نماز کي گہرائیاں
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نماز کي گہرائیاں

از

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

نشر ولایت پاکستان

مرکزحفظ ونشر آثار ولایت

www.wilayat.com


بسم الله الرحمن الرحيم

خصوصي مقدمہ

الحمد لله والصلوٰة عليٰ رسول الله وعليٰ آله خلفائ الله

١۔ خدا وند عظيم کي صفات ۔

مخلوق کي تربيت کرنا ہے۔ اس نے ہم انسانوں کي تربيت اور کمالات تک پہنچانے کے لئے جو انسانيت کا عروج ہيں۔ کچھ عبادات مقرر کي ہيںاور کچھ اخلاقي اچھائيوں کو ہمارے لئے معين فرمايا ہے۔ خدا کي غرض يہي ہے کہ انسان ان عبادات پر عمل کرے اور ان اخلاقي فرائض کو اپنے ميں پيدا کرے۔۔ اور ان دونوں کے ذريعے سے انسا ن اس کمال تک پہنچے جو اس کي معراج ہے۔ يہ معراج اس لحاظ سے ہے کہ انسان ان روحاني لذتوں اور باطني کمالات کو حاصل کرے جس سے وہ دنيا ميں بھي ظاہري اور باطني اعتبار سے خوشي محسوس کرے گا اور آخرت ميں بھي وہاں کے عظيم باطني کمالات کو حاصل کرے گا۔

قابل توجہ بات يہ ہے کہ انسان غير اخلاقي اور گھٹيا حرکات ميں مصروف ہے اور اس کا کردار پست لوگوں جيسا ہے ۔۔۔۔ جو اس کي (انسانيت) کي شان سے بالکل ميل نہيں کھاتا۔۔۔ ايسي حالت ميں اس کي باطني قوتيں اور روحاني کمالات کو صلاحيتيں دبي رہ جائيں گي اور اسے کوئي فائدہ نہيں پہنچاسکيں گي۔۔۔ اور جب تک انسان خود ميں روحاني اور باطني عظمتوں کو پيدا نہ کرے اور نا ہي خود اپني صلاحيتوں کو عملي کرسکے تو اس وقت تک اس کے اس کے باطن کي کيفيت ايسي نہيں ہوگي کہ وہ روحاني لذات کا احساس اور باطني کيفيات کا ادراک کرسکے۔

ايسے آدمي کي مثال اس ديہاتي کي سي ہے جو بالکل جاہل اور ان پڑ ھ ہو اور ہم اسے ايسي لائبريري ميں لے جائيں جس ميں علم و فکر کے خزانے بھرے ہوں ليکن اسے علمي خزانوں کي اہميت ذرہ بر ابر بھي نہ ہوسکے گي يا اسے ايک فلسفي کے پاس بٹھا ديا جائے جس کي محفل علم و دانش سے پر ہو اور وہ فلسفي گہرے مطالب کو باآساني سمجھا ديتا ہو ليکن يہ جاہل ديہاتي نہ اس کتب خانہ سے کوئي فائدہ اٹھاسکے گا اور نا ہي اس فلسفي کي نشست سے کوئي علمي لذت حاصل کرسکے گا۔

٢۔ يہ حقيقت واضح ہوني چاہئيے

کہ دنيا کو خلق کرکے خدا نے نا کسي اپني خواہش کي تکميل چاہي ہے اور نا ہي اپنا کوئي مقصد پورا کرنے کا ارادہ کيا ہے۔ کيونکہ خدا غني ہے ، وہ کسي چيز اور کسي کام کے لئے محتاج نہيں ہے اور نا ہي کوئي ايسا مقصد ہے کہ جس کا کوئي فائدہ يا نفع ذات مقدس الہي کو پہنچے گا۔ اس قسم کا کوئي ايمان عقلاً ، ممکن نہيں ۔ پھر بھي يہ بات اپني جگہ ايک مسلم حقيقت ہے کہ اس نے تمام کائنات کو بے مقصد خلق نہيں کيا ہے۔ ہم يہ نہيں کہہ سکتے کہ کائنات جو زندگي کے ہنگاموں سے بھري ہوئي ہے اور يہ آسمان بے مقصد و عبث ہے۔ کيونکہ خداوند عظيم نے ارشاد فرمايا ہے:

وما خلقنا السموات والارض وما بينهما لاعبين

اور ہم نے آسمانوں اور زمين کو ۔۔ اور جو کچھ ان کے درميان ہے کھيل کے طور پر خلق نہيں کيا ہے ۔(سورہ دخان ٣٨)

ما خلقنا هما الا بالحق ولکن اکثرهم لا يعلمون

ہم نے ان دونوں کو حق کے ساتھ خلق کيا ہے ليکن لوگوں ميں سے اکثريت کو اس کا علم نہيں۔(سورہ دخان ٣٩)

کائنات کي تخليق سے خدا کي جو بھي غرض ہو ليکن يہ بات بالکل يقيني ہے کہ خدا کي تمام مخلوقات ميں انسان کي حيثيت سب سے اعليٰ ہے اور اسے پيدا کرنے کي غرض بھي سب سے زيادہ اعليٰ و ارفع مقام ہے۔ بازار ہستي ميں صرف انسان ہي ہے جو اس اعليٰ و ارفع مقام تک پہنچنے کي طاقت و لياقت رکھتا ہے اور اس عظمت کو برداشت کرسکتا ہے۔ انسان کے علاوہ اس درجہ اعليٰ تک پہنچنے کي طاقت نہ تو بلند و بالا پہاڑوں کو ہے جو اپنے سر آسمان کي طرف اٹھائے ہوئے ہيں اور نا ہي اس درجہ تک پہنچنے کي قوت و قدرت اس نيلگوں آسمان کو ہے جس کي عظمت کو ستاروں اور کہکشاوں کے بے حد حساب نظام چار چاند لگا رہے ہيں۔

انا عرضنا االامانة عليٰ السموت والارض والجبال فابين ان يحملنها واشفقن منها و حملها الانسان

ہم نے امانت کو پيش کيا آسمانوں ۔۔۔۔ اور زمين اور پہاڑوں پر ۔۔۔ پر انہوں نے انکار کيا کہ وہ اس امانت کو نہيں اٹھائيں گے اور وہ اس سے ڈرے اور انسان نے اس امانت کو اٹھاليا ۔۔۔۔ (سورہ دخان ٧٢)

آسمان بار امانت نتوانست کشيد

قرعہ فال بنام من ديوانہ زدند

آسمان بار امانت کو نہ اٹھا سکا

قرعہ ہم ديوانے انسانوں کے نام آگيا

واصطنعتک لنفسي

اور ہم نے تمہيں (خاص) اپنے نفس کے لئے بنايا ہے۔

اس آيہ مبارکہ ميں کہ خدا کا ارشاد اس مقصد کے راز سے تھوڑا پردہ ہٹا کر اس حقيقت کو ظاہر کررہا ہے کہ انسان کي غرض خلقت کيا ہے وہ لوگ جو زندہ دل ہيں ، پروانے کي مانند شمع کے شعلہ سے جو شعلہ الہي سے جل کر خود کو اس کے سامنے فنا کرديتے ہيں۔

٣۔ انسانيت کا يہ اعليٰ کمال کيونکہ حاصل کيا جائے ، اس سلسلے ميں بہت سے نظريے اور پروگرام پيش کئے گئے۔ ان نظريوں اور پروگراموں کو پيش کرنے والے لوگ اس بات کے دعويدار تھے کہ ہم بشريت کو کمال تک پہنچانے والے ہيں۔ ان ميں انبيائ بھي تھے اور غير انبيائ بھي۔ ان کے دعووں کے سلسلے ميں ہماري غرض يہ نہيں ہے کہ کوئي تفصيلي گفتگو يہاں کريں۔البتہ ہم يہ کہہ سکتے ہيں کہ ہم نے گہري فکر کي ، ہر پہلو پر غور کيا اور ديکھا کہ وہ نظام جس کے پيش کرنے والے انبيائ کے علاوہ دوسرے طبقے کے لوگ تھے ، اس ميں جو باتيں بيان کي گئي ہيں ان کا ايک جملے ميں خلاصہ کيا جاسکتا ہے کہ ان پروگراموں اور نظاموں ميں سے کوئي ايک بھي ان دو خرابيوں سے خالي نہ تھا۔

١۔ بعض خوبيوں کي طرف ضرورت سے زيادہ توجہ دلائي گئي تھي اور (٢) بعض خوبيوں کي طرف توجہ دلانے ميں کوتاہي کي گئي تھي۔ اس لحاظ سے ان کا نظريہ اور نظام اس قابل نہ تھا کہ جو انسان کے کامل بننے کي بھوک کو مٹاسکے۔ ہر انسان ميں يہ بھوک موجود ہے اور تمام انسان بغير اس بھوک کو سير کيے دنيا سے چلے جاتے ہيں۔

اسي اثنائ ميں ہم نے ديکھا کہ خدا کا پيغام لانے والے اور اس کي طرف سے رہبري کا عہدہ لے کر آنے والے انبيائ نے (ہميں) يہ بتايا کہ انسان کي روح و باطن کا کمال صرف اس چيز ميں ہے کہ وہ خدا کي عبادت کرے اور اس کي بندگي ميں مصروف رہے چنانچہ اس سلسلے ميں ہم ۔۔۔ شيعوں کے پيشوا کے بيان کو نقل کررہے ہيں کہ انہوں نے فرمايا :

بندگي وہ جوہر ہے ۔۔۔۔ جس کے اندر چھپا ہوا راز تربيت ہے ۔

عبادت کرنے سے ہمارے باطني کمالات خود بخود تربيت پانے لگتے ہيں ۔ يعني خدا کي بندگي روح کا چمکتا ہوا موتي ہے اور جو بھي اس چمک کي روشني ميں آگے بڑ ھے گا وہ بارگاہ الہي کي ربوبيت کے حرم ميں پہنچ جائے گا يا يوں کہا جائے کہ خدا کے بتائے ہوئے روح کے اس کارخانے تک پہنچ جائے گا جہاں روحوں کو اعليٰ درجے کو تربيت دے کر انہيں باکمال فرد کي حيثيت سے اس دنيا سے اس دنيا تک جانے کے قابل بنايا جاتا ہے۔

اے خدا ۔۔۔ تيري محبت کي قسم ! اگر تو مجھے اپنا بندہ قبول کرلے تو ميں دنيا اور سارے جہانوں کي بادشاہت کو ترک کردوں گا ۔ (فارسي شعر کا ترجمہ)

حديث صحيح جو شيعہ اور سني علمائ نے رسول خدا سے نقل کي ہے کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمايا :

بندہ جن چيزوں سے ميري بارگاہ ميں قربت حاصل کرتا ہے ان ميں سب سے زيادہ جو بات مجھے محبوب ہے وہ ۔۔۔ وہ واجبات ہيں جو ميں نے اس پر فرض کيے ہيں اور يہ بندہ پھر ميري اور قربت کو حاصل کرتا ہے نافلہ ادا کرکے يہاں تک کہ ميں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پس جب ميں اس سے محبت کرنے لگوں تو ميں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کي آنکھيں بن جاتا ہوں جن سے وہ ديکھتا ہے ، اس کي زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بات کرتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ قوت کے جوہر دکھاتا ہے۔

يعني اس کے کان ميں وہي آوازيں پڑتي ہيں جو اس کے لئے مفيد ہوتي ہيں اور جسے خدا چاہتا ہے کہ يہ بات اس کے کان ميں آئے۔ اسي طرح وہ وہي چيزيں ديکھتا ہے جسے خدا چاہتا ہے کہ بندہ اسے ديکھے اور اس کي زبان سے ايسي باتيں نکلتي ہيں کہ وہ خود بھي سمجھتا بلکہ خود اس کي زبان سے ادا کرديتا ہے اور اس کے ہاتھ سے ايسے کام انجام پاتے ہيں کہ جسے وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے يہ کام انجام نہيں دئيے بلکہ کسي غيبي طاقت نے اس سے يہ کام کرايا ہے۔

بندہ خدا سے بہت زيادہ قربت کي وجہ سے اس منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ خداوند عالم اس کا کان ، آنکھ، زبان اور ہاتھ ہوجاتا ہے۔

٤۔ تمام عبادات ميں نماز ايک عظيم فريضہ ہے بلکہ اگر يوں کہا جائے تو زيادہ بہتر ہوگا کہ اسلامي باتوں کي تربيت کا عالي ترين مکتب اور درسگاہ ۔۔۔ نماز ہے ۔

خدا نے عبادت کي اس قسم کو اس لئے ايجاد فرمايا ہے کہ بندہ اس عبادت کے ذريعہ اپنے خدا سے رشتہ جوڑ ليتا اور وہ اپني بندگي کي بنيادوں کو مضبوط و مستحکم کرليتا ہے۔ نماز اگر سمجھ کر پڑھي جائے تو اس سے نما گذار کے دل ميں وہ طاقت پيدا ہوجائے گي کہ اس کا دل گناہ کے مقابل اس کي سخت حفاظت کرے گا اور يہ دل مشکلات ميں بالکل پريشان نہ ہوگا بلکہ مردانگي کے ساتھ ثابت قدم رہے گا ۔ قرآن ميں ہے کہ

ان الصلاة تنهيٰ عن الفحشائ والمنکر

يقينا نماز روکتي ہے ۔۔۔ فحش باتوں اور منکرات سے ۔ (سورہ عنکبوت ٤٥)

واستعينوبالصبر والصلوٰة

مدد حاصل کرو ۔۔۔ صبر اور نماز سے ۔ (سورہ بقرہ ٤٥)

بہت سے لوگ يہ سوال کرتے ہيں کہ يہ عبادت کيوں بجالائي جائے؟ کيا خدا ہماري عبادات کا محتاج ہے کہ ہم اس کي تکليف دور کرنے کے لئے اس کي عبادت کريں؟

اس قسم کا سوال کرنے والے اپنے ذہن ميں يہ تصور کرتے ہيں کہ خدا کو ہماري عبادت سے کوئي فائدہ يا خوشي حاصل ہوتي ہے اور وہ اپني خوشي يا حاجت کي تکميل کے لئے ہم سے اپني عبادات کراتا ہے۔۔۔ جبکہ حقيقت ميں يہ فکر کي بہت بڑي غلطي ہے۔ ہم عبادت اس لئے بجا نہيں لاتے کہ خدا کي کسي پريشاني کو دور کريں۔ ہم اس کي اطاعت کريں يا اس کي نافرماني کريں۔۔۔ اس سے کوئي نفع يا نقصان ذات الہي کو نہيں پہنچتا۔ حضرت علي نے ھمام کو خطبہ ديتے وقت شروع ميں يہ فرمايا تھا :

اللہ تعاليٰ نے مخلوقات کو خلق کيا ہے اور وہ غني ہے۔ اسے نہ ان کي اطاعت کي کوئي حاجت ہے اور نا ہي مخلوقات کي معصيت سے کسي پريشاني ميں مبتلا ہوتا ہے کيونکہ خدا کو اطاعت کرنے والوں کي اطاعت سے نا کوئي فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نا ہي معصيت کرنے والے کي معصيت سے کوئي نقصان ۔

گر جملہ کائنات کافر گردند

بردامن کبرياش ننشيند گرد

( اگر تمام کي تمام کائنات کافر ہوجائے تو بھي خدا کي بزرگي کے دامن ميں ايک دھبہ بھي نہيں آئے گا)

ہماري عبادت کا مقصد يہ ہے کہ ہماري روح و جان کي تربيت ہو اور وہ کمال تک پہنچيں يعني عبادت کي غرض يہ ہے کہ ہم اپني روحاني قدرتوں کو سمجھيں ۔۔۔۔ انہيں استعمال کريں۔۔۔ اور ان سے لذت اٹھائيں اور ان تمام روحاني قدرتوں کا سر چشمہ ۔۔۔۔ خدا کي عبادت و بندگي ۔۔۔۔ ہے۔ان تمام عبادات کا مقصد يہ ہے کہ ہمارے دل کي تاريکي چھٹ جائے اور ہمارے دل کي باطني کيفيات خدا کي حکمت والي باتوں کو سمجھ کر خدا کي حکمت کے نور سے بھر جائيں اور انسان کا دل اس قابل ہوجائے کہ وہ حق کي باتوں کے جلووں کو سمجھ سکے اور عشق الہي کا نور اس کے باطن ميں پيدا ہو۔

٥۔ بہت سے نماز پڑھنے والے نماز پڑھنے ہيں۔۔۔۔ ليکن وہ نہيں جانتے کہ کس وجہ سے نماز پڑھ رہے ہيں ؟ انہيں نماز سے کيا فائدہ پہنچے گا ؟ انہيں نہيں علم کہ نماز ان کے باطن اور روح ميں کيا عظيم تبديلياں پيدا اور انقلاب رونما کرسکتي ہيں۔ ہم اس بات کو زيادہ واضح طور سے يوں بيان کرسکتے ہيں کہ وہ خود نہيں سمجھتے کہ وہ نماز کيوں پڑھ رہے ہيں اور وہ عظيم الشان اغراض و مقاصد سے خود غافل ہيں لہذا انہيں نماز سے کوئي فائدہ نہيں پہنچتا اور نا ہي يہ عبادت بزرگ ان کي روحانيت پر کوئي اثر ڈالتي ہے يا اگر بہت معمولي سا بھي اثر ڈالتي ہے تو اس سے کوئي نماياں فائدہ حاصل نہيں ہوتا۔ چنانچہ رسول اکرم ايک شخص کے بارے ميں جو جلدي جلدي نما پڑھ رہا تھا ، ارشاد فرمايا :

’’ يہ شخص ايسے ٹھونگے مار رہا ہے جيسے کوا ٹھونگے مارتا ہے۔‘‘

جس طرح کوا اپني چونچ زمين پر مارتا ہے اسي طرح نمازي نے بے سوچے سمجھے اپني نماز شروع کردي اور بے سوچے سمجھے اسے ختم کرديگا۔ البتہ اس نماز پڑھنے والے کو اپني نماز سے کوئي فائدہ نہيں پہنچے گا اور نا ہي نماز اس کے دل کو روشن و نوراني کرسکے گي ۔۔۔ اور نا ہي اسے انسانيت کي طاقت دے سکے گي اسي وجہ سے ہم قرآن ميں ديکھتے ہيں کہ خدا کا ارشاد ہے :

نماز ۔۔۔۔ نماز ي کو فحش و منکرات سے روکتي ہے۔ (سورہ عنکبوت ٤٥)

ليکن ہم ميں سے لوگوں کي ايک کثير تعداد ہے جو سالہا سال سے نماز پڑھ رہي ہے ليکن ہماري روح ميں اتني چھوٹي سي بھي طاقت پيدا نہيں ہوئي کہ ہم خود کو معمولي سے معمولي گناہ سے بھي روک سکيں۔ اس بحث سے ہم اس نتيجے کو حاصل کرسکتے ہيں کہ حقيقت ميں ہم نے بالکل نماز نہيں پڑھي بلکہ جو کچھ ہم بجالاتے ہيں وہ صرف نماز کي ظاہري شکل و صورت ہوتي ہے۔

انسان کي اسي حاجت کو پورا کرنے اور اس کے روحاني نقصانات و آفات کو دور کرنے کے لئے اسلام کے بزرگ علمائ نے اس عظيم الشان عبادت کي باطني خوبيوں کو ظاہر کرنے۔۔۔۔ باطني آداب سے آگاہ کرنے اور روحاني اچھائيوں سے پردہ اٹھانے کے لئے بہت سي کتابيں لکھي ہيں۔

١۔ اسرار الصلوٰۃ ۔۔۔۔۔۔ تاليف شہيد ثاني ( شہيد زين الدين)

٢۔ اسرار الصلوٰۃ ۔۔۔۔۔۔ از حکيم و عارف اعليٰ قاضي سعيد قمي

٣۔ اسرار الصلوٰۃ ۔۔۔۔۔۔ از عارف و زاہد فقيہہ ( مجتہد) کامل مرحوم حاج مرزا جواد ملکي

تبريزي استاد گرانقدر حضرت امام خميني رضوان اللہ عليہ

٤۔ اسرار الصلوٰۃ۔۔۔۔۔۔ از باني حکومت جمہوري اسلامي ايران حضرت امام خميني رضوان اللہ

عليہ

٥۔ آداب الصلوٰۃ۔۔۔۔۔ از فقيہہ کامل عارف رباني حضرت امام خميني رضوان اللہ عليہ

٦۔ اور کتاب مبارک ۔۔۔۔ از ژرفاي نماز ( نماز کي گہرائياں) ۔۔۔۔ از مجموعہ تقارير رہبر معظم

انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہٰ اي دامت برکاتہ

جس شخص کي بھي يہ خواہش ہو کہ اس عظيم عبادت کے کچھ اسرار و آداب سے آگاہي حاصل کرے اس پر لازم ہے کہ جن کتابوں کا ميں نے تذکرہ کيا ہے ، ان کا مطالعہ کرے۔

اپنے مضمون کے اختتام پر ہم حضرت آيت اللہ العظميٰ امام خميني کي کتاب ۔۔ آداب نماز ۔۔۔۔ سے چند جملے تحرير کرکے اپنے مضمون کو نوراني کرنا چاہتے ہيں تاکہ مضمون کے آخر ميں مشک و عنبر کي مہر ثبت ہوجائے۔

خدا وندا۔۔۔۔ تيري بارگاہ ميں پہنچنے کے لئے ہمارا قدم اس قابل نہيں ہے کہ اس عظيم اور اعليٰ منزل تک پہنچ سکے۔

خداوندا ۔۔۔ ہمارا طلب کرنے والا ہاتھ اس قابل نہيں کہ تيري محبت و انسيت کو چھوسکے۔

خداوندا۔۔۔ ہمارے دل پر شہوت و غفلت کے پردے بڑھے ہوئے ہيں، ہمارے دل پر شيطان اور محبت دنيا کے غليظ حجاب پڑے ہيں اور جن کي وجہ سے ہماري بصيرت قلبي تيري ذات ، عظمت اور جلال کي طرف توجہ نہيں کرپاتي۔

آخرت کا راستہ باريک اور انسانيت کا طريقہ حديد ( سخت ) ہے۔

ہم بے چارے مکڑي کے جالے کي طرح اپني حقير فکر کے تانے بانے ميں پھنسے ہوئے ہيں۔ ہم وہ حيران لوگ ہيں جنہوں نے ابر يشم کے کيڑے کي طرح اپنے چاروں طرف شہوتوں اور آرزووں کا جال بن ليا ہے اور خود اپنے ہي جال ميں پھنس گئے ہيں۔

اور ہميں بالکل پتہ نہيں۔ کہ بارگاہ الہي کے غيب کي باتيں کيا ہيں اور اس کي بارگاہ سے عشق و محبت کے کيا مزے ہيں؟

( صرف ايک ہي صورت ہے اور وہ) صرف يہ کہ تو اپنے جلوے سے ہمارے دل کو روشني عنايت فرما اور اپني غيبي چمک سے ہماري خودي کو بے خودي ميں بدل دے۔

مولا علي فرماتے ہيں:

الهي هب لي کمال الا نقطاع اليک وانر ابصار قلوبنا بضيائ نظرها اليک حتيٰ تخرق ابصار القلوب حجب النور فتصل الي معدن العظمة و تصير ارواحنا معلقة بعز قدسک (مناجات شعبانيہ)

’’ ميرے معبود ۔۔۔ مجھے مکمل طور سے سب چيزوں سے دل کو توڑ کر صرف تيري محبت والا بنادے اور ہمارے دل کي آنکھوں کو وہ روشني دے جس سے تو نظر آئے اور وہ روشني دے جس سے نور کے پردوں کو ہم چاک کرديں۔۔۔ اور براہ راست تيري عظمت کے خزانے سے متصل ہوجائيں۔۔ اور ہماري روحيں تيري مقدس عظمت کے درجے سے وابستہ ہوجائيں۔‘‘

(مناجات شعبانيہ)


بسم الله الرحمن الرحيم

نماز ۔۔ بندے اور خدا کے درميان رابطہ

نماز ۔۔۔ معبود حقيقي کي بارگاہ ميں دل کي گہرائيوں کے ساتھ سر جھکانا اور انسان و خدا کے درميان ربط قائم کرنا ہے اس رابطہ کا تعلق پيدا کرنے والے اور پيدا ہونے والے سے ہے۔نماز تسلي دينے کے ساتھ ساتھ ہمارے پريشان اور تھکے ہوئے خستہ حال دلوں کو آرام و سکون عطا کرتي ہے۔ نماز ہمارے باطن کو صاف ، آلودگي سے پاک اور نور خدا سے روشن کرتي ہے۔

نماز بندے کا خدا سے عہد و پيمان ہے، نماز خدا کے راستے پر چلنے کے لئے تحريک پيد اکرنے والي ہے اور اس حالت کے لئے آمادہ کرتي ہے جو دھوکہ اور فريب سے پاک ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہيں تاکہ ہر برائي و بدي کو دور کريں اور اس کے ذريعے سے ہر خير و خوبي اور جمال ملکوتي کو حاصل کريں۔نماز اپنے وجود سے آگاہ ہونے اور اسے حاصل کرنے کا نظام ہے۔ مختصر يہ کہ نماز اس ذات سے رابطہ قائم کرنے اور مسلسل فائدہ حاصل کرنے کا نام ہے جو تمام کمالات کا سر چشمہ ہے۔ نماز اس ذات سے رشتہ جوڑنا ہے جو تمام خوبيوں اور نيکيوں کا خالق ہے يعني خدا۔

ہمارے ذہنوں ميں اکثر يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ

٭ نماز کو اہم ترين واجبات ميں کيوں شمار کيا جاتا ہے؟

٭ کيا وجہ ہے کہ نما زکو دين کي بنياد قرار ديا گيا ہے؟

٭ کيا وجہ ہے کہ نماز کو اس قدر اہميت دي گئي ہے کہ ارشاد ہوا کہ اگر نماز قبول نہيں ہوئي

تو کوئي عمل قبول نہيں ہوگا!

