یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب: آسان مسائل (حصہ دوم) )
فتاوی: حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی سیستانی مدظلہ العالی
ترتیب: عبد الہادی محمد تقی الحکیم
ترجمہ: سید نیاز حیدر حسینی
تصحیح: ریاض حسین جعفری فاضل قم
ناشر: مؤسسہ امام علی،قم القدسہ، ایران
کمپوزنگ: ابو محمد حیدری
توجہ
وہ احکام شریعہ کہ جو دو بریکٹوں () کے درمیان بیان ھوۓ ھیں، ان سے مراد احتیاط ھے، آپ کو اختیار ھے کہ احتیاط واجب کی صورت میں اسی پر عمل کریں یا پھر اس مسئلہ میں کسی دوسرے مجتھد کی تقلید کریں، لیکن اس میں بھی اعلم کی مراعات ھونی چاہئے۔
دفترمرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی الحسینی سیستانی مدظلہ العالی
قم المقدسہ، اسلامی حمھوری ایران
مقدمہ
( رب اشر ح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدةمن لسانی یفقهوا قولی )
اے میرے رب ؛میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے کام کو آسان کردے، اور میری زبان کی گرہوں کوکھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکیں۔،،
الحمد لله رب العالمین والصلا ة والسلام علی سیدنا محمد وآله الطیبین الطاهرین
میں نے کوشش کی ھے کہ میری کتاب ،،الفتاوی المیسرہ،، کی روش سادہ، عام فہم، آسان، مکلفین ومولفین اور قارئین کے لئے جوروزمرہ اور عام بول چال کی زبان ھے، اس پرمبنی ہواور میں نے حتی الامکان کوشش کی ھے کہ فقہی پیچیدہ اور مشکل اصطلات کوآسان اسلوب میں بیان کروں۔ اس جدید اور عام فہم اسلوب سے پڑھنے والے کا شوق بتدریج بڑھےگا اور اس کا میلان اس کو اپنے احکام دینی پراحاطہ کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا۔
میں نے صرف ان اہم احکام کو اختیار کیا ھے جن کی مکلفین کوضرورت ھے۔۔اگر مکلفین اس سے زیادہ جانناچاہتے ہیں تو وہ اپنی وسعت کے مطابق فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں اور دوسرے رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔
دوسری بات یہ ھے کہ پڑھنےوالے کے دل میں علم فقہ اورعلم خلاق کی قربت کا احیاء اور اس کے عمل اور روح عمل کے درمیان ربط پیدا کرنا ہے۔
اس کتاب کوتین حصوں پر تقسیم کیاگیا ھے ۔
پہلا حصہ
ہم نے پہلے حصے کو عبادت سے مخصوص کیا ھے اور پھر عبادت کو نمازسے مخصوص قرار دیا ہے کیونکہ نمازاسلام کا وہ اہم رکن ھے کہ جس کے بارے میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نےارشاد فرمایا ھے:
”الصلوة عمو د الد ین ان قبلت قبل ما سواها وان ردت ردما سواها “
نمازدین کا ستون ھے اگر نماز قول ہوگی تو تمام اعمال قبول ہوجائیں گے اور اگرنماز ردکردی گی تو تمام اعمال ردکردیے جایں گے،،
نماز تمام عبادات کا محور اور ان کا قلب ،اس لیے کہ
”لا صلوة الا بطهور “
”نمازطہارت کے بغیر نہیں ہو سکتی“
پس بحث کا پیکر چاہتا ہے کہ نمازتک پہنچنے کے لئے تقلید کی گفتگو کے بعد ان نجاسات کا بیان شروع کروں کہ جو طہارت کو ختم کردیتے ہیں۔ پھران مطہرات کاذکر کروں کہ جو طہارت بدن کا سبب بنتے ہیں۔اور ان سب کو بیان کرنےکے بعد نماز تک جا ؤں،کیوںکہ نمازتک پہنچنے کے لیے یہی مناسب ھے کہ نمازجیسی اہم عبادات بھی طہارات و پاکیزگی چاہتی ہیں جیسےروزہ وحج وغیرہ۔
حصہ دوم
میں نے دوسرے حصے کو معاملات سے مخصوص کیا ہے جیسے بیع وشراء [خرید وفروخت] وکالت، اجارہ اور شرکت وغیرہ۔
حصہ سوم
تیسرے حصہ کوانسان کےاحوال سے مخصوص کیا ھے۔جیسے نکاح،طلاق، نذرو عہداور قسم وغیرہ۔
اس کے فورابعد امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے بارے میں گفتگوکی ھے۔ بحث کا اختتام دو مختلف قسموں پر ختم ھوا ھے اور اس بیان کے مطابق موضوعات کو مندرجہ ذیل سلسلہ کے مطابق منظم کیا ھے =
تقلید سے متعلق گفتگو، نجاست کے متعلق گفتگو، طہارت سے متعق گفتگو، جنابت، حیض،نفاس، استحاضہ،میت،وضو، غسل، تیمم، جبیرہ، نماز،دوسری نمازیں، روزہ، حج، زکو ۃ،خمس، تجارت اور اس کے متعلقات، نکاح، طلاق، نذروعہد، وصیت، میراث،اور امربالمروف ونہی عن المنکر سےمتعلق الگ الگ گفتگو کی گی ھے۔
اس کتاب کا نسخہ نجف اشرف میں حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی حسینی سیستانی مدظلہ العالی کے دفتر کی طرف سےخواہش مند حضرات کو اس تاکید کے ساتھہ دیا گیا ہے کہ یہ آ نحضرت کے فتوؤں کے مطابق ہے اور ان کے دفتر کی طرف سے اس نسخہ پر لازمی و ضروری اصلاح بھی ھوئی ہے تا کہ کتاب کا یہ نسخہ اس کے بعد آنحضرت کے فتوؤں کے مطابق کامل ھوجائے۔
امید ہے کہ اپنے مقصد و ہدف میں کا میاب ہو گیا ہوں اور میں ان لو گوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس کام میں میرے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ خصوصی طور پر میں ان رفقاء کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ جو نجف اشرف میں معظم کے دفتر میں بر سر پیکار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھ کو بروز قیامت ان لو گوں کے سا تھ محشور فرما ئے جن کے متعلق قرآن میں ہے :
”اوتی کتابہ بیمینہ فیقول ھا ؤ م اقروا کتا بیہ “جس کا نو شتہ اس کے دا ہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا لو آؤ میرے نو شتہ کو پڑھو اور میرا عمل خالص صرف اسی کے لئے قرار پائے ۔( یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم )
”اس روز نہ مال کام آئے گا اور نہ اولا د کام آئے گی مگر جس کو اللہ قلب سلیم عنایت کردے“
( ربنا لا تو اخذ نا ان نسینا او خطا نا )
”پا لنے والے ہماری خطا و نسیان کی باز پرس نہ فرما“
”غفر انک ربنا و الیک المسیر “
”اے ہمارے رب تو بخشنے والا ہے اور تیری ہی طر ف باز گشت ہے “
والحمد لله رب العالمین
ترتیب عبدالہادی محمد تقی الحکیم ۔
نماز کے بارے میں گفتگو
نماز کے مسائل
ہاں۔ ہم اپنی گفتگو کا آغاز نماز سے کریں گے،میرے والد نے فرمایا: نماز (جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے : ”عمود دین“ ہے۔)
”ان قبلت قبل ما سواها، و ان ردت رد ماسواها “۔
”اگر نماز قبول ہوگئی تو ہر چیزقبول ہوجائیگی اوراگر وہ ردکردی گئی تو تمام چیزیں رد کردی جائیں گی“میرے والد نے مزیدفرمایا کہ نماز خالق ومخلوق کے درمیان ایک معین وثابت ملاقاتوں کی جگہ ہے اللہ تعالی نے اس کے اوقات ‘اس کے طریقہ‘اس کی صورتوں،اس کی کیفیات کواپنے بندوں کیلئے مقرر کیاہے تم نمازکے دوران اس کے سامنے اپنی عقل وقلب اور اعضاء وجوارح کواس کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کھڑے ہوجاؤ اس سے بات اور مناجات کرو پس تم پر لازم ہے کہ مناجات کے دوران صفائے قلب وذہن کے ساتھ اشک ریزی کرو(آنسوبہاؤ) اور شفاف روح کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔
اس طرح کہ جیسے اس کے سامنے کھڑے ہو اور اسی کے ساتھ اس کی ملاقات اور اس کے وصال کی لذت وسعادت کی نعمت سے لطف اندوزہوتے ہو اور یہ فطری بات ہے کہ اس کی محبت تم پر خوف کے ساتھ طاری ہوگی کیونکہ تم اپنے ایسے خالق کے سامنے کھڑے ہوگے کہ جوعظیم اور تم پر رحیم ہے اور تمہارے حال پر مہربان ہے‘ اور سمیع وبصیر ہے۔
آپ کے مولا حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنے رب کی عبادت میں پوری طرح مستغرق رہتے اور ہر وقت اس کی طرف اس طرح متوجہ رہتے کہ جنگ صفین میں آپ کے جسم سے تیر نکالا گیا تو اس کا دردو الم آپ کو اپنے رب کی مناجات سے نہ روک سکا۔
امام حضرت زین العابدین علیہ السلام جب وضو کرتے تو آپ کا رنگ زرد پڑجاتا آپ کے گھروالوں میں سے کسی نے پوچھاآپ کا وضو کے وقت یہ کیا حال ہوجاتا ہے؟تو آپ نے جواب میں فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں کس کے سامنے کھڑے ہونے جارہا ہوں اور جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ کے جسم میں لرزہ پڑجاتا کسی نے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا :
”میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا چاہتاہوں اور اس سے مناجات کرنا چاہتاہوں تو میرے جسم میں لرزہ پڑجاتاہے “۔
اور جب تمہارے امام حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام گوشہ تنہائی میں نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو روتے اور آپ کے جسم کے اعضاء میں اضطراب پیدا ہوجاتا اور آپ کے قلب(مبارک) میں خوف خدا سے حزن واندوہ پیدا ہو جاتاتھا۔
اور جب آپ کو ہارون رشید کے تاریک اور وحشتناک قید خانہ میں لے جایا گیا تو وہاں آپ خدا کی اطاعت وعبادت میں مشغول ہوگئے اور اس بہترین وپسندیدہ فرصت کے مہیا ہونے پر اپنے پروردگار کا شکر بجالائے اور اپنے پروردگارکومخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں”میں نے تجھ سے عرض کیا تھا کہ مجھے اپنی عبادت کا موقعہ عنایت فرماتو نے میری اس دعا کو قبول کیا لہٰذا میں تیری اس چیزپر حمدوثنا بجالاتاہوں۔
اور میرے والد نے بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا نماز نفس کی اندرونی خواہش وکیفیت کی ظاہری حالت اور ایسے خدا سے لگاؤ اور ربط کانام ہے جوکائنات کا خالق‘غالب‘ مالک اور سب کا نگہبان ہے۔جس وقت تم اپنی نماز کو شروع کرتے ہوئے (اللہ اکبر ) کہتے ہو تو مادیات اور اس کی راہ وروش اور اسی کی زیب وزینت تمام کی تمام تمہارے نفس میں سے دور ہوجاتی ہے اور تم اکثر مضمحل ہوجاتے ہو کیونکہ تم اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہو کہ جو خالق کائنات اور اس پر غالب ہے جس نے اس دنیا کو اپنی مشئیت کے مطابق مسخر کیا ہے پس وہ ہر چیز سے بڑا عظیم ہے اور ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے اور جس وقت تم سورة الحمد کی قرائت کرتے ہو ایاک نعبدوایاک نستعین تو تم اپنے نفس اور جسم کو اللہ قادرو حکیم کی استعانت کے علاوہ کسی دوسری استعانت کے اثر سے پاک وصاف کرلیتے ہو۔(یعنی صرف اللہ سے استعانت چاہتے ہو کسی اور سے نہیں )اور یہ خشوع کی پسندیدہ عادت ہر روز پانچ مرتبہ حتمی ہوجاتی ہے صبح ظہر،عصر،مغرب،اور عشاء،اور اگر تم چاہو اس میں مستحب نمازوں کا اضافہ کر سکتے ہو۔
سوال: اس کے معنی یہ ہوئے کہ نمازیں واجب اور مستحب دونوں ہیں؟
جواب: ہاں کچھ نمازیں واجب اورکچھ دوسری نمازیں مستحب ہیں؟
سوال: واجب نمازیں کو تو میں جان گیا کہ جوہرروزادا کی جاتی ہیں وہ صبح‘ظہر‘عصر،مغرب اور عشاء،ہیں؟
جواب: نہیں فقط یہی نمازیںواجب نہیں ہیں بلکہ کچھ دوسری نمازیں بھی واجب ہیں اور وہ یہ ہیں۔
۱ نماز آیات (دوسری نمازکی بحث میں دیکھیے)
۲ نماز طواف حج اور عمرہ کے وقت (حج کی بحث میں دیکھیئے)
۳ نماز میت (میت کے بیان میں دیکھیے)
۴ باپ کی وہ قضا نمازیں جو اس نے پڑھی نہیں ہیں (اس حیثیت سے کہ اس کے بڑے بیٹے پر اس کی موت کے بعد اس کی نمازکی قضا واجب ہے۔)
۵ وہ نماز جو اجارہ یا نذریا قسم یا ان دونوں کے علاوہ واجب ہو جاتی ہے اور وہ نماز مختلف حالات کی بناپر بدلتی رہتی ہے۔
اس کے علاوہ مقدمات نماز پانچ ہیں اور وہ یہ ہیں
۱ وقت نماز
۲ قبلہ
۳ نماز کی جگہ
۴ نمازی کا لباس
۵ نماز کی حالت میں طہارت
میرے والد نے فرمایا کہ تم یہ خیال نہ کرنا کہ یہ مقدمات نماز یومیہ کے علاوہ دوسری نمازوں میں واجب نہیں ہیں چاہے وہ واجب ہوں یا مستحب، شرط اول (وقت) کے علاوہ تمام شرائط دوسری نمازوں میں واجب ہیں جن کی تفصیل انشاء اللہ بیان کی جاءے گے اور اب تفصیل کے ساتھ اس مقدمات میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ الگ بیان کرتاہوں
سوال: وقت نماز سے شروع کیجئے؟
جواب: ہاں ان مقدمات میں وقت سب سے زیادہ بہتر ہے ۔
۱ ۔ نمازکا وقت
نماز یومیہ کا وقت معین ہوتا ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی جائز نہیں ہے پس نماز صبح کا وقت صبح (صادق) سے سورج کے نکلنے تک ہے اور نماز ظہرین (ظہروعصر)کا وقت زوال شمس سے غروب تک ہے اور اول وقت ظہر سے مخصوص ہے اور آخروقت عصرسے مخصوص ہے ان دونوں کی ادا کے مقدار کے مطابق ۔
سوال: میں زوال کو کس طرح پہچانوں کہ یہی وہ وقت ہے کہ جس میں نماز ظہرین پڑھی جاتی ہے؟
جواب: زوال کا وقت طلوع شمس اور غروب شمس کا درمیانی وقت ہے لیکن نماز مغربین (مغرب وعشاء کا وقت اول مغرب سے آدھی رات تک ہے پہلا مخصوص وقت نماز مغرب سے ہے اور آخر وقت نماز عشاء سےمخصوص ہے ان دونوں کے ادا کرنے کے مطابق تم نماز مغرب کومشرق کی سرخی زائل ہوجانے کے بعد پڑھ سکتے ہو۔
سوال: یہ حمرہ مشرقیہ کیا ہے(مشرق کی سرخی)؟
جواب: وہ آسمان میں مشرق کی طرف ایک سرخی ہے جوکہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ کے مقابل ہوتی ہے جب سورج بالکل غروب ہو جاتاہے تو وہ زائل ہوجاتی ہے ۔
سوال: میں کیسے آدھی رات کو معین کروں کہ یہ وقت نماز عشاء کا آخری وقت ہے؟
جواب: سورج کے ڈوبنے اور صبح (صادق) کے نکلنے کا درمیانی وقت نصف لیل یعنی آدھی رات ہے ۔
سوال: اگر رات آدھی یا زیادہ گزرگئی اور میں نے نماز مغربین جان کر نہیں پڑھی تو کیا حکم ہے۔
جواب: تم پر واجب ہے کہ جلدی سے صبح کے نکلنے سے پہلے دونوں نمازوں کو بقصد قربت مطلقہ پڑھو یعنی نماز کی ادا اور قضاء کاذکر نہ کرو۔
سوال: نماز میں جو چیز اہم ہے اس کا لحاظ رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ ہر نماز کو شروع کرنے سے پہلے اس کے وقت کے داخل ہوجانے کا یقین ہو جانا چاہیے وہ نماز صبح ہویا ظہر یا عصر یا مغرب یا عشاء کی ہو۔
( ۲) قبلہ
نماز کی حالت میں تم پر قبلہ رخ ہونا واجب ہے اور قبلہ وہ جگہ ہے جیسا کہ تم جانتے ہو۔ جہاں مکہ میں کعبہ محترم واقع ہے ،
سوال: اور جب بہت جدوجہد اور ان تمام حجتوں کے بعد بھی جن پر بھروسہ رکھ کرقبلہ کی سمت تعین کیا جاسکتا ہے قبلہ کی سمت کو معلوم کرنے پر قادر نہ ہوسکوں تو؟
جواب: جس سمت قبلہ کا تم کو ظن ہو اس سمت نماز پڑھتو۔
سوال: اور اگر ایک سمت کو دوسری سمت پر ترجیح نہ دے سکوں تو؟
جواب: جس سمت قبلہ کا تم کو ظن ہو اس سمت نماز پڑھ لو۔
سوال: اور جب میں کسی ایک سمت کے متعلق عقیدہ پیدا کرلوں کہ یہ قبلہ کی سمت ہے اور نماز پڑھ لوں پھر نماز کے بعد معلوں ہوجائے کہ میں نے خطا کی ہے؟
جواب: جب تمہارا انحراف قبلہ سے صرف دائیں یا بائیں جانب کے درمیان ہوتو تمہاری نمازصحیح ہے ،اور اگر تمہارا قبلہ سے انحراف اس قدر زیادہ ہو یا تمہاری نماز قبلہ کی سمت سے برعکس ہو اور ابھی نماز کا وقت بھی نہیں گزرا تو نماز کا اعادہ کرو اور اگر نماز کا وقت گزر گیا ہو تو نماز کی قضا واجب نہیں ہے
( ۳) نمازی کا مکان
اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ تمہاری نماز کی جگہ مباح ہو کیونکہ نماز غصبی جگہ پر صحیح نہیں ہے اور غصی جگہ میں وہ چیز شمار ہوگی کہ جس کا خمس واجب ہو اور نہ دیا گیا ہو ،چاہے گھر ہو یا ان دونوں کے علاوہ کوئی اور چیز اور تفصیل کے ساتھ تم کو اس کی شرح (خمس کی بحث میں دی جائیگی) یہاں صرف ضرورت کے تحت اشارہ کردیا ورنہ غفلت، چشم پوشی،لاپرواہی جہنم میں جانے سے نہیں روک سکتی، بہت سے ایسے ہیں کہ جنھوں نے اپنے اموال میں سے حق خدا کو نہ نکالا اور وہ جہنم میں چلے گئے‘
سوال: فرض کیجئے زمین غصبی نہیں ہے لیکن اس پر جو فرش بچھا ہے وہ غصبی ہے تو کیا یہی حکم رہے گا؟
جواب: یہی حکم ہے ،کہ تمھاری نماز اس فرش پر صحیح نہیں ہے میرے والد نے مزید فرمایا کہ تمھارے سجدے کی جگہ پاک ہونی چاہئے ۔
سوال: آپ کامقصد سجدہ کی جگہ سے پیشانی کی جگہ ہے؟
جواب: ہاں صرف سجدے کی جگہ کی طہارت یعنی سجدہ گاہ یا جس پر تم سجدہ کررہے ہو (وہ پاک ہو)۔
سوال: اور نماز کی باقی جگہ مثلاً دونوں پاؤں کی جگہ یاوہ جگہ کہ جس کو نماز میں پورا جسم گھیرے ہوئے ہے؟
جواب: اس میں طہارت شرط نہیں ہے پس اگر سجدے کی جگہ کے علاوہ دوسری جگہ نجس ہو اور اس جگہ کی تری جسم اور لباس تک سرایت نہ کرے تو اس جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے یہاں پھر چندموضوعات باقی رہ گئے ہیں جو نمازپڑھنے والے کی جگہ سے مخصوص ہیں میں ان کو تمہارے لئے چند صورتوں میں بیان کرتاہوں۔
( ۱) نماز میں اور نماز کے علاوہ کسی صورت میں معصومین کی قبورکی طرف پشت کرنا جب کہ پشت کرنے سے بے ادبی ہوتی ہو جائز نہیں ہے۔
(ب) مرد اور عورت کی نماز صحیح نہیں ہے جب وہ دونوں ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہوں یا عورت مرد سے آگے کھڑی ہو مگریہ کہ دونوں کے کھڑے ہونے کے درمیان دس ہاتھ سے زیادہ فاصلہ ہویا، ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو مثلاً دیوار۔
جواب: نماز کا پڑھنا مسجدوں میں مستحب ہے مساجد میں سب سے زیادہ افضل نماز کا پڑھنا مسجد الحرام‘مسجد نبوی مسجد کوفہ اور مسجد اقصی میں ہے اسی طرح آئمہ معصومین علیہم السلام کے مقدس روضوں میں نماز کا پڑھنا مستحب ہے ۔
(د) عورت کے لئے افضل ہے کہ وہ اپنی نماز پڑھنے کے لئے زیادہ تر ایسی جگہ کا انتخاب کرے کہ جہاں بالکل تنہائی ہواور کوئی نامحرم اس کو نہ دیکھے حتی کہ اپنے گھرمیں بھی ایسی ہی جگہ کا انتخاب کرے۔
۴ ۔نمازپڑھنے والے کالباس اور اس میں چندشرطیں ہیں
لباس پاک ہو اور غصبی نہ ہو لباس کے مباح ہونے کی شرط یہ ہے کہ صرف شرمگاہ کو چھپانے والا لباس مباح ہو اور یہ چیزمردو عورت کے درمیان مختلف ہے مردکے لئے کچھ اندرونی لباس کا مباح ہوناکافی ہے مثلاٌ جانگیہ (کم از کم اتنا لباس مرد کا مباح ہوجب کہ عورت کے لئے اتنا کافی نہیں ہے کیونکہ نماز میں عورت کے لباس کا دائرہ وسیع ہے اور وہ تمام بدن کا چھپانا ہے،سوائے ان اعضاء کے کہ جو چھپانے سے مستثنی رکھے گئے ہیں (یعنی چہرہ ہاتھ گٹوں تک اور پاؤں کا ظاہری حصہ)۔
ب لباس مردار کے ان اجزاء کا نہ ہو کہ جن میں جان ہوتی ہے جیسے اس حیوان کی کھال کہ جو شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا گیا ہو (اگرچہ وہ لباس اس کی شرمگاہ کو بھی نہ چھپاتا ہو،یعنی نمازی کے ہمراہ ان اجزاء میں سے کوئی چیز نہ ہو)
سوال: کیا اس کھال کی بلٹ میں نماز پڑھنا صحیح ہے کہ جو کسی مسلمان کے ہاتھ سے خریدی ہوئی ہو یا اسلامی ممالک میں بنائی گئی ہو جب کہ اس کا تذکیہ معلوم نہ ہو؟
جواب: ہاں اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔
سوال: اور کھال کی وہ بلٹ جو کافر سے لی گئی ہو یا کافروں کے ممالک میں بنائی گئی ہو؟
جواب: ہاں اسمیں بھی نماز پڑھنا صحیح ہے( مگریہ کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ یہ غیر مذ کی حیوان کی کھال سے بنی ہے تو پھر نماز صحیح نہیں ہے)
سوال: جب کہ اس کھال کی بلٹ کے بارے میں یقین نہ ہو مثلا معلوم نہ ہوکہ اصلی کھال کی ہے یا نقلی؟ توکیا حکم ہے؟
جواب: مذکورہ تمام حالات میں اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے ۔
الف نمازی کا لباس درندوں کے اجزاء کا بنا ہوا نہ اور اس مقدار میں نہ ہوکہ جس میں شرمگاہ چھپائی جاسکتی ہو اور نہ درندوں کے علاوہ ان جانوروں کا ہو کہ جن کا گو شت نہ کھایا جاتا ہو
