یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب: آسان مسائل (حصہ سوم) )
فتاوی: حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی سیستانی مدظلہ العالی
ترتیب: عبد الہادی محمد تقی الحکیم
ترجمہ: سید نیاز حیدر حسینی
تصحیح: ریاض حسین جعفری فاضل قم
ناشر: مؤسسہ امام علی،قم القدسہ، ایران
کمپوزنگ: ابو محمد حیدری
توجہ
وہ احکام شریعہ کہ جو دو بریکٹوں () کے درمیان بیان ھوۓ ھیں، ان سے مراد احتیاط ھے، آپ کو اختیار ھے کہ احتیاط واجب کی صورت میں اسی پر عمل کریں یا پھر اس مسئلہ میں کسی دوسرے مجتھد کی تقلید کریں، لیکن اس میں بھی اعلم کی مراعات ھونی چاہئے۔
دفترمرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی الحسینی سیستانی مدظلہ العالی
قم المقدسہ، اسلامی حمھوری ایران
مقدمہ
( رب اشر ح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدةمن لسانی یفقهوا قولی )
اے میرے رب ؛میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے کام کو آسان کردے، اور میری زبان کی گرہوں کوکھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکیں۔،،
الحمد لله رب العالمین والصلا ة والسلام علی سیدنا محمد وآله الطیبین الطاهرین
میں نے کوشش کی ھے کہ میری کتاب ،،الفتاوی المیسرہ،، کی روش سادہ، عام فہم، آسان، مکلفین ومولفین اور قارئین کے لئے جوروزمرہ اور عام بول چال کی زبان ھے، اس پرمبنی ہواور میں نے حتی الامکان کوشش کی ھے کہ فقہی پیچیدہ اور مشکل اصطلات کوآسان اسلوب میں بیان کروں۔ اس جدید اور عام فہم اسلوب سے پڑھنے والے کا شوق بتدریج بڑھےگا اور اس کا میلان اس کو اپنے احکام دینی پراحاطہ کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا۔
میں نے صرف ان اہم احکام کو اختیار کیا ھے جن کی مکلفین کوضرورت ھے۔۔اگر مکلفین اس سے زیادہ جانناچاہتے ہیں تو وہ اپنی وسعت کے مطابق فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں اور دوسرے رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔
دوسری بات یہ ھے کہ پڑھنےوالے کے دل میں علم فقہ اورعلم خلاق کی قربت کا احیاء اور اس کے عمل اور روح عمل کے درمیان ربط پیدا کرنا ہے۔
اس کتاب کوتین حصوں پر تقسیم کیاگیا ھے ۔
پہلا حصہ
ہم نے پہلے حصے کو عبادت سے مخصوص کیا ھے اور پھر عبادت کو نمازسے مخصوص قرار دیا ہے کیونکہ نمازاسلام کا وہ اہم رکن ھے کہ جس کے بارے میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نےارشاد فرمایا ھے:
”الصلوة عمو د الد ین ان قبلت قبل ما سواها وان ردت ردما سواها “
نمازدین کا ستون ھے اگر نماز قول ہوگی تو تمام اعمال قبول ہوجائیں گے اور اگرنماز ردکردی گی تو تمام اعمال ردکردیے جایں گے،،
نماز تمام عبادات کا محور اور ان کا قلب ،اس لیے کہ
”لا صلوة الا بطهور“
”نمازطہارت کے بغیر نہیں ہو سکتی“
پس بحث کا پیکر چاہتا ہے کہ نمازتک پہنچنے کے لئے تقلید کی گفتگو کے بعد ان نجاسات کا بیان شروع کروں کہ جو طہارت کو ختم کردیتے ہیں۔ پھران مطہرات کاذکر کروں کہ جو طہارت بدن کا سبب بنتے ہیں۔اور ان سب کو بیان کرنےکے بعد نماز تک جا ؤں،کیوںکہ نمازتک پہنچنے کے لیے یہی مناسب ھے کہ نمازجیسی اہم عبادات بھی طہارات و پاکیزگی چاہتی ہیں جیسےروزہ وحج وغیرہ۔
حصہ دوم
میں نے دوسرے حصے کو معاملات سے مخصوص کیا ہے جیسے بیع وشراء [خرید وفروخت] وکالت، اجارہ اور شرکت وغیرہ۔
حصہ سوم
تیسرے حصہ کوانسان کےاحوال سے مخصوص کیا ھے۔جیسے نکاح،طلاق، نذرو عہداور قسم وغیرہ۔
اس کے فورابعد امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے بارے میں گفتگوکی ھے۔ بحث کا اختتام دو مختلف قسموں پر ختم ھوا ھے اور اس بیان کے مطابق موضوعات کو مندرجہ ذیل سلسلہ کے مطابق منظم کیا ھے =
تقلید سے متعلق گفتگو، نجاست کے متعلق گفتگو، طہارت سے متعق گفتگو، جنابت، حیض،نفاس، استحاضہ،میت،وضو، غسل، تیمم، جبیرہ، نماز،دوسری نمازیں، روزہ، حج، زکو ۃ،خمس، تجارت اور اس کے متعلقات، نکاح، طلاق، نذروعہد، وصیت، میراث،اور امربالمروف ونہی عن المنکر سےمتعلق الگ الگ گفتگو کی گی ھے۔
اس کتاب کا نسخہ نجف اشرف میں حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی حسینی سیستانی مدظلہ العالی کے دفتر کی طرف سےخواہش مند حضرات کو اس تاکید کے ساتھہ دیا گیا ہے کہ یہ آ نحضرت کے فتوؤں کے مطابق ہے اور ان کے دفتر کی طرف سے اس نسخہ پر لازمی و ضروری اصلاح بھی ھوئی ہے تا کہ کتاب کا یہ نسخہ اس کے بعد آنحضرت کے فتوؤں کے مطابق کامل ھوجائے۔
امید ہے کہ اپنے مقصد و ہدف میں کا میاب ہو گیا ہوں اور میں ان لو گوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس کام میں میرے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ خصوصی طور پر میں ان رفقاء کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ جو نجف اشرف میں معظم کے دفتر میں بر سر پیکار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھ کو بروز قیامت ان لو گوں کے سا تھ محشور فرما ئے جن کے متعلق قرآن میں ہے :
”اوتی کتابہ بیمینہ فیقول ھا ؤ م اقروا کتا بیہ “جس کا نو شتہ اس کے دا ہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا لو آؤ میرے نو شتہ کو پڑھو اور میرا عمل خالص صرف اسی کے لئے قرار پائے ۔”یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم “
”اس روز نہ مال کام آئے گا اور نہ اولا د کام آئے گی مگر جس کو اللہ قلب سلیم عنایت کردے“
”ربنا لا تو اخذ نا ان نسینا او خطا نا“
”پا لنے والے ہماری خطا و نسیان کی باز پرس نہ فرما“
”غفر انک ربنا و الیک المسیر“
”اے ہمارے رب تو بخشنے والا ہے اور تیری ہی طر ف باز گشت ہے “
والحمد لله رب العالمین
ترتیب عبدالہادی محمد تقی الحکیم ۔
تجارت کے بارے میں گفتگو
تجارت پر گفتگو
کیا آپ تجارت کے پیشہ کودوست رکھتے ہیں،تو پھر آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ دین میں سوجھ بوجھ حاصل کریں، میرے والد نے یہ فرما کر فوراً کہا کہ ”مَن اَرَادَ التِّجَارَةَ فَلیَتَفَقِّہ فِی دِینِہ“ ( جو شخص تجارت کرنا چاہتا ہے وہ دین میں تفقہ (سوجھ بوجھ) حاصل کرے تاکہ اس کے ذریعہ اس کو حلال و حرام معلوم ہوجائے، جس نے دین میں تفقہ حاصل نہیں کیا اور تجارت کی تو وہ شبہات میں گھر گیا۔
اس گفتگو کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث سے شرف بخشا،میرے والد تجارت کی گفتگو کو شروع کرتے ہوئے امام علیہ السلام کے اس قول کی طرف اشارہ کیا کہ جس میں آپ نے فرمایا:
”غَفَلَ عَنُهَا الکثِیرُون اَوتَغَافَلُوافَتَوَرَّطُوا فِی الشُّبهَاتِ “
”کتنے غافل ہیں کہ جو شبھات میں پڑجاتے ہیں اور اس راز اور اس کی گہرائی کونہیں جانتے کہ فقہ اور تجارت میں بھی کوئی ربط ہے ؟“
لہذا میں نے اپنے والد سے سوال کیا۔
سوال: ابا جان! تجارت اور فقہ کے در میان کیاعلاقہ ہے؟
جواب: ہماری شریعت اسلامیہ میں ہماری اقتصادی زندگی کے مختلف پہلووں کا علاج،اس میں عدالت ،بہترین نتیجہ اور معاشر ے کے مختلف طبقات وافراد کے درمیان ثروت کی تقسیم ،جس میں معاشرہ کی سعادت اور خیرو مصلحت ہے، اس بنا پریہ فطری بات ہے کہ شریعت اسلامی اپنے اقتصادی نظریہ کے مطابق کچھ قوانین بنائے کہ ان میں کچھ جائز اور کچھ ناجائز ہوں کہ مختلف حالات کی بناء پر ان قوانین کا دائرہ کبھی وسیع ہوتا ہے اور کبھی تنگ پس مکلف پر واجب ہے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے واجب النفقہ لوگوں کے لئے (مثلاًزوجہ اولاد ، ماں باپ جبکہ ان کو اس کی حاجت ہو اور ان کا کوئی اور ذریعہ نہ ہو)معیشت کے حصول میں کوشش کرے۔
اور اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے لقمہ حیات کوحاصل کرنے کے لئے کوشش کرے،اس کیلئے کوئی ایسا در وازہ کھلا نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کوئی بھی عمل اور پیشہ اختیار کرے،پس کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ جن کا بیچنا اور استعمال کرنا حرام ہے ۔
سوال: ذرا مثال دیجئے؟
جواب: شراب اور بیر کا بیچنا حرام ہے ،کتوں کا بیچنا (سوائے شکاری کتوں کے)حرام ہے ،سور کا بیچنا حرام ہے ،نجس مردار کا بیچنا مثلاًجس میں گوشت اور چمڑا ہو ،وہ حیوانات کہ جن کو غیر شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو،ان کا بیچنا حرام ہے ،کسی کے مال کا غصب کرنا اور اس کا بیجنا حرام ہے ،اور ایسی چیزوں کا بیچنا جن کا کوئی فائدہ نہیں سوائے حرام کےمثلاًقمار اور حرام کھیل کو د کی چیز یں جیسے بانسری کا بیچنا حرام ہے،اور ملاوٹ حرام ہے ،سود لینا حرام ہے ،اور کھانے پینے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی اور یہاں ذخیرہ اندوزی سے مراد و ہ اشیا ء ہیں کہ جو اس شہر میں اکثر غذا کے طور پر کھائی جاتی ہوں ،اور ذخیرہ اندوزی اس بات پر موقوف ہے کہ جو غذا میں بنیادی چیزیں شمار ہوتی ہوں،جیسے نمک اور روغن وغیرہ ،اس امید پر ذخیرہ کرنا کہ ان کی قیمت زیادہ ہوگی،جبکہ مسلمانوں کو ان چیزوں کی حاجت ہو اور بازار میں وہ چیزیں نایاب ہوں تو حرام ہے۔
اور حق کی قضاوت یا باطل کی قضاوت پر رشوت لینا حرام ہے،اور آلات قمار سے کھیلنا،جیسے شطرنج،جوا،سٹہ کا بازی لگا کر شرط کے ساتھ کھیلنا بلکہ شطرنج اور جوئے اور ان دونوں کی طرح دوسرے کھیل بغیر بازی کے بھی حرام ہیں،کسی ایسی چیز کی قیمت زیادہ لگانا کہ جس کے خرید نے کا ارادہ نہ ہو بلکہ کسی سے اس نے سنا تو اس چیز کی قیمت زیادہ لگادی،قیمت کی زیادتی کے بعد وہ چیز خریدنا حرام ہے اگرچہ نقصان اور دھوکے سے دوسرا آدمی محفوظ ہو۔
ایسی چیز جو قمار یا چوری وغیرہ کے ذریعے حاصل کی گئی ہو اس کا خریدنا حرام ہے۔
سوال: یہ وہ حرام چیزیں تھیں کہ جن کا بیچنا اور خرید نا حرام ہے کیا مکروہات بھی ہیں؟
جواب: ہاں کچھ تجارتی معاملات ایسے بھی ہیں کہ شریعت اسلامیہ کے نزدیک مرجوح(یعنی جن کا رجحان کم)ہیں مکلفین کے لئے ان سے دوری اختیار کرنا یا ان سے بچنا لازمی نہیں ہے پس وہ مکروہ ہیں۔
سوال: ذرا مجھے مثال سے سمجھا ئیے؟
جواب: قیمتی مال کا بیچنا مکروہ ہے مگر یہ کہ اس کی قیمت سے دوسرا قیمتی سامان خریدا جائے،سونے کے عوض سونا اور چاندی کے عوض چانداگر کسی اضافہ کے بغیر ہو تو مکروہ ہے ورنہ اضافہ کی صورت میں حرام ہے،جونیانیا مالدارہوا ہو اس سے فرض لینا مکروہ ہے،اسی طرح انسان کیلئے قصابی،حجامت اور کفن بیچنے کا کام کرنا اور ایسے ہی دوسرے کام مکروہ ہیں اس کے بعد میرے والد نے مزید فرمایا کہ تجارت کے معاملات میں بھی بعض طریقے اور شریعت کی نظر میں مکروہ ہیں۔
سوال: مثلاً(وہ کون سے طریقے ہیں)؟
جواب: جب غش سے نہ ہو تو کسی عیب کا چھپانا مکروہ ہے اور اگر غش(دھو کہ)ہوتو پھر اس عیب کا چھپانا حرام ہے،معاملہ میں سچی قسم کھانا مکروہ ہے،لیکن جھوٹی قسم حرام ہے اور مومن سے زیادہ فائدہ لینا مکروہ ہے اور بیچنے کے بعد قیمت میں کمی کا مطالبہ کرنا مکروہ ہے اور ایسی تاریک جگہ بیچنا جہاں مال کاعیب ظاہر نہ ہو مکروہ ہے بیچنے والے کو مال کی تعریف کرنا اور خرید ار کو مال کی برائی کرنا مکروہ ہے،اس کے علاوہ اور بھی مکروہات ہیں۔
سوال: یہ تو مکروہات تھے کیا مستحبات بھی ہیں؟
جواب: ہاں کچھ چیزوں کی تجارت شریعت اسلامی کے نزدیک مرغوب اور محبوب ہے،لیکن وہ مکلفین کے لئے لازمی نہیں ہے اور نہ ان پر واجب ہے بلکہ مستحب ہیں۔
سوال: مجھ سے جس بارے میں آپ نے فرمایا مثال دے کر بیان کیجئے؟
جواب: مثلاً مومن کو قرض دینا اور اس سے زیادہ نہ چاہنا مستحب ہے،دوا کا بیچنا مستحب ہے،اگرکوئی کسی کو تجارت کرنے کے لئے کچھ مال دے اس لحاظ سے کہ معین فائدہ طرفین(بیچنے والے اور خریدار) کے لئے ہو تو یہ مستحب ہے،جیسا کہ تجارت کے بعض طور و طریقے شریعت اسلامی کو محبوب ہیں اور اس کو ان میں رغبت ہے ۔
سوال: مثلاً
جواب: مستحب ہے کہ بیچنے والا اپنے خریداروںکے در میان جنس کی قیمت میں فرق نہ کرے،اور جنس کی قیمت میں زیادہ سختی نہ برتے،اور جس شخص نے اس سے کوئی معاملہ کیا ہو اور بعد میں وہ پشیمان ہو جائے تو بیچنے والے کے لئے مستحب ہے کہ اس کی بات کو قبول کرے اور خریدار کی قیمت واپس کرے۔اور انسان کے لئے مستحب ہے کہ وہ کم لے اور زیادہ دے اور قیمت کاکم کرنا مستحب ہے۔
اپنے کا روبار کی جگہ کادروازہ کھول کر اس میں بیٹھنا مستحب ہے،رزق کے حصول کے لئے جد و جہد کرنا مستحب ہے،بیچنے میں احسان و بخشش مستحب ہے،بیع وشراء میں اچھا پیشہ اختیار کرنا مستحب ہے،طلب رزق کے لئے ہجرت کرنا اور اس کے حصول میں کوئی نئی رو ش اختیار کرنا مستحب ہے،ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مستحبات ہیں،میرے والد نے مزید فرمایا کہ کچھ تجارتی معاملات اور ان کی روش ایسی ہے کہ جو شریعت اسلامی کے نزدیک نہ محبوب ہیں اور نہ مبغوض،پس انسان کو اختیار ہے کہ وہ جس معاملہ کو چاہے اختیار کرے اور جس کو چاہے چھوڑے، کسی ایک معاملہ کو کسی دوسرے معاملہ پر ترجیح دیئے بغیر پس وہ معاملات مباح ہیں،جیسے آجکل کے بہت سے تجارتی معاملات،میرے والد نے اس کے فوراًبعد کہا :
شریعت اسلامیہ نے ان تمام چیزوں کے لئےکچھ شرائط رکھی ہیں کچھ شرائط جس چیز کو بیچنا چاہتا ہے اس کے بارے میں شرائط ہیں ،کچھ شرائط خود بیع میں ہیں اور چند خریدار شرائط کے بارے میں ہیں۔
سوال: جس چیز کو بیچا جاتا ہے اس میں کیا شرائط ہیں؟
جواب: اس میں چند شرطیں ہیں:
( ۱) جس چیز کو بیچا جاتا ہے اس کی مقدار،وزن،پیمانہ،عدد یا مساحت کے اعتبار سے معلوم ہونا چاہئے یہ اختلاف اجناس کے مختلف ہونے کی بناء پر ہوتا ہے۔
( ۲) بیچی ہوئی چیز کو سپرد کرنے کی قدرت رکھتا ہو پس نہر کی مچھلیاں بیچنا اور پرندہ(جب کہ وہ ہوا میں اڑ رہا ہو)بیچناصحیح نہیں ہے ہاں اگر خریدار بیچی ہوئی جنس کو حاصل کرنے پر قدرت رکھتا ہے تو پھریہ بیع درست ہے مثلاً کوئی بھاگا ہوا چو پایا بیچا گیا ہو اور خریدار اس کو پکڑنے پر قدرت رکھتاہے تو یہ معاملہ صحیح ہے۔
( ۳) ان خصوصیات کاعلم ہونا چاہئے کہ جو کسی جنس اور اس کی قیمت میں ہوتی ہیں اور خصوصیات کی بنا پر لوگوں کا رجحان کسی معاملہ میں مختلف ہوتاہے چاہے یہ خصوصیات عام شکل ہی میں کیوں نہ ہوں مثلاً رنگ، مزہ، خوبی اور نقص وغیرہ کہ ان کی بناپر ہر بیچی جانے والی جنس کی بازاری قیمت میں فرق آجاتاہے۔
( ۴) کسی شخص کا اس جنس یا قیمت میں کوئی حق نہ ہوپس وہ مال جو کسی کے پاس رہن رکھا ہوا ہے تو وہ رہن رکھنے والے کی اجازت کے بغیرنہیں بیچ سکتا ۔ اسی طرح وقف شدہ چیز کا بیچنا جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ وقف کو اس کا کوئی فائدہ ہے بھی تو اتنا کم کہ وہ نہ ہونے کے برابر ہو۔
( ۵) بیچی جانے والی چیز وہ خود عین جنس ہو، جیسے گھر، کتاب اور سامان وغیرہ پس گھر کا نفع بیچنا صحیح نہیں ہے۔ میرے والد محترم نے یہ فرما کر مزید فرمایا:
اسی طرح کسی شہر میں کسی چیز کو وزن کرکے بیچا جاتا ہے تو اس شہر میں اس جنس کو صرف وزن کرکے ہی بیچ سکتے ہیں اور اسی چیز کو کسی دوسرے شہر میں کسی پیمانہ کے ذریعے بیچا جاتا ہے تو اس شہر میں فقط پیمانہ ہی کے ذریعہ بیچنا درست ہے اور اسی اعتبار سے ہر چیز کو بیچاجائے گا تا کہ جنس کے بارے میں جو علم نہیں ہے وہ دور ہوجائے ۔
سوال : ذرا مجھے مثال سے سمجھا ئیے؟
جواب: مثلاًکسی شہر میں پھل تول کربکتے ہیں تو اس شہر میں صرف تول کر ہی بیچے جاسکتے ہیں،اور مثلاً دودھ جس شہر میں لیڑ کے حسا ب سے بیچاجا تا ہے تو اس شہر میں دودھ صرف لیڑ ہی کے ذریعہ بیچا جائے گا،یہ جہالت سے بچنے کے لئے ہے تا کہ کسی قسم کی جہالت نہ رہے۔
یہ چند شرطیں جس چیز کو بیچا اور خریدا جاتا ہے ان کے بارے میں تھیں اور اب یہاں چند شرطیں خود ان چیزوں کے بارے میں ہیں کہ جو بیچی جاتی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیچتے وقت کسی معمولی چیز کو معاملہ پر معلق کرنا جائز نہیں ہے ۔
سوال: ذرا اس پر مجھے مثال بیان کیئجے ؟
جواب: مثلاًگھر بیچتے وقت خریدار سے یہ کہنا صحیح نہیں کہ میں نے اس گھر کو تجھے بیچا جب کہ مہینہ کا پہلا چاند ہو،یا اس خریدار سے یہ کہا نہیں جا سکتا کہ میں نے اپنی اس گاڑی کو تیرے ہاتھ بیچا جب میرے یہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہو وغیرہ وغیرہ،اگر ایسا اتفاق پیش آجائے تو دوبارہ بیچنے والے اور خریدار میں،خرید و فروخت پر لڑکے کی پیدائش اور رویت ہلال کے بعد اتفاق ہونا چاہئے۔
سوال: وہ کون سے شرائط ہیں کہ جو بیچنے والے اور خریدار میں پائے جائیں کہ آپ نے جن کی طرف اپنی گفتگو میں اشارہ فرمایا؟
جواب: بیچنے والا اور خریدار دونوں عاقل ہوں،بالغ ہوں،رشید ہوں،خرید وفروخت کا قصد رکھتے ہوں،مختار ہوں،کسی کے جبر واکراہ سے خرید و فروخت نہ کر رہے ہوں،اس چیز کے تصرف پر قدرت رکھتے ہوں چاہے خود مالک ہوں یا مالک کے وکیل ہوں یا مالک کی طرف سے معاملہ کرنے کی اجازت رکھتے ہوں یااس پر ولی ہوں۔
سوال: جس چیز کا کوئی مالک ہے اگر اس کے بیچنے پر کوئی اسے مجبور کرے تو؟
جواب: جب کہ یہ جبرواکراہ کسی ایسے ظالم کی طرف سے ہو کہ جس سے مالک ڈرتا ہو کہ اگر اس کی مخالفت کرے گا تو اس کی جان یا مال یا کسی ایسی اہم چیز کو خطرہ لا حق ہو کہ جو اس سے متعلق ہے تو یہ بیع صحیح نہیں ہے۔
