آسان مسائل (حصہ چہارم)- جلد 4
گروہ بندی احکام فقہی اور توضیح المسائل
مصنف آیت اللہ العظميٰ سید علی سیستانی مدظلہ العالی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: آسان مسائل (حصہ چہارم) )

فتاوی: حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی سیستانی مدظلہ العالی

ترتیب: عبد الہادی محمد تقی الحکیم

ترجمہ: سید نیاز حیدر حسینی

تصحیح: ریاض حسین جعفری فاضل قم

ناشر: مؤسسہ امام علی،قم القدسہ، ایران

کمپوزنگ: ابو محمد حیدری


توجہ

وہ احکام شریعہ کہ جو دو بریکٹوں () کے درمیان بیان ھوۓ ھیں، ان سے مراد احتیاط ھے، آپ کو اختیار ھے کہ احتیاط واجب کی صورت میں اسی پر عمل کریں یا پھر اس مسئلہ میں کسی دوسرے مجتھد کی تقلید کریں، لیکن اس میں بھی اعلم کی مراعات ھونی چاہئے۔

دفترمرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی الحسینی سیستانی مدظلہ العالی

قم المقدسہ، اسلامی حمھوری ایران


مقدمہ

( رب اشر ح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدةمن لسانی یفقهوا قولی )

اے میرے رب ؛میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے کام کو آسان کردے، اور میری زبان کی گرہوں کوکھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکیں۔،،

الحمد لله رب العالمین والصلا ة والسلام علی سیدنا محمد وآله الطیبین الطاهرین

میں نے کوشش کی ھے کہ میری کتاب ،،الفتاوی المیسرہ،، کی روش سادہ، عام فہم، آسان، مکلفین ومولفین اور قارئین کے لئے جوروزمرہ اور عام بول چال کی زبان ھے، اس پرمبنی ہواور میں نے حتی الامکان کوشش کی ھے کہ فقہی پیچیدہ اور مشکل اصطلات کوآسان اسلوب میں بیان کروں۔ اس جدید اور عام فہم اسلوب سے پڑھنے والے کا شوق بتدریج بڑھےگا اور اس کا میلان اس کو اپنے احکام دینی پراحاطہ کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا۔

میں نے صرف ان اہم احکام کو اختیار کیا ھے جن کی مکلفین کوضرورت ھے۔۔اگر مکلفین اس سے زیادہ جانناچاہتے ہیں تو وہ اپنی وسعت کے مطابق فقہ اسلامی کی بڑی کتابوں اور دوسرے رسائل عملیہ کی طرف رجوع کریں۔

دوسری بات یہ ھے کہ پڑھنےوالے کے دل میں علم فقہ اورعلم خلاق کی قربت کا احیاء اور اس کے عمل اور روح عمل کے درمیان ربط پیدا کرنا ہے۔

اس کتاب کوتین حصوں پر تقسیم کیاگیا ھے ۔

پہلا حصہ

ہم نے پہلے حصے کو عبادت سے مخصوص کیا ھے اور پھر عبادت کو نمازسے مخصوص قرار دیا ہے کیونکہ نمازاسلام کا وہ اہم رکن ھے کہ جس کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےارشاد فرمایا ھے:

”الصلوة عمو د الد ین ان قبلت قبل ما سواها وان ردت ردما سواها “

نمازدین کا ستون ھے اگر نماز قول ہوگی تو تمام اعمال قبول ہوجائیں گے اور اگرنماز ردکردی گی تو تمام اعمال ردکردیے جایں گے،،

نماز تمام عبادات کا محور اور ان کا قلب ،اس لیے کہ

”لا صلوة الا بطهور“

”نمازطہارت کے بغیر نہیں ہو سکتی“

پس بحث کا پیکر چاہتا ہے کہ نمازتک پہنچنے کے لئے تقلید کی گفتگو کے بعد ان نجاسات کا بیان شروع کروں کہ جو طہارت کو ختم کردیتے ہیں۔ پھران مطہرات کاذکر کروں کہ جو طہارت بدن کا سبب بنتے ہیں۔اور ان سب کو بیان کرنےکے بعد نماز تک جا ‎‎ ؤں،کیوںکہ نمازتک پہنچنے کے لیے یہی مناسب ھے کہ نمازجیسی اہم عبادات بھی طہارات و پاکیزگی چاہتی ہیں جیسےروزہ وحج وغیرہ۔

حصہ دوم

میں نے دوسرے حصے کو معاملات سے مخصوص کیا ہے جیسے بیع وشراء [خرید وفروخت] وکالت، اجارہ اور شرکت وغیرہ۔

حصہ سوم

تیسرے حصہ کوانسان کےاحوال سے مخصوص کیا ھے۔جیسے نکاح،طلاق، نذرو عہداور قسم وغیرہ۔

اس کے فورابعد امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے بارے میں گفتگوکی ھے۔ بحث کا اختتام دو مختلف قسموں پر ختم ھوا ھے اور اس بیان کے مطابق موضوعات کو مندرجہ ذیل سلسلہ کے مطابق منظم کیا ھے =

تقلید سے متعلق گفتگو، نجاست کے متعلق گفتگو، طہارت سے متعق گفتگو، جنابت، حیض،نفاس، استحاضہ،میت،وضو، غسل، تیمم، جبیرہ، نماز،دوسری نمازیں، روزہ، حج، زکو ۃ،خمس، تجارت اور اس کے متعلقات، نکاح، طلاق، نذروعہد، وصیت، میراث،اور امربالمروف ونہی عن المنکر سےمتعلق الگ الگ گفتگو کی گی ھے۔

اس کتاب کا نسخہ نجف اشرف میں حضرت آیت اللہ العظمی' سید علی حسینی سیستانی مدظلہ العالی کے دفتر کی طرف سےخواہش مند حضرات کو اس تاکید کے ساتھہ دیا گیا ہے کہ یہ آ نحضرت کے فتوؤں کے مطابق ہے اور ان کے دفتر کی طرف سے اس نسخہ پر لازمی و ضروری اصلاح بھی ھوئی ہے تا کہ کتاب کا یہ نسخہ اس کے بعد آنحضرت کے فتوؤں کے مطابق کامل ھوجائے۔

امید ہے کہ اپنے مقصد و ہدف میں کا میاب ہو گیا ہوں اور میں ان لو گوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس کام میں میرے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ خصوصی طور پر میں ان رفقاء کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ جو نجف اشرف میں معظم کے دفتر میں بر سر پیکار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھ کو بروز قیامت ان لو گوں کے سا تھ محشور فرما ئے جن کے متعلق قرآن میں ہے :

”اوتی کتابہ بیمینہ فیقول ھا ؤ م اقروا کتا بیہ “جس کا نو شتہ اس کے دا ہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا لو آؤ میرے نو شتہ کو پڑھو اور میرا عمل خالص صرف اسی کے لئے قرار پائے( یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم )

”اس روز نہ مال کام آئے گا اور نہ اولا د کام آئے گی مگر جس کو اللہ قلب سلیم عنایت کردے“

( ربنا لا تو اخذ نا ان نسینا او خطا نا)

”پا لنے والے ہماری خطا و نسیان کی باز پرس نہ فرما“

( غفر انک ربنا و الیک المسیر)

”اے ہمارے رب تو بخشنے والا ہے اور تیری ہی طر ف باز گشت ہے “

والحمد لله رب العالمین

ترتیب عبدالہادی محمد تقی الحکیم ۔


وصیت کے بارے میں گفتگو

میرے والد بزرگوار نے وصیت کے جلسہ کو مندر جہ ذیل حدیث کی رو شنی میں شروع کیا:

جس میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

”الوصیةحق و قد اوصی رسول الله فینبغی للمسلم ان یو صی“

”وصیت حق ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم وصیت کی ہے پس مسلمان کے لئے سزاوار ہے کہ وہ وصیت کرے“۔

سوال: لیکن ابا جان بہت سے لوگ وصیت نہیں کرتے اور خیال کرتے ہیں کہ وصیت سے مراد یہ ہے کہ موت کا زمانہ قریب آچکا ہے پس وہ لوگ وصیت سے موت کا تصور کرتے ہیں؟

جواب: وصیت مستحب ہے حالانکہ اس کے بر خلاف تصور کیا جاتا ہے اور طول عمر کا باعث بنتی ہے پھر وصیت نہ کرنا مکروہ ہے اور اس کا نہ کرنا اچھا نہیں ہے اور تمام چیزوں کے با وجود موت برحق ہے کیا ایسا نہیں ہے؟ بیٹا !ہاں موت برحق ہے خدا وند عالم نے اپنی کتاب کریم میں ارشاد فر ما یا ہے ۔

( کل نفس ذائقةالموت)

” ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے “۔

اس آیہ کو میں نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے اور راستے میں واقع قبروں پر پڑھتا ہوں ۔موت برحق ہے اس سے ڈرنا اور خوف نہیں کھانا چاہیے ، والد صاحب اگر ایسا ہے تو پھر کیوں حقیقت سے فرار کیا جاتا ہے جو حتمی ہے ؟ کیا ہمارے لئے مناسب اورشائستہ نہیں ہے کہ ہم چاہیں حقیقت کو قبول کر نے والے ہوں یا اس پر کم عمل کرنے والے ہوں ہمیں ہر اس چیز کے لئے تیا ر رہنا چاہئے جو آنے والی ہے اور جس سے بچنے کا کوئی چا را کار نہیں اور نہ اس سے فرار ممکن ہے چاہے ہماری عمر طولانی ہو یا کم پس یوں وہ نصیحت و اعتبار کا محور بن جائے گی ۔

سوال: لیکن میں نہیں جانتا کہ انسان کو کس طرح وصیت کرنا چاہیے ؟

جواب: تم پر مستحب ہی کہ جب تم وصیت کرو تو اس کی ابتدا ء اس وصیت سے کرو جس کو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حضرت علی علیہ السلام اور مسلمین کو تعلیم کیا۔

سوال: اور وہ کیا ہے ؟

جواب: میرے والد صاحب اٹھے اور اپنی لائبریری کی طرف گئے اور جب واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی کہ جس کا نام الوسائل تھا انھوں نے اس میں سے اصل وصیت کو پڑھا جس کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت امام علی علیہ السلام اور مسلمانوں کو تعلیم فرمایاتھا جو وہ پڑھ رہے تھے میں اس کو لکھ رہا تھا کہ جو انھوں نے پڑھا اور میں آپ کے لئے نقل کر رہا ہوں۔

الّلهم فاطر السمٰوٰت والارض عالم الغیب والشهاده الر حمٰن الرحیم الّلهم انیّ اعهد الیک فی دارالدنیا انی ّ اشهد ان ّلااله الاّانت وحدک لا شریک لک وان ّالجنة حق و انّ النار حق و انّ البعث حق و الحساب حق والقدر والمیزان حق و ان الدین کما وصفت والاسلام کما شرعت وان القول کما حدثت وان القرآن کما وصفت وانک انت الله الحق المبین جزی الله محمد اخیر الجزاء وحیا محمدا وآل محمد بالسلام

اللهم یا عدتی عند کربتی وصاحبی عند شدتی ویا ولی نعمتی الهی واله آبائی لا تکلنی الی ٰ نفسی اقرب من الشر وابعد من الخیر فانس فی القبر وحشتی واجعل لی عهد ا یوم القاک منشورا

پھر انسان اپنی ضرورت کے مطابق وصیت کرے جو چاہے لکھے ۔

سوال: کس کے متعلق وصیت کی جاتی ہے ؟

جواب: اپنی اولاد کے متعلق وصیت کرے ، جو ابھی کم سن ہے ان کی حفاظت کے بارے میں وصیت کرے صلہ رحمی کے متعلق وصیت کرے ، اپنی امانت اور قرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں وصیت کرے نماز ، روزہ ، حج میں سے جو چیزیں قضاء ہوگئی ہوں ان کے سلسلہ میں وصیت کرے ۔

اگر اپنے اموال میں سے پہلے جوخمس اور زکوٰۃ نکالنا اس پر واجب تھا اور اس کو اس نے ادانہیں کیا تو ان کو اداکرنے کی وصیت کرے ۔

فقراء کو کھانا کھلانے کی وصیت کرے ، تا کہ اس کا ثواب اس کو پہنچے اپنے بعد اپنے لئے خاص اعمال بجا لانے کی وصیت کرے ۔ اپنی طرف سے صدقہ دینے کی وصیت کرے ، وصیت کرے ، وصیت کرے، وصیت کرے ،جوچاہے۔۔۔۔۔

میرے والد صاحب نے اس کے فورا بعد کہا کہ جو وصیت کرے اس کے لئے چند ایک شرائط ہیں بالغ ہو، عا قل ہو اور اختیار وتمیز رکھتا ہو ۔ پس سفیہ اور مجبور انسان کا اپنے مال میں وصیت کرنا صحیح نہیں ہے اسی طرح بچہ اپنے مال میں وصیت نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ بچہ دس سال کا ہو گیا ہو ، اور اس کی وصیت اپنے عزیز وں اور رشتہ داروں کے بارے میں خیرونیکی پر مشتمل ہو، اور جس شخص نے جان بو جھ کر اپنی موت سے پہلے زہر کھا لیاہو یا گہرا زخم لگا لیا ہو یا اسی طرح کا کوئی اور کام کیا ہو کہ جس بنا پر اس کی موت واقع ہو جائے تو اس صورت میں اس کا اپنے اموال میں وصیت کرنا صحیح نہیں ہے البتہ مال کے علاوہ دوسری چیز یں مثلااپنی تجہیز و تکفین کے متعلق وصیت کرنا صحیح ہے جو اس کی کم عمر او لاد کے شایان شان ہو۔

میرے والد نے مزید فرمایا:

جس شخص کو صاحب وصیت نے اپنی وصیت کے اجراء کے لئے معین کیا ہے اسی کووصی کہتے ہیں۔ اور وصی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ وصیت کے امور کو کسی دوسرے شخص کے حوالہ کر کے خود اس سے الگ ہو جائے اور اس کو وصیت کے اجراء پر مقرر کرلے ۔ ہاں وہ شخص کسی ایسے شخص کو کہ جس پر اس کو پو را بھروسہ ہو اسے وصیت کے امور کی انجام دہی کے لیے وکیل مقرر کرسکتا ہے جب کہ وصیت کر نے والے کی غرض یہ نہ ہو کہ خود وصی وصیت کے امر کو انجام دے ۔

سوال: کیا وصیت میں یہ شرط ہے کے وہ لکھی جائے ؟

جواب: ہر گز نہیں بلکہ انسان زبا نی بھی وصیت کرسکتا ہے ، یا ایسا اشارہ کرسکتا ہے کہ جو اسکی مراد کو سمجھادے اسی طرح ایسی تحریر ہو یا اس پر اس کے دستخط ہوں کہ جس سے اس کی موت کے بعد اس پر عمل کرنا ظاہر ہو تو کافی ہے ۔ یعنی وہ تحریر وصیت کے عنوا ن سے ہو ۔

سوال: کیا انسان اپنی وصیت کو صرف مرض کی ہی حالت میں لکھ سکتا ہے ؟

جواب: ہرگز ایسا نہیں ہے ۔ دونو ں حالتوں میں لکھ سکتا ہے بیماری کی حالت میں بھی اور صحت وسلامتی اور عافیت کی حالت میں بھی ۔

سوال: کیا انسان جس چیز کے بارے میں چاہے وصیت کرسکتاہے ؟

جواب: ہاں لیکن شرط یہ ہے کہ یہ وصیت گناہ اور معصیت کے متعلق نہ ہو ، جیسے کسی ظالم کی مدد کرنا وغیرہ ۔

سوال: اور کیا اموال یا دوسری با قی ماندہ چیزوں کےمتعلق جس طر ح وہ چاہے وصیت کرسکتاہے ؟

جواب: انسان کو حق ہے کہ وہ اپنے باقی ماندہ اموال اور اشیاء میں صرف ایک تہائی مال کے متعلق وصیت کر سکتا ہے یعنی اپنے مال کے صرف ایک تہا ئی حصہ میں وصیت جائز ہے۔

سوال: اور جب وصیت ایک تہائی مال سے زیادہ ہو تب کیا کرے ؟

جواب: ایک تہا ئی مال سے زیا دہ پر وصیت باطل ہے مگر یہ کہ ورثہ اگر اجازت دےدیں تو پھر اس وصیت پر عمل کیا جائے گا۔

سوال: اور جب وصیت پر عمل کرنا چاہیں تب کیا کریں ؟

جواب : جس چیز کو وصیت کرنے والے نے چھوڑا ہے پہلے اس میں سے اسکے مالی حقوق کو الگ کیا جائے گا کہ جو اس کے ذمہ ہیں مثلا اس کے مال سے اس کے قرض اور ضروری سامان کی قیمت کہ جس کو اس نے ادا نہیں کیا اور خمس یا زکوۃ یا رد مظالم وغیرہ جو اس کے ذمہ ہے اور واجب حج اصل مال سے اداکیا جائے گا چا ہے اس نے ان کے متعلق وصیت کی ہو یا نہ ۔ یہ اس وقت ہے جب کہ اس نے ان چیزوں کے ادا کرنے میں تہائی مال سے نکا لنے میں وصیت نہ کی ہو ، اور اگر وصیت کی ہو تو پھر تہائی مال سے ان کو ادا کیا جا ئے گا، پھر اس کے باقی تر کہ کے تین حصہ کئے جائیں گے اس میں سے ایک تہائی مال جس کے متعلق اس نے وصیت کی ہے ، اور دو تہائی مال اس کے ور ثہ کا ہو گا

سوال: جب وصیت کرنے والا کسی معین شخص کے لیے معین مبلغ یا گھر کی ملکیت یا گھر کا سامان دینے یا زمین کے ایک حصہ کو دینے کی وصیت کرتا ہے ، وہ اپنے دفن کی کسی خاص جگہ یا اپنی تجہیز و تکفین کی کسی خاص روشنی کےمطابق وصیت کرتا ہے یا اس کے علاوہ کسی اور مخصوص چیز کی ، اس صورت میں کیا حکم ہے ؟

جواب: اسے ان تمام چیزوں کی وصیت کرنے کا حق ہے ، جب کہ اس کے اموال کی نسبت ان کی وصیت تہا ئی مال سے تجاوزنہ کرے۔

سوال: کبھی وصی کے پاس وصیت کر نے وا لے کی چیز گم ہو جا تی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب: اگر اس میں افراط وتفریط نہ کی ہو، اور وصی نے اس کی حفاظت میں غفلت بھی نہ کی ہو ، تو جو چیز وصی کے ہاتھ سے تلف ہو گئی ہے وصی اس کا ذمہ دارنہیں ہے۔ میرے والد نے مزید فر مایا ، کہ جب تک انسان پر موت کے آ ثار طاری نہ ہوں اس وقت تک وصیت کر نا مستحب ہے۔ اور جب موت کے آ ثار اس پر طاری ہو جائیں تو پھر چند چیزیں اس پر واجب ہیں ؛۔

( ۱) اس کا وہ قرض کہ جس کے ادا کا وقت آ گیا ہے ، اور وہ اس کے ادا کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے تو اس کو ادا کردے ۔ لیکن جن قرضوں کے ادا کرنے کا وقت نہیں آیا ،یا آ گیا ہے۔ لیکن قرضدار وں نے اس سے مطالبہ نہیں کیا، یا ان کے مطالبہ کرنے پر وہ قدرت نہیں رکھتا تو پھر اس پر واجب ہے کہ ان کے متعلق وصیت کرے۔

( ۲) تمام امانتو ں کو ان کے مالکو ں کو واپس کردے یا امانت رکھنے والوں کو خبر دے دے کہ ان کی امانتیں اس کے پاس ہیں یا ان کے واپس کر نے کی وصیت کر دے۔

( ۳) ا گر خمس وزکواۃ یا رد مظالم اس کے ذمہ ہیں تو اگر ان کے ادا کرنے پر قادر ہے تو ادا کرے۔

( ۴) اگر نماز اور روزے میں سے کوئی چیز اس کے ذمہ ہے تو ان کے ادا کر نے کے بارے میں وصیت کر ے کہ اس کی طرف سے اس کے مال میں سے کسی کو اجارہ دیکر نماز اور روزہ ادا کر وائیں بلکہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو اور احتمال یہ ہو کہ کوئی شخص ثوابا-اس کی طرف سے اس کی قضا کر دے گا تو اس صورت میں بھی وصیت کرے۔

( ۵) اگر کسی کے پاس اس کا مال ہے تو اس کے ورثا کو خبر دے یا کسی ایسی جگہ مال ہے کہ جس کے متعلق کسی کو اس کے علاوہ خبر نہیں تو اس کے بارے میں بتا دے تاکہ اس کی وفات کے بعد ورثہ کا حق ضائع نہ ہو ۔

سوال: آپ نے اس گفتگو کے شروع میں بتایا کہ وصیت مستحب ہے پس اگر کوئی انسان وصیت نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟

جواب: تو (اس مرنے والے) کا حق اس تہائی مال میں سے ختم ہو جائے گا کہ جو اس نے چھوڑا ہے اس کا تر کہ خاص ضابطہ کے مطا بق ورثہ پر تقسیم کر دیا جائے گا ۔

سوال: اور وہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟

جواب: یہ آنے والی گفتگو میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔


وراثت کے متعلق گفتگو

میرے والد صاحب نے میراث کے با رے میں گفتگو کرتے ہو ئے فرما یا: ہم میراث کے باب میں اقرباء کی تقسیم تین طبقات پر کر سکتے ہیں

پہلا طبقہ :

ماں، باپ ، اولاد اور اولاد کی اولاداور اسی طرح جتنا نیچے سلسلہ چلا جائے اور اس کے علاوہ اگر صلبی بچہ موجود ہے تو پوتے اور نوا سے کو میراث نہیں ملے گی ۔

سوال: اباجان -؛ پوتا اور نوا سہ کون ہے؟

جواب: بیٹے کے فرزند کو پو تا اور بیٹی کے فر زند کو نواسہ کہتے ہیں؟

دوسرا طبقہ:

بھائی اور بہنیں ۔ ان کی عدم موجود گی میں ان کی اولاد، دادا، دادی، نانا ، نانی اور جتنا یہ سلسلہ اوپر چلا جائے اور جب بھائی کی اولاد ہو اور ان کی اولاد کی اولاد ہو تو پھر جو میت سے زیا دہ قریب ہے وہ میراث پائے گا ۔

سوال: مثلا بھائی کا فرزند مو جو د ہے تو کیا اس کے ہو تے ہوئے اس کے پوتے کو میراث نہیں ملے گی؟

جواب: نہیں۔

تیسرا طبقہ

چچا، مامو، پھوپھیاں اور خالائیں، اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو پھر ان کی اولاد میراث پائے گی ۔ اور ان میں سے جو سب سے زیادہ قریب ہو گا وہ میراث پائے گا ، اس طرح کہ چچا یا ماموں یا پھوپھی، یا خا لہ کی موجود گی میں ان کی اولاد میراث نہیں پائے گی، مگر ایک حالت میں کہ جو فقہ کی کتا بوں میں موجود ہے۔

سوال: آپ نے اقرباء کی تقسیم اس طرح طبقات کے ذریعہ کیوں کی ان کو اس طرح تقسیم نہیں کیا کہ جس طرح پہلی تقسیمات میں آپ نے چیزوں کی تقسیم اقسام کے ذریعہ کی۔

میرا مقصد یہ ہے کہ آپ نے کیوں اقرباء کی تقسیم طبقات کے ذریعہ کی اور یہ نہیں کہا کہ ان کی تین قسمیں ہیں:

جواب: تمہارا سوال بہت اچھا ہے میراث کے باب میں جب تک پہلے طبقے والافرد موجود ہے تب تک دوسرے طبقے والے کو میراث نہیں ملے گی ۔لہٰذا فقہا ، نے ان کو ایک طبقہ کے بعد دوسرے طبقہ میں بیان کیا ہے۔

سوال: اگر متوفی کے قر ابتدا ر ان تینوں طبقو ں میں سے کوئی نہ ہو جن کو آپ نے بیان کیا ہے تو کیا حکم ہے؟

جواب: تو ایسی صورت میں متوفی کے ماں، باپ کے چچا، مامو ں اور متوفی کے ماں باپ کی پھو پھیاں اور خالا ئیں اور ان کی اولاد میراث پائی گی ۔

سوال: اگر وہ بھی نہ ہو ں تو کیا حکم ہے ؟

جواب: مرنے والے کے دادا، دادی ،نانا، نانی،کے چچا، ماموں، پھو پھیوں ، اور خالاؤں کو میراث ملے گی اگر وہ بھی نہ ہوں تو ان کی اولاد کی اولاد کو ملے گی ۔یہ سلسلہ جتنا نیچے تک چلا جائے شرط یہ ہے کہ عرف عام میں میت کی قرابت صدق کرتی ہو اور یہ جانتے ہو ئے کہ ان میں جو سب سے زیادہ قریب ہے وہ اس پر مقدم ہے جو میت سے زیا دہ دور ہے۔

سوال: آپ نے مجھ سے شوہر اور زوجہ کے متعلق تو کوئی ذکر ہی نہیں کیا کہ ان مذ کورہ تین طبقوں میں سے کون سے طبقہ میں شمار کیا جائے گا ؟

جواب: دو نوں خاص ضابطہ کے تحت وارث ہیں ان دونوں کو ان طبقات سے خارج نہیں کیا جائیگا بلکہ وہ دونوں تمام طبقات میں شریک ہیں ۔

سوال: پہلے میں آپ سے طبقہ اول کی میراث کے بارے میں سوال کرتا ہوں پھر دوسرے اور تیسرے طبقے کے بارے میں پوچھوں گا۔

جواب: پو چھو،جو پو چھنا چاہو ؟

سوال: جب پہلے طبقے میں سوائے میت کی اولاد کے کوئی اور نہ ہو تو کیا تمام مال کے وہی وارث ہوں گے ۔؟

جواب: تمام مال کے وہی وارث ہوں گے۔

سوال: اگر ایک ہی بیٹا یا ایک ہی بیٹی ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: تمام مال کا وارث لڑکا یا لڑ کی ہو گی۔

سوال: لیکن اگر ان میں مرد اور عورت دو نوں موجود ہوں تو کیا حکم ہے؟

جواب: ”للذّ کرمثل حظّ الانثیین ،،۔

”مرد کے لیے عورتوں کا دو گنا حصہ ہے “۔

سوال: کیا لفظ ولد کا اطلاق لڑکے اور لڑکی دو نوں پر ایک ساتھ ہو تا ہے یا صرف لڑکے پر ہی ہو تا ہے جیسا کہ ہمارے یہاں مشہور ہے؟

جواب: ولد کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ خدا وندہ عالم نے قران مجید میں ارشاد فر ما یا :

( یو صیکم الله فی اولاد کم للذکر مثل حظ الانثیین ) ۔

اللہ تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کر تا ہے کہ مرد کا حصہ دوعورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔“

سوال: اگر ہم فرض کریں کہ متو فی نے ایک لڑکا اور ایک لڑکی چھوڑی ہے تو ان کے در میان کس طرح میراث تقسیم کی جائے گی؟

جواب: میت کے مال کے تین حصے کئے جائیں گے ان میں سے دو حصہ بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے گا۔

سوال: اور جب میت کے پہلے طبقہ میں والدین کے علاوہ اور کوئی نہ ہو اور ان میں سے ایک مرگیا ہو اور ایک زندہ ہو اور اس کا کوئی بھائی نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟

جواب: تو جوزندہ ہے وہ تمام مال کا وارث ہو گا ۔

سوال: ا گر میت کے ماں باپ دونوں زندہ ہو ں اور اس کا کوئی بھائی نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: باپ مال کا دو تہائی حصہ لے گا اور ماں باقی کا ایک تہائی حصہ لے گی ۔

سوال: اگر میت کے ماں باپ دو نو ں زندہ ہو ں اور میت کی ایک بیٹی ہو اور کوئی بھائی نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: مال کا ایک پانچوا ں حصہ باپ اور ایک پانچواں حصہ ما ں کو اور باقی کے پانچ تہائی حصے لڑکی کو دیئے جا یئں گے۔

سوال: اور اگر میت کے ماں باپ میں سے کوئی ایک لڑکیوںکے ساتھ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: مال کا چھٹا حصہ باپ کو یا ماں کو دیا جائے گا اور باقی مال اولاد کے درمیان : ” للذکر مثل حظ الانثیین “ کے مطابق تقسیم کر دیا جائے گا۔

سوال: اب ہم دوسرے طبقہ کی طرف چلتے ہیں آپ نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ بھائی دوسرے طبقہ میں ہیں؟

جواب: ہاں یہ صحیح ہے۔

سوال: جب کہ میت کا ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: بھائی اور بہن کو تمام مال ملے گا۔

سوال: اور جب میت کے متعدد پدری اور مادری بہن بھائی ہوں تو کیا کیا جائے گا؟

جواب: اگر سب کے سب بھائی ہوں یا سب کی سب بہنیں ہوں تو مال ان کے در میان برابر تقسیم ہوگا ۔ اور اگر کچھ بھائی اور کچھ بہنیں ہوں تو ”للذکر مثل حظ الا نثیین