ب مردوں کا لباس خالص ریشم کا نہ ہو،لیکن عورتوں کے لئے خالص ریشم کے لباس میں نماز پڑھنا جائز ہے ۔
ج مردوں کےلئے خالص سونے کے تاروں کا بنا ہوا لباس نہ ہو یا سونے کے تار اس میں اتنے مخلوط نہ ہوں کہ جس پر سونے کانام صادق آئے ہاں اگر بہت کم سونے کے تارہوں تو کوئی حرج نہیں۔
سوال: اور اگر (سونے کی انگوٹھی یا سونے کا چھلہ یا کڑا ہاتھ میں ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر سونے کی انگوٹھی یا سونے کا چھلہ یا کڑا ہاتھ میں ہوتو مردکا اس کے ساتھ نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے اسی طرح مردکے لئے ہمیشہ سونے کا لبا س پہنا حرام ہے۔
سوال : کیا نماز کے علاوہ بھی مرد کو سونا پہننا حرام ہے ؟
جواب : جی ہاں۔
سوال: سونے کے وہ دانت جو بعض مرد بنواتے ہیں اور سونے کی وہ گھڑی جو بعض لوگ جیب میں رکھتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: یہ چیزیں جائز ہیں اور ان کے ساتھ ان لوگوں کا نماز پڑھنا جائز ہے
سوال: کسی مرد کو معلوم نہیں کہ اس کی انگوٹھی سونے کی ہے اور وہ اس میں نماز پڑھ لے معلوم ہو لیکن بھول کر نماز پڑھ لے،اور پھر نماز کے بعد اس کو معلوم ہوجا ئے، یا اس کو بتایا جائے،تواس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس کی نماز صحیح ہے۔
سوال: اور عورتوں کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب: ان کے لئے ہمیشہ سونے کا لباس پہننا اور اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔
اب نمازی کے لباس میں جواہم چیزہے وہ یہ کہ نماز میں مرد پر شرمگاہ کا کتنا چھپانا واجب ہے تو اس کی مقدار صرف عضوتناسل ،دونوں بیضہ، اور پاخانے کا مقام چھپانا واجب ہے،عورت پر نماز کی حالت میں پورے جسم کا چھپانا واجب ہے یہاں تک کہ بالوں کا بھی چھپانا واجب ہے اگر چہ وہ تنہاہی کیوں نہ ہو،اور اس کو کوئی دیکھ بھی نہ رہا ہو،سوائے اس چہرہ کے کہ جس کو عموماً اوڑھنی نہیں چھپاتی کہ اس کا پلو کاندھے پر ڈالا جائے،اور دونوں ہاتھ کلائیوں تک اور دونوں پیر انگلیوں کے سرے سے گٹوں تک ۔
یہ تمام کے تمام مقدمات نماز تھے میرے والد نے فرمایا نماز خود چند واجب اجزاء کا ایک مرکب عمل ہے اور وہ اجزاء یہ ہیں نیت،تکبیرة الاحرام‘قیام،قرائت،ذکر،رکوع،سجدے،تشھد،اور،سلام ،ان اجزاء میں ترتیب اور موالات کا لحاظ رکھا جائیگا جیسا کہ آپ کو آئندہ معلوم ہوگا۔
سوال: آپ نے نماز کے بیان کو اذان واقامت سے شروع کیوں نہ کیا ؟
جواب: اس سے پہلے کہ آپ کو میں اس سوال کا جواب دوں ضروری ہے کہ آپ کو ان اجزاء کے بارے میں بتاؤں کہ ان میں سے کچھ کا نام ارکان ہے اور وہ نیت، تکبیرة الاحرام‘قیام،رکوع اور سجدے ہیں ۔
میں نے تمام اجزاء میں صرف ان کو خصوصیا ت کے ساتھ اس لئے بیان کیا کہ یہ نماز کے باطل ہونے میں ایک خاصیت رکھتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر ان میں سے کوئی عمداً یاسہواًً کم یا زیادہ ہوجائے تو نماز باطل ہوجاتی ہے لہٰذا یہ اپنے اس نام میں امتیاز رکھتے ہیں۔
اب آپ کے سوال کا جواب دیتاہوں ۔
اذان واقامت نماز پنجگانہ میں مستحب موکدہ ہیں (سنت موکدہ) بہتر ہے کہ نمازی ان کو بجالائے لیکن اگر ترک بھی کردے تو نماز صحیح ہے۔
اس کے بعد میرے والد نے فوراً نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
میں آپ سے تمنا کرتاہوں کہ آپ اپنی پنجگانہ نماز میں اذان واقامت کو ترک نہ کریں ورنہ ان دونوں کا ثواب کم ہوجائے گا۔
سوال: جب میں چاہوں کہ اذان دوں تو کس طرح اذان دوں؟
جواب: تو فرمایا : تم کہو۔
اَللّٰهُ اکبَرُ چار مرتبہ
اشهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ دومرتبہ
اٴَشْهَدُ اٴَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰهُ دو مرتبہ
”اَشهدان علیا ولی الله “۔۔۔ دو مرتبہ
حَیَّ عَلَی الصَّلاَةِ دو مرتبہ
حَیَّ عَلَی الْفلَاَحِ دو مرتبہ
حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ دو مرتبہ
اٴَللّٰهُ اٴَکْبَرُ دومرتبہ
لَاَ اٴِلٰهَ اٴِلاَّ اللّٰه دو مرتبہ
سوال: اقامت کس طرح کہیں؟
جواب: قامت میں کہیں:
اٴَللّٰهُ اٴَکْبَرُ دو مرتبہ
اٴَشْهَدُ اٴَنْ لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ دومرتبہ
اٴَشْهَدُ اٴَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰهُ دو مرتبہ
”اشهدان علیا ولی الله “۔۔۔ دو مرتبہ
حَیَّ عَلَی الصَّلاَةِ دو مرتبہ
حَیَّ عَلَی الْفلَاَحِ دو مرتبہ
حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ دو مرتبہ
اٴَللّٰهُ اٴَکْبَرُ دومرتبہ
لَاَ اٴِلٰهَ اٴِلاَّ اللّٰه ایک مرتبہ
سوال: اور امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کی شہادت؟
جواب: آپؑ کی ولایت کی شہادت رسالت کی شہادت کی تکمیل ہے اور مستحب ہے۔ لیکن اذان واقامت کا جزء نہیں ہے۔
نیت
سوال: اس بناپر کیا اجزاء نماز میں پہلا جزء وہی ہے جوآپ نے بتایا یعنی نیت ؟
جواب: ہاں۔
سو ال : نماز کی نیت کیسے کی جائے گی؟
جواب: نماز میں تمہارا قصد فرمان الٰہی کو بجالانے کے لئے ہو یعنی نماز کی نسبت اللہ تعالی کی طرف ہو اور یہ نسبت تذلیلی ہو،چاہتا ہوں تم کو اضافہ تذلیلیہ کے بارے میں واضح طور پرسمجھا ؤں۔
اضافہ تذلیلیہ ( نسبت تذلیلی) ایک ایسا عمل ہے جو افعال عبادی سے قریب ہے‘اس کے ذریعہ انسان میں ایک شعوری کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کہ وہ مولائےجلیل سجانہ وتعالی کے سامنے ایک عید ذلیل ہے۔
سوال: کیا نیت کے لئے کوئی لفظ مخصوص ہے؟
جواب: ہرگز نہیں نیت ایک عمل قلبی ہے زبانی عمل نہیں،لہٰذا اس کے لئے کوئی لفظ معین نہیں،اس کا محل قلب ہے اگر تمہارا مقصد نماز میں تقرب الی اللہ نہیں ہے، کہ جس کی تائید تمہارے حرکات کریں گے۔ تو تمہاری نماز باطل ہے۔
دوسرے۔ تکبیرة الاحرام
س یہ تکبیرة الاحرام کیا ہے؟
جواب: تمہارااللہ اکبر کہنا اس حالت میں کہ تم اپنے قدموں پر کھڑے اور اپنی جگہ ساکت ہوکر قبلہ کی طرف رخ کرکے عربی زبان میں اس کو ادا کرو‘کلمہ( اکبر) کی ہمزہ کی آواز کو واضح طور پر اور اسی طرح تمام حروف اپنی زبان پر جاری کرو،اور افضل یہ ہے کہ تکبیرة الاحرام اور سورالحمد کے درمیان تم تھوڑا ساخاموش رہ کر فاصلہ پیدا کرو تاکہ تکبیر کی آخری (راء) سورالحمد سے مل نہ جائے۔
سوال: آپ نے مجھ سے فرمایا: حالت قیام میں تم پر تکبیرۃ الاحرام کہنا واجب ہے،اگر میں مریض ہوجاؤں اور اپنے قدموں پر کھڑانہ ہو سکوں،اگرچہ عصا یا دیوار کایا ان دونوں کے علاوہ کسی اورچیز کا سہارا بھی نہ لے سکوں تو میں پھر نمازکس طرح پڑھوں؟
جواب تم بیٹھ کر نماز پڑھو،اگر یہ بھی ممکن نہیں تو پھرلیٹ کر،بائیں کروٹ یا داہنی کروٹ چہرہ کو قبلہ رخ کرکے نماز پڑھوں اور واجب ہے کہ امکان کی صورت میں داہنی کروٹ کو بائیں کروٹ پر مقدم کرو)
سوال: اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو؟
جواب: تو تم چت لیٹ کر اس طرح کہ تمہارے پاؤں قبلہ کی طرف ہوں نماز پڑھو۔
سوال: جب کہ میں تکبیرة الاحرام کو قیام کی حالت میں کہہ سکتا ہوں مگر اس قیام کو جاری نہیں رکھ سکتا تو کیا کروں؟
جواب: قیام کی حالت میں تکبیر کہو اور باقی نماز کو بیٹھ کریا لیٹ کر جیسا بھی آپ کے لئے مناسب ہوپڑھو۔
تیسرے۔ قرائت
تکبیرۃ الاحرام کے بعد سورۂ حمد کی قرائت کرو( اور اس کے بعد کسی دوسرے سورة کی کامل قرائت کرو)صحیح قرائت ،اس میں کسی قسم کی بھول چوک نہیں ہونی چاہیے اور سورة توبہ کے علاوہ ہر سورة کے شروع میں بسم اللہ پڑھنی چاہیے جیساکہ قرآن مجید میں حکم ہے۔
سوال: اگر سورہ حمد کے بعد دوسرا سورہ پڑھنے کے لئے وقت میں گنجائش نہ ہوتو؟
جواب: دوسرے سورہ کو نہ پڑھو، اور صرف سورہ الحمد کی قرائت کرو، اسی طرح اگر تم مریض ہو اور دوسرے سورہ کو پڑھنے کی قوت نہیں رکھتے یا کسی چیز کا خوف ہویا جلدی ہو تو دوسرے سورہ کو ترک کرسکتے ہو۔
جواب: دونوں سوروّں کو کس طرح پڑھوں ؟
سوال: مرد پر نماز صبح اور مغرب وعشاء میں دو کا با آواز بلند پڑھنا واجب ہے اور نماز ظہرو عصر میں دونوں کا آہستہ پڑھنا واجب ہے۔
سوال: اور عورتوں کے لئے؟
جواب: عورت بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتی،نماز ظہرین میں اس پر واجب ہے کہ آہستہ پڑھے۔
سوال: جب کہ میں نماز میں حکم جہر واخفات (بلند آواز اور آہستہ ) سے جاہل ہوں یا بھول کردونوں سورتوں کو یا ان میں سے کچھ کو بلند آوازمیں پڑھ لیا جبکہ میری نماز ظہرو عصر ہے یعنی میں نے حکم کے خلاف کیا تو کیا حکم ہے؟
جواب: تمہاری نماز صحیح ہے ۔
سوال: یہ پہلی اور دوسری رکعت کے بارے میں تھا، تیسری اور چوتھی رکعت میں کیا پڑھوں؟
جواب: تم کو تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۂ حمد اور تسبیحات اربعہ پڑھنے کے درمیان اختیار ہے،چاہے جو پڑھو،دونوں حالتوں میں آواز آہستہ ہو یعنی سورہ الحمد یا تسبیحات اربعہ کو آہستہ پڑھو سوائے بسم اللہ کے،کہ تم کو بلند آوازسے پڑھنے کا حق ہے۔ چاہے تم امام جماعت ہویا فردا پڑھ رہے ہو۔
سوال: اگر میں نے تسبیحات اربعہ کو اختیار کیا تو میں کیا پڑھوں؟
جواب: آہستہ آواز میں ایک مرتبہسُبۡحَانَ اللهِ وَالۡحَمۡدُللهِ وَلاَاِلٰهَ اِلاَّاللهُ وَاللهُ اَکۡبَرُ کہنا تمہارے لئے کافی ہے اور تین مرتبہ پڑھنا افضل ہے۔
سوال: کیا یہاں قرائت میں کوئی اور چیز بھی رہ گئی ہے؟
جواب: ہاں قرائت کرتے وقت زیادہ فصیح یہ ہے کہ تم کلمات کو حرکت دو یا آخر کلمات میں جو حرکت ہے اس کو اسی کے اعتبار سے اداکرو پس اگر کلمات کے آخری حروف ساکن ہیں تو حرکت مت لگاؤ اور جب تم کو کسی کلمہ پر وقف کرنا ہو تو زیادہ فصیح یہ ہے کہ اس کے آخری حروف کو ساکن کردو۔
پھر تم پر واجب ہے کہ حرف الف کو ذرا سا کھینچ کر پڑھو اور جب کلمہ ((ولاالضالین )) کو سورہ الحمد کے آخر میں پڑھو تو اس کے الف اور تشدید کو بصورت صحیح ادا کرو۔
سوال اور اسکے بعد؟
جواب: ہمزہ وصل کو اپنی قرائت میں اس وقت حذب کروجب درمیان کلام میں آئے اور کلام کے شروع میں (اس کو پڑھو) حذف مت کرو اور ہمزہ قطع کو اپنی زبان پر اس طرح جاری کرو کہ اچھی طرح آشکار اور واضح ہوجائے۔
سوال: ہمزہ وصل اور ہمزہ قطع کو مثال سے بیان کیجئے؟
جواب: مثلاًہمزہ ”اللہ الرحمن۔الرحیم اھدنا“ میں ہمزہ وصل ہے۔ پڑھنے کے دوران اس کو زبان پر ظاہر مت کرو اور مثلاً” انعمت ایاک“ میں ہمزہ قطع ہے اس کو پڑھنے کے دوران زبان پرواضح طور پر جاری کرو
سوال: پھرکیا؟
جواب: اگر تم چاہو تو سورہ حمد کے بعد سورہ توحید پڑھویا دوسرے سورہ میں سے جو بھی تمہارے لئے آسان ہو اس کو اختیار کرو کلمہ” احد“ کو وقف کرکے اس کو ساکن کرو جب تم آیہ کریمہ((قل هوالله احد )) کو پڑھو یعنی ذرا سا احد پر ٹھہر کر اس کے بعد والی آیہ ((الله الصمد )) میرے والد نے یہ کہہ کر مزید فرمایا:
نماز میں تمہاری قرائت زیادہ صحیح اور صاف ہونی چاہئے اس کے لئے تم کسی ایسے شخص کے سامنے نماز پڑھو جس کی نماز صحیح اور بہتر ہو،تاکہ وہ تمہاری قرائت اور نمازکو درست اور صحیح کردے،اگر تم پر یہ چیز مشکل ہوتو کم از کم دونوں(سورتوں سورہ الحمد اور اس کے بعد والے سورہ کی قرائت) میں دقت نظر سے کام لیتے ہوئے مشہور قاریوں میں سے کسی ایک کی روشنی میں قرائت کرو‘تاکہ تمہاری غلطی معلوم ہوجائے اگر غلطی معلوم ہوجائے تو اس کو صحیح کرلو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اس چیز سے کہ تم اپنے بچپنے کی جو غلط قرائت ہے اس کو جاری رکھو اور جس وقت تم پر تمہاری غلطی منکشف ہو جا ئےتو اتنا عرصہ گزرجائے کہ چند سال جو نماز تم نے پڑھی ہے وہ ایسی نماز ہوکہ جس کی قرائت صحیح نہ ہو۔
چوتھے قیام
اس کے معنی واضع ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ ذرا سا اشارہ اس کی طرف بھی کروں کہ قیا م نماز کے اجزاء میں سے ایک ایسا منفرد جز ہے کہ جس میں دو صفتیں موجود ہیں اور وہ یہ کہ وہ کبھی رکن نماز ہے جیسے تکبیرة الاحرام کی حالت میں قیام اور رکوع سے پہلے قیام کہ جس کو قیام متصل بہ رکوع سے تعبیر کیا جاتاہے ۔پس ان دونوں قیام پر رکن کے احکام اور خصوصیات مترتب ہوتے ہیں اور کبھی وہ واجبات نماز سے ہے لیکن رکن نہیں ہے جیسے قرائت اور تسبیحات اربعہ کی حالت میں قیام اور رکوع کے بعد والا قیام پس اس صورت میں اس پر واجبات نماز کے احکام جاری ہوتے ہیں جو غیر رکن ہیں ۔
پانچویں رکوع
پھردونوں سوروں کی قرائت کے بعد رکوع واجب ہے۔
سوال: میں کس طرح رکوع کروں؟
جواب: اتنا جھکو کہ تمہارے ہاتھوں کی ہتھیلیاں تمہارے گھٹنوں تک پہونچ جائیں اور جس وقت تم پورے طریقہ سے رکوع میں خم ہوجاؤ تو (سبحان ربی العظیم وبحمد) ایک مرتبہ کہو یا تین بار (سبحان اللہ) کہو یا تین مرتبہ (اللہ اکبر) یا تین مرتبہ ( الحمد للہ) کہو یا ان کے علاوہ جو بھی ذکر ممکن ہو مثلاً تین مرتبہ تہلیل (لا الہ الا اللہ) کو پھر رکوع سے سیدھے کھڑے ہوکر سجدوں کے لئے خم ہو ۔
چھٹے سجود (دونوں سجدے)
ہر رکعت میں دو سجدے واجب ہیں۔
سوال: میں کس طرح سجدے کروں؟
جواب: اپنی پیشانی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھلیاں اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے انگوٹھے زمین پر رکھو اور سجدہ کرنے میں شرط ہے کہ پیشانی ایسی چیز پر رکھو جو زمین سے ہو یا زمین سے اُ گتی ہو اور کھانے پہننے کے کام میں نہ آ تی ہو ۔
سوال: ذرا مثال سے سمجھائیے کہ کھانے اور پہننے والی چیزوں پر کیوں سجدہ جائز نہیں؟
جواب: پھل اور ترکاریاں ان پر سجدہ اس لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کھائی جاتی ہیں‘اور روئی اور کتان پر اس لئے سجدہ جائز نہیں کہ وہ پہنی جاتی ہیں ۔
سوال: مثلاً میں کس چیز پر سجدہ کروں؟
جواب: تم مٹی،ریت،کنکری اور لکڑی یا ان (درختوں کے) پتے کہ جو کھائے نہیں جاتے ان پر سجدہ کرو،تم اس کاغذ پر بھی سجدہ کرسکتے ہو کہ جو لکڑی یا روئی یا کتان سے بنایا گیا ہو سوکھی گھانس اور ان کے علاوہ بہت سی چیزوں پر بھی سجدہ کرسکتے ہو۔
گیہوں،جو،روٹی،تار کول،شیشہ پرسجدہ نہ کرو اور مٹی پر سجدہ کرنا افضل ہے،اور اس سے افضل (تربت حسین خاک شفاء) پر سجدہ کرناہے اس پر سجدہ کرنے سے نماز کی فضیلت وشرف بڑھ جاتاہے۔
سوال: اور اگر میں ان چیز وں کے(جس پر سجدہ صحیح ہے) نہ ہونے کی بناءپر یا خوف کی بناء پران کے علاوہ چیزوں پر سجدہ کروں تو کیا حکم ہے؟
جواب: اگر تم اس چیز کے نہ ہونے کی بناپر کہ جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے یاوہ چیز تمہارے لئے فراہم نہیں ہے تو پھرتارکول پر سجدہ کرو،اگر یہ نہ ملے تو پھر جس پر چاہو مثلاً گپڑا، ہتھیلی یا اگر تم تقیہ کی حالت میں ہو،تو پھر تقیہ جس بات کا متقاضی ہو اس پر سجدے کرو۔
میرے والد نے یہ کہہ کر مزید فرمایا:
یہ بات بھولنا نہ چا ہئے کہ تمھارے سجدہ کی جگہ تمہارے گھٹنوں اور انگوٹھوں کی جگہ کے برابر ہونا چاہئے پس ایک دوسرے کو چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلند نہ ہونا چاہئے(اسی طرح تمہارے سجدہ کی جگہ تمہارے کھڑے ہونے کی جگہ سے بلند نہ ہونی چا ہئے)۔
سوال: میں پیشانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں دونوں پاؤں کے انگوٹھے اور دونوں گھٹنے زمین پر رکھ کر کیا کہوں؟
جواب: تم سجدے میں جانے کے بعد (سبحان ربی الاعلی وبحمدہ) ایک مرتبہ کہو یا سبحان اللہ تین مرتبہ کہو یا اللہ اکبر یا الحمدللہ تین تین مرتبہ کہو یا ان کے علاوہ جو بھی ذکر اس مقدار کے مطابق کہو پھر اپنے سرکو بلند کرکے اطمینان کے ساتھ بیٹھو،جب تم مطمئن ہو کر بیٹھ جاؤ تو پھر دوسرا سجدہ کرو اور ذکر سجدے میں سے جو تم کو اوپر معلوم ہو اہو ،اس کو اختیار کرکے پڑھو۔
سوال: اور اگر میں سجدہ میں پورا نہ جھک سکوں کسی مرض کی بناپر مثلاً؟
جواب: جتنا تم جھک سکتے ہو اتنا جھکو اور وہ چیز کہ جس پر سجدہ صحیح ہے اس کو بلند رکھ کرپیشانی اس پررکھواور تمام اعضاء سجدہ کو انکی جگہ پر رکھو۔
سوال: اگر میں اس پر بھی قادر نہ ہوں تو؟
جواب: اپنے سرسے سجدے کی جگہ اشارہ کرو اگر یہ بھی نہ کرسکو تو اپنی آنکھوں سے اس طرح شارہ کرو کہ سجدہ میں جانے کے لئے آنکھیں بند کرو اور اٹھنے کے لئے آنکھوں کو کھول لو۔
ساتویں تشہد
اور ہر نماز کی دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ کے بعد اور نماز مغرب اور نماز ظہرو عصرو عشاء کی آخری رکعت میں تشہد کا پڑھنا واجب ہے۔
سوال: میں اس میں کیا پڑھوں؟
جواب: تم کہو:
”اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُه اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ “
تم اطمینان سے بیٹھ کرصحیح صورت میں اس کو پڑھو۔
آٹھویں۔سلام
ہر نماز کی آخری رکعت میں تشہد کے بعد اطمینان سے بیٹھ کر سلام کا پڑھنا واجب ہے۔
سوال: میں سلام میں کیا کہوں ؟
جواب: اگر تم اس میں (السلام علیکم) ہی پڑھو تو کافی ہے اور اس میں اگر ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کا اضاضہ کردو تو افضل ہے، اور اس سے افضل یہ ہے کہ اس سے پہلے:
”اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّهَاالنَّببِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه “ ”اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِیْنَ کهو ۔
نماز کے یہی اجزا ہیں کہ جو مسلسل (ایک کے بعد ایک ادا کئےجائیں گے جس طرح میں نے ان کو تمہارے سامنے گنوایا اور بیان کیا ہے ایک کے بعد ایک ان میں بعض جزءکا تمسک بعض جزء سےہے اس کے اجزاء میں اتنا فاصلہ نہ ڈالا جائے کہ اس سے نماز کی وحدت اور ہیت میں خلل پڑجائے۔
سوال: آپ نے مجھ سے قنوت کے بارے میں بیان نہیں کیا حالانکہ آپ اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے نماز میں قنوت پڑھتے ہیں؟
جواب: قنوت نماز پنجگانہ اور دوسری نمازوں میں ایک مرتبہ مستحب ہے،سوائے نماز شفع کے، دوسری رکعت میں دونوں سوروں کے بعد اور رکوع سےپہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو قنوت کے لئے بلند کرو اگر تمہارا ارادہ اس مستحب کام کو کرنے کا ہوتو۔
سوال: کیا کوئی ایسا ذکر معین ہے کہ جس کو میں قنوت میں پڑھوں؟
جواب: نہیں‘تم قنوت میں قرآن کی آیتیں پڑھ سکتے ہوکہ جن میں خداوند عالم سے ایسی دعا کی گئی ہو کہ جس کو تم چاہتےہو،اوراپنے رب سے مناجات اور جو بھی دعاچاہو اس سے کرو ۔
سوال آپ سے مجھے معلوم ہو گیا کہ مجھے کس طرح نماز پڑھنا چاہئے اور کیا پڑھوں یا نماز کے ہر جزء کو کس طرح انجام دوں اب چاہتا ہوں کہ آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کروں کہ جن سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔
سوال: اگر وہ چیز یں مجھ سے سرزد ہوجائیں تو کیا مجھ پر دوبارہ نماز واجب ہے؟
جواب : ہاں میں ان کے بارے میں تم کو بتاتا ہوں ۔
۱ نماز کے ارکان میں سے عمداً نیت یا تکبیرة الاحرام یا رکوع یا سجود وغیرہ کا چھوٹ جانا۔
۲ درمیان نماز نمازی سے حدث صادر ہونا ( اور اگرچہ آخری سجدہ کے بعد سہواً یا اضطراراً بھی حدث صادر ہوجائے)
