ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
گروہ بندی گوشہ خاندان اوراطفال
مصنف ‏آيت اللہ ابراهیم امینی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام كتاب :ازدواجى زندگی كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مصنّف :حجة الاسلام و المسلمين ابراہيم اميني

ترجمہ :محترمہ عندليب زہرا كامون پوري

كتابت :سيد قلبى حسين رضوى كشميري

ناشر :سازمان تبليغات اسلامى روابط بين الملل _ تہران_ اسلامى جمہوريہ ايران پوسٹ بكس ۱۳۱۳ ۱۴۱۵۵

تعداد :۵۰۰۰

تہيہ و تنظيم:شعبہ اردو_ سازمان تبليغات اسلامي

تاريخ :جمادى الثانى سنہ ۱۴۱۰ ھ


عرض مترجم

دوسرى زبانوں كے لٹريچر اپنى زبان ميں منتقل كرنے كا مقصد كسى قوم كے ادب و ثقافت اور تہذيب و تمدّن سے اپنى قوم اور اپنے ہم وطنوں كو روشناس كرانا ہوتا ہے _ ترجمہ كا كام ہر دور ميں ہوتا رہا ہے اور يہ بڑى عمدہ روش ہے _

البتہ زير نظر كتاب كا ترجمہ مذكورہ مقصد كو سامنے ركھ كر نہيں كيا گيا ہے بلكہ ترجمہ كے لئے اس كتاب كو منتخب كرنے كے كچھ دوسروے اسباب ہيں _

خاندان ميں افراد كے درميان باہمى تعلقات و روابط اوراخلاق كے متعلق اردو ميں جامع اور قابل قدر تصانيف بہت كم نظر آتى ہيں خصوصاً ہمارى زبان ميں ايسى كتابوںكى بے حد كمى ہے جس ميں ان روابط كو قرآن و حديث اور اقوال ائمہ اطہار (ع) كى روشنى ميں بيان كيا گيا ہو _

ہم سبھى اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داريوں كى ادائيگى ميں رات دن مشغول رہتے ہيں ليكن اگر اس ميں خدا كى خوشنودى كا تصور بھى شامل رہے اور اگر ہم اس بات سے واقف ہوں كى خدا كى نظر ميں ہمارے روزمرہ كے معمولى سے معمولى كاموں كى بھى كتنى اہميت ہے ، تو ان كاموں كى قدر و قيمت كئي گنا بڑھ جاتى ہے _

مثلاً خواتين رات دن گھروارى كے گوناگوں كاموں ميں مشغول رہتى ہيں ان صبر آزما كاموں كو ہنسى خوشى يا بددلى كے ساتھ چار و ناچار انجام دينا ہى پڑتا ہے _ البتہ اگر انھيں يہ معلوم ہوجائے كہ


يہ تمام كام محض ان كے فرائض كى انجام وہى ميں شامل نہيں ہيں بلكہ ان كا شمار عبادات الہى ميں ہوتا ہے اور خداوند عالم نے اسے عورت كے جہاد سے تعبير كيا ہے تو ان كاموں كو انجام دينے ميں زيادہ شوق ، دلچسپى اور لگن پيدا ہوگى _ اور جو كام ذوق و شوق اور دلچسپى كے ساتھ انجام ديا جائے خواہ وہ كيسا ہى تھى تھكا دينے والا كيوں نہ ہو اس ميں زيادہ تھكن كا احساس نہيں ہوتا _ البتہ وہى كام اگر مجبورى اور اپنے اوپر مسلط سمجھ كركيا جائے تو چونكہ دل جمعى اور دلچسپى كے ساتھ نہيں كيا جاتا ، اس لئے اس ميں تھكن زيادہ محسوس ہوتى ہے اوراكتا ہٹ بھى قائم رہتى ہے _ يہى وجہ ہے كہ جو كام ہم پر ہمارى مرضى كے بغير مسلط كئے جاتے ہيں ان كو ہم اچھى طرح انجام نہيں دے پاتے ليكن جن چيزوں سے ہم كو دلچسپى ہے ان كاموں كو ہم مختصر وقت ميں اور بہتر طريقے سے انجام ديتے ہيں _

بچّے كى پرورش آسان كام نہيں _ ماں دن بھر كے كاموں كے بعد تھك كررات كو سنا چاہتى ہے مگر بچّے كو كسى وجہ سے نيند نہيں آرھى ہے وہ بے چين ہے _ كبھى بہانے كركے روتا ہے كبھى كسى چيز كى فرمائشے كرتا ہے_ ماں پر نيند كا غلبہ ہے _ ايك طرف نرم و گرم بستر آرام كرنے كى دعوت دے رہا ہے دوسرى طرف بچے كو پرسكون كرنا ہے _ مامتا كا عظيم جذبہ ہر چيز پر غالب آتا ہے وہ اپنا آرام بھول كر بچے كو آرام پہونچانے كى فكر ميں لگ جاتى ہے _ مامتا كا يہ جذبہ خداوند رحيم و كريم كا ہى عطا كردہ ہے ليكن اگر ماں كے دل ميں بچّے كى محبت كے ساتھ يہ جذبہ بھى شامل رہے كہ وہ خدا كى معصوم مخلوق اور معاشرہ كى ايك فرد كى خدمت انجام دے رہى تو يقينا اجر ميں كئي گنا اضافہ ہوجائے گا _

آج كل بعض خواتين بچوں كو دودھ پلانا معيوب سمجھتى ہيں اگر انھيں يہ معلوم ہوجائے كہ ان كے بچے كى صحت و سلامتى نيز ذہنى و جسمانى نشو و نما اور كردار سازى كے لئے ماں كا دودھ كتنى اہميت ركھتا ہے نيز خدا و رسول (ص) نے بھى اس كى بہت تاكيد كى ہے اور اس كا بڑا اجر مقرر فرمايا ہے تو يقين ہے مومن خواتين اس سے ہوے والے دہرے فائدے كو نظر انداز نہيں كريں گے _ ايران ميں اسلامى انقلاب كى كاميابى كے بعد ماؤں كى يادآورى كے لئے دودھ كے ڈبوں پر حضرت رسول اكرم (ص) كے اقوال درج ہوتے ہيں _


اسى طرح كسب معاش اور بيوى بچّوں كے اخراجات پورے كرنے كے لئے مرد كوگھر سے باہر گوناگوں مشكلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے البتہ كسى كو كم زحمات كے ساتھ روزى مہيّا ہوجاتى ہے اور كسى كو اس كے حصول كے لئے بے حد زبردست صبرو ضبط اور محنت و مشقّت سے كام لينا پڑتا ہے _ البتہ اگر مرد كو خدا كے نزديك اپنے عمل كى قدر و قيمت كا اندازہ ہوجائے اور وہ اپنے فرائض كو خوشى خوشى اور خوشنودى خدا كے تصور كو سامنے ركھ كر انجام دے تو اس كو كہيں زيادہ ثواب ملے گا _

اسلام ميں عورت و مرد دونوں كو حقوق عطا كئے گئے ہيں اور ان كى جسمانى ساخت كى مناسبت سے عادلانہ طور پر ان كے فرائض بھى مقرر كئے گئے ہيں _

ہم كو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے اور اپنى مقدس كتاب قرآن مجيد بے حد عزيز ہے لہذا ہم ميں سے ہر مسلمان عورت و مرد كا فرض ہے كہ اسلام كى روشنى ميں اپنے حقوق و فرائض كو سمجھ كر اس پر عمل كريں اور اپنے مثال كردار كے ذريعہ اپنے مقدس دين كى تبليغ كريں _

زير نظر كتاب ايك مشہود و معروف عالم دين اور مصنف كى فكر كا نتيجہ ہے اس كتاب ميں بعض جملوں يا مفہوم كى تكرار كى گئي ہے ليكن اسے مصنف كے طرز نگارش كى خامى نہيں سمجھنا چاہئے بلكہ اس كا مقصد اس موضوع پر تاكيد كرنا ہے اور باربار مختلف طريقوں سے اسے دہراكر ذہن نشين كرانا ہے _ بعض جگہ طوالت سے كام ليا گيا ہے _ اس كا مقصد بھى يہى ہے كہ مثالوں كے ذريعہ بات اس طرح بيان كى جائے كہ دل ميں اتر جائے _

شاہى دور ميں ايرانى معاشرہ مغرب كى اندھى تقليد كے نتيجہ ميں گوناگوں برائيوں ميں ملوث تھا غير اسلامى افكار كى پيروى كے سبب اخلاقى بے راہ روى عام تھى عام طور پر خاندانى انس و محبت ، ايثارو قربانى كا فقدان تھا _ اسى لئے اس دور ميں طلاقوں كى تعداد بہت زيادہ تھى بلكہ اس سلسلے ميں ايران كا شمار دنيا كے ملكوں ميں چوتھى نمبر پر تھا _ خدا كا شكر ہے اسلامى انقلاب كى كاميابى كے بعد ايران ميں زندگى كے ہر شعبہ ميں نمايان تبديلياں نظر آتى ہيں _ كل كے ايران ميں جن چيزوں كو اعلى معيار كى نشانى سمجھا جاتا تھا آج ان چيزوں كو معيوب سمجھا جانے لگا ہے چونكہ پرانے آثار يہ لخت اور يكسر تو مٹ نہيں سكتے اس لئے


طاغوتى دور كى سچى مثالوں اور واقعات سے مددلى گئي ہے تا كہ اس كى خامياں واضح ہوسكيں اور آئندہ نسليں ان سے محفوظ رہتے كى كوشش كريں _ خدا كا شكر ہے بر صغير ميں اسلامى معاشرہ ابھى تك ان بہت سى خاميوں سے پاك ہے جن كا اس كتاب ميں ذكر كيا گيا ہے اس لئے بہت سى باتيں عجيب و غريب معلوم ہوں گى _ ليكن دوسروں كى اندھى تقليد كا انجام ہميشہ بہت خراب ہوتاہے اور ہمارے يہاں بھى ماڈرن اور ترقى يافتہ بننے كا شوق بڑھتا جارہا ہے اور اپنے دينى و اسلامى اقدار كو فراموش كيا جارہاہے اور اگر خدا نخواستہ يہ شوق اسى شدّت سے جارى رہا تو وہ دن دور نہ ہوگا كہ ہمارا معاشرہ بھى فسق و فجور ميں گرفتار ہوجائے اور خاندانوں سے محبت و خلوص كا خاتمہ ہوجائے_

اس كتاب كا ترجمہ كرنے كا مقصد يہى ہے كہ ہمارے ملك ميں ناسمجھى اور ناتجربہ كارى كى وجہ سے برباد ہونے والى زندگيوں كوتباہى سے بچايا جا سكے اور اس كے مطا لعہ كے ذريعہ خاندانوں كى اصلاح ہو _ بہتر ہے كہ شادى سے پہلے لڑكے اور لڑكى كو اس كا مطالعہ كرنے كى ترغيب دلائي جائے _ جن نوجواں جو روں نے نئي زندگى ميں قدم ركھا ہے ، اس كتاب كا مطالعہ كركے شروع سے ہى اپنے حالات اور اخلاق كو سنوارنے كى كوشش كريں _ جن ميں بيويوں كى زندگياں نصف گزر چكى ہيں وہ بھى اس كتاب كا مطالعہ كركے اپنے اصلاح كركے اپنے خاندان اور نئي نسل كو تباہى و بربادى سے بچا سكتے ہيں _ مثل مشہور ہے :'' صبح كا بھولا اگر شام كو گھرواپس آجائے تو اسے بھولا نہيں كہتے _''

بہر حال ميرے خيال ميں زير نظر كتاب معاشروں كى اصلاح كے لئے كافى كارآمد اور مفيد ثابت ہوسكتى ہے _ اپنى قوم و ملت كى سربلندى و كاميابى كى آرزو اور دعاؤں كے ساتھ _

والسلام عليكم و رحمة اللہ و بركاتہ

عندليب زہرا موسى كاموں پوري


پيش لفظ

ہر لڑكے اور لڑكى ، سن بلوغ كو پہونچنے كے بعد سب سے بڑى آرزو يہ ہوتى كہ وہ شادى كريں اور شادى كے ذريعہ اپنى مشرتكہ زندگى كى اساس پر زيادہ سے زيادہ استقلال و آزادى حاصل كريں اور ايك مونس و غمخوار اور ہمدم و ہمراز پاليں _ ازدواجى زندگى كو زندگى كا نقطہ عروج اور خوش نصيبى كا آغاز سمجھا جاتا ہے اسى لئے شادى كا جشن منايا جاتا ہے _ عورت كو مرد كے لئے پيدا كيا گيا ہے اور مرد كو عورت كيلئے جو مقناطيس كى طرح ايك دوسرے كو اپنے ميں جذب كرليتے ہيں _ شادى اور مشتركہ زندگى كے ذريعہ خاندان كى تشكيل ايك فطرى خواہش ہے جو انسان كى سرشت ميں ركھى گئي ہے _ اور يہ چيز خود ، خداوند عالم كى عطا كردہ نعمتوں ميں سے ايك عظيم نعمت ہے _

يقينا خاندان كے نرم و گرم ماحول كے علاوہ وہ كون سى جگہ ہوسكتى ہے جو جوانوں كے لئے ايك قابل اطمينان پناہ گاہ كى حيثيت ركھتى ہو_ يہ اپنے خاندان سے تعلق خاطر اور محبت ہى تو ہوتى ہے جو جوانوں كو پراگندہ افكار اور ذہنى پريشانيوں سے نجات دلاتى ہے _ يہيں پر انھيں ايك وفادار مہربان ساتھى و غمگسار مل سكتا ہے جو مصيبتوں اور پريشانيوں ميں ان سے اظہار ہمدردى كرے اور ان كے غم ميں برابر كا شريك ہو _

ازدواج كا مقدس پيمان ايك ايك آسمانى رشتہ ہے جودلوں كو آپس ميں جوڑ ديتاہے _ پريشان دلوں كو سكوں بخشتا ہے _ پراگندہ افكار كا رخ ايك مقصد كى جانب موڑديتا ہے _'' گھر '' عشق و محبت كا گہوارہ، انس و مودت كا مركز اوربہترين پناہ گاہ ہوتا ہے _

خدائے بزرگ و برتر، قرآن مجيد ميں اس عظيم نعمت كا ذكر كرتے ہوئے فرماتا ہے :


'' خدا كى نشانيوں ميں سے ايك نشانى يہ ہے كہ اس نے تمہارے ہى جنس ميں سے تمہارے لئے شريك زندگي(ہمسر) پيدا كى تا كہ ان سے انس پيدا كرو اور ان كے ساتھ آرام و چين سے رہو اور تمہارے درميان الفت و محبت پيدا كى _ اس سلسلے ميں غور كرنے والوں كے لئے بہت سى نشانياں موجود ہيں _(۱)

پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں :'' ايسا مرد ، جو بيوى نہيں ركھتا ، مسكين اور بيچارہ ہے خواہ وہ دولتمند ہى كيوں نہ ہو _ اسى طرح بے شوہر كى عورت مسكين اور بيجارى ہے اگر چہ دولتمند ہى كيوں نہ ہو ''_(۲)

حضرت امام جعفر صادق (ع) نے ايك شخص سے پوچھا _ تمہارى بيوى ہے ؟ اس نے كہا نہيں _ آپ نے فرمايا ميں پسند نہيں كرتا كہ ايك شب بھى بغير بيوى كے رہوں چاہے اس كے بدلہ ميں سارى دنيا كى دولت كا مالك ہى كيوں نہ بن جاؤں_(۳)

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد گرامى ہے : اسلام ميں كوئي چيز ايسى نہيں جو خدا كے نزديك شادى سے زيادہ عزيز اور محبوب ہو _(۴) جى ہاں خداوند مہربان نے انسان كو ايك عظيم اور گران بہا نعمت عطا كى ہے ليكن افسوس صد افسوس كہ اس عظيم نعمت كى قدر نہيں كى جاتى اور اكثر اوقات نادانى اور خود غرضى كے سبب، مہر و محبت كا يہ مركز ، ايك تاريك زندان بلكہ دہكتے ہوئے جہنّم ميں تبديل ہوجاتا ہے _

انسان كى جہالت اور نادانى كا نتيجہ ہوتا ہے كہ گھر كى رونق اور خاندان كا سكون و چين ايك اذيت ناك قيد خانے ميں تبديل ہوجاتا ہے اور خاندان كے افراد مجبور ہوجاتے ہيں كہ يا تو آخر عمر تك اس تاريك زندان ميں زندگى گزاريں يا پھر شادى كے مقدس بندھں كو توڑڈاليں _

ہاں اگر مياں بيوى اپنے اپنے حقوق و فرائض سے پورى طرح واقف ہوں اور اس پرعمل كريں تو گھر ، كا ماحول بہشت برين كى مانند صاف ستھرا اور پاكيزہ ہوگا اور اگر آپس ميں اختلاف اور باہمى كشمكش پيدا ہوجائے تو گھر ، ايك حقيقى قيدخانہ بن جائے گا _

خاندان ميں اختلاف كے مختلف اسباب و عوامل ہوتے ہيں مثلاً مالى وجوہات ، مياں بيوى كى خاندانى ، تربيت ، زندگى ، كا ماحول ، شوہر يا بيوى كے ماں باپ يا دوسرے عزيزوں كى بيجامداخلت ، اور اسى طرح


كى دوسرى بہت سى وجوہات _

ليكن منصف كا عقيدہ ہے كہ خاندانى اختلافات اور آپسى كشيدگى كا سب سے بڑا سبب، مياں بيوى كى ازدواجى زندگى كے فرائض سے عدم واقفيت اور خاندان كى مشترك زندگى كے لئے پہلے سے آمادہ نہ ہوتا ہے

كسى بھى ذمہ دارى كو سنبھالنے سے پہلے اور كسى كام كو انجام دينے كے لئے تيارى اور مہارت حاصل كرنا ايك بنيادى شرط مانى جاتى ہے _ اور جو شخص كافى معلومات نہ ركھتا ہو اور پہلے سے آمادہ نہ ہو وہ كسى بھى كام كو بخوبى انجام نہيں دے سكتا يہى وجہ ہے كہ كسى ذمہ دارى كو سنبھالنے سے پہلے اس كے لئے ٹرنينگ حاصل كرنى ہوتى ہے _

شادى اور مشترك زندگى كى بنياد قائم كرنے كے لئے بھى پہلے سے كافى معلومات ، تيارى اور مہارت حاصل كرنا ضرورى ہے _ لڑكى كو چاہئے كى اپنى بيوى كى طرز فكر ، اس كى پسند و ناپسند ، اس كى جذبات و خواہشات اور ازدواجى زندگى كى مشكلات اور اس كے حل نيز آداب و معاشرت كے متعلق كافى معلومات حاصل كرے _ اس بات پر توجہ ركھنى چاہئے كہ بيوى لانے كا مطلب كوئي چيز خريد نا يا نوكرانى لانا نہيں ہے بلكہ اس كا مطلب وفادارى ، صداقت ، محبت اور تعاون كا عہد كرنے اور خاندان كى مشترك زندگى ميں قدم ركھنا ہے لڑكى كو بھى چاہئے كہ اپنے شوہر كے طرز فكر ، اس كى اندرونى خواہشات و جذبات اور پسند و ناپسند كو مد نظر ركھے اور سمجھے كہ شادى كا مطلب نوكر حاصل كرنا اور بغير كسى قيد و شرط كے تمام خواہشات و آرزؤوں كا پورا ہوجانا نہيں ہے _ بلكہ شادى كا مقصد آپس ميں ايك دوسرے كے ساتھ تعاون اور زندگى كى جد و جہد ميں برابر كا شريك ہونا ہے اور اس مقدس مقصد كے حصول كے لئے عفو و درگذر اور ايثار و قربانى جيسى خصوصيات اور آپسى سمجھوتے كا ہونا بہت ضرورى بلكہ لازمى ہے _ چونكہ شادى كے ذريعہ لڑكے اور لڑكى كى قسمت كا فيصلہ ہوتاہے لہذا ان كے لئے ضرورى معلومات حاصل كرنا اور اخلاقى طور پر آمادہ رہنا نہايت ضرورى ہے _ مگرافسوس ہمارے معاشرے ميں اس اہم موضوع كى نسبت غفلت برتى جاتى ہے _

جہيز مہر ، خوبصورتى اور شخصيت كے مسئلہ پر والدين كا فى توجہ ديتے ہيں _ مگر لڑكے اور لڑكى كے لئے خاندانى زندگى كو تشكيل ديتے نيز ايك دوسرے كے حقوق كو بخوبى ادا كرنے كے لئے


پہلے سے آمادگى كو شادى كى اصل شرط قرار نہيں ديتے _

لڑكى كى شادى كرديتے ہيں ليكن ايسى حالت ميں كہ وہ امور خانہ دارى اور شوہر دارى كے آداب و طور طريقوں سے نا آشنا ہوتى ہے لڑكے كے لئے بيوى فراہم كرديتے ہيں اگر چہ وہ ''زن داري'' اور خاندان كى سرپرستى كے اصولوں سے ناواقف ہوتا ہے _

جب دونا تجربہ كا نوجوان زندگى كے ميدان ميں قدم ركھتے ہيں تو اپنى كم علمى اور ناسمجھى كى بناپر سينكڑوں قسم كى مشكلات سے دوچار ہوجاتے ہيں _ اختلافات ، تلخياں ، لڑائي اور جھگڑے شروع ہوجاتے ہيں _ ماں باپ كى مداخلت بھى ، چونكہ عقل و تدبر كى روسے نہيں ہوتى ، لہذا ان مشكلات كو حل كرنے كے بجائے ، اختلافات كو اور زيادہ بڑھانے اور اس ميں اضافہ كرنے كا سبب بنتى ہے _

شادى كے شروع كادور ايك پر آشوب اور بحرانى دورہوتا ہے _ اسى نازك دور ميں بہت سى زندگياں اطلاق كے ذريعہ تباہ و برباد ہوجاتى ہيں بعض ايسے بھى ہوتے ہيں جو شادى كے بندھن كو توڑتے تو نہيں مگر ان كى زندگيوں ميں آخر عمر تك كشمكش اور زور آزمائي كا سلسلہ جارى رہتا ہے اوراس '' اختيارى قيدخانے'' كے عذاب و مصيبت كو طلاق پر ترجيح ديتے ہيں _ بعض خاندان كچھ دن بعد ، جلدہى يا دير ميں ايك دوسرے كے اخلاق و كردار سے واقف ہوجائے ہيں اور ان كى زندگيوں ميں ايك حد تك سكون او ر ٹھہراؤ پيدا ہوجاتا ہے _

كاش ايسے لڑكے اور لڑكيوں كے لئے جو شادى كى منزل ميں قدم ركھنا چاہتے ہيں ، ازدواجى زندگى كے آداب اور طور طريقے سكھانے كے نام سے كچھ تربيتى ادارے قائم كئے جائيں اور وہاں ان كى صحيح طريقے سے تربيت كى جائے اور جب وہ وہاں كے كورس كو پورا كرليں اور مشتركہ خاندانى زندگى گزارنے كيلئے تيار ہوجائيں تو انھيں با صلاحيت ہونے كا سرٹيفكيٹ ديا جائے اس كے بعد وہ شادى كريں ( خدا كرے جلد وہ دن آئے ) _


چونكہ مصنف كى نظر ميں يہ بہت اہم سماجى مسئلہ ہے اور وہ اس كى اہميت كو شدت سے محسوس كرتا ہے _ اسى لئے اس نے يہ كتاب تصنيف كى ہے _ اس كتاب ميں ازدواجى زندگى كى مشكلات كاجائزہ ليا گياہے اور قرآں مجيد ، پيغمبر اسلام و ائمہ عليہم السلام كى احاديث سے استفادہ كيا گيا ہے _ كہيں پر ذاتى تجربوں اور روزمرہ رونما ہونے والے واقعات كے اعداد و شمار كى مدد سے اہم نكتوں كى طرف توجہ دلائي گئي ہے او ر ضرورى ہدايات دى گئي ہيں _

مصنف اس بات كا دعوى نہيں كرتا كہ اس كتاب كو پڑھنے سے زندگى كى تمام مشكلات حل ہوجائيں گے بلا شبہ زندگى ميں اور بہت سى مشكلات اور اس كے گوناگوں اسباب ہوتے ہيں ليكن يہ اميد كرتا ہے كہ اس كتاب كے مطالعہ سے اور اس پرع مل كركے ، بہت سى خاندانى ، الجھنوں اورپريشانيوں كا سدباب كيا جا سكتا ہے _

ملت كے خيرخواہوں اور دانشوروں سے توقع كى جاتى ہے كہ اس موضوع كى اہميت و ضرورت كو محسوس كريں گے اور اپنے مؤثر اور سنجيدہ اقدامات كے ذريعہ خاندانوں كو پريشانيوں اور بدبختى سے نجات دلائيں گے _ ( انشاء اللہ)

اس كتاب ميں عورت اور مرد دونوں كے فرائض كو الگ الگ بيان كيا گيا ہے _ يہ كتاب دو حصوں پر مشتمل ہے _ پہلے حصہ ميں شوہر كے لئے بيوى كے فرائض كے موضوع پر بحث كى گئي ہے اور دوسرے حصے ميں بيوى كى نسبت شوہر كے فرائض پر روشنى ڈالى گئي ہے _ ليكن شوہر و بيوى دونوں كيلئے ضرورى ہے كہ دونوں حصوں كا مطالعہ كريں تا كہ اپنے مشتركہ فرائض سے واقفيت حاصل كريں اور اپنے حالات ميں بہترى پيدا كريں _

ممكن ہے جب آپ كتاب كے كسى حصے كو پڑھيں تو خيال ہو كہ ايك طرف جانبدارى سے كام ليا گيا ہے اور دوسرے كے فرائض كو بيان كرنے كے سلسلے ميں غفلت برتى گئي ہے _ ليكن ايسا نہيں ہے _ جب آپ دوسرے حصہ كو بھى پڑھيں گے تو اس بات كى تصديق كريں گے كہ كسى قسم كا تعصب نہيں برتا گيا ہے بلكہ زن و شوہر دونوں كے حقوق و فرائض كے سلسلے ميں غير جانبدارى سے كام ليا گيا ہے _

قم _ حوزہ علميہ_ ابراہيم اميني تيرماہ سنہ ۱۳۵۴ ہجرى شمسى _جولائي سنہ ۱۹۷۵ ئ


پہلا حصّہ

خواتين كے فرائض

شادى كا مقصد

شادى انسان كى ايك فطرى ضرورت ہے اور اس كے بہت سے فائدے ہيں جن ميں سے اہم يہ ہيں:

۱_ بے مقصد گھومنے اور عدم تحفظ كے احساس سے نجات اور خاندان كى تشكيل

غير شادى شدہ لڑكا اور لڑكى اس كبوتر كى مانند ہوتے ہيں جس كا كوئي آشيانہ نہيں ہوتا اور شادى كے ذريعہ وہ ايك گھڑ ٹھكانہ اور پناہ گاہ حاصل كرليتے ہيں _ زندگى كا ساتھى ، مونس و غمخوار ، محرم راز ، محافظ اور مددگار پاليتے ہيں _

۲_ جنسى خواہشات كى تسكين

جنسى خواہش، انسان كے وجود كى ايك بہت اہم اور زبردست خواہش ہوتى ہے اسى لئے ايك ساتھى كے وجود كى ضرورت ہوتى ہے كہ سكون و اطمينان كے ساتھ ضرورت كے وقت اس كے وجود سے فائدہ اٹھائے اور لذت اصل كرے _ جنسى خواہشات كى صحيح طريقے سے تكميل ہونى چاہئے كيونكہ يہ ايك فطرى ضرورت ہے _ ورنہ ممكن ہے اس كے سماجى ، جسمانى اور نفسياتى طور پر برے نتائج نكليں _ جو لوگ شادى سے بھاگتے ہيں عموماً ايسے لوگ نفساتى اور جسمانى بيماريوں ميں مبتلا ہوتے ہيں _

۳_ توليد و افزائشے نسل

شادى كے ذريعہ انسان اولاد پيدا كرتا ہے _ بچے كا وجود شادى كا ثمرہ ہوتاہے اور خاندان كى بنياد كو مستحكم كرنے نيز مياں بيوى كے تعلقات كو خوشگوارى اور پائدار بنانے كا سبب بنتا ہے _ يہى وجہ ہے كہ قرآن او راحاديث ميں شادى كے مسئلہ پر بہت زيادہ تاكيد كى گئي ہے مثال كے طور پر _خداوند عالم قرآن مجيد


ميں فرماتا ہے ، خدا كى نشانيوں ميں سے ايك نشانى يہ (بھي) ہے كہ اس نے تمہارے لئے شريك زندگى بنائي تا كہ تم ان سے انس پيدا كرو_(۵) رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں: اسلام ميں زناشوئي (شادي) سے بہتر كوئي بنياد نہيں ڈالى گئي ہے _(۶)

امير المومنين عليہ السلام فرماتے ہيں _ شادى كرو كہ يہ رسول خدا (ص) كى سنت ہے _

پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كا ارشاد ہے : جو شخص چاہتا ہے كہ ميرى سنت كى پيروى كرے اسے چاہئے شادى كرلے _ شادى كے وسيلے سے اولاد پيدا كرے ( اور مسلمانوں كى تعداد ميں اضافہ كرے ) تا كہ قيامت ميں ميرى امت كى تعداد ، دوسرى امتوں سے زيادہ ہو _(۷)

امام رضا عليہ السلام فرماتے ہيں : انسان كے لئے نيك اور شائستہ شريك زندگى سے بڑھ كر اور كوئي سودمند چيز نہيں _ ايسى بيوى كہ جب اس كى طرف نگاہ كرے تو اسے خوشى و شادمانى حاصل ہو _ اس كى غير موجودگى ميں اپنے نفس اور اس كے ماں كى حفاظت كرے _(۸)

مذكورہ باتيں ، شادى كے ذريعہ حاصل كئے جانے والے دنيوى اور حيوانى فوائد و منافع كے متعلق تھيں كہ ان ميں سے بعض سے حيوانات بھى بہرہ مند ہوتے ہيں _ البتہ اس قسم كے مفادات كوانسان كى ازدواجى زندگى كا (اس اعتبار سے كہ وہ انسان ہے) اصل مقصد قرار نہيں ديا جا سكتا _

انسان اس دنيا ميں اس لئے نہيں آيا ہے كہ وہ ايك مدت تك كھائے ، پيئے ، سوئے ، عيش كرے ، لذتيں اٹھائے اور پھر مرجائے اور نابود ہوجائے _ انسان كا مرتبہ ان تمام باتوں سے كہيں اعلى اورارفع ہے _ انسان اس دنيا ميں اس لئے آيا ہے تا كہ علم عمل اور اعلى اخلاق كے ذريعہ اپنے نفس كى تربيت كرے اور انسانيت كى راہ مستقيم اور كمال كے مدراج كو طے كرے اور اس طرح پروردگار عالم كے قرب حاصل كرسكے _

انسان ايك ايسى اعلى و برتر مخلوق ہے جو تہذيب و تزكيہ نفس كے ذريعہ برائيوں سے اجتناب كركے اپنے فضائل اور بلند اخلاق نيز نيك كام انجام دے كر ايسے ارفع مقام پر پہونچ سكتا ہے جہاں


فرشتوں كى بھى رسائي ممكن نہيں _

انسان ايك جاودان مخلوق ہے اور اس دنيا ميں اس كے آنے كا مقصد يہ ہے كہ پيغمبر وں كى ہدايت و رہنمائي كے ذريعہ دين كے اصول و قوانين كے مطابق عمل كركرے اپنے لئے دين و دنيا كى سعادت فراہم كرے اور جہان آخرت ميں پروردگار عالم كى رحمت كے سائے ميں خوشى و آرام كے ساتھ ابدى زندگى گزارے لہذا انسان كى ازدواجى زندگى كے اصل مقصد كو اسى پس منظر ميں تلاش كرنا چاہئے _ ايك ديندار انسان كے نزديك شادى كا اصل مقصد يہ ہے كہ وہ اپنے شريك زندگى كے اشتراك و تعاون سے اپنے نفس كو گناہوں ، برائيوں اور بداخلاقيوں سے محفوظ ركھے اور صالح اعمال اور نيك و پسنديدہ اخلاق و كردار كے ساتھ اپنے نفس كى تربيت كرتے تا كہ انسانيت كے بلند مقام پر پہونچ جائے اور خدا كا تقرب حاصل كرلے _ اور ايسے اعلى مقصد كے حصول كے لئے شائستہ ، نيك اور موزوں شريك زندگى كى ضرورت ہوتى ہے _

دو مومن انسان جو شادى كے ذريعہ خاندان كى تشكيل كرتے ہيں انس و محبت كے سائے ميں سكون و اطمينان كے ساتھ اپنى جائز خواہشات سے بہرہ مندہوسكتے ہيں اور اس طرح ناجائز تعلقات قائم كرنے ، فساد وتباہى كے مراكز كا رخ كرنے نيز خاندانوں كو تباہ كردينے والى شب باشيوں كے شرسے محفوظ ركھنے كے اسباب مہيا كئے جا سكتے ہيں _

يہى سبب ہے كہ پيغمبر اكرم او رائمہ اطہار عليہم السلام نے ازدوج يعنى شادى پر بہت زيادہ تاكيد فرمائي ہے _ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں : جو شخص شادى كرتا ہے اپنے آدھے دين كى حفاظت كے اسباب مہيا كرليتا ہے _(۹)

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : شادى شدہ انسان كى دو ركعت نماز ، غير شادى شدہ انسان كى ستر ركعت كى نمازوں سے زيادہ افضل ہے _(۱۰)

ديندار اور مناسب شريك زندگى (خواہ مرد ہو يا عورت) كا وجود ، فرائض كى ادائيگى اور واجبات


و مستحبات پر عمل كرنے نيز محرمات و مكروہات سے اجتناب كرنے ، نيكيوں كو اختيار كرنے اور برائيوں سے پرہيز كرنے كے سلسلہ ميں بہت اہم كردار ادا كرتا ہے _

اگر شوہر و بيوى دونوں ديندار ہوں اور تزكيہ نفس سے بہرہ مند ہوں تو اس دشوار گزار راہ كو طے كنرے ميں نہ صرف يہ كہ كوئي ركاوٹ نہيں ہوگى بلكہ ايك دوسرے كے معاون و مددگار ثابت ہوں گے _ خدا كى راہ ميں جہاد كرنے والا ايك سپاہى كيا اپنى شريك زندگى كے تعاون اور رضامندى كے بغير ميدان جنگ ميں اچھى طرف لڑسكتاہے اور دليرانہ كارنامے انجام دے سكتا ہے ؟ كيا كوئي انسان اپنى شريك حيات كى موافقت كے بغير روزى ، علم اور مال و دولت كے حصول ميں تمام شرعى اوراخلاقى پہلوؤں كا لحاظ ركھ سكتا ہے ؟ اسراف اور فضول خرچيوں سے بچ سكتا ہے؟ اپنے ضرورى اخراجات كے علاوہ رقم كو نيك كاموں ميںخرچ كرسكتا ہے؟

مومن اور ديندار شريك زندگى اپنے ساتھى كو نيكى اور اچھائيوں كى ترغيب دلاتے ہيں اور لاابالى اور بداخلاق، اپنے شريك زندگى كو برائيوں اور بداخلاقيوں كى طرف راغب كرتے ہيں _ اور انسانيت كے مقدس مقصد سے دور كرديتے ہيں _ اسى سبب سے مرد اور عورت دونوں كے لئے كہا گيا ہے كہ شريك حيات كے انتخاب كے وقت ، ايمان، ديندارى اور اخلاق كو بنيادى شرط قرار ديں _

رسول خداصلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد ہے كہ خداوند عالم نے فرمايا: جب ميں ارادہ كرتا ہوں كہ دنيا و آخرت كى تمام خوبياں كسى مسلمان شخص كے لئے جمع كردوں تو اس كو مطيع قلب، ذكر كر نيوالى زبان اور مصيبتوں پر صبر كرنے والا بدن عطا كرتا ہوں _ اور اس كو ايسى مومن بيوى ديتا ہوں كہ جب بھى اس كى طرف ديكھے اسے خوش و مسرور كردے اور اس كى غير موجودگى ميں اپنے نفس اور اس كے مال كى حفاظت كرنيوالى ہو'' _(۱۱)

ايك شخص نے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى خدمت ميں آكر عرض كيا كہ ميرى بيوى ، جب ميں گھر ميں داخل ہوتا ہوں تو ميرے استقبال كے لئے آتى ہے ، جب گھر سے باہر جاتا ہوں نے مجھے رخصت


كرتى ہے _ جب مجھے رنجيدہ ديكھتى ہے تو ميرى دلجوئي كرتى ہے اور كہتى ہے اگرتم رزق و روزى كے متعلق فكرمند ہوتو رنجيدہ نہ ہو كہ روزى كا ضامن تو خدا ہے اور اگر آخرت كے امور كے بارے ميں سوچ رہے ہو تو خدا تمہارى فكر و كوشش اور ہمت ميں اوراضافہ فكرے _ رسول خدا (ص) نے فرمايا: اس دنيا ميں خدا كچھ خاص اور مقرب بندے ہيں اور يہ عورت بھى خدا كے ان خاص بندوں ميں سے ہے_ ايسى بيوى ايك شہيد كے نصف ثواب سے بہرہ مند ہوگى _(۱۲)

امير المومنين حضر ت على (ع) كے پيش نظر بھى يہى اعلى مقصد تھا كہ حضرت زہرا عليہا السلام كے بارے ميں فرمايا كہ وہ اطاعت خدا كى راہ ميں بہترين معاون و مددگار ہيں _

تاريخ ميں ہے كہ رسول خدا (ص) ، حضرت على (ع) اور جناب زہرا(ع) كى شادى كے بعد مبارك دينے اور احوال پرسى كى غرض سے ان كے گھر تشريف لے گئے _ حضرت على (ع) سے پوچھا : اپنى شريك زندگى كو تم نے كيسا پايا؟

كہا : خدا كى اطاعت كے لئے ، زہرا كو ميں نے بہترين مددگار پايا

اس كے بعد جناب فاطمہ زہرا (ع) سے پوچھا : تم نے اپنے شوہر كو كيسا پايا؟

كہا : بہترين شوہر _(۱۳)

امير المومنين عليہ السلام نے اس مختصر سے جملہ كے ذريعہ ، اسلام كى شائستہ اور مثالى خاتون كا تعارف بھى كرايا ، اور ازدواجى زندگى كے بنيادى اور اہم مقصد كو بھى بيان فرماديا_


''شوہر داري'' يعنى شوہر كى نگہداشت اور ديكھ بھال

بيوى بننا كوئي معمولى اور آسان كام نہيں كہ جسے ہر نادان اور ناہل لڑكى بخوبى بنھا سكے _ بلكہ اس كے لئے سمجھدارى ، ذوق و سليقہ اور ايك خاص دانشمندى و ہوشيارى كى ضرورت ہوتى ہے _ جو عورت اپنى شوہر كے دل پر حكومت كرنا چاہتى ہے اسے چاہئے كہ اس كى خوشى و مرضى كے اسباب فراہم كرنے اس كے اخلاق و كردار اور طرز سلوك پر توجہ دے اور اسے اچھے كاموں كى ترغيب دلائے ، اور برے كاموں سے روكے _ اس كى صحت و سلامتى اور اس كے كھانے پينے كا خيال ركھے اور اسے ايك باعزت ، محبوب اور مہربان شوہر بنانے كى كوشش كرے تا كہ وہ اس كے خاندان كا بہترين سرپرست اور اس كے بچوّں كا بہتريں باپ اور مربى ثابت ہو _ خداوند عالم نے عورت كو ايك غير معمولى قدر و صلاحيت عطا فرمائي ہے _ خاندان كى سعادت و خوش بختى اس كے ہاتھ ميں ہوتى ہے اور خاندان كى بدبختى بھى اس كے ہاتھ ميں ہوتى ہے _

عورت چاہے تو اپنے گھر كو جنت كا نمونہ بنا سكتى ہے اور چاہے تو اسے جہنّم ميں بھى تبديل كرسكتى ہے وہ اپنے شوہر كو ترقى كى بلنديوں پر بھى پہونچا سكتى ہے _ اور تنزلى كى طرف بھى لے جا سكتى ہے _ عورت اگر ''شوہر داري'' كے فن سے بخوبى واقف ہو اور خدا نے اس كے لئے جو فرائض مقرر فرمائے ہيں انھيں پورا كرے تو ايك عام مرد كو بلكہ ايك نہايت معمولى اور نااہل مرد كو ايك لائق اور باصلاحيت شوہر ميں تبديل كر سكتى ہے _

ايك دانشور لكھتا ہے : عورت ايك عجيب و غريب طاقت كى مالك ہوتى ہے وہ قضا و قدر كى مانند ہے _ وہ جو چاہے وہى بن سكتى ہے _(۱۴)

اسمايلز كہتا ہے : اگر كسى فقير اور بے مايہ شخص كے گھر ميں خوش اخلاق اور متقى و نيك عورت


موجود ہو تو وہ اس گھر كو آسائشے و فضيلت اور خوش نصيبى كى جگہ بناديتى ہے _

نيپولين كہتا ہے :'' اگر كسى قوم كى ترقى و تمدن كا اندازہ لگانا ہوتو اس قوم كى خواتين كو ديكھو ''_

بالزاك كہتا ہے : نيك و پاكدامن عورت كے بغير، گھر ايك قبرستان كى مانند ہے _

اسلام ميں بيوى كے فرائض كو اس قدر اہميت د ى گئي ہے كہ اس كو خدا كى راہ ميں جہاد سے تعبير كيا گيا ہے _ حضرت على (ع) فرماتے ہيں : عورت كا جہاد يہى ہے كہ وہ بحيثيت بوى كے اپنے فرائض كو بخوبى انجام دے _(۱۵)

اس بات كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ اسلام كى عظمت و ترقى كے لئے _ اسلامى ممالك كا دفاع كرنے اور سماج ميں عدل و انصاف قائم كرنے كے لئے خدا كى راہ ميں جہاد ، ايك بہت بڑى عبادت شمار كيا جاتا ہے يہ بات بخوبى واضح ہوجاتى ہے كہ عورت كے لئے شوہر كى ديكھ بھال كرنا اور اپنے فرائض كو انجام دينا كتنا اہم كام ہے _

رسول خدا(ص) فرماتے ہيں : جس عورت كو ايسى حالت ميں موت آجائے كہ اس كا شوہر اس سے راضى و خوش ہو ، اسے بہشت نصيب ہوگى _(۱۶)

حضرت رسول خدا (ص) كا يہ بھى ارشاد ہے كہ: عورت ، خدا كے حق كو ادا نہيں كرسكتى جب كہ وہ بحيثيت شريك زندگى اپنے فرائض كو بخوبى ادا نہ كرے _(۱۷)

محبت كا اظہار كيجئے

ہر انسان و دوستى كا بھوكا ہوتاہے _ اس كى خواہش ہوتى ہے كہ دوسرے اس سے محبت كريں _ انسان كادل محبت كى طاقت سے زندہ رہتا ہے _ اگر كسى كو يہ معلوم ہوجائے كہ اسے كوئي محبوب نہيں ركھتا تو ايسا انسان خود كو تنہا و بيكس محسوس كرتاہے _ ہميشہ غمگين اور پمردہ رہتا ہے _

خاتون محترم آپ كے شوہر كا دل بھى اس خواہش كے احساس سے خالى نہيں ہے وہ بھي


عشق و محبت كا بھوكا ہے _ پہلے وہ اپنے ماں باپ كى محبت سے بہرہ ور تھا ليكن جب سے اس نے آپ سے رشتہ پيمان وفا باندھا ہے ، اس وقت سے اپنے آپ كو آپ كے اختيار ميں ديديا ہے اب وہ آپ سے توقع ركھتا ہے كہ اس مہر و محبت كى تلافى كريں اور اسے دل كى گہرائيوں سے چاہيں _ اس نے تمام تعلقات كو منقطع كركے آپ اسے رشتہ محبت و دوستى استوار كيا ہے اور چاہتا ہے كہ آپ اپنا بھرپور پيار و محبت اس پرنچھاوركريں وہ شب وروز آپ كے آرام و آسائشے كے لئے زحمت اٹھاتا ہے اور اپنى محنت و مشقت كے ما حصل كو اخلاص كے ساتھ آپ كے اوپر نچھا وركرديتاہے _ آپ ہى اس كى شريك زندگى _ دائمى مونس اور حقيقى غمخوار ہيں حتى كہ آپ كے ماں باپ سے زيادہ اس كو آپ كى خوشى و سعادت كا خيال رہتا ہے _ اس كى قدر پہچانئے اور صميم قلب اس سے محبت كيجئے اگر آپ اس كو عزيز ركھيں گى تو وہ بھى آپ پر اپنى محبت نچھاور كرے گا كيونكہ محبت دو طرفہ ہوتى ہے اور دل كو دل سے راہ ہوتى ہے _

محبت و مہربانى كے اظہار ميں واقعاً ايك عجيب و غريب تاثير ہوتى ہے _ ايك بيس سالہ لڑكا جو ديہات سے پڑھنے كے لئے تہران آيا تھا اپنى ۳۹ سالہ بيوہ مالك مكان كا عاشق ہوگيا كيونكہ اس خاتون نے اپنى مہربانيوں كے ذريعہ اس كے دل ميں ماں كى جگہ لے لى تھى اور ماں سے دورى كے خلاء كو پر كرديا تھا _(۱۸) اگر محبت دو طرفہ ہو تو ازدواجى زندگى كى بنياديں مضبوط ہوجاتى ہيں اور جدائي كا خطرہ باقى نہيں رہتا _

اس غرور ميں نہ رہئے كہ ميرے شوہر نے مجھ پر محبت كى نگاہ كى ہے اور اس كا عشق ہميشہ قائم رہے گا كيونكہ ايسا عشق جو ايك نگاہ سے پيدا ہوتا ہے دوامى اور پائيدار نہيں ہوتا _ اگر آپ چاہتى ہين كہ اس كا عشق ہميشہ قائم رہے تو دائمى مہر و محبت كے رشتہ كى حفاظت كيجئے _ اگر آپ اپنے شوہر سے محبت كريں گى تو اس كا دل ہميشہ خوش و خرم اور شاداب رہے گا اپنے كام كاج ميں پورى دل جمعى كے ساتھ لگارہے گا اور زندگى ميں بھر پور دلچسپى لے گا اور ہر كام ميں كاميابى حاصل كرے گا _


اگر اسے يہ معلوم ہوكہ اسے اپنى شريك زندگى كى بھر پور محبت حاصل ہے تو وہ اپنے خاندا ن كى فلاح و بہبودى اور خوشى كے لئے اپنى فداكارى كى حد تك كوشش كرنے كے لئے تيار رہے گا جس مرد كو محبت كى كمى محسوس نہيں ہوتى وہ بہت كم دماغى امراض اور اعصابى كمزوريوں كا شكار ہوتے ہيں _

خاتون عزيز اگر آپ كے شوہر يہ معلوم ہو كہ آپ اس سے محبت نہيں كرتيں تو وہ آپ سے سرد مہرى سے كام لے گا _ زندگى اور اپنے كام كاج سے اس كى دلچسپى كم ہوجائے گى _ پريشانيوں اور دماغى امراض ميں مبتلا ہوجائے گا _ زندگى اور خاندان سے فرار اختيار كرے گا اور زندگى ميدان ميں سرگرداں اور پريشان رہے گا _ ممكن ہے مجبور ہوكر شراب خانوں ، قمار خانوں اور تباہى و بردبارى كے مراكز ميں پناہ تلاش كرے _

اپنے دل ميں سوچے گا كہ ميں ايسے لوگوں كے لئے كيوں تكليف اٹھاؤں جو مجھے دوست نہيں ركھتے بہتر ہے عياشى اور آزادى كى زندگى گزاروں اور اپنے لئے حقيقى دوست پيدا كروں _

خواہر محترم اپنے شوہر كى گردن ميں رشتہ محبت ڈال ديجئے اور اس كے ذريعہ اس كى توجہ كو اپنے گھر اور خاندان كى طرف مركوز و مبذول كرايئے ممكن ہے آپ دل سے اپنے شوہر كو بہت چاہتى ہوں مگر اظہار نہ كرتى ہوں ليكن صرف اتنا ہى كافى نہيں ہے بلكہ اس كا اظہار بھى ضرورى ہے اور اپنى رفتار و گفتار اور حركات كے ذريعہ اپنے عشق و مبحت كو نمايان كيجئے _ اس ميں كيا ہر ج ہے اگر كبھى كبھى آپ اپنے شوہر سے كہيں كہ ميں واقعى آپ كو بہت چاہتى ہوں _ اگر وہ سفر سے واپس آيا ہے تو نيا لباس يا پھولوں كا ايك گلدستہ اس كى نذر كريں اور كہيں اچھا ہو آپ آگئے مجھے آپ كى جدائي گوارہ نہيں _ جب وہ باہر گيا ہو ت اسے خط لكھيں اور اس كے فراق و جدائي ميں اپنے غم كا اظہار كريں _ شوہر جہاں كام كرتا ہو وہاں ٹيليفوں ہو اور گھر بھى ٹيليفون ہو تو كبھى كبھى فو ن كركے اس كى خيريت پوچھ ليجئے (ليكن زيادہ نہيں ) اگر خلاف معمول دير سے گھر پہونچے تو اپنى پريشانى كا اظہار كيجئے _


اس كى غير موجودگى ميں اپنے دوستوں اور عزيزوں ميں اس كى تعريف كيجئے كہئے واقعى ميں نے كيا شوہر پايا ہے _ ميں اس سے محبت كرتى ہوں _اگر كوئي اس كى برائي كرنا چاہے تو اس كا دفاع كيجئے _ آپ جتنا زيادہ اپنے عشق و محبت كا اظہار كريں گى وہ اتنى ہى زيادہ آپ سے محبت كرے گا _ اور اس طرح آپ كى ازدواجى زندگى كى رسى اتنى ہى مضبوط ہوتى جائے گى اور آپ كا گھرانہ ، ايك خوش و خرم اور خوش نصيب گھرانہ ہوگا _

شيكسپئر كہتا ہے : عورت كى جس چيز نے ميرے دل كو مسخر كيا وہ اس كى مہربانى ہے نہ كہ اس كے چہرے كى خوبصورتى _ ميں اس عورت كو زيادہ پسند كرتاہوں جو زيادہ مہربان ہو _

خداوند بزرگ و برتر مياں بيوى كے درميان پائي جانے والى محبت و انسيت كو اپنى قدرت كى نشانيوں ميں سے ايك نشانى قرارديتے ہوئے قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

''خدا كى نشانيوں ميں سے ايك نشانى يہ ہے كہ اس نے تمہارے لئے شريك زندگى (ہمسر)

پيدا كئے تا كہ تم ان سے چين حاصل كرواور تمہارے درميان دوستى و محبت پيدا كى _(۱۹)

حضرت امام رضا (ع) فرماتے ہيں : بعض عروتيںاپنے شوہروں كے لئے بہترين نعمت ہيں يعنى ايسى عورتيں جو اپنے شوہر سے محبت و عشق كا اظہار كريں _(۲۰)

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : تم ميں سے بہتريں عورتيں وہ ہيں جو عشق و محبت كے جذبات سے مملو ہوں _(۲۱)

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : اگر كسى كو عزيز ركھتے ہو تو اس كو اس بات سے آگاہ كرو_(۲۲)

شوہر كا احترام

ہر انسان كو اپنى شخصيت سے پيار ہوتا ہے وہ اپنے آپ كو عزيز ركھتا ہے _ اس كا دل چاہتا ہے كہ دوسرے بھى اس كى شخصيت كا احترام كريں اور جو اس كى شخصيت كا احترام كرتا ہے وہ اس كا


محبوب بن جاتا ہے او رتوہين كرنے والوں سے اس كا دل متنفرہوجاتا ہے _

خاتوں محترم اپنى ذات سے محبت او راحترام كى خواہش ، ايك فطرى جذبہ ہے ليكن ہر شخص آپ كے شوہر كے دلى جذبات كا احترام كرنے اور ان كى عزت كرنے كے لئے تيار نہيں _ گھر سے باہر سينكڑوں افراد اور طرح طرح كے بدتميز لوگوں سے اس كا سابقہ پڑتا رہتا ہے جو اكثر اوقات اس كى توہين كرديتے ہيں اس كى شخصيت كو مجروح كرديتے ہيں _ چونكہ آپ اس كى شريك زندگى اور مونس و غمخوار ہيں اس لئے وہ آپ سے اس بات كى توقع ركھتاہے كہ كم سے كم گھر ميں آپ اس كا احترام كريں اور اس كى مجروح شخصيت كو سہارا ديں _ اس كى عزت افزائي كركے آپ چھوٹى نہيں ہوجائيں گى بلكہ اس كو طاقت و توانائي اور حوصلہ عطا كريں گى _ آپ كے چند حوصلہ افزا جملے اس ميں سرگرم عمل رہنے كے لئے ايك نئي روح پھونك ديں گے _

خاتون محترم اپنے شوہر كو سلام كيجئے _ ہميشہ اس كو ، آپ سے مخاطب كيجئے _ گفتگو كے دوران اس كے كلام كو منقطع نہ كيجئے _ اس كا احترام كيجئے _ اس سے ادب سے بات كيجئے _ اس كے اوپر چيخئے چلايئےہيں _ اگر كسى محفل ميں ساتھ جارہى ہيں تو اس كو آگے ركھئے _ اس كو نام لے كر نہ پكاريئے بلكہ فيملى نام يا لقب سے مخاطب كيجئے _ دوسروں كے سامنے اس كى تعريف و تحسين كيجئے _ مہمانوں كے سامنے بھى اس كا احترام كيجئے_ اور انھيں كے برابر ، بلكہ ان سے زيادہ اس كى خاطر كيجئے _ كہيں ايسا نہ ہو كہ مہمانوں كى بزم آپ اپنے شوہر كے وجود كو نظر انداز كرديں اور آپ كى تما م تر توجہ مہمانوں پر مركوزرہے _ جب دروازہ كھٹكھٹائے تو كوشش كيجئے كہ آپ خود دروازہ كھوليں اور كشادہ پيشانى اور مسكراہٹ كے ساتھ اس كا استقبال كيجئے _ كيا آپ جانتى ہيں كہ آپ كا يہ چھوٹا سا فعل ، آپ كے شوہر كے دل پر كتنا اچھا اثر ڈالے گا ؟ شايد گھر كے باہر اسے گوناگوں مشكلات كا سامنا كرنا پڑا ہو اور وہ شكستہ دل اور پريشان گھر آيا ہو _آپ كا مسكراتے لبوں سے استقبال كرنا ، اس كے تھكے ماندے جسم ميں ايك تازہ


روح پھونك دے گا اور اس كے دل كو سكون و اطمينان عطا كردے گا _ ممكن ہے خواتين ان باتوں پر تعجب كريں اور كہيں يہ كيسى عجيب و غريب تجويزہے _ بيوى شوہر كے خير مقدم كے لئے جائے اور اسے خوش آمديد كہے وہ كوئي غير اور اجنبى تو ہے نہيں كہ اسے اس بات كى احتياج ہو كہ اس كا خير مقدم كيا جائے اور خوش آمديدكہا جائے _

آداب كا لحاظ صرف احباب كے درميان ركھنا ، يہ طرز فكر ہمارى غلط تربيت كا نتيجہ ہے _ يہ كون كہتا ہے كہ دوستوں اور عزيزوں كا ادب و احترام كرنا لازم نہيں ہے _ كوئي مہمان آپ كے گھر آتاہے آپ اس كا خير مقدم كرتى ہيں _ اسے خوش آمديد كہتى ہيں اس كا احترام كرتى ہيں _ يہ بالكل صحيح ہے مہمان كا احترام كرنا چاہئے ليكن ذرا انصاف سے كہئے گا ايك شخص جو صبح سے شام تك آپ كے آرام و آسائشے اور ضروريات زندگى مہيا كرنے كى فكر ميں لگا ہوا ہے اور اس كے لئے سينكڑوں طرح كى پريشانيوں اور دشواريوں كا سامنا كرتا ہے اور جب خلوص كے خوان ميں اپنى محنت كى كمائي سجا كر ، گھر كے دروازے تك آنے كى زحمت گوارا كريں اور لبوں پر مسكراہٹ لاكر ايك خيرمقدمى جملے سے اس كا دل شاد كرديں _ يہ نہ كہئے كہ ہم آپس ميں ايك دوسرے سے مانوس ہيں اس لئے وہ احترام كى توقع نہيں ركھتا بلكہ دوسروں سے زيادہ وہ آپ سے احترام كا خواہاں ہے _ اگر آپ اس كا احترام نہيں كرتيں اور وہ خاموش رہتا ہے تو يہ اس بات كى دليل نہيں كہ وہ آپ سے احترام كى توقع نہيں ركھتا بلكہ آپ كا لحاظ كركے اپنى دلى خواہش كو دباديتا ہے _

خاتوں عزيز اگر آپ اپنے شوہر كى عزت كريں گى تو وہ بھى آپ كا احترام كرے گا _ آپ كے درميان رشتہ الفت و محبت استوارتر اور پيمان زناشوئي پائيدارتر ہوجائے گا _ گھر ، زندگى اور اپنے كام ميں اس كى دلچسپى بڑھ جائے گى _ اور يقينا يہ چيز آپ كے مفاد ميں ہوگى _


رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں : بيوى كا فرض يہ ہے كہ اپنے شوہر كا استقبال كے لئے گھركے دروازے تك جائے اور اس كو خوش آمديد كہے _(۲۳)

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں : وہ عورت جو اپنے شوہر كا احترام كرے اور اس كو تكليف نہ پہونچائے ، وہ خوش نصيب اور سعادت مند ہوگى _(۲۴)

پيغمبر اسلام كا ارشاد ہے _ عورت كا فرض ہے كہ اپنے شوہر كى لئے توليہ اور طشت لائے اور اس كے ہاتھ دھلائے _(۲۵)

اس بات كا خيال ركھئے كہ آپ اپنے شوہر كى توہين اور بے عزتى نہ كريں اسے بر ابھلانہ كہيں ، گالى نہ ديں ، اس كى طرف سے بے بى اعتنائي نہ برتيں ، اس پر چيخيں چلائيں نہيں ، دوسروں كے سامنے اس كى بے عزتى نہ كريں ،اس كو برے ناموں سے نہ پكاريں _ اگر آپ اس كو توہين كريں گى تو وہ بھى آپ كى توہين كرے گا _ وہ رنجيدہ ہوجائے گا ، آپ كى طرف سے اس كے دل ميں كينہ بيٹھ جائے گا _ آپ كے درميان انس و محبت كا خاتمہ ہوجائے گا اور آپ كى زندگى ميں ہميشہ كشمكش باقى رہے گى _ اگر ساتھ زندگى گزاريئےا ، تو يقينا آپ كى زندگى خوشگوار نہيں ہوگى _ ذہنى تناؤ كينہ ، اور نفسياتى الجنھيں ممكن ہے آپ كے لئے خطرہ پيدا كرديں اور ظلم و ستم كا باعث بنيں _

مندرجہ ذيل واقعات سے عبرت حاصل كيجئے :_

ايك ۲۲ سال مرد نے اپنى ۱۹ سالہ بيوى كو اس وجہ سے كہ اس نے اس كو اندھے گدھے ، كہكر پكارا تھا ، چاقو كى پندرہ ضربوں سے قتل كرديا _ اس نے عدالت ميں كہا : ايك سال پہلے ميں نے اس سے شادى كى تھى _ شروع ميں وہ مجھے بہت چاہتى تھى ليكن جلد ہى اس ميں تبديلى رونما ہوگئي اور حالات ناسازگار ہوتے گئے ، وہ ذرا ذرا سى بات پر مجھ كو گالى ديتي_ حتى كہ چونكہ ميرى ايك آنكھ ذرا سى ٹيڑھى ہے اس لئے مجھے ، اندھے گدھے ، كہہ كر مخاطب كرتى _ حادث كے دبن بھى اس نے


اپنے شوہر كو ان ہى الفاظ سے پكاراتھا اور وہ اس قدر غضبناك ہوگيا كہ اپنى بيوى كى جان كے درپے ہوگيا اور چاقو كى ۱۵ ضربوں سے اس كو ہلاك كرديا _(۲۶)

ايك ۷۱ سالہ مرد جس نے اپنى بيوى كو ہلاك كرديا تھا قتل كى وجہ يوں بيان كرتا ہے : _

اچانك اس كے سلوك ميں فرق آگيا تھا وہ ميرى طرف سے بے پروا ہوگئي تھى ايك بار مجھ كو ، ناقابل برداشت بوڑھے، كہہ كر بھى پكارا _ اس بات سے پتہ چل گيا كہ وہ مجھ سے محبت نہيں كرتى _ ميں بدگمانى ميں مبتلا ہوگيا اور كلہاڑى كى دو ضربوں سے اس كاكام تمام كرديا _(۲۷)

شكوہ شكايت

كوئي انسان ايسا نہيں جسے پريشانيوں ، الجھنوں اور دشواريوں كا سامنا نہ كرنا پڑے _ ہر شخص كى يہ خواہش ہوتى ہے كہ اس كا كوئي غمخوار اور محرم راز ہوجس سے وہ اپنى پريشانيوں كو بيان كرے _ اور وہ اس سے اظہار ہمدردى كرے اور اس كا غم غلط كرے _ ليكن ہر بات كا ايك موقعہ و محل ہوتا ہے _ درد دل بيان كرنے كيلئے بھى مناسب موقع كا لحاظ ركھنا چاہئے _ ہر جگہ ، ہر وقت اور ہر حالت ميں شكلہ ميں شروع نہيں كردينى چاہئے _ وہ عورتيں جو نادان اور خود غرض ہوتى ہيں اور شوہر دارى كے آداب اور معاشرت كے رموز سے ناواقف ہوتى ہيں ان ميں اتنا بھى صبر و ضبط نہيں ہوتا كہ وہ اپنى پريشانيوں كو برداشت كريں اور درددل كو مناسب وقت كيلئے اٹھاركھيں جيسے ہيں بيچارہ شوہر تھكاماندہ گھر ميں داخل ہوتا ہے ، ذرا دم بھى وہيں لينے پاتا كہ اسى وقت اس كى نادان بيوى شكايتوں كے دفتر كھول ديتى ہے جو گھر سے بيزار بنايئےيلئے كافى ہے _ خود تو چلے جاتے ہو اور مجھے ان كم بخت بچوں ميں سركھپانے كے لئے چھوڑ جاتے ہو _ احمد نے كمرے كے دروازہ كا شيشہ توڑديا _ منيزہ اور پروين ميں خوب لڑائي ہوئي_ ان بچوں كى اودہم نے مجھے ديوانہ كرديا _ افوہ ، بہرام ذرا بھى سبق نہيں پڑھتا _ آج اسكوال سے اس كى رپورٹ آئي ہے _ بہت خراب نمبر ہيں _ ميں بيكارہى ان سب كے لئے زحمت اٹھائتى ہوں _ صبح سے اب تك اس قدر كام كئے ہيں كہ حالت خراب ہوگئي كسى كو ميرى پرواہ نہيں _ يہ بچے ذرا بھى كسى كام ميں ہاتھ نہيں لگاتے _ كاش بے اولاد ہوتى _ ہاں آج تمہارى بہن آئي تھى _ معلوم نہيں كيوںمجھ سے