٭ دوسري تمام عبادات کے مقابلے ميں آخر نماز ميں کيا خاص چيز ہے جس کي وجہ سے وہ تمام

عبادات ميں سر فہرست ہے؟

٭ اور وہ کيا را ز ہيں جن کے پيش نظراسلام نماز کو بہت اہميت کے ساتھ بيان کرتا ہے؟

ہم اسلام ميں نماز کي غير معمولي اہميت کے پيش نظر اس کے مختلف پہلووں کي طرف توجہ کرسکتے ہيں مختلف کيفيات سے اسکي تحقيق اور مختلف زاويوں سے اس کے حقائق تک رسائي حاصل کرسکتے ہيں چنانچہ ہم ابتدائ ہي ميںاس نکتے کي جانب اشارہ کريں گے کہ خلقت انسان کي اصلي غرض اور اس کي زندگي کا حقيقي ہدف کيا ہے؟

انسان کے کمال کا راستہ

قادر مطلق ۔۔ جس کي ذات حکمت والي ہے ۔۔ ہم نے انسانوں کو پيدا کرکے وجود جيسي نعمت سے مالا مال کيا ہے تو لازماً اس کے معني يہ ہيں کہ خداوند عالم نے ہماري پيدائش وجود سے ہمارے لئے ايک ہدف و مقصد مقرر کيا ہے اسے ہم يوں بيان کرسکتے ہيں کہ ہميںايک مقرر کردہ راستے پر چلنا ہے تاکہ ہم اپني منزل و مقصد تک پہنچ سکيں، وہ تراستہ اپني اہميت کے سبب باريک ہے اوراس کے وسائل بھي معين شدہ ہيں۔

اس لحاظ سے ہميں چاہئيے کہ ہم اس راستے کي معرفت حاصل کريں جو ہماري منزل تک جاتا ہے اور ساتھ ساتھ يہ بھي سمجھيں کہ وہ مطالب و مقاصد کيا ہيں جن کو حاصل کرنے کے لئے اس راستے پر چلنا ضروري قرار ديا گيا ہے تاکہ اپنے راستے اور مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس نتيجے پر پہنچيں کہ جس کا خداوند عالم نے وعدہ فرمايا ہے۔

پس جو شخص اس راستے پر قدم اٹھالے تو اسے چاہئيے کہ وہ صرف اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے کوشش کرے لہذا جب انسان کو اپنے مقصد تک جانے والي راہ کي اہميت کا اندازہ ہوگا تو اسے يہ خيال ہوگا کہ اس راستے ميں انحرافات اور اس کے عزم و ارادے کو کمزور اور متزلزل کرنے والے خيالات کہيں اسے اپنے جال ميں پھنسا کر راہ مستقيم سے ہٹا نہ ديں چنانچہ اسے اپنے ہدف و مقصد کو پانے کي جدوجہد کو جاري رکھنے اور کم ہمتي اور حوصلہ شکني سے اس کي حفاظت کرنے کے لئے رہبر و ہادي کے احکامات سے ہدايات حاصل کرنے کي ضرورت ہے چنانچہ وہ رہبر اول ۔۔۔ کہ جس نے انسانوں کو ان کے ہدف و مقصد تک پہنچانے کے لئے راستہ مقرر کيا ۔۔۔۔۔ يعني خدا کے پيغمبر کي تعليمات سے ذرہ برابر منہ نہ موڑے اور وہ ان کے مرتب کردہ اصول و قوانين سے ہرگز انحراف نہ کرے۔

وہ مقصد ۔۔۔۔ کہ جو انسان کا مقام کمال ہے۔۔۔ کتنا ارفع و اعليٰ ہے يہي ہے کہ انسان کو اس دنيا سے واپس خدا کي جانا ہے جس کے لئے نماز کو مقرر کيا گيا ہے انسان کي پيدائش کي اصلي غرض يہي ہے کہ وہ نيک صفات جو انسان ميں پوشيدہ ہيں ظاہر ہوں اور باطن ميں پنہاں کمالات جلوہ افروز ہوں تاکہ انسان کي تمام صلاحيتيں اور کمالات عملي ہوجائيں اور وہ نيکي کے راستے پر گامزن ہوکر اپني ذات ، تمام دنيا اور تمام انسانيت کو نيک بنائے۔ ليکن لازم ہے کہ انسان اللہ کي معرفت کے ساتھ ساتھ اس راستے کي بھي معرفت حاصل کرے جسے خداوند عالم نے ہم انسانوں کو کمال تک پہنچانے کے لئے مقرر کيا ہے تاکہ اسے پيش نظررکھتے ہوئے سستي اور کاہلي کئے بغير اپنے مقصد و ہدف تک رسائي کے لئے جدوجہد کرے۔

وہ کام ۔۔۔۔۔ جو انسان کو اس کے مقصد سے نزديک کرتے ہيں انہيں انجام دينا اور وہ کام۔۔۔۔۔ جو انحرافات و گمراہي سے پر اور انسان کي منزل کي راہ ميں رکاوٹ ہيں۔۔۔ انہيں ترک کرنا يہي وہ طريقہ ہے جو انسان کو اس کي زندگي کے معاني سمجھاتا ہے کہ اس مقرر کردہ خدائي راستے پر چلنا ہي اس کي زندگي کا حقيقي فلسفہ ہے۔ چنانچہ اگر ہم نے ان کاموں کو انجام نہيں ديا جو ہميں ہمارے مقصد و ہدف سے نزديک کرتے ہيں اور ان افعال سے دوري اختيار نہيں کي جو نقصان دہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہميں ہمارے مقصد و ہدف سے دور کرديتے ہيں تو حقيقتاً ہماري زندگي بے معني ہوجائيگي کہ جس کے گزارنے کا ہميں کوئي فائدہ نہيں پہنچے گا۔

ہم اپني بات کو دوسرے الفاظ ميں يوں بيان کرسکتے ہيں کہ ہماري زندگي ايک کلاس يا کمرہ امتحان کي مانند ہے جہاں ہميں چاہئيے کہ کائنات خلق کرنے والي اور ہميں زندگي عطا کرنے والي ذات نے جو قوانين و فارمولے بنائے ہيں ان پر عمل کريں تاکہ اپني دلي مراد اور نتيجہ اعليٰ تک پہنچ سکيں۔ ہم ان قوانين کو الہي سنتيں اور پيدائش کے (فطري) قوانين کہہ سکتے ہيں چنانچہ ہميں چاہئيے کہ عالم بشريت کو کمال تک پہنچانے والے ان قوانين کي معرفت حاصل کريں اور ان کے مطابق اپني زندگي بسر کريں۔

ان تمام باتوں کو عملي جامہ پہنانے کے لئے ضروري ہے کہ ہم اپني ذات کي معرفت حاصل کريں اور يہ بھي جانيں کہ خداوند عالم نے ہمارے باطن ميں کون کون سے کمالات پوشيدہ کئے ہيں اور ہميں اپني منزل تک پہنچنے کے لئے کن کن چيزوں کي ضرورت ہے يہي انسان کي سب سے بڑي مسؤليت اور ذمہ داري ہے اور اسي ذمہ داري کو احسن طريقے سے نبھا کر انسان کو يہ قدرت حاصل ہوگي کہ اس کي اپنے مقصد کو حاصل کرنے کي جدوجہد ۔۔۔۔۔ ہوشياري کے ساتھ ہو اور اس کي جدوجہد ميں خدا کي توفيقات شامل ہوں۔ ليکن اگر ہم نے اس الہي راستے کي ، جو ہمارے کمال کا راستہ ہے۔۔۔۔ معرفت حاصل نہيں کي اور ان قوانين کے مطابق ۔۔۔۔ جو خداوند عالم نے ہمارے کمال کے لئے مقرر کئے ہيں۔۔۔ عمل نہيں کيا اس کا مطلب ہے کہ ہماري زندگي ميں جمود ہي جمود ہے ہاں اگر ہم نے معرفت کے بغير جدوجہد کي يا قہراً تو نہ خدا کي توفيق شامل ہوگي اور نہ ہي ہم اپنے مقصد کو حاصل کرسکيں گے۔

ياد خدا

دين ہميں يہ بتاتا ہے کہ ہمارا مقصد و ہدف کيا ہونا چاہئيے ، ہميں کس رخ پر عمل کرنا چاہئيے اور ہم کن وسائل سے اپني منزل تک پہنچ سکتے ہيں اور صرف يہ بيان ہي نہيں کرتا ہے بلکہ قوت بھي ۔۔۔۔۔ جو ہماري جدوجہد کے لئے از حد ضروري ہے ۔۔۔ دين ہي انسان کو عطا کرتا ہے اور وہ اہم ترين توشہ راہ اور سامان ۔۔۔ جو ہماري گھٹڑي ميں ہے۔۔ ياد خدا ہے۔

چند چيزيں و روح انسان کے لئے ضروري ہيں وہ ’’ طلب (خواہش) ‘‘ اميد اور ’’اطمينان ‘‘ہے۔ طلب ( خواہش ) ، اميد اور اطمينان وہ مضبوط و توانا پر ہے جن کے ذريعے انسان اپني منزل کي طرف پرواز کرتا ہے اور ان کا مبدا و منبع ياد خدا ہے ياد خدا ہي کي وجہ سے انسان خواہش بھي رکھتا ہے ، اسے اميد بھي ہوتي ہے اور اطمينان بھي۔ ياد خدا ہميں ہمارے مقصد کي طرف متوجہ کرتي ہے۔ جو خدا تک پرواز ہے۔

خدا تک پرواز سے کيا مراد ہے؟ يعني تمام خوبيوں اور کمالات تک پرواز ۔ ياد خدا ہي کي وجہ سے ہم متوجہ رہتے ہيں کہ ہميں کامل بننا ہے۔ ياد خدا ۔۔ ہماري اپنے مقصد کے حصول کي جدوجہد کي حفاظت کرتي ہے کہ کہيں ہم کج ر وي کي طرف مائل ہو کر اپنے مقصد سے دور نہ ہوجائيں۔

ياد خدا راہيان کمال کو ان کے راستے اور وسيلے کے بارے ميں ہوشيار کرتي ہے اور انہيں احساس رہتا ہے کہ وہ کدھر جارہے ہيں اور ان کا راستہ کون سا ہے؟ ياد خدا۔۔۔۔ ہمارے قلوب کو قوت ، تازگي اور اطمينان عطا کرتي ہے۔ ياد خدا اس سلسلے ميں بھي ہماري معاونت کرتي ہے کہ کہيں ہم دنياوي جلووں اور ان کي ظاہري چمک دمک ميں دل نہ لگا بيٹھيں اور نہ ہي زندگي کے مسائل اور نشيب و فراز ہماري راہ ميں رکاوٹ بنيں۔

ايک اسلامي معاشرے ميں ايک گروہ يا ايک مسلمان اگر يہ خواہش رکھتا ہے کہ

ميں اس راستے پر چلوں جو اسلام نے انسانوں کے کمال کے لئے مقرر کيا ہے

ان اصول و قوانين پر عمل پيرا ہوں جن پر تمام پيغمبران نے عالم انسانيت کو عمل کرنے کي دعوت دي

اس راستے کا مسافر بنوں جس ميں رکاوٹيں اور مزاحمتيں نہ ہوں کہ ان سے گھبرا کر منزل پر پہنچنے سے قبل ہي واپس پلٹ آوںاور اس کي يہ بھي خواہش ہو کہ صراط مستقيم پر ميرے قدم ثابت رہيں

تو خواہ وہ ايک گروہ ہو يا فرد واحد، اس کے لئے ضروري ہے کہ وہ ہميشہ خدا کو ياد رکھے اور اس کي يا سے کبھي منہ نہ موڑے اور اسي وجہ سے دين کي ۔۔ جو انسانوں کو منزل کمال تک پہنچانے والے قوانين کا مجموعہ ہے۔۔۔۔ ہميشہ سے يہ کوشش رہي ہے کہ مختلف راستوں اور وسيلوں سے ايسے حالات پيدا کرے کہ ايک ديندار کے دل ميں ياد الہي کا سورج ہميشہ چمکتا دمکتا رہے اور اس کي روشني سے اسکي روحاني دنيا ہميشہ منور رہے۔

انہي اعمال ميں سے۔۔۔۔ جو دين نے ہم انسانوں کے کمال کے لئے ضروري قرار دئيے ہيں ايک عمل ايسا ہے جو ياد خدا سے لبريز اس کي نورانيت سے منور اور انسان کو ياد خدا کے دريا ميں غرق کرنے والا ہے اور وہ عمل انسان کو بيدار اور اسے اس کي ذات سے آگاہ کرتا ہے۔ وہ عمل شاخص يا علامت و نشاني کے مثل ہے کہ خدائي راستے پر چلنے والے اس شاخص يا علامت و نشاني کو ديکھتے ہوئے ’’ صراط مستقيم ‘‘ پر ثابت قدم اور انحرافات و گمراہي سے دور رہيں اور وہ عمل جو انسان کي زندگي ميں سر اٹھانے والي دنياوي غفلت سے ہر آن اور ہر لمحے برسرپيکار ہے ’’ نماز‘‘ ہے۔

نماز انسان کو بيدار کرتي ہے

انسان کو ذہن ہر وقت زندگي کے مسائل ميں الجھا رہتا ہے جب کہ اس کي فکر مختلف امور ميں مصروف و مشغول رہتي ہے اور شاذ و نادر ہي ايسا ہوتا ہے کہ انسان کبھي اپني ذات کي طرف متوجہ ہو يا کبھي اسے خيال ہو کہ ميري زندگي کا کيا مقصد ہے يا کبھي وہ اپنا حساب کرے کہ ميري زندگي کے لمحات جو گزر گئے وہ کيسے گزرے اور يہ دن گزر رہے ہيں ان ميں کيا تياري کررہا ہوں چنانچہ ہماري زندگي ميں کتنے ہي ايسے دن ہيں جو اپنے انجام يعني رات کي تاريکي ميں گم ہوجاتے ہيں اور دوسرا دن اپنا سفر شروع کرديتا ہے۔ کڑيوں سے ملتي رہتي ہيں ، دن و رات دوڑ ميں ہفتے اور مہينے گزر جاتے ہيں اور انسان کي زندگي سالوں کے گرد و غبار ميں مٹتي چلي جاتي ہے اور انسان يہ خيال بھي نہيں کرتا کہ کب صبح ہوئي اور کب شام ؟ کتني باطل پرستي ہے کہ انسان ان باتوں کا احساس بھي نہيں کرتا اور وقت گزرتا جارہا ہے ۔

نماز ايک گھنٹي ہے جو زندگي کے عظيم مقصد سے غافل انسان کو بيدار کرنے کا کام انجام ديتي ہے ، نماز انسان کو دن و رات کے مختلف اوقات ميں بيدار کرتي ہے اور اس کي زندگي کو بہتر طور پر گزارنے کا پروگرام ديتي ہے ۔۔۔ نماز انسان سے يہ کہتي ہے کہ تم يہ عہد کرو کہ مجھے تمام کمالات حاصل کرنے ہيں۔ نماز۔۔۔۔ انسان کو متوجہ کرتي ہے کہ تمہارے دن اور رات بيکار نہيں ہيں۔ يہ نما ہي ہے جو انسان کو اس کے گذرے ہوئے لمحات کا حساب کرنے پر آمادہ کرتي ہے ايسي زندگي کہ جس ميں انسان مادي مسائل اور ہنگاموں ميں پھنسا رہتا ہے اور اسے يہ احساس بھي نہيں ہوتا کہ زمانہ اپنا سفر کتني تيزي سے طے کررہا ہے اور وقت کي چکي ميں اس کي زندگي کے شب و روز پس پس کر اس کي زندگي کو ختم کررہے ہيں۔ نماز انسان کو متوجہ کرتي ہے اور اسے سمجھاتي ہے کہ تمہاري زندگي کا ايک اور دن رات کي تاريکي ميں گم ہوگيا جو کبھي پلٹنے والا نہيں اور ايک نئے دن کا آغاز ہوگيا کہ معلوم نہيں کہ تم اس کا انجام ديکھ سکو گے يا نہيں نماز ہي انسان کو خواب غفلت سے جھنجھوڑ تي ہے کہ تم بيکار پيدا نہيں کئے گئے ہو بلکہ تمہارے کندھوں پر ايک عظيم ذمہ داري اور عہدہ ہے تمہيں اہم ترين کام انجام دينے ہيں لہذا تم اپنا وقت برباد مت کرو۔۔۔ نماز ہي انسان کو ہوشيار کرتي ہے کہ تمہاري زندگي کا ايک بڑا حصہ بيکار گزر چکا ہے تو اب جو تمہاري عمر باقي ہے تمہيں چاہئيے کہ اپنے مقصد کے حصول تک جدوجہد ميں لگے رہو۔


نماز تمام کمالات الہي کا مجموعہ ہے

ايک طرف يہ خيال کرنا چاہئيے کہ ہماري زندگي کے مادي مسائل اتنے پيچيدہ اور گھمبير ہيں ۔۔۔۔ اور يہ فطري بات ہے ۔۔۔۔۔ کہ انسان اپني زندگي کے مقصد اعليٰ اور عظيم ہدف کو فراموش کرديتا ہے اور دوسري جانب انسان کا خودبخود ان عظيم ذمہ داريوں کي طرف ۔۔۔۔۔۔ جو اسے مقام کمال تک پہنچے کے لئے سونپي گئي ہيں۔۔ ہر روز متوجہ ہونا ، نا ممکن اور محال ہے اور اسي طريقے سے يہ بھي ممکن نہيں کہ کوئي ايسي ذات ہو جس کا کام فقط يہي ہو کہ وہ ہميں سمجھائے کہ تم کس لئے دنيا ميں آئے ہو اور تمہاري زندگي کا کيا مقصد ہے؟

اس کے ساتھ ساتھ ايک اور بات بھي قابل ذکر ہے کہ خود يہ زمانہ اپنے دامن ميں اتني وسعت نہيں رکھتا ہے کہ ہم اسلامي آئيڈيالوجي يا نظريات کے مطابق اپني زندگي بسر کريں اور اسلام کي عطا کردہ خواہشات کي تکميل کريں۔ نہ تو ہمارے صبح و شام ميں اتني گنجائش ہے کہ ہم اعليٰ مقاصد تک پہنچ سکيں اور نہ ہي ايسي لمبي فرصت ملے گي کہ ہم اس ميں اپني منزل کو پاسکيں۔

چنانچہ کم اوقات والے دن و رات کي زندگي ميں نماز وہ معجون الہي ہے جس نے انسانوں کے لئے تمام کمالات کو اپنے اندر سمويا ہوا ہے يا با الفاظ ديگر نماز ہي تمام کمالات الہي کا مجموعہ ہے۔ ہمارا دل روزانہ نما ز ميں متوجہ ہوتا ہے کہ ہميں دنيا ميں رہ کر کيا کرنا ہے۔۔۔۔۔ نماز ہميں بتاتي ہے کہ اسلام ہم سے کس چيز کا تقاضا کرتا ہے۔۔۔۔ ؟ نماز کے لئے ہم کہہ سکتے ہيں کہ نما زتمام ممالک کا قومي نغمہ ہے البتہ ہر قوم کے لحاظ سے نماز کے معني ميں تھوڑے بہت فرق ہوں گے اور ہر ملک اور ہر زمانے کے لحاظ سے اس کي توجہ ميں کمي بيشي ہوسکتي ہے۔

اصول و قوانين کي تکرار ذہنوں ميں ان کي پختگي کا سبب ہوتي ہے

ايک مملکت اس بات کي خواہشمند ہوتي ہے کہ اس کے اصول و قوانين مضبوط ہوں، اس کے نظريات وہاں بسنے والے افراد کے اذہان ميں راسخ و پختہ ہوں اور وہ مملکت کي فکر پر باقي رہيں، چنانچہ اس کے لئے ضروري ہے کہ ان افراد کے لئے ان نظريات کي تکرار کي جائے اور وہاں کے افراد ہے کہ ان افراد کے لئے ان نظريات کي تکرار کي جائے اور وہاں کے افراد سے کہا جائے کہ يہ تمہارا قومي نغمہ ہے ۔۔۔۔ جو زندگي کے ہدف ، آئيڈيالوجي اور ملت کے افراد کے مقاصد پر مشتمل ہے۔۔۔۔

اسے بار بار پڑھو اور ضروري ہے کہ اس ملک کے باشندے ان کي تکرار کرتے ہيں کيونکہ اس تکرار کي وجہ سے وہ ملک کے نظريات و افکار پر باقي رہيں گے اور انہيں يہ احساس رہے گا کہ وہ اس ملک کے رہنے والے ہيں اور وہ ، ان اغراض و مقاصد کو ۔۔ جو مملکت انہيں بتا رہي ہے۔۔۔ حاصل کرنے کي جدوجہد جاري رکھيں گے۔

اگر اس مملکت کے رہنے والے اپنے ملک کے اصول و قوانين اور اغراض و مقاصد کو فراموش کرديں تو اس کا مطلب يہ ہے کہ ان کا راستہ بدل جائے گا اور وہ اس راستے کے مسافر نہيں رہيں گے۔ چنانچہ لوگوں کے لئے مملکت کے اغراض و مقاصد بار بار بيان کرنا ، ان ميں احساس ذمہ داري پيدا کرنا اور کام و خدمت کي طرف بار بار ان کي توجہ مبذول کرانا۔۔۔۔ يہي وہ عوامل ہيں جن کي وجہ سے وہ جدوجہد کے لئے آمادہ ہوں گے۔۔۔۔۔ اور ويسے ہي بن جائيں گے ۔۔۔ اور اسي تکرار کي وجہ سے منزل کا نقشہ اور منزل کا راستہ ان کي سمجھ ميں آجائے گا اور ساتھ ہي وہ اپني مسؤليت و ذمہ داري کو بھي سمجھ ليں گے۔ يہ تکرار ان کے ذہنوں ميں ان کي مملکت کے اصول و قوانين اور اغراض و مقاصد کو زندہ رکھنے اور ان کي ذمہ داريوں کو مقرر کرنے کا باعث ہوگي اور ان تمام باتوں کا نتيجہ يہ ہوگا کہ وہ عمل کے لئے تيار ہوجائيں گے اور شجاعت و ہمت کے ساتھ ساتھ قدم آگے بڑھائيں گے۔

نماز مکتب اسلام کے اصولوں کا خلاصہ

نماز ۔۔۔ مکتب اسلام کے اصولوں خلاصہ ہے ، نماز ۔۔۔ مسلمانوں کے لئے ان سے راہ نماز ’’ صراط مستقيم ‘‘ کو روشن کرنے والي ۔۔۔ ان کي مسؤليت و ذمہ داري کي نشاندہي کرنے والي۔۔۔ اور ان کي محنت و جدوجہد کے نتيجے کو بيان کرنے والي ہے۔

دن کا آغاز يا زوال آفتاب يا پھر رات کي تاريکي ۔۔۔ مسلمان کو طلب کرکے اسلام کے اصول و قوانين ، اسلام کے راستے اور اس کے مقصد و نتيجے کو اس کي زبان ميں سمجھايا جاتا ہے اور اسے روحاني طريقے سے آمادہ کيا جاتا ہے کہ وہ اسلام کے اصول و قوانين کے مطابق عمل کرے۔ نماز ميں انسان اپني زبان کے ذريعے دل کو آمادہ کرتا ہے۔۔۔۔۔ اسے اطمينان و تسلي ديتا ہے اور اپنے ميں يہ احساس پيد اکرتا ہے کہ کہيں ميں اپنے ہدف و مقصد سے دور تو نہيں ہورہا ہوں، نماز ہي انسان کے ہر قدم کو ايمان کے آخري درجے تک لے جاتي ہے اور اس کے ہر عمل کو کامل کرديتي ہے ۔ المختصر نماز انسان ناقص کو انسان کامل بناديتي ہے۔ ہاں يہي نماز ہے جو معراج مومن ہے۔

نماز تار يکي و ظلمت ميں نور الہي ہے

ہم انسانوں کا راستہ ۔۔۔ جو خداوند عالم نے ہمارے کمال کے لئے مقرر کيا ہے ۔۔۔ جو آگے چل کر بہت دشوار ہوگا کہ اسي راستے پر چل کر انسان کامياب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔ حقيقي سعادت ۔۔۔۔ خوشي اور کمال کو حاصل کرسکتا ہے اور اسي راستے پر چلنا اور منزل کو پانا ہي انسان کي زندگي کا اصلي ہدف ہے۔

ليکن مشکل يہ ہے کہ ہمارے سامنے صرف يہي راستہ نہيں ہے کہ اس کي نشاندہي کردي جائے اور ہم وہ راستہ طے کرکے اپني منزل تک پہنچ جائيں بلکہ ظلمت ( تاريکي) ۔۔۔ خدائي اصولوں سے انحراف۔۔۔۔ اور ہميں ہماري منزل سے دور کرنے والے عوامل کثرت سے ہماري راہ ميں رکاوٹ ہيں اور نہ صرف رکاوٹ ہيں بلکہ اتنے پرکشش و پر فريب اور دل کو اپني جانب موہ لينے والے ہيں کہ راہ اسلام پر چلنے والا مسافر تردد ميں مبتلا ہوجاتا ہے کہ کيا کروں اور کيا نہ کروں ۔۔۔ اس راستے پر قدم اٹھاوں يا نہ اٹھاوں۔۔۔ اور اسي کيفيت ميں انسان بعض اوقات غلط کو صحيح خيال کرنے لگتا ہے۔

انسان اس منزل پر کيا کرے جب اس کے قدم لڑکھڑانے لگيں۔۔۔۔ انسان کيا کرے کہ اس کي راہ روشن اور اس کي جدوجہد صحيح سمت ميں جاري رہے ۔۔۔۔۔ اور انسان کيا کرے کہ وہ اپني منزل آخر ۔۔۔ جو قرب خدا اور کمالات کا حصول ہے ۔۔۔۔۔ سے ايک لمحے کے لئے بھي غافل نہ ہو۔

انساني عزائم کو کمزور و متزلزل کرنے کے مقام پر نماز ہي وہ سہارا ہے جس کے ذريعے انسان باحفاظت اپني منزل تک پہنچ سکتا ہے ۔۔۔ تردد و اشتباہ کي سياہي و ظلمت ميں نماز ہي مينارہ نور ہے جو انسان کي راہ کمال کو روشن رکھتي ہے ۔۔۔۔ نماز ہي وہ ميزان الہي ہے جو حق کو حق اور باطل کو باطل قرار ديتي ہے ۔۔۔ اور يہ نماز ہي ہے جس کي وجہ سے انسان ياد خدا کي طرف متوجہ رہتا ہے۔

اپنے مفاہيم کو سميٹتے ہوئے ہم اپنے مقصد کو دوسرے الفاظ ميں يوں بيان کرسکتے ہيں کہ انسان کي پوري زندگي کا خلاصہ روزانہ نماز ميں اس کے سامنے آتا ہے ۔۔۔۔ نماز ہي کي وجہ سے ہمارے دل کي کھڑکي سے خدا کے رابطے باد نسيم ہماري روحاني دنيا کو شاد و آباد رکھتي ہے اور ہمارے وجود کو حقيقت ۔۔۔۔ انسانيت ۔۔۔۔ اور روحانيت عطا کرتي ہے يا يوں کہيے کہ نماز کے چند الفاظ ميں اسلامي فکر کي تمام باتيں اور مقاصد بطور خلاصہ موجود ہيں يا اسلام کے تمام بيانات کا نچوڑ نماز ميں ہے يا نماز اسلام کا جوہر اصلي ہے۔

اس طريقے سے يہ واضح ہوجاتا ہے کہ نماز کو پانچ اوقات ميں تقسيم کرنے کي کيا وجہ ہے اور اسي وجہ سے يہ اندازہ ہوتا ہے کہ نماز کي اہميت کس قدر ہے ؟ جيسے جسم کو قوت پہنچانے کے لئے ہم ايک نظام کے تحت اسے غذا ديتے ہيں، اسي طرح ہماري روح کو بھي خدا تک پرواز کے لئے غذا کي ضرورت ہے تاکہ وہ تندرست و توانا رہتے ہوئے تمام شيطاني قوتوں کا ظابت قدمي سے مقابلہ کرسکے۔ ساتھ ہي ساتھ يہ بھي سمجھنا چاہئيے کہ روح کا معاملہ ايسا نہيں ہے کہ ہم روح کو ايک دفعہ درس دے ديں يا ايک ہي دفعہ ہدايت کرديں جو ہمارے مرنے تک اس کے لئے کافي ہو بلکہ روح کا معاملہ بدن سے زيادہ حساس ہے يعني روح کے لئے ضروري ہے کہ دن و رات ميں ہر تھوڑي دير بعد اسے غذا فراہم کي جائے۔