۳ نمازی کا قبلہ سے عمداً تمام چہرہ یا تمام جسم منحرف ہوجائے۔
سوال : اگر قبلہ سے انحراف اتنا کم ہوکہ جو استقبال قبلہ میں کوئی حرج پیدا نہ کرسکے تو؟
جواب: اس سے نماز میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ مکروہ ہے ۔
۴ جان بوجھ کر نمازی کا بلندآوازسے ایسا ہنسنا کہ جس میں آتارچڑھاؤ ہو(یعنی قہقہہ لگانا)۔
۵ جان بوجھ کر نمازی کا نماز میں امور دنیا کے لئے رونا،چاہے اس میں آواز ہو یا نہ ہو،لیکن امور آخرت کے لئے رونا ہوتو اس میں کو ئی) حرج نہیں ہے۔
۶ نماز کے دوران مصلی کاعمداً کلام کرنا چاہے ایک حرف ہی کیوں نہ ہو‘جب کہ وہ حرف مفہوم رکھتا ہو،چاہے اس سے معنی کے مفہوم کا ارادہ کیا گیا ہو جیسے کہ کہا جائے (قِ) کہ یہ وقی کا فعل امر ہے،یا معنی کے مفہوم کے علاوہ ارادہ کیا گیا ہو،جیسے اگر نماز کے دوران سوال کیاجائے کہ (حروف) ابجد کا دوسرا (حرف) کیا ہے تو تم کہو (ب) اور نماز کے باطل کرنے سےمستثنی ہے، نماز میں سلام کا سلام سے جواب دینا واجب ہے۔
۷ نمازی کا اثنائے نماز میں کھانا پینا(اگرچہ نماز کی شکل وصورت کو ختم نہ بھی کرے)
۸ نماز میں ایسا کام کرنا جو نماز کی شکل وصورت کو بگاڑدے جیسے کپڑے کا سلنایا بننا۔
۹ نمازی عمداً بغیر تقیہ خدا کے سامنے ادب اور خضوع کے قصد سے ہاتھ پر ہاتھ رکھے، اس کا نام تکفیرہے۔
۱۰ امام کے سورہ فاتحہ ختم کرنے کے بعد (یا فرادا نماز پڑھتے وقت ختم سورہ کے بعد( کلمہ (آمین) عمداً کہنا۔
پھر اس کے بعد ہمارے پاس جو بہتر ین موضوع ہے کہ جس کی طرف میں اشارہ کروں گا وہ نماز میں شک ہے۔
سوال: کیا نماز میں شک کرنا نماز کو باطل کردیتا ہے؟
جواب: نماز میں شک کرنا تمام حالات میں اورہمیشہ نماز کو باطل نہیں کرتا‘ہاں،بعض شکوک نماز کو باطل کرتے ہیں،اور بعض شکوک قابل علاج ہیں بعض شکوک کی پرواہ نہ کرنی چاہئے وہ مہمل ہیں۔
میں عام طریقہ سے تم کو کچھ عام قاعدہ جو شک کے کچھ حالات کوشامل ہیں بتائے دیتاہوں۔
پہلا قاعدہ
جو بھی نماز کے بعد نماز کے صحیح ہونے میں شک کرے اس کی نماز کو صحیح سمجھاجائے گا۔
سوال: مثلاً؟
جواب: جیسے تم نے نماز صبح پڑھنے کے بعد شک کیا کہ دورکعتیں پڑھی ہیں یا زیادہ یا دوسے کم پڑھی ہے تو ایسی صورت میں تم کہو کہ میری نماز صحیح ہے۔
دوسرا قاعدہ
جو کوئی نماز کے کسی ایسے جزءکے صحیح ہونے کے بارے میں شک کرےکہ اس کو بجالایا ہے، تو وہ جزء صحیح سمجھا جائے گا،اور نماز بھی صحیح ہوگی ۔
سوال: مثلاً؟
جواب: تم نے اپنی قرائت کی صحت کے بارے میں شک کیا،یا رکوع کے بارے میں یا سجدہ کی صحت کے بارے میں شک کیا قرأت تمام ہونے کے بعد،رکوع یا سجدہ انجام دینے کے بعد، تو تم کہو کہ میری قرائت صحیح ہے میرارکوع میرا سجدہ صحیح ہے پھر میری نماز اس کے بعد صحیح ہے۔
تیسرا قاعدہ
کسی نے نماز کے اجزاء میں سے کسی جزء کے بارے میں بعد والے جزء میں داخل ہونے کے بعد شک کیا تو بنا اس پر رکھی جائیگی کہ وہ مشکوک جزء بجالایاگیا ہے اور اس کی نماز بھی صحیح ہے بلکہ اگر وہ شرعی طور پر اگلے جز ء میں داخل نہیں ہوا ہے اور بالفرض اگلے جزء میں پوری طرح داخل ہونے سے عمداً خلل انداز ہوا ہے تو بھی صحت پر بنا رکھنا کافی ہے( یعنی اگلے جزء میں ابھی پورے طورسے عمداً داخل ہونے میں دیر کی تو بھی جزء مشکوک کے بجالائے جانے پر بنا رکھی جائیگی)
سوال: مثال سے سمجھائیے؟
جواب: مثلاً تم نے سورہ الحمد کے بارے میں شک کیا کہ پڑھایا نہیں،حالانکہ تم دوسرے سورہ کے پڑھنے میں مشغول ہوتو کہو میں نے اس کو پڑھا ہے اور پھر اپنی نماز کو جاری رکھو اور اسی طرح تم خم ہونے کی حالت میں ہو رکوع کے لئے اور تم کو شک ہوا کہ میں نے سورہ پڑھایا نہیں تو تم کہو کہ میں نے سورہ کو پڑھا ہے،اور اپنی نماز کو جاری رکھو، پس تمہاری نماز صحیح ہے۔
چوتھا قاعدہ
جو زیادہ شک کرے اور شک میں فطری حالت سے زیادہ تجاوز کرجائے تو اس کا شک مہمل ہے وہ اپنے شک کی طرف اعتناء نہ کرے اور نہ اس کی طرف متوجہ ہو پس اس کی وہ نماز کہ جس میں اس نے شک کیا ہے صحیح ہے۔
سوال: مثلاً؟
جواب: مثلا تم نماز صبح کی رکعتوں کی تعداد میں زیادہ شک کرتے ہو تو تمہارا یہ شک مہمل ہے تم کہو میری نماز صحیح ہے،اور جب تمہارا یہ شک سجدوں کے بارے میں ہو کہ میں نے ایک سجدہ کیا یا دو، تو کہو میں نے دونوں سجدے کئےہیں،پس اپنے شک کی طرف توجہ نہ دو اور نہ اس کو کوئی اہمیت دو،بلکہ تم اپنی نماز کے صحیح ہونے کا اعتبار کرو اور اسی طرح وہ کثیر الشک کہ جو ہمیشہ نماز میں شک کرتا ہے اس کا شک بھی مہمل ہے اور اس کی نماز کو صحیح اعتبار کیا جائیگا۔۔ہمیشہ ۔۔ہمیشہ
سوال: میں کس طرح پہچانوں کہ میں زیادہ شک کرنے والا ہوں ۔
جواب: کثیر الشک(زیادہ شک کرنے والا) اپنے کو آسانی سے پہچان لیتا ہے اس کے لئے عام لوگوں کے سامنے اس کا کثیرا الشک ہونا ہے(اور وہ تین نمازوں میں شک نہ کرے) اگر وہ تین نمازوں میں پے درپے شک کرے تو اس کے کشیر الشک ہونے کے لئے کافی ہے۔
پانچواں قاعدہ
ہروہ شخص جو نماز صبح کی رکعتوں یا نماز مغرب کی رکعتوں،یا چار رکعتی نمازوں میں سے پہلی اور دوسری رکعتوں میں شک کرے اور اس کا ذہن ان دواحتمالوں میں سے کسی ایک کی طرف ترجیح نہ دے اور نہ اس کا ذہن رکعتوں کے عدد کو معین کرے بلکہ وہ اسی طرح متحیر اور مشکوک رہے،اور رکعتوں کو نہ جانے کہ کتنی ہوئیں تو اس کی نماز باطل ہے۔
سوال: مثلاً؟
جواب: مثلاً وہ نماز صبح پڑھ رہا ہے اور اس حالت میں اس کو شک ہوا کہ اس کی پہلی رکعت ہے یا دوسری تھوڑا سوچا اور فکر کیا مگر اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ پہلی رکعت ہے یا دوسرے تو اس کی نماز باطل ہے۔
سوال: اگر دونوں احتمالوں میں سے اس کے ذہن میں ایک احتمال کو ترجیح حاصل ہوگئی ،تو کیاوہ اپنےذہن کے احتمال کو ترجیح دے کہ وہ پہلی رکعت ہے؟
جواب: اگر اس کے ذہن میں کسی معین رکعت کو ترجیح حاصل ہوگئی ہو تو وہ اپنے اس غالب احتمال کے تقاضہ کے مطابق عمل کرےگا(اس لئے کہ تمہارے سوال میں پہلی رکعت کے رجحان کا احتمال تھا)اس بنا پر وہ دوسری رکعت بجالائے اور نماز کو تمام کرے،اس کی نماز صحیح ہے اور اسی طرح نماز مغرب میں اور چار رکعتی نمازوں کی پہلی اوردوسری کعتوں میں یہی حکم ہے۔
سوال: اب مجھے نماز صبح اور مغرب اور ظہر وعشاء کی نمازوں میں پہلی دو رکعتوں میں شک کرنے والے کا حکم معلوم ہوگیا لیکن چاررکعتی نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعتوں میں شک کرنے والے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جب شک کرنے والے کے ذہن میں کچھ رکعتوں کی تعداد کو ترجیح حاصل ہوگئی ہو تو وہ اپنے اسی ظن کے مطابق عمل کرے گا کہ جس کا ذہن میں رحجان حاصل ہوا ہے۔
سوال: اور اگر وہ اپنے تحیر اور شک پر باقی رہے تو؟
جواب: اس وقت زیادہ تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں پرہر ایک جگہ کا مخصوص حکم ہے میں یہاں مختصر طور پر کچھ کو بیان کرتا ہوں۔
( ۱) جس شخص نے تیسری اور چوتھی رکعت میں شک کیا اس وقت وہ چار رکعت پر بنا رکھے اور اپنی نماز تمام کرے پھر نماز کے بعد دو رکعت نماز بیٹھ کریا ایک رکعت نماز کھڑے ہو کر پڑھے اس نماز کونماز احتیاط کہتے ہیں۔
( ۲) دوسرے سجدے میں داخل ہونے کے بعد چوتھی اور پانچویں رکعت میں اگر کوئی شک کرے (یعنی اپنی پیشانی سجدہ کرنے والی چیز پر رکھے چاہے ابھی ذکر شروع نہ بھی کیا ہو) تو جار پر بنا رکھے اور نماز کو تمام کرنے کے بعد دو سجدہ سہو بجالائے۔
( ۳) دوسرے سجدے میں داخل ہونے کے بعد اگر کوئی دوسری اور تیسری رکعت میں شک کرے تو تین پر بنا رکھے اور اس کے بعد چوتھی بجالائے،اس کے بعد نماز کو ختم کرکے (ایک رکعت کھڑے ہو کر) نماز احتیاط پڑھے ۔
سوال: نماز احتیاط کس طرح پڑھی جائیگی؟
جواب: اپنی نماز کو تمام کرنے کے بعد داہنے اور بائیں توجہ کئے بغیر اور مبطلات نماز میں سے کسی مبطل کو انجام دیئے بغیر نماز احتیاط کو شروع کرے تکبیر کہے پھر سورہ الحمد پڑھے (آہستہ) اور اس میں دوسرا سورہ واجب نہیں ہے،پھر رکوع کرے،پھر سجدہ کرے،اگر نماز احتیاط ایک رکعت پڑھ رہا ہے تو تشہد وسلام پڑھ کر نماز کو تمام کرے اور اگر دورکعت نماز احتیاط واجب تھی تو دوسری رکعت کو،پہلی رکعت کی طرح بجالا ئے۔
سوال: سجدہ سہو جس کو آپ نے ذکر کیا( وہ کس طرح ادا کیا جائیگا؟
جواب: اپنی نماز کے بعد نیت کرو اور سجدہ میں جاؤ اور افضل یہ ہے کہ سجد ہ میں جانے سے پہلے تکبیر کہو اور سجدہ میںبسم الله بالله السلام علیک ایها النبی ورحمة الله وبرکاتہ پڑھو پھر سجدے سے سراٹھا کر بیٹھو پھر دوبارہ سجدے میں جاؤ پھر سر اٹھاؤ اور تشہدو سلام پڑھ کر سجدۂ سہو کو تمام کرو۔
میرے والد نے مزید فرمایا۔
لیکن سجدہ سہو کے بارے میں فقط یہ نہ سمجھو کہ یہ دونوں سجدۂ سہو چوتھی اور پانجویں رکعت میں شک کرنے کی بناپر واجب ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ دوسری جگہیں بھی ہیں اور وہ یہ ہیں۔
۱ لف جب تم نماز میں سہواًیا بھول کر کلام کرو۔
ب جب تم ایسی جگہ سلام بھول کر کہو جہاں سلام کہنے کی جگہ نہیں تھی اور کہو(السلام علیک ایها النبی ورحمة الله ربرکاته یا کهو السلام علینا وعلی عباد الله الصالحین السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته )
ج اگر تم نے بھول کر نماز میں تشہد کو نہ پڑھا تو نماز کے بعد دوسجدۂ سہوبجالاؤ اور افضل یہ ہے کہ سجدۂ سہو کے ساتھ تشہد کی قضا بھی کرو۔
د (تم کو نماز کے بعد اجمالاً معلوم ہو کہ تمہاری نماز میں کچھ کمی یا زیادتی ہوگئی ہے ساتھ ہی یہ کہ تمہاری نماز محکوم بصحت ہے) تو ایسی صور ت میں دوسجدہ سہو تم پر لازم ہے اور افضل تمہارے لئے یہ ہے کہ اگر تم نماز میں ایک سجدہ بھول گئے ہو تو دو سجدہ سہو بجالاؤ ،اس کے ساتھ ہی بعد نماز اس کی قضا بھی بجالاؤاور ایسے ہی ہے اگرتم بیٹھنے کی جگہ کھڑے یا کھڑے ہونے کی جگہ بھول کر بیٹھ گئے، بلکہ افضل یہ ہے کہ تم اپنی نماز میں ہر کمی وزیادتی کی لئے سجدہ سہو کرو۔
جتنی مرتبہ سجدہ واجب ہوا ہے اتنی ہی مرتبہ اس کو بجالایا جائے یعنی دو مرتبہ یا اس سے زیادہ واجب ہوا ہے تو تم اتنی مرتبہ سجدہ کرو ہماری نماز کی گفتگو جب ختم ہوگئی تو میں نے اپنے والد سے تقاضہ کیا کہ وہ میرے سامنےبطور درس اور تطبیق کے طور پر چار رکعتی نماز کہ جو نماز پنجگانہ میں سے سب سے زیادہ طولانی ہے پڑھیں،تاکہ میں نزدیک سے ملاحظہ کروں کہ میرے والد کس طرح تکبیر کہتے ہیں‘کس طرح قرائت ورکوع وسجود وتشہد اور سلام کو انجام دیتے ہیں،میری اس یاد دہانی کے بعد میرے والد ہر روز مجھ کو سیکھانے کے لئےمیرے سامنے نماز عشاء پڑھتے ہیں اور یہ نماز چاررکعت بلند آواز والی ہے میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب میں خود دیکھوں گا کہ وہ کس طرح نماز پڑھتے ہیں اور جس وقت میرے والد اس بلند آواز والی چاررکعتی نماز کو شروع کرتے تو میں اپنے تمام حواس کو سمیٹ کر نہایت ہوشیاری کے ساتھ ان کی نماز کے تمام حرکات کو دیکھتا اور اب آپ سے بیان کرتا ہوں کہ میرے والد کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔
پہلے ا نھوں نے وضوء کیا پھر وہ اپنے مصلے پر روبقبلہ کھڑے ہوگئے وہ خاشع تھے پس انہوں نے نماز کے لئے اذان واقامت کہی پھر نماز کو شروع کیا‘پس انہوں نے اللہ اکبر کہی پھر سورہ الحمد کوپڑھنے کے بعد سورہ قدر کو پڑھا جب وہ سورہ تمام ہوگیا کھڑے ہوئے تھے اور رکوع میں خم ہونے والے تھے اور ‘جب پوری طرح رکوع میں پہنچ گئے تو سبحان ربی العظیم وبحمدہ کہتے ہوئے ذکر کیا اور رکوع کی حالت میں ہی جب انہوں نے ذکر کے آخری حرف کو تمام کیا تو وہ سیدھے اپنے قدموں پر کھڑے ہوگئے اور جب وہ قیام کی حالت میں تھے تو سجدہ کے لئے جھکے اور جب سجدے میں پہنچے توسبحان ربی الا علی وبحمده کہہ کر ذکر سجدہ کیا اور سجدہ ہی کی حالت میں ذکر کے آخری حرف کو تمام کرکے سجدہ سے سراٹھاکر سیدھے بیٹھ گئے پھر دوسرے سجدے کے لئے جھکے پس اس میں بھی وہی ذکر کیا جو پہلے سجدہ میں کیا تھاسبحان ربی الاعلی وبحمده پھر سر کو سجدہ سے بلند کرکے بیٹھے،تاکہ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوں،اور جس وقت قیام میں پہونچے تو سورہ حمد اور اس کے بعد اس مرتبہ سورہ توحید کوپڑھا،جب اس کی قرائت سے فارغ ہوئے تو قنوت کے لئے ہاتھوں کو بلند کیا اور قنوت میں قرآن کی اس آیت کریمہ کو پڑھارب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مومنا وللمومنین والمومنات ولاتزد الظا لمین الاتباراً ۔
پھر قنوت سے ہاتھ گراکر رکوع کے لئے خم ہوئے اور جس وقت رکوع میں پہونچ گئے سبحان ربی العظیم وبحمدہ کو پڑھا،پھر سیدے کھڑے ہوئے تاکہ سجدہ کے لئے خم ہوں اور جس وقت سجدہ میں پہونچے تو سبحان ربی الاعلی وبحمدہ کو پڑھا اور جب سجدے سے اٹھ کر بیٹھ گئے تو تشہد کو پڑھا”اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُه اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ “
اور جب تشہد سے فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہوگئےتیسری رکعت کے لئے قیام میں پہونچنے کے بعد انھوں نے سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر کی تسبیح کو تین مرتبہ پڑھا،مگر آہستہ آواز میں‘پھر رکوع سے کھڑے ہوئے اور سجدے کے لئے جھکے اور اس میں وہی پڑھا جو پچھلے سجدوں میں پڑھا تھا سبحان ربی الاعلی وبحمدہ پھر بیٹھ کر دوسرے سجدے میں چلے گئے پس اس میں بھی وہی پڑھا تھا،پھر چوتھی رکعت کے لئے کھڑے ہوئے جو آخری رکعت تھی پس اس رکعت میں وہی تسبیح پڑھی جو پچھلی رکعت میں پڑھی تھی سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر کو تین مرتبہ پڑھا ۔
پھر اطمینان سے بیٹھ کر تشہد میں وہی پڑا کہ جو پہلے تشہد میں پڑھا تھا:
”اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لاَ شَرِیْکَ لَه وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُه اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ “
اور جب تشہد کو ختم کیا تو نبیؐ پر سلام پڑھا:
”اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّهَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه “ ”اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِیْنَ“،”اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَا تُه “
اس طرح میرے والد نے نماز عشاء کو پڑھا‘اسی نماز کے مثل نماز ظہرو عصر ہے کیونکہ وہ دونوں بھی چار رکعت ہیں سوائے اس کے کہ ان دونوں کی پہلی دو رکعتوں میں دونوں سورہ کی قرائت آہستہ آواز میں ہوتی ہے۔
کبھی میں نے اپنے والد کو نماز مغرب کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے میں نے ان کو نماز عشاء ہی کی طرح نماز مغرب کو پڑھتے ہو ئے پایا ہے مگر یہ کہ تیسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ کر وہ تشہد پڑھتے اور سلام کہہ کر اپنی نماز کو ختم کردیتے تھے(چونکہ نمازمغرب کی تین رکعت ہے)
اسی طرح میں نے ان کو نماز صبح بھی پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس طرح نماز عشاء پڑھتے ہیں مگر یہ کہ دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ کے بعد تشہد اور سلام پڑھنے کے بعد نماز تمام کردیتے تھے، کیونکہ نماز صبح دورکعت ہے۔
اسی طرح میرے والد نماز پنجگانہ کو پڑھتے تھے مگر میرے سامنے (نماز عشاء کے علاوہ) اور نمازیں نہ پڑھتے کہ جن کو دیکھ کر محفوظ کرتا،اور ان کے بارے میں کچھ سوچتا اب میں آپ کے سامنے اپنے والد کی نمازوں کی بعض خصوصیات کو بیان کروں گا،وہ نیچے دی ہوئی خصوصیات کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔
۱ نماز کو اول وقت پڑھنے کے زیادہ حریص ہیں (اور پابندی وقت کا خاص خیال رکھتے ہیں) پس وہ نماز ظہر کو مثلاً جب ظہر کا وقت (زوال) ہوتا ہے پڑھتے ہیں اسی طرح نماز مغرب کو اول وقت پڑھتے ہیں اورایسےہی تمام نمازوں کو اپنے اپنے وقت پر پڑھتے ہیں اور جس وقت میں نے نماز کو اول وقت پڑھنے کی جلدی کا سبب پوچھا تو انھوں نے جواب میں امام صادق علیہ السلام کی حدیث کو بیان فرمایا کہ جس میں آپ نے ارشاد فرمایاہے۔
اول وقت کی فضیلت آخر وقت پر ایسی ہی ہے جیسے آخرت کو دنیا پر فضیلت ہے فضل الوقت الاول علی الاخیر کفضل الا خرة علی الدنیا ۔
۲ اورجس وقت اپنے پروردگار کے سامنے نماز پڑھنے کے لئےکھڑے ہوتے تو آپؑ پر خضوع وخشوع وتذلل کے آثار ظاہر ہوجاتے اور کبھی کبھی اپنے نفس سے سوال وجواب کرتے،لیکن ذرا بلند آواز سے( قد افلح المومنون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون۔)
گویا نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے نفس کو اس پر آمادہ کرتے ہیں اسی طرح اپنے قلب کو نماز میں اللہ کے لئے خشوع کی اہمیت کو بتاتے ہیں۔
۳ اور جب صبح کی نماز پڑھتے ہیں تو اس سے پہلے دورکعت نماز پڑھتے،اور ظہر کی نماز سے پہلے آٹھ رکعت، دودورکعت کرکے مشل نمازصبح کے پڑھتے،اور اسی طرح عصر کی نماز سے پہلے اتنی ہی مقدار میں نماز پڑھتے اور نماز مغرب کے بعد دو دورکعت کرکے مثل نمازصبح کے چار رکعت نماز پڑھتے اور عشاء کے بعد دورکعت نماز بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔
ایک مرتبہ میں نے ان نمازوں کے بارے میں معلوم کیا تو فرمایا(وہ نوافل)ہیں کہ جن کے متعلق امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:نوافل کا پڑھنا مومن کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔
۴ جملہ (اللہ اکبر) کے کلمہ (اکبر) میں جو ہمزہ ہے وہ ھمزہ قطع ہے پس جس وقت بھی تم تکبیر کہو تو تمہارے اوپراس ھمزہ کا واضح اور آشکار کرنا واجب ہے جس وقت میرے والد نے یہ فرمایا:تو میں نے ڈرتے ہو ئےان سے ایک مرتبہ کہا بعض لوگ اس ہمزہ کو واؤ کے مشابہ ادا کرتے ہیں جیسے کہ یہ جملہ اللہ اکبرہو۔)
تو فرمایا: کہ ان کی طرح ادا کرنے سے تم بچو کیونکہ وہ غلطی پر ہیں اور میرے والد نے مزید فرمایا: سورہ فاتحہ کی آیت (صراط الذین انعمت علیہم) میں (انعمت) کے ہمزہ کو ادا کرنا تم پر واجب ہے کہ اس کو پڑھتے وقت اپنی زبان پر صاف واضح اور آشکار ادا کرو،اور اس جیسے تمام ہمزہ جیسے الاعلی کا ہمزہ کہ جو سجدہ میں سبحان ربی الاعلی وبحمدہ پڑھتے ہیں ہمزہ قطع ہے،تم پر واجب ہے کہ اس کو پڑھتے وقت زبان پر واضح وروشن ظاہر کرو۔
۵ میرے والد نے فرمایا جب تم سورہ توحید کی آیہ کریمہ (قل ھواللہ) کی تلاوت کرو تو کلمہ(احد) کی دال پر وقف کرو‘پھر اس کے بعد والی آیت (اللہ الصمد) کی تلاوت سے پہلے تھوڑا ٹھہرو ،یہ تمہارے لئے سہل اور آسان ہے۔
۶ میرے والد اپنی نماز میں کلموں کے آخر کو حرکت دیتے تھے جب کہ وہ اپنے کلام اور ذکر کو آگے بڑھاتے اور جاری رکھتے اور اسی کے ساتھ جب کہیں روکنا چاہتے تو کلمہ کے آخری حرف کو ساکن کردیتے تھے۔
