آسان مسائل (حصہ اول)- جلد 1
گروہ بندی احکام فقہی اور توضیح المسائل
مصنف آیت اللہ العظميٰ سید علی سیستانی مدظلہ العالی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


نام کتاب: آسان مسائل (حصہ اول)

فتاوی: حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی سیستانی مدظلہ العالی

ترتیب: عبد الہادی محمد تقی الحکیم

ترجمہ: سید نیاز حیدر حسینی

تصحیح: ریاض حسین جعفری فاضل قم

ناشر: مؤسسہ امام علی،قم القدسہ، ایران

کمپوزنگ: ابو محمد حیدری


توجہ

وہ احکام شریعہ کہ جو دو بریکٹوں () کے درمیان بیان ھوۓ ھیں، ان سے مراد احتیاط ھے، آپ کو اختیار ھے کہ احتیاط واجب کی صورت میں اسی پر عمل کریں یا پھر اس مسئلہ میں کسی دوسرے مجتھد کی تقلید کریں، لیکن اس میں بھی اعلم کی مراعات ھونی چاہئے۔

کتاب مستطاب "آسان مسا‌ ‎ ئل حصہ اول" کو سپرد قرطاس کرنے اور پھر اس کو مجتھد العصر حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی الحسینی سیستانی مدظلہ العالی کے فتاوی مطابق سر انجام دینے کا کام آنجناب کے دفتر نجف اشرف (عراق) میں ۴ ربیع الاول ۱۴۱۶ھ کو اختتام پہنچا۔

دفترمرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی الحسینی سیستانی مدظلہ العالی

قم المقدسہ، اسلامی حمھوری ایران


تعارف مؤسسہ

'ادارہ امام علی علیہ السلام' ایک ایسا ادارہ ھے جو ان خالص اسلامی علوم کے نشر کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ھے۔۔۔۔ جواہل بیت علیہم السلام سے منسوب ھے۔ اور ثقافتی سطح کے اغتبار سے ماہرین کے قلم کےذریعہ ایک ایسے نۓ انداز میں اسلامی علوم کو نشر کرتا ھے کہ جو موجودہ زمانے کے طالب علم کے لیے مناسب ھے۔

اس بنا پر اس ادارہ نے اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کے تشنہ حضرات تک ان علوم کو کثرت کے ساتھ پہنچانے میں اپنی انتہا ئی کوشش صرف کردی اور ان کتابوں کی اشاعت بہترادبی شرح وتفسیر سے مزین ھر عمر سے تعلق رکھنے والی ذھنیت سے قریب ھے۔

لہذا یہی وجہ ھے کہ ادارہ نے ھرملک اور شہر کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوۓ مقامی دانشوروں اوراہل قلم حضرات سے روابط پیدا کئے ہیں تاکہ مکتب علوم اہل بیت علیہم السلام کی ترویج وتبلیغ کے لئے شبا نہ روز کام کیا جا سکے۔۔۔ اور تشنگان علوم محمد وآل محمد علیہم السلام تک معتبر اور مستند کتب پہنچائی جاسکیں۔۔

اللہ تعالی سے ہماری دعا ھے کہ وہ عامل اور پیروکاران مذھب اہل بیت علیہم السلام کو اپنی رضایت حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرماۓ۔۔

[والحمد لله رب العالمین ]


مقدمہ

( رب اشر ح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدةمن لسانی یفقهوا قولی )

اے میرے رب ؛میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے کام کو آسان کردے، اور میری زبان کی گرہوں کوکھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکیں۔،،

الحمد لله رب العالمین والصلا ة والسلام علی سیدنا محمد وآله الطیبین الطاهرین

میں نے کوشش کی ھے کہ میری کتاب ،،الفتاوی المیسرہ،، کی روش سادہ، عام فہم، آسان، مکلفین ومولفین اور قارئین کے لئے جوروزمرہ اور عام بول چال کی زبان ھے، اس پرمبنی ہواور میں نے حتی الامکان کوشش کی ھے کہ فقہی پیچیدہ اور مشکل اصطلات کوآسان اسلوب میں بیان کروں۔ اس جدید اور عام فہم اسلوب سے پڑھنے والے کا شوق بتدریج بڑھےگا اور اس کا میلان اس کو اپنے احکام دینی پراحاطہ کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا۔

میں نے صرف ان اہم احکام کو اختیار کیا ھے جن کی مکلفین کوضرورت ھے۔۔اگر مکلفین اس سے زیادہ جانناچاہتے ہیں تو وہ اپنی وسعت کے مطابق فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں اور دوسرے رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔

دوسری بات یہ ھے کہ پڑھنےوالے کے دل میں علم فقہ اورعلم خلاق کی قربت کا احیاء اور اس کے عمل اور روح عمل کے درمیان ربط پیدا کرنا ہے۔

اس کتاب کوتین حصوں پر تقسیم کیاگیا ھے ۔

پہلا حصہ

ہم نے پہلے حصے کو عبادت سے مخصوص کیا ھے اور پھر عبادت کو نمازسے مخصوص قرار دیا ہے کیونکہ نمازاسلام کا وہ اہم رکن ھے کہ جس کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےارشاد فرمایا ھے:

الصلوة عمو د الد ین ان قبلت قبل ما سواها وان ردت ردما سواها

نمازدین کا ستون ھے اگر نماز قول ہوگی تو تمام اعمال قبول ہوجائیں گے اور اگرنماز ردکردی گی تو تمام اعمال ردکردیے جایں گے،،

نماز تمام عبادات کا محور اور ان کا قلب ،اس لیے کہ

لا صلوة الا بطهور

”نمازطہارت کے بغیر نہیں ہو سکتی“

پس بحث کا پیکر چاہتا ہے کہ نمازتک پہنچنے کے لئے تقلید کی گفتگو کے بعد ان نجاسات کا بیان شروع کروں کہ جو طہارت کو ختم کردیتے ہیں۔ پھران مطہرات کاذکر کروں کہ جو طہارت بدن کا سبب بنتے ہیں۔اور ان سب کو بیان کرنےکے بعد نماز تک جا ‎‎ ؤں،کیوںکہ نمازتک پہنچنے کے لیے یہی مناسب ھے کہ نمازجیسی اہم عبادات بھی طہارات و پاکیزگی چاہتی ہیں جیسےروزہ وحج وغیرہ۔

حصہ دوم

میں نے دوسرے حصے کو معاملات سے مخصوص کیا ہے جیسے بیع وشراء [خرید وفروخت] وکالت، اجارہ اور شرکت وغیرہ۔

حصہ سوم

تیسرے حصہ کوانسان کےاحوال سے مخصوص کیا ھے۔جیسے نکاح،طلاق، نذرو عہداور قسم وغیرہ۔

اس کے فورابعد امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے بارے میں گفتگوکی ھے۔ بحث کا اختتام دو مختلف قسموں پر ختم ھوا ھے اور اس بیان کے مطابق موضوعات کو مندرجہ ذیل سلسلہ کے مطابق منظم کیا ھے =

تقلید سے متعلق گفتگو، نجاست کے متعلق گفتگو، طہارت سے متعق گفتگو، جنابت، حیض،نفاس، استحاضہ،میت،وضو، غسل، تیمم، جبیرہ، نماز،دوسری نمازیں، روزہ، حج، زکو ۃ،خمس، تجارت اور اس کے متعلقات، نکاح، طلاق، نذروعہد، وصیت، میراث،اور امربالمروف ونہی عن المنکر سےمتعلق الگ الگ گفتگو کی گی ھے۔

اس کتاب کا نسخہ نجف اشرف میں حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی حسینی سیستانی مدظلہ العالی کے دفتر کی طرف سےخواہش مند حضرات کو اس تاکید کے ساتھہ دیا گیا ہے کہ یہ آ نحضرت کے فتوؤں کے مطابق ہے اور ان کے دفتر کی طرف سے اس نسخہ پر لازمی و ضروری اصلاح بھی ھوئی ہے تا کہ کتاب کا یہ نسخہ اس کے بعد آنحضرت کے فتوؤں کے مطابق کامل ھوجائے۔

امید ہے کہ اپنے مقصد و ہدف میں کا میاب ہو گیا ہوں اور میں ان لو گوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس کام میں میرے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ خصوصی طور پر میں ان رفقاء کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ جو نجف اشرف میں معظم کے دفتر میں بر سر پیکار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھ کو بروز قیامت ان لو گوں کے سا تھ محشور فرما ئے جن کے متعلق قرآن میں ہے :

( اوتی کتابه بیمینه فیقول ها ؤ م اقروا کتا بیه ) جس کا نو شتہ اس کے دا ہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا لو آؤ میرے نو شتہ کو پڑھو اور میرا عمل خالص صرف اسی کے لئے قرار پائے ۔( یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم )

”اس روز نہ مال کام آئے گا اور نہ اولا د کام آئے گی مگر جس کو اللہ قلب سلیم عنایت کردے“

( ربنا لا تو اخذ نا ان نسینا او خطا نا )

”پا لنے والے ہماری خطا و نسیان کی باز پرس نہ فرما“

غفر انک ربنا و الیک المسیر

”اے ہمارے رب تو بخشنے والا ہے اور تیری ہی طر ف باز گشت ہے “

والحمد لله رب العالمین

ترتیب عبدالہادی محمد تقی الحکیم ۔


مکالمہ

میں نے اپنی عمر کے پندرہ سال مکمل کرلئے ہیں آج میں صبح سویرے نیند سے بیدار ہوا، تو میں نے محسوس تک نہ کیا کہ آج میرا دن دہشت، ناگہانی انتظار، فخر، جدوجہد، خوش وخرم، عشق ومحبت اور لذت جیسے احساسات وجذبات کو آشکار کرنے والا ہوجائے گا، اور آج کا دن مجھے پہلے مرحلہ سے نکال کر دوسرے مرحلہ میں داخل کردے گا۔

آج میں اپنی عادت کے مطابق ہر روز کی طرح صبح بیدار ہوا، اور جب بیداری اور ناشتہ کے درمیان معمول کی ضروریات سے فارغ ہوا، تو میں نے والد کے چہرے پر ایسے تاثرات کو دیکھا کہ جس سے مانوس نہ تھا میں اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ میری انہوں نے کون سی ایسی اہم بات دیکھی ہے کہ جس نے ان کو متاثر کیا ہے۔

کبھی آنکھیں عادت سے زیادہ کھل جاتی ہیں جیسا کہ فرصت کے وقت دونوں آنکھیں بند رہتی ہیں اور دونوں ملے ہوئے ہونٹ ایسے ہوتے ہیں جیسے کسی چیز سے بھرے ہوئے ہوں اور کسی بات کو کہنے کے لیے آمادہ ہوتے ہوئے لوگوں کو جوش وخروش میں لانے کے لیے کھلتے ہیں پھر بند ہوجاتے ہیں اور انگلیاں جو منظم طور پر حرکت میں آتی ہیں اور جلدی جلدی چلتی ہیں اور دسترخوان پر کھانے کے لیے انگلیوں کے پوریں کس طرح متحرک رہتے ہیں یہ چیزیں اس بات سے آگاہ کرتی ہیں کہ دل کسی بات سے مملو ہے اور قریب ہے کہ اپنی پر ظرفی کی بناپر پھٹ پڑے اور اپنی بات سے آگاہ کرے۔

میں صبح ناشتہ پر دسترخوان کے دوسری طرف اپنے والد کے سامنے بیٹھا تھا والد صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے،ان کے چہرے پر نشاط اور خوشی کی لہر ہویدا تھی اور خوشی سے ان کا چہرہ دمک رہا تھا۔

سکوت توڑتے ہوئے بولے:بیٹا آج آپ اپنی عمر کے پہلے مرحلہ کو رخصت کرکے ایک نئے مرحلہ کا سامنا کررہے ہیں آج آپ شارع مقدس کی نظر میں ایک کامل شائستہ مرد ہوگئے ہیں کیونکہ آج آپ مکلف ہوگئے ہیں پروردگار عالم نے آپ پر ایک عظیم احسان کیا ہے کہ وہ فرائض کے ذریعہ آپ سے مخاطب ہے، اور آپ پر اس کی مہربانی ہے کہ اس نے امر کیا اور آپ کو منع کیا ہے۔

اے میرے نور چشم: آپ شارع مقدس کی نظر میں بچپن کے زمانہ میں مکلف نہ تھے اور سن بلوع کے بعد (جو احکامات وارد ہوتے ہیں ) وہ آپ تک نہ پہنچے تھے لیکن آج ہر چیز بدل گئی ہے آج آپ مردوں کی طرح ایک مرد ہیں خطاب کی بناپر آپ کی مرد انگی اور آپ کی کامل شائستگی کا اعتراف کیا گیا ہے لہٰذا اب آپ اس پختہ مرحلہ کو پہنچ چکے ہیں اور آپ نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیا ہے تو اللہ نے آپ پراحسان کیا اور آپ سے اس نے اپنے اوامرو نواہی کے بارے میں خطاب کیا ہے۔

بیٹا!

میرے مہربان باپ!معاف کیجئے گا، میں آپ کے مقصد کو نہیں سمجھ سکا آپ وضاحت کریں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان کرتے ہوئے مجھے اپنا حکم دیا، کیا امر(حکم) بھی احسان ہوتا ہے، یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟

باپ!

اے میرے بیٹے!دیکھئے میں آپ کو مثال سے واضح کرتا ہوں کہ آپ جان لیں کہ اس کا امر کا آپ کے اوپر کیوں احسان ہے مثلاًآپ ابھی) مدرسہ میں ایک طالب علم ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں کہ ان میں کچھ ذہین، کچھ ہوشیار، محنتی، فرض شناس اور متفکر ہیں آپ سب ایک ایسے نئے امر کے لیے آمادہ کھڑے ہیں جو آپ تک اچانک پہونچنے والاہے آپ کھڑے ہیں اور آپ کے پاس سے مدرسہ کا پرنسل گزررہا ہے جب آپ کی اور ان کی آنکھیں چار ہوں تو ان کی نگا ہیں آپ پر ٹھہر جائیں اور وہ آپ سے شروع ہی میں اپنی رضایت کا اعلان کردیں پھر آپ سے ملائمت ونرمی کے ساتھ پیش آئیں اور مسکرا کروہ آپ کے ایک ایسے وسیع مرحلہ کی خوشخبری دیں کہ جس میں آپ سن بلوغ کو پہونچے ہوں اور اس بات کے معترف ہوں کہ اس نئے مرحلہ کی آپ کامل اہلیت رکھتے ہیں لہٰذاآپ کو آپ کے دوستوں سے چن کر اپنے اس امرسے مخصوص کیا کہ جس کی لیاقت کا آپ کے لئے اعتراف کیا تھا۔

کیا آپ اس روز اس امر کی بناپر کسی خاص قسم کی عزت کا خیال نہیں کرتے؟ اور جس کا آپ کو امر کیا گیا ہے ؟ اس کی پسندید گی کا اظہار نہیں کرتے؟

کیا اس کا اعتبار مشکوک ہے، جب کہ نفس پر بھروسہ ہے کیونکہ اس امر کا خطاب آپ سے ہے نہ کہ آپ کے دوستوں سے وہ حکم کررہا ہے کہ اس امر کاا جراء جلد ہو جانا چاہیے کہ جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔

یہ تما م باتیں اس وقت ہیں جب کہ حاکم مدرسہ کا پرنسپل ہو، پس آپ کا شعور اس وقت کیسا ہوگا جب کہ سردارایک رئیس کل ہو؟ بلکہ اس وقت کیا حال ہوگا جس وقت حاکم اور تفتیش کرنے والا ایک بڑا سردار ہو؟ آپ کا شعور اس وقت کیسا ہوگا جب کہ آمرہو ۔۔ ؟

میرے والد حاکم مخاطب کو درجہ بدرجہ گناتے جاتے تھے، اور ہر درجہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مجھ پر اس مطلب کو روشن کرتے جاتے تھے، کہ اس سے پہلے وہ مطالب ومفاہیم مجھ پر مخفی ومستور تھے تو ایسا لگا کہ جیسے میں گہری نیند سے جاگاہوں، اور جب میرے والد نے امر خدا اور اس کے خطاب کو اور اس کے فریضہ کو مجھ سے بیان فرمایا تو میں نے ایک آہ کھینچی اور کہا ا للہ مجھ سے مخاطب ہے مجھ حکم دیتا ہے مجھے ۔۔۔مجھے

ہاں فرزند اللہ آپ سے مخاطب ہے آپ پندرہ سال کے ہوگئے ہیں لہٰذا آپ پر فرض عائدہ کیا جارہاہے اس وقت آپ پندرہ سال کے ہوگئے ہیں لہٰذا آپ کو حکم دیا جارہاہے،اورآپ کو روکا جارہا ہے۔

کیا میں ان تمام کرامات کا مستحق ہوں؟کیا ان تمام چیزوں کا خالق مجھ کو شرف بخش رہا ہے؟ پس جبارارض وسماوات نے مجھے مکلف بنایا ہے، مجھ پر مہربانی کرکے مجھے حکم دے رہا ہے ، اور مجھے روک رہا ہے۔۔کتنا شیریں میرا یہ دن ہے اور کتنا اچھا یہ راستہ ہے اور کتنی بہترین زندگی ہے ۔

اے فرزند: آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے خالق کے اس امر کی اطاعت کریں کہ جو آپ کو دیا گیا ہے اور آپ کو اس سے مشرف کیا گیا ہے۔

بلکہ میں انتہائی کوشش کروں گا کہ اپنے حبیب کے احکام اور اس کے تمام فرائض کو ان کے حکم کے مطابق ایک چاہنے والے عاشق کی طرح انجام دوں۔لیکن ۔۔

لیکن کیا ؟

لیکن وہ فرائض کیا ہیں کہ جن کو مجھ پر فرض کیا گیا ہے اور وہ کون سے احکام ہیں کہ جو مجھ سے متعلق ہیں؟

وہ احکام شرعیہ پانچ ہیں

( ۱) واجبات

( ۲) محرمات

( ۳) مستحبات

( ۴) مکروہات

( ۵) مباحات

واجبات کیا ہیں؟ محرمات کیا ہیں ؟ مستحبات کیا ہیں؟مکروہات کیا ہیں؟ اور مباحات کیا ہیں؟

۱ ۔واجبات

ہر وہ چیزجس کا انجام دینا آپ پر لازم ہے وہ واجبات میں سے ہے مشلاًنماز ،روزہ ،حج،زکوۃ،خمس اور امر بالمعروف وغیرہ ۔

۲ ۔محرمات

جس چیزکا ترک کرنا آپ پر ضروی ہے، وہ محرمات میں سے ہے مثلاًشراب کا پینا، زنا، چوری، اسراف، جھوٹ وغیرہ۔

۳ ۔مستحبات

جس چیز کا انجام دینا بہتر ہو، واجب نہ ہو اور اس پر ثواب ہو اگر وہ فعل قصد قربت کی نیت پر انجام دیا ہو تو وہ مستحبات میں سے ہے، جیسے فقیر کو صدقہ دینا، صفائی، حسن خلق، مومن کی حاجت کو پورا کرنا، نماز جماعت، خوشبو لگانا وغیرہ۔

۴ ۔مکروہات

ہر وہ چیز جس کا ترک کرنا اور اس سے دوری اختیار کرنا بہتر ہو اور وہ حرام نہ ہوجائے اگر اس کو قصد قربت کی بناپر ترک کیا جائے تو اسی پر ثواب ہے اور وہ مکروہات میں سے ہے جیسے مرد عورت کی شادی میں تاخیر کرنا، مہر کا زیادہ ہونا، اگر مومن ضرورت کے وقت قرض مانگے اور یہ دینے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کے سوال کا رد کرنا وغیرہ۔

۵ ۔مباحات

لیکن اگر کسی چیزمیں کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہو تو وہ مباحات میں سے ہے جیسے کھانا پینا،سونا،بیٹھنا، سفر،تفریح وغیرہ۔

میں کس طرح واجبات کو محرمات سے اور محرمات کو مکروہات سے جدا کروں؟ کیسے معلوم کروں کہ یہ واجب ہے، اس کو انجام دینا میرے لیے لازمی ہے ا ور یہ حرام ہے، اس سے میں بچوں اور اس کو انجام نہ دوں اور اس سے دوری اختیار کروں؟ کس طرح پہچانوں کہ۔۔؟

میرے والد میری بات کو کاٹ کر مسکرائے پھر میرے والد نے مجھ پر شفقت ورحم کی نکاہ ڈالی، وہ کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کہتے کہتے رک گئے کیونکہ خاموش رہنے میں بہتری تھی، پھر رک کر ایک گہری فکر میں ڈوب گئے۔

ان کی گہری اور لمبی خاموشی کے متعلق میں اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ میرے والد کے ذہن میں کیا چیز گردش کررہی ہے؟صرف میں اس چیز کا منتظر تھا کہ ان کی بخشش کا ابرکب برسے؟ خاموشی وتاخیران کی پیشانی پر چھائی ہوئی تھی پھروہ دوحصوں میں تقسیم ہوگئی پھر اس نے پورے چہرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہونٹوں کی طرف پہنچ گئی جو کہ ایک نحیف آواز کے ساتھ کھلے تھے کہ جس میں رحم وشفقت بہت زیادہ تھا۔

آپ واجبات محرمات سے اور مستحبات کو مکروہات سے اس وقت تمیز کرسکتے ہیں جب کہ آپ علم فقہ اسلامی کی کتابوں کو پڑھیں اس وقت آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں سے بعض ارکان ہیں اور بعض اجزاء وشرائط ہیں کہ جن کا ادا کرنا واجب ہے اور بعض ایسے اعمال ہیں کہ جن کا تنہا بجالانا ممکن نہیں بعض کو بعض کے لیے انجام دیا جاتاہے۔

آپ فقہی کتب کی طرف رجوع کریں آپ اپنے آپ کو ان میں کھویا ہوا پائیں گے پھر آپ پرآ شکار ہوگا کہ فقہ اسلامی ایک وسیع علم ہے اس علم میں سینکڑوں کتابیں لکھیں جاچکی ہیں اور علماء اعلام نے مسائل واحکام الٰہی پر سیر حاصل بحث کی ہے، اوردقیق تحقیق کی ہے کہ جس کی نظیر دوسرے علوم انسانی میں کم ملتی ہے۔

کیا میرے اوپر ان تمام کتابوں کا دیکھنا واجب ہے؟

نہیں بلکہ آپ کے لیے کافی ہے کہ ان کتابوں میں مختصر اور جو آپ کے لیے آسان ہو اختیار کریں۔

آپ ان کتابوں کو دوحصوں میں منقسم پائیں گے۔

ایک حصہ عبادات سے مخصوص ہے اور دوسرا معاملات سے مخصوص ہے۔

عبادت اورمعاملات کیا ہیں؟

آپ فقہ اسلامی کی کتابوں کو دیکھیں آپ پر ہر چیز واضح ہوجائے گی میں نے لائبریری جانے کا ارادہ کیا تاکہ فقہ اسلامی کی کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کروں میں نے ارادہ کیا اور میرا شوق بڑھ گیا اور جس وقت میری نگاہیں ان کتابوں پر پڑیں تومیری خوشی کی انتہا نہ رہی میری طبیعت میں ایک جوش اور ولولہ پیدا ہوا ۔ہاں یہ فقہ اسلامی کی کتابیں ہیں میں ان کتب کا مطالعہ کروںگا اور میں ان میں اپنے مسائل کے شافی جوابات پالوں گا۔

میں اپنے کمرہ کی طرف اپنی کامیابی پر فخر کرتا ہوا لوٹا اسی وقت مرے دل میں خیال آیا کہ میں اپنے اہداف اور حوائج تک پہنچ گیا میری اس وقت خوشی کی انتہا نہ رہی دروازہ کھولا اور کمرے میں داخل ہوگیا، اپنی کتاب کو جلدی سے کھولاہی تھا کہ میری ذہن میں چند نامانوس خطوط پہلے ہی مرحلہ میں مرتسم ہوگئے اور بہت جلد وہ ایک پوشیدہ خوف میں تبدیل ہوگئے

میں نے کافی پڑھا مگر کسی بامقصد چیز کو نہ سمجھ سکا ذرا آپ سوچئے میں نے اپنی اس حیرت کا (کہ جو ایک خاص قسم کی غیر مانونس حیرت تھی) کس طرح اعلان کیا ہوگا؟

میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ نہ پڑھنا چھوڑوں گا اور نہ غور وفکر کو بلکہ میں بار بار پڑھتا رہوں گا اور غور وفکر کرتا رہوں گا تاکہ میں بھر پور استفادہ کر سکوں۔

وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا میرا سینہ سخت دباؤ اور گھٹن کی وجہ سے خستگی محسوس کررہا تھا اور میں بار بار پڑھ رہا تھا مگر کسی چیز کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔

ناکامی کے بادل میرے گرد جمع ہونا شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ حزن وملال میں تبدیل ہوگئے جو میری دونوں آ نکھوں سے عیاں تھے۔

میں نے کافی مطالعہ کیا اور میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں کسی بامقصد چیز کو نہ سمجھ سکا۔

میں نے ایسے کلمات پڑھے جن کو میرے کانوں نے اس سے پہلے سنا تک نہ تھا پس میں نہیں جانتا تھا کہ ان کلمات کے کیا معنی ہیں؟

”النصاب، والبینة،والمئونة، والارش،والمسافة الملفقة،والحول، ولدراهم البغلی،وآبق،والذمی پس میں العلم الا جمالی،والشبهة المحصورة،والاحکم التکلیفی،والحکم الوضعی،والشبهة الموضوعیة والاحوط لزوما، والتجزیی فی الاجتهاد والصدق العرفی،والمناط والمشقة والتجزیی فی الا جتهاد والصدق العرفی،وامناط والمشقة النوعیة“

ان اصطلاحات کو نہیں جانتا تھا کہ ان کا مقصد کیا ہے؟

پھر میں نے کچھ ایسے جملے پڑھے کہ اس سے پہلے میں ان سے ناآشناتھا اور کچھ ایسے جملے کہ جو کچھ قضیوں کا علاج ہیں، اور جن کا میری موجودہ معاشی زندگی میں وجود نہ تھا میں نہیں جانتا تھا کہ ان کا کیوں ذکر کیا گیاہے ان کتابوں میں کچھ جملے ایسے بھی استعمال ہوتے ہیں مثلاً”تشقیق وتفریع وعمق، تشطیر دقیق “ احتمالات کے لیے ہیں کہ جنہوں نے اپنے بارے میں مجھے حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔

پس میں نہیں سمجھا کہ اس جملہ سے کیا مراد ہے۔

اذاعلم البلوغ والتعلق والم یعلم السابق منهمالم تجب الزکاة سواء علم تاریخ التعلق وجهل تاریخ البلوغ ۔۔“

”یعنی اگر بلوغ اور تعلق زکوة کا علم ہے کہ بچہ بالغ بھی ہوگیا اور اس کا مال بھی اتنی مقدار تک پہنچ گیا کہ جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے مگر نہیں معلوم کہ بالغ پہلے ہوا یا مال کا نصاب پہلے ہوا، ایسی صورت میں زکوۃواجب نہیں ہے، چاہے تعلق زکوۃ کی تاریخ کو جانتا ہے اوربلوغ کی تاریخ سے جاہل ہویا تاریخ بلوغ کو جانتا ہے اور تعلق زکوٰۃ کی تاریخ کو نہیں جانتا یا دونوں کی تاریخوں سے جاہل ہو ،، اور اسی طرح مجنون کا بھی یہی حکم ہے کہ جنون عقل سے پہلے ہواور اگر عقل عارضہ جنوں سے پہلے ہو تو پس اگر تاریخ تعلق کو جانتا ہے تو زکوٰة واجب ہے بقیہ صورتوں میں واجب نہیں ہے۔

اور نہ جملہ ”الظن بالر کعات کالیقن

”یعنی رکعات کاظن مثل یقین کے ہے“لیکن ظن بالافعال کا اس طرح ہونامحل اشکال ہے پس اس میں احوط یہ ہے کہ اگر کسی چیز کے بجالانے کا اس کے محل میں ظن ہو نماز کو پورا کرے،اور پھر اس کا اعادہ کرے اور اگر محل سے گزار گیا اور کسی فعل کے انجام نہ دینے کاظن ہوتو پلٹ کراس فعل کو انجام دے اور بعد میں نماز کا اعادہ بھی کرے) کے مطلب کو سمجھا اور نہ جملہ کو:

الاقوی ان التیمم رافع للحدث رفعاًناقصاً لایجزیی مع الاختیار لکن لاتجب فیة نیةالرفع ولا نیة الا ستباحة للصلاة مثلا

”اقوی یہ ہے کہ تیمم حدث کو دور کرنے والاہے، اور یہ رافع ناقص ہے اختیار کی صورت میں تیمم مجزی نہیں ہوسکتا، لیکن اس میں حدث کے رفع ہونے اور نماز کے مباح ہونے کی نیت واجب نہیں ہے“۔

اذا توضافی حال ضیق الوقت عن الوضوء

”یعنی اگر کسی نے نماز کے تنگ وقت میں وضو کیا“ اگر نماز ادا کرنے کے ارادہ سے وضو کیا ہے تو نماز باطل ہے اور اگر کسی دوسرے مقصد کے تحت وضو کیا ہے تو نماز صحیح ہے۔

اور اس جملہ کے مقصد کو نہ سمجھ سکا۔

یکفی استمرارالقصد بقاء قصدنوع السفر وان عدل عن الشخص الخاص

”استمرار قصد میں نوع سفر کا قصد کافی ہے اگرچہ کوئی شخص اس قصد سے عدول کرلے“

اور نہ اس جملہ کا مقصد سمجھ سکا۔

فلواحدث بالاصغر اثناء الغسل اتمه وتوضاء

اگر غسل کے دور ان حدث اصغر صادر جائے تو غسل کو پورا کرلے اور وضو بھی کرے،لیکن احتیاط ترک نہ ہو یعنی مافی الذمہ کی نیت کے ساتھ بقیہ غسل ”بقصد ماعلیه من التمام اوالاتمام “کرے اور وضو بھی کرلے ۔

اور نہ اس جملہ کے معنی سمجھ سکا۔

مناط ا لجهرو الاخفات الصدق العرفی

”نماز میں جہرو اخفات کا معیار عرف ہے“

اور بہت سے جملے جو میری نظروں سے گزرے مگر میں ان کے اصل معنی کو نہ سمجھ سکا ۔

میں حیران وسرگرداں ہوگیا،اور میں نے فقہ اسلامی کی ان اصطلاحات اور جملوں کو سمجھنے پر پوری توجہ مبذول کی ۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ میں نے کس طرح حلال خدا کو حاصل کیا کہ اس کو انجام دوں؟ اور کس طرح حرام کو حاصل کیا کہ جس سے میں اجتناب کروں میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میری آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں، میں نے دعا کی :الہٰی: میں جانتا ہوں کہ تونے مجھے مکلف کیا ہے‘مگر نہیں جانتا کہ کیوں مجھے مکلف کیا ہے؟

الٰہی: مجھے اس چیز کی معرفت عنایت کر جیسے تو نے مجھ سے طلب کیا ہے، تاکہ میں اس کو انجام دے سکوں۔

اے میرے خدا!میری مدد کرکہ جومیں پڑھوں اس کو صحیح طور پر سمجھ سکوں ۔فقہ کی کتابوں کے روشن وآ شکار ہونے پر میری مدد کرکہ تو کیا چاہتا ہے؟

تاکہ میں اس پر عمل کروں جو تو چاہتا ہے؟اصل معنی کو نہیں سمجھ سکا۔

رات کی تاریکی چھا چکی تھی میں اپنے والد کا دستر خوان پر انتظار کرہا تھا۔

تھکاوٹ،خستگی، بیقراری میری آنکھوں اور پلکوں سے اول شام ہی سے آشکارونمایاں تھی پھر میں نے جو کچھ انجام دیا تھا وہ خوشی کے لئے تھا میری اس خوشی میں رنج وغم کی آمیزش ہوگئی یعنی میری خوشی میرے غم میں بدل گئی۔

جب ہمارے لیے دستر خوان بچھا اور میرے والد تشریف لائے تو اس وقت میرا دل دھڑک رہا تھا میرا سانس اکھڑا ہوا تھا اور میرے کان کادرجہ حرارت اتنا زیادہ تھا کہ گویا ناگہانی بخار کی بناپر تپ رہاہو شرم وحیرت وپریشانی اور تردد نے میرے فکر وشعور پر غلبہ کرلیا تھا اور میں تمام ان پڑھے ہوئے جملوں اور کلمات کو تیزی کے ساتھ اپنے دل میں دہرارہا تھا۔

اور میں اپنے اس عزم وارادہ میں کسی سے مدد کا طالب تھا ساتھ ہی میرے اندر جو نقص۔( کمی ) تھا اس کا بھی معترف تھا لہٰذا میں نے اپنے والد سے عرض کیا :

میں نے فقہ اسلامی کی کتابوں کو دیکھا مگر انہوں نے مجھ پر غلبہ حاصل کرلیا،اور اپنا دل کھولنے سے میرے لیے انکار کردیا یعنی میں ان کے مطالب ومفاہم کو نہ سمجھ سکا) اور میں نے یہ دد آخری کلمے اتنے دہرائے کہ میرے باپ کی آنکھوں کی پتلیاں ایسی (حیرت سے) گھومنے لگیں کہ جیسے وہ بہت زمانہ سے کسی گہری فکر میں ڈوبی ہوئی ہوں پھر انہوں نے مجھے ایسے دیکھا جیسے تھکاماندہ ایک طویل سفر سے پلٹتا ہے وہ میری آنکھوں کی طرف دیکھنے لگے، معلوم ہوتا تھا کہ وہ بغیر ہونٹ کھولے پوشیدہ، گہرے رنج وغم کی آواز میں کچھ کہنا چاہتے ہیں؟مجھے بھی آپ کے تجربہ کی طرح تجربہ حاصل ہے، جب میں آپ کی عمر کا تھا، میں نے فقہ اسلامی کی کتابوں کو پڑھا مگر میں کسی مقصد کو آپ کی طرح نہ سمجھ سکا، مگر میں آپ کی ہمت کی داد دیتا ہوں اور فقہ اسلامی کی کتابوں کو سمجھنے سے اپنی عاجزی کا اعتراف کرتا ہوں۔

میری تربیت اور شدید شرم وحیا میرے اور والد کے سوال کے درمیان بعض بچپنے اور مرد ہونے کی خصوصیات کے بارے میں حائل تھی، میں نہیں جانتا تھا کہ بلوغ ایک معین عمر کے علاوہ بھی متحقق ہوتا ہے لہٰذا میں نے اپنے باپ کی بات کو کاٹتے ہوئے عرض کیا۔

سوال: کیا بلوغ اس کے علاوہ بھی( کسی چیز سے) ثابت ہوتا ہے؟

جواب: ہاں اے فرزند مرد میں اگر ان تین علامتوں میں سے کوئی ایک علامت پائی جائے تو بلوع ثابت ہو جاتاہے۔

علامت بلوع

۱ عمر کے پندرہ سال قمری (چاند) پورے ہوجائیں۔

۲ منی کا نکلنا، چاہے یہ جنسی وصال سے نکلے ، یا احتلام کی وجہ سے یا ان دو کے علاوہ کسی اور بناپر نکلے۔

۳ ناف پر سخت بالوں کا اگنا یہ سخت بال سر کے بالوں سے مشابہہ ہیں تاکہ ان بالوں سے وہ بال الگ ہوجائیں کہ جو نرم وملائم ہیں اور ا کثر جسم کے حصوں پرپائے جاتے ہیں مثلاً ہاتھوں کے بال (مولف )

سوال: ناف سے کیا مراد ہے؟

جواب: ناف، پیٹ کے نیچے کے حصے اور عضوتناسل سے ملے ہوئے اوپر والے حصہ کے درمیان واقع ہے۔

یہ مرد کے بالغ ہونے کی علامتیں ہیں۔لیکن عورت ۔۔؟

عورت جب اپنی عمر کے نوسال قمری حساب سے پورے کرلیتی ہےتووہ بالغ ہوجاتی ہے۔

میں نے آج اپنا قصور اور اپنی عاجزی کو تمام فقہ اسلامی کی کتابوں کے بارے میں آپ سے بیان کردیا لہٰذا آپ میری حاجت کے تحت میرے لئےکچھ جلسے منعقد کر یں کہ جس میں ہروہ چیز کہ جس کا سمجھنا میرے لئےدشوار ہے شرح وبسط کے ساتھ اس طرح بیان کریں کہ جس کو میں سمجھ سکوں اور اس کو بیان کرسکوں اور حکم شرعی کو اس طرح حاصل کرلوں جس طرح خداواند عالم نے میرے لیے معین کیا ہے اور جس کا مجھے حکم دیا ہے۔

شاباش اے فرز ند: اگر ہمارے جلسے گفتگو اور سوال وجواب کے طریقہ پر ہوں؟

جیسا آپ پسند فرمائیں۔

سوال: لیکن ہمارے ان جلسوں کی ابتداء پہلے کس گفتگو سے ہوگی؟

جواب: ہم تقلید سے اپنی گفتگو کا آغاز کریں گے کیونکہ یہی اس چیز کی بنیاد ہے جو ہمارے لیے مختلف مسائل کو ہماری فقہ کے مطابق بیان کرتی ہے ہم اس مئلہ پر متفق ہوگئے۔


تقلیدپر گفتگو

میرے والد فرمانے لگے کہ اب ہم تقلید پر گفتگو شروع کرتے ہیں لیکن بحث شرو ع کرنے سے پہلے میں آپ کے لیے تقلید کے معنی بیان کرتا ہوں۔

تقلید

فکرو نظر کے بغیرکسی مسئلہ میں کسی مجہتد کی طرف رجوع کرنا تاکہ اگر وہ کسی چیز کو انجام دینے کی رائے دے تو اس کو کیا جائے، اورجس چیز سے بچنے کی رائے دے اس سے بچا جائے پس گویا کہ آپ کا عمل اس کی گردن میں مشل ہار کے ڈالاگیا ہے اعتبار سے کہ وہ خدا کے سامنےآ پ کے عمل کا جواب دہ ہوگا۔

سوال: ہم کیوں کر کسی کی تقلید کریں؟

جواب: گزشتہ بحث میں آپ کو معلوم ہوگیا کہ شارع مقدس نے آپ کو حکم دیا ہے اور منع کیا ہے واجبات کا انجام دینا آپ کے لیے لازمی ہے اور محرمات سے منع کیا ہے، جن سے بچنا آپ کے لیے ضروری ہے۔لیکن کس چیز کا آپ کو امر کیا اور کس چیز سے آپ کو روکا؟ بعض اوامر آپ کے لئے شریعت میں ایسے واضح ہیں کہ آپ ان کو اکثر اپنی ضروریات اوراجتماعی زندگی کے درمیان سےمشخص کرسکتے ہیں۔اور بعض نواہی بھی) اس طرح واضح ہیں کہ آپ ان کو زندگی اور اپنے ماحول کے درمیان تمیز دے سکتے ہیں اور اسی طرح زیادہ سے زیادہ واجبات ومحرمات آپ پر اور آپ جیسوں پر مجہول اور نامعلوم رہتے ہیں میرے والد نے مزید فرمایا :

آپ جانتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ نے آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو جمع کرلیا ہے ہر چیز کے لیے ایک حکم وضع کیا ہے پس آپ حکم شرعی کو کس طرح پہچانیں گے کیونکہ آپ اپنی زندگی کے مختلف دور سے گزررہے ہیں۔کس طرح معلوم ہوگا کہ یہ فعل شارع مقدس کے نزدیک حلال ہے۔۔ اس کو انجام دو اور یہ عمل شارع مقدس کے نزدیک حرام ہے اس سے دوری اختیار کرو۔

ذرا سوچیں؟ کیا آپ اپنی تمام ضروریات زندگی میں شرعی دلیلوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں تاکہ آپ ان سے اپنا شرعی حکم استنباط کرسکیں؟

ایسا کیوں نہیں ؟

اے فرزند: آپ کے زمانہ اور شریعت اسلامیہ کے آنے کے زمانہ میں بہت زیادہ فاصلہ ہے اور اس فاصلہ کی بناپر شریعت کی اکثر نصوص ضائع وبرباد ہو گئی ہیں۔

لغت اور تعبیر کے طریقہ وروش میں تبدیلی واقع ہوگئی ہے اور جھوٹی احادیث گڑھنے والوں نے اپنی بہت سی جعلی احادیث کو ہماری معتبر احادیث میں ملا دیا ہے جس کی بناپر حکم شرعی معلوم کرنے میں مشکل واقع ہوگئی ہے۔

پھر روایات کے نقل کرنے والوں کے لیے (اعتماد واطمینان ) احادیث کے جمع کرنے والوں کی راہ میں ایک بڑی مشکل تھی۔

فرض کریں کہ آپ راویوں کی ان احادیث کو جنہیں انہوں نے نقل کیا ہے اور محفوظ کیا ہے، ان کی صداقت ووثاقت سے آپ مطلع ہوسکتے ہیں اور پھر وہ مفردات احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔۔۔ان کی دلالت انہیں معنی پر ہے کہ جن کو آپ نے مراد لیا ہے اور آپ اس کو اچھی طرح ثابت کرسکتے ہیں لیکن کیا آپ ایسا وسیع، اور عمیق علم رکھتے ہیں کہ جو ایک طویل مقدمہ کو چاہتا ہے۔۔اور ایک گہرا فکر وتدبر چاہتا ہے، تاکہ اس کے بعد جس کو آپ جاننا چاہتے ہیں یا جس کے بارے میں بحث کرنا چاہتے ہیں وہ آپ کو حاصل ہوجائے ۔

سوال: پھر میں کیسے عمل کروں؟

جواب: آپ اس عمل میں اس کے ماہرین (یعنی فقہاء) کی طرف رجوع کریں۔

اور ان سے اپنے احکام کو معلوم کریں، ان کی تقلید کریں، یہ چیز صرف فقہ ہی میں نہیں ہے بلکہ ہر علم میں یہ بات ہے، سائنس میں جو بھی نئے واقعات رونما ہوتے ہیں ان کے امتیاز کا سرچشمہ اس علم کا اسپیشلسٹ ہونا ہے ۔

اس حیثیت سے کہ ہر علم میں اس کا ایک ماہر اور استاد ہوتا ہے جب بھی کسی عمل میں اس کی حیثیت کے مطابق کو ئی حاجت درپیش ہو تو اس کے ماہرین کی طرف رجوع کیا جائے۔

میرے والد نے بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

ہم اس سلسلہ میں علم طب کی مثال پیش کریں گے، جب بھی آپ مریض ہوں گے خدا صحیح وسالم رکھے، تو آپ کیا کریں گے؟

میں طبیب کے پاس جاؤں گا اور اس سے اپنی حالت کو بیان کروں گا تاکہ وہ مرض کی تشخیص کرنے کے بعد میرے لیے مناسب دوا تجویز کرے۔

میرا سوال یہ ہے کہ آپ خود کیوں نہیں اپنے مرض کی تشخیص کرتے؟

اور اپنے لیے دوا تجویز کرتے؟

میں کوئی طبیب تو نہیں ہوں۔

بس اسی طرح علم فقہ کا بھی یہی حال ہے آپ ایک ایسے فقیہ کی طرف رجوع کرنے کے متحاج ہیں کہ جو خدا کے اوا مرو نواہی پہچاننے میں ماہر ہے آپ کا اپنی مشکل شرعیہ کا اس کے سامنے بیان کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ کو اپنی بیماری کی حالت کو بیان کرنے کے لیے ایک ماہر طبیب کی ضرورت پیش ہوتی ہے۔بس جس طرح آپ طبیب کے مخصوص فن میں اس کی تقلید کے محتاج ہیں اسی طرح آپ فقیہ کےمخصوص فن میں اس کی نقلید کے محتاج ہیں ۔

جیسا کہ آپ ایک طبیب فاضل کے بارے میں جستجو کرتے ہیں کہ اپنے فن میں ماہر ہو، خصوصاً جب کہ مرض خطر ناک ہو پس آپ پر لازم ہے کہ ایک عظیم الشان فقیہ کے بارے میں جستجو کریں کہ جو اپنے فن میں ماہر ہو تاکہ اس کی تقلید کریں اور اس سے اپنا حکم شرعی حاصل کریں اور آپ زندگی کے ہر پہلو میں اس سے وابستہ ہیں تاکہ حکم شرعی آپ پر واضح ہوتارہے ۔

سوال: میں کیسے پہچانوں کہ یہ شخص فقیہ ہے؟یا فقہاء میں اعلم اور افضل ہے؟

جواب: میرے والد نے جواب دیتے ہوئے فرمایا :

دیکھو: میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔آپ کیسے پہنچانیں گے کہ یہ طبیب فاضل ہے یا اطباء میں اپنے مخصوص فن میں افضل ہے؟ تاکہ آپ اس کی طرف رجوع کرسکیں؟ اور اپنا جسم اس کے سپرد کرسکیں اور وہ جیسا مناسب سمجھے ویسا علاج کرے؟

میں نے والد کی خدمت میں عرض کیا:

اس سلسلہ میں جو لوگ علم طب سے وابستہ ہیں یا جو اس کو جانتے ہیں، جواس میں تجربہ کار ہیں۔ ۔۔ ان سے معلوم کروں گا یا لوگوں میں جس کی شہرت زیادہ ہوگی اور اس علمی میدان میں جو بھی زیادہ شہرت رکھتا ہوگا اس کے ذریعہ اس کو پہچانوں گا۔

پس اس قاعدہ کے تحت آپ اس فقیہ اعلم کو بھی پہچان لیں گے۔

آپ کسی ایسے شخص سے سوال کریں جو واجبات کو لازمی طور پر انجام دیتا ہو اور محرمات کو ترک کرتا ہو جو قابل اطمینان ہوکہ جس میں علمی سطح پر اشخاص میں تمیز پیدا کرنے کی قدرت، معرفت اور عدالت زیادہ پائی جاتی ہو۔

یا جو لوگوں کے درمیان مشہور ہوکر یہ فقیہ ہے یا تمام فقہا ءمیں اس کی اعلمیت زیادہ مشہور ہو اس طرح جو چیز آپ کو اس کی شہرت، اس کی فقاہت اور اس کی اعلمیت کے بارے میں وثوق ویقین پیدا کرتی ہے۔

اور کیا جس کی تقلید ہم پر واجب ہے اس کی شخصیت کے معلوم ہو جانے کے بعد فقاہت کی شرط کے علاوہ کوئی اور شرط بھی ہے؟

آپ جس کے مقلد ہیں اس کو مرد، بالغ، عاقل، مومن ، عادل ،حی (زندہ) اور حلال زادہ ہونا چاہئے یعنی اس کی ولادت شرعی قانون وقواعد کے مطابق انجام پائی ہو اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس میں خطاء ونسیان اور غفلت زیادہ پائی جائے گی۔

بہت بہتر میں نے فقہاء اور تقلید کو اجمالی طور پر پہچان لیا ہے اب میرے اوپر کیا واجب ہے؟

آپ کے زمانہ کے فقہا میں جوا علم (سب سے زیادہ جاننے والا) ہو، اس کی تقلید کریں، اور مختلف چیزوں کے بارے میں جو بھی فتویٰ دے اس پر عمل کریں مشلاً آپ کے وضو کے احکام، غسل، تیمم، نماز روزہ، حج، خمس، زکوٰة وغیرہ ہیں جو بھی فتویٰ دے اس پر عمل کریں اسی طرح اپنے معالات مثلاً آپ کی خرید وفروخت،حوالہ،شادی بیاہ کھیتی باڑی اجارہ رہن،وصیت،ہبہ،وقف وغیرہ کے احکام میں اس کی تقلید کریں۔

میں اپنے والد کے ساتھ ان چیزوں میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور خدا، انبیاء کرام اور رسل پر ایمان وغیرہ کو بھی شامل کررہاتھا۔

ہرگز نہیں ۔۔۔اللہ پر اور اس کی توحید اور ہمارے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت اور بارہ اماموں کی امامت اور قیامت پر ایمان، ان امور میں تقلید جائز نہیں ہے بلکہ واجب ہے کہ ہر مسلمان کا عقیدہ اصول دین میں ایسا یقینی ہوکہ جس میں کوئی شک وشبہ نہ ہو، اللہ پر قطعی ایمان ہو اور اس پر اپنی جدوجہد، کوشش اور فکری طاقت کے ذریعہ بحث ہو کہ جو اللہ نے بخشی ہے اور جس سے مکمل قناعت اور محکم یقین حاصل ہوتا ہے۔

سوال: بہت خوب، کیا میرے لیے مناسب نہیں ہے کہ میں کسی فقیہ اعلم کی موجودگی میں کسی بھی فقیہ کی تقلید کروں؟

جواب: ہاں ممکن ہے کہ اس شرط کے ساتھ کہ ان مسائل میں جن کی آپ کو ضرورت پڑتی ہے آپ کے مجہتد کے فتوؤں اور اعلم کے فتوؤں کے درمیان اختلاف کو آپ نہ جانتے ہوں۔