سوال: بعض دفعہ کسی ظالم کے ظلم کی بنا پر مجبوراًاپنے رہنے کی جگہ کو انسان بدلنے کی وجہ سے اپنی املاک اور ضروری سامان کو بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے تو ؟
جواب: یہ بیع صحیح ہے۔
سوال: آپ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ بیچنے والے کے لئے کیا شرط ہے کہ وہ مالک ہو،یا اس کا وکیل ہو،یا اس کا ولی یا اس کی طرف سے بیچنے پر کسی کو اجازت حاصل ہو اس بنا پر اگر کوئی دوست یا پڑوسی یا رشتہ دار یا اسی طرح کوئی اور بیچے تو؟
جواب: یہ بیع صحیح نہیں ہے،مگر یہ کہ مالک کی اجازت حاصل ہو،یا مالک کا وکیل ہو یا ولی ہو اگر ایسا نہیں ہے تو بیع باطل ہے۔
سوال:اگرغصب شدہ مال بیچنے کے بعد مالک راضی ہو جائے تو؟
جواب: یہ بیع صحیح ہے۔
سوال: آپ نے فرمایا کہ بیچنے والے اور خریدار کے لئے شرط ہے کہ وہ بالغ ہوں پس اگر نا بالغ بچہ اپنے مالک کی چیزکو بیچنا چاہے تو یہ بیع کیسی ہے؟
جواب: معمولی اور کم قیمت جیسی اشیاء کا بیجنا صحیح ہے کہ جس کا عام طور پر ممیّز بچے معاملہ کرلیتے ہیں،تو یہ معاملہ اوربیع صحیح ہے،اور اگر یہ چیزیں قیمتی اور اعلیٰ ہیں تو پھر ان بچوں کا تنہا اور مستقلاًمعاملہ کرنا صحیح نہیں ہے ۔
سوال: بچے کے مال کو بیچنے کا کس کو حق ہے؟
جواب: اس کے ولی،اس کے باپ،دادا اور باپ یادادا کا وصی اور جب کہ یہ نہ ہوں تو حاکم شرع کو حق ہے،پس باپ کے لئےجائز ہے کہ بچہ کے مال کو اس وقت بیچے کہ جب اس کے بیچنے میں کسی قسم کا فسادنہ ہو،اسی طرح جب بچہ کے باپ دادا او ران دونوں میں سے کسی کا وصی نہ ہوتو حاکم شرع کو اس کا مال مصلحت کا لحاظ رکھتے ہوئے بیچنا جائز ہے۔
سوال: اور کیا بچے کو اپنے علاوہ کسی کو وکیل بنانے کا حق ہے جیسے باپ،دادا کہ وہ اس کا ما ل اس کی طرف سے بیچیں؟
جواب: ہاں اس کو یہ حق ہے۔
سوال: اگر بیع اپنے تمام بیان کی ہو ئی شرائط کے ساتھ تمام ہوجائے اور وہ بیع کسی بھی چیز کی ہوتو کیا خریدار کو حق ہے کہ وہ اپنی خریدی ہوئی چیز کو لوٹا کر اس کی قیمت واپس لے لے؟اور کیا بیچنے والے کو حق ہے کہ وہ قیمت واپس کردے اور جس چیز کو بیچنا ہے واپس لے لے؟
جواب: بعض حالات میں معاملہ کو باطل کرنے کا حق ہے اور وہ حالات یہ ہیں:
( ۱) جب کہ بیچنے والا اور خریدنے والا بیچنے کی جگہ سے یا راستہ سے جدا نہ ہوئے ہوں تو پھر دونوں میں سےہر ایک کو معاملہ توڑنے کا حق ہے۔
سوال: اگر دونوں جدا ہوگئے ہوں اور ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے راستہ کی طرف چلے گئے ہوں تو؟
جواب: ایسی صورت میں معاملہ لازم او ر ثابت ہو جائے گا یعنی اب معاملہ کو توڑ نہیں سکتے۔
( ۲) اگر بیچنے والا او رخرید نے والا کوئی بھی گھاٹے میں ہوتو اس کو معاملہ توڑنے کا حق ہے مثلاًبیچنے والے نے اپنی جنس کو بازاری قیمت سے اتنی کم قیمت میں فروخت کردیا کہ جو نا قابل گذشت ہے اور بیچنے والا اس کو جانتا بھی نہ تھا بعد میں اس کو اس کمی کا علم ہوا پس اس کو معاملہ توڑنے کا حق ہے ، اسی طرح خریدار جب کوئی چیز بازاری قیمت سے زیادہ قیمت میں خریدے اور وہ اس چیز کو نہ جانتا تھا پھر اس پر حقیقت روشن ہوئی تو اس کو حق حاصل ہے کہ وہ اس جنس کو واپس کرکے اس کے معاملہ میں جو چیز دی تھی واپس لے لے ۔
( ۳) اگر خریدار کسی ایسی چیز کو خریدے جو سامنے نہ ہو،غائب ہو،ان بعض خصوصیات کی بناء پر کہ جو اس کے ذہن میں تھیں یا تو ان خصوصیات کو بیچنے والے نے بیان کیا تھا یا خریدار نے پہلے اس چیز میں ان خصوصیات کو دیکھا تھا پھر بعد میں اسے معلوم ہوا کہ اس جنس میں وہ خصوصیات نہیں ہیں جن کو خریدار نے خیال کیاتھا پس خریدار کو حق حاصل ہے کہ وہ اس جنس کو واپس کرکے معاملہ توڑدے۔
( ۴) جب کہ بیچنے والا او ر خریدنے والا دونوں یہ شرط کریں کہ فلاں مدت معینہ تک دونوں میں سے کوئی بھی معاملہ کو توڑسکتاہے تو پھر اس مدت میں دونوں کو معاملہ توڑنے کا حق حاصل ہے۔
( ۵) جب کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک عہد کرے کہ فلاں کام انجام دیاجائے اور وہ کام معاہدے کے مطابق انجام نہ پایا،شرط کرے کہ جو مال دے رہاہے وہ خاص صفت کا ہو او رخریدنے کے بعد اس مال میں وہ مخصوص صفت نہ پائی گئی ہو تو معاملہ توڑنے کا خریدار کو حق حاصل ہے کہ وہ معاملہ توڑسکتا ہے۔
( ۶) جب خریدار کسی چیز کو خریدے اور اس کے بعد اس چیز میں کوئی عیب دیکھے تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اسے واپس کردے،اسی طرح بیچنے والا قیمت میں کسی قسم کا عیب دیکھے تو اس کے لئے بھی جائز ہے کہ وہ بھی قیمت لوٹاکر اپنی چیز واپس لے سکتا ہے۔
( ۷) معلوم ہو جائے کہ جن چیزوں کو خریدار نے خریدا ان میں سے کچھ ایسی ہیں جو بیچنے والے کی نہیں ہیں،اور مالک بھی ان چیزوں کے بیچنے پر راضی نہیں ہے تو خریدار کے لئے جائز ہے کہ وہ تمام معا ملہ کو توڑدے۔
( ۸) جب کہ بیچنے والا کسی چیز کو خریدنے والے کے سپرد کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو تو خریدنے والے کو حق حاصل ہے کہ وہ معاملہ کو باطل کردے۔
( ۹) جب کی بیچی جانے والی چیز کوئی حیوان ہو تو خریدار کو تین دن کے اندر اندر حق حاصل ہے کہ بیچنے کی تاریخ سے(ان تین دنوں کے اندر) حیوان کو اس کے مالک کو لوٹا کر اس کی قیمت واپس لے لے،اور اسی طرح حیوان کے بیچنے والے کو حق حاصل ہے کہ وہ ان تین دن کے اندر حیوان کی قیمت خریدار کو واپس کرکے اپنی چیز واپس لے لے۔
( ۱۰) جب کہ بیچنے والا اپنی جنس کی ایسی خصوصیات بیان کرے کہ جو واقعاً اس میں نہیں ہیں تا کہ خریدار کی رغبت اس کے خریدنے میں پیدا ہوجائے پس خریدار کو اس کے خریدنے کے بعد صحیح حال معلوم ہو جائے تو اس کو حق حاصل ہے کہ وہ اس جنس کو لوٹا کراپنی قیمت واپس لے لے۔
( ۱۱) جب کہ بیچنے والاکسی چیز کو بیچے اور وہ اس کی قیمت حاصل نہ کرے،اور وہ اپنی جنس کو بھی خریدار کے سپرد نہ کرے کیونکہ ابھی اس نے قیمت ادا نہیں کی،تو یہ معاملہ تین دن تک فقط لازم رہے گا اس کے بعد بیچنے والے کو حق ہے کہ وہ معاملہ کو باطل کردے کیونکہ خریدار قیمت لے کر نہیں آیا یہ حکم اس وقت ہے جب کہ بیچنے والے نے خریدار کو قیمت کے ادا کرنے میں بغیر کسی معین مدت کے مہلت دی ہو،اور اگر اس کو مدت معینہ کی مہلت دی گئی ہوتو پھر بیچنے والے کو معاملہ توڑنے کا مدت سے پہلے حق حاصل نہیں ہے،اور اگر اس نے مہلت نہیں دی تو پھر قیمت ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ معاملہ کو کسی وقت بھی توڑسکتا ہے۔
سوال: جب کہ خریدار اور بیچنے والے کے درمیان قیمت کی ادائیگی پر مدت مقرر ہو جائے تو کیا یہ معاملہ قر ض سمجھا جائے گا،کیا اس قسم کا معاملہ صحیح ہے؟
جواب: معاملہ صحیح ہے جبکہ قیمت کی ادائیگی کی مدت معین ہو،اس میں کسی قسم کی کمی وزیادتی نہ ممکن ہو اور نہ بہت زیادہ مبہم ہو مثلاًدونوں اس بات پر متفق ہوجائیں کہ کھیتی کی کٹائی کے وقت قیمت ادا کی جائے گی تو یہ معاملہ باطل ہوجائے گا اس لئے کہ کھیتی کی کٹائی کا وقت معین نہیں ہے۔
سوال: قرض سے بیچنے کے لئے اگر دونوں کا کسی مدت معینہ تک قیمت کی زیادتی پر اتفاق ہوجائے تو؟
جواب: یہ جائز نہیں ہے،اس لئے کہ یہ سود ہے اور سود حرام ہے،خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
( اَحَلَّ اللّٰهُ البَیعَ وَ حَرِّمَ الرِّبٰا)
”اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔“
سوال: مثلاًبیچنے والا او رخریدار دونوں سو( ۱۰۰) کلو گیہوں کو ایک سو بیس( ۱۲۰) کلو گیہوں کے سودے پر اتفاق کر لیتے ہیں تو کیا یہ سود شمار ہوگا؟۔
جواب: یہ سود ہے جو کہ حرام ہے۔
سوال: کبھی دونوں(خریدار اور فروخت کرنے والا)سو کلوگیہوں کو سو کلو گیہوں اور اس کے ساتھ پچاس دینار زیادہ پر اتفاق کر لیتے ہیں تو کیا یہ پچاس دینار سود شمار ہوں گے؟
جواب: یہ بھی معاملہ اسی طرح سودہے جیسا کہ تم کو پہلے بتایا گیا ہے کہ وہ حرام ہے،ہاں اگر ناقص چیز کے ساتھ ایک عمدہ رومال بھی دیا جائے اور اس سے مقصد یہ ہو کہ ایک طرف جو گیہو ں ہیں وہ دو سری طرف رو مال کے مقابلہ میں ہیں،اور پچاس دینار جو اس طرف ہیں وہ ان گیہوں کے مقابلہ میں ہیں کہ جو پہلی طرف ہیں، پس اس طرح یہ بیع مطلقاً صحیح ہو جائیگی اور اس سے حرام ربا لازم نہیں آئیگا۔
سوال: میں کس طرح پہچانوں یہ معاملہ ربا ہے،اور اس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟
جواب: نقد معاملہ میں ربا(سود)دو طرح سے تحقق پاتا ہے۔
( ۱) عوضین(جنس وقیمت)دونوں میں سے ہر ایک ایسی ہوکہ جو ناپی جا سکتی ہو یا تولی جاتی ہو جیسے گیہوں، جو، چاول، مسور،ماش،پھل،سونا، چاندی و غیرہ۔
( ۲) دونوں ایک ہی جنس سے ہوں۔
سوال: جب معاملہ ادھار ہو۔یعنی” بیع الاجل “ہو تو کیا اس میں بھی ربا(سود) کے تحقق پانے میں اوپروالے دونوں امورشرط ہیں؟
جواب: نہیں بلکہ جب یہ دونوں امورنہ بھی پائے جاتے ہوں تو بھی ربا متحقق ہوتا ہے۔
( ۱) جب دونوں چیزیں تولی جانے والی ہوں یا ناپی جانے والی چیروں میں سے ہوں،لیکن جنس دونوں کی مختلف ہو،جیسے سو کلو گیہوں کی سو کلو چاول کے مقابلہ میں ایک مہینہ کی مدت تک قرض بیچنا۔
( ۲) دونوں چیزیں ناپی جانے اور تولی جانے والی چیزوں میں سے نہ ہوں لیکن جنس میں متحد ہوں اور زیادتی بھی اس جنس کی ہوجیسے دس اخروٹ کا ایک مہینہ کی مدت تک ادھار بیچنا ۱۵ اخروٹ کے مقابلہ میں۔
سوال: اس کے معنی یہ ہوئے کہ جب دو چیزیں عددی ہوں یعنی وزنی اور ناپی جانے والی نہ ہوں،جیسے انڈے یا جو چیزیں ہاتھ یا میٹرسے نا پی جاتی ہوں جیسے کپڑا و غیرہ اگر معاملہ نقد ہو تو ان کی خرید و فرخت جائز ہے؟
جواب: ہاں ان کا معاملہ جائز ہے اسی طرح تیس انڈوں کے ساتھ نقد بیچناجائز ہے اس کے علاوہ اور بھی مثالیں ہیں۔
سوال: اور سونا کا کیا مسئلہ ہے؟
جواب: سونا کوبھی ہم مثل سے نہیں بیچ سکتے کیونکہ یہ تولی جانے والی چیزوں میں سے ہے۔
سوال: گڑھے ہوئے سونے کی چیز بے گڑھے ہوئے زیادہ سونے کے مقابل بیچنا جیساکہ سناروں کے نزدیک رائج ہے،کیا یہ سود شمار ہوگا؟
جواب: ہاں یہ سود ہے مگر یہ کہ اسی نقص کے ساتھ کسی چیز کو ملا دیا جائے جیسا کہ اس کا پہلے بیان گزر چکا ہے۔
سوال: اگرگیہوں کی مختلف اجناس ہوں،اور خراب اور ردی گیہو ں کو ستر کلو بہترین گیہوں کی قیمت سے بیچا جائے،یا اسی طرح چاول ہیں کہ ۱۰۰ کلو بہترین چاولوں کو ایک سو بیس کلو چاول کے مقابل بیچا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: یہ بھی سود شمار ہوگا اس طرح کا معاملہ جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے ساتھ کوئی چیز ضمیمہ(ملا دی جائے )کردی جائے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔
سوال: اور اگر سو کلو گیہوں کو ستر کلو چاول کے مقابل بیچا جائے تو اس کا حکم بیان کریں؟
جواب: یہ نقد معاملہ درست ہے،کیونکہ اس ایک جنس گیہوں اور دوسری جنس چاول ہے،اسی کے ساتھ سود میں گیہوں اور جو ایک ہی جنس شمار ہوتے ہیں پس سو کلو گیہوں کا فقط ایک سوپچاس کلو جو کے مقابلہ میں بیچنا جائز نہیں ہے،اسی طرح سود میں تمام قسم کی کھجوریں ایک جنس کی شمار ہوں گی اور گیہوں/ آٹا/روٹی/ایک جنس شمار ہوں گی،دودھ/پنیر/مسکہ ایک ہی نوع اور ایک ہی جنس کے شمار ہو ںگے،اسی طرح رطب/تمر/ان کا شیرہ ایک ہی جنس ہیں،کیونکہ اصل اور اس سے فراغ یقینی میں یہ ہمیشہ ایک جنس معتبر ہے،یہ بات یہاں ختم ہوتی ہے اب سود(ربا)کی دوسری قسم (جو ربا القرض کے نام سے ہے)کے بارے میں بحث ہوگی۔
سوال: یہ ربا القرض کیا ہے؟
جواب: قرض دینے والا قرض لینے والے سے قرض سے زیادتی کی شرط کرے ،مثلاًہزار دینار قرض دے اس شرط پر کچھ مدت بعد گیارہ سو دینار واپس کرے یہ بھی اسی طرح حرام ہے کہ جیساکہ ایک د وسرے کے مقابل لینا حرام ہے۔
سوال: سود پر قرض دینا ایک قسم کا فائدہ مند قرض ہے نہ کہ قرض بلا فائدہ؟
جواب: مومن کو قرض دینا بغیر فائدہ کے مستحبات موکدہ میں سے ہے،جیسا کہ آپ سے پہلے بیان کر چکا ہوں،اور خصوصاً مجبور اور حاجت مند لوگوں، کو قرض دینا،نبی پاک سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:
”من اقرض مومنا قرضا ینظر بہ میسورہ کان مالہ، فی زکاة وکان ھو فی صلاة الملائکہ حتٰی یودیہ“
”جو کسی مومن کو قرض دے اور اس وقت تک منتظر رہے جب تک اس مومن میں قرض ادا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے تو قرض کی ادائیگی کی مدت تک گویا اس نے اپنے مال کی زکات دی اور گویا اس وقت تک وہ ملائکہ کے ساتھ نماز میں مشغول ہے“۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:
”مکتوب علی باب الجنۃ الصدقۃ بعشرةوالقرض بثمانیۃ عشر“
”جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا ہے کہ صدقہ دینے میں دس نیکیاں ہیں اور قرض دےنے میں اٹھارہ نیکیاں ہیں“
سوال: یہ قرض کاحال تھا کہ اب ذرا آپ مجھ کو کچھ شرکت کے احکام بتائیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرا ایک بھائی اپنے کسی دوست کے ساتھ مشترک تجارت کرنا چاہتا ہے؟
جواب: شرکت دو بالغ، عاقل، آزاد اور مختاز کے در میان جائز ہے جب کہ کوئی ان میں سے مجبور اور مفلس نہ ہو۔
میرے والد نے یہ فرما کر مزید فرمایا:
عقد شرکت کئی قسموں پر واقع ہوتا ہے ان میں سے جو اصطلاحاً بولا جاتاہے: وہ شرکت اذنیہ ہے،اوریہ اس بات پر مو قوف ہے کہ دو شخص آپس میں شرکت کرنا چا ہیں تو وہ اپنے مال کا کچھ حصہ اس طرح ملا دیں کہ ایک دوسرے کے مال کی تشخیص نہ ہو سکے اس میں دو شریکوں میں سے ہر شریک کو یاشر کا ء میں سے ہر شریک کو عقد کے فسخ یا شرکت کو باطل کرنے کا حق حاصل ہے،اور اسی طرح مال کی تقسیم کرنے کا بھی مطالبہ کرنے کا حق ہے ،جب کہ کسی شریک کو اس تقسیم سے ظاہر اً ضرر نہ پہنچے ،پس اگر عقد شرکت کو ان میں سے کو ئی ایک فسخ کردے تو کسی کو مشترک مال میں تصرف کا حق نہیں ہے ،ا ور دونوں شریکوں میں سے ہر شریک اپنے مال کی نسبت نفع اور نقصان میں شریک ہے، پس اگر دو نوں کا حصہ مساوی ہے تو نفع ونقصا ن میں بھی مساوی ہیں اور اگر دونوں کا حصہ الگ الگ ہے تو ان میں سے ہر شخص اپنے حصہ کی نسبت مال کے نفع اور نقصان میں بھی شریک ہے۔
سوال: اگر دونوں شریک نفع میں کسی کی زیادتی پر متفق ہو جائیں کیونکہ وہ کام کی بنا پر شریک ہیں یا اس کا کام اپنے دوسرے شریک کی نسبت زیادہ یا اہم ہے یا ان میں سے کچھ نہیں ہے بلکہ ایسے ہی متفق ہو گئے ہیں تو ؟
جواب: یہ اتفاق صحیح ہے اور نا فذ ہے ۔
سوال : جو کام کر رہا ہے اس کے ہا تھ سے اگر شر کت کے مال میں سے کچھ تلف ہو جائے تو ؟
جواب : کام کرنے والا شریک امین ہے تلف شد ہ چیز کا وہ ضا من نہیں ہے ۔ہاں اگر اس نے لا پر واہی یا کسی قسم کی غفلت بر تی ہے تو پھر وہ ضامن ہے ۔
سوال : اس زمانہ میں لو گوں کے درمیان ایک دوسرا معاملہ رائج ہے جو شر کت سے مشابہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کو ئی شخص کسی کو تجارت کرنے کی غر ض سے کچھ مال دیتا ہے تا کہ اس کا طے شد ہ منا فع دو نوں کے درمیان تقسیم ہو جیسے آدھا یا تہائی یا چو تھائی توکیا یہ معاملہ صحیح ہے ۔؟
جواب : یہ معاملہ صحیح ہے جب کہ یہ دو نوں شریک متفق ،با لغ ، عاقل ، رشید اور مختار ہوںاور ما لک مفلس کی بنا پر مجبور نہ ہو (یعنی حا کم شر ع نے کسی شریک کو اس کے دیوانے پن کی بنا پر اپنے مال میں تصر ف کرنے سے روکا نہ ہو ) اس کو مضا ربہ کہا جاتا ہے۔
سوال : اور عامل کام کرنے والے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر یہ عامل تفلیس کی بنا پر مجبور بھی ہو تو اس کی شر کت جا ئز ہے ۔ جب کہ ان کا اتفاق اس کے ممنو عہ مال میں تصرف کا سبب نہ بنے پھر مالک اور عامل میں سے ہر ایک کو حق ہے کہ وہ کام شروع ہو نے سے پہلے یا بعد منافع حاصل ہو نے سے پہلے یا بعد اپنے اتفاق کو ختم کر دیں اور اسی کے ساتھ عامل کو کسی قسم کا گھا ٹا نہ ہو جب کہ اس نے کو ئی غفلت اور بے تو جہی نہ بر تی ہو ۔
سوال: جب مالک شر ط لگائے کہ اگر نقصان ہو گا تو عامل کو وہ تمام کا تمام برداشت کرناپڑے گا تو کیا یہ شر ط صحیح ہے ؟
جواب: یہ شر ط صحیح ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ منا فع میں بھی تمام عامل کا ہو گا مالک اس میں شر یک نہ ہو گا ۔
سوال: اور اگر شر ط کر یں کہ خسارہ بھی دو نوں پر ایک سا تھ مثل منا فع کے ہو گا ؟
جواب: یہ شر ط با طل ہے ہاں اگر عامل کے لئے شر ط لگا ئی جائے کہ وہ خسارے میں سے کچھ کا یا تمام خسارہ کا تد ارک کرے اور اپنے خاص مال سے اس میں خمیا زے دے تو یہ شر ط صحیح ہے اور اس کا پور ا کرنا لا زم ہے ۔
سوال: اورجب دو نوں میں اختلاف ہو جا ئے کہ عامل کاحصہ کتنا ہے ، عامل کہے کہ میرا حصہ زیادہ ہے، مالک کہے عامل کاحصہ کم ہے اور عامل کے پاس بینہ ”گواہی“بھی نہ ہو تو؟
جواب: قول قول مالک ہے (یعنی مالک کا قول قبول ہے)حاکم شرع معاملہ حل کرنے کے لئے مالک سے حلف لے گا جب کہ مالک کا قول ظاہر کے مخالف نہ ہو۔
سوال: یہ قول ظاہر اًمخالف کس طرح ہوگا؟
جواب: اس کی مثال یوں ہے کہ مالک منافع کی مقدار عامل کے حصہ کی اتنی کم بیان کرے کہ عادة اتنی کم مقدار قرار نہ دی جاتی ہو مثلاً ہزار میں سے ایک اور عامل اس سے زیادہ کا دعویٰ کرے جو متعارف مقدار ہے۔
سوال: جب کہ عامل دعوی کرے کہ پونجی تلف ہو گئی ہے یا خسارہ ہو گیا ہے یا منافع نہیں ملا، اورمالک اس کا انکار کرے ؟