خار كھاتى ہے _ جيسے ميں اس كے باپ كا ہى تو كھاتى ہوں _ اور تمہارى ماں _ خدا كى پناہ _ ادھر ادھر ميرى برائيوں كرتى ہيں _ ميں ان سب سے تنگ آگئي ہوں _ لعنت ہو مجھ پر كہ كہ ايسے خاندان سے پالاپڑا ہے _ ميرے ہاتھ ديكھو_ كھانا پكارہى تھى چھرى سے ميرا ہاتھ كٹ گيا_ ہاں كل سہراب كے يہاں تساوى ميں گئي تھى كاش نہ گئي ہوتى _ وہاں جاكر عزّت مٹى ميں مل گئي _ حسن آغا كى بيوى آئي تھى _ كيا ميك اپ تھا اور كيا لباس تھا _ خدا ايسى قسمت سب كى بنائے _ لوگ اپنى بيويوں كا كس قدر خيال ركھتے ہيں _ كيسے اچھے اچھے لباس ان كے لئے خريد تے ہيں _

اس كو كہتے ہيں شوہر _ جب وہ محفل ميں آئي تو سب نے اس كا احترام كيا جى ہاں لوگ صر ف كپڑے ديكھتے ہيں _ آخر ميں اس سے كس بات ميں كم ہوں كہ اس كى اتنى شان ہے _ ہاں قسمت والى ہے _ اس كا شوہر اس كا خيال ركھتا ہے تمہارى طرح نہيں ہے _ اب ميں اس منحوس گھر ميں تمہارے اور تمہارے بچوں كے لئے جان نہيں كھپاسكتى _ جو چاہے كرو'' _ و غيرہ و غيرہ_

خاتون محترم شوہر داردى ، كا يہ طريقہ نہيں ہے _ كيا آپ سمجھتى ہيں كہ آپ كا شوہر تفريح اور سير سپاٹے كرنے كے لئے گھر سے باہر جاتا ہے _ روز ى كمانے ، ضروريات زندگى مہيا كرنے اور پيسے كمانے كى غرض سے باہر جاتا ہے _ صبح سے اب تك اس كو نہ جانے كن كن پريشانيوں كا سامنا كرنا پڑا كہ جن ميں سے ايك كى بھى آپ متحمل نہ ہو سكيں گي_ آفس يا بازار كى مشكلات كى آپ كو خبر نہيں ہے _ كيسے لوگوں سے پالا پڑتا ہے اور كيسى كيسى ذہنى پريشانياں آجاتى ہيں_ آپ كو اپنے شوہر كى پمردہ روح اور تھكے ماندے اعصاب كى كوئي فكر نہيں _ اب جبكہ وہ باہر كى پريشانيوں سے جان چھڑا كر گھر ميں پناہ لينے آيا ہے كہ ذرا دير آرام كرلے تو بجائے اس كے كہ آپ اس كا غم غلط كريں، شكايتوں كے دفتر اس كے سامنے كھول كے بيٹھ جاتى ہيں _ آخر اس بے چارے نے مرد ہوكر كيا گناہ ہے كہ گھر سے باہر طرح طرح كى پريشانيوں ميں گرفتار رہتا ہے اور گھر آتے ہى اسے آپ كے شكوے شكايات كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ ذرا انصاف سے كام ليجئے _ تھوڑا سا اس كے بارے ميں بھى سوچئے _ اس كے پاس بھى سوائے اس كے


اور كوئي چارہ نہيں كہ چيخے چلائے تا كہ آپ كى بے جا شكايتوں اور بد زبانيوں سے نجات حاصل كرے يا اس گھر سے فرار اختيار كركے كسى ہوٹل ، سينما يا كسى دوسرى جگہ جاكر پناہ لے يا سڑكوں پر آوارہ گھومتا ہے _

خانم محترم خدا كى خوشنودى اور اپنے اور خاندان كى خاطر اس قسم كى بے جا شكايتوں اور ہنگاموں سے پرہيز كيجئے _ عقل مندى اور ہوشيارى سے كام ليجئے _ موقع شناس بنئے _ اگر آپ كو واقعى كوئي پريشانى لاحق ہے تو صبر كيجئے تا كہ آپ كا شوہر آرام كرلے _ اس كى تھكن دور ہوجائے اس كى بعد موقع كى مناسبت سے ضرورى باتيں اس سے بيان كيجئے _ ليكن اعتراض كى شكل ميں نہيں بلكہ اس طرح گويا آپ اس سے مشورہ لے رہى ہيں اور اس كو حل كرنے كى فكر كيجئے _ اگر آپ كے شوہر كو اپنے خاندان سے شديد لگاؤہے تو چھوٹى چھوٹى باتوں اور غير ضرورى واقعات كو اس سے بيان نہ كريں اور ہر وقت كى چپقلش سے اپنے شوہر كے اعصاب كو خستہ نہ كيجئے _ اس كو اس كے حال پر چھوڑ ديجئے اس كو اور بھى بہت سى پريشانياں لاحق رہتى ہيں _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں : جو عورت اپنى زبان سے اپنے شوہر كو تكليف پہونچاتى ہے ، اس كى نمازيں اور دوسرے اعمال قبول نہيں ہوتے خواہ ہر روز روزہ ركھے اور راتوں كو عبادت او رتہجد كے لئے اٹھے_ غلاموں كو آزاد كرے اپنى دولت راہ خدا ميں خرچ كرے ايسى عورت جو بدزبان ہو اور اپنى بد زبانى سے اپنے شوہر كو رنج پہونچائے وہ پہلى شخص ہوگى جو دوزخ ميں داخل ہوگى _(۲۸)

رسول خدا (ص) ايك اور موقع پر فرماتے ہيں : جو عورت اپنے شوہر كو دنيا ميں تكليف پہونچاتى ہے حوريں اس سے كہتى ہيں ، تجھ پر خدا كى مار، اپنے شوہر كو اذيت نہ پہونچا ، يہ مرد تيرے لئے نہيں ہے _ تو اس كے لائق نہيں وہ جلدہى تجھ سے جدا ہوكر ہمارى طرف آجائے گا _(۲۹)

ميرى سمجھ ميں نہيں آتا كہ ان فضول باتوں سے خواتين كا مقصد كيا ہے _ اگر چاہتى ہيں كہ اس طرح سے شوہر كى توجہ كو اپنى طرف مبذول كراليں او راپنے آپ كو اس كے سامنے محبوب ،محنتى اور


خير خواہ ظاہر كريں ، تو اطمينان ركھيں كہ اس كا نتيجہ برعكس ہوگا _ نہصرف يہ كہ اس طريقے سے آپ اس كى محبت حاصل نہ كر سكيں گى بلكہ شوہر كے غيظ و غضب كا شكار ہوجائيں گى _ اور اگر اس طرز عمل سے آپ كا مقصد اپنے شوہر كے اعصاب كو خستہ كرنا ہے تا كہ كام اور زندگى سے اس كا دل بھر جائے اور اعصابى امراض ميں مبتلا ہوجائے اگر گھر سے فرار اختيار كرے اور اعصاب كو بے حس بنادينے كے لئے خطرناك نشہ آور چيزوں كى عادت ڈال لے اور فتنہ و فساد كے مراكزكا رخ كرے اور آخر كار دق كا شكار ہوجائے تو ا س صورت ميں آپ كا كاميابى يقينى ہے _

خاتون عزيز اگر آپ كو اپنے شوہر اور زندگى سے محبت ہے تو اس غير عاقلانہ اور غلط روش كو چھوڑيئے كيا اس بات كا احتمال نہيں كہ آپ كى بے جا شكايتيں ، قتل و غارت گرى كا باعث بن جائيں يا آپ كى خاندانى زندگى كا شيرازہ بكھر جائے _ مندرجہ داستان پر توجہ كيجئے :_

''جس وقت گھر آيا ، اس كى بيوى نے ، ايسى حالت ميں كہ اپنى تين سالہ بچى كو گوديں لئے ہوئے تھى اپنے شوہر سے كہا: تمہارے آفس سے دو آدمى آئے تھے اور برابھلا كہہ رہے تھے _ مرد سخت غضبناك ہوگيا اور حالت جنوں ميں چاقو كى نوك اپنى ننّھى سى بچى كے پيٹ ميں بھونك كر اسے قتل كرديا _ اس مرد كو چار سال كے لئے قيد كى سزا ہوگئي _(۳۰)

عدالت ميں ايك ڈاكٹر شكايت كرتا ہے :'' سارى زندگى ميرى بيوى نے ايك بار بھى ميرے ساتھ ايك شائستہ اور اچھى خاتون جيسا سلوك نہيں كيا _ ہمارے گھر ميں ہميشہ بد نظمى اور بدسليقگى كافرمارہي_ اس كے نالہ و فرياد ، بہانہ بازيوں اور گاليوں سے ميں بے حد تنگ آچكا ہوں '' يہ ڈاكٹر اس بات پر تيارے كہ پچاس ہزار روپئے دے كر اس كے شرسے نجات حاصل كرلے _ اور بہت خوشى سے كہتا ہے كہ اگر ميرى تمام دولت ، حتى ميرى ميڈيكل كى ڈگرى بھى آپ چاہيں تو ديدوں گا تا كہ جلد سے جلد اس سے رہائي حاصل كرلوں _(۳۱)

خوش اخلاق بنئے : جو خوش اخلاق ہوتا ہے ، لوگوں سے خندہ پيشانى سے پيش آتا ہے


مسكراكے بات كرتا ہے ، حادثات و مشكلات كے مقابلے ميں بردبارى سے كام ليتا ہے ، ايسا شخص سب كا محبوب ہوتا _ اس كے دوست زيادہ ہوتے ہيں _ سبھى چاہتے ہيں كہ اس سے تعلقات قائم كريں اور اس سے راہ و رسم بڑھائيں _ وہ شخص سب كى نظروں ميں عزيز و محترم ہوتا ہے _ ايسا شخص اعصابى كمزورى اور نفسياتى بيماريوں كا شكار نہيں ہوتا _ زندگى كى مشكلات اور پريشانيوں پر غلبہ پاليتا ہے _ خوش مزاج انسان زندگى كا صحيح لطف اٹھاتا ہے اور اس كى زندگى بہت سكون سے گزرتى ہے _

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں : خوش اخلاقى سے بڑھ كر زندگى ميں اوركوئي چيز نہيں _(۳۲)

البتہ جو شخص بد اخلاق ہوتا ہے _ لوگوں سے ترش روئي سے ملتا ہے _ حوادث و پريشانيوں كے وقت نالہ و فرياد كرتاہے ، بلا وجہ شوروہنگامہ كرتا ہے _ بد مزاج اور بدزبان ہوتا ہے اس كى زندگى تلخ و ناگوار گزرتى ہے ، خود بھى ہميشہ پريشان رہتا ہے اور اپنے ساتھ رہنے والوں كى زندگى بھى وبال جان بناديتا ہے _ لوگ اسے ناپسند كرتے ہيں اور اس سے ملنے سے كتراتے ہيں وہ نہ خود ہى چين سے رہتا اور نہ ہى اپنے گھر والوں كو چين سے رہنے ديتا ہے _ نہ اسے ٹھيك سے نيندآتى ہے نہ اچھى طرح كھاپى سكتا ہے _طرح طرح كى بيمارياں خصوصاً اعصابى امراض ايسے شخص كو گھير ليتے ہيں _ اس كى زندگى ہميشہ تلخ رہتى ہے او رنالہ و فرياد كرتا رہتا ہے _ اس كے دوست كم ہوتے ہيں اور وہ كسى كا محبوب نہيں ہوتا _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : بداخلاق انسان اپنے نفس كو دائمى رنج و عذاب ميں مبتلا كرليتا ہے _(۳۳)

خوش اخلاقى سب كے لئے لازم ہے _ اور خاص طور پر بيان بيوى كے لئے تو بہت ضرورى ہے كيونكہ ہميشہ ساتھ رہتے ہيں اور ہم زندگى گزارنے پر مجور ہيں _

خاتون محترم اگر آپ چاہتى ہيں كہ آپ اور آپ كے شوہر اور بچوں كى زندگى اچھى طرح گزرے تو اپنے اخلاق كى اصلاح كيجئے _ ہميشہ خوش و خرم اور مسكراتى رہئے _ تلخى اور جھگڑے سے


پرہيز كيجئے _ خوش گفتار اور شيريں بيان بنئے _ آپ اپنى خوش اخلاقى كے ذريعہ اپنے گوہر كو بہشت برين بنا سكتى ہيں _ كيا يہ افسوس كى بات نہيں كہ بداخلاقى سے آپ اپنے گھر كو جہنّم ميں تبديل كرديں اور خود كو اور اپنے شوہر اور بچوں كو اس عذاب ميں مبتلا كرديں _ آپ چاہيں تو فرشتہ رحمت بن سكتى ہيں گھر كے ماحول كو خوشگوار اور پرسكون بناسكتى ہيں _ متبسم چہرے اور خندہ پيشانى اور شيريں بيانى سے آپ اپنے شوہر اور بچوں كے دلوں كو مسرّت و شادمانى عطا كرسكتى ہيں ان كے دل سے رنج و غم مٹا سكتى ہيں _ كيا آپ جانتى ہيں_؟

صبح جب آپ كے بچے اسكول يا كام پر جارہے ہوں اور اگر آپ گر مجوشى اور مسكراہٹ كے ساتھ ان كو رخصت كريں تو ان كى روح او راعصاب پر كيسا اچھا اثر پڑے گا _ اور اپنے كاموں كو انجام دينے كے لئے ان ميں كيسى تازہ لہردوڑجائے گى _

اگر آپ كو زندگى اور اپنے شوہر سے محبت ہے تو بداخلاقى سے گريز كيجئے كيونكہ اچھا اخلاق رشتہ ازدواج كو مستحكم بنانے ميں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے _ اكثر طلاقيں بداخلاقى اور مياں بيوى ميں ہم آہنگى نہ ہونے كے سبب انجام پاتى ہيں _ طلاقوں كے اعداد و شمار سے اس بات كى تائيد ہوتى ہے _ اخلاقى اعتبار سے عدم ہم آہنگى ، خاندان ميں اختلافات اور كشيدگى كى اہم وجہ ہوتى ہے _

خاتون محترم خوش اخلاقى اور عشق و حبت كے ذريعہ اپنے شوہر كا دل جيت ليجئے _ تاكہ وہ زندگى اور خاندان سے محبت كرے اور پورى توجہ او رلگن كے ساتھ اپنے كام ميں مشغول رہے اور آپ كى آسائشے كے اسباب مہيا كرے _ آپ اگر اس سے خوش اخلاقى سے پيش آئيں گى تو وہ راتيں باہر گزار نے اور عياشى كى فكر ميں نہيں رہے گا اور جلدى گھر آئے گا _

ايك عورت نے عدالت ميں شكايت كى كہ ميرا شوہر ہميشہ دو پہر اور رات كا كھانا باہر كھاتا ہے _

شوہر نے جواب ديا كہ اس كى وجہ يہ ہے كہ ميرى بيوى ذرا بھى بناہ كرنا نہيں جانتى _ اور


اس كا اخلاق بے حد خراب ہے _ اور دنيا كى بداخلاق ترين عورت ہے _

عورت فوراً اٹھى اورعدالت ميں موجود لوگوں كے سامنے اپنے شوہر كو تھپڑ مارديا _(۳۴)

يہ نادان عورت سمجھتى تھى كہ شكايات ، گالى ، اور مارپيٹ كے ذريعہ وہ اپنے شوہر كو گھر كى طرف ملتف كرسكے گى _جبكہ ايك عاقلانہ سادہ سى راہ موجود تھى اور وہ تھى خوش اخلاقى اور اچھا برتاؤ_

ايك عورت نے عدالت ميں كہا ميرا شوہر مجھ سے بات نہيں كرتا اور اخراجات اپنى ماں كے ذريعہ مجھے بھجواتا ہے _ مرد نے جواب ميں كہا كہ چونكہ ميں اپنى بيوى كى بداخلاقيوں سے تنگ آچكا ہوں اس لئے ميں نے فيصلہ كيا ہے كہ اس بات نہ كروں اور اس بات كو پندرہ مہينے ہورہے ہيں _(۳۵)

ازدواجى زندگى كى اكثر مشكلات كو ہوشيارى اور اچھے اخلاق كے ذريعہ حل كيا جا سكتا ہے _ اگر آپ كا شوہر كم محبت كرتا ہے ، گھر پر زيادہ توجہ نہيں ديتا ، دير سے گھر آتا ہے دوپہر اور رات كا كھانا باہر كھاتا ہے، بدسلوكى كرتا ہے ، بد مزاجى اور جھگڑاكرتا ہے ، اپنى دولت كو برباد كرتا ہے _ الگ ہونے اور طلاق دينے كى بات كرتا ہے تو آپ اس قسم كى سارى مشكلات كو اپنے اعلى اخلاق و كردار اور اچھے برتاؤ سے حل كرسكتى ہيں _ آپ اپنے رويئےيں تبديلى پيدا كيجئے اور اچھے اخلاق كا اعجاز آفرين نتيجہ ديكھئے _

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں: خداوند عالم ، خوش اخلاق انسان كو جہاد كا ثواب عطا فرماتا ہے _ اور صبح و شام اس پر ثواب نازل فرماتا ہے _(۳۶)

امام جعفر صادق (ع) يہ بھى فرماتا ہيں كہ : جو عورت اپنے شوہر كو اذيّت پہونچاتى ہے اور اس كو رنجيدہ ركھتى ہے خدا كى رحمت سے دور رہتى ہے اور جو عورت اپنے شوہر كا احترام كرتى ہے ، اس كو تكليف نہيں پہونچاتى ، اس كى فرمانبردارى كرتى ہے ، وہ خوش نصيب اور عذاب سے نجات پانے والى ہوتى ہے _(۳۷)

كسى نے حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم سے عرض كيا كہ فلاں عورت بہت نيك ہے _ روزے ركھتی ہے ، راتوں كو عبادت كرتى ہے ،ليكن بداخلاق ہے اوراپنے ہمسايوں كو اپنى زبان سے آزار پہونچاتى ہے _

آپ نے فرمايا: اس ميں كوئي خوبى نہيں ہے _ وہ دوزخى ہے _(۳۸)


بے جا توقعات

تمام افراد كے مالى وسائل اور آمدنى يكسان نہيں ہوتى _ سبھى ايك معيار كے مطابق زندگى نہيں گزار سكتے _ ہر خاندان كو اپنى آمدنى اور اخراجات كا حساب خود كرنا چاہئے اور اپنى آمدنى كے مطابق خرچ كرناچاہئے _ زندگى ہر طرح گزارى جا سكتى ہے _ يہ دانشمندوں كا شيوہ نہيں كہ غير ضرورى چيزوں كى فراہمى كے لئے قرض لے يا بعد ميں اس كى قيمت ادا كرتا رہے _

خاتون عزيز آپ گھر كى مالكہ ہيں _ عاقل اور سمجھدار ہيں _ اپنى آمدنى اور اخراجات كا اندازہ كيجئے اور ديكھئے كہ كس طرح خرچ كيا جائے كہ آپ كى عزت و آبرو قائم رہے اور آپ كے پاس ہميشہ كچھ روپيہ محفوظ بھى رہے _ عاقبت انديشى سے كام ليجئے _ دوسروں سے مقابلہ نہ كيجئے _ اگر كسى عورت كو نئے ڈيزائن كا لباس پہنے ہوئے ديكھا ہے اور آپ كى مالى حالت اس بات كى اجازت نہيں ديتى كہ آپ بھى ويسا ہى لباس خريد سيكيں تو اپنے شوہر كو اسے خريد نے كيلئے مجبور نہ كيجئے _ اگر آپ اپنے ہمسايہ كے گھر ميں كوئي خوبصورت سجاوٹ كى چيز ديكھيں تو اپنے شوہر كى جان نہ كھائيں كہ وہ بھى ويسى چيز لائے _ اگر آپ كسے دوست احباب اور عزيز و اقارب ميں كسى نے اپنے گھر كو قيمتى قالينوں اور بيش قيمت سامان سے سجايا ہے تو لازم نہيں كہ آپ ان كى نقل كرنے كے لئے اپنے آپ كو پريشانى ميں مبتلا كرليں اور اپنا سكون و چين حرام كرديں _ آپ جانتى ہيں كہ آپ كى مالى حالت اور آدمندى اس بات كى اجازت نہيں ديتى تو پھر كيوں اپنے شوہر كو قرض لينے ، بعد ميں قيمت ادا كرنے ، قسطوں پر خريدنے اور ناجائز كاموں كو انجام دينے كے لئے مجبور كرتى ہيں؟ كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ آپ تھوڑا صبر سے كام ليں كہ آپ كى مالى حالت سدھر جائے اور اپنى آمدنى ميں سے ہر ماہ تھوڑى رقم پس انداز كرتى رہيں اور كچھ رقم جمع ہوجانے كے بعد نقد قيمت ادا كركے اپنى ضرورت كى پسنديدہ چيز خريدليں _


اكثر نادان اور خود غرض عورتيں اس قسم كى فضول خرچياں كرتى ہيں اور ايك دوسرے كو ديكھ كر رشك و حسد كرتى ہيں _ كسى كے گھر ميں سجاوٹ كى كوئي چيز ديكھى اور اس كو خريدنے كى دل ميں ہوس پيدا ہوگئي اور بے چارے شوہر كے سر ہوگئيں كہ جہاں سے بھى ہو ، ہمارے لئے بھى خريد كر لاؤ_ اس قدر اصرار كرتى ہيں اور ہنگامہ كرتى ہيں كہ شوہر بے چارہ مجبور ہوجاتا ہے كہ قرض لے يا قسطوں پر خريدے اور اپنے آپ كو مصيبت ميں گرفتار كركے ہميشہ مقروض رہے _ ايسى حالت ميں كبھى كبھى مجبور ہوجاتا ہے ، كہ ازدواجى زندگى كے تانے بانے كو توڑڈالے اور اپنى خود غرض بيوى كو طلاق ديدے تا كہ اس كى بيجا فرمائشےوں اور زبان درازيوں كے شرسے نجات حاصل كرلے يا خودكشى كرلے تا كہ اس مصيبت بھرى زندگى سے چھٹكارا پالے _

در اصل اس قسم كى عورتوں نے شادى كے اصل معنى و مقصد كو ذرا بھى نہيں سمجھا ہے _ وہ شادى كا مطلب ايك طرح سے غلام خريدنا سمجھتى ہيں اور شادى اس لئے كرتى ہيں كہ اپنى بچہ گانہ خواہشات اور حرص وہوس كو عملى جامہ پہنا سكيں _ وہ ايسا شوہر چاہتى ہيں جو ايك مفت كے نوكر ، بلكہ ايك زر خريد غلام كى مانند ان كے لئے زحمتيں اٹھائے _ اور اپنى محنت كى كمائي كو ہاتھ جوڑكے اپنى بيوى كى خدمت ميں پيش كردے تا كہ وہ انچى اڑان اڑسكيں اور اپنى بيجا اور غلط خواہشات پر صرف كرديں _ كاش اتنے پر ہى قناعت كرلى ہوتى اور حد سے زيادہ توقعات نہ ركھتيں _ كبھى ان كى توقعات اور خواہشات اتنى زيادہ ہو جاتى ہيں كہ شوہر كى كل آمدنى بھى اس كے لئے كافى نہيں _ انھيں شوہر كى آمدنى سے كيا مطلب _ بس جس چيز كى ہوس ہوئي اسے فوراً اور ضرور پورا ہونا چاہئے _ اس كے لئے جو بھى صورت حال پيش آجائے _ چاہے شوہر كا ديوليہ ہى كيوں نہ نكل جائے يا وہ ناجائز كام كرنے پر مجبور ہوجائے مگر بيوى كى خواہشات پور ہونى چاہئے _

مردوں كے ديواليہ ہونے كا بڑا سبب ، اكثر نا عاقبت انديش بيويوں كى بيجا خواہشات اور دوسروں كى نقل اور فضول خرچياں ہوتى ہيں _ اكثر بيويوں كى بڑبڑاہٹ اور تقاضے ، مرد كو


ناجائز كام اختيار كرنے پر مجبور كرديتے ہيں _ اس قسم كو خود پسند اور خود غرض عورتيں ،صنف نازك كے لئے باعث ننگ و عار شمار كى جاتى ہيں _ فرض كيجئے ان باتوں كے سبب آپ نے طلاق لے لى _ تو كيا آپ كا مسئلہ حل ہوجائے گا ؟ جى نہيں _ اطمينان ركھئے _ آپ كى آرزوؤں كى تكميل كبھى نہ ہوسكے گى _ آپ اپنے ماں با پ كے گھر جا كر ان پر بوجھ بن جائيں گى اور ہميشہ كے لئے انس و محبت اور اولاد كى نعمت سے محروم رہ جائيں گى _

كيا آپ سمجھتى ہيں آپ سے خواستگارى كے لئے مرد صف باندھے گھرے ہيں ؟ جى نہيں ، ايسا نہيں ہے ، جو عورتيں طلاق لے ليتى ہيں انھيں دوسرى شادى كا موقع بہت كم ملتا ہے ، فرض كيجئے دوسرا شوہر مل بھى گيا تو كيا ضرورى ہے كہ وہ پہلے شوہر سے بہتر ہو _

كيا يہ آپ كے حق ميں بہتر نہ ہوگا كہ آپ عاقبت انديش نہيں _ انجام كاركے بارے ميں سوچيں _ اور اپنى آمدنى اور خرچ كا حساب لگائيں اور اسى كے مطابق خرچ كريں _ ان بلند پروازيوں اور بيجا ہواو ہوس كے بجائے ، زندگى ، امور خانہ دارى اور شوہر پر توجہ ديں _؟

مہر ومحبت كا اظہار كركے اپنے گھر كے ماحول كو خوشگوار اور پر مسرت بنايئے دوسروں كى زندگى سے آپ كو كوئي سروكار نہيں ہونا چاہئے _ اپنى آمدنى كے مطابق خرچ كيجئے اور انس و محبت كى نعمت سے لطف اٹھايئے اپنے شوہر اور بچوں سے ہنسٹے بولئے _ روزانہ كے اخراجات ميں كفايت شعارى سے كام ليجئے تا كہ آپ كى مالى حالت بہتر ہوجائے _ اور آبرومندانہ زندگى گزاريئےمكن ہے مستقبل ميں آپ اپنى خواہشات كى تكميل كرسكيں _ بلكہ اگر آپ كے شوہر فضول خرچ ہيں اور اپنى آمدنى سے زيادہ خرچ كرتے ہيں تو انھيں روكئے _ اگر وہ غير ضرورى اشياء كى خريدارى كے لئے قرض لينا چاہيں يا قسطوں پر خريديں تو آپ انھيں روكئے _ آپ كى زندگى مشترك ہے _ آپ كے شور كے پاس جو كچھ ہے وہ در حقيقت آپ كا ہے _ خوفزدہ نہ ہويئےہ اپنى دولت وہ كسى اور كودے دے گا _ تجملى اشياء اور غيرضرورى سامان كى خريدارى كے


ضرورى چيزيں فراہم كيجئے _ ہر انسان كى زندگى ميں اچانك حادثے اور غير متوقّع واقعات رونما ہوتے ہيں ايسے برے وقت كے لئے كچھ بچا كے ركھنے كى عادت ڈالئے _

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں كہ جو عورت اپنے شوہر سے نباہ نہيں كرتى اور جو چيزيں اس كى استطاعت سے باہر ہيں ان كے لئے اسے مجبور كرتى ہے ايسى عورت كے اعمال خدا كى درگاہ ميں قبول نہيں ہوتے اور قيامت كے روز وہ خداوند عالم كے غيظ و غضب كا شكار ہوتى ہے _(۳۹)

ايك اور موقع پر حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں كہ ہر وہ عورت جو اپنے شوہر سے بناہ نہ كرے اور جو كچھ اس كو خدا كى جانب سے ملا ہے اس پر قناعت نہ كرے اور اپنے شوہر سے سختى سے پيش آئے اور اس كى استطاعت سے زيادہ كى خواہش كرے ، ايسى عورت كے اعمال قبول نہيں ہوں گے اور خدا اس پرعذاب نازل كرے گا _(۴۰)

پيغمبر اسلام (ص) كا ارشاد گرامى ہے كہ خدا پر ايمان كے بعد، كوئي نعمت ، اپنے شوہر كے ساتھ تعاون كرنے سے بڑھ كر نہيں ہے _(۴۱)

اپنے شوہر كى دلجوئي كيجئے

زندگى كا بوجھ مرد كے كندھوں پر ہوتا ہے _ خاندان كے اخراجات كو جس طرح بھى ممكن ہو ، پورا كرنا مرد كى ذمہ دارى ہے _ گھر سے باہر اسے سينكڑوں قسم كى مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے كبھى باس كى ڈانٹ پھٹكار سننا پڑتى ہے كبھى اپنے ساتھيوں كى اذيت رسانى كا شكار ہونا پڑتا ہے _ ممكن ہے اس كے مطالبات وصول نہ ہوئے ہوں _ ممكن ہے چيك يا ڈرافٹ كيش نہ ہوسكے _ ممكن ہے كساد و بازارى كا سامنا كرنا پڑے اور آمدنى نہ ہو _ ممكن ہے كوئي مناسب مقام حاصل نہ كر سكا ہو _ مرد كى ايك دو پريشانياں نہيں ہوتى _ روزمرہ كى زندگى ميں اس قسم كے گوناگوں حادثات كا سامنا برابر كرنا پڑتا ہے _ كم ہى ايسا اتفاق ہوتا ہے كہ كوئي نئي پريشانى نہ آكھڑى ہو ان ہى سبب كى بناپر مردوں كى عمر عموماً عورتوں سے كم ہوتى ہے _ آخر ايك انسان كے اعصاب ، فكروں اور پريشانيوں كو كب تك اور كس حد تك برداشت كرسكتے ہيں _

ايسے موقعوں پر انسان كو شدت سے اس بات كى ضرورت ہوتى ہے كہ كوئي دلسوز او رمہربان ہستى اس كي


دلجوئي كرے اور اس كى روح و اعصاب كو تقويت پہونچائے _

خاتون گرامى آپ كے شوہر كا كوئي غمخوار نہيں ہے _ وہ تنہائي كا احساس كرتا ہے _ باہر كى مشكلات سے فرار حاصل كركئے اپنے گھر ميں آپ كے پاس پناہ حاصل كرنا چاہتا ہے _ اسے آپ كى دلجوئي اور تسلى كى ضرورت ہے _ اگر كسى دن وہ پريشان حال اور رنجيدہ و ملول گھر ميں داخل ہوتا ہے تو اسے ہر روز سے زيادہ آپ كى توجہ كى ضرورت ہے _ آپ كو چاہئے آپ جلدى سے اس كے آرام كرنے ، كھانے يا چائے و غيرہ كا انتظام كريں ايسے موقع پر دوسرے موضوعات پر بالكل بات نہ كريں _ نہ كسى بات پر نكتہ چينى كريں _ فرمائشے نہ كريں _ اس سے اپنى پريشانيوں اور درد دل كى شكايت نہ كريں _ اسے موقع ديجئے كہ كچھ دير آرام كرلے _ اگر بھوكا ہے تو اس كا پيٹ ھر جائے _ اگر سردى كھا گيا ہے تو گرم ہوجائے _ اگر گرمى لگ رہى ہے تو اس كے حواس ٹھيك ہوجائيں اور جب اس كى تھكن دور ہوجائے اور اس كے اعصاب ٹھكانے آجائيں تب محبت بھرے لہجے ميں اس كى پريشانى كا سبب دريافت كيجئے _ اور اگر وہ اپنا دردودل بيان كرنا شروع كرتا ہے تو اسے غور سے سنئے _ بيجا ہنسئے نہيں بلكہ اس كى پريشانى سن كر اظہار افسوس كيجئے _ اور اپنے رويہ سے يہ ظاہر كيجئے كہ اس كى پريشانيوں كو سن كر آپ كو اس سے زيادہ رنج پہونچاہے _ محبت و دلسوزى كا اظہار كركے اس كے زخموں پر مرہم ركھئے نرمى اور ملائمت سے اس كى دلجوئي كيجئے _ اس موضوع كو اس كے سامنے معمولى اور حقير ظاہر كيجئے اور مشكل كو حل كرنے ميں اس كى ہمت افزائي كيجئے _ اس سے كہئے كہ اس قسم كے حادثات تو زندگى كا لازمہ ہيں اور ہر شخص كو پيش آتے ہيں _ صبر واستقامت كے ذريعہ ان مشكلات پر غلبہ حاصل كيا جا سكتا ہے _ البتہ شرط يہ ہے كہ انسان خود ہمت نہ ہارجائے _ در اصل ايسے ہى موقعوں پر انسان كى شخصيت اور مردانگى ظاہر ہوتى ہے _ پريشان ہونے كے بجائے صبر اور كوشش سے كام ليا جائے تو مشكل آسانى سے حل ہوجاتى ہے _ اگر آپ كے شوہر كو رہنمائي كى ضرورت ہے اور اگر اس كے حل كى كوئي صورت آپ كى نظر ميں ہے تو اس كى رہنمائي كيجئے اور اگر كوئي صحيح راہ حل آپ كے سامنے نہيں تو اسے رائے ديجئے كہ اپنے كسى خيرخواہ دوست يا رشتہ دارى مشورہ كرے _

خاتون محترم آپ كے شوہر كو مشكلات اور پريشانيوں كے موقع پر آپ كى دلجوئي اور تسلى كى ضرورت ہوتى ہے _


آپ كو اس كى مدد كرنى چاہئے ايك مہربان نرس بلكہ ايك ہمدرد ماہر نفسيات كى مانند ايسے موقع پر آپ كو اسكى دلجوئي كرنا چاہئے _ بلكہ اس سے بڑھ كر عرض كروں كہ اپنى شخصيت كو منظم و مستحكم كيجئے اور شوہر كى نگہداشت كيجئے _ جى ہاں كہيں ايك نرس يا نفسياتى ڈاكٹر بھلا ايك فداكار بيوى كى طرح ديكھ بھال كر سكتا ہے؟ آپ كو اپنى طاقت كا اندازہ نہيں كہ آپ كى مہربانياں اور تشفى و تسلّياں آپ كے شوہر كى روح پر كيا جادو كا سا اثر ڈال سكتى ہيں _ اس كے دل اور اعصاب كو سكون مل جاتا ہے _ زندگى سے اس كى دلچسپى بڑھ جاتى ہے _ مشكلات سے نبرد آزماہونے كے لئے وہ تيار ہوجاتا ہے _ اور اسے اندازہ ہوجاتا ہے كہ اس دنيا ميں وہ بيكس و تنہا نہيں ہے _ آپ كى وفادارى اور صميميت اس ميں اعتماد و يقين پيدا كرديتے ہيں _ يہ چيزيں اسے آپ كا دوست اور عاشق بناديتى ہيں _ آپ كى ازدواجى زندگى اور مستحكم و پائيدار ہوجاتى ہے _

حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں : دنيا ميں شائستہ بيوى سے بہتر كوئي چيز نہيں _ ايسى بيوي، جس كو ديكھ كر اس كے شوہر كا دل مسرور و شاد ہوجائے _(۴۲)

حضرت امام رضا عليہ السلام فرماتے ہيں عورتوں كا ايك گروہ ايسا ہے جن كے زيادہ بچے ہوتے ہيں _ وہ عورتيں شفيق و مہربان ہوتى ہيں _ سختيوں اور زمانے كے حادثات كا خندہ پيشانى سے مقابلہ كرتى ہيں _ اپنے شوہر كى حمايت اور پشت پناہى كرنے والى ہوتى ہيں اور ايسے كام نہيں كرتيں جس سے ان كے شوہروں كو نقصان پہونچے ، اور ان كى پريشانيوں ميں اضافہ ہو_(۴۳)

شكر گزار كى عادت ڈالئے :

پيسہ كمانا آسان كام نہيں ہزاروں زحمتيں اور پريشانياں اٹھانى پڑتى ہيں _ انسان اپنے آرام و آسائشے كى خاطر مال و دولت پيدا كرتا ہے اور ذاتى طور پر اس بات سے دلچسپى ركھتا ہے _ اگر كسى پر احسان كرتا ہے يا كسى پر اپنى دولت خرچ كرتا ہے تو وہ اس بات كا متمنى ہوتا ہے كہ اس كى قدردانى كى جائے اور اس سلسلے ميں اظہار تشكر اس كى ترغيب و ہمت افزائي كا سبب بنتا ہے _ اور اسے احسان و نيكى كرنے كى جانب مائل كرتا ہے _ نہ صر ف اس شخص كے حق ميں زيادہ احسان كرنے كا باعث بنتا ہے ، بلكہ


يہ احساس قدردانى مجموعى طور پر اس كو نيكى كرنے پر آمادہ كرتا ہے _ بلكہ ممكن ہے اظہار تشكر و سپاس گزارى اس پر اس حد تك اثر كرے كہ نيكى و احساس كرنا ، اس كى عادت ثانيہ بن جائے اور وہ ہر وقت اس كام كيلئے آمادہ رہے _ ليكن اگر اس كى قدردانى نہ كى جائے اور اس كے احسان كو نظر انداز كرديا جائے تو نيك كام انجام دينے ميں اسے كوئي دلچسپى محسوس نہ ہوگى _ اپنے دل ميں سوچے گا كہ ميں نے ايسے احساس فراموش كے ساتھ بيكارى احسان كيا _ اور مال و دولت اس پر خرچ كرديا _

حق شناسى اور شكرگزارى ، پسنديدہ او رنيك اخلاق شمار ہوتى ہے اور انسان كو احسان و نكى كى اجانب مائل كرنے كا ايك بہت بڑا وسيلہ ہے _ حتى كہ خداوند عالم بھى جو كہ بے نياز ہے _ اپنى نعمتوں پر شكر ادا كرنے نعمتوں كے جارى رہنے كى شرط قرارديتے ہوئے فرماتا ہے : اگر شكرادا كرو گے تو اپنى نعمتوں ميں مزيد اضافہ كروں گا _(۴۴)

خاتون محترم آپ كا شوہر بھى ايك انسان ہے اسے بھى قدردانى اچھى لگتى ہے _ وہ زندگى كے اخراجات پورے كرتا ہے _ محنت سے كماتا ہے اور اس عمل كو اپنا ايك اخلاقى اور شرعى فريضہ سمجھتا ہے اور اس كو انجام دے كر لذّت محسوس كرتا ہے _ ليكن آپ سے اس بات كا متمنى ہے كہ اس كے وجود كو غنيمت سمجھ كر اس كے كاموں كى قدردانى كيجئے _ جب كبھى ضروريات زندگى كى چيزيں خريد كر گھر لائے تو خوشى و مسرت كا اظہاركيجئے _ اس كا شكريہ ادا كيجئے _ جب آپ كے يا آپ كے بچوں كے لئے لباس ، جو تا يا كوئي دوسرى چيز لائے تو فوراً اس كا ہاتھ پكڑكے خوشى كا اظہار كيجئے _ اس سے اگر آپ '' شكريہ '' كہديں تو كيا مضائقہ ہے؟ اگر پھل ہٹھائي يا كوئي دوسرى چيز لائے تو جلدى سے اس كے ہاتھ سے لے كر جگہ پر ركھ ديجئے _ اگر آپ بيمار پڑگئيں اور اس نے آپ كے علاج كے لئے كوشش كى تو صحت ياب ہونے كے بعد اس كى زحمات كا شكريہ ادا كيجئے اگر آپ كو تفريح كے لئے لے گيا يا سفر پر لے گيا تو اس كا شكريہ ادا كيجئے _ اگر آپ كو پيسے ديئےيں تو اس كى قدردانى كيجئے _ اس امر كا خيال ركھيں كہ اس كے كاموں كو حقير اور معمولى نہ سمجھيں ، اس كى طرف سے بے اعتنائي نہ برتئے _ مذمّت نہ كيجئے _ اگر آپ اس كے كاموں كو سرا ہيں گى اور اس سے


اظہار تشكر كريں گى تو يہ چيز اسے اپنى شخصيت كا احساس دلانے كا باعث بنے گى اور اس كى زندگى ميں جوش و خروش پيدا كرنے اور مزيد خرچ كرنے كے لئے اس ميں اہميت بندھانے كا سبب بنے گى _ وہ اور زيادہ كو شش كرے گا كہ آپ كى توجہ كو اپنى طرف مبذول كرے اور احسان كے ذريعہ آپ كے دل كو اپنے ہاتھ ميں لے لے _ ليكن اگر آپ اس كے كاموں كو حقير و معمولى سمجھيں گى اور اس كى زحمات كو يا اس كى شخصيت كو نظر انداز كريں گى تو اس كا دل سرد ہوجائے گا اور اپنے آپ سے كہے گا كہ ميں بيكارہى اتنى زحمت اٹھاتا ہوں اور اپنى محنت كى كمائي ايسے ناقدردانوں پر خرچ كرتا ہوں جو ميرى قدر نہيں كرتے اور ميرے احسانوں كو معمولى سمجھتے ہيں _ اور اس طرح رفتہ رفتہ گھر اور زندگى سے اس كى دلچسپى كم ہوتى جائے گى _ يہاں تك كہ ممكن ہے ايسا بھى ہو كہ وہ خرچ كرنے سے پہلو تہى كرنے لگے اور فكر معاش كى طرف سے بے پروا ہوجائے _ يا روپيہ پيسہ اپنى تفريح پر اڑانے لگے _ يا دوسروں پر خرچ كرنے لگے _ بيچارہ مرد تو صرف چند تعريفى جملوں اور مفت كے خالى تشكر كے اظہار سے ہى خوش ہوجاتا ہے اور آپ اس سے بھى دريغ كرتى ہيں _

آپ كا كوئي عزيز يا دوست كوئي معمولى سا تحفہ يا پھولوں كا ايك گلدستہ آپ كو پيش كرتا ہے تو اس كا تو آپ سينكڑوں بار شكريہ بار شكريہ ادا كرتى ہيںليكن اپنے شوہر كے دائمى احسانوں كے عوض آپ كہ منہ سے اظہار تشكر كے لئے معمولى سے الفاظ بھى نہيں نكلتے ؟

''شوہر داردى كے يہ طور طريقے نہيں ہيں_ در اصل آپ نے اپنے ذاتى مفادات كى تشخيص نہيں كى ہے _ غرور اور خودپسندى بڑى برى بلا ہے آپ سوچتى ہيں كہ شكريہ كا اظہار كركے آپ چھوٹى ہوجائيں گى حالانكہ اس كے برعكس آپ كى محبوبيت ميں اور اضافہ ہوجائے گا _ اور آپ حق شناس اور مہذب سمجھى جائيں گى _

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں كہ تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے كہ جب اس كا شوہر كوئي چيز خريد كرلائے تو اس كا شكريہ ادا كرے اور اگر نہ لائے تو راضى رہے _(۴۵) _ امام صادق (ع) يہ بھى فرماتے ہيں كہ جو عورت اپنے شوہر سے يہ كہے كہ تم نے ميرے ساتھ كوئي بھلائي نہيں كى ، تو اس كے تمام


اعمال باطل اور بے وقعت ہوجائيں گے _(۴۶) حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں : اگر كسى نے كسى شخص كے احسان كى قدردانى نہيں كى تو اس نے گويا خدا كا شكر بھى ادا نہيں كيا _(۴۷)

عيب جوئي نہ كيجئے

كوئي انسان عيب سے پاك نہيں _ يا كوتاہ قد ہے يا لمبا ہے كالا ہے يا بے نمك _ موٹا ہے يا دبلا كسى كا دہانہ بڑا ہے تو كسى كى آنكھيں چھوٹى ہيں _ ناك بہت لمبى ہے يا سر گنجا ہے _ تندخو ہے يابزدل ہے _ كم گوہے يا باتوى _ كسى كے منھ يا پاؤں سے بدبو آتى ہے ، كوئي بيمارہے يا بہت كھاتا ہے _ كوئي نادار ہے كوئي كنجوس ہے _ كوئي آداب زندگى سے ناواقف ہے يا بدزبان ہے يا گندہ رہتا ہے يا غير مہذب ہے _ اس قسم كے عيوب ہر مرد اور ہر عورت ميں پائے جاتے ہيں _ ہر مرد اور ہر عورت كى يہ آرزو ہوتى ہے كہ اپنے لئے ايسا آئيڈيل شريك زندگى تلاش كرے جو تمام عيوب و نقائص سے پاك ہو _ كوئي بھى خامى يا كمى نہ ہو __ ايسا اتفاق بہت ہى كم ہوتا ہے كہ كسى كو اپنا مكمل آئيڈل مل جائے _ ميرے خيال ميں كوئي عورت ايسى نہيں جو اپنے شوہر كو سو فيصدى مكمل اور بے عيب سمجھتى ہو _

جن عورتوں كو عيب جوئي كى عادت ہوتى ہے وہ خواہ مخواہ اپنے شوہروں ميں عيب نكالتى رستى ہيں_

ايك معمولى اور چھوٹا سا نقص كہ جسے عيب نہيں كہا جا سكتا ، اسے اپنى نظر ميں مجسم كرليتى ہيں اور اس كے ، بائے ميں قدر سو چتى ہيں كہ رفتہ وہ معمولى ساعيب ان كى نظروں ميں ايك بڑے اور نا قابل برداشت عيب كى شكل اختيار كرجا تا ہے شوہر كى خوبيوں كو يكسر نظراند از كر ديتى ہيں اور وہ چھوٹا سا عيب ان كى نظروں ميں گھومتا رہتا ہے حبس مرد پران كى نظر پڑتى ہے عور كرتى ہيں كہ اس وہ عيب ہے يانہيںاور ايك ايسے آئيڈيل مردكو اپنے دماغ ميں مجسم كرليتى ہيں جس ميں ذرا سا بھى موئي عيب نہيں اور چونكہ ان كا شوہر اس خيالى پيكر سے مطابقت نہيں ركھتا اس لئے ہميشہ نا لہ و فرياد اور آہ وزارى كرتى رستى ہيں اپنى شادى پر پچھتاتى ہيَ خود كو شكست خوردہ اور بد قسمت سمجھتى ہيں رفتہ اس بات كو كھلے عام اور كبھى اپنے شوہر سے بھى كہہ ديتى ہيں

اعتراضات اور بہانے كرتى ہيں طعنے ديتى ہيں كبھى كہتى ہيں تم آداب زندگى سے واقف نہيں ہو ،


مجھے تمہارے ساتھ محفل ميں حاتے شرم آٹى ہے تمہارے مھ سے كيسى سٹرى بد بو آتى ہے كس قدر كالے اور بد صورت ہو

ممكن سے مرد عقلمند اور برد بارہو اور بيوى كى ان گستاخيوں پر خاموش رہے ليكن يہ باتيں اس كو برى ضرور لگيں گى اور يہ بات اس كے دل نيں بيٹھ جائے گى رفتہ اس كے صبر كا پيمانہ لبريز خوجائے گا اور انتقام لينے كى فكر ميں رہے گا مارپيٹ شروغ كردے گايا اسى كے انداز ميں اس پر تنفيد كرتا رہے گا اور اس فكر ميں رہے گا كہ وہ بھى اپنى بيوى كى ، جوكہ يقينا با لكل بے عيب نہيں ہوگى ، عجيب جوئي كرے وہ اس كو كہے گا اور وہ اس كو كہے گى اگر آپس ميں محبت تھى تو اس كا بھى خاتمہ ہو جائے گا اور ايك دوسر ے كى طرف سے دل ميں كينہ بيٹھ جائے گا اور دونوں ہميشہ ايك دوسرے ميں عيب تلاش كرنے كى فكر ميں رہيں گے ہر وقت لڑائي جھگڑا ہوتا رہے گا ان كى زندگياں جہنم بن جائيں گى اور اس وقت تك اس عذاب ومصيبت ميں مبتلا رہيں گے جب تك كہ ان ميں سے كوئي ايك مرنہ جائے تب ہى اس شر مناك زندگى كا خاتمہ ہو گا اور اگران ميں سے كوئي اسك ساد ونوں اپنى ضد پر قائم رہے اور طلاق و خاندانى مسائل كى حمايت كرنے والى عدالت سے رجوع كيا اور نفس كى تسلى كرنے كے لئے انتقام لے بھى ليا تو سارى عمردو نوں كو اس كا خميازہ بھگتنا پڑتا ہے شادى كے مقدس عہد و پيمان كو اپنى ضدميں آكرتوڑ ديا مگر يہ معلوم نہيں كہ بعد ميں دوسرى شادى كربھى سكيں گے يا نہيں اور بالفرض اگر شادى ہو بھى گئي تو اس سے بہتر شوہر سا بيوى بھى نصيب خو يا نہيں بعض عورتوں كى ضد اور ناانى سے خدا پناہ ميں ركھے بعض بہت معمولى سى باتوں ميں اس قدر ضد او رہٹ دھرمى سے كام ليتى ہيں كہ اپنى زندگى تباہ كرنے كے در پے ہو جاتى ہيں اس قسم كى كحم عقلى اور نا عاقبت انديشيوں سے بچنے كے لئے ذيل كى داستان عبرت حاصل كرنے كى غرض سے پيش كى جاتى ہے :

ايك عورت نے اپنے شوہر كى شكايت كى اس كا شوہر سوتے ميں انگلى چو ستا ہے اور چونكہ وہ اس كام سے دستبردار ہونے كو تيار نہيں لہذا وہ طلاق حاصل كرنا چاہتى ہے _


ايك عورت يہ بہانہ كر كے كہ اس كے شوہر كے منھ سے بد بو آتى ہے اپنے باپ كے گھر چلى گئي اور كہا كہ جب تك وہ اپنے منھ كى بد بو كو بر طرف نہيں كرے گا گھر واپس نہيں آئے گى _ليكن عدالت نے دونوں ميں ميل كراديا _ جب وہ گھرواپس آٹى اور ديكھا كہ شوہر كے منھ سے اب بھى بد بو آتى ہے تو دوسرے كحمر ے ميں چلى گٹى _ شوہر نے جواس بات پر غضبناك ہو گيا تھا اپنى بيوى كو قتل كرديا _(۴۹)

دانتوں كے امراض كى ماہر ايك ليڈى ڈاكٹر ، اپنے شوہر سے طلاق ليتى ہے اور كہتى ہے كہ وہ ميرے ہم پلہ نہيں كيونكہ اس نے مجھ سے تين سال بعد ڈاكٹريٹ كى ڈگرى حاصل كى تھى _(۵۰)

ايك ۲۷ سالہ عورت اپنے شوہر سے جھگڑاكركے چل گئي _ وہ اپنے عرض حال ميں لكھتى ہے ، ميرا شوہر بہت كھاتا ہے اور ميں اس كى ضرورت كے مطابق كھانا نہيں پكا سكتى _(۵۱)

ايك عورت اس سبب سے كہ اس كا شوہر زمين پر بيٹھتا ہے _ ہاتھ سے كھانا كھاتا ہے ، آداب معاشرت سے ناآشنا ہے ، ہر روز شيو نہيں كرتا ، طلاق كى درخواست كرتى ہے _(۵۲)

ليكن سبھى عورتيں ايسى نہيں ہوتيں_ ايسى باشعور اور سمجھدار عورتيں بھى ہوتى ہيں جو زندگى كى حقيقتوں پر نظر ركھتى ہيں اور عيب جوئي سے گريز كرتى ہيں _

خاتون محترم آپ كا شوہر ايك عام بشرہے_ ممكن ہے اس ميں كوئي عيب ہو_ ليكن يہ بھى ديكھئے اس ميں بہت سى خوبيان بھى ہوںگى _اگر آپ خوشگوار زندگى گزار ناچاہتى ہيںاور آپ كو اپنے خاندان سے لگاؤہے ، تو عيب جوئي كى فكر ميںنہ رہئے_ اس كى چھوٹى چھوٹى خاميون كو نظر انداز كيجئے _بلكہ اس كے عيبوںپر بالكل دھيان نہ ديجيئےور اپنے شوہر كا ايك خيال مرد سے ، كہ جس كادر اصل كوئي وجود ہى نہيں ہوتا ، مقابلہ نہ كيجئے _ بلكہ عام مردون سے مقابلہ كيجئے _ ممكن ہے كسى مردميں وہ مخصوص عيب نہ ہو جو آپ كے شوہر ميں ہے ليكن اس ميں دوسرے عيوب ہوسكتے ہوں جو شايد اس سے بھى بدتر درجے كے ہوں_ در اصل بدبينى كى عينك اپنى آنكھوں سے اتار ليجيئے اور اپنے شوہر كى خوبيوں پر نظر ڈاليئے _ اس وقت آپ ديكھيں گى كہ اس كى خوبياں، اس كى رائيوں سے بدرجہ ہا


زيادہ ہيں _ اگر اس ميں ايك عيب ہے تو اس كے بدلے ميں سينكڑ وں خوبياں بھى موجود ہيں_ اس كى خوبيوں اور محاسن پر نظر ركھئے اور خوش ومطمئن رہئے كيا آپ خود بے عيب ہيں جو اس بات كى توقع ركھتى ہيں كہ آپ كا شوہر عيب سے پاك ہو_ بات در اصل يہ ہے كہ آپ كى خود پسندى اور خود غرضى اس بات كى اجازت نہيںديتى كہ اپنے عيبوں پر نظر ڈاليں_ اگراس ميں كچھ شك ہے تو دوسروں سے پوچھ ليجئے حضرت رسول خدا(ص) فرماتے ہيں _بڑا عيب يہ ہے كہ انسان دوسرے كے عيوب كو ديكھے مگر اپنے عيبوں كى طرف سے غافل ہو_(۵۳)

ايك چھوٹے سے عيب كو اس قدر بڑا كيوں بنا ديتى ہيں اور اس كے بارے ميںاس قدر متكفر اور پريشان ہوجاتى ہيں كہ زندگى كى بنيادوں كو كمزور اور مہر و محبت كے مراكز اپنے گھر اور خاندان كو تباہ و برباد كرنے كے درپے ہوجاتى ہيں _ عقلمندى اوربردبارى سے كام ليجئے _ حرص و حسد اور فضول خيالات سے پرہيز كيجئے _ چھوٹى چھوٹى باتوں كو نظر انداز كيجئے _ اظہار محبت كے ذريعہ خاندان كے ماحول كو خوشگوار بنايئےا كہ مہر و محبت كى نعمت سے آپ كادامن بھرا ہے _ اس بات كا دھيان ركھئے كہ اپنے شوہر كے عيب نہ اس كے سامنے اور نہ ہى اس كى غير موجودگى ميں بيان كريں _ كيونكہ اس سے وہ رنجيدہ خاطر اور دل برداشتہ ہوجائے گا اور وہ بھى عيب جوئي كى فكر ميں رہے گا _ اس كى محبت و چاہت ميں كمى آجائے گى ہميشہ لڑائي جھگڑا كرے گا اور يہى حالات رہے تو آپ كى زندگى بہت تلخ اور ناخوشگوار ہوجائے گى اگر نوبت طلاق اورجدائي تك پہونچى تو اور بھى برا ہوگا _

اگر عيب اصلاح كے قابل ہے تو اس كو دور كرنے كى فكر كيجئے _ ليكن صرف اسى صورت ميں كہ اگر اس ميں كاميابى كا امكان ہو _ او رنہايت نرمي، صبر و حوصلہ كے ساتھ ، خيرخواہى ، خواہش اور تمنا كى صورت ميں كہئے _ نہ كہ عيب جوئي اور اعتراض كى صورت ميں اور سرزنش اور لڑائي جھگڑے كے ساتھ _

اپنے شوہر كے علاوہ دوسرے مردوں سے سروكار نہ ركھيئے

خاتون محترم ممكن ہے شادى سے پہلے كچھ لوگ آپ سے خواستگارى كے لئے آئے ہوں _ ممكن ہے ايسے افراد آپ كى نظر ميں ہوں جن سے شادى كى آرزومندرہى ہوں يا آپ كى خواہش


ہو كہ آپ كا شوہر دولت مند ہو ں_ فلاں سروس كرتا ہوں ، انجينئر ہو ، يا ڈاكٹر ہو ، خوبصورت اور اسمارٹ ہو و غيرہ و غيرہ _ شادى سے پہلے اس قسم كى خواہش اور تمنا كرنے ميں كوئي مضائقہ نہيں _ ليكن اب جبكہ آپ نے ايك مرد كو اپنا شريك زندےى منتخب كرليا اور شادى كے مقدس پيمان پر دستخط كركے آخر عمر تك ساتھ نبھانے كا عہد كرليا تو گزشتہ باتوں كو يكسر بھلا دينا چاہئے _ ان آرزوؤں اور تمناؤں كا جو پورى نہ ہو سكيں اب دل ميں خيال تك نہ لايئے اور اپنے شوہر كے علاوہ ہر مرد كى طرف سے مكمل طور پر آنكھيں بند كر ليجئے _ اپنے دل كو اضطراب و پريشانى سے نجات دلايئے اپنے شوہر كے علاوہ ہر غير مرد كے خيال كو دل سے نكال ديجئے _ اور اپنى تمام تر توجہ اپنے شوہر كى جانب مركوز كرديجئے اپنے سابق خواستگار كو فراموش كرديجئے_ اس كے بارے ميں نہ سوچئے_ آپ كو كيا كہ وہ پريشان ہے يا نہيں _ اس كے حالات جاننے كى آپ كو كيوں فكر ہے _ اس دودلى كى حالت سے سوائے پريشانى كے آپ كو كچھ حاصل نہ ہوگا _ بعض اوقات يہ چيز آپ كے لئے مشكليں كھڑى كردے گى _

اب جب كہ آپ نے ايك مرد سے شادى كا رشتہ قائم كرليا ہے تو پھر يہ شو خيال كيسي؟ اس مرد اور اس مرد پر نظر ڈالتى ہيں اور اپنے شوہر كا ان سب سے مقابلہ كرتى ہيں _ ان باتوں سے سوائے پريشانى ، اضطراب اور دائمى حسرت دياس كے اور كچھ حاصل نہ ہوگا _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں: جو شخص اپنى آنكھوں كو تكليف پہونچائے اس كے اعصاب ہميشہ مضمحل رہتے اور ايسا آدمى ہميشہ حسرت و ياس ميں مبتلا رہتا ہے _(۵۴)

جب آپ مردوں پر نظر ڈالتى ہيں اور اپنے شوہر كا ان سے مقابلہ كرتى ہيں تو ايسے مرد بھى نظر آتے ہيں جن ميں وہ عيب نہ ہو جو آپ كے شوہر ميں ہے _ ليكن كيا آپ سمجھتى ہيں كہ وہ سب بے عيب ہيں ؟ كيا وہ آسمان سے اترے ہيں ؟ جى نہيں _ بلكہ ممكن ہے ان ميں كچھ ايسے عيب موجود ہوں كہ جن كہ آپ كو خبر ہو جائے تو آپ اپنے شوہر كو ان پر تزجيح ديں گى _ چونكہ ان كے عيوب آپ سے پوشيدہ ہيں اور فقط ان كى خوبيوں كو آپ نے ديكھا ہے اس لئے خود كو بد نصيب سمجھتى ہيں _ اور يہ خيال كرتى ہيں كہ اس شخص


سے شادى كركے آپ سراسر گھا ٹے ميں رہى ہيں _ اس قسم كے افكار آپ كو بد بختى اور تباہى كے دہانے پر پہو نچا ديتے ہيں _

ايك اٹھار ہ سالہ شادى شدہ عورت جو گھر سے بھاگ گئي تھى ، اسے پوليس نے گرفتار كرليا _ اس نے پوليس كو بيان ديتے ہوئے كہا كہ تين سال قبل فلان شخص سے ميرا عقد ہوا تھا _ ليكن رفتہ رفتہ ميں نے محسوس كيا كہ ميں اس كو پسند نہيں كرتى _ اپنے شوہر كے چہر ے كا بعض مردوں سے مقابلہ كرتى تھى اور افسوس كرتى تھى كہ اس مرد كى بيوى كيوں بنى ؟(۵۵)

خاتون محترم اگر آپ چاہتى ميں كہ بدبختى سے محفوظ رہيں ، اعصابى كمزور يوں اور ذہنى پريشانيوں كا شكار ہ ہوں ،مطمئن اور پر مسرّت زندگى گزاريں، تو ہوس بازى اور فضول آرزؤوں سے اپنا دامن بچايئےاپنے شوہر كے علاوہ سب كو نظر انداز كرديجئے _دوسرے مردوں كى تعريف نہ كيجئے دوسرے مرد كا خيال تك دل ميں نہ لايئے اور كبھى يہ نہ سوچئے كہ كاش فلان شخص نے مجھ سے شادى كا پيغام بھيجا ہوتا_ كاش فلان شخص سے ميں نے شادى كى ہوتى _ كاش ميرے شوہر كا فلان پيشہ ہوتا _ كاش ايسا ہوتا ويسا ہوتا و غيرہ و غيرہ _

كيا آپ نے كبھى سوچا ہے كہ آپ كى ان لا حاصل آرزوؤں اور غلط افكار كا كيا نتيجے نكلے گا ؟ كيوں اپنى اور اپنے شوہر كى زندگى كو تلخ بنارہى ہيں _ كيوں اپنى ازدواجى زندگى كى بنياد دل كو متزلزل كررہى ہيں _ يہ آپ كيسے كہہ سكتى ہيں كہ اگر فلاں مرد سے آپ كى شادى ہوئي ہوتى تو آپ سو فيصد خوش و مطمئن رہتيں ؟ آپ كو اس كے ظاہرى اوصاف كے علاوہ تو كچھ معلوم نہيں _ ممكن ہے كہ اس ميں ايسے عيوب موجود ہوں كہ اگر آپ كو ان كا علم ہوجائے تو اپنے شوہر كو اس پر ترجيح ديں گي_ آپ كو كيا معلوم كہ ان مردوں كى بيوياں ان سے كس حد تك راضى و مطمئن ہيں _

خواہر عزيز اگر آپ كے شوہر كو احساس ہوجائے كہ دوسرے مرد آپ كى نظر ميں ہيں تو وہ بد گمان ہوجائيگا اس كى مبحت و لگاؤميں كمى آجائے گى _ زندگى اور خاندان سے اس كى دلچسپى ختم ہوجائے گى _ اس بات كا خيال ركھئے كہ دوسرے مردوں كى تعريف نہ كيجئے _ ان سے اظہار دلچسپى نہ كيجئے _ ہنسى مذاق نہ كيجئے مرد اس قدر حسّاس ہوتا ہے كہ وہ اس بات كو بردشت نہيں كرسكتا كہ اس كى بيوى غير مرد كى تصوير تك سے اپنى دلچسپى كا اظہار كرے _

