اس عالم کی سختیوں سے نجات دینے کی خاطر کچھ مستحب اعمال کو انجام دینے کی ترغیب دلائی ہے جیسے نماز شب یعنی اگر ہم نماز شب کو انجام دیں توعالم برزخ میںوحشت قبر جیسی سختیوں سے نجات پاسکیں گے.چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام یوں ارشاد فرمایا ہے:

''صلّی فی سواد اللیل لوحشة القبر'' (١)

یعنی رات کی تاریکی میں نماز انجام دو تاکہ قبر کی وحشت اور خوف سے نجات پاسکو اسی طرح دوسری روایت میںخداوند نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دستور دیتے ہوئے فرمایا:

''قم فی ظلمة اللیل اجعل قبرک روضة من ریاض الجنان ''(٢)

یعنی اے موسیٰ! تو رات کی تاریکی میں (نماز شب انجام دینے کی خاطر ) اٹھا کرو( تاکہ میں اس کے عوض میں) تیری قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دوں۔

لہٰذا ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وحشت قبر یقینی ہے لیکن اگر توفیق

____________________

(١)بحار ج٨٧.

(٢) بحارج١٠٠.


شامل حال ہو تو اس کا علاج نماز شب ہے کیوں کہ اگر انسان غور کرے تو معلوم ہوتاہے کہ دنیا ہی عالم برزخ اور آخرت کے لئے خلق کیا گیا ہے ۔

٣۔قبر کا ساتھی نماز شب

جب انسان اس دار فانی سے چل بسے تو اس کے عزیز و اقارب ہی تجہیز و تکفین ادا کرنے کے بعد سپرد خاک کرکے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے اور بس پھر آپ کا اس قبرستان کے اس ہولناک ماحول میں کوئی پرسان حال نہ ہوگا حتیٰ ماں باپ اور بھائی،فرزند ہونے کے باوجود اکیلے چھوڑجائیں گے اور پھر آپ ہی کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی کوٹھی یا بنگلہ میں ہی آئے گا اور آپ کے خون پسینہ کرکے کمائی ہوئی جائداد اور مال دولت تقسیم کرینگے جب کہ آپ قبر میں تنہائی کے عالم میں ہر قسم کے عذاب میں مبتلا ہونگے اور ادھر یہی افراد جو آپ کے مال و دولت اور جائیداد پر ناز کرتے ہوئے نظر آئیں گے ان ہی میں سے کوئی ایک بھی ایک لمحہ کے لئے آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تاکہ آپ کو قبر کی وحشت اور مشکلات میں آپ کی مدد کریں لہٰذا احباب کی اس لاتعلقی کا اندازہ مرنے سے پہلے لگائیے جب کہ ہمارا حقیقی خالق ہمیشہ ہما رے فلاح و بہبود کا خواہاں ہیں اسی لئے آپ کو قبرمیں تنہائی سے نجات دینے کی خاطر آپ کے قبر کے ساتھی کا بھی تعارف کرایاہے کہ وہ باوفا ساتھی جو کبھی بھی آپ سے بے وفائی نہیں کریگا اور ہمیشہ آپ کا محافظ اور مددگار کی حیثیت سے آپ کے ہمراہ رہے گا وہ نماز شب ہے یعنی اگر آپ نماز شب انجام دینگے تو قبر میں تنہائی محسوس نہیں کرینگے کیونکہ نماز شب تنہائی کی سختی سے نجات دیتی ہے


چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم)ص( نے یوں بیان فرمایا ہے نماز شب ملک الموت اور نماز گذار کے درمیان ایک واسطہ اور قبر میں ایک چراغ اور جس مصلّے پر نماز شب پڑھی جاتی ہے وہ لباس نکیر و منکر کے لئے جواب دہ اور روز قیامت تک قبر کی تنہائی میں آپ کی ساتھی ہوگی۔(١)

اور دنیا میں یہ عام رواج ہے کہ مخصوص ایام اور پروگراموں میں شرکت کرنے کی خاطر مخصوص لباس پہنا جاتاہے اور اسی طرح علماء عاملین کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ جب وہ اپنے ملائے حقیقی کی عبادت کے لئے آمادہ ہوا کرتے ہیں تو خاص لباس پہن کر عبادت کرتے تھے تاکہ روز قیامت وہ لباس ان کے حق میں شہادت دے اسی لئے علماء اور مؤمنین موت کے وقت اپنی وصیتوں میں ایسے لباس کے بارے میں تاکید کرتے تھے جس لباس میںمیںنے خدا کی عبادت کی ہے وہ لباس میرے ہمراہ قبر میں دفن کیا جائے تاکہ وحشت قبر اور اس کی تنہائی اور تاریکی میں اس کی شفاعت کرسکیں لہٰذا مرحوم آیۃ اﷲ مرعشی نجفیؒ کے وصیت نامہ میں ایسے ہی الفاظ ملتے ہیں کہ آپ نے وصیت نامہ میں فرمایا:

میرا وہ لباس میرے ساتھ دفن کیا جائے کہ جس میں میں نے نماز شب پڑھی ہے اور اس رومال کو بھی میرے ساتھ دفن کرے کہ جس سے امام حسین علیہ

____________________

(١)بحار ج٨٧.


السلام کی مصیبت کو یاد کرکے بہائے گئے آنسو پونچھا کوجمع کیا لہٰذا نماز شب کے اتنے فوائد ہونے کے بعد اس سے محروم ہونا شاید ہماری بدقسمتی ہے پالنے والا ہم سب کو نماز شب پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔

٤۔نماز شب مانع فشار قبر

جیسا کہ معلوم ہیںکہ عذاب الٰہی کی تین قسمیں ہیں :

١۔ دنیوی عذاب ۔

٢۔برزخی عذاب ۔

٣۔اخروی عذاب ۔

لیکن ہمارے درمیان معروف ہے کہ عذاب کا سلسلہ اس عالم دنیا اور عالم برزخ کے سفر طے کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے جبکہ یہ خام خیالی ہے کیونکہ اگر کوئی شخص اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہو تو کچھ کی سزا دنیا ہی میں مل جاتی ہے اور اسی کو عذاب دنیوی کہا جاتا ہے اگر چہ انسان غفلت اور سستی کے نتیجے میں دنیوی عذاب کو درک کرنے سے عاجز رہتا ہے لہٰذا یہی وجہ ہے کہ جب خدا کی طرف سے کسی جرم کی سزا دینا میں دی جائے تو غافل انسان اس کی مختلف توجیہات سے کام لیتا ہے۔ جب کہ اس کی اصلی علت یہی نافرمانی ہوتی ہے ۔


اسی طرح کچھ دوسرے جرم ہیں کہ جس کی سزا اس عالم میں نہیں دی جاتی بلکہ اس کی سزا عالم برزخ میں روبرو ہوتی ہے اور اسی طرح کچھ ایسے گناہ اور جرائم ہیں کہ جن کی سزا خداوند عالم آخرت میں دیتا ہے لہٰذا نماز شب واحد ذریعہ ہے جو انسان کو قبر کے تمام عذاب سے نجات دینے والی ہے لہٰذا نماز شب کے برزخی فوائد میں سے چوتھا فائدہ یہ ہے کہ نمازی کو قبر کے عذاب اور فشار قبر سے نجات دیتی ہے کہ فشار قبر اتنا سخت سزا ہے جو انسان کے بدن کے گوشت کو ہڈیوں سے الگ کردیتی ہے اس مطلب کو صحابی رسول اکرم)ص( جناب ابوذر نے یوںارشاد فرمایا ہے کہ ایک دن کعبہ کے نزدیک بیٹھے ہوئے لوگوں کو نصیحت کررہے تھے اور انھیں ابدی زندگی کی طرف ترغیب و تشویق دلارہے تھے اتنے میں لوگوں نے آپ سے پوچھا اے ابوذر وہ کونسی چیز ہے جو آخرت کے لئے زادراہ بن سکتی ہے تو آپنے فرمایا گرمی کے موسم میں روزہ رکھنے سے حساب و کتاب آسان ہوجاتاہے اور رات کی تاریکی میں دو رکعت نماز پڑھنے سے وحشت قبر سے نجات ملتی ہے اور صدقہ دینے سے انسان کی تنگ دستی دور اور مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔(١)

اسی طرح دوسری روایت میں حضرت امام رضا علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا کہ تم لوگ نماز شب انجام دو کیونکہ جو شخص رات کے آخری وقت میں گیارہ رکعت نماز انجام دے تو خداوند اس کو قبر کے عذاب اور جہنم کی آگ سے نجات عطا فرماتاہے۔(٢)

____________________

(١)داستان ج٢ص٢٦.

(٢)بحار ج٨٧ص١٦١.


٥۔نماز شب قبر میں آپ کی شفیع

جس طرح عالم دنیامیں کسی کی سفارش اور تعاون کے بغیر کوئی بھی مشکل برطرف نہیں ہوتی اسی طرح عالم برزخ میں بھی مشکلات اور سختیوں کو برطرف کرنے کے لئے مدد کی ضرورت یقینی ہے اگر چہ ان دو سفارشوں کے مابین فرق ہی کیوں نہ ہو لہٰذا عالم دنیا کی سفارش مادی اسباب کا نتیجہ ہے جیسے کسی بڑی شخصیت کی سفارش جب وہ میسر نہ آئے تو پھر رشوت وغیرہ کے ذریعہ سے مشکلات کی برطرفی اور مقاصد کے حصول کے لئے ہر انسان کوشش کرتا ہے جب کہ عالم برزخ اور مثالی عالم کی سفارش معنوی اور صوری ذرایع کی ہوتی ہے۔

لہٰذا عالم برزخ میں دنیا کے اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کام نہیں آئیں گی بلکہ خدا کی نظر میںجو مقرب اور نیک حضرات ہیں وہی اس مشکل کو حل اور ہماری سفارش کرسکتے ہیں لہٰذا ایسے وسائل کے بارے میں بھی انسان کو شناخت و معرفت اور ان میںسے ایک معنوی تعلق جوڑنے کی طرف توجہ ہونی چاہیے تبھی تو خدا وند عالم نے برزخ میں بھی مؤمن انسان کی شفاعت اور اس کی فلاح کے لئے کچھ دستورات دئے ہیں ان کو انسان پابندی کے ساتھ انجام دینے کی صورت میں اور محرمات سے اجتناب کرنے میں اور اخلاق حسنہ اپنانے میں اور اخلاق رذیلہ سے اپنے آپ دور رکھنے کی صورت میں اس کی تمام مشکلات برطرف ہوسکتی ہے چنانچہ پیغمبر اکرم)ص( نے فرمایا:


صلاة اللیل شفیع صاحبها (١)

یعنی نماز شب قبر کی وحشت ناک تنہائی میں نمازی کی شفیع ہوگی پس نماز شب قبر کے وحشت ناک تنہائی اور عالم غربت کی سختی کے وقت اور ملک الموت و نکیر و منکر کے سوال و جواب کے موقع پرآپ کی شفیع ہے لہٰذا آیات و روایات کی روشنی میں بخوبی یہ نتیجہ نکلتاہے کہ نماز شب کے فوائد عالم برزخ میں بہت زیادہ ہیں لیکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے انھیں چند فوائد پر اکتفاء کرینگے پس جب ہم دنیوی فوائد ااوربرزخی فوائد سے فارغ ہوگئے تونمازشب کے ایسے فوائد کی طرف بھی اشارہ کریں گے جوابدی زندگی سے مربوط ہیں کیونکہ ابدی زندگی کے فوائدمادی زندگی اورمثالی زندگی کے فوائدسے زیادہ اہم ہیں تاکہ مومنین کے لئے اطمئنان قلب کا باعث بنے ۔

ج۔عالم آخرت میں نماز شب کے فوائد

١۔جنت کادروازہ نمازشب

اخروی فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ جوشخص علم جیسی نعمت سے بہرہ مندہواوراس کی نظروں سے کچھ کتابیں نما شب کے اخروی فوائد سے متعلق گذری ہوگی کہ دنیوی زندگی اورمثالی زندگی گزرنے کے بعد انسان کی ابدی زندگی

____________________

(١)جامع آیات و احادیث ج٢


کاآغازہوجاتاہے کہ اس زندگی گزرنے کی جگہ مومن کے لئے جنت ہے لیکن اگرکافرہے توجہنم ہے.

لہٰذا جنت اور جہنم میں زندگی گذار نا ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے یعنی انسان کے اعمال و کردارعلت ہے،جنت میں داخل ہونایا جہنم میں رہنا معلول ہے تب ہی توانسان کے اعمال و کردار دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے نیک اعمال اور بد اعمال. اگر انسان اس دنیا میں اچھے اعمال کا عادی ہو اور اسلام کی تعلیمات کا پابند ہو تو جنت میں ابدی زندگی سے ہمکنار ہوتے ہوئے ہمیشہ جنت میں رہے گا لیکن اگر اس دنیا میں برے اعمال کا عادی رہا ہو اور اسلامی تعلیمات سے دور ہو یعنی اپنی خواہشات کا تابع ہو تو اس کی ابدی زندگی کی جگہ جہنم جیسی بری جگہ ہوگی پس جنت و جہنم دو ایسے مقام کا نام ہے کہ جس کی زندگی مثالی زندگی اور مادّی زندگی سے مختلف ہے لہٰذا جنت و جہنم کی زندگی کو ابدی کہا جاتاہے جب کہ باقی زندگی کو موقتی اور تغییر پذیر زندگی کہا جاتاہے چنانچہ اس مطلب پر قرآن کی کئی آیات میں اشارہ ملتاہے مثلاً:


'' فیہا خالدون...'' یعنی جنت اور جہنم میں ہمیشہ رکھا جاتا ہے جب کہ ایسے الفاظ قرآن وسنت میں دنیوی زندگی کے بارے میں نظر نہیں آتے پس انسان غور سے کام لے تو بخوبی معلوم ہوتاہے کہ انسان کتنا غافل ہے کہ دنیا میں دنیوی زندگی سے اس قدر محبت رکھتاہے جبکہ یہ زندگی کچھ مدت کی زندگی ہے لیکن اگر یہی انسان خدا کا مطیع ہو تو فرشتوں سے بھی افضل قرار دیا گیا ہے کہ اس تعبیر کی حقیقت یہ ہے کہ اگر دنیوی زندگی کو ہی حقیقی زندگی مان لے توحیوانات سے بھی بدتر ہے لیکن اگر دنیوی زندگی کو ابدی زندگی کے لئے مقدمہ سمجھے تو فرشتوں سے بھی افضل ہے تبھی تو قرآن وسنت میں کئی مقام پر تدبر و تفکر سے کام لینے کی ترغیب ہوئی ہے تاکہ غافل انسان یہ نہ سمجھے کہ زندگی کا دار ومدار یہی زندگی ہے پس اگر کوئی ابدی زندگی کو آباد کرنے کا خواہاں ہے تو آج ہی نماز شب انجام دینے کا عزم کیجئے کیونکہ نماز شب جن فوائدپر مشتمل ہے شاید کوئی اور عمل نہ ہو لہٰذا نماز شب انجام دینے سے جنت کے دروازے ہمیشہ کےلئے کھل جاتے ہیں اور نمازی آسانی سے جنت میں داخل ہوسکتے ہیں چنانچہ پیغمبر اکرم)ص( کا یہ ارشاد ہے: اے خاندان عبدالمطلب تم لوگ رات کے وقت جب تمام انسان خواب غفلت میں غرق ہوجاتے ہیں تو شب بیداری کیا کرو اور خدا سے راز و نیاز کرو تاکہ جنت میں آسانی سے جاسکوں۔(١)

دوسری روایت میں پیغمبر )ص( نے فرمایا:

''من ختم له بقیام اللیل ثم مات فله الجنة '' (٢)

اگر کوئی شخص شب بیداری کا عادی ہو اور مرجائے تو خداوند اس کے عوض میں اس کو جنت عطا فرمائے گا۔

____________________

(١)محاسن برقی ص٨٧.