جواب: حاکم شرع کی طرف رجوع کرتے ہوئے قول عامل قبول کیا جائے گا،جب ظاہراً اس کا قول مخالف نہ ہو جیسا کہ وہ دعویٰ کرے کہ پونجی جل کر تلف ہوگئی ہے،دوسرے اموال جو اس کے ضمن میں تھے وہ تلف نہیں ہوئے ۔
سوال: جب کہ مالک دعویٰ کرے کہ عامل خائن ہے یا اس نے اموال میں زیادتی کی ہے؟
جواب: قول ،قول عامل ہے جب کہ حاکم شرع کی طرف رجوع کیا جائے اسی شرط کے ساتھ جو اوپر بیان ہوئی ہے۔
سوال: کبھی انسان کسی دوسرے انسان کو وکیل بناتا ہے تاکہ وہ اس کے کام میں اس کے قائم مقام رہے گویا وہ خود اس کو انجام دے رہا ہے۔ جیسے ایک انسا ن کسی دوسرے انسان کووکیل بناتا ہے کہ وہ اس کا گھر یا اس کی جگہ وغیر ہ بیچے تو کیا اس کے بھی کچھ خاص شرائط ہیں؟
جواب: ہاں وکیل اور موکل دونوں کا عاقل ہونا معتبر ہے ۔اپنے ارادہ کے ساتھ دونوں وکالت کو اجراء کریں۔دونوں مختار ہوں ،مجبور نہ ہوں۔ اسی طرح موکل میں بلوغ کو معتبر سمجھا گیا ہے ۔مگر یہ کہ اگر ممیز بچہ وکیل بنائے تو اس کا وکیل بنانا صحیح ہے۔
سوا ل: کیا وکیل بنانے میں کوئی لفظ یا کوئی صیغہ خاص ہے؟
جواب: نہیں وکالت کے لئے کوئی معین لفظ نہیں ہے ۔اور نہ کوئی معین صیغہ ہے،بلکہ اس پر جو بھی قول،فعل یا کتابت کرے کافی ہے۔اور وکالت وکیل یا موکل کے مرنے سے باطل ہو جاتی ہے۔
سوال: کبھی انسان گھر یا دوکان یا کسی دوسری چیز کو کرایہ پر لیتا ہے یا کبھی خود اپنے آپ کو کرایہ پر دیتا ہے مثلاً درزی، معمار اور ڈرائیور وغیرہ پس آپ بتائیں کہ اجارہ میں کیا چیزمعتبر ہے اور اس کے احکام کیا ہیں؟
جواب: اجارہ (کرایہ)مالک ،وکیل،ولی کی طرف سے صحیح ہے اور دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے ،جب وہ لوگ مالک یا وکیل یا ولی کی طرف سے اجازت حاصل کئے ہوئے ہوں۔اور اجارہ دینے والے اور اجارہ لینے والے میں بلوغ ،عقل اورا ختیار معتبر ہے اور وہ لوگ اپنی سفاہت یا تفلیس کی بنا پر اپنے مال میں تصرف کرنے سے روکے نہ گئے ہوں۔ہاں جو فلس ہے اس کا پانے کے لئے اجارہ لینا صحیح ہے ۔جو چیز کرایہ پر دی جاتی ہے جیسے جگہ وہ معین ہو،کرایہ لینے والا اس کو دیکھے ،یا کرایہ دینے والا اس طرح اس کی خصوصیات بیان کرے کہ کرایہ لینے والے کو اس کا پورا علم ہو جائے ،کرایہ دینے والا اس چیز کو کرایہ لینے والے کے حوالے کرنے پر قادر ہو۔ہاں اگر کرایہ دار اس کو حاصل کرنے پر قدرت رکھتا ہو تو یہ چیز کافی ہے،وہ چیز ایسی ہو کہ اس سے نفع اٹھانے کے باوجود وہ چیز اپنی جگہ پر باقی رہے۔اور اس چیز سے حلال نفع حاصل کیا جائے اگر کسی جگہ کو شراب بیچنے کے لئے کرایہ پر دیا جائے تو صحیح نہیں ہے ،اسی طرح دوسری حرام چیزوں کے لئے جگہ کو کرایہ پر دینا صحیح نہیں ہے۔
سوال: کیاکرایہ کے لئے کوئی معین لفظ ہے ؟
جواب: نہیں کرایہ کے لئے کوئی لفظ معین نہیں ہے،بلکہ اس کے صحیح ہونے میں ہر فعل جو کرایہ پر دلالت کرے کافی ہے ،مثلاً گونگا جو بات نہیں کر سکتا اگر اس کو اشارے سے سمجھا دیا جائے کہ کس چیز کو اجارہ پر لیا جارہا ہے یا اجارہ پر دیا جار ہا ہے تو پھر اس کا کرایہ پر لینا اور دیناصحیح ہے۔
سوال: کسی انسان نے کوئی گھر یا جگہ کرایہ پر لی اور مالک نے اس پر شرط لگادی کہ یہ اس کے رہنے کے لئے یا اس کے کام کرنے کے لئے اجارہ پر دی جارہی ہے۔نہ کہ کسی دوسرے کو ایسی صورت میں کیا کرایہ دار کا حق ہے کہ وہ کسی دوسرے کوکرایہ پر دے؟
جواب: نہیں اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔
سوال: اوراگرمالک (کرایہ دینے والا )یہ شرط نہ لگائے تو؟
جواب: تو پھر کرایہ دار دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے ،مگر اس شرط کے ساتھ کہ جتنے کرایہ پر لیا ہے اس سے زیادہ قیمت پر نہ دے ،مگر یہ کہ اس کی مرمت یا رنگائی یا تعمیر یا کسی دوسری چیز میں اگرخرچ کیا ہو تو پھر کرایہ سے زیادہ پر دے سکتا ہے ۔یہ گھر ،کشتی اور دوکان کے سلسلہ میں تھا،اور اسی طرح ان کے علاوہ دوسری چیزوں کا بھی یہی حکم ہے ،کہ جن کو کرایہ پر دیا جاتا ہے جیسے کھیتی کی زمین وغیرہ ۔
میرے والد نے یہ فرما کر مزید فرمایا:
جب تک کرایہ کی مدت معین نہ کرے تو کرایہ پر دیناصحیح نہیں ہے جو کرایہ پر گھردے رہا ہے وہ اس کی مدت کرے اور جو کرایہ پرلے رہا ہے اس پرواجب ہے کہ وہ اس کی مدت معین کرے۔
سوال: ذرا مجھے مثال سے سمجھایئے کہ جس کی مدت معین نہ ہوتو کیا ا س کو کرایہ پر دیناصحیح نہیں ہے؟
جواب: اگرمالک مکا ن کرایہ دار سے کہے کہ میں تجھ کو اپنا یہ گھر ہر مہینہ سو دینار پر دیتا ہوں جب تک تو رہے ۔میں پس ایسی صورت میں اجارہ صحیح نہیں ہے۔اور اسی طرح مالک کرایہ دار سے کہے کہ میں اپنی یہ جگہ فقط اس مہینہ پچاس دینار پر دیتا ہوں اورا س کے بعد جب تک تورہے ۔اس حساب پر دیتا ہوں ،اجارہ (کرایہ )فقط پہلے مہینہ کی نسبت صحیح ہے اس کے علاوہ باطل ہے یہ معاملہ کرایہ کے عنوان سے تھا اور ان صورتوں کا علاج دوسرے عناوین سے کرنا ممکن ہے مگریہاں ان صورتوں کے بیان کرنے کا مقام نہیں ہے۔
سوال: جب مالک اپنے گھر یا جگہ کو کرایہ دار کے حوالے کردے تو؟
جواب: کرایہ دار پر اجرت کا دینا واجب ہے۔
سوال: جب کرایہ کی مد ت میں گھر گر جا ئے اور وہ کرایہ دار کے قبضہ میں ہو تو ؟
جواب: اگر کرایہ دار نے اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کو تا ہی نہ کی ہو اور اس کے گر نے کاسبب کر ایہ دار کی لا پر واہی نہ ہو تو پھر کرا یہ دار ذمہ دار نہیں ہوگا۔
سوال: اگر کسی انسان نے اپنی گاڑی کسی کرایہ دار کو کر ایہ پر دی ہو تو ؟
جواب: کام کی نو عیت معین کرنا وا جب ہے کہ کیا اس گاڑی کو سواری کے وا سطے یا ہر دو کا م کے لئے اس کو کرایہ پر لیا گیا ہے اور اس طرح باقی تمام چیزوں میں اس کی منفعت کی نو عیت معین ہو نی چا ہئے۔
سوال: اور جب اس گاڑی کو ایسے جا نور کا گو شت لے جا نے کے لئے کرایہ پر لیا گیا ہو کہ جو غیر شر عی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو تا کہ جو اس کو حلا ل سمجھتے ہیں ان کو بیچا جائے ؟
جواب: میں نے آپ کو پہلے بتا یا کہ شراب بیچنے کے لئے جگہ کو کر ایہ پر دینا صحیح نہیں ہے یہ بھی اس طر ح ہے لہٰذا ایسے کا موں کے لئے کرایہ پر دنیا صحیح نہیں ہے ۔
سوال: اگر کسی ما لک نے کسی کو و کیل بنایا کہ وہ کچھ لو گوں کو کا م کرنے کے لئے معین مزدوری پر لا ئے و کیل نے ان کو اس سے کم مزدو ری پر طے کیا کہ جتنی مالک نے معین کی تھی ؟
جواب: وکیل پر زیادہ اجرت لینا حرام ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ مالک کو واپس دے۔
سوال: اگر مالک کسی کو اپنے گھر کو رنگ کر نے پر مقرر کرے اور رنگ کی نو عیت اور (کو نسی قسم کا رنگ کرنا ہے ) معین کرے ،اور رنگ ریز نے کسی دوسرے رنگ سے گھر کو رنگا تو کیا حکم ہے ؟
جواب: رنگ ریز اپنی اجرت کا قطعاً مستحق نہیں ہے ۔
سوال: میں آپ سے پگڑی کے بارے میں سوال کرنا چا ہتا ہوں ؟
جواب: پگڑی کی مختلف قسمیں ہیں ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب مالک اور کرایہ دار اس بات پر اجارہ کے عقد کے ضمن میں متفق ہو جائیں کہ مالک ایک معین مبلغ کر ایہ دار سے لے لے اور اجارہ کی مدت ختم ہو نے کے بعد کرایہ دار کو اس جگہ سے استفادہ کرنے کا حق دے اس سالانہ معین مبلغ کے مقابلے میں ،یا ہر سال اس جگہ کے لئے سالا نہ متعارف اجرت کے مقابلہ میں حق تصرف کرایہ دار کو دے ،پس جب اس پر دونوں متفق ہو جا ئیں تو پھر کرایہ دار کو حق حاصل ہے کہ وہ کرایہ کی مدت کے اندر وہ جگہ اس کے پاس باقی رہے اور جس مبلغ پر اتفاق ہوا ہے اتنی رقم ما لک کو دیدے اس بنا پر اس کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی تیسرے شخص کو وہ جگہ حوالے کرکے اس کو خالی کردے ،اور اس کے مقابلہ میں ایک طے شدہ رقم اس جگہ کی حیثیت کے مطابق لے لے ، ان دونوں صورتوں میں مالک کی اجازت اوراس کی رضا شرط نہیں ہے کیو نکہ مالک اور مستاجر میں اس بات پر اتفاق ہے کہ اجارہ کی مدت ختم ہو نے کے بعد کرایہ دار کو حق تصرف اس جگہ پر رہے گا۔
سوال: اگر ایک انسان کسی انسان کو کسی دوسرے عوض کے بغیر کسی چیز کو ہد یہ دے تو کیا شر یعت اسلامی کی نظر میں اس بارے میں کچھ شرائط ہیں ؟
جواب: ہاں ہد یہ دینے والا عقل ،بلو غ ، قصد اور ہدیہ کو اپنے اختیار سے دے اس سے اس پر مجبو ر نہ کیا گیا ہو ، معتبر سمجھا گیا ہے کہ وہ اپنے مال پر حق تصر ف رکھتا ہو ،ایسی صورت میں اس کا ہد یہ یا ہبہ صحیح ہے ، ہبہ ایک عقد ہے ، اس میں ایجاب و قبول کی ضرورت ہے ، ان دو نوں میں ہر وہ چیز جو قول و فعل میں اس ایجاب و قبول پر دلالت کرے کافی ہے اور اسی طرح یہ قبضہ بھی چا ہتا ہے یعنی جس کو یہ چیز ہبہ کی گئی ہے وہ اس کو لے لے ۔
سوال: اگر مو ہوب لہ (یعنی جس کو ہد یہ کیا گیا ہے ) اس چیز کو وا ہب (ہبہ کرنے والے ) سے نہ لے تو کیا حکم ہے ؟
جواب: وہ اپنے مالک اول کی مالکیت پر با قی رہے گی یہاں تک کہ زند گی میں مو ہوب لہ کے سپرد ہو جائے تو وہ اس کی ملکیت میں منتقل ہو جا ئے گی ۔
سوال: اگر گھر ہد یہ میں دیا گیا ہو تو اس کو قبضہ میں کس طرح لینا ممکن ہے ؟
جواب: جب ہد یہ دینے والا اپنا ہاتھ اس سے اٹھا لے اور اس کو خالی کرکے مو ہوب لہ کے زیر تسلط دیدے تو یہ ہی کا مل قبضہ میں دینا اور حوالے کرنا ہے اور یہ ہد یہ او ر ہبہ صحیح ہے ۔
سوال: اگر ہبہ کے قبضہ یا حوالہ کرنے سے پہلے واہب یا مو ہوب لہ دو نوں میں سے کو ئی ایک مر جا ئے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب: ہدیہ اور ہبہ ہو جا ئے گا اور ہبہ کی ہو ئی چیز ہبہ کرنے والے کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گی ۔
سوال : کبھی انسان کو ایسی ضرورت کی چیز یا گمشدہ مال ملتا ہے کہ اس کے مالک کو وہ نہیں پہچا نتا پس وہ اس کو اٹھا لیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اس کے بارے میں مختلف حالات ہیں:
۱ ۔ کبھی چیز کا اٹھا نے والا اس ملے ہو ئے مال میں کو ئی علا مت نہیں پاتا یعنی کو ئی ایسی چیز کہ جس کے ذریعے اس کے مالک کا پتہ ملے اور پھر وہ چیز اس وسیلہ سے اس تک پہنچا دی جائے ایسی حالت میں اٹھا نے والے کے لئے جا ئز ہے کہ وہ اپنے لئے اٹھا لے۔
۲ ۔ یا اس پڑے ہو ئے مال میں علامت پا تا ہے اور اس کی قیمت ایک در ہم شر عی سے کم ہے ۔ یعنی سا ڑھے ۱۲ چنے سے کم (یہ در ہم چا ندی کا اور سکہ دار ہو )صورت میں اٹھا نے والے پر اس کے مالک کے بارے میں تحقیق اور جستجو لازم نہیں ہے ۔لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کو اپنے لئے لے لے بلکہ کسی فقیر کو صدقہ دے دے ۔
۳ ۔ یا پڑے ہو ئے مال میں کو ئی علا مت ہو اور اس کی قیمت ایک درہم یااس سے زیادہ ہو ایسی صورت میں اٹھا نے والے پر واجب ہے کہ وہ مالک کی ایک سا ل تک تلاش و جستجو کرے اور واجب ہے کہ اس کے مالک کو عام لو گوں کے اجتما ع کی جگہوں پر تلا ش کرے جیسے بازار اور عام اٹھنے بیٹھنے کی مجالس و غیرہ میں اس تو قع کے سا تھ کہ اس کا ملک وہاں مل جا ئے گا ۔
سوال: جب مالک کا کو ئی پتہ نہ ملے تو ؟
جواب: جب مالک نہ ملے اور یہ پڑی ہو ئی چیز خا نہ کعبہ (حرم مکہ)میں ملی ہو تو اس کو اس کے مالک کی طر ف سے تصدق کردے اور اگر کسی دوسری جگہ ملی ہے تو اٹھا نے والاان اوامر میں سے کسی ایک امر کا مختارہے ،یا اس کی جو منفعت ہو گی وہ اس کا حق ہے یا پھراس چیز کو مالک کی طرف سے تصد ق کردے (کسی بھی حال میں وہ اس چیز کا مالک نہیں ہو سکتا )
سوال: اگر پڑی ہو ئی چیز نقد رقم ہو تو ؟
جواب: اگر مالک کاپہچا ننا ممکن ہو بعض خصوصیات کی بنا پر جیسے اس رقم کی تعداد یا کسی ایسے خاص زمانہ یا جگہ میں ملی ہو کہ جو مالک کاپتہ دیتی ہو تو اس کا ڈھو نڈنا واجب ہے ۔
سوال: کو ئی دعو یٰ کرے کہ وہ اس کا مالک ہے ؟
جواب: اگر اس کی سچائی کو جا نتا ہے تو اس کو دینا واجب ہے اور جب وہ اس رقم کی کچھ صفت بیان کرے اور وہ صفت حقیقت سے مطا بقت رکھتی ہو تو اس کی سچائی کا اطمینا ن ہو جا تا ہے تو ایسی صورت میں بھی اس کو دینا واجب ہے۔
سوال: آپ نے جو اطمینان کے سلسلہ میں فرمایا اگر اس کے سچا ہو نے کا اطمینان حاصل نہ ہو بلکہ ظن حاصل ہو تو ؟
جواب: ظن کا حاصل ہو نا کافی نہیں ہے ۔
سوال : یہ حکم ایسے پڑے ہو ئے مال میں تھا کہ جس کا مالک معلو م نہ تھا لیکن اگر کو ئی انسان کسی دوسرے انسان کے اموال ،ضروری سامان اور دوسری چیزوں کو طاقت کے بل بو تے پر ظلم اور بر بریت کے طور پر غصب کرلے تو ؟
جواب: کسی کے مال کو غصب کرنا گنا ہان کبیرہ میں سے ہے ،اور غاصب قیامت کے دن طرح طرح کے شدید عذاب کا مستحق ہوگا۔
نبی پاک سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :
”من غصب شبر امن الا رض طوقہ اللہ من سبع ار ضین یوم القیامۃ“
”جو کو ئی ایک با لشت زمین کو غصب کرے ، خدا وند کر یم قیامت کے دن سا توں زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالے گا۔“
اور غاصب پر واجب ہے کہ غصب کی ہو ئی چیز کو اس کے مالک کو لو ٹا دے چا ہے وہ گھر ہو یا نقد رقم ہو یا کو ئی اور چیز ہو ۔ سوال: جب غاصب غصبی گھر کو اس کے مالک کو واپس کردے تو کیا غاصب اپنے ذمہ سے بری ہو جا ئے گا؟
جواب: نہیں بلکہ وہ گھر کا کرایہ بھی اس کو دے گا جتنی مد ت اس میں رہا ہے اور یہ کر ایہ جتنا عام طور پر ہو تا ہے ۔وہ اسے دے دے۔
سوال: اگر غاصب نے اس میں رہائش بھی نہ کی ہو تب بھی وہ کرایہ دے گا ؟
جواب: ہاں اس کا کرایہ دے گا چا ہے وہ اس میں اس مد ت میں نہ بھی رہا ہو اس لئے کہ اتنی مد ت میں اس کی منفعت مالک کو حا صل نہیں ہو ئی پس گو یا وہ منفعت فوت ہو گئی ،اس منفعت کا غاصب ضامن ہے ۔
سوال : اگر انسان کسی زمین کو غصب کرکے اس میں پودے لگا ئے اور اس میں کھیتی کر لے تو ۔
جواب: غاصب فو راً زمین سے پودے اور کھیتی کو ختم کر دے اور جتنی مدت درخت او رزراعت اس میں رہی ہے اس کا کر ایہ ادا کرے ،کیو نکہ اتنی مدت تک زمین پر قابض رہا ہے ، بلکہ اگر اس کھیتی اور پودوں کے اکھا ڑنے کی بنا پر زمین میں خرابی واقع ہو گئی کہ جس کی بنا پر زمین کی قیمت میں نقص آگیا ہو تو وہ ٹھیک کر ائے ، یہ اس وقت ہے جب کہ مالک ان پودوں یا کھیتی کے باقی رکھنے پر مفت یا اجرت پر راضی نہ ہو ، اور اگر راضی ہو توپھر غاصب پر ان کا اکھاڑنا واجب نہیں ہے ،بلکہ جائز ہے کہ ان کو باقی رکھے اور مالک کو جس طرح ہو سکے راضی کرے ۔
سوال: اور جب غصب شدہ چیز تلف ہو جا ئے ؟
جواب: تو غاصب پر واجب ہے کہ اس کی قیمت مالک کو لو ٹائے اور اس چیز کے فو ت شدہ منا فع کی قیمت بھی ادا کرے ۔
سوال: غاصب اس کا کس طرح عوض لو ٹا ئے گا ؟
جواب: غصب شدہ چیزوں کی دو قسمیں ہیں :
۱ قیمی۔
وہ ہے کہ جن چیزوں کی خصو صیات اور صفات ان کے ہم مثل نہ ہوں ، بلکہ وہ خصو صیات اور صفات رغبتوں کے اعتبار سے بد لتے رہتے ہیں۔جیسے گائے ،بھیڑ،بکری وغیرہ یہ وہ نو ع ہے کہ غاصب پر لازم ہے کہ ان کی قیمت کو جو تلف والے دن تھی واپس کرے ۔
۲ مثلی۔
وہ ہے کہ جس کی تمام خصوصیات اور صفات ان کے ہم مثل میں برابر پا ئے جا تے ہوں ،جیسے گیہوں ،پس غاصب پر لا زم ہے کہ اس جیسی جنس کو واپس کرے ، اس شرط کے ساتھ کہ دی جا نے والی جنس تلف ہو نے والی جنس کی خصوصیات کے ما نند ہو ،پس خراب گیہوں اچھے گیہوں کے مقابلہ میں دینا جائز نہیں ہیں ۔
سوال: اور جب آپ کسی مال کو غاصب اول سے لے کر غصب کر لیں ، پھر وہ مال آپ سے تلف ہو جائے ؟
جواب: ما لک کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی سے بھی مثل یا قیمت یا اپنے مال کا بدل طلب کرے ، چا ہے پہلے غاصب سے یا دوسرے غاصب سے ، لیکن اگر مالک غاصب اول سے مطالبہ کرے تو پہلے غاصب کو دو سرے غاصب سے مطالبہ کرنا چا ہئے ۔
سوال: جب مالک کو معلوم ہو جائے کہ میرا غصب شدہ مال فلاں غاصب کے پاس ہے تو ؟
جواب: مالک کو حق حاصل ہے کہ وہ غاصب کے ہاٹھ سے کسی بھی صورت سے (چا ہے قوت کے ذریعہ ) اس کو لے لے ، میرے والد نے یہ فرماکر مزید فرمایا:
اور جب مالک کو غاصب کا مال ہاتھ لگ جائے تو مالک کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کو غصب شدہ مال کے بد لے لے جب کہ وہ قیمت میں غصب شدہ مال کے مساوی ہو ۔
سوال: اور جب غاصب کا مال غصب شدہ مال کی قیمت سے زیادہ ہو تو ؟
جواب: غصب شدہ مال کا مالک اس غاصب کے مال سے اتنا لے لے کہ اس کی قیمت غصب شدہ مال کے برابر ہو کہ جو اس کا حق ہے ۔
سوال: آج کی گفتگو کے اختتام پر میں آپ سے خصوصی سوال کرنا چا ہتا ہوں ؟
جواب : کہیئے۔
سوال : میں نے کئی با ر آپ کو صدقہ دیتے ہو ئے دیکھا ہے ؟
جواب: ہاں لیکن تم نے کس طرح مجھے صد قہ دیتے ہو ئے دیکھا حالا نکہ میں اس طرح صدقہ دیتا ہوں کہ کو ئی مجھے نہ دیکھے یہ مستحب صد قہ ،جب تم اس کو پوشیدہ دو گے تو یہ اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کہ تم لو گوں کے سامنے اس کو دو۔ آپ کے چو تھے امام زین العابدین علیہ السلام اس بارے میں فرمایتے ہیں :۔
”صدقۃ السر تطفئی غضب الرب“
”پو شیدہ صدقہ دینا پر و ر دگار کے غضب کودور کر دیتا ہے “
سوال: صد قہ میں کیا چیز معتبر ہے ؟
جواب: صد قہ میں قر بۃً الی اللہ معتبر ہے ۔
سوال: کیا اس کا کو ئی و قت معین ہے ؟