پيغمبر اسلام(ص) فرماتے ہيں : جو شوہر دار عورت ، اپنے شوہر كے علاوہ غير مرد پر ہوسناك نظر ڈالے ، پروردگار عالم كے شديد غيظ و غضب كا شكار ہوگى _(۵۶)


اسلامى حجاب

عورت و مرد ميں اگر چہ بہت سى باتيں مشترك ہيں ليكن ان ميں كچھ خاص امتيازات بھى پائے جاتے ہيں _ ان ميں سے ايك اہم امتياز يہ ہے كہ عورت ايك لطيف و نازك، حسين ومحبوب ہستى ہے ، عورت دلبر ہے اور مرد دلدار _ عورت و معشوق ہے اور مرد عاشق _ جب مرد كسى عورت سے شادى كرتا ہے تو وہ چاہتا ہے كہ اس لطيف ونازك ہستى كى تمام خوبياں اور رعنائياں صرف اس كى ذات تك محدود رہيں، وہ چاہتا ہے كہ اس كى بيوى اپنى سارى خوبصورتى ، عشوہ و ناز، شوخى و دلبرى صرف اپنے شوہر كے لئے مخصوص كردے اور غير مردوں سے مكمل اجتناب برتے _ مرد بہت غيور ہوتا ہے اور وہ اس بات كو برداشت نہيں كرسكتا كہ كوئي غير مرد اس كى بيوى پر نظر ڈالے يا اس سے تعلقات اور ميل جول قائم كرئے اس سے باتيں كرے اور ہنسى مذاق كرے _ اور اس قسم كى باتوں كو وہ اپنے جائز حق پر ظلم سے تعبير كرتا ہے _ اور اپنى بيوى سے توقع كرتا ہے كہ اسلامى لباس اور پردے كا لحاظ كرے _ شرعى اصولوں اور اخلاقى قوانين كى پابندى كركے اور اسلامى شرم و حيا اور متانت سے كام لے كر اپنے شوہر كى اس جائز خواہش كى تكميل ميں اس كى مدد كرے _ ہر مومن اور غيرت مند مرد كى يہى خواہش ہوتى ہے _ اگر اس كى بيوى اس اسلامى اور سماجى فريضہ پر عمل كرتى ہے تو وہ بھى سكون و اطمينان كے ساتھ زندگى بسر كرتا ہے اور اپنے خاندان كى ضروريات مہيا كرنے كى فكر ميں پور ى توجہ كے ساتھ مشغول رہتا ہے اس كى محبت ميں اضافہ ہوتا ہے _ اور يہى محبت و پاكيزگى اس بات كا سبب بنتى ہے _


كہ وہ بھى غير عورتوں پر توجہ نہ دے _

ليكن اگر مرد ديكھتا ہے كہ اس كى بيوى اسلامى لباس اور حجاب كا لحاظ ہيں ركھتى اور اپنے حسن و خوبصورتى كى غير مردوں كے سامنے نمائشے كرتى ہے اور ان سے تعلقات قائم كرتى ہے تو وہ سخت ناراض ہوجاتا ہے كيونكہ وہ اس كو اپنى حق تلقى سمجھتا ہے _ اور بيوى كو اس بات كا ذمہ دار سمجھتا ہے _ ايسے مرد ہميشہ پريشان اور بدگمانى كا شكار رہتے ہيں اور اپنے خاندان سے ان كى محبت و انسيت رفتہ رفتہ كم ہوتى جاتى ہے _ معاشرے اور خواتين كى بھلائي اسى ميں ہے كہ عورتيں اپنے حسن كى نمائشے غيروں كے سامنے نہ كرتى پھريں _ بناؤ سنگار اور آرامش كے بغير گھرسے باہر نكليں اور زيادہ سے زيادہ اپنے آپ كو غير مردوں سے چھپائيں _ پردے كى پابندى ايك اسلامى فريضہ ہے _ خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

مومن عورتوں سے كہو ، غيرمردوں كے سامنے اپنى نظريں نيچى ركھيں _ اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں _ اپنى خوبصورتى اور بناؤسنگار كے مقامات كو غيروں پر آشكارا نہ كريں _ سوائے ان اعضاء كے جو فطرى طور پر آشكار ہيں _(جيسے ہاتھ اور چہرہ) اپنے دو ٹپوں كو اپنے سينوں پر ڈالے رہيں ( اس طرح سے كہ اچھى طرح ڈھك جائے) اور اپنى زينت اور جمال كو سوائے اپنے شوہر ف اپنے باپ دادا، شوہر كے باپ داد، اپنے بيٹوں ، اپنے شوہر كے بيٹوں ، اپنے بھائيوں ، اپنے بھانجوں اور بھتيجوں كے اور كسى پر ظاہر نہ ہونے ديں ،،(۵۷)

جى ہاں اسلامى لباس اور پردے كى پابندى كرنا، مختلف لحاظ سے خود عورتوں ہى كے نفع ميں ہے _ مثلاً :

۱_ سماج ميں ميں اپنے وجود كى قدر و منزلت اور مقام كى بہتر طريقے سے حفاظت كرسكتى ہيں اور اپنے آپ كو غيروں كى برى نگاہوں سے محفوظ ركھ سكتى ہيں _

۲_ خواتين اسلامى لباس و پردے كا لحاظ كركے ، اپنے شوہروں كى نسبت اپنى محبت و وفادارى كو بہتر طريقے سے پايہ ثبات تك پہونچا سكتى ہيں اور اس طريقے سے خاندان ميں سكون و چين اور محبت كا ماحول


پيدا كرنے ميں مدد كرسكتى ہيں اور بدگمانيوں اور اختلافات پيد اہونے كے امكانات كى روك تھام كر سكتى ہيں _ مختصر الفاظ ميں يوں كہيں كہ بہتر طريقے سے شوہر كا دل جيت سكتى ہيں اور اپنے مقام و مرتبہ كى حفاظت كر سكتى ہيں _

۳_ اسلامى حجاب كا لحاظ كركے غير مردوں كى ناجائز لذت اندوزيوں كى روك تھام كر سكتى ہيں اور اس وسيلہ سے خاندانوں كے اختلافات و بدگمانيوں كو كم كر سكتى ہيں اور خاندانوں كے باہمى تعلقات كو مستحكم و پائيدار بنانے ميں مددگار ثابت ہوسكتى ہيں _

۴_ اسلامى لباس و پردے كے ذريعہ آپ جوان نسل اور ان غير شادى شدہ مردوں كى ، كہ جن كى شادى كا امكان نہيں ہے ، بہترين طريقے سے مددكرسكتى ہيں اور جوانوں كى اعصابى كمزوريوں ، فحاشيوں اور بدعنوانيوں كى كہ جن كے برے نتائج كا خود عورتويں كو ہى شكار ہونا پڑے گا، روك تھام كرسكتى ہيں _

۵_ جى ہاں چونكہ اسلام عورت كى مخصوص صلاحيتوں سے آگاہ ہے اور اس كو سماج كا ايك اہم ركن شمار كرتا ہے لہذا معاشرے كى پاكيزگى يابے راہ روى كى ذمہ دارى بھى اس پر عائدكر تا ہے _ اسى لئے اسلام عورت سے چاہتا ہے كہ وہ اپنى عظيم ذمہ ارى كو پورا كرنے كے لئے فداكارى سے كام لے اور اپنے اسلامى حجاب كا پاس كركے سماجى بد عنوانيوں اور فحاشيوں كى روك تھام كرے اور اپنى ملت كى عظمت و سربلندى اور استحكام كے لئے كوشاں رہے اور اس بات پر يقين ركھے كہ اس عظيم فريضہ الہى كى انجام دى پر اس كو خداوند عالم كى جانب سے بہترين جز ااور انعام عطا كيا جائے گا _

خاتون محترم اگر آپ اپنے شوہر كا اعتماد حاصل كرنا چاہتى ہيں ، آپ كو اپنے خاندان كا سكون و چين مقصود ہے ، اگر آپ واقعى اپنے معاشرے كى خواتين كى بہبودى كى خواہاں ہيں ،اگر جوان نسل كى نفسياتى سلامتى ، اور ان كى لغزشوں اور بے راہ روى كو روكنے كى فكر ميں ہيں، اگر آپ چاہتى ہيں كہ عورتوں كو مردوں كو رجھانے اور ان كو فريب دينے جيسى بر ى عادتوں سے روكيں اور اگر آپ خدا كى خوشنودى حاصل كرنا چاہتى ہيں اور ايك مومن و فداكار خاتون كى طرح زندگى گزارنا چاہتى ہيں تو


اسلامى حجاب كى ہميشہ پابندى كريں _ اور اپنى زيب و زينت اور بناؤ سنگار كو غيروں پر ظاہر نہ كريں خواہ آپ اپنے

گھر ميں اپنے رشتہ داروں كے درميان ہوں يا گھر سے باہر، يا مہمانوں كى محفل ميں ہوں ، اس سے كوئي فرق نہيں پڑتا _ آپ كے شوہر كے بھائي ، شوہر كے بھانجے بھتيجے، آپ كى نندوں كے شوہر، آپ كے اپنے بہنوئي ، آپ كے پھوپھا ، خالو، آپ كے خالہ زادماموں زاد، پھوپھى زاد اور چچازاد بھائي، يہ سب آپ كے نامحرم ہيں اور ان سب سے پردہ كرنا واجب ہے خواہ آپ خود اپنے گھر ميں ہوں يا كسى محفل ميں مہمان ہوں _ اگر آپ ان سب كے سامنے اپنے حجاب كا خيال نہ ركھيں گى تو آپ گناہ كى بھى مرتكب ہوں كى اور اپنے شوہر كے دل كو بھى رنجيدہ كريں گے _ ممكن ہے آپ كا شوہر منھ سے كچھ نہ كہے ليكن يقين ركھئے يہ چيز اس كى رنجيدگى كا باعث بنے گى اور آپ كے خاندان كى سلامتى كو صدمہ پہونچنے كا سبب بن سكتى ہے _

البتہ آپ كے اپنے باپ ، آپ كے بھائي، بھانجے بھتيجے اور آپ كے شوہر كے باپ آپ كے محرم ہيں اور ان سے پردہ نہيں ہے ، ليكن اس بات كاذكر ضرورى ہے كہ بہتر ہوگا كہ ان سے بھى ايك حد تك لحاظ كريں اور اس آرائشے اور لباس كے ساتھ، جو آپ مخصوص طور پر اپنے شوہر كے لئے پہنتى ہيں ، ان كے سامنے نہ آئيں _ اگر چہ شرعا ً جائز ہے _ ليكن بعض مردوں كو يہ بھى گوارا نہيں _ لہذا ان كے دلى سكوں كى خاطر اور اپنے خاندان كى سلامتى و بقا كے لئے بہتر يہى ہے اس كا خيال ركھيں _

اپنے شوہر كى غلطيوں كو معاف كرديجئے :

معصوم كے علاوہ ہر انسان سے خطا اور لغزش سرزد ہوتى ہے _ دو آدمى جو ساتھ زندگى گزارتے ہيں اور چونكہ آپس ميں ايك دوسرے كے معاون و مددگار ہوتے ہيں لہذا ايك دوسرے كى غلطيوں اور خطاؤں كو معاف كردينا چاہئے تا كہ زندگى گاڑى بخوبى چلتى رہى _ اور اس سلسلے ميں اگر سخت گيرى سے كا م ليا گيا تو تعاون ناممكن ہوجائے گى _ دو ساتھ رہنے والے انسان ، دو ہمسائے ، دو رفيق ، دوساتھي، اور مياں بيوى كو اجتماعى زندگى ميں عضور و درگزر سے كام لينا چاہئے _ اجتماعى زندگى ميں سب سے خاندانى زندگى ميں عضو و در گزر اور ايك دوسرے كى غلطيوں كو نظر انداز كرنے كى ضرورت ہوتي


ہے _ اگر ايك خاندان كے افردا چاہيں كہ سخت گيرى سے كام ليں اور ايك دوسرے كى خطاؤں پر كڑى نظرركھيں تو ايسى حالت ميں يا تو ان كى زندگى كا شيرازہ بكھر جائے گا يا ان كى زندگى بدترين طريقے سے گزرے گى _

خواہر عزيز ممكن ہے آپ كے شوہر سے كوئي غلطى يا غلطياں ہوجائيں ممكن ہے غصہ كى حالت ميں آپ كى توہين كرے، يا اس كے منہ سے مناسب الفاظ نكل جائيں، يا اپنے آپ ميں نہ رہے اور مارپيٹ كردے ، يا ايك بار آپ سے جھوٹ بول دے، يا كوئي ايسا كام كرے جو آپ كو پسند نہ ہو، اس قسم كى خطائيں ہر مرد سے سرزد ہوسكتى ہيں ليكن اگر آپ محسوس كريں كہ بعد ميں وہ اپنے عمل پر نادم ہے تو اس كو معاف كرديں او راس موضوع كو نہ چھيڑيں _ اگر وہ عذر خواہى كرے تو فوراً اس كو قبول كرليں _ اگر شرمندہ ہے ليكن معافى مانگنے كا روادار نہيں تو اس بات پر مصر نہ ہوں كہ اس كے جرم كو ثابت كريں _ كيونكہ اس سے اس كى شخصيت كو ٹھيس پہونچنے گى اور ممكن ہے وہ اس كا بدلہ لينے كے درپے ہوجائے _ اور آپ كى غلطيوں كو پكڑے _ اور انجام كار لڑائي جھگڑے اور عليحدگى تك نوبت پہونچے _ البتہ اگر آپ خاموشى اختيار كرليں اور اس كى غلطيوں كو نظر انداز كرديں تو اس كا ضمير اس كو ملامت كرے گا اور وہ اپنے كئے پر نادم و پشيمان ہوگا اور اس كى نظر ميں آپ كى وقعت بڑھ جائے گى _ اسے اندازہ ہوجائے گا كہ آپ كو اپنے شوہر اور خاندان سے انس ومحبت ہے _ لہذا وہ آپ كى قدر پہچانے گا اور اس كى محبت ميں گئي گنا اضافہ ہوجائے گا _ رسول خدا(ص) فرماتے ہيں : برى عورت اپنے شوہر كے عذر كو قبول نہيں كرتى اور اس كى خطاؤں كو معاف نہيں كرتى _(۵۸)

كيا يہ بات افسوسناك نہيں كہ عورت اس قدر كينہ پرور ہوكہ اپنے شوہر كى ايك معمولى سى غلطى كو برداشت نہ كرسكے او راس كے سبب شادى كے مقدس بندھن كو توڑڈالے

شوہر كے رشتہ داروں كے ساتھ ميل ملاپ كے ساتھ رہئے

زندگى كى مشكلات ميں سے ايك مشكل ، شوہر كے رشتہ داروں سے بيوى كا اختلاف ہے _


اكثر عورتيں اپنے شوہر كى ماں ، بہن اور بھائيوں سے مل جل كرنہيں رہيں _ اور ہميشہ ميں لڑائي جھگڑا رہتاہے ايك طرف بيوى كوشش كرتى ہے كہ اپنے شوہر پر اس طرح سے قابض ہوجائے كہ وہ دوسروں حتى كہ اپنى ماں بہن اور بھائي پر توجہ نہ كرسكے _ او ان كے تعلقات كو ختم كر نے كى كوشش ميں لگى رہتى ہے _ برا بھلا كہتى ہے _ شوہر سے جھوٹى شكايتيں كرتى ہے _ لڑائي جھگڑا كرتى ہے _ دوسرى طرف شوہر كى ماں خود كو اپنے بيٹے اور بہوكا مالك و مختار سمجھتى ہے اور ہر طرح سے اس بات كى كوشش كرتى ہے كہ اپنے بيٹے كو اپنے قابوميں ركھے اور نووارد بہواس كے حقوق پر قبضہ نہ جمالے _ اسى غرض سے بہوكے كاموں ميں عيب نكالتى ہے ، اسے برا بہلا كہتى ہے _ جھوٹ و فريب سے كام ليتى ہے _ اور اس طرح ہر روز آپس ميں لڑائي جھگڑا رہتا ہے _ خاص طور پر اگرايك گھر ميں ساتھ رہتے ہوں _ اگر ان ميں سے كوئي ايك يادونوں نادان اور ضدى ہوں تو بات بہت زيادہ بگڑ اجانے كا امكان ہے _ يہاں تك كہ مارپيٹ اور خودكشى تك كى نوبت آجاتى ہے _ ساس بہودن رات جھگڑئے اور زورآزمائي ميں مشغول رہتى ہيں ليكن پريشانى اور غم و غصہ مرد كے حصہ ميں آتا ہے _

اصل مشكل تو يہى ہے كہ دونوں طرف ايسے افراد ہيں كہ جن سے مرد آسانى كے ساتھ دستبردار نہيں ہوسكتا _ ايك طرف اس كى بيوى ہے جو اپنے ماں باپ كو چھوڑ كر سينكڑوں اميدوں اور آرزوؤں كے ساتھ اس كے گھر آئي ہے تا كہ اس كى اور اس كے گھر كى مالك بن جائے _ ضمير كہتا ہے ، اس كى خوشى و مرضى كے اسباب فراہم كروں اور اس كى حمايت كروں _ اس كے علاوہ وہ اس كى زندگى كى دائمى شريك اور اس كى بيوى ہے اس كى حمايت نہ كرنا مناسب نہيں _ دوسرى طرف سوچتا ہے كہ ميرے ماں باپ نے سالہا سال ميرى خاطر تكليفيں اٹھائيں _ بڑى اميدوں اور آرزؤں كے ساتھ مجھے پالا پوسا اور بڑا كيا _ مجھے پڑھا لكھايا ، روزگار سے لگايا _ ميرى شادى كى _ وہ مجھ سے توقع ركھتے ہيں كہ ضعيفى ميں ان كا سہارا بنوں _ يہ بات بھى درست نہيں كہ ان سے قطع تعلق كرلوں اور انھيں ناراض كردوں _ اس كے علاوہ زندگى ميں ہزاروں نشيب و فراز آتے ہيں _ پريشانى ، دوستى ، دشمنى ، حادثے، موت غرضكہ طرح طرح كى مشكليں در پيش ہوتى ہيں ايسے حساس موقعوں پر حامى و مددگار كى ضرورت ہوتى ہے


اور مصيبت كے وقت جو ميرے كام آئيں گے اور ميرے اور خاندان كى مدد حمايت كريں گے وہ صرف ميرے ماں باپ ہى ہوں گے اس وسيع دنيا ميں بے يار و مددگار بن كر نہيں رہا جا سكتا _ اپنے رشتہ دار بہترين پناہ گاہ ہوتے ہيں ان سے دستبردار نہيں رہا جا سكتا _

اس موقع پر ايك عاقل انسان اپنے آپ كو بڑى مشكل ميں گرفتار پاتاہے _ اپنى بيوى كى بات سنے اور ماں باپ كو چھوڑدے يا ماں باپ كى مرضى كے مطابق كام كرے اور بيوى كو رنجيدہ كردے _ اور ان ميں سے دنوں باتيں اس كے لئے امكان پذير نہيں ہوتيں اس لئے مجبور ہے كہ حتى الامكان دونوں كو خوش ركھنے كى كوشش كرے_ يہ كام بہت دشوار ہے ليكن اگر بيوى سمجھدار اور موقع شناس ہو اور ہٹ دھرمى سے كام نہ لے تو يہ مشكل آسان ہوجاتى ہے _ ايسے ہى موقع پر مرد ، اپنى بيوى سے جو كہ اس سے سب سے قريب اور اس كى سب سے بڑى غمگسار ہوتى ہے تو توقع كرتا ہے كہ اس مشكل كو حل كرنے ميں اس كى مدد كرے _ بہو اگر اس كے سامنے خاكسارى دكھائے، اس كا احترام كرے ، اس سے محبت كا اظہار كرے ، كاموں ميں اس سے صلاح و مشورہ لے، اس كى مدد كرے ،اور اس كے ساتھ بناہ كرنے كى كوشش كرے تو وہى ساس اس كى سب سے بڑى حامى و مددگار ثابت ہوسكتى ہے _

انسان اپنى خوش اخلاقى اور اظہار محبت كے ذريعہ ايك گروہ كو اپنا دوست اور ہمدرد بناليتا ہے ، كيا افسوس كا مقام نہيں كے اپنے غرور و خود غرضى اور ہٹ دھرمى كے سبب ان سب محبت كرنيوالوں سے ناتہ توڑلے _ كيا آپ كو اس بات كى فكر نہيں كہ زمانے كے نشيب و فراز ، سختيوں اورپريشانيوں ميں انسان كو دوسروں كى مدد كى ضرورت ہوتى ہے ، ايسے وقت ميں صرف اپنے عزيز و اقارب ہى كام آتے ہيں كيا يہ اچھا نہ ہوگا كہ خوش اخلاقى اور ميل محبت كے ساتھ اپنوں كے ساتھ مل جل كر رہئے تا كہ انس ومحبت كى لذتوں كا لطف اٹھايئےور ايك گروہ آپ كا حقيقى معنوں ميں حامى و پشت پناہ ہو _ كيا يہ مناسب ہے كہ غيروں كے ساتھ تو دوستى بنھايئےور اپنوں سے قطع تعلق كرليجئے _ تجربے سے ثابت ہوا ہے كہ مصيبت كے وقت اكثر دوست انسان كا ساتھ چھورڈيتے ہيں ليكن وہى عزيز


رشتہ دارجن سے آپ نے قطع تعلق كرليا تھا آپ كى مدد كے لئے دوڑتے ہيں كيونكہ يہ خونى رشتے ہوتے ہيں اور انھيں آسانى سے توڑا نہيں جا سكتا _

مثل مشہور ہے كہ اگر اپنے عزيز رشتہ دار انسان كا گوشت بھى كھاليں تو اس كى ہڈياں دور نہيں پھكيں گے _

حضرت عليہ عليہ اسلام فرماتے ہيں : انسان اپنے عزيز و اقارب سے كبھى بے نياز نہيں رہ سكتا _ خواہ مالى ودولت اور اولاد ركھتا ہو _ ان كے التفات و احترام كى ضرورت ہوتى ہے وہى لوگ ہر طرح سے (ہاتھ اور زبان سے ) اس كى مدد كرتے ہيں _ اپنے عزيز و رشتہ دار بہتر طريقے سے دفاع كرسكتے ہيں _ مصيبت كے وقت سب سے پہلے وہى اس كى مدد كو دوڑتے ہيں _ جو شخص اپنے رشتہ داروں سے ہاتھ كھينچ ليتا ہے گويا وہ ايك ہاتھ ان سے كھينچ ليتا ہے ليكن در اصل بہت سے ہاتھوں سے محروم ہوجاتا ہے _(۵۹)

خواہر عزيزاپنے شوہر كى خوشنودى كے لئے ، اپنے سكون و آرام كے لئے ، اپنے سچے خيرخواہ اور حامى ومددگار پيداكرنے كے لئے اور اپنے شوہر كى محبت حاصل كرنے كى غرض سے اپنے اور اپنے شوہر كے رشتہ داروں كے ساتھ ميل ملاپ كے ساتھ رہيئے_ بيجا ضد ،تكبر و جہالت سے دامن بچايئے عاقل و دانا بنئے _ اپنے شوہر كى فكروں ميں اضافہ نہ كيجئے _ ايثار و قربانى سے كام ليجئے _ تا كہ خدا اور اس كے بندوں كى نظروں ميں آپ محبوب و محترم بنى رہيں _

اپنے شوہر كے شغل اور پيشے پر اعتراض نہ كيجئے _

ہر انسان كو كوئي پيشہ اختيار كرنا پڑتاہے اور اپنے پيشے كے مطابق زندگى گزارنى پڑتى ہے _ ايك ڈرائيور اپنى عمر كا بڑا حصہ راستوں ميں گزارتا ہے اور دوسرے لوگوں كى طرح ہر رات اپنے گھر نہيں آسكتا _ ايك چوكيدار بعض راتوں ميں يا ہر رات چوكيدارى كرتاہے _ ايك ڈاكٹر كو كم موقع ملتا ہے كہ اپنے خاندان والوں كے ساتھ فراغت و اطمينان كے ساتھ بيٹھے يا تفريح كرے _ ايك


استاد يا دانشور جو مطالعہ كا عادى ہے مجبور ہے كہ راتوں كو مطالعہ كرے _ بعض پيشے ايسے ہوتے ہيں جن ميں زيادہ تر سفر ميں رہنا ہوتا ہے _ تيل بيچنے والے كے پاس سے تيل كو بوآتى ہے _ ميكنيك كا لباس چكنا رہتا ہے اور اس ميں سے تيل كى بو آتى ہے _ كوئلہ فروش ہميشہ سياہ رہتا ہے _ راتوں كوڈيوٹى دينے والا مزدور مجبور ہے كہ راتوں كو كارخانے ميں جائے _

ايسے بہت كم پيشے ہيں جن ميں مكمل طور پر سكون و اطمينان ميسر ہو _ زندگى كى گاڑى چلانے كے لئے كوئي نہ كوئي پيشہ اختيار كرنا پڑتاہے _ روٹى پيدا كرنا كوئي آسان كام نہيں _ مرد كے لئے ان مشكلات كو جھيلنے كے علاوہ اور كوئي چارہ نہيں _ البتہ ايك اور مشكل پيدا ہوجاتى ہے اور وہ ہے اس سلسے ميں خاندان والوں كا عدم تعاون _

عورتيں عموماً ايسا شوہر پسند كرتى ہيں جو ہميشہ وطن ميں رہے _ اول شب گھر آجائے فرصت كے اوقات اس كے پاس زيادہ ہوں تا كہ سير و تفريح ميں وقت گزار جا سكے _ اس كا پيشہ باعزت ، صاف ستھر اور زيادہ آمدنى والا ہو _ ليكن افسوس كہ بہت سے مردوں كے پيشے ان كى بيويوں كى مرضى كے مطابق نہيںہوتے _

خاندانى زندگى كى مشكلات كا سلسلہ يہى سے شروع ہوتا ہے _ ايك دڑائيور جو مسلسل كئي كئي دن اور راتيں بيابانوں ميں زخمت اٹھا پھرتا ہے ، سينكڑوں پريشانيوں كا مقابلہ كرتا ہے نہ ٹھيك سے سوسكتا ہے نا قاعدے سے كھانا كھاپاتا ہے اور جب چند شب وروز باہر گزارنے كے بعد تھكا ہا راگھر آتا ہے تا كہ چند گھنٹے آرام كرے اور اپنے گھروں كے حالات سے باخبر ہو تو ابھى گھر ميں داخل بھى نہيں ہوتا كہ بيوى كے نالہ و فرياد اور شكايتوں كا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ، بھلا يہ بھى كوئي زندگى ہے _ مجھ بد نصيب كوان بچوں كے ساتھ چھوڑكر خود نہ معلوم كہاںچلے جاتے ہو _ سارے كام مجھے تنہا انجام دنا پڑتے ہيں _ ا ن شيطان بچوں سے تو ميں تنگ آگئي ہوں _ ڈرائيونگ ذرا بھى اچھا كام نہيں ہے _ اپنا شغل تبديل كرلو_ ميں سارى عمراس طرح زندگى بسر نہيں كرسكتى _

بيچارہ مرد جوان اعتراضات ، شكايتوں اور ہنگاموں كے بعد تھكاہارا، پريشان حال ٹرك


بس يا ٹيكسى چلاتا ہے اس كے مسافروں كا توبس اللہ ہى حافظ ہے _

ايك ڈاكٹر جسے صحيح سے آدھى رات تك طرح طرح كے مريضوں سے پنٹنا پڑتا ہے اور اس كے اعصاب اور دماغ مسلسل كام كے سبب كافى تھك جاتے ہيں _ اگر گھر ميں بھى اسے سكون نہ ملے اور بيوى اپنى شكايتوں كے دفتر كھول كے بيٹھ جائے تو اس كا كيا حال ہوگا _ وہ تھكے اعصاب اور پريشان دماغ كے ساتھ اپنا كام كس طرح بخوبى انجام دے سكتا ہے وہ مزدور جو سارى رات سويا نہيں ہے اور كام كرتا رہا ہے جب صبح آرام كرنے كى خاطر گھر آتا ہے ، اگر يہاں بھى اسے سكون نہ ملے اور بيوى كى شكايتوں اور اعتراضات سے دوچار ہونا پڑے تو وہ دوبارہ اپنے كام كو انجام دينے كےلئے كس طرح جا سكتا ہے ؟ دانشور جس كا كام تحقيق ومطالعہ كرنا ہے اگر اس كى بيوى اس سے تعاون نہ كرے اور اس كے كاموں پر اعتراضات كرے تو وہ اپنے مشن ميں كس طرح كامياب ہوسكتا ہے ؟ايسے ہى موقعوں پر عقلمند اور نادان عورت كا فرق محسوس ہوتا ہے _

خواہر گرامي ہم دنيا كے تمام كاموں گو اپنى مرضى و خواہش كے مطابق چلانے پر قادر نہيں ہيں _ ليكن ہم خود كو حالات كے مطابق ڈھالنے پر قدرت ركھتے ہيں _ روزى روٹى كا انتظام كرنے كے لئے آپ كا شوہر مجبور ہے كہ كوئي پيشہ اختيار كرے _ ہر پيشہ اور كام كے كچھ اصول لوازم ہوتے ہيں _ آپ چاہيں تو اپنى زندگى كے كاموں كو اس كے پيشے كے مطابق اس طرح سے ترتيب دے سكتى ہيں كہ وہ بھى سكون و آزادى كے ساتھ اپنے كاموں كو انجام دے سكے اور آپ بھى اطمينان كے ساتھ زندگى گزارسكيں _ صرف اپنے آرام و آسائشے كى فكر نہ كيجئے اپنے شوہر كے آرام كى بھى تھوڑى سى فكر كيجئے _ دانشمندى اور ايثار سے كام ليجئے _ ايك سليقہ مند اور ہوشيار بيوى كى طرح اپنے فرائض انجامد ديجئے _ اگر آپ كے شوہر ڈرائيور ہيں اوركئي راتوں كے بعد تھكے ماندے گھر آتے ہيں تو خندہ پيشانى اور مسكراہٹ كے ساتھ ان كا استقبال كيجئے _ ان سے محبت كا اظہار كيجئے تا كہ ان كى تھكن دور ہوجائے _ بدمزگى پيدا كرنے والى باتوں سے گريز كيجئے _ ان كے پيشہ پر اعتراض نہ كيجئے _ ڈرائيونگ


كے پيش ميں اخر كيا برائي ہے؟

وہ بيچارہ تو آپ كے آرام و آسائشے كى خاطر اپنے شب و روز جنگل و بيابانوں ميں ڈرائيونگ كرتا پھرتا ہے _ اس كى قدردانى كرنے كے بجائے آ پ اس كے پيشے كى برائي كرتى ہيں _آپ كا يہ طرز سلوك اسے زندگى اور گھر كى جانب سے لاپروا بناديتا ہے _ اس كے پيشے ميں كوئي برائي نہيں ہے _ وہ سماج كى خدمت كرتا ہے _ روزى كمانے كے لئے زحمت اٹھاتا ہے _ اگر كاہلى كرتا يا ناجائز پيشہ اختيار كرليتا تو كيا وہ اچھاہوتا ؟ اس كے كام ميں كوئي برائي نہيں ہے _ عيب تو خود آپ ميں ہے كہ اس سے توقع ركھتى ہيں كہ وہ ہر شب گھر آجائے _ اور خود كو اپنے موجودہ حالات كے مطابق تيار نہيں كرتيں _

كيا يہ خود آپ كے حق ميں بہتر نہ ہوگا كہ اس قسم كى زندگى كے لئے آپ اپنے كو تيار كرليں اور اس كى عادت ڈل ليں اور نہايت خوشى واطمينان كے ساتھ زندگى گزاريں اور جب آپ كے شوہر گھر آئيں تو ان كا گر مجوشى سے استقبال كريں او ر محبت بھر ے لہجہ ميں ان كے كام اور ان كى زحمتوں كى تعريف كريں _ اور ان كى ہمت افزائي كريں اور مسكراہٹ كے ساتھ گھر كے دروازے تك ان كو رخصت كرنے آئيں _ آپ كا يہ طرز عمل ان كے دل كو سارے دن مسرور و شاد ركھے گا _ اوروہ خوش خوش گھر واپس آئيں گے _ محنت و لگن كے ساتھ اپنے فرائض انجام ديں گے _ گھر سے ان كى دلچسپى برقراررہے گى اور اپنا وقت باہر سير سپاٹے ميں نہيں گزازيں گے _ ان كے اعصاب صحيح و سالم رہيں گے _ آپ كے آرام و آسائشے كا انھيں اور زيادہ خيال رہے گا _ اور زيادہ محنت كرسكيں گے _

اگر آپ كے شوہر كا كام اس قسم كا ہے كہ انھيں راتوں كو ڈيوٹى دينى ہوتى ہے اور وہ آپ كے اخراجات پورے كرنے كے لئے اپنے رات كى نيند و آرام تج ديتے ہيں تو اس قسم كى زندگى كا خود كو عادى بناليجئے اور ناپسنديدگى كا اظہار نہ كيجئے _ اگر تنہائي سے آپ كا دل گبھراتا ہے تو ايسا كر سكتى ہيں كہ گھر كے كچھ كاموں كو رات كے وقت انجام ديں _ رات كے كچھ حصہ ميں سلائي كيجئے _ كاڑھئے _ بنئے _ مطالعہ كيجئے _ جب آپ كے شوہر كارخانے سے گھر آئيں تو فوراً ان كو چاہئے ناشتہ ديجئے _ ان كے آرام كرنے كے لئے كمرہ


تيارركھئے تا كہ اپنى تھكن دور كرليں بچوں كو عادت ڈاليئےہ شور و غل نہ مچائيں او ر آپ كے شوہر كى خوابگاہ كے نزديك نہ جائيں _ ان كو سمجھايئےہ تمہارے والد رات بھر سوئے نہيں ہيں اب انھيں آرام كرنا چاہئے _ بلكہ يہ بھى كر سكتى ہيں كہ بچے اور آپ

رات ميں كحم سوئيں آوردن ميں اپنے شوہر كے ساتھ كچھ دير آرام كرليں _ ان كے آرام ميں خلل نہ ڈالئے _ اس بات كومد نظر ركھئے كہ آپ كے شوہر سارى رات بيدار رہے ہيں اوردن ان كے لٹے بمنز لہ شب كے ہے _ اس لئے بغير شور وغل كے انھيں آرام كرنے كا موقع ملنا چاہئے _ ايسے حالات ميں خواتين كو اپنے پرو گرام كو دو طرح سے مرتب كرنا چاہئے _ ايك اپنے لئے اور ايك اپنے شوہر كے لئے _ تا كہ ماحول كى كشيدگى كے سبب اس كى خستہ روح اور زيادہ خستہ و مضمحل نہ ہو جائے ۰ اس كے اعصاب كو صحيح و سالم رہنے ديجئے تا كہ ضروريات زندگى كى فراہمى كے لئے پورى طرح سرگرم عمل رہے _ اس كے شغل مين عيب تہ لكا لئے _ اس كے پيشے ميں كيا برائي ہے ؟ اگر بيكار ہوتا يا سستى و كاہلى سے سے كام ليتا يا آوارہ گردى كرتا پھر تا تو كياوہ بہتر ہوتا ؟ آپ كو تو فخر كرنا چا ہئے كہ آپ كا شوہر ايسا مختى اور جفا كش ہے جو روزى روٹى كمانے كے لئے اپنى راتوں كى نينديں حرام كرتا ہے _ اس كى ہمت و حوصلہ كى قدر دانى كيجئے _ نہايت محبت اور متبسم ہنوٹوں كے ساتھ اس كو دروازے تك رخصت كيجئے _ اگر آپ كا شوہر ڈاكٹر ، يا مطالعہ كا عادى اور دانشور ہے اور معاشرے كے لئے شب وروز محنت كرتا ہے تو اس كى حوصلہ افزائي كيجئے اور ايسے قابل شوہر پر فحر كيجئے _ اس كا پيشہ اس قسم كا ہے كہ فرصت كے اوقات اس كے پاس زيادہ نہيں ہيں ليكن آپ اس كے پيشے اور كام كے مطابق اپنا پرو گرام ترتيب دے سكتى ہيں _ اس سے اس بات كى توقع نہ كيجئے كہ آپ كى مرضى كے مطابق زندگى گزارنے گزارنے كے لئے وہ اپنے پيشے اور كام سے دستبر دا رہوجائے _ اس كو آزادى كے ساتھ اطمينان وسكون كے ماحول ميں اپنے كاموں اور مطالعہ ميں مشغول رہنے ديجئے _ جس وقت وہ كام ميں مشغول ہو اس وقت آپ گھر كے كاموں كو انجام دے سكتى ہيں _ باقى وقت كتاب پڑھنے ميں گزار يئےا اس كى اجازت سے اپنے دوستوں او رعزيزوں كے گھر ملنے چلى جايئےيكن يہ


كوشش كيجئے كہ جب آپ كے شوہر كے آرام كا وقت ہو اس وقت آپ گھر پر موجود ہوں _ پہلے سے اس كے استقبال كے لئے تيار رہئے _ اور جب وہ گھر ميں داخل ہوتو نہايت گر مجوشى اور شيريں لجے ميں گفتگو كركے اس كى تھكن كو دور كيجئے_ اس كے كاموں پراعتراض كركے اس كے كے تھكے ہوئے اعصاب كو مزيد مضمحل نہ كيجئے _ اگر آپ صحيح طريقے سے اسك بيوى كے فرائض انجام ديں گى تويہ چيز نہ صرف آپ كے شوہر كى عظمت و ترقى كا سبب بنے كى صلاحيت ہر عورت ميں نہيں ہوتى ، اثيار و فداكارى اور اچھے طرز سلوك اپنى صلاحيتوں كو اجاگر كيجئے _ اگر آپ كے شوہر كا كام اس قسم كا ہے جس مين ان كا لباس گندہ ہو جاتا ہئے تو اعتراض اور لعن طعن نہ كيجئے _ يہ نہ كہٹے كہ يہ گندہ پيشہ منتخب كيا ہے اس كو چھوڑدو _ كيونكہ يقينا يہ كام انھوں نے كسى وجہ سے اور سوچ سمجھ كر منتخب كيا ہے ، خاتون محترم كسى بھى قسم كے كام ميں كوئي برائي نہيں ہے _ ہاں بيكار بيٹھے رہنا يا سستى سے كام لينا يا ناجائز كاموں كو انجام دينا عيب ہے _ آپ كو چاہئے كے ايسے مرد كى قدر كريں جو روزى كمانے كے لئے اتنى محنت كرتا ہے اور اپنا پسينہ بہاتا ہے _ برا بھلا كہہ كر اس كى حوصلہ شكنى نہ كيجئے اور پيشہ تبديل كرنے كے لئے اس سے اصرار نہ كيجئے _ يقينا اپنے لئے مناسب سمجھ كر ہى اس كا انتخاب كيا ہے _

آپ كو كسب معاش اور ملازمتوں كا حال معلوم نہيں _ آپ سمجھتى ہيں شغل بدل لينا بہت آسان كام ہے _ اصولى طور پر اس كے پيشے ميں آخر برائي ہے جو آپ اس كو تبديل كرانے پر مصر ہيں _ آخر تيل بيچنا _ كوئلہ بيچنا _ مشينوں اور پرزوں كى تعمير و مرمت كرنا جيسے كاموں ميں كيا برائي ہے ؟ فقط ايك عيب جو آپ نكال سكتى ہيں وہ لباس كا گندہ ہوجانا ہے _ اس مشكل كو بھى بہت آسانى سے حل كہئے كہ كام كے لئے ايك عليحدہ لباس استعمال كرے _ اس كے كپڑوں كو جلدى جلدى دھوكر صاف كرديا كيجئے _ بہرحال يہ مسئلہ اتنا اہم نہيں ہے جس كے سبب عليحدگى اور طلاق تك كى نوبت آجائے _ بعض عورتوں كى بہانہ با زيان اور اعتراضات واقعى مضحكہ خيز ہوتے ہيں _

ايك عورت نے عدالت ميں كہا كہ ميرے شوہر نے اپنا شغل تبديل كرليا ہے _ اس كے پاس سے تيل كوئي بو آتى ہے اور ميں اس صورت حال سے تنگ آچكى ہوں _(۶۰)


اگر پرديس ميں زندگى گزارنے پر مجبور ہوں

كبھى كبھى انسان پرديس ميں زندگى گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے _ سركارى ملازم ہو ، فوج ، پوليس يا ميونسپلٹى ميں ملازم ہو معلم ہو ، تاجر ہو ، يا مزدور ہو، غرضكہ ملازمت كے سلسلے ميں انسان مجبور ہوجاتا ہے كہ ہميشہ يا عارضى طور پر پرديس ميں زندگى گزارے _ مرد وطن سے دورى برداشت كرليتاہے ليكن يہ مسئلہ بعض خواتين كى برداشت سے باہر ہوجاتا ہے _ وہ اپنے ماں باپ ، عزيز و اقارب كے نزديك رہنا چاہتى ہيں _ انھوں نے جہاں اپنا بچپن گزارا ہے وہاں كے دروديوار اور گلى كوچوں سے انھيں ايك خاص لگاؤ ہوتا ہے اس لئے اس سے دورى انھيں گوارا نہيں ہوتى _ اپنے شوہروں سے بحث كرتى ہيں او رجھگڑا كرتى ہيں كہ آخر كب تك پرديس ميں زندگى گزرے گى _ كب تك اپنے ماں باپ كے فراق ميں مبتلا رہوں نہ يہاں دوست آشنا ہيں ، يہ تم مجھے كہاں لے آئے _ ميں اب يہاں نہيں رہ سكتى ، تہارا جو دل چاہے كرو _

اس قسم كے عورتيں اس طرح كى باتيں كركے بلا وجہ ہى اپنے شوہروں كو اذيت ميں مبتلا كرتى ہيں _ يہ اس قدر كوتاہ نظر ہوتى ہيں كہ اپنى جائے تولد كو ہى بہترين مقام تصور كرليتى ہيں كہ جہاں زندگى بسر كى جا سكتى ہے اور صرف وہيں پر خوشى ميسر ہوسكتى ہے _

انسان نے وسيع و عريض كرہ ارض پر اكتفا نہيں كى بلكہ كائنات كے دوسرے كروں تك پہونچ گيا ہے ليكن تنگ نظر خواتين اپنى جائے تولد سے صرف چند ميل كے فاصلے پررہنے كو تيار نہيں اپنے دوستوں كو چھوڑكرپرديس ميں رہنے پر تيار نہيں ہوتيں _ گويا اس قسم كى عورتوں كو اپنى شخصيت پر اتنا بھى بھروسہ نہيں كہ پرديس ميں اپنے لئے دوست آشنا پيد ا كرسكيں _

خاتوں عزيز بلند ھمتى ، ايثار اور عقلمندى سے كام ليجئے _ صرف اپنى ہى فكر نہ كيجئے _ آپ كے شوہر كى ملازمت اس قسم كى ہے كہ وطن سے باہر زندگى گزارنے پر مجبور ہيں _ اگر وہ سركارى ملازم ہيں تو يہ


كس طرح ممكن ہے كہ جس شہر ميں ان كو پوسٹنگ ہوئي ہے وہاں نہ جائيں _ يا اگر ان كا پيشہ تجارت ہے يا مزدورى ہے اور پرديس ميں زيادہ بہتر طريقے سے كماسكتے ہيں توان كى ترقى كى راہ ميںكيوں ركاوٹ ڈالتى ہيں جب آپ كو معلوم ہے كہ آپ كے شوہر وطن سے باہر زندگى گزارنے پر كسى سب سے مجبور ہيں تو بلاوجہ بہانے اوراعتراضات كركے كيوں ان كى ناراضگى اور پريشانى كے اسباب فراہم كرتى ہيں _ جب ديكھيں كہ ملازمت كے سلسلے ميں انھيں كسى دوسرے شہر ، ديہات يا غير ملك ميں منتقل ہونا ہے تو آپ كا فرض ہے كہ فوراً اپنى رضامندى كا اظہار كيجئے ، خوشى خوشى گھر كے سازوسامان كى پيكنگ ميں لگ جايئےور پورے سكون و اطمينان كے ساتھ نئي جگہ كے لئے روانہ ہوجائے _ اپنے آپ كو اسى جگہ كا سمجھئے اور سرگرمى اور تن وہى كے ساتھ اپنى زندگى كا آغاز كيجئے _ اپنے ماحول اور حالات سے سمجھوتہ كرنا سيكھئے _ خوش اخلاقى اور خوش بيانى كے ذريعہ لوگوں كو اپنا دوست بنايئے چونكہ آپ يہاں نئي ہيں اس لئے اس علاقے كے لوگوں كے عادات و اخلاق سے پورى طرح واقف نہيں لہذا نئے دوستوں كے انتخاب ميں احتياط سے كام ليجئے اور اس سلسلے ميں اپنے شوہر سے بھى مشورہ ليجئے _ اپنے آپ كو تنہا محسوس نہ كيجئے _ بلكہ نئے ماحول اور وہاں كے لوگوں سے آشنا ہونے اورمانوس ہونے كى كوشش كيجئے _ ہر جگہ كى كچھ خاص خصوصيات ہوتى ہيں آپ وہاں كے فطرى مناظر يا قابل ديد مقامات كى سير كركے اپنى تنہائي دور كرسكتى ہيں _ مہر و محبت كا اظہر كركے اپنے گھر كے ماحول كو خوشگوار بنايئے اپنے شوہر كى دلجوئي كيجئے _ ان كے مشاغل اور كاموں ميں ان كى حوصلہ افزائي كيجئے _ جب آپ نئے ماحول سے آشنا ہوجائيں گى تو آپ خود محسوس كريں گى كہ يہاں بھى كچھ برا نہيں بلكہ شايد وطن سے يہاں زيادہ بہتر ہے نئے لوگوں ميں ايسا افراد تلاش كيجئے جو پرانے دوستوں بلكہ ماں باپ اور عزيز و اقارب سے زيادہ مہربان اور ہمدرد ہوں _ اگر قصہ يا ديہات ميں آپ كا قيام ہے جہاں شہرى زندگى كى سہولتيں اور آسائشے كا سامان ميسر نہيں ہے تو خود كو ان چيزيوں كى قيد سے آزاد كر ليجئے وہاں كى فطرى اور صاف ستھرى زندگى سے انسيت پيدا كيجئے اور اس قسم كى زندگى كى خوبيوں پر توجہ كيجئے _ يہاں اگر چہ بجلى پنكھا ، كولر، فريج و غيرہ نہيں ہے ليكن صاف اور تازہ آب و ہوا اور بلا


ملاوٹ كى اصلى غذائيں ہيں جو شہروں ميں كم ميسر ہوتى ہيں _ پكى سڑكيں اور ٹيكسى نہيں ہے ليكن گاڑيوں اور كارخانوں كے دھوئيں اور شور و غل سے آپ محفوظ ہيں _

تھوڑى ديركے لئے اپنے آس و پاس كے لوگوں كى زندگيوں پر نظر ڈالئے ديكھئے كس طرح معمولى كچے مكانوں ميں نہايت خوشى اور اطمينان و سكون كيسا تھ زندگى گزارتے ہيں اور شہرى زندگى كے لوازمات اور خوبصورت محلوں كى ذرا بھى پروا نہيں كرتے _ ان كى ضروريات اور محروميوں كو ديكھئے اور اگر آپ كوئي خدمت انجام دے سكتى ہيں تو اس سے ہرگز دريغ نہ كيجئے _ اپنے شوہر سے بھى سفارش كيجئے كہ ان كى آسائشے اور فلاح و بہبود كے لئے كوشش كريں _

اگر آپ دانشمندى سے كام لے كر اپنے فرائض پورے كريں تو نہايت سكون و آرام كے ساتھ پرديس ميں زندگى گزارسكتى ہيں اور اپنے شوہر كى ترقى ميں معاون ثابت ہوسكتى ہيں اور ايسى صورت ميں آپ نہايت شريف اور باوقار خاتون اور ايك وفادار بيوى كى حيثيت سے پہچانى جائيں گى _ اور آپ كے شوہر اور دوسروں كى نظروں ميں آپ كى عزت و محبت بڑھ جائے گى اور آپ كو خدا كى خوشنودى بھى حاصل ہوگى _

اگر آپ كے شوہر گھر ميں كام كرتے ہيں

جب مرد گھر باہر كام پر جاتا ہے تو اس كى بيوى اس كى غير موجودگى ميں آزاد رہتى ہے ليكن اگر گھر ميں كام كرتا ہے تو اس كى بيوى پابند ہوجاتى ہے _ شاعر ، مصنف ، مصور اور دانشور عموماً اپنے گھروں ميں ہى كام كرتے ہيں اور ہميشہ يا اپنے وقت كازيادہ حصہ ، اپنے كاموں ميں مصروف رہ كر گزارتے ہيں اور چونكہ ان كام كام اس قسم كا ہوتا ہے جس ميں پر سكوں ماحول كى اشد ضرورت ہوتى ہے _ ايك گھنٹہ پورے انہماك اور توجہ كے ساتھ كام كر نا كئي گھنٹے شور وہنگامے كا ماحول ميں كام كرنے سے بہتر ہوتا ہے ايسے موقع پر ايك بڑى مشكل پيدا ہوجاتى ہے _ ايك طرف مرد كو انتہائي پر سكون ماحول كى ضرورت ہوتى ہے دوسرى طرف بيوى چاہتى ہے كہ گھر ميں آزادانہ طور پر رہے _ اگر عورت چاہے تو گھر كے كاموں كو اس طرح انجام دے سكتى ہے كہ اپنے شوہر كے دماغى كاموں ميں مزاحم نہ ہو اوراس كا بڑا ايثار اور قابل قدر


كارنامہ ہوگا كيونكہ ايك پر سكون ماحول فراہم كرنا آسان كام نہيں ہے خصوصاً ايسے گھر ميں جہاں بچے موجود ہوں _ اس كے لئے نہايت ايثار و تدبر كى ضرورت ہے اگر چہ كام مشكل ضرور ہے ليكن مرد كے مشغلے كے اعتبار سے نہايت ضرورى ہے _

اگر بيوى تعاون كرے تو اس كا شوہر سماج كا ايك نہايت مفيد اور باعزت فروبن سكتا ہے جو خود اس كے لئے بھى افتخار كا باعث ہوگا _ خواتين كو اس بات كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ اگر چہ ان كے شوہر دائماً يا اكثر اوقات گھر ميں رہتے ہيں ليكن بيكار نہيں ہيں _ انھيں اس بات كى توقع نہيں ركھنى چاہئے كہ گھر كى گھنٹى بجے گى تو وہ دروازہ كھولنے جائيں ، بچوں كو سنبھاليں، گھر كے كاموں ميں ان كى مدد كريں يا شيطان بچوں سے پنٹيں گے بلكہ جسوقت مرد كام ميں مشغول ہوتو يہ فرض كرليناچاہئے گوياوہ گھر ميں موجود ہى نہيں ہيں _

خاتون محترم جب آپ كے شوہر اپنے مطالعہ كے كمرے ميں (يا جس كمرے ميں وہ اپنا كام انجام ديتے ہيں)جائيں تو ان كى ضرورت كى تمام اشياء مثلاً كتاب، كاغذ، قلم، كاپى ، پنسل ،سگريٹ، ماچس ، ايش ٹرےو غيرہ كى فراہمى ميں ان كى مدد كيجئے تاكہ ان چيزوں كى تلاش انھيں اپنے كام سے معطل نہ كردے _ اگر انگيٹھى ہيٹر يا پنكھے كى ضرورت ہو تو اسے مہيا كرديجئے _ جب ان كى ضرورت كا سب سامان مہيا ہوجائے تو كمرے سے آجايئےور انھيں تنہا چھوڑديجئے _ ان كے كمرے كے نزديك آہستہ سے چلئے _ زورزورسے بات نہ كيجئے _ دھيان ركھئے كہ بچے شور نہ مچائيں انھيں سمجھايئےہ يہ تمہارے كھيلنے كا وقت نہيں ہے كيونكہ تمہارے والد اس وقت كام ميں مشغول ہيں اور تمہارے شور و غل سے ان كے كام ميں خلل پڑے گا _ جب وہ كام ميں مشغول ہوں تو امور زندگى كے متعلق ان سے بات چيت نہ كيجئے كيونكہ ان كے خيالات كا تسلسل ٹوٹ جائے گا اور ان كے افكار پراكندہ ہوجائيں گے _ بے صدا جوتے پہنئے _ دروازے يا ٹيلى فون كى گھنٹى بجے تو فوراً جواب ديجئے تا كہ و ہ ڈسٹرب نہ ہوجائيں _ اگر كسى كو ان سے كام ہو تو كہديجئے كہ ابھى تو كام ميں مشغول ہيں ممكن ہو تو فلان وقت ٹيلى فون كرليجئے گا


مہمانوں كى آمد ورفت كے پرو گرام بھى ايسے وقت ركھئے جب ان كے كام وفت نہ ہو _ آپ كے غريز و اقارب يا دوست جو ملنے كے لٹے آنا چاہيں ان سے بھى معذرت كر ليجئے كہ چونكہ ہمارى باتوں كے شور سے ہمارے شوہر كے كاموں ميں خلل پڑے گا لہذا براہ كرم فلاں وقت تشريف لايئے اگر وہ بھى آپ كے حقيقى دوست ہوں گے تو آپ كى بات كا برانہيں مانيں گے بلكہ آپ كے اس عمل سے كہ آپ كو اپنے شوہر ا كس قدر خيال ہے ، خوش ہوں گے اور آپ كى تعريف كريں گے _ جب امور خانہ دارى ميں مشغول ہوں اس وقت بھى اپنے شوہر كى ضروريات كا خيال ركھئے اگر كوئي چيز مانگيں تو فورا باہرا آجايئے شايد كچھ خواتيں اس قسم كى زندگى كو نا ممكن سمجھيں اور سوچيں كہ كيا ايك عورت كے لئے يہ ممكن ہے كہ گھر كے دشوار اور صبر آرنا كام بھى انجام دے اور ساتھ ہى شوہر كا بھى دھيان ركھے اور گھر ميں ايسا پز سكون ما حول پيدا كرے كاموں ميں ذرا سابھى خلل نہ پڑے ليكن يہ بات و ثوق كے ساتھ كہى جاسكتى ہے ، كہ اس قسم كى زندگى دشوار ضرور معلوم ہوتى ہے ليكن اگر آپ ان كے كاموں كى اہميت اور قدر وقيمت سے واقف ہو جائيں اور ايثار و كوشش سے كام لينے كا ارادہ كرليں تو اپنى دانشمند ى اور تدہرے اس مشكل كو حل كر سكتى ہيں _

ايك عورت كى لياقت و شائستگى ايسے ہى مو قعوں پر ظاخر ہوتى ہے ورنہ اسك عام زندگى تو ہر شخص گزار ليتا ہے _

خواہر عزيز ايك علمى كتاب يا ايك تحقيقى مقالہ لكھنا يا شعر كہنا يا ايك گراں قدر پينٹنگ تيار كرنا يا سائينس كے كسى مسئلہ كو حل كرنا آسان كام نہيں ہے البتخ آپ كے تعاون اور ايثار كے ذريعہ يہ مشكل كام آسان ہو جاتا ہے _

كيا اس سلسلے ميں آپ ايثار و قربانى كرنے كو تيار نہيں ہيں ؟ اور اپنى روزمرہ كى زندگى ميں معمولى سى تبديلى كر كے اپنے شوہر كو جس ميں ہر قسم كى لياقت موجود ہے ، سماج ميں ايك ايسے قابل قدر اور دانشورمردكى حيثيت نہيں دلا سكتيں كہ قوم ان كى خدمات سے استفادہ كرے _ آپ بھى تو اس كے


نتيجہ ميں ہونے والے مادى منافع اور سماج ميں ان كے اعلى مقام سے بہرہ مند ہوں گى _

اپنے شوہر كى ترقى ميں مدد كيجئے

انسان اپنى صلاحيت اور قابليت كے مطابق ترقى كرتا ہے _ كمال سے محبت انسان كى سرشت ميں شامل ہے _ انسان تكميل كے لئے پيدا كيا گيا ہے _ ہر شخص ، ہر مقام پر، اور ہر حالت اور ہر سن وسال ميں ترقى كى منزليں طے كركے كامل ترين سكتا ہے اور يہى اس كى آفرينش كا مقصد ہے _ اس كو اپنى موجودہ حالت پر قناعت نہيں كرلينى چاہئے_ جب تك زندہ ہے اس كو كمال كى منزليں طے كرتے رہنا چاہئے _ ہر انسان ترقى كرنے كا خواہاں ہوتا ہے ليكن سب لوگ اس ميں كامياب نہيں ہوتے _ اس راہ ميں بلند ہمتى اور زبردست محنت و كوشش كى ضرورت ہوتى ہے _ راہ كو ہموار كركے ركاوٹوں كو دوركرنا چاہئے _ اس كے بعد كوشش كركے اپنے مقصد تك پہونچنا چاہئے _ مرد كى شخصيت بہت حد تك اس كى بيوى كى خواہش سے وابستہ ہوتى ہے _ عورت چاہے تو اپنے شوہر كى مدد كركے اس كو ترقى كى اعلى منزل تك پہونچانے ميں ہم كردار ادا كرسكتى ہے اور اسى طرح وہ چاہے تو اس كى ترقى كى راہ ميں بڑى ركاوٹ بھى بن سكتى ہے _

خواہر گرامى اپنے موجود ہ امكانات اور حالات كے دائرے ميں رہ كر اپنے شوہر كى شخصيت كو بلندكرنے كے لئے ان كو حوصلہ افزائي كيجئے _ اگر وہ تعليم جارى ركھنا چاہتے ہوں يا كتا ہوں كے مطالعہ كے ذريعہ اپنى معلومات ميں اضافہ كرنا چاہتے ہيں تو نہ صرف يہ كہ آپ اس كى مخالفت نہ كريں بلكہ ان كى تعريف كركے ان كے حوصلہ افزائي كيجئے _ زندگى كے پروگراموں كو اس طرح ترتيب ديجئے كہ ان كے كاموں ميں خلل نہ پڑے اور ان كے آرام و آسائشے كے اسباب مہيا كرنے كى كوشش كيجئے تا كہ فكروں سے آزاد ہوكر ترقى كے مراحل طے كرتے رہيں _ اگر پڑھے لكھنے نہ ہوں تو ان سے درخواست اور اصرار كيجئے كہ رات كى كلاسوں ميں شركت كريں يا كہيں اور تعليم حاصل كريں _ اگر تعليم يافتہ ہيں تو ان كو ترغيب دلايئےہ اپنے سبجكٹ ميں مہارت حاصلہ كريں اور اس موضوع كے متعلق كتابوں كا مطالعہ كركے اس


فن ميں اپنى معلومات ميں اضافہ كريں _ اگر ڈاكٹر ہيں تو ان سے اصرار كيجئے كہ ہر روز اپنے اوقات كا كچھ حصہ ميڈيكل سے متعلق رسالوں اور كتابوں كے مطالعہ كے لئے مخصوص كرديں_ اگر معلم ، جج، پروفيسريا اينجنئر ہيں تو ان سے كہئے فراغت كے اوقات كو اپنے فن سے َتعلق كتابوں اور علمى اخلاقى اور تاريخى كتب كے مطالعہ ميں صرف كريں _ مختصراً عرض كروں كہ آپ كے شوہر جو بھى ہوں اور جيسے بھى ہوں حتى كہ مزدور يا دوكاندار بھى ہوں توآپ ان كو ترقى كے لئے آمادہ كر سكتى ہيں _

ايسا نہ ہو كہ وہ رات جو قدرت نے ان كے لئے بنائي ہے اس سے منحرف ہوجائيں اور ترقى وارتقاء كى منازل طے كرنے سے دستبردار ہوجائيں ، علمى اورسائينسى تحقيقات اور كتابوں كے مطالعہ كى عادت ڈالوايئےيال ركھئے كہ آپ كے شوہر كى شخصيت كہيں ايك نقطہ پر آكر نہ ٹھر جائے اگر انھيں كتاب فراہم كرنے كى فرصت نہيں ہے تو آپ ان كے مشورے اور دوستوں كى مددسے يہ كام انجام دے سكتى ہيں_ علمى و سائينسي، اخلاقى ، تاريخى ، مذہبى ، ادبى ، اقتصادى اور حفظان صحت سے متعلق سودمند كتابيں جوان كے ذوق و صلاحيت كے مطابق ہوں انھيں آپ مہيا كرسكتى ہيں اور ان كتابوں كو پڑھنے كے لئے اپنے شوہر كو ترغيب دلايئے آپ خود بھى مفيد رسالے اور كتابيں پڑھئے اگر مطالعہ كے دوران كوئي چيز آپ كو ايسى نظر آجائے جو آپ كے شوہر كے لئے بھى مفيد ہوگى تو اس كو نوٹ كركے انھيں ديجئے اس كام كے بے شمار فوائد ہيں _

اول يہ كہ اگر ايك مدت تك آپ اس اصول پر كاربندر ہيں تو آپ كے شوہر ايك قابل اور دانشمند انسان بن جائيں گے اور اس كے نتيجہ ميں خود كو سربلند محسوس كريں گے اور آپ كو بھى ان كى شخصيت پر فخر ہوگا اس كے علاوہ وہ اپنے فن ميں مہارت حاصل كرليں گے او راس سے خود ان كى ذات كو بھى فائدہ پہونچے ہوگا اور سماج كو بھى وہ بے شمار فائدے پہونچا سكتے ہيں _

دوسرے يہ كہ جب انسان اپنى آفرينش كے مقصد كو لبيك كہتے ہوئے تحقيق و مطالعہ ميں مشغول رہے گا تو اعصابى كمزوريوں اور نفسياتى بيماريوں كا شكار كم ہوگا _


تيسرے يہ كہ اسے ترقى كرنے اور كتابوں كے مطالعہ كا شوق ہوگا تودخ اپنا وقت ادھراوھرآد ھرضا ئع نہيں كرے گا _عيش و عشرت كے مراكز كارخ نہيں كرے گا _ تباہ كرنے والوں اور نشہ آور اشياء استعمال كرنے والوں كے دام فريب ميں گرفتار نہيں ہوگا _

دھياں ركھئے آپ كے شوہر غلط راہ اختيار نہ كر لئيں

مرد كو كسب معش اور دفترى كاموں كے سلسلے ميں آزادى عمل كى ضرورت ہوتى ہے تا كہ وہ اپنى صلاحيتوں اور جحان كے مطابق سعى و كوشش كرسكے _ اگر كوئي اس پر ۱ابندى لگا ئے يا اس كے يا اس كى آمد و رفت كو اپنے كنٹروں مين ركھنا چا ہے تو وہ پر يشان ہو جا تا ہے اور اس كى شخصيت كو دھچكا لگتا ہے سمجھدار اور دانا بيوس شوہر كے روزہ كے كاموں ميں دخل اندازى نہيں كرتى _ اور اس كے تمام كاموں كى كرى شوہر كے كاموں ميں دخل دينے سے اچھا نتيجہ بر آمد نہيں ہوتا بلكہ ممكن ہے اس كے بر عكس نتيجہ نكلے _