کے مطابق عمل کیا جائے گا ، یعنی مرد کو عورت کا دو گنا ملے گا۔ یہ اس وقت ہے جب کہ تمام بھائی ، بہنیں پدری و مادری ہوں یا صرف پدری ہوں لیکن اگر تمام مادری تو ان کے درمیان مال برابر کا تقسیم ہوگا۔

سوال : خوب، چچااور پھوپھی تیسرے طبقہ میں ہیں کیا ایسا نہیں ہے؟

جواب: ہاں ایسا ہی ہے اور ماموں اور خالہ بھی تیسرے طبقہ میں ہیں۔

سوال: فرض کیجئے کہ متوفی کا کوئی نہیں ہے سوائے ایک چچا یا ایک پھو پھی کے تو کیا حکم ہے؟

جواب: تمام مال چچا یا پھو پھی کا ہے۔

سوال: اور جبکہ متعددپھو پھیاں ہوں تو؟

جواب: سب کے درمیان مساوی تقسیم ہو گا۔

سوال: جب میت کے ایک چچااور ایک پھوپھی یا اس سے زیا دہ ہوں اور اسی کے ساتھ ایک مامو یا ایک خالہ یا اس سے زیادہ ہوں تو ؟

جواب: مال کے تین حصہ کئے جایئں گے دو حصے چچا اور پھوپھی اور ایک حصہ ماموں اور خالہ کو دیا جائےگا۔

سوال: شوہر اور زوجہ کی میراث کا کیا حکم ہے ؟

جواب: میراث میں زوجہ کے لئے مخصوص حکم ہے شوہر کے کچھ تر کہ میں اس کی زوجہ اصلا وارث نہ ہو گی نہ اس چیز میں کہ جو شوہر نے چھوڑی ہے اورنہ اس کی قیمت میں جیسے ہر قسم کی زمین چاہے گھر کی ہو یا کھیتی وغیرہ کی پس شوہر کی زمین میں زوجہ کا کو ئی حصہ نہیں ہے ۔ نہ اصل زمین میں اور نہ اس کی قیمت میں ، اور کچھ اموال ایسے ہیں کہ خاند ان میں زوجہ کا کوئی حصہ نہیں ہے لیکن ان کی قیمت میں زوجہ کا حصہ ہے ۔ اور ایسا درختوں اور کھیتی اور دوسری ان چیزوں میں ہے جو غیر منقولہ ہیں ۔ ان چیزوں میں سے وہ اپنے حصے کی قیمت لے سکتی ہے ۔ اور وہ قیمت زوجہ کو ادا کر تے وقت بازار کی قیمت کے مطا بق ہو، جس کو ماہر ین نے طے کیا ہو اور تمام ورثہ کو زوجہ کی میراث کے حصہ میں حتی اس کی قیمت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کر نا جائز نہیں ہے۔

سوال: زمیں ، درخت ، کھیت اور گھر کے علاوہ جوشوہرکا چھوڑا ہوا ترکہ ہے ان میں زوجہ میراث پائے گی؟

جواب: ہاں دوسرے ورثہ کی طرح زوجہ بھی باقی چیزوں میں میراث پائے گی۔

سوال: اور کیا شوہر اپنی زوجہ سے میراث پائے گا ؟

جواب: ہاں وہ مال جو زوجہ نے چھوڑا ہے اگر وہ منقولہ ہے تو اس میں وہ میراث پائے گا اور جو غیر منقولہ ہے مثل زمین ، درخت ، گھروغیرہ کے اس میں وہ میراث نہیں پائے گا ۔

سوال: اگر زوجہ مرجائے اور اس کا شوہر زندہ ہو اور اس کی کوئی اولاد اس شوہر سے نہ ہو اور نہ اس کے علاوہ اور کسی سے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب: جو مال زوجہ نے چھوڑاہے اس کا آدھا حصہ شوہر کا ہے اور دوسرا حصہ باقی تمام ورثہ کا ہے۔

سوال : اگر زوجہ کا کوئی فرزند ہو تو؟

جواب: چوتھائی حصہ شوہر کو اور باقی تمام ورثہ کو ملے گا۔

سوال: اب اس کے بر عکس سوال کریں اور کہیں کہ اگر شوہر مرجائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور ا س کی زوجہ زندہ ہوتو وہ اپنے شوہر کی میر اث میں کتنا حصہ پائے گی؟

جواب: زوجہ کو چوتھائی حصہ اور باقی حصہ ورثہ کو ملے گا۔

سوال: اگر شوہر کا اس سے یا کسی دوسری زوجہ سے فرزند ہو تو پھر کیا حکم ہے؟

جواب: زوجہ کوآٹھواں حصہ اور باقی مال دوسرے ورثاء کو ملے گا ۔میرے والد نے فرمایا میراث کے دو سرے بھی فرائض ومسا ئل ہیں جن پر فقہ کی کتا بوں میں سیر حاصل بحث ہوئی ہے، جب تم کو ضرورت پڑے تو ان کی طرف رجوع کرو۔ اس کے اختتام میں تمہارے لئے بعض امور کی طرف اشارہ کر تا ہوں ۔

( ۱) بڑے بیٹے کو باپ کے مال میں سے قرآن، انگوٹھی ، تلوار اور کپڑے (چاہے انہیں اس نے استعمال کیا ہو یا نہ کیا ہو) بغیر تقسیم کے دیئے جائیں گے اور اگر کئی قرآن اور کئی تلوار یں اور انگوٹھیاں ہیں تو بڑا لڑکا دوسرے ورثہ سے مصالحت کر لے اور یہی حکم رحل ، بندوق خنجر و غیر ہ کے متعلق بھی ہے۔

( ۲) قاتل مقتول کی میراث نہیں پائے گا جبکہ قتل جان بوجھ کر اور ناحق کیا گیا ہو لیکن اگر قتل غلطی سے ہو تو پھر مقتول کا قا تل وارث ہوگا ۔

( ۳) مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔


وقف کے بارے میں گفتگو

میں نے اپنے وا لد محترم سے وقف کے بارے میں اس طرح گفتگو کی کہ میں نے ان سے عرض کیا :

میں نجف اشرف اور کربلا مقدسہ میں ائمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں کی زیارت کے لئے گیاتو میں نے جگہ جگہ ”وقف“کی لکھی ہوئی عبارت دیکھی ۔

دعاؤں کی کتابوں ،قرآ ن مجید،پنکھوں اور دوسری چیزوں پروقف کی عبارت جلی حروف میں لکھی ہوئی ہے

اور میں بعض دفعہ عمارتوں ، مساجد ، امام بارگاہوں ، چراغوں، پنکھوں ، اور دوسری چیزوں مثلاًپانی کے حوض اور شار ع عام پر وقف کی تحریر لکھی ہوئی دیکھتا ہوں۔

جی ہاں وقف شدہ املاک کے ضوابط، وقف کے مطابق رعایت کر نا ضروری ہوتا ہے جب واقف شرائط شرعیہ کے مطابق کسی چیز کو وقف کر دیتا ہے ، تو وہ اس کی ملکیت سے خارج ہو جاتی ہے وقف ایک ایسا مال ہوتا ہے جس کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کو بیچا جا سکتا ہے سوائے چند مخصوص احوال کے کہ جن کے موارد فقہ کی بڑی بڑی کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔میرے والد نے اس کی وضاحت فرماتے ہوئے مزید کہا: کبھی وقف ، موقوف علیہ کے لئے ہوتا ہے ۔ جب کوئی شخص اپنی ملکیت کو اپنی اولاد ، ہمسائیوں یا دوستوں وغیرہ کے لئے وقف کرے۔

اور کبھی واقف کسی شخص کو ملکیت کے لئے متعین کرتا ہے کہ وہ اس عمارت وغیرہ کی دیکھ بھال کرے گا، اس کو متولی کہتے ہیں ۔

سوال: کیا وقف کے لئے کوئی خاص صیغہ پڑھنا پڑھتا ہے؟

جواب: جی نہیں؛ بلکہ اس کے لئے کوئی خاص زبان بھی نہیں ہے۔ جیسے اگر کوئی بلڈنگ تعمیر کروائے جس طرح مسا جد تعمیر کروائی جاتی ہیں تو یہ مسجد ہونے کے لئے کافی ہے ۔ میرے والد نے فرمایا میں تمہارے لیے بعض ان چیزوں کوبیان کرتاہوں جو وقف میں معتبر ہیں:۔

( ۱) وقف میں استمرار اور دوام شرط ہے پس اگر واقف کسی معینہ مدت تک کے لئے وقف کرے تو وقف صیحح نہیں ہوگا۔

سوال: اس سلسلے میں میرے لئے ایک مثال بیان کیجئے ,

جواب: مثلا اگر انسان اپنے گھر کو فقراء پر ایک سال کے لئے وقف کرے تو یہ وقف صیحح نہیں ہے کیوںکہ یہ وقف مستقل اور دائمی نہیں ہے۔

( ۲) موقوف علیہ (یعنی جن لو گو ں کے لئے وقف کیا گیاہے) میں خود واقف نہ ہو اگر چہ وہ دوسروں کے ضمن میں ہی کیوں نہ ہو۔

سوال: مثلا؟

جواب: جب انسان کسی زمین کو اپنے لیے وقف کرے کہ اس میں اس کو مرنے کے بعد دفن کیا جائے تو یہ وقف صیحح نہیں ہے۔

سوال: جب انسان اپنے گھر کو وقف کرے معین اشخاص پر مثلاً یا اپنے اقرباء کے لئے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: ان لوگوں کے قبضہ کے بعد وقف صیحح ہے، کیونکہ اوقاف خاص موقوف علیہ کے یا ان کے وکیل یا ان کے ولی کے قبضہ کے بغیرصحیح نہیں ہے۔

سوال: کبھی وقف شدہ مال موقوف علیہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے؟

جواب: یہ چیز قبضہ میں کافی ہے کسی نئے قبضہ کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: اور اوقاف عام کوکون قبضہ میں لے گا؟

جواب: وقف عام کے صیحح ہو نے میں قبض کی شرط نہیں ہے۔

سوال: آپ نے فر مایا کہ وقف میں دوام واستمرارشرط ہے پس واقف کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مدت معینہ کے لیے وقف کرے اور جب اس کی مدت پو ری ہو جائے تو وہ اس کی ملک میں پلٹ جائے؟

جواب: ہاں اگر واقف کا ارادہ دائمی نہیں ہے تو وہ اپنی ملکیت کو معین مدت تک کے لیے دے سکتا ہے لیکن وقف نہیں کر سکتا ۔ وہ اپنی ملکیت کو مخصوص سمت اور مخصوص شخص کو مدت پو ری ہونے سے پہلے اس کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں ہے اور جب مدت پو ری ہو جائے گی تو ہر شئی اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ جائے گی۔

میرے والد نے یہ کہکر سر کو نیچے جھکادیا اور گہری سانس لی کہ جیسے انھیں حبس کا ذکر کر تے ہوئے کوئی غمگین چیز یاد آ گئی ہو میں نے ان کے غمگین افکار کے سلسلہ کو توڑتے ہوئے کہا کہ :۔

سوال: اس سلسلہ میں مجھے مثال دیکر سمجھایئے؟

جواب: مثال کے طور پر کسی گاڑی (بس، موٹر) کا مالک یہ کہے کہ میں اپنی گاڑی کو دس سال کیلئے حجاج بیت اللہ الحرام کو لانے،لے جا نے کے لئے دیتا ہوں جب مدت پو ری ہو جائے گی تو گاڑی اپنے مالک کی ملکیت میں پلٹ جائے گی۔

سوال: اگر فرض کیا جائے کہ یہ شخص اپنی اس مدت معینہ کے ختم ہو نے سے پہلے مر جائے تو کیا اس کی یہ گاڑی (موٹر ، بس) اس کے ورثہ کی طرف پلٹ جائے گی تا کہ وہ میراث کے مطابق آ پس میں اس کی تقسیم کرلیں؟

جواب: اگر اپنی اس چیز کو دے نے والا مر جائے اور اس کی یہ چیز معینہ مدت تک باقی رہے یہاں تک کہ اس کی مدت ختم ہوجائے تو وہ چیز اس کے ورثہ کی طرف پلٹ جائے گی پھر ان کو اس چیز میں تصرف کرنے کا حق ہے۔

سوال: کیا کسی انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی کسی ملکیت کو کسی معین شخص کے لئے اپنی مدت حیات تک دےدے؟

جواب: ہاں اس کو اس کا حق حاصل ہے اور اس کو اس چیز کی طرف رجوع کرنے کا حق نہیں ہے جب تک وہ زندہ ہے ، جب مرجائے تو پھر وہ چیز اس کے وارثوں کی طرف پلٹ جائے گی ۔

سوال: جب کوئی مالک کسی شخص سے کہے کہ میں نے اپنے اس گھر کو تیرے اور تیری اولاد کے رہنے کے لیے دیا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: جب تک وہ شخص اور اس کی اولاد اس گھر میں رہیں تب تک مالک کو گھرکی سکونت میں رجوع کر نے کاحق نہیں ہے پس جب وہ مرجائیں تووہ گھر اس کی یا اس کے وارثوں کی ملکیت میں پلٹ جائے گا۔

سوال: اور جب کسی سے کہا جائے کہ میں نے اپنے گھر کی سکونت تیری مدت حیات تک تجھے دےدی اور وہ گھر کا مالک اس سے پہلے مرجائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: مالک کے و رثہ کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس شخص کو اس گھر سے نکالیں۔پس جب وہ شخص مر جائے تو وہ گھر وارثوں کی طرف پلٹ جائے گا۔

سوال: کیا شوہر کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنے باغ کے تہائی حصہ کو اپنی زوجہ کو دے دے تا کہ وہ اس کی در آمد سے تا مدت حیات استفادہ کرے اور زوجہ کے مرنے کے بعد وہ شوہر کے ورثہ کی طرف پلٹ جائے؟

جواب: ہاں ایسا کر نا جائز ہے۔

سوال: کیا مسجد کے لئے وقف شدہ فرش کو، یا ولی عارضی طور پر شادی یا دوسری کسی مناسبت میں استعمال کر سکتا ہے؟

جواب: جب وقف مخصوص ہو تو پھر اس کو دوسری چیزوں میں استعمال کر نا جائز نہیں۔

سوال: کیا اس کو اجرت پر دینا جائز ہے؟

جواب: جائز نہیں ہے۔

سوال: وہ مسجد جووقف شدہ مال سے بے نیاز ہے اس کا مال کسی دوسری مسجد میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟

جواب: جب کہ و ہ مسجد اس مال سے بے نیاز ہو اور مستقبل قریب میں بھی اسے ضرورت نہ ہو اور ضرورت پڑنے تک اس مال کی حفاظت کر نا یا اس کو ذخیرہ کر نا آسان نہ ہو تو پھر اس مسجد کے ان تمام ضروریات پر وہ مال خرچ کیا جائے جو واقف کے مقصد کے قریب تر ہو یا دوسری مسجد کی مرمت میں خرچ کیا جائے گا۔


امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے متعلق گفتگو

میرے والد نے فر مایا: تم نے بہت سے احکام شرعیہ کو جان لیا ہے کہ جن کی تم کو ضرورت تھی اور بہت سی چیزوں کو جان لیا ہے ۔اب تم نے خدا وندعالم کے بعض احکام کو جان لیا ہے اور ان کے واجبات کی بھی حسب ضرورت تم پر وضاحت ہو گئی ہے اور ان کے بعض محرمات (حرام چیزوں) کو بھی یاد کر لیا ہے ۔اب میں تمہارے سامنے وہ چیز بیان کر تا ہوں کہ جس کو اس سے پہلے بیان نہیں کیا گیا۔

اس وقت تمہارے اوپر واجب ہے کہ تم ماضی کی تمام سختیوں کو یاد کرو۔ آج تم اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کرو ، اور اپنے دل کی گہرائی سے حزن و ملال اور حیرت کے ساتھ پر ور د گار کی بار گا ہ میں یوں عرض کرو “۔

الهی اعلم انک کلفتی ،ولکنی لا اعلم بما ذا کلفتنی“

”پالنے والے میں جانتا ہوں کہ تو نے مجھے مکلف بنا دیا ہے ۔ لیکن میں یہ نہیں جانتا ہوں کہ تو نے مجھے کس چیز کا مکلف بنایا ہے “۔ پا لنے والے؛مجھ پر ضروری ہے کہ میں جان لوں کہ تو نے کس چیز کو مجھ پر حلال کیا تا کہ میں اس کو انجام دوں ۔ اور کس چیز کو تو نے حرام قراردیا ہے، تا کہ میں اس سے پرہیز کروں۔

اس وقت تمہیں جان لینا چاہیے، تمہارے ہم عمر یا تم سے بڑے لوگ بہت زیادہ ہیں جو پڑھ رہے ہیں ، وہ مدت سے تمہارے ساتھ رہتے ہیں اور تمہاری تمام مشکلات ومصائب میں وہ تمہارے شا نہ بشانہ رہے ہیں۔ اورتم خدا کی بارگاہ میں عرض کرو ، کہ اے خدایا ! فقہ اسلامی کی کتابوں کے مطالب کو جیسا تو چاہتا ہے میرے اوپر روشن اور آ شکار بنا دے اور میری مدد فر ما،تا کہ میں ان کو تیری مرضی کے مطابق سمجھ سکوں ۔فعلا جن چیزوں کا سیکھنا ضروری تھا وہ تم سیکھ چکے، اور کچھ احکام فقہ کا تم نے ذخیرہ کر لیا ہے۔ اب تم کو قرآن مجید کے اس قول کے مطابق ان پر عمل کر نا چا ہئے۔

( ولتکن منکم امةیدعون الی الخیر یامرون بالمعروف وینهون عن المنکر و اولئک هم المفلحون)

”اور تم میں سے کچھ لوگ ہوں جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائیں اور اچھی باتوں کا حکم کریں اور بری باتوں سے روکیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“پس تم بھی لوگوں کو نیکی کی طرف دعوت دو اور انھیں اچھائی کا حکم دو اور برائی سے رو کو۔

سوال: والد صاحب میں کس چیز کا حکم کروں اور کس چیز سے منع کروں؟

جواب: جس نیکی اور اچھائی کو تم جانتے ہو اس کا حکم کرو اور جس کو تم برائی سمجھتے ہو اس سے روکو۔

سوال: لیکن ابا جان ؛ مجھے دو سرے لوگوں سے کیا مطلب جو شخص برائی کر رہا ہے میرا اس سے کیا تعلق ہے۔کہ میں اس کو ترک کر نے کا حکم دوں،میں کیوں لوگوں کے معاملات میں مدا خلت کروں ، اور ان کو نیکی اور اچھا ئی کا حکم کروں ، اور برائیوں سے روکوں، میں خود اچھا کام انجام دوں اور برائی سے ا پنے آپ کوروکوں کیا یہ کافی نہیں ہے؟

جواب: اے بیٹا ! آج کے بعد ایسی بات نہ کہنا اور دو بارہ اس کی تکرار نہ کرنا ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کچھ مراتب میں واجب کفائی ہیں اور اگر کسی نے بھی امر با لمعروف و نہی عن المنکر کے فرائض کو انجام نہ دیا مثلانہ میں نے، نہ تم نے اور نہ ہمارے علاوہ کسی اور نے ، تو ہم سب کے سب گناہ گار ہوں گے اور خدا وندعالم کے غضب اور اس کی ناراض گی کا باعث بنیں گے، اور اگر ہم میں سے کسی ایک نے بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو انجام دے دیا تو پھر تمام لوگوں سے اس کا وجوب ساقط ہو جائے گا کیا تم نے خدا کے اس قول میں غور نہیں کیا؟

( ولتکن منکم امةً یّدعون الی الخیرو یا مرون بالمعروف وینهون عن المنکر واولئک هم المفلحون)

” تم میں سے کچھ لوگ ہوں جو لوگو ں کو نیکی کی طرف بلائیں اور انہیں اچھی باتوں کا حکم دیں اور بری باتوں سے روکیں یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“ یہ آیت پہلے بیان ہو چکی ہے، کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کو نہیں سنا کہ وہ ارشاد فر ماتے ہیں:

لاتزال امتی بخیر ماامر وابالمعروف ، ونهواعن المنکر وتعاونوا علی البر الخ“

”جب تک میری امت اچھائی اور نیکی کا حکم کرے گی اور برا ئی سے رو کے گی اور نیکی پر ایک دوسرے کی مدد کرے گی اس وقت تک میری امت سے خیر ختم نہیں ہو گا ۔ اورجب وہ یہ کام ترک کر دے گی تو اس سے بر کتیں اٹھالی جائیں گی اور ان میں سے بعض کو بعض پر مسلط کردیا جائے گا۔ اور ان کا زمین اور آسمان میں کوئی مدد گار نہ ہو گا“ کیا تم نے امام علی علیہ السلام کا یہ قول نہیں پڑھا:

” لاتترکو الامربالمعروف والنهی عن المنکر فیولی علیکم شرارکم ثم تد عون فلا یستجاب لکم“؟

”امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو ترک نہ کرنا ورنہ بد کار لوگ تم پر حاکم ہوجائیں گے۔ پھر تم ان کو بلاؤ گے تو وہ تمہاری آوا زپر لبیک نہ کہیں گے“ ”امام جعفر صادق علیہ السلام نے نے فر مایا:

” ان الامر بالمعروف والنهی عن المنکر سبیل الانبیاء ، ومنهاج الصلحاء فریضة عظیمة بها تقام الفراض ، وتامن المذاهب ، وتحل المکا سب وترد المظالم، وتعمرالا رض، وینتصف من الاعداء ویستقیم الامر “

” امر بالمعروف ونہی عن المنکر انبیاء اور صالحین کا راستہ ہے ، یہ ایک ایسا عظیم فریضہ ہے کہ جس کے ذریعہ واجبات ادا ہوتے ہیں اور نیک راہیں محفوظ ، اور کارو بار حلال ، مظالم دور ہوتے ہیں ، زمینیں آباد ، دشمنوں سے انصاف اور مشکلات حل ہوتے ہیں“

اور نیز آپ ہی کا یہ ارشاد ہے:

” الامر بالمعروف والنهی عن المنکر خلقان من خلق الله، فمن نصر هما اعزه الله ومن خذ لهما خذله الله “

” امر بالمعروف ونہی عن المنکر دو مخلوق خدا ہیں ، جو شخص ان دو نو ں کی مدد کرے گا تو خدا اسے عزت عطا کرے گا اور جو ان کو ذلیل ورسوا کرے گا تو خدا اس کو ذلیل ورسوا کرےگا “

” کلکم راع کلکم مسؤ ول عن رعیته

” تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے گر وہ اور جماعت کا نگہبان اور ذمہ دار ہے “

ہاں میں نے پڑھا ہے ؛

پس اس بنا پر تم بھی اپنی جماعت اور گر وہ کے ذمہ دار ہو ، جو شخص ذمہ دار اور نگہبان ہوتا ہے اس کی ذمہ داریوں اور واجبات وحقوق میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یا تم ان سب چیزوں کے بدلے یہ کہہ سکتے ہو کہ میں یہ فضول کام کیوں کرو ں میں کسی کے معاملات میں مدا خلت کیوں کروں یہ میرے لیے زیبا نہیں ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کوئی فضول چیز نہیں ہیں اور یہ دونوں کسی کے معا ملہ میں مدا خلت بھی نہیں ، یہ تمہاری شان کے خلاف نہیں ، بلکہ تمہاری شان کے عین مطابق ہیں۔ پس جس ذات نے تم پر نماز ، روزہ،حج اور خمس کو واجب کیا ہے اسی نے تم پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو واجب قرار دیاہے۔

سوال: لیکن میں کوئی مولوی نہیں ہوں کہ جو امر بامعروف ونہی عن المنکر کروں؟

جواب: کس نے تم سے کہا کہ امر بالعروف ونہی عن المنکر صرف مولوی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔امر بالمعروف ونہی عن المنکر دو ایسے واجبات ہیں جو تمہارے اوپر میرے اوپر مولوی صاحب پر، طالب علم، استاد،تاجر، مزدور، ملازم ، فوجی ، ماتحت، مالدار،غریب ، عورت اور مرد سب پر واجب ہیں۔

سوال: آپ کو میں نے فر ماتے ہوئے سناہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کچھ مراتب واجب کفائی ہیں پس کیا ان دونوں کے کچھ مراتب واجب عینی بھی ہیں ۔ جیسے وجوب نماز یومیہ کہ جو واجب عینی ہے؟

جواب: ہاں ان دونوں کے کچھ مراتب واجب عینی بھی ہیں، اور وہ ایسے شخص سے فعلی وقولی اعتبار سے نارضایتی کے اظہار کا مرتبہ ہے۔ جوواجب کو ترک کرتا ہے اور حرام کو انجام دیتا ہے ۔ کیاتم تک امیرالمنین علی علیہ السلام کا یہ قول نہیں پہنچا کہ جس میں آپ نے فر مایا :

” امر نا رسول الله صل الله علیه وآله وسلم ان نلقی اهل المعاصی بو جوه مکفهرة“

” امیرا لمو منین علیہ السلام نے فر ما یا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ جب ہم اہل معاصی ( گناہ کر نے والو ں) سے ملیں تو ترش روئی کے ساتھ ملیں۔“ یعنی ہم سب کے اوپر واجب ہے کہ جو شخص گناہ کا مر تکب ہوتا ہے اس سے نا پسندگی اور ناراضگی کا اظہار کریں۔

سوال: کیا امر بالمعروف ونہی عن المنکر تمام حالات میں واجب ہیں؟

جواب: نہیں ،ان کے وجوب میں مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

( ۱) امر با المعر وف ونہی عن المنکر کر نے والا شخص واجب اور حرام امورکو جانتاہو، چاہے اجمالی طور پر ہی جانتا ہو اور ان کی تفصیل نہ جانتا ہو اور اس کا اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ یہ عمل واجب ہے کہ جس کا حکم کر رہا ہے اور یہ عمل حرام ہے کہ جس سے روک رہا ہے،

( ۲) یہ احتمال ہو کہ جس کا یہ حکم دے رہا ہے اس کو وہ بجالائے گا اور جس چیز سے یہ روک رہا ہے اس سے وہ رک جائے گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی لاپرواہی اور غفلت نہیں کریگا ۔

سوال: اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ شخص جس کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کیا جا رہا ہے حرام کو انجام دے گا اور واجب کو ترک کردے گا اور واجب وحرام دونو ں میں کسی کی اہمیت کا قائل نہیں تو کیا حکم ہے؟

جواب: امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے بعض مر احل اس سے ساقط ہو جائیں گے (اور ا ن دونو ں کے بعض مراحل واجب رہیں گے۔ اور اس کاقولاًو فعلاً واجب کے ترک کر نے اور حرام کے انجام دینے والے سے کراہت وناراض گی کا اظہار ہے)

( ۳) یہ کہ واجب کا ترک کر نے والا اور حرام کا بجا لا نیوالا ترک واجب اور فعل حرام پر مصر رہے لیکن اگر احتمال ہو کہ وہ اپنے اس فعل سے بعض آجائے گا تو پھر اسکو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کر نا واجب نہیں ہے۔

سوال: میں تاکید کے ساتھ سوال کر تاہوں کہ اگر وہ منکر کے بجا لانے اور معروف کے ترک کرنے پر اصرار نہ کرے تو کیا حکم ہے؟

جواب: تو پھر اس کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنا واجب نہیں ہے۔

سوال: کس طرح معلوم ہوگا کہ یہ شخص منکر کے بجا لانے پر مصرہے یا نہیں؟

جواب: جب تم پر کوئی ایسی علامت ظاہر ہوکہ جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے اس فعل سے باز آ گیا ہے اور وہ اس پر نادم ہے تو پھر معلوم ہوجائے گا کہ وہ اس پر مصر نہیں ہے اور اس کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنا واجب نہیں ہے۔

سوال: مجھے کسی شخص کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ وہ منکر کو انجام دے نے اور معروف کو ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو کیا ایسی صورت میں مجھ پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کر نا واجب ہے؟

جواب: یہاں تم پر اس کوامربالمعروف ونہی عن المنکر کر نا واجب ہے ۔ یہاں تک کہ اگر وہ ۔۔۔ صرف ایک بار ہی کیو ں نہ قصد مخالفت رکھتا ہو ( تو بھی تم پر واجب ہے )

( ۴) حرام کا م کو انجام دینے والا اور واجب کام کو ترک کر نے والا اپنے اعتقاد کی بنا پر معذورنہ ہو مثلا جو فعل وہ انجام دے رہا ہے اور اس کے اعتقاد کے مطابق حرام نہیں ہے۔ اور جس کام کو وہ ترک کر رہا ہے وہ اس کے اعتقاد کے مطابق واجب نہیں ہے ۔ اور وہ اپنی اس خطامیں معذورہے۔ تو ایسی صورت میں تم پر کوئی چیز واجب نہیں ہے ۔