جواب: نہیں ، بلکہ صد قہ صبح کے وقت دینا مستحب ہے اس لئے کہ صبح کے وقت صدقہ دینا اس روز کے شر کو دفع کرتا ہے اور اسی طرح رات کے شروع میں صد قہ دینا مستحب ہے کیو نکہ شروع رات میں صدقہ دینا رات کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔
معلی بن حنیس کہتے ہیں کہ ایک رات امام جعفر صادق علیہ السلام گھر سے باہر نکلے اس وقت بارش ہو رہی تھی اور آپ کا ارادہ ظلۃ بنی سا عدہ (ایک مقام و محلہ کا نام )کی طر ف جا نے کا تھا ،پس میں بھی آپ کے پیچھے چل دیا ۔ راستہ میں کو ئی چیز آپ کے پاس سے گر گئی تو آپ نے فرمایا
”بسم الله اللهم رد علینا “
پالنے والے اس گری ہو ئی چیز کو ہم کو واپس دے دے ،
تو معلیٰ کہتے ہیں میں آگے بڑھا آپ کو سلام کیا۔
آپ نے فرمایا :
تم معلیٰ؟
میں نے کہا:
ہاں ، میں آپ پر فدا ہو جاؤں ۔
تو آپ نے مجھ سے فرمایا ذرا اپنا ہاتھ بڑھاؤ اگر تمہیں کوئی چیز ملے تو مجھے دیدو۔
معلیٰ کہتے ہیں وہ روٹی کا ٹکڑا تھا جب میں نے اٹھا کر آپ کو دیا آپ نے اس کو رو ٹی کی تھیلی میں رکھا، جب میں نے روٹی کی تھیلی کودیکھا تو میں نے کہا آپ پر فدا ہو جاؤں کیا اس کو آپ سے لے کر میں اٹھا لوں ؟
تو آپ نے فرمایا :
میں اس کا تم سے بہتر حق دار ہوں ، لیکن تم میرے سا تھ آؤ ،
معلیٰ کہتے ہیں :
ہم ظلۃ بنی سا عدہ آئے تو وہاں ہم نے کچھ لو گوں کو دیکھا کہ وہ سورہے تھے ،تو آپ نے ایک ایک روٹی ان کے کپڑوں کے نیچے رکھ دی ،یہاں تک کہ آخری شخص کے پاس پہنچ گئے پھر ہم پلٹے تو میں نے عرض کیا:
آپ پر قر بان ہو جاؤں کیا یہ لو گ بات جا نتے ہیں (یعنی جا نتے ہیں کہ ) آپ روٹیاں دے کر جا تے ہیں؟
آپ نے ارشاد فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جب پیدا کیا تو اس کا ایک خزانہ بنایا،اور وہ شئ اس کے مخزن میں ہے سوائے صدقہ کے ،کہ اس کو خود بغیر خزانہ کے پیدا کیا۔
اور میرے والد جب بھی صدقہ دیتے تھے تو اس کو سا ئل کے ہاتھ پر رکھ کر اٹھا لیتے ،پھر اس کو بو سہ دیتے اور سو نگھتے پھر سائل کو دید یتے کیو نکہ صد قہ سا ئل کے ہا تھ میں پہنچنے سے پہلے اللہ کے ہا تھ میں پہنچتا ہے “
سوال : میں اس قصہ سے سمجھ گیا کہ صد قہ ایک عظیم فضیلت رکھتا ہے ؟
جواب: ہاں متو اتر اخبارات واحا دیث میں صد قہ کے لئے تر غیب دلا ئی گئی ہے ،پس وارد ہو ا ہے کہ صد قہ مریض کی دوا ہے، اس سے بلا دور ہو تی ہے،اور کا موں کی درستگی ہو تی ہے ۔صد قہ کے ذریعہ نزول رزق اور اس کے ذر یعہ قر ض کی ادا ئیگی اور مال میں زیادتی ہو تی ہے ۔ اور وہ بری مو ت اور بری بیماری سے رو کتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہاں تک کہ برائیوں کے ستر دروازوں کو بند کرتا ہے ، لیکن صد قہ کی اس فضیلت کے بر خلاف اپنے اہل و عیال کی زندگی کو وسعت بخشنا ، غیروں کو صد قہ دینے سے افضل ہے ، اس طرح اپنے قریبی محتاج رشتہ دار کو صدقہ دینا ہے۔
سوال : نسبی رشتہ دار ؟
جواب : ہاں نسبی رشتہ دار اور صد قہ سے افضل قر ض دینا ہے ، ہاں جیسا کہ پہلے ایک روایت کو بیان کیا جا چکا ہے کہ صد قہ سے افضل قرض دینا ہے ۔
ذبح اور شکار کے سلسلہ میں گفتگو
میں آپ سے پوشیدہ نہیں رکھنا چا ہتا کہ جب اس گفتگو کا وقت آیا کہ جس کا نام ذبح و شکار ہے ، میرے دل میں اس چیز کے سننے سے کو ئی خوف پیدا نہ ہوا اور نہ کو ئی چیز اثر انداز ہو ئی ۔
میں نے گمان کیا تھا کہ آج میں اس (ذبیحتہ ۔ذبح)سے اس قساوت قلبی کو سنوں گا کہ جو ذبح کی بنا پر ذبح کرنے والے کے دل میں مذ بو ح کی طرف سے ہو تی ہے ۔لیکن میرے دل میں اچا نک خیال آیا کہ کیا تو نے اس نر می و ملا ئمت کو نہ سنا کہ جو شر یعت اسلامی کی طر ف سے حیو ان کے ذبح کرنے والے کو تلقین ہو ئی ہے وہ اپنے اس حیوان کے سا تھ کس طرح بر تا ؤ کر ے؟ کیا تو نہیں جا نتا کہ یہ تمام اہتمام حتیٰ حیوان کے سامنے اس کو ڈرانا اور خوف دلا نا یا اس میں جوش و خروش پیدا کرنا ۔ شر یعت اسلامی نے حیوان کے ذبح کرنے والے کو اس پر تر غیب دی ہے کہ وہ ان چیزوں کو انجام نہ دے ۔کیا تو نہیں جا نتا کہ یہ تمام تر غیب اس بنا پر ہے کہ حیوان کو تکلیف اور ایذا ء نہ پہنچے ۔ شر یعت اسلامی نے ذبح کرنے والے کو ان چیزوں پر عمل کرنے کی دعوت دی ہے ۔
میں اپنے ذہن میں انھیں افکار پر غور کر رہا تھا اور انہیں افکار کے مقا بل میں اپنے ذہن میں ان صورتوں کا قیاس کر رہا تھا کہ جو حیوان کے لئے خوف واذیت کا سبب ہیں اور اسی کے سا تھ میں اپنے والد کی طرف کان لگا ئے ہو ئے تھا کہ جو حیوان کے ذبح کرنے کے مستحبات کو مجھ سے بیان کر رہے تھے ۔میرے والد نے فرمایا حیوان کے ذبح کرنے والے پر مستحب ہے کہ وہ حیوان کو مذبح خا نہ کی طرف نر می اور محبت کے سا تھ لے جائے ۔اور ذبح کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ ذبح سے پہلے اس کو پانی پلا ئے ۔اور مستحب ہے کہ وہ حیوان کو ہتھیار نہ دکھا ئے اور مستحب ہے کہ ذبح کرنے والا ذبح کر نے میں اتنی جلدی کرے کہ حیوان آسانی کے سا تھ ذبح ہو جائے ۔دوسری جگہ لیجا نے کے لئے حرکت نہ دے کہ وہ مر جائے اور دو سرے حیوان کے سا منے ذبح کرنا مکروہ ہے ۔ اور پا لتو حیوان کا ذبح کرنا مکر وہ ہے اور رو ح نکلنے سے پہلے اس کی کھا ل نکا لنا مکروہ ہے ۔ میرے والد نے یہ فرماکر تبر کاً ایک حدیث کو پڑھا جو نبی پاک سے مروی ہے اس حدیث میں وارد ہوا ہے :
”ان الله تعالی شانه کتب علیکم الاحسان فی کل شئی فا ذا قتلتم فا حسنو القتلة، و اذا ذبحتم فا حسنو ا الذ بحة و لیحد احد کم شفر ته،و لیرح ذبیحته“
”اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کو ہر ایک چیز میں قرار دیا ہے جب تم قتل کرو تو قتل میں احسان کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح میں احسان کرو اور اپنی چھری کو اتنا تیز رکھو تا کہ وہ جلد ذبح کردے“
سوال : لیکن میں نہیں جا نتا کہ حیوان کو کس طرح ذبح کروں ؟
جواب : جب تم ذبح کرنا چاہو تو اس کی تمام گردن کی چاروں بڑی رگوں کو کاٹ دو (ان کو اوداج اربعہ کہا جاتا ہے )
سوال : او داج ار بعہ کسے کہتے ہیں ؟
جواب : وہ چار رگیں ہیں ”مری “کھا نے کی نلی ”حلقوم “سا نس لینے کی نالی اور دوجان کہ یہ دو رگیں ہیں کہ جو مری اور حلقوم کا احاطہ کئے ہو ئے ہیں۔
سوال: ذرا و ضاحت کے سا تھ بیان کیجئے ؟
جواب : جو ذبح کے ما ہر ین ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر تم اوداج اربعہ کو قطع کرو تو تم (جوزہ )سرکے سمت پہنچ جاؤ گے اگرتم اس کا کچھ حصہ جسم میں پاؤ تو اس کے معنی یہ ہو ئے کہ تم نے اوداج اربعہ کو مکمل طور پر قطع نہیں کیا کیو نکہ جو زہ حلقوم اور مری کے جمع ہو نے کہ جگہ ہے اور جوزہ کے اوپر نہ حلقوم ہے نہ مری۔
سوال: اس کے معنی یہ ہو ئے کہ جب میں ذبح کروں تو جو زہ کے نیچے سے کا ٹوں نہ کہ اس کے اوپر سے ؟
جواب : اسی طرح جوزہ کے نیچے سے کاٹوں تا کہ جو زہ جسم میں نہ رہے ۔
سوال : اگر میں نے غلطی سے جوزہ کے اوپر سے کا ٹا،نہ کہ اس کے نیچے سے پھر میں اپنی خطا سے آگاہ ہوا تو میں ذبیحہ کے مر نے سے پہلے اس کو جوزہ کے نیچے سے کاٹ سکتا ہوں ؟
جواب : ہاں تمہارے لئے جائز ہے ۔اور چو پاؤں میں اونٹ مخصوص طور پر نحر کیا جاتا ہے،نہ کہ ذبح کیا جاتا ہے ۔
سوال : اونٹ کو کس طرح نحر کرتے ہیں ؟
جواب : جب تم او نٹ کو نحر کرنا چا ہو ۔ چھر ی یا نیزہ یا اور کو ئی لو ہے کاتیز ہتھیار اس کے لبہ میں داخل کردو۔
سوال : لبہ کیا ہے ؟
جواب : لبہ وہ گہری جگہ ہے کہ جو سینہ سے اوپر واقع ہے اور گردن سے ملی ہو تی ہے ۔
سوال : اب میں نے پہچان لیا کہ کس طرح بھیڑ ،بکری گائے ، مر غ اور کبو تر و غیرہ کو ذبح کرتے ہیں اور اونٹ کا نحر کرنا بھی معلوم ہو گیا ؟
جواب : جب تم کو یہ معلوم ہو گیا کہ حیوانات مثل بھیڑ ،بکری گائے ، مر غ اور کبو تر و غیرہ کوکس طرح ذبح کرنا چا ہئے ہو تو اس بناپر ان حیوانات کا گوشت تم پر حلال ہو گیا پس ضروری ہے کہ حیوانات کے ذبح کرنے میں چند شر طیں ہیں ان کو بھی یاد کر لو اور وہ یہ ہیں:
( ۱) ذبح کرنے والا مسلمان ہو ،مرد ہو ، یا عورت ، یا بچہ میز ہو ، پس کا فر کا ذبیجہ حلال نہیں ہے (یہاں تک کہ اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال نہیں )
( ۲) حتی الا مکان ذبح کرنے والے کے پاس لو ہے کا ہتھیار ہو ا گر لو ہے کی چیز نہ ہو تو پھر تا نبا ، پیتل یا شیشہ یا پتھر کی تیز چیز سے اس طرح ذبح کرے کہ جو چار وں رگوں کو کاٹ دے ۔
سوال : اسٹیل کی بنی چھریوں سے ذبح کرنا کیسا ہے؟
جواب : اسٹیل(کروم)کا بنتاہے اور ایک دوسرا مادہ لو ہے کے علاوہ ہو تا ہے ۔پس اس سے ذبح کرنا اشکال ہے ۔
( ۳) ذبیحہ (حیوان) قبلہ رخ ہو نا چا ہئے اور جب وہ کھڑا ہو یا بیٹھا ہو تو بد ن کا اگلا حصہ چہرہ ،دونوں ہاتھ،پیر اور پیٹ قبلہ کے رخ ہو نگے جیسے نماز کی حالت میں انسان قبلہ رخ کھڑا یا بیٹھا ہے ۔لیکن اگر ذبیحہ زمین پر لیٹا ہوا ہو تو قبلہ کی طرف اس کا پیٹ اور نر خر ہ ہو گا۔
سوال : اگر ذبح کے وقت ذبیحہ قبلہ کی طرف نہ ہو تو ؟
جواب : جان بو جھ کر حرام ہے ۔
سوال : اگر جان بو جھ کر نہ ہوا ہو تو ؟
جواب : اگر ذبیحہ کا قبلہ کی طر ف نہ ہو نا خطا اور نسیان کا سبب ہو ، یا اس کو قبلہ کی سمت معلوم نہ ، یا ذبیحہ کو قبلہ کی طرف نہ کر سکتا ہو ، یا اصلاً جا نتا نہ ہو کہ قبلہ کی سمت کرنا ذبح کے شر ائط میں سے ایک شر ط ہے کہ جس کی بناپر ذبیحہ کا گو شت کھانا حلال ہے۔ جب ان اسباب میں سے کو ئی سبب ہو تو پھر ذبیحہ حرام نہ ہو گا۔
( ۴) ذبح کرتے وقت نام خدا کا ذکر کرے ، چا ہے یہ ذکر ذبح کے وقت ہو یا ذبح سے پہلے ہو لیکن عر فاًمتصل ہو۔
سوال : نام خدا میں کیا کہنا چا ہئے ؟
جواب : بسم اللہ یا الحمد للہ یا اللہ اکبر کہہ دینا کا فی ہے ۔
سوال: اگر ذبح کرنے والا خدا کا نام لینا بھول جائے تو ۔
جواب : ذبیحہ حرام نہ ہو گا۔
سوال : میں بعض قصابوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ ذبح کرتے وقت ذبیحہ کا سر کاٹ دیتے ہیں؟
جواب : تم ان سے کہو (ذبیحہ کے سر کو عمداً جدا نہ کرو اور حرام مغز کواس کی روح نکلنے سے پہلے نہ نکالیں ۔)حرام مغز ایک سفید دھا گہ کے مثل ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں گردن سے لے کر کمر تک ہو تی ہے ۔
( ۵) خون ذبیحہ عادت کے مطابق (جتنا خون نکلنا چا ہے ) نکل جائے ،ذبیحہ حلال نہ ہو گا جب تک کہ اس سے خون نہ نکلے یا خون نکلے مگر اتنا کم کہ جتنا اس جیسے حیوان سے نکلتا ہے یا تو رگوں میں خون کا انجماد ہو نے کی بناپر یا پہلے زخم لگنے پر خون ریزی کی وجہ سے خون میں کمی آگئی تو یہ چیز اس حلیت میں ضررنہ پہنچائے گی (یعنی وہ حلال ہے)
یہی شرائط ذبیحہ میں واجب ہیں ،میرے والد نے فرمایا:
با قی رہ گئی ایک خاص حالت کہ جس کی طر ف اشارہ کرتا ہوں اور وہ یہ کہ جب ہم شک کریں کہ حیوان ذبح کے وقت زندہ تھا یا نہیں تو جو شرائط پہلے ذکر کئے گئے ہیں ، اسی کے سا تھ یہ شر ط ہے کہ ذبح کے بعد حیوان حر کت کرے چا ہے وہ حرکت تھو ڑی ہی کیوں نہ ہو جیسے دم کا ہلانا یا پیر کا ہلانا یا آنکھوں کی پتلیوں وغیرہ کو پھیرانا تا کہ اس کا کھانا ہمارے لئے حلال ہو جائے۔
سوال : اور اگر ہمیں معلوم ہو کہ ذبح کے وقت وہ زندہ تھا ؟
جواب : تو پھر اس وقت اس کی حرکت کی احتیاج نہیں۔
سوال : آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اونٹ کا نحر کرنا واجب ہے تو کیا نحر کے علاوہ اس کے گو شت کے کھا نے کی حلیت میں اور بھی کچھ شرائط ہیں ؟
جواب: جو شرائط ذبح کرنے والے میں ہیں وہ نحر کرنے والے میں بھی ہیں دیکھئے جو نحر کے اوزار میں شرائط ہیں وہی ذبح کے اوزار میں بھی شر ائط ہیں۔دیکھئے اونٹ نحر کرتے وقت اس کا قبلہ رخ کر نا ذکر خدا کرنا اور نحر کے وقت زندہ ہو نا چاہئے اور نحر کے بعد اس سے عادت کے مطابق خون نکلنا چاہئے ۔
سوال : وہ جنین (بچہ) جو حیوان کے پیٹ میں ہے ؟
جواب : جب بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے زندہ با ہر نکلے تو اس کا حکم اس کی ماں کا حکم ہے، ذبح کیا جائے یا نحر کیا جائے۔
سوال : اگر مرا ہو ا نکلے تو ؟
جواب : جب اس کی ماں کو ذبح کیا جائے یا نحر کیا جا ئے ان پچھلی شرائط کے مطابق جو بیان کی گئی ہیں پس اگر اس کا بچہ اندر مر جائے ، اور اس کی خلقت کا مل ہو چکی ہو ، اس کے بال اگ گئے ہوں تو اس کا گو شت حلال ہے ۔لیکن اس کے نکا لنے میں اتنی تا خیر ہو کہ وہ مر جائے تو پھر اس کا گو شت حلال نہیں ہے ۔
سوال : اگر اس کی ماں ذبح کئے بغیر یا نحر کئے بغیر مر جائے اور اس کا بچہ اس کے پیٹ میں مر جائے تو ؟
جواب : اس کا گو شت حرام ہے۔
میرے والد نے فرمایا ذکر کئے ہو ئے شرائط اگر حیوان کے ذبح یا نحر کرنے میں جمع ہو جائیں تو ہم اس کو ”مذکیٰ“کہیں گے ۔ پس وہ شر یعت اسلامیہ کے قوا عد و اصول کی بنا پر ذبح کیا ہوا ہے۔
میرے والد نے تشر یح کرتے ہو ئے مزید فرمایا : بعض حیوانات وہ ہیں کہ جن کا گو شت کھایا جاتا ہے مثلاً بھیڑ ،بکری گائے، وغیرہ اور بعض وہ ہیں کہ جن کا گو شت نہیں کھایا جاتا مثلاً چیتا ،بھیڑیا ،لو مڑی اور گد ھا وغیرہ اور بعض حشرات ایسے ہیں کہ جو زمین کے اندر رہتے ہیں۔ اور بعض حیوانات نجس ہیں وہ کبھی پاک نہیں ہو تے جیسے کتا و سور و غیرہ ۔ تمام حلال گو شت حیوانات کا تذ کیہ ہو تا ہے پس جب ان کا تذ کیہ ہو تا ہے تو پھر وہ پا ک اور ان کا گو شت کھا نا حلال ہو جا تا ہے اور ان نجس حیوانات کا تذ کیہ نہیں ہو تا حو کبھی پاک نہیں ہو تے جیسے کتا اور سور وغیرہ
سوال: اور حیوانات کہ جن کا گو شت نہیں کھایا جاتا مثلاًلو مڑی،شیر اور گد ھا و غیرہ ان کا تذ کیہ ہو تا ہے یا نہیں ؟
جواب : ان کا بھی اسی طرح تذ کیہ ہو تا ہے سوائے حشرات کے ۔حشرات وہ چھوٹے جا نور ہیں کہ جو زمین میں رہتے ہیں جیسے لا ل بیگ ،چو ہا، ان کا تذ کیہ نہیں ہو تا لیکن ان حشرات کے علاوہ جن کا تذ کیہ ہوتا ہے ان کا گو شت اور کھال اس تذکیہ کے ذریعہ پاک ہو جا تا ہے۔ پس اس و قت ان کی کھال مختلف چیزوں کے استعمال میں جائز ہے ۔یہاں تک کہ اگر ان سے گھی رو غن اور پانی کے برتن بھی بنا ئے جائیں جیسا ہمارے اجداد بناتے تھے تو یہ چیزیں ان بر تنوں سے مل کر نجس نہیں ہوں گی ،اگر چہ وہ چیزیں تری دارہی کیوں نہ ہوں کیو نکہ ان حیوانات کا تذ کیہ ہو گیا ہے ۔
سوال : اگر ہم کسی مسلمان کے ہاتھ میں ان حیوانات میں کسی حیوان کا گو شت یا کھال پا ئیں کہ جو قابل تذ کیہ ہیں یا ان کا لباس یا فر ش دیکھیں اور ہم نہیں جا نتے کہ یہ چیزیں تذ کیہ کئے ہو ئے جا نور وں کی ہیں یا غیر تذ کیہ جا نور کی تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : تم جب بھی مسلمان کے پاس کو ئی چیز دیکھو تو کہو یہ مذ کی ہے جب کہ اس چیز میں تصر ف تذ کیہ کا تقا ضہ کرتا ہو۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تم پر ثابت ہے کہو کہ غیر مذ کی ہے ، میرے والد نے مزید فرمایا کہ مثلاً جب تم کسی مسلمان کے ہاتھ میں کو ئی چیز بیچتے ہو ئے پاؤ اور یہ چیز پہلے کا فر کے پاس تھی اور احتمال یہ ہو کہ اس کا تذ کیہ متحقق ہو چکا ہے تو تم کہو (انہ مذکی)یہ تذ کیہ شدہ ہے اور اگر ایسا ثابت نہ ہو تو وہ غیر مذ کی ہے۔
تم غور سے ان چیزوں کو سنووہ یہ ہیں کہ جب تم کو معلوم ہو کہ مسلمان نے کسی کا فر سے اس کے تذ کیہ کی تحقیق کے بغیر لی ہیں اور تم کو اس کے تذ کیہ کا احتمال ہو پس تم کو چا ہئے کہ اس پر طہارت کی بنا ء رکھیں اگر چہ یہ تمہارے لئے ان چیزوں میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے ، جس کے لئے تذ کیہ شر ط ہے ۔ جیسے کھانا اور اسی طر ح کا گو شت اور کھالیں و غیرہ کہ جو خود کا فر سے لی جا تی ہیں۔
سوال : آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے حیوان کا گو شت یا کھال (جو قابل تذ کیہ ہیں)کسی مسلمان کے ہاتھ میں پا ؤ اور تم کو معلوم نہ ہو کہ یہ مذ کی ہے یا نہیں ؟ تو تم کہو کہ ”یہ مذ کی“ہے ۔ تا و قتی کہ تم پر ثابت نہ ہو جائے کہ یہ مذ کی ٰ نہیں ہے ، کیا ایسا نہیں ہے ؟
جواب : ہاں !ایسا ہی ہے۔
سوال : جیسا کہ آپ جا نتے ہیں کہ مسلمانوں میں مختلف مذ اہب اور فر قے ہیں ؟
جواب : ہاں تم کہو کہ یہ مذ کی ہے اب چا ہے یہ مسلمان تمہارے مذ ہب کے مو افق ہو یا مخالف ۔
سوال : مذا ہب اسلامیہ یا اسلامیہ فرقوں میں اکثر ایسے ہیں کہ جو آپ نے تذ کیہ کی شر ائط بیان کی ہیں وہ ان شر ائط کو نہیں ما نتے مثلاً کو ئی فر قہ استقبال قبلہ کی شر ط کو نہیں ما نتا، اور ذکر خدا کا قائل نہیں ہے اور نہ اس شر ط کو ما نتا ہے ، کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو یا چارو ں رگوں (اوداج اربعہ )کے کا نٹے کی شر ط کو نہیں ما نتا؟
جواب: میں جا نتا ہوں اور یہ کو ئی اہم چیز نہیں ہے کہ تم کہو یہ مذ کی ہے جب تک اس کا تصر ف حیوان مذ کی کے گوشت اور کھال میں ہو اور تمہیں احتمال ہو کہ یہ انہیں شرائط کے مطا بق مذ کی ہے کہ جو ذکر کئے گئے ہیں اگر چہ وہ خود ان شرائط کے لا زم ہو نے کا معتقد نہ ہو بلکہ اگر تمہیں یقین ہو کہ یہ استقبال قبلہ کی شر ط کی ر عایت نہیں کر تا اس ذبیحہ کی حلیت میں کو ئی نقصان نہیں پہنچا تا ،اگر چہ استقبال قبلہ کی شر ط کے لازم ہو نے کا اعتقاد نہ بھی رکھتا ہو۔
سوال : وہ حیوانات جو اسلامی ممالک میں مشین کے ذریعہ ذبح کئے جا تے ہیں ؟