(٢)وسائل ج٥.


نیز تیسری روایت جس میں حضرت پیغمبر اکرم)ص( نے جناب ابوذر سے فرمایا :

'' یا اباذر ایما رجل تطوع فی یوم ولیلة اثنتا عشرة رکعة سوی المکتوبة کان له حقاً واجباً بیت فی الجنة''

اے ابوذر اگر کوئی شخص چوبیس گھنٹے کے اوقات میں واجبات کے علاوہ بارہ رکعات مستحبی (نماز شب) بھی انجام دے تو خداوند اس کے بدلے میں اس کو جنت عطا کریگا(١)

تفسیر وتحلیل:

ان مذکورہ روایات کا خلاصہ یہ ہوا کہ جنت میں جانے کے خواہاں افراد کو چاہیے کہ وہ نماز شب کو ترک نہ کریں کیونکہ نماز شب کی خاطر جنت میں خداوندخوش نصیب افراد کو ایک خاص قسم کا قصر عطا کریگا ۔

٢۔جنت میں سکون کا ذریعہ

نماز شب کے فوائد اخروی میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ نماز شب انجام دینے کے نتیجے میں خداوند نمازی کو ابدی زندگی میں سکون جیسی نعمت عطا فرماتاہے کہ سکون جیسی نعمت کی نیاز تمام زندگی کے مراحل میں یقینی ہے چنانچہ دنیا میں ہر انسان کی طبیعت یہ ہے کہ زندگی سکون سے گذارے لہٰذا سکون کی خاطر طرح طرح

____________________

(١)مکارم الاخلاق ص٤٦١.


کی مشقتیں برداشت کرکے عدم سکون جیسی بلا سے جان بخشی کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتا ہے لہٰذا اگر کوئی شخص جنت میں زیادہ سے زیادہ آرام و سکون کا خواہاں ہو کہ انسانی فطرت اور عقل بھی یہی چاہتی ہے تو اس آرزو کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک عمل درکار ہے اور وہ عمل نماز شب ہے کہ جو اس مشکل کو حل کرسکتاہے یعنی سکون اور آرام جیسی نعمت سے زیادہ سے زیادہ مالامال ہوسکتاہے چنانچہ پیغمبر اکرم)ص( نے ارشاد فرمایا:اطولکم قنوتاً فی الوتر اطولکم یوم القیامة فی الموقف ، تم لوگ نماز وتر کے قنوت کو جتنا زیادہ وقت تک انجام دوگے تو اتنا ہی خدا قیامت کے دن آرام و سکون میں اضافہ فرمائے گا(١) پس اسی روایت کی روشنی میں یہ کہہ سکتاہے کہ سکون جیسی نعمت کا ذریعہ بھی نماز شب ہے.

٣۔دائیں ہاتھ میں نامہئ اعمال دیا جانے کا سبب

نماز شب کے عالم آخرت سے مربوط نتائج میں سے اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ نماز شب انجام دینے کی وجہ سے خداوند قیامت کے حساب وکتاب کے دن نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں دے گا کہ یہی قبولیت اعمال اور رضایت خدا کی علامت ہے لہٰذا اس مطلب کو روایت کی روشنی میں بیان کرنے سے پہلے ایک مقدمہ ضروری ہے کہ وہ مقدمہ یہ ہے کہ قیامت کی بحث علم کلام میں مستقل ایک بحث

____________________

(١)بحارالانوار ج٨٧.


ہونے کے باوجود باقی مباحث کلامی کی بہ نسبت مشکل اور پیچیدہ ہے لہٰذا قیامت کی مباحث میں بہت سے ایسے مسائل بھی ہیں کہ جن کی توضیح اور درک کرنا ہر عام و خاص کی بساط سے باہر ہے کہ انھیں میں سے ایک نامہئ اعمال ہے اگر چہ نامہئ اعمال کا مسئلہ اہم ترین مسئلہ بھی ہے کیونکہ بہت سی روایتیں اور آیات کی روشنی میں معلوم ہوتاہے کہ انسان کے تمام اعمال قیامت کے دن مجسم ہوکر حاضر ہوں گے نیز جن اعضاء و جوارح وہ اعمال انجام دئے گئے وہی اعضاء اسی پر گواہی دیتا ہے لہٰذا اس طرح کی باتیں نامہئ اعمال کے متعلق روایات اور آیات میں زیادہ ہیں اور اعمال کی حقیقت اور کیفیت کو درک کرنا انسان کی قدرت سے باہر ہے اگرچہ محقق ہی کیوں نہ ہو لہٰذا بوعلی سینا کا یہ قول ہے کہ میری تحقیقات معاد جسمانی کو ثابت کرنے سے قاصر رہی۔

لیکن میرا مولا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے لہٰذا میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔اور نامہئ اعمال کی اتنی اہمیت ہے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ ہی نامہئ اعمال کا نتیجہ ہے گویا مباحث معاد میں نامہئ اعمال کو ہی مرکزیت حاصل ہے لیکن اس کی حقیقت اور ماہیت روشن کرنا اس کتاب کی گنجائش سے خارج ہے لہٰذا مختصر یہ ہے کہ قیامت کے دن نامہئ اعمال یا دائیں ہاتھ یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ نامہئ اعمال جس ہاتھ میں دیا جائے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس سوال کا جواب محققین دے چکے ہیں لیکن پھر بھی ایک اشارہ لازم ہے کہ نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنّتی ہے اور اس کے سارے اعمال قبول ہونے کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ابدی زندگی آباد ہونے پر بھی دلیل ہے اسی طرح نامہئ اعمال بائیں ہاتھ میں دینے کا مطلب بھی واضح ہے کہ خدا کی نظر میں اعمال قابل قبول نہ ہونے کی علامت ہے اسی لئے آئمہ معصومین علہیم السلام سے منقول بہت سی دعاؤں میں اس طرح کے جملات مذکور ہیں۔ کہ پالنے والے! روز قیامت میرا نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں لینے کی توفیق دے لہٰذا قیامت کے دن جن لوگوں کا نامہئ اعمال جب دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ لوگ خوش اور ان کے چہرے نور سے منور ہونگے لیکن جن لوگوں کے نامہئ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائیگا وہ خدا سے التجاء کریں گے:


اے خدا وند کاش میرے نامہئ اعمال پیش نہ کیا جاتا اے کاش آج میرے تمام گناہوں اور برائیوں کو اس طرح میدان میں آشکار نہ کیا جاتا لہٰذا ایسی بڑی مشکل میں مبتلاء ہونے کا سبب ہمارے برے اعمال ہیں چنانچہ اگر انسان روز قیامت ایسے شرمناک اور ہولناک حالات سے نجات کا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب انجام دے لہٰذا روایات میں وارد ہوا ہے اگر آپ نے نماز شب انجام دی تو خدا اس کے عوض میں ان کے نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گانیز حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا اگر کوئی شخص رات کے آخری وقت میں خدا کی عبادت اور نماز شب پڑھنے میں مشغول رہے تو خدا اس کے بدلے میں روز قیامت اس کے نامہئ اعمال کو دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گا۔ اسی طرح دوسری روایات بھی آنحضرتؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اگر کوئی شخص رات کے چوتھائی حصے عبادات اور نماز شب انجام دینے میں گزارے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ اسے قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جوار میں جگہ عطا فرمانے کے علاوہ اس کے نامہئ اعمال کو دائیں ہاتھ میں دیگا۔(١)

لہٰذا خلاصہ یہ ہوا کہ نامہئ اعمال کے دائیں ہاتھ میں دئےے جانے، اعمال کے قبول ہونے خدا کی رضایت کے شامل حال ہونے اور جنت میں داخل کیا جانے جاودانی زندگی پانے اور تنگدست لوگوں کے امیر بننے کا سبب نماز شب ہے لہٰذا خدا سے ہماری دعا ہے کہ ہمیں نماز شب انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

٤۔پل صراط سے بامیدی عبور کا سبب

روز قیامت سے مربوط نماز شب کے فوائد میں سے ایک اور فائدہ یہ ہے اگر کوئی شخص نماز شب جیسی بابرکت عبادت کو انجام دے تو قیامت کے دن پل صراط سے بآسانی گذرسکتا ہے لیکن پل صراط خود کیا ہے اور اس کی سختی کے بارے میں شاید قارئین کرام جانتے ہوں روایات سے صراط کی کیفیت اس طرح روشن ہوتی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو قیامت کے دن رونما ہونے والی مشکلات

____________________

(١)ثواب الاعمال و عقابہاص١٠٠.


میں سے ایک مشکل صراط کی صورت میں پیش آئے گی کیونکہ روایت میں صراط کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ بال سے زیادہ باریک ، تلوار سے زیادہ تیز، اور آگ سے زیادہ گرم ہوگا کہ جو خدا نے جہنم کے اوپر خلق کیا ہے تاکہ جنّت میں جانے سے پہلے اس سے عبور کرے کہ ایسے اوصاف کے حامل راستے کو عبور کرنا عام عادی انسانوں کے لئے یقینا بہت سخت اور مشکل امر ہے لیکن ایسے دشوار راہ سے اگر بہ آسانی گذرنا چاہے تو رات کے وقت خدا کی عبادت اور نماز شب انجام دے۔ کیونکہ نماز شب میں خدا نے ایسے فوائد مؤمنین کے لئے مخفی رکھا ہے کہ ہر مشکل امر کا راہ حل نماز شب ہے چنانچہ اس مسئلہ کو حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے اگر کوئی شخص رات کے تین حصے گذر جانے کے بعد نیند کی لذت چھوڑ کر اٹھے اور نماز شب انجام دے تو خداوند قیامت کے دن اس شخص کو مؤمنین کی پہلی صف میں قرار دے گا اور صراط سے عبور کے وقت آسانی، حساب و کتاب میں تخفیف اور کسی مشکل کے بغیر جنّت میں داخل کیا جائے گا۔(١)

پس نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ کرنا شاید ہماری قدرت سے خارج ہو اسی لئے بہت سی روایات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ نماز شب دنیا و قبر اور آخرت کے تمام مشکلات کے لئے راہ نجات ہے کہ اس طرح کی اہمیت اور ثواب اسلام میں شاید کسی اور عبادت اور کار خیر کو ذکر نہیں کیا ہے۔ تب ہی تو پورے انبیاء

____________________

(١)ثواب الاعمال ص١٠٠


اور آئمہ ٪ اور دیگر مؤمنین کی سیرت طیبہ ہمیشہ یہی رہی ہیں کہ رات کے آخری وقت خدا سے راز و نیاز کیا کرتے تھے۔

٥۔جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں

روایات اور آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جنت کے متعدد دروازے ہیں کہ ہر ایک دروازے کا مقام و منزلت دوسروں سے مختلف ہے۔ لہٰذا جنت ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا آپس میں ٹکراؤ یا الجھاؤ نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ ہر جنّتی کے مراتب اور درجات مختلف ہیں لہٰذا اسی بناء پر ہر ایک طبقے کا جنّت میں داخل ہونے کا الگ دروازہ مخصوص کیا گیا ہے لیکن اس قانون سے ایک گروہ مستثنیٰ ہے کہ وہ طبقہ ایسا خوش نصیب طبقہ ہے جو دنیا میں نماز شب کو انجام دیتا رہا ہے ایسے افراد جنّت کے آٹھ دروازے سے چاہے گذر سکتا ہے کہ اس مطلب کو حضرت علی علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ہر وہ شخص جو رات کے اوقات میں سے کوئی ایک وقت نماز میںگذاریں گے تو خداوند کریم اپنے محبوب ترین فرشتوں سے کہا کرتے ہیں میرے اس تہجد گذار بندے سے عام انسان کی طرح تم ملاقات نہ کرو بلکہ اس سے ایک خاص اہتمام اور شان و شوکت کے ساتھ پیش آئیں اور خدا کے ہاں ان کا مقام ومنزلت دیکھ کر فرشتے تعجب کریں گے اور فرشتے انہی افراد سے عر ض کریں گے کہ آپ جنت کے جس دروازے سے چاہیں گذر سکتے ہیں.