( ۵) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کر نے والے کی جان، مال اور ناموس کو حد سے زیادہ خطرہ نہ ہویا اس کے امر با لمعروف ونہی عن المنکر سے کسی کو خطرہ لاحق نہ ہو ، اگر ایسا ہوگا تو پھر واجب نہیں ہے۔

سوال: اور اگر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنے سے اسے اپنی جان یا مسلمانوں میں سے کسی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو کیا کرے؟

جواب: تو اس حالت میں اس پر امر با لمعروف ونہی عن ا لمنکرواجب نہیں ہے، مگر یہ کہ معروف یا منکر شارع اسلامی کی نظر میں بہت اہم ہوں ۔ تو ایسی صورت میں احتمال کی قوت کا لحاظ اور تحمل کی اہمیت کا لحاظ کرکے دونوں طرف کا موازنہ کرنا ضروری ہے۔ پس کبھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر واجب ہے اور کبھی واجب نہیں ہے۔

سوال: اور جب میں معروف کے حکم کرنے اور منکر سے نہی کرنے کا ارادہ کر لوں تو؟

جواب: امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے چند مراتب ہیں:

پہلا مرتبہ

جو شخص منکر کو انجام دیتاہے اور معروف کو ترک کر تاہے، اس سے بیزاری اور قلبی نفرت کا اظہارکر نا ہے۔

سوال: میں کس طرح اس پر ناراضگی کا اظہار کر سکتا ہوں؟

جواب: اس کے چند طریقے ہیں ۔ اس سے اپنا رخ موڑ لینا ، اور اس سے اپنے تعلقات ختم کرنا، یا اس سے اس طرح ترش روئی سے پیش آ نا کہ اس کو معلوم ہو جائے یا اس سے ترک کلام کرنا،ان کے علاوہ اور بھی طریقے ہیں۔

دوسرا مرتبہ

اپنی زبان اور قول سے اس کو امر ونہی کر نا۔

سوال: کس طرح میں امر ونہی قول وزبان سے کر سکتا ہوں؟

جواب: چند طریقوں سے ۔ اس کام کے انجام دینے والے کو وعظ ونصیحت کرو۔خداوند عالم نے گنہگاروں کے لئے درد ناک عذاب معین کیا ہے اس کی یاد دلاؤ اور اس سے اطاعت کرنے والوں کے لیے جو عظیم ثواب مقررکیا ہے اس کا تذکرہ کرو۔ اور اس کے انکار پر اس کو ڈراؤ ، اس کے علاوہ جو مناسب طریقے ہوں وہ اختیار کرو۔

تیسرا مر تبہ

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے سلسلے میں عملی اقدام کرو۔

سوال: وہ کس طرح؟

جواب: اس کام کے کر نے وا لے پر ذراسختی کرو، یا اس کو مارو یا اس کو قید کرو تاکہ وہ گناہ کر نے سے باز آجائے۔

میرے والد صاحب نے مزید فر مایا : ان تمام مراتب میں ہر مرتبہ کے لئے حالات وزمانہ کے اعتبار سے کچھ سخت اور ہلکے در جات ہیں ۔

سوال: کیا میں پہلی مر تبہ سے شروع کروں اگر یہ کافی نہ ہو تو دوسرے یا تیسرے مر تبہ کو اختیار کروں؟

جواب: ہاں پہلے تم پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ سے شروع کرو، جس کی بھی زیادہ تاثیر کا تم کو احتمال ہو یا دونوں مرتبوں کو باہم اختیار کرو جبکہ اس سلسلہ میں تمہارا مقصدحاصل ہو جائے اور اس بات کو مدنظر رکھو کہ اذیت اور ہتک حرمت کم ہو اور بالتدریج سختی اختیار کرو۔

سوال: اور جب یہ دونو ں مر تبہ نفع بخش نہ ہو ں تو ؟

جواب: اس کے بعد تم حاکم شرع کی اجازت حاصل کرکے تیسرے مرتبہ کی طرف رجوع کر سکتے ہو ۔ کیونکہ عملی اقدام کو تدریجاً انجام دینا چاہیے، پہلے کم سختی کرو ، پھر شدید اور پھر سخت قدم اٹھا ؤ ۔ لیکن خیال رہے کہ نہ تو زخمی ہو ۔ اور نہ اس کا کوئی عضوٹوٹے، اور نہ ہی اس کے علاوہ اسے کو ئی اور گزند پہنچے، قتل کرنا تو بہت دور کی چیز ہے ۔

میرے وا لد نے فر ماکر اس بات کی تا کید فرمائی کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر دو نو واجب ہیں ، لیکن تمہارے لئے دونوں زیادہ ضروری ہیں ۔ اس چیز پر توجہ رکھو کہ تمہارے گھر والوں میں سے کوئی بھی واجب کا تارک اور حرام کا انجام دینے والانہ ہو ۔ تم اپنے گھر والو ں پر نظر رکھو کہ کو ئی واجبات کے ادا کرنے میں غفلت اور سستی سے کام نہ لے، تم دیکھو کہ کون وضو، تیمم اور غسل جنابت یا جسم ولباس کی طہارت کو صحیح شکل میں انجام نہیں دیتا ، کون حمد وسورہ کی قرائت اور نماز میں واجب اذکار کو صحیح صورت میں نہیں پڑھتا اور کون اپنے مال سے خمس وزکواۃ ادا نہیں کرتا ۔ اور تم اپنے گھر والو ں پر نظر رکھو کہ کون حرام چیز وں کا مر تکب ہو تا ہے ، کون پوشیدہ عادت میں مبتلا ہے کون قمار کھیلتا ہے کون گانا سنتا ہے اورکون شراب پیتاہے یا کون مردار کھا تا ہے ، یا کون لوگوں کے اموال غصب کر تا ہے ، یا کون دھوکہ بازی یا چو ری کر تا ہے۔ اپنے گھر کی عورتو ں پر نظر رکھو کہ کون پردہ نہیں کرتی ، یا کون اپنے بالوں کو نہیں چھپاتی ، اور تم ان عورتوں پر توجہ رکھو کہ ان میں سے کون غسل اور وضوکرتے وقت اپنے ناخونوں سے ملی ہوئی نا خن پالش کو صاف نہیں کرتی ۔اور تم ان میں تلاش کروکہ کون اپنے شوہر کے علاو ہ کسی غیر مرد کے لئے خشبو لگاتی ہے یا اپنے چچازاد ، یا پھو پھی زاد ، خالہ زاد ، مامو ں زاد بھائیوں ، اور شوہر کے بھائی اور اس کے دوست سے اپنے بالوں اور جسم کو نہیں چھپاتی ، اور وہ یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ وہ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔ پس وہ بھا ئی کے مثل ہیں اور اس کے علاوہ دو سرے فضول عذر پیش کرتی ہیں اور تم اپنے گھر والو ں میں تلاش کرو کون جھوٹ بولتا ہے ، غیبت کرتا ہے ۔ دوسروں پر ظلم کرتا ہے اور دوسروں کے اموال کو بر باد کر تا ہے ۔ کون ظالموں کی ان کے ظلم میں مدد کرتا ہے ۔ تم تلاش کرو ۔ تلاش کرو ۔ تلاش کرو۔

سوال: اگر میں نے ا ن میں سے کسی کو پالیا تو؟

جواب: جب تم کسی میں کسی بری چیز کو پاؤ تو تم اچھی بات کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو پہلی اور دوسری مرتبہ سے ابتداء کرتے ہوئے ۔ ناراضگی کا اظہار ، زبان سے انکار اور جب یہ نفع بخش نہ ہو تو پھر تیسرے مرتبہ کی طرف حاکم شرع کی اجا زت کے بعد رجوع کرو ۔ اور وہ عملی اقدام ہیں کہ ان میں تدر یجاً کم اور زیادہ کو اختیار کرنا چاہیے۔

سوال: کیا کبھی معروف (اچھی بات) مستحب ہوتا ہے؟

جواب: ہاں معروف کبھی مستحب ہو تاہے۔ واجب نہیں ۔ پس جب تم اس کا امر کرو گے تو تم ثواب کے مستحق ہوجاؤ گے ۔ اور اگر تم نے اس مستحب کا امر نہیں کیا تو عقاب اور عذاب کے مستحق نہیں ہو گے ۔ اور اس نیک کام کی رہنمائی کر نے والا اس کے فاعل کے مانندہے (یعنی جس نے کسی نیک کام کی رہنمائی کی گو یاوہ نیک کام انجام دینے والے کے مانند ہے)۔

سوال: آپ نے فرمایا کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر دونوں واجب ہیں ، اور آپ نے جو مثالیں بیان کی ان سے میں نے کچھ چیزوں کو جان لیا کہ جن کا حکم کرنا میرے اوپر واجب ہے یہ کچھ چیز یں ایسی ہیں کہ جن کی نہی کرنا میرے اوپر واجب ہے، اس کے علاوہ میں اس بات کو پسند کر تا ہوں کہ آپ چند ایسے امور میرے لئے بیان کیجئے کہ جن کی نہی کر نا میرے اوپر واجب ہو اور یہ ان امور کے علاوہ ہوں جن کوآپ نے موجو دہ اور گزشتہ بحثوں میں میرے لئے بیان کیا ہے؟

جواب: تمہارے لئے میں الگ الگ کچھ امور کو بیان کروں گا پہلے معروف کو اور پھر منکر امو ر کو بیان کروں گا لیکن اس سے پہلے میں تم سے ایک شرط کر تا ہوں۔

سوال: وہ کیا ہے؟

جواب: وہ یہ ہے کہ تم ان پر عمل کرو چاہے مستحب ہوں یا واجب ! اور تم ان امور کی طرف دعو ت دو ، اور ان کا حکم کرو اگر وہ معروف ہوں، اور اگر وہ منکر ہوں تو ان سے تم نہی کرو۔

سوال: میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں ؟

جواب: پہلے میں ان امور کو شروع کرتا ہوں کہ جو معروف ہیں اور ان کو الگ الگ صورت میں بیان کرتا ہوں ۔ کہہ کر مرے والد نے کبھی اپنے حا فظہ کی مدد سے اور کبھی ان چیزوں کے مصادر کو سامنے رکھ کر بیان کر نا شروع کیا ۔پس انھوں نے نیچے دیئے ہوئے معروف کو گنوانا شروع کیا۔

( ۱) ”التوکل علی الله “ (اللہ پر بھروسہ رکھنا )

خدا وند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :

”ومن یتوکل علی الله فهو حسبه “

جو اللہ پر توکل کرتا ہے پس وہ اس کے لئے کافی ہے۔

روایت کی گئی ہے کہ سائل نے امام علیہ السلام سے اس آیہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ”کہ خدا پر توکل کے درجات ہیں ۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے تمام امور میں تم اللہ پر توکل رکھو، پس جو بھی تمہارے ساتھ وہ کرے تم اس سے راضی رہو ، تم جانتے ہو کہ خیرو فضل میں تم تمیز نہیں کر سکتے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ حکم اسی کے لیے ہے ۔ پس اللہ پر توکل کرو اور اپنے امور کو اسی کے سپرد کرو اور تمام چیزوں کے بارے میں اس پر بھرو سہ رکھو۔

( ۲) ”الا عتصام بالله تعالی “ (خدا کو اپنی پناہ بنانا)

خدا وندعالم قرآن میں ارشاد فر ماتا ہے:

ومن یعتصم با لله فقد هدیٰ الیٰ صراط مستقیم

اور جو شخص خدا کا سہارا لے گا یقینا اس کو صراط مستقیم کی ہدایت کی جائے گی اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا وند عالم نے حضرت داؤد کی طرف وحی کی کہ میرے بندو ں میں جو میرا سہارا لے وہ میری مخلوق میں کسی کا بھی سہارا قبول نہیں کرے گا یہ بات مجھے اس کی نیّت سے معلوم ہو جائےگی تو پھر زمین و آسمان اور ان دونو ں کے درمیان جو چیزیں ہیں اگر وہ اس کو دھوکہ دیں تو میں ان چیزوں کے درمیان سے اس کے نکلنے کے لئے راستہ بنا دو ں گا اور اگر میرے بندوں میں سے کوئی بندہ میری مخلوق میں سے کسی کا سہارا لے گاتو اس کی نیت کو میں جان لو ں گا اور آسمان کے تمام اسباب اس کے لئے منقطع کردوں گا ۔ اور زمین کو اس کے لئے دشوار بنا دونگا مجھے کوئی پر واہ نہیں ہے کہ وہ کسی بھی وادی میں گر کر ہلاک ہوجائے؛

( ۳) ” اللہ کا اس کی مسلسل نعمت پر شکر کرنا“

خدا وندعالم اپنی کتاب قرآ ن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

” ومابکم من نعمه فمن الله ِ“

اور جو نعمت بھی ملی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔

خدا وند عالم ارشاد فر ماتا ہے:

رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ و علیٰ والدی وان اعمل صالحا ترضاه“

پالنے والے مجھے توفیق عنایت فرما کہ میں تیری ان نعمتوں کا کہ جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر نازل کی ہیں شکر بجا لاؤں اور ایسا نیک عمل بجا لاؤں کہ جس کو توپسند فرمائے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

اللہ تعالی نے جو نعمتیں اپنے بندوں کو عنایت کی ہیں وہ نعمت بالغہ ہیں پس اللہ کی حمد تو ان پر کی جاتی ہے ورنہ اسکی حمد تو اس نعمت سے افضل اور عظیم و زیا دہ وزنی ہو تی ہیں ؛

( ۴) ” اللہ سے حسن ظن (اچھا گمان رکھنا ) “

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ۔

ہم نے حضرت علی علیہ السلام کی کتابوں میں پایا کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے منبر پر ارشادفرمایا :خدا نے دنیا و آخرت کا خیر کبھی کسی مومن کو عنایت نہیں فرماتامگر یہ کہ وہ مومن اللہ سے حسنِ ظن اور امید قائم رکھے اور اپنا اخلاق اچھا رکھے۔

( ۵) ” رزق و عمر و نفع و نقصان میں اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنا“

حضرت علی علیہ االسلا م کا ارشاد ہے کہ :

”لا یجد عبدطعم الایمان حتی یعلم ان ما اصابه لم یکن لیخطئه و ان ما اخطا ه لم یکن لیصیبه و ان الضار و النافع هو الله عزو جل “

”کسی بندہ کو ایمان کا مزہ اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک وہ یہ جان لے کہ جو اچھائی اس کوحاصل ہوئی ہے تو کسی برائی کا اس تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور جو برائی اس تک پہنچی ہے کسی اچھائی کا اس تک پہنچنا ممکن نہیں اور یقینانفع اور نقصان کا دینے والا صرف اللہ تبارک و تعالی ہے۔

( ۶) ” خدا وند عالم سے خوف اور اس کے ساتھ اس سے امید بھی رکھنا “

خدا وند عالم نے قرآن کریم میں مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔

( تتجافی جنو بهم عن المضاجع یدعون ربهم خوفا و طمعا و مما رزقنا هم ینفقون فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قرة اعین جزاء بما کا نو ا یعملون ) ۔“

” ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے پروردگا ر سے امیدوبیم کی حالت میں دعا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اسکا ایک حصہ وہ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پس کوئی شخص اس بات کو نہیں جانتا کہ ان کی آ نکھوں کی ٹھندک کے لئے کیا کیا چھپا کر رکھا گیا ہے ۔

یہ ان کے اعما ل کا بدلا ہو گا جو وہ کیا کرتے ہیں ۔؛

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جو کوئی تنہائی میں گناہ کرتا ہے ، اللہ تعالی وہاں بھی اس کو دیکھتا ہے اور جس نے شرم کی اور اس کو بجا نہ لایا تو خدا وند عالم اسکے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے چاہے اس کے گنا ہ دنیا و آخرت کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔

آپ نے فرمایا: اللہ سے امیدرکھو اس طرح کہ وہ تم کو اس کی نا فر مانی پر جر ی نہ کردے اور اللہ کا خوف کرو اس طرح کہ وہ تم کو اس کی رحمت سے ما یوس نہ کردے۔

( ۷)” صبراور غصہ پینا “

خدا وند عالم نے قرآ ن مجید میں ارشاد فرمایا :

( انما یوفی الصابرون اجرهم بغیر حساب )

سوائے اس کے کچھ نہیں کہ صبر کرنے والوں کو پورا پوراان کے اجر کا حساب دیا جائے گا۔

و الکاظمین الغیظ و العافین عن الناس والله یحب المحسنین

اور جو غصہ کے روکتے اور لوگوں کو معاف کرتے رہتے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتاہے؛

نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ آ پ نے فرمایا :

کسی بندے کا اپنے غصہ کو پینا اتنا بڑا اجر رکھتا ہے کہ ان سے زیادہ کسی چیز کا اجر نہیں ہے غصہ کا پینا خوشنودی خدا کا باعث ہے

آ نحضرت سے مروی ہے کہ:

”اللہ کی طرف جانے والے بہترین راستوں میں سے دو جرعہ ہیں ایک جرعہ غیظ ہے کہ جس کو حلم کے ذریعہ ختم کیا جاتا ہے اور ایک مصیبت ہے کہ جس کو صبر کے ذریعہ ختم کیا جاتا ہے ۔

حضرت محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے اپنے کسی فرزند سے فر مایا کہ

اے فرزند ! غصہ کو پینے سے زیادہ تمہارے باپ کی آ نکھ کی ٹھندک کوئی اور چیز نہیں ہے کہ جس کی عاقبت صبر ہے ۔

( ۸)” اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیزوں پر صبر کرنا “

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

الصبر صبران صبر عند المصیبة حسن جمیل واحسن من ذ لک الصبر عند ما حرم الله تعالی علیک

صبر کی دو قسمین ہیں :

” ایک مصیبت کے وقت کہ جو بہترین ہے اور اس سے زیادہ بہترین وہ ہے کہ جو چیزیں خدا وند عالم نے آپ پرحرام کی ہیں ان پر صبر کرو “

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

اتقوا معا صی الله فی الخلوات فان الشاهد هو الحاکم

خلوتوں میں اللہ کی نافر مانی نے سے بچو ،کیونکہ جو شاھد ہے وہی حاکم ہے ۔

( ۹) ” عدل “

خدا وند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

( انّ الله یا مر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربیِِٰ )

”بے شک خدا وند عالم عدل اور احسان کر نے کا حکم دیتا ہے اور رشتہ داروں کے حقوق اداکرنے کا حکم دیتا ہے“

امام جعفرصادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

قیامت کے روز تین لوگ حساب کے تمام ہونے تک اللہ سے زیادہ قریب ہوں گے ایک وہ شخص جو غصہ کے وقت اپنے ماتحتوں پر اپنی قدرت استعمال نہیں کرتا ۔

ایک وہ شخص کہ جو دو آد میوں کے درمیان چلتا ہے مگر یہ کہ وہ ایک جو کے برابر بھی کسی کی طرف نہیں جھکتا ، اور ایک وہ کہ اگر اس کے خلاف کاروائی کی جائے تو وہ حق بات ہی کہتا ہے ۔

( ۱۰) ” شہوت پر عقل کو غلبہ دینا “

خدا وند عالم اپنی کتاب میں فرماتا ہے:

زین للناس حب الشهوات من النساء والبنین والقناطیر المقنطرةمن الذهب والفضةولخیل المسومةوالانعام والحرث ذلک متاع الحیاة الدنیا والله عند ه حسن الماب قل او نبئکم بخیر من ذالکم للذ ین اتقو اعند ربهم جنات تجری من تحتها الانهار خالدین فیها و ازواج مطهرةورضوا ن من الله والله بصیر با لعباد

”لوگو ں کی نظروں میں خواہشات کی محبت زینت پا گئی ہے ، جو عورتیں اولاد اور سونے چاندی کے زیورات اور دغیلے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی باڑی سے متعلق ہے ۔ دنیا وی زندگی کا متاع ہے ۔ اور حسن انجام خداہی کے ہاتھ میں ہے ۔ تم کہہ دو کیا میں تم کو ان سے اچھی چیزوں کی خبر دوں ، جو ان لو گوں کیلئے ہیں کہ جنہوں نے پر ہیز گاری اختیار کی، ان کے رب کے پا س ایسے باغات ہیں کہ جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہیں ، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان میں پاکیزہ بیویاں ہیں اور خدا کی خشنودی ہے اور خدا تمام بندوں کا نگران ہے۔“

رسو ل خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ:

جس نے بھی اپنی موجود ہ خواہشات کی محبت کو ترک کیا اس کو ایک ایسی جگہ کی خوشخبری دیدو کہ جس کو اس نے کبھی نہیں دیکھا،

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ: مختصرسی شہوت رانی طولانی دردورنج کوجنم دیتی ہے۔

( ۱۱) ” تواضع“

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ

” قیامت کے دن اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے رہنے کی جگہ مجھ سے قریب ہو تو تمہارا اخلاق بہت اچھا اور تواضع بہت بہتر ہونا چاہیے ۔“

امام زین العا بدین علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

آ پ نے اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہوئے فرمایا ” پالنے والے محمد وآ ل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما“ تو میرے درجہ کو لوگوں میں بلند نہ فرما “ مگر یہ میرے نفس میں اتنے ہی درجہ کو کم کر دے ۔ اور مجھے کوئی ظاہری عزت عنایت نہ فر ما مگر یہ کہ اتنی ہی مقدار میں میرے نفس میں ذلت باطنی عنایت فرما ۔

( ۱۲) ” کھانے پینے اور دوسری چیزوں میں اعتدال قائم رکھنا“

خدا وندہ عالم اپنی کتاب میں ارشاد فر ماتا ہے:

( وکلو اواشر بو اولاتسر فوا انه لا یحب المسر فین )

کھا ؤ، پیو اور اسراف نہ کرو ، کیوںکہ اللہ اسراف کرنے والو کو دوست نہیں رکھتا “

امام جعفر صادق علیہ اسلام سے مروی ہے کہ:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جمعرات کی شام کو مسجد قبا میں افطار کیا ۔ پس آپ نے فر مایا: کیا کسی کے پاس پینے والی کوئی چیز ہے ؟ تو اوس بن خولی انصاری نے شہد سے بھرا ہوا پیالہ پیش کیا۔

( ۱۳) ” لوگوں کہ ساتھ انصاف کرنا “

اگر چہ اپنے نفس سے ہی وہ انصاف کیوں نہ ہو۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہےکہ آپ نے فر مایا :

”من واسی الفقیر من ماله وانصف الناس من نفسه فذلک المو من حقا “

جو اپنے مال سے فقیر کی مدد کرے اور لوگوں کے ساتھ اپنے نفس سے انصاف کرے وہی برحق مومن ہے۔

اسی طرح حضرت علی علیہ ا لسلام سے مروی ہے کہ:

الاا نه من ینصف الناس من نفسه لم یزده الله الاعزا“

آ گاہ ہوجاؤ جو بھی اپنے نفس سے لوگوں کے ساتھ انصاف کرے گا تو خدا وند عالم اس کی عزت کو بڑھائےگا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے مروی ہےکہ:

” سید الا عمال انصاف الناس من نفسک ومو اساة الاخ فی الله تعالی وذکر الله علی کل حال“

” اعمال کا سردار لوگوں کے ساتھ اپنے نفس کے ذریعہ انصاف کر نا اور بھائی کے ساتھ اللہ کی راہ میں مواسات قائم کرنا اور ہر حال میں خدا کا ذکر کرناہے“

( ۱۴) ” عفت کو محفوظ رکھنا “

امام جعفر صادق علیہ اسلام سے مروی ہے کہ آپؑنے فرمایا:

” افضل العبادة عفة البطن والفرج“

” عبادت میں سب سے افضل پیٹ اور شرم گاہ کی عفت کو محفوظ رکھناہے “

( ۱۵) ” لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر انسان کا اپنے عیب کی طرف متو جہ ہونا،

نبی اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

طوبی لمن شغله خوف الله عزو جل عن خوف الناس ، طوبی لمن شغله عیبه عن عیوب المو منین

” خوشی ہے اس شخص کے لئےجو لوگوں کے خوف کو دیکھ کر اللہ سے خوف کرتا ہے ۔ خوشی ہے اس کے لئےکہ جو مومن کےعیوب کو دیکھ کر اپنے عیب کی طرف متوجہ ہوتاہے ۔

( ۱۶) ” مکارم الاخلاق سے اپنے کوآراستہ کرنا “

خدا وندہ عا لم نے اپنے نبی کریم کی اسطرح تو صیف کی ہے۔

( انک لعلی خلق عظیم )

ہم نے تم کو بلند اخلاق پر فائز کیا ہے۔

آ نحضرت مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

الا اخبرکم باشبهکم لی؟ قالوا: بلی یارسول الله قال:احسنکم خلقاوالینکم کنفاالخ

”کیا میں تم کو خبر دوں کہ تم میں کون مجھ سے مشا بہ ہے؟

لوگوں نے کہا ہاں فرمائیے یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۔

تو آپنے فر مایا :

تم میں سے جس کا اخلاق بہترین ، متواضع اور صلہ رحمی پر مبنی ہو، اور وہ اپنے دینی بھائیوں سے بہت زیادہ محبت کر تا ہو ، حق پر اسکا صبر زیادہ ہو، غصہ کو پینے والا ہو، خطاؤ ں سے در گذر کرنے والا ہو، غم اور خوشی میں وہ اپنے نفس کے ساتھ انصاف کر نے میں زیادہ سخت ہو۔ اور آپ ہی سے سوال کیا گیا کہ ایمان کے عتبار سے کو ن سے مومنین افضل ہیں ؟

تو آپنے ارشاد فرمایا :

جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو۔

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ آپنے فر ما یا:

اکثر وہ لوگ جنت میں داخل ہونگے جو اللہ سے ڈریں گے اور جن کا اخلاق اچھا ہو گا۔

( ۱۷) ” حلم“

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

خدا کبھی جہالت کو عزت نہیں دیگا ۔ اور کبھی حلم کو ذلیل ورسوانہ کریگا۔

ا مام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

کوئی مرد عابد نہیں ہو تا جب تک کہ وہ حلیم نہ بن جائے۔

( ۱۸)” قرآن کا حفظ کرنا ، اس پر عمل کرنا ،اور اس کا پڑھنا“

خدا وندعالم اپنی کتاب میں ارشاد فر ماتا ہے :

( ان الذین یتلون کتا ب الله واقامو ا الصلوة وانفقو امما رز قنا هم سراوعلانیة یرجون تجارة لن تبور )

”یقینا وہ لوگ جو کتاب خدا کی تلاوت کر تے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ ظاہر اور پوشیدہ خرچ کیا کرتے ہیں وہ لوگ ایسی تجارت کی امید لگا ئے ہیں کہ جس میں کوئی گھاٹا نہیں “

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آ پ نے فر مایا:

اہل قرآن آدمیوں کے سب سے اونچے در جہ میں ہیں ، سوائے انبیاء و مرسلین کے۔

امام جعفر صادق علیہ ا لسلام سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

حافظ قرآن اور اس پر عمل کرنے والا ( قیامت میں) خدا کے انبیا ء کے ساتھ ہوگا۔

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ:

جو قرآن پڑھے اور وہ جو ان کو محفوظ کر لیا ہو تو خدا وندہ عالم انبیا ءکے ساتھ اس کو قرار دے گا ۔ اور قیامت روز اس کی طرف سے قرآن گواہی دےگا ۔ اور قرآن کے سو روں کے پڑھ نے کے بارے میں خاص طور پر فضیلت وارد ہوئی ہے جو کتب احادیث میں مذ کور ہیں اگر تم چاہو تو ان کی طرف رجو ع کر سکتے ہو۔

( ۱۹) ” زیارت کرنا،

حضرت امام باقر علیہ ا لسلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایاکہ:

امام حسین علیہ السلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا ، اے نانا جان ! جس نے آپ کی زیارت کی اس کے لئے کیا اجر ہوگا ؟

آنحضرت نے ارشاد فر مایا :

من زار نی او زار اباک او زارک او زار اخاک کان حقا علی ان ازوره یوم القیامة حتی اخلصه من ذنوبه

”جس نے میری زیارت کی یا تمہارے والد یا تمہارے بھا ئی کی زیارت کی تو قیامت کے دن مجھ پر حق ہے کہ میں اس کی زیارت کروں اور اس کے گناہوں سے اس کو خلاصی دلاؤں

حضرت امام جعفر صا دق علیہ السلام سے مروی ہے:

من زار قبر الحسین بن علی عار فا بحقه کتب فی علیین

”جس نے قبر حسین بن علی کی زیارت کی انکے حق کو جانتے ہوئے تو اس کانام علیین میں لکھا جائے گا“

اور انھیں حضرتؑ سے مروی ہے کہ:

جس نے بھی ہم میں سے کسی کی زیارت کی تو گویا اس نے حسین کی زیارت کی

( ۲۰) ” دنیا سے کنا رہ اختیار کرنا “

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فر ما یا:

از هد فی الدنیا یحبک الله

”دنیا سے زیادہ دور ہو،تا کہ اللہ تم سے محبت کر ے۔“ اور آپؐ نے فر ما یا !اللہ سے حیاکر نا “ حیاء کا حق ادا کرنا ہے تو لو گوں نے کہا ! ہم اللہ سے حیا کریں تو آپؐ نے فر ما یا : ایسا نہیں ہے۔ کہ تم گھر بناؤ اور اس میں نہ رہو اور مال کو جمع کرو اور اس کو نہ کھا ؤ ۔

آپ ہی سے مرو ی ہے کہ :

جب اللہ کسی بندہ سے اچھائی چاہتا ہے تو اس کو دنیا میں زاہد بنا دیتا ہے اور اس کی رغبت آخرت کی طرف بڑھا دیتا ہے اور اس کے نفس کے عیوب دکھا تا ہے

اور حضرت علی علیہ السلام سے مر وی ہے کہ آپ نے فرما یا :

دنیا میں زھد اختیار کر نا، دین کی اخلاقی مدد ہے۔

آپ ہی سے مروی ہے کہ :

دنیا کے حسن و جمال ظا ہری سے بچنا آ خرت کے ثواب کی طرف رغبت کر نے کی علا مت ہے :

امام زین العابد ین علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

معر فت خدا اور معر فت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد کوئی عمل بغض دنیا سے زیادہ افضل نہیں ہے۔

روایت کی گئی ہے کہ:

ا یک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ میری صرف آپ سے چند سال ملا قات ہوئی ہے لہذ ا آپ مجھے کسی چیز کی نصیحت کریں تا کہ میں اس پر عمل کروں ۔

تو آپ نے فر ما یا :

میں تجھے نصیحت کر تا ہوں کہ تم اللہ سے ڈرو اور زھد وا حکام دین پر عمل کر نے کی کوشش کرو اور اپنی حیثیت سے زیا دہ اونچی چیز کا طمع مت کرو اور جو خدا وند عالم نے اپنے رسول سے فر ما یا وہ کا فی ہے۔

( ولا تمدن عینیک الی ما متعنا به ازوا جا منهم زهرة الحیاة الد نیا )

”اور کفار کے مختلف گرو ہ کہ جنہیں ہم نے زندگا نی دنیا کی مختلف چیزوں سے نفع پہنچا یا ہے تا کہ ہم ان کی آ ز مائش کریں تو تم ان کی طرف آ نکھ اٹھا کر نہ دیکھنا “

فلا تعجبک اموا لهم واو لاد هم

”پس تم کو ان کے اموال اور اولاد تعجب میں نہ ڈا لیں “

اگر تم پر ان کی ہیبت طاری ہو تو رسول خدا کی زندگی کو یاد کرو کہ ان کی غذا جو تھی اور ان کی شیرنیی کجھور تھی اور ان کا بستر کھجور کی چھال تھا اور جب کبھی تمہارے مال ، جان اور اولاد یا مصیبت نازل ہو تو تم رسول اللہ کی مصیبت یاد کرو ۔

اور روایت بیان کی جاتی ہے کہ:

ایک قبر پر کھڑے ہو کر آپؐ نے فر مایا: بیشک کسی شئے کے سر انجام کے لئے اس کا شروع میں زھداختیار کیا جا ئے اور اسی چیز کے آغاز میں اس کے سرا نجام سے ڈرا جائے ۔

( ۲۱) مومن کی مدد کر نا اور اس کے غم میں شریک ہو نا اور اس کو خوش کر نا اور اس کو کھا نا کھلا نا اور اس کی حاجت روائی کر نا۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلا م سے مروی ہے کہ :

کوئی ا یسا مومن نہیں ہے کہ جو اپنے آپ کسی مظلوم مو من کی مدد کرے ، مگریہ کہ اس کی یہ مدد ماہ رمضان کے روزوں اور مسجدا حرام میں اعتکاف سے افضل ہے، کوئی ایسا مومن نہیں کہ جو قدرت رکھتے ہوئے اپنے کسی بھائی کی مدد کرے مگر یہ کہ خدا وندعالم اس کی دنیا وآخرت میں مدد کرے، اور کوئی مومن ایسا نہیں کہ جو اپنے برادر مومن کی آبرو ریزی کرے حالانکہ وہ اس کی مدد پر قدرت رکھتا ہو مگر یہ کہ خدا اس کو دنیاوآخرت میں رسوا کرے گا۔

انہیں حضرت سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

جو مومن اپنے کسی مومن کے غم میں شریک ہو کر اس کے رنج وغم کو دور کرے تو خدا اس کے دنیا وآخرت کے ستر غموں اور اس کی پریشانیوں کو دور کرے گا۔

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ :

جو کوئی کسی مومن کی تنگ دستی میں اس کی مدد کرے اور اس کی سختی کو دور کرے تو خدا وند عالم دنیا اور آخرت میں اس کی تمام حاجتوں کو آسان کردےگا ۔

اور آپ ہی سے مروی ہے۔

جو شخص ا پنے برا در مومن کی مدد کر تا ہے تو خدا اس کی مدد کر تا ہے۔

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ:

جس نے مو من کو خوش کیا قیا مت کے دن خدا اس کو خوش کرے گا اور آپ ہی سے نقل کیا گیا ہے کہ جس نے اولیا ء خدا کو اس دنیا میں خوش کیا اس نے اللہ پر احسان کیا ۔

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ:

جو کسی مومن کو خوش کرے تو گو یا اس نے رسول خدا کو خوش کیا ۔ پس گویا یہ سلسلہ اللہ تک پہنچے گا اور اسی طرح جس نے کسی مومن کو رنجیدہ و غمگین کیا تو اس نے رسول خدا کو رنجیدہ کیا اور آپ سے مروی ہے کہ جو شخص کسی بھو کے مومن کو سیر کرے خدا اس کو جنت کے پھلوں سے سیر کرے گا اور جو کسی پیا سے مومن کو پانی پلائے گا خدا اس کو ” رحیق مختوم “ سے سیراب کرے گا ۔ اور جو کسی مومن کوکپڑا پہنا ئے گاتو خدا اس کو جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا۔

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ:

اگر کوئی مسلم کسی مسلم کی حاجت روائی کرے گا تو اللہ اس کو آواز دے گا مجھ پر تیرا ثواب ہے اور میں تیرے لئے جنت کے بغیر راضی نہیں ہوں گا۔

( ۲۲) ” ہر روز اپنے نفس کا محا سبہ کر نا “

روایت بیان کی گئی ہے کہ:

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابو ذرؓ سے فر مایا :

اپنے نفس کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے ۔ اس لئے کہ تمہا را حساب کرنا کل کے حساب سے زیادہ آسان ہے۔ اور اپنے نفس کو جانچ اور پرکھ لو اس سے پہلے کہ وہ جانچا اور پر کھا جائے اور قیامت کبریٰ کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کر لو خدا پر کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی مخفی نہیں ہے۔

آپؐ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

اے ابوذر! کسی مرد کو یقین حاصل نہیں ہو تا جب تک کہ وہ خود اپنے نفس کاحساب نہ کرلے کیو نکہ نفس کا حساب کر نا اپنے کسی شریک کے حساب سے زیادہ سخت ہے ، پس اس چیز کو جان لینا چا ہیے ، کہ اس کو کہاں سے کھا نے پینے کی چیزیں ملتی ہیں اور کہاں سے پہننے کے کپڑے ملتے ہیں ، حلال ہے یا حرام ۔

اے ابوذر ! جو شخص یہ پرواہ نہیں کرتا کہ یہ مال کہاں سے آیا تو اللہ بھی اس پر توجہ نہیں دے گا کہ جہنم میں اس کو کس جگہ سے داخل کرے ۔

حضرت امام زین العا بد ین علیہ السلا م سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

اے فرزند آدم ! خیر تجھ سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گا جب تک کہ تیرے نفس کا کوئی واعظ ہو اور جب تک تیرا محا سبہ نفس ہو تا رہے ۔اےفرزند آدم ! تومیت ہے تو اٹھا یا جائے گا اور اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گالہٰذا آج سے جو اب دہی کے لئے آمادہ ہو جا۔

( ۲۳) ” امور مسلمین کو اہمیت دینا“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ:

” من اصبح ولا یهتم با مور المسلمین فلیس بمسلم “

”جس نے ایسے حال میں صبح کی کہ امور مسلمین (مسلما نو کے حالات ) کے سلسلہ میں کوئی اہتمام نہ کیا تو وہ مسلمان نہیں ہے۔

آپ ہی سے مروی ہے :

”من اصبح لا یهتم با مور المسلمین فلیس منهم ومن سمع رجلا ینا دی یا للمسلمین فلم یجبه فلیس بمسلم“

” جس نے ایسے حال میں صبح کی کہ مسلما نو کے حالات کے با رے میں کوئی اہتمام نہیں کیا تو ان میں سے نہیں ہے اور اگر کسی مرد کو ندا دیتے ہوئے سنے یاللمسلمین“ (اے مسلما نو! مدد کرو) اور اس کی ندا پر جو جواب نہ دے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے:

” ان المومن لترد علیه الحاجة لا خیه، فلا تکو ن عنده یهتم بها قلبه فید خله الله تبارک وتعالی بهمه الجنة“

( ۲۴) ” سخا وت وکرم اور ایثار“

خدا وند عالم اپنی کتاب قرآن کریم میں ارشاد فر ما تا ہے:

”ویو ثرون علی انفسهم ولو کان بهم خصا صه“

” اور اگر چہ ان کو اس چیز کی ضرورت ہو تی ہے مگر وہ اپنے نفسوں پر دو سروں کو تر جیح دیتے ہیں۔ اور رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فر ما یا:

خدا وند عالم نے اپنے او لیا ء کو سختی اور اخلاق میں قرار دیاہے ۔

آ نحضرت سے یہ بھی مروی ہے کہ:

مغفرت کے اسباب میں سے کھانا کھلا نا اور سلام کرنا اور اچھا کلام کر نا ہے آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرما یا : ”سخی کے گناہ سے چشم پوشی کرو کیو نکہ جب بھی اس سے لغزش ہو تی ہے تو خدا اس کا ہاتھ پکڑ تا ہے۔

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ:

” الجنة دار الا سخیاء“

” جنت سخیوں کا گھر ہے“

اور آپ ہی سے مروی ہے کہ :

لوگوں میں ایمان کے لحاظ سے وہ لوگ افضل ہیں کہ جن کا ہاتھ زیادہ سخی والا ہو۔

( ۲۵) ” اپنے اہل وعیال پر خرچ کر نا“

رسول خدا سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

” الکاد علی عیا له کا لمجا هد فی سبیل الله “

” اپنے اہل وعیال کے لئے (رزق) تلاش کرنے والا خدا کی راہ میں جہاد کر نے والے کی مانند ہے۔

آپ ہی سے مروی ہے کہ:

جو اپنے اہل وعیال پر خرچ کر تا ہے تو وہ صدقہ ہے۔

آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

تم نے اپنے بچوں پر ایک دینار خرچ کیا اور خدا کی راہ میں ایک دینار خرچ کیا یا کسی غلام کی آزادی میں ایک دینار خرچ کیا یا کسی مسکین کو ایک دینار صد قہ دیا ان دیناروں میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جو اپنے بچوں پر خرچ کیا ہے۔

( ۲۶) ” گناہوں سے تو بہ کر نا چاہیے“

چھو ٹے ہوں یا بڑے (گناہ صغیرہ یا کبیرہ) اور ان پر نادم ہونا“

خدا وندہ عالم اپنی کتاب قرآن کریم میں ارشاد فر ماتا ہے:

( یا ایها الذین آمنو اتو بوا الی الله تو بةً نصوحاً عسی ربکم ان یکفرعنکم سیئا تکم وید خلکم جنات تجری من تحتها الا نهار )

اے ایمان لانے والو! خدا سے پر خلوص توبہ کرو ، عنقریب تمہارا پر ور دگار تمہاری برائیوں کا کفارہ قرار دےگا اور تم کو ایسی جنت میں داخل کرے گا کہ جس کے نیچے نہر یں بہتی ہونگی۔

اور خدا وندعالم فر ماتا ہے کہ:

( وتو بو الی الله جمیعا ایها المو منون لعلکم تفلحون )

اے مومنین تم سب اللہ سے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

خدا وند عالم نے فرمایا :

ان الله یحب التوابین ویحب المتطهرین

” اللہ تو بہ کر نے والوں اور طہارت کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اور فر ما تاہےکہ :

( وهو الذی یقبل التو بة عن عباده ویعفوعن السیئا ت ویعلم ما تفعلون )

اور وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی تو بہ قبول کرتا ہے اور ان کی برا ئیاں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کر تے ہووہ جانتا ہے۔

خدا وند عالم قرآن مجید میں فرما تا ہے کہ:

( قل یا عبادی الذی اسرفواعلی انفسهم لاتقنطوامن رحمةالله ان الله یغفرالذ نوب جمیعاً انه هوالغفورالرحیم )

” تم کہہ دو اے میرے بندو ! کہ جنھوں نے اپنی ذات پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ما یوس نہ ہونا یقینا اللہ تمہارے سب گناہ معاف کردے گا وہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے“

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے محمد بن مسلم سے فرمایا:

جب مومن گناہوں سے تو بہ کر تا ہے تو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں پس مومن کو چاہیے کہ اپنی توبہ اور مغفرت کے بعد عمل صالح بجا لائے پس تو بہ کا در وازہ مومن کیلئے کھلا ہے۔

میں نے آپ سے عرض کیا :

اگر اس نے دوبارہ گناہ کیا پھر توبہ اور اللہ سے استغفار کی؟

تو آپ نے فرمایا ! جب بھی مومن تو بہ اور استغفار کا اعادہ کرے گا تو اللہ بھی اس کی مغفرت کا اعادہ کریگا۔

آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

گناہ سے توبہ کر نے والا ایسا ہے کے جیسے اس نے گناہ ہی نہ کیا ہو اور توبہ کے بعد پھر گناہ کرنا توبہ واستغفار کا مزاق اڑانے کے مانند ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

کوئی بندہ ایسا نہیں کہ جو گناہ کرے اور پھر اس پر نادم ہو مگر یہ کہ خدا اس کے استغفار کرنے سے پہلے بخش دیتا ہے۔

انھیں حضرت سے مروی ہے کہ:

جب کوئی اللہ کا مومن بندہ تو بہ کر تا ہے تو اللہ اس کی تو بہ سے ایسا ہی خوش ہوتا ہے کہ جیسے تم اپنی کسی کھوئی ہوئی چیز کو پا کر خوش ہو جا تے ہو ۔

اور اس کے علاوہ اور بھی معروف ( اچھا ئیاں) کہ جو کتب فقہ اور حدیث میں درج ہیں اگر تم مزید چا ہوتو ان کی طرف راجوع کر سکتے ہو۔

میں نے اپنے والد سے عرض کیا :یہ تعداد جن کی طرف آپنے اشارہ کیا معروف تھے لیکن منکرات کے بارے میں بتایئے کہ وہ کیا ہیں؟

تو انہو ں نے کہا: جو منکر شمار کئے جاتے ہیں وہ بہت ہیں ان میں سے بعض میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں لیکن اسی پہلی شرط کے ساتھ ۔

میں نے کہا: آپ کا مقصد وہی ہے جو میں نے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ منکرات سے بچنا اور دوسروں کو آ گاہ کرنا؟

تو انھوں نے کہا : ہاں۔

میں نے کہا میں اس کا وعدہ کرتا ہوں۔

انھوں نے فرمایاکہ: منکرات میں سے بعض کو میں تم سے بیان کر تا ہوں اور میرے والد نے پہلے کی طرح ان کو بھی اپنے حافظہ کی مدد سے گنوانا شروع کیا۔

( ۱) ” ظلم کر نا“

خدا وندعالم اپنی کتاب قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

( وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )

اور عنقریب جن لوگوں نے ظلم کیا تھا جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ بدلتے ہیں:

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

اعظم الخطایا اقطاع مال امرء مسلم بغیر حق

کسی مسلمان کے مال کو ناحق چھین لینا سب سے بڑی خطا ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

جب امام زین العابدین علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آ یا تو مجھے اپنے سینہ سے لگایا اور پھر فرما یا: اے فر زند ! میں تم کو وہی وصیت کرتا ہوں جو میرے والد نے وفات کے وقت مجھ سے وصیت کی تھی اور وہ وہی وصیت تھی جو ان کے بزرگوں نے ان سے کی تھی ، فرمایا:

یابنی ایاک وظلم من لا یجد علیک ناصر اًالّاالله

اے فرزند! تم ایسے شخص پر ظلم کرنے سے بچو کہ جو تم سے بچاؤ کے لئے اللہ کے علاوہ کسی کو مدد گار نہیں رکھتا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:

” من ظلم مظلمة اخذ بھا فی نفسہ اوفی مالہ اوفی ولد ہ“

جو کوئی بے جا ظلم کرے تو اس کا بدلہ اس کی جان یا مال یااولاد سے لیا جائے گا۔

( ۲) ” ظالم کی مدد کرنا اور اس پر راضی رہنا“

نبی کریم سے مروی ہے کہ:

من مشی الی ظالم لیعینه وهو یعلم انه ظالم فقد خرج من الا سلام

جو ظا لم کی مدد کے لئے نکلا وہ جان لے کہ وہ خود ظا لم ہے پس وہ اسلام سے خارج ہوگیا،

اور آنحضرت سے مروی ہے کہ:

شر الناس من باع آخر ته بد نیاه وشر منه من باع آخر ته بدنیا غیره

لوگوں میں سب سے زیادہ برا و ہ ہے جو اپنی آخرت کو اپنی دنیا کے بدلے بیچ دے اور اس سے زیادہ برا وہ شخص ہے جو دوسروں کی دنیا کے بدلے اپنی آخرت بیچ دے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فر مایا:

ظلم کرنے والا ، اس کی مدد کرنے والا ،اور اس کے فعل پر راضی رہنے والا تینوں ظلم میں شریک ہیں۔

اور آپ ہی سے مروی ہے :

جو کسی ظالم کے ظلم کے عذر کو بیان کرے تو خدا وندعالم اس پر ایسے شخص کو مسلط کردے ، جو اس پر ظلم کرے پس وہ اگر دعا کرے گا تو اس کی دعا مستجاب نہ ہو گی ۔ آپ نے اصحاب کو نصیحت کر تے ہوئے فرمایا کسی مظلوم مسلمان کے خلاف مدد کرنے سے بچو، کیونکہ وہ تمہارے خلاف دعا کرے گا تو تمہارے بارے میں اس کی دعا مستجاب ہوگی ۔ کیو نکہ ہمارے جد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے تھے یقینا مظلوم مسلمان کی دعا مستجاب ہوتی ہے۔

انھیں حضرت سے مروی ہے :

جس نے بھی کسی مومن کے قتل پر آدھے کلمے سے مدد کی تو قیامت کے روز اس کی آ نکھوں کے سامنے ایک تحریر آئے گی ” آیس من رحمتہ اللہ“ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجا ۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ:

قیامت کے دن ایک شخص دوسرے شخص کے پاس آئے گا جو اپنے خون میں لت پت ہوگا اور کہے گا۔اے اللہ !کے بندے تیرا مجھ سے کیا واسطہ ہے؟ تو وہ کہے گا فلا ں روز تونے میری (ایسی ،ایسی) ایک کلمہ سے مدد کی تھی پس تجھے قتل کر دیا جائے گا۔

( ۳) ” انسان کا اتنا شریر ہونا کہ جس کے شر سے لوگ بچتے ہوں“

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ آپنے فرمایا:

”شر الناس عندالله یوم القیامته الذین یکر مون اتقاء شر هم“

روز قیامت اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ شریر وہ لوگ ہونگے کہ جن کے شر سے بچنے کی بنا پر لوگ ان کا اکرام کرتے تھے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

” من ابغض خلق الله عبدا اتقی الناس لسانه“

اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے کہ جسکی زبان سے لوگ ڈرتے ہوں۔

( ۴) ” قطع رحم کرنا“

خدا وند عالم کتاب قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

( فهل عسیتم ان تو لیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم )

پھرکیا یہ قریب ہے کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو تم زمین پر فساد کرو اور قطع رحمی کرو۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

فی کتاب علی علیه السلام ثلاث خصال لا یموت صاحبهن ابدا حتی یری وبالهن البغی و قطیعة الرحم والیمین الکاذ به یبارزالله بها

حضرت امام علی علیہ السلام کی کتاب میں تحریر ہے کہ:

تین خصلت والے انسان کبھی نہیں مریں گے ، جب تک کہ وہ اپنے سخت عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ زانی، قطع رحم اور جھوٹی قسمیں کھانے وا لا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فر مایاکہ:

خشعم (ایک قبیلہ کا نام ) کا ایک شخص رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ ! مجھے بتائیے کہ اسلام میں سب سے افضل چیز کیا ہے؟

تو آپؐ نے فر مایا:

اللہ پر ایمان رکھنا ،

پھر اس نے کہا :

پھر کیا افضل ہے ؟

تو آپؐ نے فرمایا:

صلہ رحم،

پھر اس نے کہا پھر کیا افضل ہے؟

آپ نے فرمایا:

امر با لمعروف ونہی عن المنکر۔

تو امام علیہ لسلام نے فرمایا:

پس اس مرد نے رسول سے عرض کیا مجھے بتایئے وہ کون سے اعمال ہیں کہ جن سے اللہ بہت زیادہ بغض رکھتا ہے آپ نے فر مایا:اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا پھر اس نے کہا اس کے بعد کیا ہے؟ آپنے فر مایا قطعہ رحم کرنا۔ اس نے عرض کیا پھر کیا ہے تو آپنے فرمایا: برائی کا حکم کرنا اور نیکی سے روکنا۔

( ۵) ” غصہ کرنا“

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

مرد جب غصہ میں ہوتا ہے تو وہ کبھی راضی نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ جہنم مین داخل ہوجائے پس جب وہ کسی قوم پر غصے ہوتو وہ فورا بیٹھ جائے اس لئے کہ اس طرح رجس شیطان دور ہوتا ہے اور جب وہ کسی رشتہ دار، عزیزپر غصہ ہوتو فوراً اس کے نزدیک جائے اور اسکو مس کرے ، کیونکہ اپنے کسی عزیز کو مس کرنا سکون بخش ہوتا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

”الغضب مفتاح کل شر“

غصہ ہر شر کی کنجی ہے۔

( ۶) ” غرور اور تکبر کرنا“

خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے کہ:

( ادخلو ! ابواب جهنم خالدین فیها فبئس مثوی المتکبر ین )

تم ہمیشہ رہنے کے لئے جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ پس تکبر کرنے والوں کا کیا برا ٹھکانہ ہے۔

خداوندعالم فرماتا ہے:

( ولا تصعر خدک للناس ولاتمشی فی الا رض مرحاان الله لایحب کل مختال فخور )

اور لوگوں کے د کھا نے کے لئے گال منھ نہ پھلاؤ اور زمین پر اکڑکر نہ چلو بیشک خدا کسی گھمنڈ کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

رسول خدا سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

اکثر اهل جهنم المتکبرون

اہل جہنم زیادہ تر متکبر ہیں۔

آپ سے مروی ہے کہ:

من مشی علی الارض اختیا لالعنته الارض ومن تحتها ومن فوقها

جوکوئی زمین پر اکڑکر چلتا ہے ، زمین اس پر لعنت کرتی ہے اپنے نیچے اور اوپر سے اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ:

من تعظم فی نفسه اختال فی مشیته لقی الله وهو علیه غضبان

جو اپنے نفس کا احترام کرائے اور چلنے میں اکڑائے ، خدا اس سے بہت غضب کی حالت میں ملاقات کرے گا۔

اور امام محمد باقر علیہ السلام وامام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایاکہ :

جس میں ذرہ برابر تکبر پایا جائے وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

الجبارو ن ا بعد الناس من الله یوم القیامته

جبرو تکبر کرنے والے انسان قیامت کے دن رحمت سے بہت دور ہونگے ۔

( ۷ ) ” ناحق یتیم کا مال کھانا “

خداوند عالم اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے :

( ان الذین یاکلو ن اموال الیتامی ظلماً انما یا کلون فی بطونهم ناراًوسیصلون سعیرًا )

بیشک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھرتے ہیں اور وہ عنقریب دہکتی ہوئی آ گ میں ڈالے جائیں گے۔

( ۸)” جھوٹی قسمیں کھانا“

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہےکہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی کتاب سے روایت بیان کی ہے:

ان الیمین الکاذبة وقطیعه الرحم تذران الدیار بلا قع من اهلها

اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

من حلف علی یمین وهو یعلم انه کاذب فقد بارذ الله عزوجل

جس نے بھی قسم کھائی اور وہ جانتا ہو کہ یہ قسم جھوٹی ہے پس وہ یقینا اللہ عزوجل سے جنگ کرنے والاہے۔

( ۹) ” جھوٹی گوا ہی دینا “

خدا وند عالم اپنی کتاب کریم میں متقین کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فر ماتا ہے :

( والذین لا یشهدون الزور و اذا مرو ا باللغو مرو اکراما )

اور جولوگ خدا کے خاص بندے ہیں جب ان کا گزر بیہودہ چیز کی طرف سے ہوتا ہے تو وہ بزر گانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ:

مامن رجل شهد شهادة زور علی مال رجل لیقطعه الا کتب الله عزو جل له مکانا ضنکا الی النار

جو شخص دوسرے کے مال پر جھوٹی گواہی دے تاکہ وہ اس سے لے لیا جائے تو خدا وند عالم اس کو جہنم میں ایک تنگ مکان میں ڈال دے گا۔

( ۱۰) ” مکر اور دھوکا بازی“

کتاب قرآن کریم میں خدا وند عالم فرماتا ہے:

( سیصیب الذین اجر مو اصغار عندالله وعذاب شدید بما کانوا یمکرون )

عنقریب جو لوگ گناہ کیا کرتے ہیں ان کو خدا کی طرف سے ذلت پہنچے گی اور مکر کرنے کی بنا پر ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔

رسول خدا سے مروی ہے کہ:

لیس منا من ما کرمسلما

"جو کسی مسلمان کے ساتھ مکر کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے"

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

لولا ان المکر و الخد یعته فی النار لکنت امکر العرب

اگر مکار اور دھوکہ باز جہنمی نہ ہوتے تو عربوں میں، میں سب سے زیادہ مکار ہوتا۔

( ۱۱) ” مومن کو حقیر اور فقیر کو گرا ہوا سمجھنا “

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

لا تحقروامو منا فقیرافان من حقر مو منا و استخف به حقره الله تعالی ولم یزل ماقتاله حتی یرجع عن تحقیره اویتوب

کسی مومن فقیر کو حقیر نہ سمجھو۔ پس جس نے کسی مومن کو حقیر اور گرا ہوا سمجھا تو خدا وند عالم بھی اس کو حقیر سمجھے گا اور اللہ کی دشمنی اس وقت ختم ہو گی جب وہ اس مومن کو حقیر سمجھنا چھوڑ دے یا توبہ کرلے۔

( ۲۱) ” حسد کرنا“

خدا وندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( ومن شر حاسداذاحسد )

اور حسد کرنے والے کے شرسے جب وہ حسد کرے۔

امام صادق علیہ السلام سے مروی ہےکہ:

حسد ایمان کو اس طرح کھا جاتا ہے کہ جس طرح آ گ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔

انھیں حضرت سے مروی ہے کہ:

ان المو من یغبط ولا یحسد و المنا فق یحسد ولا یغبط

مومن غبطہ کرتا ہے حسد نہیں کرتا اور منافق حسد کرتا ہے غبطہ نہیں کرتا۔

امام جعفر صادق علیہ السلا م سے یہ بھی مروی ہے کہ:

اصول الکفر ثلاثة ، الحرص والاستکبار والحسد

اصول کفر تین ہیں ،حرص ، تکبر اور حسد کرنا۔

( ۱۳) ” غیبت کرنا اور اس کا سننا“

خدا وند عالم کتاب کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ:

( ولا تجسسو اولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احد کم ان یاکل لحم اخیه میتا فکر هتموه )

اور کسی کے حالات کی تفتیش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو کیاتم میں کوئی اس بات کو پسند کر تا ہے کہ وہ اپنے بھا ئی کا گوشت کھائے پس اس کو تم برا سمجھو گے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

الغیبته حرام علی کل مسلم و انها لتا کل الحسنات کما تا کل النار الحطب

غیبت ہر مسلمان پر حرام ہے کیونکہ غیبت نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آ گ لکڑی کو کھاجاتی ہے۔

اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآ لہ و سلم سے مروی ہے کہ:

غیبت کے سلسلے میں منعقد ہونے والی نشست دین کی خرابی ہوتی ہے۔پس اپنے کانوں کو غیبت کے سننے سے محفوظ رکھو، کیونکہ غیبت کرنے والا اور سننے والا دونو ں گناہ میں شریک ہیں ۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