جواب : اگر ان میں ذبح کی تمام ذکر شدہ شراط پائی جا تی ہوں تو وہ (مذ کوۃ)تذ کیہ کئے ہو ئے ہیں ۔ پس جب مشین کی دھار دار چھری کی حر کت کا سبب خود کام کرنے والا ہویا مشین کا معین بٹن مسلمان دبائے کہ جس کی بنا پر وہ دھار دار اوزار متحرک ہو اور خدا کا نام ذ بیحوں پر لے اور ذبیحہ کا گو شت کھانا حلال ہے کہ جس طرح ہاتھ سے ذبیح کرنے میں تمام شرائط کی مو جو دگی میں حلال ہو تا ہے۔
سوال : مچھلیاں اور مچھلیوں کے تذ کیہ کے بارے میں آپ نے بیان نہیں کیا؟
جواب : مچھلیوں کا تذ کیہ اور اسی کے سا تھ ان کے گو شت کھا نے کی حلیت دو سرے حیوانات کے تذ کیہ سے جو بیان کیا گیا ہے جدا ہے ۔مچھلی کا تذکیہ یہ ہے کہ اس کو پا نی سے زند ہ پکڑکر نکالا جائے یا اس کو ہاتھ سے پا نی کے اند ر شکار کیا جائے ؟؟؟؟؟یا اس کو زند ہ پکڑکر نکالا جائے یا جال یا اس کو کا نٹے کے ذریعے پکڑا جائے یا مچھلی پانی میں ہو اور تم اس کو پکڑلو تو اس کا تذ کیہ ہو گیا یا وہ اچھل کر خود بخود سا حل پر آجائے اور تم اس کو زند ہ پکڑلو تو یہ اس کا تذ کیہ ہے اور اسی طرح کی دو سری مثالیں فر ض کرو۔
سوال : اگر مچھلی زمین پر اچھل کر آجائے اور اس کو کوئی نہ پکڑے یہاں تک کہ مر جائے تو ؟
جواب : اس کا گو شت کھانا حرام ہے مزید یہ کہ تم نے کسی مچھلی کو زند ہ زمین پر تڑپتے ہو ئے دیکھا اور تم نہیں جا نتے کہ اس کو کسی انسان نے پکڑ کر پانی سے نکالا ہے اور نہ تم نے اس کو اپنے قبضہ میں لیا یہاں تک کہ وہ مر جا ئے تم پر اس کا گو شت کھانا حرام ہے ۔
سوال : اور ذکر خدا کرنا بھی شر ط ہے ؟ اگر کسی نے مچھلی پکڑ تے وقت نام خدا نہیں لیا تو ؟
جواب : مچھلی کے تذ کیہ میں خدا کا نام لینا شر ط نہیں ہے۔
سوال : کیا یہ بھی شر ط ہے کہ مسلمان اس کو زندہ شکار کرے ؟
جواب : نہیں ، مچھلی کے تذ کیہ میں شر ط نہیں کہ اس کو کسی مسلمان نے زندہ پکڑا ہو ۔
سوال : اس کے معنی یہ ہوئے کہ جب کافر مچھلی کو زندہ پا نی سے نکالے تو اس کا کھا نا جائز ہے ؟
جواب : ہاں اس کا کھانا جائز ہے کا فر اور مسلمان میں یہاں فر ق نہیں ہے۔
سوال : اور جب کسی مسلمان کے ہاتھ میں مچھلی کو دیکھو ں کہ وہ اس کو بیچ رہا ہے اور میں نہیں جا نتا کہ اس نے اس کو زندہ پا نی سے نکالا ہے کہ میرے لئے اس کا کھانا حلال ہو جائے یا پانی سے مری ہو ئی نکالی ہے پس کیا میرے لئے اس کا کھانا حلال نہیں ؟
جواب : تم جب تک کسی مسلمان کے ہاتھ میں دیکھوں تو کہو یہ مذ کی ہے اور اس مسلمان کا اس پر تصرف کرنا اس کے تذکیہ پر دلالت کرتا ہے مثلاً کھانے کے لئے بیچ رہا ہے یا دو سری ایسی چیزوں کے لئے بیچ رہا ہے کہ جس میں تذ کیہ ضروری ہے۔
سوال : اور کسی کافر کے ہا تھ میں دیکھو ں اور معلوم نہ ہو کہ اس کا فر نے اس مچھلی کو پانی سے با ہر نکالا تو مری ہو ئی تھی یا زند ہ ، کیا میں اس کو تذ کیہ شدہ سمجھوں یا غیر تذ کیہ شدہ ؟
جواب : تم کہو کہ یہ غیر تذ کیہ شدہ ہے ۔
مزید یہ کہ اگر تم کو کو ئی بتائے کہ یہ تذ کیہ شدہ ہے تو اس کا گو شت کھانا تمہارے لئے حلال نہیں ہے مگر یہ کہ تم کو معلوم ہوکہ اس نے پانی سے اس کے مرنے سے پہلے نکالا ہے یا پانی سے با ہر پکڑا ہے حا لا نکہ وہ زندہ تھی یا جال میں داخل ہوکر مری ہے یا اس کا رکا وٹ میں آکر مری ہے کہ جو مچھلی پکڑنے کے لئے بنائی گئی تھی ۔
سوال : اگر شکاری پانی میں زہر ملادے مچھلی اس کو کھا کر بیہو ش ہو جائے اور تیر نے سے مجبور ہو کر پا نی پر ظاہر ہو جائے ؟
جواب : جب تم نے اس کو زند ہ پکڑ لیا تو اس کا گو شت کھا نا تمہارے لئے جائز ہے لیکن اگر اس سے پہلے مر جا ئے تو حرام ہو جائے گی ۔
سوال : اگر شکار ی مچھلی پکڑنے کے واسطے کو ئی رکا و ٹ کھڑی کردے یا جا ل ڈال دے پھر پا نی اس جال یا رکا و ٹ کا سو کھ جا ئے یا کم ہو جا ئے جز ر یا کسی دو سر ے اور سبب سے اور وہ مچھلی اس میں کر جائے ؟
جواب : اس کا گو شت کھا نا تم پر حلال ہے ۔
سوال : شکاری مچھلی کو پا نی سے زندہ نکالتا ہے پھر اس کا پیٹ چیر تا ہے یا اس کے سر پر چوٹ مارتا ہے اور وہ مر جا تی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : اس کا گو شت تمہارے لئے کھا نا حلا ل ہے اس لئے کہ یہ شر ط نہیں ہے کہ مچھلی پا نی سے زندہ نکلے اور وہ کو د مرے پس تمہارے لئے اس کا گوشت کھا نا حلال ہے چا ہے اس کو ٹکڑے کر کے یا بھون کر یا کسی اور طر یقہ سے مارا جائے۔
سوال : اس سے جو خون خارج ہو تا ہے کیا اس کے بھو ننے سے پہلے اس کا پاک کرنا ضر وری ہے۔
جواب: مجھلی کا خون پاک ہے۔
سوال : میں نے اپنے والد سے کہاآپ نے مچھلی کے شکار کے بارے میں گفتگو کی لیکن حیوانات و حشی (جنگلی)کے بارے میں کچھ نہیں بتا یا مثلاً ہر ن کا شکار جب کہ بندوق سے کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب: حیوان و حشی (جنگلی)کے شکار میں شر ط ہے کہ اس حیوان کا گو شت کھا نا حلال ہو جیسے ہر ن اور پر ندے اور نیل گائے اور جنگلی گدھے وغیر ہ کا شکار جب کہ بندوق سے کیا جائے یا دوسرے اسلحہ سے تو اس میں چند شرائط ہیں جب کہ وہ پا ئی جائیں تو ان کا گو شت پاک اور اسکا کھا نا حلال ہے ۔جیسے کہ ذبیحہ کا گو شت پاک اور حلال ہے ۔
اس کے پا ک ہو نے کی شر ائط یہ ہیں :۔
( ۱) شکاری مسلمان یا اس کے حکم میں ہو جیسے ممیز بچہ جیسا کہ ذبح کرنے کی شرائط میں اس کا بیان ہو چکا ہے ۔
( ۲) جب شکار ی اسلحہ استعمال کرے تو اس کی نیت شکار کی ہو پس اگر وہ بندوق چلائے ، اور وہ غلطی سے کسی حیوان کے لگ جائے اور وہ اتفاقاًمر جا ئے تو وہ حلال نہ ہو گا ۔
( ۳) شکاری اسلحہ کے استعمال کے وقت خدا کا نام لے یا نشانہ لگنے سے پہلے خدا کا نام لے اور خدا کا نام لینے میں (اللہ اکبر )یا(بسم اللہ) (الحمدللہ)کہنا کافی ہے۔
( ۴) شکار اسلحہ کے استعمال کے سبب مر جائے یا شکاری اس کو زندہ پائے مگر اس کے تذ کیہ کا وقت و سیع نہ ہو (جیسے ہی شکاری پہنچے) شکاردم تو ڑدے تو حلال ہےاور اگرشکار زندہ ہو اور اس کے ذبح کا وقت با قی ہو اور وہ اس کو ذبح نہ کرےا اور وہ مر جائے تو وہ کھا نا حلال نہیں ہے ۔
( ۵) بندوق کے شکار میں واجب ہے کہ گو لی اتنی تیز ہو کہ وہ حیوان کے بدن میں اس طرح پیو ست ہو جا ئے کہ اس کے بدن کو چیر دے تا کہ حیوان کی موت اس گو لی کے بدن میں پیو ست ہو نے اور اس کے چیر دینے کے سبب سے ہو تو اس کا گو شت کھا نا حلال ہے ورنہ نہیں۔
سوال : جب حلال گو شت جنگلی جا نور مثل ہر ن یاپرندے کا شکار شکاری کتے سے کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : اس کے شکار کے بعد اس کا کھا نا حلال و پا ک ہے جب کہ اس میں نیچے بیان کی ہو ئی شرطیں پائی جائیں:
( ۱) کتا اس طرح تر بیت یا فتہ ہو کہ جب شکاری اس کو شکار کے لئے بھیجے تو جائے اور جب اسے روکے تو رک جائے۔
( ۲) ما لک اس شکار کے لئے بھیجے پس اگر خود شکار کے لئے جائے اورمالک اس کو نہ بھیجے تو یہ کا فی نہیں ہے۔
( ۳) جو کتے کو شکار کے لئے بھیج رہا ہے وہ مسلمان ہو جیسا کہ ذبح کے شرائط میں بیان ہو چکا۔
( ۴) کتے کو شکار پر بھیجتے وقت خدا کا نام لے اور (اللہ اکبر)(الحمد للہ)(بسم اللہ)کہنا کا فی ہے۔
( ۶) شکاری کتے کا مالک شکار کی مو ت کے بعد پہنچے یا ایسے وقت پہنچے کہ اس کی حیات کچھ ہی دیر کے لئے ہو ذبح کرنے کا وقت نہ ہو پس اگر شکاری شکار کو زندہ پائے اور اس کے ذبح کرنے کا وقت بھی ہو اور وہ ذبح نہ کرے اور مر جائے تو اس کا کھا نا حلال نہیں ہے ،اور اسی طرح اگر وہ پہنچنے میں تا خیر کرے اور وہ اس کے پہنچنے سے پہلے مر جائے یا ایسے وقت پہنچے کہ ذبح کا وقت تنگ ہو تو وہ حلال نہیں ہے۔
سوال : جب باز یا عقاب کسی جا نور کا شکار کریں تو ؟
جواب : ان کا کھا ناجا ئز نہیں ہے، صرف شکاری تربیت یافتہ کتے کے شکار کا گوشت کھانا حلال ہے، کتے نے حیوان کے جس حصہ کو پکڑا تھا وہ نجس ہے اس کا پاک کرنا واجب ہے اور پاک کرنے سے پہلے حیوان کا کھا نا جا ئز نہیں ہے۔
سوال : کبھی شکاری پر ندہ سے شکار کیا جا تا ہے اس نے کسی حیوان کا شکار کیا اور اس کے ما لک نے اس کے شکار کو زندہ پا لیا اور اس نے اس کو ذبح کر لیاتو ؟
جواب : اس کے شکاری نے اگر اس کا تذ کیہ شر یعت اسلامی کے اصول اور بیان کی ہو ئی شرائط کے مطا بق کیا تواس کا کھا نا حلال ہے ۔
سوال : میں آپ سے کبھی کبھی سنتا رہتا ہوں کہ آپ ”الحیوان غیر ما کو ل اللحم“(یعنی وہ حیوان کہ جس کا گو شت نہیں کھا یا جاتا )یا ”الحیوان ماکو ل اللحم“ وہ حیوان کہ جس کا گو شت کھایا جا تا ہے جملے استعمال کرتے ہیں ۔ پس کیا ایسے بھی جا نور ہیں کہ جن کا گو شت کھا نا ہمیشہ کے لئے حرام ہے ؟
جواب : ہاں ایسے بھی حیوانات ہیں کہ جن کا گوشت کھا نا ہمیشہ کے لئے حرام ہے یہ کہہ کر میرے والد تھو ڑی دیر کےلئے خامو ش ہو ئے ۔ گو یا کسی چیز کے بارے میں سو چ رہے ہوں ۔ پھر انہوں نے یہ کہتے ہو ئے اپنے سر کو اٹھا یا کہ میں تمہارے لئے بطور کا مل ان حیوانات کے بارے میں کہ جن کا گوشت کھانا حلال ہے اور جن کا گو شت کھا نا حرام ہے۔ان میں جو اہم ہیں ان کو بیان کروں گا تا کہ وہ تم پر واضح ہو جائیں میرے والد نے فر مایا جن حیوانات میں ، مر غ اور اس کی تمام اقسام اور بھیڑ ، بکری ، او نٹ، گائے، گدھا ،گھوڑا ،خچر اور پہاڑی بکر ا جنگلی گد ھا ، نیل گا ئے ، ہر ن کا گو شت کھانا حلال ہے۔
ان میں کچھ مکروہ ہیں اور ان کا گو شت کھا نا حرام نہیں ہے وہ گھوڑا ، خچر ، اور گد ھا ہے اور پنجہ دار حیوان مثلاً شیر ،لو مڑی و غیرہ کا گو شت کھا نا حرام ہے اسی طرح خر گو ش ہا تھی بند ر ریچھ ، اور اسی طرح سا نپ ، چو ہا ،لال بیگ جو حشر ات الا رض کہلا تے ہیں حرام ہیں۔
نعوذ باللہ انسان نے اگر کسی حیوان سے و طی کی ہو تو اس حیوان کا گو شت کھا نا حرام ہے (اور و طی کرنے کے بعد اس کا دودھ اور اس سے پیدا ہو نے والی نسل کا گو شت کھا نا بھی حرام ہے )اور یہاں و طی سے مراد انسان کا حیوان کے ساتھ جنسی فعل انجام دینا ہے۔ پس اگر وہ حیوان کہ جس سے وطی کی گئی ہے اگر اس کا گو شت کھایا جاتا ہو مثلاً او نٹنی ، گائے، بھیڑ، بکری و غیرہ تو پہلے اس کا ذبح کرنا واجب ہے پھر اس کا جلا ڈالنا واجب ہے ، اور و طی کرنے والا جبکہ اس کا مالک نہ ہو تو اس کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے۔ اور اگر وطی کیا جا نے والا حیوان ایساہے کہ جس کا مقصد صرف اس پر سواری ہے جیسے گھو ڑا ، گد ھا ، خچر تو انہیں اس شہر سے با ہر لے جا کر دو سرے شہر میں بیچ دیا جائے گا اور اگر و طی کرنے والا ما لک کے علاوہ ہے تے اس کی قیمت ما لک کو دی جائے گی اور میرے والد نے مزید فرمایا کہ دریائی جا نو ر وں میں مچھلی کی تمام اقسام کا گو شت تمہارے لئے حلال ہے مگر اس شر ط کے سا تھ کی مچھلی چھلکے دار ہو ۔اور پانی پر تیرنے والی مری ہو ئی مچھلی حرام ہے۔ اسی طرح دو سرے دریائی حیوانات کا کھا نا سوا ئے مچھلی کے جو ذکر ہو ئے ہیں حرام ہے اور خصو صاًجری ، زمیر ،مار ماہی اور سلحفاة (جو بغیر چھلکے کی مچھلیوں کے نام ہیں)اور مینڈ ک ، کیکڑا حرام ہے۔؟؟؟؟؟
سوال : اور رو بیان مچھلی کا گو شت ؟
جواب : حلال ہے کیو نکہ اس پر چھلکا ہے ۔ اور میرے والد نے اس کے فو راً بعد فرمایا:
پر ندوں میں سے تمام اقسام کے کبو تر اور تمام اقسام کی چڑ یوں کا گو شت بلبل ،سار ، چکور ،شتر مر غ، مور، ہدہد، ابابیل کا گو شت حلال ہے (اور تمہارے او پر کو ؤ ں کی تمام اقسام کاگو شت حرام ہے اسی طرح شہد کی مکھی اور دوسرے اڑنے والے حشرات سوائے ٹڈی کے حرام ہیں) اور ایسے پر ند ے کہ جن کے پنجے باز و شا ہین کی طرح ہوں حرام ہے۔اور ہر وہ پرندے کہ جس کے پر پھڑپھڑا نے سے زیادہ صاف اور ہموار ہوں یعنی جو پر ندہ اڑتے وقت اپنے پروں کو حر کت نہ دیتا ہو اور اس کے پھڑپھڑا نے سے زیادہ کھلتے رہتے ہوں ان کا گو شت حرام ہے۔
سوال :جن کے اڑنے کی کیفیت معلوم نہ ہو تو ؟
جواب : جب کہ ان پر ندوں میں حو صلہ یا قانصہ یا صیصیہ ہو تو تم ان پر ندوں کے گو شت کو حلیت سے تعبیر کرو پس ان تین چیزوں میں سے ایک چیز بھی پائی گئی تو ان کاگو شت کھا نا حلال ہے اور اگر نہ پا ئی جائے تو حلال نہیں ہے ۔
حو صلہ :
(پوٹہ)وہ کہ جس میں کھا نے کے دانے و غیرہ جمع ہو تے ہیں اور حلق کے نزدیک ہو تا ہے ۔
قانصہ:
(سنگ دانہ )وہ ہے کہ جس میں وہ سخت کنکریاں جمع ہو جا تی ہیں کہ جن کو پر ندہ کھا لیتا ہے ۔
صیصیہ:
وہ ہے کہ جو پرندہ کے پاؤں کے پیچھے کا نٹا ہو تا ہے۔
سوال : بعض قصابوں کو دیکھا ہے کہ وہ ذبیحہ کے بعد گو شت کو کا ٹتے ہیں تو وہ کچھ چیزوں کو نکال کر پھینک دیتے ہیں ؟
جواب : ہاں ذبیحہ کی نیچے بیان کی جانے والی چیزوں کو نہ کھاؤ:
خون، گو بر،عضو تناسل، پیشاب و پا خانہ کا مقام ، بچہ دانی، تمام مختلف قسم کے غدود ،خصیہ ،وہ چیز جو چنوں کے دانوں کے مانند مغز میں ہو تی ہیں،حرام مغز ،پتہ /تلی /مثانہ ، آنکھ کا ڈھیلہ (وہ پٹھے جو ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف ہو تے ہیں)یہ تمام چیزیں پر ندوں کے علا وہ دو سرے ذبیحہ میں بھی حرام ہیں لیکن پر ندوں کے ذبیحہ میں اس کا خو ن حرام ہے ، ہاں اگر یہ دوسری چیزیں بھی جو ذکر ہو ئی ہیں ان میں پائی گئیں تو ان سے اجتناب کرو۔
میرے والد صا حب نے جب ان حرام چیزوں کی تعداد کو بتا کر ختم کیا تو وہ خا موش ہو گئے اور میں نے اپنے دل میں کہا ہم ذبیحہ کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں کہ اس کی کیا چیز حلال اور کیا چیز حرام ہے تو میں نے ان سے سوال کیوں نہ کیا کہ ذبیحہ کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ہیں کہ جن کا کھا نا حرام ہے ، پھر میں نے ان سے کیوں نہ سوال کیا کہ ہماری بحث کھا نے کے بارے میں ہے وہ چیزیں کیا ہیں کہ جو کھا نے میں مستحبات ہیں۔
میں اپنے ذہن میں انھیں چیزوں کو سو نچ رہا تھا کہ میرے والد نے فرمایا کہ تھوڑا مو ضو ع سے خا رج ہو کر دو سو الوں کے بارے میں ، میں کچھ پو چھوں۔ پہلا سوال کیا کچھ اور بھی چیزیں ہیں جو حرام میں شا مل ہیں؟دو سرا سوال ہر روز کھا نے کے دستر خوان پر تین وقت بیٹھتے ہیں کیا کھا نے میں کچھ مستحبات ہیں؟ میرے والد مسکر ائے ، گو یا ان کو کو ئی چیز یاد آئی پھر انہوں نے اپنی اس نشست میں یہ کہتے ہو ئے ذکر کیا پہلے میں پہلے سوال کا جواب دوں گا پھر دوسرے سوال کا جواب دوںگا ۔ہاں یہاں دوسری بھی چیزیں ہیں جو حرام ہیں اور ان کا ہماری اس گفتگو میں ذکر نہیں ہوا ، ان میں سے جو دو اہم چیزیں ہیں میں خاص طور پر ان کا ذکر کروں گا اوروہ دو نوں یہ ہیں۔
( ۱) شراب کا پینا حرام ہے اور دو سرے مسکرات کا بھی ۔ اسی میں (بیر)جو کی شراب بھی شامل ہے ۔ شراب کے پینے کی حرمت پر قرآن مجید میں خدا وند عالم کا ارشاد ہے :
”انما الخمر و المیسر و الا نصاب والا زلام رجس من عمل الشیطان فا جتنبوه “
(شراب ، جوا، جمے ہو ئے بت ،شیطان کے نا پاک کام ہیں لہٰذا ان سے پر ہیز کرو)
بعض حد یثوں میں اس کو گناہ کبیرہ بتایا گیا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”الخمر ام الخبائث وراس کل شر الی آخر الحدیث “
(شراب تمام خباثتوں کی ماں اور ہر شر کی ابتداء ہے ۔۔۔۔۔)اور اس سے بھی زیادہ اور کیا ہو گا کہ تمہارا اس دستر خوان پر بیٹھ کر کھا نا حرام ہے کہ جس پر شراب پی جا تی ہو یا کو ئی بھی نشہ آور چیز استعمال ہو تی ہو (بلکہ تمہارا اس دستر خوان پر بیٹھنا حرام ہے)۔
( ۲) ہر وہ چیز کہ جو انسان کو ضرر پہنچاتی ہو ایسا ضرر کہ جو بہت زیادہ ہو جیسے ہلا کت و غیرہ جیسے قاتل قسم کے زہر اور ان کی طرح دو سری چیزیں یہ تمہارے پہلے سوال متعلق تھا۔
لیکن تمہارے دو سرے سوال سے متعلق ”کھا نے کے مستحبات “ہیں پس کھا نے کے مستحبات ہیں لیکن کیا تم کو اس کے بیان کی ضر ورت ہے ؟
سوال : ذرا ان میں سے کچھ کو گنوائیے؟
جواب : سنو:
( ۱) دو نوں ہا تھوں کا کھا نے سے پہلے دھو نا۔
( ۲) کھا نے کی ابتدابسم اللہ سے کرنا ۔
( ۳) دا ہنے ہاتھ سے کھا نا ۔
( ۴) خو ب چبا کر کھا نا ۔
( ۵) چھوٹا لقمہ اٹھا نا۔
( ۶) دستر خوان پر دیر تک بیٹھنا اور کھا نے میں طول دینا۔
( ۷) نمک سے کھا نے کی ابتدا اور اختتام کرنا ۔
( ۸) کھا نے سے پہلے پھلوں کا دھو نا۔
( ۹) جب تک بھو ک نہ لگے اس وقت تک نہ کھا نا۔
( ۱۰) گر م کھا نا نہ کھا نا۔
( ۱۱) کھا نے اور پانی میں نہ پھو نکنا۔
( ۱۲) جو پھل چھلکے سمیت کھائے جا تے ہیں ان کا چھلکا نہ اتارانا۔
( ۱۳) پھل کو اس کے کا مل کھا نے سے پہلے نہ پھینکنا۔
( ۱۴) کھا تے وقت لو گوں کے چہروں پر نگاہ نہ کرنا۔
( ۱۵) میزبان کا مہمان سے پہلے کھا نا شروع کرنا اور سب کے بعد ختم کرنا۔
( ۱۶) رو غنی کھا نوں پر پانی نہ پینا۔
( ۱۷) اپنے سا منے سے کھا نا کھا نا اور دو سروں کے سامنے سے نہ کھا نا۔
( ۱۸) پیٹ بھر کر کھانا نہ کھانا ۔
( ۱۹) رو ٹی کو چھر ی سے نہ کا ٹنا ۔
( ۲۰) برتن کے نیچے رو ٹی نہ رکھنا ۔
اور بھی بہت سے مستحبات ہیں کہ جن کے ذکر کی یہاں گنجا ئش نہیں ہے ۔
نکاح کے بارے میں گفتگو
میرے والد نے فرمایا کہ ہمیں اپنے پڑو سی ابو علی کے گھر میں جشن عقد نکاح کے سلسلے میں شرکت کی دعوت ہے اور ضروری ہے کہ ہم آئندہ جمعہ کے دن شام کو تقر یباًپا نچ بجے اپنے محترم پڑوسی کی اس مبارک تقریب میں شر کت کرنے کے لئے آمادہ رہیں۔
سوال : یہ عقد نکا ح کس کا ہے ؟
جواب : یہ عقد ان کے فر زند علی کا ہے ۔
سوال : لیکن ابھی تک علی کے اند ر جوانی کے آثار کہا ں پیدا ہو ئے ان کی عمر ابھی بیس سال کی ہے اور شادی کے قابل نہیں ہو ئے ہیں ؟