عقلمند اور تجربہ كارمردوں كى كڑى نگرانى كرنے كى ضرورت نہيں ہے كيونكہ وہ خود بر ے كاموں كے نتائج كو سمجھتے ہيں اور بغير سوچے سمجھے كوئي قدم نہيں اٹھا تے نہ وہ ھو كا كھا تے ہيں _ وہ مصلحتوں كو سمجھتے ہيں دوست و دشمن ہيں فرق محسوس كرسكتے ہيں ليكن سبھى مرو ايسے نہيں ہوتے _ بعض مرد سادہ لوح ہوتے ةيں اور جلدى يقين كرليتے ہيں ايسے لوگ دوسروں كے دھو كہ ميں حلدى آجاتے ہيں اور دوست نمادشمنوں كے جال ميں پھنس جاتے ہيں بعض ايسے مكار اور دغا باز افراد ہوتے ہيں جوا س قسم كے لوگوں كو اپنے جال ميں پھنانے كى فكر ميں رہتے ہيں اور خير خوارہ بن كرا پنے دام فريب ميں گرفتا ركر ليتے ہيں در اصل انسان كى سر كش فطرت ، برى صحبت ، اور فاسد ماحول مگراہ كرنے كے لئے كافى ہوتا ہے اور غافل انسان جب ہوش ميں آتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے كہ وہ فقنہ و فساد كے جال ميں پھنس گيا ہے اس يانى سہ سے او نچا ہو تا ہے اور دام فريب سے فرار اختيار كرنا مشكل ہو جا تا ہے اگر آپ


چاروں طرف نظرڈاليں تو دسكھيں گى كہ اس قسم كے سينكڑوں بيچارے سادہ لوح انسان بغير كسى ارادے كے فتنہ وفساد كے جال اور بدبختى ميں گرفتار ہو گئے ہيں اور شايد ان ميں سے كوئي بھى ايسا نہ ہو گا جو جان بو جھ كران بلاؤں ميں گرفتار ہو اہو _ بلكہ نا سمجھى ، تا تجربہ كارى اور انجام كار كو سوجے بغير ان برائيوں كا شكار ہوتے ہيں _

يہى وہ مقام ہے جب اس قسم كے مردوں كى ديكھ بھال كى ضرورت ہوتى ہے اگر ايك خير خواہ اور ہوشيار انسان ان كے كا موں پر نظر ركھے اوران كى نگرانى كرے تو واقعى يہ چيزان كے مفاد ميں ہوگى _ اس عظيم ذمہ دارى كو بہترطريقے سے صرف بيوہى ادا كرسكتى ہے ايك دانا او رمدبر قسم كى خاتون چاہے تو اپنے عاقلانہ اور خيرخواہانہ طر ز سلوك كے ذريعہ اپنے شوہر كى نسبت اس عظيم خدمت كو بخوبى انجام دے سكتى ہے _ البتہ اس بات كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ اپنے شوہر كے كاموں ميں براہ راست مداخلت كرناياان كو ٹوكتے رہنا اور منع كرتے رہنا مناسب نہيں ہے _ كيونكہ شايد ہى كوئي ايسا مرد ہو جو كسى دوسرے حتى كہ اپنى بيوى كے زير كنٹرول رہنا پسند كرے بلكہ شديد نگرانى كے سبب اس كا اثر الٹا ہونے كا امكان ہے _ البتہ ہوشيا رى اور عقل مندى سے كام لينا چاہئے اور بيوى كو دور سے اپنے شوہر كى نگرانى كرنى چاہئے كہ وہ كس قسم كے لوگوں كے ساتھ ميل جول ركھتا ہے كن لوگوں كے يہاں ان كا آنا جانا ہے _

اگر ديكھيں كہ شوہر معمول كے خلاف دير سے گھر آتا ہے تو ايك مرتبہ يا دو تين مرتبہ اس كا كوئي نوٹس نہ ليں كيونكہ اكثر ايسے كام درپيش ہوجاتے ہيں جنھيں انجام دينا لازمى ہے ليكن اگر باربارا ايسا ہو اور حد سے تجاوز كرجائے تو اس كى تحقيق و جستجو كرنى چاہئے ليكن تحقيق كوئي آسان كام نہيں ہے بلكہ صبرو ضبط اور ہوشيارى سے كام لينے كى ضرورت ہے _ غصہ ، سختى اور اعتراض كرنے سے پرہيز كرنا چاہئے _ نرمى اور محبت سے پوچھنا چاہئے كہ آپ دير سے گھر كيوں آتے ہيں _ كہاں گئے تھے و غيرہ _ مختلف موقعوں پر ہوشيارى اور صبر و ضبط كے ساتھ اس بات كى چھان بين كيجئے تا كہ حقيقت آشكارا


ہوجائے _ اگروہ اور ورٹائم كرتا ہے يا كسب معاش كے سلسلے ميں يا دفتر ى امور ميں مشغوليت كے سبب دير سے آتا ہے يا دينى ، اخلاقى ، يا علمى و ادبى قسم كے جلسوں ميں شركت كرتاہے تب آپ مزاحم نہ ہوں بلكہ اسے چھوڑ ديجئے كہ آزادى كے ساتھ اپنے كاموں ميں مشغول رہے _

اگر آپ محسوس كريں كہ نئے لوگوں سے راہ و رسم بڑھا رہا ہے تو اس كے متعلق معلومات حاصل كيجئے اگر ديكھئے كہ خوش اخلاق اور نيك و صالح لوگوں سے تعلقات قائم كرتا ہے تو آپ ركاوٹ نہ ڈالئے بلكہ خدا كا شكر ادا كيجئے كہ آپ كے شوہر نے اچھے لوگوں سے تعلقات بڑھائے ہيں _ اس توفقيق الہى كى قدر كيجئے _ اور اس كے دوستوں كى خاطر مدارات كيجئے _ كيونكہ انسان كى رفيق و دوست كى ضرورت ہوتى ہے ، اچھا دوست ايك بہت بڑى نعمت ہے _ عورت كى يہ بہت بڑى ذمہ دارى ہے جسے انجام دينا ايك بہت ضرورى اور حيات بخشى امر ى سمجھاجاتا ہے اگر ذرا بھى بے احتياطى سے كام ليا گيا تو ممكن ہے زندگى كا شيرازہ بكھر جائے ايسے ہى موقعوں پر خواتين كے حسن تدبر اور ہوشيارى ودانائي كا مظاہرہ ہوتا ہے بردبار اور عاقبت انديش بننا چاہئے _ چيخ پكار، نالہ و فرياد، اور لڑائي جھگڑے كے ذريعہ يہ مسائل حل نہيں ہوسكتے بلكہ اس كا نتيجہ برعكس نكلتا ہے _ ايسے موقع پر عورت پر دوفرائض عائد ہوتے ہيں _

اول يہ كہ اندرونى زندگى ميں اپنے اخلاق و عادات اور اپنے گھر كے عام حالات كا مكمل اور تحقيقى طور پر جائزہ ليجئے اور غور كيجئے كہ وہ كون سے اسباب ہيں جن كے سبب آپ كے شوہر گھر سے ، جو كہ آرام و آسائشے اور امن و سكون اور محبت كا مركز ہوتا ہے ، بيزار ہوگئے ہيں اور تباہى و بردبارى كے اڈوں كا رخ كرتے ہيں _ ايك عادل حج كى مانند آپ اس مسئلہ كے اسباب و علل كى كھوج كريں _ اس كے بعد اس كى اصلاح كرنے كى كوشش كريں _ ممكن ہے بيوى كى بداخلاقى _ لڑائي جھگڑے ، اعتراضات اس قضيہ كا سبب ہوں _ يا گھر كى حالت ابتررہتى ہو _ يا بيوى گھر ميں اپنى آرائشے و زيبائشے اور لباس پر توجہ نہ ديتى ہو _ شايد اپنے شوہر سے اظہار محبت نہ كرتى ہو _ يا اس كى پسند كى اور لذيذ غذائيں تيار نہ كرتى ہو _ يا اس كى قدردانى اور سپاس گزارى نہ كرتى ہو _


اس قسم كى بہت سى خامياں ہيں جو مرد كو گھر اور زندگى سے لاپروا بناديتى ہيں اور وہ اپنى ذہنى الجھنوں كو بھلانے كے لئے آوارہ گردي، شراب نوشى اور جوابازى شروع كرديتا ہے _

ايسى صورت ميں خود مردسے پوچھ كچھ كى جاسكتى ہے اور اس كى ذہنى الجھنوں كے اسباب معلوم كئے جا سكتے ہيں اگر عورت اپنى خاميوں كو دور كرلے ، گھر كو اپنے شوہر كى مرضى كے مطابق سنوارے سجائے ، تو اس كى كاميابى كى اميد كى جاسكتى ہے _ ايسى صورت ميں مرد كو رفتہ رفتہ زندگى اور گھر سے رغبت پيدا ہوجائے گى اور بالآخر اپنى بيوى كى خوش اخلاقيوں اور مہربانيوں كا اس پر اثر ہوگا اور تباہى و بردبارى كے مراكز سے كنارہ كش ہوجائے گا _

بيوى كا دوسرا فريضہ يہ ہے كہ جس قدر ممكن ہو شوہر سے محبت كا اظہار كرے _ نرمى و ملائمت كے ساتھ اس كو نصيحت كرے _ مہربانى اور خوش گفتارى كے ساتھ اس كے طرز معاشرت كے نتائج سے آگاہ كرے _ التماس والتجا كرے _اس سے كہے ميں دل كى گہرائيوں سے آپ كو چاہتى ہوں آپ جيسے شوہر كے وجود پر فخر كرتى ہوں _ آپ كے وجود كو ہر چيز پر ترجيح ديتى ہوں _ ہر طرح آپ كے ساتھ تعاون اور ايثار كرنے كے لئے تيارہوں _ فقط مجھے ايك بات كا بہت صدمہ ہے كہ ايسى خوبيوں كا مالك انسان خراب لوگوں كى محفل ميں كيوں شريك ہوتا ہے _ يا فلان شخص سے كيوں راہ ورسم بڑھاتا ہے ، يا فلان برے كام كى عادت كيوں ڈال لى ہے _ اس قسم كے اعمال آپ جيسے انسان كے لئے مناسب نہيں _ مہربانى كركے اس قسم كى باتوں سے پرہيز كيجئے _ اس طرح سے التماس و اصرار كيجئے كہ مرد كادل ان چيزوں كى طرف سے ہٹ جائے _

ممكن ہے مرد كا اخلاق و كردار اچھا نہ ہو اور اس پر ان باتوں كا جلدى اثر نہ ہو _ ليكن كسى حال ميں عورت كو مايوس نہيں ہونا چاہئے بلكہ اور زيادہ بردبارى اور استقامت سے كام لينا چاہئے ، اور اٹل ارادے كے ساتھ اپنے مقصد كے حصول ميں لگارہنا چاہئے _

عورت ميں خدا نے ايك عجيب و غريب قدرت اور اثر انگيزى كى طاقت ركھى ہے _ جس بات


كا ارادہ كرليتى ہے اس ميں كامياب ہوجاتى ہے وہ جس طرف چاہے اپنے شوہر كارخ موڑسكتى ہے _ اگر ارادہ كرلے كہ اپنے شوہر كو گمراہى سے نجات دلائے گى تو اس ميں كم سے كم اسّى فيصد كاميابى كا امكان ہے، ليكن اس كے لئے عاقل، مدبر، اوردانشمند ہونا شرط ہے _

بہرحال جہاں تك ممكن ہو سختى ، غصہ اور لڑائي جھگڑے سے پرہيز كرناچاہئے، البتہ اگر نرمى اور ملائمت سے كام لينے كا كوئي نتيجہ برآمد نہ ہو اور جب كوئي راہ حل نہ ہو تو جس صورت ميں بھى كاميابى كى اميد ہو اس سے كام لينا چاہئے حتى كہ لڑائي جھگڑے سے بھى كام ليا جا سكتا ہے ليكن پھر بھى مہربانى اور ہمدردى كا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑيئے غصہ اور سختى ميں ہمدردى شامل ہو نہ كہ انتقام اور كينہ پرورى كا جذبہ

جى ہاں مرد كى نگرانى اور ديكھ بھال ايك قسم كى شوہر دارى ہے اور شوہر دارى بيوى كا فرض ہے _ چونكہ يہ كام بہت اہم اور دشوار ہے اس لئے حضرت رسول خدا (ص) نے اس كو جہاد قرار ديا ہے _ آپ فرماتے ہيں :_

عورت كا جہاد يہ كہ شوہر كى اچھى طرح ديكھ بال كرے _(۶۱)


شكى عورتيں

بيوى اگر اپنے شوہر كى معمولى سى نگرانى كرتى رہے تو برى بات نہيں ہے ليكن اس حد تك نہيں كہ بدگمانى اور شك اپنى انتہا پر پہونچ جائے _ بدگمانى ايك لا علاج اور خانمان سوز مرض ہے _ افسوس بعض عورتيں بلكہ كہنا چاہئے بڑى تعداد ميں عورتيں اس مرض ميں مبتلا ہوتى ہيں _ ايك شكى عورت سوچتى ہے كہ اس كا شوہر جائز يا ناجائز طور پر اس سے خيانت كررہا ہے _ فلاں بيوہ عورت سے ملتا ہے اور اس سے شادى كرنا چاہتا ہے ، اپنى سيكرٹرى سے اس كے تعلقات ہيں _ فلان لڑكى سے عشق كرتا ہے _ چونكہ گھر ديرسے آتا ہے يقينا عياشى كرنے جاتا ہے ، چونكہ فلاں عورت سے بات كررہاتھا اس پر اس كى نظر ہے _ فلان عورت نے سلام كيا تھا يقينا آپس ميں تعلقات ہيں چونكہ فلاں بيوہ اور اس كے بچوں پر احسان كرتا ہے ضرور اس سے شادى كرنا چاہتا ہے ، چونكہ اس كي


كارميں ہيئرپن ملا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اپنى محبوبہ كو سيركرانے لے گيا تھا _ فلان عورت نے اس كو خط لكھا ہے شايد وہ اس كى بيوى ہے _ فلاں لڑكى اس كى تعريف كررہى تھى كہ خوش اخلاق اور اسمارٹ آدمى ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے كہ ايك دوسرے كو پسند كرتے ہيں ، چونكہ اپنے خط پڑھنے كى اجازت نہيں ديتا يقينا عاشقانہ خطوط ہوتے ہوں گے چونكہ مجھ سے كم بات چيت كرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس كى كوئي محبوبہ ہے _ مجھ سے جھوٹ بولاتھا _ دھوكہ باز ہے ،چونكہ قسمت كا حال بتانے والے رسالہ ميں ميرے شوہر كے ستارہ كے متعلق لكھا تھا كہ اس مہينے ميں پيدا ہونے والے كا وقت اچھا گزرے گا لہذا دوسرى شادى كرنا چاہتا ہے _ چونكہ ميرى دوست نے بتا يا تھا كہ تمہارا شوہر فلان گھر گيا تھا يقينا وہاں كوئي عورت ہوگى ، چونكہ فال ديكھنے والے نے بتايا تھا كہ ايك سنہرى بالوں سياہ آنكھوں وہ لمبے قد كى عورت تمہارے سے ساتھ دشمنى كررہى ہے يقينا وہ ميرى سوت ہوگى ''_

شكى عورتيں اس قسم كى بيكارباتوں پر يقين كركے اپنے شوہروں كى تئيں بدگمانى ميں مبتلا ہوجاتى ہيں اور رفتہ رفتہ ان كا يہ شك يقين ميں بدل جاتا ہے _ وہ اس سلسہ ميں اس قدر سوچتى ہيں كہ ہر ہربات ميں انھيں شك ہونے لگتا ہے شب وروز اسى موضوع پر بات كرتى ہيں جہاں بيٹھتى ہيں اپنے شوہر كى خيانت اور بے وفائي كا تذكرہ لے بيٹھتى ہيں ہر دوست و دشمن كے سامنے كہہ ڈالتى ہيں _ وہ لوگ بھى سوچے سمجھے بغير ہمدردى كے طور پر ان كى باتوں كى تائيد كرتے ہيں اور مردوں كى خيانت و بے وفائي كے سينكڑوں قصّے بيان كرتے ہيں _

اعتراضان اور بدمزگى كا سلسلہ شروع ہوجاتاہے _ گھر كے كام اور بچوں كى نگہداشت صحيح طريقے سے نہيں ہوپاتى _ ہر روز لڑائي جھگڑے ہوتے ہيں _ بيوى ناراض ہو كر ميكے چلى جاتى ہے _ شوہر كى طرف سے بے اعتنائي برتى ہے _ سايہ كى طرح شوہر كا پيچھا كرتى ہے _ اس كى جيبوں كى تلاشى ليتى ہے _ اس كے خطوط پڑھتى ہے _ اس كى تمام حركات و سكنات كا جائز ليتى ہے _ اور ہر بے ربط حادثہ كو اپنے شوہر كى خيانت سے تعبير كرتى ہے اور اس كا شك يقين ميں بدل جاتا ہے _


اس قسم كى باتوں سے اپنى اور بيچارے شوہر و بچوں كى زندگى اجير ن كرديتى ہيں گھر كو ، جس كہ مہر ومحبت اور آرام و سكون كا گہوارہ ہونا چاہئے ، قيد خانہ بلكہ جہنم بناديتى ہيں _ اور جو آگ لگائي ہے اس ميں خود بھى جلتى ہيں اور بے گناہ بچوں اور شوہر كو بھى جلاتى ہيں _ مرد جو بھى ثبوت پيش كرے ، قسميں كھائے خوشامد كرے اور جتنى بھى صفائي پيش كرے ليكن ايسيشكى اور حاسد عورتيں مجال ہے جو ٹس سے مس ہوجائيں _

قارئين محترم اس قسم كے سينكڑون افراد ہمارے سماج ميں موجود ہيں جن سے آپ بھى واقف ہوں گے _ يہاں پر چند واقعات كا ذكر بيجا نہ ہوگا _ خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت ميں ايك خاتوں كہتى ہے _ تعجب نہ كيجئے كہ بارہ سال ساتھ زندگى گزارنے اور چھوٹے بڑے تين بچوں كے ہوتے ہوئے ميں نے اپنے شوہر سے كيوں عليحدگى اختيار كرلى _ كيونكہ اب مجھے يقين ہوگيا ہے كہ ميرا شوہر ميرے ساتھ بے وفائي كررہا ہے _ چند روز قبل فلاں سڑك پر ميں نے ايك بنى سنورى عورت كے ساتھ اس كو جاتے ديكھاتھا يقينا وہ اس كى معشوقہ ہوگى جو جون كے مہينے ميں پيدا ہوئي ہوگي_ ميں ہر ہفتہ قسمت كا حال بتانے والا رسالہ پڑھتى ہوں _ زيادہ تر ميرے شوہر كى قسمت كے حال ميں لكھا ہوتا ہے كہ آپ كا وقت جون كے مہينے ميں پيدا ہونے والے كے ساتھ اچھا گزرے گا _ ميں فرورى ميں پيدا ہوئي ہوں لہذا اس كا مطلب يہ ہے كہ وہ كوئي دوسرى عورت ہے جس كے ساتھ اس كا وقت اچھا گزرے گا _ اس كے علاوہ ميں نے محسوس كيا ہے كہ ميرے شوہر كو اب مجھ سے پہلى سى محبت نہيں رہي'' _ يہ كہكر وہ خاتون اپنے آنسو پونچھنے لگى _

اس كے شوہر نے كہا:'' آپ ہى بتايئےيں كيا كروں _ كاش يہ رسالے اس قسم كے وہمى قارئين كى فكر كريں اور اس طرح كى فضول باتوں سے پرہيز كريں _ يقين كيجئے ان باتوں كے سبب ميرى اور ميرے بچوں كى زندگى تلخ ہوگئي ہے _ اگر كسى ہفتہ ميرى قسمت كے حال ميں لكھا ہوتا ہے كہ اس ہفتہ پيسہ ملے گا تو ميرے سر ہوجاتى ہے كہ اس پيسہ كا كيا كيا _ يا اگر لھا ہوتا ہے كہ آپ كا خط آئے گا تو بس كچھ نہ پوچھئے _ اب ميں سوچتا ہوں يہ عورت كبھى نھيں بدلے گى لہذا يہى بہتر ہے كہ ہم عليحدہ ہوجائيں _(۶۲)


ايك مرد عدالت ميں بيان ديتا ہے : ايك ماہ قبل ايك دعوت سے گھر واپس آرہا تھا _ اپنے ايك ساتھى كو بھى ميں نے اپنے ساتھ كارميں بيٹھا ليا جو اپنى بيوى كے ہمراہ اس دعوت ميں شريك تھا _ دوسرے دن صبح ميرى بيوى نے مجھ سے كہا كہ راستہ ميں اس كى ماں گے گھر چھوڑتا ہوا جاؤں _ چنانچہ ہم دونوں كارميں سوار ہوئے _ ارستے ميں ميرى بيوى نے پيچھے كى سيٹ پر نظر كى اور سر كاايك كلپ اٹھا كر مجھے دكھاتے ہوئے پوچھا كہ يك كلپ كس عورت كاہے؟ ڈركے مارے مجھے اس وقت كچھ يادہى نہيں رہا كہ ميرى گارى ميں كون بيٹھا تھا اور ميں وضاحت نہ كرسكا _ شام كو جب ميں اس كو لينے گيا تو اس نے كہلواديا كہ ميں گھر واپس نہيں جاؤں گى _ جب ميں نے سبب پوچھا تو دروازے كے پيچھے سے كہا كہ بہتر ہے اسى عورت كے ساتھ رہو جس كے سركاكلپ تمہارى كارميں تھا _(۶۳)

ايك نوجوان خاتون شكايت كرتے ہوئے كہتى ہے كہ ميرا شوہر اكثر راتوں كہ يہ كہكر كہ اس كے دفتر ميں كام زيادہ ہے دير سے گھر آتا ہے يہى چيز ميرى پريشانى كا سبب ہے ، خصوصاً جب سے چند پڑوسى عورتوں نے كہا ہے كہ تمہارا شوہر جھوٹ بولتا ہے ، راتوں كو آفس ميں اودر ٹائم كرنے كے بجائے دوسرى جگہ جاتا ہے اوروہاں وقت گزارتا ہے ، مجھے اس وقت سے زيادہ بدگمانى پيدا ہوگئي ہے ميں ايسے مرد كے ساتھ زندگى نہيں گزارسكتى جو مجھ سے جھوٹ بولتا ہو_

اس وقت اس خاتون كے شوہر نے اپنى جيب سے كچھ خطوط نكال كر جج كى ميز پر ركھ ديئےور اس سے درخواست كى كہ ان خطوط كو زروسے پڑھے تا كہ اس كى بيوى بھى سن لے كہ ميں نے جھوٹ نہيں بولا ہے اور بلا سبب ہى بيجا اعتراضات اور جھگڑا كر كے ہر شب مجھے پريشان كرتى ہے _ جج نے ان خطوں كو پڑھنا شروع كيا _ ايك خط ميں اوورٹائم كے متعلق تھا جس كے مطابق اس كو ۴ سے ۸بجے رات تك چار گھنٹے اوور ٹائم كام كرنا تھا _ آفس كے دوسرے خطوں سے بھى ثابت ہوتا تھا كہ مقررہ اوقات ميں مختلف كميشنوں اور جلسوں ميں شريك تھا _ وہ نوجوان خاتون جج كى ميز كے پاس آئي اور ان خطوں كو ديكھنے كے بعد بولى كہ ہر شب جب ميرا شوہر سوجاتا تھا تو ميں اس كى جيبوں كى تلاشى ليتى تھى ليكن اس ميں


سے كوئي خط مجھے نہيں ملا _

جج نے كہا ممكن ہے ان خطوں كو اپنى ميز كى دراز ميں ركھتا ہو اور گھر نہ لاتا ہو _ مرد نے كہا كہ اپنى بيوى كى بدگمانيوں سے ميں اس قدر پريشان ہوگيا تھا كہ ميں بھى شك و شبہ ميں مبتلا ہوگيا اور اكثر راتوں كو سو نہيں پاتا تھا _ ميں سمجھتا تھا كہ ميرى بيوى ميرے ساتھ رہنا نہيں چاہتى _ اس وقت وہ جوان خاتوں اپنے شوہر كے پاس پہونچى اور نہايت بيتابى سے روتے ہوئے اس سے معافى مانگى اور دونوں عدالت سے باہر چلے گئے _(۶۴)

دانتوں كا ايك ڈاكٹر عدالت ميں شكايت كرتا ہے كہ ميرى بيوى بہت حاسد ہے ، ميں دانتوں كا ڈاكٹر ہوں ميرے پاس علاج كے لئے عورتيں بھى آتى ہيں اور يہى چيز ميرى بيوى كے حسد اور جلن كا سبب بنتى ہے اور ہر روز اسى موضوع پر ہمارے درميان جنگ ہوتى ہے _ اس كا كہنا ہے كہ مجھے عورتوں كا علاج نہيں كرنا چاہئے _ ميں اس كے بيجا حسد كے سبب اپنے پرانے مريضوں كو نہيں چھوڑسكتا _ ميں اپنى بيوى سے محبت كرتا ہوں اور وہ بھى مجھ سے محبت كرتى ہے ليكن اس كى اس بيجا بدگمانى نے زندگى اجيرن كردى ہے چندروز قبل اچانك ميرے مطب ميں آئي اور ميرا ہاتھ پكڑكے زبردستى گھيٹ كرباہر لے گئي _ گھر پہونچ كر ہم ميں خوب جھگڑا ہوا _ اس قضيہ كا اصل سبب يہ تھا كہ وہ ميرے مطب آئي اور مريضوں والے كمرے ميں ايك لڑكى كے پاس بيٹھ گئي _ ميرے طريقہ كاركے متعلق باتيں ہورہى تھيں _ اس لڑكى نے جو ميرى بيوى كو پہچانتى نہيں تھى كہا كہ يہ ڈاكٹر بہت اچھا اور بڑا اسماڑٹ ہے _ ايك لڑكى كا يہ كہنا اس بات كا سبب ہوا كہ وہ مجھ كو ذلت و خوارى كے ساتھ كھينچ كر گھر لے آئي _(۶۵)

ايك عورت نے عدالت ميں شكايت كى كہ ميرى ايك دوست نے بتايا ہے كہ تمہارا شوہر فلان عورت كے گھر آتا جاتا رہتا ہے ميں نے اس كا پيچھا كيا اور ديكھا كہ يہ سچ ہے _ ميں اس قدر پريشانى ہوئي كہ اپنے باپ گھر چلى آئي _اب آپ سے درخواست كرتى ہوں كے ميرے خطا كار شوہر كو سزا ديجئے _ شوہر نے اپنى بيوى كى باتوں كى تائيد كرتے ہوئے كہا ، ايك دن ميں دوا خريدنے كے لئے دواخانے گيا تھا وہاں ميں نے


ديكھا كہ ايك عورت دودھ كا ڈبہ خريدنے آئي ہے اس كے پاس پيسے كم تھے اس لئے ميں نے اس كى مدد كردى _ بعد ميں معلوم ہوا كہ وہ عورت بيوہ اور غريب ہے _ لہذا ميں اس كى مدد كرتا رہتا ہوں _ ججوں نے شوہر كى حسن نيت كے متعلق تحقيق كرنے كے بعد ان كے درميان صلح كرادي_(۶۶)

اس قسم كے واقعات اكثر خاندانوں ميں پيش آتے رہتے ہيں وہ بد قسمت خاندان جو غلط فہميوں كا شكار ہوجاتے ہيں ان كى زندگياں تلخ ہوجاتى ہيں _ وہ بيچارے معصوم بچے جو اس قسم كے لڑائي جھگڑے اور تناؤ سے بھرے ماحول ميں زندگى گزارتے ہيں اس برے ماحول كا ان كى روح اور ذہن پر نہيات خراب اثر پڑنا ايك مسلمہ امر ہے _ اس قسم كا ماحول ان ميں اس قدر الجھنيں پيدا كرديتا ہے كہ مستقبل ميں ان كا كيا انجام ہوگا معلو م نہيں _ اگر مياں بيوى ان حالات پر صبر كركے زندگى كى گاڑى كو اسى طرح كھينچتے رہتے ہيں تو آخر عمر تك عذاب ميں گرفتار رہتے ہيں _ اور اگر ايك دوسرے كى نسبت سختى اور ضد سے كام ليتے ہيں تو اس كا نتيجہ جدائي اور طلاق ہوتا ہے اس صورت ميں عورت اور مرد دونوں كو ہى بدبختى كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ ايك طرف مرد كو بہت نقصان برداشت كرنا پڑتا ہے معلوم نہيں آسانى سے دوسرى شادى ميسر ہوگى يا نہيں _ فرض كيجئے كسى عورت كا انتخاب كيا تو ضرورى نہيں كہ پہلى سے بہتر ہوگى ممكن ہے اس ميں كچھ دوسرے عيب ہوں جو شايد بدگمانى كے عيب سے بھى بدتر ہوں _ سب سے بڑھ كر بچوں كى خرابى ہے وہ دربدر ہوجاتے ہيں _ سب سے بڑى مشكل جو پيش آتى ہے وہ سو تيلى ماں كا بچوں كے ساتھ سلوك ہے مرد اگر يہ خيال كرتا ہے كہ اس شكى عورت كو طلاق دے كر اس كے شر سے نجات حاصل كر لے گا اور بے عيب عورت سے شادى كركے سكون و آرام كى زندگى شروع كرے گا تو اس كو جان لينا چاہئے كہ يہ محض اس كا خيال خام ہے او رايسے حالات پيدا ہوجانا بہت بعيد ہے _

عورت كے لئے بھى طلاق لے لينا سكون وخوش بختى كا باعث نہ ہوگا _ شايد وہ سوچے كہ اس طريقے سے اپنے شوہر سے انتقام لے لے گى _ جى نہيں اس طرح وہ خود اپنے لئے نئي نئي پريشانياں اور مصيبتيں كھڑى كرلے گى يوں آسانى سے دوسرا شوہر حاصل نہيں ہوجائے گا _ شايد سارى عمر بيواؤں


جيسى زندگى گزارنى پڑے اور انس و محبت اور بچوں كى نعمت سے محروم رہ جائے _ بالفرض اگر كوئي خواستگار پيدا بھى ہوجائے تو معلوم نہيں كہ پہلے شوہر سے بہتر ہوگا _ ممكن ہے ايسے مرد سے شادى كرنى پڑے جسكى بيوى مرگئي ہو يا اسے طلاق دے دى ہو _ ايسى حالت ميں مجبور ہوگى كہ خود اپنے بچوں كے فراق ميں تڑپے اور دوسرے كے بچوں كوپالے _ اس كے علاوہ گوناگوں دوسرى مشكلات كا سامنا كرنا پڑے گا لہذا نہ تو آپس ميں لڑائي جھگڑے ہى ميان بيوى كو اس مخمصے سے نكال سكتے ہيں اور نہ ہى طلاق و عليحدگى _ البتہ ايك تيسرى راہ بھى موجود ہے اور يہى راہ سب سے بہتر اور مناسب ہے _

وہ تيسرى راہ يہ ہے كہ مياں بيوى سختى اور ضد سے كام نہ لے كر عقل و تدبر كا راستہ اختيار كريں _ اس سلسلے ميں مردكى ذمہ دارى زيادہ ہے بلكہ يوں كہا جا سكتا ہے كہ اس مشكل كى كنجى اسى كے ہاتھ ميں ہے وہ اگر ذرا تحمل و بردبارى اور دانمشندى سے كام لے تو خود بھى مصيبت و پريشانى سے محفوظ رہ سكتا ہے اور اپنى بيمار بيوى كو بھى اس مصيبت سے نجات دلا سكتا ہے _

اب يہاں ميرا روئے سخن مرد ہيں _

مردوں كى خدمت ميں عرض ہے كہ اول تو اس نكتہ كو مد نظر ركھئے كہ آپ كى بيوى اپنے شكى پن كے باوجود آپ چاہتى ہے زندگى اور بچوں كو عزيز ركھتى ہے جدائي كے خيال سے اسے وحشت ہوتى ہے آپ كى زندگى كے افسوس ناك حالات كے سبب دلى طور پررنجيدہ ہے اگر آپ كو عزيز نہ ركھتى ہوتى تو حسد نہ كرتى وہ نہيں چاہتى كہ اس طرح كے حالات پيدا ہوں مگركيا كرے كہ بيمارہے _ فقط ہارٹ اٹيك، اپنڈيكس ، كينسر اورپيٹ كے امراض ہب بيمارياں نہيں ہيں بلكہ اعصابى بيماريوں كا شمار بھى مہلك بيماريوں ميں ہوتا ہے _ آپ كى بيوى اگر چہ نفسياتى امراض كے اسپتال ميں زير علاج نہيں ہے ليكن در حقيقت وہ ايك نفساتى مريض ہے _ اگر يقين نہ ہو تو كسى ماہر نفسيات سے رجوع كر كے تصديق كرليجئے _ ايك ايسى خاتون پر ترحم اور ہمدردى كى نگاہ ڈالنى چاہئے _ نہ كہ اس سے انتقام لينا چاہئے _ اس كے حال زار و پريشان افكار پر رحم كھايئے بيمار سے لڑائي جگھڑا نہيں كيا جاتا _ اس كى گستاخيوں اور


نارواباتوں پر اپنے شديد رد عمل كا اظہار نہ كيجئے _ لڑائي جھگرا اور شور و غل نہ كيجئے _ مارپيٹ اور گالم گلوج سے كام نہ ليجئے _ خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت سے رجوع نہ كيجئے _ بات چيت بند نہ كرديجئے _ طلاق اور عليحدگى كى بات نہ كيجئے _ اس طرح كے كسى بھى طرز عمل سے ان خاتون كى بيمارى كا علاج نہيں ہوسكتا _ بلكہ اس ميں اور شدت پيدا ہوجائے گى _ آپ كى بد مزاجى اور برا سلوك اس كے شك كى سچ ثابت كر نيكى دليل ہوگا صحيح طريقہ كاريہ ہے كہ جہاں تك ہوسكے محبت كا اظہار كيجئے _ممكن ہے اس كے شكى پن اور وہم سے آپ تنگ آگئے ہوں اور اس صورت حال سے آپ پورى طرح اكتا چكے ہوں ليكن اور كوئي چارہ ہى نہيں ہے آپ كو اس طرح محبت كا اظہار كرنا چاہئے كہ اسے يقين آجائے كہ آپ كا دل مكمل طور پر اس كى محبت سے سرشار ہے اور كسى كے اس ميں جگہ پانے كي

گنجائشے ہى نہيں _ دوسرے يہ كہ آپس ميں مفاہمت اور صلح و صفائي پيدا كرنے كى كوشش كيجئے _ اس سے كوئي بات چھپايئےہيں _ اپنے خطوط اطمينان سے پڑھ لينے ديجئے _ كسى مخصوص المارى يا ضرورى كاغذات اور اسناد كے بكس كى چابى اپنے نہ ركھئے بلكہ اس كے سپرد كرديجئے تا كہ اگر اس كا دل چاہے تو كھول كر ديكھ لے _ اگر آپ كى جيبوں كى تلاشى ليتى ہے تو ناراض نہ ہويئے آپ كے تمام اعمال اور حركات و سكنات كى نگرانى كرتى ہے تو كرنے ديجئے اس قسم كى باتوں پر نہ صرف يہ كا ناراضگى كا اظہار نہ كيجئے بلكہ اس كو ايك عام بات اور آپس ميں صدق و صفائي كا لازمہ سمجھئے روزانہ كے مشاغل كے بعد اگر كوئي كام نہ ہو تو ذرا جلدى گھر آجايا كيجئے _ اور اگرى كوئي كام آپڑے تو پہلے سے اپنى بيوى كو بتاديجئے كہ ميں فلان جگہ جاؤں گا اور فلاں وقت لوٹوں گا _ كوشش كيجئے كہ اس كى خلاف ورزى نہ ہو اور اگر اتفاق سے وہدہ كے مطابق مقررہ وقت پر نو لوٹ سكيں تو صراحت كے ساتھ فوراً ديرسے لوٹنے كى وجہ بيان كرديجئے _ دھيان ركھئے كہ ان تمام مراحل ميں ذرا سا بھى جھوٹ نہ بولئے ورنہ اس كى بدگمانى ميں اضافہ ہوجائے گا _ كاموں ميں اس سے صلاح و مشورہ ليجئے _ اس سے كوئي بات پوشيدہ نہ ركھئے بلكہ اپنے روزمرہ كے كاموں كے متعلق اس سے بات چيت كيا كيجئے _ كبھى بھى صداقت و سچائي كا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑيئے اس سے كہئے كہ جہاں بھى شك و شبہ ہو وہاں بغير كسى جھجك كے وضاحت كرلے تا كہ اس كے


دل ميں كوئي گرہ نہ رہ جائے _

دوسرے يہ كہ ممكن ہے جناب عالى ايك پاك و پاكيزہ انسان ہوں حتى كى خيانت كرنے كا ارادہ تك نہ ركھتے ہوں ليكن عورتوں كى بدگمانياں اكثر بلا سبب نہيں ہوتى ہيں _ يقينا غفلت ميں آپ سے كوئي ايسا فعل سرزدہوگيا ہوگا كہ جس كا اس كے ذہن پر خراب اثر پڑا ہوا ور رفتہ رفتہ پڑھ كر شك و بدگمانى كى شكل اختيار كرگيا ہو _ لازم ہے كہ اپنے موجودہ اگر گزشتہ اعمال اور سلوك پر غور كيجئے اور اپنى بيوى كى بدگمانى كا اصل سبباور اس كى جڑ تلاش كركے اس كو رفع كرنے كى كوشش كيجئے اگر آپ غير عورتوں سے ہنسى مذاق كرتے ہں تو اس عمل كو ترك كيجئے كيا ضرورت ہے كہ دوسرى عورتيں تو آپ كو بہت خوش اخلاق اور خوش گفتار سمجھيں ليكن آپ كى بيوى كى رنجش كا سبب بنے اور آپ كى گھريلو زندگى ناخوشگوار ہوجائے كيا ضرورت ہے كہ اپنى سيكريٹرى سے آپ گھل مل كے باتيں كريں شو خيال كريں اور آپ كى بيوى كو شك ہوجائے كہ اس سے آپ كے تعلقات ہيں بلكہ ايسى صورت ميں كيا ضرورى ہے كہ عورت كو ہى سيكريٹرى ركھيں _ محفلوں ميں غير عورتوں سے گر مجوشى كا اظہار نہ كريں ان كى طرف زيادہ توجہ نہ ديں _ اپنى بيوى سے ان كى تعريف نہ كريں _ اگر كسى بيوہ عورت كى مدد كرنا چاہتے ہيں تو بہتر ہے كہ پہلے اپنى بيوى كو بتاديجئے بلكہ اس كا رخير كو اسى كے ہاتھوں انجام دلوايئےو زيادہ بہتر ہے _ يہ نہ كہئے كہ كيا ميں قيدى اور غلام ہوں كہ اس قدر مقيد ہوكر زندگى گزاروں _ جى نہيں نہ آپ اسير ہيں اور نہ غلام _ بلكہ عاقل اور مدبر مرد ہيں اور اپنى بيوى سے تعاون كرتے ہيں اور اس سے وفادارى كے عہد كو نبھاتے ہيں _ محبت و وفادارى كا تقاضہ ہے كہ بيوى كى اچھى طرح ديكھ بھال كى جائے اور اپنے فہم و تدبر سے اس كے مرض كو دور كرنے كى كوشش كى جائے _ دانشمندانہ طرز سلوك اور ايثار كے ذريعہ اس بڑے خطرہ كو جو آپ كے خاندان كے مقدس مركز كو درہم برہم كرنے كا سبب بن سكتا ہے ، رفع كيجئے _ اور اس طريقے سے آپ نہ صرف اپنى بيمار بيوى كى بہت بڑى خدمت انجام ديں گے بلكہ اپنے معصوم بچوں كو بھى دربدرى اور رنج و غم سے نجات دلا سكيں گے اورخو د بھى ذہنى پريشانيوں سے محفوظ رہيں گے _

البتہ جو مرد ايسے حساس موقعوں پر ايثار سے كالم ليتا ہے خدا بھى اس كو عظيم اجر عطا فرماتا ہے


حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:'' ہر حال ميں عورتوں كے ساتة نبھايئےن سے اچھى طرح پيش آيئےا كہ ان كے افعال اچھے ہوں _(۶۷)

حضرت امام سجاد عليہ السلام فرماتے ہيں:'' بيوى كے حقوق ميں سے ايك حق شوہر پر يہ ہے كہ اس كى جہالت او رنادانيوں كو معاف كردے _(۶۸)

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں:جو مرد اپنى بداخلاق بيوى كا ساتھ نبھاتا ہے خداوند عالم اس كے ہر صبر كے عوض، حضرت ايوب عليہ السلام كے صبر كے ثواب كے برابر كا ثواب علا كرتاہے _(۶۹)

اب چند باتيں خواتين كى خدمت ميں عرض ہيں :

خاتون محترم آپ كے شوہر كى خيانت كا مسئلہ دوسرے تمام موضوعات كى مانند ثبوت و دلائل كا محتاج ہے اس كى خيانت جب تك قطعى طور پرثابت نہ ہوجائے شرعى اور اصولى طور پر آپ كو اسے مورد الزام ٹھرانے كا حق نہيں ہے _ كيا يہ مناسب ہوگا كہ صرف ايك شبہ ميں كسى بے گناہ انسان پر تہمت لگادى جائے _ اگر دليل و ثبوت كے بغير كوئي آپ پر الزام لگائے تو كيا آپ ناراض نہ ہوں گى ؟ كيا ايك يا چند كم عقل اور بدطينت لوگ خيانت جيسے اہم موضوع كو ثابت كرسكتے ہيں؟

خداوند بزرك و برتر قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :'' اے ايماندارو بہت سى بدگمانيوں سے پرہيز كرو كيونكہ بعض بدگمانياں گناہ ہوتى ہيں'' _(۷۰) امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں : بے گناہ انسان پر بہتان باندھنا بڑے بڑے پہاڑوں سے زيادہ بھارى ہوتا ہے _(۷۱) حضرت رسول خدا (ص) كا ارشاد گرامى ہے كہ جو شخص كسى مومن مرد يا مومن عورت پر تہمت لگائے گا خداوند عالم قيامت كے دن اس كو آگ ميں ڈال دے گا تا كہ اپنے اعمال كى سزا پائے

خاتون گرامى نادانى ، جلد بازى اور فضول خيالات سے اپنا دامن بچايئے متين اور عاقل بنئے جس وقت آپ رنجيدہ اور غصہ ميں نہ ہوں تنہائي ميں ٹھنڈے دل سے اپنے شوہر كى خيانت كے قرائن و شواہد پرغور كيجئے _ بلكہ ايك كاغذ پر نوٹ كرليجئے _ اس كے بعد اس جھگڑے كے اسباب


اور احتمالات كو اس كے برابر ميں لكھ ليجئے پھر ايك انصاف پرور اور عادل قاضى كى مانند غور كيجئے كہ يہ دلائل كس حد تك صحيح ہيں _ اگر قابل يقين نہيں ہيں تو بھى كوئي بات نہيں _ تحقيق كيجئے ليكن اس بات كو مسلّم اور قطعى نہ سمجھ ليجئے اور بے دليل بدگمانيوں كے سبب خود اپنى اور اپنے شوہر كى زندگى تلخ بناديجئے مثلا ً كارميں سركے ايك كلپ ياپن كے پائے جانے كى مختلف وجوہات ہوسكتى ہيں:_

۱_ آپ كے شوہر كے رشتہ داروں مثلاً بہن، بھانجى ، بھتيجى ، پھوپھى ، خالہ و غيرہ ميں سے ممكن ہے كوئي كارميں بيٹھا ہو اور يہ كلپ اس كا ہو _

۲_ شايد آپ كا ہى ہو اور پہلے جب آپ كارميں بيٹھى ہوں اس وقت آپ كے سرسے گرگيا ہو _

۳_ اپنے كسى دوست يا ملنے والے كو جو اپنى بيوى كے ساتھ ہو كارميں بيٹھايا ہو اور يہ كلپ اس كے دوست كى بيوى كا ہوسكتا ہے _

۴_ كسى مصيبت زدہ عورت كو اس كے گھر پہونچا ديا ہو _

۵_ شايد كسى دشمن نے عمداً كلپ كوكارميں ڈال ديا ہوتا كہ آپ كو شك ميں مبتلا كركے آپ كى بدبختى كے اسباب فراہم كرے _

۶_ شايد اپنى سيكريٹرى يا پانے ساتھ كام كرنے والى كسى خاتون كو ہٹھايا ہواور يہ كلپ اس كا ہو _

۷_ اور يہ احتمال بھى ہے كہ اپنى محبوبہ كا كارميں بٹھاكر عياشى كرنے گيا ہو _ ليكن يہ احتمال دوسرے احتمالات كے مقابلہ ميں بعيد ہوتا ہے بہرحال اس بات كے متعلق صرف قياس آرائي كى جا سكتى ہے ليكن اور تمام امكانات كو نظر انداز كركے اس چيز كو مسلّمہ حقيقت نہيں سمجھ لينا چاہئے اور ہنگامہ بر پا نہيں كردينا چاہئے _ اگر آپ كا شوہر ديرے سے گھر آتا ہے تو يہ اس كى خيانت كى دليل نہيں ہوسكتى شايد اوورٹائم كرتا ہو _ كوئي ضرورى كام آگيا ہو يا اپنے كسى دوست رشتہ داريا دفتر كے ساتھى كے گھر چلا گيا ہو _ علمى يا مذہبى جلسے ميں شركت كرنے گيا ہويا يوں ہى گھومنے گيا ہو جس كے سبب ديرسے گھر آيا ہو _


اگر كوئي عورت آپ كے شوہر كى تعريف كرتى ہے اور اس كو خوبرو و جوان كہتى ہے تو اس ميں اس كا كيا قصور ہے _ خوش اخلاقى كو خيانت كى دليل نہيں كہا جا سكتا _ اگر وہ بداخلاق ہوتا تو كوئي اس كے پاس نہ آتا _ كيا آپ اس سے يہ توقع ركھتى ہيں كہ بداخلاقى كا مظاہرہ كرے اور سب اس كو بدمزاج سمجھيں اور اس سے كوسوں دوربھاگيں؟ اگر كسى بيوہ اور اس كے يتيم بچوں كے ساتھ رحم دلى كا برتاؤ گرتاہے تو اس كو اس كى خيانت كى دليل نہيں كہا جا سكتا _ شايد از راہ ہمددرى اور خدا كى خوشنودى كى خاطر غريبوں اور مسكينوں كى مدد كرتا ہو _

اگر آپ كے شوہر كى كوئي مخصوص المارى يا دراز ہو يا اپنے خطوط پڑھنے كى اجازت نہ ديتا ہو تو اسے بھى اس كى خيانت سے تعبير نہيں كيا جا سكتا _ بہت سے مرد اپنے رازوں كو ذاتى طور پوشيدہ ركھنا چاہتے ہيں اور پسند نہيں كرتے كہ ان كے امور سے كوئي باخبر ہو _ ممكن ہے ان كے كام كى نوعيت اس قسم كى ہو جس ميں كچھ چيزوں كو نہايت خفيہ طريقہ سے ركھنا ضرورى ہو يا وہ سمجھتا ہو كہ آپ رازوں كو مخفى نہ ركھ سكيں گى _

بہر حال كوئي بھى سبب ہوسكتا ہے اور يوں ہى اس پرشك و شبہ كى بنياد قائم نہيں كى جا سكتى _ دوسرى بات يہ ہے كہ جہاں بھى آپ كو كسى قسم كا شك و شبہ ہو بہتر ہے كہ فوراً اس كے متعلق اپنے شوہر سے بات كريں _ ليكن اعتراض كے طور پر نہيں بلكہ حقيقت جاننے كے خيال سے ، اس سے يونہى پوچھئے كہ فلاں امور كے متعلق مجھے بدگمانى ہوگئي ہے ، براہ مہربانى حقيقت حال سے مجھے مطلع كيجئے تا كہ مجھے اطمينان ہوجائے _ ا س وقت اس كى بات خوب غور سے سنئے _ اور اگر آپ كا شك دور ہوگيا ہے تو بہت اچھا ہے ليكن اگر آپ اس كے جواب سے مطمئن نہيں ہوئي ہيں تو بعد ميں اس كے متعلق تحقيق و چھان بين كيجئے تا كہ حقيقت آپ پر روشن ہوجائے _ اگر تحقيق كے ضمن ميں كسى بات كے متعلق آپ كو علم ہوجائے كہ آپ كے شوہر نے جھوٹ كہا تھا اور حقيقت كے خلاف بات بيان كى تھى تو صرف اس جھوٹ كو اس خيانت كى دليل نہ مان لين كيونكہ ممكن ہے وہ بے گناہ ہو ليكن اسے آپكى بد گمانى كا علم ہو اس لئے جان بوجھ كر حقيقت كے برخلاف بات بيان كى ہو كہ كہيں آپ كے شك و شبہ ميں


اضافہ ہوجائے _ بہتر ہے كہ اس سلسلے ميں پھر اس سے پوچھئے اور اس كى غلط بيانى كى وجہ دريافت كيجئے _ البتہ اس نے يہ اچھا كام نہيں كيا كہ جھوٹ كا مرتكب ہوا _ بہتر ہوتا كہ صحيح بات بيان كردى ہوتى كيونكہ صداقت سے بڑھ كر كوئي چيز نہيں ليكن اگر اس نے غلطى كى ہے تو آپ اپنى نادانى اور جہالت كا ثبوت نہ ديں بلكہ اسى سے صراحت سے كہہديجئے كہ آئندہ جھوٹ نہ بولے _ اگر آپ وضاحت چاہيں اور آپ كا شوہر اطمينان بخش طريقے سے توضيح نہ كرسكے تو اس بات كو اس كى خيانت كى مستحكم اور قطعى دليل نہ سمجھ ليجئے _ كيونكہ اس بات كا امكان موجود ہے كہ شايد اصل بات بھول گيا ہو _ يا آپ كى بدگمانى كے سبب سراسيمہ ہوگيا ہو اور اطمينان بخش جواب نہ دے سكا ہو ايسے موقع پر بات كو ختم كرديجئے اور كسى مناسب موقع پر اس موضوع كے متعلق بات كيجئے اور اس قضيہ كا سبب دريافت كيجئے _ اگر كہے كہ ميں بھول گيا ہوں تو اس كى بات كو مان ليجئے اس كے بعد بھى اگر آپ كا شك باقى ہے تو دوسرے طريقے اس اس كى تحقيق كيجئے تيسرى بات يہ كہ اپنے شك و شبہ كا اظہار ہر كسى كے سامنے نہ كيجئے كيونكہ ان ميں آپ كے دشمن يا ايسے لوگ ہوسكتے ہيں جو آپ سے حسد كرتے ہوں لہذا وہ آپ كى بات كى تائيد كركے اس ميں كچھ اور حاشيہ آرائي كرديں گے تا كہ آپ كى زندگى ميں تلاطم پيدا ہوجائے يا ہوسكتا ہے كہ جس كے سامنے آپ بيان كريں وہ آپ كا دمشن نہ ہو ليكن نادان ، ناتجربہ كار اور ہربات پر فوراً يقين كرلينے والا ہو اور ہمدردى كے خيال سے آپ كى ہاں ميں ہاں ملائے بلكہ اور كچے فضول باتوں كا اضافہ كركے آپ كے ذہن كو پريشان كردے _ لہذا مناسب نہيں ہے كہ آپ نادان اور ناتجربہ كارلوگوں سے مشورہ ليں حتى كہ اپنى ماں، بہنوں اور عزيزوں سے بھى نہ كہيں _ البتہ اگر آپ ضرورى سمجھتى ہيں تو اس كام كے لئے اپنے كسى عقلمند ، تجربہ كار، ہوشيار اور خيرخواہ دوست كا انتخاب كريں اور اسے سارى بات بتا كر اس سے مشورہ ليں _

چوتھى بات يہ ہے كہ اگر شواہد و دلائل كے ذريعہ آپ كے شوہر كى خيانت ثابت نہ ہوسكے اور آپ كے عزيز و اقارب اوردوستوں نے بھى تصدبق كردى ہو كہ ان دلائل كے ذريعہ آپ كے شوہر كي


خيانت ثابت نہيں ہوتى او روہ بے گناہ ہے نيز آپ كے شوہر بھى ثبوت و دلائل كے ذريعہ اور قسميں كھاكر اپنى بے گناہى كا يقين دلائيں ، ليكن اس كے باوجود آپ كى بدگمانى اور شك و شبہ دور نہيں ہوتا تو يقين كيجئے كہ آپ بيمار ہيں اور آپ كا يہ وہم ، نفسياتى اور اعصابى مرض كا نتيجہ ہے _ لہذا ضرورى ہے كہ كسى اچھے اور تجربہ كارنفسياتى ڈاكٹر (سائيكوجسٹ)كے پاس جاكر اپنا علاج كرايئےور اس كے كہنے پر عمل كيجئے _

پانچويں بات يہ ہے كہ آپ كى مشكل كا حل وہى ہے جس كا ذكراوپر كيا گيا ہے _ لڑائي جھگڑے چيخ پكار، اور ہنگاموں كے ذريعہ نہ صرف يہ كہ آپ كى مشكل حل نہيں ہوسكتى بلكہ اور دوسرى بہت سى مشكلات لاحق ہونے كا امكان ہے _ خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت سے بھى رجوع نہ كريں _ عليحدگى اور طلاق كا مطالبہ نہ كريں _ اپنے شوہر كو بدنام نہ كرتى پھريں _ كيونكہ اس طرح كى باتوں سے كوئي اچھا نتيجہ بر آمد نہيں ہوگا بلكہ ايسى صورت ميں ممكن ہے دشمنى اور ضد پيدا ہوجائے اور مجبور ہوكر آپ كا شوہر طلاق ديدے اور آپ كى زندگى كا شيرازہ بكھر جائے _ يہ صورت حال آپ كے لئے ذرا بھى نفع بخش نہ ہوگى اور سارى عمر آپ پچھتاتى رہيں گى _

ايسے وقت ميں صبر و ضبط اور دانشمندى سے كام لينا چاہئے _ گھبراكے كوئي خطرناك فيصلہ نہ كيجئے _ خودكشى كا اقدام نہ كيجئے _ كيونكہ اس قبيح عمل كا ارتكاب كركے اپنى دينا بھى كھوئيں گى اور آخرت ميں بھى ہميشہ كے لئے دوزخ كے عذاب ميں مبتلا رہيں گى _ كيا يہ نہايت افسوس ناك بات نہيں كہ انسان ايك فضول سے خيال كے پيچھے اتنا جذباتى ہوجائے كہ اپنى قيت زندگى كا خاتمہ كرلے _ كيا يہ بہتر نہيں كہ عقلمندى اور بردبارى سے كام لے كر اپنے مسائل كو سلجھانے كى كوشش كى جائے ؟

اور چھٹى بات يہ ہے كہ اگر آپ كى بدگمانى دور نہيں ہوئي ہے اور آپ كو شك يا يقين ہے كہ آپ كے شوہر كى دوسرى عورتوں پر بھى نظر ہے تو ايسى صورت ميں بھى قصور خود آپ كا اپنا ہے اس بات سے ظاہر ہوتا ہے كہ آپ ميں اتنى صلاحيت و لياقت اور فہم وتدبر نہيں ہے كہ اپنےشوہر كے دل كو اس طرح مسخر كرليں كہ اس ميں دوسرى عورتوں كے سمانے كى جگہ ہى باقى نہ رہے _ ليكن اب بھى دير نہيں ہوئي ہے _ ہٹ دھرمى اور نادانى چھوڑيئے خوش اخلاقى ، اچھے رويہ اور محبت كا مظاہرہ كركے اپنے شوہر كے دل ميں اس طرح اپنى جگہ بناليجئے كہ اس كو صرف آپ ہى آپ نظر آئيں اور آپ كے علاوہ كوئي دوسرى عورت اس ميں جگہ نہ پا سكے _


دوسروں كى برائي كرنے والوں كى باتوں پر توجہ نہ ديجئے :

عام طور پر لوگوں ميں ايك بہت برى عادت ، دوسروں كى برائي اور عيب جوئي كرنے كى ہوتى ہے _ يہ گندى عادت بذات خود بہت برى چيز ہونے كے علاوہ بيشمار خراب نتائج كى حامل ہوتى ہے _ اس كے سبب بدگمانياں اور غلط فہمياں پيدا ہوجاتى ہيں _ نفاق و دشمنى پيدا ہوجاتى ہے _ اس كے سبب آپ ميں انس و محبت كے رشتے منقطع ہوجاتے ہيں _ دوستى و صميمت كا خاتمہ ہوجاتاہے _ خاندانوں كے آپس كے تعلقات ميں سر مہرى آجاتى _ مياں بيوى ميں ترفہ اندازى اور عليحدگى كا سبب بنتى ہے قتل و غارت گرى كا باعث بنتى ہے _

افسوس ناك بات تو يہ ہے كہ يہ عظيم عيب كچھ اس طرح ہمارے معاشرہ ميں سرايت كرگيا ہے كہ لوگ اس كو عيب اور برائي ہى نہيں سمجھتى ہر مجلس ميں اس كے ذريعہ منہ كا مزہ بدلا جاتا ہے اور ہر محفل كے لئے يہ عادت زينت بخش اور مشغلہ شمار كى جاتى ہے _ كم ہى ايسى محفليں ہوں گے جہاں كسى كى بدگوئي نہ كى جائے_ خاص طور پر اگر زنانہ محفل ہو اور دو عورتيں آپس ميں مل بيٹھيں تو ايك دوسرے كى غيبت اوربے پر كى باتيں شروع ہوجاتى ہيں _ يہ اس كى برائي كرتى ہے وہ اس كى مذمّت كرتى ہے ، غيبت كا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے _ گويا عيب جوئي كرنے كا مقابلہ ركھا گيا ہے _ اور سب سے بدتر تو يہ كہ جب دوسروں كو چھوڑ كرايك دوسرے كے شوہر پر تنقيد كرنے پر اتر آتى ہيں _ ايك دوسرى كے شوہر ميں كيٹرے نكالنا شروع كرتى ہے _ ايك دوسرى كے شوہر كى شكل و صورت كى برائي كرتى ہے يا اس كى تعليمى سطح پر اعتراض كرتى ہے يا اس كے اخلاق و كردار كو اپنى تنقيد كا نشانہ بناتى ہے يا اس كى مالى حالت پر اظہار افسوس كرتى ہے _اگر تيل فروش ہے تو كہتى ہے تمہارے شوہر كے پاس سے تيل كو بواتى ہے ،


كس طرح اس كے ساتھ نباہ كرتى ہو _ اگر موچى ہے تو كہے گى بھلا موچى سے كيوں شادى كى ؟ اگر ڈرائيور ہے تو كان بھرے گى كہ تمہارا شوہر ہميشنہ سفر ميں رہتا ہے يہ تمہارے لئے اچھا نہيں ہے _ اگر قصاب ہے تو كہتى ہے اس كے پاس سے گوشت كى بو آتى ہے اگر دفتر ميں كام كرتاہے تو كہتى ہے ايسے آدمى كو زندگى اور دفتر ميں ذرا بھى آزادى حاصل نہيں ہوتى _ اگر غريب اور كم آمدنى والا ہے تو كہتى ہے ايسے غريب كے ساتھ كيسے گذار كرتى ہو_ اے ہئے تم ايسى خوبصورت اور مياں ايسا بدصورت اور بے ہنگنم كيسا چھوٹے سے قد كا ، كالا او ردبلا پتلا لاغر ہے _ بھلا ايسے مرد سے كيوں شادى كى تھي؟ كيا ماں باپ كوبھارى تھيں كہ ايسے آدمى سے تمہيں بياہ ديا ؟ _ ارے تمہارے تو سينكڑوں رشتے آئے ہوں گے _ افسوس تمہيں ايسے جاہل كے پلے باندھ كرسارى خوشيوں سے محروم كرديا نہ سينما، نہ تھيڑ نہ تفريح ، يہ بھى كوئي زندگى ہے ؟ اے ہئے تمہارا مياں كيسا بدمزاج ہے جب بھى اسے ديكھتى ہوں تيورياں چڑھى ہوئي ايسے نك چڑھے كے ساتھ كيسے گزاراكرتى ہو؟ اتنا پڑ ھ لكھ كر بھلا ايك ديہاتى سے كيوں شادى كرلي؟ يہ اور اس قسم كى دوسرى سينكڑوں باتوں كا عورت كے درميان تبادلہ ہوتا رہتا ہے در اصل اس قسم كى بے لگا م باتوں كى عادت كچھ اس طرح پڑجاتى ہے كہ ذرا بھى نہيں سوچتيں كہ ان باتوں كے كيا نتائج ہوسكتے ہيں _ انھيں ذرا بھى فكر نہيں كہ ممكن ہے ان كا ايك جملہ كسى عورت كو اپنے شوہر سے بد ظن كردے اور انجام كا ر اس كا نتيجہ طلاق و عليحدگى بلكہ قتل و غارت گرى ہو اور بسا بسا يا گھر تباہ و برباد ہوجائے _ اسى قسم كى عورتيں درحقيقت انسان كى صورت ميں شيطان ہوتى ہيں خاندانوں كى خوشحالى اور سكون و اطمينان كى دشمن ہوتى ہيں جس طرح شيطان كا كام دشمنى ، اختلاف اور نفاق پيدا كرنا ہے اسى طرح يہ عورتيں بھى خوش و خرم گھرانوں كو دردناك اور تاريك قيد خانوں ميں تبديل كرديتى ہيں_ اب يہ غور كرنا كہ ہميں كيا كرنا چاہئے ؟ ہمارے معاشرے كى جملہ خرابيوں ميں سے ايك يہ ايك انتہائي برى اور تباہ كن خرابى ہے _ حالانكہ اسلام نے اس چيز كى سختى سے ممانعت كى ہے ليكن ہم اس ذليل عادت سے دستبردار ہونے پر تيار نہيں _


حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں ، اے وہ لوگو جو زبانى طور پر تواسلام كا دم بھرتے ہو ليكن تمہارے دلوں ميں ايمان نے راہ پيدا نہيں كى ہے ، مسلمانوں كى برائي نہ كيا كرو اور دوسروں كى عيب جوى كى فكر ميں نہ رہو كيونكہ جو شخص دوسروں كے عيبوں كو ظاہر كرے گا خدا بھى اس كے عيوب برملاكرے گا اور اس صورت ميں وہ رسوا ہوگا خواہ اپنے گھر ہى ميں كيوں نہ ہو_(۷۳)