٦۔آتش جہنم سے نجات کا باعث

قیامت کے مسائل میں سے سنگین ترین مسئلہ آتش جہنم ہے اور اسی حوالے سے قرآن و سنت اور انبیاء و آئمہ٪ کی تعلیمات سے یہ ملتا ہے کہ تم لوگ کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کرو کہ جس کا نتیجہ آتش جہنم ہو لیکن جہنم کی آگ کی حقیقت دنیوی آگ کی مانند نہیں ہے اور جس طرح دنیوی آگ کی گرمائش اور جلن قابل تحمل نہیں تو جہنم کی آگ کیسے قابل تحمل ہوسکتی ہے جبکہ جہنم کی آگ کی تپش و جلن دنیوی آگ کی بہ نسبت نوگنا زیادہ ہوگی۔ لہٰذاآتش جہنم کی سختی کا اندازہ اور ان سے پیدا ہونے والے خوف و ہراس کا سبب یہی ہے پس اگر کوئی شخص ایسی آگ سے نجات چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب سے مدد مانگے چنانچہ اس مطلب کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یوں ذکر فرمایا ہے کہ ہر وہ شخص جو عبادت الٰہی میں شب بیداری کریں گے تو خداوند اس کو جہنم کی سختیوں سے نجات دیتا ہے اور عذاب الٰہی سے محفوظ رہے گا۔(١)

اسی طرح قرآن کریم میں جہنم کی آگ کے متعلق متعدد آیات نازل ہوئی ہیں۔ جیسے:

____________________

(١)ثواب الاعمال ص١٠٠.


( فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِی وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ ) (١)

پس تم اس آگ سے بچو کہ جس کے ایندھن انسان اور پتھر ہوں گی جو کافروں کے لئے خلق کیا ہے۔

نیز فرمایا:

( إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیرًا ) (٢)

بے شک منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا اور تم ان کی حمایت میں کوئی مددگار نہ پاؤگے۔

پس اگر کوئی انسان ایسی آگ سے نجات کا خواہاں ہے تو آج نماز شب انجام دینے کا عزم کریں۔

٧۔آخرت کی زادو راہ نماز شب

یہ امر طبیعی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ملک یا شہر سے دوسرے شہر یا ملک کی طرف سفر کرنا چاہتا ہے تو سفر کے تمام ضروریات کو سفر سے پہلے مہیا کرتا ہے

____________________

(١)سورہئ بقرۃ آیت ٢٤.

(٢)سورہئ نساء آیت ١٤٥


تاکہ سفر کے دوران کسی مشکل سے دوچار نہ ہو لیکن یہ بڑی تعجب کی بات ہے کہ انسان اس دنیا میں معمولی سفر شروع کرنے سے پہلے کچھ زادوراہ آمادہ کرتاہے لیکن جب اخروی سفر اور ابدی عالم کی طرف جانے لگتا ہے تو سفر کے ضروریات اور لوازمات سے بالکل غافل ہے جبکہ وہ یہ جانتا بھی ہے کہ یہ سفر کس قدر طولانی ہے اور زادوراہ کس قدر زیادہ ہونا چاہیے پس اگر کوئی شخص عالم آخرت کے سفر کا تصور کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ سفر دنیوی سفر سے بہت زیادہ اور طولانی اورمشکل ہے لہٰذا اس سفر کے زادو راہ میں سے ایک نماز شب ہے۔

چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا وہ شخص خوش قسمت ہے جو سردی کے موسم میں رات کے اوقات میں سے کسی خاص وقت میں عالم آخرت کے زادو راہ مہیا کرنے میں گزارے اسی طرح دوسری روایت میں پیغمبر اکر م ؐنے فرمایا:''فان صلاة اللیل تدفع عن اهلها حرا النار لیوم القیامة'' (١)

بے شک روز قیامت نماز شب نمازی کو جہنم کے حرارت سے نجات دیتی ہے پس ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب آخرت کے لئے ایک ایسا زخیرہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا اتنی فضیلت اور اہمیت کے باوجود انجام نہ دینا ہماری غفلت وکوتا ہی کا نتیجہ ہے ۔

____________________

(١)کننرالعمال ج ٧.


٨۔نماز شب آخرت کی خوشی کا باعث اگر انسان دنیا میںخوف خدا میں آنسوبہا ئے تو روزقیامت اس کو کسی چیز کے خوف سے رونا نہیں پڑے گا اسی لئے سکونی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے

''قال قال رسول الله (ص)کل عین باکیة یوم القیامه الا ثلاثة اعین عین بکت من خشة الله وعین غضت عن محارم الله وعین باتت ساهرة فی سبیل الله '' (١)

روز قیامت تین آنکھوںکے علاوہ باقی تمام آنکھیں اشک بارہونگی (١)وہ آنکھوں جو خوف خدا کی وجہ سے روتی رہی ہو(٢) وہ آنکھ جو حرام نگاہوں سے اجتناب کرتی رہی ہے (٣) وہ آنکھ جو راہ خدا میں شب بیداری کرتی رہی ہو اسی طرح دوسری روایت میں فرمایا:

روز قیامت تمام آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے مگر تین آنکھیں، (١) جو محرمات الٰہی سے پرہیز کرتی رہی دوسری وہ آنکھیں جو رات کی تاریکی میں خوف خدا کے نتیجے میں گریہ وزاری میں رہی ہے تیسری وہ آنکھیں جو اطاعت الہٰی کے خاطر اپنے آپ کو نیند سے محروم کرکے شب بیداری کرتی رہی ہو لہٰذا

____________________

(١) خصال صدوق ص ٩٨


قرآن کریم میں بھی یوں فرمایا ہے :

( فلیضحکو اقلیلا والیبکواکثیرا )

یعنی زیادہ رویا کرو اور خوشحالی کم کرو۔

اسی طرح تمام انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ وہ آخرت کے خوف سے دنیا میں رویا کرتے تھے اور بہتیرین رونے کا وقت رات کی تاریکی ہے کہ جس وقت نماز شب انجام دیجاتی ہے پس دنیا میں جہنم کی آگ اور عذاب کے خوف میں رونا اور آنسو بہانا اخروی شرمندگی سے نجات کا باعث ہوگا۔

٩۔آخرت کی زینت نماز شب

ہر عالم میں کچھ چیزیں باعث زینت ہوا کرتی ہے لیکن ان کا آپس میں بہت بڑا فرق بھی ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جفرصادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''ان الله عزوجل قال المال والبنون زینة الحیاة الدنیا وان ثمان رکعات التی یصلیها العبد اخراللیل زینة الاخرة ۔''(١)

خدا نے فرمایا کہ اولاد اور دولت دنیوی زندگی کی زینت ہے لیکن آٹھ

____________________

(١) بحار الانوار ج ٨٣


رکعات نماز جو رات کے آخری وقت میںانجام دی جاتی ہے وہ آخرت کی زینت ہے پس اس روایت سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ عالم دنیا میں لوگوں کی نظر میں زینت کا ذریعہ اولاد اور دولت سمجھا جا تا ہے جب کہ عالم آخرت میں باعث زینت نماز شب اور دوسرے اعمال صالحہ ہوں گے چنانچہ خدا نے اسی مذکورہ آیہ شریفہ کے ذیل میں یوں اشارہ فرمایا والباقیات الصالحات لہٰذا نماز شب انجام دینے والے روز قیامت دوسروں سے مزین اور منور نظر آتا ہے

١٠۔جنت میں خصوصی مقام ملنے کا سبب

روایات کی روشنی میں یہ بات مسلم ہے کہ جنت میں ہر جنتی کا مقام ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہے کہ جس طرح دنیا میں ہر ایک کی جگہ اور منزل یکسان نہیں ہے اسی طرح جنت میں بھی سکونت کی جگہ اور دیگر سہولیات کے حوالے سے مختلف ہے لہٰذا اگر کوئی شخص دنیا میں نماز شب کا عادی اور نیک اعمال کے پابند ہوتو روز قیامت جنت میں اس کو ایسے خصوصی قصر دیا جائے گا کہ جو مختلف کمروں پر مشتمل ہونے کے علاوہ اس کی زینت فیروزہ یاقوت اور زبرجد جیسے قیمتی پھتروں سے کی گئی ہے چنانچہ اس مسئلہ کو پیغمبر اکرم)ص(نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''ان فی الجنة غرفا یری ظاهرها من باطنها وباطنها من ظاهر ها یسکنها من امتی من اطاب الکلام واطعم الطعام وافش السلام وادام الصیام وصلی بااللیل والناس ینام ۔''

بے شک جنت میں کچھ اسے قصر بھی تیار کیا گیا ہے کہ جن کے باہر کی زینت اندرسے اور اندر کی زینت باہر سے نظر آئے گی کہ ایسے کمروں میں میری امت میں سے ان لوگوں کی سکونت ہوگی کہ جن کا سلوک دنیاء میں لوگوں کے ساتھ اچھا رہا اور لوگوں کو کھنا کھلایا اور سرعام یعنی کھلم کھلا لوگوں کو سلام کرنے کے عادی رہے ہو اور ہمیشہ روزہ رکھنے کے علاوہ رات کے وقت نماز شب انجام دیتے رہیں جب کہ باقی افراد خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔


تحلیل وتفسیر:

اگر کوئی شخص دنیا میں نیک گفتاری کا مالک اور سلام کرنے کا عادی اور روزہ رکھنے پر پابند ہو تو خدا اس کے نیکی کا بدلہ روز قیامت ایسا گھر عطا فرمائے گا کہ جن کی خوبصورتی اور زینت کھلم کھلا نظر آئے گی اسی طرح نماز شب کی برکت سے جنت میں نماز شب انجام دینے والے ایسا گھر اور قصر کا مالک ہوگا نیز اگر دنیا میں نماز شب انجام دینے کی توفیق ہوئی ہو تو محشر کے میدان میں حساب وکتاب کے وقت نماز شب ایک بادل کی طرح اس شخص کی پیشانی پرسایہ کئے ہوئے نظر آئے گی چنانچہ پیغمبر اکرم)ص( نے ارشاد فرمایا :

'' صلاةاللیل ظلا فوقه ''

یعنی نماز شب اس کے سرپر سایہ کی طرح نمودار ہوگی وتاجاًعلی راسہ یعنی نماز شب قیامت کے دن ایک تاج کی مانند ظاہر ہوگی نیز فرمایا ولباسا علی بدنہ نماز شب اس کے بدن پر لباس کی مانند ایک پردہ ہے ونورا سعی بین یدیہ اور نماز شب نور بن کر اس کے سامنے روشن ہوجائے گی وسترا بینہ وبین النار اور نماز شب نمازی اور جہنم کے درمیان ایک پردہ ہے وحجۃ بین یدی اللہ تعالی۔

خدا اور نمازی کے درمیان دلیل اور برہان ہوگی، وثقلا فی المیزان اور نامہ اعمال کے سنگین ہونے کا سبب ہے پس خلاصہ نماز شب حساب وکتاب میزان عمل حشرو نشر کے مو قع پر کام آنے والا واحد ذریعہ ہے لہٰذا فراموش نہ کیجئے ۔


تیسری فصل :

نماز شب سے محروم ہونے کی علت

نماز شب کے اس قدر فضائل وفوائد کے باوجود اسے انجام نہ دینے کی وجہ کیا ہے ؟ کہ اس علت سے بھی آگاہ ہونا مؤمنین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ جب کسی کام کا عملی جامہ پہنانا چاہتے تو اس کے دو پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئیے تا کہ اس کام سے فائدہ اأٹھایا جاسکے وہ پہلو یہ ہے کہ جن شرائط پروہ کام موقوف ہے ان کو انجام دینا اور ان کے موانع اور رکاوٹوں کو برطرف کرنا کہ یہ دونوں مقدمے تمام افعال میں مسلم ہے اور عقل بھی اس کے انجام دینے کا حکم دیتی ہے اگر چہ ہر فعل کی شرائط اور موانع کی تعریف کے بارے میں علماء اور محققین کے درمیان اختلا ف آراء پائی جاتی ہے لیکن اس طرح کے اختلاف سے شرائط کی ضرورت اور موانع کی برطرفی کے لازم ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لہٰذا نماز شب کی شرائط اور موانع کو مدنظر رکھنا لازم ہے تاکہ نماز شب سے محروم نہ رہ سکے لیکن جو موانع روایات میں ذکر کیا گیا ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے کہ جن کا تذکرہ کرنا اس کتابچہ کی گنجائش سے خارج ہے لہٰذا راقم الحروف صرف اشارہ پر اکتفاء کرتا ہے۔


الف۔ گناہ :

کسی بھی نیک اور اہم کام سے محروم ہونے کے اسباب میں سے ایک گناہ ہے کہ جن کے مرتکب ہونے سے انسان نماز شب جیسے بابرکت کام کو انجام دینے سے محروم ہو جاتا ہے جیسا کہ اس مطلب کو متعدد روایات میں واضح اور روشن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے حضرت امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ جب کسی نے آپ سے دریافت کیا ۔

''لرجل قال له انی حرمت الصلاة بااللیل انت رجل قد قیدتک ذنوبک'' (١)

(یاعلی) میں نماز شب سے محروم ہوجاتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارے گناہوں نے تجھے جھکڑرکھا ہے اسی طرح دوسری روایت میں فرمایا:

''ان الرجل یکذب الکذب یحرم بها صلاة اللیل''

بے شک اگر کوئی شخص جھوٹ بولنے کا عادی ہو تو وہ اس جھوٹ کی وجہ سے نماز شب سے محروم رہے گا نیز اور ایک روایت میں فرمایا :

''ان الرجل یذنب الذنب فیحرم صلاة اللیل وان العمل

____________________

(١) اصول کافی ج ٣


السیئی اسرع فی صاحبه من السکین فی اللحم ''

بے شک گناہ کرنے سے انسان نماز شب انجام دینے کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے اور برے کام میں مرتکب ہونے والے افراد میںاس طرح تیزی سے برائی کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح چاقو گوشت کو ٹکرے ٹکرے کردیتاہے

تحلیل وتفسیر:

مذکورہ روایتوں سے دومطلب ثابت ہوجاتے ہیں:

١۔گناہ ہر نیک اور اچھے عمل سے محروم ہونے کا سبب ہے۔

٢۔ برے اعمال کا اثر ظاہر ہونے کا طریقہ۔

لہٰذا اگر نماز شب انجام دینے کی خواہش ہو تو گناہ سے اجتناب لازم ہے تاکہ اس کو انجام دینے کی توفیق سے محروم نہ رہے