جواب: اس کی عمر بیس سا ل کی ہے اور تم کہتے ہوا بھی ان کی شادی کا وقت نہیں پہنچا ہے وہ تو اب عنفوان شباب میں ہے اور اس کی جسمانی اور عقلی قوتیں بام عروج پر ہیں اور اسی وقت کی جنسی قو تیں بھی ابھر تی ہیں ۔میرے والد صاحب نے مزید فرمایا کہ جب اس جیسی عمر میں فعل اور حر کت کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس و قت مناسب ہے کہ اس ابھر تی ہو ئی جوا نی میں شادی کر دی جائے تا کہ نفس فعل حرام میں مبتلا ہو نے سے بچ جائے ۔پس نفس امارہ برائی کی طرف مائل کرتا ہے جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں ارشاد ہو تا ہے ۔
”وما ابری نفسی ان النفس لا مارة بالسوء الا مارحم ربی ان ربی غفو ررحیم “
میں اپنے نفس کو بد ی سے بری نہیں کرتا کیو نکہ نفس برائی کی طرف مائل کرنے والا ہے ،مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے ، بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔
اور جب میں نے جنسی دباؤ کے بارے میں سنا تو میں شرمندہ ہو گیا کیو نکہ میرے ہم سن نو جوان جنس کے بارے میں بات کرنے یا سننے سے شرم محسوس کرتے ہیں اس کے باوجود کہ انھیں اس کے بارے میں کچھ سننے اور بات کرنے کا شوق ہوتا ہے۔
جب میرے والد نے شرم و حیا کی علا مات میرے چہرے پر ملا حظہ کیں تو مجھ سے سوال کیا کہ کیا تم شرمندہ ہو ؟ میں نے جواب دیا ہاں کیو نکہ جنسی بات کرنا شرم آور ہے ۔
انہوں نے فرمایا : خو اہشات جنسی کا دباؤ یہ ایک دو سری شرم والی بات ہے کیا ایسا نہیں ہے ۔ میں نے کہا ہاں۔
انہوں نے فرمایا:لیکن ایک با ئیلو جی کی ضرورت ہے کہ اس سے اس بات کی نشا ند ھی ہو تی ہے کہ ہر انسان کمال کی طرف گا مزن ہے۔خواہشات جنسی ،غذا،پا نی اور ان دونوں کے علاوہ ان چیزوں کی ما نند ہے جن کی جسم کو ضرورت ہے ۔پس جس طرح تم بھو ک کے دباؤ میں آکر کھانا کھاؤ گے اور پیاس کے دباؤ میں آکر پا نی پیو گے اسی طرح جنسی دباؤ میں آکر شادی کرو گے ۔
سوال : لیکن علی کیا جوان ہو گیا ہے ؟
جواب : کب انسان پر شادی کرنا واجب ہو تا ہے ۔
سوال : آپ نے جو فرمایا کہ کب شادی کرنا واجب ہو تا ہے تو کیا آپ کی مراد اس سے وجوب شر عی ہے ؟
جواب: ہاں اس وقت شر عاً واجب ہو تاہے جب انسان اس جنسی دباؤ پر قابو نہ پا سکے اور اپنے نفس کو فعل حرام سے نہ رو ک سکے ۔
علی شجاع ہے اسی بنا پر اس وقت اس کی شادی کا پرو گرام طے کیا گیا ہے اور وہ عالم شباب میں ہے ۔ ہاں و ہ شجا ع ہے ۔ وہ جری ہے اس نے اپنی جنسی حا جت کے دباؤ کو محسو س کیا اور جنسی دباؤاور اضطراب و بیقراری اور تحریک نے علی کے اندر اثر پیدا کیا اور اس کے والد پر یہ را ز کھل گیا۔لہذاان کی تو جہ اس کی شادی کی طرف مبذول ہو ئی تا کہ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے قول پر عمل کرکے اس کا نصف دین بچا سکیں۔
”من تزوج فقد احر ز نصف دینه فلیتق الله فی نصف الآخر “
”جس نے شادی کی تو گویا اس نے اپنا آدھا دین محفوظ کرلیا،اب وہ اپنے آدھے دین کے بارے میں اللہ سے ڈرے “
اس کے فو راً بعد میرے والد نے مزید فرمایا:
شادی کرنا اللہ کے نزدیک ایک محبوب عمل ہے۔
خدا وندے عالم نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے :
”ومن آیا ته ان خلق لکم من انفسکم ازوا جا لتسکنوا الیها و جعل بینکم مو دة ورحمة“
”اور اس کی نشا نیوں میں سے بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے عو رتیں پیدا کیں تا کہ تم ان سے سکون حا صل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت قراردی ہے ۔
”هو الذی خلقکم من نفس واحد ة و جعل منها زو جها لیسکن الیها “
”اور خدا وہ ہے کہ جس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اسی سے جوڑا بنایا تا کہ اس سے تسکین حا صل کرو ۔“
امام محمد با قر علیہ السلام نے اپنے جد رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا :
اسلام میں شادی کے علاوہ کو ئی ایسی بنیادنہیں جو خدا کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔
نبی اکر م نے فرمایا :
”تزو جوا و زو جوا “تم شادی کرو اور شادی کراؤ۔
امام علی علیہ السلام سے ایک حدیث ہمارے لئے نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا:
”تزو جوا فان التزویج سنة رسول الله فا نه کان یقول من کان یحب ان یتبع سنتی فان سنتی التزویج “
”شادی کرو کیو نکہ شادی کرنا رسول اللہ کی سنت ہے گو یا آپ نے فرمایا کہ جو چا ہتا ہے میری سنت کی پیروی کرے تو بیشک میری سنت شادی ہے “
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :
”من اخلاق الا نبیا ء حب النساء“
(اخلاق انبیاء میں سے ایک یہ ہے کہ وہ عو توں سے محبت کرتے تھے) انھیں حضرت سے مروی ہے کہ:
”رکعتان یصلیهما المتزوج افضل من سبعین رکعة یصلیها اعزب“
”شادی شدہ انسان کی دو رکعت نماز بغیر شادی شدہ انسان کی ستر نماز سے افضل ہے “ اور امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ فرمایا:
”ما احب ان لی الد نیا و ما فیها و انی بت لیلة ولیست لی زوجة“
”اگر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب کا سب مجھے مل جائے یہ مجھے پسند نہیں ہے کہ میں ایک رات اس حال میں بسر کروں کہ جس میں میری کو ئی زوجہ نہ ہو “
اور امام مو سیٰ کا ظم علیہ السلام سے منقول ہے :
”روز قیامت خدا کے عرش کے علاوہ کسی چیز کا سا یہ نہ ہو گا تو اس کے سائے سے تین قسم کے لو گ بہر ہ مند ہوں گے ، ایک وہ کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کی شادی کرائی ہو ، دو سرے وہ کہ جس نے کسی مسلمان کی خد مت کی ہو ، اور تیسرے و ہ کہ جس نے کسی مسلمان کے راز کو پو شیدہ رکھا ہو “
اور بھی بہت سی احادیث ہیں جو شادی کے مستحب ہو نے کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور مردو عورت کے کنوارے پن کے مکروہ ہو نے پر دلالت کرتی ہیں۔
سوال : آپ نے فرمایا عو رت اور مرد کے لئے کیا عورت کے لئے بھی !!
جواب : ہاں!مرد و عورت دونوں کے لئےکنوارہ پن مکروہ ہے ۔بہت سی احادیث ایسی ہیں جو عورت کو شادی کرنے کی دعو ت دیتی ہیں اور اس پر رغبت دلاتی ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے عورتوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اپنے نفوس کو شادی کرنے سے نہ بچائیں ،بلکہ اکثر احا دیث اس بات کی طر ف دعوت دیتی ہیں کہ لڑکی کی شادی کرنے میں جلدی کرو اس میں تا خیر نہ کرو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :
”من بر کة المراة سر عة تزو یجها “
”بر کت والی عورت وہ ہے جس کی جلدی شادی ہو جائے “
سوال : شادی میں جلدی کرنا اچھا اور بہتر ہے لیکن اباجان شادی کرنا بہت سخت ہے ، ایک جوان کہا ں سے اتنا مال لائے کہ شادی کرے اور شادی کے لئے یہ چا ہئے وہ چا ہئے ؟
جواب: اسلام شادی میں کم خرچ کرنے اور اس میں کم زحمات اٹھا نے کی دعوت دیتا ہے ۔
سوال : کیا اسلام کم زحمتوں کی دعوت دیتا ہے ؟
جواب : ہاں اسلام شادی میں کم زحمات اور تکلفات اٹھا نے کی دعو ت دیتا ہے ۔
سوال : حق مہر کی مقدار تو اتنی زیادہ ہو تی ہے کہ جس کی بہت سے لو گ شکا یت کرتے ہیں؟
جواب: کم حق مہر مستحب ہے اور زیادہ لینا مکر وہ ہے۔
سوال : آپ فرماتے ہیں ؟ کیا زیادہ حق مہر لینا مکروہ ہے ؟
جواب:ہاں زیادہ حق مہر لینا مکروہ ہے اور کم مہر مستحب ہے نبی کریم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
”افضل نساء امتی اصبحهن و جها و اقلهن مهرا“
”میری امت کی عورتوں میں افضل ترین وہ ہیں کہ جن کا حق مہر کم ہو ۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپؑ نے فرمایا میرے والد بزرگوار کے سامنے کچھ نحو ستوں کا ذکر ہو ا تو آپ نے فرمایا:
منحو س وہ عورت ہے جس کا حق مہر زیادہ ہو اور رحم با نجھ ہو!
دو سری احا دیث شر یفہ میں بھی اسی طرح وارد ہوا ہے کہ:
”من بر کة المراة قلة مهر ها و من شو مها کثر ة مهر ها“
”عورت کی بر کت یہ ہے کہ اس کا حق مہر کم ہو اور اس کی نحو ست یہ ہے کہ اس کا مہر زیادہ ہو “
میرے والد بزرگوار نے فرمایا اور وہ تھو ڑی دیر کے لئے خا مو ش ہو گئے کہ جیسے وہ کسی اہم چیز کو یا د کررہے ہوں اور انہوں نے اپنے بیان میں یہ کہتے ہو ئے اضافہ فرمایا کہ:
نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جب اپنی بیٹی صد یقہ طاہر ہ فاطمہ زہر اعلیہا السلام کا عقد امیر المو منین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ہمراہ بہت تھو ڑے حق مہر اور زرہ حطیمیہ پر کیا حا لا نکہ وہ عالمین کی عو رتوں کی سردار تھی ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے علی کی تزویج زرہ حطیمیہ پر کی۔
حضرت امام محمد با قر علیہ السلام نے صدیقہ طاہر ہ حضرت فاطمہ زہراؑ کے فرش کی صفت یوں بیان کی ہے کہ فاطمہ کا فر ش بکرے کی کھال کا تھا اسی کو بچھاتے تھی اور اس پر دو نوں سو تے تھے ۔
میں نے اپنے والد سے عر ض کیا کہ ایک نو جوان کے پاس اتنے مادی وسا ئل کہاں ہیں کہ وہ شادی کے بعد اپنے گھر کے نظام کو چلاسکے ؟ کیا یہ مشکل نہیں ہے ؟یا ہم یہ کہیں کہ شادی کے بعد فقر و غربت کا خو ف کھا رہا ہے ؟ یا اس سے خو ف دا من گیر رہتا ہے کہ شادی کے بعد گھر کے اخراجات پورے نہ ہو سکیں گے؟
میرے والد صا حب نے فرمایا :
خدا وند عالم نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
”وانکحو االا یا می منکم والصا لحین من عبادکم و اما ئکم ان یکو نو افقراء یغنهم الله من فضله والله واسع علیم “
”اور تم میں جو مرد اور عورت بغیر شادی کے ہوں اور تمہاری کنیزیں اور غلام کے نکاح کے قائل ہیں ان کا نکاح کردو ،اگر وہ محتاج ہوں گے تو خداوندعالم ان کو غنی کردے گا ۔اور وہ صاحب و سعت و علم ہے “
امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کے بارے میں اس طرح مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
”من تر ک التزویج مخا لفة العیلة فقد اساء الظن بالله“
”جو اپنے اہل و عیال کے اخراجات کے خوف سے شادی نہ کرے بتحقیق اس نے اللہ تعالی ٰ کے بارے میں سو ئے ظن پیدا کیا “
اللہ تعا لیٰ نے ار شاد فرمایا:
”وان یکونو ا فقر اء یغنهم الله من فضله“
”اگر وہ محتا ج ہو ں گے تو خدا اپنے فضل سے انہیں غنی بنا دے گا“
میں نے عرض کیا کہ یہ مشکلات معاشرہ میں با اثر و صاحب حیثیت اور بد اند یش لو گوں نے پیدا کی ہیں۔“
خلا صہ یہ کہ لو گ اپنی لڑکیوں کی شادی اسی شخص سے کرتے ہیں کہ جس کے پاس مال و دو لت دیکھتے ہیں اور اسی کو اپنی لڑکی کے لائق سمجھتے ہیں ، لیکن جو لڑکی کے مناسب ہو اس کا اقدام نہیں کرتے ، جس کے نتیجہ میں بہت سی لڑکیاں بغیر شادی کے رہ جا تی ہیں۔
میرے والد نے فرمایا چھوڑو اس بحث کو میں آپ سے لائق اور مناسب شو ہر کے بارے میں اسلام کا نظر یہ اس خط کی رو شنی میں بیان کرتا ہوں جو کسی نے امام محمد باقر علیہ السلام کی خد مت میں تحریر کیا اور امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:
مروی ہے کہ علی ابن اسباط نے امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس اپنی لڑکیوں کے بارے میں تحر یر کیا کہ وہ کسی کو ان کے مثل نہیں پا تاامام علیہ السلام نے اس کے جواب دیتے ہو ئے تحریر فر مایا:
میں جا نتا ہوں کہ جو کچھ تم نے اپنی لڑکیوں کے بارے میں لکھا ہے کہ تم کسی کو ان کے مثل نہیں پا تے ہو پس خدا تم پر رحم کرے تم اس بارے میں غورو خو ض کرو ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایاہے کہ اگر تمہارے پاس کو ئی آئے اور تم اس کے اخلاق اور دین کے بارے میں راضی ہو تو تم اس کی شادی کردو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں عظیم فتنہ و فساد بر پا ہو جائے گا۔
میرے والد نے اس طرح مجھے غو رفکر میں ڈالدیا اور اور معا شرہ کے برے رسم و رواج اور ان کی تقلید پر نقد و جر ح کرنے لگا، کہ جو مختلف زبانوں میں برائیوں کو جنم دیتے ہیں اور ہمارے معا شرے میں ان کی جڑیں مضبو ط بن گئی ہیں۔
لہٰذا اسلام شادی میں کم خر چ اور مختصر زحمت اٹھا نے کی ہمیں تر غیب دیتا ہے ، لیکن معاشرے میں اس کی مخالفت ہوتی ہے ۔اسلام ہمیں کم مہر رکھنے کی دعوت دیتا ہے اور معاشرہ کا رسم رواج اس کے مخالف ہے اور اسلام کہتا ہے کہ شادی کرو او رفقر سے نہ ڈرو ۔اور ہم اس کے مخالف ہیں اسلام نے ایک اچھے اور مناسب شوہر کا معیار دین اور اخلاق قرار دیا ہے ،لیکن معاشرہ نے اس کا ایک دوسرا معیار بنا دیا کہ جس میں سب سے پہلے ثروت اور معاشرے میں اس کا جاہ و مقام ہے ۔
اور جب پا نچ بجنے کے قر یب ہو ئے تو میں اور میرے والد ہم دونوں اپنے پڑو سی ابو علی کے گھر جا نے اور جشن عقد میں شر کت کرنے کے لئے متو جہ ہوئے ۔ اب میں آپ سے جشن عقد نکاح کے بارے میں کچھ بیان کرتا ہوں ۔
مہمانوں کے استقبال کا ہال مبارک باد دینے والے مد عوین سے بھر ا ہو ا تھا۔ بہتر ین اور چمکتے لباس آنکھو ں میں خیر گی پیدا کررہے تھے ، بیٹھنے والوں کی آنکھوں سے مسر ت و خو شی کے آثار جھلک رہے تھے ، ہال کی رو شنی کی سفید شعا عیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں ، ہال بقعہ نور بنا ہوا تھا ۔ اسی دو ران سفید بنفشوی رنگ کے پھولوں کے گلد ستوں سے نکلنے والی عطر آگین خو شبونے پورے ہال کی فضا کو معطر بنا دیا۔
علی دو لہا بن کر ہال میں سب سے آگے آگے اندر کے بند دروازے کے پاس بیٹھے ہو ئے تھے اور ان کے پہلومیں سید مہیب الطلعہ تھے کہ جن کے چہرے سے نیکی ، خو بی ، اچھائی اور بزرگی و وقار کے آثار نمایاں تھے ۔ اس بڑے ہال کی چیخ و پکار ان کی ہیبت سے خا مو شی میں بد ل گئی ۔ اسی دو ران سید مہیب کی گرج دار آواز نے اس خا مو شی کو تو ڑا اور وہ اس بند دروازے کے پیچھے دلہن سے ہم کلام ہو ئے ۔قرآن مجید کی چند آیات کریمہ اور احا دیث شریفہ پڑھنے کے بعد فرمایا ، فاطمہ کیا تم راضی ہو کہ میں تمہارا و کیل بن کر تمہارا عقد علی بن محمد کے سا تھ پا نچ سو درہم نقد پر پڑھ دوں ؟ اگر تم اس پر راضی ہو تو کہو کہ تم میرے وکیل ہو ۔ دلہن نے آہستہ آواز میں جواب دیا ۔ شرم و حیا کی بنا پر کسی نے اس کی آواز کو (تم میرے وکیل ہو )کہتے ہوئے نہ سنا اور جیسے ہی دلہن نے کہا ”آپ میرے وکیل ہیں “ویسے ہی شر بت کے گلاس کے ٹکرانے کی آواز ایسے سنائی دینے لگی جیسے مسلسل گھنٹی بج رہی ہو۔جس کی بنا پر کچھ ٹکرا کر اور کچھ گرکر پھوٹنے لگے اور لو گوں کے چہرے پر مسکر ا ہٹ ظاہر ہو گئی اور سید بزرگوار علی کی طرف منہ کرکے فرما نے لگے ۔
”زو جتک مو کلتی فا طمة بنت احمد علی مهر قدره خمسمائة ،درهم نقدا“
”میں اپنی مو کلہ فا طمہ بنت احمد کا عقد پانسودرہم نقد حق مہر کے عوض سے کیا ہے ۔ پس دو لہا نے بلا فا صلہ اس کا جواب دیا۔
”قبلت التزویج “ میں نے اس عقد کو قبول کیا۔
سوال : اے ابا جان یہ اتنا کم حق مہر کیوں ہے ؟
جواب: یہ حق مہر سنت ہے اور جو نبی کی امت کی مو من عو رتیں ہو تی ہیں ان کاحق مہر ہی سنت نبوی کے مطابق ۵۰۰ درہم چا ندی کے برابر ہو تا ہے اور یہ بہت معمو لی ہے جیسا کہ تم کو معلوم ہے ۔
سوال : کیا فا طمہ دلہن کو حق ہے کہ وہ اپنا عقد خود بغیر عقد خواں کے پڑھ سکے؟
جواب : ہاں شو ہر و زو جہ دو نوں کو حق ہے کہ بغیر کسی وا سطے کے وہ اپنا عقد خود پڑھ سکتے ہیں اور دو نوں میں سے ہر ایک کو یا دونوں کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو اپنی نیابت میں وکیل بنائیں تا کہ وہ عقد جاری کرے اور ایجاب و قبول کی مطابقت کو تر جیح دے۔
سوال : کیسے (یہ تر جیح دے)؟
جواب : مثلاً جب زوجہ کہے ”زو جتک نفسی “تو اس کے بعد فو راً شو ہر کہے” قبلت التزو یج “اور ” قبلت النکاح“نہ کہے۔ یہ اس وقت ہے جب عقد دائمی ہو ۔
سوال : کیا عقد دائمی غیر دائمی بھی ہو تا ہے ؟
جواب : ہاں عقد غیر دائمی بھی ہو تا ہے کہ جس میں مدت اور حق مہر دو نوں معین ہوتے ہیں ۔ مثلاً ایک دن ، ایک مہینہ ، ایک سال یا اسی طرح اور دن بھی معین کرسکتے ہیں ۔ اس حد تک معین کرسکتے ہیں کہ عادۃً عام طور پر ان میں کسی کی عمر سے مدت زیادہ نہ ہو اور مرد و عورت دو نوں کو اسی طرح مکمل اختیار ہے کہ جس طرح عقد دائمی میں ہے کہ وہ دو نوں اپنا عقد خود پڑھ سکتے ہیں یا کسی کو عقد جاری کرنے پر نائب بھی بنا سکتے ہیں ۔
پس اگر ممکن ہو دو نوں اپنا عقد خود پڑھیں تو پہلے عورت مرد سے کہے مثلاً
”زو جتک نفسی مدة سنة بمأة دینا“ مرد فوراً کہے”قبلت التزویج“تو عقد صحیح ہے
سوال : اور جب یہ عقد تمام ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟
جواب: اس کے تمام ہو نے کے بعد عورت بیوی بن جا تی ہے اور اپنے شوہر پر حلال ہو جا تی ہے ،اتنی مدت تک کہ جتنی مدت کا ذکر عقد میں ہوا ہے، اس کے علاوہ دو نوں کے درمیان میراث تقسیم نہ ہو گی ، شو ہر پر اس کا نفقہ واجب نہیں ہوگا اور نہ اس کا رات گزار نا اس کے پاس واجب ہو گا ،پس جب مدت تمام ہو جائے گی تو وہ عورت اپنے شوہر پر حرام ہو جائے گی جب کہ عقد دائمی میں عورت تا حیات اپنے شوہر پر حلال رہتی ہے اگر اس کو طلاق نہ دے ، عقد کے لئے کچھ شرائط ہیں۔
سوال : وہ کیا ہیں؟
جواب: والد صاحب نے فرمایا کہ وہ یہ ہیں۔
( ۱) عقد میں ایجاب اور قبول دو نوں الفاظ کی صورت میں ہوں ،صرف زو جین کا شادی پر راضی اور متفق ہو نا کا فی نہیں ہے چا ہے عقد دائمی ہو یا غیر دائمی اسی طرح تحریر لکھ دینا بھی کا فی نہیں ہے ۔اور صیغہ عقد کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔
( ۲) صیغہ کے اجراء میں قصد انشاء کا ہو نا ضروری ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ مرد و عورت یا ان کے و کیل نکاح کا قصد کریں ۔اس طرح زوجہ کہے ”زو جتک نفسی“اور قصدکرے کہ وہ اس کی زو جیت کو قبول کررہی ہے اسی طرح دونوں کے وکیل قصد کریں۔
( ۳) عورت و مرد حقیقت میں رضا مند ہو ں اور اس میں اہم امر یہ ہے کہ مرد اور عورت کی شادی پر قلبی رضا یت ہو۔
سوال : کبھی عورت راضی ہو تی ہے لیکن حیاء اور شرم کی بنا پر وہ بظاہر راضی نہیں ہو تی ؟
جواب جب کہ اس کی واقعی رضا یت ضروری ہے تو کا فی ہے اور اس کا ظاہر ی رضایت نہ دینا ضروری نہیں ہے ۔
( ۴) شو ہر اور زوجہ کا معین ہو نا اس طرح ضروری ہے کہ وہ دو نوں نام یا صفت یا اشارے کے ذریعے معلوم اور مشخص ہوں یااگر کوئی مردیہ کہے ”زو جتک احدی بناتی “یعنی میں نے اپنی لڑکیوں میں سے کسی ایک کے ہمراہ تیرا عقد کیا ہے اور لڑکی کو معین نہ کرے تو یہ عقد صحیح نہیں ہے ۔
( ۵) حتی الا مکان عقد عربی میں پڑھے ۔
سوال : اور اگر عر بی میں ممکن نہ ہو ؟
جواب: دو سری زبانوں میں عقد جاری کر سکتا ہے اور جہا ں تک ممکن ہو ا یسے الفاظ استعمال کرے جو عر بی الفاظ سے ملتے جلتے ہوں ورنہ کسی ایسے شخص کو و کیل بنائیں کہ جو عربی زبان میں صیغہ جاری کر سکے۔
( ۶) عقد پڑھنے والا با لغ و عا قل ہو۔
میرے والد نے فرمایا!جب یہ تمام شرائط پوری ہو جائیں تو اس وقت عقد صحیح ہو جا تا ہے اور عقد کے بعد زو جہ شو ہر پر مبا شرت کے لئے حلال ہو جا تی ہے۔
سوال : کیا رخصتی سے پہلے بھی مباشرت حلال ہے ؟
جواب: ہاں !عقد کے ذریعہ زو جہ شوہر پر حلال ہو تی ہے ۔ لیکن اس سے پہلے تمہارے لئے جا ننا ضروری ہے کہ با لغ رشید ہ اور با کر ہ عو رت کا عقد اس کے باپ یا دادا کی اجازت کے سا تھ صحیح ہے (اگر چہ وہ اپنی زند گی میں مستقل ہی کیوں نہ ہو)
سوال : جو با کر ہ نہیں ہے اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اس کو حق ہے کہ وہ اپنا عقد خو د کرے وہ اپنی زند گی میں مستقل طور پر دخل رکھتی ہے ۔
سوال : اگر کسی مرد نے کسی عورت سے اس بنا پر عقد کیا کہ وہ باکرہ ہے لیکن شادی کے بعد معلوم ہوا کہ وہ با کرہ نہیں ہے ؟
جواب تو وہ مرد عقد فسخ کرسکتا ہے ۔
سوال : اگر وہ عقد فسخ نہ کرے ،تو کیا کیا جائے گا؟
جواب: ایسی صورت میں اس کا حق مہر اتنا کم کردیا جائے گا کہ جتنا باکر ہ اور غیر باکرہ میں نسبت کم ہوتی ہے ۔
سوال : کیا مرد کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جس عورت سے چا ہے عقد کرے ؟
جواب: ہاں جو عو رتیں اس پر حرام ہیں ان کے علاوہ اسے یہ حق ہے کہ وہ جس عورت سے چا ہےعقد کرے ۔جن عورتوں سے عقد حرام ہے وہ مند جہ ذیل ہیں:
( ۱) اس کی ماں ۔ دادی اور نا نی ۔
( ۲) بیٹی اور اس کے بیٹے کی بیٹیاں ۔
( ۳) اس کی بہن اور بہن کی بیٹیاں اور آگے ان کی بیٹیاں۔
( ۴) اپنے بھائی کی بیٹیاں اور آگے ان کی بیٹیاں۔
( ۵) اس کی پھو پھیاں اور خالا ئیں ۔
( ۶) اپنی بیوی کی ماں (ساس ) اور بیوی کی دادی ،نا نی اگر چہ اس نے اپنی زو جہ سے ہم بستری بھی نہ کی ہو تو بھی یہ عو رتیں حرام ہو جا تی ہیں۔
( ۷) جس عورت سے ہم بستری کی ہو تو اس کی لڑکی ۔(دوسرے شوہر سے)
( ۸) اپنے باپ کی زو جہ اور اس کی دادی ،نا نی۔
( ۹) اپنے لڑکے کی بیوی اور اس کے بچوں کے بچے
( ۱۰) اپنی زو جہ کی بہن جب تک اس کی بہن اس کے عقد میں ہے کیو نکہ دو نوں بہنوں کا سا تھ جمع کرنا جائز نہیں ہے ۔
سوال : اگر کسی کی بیوی مر جائے تو کیا وہ بیوی کی بہن کے سا تھ عقد کر سکتا ہے ؟
جواب: ہاں۔ اس کو اس کا حق ہے ۔دو دھ پلا نے والی عورت اور اس کی لڑکیاں چا ہے اس سے پیدا ہو ئی ہوں یا اس نے ان کو دو دھ پلایا ہو پس جس طرح عو رتیں نسبت کے ذر یعے حرام ہو تی ہیں اسی طرح رضاعت (دو دھ پلائی)کے ذریعہ حرام ہو تی ہیں۔
اور دودھ پینے والے بچے کے باپ کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ان لڑ کیوں سے شادی کرے جو اس عورت سے پیدا ہو ئی ہیں اور نہ اس مرد کی لڑکیوں سے شادی کر سکتا ہے کہ جس کا اس کے بچے نے دو دھ پیا ہے اور نہ اس کی نسبتی لڑکیوں سے اور نہ رضاعی ”دودھ پینے والی لڑکیوں سے “البتہ یہ جا ننا ضروری ہے کہ ہر دودھ پلانا حر مت پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کی کچھ شرائط ہیں ۔ان شرائط کے سا تھ اگر دو دھ پلایا جائے تو وہ اثرانداز ہو تا ہے اور وہ شر طیں یہ ہیں:
الف دو دھ کو پستان سے براہ راست پلایا جائے ۔پس اگر عورت کا دودھ مصنو عی چیزوں کے ذر یعے پلایا جائے تو اس کا کو ئی اثر نہیں ہو گا ۔
ب بچہ کی عمر دو سال سے زیادہ نہ ہو اگر دو سال کے بعد دود ھ پئے تو اس کا کو ئی اثر نہیں ہو گا۔
ج دودھ اس حد تک پئے کہ ”بچہ کی ہڈی اس سے مضبو ط اور اس کے بدن میں گو شت پیدا ہو جائے اور اگر شک ہو جائے کہ دودھ نے اپنا یہ اثر پیدا کیا یا نہیں ۔ تو ایسی صورت میں ایک رات دن یا پندرہ مرتبہ دودھ پلانا کافی ہے ۔
لیکن اگر ان دو صورتوں یعنی زمانی اور کمی پندرہ مرتبہ میں گو شت کے پیدا ہو نے اور ہڈی کے مضبو ط ہو نے میں دو دھ کا اثر نہ ہو نے کا یقین ہو تو ایسی صورت میں احتیاط کی جائے اور اس زمانی صورت یعنی۔ رات اور دن میں بچہ جس عورت کا دودھ پی رہا ہووہی اس کی اس مدت میں غذا ہو اس اعتبار سے کہ جب بچہ کو دودھ کی ضرورت ہو تو وہ دودھ پلائے اگر اس مدت میں دودھ نہیں دیا یا دوسری غذا کھلائی یا کسی اور عورت نے اس کودودھ پلا دیا تو پھر یہ دودھ کا پلانا اثر نہیں کرے گا اور اس دودھ پلانے میں یہ بات معتبر ہے کہ جب بچہ پہلی دفعہ دودھ پئے تو خو ب بھو کا ہو تا کہ وہ اچھی طرح دودھ پئے اور آخر تک دودھ خوب سیر ہو کر پئے اور کمیت کی صورت میں یعنی پندر ہ بار دودھ پلائی میں معتبر ہے کہ یہ دودھ پلائی پندر ہ بار پے در پے ہو ،اس طرح کہ اس دودھ پلانے کے دوران میں کوئی دوسری عورت بچہ کو دودھ نہ پلائے اور جب بچہ بھو کا ہو تو خوب سیر ہو کر دودھ پئے اور بھی رضا عت (دودھ پلائی )کے مخصوص احکام ہیں کہ جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مو جود ہے اگر چا ہو تو ان کتابوں کی طرف رجو ع کر سکتے ہو۔
سوال : اگر کوئی مرد شر یعت مقد سہ کے مقرر قانون کے مطابق شادی کرے تو؟
جواب: اس کی زوجہ اس پر حلال ہے جیسا کہ میں نے تم سے پہلے بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ اس عورت پرواجب ہے جب اس شوہر چا ہے اس کو اپنے نفس پر اختیار دیدے اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی عذر شر عی کے بغیر اپنے شوہر کو مباشرت سے منع کرے ۔اس طرح دائمی زوجہ پر شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا حرام ہے اور دوسری طرف شوہر پر دائمی زو جہ کے لئے غذا ،لباس ،گھر اور اس کی شان کے مطابق زند گی کی دوسری ضروریات کو فراہم کرنا واجب ہے ۔ اسی طرح شوہر پر ہر چار مہینہ میں ایک بار اپنی زو جہ سے مباشرت لازمی ہے ۔ البتہ زو جہ کی رضا و رغبت سے تر ک کر سکتا ہے یا شوہر کے لئے عذر شر عی پیش آجائے جیسے ضرر اور حرج ۔
سوال : اگر شوہر زو جہ کا نان و نفقہ ادا نہ کرے جس کی وہ مستحق ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب زوجہ کا نفقہ شوہر کے ذمہ قرض رہے گا اگر شوہر نفقہ دینے سے منع کرے اور زو جہ اس کا مطالبہ بھی کرتی ہو تو پھر اس کے لئے جائز ہے کہ وہ شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اپنا حق و صول کرے۔
اس سلسلہ میں گفتگو ختم ہو تی ہے اب میں بعض دو سرے احکام تم سے الگ الگ صورتوں میں بیان کرتا ہوں!
( ۱) کسی مرد کا عورت کی طرف جنسی لذت حاصل کرنے کے لئے دیکھنا یا چھو نا حرام ہے ، کسی چھوٹی بچی کی طرف بھی اس طرح دیکھنا اور اسے چھونا حرام ہے ، یہاں تک کہ چھو ٹے بچے کے ساتھ بھی ایسا کرنا حرام ہے ۔ صرف میاں بیوی اس سے مستثنیٰ ہیں۔اور اسی طرح مرد کا مرد سے حتی کہ کسی چھوٹی بچی سے جنسی لذت حاصل کرنا حرام ہے ۔
( ۲) کسی کی شرمگاہ پر نگاہ کرناحرام ہے چا ہے مرد ہو یا عورت اور چا ہے نگاہ کرنے والا بچہ ممیز ہو، سوائے شوہر اور بیوی کے ۔
( ۳) کسی مرد کا نا محرم عورت کے بدن پر اور اس کے بالوں پر نظر کرنا حرام ہے سوائے چہرہ اور دو نوں ہاتھوں اور پاؤں کے ان اعضا ء پر اس کا دیکھنا بغیر جنسی لذت کے جائز ہے ۔اسی طرح نا محرم مرد کے بدن پر کسی عورت کا نگاہ کرنا حرام ہے سوائے اس حصہ کے جس کا عام طور پر چھپانا لازم نہیں ہے۔ جیسے سر ، دونوں ہاتھ ،اور پاؤں اور ان کی طرف عورت کا نگاہ کرنا بغیر جنسی لذت کے جائز ہے۔
( ۴) مرد کا مردوں کی طرف بغیر جنسی لذت کے نگاہ کرنا جائز ہے اور عورت کا عورتوں کی طرف بغیر جنسی لذت کے نگاہ کر نا جائز ہے ۔اسی طرح مرد کا اپنی محرم عورتوں کی طرف بغیر جنسی لذت کے نگاہ کرنا جائز ہے اور عورت کا اپنے محرم مرد وں کی طرف بغیر جنسی لذت کے نگاہ کرنا جائز ہے ۔ مذ کورہ تمام جگہوں میں شرمگاہ مستثنیٰ ہے یعنی کسی کی بھی شرم گاہ پر نگاہ کرنا جائز نہیں ہے ۔
اور اسی بنا پر مرد کے لئے بغیر جنسی لذت کے اپنی والدہ ، بہن ، پھوپھی ،خالہ ، بھائی کی لڑکی اور اپنی دادی ، نا نی کی طرف نگاہ کرنا جائز ہے۔
سوال: کیا اپنے بھائی بھائی کی بیوی ، پھوپھی کی لڑکی ، خا لہ کی لڑکی اور چچا کی لڑکی کی طرف نگاہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب: نہیں ، ان کی طرف نگاہ کرنا جائز نہیں ہے کیو نکہ یہ عورتیں اس کی نا محرم ہیں۔
( ۵) عورت پر اپنے بدن اور بالوں کا چھپانا ہر اس نا محرم مرد سے واجب ہے کہ جس کا اس کی طرف نگاہ کرنا حرام ہے بلکہ عورت اس ممیز بچہ سے بھی اپنے بالوں اور جسم کو چھپائے کہ جس کی شہوت ابھر نے کا امکان ہو اور اس حکم سے چہرہ ، دونوں ہاتھ اور پیر مستثنیٰ ہیں۔
پس عورت نا محرم مردوں کے سا منے ان اعضا ء کو ظاہر کرے اگر حرام میں پڑنے کا خوف نہ ہو اور ان کا ظا ہر کرنا نا محرم کی حرام نظر پڑنے کا باعث نہ ہو ورنہ ان دونوں صورتوں میں ان اعضاء کا ظاہر کر نا بھی حرام ہے ۔
( ۶) مرد کا فر عورتوں کی طرف بغیر جنسی لذت کے نگاہ کر سکتا ہے اور اسی طرح ان عورتوں کی طرف بھی دیکھ سکتا ہے جو اپنے جسم اور بالوں کو نا محرم لو گوں سے نہیں چھپا تیں جب کہ ان کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعہ رو کا جائے تو ان پر اس کا کو ئی اثر نہ ہو ۔
( ۷) جب مر د کسی عورت سے شادی کرنا چا ہے اور اس کو اپنا شریک حیات بنا نا چا ہے تو اس مرد کو اس عورت کے محاسن مثلاً چہرہ ، بال ،گردن ، ہاتھ اور پنڈلیاں اور دو سری پو شیدہ چیزیں دیکھنا شہوت کے بغیر جائز ہے ۔
سوال : کیا مرد عقد پڑھنے سے پہلے عورت کی طر ف دیکھ سکتا ہے ؟ اجراء عقد سے پہلے بھی ؟
جواب : ہاں عقد جاری کرنے سے پہلے مرداس کی طرف نظر کر سکتا ہے اور اس کے سا تھ بات چیت کر سکتا ہے ۔ بلکہ پہلے وہ اس کو اپنے سامنے بلاکر (چلا پھرا کر )خوب دیکھ لے تا کہ اس کی اچھائی و برائی معلوم ہو جائے اس کے بعد اس سے شادی طے کرے ۔
سوال : کیا کسی عورت کے جسم کو ڈاکٹر کا دیکھنا اور چھو نا جائز ہے ؟
جواب: اگر عورت کے لئے ڈاکٹر سے علاج کرنا لیڈی ڈاکٹر سے زیادہ آسان ہو تو ورنہ لیڈی ڈاکٹر سے علا ج کرائے اور ڈاکٹر سے علا ج کرانا جائز نہیں ہے ۔
سوال : کیا کو ئی مسلمان مرد کسی یہودی یا عیسائی عورت سے عقد موقتی (متعہ )کر سکتا ہے ؟ وہ عورت نہ تو مسلمہ ہے اور نہ مو منہ اور وہ عقد مو قتی (متعہ )کے جواز اور اس کی حلیت کا عقدہ بھی نہیں رکھتی ؟
جواب : اس کے باو جود اس سے متعہ کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اگر مسلمان مرد عقد مو قت (متعہ ) کے لئے مال بھی دے تو بھی جائز ہے ۔
( ۸) ایک مرد کے لئے چا رعورتوں سے زیادہ عقد دائمی کرنا جائز نہیں ہے اور اس کو طلاق دینے کا حق ہے کہ اپنی عورتوں میں سے جس کو چا ہے طلاق دیدے ۔
سوال : کیا اس منا سبت سے آپ طلا ق کے بارے میں مجھ سے کچھ بیان نہیں فرمائیں گے؟
جواب: انشا ء اللہ تعالیٰ بعد والی گفتگو میں اس کے بارے میں بیان کروں گا اب ہمارا وقت ختم ہو گیا میں نے عر ض کیا ۔ بہت بہتر پس آنے والی فصل میں ہماری گفتگو طلاق کے سلسلہ میں ہو گی ۔
طلا ق کے بارے میں گفتگو
میں پہلے یہ تصور کرتا ہوں کہ میں ہی صرف طلاق سے نفرت کرتا ہوں لیکن جب میں نے اپنے والد سے اس بارے میں گفتگو کی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ میں ہی صر ف طلاق سے نفرت نہیں کرتا، بلکہ میرے والد بھی میری طرح طلاق سے نفرت کرتے ہیں اور ہماری طرح بہت سے لو گ ہیں کہ جو طلاق سے کر اہت کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میرے والد نے مجھے بتا یا :
خدا وند تبارک و تعالیٰ طلاق کو دو ست نہیں رکھتا اور انہوں نے مزید حد یث شر یف کے چند نصوص مجھ سے نقل کئے میرے والد نے مجھے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت کے بارے میں بتایا جس میں امام علیہ السلام نے فرمایاہے :
”ما من شئی ابغض الی الله عزو جل من الطلاق “
”خدا و ند عالم کے نزدیک طلاق سے زیادہ کو ئی چیز بری نہیں ہے “اور میرے والد نے مجھ سے امام صادق علیہ السلام کی ایک اور روایت بیان کی :۔
”ما من شئی ابغض الی الله عزو جل من بیت یخرب فی الاسلام با لفر قة ، یعنی الطلا ق“
”اللہ کے نزدیک تفر قہ سب سے زیادہ بری چیز ہے کیو نکہ اس کے ذریعہ اسلام کا ایک گھر تباہ ہو جاتا ہے اور یہ تفر قہ طلاق ہی تو ہے “ ۔
مجھ سے اس روایت کو بیان کیا کہ حسن بن فضل نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس حد یث شر یف کو نقل کیا ہے :
”تزو جو او لا تطلقو ا، فان الطلا ق یهتز منه العرش“
”شادی کرو اور طلاق نہ دو ، کیو نکہ طلا ق عر ش کو ہلا دیتی ہے ۔“
حدیث شر یف میں بغض طلاق سے مراد وہ شخص ہے کہ جو کثرت کے ساتھ طلاق دیتا ہے ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ میں نے اپنے والد گرامی سے سنا کہ وہ فرماتے ہیں :
”خداوند عالم ہر طلاق دینے والے سے بغض رکھتا ہے ۔“
میں نے اپنے والد سے عر ض کیا کہ میں طلاق سے نفرت رکھتا ہوں لیکن اس کے باو جود میں اس کے کچھ احکام کو جا ننا چا ہتا ہوں ۔میرے والد صا حب نے فرمایا:ہاں ٹھیک ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے احکام طلاق کاآغاز کیا۔طلاق دینے والے کے لئے شر ط ہے کہ وہ بالغ ، عاقل اور با اختیار ہو۔ لہٰذا بچے، مجنون اور وہ شخص کہ جس کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے ان کا طلاق دینا صحیح نہیں ہے مگر اس میں احتیاط کو مد نظر رکھا جائے اور طلاق دینے والے کا مقصد صیغہ طلاق سے حقیقی جدائی ہو ۔لہٰذا مذاق اور نسیان اور طلاق کے معنی نہ سمجھنے کی صورت میں طلاق صحیح نہیں ہو گی۔
سوال : طلا ق کا صیغہ کیا ہے ؟
جواب : طلاق عر بی زبان میں اور مخصوص صیغہ کے ذریعہ واقع ہو تی ہے ، اور اسے جا ری کرنے والا عر بی پر قادر ہو ۔ اور دو عادل مر دوں کی موجودگی میں اسے جاری کرے مثلاً شوہر کہے ”زو جتی فا طمہ طالق“یا اپنی زو جہ کو مخاطب کرتے ہو ئے کہے”انت طالق“یا شوہر کا وکیل کہے ”زوجۃ موکلی فا طمہ طالق“اس طر ح شوہر اور زو جہ کے درمیان طلاق واقع ہو جائے گی۔
سوال : کیا صیغہ طلاق میں زو جہ کے نام کا ذکر واجب ہے ؟
جواب : نہیں اس کا نام لینا ضروری نہیں ہے ۔جب کہ وہ معروف و مشخص ، اور معین ہو اور اس کے علاوہ اس کی کوئی اور بیوی نہ ہو تو اس کے نام کا ذکر کرناواجب نہیں ہے۔
میرے والد صا حب نے فرمایا:۔جب تک عورت حیض و نفاس سے پاک نہ ہو،اس وقت تک اسے طلاق دینا صحیح نہیں ہے ۔مگر یہ کہ وہ مد خو لہ نہ ہو حا ملہ ہو یا بعض حالات میں جب کہ اس کا شوہر غا ئب ہو ۔ اسی طرح اس کی پا کی میں اس کو طلا ق دینا صحیح نہیں ہے کہ جس میں شو ہر نے اس کے ساتھ مجا معت کی ہو بلکہ شو ہر پر واجب ہے کہ وہ انتظار کرے یہاں تک کہ اس کو حیض آجائے اور وہ حیض سے پا ک ہو جائے پھر وہ جب حیض سے پاک ہو جائے تو اس کے بعد اس کو طلاق دیدے ۔
دو سری بات یہ ہے کہ متعہ میں عورت کو طلاق نہیں دی جائے گی بلکہ جو مدت دو نوں نے معین کی ہے اس کے ختم ہو تے ہی دو نوں میں جدائی ہو جائے گی یا شو ہر باقی مدت بخش دے گو یا مرد اپنی زو جہ سے مثلاً کہے ”و ھبتکِ المدة الباقیہ“با قی مدت میں نے تجھ کو بخش دی ۔
پس ان دو نوں کے در میان جو تعلق تھا وہ ختم ہو جائے گا اور مدت کے بخشنے میں شا ہدوں کا ہو نا معتبر نہیں ہے ۔ اور نہ اس میں حیض و نفاس سے پاک ہو نے کی شرط ہے ۔
میرے والد نے یہ کہتے ہو ئے مزید بتایا کہ جب مرد کسی ایسی عورت کو طلاق دیدے کہ جس نے نو سال پورے کر لئے ہوں اور اس کے ساتھ دخول کیا ہو اور ابھی وہ سن یا ئسہ کو نہ پہنچی ہو تو اس عورت پر عد ہ رکھنا واجب ہے اور عدہ کی ابتداء طلاق جاری ہو نے کی تاریخ سے ہو گی نہ کہ جس تا ریخ سے اسے طلاق کا علم ہوا ہے ۔ اور حا ملہ کی طلاق تین طہر ہیں اور جب طہر میں اس کو طلاق ہو ئی ہے تو طہر طلاق حیض کے درمیان کا فاصلہ ہے اوریہ طہر پہلا طہر سمجھا جائے گا چا ہے اس طہر کی مدت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو ۔
سوال : اس کے معنی یہ ہےہیں کہ تیسرے خون کے ظاہر ہو نے پر عدہ کی مدت ختم ہو جائے گی۔