كٹنى قسم كى يہ عورتيں ، اس قسم كى باتيں كركے اپنے چند مقاصد پورے كر سكتى ہيں _ يا تو دشمنى اور كينہ كے سبب اس قسم كى باتيں كرتى ہيں تا كہ كسى خاندان كو تباہ كرديں يا جذبہ رشك و حسد ان كو عيب جوئي پر مجبور كرتا ہے ، يا اس قسم كى باتوں سے ان كا مقصد فخر اور خود ستائي ہوتا ہے اور دوسروں كى برائي كركے چاہتى ہيں كہ اپنى خوبياں دوسروں كے سامنے بيان كريں _ يا يہ وجہ بھى ہوسكتى ہے كہ انھيں خود اپنے عيب او رنقص كا علم ہو اور ان كا احساس كمترى انھيں دوسروں پر تنقيد كرنے پر ابھارتا ہے _ يا سادہ لوح عورتوں كو فريب اور دھوكہ دينا ان كامقصد ہوسكتا ہے يا اس طريقے سے اپنى ہمدردى اور خيرخواہيہ جتانا چاہتى ہوں _ بعض عورتيں بلا مقصد صرف تفريح اور مشغلہ كے طور پر اپنى گندى عادت سے مجبور ہوكر ايسا كرتى ہيں _ بہر حال يہ بات تو مسلّم ہے كہ ان كا مقصد خيرخواہى يا ہمدردى نہيں _ يہ برى عادت جو ہمارے سماج ميں مردوں اور عورتوں دونوں ميں پائي جاتى ہے _ اس كے نتائج بے حد خطرناك ہوتے ہيں _ يہ خراب عادت دوستوں كے درميان رخنہ ڈال ديتى ہے ، جنگ و جدال كا سبب بنتى ہے _ خوش و خرم زندگيوں كا شيرازہ بكھيرديتى ہے _ اس كے باعث كس قدر قتل و خون ہوجاتے ہيں _

قارئين محترم يقينا اس قسم كے بہت سے حادثات وواقعات آپ كى نظر سے بھى گزرے ہوں گے _ ليجئے ايك داستان پر توجہ فرمايئے_

ايك عورت نے عدالت ميں شكايت كى كہ فلاں شخص ، ميرے اور ميرے شوہر كے درميان ناچاقى پيدا كرنے كى غرض سے اس كى بے حد برائياں كيا كرتا تھا _ كہتا تھا يہ


شخص ہرگز تمہارے قابل نہيں ہے _ تمہارے حال پر افسوس ہوتاہے كہ ايسے شخص كے ساتھ زندگى گزاررہى ہو _ وہ تم سے بالكل محبت نہيں كرنا_ اس سے طلاق لے لوتا كہ ميں تم سے شادى كرلوں _ اس كے بہكانے ميں آكر ميں گمراہ ہوگئي اور اس كى مدد سے ميں نے اپنے شوہر كو قتل كرڈالا _(۷۴)

خاتون محترم

اب جبكہ آپ اس قسم كے افراد كے ناپاك مقاصد سے واقف ہوگئيں تو اس كا علاج اور حل بھى آپ كے پاس موجود ہے _ اگر اپنى اور اپنے شوہر و بچوں كى بھلائي چاہتى ہيں تو ايسے لوگوں سے ہوشيار رہئے اور اس قسم كى شيطان صفت انسانوں كے بہكانے ميں نہ آجايئے ان كى ظاہرى ہمدردى سے دھوكہ نہ كھاجايئےقين كيجئے يہ آپ كے دوست نہيں بلكہ آپ كى خوشبختى اور پر مسرت زندگى كے دشمن ہيں ان كا مقصد ، آپ كو تباہى و بردبارى كے دہانے پر پہونچا دينا ہے _ سادہ لوحى اور ہر بات پر جلدى يقين كرلينے كى عادت سے پرہيز كيجئے _ اپنى ہوشيارى كے ذريعہ ان كے فاسد مقاصد كو بھانب ليجئے اور اگر يہ آپ كے شوہر كى برائي كرنا چاہيں تو ان كو فوراً ٹوك ديجئے اور بغير كسى تكلف صاف صاف كہديجئے كہ ہمارے اور آپ كے درميان دوستى اور آمد و رفت كا سلسلہ اسى صورت ميں برقرار رہ سكتا ہے كہ آئندہ ميرے شوہر كے خلاف آپ ايك كلمہ بھى نہ كہيں _ ميں اپنے شوہر كو پسند كرتى اس ميں كوئي عيب نہيں ہے _ آپ كو ميرى اور ميرے شوہر اور بچوں كى نجى زندگى سے كوئي سروكار نہيں ركھنا چاہئے _

آپ كے ا س دوٹوك لب ولہجہ سے وہ لوگ اندازہ لگاليں كہ آپ كو اپنے شوہر اور بچوں سے شديد لگاؤ ہے لہذا آپ كو گمراہ كرنے سے مايوس ہوجائيں گے اور اس طريقے سے آپ ہميشہ كے لئے ان كے شروفساد سے محفوظ ہوجائيں گى _ اس بات كى فكر نہ كيجئے كہ يہ بات ان كى رنجيدگى كا باعث ہوگى اور آپ كى دوستى ميں فرق آجائے گا _ كيونكہ اگر وہ لوگ واقعى آپ كے دوست ہيں


تو نہ صرف يہ كہ ناراض نہيں ہوں گے بلكہ آپ كى اس عاقلانہ يادآورى سے متنبہ ہوجائيں گے اور آپ كا شكريہ اداكريں گے _ اور اگر دوست كى صورت ميں آپ كے دشمن ہوں گے تو يہى بہتر ہے كہ ميل جول ترك كرديں اور اگر آپ ديكھيں كہ وہ اس گندى عادت سے دستبردار ہونے كو تيار نہيں تو بہترى اسى ميں ہے كہ ان سے مكمل طور پر تعلقات منقطع كرليں كيونكہ ايسے لوگوں سے دوستى اور ميل جول ممكن ہے آپ كے لئے بدبختى كے اسباب فراہم كردے _

شوہر كى رضامندى ضرورى ہے ، ماں كى نہيں

لڑكى جب تك ماں باپ كے گھر ميں رہتى ہے اسے ان كى مرضى كے مطابق كام كرنا ہوتا ہے ليكن جب اس كى شادى ہوجاتى ہے اور وہ شوہر كے گھر چلى جاتى ہے تو اس كے فرائض بھى بدل جاتے ہيں _

شادى كے بعد اسے چاہئے كہ شوہر كى ديكھ بھال كرے اور اس كى رضامندى اور خوشنودى كو ہر چيز پر مقدم سمجھے _ حتى كہ جہاں پر ماں باپ اورشوہر كى خواہش ميں تصادم ہورہا ہو وہاں صلاح اسى ميں ہے ، كہ شوہر كى اطاعت كرے اور اس كى مرضى كے مطابق عمل كرے _ خواہ اس كے ماں باپ كى رنجيدگى اور ناراضگى كا سبب ہى كيوں نہ بنے _ كيونكہ شوہر كى خوشنودى حاصل كرنے سے ، انس و محبت كا رشتہ جو كہ شادى شدہ زندگى كى بقا كا ضامن ہوتا ہے ، مستحكم تر ہوجائے گا _ ليكن اگر ماں كى خواہش و مرضى كو اوليت دى تو ممكن ہے اس مقدس عہد و پيمان ميں تزلزل پيدا ہوجائے يا ٹوٹ جائے _ كيونكہ بہت سى مائيں صحيح تربيت اور اعلى فكر كى حامل نہيں ہوتيں _ انھوں نے اب تك اس بات كو نہيں سمجھاہے كہ لڑكى اور داماد كوان كے حال پر آزاد چھوڑدينے ہى ميں ان كى بہترى ہے تاكہ آپس ميں ايك دوسرے سے مانوس ہوں اور مفاہمت پيدا كريں _اپنے حالات كے مطابق اپنى زندگى كے پروگرام كو تياركركے اس پر عمل كريں اور اگر كوئي مشكل پيش آجائے تو مشورہ اور مفاہمت سے اسے حل كريں _

صحيح تعليم و تربيت سے عارى خواتين ، چونكہ اس حقيقت كو جو عين مصلحت كے مطابق ہے سمجھ نہيں باتيں اس لئے اس فكر ميں رہتى ہيں كہ داماند كو اپنى مرضى كے مطابق چلائيں _ اسى لئے براہ راست


اور بالواسطہ طور پر ان كے امور ميں مداخلت كرتى ہيں اور اس مقصد كے تخت اپنى بيٹى سے ، جو كہ ابھى جوان اور ناتجربہ كارہے اور اپنى بھلائي برائي سے پورى طرح آگاہ نہيں ہے ، استفادہ كرتى ہيں اس كو داماد پر اثر انداز ہونے كے لئے آلہ كار كے طور پر استعمال كرتى ہيں _ برابر حكم ديتى رہتى ہيں كہ اپنے شوہر سے كس طرح برتاؤ كرو ، كيا كہو ، كيا نہ كہو _ سادہ لوح لڑكى چونكہ اپنى ماں كو اپنا خيرخواہ اور مصلحت انديش ، سمجھتى ہے اس لئے اس كى اطاعت كرتى ہے اور اس كے كہنے پر عمل كرتى ہے _ اگر داماد ان كى مرضى كے مطابق چلتا رہا تو كيا كہنے _ ليكن اگر اس نے سرتابى كو تو لڑائي جھگڑا ، رسہ كشى اور ضد كا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے _ يہ نادان عورتيں ممكن ہے اس سلسلے ميں اس قدر سختى اور ہٹ دھرمى سے كام ليں كہ اپنے بيٹى داماد كو اپنى ضد اور خود سرى پر قربان كركے ان كى زندگياں تباہ كرديں _ بجائے اس كے كہ لڑكى كو نصيحت كريں ، ساتھ نبھانے گى ترغيب دلائيں ، تسلى ديں ، برابر اس كے شوہر كى برائياں كرتى رہتى ہيں _ مثلاً ہائے ميرى بچى كى قسمت پھوٹ گئي _ كيسا خراب شوہر اس كے پلے پڑاہے كيسے اچھے اچھے رشتے آئے تھے _ فلان كى زندى كيسى اچھى گزرہى ہے _ ميرى بھانجى كو ديكھو اس كے كيا ٹھاٹ باٹ ہيں _ فلاں اپنى بيوى كے لئے كيسے اچھے اچھے لباس لاتا ہے _ميرى لڑكى بھلا كسى سے كم ہے جو ايسى زندگى گزارہے ؟ ہائے ميرى بيٹى كے كيسے نصيب ہيں _ اس قسم كى باتيں جو ہمدردى اور خيرخواہى كے طور پرادا كى جاتى ہيں سادہ لوح لڑكى كو شوہر اور زندگى كى جانب سے بدظن اور سرومہر بناديتى ہيں اور بہانہ بازيوں اور باہمى رنجش كے اسباب فراہم كرديتى ہيں _ لڑكى كے دل ميں زہر آگين خيالات سرايت كرجاتے ہيں اور وہ بہانے تلاش كركے اپنے شوہر سے لڑتے جھگڑتى اور اسے اذيت ميں مبتلا كرتى ہے _ خود بھى اس كى حمايت ميں كھڑى ہوجاتى ہيں اور زبانى و عملى طور پر اس كى تائيد كرتى ہيں اور كاميابى حاصل كرنے كے لئے كسى بھى چيز حتى كہ طلاق دلانے اور اپنى بيٹى كا گھر اجاڑنے سے بھى دريغ نہيں كرتيں _ ذيل كى داستانوں پر توجہ فرمايئے_


ايك تيس سالہ عورت نے اپنى پچاس سالہ ماں كو ، جو كہ اس كو اپنے شوہر سے جدا كردينے كا

باعث بنى تھى ، تھپڑمارديا _ عورت نے كہا كہ ميرى ماں مجھ سے ميرے شوہر كى بے حد برائي كيا كرتى تھى اور اسے گھر اور خاندان سے بے تعلق رہنے كا الزام ديا كرتى تھى _ آخر كار مجھے اپنے شوہر سے اختلاف پيدا ہوگيا اور ميں اس سے طلاق لينے پر تيار ہوگئي ليكن فوراً ہى مجھے اپنے فعل پر پشيمانى كا احساس ہو ا ليكن اس پشيمانى كا كوئي فائدہ نہ ہوا كيونكہ ميرے شوہر نے عليحدہ ہونے كے چھ گھنٹے بعد ہى اپنى خالہ كى لڑكى سے منگنى كرلى اور ميں نے فرط غم سے اپنى ماں كو مارديا_(۷۵)

اى ۳۹ سالہ مرد اپنى بيوى اور ساس كے ہاتھوں اتنا پريشان ہوا كہ اس نے خودكشى كرلى _ اس نے جو خط چھوڑ اس ميں لكھا تھا چونكہ ميرى بيوى ، جس شہر ميں ، ميں كام كرتا ہوں ، آنے پر راضى نہيں ہوتى اور اپنے ناروا سلوك سے مجھے اس قدر اذيت پہونچاتى ہے كہ ميں اس سے نجات حاصل كرنے كى غرض سے اپنى زندگى كا خاتمہ كررہا ہوں ميرى موت كى ذمہ دار ميرى بيوى اور اس كى ماں ہے _(۷۶)

ايك مرد نے اپنى ساس كى دخل اندازيوں سے پريشان ہوكر خودكشى كرلى _(۷۷)

ايك مرد نے جو اپنى سا س كى بيجا مداخلتوں كے سبب بے حد تنگ آگيا تھا ، اس كو ٹيكسى سے باہر پھينك ديا _(۷۸)

ظاہر ہے اگر لڑكياں اس قسم كى نادان اور خود غرض ماؤوں كى اطاعت و فرمانبردارى كريں گى اور ان كے غلط خيالات كا اثر قبول كريں گى تو يقينا اپنے بسے بسائے گھر كو خود اپنے ہاتھوں تباہ كرديں گى _

لہذا جو عورت خوش و خرم زندگى گزارنے اور اپنى شادہ شدہ زندگى كو برقرار ركھنے كى خواہشمند ہے اسے چاہئے كے بغير سوچے سمجھے اپنى ماں كے افكار و خيالات كو قبول نہ كرے اور اسے سو فيصدى درست اور مصلحت كے مطابق تصور نہ كرلے _ ايك عقلمند اور ہوشيار عوت ہميشہ احتياط اور عاقبت انديشى سے كا ليتى ہے اپنے ماں باپ كى گفتار اور تجاويز پر خوب غور كرتى ہے


اور اس كے انجام و نتائج كے بارے ميں سوچتى ہے اور اس كے وسيلے سے اپنى ماں كو پركھتى ہے _ اگر ديكھتى ہے كہ اس كى ماں تعاون كرنے اور ايك عاقلانہ روش اپنانے كى ترغيب دلاتى ہے تو جان ليتى ہے كہ وہ خيرخواہ ، عقلمند اور مدبر خاتون ہے _ اس صورت ميں اس كے كہنے پر عمل كرنا چاہئے اور اس كى عاقلانہ ہدايوں كو قبول كرنا چاہئے ليكن اگر ديكھے كہ اپنى جاہلانہ باتوں اور غير عاقلانہ تجاويز كے ذريعہ اس كو اپنے شوہر سے بد ظن كرديتى ہے اور اس كى بدبختى كے اسباب فراہم كرتى ہے تو يقين كرلينا چاہئے كہ وہ نادان ، بد سليقہ اور بداخلاق ہے _ ايسے موقع پر دور استوں ميں سے ايك كا انتخاب كيا جا سكتا ہے يا تو اپنى ماں كى رہنمائيوں اور احكام كے مطابق شوہر سے عدم تعاون كرے _ بہانہ بازياں كرے شوہر كے خلاف اعلان جنگ كردے _ يا ماں كا باتوں پردھياں نہ دے اور اپنے شوہر كى رضامندى اور خوشى كا خيال ركھے _ ايك سمجھدار عورت پہلى راہ كا انتخاب ہرگز نہيں كرے گى كيونكہ وہ سوچتى ہے ہ ميں نے اگر ماں باپ كى باتوں پر عمل كيا تو اس كا ياك نتيجہ يہ ہوگا كہ ميں راہ راست سے منحرف ہوجاؤں گى يا رسارى زندگى شوہر كے ساتھ لڑائي جھگڑے اور كشمكش ميں گزرنے گى اور ميري، شوہر اور بچوں كى زندگى اجيرن ہوجائے گى _ يا طلاق لے لوں اور ماں باپ كے گھر لوٹ آوں _ ايسى صورت ميں مجبور ہوجاؤںگى كہ سارى زندگى ماں باپ كے سرپڑى رہوں _ حالانكہ ميں جانتى ہوں كہ وہ مجھ كو خاندان كے ايك اصلى ممبر كى حيثيت سے قبول كرنے كو تيار نہيں ہوں گے اور مجھ كو ايك بوجھ سمجھيں گے _اور مجھ سے جان چھڑانے كى كوشش كريں گے _ پس اس كے سوا كوئي چارہ نہيں كہ ذلت و خوارى كے ساتھ زندگى گزاروں _ بھائي بہنوں كے لعن طعن سنوں اور اگر ماں باپ سے عليحدہ زندگى گزارنا چاہوں تو كہاں جاؤں _ تنہا كس طرح زندگى گزاروں _ اگر دوسرى شادى كرلوں تو معلم نہيں پہلے شوہر سے بہتر ہوگا يا نہيں كيونكہ ميرى جيسى عورتوں كے لئے جن مردوں كے رشتہ آتے ہيں وہ عموماً طلاق يافتہ ہوتے ہيں يا ان كى بيوياں فوت ہوگئي ہوتى اورزيادہ تر بچوں والے ہوتے ہيں ايسى صورت ميں ان كے بچوں كى ديكھ بھال كرنے پر بھى مجبور ہوجاؤں گى _


اس كے علاوہ اور دوسرى سينكڑوں مشكلات اور درد سر كاسامنا ہوگا اور معلوم نہيں كہ دوسرا شوہر كيسا ہوگا _ شايد اس ميں اس سے بھى زيادہ اور بدتر عيوب ہوں _ ليكن اس كے ساتھ زندگى گزارنے پر مجبور ہوجاؤگى _ ممكن ہے ميرے عدم تعاون كے سبب ميرا شوہر پريشان ہوكر كوئي خطرناك فيصلہ كرلے _ فرار ہوجائے يا خودكشى كرلے _ ممكن ہے اس كشمكش اور ہٹ دھرمى كى نتيجہ ميں خود ميرى جان پر بن آئے اور سوائے خودكشى كے اور كوئي چارہ نظر نہ آئے اور اس ناجائز اقدام كے ذريعہ اپنى دنيا و آخرت دونوں تباہ كرلوں _

ايسے حالات ميں قضيہ كے ہر پہلو پرخوب غورو فكر كرنى چاہئے اور اس كے نتائج كا تجزيہ كرنا چاہئے اور اس كے انجام كو ذہن ميں ركھ كر ايك تھوس فيصلہ كرنا چاہئے كہ ماں يا دوسرے رشتہ داروں كى غير منطقى تجاويز اور فضول باتوں سے قطع نظر كركے اپنے شوہر كى ديكھ بھال ميں لگ جائے _ اور اپنى ماں سے مناسب لہجہ ميں كہدے كہ ميرے مقدر ميں اسى مرد سے شادى ہونا لكھا تھا _ لہذا اب ميرى بہترى اسى ميں ہے كہ پورى تندہى اور سنجيدگى كے ساتھ اس مشتركہ زندگى كو خوشحال اور پرمسرت بنانے كى كوشش كروں اور اپنے اچھے اخلاق و كردار كے ذريعہ اپنے شوہر كو راضى و خوش ركھوں _

وہى مجھكو خوش نصيب بنا سكتاہے _ وہى ميرا شريك زندگى اور مونس و غمخوار ہے _ ميرى نظر ميں اس سے بہتر كوئي دوسرا نہيں _ ہم لوگ مسائل كو خود حل كرليں گے اور اگر كوئي مشكل آپڑى تو وہ حل ہوجائے گى _ آپ كى مداخلتوں كے سبب ممكن ہے ہمارى ازدواجى زندگى تباہ و برباد ہوجائے _ اگر آپ چاہتى ہيں كہ ہمارى آمدو رفت اور تعلقات قائم رہيں تو ہمارى نجى زندگى ميں بالكل دخل اندازى نہ كيجئے اور ميرے شوہر كى برائي نہ كيجئے _ ورنہ ميں آپ سے قطع تعلق كرنے پر مجبور ہوجاؤں گى اگر آپ كى ان باتوں اور نصيحتوں كا ان پر اثر ہوتا ہے اور وہ اپنے رويہ ميں تبديلى پيدا كرليتى ہيں تو آپ ان سے تعلقات قائم ركھيں ليكن اگراپنى اصلاح كرنے پر تيار نہيں تو آپ كى بہترى اسى ميں ہے كہ ماں كے يہاں آنا جانا بہت كم كرديں _ اور اس طرح ايك بہت بڑے خطرے يعنى خاندان كا


شيرازہ درہم برہم ہونے كے خطرے سے نجات حاصل كرليں اور اطمينان كے ساتھ زندگى گزاريں _ اسى صورت ميں ممكن ہے رشتہ داروں كى نظر ميں آپ كى عزت ووقار كم ہوجائے ليكن اس كے بدلے ميں آپ كے شوہر كى محبت و خوشنودى ميں كئي گنا اضافہ ہوجائے گا اور اس كى نظروں ميں آپ كى عزت ووقار بڑھ جائے گا _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كا ارشاد گرامى ہے كہ تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جس كا زيادہ بچے ہوں _ شوہر سے محبت كرنے والى ، پاك دامن اور باحياہو اپنے ، رشتہ داروں كے مقابلے ميں تسليم نہ ہو ليكن اپنے شوہر كى مطيع و فرمانبردار ہو _ اپنے شوہر كے لئے آرائشے كرے _ خود كو غيروں سے محفوظ ركھے _ اپنے شوہر كى بات سنے اور اس كى اطاعت كرے _ جب دونوں تنہا ہوں تو اس كے ارادے پر عمل كرے ليكن ہر حال ميں شرم و حيا كا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے''_

پھر فرمايا: تم ميں سے بدترين عورت وہ ہے جو اپنے رشتہ داروں كى اطاعت كرے ليكن اپنے شوہر كى بات پر توجہ نہ دے _ كينہ ور اور بانجھ ہو _ برے كاموں سے پرہيز نہ كرے _ شوہر كى غير موجودگى ميں زينت و آرائشے كرے اور خلوت ميں شوہر كى خواہشات كو رد كرے _ اس كے عذر كو قبول نہ كرے اور اس كے گناہوں كو معاف نہ كرے _(۷۹)

گھر ميں بھى صاف ستھرى اور سجى بنى رہئے :

اكثر خواتين كى عادت ہوتى ہے كہ جب باہر جاتى ہيں يا كسى جشن ميں شركت كرتى ہيں يا كہيں دعوت ميں جاتى ہيں تو آرائشے كرتى ہيں بہترين لباس پہنتى ہيں اور حتى المقدور بہترين شكل ميں گھر سے باہر جاتى ہى ليكن جب گھرواپس آتى ہيں گھر ميں صاف ستھرى نہيں رہتيں ، بنا ؤ سنگھا رنہيں كرتيں الجھے بالوں اور گھر دارى كے لباس مسں گھومتى رہتى ہيَ داغ لگے ميلے كچيلے كيٹر ے پہنے رہتى ہيں _ حالا نكہ چا ہئے اس كے بر عكس عورت كو چا ئہے گھر ميں اپنے شوہر كے لئے آرائشے


كرے _ اپنے شوہر كے لئے جو كہ اس كا دائمى شريك زندگى ، دوست ، مونس و غمخوار اور اس كے بچوں كا باپ ہے ،سجے بنے ،نازوانداز دكھائے اور اس كے دل كو اپنے بس ميں كرلے تا كہ گلى كوچے كے دلبر اس كے دل ميں جگہ نہ پا سكيں _ دوسروں كى كيا اہميت ہے ان كے لئے زيب و زينت كى جائے _ كيا يہ بات قابل تاسف نہيں كہ عورت غيروں كى توجہ كا مركز بننے كے لئے آرائشے و زيبائشے كرے اور جوانوں اور دوسرى عورتوں كے لئے مشكلات پيدا كردے _

پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں : جو عورت خوشبولگا كرباہر جائے جب تگ گھر واپس نہ آجائے خدا كى رحمت سے دور رہتى ہے _(۸۰)

آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا يہ بھى ارشاد گرامى ہے كہ تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جو اپنے شوہر كى اطاعت گزار ہو اس كے لئے آرائشے كرے ليكن اپنا بناؤ سنگھار غيروں پر ظاہر نہ كرے اور تم ميں سے بدترين عورت وہ ہے جو اپنے شوہر كى غير موجودگى ميں زينت كرے _(۸۱)

خاتون عزيز ايك مرد كے دل كو قابوميں كرنا ، وہ بھى ہميشہ كے لئے، كوئي آسان كام نہيں ہے _ يہ نہ كہئے كہ وہ مجھے چاہتا ہے لہذا كيا ضرورت ہے كہ اس كے سامنے يجوں بنوں اور ناز و غمزے دكھاؤں جى نہيں اس كے عشق كى ہميشہ حفاظت كيجئے _

يقين جانئے آپ كا شوہر چاہتا ہے كہ آپ اس كے سامنے ہميشہ بنى سنورى اور صاف ستھرى رہيں _ خواہ زبان سے نہ كہتا ہو _ اگر آپ اس كى دلى خواہش كو پورا نہ كريں تو ممكن ہے گھر سے باہر صاف ستھرى اور سجى بنى عورتوں پر نظريں ڈالے اور آپ سے اس كا دل بھر جائے اور وہ گمراہ ہوجائے _ جب دوسرى صاف ستھرى سليقہ مند عورتوں كو ديكھتا ہے تو ان كا مقابلہ آپ كى برى وضع قطع سے كرتا ہے اور سوچتا ہے كہ يہ فرشتے ہيں جو آسمان سے نازل ہوئے ہيں آپ بھى گھر ميں اس كے لئے صاف ستھرى رہئے _ بناؤ سنگھاركيجئے _ اچھے اچھے لباس پہنئے نازو انداز دكھايئےا كہ وہ سمجھے كہ آپ بھى كم نہيں بلكہ ان عورتوں نے زيادہ اچھى اور خوبصورت ہيں _ ايسي


صورت ميں آپ اس كے پائيدار عشق كى اميد كرسكتى ہيں اور ہميشہ كے لئے اس كے دل پرحكومت كرسكتى ہيں ايك شوہر كے خط پر توجہ فرمايئے لكھتا ہے _

''گھر ميں ميرى بيوى كى حالت ميں اور خدمت گارميں كوئي فرق نہيں _ خدا كى قسم بعض وقت سوچتا ہوں ان خوبصورت اور نفيس لباسوں ميں سے كوئي لباس گھر ميں پہن لے جو اس نے دعوتوں اور اپنے كام پر جانے كے لئے تيار كيئے ہيں اور ان پرانے اور ڈھيلے ڈھالے بد وضع كپڑوں سے دستبردار ہوجائے _ كئي بارميں نے اس سے كہا ، ڈيركم از كم چھٹى كى دنوں ميں توان نفيس لباسوں كو استعمال كرليا كرو_ ترش روئي سے كہتى ہے: ميں تمہارے اور بچوں كے سامنے پابند نہيں ہوں _ ليكن اگر ايك دن بھى اپنے ساتھ كام كرنے والوں كے سامنے ٹھيك سے تيار ہوكر نہ جاؤں تو شرمندگى اٹھانى پڑتى ہے ''(۸۲)

شايد آپ كہيں كہ گھر اور باورچى خانہ كے كاموں كے ساتھ بن سنور كررہنا ممكن نہيں ہے ليكن اگر آپ اس عمل كى قدر و قيمت سے واقف ہوجائيں تو يقينا آپ اس مشكل كو حل كرسكتى ہيں _ گھر كے كاموں كو انجام دينے كے لئے ايك لباس مخصوص كر ليجئے اور كام كے وقت اسے استعمال كيجئے جب كام سے فارغ ہوجائيں اور آپ كے شوہر كے آنے كا وقت ہو اس وقت صاف ستھرى ہوكر عمدہ لباس پہنئے بالوں كو سنواريئےور آراستہ ہوكر اپنے شوہر كى آمد كا انتظار كيجئے _

حضرت امام محمد باقر عليہ السلام فرماتے ہيں: عورت پر لازم ہے كہ اپنے جسم ميں خوشبو لگائے اپنا بہترين لباس پہنے _ بہترين طريقے سے زيب و زينت كرے _ اور ايسى حالت ميں صبح اور رات كو اپنے شوہر سے ملے _(۸۳)

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : عورت كو آرائشے و زيبائشے ترك نہيں كرنا چاہئے خواہ ايك گلوبندى كيوں نہ ہوں ہاتھوں كو بھى سادہ نہيں ركھنا چاہئے چاہے تھوڑى سى مہندى ہى لگالے _ حتى كہ بوڑھى عورتوں كو بھى زينت و آرائشے ترك نہيں كرنا چاہئے _(۸۴)


اس پر اپنى مامتا نچھاور كيجئے

مصيبت اور بيمارى كے وقت انسان كو تيمار داراور غمخوار كى ضرورت ہوتى ہے اس كا دل چاہتا ہے كہ كوئي اس سے ہمدردى كرے نوازش و دلجوئي كركے اس كو تسكين دے _ تسلى و تشفى كے ذريعہ كے اعصاب كو سكون پہونچائے _ در اصل مرد وہى سابق بچہ ہوتا ہے جو بڑا ہوگيا ہے اور اب بھى ماں كى نوازش و محبت كا بھوكا ہوتا ہے _ مرد جب كسى عورت سے رشتہ ازدواج ميں منسلك ہوتا ہے تو اس توقع ركھتا ہے كہ پريشانى اور بيمارى كے موقعوں پر ٹھيك ايك مہربان ماں كى طرح كى تيمار دارى اور دلجوئي كرے _

خواہر عزيز اگر آپ كے شوہر بيمار پڑگئے ہيں تو ان كے ساتھ پہلے سے زيادہ مہربانى كا برتاؤ كيجئے _ ان سے اظہار ہمدردى كيجئے اور افسوس كا اظہار كيجئے _ ان كى علالت پر اپنے شديد رنج و غم كو ظاہر كيجئے _ان كو تسلى ديجئے _ ان كے آرام كا خيال ركھئے _ اگر ڈاكٹر يا دوا كى ضرورت ہو تو مہيا كيجئے _ جس غذا سے انھيں رغبت ہو اور ان كے لئے مناسب ہو فوراً تيار كيجئے _ باربار ان كى احوال پرسى كيجئے اور تسلى ديجئے _ ان كے پاس زيادہ سے زيادہ وقت گزارنے كى كوشش كيجئے _ اگر دردوتكليف كى شدت سے انھيں نيند نہ آرہى ہو تو آپ بھى كوشش كريں كہ ان كے ساتھ جاگتى رہيں _ اگر آپ كو نيند آگئي تو جب آنكھ كھلے تو ہلكے سے ان كا سر سہلا كے ديكھئے اگر بيدار ہيں تو ان كا حال پوچھئے اگر رات جاگ كر گزرى ہے تو صبح كو ناراضگى كا اظہار نہ كيجئے _ دن ميں ان كے كمرے ميں تنہائي اور خاموشى كا اہتمام ركھئے شايد كو نيند آجائے _ آپ كى ہمدردياں اور نوازشيں ان كى تكليف ميں تسكين كا سبب بنيں گى اور ان كے صحت ياب ہونے ميں معاون ثابت ہوں گى _ اس كے علاوہ اس قسم كے كام وفادارى ، صميميت اور سچى محبت كى نشانياں سمجھى جاتى ہيں اور اس كے نتيجہ ميں زندگى ميں لگن وحوصلہ پيدا ہوتاہے آپس ميں محبت ميں اضافہ ہوتا ہے _ اگر آپ بيمار ہوں گى تو يہى سلوك وہ آپ كے ساتھ كريں گے _


جى ہاں آپ كا يہ عمل ايك قسم كى شوہردارى ہے _ حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : عورت كا جہاد يہ ہے كہ شوہر كى نگہداشت اچھى طرح كرے _(۸۵)

راز كى حفاظت كيجئے _ عام طور پر خواتين كى خواہش ہوتى ہے كہ اپنے شوہر كے اسرار و رموز سے باخبر رہيں وہ چاہتى ہيں كہ كسب معاش كى كيفيت ، تنخواہ ، بينك ، بيلنس ، دفتر رموز اور اس كے مستقبل كے فيصلوں اور ارادوں سے مطلع رہيں مختصر كہ اپنے شوہر سے توقع ركھتى ہيں كہ اپنے تمام رازوں كو ان پر برملا كردے اور ان سے كچھ پوشيدہ نہ ركھے اس كے برعكس بہت سے مرد اس بات پر تيار نہيں كہ اپنے تمام رازوں كو اپنى بيويوں پر ظاہر كرديں _ اور كبھى كبھى يہى موضوع گرما گرمى اور بدگمانى كا سبب بن جاتا ہے بيوى شكاليت كرتى ہے كہ ميرے شوہر كو مجھ پر اعتبار نہيں اپنے رازوں كو مجھ سے مخفى ركھتا ہے اپنے خطوط مجھے پڑھنے نہيں ديتا _ اپنى آمدنى اور پس انداز كے بارے ميں نہيں بتاتا _ مجھ سے اپنے دل كا حال نہيں كہتا _ ميرے سوالوں كے جواب دينے ميں تامل كرتا ہے بلكہ كبھى كبھى جھوٹ بولتا ہے _ اتفاق سے بعض مرد بھى اپنى زندگى كے اسرار و رموز بيوى سے پوشيدہ ركھنا پسند نہيں كرتے ليكن ان كا عذر يہ ہوتا ہے كہ عورتوں كے پيٹ ميں كوئي بات نہيں سكتى _ وہ كسى بات كو پورى طرح پوشيدہ نہيں ركھ پاتيں _ ادھر كچھ سنا اور فوراً دوسروں سے كہديا _ كوئي بھى بہانے بہانے سے اسرار ورموز كو ان كے منھ سے اگلواسكتا ہے _ اور اس طرح خواہ مخواہ ان كے لئے مصيبت كھڑى ہوسكتى ہے _

اگر كوئي انسان كسى كے رازوں كو جاننا چاہے تو آسانى كے ساتھ اس كى بيوى كو فراب دے كر اس كے ذريعہ سے اپنا مقصد پورا كرسكتا ہے يہ بھى ممكن ہے بعض عورتيں رازوں سے واقف ہونے كے سبب اس سے سوء استفادہ كريں _ حتى كہ اس كو شوہر پر غلبہ حاصلہ كرنے كا وسيلہ قرار ديں اور تسكين نہ ہونے كى صورت ميں اس كى پريشانى كے اسباب فراہم كرديں _

البتہ مردوں كا يہ عذر كسى حد تك مدلل ہے _ عورتيں جلدى جذبات اور احساسات سے مغلوب ہوجاتى ہيں اور عام طور پر ان كے احساسات و جذبات ان كى عقل پر غالب آجاتے ہيں _ جب غصہ ميں ہوتى ہيں تو مروت برتنا ان كے لئے دشوار ہوجاتا ہے _ ايسے وقت ميں ممكن ہے رازوں كو جاننے كے سبب اس سے ناجائز فائدہ اٹھائيں اور مرد كے لئے مصيبت كھڑى كرديں _


قارئين گرامي اس قسم كے واقعات سے آپ خود بھى واقف ہوں گے _ لہذا عورت اگر چاہتى ہے كہ اس كا شوہر اس سے كوئي چيز پوشيدہ نہ ركھے تو اسے اس بات كا خيال ركھنا چاہئے كہ رازوں كى اس طرح حفاظت كريں اور محتاط رہيں كہ اپنے شوہر كى اجازت كے بغير كسى سے بھى اور كسى صورت ميں بھى كوئي بات نہ كريں _ حتى اپنے قريبى عزيزوں اور گہرے دوستوں سے بھى اپنے شوہر كے رازوں كو نہ كہيں _ راز كى حفاظت كے لئے يہ كافى نہيں كہ خود تو دوسروں يہ كہہ ديں اور اس سے كہيں كہ كسى سے نہ كہنا _ يقينا جس كو راز دار بنايا گيا ہے اس كے بھى كچھ دوست ہوں گے اور ممكن ہے وہ آپ كے راز اپنے دوستوں سے كہہ دے اور كہے كہ كسى اور سے نہ كہنا _ ايك وقت انسان متوجہ ہوتا ہے كہ اس كا راز فاش ہوگئے ہيں لہذا عقلمن انسان اپنے رازوں ميں كسى كو شريك كرنا ناپسند نہيں كرتا حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : عاقل انسان كا سينہ اس كے رازوں كا صندوق ہوتا ہے _(۸۶)

حضرت على عليہ السلام كا يہ ارشاد ہے كہ دنيا و آخرت كى خوبياں دوچيزوں ميں مضمر ہيں رازكى حفاظت كرنے اور اچھے لوگوں سے دوستى كرنے ميں _ اور تمام برائياں دو چيزوں ميں جمع ہوتى ہيں رازوں كو فاش كرنے اور بدكار لوگوں سے دوستى كرنے ميں _(۸۷)

شوہر كوخاندان كا سرپرست مانئے

ہر ادارے ، تنظيم ، كارخانے ، دفتر ، بلكہ ہر سماجى تنظيم كو ايك ذمہ دار سرپرست كى ضرورت ہوتى ہے _ خواہ اس ادارے كے افراد كے درميان تعاون اور ہم آہنگى پائي بھى جاتى ہوليكن سرپرست كے بغير ادارے كا انتظام بخوبى انجام نہيں پاسكتا _ ايك گھر كے نظام كو چلانا يقينا كسى بھى ادارے سے زيادہ دشوار اور قابل قدر ہے _ اور اس كے لئے ايك سرپرست كى زيادہ ضرورت ہے _

اس ميں كوئي شك نہيں كہ ايك خاندان كے افراد كے درميان آپس ميں مكمل مفاہمت ، تعاون اور ہم آہنگى پائي جانے چاہئے _ ليكن ايك مدبر اور عاقل سرپرست كا وجود بھى اس كے لئے ضرورى ہے جس گھر ميں ايك مدبر اور بااثر سرپرست نہيں ہوتا يقينى طور پر اس گھر ميں


نظم وضبط كا فقدان ہوتا ہے _ گھر كى سرپرستى يا تو مرد كے سپرد ہو اور عورت اس كى اطاعت كرے يا پھر عورت سرپرست ہو اور مرد اس كى فرمانبردارى كرے ليكن چونكہ يہ كام مرد زيادہ بہتر طريقے سے انجام دے سكتے ہيں كيونكہ ان كے جذبات پر ان كى عقل غالب نہيں آتى _ اسے لئے خداوند حكيم و دانا نے يہ بڑى ذمہ دارى مرد كے كندھے پر ڈالى ہے _ قرآن مجيد ميں خداوند عالم كا ارشاد ہے :_

''مرد عورتوں كے سرپرست ہيں ، كيونكہ خدا نے بعض افراد(مرد) كو بعض افراد (عورت)پربرترى عطا كى ہے _ اور چونكہ (مردوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ كيا ہے ، پس نيك عورتيں اپنے شوہروں كى فرماں بردار ہوتى ہيں''(۸۸)

اس بناء پر خاندان كى فلاح و بہبودى اسى ميں ہے كہ مرد كو خاندان كا سرپرست اوربزرگ كا درجہ ديا جائے اور سب اس كى رائے و مشورہ كے مطابق كام كريں ليكن اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ عورت كے مقام و عزت ميں كمى آجائے گى _ بلكہ گھر كے نظم و ضبط اور ترتيب و انتظام كے لئے يہ چيز لازم و ملزوم ہے _ اگر خواتين اپنے بيجا تعصب اور خام خيالات سے قطع تعلق كركے غور كريں تو ان كا ضمير بھى اس بات كو قبول كرے گا _

ايك خاتون كہتى ہے كہ ہمارے ايران ميں ايك بڑى اچھى رسم تھى جو افسوس كہ رفتہ رفتہ ختم ہوتى جارہى ہے _ رسم يہ تھى كہ ايرانى خاندان ميں مرد ہميشہ خاندان كا بزرگ و سرپرست مانا جاتا تھا _ ليكن اب گھر كى حالت متزلزل ہوتى جارہى ہے اور خاندان گھر كے سرپرست كے انتخاب ميں حيران و پريشان رہ گيا ہے _ ليكن بہتر ہے كہ آج كى عورت جس نے بہت سے سماجى مسائل ميں مرد كے برابر حق حاصل كرليا ہے ، گھر ميں مرد كو سرپرست كى حيثيت سے تسليم كرے _

جب لڑكى كى شادى ہو تو اسے اس قديمى نصيحت كو ياددلانا چاہئے كہ ''عروسى كو جوڑا پہن كر شوہر كے گھر ميں داخل ہوئي ہو اب كفن پہن كرہى اس گھر سے نكلنا''(۸۹)

البتہ مرد كے روزمرہ كے مشاغل اورزندگى كى فكريں عموماً اسے اجازت نہيں ديتيں كہ گھر كے


تمام امور ميں دخل دے _ در حقيقت كہا جا سكتا ہے كہ كاموں كاايك حصہ عملى طور پر خاتون خانہ كے سپرد ہوتاہے اور زيادہ تر كام اسى كے ارادے اور مرضى كے مطابق انجام پاتے ہيں ليكن ہر حال ميں مرد كے حق حاكميت اور سرپرستى كا احترام كرنا چاہئے _ اگر كسى بات ميں وہ اپنى رائے ظاہر كرے اور دخل اندازى كرے خواہ خانہ دارى كے جزوں مسائل ہى كيوں نہ ہوں تو اس كى رائے اور تجويز كو رد نہيں كرنا چاہئے كيونكہ يہ چيز اس كے حق حاكميت سے انكار كے مترادف ہوگى اور چونكہ اس بات سے اس كى شخصيت مجروح ہوگى اس لئے اپنے آپ كو شكست خوردہ اور اپنى بيوى كو بے ادب ، حق ناشناس ، اور ضدى خيال كرے گا _ زندگى سے اس كى دلچسپى كم ہوجائے گى اور اپنى بيوى كى جانب سے اس كے دل ميں لا تعلقى پيدا ہوجائے گى _ چونكہ اس كى شخصيت مجروح ہوئي ہے ممكن ہے اس كى تلافى اور انتقام كى فكرميں رہے _ حتى كہ اپنى بيوى كے معقول اور مناسب مطالبات كے مقابلے ميں بھى سختى سے كام لے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد گرامى ہے :'' اچھى عورت اپنے شوہر كى بات پر توجہ ديتى ہے _ اور اس كے كہنے كے مطابق عمل كرتى ہے '' _(۹۰) ايك عورت نے رسول خدا (ص) سے پوچھا كہ بيوى پر شوہر كے كيا فرائض عائد ہوتى ہيں _ فرمايا: اس كى اطاعت كرے اور اس كے حكم كى خلاف ورزى نہ كرے'' _(۹۱)

پيغمبر اسلام (ص) كا يہ بھى ارشاد گرامى ہے كہ ''بدترين عورتيں ، ضدى اور ہئيلى عورتيں ہيں''(۹۲)

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :'' بدترين عورتيں وہ ہيں جو بانجھ ، گندى ، ضدى اور نافرمان ہوں''(۹۳)

خواہر گرامى اپنے شوہر كو خاندان كے بزرگ اور سرپرست كى حيثيت ديجئے _ ان كى رائے و مشورہ كے مطابق كا انجام ديجئے _ ان كے احكام كى خلاف ورزى نہ كيجئے اگر كسى كام ميں مداخلت كريں تو اس كے مقابلے ميں سختى نہ دكھايئے خواہ امور خانہ دارى ہى ميں كيوں نہ دخل دے _ حالانكہ اس معاملہ ميں آپ زيادہ بہتر جانتى ہيں _عملى طور پر اپنے شوہر كے اختيارات كو سلب نہ كيجئے اگر كبھى كاموں ميں دخل اندازى كرتا ہے اور اپنى بزرگى جتا كر خوش ہوتا ہے تو اسے


خوش ہولينے ديجئے _ اپنے بچوں پر اپنے عمل كے ذريعہ واضح كيجئے كہ وہ خاندان كا سرپرست ہے _ اور انھيں بتاتى رہئے كہ كاموں ميں اپنے باپ سے اجازت ليں اور اس كے حكم كى خلاف ورزى نہ كريں _ بچپن سے ہى انھيں اس بات كى عادت ڈالوايئےا كہ فرمانبردار ، مہذب و باادب بنيں اور بات سننا سيكھيں اور آپكى اور آپ كے شوہر كى عزّت كريں _

سختيوں كو جھيلنا سيكھئے

دنيا ميں ہر ايك كے حالات ہميشہ ايك سے نہيں رہتے _ انسان كى زندگى ميں ہزاروں نشى و فراز آتے ہيں _ كبھى انسان كسى شديد مرض ميں مبتلا ہوجاتا ہے _ كبھى بے روزگار ہوكر گھر بيٹھ رہتا ہے _ كبھى ايسا ہوتا ہے كہ سارامال و متاع لٹ جاتاہے اور تہى دست ہوجاتا ہے_ غرض كہ انواع و اقسام كے حادثات اورپريشانياں ہر انسان كى زندگى ميں وقوع پذير ہوتى رہتى ہيں _

مياں بيوى ، جو رشتہ ازدواج ميں منسلك ہوكر ايك دوسرے كاساستھ نبھانے كا عہد كرتے ہيں ، اس رشتہ كا تقاضہ ہے كہ ہر حال ميں ايك دوسرے كے يارومددگار اور مونس و غمخوار رہيں

رشتہ ازدواج اس قدر استوار اور محبت كا رشتہ اس قدر مستحكم ہونا چاہئے كہ ہر حال ميں اپنے عہد و پيمان پر باقى رہيں ، خوشى و غم ہر حال ميں ساتھ رہيں س_ سلامتى اور بيمارى ، خوشحالى اور تنگ دستى ہر حال ميں ايك دوسرے كا ساتھ ديں _

خواہر عزيز اگر گردش روزگار سے آپ كے شوہر تہى دست ہوجائيں تو ايسا ہرگز نہ كريں كہ خود رنجيدہ ہوكر اس كے غموں ميں اضافہ كريں اور اعتراض و شكايتيں كرنے لگيں اگر شديد بيمارى ميں مبتلا ہوكر ايك مدت تك گھر بيٹھ رہا يا اسپتال ميں بھرتى ہوگيا تو وفادارى اور انسانيت كا تقاضہ يہ ہے كہ پہلے ہى كى طرح بلكہ پہلے سے بھى زيادہ اس سے محبت كا اظہار كريں اور نہايت صدق دلى سے اس كى تيماردارى كريں _ايسے موقع پر تيماردارى اور خرچ كرنے سے دريغ نہ كريں _اگر آپ كے شوہر كے پاس نہيں ہے ليكن آپ كے پاس ہے تواپنے مال ميں سے اس كے علاج كے لئے خرچ كيجئے _


اگر آپ بيمار پڑجاتى ہيں تو وہ اپنے امكان بھر اپنے مال كو آپ كے علاج و معالجہ پر صرف كرتا ہے _اب اگر اس كے پاس نہيں ہے ليكن آپ پاس ہے تو وفادارى اور خلوص كا تقاضہ ہے كہ اپنے مال و متاع كو اس كے لئے خرچ كيجئے _ اگر اس حسّاس موقع پر آپ نے ذرا بھى كوتاہى كى تو وہ آپ كو ايك بے وفا اور خود غرض عورت سمجھے گا جو مال دنيا كو اپنے شوہر كے وجود پر ترجيح ديتى ہے ايسى صورت ميں اس كے دل ميں آپ كى محبت و الفت كم ہوجائے گى _ حتى كہ ممكن ہے اس قدر بيزار ہوجائے كہ آپ شريك حيات اور بيوى بنانے كے لائق نہ سمجھے اور طلاق كو ترجيح دے _

ذيل كے واقعہ پر غور كيجئے :_

ايك شخص نے عدالت ميں بيوى كو طلاق دينے كى درخواست دى _ اس نے اپنے بيان ميں كہا كہ ميں بيمار تھا اورڈاكٹر نے آپريش كرانے كے لئے كہا تھا ميں نے اپنى بيوى سے كہا كہ تمہارے پاس جو رقم جمع ہے وہ مجھے قرض كے طور پر ديدو ليكن وہ تيار نہيں ہوئي اور جھگڑكر ميرے گھر سے چلى گئي _ مجبوراً مجھے ايك سركار اسپتال ميں اپنا آپريشن كرانا پڑا اوراب ميں صحت ياب ہوگيا ہوں _ ليكن ايسى عورت كے ساتھ زندگى گزارنا ميرے لئے محال ہے جو روپيہ كو مجھ پر فوقيت ديتى ہو _ ايسى عورت كو ميں شريك زندگى كانام نہيں دے سكتا _ ''(۹۴) '' _

ہر انسان كا ضمير اس بات كى تصديق كرے گا كہ يہ شخص حق بجانب تھا _ ايسى خود غرض عورت جو ايك ايسے حساس اور نازك موقع پر جبكہ اس كے شوہر كى جان خطرہ ميں پڑى ہو اور اپنے شوہر كو بچانے كے لئے اپنى جمع رقم خرچ كرنے سے دريغ كرے اور ايسى حالت ميں اسے چھوڑ كر اپنے ميكے چلى جائے واقعى ''شريك حيات'' جيسے قابل احترام مرتبہ كى مستحق نہيں ہے _

پيارى بہنو آپ اس بات كا دھيان ركھيں كہ ايسے حساس موقعوں پر انسانيت اور خلوص و ہمدردى كا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑيں _ اگر آپ كے شوہر ( خدانخواستہ ) دائمى طور پر بيماررہنے لگے


ہيں تو ايسا ہرگز نہ كيجئے گا كہ اس كو اور بچوں كو تنہا و بے سرپرست چھوڑكر چلى جائيں _ كيا آپ كا ضمير اس بات كو گوارا كرے گا كہ شوہر بيچارہ جس كے ساتھ خوشى كے دنوں ميں تو آپ ساتھ تھيں ، اب مجبور و لاچار پڑاہے تو اس كا ساتھ چھوڑ كر چلى جائيں _ كہيں ايسا نہ ہو كہ خو د آپ بھى اسى لا ميں گرفتار ہوجائيں فرض كيجئے آپ نے طلاق لے لى اور دوسرى شادى بھى كرلى تو كيا خبر كہ وہ آپ كے حق ميں اچھا ہوگا خود غرضى اور ہوش بازى چھوڑيئے ايثار و قربانى سے كام ليجئے _ جذبات و احساسات سے مملو رہئے _ رضائے خدا اور اپنى عزت و ناموس كا پاس كيجئے _ اور اپنے شوہر اور بچوں كا ہر حال ميں ساتھ ديجئے _صبر و بردبارى سے كام ليجئے _ اپنے بچوں كى اچھى طرح تربيت كيجئے اور عملى طور پر انھيں ہر حال ميں خوش رہنے اور ايثار و قربانى كرنے كاسبق سكھايئے يقينا اس كے عوض آپ كو دنيا و آخرت ميں بہترين اجر ملے گا كيونكہ آپ كا يہ عمل عين شوہردارى ،كے مصداق ہے كہ جسے جہاد سے تعبير كيا گيا ہے _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كا ارشاد گرامى ہے _

عورت كا جہاد يہى ہے كہ اپنے شوہر كى اچھى طرح ديكھ بھال كرے '' _(۹۵)

لڑائي جھگڑانہ كيجئے

بعض عورتيں ايسى ہوتى ہيں كہ جب اپنے شوہر سے ناراض ہوجاتى ہيں تو بات چيت كرنا بند كرديتى ہيں _ منھ پھلائے ہوئے ، تيورياں چڑھى ہوئي _ ايك كونے ميں بيٹھى ، كسى كام ميں ہاتھ نہيں لگا رہى ہيں ، كھانا نہيں كھارہى ہيں بچوں پر غصہ اتارہى ہيں _ شوروہنگامہ كررہى ہيں _ ان كے خيال ميں لڑائي جھگڑا بہترين وسيلہ ہے جس كے ذريعہ شوہر سے انتفام ليا جا سكتا ہے _ ليكن ان طريقوں سے نہ صر يہ كہ شوہر كى تنبيہ نہيں كى جا سكتى بلكہ اس كے برے نتائج بر آمد ہونے كا بھى امكان ہے _ ممكن ہے شوہر بھى اور زيادہ غصّہ دكھائے اور ايسى صورت ميں كئي دن تك آپ كا گھر لڑائي جھگڑے كا ميدان بنارہے گا _ آپ چيخيں جلائيں گى و ہ بھى چيخے چلائے گا _ آپ بر ا بھلاكہيں گى وہ بھى برا بھلا كہے گا _ آپ بات چيت نہيں كريں گى وہ بھى بات كرنا بند كردے گا _ يہاں تك تھك ہا ركر


اپنے كسى دوست يا رشتہ دارى كى وساطت سے كسى بہانے سے صلح كريں گى ليكن يہ آپ كى آخرى لڑائي نہيں ہوگى بلكہ زيادہ وقت نہيں گزرنے گا كہ پھتر يہى سلسلہ شروع ہوجائے گا _ يعنى سارى زندگى اسى طرح لڑائي جھگڑے اور كشمكش ميں گزرے گى اور اس طرح خود آپ اپنى بدبختى كے اسباب فراہم كريں گى اور اپنے معصوم بچوں كى زندگيوں كو بھى عذاب ميں مبتلا كريں گى _ اكثر بچے جو اپنے گھر وں سے بھاگ جاتے ہيں اور طرح طرح كى برائيوں ميں گرفتار ہوجاتے ہيں ايسے ہى خاندانوں كے بچے ہوتے ہيں _

مثال كے لئے ذيل كے سچے واقعات پر توجہ كيجئے _

ايك لڑكے نے بتايا كہ ميرے ماں باپ ہر روز لڑتے ہيں اور ان ميں سے كوئي ايك اپنے كسى رشتہ دار كے يہاں ناراض ہوكر چلا جاتا ہے _ ميں ناچار گلى كوچوں ميں حيران و پريشان پھرتا ہوں _ دھيرے دھيرے دوسروں كے دھوكے ميں آگيا اور ميں نے چورى كرلى _(۹۶)

ايك دس سالہ لڑكى نے سوشل وركروں كو بتايا كہ ''مجھے'' ٹھيك سے تو ياد نہيں البتہ اتنا يا ہے كہ ايك رات ميرے ماں باپ ميں خوب جنگ ہوئي _ دوسرے دن ميرى ماں كہيں چلى گئي _ اورچنددن ميرے باپ نے مجھے ميرى پھوپھى كے سپرد كرديا _ كچھ مدت ميں اپنى پھوپھى كے پاس رہى پھر اس نے مجھے ايك بڑھيا كے حوالے كرديا جو مجھے تہران لے آئي _ چند سال سے ميں اس كے پاس ہوں يہاں ميں نے اس قدر اہميتى يہى ہيں كہ اب ميں اس كے گھر جانا نہيں چاہتى اس كے اسكول كى ٹيچرنے بتايا كہ ہميشہ كى مانند اس سال جب اسكول كھلے اور نئے بچوں كے داخل ہوئے تو ان ميں يہ لڑكى بھى تھى _ پڑھائي شروع ہو چكى تھى اور بچے اپنى اپنى كلاسوں ميں تعليم ميں مشغول تھے ليكن يہ بچى كلاس ميں بچپن رہتى _ نہ ٹھيك سے سبق بڑھ پاقى ہميشہ بيماروں كى طرح اپنے سركوہاتھوں ميں لئے كچھ سوچا كرتى _ چند روز قبل ميں ميں نے چھٹى كے بعد اسے صحن كے كونے ميں بيٹھے ديكھا _ ميں نے اس سے ّہت كہا كہ گھر جاؤ مگر راضى نہ ہوتى تھى _ پرسوں پھر ايسا ہى ہوا _ميں نے پيارسے بہلا كے گھر نہ جانے كا سبب پوچھا تو اس نے بتايا كہ ايك بڑھيا ميرى نگہداشت كرتى ہے اور مجھ كو بہت ستاتى ہے _ گھر واپس جانا نہيں چاہتى ميں نے پوچھا كہ تمہارے


ماں باپ كہاں ہيں ، يہ سن كر رونے لگى پھر بولى كہ وہ دونوں الگ ہوگئے ہيں اور ميں اس بڑھيا كے رحم كرم پر ہوں _(۹۷)

ممك ہے آپ كا شوہر آپ كے غصہ كے مقابلے ميں زيادہ شديد رد عمل دكھائے _ برا بھلا كہے ماردے پيٹے اس وقت آپ مجبور ہوں گى كہ غصہ ہوكر ميكے چل جائيں اور ماں باپ شكايت كريں _ اور ان كے دخل دينے سے معاملات اور زيادہ بگڑ جائيں _ ممكن ہے ان لڑائي جھگڑوں سے آپ كے شوہر اتنا اكتا جائيں كہ اس بہيودہ زندگى پر عليحدگى كو ترجيح ديں _ ايسى صورت ميں آپ اپنے شوہر كى زندگى بھى بربادكريں گى اور خود اپنى بھى ليكن زيادہ گھاٹے ميں رہيں گى _ يا تو سارى عمر تنہا زندگى گزارنے پڑے گى اور ماں باپ كے سرپڑى رہيں گى _ يقينا بعد ميں آپ پچھتائيں گى ليكن اب يہ پچھتا دابے سودہوگا _

ايك عورت نے بتايا كہ ميں نے ايك نوجوان سے شادى كى ليكن ہمارى ازدواجى زندگى پائيدار ثابت نہ ہوئي ، نہ ميں ہى شوہر دارى كے ڈھنگ سے واقف تھى اور نہ ہى وہ شادى شدہ زندگى كے طور طريقوں سے آشنا تھا _ ہمارے درميان دائمى طور پر جنگ رہتى _ ايك ہفتہ ميں روٹھى رہتى دوسرے ہفتے وہ روٹھ جاتا _ صرف چھٹى كے دنوں ميں ہمارے رشتہ دار ہمارے درميان صلح كراتے _ ان روز روز كے لڑائي جھگڑوں سے ميرى شوہر كا دل اچاٹ ہوگيا اور رفتہ رفتہ وہ دوسرى شادى كے بارے ميں سوچنے لگا _ كم عمرى كے سبب ميں نے بھى اس بات كو كوئي اہميت نہ دى اور اپنى اصلاح كرنے كے لئے تيار نہ ہوئي _ ہم عليحدہ ہوگئے _ ميں ايك كمرہ كرايہ پرلے كروہاں تنہا رہنے لگى _ ليكن جلدى ہى خطرات سے آگاہى ہوگئي _ جن لوگوں سے ميں آشنا ہوئي ان ميں سے اكثر ميرے حالات سے فائدہ اٹھانے كے چكر ميں تھے_ آخر كار ميں نے ارادہ كيا كہ اپنے شوہر سے صلح كرتوں_ اس كے گھر پہونچى وہاں ايك خاتون سے ملاقات ہوئي اس نے بتايا كہ وہ اس كى بيوى ہے _ ميں ناچارروتى ہوئي اپنے كمرے پر واپس آگئي''_(۹۸)

ايك بائيس سالہ خاتون جس كا ايك بچہ بھى تھا طلاق لے كر اپنے باب كے گھر آگئي _ اپنى بہن كي


شب عروسى كے موقع پر اس نے خودكشى كرلى '' _(۹۹)

لہذا يہ لڑائي جھگڑے نہ صرف يہ كہ كسى درد كى دوا نہيں بن سكتے ہيں بلكہ مزيد پريشانيوں اور مصيبتوں كا سبب بن سكتے ہيں _

پيارى بہنو لڑائي جھگڑے سے اجتناب كيجئے _ اگر شوہر كى كسى بات سے آپ لے ، حد غصہ ہوگئي ہيں تو ذرا صبر سے كام ليجئے _ اور جب آپ كے حواس ٹھكانے آجائيں _ اس كے بعد نرمى اور ملائمت سے اپنى ناراضگى كى وجہ اپنے شوہر سے بيان كيجئے ليكن اعتراض كى شكل ميں نہيں بلكہ اچھے لب و لہجہ ميں كہيئے مثلاً آپ نے فلاں محفل ميں ميرى توہين كى تھى _ يا فلاں بات مجھ سے كہى تھى _ يا ميرى فلاں بات نہيں مانى ، كيا يہ مناسب ہے كہ آپ ميرى نسبت ايسى باتيں كريں؟ اس قسم كى گفتگو سے آپ كا مسئلہ حل ہوجائے گا اور آپ كے شوہر كى بھى تنبيہ ہوجائے گى يقينا وہ تلافى كرنے كى فكر كرے گا _ آپ كو ايك وفادار خوش اخلاق اورنيك و لائق خاتون كى حيثيت سے پہچانے گا اور يہى حساس اس كے اخلاق كردار اور طرز عمل پر اچھا اثر ڈالے گا _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں: اگر دو مسلمان آپس ميں بات چيت بندكرديں اور تين دن تك صلح نہ كرليں تواسلام سے خارج ہوجائيں گے _ ان ميں سے جو صلح كرنے ميں پيش قدمى كرے گا قيامت ميں وہ پہلے بہشت ميں جائے گا _(۱۰۰)

اگر غصہ ميں ہو تو خاموش رہئے

گھر سے باہر مرد كو گوناگوں مشكلات اور پريشانيوں كا سامنا كرنا پڑتا ہے مختلف قسم كے افراد سے سابقہ رہتا ہے _ جب انسان تھكا ماندہ گھر آتا ہے تو اكثر اسے معمولى بات بھى ناگوار ہوتى ہے اور اسے غصہ آجاتا ہے ايسى حالت ميں ممكن ہے اپنے آپے سے باہر ہوجائے اور بيوى بچوں كى توہين كردے _ ہوشيار اور سمجھدار عورتيں اپنے شوہر كى مشكلات اور پريشانيوں كومد نظر ركھتے ہوئے اس كے حال زار پر رحم كھاتى ہيں _ اس كو غصہ ميں ديكھ كر صبر و سكون سے كام ليتى ہيں


اور اس كى چيخ پكار پر خاموش رہتى ہيں _ جب مرد بيوى كا ناخوشگوار رد عمل نہيں ديكھتا اس كا غصہ جلدى ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور اپنے كئے پرپشيمان ہوتا ہے بلكہ عذر خواہى كرتاا ہے اور اس كى تلافى كى فكر ميں رہتا ہے _ كچھ دير بعد جب غصہ رفع ہوجاتا ہے تو مياں بيوى پہلى حالت پر لوٹ آتے ہيں اور اسى سابق مہر و محبت بلكہ اس سے بھى زيادہ اچھى طرح زندگى گزارنے لگتے ہيں _ ليكن اگر بيوى اپنے شوہر كى حساس حالت اور خطرناك صورت حال كو درك نہيں كرنى اور اس كے غصہ كے مقابلے ميں اپنا رد عمل ركھاتے ہے اس كا جواب ديتى ہے چيختى چلاتى ہے ، برا بھلا كہتى ہے تو ايسى صورت ميں مرد كے غصّہ كى آگ بھڑاك ٹھتى ہے اور وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے چيخنا چلانا اور گالم گلوج شروع كرديتا ہے اور رفتہ رفتہ مياں بيوى دو وحشى بھيڑيوں كى طرح ايك دوسرے كى جان كے درپے ہوجاتے ہيں _