سوال: اگر میں کسی اعلم کی تقلید کروں لیکن جس مسئلہ کی مجھے ضرورت ہے اس میں اس کافتوی نہیں ہے یا اس کا فتوی ہومگر میں نے اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کی ہو؟

جواب: آپ اس مسئلہ میں کسی ایسے اعلم کی تقلید کریں کہ جو اس آپ کے اعلم کے بعد اعلم ہو یعنی علم میں اس کے بعد اعلم ہو۔

سوال: اور جب باقی فقہاء علم میں برابر ہوں تو اس وقت میں کیا کروں؟

جواب: پھر آپ اس کی طرف رجوع کریں جو دوسروں سے زیادہ متقی ہو جس رائے کے مطابق وہ فتویٰ صادر کرتا ہو، اس کی وہ رائے محکم اور ٹھوس ہو۔

سوال: اور اگر ان میں بعض، بعض سے زیادہ متقی نہ ہوں تو؟

جواب: ممکن ہے کہ آپ کا عمل کسی کے بھی فتوی کے مطابق درست ہومگر بعض حالات میں آپ احتیاط پر عمل کریں اور کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ کو اس احتیاط کے بارے میں کچھ بتادوں۔

بہت بہتر ،جب کہ میں طبیب کی طرف رجوع کرتاہوں تو اس کی رائے کو میں اپنی صحت کے ذریعہ پہچان لیتا ہوں اگر میری صحت نے مجھے اجازت دی تو میں اس کی طرف رجوع کروں گا۔

سوال: آپ بتائیں کہ میں مسائل شریعت میں اپنے مجہتد کے فتوؤں کو کس طرح سمجھ سکتا ہوں؟ وہ کون سی اصل ہے کہ میں اس کے فتوؤں کو اس کے مطابق پرکھ سکوں؟ کیا میں ہر مسئلہ میں اسی مجتہد سے رجوع کرسکتاہوں ؟

جواب: ہاں اگر آپ خود اس کے فتوؤں کو اسی سے معلوم کرسکتے ہیں تو اسی سے معلوم کریں یا پھر کسی ایسے شخص سے معلوم کریں جو اس کے فتوؤں کو نقل کرنے میں موثق ہو، امین ہو اور پوری معرفت رکھتا ہویا پھر اس کی فقہی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے جیسے رسالہ عملیہ جب کہ اس کی صحت کا اطمینان بھی ہو، کہتے ہیں بہت اچھا ہے۔

اب میں اپنے مجہتد کے فتوے بیان کرنے میں آپ سے مدد چاہتا ہوں کیونکہ آپ ثقہ اور امین ہیں۔

میرے والد باوقار انداز میں مسکرائے اور انہوں نے اس جلسہ میں آنکھوں کے اشارہ سے سوال کیا۔

میں نے عرض کیا کہ اس بحث کو نماز سے شروع کریں۔

فرمانے لگے کہ ٹھیک ہے اس جلسہ کو نماز سے شروع کریں گے اور پھر فرمانے لگے کہ اگر انسان کی طہارت کسی بھی چیز سے ختم ہوجائے تو نماز طہارت چاہتی ہے۔

سوال: وہ کون سی چیز ہے کہ جن سے انسان کی طہارت ختم ہوجاتی ہے؟

جواب: انسان کی طہارت چند چیزوں سے ختم ہوجاتی ہے:

( ۱) وہ مادی امور کہ جو حو اس کے عمل انجام دینے کی بناپر واقع ہوتے ہیں، جیسے، نجاسات۔

( ۲) وہ معنوی امور کہ جن کو حو اس ادراک نہیں کرسکتے، اگر ان کے اسباب میں سے کوئی ایک سبب ( حدث)صادر ہوجائے جیسےغسل جنابت یا حیض یا نفاس، یا استحاضہ یا مس میت، یا نیند، یا پیشاب کا نکلنا، یا پاخانہ، تاریخ کا خارج ہونا، ان سے وضویا غسل یا ان دونوں کا بدل، تیمم ٹوٹ جاتاہے۔

اور بحث کا پیکر ہم سے چاہتا ہے کہ نماز تک پہنچنے کے لیے ہم اپنی گفتگو کا آغاز نجاسات سے کریں پس پہلے آپ کو وہ (نجاسات) معلوم ہوجائیں پھر اس کے بعد جو ان کے مطہرات ہیں وہ معلوم ہوں تاکہ ہمارے جسم کی طہارت ہر اس چیز سے کہ جس سے جسم کی طہارت وپاکیزگی مخدوش ہوجاتی ہے محفوظ ہوجائے۔

پھر ہم گقتگو کریں گے اس حدث کے بارے میں کہ جس کے صادر ہونے سے وضو واجب ہوتا ہے یا تیمم چاہے وہ حدث پیشاب یا پاخانہ، یاریح یا نیند یا استحاضہ قلیلہ ہو یا ان کے علاوہ کوئی اور(حدث صادر) ہو۔

اور پھر حدث بمالو (حدث )کے اطراف وجوانب سے بحث کی جائے گی کہ اگر حدث صادر ہوجائے تو غسل کرنا واجب ہوگا یا اس کے بدلے تیمم واجب ہوگا،چاہے یہ حدث جنابت ہویا حیض یا استحاضہ یا نفاس یا مس میت ہو۔

ہر وہ چیز کہ جو نماز کے ذریعہ تقرب خدا کو روکتی ہے اور اس کے سامنے آتی ہے، اپنے راستہ سے اس کو رفع کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے سامنے آتی ہے، اپنے راستہ سے اس کو رفع کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے سامنے کھڑے ہونے کی لذت کے ساتھ تکبیر کہتے ہوئے،کلمہ پڑتھے ہوئے حمد کرتے ہوئے اور اس کی واحدانیت اور نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے شوق وشغف سے اس کاذکر اور اس سے دعا کرتے ہیں اس امید پر کہ وہ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ قراردے کہ جنہوں نے اس کی ملاقات کے شوق سے پودے اپنے سینوں کے چمن میں لگادیئے ہیں اور اس کی محبت کو اپنے دلوں میں پیوست کرلیا ہے۔

نماز کے بعد اپنی گفتگو میں ان چیزوں کو شامل کریں گے جو نماز کی طرح طہارت چاہتی ہیں مثلاً روزہ، حج وغیرہ۔

سوال: کیا ہم (اس کے بعد) پہلے نجاسات کو شروع کریں گے؟

جواب: ہاں ہم کل پہلے نجاسات کا ذکر کریں گے۔

نجاست پر گفتگو

میرے والدمحترم نے جب اس موضوع پر گفتگو کی تو ان کی آنکھوں میں عزم راسخ کی ایک جھلک نظر آرہی تھی۔

کہنے لگے کہ پہلے میں آپ کے سامنے ایک قاعدہ کلیہ بیان کرتاہوں، کہ جو تمہاری زندگی میں ایک خاص اثر رکھتا ہے۔اور وہ یہ ہے کل شئی طاہر پاک ہے۔ کل شئی ہر چیز یعنی دریا بارش درخت جنگل، راستے ،عمارتیں ، گھر سامان ، ہتھیار ، لباس اور آپ کے مسلمان بھائی وغیرہ وغیرہ ۔”کل شئی طاھرا الا ہر چیز پاک ہے مگر ۔

سوال: یہ مگر کیا ہے؟

جواب: مگروہ چیزیں جو طبیعتا، ذاتا اور فطرتا نجس ہوں۔

سوال: وہ کون سی چیزیں ہیں جو طبیعتاٌ وذاتا نجس ہیں؟

جواب: وہ ہیں دس چیزیں جن کی ترتیب درج ذیل ہے:

۱ ۔ ۲ ۔ انسان اور ہر اس جانور کا پیشاب وپاخانہ کہ جس کا گوشت کھانا حرام ہو،اور ہر وہ جانور جو خون جہندہ رکھتا ہو، جیسے بلی وخون ۔

سوال: خون جہندہ کیا ہے ؟

جواب: یہ ایک اصطلاح ہے آپ کو اس بحث میں اصطلاح سے باربار سابقہ پڑے گا، لہٰذا بہتر ہے کہ اس کی وضاحت کردی جائے۔

ہم جو کہتے ہیں کہ یہ حیوان خون جہندہ نہیں رکھتا یعنی ذبح کے وقت اس کا خون ست، آہستہ اور نیچے کی طرف بہتا ہے۔ کیونکہ اس میں رگ جہندہ کا وجود نہیں ہے جیسے مچھلی وغیرہ ۔

ہر اس حیوان کا مردار کہ جس کا خون اچھل کر نکلتا ہو اگرچہ اس کا گوشت حلال ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح اس کے وہ اجزا جو اس کی زندگی میں اس سے جدا ہوگئے ہوں ۔

سوال: مردار سے کیا مراد ہے؟

جواب: ہر وہ چیز جو اسلامی طریقہ کے بغیر ذبح کئے ہوئے مرجائے۔

مثلاً ایسا حیوان جو کسی بیماری کے سبب مرجائے، یا کسی حادثہ کی بناپر مر جائے یا ذبح تو کیا جائے مگر شرعی طریقہ سے نہ ہو، تو یہ سب مردار کہلاتے ہیں۔

سوال: اگر انسان مرجائے تو مگر کیا اس کا بدن نجس ہے ؟

جواب: ہاں اس کا بدن نجس ہے شہید اور جس کو زندگی ہی میں غسل دے دیا جائے، تاکہ اس کے اوپر حد کا اجراء ہو، یا اس سے قصاص لیا جائے ایسا بدن نجس نہیں ہے۔

سوال: کیا ان دونوں کے علاوہ انسان کا مردار نجس ہے؟

جواب: نہیں بلکہ مسلمان کی میت کو تین غسل دئیے جانے کے بعد وہ پاک ہے کہ جس کی شرح آنے والی گفتگو میں بیان کی جائے گی۔

۴ ۔منی

انسان اور ہر خون جہندہ رکھنے والے حیوان کی منی نجس ہے اگرچہ وہ حیوان حلال گوشت ہی کیوں نہ ہو۔

۵ ۔خون

انسان اور ہر خون جہندہ رکھنے والے حیوان کے جسم سے نکلنے والا خون نجس ہے اور اس حیوان کا خون پاک ہے جو خون جہندہ نہیں رکھتا، جیسے مچھلی کا خون ۔

۶ ۔کتا

خشکی میں رہنے والا کتا اس کے بدن کے تمام اجزاء چاہے زندہ ہوں یا مردہ ۔

۷ ۔سور

خشکی میں رہنے والا سور اس کے بدن کے تمام زندہ یا مردہ اجزاء نجس ہیں۔ وہ کتے اور سور جودریا میں رہتے ہیں۔یہ دونوں پاک ہیں۔

۸ ۔شراب

شراب(اور جو اس سے ملحق ہے) مثلاً فقاع وغیرہ نجس ہے۔

۹ ۔ کافر کافر زندہ ہویا مردہ نجس ہے عیسائی، یہودی اور مجوسی( آتش پرست)کے علاوہ۔

۱۰ ۔ نجاست کھانے والے حیوان کا پسینہ

یہی دس چیزیں ہیں جو ذاتاًاور طبیعتاً نجس ہیں۔ اور جو گیلی اور مرطوب چیز ان سے مس ہوتی ہے وہ نجس ہوجاتی ہے۔

سوال: اگر ان دونوں کے درمیان رطوبت ونمی نہ ہوتو؟

جواب: اگر رطوبت یا گیلاپن نہیں ہے تو پھرنجس نہیں ہوگی، اس لیے کہ سوکھے پن میں یا ہلکی سی ترواٹ میں نجاست میں کبھی منتقل نہیں ہوتی ۔

سوال: جن حیوانات کا گوشت حلال ہے جیسے، گائے، بھیڑ، مرغ، اور مختلف پرندے وغیرہ کیا یہ پاک ہیں یا نجس؟

جواب: پاک ہیں ۔

سوال: چمگادڑ کے فضلات (پیشاب وپاخانہ)؟

جواب: پاک ہیں۔

سوال: مردار کے بال، اون، ناخن، سینگ، ہڈیاں، دانت، چونچ اور پنچے وغیرہ پاک ہیں یا نجس؟

جواب: تمام پاک ہیں۔

سوال: ہم نے کھانے کے لیے گوشت خرایدا ہے۔لیکن اس پر خون ہے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: یہ خون پاک ہے اور ہر وہ خون جو ذبیحہ میں باقی رہ جائے شرعی طریقہ سے ذبح کرنے کے بعد ، تو یہ پاک ہے، نجس نہیں ہے۔

سوال: جنگلی اور گھریلو چوہوں کا فضلہ کیا حکم رکھتا ہے ؟

جواب: نجس ہے۔ ان چوہوں میں ایسی شریاں(رگ جہندہ) موجود ہے کہ ذبح کے وقت جس کا خون اچھل کر نکلتا ہے۔

میرے والد محترم میری طرف بغور دیکھتے ہوئے فرمانے لگے:

میں نے اس بحث کو ایک ایسے قاعدہ کلیہ کے ساتھ شروع کیا کہ جوآپ کی زندگی میں ایک بڑا اثر رکھتا ہے اب میں کچھ دوسرے کلیات وقواعد کے ساتھ اس بحث کو ختم کرتا ہوں کہ جو زندگی میں بڑے موثرثابت ہوں گے ۔

پہلاقاعدہ

کل شئی کان طاهرا فیما مضی ثم تشک

سوال: ہر وہ چیز کہ جو پہلے پاک تھی لیکن پھر مشکوک ہوجائے کیا وہ نجس ہے یا اپنی سابقہ طہارت پر باقی ہے؟

جواب: وہ پاک ہے۔

والد محترم ۔ذرامثال دے کرواضح کریں؟

مثال کے طور پر آپ کے سونے کا بستر پہلے پاک تھا، اب شک ہوگیا کہ کیا یہ کسی نجاست سے نجس ہوگیا یا اپنی پہلی والی طہارت پر باقی ہے؟توکہاجائے گا تمہارا سونے کا بسترپاک ہے۔

دوسرا قاعدہ

کل شئی کان نجسا فیما مضی ثم تشک

سوال: ہر وہ چیز جو پہلے نجس تھی پھر مشکوک ہوگئی، کیا وہ اس کے بعد طاہر ہے یا اپنی پہلی والی نجاست پر باقی ہے۔کیا وہ نجس ہے؟

جواب: آپ کا ہاتھ نجس ہوا اس سے پہلے آپ کو یقین تھا کہ ہاتھ نجس ہے اور اس کے بعد آپ نے شک کیا کہ آیا یہ پچھلی نجاست سے پاک ہوا یا پاک نہیں ہوا تو آپ کہیں کہ میرا ہاتھ نجس ہے۔

تیسرا قاعدہ

کل شئی لا تعلم حالتهاالسابقه

سوال: ہر وہ شئے جس کے متعلق آپ اس کی پچھلی حالت کو نہیں جانتے کہ وہ نجس ہے یا پاک تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایک پیالہ میں ایک سیال چیز موجود ہے اس کی حالت سابقہ سے آپ جاہل ہیں آپ نہیں جانتے کہ وہ پہلے نجس تھی یا پاک تو کہا جائے گا۔

هذا السائل طاهر “ یہ سیال پاک ہے۔

چوتھا قاعدہ

”کل شیئی تشک اصابتہ نجاسۃ فتنجس بھااواخطاتۃ فلم تصبہ“

ہر وہ چیز جس کے متعلق شک کیا جائے کہ کیا نجاست اس تک پہنچی ہے یا خطا کرگئی ہے تو یہ پاک ہے‘ اس وقت آپ پر اس کے بارے میں تحقیق وتفتیش کرنا واجب نہیں ہے،تاکہ آپ کو اس کی طہارت کا یقین ہوجائے بلکہ کہا جائے گا”ھوطاھر“ وہ پاک ہے۔ تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں یہاں تک کہ اگر آپ کے لیے تحقیق کرنا آسان بھی ہو ،تب بھی تحقیق وجستجو کرنا لازم نہیں ہے۔

سوال: آپ ذرا مثال دے کر واضح کیجئے؟

جواب : آپ کا کپڑا پاک تھا اور آپ کو پہلے یقین تھا اب آپ کو شک ہوگیا کہ کیا پیشاب کی چھینٹ اس پر پڑی ہے یا نہیں یا اپنی گزشتہ طہارت پر باقی ہے؟ اب ایسے وقت میں آپ پر کپڑے کے بارے میں تحقیق کرنا واجب نہیں ، چاہے تحقیق وتفتیش کرنا آپ کے لیے آسان ہی کیوں نہ ہو، بلکہ ایسے وقت کہا جائے گا”ثوبی طاہر میرا کپڑا پاک ہے۔

طہارت پر گفتگو

قبل اس کے کہ میرے والد بزرگوار ہماری اس علمی وفقہی گفتگو کے جلسہ میں تشریف لاتے، میں ایک گہری سوچ میں ڈوبا ہواتھا اور ان معلومات کے بارے میں غور وفکر کررہاتھا کہ جو کل نجاست پر ہوئی تھیں ۔ اور اس بات کا منتظر تھا کہ آج کے جلسہ میں اشیاء کی پہلی طہارت اور ان کی پاکیزگی کس طرح واپس ہوگی۔؟ جب کہ نجاست ان کو لگی ہے‘جیسے ہی میرے والد تشریف لائے میں نے ان سے عرض کیا۔

سوال: آپ نے کل مجھ سے فرمایا تھا کہ جب پاک چیزیں نجاست سے ملتی ہیں تو ان کی طہارت ختم ہوجاتی ہے۔ آپ بتلائیے کہ ان کی طہارت دوبارہ کیسے ممکن ہے؟

جواب: نجس چیزوں کی طہارت پانی سے ممکن ہے، پانی کے ذریعہ نجس چیزوں کی کثافت وگندگی کو دور کیا جاتاہے۔لہٰذا ہماری آج کی گفتگو پانی سے شروع ہوگی۔

( ۱) ۔۔۔ پہلا مطہرپانی ہے۔

میرے والد نے مزید فرمایا:

پانی مطلق ہے اور مضاف ہے۔

سوال: مطلق پانی کون سا ہوتا ہے؟

جواب: مطلق( خالص) وہ پانی ہے جس کو انسان پیتے ہیں، اور حیوانات پیتے ہیں اور اس کے ذریعہ کھیتوں کو سینچاجاتاہے۔۔۔ سمندر کا پانی ’دریاؤں اور نہروں کا پانی ،کنوؤں، تالابوں اور بارشوں کا پانی۔۔۔ اور ان نلوں کا پانی جن کے پائیوں کو ہم پانی لانے کے لیے بڑے برے ٹینکوں سے جوڑکر شہروں اور دیہاتوں میں لاتے ہیں اگر پانی میں تھوڑی سی مٹی اور ریت بھی ملی ہو تو پھربھی وہ پانی مطلق یعنی خالص رہتا ہے، جیسے ندی اور نہروں کا پانی وغیرہ۔

سوال: مضاف پانی کسے کہتے ہیں؟

جواب: مضاف پانی بولتے وقت جب کسی دوسرے لفظ کا پانی کی طرف اضافہ کرتے ہیں تو آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے جیسے کہا جائے۔گلاب کا پانی انار کا پانی، انگور کا پانی، گاجر اور تربوز کا پانی اور دوسری چیزوں سے نچوڑا ہوا پانی اور جیسا کہ آپ نے مثالوں کو ملاحظہ فرمایا کہ یہاں ہماری مراد پانی نہیں ہے، جس سے ہم رفع حدث کرتے ہیں اور اس کو پیتے ہیں جب کہ اس انار یا انگور وغیرہ کے پانی سے ہم رفع حدث نہیں کرسکتے ہیں۔

پھر مطلق پانی کی دوقسمیں ہیں:

( ۱) محفوظ ( ۲) غیر محفوظ

سوال: محفوظ پانی سے آپ کی مراد کیا ہے؟

جواب: محفوظ پانی وہ ہے جو نجاسات کے گرنے سے اس وقت تک نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا رنگ، بویا مزہ بدلے۔۔۔ اور غیر محفوظ پانی وہ ہے کہ جو نجاست کے گرتے ہی نجس ہوجائے اگرچہ تینوں صفتوں (بو، رنگ یا مزہ) میں سے کوئی صفت بھی نہ بدلے ۔

سوال: ابا حضوریہ بتائیے پانی کون کون سے ہیں:

جواب محفوظ پانی کی چند اقسام ہیں جو بیان کی جاتی ہیں:

۱ ۔ کثیرپانی

کثیرپانی وہ ہے جو ایک کرکی مقدار کے برابر ہو یعنی جو ۳۶ بالشت مکعب مربع گڑھا ہو اور اس میں پانی بھرا ہو اس کو کرکہتے ہیں جیسے ان پائیوں کا پانی جو شہر کی بڑی بڑی ٹنکیوں سے ہمارے گھروں میں پہنچتا ہے یا وہ پانی جو موٹر وغیرہ سے کھینچاجاتاہے ان ٹینکوں کا پانی جو ہمارے گھروں کی چھتوں پر بنے ہوتے ہیں ۔جب کہ ان ٹنکیوں میں پانی پائپ کے ذریعہ آتارہے اور منقطع بھی نہ ہو ۔

۲ ۔کنویں کا پانی۔

۳ ۔جاری پانی ۔

جیسے نہروں ،ندیوں اور چشموں کا پانی وغیرہ

۴ ۔ بارش کا پانی

بارش جب کہ موسلادھار ہورہی ہو۔ یہ پانی محفوظ کہلاتے ہیں۔

سوال: غیر محفوظ پانی کو ن کون سے ہیں؟

جواب: وہ چھوٹے حوضوں، گڑھوں، یا برتنوں وغیرہ کا ٹھہرا ہوا پانی (کنویں کے علاوہ) کہ جس کی مقدار ایک کرسے کم ہو، اسے اصطلاح میں آپ قلیل کہتے ہیں یعنی کم پانی آپ پہلے جان چکے ہیں کہ یہ تمام پانی نجاست کے گرتے ہی نجس ہوجاتے ہیں۔

سوال: محترم والد صاحب یہ بتائیے کہ مضاف پانی کا کیا حکم ہے؟

جواب: مضاف پانی کا حکم قلیل پانی کے حکم میں ہے یعنی نجاست کے گرتے ہی وہ نجس ہوجاتاہے۔ چاہے مقدار میں وہ زیادہ ہو یا کم جیسے چائے کہ یہ دوسرے،مضاف پانی کی طرح ہے جیسے دوھ تیل دواؤں کا محلول وغیرہ یہ نجاست کے گرتے ہی نجس ہوجاتے ہیں۔

پھر والد صاحب نے یہ کہتے ہوئے اضافہ فرمایا:

ہر قلیل پانی جب وہ کثیر پانی سے متصل ہوجائےگا تو وہ کثیر ہوجائے گا اور اسی کے ساتھ محفوظ ہوجائے گا جب تک کہ کثیر سے جدانہ ہو، پس چھوٹی ٹنکیوں کا پانی آرہا ہوتو وہ کثیر کے حکم میں ہے،اور وہ دیگ کہ جو غسل خانہ میں رکھی ہو اور اس میں نلوں سے پانی آرہا ہو کثیر کے حکم میں ہے یہ تمام پانی اس وقت تک کثیر ہیں جب تک کہ کرسے متصل ہوں۔

سوال: خوب : اگر ٹنکی کے رکے ہوئے پانی میں خون کے چند قطرات گرجائیں اور ٹنکی کا پانی کر۔۔۔ بھرا ہوا ہوتو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: پانی نجس نہیں ہوگا۔ ہاں اگر کرپانی کارنگ خون کی وجہ سے بدل جائے تو پھر نجس ہوجائے گا۔

سوال: اگر چھوٹے برتن میں گرجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: برتن نجس ہوجائے گا۔

سوال: اگر ہم جاری پانی کو اس پر کھول دیں اور پانی اپنی صفات کی طرف پلٹ جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔؟

جواب: برتن کا پانی پاک ہوجائے گا، لیکن اگر جاری پانی کوبند کردیا جائے اور دوسری مرتبہ اس کار نگ بدل جائے تو پھر وہ نجس ہوجائے گا جیسا کہ عنقریب آپ کو بتلایا جائے گا کہ برتن نجس ہوجائے تو جب تک اس کو تین مرتبہ نہ دھویا جائے پاک نہیں ہوگا۔

سوال: اگر لوٹے کا پانی کسی نجاست پر پڑے تو کیا لوٹے کا پانی نجس ہوجائے گا۔؟

جواب: ہرگز نہیں، اس لیے کہ نجاست اس پانی کو طول میں اثر نہیں کرتی ہے، جو لوٹے سے گررہا ہے پس نہ طول میں پانی نجس ہوتا ہے اور نہ لوٹے کا پانی نجس ہوتا ہے۔