ايک بات تو يہ طے ہوگئي کہ نماز اسلام کے تمام اغراض و مقاصد کا خلاصہ ہے۔ نماز ميں تلاوت قرآن بھي ہے جو نماز کے واجبات ميں سے ہے۔ نما ز، نمازي کو قرآن کے مضامين سے آشنا کرتي ہے کہ قرآن کے مطالب ميں غور کرو اور اپني فکر کو فکر قرآن کے ساتھ مربوط کرنے کي کوشش کرو۔ بنيادي طور سے ہم يہ کہہ سکتے ہيں کہ نماز ميں جتنے افعال و حرکات ہيں سب اسلام کو نمونہ پيش کرتي ہيں البتہ مختصر طريقے سے۔

اسلام اپنے پيروکاروں کے بدن، ان کي فکر اور ان کي روحوں کو بھي ان کي خوش بختي اور کمال کے لئے استعمال کرتا ہے۔ نماز ميں انسان کي تينوں چيزيں يعني اس کا بدن ، اس کي فکر اور اس کي روح مصروف ہوتے ہيں۔

بدني حالت : ہاتھ ، پير ، زبان کي حرکت ، جھکنا ، بيٹھنا اور خاک پر پيشاني رکھنا۔ يہ انسان کي بدني حالت ہے۔

فکري حالت: ہم نماز کے مضامين اور نماز کے الفاظ کے بارے ميں سوچتے ہيں جو نماز ميں بيان کئے جاتے ہيں۔ يہ مضامين اور الفاظ عام طور سے اشارہ کرتے ہيں کہ ہماري زندگي کا ہدف و مقصد اور اس کے وسيلے کيا ہيں يعني نماز ميں اسلام کا خلاصہ ہمارے ذہنوں سے گذرتا ہے۔

روحي حالت: نماز ميں ہماري روح کا عالم يہ ہوتا ہے کہ نماز ميں ہم خدا کو ياد کرتے ہيں جو ہماري روح کے کمال کا سبب ہے، نماز ميں ہمارا دل ۔۔۔ باطني کمالات ۔۔۔ اور اخلاقي پاکيزگي کے لئے پرواز کرتا ہے اور نماز نہ صرف ہماري روح کي طہارت کرتي ہے بلکہ ہمارے دل کو فضول کاموں کي انجام دہي اور اسے بھٹکنے سے روکتي ہے اور يہ نماز ہي ہے جو ہماري روح ميں خوف خدا کا بيج ڈالتي ہے۔

نماز کو قائم کرنا پڑھنے سے زيادہ اہميت ک حامل ہے

لوگوں نے بيان کيا ہے کہ دنيا ميں جتنے آئين اور جتنے لوگ ہيں، ہر ملت کي نماز ان کے نظريے کا خلاصہ ہوتي ہے چنانچہ اس بيان کے مطابق ہم کہہ سکتے ہيں کہ نماز بھي ايسي ہي ہے اور اسلام نے جو نماز مقرر کي ہے اس ميں روح و جسم ۔۔۔۔ماديت و روحانيت ( معنويت) ۔۔۔۔ اور دنيا و آخرت ۔۔۔۔۔ کو يکجا کرديا گيا ہے۔ يہ نماز کي عظيم الشان خوبيان ہيں جو اسلام نے بيان کي ہيں۔ يہي وجہ ہے کہ جب ايک مسلمان نماز اد اکرتا ہے تو وہ اپني تمام ( مادي و روحاني) طاقتوں اور قوتوں کو اپنے وجود کے کمال کے لئے استعمال کرتا ہے يعني وہ بيک وقت اپني جسماني ۔۔۔ فکري ۔۔۔۔ اور روحي قوتوں کو اپنے کمال و ارتقائ کے لئے استعمال کرتا ہے۔

نماز پڑھنے والا اس دليل کي وجہ سے۔۔۔ اپني تمام ( مادي و روحاني) صلاحيتوں اور قوتوں کے ساتھ خدائي راستے پر قدم بڑھاتا ہے ۔۔۔۔ اور اپنے وجود ميں سر اٹھانے والے شر کے جذبات ۔۔۔۔۔ فساد کے ميلانات اور انحرافات کا مشاہدہ کرتا ہے تو نماز کے ذريعے سے ان کو ترک کرتا جاتا ہے چنانچہ قرآن ميں کئي مقامات پر نماز کو قائم کرنے کو کہا گيا ہے اور يہي دينداري کي پہچان اور علامت ہے اور اسي وجہ سے ہماري يہ خيال ہوتا ہے کہ نماز کو قائم کرنا نماز کو پڑھنے سے زيادہ اہميت والا ہے يعني آيات قرآني ميں جس کثرت کے ساتھ نماز کو قائم کرنے کا حکم آيا ہے اس کا مطلب فقط يہ نہيں ہے کہ ايک شخص صر ف( ظاہري صورت اور آداب کے ساتھ) نماز پڑھ لے بلکہ حقيقتاً نماز کو قائم کرنے کا مقصد يہ ہے کہ نماز ہميں جس سمت لے جانا چاہتي ہے ہم اسي سمت پيش قدمي کريں۔۔۔۔ جس منزل کي طرف ہماري توجہ مبذول کرانا چاہتي ہے ہم اس کے لئے بھرپور توجہ کريں ۔۔۔۔ اور جن اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے آمادہ کرتي ہے ہم ان کے حصول کے لئے جدوجہد کريں يعني ہم نيک صفات اور تمام خير و خوبيوں کو حاصل کرنے کا عہد کريں جن کا خلاصہ نماز ہے يا دوسرے الفاظ ميں ياد خدا اور اسلام کے بيان کردہ تمام مقاصد ہمارے دل ميں قيام کريں اور يہ دوسروں کي زندگي ميں قيام کريں۔ ہم بھي اسلام کے مقرر کردہ ہدف و مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کريں اور دوسرے بھي انہي مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں رہيں۔

گويا نماز کو قائم کرنے سے مراد يہ ہے کہ انسان اپني کوشش کے ذريعے اپنے ماحول اور زندگي کي فضا کو ايسا بنائے کہ جيسا نما زہم سے تقاضا کرتي ہے يعني سب خدا کي تلاش و توجہ ميں ہمہ وقت کوشاں ہوں، خدا پرست ہوں اور اس سمت اور اس راستے پر حرکت کريں کہ جس سمت اور جس راہ پر نما ز ہميں لے جانا چاہتي ہے۔

پس ايک مومن ہو يا مومنين کا گروہ۔۔۔۔۔ نماز کو قائم کرکے اپني تباہي ، گناہ کي طرف توجہات و ميلانات اور فساد کي تمام کيفيات کو اپني ذات سے ختم کرديتا ہے اور نہ صرف اپني ذات کو ان سے پاک کرتا ہے بلکہ اپنے ماحول اور معاشرے کو بھي پاک کرتا ہے۔

يعني ايک گروہ جب نماز قائم کرتا ہے تو اس کا مطلب يہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو تباہي و بربادي سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

نماز ان تمام کيفيات کو ۔۔۔ جو انسان کو اس کے مقصد و ہدف سے انحراف و بغاوت پر اکساتي ہيں ۔۔۔۔ ختم کرديتي ہے، ہمارے گناہوں کو جلاديتي ہے ، نماز ہي ہمارے اندروني و بيروني جوش و جذبات کے طوفان کو پرسکون کرديتي ہے اور نفس کے ان عوامل کو ۔۔۔۔ خواہ شخصي و فردي ہوں يا اجتماعي ۔۔۔ بے جان کرديتي ہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ نماز فرد واحد کي اصلاح کے ساتھ ساتھ ايک معاشرے کو بيہودہ اور ناپسنديدہ اعمال سے روکنے کا ذريعہ ہے۔

نيکي کے خلاف شيطان کي جنگ جاري ہے

زندگي کي دوڑ ميں ۔۔۔۔۔ جہاں ہر طرف مختلف نوعيتوں کي کشمکش اور نيکي و بدي کي جنگ و جدل جاري ہے۔۔۔ ہمارا مقابلہ مختلف النوع مسائل سے ہوتا ہے اور ہمارا ذہن مختلف الجھنوں ميں گھرا رہتا ہے۔ کاروبار حيات ميں برائيوں کي نجاسات اپنے عروج پر ہيں يعني تمام شيطاني قوتيں اپنے کل اسباب ، بہترين انتظامات اور ہتھياروں سے مسلح اپني کمين گاہ سے انسانوں کو اپنے نشانے پر لئے ہوئے ہيں اور انہوں نے اس بات پر قيام کيا ہوا ہے کہ جہاں بھي ديکھيں کہ لوگوں ميں نيکي کا جذبہ ہے يا نيک اعمال کي طرف توجہات ہيں تو کسي نے کسي طرح اسے نابود کرديں اور اس شجر طيبہ کو جڑ سے کاٹ ديں تاکہ وہ نيکي کا شجر معاشرے ميں نشونما نہ پاسکے۔

انسان کے الہي مقاصد کي پہلي حفاظتي ديوار کہ جس پر شيطاني قوتوں کا زيادہ ہجوم رہتا ہے انسان کا عزم اور نفس کي قوت ہے۔ شيطان کي دلي آرزو ہے کہ ہمارے عزم ( مقصد و ہدف کو حاصل کرنے کي قوت طلبي) کو کمزور کردے اور ہمارے نفس کي قدر و طاقت نيست و نابود ہوجائے۔ چنانچہ انسان کي زندگي ميں عزم اور قدرت نفس کا نہ ہونا يا کمزور ہونا اس بات کا پيش خيمہ ہوگا کہ شيطان ہمارے وجود پر اپنا تسلط جمالے اور ہماري صلاحيتوں اور کمالات کو برباد کردے۔ شيطان انسان کے وجود کو ۔۔۔۔۔ جس ميں صلاحيتيں ، کمالات ، خوبياں اور علم و معرفت الہي کے خزانے پوشيدہ ہيں ۔۔۔۔۔ اپني چراگاہ بناليتا ہے اور جب چاہے اس ميں داخل ہو کر انسان کے گلشن معرفت کو ويران کرديتا ہے اور اس طرح اپنے مذموم مقاصد کي تکميل کرتا ہے۔

وہ افراد جو اپنے زمانے اور تاريخ کے لئے خدا کے راستے پر ايک پيغام رکھتے ہوں اور نئے راستے پر چلنے کے خواہشمند ہوں۔۔۔۔ ايسے افراد اور ان کے نظريے کي تباہي کے لئے شيطان زيادہ فکر مند رہتا ہے اور ان پر زيادہ حملے کرتا ہے تاکہ ان کے عزم و قدرت نفس کو کمزور کردے۔ چنانچہ وہ افراد جو اپني منزل تک پہنچنا چاہتے ہيں انہيں چاہئيے کہ اپنے عزم و ارادے کو مستحکم بنائيں تاکہ وہ شيطان کے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے اپني منزل مقصود تک پہنچ سکيں۔

اسلام نے انسان کي حقيقي کاميابي و کامراني اور اس کے معراج کے لئے جو نماز مقرر کي ہے، ہم اس ميں اپنے آپ کو نصيحت کرتے ہيں اور دل کو بار بار ياد خدا کي طرف متوجہ کرتے ہيں۔ نماز معمولي قوتوں کي مالک اور مادي کمالات کي حاصل شخصيت کو ۔۔۔ جس کے لئے تباہي کے خطرات ہمہ وقت اس کے سر پر منڈلاتے رہتے ہيں ۔۔۔۔۔ اس خدا سے مربوط کرديتي ہے جس کي تمام صفات و کمالات کي کوئي حد نہيں ہے بلکہ حد يہ ہے کہ وہ تمام حدود سے مبرا ہے۔

يقيناً نماز ہي وہ پل ہے جس کے ذريعے ہمارا اور خدا کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور نماز ہي کے ذريعے سے ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہيں اور ہم خود کو اس ذات سے قريب کرتے ہيں جو تمام جہانوں کي فکر کرنے والي ہے اور ہميں احساس ہوتا ہے کہ ہماري قوت لامحدود لازول ہے۔ نماز کے ذريعے سے انسان کا خدا سے قريب ہونا اور خدا کي حاکميت و طاقت پر بھروسہ کرنا ہم انسانوں کي تمام کمزوريوں اور تمام برائيوں کا بہترين علاج ہے اور ہمارے عزم و ارادے کو مضبوط و مستحکم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے بہترين مالک ہے۔


رسول اللہ اور نماز

رسول گرامي قدر صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم ۔۔۔ جو اسلام کے عظيم آستانے ميں تمام دنيا کي جاہليت کے مقابل اپنے کندھوں پر مسؤليت اور ذمہ داري کا کوہ گراں محسوس کررہے ہيں ۔۔۔۔ کو حکم ديا گيا خدا کو ياد کرو اور رات کي تاريکي ميں نماز پڑھو

(سورہ مزمل ١ تا ٥)

اے مزمل ۔۔۔۔ رات کو خدا کي بارگاہ ميں قيام کرو مگر تھوڑي دير۔ آدھي رات يا اس سے کم يا اس سے زيادہ اور قرآن کو ترتيل کے ساتھ پڑھو۔ ہم عنقريب تم پر ايک بھاري بيان ( کي ذمہ داري) ڈالنے والے ہيں۔

اس عظيم ذمہ داري ، قول ثقيل يا مقصد کے لئے سورہ مزمل کي ان ابتدائي آيات ميں رسول خدا کو نماز شب پڑھنے کا حکم ديا گيا ہے ۔ ہم اپنے مضمون کو آگے بڑھاتے ہيں تاکہ نماز کے بيانات ميں توجہ کرسکيں اور اسي توجہ ميں ہم نماز کے ترجمے سے ۔۔۔۔۔ جو مناسب ہونا چاہئيے ۔۔۔۔ آگے نہيں بڑھيں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم علمي نقطہ نگاہ سے يہ تعليم دينے کي کوشش کريں گے کہ نماز کا ہدف کيا ہے ؟ اور حتيٰ الامکان ہماري يہ بھي کوشش ہوگي کہ ہم انہيں بيان کرنے ميں اپنے مقصد سے نزديک تر ہوں۔

ابتدائي نماز

نماز کي ابتدائ ، خدا کے نام ، اس کي عظمت کي ياد اور اس چيز سے ہے کہ اس کي ذات کتني بلند ہے اور اس کي ذات تمام انساني فکروں سے بلند تر ہے۔

اللہ اکبر ۔۔۔۔ خدا سب سے بزرگ ہے

نماز گذار اس جملے کے ساتھ خدا سے اپنے راز و نياز کو شروع کرديتا ہے۔

اللہ اکبر ۔۔ خدا بزرگ تر ہے۔ خدا اس سے بھي اونچا ہے کہ کوئي اس کي تعريف و توصيف بيان کرے۔ خدا تاريخ عالم کے تمام خداوں سے بزرگ تر ہے بلکہ خدا ان کي قدرتوں اور ظاہر طاقتوں سے بھي بزرگ تر ہے کہ جن سے انسان خوف کھاتا ہے يا جن سے لالچ رکھتا ہے اور خدا اس سے بھي بلند و اعليٰ ہے کہ خدا کي جو سنتيں مقرر ہيں، اور اس کے قوانين جو کائنات ميں جاري و ساري ہيں ، کوئي ان کو توڑ سکے۔

اگر انسان ان خدائي سنتوں کي معرفت اور ان پر اپني توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اپنے مقصد اور اپني تلاش کا انتخاب کيے ہوئے ہو اوراس کا خيال ہو کہ خدا بہت عظيم اور بزرگ ہے تو وہ اپنے دل ميں ايک طاقت کا احساس کرے گا اور اميد سے بھر پور احساس کرے گا کہ اسے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کي جدوجہد ميں خدا کي مدد ضرور شامل ہوگي اور اس کے کاموں کا انجام يقينا نيک اور کامياب ہوگا اور اس طرح وہ مستقبل کي زندگي اور آنے والے راستے پر نيک خيالات سے بھرپور نگاہ ڈالنے کا چنانچہ نماز پڑھنے والا لفظ ۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر کے ادا کرنے کے بعد عملاً نماز ميں داخل ہوجاتا ہے۔ پس اسے چاہئيے کہ اس قيام کي حالت ميں سورہ حمد کے بعد قرآن کے ايک مکمل سورے کي تلاوت کرے۔


سورہ حمد

بسم الله الرحمن الرحيم

ابتدائ اس خدا کے نام سے جو ايسي رحمت رکھتا ہے جو تمام عالم پرسايہ افگن ہے اور ايسي رحيميت ( مہرباني) والا ہے جو ہميشہ باقي رہنے والي ہے۔

قرآن کے ہر سورے کي ابتدائ اسي جملے سے ہے اور اسي جملے سے نہ صرف نماز کي ابتدائ ہوتي ہے بلکہ ايک مسلمان کے تمام کاموں کي ابتدائ اور آغاز نام خدا سے ہوتا ہے۔ انسان کي زندگي ، اس کے تمام معاملات اور اس کي زندگي کے تمام جلووں کي ابتدائ خدا کے نام سے ہے۔ مسلمان خدا کے نام سے اپنے دن کو شروع کرتا ہے اور خدا ہي کے نام سے اپنے روزمرہ کے امور کو انجام تک پہنچاتا ہے ۔۔۔۔ وہ خدا کے نام اور اس کي ياد کے ساتھ بستر ميں داخل ہوجاتا ہے ۔۔۔ اور اپنے نئے دن کے کاموں کو دوبارہ خدا کے نام سے شروع کرکے انہيں پايہ تکميل تک پہنچاتا ہے بلکہ اپنے خدا کي ياد سے اس دنيا سے آنکھيں بند کرتا ہے اور ہميشہ رہنے والي زندگي کي طرف منتقل ہوجاتا ہے۔

الحمد لله رب العالمين

تعريف و توصيف صرف اس خدا کے لئے ہے جو پوري دنيا اور تمام کائنات کا پالنے والا ہے۔

سب تعريفيں خدا کے لئے ہيں

تعريف و توصيف کي جتني بھي قسميں ہيں وہ سب خد اکے لئے مخصوص ہيں کيونکہ کائنات ميں جتني عظمتيں وجود رکھتي ہيں اب سب کا خالق خدا ہے اور جتني رحمتيں ہيں وہ سب خدا کي طرف سے ہيں۔ خداوند عالم کي ذات ميں تمام اعليٰ صفات جمع ہيں اور تمام نيکياں اور نيک کام جو ہم دنيا ميں ديکھ رہے ہيں ان سب کا سر چشمہ اسي کا وجود ہے۔ لہذا خدا کي تعريف کرنا نيکيوں اور نيکوکاروں کي تعريف کرنا ہے اور خدا ہي کي تعريف کرنے کي وجہ سے ہماري کوشش اور جدوجہد کو ۔۔۔۔ جو نيک بننے اور نيک خواہشات کي تکميل کے لئے ہے، اپنے انجام تک پہنچنے کا راستہ مل جاتا ہے۔

اگر کوئي انسان خود ميں اچھي صفت ديکھے يا قابل تعريف کردار محسوس کرے تو وہ جان لے کہ اس ميں موجود وہ نيکي اور خوبي خدا کي رحمت کا فيض اور اس کا لطف و کرم ہے اس لئے کہ يہ صرف خدا ہي کي ذات ہے کہ جس نے انسانوں کي فطرت کو نيکيوں پر قائم کيا ہے اور يہ بھي خدا ہي کا کام ہے کہ جس نے انسان کے باطن ميں پوشيدہ صلاحيتوں کو ايسا بنايا ہے کہ اس کاباطن ہميشہ ايسي فکر ميں رہتا ہے کہ ان تمام نيکيوں اور صلاحيتوں کو ايسا بنايا ہے کہ اس کا باطن ہميشہ ايسي فکر ميں رہتا ہے کہ ان تمام نيکيوں اور صلاحيتوں کو ۔۔۔۔ جن کا سر چشمہ خدا کي ذات ہے۔ کمال تک پہنچائے اور يہ بھي خدا ہي کي ذات ہے جس نے انسانوں کو ايک اور قدرت دي ہے جسے ہم تصميم يا مصمم ( پکا ) ارادہ کہتے ہيں يعني کس کام کو کرکے ہي چھوڑنا يا کسي کام کو اس کے انجام تک پہنچانے کا عزم ۔ يہ انسان کے لئے ايسا سرمايہ ہے جس کے ذريعے سے انسان نيک بننے کے لئے اور نيک اعمال کے راستے پر قدم بڑھاتا ہے۔

خدا عالمين کا پالنے والا اور انہيں کمال تک پہنچانے والا ہے

انسان اپنے اس خيال سے ۔۔۔۔ کہ جو رحمت و خوبي دنيا ميں ہے وہ سب خدا کي طرف سے ہے ۔۔۔ اپني ذات کو اچھائيوں ميں گم نہيں ہوجاتا ہے اور نہ ہي اپني ذات کے شاندار ہونے کا خيال کرتا ہے۔ اگر انسان ميں نيک بننے اور کمالات حاصل کرنے کي توجہ ہوگي تو اس کي وجہ سے اس کي اس بات کي طرف بھي ہوگي کہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کرے يا بيہودہ حرکات ميں وقت نہ گذارے اور اسي طرح يہ بھي خيال ہوگا کہ وہ نيکي کي صلاحيتوں اور قوتوں کي حفاظت و پاسداري بھي کرے۔

نماز پڑھنے والا جب عبادت ميں کہتا ہے کہ رب العالمين ۔۔ وہ تمام ( عالمين ) جہانوں کا رب ہے يعني کائنات ميں جتني دنيائيں اور لوگ وجود رکھتے ہيں وہ ان سب کا رب ہے اور ہم قبول کرتے ہيں کہ کائنات ميں يہي ايک دنيا نہيں ہے بلکہ اس کے علاوہ اور بہت سي دنيائيں ہيں۔ يہي ايک جہان نہيں ہے اور بہت سے پوشيدہ جہان اس کائنات کا حصہ ہيں اور ان تمام دنياوں اور جہانوں کا تعلق ہم ہي سے ہے سب کے سب آپس ميں ايک دوسرے سے منسلک ہيں۔۔ سب کو خدا نے خلق کيا ہے ۔۔۔۔ اور وہي سب کو کمال تک پہنچا رہا ہے۔

نماز پڑھنے والا اس بات کا احساس کرتا ہے کہ اس دنيا کے علاوہ اور بہت سي دنيائيں ہيں جبکہ اس سے قبل وہ نہ صرف خود کو اس دنيا تک محدود خيال کرتا تھا بلکہ اس کي زندگي کا نظريہ بھي ماديت کي قيد ميں تھا ليکن رب العالمين ۔۔۔ کہنے کے بعد اسے يہ خيال ہوتا ہے کہ ہماري اس دنيا کے علاوہ آگے اور بھي دنيائيں اور جہان پھيلے ہوئے ہيں۔۔۔۔۔ جو ميرا خدا ہے وہي ان جہانوں اور دنياوں کا خدا ہے اور ايسي فکر کي وجہ سے اس کي اپني دنيا سے متعلق تنگ نظري ختم ہوجاتي ہے اور محدوديت کا حصار ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ اس کي کوتاہ نظري کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اس ميں جرآت اور خواہش پيدا ہوتي ہے اور وہ کائنات ميں پوشيدہ رازوں کي تلاش شروع کرديتا ہے اور انسان اس خدا کي ۔۔۔۔۔ جو تمام جہانوں اور دنياوں کا پالنے والا اور انہيں کمال تک پہنچانے والا ہے۔۔۔۔ بندگي سے عظمت کا احساس کرتا ہے کہ ميں خدائے لاشريک کا بندہ ہوں۔

آيت الحمد للہ رب العالمين ۔۔۔ کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ نمازي کي توجہ اس بات کي طرف بھي ہوتي ہے کہ کائنات کے تمام موجودات ۔۔۔ انسان ۔۔۔ حيوان۔۔۔۔ جمادات۔۔۔ گھاس ۔۔۔۔ پھوس ۔۔۔ تمام آسمان ۔۔۔۔ اور ان کے علاوہ اس کائنات ميں پوشيدہ ان گنت دنيائيں اور جہان ۔۔۔۔ جو ہمارے ادراک کي رسائي سے بہت آگے ہيں ۔۔۔۔۔ سب خدا کي بندگي اور اطاعت کرنے والے ہيں اور خدا ہي ان کي تربيت کرنے والا ہے اور ان کو کمال تک پہنچانے والا ہے۔

ان تمام خيالات کے ساتھ نمازي يہ بھي خيال کرتا ہے کہ ميرا خدا نہ تو کسي خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہي وہ کسي نسل و ملت سے ہے بلکہ رب العالمين کہہ کر بندہ يہ خيال کرتا ہے کہ خدا صرف انسانوں کا ہي تربيت کرنے والا نہيں ہے بلکہ وہ تو ايک چيونٹي اور ايک معمولي سي گھاس کا بھي خدا ہے اور خدا ہي کي تربيت کي وجہ سے تمام آسمان ، کہکشائيں اور سيارے اپني اپني منزل کي طرف رواں دواں ہيں۔ نماز پڑھنے والا اس حقيقت کو بھي درک کرتا ہے کہ ميں تنہا نہيں ہوں بلکہ دنيا ميں جتنے دنيا کي چھوٹي سے چھوٹي اور بڑي سے بڑي چيزيں سب خدا کي تربيت کے زير سايہ ميرے ايک ساتھ تربيت کررہا ہے ۔۔۔ ہم سب کے سب شاہراہ حيات پر ايک دوسرے کے بھائي اور ہمسفر ہيں۔۔۔۔ اور يہ کاروان عظيم ۔۔۔ جس ميں کائنات کے ذرے سے لے کر کہکشاوں سميت سب جاندار ، حيوان و انسان شامل ہيں ۔۔۔۔ خدا کے مقرر کردہ ہدف کے تحت ايک ہي راہ پر ايک ہي سمت رخ کئے اپني منزل کي طرف رواں دواں ہے۔

نمازي جب اس ربط و تعلق کا احساس کرتا ہے تو اس کي وجہ سے تمام موجودات کي نسبت خود کو ذمہ دار اور مسؤل سمجھتا ہے کہ ميري ڈيوٹي يہ ہے کہ ميں انسانيت کي خدمت کروں ، اور ان کي خدمت ان کي ہدايت اور زندگي کے امور ميں ان کي امداد کرنا ہے۔ اور وہ يہ بھي خيال کرتا ہے کہ ميں سمجھوں کہ کون سي چيزيں کس لئے بنائي ہے ؟ ان کا صحيح کون سا ہے؟ وہ کون مقاصد کے تحت دنيا ميں آئي ہيں ؟ اور وہ توجہ کرتا ہے کہ تمام موجودات کو اس راستے پر چلنا چاہئيے جس ميں خدا کي غرض ہو۔

الرحمن الرحيم

خدا رحمان اور رحيم ہے

رحمت عام اور رحمت خاص

خدا کي ايک رحمت ۔۔۔۔۔ رحمت ہے جو مختلف شکلوں ميں دنيا ميں وجود رکھتي ہے اور ان ميں سے ايک شکل وہ طاقتيں اور قوانين ہيں جو حيات کي پيدائش کا سبب ہيں اور جن کے ذريعے اس کرہ ارض پر حيات کا وجود اور ا س کي بقائ ہے۔ خداوند عالم کي يہ رحمت عام کائنات کے تمام موجودات پر چھائي ہوئي ہے۔ کائنات کي تمام چيزيں اور انسان ۔۔۔ جب تک موت کي دہليز پر نہيں پہنچتے ۔۔۔۔ ہر آن و ہر لمحے خدا کي رحمت رحمانيت سے فائدہ اٹھاتے ہيں۔