كبھى كبھى ايك معمولى سى بات، عليحدگى اور طلاق كا باعث بن جاتى ہے اور خاندان كا شيرازہ بكھر جاتا ہے _ اكثر طلاقيں ايسى ہى معمولى باتوں كے نتيجہ ميں وقوع ميں آتى ہيں _ حتى كہ بعض اوقات غم و غصہ كى شدت سے ، جو كہ خود ايك قسم كا جنون ہے ، آتش فشان پہاڑ كى مانند پھٹ پڑتا ہے اور ظلم و ستم اور بہيمانہ قتل كا جرم سرزد ہوجاتا ہے _ اس سلسلے ميں ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے_

ايك شخص نے اپنے آپ كو ، اپنى بيوى اور سوتيلى لڑكى كوگولى ماركر ہلاك كرديا _ شادى كے بعد شروع سے ہى ان مياں بيوى كے درميان ناچاقى پيدا ہوگئي تھى ان كے درميان عدم ہم آہنگى كے سبب ہر روز صبح و شام كو آپس ميں لڑنا جھگڑنا ان كا معمول بن گيا تھا _ اس دن بھى شوہر جو كام سے تھكاہارا گھر آيا تھا غصہ ميں تھا، كسى بات پر دونوں ميں تكرار شروع ہوئي _ مرد نے اپنى بيوى كو مارا پيٹا ، بيوى چاہتى تھى كہ پوليس ميں جاكر خبر كردے كہ مرد نے خود اپنے اور اپنے بيوى اور سوتيل لڑكى كو گولى ماركر كام تمام كرديا _(۱۰۱)

كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ ايسے حالات ميں بيوى موقع كى نزاكت اور حساسيت كو محسوس كركے چند لمحہ صبر و سكون سے كام لے اور اپنا رد عمل ظاہر نہ كرے اور اپنے اس عمل كے ذريعہ رشتہ ازدواج كو ٹوٹنے اور قتل و غارت گرى كے احتمال خطرے كى روك تھام كرلے _ آيا چند لمحے خاموشى اختيار كرلينا زيادہ


مشكل كام ہے يا ان تمام تلخ واقعات و حادثات كا سامنا كرنا؟ يہ خيال نہ كريں كہ اس سے ہمارا مقصد مرد كا دفاع كرنا اور اس كے بے قصور ٹھرانا ہے _ جى نہيں ہمارا بالكل يہ مقصد نہيں ہے _ اس ميں مرد بھى قصور وار ہے _ دوسروں كا غصہ اپنے گھر والوں پر نہيں اتارنا چاہئے _ كتاب كے دوسرے حصے ميں اس موضوع پر تفصيلى بحث كى جائے گى _ بلكہ ہمارا مقصد صرف يہ ہے كہ اب جبكہ ايسى صورت حال پيدا ہوگئي ہے كہ مرد كو اپنے آپ پر كنٹرول نہيں رہا اور بلا وجہ يا كسى سبب سے طيش ميں آگيا ہے تو اس كى بيوى كو چاہئے كہ عقل و فراست سے كام لے كر حالات كى نزاكت كا اندازہ كرے اور ازدواجى زندگى كے مقدس بندھن كو ٹوٹنے اور احتمالى خطرات سے بچنے كے لئے ايثار اور صبر سے كام لے كر سكوت اختيار كرے _

عام طور پر خواتين يہ خيال كرتى ہيں كہ اگر ميں نے اپنے شوہر كے غصہ كے مقابلہ ميں خاموشى اختيار كى تو ميرى حيثيت ووقار ميں كمى آجائے گى اور ذليل و خوار ہوجاؤں گى _ حالانكہ معاملہ اس كے بالكل برعكس ہے اگر مرد غصہ كى حالت ميں اپنى بيوى كى توہين كرتا ہے اور برا بھلا كہتا ہے اور بيوى اس كى باتوں كا جواب نہيں ديتى تو بعدميں (اگر اس ميں انسانيت ہے تو ) يقينا وہ شرمندہ و پشيمان ہوگا _ اس كے سكوت كو ايك قسم كا ايثار اور ادب تصور كرے گا اور اس كى محبت ميںگئي گنا اضافہ ہوجائے گا اور جب اس كا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور اپنى اصلى حالت ميں آجائے گا تو سوچے گا كہ ميں نے اپنى بيوى كى توہين كى حالانكہ وہ بھى اس كا جواب دے سكتى تھى ليكن اس نے بردبارى سے كام ليا اور خاموش رہى اس سے اندازہ ہوتا ہے كہ عقلمنداور موقع شناس خاتون ہے اور مجھ سے محبت كرتى ہے ايسى صورت ميں يقينا اپنے فعل پر نادم ہوگا اور اگر بيوى كو قصور وار سمجھتا ہے تو اس كو معاف كردے گا اور اگر بلاوجہ ہى غصہ ہوگيا تھاتو اس كا ضميراس كو ملامت كرے گا _ اور بيوى سے معذرت خواہى كرے گا پس ايسى فداكار خاتون اپنے اس دانشمندانہ عمل كے ذريعہ نہ صرف يہ كہ چھوٹى نہيں ہوجائے گى بلكہ اس كے شوہر اور دوسروں كى نظر وں ميں اس كى عزت ووقار بڑھ جائے گا _

رسول صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : جو عورت اپنے شوہر كى بداخلاقيوں كے مقابلے


ميں صبر و بردبارى سے كام ليتى ہے ، خداوند عالم اس كو حضرت آسيہ جيسا ثواب عطا كرے گا ''_(۱۰۲)

آنحضرت كا يہ بھى ارشادگرامى ہے كہ '' تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے كہ جب اپنے شوہر كو خشمگين ديكھے تو كہے ميں تمہارى خواہشات كے سامنے سر جھكاتى ہوں جب تك تم راضى نہ ہوجاؤ گے ميرى آنكھوں سے نيند كو سوں دوررہے گى ''_(۱۰۳)

ايك اور موقعہ پر آپ فرماتے ہيں '' عفو و درگذر ، انسان كى عزت و بزرگى ميں اضافہ كرتاہے ، معاف كرنے كى عادت ڈالوتا كہ خدا تم كو عزيز ركھے ''_(۱۰۴)

مردوں كے پسنديدہ مشغلے

بعض مردوں كے گھر ميں كچھ خاص مشغلے اور ہابى ہوتى ہيں _ مثلاً طرح طرح كے ٹكٹ جمع كرنا ، مختلف قسم كى تصويريں جمع كرنا ، آٹوگراف لينا _ مطبوعہ يا قلمى كتابيں جمع كرنا _ كسى كو چڑياں ، بلبل، طوطے و غيرہ پالنے كا شوق ہوتا _ كسى كو فنكارى اور پينٹنگ و غيرہ سے دلچسپى ہوتى ہے _ كسى كو كتابيں اور رسالے پڑھنے كا شوق ہوتا ہے _ غرضكہ اس قسم كى سرگرميوں كو بہترين او رمفيد تفريحات ميں شماركرنا چاہئے _ نہ صرف يہ كہ ان ميں كوئي نقصان نہيں ہے بلكہ اس كے فوائد بھى ميں _ اس قسم كے مشاغل كے سبب چونكہ مرد كا زيادہ وقت گھر ميں گزرتا ہے اس لئے كے دل ميں گھر سے انسيت پيدا ہوتيہے جسمانى تھكن اور ذہنى تفكرات برطرف ہوجاتى ہيں بيكارى اور فرصت غم و غصہ پيدا كرتے ہيں اور كام ميں مشغوليت ، ذہنى مريضوں كے علاج كا ايك طريقہ سمجھا گيا ہے جو لوگ ہميشہ كسى كام ميں مشغول رہتے ہيں وہ جسمانى اور نفسياتى بيماريوں ميں بہت كم مبتلا ہوتے ہيں چونكہ انھيں گھر سے دلچسپى ہوتى ہے اور كسى نہ كسى كام مشغول رہتے ہيں اس لئے سڑكوں پر آوارہ گھومنے ، برى حركتوں ميں ملوث ہونے اور فتنہ و فساد كے اڈوں ميں قدم ركھتے سے كسى حد تك محفوظ رہتے ہيں _

اس بناء پر خواتين كو چاہئے كہ اس قسم كے مشاغل كو اچھى نظر سے ديكھيں اور مرد كي بے عزتى نہ كريں اور اس كا مذاق نہ اڑائيں _ اس كے كاموں كو احمقانہ اور بے فائدہ نہ سمجھيں بلكہ اس كى ہمت افزائي كريں اور وقت پڑنے پر اس كى مدد كريں _


خانہ داري

''گھر'' يوں تو ايك چھوٹى سى چہار ديوارى كا نام ہے ليكن يہ ايك بہت بڑى نعمت ہے اور اس كے فوائد نہايت گرانقدر اور بے شمار ہيں _ جس وقت انسان روزمرہ كے كامويں اور باہر كے شور وغل سے تھك جاتا ہے تو پناہ لينے كى غرض سے گھر آتاہے جس وقت زندگى كے نشيب و فراز اور كشمكش حيات سے گھبرا جاتا ہے تو آرام كرنے كے لئے گھر آتاہے ، حتى كہ جب سير و تفريح سے بھى تھك جاتا ہے تو يہيں پر آكر پناہ ليتا ہے _ جى ہاں گھر، بہترين پناہ گاہ ہے كہ جہاں انسان بغير كسى قيد و بند كے اطمينان كے ساتھ آرام كرتاہے _ يہ انس و محبت ، صدق و صفا اور سكون و آرام كا مركز ہوتا ہے، نيك اور بافضيلت مردوں اور عورتوں كى پرورش گا ہ ہے _ بچوں كى تعليم و تربيت كا مركز اور ان كى شخصيت و كردار كى تعمير گاہ ہے _ ايك ايسا چھوٹا سا معاشرہ ہے جس كے ذريعہ انسانوں كا بہت بڑا معاشرہ تشكيل پاتا ہے _

بڑے معاشرے كى ترقى و تنزلى ، اچھائي و برائي سب كچھ اسى چھوٹے سے معاشرہ سے مربوط ہے يہ چھوٹا سا خاندانى معاشرہ ، اگر چہ بڑے معاشرے كا ہى ايك جزو شمار ہوتا ہے تا ہم كسى حد تك ذاتى آزادى اور استقلال سے بہرہ مند ہے اسى لئے يہ كہنا بالكل درست ہے كہ سماج كى اصلاح كرنى ہو تو اس كى شروعات خاندانوں كى اصلاح سے كرنى چاہئے _

زندگى اس اہم بنياد اور سماج كى اس عظيم تعليم و تربيت گاہ كے نظم و نسق كى ذمہ دارى عورتوں پرہے _ يعنى سماج كى ترقى و تنزلى اور اچھائي و برائي كا دارو مدار عورتوں كے ارادہ و اختيار ميں ہے _ اسى بناء پر خانہ دارى كو نہايت قابل فخر اور باعزت شغل يا پيشہ كہا جاتا ہے _ ''جو لوگ گھر كے ماحول بے وقعت سمجھتے ہيں اور خانہ دارى كے شريفانہ كام كو اپنے لئے


عار سمجھتے ہيں در اصل ان لوگوں نے خانہ دارى كے حقيقى معنوں اور اس كى اعلى قدر و قيمت اور اہميت كا اندازہ نہيں لگايا ہے _

ايك خانہ دار خاتوں كو فخر كرنا چاہئے كہ اس كو ايك انتہائي اہم اور حساس عہدہ سونپا گيا ہے اور وہ اپنى قوم و ملت كى ترقى و خوشحالى كے لئے ايثار و قربانى كرتى ہے _ تعليم يافتہ خواتين كى اس سلسلے ميں اور زيادہ ذمہ دارى ہے ان كو چاہئے كہ دوسروں كے لئے نمونہ ثابت ہوں اور دوسرے عملى طور پر ان سے خانہ دارى اور شوہر دارى كا سبق سيكھيں _ انھيں چاہئے كہ عملى طور پر ثابت كريں كہ تعليم يافتہ ہونے سے نہ صرف يہ كہ خانہ دارى اور شوہر دارى كے كاموں پر كوئي اثر نہيں پڑتا بلكہ تعليم تو زندگى كے آداب اور طور طريقے سكھاتے ہے _

ايك پڑھى لكھى خاتون كو چاہئے كہ امور زندگى كو بہترين طريقے سے انجام دے اور خانہ دارى كے باعزت شغل كو اپنے لئے باعث افتخار سمجھے اور اپنے طرز علم سے پڑھى لكھى خواتين كى لياقت و برترى كو ثابت كرے _ نہ كہ پڑھے لكھے ہونے كا عذر كركے كسى كام ميں ہاتھ نہ لگائے اور اس طرح پڑھى لكھى خواتين كو بدنام كرے _ تعليم حاصل كرنے كا مطلب ، بے كار گھومنا اور ذمہ داريوں سے پہلو تہى كرنا نہيں بلكہ اپنى ذمہ داريوں كو بہتر طريقے سے انجام دينا اور ايك مدبر اور سليقہ مند خاتون خانہ كى مثال قائم كرنا ہے _ اس سلسلے ميں ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے_

ايك شخص جس نے ايك انٹر پاس لڑكى سے شادى كى تھى ، عدالت ميں كہا كہ ميرى بيوى گھر كے كسى كام ميں ہاتھ نہيں لگاتى اور جب ميں اعتراض كرتا ہوں توكہتى ہے ،'' برتن دھونا، كھانا پكانا پكڑے دھونا اور بچے پالنا ايك انٹر پاس عورت كا كام نہيں ہے اگر تمہيں ميرے طور طريقے پسند نہيں ہيں تومجھ كو طلاق دے دو اور ايك نوكرانى سے شادى كرلو''_ پرسوں رات كو ميں نے اپنى انٹر پاس بيوى كے رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں كو كھانے كى دعوت دى _ كھانے كے وقت ميں نے دستر خوان بچھايا اور اپنى بيوى كے فريم كئے ہوئے سرٹيفيكٹ كو دستر خوان پر


سجاديا اور كہا: معاف كيجئے ، وہى كھانا حاضر ہے جو ہرروز حقير كى بيگم بندہ كو كھانے كے لئے ديتى ہے ميں نے مصلحت اسى ميں سمجھى كہ آپ بھى اس كے ذريعہ پذيرائي كروں'' _(۱۰۵)

بہر حال امور خانہ انجام دينا اور خاتون خانہ دار ہونا ايك ايسا باعزت اور شريفانہ كام ہے جس كے ذريعہ عورتوں كى ہنرمندى اور لياقت ظاہر ہوتى ہے _ مناسب ہوگا كہ اس سلسلے ميں خود تعليم يافتہ خواتين كے نظريات وخيالات سے روشناس ہوں _

خانم فريدہ نوروز شميرانى (بى اے) كہتى ہيں: خاتون خانہ كو چاہئے كہ امور خانہ دارى ميں ماہر ہونے كے علاوہ اپنے شوہر كى اچھى ساتھى ، اپنے بچوں كى اچھى ماں ہو اور ايك اچھى ميزبان ہو _ بچوں كى ڈاكٹر مسنر فصيحى كہتى ہيں : ميرى نظر ميں حقيقى گھر كى مالكہ وہى عورت ہوتى ہے جو دفتر ميں كام نہ كرتى ہو _ كيونكہ ہمارے ملك ميں دفتروں ميں غذا كا مناسب انتظام نہ ہونے اور بچوں كے لئے نرسرى اسكول و غيرہ كى كمى كے سبب كام كرنے والوں كو پورى طرح سہولتيں حاصل نہيں ہيں لہذا ايك كام كرنے والى ماں اپنے شوہر اور بچے كى طرف سے فكر مند رہتى ہے _

ميڈيكل كالج كى مسنر صغرى يكتاكہتى ہيں : خاتون خانہ كم بجٹ ميں ايك گھر كو صاف و ستھرا اور آراستہ ركھ سكتى ہے ، اپنے شوہر كے غم اور خوشى ميں شريك ہوسكتى ہے اور اپنے شوہر كى سماجى اور ذہنى حالت سے غافل نہيں ہوتى _

مسنر ايران نعيمى كہتى ہيں :گھر كى مالكہ ايسى خاتون ہوتى ہے جو غير ضرورى تفريحات ميں كمى كرے اور اس كامقصد گھر كى حالت بہتر بنانا ہو اور آمدنى كے لحاظ سے اپنے خاندان كے اخراجات چلانا جانتى ہو '' _(۱۰۶)

صفائي

خانہ دارى كے اہم فرائض ميں سے ايك كام مكان اور گرہستى كے سامان كوصاف و ستھراركھنا ہے_ صفائي ، اہل خاندان كى صحت و سلامتى ميں معاون ثابت ہوتى ہے اور بہت سى بيماريوں سے محفوظ


ركھتى ہے_ صاف ستھرى گھر ميں رہنے سے دل ہشاش بشاش رہتاہے _ مرد كو گھر ميں كشش محسوس ہوتى ہے _ صفائي ، خاندان كى سربلندى اور عزت كا سبب بنتى ہے _ يہى سبب ہے كہ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ''دين كى بنياد صفائي پر ركھى گئي ہے '' _(۱۰۷)

ايك اور مقام پر آنحضرت (ص) فرماتے ہيں : اسلام پاك و پاكيزہ ہے _ تم بھى پاكيزہ رہنے كى كوشش كرو _ كيونكہ صرف پاك و پاكيزہ لوگ ہى بہشت ميں جائيں گے '' _(۱۰۸)

گھر كو ہميشہ صاف ستھراركھئے _ ہرروز جھاڑوديجئے اور گردو غبار صاف كيجئے _ دن بھر ميں اگر كوئي جگہ گندى ہوجائے تو اس كو فوراً صاف كرديجئے _ يونہى نہ چھوڑديجئے كہ جب جھاڑودى جائے گى تو اسے بھى صاف كرديا جائے گا _ كمروں كى چھتوں اور درو ديوار وں كو صاف كيجئے_ جالے صاف كيجئے _ فرنيچر ، ميز كرسى اور گھر كے تمام سامان كو صاف كيجئے _ دروازوں اور كھڑكيوں كے شيشوں كو صاف كيجئے _ كوڑے كركٹ كو بندمنہ كے برتن ميں داليئےور كمروں و باورچى خانہ سے دور ركھيئےاكہ كھانے پينے كى چيزيں آلودہ ہونے سے محفوظ رہيں _ كوڑے دان كو جلدى جلدى خالى كر ليا كيجئے _ ورنہ دير تك كوڑا پڑا رہنے سے سرانڈپيدا ہوجائے گى اور كيڑے پڑجائيں گے _ گندگى اور كوڑے كركٹ كو گلى ميںگھروں كے سامنے نہ پھينكئے _ كيونكہ يہ چيز حفظان صحت كے اصولوں كے خلاف ہے اس ميں جراثيم پيدا ہوكر ہوا اور مكھيوں كے ذريعہ نہ صرف دوسروں كے لئے بلكہ خود آپ كى صحت و سلامتى كے لئے ضرر رساں ثابت ہوسكتے ہيں _ كوشش كيجئے بچے صحن يا باغچہ ميں پيشاب نہ كريں البتہ اگر كوئي چارہ ہى نہ ہو تو صحن كے كنارے انھيں بٹھايئےور فوراً اس جگہ كو پانى سے دھوڈالئے تا كہ بدبونہ آئے اور جراثيم پيدا نہ ہوں بطور مجموعى كوشش كيجئے كہ آپ كے گھر كا كونہ كونہ صاف ستھرارہے اور كہيں بھى گندگى نہ ہو او ركيڑے پيدا ہونے كا امكان نہ رہے _

جھوٹے اور چكنے برتنوں كو جہاں تك ہوسكے فوراً دھوڈالئے _ اگر يونہى چھوڑديا تو ممكن ہے جراثيم پيدا ہوكر آپ كى صحت و سلامتى كے لئے خطرہ بن جائيں برتنوں كو صاف پانى سے دھويئے


اور اگر حوض يا كسى جگہ جمع كئے ہوئے پانى سے دھوئے ہوں تو بعد ميں ايك بار اس پر پاك و صاف پانى ڈال ديجئے _ كيونكہ ممكن ہے ركے ہونے كے سبب حوض كا پانى آلودہ ہو اور آپ كى صحت كے لئے ضرر رساں ہو _ برتنوں كو دھونے كے بعد ايك مناسب و محفوظ جگہ پر ركھديجئے _ بہتر ہے اس پر ايك صاف كپڑا ڈالديں _ ميلے كپڑوں خصوصاً بچے كے پيشاب پاخانہ كے كپڑوں كو كمروں اور باورچى خانہ سے دور ركھئے اور اس طرح ركھئے كہ مكھياں ، جن كے پاس طرح طرح كے جراثيم ہوتے ہيں ، اس پر نہ بيٹھيں اور ان كپڑوں كو جہاں تك ہوسكے جلدى دھوليا كيجئے _ ہميشہ صاف ستھرے كپڑے پہنئے اور بچوں كو بھى صاف ستھرا ركھئے _ خاص طور پر نيچے پہننے والے كپڑے ہميشہ صاف ہونے چاہئيں كيونكہ وہ براہ راست بدن سے مس ہوتے ہيں _

گوشت ، دالوں اور دوسرى كھانے والى چيزوں كو پكانے سے پہلے خوب اچھى طرح دھوليا كيجئے _ خاص طور پر سبزيوں كو كئي بار بہت احتياط سے دھونا چاہئے كيونكہ اكثر اس ميں كيڑے اور جراثيم ہوتے ہيں جو بہت نقصان وہ ہوتے ہيں _ پھلوں كو كھانے سے پہلے خوب اچھى طرح مل كر دھولينا چاہئے كيونكہ درختوں پر اكثر كيڑے مارنے والى دوائيں چھڑكى جاتى ہيں ا س لئے اس بات كا امكان رہتا ہے كہ اس ميں زہر سرايت كرگيا ہو _ ہوسكتاہے اس كا فورى اثر نہ ہو ليكن بعد ميں اس كا يقينا اثر ہوگا _ كھانے سے قبل اپنے اور بچوں كے ہاتھوں كو اچھى طرح دھوليا كيجئے اگر چھرى كانٹے سے كھانا كھائيں تب بھى ہاتھوں كادھولينا بہتر ہے ممكن ہے آلودہ ہو جو آپ كى تندرسى كے لئے نقصان وہ بن جائيں _ كھانا كھانے كے بعد اپنے ہاتھوں اور دانتوں كو دھونئے دانتوں ميں خلال كرنا چاہئے _ دانتوں اور مسوڑہوں ميں كھانے كے اجزاء رہ جاتے ہيں جو سڑتے ہيں اور ان ميں بدلو پيدا ہوجاتى ہے _

بہتر تو يہ ہے كہ ہر دفعہ كھانے كے بعد دانتوں ميں برش كريں _ ليكن اگر يہ آپ كے لئے مشكل ہو تو كم سے كم رات كو سونے سے پہلے ضرور برش كرليا كريں _اس طرح آپ اپنے دانتوں كى حفاظت


كرسكيں گى اور آپ تندرسى بھى قائم رہے گى _

اپنے ناخنوں كو ہفتہ ميں كم از كم ايك بار ضرور كا ٹا كريں _ ناخن بڑے ہونے سے جراثيم پيدا ہونے كا خدشہ رہتا ہے جو آپ كى صحت كے لئے نقصان وہ ہے _ صحت كى لئے نہانا بے حد ضرورى ہے _

بہتر ہے كم از كم ايك دن چھوڑ كر ضرور نہاليا كريں _ بغلوں كے نيچے اور دوسرے غير ضرورى بالوں كو صاف كرنا صحت و سلامتى كيلئے بے حد ضرورى ہے ورنہ ان غير ضرورى بالوں كے بڑھنے سے اس ميں گندگى اور جراثيم پيدا ہوجانے كا امكان رہتا ہے _ كھانے پينے كى چيزوں كو مكھيوں سے محفوظ ركھئے _ اسلام كى مقدس شرع ميں صفائي پر بہت زيادہ زور ديا گيا ہے جن ميں سے چند كا ذكر كيا جاتاہے _

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : خدا خوبصورتى اور زينت كرنے كو پسند فرماتے ہے او رفقر و غربت كا مظاہرہ كرنے كو مكروہ كہا گيا ہے_ خداوند عالم پسند فرماتے ہے كہ اپنى نعمتوں كے آثار اپنے بندے ميں ديكھے _ اس كا لباس پاك اور صاف ستھرا ہو _ خوشبو استعمال كرے _ اپنے گھر كو صاف ستھرااور سجاكے ركھے _ گھر اور اس كے اطراف ميں جھاڑولگاؤ_ غروب سے پہلے چراغ روشن كرے _ كيونكہ يہ عمل فقر كو گھر سے دور ركھتا ہے اورروزى ميں اضافہ كرتاہے ''_(۱۰۹)

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : ميلا كچيلا آدمى ، ايك خراب بندہ ہوتا ہے '' _(۱۱۰)

حضر ت على عليہ السلام فرماتے ہيں : مكڑى كے جالوں كو اپنے گھروں سے صاف كرو_ كيونكہ يہ چيز نادارى كا باعث ہوتى ہے _(۱۱۱)

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد گرامى ہے : كوڑے كركٹ كورات ميں گھر ميں نہ پڑا رہنے دو كيونكہ وہ شيطانى كى جگہ ہوتى ہے _(۱۱۲)


پيغمبر اسلام (ص) كا يہ بھى ارشاد گرامى ہے كہ : كوڑے كركٹ كو گھر كے دروازے كے سامنے نہ پھينكو كيونكہ وہ شيطان كى جگہ بن جاتى ہے _(۱۱۳)

آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : انسان كا لباس ہميشہ پاكو صاف ہونا چاہئے(۱۱۴)

ايك اور موقعہ پر آپ فرماتے ہيں : ميلے كچيلے رومال كو گھر ميں نہ پھينكو كيونكہ شيطان كى جگہ بن جاتى(۱۱۵) ہے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : برتنوں كو دھونا اور گھر كو صاف كرنا ، روزى ميں اضافہ كرتا ہے _(۱۱۶)

آپ كا يہ بھى ارشاد ہے كہ : برتنوں كو ڈھانك كرركھنا چاہئے كيونكہ شيطان ان ميں تھوكتا ہے اور ان سے استفادہ كرتا ہے _(۱۱۷)

ايك اور جگہ آپ فرماتے ہيں : پھلوں كو خوب اچھى طرح دھوكركھانا چاہئے _ اس ميں زہر ہوتا ہے _(۱۱۸)

حضرت امام موسى كاظم عليہ السلام فرماتے ہيں : ايك دن چھوڑ كر نہانا ، انسان كو موٹا كرتا ہے(۱۱۹) حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشادگرامى ہے : اگر ميرى امت كے لئے دشوار نہ ہوتا توميں واجب كرديتا كہ ہر وضو كے ساتھ مسواك كريں _

حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہيں : جمعہ كے دن ناخن كاٹنا ، جذام ، جنون ، برص اور اندھے پن جيسے امراض سے دور ركھتا ہے _(۱۲۱)

روايت كى جاتى ہے كہ ناخنوں كے نيچے شيطان كى خوابگاہ ہوتى ہے _(۱۲۲)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : كھانا كھانے سے پہلے اور اس كے بعد ہاتھوں كو دھونا ، عمر كو بڑھاتاہے ، لباس كوميلے ہونے سے محفوظ ركھتا ہے اور آنكھوں كو نورانى بناتا ہے _(۱۲۳)

گھر كى سجاوٹ

ايك صاف ستھرا سجا ہوا مكان جس ميںگھر كى تمام چيزيں سليقے سے مناسب اور مخصوص جگہ پر ركھي


ہوں ہر لحاظ سے ايك بے ترتيب اور گندے مكان پر فوقيت ركھتا ہے _ اول تو يہ كہ ترتيب اور سليقہ گھر كو رونق و خوبصورتى عطا كرتا ہے او رايسے كو باربار ديكھنے سے نہ صرف يہ كہ آنكھوں كو برا نہيں لگتا بلكہ مسرت اور خوشى حاصل ہوتى ہے_ دوسرے يہ كہ اس طرح گھر دارى كے كاموں ميں آسانى ہوتى ہے _ گھر كى مالكہ كا وقت ضرورت كى چيزوں كو ڈھونڈھنے ميں برباد نہيں ہوتا_ كيونكہ ہرچيز كى جگہ مخصوص ہے جس چيز كى ضرورت ہوئي اس وہيں سے اٹھاليا اور كام ختم ہونے كے بعد اسى جگہ ركھ ديا _ اس طرح كام آسانى سے انجام پاتے ہيں _

تيسرے يہ كہ ايك صاف ستھرااور مرتب و منظم گھر ، گھر كى مالكہ كے ذوق و سليقہ كو ظاہر كرتا ہے ، مرد كو بھى صاف ستھرے گھر ميں جاذبيت اور كشش محسوس ہوتى ہے اور گھر اور گھروالوں سے اس كى دلچسپى ميں اضافہ ہوتا ہے اور گھر سے باہر اپنا زيادہ وقت نہيں گزارتا_

چوتھے يہ كہ ايك سليقے سے آراستہ كيا ہوگھر ، گھروالوں كى عزت و سربلندى كا باعث بنتا ہے جو كوئي اسے ديكھتا ہے اس كى دلكشى اور خوبصورتى سے فرحت محسوس كرتا ہے اور گھر كى مالكہ كے ذوق و سليقہ كى تعريف كرتا ہے _

سجاوٹ اور آرائشے كا سامان خريد خريد كر جمع كرنے سے زندگى خوبصورت نہيں ہوجاتى بلكہ ايك خاص ترتيب و سليقے سے خوبصورتى پيد ا ہوتى ہے _ خود آپ نے بھى يقينا ايسے دولتمنداور خوشحال گھرانے ديكھے ہوں گے جن كے پاس انواع و اقسام كے قيمتى سازو سامان كى بھر مار ہوتى ہے ليكن نظم و سليقہ نہ ہونے كے سبب اس ميں كوئي رونق نہيں ہوتى اور اس كو ديكھ كر ملال ہوتا ہے _ اس كے برعكس آپ نے ايسے غريب گھرانے بھى ديكھے ہوں گے كہ غربت و نادارى كے باوجود ان كى زندگياں مسرت سے بھرپور اورخوبصورت ميں _ مختصر اور معمولى سامان ہونے كے باوجود ان كے گھر مرتب و منظم اور صاف ستھرے ہيں _ ہر چيز اپنى جگہ قرينے سے ركھى ہوئي ہے _ در اصل ايك خاص نظم و ترتيب اور سليقہ ہى خوبصورتى ہے _

اسى بناء پر خانہ دارى كے اہم فرائض ميں سے ايك اہم كام ، نظم و ترتيب كاخيال ركھنا ہے _


سليقہ مند خواتين خود بہتر جانتى ہيں كہ گھر كے سامان كو كس ترتيب سے ركھنا چاہئے _ البتہ بيجا نہ ہوگا كہ ياددہانى كے طور پر چند نكات بيان كرديئےائيں _

گھر كے سازو سامان كى اس كى نوعيت كے اعتبار سے ايك جگہ معين كردينى چاہئے _ تمام برتنوں كو ايك جگہ نہيں ركھنا چاہئے _ جن برتنوں كى ہر وفت ضرورت پڑتى ہے ان كو اس طرح ركھئے كہ آسانى سے نكالاجا سكے _ مٹھائي ، ميوے اور ناشتہ كا سامان ركھنے والے برتنوں كوايك جگہ ركھئے ، شربت والے برتنوں كى ايك جگہ مقرر كيجئے _ چائے كے برتنوں كى عليحدہ اور كھآنے :ے برتنوں كى ايك جگہ معين كيجئے _ پھلوں كے لئے استعمال ہونے والے برتنوں كو ايك جگہ ركھئے _ دہى اور فيرينى و غيرہ كے پيالوں ، اور اچار مربّے كى كٹوريوں كى ايك مخصوص جگہ بنايئے غرضكہ سارے سامان كو اس ترتيب سے ركھئے كہ خود آپ كو آپ كے شوہر اور بچوں كو ان سب چيزوں كى مخصوص جگہ معلوم ہو اور اگر اندھيرے ميں بھى كسى چيز كى ضرورت پڑجائے تو آسانى سے فوراً وہيں سے نكال ليں _

شايد بعض خواتين سوچيں كہ مذكورہ باتيں اميروں اور دولتمندوں كے لئے تو بہت اچھى ہيں كہ ان كے پاس سہولت كے سارے سامان موجود ہيں _ ليكن ہمارى سادہ اور معمولى زندگى كے لئے ان سب لوازمات كى كيا ضرورت ہے _ جى نہيں _ يہ خيال درست نہيں جو كچھ بھى گر ہستى كا سامان ہو اسے سليقے اور ترتيب سے ركھنا چاہئے _ خواہ امير ہو يا غريب_ معمولى اور مختصر سامان بھى قرينے سے ركھا ہو تو اچھا معلوم ہوتاہے _ مثلاً گھر كے تمام برتنوں كى ايك جگہ معين كرديجئے اور ہر قسم كے برتن كے لئے ايك گوشہ مخصوص كرديجئے _ گرميوں كے كپڑوں كے لئے ايك جگہ اور جاڑوں كے كپڑوں كى دوسرى جگہ بناديجئے _ اپنے شوہر اور بچوں كے كپڑوں كى جگہ مقرر كرديجئے _ روزمرہ استعمال كے كپڑوں كو اس طرح ركھئے كہ نكالنے ميں آسانى ہو اور دوسرے كپڑوں كو محفوظ ترجگہ پر ركھ سكتى ہيں _ ميلے كپڑے ركھنے كى مخصوص جگہ بناديجئے ، روز استعمال ميں آنے والے بستروں كو سامنے ركھئے اور مہمانوں كے استعمال كے لئے لحاف گدوں كمبل و غيرہ كو اندر ركھئے _ كھانے كے


بعد جھوٹے چكنے برتنوں كو فوراً جمع كركے دھونے كى معبنہ جگہ پرركھ ديجئے _ گھركى سجاوٹ كے سامان كے لئے مناسب جگہ مقرر كيجئے _ اور ہر چيز اپنى معينہ جگہ پر ركھى رہے _ آپ كے اور بچوں كے كپڑے كمروں ميں بكھرے نہ پڑے رہيں بلكہ انھيں عادت ڈلوايئےہ كپڑے اتار كر المارى ميں ركھيں _ كھونٹى يا اسٹينڈپرٹانگيں _ بچوں كو نصيحت كيجئے كہ اپنے سامان مثلاً بستہ ، قلم ،كتابيں معينہ جگہ پر ركھا كريں _ اطمينان ركھئے اگر آپ ترتيب اور سليقے سے كام ليں تو آپ كے بچوں كى بھى يہى عادت پڑجائے گى _

پھوہٹر عورتيں اپنے آپ كو بے گناہ ثابت كرنے كے لئے گھر كى بدنظمى كا الزام بچوں كے سر تھوپتى ہيں _ مگر يہ بات صحيح نہيں ہے كيونكہ بچے ماں باپ كى تقليد كرتے ہيں _ اگر ماں باپ سليقہ مند ہوں گے تو وہ بھى سليقہ سيكھيں گے _ شروع ميں بچے نظم و ترتيب كے مخالف نہيں ہوتے بلكہ سليقہ مند ہوتے ہيں _ ليكن جب گھر كى بدسليقگى اور بد انتظامى ديكھتے ہيں تو وہ بھى يہى سيكھتے ہيں _

روپيہ پيسہ _ قيمتى كا غذوں مثلاً چيك _ بانڈ _ سرٹيفكيٹ اور سندوں و غيرہ كو ايسى محفوظ جگہ پر ركھئے جو چھوٹے بچوں كى دسترس سے دور ہو _ كيونكہ اگر آپ كى غفلت سے ضائع ہوجائے تو بعد ميں بچوں كو مارنے پيٹنے سے كوئي فائدہ نہ ہوگا _ لہذا حادث وقوع ميں آنے سے پہلے ہى اس كا علاج كرليناچاہئے _ معصوم بچے كا كوئي گناہ نہيں ہوتا _قصور بد سليقہ ماں كاہوتا ہے جس نے قيمتى شيء كو حفاظت سے نہيں ركھا _

اس سلسلہ ميں ذيل كے واقعہ سے عبرت حاصل كيجئے _

ايك شخص نے اپنى بيوى كو تين ہزار روپئے ديئےور حفاظت س ركھنے كى تاكيد كى اس نے روپيہ لے كر طلاق ميں ركھ ديا اور كسى معمولى كام سے باہر چلى گئي _ جب كمرے ميں واپس آئي تو وہاں روپئے موجود نہيں تھے _ گھبرا كے ادھر ادھر نظر دوڑ ائي توديكھاكہ اس كا پانچ سالہ بچہ صحن ميں كوئي چيز جلا رہا ہے اور خوش ہورہا ہے _ ماں يہ ديكھ كر اس قد رغضبناك ہوئي


كہ اپنے پانچ سالہ بچے كو اٹھاكر زمين پر پخ ديا _ اتفاق سے بچہ فوراً مرگيا وحشت زدہ ماں ، بچے كہ بيجان جسم كو ديكھ رہى تھى كہ اسى وقت اس كا شوہر آگيا اور ماجرا دريافت كيا _ بيوى نے واقعہ بيان كيا _ مرد نے طيش ميں آكر بيوى كو خوب مارپيٹا اور موٹر سائيكل پر سوار ہوكر پوليس كو اس واقعہ كى رپورٹ دينے چلا گيا _ ليكن پريشانى اورگبھراہٹ كے عالم ميں اس كى كسى گاڑى سے ٹكر ہوگئي _ اب اس مرد كى حالت بيحد نازك ہے '' _(۱۲۴)

آپ كا خيا ل ميں اس واقعہ ميں اصلى قصور وار كون ہے؟ اس كا فيصہ ہم قارئين كرام پر چھوڑتے ہيں _ اس قسم كے واقعات و حادثات اكثر رونما ہوتے رہتے ہيں _ ممكن ہے خود آپ كى زندگى ميں بھى واقع ہوئے ہوں _

دواؤں ، خطرناك اورزہر يلى چيزوں حتى كى مٹى كے تيل اور پٹروں كو ايسى جگہ ركھيں جو چھوٹے اورناسمجھ بچوں كى دسترس سے باہر ہو _ كيونكہ اس بات كا امكان ہے كہ ناسمجھى كے سبب اسے پى ليں اور ختم ہوجائيں _ اور پھر آپ سارى عمر روتى رہيں احتياط كرنے ميں كوئي نقصان نہيں ہے ليكن غفلت اور بے احتياطى سے سينكڑوں خطرے لاحق ہوجاتے ہيں _ ايسے معصوم بچے جو بد سليقہ ماں باپ كى غفلت سے تلف ہوئے اور ہورہے ہيں ان كى فہرست طويل ہے _ ان ميں سے بعض كى خبريں اخباروسائل ميں شائع ہوتى رہتى ہى _ ياددہانى كے طور پر چند سچے واقعات نقل كئے جاتے ہيں _

دو چھوٹے چھوٹے بہن بھائي ، جن كى عمريں چھ سال اور چار سال تھيں ، ايك برتن ميں بھرے ڈى ڈى ٹى دواكے محلول كونسى سمجھ كے پى گئے _ چھوٹى بچى تو فوراً مرگئي _دونوں بچے گھر ميں تنہا تھے _ جب انھيں پياس لگى تو پانى كے بجائے ڈى ڈى ٹى دوا كے محلول كولسى سمجھ كر پى گئے _ اسپتال ميں بچوں كى ماں نے بتايا كہ كل رات ميں نے تھوڑا سا ڈى ڈى ٹى پاؤ ڈرپانى ميں بھگوكر ركھا تھا كہ چوہوں كے بلوں ميں ڈالوں گى كہ يہ حادث رونما ہوگيا ''_(۱۲۵)

زبانى كى جگہ مٹى كا تيل پى ليا _ ايك پنچ سالہ بچّے نہ ماں كے پير درد كي


كھاليں _ انھيں اسپتال ميں بھرتى كيا گيا ہے '' _(۱۲۶)

آخر ميں بھى عرض كرديں كہ نظم و ضبط بہت اچھى چيز ہے ليكن نہ اس حد تك كہ آپ كا اور آپ كے شوہر كا سكون و چين سلب ہوجائے صفائي اور طہارت اگر حد سے تجاوز كرجائے اور وہم آزادى سلب ہوجانے كى حد تك بڑھ جائے تو خود ان خاندان كے لئے مشكلات پيدا ہوجاتى ہيں _ لڑائي جھگڑے اور عليحدگى تك كى نوبت آجاتى ہے _ ذيل كا واقعہ سنيں:_

ايك شخص كہتا ہے : اپنى بيوى كى عجيب و غريب پاكيزگى نے تو مجھے ديوانہ بناديا ہے _ شام كو جب آفس سے تھكاہارا گھر آتا ہوں تو ميرے لئے لازم ہے كہ حوض كے يخ بستہ پانى سے سات دفعہ ہاتھ پاؤں دھؤون _ جوتوں كو مخصوص جگہ پر ركھوں _ گھر كى مخصوص چپل پہنوں _ ہاتھ روم كى مخصوص چپل پہنوں باورچى خانہ ، ڈرائنگ روم ، غرضكہ گھر ميں ہر جگہ احتياط برتوں ، لباس كو اس كى مخصوص جگہ پرٹانگوں _ اگر سگريٹ پينے كى اجازت دے تو مخصوص كمرے ميں جاكر پيئوں تا كہ پورے گھر ميں اس كى بونہ پھيلے _ مختصر يہ كہ ميں نے ايك عمر نہايت اطمينان و آزادى كے ساتھ گزارى ہے _ ليكن اس چار سالہ شادى شادہ زندگى ميں ميرى حالت قيديوں سے بدتر ہوگئي _ كيا ضرورت ہے كہ انسان اس قدر حد سے زيادہ صفائي پسند ہو يہ وہم ہے اور ميں وہم سے بيزار ہوں '' _(۱۲۷)

كسى بھى كام ميں افراط و تفريط اچھى نہيں ہوتى بلكہ ہر حال ميں ميانہ روى سے كام لينا چاہئے _ نہ اس قدر بد سليقگى كارفرما ہو كہ زندگى كى حالت ابتر رہے اور نہ اتنا زيادہ نظم و ضبط كالحاظ ركھا جائے كہ وہم كى حد تك بڑھ جائے اور آپ كا سكون وچين درہم برہم ہوجائے _

كھانا پكانا

امورخانہ دارى ميں ايك اہم كھانا پكانا بھى ہے جس كے ذريعہ خواتين كے ذوق اور سليقہ كا پتہ چلتا ہے _ ايك سليقہ مند اور باذوق گھر كى مالكہ خرچ ميں بہترين اور لذيذغذائيں تيار كرتى ہے ليكن ايك بدسليقہ خاتون زيادہ خرچ كركے بھى مزيدار كھانے تيار نہيں كرپاتى _ خواتين لذيذ اور مزيدار


كھانوں كے ذريعہ اپنے شوہر كو گھر كى طرف راغب كرسكتى ہيں جو خوا تين اس گر سغ واقف ہيں ان كے شوہر خوش ذالقہ كھانوں كے شوق ميں ہو ٹلوں ميں نہيں گنواتے _حضرت رسول خدا (ع) فرماتے ہيں : تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جواپنے بدن ميں خوشبو لگائے _ كھا نا پكانے كے فن ميں ماہر ہوا ور زيادہ خرچ نہ كرے ايسى عورت كا شمار خدا كے عمال ميں ہو گا اور خدا كے عامل كو بھى شكست اور پشيمانى كا سامنا نہيں كرنا پڑے گا _(۱۲۸)

اس موقعہ پر كھا نا پكا نے فن پز بحث كرنا اور كھانے تياركرنے كى تركيب بيان كرنا مضف كے موضوع سخن سے خارج ہے _

البتہ اس سلسلے ميں صحت بخش غذاؤں اور كھانا پكانے كے ماہرين كى لكھى ہولى ركتا بيں آسانى سے دستياب ہيں ان كتابوں كے مطالعہ اور اپنے ذاتى تجربہ و سليقہ سے كام لے كر خوش ذائقہ اور ، قوت بخش كھانے تيار كئے جا سكتے ہيں _ البتہ يہاں پر چند باتوں كا ذكر كر ناضرورى معلوم ہوتا ہے :

۱ _ كھانا صرف لذت حاصل كرنے اور پيٹ بھرنے كى خاطر نہيں كھا يا جا تا بلكہ كھا نا كھانے كا مقصد صحت و سلامتى كا تحفظ اور بدن كے خليوں كو زندہ ركةنے كے لئے جن چيزوں كى ضرورت ہوتى ہے ان كو بہم پہو نچا نا ہے _ لازمى اجزاء مختلف قسم كى غذاؤں ، پھلوں ، سبزيوں ، دالوں اور گوشت و غيرہ ميں پائے جاتے ہيں _ مجموعى طور پر انھيں چھ حصوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے _

۱_ پاني

۲_ معدنى مواد مثلا كيسليشم _ فاسفورس ، لوہا ، تانبا

۳_ نشاستہ ( STARCH ) والى چيزيں

۴_ چربي

۵_ پروٹين

۶_ مختلف و ٹامن مثلاوٹا من بى ، وٹامن سى ، وٹامن ڈى و غيرہ


انسان كے بدن كازيادہ تروزن پانى كے ذريعہ تشكيل پاتا ہے _ پانى منجمد غذاؤں كو حل كرتا ہے تا كہ آنتوں كے ذريعہ جذب ہو جائيں _ بدن كے درجہ حرارت كو كنٹروں كرتا ہے _ معدنى مواد دانتوں اور ہڈيوں كى نشو و نما اور عضلات كے كام كى تنظيم كے لئے بھى لازمى ہے _

نشاستہ اور شكروالى چيزيں انرجى پيدا كرتى ہيں چربى انرجى اور حرارت پيدا كرتى ہے پروٹين بدن كى نشو و نما اور پرانے كى تجديد كيلئے ضرورى ہے ، وٹامن بدن كى نشو و نماہڈيوں كى اور اعصاب كى تقويت اور بدن كى مشينرى كو چلانے اور آنتوں ميں غذاؤں كے جذب ہونے ميں مدد ديتے ہيں _ مذكورہ مواد انسان كى صحت و سلامتى كے تحفظ اور زندہ رہنے كے لئے بيحد ضرورى ہيں _ ان ميں سے ہر ايك كا اہم رول ہے اور وہ بدن كى كسى نہ كسى ضرورت كو پورا كرتے ہيں _ ان ميں سے كسى كا بھى فقدا ن يا كمى يا زيادتى انسان كى زندگى و سلامتى كے لئے مضر ہے _ اور علاج اور خطرناك امراض پيدا كرنے كا سبب بن سكتا ہے _ سلامتى و بيمارى ، عمر كى درازى اور كوتاہى ، اعصاب كى سلامتى و نفسياتى بيمارياں ،خوشى و افسردگى ، خوبصورتى و بدصورتى ، غرضكہ وہ تما م حادثات و اثرات جن سے انسان كا بدن دوچار ہوتا ہے ، انسب كا غذا كى كيفيت سے گہرا تعلق ہے _

ہم جو كچھ كھاتے ہيں اسى سے ہمارى نشو ونما ہوتى ہے اگر انسان جان لے كہ كيا چيز اور كتنى مقدار ميں كھانا چاہئے تو كم بيمار پڑے گا _ بد قسمتى تو يہى ہے كہ بدن كى غذائي ضروريات اور كھانے پينے كى چيزوں كى خاصيت پر توجہ ديئےغير ، انسان اپنے پيٹ كو مزيدار غذاؤں سے بھر ليتا ہے اور اپنى صحت و سلامتى كو خطرے ميں ڈال ديتا ہے _ اور جب ہوش آتا ہے اس وقت پانى سرسے اونچا ہوچكا ہوتا ہے اور بدن كى نازك مشينرى فرسودہ اور تباہ ہوچكى ہوتى ہے _ اس وقت اس طبيت اوراس طبيب يہ دوا اور وہ دوا كى تلاش شروع ہوتى ہے ليكن افسوس كہ رنگ و روغن سے فرسودہ مشينرى كى تعمير و مرمت نہيں ہوسكتى _ يہى سبب ہے كہ پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ہے :'' پيٹ تمام بيماريوں كا مركز ہے '' _(۱۲۹)

عموماً غذا كا انتخاب كرنا عورتوں كى ذمہ دارى ہوتى ہے _ لہذا كہ جا سكتا ہے كہ خاندان كي


صحت و سلامتى ان كے ہاتھ ميں ہوتى ہے _ اس بناء پر ايك خاتون خانہ كے كندھوں پر ايك بہت بڑى ذمہ دارى ہے اوراگراس سلسلے ميں ذرا اسى بھى كوتاہى كى تو آپ كى ، شوہر اور بچوں كى تندرستى سخت خطرے سے دوچار ہوسكتى ہے _ اس كے علاوہ كھانا پكانے كے فن ميں مہارت ركھنے والے كو ايك مكمل غذا شناس بلكہ ايك ماہر طبيب بھى ہونا چاہئے _ اس كا مقصد صرف گھر والوں كا پيٹ بھرناہى نہ ہو بلكہ اسے چاہئے كہ پہلے مرحلے ميں ،صحت و سلامتى كى حفاظت اور بدن كى غذائي ضروريات كو پورا كرنے كے لئے جن مواد كى ضرورت ہوتى ہے اس كا دھيان ركھے _ اور اس بات سے واقف ہو كہ كھانے پينے كى چيزوں ميں كون كون سے اجزاء شامل كرنا لازم ہے _ اور كتنى مقدار ميں ہونا چاہئے _ اس كے بعد بدن كى گوناگوں ضروريات كے مطابق ، كھانے پينے كى چيزوں كا انتخاب كرے _ اور اسے خوراك كے پروگرام كا جزو قراردے _ اسى كے ساتھ كوشش كرے كہ ضرورى اور مفيد غذاؤں كواس طرح تيار كرے كہ وہ خوش ذائقہ اور مزيدار بھى ہوں _

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : اپنے شوہر كى نسبت عورت كا فرض ہے كہ گھر كے چراغ كو روشن كرے اور اچھى و عمدہ غذائيں تيار كرے _(۱۳۰)

ايك عورت نے رسول خدا (ص) كى خدمت ميں عرض كيا : شوہر كے گھر ميں عورت كے خدمت كرنے كى كيا فضيلت ہے ؟ فرمايا: گھر كو چلانے كے لئے جو بھى كام انجام دے ، خدا اس پر لطف كى نظر فرمائے گا _ اور جو شخص خدا كا منظور نظر ، ہوگا وہ عذاب الہى سے محفوظ رہے گا '' _(۱۳۱)

۲_ انسان كى غذائي ضروريات ہميشہ يكسان نہيں ہوتيں بلكہ مختلف سن و سال اور حالات كے مطابق اس ميں فرق پيدا ہوتا رہتا ہے _ مثلاً چھوٹے بچے اور نوجواں چونكہ نشو و نما كى حالت ميں ہوتے ہيں ان كو معدنى مواد خصوصاً كيلشيم كى زيادہ ضرورت ہوتى ہے ان كى غذا ميں ان چيزوں كو شامل كرنا چاہئے جن ميں معدنى مواد پايا جاتا ہو _ اسى طرح بچے اور نوجوان چونكہ زيادہ فعال ہوتے ہيں بھاگ دوڑ اور كھيل ميں ان كى انرجى زيادہ صرف ہوتى ہے اس لئے ان كو انرجى والے مواد مثلاً


چربى ، شكر اور نشاستہ والى غذاؤں كى ضرورت ہوتى ہے اوران كى غذا ميں ان چيزوں كا لحاظ ركھنا چاہئے _ اسى طرح ہر انسان كى غذا ئي ضرورت كا تعلق اس كے شغل اور كاموں كى نوعيت كے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے مثلاً ايك مزدور پيشہ انسان كو چربى ، شكر اور نشاستہ كى زيادہ ضرورت ہوتى ہے كيونكہ اس كے كام ميں محنت و مشقت زيادہ ہے ليكن جن كے شغل آسان اور زيادہ محنت طلب نہيں ان كو ايك مزدور كى طرح مذكورہ مواد كى ضرورت نہيں ہے _ گرمى كے موسم اور جاڑے كے موسم كے غذائي پروگرام بھى يكسان نہيں ہوتے _ ايك بيمار كا غذائي پروگرام بھى سالم افراد كے غذائي پروگرام سے مختلف ہوتا ہے _ عموماً ايك بيمار كى لئے ہلكى اور مقوى غذائيں تيار كرنى چاہئيں _ اس كے كھانے كے متعلق ڈاكٹر سے مشورہ لينا چاہئے _ بہر حال ايك خانہ دار خاتون كو ان تمام باتوں كا دھيان ركھنا چاہئے اور ہر فرد كى احتياج كے مطابق اس كے لئے غذا تيار كرنى چاہئے _

۳_ ايك قابل توجہ نكتہ يہ ہے كہ جب انسان كا سن چاليس سے تجاوز كرجاتا ہے تو عموماً موٹا پے كى بيمارى ميں مبتلا ہوجاتا ہے _ بعض لوگ موٹا پے كو صحت كى علامت سمجھيں ليكن يہ خيال بالكل غلط ہے _ موٹا پے كو ايك خطرناك بيمارى كہا جاتا ہے _ جس كے نتيجہ ميں گوناگوں امراض پيدا ہوجاتے ہيں _ موٹے لوگ مختلف امراض مثلا ًدل كے مرض ، بلڈ پريشر،رگوں كا سخت ہوجانا ، نيز گردے اور جگركى بيماريوں ، ديا بيطس اور گال بليڈر جيسى بيماريوں ميں مبتلا ہوجاتے ہيں _ ڈاكٹر كے تجربے اور بيمہ كمپنيوں كے اعداد و شمار سے اس بات كى تصديق ہوتى ہے كہ دبلے آدميوں كى عمر موٹے آدميوں سے زيادہ لمبى ہوتى ہے _ چاليس سال كے بعد انسان كے بدن كى چستى ميں كمى آجاتى ہے _ جس كے سبب اس كى فعاليت بھى گھٹ جاتى ہے _ اس لئے اسے چربى ، نشاستہ اور شكر والے اجزا كى كم ضرورت ہوتى ہے _ اس سن ميں بدن ميں طاقت كو پيدا كرنے والى مشينرى ، جو كہ كالريوں كو انرجى ميں تبديل كرتى ہے ، اپنا كام كدرتى ہے جس كى وجہ سے كالرياں تبديل نہيں ہوتيں اوركمراور شريانوں كے اطراف اور بدن كے اعضاء ميں جمع ہوكر موٹا پا


پيدا كرديتى ہيں _ موٹا پے كا بہترين علاج كم خورى ہے خصوصاً چربى اور شكر و نشاستہ والى غذاؤں ميں كم كردنى چاہئے _

جن خواتين كو اپنے شوہر سے محبت ہے انھيں چاہئے كہ جو نہى اپنے شوہر ميں موٹا پے كے آثار و علائم ديكھيں فوراً اس كے غذائي پروگرام پر توجہ كريں _ دھيان ركھيں كہ پر خورى نہ كرے _ چكنائي ، مٹھائي ، ملائي و غيرہ كے استعمال پر پابندى لگاديں _ شكر اور نشاستہ والى غذائيں مثلاً روٹي، چاول ، موٹا پا پيداكرنے ميں اہم كردار ادا كرتى ہيں _ ايسا كام كريں كہ مردان كا استعمال كم كريں اوراس كى جگہ پر پروٹين والى غذائيں مثلاً انڈا، كليجى ، گائے و بكرى اور چڑيوں كا گوشت ،مچھلى اور پنير كا زيادہ استعمال كرائيں _ كيونكہ ان غذاؤں سے بھوك بھى مٹ جائے گى اور ان ميں كالرى بھى كم پائي جاتى ہے _ اس عمر ميں دودھ سے بنى چيروں كا استعمال بھى مناسب ہے _ اگر ڈاكٹر نے پرہيز نہ بتايا تو پھل اورسبزياں بھى مناسب ہيں _ اس سلسلے ميں داكٹر سے بھى مشورہ لے ليجئے جو خواتين اپنے شوہر سے محبت كرتى ہيں ان كو ان تمام نكات كو پورا لحاظ ركھنا چاہئے _ در حقيقت شوہر كى زندگى اور سلامتى ان كے ہاتھ ميں ہے _ وہ جو كچھ بھى پكاكے سامنے ركھ ديں گى وہ اسے كھانے پر مجبور ہے _ البتہ اگر شوہر سے دل بھر گيا ہے اور بيوہ ہونا چاہتى ہيں اور چاہتى ہيں كہ اس كو اس طرح سے قتل كرديں كہ كسى كو بھى ان كے جرم كا پتہ نہ چلے اور پوليس كے ہاتھوں سے بچ جائيں نوان كے لئے يہ بہت آسان نسخہ ہے كہ گھى سے تر تراتى ہوئي مزيدار غذائيں اور مٹھائيان تياركركے شوہر كو كھلائيں اور اصرار كركے اس كو خوب ڈٹ كركھانے پر آمادہ كريں _ اس كے كھانے ميں روٹى اور چاول كااستعمال كرانے كے لئے اس كے سامنے لذيذ اورمرغن كھانوں سے بھر ادستر خوان بچھائيں تا كہ وہ ان غذاؤں سے اپنا پيٹ خوب بھر ليا كرے اگر اس پروگرام پر عمل كيا توہ بيوہو ہونے ميں زيادہ دير نہيں لگے گى _ جلد ہى اس سے چھٹكار امل جائے گا _ مزيد بر آن بيوى كى خدمات اور خاطر تواضع كے سبب اس سے خوش بھى رہے گا _


ممكن ہے قارئين گرامى كہيں كہ مذكورہ پروگرام دولتمند طبقے كے لئے تو اچھا ہے جو انواع و اقسام كى لذيد اور مہنگى غذائيں تيار كرنے پر قادر ہيں ليكن تيسرى درجے كے طبقے كے لئے ، كہ جو قوم كى اكثريت پر مشتمل ہے اور شب و روز كى محنت و مشقت كے بعد دو لقموں سے اپنا پيٹ بھر نے پر مجبور ہے ، قابل عمل نہيں _ اس طبقے كے لوگ بدن كى ضروريات كو پورا كرنے والے غذائي پروگرام پر كس طرح عمل كر سكتے ہيں ؟

ليكن قارئين محترم كو معلوم ہونا چاہئے كہ وہ اس بات كو مد نظر ركھيں كہ خوش قسمتى سے بدن كے لئے لازمى مواد ،انھيں سادہ اور فطرى غذاؤں ميں كافى مقدار ميں پايا جاتاہے _ اگر خاتون خانہ ، مقوى اور صحت بخش غذاؤں سے آشنا ہو اور كھانا پكانے كے فن ميں بھى مہارت ركھتى ہو تو معمولى پھلوں ، تر كاريوں والوں مثلاً چنے ، ماش اور مسور كى دالوں ، گيہوں ، جو ، آلو پياز ، ٹماٹر گاجر اور مختلف سبزيوں سے اس طرح كھانا تيار كرسكتى ہيں كہ مزيدار بھى ہو اور صحت و سلامتى كے لئے بھى فائدہ مند ہو _ البتہ سليقہ اور ہوشيارى شرط ہے _


مہمانداري

ايك چيز جس كا ہر خاندا كو كم يا زيادہ سامنا كرنا پرتا ہے وہ مہماندارى ہے بلكہ يوں كہنا چاہئے كہ مہماندارى زندگى كے لوازمات ميں سے ہے _ مہمان نوازى ايك اچھى رسم ہے اس كے ذريعہ دلوں ميں باہمى تعلق و ارتباط پيدا ہوتا ہے _ محبت و الفت ميں اضافہ ہوتا ہے _ نفرت و كدورت دور ہوتى ہے دوستوں اور عزيزوں كے يہاں آمد و رفت اور كچھ دير مل بيٹھنا ايك مفيد اورسالم تفريح شمار كى جاتى ہے _

پيغمبر اكرم (ص) فرماتے ہيں : مہمان كا رزق آسمان سے نازل ہوتا ہے اس كو كھلانے سے ميزبان كى گناہ بخش ديئےاتے ہيں'' _(۱۳۲)

امام على رضا (ع) فرماتے ہيں سخى لوگ دوسروں كے كھانے ميں سے كھاتے ہيں تا كہ ان كے كھانے ميں سے وہ كھائيں ليكن كنجوس دوسروں كے كھانے ميں سے نہيں كھاتے كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ اس كے كھانے ميں سے وہ كھاليں _(۱۳۳)


حضرت رسول خدا (ص) كا رارشاد گرامى ہے : دوستوں كے ساتھ بيٹھنے سے ، محبت پيدا ہوتى ہے _(۱۳۴)

امام محمد تقى (ع) فرماتے ہيں : دوستوں كے پاس بيٹھنا ، دل كو تروتازہ اور عقل كو بار آور كرتا ہے ، خواہ تھوڑى دير ہى بيٹھا جائے _(۱۳۵)

زندگى كى اس متلاطم سمندر ميں انسان كے دل و دماغ كوآرام و سكون كى ضرورت ہوتى ہے _

اس سے بہتر سكون وآرام كس طرح مہيا ہوسكتا ہے كہ كچھ وفادار دوستوں اور رشتہ داروں كى محفل ميں بيٹھيں _ كچھ اپنا حال دل كہيں كچھ ان كى سنيں _ پر لطف گفتگو سے محبت و الفت كى محفل كو سجائيں _ اور وقتى طور پر زندگى كى مشكلات اور پريشانيوں كو بھلاديں_ تفريح بھى كرليں اور كھولى ہوئي طاقت بھى بحال كرليں ، دل بہلائيں اور دوستى كے رشتوں كو بھى مستحكم كرليں _

جى ہاں _ مہماندارى بہت عمدرہ رسم ہے اور شايد ہى كوئي اس كى خوبى سے انكار كرے _ البتہ اس سلسلے ميں دوبڑى مشكلات سامنے آتى ہيں كہ جس كے سبب اكثر لوگ جہاں تك ہوسكتا ہے اس سے بچنے كو كوشش كرتے ہيں اور انتہائي ضرورى حالات ميں ہى اس كو قبول كرتے ہيں _

پہلى مشكل : زندگى كى چمك دمك اور ايك دوسرے سے آگے بڑھ جانے كى بيجا ہوس نے زندگى كو دشوار بناديا ہے _