۷ میں نے اپنے والد سے ایک مرتبہ سوال کیا جب آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کرتے ہیں تو میں نے آپ کو (رحمٰن) کے نون کو زیرکے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے،اوراسی طرح (الرحیم) کی (میم) کو زیر کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے اور آپ الرحمٰن الرحیم،مالک یوم الدین سورہ حمد کی بھی اسی طرح تلاوت کرتے ہیں حالانکہ اکثر لوگوں کو میں نے پیش کے ساتھ پڑھتے ہو ئےسنا ہے۔اسی طرح جب آپ سورہ حمد میں خداوند عالم کے اس قول ایاک نعبد کی قرائت کرتے ہیں تو کلمہ(نعبد)کی (ب)کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے جب کہ اکثر لوگ نماز کی حالت میں اس کو زیر کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔
انھوں نے کہا تم نے نحو اور اس کے قواعدکو نہیں پڑھی ہے؟
میں نے کہا :میں نے نحو پڑھی ہے مگر اتنی مشکل نہیں۔
انھوں نے فرمایا: نحو کے علماء (الرحمن الرحیم)کے دونوں کلموں کی حرکت میں کیا کہتے ہیں؟
میں نے کہا وہی زیر جیسا کہ آپ نے فرمایا ۔
تو انھوں نے کہا: قرآن کریم کا ایک نسخہ میرے پاس لاؤ پس میں نے کتاب اللہ کا ایک نسخہ جومیرے قریب تھا اٹھا کر ان کو دیا۔
انھوں نے فرمایا: سورہ حمد نکالو اور اس کو دیکھو،پس میں نے سورہ حمد کو نکالا تو (الرحمن الرحیم) کے دونوں کلموں کے آخر میں زیر تھا اور (ایاک نعبد) کے کلمہ کی (باء) پر زیر نہیں ہے میں نے کہا جس طرح آپ نے پڑھا ہے ویساہی ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح کتاب خدا میں (حرف)پر حرکت ہے اسی طرح پڑھو اور جو غلط قرائت مشہور ہے اس سے محفوظ رہو۔
۸ اور میرے والد رکوع اور سجودمیں ذکر اس وقت تک نہیں پڑھتے جب تک ان میں جاکر ٹھہرنہ جائیں اور اپنے سر کو بلند نہیں کرتے مگر ذکر کے تمام کرنے کے بعد۔
۹ اور جب اپنے سر کو پہلے سجدہ سے اٹھاتے ہیں تو تھوڑی دیر بالکل ٹھیک سے بیٹھ کر دوسرے سجدے میں جاتے ہیں اور اسی طرح وہ دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد کرتے ہیں،یعنی بیٹھتے ہیں پھر بعد والی رکعت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔
۱۰ میں نے ان سے ایک مرتبہ سوال کیا کہ میں آپ کو دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں کہ آپ اپنےلئے اپنے والدین اور تمام برادران مومنین کے لئے نماز کے بعد دعا کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا۔امیرالمومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے۔
”من دعا لاخوانہ امن المومنین و المومنات و المسلمین و المسلمات و کل اللہ بہ عن کل مومن ملکا یدعو لہ“
جو شخص اپنے مومن،مومنہ اور مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لئے دعا کرے خداوندعالم ہر مومن کے بدلے اس پر ایک فرشتہ مقرر کرتا ہے جو اس کے لئے دعا کرتارہتاہے ۔
۱۱ میں نے سوال کیا کہ میں آپ کو ہر فریضہ کے بعد تسبیح پڑھتے دیکھتا ہوں،آپ نے فرمایا:ہاں وہ تسبیح زہرا علیہا السلام ہے اور یہ تسبیح جناب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب فاطمہ زہرا(س) کو تعلیم کی تھی اور وہ (اللہ اکبر ) ۳۴/ مرتبہ (الحمدللہ) ۳۳/ مرتبہ (سبحان اللہ) ۳۳ / مرتبہ ہے پس ان سب کی تعداد سوہوگی ۔
سوال: کیا تسبیح زہراء(س) کی فضیلت ہے؟
جواب: ہاں، امام صادق علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے ابی ہاورن مکفوف سے فرمایا اے ابا !ہاورن ہم اپنے بچوں کو تسبیح زہراء پڑھنے کا اس طرح حکم دیتےہیں جس طرح نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں پس اس کا پڑھنا لازم ہے پس جس بندہ نے اس کو لازمی طور پر نہیں پڑھا اس نے(ہم سے) شقاوت کی۔
۱۲ کبھی کبھی میرے والد نماز ظہر کے بعد عصر پڑھتے یا نماز مغرب کے بعد فوراً عشاء پڑھتے اور کبھی دو نمازوں کے درمیان فاصلہ ڈال دیتے نماز ظہر کے بعد اپنے ضروریات کو انجام دیتے اور جب نماز عصر کا وقت آتاتو نماز عصر پڑھتے اسی طرح نماز مغرب وعشاء کو بھی فاصلہ سے پڑھتے ۔
اور جس وقت میں ان سے اس بارے میں معلوم کرتا تو فرماتے تم کو اختیار ہے چاہے ان دونوں کے درمیان فاصلہ ڈالو یا بغیر فاصلہ کے پڑھو۔
۱۳ میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ جب آپ سورہ قدر پڑھتے ہیں تو میں سنتا ہوں کہ آپ (انانزلناہ فی لیلة القدر) کو پڑھتے وقت حرف لام کو ظاہر کرتے ہیں اور بعض لوگ اس کو اصلاً ظاہر نہیں کرتے جیسے معلوم ہوتا ہے کہ حرف لام موجود ہی نہیں ہے،وہ (انزلناہ) پڑھتے ہیں اورسبحان ربی العظیم وبحمده کو جب آپ پڑھتے ہیں تو سبحان کی سین کو پیش اور (ر)کو زبر پڑھتے ہیں حالانکہ میں بہت لوگوں سے سنا ہے جو آپ کی طرح نہیں پڑھتے؟
آپ نے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا کہ تم اپنی قرائت کی طرف متوجہ رہو۔
دوسری نمازوں کے بارے میں گفتگو
دوسری نمازوں کی گفتگو کا وقت آنے سے پہلے میں ان چیزوں کے بارے میں نظر ثانی کرنے لگا کہ جو پہلی نماز کی گفتگو میں زیر بحث آئی تھیں تاکہ اپنے حافظہ کا امتحان لوں کہ کتنا مجھے یاد ہے تاکہ اس چیز کے بارے میں اپنے والد سے معلوم کروں کہ جس کو میرے ذہن نے یاد نہیں رکھایا جس کو سمجھا نہیں ہے اور ابھی ہماری نماز کی بحث بھی جاری ہے۔
میرے والد جب تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے ایک ایسا سوال کرنے سے پہل کی کہ میں اس کا جواب نہ دے سکا میں نے ان سے عرض کیا کہ:
سوال: کیا نماز عشاء کو میں دورکعت پڑھ سکتا ہوں؟
جواب: ہرگز نہیں کیا میں نے تم سے نہیں کہا کہ وہ چار رکعتی نماز ہے لیکن میں نے آپ کو دورکعت پڑھتے دیکھا ہے؟
والد کیا ہم سفر میں تھے؟۔
جی ہاں۔
والدیہ صحیح ہے پس چار رکعتی نمازنماز ظہر عصر عشاء سفر میں دو رکعت ہوجاتی ہیں جب کہ نیچے بیان کی ہوئیں ان میں قصر کی شرطیں پائی جائیں۔
۱ جب کسی شخص کے سفر کا قصد اپنے رہنے کی جگہ تقریباً(کلو میڑ) یا زیادہ ہو،چاہے یہ دوری فقط جانے کے لئے ہو یا آنے جانے کے لئے ہو۔
سوال: مجھے وضاحت کے ساتھ بتائیے؟
جواب: جب مسافر کسی ایسے شہر کا سفر کرے جو تمہارے وطن سے( ۴۴ کلو میڑ) یا زیادہ دور ہوتو اس پر اپنی نماز میں قصر واجب ہے،اس طرح کہ وہ چار رکعت والی نماز کو فقط دورکعت پڑھے اور اسی طرح کوئی مسافر کسی ایسے شہر کا سفر کرے کہ جس کی مسافت اس کے وطن کی جگہ سے ( ۲۲ کلو میڑ) ہو اور اسی روز اس کی واپسی کا بھی ارادہ ہو تو اپنی نماز کو قصر کرے گا۔
سوال: کس جگہ سے سفر کی ابتداء کا حساب کیا جائیگا؟
جواب: سفر کی ابتداء کا حساب شہر کے آخری مکان سے کیا جاتاہے۔
۲ مسافر اپنے سفر کے ارادہ پر باقی رہے،اگر درمیان سفر اپنی رائے بدل دے تو پھر نماز پوری پڑھے گا مگریہ کہ اس کا ارادہ اپنے وطن کی طرف لوٹنے کا ہو اور اس کا یہ طے کیا ہوا راستہ آنے جانے کو ملا کر قصر کی مسافت کی مقدار تک پہنچ گیا ہو تو پھر اس پر نماز کا قصر پڑھنا واجب ہے۔
۳ مسافر کا سفر جائز ہو پس اگر اس کا سفر حرام (کام کے لئے) ہو جیسا کہ بعض حالات میں زوجہ کا بغیر شوہر کی اجازت کے سفر کرنا یا اپنے سفر میں حرام کام کا ارادہ ہو مثلاًچوری کا،تو ایسی حالت میں وہ پوری نماز پڑھے اور اسی سے ملحق اگر کوئی تفریح کے قصد سے شکار کو جائے تو بھی نماز پوری پڑھے۔
۴ مسافر اپنے وطن سے نہ گزرے یا وہاں اثنائے سفر قیام نہ کرے یا جس شہر کی طرف سفر ہے اس میں دس ( ۱۰) روز رہنے کی نیت نہ کی ہو،یا کسی شہر میں ایسا متردد نہ ہو کہ یہاں سے کب جائیگا اور اس طرح اس کو تیس( ۳۰) روز تردد میں گزر گئے ہوں تو ایسی صورت میں اول سفر سے تیس ( ۳۰) دن تک نماز قصر پڑھے گا،پوری نہیں۔
سوال: اور جب اپنے وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اثنائے سفر گزرے اور وہاں اترے یا جس شہر کی طرف سفر کیا ہے وہاں دس دن یا زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو یا ایسی جگہ گیا ہو جہاں سے وہ واپس لوٹنے میں متردد ہو اور اس طرح اس کو وہاں تیس ( ۳۰) دن گزر گئے ہوں تووہ ان جگہوں پر کون سی نماز پڑھے گا؟
جواب: ان جگہوں پر وہ پوری نماز پڑھے گا مگر جو شخص سفر سے واپسی میں متردد ہو (تووہ تیس( ۳۰) دن تک قصر نماز پڑھے گا )تیس ( ۳۰) دن بعد پوری نماز پڑھے گا ۔
۵ کسی کا سفرکرنا پیشہ نہ ہو جیسے ڈرائیور۔ملاح۔ چرواہ یا وہ بار بار کسی دوسرے کام کے لئے سفر کرے۔
سوال: اس کے معنی یہ ہوئے کہ ڈرائیور اثنائے سفر پوری نماز پڑھے گا؟
جواب: ہاں جس کا پیشہ ڈرائیوری ہوتو اگر وہ ( ۴۴ کلومیڑیا زیادہ) مسافت طے کرے تو وہ اپنے کام(ڈرائیوری )کے دوران پوری نماز پڑھے گا۔
سوال: تاجر،طالب علم،ملازم جب کسی شہر میں مقیم ہوں اور کسی دوسرے شہر میں ‘یونیور سٹی۔دفتر یا مرکز تجارت ہو اور وہ ان کے رہنے کی جگہ سے ۲۲ کلومیڑدور ہو اور وہ وہاں پہنچنے کے لئے ہر روزیا ہر دوسرے روز سفر کرتے ہوں (تو کیا حکم ہے)؟
جواب: تو وہ نماز کو پوری پڑھیں گے قصر نہیں پڑھیں گے۔
۶ جن کا کوئی رہنے کا ٹھکانہ نہ ہو،بلکہ ان کا گھران کے ساتھ ہو اور ان کا کوئی وطن نہ ہو،جیسے سیاح کہ جو ایک شہر سے دوسرے شہر میں داخل ہوتے ہیں اور کہیں بھی ان کے رہنے کا ٹھکانہ نہیں ہوتا تو وہ نماز پوری پڑھے گا۔
سوال: مسافر قصر کی ابتداء کہاں سے کرے گا؟
جواب: جب شہر والوں کی نظروں سے وہ پوشیدہ اور ان سے دور ہوجائے تو اس پر (اپنی نماز کا) قصر کرنا واجب ہے۔اور اس کی اکثر علامت یہ ہے کہ وہ مسافر شہر کے رہنے والوں میں سے کسی کو نہ دیکھے اس وقت اپنی نماز کی قصر کرے۔
سوال: آپ نے مجھ سے فرمایا کہ مسافر جب اپنے وطن سے گزرے یا وہاں ٹھہرے تو وہ نماز کو پوری پڑھے گا آپ کا اس کے وطن سے کیا مقصد ہے؟
جواب: میرا یہاں وطن سے مقصدیہ ہے۔
الف۔ وہ اصلی ٹھکانہ جس کی طرف اس کو منسوب کیا جاتاہے اور اس کے والدین کے رہنے کی جگہ ہو اورعموماًاس کی زندگی کا مرکز ہے۔
ب۔ وہ جگہ کہ جس کو انسان اپنا ٹھکانہ اور مسکن بنا لیتا ہے اس طرح کہ اپنی بقیہ عمر کو وہیں گزارے۔
ج۔ ایسی جگہ جہاں اتنی طویل مدت تک رہے کہ جب تک وہ وہاں ہے اس کو مسافر نہ کہا جاسکے۔
سوال: اس کے معنی یہ ہوئے؟
۱ جب مسافر اپنے وطن سے گزرے اور وہاں ٹھہرے۔
۲ جہاں کا انسان نے سفر کیا ہے وہاں وہ دس روز یا زیادہ برابر ٹھہرے۔
۳ اور جب کسی ایسے شہر کا سفر جہاں تیس( ۳۰) روز تک ایسا متردد رہے کہ نہ جانے کہ کب وہ اپنے وطن کو واپس ہوگا تو ایسے مسافر(جو اوپر بیان ہوئے ہیں) اپنی نماز پوری پڑھیں گے اور قصر نہیں کریں گے؟
جواب: جی ہاں ۔
سوال: اور جب کسی مسافر کو اوپر تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز پیش نہ آئے تو؟
جواب: تو وہ نماز قصر پرھے گا پس ہر وہ مسافر کہ جو( ۴۴ کلو میڑ) یا زیادہ کا سفر کرے تو وہ نماز قصر پڑھے گا مگریہ کہ اپنے وطن سے گزرے اور اس میں ٹھہرے یا کہیں دس روز کی نیت کرلی ہوتو،والد ہاں ۔۔ہاں۔
سوال: اور جب نماز کا وقت آجائے اور کوئی مسافر ہوتو اگر وہ اثنائے سفر نماز نہ پڑھے بلکہ وہ اپنے وطن لوٹ جائے تو (کیا حکم ہے؟)
جواب: وہ نماز پوری پڑھے گا‘کیونکہ وہ نماز اپنے وطن میں پڑھ رہاہے۔
سوال: اور جب نماز کا وقت آجائے اور کوئی اپنے وطن میں ہو اور نماز نہ پڑھے پھر وہ ۴۴ کلو میڑ یا زیادہ کا سفر کرے؟
جواب: تووہ نماز کو قصر پڑھے کیونکہ وہ نماز کو سفر کی حالت میں پڑھ رہا ہے۔
سوال: میں بعض دفعہ لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اکھٹی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ایک ساتھ رکوع،ایک ساتھ سجدے اور ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟
جواب: وہ لوگ نماز یومیہ کو جماعت سے پڑھتے ہیں فرادی نہیں ۔
سوال: ہم نماز جماعت کو کس طرح پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: جب دو یا دو سے زیادہ اشخاص جمع ہوجائیں تو ان میں سے ایک جو امام جماعت کے شرائط رکھتا ہے اس کو جائز ہے کہ وہ سب کے آگے کھڑے ہو کر باقی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ان لوگوں کو اس عمل سے زیادہ اجر ملتا ہے۔
سوال: کیا نماز جماعت مستحب ہے؟
ج ہاں اس کا عظیم ثواب ہے،خاص کر کسی عالم کے پیچھے اور جتنے لوگ نماز جماعت میں زیادہ ہوں گے اتنی ہی اس کی فضیلت بھی بڑھے گی۔
سوال: امام جماعت کے کیا شرائط ہیں کہ جن کو آپ نے اپنی گفتگو میں اشارةبیان کیا؟
جواب: امام جماعت کے شرائط میں ہے کہ وہ ،بالغ ہو ،عاقل ہو، مجنون نہ ہو،مومن ہو،عادل ہو،اپنے خدا کی معصیت (گناہ) نہ کرتا ہو قرائت صحیح ہو،حلال ہو،جب مامون مرد ہوں تو امام بھی مرد ہو(عورت نہ ہو)
سوال: ہم کس طرح پہچانیں کہ یہ مرد مومن ہے،عادل ہے تاکہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھ سکیں؟
جواب: اس کے ظاہری حال کا بہتر ہونا کافی ہے۔
سوال: کیا جماعت میں امام جماعت کے دوسرے شرائط بھی ہیں۔؟
جواب: ہاں (امام جماعت کے بارے میں اعتبار کیا گیا ہے کہ وہ ایسا نہ ہوکہ جس پر شرعی حد جاری کی گئی ہو) اور اگر ماموم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہےہیں تو امام کی نماز بھی قیام کی حالت میں ہونی چاہیے امام وماموم کے قبلہ میں احتلاف نہ ہو ایسا نہ ہوکہ امام کا اعتقاد قبلہ کےمتعلق کسی طرف ہو اور ماموم کا اعتقاد دوسری طرف ہو، ماموم کی نظر میں امام کی نماز صحیح ہو،پس اگر امام پانی کی نجاست کو نہ جانتے ہوئے نجس پانی سے وضو کرے اور ماموم کو پانی کی نجاست کا علم ہو تو پھر ایسی صورت میں ماموم کے لئے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ۔
سوال: میں جماعت کے ساتھ کس طرح نماز پڑھو؟
جواب: پہلے کسی ایسے شخص کو کہ جس میں امام جماعت کے شرائط جمع ہوں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے،شخص معین کرو اگر تم تنہا ہو تو امام کے داہنی طرف ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو یا اگر تم دویا دو سے زیادہ ہوتو پھر امام کے پیچھے کھڑے ہو تمہارے اورامام کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو جیسے دیوار وغیرہ تمہارے کھڑے ہونے کی جگہ سے امام کے کھڑے ہونے کی جگہ زیادہ بلند نہ ہونی چاہیے تمہارے اور امام کے درمیان یا جو مصلی تمہارے پہلو میں کھڑا ہے یا وہ جو تمہارے آگے کھڑا ہے کہ جس کا رابطہ امام سے ہے اس کے او ر تمہارے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہونا چاہئے ۔
سوال: پس اس بناپر نمازیوں کے درمیان ایک میڑسے زیادہ فاصلہ نہ ہونا چاہیے؟
جواب: (ہاں! تقریبا) اور نمازی کا اپنے برابر والے نمازی سےمتصل ہونا چاہیے ایک سمت ہی سے کافی ہے اور یہ اتصال چاہے آگے سے ہو یا داہنی طرف سے ہویا بائیں طرف سے ہو کافی ہے۔
سوال: اس کے بعد کیا ہونا چا ہئے؟
جواب: جب امام جماعت تکبیر کہے تو اس کے بعد اس کے پیچھے کھڑے ہونے والے تکبیر کہیں جب امام سورہ الحمد اور اس کے بعد سورہ پڑھے تو مامومین کو ان (سوروں) کی تلاوت نہ کرنی چاہیے کیونکہ امام کی تلاوت ان کی طرف سے کفایت کرے گی پس جب وہ رکوع کرے تو وہ بھی رکوع کریں اور جب و ہ سجدہ میں جائے تو اس کے بعد وہ سجدہ میں جائیں اور جب وہ تشھد پڑھے تو یہ تشھد پڑھیں اور اس کے سلام کے بعد یہ سلام کہیں۔
سوال: اور کیا میں رکوع و سجدہ اور تشہد میں ذکر پڑھوں اور کیا تیسری اور چوتھی رکعتوں میں تسبیحات اربعہ پڑھوں یا خاموش رہوں اور کچھ نہ پڑھوں؟
جواب: بلکہ تم اسی طرح (ان کو) پڑھو کہ جس طرح تم فرادی نماز پڑھتے وقت پڑھتے ہو،لہٰذا تم رکوع ،سجود اور تشہد میں (اس کا مخصوص) ذکر پڑھو اور تیسری اور چوتھی میں جیسا کہ میں نے بتایا تسبیحات اربعہ کی تکرار کرو فقط سور تین(الحمدو سورہ) پڑھنا تم پر (واجب) نہیں ہے،پھر(ان کے علاوہ سب کی متابعت تم پر (ضروری ) ہے۔
سوال: آپ کا کیا مقصد ہے؟
جواب: تم پر امام جماعت کی اتباع ہر ہر قدم پر ضروری ہے یعنی جب وہ رکوع کرے تو تم بھی اس کے ساتھ رکوع کرو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی اس کے ساتھ سجدہ کرو اور جب وہ سجدے سے سر اٹھائے تو تم اپنے سر کو اٹھاؤ اور اسی طرح (ہر فعل کو انجام دو)افعال نماز میں اس سے پہل نہ کرو۔
سوال: اور امام جماعت سے کب ملحق ہونا چاہیے؟
جواب: امام جماعت کے حالت قیام میں تکبیر کہنے کے بعد یا جب وہ حالت رکوع میں ہو تو اس سے ملحق ہونا چاہیے۔
سوال: میں امام جماعت کے ساتھ اس وقت ملحق ہوں کہ جب وہ دونوں سورتوں کی تلاوت کررہا ہو تو مجھ پر دونوں سوروں کا پڑھنا ضروری نہیں ہے جیسا کہ آپ نے بیان فرمایا‘مگر جب وہ رکوع میں ہوتو میں کس طرح اس سے ملحق ہوں؟
جواب: تم تکبیر کہہ کرفوراً رکوع میں چلے جاؤ یہاں تک کہ امام جماعت اپنے رکوع کو ختم کرکے کھڑا ہوجائے تو تم بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔
سوال: اور ان دونوں سوروں کے پڑھنے کا کیا ہوگا( وہ تو میں نے پڑھا ہی نہیں ؟
جواب: جب تم رکوع میں اس سے ملحق ہوگئے تو ان دونوں سوروں کی قرائت تم سے ساقط ہے۔
سوال: اور جب وہ تیسری یاچوتھی رکعت میں ہو تو تسبیحات اربعہ پڑھ رہا ہو اس وقت اس سے ملحق ہوں تو؟
جواب : تم تکبیر کہو پھردونوں سوروں کی آہستہ تلاوت کرو ۔
سوال: اور جب دونوں سوروں کے پڑھنے کا وقت وسیع نہ ہو؟
جواب: تو تم فقط سورہ حمد کو پڑھو۔
سوال: مجھے نماز ظہر پڑھنا ہے اور میں امام جماعت سے ملحق ہوجاؤں حالانکہ امام جماعت عصر کی نماز پڑھ رہاہے( تو میرے لئے کیا حکم ہے۔؟
جواب: ہاں تم ملحق ہوسکتے ہو،تمہاری نماز اور امام جماعت کی نماز میں جہرو اخفات یا قصر وتمام یا قضاو اداء کی حیثیت سے اختلاف ہوسکتا ہے۔
سوال: کیا عورتوں کے لئے مردوں کی طرح جماعت ہے؟
جواب: ہاں عورت ایسے مرد کے پیچھے نماز پڑھ سکتی ہے جس میں امام جماعت کے شرائط پائے جاتے ہوں جیسا کہ اس کے لئے عورت کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائزہے،لیکن اگر عورت امام ہو(تواس پر واجب ہے وہ عورتوں کی صف میں کھڑی ہو ان سے آگے کھڑی نہ ہو) اور پھر اسی طرح نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھائے جیسا کہ مردامام جماعت پڑھاتا ہے،لیکن اگر عورتیں مردوں کے ساتھ نمازپڑھ رہی ہوں تو ان پر واجب ہے کہ وہ مردوں کے پیچھے نماز پڑھیں،یا ان کے ساتھ ایک صف میں اگر نماز پڑھیں تو بیچ میں کوئی چیزحا ئل ہونی چاہیے اگر چہ دیوار ہی کیوں نہ ہو۔
سوال: یہ نماز جماعت تھی اس کے علاوہ میں نے ایک نماز کا نام سنا کہ اس کا نام نماز جمعہ ہے پس کیا یہ نماز اس کے علاوہ ہے۔؟
جواب: ہاں وہ دورکعت نماز صبح کی طرح ہے مگر یہ کہ نماز صبح سے ان دو خطبوں کی بناپرممتاز ہوجاتی ہے کہ جو نماز جمعہ سے پہلے پڑھے جاتے ہیں اس طرح کہ امام کھڑا ہو اور ان دونوں خطبوں میں ایسی چیز بیان کرے جس میں خدا کی رضایت اور لوگوں کا نفع ہو۔
اور کم سے کم پہلے خطبہ میں واجب ہے کہ اللہ تعالی کی حمد وثنا کرے( عربی زبان میں) اور لوگوں کو تقوے کی نصیحت کرے،اورقرآن کریم کا ایک چھوٹا سا سورہ پڑھے پھر تھوڑا بیٹھ کر دوسری مرتبہ دوسرے خطبے کے لئے کھڑا ہو پس اللہ کی حمدوثنا اور محمد و آل محمد پر اور مسلمانوں کے ائمہ علیہم السلام پر صلوات بھیجے اور سب سے زیادہ بہتر وافضل مومنین ومومنات کے لئے استغفار کرنا ہے۔