جبکہ دوسري طرف خدا کي وہ رحمت ہے جو ہر ايک کے لئے مخصوص ہے۔ خداوند عالم کي يہ رحمت ، ہدايت اور اعليٰ کاموں ميں نصرت خدا کي رحمت ہے، اجر اور اس کي خاص محبت کي رحمت ہے جو خدا انہي بندوں کو عنايت کرتا ہے جن ميں ان کي لياقت و صلاحيت ہوتي ہے جو کمالات کے لائق اور نيک انسان ہيں۔

خداوند عالم کي يہ رحمت بھي اسي دنيا سے انسان کے شامل حال ہوجاتي ہے۔ اس نوراني رحمت کا اثر قابل موجودات اور نيک انسانوں ميں موت تک اور بعد از موت قيامت تک باقي رہتا ہے۔ يہاں تک کہ انسان اپني منزل آخر تک پہنچ جاتا ہے مگر خدا کي يہ رحمت اس کے ساتھ ساتھ ہوتي ہے۔

پس معلوم ہوا کہ يہ خدا ہي کي ذات ہے جو تمام موجودات پر رحمت کرنے والي ہے اگرچہ کہ وہ تھوڑي ہي کيوں نہ ہو اور يہ بھي خدا ہي کي ذات ہے جس کي رحمت ہميشہ رہنے والي ہے اور ہر انسان ميں موجود لياقت و صلاحيت کے اعتبار سے اس کے لئے مخصوص بھي۔

ہمارا نماز ميں ياد کرنا کہ ہمارا پروردگار رحمت والا ہے يا تلاوت قرآن سے قبل ۔۔۔ نماز کے آغاز ميں ۔۔۔۔ يا کسي بھي سورے کو شروع کرنے سے پہلے خدا اور اس کي رحمت کو ياد کرنا ۔۔۔۔ ہميں متوجہ کرتا ہے کہ خدا کي محبت و مہرباني اس کي نماياں ترين صفات ہيں جو کائنات کي تخليق اور اس کے وجود کي ابتدائ ہي سے ہر ايک کے ساتھ شامل ہيں اور اس کے بر خلاف اس کي دوسري صفات يعني اس کا قہر و غضب ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو خدا کے دشمن اور فساد و تباہياں پھيلانے والے ہيں۔ا س کي رحمت رحمانيت چار سو پھيلي ہوئي ہے جو تمام موجودات اور ہر ذي حيات تک پہنچ کر رہے گي۔


مالک يوم الدين

خدا قيام کے دن کا مالک اور صاحب اختيار ہے۔

روز جزا ۔۔۔ وہ دن ہے جب زندگي ختم ہوجائے گي ۔۔۔۔ آخرت کا دن ہے جس کے لئے لوگ اپنے اپنے انجام کي فکر ميں رہتے ہيں۔ مادي خيالات رکھنے والا مادہ پرست جو منکر خدا ہے ، وہ اور خدا پرست دونوں ايک خاص مقصد کے تحت اپنے اپنے کام تک پہنچنے کے لئے کوششيں کرتے ہيں ليکن دونوں کي جدوجہد اور کوشش ميں فرق يہ ہے کہ دونوں ميں سے ہر ايک نے اپني عاقبت و انجام کو دو مختلف اور متضاد نظريوں سے سمجھا ہے۔

خدا پرست اور مادہ پرست

مادي خيالات کا پر تو انسان اس کي فکر ميں رہتا ہے کہ اسے اپني جدوجہد اور کوشش کا نتيجہ اگلے گھنٹے ميں کيا ملے گا ؟ يعني اس کي تمام جدوجہد اور کوششوں کا دائرہ صرف آنے والے دن ، سال يا چند اور سالوں تک محدود ہے کہ ان آنے والے دنوں يا سالوں ميں وہ اپني جدوجہد اور کوشش سے کيا منزل پانے والا ہے؟ جبکہ اس پر يہ حقيقت روز روشن کي مانند عياں ہے کہ اس کي جدوجہد اور کوشش کا نتيجہ بڑھاپا ، بدن و قوت کي ضعيفي اور انتہائي عمر کي افسردگي کے علاوہ کچھ نہيں ہے اور اس کي زندگي کي محنتوں اور مشقتوں کا انجام صرف بڑھاپے کي سرد آئيں ، گذشتہ زندگي پر افسوس اور نالہ ہائے غم ہيں ليکن خدا پرست انسان کي نگاہيں اس دنيا کے پار اپني منزل حقيقي تک ديکھتي ہيں ، اس کے خيالات کا دائرہ چند گھنٹوں کے مختصر سے شب و روز اور چند سالوں کي دنيا سے بہت وسيع اور اس کي منزل بہت آگے ہوتي ہے۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں

ابھي عشق کے امتحاں اور بھي ہيں

نہ تو خدا پرست کي دنيا اس مادي دنيا تک محدود ہے اور نہ ہي اس کا نظريہ زندگي اس فاني دنيا کے حصار ميں ہے بلکہ اس کي دنيا، اس کي زندگي اور اس کا جہان مادہ پرست کي دنيا سے ہزار ہا درجہ بلند ہے جس کا تصور ممکن نہيں۔

عقابي روح جب بيدار ہوتي ہے جوانوں ميں

نظر آتي ہے ان کو اپني منزل آسمانوں ميں

اسي طرح خدا پرست کا مستقبل لا محدود زندگي پر قائم ہے۔ ايسا انسان ۔۔۔۔ جو ہميشہ کي زندگي خواہش مند اور متلاشي ہے ۔۔۔۔ آخر وقت تک اپني جدوجہد اور کوشش سے ہاتھ نہيں اٹھائے گا اور نہ ہي ہمت ہارے گا۔

اگر کوئي انسان يہ خيال کرتاہے کہ موت سے نہ تو اميديں ختم ہوتي ہيں اور نہ ہي زندگي کے اعمال کا انجام و نتيجہ منقطع ہوتا ہے تو وہ اپني زندگي کے آخر لمحات تک اسي جوش و جذبے ، تحرک و استقلال اور پامردي سے ۔۔۔۔ جن سے اس نے اپنے کاموں کا آغاز کيا تھا ۔۔۔ اپنے کام اور جدوجہد کو جاري رکھے گا اور اپني زندگي کے آخري سانسوں تک خدا کے پسنديدہ اعمال و افعال سے خود کو آراستہ کرتا رہے گا۔

نماز ميں يہ ياد کرنا کہ ۔۔۔ مرنے کے بعد ہميں اٹھانے والا ، ہميں ہمارے اعمال کي جزا دينے والا اور صاحب اختيار صرف خدا ہي ہے۔۔۔۔ نماز پڑھنے والے کي زندگي کو صحيح ڈگر پر لے جاتا ہے اور اس کے تمام امور کا رخ خدا کي طرف موڑ ديتا ہے چنانچہ وہ اپنے تمام امور کو خدا ہي کے لئے انجام دے گا اور اپني پوري زندگي کو صرف خدا ہي کي راہ ميں خرچ کرے گا اور ان تمام امور کے ذريعے سے اس کي يہ کوشش ہوگي کہ وہ کمالات حاصل کرے اور اس کي بشريت ۔۔۔۔ انسانيت کي معراج حاصل کرے اور يہي وہ راستہ ہے جس کو خداوند عالم نے انسانوں کے لئے پسند کيا ہے۔ دوسري جانب ان تمام باتوں کا نتيجہ يہ ہوگا کہ بيہودہ افکار سے انسان کا بھروسہ ختم ہوجائے گا، وہ بے بنياد و بے حقيقت اميدوں سے اپنا دامن چھڑانے لگے گا اور اس کي خدا سے اميد قوي ہوگي کہ خدا ہي سب کچھ دينے والا ہے اور اس طرح اپنے عمل پر اس کا بھروسہ بڑھ جائے گا۔

خدا عالم و عادل ہے

اس مادي زندگي ميں فرسودہ نظريات ، باطل نظام اور ناجائز راستے موجود ہيں کہ سست مزاج اور فر صت طلب لوگوں کے لئے ايسے انتظام ہيں کہ وہ دھوکے ، ريا ، جھوٹ ، چال بازي ، فريب اور الٹي سيدھي باتيں کرکے اپنے لئے دنيا کا سامان حاصل کرليتے ہيں ليکن يہ سب اسي دنيا تک محدود ہے کہ انسان بغير عمل اور بغير کوشش کے نتيجہ حاصل کرلے يا غاصبانہ طريقے سے اپني پست خواہشات کي تکميل کرلے ليکن نماز پڑھنے والے کو معلوم ہے کہ وہ دنيا کہ جس ميں اس کے تمام اعمال و افعال پر سخت گرفت کرنے والا خدا ۔۔۔ عالم و عادل ہے جسے دھوکہ دينا اور اس کے نظام سے بچ نکلنا ناممکن ہے اور وہ يہ بھي جانتا ہے کہ خدا کسي بھي بے عمل شخص کو ذرہ برابر فائدہ اور اجر دينے والا نہيں ہے۔

سورہ حمد کے اس آدھے حصے ميں اس پروردگار کي تعريف جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس طرح اس ميں بعض اہم صفات خدا کا ذکر ہوا ہے ۔ا س سورے کے بقيہ حصے ميں بندگي کا اظہار اور ہدايت کي طلب ہے اور اس بقيہ حصے ميں بھي بعض اہم توجہات ميں يعني اسلام کي حقيقي آئيڈيالوجي کيا ہے؟ ان ميں سے بعض کي طرف اشارہ کيا جارہا ہے۔

اياک نعبد

ہم فقط تيري ہي عبادت کرتے ہيں

غير خدا کي بندگي سے انکار

ہمارا پورا وجود ۔۔۔۔ ہماري جسماني ۔۔۔ روحاني ۔۔۔ اور فطري قوتيں سب خدا کے اختيار ميں ہيں اور ہم ان قوتوں کو صرف اس کے حکم کے مطابق اور فقط اسي کي خوشنودي کے لئے استعمال کرتے ہيں۔

نماز پڑھنے والا يہ جملہ ادا کرکے اس چيز کو اپنے دل سے نکال ديتا ہے کہ وہ خدا کے علاوہ کسي اور کے سامنے سر جھکائے گا ۔۔۔ نہ دل کي طاقتوں کو غير از خدا کے سامنے جھکائے گا ۔۔۔ اور نا ہي اپنے اعضائ و جوارح سے غير خدا کي بندگي کرے گا اور اسي طريقے سے وہ ان سب کي زندگي کو رد کرديتا ہے جو اس سے اپني اطاعت کے خواہشمند ہوتے ہيں۔

تاريخ ميں ايسے لوگوں کا وجود ملتا ہے جو خو د کو بشريت کي فلاح کا ذمہ دار ٹھہراتے ہيں مگر انہوں نے لوگوں کو مختلف طبقات ميں بانٹ ديا ۔ تاريخ ميں ايسي مثاليں بکثرت موجود ہيں کہ بلند و بانگ دعوے کرنے والے اپني اپني رعايا اور قوموں کو اپنے ہي بنائے ہوئے نظاموں کي بندگي پر مجبور کرتے اور اپني خواہشات کي تکميل کے لئے انہيں اسير و مقيد رکھتے تھے۔

ہم نماز ميں يہي کہتے ہيں کہ ہم ان ميں سے کسي کو قبول کرنے والے نہيں ہيں۔ نماز پڑھنے والا يہ نہيں کہتا ہے کہ ميں تيري عبادت کرتا ہوں بلکہ وہ يہ کہتا ہے کہ نعبد ۔۔۔ ہم تيري عبادت کرتے ہيں۔ ہم سب اور تمام مومنين صرف خدا کي اطاعت و فرمانبرداري کرنے والے اور صرف اسي کے احکام کي پابندي کرنے والے ہيں اور ہمارا درجہ اس سے بہت بلند ہے کہ ہم خدا کے نظام کے علاوہ کسي اور نظام کو قبول کريں يا غير از خدا کي اطاعت کريں۔

تقدير کے پابند ہيں جمادات و نباتات

مومن فقط احکام الہي کا ہے پابند

خلاصہ يہ کہ نماز پڑھنے والا يہ اعلان کرکے خدا کي بندگي کو قبول کرتا ہے اور انسانوں کي بندگي و اطاعت سے خود کو دور کرتا ہے اور اس طرح خود کو ان لوگوں کے راستے پر ڈال ديتا ہے جو خدا کے لئے کام کرنے والے ہيں اور حقيقتاً خود کو انہي ميں سے قرار ديتا ہے۔

يہ اعتراف و قبول کرنا کہ بندگي صرف خدا اور اس کي خوشنودي کے حصول کے لئے ہوني چاہيے۔۔۔۔ نہ صرف اسلام کے اہم ترين بنيادي اصولوں ميں سے ايک اصول ہے بلکہ قوانين الہي کي بنياد بھي اسي اصول پر ہے يعني بندگي فقط خدا کے لئے ہو يعني جسے الہٰ ( معبود) ہونا چاہئيے اور خدا کے علاوہ کوئي بھي عبادت و بندگي کے قابل نہيں ہے۔

باطل نظريہ

ايسے افراد کا وجود ہر زمانے ميں رہا ہے کہ جنہوں نے اس نظريہ زندگي کو حقيقي معنوں ميں درک نہيں کيا اور اس کے مطالب و مفاہيم کو غلط انداز سے سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے چند باتوں تک محدود کرديا اور عملي زندگي ميں اطاعت خدا کا مفہوم غلط سمجھتے ہوئے غير خدا کي بندگي کرنے لگے۔

ان لوگوں نے يہ گمان کيا کہ عبادت خدا کے حقيقي معني يہي ہيں کہ اس کو مقدس سمجھا جائے اور عبادت کے لئے اس کے سامنے سر جھکايا جائے لہذا انہوں نے خدا کي بارگاہ ميں صرف نماز پڑھنے ، دعا مانگنے اور سجدے کي ادائيگي کو ہي عبادت خدا گردانا اور اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ ہم خدا کے علاوہ کسي اور کي بندگي نہيں کرتے کيونکہ بندگي تو فقط نماز ، سجدے اور دعا کا نام ہے اور ہم سب کا بھي يہي حال ہے ۔

ہميں آگاہ ہونا چاہئيے کہ عبادت و بندگي صرف نماز ، اور دعا کا نام نہيں ہے بلکہ عبادت و بندگي کے معني بہت زيادہ وسيع ہيں۔ قرآن و حديث کي اصطلاح ميں عبادت و بندگي بلند پاياں معني کي حامل ہے۔ قرآن و حديث کي اصطلاح ميں عبادت کے معني يہ ہيں کہ ہم خدا کے احکام کي اطاعت کرتے ہوئے اس کے سامنے سر تسليم خم کرديں اور خدا کے فرمان کے علاوہ ہر کسي کے فرمان کو ۔۔۔۔ خواہ وہ کسي کا بھي ہو ۔۔۔۔ کوئي بھي قانون و نظام ہو ۔۔۔۔ خواہ کسي کي بھي طرف سے ہو ۔۔۔۔ کتني ہي بڑي اور زبردست طاقت اس کي مالک کيوں نہ ہو ۔۔۔ يا جس کسي بھي طرف ہميں دعوت دي جائے يا مجبور کيا جائے ۔۔۔ ہم ماننے سے انکار کرديں کہ ہم کسي کے قانون کو قبول کرنے والے نہيں ہيں بلکہ صرف خدا کے فرمان و قانون کي اطاعت کرنے والے ہيں۔

اس بيان پروہ تمام لوگ ۔۔۔ جو الہي نظام کے علاوہ لوگوں کے نظاموں کو قبول کريں اور دوسروں کے جاري کردہ احکام و فرامين کے سامنے سر جھکاديں ۔۔۔۔ ان نظاموں اور انسانوں کے بندے اور عبادت گذار کہلائيں گے ۔ دوسروں کي عبادت کے ساتھ ساتھ اگر انہوں نے اپني زندگي کا کچھ حصہ خدا کي عبادت و بندگي کے لئے رکھ چھوڑا کہ انفرادي يا اجتماعي زندگي ميں خدا کے قانون و فرمان پر عمل کريں گے تو ايسے بعض معاملات اور امور ميں دوسروں کي بھي بندگي کرتے ہيں اور اگر يہ لوگ اپنے تمام امور اور معاملات ميں غير از خدا کے مرتب کردہ اصول و قوانين کے مطابق عمل کرتے رہے اور خدا کي بندگي کي طرف ذرہ برابر توجہ نہ کي تو يہ کافر کہلائيں گے يعني جنہوں نے خدا کي واضح اور اظہر من الشمس حقيقتوں اور اس کي روشن نشانيوں کا بصارت قلبي سے مشاہدہ نہيں کيا اور نا ہي انہيں قبول کيا اور اپني عملي اور اعتقادي زندگي ميں اس کے انکاري رہے۔

اسلام کے اس نظرئيے کے مطابق ہم با آساني سمجھ سکتے ہيں کہ خدا کي طرف سے نازل کردہ اديان ميں سب سے پہلے جس شعار کي طرف دعوت دي گئي اور جس بات سے روشناس کرايا گيا وہ يہ ہے کہ لا الہ الا اللہ ( نہيں ہے کوئي معبود سوائے خدا کے ) کا اقرار کرو، ليکن اس کے کہنے کا مقصد کيا ہے اور اس کے ذريعے سے وہ کن باتوں کا خواہش مندہے اور کس سمت رخ کروانا چاہتا ہے؟

حقيقت بندگي اسلامي مدارک اور قرآن و حديث ميں متواتر اور مسلسل آئي ہے اور روز روشن کي مانند عياں ہے کہ غور و فکر کرنے والے اور بافہم و ہوشمند افراد کے لئے ذرہ برابر شک و تردد نہيں ہے کہ خدا يہ چاہتا ہے کہ زندگي کے تمام امور ميں صرف اسي کے احکام پر عمل کياجائے ۔ ہم يہاں نمونے کے طور پر قرآن سے دو آيات اور امام جعفر صادق کي ايک حديث نقل کررہے ہيں۔

اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله والمسيح ابن مريم وما امروا الا ليعبدوا الها واحدا لا اله الا هو ۔

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علمائ اور مقدس لوگوں کو اپنا رب بناليا اور عيسيٰ ابن مريم کو بھي جبکہ انہيں يہ حکم ديا گيا تھا کہ يہ سب نہ کريں بلکہ اپنے معبود واحد کي عبادت کريں کہ نہيں ہے کوئي معبود سوائے اس کے۔

(توبہ ٣١)

والذين اجتنبوا الطاغوت ان يعبدوها وانا الي الله لهم البشريٰ

اور وہ لوگ جو طاغوت سے بچتے ہيں کہ اس کي بندگي کريں اور انہوں نے اپنا رخ (توجہ ) اللہ کي طرف کيا ہوا ہے۔ انہي لوگوں کي لئے بشارت (خوشخبري) ہے۔

روي ابو بصير عن ابي عبدالله عليه السلام انه قال انتم هم و من اطاع جابرا فقد عبده

ابو بصير حضرت امام جعفر صادق سے روايت نقل کرتے ہيں کہ امام نے فرمايا ۔۔۔ ( حضرت کا يہ خطاب اپنے زمانے کے شيعوں سے تھا) تم ہي لوگ ہو کہ جنہوں نے اپنے آپ کو طاغوت کي عبادت سے الگ کرليا اور جس کسي ظالم کي اطاعت کي پس اس نے اس ظالم کي بندگي کي۔


واياک نستعين

اور فقط تجھ ہي سے مدد چاہتے ہيں۔

جھوٹے خدا ہماري کيونکر امداد کرسکتے ہيں؟

وہ تمام لوگ جو خود ساختہ خدا ہيں اور لوگوں پر اپني خدائي کا دعويٰ کرنے والے ہيں، ہميں ان سے کوئي توقع نہيں ہے کہ وہ ہماري حمايت و امداد کرينگے۔ يہي وہ لوگ ہيں جو خود کو احکام خدا کي اطاعت سے ہٹانے والے ہيں اور جب يہ خدا کي اطاعت اور اس کے راستے پر چلنے کو تيار ہي نہيں تو پھر يہ خدا کے بندوں اور اس کي راہ پر چلنے والوں کو کيونکر امدادکريں گے؟

خدا کا راستہ تو وہي ہے جسے خدا کے پيغمبروں نے لوگوں کو متعارف و روشناس کرايا ہے اور وہي راستہ ہے جو حق و عدالت کي طرف ہے تاکہ لوگوں ميں بھائي چارہ اور دلبستگي قائم رہے، انسان کي قدر و قيمت کو سمجھا جائے، کسي کو کسي پر ( بلا جواز) ترجيح و سبقت نہ دي جائے، کسي پر ظلم و ستم نہ ہو اور کسي کو چھوٹا يا بڑا نہ سمجھا جائے جبکہ اس نظام کے مد مقابل چند خود ساختہ خدا ہيں جو اپني خدائي کے دعوے دار ہيں اور اپني شرمناک زندگي کو پايہ تکميل تک پہنچانے اور ظلم و زيادتي سے دنياوي فائدے حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اس بات کا بيڑا اٹھايا ہے کہ عدل و انصاف کے تمام سر چشموں کو ختم اور انسانوں کي بھلائي کے تمام قيمتي سرمايوں کو برباد کرديں ۔

جب ان خود ساختہ خداوں کے يہ افکار ہيں تو پھر يہ کس طرح ممکن ہے کہ يہ لوگ ايک خدا کي بندگي کرنے والوں کي حمايت و نصرت کريں!

يہ تو وہ لوگ ہيں جو بندگان خدا کے ساتھ جنگ کررہے ہيں بلکہ فائدے حاصل کرنے کے لئے کبھي ان سے صلح کرنے والے نہيں ہيں بلکہ لوٹ مار ، ظلم کرنا اور بے امني پھيلانا انہي کا شيوہ ہے۔ پس ہم خدا ہي سے مدد طلب کرتے ہيں اور اپني عقل ، فہم اور ارادے سے ،۔۔ جو خدا نے ہميں وديعت کيے ہيں ۔۔۔۔ اور ان تمام سامان و اسباب سے ۔۔۔۔۔ جو خداوند عالم نے ہميں زندہ رہنے اور زندگي گذارنے کے لئے عطاکيے ہيں ۔۔۔۔ فائدے اٹھاتے ہيں۔ ہم ديکھتے ہيں کہ خدا کي سنتيں اور فطري قوانين جو تاريخ ميں دہرائے گئے ہيں اگر ہم ان الہي نظاموں کو سمجھيں تو ہماري فکر اور ہمارا عمل خدا کے راستے پر چل پڑے گا اور اسي طرح خدا کي وہ تمام چيزيں جو خداوند عالم نے خلق کي ہيں، خدا کے سپاہي ہيں جو انسانوں کي مدد کرتے ہيں۔

اهدنا الصراط المستقيم

(خداوند ا) ہميں سيدھے راتے کي ہدايت فرما۔

ہدايت انسان کي سب سے بڑي حاجت

انسان کي سب سے بڑي حاجت ہدايت ہے کہ اس سے بڑھ کر انسان کي کوئي اور حاجت نہيں ہے اور اگر ہدايت سے اعليٰ ترين کوئي اور حاجت ہوتي تو بے شک اسے سورہ حمد ميں بيان کيا جاتا۔ ليکن چونکہ سورہ حمد قرآن کا ديباچہ ہے اور نماز کا اہم ترين رکن ( جز) ہے لہذا ہدايت کو سورۃ الحمد ميںبطور دعا ذکر کيا گيا ہے اور خدا سے اسے طلب کرنے خواہش کي جاتي ہے۔

ہميں خيال کرنا چاہئيے کہ يہ خدا ہي کي ہدايت ہے جس کي وجہ سے انسان کي عقل اور اس کا تجربہ اسے اس کے فائدے کے راستے يعني سيدھے راستے پر لے جاتا ہے اگر خدا کي ہدايت نہ ہو تو ہماري عقل اور ہمارا تجربہ ہميں ذرا برابر فائدہ نہيں پہنچائے گا بلکہ ہدايت سے دوري کے سبب يہي عقل اور اس کا تجربہ ايک چور کو چوري کے طريقے سکھاتا ہے اور ايک پاگل کے ہاتھ ميں تلوار کي شکل اختيار کرليتا ہے ( کہ جس سے صرف تباہي کي اميد کي جاسکتي ہے)۔

ہدايت کا حصول نجات کي علامت ہے

ہميں ديکھنا چاہئيے کہ انسان کے لئے کاميابي کي ر اہ ( سيدھي راہ) کيا ہے؟ سيدھي راہ يا کاميابي کي راہ انسان کے مزاج ميں فطرت کا بنايا ہوا نظام ہے جس کي اساس و بنياد اس بات پر ہے کہ انسان کي حاجات کيا ہيں؟ اس ميں کيا کوتاہياں ہيں اور اس ميں عمل کرنے کے امکانات کتنے ہيں ؟ ہم سيدھي راہ ( صراط مستقيم) اس راہ کو کہيں گے جسے خدا کے پيغمبروں نے لوگوں کے لئے آشکار کيا ہے اور خود اس راستے پر سب سے پہلے اور سب سے آگے چلنے والے ہيں۔

ہدايت الہي کا راستہ وہ راستہ ہے کہ اگر عالم بشريت اس راستے پر گامزن ہوجائے تو يہ اس پاني کے مثل ہوگي جو ہموار زمين پر بالکل سيدھا اور آگے بڑھتا ہوا چلا جائے ، خود بخود آگے اپني منزل کي طرف بڑھتا رہے گا اور اگر انسان بھي ہدايت الہي سے بہرہ مند ہوجائے تو وہ بحر بيکراں کي طرح ۔۔۔ جو اس کي بلنديوں اور عظمتوں کا بحر بيکراں ہے ۔۔۔۔ آگے بڑھتا چلا جائے گا ۔ ہدايت الہي وہ نور ہے کہ اگر يہ ايک معاشرے کے افراد کے قلوب ميں جا گزين ہوجائے اور وہ اس کے مطابق عمل کرنے لگيں اور وہ حقيقتاً ہدايت الہي کو پاليں تو پورا معاشرہ خوشحال ہوجائے گا، اس معاشرے کے تمام افراد خوش و خرم ہوں گے ، ہر طرف امن و امان ہوگا ، سب غلاموں سے آزاد ہو کر ايک دوسرے کے مدد گار بن جائيں گے اور ذمہ داري ، محبت و خلوص اور بھائي چارگي ان کے دلوں ميں گھر کر لے گي اور اگر پورا عالم بشريت حقيقي معنوں ميں اس پروگرام پر عمل پيرا ہو تو وہ تمام بد بختياں ۔۔۔ جو ہميشہ سے بشريت کے ساتھ چمٹي ہوئي ہيں۔۔۔۔۔ ہميشہ کے لئے نابود ہوجائيں گي۔

ليکن يہ خوش قسمتي کا راستہ اور نجات دہندہ پروگرام کيا ہے ؟ اس کا روبار حيات ميں سب ہي نيکي کا دعويٰ کرنے والے ہيں اور اس عالم کا ہر گروہ دوسرے گروہ کو خطا و اشتباہ کا پتلا قرار ديتا ہے لہذا ہميں چاہئيے کہ ان سب کو چھوڑ کر قرآن مجيد کے افتتاحي سورے ، سورہ حمد کو ديکھيں کہ اس ميں عالم بشريت کے لئے نجات دہندہ اور ہدايت کے راستے کو کس طرح بيان کيا گيا ہے؟