جب کسی کے سامنے اس کے برادر مومن کی کوئی غیبت کرے اور وہ اس کی مدد نہ کرے اور اس کی طرف سے وفاع نہ کرے جب کہ وہ اس کی مدد ونصرت پر قادر بھی ہوتو خدا وند عالم دنیا وآخرت میں اس کو حقیر و ذلیل کریگا۔

( ۱۴) ” دنیا کی حرص اور مال سے محبت کرنا“

خدا وندعالم اپنی کتاب کریم میں ارشاد فر ماتاہے کہ:

( یاایها الذین آمنو الاتلهکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکرالله ومن یفعل ذلک فاولئک هم الخاسرون )

اے ایمان والو تم کو تمہارے اموال اور اولاد ذکر خدا سے غافل نہ کر دیں ۔ اور جوبھی ایسا کرے گا وہی تو نقصان اٹھانے والاہے۔

خدا وند عالم فرماتاہے:

( واعلموا انما امو الکم واولادکم فتنة )

”اور جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں“

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے مروی ہے کہ:

جس نے ایسے حال میں صبح کی کہ جس کی نظرمیں دنیا کی اہمیت زیادہ ہو تو اللہ کی طرف سے کسی چیز میں اس کا حصہ نہیں ہے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے مروی ہے کہ آ پ نے فر مایا:

میرے بعد تمہارے پاس دنیا اس حالت میں آئے گی کہ وہ تمہارے ایمان کو اس طرح کھا جائے گی کہ جس طرح آ گ لکڑی کو کھاجاتی ہے۔

آ نحضرت سے مروی ہے کہ آ پ نے فرمایا۔

دنیا اپنے چا ہنے والوں کو دعوت دے گی پس جس نے بھی اپنی ضرورت سے زیادہ اٹھایا پس یقینا اس نے اپنی موت کو بلایاحالا نکہ وہ اس کا شعور نہیں رکھتا۔

آ پ ہی سے مروی ہے کہ:

بیشک دینا ر اور درہم نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا اور اب تم کو ہلاک کریں گے۔

آپ نے فرمایا:

من احب دنیاه اضر باخرته

جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا۔

امام زین العابد ین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

میں نے تمام خیر کو طمع کے قطع کرنے میں دیکھا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

وہ برا انسان ہے کہ جو طمع کرتاہو ،اور طمع اس کو اپنی طرف کھینچتی ہو، اور وہ برا انسان ہے کہ جو دنیا سے رغبت رکھتا ہو، اور وہ اس کو ذلیل کرتی ہو۔۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

حب الدنیا راس کل خطیئته

ہر غلطی اور خطا کا سر چشمہ دنیا کی محبت ہے۔

( ۱۵) ” تہمت لگانا، برا بھلا کہنا، بد زبانی اور گالیاں دینا “

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہےکہ:

اے عائشہ! اگر فحش (گالی) کی کوئی مثال ہو سکتی ہے تو وہ بری مثال ہوگی۔

آ پ ہی سے مروی ہے کہ:

اللہ برا بکنے والے اور سائل کے باربار مانگنے سے بغض رکھتا ہے۔

آ نحضرتؐ سے مروی ہے: ”مومن کو گالی دینا فسق ہے جیسے اس کا قتل کرنا کفرہے اس کی غیبت کرنا گناہ ،اور اسکا مال کھانا ایسا ہی حرام ہے جیسے اس کا خون پینا“

عمر وبن نعمان جعفی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا:

امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک ایسا دوست تھا کہ جو آپ سے کبھی جدا نہ ہوتا تھا تو اس نے اپنے غلام کو اس طرح پکارا (اے بدکارعورت کے بیٹے تو کہاں ہے؟)پس امام علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کو بلند فرماکر اسکی پیشانی پر مارا اس کے بعد فرمایا تونے اس کی ماں پر جھوٹی تہمت لگائی ہے! میں تجھ کو پرہیز گار آ دمی خیال کرتا تھالیکن تو پرہیز گار نہیں ہے ۔اس نے کہا آ پ پر فدا ہوجاؤں اس کی ماں سندھی اور مشرک عورت ہے۔

تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

کیا تو نہیں جانتا کہ ہر قوم کا (اپنے اپنے طریقہ سے ) نکاح ہے تو مجھ سے جدا ہوجا ۔(راوی کہتا ہے) میں نے ان کو پھر ایک ساتھ نہ دیکھا یہا ں تک کہ موت نے ان دونو کے درمیان جدائی پیدا کردی۔

( ۱۶) والدین کا عاق کرنا“

خدا وندعالم قرآ ن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( وقضی ربک الاتعبدوالا ایاه وبالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدهما او کلا هما فلا تقل لهما اف ولا تنهر هما وقل لهما قولا کریماً )

اور تمہارے پرور دگار نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرنا،اور ماں، باپ کے ساتھ نیکی کرتے رہنا۔ اگر ان دونوں میں کوئی ایک یا دو نو ں بڑھا پے تک پہنچ جائیں تو انکے سامنے اف بھی نہ کرنا اور ان کو نہ جھڑکنا اور ان سے اچھی باتیں کرنا۔

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ :

ایا کم وعقوق الوالدین

” بچو تم ایسی حالت سے کہ تمہارے والدین تم کو عاق کردیں۔

اور آ نحضرتؐ ہی سے مروی ہے:

من اصبح مسخطا لابو یه یصبح له بابان مفتو حان الی النار

جس نے ایسی حالت میں صبح کی کہ اس کے والدین اس سے ناراض ہوں تو اس کے لئے جہنم کی طرف دو دروازے کھل جاتے ہیں۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آ پ نے ارشاد فرمایا:

کہ ایک دن میرے والد نے ایک شخص کو دیکھا ، وہ اپنے بیٹے کے ساتھ جارہا تھا اور بیٹا اپنے باپ کے ہاتھ پر تکیہ کئے ہوئے تھا۔

امام نے فرمایا :

میرے والد نے اس سے مرتے دم تک قطع کلام کیا (یعنی اس سے بات نہ کی) اورامام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو اپنے ماں باپ کی طرف دشمنی سے نگاہ کرے گا ، حالانکہ وہ دونوں اس کے حق میں ظالم ہوں توخدا اس کی نماز قبول نہیں کرے گا۔

انھیں سے مروی ہے کہ:

اگر لفظ ” اف“ سے بھی کوئی نیچی چیز ہو تی تو خدا وند عالم اس سے منع کرتا اور وہ ”اف“ ادنی چیز ہے جو عاق والدین میں سے ہے اور عاق ہونے میں شمار ہوتا ہے وہ شخص جو اپنے والدین کی طرف نگاہ کرے اور ان پر اپنی نگاہ کو جمالے (یعنی انکی طرف دیکھ کر فوراً نگاہوں کو نیچی کرلو )۔

( ۱۷) جھوٹ بولنا

”خدا وند عالم اپنی کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( انما یفتری الکذب الذین لا یومنون )

جو جھوٹی تہمت لگاتے ہیں وہ مومن نہیں ہیں۔

( فاعقبهم نفاقا فی قلوبهم الی یوم یلقونه بما اخلفو الله ما وعدوه وبما کانو ایکذ بون )

پس خدا وند عالم نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لئے نفاق پیداکر دیا جس دن وہ خود اس سے ملاقات کریں گے کیونکہ انہوں نے جو وعدہ خدا سے کیا تھا اس کے خلاف کیا اور وہ جھوٹ بولا کرتے تھے

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ:

سب سے بڑی خیا نت یہ ہے کہ تم اپنے کسی ایسے بھائی کے بارے میں بات کرو کہ وہ تمہارے بارے میں جوکچھ کہتا ہے صحیح کہتا ہے اور تم اس کے بارے میں جو کچھ کہتے ہو جھوٹ کہتے ہو۔

آ پ ہی سے مروی ہے :

الکذب ینقص الرزق

جھوٹ بولنا رزق کو کم کرتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ آ پ نے فرمایا:

کوئی بندہ ایمان کا مزہ نہیں پائے گا جب تک کہ وہ جھوٹ کو ترک نہ کردے ۔ چاہے وہ جھوٹ مذاق میں ہو یا مذاق میں نہ ہو۔

امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

جھوٹ سے بچوچاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ،مذاق میں ہو یا مذاق میں نہ ہو اس لئے کہ اگر کوئی شخص چھوٹا جھوٹ بولے گا تو وہ بڑا جھوٹ بو لنے پر جری ہوجائے گا۔

امام حسن عسکری علیہ السلام سے مروی ہے کہ آ پ نے فرمایا:

جعلت الخبائث کلها فی بیت وجعل مفتا حها الکذب

تمام خبائث (برائیوں) کو ایک گھر میں قرار دیا گیا ہے اور اس کی کنجی جھوٹ بولنا ہے۔

( ۱۸) ” وعدہ خلافی کرنا“

خدا وند عالم اپنی کتاب قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

( فاعقبهم نفاقا فی قلوبهم الی یوم یلقونه بما اخلفوا الله ماوعدوه )

خدا نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لئے نفاق پیدا کردیا کہ جس دن وہ خود اس سے ملاقات کریں گے کیونکہ انھو ں نے جووعدہ خدا سے کیا تھا اس کے خلاف کیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے فرمایا:

من کان یومن باالله وبالیوم الا خر فلیف اذاوعد

جو بھی اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔

آ نحضرت سے مرو ی ہےکہ:

جس شخص میں چار چیزیں ہوں گی وہ منافق ہوگا اور جس میں یہ چار چیزیں نہ ہوں گی وہ نفاق سے بری ہوگا۔

وہ چار چیزیں یہ ہیں ۔

اذا حدث کذب واذا وعدا خلف و اذا عاهد غدر واذا خاصم فجر

وہ جب بات کرے تو جھوٹ کہے ،جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے،جب عہد کرے تو غداری کرے جب جھگڑا کرے تو دشمن ہوجائے۔

( ۱۹) گناہ پر اصرار کرنا اور اس کو ترک نہ کرنا اور اس پر نادم نہ ہونا۔

خدا وندعالم اپنی کتاب قرآن کریم میں ا رشاد فر ماتا ہے:

( والذین اذا فعلو افا حشة اوظلموا انفسهم ذکرو االله فاستغفرو الذنو بهم ومن یغفر الذنوب الا الله ولم یصر واعلی ما فعلواوهم یعلمون اولئک جزاؤ هم مغفرةمن ربهم وجنات تجری من تحتها الانهار خالدین فیها ونعم اجر العا ملین )

اورجو لوگ بدی کرتے ہیں یا اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں تو وہ خداکو یاد کرکے اپنی گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور سوائے خداکے کون گناہوں کو معاف کرسکتا ہے اور جو کچھ وہ کر چکے ہیں اس پر جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے ان کی جزاء ان کے پرور دگار کی طرف سے ان کی بخشش ہے ۔اور ایسے باغ ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور نیک عمل کرنے والوں کے لئے اچھا اجر ہے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے مروی ہے کہ:

ان من جملة علامات الشقاء الاصرار علی الذنب

شقاوت کی جملہ علامات میں سے ایک علامت گناہ پر اصرار کرناہے۔

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہےکہ:

اعظم الذنوب ذنب اصر علیه صاحبه

گناہوں میں سب سے عظیم وہ گناہ ہے جس کا کرنے والا اس پر اصرار کرے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہےکہ:

لاوالله لایقبل اللّه شیئاً من طا عته مع الا صرار علی شئیٍ من معاصیه

خدا کی قسم خدا اپنی اطاعت کواس بندے سے قبول نہ کرے گا کہ جو اس کی نافر مانیوں سے کسی نافرمانی پر اصرار کرتاہو۔

( ۲۰)” غذا کا احتکار کرنا (ذخیرہ اندوزی) اس نیت کے ساتھ کہ اس کی قیمت زیادہ ہوگی“

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے مروی ہے کہ:

ایما رجل اشتری طعا ما فحبسه ار بعین صبا حا یرید به غلاء المسلمین ثم باعه فتصدق بثمنه لم یکن کفارة بما صنع

کوئی شخص غذا کا سامان خریدے اور ااس کو چالس دن ذخیرہ کرکے رکھے اور مقصد یہ ہوکہ یہ مسلمانوں میں کم ہوجائے تاکہ مہنگا بیچے پھر اگر اس کی قیمت صدقہ میں دےدے تو بھی اس کا کفارہ نہ ہوگا کہ جواس نے کیا۔

نبیؐ سے مروی ہے کہ:

من احتکرفوق اربعین یوما حرم الله علیه ریح الجنّة

جوبھی چالیس دن سے زیادہ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کریگا خداوند عالم اس پر جنت کی بو کو حرام کردے گا۔

انھیں حضرتؐ سے مروی ہے:

جوبھی چالیس دن اس انتظار میں غذا کو ذخیرہ کرے گا کہ وہ مسلمانوں میں کم ہوجائے تو خدا اس سے بری ہے۔

( ۲۱ ) ” دھوکہ بازی کرنا“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے مروی ہے کہ:

من غش مسلماً فی شراء اوبیع فلیس منا

جو خریدو فروخت میں کسی مسلمان کے ساتھ دھوکہ بازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

آپنےؐ فرمایا:

الا ومن غشنا فلیس منا

جوبھی ہمکو دھوکہ دے وہ ہم سے نہیں ہے اور اس کو تین مرتبہ فرمایا کہ:

ومن غش اخاه المسلم ، نزع الله برکة رزقه و افسد علیه معیشته ووکله الی نفسه

جوبھی کسی مسلمان بھائی کے ساتھ دھوکہ کرے خدا اس کے رزق سے برکت اٹھالیتا ہے اور اس کی معیشت کو فاسد کردیتا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آ پ نے فرنایا!

نبی مد ینہ کے بازار میں ایک غلہ فروش کے پاس سے گزرے ،آ پ نے اس غلہ فروش سے فرمایا : میں تیرے اناج کو نہیں دیکھتا مگر صاف اور اچھا ۔آ پ نے اس کی قیمت معلوم کی پس اتنے میں وحی نازل ہوئی کہ وہ اپنا ہاتھ اناج کے اندر کریں تو آ پ نے ایساہی کیا تو اس کے نیچے سے خراب اناج نکلا تو آپ نے اس کے مالک سے فرمایا میں تجھ کو نہیں دیکھتا مگر یہ کہ تونے مسلمانو ں کے لئے خیانت اور غش (دھوکہ) کو جمع کرلیا ہے۔

( ۲۲) ” اسراف وتبذیر “

اور مال کا تلف کرنا چاہے کم ہی کیوں نہ ہو اور اس مال میں کفایت سے کام نہ لینا ۔

خدا وندے عالم فرماتا ہے:

( وکلو اوشربو اولاتسر فو اانه لا یحب المسر فین )

کھاؤ ،پیو ،اور اسراف نہ کرو اس لئے کہ وہ اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔

”وان المسرفین هم اصحاب النار“

اسراف کرنے والے جہنمی ہیں۔

( ان المبذرین کانو ا اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربه کفورا )

بیشک بے جاخرچ کرنے والے شیاطین کے بھا ئی ہیں اور شیطان اپنے پرور دگار کا سب سے بڑا منکر ہے۔

امیرالمومنین علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

ان اللّه اذا اراد بعبد خیراً ،الهمه الا قتصاد وحسن التدبیروجنبه سوء التدبیر، والاسراف

بیشک اللہ جب کسی بندے سے خیر چاہتا ہے تو اس کو اقتصاد اور بہترین تد بر الھام کرتا ہے اور بری تدبیر اور اسراف سے بچاتا ہے۔

اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آ پ نے فرمایا:

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اس کو کرامت عطا کی کہ جس نے بخشش کی اور اس سے ہاتھ روک لیا جس نے بخشش کے سلسلہ میں سستی کی؟اور جان لوکہ مال، اللہ کا مال ہے اس نے لوگوں کے پاس امانت رکھا ہے اور ان کے لئے جائز قرار دیا ہے کہ وہ اس میں میانہ روی اختیار کرتے ہوئے کھا ئیں پیئیں اور نکاح کریں اور اس کے علاوہ جو بچے وہ فقرا ء کو تقسیم کریں اور اس مال کے ذریعہ فقراء کی پرا گند گی کو جمع کریں پس جو بھی ایسا کرے گا تو وہ حلال کھائے گا ،حلال پئے گا ، حلال نکاح کرے گا۔اور اس کے علاوہ اس پر حرام ہے:پھر آپ نے فرمایا:

لاتسر فواان لله لا یحب المسر فین

اسراف نہ کرو ، خدا اسراف کرنے والو ں کو دوست نہیں رکھتا۔

اور آ پ ہی سے مروی ہے کہ :

میا نہ روی ایک ایسا امر ہے جو خداکو پسند ہے اور اسراف اس کو نا پسند ہے یہاں تک کہ تمہارے کھجور کی گٹھلی کا پھینکنا اگر وہ کسی چیز کے کام آ تی ہے اور تمہارا وہ پانی جو زیادہ ہے اس کا پھینکنا اس کو پسند نہیں ہے۔

( ۲۳) ” واجبات میں سے کسی واجب کا ترک کرنا “

جیسے نماز روزہ یا ان دونو ں کے علاوہ دوسرے واجبات میں سے کسی واجب کا ترک کرنا۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کا فرمان ہے کہ:

من ترک الصلوة متعمداً فقد بری من ذمة الله وذمة رسوله

جس نے بھی نماز کو عمداً ترک کیاتو اس سے اللہ اور اس کا رسول بری الذمہ ہیں۔

امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

ولا ینظر الله الی عبده ولا یزکیه لو ترک فریضة من فرائض الله اوار تکب کبیرة من الکبائر

خدا اس بند ے کی طرف نہیں دیکھے گا اور نہ اس کی اصلاح کرے گا جو واجبات میں سے کسی واجب کو ترک کرتا ہے یا گناہ کبیرہ میں سے کسی کا مر تکب ہوتا ہے۔

آ پ ہی سے مروی ہے:

ان الله امره بامر وا مره ابلیس بامر ، فترک ماامر الله عزو جل به وصار الی ما امر به ابلیس فهذ ا مع ابلیس فی الدرک السابع من النار

اللہ نے اپنے (بندہ) کوکسی چیز کا حکم کیا اور ابلیس نے کسی چیز کا اس کو حکم دیا ۔ اس نے اللہ کے حکم کو ترک کردیا اور ابلیس کا حکم بجالایا پس وہ ابلیس کے ساتھ جہنم کے ساتویں درجہ میں ہوگا۔اور اس کے علاوہ بھی منکرات ہیں،کہ جن کے ذکر کا محل یہاں نہیں ہے پس اگر تم چاہو تو حدیث اور فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کر سکتے ہو۔ میرے والد نے پروقار انداز اور مؤ ثر آواز میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا:اب میں اس امر بالمعروف ونہی عن المنکرکی گفتگو کو ایک بڑے مجہتد کے کلام کو (نقل کرتے ہوئے ) ختم کررہاہوں جس میں فرمایاہے: یہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کےعظیم، اعلی اور محکم افراد سے ہیں ۔خصوصا دین کی ریاست جن کے ہاتھوں میں ہے ان کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی نسبت سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ کہ وہ واجب اور مستحب معروف کی ردا اوڑھ لیں اور حرام و مکروہ منکر کی ردا اتار کر پھینک دیں ۔ اخلاق کریمہ سے اپنے نفس کو مزین اور بداخلاقی سے اپنے نفس کو پاک کرلیں ،اس لئے کہ لوگوں کے معروف انجام دینے اور منکر سے بچنے کایہی ایک کامل سبب ہے خصوصاً اس کو جب بہترین ، پسندیدہ اور خوف زدہ موعظہ سے مزید کامل ترکیا ہوجائے کیونکہ ہر مقام کے لئے ایک نکتہ ہے اور ہرمرض کے لئے ایک دوا ہے۔ اور نفسوں اور عقلوں کا علاج جسموں کے علاج سے زیادہ سخت ہے ، اسی بناء پرامر بالمعروف ونہی عن المنکر کے جو بلند مرا تب ہیں ان کو بجا لایا جائے ،میرے والد نے فرمایا کہ امربالمعروف نہی عن المنکر کی بحث کے سلسلے میں ہماری گفتگو کا اختتام ہوتا ہے میں نے اللہ کی خالص خوشنودی حاصل کرنے کی امید پر اس کو تمہارے اور دوسرے مومنین بھائیوں کے نفع کے لئے بیان کیا ہے۔ اب کل ان عام سوالات کے سلسلہ میں گفتگو شروع کی جائے گی کہ جو تم نے اختیار کئے ہیں یا پچھلی بحثوں میں تم کچھ پوچھنا بھول گئے یا تفصیل کے ساتھ کسی سوال کا بیان چاہتے تھے یا کچھ ایسے سولات ہیں جو پچھلی بحثوں میں ہماری گفتگو سے خارج تھے ۔

میں نے کہا بہت اچھی بات ہے اور امید ہے کہ وہ بہت مفید ہوں گے ۔ انھوں نے فرمایا :پس کل کے جلسہ تک انشاء اللہ (ہم رخصت ہوتے ہیں ) کل کے جلسہ کی بحث میں ایک عام گفتگو ہوگی۔


پہلی جزل گفتگو

جیسے ہی میرے والد صاحب میرے پاس سے تشریف لے گئے تو میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے متعلق غورو خوض کرنے لگا تاکہ فقہ کی اس بحث کو کہ جو ایک مستقل موضوع پر مبنی ہے ختم کرکے اس کے بعد آنے والی خاص گفتگو کے لیے آ مادہ ہوجاؤں ۔ ایسی گفتگو کہ جس کے لئے میں سو الا ت اور موضوعات کو معین کروں گا جیسا کہ میں نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا ۔ اور مقرر ہ وقت کے آنے سے پہلے ہی میں نے آنے والی گفتگو کے سلسلے میں چند سوالات کے مجموعہ کا پہلا حصہ تیار کرلیا ۔ اس کے بعد میں کئی گھنٹے تک ان سوالات کے بارے میں سونچتا رہا ۔

اور جب گفتگو کا وقت آیا تو میرے والد صاحب تشریف لائے، سلام اور خدا کی حمد وثناء کے بعد اس عام گفتگو کو شرو ع کیا میں نے سوالات کئے اور والد صاحب نے ان کا جواب دیا ۔ اور میرا پہلا سوال ان قدرتی کھالوں کے بارے میں تھا کہ جو غیر اسلامی ممالک (جیسے یورپ وغیرہ ) میں بنتی اور وہاں سے ہمارے ملک میں وارد ہوتی ہیں ۔

سوال: میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ ایک شخص اصلی کھال کا غیر اسلامی ملک میں بنا ہوا گھڑی کا پٹا باندھتا ہے اور پہننے والا نہیں جانتا کہ یہ ایسے حیوان کی کھال کا ہے جس کو اسلامی طریقہ سے ذبح کیا ہے یانہیں ؟ یااسی طرح کمر کا پٹا ہے تو کیا ایسی صورت میں نماز کے وقت ان دونوں کو اتار دیاجائے یانہیں ؟

جواب: جب تک یہ احتمال قوی ہے کہ یہ گوشت کھانے والے حیوان کی کھال کا ہے اور اس کو اسلامی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے تو اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔

سوال: پیسوں کی وہ تھیلی جو چمڑے کی بنی ہوئی ہے اور نماز کی حالت میں وہ جیب میں ہے اگر اس کی کھال گھڑی کے ذکر شدہ پٹے کی طرح ہوتو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

سوال: فرض کیجئے کہ کسی کو اس بات کا اطمینان ہو کہ یہ گھڑی یا کمر کا پٹا ایسے حیو ان کی کھال کا بنا ہوا ہے کہ جو اسلامی طریقہ سے ذبح نہیں کیا گیا لیکن بھول کر اسکے ساتھ نماز پڑھنی شرو ع کردے ، پھر نماز کے دوران اسے یاد آجائے اور وہ پھر اپنی گھڑی اور کمر کا پٹہ اتار دے تو کیا حکم ہے؟

جواب: نماز ایسی حالت میں درست ہے ،لیکن اگر یہ ا نسان ،لا پرواہی یا ایسی چیز کو اہمیت نہ دینے کی بنا پر ہوتو نماز کا دوبارہ پڑھنا لازمی ہے۔

سوال: کپڑے دھونے کی برقی مشین جو پانی بند ہوجا نے کے بعد کپڑوں کو خشک کرتی ہے اور اس کا خشک کرنا اس کے گھومنے کی قوت کی بنا پر ہے نہ نچوڑ نے کی بنا پر توکیا یہ کپڑوں کو پاک کرنے کیلئے کافی ہے؟

جواب: ہاں پاک کرنے کے لیے کافی ہے۔

سوال: کتنی مرتبہ ایسا ہواہے کہ بعض اشخاص کےساتھ میں نے مصافحہ کیا اور ان کا ہاتھ گیلا تھا لیکن میں نہیں جانتا کہ یہ مصافحہ کرنے والا مسلمان ہے یا کافر کہ جو طہارت کے حکم میں نہیں ہے تو کیا میرے اوپر واجب ہے کہ اس سے سوال کروں تا کہ مجھے یقین ہوجائے؟

جواب: ہر گز! تم پر اس سے پوچھنا واجب نہیں ہے ممکن ہے کہ تم کہہ سکتے ہو کہ یہ میرا ہاتھ پاک ہاتھ سے مس ہوا ہے۔

سوال: یونیورسٹی کا طالب علم یا تاجر یا سیاح یادوسرے لوگ جو غیر اسلامی ممالک مثلاً یورپ وغیرہ کا سفر کرتے ہیں تو ان کی روز مرہ کی زندگی میں وہاں کے رہنے والے یہودیوں اور عیسایئوں کے ساتھ ہوٹل میں حجامت بناتے وقت ، دواخانہ وغیرہ میں اس سے ملتے وقت سرایت کرنے والی رطوبت سے نہیں بچا جاسکتا تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

جواب: جب تک تم کو ان کی ظاہری نجاست کا قطعی علم نہ ہوجائے اس وقت تک تم ان کے جسموں کو پاک سمجھو۔

سوال: اگر میں کسی ایسے گھر میں رہنے لگوں کہ جس میں پہلے ایسے لوگ رہتے تھے کہ جن کی طہا رت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا تو کیا مجھے یہ حق ہے کہ میں وہاں کی ہر چیز پر طہا رت کا حکم لگاؤں؟

جواب: ہاں ! تم ہر چیز پر طہا رت کا حکم لگا سکتے ہو جب تک تم کو ان کی نجاست کا علم یا اطمینان نہ ہوجائے۔

سوال: چھوڑیئے! نماز کی طرف پلٹتے ہیں اور ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ جو نماز پڑھتا ہے روزہ رکھتا ہے لیکن وہ اکثر غسل کرنے میں غلطی کرتا ہے اب اس کو پورا پورا یقین ہو گیا ہے کہ اس کے کچھ غسل باطل تھے جو اس نے پہلے کئے تھے ، لیکن وہ ان کی تعداد کو نہیں جانتا کہ باطل غسل کتنے ہیں اسی بناء پر وہ نہیں جانتا کہ ایسی کتنی نمازیں اور کتنے روزے ہیں جو اس نے باطل غسل کے بعد انجام دیئے ہیں؟

جواب: اس کے روزے صحیح ہیں اگر چہ اس کا غسل باطل ہے لیکن اس پر واجب ہے کہ وہ نماز وں کی قضا کرے جو باطل غسلوں کے ساتھ پڑھی ہیں اگر وہ ان کی تعداد میں کم اور زیادہ ہونے میں متر ددہواس کے لئے جائز ہے کہ وہ کم عدد پر بنا رکھے۔

سوال: کبھی ایسا ہوہے تا کہ میں نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں اور میری جیب میں کچھ سفید کاغذ بھی ہوتے ہیں تو کیا میں ان پر سجدہ کر سکتاہوں ؟

جواب: ہاں تم ان پر سجدہ کر سکتے ہو اگر وہ پاک ہوں اورلکڑی یا اسکے مشابہ چیز سے بنے ہوں ۔ جس پر سجدہ کرنا جائز ہے اور اسی طرح اس کاغذ پر بھی تم سجدہ کرسکتے ہو جوروئی اور کتان سے بنا ہواہو۔

سوال: کیا سیمنٹ پر سجدہ کرنا جائز ہے؟

جواب: ہاں سیمنٹ پر سجدہ کرنا جائز ہے۔

سوال: اگر میں گراموفون ،ٹیپ ریکاڈر ،ریڈیویا ٹیلی ویزن سے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت سنوں کہ جس پر سجدہ واجب ہے تو کیا مجھ پر سجدہ کرنا واجب ہے؟

جواب: ہر گز نہیں !تمہارے اوپر سجدہ کرنا واجب نہیں ہے ۔مگر یہ کہ تم کسی شخص کو پڑھتے ہوئے سنو نہ کہ ٹیپ ریکاڈر وغیرہ سے۔