سوال: کیا یہاں اس کے واجب ہونے میں کچھ شرائط بھی ہیں؟
جواب: ہاں اس کے واجب ہونے کے چندشرائط ہیں کہ نماز ظہر کا وقت داخل ہوجائے،پانچ لوگوں کا جمع ہونا،کہ ان میں ایک امام جمعہ ہو،اور امام جمعہ میں وہ تمام شرائط پائی جائیں کہ جو امام جماعت کے بارے میں بیان کی گئی ہیں اور جب کسی شہر میں نماز جمعہ قائم ہواپنے تمام شرائط کے ساتھ پس اگر امام معصوم یا جس کو اس نے مقرر کیا ہے نماز جمعہ کا اقامہ کرے تو اس شہر کے تمام رہنے والوں پر نماز جمعہ میں شرکت کرنا واجب ہے،سوائے ان لوگوں کے جن کو بارش نے یاشدید موسم سرمایا ان دونوں کے علاوہ کسی اور چیز نے شرکت کرنے سے مجبور کردیا ہو،جو مرض وبینائی سے سالم ہوں سوائے بوڑھے اور مسافر کے اورنماز جمعہ میں تقریبا ( ۱۱ کلو میڑ) کے فاصلہ تک شرکت کرنا( ضروری ہے)
سوال: اور اگر امام یا جس کو امام نے مقرر کیا ہو اس کے علاوہ کوئی نماز جمعہ کو قائم کرے تو پھر اس میں شرکت کرنا واجب نہیں ہے اور نماز ظہر کا بجالانا جائزہے،اور اگر کوئی مصلی نماز جمعہ کو جو اس کے تمام شرائط کے ساتھ قائم ہوئی ہے پڑھ لے تو وہ نماز ظہر سے کفایت کرے گی اور وہ نماز ظہر کو ساقط کردے گی۔
اب دو چیزیں باقی رہ گئی ہیں جن کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔
۱ نماز جمعہ کا پڑھنا واجب تخییری ہے پس مکلف نماز جمعہ اور نماز ظہر کے پڑھنے میں مخیر ہے( چاہے نماز جمعہ پڑھے یا نماز طہر) مگر نماز جمعہ کا پڑھناافضل ہے ۔
۲: نماز جمعہ کے درمیان تقریباً ساڑھے پانچ کلومیڑ کا فاصلہ معتبر ہے۔
سوال: چاہتا ہوں آپ سے ایک سوال کروں مگر کیا کروں حیامانع ہے ۔
جواب: جو کچھ چاہو تم سوال کرو دین میں کسی چیز کی شرم نہیں ۔
سوال: اگر میں نے نماز پنجگانہ میں کسی نماز کو نیند کی بناپر کبھی غفلت کی بنا پر چشم پوشی اور لاپرواہی اور کبھی جہالت کے سبب نہ پڑھی ہویا اگر پڑھی ہے تو نماز باطل اور فاسد پڑھی اور نماز کا وقت بھی نکل چکا (تو اب کیا کروں ؟)
جواب: ان کی قضا تم پر واجب ہے اگر وہ مثل صبح ومغرب اور عشاء کے جہری ہے تو ان کی قضا بھی جہری ہے اور اگر وہ مثل ظہر و عصر کے اخفاتی ہوں تو ان کی قضا بھی آہستہ آواز سے ہوگی اور اگر وہ قصر ہیں تو ان کی قضا بھی قصراور اگروہ تمام ہیں تو ان کی قضا بھی تمام ہوگی ۔
سوال: اور کیا میں نماز ظہر کی قضا زوال کے وقت پڑھ سکتا ہوں اور نماز عشاء کے وقت میں اس طرح نماز عشاء کی قضا ادا کرسکتا ہوں؟
جواب: ہرگز نہیں بلکہ تم جس وقت چاہو اپنی کسی بھی نماز کی قضا ادا کرسکتے ہو چاہے رات ہو یا دن اور تم صبح نماز کی قضا شام کے وقت بھی ادا کرسکتے ہو،اسی طرح دوسری نمازوں کی بھی قضاء ادا کرسکتے ہو۔
سوال: اور جب مجھے معلوم نہ ہوکہ میری کون سی نماز قضا ہے تو میں کس نماز کی قضا ادا کرو؟
جواب: جس نماز کے قضا ہونے کا یقین ہو ،اور جس کو تم نے اس کے وقت میں نہ پڑھی ہو، اس کی قضا کرو لیکن جس نماز کے قضا ہونے کے بارے میں تم کو شک ہے تو اس کی قضاتم پر واجب نہیں ہے۔
سوال: ذرامجھے مثال سے واضح کیجئے؟
جواب: مثلاً تم کو یقین ہے کہ تم نے ایک مہینہ تک نماز صبح نہیں پڑھی تو ایک مہینہ کی نماز صبح کی قضا تم پر واجب ہے لیکن جس کے بارے میں شک ہے کہ وہ قضا ہوئی یا نہیں تو اس کی قضا تم پر واجب نہیں ہے۔
دوسری مثال جب تم کو معلوم ہوکہ ایک زمانہ تک تم نے نماز صبح نہیں پڑھی،اب تمہارے دل میں دواحتمال پیدا ہوتے ہیں کہ تم نے آیا ایک مہینہ نماز قضا کی ہے یا ایک مہینہ دس دن کی قضا ہوئی ہے ایسی صورت میں ایک مہینہ کی نماز کی قضا تمہارے لئے ضروری ہے اس سے زیادہ نہیں ۔
سوال: کیا جو ہماری نماز قضا ہوئی ہے اس کا ادا کرنافوراً بغیر تاخیر کے واجب ہے؟
جواب: بغیر تساہلی اور تسامح کے تاخیر جائز ہے میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تمہاری نماز جس دن فوت ہوئی ہے اسی دن اس کی قضا ادا کرو مثلا تمہاری کسی دن صبح کو آنکھ نہ کھلے اور نماز صبح قضا ہوجائے تو اسی دن نماز صبح کی قضا ادا کرلو تاکہ وہ زیادہ نہ ہوجائیں تو تم پر ان کی قضا کا ادا کرنا مشکل ہوجائے گا۔
میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں قضا کے سلسلہ میں تساہلی اور تسامح سے خدا تم کو توفیق عنایت کرے کہ تم اپنی نمازوں کو ان کے معین وقت میں ادا کرو۔
سوال: ذرا ٹھہرئیے نماز کی پہلی والی گفتگو میں آپ نے مجھے نماز واجب کی تعداد میں بتایا تھا کہ نماز مرنے والے کے بڑے بیٹے پر ادا کرنا واجب ہے جب کہ باپ نے ان کی قضا ادا نہ کی ہواور وہ مرجائے؟
جواب: ہاں( نماز واجب کی قضا بڑے بیٹے پر واجب ہے ، جب کہ والد کی نماز کسی عذر کی بنا پر قضا ہوگئی ہو اور اس نے اس قضا کے بجالانے پر قدرت رکھتے ہوئے بھی قضا کو ادا نہ کیا ہو اور وہ مر جائے اور اس کا بڑا بیٹا اس کی موت کے وقت قاصر نہ ہو اور وہ ممنوع الارث بھی نہ ہو تو اس کو چا ہئے کہ وہ کسی کو اپنی نیابت میں اپنے والد کی قضا نماز ادا کرنے پر بحیثیت اجارہ معین کرے ۔
سوال: آپ نے مجھ سے نماز آیات کے بارے میں ذکر کیا تھا؟
جواب: نماز آیات سوائے حیض ونفاس والی عورتوں کے تمام مکلفین پر چاند گہن سورج گہن چاہے ذرا سا ہی کیوں نہ ہو(زلزلہ کے وقت) واجب ہے اور ہروحشت ناک آسمانی حادثہ کے وقت جیسے بجلی کی کڑک وگرج،سرخ وسیاہ آندھی وغیرہ کے وقت اور اسی طرح وحشت ناک زمینی حادثات کے وقت جیسے زمین کا ایسا پھٹ جانا اور دھنس جانا کہ جس میں عام لوگ خوف زدہ ہوجائیں نماز آیات کو فرادا پڑھا جاتا ہے اور چاند گہن اور سورج گہن میں جماعت سے بھی پڑھا جاتاہے۔
سوال: نماز آیات کب ادا کی جاتی ہے۔؟
جواب: سورج گہن اور چاند گہن میں شروع گہن سے ختم گہن تک۔
سوال: زلزلوں میں وبجلی کی کڑک وگرج میں اور ہر آسمانی یا زمینی وحشت ناک حادثات کے وقت(کلاصۃاً)نماز آیا ت کب پڑھی جائے؟
جواب: ان میں نماز کا وقت کوئی معین نہیں بلکہ جیسے ہی حادثات رونما ہوں ویسے ہی نماز کو بجالایا جائے مگر یہ کہ حادثہ کا وقت وسیع ہوتو اس کی نماز کو اتنے وقت میں بجالایا جائے کہ اس حادثہ کا زمانہ ختم نہ ہواہو۔
سوال: نماز آیات کو کس طرح پڑھوں؟
وہ دورکعت ہے اورہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں ۔
سوال: وہ کس طرح؟
جواب: پہلے تکبیر کہو پھر سورہ فاتحہ کی تلاوت کرو اس کے بعد کسی دوسرے سورہ کو کامل پڑھو، پھر رکوع کرو جب تم اپنا سررکوع سے اٹھاؤ تو پھر سورہ الحمد اور ایک کامل سورہ پڑھو پھر رکوع کرو اسی طرح پانچ رکوع کرو۔
جب تم اپنا سر رکوع سے بلند کرو تو سجدے کے لئے جھک جاؤ اور دوسجدوں کو اسی طرح کرو کہ جس طرح تم ہمیشہ نماز میں سجدے کرتے ہو۔
پھر تم دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اس رکعت میں بھی اسی طرح انجام دو جو اس سے پہلے والی رکعت میں انجام دیا ہے (یعنی پانچ رکوع اور پانچ مرتبہ دونوں سوروں کا پڑھنا) پھر تشہدو سلام کے بعد نماز کو تمام کرو،یہ ہے وضاحت اس نماز کی کہ جس میں دس رکوع ہیں،لیکن وہ دورکعت پر مشتمل نماز ہے اور اس کے علاوہ اس نماز کی دوسری بھی صورت ہے مگر اختصار کی بنا پر اس کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: جب سورج گہن یا چاند گہن لگ جائے اور اس کا علم نہ ہو یہاں تک کہ وہ بالکل ختم ہوجائے تو اس کاکیا حکم ہے؟
جواب: جب سورج گہن یا چاند گہن پورا ہو اس طرح کہ وہ گہن تمام سورج اور چاند کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو تم پراس کی قضا واجب ہے اور اگرپورانہ ہو صرف تھوڑا سا گہن ہو تو تم پر قضا واجب نہیں ہے۔
سوال: اور کیا نماز آیات زلزلہ وبجلی کی کڑک وچمک میں ہے؟
جواب: جب ان دونوں کے حادثہ کا تھوڑا زمانہ گزرجائے اور تم نے کسی بھی سبب نماز نہیں پڑھی تو پھر ان کی قضا ساقط ہے ۔
سوال: اگر زمین کے کسی بھی حصہ میں سورج یا چاند گہن ہو تو کیا مجھ پر نماز آیات کا پڑھنا واجب ہے؟
جواب: ہرگز نہیں بلکہ اس چاند یا سورج گرہن کی نماز تم پر واجب ہے جو تمہارے شہر میں ہوا ہو یا جو تمہارے شہر سے کوئی ایساشہر ملا ہوا ہو کہ جس کے حادثات اور واقعات مشترک ہوں اور دنیا کے کسی بھی حصہ میں سورج گہن یا چاند گہن لگا ہو اور وہ تم سے دور ہوتو اس وقت تمہارے اوپرنماز آیات واجب نہیں ہے۔
سوال: آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ نمازیں واجب ہیں اور مستحب؟لیکن آپ نے مستحب نمازوں کے بارے میں کچھ نہ فرمایا؟
جواب: وہ بہت ہیں ان کو بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے ۔اس لئےان میں سے کچھ کو میں مختصر طور پر بیان کرتا ہوں۔
۱ نماز شب (اور اس کا آخری حصہ تہائی رات میں ادا کرنا افضل ہے،اور جتنا نماز صبح سے وقت قریب ہوگا اتنا ہی افضل ہے) آٹھ رکعتیں ہیں ہر دورکعت کے بعد نمازپڑھنے والا سلام پھیرے ، نماز صبح کی طرح،جب یہ آٹھ رکعت ختم ہوجائیں تو پھر دورکعت نماز شفع پڑھے پھرنماز وتر پڑھے جو ایک رکعت ہے پس یہ تمام کی تمام گیارہ رکعت ہیں ۔
سوال: مجھے بتائیے کہ نماز وتر کس طرح پڑھی جاتی ہے جب کہ وہ ایک رکعت ہے؟۔
جواب: پہلے تکبیر کہو پھر الحمد پڑھو اور مستحب ہے کہ اس کے بعد سورہ توحید پڑھو تین مرتبہ،اور سورہ ناس اور سورہ فلق پڑھو پھر ہاتھوں کو بلند کرکے جو چاہو دعا پڑھو۔
تم پر مستحب ہے کہ اللہ کے خوف سے گریہ کرو اور چالیس مومنین کا نام لے کر ان کے واسطے مغفرت طلب کرو اور ستر مرتبہ پڑھو۔
(استغفرالله واتوب الیه ) اور سات مرتبہ (هذا مقام العاذ بک من النار ) پڑھو اور تین سو مرتیہ(العفوء )کہو اور جب تم اس سے فارغ ہوجاؤتو رکوع کرو اور پھر تشہد وسلام کے بعد نماز تمام کرو۔
اور تم نماز شفع اور وتر پر ہی صرف اکتفاء کرسکتے ہو بلکہ تنہا اور خاص طورسے وتر پر بھی اکتفاء کرسکتے ہو جب کہ وقت تنگ ہو۔
سوال: نماز شب کی فضیلت کیا ہے؟
جواب: نماز شب کی بہت بڑی فضیلت ہے امام صادق علیہ السلام سے روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا :نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی وصیت میں جو علی علیہ السلام سے کی ہے (تین مرتبہ فرمایا)علیک بصلواة اللیل (علیک بصلواة اللیل ) (علیک بصلواة اللیل )؟
یعنی تم نماز شب پڑھا کرو۔
اور اسی طرح نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی ہے کہ ”صلاة رکعتین فی جوف اللیل الی من الدنیا وما فیها “۔رات کی تاریکی میں دو رکعت نماز پڑھنا مجھے دنیا اور جو اس میں ہے اس سے زیادہ پسند ہے، اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا او راس نے کسی حاجت کے بارے میں آپ سے شکایت کی او راپنی شکایت میں اپنی بھوک کا بھی اضافہ کیا تو آپ نے اس سے فرمایا: (اے شخص تو نماز شب پڑھتا ہے) تو اس نے کہا ہاں، تو آپ نے اس کے دوست کی طرف متوجہ ہوکر اور فرمایا وہ شخص جھوٹا ہےجو کہتا ہے کہ رات کو نمازشب پڑھتا ہے اور دن کو بھوکا رہے خداوند عالم نے اس شخص کےروزی کی ضمانت لی ہے جو رات کو نماز شب پڑھتا ہے)۔
۲ نماز وحشت یا دفن کی رات کی نماز او راس کے ادا کرنے کا وقت دفن کی پہلی رات ہے، رات کے کسی بھی حصہ میں اس کو پڑھئے اور وہ دو رکعت ہے، رکعت اول الحمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ انا انزلناہ اور تشہد و سلام کے بعد کہو۔
اللهم صل علی محمد و آل محمد و ابعث ثوابها الی قبر فلان ۔
اور فلاں کی جگہ میت کا نام لو، اور ایک دوسری صورت بھی اس نماز کی ہے، فقہ کی کتابوں میں دیکھو اگر مزید جاننا چاہتے ہو تو۔
۳ ۔ نماز غفیلہ او ر وہ دو رکعت ہے مغرب و عشاء کے درمیان پہلی رکعت میں الحمد کے بعد یہ آیہ کریمہ پڑھو۔
( و ذالنون اذذهب مغاضبافظن ان لن نقدر علیه فنادی فی الظلمات ان لا لااله الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین، فاستجبنا له و نجیناه من الغم و کذالک ننجی المومنین )
اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد اس آیہ کریمہ کی تلاوت کرو۔
( و عنده مفاتح الغیب لا یعلمها الا هو و یعلم ما فی البر والبحر و ما تسقط من ورقة الا یعلمها ولا حبة فی ظلمات الارض و لا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین )
پھر دعا کے لئے ہاتھوں کو بلند کرو اور کہو۔
اللهم انت ولی نعمتی والقادر علی طلبتی تعلم حاجتی فاسالک بحق محمد وآله علیه وعلیهم السلام لما قضیتهالی ۔
اپنی حاجب طلب کرو انشاء اللہ پوری ہوگی۔
۴ ۔ ہر مہینہ کے پہلے دن کی نماز اور وہ دو رکعت ہے۔ پہل رکعت میں الحمد کے بعد سورۂ توحید تین مرتبہ اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورۂ قدر تین مرتبہ، پھر تم صدقہ دو جو بھی تم کو میسر ہو او راس مہینہ کی سلامتی کو خرید لو اور اس کے بعد قرآن کی کچھ مخصوص آیتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔
۵ ۔حضرت علی علیہ السلام کی نماز،اور وہ چار رکعت ہے دو دو رکعت کر کے صبح کی طرح پڑھو، ہر رکعت میں سورۂ الحمد کے بعدپچاس ( ۵۰) مرتبہ( قل هو الله احد ) پڑھو،توپھر اس کے اور خدا کے درمیان کوئی گناہ نہ رہے گا۔
۶ ۔ امرمشکل کی آسانی کے لئے نماز، اور وہ دو رکعت ہے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب کوئی کام مشکل ہوجائے تو دو رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں الحمد اور قل ہو اللہ احد اور( انا فتحنا ) کو( ولینصرک الله نصرا عزیرا ) تک اور دوسری رکعت میں الحمد اور قل ہو اللہ احد اور( الم نشرح لک صدرک ) پڑھو۔
روزے کے متعلق گفتگو
میرے والد نے ماہ رمضان کے متعلق گفتگو کو شروع کیا تو ان کی آواز بیٹھنے لگی۔ ان کی آنکھوں می آنسو تھے ان کی روح میں مہربانی کا چشمہ پھوٹ رہا تھا۔ رمضان کا نام ان کے نزدیک ہر خیرو برکت، رحمت ، مغفرت اور رضوان کے معانی ہم آہنگ ہے۔
لہٰذا ان کے چہرے سے ظاہر تھا کہ وہ مجھے ایسی ہستی کے حضور میں منتقل کرہے ہیں جس کی عظمت و بزرگی کی خوشبو پھیل رہی ہو جیسے رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے اہل بیت اور اصحاب کے بیچ میں کھڑے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان خطبہ پڑھ رہے ہیں آپ فرماتے ہیں۔
اے لوگو! تمہاری طرف اللہ کا مہینہ اپنی رحمت، برکت اور مغفرت کے ساتھ آرہا ہے۔ ایسامہینہ جو اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے۔ جس کے دن تمام دنوں سے بہتر، جس کی راتیں تمام راتوں سے بہتر جس کی گھڑی تمام گھڑیوں سے بہتر، وہ ایسا مہینہ ہے جس میں تم کو خدا کی مہمانی کی دعوت دی جارہی ہے اور اس میں تم کرامت خدا کے اہل قرار پاؤ گے۔
تمہاری سانسیں اس میں تسبیح، تمہاری نیند اس میں عبادت، تمہارا عمل اس میں مقبول، اور تمہاری دعا اس میں مستجاب ہے۔ بس تم سچی نیتوں اور پاک دلوں سے خدا سے سوال کرو کہ وہ تم کو روزہ رکھنے کی اور اس میں قرآن کی تلاوت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے، کیونکہ جو اس مہینہ میں اللہ کی بخشش سے محروم رہ گیا وہ بدبخت ہے۔
اے لوگوں اس مہینہ میں جنت کے دروازے کھول دیئے گے ہیں۔ پس خدا سے دعا کرو کہ وہ تم پر بند نہ کردئیے جائیں۔اور اس مہینے میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں، خدا سے دعا کرو کہ وہ تم پر کھول ہن دیئے جائیں، شیاطین کو مقید کردیا گیا ہے پس تم سوال کرو کہ وہ تم پر دوبارہ مسلط نہ کردی دیئے جائیں۔
یہاں تک پڑھنے کے بعد انہوں نے مجھ کو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کے اس حصہ کی طرف متوجہ کیا، گویا اشارہ ہو اس طرف کہ اس مہینہ میں مجھے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ پھر انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ اے لوگو ! تم میں سے جو کوئی بھی کسی مومن روزہ دار کو افطار کرائے اسے ایک غلام کے آزاد کرنے کا ثواب اور تمام گزشتہ گناہوں کی مغفرت خدا سے ملے گی کہا گیا کہ یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمارے اندر اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم کسی کو افطار کراسکیں۔ تو آپ نے فرمایا آ تش جہنم سے بچو، اگر چہ آدھے خرمے ہی سے افطار کراؤ۔
اللہ سے ڈرو اگر چہ پانی کے ایک ہی گھونٹ سے افطار کراؤ۔ اللہ تعالیٰ اس ثواب کو عطا کرے گا اس کو کہ جو اس ذراسے عمل کو انجام دے،اور اس سے زیادہ پر قدرت نہ رکھے۔اے لوگوں!جو بھی اس مہینہ میں اپنے اخلاق کو اچھارکھے قیامت کے دن جبکہ لوگوں کے قدم صراط پر ڈگمگائیں گے تو وہ آسانی سے اس پر گزر جائیگا اور جو اپنے غلام وکنیز سے اس ماہ میں خدمت کم لے تو خدا قیامت کے دن اس کے حساب کو آسان کردے گا اور جو کوئی اس مہینہ میں لوگوں کواپنے شرسےمحفوظ رکھے،خدا قیامت کے دن اس کو اپنے غضب سے مخفوظ رکھےگا،اور جو اس مہینہ میں کسی یتیم کو نوازے خدا قیامت کے دن اس کو نوازےگا،اور جو کوئی اس مہینہ میں اپنے عزیزوں کے ساتھ احسان کوقطع کرے خدا قیامت کے دن اپنی رحمت اس سے قطع کردے گا،اور جو کوئی اس مہینہ قرآن کی ایک آیت تلاوت کرےگا تو اس کا ثواب اتنا ہے کہ جیسے دوسرے مہینوں قرآن ختم کرے۔
جب میرے والد صاحب نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کی اس جگہ تک پہنچے تو انھوں نے بعض روزے داروں کے بارے میں نقدوتبصرہ شروع کیا خیال کرتے ہیں کہ روزہ صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام ہے،تو وہ امام علی علیہ السلام کے اس قول کی تصوریر ہیں کہ جس میں آپ نے فرمایا(کہ کتنے روزے دار ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے سوائے پیاس کے اور کچھ نہیں ملتاا ور کتنے عبادت گزار ایسے ہیں کہ ان کو اپنی عبادت سے سوائے رنج وتعب کے اور کچھ نہیں ملتا)پھر اس کے فورا بعد اًمام صادق علیہ السلام کی دوسری حدیث پڑھی کہ جس میں آپ نے فرمایا:(جب تم روزہ رکھو تو تمہارےکان‘آنکھ، بال،کھال اور تمام اعضا روزے دار ہوں ۔(اور یہ بھی فرمایا کہ روزہ صرف کھانے پینے سے ترک کا نہ ہونا چاہئے،پس جس وقت تم روزہ رکھو تو تمہاری زبان جھوٹ سےمحفوظ رہنی چاہئے،اور اپنی آنکھوں کو حرام کے دیکھنے سے محفوظ رکھو،باہم لڑائی جھگڑانہ کرو،حسدنہ کرو،غیبت نہ کرو،کسی کو برانہ کہو،گالی نہ بکوظلم نہ کرو،اور بری بات ،جھوٹ،خصومت ،سوئے ظن،غیبت،چغل خوری سے بچو اور آخرت کو اپنے پیش نظر رکھو ظہور امام زمان علیہ السلام کے منتظر رہو۔
اللہ نے جس چیز کا وعدہ کیا اس کے منتظر رہو۔ اعمال صالحہ کا تو شہ آخرت کے سفر کے واسطے اکٹھا کرلو،اورتم ہمیشہ سکون واطمینان کے ساتھ رہو اور خشوع وخضوع وانکساری ایسی ہو کہ جیسے کوئی غلام اپنے آقاسے خائف وترساں رہتا ہے خدا کے عذاب سے ڈرو،اور اس کی رحمت سے امید رکھو اس کے بعد پھر مجھ سے ایک قصہ بیان کیا جو رسول اللہ کے ساتھ پیش آیا تھا نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک عورت کو گالیاں دیتے ہوئےسناکہ وہ اپنی کنیز کو گالیاں دے رہی ہے حالانکہ وہ روزے سے ہے۔