جواب : ہاں ۔تیسرے خون کے ظاہر ہو جا نے کے بعد اس کی عدت ختم ہو جائے گی ۔
سوال : اور جو حا ملہ ہے اس کی عدت کتنے روز ہے ؟
جواب : اس کی عدت و ضع حمل تک ہے چا ہے یہ و ضع حمل کامل ہو یا سا قط ہو جائے ۔
سوال : اگر طلا ق کے بعد و ضع حمل ایک دن میں ہو جائے تو کیا اس ولادت کے سا تھ عدت کی مدت ختم ہو جا ئے گی۔؟
جواب : ہاں ۔ یہاں تک کہ ولا دت طلاق کے ایک دن بعد نہیں بلکہ ایک گھنٹے کے بعد ہی کیوں نہ ہو لیکن شر ط ہے کہ بچہ اس کے شوہر کا ہو کہ جس نے طلاق دی ہے مثلاً زنا کا نہ ہو۔
سوال : اور کیا جو عورت متعہ میں تھی اس کی عدت اس کے شوہر کی جدائی کے بعد ہے؟
جواب : اگر وہ بالغہ مد خو لہ ہو ، یائسہ اور حا ملہ نہ ہو تو اس کی عدت (دو حیض ہے )کا مل ہے جس کو حیض آتا ہو اور جس کو کسی مرض یا عذر کی بنا پر حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت پینتالیس ( ۴۵) روز ہے ۔
میرے والد نے مزید فرمایا کہ مرد کے ہاتھ میں طلاق ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں:
( ۱) با ئن ( ۲) رجعی
طلا ق بائن :
طلاق بائن وہ طلا ق ہے کہ جس کے بعد شوہر زو جہ سے رجو ع نہیں کر سکتا مگر یہ کہ وہ دو سرا عقد کرے جیسے کو ئی زو جہ کو اس کے دخو ل سے پہلے طلاق دے دے۔
طلا ق رجعی :
طلاق رجعی وہ ہے کہ جس میں شوہر زو جہ کی طرف رجو ع کرنے کا حق رکھتا ہے جب تک کہ وہ مطلقہ عو رت عدت میں ہو بغیر کسی نئے عقد کے اور بغیر کسی نئے مہر کے ۔
طلاق بائن کے اقسام میں ایک طلاق خلع ہے ۔کہ زو جہ کچھ اپنے شوہر کو دے کر اس کو طلاق دینے پر مجبور کرے اور اس پر الزام لگائے کہ وہ زو جیت کے حقوق کی رعایت نہیں کرتا اور اس سلسلے میں حدود خدا کا لحاظ نہیں رکھتا ۔ لیکن خود شو ہر زو جہ کو مجبور نہ کرے ، اور وہ یہ ہے کہ زو جہ کہے :”بذ لت لک مہری علی ان تخلعنی “”میں نے تجھ کو اپنا مہر بخش دیا تا کہ تو مجھے طلاق دے دے “ اس کے بعد شوہر عربی زبان میں صحیح طریقہ سے دو عادل گو اہوں کے سا منے کہے:”زو جتی فا طمہ “”خلعتہا علی ما بذلت“ یا کہے”فلا نه طالق علی کذا “
پس جب ایسا کہے گا تو طلاق خلع و اقع ہو جائے گی ۔
سوال : کیا زو جہ کا نام لینا وا جب ہے ؟
جواب : اگر معین ہو تو نام لینا واجب نہیں ہے ۔
سوال : کیا حق مہر کے علاوہ دو سرا کو ئی مال اپنے شوہر کو دینا جائز ہے تا کہ وہ اپنی زو جہ کو طلاق خلع دے دے؟
جواب : ہاں یہ جائز ہے ۔
سوال : کیا زوجہ اور شوہر ، دو نوں کسی کو اپنی جگہ طلاق خلع میں حق مہر بخشنے میں اپنا و کیل بنا سکتے ہیں ؟
جواب : ہاں دونوں کو یہ حق حاصل ہے ۔
سوال : کبھی شوہر غائب ہو جا تا ہے اور اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا اور نہ اس کی موت اورنہ حیات کا علم ہو تا ہے (تو اس صورت میں زوجہ کیا کرے)؟
جواب : زوجہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اس صورت میں حاکم شر ع کی طرف رجو ع کرے پس حا کم شر ع اسے چار سال تک تلاش کرنے کا حکم دے گا۔ اگر اس مدت میں پتہ نہ چلے اور نہ ہی شوہر کا کو ئی مال ہے کہ جس کو زو جہ پر خر چ کیا جا سکے اور نہ اس کے شوہر کا ولی اس کی زو جہ کو اپنے مال سے کچھ دیتا ہے تو حا کم شر ع اس کو طلاق دینے کا حکم دے دے گا ،اگر وہ انکار کرے اور اس پر اجبار ممکن نہ ہو ، اور نہ شو ہر کا کو ئی ولی ہو تو پھر جیسے ہی عورت حا کم شر ع سے استدعا کرے گی تو حاکم شر ع اس کی استد عا پر اس کو طلاق دے گا ۔
سوال : اگر شو ہر عمر قید میں ہو اور وہ زو جہ کا خر چ دینے پر بھی قادر نہ ہو اور طلاق دینے کو بھی منع کرتا ہو تو کیا حکم ہے ؟
جواب : زو جہ کو اس صورت میں حا کم شر ع کی طر ف رجو ع کرنا چاہئے ۔ اس حالت میں شکایت کرنا حا کم شر ع سے جائز ہے اور حاکم شر ع اس کے شوہر کو طلاق دینے کا حکم دے گا اگر اس نے منع کیا اور اس کو مجبو ر بھی نہ کیا جا سکے تو پھر عورت کی در خواست پر حا کم شر ع اس کو طلاق دے گا۔
نذر و عہد اور قسم کے بارے میں گفتگو
نذروعہدو قسم پر گفتگو
میں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ رہاتھا تو میں نے راستہ میں ماں اور بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو کو اس طرح سنا:
ماں: میں نے اللہ تعالی سے نذر کی تھی کہ جب تمہارا چھوٹا بھا ئی اپنی بیماری سے صحت یاب ہوجائیگا تو میں ایک بکرا راہ خدا میں ذبح کروں گی اور الحمد للہ اب وہ شفا پا گیا ہے اور مجھ پر نذر کا ادا کرنا واجب ہو گیا ہے ۔
بیٹا ! اے مادر گرامی ! کیا میں آپ کو ہمیشہ یہ نہیں کہتا ہوں کہ آپ میرے چھوٹے بھائی کو مجھ سے زیادہ چا ہتی ہیں۔
ماں ! ایسی کو ئی بات نہیں ،کیا تمہارے بھائی کا مرض خطر ناک نہ تھا ، اس کی قوت سلب نہیں ہو گئی تھی ؟ کیا اس کی سننے اور دیکھنے کی قوت واپس نہیں پلٹی؟ کیا ڈا کٹر نے نہ کہا تھا کہ اگر عنایت خدا وندی شامل حال نہ ہو ئی تو اس کو شفا نہ ملتی کیا ایسا نہیں ہوا ؟ کیا تم اس کی حالت بھو ل گئے ہو ، کیا واجب نہیں ہے کہ میں اس کی شفا پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں اور اس کی نعمت پر شکر ادا کرتے ہو ئے اس کی راہ میں قربانی کروں ؟!؟
اور اس وقت تو میں نے تمہارے بھائی کے لئے خطرناک مر ض سے شفا پا نے کی امید میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نذر کی تھی ایسا نہیں ہے کہ میں اس کو تجھ سے زیادہ چا ہتی ہوں ، کیا ہم نے تمہاری ولادت کے ساتویں دن بعد تمہاری طرف سے ایک مو ٹے بکرے کا عقیقہ نہیں کیا؟ ایک مو ٹا تازہ بکرا۔۔۔۔کیا ہم نے تمہاری طرف سے قربانی نہ کی تھی ؟ عقیقہ قر بانی ۔۔۔؟
سوال : عقیقہ کیا ہے ؟ قربانی کیا ہے ؟
جواب : میرے والد صا حب نے فرمایا کہ اے میرے فر زند ! ولادت کے سا تویں روز مو لو د کی طرف سے چا ہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی بکرا یا گائے ذبح کی جاتی ہے ۔
امام جعفر صا دق علیہ السلام اس سلسلے میں ارشاد فرماتے ہیں :
”یسمی الصبی فی الیوم السا بع ویعق عنه و یحلق راسه و یتصد ق بزنةالشعر فضة و تر سل الر جل و الفخذ للقا بلة التی عاونت الا م فی وضع الحمل و یطعم الناس با لباقی منها و یتصد ق به “
”ولا دت کے سا تویں روز بچے کا نام رکھنا چا ہئے اور اس کا عقیقہ کرنا چا ہئے اور اس کے سر کے بالوں کو اتر وانا چا ہئے اور ان کے وزن کے برابر صد قہ دینا چا ہئے اور جا نور کا پیر اور اس کی ران دایہ کو دینا چا ہئے کہ جس نے ماں کی وضع حمل میں مدد کی ہے ،اور اس کا با قی گو شت لو گوں کو کھلاؤ اور اس کا صد قہ دو “اور باپ اور اس کے عیال خصو صاً بچہ کی ماں پر اپنے بچے کے عقیقہ کا گو شت کھا نا مکر وہ ہے ۔
عقیقہ سنت مو کدہ ہے ،ہر اس شخص پر جو اس کی قدرت رکھتا ہو۔امام محمد با قر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی و لادت کے دن ان کے کان میں اذان کہی اور سا تویں دن ان کا عقیقہ کیا ۔ اور وہ شخص کہ جس کے باپ نے اس کا عقیقہ نہیں کیا تو اس کے لئے جا ئزہے کہ وہ بڑا ہو نے کے بعد اپنا عقیقہ خود کرے ۔
عمر بن یزید نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ میں نہیں جا نتا کہ میرے والد نے میرا عقیقہ کیا ہے یا نہیں ؟
حضرت نے انھیں عقیقہ کرنے کا حکم دیاتو انھوں نے اپنا عقیقہ خود کیا، حالانکہ وہ بو ڑھے ہو چکے تھے ۔
سوال : یہ تو آپ نے عقیقہ کے متعلق بیان کیا آپ مہر بانی کرکے قر بانی کے بارے میں بھی ارشاد فر مائیں؟
جواب : میرے والد نے فرمایا کہ قربانی یہ ہے کہ انسان عید کے دن بکرے کو ذبح کر تا ہے اور قربانی سنت مو کدہ ہے اور زندہ یا مردہ دو نوں کی طرف سے یکساں طور پر قر بانی کرنا جا ئز ہے اور یہ قر بانی بچے کی طرف سے بھی کی جا سکتی ہے ، جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے اپنی عورتوں کی طرف سے قر بانی کی اور اپنے اہل بیت میں سے جس کی طرف سے قر بانی نہیں کی گئی تھی ان کی طرف سے قر بانی ادا کی ، اور اپنی امت میں سے جس نے قربانی نہیں کی اس کی طرف سے قر بانی ادا کی ، اسی طرح ہر سال امیر المو منین علیہ السلام نبی اکر م کی طر ف سے قر بانی کیا کرتے تھے ۔
سوال : کیا اس ماں پر اپنی نذر کو پورا کرنا وا جب ہے یا وہ عقیقہ اور قر بانی کی طرح وا جب نہیں ہے بلکہ سنت مو کدہ ہے؟
جواب : میں تمہیں پہلے نذر کے متعلق بتا تا ہوں کہ نذر کیا ہے ۔
نذر :
نذر یہ ہے کہ تم کسی معین چیز کے انجام دینے یا اس کے تر ک کرنے کو اللہ کے لئے اپنے اوپر لازم کر لو اور وہ چیز کو ئی بھی ہو ۔لیکن ہمیشہ نذر کا ادا کرنا واجب نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ شر ائط ہیںاگر وہ پائے جائیں تو پھر نذر کا پور ا کرنا واجب ہے ۔
سوال : وہ کون سی شرائط ہیں جو اگر پائے جائیں تو پھر نذر کا پور ا کرنا وا جب ہے ؟
جواب : وہ شر ائط در ج ذیل ہیں۔
( ۱) نذر کا صیغہ للہ کے قول پر مشتمل ہو (یعنی نذر کے صیغہ میں للہ کہنا ضروری ہے ) یا اللہ کے وہ مخصوص اسماء جو اس کے مشابہ ہیں ان پر مشتمل ہو ، اگر نذر کرنے والا یہ صیغہ کہے (للہ علی کذا )تو اس کی نذر منعقد ہو جائے گی مثلاً (اس جملہ کا مطلب )گو یا یہ ہوا :
(لله علی ان اذبح خرو فاً و اتصد ق بلحمه علی الفقراء ان شفی ولدی )
”پہلے جملے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لئے مجھ پر لا زم ہے کہ ایسا کروں ۔دو سرے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے مجھ پر لازم ہے کہ اگر میرے بچے کو شفا مل گئی تو میں ایک بکر ا ذبح کرکے اس کا گو شت فقراپر تقسیم کروں گا۔“یا یہ کہا جائے ”للہ علی ان ادع واتر ک التعر ض لجاری بسو ء“خدا کی طرف سے مجھ پر لازم ہے کہ میں پڑو سی کے ساتھ برا سلوک نہ کروں “چا ہے اس نذر کے صیغہ کو عربی میں یا کسی دوسری زبان میں ادا کرے برابر ہے ۔
سوال : اور اگر نذر کرنے والا”للہ علی“نہ کہے یا ”للر حمن علی “نہ کہے اور نہ اس کے مشابہ کہ کو ئی لفظ استعمال کرے جیسا کہ اکثر لو گ آج کل نذر میں کرتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : تو اس صورت میںاس پر نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے ۔
( ۲) جس چیز کی نذر کی گئی ہے اگر وہ عمل کے اعتبار سے شر عارجحان رکھتی ہو ۔
سوال : جس چیز کی نذر کی گئی ہے اگر وہ شر عا رجحان نہ رکھتی ہو بلکہ مکروہ یا نقصان دہ یا مبا ح ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : پہلی دو چیزوں (مکروہ اور نقصان دہ)میں نذر صحیح نہیں ہے ، لیکن مباح میں اگر نذر شرعاً رجحان رکھتی ہو مثال کے طور پر اگر نذر کرے کہ میں پانی پیوں گا اور اس کا مقصد عبادت کرنے کی خاطر قوت حاصل کرنا ہو تو نذر منعقد ہو گی ورنہ نہیں ۔
( ۳) نذر کرنے والا با لغ ،عاقل اور قصد و اختیار کے سا تھ نذر کرے،جس چیز کی نذر کی ہے اس میں وہ ممنو ع التصر ف نہ ہو ۔
( ۴) جس چیز کی نذر کرے اس پر قد رت یا استطا عت رکھتا ہو۔
سوال : اور اگر انسان جس چیز پر قادر یا مستطیع نہ ہو اس کی نذر کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اس کی نذر صحیح نہیں ہے ۔
سوال : اور جب انسان مذکو رہ شرائط کے مطا بق نذر کرے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟
جواب : تو اس نذر کو پورا کرنا اس پر وا جب ہے کہ جس کو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے چا ہے وہ نذر کسی کام کو اللہ کے لئے انجام دینے یا تر ک کرنے پر مشتمل ہو اس کا وقت معین ہو یا نہ ہو وہ چیز چا ہے نماز ہو یا روزہ،صد قہ ہو یا زیارت ، حج ہو یا کو ئی اور چیز ”قر بتہ الی اللہ “کسی چیز کا انجام دینا ہو یا تر ک کر نا ہو یا اس کے علاوہ کو ئی اور چیز ہو ۔
سوال : اور جب انسان عمداً نذر کو پورا نہ کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب : اس پر کفار ہ واجب ہے اور وہ کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام کو آزاد کرے یا دس مسکینوں کو کھا نا کھلا ئے یا ان کو کپڑا پہنا ئے ۔
سوال : اور اگر اپنی غربت کی بنا پر وہ معذور ہو تو ؟
جواب : تو وہ تین دن پے در پے روزے رکھے ۔
سوال : اگر کو ئی انسان نذر کر ے کہ مشا ہد مقد سہ میں سے کسی مشہد ،رو ضہ امام علیہ ا لسلام کے لئے اتنا مال دوں گا تو اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟
جواب : تو وہ مال کو اس رو ضہ کی عمارت ،یا اس کے فرش ، یااس کے ساز و سامان یا اس کے کسی اور فائدہ میں خرچ کرے اگر نذر کرنے والے نے مذکورہ چیزوں کے علاوہ کسی معین چیز کے متعلق نذر نہ کی ہو۔
سوال : اگر انسان نبی یا امام یا ان کی کسی اولاد کے لئے نذر کرے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب : یہ مال ان کے غریب زوار کو دے دے یا ان کے حرم شر یف یا اس کے مثل کسی دو سرے حرم میں خر چ کردے۔
سوال : جب انسان ظن قوی رکھتا ہو کہ اس نے کسی معین چیز کی نذر کی تھی تو کیا اس پر نذر کا پورا کرنا واجب ہے ۔
جواب : اگر اسے اطمینان ہو کہ اس نے نذر کی تھی تو اس پر نذر کا پور ا کرنا واجب ہے ورنہ اس کا پورا کرنا واجب نہیں ہے۔ میرے والد نے اس کے بعد مزید فر مایا: کبھی انسان خدا سے عہد کرتا ہے کہ میں یہ کام کروں گا یا کہتا ہے ”عا ہدت اللہ ان افعل “ خدا سے عہد کرتا ہوں کہ میں یہ کا م کروں گا یا کہتا ہے ”علی عہد اللہ انہ متی کان ۔۔۔۔فعلی۔۔۔۔“مجھ پر اللہ کا عہد ہے کہ جب یہ کام”’ تو مجھ پر “‘پس جب وہ یہ کہہ دے تو اس پر وہ عہد پورا کرنا واجب ہے جو اس نے کیا ہے۔
سوال : تو اس کے معنی یہ ہو ئے کہ عہد ، نذر کی مانند ہے جو معین صیغہ کے بغیر صحیح نہیں ہے ؟
جواب : ہاں عہد نذر کے ما نند ہے ، اور عہد اسی چیز میں صحیح ہو گا جو شر عی طور پر رجحان رکھتی ہو ، چا ہے اس کا رجحان دنیوی وذاتی ہی کیوں نہ ہو ، اور عہد میں وہی شرائط ہیں جو نذر میں بیان کئے جا چکے ہیں ۔
سوال : اور اگر انسان اس عہد کی خلاف ورزی کرے کہ جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو ؟
جواب : اس پر کفارہ واجب ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک غلام کو آزاد کرے ، یا سا ٹھ مسکینوں کو کھا نا کھلائے یا پے در پے ساٹھ روزے رکھے ۔
میرے والد نے اس کے بعد مزید فرمایا : اور قسم کا پورا کرنا بھی اسی طرح واجب ہے اگر کوئی عمداًاس کی مخا لفت کرے تو اس پر کفارہ واجب ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک غلام کوآزاد کرے یا دس مسکینوں کو پیٹ بھر کھا نا کھلا ئے یاتین دن مسلسل روزہ رکھے اور قسم یا یمین میں لفظ کا ہو نا شر ط ہے قسم اللہ تعا لیٰ کے متعلق ہو اور جس چیز کی قسم کھا رہا ہے اس کے پور ا کرنے پر وہ قدرت و استطاعت رکھتا ہو اور اس پر عمل کرنا بھی اس کے لئے ممکن ہو ، جس چیز کی قسم کھا رہا ہے وہ شر عی طور پر پر رجحان رکھتی ہو ، چا ہے وہ مصلحت ذاتی و شخصی ہی کیوں نہ ہو ، اور قسم کھا نے والا بالغ و عاقل ہو ، اور قصد و اختیار کے سا تھ قسم کھائے ۔
سوال : ذرا مجھے اس یمین یا قسم کی مثال دیجئے کہ جس کا پورا کرنا واجب ہے ؟
جواب : مثال کے طور پر جب انسان کہے ”واللہ لافعلن “خدا کی قسم میں اس کام کو ضرور انجام دوں گا یا یہ کہے :”باللہ لا فعلن“یا ”اقسم باللہ “یا ہے ” اقسم برب المصحف“ کہ یہ تمام جملے تقر یباً ہم معنی ہیں “یا اس کے علاہ اور بھی قسم کھا نے کی صورتیں ہیں
سوال : اور جب کوئی دوسرے انسا ن کو مخاطب کرتے ہو ئے ”واللہ لتفعلن“خدا کہ قسم تو ضرور ایسا کام کرے گا تو ؟
جواب : کسی دوسرے انسان سے متعلق قسم یا یمین منعقد نہیں ہو گی ، اور نہ ہی زمانہ ما ضی سے متعلق قسم منعقد ہو گی ، اور اسی و جہ سے قسم و یمین پر کو ئی اثر مرتب نہیں ہو گا ، اسی طرح اگر باپ بیٹے کو یا شو ہر بیوی کو قسم کھا نے سے منع کریں تو ان کی قسم صحیح نہیں ہو گی ۔ اور جب بیٹا بغیر باپ کی اجا زت کے اور زوجہ بغیر شوہر کی اجازت کے قسم کھا ئیں تو قسم یا یمین کے صحیح ہو نے کا دارو مدار باپ یا شو ہر کی اجازت پر منحصر ہے ۔
سوال : کبھی انسان سچائی پر حلف اٹھا تا یا قسم کھا تا ہے اور وہ در حقیقت سچا ہے یا کسی معین چیز پر حلف اٹھاتا ہے اور وہ حلف اٹھا نے میں سچا ہے تو ؟
جواب : سچی قسمیں کھا نا حرام نہیں ہے ، لیکن مکر وہ ہے ۔ البتہ جھو ٹی قسمیں کھا نا حرام ہے ۔ اور گنا ہان کبیرہ میں سے ہیں ۔ مگر یہ کہ کو ئی اہم ضرورت پیش آ جائے تو ۔
سوال : اور یہ کس طرح ہے ؟
جواب : جب انسان قسم حلف کے ذریعہ کسی ظالم سے اپنے آپ کو یا مو منین میں سے کسی کو نجات دلا ئے تو یہ قسم جائز ہے ۔ اور کبھی جھوٹی قسم واجب ہو جا تی ہے۔ جب کو ئی ظالم کسی مو من یا اس کی نا مو س یا کسی دوسرے مومن یااس کی نا مو س کو ڈرائے دھمکائے ہاں اگر یہاں ”تو ریہ “کر سکتا ہو تو اپنے کلام میں استعمال کرے ۔
سوال : ”اپنے کلام میں تو ریہ استعمال کرے “ اس کے کیامعنی ہیں؟
جواب : تو ریہ یہ ہے کہ متکلم ذو معنی کلام استعمال کرے اور اس کا ظاہر ی معنی مراد نہ لے اور اس پر کو ئی واضح قر ینہ بھی قائم نہ کرے ۔ مثلا کو ئی ظالم کسی مو من کے بارے میں پو چھے اور تم کو ڈر ہو کہ وہ اس کو ضرر پہنچائے گا تو تم اس کو یوں جواب دو ”میں نے اس کو نہیں دیکھا “ہاں ایک گھنٹہ پہلے میں نے اس کو دیکھا تھا ، اور تمہارا مقصد اس سے یہ ہو کہ ابھی چند منٹ پہلے اس کو نہیں دیکھا ۔
۸/۳/۸۴ کو صحٰیح پوری ہو گئ۔