سوال: بارش کا پانی کس طرح نجس چیزوں کو پاک کرتاہے؟

جواب: جب بارش ان پر قطرے قطرے گرے، چاہے زمین نجس ہو یا کپڑا اور فرش نجس ہو، ان چیزوں میں بارش جذب ہو جانے کے بعد ۔یا برتن نجس ہو یا اسکے مشابہ کوئی بھی چیز ہو، بشرطیکہ بارش کا ان پر برسنا عرف عام میں صادق آئے، نہ کہ بارش کے چند قطرے ان پر گرجائیں تو ایسی صورت میں ان پر برسنا صادق نہیں آئے گا۔

سوال: جن چیزوں پر فقط ایک مرتبہ بارش برسے تو کیا وہ چیزیں پاک ہوجائیں گی؟

جواب: ہاں پاک ہوجائیں گی البتہ پیشاب سے نجس ہونے والے بدن اور کپڑے کو دودفعہ دھونا شرط ہے۔

سوال : کیا بارش سے نجس پانی بھی پا ک ہو جانا ہے؟

جواب: ہاں جب وہ بارش کے پاک پانی میں مل جائے۔

سوال: نجس اشیاء کو قلیل ہو یا کثیر پانی سے کیسے پاک کیا جاتاہے؟

جواب: ہم ہر نجس چیز کو پاک کرتے ہیں، تو پانی سے ایک مرتبہ دھوتے ہیں چاہے وہ پانی قلیل ہو یا کثیر، لیکن قلیل پانی سے دھونے میں ضروری ہے کہ نجس چیز سے پاک کرنے والا پانی جدا ہوجائے یعنی اس کو نچوڑدیا جائے۔

سوال: کیا اس طریقہ سے تمام نجس اشیاء پاک ہوجاتی ہیں ؟

جواب: ہاں سوائے چند چیزوں کے جو بیان کی جائیں گی۔

۱ ۔ وہ برتن جو شراب سے نجس ہوگئے ہیں جیسے گلاس اور کٹورے وغیررہ تو ان کو ہم تین مرتبہ دھوئیں گے۔

۲ ۔ وہ برتن کہ جس میں چوہا گر کرمرجائے یا سور اس کو چاٹ لے تو ہم اس کو سات مرتبہ دھوئیں گے ۔

۳ ۔ وہ چیزیں جو دودھ پینے والے ایسے بچے کے پیشاب سے نجس ہوگئی ہوں کہ جو ابھی غذا نہیں کھاتا، اور اسی طرح دووھ پیتی بچی کے پیشاب سے نجس ہوگئی ہوں تو ان پر اتنا پانی ڈال دیا جائے گا کہ جس سے وہ تر ہوجائے۔ اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر کپڑا وغیرہ نجس ہوجائے تو نچوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

( ۴) وہ برتن کہ جن کو کتا اپنی زبان سے چاٹ لے، اس میں سے کچھ کھا لے یاپی لے، تو پہلے مٹی سے اس کو مانجھا جائے گا، پھر دو مرتبہ پانی سے دھویا جائے گا اور اگر ان میں اس کا تھوک گرجائے یا وہ خودان سے مس ہوجائے تو پہلے اس کو مٹی سے مانجھے پھر پانی سے تین مرتبہ دھویا جائے گا۔

سوال: کتے کے ولوغ سے کیا مراد ہے؟

جواب: کتے کا اپنی زبان سے برتن کو چاٹنا۔

۵ ۔ وہ لباس جو پیشاب سے نجس ہوجاتے ہیں، ان کو جاری پانی میں ایک مرتبہ دھویا جائے گا، یا ان کو کرپانی میں یا قلیل پانی میں دومرتبہ دھویا جائے گا اور درمیان میں نچوڑا جائے گا لیکن جو لباس پیشاب کے علاو ہ کسی اور چیز سے نجس ہوتے ہیں ان کو قلیل پانی میں ایک مرتبہ دھوکر نچوڑا جائے گا یا کثیر پانی میں بغیر نچوڑے ایک مرتبہ دھویا جائے گا۔

۶ ۔ وہ بدن جو پیشاب سے نجس ہوجائے ، اس کو اسی طرح پاک کیا جائے گا۔

جیسا کہ نجس لباس میں بتایا گیا ہے، اور اگر اس کو قلیل پانی سے دھویا جائے تو ضروری ہے کہ اس سے جدا ہونے والا پانی عمومی طور پر تمام انداز میں جدا ہوجائے۔

۷ ۔ اگر برتن کا اندرونی حصہ شراب کے علاوہ کسی اور چیز سے نجس ہوجائے یا کتا اس میں سے کچھ کھاپی لے، یا چاٹ لے، یا اپنا تھوک (یعنی منہ کا پانی)اس میں ڈال دے، یا اپنے بدن کا کوئی حصہ اس سے مس کر دے، یا چوہا اس میں گرکر مرجائے، یا سور اس میں سے کچھ کھاپی لے پس ہم اس کو قلیل پانی سے تین مرتبہ پاک کریں گے، یا کثیر پانی یا جاری پانی یا بارش کے پانی سے بھی تین مرتبہ پاک کریں گے،

سوال: اگر برتن کا ظاہری حصہ نجس ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: تو اسے قلیل پانی سے ایک مرتبہ دھویا جائے۔

سوال: اگر میرا ہاتھ نجس ہوجائے اور میرے پاس قلیل پانی ہو تو میں اپنے ہاتھ کو کس طرح پاک کروں؟

جواب: اگر آپ کا ہاتھ پیشاب سے نجس نہیں ہوا، تو اس پر ایک مرتبہ پانی اس طرح ڈالو کہ وہ پانی ہاتھ سے جدا ہوجائے تو آپ کا ہاتھ پاک ہوجائے گا۔

( ۲)( دوسرا مطہر) سورج

سوال: بتائیے سورج کس کس چیزکو پاک کرتاہے؟

جواب: زمین کو پاک کرتا ہے اور جو اس پر گھر اور چاردیواری بنی ہوتی ہیں اور اسی سے ملحق بورئیے اور چٹائیاں وغیرہ ان میں جوتا گے ہیں وہ اس حکم میں نہیں ہیں دروازے، لکڑیاں، میخیں، درخت اور اس کے پتے، گھاس، پھل (پکنے سے پہلے) اوران کے علاوہ جو بھی زمین میں لگے ہوئے ہیں اسی حکم سے ملحق ہیں۔

سوال: سورج کس طرح زمین اور گھر کو پاک کرتاہے۔؟

جواب: سورج ان پر اس طرح چمکے کہ اس کہ اس کی شعاعوں سے وہ خشک ہوجائیں اور اس کے ساتھ زمین ومکان کی عین نجاست بھی زائل ہوجائے۔

سوال: اگر زمین خشک ہو اور ہم اس کو سورج سے پاک کرنا چاہیں تو کس طرح پاک کریں گے؟

جواب: ہم اس پر پانی ڈال دیں گے، اور اس کے بعد سورج کی شعائیں اس کو خشک کردیں گی، تو وہ پاک ہوجائے گی۔

سوال: جب زمین پیشاب سے نجس ہوجائے اور سورج اس پر چمک کراس کو خشک کردے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: زمین پاک ہوجائے گی بشرطیکہ اس پر پیشاب کا رنگ باقی نہ رہے۔

سوال: کنکری۔ خاک ۔ کیچڑ اور پتھر وغیرہ جو زمین کے جزو شمار ہوتے ہیں،اگر پیشاب سے نجس ہوجائیں اور سورج ان کو خشک کردے پھر اس کا کیاحکم ہے؟

جواب: اگر اس طرح ہے تو پاک ہوجائیں گے۔

سوال: وہ بانس جو زمین اورگھروں میں گڑے ہوتے ہیں اگر وہ نجس ہوجائیںتو ان کا کیا حکم ہے؟

جواب: ان کا حکم زمین والا حکم نہیں ہے، پس سورج ان کو پاک نہیں کرے گا۔

( ۳) تیسرا مطہر

انسان کے جسم کے اندرونی حصہ سے اور حیوان کے جسم سےعین نجاست کا زائل ہوجانا۔

سوال: محترم ابا جان، اس بارے میں ذرا مجھے مشال دے کر سمجھائیے۔

جواب: منہ کے اندر سے خون کا ختم ہوجانا، یا ناک کے اندر سے یا کان کے اندر سے عین نجاست کازائل ہوجانا پس خون کے رک جانے کے بعد منہ، ناک کان اور آنکھ وغیرہ پاک ہوجاتی ہے، پانی سے پاک کرنے کی ضرورت نہیں ۔

حیوان کا جسم بھی پاک ہوجائے گا پس جیسے مرغی کی چونچ سے لگا ہوا خون ناپید ہوجائے تو اس کی چونچ پاک ہوجائے گی اور اسی طرح جیسے ہی بلی کے منہ سے خون صاف ہوجائے اس کامنہ پاک ہوجائےگا۔

سوال: اور اگر ٹیکے کی سوئی کو انسان یا کسی حیوان کے جسم میں داخل کیا جائے اور وہ جسم کے اندر خون سے بھرجائے تو کیا وہ نجس ہوجائے گی؟

جواب: ہرگز نہیں،جس سوئی کو جسم کے اندر سے نکالا جائے اور وہ خون کی نجاست سے لت پت نہ ہوتو نجس نہیں ہوگی کیونکہ جسم کے اندر نجاست سے ٹکرانا نجاست کو متحقق نہیں کرتا۔

( ۴) ( چوتھا مطہر) زمین

ہروہ چیز جس پر زمین کا اطلاق ہووہ مطہر (پاک کرنے والی) ہے جیسے پتھر، ریت، مٹی وغیرہ اور جو ایٹ یا سیمنٹ کا فرش ہو، یا تار کول وغیرہ یہ مطہرات میں نہیں ہیں اور زمین میں یہ شرط ہے کہ وہ خشک ہو اور پاک ہو۔

سوال: کس طرح سمجھا جائے کہ زمین پاک ہے؟

جواب: جب تک اس کے نجس ہونے کا علم نہ ہو وہ پاک ہے اور اس صورت میں وہ مطہر بھی ہے۔

سوال: زمین کن کن چیزوں کو پاک کرتی ہے؟

جواب: پاؤں کے تلوے، جوتے کے تلوے،، زمین پر چلنے یا اس پررگڑنے سے اس شرط کے ساتھ کہ چلنے یا رگڑنے کے سبب پاؤں یا جوتے کے تلوے سے نجاست زائل ہوجائے جب کہ یہ نجاست جوتے پاؤں کے تلوے میں نجس زمین سے لگی ہو یعنی زمین ہی سے ان پر نجاست لگی ہو، اگر اس کے علاوہ کسی اور چیزسے یہ دونوں نجس ہوئے ہوں تو پھر ایسی صورت میں زمین ان کو پاک نہیں کرے گی ۔

( ۵)( پانچواں مطہر) تبعیت

سوال: آپ تبیعت پر کوئی مشال بیان کیجئے؟

جواب: وہ کافر جو نجاست کے حکم میں ہے، یعنی نجس ہے، اگر وہ اسلام لے آئے تو وہ پاک ہوجائے گا اور اس کی تبعیت میں اس کا چھوٹا بچہ کہ جو اپنے باپ کی بناپر تبعاً نجس تھا پاک ہوجائے گا۔ اسی طرح کافر دادا، دادی، ماں اگر اسلام لے آئیں تو ان کی تبعیت میں ان کا وہ چھوٹا بچہ بھی پاک ہوجائے گاجو تبعاً ان کی نجاست کی بناپر نجس تھا یہ حکم اس وقت ہے جب یہ چھوٹا بچہ ان لوگوں کی کفالت میں ہوکہ جو اسلام لا رہے ہیں یہ حکم اس کافر کے لیے نہیں ہے کہ جو اسی کارشتہ دار ہو اور اسی طرح اگر شراب سرکہ ہوجائے اور اس کی تبعیت میں وہ برتن پاک ہوجائے گا جس میں شراب پڑی ہوئی تھی اور اگر میت کو تین غسل دے دیئے جائیں تو وہ پاک ہوجائے گی اور اس کی تبعیت میں غسل دینے والے کا ہاتھ اور وہ تختہ کہ جس پر اس کو غسل دیا گیا ہے اور وہ کپڑے کہ جس میں اس کو غسل دیا گیا ہے پاک ہوجائیںگے۔ اور نجس کپڑا جس کو قلیل پانی سے پاک کیا گیا ہے، پاک ہوجائے گا اور اس کی تبعیت میں دھونے والے کا ہاتھ بھی پاک ہوجائے۔

( ۶)( چھٹا مطہر) اسلام

سوال: اسلام کسی طرح پاک کرے گااور کس کو پاک کرے گا؟

جواب: اسلام نجس کافر کو پاک کردے گا، پس وہ پاک ہوجائے گا اور اس کی تبعیت میں اس کے بال، ناخن اور جسم کے اعضاء جو اس کے کفر کی بنا پر نجس تھے وہ بھی پاک ہوجائیں گے۔

( ۷)( ساتواں مطہر) بالغ مسلمان یا ممیز بچہ کا غائب ہونا۔

سوال: مسلمان کی غیبت سے کیا مراد ہے؟

جواب: وہ آپ سے جدا ہوجائے اور آپ اس کو نہ دیکھ سکیں ۔

سوال: اور جب وہ غائب ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: جب وہ غائب ہوجائے تو وہ پاک ہے اور اسکے ساتھ اس کی چیزیں اور اس کا ضروری سامان جیسے کپڑے، فرش، برتن، وغیرہ جن کی طہارت کااحتمال ہو وہ پاک ہیں۔

سوال: ابا جان وضاحت کے لیے مثال دیجئے؟

جواب: مثلاًآپ کے بھائی کا کپڑا نجس تھا اور وہ اس کو جانتا تھا یا وہ نہیں جانتا تھا مگر آپ جانتے تھے کہ اس کاکپڑا نجس ہے، چاہے وہ احکام شرعیہ کا پابند تھایا پابند نہ تھا پھر آپ کا بھائی غائب ہوگیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ واپس آگیا اب آپ کو اس کے کپڑے کے پاک ہونے کا احتمال ہے تو کہا جائے گا کہ اس کا کپڑا پاک ہے۔

( ۸)( اٹھواں مطہر) انتقال

انسان کا خون جب مچھر، پسو اور جوں وغیرہ کی غذا ہوجائے، یہ ایسے حشرات میں سے ہیں جن کا عرف عام میں کوئی خو ن و غیرہ شمار نہیں کیا جاتا۔جب یہ حیوان خون کو پیتا ہے تو اس کے پیٹ میں چلاجاتاہے، پھر آپ نے اس کو مار دیا پس اس کا خون آپ کے کپڑوں یا آپ کے جسم کو رنگین کردیتا ہے، وہ خون طاہر ہے۔

( ۹)( نواں مطہر) استحالہ

سوال: استحالہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: کسی چیز کا کسی دوسری چیز میں بدل جانے کانام استحالہ ہے فقط اس کے نام یا صفت میں تبدیلی نہ ہو یا فقط اس کے اجزاء متفرق نہ ہوں بلکہ کامل طریقہ سے وہ وہ کسی دوسری چیز میں تبدیل ہوجائے اور اب اس پر دوسری چیز کانام صادق آئے تو اس استحالہ کہتے ہیں۔

سوال: مہربانی کر کے اس کی مثال بیان کریں؟

جواب: نجس لکڑی مثلاً جب جل جائے اور راکھ ہوجائے تو اب یہ رکھ پاک ہے اور اسی طرح حیوان کے فضلات جب آگ میں جلانے کے لیے استعمال کئے جائیں اور چولہے میں راکھ ہوجائیں تو اب یہ راکھ پاک ہے اور اس طرح بہت سی مثالیں ہیں۔

( ۱۰) دسواں مطہر

جو حیوان شرعی طریقہ سے ذبح کیا جائے اور اس کا خون طبعی مقدار کے مطابق نکل جائے، اب جو خون اس کے اندر باقی رہ گیا ہے اس پر ہم طہارت کا حکم لگائیں گے۔

( ۱۱)( گیارہواں مطہر) انقلاب

شراب کا سرکہ میں بدل جانا،سرکہ جب تک اپنی خلقت کے درمیان شراب تھا تو اس وقت تک نجس تھا لیکن جیسے ہی شراب سرکہ میں بدل گئی وہ پاک ہوگئی۔

( ۱۲)( بارہواں مطہر) نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء۔

حلال گوشت حیوان کو انسان کے فضلہ کھانے کی عادت ہوجائے تو اس کاگوشت کھانا اور اس کا دودھ پینا حرام ہوجائے گا اور اسی طرح اس کا پیشاب،فضلہ، پسینہ اور اس کا جسم نجس ہوجائے گا۔

سوال: پس نجاست خوار حیوان کا استبرا کس طرح کیا جائے گا؟

جواب: اس کو نجاست کھانے سے اتنی مدت تک روکا جائے کہ پھر نجاست خور حیوان نہ کہا جائے بلکہ اس کو حیوان کہنا صحیح ہو۔

سوال: بتائیے ؟ اس وقت اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب: استبراء کے بعد اس کا گوشت، دودھ اور جو چیزیں اوپر بیان ہوئی ہیں یہ سب پاک سمجھی جائیں گی۔

جنابت پر گفتگو

میرے والد محترم آج کے اس جلسہ میں خلاف معمول جلدتشریف لائے، اور جب میں آیا تو میرے والد میری طر ف ذرا بھی متوجہ نہ ہوئے ، وہ خاموش اپنے سر کو زمین کی طرف جھکائے اپنی آنکھوں کو اپنے دل کی طرف موڑے ہوئے محو تھے، ان کی حالت سے ظاہر تھاکہ ان کے حواس کمرہ سے باہر کچھ سوالات کو سلجھانے اور کسی بچہ کے دل کو تسلی دینے میں مشغول ہیں۔

اور ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ان کی آنکھیں بہترین رہنمائی کرنے والی دور اندیشی کے ساتھ لوٹیں، اور مجھ پر انہوں نے ان کو جماتے ہوئے فرمایا:

میں نے آپ کو نجاست کی بحث میں نجاسات کے بارے میں بتایا تھا کہ یہ ہمارے جسم اور تمام چیزوں کو اس پہلی طہارت کو ختم کردیتی ہیں، کہ جن پروہ تھے۔

پھر طہارت کی گفتگو میں بتایا تھا کہ مطہرات وہ ہیں کہ جو ہمارے اور دوسری اشیاء کے اجسام کی طہارت کو دوبارہ پلٹا دیتے ہیں حقیقتاًکچھ ایسے امور معنوی ہیں جو محسوس نہیں ہوتے اگر وہ حادث ہوجائیں تو انسان کی طہارت ختم ہوجاتی ہے، اس کے بعد اس چیز کی ضرورت ہے کہ جس سے وہ گئی ہوئی طہارت وپاکیزگی واپس لوٹ آئے۔

ان حدث کی دواقسام ہیں۔

( ۱) حدث اکبر ( ۲) حدث اصغر

حدث اکبر

جیسے جنابت، حیض، نفاس، استحاضہ کثیرہ، مس میت اور میت ہے۔

حدث اصغر

جیسے ، پیشاب، پاخانہ، ریح، نیند، اور استحاضہ قلیلہ وغیرہ۔

حدث اکبر میں غسل یا اس کے بادے تیمم ہے اور حدث اصغر میں وضو یا اس کے بدلے تیمم ہے۔

آئندہ گفتگو میں ان امور پر جدا جدا بحث ہوگی آج بحث ہوگی۔آج بحث کا آغاز جنابت سے ہوگا۔

میں نے اپنے والد سے عرض کی :

آپ وضاحت فرمائیں کہ جنابت کس چیز سے ثابت ہوتی ہے؟

تو انہوں نے فرمایا:

دوچیزوں میں سے کسی ایک چیز سے ثابت ہوتی ہے۔

اول:

مادہ منویہ کے نکلنے سے، چاہے وہ جنسی فعل کے ذریعہ نکلے، یا احتلام کی بناپر یا کسی پوشیدہ عادت وغیرہ کی بناپر نکلے۔

سوال: مادہ منویہ کی صفات وعلامات کیا ہیں؟

جواب: غلیظ، چپک دار مادہ ہوتاہے، اس کی بو، خمیر کے گندھے آٹے کی بوکی طرح ہوتی ہے، سفید رنگ کبھی اس کا رنگ زردیا سرخی مائل ہوتا ہے،اکثر بلوغ کے بعد شہوت جنسیہ کی بناپر اچھل کر اور جسم میں سستی پیدا کرنے کے ساتھ نکلتاہے۔

سوال: اور جب شک پیدا ہوجائے کہ یہ چپک دار مادہ آیا مادہ منویہ ہے یا دوسرے مادوں میں سے کوئی مادہ ہے تو اس وقت اس کا کیا حکم ہے۔؟

جواب: میں آپ کو تین علامتیں بتاتاہوں، جب یہ تین علامتیں جمع ہوجائیں تو اس وقت وہ مادہ منویہ ہوگا وہ علامات یہ ہیں:

۱ ۔شہوت کے ساتھ نکلنا

۲ ۔اچھل کر نکلنا

۳ ۔ جسم کاست پڑجانا

مریض میں صرف شہوت کافی ہے۔

سوال: اگر ان صفات میں سے ایک یا دوصفات پائی گئیں تو؟

جواب: تو پھر کہا جائے گا کہ یہ مادہ منویہ نہیں ہے، سوائے مریض کے کہ جس طرح اوپر میں نے بتایا ہے؟

سوال: کیا مرد کی طرح عورت کی بھی منی ہوتی ہے؟

جواب: ہاں جو مادہ اس کے مہبل سے شہوت کے وقت نکلتا ہے تو وہ مرد کے مادہ منویہ کے حکم میں سے ہے، چاہے سونے کی حالت میں نکلے، یا بیداری کی حالت میں نکلے،

دوم:

جنسی ملاپ سے اگرچہ مادہ منویہ نہ نکلے، اورجنسی ملاپ میں عضوتناسل کا اسرا(حشفہ) عورت کی شرمگاہ میں داخل ہوجاناہی کافی ہے۔

سوال: جب مادہ منویہ خارج ہویا جنسی ملاپ متحقق ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: بڑے اور چھوٹے کے فرق کے بغیر فاعل ومفعول پر جنابت متحقق ہو جائے گی، اور عاقل ومجنون، زندہ ومردہ میں بھی کوئی فرق نہ ہوگا۔

سوال: اورجب جنابت متحقق ہوجائے تو؟

جواب: تو نماز کے لیے آپ پر غسل واجب ہے مثلاً،اور حج میں طواف کے لیے غسل واجب ہے، اس لیے کہ نماز اور طواف موقوف ہیں غسل کے صحیح ہونے پر اس کی تشریح آپ سے غسل کی بحث میں بیان کروںگا جو عنقریب آئے گی کہ غسل کس طرح کیا جاتاہے۔

جب تک آپ جنابت کی حالت میں ہوں تو چند چیزیں آپ پر حرام ہیں:

قرآن مجید کے حروف کو چھونا ۔

لفظ جلال (اللہ) کو چھونا اور اللہ کے پاک ناموں اور اس کی خاص صفات کو چھونا جیسے خالق وغیرہ۔

سورہ عزائم کی چاورں سوروں میں سے کسی بھی سورے کی آیت کو پڑھنا:

اقراء، والنجم ،والسجدة وفصلت

مساجد میں داخل ہونا، یا ان سے میں ٹھہرنا یا وہاں سے کسی چیز کا اٹھانا یا کسی چیز کا ان میں رکھنااگر چہ ان سے خارج ہوتے ہوئے یا ان میں سے گزرتے ہوئے کسی چیز کو رکھے یا اٹھائے اور مجنب کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک دروازہ سے داخل ہوکر دوسرے دروازے سے نکل جائے سوائے دومسجدوں کے ایک مسجد الحرام جومکہ میں ہے دوسری مسجد النبی ؐ جو مدینہ میں ہے اور اءمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں کو مسجدوں سے ملحق کیا گیا ہے۔

سوال: کیا مسجد کے صحن ورواق میں جب کہ وہ مسجد نہ ہوں داخل ہونا حرام ہے؟

جواب: ہرگز نہیں۔

سوال: اس سے پہلے کہ ہم جنابت کی بحث کو ختم کریں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں مگر شرم کررہا ہوں؟

جواب : جو بھی چاہو سوال کرو، کسی بھی قسم کی شرم نہ کرو، دین میں کوئی شرم نہیں ہے میں ہمیشہ کہتاہوں۔