ب۔نماز شب سے محروم ہونے کا دوسرا سبب

انسان اپنی روز مرہ زندگی میں خداوند کی عطا کردہ نیند جیسی عظیم نعمت سے بہرہ مند ہورہا ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر مرد ہویا عورت، نوجوان ہو یا بچے، غریب ہو یا دولت مند جاہل ہو یا عالم ہر انسان اس نعمت سے بہرہ مندہے لیکن اب تک اکیسویں صدی کا انسان نیند کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہے اور محققین نیند کی حقیقت کے بارے میں پریشان ہے لہٰذا مختلف تعبیرات کا اظہار کیا جاتاہے اسی طرح نیند کی اہمیت بھی اس طرح بیان کئے ہیں کہ انسان ایک ہفتہ تک بغیر کھانے پینے کے زندہ رہ سکتا ہے لیکن ایک ہفتہ تک نہ سوئے تو زندہ رہنا ناممکن ہے اس روسے نیند کی حقیقت مبہم اور مجمل نظر آتی ہے لہٰذا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیند کی دوقسمیں ہیں:١۔ کسی اصول وضوابط کے ساتھ سونا کہ جس کو انسانی خواب سے تعبیر کیا گیاہے۔٢۔ کسی اصول وضوابط کے بغیر سونا کہ جس کو حیوانی نیند سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


لہٰذا آیات اور روایات کی روسے مسلم ہے کہ نیند ایک نعمت ا لٰہی ہے اگر اس نعمت کو اصول وضوابط کے ساتھ استفادہ کرے تو صحت پر برے اثرات نہ پڑنے کے باوجود شریعت میں ایسی نیند کی مدح بھی کی گئی ہے لیکن اگر اس کے آداب کی رعایت نہ کرے تو صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور شریعت میں اس کی مذمت ہے اسی حوالے سے آج کل کے محققین انسان کو ٹائم ٹیبل کے مطابق سونے اور اٹھنے کی سفارش کرتے ہیں تاکہ کثرت سے سونے والوں کو ان کے منفی اثرات سے بچایا جاسکے پس نماز شب سے محروم ہونے والے اسباب میں سے ایک کثرت سے سونا ہے چنانچہ پیغمبر اکرم )ص( کا ارشاد گرامی ہے :

''قالت ام سلمان ابن داود یابنی ایاک وکثرة النوم بااللیل فان کثرة النوم بااللیل تدفع الرجل فقرا یوم القیامه'' (١)

حضرت سلیمان ابن داود کی ماں نے کہا اے بیٹا رات کو زیادہ سونے سے

____________________

(١)بحار ج ٨٧


اجتناب کرو کیونکہ رات کو زیادہ سونا قیامت کے دن فقرو فاقہ کاباعث بنتا ہے۔

پس اس روایت سے بخوبی روشن ہوتا ہے کہ زیادہ سونا نیک کاموں کے انجام دہی کےلئے رکاوٹ اور محرومیت اخروی کا سبب ہے

ج۔نماز شب سے محروم ہونے کاتیسرا سبب

جب انسان کسی نیک عمل کا موقع ضائع کردیتا ہے تو سب سے پہلے اس کی اپنی فطرت اس کی ملامت کرتی ہے لیکن انسان اتنا غافل ہے کہ اس ملامت فطری سے بچنے کی خاطر تو جیہات سے کام لیتا ہے تاکہ وہ اپنی ایسی عادت کو قائم رکھ سکیں لہٰذا اگر ہم کسی طالب علم سے نماز شب کے بارے میں سوال کرے کہ آپ کیوں اس عظیم نعمت سے استفادہ نہیں کرتے تو فورا جواب دیتا ہے کہ مجھے نیند آتی جس سے نماز شب نہیں پڑھ سکتا اور ایسی نیند صحت کے لئے ضروری بھی ہے لہٰذا ایسے بہانوں میں انسان غرق ہوجاتا ہے پس نماز شب سے محروم ہونے کی ایک علت بہانے اور توجیہات ہے جبکہ نماز شب ادا کرنے کے لئے بیس منٹ یا آدھ گھنٹہ سے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں پڑتی اگر نماز شب کے انجام دینے کے وقت میں نہ سونے سے صحت پر برا اثر پڑتا تو خدا وند بھی اپنے بندوں کو رات کے اس مخصوص وقت میں نماز شب مستحب نہ فرماتے کیونکہ وہی انسان کے حقیقی مصالح اور مفاسد کا علم رکھتا ہے کہ نیند انسان کو صحت مند بنانے کے ضامن نہیں ہے بلکہ نماز شب ہے جو انسانی ترقی اور جسمانی صحت کا ضامن قرار پاتی ہے لہٰذا تحصیل علم اور دنیوی ترقی کے بہترین ذریعہ نماز شب ہے کہ جس کی برکت سے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام اور مؤمنین کو قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے۔


د۔ پر خوری

شاید اب تک کسی محقق نے اپنی تحقیقات میں شکم پوری اور زیادہ کھانے کے عمل کو اچھے کام سے تعبیر نہ ہو۔

لہٰذا اسلامی تعلیمات میں بھی جب اسی حوالہ سے مطالعہ کیا جائے تو پر خوری مذموم اور نامرغوب نظر آتا ہیں کیونکہ زیادہ کھانے سے انسانی معدہ مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو جاتاہے اور اسی طرح پرخوری مادی اور معنوی امور کے لئے مانع بھی بن جاتا ہے لہٰذا پر خوری کا نتیجہ ہے انسان نماز شب جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے چنانچہ اس مطلب کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے زیادہ غذا کھانے سے پرہیز کرو کیونکہ زیادہ کھانا کھانے سے نماز شب سے محروم اور جسم میں مختلف قسم کے امراض اور قلب میں قساوت جیسی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔(١)

ھ۔عجب اور تکبر

عجب اور تکبر دوایسی بیماری ہے جن کی وجہ سے انسان تمام معنویات الہٰی

____________________

(١) غررالحکم ص٨٠.


سے محروم ہوجاتا ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ چھ ہزار سال عبادت میں مشغول ہونے کے باوجود شیطان تکبر کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ نہ کرنے کے سبب ہمیشہ کے لئے لعنت خدا کا مستحق قرار پایا لہٰذا عجب اور تکبر نماز شب سے محروم ہونے کا ایک ذریعہ ہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم )ص( نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''قال رسول الله قال الله عزوجل ان من عبادی المؤمنین لمن یجتهد فی عبادتی فیقوم.... ''(١)

(ترجمہ) پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا کہ خدا نے فرمایا ہے بے شک میرے مؤمن بندوں میں سے کچھ اس طرح میری عبادت کرنے میں مشغول ہیں نیند سے اٹھ کر اپنے آپ کو بستر کی نرمی اور گرمی کی لذتوں سے محروم کرکے میری عبادت کرنے کے خاطر زحمت میں ڈالتے ہیں لیکن میں اس کی آرام کی خاطر اپنی لطف اورمحبت کے ذریعے ان پر نیند کا غلبہ کرتا ہوں تاکہ ایک یادو راتیں نماز شب اور عباد ت سے محروم رہے کہ جس پر وہ پریشان اور اپنی مذمت کرنے لگتا ہے لیکن میں اگر اس طرح نہ کروں بلکہ اس کو اپنی حالت پر چھوڑدیتا تو وہ میری عبادت کرتے کرتے عجب کے مرض کا شکار ہوجاتا کہ عجب ایک ایسا مرض ہے کہ جس سے مؤمن کے اعمال کی ارزش ختم ہونے کے علاوہ اس کی نابودی کا باعث بھی بن جاتا

____________________

(١) اصول کافی


ہے لہٰذا کئے ہوئے اعمال پر ناز کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ میں تمام عبادت گزار حضرات سے بالاتر اور افضل ہوں جبکہ اس نے میری عبادت کرنے میں افراط وتفریط سے کام لیا ہے پس وہ مجھ سے دور ہے لیکن وہ گمان کرتا ہے کہ ہم خدا کے مقرب بندوں میں سے ہیں ۔

اس روایت میں پیغمبر اکرم )ص( نے کئی مطالب کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

١) خدا کی عبادت کر نے میں افراط وتفریط مضرہے۔

٢) اپنی عبادت پر ناز کرنا بربادی ونابودی کا سبب ہے۔

٣) اصول وضوابط کے بغیر عبادت فائدہ مند نہیں ہے۔

لہٰذا تمام عبادات میں اخلاص شرط ہے پس اگر ہم نماز شب اخلاص کے بغیر انجام دے تووہ صحیح تہجد گزار نہیں بن سکتا


چوتھی فصل:

جاگنے کے عزم پر سونے کا ثواب

گذشتہ بحث میں نیند کے اقسام اور ان کے فوائد کا مختصر ذکر کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ سونے کی دوقسمیں ہیں :

١) انسانی طریقہ پر سونا۔

٢) حیوانی طریقہ پر سونا اور انسانی طریقہ کی نیند خودتین قسموں میں تقسیم ہوتی ہے:

١)اصول وضوابط اور نماز شب کو انجام دینے کے عزم کے بغیر سونا کہ ایسی نیند کو محققین نے صحت بدن کے لئے بھی مضر قراردیا ہے اور اسلام کی نظر میں ایسی نیند پر کوئی ثواب نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اکرم )ص(کی روایت ہے کہ انما الاعمال باالنیۃ تما م کاموں کے دارومدار نیت پر ہے اور مؤمن کی نیت ان کے اعمال سے بہتر ہے۔

٢) دوسری قسم نیند وہ ہے جس میں اصول وضوابط کے ساتھ ساتھ نماز شب کے انجام دینے کی نیت بھی ہوئی ہے جبکہ اس پر نیند کا غلبہ ہونے کی وجہ سے وہ نماز شب ادا نہیں کر سکتا ایسی نیند پر صحت بدن کے لئے مفید ہونے کے علاوہ ثواب بھی دیا جاتاہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم )ص( نے یوں ارشاد فرمایا ہے :


''مامن عبد یحدث نفسه بقیام ساعة من اللیل فینام منها الا کان نومه صدقة تصدق الله بها علیه وکتب له اجر ما نوی ''(١)

اگر خدا کے بندوں میں سے کوئی بندہ رات کو کچھ وقت نماز شب کے لئے جاگنے کی نیت پر سوجائے لیکن نیند کی وجہ سے نہ جاگ سکے تو وہ شخص باقی انسانوں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی نیند کو خدا اس کی طرف سے صداقہ قرار دیتا ہے اور جو نیت کی ہے اس کا ثواب اس کے نامہ عمل میں لکھا جاتاہے تیسری قسم نیند وہ ہے کہ انسان اصول ضوابط اور جاگنے کے عزم کے ساتھ سوجائے اور علمی طور پر نماز شب بھی انجام دینے ایسے بندے کوخدا دوثواب دیتا ہے اور خدا اپنے فرشتوں پر ایسے افراد کے ذریعے ناز کرتا ہے کہ جس مطلب کو متعدد روایات میں سابقہ مباحث میں ذکرکیا گیا ہے جن میں سے ایک یہ روایت ہے جو مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں نقل کیا ہے:

''ان ربک یباهی الملائکة ثلاثة نفر رجل قام من اللیل فیصلی وحده فسجد ونام وهو ساجد فیقول انظر واالی عبدی روحه عندی وجسده ساجدی'' (٢)

____________________

(١)کنز العمال

(٢)بحار الانوار ج ٨٤


بے شک خداوند فرشتوں پر تین قسم کے انسانوں سے فخر کرتا ہے جن میں سے ایک وہ افراد ہے جو رات کو تنہائی میں نماز شب انجام دیتے ہیں سجدے کی حالت میں اس پر نیند غالب آتا ہے اس وقت خدا فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے اس بندوں کی طرف دیکھو کہ جس کی روح میری طرف پرواز اور جسم سجدے میں مصروف ہے ۔

١۔نماز شب چھوڑنے کی ممانعت

نماز شب سے محروم ہونے کی صورت میں نماز شب کے دنیوی فوائد برزخی اور اخروی فائدے سے محروم ہونے کے علاوہ بہت سارے منفی نتائج بھی مترتب ہوجاتے ہیں کہ جن کی طرف بھی اختصار کے ساتھ اشارہ کرنا بہتر ہے ان میں سے ایک یہ ہے اگر نماز شب کو چھوڑدے تو دنیا میں دولت اور رزق سے محروم ہوتا ہے چنانچہ اس مسئلہ کو امام موسی ابن جعفر علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا :

''فاذ احرم صلاةاللیل حرم بها الرزق ''(١)

اگر کوئی شخص نماز شب انجام دینے سے محروم رہے تو وہ شخص دولت اور روزی سے محروم ہوجاتا ہے ۔

اعتراض وجواب

بے شک معصوم علیہ السلام کا کلام حکمت اور حقیقت سے خالی نہیںہے

____________________

(١) بحار ج ٨٧


لیکن دور حاضر میں دنیا کی آبادی چھ ارب سے زیادہ بتائی جاتی ہے لیکن اس آبادی میں سے صرف ایک ارب مسلمان ہیں جن میں سے بہت کم انسان ہے جو پابندی کے ساتھ نماز شب انجام دینے والے ہوں لیکن دولت اور سرمایہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب پڑھنے والوں سے نہ پڑھنے والے حضرات کی جیبیں زیادہ گرم ہیں لہٰذا امام علیہ السلام کا یہ فرمان دور حاضر کی حالات کے ساتھ سازگار نظر نہیں آتا ۔

جواب :

نظام اسلام ایک ایسا نظام ہے کہ جس میں تمام شبہات اور اعتراضات کا جواب ملتا ہے لہٰذا اگر ایسا اعتراض دشمنی اور عناد کی بنیاد پر نہ ہو تو قابل توجیہ ہے یعنی دولت اور رزق کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم کی دولت اس طرح کی ہے جو انسان تلاش اور کوشش کرنے کے نتیجہ میں مل جاتی ہے کہ جس میں مسلم غیر مسلم نماز شب پڑھنے والے نہ پڑھنے والے کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں یہ دولت اور روزی نہیں ہے بلکہ کمائی اور ہمت و زحمت کا نتیجہ ہے دوسری قسم کی دولت اس طرح کی ہے جو انسان کی تلاش میں خود آتی ہے ایسی دولت اور رزق کو خدا نے اپنے مخصوص بندوں کے لئے مقرر کیاہے۔

لہٰذا ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء اور اوصیاء علہم السلام جووہ چاہتے تھے مل جاتا تھا پس اگر کوئی شخص نماز شب سے محروم ہو تو وہ ایسی دولت سے محروم رہتا ہے لہٰذا معصوم ؑکا کلام اور دور حاضر کے حالات میں کوئی ٹکراو نہیں ہے ۔


دوسرا منفی نتیجہ:

اگر ہم ایک انسان کامل اور باشعور ہستی ہونے کی حیثیت سے ائمہ معصومین ؑکی سیرت کا بغور مطالعہ کرلے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ جو مؤمن نماز شب جیسی بابرکت عبادت کو انجام دینے سے محروم رہے ہیں تو ان سے پیغمبر اکرم )ص( اور ائمہ معصومین علیہم السلام ناراضگی کا اظہار فرمایاہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

''لیس من شیعتنا من لم یصلی صلاة اللیل ''(١)

یعنی وہ شخص ہمارے پیروکار نہیں ہے جو نماز شب انجام نہیں دیتا اسی طرح دوسری روایت میں آپ نے فرمایا

''لیس منا لم یصلی صلاة اللیل ''(٢)

وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو نماز شب انجام نہیں دیتا۔

تیسری روایت میں پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا :

''یاعلی علیک بصلاة اللیل ومن استخف بصلاة اللیل فلیس منا ۔''

''اے علی میں تمہیں نماز شب انجام دینے کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ شخص جو نماز شب کو اہمیت نہیں دیتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''

پس ان روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نماز شب کا ترک کرنا رسول اکرم )ص(اور ائمہ اطہار کی ناراضگی کا باعث ہے ۔

____________________

(١)بحار ج ٨٧

(٢) وسائل ج ٥.