پس رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کو اپنے پاس بلایا اور کھانا منگوا کر اس سے فرمایا اس کو کھا،اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں روزے سے ہوں آپ نے فرمایا تو کس طرح روزے سے ہے حالانکہ تو نے اپنی کنیز کو گالیاں دی ہے روزہ فقط کھانے پینےسے ہاتھ اٹھالینے کا نام نہیں ہے بلکہ خدا نے کھانے پینے کے علاوہ اس کو قول وفعل کی برائیوں سے بھی حجاب قرار دیا ہے( ماقل الصوم واکثر الجوع) روزے دار کتنے کم ہیں اور بھوکے زیادہ کتنے ہیں۔
سوال: میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ نے مجھ پر شدید رعب وہیبت طاری کردیا ہے اس سال مجھ پر واجب ہے کہ ما رمضان میں روزہ رکھوں لیکن مجھے کس طرح معلوم ہوکہ رمضان شروع ہوگیا تاکہ میں روزہ رکھوں؟
جواب: اس کو تم اپنے شہر میں ماہ رمضان کی رویت ہلال کے ثابت ہو جانے سےمعلوم کرسکتے ہو،یا پھر جو تمہارے شہر سے قریب شہر ہیں اور جو افق میں اس طرح شریک ہیں کہ اگر وہاں چاند کا دیکھا جانا ثابت ہوجائے تو وہ رویت تمہارے شہر میں بھی لازمی ہے،اگر کوئی چیز جیسے بادل یا غبار یا پہاڑوغیرہ مانع نہ ہوں (تو ان شہروں کی رویت ہلال سے ماہ رمضان کو معلوم کرسکتے ہو)
سوال: رویت حلال کس طرح ثابت ہوتی ہے ۔
جواب چند چیزوں کے ذریعہ ثابت ہوتی ہے، جو مندرجہ ذیل ہیں۔
۱ خود تم چاند دیکھو۔
۲ ایسے دوعادل گواہی دیں کہ جن کی غلطی کا تم کو علم نہ ہو،اور نہ ان کے خلاف کوئی شہادت ہو۔
۳ ماہ شعبان کے تیس ( ۳۰) دن پورے گزر جائیں تاکہ یقین کے ساتھ معلوم ہو جائے کہ ماہ شعبان گزر گیا اور ماہ رمضان شروع ہوگیا۔
۴ لوگوں کے درمیان رویت ماہ رمضان کی ایسی شہرت ہوجائے کہ تم کو اطمینان ہوجائے۔
سوال: اگر اول وقت کو میں نہ جان سکوں تو کیا میں کل روزہ رکھوں ‘اس سے ماہ رمضان کا چاند ثابت ہوگا یا ثابت نہ ہوگا،کیا میں ایسی حالت میں کل روزہ رکھوں جس کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہے کہ آخر ماہ شعبان ہے یا اول ماہ رمضان ہے؟
جواب: تم روزہ رکھو ماہ شعبان سمجھتے ہوئے اگر دن میں کسی بھی وقت معلوم ہوگیا کہ یہ ماہ رمضان ہے تو اپنی نیت کو بدل دو،وہ ماہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا،اور پھر تمہارے اوپر کوئی چیز (قضا) نہ ہوگی،اور تمہارے لئے یہ بھی جائز ہے کہ تم یوم الشک (یعنی شک ہو کہ یہ دن آخرشعبان کا ہے یا اول رمضان کا) میں روزہ نہ رکھو
سوال: کیسے معلوم ہو کہ یہ ماہ رمضان کا آخری دن ہے اور شوال کی ابتداء ہے تاکہ میں روزہ نہ رکھوں ؟
جواب: جو طریقہ تم کو پہلے بتاچکا ہوں جس سے تم ماہ رمضان کی ابتداء معلوم کرسکتے ہو،اسی طرح ماہ شوال کا خود چاند دیکھ کریا۔۔۔ یا۔۔۔
سوال: ہاں ہاں اور جب میرے اوپر ماہ رمضان کا چاند ثابت ہوجائے تو ؟
جواب: تمہارے اوپر اور ہر اس مسلمان پر کہ جو بالغ ہو،عاقل ہو روزہ جس کو نقصان نہ پہونچاتا ہو مسافر نہ ہو اور نہ بے ہوش ہو روزہ رکھنا واجب ہے،اور عوتوں کی نسبت روزہ ہر اس عورت پر واجب ہے کہ جو حیض ونفاس سے پاک ہو پس حائض اور نفساء روزہ نہیں رکھ سکتیں،اور ماہ رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کریں گی ۔
سوال: اور جب انسان کو روزہ کی بنا پر اپنی جان کا خوف ہوتو؟
جواب: روزہ کی بناپر مرض کے پیدا ہوجانے کا خوف ہو یا اس میں شدت کا سبب ہو یا دیر سے بیماری کے اچھے ہونے کا ڈر ہویا تکلیف کے زیادہ ہونے کا سبب ہو اور یہ تمام چیزیں اتنی مقدار میں ہوں کہ جس کو عادتاً برداشت نہ کیا جاتاہو تو پھر روزہ نہ رکھے۔
سوال: اور مسافر کاکیا حکم ہے؟
جواب: جب روزہ دار زوال کے بعد سفر کرے گا تو وہ اپنے روزہ پر باقی رہے اور اگر صبح سے پہلے سفر کرے تو روزہ نہ رکھے۔
سوال: اور جب وہ صبح کے بعد سفر کرے تو؟
جواب: اگر وہ صبح کے بعد سفر کرے تو (اس کا روزہ رکھنا صحیح نہیں ہے چاہے اس نے اپنے سفر کا ارادہ رات سے کیا ہو یا نہ کیا ہو) اس پر قضا کرنا واجب ہے۔
سوال: مجھے روزہ رکھنے کا ارادہ ہے تو میں کس طرح روزہ رکھوں؟
جواب: اول صبح سے سورج غروب ہونے تک قربۃًالی اللہ روزہ کی نیت کرو۔
سوال: کیا روزہ فقط امساک یعنی اپنے نفس کو روکنا نہیں ہے؟
جواب: ہاں روزہ امساک ہے۔
سوال: جب میں روزہ کی نیت کروں،تو اپنے کو کن چیزوں سے روکوں؟
جواب: چند چیزوں سے ان کو(مفطرات ) کہتے ہیں اور وہ نوہیں۔
۱۲ جان بوجھ کر کھاناپینا تھوڑا ہویا زیادہ۔
سوال: اگر میں جان بوجھ کر ایسا نہ کروں بلکہ بھولے سے حالت روزہ میں کھاپی لوں تو؟
جواب: جب تک تم کسی چیز کو عمداًانجام نہ دو تمہارا روزہ صحیح ہے۔
سوال: کیا میں اپنے دہن کو پانی سے دھو کر پھر پانی کو باہر نکال سکتا ہوں؟
کلی کرسکتا ہوں؟
جواب: ہاں تم کرسکتے ہو‘لیکن اگر اس عمل سے غرض ٹھنڈک (اور سکون) حاصل کرنا ہو،اور پانی حلق میں چلاجائے تو تمہارے اوپر قضا واجب ہے اور اگر تم نے بھول کر نگل لیا تو تم پر قضا واجب نہیں۔
سوال: کیا میں اپنا سرپانی میں ڈبو سکتا ہوں جب کہ پانی حلق میں نہ جانے کا اطمینان ہو؟
جواب: ہاں تم یہ کام کرسکتے ہو اگرچہ اس کام میں کراہت شدیدہ ہے ۔
۳ ( جان بوجھ کر خدا اور رسول وآئمہ معصومین علیہ السلام کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا)
۴ عمداً جنسی فعل(یا مقاربت )آگے یا پیچھے کے حصہ میں انجام دینا فاعل ہویا مفعول ہو۔
سوال: اور روزہ دار شوہراور روزہ دار بیوی کو؟
جواب: ان دونوں کو جنسی فعل (جماع) کرنے کا حق صرف ماہ رمضان کی رات میں ہے دن میں نہیں ۔
۵ استمناء یعنی کسی بھی صورت سے منی کا نکالنا۔
۶ طلوع فجر تک عمداً حالت جنابت پر باقی رہنا پس اگر انسان کسی بھی سبب سے رات میں مجنب ہوجائے تو اس پرطلوع صبح سے پہلے غسل کرنا واجب ہے اور جب صبح طلوع کرے تو وہ پاک وصاف ہوکر روزہ رکھے۔
سوال: اگر رات میں مجنب ہوگیا اورغسل مرض کی بناپرنہیں کرسکتا تو؟
جواب: صبح سے پہلے تیمم کرلو۔
سوال: عورت کیا کرے؟
جواب: جب وہ حیض ونفاس سے رات میں پاک ہوجائے تو وہ صبح سے پہلےغسل کرکے پاک ہوجائے اور اس کے بعد روزہ رکھے۔
سوال: اور اگر میں دن میں محتلم ہوجاؤں اور روزہ سے رہوں اور جب میری آنکھ کھلے تو میں اپنے کو مجنب پاؤں؟
جواب: روزہ دار کا احتلام روزہ کو فاسد نہیں کرتا پس اگر تم دن کے کسی بھی حصہ میں بیدار ہو اور اپنے کو مجنب پاؤ تو اس سے تمہارے روزہ پرکوئی نقصان نہیں پہونچتا تم غسل جنابت نہ بھی کرو( تب بھی کوئی بات نہیں)
۷ ( عمداًغبار اور غلیظ دھویں کا حلق میں داخل کرنا)
۸ جان بوجھ کر قئے کرنا۔
سوال: اگر روزہ دار جان بوجھ کرقئے نہ کرے بلکہ بغیر اختیار کے قئے ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: اس سے اس کا روزہ باطل ہے۔
۹ بہنے والی چیزوں یا بغیر بہنے والی چیزوں سے جان بوجھ کر حقنہ (استمناء) کرنا۔
سوال: اگر روزہ دار نے عمداٌ روزہ توڑنے والی چیزوں میں کسی چیز کو انجام دے لیا تو حکم کیا ہے؟۔
جواب: مندرجہ ذیل تفصیل کے مطابق امساک لازمی ہے۔
۱ لف: اگر کوئی عمداً طلوع صبح تک حالت جنابت پر باقی رہے یعنی امساک کرے (یعنی کوئی ایسی چیز جو روزے کو توڑنے والی ہو انجام نہ دے مثل کھانا پینا) اور وہ امساک قصد قربت مطلقہ ہونا چاہئے یعنی جو حکم اس کو دیا گیا ہے اس کو بجالائے بغیر معین کئے ہوئے کہ اس کا یہ امساک ماہ رمضان کے روزہ کے حکم کی بنا پر ہے یا ادب وتنبیہہ کے لئے ہے)
ب: جب کہ عمداً خدا اور رسول پر جھوٹ بولا جائے،یا غبار یا غلیظ دھویں کو ناک سے نیچے اتارا جائے (تویہ رجاء مطلوبیت یعنی اس احتمال کے ساتھ کہ یہ امساک،مطلوب شرعی یا حکم روزہ کی بناپر ہے یا یہ امساک احترام ماہ رمضان کی بناپر ہے۔
ج: اور جب دوسری روزہ تو ڑنے والی چیزوں میں سے کسی چیز کو انجام دے(تو باقی دن احترام ماہ رمضان کی بناپر بہ رجاء مطلوبیت امساک کرے) اور روزہ توڑنے والے پر اس کے علاوہ واجب ہے کہ وہ اپنے اس توڑے ہوئے روزے کی قضا کرے،اور کفارہ دے،یا ایک غلام آزاد کرے،یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے،یا پئے در پئے ساٹھ روزے رکھے،ہر روزہ کے بدلے کہ جس کو اس نے توڑا ہے (چاہے حلال چیز سے توڑا ہو) جیسے پانی پینا یا حرام چیز سے توڑا ہو جیسے شراب پینا یا منی کانکالنا۔
سوال: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کس طرح دیا جائے؟
جواب: کبھی ان کو براہ راست کھانا کھلایا جاتاہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ بالکل سیر ہوجائیں اور ان کو کھانے کی حاجت نہ رہے یاان کو کھانے کی چیزیں دے دی جاتی ہیں اس صورت میں واجب ہے کہ تقریباً(ساڑھے سات سو گرام فی کس ) کھجوریا گیہوں یا آٹا یا چاول یا ماش یااس کے علاوہ دوسری کھانے کی چیزیں دی جائیں۔
اور کھانے کے بدلے ان کو مال دینا جائز نہیں ہے بلکہ صرف کھانے کی چیز ہو،اس کے علاوہ نہ ہویا اس کو وکیل بنایا جائے کہ وہ تمہاری طرف سے خرید کراپنی ملکیت میں لے لے ۔
سوال: اور جب میں ماہ رمضان کا روزہ کسی عذر مثلاً مرض یا سفر کی بنا پر نہ رکھوں تو ؟
جواب: اس دن کی قضا تم پر واجب ہے،اور اس قضا میں تم کو اختیار ہے کہ عیدین کے علاوہ سال کے کسی دن میں بھی روزہ رکھو پس یہ تمہارا روزہ کا بدل ہوگا جس کو تم نے مرض یا سفر کی بناپر نہ رکھا تھا۔
سوال: جب مجھ کو کوئی ایسا مرض لاحق ہوجائے جو اس رمضان سے اس رمضان تک طول پکڑجائے؟
جواب: ایسی صورت میں قضا تم سے ساقط ہے اور فدیہ دینا تم پرواجب ہے اور ہر روزہ کے بدلے ساڑھے سات سو گرام تقریبا کھانا تصدق کرناہے۔
اور اس سے پہلے کہ ہم روزے کی گفتگو کو ختم کر یں میرے والد نے فرمایا چند چیزوں کی طرف اشارہ کرنا چاہتاہوں۔
۱ دونوں عیدوں میں(عید الفطرو عید قربان) روزہ رکھنا جائز نہیں ہے نہ قضا اور نہ غیر قضا۔
۲ ( اگر کسی عذر کی بنا پر باپ کے روزے قضا ہوگئے ہوں تو اس کے مرنے کے بعد بڑے بیٹے پر ان کی قضا واجب ہے،اور اگر اس کی موت کے وقت بڑا بیٹا نہ ہوتو اس کی قضا کسی پر واجب نہیں)
۳ ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی چند اشخاص کو اجازت ہے کیونکہ ان پر روزہ واجب نہیں ہے اور وہ یہ ہیں ۔
الف بوڑھے،بوڑھیاں جب کہ وہ دونوں روزہ رکھنے سے معذور ہوں،یا روزہ ان پر ہرج ومشقت کا سبب ہو،ایسی حالت میں یعنی مشقت کی صورت میں ان دونوں پر فدیہ دینا واجب ہےہر روزہ کے بدلے ،اور یہ دوسری چیزوں سے افضل ہے،اور ان دونوں پر قضا واجب نہیں ہے۔
ب وہ حاملہ عورت کہ جس کے حمل کو اور خود اس کو روزہ نقصان دیتا ہو تو بعد میں ان روزوں کی قضاکرے۔
جواب: وہ دودھ پلانے والی عورت جس کا دودھ کم ہو تو جب روزہ اس کو یا اس کے بچے کو نقصان پہونچائے اور (دودھ پلائی اس عورت پر منحصر ہو)اور اگر اس عورت پر منحصر نہ ہو تو اس پر روزہ رکھنا جائز ہے اور جب روزہ رکھنا اس کے لئے جائز ہو تو اس پر اس کے بعد قضا واجب ہے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کا کفارہ ہر روزہ کے بدلے تقریبا ساڑھے سات سو گرام غلہ ہے۔
۴ جس طرح نماز واجب اور مستحب ہے اسی طرح روزہ بھی واجب اور مستحب ہے،بلکہ روزہ کا شمارسنت موکدہ میں ہے اور روایت میں وارد ہوا ہے کہ وھو جنة من النار جہنم کی سپرہے اور وھو زکواة الا بدان اور جسموں کی زکوةہے اور (بہ یدخل العبد الجنة)اسی کے ذریعہ بندہ جنت میں داخل کیا جائیگا۔
اور :نوم الصائم عبادة ونفسہ وصمتہ تسبیع وعملہ متقبل ودعاءة مستجاب۔
روزہ دار کی نیند عبادت اور اس کی سانس اوراس کی خاموشی تسبیح،اور اس کا عمل قبول اور اس کی دعا مستجاب ہے اور روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت ایک خوشی اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت اور کچھ روزوں کے استحباب(سنت) پر مخصوص روایات وارد ہوئی ہیں۔
۱ لف ہر مہینہ تین روزہ رکھنا،اور ہر مہینہ کی پہلی جمعرات،اور آخری جمعرات،اور ہر مہینہ کی دوسری دہائی کے پہلے بدھ کو روزہ رکھنا افضل ہے۔
ب ذی القعدہ کی ۲۵/ ویں تاریخ کو روزہ رکھنا۔
جواب: نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیدائش کے روز اور عید مبعث میں روزہ رکھنا۔
د عید غدیر کے دن
ھ ۲۴/ ذی الحجہ کو روزہ رکھنا۔
و ما ہ رجب میں کچھ دن روزہ رکھنا یا تمام مہینہ رکھنا ۔
ز ماہ شعبان میں کچھ دن روزہ رکھنا یا تمام مہینہ روزہ رکھنا۔
ان کے علاوہ اوربھی بہت سے روزے ہیں کہ جن کے ذکر کی گنجائش نہیں اور آخر میں میرے والد نے امام جعفر الصادق علیہ السلام کی یہ روایت مجھ سے بیان(کی ان من تمام الصوم اعطاء الزکاة)ماہ رمضان کے آخر میں زکوۃ دی جائیگی یعنی زکوۃ فطرہ پھر فوراًیہ فرمایا ہر بالغ وعاقل پر کہ جو ایک سال کاخرچ رکھتا ہے زکوة فطرہ کا نکالنا واجب ہے اپنی طرف سے اوراپنے اہل وعیال کی طرف سے،چاہے چھوٹے ہوں یا بڑھے،یہاں تک کہ وہ مہمان جو عید فطر کے غروب سے پہلے وارد ہوا ہے(یا بعد غروب آیا ہے) اور عیال میں اس کو شامل کیا گیا ہے جو اس کے کھانے میں شامل ہوں۔
ہرشخص کی طرف سے (تین کلوگرام)گیہوں یا جو یا کھجوریا کشمش وغیرہ کہ جو سال میں کثرت کے ساتھ کھایا جاتاہو یا ان کی قیمت دی جائے،عید کی رات میں فطرہ نکال کر جدا کردے یا عید کے دن (نماز عید کے پڑھنے سے پہلے) یا جو نمازنہ پڑھے وہ زوال تک فطرہ دیدے۔
اور اس کو ان فقرا اور مساکین کو دیا جائے جن پر فطرہ کالینا حلال ہے،اس کو زکوٰۃ کی بحث میں دیکھئے)یہ جان لوکہ غیر ہاشمی کی زکوٰۃ (سید) ہاشمی نہیں لے سکتا اور جن کا نان ونفقہ فطرہ دینے والے پر واجب ہے اس کو یہ فطرہ نہیں دیا جائے گا مثلاًماں‘باپ‘بیوی،یا اولاد‘۔
حج کے سلسلہ میں گفتگو
میرے والد ایسے دیوانہ وار عاشق کی طرح جس کےعشق کا زخم ابھی مندمل نہ ہو،اورایک ایسے عبد کی طرح جو عشق کی آتش میں گرفتار اور معشوق کی ملاقات کی نعمت سے سرشار ہو،اپنے پہلے والے حج کا قصہ خوشی خوشی بیان کیا انکی آنکھوں میں تیزی،اور ان کی زبان میں ہلکی سی لکنت،اور ان کے ہونٹوں پر محبت بھرا تبسم تھا‘جس نے ان کو اس کے نفس سے رہائی دلاکر کسی دوسری حالت میں پہونچادیا تھا، وہ اپنی حالت کو پوشیدہ رکھ رہے تھے،ان کی حیا اور پروقار جلال سے یہ بات واضح تھی ۔
میں نے اپنے والد سے ان کی یہ جوش وخروش والی حالت دیکھتے ہوئے عرض کیا، میں آپ کو اپنے پہلے حج کا قصہ سنتے ہوئے ایسے دیکھ رہاہوں کہ جیسے کوئی عاشق اپنے پہلے وصال کی سعادت کو بیان کررہا ہو۔
تو انھوں نے اپنی لرزاں وشکستہ آواز میں مجھ سے بیان کیا کہ میں تمہارے ساتھ اس وقت ان خوشگواریادوں میں مشغول ہوں کہ جو مجھ سے دورہوگئیں،مگران کی خنکی اور خوشبو اس دلباختہ ودل سوزعاشق کے دل میں پیوستہ اور پوشیدہ ہے۔
کیا تم نے (قرآن مجید میں ) خدا کے قول کو نہیں پڑھا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
( واذ جعلنا البیت مثابة اللناس وامنا )
جب کہ ہم نے اس گھر کو تمام لوگوں کے لئے ثواب کی جگہ اور امن کی جگہ قرار دیا،اورخدا وندعالم کا یہ قول جو جناب ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر جاری ہوا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
( ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی ذرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیموا الصلاة فاجعل افئدة امن الناس تهوی الیهم )
اے ہمارے پروردگار تیرے محترم گھر کے نزدیک ایسے جنگل میں جو کھیتی باڑی کے قابل نہیں ہے میں نے اپنی اولاد کو بسادیا ہے تاکہ اے پروردگار وہ نماز پڑھا کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑدے“۔
ہاں اسی طرح دوبارہ میرا دل دھڑک رہا ہے جس طرح پہلی مرتبہ اس خشک وادی میں اس طیب وطاہر گھر کے لئے دھڑک رہاتھا جو با عظمت وحی کی منزل پر نور پاک اور عشق وخلوص اور محبت وجمال کا مرکزہے میرے والد تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوئے اور پھر اپنے نفس سے مناجات کرتے ہوئے ہلکی آواز میں چند شعر گنگنانے لگے:
ایا مهجتیی وادی الحبیب محمد
خصیب الهوی والزرع غیر خصیب
اے میری پناہ گاہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم حبیب کی وادی جو محبت سے۔
بھری اور زمین کے اعتبار سے خشک ہے۔
هنا الکعبة الزهراء والوحیی والشذا
هنا النور فافنیی فی هواه وذوبیی
یہ نورانی کعبہ وحی ورحمت کا مرکز ہے یہاں نورہے،جومحبت میں یہاں فنا ہوجاتاہے۔
ویا مهجتیی بین الحطیم وزمزم
ترکت دموعیی شافعا لذنوبیی
اے میری امید حطیم اور زمزم کے درمیان، میں نے تجھ کو روتے ہوئے اپنے گناہوں کی بخشش کی التجا کرتے ہوئے جدا کیا ہے۔
لثمت الثری سبعا وکحلت مقلیتی
بحسن کاسرار السماء مهیب
میں نے ساتوں زمینوں کا بوسہ لیا اور اپنی آنکھوں
میں خاک کا سرمہ اس خوبصورتی کے ساتھ لگایا کہ جس سے ہیبت ناک آسمانی اسرار نظر آنے لگے ۔
وفی الکعبة الزهرا ء زینت لوعتیی
وذهب ابواب السماء نحیبیی
اور نورانی کعبہ میں،میں نے اپنے عشق سےمز ین کیا اور اپنے نالہ وفغاں سے آسمان کے دروازوں کو طلائی دار کردیا ۔
پھر انھوں نے اپنے سر کو اٹھاکر فرمایا:پہلے حج سے میرا قلبی لگاؤ اسی طرح سے ہے،اور جب بھی حج کا سالانہ موسم آتا ہے تو میرے دل میں اس کی تمنا پیدا ہوتی ہے اور جس وقت میرے پروردگار نے وہاں کی مجھے دعوت دی تو مجھ کو دوسری مرتبہ تیسری مرتبہ اور چوتھی مرتبہ بھی حج کی سعادت نصیب ہوئی،میں نے اپنے والد کی بات کاٹ کر تعجب سے پوچھا۔
سوال: کیا پہلا پھر دو سرا،تیسرا اور چوتھا حج واجب ہے؟
جواب: ہرگز نہیں بلکہ پہلا ہی حج تم پر استطاعت کے بعد واجب ہے خداوند عالم نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے:
( ولله علی الناس حج البیت من استطاع الیه سبیلا )
اور لوگوں کے ذمہ خدا کے لئے اس بیت اللہ کا حج کرنا واجب ہے،جس کو بھی اس گھر تک پہونچنے کی استطاعت میسر ہوجائے،لیکن دوسرا،تیسرا اور چوتھا حج مستحبات میں سے ہے۔
سوال: اچھا اپنے حج کا قصہ سنائیے جو آپ کو بہت پسند ہے؟
جواب: میرے (جحفہ)پہونچنے کے بعد اور یہ جحفہ ان مقامات میں ایک مقام ہے جس کو شریعت اسلامی نے احرام باندھنےکے لئے معین کیاہے اورجس کو(احرام باندھنے کی جگہ)کہا جاتاہے،وہاں پہونچنے کے بعد میں نے حج کا عمرہ تمتع کےلئے احرام باندھتے وقت قربتہً الی اللہ کی نیت کی اپنے کپڑوں اور لباس کو اتار کر احرام کے کپڑے پہنے اور وہ کپڑے صرف سفید قمیض یا جلے کے مانند ہوتے ہیں(یعنی دو کپڑے ہوتے ہیں جس میں ایک کو لنگی کی طرح باندھتے ہیں اور ایک کو چادر کی طرف لپیٹ لیتے ہیں) پھر میں نے صحیح عربی میں تلبیہ پڑھنا شروع کی۔
”لبیک اللهم لبیک،لبیک لا شریک لک لبیک،ان الحمدوالنعمة لک و الملک لا شریک لک لبیک “