گھر كے ضرورى ساز وسامان جو ضرورتوں كو پورا كرنے كے لئے اور آرام كى خاطر ہوتے تھے ، اپنى حقيقى صورت سے خارج ہوكر خودنمائي اوراشياء ے تجمل كى شكل اختيار كرگئے ہيں _ اسى چيز نے مہماندارى اور دوستوں كى آمد و رفت ميں كمى پيدا كردى ہے _ شايد كم ہى لوگ ہوں گے جو دوستوں اور رشتہ داروں كے آنے جانے كو پسند نہ كرتے ہوں _ ليكن چونكہ حسب دلخواہ شان و شوكت كے اسباب فراہم كرنے اور معيار زندگى اونچا كرنے پر قادر نہيں ہيں اور اپنے معيار زندگى كو سطحى سمجھتے ہيں اس لئے دوستوں سے ميل جول ركھنے سے بھاگتے ہيں _ ايك غلط خيال انسان كے ہاتھ پاؤں باندھ كر اس كى دنيا و آخرت كو تباہ كرديتا ہے _

خاتون عزيز كيا دوست احباب آپ كے گھر كى شان و شوكت اور سجاوٹ كو ديكھنے كے لئے آپ كے


گھر آتے ہيں _ اگر يہى مقصد ہے تو بہتر ہے كہ دو كانوں ، شوروم اور ميوزيم جائيں _ كيا آپ نے اشيائے تجمل كى نمائشے لگاركھى ہے اور اپنے خودنمائي كے لئے ان كو اپنے گھرآنے كى دعوت ديتى ہيں؟ ايك دوسرے كے يہاں آمدو روفت ، آپسى تعلقات اور محبت كى خاطر اور تفريح كى غرض سے كى جاتى ہے نہ كہ فخر و مباہات اور خودنمائي كے لئے _ مہمان اپنا شكم پركرنے اور خوبصورت مناظرہ كا نظارہ كرنے كے لئے آپ كے گھر نہيں آتے ہيں بلكہ دعوت كو ايك قسم كى عزت افزائي سمجھتے ہيں _ وہ خود بھى اس قسم كى رقابتوں اور تجمل پرستى سے تنگ آگئے ہيں اور سادگى كو پسند كرتے ہيں ليكن ان ميں اتنى ہمت نہيں ہے كہ اس غلط رسم كا خاتمہ كرسكيں اور خود كو اس اختيارى قيد و بند سے آزاد كرليں _ اگر آپ ان كى سادگى كے ساتھ خاطر تواضع كريں تو نہ صرف يہ كہ ان كو برا نہيں لگے گا بلكہ خوش ہوں گے اور بعد ميں اس سادہ روش كى پيروى كركے بغير كسى تكلف اور پريشانى كے آپ كى بھى پذيرائي كريں گے _ ايسى صورت ميں آپ نہايت سادگى كے ساتھ دوستوں كے يہاں آمد ورفت كا سلسلہ جارى ركھ سكتى ہيں اور انس و محبت كى نعمت سے بہرہ مند ہوسكتى ہيں _ لہذا اس مشكل كو آسانى كے ساتھ حل كيا جا سكتا ہے البتہ كسى قدرہمت و جرات كى ضرورت ہے

دوسرى مشكل

مہماندارى كوئي آسان كام نہيں ہے _ بلكہ خواتين كے مشكل كاموں ميں سے ہے _ كبھى ايسا ہواہے كہ بيوى چند گھنٹوں كے اندر اندر كچھ مہمانوں كى خاطر تواضع كا انتظام كرنے پر مجبور ہے اسى سبب سے كھانے مرضى كے مطابق تيار نہيں ہوسكے ايسى حالت ميں ايك طرف مياں ناراض ہوتا ہے كہ ميں نے پيسہ خرچ كيا اور اس كے باوجود ميرى عزت مٹى ميں مل گئي _ دوسروں طرف بيوى ناراض ہے كہ ميں نے اتنى زحمت اٹھائي اس كے باوجود مہمانوں كے سامنے ميرى بے عزتى ہوگئي وہ لوگ مجھے بد سليقہ اور پھر ہٹز سمجھيں گے _ ان سب سے بدتر يہ كہ شوہر كى جھك جھك كے جواب ميں كيا كہوں ان ہى ، اسباب كى بناء پر كم ہى ايسى محفليں ہوتى ہيں جو بغير كسى ہنگامے اور الجھن و پريشانى كے اختتام پذيرہوں _ اور يہ امر باعث بنتا ہے كہ بہت سے لوگ مہماندارى سے گريز كرتے ہيں اور اس كے تصور سے ہى لرزتے ہيں _


ہم مانتے ہيں كہ مہماندرى آسان كام نہيں ہے ليكن اصل مشكل اس وجہ سے پيدا ہوتى ہے كہ ميزبان خاتون ، مہماندارى كے طور طريقوں سے اچھى طرح واقف نہيں اور چاہتى ہے كہ صرف دوتين گھنٹے كے اندر بہت سے مشكل اور دشوار كاموں كوانجام دے لے _ اگر مدبر اورتجربہ كارہے تو بہت خوبى اور آسانى كے ساتھ بہترين طريقے سے دعوت كا انتظام كرسكتى ہے _ اب ہم آپ كے سامنے مہماندارى كے دو نمونے پيش كررہے ہيں ، ان ميں سے جو آپ كہ بہتر معلوم ہوا سے منتخب كرسكتى ہيں :_

پہلا نمونہ : مياں گھر ميں داخل ہوتا ہے اور بيوى سے كہتا ہے شب جمعہ دس آدمى رات كے كھانے پر آئيں گے _ بيوى جسے گہ گزشتہ دعوتوں كى تلخياں ياد ہيں مہمانوں كا نام سن كرہى اس كا دل دھڑكنے لكتاہے اور وہ اعتراض كرتے ہيں _ مرد دلائل كے ذريعہ اور خوشامد كركے اس كوراضى كرتا ہے كہ يہ دعوت كرنا ضرورى تھا_ جس طرح بھى ہو اس دعوت كا انتظام كرو _ اس وقت سے جمعرات تك پريشانى اور اضطراب ميں گزرتے ہيں _ يہاں تك كہ جمعرات كادن آپہونچا _ اس روز دعوت كاانتظام كرنا ہے مياں يا بيوى سامان خريد نے كے لئے گھر سے باہر جاتے ہيں _ راستے ميں سوچتے ہيں كہ كيا كيا چيزيں خريد نا چاہئے _ آخر كاركئي طرح كى چيزيں خريد كردو پہر تك گھر آتے ہيں _ بيوى كا كام دوپہر كے بعد شروع ہوتاہے _ دوپہر كا كھانا بھى كھايا يا نہيں كھايا ، اٹھ كر كام ميں مشغول ہوجاتى ہے _ ليكن كام كوئي ايك دوتوہيں نہيں _ اپنے آپ كوگوناگوں كاموں كے انبار ميں گھر اپاتى ہے _ كيا كيا كرے اور كيانہ كرے _ مثلاً سبزياں صاف كرنا اور كاٹنا ہے_ آلو اور پياز سرخ كرنا ہے _ دال چننا ہے _ چاول چن كے بھيگنے كو ركھنا ہے _ گوشت كو صاف كركے قيمہ بنانا ہے _ دو تين قسم كے كھانے پكانا چاہتى ہے _ مرغ بھوننا ہے _ كباب بنانا ہے _ سالن پكانا ہے _ پلاؤ پكانا _ چائے كا سامان ٹھيك كرنا ہے _ برتن دھونا ہے _ ڈرائنگ روم كو ٹھيك ٹھاك كرنا ہے _ يہ سارے كام يا تو خود تنہا انجام دے يا كسى كى مدد لے بہر حال عجلت اور پريشانى كى حالت ميں كاموں ميں مشغول ہے _ مگر چھرى نہيں مل رہى ہے ادھر تلاش كرتى ہے _ سالن


ہے تو ديكھتى ہے پياز نہيں _ چاول چڑھا ديا تو معلوم ہوانمك ختم ہوگيا ہے كسى كو نمك اور پياز خريدنے بھيجتى ہے _ كھانا پكانے كے لئے جس چيز كى ضرورت ہوتى ہے اس كو ڈھونڈنے ميں كچھ وقت صرف ہوتا ہے _ كبھى نوكر پر چيختى چلاتى ہے _ كبھى بيٹى كو ڈانٹتى پھٹكارتى ہے _ كبھى بيٹے كو برا بھلا كہتى ہے _ كھانا پكانے كے دوران اسٹو كاتيل يا گيس ختم ہوجاتى ہے _ اے خدا اب كيا كرے ؟

اسى حالت ميں دروازے كى گھنٹى بجتى ہے اور ايك ايك كركے مہمان آنا شروع ہوجاتے ہيں بيچارہ شوہر جو اپنى بيوى كى پريشانى اور اضطراب سے آگاہ ہے ، دھڑكتے دل سے مہمانوں كا استقبال كرتا ہے _ دعا سلام كے بعد چائے لانے جاتا ہے تو ديكھتا ہے ابھى تو چائے كا پانى بھى پكنے كو نہيں ركھا گيا ہے _ بيٹے يا بيٹى كو ڈانٹتا ہے كہ ابھى تك چائے كا پانى ابلنے كو كيوں نہيں ركھا گيا _ چائے تيار ہوئي تو معلوم ہوا كہ ابھى دودھ نہيں پكايا گيا ہے يا چائے كہ برتن نہيں نكالے گئے ہيں _ خداخدا كركے چند بار اندر باہر كے چكّر لگانے كے بعد چائے كى چند پيالياں مہمانوں كے سامنے ركھى جاتى ہيں _ نظريں مہمانوں پر ہيں ليكن دل باورچى خانے ميں لگا ہوا ہے كيونكہ معلوم ہے كہ باورچى خانہ ميں كيا ہنگامہ برپا ہے _

دوستوں كى پر لطف باتوں كا جواب پھيكى مسكراہٹ سے ديا جاتا ہے ليكن دل اس دعوت كے انجام سے خوفزدہ ہے _ سب سے بدتر توجب ہوتا ہے كہ مہمانوں ميں عورتيں بھى ہوں _ يا مدعو حضرات رشتہ داروں ميں سے ہوں ايسى حالت ميں ہر ايك مہمان پوچھتا ہے كہ آپ كى بيگم كہاں ہيں؟ شوہر جواب ديتا ہے كام ميں مشغول ہيں ، ابھى آتى ہيں _ كبھى بيوى مجبوراً كاموں كے بيچ ميں سے اٹھ كر ذرا دير كے لئے مہمانوں كے پاس چلى آتى ہے _ لرزتے دل اور خشك ہونٹوں كے ساتھ سلام اور مزاج پر سى كرتى ہے ليكن كيا كچھ دير ان كے پاس بيٹھ سكتى ہے ؟ فوراً عذركركے واپس آجاتى ہے _ آخر كار كھانا تيا رہوتا ہے ليكن وہ كھانے جو اس صورت سے تيار كئے گئے ہوں ان كا حال تو ظاہرہى ہے _ كھانا پكانے سے فرصت ملى تو اب سلام بنانے كا كام باقى ہے _ دہى كى بورانى بنانى ہے _ چٹنى اچاربرتنوں ميں نكالنا ہے _ كھانے كے برتنوں كو صاف كرنا ہے _ بدبختى تو يہ ہے كہ سامان اور برتنوں كى بھى كو ئي خاص جگہ نہيں ہے ہر چيز كو


ادھر ادھر سے تلاش كرنا ہے _ خير صاحب كھانا لگايا جاتا ہے _ مہمان كھانا كھاكررخصت ہوتے ہيں _ ليكن نتيجہ كيا ہوتا _ كسى چيز ميں نمك تيز ہے كسى ميں نمك پڑاہى نہيں ہے _ كوئي چيز جل گئي _ كچھ كچارہ گيا _ گھبراہٹ كے مارے بعض ڈشنر كو لانا ہى بھول گئيں _ بيوى تقريباً بارہ بجے رات كو كاموں سے فراغت پاتے ہے ليكن تھكى پريشان _ دو پہر سے اب تك ايك لمحہ بھى سر اٹھانے كاموقعہ نہيں ملا _ اتنى بھى فرصت نہيں ملى كہ مہمانوں كے پاس بيٹھ كر ان سے ذرا دير باتيں كرتى _ حتى كہ ٹھيك سے سلام اور احوال پرسى بھى كرسكى ليكن مرد كو سوائے پريشانى اور غم و غصہ كے كچھ ہاتھ نہ لگا _ اتنا پيسہ خرچ كرنے كے بعد بھى كھانا ٹھيك سے نہيں پكا _ دعوت كركے پشيمانى اٹھانى پڑى ، ممكن ہے غم و غصہ كى شدت سے جھگڑا كرے اور تھكى ہارى بيوى كو سخت سست كہے _ اس طرح كى دعوت سے نہ صرف يہ كہ مياں بيوى كو كوئي فائدہ نہيں ہوتا بلكہ اكثر اوقات شديد اختلاف اور كشمكش كا باعث بنتا ہے اگر خيريت گزرگئي توطے كرليتے ہيں كہ آئندہ كبھى ايسا شوق نہيں كريں گے _

مہمان بھى چونكہ ميزبانوں كى پريشانى اور اضطرابى كيفيت سے باخبر ہوجاتے ہيں ان كو بھى اچھا نہيں لگتا اور كھانے پينے ميں ذرا بھى لطف نہيں آتا _ اپنے دل ميں كہتے ہيں كاش ايسى محفل ميں نہ آئے ہوتے بلاوجہ ہى ميزبان كو ہمارى وجہ سے پريشانى اٹھانى پڑى _

يقين سے قارئين كرام ميں سے كسى كو بھى ايسى دعوت اچھى نہيں لگے گى جو درد سر بن جائے اور آپ بھى اس ميں شركت سے گريز كريں گے _

كيا آپ جانتى ہيں ان تمام پريشانيوں كى وجہ كيا ہے ؟

اس كى وجہ صرف زندگى بدنظمى اور مہماندارى كے فن سے عدم واقفيت ہے ورنہ مہماندارى اتنا بھى دشوار كام نہيں ہے _

اب ايك اور نمونہ پر توجہ فرمايئے

مرد گھر ميں داخل ہوتا ہے بيوى سے كہتا ہے ميں نے جمعہ كى رات كو دس افراد كو كھانے كي


دعوت دى ہے _ بيوى جواب ديتى ہے بہت اچھا كيا _ كيا كيا چيزيں تياركروں ؟ اس كے بعد دونوں باہم مشورہ كركے كھانے كى فہرست تيار كرتے ہيں اس كے بعد نہايت صبر و حوصلہ كے ساتھ دعوت كے لئے جن چيزوں كى ضرورت ہے اس كو مع مقدار كے ايك كا غذ پرنوٹ كرليتے ہيں _ ايك مرتبہ پھر اچھى طرح اس فہرست كو پڑھ ليتے ہيں كہ كہيں كوئي چيز رہ تو نہيں گئي _ دوبارہ اس كا جائزہ لينے كے بعد ان ميں سے جو چيزيں گھر ميں موجود ہيں ان كو كاٹ كر جن چيزوں كو خريدنا ہے اس كو ايك الگ كاغذ پر لكھ ليتے ہيں _ اولين فرصت ميں ان چيزوں كو خريد كرركھ ليتے ہيں ، جمعرات كے دن كہ ابھى مقررہ دعوت ميں ايك روز باقى ہے ، بعض كام انجام دے لئے ، مثلاً مياں بيوى اور بچوں نے فرصت كے وقت تعاون سے كام ليتے ہوئے گھر كى صفائي كر ڈالى _ سبزياں صاف كركے ركھ ليں _ چاول، دال كو چن ليا نمك دان ميں نمك بھر كے اس كى جگہ پر ركھ ديا _ ضرورت كے برتنوں كو نكال كے دھوليا _ مختصر يہ كہ جو كام پہلے سے انجام ديئےا سكتے ہيں ان كو تفريح كے طور پر سب نے مل كركرليا _ (بعض ڈشنر مثلاً فرينى يا دوسرى كوئي ميٹھى ڈش ايك دن پہلے تيار كركے فريج ميں ركھى جا سكتى ہے _ كبابوںكا قيمہ پيس كر فريج ميں محفوظ كيا جا سكتاہے ) جمعہ كى صبح كوناشتے سے فراغت كے بعد بعض كام انجام دے لئے مثلاً گوشت كے ٹكڑے كاٹ لئے _ مرغ كوصاف كركے بھوں ليا _ پياز كاٹ كے سرخ كرلى _ كھانوں كے مصالحے پيس لئے چاول بھكوديئے مختصر يہ كہ كچھ كام دو پہر سے پہلے انجام دے لئے _ ظاہر ہے ، جب يہ سارے كام صبر و حوصلے كے ساتھ انجام ديئےائيں گے تو بيوى كيلئے چنداں مشكل نہ ہوگى كہ باقى كاموں كو بھى انجام دے اور امور خانہ دارى كے دوسرے كاموں كو بھى آسانى سے كرسكے _ دو پہر كا كھانا كھانے كے بعد تھوڑا سا آرام كركے بقيہ كاموں ميں مشغول ہوگئيں _ كام زيادہ نہيں ہے كيونكہ اكثر كاموں كو توپہلے ہى كركے ركھ ليا ہے _ ساراسامان بھى ترتيب و سليقہ ہے ركھا ہے _ ايك دو گھنٹے كے اندر بغير كسى چيخ پكار اور دوڑبھاگ كے باقى كام انجام دے لئے _ اس طرح سے كہ رات كے لئے كوئي كام باقى نہ بچا _ اس كے بعد خود صاف ستھرے كپڑے پہن كرتيار ہوگئيں _ مہمانوں كے آنے كا وقت ہواتو پہلے سے چائے كا پانى ابلنے كو ركھديا _ اگر مہمان رشتہ دار اور محرم ہيں تو ان كے استقبال كيلئے خود آگے


بڑھيں اور بغير كسى فكر و تردد كے ان كى خاطر مدارات ميں لگ گئيں _ بيچ ميں كبھى كبھى باورچى خانہ كا بھى ايك چكر لگاليا _ كھانے كے وقت نہايت اطمينان كے ساتھ سارا كھانا تيار ہے اگر ضرورى ہواتو شوہر اور بچوں سے بھى اس وقت مدد لے لى _ جلدى سے آسانى كے ساتھ كھانا چن ديا گيا _ مہمان بھى انتہائي خوشى و سكون كے ساتھ كھانا كھانے ميں لذت محسوس كريں گے اور اس طرح مسرت و انبساط كے ماحول ميں دعوت ختم ہوگئي _

نتيجہ : مہمان لذيذ اور مزيدار كھانوں كى لذت كے ساتھ ساتھ ، انس و محبت كى نعمت سے بھى لطف اندوز ہوں گے اور پر مسرت ماحول ميں فرحت حاصل كريں گے _ اس رات كى خوشگوار يادوں اور ميزبان كے بشاش چہرہ كو فراموش نہيں كريں گے _ ميزبانوں كى گرمجوشى اورخاتون خانہ كے سليقے كى تعريف كريں گے _ مياں بھى نہايت اطمينان و سكون كے چند گھنٹے مہمانوں كے ساتھ گزاركرسالم اور بہترين تفريح كرليتا ہے ،چونكہ اپنے دوستوں كى اچھى طرح سے خاطر مدارات كر سكاہے اس لئے خوش و خرّم ہے اور ايسى باسليقہ بيوى كے وجود پر جس نے اپنے ذوق و سليقہ سے ايسى عمدہ دعوت كا اہتمام كيا ہے فخركرتا ہے اور ايسى لائق بيوى اور گھر سے اس كى دلچسپى اور زيادہ بڑھ جاتى ہے _

بيوى نے بھى چونكہ صبر و سكون كے ساتھ دعوت كا انتظام كيا تھا اس لئے وہ بھى تھكن سے چور، چور نہيں ہے غصہ اور پريشانى كے عالم ميں نہيں ہے اپنے شوہر اور مہمانوں كے سامنے سربلند ہے اور خوش ہے كہ بغير كسى پريشانى اور الجھن كے مہمانوں كى اچھى طرح سے خاطر تواضع كى گئي _ اپنى لياقت اور سليقے كا ثبوت دے كر اپنے شوہر كے دل كو اپنے بس ميں كرليتى ہے _ ان دونوں نموں كو ملاحظہ كرنے كے بعد آپ غور كريں كہ كون سا طريقہ كا رد رست تھا اور آپ كس كا انتخاب كريں گى _

امين خانہ

گھر كے اخراجات كا انتظام عموماً مرد كے ذمہ ہوتا ہے _ مرد شب و روز محنت كركے اپنے خاندان كى ضروريات پورى كرتا ہے _ اس دائمى بيگارى كو ايك شرعى اور انسانى فريضہ سمجھ كروں و جان


سے انجام ديتا ہے _ اپنے خاندان كے آرام و آسائشے كى خاطر ہر قسم كى تكليف و پريشانى كو خندہ پيشانى سے برداشت كرتا ہے اور ان كى خوشى ميں لذت محسوس كرتا ہے _ ليكن گھر كى مالكہ سے توقع ركھتا ہے كہ پيسے كى قدروقيمت سمجھے اور بيكار خرچ نہ كرے _ اس سے توقع كرتا ہے كہ گھركے اخراجات ميں نہايت دل سوزى اور عاقبت انديشى سے كام لے _ يعنى زندگى كى ضروريات اور اہم چيزوں كى درجہ بندى كركے ، ضرورى خرچوں مثلاً خوراك ، ضرورى پوشاك ، مكان كا كرايہ ، سجلى ، پانى ڈاكٹر و دوا كے اخراجات كو تمام دوسرے امور پر ترجيح دے اور نيم ضرورى چيزوں مثلاً گھر كے سامان و غيرہ كو دوسرے نمبر پر ركھے اور غير ضرورى چيزوں كو تيسرے نمبر پرركھے ، فضول خرچى ، اسراف اور بيجا بخششوں كو وہ ايك قسم كى ناقدرى اور ناشكرى سمجھتا ہے _

مرد كو اگر بيوى پر اعتماد ہوجائے اور سمجھ لے كہ اس كى محنت كى كمائي كو فضول خرچيوں ميں نہيں اڑايا جائے گا تووہ فكر معاش اور آمدنى بڑھانے ميں زيادہ دلچسپى لے گا اور خود بھى تن پرورى اور فضول خرچى سے گريز كرے گا ليكن اگر اپنى محنت كى كمائي كو برباد ہوتے ديكھتا ہے كہ گھر والى غير ضرورى لباس اور اپنى آرائشے اور زيب وزينت كے اسباب كو تمام ضرورى چيزوں پر مقدم سمجھتى ہے اور مشاہدہ كرتا ہے كہ رات دن محنت كركے جو كچھ كماكرلاتاہے وہ غير ضرورى اشياء پر خرچ ہوجاتا ہے اور ضرور ى اخراجات كے لئے ہميشہ پريشان رہنا پڑتا ہے اور قرض لينے كى نوبت آجاتى ہے اور اس كى خون پسينے كى كمائي مال غنيمت كى طرح بيوى بچوں كے ہاتھوں لٹا ى جارہى ہے ايسى صورت ميں گھر پر سے اس كا اعتماد اٹھ جاتا ہے اور محنت مشقت كرنے سے بيزار ہوجاتا ہے _ اپنے دل ميں سوچتا ہے كہ كوئي ضرورت ہى نہيں ہے كہ ميں اس قدر زحمت اٹھاكركماكے لاؤں اورناقدرى كرنے والوں كے حوالے كردوں كہ فضول خرچيوں ميں پيسے اڑاديں _ ميں ضروريات زندگى مہيا كرنے اور عزت و آبرو قائم ركھنے كے لئے محنت كرتا ہوں ليكن ميرے گھروالوں كو سوائے فضول خرچى اور ہوا وہوس كے اور كچھ فكر ہى نہيں ہے _


ممكن ہے رفتہ رفتہ افكار كے نتيجہ ميں وہ بھى عياشى اور فضول خرچى كرنے لگے اور آپ كى زندگى كا شيرازہ بكھر جائے

خواہر عزيز اگر آپ كا شوہر جو كچھ كماكرلاتاہے وہ سب آپ كے حوالے كرديتا ہے تو يہ نہ سمجھئے كہ اس كى حقيقى مالك آپ ہوگئيں _ بلكہ شرعاً اور قانوناً آپ كا شوہر مالك ہے _ آپ گھر كى امين ہيں اس لئے تمام اخراجات اس كى مرضى و اجازت سے انجام پانے چائيں _ اس كى مرضى كے بغير آپ كو حق نہيں كہ كسى كو كوئي چيز دے ديں يا كسى كے يہاں تحفہ و سوغات لے جائيں _ حتى كہ اپنے يا اس كے رشتہ داروں كو بھى اس كى مرضى كے بغير تحفے تحائف نہ ديں _ آپ اپنے خاندان كى امانت دار ہيں اور اس سلسلے ميں آپ پر ذمہ دارى عائد ہوتى ہے اگر آپ خيانت كريں گى تو روز قيامت اس سلسلے ميں آپ سے بازپرس ہوگى _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : بيوى اپنے شوہر كے اموال كى نگہبان اور امانت دار ہوتى ہے اور اس سلسلے ميں اس كى ذمہ دارى ہوتى ہے _ (۱۳۱۶)

ايك امور موقع پر آپ ارشاد فرماتے ہيں : تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جو اپنے بدن ميں خوشبو لگائے _ مزيدار كھانے تيار كرے _ گھر كے اخراجات ميں كفايت شعارى سے كام لے _ ايسى خاتون كا شمار خدا كے كاركنوں اور عمال ميں ہوگا اور جو شخص خدا كے لئے كام كرے اسے ہرگز شكست اور پشيمانى كا سامنا نہيں كرنا پڑے گا _(۱۳۷)

ايك عورت نے حضرت رسول خدا (ص) سے سوال كيا كہ شوہر كے تئيں بيوى كے كيا فرائض ہيں؟ آپ نے فرمايا: ا س كى مطيع ہو _ اس كے كہنے كى خلاف ورزى نہ كرے اور بغير اس كى اجازت كے كوئي چيز كسى كو نہ دے _(۱۳۸)

آنحضرت (ص) كا ارشاد گرامى ہے : تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جو كم خرچ ہو _(۱۳۹)

خواتين كے مشاغل

يہ صحيح ہے كہ خاندان كے اخراچات پورے كر نا مردوں پرواجب ہے اور خواتين كى اس سلسلے ميں شرعاً كوئي ذمہ دارى نہيں ہے ليكن عورتوں كو بھى كوئي نہ كوئي كام يا مشغلہ اپنانا چاہئے _


اسلام ميں بيكار اور خالى بيٹھے رہنے كى مذمت كى گئي ہے _

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : خداوند عالم زيادہ سونے اور زيادہ فراغت كو ناپسند فرماتا ہے _(۱۴۰)

امام جعفر صادق عليہ السلام ايك اور موقعہ پر فرماتے ہيں : زيادہ نيند ، انسان كے دين ودنيا كو تلف كرديتى ہے _(۱۴۱)

خواتين عالم كى سردار حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا بھى گھر ميں كام كرتى تھيں اور محنت مشقّت كرتى تھيں _(۱۴۲)

انسان خواہ ضرورت مند ہو يا آسودہ حال ، اس كو كسى نہ كسى كام اور مشغلے ميں لگے رہنا چاہئے ، اور اپنے اوقات كو بيكار و بے مصرف برباد نہيں كرنا چاہئے ، بلكہ كام كرے اور دنيا كو آباد كرے اگر ضرورت مند ہے تو اپنى آمدنى كو اپنے گھريلو اخراجات پر خرچ كرے اور اگر ضرورتمند و نادار نہيں ہے تو حاجتمند وں كى امداد اور نيك كاموں ميں خرچ كرے _ بيكاري، تھكن او ررنج و غم پيد اكرتى ہے _ بہت سى جسمانى و نفسياتى بيمارياں اور اخلاقى بدعنوانياں اسى كے سبب ظہور ميں آتى ہيں _

خواتين كے بہترين مشغلے ، گھر كر ہستى كے كام، شوہر كى ديكھ بھال ، اور بچوں كى پرورش و غيرہ جيسے امور ہيں جو كہ گھر كے اندر ہى انجام پاتے ہيں _ ہنرمند خواتين اپنے حسن تدبر اور سليقے سے اپنے گھر كو بہشت برين ، نيك بچوں كى تعليم و تربيت گاہ اور زندگى كى دوڑ ميں مشغول اپنے محنتى شوہر كے لئے بہترين آسائشے گاہ بنا سكتى ہيں اور يہ كام نہيات عظيم اور قابل احترام ہے _

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : عورت كا جہا د يہى ہے كہ وہ شوہر كى ديكھ بھال اچھى طرح كرے _(۱۴۳)

حضرت ام سلمہ نے آنحضرت (ص) سے پوچھا كہ : عورت كے گھر ميں كام كرنے كى كس قدر فضيلت ہے ؟


فرمايا : ہر وہ عورت جو امور خانہ دارى كے سلسلے ميں اصلاح كى خاطر اگر كوئي چيز ايك جگہ سے اٹھاكر دوسرى جگہ ركھ دے ، خدا اس پر رحمت كى نظر فرمائے گا اور جو شخص خدا كا منظور ہوجائے ، عذاب الہى ميں گرفتار نہيں ہوگا ''_

حضرت ام سلمہ نے عرض كيا : يا رسول اللہ ميرے ماں باپ آپ پر قربان ، عورتوں كے ثواب كے متعلق مزيد تفصيل بتايئے

رسول خدا (ص) نے فرمايا: جب عورت حاملہ ہوتى ہے خدا اس كو اس شخص كا سا اجر عطا فرماتا ہے جو اپنے نفس اور ماں كے ساتھ خدا كى راہ ميں جہاد كرتا ہے جس وقت بچے كو جہنم ديتى ہے ، اس سے خطاب ہوتا ہے كہ تمہارے گناہ معاف كرديئےئے اپنے اعمال پھر سے شروع كرو _ جب اپنے بچے كو دودھ پلاتى ہے ، ہر مرتبہ دودھ پلانے كے عوض اس كے نامہ اعمال ميں ايك غلام آزاد كرنے كا ثواب لكھا جاتا ہے _(۱۴۴)

گھر كے كام كاج پنٹانے كے بعد خواتين كو فرصت كے اوقات بھى ميسر آتے ہيں _ ان خالى اوقات كو بھى بيكار صرف نہيں كرنا چاہئے _ ان اوقات كا بہترين طريقے سے مصرف كريں او راپنے لئے كچھ مشاغل منتخب كرليں اور اپنے آپ كو مشغول ركھيں _ مثلاً مفيد كتابيں پڑھ سكتى ہيں _ سودمند موضوعات پر تحقيق و جستجو كركے اپنى معلومات ميں اضافہ كرسكتى ہيں _ اپنى تحقيق و مطالعہ كے نتائج كو مقالہ يا كتاب كى صورت ميں قلمبند كرسكتى ہيں تا كہ دوسرے اس سے استفادہ كريں _ مختلف ہنروں مثلاً مصوّرى ، خطاّطى ، كشيدہ كاري، سلائي ، بنائي جيسے كاموں ميں اپنے وقت كا مفيد و كارآمد بناسكتى ہيں _ ان كاموں كے ذريعہ معاشى طور پر اپنے خاندان كى مدد بھى كرسكتى ہيں اور معاشرہ كى اقتصاديان ميں بھى اہم كردار ادا كرسكتى ہيں كاموں ميں مصروف رہ كر بہت سى نفسياتى بيماريوں ، اور اعصابى كمزوريوں سے بھى كسى حد تك محفوظ رہ سكتى ہيں _

امير المومنين حضرت على (ع) فرماتے ہيں خدا اس مومن كو ، جو ايماندارى كے ساتھ كسى پيشے


يا كام ميں مشغول رہتا ہے ، پسند فرماتا ہے '' _(۱۴۵)

بہر حال يہ چيز خود خواتين كے حق ميں ہے كہ كسى نہ كسى كام يا مشغلے ميں مصروف رہيں اور ان كے لئے بہترين كام وہ ہيں جنھيں گھر كے اندر انجام دے سكيں تا كہ امور خانہ دارى اور شوہرو بچوں كى ديكھ بھال بھى اچھى طرح اور آسانى كے ساتھ كرسكيں _

البتہ بعض خواتين پسند كرتى ہيں يا اس بات كى ضرورت محسوس كرتى ہيں كہ گھر كے باہر كوئي كام كريں خواتين كے لئے بہترين اور سب سے مناسب و موزون پيشے ٹيچنگ اور نرسنگ كے ہيں _ كنڈرگارڈن ميں چھوٹے چھوٹے بچوں كى تربيت اور اسكول و كالج ميں لڑكيوں كو پڑھانا اور ان كى تربيت كرنا ايك نہايت قابل قدر كام ہے جو خود عورت كے نازك و لطيف وجود سے بھى مطابقت ركھتا ہے _ يا عورتوں كے امراض كى ڈاكٹر بنيں يا نرسنگ كے پيشے كا انتخاب كريں _ اس قسم كے پيشے خواتين كى مہربان اور لطيف و نازك طبيعت سے مناسبت ركھتے ہيں نيز ان كى انجام دہى ميں غير مردوں كے ساتھ زيادہ ربط ضبط ركھنے كى ضرورت نہيں پڑتى يا بہت كم ہوتى ہے _

جو خواتين گھر سے باہر كام كرنا چاہتى ہيں ان كو مندرجہ ذيل نكات پر توجہ كرنى چاہئے :

۱_ شغل كے انتخاب ميں اپنے شوہر سے صلاح و مشورہ ليجئے اور اس كى اجازت كے بغير كام نہ كيجئے يہ امر خاندان كے سكون كو درہم برہم كرنے كا سبب بنتا ہے _ آپ اور آپ كے بچوں كى زندگياں تخل ہوجاتى ہيں _ يہ حق شوہر كو حاصل ہے كہ اجازت دے يا نہ دے اور اس قسم كى عورتوں كے شوہر كو نصيحت كى جاتى ہے كہ اگر ان كى بيويوں كے شغل ميں كوئي حرج نہ ہو تو ہٹ دھرمى سے كام نہ ليں اور اجازت دے ديں كہ وہ اپنى پسند كے مطابق كام كرے _سماجى خدمت بھى انجام دے اور گھر كى اقتصادى مدد بھى _

۲_ گھر سے باہر اور جہاں كام كرتى ہوں اپنے مكمل اسلامى حجاب و پردے كا لحاظ ركھيں _ بغير كسى آرائشے كے سادہ طريقے سے كام پر جائيں _ حتى الامكان غير مردوں سے خلط ملط ہونے اور ان سے ربط ضبط ركھنے سے اجتناب كريں _ آفس ، كام اور خدمت كى جگہ ہے نہ كہ خود نمائي اور باہمى مقابلے


كى انسان كى شخصيت كى تعمير لباس اور زيورات سے نہيں بلكہ متانت و سنجيدگى اور اپنے كام ميں مہارت ركھنے اور فرائض كى انجام دہى سے ہوتى ہے _ اپنے عمل و كردار سے ايك مسلمان خاتون كے وقار و سنجيدگى كا تحفظ كيجئے خود بھى با عزت طور سے رہئے اور اپنے شوہر كے لطيف احساسات و جذبات كو بھى مجروح نہ كيجئے _ اپنے بھڑ كيلے خوبصورت كپڑوں ، زيورات اور سامان آرائشے كو گھر ميں اپنے كيلئے استعمال كيجئے _

۳_ جب آپ گھر سے باہر كام كرتى ہيں اسى كے ساتھ آپ كے شوہر اور بچے آپ سے يہ بھى توقع كرتے ہيں كہ خانہ دارى اور شوہر و بچوں كے كاموں كى طرف سے غفلت نہ برتيں _ اپنے شوہر كے تعاون و مدد سے گھر كى صفائي ، كھانا پكانے ، برتنوں اور كپڑوں كى دھلائي _ اور گھر كے ديگر كاموں كا انتظام كيجئے _ اور مناسب مواقع پر سب مل كر ان كاموں كو انجام ديجئے _ آپ كے گھر كا انتظام اور دوسرے لوگوں كے گھروں كى مانند ، بلكہ ان سے بہتر طريقے سے انجام پانا چاہئے _ گھر كے باہر كام كرنے كا مطلب يہ نہيں ہونا چاہئے كہ گھر كے كاموں ميں آپ ہاتھ نہ لگائيں اور آپ كے شوہر و بچے پريشان رہيں ، گھر آپ كى آسائشے گاہ ہے اور اپنى آسائشے گاہ كى جانب سے غفلت نہ برتيں _

كام كرنے والى خواتين كے شوہروں كوبھى نصيحت كى جاتى ہے كہ گھر كے كاموں اور بچوں كى پرورش ميں اپنى بيويوں كے ساتھ لازمى طور پر تعاون سے كام ليتے ہوئے مدد كريں _ ان سے اس بات كى توقع نہ كريں كہ نوكرى بھى كرے اور گھر كے كام بھى اكيلے انجام دے _ اس قسم كى توقع كرنا نہ تو شرعاً ہى جائز ہے اور نہ ہى انصاف پسند ضمير اسے گوارا كرے گا اور نہ ہى ازدواجى زندگى كے اصولوں اور محبت ووفادارى كى روے جائز ہے _

انصاف كا تقاضا تو يہ ہے كہ گھر كے كاموں كو آپس ميں بانٹ ليں اور ان ميں سے ہر يك حالات اور وقت كى مناسبت سے گھر كے كاموں كى ذمہ دارى لے اور اسے انجام دے _

۴_ اگر آپ بچے والى ہيں تو اسے يا تو نرسرى ميں داخل كيجئے يا كسى قابل اعتبار اور ہمدرد و مہربان


شخص كے پاس چھوڑ كراپنے كام پرجايئے بچے كو گھر يا كمرے ميں تنہا چھوڑ كر كام پر جانا بيحد خطرناك كام ہے _ مختلف احتمالى خطرات كے علاوہ ، تنہائي ميں بچہ ڈرسكتا ہے اور نفسياتى بيماريوں كا شكارہوسكتا ہے _

۵_ اگر آپ اپنے پيشے كو تبديل كركے دوسراكام اختيار كرنے كى ضرورت محسوس كرتى ہيں تواپنے شوہر سے ضرور صلاح و مشورہ كيجئے _ اور اس كى اجازت ورائے سے كام كيجئے _ اگر وہ موافقت نہ كرے تو اس كام كو اختيار نہ كيجئے _ وہ موافقت كردے تو كوشش كيجئے كہ ايسے كام كا انتخاب كريں جس ميں غير مردوں سے كم سے كم رابطہ قائم ركھنا پڑے كيونكہ يہ چيز نہ تو آپ كے ہى حق ميں سودمند ہے نہ ہى سماج كے لئے _ ہر حال ميں اپنے اسلامى حجاب كا ہميشہ دھيان ركھئے نيز ہميشہ گھر سے باہر سادہ اور بغير كسى ميك اپ اور آرائشے كے نكليئے

اپنے فرصت كے اوقات كو ضائع نہ كيجئے

خانہ دارى كے كم كاج اتنے زيادہ ہوتے ہيں كہ ايك خاتون اگر ان فرائض كو اچھى طرح سے انجام دينا چاہے تو اس كا زيادہ تروقت اسى ميں صرف ہوجاتا ہے خصوصاً اگر چھوٹے بڑے تلے اوپر كے كئي بچے بھى ہوں_ اس كے باوجود عورتوں كو تھوڑى بہت فرصت توملى ہى جاتى ہے _

ہر شخص اپنے فرصت كے اوقات كو مختلف طريقے سے گزارتا ہے _ كچھ خواتين ان اوقات كو يونہى برباد كردتى ہيں اور كوئي سودمند كام انجام نہيں ديتيں _ يا بغير كسى مقصد كے سڑكوں كے چكر لگاتى رہتى ہيں يا كوئي دوسرى عورت مل جاتى ہے اس سے باتوں ميںمشغول ہوجاتى ہيں _

يا ايسے گانے سنتى ہيں كہ جن سے سوائے تضيع اوقات ، اعصابى كمزورى اور اخلاقى گراوٹ كے اور كوئي نتيجہ برآمد نہيں ہوتا _ اس قسم كے لوگ يقينا نقصان اٹھاتے ہيں كيونكہ اول تو فرصت كے اوقات بھى انسان كى عمر ميں شمار ہوتے ہيں اور ان كو تلف كردينا پشيمانى كا باعث ہوتا ہے _ انسان كى زندگى اتنى مختصر ہوتى ہے كہ ابھى آنكھ كھولى نہيں كہ بند كرنے كا وقت آجاتا ہے _ حيرت كامقام ہے اگر تھوڑا سا پيسہ كھوجاتا ہے تو ہم افسردہ و غمگين ہوجاتے ہيں ليكن عمر عزيز كو تلف كركے ہميں


كوئي غم محسوس نہيں ہوتا ايك عاقل انسان اپنى گراں بہا عمر كے گھنٹوں بلكہ لمحوں كو بھى غنيمت سمجھ كر ان سے زيادہ استفادہ كرتا ہے _ فرصت كے اوقات كو كس قدر مفيد و با مقصد بنايا جاسكتا ہے دوسرے يہ كہ بيكار بيٹھنا خود نقصان وہ ہے اور اس كے برے نتائج بر آمد ہوتے بہت سى نفسياتى اور اعصابى بيمارياں ، جن كى اكثر عورتوں كو شكايت رہتى ہے ، خالى اور بيكار رہنے كے سبب پيدا ہوجاتى ہيں _ بيكار آدمى كا ذہن ادھر ادھر بھٹكتارہتا ہے اور غم و غصہ پيدا كرتا ہے _ غم و غصہ اعصاب كو كمزور اور روح كو بے چين كرتا ہے _ وہ انسان خوش نصيب ہے جو كام ميں غرق رہتا ہے اور وہ انسان بد قسمت ہے جو خالى بيٹھا رہتا ہے اور اپنى خوش بختى اور بدبختى كے بارے ميں سوچتا رہتا ہے كاموں ميں مشغول رہنا بہت فرحت بخش عمل ہے _ بيكار لوگ زيادہ تر مضمحل اور افسردہ رہتے ہيں _ كيا يہ چيز باعث تاسف نہيں تاسف نہيں كہ انسان اپنى قيمتى زندگى كو بيكار برباد كردے اور اس سے كوئي نتيجہ حاصل نہ كرے

پيارى بہنو آپ بھى اپنے فرصت كے اوقات سے اگر چہ كم اور مختصر ہى كيوں نہ ہوں ، بيشمار فائدے اٹھاسكتى ہيں ، علمى و ادبى كام كرسكتى ہيں _ اپنے ذوق كے مطابق اور اپنے شوہر سے مشورہ كركے ايك مضمون كا انتخاب كرليجئے اس مضمون سے متعلق كتابيں فراہم كيجئے اور فرصت كے لمحات ميں ان كا مطالعہ كيجئے اور روز بروز اپنے علم اور معلومات ميں اضافہ كيجئے _

مضمون كا انتخاب ،خود آپ كے ذوق سے تعلق ركھتا ہے _ فزيكس، كميسٹري، ہيئت ونجوم ، سائيكلوجى ، سوشيالوجى ، قانون، تفسير قرآن، فلسفہ و كلام، علم اخلاق ، تاريخ و ادب ، ان ميں سے كسى بھى مضمون يا كسى دوسرے مضمون كا انتخاب كرسكتى ہيں اور اس پر تحقيق و مطالعہ كرسكتى ہيں _ جب اپ كتاب پڑھنے كى عادى ہوجائيں گى تو كتاب كے مطالعہ ميں آپ كو لذت محسوس ہوگى اور اس حقيقت كو درك كرليں گى كہ كتابوں ميں كس قدر دلچسپ اور عمدہ مطالب موجود ہيں _

اس طرح آپ بہترين طريقے سے سرگرم عمل بھى رہ سكتى ہيں اور تفريح كا لطف بھى لے سكتى ہيں


روز بروز آپ كے فضل و كمال ميں اضافہ ہوگا اور اگر ہمت سے كام لے كر اس عمل كو جارى ركھا تو اس سبجيكٹ ميں مہارت پيدا كرسكتى ہيں اور قابل قدر علمى و ادبى خدمات انجام دے سكتى ہيں _ مقالے لكھ كر اخبار ووسائل ميں شائع كر اسكتى ہيں _ مفيد كتابيں لكھ سكتى ہيں تا كہ آپ كى ذہنى و قلمى كاوشوں سے دوسرے بھى استفادہ كريں اس وسيلے سے آپ كى شخصيت ميں نكھار پيدا ہوگا اور آپ كا شمار ايك قابل فخر ہستى ميں ہوگا _ اس كے ذريعہ آپ كى آمدنى بھى ہوسكتى ہے _

يہ خيال نہ كريں كہ امورخانہ دارى كے ساتھ ساتھ اتنے بڑے كام انجام نہيں ديئےا سكتے _ يہ خيال صحيح نہيں ہے _ اگر كوشش و ہمت سے كام ليں تو يقينا كاميابى آپ كے قدم چومے گى _ يہ نہ سوچيں كہ عظيم خواتين نے جو گران قدر آثار و كتب بطور يادگار چھوڑى ہيں وہ بيكار رہتى تھيں _ جى نہيں وہ بھى گھر كے كام كاج انجام ديتى تھيں ليكن اپنے خالى اوقات كو يونہى تلف نہيں كرتى تھيں _

مسنر ڈورتھى جو گراں قدر كتاب كى مصنّفہ ہے اور اس كى كتاب بہت مقبول ہوئي اور بڑى تعدا د ميں فروخت ہوتى ہے ، ايك گھر يلو خاتون تھى _ اپنے امور خانہ دارى كو بخوبى انجام ديتى تھى اور سائينسى تحقيقات ميں اپنے شوہر كى مدد بھى كرتى تھى اور خود بھى مطالعہ و تاليف ميں مشغول رہتى _ وہ لكھتى ہے : ميں نے اس كتاب كا بڑا حصہ ، روزانہ جب ميرا چھوٹا بچہ سوجاتا تھا ، تو دو گھنٹے كى مہلت ملنے پر لكھا ہے بہت سے ضرورى مطالعہ ميں اس وقت انجام ديتى تھى جب ميں بيوٹى سيلوں ميں اپنے بال سكھانے كيلئے بال سكھانے والى مشين كے نيچے بيٹھتى تھى _(۱۴۶)

مشہور و معروف دانشوروں اور مصنفوں كى صف ميں ايسى عظيم خواتين بھى ملتى ہيں جنھوں نے زبردست علمى خدمات انجام ديئےيں اور عظيم آثار بطور يادگار چھوڑے ہيں _ آپ بھى اگر ہمت و استقامت سے كام ليں تو مردوں كے دوش بدوش ترقى كرسكتى ہيں _ اگر آپ كے شوہر محقق و دوانشور ہيں تو آپ علمى كاموں ميں ان كى مدد كرستى ہيں يا مشتركہ طور پرتحقيق و مطالعہ كا كام كرسكتي


ہيں كيا يہ افسوسناك بات نہيں كہ ايك پڑھى لكھى خاتون ، ازدواجى زندگى ميں قدم ركھنے كے بعد اپنى سالہا سال كى محنت كو يونہى گنوادے اور پڑھنے لكھنے سے دستبردار ہوجائے حضرت على (ع) فرماتے ہيں _'' علم و دانش سے بہتر كوئي خزانہ نہيں'' _(۱۴۷)

حضرت امام باقر(ع) فرماتے ہيں : جو شخص اپنے شب و روز كو علم حاصل كرنے پر صرف كرے ، خدا كى رحمت اس كے شامل حال رہے گى _(۱۴۸)

البتہ اگر آپ كو مطالعہ كا شوق نہيں ہے تو كوئي ہنر يا دستكارى سيكھ ليجئے _ اور فرصت كے وقت اس ميں مشغول رہئے _ مثلاً سلائي ، كڑھائي ، بنائي، ڈرائنگ، كپڑوں اور كاغذوں كے پھول بنانا و غيرہ كارآمد ہنرہيں _ ان ميں سے جو آپ كو پسند ہو اس ميں مہارت پيدا كيجئے _ اور اسے انجام ديتى رہئے _ اس طريقے سے آپ كا وقت فالتو باتوں ميں ضائع نہ ہوگا _ آپ كا ذوق و ہنر بھى ظاہر ہوگا اس سے آپ كى آمدنى بھى ہوسكتى ہے اور اپنے گھر كے بجٹ ميں مدد كرسكتى ہيں _

اسلام ميں دستكارى كے كاموں كو عورتوں كے لئے اچھامانا گيا ہے _ حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :'' سوت كاتنے كا كام عورتوں كى سرگرمى كے لئے اچھا ہے '' _(۱۴۹)


بچّوں كى پرورش

عورت كى ايك بہت حساس اور سنگين ذمہ دارى ،بچوں كى پرورش ہے _ بچے پالنا آسان كام نہيں ہے بلكہ بہت صبر آزما اور كٹھن كام ہے _ ليكن يہ ايك بيحد مقدس اور قابل قدر فريضہ ہے جو قدرت نے عورت كے سپردكيا ہے _ يہاں مختصراً چند باتين بيان كى جاتى ہيں _

۱_ شادى كا ثمرہ

اگرچہ ايسا اتفاق بہت كم ہى ہوتا ہے كہ مرد عورت بچے پيدا كرنے كى خاطر شادى كريں _ عموماً دوسرے عوامل منجملہ جنسى خواہش اس كا محرك ہوتے ہيں _ ليكن زيادہ مدت نہيں گزرتى كہ آفرينش كا فطرى مقصد ، بچے كى صورت ميں ظاہر ہوجاتا ہے _

بچے كا وجود ، ازدواجى زندگى كے درخت كا پھل اور ايك فطرى آرزوہے _ بے اولاد جوڑے بے برگ و پھل درخت كى مانند ہوتے ہيں _ بچے كا وجود شادى كے رشتہ كو مستحكم كرتا ہے _ بچے كى معصوم گلكارياں گھر كے ماحول ميں رونق پيدا كرتى ہيں _ گھر اور زندگى سے مياں بيوى كى محبت اور دلچسپى ميں اضافہ كرتى ہيں _ باپ كو سعى و كوشش كے لئے سرگرم اور ملى كو گھر ميں مشغول ركھتى ہيں _

شروع ميں شادى ، جنسى ہوس، جسمانى خواہشات اور جذباتى عشق و محبت كى ناپائيدار اور متزلزل بنيادوں پر قائم ہوتى ہے يہى وجہ ہے كہ ہميشہ اس كے ٹوٹنے كا دھڑكا لگارہتا ہے _ طاقتور ترين عامل جو اس كو پائيدار بنانے كا ضامن ہوتا ہے وہ اولاد كا وجود ہے _ جوانى كا نشاط انگيز دور جلدى گذرجاتا ہے ، جنسى خواہشات اور ظاہرى عشق ٹھنڈا پڑجاتا ہے _ اس ہيجان انگيز دور كى واحد يادگار جو باقى رہ جاتى ہے اورمياں بيوى كے لئے سكون و باہمى تعلق كے اسباب


فراہم كرتى ہے وہ اولاد كى موجودگى ہے _

يہى سبب ہے كہ حضرت امام زين العابدين (ع) فرماتے ہيں : _

''انسان كى سعادت اسى ميں ہے كہ ايسى صالح اولاد ركھتا ہو جس سے مد دكى اميد كرسكے '' _(۱۵۰)

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں:_

''نيك و صالح اولاد ايك ايسى خوشبو دار گھاس كى مانند ہے جو بہشت كى گھاس ہو''_(۱۵۱)

آنحضرت (ص) كا ارشاد ہے كہ اپنى اولاد كى تعداد ميں اضافہ كرو _ كيونكہ ميں قيامت كے دن تمہارى زيادتى كے سبب دوسرى اقوام پر فخر كروں گا _(۱۵۲)

۲_ بچّوں كى تربيت

خواتين كى ايك اور بہت اہم ذمہ دارى بچوں كى تعليم و تربيت ہے ، اس سلسلے ميں ماں باپ دونوں كى ذمہ دارى ہوتى ہے ليكن اس ذمہ دارى كا زيادہ بوجھ ماں كے كندھوں پر ہوتا ہے _ كيونكہ وہى ہر وقت بچوں كى ديكھ بھال اور حفاظت كرسكتى ہے _ اگر مائيں ، ايك ماں كى مقدس اور اہم فرائض سے پورى طرح واقف ہوں تو سماج كے ان نونہالوں كى صحيح طريقے سے پرورش اور تعليم و تربيت كرسكتى ہيں _ اورايك معاشرہ كى عام حالت بلكہ دنيا كو پورى طرح دگرگوں كرسكتى ہيں _ اس بناء پر بلاخلاف ترديد كہا جا سكتا ہے كہ معاشرے كى ترقى و پسماندگى كا دار و مدار خواتين پر ہوتا ہے _ يہى وجہ ہے كہ آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ہے كہ :'' ماں كے پاوں كے نيچے جنّت ہے _(۱۵۳)

وہ بچے جو آج گھر كے چھوٹے سے ماحول ميں تعليم و تربيت پاتے ہيں كل سماج كے ذمہ دار عورت اور مرد بنيں گے _ ہر وہ سبق جو آج گھر كے ماحول ميں ماں باپ كے سايہ ميں سيكتھے ہيں كل كے


سماج ميں اس اس پر عمل كريں گے _ اگر خاندانوں كى اصلاح ہوگى تو معاشرے كى بھى يقينا اصلاح ہوجائے گى چونكہ معاشرہ ان ہى خاندانوں سے تشكيل پاتا ہے _ اگر آج كے بچے بدمزاج ، جھگڑالو، ظالم ، چاپلوس ، دروغ گو ، بد اخلاق ، كوتا فكر ، بے ارادہ ، نادان ، ڈرپوك ، شرمسيلے ، خود غرض ، زرپرست ، لا ابالى اور جبريہ ماحول ميں پرورش پائيں گے تو كل بڑے ہو كر ان ہى برى صفات ميں مبتلا ہوكر برے معاشرے كى تشكيل كريں گے _ اگر آج آپ سے خوشامد اور چاپلوسى كركے كوئي چيز ليں گے تو كل ظالموں كى بھى خوشامد كريں گے _ اس كے برعكس اگر آج كے بچے ، سچے ، بہادر، بلند ہمت ، خوش اخلاق ، خيرخواہ بردبار ، ايماندار،رحم دل ، انصاف پسند ، اعلى نفس ، حق گو ، امانت دار، دانا، روشن فكر اور ملائم لہجہ ميں بات كرنے والوں كى صورت ميںتربيت پائيں گے تو كل يہى اعلى صفات ، كامل صورت ميں ظاہر ہوں گي_

اس بناء پر والدين خصوصاً ماؤوں كى اپنے بچوں اور معاشرہ كے سلسلے ميں بہت بڑى اور بھارى ذمہ دارى ہوتى ہے _ اگر آپ نے اپنے بچوں كى تربيت كے سلسلے ميں صحيح تعليم و تربيت كے اصولوں پر عمل كيا ، تو يہ آئندہ كے معاشرے كى بہت بڑى خدمت ہوگى اور اگر اس عظيم ذمہ دارى كو انجام دينے ميں كوتاہى كى ، تو قيامت كے روز والدين اس كے ذمہ دار ہوں گے _

امام سجاد عليہ السلام فرماتے ہيں : تمہارى اولاد كا حق يہ ہے كہ تم سمجھو كہ وہ تم سے ہے _اچھا ہو يا برا ، تم سے نسبت ركھتا ہے _ اس كى پرورش اور تنبيہ اور خدا كى جانب اس كى رہنمائي كرنے اور فرماں بردارى ميں اس كى مدد كرنے كے سلسلے ميں تمہارى ذمہ دارى ہے _ اس كے ساتھ سلوك اس آدمى كا سا كرو كہ يقين رہے كہ اس كے ساتھ احسان كرنے ميں نيك اور اچھا بدلہ ملے گا اور بد سلوكى كے مقابلے ميں برا بدلہ مے لگا _(۱۵۴)

يہاں پر ايك بات كى ياد دہانى كراديں كہ ہر خاتون، ماں كے فرائض اور صحيح تعليم و تربيت كرنے كے فن سے واقف نہيں ہوتى ہے بلكہ اس كو يہ رموز سكھانا چاہئے _ يہاں ان مختصراً صفحات ميں تربيت كے فن پر بحث نہيں كى جا سكتى اور اس وسيع موضوع كا تجزيہ و تحليل نہيں


كيا جا سكتا يہ موضوع دقيق اور تفصيل طلب ہے جس كے بيان كے لئے ايك الگ كتاب كى ضرورت ہے خوش قسمتى سے اس موضوع پر بہت سى كتابيں لكھى جا چكى ہيں _ دلچسپى ركھنے والى مائيں اس كامطالعہ كر سكتى ہيں اوراپنے ذاتى تجربيوں سے بھى استفادہ كرسكتى ہيں _ اور ہوشيار خواتين تربيت كے اصول و ضوابط پر عمل كركے اوران كے آثار و نتائج پر توجہ كركے جلدى ہى تربيت كے فن ميں مہارت پيدا كرسكتى ہيں_ اس صورت ميں خود بھى قابل قدر علمى خدمات انجام دے سكتى ہيں _ مثلاً اس دلچسپ موضوع پر زيادہ سے زيادہ معلومات فراہم كركرے ، تربيتى امور سے متعلق كتابوں كى تكميل اور معاشرے كى اصلاح كا بيٹرا اٹھا سكتى ہيں _

البتہ يہاں پر ايك نكتہ كى ياددہانى ضرورى معلوم ہوتى ہے _ بہت سے لوگ صحيح تربيت كے معنى نہيں سمجھتے اورتعليم و اور تربيت ميں فرق محسوس نہيں كرتے _ اور تربيت كو ايك طرح كى تعليم سمجھتے ہيں وہ سمجھتے ہيں كہ شعراء و حكماء كى پند ونصيحتيں اور مذہبى باتيں يادكراكے اور نيك لوگوں كى سرگزشت سناكر بچے كى مكمل طور پر تربيت كى جا سكتى ہے اور اپنى مرضى كے مطابق بچے مؤدب اور نيك انسان بنايا جا سكتا ہے _ مثلاً ان كے خيال ميں دروغ گوئي كى مذمت ميں كوئي روايت اور قرآنى آيات بچے كو سكھاديں اور راستگوئي كى فضيلت ميں چند حديثيں زبانى ياد كراديں _ اور بچے نے انھيں زبانى ياد كركے لوگوں كے سامنے سنا كر انعام بھى حاصل كرليا تو گويا وہ راستگو بن جائے گا _

ليكن تربيت كے سلسلے ميں اتنا كافى نہيں ہے _ اگر چہ آيات وہ احاديث اور سبق آموز داستانيں ياد كرلينا ، بے سود اور بے اثر نہيں ہوتا ليكن جس قسم كى تربيت كے آثار ہم بچے ميں ديكھنا چاہتے ہيں ، اس كى توقع ، اس قسم كے زبانى طريقوں سے نہيں كرنى چاہئے _

اگر ہم بچے كى صحيح اور مكمل تربيت كرنا چاہتے ہيں تو اس كے لئے مخصوص حالات و شرائط كا ہونا ضرورى ہے _ اس كے لئے ايك ايسا مناسب اور صالح ماحول پيدا كريں كہ بچہ طبعا نيك و صالح اور سچا بن كرنكلے _ جس ماحول ميں بچے كى نشو و نما اور پرورش كى جائے _ اگر وہ ماحول ، نيكي


سچائي ، امانت دارى ، ايماندارى و پاكيزگى ، نظم و ضبط، شجاعت و خيرخواہي، مہرووفا، انصاف پرورى سعى و كوشش، آزادى ، بلند ہمتى ، غيرت اور فداكارى كا ماحول ہوگا تو بچہ بھى ان ہى صفات كا عادى بنے گا _ اسى طرح اگر ايسے ماحول ميں پرورش پائے جہاں خيانت ، بد تميزى ، جھوٹ ، حيلہ بازى ، چاپلوسى ، ظلم ، بغض و كينہ پرورى ، لڑائي جھگڑے ، ضد ، كوتاہ فكرى ، نفاق ، اور دو غلاپن ہوا ور دوسروں كے حقوق كا لحاظ نہ ركھا جاتا ہو ، تو خواہ مخواہ ہى ان برى صفات كا عادى بن كر فاسد اور بدكردار نكلے گا _

ايسى صورت ميں اگر اس كو دينى اور ادبى پند و نصيحتيں زبانى رٹادى جائيں تو بھى اس كى اصلاح نہيں ہوگى _ سينكڑوں آيتيں اور روايتيں اور سبق آموز شعر اور كہانياں سنائي جائيں مگر اس پر كچھ اثر انداز نہ ہوں گى _ كيونكہ زبانى جمع خرچ سے كچھ حاصل نہيں ہوتا جب تك كہ عملى كردار پيش نہ كيا جائے _ دروغ گو ماں باپ ، آيت و حديث كے ذريعہ بچے كو راستباز نہيں بنا سكتے _ گندے اور غير مہذب ماں باپ اپنے عمل سے بچے كو گندہ اور بد تميز بناديتے ہيں _

بچہ جس قدر آپ كے اعمال و كردار اور طور طريقوں پر غور كرتا ہے اتنا آپ نصيحتوں اور باتوں پر توجہ نہيں ديتا _ لہذا جو والدين اپنے بچوں كى اصلاح اور تربيت كرنا چاہتے ہيں انھيں چاہئے پہلے خاندان كے ماحول ، خود اپنے باہمى روابط ، اور اخلاق و كردار وعمل كى اصلاح كريں تا كہ ان كے بچے خودبخود نيك اور شائستہ نكليں _


غذا اور صحت

خواتين كا ايك اہم فريضہ ، بچوں كى غذت كا دھيان ركھنا ہے _ بچوں كى صحت و سلامتى اور بيمارى ، خوبصورتى و بد صورتى ، حتى كى خوش مزاجى ، ذہانت اور كندذہنى كا تعلق انكى غذائي كيفيت سے ہوتا ہے _ ان كى غذائي ضروريات بڑوں كى جيسى نہيں ہوتيں _ بلكہ مختلف سن ميں غذائي پروگرام ميں بھى تغيير و تبديلى ہوتى رہتى ہے _ ايك بچے والى ماں كو ان تمام نكات كا لحاظ ركھنا چاہئے _

بچے كى بہترين اور مكمل غذا دودھ ہے _ بدن كى نشو و نما كے لئے جن غذائي اجزاء كى ضرورت ہوتى ہے وہ سب دودھ ميں موجود ہيں اسى سبب سے ماں كا دودھ ہر نو زائيدہ بچے كے لئے بہترين اور سالم ترين غذا ہے _ ماں كے دودھ ميں بچے كے معدہ كى مناسبت سے اجزاء پائے جاتے ہيں جنھيں وہ آسانى سے ہضم كرليتا ہے _ ماں كے دودھ كى ايك اور خوبى يہ ہے كہ اس ميں كسى قسم كى ملاوٹ نہيں ہوتى _ اسے گرم كرنے كى ضرورت نہيں ، جبكہ دودھ كو گرم كرنے سے اس كے بعض اجزاء ضائع ہوجاتے ہيں _