پانچویں فصل:

نماز شب پڑھنے کا طریقہ

نماز شب مشہور کے نظریہ کے بناء پر گیارہ رکعات ہیں کہ اس مطلب کو متعدد صیح السند روایات میں بیان کیا گیا ہے نماز شب انجام دینے کے طریقے ہیں:

١) آسان اور مختصر طریقہ۔

(٢) مفصل اور مشکل طریقہ۔

آسان اور مختصر طریقہ یہ ہے کہ جس میں نماز شب کے مستحبات کے بغیر اختصار کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے کہ یہ طریقہ ہر خوش نصیب مؤمن کے لئے مفید اور آسان ہے یعنی اس طریقہ کے ذریعے ہر مؤمن چاہے وہ علمی ودینی مسائل سے بخوبی آگاہ نہ بھی ہوپھر بھی اس طریقہ کے ساتھ نماز شب انجام دے سکتا ہے وہ طریقہ یہ ہے کہ ہر مؤمن و مؤمنہ آدھی رات سے لے کر آذان فجر تک کے درمیانی وقت میں ان گیارہ رکعات میں سے آٹھ رکعات نمازشب کی نیت کے ساتھ سورہ حمد کے بعد جوبھی سورہ پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے اور ہر دوسری رکعت کی قرائت سے فارع ہونے کے بعد قنوت بجالائے جس میں جو دعا پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے۔


١۔نماز شفع نماز شفع اور پھر نماز شب کی آٹھ رکعات سے فارغ ہونے کے بعد دورکعت نماز شفع کی نیت سے بجالائے ان دورکعتوں میںبھی ''الحمد ''کے بعد جو بھی سورہ چاہے پڑھ سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ حمد کے بعد سورۃ فلق اور دوسری رکعت میں حمدکے بعد سورۃ والناس پڑھی جائے اور دوسری رکعت کی حمدو سورۃ سے فارغ ہونے کے بعد رکوع سے پہلے قنوت میں یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:

''اللهم اغفرلنا ورحمنا وعافنا وعف وعنا فی الدنیا والاخرة انک علی کل شی قدیر''

(ترجمہ ) اے خداوندا ہمارے گناہوں کو معاف فرمااور ہم پر رحم اور ہمیں سلامتی کی نعمتیں اور ہم سے دنیا وآخرت دونوں میں درگزر فرما کیونکہ تو ہی ہر چیز پر قادر ہے لیکن اگر یہ دعا اور سورۃالناس وسورہ فلق یادنہ ہو تو کسی کاغذ پر لکھ کر بھی پڑھ سکتا ہے نیز اگر کوئی شخص پڑھا لکھانہ ہو تو وہ حمد کے بعد جوبھی سورۃاور قنوت میںجو بھی دعا پڑھنا چا ہے پڑھ سکتا ہے ۔

٢۔نماز وترپڑھنے کا طریقہ

پھر جب نماز شفع سے فارغ ہوئے تو ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے کھڑے ہو کر بجالائے اس میں حمد کے بعد تین دفعہ سورۃ توحید اور ایک ایک دفعہ سورۃ والناس اور سورۃ فلق پڑھے پھر قنوت میں یہ دعا پڑھے:

''لااله الاالله الحلم الکریم الاله الا الله العظیم سبحان الله رب السموات السبع ورب الارضین البسع وما بینهن وهو رب العرش العظیم ولسلام علی المرسلین والحمد لله رب العالمین ''

(ترجمہ)یعنی سوائے ذات باری تعالی کے کوئی معبود نہیں ہے جو بہت بڑی عظمت کا مالک ہے کہ وہ خدا منزہ ہے جوسات آسمانوں اور زمینوں اور جوان کے مابین پائی جانے والی مخلوقات ہیں سب کا مالک ہے اور عرش عظیم کا مالک ہے اور تمام انبیاء پر سلام ہو اور سارے حمدوثناء کا سزاوار خدا ہی ہے کیونکہ وہی پوری کائنات کا مالک ہے


اس دعا کے بعد مزید اگر خدا سے رازو نیاز کرناچاہے تو مناسب ہے ستر دفعہ'' استغفراللہ ربی واتوب الہ'' کا ذکر تکرار فرمائے کیونکہ پیغمبر اکرم سے منقول ہے آپ اس ذکر کو تکرار فرماتے تھے پھر سات دفعہ یہ دعا پڑھے :

هذامقام العائذبک من النار

یعنی اے خداوند یہ وہ مقام ہے جہان تجھ سے قیامت کے دن جہنم آگ سے پناہ مانگتا ہوں پھر اس ذکر کے بعد مزید دعا کرنا چاہے تو تین سومرتبہ العفو العفو کا ذکر تکرار کریں اور چالس مومنین کے نام لینا دشوار ہو تو اجمالی طور پر ''اللھم اغفراللمومنین والمومنات'' پڑھے یہی کا فی ہے ان اذکار سے فارغ ہونے کے بعد اپنی حوائج شرعیہ کی روائی اور دفع مشکلات کے لئے دعا کرے انشاء اللہ خداوند مستجاب فرمائیں گے کیونکہ تمام مستحباب عبادات کا خلاصہ نمازشب ہے نماز شب کا خلاصہ نماز وتر ہے کہ جس میں خدا نے دعا مستجاب ہونے کی ضمانت دی ہے لیکن اگر کسی کو نماز وتر کے قنوت میں ذکر شدہ دعائیں پڑھنے کی فرصت نہ ہویا کوئی مشکل پیش ہو تو جتنی مقدار ہوسکے انجام دیجئے کافی ہے ۔

نماز شب پڑھنے کا دوسرا طریقہ

یہ طریقہ پہلے طریقہ کی بہ نسبت مفصل اور مشکل ہے اسی وجہ سے اس طریقہ کو خواص کا طریقہ کہا جاسکتا ہے اور اس طریقہ کی خصوصیت یہ ہیں کہ ائمہ معصومین سے کچھ خاص دعائیں منقول ہیں ان کو پڑھنا مستحب ہے لہٰذا جب نمازی نماز شب کےلئے نیند سے جاگے تو سب سے پہلے خدا کو سجدہ کرے اس سجدہ کی کیفیت کو پیغمبر اکرم سے یوں نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم جب بھی نماز شب کی خاطر نیند سے بیدار ہوتے تھے تو سب سے پہلے خدا کو سجدہ بجالاتے تھے اور سجدہ میں یہ دعا پڑھتے تھے ۔

''الحمد لله الذی احیانی بعد اماتنی والیه النشور والحمد لله الذی رد علی روحی لاحمد ه واعبده ۔''

یعنی تمام حمد وثناء کی مستحق وہ ذات ہے کہ جس نے مجھے مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور حشرو نشر بھی اسی کی طرف سے ہے اور تمام حمدوثناء کا مستحق وہ خدا ہے جس نے مجھے میری روح دوبارہ واپس کی تاکہ میں اس کی حمد اور عبادت کرسکوں


پھر جب سجدہ سے سراٹھائے تو کھڑے ہو کریہ دعا پڑھے :

''اللهم اعنی علی هول المطلع ووسع علی المضجع وارزقنی خیر ما بعد الموت ''

(ترجمہ) پروردگارا قیامت کے ہولناک عذاب پر میری مدد کراور میری قبر میرے لئے تنگ نہ کر اور مجھے مرنے کے بعد نیکی اور خیر سے مالا مال فرما پھر اس دعا سے فارغ ہونے کے بعد قرآن کریم کے سورۃ آل عمران کی آیت١٨٩ سے لے کر ١٩٤تک کی آیات کی تلاوت کرے یعنی:'' ان فی خلق السموت سے لاتخلیف المیعاد'' تک کی تلاوت کرے پھر ان تمام مقدماتی امور سے فارع ہونے کے بعد وضو کرکے نماز شب کےلئے تیار ہوتو اس وقت یہ دعا پڑھے جو حضرت امام سجاد سے منسوب ہے کہ آپ نصف شب کے وقت قرأت کرتے تھے۔

''الهٰی غارت نجوم سمائک ونامت عیون انامک وهدأت اصوات عبادک وانامک وغلقت الملوک علیها ابوابها وطاف علیها حراسها واجتمعوا عمن سالهم حاجة اوینتجع فهم قائدة وانت الهٰی حتی قیوم لاتاخذک سنة ولانوم ولاشفعک شییئ عن شییئ ابواب سمائک لمن وعاک مفتحات وخزآئنک غیر معلقات وابواب رحمتک غیر محجوبات وفوائدک لمن سلئک غیر محظورات بل هی مبذولات الهٰی انت الکریم الذی لاترد سائلامن المومنین سئلک ولاتحتجب عن احد منهم ارادک ولعزتک وجلالک ولاتحتزل حوائجهم دونک ولایقبضها احد غیرک اللهم وقد ترانی ووقوفی قلبی وما یصح به امراخرتی ودنیائی اللهم ان ذکر الموت واهوال المطلع والوقوف بین یدیک ''.....(١)

(ترجمہ ) اے میرے مولا اس وقت تیرے آسمان کے ستارے ڈوبنے کی طرف مائل ہیں اور تیرے مخلوق کی آنکھیں نیند سے بھری ہوئی ہیں اور تیرے بندوں اور حیوانوںکی آوازیں خاموش ہے اور بادشاہوں نے اپنے محلوں کے دروازے آرام وسکون کی خاطر بند کئے ہیں اور ان کے محافظین حفاظت کے کاموں میں مصروف ہیں اور (اس وقت ) وہ لوگ جنہیں کسی اور سے کوئی حاجت طلب ہویا کوئی نفع ملنے کی امید ہو وہ بھی سکون سے مالا مال ہیں اے میرے مولا صرف توہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے کہ جس پر کبھی نیند کا غلبہ نہیں ہو سکتا اور تیرے اسمان کے

____________________

(١)فضائل نماز شب.


راستے دعا کرنے والوں کےلئے کھلے ہوے ہیں اور تیرے خزانے اور تیری رحمت کے در وازے کسی سے مخفی نہیں ہے۔

اور جو بھی تمہارے احسان اور نیکی کا خواہان ہو اس سے دئیے بغیر نہیں رہتے اے میرے مولا تیری ذات وہ کریم ذات ہے جس سے اگر کوئی مؤمن درخواست کرے تو اس سے ناامید نہیں کرتا اور مؤمنین میں سے کوئی دعا کرے تو مستجاب کرنے سے دریغ نہیں فرماتا تیری ذات اور تیری عزت کی قسم توہی مؤمنین کے حوائج کو پورا کرتا ہے اور انہیں پورا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں فرماتا اور تیرے علاوہ کوئی میری حوائج کو رواکرے تو پھر بھی نیاز مند ہوں اے میرے اللہ تو ہی میری بے بسی اور ذلت وخواری کو دیکھ رہا ہے اور میرے وطن سے تو ہی آگاہ ہے ۔

اور میرے دل کے مطالب اور ان چیزوں سے جو میری دنیوی اور اخروی زندگی کے لئے مفید ہیں تو ہی آگاہ ہے پروردگارا موت اور قیامت کی سختیوں اور تیری بارگاہ میں حساب وکتاب کی یادنے مجھے کھانے پینے کی لذتوں سے محروم کردیا ہے اور میری زبان خشک ہوچکی ہے اور میں اپنے بستر پر چین سے سونہیں سکتا لہٰذا میں نے اپنے آپ کو نیند سے محروم کررکھا ہے کیونکہ وہ شخص کیسے سو سکتا ہے کہ جس کے پاس ملک الموت شب وروز موت کا پیغام لے کر آرہا ہو ایک ہوشمند انسان چین سے نہیں سوسکتا کیونکہ اسے علم ہے قبض روح کرنے والا فرشتہ کبھی نہیں سوتا اور وہ ہر لحظ اس کی روح کوبدن سے الگ کرنے کی تلاش میں کوشاں ہے ۔


پھر اس دعا کی قرآئت کے بعد مستحب ہے رخساروں کو خاک پر رکھ کریہ دعا پڑھے:

''اسئلک الروح والراحه عندالموت والعفو عنی حین القاک ۔''