اور جس وقت میں نے (لبیک) کہا تو میرا جوڑجوڑ کا پنے لگا اورمجھ پر ایسا خضوع وخشوع طاری ہوا کہ اس سے پہلے کبھی مجھ پر طاری نہ ہوا تھا اسی وقت مجھ کو تمہارے امام پرخوف خدا کی بناپر رعب ووحشت کا طاری ہونا اور آپ کے رنگ کا زرد پڑجانا لبیک کہتے وقت زبان میں لکنت پیدا ہوجانا یاد آ گیا جب میں محرم ہوا تو کچھ انواع واقسام کی چیزیں مجھ پر حرام ہوگئیں خوشبو کا استعمال،زینت کے لئے آئینہ میں نگاہ کرنا،اور سورج اور بارش سے بچنے کے لئے سایہ میں ٹھہرنا،سلا ہوا کپڑا پہننا،موزوں کا پہننا،اور سرکا ڈھا نکنا وغیرہ کہ جو فقہ کی کتابوں میں درج ہیں۔
سوال: اور آپ کےاحرام باندھنے کے بعد؟
جواب: احرام باندھنے کے بعد میں مکہ مکرمہ کی طرف طہارت کی حالت میں روانہ ہوا تا کہ خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کروں،طواف کی ابتدا حجرا سودسے اور اختتام بھی حجر اسودپر کروں طواف کے بعد دورکعت نمازطواف مثل نماز صبح مقام ابراہیم سے پیچھے پڑھی‘تمام حج وعمرہ کے اعمال قریۃً الی اللہ انجام دیئے اس کے بعد میں صفاومروہ کے درمیان سعی کے لئے روانہ ہوا،وہاں بھی طواف کی طرح سات چکر لگائے،صفا سے ابتداء اور مروہ پر اختتام کیا جب میں نے صفاومروہ کے ساتوں چکر کو تمام کرلیا تو اس کے بعد تقصیر کی‘یعنی اپنے سر کے بالوں میں سے کچھ بال کاٹ لئے ۔
اس تقصیر پر عمرہ حج کا اختتام ہوا اورمیں اپنے احرام سے محل ہوگیا( یعنی احرام باندھنے کے بعد انسان پر جو چیزیں حرام ہوگئی تھیں وہ حلال ہوجاتی ہیں ) اور یوم الترویہ ۸/ ذی الحجہ کا انتظار کرنے لگا تاکہ دوسری مرتبہ مکہ سے احرام باندھوں، لیکن یہ احرام اس مرتبہ حج کا تھا عمرہ کا نہیں ۸ ذی الحجہ کا دن نکلا، تو میں نے اپنی لنگ اور چادر دوسری مرتبہ پہن لی اور احرام حج کی نیت کی ،اور تلبیہ کہی‘پھرایک بغیر چھت کی گاڑی میں بیٹھ کر عرفات کے لئے روانہ ہوگیا تاکہ میں وہاں نویں ذی الحجہ کی ظہر سے غروب آفتاب تک ٹھہرا رہوں،اور جب سورج غروب ہوگیا تو میں عرفات سے (مزدلفہ) کی طرف روانہ ہوگیا،اور وہاں دسویں ذی الحجہ کی رات گزاری،اس طرح میرے اوپر واجب ہے تا کہ میں دسویں کی صبح کے نکلنے کے وقت مزدلفہ میں رہوں اور طلوع آفتاب تک وہاں رہوں،اور جس وقت دسویں کا سورج نکلامیں منی کی طرف روانہ ہوگیا میرے پاس کچھ کنکریاں تھیں جن کو میں نے مزدلفہ سے چنا تھا اور منی میں تین واجبات میرے منتظر تھے تاکہ میں وہاں ان کو انجام دوں اور وہ واجبات یہ تھے۔
۱ رمی جمرہ عقبہ بڑے ستون کو پے درپے سات کنکریاں مارنا۔
۲ قربانی منی میں جانور کی (اونٹ‘گائے،بکری ،یا بھیڑ‘)قربانی کرنا
۳ حلق سرکا منڈوانا۔
اورجب میں ان واجبات سے فارغ ہوگیا تو اپنی زوجہ سے لذت اٹھانے اور خوشبو کے استعمال (اور شکار) کے علاوہ تمام چیزیں مجھ پر حلال ہوگئیں۔
اب میں مکہ کی طرف روانہ ہوا تاکہ طواف حج انجام دوں،اور نماز طواف اور صفاو مروہ کے درمیان اسی طرح سعی کی جس طرح مکہ پہونچنے پر نماز پڑھی اورسعی کی تھی اور جب میں ان چیزوں سے فارغ ہوگیا تو طواف النساء کیا اور نماز طواف پڑھی پھر ان تمام چیزوں کے بعد منی کی طرف لوٹ گیا کیونکہ مجھ پر واجب تھا کہ گیار ہویں اور بارہویں کی رات منی میں گزاروں اورمنی میں بارہویں کی ظہر کے بعد تک رہوں،اس درمیان میں نے تینوں جمرات اولی وسطی اورعقبہ کو بالتر تیب گیارہویں اور بارہویں تاریخ میں کنکریاں ماریں،اس کے بعد وہاں سے روانہ ہوا اور اپنے حج کے تمام واجبات کو اختتام تک پہونچایا۔
شدید ازدھام وآفتاب کی حدت اور ریت کی تپش کے باوجود میں نے اپنے نفس سے جہاد کیا،جیسا کہ میرے اوپر فریضہ تھا جب تک مجھے یقین نہ ہوگیا اس وقت تک میں نے نہ عرفات کو چھوڑا،نہ مزدلفہ سے باہر نکلا،نہ منی سے باہر آیا کیونکہ حج خداوند عالم سے توسل اور اسی سے تقرب اور اسی سے تعلق اور اسی کے سامنے کھڑے ہونا اور رات دن اسکی مناجات سے لطف اندوز ہونے کا ایک زر خیز موسم ہے۔
اس کے بعد میں مکہ معظمہ سے اس کے تمام شوق اور اسی کے ساتھ اس کے فراق پر افسوس کرتے ہوئے مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوا تاکہ وہاں اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قبر،قبر فاطمہ صدیقہ طاہرہ اورقبور ائمہ بقیع علیہم السلام امام حسن علیہ السلام امام علی بن الحسین علیہ السلام ،امام محمد باقر علیہ السلام اورامام جعفر الصادق علیہ السلام کی زیارت میں پھر مساجد اور مقامات مقدسہ جو اطراف مدینہ میں ہیں ان کی زیارت اورنبی کے چچا جناب حمزہ کی زیارت سے مشرف ہوا ۔
یہ میرے پہلے حج کا مختصر قصہ ہے جسے میں نے تم سے بیان کیا،اور جس وقت تم اتنے مال کے مالک ہوجاؤ (کہ اگر اس پر خمس وزکٰوة کا تعلق پیدا ہوجائے تو ان کو نکالنے کے بعد)حج کرنے کے مستطیع ہو جاؤ گے تو تم پر حج واجب ہوجائے گا اس خمس وزکوٰۃ کی شرح تم سے ان کا موقعہ آنے پر بیاں کروں گا۔
خدا تم کو اپنے گھر کی زیارت کرنے کی توفیق عنایت کرے اور تم کو وہاں نفع عنایت کرے بیشک وہ قریب ہےاور محیب ہے۔
سوال: ابا جان اس گفتگو کے ختم ہونے سے پہلے چاہتا ہوں آپ سے (تطہیر اموال)خمس وزکٰواۃ کے بارے میں سوال کروں کہ جس کو آپ نے اپنی گفتگو میں بیان کیا ہے۔
جواب: ابھی نہیں زکوٰۃ وخمس کے بارے میں گفتگو طولانی ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے خاص طور پر گفتگو رکھی جائے گی ۔
انشاء اللہ۔
سوال: آنے والی گفتگو میں زکوٰة کا بیان ہوگا اس کے بعد خمس کے متعلق بیان کیجئے؟
جواب: جیسا تم چاہو انشاء اللہ۔
زکوٰۃکے بارے میں گفتگو
زکوٰۃ ان پانچ رکنوں میں سے ایک رکن ہے کہ جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے میرے والد نے فرمایا:
زکوٰۃ ضروریات دین میں سے ہے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے حدیث میں اس کے متعلق وارد ہوا ہےکہ۔
”ان الصلوة لاتقبل من مانع الزکوٰة‘
جو زکوٰۃنہ دے اس کی نماز قبول نہیں۔
میرے والد نے اتنا بیان کرنے کے بعدمزید فرمایا جب زکوٰۃکے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
بسم الله الرحمن الرحیم
( خذ من اموالهم صدقه تطهر هم وتز کیهم بها )
ان کے اموال کا صدقہ لے کر اس کے ذریعہ ان کو پاک اور ان کا تزکیہ کرو۔
تو رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں جاکرندا کرے کہ۔
”ان الله تبارک وتعالی قد فرض علیکم الزکوٰة کما فرض علیکم الصلوة“
اللہ تعالٰی نے تم پر زکوٰة کو اسی طرح واجب کیا ہے جس طرح نماز واجب کی ہے۔
اور جب سال کا پہلا دن آیا تو آپ نے منادی کو حکم دیا جاکر لوگوں میں منادی کروکہ:
”ایها المسلمون زکوااموالکم تقبل صلاتکم “
”اے مسلمانو:اپنے اموال کی زکوٰۃ دو،ناکہ تمہاری نماز قبول ہو“
پھر آپ نے صدقہ وصول کرنے والوں سے کہا کہ وہ لوگوں سے جاکر زکوٰۃ لیں۔
میری والد نے فرمایا: ایک روز رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم مسجد میں پہونچ کر یہ فرمایا: اے فلاں! کھڑے ہوجاؤ،اے فلاں !کھڑے ہوجاؤ،اے فلاں! کھڑے ہو جاؤ،اے فلاں! کھڑے ہوجاؤ،یہاں تک کہ آپؐ نے پانچ آدمیوں کو مسجد سے نکالتےہوئے دیا اور فرمایا: تم ہماری مسجد سے نکل جاؤ ،جب تم زکوٰۃ نہیں دے سکتے تو اس میں نماز نہ پڑھو‘اسی کے ساتھ آپ نے امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک حدیث مجھ سے بیان کی اس وقت آپ کے چہرہ پر حزن ملال کے بادل چھاگئے تھے،اس حدیث میں ہے :
”ان الله عزو جل یبعث یوم القیامةناسامن قبور هم مشدودة ایدیهم الی اعناقهم الخ “
فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل روز قیامت کچھ لوگوں کو ان کی قبروں سے محشور کرے گا،ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے ایسے بندھے ہوں گے کہ وہ انگلی کے ایک پور کو بھی اس سے جدا نہیں کرسکتے‘اور فرشتے ان کو سختی کے ساتھ ہانک رہے ہونگے اور آواز دے رہے ہونگے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خیر قلیل کے ذریعہ خیر کثیر کو روکا،یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو اللہ نے(مال کثیر عنایت کیا اور انہوں نے اپنے اموال میں سے حق اللہ( زکوٰۃ) کو ادا نہیں کیا۔
میرے والد نے فرمایا: قرآن مجید میں بہت سی آیات کریمہ میں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا تذکرہ ہے، جس سے شریعت اسلامی میں زکوٰة کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
سوال: میں نے اپنے والد سے زکوٰۃکے بارے میں معلوم کیا (کہ زکوٰۃ کیوں واجب ہے؟)
تو آپ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث کے ذریعہ اس کا جواب مجھے دیا، اس حدیث میں آپ نے فرمایا:
”انما وصفت الزکاة اختباراً اللاغنیاء ومعونة للفقراء ولو ان الناس ادوازکاة اموالهم مابقی مسلم فقیر امحتاجا “
زکوٰۃ اغنیاء( مالداورں)کے لئے آزمائش ہے اور فقراء (غربیوں)کے لئے ایک مدد ہے اگر لوگ اپنے اموال سے زکوٰۃادا کریں تو کوئی بھی مسلمان غریب محتاج نہ رہے اوراس سےمستغنی ہوجائے جو اللہ نے اس کے لئے فرض کیا ہے اور لوگ ضرور ت مند اور حاجب مندنہ رہیں اور نہ بھوکے وننگے رہیں لیکن اگر ایسا ہے تو یہ صرف مالدار کے گناہوں کی بناپر ہے اور اللہ تعالیٰ کو حق پہونچتا ہے کہ وہ ان کو رحمت سے دور رکھے کہ جنھوں نے اپنے مال سے حق خدا کو ادانہ کیا۔
میں نے سوال کیاکہ کیا ہر مال میں زکوٰۃواجب ہے؟
تو انھوں نے جواب میں فرمایا مندرجہ ذیل بیان کی ہوئی چیزوں میں زکوٰۃواجب ہے۔
پہلی
سونے/ چاندی کے سکوں میں چند شرطوں کے ساتھ۔
دوسرے
گہیوں /جو / کھجور/ کشمش ان میں بھی چند شرائط ہیں۔
تیسرے
اونٹ،گائے،بھینس،بھیڑ،بکری ،دنبہ،ان میں بھی کچھ شرطیں ہیں۔
چوتھے
تجارتی مال میں اس میں بھی کچھ شرائط ہیں۔
سوال: وہ کونسی واجب شرطیں ہیں جو سونے چاندی کے سکوں میں پائی جاتی ہیں کہ جن کی طر ف آپ نے اپنی گفتگو میں اشارہ کیا؟
جواب: چند شرائط ہیں۔
۱ سونے کی مقدار عرفاً ۱۵ / مثقال ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ، اس کا چالیسواں حصہ ہوگی،اور جس وقت اس پر تین مثقال کا اضافہ ہو تو اس کی زکوٰة چالیسواں حصہ ہوگی ۔
(یعنی پندرہ مثقال کے بعد جب بھی تین مثقال کا اضافہ ہوگا اس کے چالیسواں حصہ سے زکوٰۃ واجب ہے،تین سے کم اور زیادہ پر زکوٰۃنہیں ہے)لیکن چاندی کی مقدار عرفاً ایک سوپانچ ۱۰۵ مثقال ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ ہوگی اور جب بھی ۲۱/ مثقال کا اضافہ ہو تو اس پر چالیسواں حصہ نکالنا واجب ہوگا۔
سوال: میں نے کہا اگر سونے چاندی کے سکوں کی مقدار اس حد سے کم ہو تو؟
جواب: تو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ۔
۲ سونے چاندی کے ایسے سکے ہوں، جو اس زمانہ کے خریدو فروخت (معاملات ) میں عملاً رائج ہوں۔
۳ گیارہ مہینے پورے گزرنے کے بعد بارہو یں مہینے میں داخل ہوجائے اور وہ مالک کی ملکیت میں رہے۔
سوال: کیا سونے کے کڑے اور سونے چاندی کے زیورات اور سونے چاندی کے دوسرے ٹکڑوں پر زکوٰۃ واجب ہے؟
جواب: ان پر واجب ہے۔
۴ پورے سال مالک کے تصرف میں رہیں ہوں پس جو مال عرفاً کچھ مدّت کے لئے ضائع ہوجائے تو زکوٰۃ اس پر واجب نہیں ہے۔
۵ مالک بلوغ اور عقل کے اعتبار سے کامل ہو،لہٰذابچےاورمجنون کےاموال میں زکوٰۃواجب نہیں ہے۔
دوسرے
جس میں زکوٰۃ واجب ہے وہ گیہوں،جو، کھجور،کشمش ہے،اور جب ان کی مقدار ان کے سوکھنے کے بعد تین سوصاع کو پہونچ جائے تو اس وقت ان پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اور یہ تقریباً( ۸۴۷) کلو گرام کے قریب ہے جیسا کہ منقول ہے،اوران میں زکوٰۃ کی واجب مقدار نیچے بیان کی جارہی ہے۔
۱ کھیتی اگر بارش کے پانی یا نہر کے پانی سے ان دونوں کے مشابہ کسی ایسی چیزسے سینچائی کی گئی ہو جس میں کھیتی کی سینچائی کے لئے محنت ومشقت کی ضرورت نہ پڑے تو ایسی صورت میں ان کی زکوٰۃ دسواں حصہ ہوگی ۔
ب اور اگر سینچائی ہاتھ یا کسی آلہ کے ذریعہ مثلا ٹیوب ویل وغیرہ سے ہو تو اس کی زکوٰۃ بیسواں حصہ ہوگی۔
جواب: اور جب سینچائی کبھی ہاتھ یا کسی دوسرے آلہ کے ذریعہ اور کبھی بارش کے ذریعہ ہو، توپھر اس کی زکوٰۃ آدھی کھیتی کی بیسواں حصہ اور آدھی کی دسواں حصہ (یعنی ۳/۴۰) حصہ دی جائے گی۔
مگر یہ کہ ان دونوں سینچائیوں میں سے ایک بہت کم ہو اور ایک بہت زیادہ ہو،تو پھر زیادہ والی سنچائی کی نسبت زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
سوال: جب مقررہ نصاب سے کم ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے ؟
جواب: اور کیایہاں دوسرے بھی شرائط ہیں۔
سوال: ہاں زکوٰۃواجب ہونے کے وقت محصول مالک کی ملکیت میں ہو،اگر زکوۃ واجب ہونے کے بعد وہ مالک ہواہو تو پھر زکوة واجب نہیں ہے۔
سوال: زکوٰۃ کا تعلق ان چار محصول پر کب ہوگا؟
جواب: ان سے زکوٰۃ کا تعلق اس وقت ہوگا جب کہ گیہوں کا نام،جو کانام،یا کھجور(خرما)کا نام، یا کشمش کانام ان پر صادق آئے (یعنی جب ان چیزوں کو ان کے نام سےموسوم کیا جائے)
تیسرے
جن پر زکوٰۃ واجب ہے وہ بھیڑ/بکری / اونٹ گائے اور بھینس ہے ان کی زکوٰۃ میں چند چیزیں شرط ہیں:
ان کی تعداد کا حدنصاب تک پہونچنا،اور وہ ان کی معین تعداد ہےجس پر زکوٰۃ واجب ہے پس اونٹ جب پانچ تک پہنچ جائے تو ان پر ایک بکری کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور جب دس ہوجائے تو دوبکریاں اور جب پندرہ ہوجائے تو تین بکریاں اور جب بیس ہوجائے توچاربکریاں اور جب پچیس( ۲۵) تک پہونچ جائے تو زکوٰۃایک ایسی اونٹنی ہے کہ جو اپنی عمر کے دوسرے سال میں داخل ہوچکی ہو،اور جب چھتیس ( ۳۶) اونٹوں تک پہنچ جائے تو ان کی زکوٰۃ ایک ایسی اونٹنی ہےجو ا پنی عمر کے تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو،اس کے علاوہ اونٹ کے اور بھی نصاب ہیں جن کے ذکر کرنے کی یہاں جگہ نہیں ہے۔
اور بھیڑ بکری میں جبکہ ان کی تعداد چالیس ( ۴۰) تک پہونچ جائے تو ان کی زکوٰۃ ایک بکری اور جب ایک سوا کیس ( ۱۲۱) تک ان کی تعداد پہونچ جائے تو دوبکریاں اور جب دوسوایک ( ۲۰۱) تک پہونچ جائے تو چار بکریاں اور جب ان کی تعداد چار سویا اس سے زیادہ ہو جائے تو ان میں سے ہر سوپر ایک بکری دی جائے گی،اسی طرح جیسے جیسے ان کا عدد بڑھتا جائے گا ویسے ہی ویسےہر سوپر ایک بکری دی جائے گی۔
گائے اور بھینس میں جب ان کی تعداد تیس تک پہونچ جائے تو ان کی زکوٰۃ ایک ایسا گا ئے کا بچہ ہے جو دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو ،اور اگر ان کی تعداد چالیس تک پہونچ جائے تو ان کی زکواۃ ایک ایسی گا ئے کابچہ مادہ ہے جو اپنی عمر کے تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو، اس اعتبارسے گائے ہویا بھینس کوئی فرق نہیں ہے۔
اوردو نصاب کے درمیان یا محدود مقدار میں اونٹ اور گائے اور بھیڑ بکری پر زکوٰة نہیں ہے اس بنا پر اگر نصاب سے زیادہ ان کی تعداد بڑھ جائے تو جب تک ان کی تعداد کسی نصاب تک نہ پہونچ جائے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
۲ حیوانات(پورےسال)ایسی زمین میں چریں جس کا خدا کے علاوہ کوئی مالک نہ ہو لیکن اگر اس کے مالک نے ان کو گھانس یا چارہ چاہے سال کے کچھ ہی دنوں میں دیاہوتوان پر زکوة واجب نہیں ہے۔
اور حیوانات میں ان سے کام لینا معتبر نہیں کہ جن حیوانات سے کام لیا جاتاہوان پر زکوٰۃ نہ ہو پس اگر ان سےسنیچائی جو تائی وغیرہ میں کام لیاجاتاہو تب بھی ان پرزکوٰةواجب ہے۔
۳ وہ تمام سال مالک کی یامالک کے ولی کی ملکیت میں رہے ہوں پس ا گر سال میں کچھ مدت کے لئے ان کی چوری ہوجائے تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
۴ وہ حیوانات جوگیارہ مہینے گزار کربار ہویں مہینہ میں داخل ہوگئے ہوں اور وہ مالک کی ملکیت میں ہوں۔
چوتھے
جس پر زکوٰۃ واجب ہے،وہ مال و تجارت ہے اور یہ وہ مال ہے کہ کوئی شخص اس نیت سے کہ وہ اس کا فائدہ تجارت کے ذریعہ اس کے معاوضہ کامالک ہوگا اس کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ ہوگی جبکہ تمام نیچے بیان کئے ہوئے شرائط اس میں جمع ہوں۔
( ۱) مالک بالغ وعاقل ہو ۔
۲ مال (تجارت )حد نصاب کو پہنچ جائے اور اس کا نصاب و ہی ہے جو سونے یا چاندی کے سکوں سے کسی ایک کا نصاب ہوتا ہے لہٰذا اسے سونے اور چاندی کے بیان میں ملاحظ کیجئے۔
( ۳) فائدہ اور تجارت کی نیت پر ایک سال گزرجائے۔
۴ پورے سال فائدہ حاصل کرنے کی نیت کو بدل کر اس مال کو اپنی ضرورت زندگی پر صرف کرنے کا ارادہ کرلیا تو پھر اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے۔
۵ پورے سال مالک اوراس مال کے تصرف کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔
سوال: جب زکوٰۃ نکالی جائے تو وہ کس کو دی جائیگی؟
جواب: وہ زکوٰۃکے مستحقین کو دی جائے گی اور زکوٰۃ کےمستحقین کی چند شرطوں کے ساتھ آٹھ قسمیں ہیں خداوند متعال فرماتاہے:
( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ)
صدقات صرف فقراء‘مساکین اور صدقات وصول کرنے والے اور جن کی تالیف قلب منظور ہے‘غلاموں کو آزاد کرنے میں ‘قرض داروں کا قرض ادا کرنے کے لئے ،اور راہ خدا میں کام کرنے کے لئے،اور مسافروں کی امداد کے لئے( صرف کی جائے) یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ صاحب علم و حکمت ہے(سورۂ توبہ)
سوال: فقیر اور مسکین میں کیا فرق ہے؟
جواب: فقیروہ ہے جو اپنے اور اپنے اہل وعیال کے سال بھر کا خرچ نہ رکھتا ہو،اور نہ اس کے پاس کوئی ایسی صنعت وحرفت ہو جس کے ذریعہ وہ اپنا اور اپنے اہل وعیال کا خرچ حاصل کرسکے اور مسکین وہ ہے جو فقیر سے زیادہ بد حال وتنگ دست ہو۔
سوال: زکوٰۃکے وصول کرنے والے کون ہیں؟
جواب: زکوٰۃ کے وصول کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم یا امامؑ یا حاکم شرع یا اس کا نائب زکوٰۃ کے وصول کرنے اور اس کا حساب وکتاب رکھنے اور اس کو بنی وامام وغیرہ یا مستحقین تک پہونچنے پرمقرر کریں۔
سوال: یہ مؤلفتہ القلوب کون لوگ ہیں؟
جواب: مولفتہ القلوب وہ مسلمان ہیں کہ جن کو اگر کچھ مال دیا جائے تو ان کی نظر میں اسلام کی قدر و قیمت بڑھے گی یا وہ کفار کہ جن کو اگر کچھ مال دیا جائے تو اسلام کی طرف راغب ہونگے،یا مسلمانوں کی جنگ میں مدد کریں گے اور ان کی طرف سے دفاع کریں گے۔
اور اس طرف اشارہ کرنا بہتر ہوگا کہ زکوٰة کا دینے والا ان دو آخری قسموں کو خود اپنی زکوٰة دینے پر ولایت نہیں رکھتا بلکہ امام یا ان کے نائب کی نظر پر یہ بات موقوف ہے یعنی اگر وہ چاہیں تو ان دونوں کوزکوٰة دے سکتے ہیں( یعنی عاملین زکوٰۃ اور مولفتہ القلوب کو)
سوال: آیت میں وفی الر قاب آیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟
جواب: وفی الرقاب(سے مراد )وہ غلام جوخریدے اور آزادکئے جاتے ہیں۔
سوال: والغارمون سے کیا مرادہے؟
جواب: غارمون سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرض دار ہیں اور وہ اپنےشرعی قرضوں کو ادا کرنے سے عاجز ہیں۔
سوال: اور فی سبیل اللہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: فی سبیل اللہ سے تمام کار خیر مراد ہے مثلاً مسجدوں،پلوں وغیرہ کا بنوانا اور اس سلسلہ میں بھی حاکم شرع کی اجازت ضروری ہے۔
سوال: وابن السبیل سے کیا مراد ہے؟