صراط الذين انعمت عليهم

ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے نعمتيں نازل کيں

حقيقي نعمت

وہ کون لوگ ہيں کہ جن کے وجود مقدس کو خداوند عالم نے اپني نعمتوں کے نزول کي جگہ قرار دي ہے۔

اس بات ميں ذرہ برار شک نہيں ہے کہ اس نعمت سے مراد مال و دولت اور مادي عيش و عشرت نہيں ہے بلکہ يہ نعمات تو ان لوگوں کو زيادہ ملتي رہي ہيں جو درندہ صفت ، دشمنان خدا اور دشمنان مخلوق واقع ہوئے ہيں۔ اس نعمت سے مراد وہ نعمت ہے جو اس ماديت اور کھيل کود سے بالاتر ہے بلکہ وہ تو خدا کي لطف و عنايت اور ہدايت کي نعمت ہے۔ وہ نعمت جسے ہم طلب کرتے ہيں اور يہ ہے کہ انسان سمجھے کہ واقعاً اس کي قدر و قيمت کيا ہے اور انسان اپني ذات کو پہچان کر اسے حاصل کرے۔

صاحبان نعمت کون ہيں؟

اس نعمت کو جن لوگوں نے حاصل کيا ہے ، قرآن کريم ميں ان کي معرفت کچھ اس انداز ميں کرائي گئي ہے

ومن يطع اللہ والرسول فاولئک مع الذين انعم اللہ عليھم من النبين والصديقين والشھدائ والصالحين

اور جو کوئي اللہ اور اس کے رسول کي اطاعت کرے تو يہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن اللہ نے نعمت نازل کي ہے جو نبيوں ، صديقوں ، شہدائ اور صالحين ميں سے ہيں۔

پس نماز پڑ ھنے والا اس جملے ميں خدا سے درخواست کرتا ہے کہ اے خدا تو ہميں اس راستے پر چلا جو پيغمبروں ۔ صديقوں ( سچوں) ۔ شہيدوں اور صالحين ( نيک لوگوں) کا راستہ ہے۔ خداوندا تو ہميں ان کے راستے کي ہدايت فرما۔

ان لوگوں کا راستہ تاريخ ميں بہت واضح اور روشن رہا ہے اور اس کے مقاصد اور اہداف بھي معين تھے جبکہ اس راستے کے مسافر ہر زمانے ميں معروف رہے ہيں جبکہ اس راستے کے مد مقابل کچھ دوسرے خطوط اور راستے کار فرما رہے ہيں لہذا نماز پڑھنے والا اس باطل راتے کي طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کے مسافروں کي طرف بھي اور خود کو ہوشيار کرتا ہے کہ تو ہرگز اس راستے پر قدم نہيں رکھے گا اور نہ ہي اس سمت حرکت کرے گا۔

غير المغضوب عليهم

نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تيرا غضب نازل ہوا۔

خدا کا غضب کن پر نازل ہوا؟

وہ کون لوگ ہيں جن کے وجود کو خدا نے اپنے غضب کي منزل قرار ديا ہے۔ يہ وہ لوگ ہيں جو خدا کے راستے کو چھوڑ کر دوسروں کے راستے پر چلنے والے ہيں۔ يہ وہ لوگ ہيں جنہوں نے خدا کي کثير مخلوق کو ۔ جو بے خبر اور بے ارادہ تھي۔ اپنے ساتھ گمراہي کي سمت چلايا اگر وہ مخلوق باخبر اور با ارادہ تھي تو ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ، وہ اسير تھے اور غضب خدا کے حقدار ان کو اپنے ساتھ چلاتے تھے۔

يہ وہ لوگ ہيں جنہوں نے انسانوں کے تمام امور زندگي کو اپني طاقت و قوت يا دھوکے ، فريب اور مختلف حيلہ سازي سے اپني گرفت ميں ليا ہوا تھا اور خدا کي مخلوق کے بے اختيار ، اپنے مذموم اور گھناونے مقاصد کي تکميل کے لئے آلہ کار اور اپنے پيچھے پيچھے چلنے والا مستضعف ۔۔۔ ايسا کمزور جسے بولنے ، احتجاج کرنے اور اپني غلامي کي راہ سے انحراف کرنے کا کوئي حق نہ ہو ۔۔۔ بناليا تھا۔ يہ وہ لوگ ہيں جنہوں نے انسانوں کو بے وقوف بنا کر خود کو ان پر مسلط کرديا اور اپني گندي عيش و عشرت اور پست خواہشات کي تکميل کے لئے ان انسانوں سے فائدہ اٹھايا۔

دوسرے الفاظ ميں ہم يوں کہہ سکتے ہيں کہ خدا کا غضب جن لوگوں پر آنے والا ہے ، وہ لوگ ہيں کہ جنہوں نے راہ شيطان و راہ باطل کو اپني جہالت و بے خبري سے اختيار نہيں کيا بلکہ بغض و عناد، دشمني ، خود پرستي اور اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے راہ باطل کو اپنے لئے منتخب کيا اور لوگوں کي تکليف و پريشاني کا باعث بنے۔

تاريخ کي واضح حقيقت

يہ ہميشہ کي ايک واضح حقيقت ہے کہ يہ گروہ ۔۔۔۔ جس پر خدا کا غضب نازل ہوا ہميشہ دنيا ميں لوگوں کے درميان طاقت و قدرت کا مالک رہا ہے اور اسي لئے دين نے ان کے وجود کو ہميشہ باطل قرار ديا ہے اور يہي وجہ ہے کہ دين نے جب بھي کسي کام کا آغاز کيا تو انہي کے خلاف اقدامات سے اس کي ابتدائ کي اور جو بھي قدم اٹھايا انہي کے مقابلے ميں اٹھايا ۔ ان دو گروہوں ۔۔۔ يعني گروہ ہدايت يافتہ اور گروہ غضب خدا ۔۔۔ کے علاوہ ايک تيسرا گروہ اور بھي ہے اور اسي آيت کا اگلا جملہ اسي کي طرف اشارہ کرتا ہے۔


ولا الضالين

اور نہ گمراہوں کا راستہ

گمراہوں اور بے وقوفوں کا راستہ

وہ لوگ جو اپني بے خبري اور ناواقفيت کي بنا پر گمراہ کرنے والے رہبروں اور پيشواوں کي اتباع و پيروي سے اس راستے پر چلنے لگے جو خدا کا راستہ نہيں تھا، وہ حقيقت سے بہت دور تھے جبکہ وہ گمان کرتے تھے کہ حقيقتاً وہ درست راستے پر کاميابي کي سمت گامزن ہيں ليکن حقيقت يہ تھي کہ وہ غلط راستے پر تباہي کي جانب قدم بڑھارہے تھے کہ جس کا انجام بہت تلخ تھا۔

ہم اس گروہ کو ۔۔۔۔ جو گمراہوں کے راستے پر گامزن تھا ۔۔۔۔ تاريخ ميں بہت واضح ديکھتے ہيں۔ يہ تمام لوگ جو زمانہ جاہليت ميں اپنے رہبروں اور پيشواوں کي خواہشات اور ارادوں کے پيچھے پيچھے آنکھ بند کرکے اور سر کو جھکا کر چلتے رہے اور اپنے گمراہ رہبر ان کو فائدہ پہنچاتے رہے اور دوسري طرف حق و عدالت کے علم برداروں ، مناديوں ، انسانيت کے خير خواہوں يعني خدائي پيغام لانے والوں کي مخالفت کرتے رہے۔

يہ جاہل طبقہ ايک لمحہ کے لئے بھي اس بات کے لئے آمادہ نہيں تھا کہ وہ اپنے بارے ميں سوچے اور اپني احمقانہ زندگي پر نظر ڈالے اور اس کے بارے ميں فکر کرے۔ ہم ان لوگوں کي زندگي کو احمقانہ اس لئے کہہ رہے ہيں کہ اس قسم کے لوگوں کي زندگي کا فائدہ صرف اونچے طبقے کے لوگوں کو پہنچا ہے جبکہ نقصان صرف انہي بے وقوف لوگوں کا مقصد بنا۔

اس کے بر عکس پيغمبروں کي دعوت اس لحاظ سے تھي کہ وہ انسانيت کو گمراہ کرنے والوں کي بنيادوں کو اکھيڑ ديں اور ان کے وجود کو صفحہ ہستي سے ختم کرديں جن پر خدا کا غضب نازل ہوا ہے اور ان تمام اقدامات سے انبيائ کي يہ خواہش تھي کہ وہ مغضوب عليھم کو ختم کرديں جس کا فائدہ بہر حال اس محروم اور مستضعف ( کمزور طبقے کو ہي پہنچے گا جس کو تاريخ ميں ہميشہ بے وقوف بنايا گيا ۔

نمازي اس طرح گمراہوں اور ان لوگوں کے راستے پر ۔۔۔ جن پر خدا کا غضب نازل ہوا۔۔۔۔ توجہ کرکے غور کرتا ہے کہ وہ کون سا راستہ ہے جس پر ہميں قدم بڑھانا چاہئيے اور وہ نجات بخش طريقہ کيا ہے جسے انسانيت کے نجات دہندہ پيغمبروں نے بيان کيا ؟ اس مقام پر نمازي اگر اپني زندگي ميں محسوس کرے کہ وہ ہدايت پارہا ہے يا وہ اپنے قدموں کو سيدھے راستے پر اٹھتا ديکھے تو وہ نيکي کي توجہ اور ميلانات اور ہدايت کے لئے اس نعمت عظيم پر شکر کرے اور خدا کي تعريف يوں بيان کرے

الحمد لله رب العالمين

ساري تعريفيں اللہ ہي کے لئے ہيں جو تمام عالمين کا پالنے والا ہے۔

سورہ حمد قرآن کا آغاز تھي يعني فاتحہ الکتاب

قرآن کا ابتدائيہ سورہ حمد

( اجمالي جائزہ) يہ قرآن کا ديباچہ ( ابتدايہ) ہے اسي طرح جيسے ہر کتاب کا ايک ديباچہ ( ابتدائيہ) ہوتا ہے جس ميں اجمالي طور پر اس کتاب کي تمام باتوں کو بيان کيا جاتا ہے اسي طرح نماز اسلام کے تمام احکامات کا خلاصہ اور مختصر سا خاکہ ہے۔ نماز ميں اسلامي آئيڈيا لوجي کے تمام پہلو نماياں طور پر موجود ہيں اور اس بارے ميں ہم پہلے اشارہ کرچکے ہيں۔ اسي طرح سورہ حمد بھي قرآن کے معارف اور اس کے خطوط کي اجمالي فہرست ہے يعني قرآن نے جن جن باتوں اور پہلووں کي جانب ہماري توجہ مبذول کرائي ہے اور جن راستوں پر قدم اٹھانے سے اجتناب کا حکم ديا ہے ان سب کا خلاصہ سورہ حمد ميں ہے چنانچہ :

تمام لوگ اور تمام عالمين سب ايک دوسرے سے منسلک ہيں اور سب خدا کي طرف رخ کيے ہوئے ہيں يعني رب العالمين

کائنات کي تمام چيزوں اور تمام اشخاص پر خدا کي محبت و مہرباني کا نزول ہے اور جو اہل ايمان ہيں وہ خدا کي رحمت و لطف کے زير سايہ زندگي گذار رہے ہيں يعني الرحمن الرحيم

انسان کي زندگي اس دنيا کے خاتمے کے بعد اس آنے والي آخرت کي زندگي ميں ہميشہ باقي رہنے والي ہے جس کا مالک ’’ حاکم مطلق ‘‘ ہے يعني مالک يوم الدين

انسان کو چاہئيے کہ وہ خود کو غير خدا کي بندگي سے آزاد کرے اور خدائي نظام کے مطابق انساني راستے پر انساني عظمتوں کے حصول کے لئے آزادانہ اور با اختيار زندگي بسر کرے يعني اياک نعبد

انسان کو يہ بھي چاہئيے کہ وہ اپني سعادت و خوش بختي اور زندگي کے سيدھے راستے کو خدا سے ہي طلب کرے يعني اھدنا الصراط المستقيم

انسان کو يہ بھي چاہئيے کہ وہ سمجھے کہ دشمن کون ہے اور دوست کون ؟ ہر ايک کے لئے کيا موقع ہے اور ہر ايک کے لئے کيا اغراض و مقاصد ہيں ۔۔۔ اور ان دونوں طبقوں اور ان کي عاقبت و آخرت کو ديکھ کر خود اپنے لئے شاندار ، بہترين اور کاميابي کا راستہ منتخب کرے يعنيصراط الذين انعمت عليهم


سورہ توحيد

ہم نے پند و نصيحت سے بھرپور سورہ حمد ختم کي جس ميں حکمت و معرفت اور قرآن کے تمام خزانے موجود ہيں۔ سورہ حمد کے اختتام پر نمازي کو چاہئيے کہ وہ اس کے بعد قرآن سے ايک مکمل سورے کي تلاوت کرے۔ قرآن سے سورے کو پڑھنے کافعل آزادانہ ہو اور سورے کو بھي اپني پسند سے منتخب کيا جائے کيونکہ اس طرح قرآن کي ياد نماز کے دل ميں زندہ ہوجاتي ہے يعني معارف اسلامي کا ايک نيا سلسلہ اس کے سامنے روشن ہوجاتا ہے۔

نماز ميں قرآن کي تلاوت کا فريضہ حضرت امام علي رضا نے اپني حديث ميں فضل بن شاذان سے فرمايا ہے جو کہ ہم پہلے بيان کرچکے ہيں کہ قرآن کي تلاوت نماز ميں اس لئے ضروري قرار دي گئي ہے کہ لوگ قرآن کو ترک نہ کرديں اور کہيں ايسا نہ ہو کہ لوگ قرآن کو سمجھنا ہي چھوڑديں اور اس لحاظ سے بھي ضروري قرار ديا گياہے کہ انسان کے ذہن و خيالات ميں قرآن حاضر رہے۔ ہم اس سلسلے ميں سورہ توحيد ( سورہ اخلاص ) اور اس کے ترجمے کو جس کي عموماً نماز ميں تلاوت کي جاتي ہے۔۔ يہاں نقل کر رہے ہيں۔

بسم الله الرحمن الرحيم

( ابتدائ ہے) خدائے رحمان و رحيم کے نام سے

قل ۔۔۔ کہو ( اے پيغمبر)

اے پيغمبر ۔۔۔۔ تم خود بھي جانو اور دوسروں تک بھي يہي پيغام پہنچاو کہ

هو الله احد ۔۔۔

وہ خدا يکتا ہے۔

نظام کائنات ميں ہم آہنگي اور نظم خدا کے واحد ہونے کي دليل ہے۔

خدائے حقيقي و لا شريک ان خداوں کے مثل نہيں ہے جو دوسرے مذاہب، پرانے اور خرافات سے پر عقائد ميں خراب تھے بلکہ خدا تو ايسا ہي ہے نہيں کہ کوئي اس کا شريک يا ساتھي بنے يا کوئي اس کي اولاد ہو۔ پس اس بيان سے سمجھنا چاہئيے کہ کائنات کي تخليق کا ميدان خداو ں کے جھگڑے کا اکھاڑا نہيں ہے بلکہ کائنات کے تمام قوانين اور تمام نظاموں کو ايک ارادے اور ايک قدرت سے تربيت ديا گيا ہے اور يہي وجہ ہے کہ کائنات کي تخليق ميں ہم آہنگي ، ربط و تعلق اور نظم پايا جاتاہے۔

تمام مرتب شدہ قوانين ، تمام تبديلياں اور تمام حرکتيں جو طبعي لحاظ سے دنيا ميں رونما ہوتي ہيں سب ايک راستے پر جاري و ساري ہيں اور ان کا رخ اور ان کي منزل ايک ہي ہے۔ ان کے درميان صرف انسان ہي ہے جسے يہ قدرت حاصل ہے کہ وہ خود اپنے لئے فيصلہ کرے اور خدا کے عظيم نظام سے منہ موڑ کر تباہي و بربادي کے راستے کو اپنالے، نيا طريقہ اور سنت ايجاد کرے ، خود قوانين مرتب کرے اور ان کے مطابق زندگي بسر کرے يا پھر احکام خدا کے سامنے سر تسليم خم کردے اور خدا کے واضح کردہ بين اصولوں اور منفعت بخش قوانين پر اپني زندگي استوار کرے۔

الله الصمد

خدا بے نياز ہے

خد اکسي کا محتاج نہيں

وہ خداکہ جس کے سامنے سر جھکايا جاتا ہے، جس کي تعظيم کي جاتي ہے اور جس کي عبادت کے لئے اس کي بارگاہ ميں کھڑا ہوجاتا ہے، ان خيالي خداوں کے مثل نہيں ہے جنہيں اپني پيدائش اور زندگي کي بقائ کے لئے کسي کي مدد کي ضرورت ہو ، کوئي ان کي نگہداشت و نگراني کرے يا وہ کسي کي ہم کاري کے محتاج ہوں۔ دوسروں کا محتاج خدا اس قابل نہيں ہے کہ کوئي اس کي عزت و تعظيم کرے۔ اگر خدا دوسروں کا محتاج ہے تو وہ يا ايک انسان ہوگا يا اس سے بالاتر ليکن ہم اسے خدا نہيں کہہ سکتے۔

انساني وجود بہت عظيم ، اس کي زندگي بہت پر معني اور گہرائيوں والي ہے چنانچہ وہ کسي کي عظمت کا احساس ، اس کي بندگي اور تعريف اسي وقت کرے گا جب وہ يہ ديکھے گا کہ وہ ( خدا) ايسي قدرت کا مالک ہے جس ميں دوسروں کي محتاجي شامل نہيں۔وہ ہر ايک سے بے نياز ہے اور اس کا وجود ، اس کي طاقت اور ا س کي بقا کا انحصار اس کي اپني قدرت پر ہے۔


لم يلد ۔۔

۔۔۔ اس نے کسي کو پيدا نہيں کيا

ہمارے اور خدا کے درميان بندگي اور ربوبيت کا رشتہ ہے

ہمارا خدا ايسا نہيں ہے جيسا کہ لوگوں نے اپنے فضول خيالات ميں تراشا ہوا ہے اور جسے تحريف شدہ مذاہب اور شرک آميز عقائد ميں بيان کيا گيا ہے۔

وہ خدائي خيال جو عيسائيوں اور مشرکوں نے تخليق کيا ہے يعني جس خدا کا بيٹا يا کئي بيٹے ہوں ، ہم ايسے خدا کو قبول نہيں کرتے بلکہ ہم تو اس خدا کو ماننے والے ہيں کہ جس نے کائنات کي تمام چيزوں اور تمام انسانوں کو اپني قدرت و ارادے سے وجود کي نعمت دي ہے ليکن وہ ان سب کا باپ نہيں ہے بلکہ ان کا خالق ہے اور اس لحاظ سے آسمانوں اور زمين ميں زندگي بسر کرنے والے تمام جمادات ، نباتات ، حيوانات، انسان اور تمام چيزيں سب اس کے بندے ہيں نہ کہ اس کے بيٹے يا اولاد ، سب اس کے نظام قدرت کے تابع اوراس کي رحمت کے زير سايہ زندگي بسر کرنے والے ہيں اور يہي بندگي اور ر بوبيت کا رشتہ اس نے انسان اور اپنے درميان قائم کيا ہے جس کي وجہ سے خدا کے حقيقي بندے صرف خدا ہي کي بندگي کرتے ہيں اور اس کے علاوہ تمام بندگيوں سے خود کو آزاد قرار ديتے ہيں کہ زندگي ميں صرف ايک ہي خدا کي اطاعت ہوسکتي ہے نا کہ دو خداوں کي۔

خدا کي حقيقي بندگي کرنے والوں کے خلاف ايک طبقہ ايسا بھي ہے جو ان تمام حقائق اور عظمتوں کا نہ صرف انکاري ہے بلکہ مخالف بھي ہے۔ اس طبقے کا کہنا ہے کہ تمہارا خدا ايک مہربان باپ ہے۔ يہ طبقہ انسانوں کو خدا کا بيٹا قرار ديتاہے کيونکہ يہ طبقہ بندگي اور ربوبيت ( يعني تربيت کرنے ) کے رشتے کو خدا اور اس کي مخلوق کے درميان نامناسب خيال کرتا ہے اور نا ہي انساني عظمت اور اس کي کرامت و بزرگي کے لحاظ سے خدا کي بندگي کو درست شمار کرتا ہے اور اس مقدس رشتے کو ختم کرکے انسانوں کے لئے غير خدا کي بندگي کا دروازہ کھول ديتا ہے۔ يہ لوگ دوسروں کے مرتب کردہ نظاموں کے مطابق زندگي گذارنے اور ان کي بندگي کرنے کو ہي حق و حقيقت کا نام ديتے ہيں چنانچہ يہي وجہ ہے کہ انہوں نے ( دنيا کے ) بے شرف و بے حقيقت خداوں کي پرستش شروع کررکھي ہے ۔ ايسے لوگ خود اس امر کا سبب بنتے ہيں کہ لوگ خدا کي بندگي کے بجائے دوسروں کي غلامي کريں اور وہ خود بھي غلاموں کے مانند دوسروں کے آلہ کار بن کر اپني زندگي کو بربادي، ہلاکت اور تباہي کي طرف دھکيل رہے ہيں۔

ولم يولد

اور نا ہي اس کو کسي نے پيدا کيا

اس کا وجود کسي سے نہيں ہے

وہ کبھي پيدا نہيں ہوا اور نا ہي اس کے ساتھ ايسا ہے کہ وہ نہيں تھا اور نا ہي اس کے ساتھ ايسا معاملہ رہا کہ ايک دن ايسا آيا کہاس نے دنيا کي زندگي کو حاصل کيا کوئي ايسا نہيں ہے کہ جس نے اسے پيدا کيا۔ نا ہي کوئي ايسي فکر ، نظام اور طبقہ تھا اور نا ہي کوئي شکل انسانوں ميں ايسي تھي کہ وہ اس شکل سے خدا بن گيا ہو بلکہ وہ تو عظيم اور بالاترين ہستي ہے۔ ايسي حقيقت کہ جسے زوال نہيں ۔ وہ ہميشہ ہميشہ سے تھا اور ہميشہ ہميشہ رہے گا۔

ولم يکن له کفواً احد

اور کوئي ايک بھي اس کا کفو اور ہمسر نہيں۔

کائنات کا کوئي وجود اس کي برابري کي اہليت نہيں رکھتا

ايسا نا ممکن ہے کہ ہم کسي بے حقيقت اور محتاج کو خدا بناليں اور اسي طرح ہمارے لئے يہ بھي ممکن نہيں ہے کہ ہم کسي کو اس کا ہمسر وہم پايہ قرار ديں اور نا ہي ہم خدا کے زير اثر علاقوں اور اس کے احکامات کے بارے ميں ۔۔۔۔ جس ميں تمام کائنات اور تمام جہان شامل ہيں ۔۔۔۔۔۔ يہ کہہ سکتے ہيں کہ وہ کسي دوسرے کے درميان تقسيم ہوگئے ہيں اور نا ہي يہ ہوسکتا ہے کہ ہم کائنات کے ايک رخ اور انساني زندگي کے ايک پہلو کو خدا کي طرف سے خيال کريں اور کائنات کے دوسرے رخ اور انساني زندگي کے دوسرے پہلوو ں کو غير خدا سے وابستہ کرديں۔ غير خدا کون ۔۔۔ ؟ وہ سب جن کو خدا مانا جاتا ہے جاندار ہوں يا بے جان يا پھر اپني ربوبيت و قدرت کا دعويٰ کرنے والے المختصر ہم ان ميں سے کسي کو بھي خدائے حقيقي کے بر ابر درجہ دينے والے نہيں ہيں۔

خدا کي وحدانيت کا روشن مينارہ ۔۔۔ سورہ توحيد

يہ سورہ ۔۔۔۔ جيسا کہ نام سے ظاہر ہے ۔۔۔ حقيقتاً خدا کي وحدانيت اور کائنات ميں اس کے واحد و يکتا ہونے کي طرف متوجہ کرتا ہے جبکہ دوسري طرف اسي توحيد کي جانب قرآن مجيد ميں بار بار مختلف پيرايوں سے ہميں متوجہ کياگيا ہے اور قرآن کي سينکڑوں آيات ميں قسم قسم کے بيانات سے اس بات کو واضح کيا گيا ہے کہ اس کائنات کا مالک ايک ہے۔ تمام باطل عقائد کو ۔۔ جن ميں شرک شامل تھا ۔۔۔ اس سورے ميں بہت واضح طريقے سے بيان کيا گيا ہے اور ساتھ ہي ساتھ يہ بھي بيان کيا گيا ہے کہ تمام الوہيت ( خدائي) کے دعوے بے بنياد اور باطل ہيں۔

يہ سورہ تمام مسلمانوں بلکہ تمام جہان والوں کو اس خدا کي ۔۔ جو اسلام کي نظر ميں قابل پرستش اور قابل تعريف ہے۔۔۔۔ معرفت کرا رہا ہے کہ وہ خدا جو اکيلا نہ ہو، ايک نہ ہو ، وہ خدا کہ جس کي سينکڑوں بلکہ ہزاروں شبيہہ مخلوقات ميں بن سکتي ہيں ، اس قابل نہيں کہ وہ ہمارا رب اور معبود ہو۔ قدرت والي چيزيں اور صاحبان قدرت جو اپنے وجود اور اپني زندگي کي بقا کے لئے دوسروں کے محتاج ہيں ، خدا کيسے ہوسکتے ہيں اور جو خود اپني زندگي ميں دوسروں کا محتاج ہو وہ دوسروں کي مشکل کشائي ، دستگيري اور امداد کيونکر کرسکتا ہے؟ لہذا ايسے افراد کو بشريت کا معبود قرار دينا عقلاً نامناسب ہے۔

چنانچہ ايسے افراد جو جھوٹے خداوں کے سامنے ۔۔ جو خود اپنے وجود کي بقا کے لئے دوسروں کے محتاج ہيں ، جو پہلے نہيں تھے اور ان کو بعد ميں پيدا کيا گيا اور جن کے وجود کے لئے زوال و فنا لازمي ہے۔۔۔ ان کي عظمت کے لئے جھکتے ہيں انہوں نے حقيقتاً اپني انساني عظمت کو پامال کيا ہے اور اپني ذات اور انسانيت کو پستي کي جانب دھکيل ديا ہے لہذا سورہ توحيد کا ايک مثبت پہلو يہ ہے بھي ہے کہ حقيقتاً اس خدا کے وجود سے کيا جلوہ ظاہر ہوتا ہے، ہمارے معبود اور کائنات کو پالنے والے کي کيا پہچان اور کيا خصوصيات ہيں؟ ان تمام باتوں کو اس سورے ميں بيان کيا گيا اور اس کے ساتھ ساتھ تاريخ ميں جتنے جھوٹے اور خود ساختہ خدا گذرے ہيں ان کي بيکاري اور بے ثباتي کو بھي اس سورے ميں بيان کيا گيا ہے۔