سوال: اکثر جنسی تحریک کے بعد میں کبھی ایک چپک دار بالکل سفید دھبہ دیکھتا ہوں جو پیشاب کے مقام سے نکلتا ہے؟

جواب: ہاں یہ مادہ پاک ہے اس سے جسم اور لباس نجس نہیں ہوتا جب یہ مادہ نکلے، تو اس وقت تم پر غسل یا وضو کرنا واجب نہیں ہے۔

سوال: خود کاری کیسی ہے؟

جواب: خود کاری حرام ہے اس سے بچنا تم پر واجب ہے، امام صادق علیہ السلام سے بعض احادیث میں مروی ہے کہ وہ زناکی منزل میں ہے۔


حیض پر گفتگو

آج میرے والد محترم گفتگو کے کمرے میں آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، ان کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ تھی میں نے اندازہ لگایا کہ کوئی خلاف معلوم بات ہے چنانچہ وہ یہ کہتے ہوئے بیٹھے:

آج حیض کے سلسلہ میں تم سے گفتگو کروں گا۔

میں اس سے پہلے نہ جانتا تھا کہ حیض کیا ہے اگر میں نے اس سے پہلے اس لفظ کو سنا بھی تھا تو اس کے بارے میں کچھ جاننا فضول سمجھتا تھا کیونکہ میں نے اس لفظ کے متعلق کچھ عورتوں سے بہ حالت شرم سنا تھا گویا اس کلمہ میں ہی شرم محسوس ہوئی اور جیسے ہی مجھے معلوم ہوا کہ آج حیض کے بارے میں گفتگو ہے تو میں اتنا شرمسار ہوا کہ میری شعوری کیفیت بھی شرمندہ سی ہوگئی۔

میں نے اپنے دل میں کہاکیوں تو اتنا شرمندہ ہورہا ہے اور اس سوال کو بار بار دہرایا کہ کیوں تو شرمندہ ہورہاہے۔

میں نے غور کیا کہ آخر شرم کی کیا بات ہے اور کیوں؟ اگر حیض ایک ایسی چیز ہوتی کہ جس پر خجالت وشرم صحیح ہوتی تو پھر میرے والد اس بارے میں آج مجھ سے گفتگو کیوں کرتے؟ پھر کیا ایک ایسی شرم والی چیز پر مجھ سے گفتگو کیوں کرتے ؟ پھر کیا ایک ایسی شرم والی چیز پر مجھ سے گفتگو کرنا اچھی بات ہے کہ جس کے بارے میں کسی نے بھی بات نہ کی ۔

اور ایک دم مجھے یاد آیا کہ ہماری اس گفتگو کا موضوع احکام شرعیہ ہیں پس لازمی طور پر حیض کو بھی فقہ اسلامی کا ایک گفتگو کا موضوع ہونا چاہیے۔

اور جب ایسا ہوتو پھر خجالت کے کیا معنی ہیں ایسی چیز کے بارے میں جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہو اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث میں جس کا بیان ہو اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے احکام میں اس کو اپنے اصحاب سے بیان کیا ہو، پھر اس کے بعد شرمند گی یا خجالت کے کیا معنی ہیں؟ اس چیز کے بارے میں کہ جس کے احکام کا اس کے مطابق یاد کرنا واجب ہے، میں اس سوچ میں غرق تھا کہ میرے والد کی آواز نے مجھے یہ کہتے ہوئے چونکایا :

حیض کا سبب

خون حیض وہ خون ہے، جو عورتوں کو نوبرس کی عمر کے بعد پچاس ساٹھ سال کی عمر تک آسکتا ہے اور یہ عورتوں کو تقریباًہر مہینہ میں معینہ مدت میں اور آتاہے خون حیض اکثر سیاہ یا سرخ اور گرم ہوتا ہے جس میں سوزش ہوتی ہے اور اچھل کر نکلتا ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔

سوال: جن عورت کو حیض آتا ہے کیا ان کی عمر معین ہوتی ہیں؟

جواب: ہاں جب وہ قمری حساب سے نوسال پورے کرلیتی ہیں اور قمری حساب سے ساٹھ سال تک نہ پہنچیں کیونکہ یہ ساٹھ سال کی عمر میں یائسہ کہلاتی ہے۔

سوال: تو کیا حیض والی عورتیں ۹ اور ۶۰ سال کے درمیان ہوتی ہیں۔

جواب: ہاں، ہر وہ لڑکی جو نو سال سے پہلے خون دیکھے، چاہے ایک ہی لمحہ کے لیے کیوں نہ ہو، وہ خون حیض نہیں ہوتا اور ہر وہ خون جو عورتوں کو ۶۰ سال کے بعد آئے تو اس کو بھی خون حیض نہیں سمجھا جائے گا۔

سوال: اباجان یہ بتائیے، خون حیض کتنے دن تک جاری رہتا ہے؟

جواب: کم ازکم خون حیض تین دن کے درمیان میں دوراتیں، اور زیادہ سے زیادہ دس دن جاری رہتا ہے۔

سوال: اور اگر تین روزسے کم آئے یا درمیان میں منقطع ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: تو یہ خون حیض نہیں ہے۔

سوال: اور اگر دس روز سے زیادہ ہوجائے؟

جواب: جواب: حیض دس روزسے زیادہ نہیں ہوتا۔

سوال: اوراگر حیض کی مدت تمام ہوجائے اور عورت پاک ہوجائے، پھر سات روزبعد دوبارہ خون آجائے تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: یہ خون، خون حیض نہیں ہے کیونکہ دو حیضوں کے درمیان مدت کبھی دس روز سے کم نہیں ہو تی۔

سوال: عورت اپنے آپ کو حائض کب شمار کرے گی؟

جواب: جب خون اس کی عادت کے زمانہ میں آئے، یازمانہ عادت سے کچھ وقت پہلے آئے جیسے ایک روزیا دو روز پہلے خون آئے تو عورت اپنے آپ کو حائض سمجھے گی ۔

سوال: عورت صاحب عادت وقتیہ کس طرح ہوگی ؟

جواب: جب خون حیض دو مربتہ دو مہنیہ برابر کسی وقت معین میں آئے ، تو وہ عورت صاحب عادت وقتیہ ہوگی۔

جواب: جب عورت کی کوئی خاص مدت اور وقت نہ ہو، جیسے وہ لڑکی کہ جس کو پہلی مرتبہ خون آیا ہو، یا وہ مضطربہ کہ جس کی کوئی عادت معین نہ ہوتو وہ اپنے آپ کو کب سے حائض شمار کرے گی؟

جب خون میں حیض کی تمام صفات پائی جاتی ہوں، جیسے سرخی یا سیاہی، گرمی اور اس کی سوزش اور تیزی کے ساتھ اس کا نکلنا ۔

جب خون دیکھے تو اس کو اطمینان ہو کہ یہ خون تین دن یا زیادہ تک جاری رہے گا۔

سوال: مذکورہ بالا امور کی بناپر عورت نے اپنے کوحائض شمار کیا، اوراس نے نماز نہ پڑھی لیکن خون تین روزسے پہلے ہی بند ہوگیا اور وہ سمجھ گئی کہ یہ خون حیض نہیں ہے تو اب وہ کیا کرے گی؟

جواب: اس مدت میں جو نماز چھوٹی ہے اس کی قضا بجالائے۔

سوال: اگر خون دس روز سے کم یا دس روز سے زیادہ اس کی عادت کے دنوں سے تجاوز کرجائے تو اس کا وظیفہ شرعی کیا ہوگا؟

جواب: وہ اس مدت میں اپنے آپ کو حائض شمار کرے گی اگرچہ اس خون میں حیض کی کچھ صفات نہ بھی پائی جاتی ہوں ۔

سوال: اور جب خون دس دن سے زیادہ تجاوز کرجائے اور اس کے وقت اور عدددنوں معین ہوں تو؟

جواب: تو وہ صرف اپنی عادت کے مخصوص ایام میں اپنے آپ کو حائض شمار کرے گی عادت سے پہلے اور بعد کے ایام کا حساب حیض میں نہیں ہوگا۔

سوال: عادت والی عورت جب اپنی عادت کے ایام میں خون نہ دیکھے، اور اس کی عادت کے وقت کے بعد خون آئے اور وہ دس دن سے زیادہ ہوجائے، اور اس طرح خون میں کچھ حیض کی صفات پائی جائیں اور خون میں کچھ حیض کے صفات نہ پائی جاتی ہوں تو وہ ان دونوں میں سے کس کو حیض قراردے گی۔

جواب: جو ان میں پہلا خون ہے اس کو حیض قرار دے گی لیکن اس میں اپنی پچھلی عادت کی مدت کی رعایت کرے گی پس جن ایام میں حیض کی صفات وعلامات پائی جاتی ہیں وہ اگر عادت سے کم ہیں تو اپنی ان عادت کے دنوں کو ان ایام سے پورا کرے گی کہ جن دنوں میں اس کے خون میں حیض کی صفات نہ پائی جاتی تھیں اور اگر حیض کی صفات اس کی عادت کے دنوں سے زیادہ پائی جاتی ہوں تو پھروہ اپنی مخصوص عادت کے مطابق حیض قراردے گی۔

سوال: جب خون دس روز سے زیادہ تجاوز کرجائے اور وہ اصلاًصاحب عادت بھی نہ ہو جیسے :مبتدئہ۔مضطربہ اور متحیرہ وغیرہ تو ایسی صورت میں وہ کیسے خون حیض کو دوسرے خون سے تمیز کرے گی؟

جواب: مختلف علامات کی بناپر پس اگر حیض کی علامت والے خون کی مقدار تین روز اور دس روز کے درمیان پائی جاتی ہوتو اسی کو وہ حیض قرار دے گی اور اس کے علاوہ خون کو استحاضہ قرار دے گی اس استحاضہ کے بارے میں آئندہ ہونے والی گفتگو میں، میں آپ کو بتاؤں گا۔

سوال: اگر عورت خون حیض کے تمام ہوجانے میں شک کرے؟یعنی شک کرے کہ وہ پاک ہوگئی یا ابھی حیض باقی ہے تو ایسی صورت میں کیا کرےگی؟

جواب: اس پر تحقیق کرنا واجب ہے۔

سوال: وہ کس طرح تحقیق کرے گی؟

جواب: وہ تھوڑی سی روئی اپنی شرمگاہ میں داخل کرے، اور کچھ دیر صبر کرے، اس کے بعد نکالے، اگر وہ سفید نکلے تو وہ پاک ہوگئی، اب اس پر واجب ہے کہ غسل کرکے اپنی عبادت کو بجالائے مثلاًنماز، روزہ وغیرہ، اور اگر خون سے بھری ہوئی ہو یا رنگین نکلے، تو پھر وہ اپنے آپکو حائض شمار کرے۔

سوال: اور جب عورت کو معلوم ہوجائے کہ وہ حائض ہے؟تو اس کا وظیفہ کیا ہوگا؟اور کس چیز کو ترک کرنا اس کے لیے ضروری ہے؟

جواب: حیض کی حالت میں عورت کے لیے ذیل کے احکام ہیں:

( ۱) اس کے لیے نماز واجب اور نماز مستحب کا پڑھنا صحیح نہیں ہے

( ۲) حیض کے دنوں میں جو نمازیں چھوٹ گئی ہیں ان کی قضا نہیں ہے۔

( ۳) روزہ رکھنا درست نہیں ہے۔

( ۴) حیض کی حالت میں ماہ رمضان میں جو روزے چھوٹ گئے ہیں ان کی قضا کرے؟

(اور اسی طرح وقت معین میں نذر کیا ہوا روزہ کی قضا بجالائے۔“

( ۵) ایسی حالت میں حج کا طواف کرنا چاہے واجب ہویا مستحب صحیح نہیں ہے۔

( ۶) حیض کی حالت میں عورت کو طلاق دینا صحیح نہیں ہے، مگر چند جگہوں پر چھوٹ ہے۔

( ۷) خون کے دنوں میں اس سے مقاربت کرنا حرام ہے؟البتہ شرمگاہ کو پاک کرنے کے بعد ۔

( ۸) اس عورت پر ہر وہ چیز حرام ہے جو مجنب پر حرام ہے(جنابت کی بحث میں دیکھئے)

( ۹) جب حیض کا زمانہ ختم ہوجائے تو اس پر نماز کےلیے غسل کرنا واجب ہے۔

غسل کی آنے والی بحث میں، آپ کو بتاؤں گا کہ غسل کس طرح کرنا چاہیے۔

نفاس پر گفتگو

میرے والد صاحب نے فرمایا کہ بیٹا میں آج تم سے نفاس کے سلسلے میں گفتگو کروںگا۔

سوال: نفاس سے آپ کی کیا مراد ہے؟

جواب: جب عورت ولادت کے وقت یا ولاوت کے بعد، ولادت ہی کے سبب سے خون دیکھتی ہے، اس وقت ہم اس عورت کا نام نفساء رکھتے ہیں۔

سوال: نفاس کتنے دن رہتا ہے؟

جواب: زیادہ سے زیادہ دس روز۔

سوال: کم سے کم کتنا؟

جواب: کم کی کوئی مدت نہیں کبھی ایک منٹ بھی رہتا ہے اور کبھی اس سے بھی کم ۔

سوال: کیا عورتوں کےدرمیان نفاس مختلف ہوتا ہے؟

جواب: نفاس والی عورتوں تین قسمیں ہیں اور ان میں ہر ایک کا مخصوص حکم ہے وہ یہ ہے کہ جس کا خون دس دن سےزیادہ تجاوز نہیں کرتا۔

سوال: اس کا حکم کیا ہے۔؟

جواب: یہ تمام خون نفاس شمار کیا جائے گا۔

سوال: جس کا خون دس دن سے زیادہ تجاوز کرجائے اور وہ عورت حیض میں عادت عددیہ والی ہے مثلاًحیض میں اس کی عادت ہر مہینہ پانچ دن ہے۔

اس کا حکم کیا ہے؟

جواب: وہ اپنی عادت کی مدت کو نفاس قراردے گی، جیسا کہ ہم نے گذشتہ مثال میں پانچ دن بتائے ہیں وہ ان پانچ دنوں کو نفاس قرار دے گی۔

سوال: باقی دوسرے ایام کا کیا ہوگا۔؟

جواب: وہ باقی ایام استحاضہ قراردے گی۔

سوال: جس کے خون نکلنے کا زمانہ دس دن سے زیادہ ہو اور حیض میں اس کی کوئی عادت متعین نہ بھی ہو تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب: وہ دس دن کی مدت کو نفاس قراردے گی۔

سوال: جب کہ نفساء (نفاس والی عورت ) حیض میں صاحب عادت ہو اور اس کا خون اس کی عادت سے تجاوز کرگیا ہوا ور وہ ابھی نہیں جانتی کہ اس کا خون دس دن سے پہلے بند ہوا ہے یا دس دن کے بعد بھی) خون جاری رہا ہے تو ایسی صورت میں کیا کرے؟

جواب: وہ عبادت کو دس دن تک ترک کرسکتی ہے، پس اگر خون بند ہوگیا ہوتو یہ تمام کی تمام مدت نفاس کی شمار ہوگی اور اگر خون دس روز سے زیادہ تجاوزکرگیا ہو تو پھر وہ غسل کرے گی اور عمل مستحاضہ انجام دے گی ۔

سوال: اور اس کی عادت اور دس روز کے درمیان جو فاصلہ واقع ہوگیا ہے اور اس میں جو عبادت چھوٹ گئی تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس مدت کو وہ استحاضہ قراردے گی اور جو اس درمیان عبادت ترک ہوگئی ہے اس کی قضاء کرے گی ۔

سوال: اگر پہلے دن خون نکلے پھر بند ہوکر دوسری مرتبہ دسویں روز یا دس روزسے پہلے کسی بھی دن خون نکلے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: پہلے خون کا نکلنا اور پھر دوسری مرتبہ خون کا نکلنا یہ دونوں کے دونوں نفاس شمارہوںگے۔

سوال: ان دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: وہ ان ایام میں نفاس سے پاک ہونے کے بعد والے اعمال اور نفاس کی حالت میں جن کا ترک کرنا واجب ہے، ان دونوں کو جمع کرے۔

سوال: اگر خون بند ہوجائے اور پھر جاری ہو، پھربند ہوجائے اور پھرجاری ہو اور یہ سلسلہ جاری رہے، لیکن یہ سب دس روزسے زیادہ تجاوزنہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایام خون سب کے سب نفاس شمار ہوںگے اور جو پاکیزگی کے ایام ہیں تو وہ اس مدت میں اعمال طاہرہ اور تروک نفساء کو جمع کرے گی۔

سوال: جب نفاس ختم ہوجائے اس کے بعد پھروہ خون دیکھے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: نفاس کے بعد جب بھی وہ دس روز کے اندر اندر خون دیکھے، تو وہ استحاضہ ہے، چاہے اس میں حیض کے خون کی علامت پائی جاتی ہو یا نہ ہو، اور چاہے وہ عادت کے دن ہوں یا نہ ہوں۔

سوال: نفساء پر کون سے احکام مرتب ہوتے ہیں؟

جواب: اس کے تمام احکام وہی ہیں ہیں جو حیض والی عورت کے ہیں،چاہے وہ احکام واجبات میں سے ہوں یا محرمات میں سے ، یا مکروہات میں سے ہوں(حتی سورہ عزائم میں سے آیت سجدہ کا پڑھنا مسجد الحرام ومسجد نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں داخل ہونا، اگر چہ گزرنے کی نیت سے ہی ہو، اور دوسری مساجد میں ٹھہرنا اور ان میں کوئی چیز رکھنا حرام ہے، حیض والی بحث میں ملاحظہ کریں۔)

استحاضہ پر گفتگو

آج میرے والدبزرگورارتشریف لائے اپنی مخصوص جگہ پر اور انہوں نے گفتگو کے شروع میں استحاضہ کا نام لیا ۔

جیسے ہی استحاضہ کا لفظ میرے سامنے آیا، فوراً میرے ذہن میں یہ بات آئی،کہ استحاضئہ کا لفظ بھی) حیض کا طرح ہے یا اسی محورکا ہے اور جیسے ہی یہ بات میرے ذہن میں آئی ویسے ہی ایک بجلی سی میرے دماغ میں کوندی اور ایک عورت کی ہئیت تشکیل پائی گئی۔

سوال: قبلہ والد صاحب : کیا استحاضہ بھی عورتوں کی خصوصیات میں سے ہے؟

جواب: فرمانے لگے ہاں:

سوال: کیا یہ بھی خونی چیز ہے؟

جواب: فرمایا، ہاں، لیکن ،

سوال: لیکن کیا؟

جواب: لیکن نہ یہ حیض ، نہ نفاس، نہ زخم، نہ پھوڑا اور نہ ہی ازالہ بکارت کا خون ہے۔

سوال: میں نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو خون نہ حیض ہو، نہ نفاس ہو، نہ پھوڑے اور زخم کا ہو، نہ ازالہ بکارت کا ہوتو پھروہ خون استحاضہ ہے۔

جواب : فرمایاہاں،

سوال: میں نے کہا یہی چند خون ہیں ؟

جواب: فرمایا: ان میں بغض خون عورتوں کی جوانی اور خوبی کی علامت ہیں، کیا تم کو نہیں معلوم کہ جس وقت وہ بوڑھی ہوجاتی ہیں تو ان کا خون بند ہوجاتا ہے اور بچوں کی پیدائش بھی بند ہوجاتی ہے۔

سوال: میں نے کہا، زخم پھوڑے یا نفاس کے خون تو عادتا مشہور ہیں، لیکن کس طرح معلوم ہوکہ یہ خون استحاضہ ہے اور خون حیض نہیں ہے؟

فرمانے لگے کہ آپ کو خون حیض کی علامات معلوم ہیں؟

میں نے کہا ہاں وہ سرخ یا کالا، سوزش اور حرارت کے ساتھ نکلتا ہے۔

جواب: فرمایا کہ اکثر جو علامات خون استحاضہ کی ہیں، وہ خون حیض کی علامتوں کے بالکل خلاف ہیں پس خون استحاضہ اکثر پیلے رنگ کا پتلا اور سوزش وجلن کے بغیر نکلتا ہے۔

سوال: میں نے کہا اگر کوئی عورت خون دیکھے اور یہ اتفاق اس کی شادی کے روز ہوتووہ کس طرح تشخیص کرے گی کہ وہ خون اس کی ازالہ بکارت کا نہیں ہے بلکہ خون استحاضہ ہے ؟

جواب: فرمایا : خون بکارت روئی کے اطراف میں ہوتا ہے اور وہ مثل ہلال کے طوق دار ہوتا ہے، اس کے برخلاف خون استحاضہ سے روئی بھر جاتی ہے اور کبھی اتنا زیادہ ہوجاتاہے کہ خون روئی سے نکل کر پٹی تک پہنچ جاتاہے۔

سوال: ہاں اور کبھی روئی کو پورا لپیٹ میں نہیں لیتا پس خون استحاضہ کی تین قسمیں ہیں۔

استحاضہ کثیرہ وہ ہے کہ جو خون روئی سے نکل کر پٹی تک پہنچ جائے اور استحاضہ متوسطہ وہ ہے جو خون روئی میں نفوذ کرجائے، لیکن وہ وہیں ٹھہرجائے اور اس پٹی تک نہ پہنچے کہ جس کو عموماً عورتیں خون سے محفوظ رہنے کے لیے باندھ لیتی ہیں۔

استحاضہ قلیلہ وہ ہے کہ جو خون روئی کو رنگین کردے اور کم ہونے کی بناپر خون اس میں نہ پہنچے۔

ان سب کا حکم کیا ہے؟

جواب: استحاضہ کثیرہ میں واجب ہے کہ عورت تین غسل کرے، نماز صبح کے لیے، نمازظہر کے لیے، جب کہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھے اوراسی طرح نماز مغرب وعشاء کے لیے جب کہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھے ۔

سوال: اور اگر دونوں نمازوں کو الگ الگ پڑھے؟

جواب: تو پھر ہر نماز کے لیے غسل کرے۔

سوال: کیا تمام حالات میں اس کا یہی حکم ہے؟

جواب: نہیں، بلکہ یہ حکم اس وقت ہے جب خون بند نہ ہو، اور اگر خون اتنی دیر کے لیے بند ہوجائے کہ جس میں غسل کرکے ایک نماز یا زیادہ نمازیں دوسری مرتبہ خون آنے سے پہلے پہلے بجالائے، تو ایسی عورت کو چاہیے کہ جب بھی خون نکلے تو دوبارہ غسل کرے، پس اگر اس نے غسل کیا اور نماز ظہر پڑھ لی، پھر نماز عصر پڑھنے سے پہلے روئی پر خون دکھائی دیا یا نماز کے درمیان خون روئی پر ظاہر ہوا تو عورت پر نماز پڑھنے کے لئے غسل کرنا واجب ہے لیکن اگر دوخونوں کے درمیان اتنا وقت ہے کہ جس میں دو نماز یا کچھ نمازیں بجالا سکتی ہے تو دوبارہ غسل کے بغیر نماز پڑھ سکتی ہے ۔

سوال: یہ تو استحاضہ کثیرہ کا حکم تھا اور استحاضہ متوسطہ میں اس عورت پر واجب ہے کہ ہر نماز کے لیے وضوے کرے، اور ہر روز ایک مرتبہ وضو سے پہلے غسل کرے۔ہربانی کرکے مجھے مشال سے سمجھائیے؟

جواب: نماز صبح سے پہلے عورت کو معلوم ہوجائے کہ وہ مستحاضہ ہے، تو وہ اپنا امتحان کرلے، پس اگر وہ استحاضہ متوسطہ ہے تو غسل کرے، پھر نماز صبح کے واسطے وضو کرے، اور یہ غسل اس روز کی تمام نمازوں کے لیے کافی ہے، مگر ہر نماز کے لیے وضو کرے پس اگر دوسرے روز نکلے تو غسل کرے،پھر وضو کرے اور یہ حکم اس وقت تک رہے گا، جب تک یہ حالت باقی رہے گی نہ کم ہوگا نہ زیادہ استحاضہ قلیلہ میں عورت پر واجب ہے کہ وہ ہرنماز کے لیے خواہ واجب ہویا مستحب، وضو کرے۔

سوال: کیا استحاضہ ایک قسم سے دوسری قسم کی طرف تبدیل ہوجاتاہے؟

جواب: ہاں: کبھی قلیلہ کثیرہ میں بدل جاتاہے، اور کبھی کثیرہ قلیلہ میں اور اسی طرح متوسطہ کبھی قلیلہ میں اور کبھی کثیر ہ میں،اور کبھی یہ دونوں متوسطہ میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔

سوال: عورت کس طرح پہچانے گی کہ اس کا استحاضہ بدل گیا ہے۔؟

جواب: عورت پر ضروی ہے کہ وہ اپنی آزمائش نماز سے پہلے کرے ،تاکہ اس کو صحیح معلوم ہوجائے: پھر ا پنی آزمائش کے نتیجے کے مطابق عمل کرے۔پس جب اس پر ظاہر ہوجائے کہ وہ استحاضہ قلیلہ ہے تو وہ احکام استحاضہ قلیلہ پر عمل کرے گی اور اگر اس پر ظاہر ہوجائے کہ وہ استحاضہ متوسطہ ہے تو وہ اس کے احکام پر عمل کرے گی اس طرح اگر معلوم ہوجائے کہ استحاضہ کثیرہ ہے تو وہ اس پر عمل کرے گی۔

سوال: آپ بتائیں کہ خون سے بھری ہوئی روئی، کمربند اور پٹی کا کیا حکم ہے؟

جواب: بہتر ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے ان کو بدلے، اور ان کو پاک کرے، جب کہ وہ استحاضہ قلیلہ یا متوسطہ ہو لیکن اگر وہ استحاضہ کثیرہ ہوتو اس پر لازم ہے کہ وہ امکان بھر ان چیزوں کو انجام دئے اور اگر خون کا روکنا اس کو ضررنہ پہنچائے تو وہ غسل کرنے کے بعد سے لے کر نماز کے بعد تک اپنے خون کو نکلنے سے روکے مثلاًروئی وغیرہ شرمگاہ کے اندر رکھ لے تاکہ خون باہر نہ نکل سکے ۔

سوال: کیا اس عورت پر غسل وطہارت انجام دینے کے بعد نماز کا فوری بجالانا ضروری ہے؟

جواب: ہاں ،

سوال: استحاضہ کے احکام کون کون سے ہیں؟

جواب: (اول)۔استحاضہ پر واجب ہے کہ وہ خون بند ہوجانے کے بعد نماز کے لیے وضو کرے گی، اگر اس کا استحاضہ قلیلہ ہے یا متوسطہ ہے، اور اگر کثیرہ ہے تو پھر وہ غسل کرے گی۔

(دوئم) تینوں قسموں میں (قلیلہ، متوسطہ اور کثیرہ) اس پر طہارت سے پہلے قرآن کے حروف کا چھونا حرام ہے اور طہارت کے بعد سے پہلے اس کا چھونا جائز ہے۔

(سوئم )مستحاضہ کو حالت استحاضہ میں طلاق دینا صحیح ہے۔

(چہارم) چو چیزیں حالت حیض میں حرام ہیں وہ استحاضہ میں حرام نہیں ہیں، جیسے عورت سے مقاربت ،مساجد میں داخل ہونا اور ان میں ٹھہرنا اور ان میں کوئی چیز رکھنا اور آیات سجدہ کی تلاوت کرنا۔

(پنجم) استحاضہ قلیلہ اور متوسطہ میں عورت کا روزہ رکھنا صحیح ہے،ا گر چہ اس نے اپنے وضو یا غسل کو (جو نماز کے لیے اس پر واجب تھا)انجام نہ دیا ہو، لیکن استحاضہ کثیرہ میں فقہاء کرام میں سے کچھ فقہا ء اس کے قائل ہیں کہ اس کا روزہ اس وقت صحیح ہے کہ جب وہ گذشتہ رات میں جو غسل واجب تھا اور جو غسل دن میں واجب تھے بجالائے، لیکن اصح (قول کی بناپر) اس کے روزہ کی صحت ان غسلوں پر موقوف نہیں ہے۔

(ششم) مستحاضہ کثیرہ پر غسلوں کے ساتھ وضو کرنا واجب نہیں ہے، اور مستحاضہ متوسطہ پر غسل واجب کے بعد وضو کرنا بھی واجب ہے۔


موت پر گفتگو

جس وقت میرے والد محترم نے موت کے بار ے میں گفتگو کرنی شروع کی ، اس وقت میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوا، کہ میں اپنی اس پریشانی اور اضطرابی کیفیت کو آپ سے مخفی ومستورنہیں رکھ سکتا

حواس باختگی، سخت پریشانی اور بے قراری میرے والد کے چہرہ سے ظاہر ہورہی تھی جب کہ وہ موت کے سلسلہ میں مسلسل گفتگو کررہے تھے، ان کی آواز آہستہ آہستہ اور اس کے اتار چڑھاؤ میں جو شکستگی تھی وہ ان کی باطنی حالت کو آشکار کررہی تھی،اور اسی طرح میں آپ سے اپنی اس حالت کو نہیں چھپا سکتا، جب کہ میرے والد موت کا نام لیتے (ایسا نام کہ جو خوف دلانے والا مرعوب کرنے والا ہے)تو فوری طورپر میں اپنے اندر ایک غیر فطری خوف محسوس کرتا، اور جب ان کی باتوں کی طرف دھیان دیتا تو میرے چہرہ اور رخساورں کا رنگ بدل جاتا، جس کی بناپر میری پیشانی اور ناک کے اوپر گرم پسینے کی بوندیں نظر آتیں تھیں۔

اور جب میرے والد کی آواز ہلکی گلو گیرہوگئی کہ جس کو وہ چھپانہ سکے اور وہ برابر موت اور میت کی تفاصیل کو بیان کررہے تھے تو خوف ووحشت بڑھی جاتی تھی، یہاں تک کہ میں بے قرارہوجاتا۔

پھریہ حزن وملال اور بڑھ گیا اور جب میرا یہ حزن وملال ظاہر ہوگیا تو میرا دل تنگ ہوگیا اور جب میرے والد نے میرے چہرے اور آنکھوں پر غم واندوہ کو ملاحظہ کیا تو مجھ سے فرمانے لگے کہ:

سوال: کیا آپ خائف ہیں؟

جواب: کیسے خائف نہ ہوں!

سوال: آپ موت سے زیادہ ڈرتے ہیں یا میت سے؟

جواب: میں موت سے زیادہ میت سے ڈرتا تھا، لہٰذا میں نے کہا میت سے، ایسا خوف ورعب میرے اوپرطاری تھا کہ جس کا میں اعتراف کر رہاتھا، میں نے اپنی عمر میں کسی کو حالت احتضار میں یا مرتے ہوئے دیکھا نہ تھا بلکہ اس سے پہلے کوئی ایسا واقعہ سنا تک نہ تھا، میرے لیے مناسب تھا کہ میرے سامنے کوئی حالت احتضار میں ہوتا یا کوئی مرتا اس وقت یہ قصہ موت، میں سنتا تو بہتر تھا۔

ایک روز میں نے ایک جنازہ دیکھا جس کولوگ اٹھائے ہوئے لے جارہے تھا اس کو دیکھ کر میری حالت مغموم ومحزون اورپریشان ہوگئی ،یہاں تاکہ میں نے اپنی نظر اس جنازہ کی طرف سے موڑ لی، تاکہ ذہن کے سوچنے سمجھنے کا نظام منقطع نہ ہوجائے۔

ہاں میں میت سے ڈرتا ہوں میں نے دوبارہ دہرایا ۔

سوال: کیا آپ موت اور موت کے بعد ڈرنے سے زیادہ میت سے ڈرتے ہیں؟

میرے والد نے مزیدفرمایا کیا آپ اس کی موت سے ڈرتے ہیں جو کچھ دیر پہلے زندہ تھا آپ کی طرح کھاتاپیتا اور روتا، ہنستا، اپنے آپ کو پاک وصاف رکھتااور سوتا تھا ۔

پھرموت کی غشی کا اس پر حملہ ہوا، کہ جیسے ہر ذی روح پر اس کا حملہ ہوتا ہے آپ واقعیت کوکیوں نہیں لیتے، آپ کو میت سے زیادہ موت سے ڈرنا چاہیے، کیاآپ نے اپنے نفس سے سوال نہیں کیا کہ پچھلی امتیں اور ان کی نسلیں کہاں گئیں، آج ان کے ٹھکانے ان کی قبریں ہوگئیں اور ان کے اموال وراثت میں تقسیم ہوگئے، ان کے آثار باقی نہ رہے، وہ اپنے رونے والوں کے پاس نہیں آتے، اور جو ان کو بلاتاہے جواب نہیں دیتے۔

( كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ)

”کتنے باغات اور چشمے اور کھیتیاں اور اچھے اچھے مکان اور نعمتیں جن کا وہ لطف اٹھایا کرتے تھے، چھوڑگئے، ایساہی ہوا کرتا ہے اور ہم نے ان چیزوں کا وارث دوسرے لوگوں کو بنادیا“(سورہ دخان ۲۵ تا ۲۸) پھر جو آپ کو جانتا تھا وہ کہاں گیا اور کیوں گیا؟

جواب: آپ کے پچھلے آباء واجداد کہاں گئے ،فلاں ۔۔۔کہاں ۔۔۔فلاں ۔۔۔کہاں فلاں۔۔۔ کہاں؟وہ زمین کے اوپر سے زمین کے نیچے چلے گئے، وسعت سے تنگی میں، وطن سے غربت میں ، اور روشنی سے تاریکی میں چلے گئے۔

پھر میرے والد نے چند مصرعے پڑھے۔

”کلنا فی غفلة والموت یغدوویروح“

”ہم سب کے سب غفلت میں ہیں اور موت صبح وشام ہمارے پیچھے ہے“

نح علی نفسک یا مسکین ان کنت تنوح“

”اگر تم اپنے نفس پر نوحہ کرسکتے ہو تو نوحہ کرو“

لست بالباقی ولو عمرت ما عمر نوح

”تم باقی نہیں رہوگے اگرچہ عمر نوحؑ کو حاصل کرو“

اس کے بعد میرے والد کے لب پر مکمل خاموشی چھاگئی اور چند منٹ اسی میں گزر گئے ،جیسےکہ وہ اپنے ذہن میں کسی صورت کی ترتیب دے رہے ہوں ،یا کسی بکھری ہوئی شئے کو جمع کررہے ہوں، یہاں تک کہ ان کی آوارنے اس سکوت کو یہ کہتے ہوئے توڑا۔

اے اباالحسن علیہ السلام ! خدا آپ پر رحم کرے کہ آپ نے ا پنی موت سے کچھ دیر پہلے کتنا اچھا فرمایا تھا:

”کل تک میں تمارا ساتھی تھا، اور آج تمہارے لیے عبرت ہوں، اور کل میں تم سے جدا ہوجاؤں گا، میرا رخصت ہونا تمہارے لیے نصیحت ہے،میرا ورود مخفی ہے،میرے اطراف سکون ہے، پس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے فصیح وبلیغ گفتار سے اور سنی ہوئی بات سے زیادہ موعظہ ہوں“

اے آقا!ایک روز آپ نے فرمایا تھا:

واعلمواانه لیس لهذا الجلد الرقیق صبر علی النار (الخ)

”جان لوکہ یہ نازک جلد آگ کو برداشت نہیں کرسکتی،پس تم اپنے نفسوں پر رحم کرو،اس لیے کہ تم نے مصائب دنیا میں ان سے تجربہ حاصل کرلیا ہےیعنی جب یہ نفوس دنیا کے مصائب نہیں برداشت کرسکتے تو آخرت کے عذاب کو کس طرح برداشت کریں گے۔

کیا تم نے کسی محزون۔۔۔ کو دیکھا ہے جب وہ مصیبت زدہ ہو اور کسی گرے ہوئے کو جب کہ وہ زخمی ہو اور بخاروالے کو جب کہ اس کا بدن جل رہاہو، پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جو جہنم کے دوطبقوں کے درمیان ہوگا۔؟

تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب آگ کا مالک آگ پر غضبناک ہوتا ہے تو وہ اپنے غضب کی بناپر،اور جب بجھنے لگتی ہے تو وہ اپنے مالک کی مہیب دار آواز پر پھر بھڑک جاتی ہے۔

اب آپ کے لیے مناسب ہے کہ آپ موت اور موت کے بعد جو سختی ہے اس سے ڈریں۔

( یوم ترونها تذهل کل مرضعة عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملها وتری الناس سکاری وماهم بسکاری ولکن عذاب الله شدید )

”جس دن تم اس (قیامت ) کو دیکھو گے دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی کہ جسے دودھ پلایا کرتی تھی اور ہر حمل والی اپنا حمل گرادے گی اور تم لوگوں کونشے کی حالت میں دیکھوگے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوںگے بلکہ خداکا عذاب ہی سخت ہوگا“۔ (سورہ حج ۲)

پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے۔

( یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضر وما عملت من سوء تود لو ان بینها وبینه امدا بعیدا ویحذرکم الله نفسه والله رؤف بالعباد )

”اس روز ہر نفس اپنی نیکی اور بدی کو کہ جس کو وہ کرچکاہے،موجود پائے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ کاش خود اس کے اور اس دن کے مابین ایک مدت طویل حائل ہوتی، اور اللہ تعالی ٰتم کو اپنے سے ڈراتا ہے اور اللہ تمام بندوں پر مہربان ہے۔،،(آل عمران: ۳۰)

اور موت واحتضار صرف یاد دھانی کراتی ہے اس کی کہ جس کی طرف تم کو جانا ہے خائف اور مرعوب نہیں کرتی ۔

میرے والد بزرگوار موت کے بارے میں کہہ کرخاموش ہوگئے، اس وقت میں اپنی عبرت دلانے والی چیزوں کو مترتب کرنے اور ان میں نئے سرے سے غور وفکر کرنے میں نظر ثانی کررہاتھا یہاں تک کہ میرے اس غورو فکر کو میرے والد نے یہ تاکید کرتے ہوئے منقطع کیا :

جب تم کبھی کسی مسلمان کو احتضار کی حالت میں دیکھو تو اپنے ڈر کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کا چہرہ قبلہ رخ کردو۔

سوال: کس طرح اس کو قبلہ رخ کروں؟

جواب: اس کو چت لٹا کر اس کے پیروں کے تلوؤں کو قبلہ رخ کردوں؟

سوال: اس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس کے پیروں کوقبلہ کی طرف دراز کروں؟

جواب: ہاں اچھے طریقہ سے، چاہے یہ محتضر مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہویا بڑا، اور مستحب ہے کہ اسکو کلمہ”شھادتین“ کی تلقین کی جائے اور اسے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آئمہ علیہم السلام کا اقرار کرایا جائےاوراس کے نزدیک سورہ (الصافات) کی تلاوت کی جائے تاکہ اس پر نزع کا عالم آسان ہو ،اور محتضر کے پاس مجنب وحائض کارہنا مکروہ ہے، اور حالت نزع میں اس کو چھونا مکروہ ہے۔

سوال: اور جب وہ مرجائے تو؟

جواب: مستحب ہے کہ اس کی آنکھوں اور منہ کو بند کیا جائے اور اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کے دونوں پہلوؤں اور پیروں کو سیدھا کیا جائے،اس کو کسی کپڑے سے ڈھا نپ دیا جائے اور اس کے نزدیک قرآن کی تلاوت کی جائے،جہاں اس کی میت رکھی ہوءی ہے ،اگررات ہے تو چراغ جلا یا جائے، اس کی موت کی مومنین کو خبردی جائے، تاکہ وہ اس کے جنازے میں شرکت کریں،اس کے دفن میں جلدی کی جائے، مگریہ کہ اس کی موت مشتبہ ہویا اس میں کسی قسم کا شک ہوتو جلدی نہ کی جائے۔

سوال: اگر اس کی موت مشتبہ ہوتو؟

جواب: اس صورت میں تاخیر کرنا واجب ہے یہاں تک کہ اس کی موت کا یقین ہوجائے، جب تم کو یقین ہوجائے تو پھر اس کو غسل دینا واجب ہے، چاہے مرد ہویا عورت ،بڑا ہو یا چھوٹا۔

سوال: اور اگر جنین ساقط ہوجائے تو؟

جواب: جنین ساقط ہوجائے تو اگر تو وہ چار مہینے تمام کرچکا ہے(بلکہ اگرچار ماہ تمام نہ بھی کئے ہوں اور خلقت کامل ہوچکی ہو) لیکن اس پر نماز کا پڑھنا نہ واجب ہے اور نہ ہی مستحب ہے۔

سوال: بتائیے میت کو غسل کون دے گا؟

جواب: مرد کومرد غسل دے، اور عورت کو عورت غسل دے مگریہ کہ میاں اور بیوی کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں، اسی طرح وہ بچہ جو سن تمیز کو پہنچ گیا ہے(چاہے لڑکا ہویالڑکی)ان کو بھی مرد یا عور ت کوئی بھی غسل دے سکتا ہے اسی طرح محرم اور اس کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ اپنے غیر ہم جنس محرم کو غسل دے سکتا ہے، جب کہ ہم جنس نہ پایا جاتاہو۔

سوال: میت کو غسل کتنے اور کس طرح دیئے جائیں گے؟

جواب: تین غسل دیئے جائیں گے۔

اول بیری کے پانی سے ۔

دوم کافورکے پانی سے ۔

سوم خالص پانی سے

اس بنا پر غسل ترتیبی دے، اس طرح کہ پہلے سراور گردن دھوئے، پھر جسم کا داہنا حصہ، پھر جسم کابایاں حصہ دھوے۔

اور غسل میں جو پانی استعمال ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ پاک ہو،نجس نہ ہو، مباح ہو، غصبی نہ ہو، مطلق ہو، مضاف نہ ہو اور بیری اور کافور بھی مباح ہوں۔

سوال: کیا میت کا لباس اثنائے غسل اتارا جائے گایا نہیں ؟

جواب: لباس پر غسل دےسکتے ہیں مگر افضلیت اسی میں ہے کہ کپڑوں کو اتار لیا جائے۔

سوال: اور پانی مطلق کس طرح رہ سکتا ہے جب کہ کافور اور بیری کا ملانا اس میں واجب ہے۔؟

جواب: بیری اور کافور کو اس قدر ملائے کہ پانی مضاف نہ ہو۔

سوال: اگر میت کا جسم اثنائے غسل باہر کی نجاست سے یا خود میت کی نجاست سے نجس ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: بدن کا جو حصہ نجس ہوا ہے اس کا پاک کرنا واجب ہے اور غسل کا دوبارہ دینا واجب نہیں ہے۔

سوال: میت کو غسل کے بعد کیا کیا جائے؟

جواب: اس کو حنوط کرنا اور کفن دینا واجب ہے۔

سوال: یہ حنوط کیا ہے؟

جواب: میت کے سجدے والے ساتوں اعضاء پر پساہواتازہ خوشبودار کافور ملنا ضروری ہے ۔وہ کافور مباح ہو، غصبی نہ ہو، پاک ہو، نجس نہ ہو، اگرچہ وہ کافور میت کے بدن کو نجس کرنے کا سبب بھی نہ بنے اور بہتر ہے کہ پیشانی سے ملناشروع کیا جائے اور ہاتھ کی ہتھیلی پر ختم کیا جائے۔

سوال: اوربقیہ دوسرے سجدے کی جگہوں کا کیا حکم ہے؟

جواب: دوسری جگہوں میں ترتیب شرط نہیں ہے۔

سوال: بتائیے میت کو کفن کس طرح دیا جائے؟

جواب: میت کو تین پارچوں میں کفن دینا واجب ہے۔

( ۱) لنگی،واجب ہے کہ وہ ناف اور گھٹنوں کے درمیان کے حصہ کو چھپالے۔

( ۲) قمیض،واجب ہے کہ وہ قمیض کاندھوں کے اوپر سے آدھی پنڈلیوں تک پہنچے۔

( ۳) چادر،واجب ہے کہ چادر تمام بدن کو چھپالے،لمبائی میں اس کی مقدار اتنی ہوکہ دونوں طرف سے اسے گرہ لگانی ممکن ہو۔

سوال: چوڑائی میں کتنی ہونی چاہئے؟

جواب: اس کی چوڑائی اتنی ہو کہ اس کا ایک کنارہ دوسرے کنارہ پر پہنچ جائے۔

سوال: کیا اس کفن کے لیے اوربھی کچھ شرائط ہیں؟

جواب: ہاں! شرط ہے کہ یہ تمام کفن میت کا بدن چھپالے اور وہ غصبی نہ ہو، اور خالص ریشم کا نہ ہو اور نہ سونے کے تاورں سے بنا ہوا ہو، اور نہ اس حیوان کے اجزاء کا بنا ہو جس کا گوشت نہ کھایا جاتاہو، اور نہ وہ کفن نجس ہو، مگر مجبوری کے عالم میں کوئی حرج نہیں، پس ان مذکورہ بالا چیزوںسے مجبوری کی حالت کفن دینا جائز ہے فقط شرط یہ ہے کہ غصبی نہ ہو۔

سوال: اگر ان تین کپڑوں کاملنا مشکل ہوتو؟

جواب: جتنا ممکن ہوسکے اتنا دے۔

سوال: میت کو غسل ، کفن اور حنوط دینے کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اس کے بعد میت پر نماز کا پڑھنا واجب ہے، اگرچہ وہ بچہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ چھ سال کے بچہ کی میت پر نماز پڑھنا واجب ہے۔

سوال: نماز میت کس طرح پڑھی جائے گی؟

جواب: میت کی نماز، نمازیو میہ سے مختلف ہے، اس میں پانچ تکبیریں ہیں، نہ اس میں کسی سورہ کی قرات ہے، نہ رکوع ہے، نہ سجدے ہیں، نہ تشہد وسلام ہے، بلکہ پہلی چار تکبیروں میں سے کسی ایک کے بعد میت کے لیے دعا کی جائے گی اور باقی میں پیغمبر اسلام حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر صلوات، مومنین کے لیے دعا اور خدا کی تمجیدو تمحید کرنے کے درمیان اختیار ہے۔

سوال: آپ اختصار کے ساتھ ان کو بیان کیجئے؟

جواب: پہلے تکبیر کہو اور اس کے بعد، شھادتین پڑھو، دوسری تکبیر کہو، اور اسکے بعد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجو، پھر تیسری تکبیر کہو اور مومنین کے لیے دعا کرو، پھر چوتھی تکبیر کہو، میت کے لیے دعا کرو، پھر پانچویں تکبیر کہہ کر نماز کو ختم کردو۔

سوال: کیا نماز میت، میں کچھ چیزیں شرط ہیں؟

جواب: ہاں چند چیزیں شرط ہیں۔

( ۱) نیت میت کو اس طرح معین کرے کہ ابہام ختم ہوجائے۔

( ۲) قیام ،جب کہ اس پر قدرت رکھتا ہو۔

( ۳) نمازمیت غسل،کفن اور حنوط کے بعد پڑھی جائے۔

( ۴) حالت اختیار میں مصلی کا رخ قلبہ کی طرف ہو۔

( ۵) نماز پڑھنے والے کے آگے میت ہونی چاہیے۔

( ۶) میت کا سر مصلی کے داہنی طرف اور اس کے پیرمصلی کے بائیں طرف ہونے چاہیں۔

( ۷) نماز میت کے وقت میت کو چت لٹایا جانا چاہیے ۔

( ۸) مصلی اور میت کے درمیا ن کوئی چیز مثل پردہ یا دیوار وغیرہ حائل نہ ہونی چا ہئےلیکن آ گ میت تابوت میں ہویا کوئی دوسری میت حائل ہوتو کوئی اشکال نہیں ہے۔

( ۹) میت اور مصلی کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے بہت زیادہ اونچائی پر ہو اور اگر نماز باجماعت پڑھی جارہی ہے اور صفوں کی بناپر دوری واقع ہو جائے تو اس دوری میں کوئی حرج نہیں ہے یا چند جنازوں کی بناپر دوری ہوجائے، جبکہ ان سب پر ایک ہی دفعہ نماز پڑھی جار ہی ہو۔

( ۱۰) میت کے ولی (مثلاً باپ یا بیٹے) سے نماز پڑھنے کی اجازت لی جائے۔

( ۱۱) تکبیرات، دعائیں اور اذکارپے درپے ہونے چاہیں،یعنی درمیان میں زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

سوال: آپ نے نماز جنازہ پڑھنے والے کی طہارت کو وضو یا غسل یا تیمم کے ساتھ مشروط قرار کیوں نہیں دیا؟

جواب: اس لیے کہ نماز میت میں طہارت واجب نہیں ہے۔

سوال: نماز میت تمام ہوجانے کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

جواب: میت کو دفن کرنا واجب ہے، اور اس کے لیے زمین میں اس کا پوشیدہ ہوجانا جب کہ دوامر متحقق ہوجائیں کافی ہے وہ یہ ہیں۔

( ۱) اگر حیوانات اس جگہ پائے جاتے ہوں تو وہ حیوانات سے محفوظ رہے۔

( ۲) اس کی بو لوگوں کو نہ آئے یعنی اگر اس جگہ پر کوئی موجود ہو اور اس کو اس کی بوسے اذیت پہنچتی ہو۔