جواب: ابن سبیل سے وہ مسافر مراد ہے جس کا مال سفر میں ختم ہوگیا ہو،اور اس کے لئے سفر سے واپسی کے لئے قرض لینا بھی ممکن نہ ہو،یا اس کے لئے مشکل ہو(جیسے اس کے شہر میں اس کا مال ہو اور وہ اس کے بدلے میں یا اس کو کرایہ پر دینے سے معذور ہو) پس اس کو واپسی کا خرچ زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا بشرطیکہ اس کا یہ سفر معصیت پر مبنی نہ ہو۔
یہ زکوٰة کے اورمستحقین ہیں اس کے علاوہ شرط ہے کہ جس کو زکوٰۃ دی جارہی ہے وہ مومن ہو( اور تارک صلوة نہ ہویا شراب خوارنہ ہو،یا فسق وفجور کو کھلم کھلا انجام نہ دیتا ہو) اورجس کوزکوٰۃ دی جارہی ہو وہ اس کو گناہوں میں صرف نہ کرے (بلکہ اس کو کسی ایسے کو بھی نہ دے جس کے دینے پر گناہ کرنے پر اور برے کاموں کے ہونے پر مدد ہو،چاہے وہ خود اسے گناہوں پر خرچ نہ کرے،اور یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰۃ ایسے کو نہ دی جائے کہ جس کا نان ونفقہ زکوٰۃ دینے والے پر واجب ہو جیسے بیوی اورمستحق ہاشمی(سید) کیونکہ ہاشمی (سید)کو صرف ہاشمی کی زکوٰة لے سکتا ہے(غیرسید کی نہیں )
خمس کے سلسلہ گفتگو
یرے والد نے قرآن مجید کو اپنے سامنے رکھا اس وقت آپ کے چہرہ پر ایک قسم کا رعب ودبدبہ طاری تھا جب وہ میرے سامنے بیٹھے تو انھوں نے جھک کر قرآن مجید کا بوسہ لیا اور اس کو بہت ہی تعظیم سے اٹھا کر میری طرف بڑھایا میرا پورا جسم کانپ گیا اور جب میرے ہاتھ میں قرآن مجید آ گیا تو میرے والد نے فرمایا:
کتاب خدا کو کھولو اور میرے سامنے دسویں پارے کا کچھ ابتدائی حصہ پڑھو،میں نے قرآن مجید کھول کر اور دسواں پارہ نکالا،اعوذباللہ کے بعد اللہ کے کلام سے اس آیت کی تلاوت کی۔
( واعلمو انما غنمتم من شیی فان لله خمسه وللرسول ولذیی القربی والیتامی والمساکین وابن السبیلان کنتم آمنتم بالله وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعان والله علی کل شیی قدیر )
”اور جان لو کہ جب کسی طرح کی غنیمت تمہارے ہاتھ لگے تو اس کا پانچواں حصہ خدا اوررسول اور رسول کے قرابتداروں اور یتیموں،مسکینوں اور مسافروں کا ہے اگر تم خدا اورجو کچھ اس نے اپنے بندہ پر فیصلہ والے دن کہ جس دن دو گروہ کی مڈبھیڑ ہوئی نازل کیا تھا،ایمان رکھتے ہو اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
میرے والد نے فرمایا ذرا دوبارہ پڑھوں میں نے۔
( واعلمو انما غنمتم من شیی فان لله خمسه وللرسول ولذیی القربی والیتامی والمساکین وابن السبیل )
تک پڑھا تو والد نے فرمایا بس کافی ہے پھر اپنے سر کو نیچے جھکا کر آہستہ پڑھنا شروع کیا کہ جیسے اپنے آپ سے بات کررہے ہیں ۔
( واعلموانما غنمتم من شیی فان لله خمسه)
پھر سراٹھا کر گلو گیر آواز میں فرمایا خدا وند عالم فرماتاہے” اعلموا‘کیا تم کو خمس کے واجب ہونے کے متعلق معلوم ہوا؟
میں نے کچھ اطمینان اور اعتماد اور کچھ ہچکچاتے ہوئے عرض کیا،ہاں مجھے معلوم ہوگیا پھروہ اپنی جگہ سے اٹھے اور دوبارہ ایک کتاب کی جلد اٹھا کر مجھے دی جس کا نام” الوسائل‘تھا اس کے پہلے صفحہ کو پڑھا اس کے مولف کانام ”محمد بن الحسن الحر العاملی“تھا اور مجھ سے فرمایا:اس کتاب سے باب خمس نکال کر میرے سامنے پڑھو۔
میں نے باب خمس کو نکالا اور ان کے سامنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم امام علی علیہ السلام‘امام باقر علیہ السلام امام صادق علیہ السلام اور امام کاظم علیہ السلام کی خمس کے بارے میں احادیث کو پڑھا اور جب میں نے ان کے سامنے اس حدیث کو پڑھا کہ جس کو عمران بن موسی نامی شخص نے روایت کیا ہے اور کہاکہ جب میں نے امام علی رضا علیہ السلام کے سامنے آیت خمس کو پڑھا تو آپ نے فرمایا جو اللہ کے لئے ہے وہ رسول اللہ کے لئے ہے اور جو رسول کے لئے ہے وہ ہمارے لئے ہے پھر فرمایا خدا کی قسم اللہ نے مومنین پر کتنا آسان کردیا ہے کہ ان کے رزق میں سے پانچ درہموں میں سے ایک درہم ان کے رب نے خمس کا قراردیا اور باقی چار کا کھانا ان کے واسطے حلال قرار دیا اور یہ حدیث سماعہ نامی ایک راوی سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابا الحسن علیہ السلام سے خمس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ہر اس چیز میں خمس واجب ہے کہ جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہوں چاہے وہ چیز کم ہو یا زیادہ۔
اور یہ حدیث محمد بن حسن اشعری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس تحریر کیا کہ ہم کو خمس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ ان تمام چیزوں میں ہے جن سے کوئی شخص استفادہ کرتا ہے وہ چیز چاہے کم ہوں یا زیادہ،اور تمام صنعتوں کی قسموں پر ،یہ کس طرح ہے؟تو آپ نے اس کا جواب اپنے قلم سے لکھا لا الخمس بعد المئونة خمس سال کے خرچ کے بعد ،اور جب میں اس حدیث کو آخر تک پڑھ چکا تو میں نے اپنے والد سے سوال کیا۔
سوال: آپ نے نماز کی گفتگو میں مجھ سے فرمایا تھا کہ جس لباس پر خمس واجب ہے اور ادا نہیں کیا گیا تو اس میں نماز نہ پڑھو“اور آپ نے حج کی بحث میں دوبارہ مجھ سے بیان کیا تھا کہ تم اپنے حج کرنے سے پہلے اپنے مال کا خمس وزکوٰۃ دے کرمال کو پاک کرلو اگر خمس وزکوٰة اس پر واجب ہے۔
سوال: تو کیا مجھ پر اپنے مال کا خمس نکالنا واجب ہے؟
جواب: میرے والدنے فرمایا نیچے بیان ہونے والی چیزوں میں خمس واجب ہے۔
۱ وہ مال غنیمت جس کومسلمان کفارسے جنگ میں حاصل کرتےہیں۔
۲ جو چیزیں معادن(کان)سے نکالی جاتی ہیں،مثلاًسونا،چاندی ،تانبا،پیتل،لوہا،گندھک،وغیرہ اوراسی طرح مٹی کا تیل،پتھر کا کوئلہ ان کی صفائی کے بعد بشرطیکہ انکی بازاری قیمت عام طور سے ۱۵ مشقال سکہ دار سونے کی قیمت کے برابر پہنچ جائے (تواس پر خمس واجب ہے)
۳ خزانے بشرطیکہ جو چیز خزانے سے نکلی ہے اس کی قیمت ۱۵/ مثقال سونے یا اس سے زیادہ یا ۱۰۵ مشقال چاندی یا اس سے زیادہ ہو ( اور اس کا حساب اس کے نکالنے کے اخراجات کم کرنے کے بعد کیا جائیگا)
۴ دریا یا بڑی نہروں میں غوط لگانے کے بعد جو موتی ومونگے وغیرہ نکالے جائیں اوراس کی قیمت ایک سونے کے دینار کے برابر(یعنی ایک مثقال سونے کے برابر ہو)
۵ جو حلال مال حرام مال میں مخلوط ہوجائے۔
۷ وہ سالانہ بچت جو کسی تجارت یا صنعت یا ھدیہ یا کھیتی یا کسی محنت ومزدوری وغیرہ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔۔۔و ۔۔۔
سوال: میں نے بات کا ٹ کرپوچھا اس کے معنی ہوئے کہ تجارت کے نفع پرخمس دینا واجب ہے؟
جواب: فقط تجارت کے فائدہ میں ہی خمس دیناواجب نہیں ہے بلکہ ہر وہ منافع جومجھے اور تم کوحاصل ہوتا ہے اس میں بھی خمس واجب ہے۔
سوال: تاجر کس طرح اپنے منافع کا خمس کے لئے حساب کرے گا؟
جواب: وہ اپنی پونجی اور اپنی نقدی کا حساب تجارت شرع کرنے کے ایک سال بعد کرے گا اور اس میں سے پہلے اپنی پونجی جدا کرے گا ۔
دوسرے
اس خرچ کو جدا کرے گا کہ جومنافع کے حاصل کرنے میں صرف ہوا ہو مال لانے،لے جانے، مزدوری،بجلی ‘ٹیلی فون،دکان کاکرایہ وغیرہ۔
تیسرے
اپنا اور اپنے اہل عیال کا سال بھر کا خرچ یعنی جو کھانے پینے لباس ‘مکان،کرایہ،سامان کا خریدنا اور علاج اوردوسری مختلف ضروریات،اسی میں قرض کی ادائے گی،ہدیہ،واجبات کی ادائے گی،سفر کا خرچ اور دوسری مناسب چیزیں بھی ہیں جو طبعی ہوں اور ان میں اسراف نہ ہو پس ان مذکورہ امور کو جدا کرکے باقی سے بیس ( ۲۰) فیصدی نکال کر بطور خمس دیا جائے گا
سوال: مشلاًاگر تاجر سال کے تمام ہونے کا وقت دیکھے کہ اس کے پاس دس ہزار دینارنقد ہیں اور بیس ہزار دینار کا مال موجود ہے،جب کہ سال کے شروع میں اس کا اصل مال پندرہ ہزار دینار تھا اور تجارت کے سلسلہ میں کرایہ بھاڑا،بجلی ‘ٹیلی فون،دکان کا کرایہ وغیرہ میں مبلغ ایک ہزار دینار خرچ ہوا اور سال کے درمیان جو اپنے اور اپنے اہل وعیال پر خرچ ہوا وہ دس ہزار دینا رہے لہٰذا اصل مال اور تجارت کاخرچ اورسال کااپناخرچ نکالنےکے بعداس کودس ہزار دینارکی بچت ہوئی،اس طرح ۱۰۰۰۰/۲۰۰۰۰/ ۳۰۰۰۰ / اب کہ جس کا خمس واجب ہے،اس کی مقدار دس ہزار دینا رہے اور خمس کی مقدار دوہزار دینار ہوئی ہے کیونکہ دس ہزار کا پانچواں حصہ دوہزار دینار ہوتا ہے، پس اس مبلغ کا دیناواجب ہے ؟
سوال: کس تاریخ سے وہ اپنے اس فائدہ کا حساب کرے تاکہ جب بھی سال کا وہ دن آئے تو اس دن خمس دینا واجب ہوجائے؟
جواب: اگر زندگی گزارنے میں سختی نہ ہو تو خمس کا حساب اپنی تجار ت شروع کرنے کے پہلے دن سے ہی کرے کہ جب بھی سال میں وہ دن آئے تو اپنا اور اپنے اہل وعیال کا خرچ جدا کیے بغیر جو کچھ سال میں منافع ہوا ہے اس کا خمس دیدے اور اگرزندگی گزارنے میں سختی وتنگی ہوتو پھراپنا سال کا خرچ جدا کرکے حساب کرے۔
سوال: میں نے نیا لباس خریدااور ایک سال تمام ہوگیا اور میں نے اس کو پہنا بھی نہیں( تواس کا کیا حکم ہے)؟
جواب: اس کا خمس دینا چاہئے اور اس طرح جو گھر کا بنیادی سامان ہے اس کا خمس دو،مثلاًہر وہ مال جو تم نے سال کے درمیان گھر کی ضرورت کے لئے خریدا اور وہ کام میں نہ لایا گیا جیسے چاول، آٹا، گیہوں،جو،چائے،ماش،مسور، تیل،روغن،حلوہ جات،یا مٹی کا تیل‘گیس،وغیرہ ۔
سوال: اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر وہ مال جو ضرورت سے زیادہ ہے اور وہ کام میں نہ لایا گیا،یا نہ کھایا گیا،نہ پہناگیا،یا ۔۔۔یا اس کا خمس نہ دیا گیا ہو؟۔
جواب: ہاں پس اگر خمس نکالنے کا دن آجائے اور جو سامان سالانہ گھر کے خرچ سے باقی رہ گیا ہے تو اس کا خمس نکالے یا اسی چیز میں سے یا اس کی قیمت کا اندازہ کرکے اس کا خمس دے۔
سوال: اس کی قیمت کا اندازہ خمس نکالنے کے دن سے کیا جائے گا یا خرید والے دن سے؟
جواب: جب خمس کاحساب کیا جائے تو اس دن کی بازاری قیمت سے حساب کیا جائے نہ کہ جس دن وہ چیز خریدی گئی ہے اس کا حساب کرے ۔
سوال: اگر میں نے کسی چیز کا خمس نہ نکالا تو کیا مجھپر اس کا خمس نکالنا واجب ہے؟
جواب: اس چیز کا مصرف اس وقت تک جائز نہیں کہ جب تک تم اس کا خمس نہ نکال دو، اور جائز ہے کہ تم حاکم شرع سے اس کی اجازت لو وہ اگر اس میں مصلحت دیکھے گا تو( اجازت دے دے گا)
سوال: مرنے والے کے ذمہ خمس ہے اور اس نے اس کے نکالنے کی وصیت نہ کی تو وارثین کا کیا فریضہ ہے؟
جواب: لازم ہے کہ اسکے چھوڑے ہوئے اصل مال سے وصیت پر عمل کرنے سے پہلے اور وراثت کی تقسیم سے پہلے اس کا خمس نکالے اور اس بات سے یہ چیز مستثنیٰ ہے کہ مرنے والا گنہگارہے اور اس نے خمس نہیں نکالا تو پھر جو مومن وارث ہے کہ جس پر خمس کا نہ نکالنا جائز ہے اور اس پر اپنی اس وارثت سے کہ جس پر خمس کاتعلق ہے اس سے بری الذمہ ہونا لازم نہیں ہے،اور اسی طرح ہر وہ چیز کہ جو کسی مومن کی طرف کسی معاملہ کے ذریعہ یا مفت کسی ایسے شخص کو منتقل ہوتی ہے کہ جو خمس نہ نکالتا ہو تو وہ مومن اس کا مالک ہے اور اس کے لئے اس چیز میں تصرف کرنا جائز ہے۔
اور اسی طرح کسی شخص نے جو خمس نہیں دیتا اپنی چیز کو کسی مومن کے واسطے بغیر ملکیت کے مباح کردے تو اس مومن کو اس میں تصرف کرنا جائز ہے،کیونکہ ایسی صور ت میں مومن پر سختی ہوگی اور اس کا جو کچھ بار اور بوجھ ہے خود خمس نہ دینے والے پر ہے اگر اس نے خمس کے دینے میں کوتاہی کی ہو تھوڑی دیر کے لئے میرے والد خاموش ہوگئے تو میں نے جلدی سے عرض کیا ۔
سوال: وہ تاجر،زمین کا مالک،کاشتکار،کار خانہ دار‘زمین دار،مزدورنوکری،کرنے والے،اور طالب علم وغیرہ کیا کریں کہ جنھوں نے نہ خمس دیا اور نہ ہی اپنے کئی سال کا خمس کا حساب کیا ؟ اور انھوں نے اپنے اموال سے کئی سال فائدہ حاصل کیا،گھروں کو بنوا یا اور ضروریات زندگی مثلاًکپڑے،فرش اور دوسرے سامان خریدے اس کے بعد وہ خمس نکالنے پر آگاہ ہوئے تو وہ کیا کریں؟
جواب: جوتم نے ذکر کیا اور جن چیزوں کوشمارکیا ان تمام چیزوں پر خمس نکالنا واجب ہے جب کہ وہ سال کا خرچ نہ ہوں،بلکہ وہ چیزیں سال کی ضروریات سے زیادہ ہوں ۔
سوال: جو آپ نے بیان فرمایا اس کی ذرامثال بیان کیجئے؟
جواب: کسی نے گھر خریدامگر اس میں سکونت اختیار نہ کی کیونکہ دوسرا گھر اس کے پاس تھااس میں اس نے سکونت اختیار کی لہٰذا اس گھر کا خمس دے۔
اور دوسرے ایسے سامان خریدے کہ جن کی اس کو ضرورت نہ تھی لہٰذاان پرخمس نکالنا واجب ہے۔
سوال: جن چیزوں کو سال کے خرچ کے واسطے خریدا مثلاًگھر خریدا تاکہ اس میں رہے،یا دوسرا سامان خریدا تاکہ اس سے اپنی ضرورت کو پورا کرے،اور اسی طرح دوسری چیز یں خرید یں؟
جواب: مثلاً گھر خریدا تاکہ اس میں رہے یا دوسرا سامان خریدا تاکہ اس کے منافع سے سال کا خرچ نکالے یا اس کو کام میں لائے تو ان چیزوں پرخمس واجب نہیں ہے۔
سوال: مثلاًکسی نے اپنے رہنے کے واسطے گزشتہ سالوں کا جو منافع جمع تھا اس سےگھر خریدا،اور ساتھ ہی ساتھ اس سال کا بھی منافع اس میں شامل ہوگیا ہو جیسا کہ میرے خیال میں اکثر لوگوں کا یہی حال ہے کہ وہ چند سالوں کا منافع جمع کرکے خمس کے حساب کو اپنے اوپر خلط ملط کرلیتے ہیں(تو وہ کیا کریں)؟
جواب: ان پر واجب ہے کہ وہ حاکم شرع یا اس کے نائب کی طرف رجوع کریں تاکہ اس مقدار مشکوک میں( جو کئی سال کے منافع یا گھرمیں رہنے والےسال کے منافع میں ہے) حاکم شرع کے ساتھ مصالحت ہوجائے لیکن جو گذشتہ سالوں کی بچت کی بات ہے تو وہ یہی ہے کہ فوراً اس کا خمس نکالے۔
سوال: اگر کوئی خمس کی ادائےگی پر ایک دم،فوراً قادر نہ ہو یا اس کے لئے خمس کی ادائےگی میں زحمت ومشقت ہوتو؟
جواب: اس فوریت کو حاکم شرع یا اس کا قائم مقام ساقط کرکے اس کے ذمہ قسط وار کردے گا تاکہ بغیر کسی سستی اور غفلت کے ادا کرسکے ۔
سوال: ابھی میں آپ کے ساتھ اس گھر میں رہتا ہوں،کیا مجھ پرخمس واجب ہے یا جو آپ خمس دیتے ہیں کافی ہے؟
جواب: ہاں تم پر خمس واجب ہے،اس چیز میں جو تم کو نفع حاصل ہوتا ہے حالانکہ تم میرے ساتھ اس گھر میں رہتے ہو اگر تم کو کوئی فائدہ حاصل ہو اور وہ فائدہ پورے ایک سال تمہارے پاس باقی رہے،اورتم نے اس کو اپنی ضرورت میں صرف نہیں کیا کیونکہ تم کو اس کی حاجت نہیں تھی تو اس کا خمس نکالو ۔
سوال: میں گرمیوں کی چھٹی میں تحصیل علوم دینی میں مشغول ہوتاہوں مجھے ہر مہینہ وظیفہ ملتا ہے آپ اس کو مجھ سے نہیں لیتے تاکہ میں اس کو اپنے اوپرصرف کروں مثلاً لباس اور دوسری ضروری چیزیں خریدوں تو کیا مجھ پر اس ماہانہ وظیفہ کا خمس دینا واجب ہے؟
جواب: جب کہ تم اپنے اوپر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتے ہو تو پھر تم پر خمس دینا واجب نہیں ہے اور اگر تم اس کو جمع کرتے ہو یا تھوڑا جمع رکھتے ہو اور اس پر پورا سال گزرجائے تو اس جمع شدہ رقم پر خمس دیناواجب ہے۔
سوال: کسی نے تجارت کی جگہ کو پگڑی پر لیا اس میں تجارت کرنے کا سامان تھا پہلے سال ان کا خمس نکال دیا گیا،کیا ہر سال پگڑی کی بناپر اس جگہ کی قیمت اور اس کے سامان کی قیمت کی زیادتی کی بناپر خمس نکالاجائے گا؟
جواب: ہرگز نہیں ،بلکہ اس کی اضافی قیمت پر جگہ بکنے کے بعد ،اور فائدہ حاصل ہونے کے بعد، جب کہ اس رقم کو سال کے اخراجات میں صرف نہ کیا گیا ہو،خمس واجب ہوگا۔
سوال: وہ برتن جو کھانے پینے کے لئے تیار کئے جاتے ہیں اگر ان کو زینت کے طور پر استعمال کیا جائے تو کیا یہ استعمال خمس کو ساقط کردے گا؟
جواب: اگر عام لوگوں کے نزدیک ایسا استعمال سال کے اخراجات میں شمار ہوتا ہو تو پھر ان پر خمس واجب نہیں ہے ۔
سوال: ایک بنائی ہوئی چیز کااس کے مالک نے خمس دے دیا اب اس نے اس کو دوسری چیز میں تبدیل کردیا پہلی چیز کی بہ نسبت اس دوسری چیز کی قیمت زیادہ ہے پس اس کے مالک نے اس کو محفوظ کر کے اس کا ذخیرہ کرلیا اور ایک سال اس پر کزر گیا تو کیا اس کی قیمت کی زیادتی پر خمس دینا ہوگا؟
جواب: اس زیادتی قیمت پر اس وقت تک خمس واجب نہیں ہوگا جب تک کہ اس کے مالک نے اس کومحفوظ کرنے کا اور اس کو ذخیرہ کرنے کا ارادہ نہ کیا ہو
سوال: بعض غذائی اجناس کو حکومت ذخیرہ کرلیتی ہے پھر اس کو بازار کی اونچی قیمت کے مقابلہ میں بہت کم قیمت پرفروخت کرتی ہے پس اگرایسی خریدی ہوئی چیز میں سے کچھ بھی کم نہ ہو اوراس پر اس طرح پورا سال گزرجائے تو اس کی قیمت کا حساب ذخیرہ کی قیمت کی بنیاد پریابازاری قیمت کی بنیاد پر کیا جائےگا؟
جواب: خمس دیتے وقت بازار کی قیمت کی بنیاد پر اس کا حساب کیا جائےگا۔
سوال: کسی نے زمین خریدی اور شرعی طور پر اس کا مالک ہوگیا اور اس کی قیمت بھی بڑھ گئی مگر وہ زمین قانونی طور پر اس کے نام نہیں ہے بلکہ دوسرے کے نام ہے اور وہ کسی بھی وقت مالک شرعی سے جب چاہے اس کو نکال کراپنے قبضہ میں کرسکتا ہے،تو کیا اس (مالک شرعی) پر اسی وقت خمس دینا واجب ہے یا جب قانونی طورپر (وہ زمین) اس کے نام ہوجائے اس وقت خمس دینا واجب ہے؟
جواب: اگرخمس کے بیان کئے ہوئے شرائط اس میں پائے جارہے ہوں تو اس پر اسی وقت خمس دینا واجب ہے۔
سوال: ریٹائرڈ شدہ لوگوں کوحکومت کی طرف سے جو پینشن ملتی ہے وہ پینشن لیتے وقت خمس واجب ہے یا سال تمام ہونے پر ؟
جواب: جب سال تمام ہوجائے تواس کی اضافی رقم پر خمس واجب ہے۔
سوال: جب میں خمس نکالوں تو کس کو خمس کی رقم دوں؟
جواب: خمس کے دو حصے ہوں گے ایک حصہ امام منتظر ( عجل اللہ تعالٰ فرجہ الشریف) کا ہے یہ رقم ان امور میں خرچ کی جائے گی جن میں امامؑ کی رضا ہوگی اور اس کی اجازت وہ مرجع (جواعلم ہو اور تمام جھات عامہ کی اطلاع رکھتا ہو)دے گا یا خود اس مرجع کو وہ رقم دی جائے گی اوردوسرا آدھا حصہ ہاشمی فقراء،مساکین مسافرین،مومنین کا ہے اور اسی طرح غریب مومنین،یتیم بچے اور دین کی خدمت کرنے والوں کا بھی حصہ ہے اور یہاں ہاشمیوں سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جن کا سلسلہ نسب باپ کے اعتبار سے جناب ہاشم جد نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر تمام پر ہوتاہو۔
یہ(خمس ان لوگوں کو دینا صحیح نہیں کہ جن کا نفقہ خود صاحب مال پر واجب ہو جیسے ماں، باپ، زوجہ اور اولاد،اسی طرح جو حرام میں خرچ کرتا ہو اس کو بھی خمس دینا جائزنہیں ہے (بلکہ اس بات کا لحاظ رکھے کہ خمس کا دینا گناہ کرنے پر مدد کا باعث نہ ہو،ا گرچہ حرام میں خرچ نہ کرے،نیز تارک الصلوۃ یا شراب خوار یا کھل کر فسق وفجور کرنے والے کو خمس دینا جائز نہیں ہے۔
تمام شد
فہرست
توجہ ۴
مقدمہ ۵
پہلا حصہ ۵
حصہ دوم ۶
حصہ سوم ۶
نماز کے بارے میں گفتگو ۸
نماز کے مسائل ۸
۱ ۔ نمازکا وقت ۱۰
( ۲) قبلہ ۱۱
( ۳) نمازی کا مکان ۱۱
۴ ۔نمازپڑھنے والے کالباس اور اس میں چندشرطیں ہیں ۱۲
سوال: اور امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کی شہادت؟ ۱۵
نیت ۱۶
دوسرے۔ تکبیرة الاحرام ۱۶
تیسرے۔ قرائت ۱۷
چوتھے قیام ۱۹
پانچویں رکوع ۱۹
چھٹے سجود (دونوں سجدے) ۱۹
ساتویں تشہد ۲۰
آٹھویں۔سلام ۲۱
پہلا قاعدہ ۲۳
دوسرا قاعدہ ۲۳
تیسرا قاعدہ ۲۳
چوتھا قاعدہ ۲۴
پانچواں قاعدہ ۲۴
دوسری نمازوں کے بارے میں گفتگو ۳۱
روزے کے متعلق گفتگو ۴۳
حج کے سلسلہ میں گفتگو ۵۱
زکوٰۃکے بارے میں گفتگو ۵۶
پہلی ۵۷
دوسرے ۵۷
تیسرے ۵۷
چوتھے ۵۸
دوسرے ۵۸
تیسرے ۵۹
چوتھے ۶۰
خمس کے سلسلہ گفتگو ۶۳
دوسرے ۶۵
تیسرے ۶۵