خدا کي منع کردہ حدود سے تجاوز مت کرو

دوسري جانب يہ سورہ خدا پرستوں اور اسلام قبول کرنے والوں کو ہوشيار کر رہا ہے کہ خدا کي ذات اور اس کي صفات کے بارے ميں جو کچھ بيان کيا گيا ہے وہ کافي ہے اور يہ بھي بيان کيا گيا ہے کہ عقلي پيچيدگيوں اور دل ميں شبہ اور وسوسہ پيدا کرنے والي چيزوں ميں دلچسپي لے کر اپنے خيالات کو خراب مت کرو۔

اس مختصر بيان سے ہماري توجہ اس طرف بھي ہوتي ہے کہ خدائي کا دعويٰ کرنے والوں ميں تقديس کا کوئي وجود نہيں ہوتا اور نا ہي ان ميں ہماري ربوبيت کي قدرت ہے لہذا انہيں اپنے ذہن سے نکال کر ہميں چاہئيے کہ اس مختصر بيان ميں خدائے واحد کي طرف متوجہ ہوں اور اسے ياد کريں نہ کہ فلسفے کي گہرائي کي باتوں ميں اپنے آپ کو غرق کرديں اور ذہني الجھنوں ميں خود کو گرفتار کرليں بلکہ ہميں تو يہ چاہئيے کہ سورہ توحيد ميں بيان کردہ عقيدے کے مطابق آگے بڑھيں، اس توحيد کے ساتھ کام کريں اور اس کے مطابق اپنے ذہنوں کو آگے بڑھائيں۔ حضرت امام زين العابدين سے وارد شدہ ايک حديث ميں ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کو يہ معلوم تھا کہ تاريخ کے آئندہ زمانے ميں ايسے لوگ ہوں گے جو گہري فکر کے حامل ہوں گے اسي وجہ سے خدا نے سورہ توحيد اور سورہ حديد سے چند آيات

عليم بذات الصدور

تک نازل کيں تاکہ انسانوں کو پتہ چل جائے کہ خدا کي ذات و صفات کے بارے ميں کس حد تک ان کو تحقيق کرنے کي اجازت دي گئي ہے اور جو شخص خدا کي اس سورہ توحيد اور سورہ حديد ميں بيان کردہ حدود سے زيادہ باتوں کي گہرائي ميں جانے کي کوشش کرے گا سوائے اس کے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاکت ميں ڈالے گا ، کوئي اور نتيجہ نہيں نکلے گا۔

گويا سورہ توحيد نماز سے يہ کہتا ہے کہ خدا کا نظام (قدرت) ايک ہي ہے وہ واحد، عاليشان اور سب سے برتر ہے ، وہ خود غني اور بے نياز ہے، کسي کا محتاج نہيں ہے، نا ہي اس نے کسي کو پيدا کيا ہے اور نا ہي اس نے کسي سے وجود حاصل کيا ہے۔ اس جيسا ہم ميں کوئي نہيں اور نا ہي پوري کائنات ميں اس جيسا کوئي کام کرنے والا ہے۔ خدا کا عالم و بصير ہونا، اس کي رحمت اور اس کي دوسري صفات ۔۔ کہ جن کا جاننا اور پہچاننا ايک مسلمان کے لئے لازم و ضروري ہے جو اس کي زندگي کو شکل کو مقرر کرنے اور اسکي روح کے عروج و کمال کے لئے موثر ترين ہے، کو قرآن کي دوسري آيات ميں بيان کيا گيا ہے۔ لہذا جو کچھ سورہ توحيد ميں بيان کيا گيا ہے اس سے زيادہ خدا کي ذات کہ گہرائي ميں جانے کي ضرورت نہيں ہے اور نا ہي زيادہ گہرائي جسے خدا کي کيفيات کو سمجھنے کي ضرورت ہے ( صرف اتني ہي جتني خدا نے اجازت دي ہے) ۔ خدا کي صفات قرآن ميں پھيلي ہوئي ہيں کہ اگر تم ان کے مطابق زندگي ميں خد اکے لئے کام کرو گے تو عمل کي منزل ميں باقي معرفتيں تمہاري سمجھ ميں آتي چلي جائيں گي۔ اس فکر ميں مت پڑو کہ زيادہ بحث کرنے اور زيادہ گہرے خيالات کي طرف دلچسپي رکھنے سے تم خدا کي معرفت زيادہ حاصل کرسکتے ہو بلکہ تمہارا فريضہ تو يہ ہے کہ معرفت خدا کے حصول کے لئے اپنے دل و نفس کو صاف اور روحانيت کے حصول کي کوشش کرو تاکہ باطن ميں خدا کي طرف توجہ اور تعلق زيادہ ہو اور جب تم عمل کي منزل ميں آگے بڑھو گے تو معرفت کي تمام باتيں تمہيں خود معلوم ہوجائيں گي چنانچہ دنيا ميں جتنے پيغمبر اور صديقين تھے ، ان سب کا اور توحيد کے ماننے والوں اور عارفوں کا يہي حال تھا کہ خدا کي معرفت کے ساتھ انہوں نے آگے قدم بڑھائے۔


تسبيحات اربعہ

قبل اس کے کہ ہم رکوع اور سجدے کے ذکر اور ان کے ترجمے کي طرف توجہ ديں، نماز کي تيسري اور چوتھي رکعت ميں قيام کي حالت ميں بار بار پڑھے جانے والے ذکر کي وضاحت کرنا چاہتے ہيں ۔ يہ چار جملے دراصل چار ذکر ہيں جو خدا وند عالم کي حقيقت کو ظاہر کرتے ہيں۔

سبحان الله خدا ( تمام ) عيوب سے پا ک ہے۔

والحمد لله تعريف صرف خدا کے لئے ہے۔

ولا اله الا الله کوئي معبود نہيں ہے سوائے اللہ کے،

والله اکبر خدا بزرگ ترين ہے۔

جب انسان ان چار حقائق سے آگاہي حاصل کرتا ہے تو وہ خدا کے بارے ميں ايک حقيقي کيفيت حاصل کرتا ہے اور خدا کي طرف کامل توجہ کرتا ہے۔ يہ چاروں صفات جو اوپر بيان کي گئي ہيں وہ انسان کو عقيدہ توحيد کي ايک کيفيت کي طرف متوجہ کرتي ہيں اور انسان پر گہرے اثرات مرتب کرتي ہيں۔

الفاظ نماز کا پڑھنا خدائي صفات کي طرف توجہ دلاتا ہے

ان جملوں کو بار بار پڑھنا صرف اس لئے نہيں ہے کہ ہم صرف ذہني طور پر خدا کي معرفت حاصل کرليں ، خدا کے بارے ميں باخبر ہوجائيں اور خدا کے وجود کے بارے ميں اطلاعات ہمارے ذہن کي معلومات ميں اضافہ کرديں بلکہ خدا کي صفات و خصوصيات کو جاننے اور ان کو اپني زبان سے ادا کرنے کا سب سے بڑا فائدہ يہ ہے کہ ان صفات کي وجہ سے انسان ميں عمل کي طرف توجہ پيدا ہوتي ہے، انہي صفات کي وجہ سے انسان اپني ذمہ داري و مسؤليت ، اس کي اہميت اور دنيا ميں اپنے فريضے کي ادائيگي کا خيال کرتا ہے اور خدائي صفات کي جو معرفت اس نے حاصل کي ہے ، اس کے نتيجے ميں اپنے آپ کو بيکار اور خدائي قوانين سے آزاد خيال نہيں کرتا ہے بلکہ اپنے کندھوں پر ( الہي و انساني) ذمہ داريوں کے کوہ گراں کو اٹھانے کو تيار ہوجاتاہے۔

چنانچہ ان بيانات کي روشني ميں ہم مجموعي طور سے يہ کہہ سکتے ہيں کہ اسلام کے تمام عقائد کو ذہن ميں ( قيد) نہيں ہونا چاہئيے بلکہ انہيں انساني زندگي ميں عملي اور انسان کے اعمال و حرکات کو اسلامي عقائد کا مظہر ہونا چاہئيے۔

يہ عقائد صرف ہمارے ذہن کي خوشي و تسکين کے لئے بيان نہيں کئے گئے ہيں بلکہ وہ اس لئے بيان کئے گئے ہيں کہ خدا کي صفات انسانوں کي زندگي سے کيا تعلق و علاقہ رکھتي ہيں اور وہ ان کي زندگي سے کس چيز کي طلبگار ہيں ؟ خدا کي صفات کو اس لئے بھي بيان کياگيا ہے کہ انسانوں کو ان کي کامياب زندگي کا نقشہ بنا کر پيش کريں اور انہيں متوجہ کريں کہ ايک فرد کا عمل کيسا ہونا چاہئيے اور اسي طرح ايک معاشرے کا طرز عمل کيسا ہو؟ چنانچہ انہي عملي اثرات کي وجہ سے اسلام نے ان حقائق کو انسانوں سے متعارف کرايا ہے۔

يہ بات بالکل درست ہے کہ اسلام کے تمام عقائد معنوي لحاظ سے ايک واقعيت و حقيقت کو بيان کرتے ہيں ليکن صرف ان چند عقيدوں کو اسلام ميں ضروري قرار ديا گيا ہے جن پر اعتقاد و ايمان رکھنا ہر شخص پر لازم ہے اور جب انسان ان کو قبول کرتا ہے اور ان پر عمل کي پابندي کو اپنے لئے ضروري سمجھتا ہے تو اس ميں احساس ذمہ داري پيد اہوتا ہے اور وہ خيال کرتا ہے کہ اس کائنات ميں ميرا بھي کوئي فريضہ ہے۔ مجھے بھي کچھ کام ہيں اور ذمہ داريوں کے بوجھ سے ميرے کندھے خالي نہيں ہيں۔

توحيد کا عقيدہ انسان کو اس کي ذمہ داريوں کي طرف متوجہ کرتا ہے۔

خدا کے وجود ميں ہمارا عقيدہ اس قسم کا ہے کہ خدا کے ہونے اور نا ہونے کے بارے ميں اعتقاد رکھنا دونوں انسان کي زندگي اور عمل پر مختلف اثرات مرتب کرتا ہے۔ ايک شخص يا ايک معاشرے کي ۔۔۔ جو حقيقي معني ميں خدا کے وجود کا اعتقادي ہے ۔۔۔۔ زندگي کي شکل اور طور طريقہ اور قسم کا ہوگا اور وہ فرد يا معاشرہ جو خدا کے وجود کا انکاري ہے ، اس کي زندگي کي شکل بھي اور ہي قسم کي ہوگي۔

اگر انسان اس بات کا معتقد ہو کہ اسے اور پوري کائنات کو پيدا کرنے والي ہستي صاحب قدر ت و ارادہ ہے اور اسي نے ہميں حکمت و شعور سے نوازا ہے۔۔۔۔ تو وہ يہ خيال کرے گا کہ ميري زندگي کا بھي ايک مقصد ہے ، ميري زندگي کا ايک مخصوص راستہ ہے جس پر مجھے چلنا ہے اور اپني منزل تک پہنچنا ہے جو کہ مجھے حد درجے محبوب ہوني چاہئيے اور اس طرح وہ دل سے يہ بھي قبول کرتا ہے کہ اسے اپنے مقصد و منزل تک پہنچنے کے لئے ايک راستہ اور نقشہ تيار کيا گياہے کہ ميں اس کے مطابق عمل کروں اور يہي احساس ذمہ داري اور احساس ادائيگي فريضہ اس ميں کام کرنے کي طرف رغبت پيدا کرتا ہے اور اپني ذمہ داريوں کي تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عقيدے کي وجہ سے انسان ميں آگے بڑھنے کي ہمت پيدا ہوتي ہے اور وہ عظيم ذمہ داريوں کے کوہ گراں کو اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے لئے تيار ہوجاتا ہے اور پھر ان سب سے بڑي بات يہ ہے کہ وہ ان کاموں کي انجام دہي ميں راضي رہتا ہے اور خوشي کا احساس کرتا ہے۔تمام اصول دين انسان کے راہ کمال کو اس کے سامنے واضح کرتے ہيں

يہي صورتحال قيامت ( معاد) کے عقيدے کي ہے جو انسان کي زندگي پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے اور اسي طرح نبوت و امامت کا عقيدہ ذمہ داري اور فريضے کو انسان کے دوش پر مقرر کرتا ہے، اس کي زندگي کے راستے کو واضح کرنے ، زندگي کے پروگرام کو تعيين کرنے اور زندگي کي سمت کو مشخص کرنے کے ساتھ ساتھ اس کي زندگي کو دوسروں کي زندگي سے ممتاز بناتا ہے۔

غلط مشاہدہ

اگر ہم اس بات کا مشاہدہ کريں جو زندگي آج ہم دنيا ميں ديکھ رہے ہيں ، اس ميں اسلام کے اصول و قوانين کے پيروکاروں اور معتقد لوگوں کي زندگي ان لوگوں کي زندگي کے ہم رنگ اور يکساں ہے جو نا صرف اسلامي اصول و قوانين سے بے خبر ہيں بلکہ ان پر اعتقاد کے انکاري بھي ہيں يعني اسلامي اور غير اسلامي لوگ جو اس دنيا ميں ايک جيسي زندگي گذار رہے ہيں اس کي بنيادي وجہ اور اولين سبب يہي ہے کہ توحيد کا اعتقاد رکھنے والوں کي اطلاعات درست نہيں ہيں اور نا ہي انہوں نے درست سمت ميں آگاہي حاصل کي ہے يا اگر اعتقاد سے آگاہ و باخبر ہيں بھي تو نہ ان کے ايمان نے ان کے دل پر اثر کيا ہے اور نا ہي اسلامي عقائد کو انہوں نے دل سے قبول کيا ہے لہذا زندگي کے بہت سے حساس مواقع پر۔۔۔۔۔ جہاں انسان کے دل کي توجہات ہوتي ہيں ۔۔۔ غور کيا جائے تو وہ لوگ جو حقيقت ميں ان اسلامي عقائد کے معتقد ہيں ، ان کي زندگي کا طور طريقہ اور کيفيت ان لوگوں سے جدا اور مختلف نظر آئے گي جو اسلامي عقائد کے سلسلے ميں ناآگاہ ہيں اور صرف زندگي کي فرصت سے فائدہ اٹھانے والے ہيں ان چند قابل توجہ باتوں کے بعد ہم واپس ان چار ذکر کي طرف پلٹتے ہيں کہ ان ميں کن معني کي طرف توجہ مبذول کرائي گئي ہے۔

سبحان الله

خدا کي تعريف تمام نيکيوں اور اچھائيوں کي تعريف ہے

خدا تمام برائيوں سے پاک و پاکيزہ ہے اور اچھائيوں والا ہے، نا ہي اس کي ذات ايسي ہے کہ کوئي اس کے کاموں ميں اس کا شريک ہو اور نا ہي اس کے کام ظلم پر مبني ہوتے ہيں ۔نا وہ کبھي مخلوق تھا اور نا ہي اس کے کام کبھي حکمت و مصلحت کے خلاف رہے ہيں۔ اسي طرح اس کے تمام نقائص اور خرابيوں سے بھي پاک ہيں اور اسي طرح وہ ان تمام صفات سے جو مخلوقات کے لئے لازمي ہيں ، پاک ہے۔

نمازي جب يہ جملہ ادا کرتا ہے تو وہ اس کي عظمت اور تمام عيوب اور تمام عيوب سے اس کي پاکيزگي کو سمجھتا ہے اور احساس کرتا ہے کہ وہ جس ذات کے مقابل کھڑا ہے کيا عظيم ذات ہے۔۔۔ ! وہ اس قابل ہے کہ اس کي تعريف کي جائے ۔۔ ! وہ عظيم ہے کہ اس کے سامنے سر جھکايا جائے اور اس کي عظمت کا احساس کيا جائے۔

نماز پڑھنے والا احساس کرتا ہے کہ خدا کي تعظيم ہے اور خدا کے سامنے سر جھکانا اور اصل نيکي اور کمال مطلق کے سامنے سرجھکانا ہے۔ اگر کسي ( انسان) کو يہ خيال ہ کہ خداوند عالم کي ذات تمام عيوب سے پاک اور تمام خوبيوں اور نيکيوں والي ہے تو کيا وہ خدا کي عظمت کا احساس کرنے ميں ذلت و حقارت محسوس کرے گا ، ہوسکتا ہے کہ ذلت و حوارت کا تعلق دنيا اور دنيا والوں کي تعريف کرنے سے ہو۔

خدا کي ذات ۔۔۔ تمام اچھائيوں ، خوبيوں اور تمام کمالات کا بحر بيکراں

اسلام نے جو نماز ہميں سکھائي ہے وہ ايک ذات کے سامنے سر جھکانا ہے ، ايسي ذات کي تعريف کرنا ہے جو تمام کمالات ، خوبيوں اور تمام حسن و جمال کا بحر بيکراں ہے کہ جس کا نہ کوئي ساحل ہے اور نا کوئي کنارہ اور نا ہي اس کي گہرائي کا اندازہ لگايا جاسکتا ہے۔ لہذا نماز خدا کي ايسي تعظيم نہيں ہے جيسا کہ دنيا اور دنيا والوں کي تعظيم جو انسان کو ذليل کرديتي ہے اور اس کي عزت و شرافت کو گھٹا ديتي ہے۔ خدا کي تعريف ايسي نہيں ہے جو آدمي کو حقير کردے اور جس کي وجہ سے انسان خواري کا احسا س کرے۔

انسان ہي وہ وجود ہے جو کسي کے حسن و جمال کا بخوبي اندازہ لگاسکتا ہے۔ انسان خود بھي مطلق کمال و جمال کا متلاشي ہے کہ جہاں کہيں ماديت کے صحرا ميں اسے اچھائيوں اور کمالات کا نخلستان ملتا ہے اور اسے حاصل کرنے اور اس سے فائدہ لينے کي کوشش کرتا ہے چنانچہ اس لحاظ سے يہ بات فطري معلوم ہوتي ہے کہ انسان ديکھے کہ ايک ذات ايسي ہے جس ميں تمام کمالات ، اچھائياں ، خوبياں اور جمال بہ درجہ اتم موجود ہيں تو ا سکے سامنے خاک پر اپنا چہرہ رکھ دے اور وہ ذات کہ جس ميں تمام خوبياں اور اچھائياں سو فيصد اپنے عروج پر ہيں ، اس قابل ہے کہ اس کي پرستش اور تعريف کي جائے۔

خدا کي ہي تعريف کرنے سے انسان راہ کمال کو اختيار کرے گا

خدا کي پرستش و تعريف کرنے سے انسان نيکي اور کمال و جمال کي راہ کو اختيار کرنے کي کوشش کرے گا، کمال کو ( اپنے لئے ) اچھا سمجھے گا اور اسے حاصل کرنے کي کوشش کرے گا ، خود بھي حسن و جمال کي تعريف کرے گا اور اپنے اعمال ميں بھي حسن و جمال کے نور کا خواہشمند ہوگا اور حقيقتاً خدا کي پرستش و تعريف کرنا ہي انسان کي زندگي کو کمال و جمال اور نيکي کي راہ اور اس کي اپني منزل کي سمت قرار دے گا۔

مگر کچھ ايسے بھي لوگ ہيں جنہوں نے اسلام ميں نماز اور عبادت کو انسان کي ذلت اور اس کي عزت ميں کمي کے مترادف خيال کيا۔ انہوں نے خدا کي عبادت کو دنيا کي مادي طاقتوں کے سامنے سر جھکانا گردانا۔ وہ خيال نہيں کرتے تھے کہ سر جھکانا کسي مادي ذات کي طرف نہيں ہے بلکہ نيکيوں اور پاکيزگي کے سامنے سرجھکانا اور سر بسجود ہونا ہے۔ لہذا اگر ہم نيکي ، پاکيزگي اور دوسري صفات کے حصول کا جذبہ بيدار ہوگا اور يہي وہ نکتہ ہے کہ جسے ہم کہہ سکتے ہيں کہ سبحان اللہ ۔۔۔ ہميں درس ديتا ہے جسے اوپر بيان کيا گيا ہے۔

والحمد لله

انسان کي جہالت

رنج و الم سے پر تاريخ ميں انسان اپني زندگي کي بعض مختلف حاجات کي وجہ سے اپني زندگي کو چھوٹي سطح اور چھوٹے درجے پر بہتر بنانے کا خواہش مند رہا ہے۔ کبھي ممتاز و مشہور شخصيت بنانے کي خاطر تو کبھي چند روز زيادہ زندہ رہنے کي خاطر حتيٰ کہ اکثر مواقع پر روٹيوں کے چند ٹکڑوں کي خاطر، جو ا سکي زندگي کي بقا کا سبب ہوں۔ انسان اپنے ان دنياوي مقاصد کے لئے دوسروں کي غلامي اور اپني ذلت کو برداشت کرتا رہا جبکہ وہ دوسرے جن کي اس نے غلامي کي ، خلقت ميں اسي جيسے اور اسي کے ہم پلہ تھے۔ ان ميں سے کسي ايک ميں بھي کوئي ايسي قابليت نہيں تھي کہ ان کے سامنے سرجھکايا جاتا مگر انسان چند روزہ زندگي کي خاطر ان کے سلسلے ميں غلطي کا شکار رہا، اپاني زبان سے ان کي تعريف اور شکر گذاري کرتا اور اپنے بدن و روح کو ان کے سامنے سر جھکا کر ذليل کرتا رہا۔

اس نے ايسا اس وجہ سے کيا کہ وہ جہالت ميں مبتلا تھا کہ يہ نعمت ، يہ روٹي ، يہ عزت ، يہ دنياوي عظمت ، يہ عہدہ اور يہ ميري نماياں شخصيت ان بندوں کي مرہون منت ہے اور ان دنياوي نعمتوں کا وجود صرف انہي کے دم سے ہے لہذا اس نے خود کو بدن و روح دونوں کے اعتبار سے ان کے سامنے غلام خيال کيا اور وہ ان مختصر ، فاني اور زوال پذير دنياوي نعمتوں کے حصول کے لئے نعمت کے ( ظاہري) مالک کي غلامي کے لئے تيار ہوجاتا ہے ان کي چمچہ گيري ، چاپلوسي اور خوشامد شروع کرديتا ہے۔

خدا مالک ہے نا کہ يہ مجبور و کمزور لوگ

اس کے مد مقابل ہمارا نماز ميں يہ ياد کرنا کہ تمام تعريفيں اور تمام شکريہ صرف خدا کے لئے ہيں ہميں يہ سمجھاتا ہے کہ تمام چيزيں اور تمام نعمتيں سب خدا کي طرف سے ہيں اور وہي سب کچھ دينے والا ہے۔ خدا کي تعريف کرنا ہميں متوجہ کرتا ہے کہ يہ صرف آنکھوں کا دھوکہ اور دل کا بہلاوا ہے کہ ہم نعمتوں کو دوسروں کي طرف سے قرار دے رہے ہيں مگر حقيقتاً ان ميں سے کوئي بھي اپني کسي بھي چيز کا مالک نہيں۔الحمد للہ ۔۔ ہميں يہ بتاتا ہے کہ تمام مال و نعمت کا مالک خدا ہے ناکہ مجبور لوگ۔ يہ لوگ مال اور نعمت کي وجہ سے انسانوں کو اپنا غلام و اسير بنانا چاہتے ہيں اور انہيں اپنا مطيع و فرمانبردار بنا کر ان سے اپنے احکام کي اطاعت کے خواہشمند ہيں ، يہ انسانوں کو اپنا بندہ بنا کر انہيں اپنے اشاروں پر نچوانا چاہتے ہيں۔

نماز ہم انسانوں کي کمزور روحوں کو ۔۔۔جو تھوڑے اور معمولي مال و دولت کے لئے پريشان رہتي ہيں، دنياوي لذات کي طرف جھکنے والے ہمارے دلوں اور نعمتوں کي طرف ہماري فريفتہ اور عاشق آنکھوں کو يہ سبق ديتي ہے کہ ان دولت مندوں کي تھوڑي سي بخشش و رحمت و عنايت کو کوئي حيثيت نہ دو اور بظاہر جو لوگ تمہيں اور سارے جہان کو پال رہے ہيں وہ کسي حقيقت کے حامل نہيں ہيں لہذا ان کے سامنے غلامي کے لئے سر مت جھکاو۔ يہ کيا چيز ہيں؟ اور يہ کيا حيثيت رکھتے ہيں؟ يہ خدا ہے کہ جس نے يہ سب اسباب پيد اکيے ہيں لہذا اگر وہ تم کو دنياوي نعمات سے محروم رکھيں تو خاموشي مت اختيار کرو ، ان کے ظلم و ستم کو برداشت مت کرو، ان لوگوں نے مال خدا کو ۔۔۔ جو تمہارا حق ہے ۔۔ جمع کيا ہوا ہے ، يہ ظالم و غاصب ہيں اور اس طرح انہوں نے تمہاري روزي کو اپني گرفت ميں ليا ہوا ہے چنانچہ ان کو مالک نا سمجھو اور نا ہي ان کي خوشامد کرو۔


ولا اله الا الله

يہ اسلام کا نعرہ ہے جو يہ ثابت کرتاہے کہ پوري کائنات ميں صرف ايک ہي نظام جاري و ساري ہے۔ يہ نعرہ و آئيڈيا لوجي ہے جو کائنات کے مطالعے ميں مختلف نظر آتي ہے مگر حقيقت ميں ايک ہي ہے۔ اس نعرے ميں ايک بات کا انکار ہے اور ايک بات کا اثبات و اقرار۔

انکار يہ ہے کہ دنيا کي تمام طاغوتي اور سرکش طاقتوں اور تمام غير الہي نظاموں کو يکسر مسترد کرديا جائے کہ ان ميں سے کوئي بھي قدرت کا مالک نہيں ہے سوائے خدا کے اور اس انکار سے انسان خو دکو ان کي غلامي سے نجات دے۔

نا م نہاد بڑي طاقتوں اور شيطاني قوتوں کي آرزو

تمام شيطاني طاقتيں اور نظام ہميشہ اس بات کے آرزو مند رہے ہيں کہ ان کے اصول و قوانين کي پيروي کي جائے۔ ان کے دست و بازو کي طاقتيں اور ذہني اختراع ہم سے يہ مطالبہ کرتي ہيں کہ خدا سے انحراف کے راستے پر قدم بڑھاو ليکن ہم لا الہ الا اللہ کے ذريعے سے ان کي تمام خواہشات کو مليا ميٹ اور اميدوں کو قطع کرديتے ہيں خدا کي قدرتوں کے علاوہ تمام قدرتوں ، تمام غير الہي اور خدا کے پسنديدہ جذبات کے علاوہ تمام جذبوں کو يہ جملہ ختم کرديتا ہے اور نمازي تمام غير الہي نظاموں کي نفي کے ساتھ خود کو تمام ہستيوں ، غلاميوں ، ذلتوں اور ہر قسم کے لوگوں کي ہر قسم کي بندگي سے آزاد قرار ديتا ہے۔ اس وقت وہ يہ سمجھتا ہے کہ صرف خدا ہي کا فرمان پيروي کے قابل ہے اور صرف خدا ہي کے ارادے سے کائنات کا نظام جاري و ساري ہے يعني ايک اسلامي معاشرے کے نظريے کو ۔۔۔ جو دنيا ميں حقيقي معنوں ميں عملي ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔ ايک مسلمان لا الہ الا اللہ کے ذريعے سے اسے ضروري سمجھتا ہے اور خدا کي بندگي کو قبول کرکے باقي تمام بندگيوں کو نامناسب اور بے کار و بے فائدہ خيال کرتا ہے۔