سوال: اگر کوئی عورت نمازپڑھ رہی ہو اور اس کے سر کے کچھ بال اس کے مقنعہ یا چادر سے باہر نکلے ہوں اور اس کو نہ جانتی ہو تو کیا مجھ پر نماز کے درمیان یا نماز کے بعد اس کو بتانا واجب ہے؟

جواب: ہر گز نہیں ۔ تمہارے اوپر اس کا بتانا واجب نہیں ہے اور اگر وہ عورت اس چیز کو نہ جانے اور نماز کو تمام کردے اس کی نماز صحیح ہے اور اگر وہ دوران نماز اس چیز کو جان لے اور ان کو چھپانے میں جلدی کرے تو بھی اس کی نماز صحیح ہے۔

سوال: ایک شخص نماز صبح سے چند منٹ پہلے بیدار ہوتا ہے تو کیا اس کا دوبارہ سونا جائز ہے جبکہ اس کو یہ معلوم ہو یا اس احتمال قوی ہو کہ وہ سورج نکلنے سے پہلے بیدار نہیں ہوگا ؟

جواب: جبکہ یہ چیز اس کی سستی یا نمازکو معمو لی چیز سمجھنے پر موقوف ہو تو پھر اس کا سونا جائز نہیں ہے۔

سوال: طالب علم ، مزدور، ملازم پڑھنے کے لئے یا اپنے کام پر اپنے شہر سے( ۲۲ ) کلو میٹر دور جاتا ہے اور پھر اپنے شہر لوٹ آ تا ہے اور یہ اس کا سفر اکثر ایک سال یا زیادہ عرصہ تک جاری رہتا ہے تو اس کی نماز اور روزوں کا کیا حکم ہے؟

جواب: وہ اپنی نماز تمام پڑھے گا اور روزےہ رکھے گا۔

سوال: اگر ایک سال کے دوران ہر ہفتہ تین یا چار مرتبہ کوئی سفر کرے (نہ اس حیثیت سے کہ سفر اس کا پیشہ ہے) بلکہ اپنی دوسری ضروریات کی غرض سے مثلا سیر وتفریح کے لئے یا بیمار ی کے معالجہ کے لئے یا قبور ائمہ علیہم السلام کی زیارت کے لیے یا کسی دوسری چیز کے لئے سفر کرے تو اس کی نماز کاکیا حکم ہے؟

جواب: وہ اپنی پوری نمازپڑھے اورروزہ رکھے گا کیونکہ وہ عام لوگوں کے نزدیک اس کے بعد کثیر ا لسفر شمار کیا جائے گا اور اگر چہ وہ ہفتہ میں دو مرتبہ سفر کرے اور پانچ دن اپنے وطن رہے تو پھر نماز قصر اور تمام (یعنی نماز پوری پڑھے اور قصر بھی پڑھے ) کو جمع کرے اور ماہ رمضان میں روزوں کو رکھے اور بعد میں ان کی قضا بھی کرے۔

سوال: ہماری گفتگو سفر کے سلسلہ میں ہے تو معاف کیجئے میں آپ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ جو ماہ رمضان میں زوال کے بعد سفر کرے اور وہ روزہ دار ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: اس دن کا روزہ رکھے اور اس کی قضاء لازم نہیں ہے۔

سوال: اور اگر وہ زوال سے پہلے سفر کرے اور اس کی نیت رات ہی سے کرلے تو کیا حکم ہے؟

جواب: اس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے۔ وہ حد ترخص پر پہنچنے کے بعد افطا ر کرے اور اس کے بعد میں قضا بجالائے۔

سوال: اور اگر وہ زوال سے پہلے سفر کرے اور اس کی نیت سفر رات سے نہ ہو؟

جواب: اس کاحکم بھی پہلے حکم کی طرح ہے۔

سوال: ماہ رمضان میں مسافر زوال کے بعد اپنے وطن یا اپنے رہنے کی جگہ پہنچے تو کیا ایسی صورت میں اس باقی دن میں اس پر امساک (روزہ باطل کرنے والی چیزوں سے پرہیز) ضروری ہے؟

جواب: اس پر امساک واجب نہیں ہے اگر چہ مناسب یہی ہے کہ وہ بقیہ دن امساک کرے۔

سوال: اور اگر وہ زوال سے پہلے آجائے اور اس نے اپنے اس سفر میں روزہ افطار کرلیا تو ؟

جواب: اس کا حکم پہلے حکم کی طرح ہے ۔

سوال: اور اگر وہ زوال سے پہلے اپنے وطن یا رہنے کی جگہ پہنچ جائے اور اس نے سفر میں افطار بھی نہیں کیا ؟

جواب: اس پر روزہ کی نیت واجب ہے بقیہ دن وہ مفطرات روزہ سے اجتناب کرے۔

سوال: ایک شخص نے چند سال ماہ رمضان میں روزے رکھے اور وہ غسل جنابت کے واجب ہونے کو جہالت کی بنا پر نہیں جانتا تھا اس بنا پر اس نے غسل نہیں کیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس کا روزہ صحیح ہے اور اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔

سوال: بعض حسا سیت کے مریض (مثلاًسینہ کی حسا سیت ،دمہ کی بیماری )ایک ایسی چیز کرتے ہیں کہ جو سانس لے نے میں مدد دیتی ہے ۔اس کو ہم سانس لینے کی مشین کہتے ہیں ۔ وہ ا سکودھن میں سانس کی تنگی کے وقت رکھتے ہیں اور اس سے گیس کے مانند ایک چیز نکلتی ہے تو اس کا استعمال روزہ میں جائز ہے؟

جواب: ہاں ،روزہ کی حالت میں اس کا استعمال جائز ہے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔

سوال: آ یا ماہ رمضان میں دن کے وقت بے روزہ دار لوگوں کو کھانا کھلانا جائز ہے؟چاہے یہ کھا نا ہوٹل میں یا گھر میں کھلا یا جائے ان بے روزہ دار لوگوں میں معذور بھی اور غیر معذور بھی ہوں اس کھانا کھلا نے میں اس مقدس مہینہ کی بے حرمتی بھی نہ ہوتی ہو؟

جواب: معذورین کے لئے کھانا کھلانا جائز ہے(ان کے علاوہ کسی کو کھانا کھلا نا جائز نہیں )

سوال: اگر منجمین کی طرف سے چاند ثابت ہونے کا اعلان ہوجائے اور نجومی حساب کے صحیح ہونے کا مجھے شخصاً اطمینان حاصل ہو تو کیا چاند کی پہلی تاریخ کے ثابت ہونے میں ،میں اپنے اطمینان پر اعتماد کرتے ہوئے روزہ ر کھ سکتا ہوں اور کیا اسی طرح عید مان کر روزہ توڑ سکتا ہوں ؟

جواب: چاند کی پہلی تاریخ ثابت ہونے میں اطمینان کا کوئی دخل نہیں ہے ۔اور اسی طرح اطمینان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے کہ چاند دیکھنے کے قابل ہوبلکہ ضروری ہے کہ چاند کو تم خو دیکھو ۔ یاتمہارے علاوہ جو دوسرے لوگ ہیں وہ دیکھیں ،ہاں اگر کسی دوسرے شہر میں رؤیت ہلال ہوگئی ہو اور تمہارا شہر اس کے افق میں متحد ہو اس طرح کی بادل ، غبار، پہاڑوغیرہ کے مانند کوئی چیز ،دیکھنے سے مانع ہو تو پھر تمہارے شہر میں بھی اس کی رؤیت لازمی ہے۔(لہذا چاند ثابت ہوجائے گا)

سوال: گلو کوز جس میں پانی ،شکر اور کچھ دوائیں ملی ہوتی ہیں ۔ جو مریض کو انجیکشن کے ذریعے خون میں مرض کی بنا پر غذا کے طور پر چڑھائی جاتی ہے کیا روزہ دار کا اس سے بچنا واجب ہے؟

جواب: بچنا واجب نہیں ہے اگر چہ مناسب یہی ہے کہ اس کو نہ چڑھا یا جائے۔

سوال: اب حج کی طرف چلتے ہیں ، میں آپ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ جو کسی سال مادی ومالی اعتبار سے مستطیع ہوگیا ۔مگر سفر میں رکاوٹ پیدا ہوگئی اور وہ اس سال ویزہ حاصل نہ کرسکا حج کے موسم کے بعد حج کے لئے جو مخصوص مال تھا وہ ضروریات زندگی پر خرچ کرنے کے لئے مجبور ہوگیا اس کے بعد وہ اتنی مقدار میں مال کے حاصل کرنے پر مستطیع نہ ہو سکا کہ جتنا حج کے لئے ضروری ہے؟

جواب: اگر آنے والے سالوں میں وہ مستطیع ہوگیا تو اس پر حج واجب ہے اور اگر مستطیع نہ ہوا تو حج اس پر واجب نہیں ہے۔

سوال: آپ نے حج کی بحث میں مجھ سے فرمایا کہ میں نے رمی ۔” جمرة عقبہ“ کیا تو آپ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کنکر یاں کس سمت سے ان شیاطین کو ماریں ؟

جواب: میں نے ان کے سامنے سے یہ کنکریاں ماریں اس لئے کہ ان کے پیچھے سے مارنا جائز نہیں ہے۔

سوال: آپ نے فرمایا تھا کہ آپ نے اس میقات سے اپنا احرام باندھا تھا کہ جس کا نام جحفہ تھا،جدہ ہوائی جہاز سے پہنچنے کے بعد ، پس اگر کوئی شخص جہالت کی بنا پر جدہ سے احرام ، باندھ لے اور جحفہ سے نہ باندھے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: احرام باندھنے کی نذر جدہ سے کی ہوتو پھر احرام باندھنا وہاں سے صحیح ہے۔

سوال: آپ نے فرمایا تھا کہ طواف اور سعی کے بعد آپ نے خود تقصیر کی (بال کاٹے )اگر آپ اپنے بال کاٹنے سے پہلے کسی دوسرے بھائی کے بال کاٹیں تو کیا حکم ہے؟

جواب: اپنے بال کاٹنے سے پہلے کسی دوسرے کے بال کاٹنا صحیح ہے۔

سوال: اگر مجھ پر اس سال حج واجب ہوجائے اور اس میں یونیورسٹی یا کالج کا ایک طالب علم ہوں ۔اگر حج کا وقت اور سالانہ امتحان ایک ہی وقت میں جمع ہوجائیں اور ایسی صورت میں حج کے لئے میرا سفر کرنا ایک سال کی پڑھائی کا نقصان ، اور اس میں مادی اور معنوی شدید نقصان ہے؟

جواب: اگر تمہارا سفر تمہارے لئے شدید حرج کا باعث ہو جیسا کہ تم نے کہا تو اس سال حج کا ترک کرنا تمہارے لیے جائز ہے۔

سوال: مجھے معاف کیجئے گا بعض موضو عات کو چھو ڑتے ہوئے خاص طور سے تجارت کے بارے میں سوال کررہاہوں ، اور ہم اس موضوع کو حکومتی بینکوں کے ساتھ تجارت کے معاملہ سے شر وع کرتے ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ اپنے اموال کو تجارت کی غرض سے ان کے سپرد کرتے ہیں تاکہ ان میں اضافہ ہوجائے؟

جواب: میرے والد صاحب نے فرمایا ٹہرو میں پہلے تم سے ایک سوال کرتا ہوں ، کہ کیا یہ بینک اسلامی ممالک یا غیر اسلامی ممالک کی حکومتوں کے ہیں ؟ اور کیا جو مال ان کے سپرد کیا جاتا ہے وہ اس شرط کےساتھ کہ وہ اس پر فائددیں گےیانہیں ؟

سوال: ان تمام میں کیا فرق ہے؟

جواب: غیر اسلامی ممالک کے بینکوں میں مال سپرد کرنا ہر حال میں جائز ہے اور اگر چہ فائدہ حاصل کرنے کی شرط ہی کیوں نہ ہو۔اور اگر یہ بینک اسلامی ممالک میں ہیں تو اگر فائدہ کے حصول کی شرط پر مال ان کے سپرد کیا جائے تو یہ حرام ہے اور اگر اس شرط کے بغیر ہوتو صحیح ہے لیکن اس مال میں تصرف جائز نہیں کہ جو سود سے حاصل کیا گیا ہو البتہ حاکم شرع یا اس کے وکیل سے رجوع کرنے کے بعد تصرف کرسکتے ہیں۔

سوال: اصل مال اور بینک نے جو مال کی سپردگی پر فائدہ دیا ہے ان دونوں کے درمیان کیا کوئی فرق ہے؟

جواب: نہیں دونوں میں کوئی فرق نہیں حکومت اسلامی کی بینک سے جو چیز لی گئی ہے اس میں تصرف اسی وقت جائز ہے جبکہ اس کی اجازت حاکم شرع یا اس کا وکیل دے

سوال: آپ نے مجھ سے فرمایاکہ اسلامی مما لک کے بینکوں میں فائدے کے حاصل ہونے کی شرط پر مال کا سپر د کرنا جا ئز نہیں تو آپ کا اس شرط سے کیا مقصد ہے؟ گویا آپ کا مقصد ہے کہ سپر د کرنے والا اپنے آپ کو اس کا پابند بنا ئے کہ اگر بینک نے اس کو کوئی فائدہ نہ دیا تو اسے کوئی مطالبہ نہ کرے گا ؟

جواب: نہ اس شرط کے معنی ٰ یہ نہیں ہے ، بلکہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ بینک کو مال حوالہ کرنا اس بات پر موقوف نہ ہو کہ بینک پر اس کی اضافہ رقم دینا لازمی ہو ۔۔

البتہ فائدہ کا مطالبہ کرنا شرط نہ لگانے کے ساتھ ویسے ہی مربوط ہے جیسا کہ فائدہ کا مطالبہ نہ کرنا شرط لگانے کے ساتھ مربوط ہے اور یہ دونو ں ایک دوسرے سے الگ ہیں

سوال : جبکہ میں جانتا ہوں کہ مجھے بینک نفع دیگا اگر چہ اس نفع کی شر ط بھی نہ لگائی جائے تو کیا اس صورت میں میرے لئے جائز ہے کہ میں اپنی رقم فکس ڈیپوزٹ کرالوں ؟ ّ

جواب: ہا ں تمھارے لئے جائز ہے کہ جب تک تم اس پر فائدہ کی شرط نہ لگاؤ ۔

سوال: بعض لوگ بینک سے قرض لیتے ہیں اور بینک ان پر فائدہ لینے کی شرط لگاتا ہے تاکہ ان کو قرض دے اور کبھی یہ قرض رھن (گروی)کے ساتھ دیا جا تا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب: بینک سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے جبکہ وہ قرض دینے پرمعین فائدہ کی شرط لگائے ، کیوں کہ وہ سود ہے اب چاہے یہ قر ض رہن (گروی کے ساتھ ہو یا بغیر رہن کے ساتھ ہو لیکن بینک سے مال لینا جائز ہے ۔ جبکہ قرض لینے کا قصد نہ ہو پھر اس میں حاکم شرع یا اس کے وکیل سے اس میں تصرف کرنے کی اجازت حاصل کرلے اور اس صورت میں ان کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان کو اس کا علم ہو کہ بینک ان سے زبردستی فائدہ وصول کر لے گا پس اگر بینک ان سے طلب کرے تو پھر ان کو جائز ہے کہ وہ اضافہ رقم کو دیدیں کیوںکہ وہ لوگ بینک کو دینے کی ہمت نہیں رکھتے ۔

سوال: اگر کسی شخص کے پاس رہنے کے لئے گھر نہیں ہے تو کیا یہ شخص حکو متی بینک سے قرض لیکر اپنے لئے گھر بنا سکتا ہے ؟

جواب: فائدہ کی شرط کے ساتھ بینک سے قرض لینا چاہے جو غر ض بھی ہو صحیح نہین ہے لیکن بینک سے مال حا صل کرنا جبکہ قرض کی نیت نہ ہو جائز ہے اور اس میں تصر ف کر نا حاکم شرع یا اس کے وکیل سے اجازت لیکر جائز ہے یہ میں تم کو پہلے بتا چکا ہوں اب پھر دو با رہ بتا نا چاہتا ہوں کہ اسلا می ممالک میں حکومتی بینکو ں سے مال حاصل کرنا جائز نہیں ہے پس اگر تم نے اپنے جاری شدہ حساب سے اپنے مال کو نکال لیا تو اس میں تم حاکم شرع کی اجازت سے تصرف کرو اور اگر تم نے بینک کو چیک دیکر مال کو اپنے قبضہ میں کر لیا تو حاکم شرع یا اس کے وکیل سے اجازت لیکر اس میں تصرف کرو اسی طرح دوسری چیزوں میں بھی(جو بینک سے فائدہ کے سلسلہ میں مربوط ہیں حاکم شرع سے یا اس کے وکیل سے اجازت لیکر تصرف جائز ہے

سوال: کیا بینک میں لین دین کا کھاتا کھول سکتے ہیں اس بارے میں مجھے بتائیے۔؟

جواب: ہاں !ہاں بینکوں میں لین دین کا کھاتا کھو ل سکتے ہیں اور اسی طرح بینک چاہے پرائیویٹ ہو یا حکومتی ہو اس کو کھاتہ دار سے فائدہ لینا جائز ہے چاہے بینک فائدہ اپنی خدمات کی وجہ سے لے یا قرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں فائدہ لے ، یا جو املاک کے کاغذات و اسناد جو بینک کو حفاظت کے لئے دیئے ہیں ان کی حفاظت کے سلسلہ میں بینک فائدہ لے یا اس مبلغ پر فائدہ لے کہ جو بینک اپنے مال خاص سے اس کو دیا ہے وہ مال کے لوٹانے کی غرض سے فائدہ لے نہ کہ کھاتے دار کے حساب کی وجہ سے

سوال: بینک اگر مالی ضمانت یا مالی عہد و پیمان کر لے گویا کسی معا ملہ کے مقابلہ میں بینک ضامن ہوا، اب وہ ضما نت چاہے قانونی ہو یا غیر قانونی تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب: جائز ہے یہاں تک کہ اگر بینک اس معاملہ کی ضمانت یا عہد و پیمان پر اجرت بھی لے تو بھی جا ئز ہے ۔

سوال: شیئروں (تجارتی حصوں ) کا شرکت میں خرید نا اور بیچنامثلا ایک دوسرے کے حصے خرید نا یا فقط اپنے لئے حصوں کا خرید نا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: (تجارتی حصوں ) شیئروں کا خریدنا اور بیچنا شرکت میں جائز ہے ،شرط یہ ہے کہ اس شرکت کے معاملات حرام نہ ہوں ۔ مثلا شرکت کے معاملات شراب کی تجارت یا سودی معا ملات پر مبنی نہ ہوں۔

سوال: کبھی یہ کمپنیاں ان شیئرو ں کو بینک کے ذریعہ بیچنے میں مدد لیتی ہیں جن شیئروں کے وہ مالک ہیں ، پس بینک بیچ میں آ کرمعینہ اجرت بھی لیتا ہے؟

جواب: اس کا یہ اجرت لینا صحیح ہے اور یہ معاملہ جائز ہے۔

سوال: کیا اسناد (تجارت واملاک) کا بیچنا جائزہے؟

جواب: اسناد (تجارت واملاک ) کا بیچنا صحیح نہیں ہے اور نہ بینک کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ان کی خرید فروخت کے درمیان آئے اور یہ بات فطری ہے کہ اس وقت بینک کا اس پر اجرت لینا صحیح نہیں ہے۔

سوال: کیا داخلی یا خارجی عملیات کو تحویل دے سکتے ہیں ؟

جواب: ذرا ٹھیک سے اپنے سوال کو بیان کیجئے یا اس کی مثال دیجئے تا کہ تمہارے مطلب کا میں جواب دے سکوں ؟

سوال: کھا تہ دار جب اپنے حساب میں سے کچھ رقم اپنے وکیل کے حو ا لہ کرے جبکہ کھا تہ دار کا حساب و کتاب بینک میں ہو تو بینک اپنے کھا تہ دار کے لئے ایک (مخصوص) چیک جاری کرتا ہے ،پھر اس کو جاری کرنے کی بنا پر ایک معین اجرت بھی لیتا ہے؟

جواب: اس کو یہ اجرت لینے کا حق ہے۔

سوال: ایک شخص نے کچھ نقد رقم کسی شہر میں بینک کے حوالے کی تا کہ وہ اس رقم کو یا اس کے معادل دوسری رقم وغیرہ کو ملک کے اندر کسی بھی جگہ یا ملک سے باہر بینک سے حاصل کرے پھر بینک اس کا م کے کرنے کے لئے معین اجرت لیتا ہے؟

جواب: اس کو یہ اجرت لینے کا حق ہے۔

سوال: بینک دوسرے کے تجارتی معاملات کو نقد مالی اضافہ کے ساتھ اپنے اختیار میں لیتا ہے؟

جواب: اس کو اس کا حق ہے۔

سوال: ایک شخص کے ذمہ کسی دوسرے شخص کا قرض ہے اور قرض دار سے قرض کی قانونی رسید لیتا ہے ،پھر وہ چا ہتا ہے کہ اپنے اس قرض کو کہ جس کی مدت باقی ہے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فوری کم قیمت پر بیچ دے تو کیا وہ کرسکتا ہے؟

جواب: ہاں، وہ یہ کرسکتا ہے اس کو اس کا حق حاصل ہے ۔

سوال: نقدی رقم کے حوالہ جات دینا ، میرا مقصد اس سے یہ ہے کہ قرض دار اپنے قرض ادا کرنے کا اختیار بینک کو دے دے یا بینک اپنے قرض کو ملک سے باہر کسی بھی شعبہ کے حوالہ کردے یا کسی دوسرے بینک کے حوالہ کردے؟

جواب: دونوں حوالہ صحیح ہیں ، اور شرعی ہیں اور بینک کو اس کام کے کرنے کی اجرت لینے کا حق حاصل ہے۔

سوال: لوگوں کا موت کے خطرے یا دوسرے حادثات یا اموال کے نقصانات پر مثلاہوائی جہازوں ،موٹر گاڑیوں اور کشتیوں کے نقصانات یا جلنے یا ڈوب جانے وغیرہ پر بیمہ کر نا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب: ان تمام چیزوں کا بیمہ کر نا صحیح ہے اور دونوں جانب پر پابندی کرنا لازمی ہے۔

سوال: بینک میں حساب و کتاب اور اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے ضمن میں میں آپ سے سونے کی ایک مثقال سے بنی ہوئی چیز کو ایک مثقال کی بنی ہوئی کسی دوسری چیز سے بیچنے کے بارے میں سوال کرتا ہوں اس کے ساتھ اس بنی ہوئی چیز کے بنا نے کی اجرت بھی لی جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: یہ چیز تم پر حرام ہے ، اور جائز نہیں ہے ۔ اگر چہ بہت سے سناروں کے ہاں یہ چیز ان دنوں رائج ہے ،اور میں تم کو پہلے اس سوال کے بارے میں جواب دے چکا ہوں اور پھر تاکید کر تا ہوں کہ حرام ہے اور جائز نہیں ۔

سوال: بعض شادی کے سفید سونے کے زیورات ہوتے ہیں کیا مردوں کے لئے ان کا پہننا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب: تمہاری مراد سونے کی زنجیر ہے؟

سوال: ہاں !

جواب: زنجیراگر سونے کے علاوہ کسی اور چیز کی بنی ہوئی ہو تو مرد کے لیے پہننا جائز ہے ۔ کیونکہ ان پر جو ممنوع ہے وہ سونے کے تمام گیریٹ کی بنی ہوئی چیزیں ہیں نہ کہ دوسری دھاتوں کی۔

سوال: کیا حیوا ن اور انسان کے مجسمہ بنانا جائز ہیں؟

جواب: نہیں جائز نہیں ہے۔

سوال: کیا انسان یا حیوان کے مجسمہ کے علاوہ تصویر بنانا جائز ہے؟

جواب: جائز ہے۔

سوال: کیا انسان اور حیوان کے مجسمہ کی تما ثیل (فوٹو) بیچنا اور خرید نا جائزہے اور زینت کیلئے رکھنا جائز ہے؟

جواب: جائز ہے۔

سوال: بعض لباس جو پتلے اور نرم ہوتے ہیں انکو (الباعۃ) کہا جاتا ہے جو خالص ریشم کے ہوتے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ وہ اصلی ریشم کے ہیں یا نہیں کیا مجھ پر واجب ہے کہ اس کی تحقیق کروں تاکہ مجھے یقین ہوجائے؟

جواب: تم پر اس کی تحقیق کر نا واجب نہیں ہے کہ تم کو اس کایقین ہو جائے ان لباسوں کا پہننا تمہارے لیے جائز ہے۔

سوال: بانسری اور غنا کے خاص آ لات اور اس طرح دوسرے حرام لہوکے آ لات کا بیچنا حرام ہے لیکن یہاں دوسرے آ لات لہوبچوں کے کھیلنے کے لیے بنا ئے جاتے ہیں ۔اور ان کی غرض بچوں کو بہلاناہے ۔کیا ان کا بیچنا اور خریدنا جائز ہے؟

جواب: جائز ہے جب تک ان کا حرام آ لات میں شمار نہ ہو۔

سوال: کبھی زمین کا مالک اور ٹھیکیدار اس بات پر متفق ہو تے ہیں کہ ٹھیکہ دار مالک کو اس معین رقم کے مقابلہ میں گھر بنا کردے اور ٹھیکہ دار پر یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ وہ ایک سال کی مدت میں گھر بنا کر تیار کردے ۔ پس اگر ٹھیکہ دار نے اس مدت میں گھر بنا کر نہ دیاتو گھر کے مالک کوایک معین رقم گھا ٹے کے طور پر دینی پڑے گی اور کبھی ٹھیکہ دار گھر کے مالک پر شرط لگاتا ہے کہ وہ ایک سال کی مدت میں گھر بنا کر تیار کردے گا مگر شرط یہ ہے کہ گھر کامالک اس کام کی مدت میں گھر بنا نے کے سامان کو مہیا کرنے میں تاخیر نہ کرے ۔اور جب اس کی طرف سے شرط میں تاخیر ہوتو پھر ٹھیکہ دار اس سے معین مالی نقصان لے گا۔

پس جب سال تمام ہو جائے اور گھر نہ بن سکے اور تاخیر کا سبب گھر کے مالک کی وجہ سے ہو تو کبھی ماہانہ خسارت مالی ٹھیکہ دار لیتا ہے اور کبھی یہ خسارے ایک ہی مرتبہ لے لیتا ہے اب چاہے یہ تاخیر لمبی مدّت کی ہو یا کم مدّت کی پس کیا ان دو صورتوں میں یہ جانتے ہوئے کہ یہ دونوں شرطیں عقد لازم کی بنا پر باندھی گئی ہیں تو کیا اضا فہ لینا جائز ہے ؟

جواب: دونوں صورتوں میں اضا فی رقم لینا جائز ہے ۔

سوال: کمپنیوں ، کار خانہ جات ، چھاپہ خانوں اور صنعتی اداروں کے لئے قانوناً او رعرفاً مالی اجا زت ہے جب تک کہ وہ اجازت حکومت کی طرف سے لغو قرار نہ پائے کیا ایسی صورت میں اس کی مالیت کو بیچا جا سکتا ہے ؟کیا اس کو خریدا جاسکتا ہے ؟ اور ایک شخص کی ملکیت سے دوسرے شخص کی ملکیت میں منتقل ہو سکتی ہے ؟ اور یہ چیز شرعاًٹھیک ہے ؟

جواب: ہاں! خصو صاً ان چیزوں کا کہ جن کی شارع نے اجازت دی ہو ۔

سوال: بعض چھاپہ خانے اپنی چھاپی ہوئی کتاب پر تجارتی حیثیت سے مؤلف کتا ب یا ناشر کتا ب کی اجازت کے بغیر یہ عبارت لکھتے ہیں ” حقوق طبع بحق مؤلف یا ناشر محفو ظ ہیں )کیا یہ درست ہے ؟

جواب: اس مذکورہ تحریر کا کوئی اثر نہیں ۔ مگر یہ کہ مؤلفین و ناشر ین اور ان کے حقوق قانون کی روشنی میں اور حاکم شرع کی طرف سے ثابت ہوں ۔

سوال: حیوانات کو سجانا اور ان کی منظر عام پر نمائش کرنا اور زینت کے لئے جلوس میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟

جواب: جائز ہے ۔

سوال: کیا خون کا بیچنا اور اس کا خرید نا علاج کیلئے جائز ہے ؟

جواب: جائز ہے ۔

سوال: جس حیوا ن کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کا گوشت اس شخص کے ہاتھ بیچنا جس کا مذہب اس کے گوشت کو کھانا جائز سمجھتا ہو کیسا ہے ؟کیا صحیح اور جائز ہے ؟