(ترجمہ)یعنی میں تجھ سے موت کے وقت رحمت اور راحت کا خواہشمند ہوں اور قیامت کے روز حساب وکتاب کے موقع پر درگزر کا خواہاں ہوں .یہ دعا اس حالت میں پڑھنا امام سجاد علیہ السلام کی سیرت میں سے ذکر کیا گیا ہے اور نماز شب پڑھنے سے پہلے دو رکعت نمازبھی مستحب ہے پہلی رکعت میںحمد کے بعد سورۃ توحید اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورۃقل یاایها الکٰفرون پڑھی جاتی ہے کہ یہ نماز بھی امام سجاد علیہ السلام کی تعلیمات میں سے ہے کہ امام نماز شب پڑھنے سے پہلے ان دورکعتوںکو بجالاتے تھے جب مذکورہ دعا اور نماز سے فارغ ہوجائے تو یہ دعا پڑھے کہ اس دعا کو جناب شیخ صدوق نے اپنی گراںبہا کتاب ''امالی '' میںابی درد اسے روایت کی ہے کہ امام المتقین حضرت علی علیہ السلام نماز شب سے پہلے یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔

''اللهم کم من موبقه .....''.(١)

اس کا ترجمہ یہ ہے اے میرے مولا کتنے گناہ مجھ سے سرزد ہوچکے ہیں جو

____________________

(١) کتاب فضائل نماز شب


میری تباہی اور بربادی کا سبب ہے لیکن تونے ہی ان پر عذاب کرنے سے درکذار کیا اور کتنے جرم مجھ سے سرزد ہوئے ہیں کہ انہیں تیرے کرم کے ذریعے مخفی کررکھا ہے اے میرے مولا تیری نافرمانی میں طویل عمر گزاری ہے اور تیرے حساب کے دفتر میں میرے بہت بڑے جرائم لکھے جاچکے ہیں لیکن صرف تیری بخشش اور درگزر سے ناامید نہیں ہوں اور صرف تیری رضاوخشنودی کی امید رکھتا ہوں اے میرے مولا جب تیرے عفو کا تصور کرتا ہوں تو مجھے اپنے گناہ اور جرم خفیف نظر آتا ہے لیکن جب تیری طرف سے ہونے والی عقاب یاد آتا ہے تو میں بہت بڑی مشکل میں گرفتار ہوجاتاہوں اور جب مجھے اپنے نامہ اعمال میں گناہوں کے جمع ہونے کا خیال آتا ہے تو پریشانی سے دوچار ہو جاتا ہوں لہٰذا یہ تمہارا ہی حکم ہے کہ گنہگار کو سزادی جائے ''آہ ''کتنا سخت مشکل ہے کہ اس سے کوئی نجات دینے کی قدرت نہیں رکھتا اور کوئی رشتہ دار اس سے بچانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا ''آہ '' اس آگ کی سختی کو کیسے تحمل کروں گا جب کہ اس آگ کی وجہ سے میرا جگرکباب بن چکا ہوگا ''آہ''اس آگ سے نجات کا طلب گار ہوگا۔


جس کے شعلوںکی وجہ سے پورا بدن جل کر نابود ہو چکا ہوگا ان تمام امور سے فارغ ہونے کے بعد نماز شب انجام دینے کےلئے آمادہ ہوگا اور نمازشب شروع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھے :

''اللهم انی اتوجه الیک بنبیک نبی الرحمه واله واقد مهم بین یدی حوائجی فجعلنی بهم وجیها فی الدنیا والاخرة ومن المقر بین اللهم ارحمنی بهم ولاتعذبنی بهم واهدنی بهم ولا تفلنی بهم وارزقنی بهم ولاتحرمنی بهم واقض لی حوائج الدنیا والا خراة انک علی کل شئی قدیر وبکل شئی علیم ۔..''(١)

(ترجمہ)اے میرے مولا تیری درگاہ کی طرف تیرے بنی جو رحمت بن کر لئے ہیں اس کے واسطے متوجہ ہو اہوں اور اپنی حوائج کی روائی کے لئے ان حضرات کو پیش کرتا ہوں پس ان کی برکت سے دنیا وآخرت دونوں میں مجھے آبرومند اور مقرب بندوں میں سے قرار دے اے میرے مولا محمد وال محمد کے صدقہ میں مجھ پر رحمت نازل فرما اور مجھے عذاب سے نجات دے اور ان ہستیوں کے ذریعے میری ہدایت کراور گمراہی سے نجات دیں اور میرا رزق مجھے نصیب فرما اور میری دنیوی واخروی حاجتوں کو پورا فرما کیونکہ تو ہی ہر چیز پر قادر اور ہر چیزوں سے باخبرہے ، پھر ان دعاؤں سے فارغ ہونے کے بعد نماز شب کی نیت سے آٹھ رکعات نماز شروع کریں پہلی دورکعت کو شروع کرنے کے موقع پر تکبیرۃ الاحرام کے ساتھ مزید چھ تکبیر مستحب ہے پھر پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورۃ توحید کو تین دفعہ اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ قل یاایھاالکٰفرون ایک دفعہ پڑھکر قنوت

____________________

(١)فضائل نماز شب.


اور رکوع وسجود پھر سلام انجام دینے کے باقی چھ رکعتوں میں حمد کے بعد قرآن کے کوئی بھی سورۃ پڑھے کافی ہے لیکن طویل سورے کا پڑھنا زیادہ مستحب ہے ۔

٤۔قنوت

قنوت کو نمازوں میں بہت اہمیت حاصل ہے اگر چہ تمام علماء ومجتھدین کا اتفاق ہے کہ قنوت ہر نماز میں مستحب ہے چاہے واجی نماز ہو یا مستجی دوسری رکعت کے حمد وسورۃ کے بعد رکوع سے پہلے قنوت مستحب ہے سوائے نماز وتر کے کہ انشاء اللہ اس کا ذکر عنقریب کیا جائے گا اور قنوت میں جوبھی دعا چاہے پڑھ سکتا ہے اگر چہ بہتریہ ہے کہ وہ دعائیں جو ائمہ معصومین اور انبیاء علیہم السلام سے منقول ہےں وہ پڑھی جائےں، چنانچہ مرحو م کلینی نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے سند معتبر کے ساتھ نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہم السلام نے فرمایا کہ نمازوں کے فنوت میں یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:

''اللهم اغفرلنا وارحمنا وعافنا وعف عنا فی الدینا والاخرة انک علی کل شئی قدیر''


اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ اگر قنوت میں صرف تین دفعہ سبحان اللہ کہیں توبھی کافی ہے اگر چہ مفصل اور لمبی دعا کا پڑھنا زیادہ افضل ہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم سے یوں نقل کیا گیا ہے

''اطوالم قنوتا فی دار الدنیا اطولکم راحة فی یوم القیامة'' (١)

ترجمہ :قیامت کو سب سے زیادہ ارام اور سکون اس شخص کو ملے گا جو سب سے لمبی دعائیں قنوت میں پڑھتا رہا ہو لیکن اما م جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ نوافل اور نمازشب کے قنوت میں یہ دعا پڑھنا زیادہ سزاوار ہے:

''اللهم کیف ادعوک وقد عصیتک وکیف لا ادعوک وقد عرفت حبک فی قلبی ...''(٢)

نیز نماز شب کے قنوت میں امام رضا علیہ السلام سے یہ دعا بھی منقول ہے اللھم ان الرجی بسعۃ رحمتک(٣)

پھر نماز شب کی آٹھ رکعت نماز کے بعد دورکعت نماز شفع شروع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھنا مستحب ہے :

''اللهم انی اسائلک ولم یسل مثلک ....''(٤)

جب اس دعا سے فارغ ہو تو اپنی حوائج شرعیہ کا ذکر کریں اور تسبیح حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا )پڑھیں پھر دو سجدہ شکر انجام دیں جس میں یہ دعا پڑھنا مستحب امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے۔

'' الهٰی وعزتک وجلاللک وعظمتک ....''(٥)

____________________

(١) من لایحضر الفقیہ

(٢)فضائل نماز شب

(٣) کتاب فضائل نماز شب

(٤)فضائل نماز شب. (٥)فضائل نماز شب.


نماز شفع پڑھنے کا دوسرا طریقہ

نماز شفع دورکعتوں پر مشتمل ہے جو نماز شب کی آٹھ رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے پہلی رکعت میں حمد کے بعدسورہ فلق دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورۃوالناس پڑھنے کے بعد رکوع سے پہلے قنوت میں یہ دعا پڑھیں۔

''اللهم اغفرلنا وارحمنا وعافنا وعف عنی فی الدنیا والاخرة انک علی کل شئی قدیر ۔''

پھر نماز شفع سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے ۔

الٰی ترض لک فی هذا اللیل ۔.....(١)

نماز وتر پڑھنے کا دوسراطریقہ ۔

جب نماز شب اور نماز شفع سے فارغ ہوا تو نماز وتر کی نیت سے ایک رکعت انجام دینا جس کا تفصیلی طریقہ یہ ہے نیت کے دوران قیام کے موقع پر سات تکبیروں سے آغاز کریں پھر حمد کے بعد تین دفعہ سورہ توحید ایک دفعہ سورہ فلق ایک دفعہ سورۃ والناس پڑھنے کے بعد قنوت میں یہ دعا پڑھے:

''لااله الا الله الحلیم الکریم الاله الاالله العلی العظیم

____________________

(١)فضائل نماز شب


سبحان الله رب السموت السبع ورب الارضین السبع وما فیهن ومابینهن ورب العرش العظم والسلام علی المرسلین والحمد لله رب العالمین''

یعنی ذات باری تعالی کے سوا کوئی معبود جو حلم وکرم کا مالک ہے نہیں ہے نیز کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ تبارک وتعالی جو بہت بڑی عظمت کا مالک ہے کہ وہ خدا منزہ ہے جو سات آسمانوں اور زمینوں کے علاوہ ان کے مابین موجود مخلوقات کا مالک ہے اور عرش عظیم کا مالک بھی ہے تمام انبیاء پر سلام ہو اور تمام حمدو ثناء کا سزاوار خدا ہی ہے کیونکہ وہی پوری کائنات کا مالک ہے ۔

اس دعا کے بعد ''استغفراللہ ربی واتوب الہ ۔'' ٧٠ستر دفعہ پڑھیں اس کے بعد سات دفعہ ''ہذا مقام العائیذبک من النار '' پرھا جاتا ہے یعنی (اے خداوند یہ جہنم کی آگ سے پناہ مانگنے کا مقام ہے پھر اگر وقت کے دامن میں گنجائش ہو تو تین سو مرتبہ ''العفو العفو '' پڑھیں اور چالیس مومنین کے نام لے کران کی مغفرت کے لئے دعا مانگیں لیکن اگر چالیس مومنین کا الگ الگ نام لینا دشوار ہو تو اجمالی طور پر یہ کہیں تو کافی ہے۔

''اللهم اغفرالمؤمینین والمومنات ''

پھر ان دعاؤں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی حوائج شرعیہ کی روائی اور دفع مشکلات کے لئے دعا مانگیں انشاء اللہ خدا مستجات فرمائے گا کیونکہ تمام مستحب عبادات کا خلاصہ نماز شب ہے نماز شب کا خلاصہ نماز وترہے کہ جس میں خدانے نمازی کی دعا قبول فرمانے کی ضمانت دی ہے


لیکن اگر نماز وتر کے قنوت میں ذکر شدہ دعائیں پڑھنے کی فرصت نہ ہو تو جتنی مقدار ہوسکے دعا پڑھے کا فی ہے اور اگر وقت ہوا تو قنوت میں یہ دعا بھی مستحب ہے:

''اللهم انت الله نور السموت والارض وانت الله زین السموت والارض وانت الله جمال السموت والارض .....''(١)

پھر سات دفعہ یہ دعا پڑھیں:

''استغفر الله الذی لااله الا هو الحی القیوم بحمیع الظلمی وجرمی واسرا فی علی نفسی واتوب الیه ...''(٢)

(ترجمہ) یعنی میں اس ذات سے کہ جس کے سواء کوئی معبود نہیں ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے ولا ہے ان تمام ظلم وستم اور جرائم جو میں نے اپنے نفس پر کیا ہے ان سے مغفرت مانگتا ہوں اور اسی ذات ہی کی طرف لوٹ کر آتا ہے ۔

ان اذکار سے فارغ ہونے کے بعد قنوت میں یہ دعا بھی پڑھ سکتے ہیں۔

'' رب اساء ت وظلمت نفسی وبئس ماصنعت وهذه یدائی یا رب جزاء بما کسبت وهذه رقبتی خاضعة لما اتیت وهاانا

____________________

(ا)فضائل نماز شب

(٢)فضائل نماز شب.


ذابین یدیک فخذنفسک من نفسی الرضا حتی تراضی لک العتبا لااعود ....''(١)

(ترجمہ ) اے میرے مالک میں برائی کامر تکب رہا ہوں اور اپنے اوپر ظلم کرتا رہا ہوں اور جو کچھ کیا برا کیا اے میرے مالک یہ جو گناہ میں نے ہاتھوں سے کئے ہیں ان کی سزا کے لئے میرے ہاتھ حاضرہے گردن ہے یہ مرا جو تمہاری بارگاہ میں کی ہوئی برائیوں کی سزا جھیلنے کے لئے جھکی ہوئی ہے پالنے والے میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اے مولا مجھ سے راضی ہوجا میں دوبارہ گناہ کا مرتکب نہیںہوگا پھر اس کے بعد یہ دعا پڑھے :

''رب اغفرلی وارحمنی وتب علی انک انت التواب الرحیم ۔...''(٢)

اوریہ دعا بھی امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو نماز وتر کے قنوت میں آپ پڑھا کرتے تھے :

''سیدی سیدی هذا یدی قدمدد تهما الیک بالذنوب مملوة وعینای بالرجاء ممدوة ''(٣)

لیکن اگر وقت کم ہوتو جس قدر ممکن ہو سکے وترکے قنوت میں دعا کرے

____________________

(١)فضائل نماز شب

(٢)فضائل نماز شب

(٣) کتاب فضائل نماز شب


جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا اگر یہ دعائیں یاد نہ ہوں تو لکھ کر یا کسی کتاب کو دیکھ کر بھی پڑھی جاسکتی ہے لیکن اگر وتر کے قنوت میں صرف یہ دعا پڑھیں تب بھی کافی ہے ۔

''اللهم ان الذنوب تکف ایدینا عن ابنسا طها الیک باالسوال والمداومة علی المعاصی تمنعنا عن التضرع والا بتهال والرجاء یُحِثْنٰا علی سوالک یا ذالجلال فان لم تعطف السید علی عبده فممن یبتغ النوال فلا ترد اکفنا المتصرع الیک الا ببلوغ الا مال وصل الله علی اشرف الا نبیاء والمرسلین محمد وآله الطاهرین ''(ا)

اے اللہ گناہوں کی کشرت کی وجہ سے ہم ہاتھوں کو تیری درگاہ میں مشکلات کی برطرفی کے لئے بلند نہیں کرسکتے اور گناہوں پر اصرار کے سبب سے دعا کے وقت گریہ وزاری سے محروم ہے اے ذوالجلال تیری امید نے مجھے درخواست کرنے پر آمادہ کیا ہے لہٰذا اگر مولاء غلام پر احسان نہ کرے تو پھر کون ہے کہ جس سے معافی کی درخواست کی جائے بس اے مولا ہم اپنے ہاتھوں کو جوانکساری کے ساتھ تیری درگاہ میں بلند کئیے ہوئے ہیں آرزؤں کے پورا ہونے سے پہلے خالی واپس نہیں کرے گا اور خدا کا درود رسولوں اور نبیوں میں سے افضل حضرت محمد (ص) اور ان کی پاکیزہ آل پر پھر اس کے بعد رکوع بجالائیں اور سجدے

____________________

(ا)فضائل نماز شب.