خدا کي بندگي سے کيا مراد؟

بندگي خدا سے کيا مراد؟ بندگي خدا يعني حکمت سے بھرپور احکامات خدا کے زير سايہ اپني زندگي کو بہتر بنانا اور نظام الہي کے مطابق ۔۔۔۔ جو خدا کے واضح کردہ خطوط اور بيان شدہ احکام کے ذريعے ترتيب ديا گيا ہے ۔۔۔ زندگي بسر کرنا اور اپني تمام قدرت و فکر کو اسي قانون خد اکے نفاذ کے لئے استعمال کرنا تاکہ پوري دنيا اسي کے ساتھ حرکت کرے۔

اسلام کے علاوہ تمام نظاموں کي بنياد غلط افکار و نظريات پر ہے

خدا کے نظام کے علاوہ زندگي بسر کرنے کے لئے لوگوں نے جو دوسرے قوانين اور نظام بنائے ہيں وہ صرف ايک انسان کي فکر کا نتيجہ ہوتے ہيں جو صرف اسي انسان کي فکر کے محور پر گردش کرتے ہيں۔ ايسے غير الہي نظام اور اصول و قوانين اپنے دامن ميں عوام الناس کے لئے بہت سي خرابياں سميٹے ہوئے ہيں اور جو جہالت کي ظلمتوں سے اپنا سفر شروع کرتے ہيں۔ ايسے غير الہي نظام جو نا صرف انسان کي حقيقي سعادت و کاميابي سے بے خبر ہيں بلکہ ان کي بنياد غلط افکار و نظريات پر قائم ہے اور ايسے نظام و قوانين پر عمل پيرا ہوکر انسان نا ہي کامياب ہوسکتا ہے اور نا ہي اپني منزل کمال تک کہ جہاں اسے پہنچنا چاہئيے ۔ ۔۔۔ پہنچ سکتا ہے۔

صرف وہ معاشرہ ( سوسائٹي) اور نظام الہي ہے جسے خدا نے بنايا ہے جو حکمت سے پر ہے اور جسے خدا نے اپني رحمت کو ظاہر کرنے کے لئے بنايا ہے کيونکہ خداوند عالم کو انسانوں کي حاجتوں کا علم ہے اور وہ اس بات سے بھي آگاہ ہے کہ انسان کي يہ حاجتيں کن ذرائع سے پوري ہوسکتي ہيں چنانچہ اس نے انسانوں کے لئے قانون بنايا ہے تاکہ ( ہم ) انسان اپنے وجود کو ۔۔۔۔ جو ابھي ايک چھوٹے سے پودے کي شکل ميں ہے ۔۔۔ کمال تک پہنچيں۔

عوام الناس کي بہتري صرف اسلام ہي کے ذريعے ممکن ہے

ہم ان تمام نظاموں کے جو دوسروں کے بنائے ہوئے ہيں ۔۔۔۔ دشمن نہيں ہيں ، ہم ان کي قدر داني کرتے ہيں ليکن جو باتيں ميں عرض کررہا ہوں ۔۔۔۔ وہ انبيائ کي ہيں اور تمام انبيائے خدا عالم بشريت کے لئے ايک درد مند باپ کي حيثيت رکھتے ہيں ۔ لہذا وہ لوگ جو اس بات کے خواہشمند ہيں کہ عوام الناس کي زندگي کو بہتر بنائيں اور ايسے مکانات بنائيں کہ جن ميں انساني زندگي بہتر اور ٹھيک طور پر بسر ہوسکے يعني وہ لوگ جو معاشرے اور سوسائٹيوں کو آباد کرنا اور انہيں سنوارنا چاہتے ہيں ، ان لوگوں کو انبيائ نے يہ درس ديا اور يہ نصيحت کي کہتم جو ان عوام الناس کي تربيت کرنا چاہتے ہو ، نظام الہي کے سوا کسي اور نظام سے تربيت نہيں کرسکتے اور خدائے وحدہ لا شريک نے جو نظام مقرر کيا ہے ، عوام صرف اسي کے ذريعے کامياب و کامران ہوسکتے ہيں۔

تاريخ نے يہ بات ثابت کردي ہے اور ہم نے بھي ديکھا اور آئندہ بھي ديکھتے رہيں گے کہ وہ نظام جو خدا کے علاوہ لوگوں نے بنائے ہيں ان کے نتيجے ميں عوام الناس نے کيا کيا تکليفيں اٹھائيں، کس کس طرح انسانوں کي شخصيت کو پامال کيا گيا اور انسان کس کس طرح کي عذاب والي زندگي سے دوچار ہوا۔

والله اکبر

پس ہر قسم کے غير الہي نظاموں کا انکار کرنے کے بعد ايک معمولي انسان زمانہ جاہليت کي باتوں کو ديکھ کر اپنے يکتا و تنہا ہونے کا احساس کرتا ہے اور تنہائي سے گھبراتا ہے کہ مير اکوئي مددگار نہيں ہے جبکہ ميں خدا کے راستے پر قدم بڑھانے والا ہوں اور جب وہ اپني نظريں آگے دوڑاتا ہے تو زندگي گذارنے کے تمام نظاموں کو ۔۔۔ جن کو ابھي تک اچھا اور شاندار سمجھتا تھا ۔۔ بيکار و فضول خيال کرتا ہے ليکن جب زمانہ جاہليت کے لوگوں کي زندگي پر نظر ڈالتا ہے تو ان کي زندگي ايک پہاڑ کي مانند اس کي جانب رخ کيے نظر آتي ہے اور وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ وہ جن چيزيں اور قدرتوں کي نفي کررہا ہے وہ اس کے سامنے جلوہ افروز ہيں اور اپني شان و شوکت کا مظاہرہ کررہي ہيں۔ زمانہ جاہليت کے نظاموں کي شان و شوکت اسے خوف زدہ کرتي ہے اور يہي وہ لمحہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ اکبر ۔۔۔۔ اللہ ان تمام باتوں سے بزرگ تر ہے، وہ تمام لوگ ، تمام قدرتوں اور ان تمام طاقتوں سے بھي جو لوگ ظاہر کررہے ہيں ، بڑا ہے اور وہ ا س سے بھي بزرگ ہے کہ ہم اس کي تعريف کريں۔

خدا ئي نظام سے وابستگي نجات اور کاميابي کي علامت ہے

کائنات کو چلانے کے لئے جو اصول و قوانين مرتب کيے گئے ہيں اور جو نظام جاري وساري ہيں خواہ وہ دنيا کے مادي قوانين ہوں يا تاريخ کے ، سب کے سب خدا ہي کے قوانين ہيں ۔ پس وہ يہ خيال کرتا ہے کہ انتہائي درجے کي سعادت و کاميابي اسي وقت ممکن ہے کہ جب ميں خود کو ان قوانين اور الہي سنتوں سے وابستہ کرلوں گا۔ حقيقي نجات صرف خدائي اصولوں کي پابندي اور ان کے مطابق زندگي گذارنے ميں ہے اور دنيا ميں صرف وہي لوگ کامياب ہيں جو تاريخ بشريت ميں ہونے والي کشمکش ميں صرف خدا کے اطاعت گذار رہے۔

انسان کامل کا ايمان

حضرت محمد نے اس حقيقت کو اچھي طرح سمجھا تھا کہ لوگ کچھ نہيں کرسکتے بلکہ خدا ہي سب کچھ کرنے پر قادر ہے اور آپ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس بات پر ايمان کامل رکھتے تھے اور اس کا احساس کرتے تھے چنانچہ يہي وجہ تھي کہ آپ نے تن و تنہا مکے کے تمام گمراہوں کے سامنے قيام کيا تھا بلکہ آپ پوري دنيا کے مقابل کھڑے ہوگئے اور آپ جيسي ہي شخصيت سے ايسي پامردي، استقامت اور ہمت کي اميد کي جاسکتي ہے چنانچہ آپ نے استقامت کے ساتھ اپني کوشش کے ذريعے اس زمانے کي گمراہ انسانيت کے قافلے کو ۔۔۔ جو اپني منزل کي راہ کو گم کرکے مختلف خود ساختہ خداوں کے پاس بھٹک رہا ٹھا، اس بات پر آمادہ کيا کہ وہ طاغوتي طاقتوں کے پيچھے نہ چلے۔ اس طرح آپ نے ان گمراہوں کو ذلت و غلامي کے راستے سے نجات دلائي اور انہيں اس راستے پر گامزن کيا جو فطرت اور ان کے کمال کا راستہ تھا۔ با الفاظ ديگر آپ نے ان کو تاريکي و ظلمت سے نکال کر نور ميں لاکھڑا کيا۔

لہذا وہ شخص جو انسانوں کے درميان تھوڑي بہت قدرت رکھنے والے لوگوں ، ان کے ظلم و زيادتيوں اور سختيوں کے مقابلے ميں اپنے آپ کو چھوٹا اور کمزور سمجھتا ہے اور خود کو بے ارادہ ۔۔۔ کہ ميں کچھ بھي نہيں کرسکتا ہوں، خيال کرتا ہے کہ وہ اس نکتے کو سمجھ لے اور اس بات پر صدق دل سے ايمان لے آئے کہ يہ طاقتور لوگ اور ان کي طاقتيں کوئي حيثيت نہيں رکھتي ہيں کيونکہ ان سب سے بڑي بلکہ سب سے برتر طاقت خدا ہے ، تو اس کے دل کو سکون و اطمينان نصيب ہوگا اور اس کے باطن ميں اميد خدا کي آگ روشن ہوگي کہ خدا کي مرضي کے بغير يہ طاقتيں ميرا کچھ نہيں بگاڑ سکتيں اور يہي اطمينان و سکون اور خدا سے اميد اسے عظيم اور کامياب ترين انسان بنا دے گي۔

يہ تھا تسبيحات اربعہ کے چار ٹکڑوں کے فوائد و مقاصد کا خلاصہ جو يہاں بيان کيا گيا کہ جن کي ہم تيسري اور چوتھي رکعت ميں قيام کي حالت ميں تکرار کرتے ہيں۔


رکوع

نماز پڑھنے والا قرآت کے بعد رکوع ميں چلا جاتا ہے (٢٧) يعني خدا کے سامنے جو انساني فکر کي آخري حدود سے بھي آگے اور بالاتر اور تمام نيک صفات اور عظمتوں کا حامل ہے، اپنے سر کو اس کي تعظيم کے لئے جھکا ديتا ہے۔

رکوع خدا کي قدرت کے سامنے انسان کے خضوع اور اس کے دل ميں خدا کي عظمت کو ظاہر کرتا ہے اور مسلمان چونکہ خدا کو عظيم قدرت سمجھتا ہے تواس کے سامنے رکوع ميں جھک جاتا ہے اور چونکہ وہ کسي کو بھي خدا کے سوا انسانيت سے بلند و بہتر خيال نہيں کرتا ہے لہذا کسي بھي ايک شخص اور کسي بھي چيز کے سامنے اپنے سر کو جھکانے کے لئے تيار نہيں ہوتا ہے، چنانچہ ايسي حالت ميں اپنے بدن کو خدا کے سامنے خضوع يعني جھکانے کي حالت ميں لے آتا ہے اور اپني زبان سے خدا کي حمد اور عظمت کو بيان کرنا ضروري سمجھتا ہے۔

سبحان ربي العظيم وبحمده

پاک و بے عيب ہے ميرا رب جو عظيم ہے اور ميں اس کي تعريف کرتا ہوں۔

يہ عمل کہ جس کے ساتھ ساتھ اس کي زبان بھي حرکت کرتي ہے ۔۔۔۔ نماز پڑھنے والے اور ان تمام لوگوں کو جو اس کي اس حالت کو ديکھتے ہيں کہ يہ انسان کے سامنے خضوع کے ساتھ اپنے سر کو جھکا رہا ہے ، ظاہر کرتا ہ کہ وہ خدا کي بندگي کا اقرار کررہا ہے اور چونکہ وہ خدا کا بندہ ہے لہذا غير خدا کا بندہ نہيں ہے اور حقيتقاً وہ انسان کے سامنے جھک کر واضح طور پر علي الاعلان اپني سعادت و سرفرازي اور دوسروں کي بندگي سے اپني آزادي کا اعلان کرتا ہے۔

سجدہ

پس جب نمازي رکوع سے سر اٹھاتا ہے تو ايسي حالت ميں ہوتا ہے کہ گويا وہ ايسي تعظيم و بندگي کے لئے آمادہ ہے جو پہلے سے بھي زيادہ ذلت کے ساتھ ہو يعني وہ خود کو خاک پر گرادے گا۔

پيشاني کو خاک پر رکھنا انسان کے خضوع اور ذلت کي آخري حد ہے اور انسان کا اس حد تک خضوع يعني ذلت کے ساتھ جھکنا صرف ايک ذات يعني خدا کو عظيم و بزرگ سمجھنے کي وجہ سے ہے۔

خدا کے سامنے سر جھکانا، دراصل تمام اعليٰ صفات، تمام نيکيوں اور تمام حسن و جمال کے سامنے سر جھکانا ہے لہذا انسان اپنے خدا کے سامنے اس طرح سر جھکانے کے بعد کسي بھي انسان اور کسي بھي چيز کے سامنے سر جھکانے کو حرام اور نامناسب سمجھتا ہے کيونکہ وہ يہ جانتا ہے کہ انساني وجود وہ گوہر ناياب ہے جو بازار ہستي ميں سب سے زيادہ قيمتي اور لائق عزت ہے کہ اگر انسان غير خدا کے سامنے سر جھکائے تو نا صرف اس سے انسان کي عزت ختم ہوجاتي ہے بلکہ انسان پستي و ذلت کے تاريک کنويں ميں اپنے آپ کو گرا کر ذلت و خواري کا طوق اپني گردن ميں ڈال ليتا ہے۔

ايسي حالت ميں ۔۔۔ جبکہ وہ اپنے سر کو خاک پر رکھے ہوا ہے۔۔۔ وہ خود کو عظمت خدا ميں غرق ديکھتا ہے۔ اس کي زبان سر جھکي ہوئي حالت ميں انہي خيالات کو ظاہر کرتي ہے اور وہ اپني زبان سے ذکر خدا جاري کرتا ہے جو کہ حقيقت ميں اس کے اسي عمل کي تفسير ہوتاہے۔

سبحان ربي الاعليٰ وبحمده

پاک و بے عيب ہے ميرا رب جو سب سے اعليٰ ہے اور ميں اس کي تعريف کرتا ہوں خداوند عالم جو سب سے برتر و اعليٰ ہے جو تمام نيک صفات کا حامل اور ہر نقص و عيب سے پاک ہے اور تمام ہستيوں ميں تنا وہي ايک ہے جو اس لائق اور قابل ہے کہ انسان زبان سے ا سکي حمد و ستائش بيان کرے اور اس کے سامنے خاک پر اپنے چہرے کو رکھ دے۔

پس نماز کا سجدہ ۔ ۔۔۔۔ جو خاک پر سر رکھنا ہے ۔۔۔۔۔ کسي ايسي ذات کے لئے نہيں ہے جو کمالات کے لحاظ سے ناقص اور کمزور و ضعيف ہے۔ اسي طرح نماز کا سجدہ نا ہي ان بتوں کے لئے ہے کہ جن کے سامنے لوگ اپنے سروں کو جھکا ديتے ہيں اور نا ہي نماز کا سجدہ ان گھٹيا قدرتوں کے لئے ہے جو اندر سے کھوکھلي اور بے حقيقت ہيںبلکہ سجدے ميں خاک پر سر رکھنا دراصل اس کے لئے ہے جو کائنات ميں اعليٰ ترين ، ہر عيب سے پاک اور تمام عظمتوں ، خوبيوں اور کمالات والا ہے۔

نماز پڑھنے والا سجدے ميں سر کو جھکا کر يہ اعلان کرتا ہے کہ وہ خدا حکيم و بصير کا فرمانبردار اور اطاعت گذار ہے اور وہ اپنے اس تسليم ( سر جھکانے) اور حکم خدا کي فرمانبرداري سے خود کو تلقين کرتا ہے اور اپنے دل کو ياد دلاتا ہے اور جيسا کہ اس سے قبل ہم جان چکے ہيں کہ يہ نظريہ کہ عبادت و بندگي صرف اور صرف خدا کے لئے ہو ۔۔۔وہ نظريہ ہے جس کي وجہ سے انسان خود کو تمام انسانوں کي بندگي ، قيد اور ان کي ذلتوں سے ۔۔۔۔ جن ميں وہ ابھي تک گرفتار تھا۔۔۔۔ آزاد کراليتا ہے۔

رکوع اور سجدے کے ان دو ذکر کا سب سے اہم اثر ہے جس کي وجہ سے ہميں اميد کرني چاہئيے ، يہ ہے کہ وہ نماز پڑھنے والے کو يہ درس ديتے ہيں کہ وہ کون سي ذات ہے کہ جس کے سامنے ہميں سر جھکانا ہے ، خضوع اختيار کرنا ہے اور اس کي تعريف کرني ہے اور بندے کا سر جھکانا ، خضوع اختيار کرنا اور خدا کي تعريف بيان کرنا دراصل خدا کے علاوہ تمام طاقتوں کا انکار ہے اور شايد اسي موضوع کي طرف اس حديث ميں اشارہ کيا گيا ہے کہ جس ميں امام نے ارشاد فرمايا کہ :

انسان کي خدا سے سب سے نزديک حالت ۔۔۔ حالت سجدہ ہے۔

تشہد

ہر نماز کي دوسري اور آخري رکعت ميں جب نمازي دو سجدوں کے بعد سر اٹھا کر بيٹھتا ہے تو ا س حالت ميں تين جملوں کو اپني زبان سے ادا کرتا ہے جو دين کے حقائق اور عظمتوں کي ترجماني کرتے ہيں۔ نمازي کا يہ عمل کہ جس ميں اس کا بولنا بھي شامل ہے ، ہم اسے تشہد ( گواہي) کا نام ديتے ہيں۔

اشهد ان لا اله الاالله

ميں گواہي ديتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئي اور معبود نہيں ہے۔

اور پھر اس حقيقت کو بطور تاکيد ادا کرتا ہے۔

وحده ۔۔۔ صرف وہ ہے ( کائنات کا خدا)

دوبارہ اور طريقے سے اپني زبان کے ذريعے اس حقيقت کي تکرار کرتا ہے۔

لا شريک له ۔ ۔۔ اسکي خدائي ميں اس کے ساتھ کوئي نہيں ہے۔

ہر وہ آدمي اور ہر وہ چيز جو انسان کو اپني بندگي کي طرف کھينچتي ہے اور وہ ذات کہ جس کے احکام کي انسان اطاعت کرتا ہے ۔۔۔ اس کا معبود ( الہ ) ہے ۔۔۔ خود وہ خواہشات کي اطاعت ہو يا حيواني ميلانات کي ، شہوات کي اطاعت ہو يا لالچ کے پيچھے بھاگنا ہو غرض وہي انسان کا معبود ہوگا جس کے پيچھے انسان ہے اور جس کے احکام کي انسان اطاعت کرتا ہے۔

کسي معاشرے يا نظام کو چلانے کے لئے ان کے قوانين بنانے والے اور بڑے لوگوں نے دوسرے چھوٹے انسانوں کو مجبور کيا کہ وہ ان کي خدمت کريں اور جس بہانے سے بھي عوام الناس کو مجبور کيا يہ سب الوہيت کي ہي شکل ہے۔

تشہد خدا کے علاوہ تمام طاقتوں کي نفي ہے

تشہد ميں لا الہ الا اللہ کہنا دراصل اس قسم کے تمام احکامات کي پيروي سے انکار ہے۔ تشہد گواہي دينا ہے اور نماز پڑھنے والا تمام طاقتوں کي نفي کرتے ہوئے گواہي ديتا ہے کہ وہ صرف خدا کے احکام کي پيروي کرنے والا ہے يعني نماز پڑھنے والا صرف اس بات کو قبول کرتا ہے اور صرف اس ذمہ داري کو اپنے کاندھوں پر اٹھاتا ہے کہ صرف خدائے اور واحد يکتا ہے جسے يہ حق حاصل ہے کہ وہ حکم جاري کرے اور انسان صرف اسي کے سامنے سر جھکائے۔

لہذا جس شخص نے يہ نظريہ قبول کرليا تو اسے يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ کسي دوسرے موجود ۔۔۔ خواہ وہ کوئي بھي ہو ، کتنا ہي بڑا انسان کيوں نہ ہو، حيوان ہو يا فرشتہ ، جمادات ہوں يا پھر اس کے نفس کي خواہشات و شہوت ۔۔۔۔ کي بندگي اور حکم کو قبول کرے اور نا ہي اسے يہ حق حاصل ہے کہ اپنے بدن کو ان کي اطاعت ميں جھکا دے ليکن اس بيان کا يہ مطلب نہيں ہے کہ خدا کا ماننے والا اور اطاعت گذار معاشرے ميں کسي اجتماعي نظام کا قائل نہيں ہے يا وہ کسي کے حکم کو قبول نہيں کرتا ہے۔ کيوں؟

اس لئے کہ يہ بات تو واضح ہے کہ انسان کو لوگوں کے ساتھ مل جل کر اجتماعي طور پر زندہ رہنا ہے تو اس کے لئے ضروري ہے کہ آپس ميں کچھ عہد و پيمان ہوں اور کچھ نظاموں اور اصول و قوانين کي پيروي ہو ۔ مسلمان ہونے کا يہ مطلب نہيں ہے کہ وہ کسي قسم کے اجتماعي اصول و قوانين کو خاطر ميں نہيں لائے گا بلکہ اس کے معني يہ ہيں کہ وہ کسي ايسے حکم يا نظام کو جو خدا کے فرمان کے مطابق نہ ہو۔۔۔ نا ہي قبول کرے گا اور نا ہي اسے اپنے اوپر مسلط کرے گا۔ مسلمان ہونے کا مطلب يہ ہے کہ وہ اپني شخصي و اجتماعي زندگي ميں صرف خدا کے احکام کي پيروي کرنے والا ہوگا۔

چنانچہ ايسے بہت سے احکام جو خداوند عالم نے جاري کيے ہيں اور لوگوں کے درميان رہن سہن کے جو اصول وضع کيے ہيں، ان کے لحاظ سے بھي ضروري ہے کہ کچھ ايسے لوگ ہوں جن کي اطاعت کي جائے اور معاشرے ميں رائج قوانين کي پابندہ ہو لہذا خدا کا ماننے والا اس سوسائٹي کے انہي قوانين کي پيروي کرے گا۔ فرق صرف يہ ہے کہ وہ سوسائٹي کے جن احکام کي اطاعت کررہا ہے وہ اس وجہ سے نہيں ہے کہ ان لوگوں کي خواہشات نفس ہيں يا ان کے سرکش نفسوں نے اپني مرضي اور جي چاہنے کي بنا پر جو قانون بناديا ہے اسے اس نے قبول کرليا ہے ۔ وہ کيوں قبول نہ کرے۔۔۔۔۔؟

اس لئے کہ يہ سب قوانين اور نظام تو اس کے جيسے لوگوں کے بنائے ہوئے ہيں بلکہ مسلمان تو حقيقتاً ان قوانين کي اطاعت و فرمانبرداري کرتا ہے جو خدائے حکيم و بصير نے اپنے ارادے سے مقرر کيے ہيں کيونکہ صرف خدا ہي جو يہ جانتا ہے کہ معاشرے کي فلاح و بہبود کے لئے کون سا قانون ضروري ہے، معاشرے کي کيا حاجات ہيں اور خدا ہي مقرر کرتا ہے کہ کون لوگ ہيں جو قابل حکومت و اطاعت ہيں اور يہ خدا کے مقرر کردہ لوگ بھي خدا ہي کے بيان کردہ احکامات کو اس کے بندوں کے درميان رائج کريں گے۔

قرآن کي يہ آيت اسي حقيقت کي طرف اشارہ کرتي ہے۔

اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منکم

اطاعت کرو اللہ کي اور ا س کے رسول کي اور ان کي جو تم ميں اولي الامر ہيں۔

خدا کي اطاعت ، اس کے رسول کي اطاعت اور ان لوگوں کي اطاعت جن کو خداوند عالم نے تمہارے درميان مقرر کيا ہے اور جو صاحبان حکم ہيں ۔۔۔۔ انہي کي اطاعت کا حکم ديا گيا ہے اور شايد اسي حقيقت کو ديکھتے ہوئے نمازي تشہد کا دوسرا جملہ کہتا ہے

واشهد ان محمدا عبده ورسوله

اور ميں گواہي ديتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کا پيغام لانے والے ہيں۔

يہ قبول کرنا کہ محمد اللہ کا پيغام لانے والے ہيں ۔۔۔ دراصل ان معني ميں يہ قبول کرنا ہے کہ وہي خدا کے نمائندے اور خليفہ نہيں با الفاظ ديگر اگر ہم راہ خدا کے متلاشي ہيں تو ہميں راہ محمد کو ديکھنا ہوگا اور خدا کے احکام و فرمان کو خدا کے اس برگزيدہ بندے سے لينا ہوگا۔

خدا کے ماننے والوں ميں اکثريت ايسے لوگوں کي ہے جنہوں نے خدا کے پسنديدہ راستے کو پہچاننے ميں غلطي کي ہے لہذا تشہد ميں يہ بيان کرنا کہ محمد خدا کا پيغام لانے والے ہيں ۔۔ انسانوں کي تلاش و حرکت کا رخ مقرر کرتا ہے لہذا خدا پرست انسان کو چاہئيے کہ اپني زندگي کو رسول اسلام کے بيان کردہ احکامات کے مطابق گذارے تاکہ اس کا خدا پرستي کا دعويٰ صحيح ثابت ہو۔

اس جملے ميں ہم ديکھتے ہيں کہ حضرت محمد کي بندگي کي طرف توجہ دي گئي ہے اور اسي لئے اس پہلے کلمے ميں ’’ عبدہ ‘‘ پہلے ہے اور ’’ رسولہ ‘‘ بعد ميں۔ يعني پہلے بندگي ہے اور بعد ميں رسالت گويا اس کے ذريعے سے يہ چاہا گيا ہے کہ اسلام کي عظيم الشان صفت کو متعارف کرايا جائے اور حقيقت بھي يہي ہے کہ انسان کي عظمت کمال اور فضيلت کا خلاصہ اس چيز ميں پنہاں ہے کہ وہ خدا کي بندگي کرے اور بندگي کے رشتے کو خلوص کي بنيادوں پر قائم کرے اور وہ انسان جو ميدان بندگي خدا مي سب سے آگے ہے، انسانيت کے درجات کے لحاظ سے بھي اس کا درجہ بہت بلند ہے۔