اور میت کو قبر میں داہنی کروٹ اس طرح لٹایا جائے کہ اس کے بدن کے سامنے کا حصہ قبلہ کی طرف ہو۔

سوال: کیا دفن کی جگہ کے لیے کچھ اور بھی شرائط ہیں؟

جواب: جی ہاں ہم ان کوبیان کرتے ہیں۔

( ۱) قبر کی جگہ مباح ہو،غصبی نہ ہو اور کسی خاص چیز کے لیے وقف نہ ہو، جیسے مساجد، جیسے مدارس، امام باڑے وغیرہ جب کہ وقف کی جگہ کو نقصان ہو یا وقف کے لیے باعث زحمت ہو بلکہ اگر نقصان اور زحمت نہ بھی ہو تو بھی دفن نہ کیا جائے۔

( ۲) جہاں ہر مسلمان میت کو دفن کیا جائے وہ ایسی جگہ نہ ہو کہ جس سے میت کی بے حرمتی ہو، جیسے پیشاب، پاخانہ اور کوڑا کرکٹ کی جگہیں۔

( ۳) کفار کی قبروں میں دفن نہ کیا جائے۔

سوال: آپ دفن کے بعد کے احکام بیان کریں؟

جواب: نبی پاکصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: میت پر سخت نہ ہوگی پہلی رات سے زیادہ

”فار حمو اموتاکم بالصدقۃ“

”اپنے میتوں پر صدقہ دے کر رحم کرو،،پس اگر تم یہ نہیں کرسکتے تو اس کے لیے دورکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں الحمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ قدر پڑھواور نماز کے بعد کہو۔

”اللھم صل علی محمد وال محمد وابعث ثوابھا الی قبر فلان“

فلاں کی جگہ میت کانام لیں۔

سوال: آپ نے گذشتہ گفتگو میں غسل کے بارے میں مجھے بتایا تھا کیا اس کانام غسل مس میت ہے؟

جواب: ہاں! یہ غسل اس وقت واجب ہوتا ہے جب میت کے بدن کو ٹھنڈا ہونے کے بعداور غسل سے پہلے کوئی چھولے یہ میت چاہے مسلمان کی ہویا کافر کی۔

سوال: کیا تری ہونے کے کی صورت میں یہ غسل واجب ہوتا ہے اگر میت خشک ہو اور چھونے والا بھی خشک ہوتو پھر اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: تری ہویا نہ ہو، چاہے یہ چھونا مجبوری کے عالم میں ہویا اختیاری صورت میں غسل واجب ہوجاتاہے۔

سوال: جو میت کو چھولے اس پر کیا چیز مترتب ہوتی ہے؟

جواب: اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ۔

( ۱) غسل واجب کرے اس چیز کے لیے کہ جس کی صحت کے لیے طہارت شرط ہے مثلاً نماز، پس جس وقت کوئی نماز پڑھنا چاہے تو پہلے اس پر یہ غسل کرنا واجب ہے۔

( ۲) قرآن مجید کے حروف کا چھونا اور ہر اس چیز کا چھونا جو محدث پر حرام ہے۔

میرے والد تھوڑارک کر پھر کہنے لگے ۔

(جب شوہر فوت ہوجائے تو اس کی زوجہ پر اس کی عدت رکھنا واجب ہے چاہے اس زوجہ کے ساتھ اس کے شوہر نے ہم بستری نہ کی ہو جو عورت حاملہ نہیں ہے اس کی عدت کے دن چار مہینہ دس دن ہیں،عدت کے لیے لازم ہے کہ عورت بالغہ اور عاقلہ ہو عدت کی مدت میں وہ جسم کی زینت اور لباس کی زینت نہ کرے، اس طرح کہ اس پر رنگین کپڑوں کا پہننا حرام ہے،جیسے سرخ کپڑے، اور اسی طرح زیور کا پہننا، سرمہ لکانا، خوشبوکا استعمال کرنا، خضاب اور سرخی کا لگانا اس پر حرام ہے، ہاں عدہ والی عورت جسم کی صفائی، کپڑوں کی صفائی، ناخن کاٹنا، حمام جانا اور گھر سے باہر جانا، خصوصاًکسی کے ادائے حق کے لیے یا اپنی ضرورت کے تحت باہر جانے کا حق رکھتی ہے۔

سوال: اور جو عورت حاملہ ہے اس کے عدہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: جب حاملہ عورت کا شوہر مرجائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے عدہ کی مدت وضع حمل اور بچہ کی پیدائش تک ہے، اگر چارماہ دس دن گزرنے سے پہلے اس کے یہاں ولادت ہوجائے، تو وہ صبر کرے، کہ چار ماہ دس دن پورے گزر جائیں اور اگرچار ماہ دس دن گزرنے کے بعد ولادت ہوتو اس کے عدہ کی مدت تمام ہوگئی ہے۔


وضو پر گفتگو

آج میرے والد نے کہا کہ میں آپ سے وضو کے بارے میں گفتگو کروں گا اس کے بعد غسل اور تیمم کے سلسلہ میں گفتگو کروں گا میں نے اپنے دل میں کہا کہ باب اول میں مجھ کو اس پہلے مطہر کے بارے میں بتایا جائےگا، جس سے جسم کی طہارت حدیث کے ذریعہ زائل ہوجاتی ہے۔

اورآپ کو مختصر طور پر اس حدث کے بارے میں بتایا گیا ہے جس کی بناپر جسم کی وہ طہارت ختم ہوجاتی ہے کہ جو اس کو پہلے حاصل تھی ۔

اور جب مجھے یہ یاد دھانی کرائی گئی تو اس وقت میں نے طے کیا کہ اس سوال کو اپنے والد کے سامنے بیان کروں وہ ابھی میرے سامنے تشریف فرما ہیں ۔

سوال: ہم وضو کیوں کریں؟

جواب: اس لئے کہ ہم نماز پڑھیں مثلاًیہ کہ ہم بیت اللہ الحرام کے حج اور عمرہ میں طواف کریں۔

کہ ہمارے لیے قرآن کے حروف اللہ کے ناموں اور اس کی خاص صفات مثلاً خالق ورحمن کا چھونا جائز ہوجائے۔

سوال: ہم طبعی طور پر پانی سے وضو کرتے ہیں۔لیکن کیا اس پانی کی بھی کچھ شرائط ہیں۔

جواب: ہاں: اس پانی کی بھی کچھ شرائط ہیں۔

( ۱) وہ پانی پاک ہو، اور آپ کے تمام اعضائے وضو بھی پاک ہوں، اور تطہیر کے لیے کافی ہے کہ پانی اس طرح ڈالا جائے کہ وہ تمام اعضائے وضوتک پہنچ جائے۔

( ۲) پانی مباح ہو(غصبی نہ ہو) اور اسی طرح وہ جگہ بھی جہاں بیٹھ کروضو ہورہا ہے مباح ہو اور ضروری ہے کہ وضو کی جگہ مباح ہونے کی شرط کو جان لیا جائے کہ جب وضو کی جگہ کا انحصار غصبی جگہ میں ہو یعنی غصبی جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ وضو ممکن نہیں )تو پھر وضو ساقط ہے۔

اور آپ پر تیمم کرنا واجب ہے، لیکن اگر آپ نے حکم کی مخالفت کی اور اس غصبی جگہ میں وضو کرلیا تو وضو صحیح ہے لیکن آپ گنہگار ہوں گے۔

( ۳) پانی مطلق ہو،مضاف نہ ہو جیسے جاری پانی، یا برتن کا پانی جس کو آپ پیتے ہیں، انار کا پانی نہ ہو،

سوال: میں کس طرح وضو کروں؟

جواب: قربۃًالی اللہ وضو کی نیت کے بعدشروع کریں۔

پہلے: اپنے چہرہ کو لمبائی میں پیشانی سے اوپر بالوں کے اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی تک اور چوڑائی میں جتنا حصہ انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کے درمیان آجائے دھولیں۔پس آپ اپنی پوری ہتھیلی کھولیں اور اس کو اپنے چہرہ پر رکھیں ، آپ چہرے کے جتنے حصہ کو آپ کی ہتھیلی انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کے درمیان لےلے اتنے حصہ کا دھونا چوڑائی میں واجب ہے۔

اس کا لحاظ کرتے ہوئے کہ چہرہ کو اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے گا، یاد رہے کہ گھنے اور زیادہ بالوں میں (بالوں کی جڑوں تک) پانی پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

دوسرے: آپ اپنے ہاتھوں کو کہنی سے لے کر انگلیوں کے سرورں تک دھوئیں پہلے دایاں ہاتھ پھر بایاں ہاتھ،اوپر سے نیچے کی طرف انگلیوں کے سرے تک۔

سوال: کہنی کسے کہتے ہیں؟

جواب: ہاتھ اور بازو کی دونوں ہڈیوں کے جوڑکو کہنی کہتے ہیں۔

تیسرے: دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے سرکے آگے والے حصے کا مسح کریں اور مسح اوپر سے نیچے کی طرف کیا جائے اور سر کے آگے کے بالوں پر مسح کرنا کافی ہے، کھال پر مسح کرنا واجب نہیں ہے۔

چوتھے:دونوں پاؤں کا مسح ہے کہ انگلیوں کے سرے سے پاؤں کے ابھرے ہوئے حصہ تک، پہلے داہنے پاؤں کا مسح داہنے ہاتھ کی تری سے، پھر بائیں پاؤں کا مسح بائیں ہاتھ کی تری سے کیا جائے گااور نئے پانی سے مسح کرنا جائز نہیں ہے، جس طرح کہ بائیں پاؤں کا مسح دائیں پاؤں سے پہلے کرنا جائز نہیں ہے۔

نیچے دئیے گئے بیان کی روشنی میں ملاحظہ کر یں:

الف ۔ترتیب

چہرے کے دائیں ہاتھ کے دھونے سے پہلے دھوئیں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہلے دھوئیں اور کا مسح سے پہلے کریں۔

ب۔ موالات

اس سے مرادافعال وضو کو ایک دوسرے کے بعد بجالانا ہے، اگر حالات ایسے پیدا ہوجائیں کہ جس سے افعال وضو کے درمیان فاصلہ واقع ہوجائے، مثلاًپانی ختم ہوجائے،یا بھول جائے، تو ایسی صورت میں جس عضو کو دھورہا ہے، یا مسح کررہا ہے اس سے پہلے والے اعضاء کہ جن کو دھوچکا ہے، یا مسح کرچکا ہے خشک نہ ہوئے ہوں تو یہ کافی ہے(وضو ایسی صورت میں صحیح ہے) اور اگر تمام اعضا ء خشک ہوچکے ہوں تو وضو باطل ہے یہاں یہ اشارہ کرنا مناسب ہے کہ اگرہوا کی گرمی یا حرارت جسمانی کی بناپراعضاء خشک ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے جب کہ اعضاء وضو کو دھونے میں عرفاًفاصلہ نہ ہوا ہو تو وضو صحیح ہے۔

جواب: امکان کی صورت میں اپنا وضو خود کریں کسی سے مدد وغیرہ نہ لیں۔

سوال: اگر میں اپنا وضو خود نہ کرسکوں تو؟

جواب: اگر آپ وضو کرنے پر قدرت نہیں رکھتے توپھر آپ کسی دوسرے سے مددلے سکتے ہیں، اس طرح کہ وہ آپ کے ہاتھ کو بلند کرکے اس کے ذریعہ آپ کا چہرہ دھوئے، پھر آپ کے ہاتھوں کو دھوئے، پھر آپ کے دائیں ہاتھ سے آپ کے سر کا مسح کرائے، پھر دونوں پاؤں کا مسح، دونوں تری والے ہاتھوں سے کرائے۔

(د)۔وضو کا پانی جلدتک پہنچنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو، جیسے رنگ یا انگوٹھی وغیرہ ۔

(ھ)۔کوئی ایسا سبب پیش نہ آئے جو پانی کے استعمال کے لیے مانع ہو، جیسے کوئی مرض، اگر کوئی اور مانع درپیش ہوتو پھر آپ پر وضو کے بدلے تیمم واجب ہے۔

سوال: اگر میں نے پہلے وضو کیا اور اس کے بعد کسی نماز کا وقت آجائے تو کیا میں دوبارہ وضو کروں؟

جواب: جب تک آپ کا وضو ٹوٹ نہ جائے اس وقت تک آپ پر وضو کرنا واجب نہیں ہے۔

سوال: میرا وضو کیسے اور کس طرح ٹوٹے گا؟

جواب: وضو کو توڑنے والی سات چیزیں ہیں:

پیشاب، پاخانہ، نیند اور ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کردیتی ہے۔مثلاً بیہوشی، نشہ، استحاضۂ قلیلہ، اور متوسطہ وغیرہ (استحاضہ وجنابت کی گفتگو میں ملاحظہ کیجئے)

پھر میرے والد کی آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہوئی، میں نے محسوس کیا کہ ان کے ذہن میں کوئی قاعدہ یا چند قواعد جمع ہوگئے ہیں، پس جو میں نے محسوس کیا تھا وہ صحیح تھا۔

اس وقت میرے والد نے فرمایا کہ میں وضو کے بارے میں اپنی گفتگو کو چند عام قواعد پر ختم کروں گا جو آپ کے لیے مفید ہوںگے۔

پہلا قاعدہ

”کسی نے وضو کیا پھر اس کے بعد شک ہوا کہ کیا اس کا وضو (ان سات وضو توڑنے والی چیزوں میں سے) کسی چیز سے ٹوٹ گیا ہے یا وہ اپنے وضو (طہارت) پر باقی ہے پس وہ اپنے وضو اور اپنی طہارت پر باقی ہے“

سوال: مثلاً:

جواب: صبح کو آپ نے وضو کیا، آپ کو اس وقت یقین تھا اور پھر نماز ظہر کا وقت ہوا تو آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا آپ کو شک ہوا کہ کیا کوئی ایسی چیز واقع ہوئی ہے جس سے آپ کا وضوٹوٹ گیا ہو یا کوئی چیز واقع نہیں ہوئی، پس آپ اپنی طہارت پر باقی ہیں اس وقت آپ یوں سمجھیں کہ میں باوضو ہوں اور آپ نماز پڑھ لیں ۔

دوسرا قاعدہ

کسی نے وضو کیا یا وضونہیں کیا اور نواقص وضو میں سے کوئی نقص عارض ہوجائے اور وضو ٹوٹ جائے اس کے بعد شک ہوکہ دوبارہ وضو کیا ہے یا نہیں ؟ تو وضو نہیں ہے اسے نماز کے لیے وضو کرنا چاہیے۔

سوال: مثال سے بتائیے؟

جواب: صبح کو آپ سو کراٹھے، اور جس وقت نماز ظہر کا وقت آیا، آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا، فوراً آپ کو شک ہواکہ میں نے صبح نیند سے اٹھ کر وضو کیا تھا یا نہیں، اس وقت آپ سمجھیں کہ میں بے وضو ہوں پس آپ وضو کریں اور نماز پڑھیں۔

تیسرا قاعدہ

کسی نے وضو کیا اور وضو سے فارغ ہونے کے بعدصحت وضو میں شک کرتاہے کہ اس کا وضو صحیح ہوا ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے۔

سوال: مثال دیجئے؟

جواب: مثلاً آپ نے وضو کیا، پھر اس کے بعد شک کیا کہ میں اپنا چہرہ دھویا ہے یا نہیں، یا میں نے چہرہ کو صحیح دھویا یا نہیں، اس وقت آپ سمجھیں کہ آپ کا وضو صحیح ہے۔

سوال: اور اگر میں بائیں پاؤں کے مسح میں شک کروں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: آپ مسح کو دوبارہ کریں لیکن اگر آپ کسی دوسرے عمل میں داخل ہوگئے ہیں مثلاً آپ نے نماز شروع کردی یا موالات کے بارے میں آپ کو شک ہوا، پس آپ اس صورت میں اپنے شک کی پرو انہ کریں۔

غسل پر گفتگو

میرے بابا نے کہا کہ ہم آج غسل کے سلسلہ میں گفتگو کریں گے اور میں نے اس گفتگو کے آخر میں جو کچھ سیکھا، اس پر میں بہت خوش ہوا جو کچھ میں نے حاصل کیا اس پر میں پھولے نہ سمایا تھا پس میں اس پانی کے ذریعہ اپنے جسم کی گندگی کو پاک وصاف کرتاہوں نیز یہ کہ میرا پانی سے محبت کرنا اور اس سے عشق ولگاؤ ایک علیحدہ مزے کی بات ہے کیونکہ پانی سے میرا عشق دائمی ہے اور میں بچپنے سے اسے عزیز رکھتا ہوں۔

میں اپنی مہربان ماں کے ساتھ پانی سے کھیلتا، اور جب مجھے موقع ملتا میں غوطہ خوری کرتا اور کبھی اسے اپنے چہرے پر چھڑک کرخوشی محسوس کرتا اور اس سے کھیل کر اپنے دل کو بہلاتا اور میں نے ارادہ کررکھا تھا کہ مجھے فرصت کی گھڑیاں نصیب ہوںگی تو میں تیرنا ضرور سیکھوں گا۔جیسا کہ میرے والد نے فرمایا کہ پیرا کی سیکھنا مستحب ہے، میں پانی کی چاہٹ کا بہت پیاسہ تھا جب بھی مجھے پانی کے ساتھ کھیلنے سے روکا جاتا تو پانی بن مچھلی کی طرح ہوجاتا اور اس کو اپنے سینے پر جھڑک کر اس سے حرارت قلبی محسوس کرتا۔

ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ پانی سے مجھے محبت ہے، اور میں اس کا عاشق ہوں، جب سے مجھ پریہ منکشف ہوا ہے کہ پانی پاک کرنے والا اور صاف کرنے والا ہے اور یہ پڑھا“

”النظا فة من الایمان“

”نظافت ایمان کا حصہ ہے“ تو میں اس وقت سے اپنے جسم کو اس سے دھوتا ہوں اور اس سے غسل کرتاہوں۔

آج میرے والد نے مجھے بتایا کہ میں کس طرح غسل کروں،

میرے والد نے فرمایا کہ غسل کی دوقسمیں ہیں:

”ارتماسی اور ترتیبی“

سوال: ارتماسی کسے کہتے ہیں؟

جواب: آپ کے جسم کا پانی میں ایک مرتبہ ڈوب جانا، یہ غسل ارتماسی کہلاتا ہے اس کے یہ ظاہری معنی ہیں اس کا مفہوم بعد میں وضاحت کے ساتھ بیان کروںگا۔

سوال: غسل ترتیبی کسے کہتے ہیں؟

جواب: پہلے آپ اپنے سر اور گردن اور جو چیز اس سروگردن سے متصل ہے اس کو دھوئیں، اور کان کے دھونے کو نہ بھولنا دونوں کا ظاہری حصہ دھونا ضروری ہے، اندرونی حصہ دھونا ضروری نہیں ہے۔

پھر آپ اپنے جسم کے دائیں حصہ کو دھوئیں اور کچھ اس حصہ کو بھی دھولیں جو گردن سے متصل ہے اور کچھ بائیں حصہ کو بھی دھولیں پھر آپ اپنے بائیں اور کچھ اس حصہ کو جو گردن سے ملا ہوا ہے اور کچھ دائیں حصہ کو د ھو لیں سراور گردن کے دھونے کے بعد بدن کا ایک ہی مرتبہ دھونا جائز ہے۔

سوال: کیا غسل کے لیے کچھ اور شرائط بھی ہیں؟

جواب: جو شرائط وضو میں ہیں وہ غسل میں بھی ہیں( ۱) نیت ( ۲) پانی کا پاک ہونا۔( ۳) پانی کا مباح ہونا ( ۴) پانی کا مطلق (خالص) ہونا( ۵) اور بدن کا نجاست سے پاک ہونا ( ۶) اعضائے غسل میں ترتیب کا ہونا اگر غسل کرنے والا اپنا غسل خود کرسکتا ہوتو غسل خود کرنا اور پانی کا استعمال شرعی طور پر مضر نہ ہو مثلاً مرض کا ہونا وضو کی گفتگو میں ملاحظہ کیجئے۔

لیکن غسل اوروضوسے دوچیزوں میں اختلاف فرق ہے، آپ ان دو چیزوں پر غور کریں؟

سوال: وہ دو چیزیں کیا ہیں؟

جواب: غسل میں یہ شرط نہیں ہے کہ ہر عضو کو وضو کی طرح اوپر سے نیچے کی طرف دھویاجائے۔

وضو کی طرح غسل میں موالات شرط نہیں ہے پس آپ سر اور گردن دھونے کے بعد اپنے باقی جسم کو کچھ دیر بعددھوسکتے ہیں، چاہے آپ کا سر خشک ہی کیوں نہ ہوجائے،جیسا کہ آپ وضو میں اپنے چہرہ کو دھو ئیں گے تو جب تم بھنووں کے بالوں پر پہنچیں گے توصرف ان کا اوپر والا حصہ دھوئیں اور جب آپ اپنے سرکا مسح کریں تو صرف بالوں کے اوپر والے حصہ پر مسح کریں جلد تک پانی کا پہنچنا ضروری نہیں ہے لیکن غسل میں واجب ہے کہ پانی کو سرکی کھال تک پہنچایا جائے اسی طرح دونوں بھنوؤں،مونچھ اور ڈاڑھی کے بالوں میں بھی یہی حکم ہے۔

سوال: اس کے بعد کیا حکم ہے؟

جواب: غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: اس کے معنی یہ ہیں کہ جب میں نماز کے لیے غسل کرو ں توپھر مجھے غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہے؟

جواب: ہاں غسل کے بعد فوراً بغیر وضو کے نماز پڑھ لو اسی طرح اگر آپ پر چندغسل واجب ہوگئے ہیں جیسے غسل جنابت اور غسل جمعہ تو جائز ہے کہ ایک غسل کو باقی غسلوں کے قصد سے کرلو اور اگر غسل جنابت کی خصوصاً نیت کرلی تو پھر دوسرے غسل کرنے کی ضروت نہیں ہے ہاں اگر آپ نے غسل جمعہ کی خصوصاًنیت کی ہے، تو یہ غسل آپ کو دوسرے غسل کرنے سے مستغنی نہیں کر سکتا۔

سوال: کسی عورت کو غسل جنابت، غسل حیض اور غسل جمعہ کی ضرورت پڑجائے تو وہ کیا کرے ؟

جواب: وہ تمام غسلوں کی نیت سے ایک غسل کرسکتی ہے، یا وہ غسل جنایت کی نیت کرے، تو پھر دوسرے غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سوائے غسل جمعہ کے جیسا کہ آپ کو اس سے پہلے والے سوال وجواب میں بتا دیا گیا ہے۔

میرے والد نے مزید فرمایا : میں آپ کو کچھ چیزیں بتاتا ہوں کہ جن کا غسل کرنے میں لحاظ کرنا ضروی ہے:

آپ کو غسل سے پہلے یہ یقین ہوجانا چاہیے کہ جو جسم پر منی کا اثر تھا وہ ختم ہوگیا ہے یعنی جسم پر منی کی جو نجاست تھی پہلے اس کو دور کرکے جسم کو پاک کرنے کے بعد یقین ہوجائے کہ اب منی کا کوئی اثر باقی نہیں رہا، پھر اس کے بعد غسل کی نیت کرکے غسل کو پورا کریں۔

( ۲) غسل کرنے سے پہلے پیشاب کیا جائے تاکہ پیشاب کے ساتھ باقی رہنے والی منی نکل جائے۔

( ۳) جو چیزیں بدن تک پانی پہنچنے سے مانع ہوتی ہیں، ان کو دور کیا جائے جیسے چکنائی اور اگر اس کے دور کرنے سے معذور ہویا اس کو دور کرنا آپ پر مشکل ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرلیں اور اگر وہ مانع، تیمم کے اعضا میں ہوتو پھر غسل اور تیمم دونوں کرلیں۔

( ۴) اگر غسل کے بعد کسی عضو کے صحیح دھونے میں آپ کو شک ہو جائے کہ فلاں عضو کو صحیح دھویا تھا یا نہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

اور اگر آپ کو تمام سراور گردن کے دھونے میں شک ہو جائے اور آپ بھی بقیہ جسم کو دھونے میں مشغول ہیں تو آپ پر دوبارہ لوٹنا لازم ہے تاکہ جو مشکوک مقدار ہے اس کو دھوکر تدارک کرلیں۔