میں یہ دعا پڑھیں:

''هذا مقام من حسناته نعمته منک وسیاته بعمله وذنبه عظم وشکره قلیل ....''(١)

پھر تشہد اور سلام کے بعد تسبیح حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) پڑھنے کے بعد وتر کی تعقیبات میں یہ دعا جو دعائے حزین کے نام سے معروف ہے پڑھی جائے: ''اناجیک یاموجود فی کل مکان لعلک تسمع ندائی فقد عظم جرمی ....''(٢)

اس دعا سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ شکر میں یہ دعا پڑھے:

''اللهم وارحم ذلتی بین یدیک ....''(٣)

اس دعا سے فارغ ہونے کے بعد صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر ٣٢ کا پڑھنا بھی مستحب ہے اور امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے نماز شب سے فارغ ہونے کے بعد اس دعا کا تین دفعہ پڑھنا مستحب ہے:

''سبحان ربی الملک القدوس العزیز'' پهر ''یاحی یاقیوم یابر یارحیم یاغنی یا کریم ارزقنی من التجارة اعظمها فضلا واوسعهار زقا وخیرها لی عافیة فانه لاخیر فیها لاعافیة له ۔''

____________________

(١)فضائل نماز شب

(٢) کتاب فضائل نماز شب

(٣) کتاب فضائل نماز شب


چھٹی فصل :

١۔نماز شب کی قضاء انجام دینے کی اہمیت

اسلام میں ثواب مرتب ہونے والی عبادات کی دوقسمیں ہیں واجب اور مستحب اگر مباح یا مکروہ کام کو انجام دے تونہ صرف ثواب نہیں ملتا بلکہ کراہت والے عمل انجام نہ دینے پر ثواب ہے چنانچہ تاریخ تشیع میں ایسے علماء اور مجتہدین بھی گزرے ہیں جو مستجبات کو کبھی ترک اور مکر وہات کو انجام نہیں دیتے تھے لہٰذا واجب اور مستحب عبادات کی خود دوقسمیں ہیں اداء اور قضاء اداء یعنی مستحب اور واجب عبادت کوان کے مقررہ وقت میں انجام دیا جائے ان کے مقررہ وقت کے گزرنے کے بعد کسی اور وقت میں انجام دیا جائے تو قضا کہا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی عذر شرعی یا موانع کی وجہ سے نماز شب کوان کے مقررہ وقت پر جونصف شب سے فجر تک ہے ،انجام نہ دے سکے تو کسی اور وقت میں قضاء انجام دے سکتے ہیں جس کی اہمیت اور ثواب کو امام جعفرصادق علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے۔

جناب علی ابن ابراہیم نے اپنی مشہور ومعروف تفسیر میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح روایت کی ہے کہ ایک دن ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہو کرعرض کیا اے مولا آپ پر میں فدا ہوجاؤںبسا اوقات میں ایک ماہ تک نماز شب کو اس کے مقررہ وقت میں انجام نہیں دے سکتا کیا میں کسی اور وقت میں اس کی قضاء بجالاسکتا ہوں؟ امام نے فرمایا خدا کی قسم تیرا یہ کام تمہارے لئے باعث بصیرت ہے اور اسی جملہ کو اما م نے تین دفعہ تکرار فرمایا۔


دوسری روایت میں پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا:

''ان الله یباهی باالعبد یقضی صلوة اللیل باالنهار یقول ملائکتی عبدی یقضی مالم افترضه علیه اشهدو اانی غفرت له (ا)

یعنی بتحقیق اللہ تبارک وتعالٰی ایسے بندے پر ناز کرتا ہے جو نماز شب کو مقررہ وقت میں انجام نہ دینے کی وجہ سے دن میں قضاء کے طور پر بجالاتا ہے خدا فرشتوں سے فرماتا ہے اے ملائکہ تم میرے اس بندے پر شا ہد رہو جو مستحب عمل کی قضاء کو بجالارہا ہے اس کے تمام گناہوں کو میں نے معاف کردیا۔

اس طرح زرارہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے:

''قال لا تقضی وترلیلتک یعنی فی العدین ان کان فانک حتی تصلی الزوال فی ذالک الیوم'' (٢)

امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا اگر تم نماز وتر کو عیدالفطر اور عید الضحی

____________________

(ا)بحار ج٨٧

(٢)وسائل ج ٥


کی رات مقررۃ وقت پر انجام نہ دے سکے تو اس کی قضاء اسی دن کے ظہر کے وقت تک میں انجام دے ۔

٢۔نماز شب کے سواری کی حالت میں پڑھنے کاثواب

اسی سے پہلے بیان کیا گیا کہ نماز شب کی قضاء انجام دینے سے ثواب ملتا ہے اسی طرح اگر کوئی نماز شب عام حالت میں نہ پڑھ سکے تو جس حالت میںانجام دینا چاہئے انجام دے سکتا ہے یعنی سواری کی حالت میں یا راستہ چلتے ہوئے بھی انجام دے سکتے ہیں چنانچہ اس مطلب کو فیض ابن مطر نے یوں نقل کیا ہے ۔

''دخلت علی ابی جعفر وانا اریدان اسئله عن صلاة اللیل فی المحمل قال فابتد ئنی فقال کان رسول الله یصلی علی راحته حیث توجهت به ۔''

فیض ابن مطر نے کہا میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور نماز شب کے سواری کی حالت میں پڑھنے کے بارے میںپوچھنا چاہا لیکن اما م نے میرے سوا ل کرنے سے پہلے فرمایا کہ پیغمبر اکرم )ص( اپنے محمل اور سواری پر نماز شب انجام دیتے تھے اگر چہ محمل اور سواری روبقبلہ نہ بھی ہو۔


اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب سواری پر اور روبقبلہ نہ بھی ہوں پھر بھی پڑھنا صحیح ہے لیکن یہ حقیقت میں واجب اور مستحب کافرق ہے لہٰذا اگر واجبی نماز روبقبلہ ہوئے بغیر پڑھے تو باطل ہے لیکن نماز مستحبی میں روبقبلہ نہ بھی ہوپھر بھی درست ہے نیز محمد ابن مسلم نے یوں روایت کی ہے ،

''قال لی ابوجعفر علیه السلام صل صلاة اللیل والوتر والرکعتین'' (١)

محمد ابن مسلم نے کہا کہ مجھے امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا (اے محمد ابن مسلم )تو نماز شب ، نماز وتر اور دوکعت نماز کو( سواری کی حالت میں )بھی پڑھا کرو نیز سیف التمار نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے یوں روایت کی ہے :

''انما فرض الله علی المسافر رکعتین لاقبلهما ولا بعد هما شیئ الا صلوة اللیل علی یعسرک حیث توجه بک ''(٢)

سیف التمار نے کہا کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا کہ مسافروں پر اللہ نے صرف دورکعت نماز واجب کی ہے ان دورکعتوں سے پہلے اور ان کے بعد کوئی اور نماز نہ مستحب ہے نہ واجب ہے مگر نماز شب کہ اس کا پڑھنا سفر کی حالت میں سواری پر بھی مستحب ہے اگر چہ رو بقبلہ نہ بھی ہو ۔

٣۔نمازشب کو ہمیشہ جاری رکھنے کی فضیلت

چنانچہ اس مختصر جستجو اور کوشش کے نتیجہ میں نماز شب کے حوالہ سے آیات اور روایات کی روشنی میں جو مطالب بیان کیا گیا ہے وہ مؤمنین کے لئے اطمینان کا

____________________

(١)وسائل ج ٣.

(٢)وسائل ج٣


باعث اور نماز شب کی اہمیت وفضیلت کو بخوبی درک کرنے کا سبب ہوگا لہٰذا نماز شب کے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیشہ جاری رکھنے میں بہت ہی فضیلت اور ثواب بتایا گیا ہے چنانچہ یہ مطلب زرارہ کی روایت میں یوں بیان ہوا ہے۔

''عن ابی جعفر علیه السلام قال احب الاعمال الی الله عزوجل مادام العبد علیه وان قل ۔''(ا)

زرارہ نے کہا امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا کہ خدا کی نظر میں بہترین عمل وہ ہے کہ جسے بندہ ہمیشہ انجام دیتا رہے اگرچہ وہ عمل قلیل ہی کیوں نہ ہو ۔

اگرچہ روایت صریحا نماز شب کے عنوان کو بیان نہیںکرتی بلکہ تمام اعمال خیر کے بارے میں وارد ہوئی ہے لیکن ایک بافضیلت ترین عمل ہونے کے ناطے نماز شب بھی اس روایت میں شامل ہے جس کے پابندی کے ساتھ ہمیشہ انجام دینے میں زیادہ ثواب ہے نیز دوسری روایت معاویہ ابن عمار کی ہے انہوں نے کہا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

''کان علی ابن الحسین علیهم السلام یقول انی لاحب ان ادوم علی العمل وان قل قال قلنا تقضی صلاة اللیل باالنهار فی السفر ؟قال نعم ''(٢)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ امام سجاد( علیہ السلام)فرمایا

____________________

(ا) وسائل ج ١

(٢) وسائل ج٣


کرتے تھے کہ سب سے زیادہ وہ کام مجھے پسند ہے جیسے میں پابندی سے ہمیشہ انجام دیتا رہاہوں اگر چہ قلیل ہی کیوں نہ ہو معاویہ نے کہا کہ ہم نے امام سے سوال کیا کیا آپ نماز شب کو سفر میں دن کے وقت قضا کرکے پڑھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں نیز زرارۃ نے ابی عبد اللہ علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے ۔

''قال کان رسول الله (ص)یصلی فی اللیل ثلاث عشرة رکعة منها الوتر ورکعتا الفجر فی السفر والحضر'' (ا)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم )ص( ہمیشہ چاہے گھر میں ہوں یا سفر میں رات کے آخری وقت میں تیرہ رکعت نماز نافلہ انجا دیتے تھے جن میں سے ایک رکعت نماز وتر اور دورکعت صبح کی نماز کی نافلہ تھی نیز ابن مغیرہ نے کہا :

''قال لی ابوعبدالله علیه السلام وکان ابی لایدع ثلاثة عشر رکعة باالیل فی سفر '' (٢)

ابن مغیرہ نے کہا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے والد بزرگوار ہمیشہ رات کو تیرہ رکعت نماز انجام دیتے تھے کہ جس کو کبھی بھی آپ سفر اور وطن میں ترک نہیں کرتے تھے اسی طرح صفوان ابن جمیل کی روایت بھی اسی مطلب پر دلالت کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

____________________

(ا) وسائل ج٣

(٢) وسائل ج٣


''قال کان ابوعبد الله یصلی صلاة اللیل باالنهارعلی راحلة ایّ ماتو جهت به'' (ا )

صفوان نے کہا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نماز شب کو دن کے وقت سواری پربھی انجام دیتے تھے اگرچہ آپ روبقبلہ نہ بھی ہو۔

چنانچہ ا ن تمام مذکو رہ روایات سے نماز شب کو ہمیشہ انجام دینے کی دلالت بخوبی روشن ہو جاتی لہٰذا نماز شب کبھی ترک نہ کیجئے کیونکہ نمازشب ہی میں دنیا اور آخرت کی سعادت مخفی ہے۔

٤۔ نیند سے بیدار ہونے کا راہ حل

ان مؤمنین کی خدمت میں کہ جو اپنے پروردگار کی رضاوخوشنودی کی خاطر نیند سے بیدار ہونا چاہتے ہیں ان کےلئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں چند زرین اصول پیش کی جاتی ہے تاکہ نماز شب انجام دینے کی توفیق شامل حال ہو:

١) دن میں کبیرہ و صغیرہ گناہوں اور دیگر اعمال رذیلہ سے اجتناب کیجئے تاکہ رات نماز شب پڑھنے کی توفیق حاصل ہو۔

٢) سوتے وقت نماز شب پڑھنے کے ارادے سے سوئے۔

٣)سونے سے پہلے وضو کرلیجئے۔

٤)سوتے وقت قرآن پاک کی تلاوت اور مخصوص دعا کے ساتھ تسبیح

____________________

(ا)وسائل


حضرت زہرا علیہا السلام پڑھ کر سوئے ۔

٥) جب بھی نیند سے بیدار ہو تو خدا کا شکر ادا ،کیجئے تاکہ توفیقات میں اضافہ ہوں۔

٦) جب نماز شب کے لئے جاگیں تو بیت الخلاء جانے کے بعد مسواک کیجئے چنانچہ اس مطلب کو امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے جب تم لوگ نماز شب کے لئے اٹھیں تو مسواک کرکے اپنے دہان کو معطر کرو کیونکہ فرشتے اپنے دھانوں کو تہجد گزار کے دھان پر رکھتے ہیں اور جو بھی جملہ زبان پر جاری ہوتا ہے اس کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں۔