جو شخص يہ جانتا ہو کہ خدا کي بندگي کا مفہوم کيا ہے چنانچہ اس کے لئے پيغمبر کے بارے ميں بيان کئے گئے ارشاد کو سمجھنے کي ضرورت نہيں ہے۔ اگر انسان يہ خيال کرے کہ خدا کي بندگي کا مطلب يہ ہے کہ ميں اس ذات کے سامنے کہ جس کے تمام کام حکمت سے پر ہيں ، جو صاحب بصيرت ہے ، وہ جو کچھ ہمارے لئے کررہا ہے وہ سب کا سب رحمت ہے اور اس کي ذات خوبيوں والي ہے۔۔۔ خضوع اختيار کروں ، اس کے سامنے اپنے دل کو جھکادوں اور اس کے ساتھ ساتھ خواہش نفس کي اطاعت اور غيروں کي غلامي سے خود کو آزاد کرنا ہي اگر بندگي خدا کے معني ہيں تو پھر دنيا ميں اس سے بڑھ کر اور کون سي قدر و قيمت والي بات پائي جاتي ہے اور حقيقت بھي يہي ہے کہ دنيا ميں جو برائياں نظر آتي ہيں ، لوگ جن پستيوں ميں پڑے ہوئے ہيں ، لوگوں کے دلوں ميں جن شقاوتوں اور اخلاق رذيلہ نے گھر کيا ہوا ہے اور انسان کي زندگي ميں آنے والي تاريکيوں کي اصل اور بنيادي وجہ يہي ہے کہ انسان اپني خواہش نفس کي غلامي کرتا ہے يا اس قسم کے دعوے کرنے والے انسانوں کي سرکشي اور طغياني کي اطاعت کرتا ہے۔چنانچہ اگر انسان يہ اعلان کرے کہ وہ صرف خدا کي بندگي کرے گا تو اس کا مطلب يہ ہے کہ اس نے نفس اور دوسروں کي بندگي کو يکسر مسترد کرديا اور دل ميں اٹھنے والے جذبات کو جلا کر خاک کرديا۔

تشہد کے ان دو جملوں ميں ايک بہت ہي عمدہ ، قابل توجہ اور باريک نکتہ يہ ہے کہ نماز پڑھنے والا توحيد اور نبوت کا اقرار ايک ہي گواہي کرتا ہے اور خدا کي توحيد اور محمد کي بندگي و رسالت کي شہادت ديتا ہے۔

اس کي يہ گواہي حقيقت ميں اس معني ميں ہے کہ ميں خدا کي عبادت اور محمد کے تمام پيغاموں کو قبول کررہا ہوں۔ اس عقيدے کا مقصد اپنے کاندھوں پر ذمہ داري لينا ہے ۔ گويا نماز پڑھنے والا گواہي دينے کے ساتھ ساتھ يہ چاہتا ہے کہ ميں ان تمام ذمہ داريوں کے سامنے ۔۔۔۔۔ جو مجھ پر ان دو عقيدوں ( يعني توحيد و نبوت) کي وجہ سے عائد ہوتي ہيں ۔۔۔۔ اپني گردن جھکادوں۔

تشہد کا مطلب صرف علم حاصل کرنا نہيں ہے کہ جس کے ساتھ کوئي عمل نہ ہو، ايسا علم کہ جس کے ساتھ کوئي ذمہ داري اور عہد و پيمان نہ ہو(بے کار ہے) ور نا ہي تشہد ايسا يقين ہے کہ جس کے نتيجے ميں کوئي عمل اور جدوجہد نہ ہو۔ ايسے عقيدوں اور علم و يقين کي اسلام ميں کوئي قدر و قيمت نہيں ہے۔

يہ گواہي دينا کہ ميں خدا کي عبادت کرنے والا اور محمد کے ذريعے اس کے پيغامات کو ( دل و جان سے) قبول کرنے والا ہوں اور اس ذيل ميں تمام عہد و پيمان کو قبول کرتا ہوں تاکہ ميں ان حقائق کے ذريعے سے کامياب ہوجاوں۔ پس ہم کہہ سکتے ہيں کہ نماز ميں تشہد کا ادا کرنا دراصل خدا سے کيے گئے عہد و پيمان کي تجديد کرنا ہے کہ جسے نمازي خدا ور اس کے رسول کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کے بعد تشہد کا تيسرا اور آخري جملہ ہے جو خدا سے درخواست اور اس کي بارگاہ ميں دعا پر مشتمل ہے۔


درود

اللهم صلي علي محمد واٰل محمد

خداوندا ۔۔۔ درود بھيج محمد اور خاندان محمد پر

محمد اور ان کا پاک اور طاہر خاندان ۔۔ خدا رحمتيں ان پر ہوں ۔۔۔۔ مکتب اسلام کا کامل اور اعليٰ ترين نمونہ ہيں۔ نماز پڑھنے والا اپني دعا کي زبان ميں ان اعليٰ نمونوں ، بہترين شخصيات اور مشعل راہ افراد کي ياد کو اپنے دل ميں تازہ کرتا ہے اور ان پر درود بھيج کر ان سے اپنا روحاني رشتہ استوار کرتا ہے۔

کامل نمونوں کا ہونا ضروري ہے

زندگي بسر کرنے والے اور کسي دوسرے مکتب پر عمل کرنے والے لوگوں کے لئے اس مکتب کے مطابق اگر اعليٰ اور کامل ترين نمونہ ہو اور وہ کسي شخصيت کو اپنے مکتب کے نظريے پر عمل پيرا نہ ديکھيں تو اس بات کا قوي امکان ہے کہ وہ عمل کے وقت غلط سمت ميں قدم اٹھائيں اور نتيجے ميں اپني راہ سے بھٹک جائيں اور يہي وجہ ہے کہ خدا کے راستے پر خدا کي بندگي کرنے والے لوگ اور انبيائ کے نظريے ہر زمانے ميں موجود رہے ہيں۔ ہر دور ميں جب انبيائ خدائي مکتب کا پيغام لے کر آئے تو انہوں نے عوام کے سامنے اعليٰ نمونوں کو پيش کيا اور اسي وجہ سے انبيائ کا پيش کردہ نظريہ حيات باقي اور محفوظ رہا۔

تاريخ ميں ايسے صاحبان عقل کثرت کے ساتھ مليں گے جن کي کوشش فقط يہ تھي کہ وہ انسانوں کي زندگي اور ان کي سعادت و خوش قسمتي کے لئے نقشے بنائيں، پروگرام مرتب کريں اور مدينہ فاضلہ ، ۔۔۔۔۔ کہ جو امن و امان کا شہر ہے ۔۔۔۔۔ کا تصور پيش کريں چنانچہ انہوں نے اس مقصد کے لئے کتابيں لکھيں ليکن پيغمبر کا طور طريقہ اور تھا انہوں نے دوسرے لوگوں کي طرح بحث اور فلسفيانہ خيالات کو نہيں چھيڑا بلکہ اپنے نظريے کو عملي طور سے پيش کيا ، خود اس پر عمل کيا اور اپنے نظريے پر عمل پيرا لوگوں کے ذريعے معاشروں اور سوسائٹي کے لئے افراد تيار کئے اور يہي وجہ ہے کہ پيغمبروں کا مکتب اور ان کا نظريہ ہر زمانے ميں زندہ رہا جبکہ عقلمند لوگوں اور فلسفيوں نے زندگي اور عظمت انساني کے جو فارمولے اور نظام تيار کئے ہيں وہ صرف کتابوں کے اوراق ميں ہي باقي رہے۔

نماز پڑھنے والا محمد اور ان کي آل کے لئے ۔۔۔ جو مکتب اسلام کے منتخب ترين نمونے اور روشن و درخشاں ستارے ہيں ۔۔۔۔ دل سے دعا کرتا ہے کہ جنہوں نے اپني مختصر سي زندگي مکتب اسلام کے قوانين کے مطابق بسر کي اور لوگوں کو بتايا کہ اسلامي نظريہ ميں اعليٰ درجے کا انسان کيسا ہوتا ہے؟

نمازي کي خواہش

نماز پڑھنے والا ان لوگوں کے لئے درود بھيجتا ہے اور ان کے لئے خدا سے درخواست کرتا ہے اور يہ خواہش کرتا ہے کہ ان اعليٰ ترين اور منتخب نمونوں يعني محمد و آل محمد سے اس کا روحاني رشتہ قائم ہوجائے کيونکہ يہ روحاني رشتہ اعليٰ کمالات کي طرف کشش کا سبب ہوگا۔ يہ طاقتور کشش ۔۔۔۔۔ اس راستے اور اس مقصد کي طرف جس راہ پر انہوں نے قدم بڑھايا اور جس سمت انہوں نے پيش قدمي کي۔۔۔۔۔ اسے بھي کھينچے اور اس کا ان پاکيزہ ترين افراد سے روحاني رشتہ اور قلبي لگاو اور زيادہ مستحکم ، مضبوط اور گہرا ہو۔

لہذا محمد و آل محمد پر درو د بھيجنے کا مقصد يہ ہے کہ نماز پڑھنے والا ان پاک و پاکيزہ ہستيوں کي طرف متوجہ ہو جو اسلام کے منتخب وجود اور اعليٰ ترين نمونے ہيں اور ان عظيم شخصيات کو اپنے سامنے لا کر اور انہيں ياد کرنے کي وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ايک مسلمان اس راستے کو پہچانتا ہو رہے کہ جس راستے پر ان عظيم افراد نے قدم اٹھائے تاکہ وہ اس طرح عمل کے لئے جدوجہد پر آمادہ رہے۔

سلام

نماز ميں تشہد کے ساتھ ساتھ تين اور درود يعني سلام ہيں البتہ يہ سلام خدا اور اس کے نام کي ياد کے ساتھ ادا کئے جاتے ہيں (٣١)۔ پس معلوم ہوتا ہے نماز خدا کے نام سے شروع ہوتي ہے اور خدا ہي کے نام پر اپنے انجام و اختتام تک پہنچتي ہے اور اس ميں شروع سے آخر تک مسلسل خدا کا نام ليا جاتا اور اسے ياد کيا جاتا ہے۔ اگر کسي جملے يا ذکر ميں پيغمبر يا ان کے خاندان کا تذکرہ ہے تو وہ بھي خدا کي ياد اور اس سے دعا کے ساتھ ہوتا ہے کہ خداوند ا ۔۔۔۔ ان پر اپني لطف و رحمت نازل فرما۔

سلام ميں پہلا جملہ نماز پڑھنے والے کي طرف سے درود ہے خدا کا پيغمبر پر اور خدا سے اس کے بندے کے لئے طلب رحمت ہے جو خدا کا عظيم اور برگزيدہ بند ہ ہے۔

السلام عليک ايها النبي و رحمة الله و برکاة

درود ( سلام )ہو آ پ پر اے پيغمبر اور خدا کي رحمتيں اور برکتيں آپ پر ہوں۔

خدا کے رسول کا اعلان حق

پيغمبر اسلام ۔۔۔۔ اسلام کے بنياد گذار يعني اسلام کے مقصد عظيم کو دنيا ميں رائج کرنے والے ہيں اور اس وقت نماز پڑھنے والا اس کام ميں اپنے آپ کو داخل خيال کرتا ہے کہ جس کام کے لئے انہوں نے قدم اٹھايا اور جس کام کي حضور نے بنياد ڈالي يعني توحيد کے اعلان حق کو انہوں نے باآواز بلند لوگوں کے سامنے پيش کيا اور اس کے ذريعے پوري دنيا کو ہلا ڈالا اور انہوں نے انسان کي بہترين زندگي کے نظام اور اصول و قوانين کو ہميشہ کے لئے زمانے ميں نافذ کرديا۔

يہ پيغمبر ہي تھے کہ جنہوں نے انسان اور معاشرے کے حقيقي چہرے کو ہم سے متعارف کرايا کہ جسے دين کے مطابق ہونا چاہئيے۔ ايسا معاشرہ کہ جس ميں اسلامي نظريات کے مطابق انسان تيار ہوں چنانچہ نماز پڑھنے والا انہي اعلان و شعار کو اپني نماز ميں کچھ درس اور راہنمائيوں کے ساتھ بيان کرتا ہے کہ جنہيں وہ اپني زندگي اور اپنے زمانے ميں عملي کرنا چاہتا ہے اور وہ اس بات کا بھي خواہش مند ہوتا ہے کہ وہ ايسا قدم اٹھائے جو ايک بے مثال و اعليٰ ترين معاشرے کے قيام اور انسان سازي کے لئے ہو۔

پس يہ بے موقع نہيں ہے کہ اس نماز کے آخر ميں اپنے پيغمبر و پيشوا کو ۔۔۔ جس نے خود اسے دين پر عمل کے لئے آمادہ کيا اوراس راہ پر اس کي راہنمائي کي ۔۔۔۔ سلام سے ياد کرے اور اپني زبان سے اپنے پيغمبر کي راہ اور ان کے ساتھ ہونے کا اعلان کرے کہ وہ اپنے رہبر کے راستے پر ہے۔

نماز پڑھنے والا دوسرے جملے ميں خود اپنے اپنے ساتھيوں اور خدا کے تمام نيک بندوں پر سلام و درود بھيجتا ہے۔

السلام علينا و عليٰ عباد الله الصالحين

سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نيک بندوں پر۔

نماز پڑھنے والا يہ سلام بھيج کر نيک بندوں کو اپنے دل ميں ياد کرتا ہے کيونکہ ان کي ياد اس کے دل کو گرمانے کا سبب بنتي ہے۔

دنيا کي ظاہري چمک اور اس کي حقيقت

يہ دنيا کہ جہاں ہر طرف گناہ کے جلوے ہيں ، پستي ، گھٹيا پن ، چھوٹي چھوٹي مادي باتيں ہيں ، ظلم و ستم ، نجاستيں ، برائياں ، بدياں اور ظلمت و تاريکياں چاروں جانب سے دنيا کو گھيرے ہوئے ہيں اور تمام لوگ انہي برائيوں ميں غرق ہيں ۔۔۔ ايسے ماحول ميں ايک ہوشيار اور صاحب دانش کي دور انديش نگاہيں اسے خبردار کردينگي کہ ہر طرف انسانيت کا افلاس ہے ، انسانيت ختم ہوچکي ہے اور تم دنيا ميں جو چمک دمک ديکھ رہے ہو اور جو ظاہري خوشنما رنگ تمہيں نظر آرہا ہے اس کے پيچھے صرف انسانيت کي پستياں ، ذلتيں ، نجاستيں ، خرابياں ، برائياں اور سياہياں اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ اپنے عروج پر ہيں۔

نمازي اس بات کي اچھي طرح مشاہدہ کرتا ہے کہ اس دنيا ميں حق کو طلب کرنے والے اور انسانيت کي اصلاح و بہبود کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے بکثرت موجود ہيں ليکن يہ دعوے کرنے والے اپنے ان دعوں کے ذريعے اپني اور اپني دنيا کي حقيقت کو چھپا نہيں سکتے کيونکہ حقيقت بڑي ذلت والي ہے کہ سب ہي نفس پرست اور دنياوي شان و شوکت کے طلبگار ہيں ۔ يہ سب وہ جگہ ہے کہ جسے امام علي ، امام حسين اور امام جعفر صادق نے خالي کرديا اور اب صرف شور و غل کرنے والے اور عوام کو دھوکہ دينے والے معاويہ ، يزيد اور منصور دوانيقي جيسے موجود ہيں۔

مختصر يہ کہ يہ زمانہ ايسا ہے کہ جہاں شيطان کے اطاعت گذار لوگ ايسے مقامات پر ہيں جہاں خدا کے نيک بندوں کو ہونا چاہئيے تھا۔ پھر بھلا ايسے برے زمانے ميں ايسا کيونکہ ہوسکتا ہے کہ انسان کسي نيکي ، بھلائي اور کسي حقيقت کي طرف توجہ کرے اور ايسا کيونکہ ممکن ہے کہ انسان اس انتظار ميں رہے کہ بھلائي کا ماحول پيدا ہوگا۔ ايسا زمانہ جس کے حالات ابھي بيان کئے گئے کہ ہم صرف انتظار ہي کرسکتے ہيں کہ ہر طرف گناہ ہوں گے، نجاستيں ہوں گي، ناکامياں ہوں گي اور ہر طرف لوگوں کا حق چھينا جارہا ہوگا۔ ان تمام باتوں اور کاموں کے علاوہ ہم اور اميد بھي کيا کرسکتے ہيں اگر ہم کوشش بھي کريں تم ہم آساني کے ساتھ بھي ( اميد) نہيں کرسکتے۔

خدا کے نيک بندے ۔۔۔۔۔۔ اميد کي کرن

چنانچہ ايسے برے ماحول ميں يہ کہنا کہ سلام ہو تم پر اے خدا کے نيک بندوں ، خدا کے نيک بندوں کو ( خدا کي اجازت سے) ہمراہي اور امداد کے لئے پکارنا افسردہ اور مردہ دلوں کو تسلي اور نويد مسرت ديتا ہے۔ گويا سلام ہو تم پر اے خدا کے نيک بندوں ۔۔ کہنا درحقيقت ہمارے قلوب کي تاريکي ميں اميد کي کرن ہے جو ہماري دل کي تاريکي کو يہ خوشخبري ديتي ہے کہ افسردہ مت ہو ، تاريکي سے مت گھبراو ۔۔۔ ابھي روشني باقي ہے، ابھي سپيدي سحر ہے جو تاريکيوں اور ظلمتوں کے بادلوں کو چھاٹ ديني والي ہے۔

نماز ميں يہ کہنا کہ سلام ہو تم پر اے خدا کے نيک بندوں ۔۔۔۔ نمازي کو متوجہ کرتا ہے کہ يہ دنيا نيک اور اچھے لوگوں سے خالي نہيں ہے بلکہ اس دنيا ميں تمہارے يار دوست اور تمہارے ساتھ محاذ پر جا کر کام اور جدوجہد کرنے والے موجود ہيں اور حقيقتاً اس جملے سے نمازي کے دل ميں اميد کي کرنيں پھوٹتي ہيں۔ يہ جملہ نمازي کي ہمت باندھتا ہے ، اس کي کمر کستا اور اس کے دل کو قوي و توانا کرتا ہے کہ تم تنہا نہيں ہو بلکہ تمہارے ساتھ اور بھي نيک بندے ہيں ، دنيا کے اس بياباں صحرا اور خشک ويرانے ميں ايسے ہرے بھرے درخت اور نخلستان موجود ہيں جو پھل بھي دينے والے ہيں اور دير تک تمہارا ساتھ بھي دينے والے ہيں۔

خدا کي سنت ۔۔۔۔۔ نيک لوگوں کا وجود

چنانچہ تاريخ ميں ہميشہ ايسے معاشرے اور سوسائٹياں ، جو تباہ ہوچکي تھيں ۔۔۔ سے ايسے افراد پيدا ہوئے جن کا ارادہ قوي اور مستحکم تھا اور وہ اعليٰ شخصيات کے مالک تھے۔ يہ افراد زمانے کو اچھا بنانے کا ذريعہ بنے ، انہوں نے ويران زندگي کو ہرا بھرا اور شاندار بنايا اور انقلاب سے ( معاشرے کي) کايا پلٹ دي۔ لہذا نماز پڑھنے والا اس وقت يہ خيال کرتا ہے کہ تاريخ ميں خدا کي ہميشہ يہ سنت رہي ہے کہ اچھے لوگ پيدا ہوں لہذا ايسے ہي لوگ جو نوراني طاقتوں کے مالک اور نيکيوں کو فروغ دينے والے ہيں اس تاريک دنيا ميں موجود ہيں ، وہ کام کررہے ہيں ، اپني جدوجہد جاري رکھے ہوئے ہيں اور صحيح راستے کي تلاش ميں ہيں يعني خدا کے نيک بندے خدا کي بندگي کے ساتھ ساتھ اس کے فرمان پر بھي عمل کرنے والے اور دنيا کي طاغوتي اور سرکش طاقتوں سے حالت جہاد ميں ہيں۔ ليکن ہميں سوچنا چاہئيے کہ ايسے لائق اور نيک بندے کہاں ہيں اور کيا ہميں ان کي زندگي سے سبق حاصل کرنا چاہئيے اور کيا ان کے قدم سے ملا کر چلنا چاہئيے ؟ کيوں نہيں ۔۔۔۔ ضرور!

لہذا نماز پڑھنے والا اللہ کے نيک بندوں پر سلام بھيج کر خود کو انہي ميں سے قرار ديتا ہے اور ان کے ساتھ خود کو قابل سلام سمجھتا ہے اور ايک جملے ميں خود اپنے اوپر ان نيک بندوں پر سلام بھيجتا ہے تو اس ميں غرور و سرور بلندي کي کيفيت پيدا ہوتي ہے اور اس کے دل ميں يہ اطمينان پيدا ہوتا ہے کہ اس کاروبار حيات ميں جہاں ہر طرف گندگي ، نجاست اور تاريکياں ہيں ۔۔۔۔ ميں تنہا نہيں ہوں بلکہ ميرے ساتھ اللہ کے نيک بندے بھي ہيں اور اس سلام کے بعد دل سے اس کي يہ خواہش ہوتي ہے کہ وہ واقعتاً ان کا ساتھي بن جائے، خود کو انہي ميں سے قرار دے۔ ان کے ساتھ مل کر اس دنيا کي گندگي اور نجاست کو دور کرنے کي کوشش کرے اور اس خيال کے ساتھ کہ وہ ان نيک بندوں کے ساتھ مل کر اس دنيا کي اصلاح و درستگي کي جدوجہد ميں شامل نہيں ہوسکے گا۔۔۔۔۔ احساس شرم کرتا ہے اور اسي شرم کے احساس کي وجہ سے اس ميں ايک ہمت پيدا ہوتي ہے اور ذمہ داري اور مسؤليت کو نبھانے کا جذبہ پيدا ہوتا ہے۔

نيک کون ہے ؟

يہ خدا کے نيک بندے کيسے ہيں اور ہم کس چيز کو ’’ صالح‘‘ کہتے ہيں کہ ۔ ۔۔۔ ’’ عباد اللہ الصالحين ‘‘ ۔۔۔۔ صالح اور نيک ہونے کا مطلب يہ نہيں ہے کہ وہ صرف نماز پڑھنے والا ہوگا بلکہ نيک وہ ہے جو خدا کي طرف سے اپنے اوپر عائد کردہ ذمہ داريوں اور مسؤليت کو قبول کرنے کے لئے تيار ہو اور ان ذمہ داريوں کو احسن طريقے سے نبھانے کے لئے ايسے اعمال انجام دے کہ اس کے لئے کہا جائے کہ وہ واقعتا خدا کا نيک بندہ ہے اور خدا کا نيک بندہ ہونا بھي اس کے نام کے لئے مناسب ہو ۔ اسي طريقے سے جيسے ايک جماعت ( کلاس) ميں کچھ خاص طالب علم ہوتا ہيں جن کے لئے کہا جاتا ہے کہ يہ واقعتا طالب علم ہيں۔

آخري اور تيسرے جملے ميں نماز پڑھنے والا انہي نيک بندوں ( يا اپنے ساتھ نماز پڑھنے والوں کے ہمراہ فرشتوں) کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ

السلام عليکم ورحمة الله وبرکاته

سلام ہو تم پر اور خدا کي رحمتيں اور برکتيں ہوں

چنانچہ اس آخري سلام کے ذريعے سے وہ ايک اور مرتبہ صلاح ( لايق ہونے) اور نيک ہونے کو ياد کرتا ہے اور اس سلام ميں نيک بندوں يا نمازيوں جيسے دوسرے عزت والے لوگوں کو جو خدا کي بارگاہ ميں قرب کي منزل پر ہيں ياد کرتا ہے اور اس ياد کے ساتھ ختم کرتا ہے۔


فہرست

خصوصي مقدمہ ۴

١۔ خدا وند عظيم کي صفات ۔ ۴

٢۔ يہ حقيقت واضح ہوني چاہئيے ۴

آخرت کا راستہ باريک اور انسانيت کا طريقہ حديد ( سخت ) ہے۔ ۹

نماز ۔۔ بندے اور خدا کے درميان رابطہ ۱۱

انسان کے کمال کا راستہ ۱۱

ياد خدا ۱۳

نماز انسان کو بيدار کرتي ہے ۱۵

نماز تمام کمالات الہي کا مجموعہ ہے ۱۶

اصول و قوانين کي تکرار ذہنوں ميں ان کي پختگي کا سبب ہوتي ہے ۱۶

نماز مکتب اسلام کے اصولوں کا خلاصہ ۱۷

نماز تار يکي و ظلمت ميں نور الہي ہے ۱۷

نماز کو قائم کرنا پڑھنے سے زيادہ اہميت ک حامل ہے ۱۹

نيکي کے خلاف شيطان کي جنگ جاري ہے ۲۰

رسول اللہ اور نماز ۲۲

ابتدائي نماز ۲۲

اللہ اکبر ۔۔۔۔ خدا سب سے بزرگ ہے ۲۲

سورہ حمد ۲۴

خدا عالمين کا پالنے والا اور انہيں کمال تک پہنچانے والا ہے ۲۵


رحمت عام اور رحمت خاص ۲۶

خدا پرست اور مادہ پرست ۲۸

خدا عالم و عادل ہے ۲۹

غير خدا کي بندگي سے انکار ۳۰

باطل نظريہ ۳۱

جھوٹے خدا ہماري کيونکر امداد کرسکتے ہيں؟ ۳۳

ہدايت انسان کي سب سے بڑي حاجت ۳۳

ہدايت کا حصول نجات کي علامت ہے ۳۴

حقيقي نعمت ۳۵

صاحبان نعمت کون ہيں؟ ۳۵

خدا کا غضب کن پر نازل ہوا؟ ۳۵

تاريخ کي واضح حقيقت ۳۶

گمراہوں اور بے وقوفوں کا راستہ ۳۷

سورہ حمد قرآن کا آغاز تھي يعني فاتحہ الکتاب ۳۸

قرآن کا ابتدائيہ سورہ حمد ۳۸

سورہ توحيد ۳۹

خد اکسي کا محتاج نہيں ۴۰

ہمارے اور خدا کے درميان بندگي اور ربوبيت کا رشتہ ہے ۴۱

اس کا وجود کسي سے نہيں ہے ۴۱

کائنات کا کوئي وجود اس کي برابري کي اہليت نہيں رکھتا ۴۲


خدا کي وحدانيت کا روشن مينارہ ۔۔۔ سورہ توحيد ۴۲

خدا کي منع کردہ حدود سے تجاوز مت کرو ۴۳

عليم بذات الصدور ۴۴

تسبيحات اربعہ ۴۵

الفاظ نماز کا پڑھنا خدائي صفات کي طرف توجہ دلاتا ہے ۴۵

غلط مشاہدہ ۴۷

خدا کي ذات ۔۔۔ تمام اچھائيوں ، خوبيوں اور تمام کمالات کا بحر بيکراں ۴۸

انسان کي جہالت ۴۹

خدا مالک ہے نا کہ يہ مجبور و کمزور لوگ ۴۹

نا م نہاد بڑي طاقتوں اور شيطاني قوتوں کي آرزو ۵۱

خدا کي بندگي سے کيا مراد؟ ۵۱

عوام الناس کي بہتري صرف اسلام ہي کے ذريعے ممکن ہے ۵۲

خدا ئي نظام سے وابستگي نجات اور کاميابي کي علامت ہے ۵۳

انسان کامل کا ايمان ۵۳

رکوع ۵۵

سجدہ ۵۵

تشہد ۵۷

تشہد خدا کے علاوہ تمام طاقتوں کي نفي ہے ۵۷

درود ۶۱

کامل نمونوں کا ہونا ضروري ہے ۶۱


نمازي کي خواہش ۶۲

سلام ۶۲

خدا کے رسول کا اعلان حق ۶۲

دنيا کي ظاہري چمک اور اس کي حقيقت ۶۳

خدا کے نيک بندے ۔۔۔۔۔۔ اميد کي کرن ۶۴

خدا کي سنت ۔۔۔۔۔ نيک لوگوں کا وجود ۶۴

نيک کون ہے ؟ ۶۵