سوال: غسل جنابت، حیض، نفاس، استحاضہ، میت اور مس میت، یہ تمام کے تمام واجب غسل ہیں جیسا کہ اس سے پہلے آپ نے بیان فرمایا، لیکن میں نے غسل کی بحث میں ایک غسل کو سنا، جس کا آپ نے نام غسل جمعہ بتایا کیا اور بھی ایسے غسل ہیں کہ جن کا تذکرہ آپ نے مجھ سے نہ کیا ہو؟

جواب: ہاں اور بھی دوسرے بہت سے غسل ہیں، لیکن وہ سب مستحب ہیں، واجب نہیں ہیں ان میں سے کچھ کی تفصیل اس طرح ہے۔

(الف) غسل جمعہ جو کہ سنت موکدہ ہے اور اس کا وقت صبح سے لے کر مغرب تک ہے اور زوال سے پہلے انجام دینا افضل ہے۔

(ب) غسل احرام ہے۔

(ج ) غسل عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) اور ان دنوں کا وقت صبح سے لے کر مغرب تک ہے اور نماز عید سے پہلے ان کا بجالانا افضل ہے۔

(د) ۸ ۔ ۹/ ذی الحجہ اور ۹ ذی الحجہ کے دن غسل زوال کے وقت بجالانا افضل ہے۔

(ھ) ماہ رمضان کی پہلی، سترہویں، انیسویں، اکیسویں، اور چوبیسویں رات کا غسل افضل ہے

(و) استخارہ کا غسل ۔

(ز) نماز استقاء کا غسل۔

(ح) مکہ میں داخل ہونے کا غسل ۔

(ط) زیارت کعبہ شریف کا غسل۔

(ی) مسجد نبوی میں داخل ہونے کا غسل ۔

یہ وہ غسل ہیں کہ جن کے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے غسل ہیں کہ جن کی اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں ہے بعض غسل ایسے ہیں کہ جن میں وضو کی ضرورت ہے اور یا وہ ہیں کہ جن کا استجاب کسی معتبر دلیل سے ثابت نہیں ہے اور ہم صرف ان کو رجاء مطلوبیت کی بجالاتے ہیں۔

سوال: میرا ایک آخری سوال باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر میں جنابت کے بعد پیشاب کا استبراء نہ کروں اور پیشاب ہی نہ کروں، اور غسل کرکے تمام چیزوں کو انجام دے لوں اس کے بعد منی خارج ہوجائے اگر چہ ایک ہی قطرہ کیوں نہ ہو اس کا کیا حکم ہے۔؟

جواب: آپ کے اوپر دوبارہ غسل واجب ہے چاہے وہ منی بغیر شہوت اور بغیر تحریک کے نکلے۔

اس طرح آپ کے اوپر دوبارہ غسل اس وقت واجب ہے جب کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ نکلنے والی چیز منی ہے اگرچہ وہ پہلی صورت (جو بیان ہوئی اس کے)بغیر نکلے۔

تیمم پر گفتگو

جب میرے والد محترم نے فرمایا کہ آج تیمم کے سلسلہ میں گفتگو ہوگی، تومیں نے محسوس کیا کہ یہ لفظ تیمم میرے لیے کوئی انوکھی چیز نہیں ہے بلکہ میں اس سے مانوس ہوں، مگر میں اس کا وقت اور سبب نہیں جانتا تھا کہ تیمم کب اور کس وقت واجب ہوتاہے اور اس کا وقت اور اس کا راز کیا ہے؟

آج جب اس سلسلہ میں گفتگو ہوئی، تو مجھے اس کی صحیح علت معلوم ہوئی میں نے تیمم کے لفظ کو پہلے سنااور پڑھا تھا اور قرآن مجید میں تلاوت بھی کیا تھا یا مشہور قاریوں میں سے کسی قاری کو تلاوت کرتے ہوئے بھی سنا تھا میرے والد نے پہلے سے مجھے قرآن مجید پڑھنے کی عادت ڈالی تھی کہ جتنا مجھ سے ہوسکے اس کی قرات کروں لہٰذامیری تقریباً ہر روز یہ عادت اور روش ہوگئی کہ میں اس کا تلاوت کرکے اپنے ذہن قلب جگراور حافظہ کو معطر کرتا رہوں۔

قرآن کو پڑھ کراس میں تدبر کرتا ہوں اور اپنی رغبت وچاہت کو اس کی ہدایت کے مطابق انجام دیتا ہوں اور اپنی انفرادی زندگی اور معاشرے میں اپنے خاندان والوں، اپنے دوستوں ، بھائیوں اور عزیزوں کے ساتھ اپنے روابط کو قرآن کی نہج کے مطابق انجام دیتا ہوں۔

لیکن میری رغبت اور الفت اس لفظ سے ظاہرہوجانے کے بعد بھی میں اس آیت کریمہ کو جس میں لفظ تیمم موجود ہے، نکال نہ سکا اور نہ اس سورہ کانام یاد آیا جس میں یہ آیت تیمم موجود ہے۔اس لئے میں نے آج کی بحث کے شروع میں اپنے والد سے یہ سوال کیا :

سوال: ابا جان :جس سورہ میں یہ آیت تیمم موجود ہے مجھے یاد نہیں آرہی ہے؟

جواب: وہ سورہ نساء ہے خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:

بسم الله الرحمن الرحیم

( وان کنتم مرضی اوعلی سفر او جاء احد منکم من الغائط اولا مستم النساء فلم تجدوا ماء فتیممو؟مموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوهکم وایدیکم ان الله کان عفوا غفورا )

”اور جب کوئی بیمار ہو، یا حالت سفر میں ہو، یا کوئی رفع حاجت کرکے آئے یا عورتوں سے مقاربت کی ہو،اور پھر پانی نہ ملے، تو پا ک مٹی سے تیمم کرکے اپنے چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کرلو،بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور معاف کرنے والاہے“

میں نے آیت کریمہ کا ذکر کیا جیسا کہ آپ نے سنا، اب تیمم کب، کس پر، اور کس طرح کریں ان میں سے سب کو الگ الگ بیان کریںگے۔

سوال: ابا جان !تیمم کب کیا جاتاہے۔؟

جواب: تیمم غسل یا وضو کا بدل ہے اور جن جگہوں میں دونوں کا بدل ہے وہ جگہیں یہ ہیں۔

( ۱) اتنا پانی موجود نہ ہو جس سے غسل یا وضوکرسکو تو اگرغسل کی حاجت ہو اور پانی بھی اتنانہیں ہو تو آپ غسل کے بدلے تیمم کر لیں اوراگرآپ نے وضو کرناتھا لیکن پانی وضو کے لیے بھی کافی نہیں ہے تو وضو کے بدلے تیمم کرلیں۔

( ۲) پانی موجود ہے لیکن اس تک پہنچنا آپ کے لیے آسان نہیں، اس عاجزی کی بناپر جو آپ کے گردقدرتی طور پر جمع ہوگئی ہیں مثلاًاللہ نے اس کے حصول پر قدرت نہیں دی یعنی پانی کے حاصل کرنے کے لئے اتنی طاقت نہیں ہے جس سے پانی حاصل ہوسکے مثلاً پانی گہرے کنویں میں یا اتنی دور ہے کہ چلنے ،جانے اورآنے میں بہت مشقت ہوتی ہو، یا پانی کا حاصل کرناکسی حرام کام کے ارتکاب پر موقوف ہو، جیسے اس غصبی برتن کا استعمال کرنا کہ جس میں وہ مباح پانی موجودہویا پھرپانی حاصل کرنے پر جان ومال اور ناموس کا خطرہ ہو۔

( ۳) اپنی پیاس یا کسی ایسے شخص ” جس کی حفاطت اس سے مربوط ہو“ پیاس کا خطرہ ہو، بلکہ کسی اہم حیوان کاپیاس کی وجہ سے تلف ہو جانے کا خطرہ ہو اور آپ کے پاس اتنا پانی ہو کہ جو پیاس بجھانے اور وضوکرنے کے لئے کافی نہ ہو، تو پھر آپ تیمم کرلیں۔

( ۴) نماز کا وقت اتنا مختصر ہوکہ آپ وضویا غسل کے ساتھ نماز کو اس کے پورے وقت میں ادا نہیں کرسکتے تو پھر تیمم کرلیں۔

( ۵) جب وضو اور غسل کرنے کے لیے پانی کے حصول یا پانی کے استعمال میں ایسی مشقت وحرج ہو کہ جس کا تحمل کرنا مشکل ہو،جیسے پانی کا حاصل کرنا ذلت ورسوائی پر موقوف ہو، یا پانی اتنا متغیر ہو جس کی بنا پر آپ کی طبیعت اس سے کراہت کررہی ہو،تو آپ اس پانی کے استعمال میں دشواری محسوس کریں گے تو پھرایسی صورت حال میں تیمم کرلیں۔

( ۶) جب آپ کسی ایسے واجب فعل کے انجام دینے پر مکلف ہوں کہ جس میں پانی کا استعمال ہی ضروری ہو، جیسے مسجد سے نجاست کا دور کرنا اور پانی بھی کم ہوتو مسجد کو پاک کرنا ضروری ہے اور نماز کے لیے تیمم کرنا چاہیے۔

( ۷) جب غسل یا وضو میں پانی کے استعمال سے آپ کی جان کو ضرر پہنچنے کا خطرہ ہو یعنی پانی کے استعمال سے کوئی مرض پیدا ہوجائے یا آپ کی بیماری طولانی ، یا زیادہ ہوجائے یا آپ کا علاج مشکل ہو جائے اور بیماری ایسی بھی نہیں ہے کہ جس پر وضو جبیرہ یا غسل جبیرہ کیا جائے تو ایسی صور ت میں تیمم کرناضروری ہے۔

سوال: یہ جبیرہ کیا ہے ؟

جواب: آنے والی گفتگومیں اس کے بارے میں مفصل بات ہوگی ۔

سوال: مجھے معلو م ہوگیا کہ تیمم کا کرنا کب لازم ہوتاہے، لیکن آپ مجھے یہ بتائیے کہ تیمم کس چیز پر ہوتا ہے؟

جواب: تیمم زمین ، مٹی، ریت، پتھر، کنکری یا ان کے مشابہہ چیزوں پر ہوتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ تمام چیزیں پاک ہوں اور غصی نہ ہوں۔

سوال: میں کس طرح تیمم کروں؟

جواب: میں آپ کے سامنے تیمم کرتا ہوں ، تاکہ آپ سیکھ لیں میرے والد نے میرے سامنے تیمم کرنا شروع کیا، پہلے ہاتھ سے انگوٹھی کو اتار کر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو ایک ساتھ زمین پر مارا،پھر دونوں ہاتھوں کو ملاکر پیشانی اوراس کے دونوں طرف جس جگہ سے سر کے بال اگتے ہیں ابرؤں اور ناک کے اوپر والے حصہ تک کھینچااس کے بعد اپنی ناک کے اوپر سے ہاتھوں کو ہٹا کر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پوری پشت پر کلائی سے انگلیوں کے سرے تک کھینچا۔

سوال: کیا اتنی جلدی اور اتنی آسانی کے ساتھ تیمم تمام ہوجاتاہے؟

جواب: ہاں، صرف تیمم ہی سہل اور آسان نہیں ہے بلکہ خداوند متعال کا ارشاد پاک ہے۔

( یرید الله بکم الیسرولایرید بکم العسر )

”یعنی خدا وند متعال آپ کے لیے آسانیاں چاہتا ہے نہ کہ سختیاں “

سوال: کیا تیمم کی کجھ اور بھی شرائط ہیں؟

جواب: ہاں، اور بھی شرائط ہیں۔

( ۱) ایسا کوئی عذر لاحق ہوکہ جس کی بناپر آپ غسل یا وضو نہیں کرسکتے،جیسا کہ گزشتہ بیان میں بتایا جاچکا ہے۔

( ۲) تیمم کی نیت قربتہ الی اللہ ہونی جاہیے۔

( ۳) جس چیز پر تیمم کیاجارہا ہے وہ پاک ہو،غصبی نہ ہو،کوئی ایسی چیز اس میں ملی ہوئی نہ ہوکہ جس پر تیمم کرنا صحیح نہ ہو۔

( ۴) لہٰذا جس چیز پر تیمم کیا جارہا ہے، اس کا کچھ اثر آپ کے ہاتھوں پر باقی رہے، الہٰذا ایسے پتھرپر کہ جس پر غبارنہ ہو تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔

( ۵) پیشانی پر ہاتھوں کواوپر سے نیچے کی طرف کھینچنا چا ہئے۔

( ۶) جب آپ تیمم ،نماز یا کسی ایسے دوسرے واجب کے لیے کررہے ہیں کہ جس کا وقت معین ہے، تویہ تیمم اسی وقت صحیح ہے، جب کہ وقت ختم ہونے سے پہلے عذر کے ختم ہوجانے کی امید نہ ہو۔

( ۷) آپ حتی الامکان تیمم خود کریں۔

( ۸) افعال تیمم پے درپے ہوں، ان کے درمیان عرفاًفاصلہ نہ ہو۔

( ۹) تیمم کرتے وقت آپ کے ہاتھوں اور پیشانی کے درمیان کوئی چیز حائل اور مانع نہ ہو مثلاًانگوٹھی وغیرہ۔

( ۱۰) تیمم میں پہلے پیشانی پر مسح کریں،پھربائیں ہاتھ کی پشت سے پہلے دائیں ہاتھ کی پشت پر مسح کریں۔

سوال: بیماری کی وجہ سے غسل یا وضو کے لیے پانی کے استعمال سے معذوری کی بناپر میں نے تیمم کرکے نمازپڑھ لی پھرمیں ڈاکڑکے پاس گیا اس نے پانی کے استعمال کی اجازت دے دی اور ابھی نماز کا وقت باقی تھا تو میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب: آپ کی نماز صحیح ہے اس کا دوبارہ پڑھنا آپ پر واجب نہیں ہے جب کہ آپ کا تیمم شرعی طریقہ سے درست ہوکیونکہ آپ نے جو تیمم کیا وہ وقت کے اندر عذر کے ختم ہونے کی ناامیدی کی بناپرکیا تھا۔

سوال: ڈاکڑ نے بیماری کے دنوں میں مجھے پانی کے استعمال سے منع کیا میں نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی،پھر اس نے مجھ کو پانی کے استعمال کی صحیح وسالم ہونے کے بعد اجازت دے دی پس کیا میں اپنی ان نمازوں کا دوبارہ اعادہ کروںگا جن کو میں نے پچھلے دنوں تیمم سے پڑھا ہے۔

جواب: ہرگز نہیں،آپ پر ان کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

سوال: نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد میں نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی،اب دوسری نماز کا وقت آ گیا، اور میرا عذر ختم نہیں ہوا، کیا میں دوسری مرتبہ اس نماز کے لیے تیمم کروں؟

جواب: نہیں جب تک عذر باقی ہے، دوسرے تیمم کی ضرورت نہیں ہے، اور آپ پر زوال عذر کا انتظار بھی لازم نہیں ہے، کیونکہ آپ تیمم کے بعد ان چیزوں سے محفوظ ہیں۔

سوال: میں نے غسل جنابت کے بدلے تیمم کرلیا کیا پھر نماز کے لیے وضو کروںگا؟

جواب: ہرگز نہیں،اس تیمم کے بعد آپ کو غسل اور وضو کی حاجت نہیں ہے۔

سوال: میں نے غسل کے بدلے تیمم کرلیا، پھر میں بیت الخلاء گیا، یا سوگیا،کیا اس صورت میں ،میں دوسری مرتبہ وضو کے بدلے یا غسل کے بدلے تیمم کروں گا۔؟

جواب: اگر آپ وضو کرسکتے ہیں تو وضو کرلیں ، ورنہ وضو کے بدلے تیمم کریں۔

سوال: جب میں بائیں ہاتھ کے تیمم میں مشغول ہوں، اس وقت پیشانی کے تیمم یا دائیں ہاتھ کے تیمم میں شک کروں تو اس کا کیا حکم ہے۔؟

جواب: اس صورت میں اپنے شک کی پروانہ کریں۔

سوال: اور اگر ان دونوں پیشانی یا اپنے ہاتھ کے تیمم کے سلسلہ میں تیمم کرنے کے بعد شک کروں تو پھر؟

جواب: اسی طرح اپنے شک کو کوئی اہمیت نہ دیں ۔

جبیرہ پر گفتگو

جب گفتگو کا موقعہ آیا تو میں نے اپنے والد محترم سے عرض کی کہ آپ نے کل مجھ سے جبیرہ کے بارے میں تذکرہ کیا تھا لہٰذا آج کی بات چیت جبیرہ کے بارے میں ہونا چاہیے۔

والد: بالکل صحیح ہے جب آپ زخم یا پھوڑے یا ٹوٹے ہوئے عضوپرکوئی چیزباندھیں تو اس کو فقہی اصطلاح میں جبیرہ کہتے ہیں ۔

سوال: میں زخم ، اورٹوٹے ہوئے عضو کو سمجھ گیا لیکن قرح کیا چیز ہے؟

جواب: قروح وہ پھوڑے اورپھنسیاں ہیں کہ جو بدن میں نکلتی ہیں ۔

سوال: جبیرہ کی موجود گی میں کس طرح غسل یا وضو یا تیمم کروں گا؟

جواب: اگر آپ جبیرہ کو بغیر کسی ضررونقصان کے ہٹا سکتے ہوں تو ہٹالیں اور غسل کرلیں،یا اس کے نیچے سے مسح کرلیں،اس جہت سے کہ جو آپ پر واجب ہے اس کے اعتبار سے انجام دیں یعنی غسل واجب ہے تو غسل کرلیں،وضویا تیمم واجب ہے تو اس پر ہاتھ پھیر لیں۔

سوال: اگر اس جبیرہ کا ہٹانا ضرروحرج کی بناپر ممکن نہ ہوتو ؟

جواب: جبیرہ کے اطراف کا حصہ جتناآپ دھوسکتےہیں دھولیں اور پھر جبیرہ پر ہاتھ پھیرلیں، کیونکہ یہ عوض ہے اس چیز کا جو جبیرہ نے ڈھانپ رکھاہے۔

( ۱) جبیرہ کا وہ ظاہری حصہ جس پر آپ نے اپنا تری والا ہاتھ پھیراوہ پاک ہو، اورجو نجاست جبیرہ کے اندر زخم کی بناپر لگی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

( ۲) جبیرہ غصبی نہ ہو۔

( ۳) جبیرہ کے زخم کا حجم ٹوٹے ہوئے عضو کی مقدار کے مطابق (جو عام طریقہ سے ہوتا ہے) ہونا چاہیے ۔

سوال: اگر جبیرہ کا حجم زخم کے حجم سے بڑا ہوتو؟

جواب: اس زیادہ مقدار کو ہٹا کر اس کے نیچے والے حصہ کو دھولیں یا اس پر ہاتھ پھیرلیں جیسا کہ اس کا موردہو ویسا ہی انجام دیں۔

سوال: اگر جبیرہ ہٹانا ممکن نہ ہویا پھر زخم والی جگہ سے اس کا ہٹانا نقصان دہ ہوتو اس وقت کیا کیا جائے ؟

جواب: آپ نہ ہٹائیں اور جبیرہ پر ہاتھ پھیرتے وقت وضو کرلیں۔

سوال: اگر اس جبیرہ کا ہٹانا (کہ جس کی مقدارزائد ہے)سالم جگہ کے لیے نقصان دہ ہو اور زخم والی جگہ کو ضرر ہوتو اس وقت کیا کیا جائے؟

جواب: اگرجبیرہ تیمم والے اعضاء پر نہ ہوتو تیمم کے بدلے وضو کرلیںاوراگر اعضائے تیمم پر جبیرہ ہو تو وضو اورتیمم دونوں کرلیں ۔

سوال: اگر جبیرہ میرے تمام چہرے یا پورے ہاتھ یا پیر پر ہو تو میں کس طرح وضو کروں؟

جواب: جبیرہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وضو کرلیں۔

سوال: اور اگر جبیرہ تمام اعضا یا اکثر اعضا پر ہوتو؟

جواب: آپ جبیرہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وضو اور تیمم دونوں کو جمع کرلیں یعنی دونوں کو انجام دیں۔

سوال: اگر میرے چہرے یا ہاتھ پر ایسا زخم یا پھوڑا، جو کھلا ہوا، باندھا نہ گیا ہو اور ڈاکڑ نے اس پر پانی کا استعمال منع کردیا ہوتو پھر میں کس طرح وضو کروں؟

جواب: اس کے اطراف کو دھوئیں اور زخم والی جگہ کو نہ دھوئیں۔

سوال: مثلاً میرے چہرے یا ہاتھ کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا اور وہ کھلا ہوا ہو اور پانی کا استعمال اس کو ضرر بھی دیتا ہو، اور اس جگہ زخم بھی نہیں ہے تو میں کس طرح وضو کروں؟

جواب: آپ و ضو کے بدلے تیمم کریں۔

سوال: اورا گرکھلا ہوا زخم مسح کرنے کی جگہ مثلاً سریا پاؤں میں ہو، اور پانی بھی ا س کو ضرر پہنچاتا ہو میں کس طرح وضو میں مسح کروں۔؟

جواب: آپ تیمم کریں۔

سوال: اگر میں غسل کرنا چاہوں اور میرے جسم کے کسی حصہ میں زخم یا پھوڑا ہو اور وہ زخم یا پھوڑا کھلا ہوا ہو تو کیا کروں؟

جواب: پھوڑے پھنسی کی جگہ کو چھوڑ کر باقی حصہ کو دھوئیں یا پھر تیمم کرلیں اس بارے میں آپ کو اختیار ہے۔

سوال: اور اگر میرے جسم کا کوئی حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو میں غسل کس طرح کروں؟

جواب: غسل کے بدلے تیمم کریں۔

تمام شد جلد اول


فہرست

توجہ ۳

تعارف مؤسسہ ۴

مقدمہ ۵

پہلا حصہ ۵

حصہ دوم ۶

حصہ سوم ۶

مکالمہ ۸

۱ ۔واجبات ۱۰

۲ ۔محرمات ۱۰

۳ ۔مستحبات ۱۱

۴ ۔مکروہات ۱۱

۵ ۔مباحات ۱۱

عبادت اورمعاملات کیا ہیں؟ ۱۲

ان اصطلاحات کو نہیں جانتا تھا کہ ان کا مقصد کیا ہے؟ ۱۳

علامت بلوع ۱۶

تقلیدپر گفتگو ۱۷

تقلید ۱۷

ایسا کیوں نہیں ؟ ۱۷

نجاست پر گفتگو ۲۲


۴ ۔منی ۲۳

۵ ۔خون ۲۳

۶ ۔کتا ۲۴

۷ ۔سور ۲۴

۸ ۔شراب ۲۴

۱۰ ۔ نجاست کھانے والے حیوان کا پسینہ ۲۴

پہلاقاعدہ ۲۵

دوسرا قاعدہ ۲۵

تیسرا قاعدہ ۲۵

چوتھا قاعدہ ۲۶

طہارت پر گفتگو ۲۶

۱ ۔ کثیرپانی ۲۸

۲ ۔کنویں کا پانی۔ ۲۸

۳ ۔جاری پانی ۔ ۲۸

۴ ۔ بارش کا پانی ۲۸

( ۲)( دوسرا مطہر) سورج ۳۱

( ۳) تیسرا مطہر ۳۱

( ۴) ( چوتھا مطہر) زمین ۳۲

( ۵)( پانچواں مطہر) تبعیت ۳۲

( ۶)( چھٹا مطہر) اسلام ۳۳


( ۷)( ساتواں مطہر) بالغ مسلمان یا ممیز بچہ کا غائب ہونا۔ ۳۳

( ۸)( اٹھواں مطہر) انتقال ۳۳

( ۹)( نواں مطہر) استحالہ ۳۴

( ۱۰) دسواں مطہر ۳۴

( ۱۱)( گیارہواں مطہر) انقلاب ۳۴

( ۱۲)( بارہواں مطہر) نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء۔ ۳۵

جنابت پر گفتگو ۳۵

حدث اکبر ۳۶

حدث اصغر ۳۶

اول: ۳۶

دوم: ۳۷

حیض پر گفتگو ۳۹

حیض کا سبب ۳۹

نفاس پر گفتگو ۴۲

استحاضہ پر گفتگو ۴۴

موت پر گفتگو ۴۹

وضو پر گفتگو ۵۸

الف ۔ترتیب ۵۹

ب۔ موالات ۵۹

پہلا قاعدہ ۶۰


دوسرا قاعدہ ۶۱

تیسرا قاعدہ ۶۱

غسل پر گفتگو ۶۱

”ارتماسی اور ترتیبی“ ۶۲

تیمم پر گفتگو ۶۵

جبیرہ پر گفتگو ۶۹