٧) ہر وقت نماز تہجد انجام دینے کی فکر میں رہیں۔

٨) سوتے وقت سورہ کہف کی آخری آیہ شریفہ کی تلاوت کیجئے ۔

( قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اِنَّمَا اِلٰهُکُمْ اِلٰه وَاحِد فَمَنْ کَانَ یَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلاَیُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا )

(ترجمہ)یعنی اے پیغمبر (لوگوں )سے کہدیجئے کہ میں تمہاری مانندایک بشر ہوں (لیکن ہمارے درمیان فرق یہ ہے ) کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی (اور )تمہارا معبود اور خدا ایک ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ عمل صالح انجام دے اور اپنے پروردگار کا کوئی شریک نہ ٹھرائے۔

نیز جناب شیخ بہائی نے اپنی معروف کتاب مفتاح الفلاح میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ ورایت کی ہے امام نے فرمایا اگر خدا کے بندوں میں سے کوئی بندہ سورۃ کہف کی آخری آیہ شریفہ کی تلاوت کرکے سوئے تو خداوند عالم اس کو معین وقت پر جگاتا ہے (٩)اس طرح پیغمبر اکرم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص نماز شب کے لئے جاگنا چاہے تو سوتے وقت یہ دعا پڑھے :

''اللهم الاتوامنی مکرک ولا تنسنی ذکر ک ولاتجعلنی من الغافلین... ''(ا)

____________________

(ا)فضائل نماز شب


٤۔ خاتمہ

ہماری تمام کوشش یہی رہی ہے کہ نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کو آسان اورعام فہم طریقہ کے ساتھ بیان کریں تاکہ ہر عام وخاص کے لئے مفید ثابت ہو اورنماز شب سے مربوط آیات اور روایات کی مختصر تشریح کے ساتھ جملہ مطالب کی نتیجہ گیری کی گئی ہے نیز کچھ موارد میں شخصی اور ذاتی سفارش کی گئی ہے اس کا ہدف بھی۔

''( فذکران الذکر تنفع المؤمنین اور حاضرین غائبین ) ''

کو پہنچانے کی دستور کی بناء پر کیا گیا ہے کیونکہ نماز شب شریعت اسلام میں اتنا اہم مسئلہ ہے کہ پورے مستحبات میں اس کو مرکزیت حاصل ہے لہٰذا توصیہ شخصی اور تحلیل ذاتی کی ضرورت پڑی لیکن اتنے اہم ہونے کے باوجود دور حاضر میں اس مسئلہ کو عملی جامہ پہنانے سے معاشرہ محروم ہے حتی کہ دینی مدارس اور مراکز دینیئہ اور علماء و روحانی بھی نماز شب انجام دینے سے محروم ہیں جب کہ روحانیت اور معنویت کابقاء اور ان کو زندہ رکھنا نماز شب جیسی بابرکت عملی پر موقوف ہے لہٰذا اگر مردہ دلوں کو زندہ،اسلام کو آباد ،معنویت میں ترقی کلام میں جاذبیت ، مشکلات کی برطرفی ،نفسیاتی امراض سے نجات ،مذہب تشیع کا تحفظ ،اور قرآن وسنت کی آبیاری کے خواہاں ہے تو نماز شب نہ بھولیں پالنے والے امام زمان کے صدقہ میں آپ ہی میرے اس ناچیز زحمت پر آگا ہ ہے آپ ہی اس پر راضی ہونے کی درخواست اور ہمیں ہمیشہ خدمت کی توفیق ،بیان میں نرمی ،فہم ودرک میں اضافہ ہمیت اور زحمت میں برکت ،آپس میں یک جہتی عطا فرمائے اور دین اسلام کی ترویج وتبلیغ کےلئے جو موانع درپیش ہیں ان کے سدبا ب فرمائیں اور تمام مؤمنین کو نماز شب کی فضیلت سے آگاہ ہونے کی توفیق اور ہمیشہ انجام دینے کی ہمت عطا فرما ۔ والحمد للہ رب العالمین

الا حقر محمدباقر مقدسی

١٥/ جمادی الثانی ١٤٢٢ق ھ

حوزہ علمیہ۔ قم، ایران ۔


فہرست منابع

قرآن کریم

اصول کافی ج١، ٢ --- محمد بن یعقوب کلینی

الوافی ج١ --- فیض کاشانی

الدعوات --- راوندی

الدرالمنثور --- سیوطی

الاختصاص --- شیخ مفید

امالی صدوق --- شیخ صدوق

ب:

بحار الانوار ج٨،٢١، ٢٩، ٨٧. --- علامہ مجلسی

ت:

تفسیر نور الثقلین --- شیخ عبد علی بن جمعہ

تفسیرالمیزان ج ١٥و٣٠ --- علامہ طباطبائی

تفسیر مجمع البیان ج٢، ١٠ --- طبرسی

تفسیر عیاشی ج٢

تہذیب الاحکام --- شیخ طوسی

ث :

ثواب الاعمال --- شیخ صدوق

ج:

جامع الآیات والاحادیث ج٢


د:

داستان دوستان ج٢ --- محمدی اشتہاردی

ع:

عیون الاخبار --- شیخ صدوق

غرر الحکم --- مرحوم آمدی

علل الشرائع --- شیخ صدوق

ف:

فضائل نماز شب --- عباس عزیزی

ق:

قصار الجمل جلد اول

ک:

کتاب صفات الشیعہ

کنز العمال ج ٢،٧ --- متقی ہندی

م:

میزان الحکمۃ ج٣،٥ --- ری شہری

محاسن برقی --- برقی

مکارم الاخلاق --- فیضل بن طبرسی

من لا یحضرہ الفقیہ جلد اول --- شیخ صدوق

و:

وسائل الشیعہ ج٤،٥، ١٥ --- شیخ حرّ آملی


فہرست

مقدمہ ۴

پہلی فصل: ۷

نماز شب کی اہمیت ۷

الف ۔کتاب کی روشنی ۸

پہلی آیت: ۸

تفسیر آیہ : ۸

دوسری آیہ شریفہ: ۱۰

تیسری آیہ شریفہ : ۱۱

آیہ شریفہ کی وضاحت: ۱۲

چھوتھی آیہ شریفہ : ۱۵

توضیح : ۱۵

پانچویں آیہ شریفہ: ۱۵

چھٹی آیت: ۱۷

تفسیر آیہ: ۱۸

ساتویں آیہ شریفہ: ۱۸

آٹھویں آیہ شریفہ: ۱۹

نویں آیہ شریفہ : ۲۱

تفسیر آیہ کریمہ : ۲۲

دسویں آیہ کریمہ : ۲۳


تفسیر آیت : ۲۳

گیارہویں آیت : ۲۴

ب. سنت کی روشنی میں ۲۶

پہلی روایت: ۲۷

روایت کی شرح: ۲۷

دوسری حدیث : ۲۹

روایت کی تشریح: ۳۰

تیسری حدیث : ۳۲

حدیث کی وضاحت : ۳۲

١۔نماز شب باعث شرافت ۳۴

حدیث کی توضیح: ۳۵

٢۔نماز شب محبت خدا کا سبب: ۳۶

تشریح : ۳۶

٣۔نماز شب زنیت کا باعث ۳۸

حدیث کی تحلیل : ۳۸

تحلیل حدیث ۴۱

تحلیل حدیث : ۴۲

حدیث کی تحلیل : ۴۵

تحلیل حدیث : ۴۷

تحلیل حدیث : ۵۲


٤۔نماز شب پر خدا کا فرشتوں سے ناز ۵۳

تحلیل وتفسیر: ۵۴

٥۔نماز شب پڑھنے والا فرشتوں کاامام ۵۵

تحلیل وتفسیر حدیث : ۵۶

٦۔نماز شب باعث خوشنودی خداوند ۵۸

تحلیل وتفسیر : ۵۹

توضح وتفسیر روایت : ۶۰

٧۔نماز شب پڑھنے کا ثواب ۶۱

توضیح وتفسیر ۶۳

ج۔نماز شب اور چہاردہ معصومین )ع( کی سیرت ۶۳

الف: پیغمبر اکرم )ص( کی سیرت ۶۳

ب۔حضرت علی کی سیرت ۶۳

توضیح : ۶۴

ج۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ۶۵

د۔حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی سیرت ۶۶

ز۔نماز شب اور باقی ائمہ )ع(کی سیرت ۶۶

د۔علماء کی سیرت اور نماز شب ۶۸

الف )نماز شب اورامام خمنی کی سیرت : ۶۸

(ب) شہیدمطہری کی سیرت ۶۹

(ج) نماز شب اورعلاّمہ طباطبائی کی سیرت: ۷۰


(د) نمازشب اور شہید قدّوسی کی سیرت ۷۱

(ر)نماز شب اور مرحو م شیخ حسن مہدی آبادی کی سیرت: ۷۱

دوسری فصل ۷۲

نمازشب کے فوائد ۷۲

نمازشب کے مادی فوائدیعنی دینوی فوائد کومادی کہا جاتا ہے اور اخروی فوائد۔ ۷۳

(١)نمازشب باعث صحت ۷۳

تفسیروتحلیل روایت: ۷۵

تیسری روایت: ۷۷

توضیح وتفسیر: ۷۷

٣۔تیسرا فائدہ : ۷۸

٢۔نماز شب گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ۸۰

٣۔رحمت الٰہی کا ذریعہ ۸۱

٤۔رضایت الٰہی کا سبب ۸۱

٥۔نمازشب نورانیت کا سبب ۸۲

توضیح و تحلیل روایت: ۸۳

٦۔نماز شب گناہوں کے مٹ جانے کا سبب ۸۴

تحلیل و تفسیر: ۸۵

توضیح: ۸۷

٧۔نماز شب خوبصورتی کا سبب ۸۷

تحلیل و تفسیر: ۸۸


تحلیل و تفسیر: ۸۹

٨۔نماز شب باعث دولت ۹۱

تفسیر و تحلیل: ۹۲

٩۔مشکلات برطرف ہونے میں مؤثر ۹۳

تیسری رویات : ۹۴

تحلیل و تفسیر: ۹۵

١٠۔خدا کی ناراضگی کے خاتمہ کا سبب ۹۵

١١۔نماز شب استجابت دعا کا سبب ۹۶

تحلیل حدیث: ۹۶

١٢۔نماز شب نورانیت قلب کا ذریعہ ۹۶

تفسیر روایت: ۹۷

تفسیر روایت: ۹۸

١٣۔نماز شب باعث خوشبو ۹۹

روایت کی توضیح : ۱۰۰

١٤۔نمازشب بصیرت میں اضافہ کاسبب ۱۰۱

١٥۔ قرضہ کی ادائیگی کا سبب نماز شب ۱۰۱

١٦۔نماز شب دشمن پر غلبہ پانے کا ذریعہ ۱۰۲

١٧۔نمازشب باعث خیروسعادت ۱۰۴

١٨۔انسان کے اطمئنان کا ذریعہ ۱۰۵

١٩۔نماز شب طولانی عمر کا ذریعہ ۱۰۶


ب۔ عالم برزخ میں نماز شب کے فوائد ۱۰۷

مقدمہ : ۱۰۷

١۔نماز شب قبر میں روشنی کا ذریعہ ۱۰۷

٢۔ وحشت قبر سے نجات ملنے کا ذریعہ ۱۰۹

٣۔قبر کا ساتھی نماز شب ۱۱۱

٤۔نماز شب مانع فشار قبر ۱۱۳

٥۔نماز شب قبر میں آپ کی شفیع ۱۱۵

ج۔عالم آخرت میں نماز شب کے فوائد ۱۱۶

١۔جنت کادروازہ نمازشب ۱۱۶

تفسیر وتحلیل: ۱۱۹

٢۔جنت میں سکون کا ذریعہ ۱۱۹

٣۔دائیں ہاتھ میں نامہئ اعمال دیا جانے کا سبب ۱۲۰

٤۔پل صراط سے بامیدی عبور کا سبب ۱۲۲

٥۔جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں ۱۲۴

٦۔آتش جہنم سے نجات کا باعث ۱۲۵

٧۔آخرت کی زادو راہ نماز شب ۱۲۶

٩۔آخرت کی زینت نماز شب ۱۲۹

١٠۔جنت میں خصوصی مقام ملنے کا سبب ۱۳۰

تحلیل وتفسیر: ۱۳۱

تیسری فصل : ۱۳۲


نماز شب سے محروم ہونے کی علت ۱۳۲

الف۔ گناہ : ۱۳۳

تحلیل وتفسیر: ۱۳۴

ب۔نماز شب سے محروم ہونے کا دوسرا سبب ۱۳۴

ج۔نماز شب سے محروم ہونے کاتیسرا سبب ۱۳۶

د۔ پر خوری ۱۳۷

ھ۔عجب اور تکبر ۱۳۷

چوتھی فصل: ۱۴۰

جاگنے کے عزم پر سونے کا ثواب ۱۴۰

١۔نماز شب چھوڑنے کی ممانعت ۱۴۲

اعتراض وجواب ۱۴۲

جواب : ۱۴۳

دوسرا منفی نتیجہ: ۱۴۴

پانچویں فصل: ۱۴۵

نماز شب پڑھنے کا طریقہ ۱۴۵

٢۔نماز وترپڑھنے کا طریقہ ۱۴۶

نماز شب پڑھنے کا دوسرا طریقہ ۱۴۷

٤۔قنوت ۱۵۳

نماز شفع پڑھنے کا دوسرا طریقہ ۱۵۵

نماز وتر پڑھنے کا دوسراطریقہ ۔ ۱۵۵


چھٹی فصل : ۱۶۱

١۔نماز شب کی قضاء انجام دینے کی اہمیت ۱۶۱

٢۔نماز شب کے سواری کی حالت میں پڑھنے کاثواب ۱۶۳

٣۔نمازشب کو ہمیشہ جاری رکھنے کی فضیلت ۱۶۴

٤۔ نیند سے بیدار ہونے کا راہ حل ۱۶۷

٤۔ خاتمہ ۱۶۹

فہرست منابع ۱۷۰