جواب: جائز ہے ۔

سوال: آپ نے گذشتہ بحث میں مجھ سے فرمایا تھا کہ ! جس دستر خوان پر شراب پی جاتی ہو تو اس پر بیٹھنا حرام ہے ۔اس بنا پر کیا مجھے حق ہے کہ میں ایسے شخص کی ملازمت کروں کہ جہا ں شراب اور ( بئیر ) و مردار بیچا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دوسری اشیاء بھی بیچی ہوئی رقم جمع ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب: اگر تم نے اس کے یہاں صرف حلال چیزوں کو بیچنے کا طے کیا ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور وہ اجرت جو تم کو اس سے ملتی ہے اس وقت تک تمھارے لئے لینا حلال ہے جب تک کہ تم کو اسکا حرام چیز میں شامل ہو جا نامعلوم نہ ہوجائے ۔ (جب تم کو یہ یقین ہو جائے کہ یہ اجرت اسی میں سے دی جا رہی ہے جو حرام مخلوط ہے تو پھر اسکا لینا جائز نہیں ہے ۔

سوال: کیا میں ایسے ہوٹل میں کام کرسکتا ہو ں کہ جہاں صرف میرا کام یہ ہو کہ مجھے وہ گوشت پکانا ہو کہ جس کا شرعی تزکیہ نہ کیا گیا ہو ، جب کہ میں اس معاملہ کے لئے ہو ٹل میں نہیں آ یا ہوں بلکہ میرا کام پکانے میں محدود ہے ( اور بس ) ؟

جواب: تمہارے لئے یہ جائز ہے ۔

سوال: اب جبکہ میں کھانے پینے کے مسئلوں پر آ گیا ہوں تو میرا پہلا سوال اس مرغ کے گوشت کی خرید و فروخت کے بارے میں ہے کہ جو اسلامی مما لک سے آ تا ہے اور اس پر یہ جملہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ” یہ اسلامی طریقہ پر ذبح کیا گیا ہے “ ؟

جواب: تمہارے لئے اس کا کھانا پینا اور خرید و فروخت کرنا جائز ہے ، جب تک کہ تم کو اس کے تذکیہ نہ ہو نے کا یقین نہ ہو جائے یہ جملہ لکھا ہو یا نہ لکھا ہو ۔

سوال: جو غیر اسلامی ممالک سے وارد ہوتا ہے اور اس پر یہ جملہ لکھا ہو ا ہو کہ یہ اسلامی طریقہ پر ذبح کیا گیا ہے ؟

جواب: اس کا کھانا تمہا رے لئے جائز نہیں ہے جب تک کہ تمہیں اسلامی طریقہ پر ذبح کر نے کا اطمینان نہ ہو جائے اور یہ ذبح حقیقی ہو نہ کہ زبانی ۔

سوال: وہ پنیر جو غیراسلامی ممالک سے آ تی ہے جبکہ میں اس کے بننے اور اس کی بستہ بندی کے طریقہ سے واقف نہ ہو ں تو کیا میر ے لئے اس کا کھانا جائز ہے ؟

جواب: اس کا کھانا جائز ہے ۔

سوال: بہت سی مچھلیاں ایسی ہیں کہ جن کے جسم پر (فلس ) نہیں ہوتا تو کیا ان کا کھانا جائز ہے ؟

جواب: ہاں ان کا کھانا جائز ہے ، چاہے اس کے جسم پر ایک ہی چھلکا کیوں نہ ہو ۔

سوال: ”معلب “نام کی مچھلی جو یورپ اور امریکہ کے بعض ممالک سے آ تی ہے کیا اس کا کھانا ہمارے لئے جائز ہے ؟جبکہ ہم کو اس کے تذکیہ کا علم دو جہت سے نہ ہو ۔

پہلی جہت:

یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اس پر فلس ہے لیکن مچھلی کے نام سے جو غلاف پر لکھا ہے اس سے ثابت ہے کہ یہ وہی مچھلی ہے کہ جس پر فلس ہو تا ہے ۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ صادر کرنے والے ممالک معلب نامی مچھلیوں کی اس قسم کو اس کے بیان کئے ہوئے صفات کے مطابق جو غلاف کے اندر ہے ٹھوس قوانین کے ساتھ بستہ بندی کرتے ہیں،

دوسری جہت :

یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اس کو پانی کے اندر مرا ہو ا پکڑا ہے یا پانی کے باہر زندہ پکڑا ہے ۔اگر پانی کے اندر مری ہوئی ہے تو جال کے اندر یا اس روکاوٹ کے اندر جو مچھلی پکڑنے کے لئے کھڑی کر تے ہیں۔ لیکن مشہور یہ ہے کہ انھیں جدید قسم کی کشتیوں سے شکار کیا جاتا ہے کہ جو مچھلی پکڑنے کے واسطے بنائی گئی ہیں اور ان سے زندہ مچھلی پانی سے باہر نکالی جاتی ہے بہت کم ایسی مچھلیاں پانی سے باہر نکالی جاتی ہیں بہت کم ایسی مچھلیاں ہیں جو مر کر مخلوط ہو جاتی ہیں ؟

جواب : اگر تم کو معلوم ہو کہ یہ مذکی ہے چاہے یہ دونو ں صورتیں آ پ کے پیش نظر ہوں ، کھانا جائز ہے ورنہ نہیں ۔

سوال: یہاں کچھ مسلمانوں کے بازار میں ہوٹل ہیں جو گوشت کو بیچتے ہیں ؟

جواب: ان کے پکائے ہوئے گوشت کا کھانا جائز ہے

سوال: کیا ہوٹل کے مالک سے معلوم کئے بغیر ؟

جواب: ہاں, ہو ٹلوں کے مالکوں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جیسا کہ ہو ٹل میں جو کام کر نے والے ہو تے ہیں ان کی دیانت معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

سوال: جو (بئیر ) الکحل سے خالی ہو کیا اس کا پینا جائز ہے ؟ کیا وہ پاک ہے ؟

جواب: شاید تمہاری مراد وہ شراب ہے کہ جو (جو ) کے خمیر سے نکالی جاتی ہے اور جس سے عادتاًنشہ ہوتا ہے ، اس کو (فقاع ) کہتے ہیں اور وہ حرام ہے ،۔ اسی طرح وہ نجس بھی ہے ۔

سوال: کیا دوا کے پینے سے پہلے تحقیق و یقین کرنا ضروری ہے کہ وہ اپنے مرکبات میں حرام چیزوں سے محفوظ ہے ؟

جواب: ہر گز نہیں تحقیق اور یقین کرنا واجب نہیں ہے۔

سوال: اکثر دوا اور طاہر چیزوں میں الکحل ملی ہوئی ہوتی ہے تو کیا ان کا کھانا میرے لئے جائز ہے اور کیا وہ نجس ہیں؟

جواب : وہ نجس نہیں ہیں اور تمہارے لئے ان کا کھا نا جائز ہے۔

سوال: ابھی کئی مختلف اور نئے موضوعات کے بارے میں سوالات ہیں ؟

جواب:جو چاہو پوچھو۔

سوال: پہلے میں شروع اسی سوال سے کرتا ہوں کہ کیا کوئی زندہ انسان کسی دوسرے زندہ انسان کو ثوابا اپنی آ نکھ یا گردہ دے سکتا ہے ۔ کیا اس کے لئے یہ کام جائز ہے؟۔

جواب : آ نکھ کا دینا ثواباً جائز نہیں ہے۔ لیکن گردہ کا ثوا باً دینا اس وقت جائز ہے جبکہ اس کے پاس دوسرا گردہ سالم ہو۔

سوال: بعض اشخاص وصیت کرتے ہیں کہ انکی موت کے بعد ان کے جسم کے بعض عضوکاٹ دئیے جایئں تا کہ وہ کسی ضرورت مند انسان کے جسم میں جوڑ دئیے جائیں ،تو کیا اس وقت ان اعضاء کا قطع کرنا صحیح ہے؟

جواب: ہر گز نہیں ،(صحیح نہیں ہے ) جبکہ وصیت کرنے والا مسلمان ہو ،مگر یہ کہ کسی مسلمان کی حیات کا دارو مدار اسی عضوکے لگا نے پر ہوتو ایسی صورت میں جائز ہے ،اگر چہ اس کے مالک نے وصیت بھی نہ کی ہو لیکن دیت کا ٹنے و الے پر لاگو ہوگی مگر یہ کہ کاٹنے کی وصیت کی ہو تو پھر دیت ثابت نہیں ہوگی۔

سوال : کبھی عورت کے جسم کے اندر بچہ دانی کی رگوں کو باندھ دیا جاتا ہے جبکہ حمل اس کی صحت کے لئے خطرہ ہو اسی کے ساتھ آ پریشن کے ذریعہ اس کے کھولنے کا امکان بھی ہے؟

جواب: یہ جائز ہے اگر چہ وہ کھولی بھی نہ جا سکتی ہو۔

سوال: بعض کمپنیاں مریض پر اپنی دوا کا تجربہ کرتی ہیں اور اس کو اس کی اطلاع نہیں دیتیں تا کہ وہ دیکھیں کہ یہ دوا مؤثر اور شفا بخش ہے یا نہیں ؟

جواب: یہ فعل صحیح نہیں ہے۔

سوال: عام آپریشن یا مردہ جسم کا آپریشن درست ہے یا نہیں جبکہ اس کا سبب معقول ہو جیسے جرم پتہ لگانا یا(ڈاکٹری) کی تعلیم یا اس سے مشابہ دوسری چیزوں کے لئے ہو؟

جواب: مسلمان میت کی چیر پھاڑ کرنا ان اسباب کے لئے جائز نہیں ہے لیکن اس کا فر کی میت جس کا خون اس کی زندگی میں محفوظ نہ ہو (غیرمحقوق الدم)اس کی چیر پھاڑکرنا جائز ہے ۔اور اسی طرح وہ کافر جس کا خون اس کی زندگی میں(محقوق ا لدم) مشکوک ہو جبکہ کوئی شرعی (دلیل)اس پر قائم نہ ہو تو اس کی چیر پھاڑ جائز ہے۔

سوال: بہت سے طبی بیانات اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ تمباکو نوشی قلبی امراض اور خونی رگوں اور شر یانوں کے امراض کاباعث ہوتی ہے اور وہ سانس کی تنگی کو بڑھاتی ہے ، بلڈ پریشر ،کینسر اور سینہ کے درد کا سبب بنتی ہے ،اس کے علاوہ گھر اور معاشرہ پر اس کے دوسرے نقصانات مر تب ہوتے ہیں ۔کیا جو شخص تمبا کو نوش نہیں ہے وہ اس کو شروع کر سکتا ہے ؟ اور کیا جو عادی ہے اسے جاری رکھ سکتا ہے ؟ پھر کیا حاملہ عورت کیلئے تمباکو نوشی جائز ہے۔ جب کہ اطباء (ڈاکٹروں )کا کہنا ہے کہ ماں کی تمباکو نوشی سے جنین متاثر ہوتا ہے؟

جواب: تمباکو نوشی چاہے مرد کرے یا عورت جب اس سے بہت بڑا نقصان جنین کو پہنچے تو وہ حرام ہے۔چاہے اس کا عادی ہو یا اس کی ابتداء کرے ،اگر تمباکو نوشی ترک کرنا اس کی صحت کو بڑا نقصان پہنچاتا ہو، یا اس کا ترک نہ کرنا اس کی صحت کو نقصان نہ پہنچا تا ہو تو اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کو نسا ضررزیادہ ہے اس کو ترک کرنے کا یا اس کو جاری رکھنے کا (جو بھی ہو ویسا عمل کرے)۔

سوال: بچے کی ولادت کی منا سبت سے کچھ ہدیہ دئیے جاتے ہیں اور وہ ہدیہ سونے چاندی کی بنی ہوئی چیزوں یا کھا نے یا نقد رقم پر مشتمل ہو تے ہیں ،کیا یہ ہدیہ پیدا ہو نے والے بچے کے ہیں یا اس کے والدین کے؟

جواب: ہد یئے مختلف ہو تے ہیں ان میں یہ دیکھا جائے گا کہ جو نئے بچے کے لئے ہیں جیسے سونے چاندی کی بنی ہوئی چیز یں اس کی ولادت کی منا سبت سے ہوں تو وہ اس کے ہیں اور انہیں میں سے کچھ ایسے ہدیے ہوتے ہیں کہ جو مو لودکے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے ہوتے ہیں جیسے کھانے پینے کی چیزیں وغیرہ پس وہ اس کے والدین کے لئے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ وہ نقد رقم جو مو لود کے تکیہ کے نیچے رکھی جاتی ہے یا اس کے کپڑوں میں چھپائی جاتی ہے تو وہ پہلی قسم میں شمار ہوتی ہے اور وہ خود مولودکی (ملکیت)ہوگی۔

سوال: کیا والدین کا اپنے نابالغ بچے کے مال میں تصرف کرنا جائز ہے؟

جواب: باپ کے لئے یہ تصرف کرنا جائز ہے جبکہ اس کا تصرف کرنا بچے کیلئے باعث فساد نہ ہو ،لیکن ماں کا اس میں تصرف کر نا بغیر اس کے با پ د ادا کی اجازت کے جائز نہیں ہے ۔ اگر ان دو نوں میں سے کوئی ایک ماں کو اجازت دے دے اور بچے کے لئے اس کا تصرف فاسد نہ ہو تو جائز ہے ۔ لیکن اگر ماں کا تصرف بچے کے لئے نقصان دہ ہو تو پھر باپ، دادا کا اجازت دینا صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ دونوں اس کے مال کی حفاظت کریں یہاں تک کہ وہ بڑا ہوجا ئے۔

سوال: سفید جادو جو نیک امور میں استعمال کیا جاتا ہے اس کے بر خلاف کالا جادو جوبرے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے تو کیا اس سفید جادو سے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب: تمام قسم کے جادو اور ان کی شکلیں اور ان کی اقسام حرام ہیں ۔(یہاں تک کہ یہ کام میں لایا جانے والا سفید جادو کالے جادو کے باطل کرنے میں بھی حرام ہے)مگر یہ کہ اہم مصلحت اس پر موقوف ہو، جیسے نفس محترم کی حفاظت ،(تو کوئی حرج نہیں ہے)۔

سوال : ارواح کا حاضر کرنا تا کہ ان کے صاحب اور مالک کے بارے میں یا بر زخ و غیرہ کے امور کے بارے میں سوال کیا جائے؟

جواب : ان ارواح کا حاضر کرنا کہ جن کا نفس محترم ہے ان کے حاضر کرنے کی بنا پر ضرور نقصان پہنچتا ہے۔حرام ہے لیکن محترم نفس کے علاوہ دوسری ارواح کا حاضر کرنا حرام نہیں ہے۔

سوال: ان میں سے بعض تسخیر ملا ئکہ کا دعویٰ کرتے ہیں ؟

جواب: اس دعوے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

سوال: وہ تصویریں جو نبی اور آئمہ اطہار علیھم السلام کی طرف منسوب ہیں کیا ان کا گھر میں لٹکانا حرام ہے ؟اور کیا اعتقاد رکھنا کہ ان کی صورتیں ہیں ؟

جواب : ان کا لٹکانا جائز ہے ،لیکن اعتقاد کی یہ صورتیں ان کے مطابق ہیں تو یہ اعتقاد یقیناًغلط ہے۔

سوال : بعض فلم بنا نے والے نبی (یا ائمہ اطہار علیہم السلام ) کی تاریخی فلم بنا تے ہیں؟

( ۱) کسی نبی کی شبیہ بننا اور لوگوں کے سامنے نبی بنکر ظاہر ہونا اسی طرح ائمہ علیہم السلام کی شبیہ بننا کیا جا ئز ہے؟

( ۲) اگر جواب جائز ہو تو کیا یہ شرط ہے کہ شبیہ بننے والا مومن ہو؟

جواب: ان شخصیات علیھم السلام کی شبیہ بننا جائز ہے بشرط کہ انکے مقدس مقام اور ان کی تصویروں کی ہتک نہ ہو چاہے مستقبل میں کیوں نہ ہو اور بننے والا جو ان کے دور کی خصوصیات کو بتا تاہے بعض صفات اس میں موجود ہونی چا ہئے ۔

سوال: لوگ رسالوں ،جرید وں اور بعض محترم کتابوں کو کوڑے کرکٹ کی جگہ میں پھینک دیتے ہیں جبکہ ان میں بعض قرآنی آیات یا اللہ تعالیٰ کے نام ہوتے ہیں ؟

جواب: یہ جائز نہیں ہے اگر وہ نجس ہو جائیں تو ان جگہوں سے اٹھانا اور ان کا پاک کرنا واجب ہے۔

سوال: بد قسمتی سے مناظرہ کرتے وقت بعض اشخاص ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ جن کے معنی اللہ تعالی کے انکار کرنے پر مشتمل ہوتے ہیں اسی طرح معصومین علیھم السلام کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ جو ان کی شان کے مطابق نہیں ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس میں وہ سنجیدہ نہیں ہیں ۔کیا اس بنا پر ان کے اوپر حد کا جاری ہو نا واجب ہے ؟

جواب: جو کچھ وہ کہتے ہیں اگر اس میں وہ سنجیدہ اور باارادہ نہیں ہیں تو ان پر شرعی حد جاری نہیں ہو گی البتہ وہ تعزیر کے مستحق ہیں ۔

سوال: اور اگر وہ خدا وند جل شانہ کو برا بھلا کہنے میں سنجیدہ اور قصد وار اوہ بھی رکھتے ہوں یا نبی یاائمہ علیہم السلام کو برا بھلا کہتے ہو ں یا دین کے با رے میں یا مذہب کے سلسلہ میں الٹی سیدھی باتیں کہتے ہو ں اور اس کا قصد بھی اور اس پر اصرار بھی کرتے ہوں تو کیا حکم ہے؟

جواب: ان کا حکم قتل ہے۔

سوال: متفرق سوالات ادھر ادھر کے رہ گئے ہیں ؟اور میں آپ سے بحث طویل ہو جانے کی بنا پر معافی چاہتا ہوں ۔ کیا عورت کا نا محرم مرد کے پاس ڈرائیوری سیکھنا جائز ہے جبکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ عورت اس کے ساتھ اکیلی ہو اور عورت اس نامحرم کے ساتھ ان جگہوں پر جائے جو مشق کرنے کیلئے بہترین ہوں اور جگہیں بھیڑ بھاڑ سے عادتاً خالی ہوں؟

جواب: اس شرط کے ساتھ جائز ہے جبکہ وہ حرام میں پڑنے سے محفوظ رہے۔

سوال: کیا عورت کو بغیر پردہ کے اپنی صورت کا فوٹو کھچوانا جائز ہے ،مثلا پاسپورٹ وغیرہ کیلئے ؟

جواب: اگر وہ پاسپورٹ یا کسی اور ضروری کا غذ پر لگوانے کیلئے مجبور ہوتو اس کا فوٹو کچھوانا جائز ہے لیکن فوٹو کھینچنے والا شوہر ہو یا کوئی محرم مرداور اگر ضرور ت پیش آجائے تو پھر نا محرم فوٹو گر افرسے بھی جائز ہے۔

سوال: کیا گردن کے بل حیوان کو ذبح کر سکتے ہیں؟

جواب: جائز ہے۔

سوال: کیا میت کی قبر کھودنا جائز ہے ؟جبکہ اس سے میت کی بے حرمتی لازم نہ آ تی ہو؟

جواب: جائز نہیں ہے مگر چند خاص جگہوں پر جن کی فقہ کی کتابوں میں تفصیل موجود ہے۔

سوال: فلم میں پردہ دار عورتوں کو دکھایا جاتا ہے کہ جو نامحرم مرد کے سامنے آ کر اس کو غسل دیتی اور سجاتی اور منا تی ہیں؟

جواب: یہ اس وقت جائز ہے جبکہ غسل دیتے اور سجاتے منا تے ہوئے ان عورتوں کو نہ پہچانے اور ان کی صورت ہیجان اور کسی فتنہ کا با عث نہ ہو۔

سوال: میں نے کچھ مال راستہ میں کسی جگہ مثلا بازار میں یا ائیر پورٹ یا ریلوے اسٹیشن یا بس اڈے یا بندر گاہ پر پایا ،اور مجھے اس بات پر بھرو سہ ہے کہ میں اپنے ا مکان کی حد تک اس کا مالک کا پتہ نہیں لگا سکتا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : اس کی طرف سے اس کا نائب بن کر صدقہ دے دینا چا ہئے۔

سوال: اور اگر کوئی بچہ کچھ رقم پالے اور وہ رقم بڑی ہو اور سکۂ رائج الوقت ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: جب اس کے ساتھ معین صفات میں سے کوئی ایسی صفات نہ ہو کہ جس کے وسیلہ سے اس کے مالک تک پہنچا جا سکتا ہو تو بچہ کے ولی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کو لے کر بچہ کی ملکیت کے لیے محفوظ کرلے اور اگر کوئی صفت ایسی پائی جائےکہ جس سے مالک کا پتہ لگا یا جا سکے تو پھر اس کا اعلان ونشر کرنا واجب ہے جیسا کہ میں نے پچھلی گفتگو میں تم سے بیان کیا۔

سوال : اب میں اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے سوال کرتا ہوں ۔میں معصومین علیہم السلام سے طلب رزق اور بچہ کی ولادت یا جان کی حفاظت یا شفاء مرض کے بارے میں سوال کرتا ہوں؟

جواب: پہلے میں تم سے سوال کرتا ہوں۔

سوال: آیا تمہاری یہ طلب ان سے اس بنا پر ہے کہ وہ خالق ہیں یا رازق ہیں یا حفاظت کرنے والے ہیں ؟

میں نے کہا نہیں ! بلکہ وہ اللہ جل سبحا نہ کی طرف سے وسیلہ ہیں اور قضائے حاجت کی اس سے سفارش کرنے والے ہیں اس لئے کہ وہ کوئی کام انجام نہیں دیتے مگر اسی کے حکم سے ۔والد صاحب نے فرمایا اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ وہ اللہ سے سوال کرتے ہیں وہ پیدا کرے ،وہ رزق دے یا وہ حفاظت کرے کیونکہ وہ ایسے شفیع ہیں کہ ان کے سوال یا دعا رد نہیں ہوتی اور ان کی منزلت خدا کے نزدیک عظیم ہے اور ہمارے اوپر ان کی ولایت ہے؟

میں نے کہا ہاں ۔۔ہاں۔۔ میرا مقصد یہی ہے۔

والد صاحب نے فرمایا یہ جائز ہے ،خدا وند عالم کا قول ہے :

”وابتغوا الیہ الوسیلہ “

اسی کی طرف وسیلہ اختیار کرو،اور وہی تمہاراوسیلہ اللہ کی طرف ہیں اور یہ جائز ہے۔


دوسری جزل گفتگو

بہت سے ایسے سوالات ہیں جو عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں اور خاص طور پر جوانوں کے ذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں ، اور میں نے گذشتہ گفتگو میں بعض سوالات بیان کیئے ہیں۔ میں نے عمدناً اس گفتگو کی طرف رخ کیا ہے اس امید کے ساتھ کی ایک مخصوص اور مستقل گفتگو ان سوالات کے متعلق ہو اور میری یہ امید پوری ہوگئی کیونکہ ہماری گذشتہ گفتگو اتنی طویل ہو گئی تھی کہ جس کی بنا پر اس گفتگو کا مخصوص جلسہ رکھا گیا ہے جو مقبول بلکہ قابل تحسین تھا ۔ میں نے اس جلسہ کی خواہش کی تھی اور میرے والد صاحب نے میری خواہش کو قبول کیا ۔ میں نے اپنے دل میں سو نچا کہ آج کی گفتگو کا آ غاز میں بعض طالب علموں کی تکلیف کے بارے میں کروں گا کہ جن کی پڑھائی میں کچھ چیزیں ایسی نما یا ں ہو تی ہیں کہ جنکے بارے میں،میں پسند کرتا ہوں کہ شریعت اسلامی کے نقطہ نظر کو جان لوں۔

سوال: بعض فز کس کے طالب علم مالش کرنے کے طریقہ کو سیکھتے ہیں کہ جس کی بنا پربیمار عورت کے جسم کو مس کرنا ضروری ہے اور اس پر ایسی مشق کی جاتی ہے کہ جو مریضہ کی حالت کے مناسب ہے، اور اگر طالب علم اس کو ترک کردے تو امتحان میں نا کام ہوجائے گا تو کیا ایسی صورت میں اس کا علم سیکھنا اور اس میں مہارت حاصل کرنا جا ئز ہے ؟

جواب: طالب علم کے لئے اس وقت یہ علم حاصل کر نا جائز ہے جبکہ اس کو معلوم ہو یا وہ مطمئن ہو ۔ بعض محترم نفسوں کی حفاظت اس علم میں مہارت حاصل کرنے پر موقوف ہو۔اگر چہ مستقبل ہی میں کیوں نہ ہو جبکہ یہ عمل اس میں جنسی رجحان پیدا کرنے کا با عث نہ بنے۔

سوال: کلیات طب میں طالب علم پر ضروری ہے کہ وہ عورت اور مرد کے بارے میں تحقیق کرے اور کبھی وہ اپنی اس تحقیق کے سلسلہ میں مرد یا عورت کے عضو تناسل کا معا ئنہ کرتا ہے یا ان کے پا خا نہ کے مقام کا معا ئنہ کرتا ہے پس کیا طا لب علم اور ڈاکٹر کے لئے یہ تحقیق جائز ہے ؟جبکہ اس پر محترم نفوس کی حفاظت موقو ف ہوچاہے مستقبل میں ہی کیوں نہ ہو؟

جواب: طالب علم اور طبیب دونو ں کے لئے جائز ہے جبکہ نفس محترمہ کی حفاظت اس پر موقوف ہو چاہے مستقبل ہی میں کیوں نہ ہو۔

سوال: ہسپتالوں میں نبض کی نگرانی اور خون کا دباؤ دیکھنے اور زخموں کے لیپ وغیرہ کے لئے نرسیں رکھی جاتی ہیں؟

( ۱) بیمار مرد پر کیا ضروری ہے کہ وہ نرس کو اپنا بدن چھونے نہ دے ؟

جواب: اگر وہ مذکورہ کا مو ں کو انجام دینے کیلئے کسی مرد کمپوڈر کو بلاسکتا ہوتو بلائے ،یا نرس کے ہاتھ پر دستانے پہننے کو کہے یا کوئی ایسی چیز رکھے جو مانع ہو مثلا رومال ،تاکہ وہ اس کام کے درمیان بغیر جسم کے چھو ئے حائل ہوجائے۔

( ۲) کبھی مریض کی ضرورت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب کمپوڈر نہ ہو تو نرس اسے خود ہاتھ لگائے یا اس کا بلانا مشکل ہو یا نرس مریض پر کمپوڈر سے زیادہ مہربا ن ہو تی ہے؟

سوال: جب تحقیق یا علاج کی ضرورت اس بات پر موقو ف ہو کہ نرس اس کو چھوئے تو یہ جائز ہے جیسا کہ سوال میں فرض کیا گیا ہے ، البتہ بمقدار ضرورت ہونا چاہئے۔

( ۳) کبھی شرمگاہ کے مقام پر زخم ہوتا ہے اور وہاں پٹی باندھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: مریض کو چاہیے کہ وہ کمپوڈر کو طلب کرے چاہے مرد ہو یا عورت ،ہاتھوں پر دستانے پہنے یا کوئی چیز ایسی رکھے کہ جو کمپوڈر کے ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان حائل ہو اور شرمگا ہ کو چھوا نہ جاسکے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر پٹی باندھنے کی ضرورت کے بغیر بھی یہ جائز ہے۔

سوال: اگر ہم لمس (چھونے )کو تمام مذکورہ حالات میں نظر سے بدل دیں تو نظر کا کیا حکم ہے؟

جواب: نا محرم کی نظر کا حکم وہی ہے جو لمس (چھونے ) کا حکم ہے پس اس نظر میں وہ تفصیل ہے جو بیان ہو چکی ہے۔

سوال: مذ کورہ حالات میں عورت مریض ہو اور تیمار داری کرنے والا مرد ہو تو کیا ایسی صورت میں وہی حکم ہے جو گزر چکا ہے؟

جواب: ہاں (با لکل وہی)

سوال: بعض بے دین شوہر اپنی بیویوں سے نماز کے ترک کرنے ، بے پردگی یا مہما نوں کے لئے شراب، بیئر پیش کرنے پر یا قمار بازی میں ان کے ساتھ کھیلنے یا آنے والو ں سے مصا فحہ کرنے کو کہتے ہیں اور اگر وہ اس سے منع کریں تو وہ لوگ اپنی بیویوں کو مجبور کرتے ہیں ،تو کیا زوجہ کو اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے شرعی واجبات کی حفاظت کی بنا پر اس کے ساتھ رہنا ترک کردے؟

جواب: ہاں ، زوجہ کو اس کا حق ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق اس کے ساتھ رہنا ترک کردے اور اسی کے ساتھ شوہر پر اس کا کامل نفقہ دینا واجب ہے۔

سوال: وہ عورت جو شرعی پردہ کی پابند ہے اور اس کا شوہر پردہ کرنے سے اس کو روکتا ہے اور وہ بے پردگی اور طلاق کے درمیان اس کو اختیار دیتا ہے (تو عورت کیا کرے بے پردہ ہوجائے یا طلاق لے لے)؟

جواب: اس کو پردہ نہ چھوڑ نا چاہیے اگر چہ طلاق ہی کیوں نہ ہوجائے۔

سوال: لیکن بعض عورتوں کے لئے طلاق لینا مشکل تنگی اور شدید مشقت کا باعث ہوتا ہے؟

جواب: مشکل اور مشقت کو برداشت کرے اور ان کو خداوند عالم کا یہ قول یاد دلاؤ : ”من یتق الله یجعل له مخرجا و یر زقه من حیث لا یحتسب “۔

اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالی اس کے لئے بچاؤ کی راہ پیدا کرے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو

سوال: حمل سے مانع چیزوں کا استعمال ان دنوں عام ہے ۔ پس اگر دواؤں وغیرہ کے استعمال سے ضرر ونقصان ہو اور امر ایسی چیز وں پر موقوف ہو جائے کہ جس میں طبیب یا طبیبہ کے ذریعے موضع(حمل ) کا کھولنا لازم ہوجائے تو کیا ایسی صورت میں عورت کے لئے یہ جائز ہے ،یہ جانتے ہوئے کہ حمل اس کے لئے نقصان ومشقت کا سبب ہے؟

جواب: اگر یہ چیز واضح ہو کہ حمل کو روکنے والی تمام چیزیں اور وہ تدبیریں کہ جو مانع حمل ہیں ایسی نقصان دہ ہیں کہ جن کو عادتاً برداشت نہیں کیا جا سکتا اور نیز یہ کہ اگر نسل بڑھانے کے اعضاء کا کھولنا اس امر پر مبنی ہو تو پھر اس عورت پر واجب ہے کہ وہ طبیبہ (ڈاکٹر نی) کی طرف رجوع کرےاگر اس کا امکان نہ ہو تو پھر ڈاکٹر کی طرف رجوع کرے۔

سوال: کیا کسی عورت کو کسی دوسری عورت کی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ شرم گاہ کے علاوہ دیکھنا جائز ہے؟

جواب: اگر جنسی رجحان نہ ہو تو دیکھنا جا ئزہے۔

سوال: بعض عورتیں ،افزائش نسل نہیں چاہتیں اور ان کے شوہر چاہتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: وہ کس طرح افزائش نسل سے مانع ہوتی ہیں؟

سوال: دوا کے استعمال سے یا انجکشن کے ذریعے یا رحم کو جما ع کے بعد دھوکر؟

جواب: یہ تمام چیزیں جائز ہیں بشر طیکہ یہ کسی بڑے نقصان سے دو چار نہ ہوں۔

سوال: عورت کا لوپ لگوانا کیسا ہے؟

جواب: اگر عورت جانتی ہو کہ لوپ لگوانا اس بات کا سبب بنے گا کہ مرد کے نطفہ سے اس کے بیضے تر ہونے کے بعد تلف ہوجا ئیں گے تو پھر اس کا استعمال عورت کے لئے جائز نہیں ہے۔

سوال: اور منی کا عزل کرنا کیسا ہے؟ اگر عورتیں جما ع کے دوران مہبل میں منی ٹپکانے سے مانع ہوں تو؟

جواب: ان کو اس کا کوئی حق نہیں ہے۔

سوال : کیا شوہر کے لیئے جائز ہے کہ وہ زوجہ کو اولاد پیدا نہ کرنے پر مجبور کرے جبکہ وہ چاہتی ہو؟

جواب: شوہر اس کو اس بات پر کس طرح مجبور کریگا ۔

سوال: وہ گولی کھا نے یا انجکشن لگوانے یا لوپ کے لگوانے پر مجبور کرے گا؟

جواب: اس کو یہ حق نہیں ہے۔

سوال: کیا شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ جماع کے وقت مانع حمل چیزوں کو استعمال کرے؟

جواب: ہاں ،لیکن اس چیز پر عورت کی موافقت ضروری ہے۔

سوال: اگر دوران جماع وہ عورت کی شرمگاہ میں منی نہ ٹپکائے(یعنی عزل کردے)تو کیا حکم ہے؟

جواب: اس کو اس کا حق ہے۔

سوال: کیا طبی دوائیں کھا کر عورتیں اپنی مہواری کو روک سکتی ہیں؟

جواب: ان کے لئے ان چیزوں کا استعمال جائز ہے۔

سوال: حمل کے شرو ع کے دنوں میں جنین کا ساقط کرنا آسان ہے کیا ماں کو اس کا ساقط کرنے کا حق ہے؟

جواب: ہر گز نہیں ،اس کے لیئے جائز نہیں ہے مگر یہ کہ جنین کا اس کے رحم میں رہنا نقصان دہ ہو یا اس کا باقی رہنا اتنے بڑے نقصان کا باعث ہو کہ وہ عادتاً اس کو برداشت نہ کرسکتی ہو تو جائز ہے۔

سوال: عورتوں کا عورتوں سے عام راستوں ،ائیر پورٹ یا بازاروں اور تفریح کی جگہوں پر ملنا ،گلے لگانا کیسا ہے؟

جواب: عورتوں کا عورتوں کو گلے لگانا جائز ہے بشرطیکہ حرام فعل پر تمام نہ ہو ۔

سوال: آج کل عام طور پر عورتیں سڑکوں پر نکلتی ہیں اگر ان کی وہ جگہیں بے پردہ ہوں کہ جن کا پردہ کرنا واجب ہے کیا ان کی طرف بغیر شہوت یا بغیر جنسی لذت کے دیکھنا جائز ہے؟

جواب: ہاں ، اگر ان کو بے پردگی سے منع کیا جائے اور وہ نہ رکیں تو ان کی طرف دیکھنا جائز ہے۔

سوال: اس زمانے میں رائج ہے کہ عورتیں زینت کے لئے آ نکھوں میں سرمہ اور پیشانی پر ٹیکہ لگا کر انگوٹھی ،ہار چوڑی پہن کر بازار وں اور شاہرا ہوں پر لوگوں کے سامنے نکلتی ہیں؟

جواب: جائز نہیں ہے البتہ آ نکھوں میں سرمہ اور انگوٹھی پہننا جائز ہے بشرطیکہ فعل حرام میں پڑنے سے محفوظ رہیں اور نا محرم مردوں کو دکھانے کا مقصد نہ ہو۔

سوال: اب ذرا پردہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ میں آ پ سے ایک ایسی عورت کے بارے میں سوال کروں کہ جو اپنے پاؤں کو کھلا رکھ کر نا محرم کے سامنے نکلتی ہے؟

جواب: یہ جائز نہیں ہے۔

سوال: دوسری عورت نماز پڑھنے کی حالت میں اسی طرح اپنے پاؤں کو کھلا رکھتی ہے؟

جواب: جائز ہے اور پاؤں کا نماز کی حالت میں کھلا رکھنا جائز ہے۔

سوال: عورت کا کرایہ کی گاڑی میں سوار ہونا کیسا ہے جبکہ اس کے اور ڈرائیور کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہ ہو؟

جواب: کیا یہ جنسی رجحان کو بڑھا تا ہے یا حرام فعل میں مبتلا کردیتا ہے؟

سوال: ایسا نہیں ہے بلکہ میں نے ان دنوں ڈرائیوروں کی عادت کے مطابق سوال کیا ہے؟

جواب: جب تک وہ اپنے نفس پر کنٹرول رکھے اور فعل حرام میں مبتلا نہ ہو تو اس کے ساتھ اس کا سوار ہو نا جائز ہے۔

سوال: کسی مرد کا عمداً اور ارادتاً اپنی زوجہ کے علاوہ کسی غیر کے ساتھ جنسی فعل کو انجام دینے کے بارے میں فکر کرنا کیسا ہے؟

جواب: اس کا سوچنا حرام نہیں ہے ،جب تک کہ وہ فعل حرام کی طرف منتہی نہ ہو ۔

سوال: آ پ نے گز شتہ بحث میں مجھ سے فر مایا تھا کہ پوشیدہ عادت کو انجام دینا حرام ہے تو کیا مرد اور عورت اس حکم میں برابر ہیں ؟

جواب: ہاں جس طرح مرد کو اپنے عضو تنا سل سے کھیلنا یہاں تک کہ انزال ہو جائے حرام ہے اسی طرح عورت کوبھی اپنے عضو تناسل سے کھیلنا حرام ہے یہا ں تک کہ اس کو انزال ہوجائے ۔

سوال: مرض کی حالت میں ڈاکٹر تحقیق کرنے کے لئے اس سے منی چاہتا ہے اور مریض کے پاس منی نکال نے کا کوئی شرعی طریقہ نہیں ہے اور اس کا نکالنا ضروری ہے کیونکہ ڈاکٹر کی مانگ ہے۔

جواب: جب مر یض مجبور ہوجائے تو پھر اس کے لئے جائز ہے۔

سوال: جب کوئی شخص چاہے کہ وہ اپنی آ ز مائش کرائے کہ وہ بچے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے یا نہیں، لہذا ڈاکٹر نے اس سے منی کو مانگا ہے تاکہ وہ تحقیق کرے ؟

جواب: جب تک وہ اس پر مجبور نہ ہو جائے اس وقت تک منی کا نکا لنا جائز نہیں ہے۔

سوال: اس آ خری زمانہ میں جدید عملی مشینری کے ذریعہ (بطن مادر میں ) جنین کی حالت کو بیان کرنا ممکن ہے ۔کہ اگر جنین کی حالت پیدائشی اعتبار سے بہت خراب ہو اور علمی اعتبار سے یہ ثابت ہوجائے کہ جنین کی پیدائشی صورت حال خراب ہے یا وہ کئی بلاؤں یا کسی ایک بڑی بلا میں مبتلا ء ہے تو کیا اس کا ساقط کرنا جا ئز ہے؟

جواب: صرف جنین کی صورت حال کا خراب ہو نا اس کے اسقاط کے جا ئز ہونے کا سبب نہیں بنتا۔ ہاں اگر اس کا باقی رہنا رحم مادر میں ماں کے لئے ضرر اور ایسی مشقت کا سبب بنے کہ جو عادتاً محا ل ہو تو اس کا اسقاط جائز ہے اور یہ چیز بھی روح داخل ہونے سے پہلے جا ئز ہے اور روح کے بعد اس کا اسقاط کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے ۔

سوال: تلقیح (منی کا پیوند لگانا ) اس زمانہ میں حمل اور پیدائش مصنوعی طریقہ سے کی جا تی ہے اور وہ مختلف اقسام پر ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کی آ پ کو نشاندہی کراکر اسلامی اور شرعی نظریہ کو اس بارے میں معلوم کروں ۔

جواب: کہئے۔

سوال: کیا شوہر کی منی لے کر اس کو اس کی زوجہ کے رحم میں انجکشن یا دوسرے طریقوں سے ڈالا جا سکتا ہے؟

جواب: اس حد تک جائز ہے۔

سوال: کیا شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی منی کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈالنا جائز ہے؟

جواب: جائز نہیں ہے۔

سوال: کیا مرد کی منی لے کر اور زوجہ کا بیضہ لے کر ان دونو ں کا آزمائش طبی ٹیوب میں ملاکر پھر اس بیضہ کو عورت کے رحم میں ڈال سکتے ہیں یانہیں ؟

جواب: یہ بھی ایک حد تک جائز ہے۔

سوال: شوہر کی منی لے کر اور کسی دوسری ایسی عورت کا بیضہ لے کر کہ اس کی بیوی نہ ہو اس کو ملاکر پھر بیوی کے رحم میں منتقل کرسکتے ہیں؟

جواب: یہ بھی کسی حد تک جائز ہے۔

سوال: اس حالت میں بچہ کس سے ملحق کیا جائے گا ؟بیضہ والی عورت یا اس رحم والی عورت سے کہ جس میں نطفہ کامل ہوا ہے میری مراد یہ ہے کہ کون اس کی نسبتی ماں ہے؟

جواب: اس مسئلہ میں دواحتمال ہیں ،ان دونو کے درمیان احتیاط ضروری ہے۔

سوال: کسی عورت کا بیضہ لے کر اور کسی دوسرے ایسے مرد کی منی لے کر کہ جو اس کا شوہر نہ ہو دونوں کو ملاکر پھر اس عورت کے رحم میں پلٹا سکتے ہیں ؟

جواب: اس سے اجتناب لازمی ہے۔

سوال: پھر دوبا رہ طالب علموں کے مسائل کی طرف پلٹتا ہوں ۔میرا سوال ا سکو ل کے طالب علم کو مارنے کے بارے میں ہے کیا طالب علم کے ولی سے اجازت لینا واجب ہے مراد اس کا مارنا ہے؟

جواب: شاگردوں کا مارنا جب کہ وہ دوسروں کو ستائیں یا وہ کسی حرام کام کے مرتکب ہو ں تو مارنا جائز ہے اور ولی کی اجا زت صرف تین چھڑیوں تک ہے (اس سے زیادہ نہیں )اور لازم ہے کہ چھڑی اتنی ہلکی ہو کہ جس سے بدن سرخ نہ ہو ورنہ دیت دینا واجب ہو گی۔

سوال: کیا اسکول کے امتحانات میں نقل کر نا جائز ہے جبکہ کچھ ٹیچر حضرات اس پر طلاب کی مدد کرتے ہیں؟

جواب: یہ جائز نہیں ہے۔

سوال: فن وہنر کے کالجوں میں بعض طلبہ کو روح والی مخلوقات کی مجسمہ سازی سیکھائی جاتی ہے اگر وہ اسکے بنا نے میں شرکت نہیں کریں گے تو وہ کامیابی سے محروم اور کالج سے نکال دیئے جائیں گے پس ایسی صورت میں کیا ان کے لیے جائز ہے؟

جواب: ان کے ترک کرنے کی بنا پر کامیابی سے محرومی اس بات کا تنہا تقاضا نہیں کرتی کہ ا س فعل کا انجام دینا جائز ہو جائے (شرعا ممنوع ہے) ۔

سوال: گیند،اور گیند کی تمام شکلوں اور اقسام کا کھیلنا ہر جیت کے ساتھ بغیر کسی شرط کے جائز ہے یا نہیں ؟

جواب: ہاں جائز ہے۔

سوال: کشتی لڑنا اور مکہ بازی بغیر شرط کے جائز ہے؟

جواب: دونو ں جائز ہیں بشرطیکہ ان دونوں سے بدن کو نقصان نہ پہنچے۔

سوال: مردوں کو جو اہم مسا ئل ہیں (ڈا ڑھی کا منڈوانا ہے)بعض لوگ اپنی ڈاڑھیوں کو منڈواتے ہیں اور صرف ٹھڈی کے اوپر بال رکھتے ہیں کیا یہ شرعا کافی ہے؟

جواب: کافی نہیں ہے۔

سوال: جب ڈاڑھی کو آج استرے سے مونڈاجائے تو کیا دوسرے روز اس جگہ بال اگنے سے پہلے استرا پھیرنا جائز ہے؟

جواب: یہ جائز نہیں ہے۔

سوال: مجھے معاف کیجئے گا کہ میں اس سوال کی طرف منتقل ہو رہا ہوں جس کا تعلق باپ اور اولاد کے درمیان ہے آپ سے معذرت کے بعد سوال کرتا ہوں ان حدود کے بارے میں کہ جو والدین کے احکام کو بجالانے کے سلسلہ میں واجب ہیں؟

جواب : اسلام اولاد پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کو واجب قرار دیتا ہے۔

سوال: خوب کیا اطاعت والدین ہر چیز حتی روز مرہ کی زندگی میں بھی واجب ہے مثلا والد اپنے بچہ کو حکم دے یہ پھل کھاؤ یا دس بجے سوجاؤ ۔اور اسی طرح کے دوسرے امور؟

جواب: ہاں یہ چیز بچہ کے لئے اچھی ہے۔

سوال: جبکہ والدین اپنی اولاد کو کسی معین چیز سے منع کریں اس احتمال کے ساتھ کہ اس چیز کا نقصان اس کی اولاد کو ہوگا جبکہ اس کی اولاد کا اعتقاد یہ ہو کہ وہ چیزاس کے لئے مضر نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟

جواب: ایسی حا لت میں والد کی مخالفت جائز نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس کی مخالفت کرنا اس کی اذیت کا باعث ہو۔

سوال: جب کہ والد اپنے لڑکے سے کہے میں جانتا ہوں کہ یہ سفر تم کو کوئی نقصان نہ پہنچائے گا لیکن تمہاری دوری مجھے اذیت پہنچائے گی لہٰذا تم کو سفر کرنے سے منع کرتا ہوں ؟

جواب: قبل اس کے کہ تمہارے سوال کا جواب دوں اس سوال کے بارے میں تم سے پوچھتا ہوں اگر لڑکا باپ کی اطا عت کرتے ہوئے سفر نہ کرے تو کیا سفر کا نہ کرنا لڑکے کو نقصان دہ ہے؟

سوال: ہر گز نہیں بچہ کا سفر نہ کرناکسی نقصان کا باعث نہیں ہے لیکن وہ اپنے شوق اور گھومنے پھرنے سے جو تحقیق حاصل ہوتی ہے اس سے محروم ہوجائے گا ۔

جواب: اس بنا پر اس کا سفر کرنا جائز نہیں ہے جبکہ اس سے اسکے والد کو تکلیف پہنچتی ہو ۔

سوال: اب میں جوانو ں کے اکثر شوقین کھیل کے موضوع کی طرف آتا ہوں اور وہ بغیر شرط کے شطرنج اور جوئے کا کھیلنا ہے؟

جواب: دونوں کا کھیلنا جائز نہیں ہے۔

سوال بہت سے لوگ شطرنج اور جوئے کے علاوہ دوسری چیزوں سے کھیلتے ہیں ایسی چیزیں کہ جو قمار میں شمار ہوتی ہیں لیکن صرف تفریح کے لئے کھیلتے ہیں بغیر شرط کے؟

جواب: جتنی بھی چیزیں قمار میں شمار ہوتی ہیں ان کا کھیلنا حرام ہے چاہے بغیر شرط ہی کے کیوں نہ ہو۔

سوال: بعض الکٹر ونیک کھیل جو ایسی چیزوں کے ذریعہ جس کا نام (اٹاری) ہے دور سے ٹیوی پر دیکھا جاتا ہے اور ان سے الکٹر ونیک طاقت کے ذریعہ کھیلا جاتا ہے اور وہ صرف تفریح ہے بغیر کسی شرط کے؟

جواب: وہ تمام چیزیں جوٹی وی پر قمار کے آ لات کے ذریعہ دیکھی جاتی ہیں تو اٹاری چیزوں کے ذریعہ ان سے کھیلنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ قمار والے آ لات نہیں ہیں تو جائز ہے ۔

سوال قمار کے آ لات سے اب میں رقص (ناچ) کی طرف آ تا ہوں ۔ پس میرا سوال بیوی کے ناچ کے بارے میں ہے کہ جو اپنے شوہر کے سامنے ناچتی ہے تاکہ اس کی محبت اور اس کا رجحان اس کی طرف بڑھے؟

جواب: یہ اس کے لئے جائز ہے۔

سوال: اگر کوئی عورت دوسرے کے سامنے نا چے تو ؟

جواب: جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے علا وہ دوسرے مردوں کے سامنے ناچے بلکہ اس کا عورتوں کے سامنے بھی رقص کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال: کسی مرد کا مردوں کے سامنے یا ایسی عورتوں کے سامنے رقص کرنا کہ جو اس کی بیوی نہیں کیسا ہے؟

جواب: اس کا رقص کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔

سوال: شادی یا دوسری تفریحی محفلوں میں مرد وں یا عورتوں کا تا لیاں بجانا کیسا ہے؟

جواب: ان کے لئے جائز ہے بشر طیکہ کسی دوسرے حرام فعل کے مرتکب نہ ہوں ۔

سوال: اب میراسوال دینی غنا کے سننے کے جواز میں ہے؟

جواب تمہاری مراد وہ دینی کلمات ہیں کہ جو اہل لہووطرب کے مشہور لحنوں سے ادا ہو تے ہیں ؟

سوال: ہاں ۔

جواب: ان کا سننا حرام ہے اور اسی طرح ہر وہ کلام جو لہو میں مبتلا کرنے والا نہیں ہے اور ان کے لحنو ں سے ادا ہوتا ہے چاہے دعا ہو یا کوئی اور ذکر ہو(یا ان دونوں کے علاوہ اور کچھ ہو)

سوال: اور لہوی کلام جوان کے لحنوں سے ادا ہوتا ہے؟

جواب: یہی تو غنا ہے جو مشہور ہے اور اس کی حر مت میں کوئی شک نہیں ہے

سوال : مو سیقی کا اطلاق ہمارے اس زمانہ میں کس چیز پر ہوتا ہے ؟

جواب: وہ دو قسموں پر ہو تا ہے ایک تو لھو وطرب کی محفلو ں سے مناسبت رکھتی ہے پس اس کا سننا حرام ہے اور اس کے علاوہ جو ہے اس کا سننا جائز ہے۔

سوال: بعض موسیقی کی قسمیں ایسی ہیں کہ جو تلاوت کلام پاک سے پہلے یا اذان کہنے سے پہلے یا کبھی دینی پر وگرام سے پہلے یا جو دینی پروگرام سے ملحق ہیں اس سے پہلے بجائی جاتی ہیں کیا ان کا سنا جائز ہے

جواب: یہ مو سیقی کی دو سری قسم سے مربوط ہے جوحلال ہے ۔

سوال: وہ موسیقی کہ جو خبروں کے بیا ن کر نے سے پہلے نشر کی جاتی ہے

جواب: یہ بھی جائز ہے

سوال: بعض گھڑیوں میں معین وقت الارم بتانے کے لئے موسیقی فٹ کر دی جاتی ہے تاکہ جب چاہیں ان کومعین وقت پر لگادیں لہٰذا ان کا بیچنا اور ان کا خرید نا اور ان کی موسیقیو ں کو سننا جائز ہے یا نہیں؟

جواب : جائز ہے

سوال: کلاسکی موسیقی وہ ہے کہ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ا عصاب کو تحریک میں لانے اور ان کو متا ثرکرنے کے لئے استعمال ہو تی ہے اور وہ کبھی روح امراض کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے کیا اس کا سننا جائز ہے ؟

جواب: ہاں ہر وہ موسیقی کہ جو لھو و طر ب کے ما نند نہیں اس کا سننا جائز ہے

سوال: وہ تصویر ی مو سیقی کہ جو ٹیلی ویزن کی فیلموں میں دکھائی جاتی ہے اور ان سے غرض دیکھنے والے کا متا ثر کرنا ہو تا ہے جو فلم سے متعلق ہے پس جب کہ فلم کا دیکھنے والا اس موسیقی سے مرعوب ہو اور وہ موسیقی دیکھنے والوں پر اثر انداز ہو تو کیا حکم ہے ؟

جواب: یہ بھی اکثر حلال قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔

سوال: غزل ترانے کبھی موسیقی کے ذریعہ نشر کئے جاتے ہیں ان کا سننا کیسا ہے

جواب: ان پر مذکو رہ قاعد ہ کے مطابق عمل کیا جائے( یعنی یہ حلال موسیقی کی قسم ہے)

سوال: مجھے معاف کیجئے دو سوال کرتا ہوں

جواب: کیجئے۔

سوال : کیا بعض حا لات میں عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ نا محر م مر دوں کے لئے اپنے کو معطر کرے؟

جواب: اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے بلکہ جب نا محرم مرد سے فتنہ کا اندیشیہ ہو یا اس کا جھکاؤ کا سبب ہو تو جائز نہیں ہے۔

سوال: کسی عزیز کی وفات پر اس کے سوگ میں عورتیں کالے کپڑے پہنتی ہیں اور کبھی اپنے چہروں اور سینوں وغیرہ پر ہاتھ مارتی ہیں کیا ان کے لئے یہ جائز ہے۔

جواب: ہاں جائز ہے ۔


فہرست

توجہ ۴

مقدمہ ۵

پہلا حصہ ۵

حصہ دوم ۶

حصہ سوم ۶

وصیت کے بارے میں گفتگو ۸

وراثت کے متعلق گفتگو ۱۳

پہلا طبقہ : ۱۳

دوسرا طبقہ: ۱۳

تیسرا طبقہ ۱۳

وقف کے بارے میں گفتگو ۱۸

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے متعلق گفتگو ۲۱

پہلا مرتبہ ۲۵

دوسرا مرتبہ ۲۵

تیسرا مر تبہ ۲۵

( ۱) ” التوکل علی الله “ (اللہ پر بھروسہ رکھنا ) ۲۸

( ۲) ” الا عتصام بالله تعالی “ (خدا کو اپنی پناہ بنانا) ۲۸

( ۳) ” اللہ کا اس کی مسلسل نعمت پر شکر کرنا“ ۲۸

( ۴) ” اللہ سے حسن ظن (اچھا گمان رکھنا ) “ ۲۹


( ۵) ” رزق و عمر و نفع و نقصان میں اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنا“ ۲۹

( ۶) ” خدا وند عالم سے خوف اور اس کے ساتھ اس سے امید بھی رکھنا “ ۲۹

( ۷)” صبراور غصہ پینا “ ۳۰

( ۸)” اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیزوں پر صبر کرنا “ ۳۱

( ۹) ” عدل “ ۳۱

( ۱۰) ” شہوت پر عقل کو غلبہ دینا “ ۳۱

( ۱۱) ” تواضع“ ۳۲

( ۱۲) ” کھانے پینے اور دوسری چیزوں میں اعتدال قائم رکھنا“ ۳۲

( ۱۳) ” لوگوں کہ ساتھ انصاف کرنا “ ۳۳

( ۱۴) ” عفت کو محفوظ رکھنا “ ۳۳

( ۱۵) ” لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر انسان کا اپنے عیب کی طرف متو جہ ہونا، ۳۳

( ۱۶) ” مکارم الاخلاق سے اپنے کوآراستہ کرنا “ ۳۴

( ۱۷) ” حلم“ ۳۴

( ۱۹) ” زیارت کرنا، ۳۵

( ۲۰) ” دنیا سے کنا رہ اختیار کرنا “ ۳۶

( ۲۱) مومن کی مدد کر نا اور اس کے غم میں شریک ہو نا اور اس کو خوش کر نا اور اس کو کھا نا کھلا نا اور اس کی حاجت روائی کر نا۔ ۳۷

( ۲۲) ” ہر روز اپنے نفس کا محا سبہ کر نا “ ۳۸

( ۲۳) ” امور مسلمین کو اہمیت دینا“ ۳۹

( ۲۴) ” سخا وت وکرم اور ایثار“ ۳۹


( ۲۵) ” اپنے اہل وعیال پر خرچ کر نا“ ۴۰

( ۲۶) ” گناہوں سے تو بہ کر نا چاہیے“ ۴۰

( ۱) ” ظلم کر نا“ ۴۲

( ۲) ” ظالم کی مدد کرنا اور اس پر راضی رہنا“ ۴۳

( ۳) ” انسان کا اتنا شریر ہونا کہ جس کے شر سے لوگ بچتے ہوں“ ۴۴

( ۴) ” قطع رحم کرنا“ ۴۴

( ۵) ” غصہ کرنا“ ۴۵

( ۶) ” غرور اور تکبر کرنا“ ۴۶

( ۷ ) ” ناحق یتیم کا مال کھانا “ ۴۷

( ۸)” جھوٹی قسمیں کھانا“ ۴۷

( ۹) ” جھوٹی گوا ہی دینا “ ۴۷

( ۱۰) ” مکر اور دھوکا بازی“ ۴۷

( ۱۱) ” مومن کو حقیر اور فقیر کو گرا ہوا سمجھنا “ ۴۸

( ۲۱) ” حسد کرنا“ ۴۸

( ۱۳) ” غیبت کرنا اور اس کا سننا“ ۴۹

( ۱۴) ” دنیا کی حرص اور مال سے محبت کرنا“ ۴۹

( ۱۵) ” تہمت لگانا، برا بھلا کہنا، بد زبانی اور گالیاں دینا “ ۵۱

( ۱۶) والدین کا عاق کرنا“ ۵۱

( ۱۷) جھوٹ بولنا ۵۲

( ۱۸) ” وعدہ خلافی کرنا“ ۵۳


( ۱۹) گناہ پر اصرار کرنا اور اس کو ترک نہ کرنا اور اس پر نادم نہ ہونا۔ ۵۴

( ۲۰)” غذا کا احتکار کرنا (ذخیرہ اندوزی) اس نیت کے ساتھ کہ اس کی قیمت زیادہ ہوگی“ ۵۵

( ۲۱ ) ” دھوکہ بازی کرنا“ ۵۵

( ۲۲) ” اسراف وتبذیر “ ۵۶

( ۲۳) ” واجبات میں سے کسی واجب کا ترک کرنا “ ۵۷

پہلی جزل گفتگو ۵۹

پہلی جہت: ۷۰

دوسری جہت : ۷۰

دوسری جزل گفتگو ۷۶