يہى سبب ہے حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : ''بچے كے لئے ماں كے دودھ سے بہتر اور بابركت كوئي غذا نہيں '' _(۱۵۵)

عالمى حفظان صحت تنظيم ميں مشرقى بحيرہ روم منطقے كے صدر ڈاكٹر عبدالحسين طبانے اپنے پيغام ميں كہا ہے كہ ''سب سے بڑا عامل جو بچے كو بيماريوں كيلئے


آمادہ كرتاہے ، اسے ماں كے دودھ سے محروم كردينا ہے '' _(۱۵۶)

بچے كو دودھ پلانے والى ماؤوں كو اس بات كا دھيان ركھنا چاہئے كے بچے كو دودھ كے ذريعہ مختلف غذائي اجزا بہم پہونچائيں _ دودھ ميں موجود اجزا ، ماں كى غذا كے ذريعہ مہيا ہوتے ہيں _ يعنى ماں كے دودھ كى كيفيت كا تعلق ، اس كى خوراك كى مقدار اور نوعيت سے ہے ، ماں كى غذا جتنى مكمل اور متنوع ہوگى اسى لحاظ سے اس كا دودھ بھى مكمل اورتمام اجزاء سے بھر پور ہوگا _ اس لئے دودھ پلانے والى ماوؤں كو چاہئے كہ اس زمانے ميں اپنى غذا كا پورا دھيان ركھيں _ ان كى خوراك غذائيت كے لحاظ اتنى بھر پور ہو جو خود ان كى اور ان كے بچے كى غذائي ضروريات كو پورا كرسكے _ اگر اس بات كا دھيان نہ ركھيں گى تو خود ان كى اور ان كے بچے كى صحت و سلامتى خطرے ميں پڑجائے گى _

شوہر پر بھى لازم ہے كہ اپنى بيوى كے لئے ايسى مقوى غذاؤں كا اہتمام كرے جو غذائيت كے لحاظ سے بھر پور اور مكمل ہوں _ اور اس طرح سے اپنے بچے كى صحت و سلامتى كے اسباب فراہم كرے _ اگر اس نے اس سلسلے ميں كوتاہى كى تو اس كا جرمانہ دوا اورڈاكٹر كى فيس كى صورت ميں ادا كرنا ہوگا _ اس سلسلے ميں ڈاكٹر سے بھى صلاح لى جا سكتى ہے اور كتابوں سے بھى مدد لى جا سكتى ہے _ مختصراً يوں كہا جا سكتا ہے كہ ماں كى غذا مكمل اور متنوع اور كافى ہونى چاہئے _ مختلف قسم كى غذائيں كھائے _ اس كى غذا سبزيوں ، پھلوں ، دالوں، گوشت ، انڈے ، دودھ ، دھى ، مكھن و غيرہ پر مشتمل ہو _ اور ان سب كا اچھى مقدار ميں برابر استعمال كرتى رہے ، بلاخوف ترديد كہا جا سكتاہے كہ ماں كے دودھ كا اچھا يا برا اثر بچے پر ضرور پڑتا ہے اس لئے اس چيز كو نظر انداز نہيں كردينا چاہئے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں: بچوں كو دودھ پلانے كے لئے احمق عورتوں كا انتخاب نہ كرو كيونكہ دودھ بچے كى فطرت كو دگرگون كرديتا ہے _(۱۵۷)


حضرت امام باقر عليہ السلام فرماتے ہيں : دودھ پلانے كے لئے خوبصورت عورتوں كا انتخاب كيجئے كيونكہ دودھ كا اثر ہوتا ہے اور دودھ پلانے والى عورت كے صفات شيرخوار بچے ميں سرايت كرہ جاتے ہيں _(۱۵۸)

بچے كو دودھ پلانے كے اوقات مقرر كيجئے تا كہ نظم و ترتيب كى عادت پڑ جائے اور بردبار اور صابر بنے _ اس كا پيٹ اور معدہ ٹھيك كام كرے اگر نظم و ضبط كا لحاظ نہ ركھا اور جہاں بچہ رويا اس كے منہ ميںدودھ دے ديا تو اس كى يہى عادت پڑجائے گى _

بڑے ہوكر بھى يہى بد نظمى اس كى سرشت ميں شامل ہوجائے گى _ حرّيت اور آزادى كا جذبہ ختم ہوجائے گا زندگى كى مشكلات ميں صبر و حوصلہ سے كام نہيں لے گا _ چھوٹے سى بات كے لئے يا تو ضد كرے گا يا رونا پٹنا شروع كردے گا _ يہ نہ سوچئے كہ نوزائيدہ بچے ميں نظم و ترتيب پيدا كرنا دشوار ہے ، جى نہيں اگر چند روز ذرا صبر سے كام ليں تو جلد ہى آپ كى مرضى كے مطابق اس كى عادت پڑجائے گى _ بچوں كى غذا كے ماہرين كا كہنا ہے كہ ہر تين چار گھنٹے كے بعد نوزائيدہ بچے كو دودھ پلانا چاہئے _

دودھ پلاتے وقت بچے كو اپنى گود ميں لٹا ليجئے _ اس طرح اس كے لئے دودھ پينا آسان ہوگا اور آپ كى محبت و مہربانى كو محسوس كرے گے _ اور يہى احساس اس كى آئندہ شخصيت كى تعمير ميں موثر ثابت ہوگا _ بچے كو اپنے پہلو ميں لٹاكردو دھ نہ پلايئے كيونكہ ممكن ہے ايسى حالت ميں كو دودھ اس كے منہ ميں ہو ، آپ كو نيند آجائے اور وہ معصوم بچہ اپنا دفاع نہ كر سكے اور اس كادم گھٹ جائے يہ بات بعيد نہ سمجھئے كيونكہ اس قسم كے حادثات اكر رونما ہوتے رہتے ہيں _

اگر آپ كا دودھ بچے كے لئے ناكافى ہو تو گائے كا دودھ استعمال كرسكتى ہيں _ گائے كا دودھ ماں كے دودھ سے زيادہ گاڑھا ہوتا ہے اور اس ميں مٹھاس كم ہوتى ہے _ اس ميں تھوڑا سا پانى اور شكر ملا ليجئے _ يا پيسچرائزڈ دودھ كااستعمال كيجئے _ دودھ كو پندرہ بيس منٹ تك خوب جوش كيجئے تا كہ اس ميں موجود جراثيم مرجائيں ، بچے كو بہت زيادہ گرم يا ٹھنڈا دودھ ماں كے دودھ درجہ حرارت كے مطابق ہونا چاہئے_ ہر دفعہ پلانے كے بعد


فوراً بوتل اور چسنى كو اچھى طرح دھوليجئے _ خصوصاً اگر ميوں ميں بہت دھيان ركھنا چاہئے _ كيونكہ گرميوں ميں جلدى سرانڈپيدا ہوجاتى ہے جو بچے كى صحت و سلامتى كے لئے بيحد مضر ہے _ دھيان ركھئے كہ خراب يا ركھا ہوا دودھ بچے كو نہ ديں _ بہتر ہے دودھ كى ايسى بوتلوں سے استفادہ كريں جن ميں وزن كے نشان بنے ہوتے ہيں تا كہ اس كى خوراك كى مقدار معين ہو سكے _ اگر بچے كو پاؤڈروالا دودھ دينا چاہتى ہيں تو بچوں كے ڈاكٹر سے مشورہ ليجئے كيونكہ مختلف قسم كے پاؤڈر ہوتے ہيں اور ڈاكٹر صحيح مشورہ دے سكتا ہے كہ آپ كے بچے كے معدے كے لئے كون سادودھ مناسب ہے _

بچے كو پھلوں كا رس بھى ديجئے _ پانچ چھ مہينے كى عمر سے تھوڑا تھوڑا كركے كھانے كى عادت بھى ڈلوايئے پتلا سوپ ديجئے _ بسكٹ يا تازہ بريڈ دودھ مين بھگو كر كھلايئے تازہ پنير اور ميٹھادہى بھى بچے كے لئے مفيد ہے _ نو مہينے كى عمر سے اپنے كھانے ميں سے تھوڑا تھوڑا كر كے كھلايئے آپ كى طرح بچے كو بھى پانى كى ضرورت ہوتى ہے _ بچے كو پانى برابر پلاتى رہئے _ اكثر بچے پياس كے سبب روتے ہيں _ بچے كو رقيق غذائيں ديجئے _ خاص طور پر پھلوں كا رس، اور سبزيوں اور ہڈيوں كا سوپ بچے كے لئے بيحد مفيد ہے _ البتہ جہاں تك ہوسكے اس كے معدے كى نئي اور سالم مشينرى كى چائے پلاكر مسموم نہ كريں _

بچے كى صفائي اور تندرسى كا بہت خيال ركھئے _ اس كا بستر اور كپڑے ہميشہ بہت صاف ستھرے ہوں _ اس كو ہرروز نہلائيں _ كيونكہ بچے پر جراثيم جلدى اثرانداز ہوجاتے ہيں _ اگر حفظان صحت كا خيال نہ ركھا تو بچے كے بيمار يا تلف ہوجانے كا خطرہ ہے _

بچے ك بيماريوں كے ٹيكے لگوانا ضروريہے _ مثلاً چيچك، خسرہ ، كالى كھانسى ، پوليوو غيرہ جيسے امراض كے ٹيكے لگواكر ان بيماريوں كى روك تھام كيجئے بيمارى كے ظہور ميں آنے سے پہلے ہى اس كا علاج ہونا چاہئے _

خوش قسمتى اس قسم كى بيماريوں كے ٹيكے اسپتالوں ميں مفت لگائے جاتے ہيں اگر آپ نے صحت و تندرستى كے تمام اصولوں كا پورى طرح لحاظ ركھا تو آپ كے بچے صحت مند ، اور مسرور و شاداب ہوں گے _


دوسرا حصہ

مردوں كے فرائض


بسم اللہ الرحمن الرحيم

خاندان كا سرپرست

مياں بيوي، خاندان كے دوبڑے ركن ہوتے ہيں _ ليكن مرد كو ، اس سبب سے كہ اس كو قدرت كى جانب سے كچھ خصوصيات علا كى گئي ہيں اور عقل و سمجھ كے لحاظ سے قوى تر بناگيا ہے ، بڑا اور خاندان كا سرپرست سمجھا جاتا ہے _

خداوند بزرگ و برتر نے بھى اس كو خاندان كا سرپرست اور ذمہ دار ٹھہرايا ہے ، قرآن مجيد ميں فرماتاہے: مرد عورتوں كے سرپرست ہيں كيونكہ خدا نے بعض لوگوں كوبعض دوسروں پر برترى عطا كى ہے _(۱۵۹)

چونكہ مرد كا مرتبہ برتر ہے لہذا فطرى طور پر اس كے فرائض بھى سنگين تر اور دشوار تر ہوں گے ، وہى اپنى عاقلانہ تدبر سے خاندان كا بہترين طريقے سے انتظام چلا سكتا ہے اور ان كى خوش بختى و سعادت كے اسباب مہيا كرسكتا ہے اور گھر كے ماحول كو بہشت بريں كى مانند منظم و مرتب اور خوشگوار بنا سكتا ہے _ اور اپنى بيوى كو ايك فرشتہ كا روپ عطا كرسكتاہے _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : مرد خاندان كے سرپرست ہيں اور ہر سرپرست پر اپنے تحت تكفل افراد كى ذمہ دارياں عائدہوتى ہيں _(۱۶۰)

مرد ، جو كہ گھر كا منيجر ہے ، اس كو اس نكتہ كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ عورت بھي، مرد ہى كى مانند ايك انسان ہوتى ہے _ خواہشات اور آرزوئيں ركھنے اور زندگى و آزادى كا حق ركھتى ، انہيں سمجھنا چاہئے كہ شادى كركے كسى لڑكى كو اپنے گھر لانے كا مطلب لونڈى يا كنيز لانا نہيں ہے _ بلكہ اپنى زندگى كى ساتھى ، اور اپنے لئے مونس و غمخوار لانا ہے _ اس كى اندرونى خواہشات اور آرزوؤں


و تمنّاؤں پر بھى توجہ دينا چاہئے _ ايسا نہيں ہے كہ مرد، بيوى كے مالك مطلق ہيں اور ان كى حيثيت ايك مطلق العنان حكمران كى سى ہے _ بيوى كے بھى شوہر پر كچھ حقوق ہوتے ہيں _

خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے : جس طرح بيوى پر اپنے شوہروں كى نسبت فرائض ہيں، اسى طرح ان كے كچھ حقوق بھى ہيں _ اور مردوں كو ان پر برترى ہے _(۱۶۱)

بيوى كى ديكھ بھال

اسلامى شريعت ميں ، جس طرح شوہر كى ديكھ بھال كو ، ايك عورت كے لئے جہاد سے تعبير كيا گيا ہے ، اسى طرح بيوى كى ديكھ بھال كو بھى ايك شادى شدہ مرد كا سب سے اہم اور گرانقدر عمل سمجھا گيا ہے اور اس ميں خاندان كى سعادتمندى مضمر ہے _ لكن ''زن داري'' يا بيوى كى ديكھ بھال كوئي آسان كام نہيں ہے بلكہ يہ ايك ايسا راز ہے جس سے ہر شخص كو پور ى طرح آگاہ و با خبر ہونا چاہئے تا كہ اپنى بيوى كو اپنى مرضى كے مطابق ايك آئيڈيل خاتون ، بلكہ فرشتہ رحمت كى صورت دے سكے _

جو مرد واقعى ايك شوہر كے فرائض بنھانا چاہتے ہيں ان كو چاہئے كہ اپنى بيوى كے دل كو موہ ليں _ اس كى دلى خواہشات و رجحانات و ميلانات سے آگاہى حاصل كريں اور اس كے مطابق زندگى كا پروگرام مرتب كريں _ اپنے اچھے اخلاق و كردار و گفتار اور حسن سلوك كے ذريعہ اس پر ايسا اچھا اثر ڈاليں كہ خود بخود اس كا دل ان كے بس ميں آجائے _ اس كے دل ميں زندگى اور گھر سے رغبت و انسيت پيدا ہو اور دل و جان سے امور خانہ دارى كو انجام دے _

''زن داري'' يا بيوى كى ديكھ بھال كے الفاظ ، جامع اور مكمل مفہوم كے حامل ہيں كہ جس كى وضاحت كى ضرورت ہے اور آئندہ ابواب ميں اس موضوع پر تفصيلى بحث كى جائے گى _

اپنى محبت نچھا وركيجئے

عورت محبت كا مركز اور شفقت و مہربانى سے بھر پور ايك مخلوق ہے اس كے وجود سے مہرو محبت كى بارش ہوتى ہے _


اس كى زندگى عشق و محبت سے عبادت ہے _ اس كا دل چاہتا ہے دوسروں كى محبوب ہوا ور جو عورت جتنى زيادہ محبوب ہوتى ہے اتنى ہى تر و تازہ اور شاداب رہتى ہے _محبوبيت حاصل كرنے كيلئے وہ فداكارى كى حد تك كوشش كرتى ہے _ اس نكتہ كو جان ليجئے كہ اگر عورت كسى كى محبوب نہ ہو تو خود كو شكست خودرہ اور بے اثر سمجھ كر ہميشہ پمردہ اور افسردہ رہتى ہے _ اس سبب سے قطعى طور پر اس بات كا دعوى كيا جا سكتاہے كہ بيوى كى ديكھ بھال يا ''زن داري'' كا سب سے بڑا راز اس سے اپنى محبت اور پسنديدگى كا اظہار كرنا ہے _

برادر محترم آپ كى بيوى پہلے اپنے ماں باپ كى بيكراں محبت سے پورى طرح بہرہ ور تھى ليكن آپ سے رشتہ ازدواج قائم كرنے كے بعد اس نے سب سے ناطہ توڑكر آپ سے پيمان وفا باندھا ہے اور اس اميد كے ساتھ آپ كے گھر ميں قدم ركھا ہے كہ تنہا آپ ان سب كى محبتوں كے برابر، بلكہ ان سے سب زيادہ اس كو محبت وچاہت ديں گے _ وہ اس بات كى توقع ركھتى ہے كہ آپ كا عشق و محبت اس كے ماں باپ سے زيادہ گہراور پائيدار ہوگا چونكہ آپ كے عشق و محبت پر اعتماد كركے اس نے اپنى تمام ہستى اور وجود كو آپ كے حوالے كرديا ہے _ ''زن داري'' كا سب سے بڑا رمز اور شادى شدہ زندگى كى مشكلات كو حل كرنے كى بہترين كنجى بيوى سے اپنى محبت اور پسنديدگى كا اظہار كرنا ہے اگر آپ چاہتى ہيں كہ اپنى بيوى كے دل كو اس طرح سے مسخّر كرليں كہ وہ آپ كى مطيع رہے ، اگر آپ چاہتے ہيں آپ كى ازدواجى زندگى قائم و دائم رہے ، اگر آپ چاہتے ہيں آپ كى بيوى زندہ دل ، خوش و خرم اور شاداب رہے گھر اور زندگى ميں پورى دل جمعى كے ساتھ دلچسپى لے ، اگر آپ چاہتے ہيں كہ وہ آپ سے سچے دل سے محبت كرے ، اگر آپ چاہتے ہيں كہ آخر عمر تك آپ كى وفادار رہے ، تو اس كا بہترين طريقہ يہ ہے ك جس قدر ممكن ہو سكے اپنى بيوى سے محبت وچاہت كا اظہار كيجئے _ اگر اسے معلوم ہو كہ آپ كو اس محبت نہيں ہے تو گھر اور زندگى سے


بيزار ہوجائے گى ہميشہ پمردہ اور اداس رہے گى _ خانہ دارى اور بچوں كے كاموں ميں اس كا دل نہيں لگے گا _ آپ كے گھر كى حالت ہميشہ ابتر رہے گى _ اپنے دل ميں سوچے گى كہ ايسے شوہر كے لئے كيوں جاں كھپاؤں جو مجھے عزيز نہيں ركھتا _

اگر آپ كا گھر محبت و خلوص كى دولت سے خالى ہوگيا تو ايك سلگتے ہوئے جہنم ميں تبديل ہوجائے گا اس صورت ميں خواہ آپ كے گھر ميں آرام و آسائشے كا كتنا ہى اعلى ساز وسامان موجود ہو ، ليكن چونكہ عشق و محبت كى مہك نہ ہوگى اس لئے بے رونق ہوگا _

ممكن ہے آپ كى بيوى نفسياتى بيماريوں اور اعصابى كمزوريوں ميں مبتلا ہوجائے _ ممكن ہے آپ كى جانب سے كمى كى تلافى كرنے كے لئے دوسروں كے دلوں پر نفوذ كرنے كى كوشش كرے_ ممكن ہے شوہر اور گھر سے اس قدر بيزار ہوجائے كہ اس سرد اور بے رونق زندگى پر عليحدگى كو ترجيح دے اور طلاق كا مطالبہ كرے _ ان تما م حادثات كے ذمہ دا ر مرد ہوتا ہے جو بيوى بچوں كى جانب سے بے اعتنائي برتتا ہے _ يقين جا نئے زيادہ تر طلاقيں ، ان ہى سرد مہريوں كى وجہ سے ہوتى ہيں _ ذيل كے اعداد و شمار پر توجہ كيجئے _

شوہر كى بے اعتنائيوں اور بے مہريوں يا زيادہ كاموں ميں مشغول رہنے كے نتيجہ ميں بيوى اور گھر كى طرف سے غفلت ، زيادہ تر عليحدگى كے اسباب رہے ہيں _ سنہ ۱۹۶۹ ء ميں ۷۲ ۱۰۳ مياں بيوى ايك دوسرے سے عليحدہ ہوئے _ جن ميں سے ۱۲۰۳ عورتوں نے عليحدگى كا سبب ، شوہر كى بے توجہى اور سرد مہري، احساس حقارت ، اور زندگى سے اكتا ہٹ و بيزارى بتايا_(۱۶۲)

ايك عورت نے عدالت ميں كہا كہ وہ اس بات پر تيار ہے كہ اپنا مہر معاف كرنے كے علاوہ مزيد دس ہزارتومان اپنے شوہر كو ديدے تا كہ وہ اس كو طلاق دے دے _ ان كى شادى كو


محض چار مہينے ہوئے تھے _ عورت نے كہا چونكہ ميرے شوہر كو مجھ سے زيادہ اپنے طوطول سے پيار ہے اس لئے ميں اب اس كے ساتھ زندگى گزارسكتى _(۱۶۳)

خاندان ميں مہر و محبت سب سے اہم اور گران قدر چيز ہے اسى سبب سے خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں اس كو قدرت كے آثار اور بڑى نعمتوں ميں شماركيا ہے _ فرماتا ہے : خدا كى نشانيوں ميں سے ايك يہ بھى ہے كہ اس نے تمہارے لئے تمہارى ہى جنس سے شريك حيات بنائے تا كہ ان كے ساتھ چين سے رہو اور تمہارے درميان محبت و الفت پيدا كى _ اس ميں غو ركرنے والوں كے لئے بہت سى نشانياں ہيں '' _(۱۶۴)

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :عورت مرد كے لئے پيدا كى گئي ہے اور اس كى تمام توجہ مردوں كى طرف مبذول رہتى ہے پس اپنى بيوى كو دوست ركھو _(۱۶۵)

ايك اور موقعہ پر آپ فرماتے ہيں : جو شخص اپنى بيوى سے محبت كا زيادہ اظہار كرتا ہے وہ ہمارے دوستوں ميں ہے _(۱۶۶)

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں : انسان كاايمان جتنا زيادہ كامل ہوتا ہے اتنا ہى وہ اپنى بيوى سے زيادہ محبت كا اظہار كرتا ہے _(۱۶۷)

امام جعفر صادق (ع) كا قول ہے كہ : پيغمبروں كى ايك سيرت يہ رہى ہے كہ وہ اپنى بيويوں سے محبت كرتے تھے _(۱۶۷)

حضرت پيغمبر اسلام (ص) كاارشاد گرامى ہے كہ : مرد اگر بيوى سے كہتا ہے كہ ميں تم سے سچى محبت كرتا ہوں تو اس كى يہ بات اس كے دل كبھى محونہيں ہوگى _(۱۶۹)

محبت دل كى گہرائيوں سے ہونى چاہئے تا كہ دل پر اثر كرے كيونكہ دل كودل سے راہ ہوتى ہے _ ليكن صرف دلى محبت پر ہى اكتفا نہيں كرنا چاہئے _ بلكہ صاف صاف اس كااظہار كرنا بھى ضرورى ہے _ ايسى صورت ميں اس كے نتيجہ كى توقع كى جا سكتى ہے اور جواب ميں دوسرے كے افعال و كردار اور زبان سے بھى محبت كے آثار نماياں ہوں گے _ اپنى بيوى سے كھلے الفاظ ميں اپنى محبت و چاہت


كا اظہار كيجئے اس كى موجودگى اور عدم موجودگى ميں بھى اس كى تعريف كيجئے _ سفر پر جايئےو اس كو خط لكھئے اور اپنے درد و فراق كا ذكر كيجئے _ كبھى كبھى اس كے لئے تحفہ خريد كرلايئے اگر ٹيليفون موجود ہو تو آفس سے اس كى خيريت پوچھ ليا كيجئے _ ايك چيز جسے خواتين كبھى فراموش نہيں كر سكتيں وہ يہى حقيقى عشق و محبت ہے _ مثال كے طور پر ذيل كا واقعہ ملاحظہ فرمايئے

ايك خاتون نے وفور جذبات سے روتے ہوئے بتايا كہ ميں نے موسم خزاں كى ايك شب ايك نوجواں سے شادى كى تھى _ مدتوں ہمارى زندگى بڑے آرام و سكون سے گزرى _ ميں اپنے آپ كو روئے زمين پر خوش قسمت ترين عورت تصور كرتى تھى _ چھ سال تك ايك چھوٹے سے گھر ميں ، جسے اس نے ميرے لئے بنوايا تھا ہم نے باہم زندگى گزارى _ يہاں تك ايك دن ميرى خوش نصيبى ميں كئي گنا اضافہ ہوگيا _ جس روز مجھے پتہ چلا كہ ميں حاملہ ہوگئي ہوں جب ميں نے اپنے شوہر كہ يہ خوش خبرى سنائي تو اپنے جذبات پر قابو نہ پا سكا فرط محبت سے مجھے اپنے آغوش ميں كھينچ كر بچوں كى طرح رونے لگا _ اس كے بعد بازار گيا اور اس كے پاس جو كچھ جمع پونجى تھى اس سے ميرے لئے ہيروں كا ايك نيكلس خريد كرلايا اور يہ كہتے ہوئے مجھے اپنے ہاتھوں سے پہناديا كہ يہ نيكلس ميں دنيا كى بہترين خاتون كى نذر كرتاہوں ، ليكن افسوس كہ زيادہ مدت نہيں گزرى كہ ايك ايكسيڈنٹ ميں اس كا انتقال ہوگيا'' _(۱۷۰)

اپنى بيوى كى عزّت اورا حترام كيجئے

عورت بھى مرد كى مانند اپنے آپ كو عزيز ركھتى اور اپنى شخصيت كا تحفظ چاہتى ہے _ اس كى بھى خواہش ہوتى ہے كہ اس كى عزت كى جائے _ اپنى تحقير و توہين سے رنجيدہ ہوجاتى ہے _ اگر اس كا احترام كيا جائے تو اپنى شخصيت كا احساس كركے زندگى اور كام ميں دل جمعى اور گرمجوشى كے ساتھ رہتى ہے _ اپنا احترام اسے عزيز ہے ، اور اپنا احترام كرنے والے كو پسند كرتى ہے _ اپنى توہين اور توہين كرنے والے سے متنفر ہوجاتى ہے _

جناب عالى آپ كى بيوى يقينا آپ سے اس بات كى توقع ركھتى ہے كہ دوسروں سے زيادہ آپ اس كي


عزت كريں گے اور اس كى يہ توقع حق بجانب ہے _ كيونكہ آپ كو اپنى زندگى كا شريك اور بہترين اور سچا دوست سمجھتى ہے _

رات دن آپ كے اور آپ كے بچوں كے آرام و راحت كے لئے زحمتيں اٹھاتى ہے كيا اس بات كى اميد نہيں كر سكتى كہ آپ اس كے وجود كو غنيمت سمجھ كر اس كا احترام كريں؟

اس كى عزت افزائي كركے آپ چھوٹے نہيں ہوجائے گے بلكہ اس چيز سے آپ حق شناسي، اور آپ كى مہر و مؤدت ثابت ہوگى _ جس طرح آپ دوسروں كااحترام كرتے ہيں اسى طرح بلكہ اس سے بڑھ كر اپنى بيوى كا احترام كيجئے _ بات چيت كرتے ہيں تہذيب و ادب كا پورا لحاظ ركھئے _ اس سے تم كركے بات نہ كيجئے بلكہ ہميشہ سے مخاطب كيجئے _ كبھى اس كے كلام كو قطع نہ كيجئے _ اس كے اوپر چيخئے چلايئےہيں _ عزت كے ساتھ اور اچھے نام سے اسے پكاريئےيٹھتے وقت اس كے احترام كوملحوظ ركھئے _ جب گھر ميں داخل ہوں اگر اس نے سلام نہيں كيا تو آپ سلام كيجئے _ جب گھر سے باہر جايئےو اسے خداحافظ كيجئے _ دوسروں كے سامنے اور محفلوں ميں اس كے ساتھ عزت سے پيش آيئے اس كى توہين اور بے عزتى سے قطعى پرہيز كيجئے _ برا بھلا كہنے اور گالى دينے سے مكمل طور پر اجتناب كيجئے _ اس كا مذاق نہ اڑايئےواہ تفريح كى خاطر خواہى كيوں نہ ہو _ يہ نو سوچئے كہ آپ كى تو ايك خاص حيثيت ہے اس لئے آپ كو يہ حق حاصل ہے _ جى نہيں آپ سے ايسى باتوں كى ہرگز توقع نہيں ركھتى _ يہ بات اس كے دلى رنج كا باعث ہوگى خواہ منہ سے نہ كہے مثال كے طور پر ذيل كى داستان سنئے :

ايك خاتون جس كى عمر ۳۵_۳۶ سال ہوگى غم و غصّہ كى حالت ميں طلاق كى درخواست كرتى ہے و ہ كہتى ہے كہ ہمارى شادى كو تقريباً بارہ سال ہوگئے ميرا شوہر اچھا آدمى ہے ايك مكمل انسان ميں پائي جانے والى بہت سى خصوصيات اس ميں موجود ہيں ليكن اس نے كبھى يہ نہيں سوچا كہ ميں اس كى بيوى ، اس كى شريك زندگى اوراس كے بچوں كى ماں ہوں _ اپنے خيال ميں بزم آرا اور خوش باش قسم كا آؤ ہے _ محفلوں ميں مجھ كو تختہ مشق بناتا ہے _ آپ اندازہ نہيں لگاسكتے كہ مجھ كو كتنى اذيت ہوتى ہے


ميرے اعصاب پر اس كا بڑاخراب اثر پڑا ہے اور بيمار رہنے لگى ہوں _ اپنے شوہر سے ميں نے ہزار باركہا _ بارہا عاجزى كے ساتھ سمجھا يا كہ ميں تمہارى بيوى ہوں _ كوئي بچہ نہيں ہوں _ يہ مناسب نہيں كہ تم آشنا و غير سب كے سامنے مجھ سے مذاق كرنے لگتے ہو _ طنز يہ اورمزاحيہ جملے بولتے ہو كہ دوسرے ہنسيں اور لطف ليں _ ميں اكثر ان باتوں سے شرمندہ ہوجاتى ہوں چونكہ شروع ہى سے ميں شوخ طبع اور بذلہ سنج نہيں ہوں اس لئے كبھى اپنے شوہر كى باتوں كا جواب اس كے انداز ميں نہيں دے سكى _ بارہا ميں نے اس كى خوشامد كى التجا كى ، مگر سب بے سود _ اور اپنى ان حركتوں سے باز نہيں آتا _ لہذا اب ميں نے ارادہ كرليا ہے كہ ايسے ناقدر ے انسان سے عليحدگى اختيار كرلوں جس نے كبھى ميرى عزت و احترام كا لحاظ نہيں ركھا _(۱۷۱)

مذكورہ خاتون كى طرح سبھى خواتين اپنے شوہر سے اس بات كى توقع ركھتى ہيں كہ وہ ان كى عزت كريں اور اگر ان كى بے عزتى كى جائے تو سخت ناراض ہوجاتى ہيں _ اگر شوہر كے توہين آميز رويے كہ مقابلہ ميں خاموش رہيں تو اس كا مطلب يہ نہيں كہ انھيں اس بات كا احساس نہيں اور وہ راضى ہيں _ بلكہ يقين جانئے دل ميں بيحد رنجيدہ ہوتى ہيں خواہ مصلحتاً زبان سے كچھ نہ كہيں _ اگر آپ اپنى بيوى كى عزت كريں گے تو وہ بھى آپ كا دل سے احترام كرے گى _ اور آپ كے باہمى تعلقات روزبروز مضبوط اور خوشگوار ہوتے جائيں گے _ دوسروں كى نظر ميں بھى آپ قابل احترام رہيں گے _ اگر آپ نے اس كى بے عزتى كى اور اس نے اس كا بدلہ ليا تو قصوروار آپ خودہى ہيں _

برادر عزيز بيوى لانے اور لونڈى لانے ميں بہت فرق ہوتا ہے _ بيوى آپ كے گھر لونڈى ياقيدى كى حيثيت سے نہيں آئي ہے بلكہ وہ ايك آزاد انسان ہے اور سعادتمند انہ طور پر ايك مشتركہ زندگى كى بنياد ڈالنے كى غرض سے آپ كے گھرائے ہے _ جو توقعات آپ اس سے ركھتے ہيں بالكل وہى توقعات وہ آپ سے بھى ركھتى ہے لہذا ويسا ہى سلوك اس كے ساتھ كيجئے ، جيسا سلوك آپ چاہتے ہيں كہ وہ آپ كے ساتھ كرے _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وس لم كا ارشاد گرامى ہے كہ جو شخص كسى مسلمان كى عزت


كرے گا خدا بھى اس كى عزت كرے گا _(۱۷۲)

پيغمبر اسلام (ص) كا يہ بھى قول ہے كہ : نيك اور بلند مرتبہ لوگ اپنى بيويوں كى عزت كرتے ہيں اور پست ذہنيت اور نيچ لوگ ان كى توہين كرتے ہيں _

ايك اور موقع پر آپ فرماتے ہيں: جو شخص اپنے گھر والوں كى بے عزتى كرتا ہے زندگى كى مسرتوں كو ہاتھ سے كھوديتاہے _(۱۷۳)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام اپنے پدر گرامى حضرت امام محمد باقر (ع) سے نقل كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ : جو شخص شادى كرے اسے چاہئے بيوى كى عزت اور اس كا احترام كرے_(۱۷۴)

خوش اخلاق بنيئے

دنيا اپنے معينہ راستے پر ايك منظم نظام كے تحت گردش كرتى ہے اور اسى نظم و ترتيب كے تحت ، دنيا ميں ايك كے بعد ايك حوادث رونما ہوتے رہتے ہيں _ اس وسيع وعريض كائنات ميں ہمارا ناچيز وجود بمنزلہ ايك چھوٹے سے ذرے كے ہے جو ہر لحمہ دوسرے ذروں كے ساتھ حركت ميں ہے _ كائنات كا نظام ہمارے ہاتھ ميں نہيں اور دنيا كے حادثات ہمارى مرضى و منشاء كے مطابق رونما نہيں ہوتے _ صبح جب ہم گھر سے نكلتے ہيں اس وقت سے ليكر واپس لوٹتے ہيں طرح طرح كے چھوٹے بڑے مشكل حالات سے گزرنا پڑتا ہے زندگى كے اميدان ميں اور كسب و معاش كے سلسلے جسے ايك طرح سے ميدان جنگ سے تشبيہ دى جا سكتى ہے بيشمار مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ مثلاً ٹيكسى كے انتظار ميں كھڑے ميں ، فلان شخص نے توہين كردى _ كسى كى عيب جوئي اور سرزنش كا شكار ہونا پڑا _ كوئي شخص آپ سے حسد و رقابت كرتا ہے _ باس يا ما تحتوں كے اعتراضات اور سخت كلامى كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ كسى بدنت ديا كا ديا ہواچكرواپس لوٹ آيا مطالبات كى وصولى مشكل ہورہى ہے، غرضكہ اس قسم كے سينكڑوں چھوٹے بڑے حادثات ہر شخص كى زندگى ميں پيش آتے رہتے ہيں _ ممكن ہے ان ناسازگار _ حالات سے آپ قدر غضبناك ہوجائيں كہ ايك آتش فشان كى مانند پھٹ پڑيں چرخ گردوں اور ستمگروں پرتو آپ كا زورچلتا نہيں ليكن جس وقت گھر ميں داخل ہوتے ہيں تو چاہتے ہيں اپنى طاقت و قدرت كامظاہرہ كريں اور چرخ فلك اور كج رفتار افراد كا انتقام اپنے بے گناہ بيوى بچوں سے


لے كر اپنے دل كى بھڑ اس نكاليں _

آپ گھر ميں كيا تشريف لاتے ہيں معلوم ہوتا ہے حضرت عزرائيل گھر ميں داخل ہوتے ہيں _ سب كى روح فنا ہوجاتى ہے _ بچے چوہوں كى طرح دمم دبا كر ادھر اودھر ہوجاتے ہيں _ خدا نہ كرے كہ كوئي معمولى سا بہانہ آپ كے ہاتھ لگ جائے _ كھانے ميں نمك تيز ہوگيا يا كم ہے ، چائے فوراً پيش نہ كى گئي ، يا معصوم بچے نے شور مچا ديا ، گھر ميں كوئي چيز غلط جگہ پر ركھى ہوئي ہے ، يا بيوى كے منھ سے كوئي نامناسب لفظ نكل گيا وامصيبتا قيامت آگئي ہے ، اور صاحب بہادر بم كى طرح پھٹ پڑے _ اس كو ڈانٹا ، ا س كو پھٹكارا كسى كو گاليوں سے نوازا، كسى كو تھپڑمارا ، ايك اودہم مچ گئي ، اور اس طرح گھر كے خوشگوار اور پرسكون ماحول كو ،كہ جس ميں آپ آرام كرنے كى غرض سے پناہ لينے آئے تھے، جہنّم بناديا_ اور خود اپنے ہاتھوں تيار كئے ہوئے اس جہنم ميں خود بھى جلے اور بے گناہ بيوى بچوں كو بھى جلاديا _ اس رعب و وحشت كے ماحول ميں اگر بچوں كو فرار كرنے كى مہلت مل گئي تو گلى كو چوں ميں مارے مارے پھريں گے اور خدا سے چاہيں گے كہ دوزخ كامالك كسى طرح جلدى گھر سے باہر جائے تا كہ اس كے شر سے نجات ملے _

ايسے ماحول ميں جہاں ہميشہ لڑائي جھگڑے اور جو تم پيزاررہے كسى كو بھى سكون وچين نصيب نہ ہوگا ايسے خاندان كى افسوسناك حالت اور خراب انجام ظاہر ہے _ گھر كى حالت ابتر رہے گى _ بيوى گھر كے ماحول اورشوہر كى تيورياں چڑھى صورت سے بيزار ہوجائے گى _ وہ عورت جو ہميشہ اپنے شوہر كى بدسلوكيوں كا شكاربنتى رہے كس طرح خوش رہ سكتى ہے _ اور اس سے گھر دارى اور شوہر دارى دلجمعى كے ساتھ دلچسپى لينے كى توقع كيسے كى جا سكتى ہے ؟

اور سب سے بدتر حالت اور خطرناك سرنوشت تو ان معصوم بچوں كى ہوتى ہے جو ايسے بد نصيب ماحول ميں پرورش پاتے ہيں _ ماں باپ كے آئے دن كے لڑائي جھگڑوں سے بلا شبہ ان كے معصوم دل و دماغ اور حساس روح پر بہت خراب اثر پڑتا ہے _ وہ بھى بڑے ہو كر بدمزاج ، غصہ ور، بدتميز اور كينہ ور نكلتے ہيں _ ان كے چہروں پر پمردگى چھائي رہتى ہے _چونكہ انھيں گھڑ كے ماحول اور زندگى ميں كوئي مسرت


حاصل نہيں ہوتى ، آوارہ گردى كرتے ہيں _ بعض بچے اور نوجواں سماج كے حيلہ باز عناصر كے ہتھے چڑھ جاتے ہيں جو اسى قسم كے بچوں اورنوجوانوں كو گمراہ كرنے كى تاك ميں رہتے ہيں اور ان كے حال ميں پھنس كرہميشہ كے لئے اپنى عاقبت خراب كرليتے ہيں _ اس بات كا بھى امكان ہے كہ دماغى پريشانيوں ميں مبتلا ہوجائيں اور بيحد خطرناك كام مثلاً قتل و غارتگرى ، چوري، يا خودكشى كا ارتكاب كرڈاليں _اس بات كى تصديق جرائم پيشہ افراد خصوصاً مجرم بچوں كى فائلوں پر نظر ڈالنے سے ہوسكتى ہے _ اس قسم كے بچوں كے متعلق خبريں اور اعداد شمار جو ہرروز اخبار ورسائل كے صفحات ميں نظر آتى ہيں اس با ت كى بہترين گواہ ہيں ان تمام ناگوار حادثات كے ذمہ دار خاندان كے سرپرست ہوتے ہيں جو اپنے آپ پر كنٹرول نہيں كرپاتے اور گھر ميں بداخلاقى اور بدمزاجى كامظاہرہ كرتے ہيں _ ايسے لوگ اس دنيا ميں بھى كوئي سكون و آرام حاصل نہيں كرپاتے اوريقينا اس دنيا ميں بھى اپنے ان اعمال كى سزا بھگتيں گے _

برادر عزيز دنيا كا نظام ہمارے اختيار ميں نہيں ہے _ ركاوٹيں ، مصائب ، پريشانياں اس دنيا كے لا ينفك جزو ہيں _ ہر انسان كو زندگى ميں ان سب چيزوں كا سامنا كرنا پڑتا ہے اور ان كا مقابلہ كرنے كے لئے ہميشہ تياررہنا چاہئے _ انسان كے كردار كى پركھ ايسے ہى موقعوں پر ہوتى ہے _ نالہ و فرياد كئے بغير ، مردانہ وار ان كامقابلہ كرنا چاہئے _ اور ان كو حل كرنے كى فكر كرنى چاہئے _ انسان اس بات كى توانائي ركھتا ہے كہ سينكڑوں چھوٹى بڑى مشكلات كو خندہ پيشانى كے ساتھ قبول كرے اور اس كى ابروپربل نہ آئے _

پريشانيوں كى اصل وجہ زمانے كے ناخوشگوار حادث نہيں ہوتے بلكہ يہ خود ہمارے اعصاب كى كمزورى ہے جو ہر چھوٹى بڑى بات سے جلد متاثر ہوكر پريشانيوں اور گھبراہٹ ميںمبتلا ہوجاتے ہيں اگر درپيش حالات كے مقابلے ميں ہم اپنے نفس كو قابو ميں ركھيں اور اپنے اعصاب پر كنٹرول كريں تو غم و غصہ كوئي معنے ہى نہيں ركھتا _

ہمارى زندگى ميں جو ناگوار حالات وواقعات پيش آتے ہيں وہ دو قسم كے ہوتے ہيں


ايك تو وہ جو اس جہاں مادى كا جزو لا ينفك ہيں اور جن سے بچنے كے لئے ہمارى كوئي بھى سعى و تدبير كام نہيں آتى _ دوسرے وہ حادثات ہيں جنھيں ہم اپنى سعى و تدبير سے ٹال سكتى ہيں _

اگر حادثات كا تعلق پہلى قسم سے ہو تونالہ و فرياد ، غم و غصہ اوربدمزاجى كرنا بلا شك و شبہ بے سود ہوگا _ بلكہ يہ امر سو فيصدى غير عاقلانہ ہوگا _ كيونكہ اس سلسلے ميں كوئي چيز ہمارے دائرہ اختيار ميں نہيں ہے ہم چاہيں يا نہ چاہيں اس جہان مادّى ميںان چيزوں كا وجود ميں آنا لازمى امر ہے _ بلكہ ہميں ان كے لئے تيار رہنا چاہئے _ البتہ اگر ان كا تعلق دوسرى قسم سے ہے تو سعى و تدبير او ربردبارى سے ان كو حل كرنے كى فكر كرنى چاہئے _ اگر ہم اپنى مشكلات كا مقابلہ كرنے كے لئے اپنے آپ كو آمادہ ركھيں اور اپنے اعصاب كو كنٹرول ميں ركھيں اور دانشمندى اور سوجھ بوجھ سے كام ليں تو اكثر مشكلات بڑى آسانى سے حل ہوسكتى ہيں _ ايسى صورت ميں غصّہ اوربداخلاقى سے نہ صرف يہ كہ مشكلات حل نہيں ہو سكيں گى بلكہ ممكن ہے مزيد اضافہ ہوجائے _ لہذا ايك عاقل اور باوقار انسان كو چاہئے كہ اپنے ہوش و حواس اور اعصاب كو ہميشہ قابو ميں ركھے اور زمانے كے حادثات اور زندگى كى اونچ نيچ سے متاثر ہوكر آپے سے باہر نہ ہوجائے _

انسان ايك طاقتور اور بااختيار مخلوق ہے جو اپنى سعى و كوشش اور بردبارى سے بڑى سے بڑى مشكل پر فتح حاصل كرسكتا ہے _ كيا يہ چيز قابل تاسف نہيں كہ چھوٹى باتوں اور زمانے كے سردو گرم كے مقابلے ميں انسان ہمت چھوڑ بيٹھے اور نالہ و فرياد شروع كردے اور اپنے سے كمزوروں پر اپنا غصہ اتارے ان پر چيخ چلائے ؟

سب سے بڑھ كر يہ كہ زمانے كى گردش اور ناپسنديدہ عناصر كے سلوك نے آپ كى پريشانى كے حالات فراہم كئے ہيں اس سلسلے ميں آپ كى بيوى بچوں كا كيا قصور ہے؟ آپ كى بيوى صبح سے اب تك گھر كے كاموں ميں مشغول رہى ہے _ كھانا پكانے ، كپڑے دھونے ، گھر كى صفائي اور بچوں سے نپٹنے جيسے صبر آزما مراحل سے گزرى ہے اور تھكى ہارى آپ كے انتظار ميں ہے كہ آپ گھر آئيں اور اپنى خوش اخلاقى اور مہربانى سے اس كے دل كو شاد كركے اس كى سارى تھكاوٹ دور كريں گے _


آپ كے بچے بھى صبح سے اب تك اسكول ميں پڑھائي ميں مشغول رہے ہيں ان كا دل و دماغ بھى تھكا ہوا ہے يا دوكان يا كارخانے ميں كام ميں مشغول رہے ہيں اور اب تھكے ہارے گھر لوٹے ہيں اور اپنے باپ سے اس بات كى توقع ركھتے ہيں كہ اپنى ميٹھى ميٹھى محبت و شفقت بھر ى باتوں كے ذريعہ ان كى تھكن دور كرديں گے _ اور باپ كا شفيق رويہ اور اظہار محبت ان ميں ايك نئي روح پھونك دے گا اور انھيں مزيد سعى و عمل كے لئے حوصلہ عطا كرے گا_

جى ہاں آپ كے بيوى بچے دل ميں سينكڑوں اميديں اور آرزوئيں لئے آپ كے منتظر ہيں _ آپ خود غور كريں كيا يہ مناسب ہے كہ وہ بيچارے آپ كى تيورياں چڑعى ہوئي ، غصے سے لال پيلى صورت سے روبرو ہوں ؟ يہ سب آپ سے توقع ركھتے ہيں كہ آپ ان كے لئے فرشتہ رحمت ثابت ہوں گے _ اپنى خوش اخلاقى اور شگفتہ چہرے كے ساتھ گھركے ماحول كورونق بخشيں گے اور اپنى دلكش اور شفيق باتوں سے ان كے تھكے ماندے اعصاب كو سكون پہونچائيں گے نہ يہ كہ اپنى بدمزاجى اورناروا سلوك سے گھر كے ماحول كو تيرہ و تاريك بناديں گے اور غصہ و ناراضگى كا اظہار كركے اور ڈانٹ ڈپٹ كركے ان كے تھكے اعصاب كو مزيد خستہ كرديں گے _

كيا آپ جانتے ہيں كہ نامناسب جملوں او رجھڑكيوں سے ان كى معصوم روح و جسم پر كتنے خراب اثرات مرتب ہوتے ہيں ؟ كہ جن كے نتائج كا خميازہ آپ كو بعد ميں بھگتنا پڑے گا _ اگر آپ كو ان پر رحم نہيں آتا تو كم سے كم خود اپنے آپ پررحم كھايئے يہ جو آپ خود پر كنٹرول نہيں كريں گے اور معمولى معمولى باتوں پر چراخ پا ہوجاياكريں گے تو كيا آپ كا جسم اوراعصاب صحيح و سالم رہ سكيں گے ؟

ايسى صورت ميں آپ كس طرح اپنے روزمرہ كے فرائض كو لجن و خوبى انجام دے سكتے ہيں اور زندگى كى مشكلات اور زمانے كے مصائب پر قابو پا سكتے ہيں ؟ كيوں اپنے اور اپنے بيوى بچوں كے سكون و آرام كى جگہ كوايك خوفناك قيد خانے ميں تبديل كرنے پر تلے ہوئے ہيں _ يادرہے اس ماحول سے حاصلہ خراب نتائج كے ذمہ دار آپ خود ہوں گے _

كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ ہميشہ خوش و خرم اورمسكراتے رہئے _ اور اگر كوئي مشكل آپڑے تو


غصہ اور چيخے چلاّئے بغير اپنى عقل و تدبر سے كام لے كر سكون كے ساتھ اس كو حل كرنے كى فكر كريں؟

كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ جب آپ اپنى تونائيوں كو پھر سے بروئے كارلانے كى غرض سے اپنے گھر كى آسائشے گاہ ميں قدم ركھيں تو اپنے دل ميں خود اس بات كا تجزيہ كريں كہ غصہ اور بدمزاجى سے كوئي مشكل حل نہ ہوگى _ بلكہ اعصاب اور زيادہ خستہ ہوجائيں گے بلكہ ممكن ہے اور كئي نئي نئي مشكلات پيدا ہوجائيں لہذا بہتر ہے كہ تجديد توانائي كے لئے فى الحال آرام كروں تا كہ ميرے جسم كو آرام ملے اس كے بعد تروتازہ ہوكر اطمينان كے ساتھ اس مشكل سے نپٹنے كى فكركروں _

تھوڑى دير كے لئے زندگى كى پريشانيوں اورتلخ حادثات كو بھول جايئے اور كشادہ پيشانى كے ساتھ مسكراتے ہوئے گھر ميں داخل ہوئے _ خوشگوار اورمحبت بھى باتوں ہے اہل خانہ كے دلوں كو شاد كيجئے _ اطمينان كے ساتھ پر لطف باتيں كيجئے ہنسئے ہنسايئے خوشگوار ماحول ميں كھانا كھايئےور آسودہ اعصاب كے ساتھ سوجايئےا آرام كيجئے، اس طريقہ كار سے آپ اپنے بيوى بچوں كے دلوں كو اور گھر كے ماحول كو خوش اور پرسكون بنا سكتے ہيں اور انھيں اپنے اپنے كاموں ميں سرگرم رہنے كے لئے آمادہ كرسكتے ہيں اور خود بھى صحيح و سالم اعصاب كے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سكتے ہيں _

يہى وجہ ہے كہ دين مقدس اسلام ميں اچھے اخلاق كو ، ديانت كا جزو اور كمال ايمان كى علامت كہا گيا ہے _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : ايمان كے اعتبار سے كامل ترين انسان وہ لوگ ہيں جو بيحد خوش اخلاق ہوں _ تم ميں سے بہترين انسان وہ ہے جو اپنے خاندان كى نسبت نيكى كرے _(۱۷۵)

پيغمبر اسلام(ص) كا ارشاد گرامى ہے كہ اچھے اخلاق سے بہتر كوئي عمل نہيں ہے _(۱۷۶)

امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : نيكوكارى اور خوش مزاجى گھروں كو آباد اور عمر كو طويل كرتى ہے _(۱۷۷)


امام جعفر صادق عليہ السلام كا يہ بھى قول ہے كہ '' بداخلاق انسان خود كو عذاب ميں مبتلا كرليتا ہے _(۱۷۸) حكيم لقمان كا كہنا ہے : عقل مند آدمى كو چاہئے كہ اپنے گھروالوں كے درميان ايك بچے كى مانند رہے اور اپنى مردانگى كا مظاہرہ گھر كے باہر كرے _(۱۷۹)

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں خوش اخلاقى سے بڑدہ كر كوئس عيش نہيں _(۱۸۰)

آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا يہ بھى قول ہے كہ : اچھا اخلاق ، نصف دين ہے _(۱۸۱)

حضرت رسول خدا (ص) كے ايك بڑے صحابى سعد بن معاذ ، جن كا آپ بہت احترام كرتے تھے ، كا جب انتقال ہو ا تو رسول اكرم نے صاحبان عزا كى طرح پا برہنہ ہو كر ان كے جلوس جنازہ ميں شركت كى _ اپنے دست مبارك سے ان كے جنازہ كو قبر ميں اتارا اور قبر كى مٹى برابر كى _ سعد كى والدہ نے ، جو رسول خدا (ص) كے ان تمام احترامانہ اعمال كو ديكھ رہى تھيں اپنے بيٹے سعد كو مخاطب كركے كہا : اے سعد بہشت مبارك ہو _

پيغمبر اكرم(ص) نے فرمايا: اے مادر سعد ايسا نہ كہئے كيونكہ سعد كو قبر ميں سخت فشار كا سامنا كرنا پڑاہے _ لوگوں نے وجہ پوچھى تو آ پ نے فرمايا كہ اس كى وجہ يہ ہے كہ وہ اپنے گھروالوں كے ساتھ بداخلاقى سے پيش آتے تھے _(۱۸۲)

بے فائدہ شكوے شكايات

زندگى ميں مشكلات اور دشوارياں پيش آتى رہتى ہيں _ دنيا ميں كوئي ايسا نہيں جسے كبھى نہ كبھى گردش ايام كا سامنا نہ كرنا پڑا ہو اور وہ سو فيصدراضى و خوش ہو اور اسے كوئي غم نہ ہو _ البتہ بعض لوگ اس قدر وسيع القلب ، صابر اور باحوصلہ ہوتے ہيں كہ مشكلات كو نہايت سكون كے ساتھ برداشت كرليتے ہيں _ زمانے كا رونا نہيں روتے صرف ضرورى مواقع پرہى ان كا ذكر كرتے ہيں اور سنجيدگى كے ساتھ مشكلات كو رفع كرنے كے لئے كوشش كرتے ہيں _

باوقار انسان نالہ و فرياد ، ہر ايك پر نكتہ چينى كرنے اور ہر ايك سے اپنا دكھرا بيان كرنے

سے گريز كرتے ہيں كيونكہاس كا كوئي فادہ بھى نہيں اور يہ چيز نفس كى كمزورى كى علامت سمجھى جاتى ہے بلكہ وہ اس بات كو سمجھتے ہيں كہ اپنى پريشانيوں كو بيان كرنے سے ان كے درد كى دوا نہيں ہوجائے گى پس اپنا درد و غم سنا كر دوستوں كى پر لطف محفل كو كيوں درہم برہم كريں اور ان كا وقت برباد كريں ليكن بعض لوگوں ميں اتنا ظرف نہيں ہوتا اور انھيں اپنے نفس پر قابو نہيں رہتا كہ كوئي بات اپنے دل ميں ركھ سكيں انھيں شكوہ شكايات اور نالہ و فغان كرنے كى عادت پڑجاتى ہے _ ہر كسى كے سامنے خواہ موقع محل ہو يا نہ ہو شكايتوں كے دفتر كھول كے بيٹھ جاتے ہيں _ دوستوں كى محفل ميں ، جو كہ تفريح اور پر لطف وقت گزارنے كى خاطر سجائي جاتى ہے ، عنان سخن كو اپنے ہاتھ ميں لے ليتے ہيںاور پريشانيوں ، زمانے كے كج رفتارى ، اور چرخ فلك كى شكايتيں كرنے ميں مشغول ہوجاتے ہيں ، گويا شيطان كى طرف سے انھيں يہ كام سونپاگيا ہے كہ انس و خوشى كى محفل كو درہم برہم كرديں اور محفل ميں موجود لوگوں كو بھى ان كى پريشانياں يادلاديں _ يہى وجہ ہے كہ اكثر دوست اس قسم كے شيطان صفت لوگوں كى صحبت سے گريز كرتے ہيں اور جہاں تك ہو سكتا ہے ان سے اپنا دامن بچاتے ہيں _

چونكہ دوسرے لوگ ان كى شكايتيں سننے كے لئے تيار نہيں ہوتے تو اس كى تلافى اپنے گھر والوں سے كرتے ہيں اور اس سلسلے ميںمعمولى باتوں كو بھى نظر انداز نہيں كرتے _ كبھى چيزوں كى مہنگائي كا گلہ كرتے ہيں كبھى ٹيكسيوں كے خراب سسٹم كى اور بسوں ميں زيادہ مسافروں كو سواركر لينے كى شكايت كرتے ہيں تو كبھى دوستوں كى بد سلوكيوں يا ساتھيوں كى رقابتوں اور ركاوٹوں يا باس كى سخت گيرى اور بے انصافيوں كا رونا روتے ہيں _ كبھى بازار كے ماندہ پڑنے يا خراب گاہكوں كا ، كبھى بيماريوں اور ڈاكٹروں كى اونچى فيسوں كا يا اچھے ڈاكٹروں كى كمى كا ماتم كرتے ہيں _ اس قسم كے افراد چونكہ قنوطى ہوتے ہيں اوردنيا ميں انھيں صرف برائياں ہى نظر آتى ہيں _ معمولى معمولى ناگوار باتوں سے متاثر ہوكر شكوہ كيا كرتے ہيں اور گھر والوں كا بھى سكون و چين غارت كرديتے ہيں _ ان بيچاروں كے لئے توكوئي راہ فرار بھى نہيں ہے بس جلے جائيں اور حئے جائيں _


برادر محترم اس قسم كى باتوں اور نالہ و زاريوں سے سوائے پريشانى كے كيا حاصل ؟ يہ كس درد كى دوا كرتى ہيں ؟ كيوں ايك برى اور بے سود عادت كے سبب اپنے خاندان والوں كى پريشانى ميں اضافہ كرتے ہيں ؟ آپ كى بيوى صبح سے رات تك گھر ميں كتنى زحمتيں اٹھاتى ہے اسے بھى گوناگوں مشكلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے _ گھر كے كاموں كى كثرت اور بچوں كے ہنگاموں نے اس كے اعصاب كو تھكاديا ہے _

آپ كے بچے بھى اسكول سے يا اپنے كام پر سے تھكے ہارے گھر آئے ہيں سبھى آپ سے اس بات كى توقع ركھتے ہيں كہ آپ گھر آئيں گے تو اپنى خلوص گفتگو سے سب كے دلوں كو خوش كرديں گے _ سچ كہئے گا كيا يہى انصاف ہے كہ ان كى دلجوئي كرنے كے بجائے آپ ان كے لئے شكوہ و شكايات كا تحفہ لے كر آئيں ؟

كيوں انس و محبت كے مركز اوراپنى آرام و آسائشے كو ايسے سلگتے ہوئے جہنّم ميں تبديل كرنے پر تلے ہوئے ہيں كہ جس كے ہر گوشے سے نالہ و فرياد اور آہ و زارى كى صدائيں بلند ہوتى ہيں ؟ اگر زندگى كے مخارج زيادہ ہيں يا دوسرے لوگ ناروا سلوك كرتے ہيں يا كچھ اور مشكلات درپيش ہيں تو اس ميں آپ كے بيوى بچوں كا كيا قصور ہے ؟ اگر آپ كا كاروبار ماندہ چل رہا ہے ، يا ٹھپ ہوگيا ہے وہ لوگ كيا كريں؟

آپ كى يہ ضرر سال عادت جو كسى مشكل كو حل كرنے ميں معاون ثابت نہيں ہوسكتى ، آپ كے گھر والوں كو ، گھر زندگى اور آپ كى صورت سے بيزار بنادگے گى ، بدمزگى اور رنجيدہ دلى كے ساتھ جو كھانا كھايا جائے گا اس كا بھلا كيا اثر ہوگا ؟ بس سب زہر ماركرليں گے _

آپ كے بيوى بچے آپ كے دائمى شرسے بچنے كى خاطر ، گھر سے فرار اختيار كرنے كى كوشش كريں گے بہت ممكن ہے فتنہ و فساد اور بدعنوانيوں كے رنگين جالوں ميں پھنس جائيں _ اس كے علاوہ مختلف بيماريوں خصوصاً اعصابى امراض ميں ہميشہ گرفتار رہيں _


كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ بردبارى ، متانت و سنجيدگى ، اعلى ظرفى اور عقلمندى سے كام ليں؟ جب آپ گھر كے لئے روانہ ہوں تو آلام و مصائب اور تلخيوں كى وقتى طور پر فراموش كرديجئے اور ہنستے مسكراتے خوش و خرم گھر آيئے جب تك گھر ميں رہئے اچھے اور خوشگورا موڈميں رہئے _ گھر كے ماحول كو ٹھيك ركھئے زمانے كى شكايتں اور دردل بيان كرے نہ بيٹھ جايئےور اپنے گھر والوں كو رنجيدہ و افسردہ نہ كرويجئے اچھى اچھى باتيں كيجئے خود بھى ہنسئے اور دوسروں كو بھى ہنسايئے خوشگوار ماحول ميں سب مل كر كھانا كھايئےور محبت بھرے پر سكون ماحول سے فرحت حاصل كيجئے اور زندگى كى جد و جہد ميں سرگرم عمل رہنے كے لئے اپنے دل و دماغ كو تروتازہ كيجئے _

اسلام ميں بھى بردبارى سے كام لينے اور آہ و زارى اور شكوہ شكايات سے اجتناب كو ايك اچھى عادت ماناگيا ہے اور اس كے لئے جزا معين كى گئي ہے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : جب كسى مسلمان پر كوئي مصيت پڑ جائے تو لوگوں سے خدا كى شكايت نہ كرے بلكہ خدا سے ، كہ جس كے ہاتھ ميں تمام مشكلات كو حل كرنے كى كنجى ہے ، شكايت كرے _(۱۸۳)

حضرت على (ع) كا يہ بھى ارشاد ہے كہ : توريت ميں لكھا ہے كہ جو شخص اپنى مصيبتوں كى شكايت كرتا ہے وہ در اصل خدا كى شكايت كرتا ہے _(۱۸۴)

پيغمبر اكرم (ص) فرماتے ہيں: كسى شخص پر جسمانى يا مالى اعتبار سے كوئي مصيبت آپڑے اور وہ لوگوں سے اس كى شكايت نہ كرے تو خدا پر لازم ہے كہ اس كے گناہوں كو معاف كردے _(۱۸۵)

اعتراض اور بہانہ جوئي

بعض مردوں كو اعتراض كرنے اور عيب نكالنے كى عادت ہوتى ہے _ گھر ميں داخل ہوتے ہى اعتراضات كا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے _ چھوٹى چھوٹى باتوں كے لئے بھى مسلسل بولتے رہتے ہيں مثلا فلاں چيزوہاں كيوں ركھى ہے ؟ فلاں چيز اپنى جگہ پر كيوں نہيں ہے ؟يہاں پا جامہ كيوں پڑا ہے ؟ يہاں گندگى كيوں ہے؟ كھانا تيار ہونے ميں دير كيوں ہوئي؟ كھانے ميں نمك


كم ہے كتنى با ركہا ہے چكھ كے ديكھ ليا كرو_ فلاں چيز كيوں نہيں پكائي؟ آج سلادكيوں نہيں بنايا و سالن ميں ہرادھنيا كيوں نہيں ڈالا_ ہرى مرچيں دستر خوان پر كيوں نہيں آئيں چٹنى كيوں نہيں بنائي، حوض كا پانى كيوں گندہ ہے _ گلدان كو يہاں سے ہٹاؤ_ ہزار وقعہ كہا ايش ٹرے كو ميز پر ركھا كرو_ آخركتنى بار كہا جائے كيسے كہا جائے و غيرہ و غيرہ اور اس قسم كے سينكڑوں چھوٹے بڑے اعتراضات كرتے رہتے ہيں _

حتى كہ بعض مرد اس سلسلے ميں اس قدر سختى سے كام ليتے ہيں كہ خود اپنا اوراپنے گھر والوں كا سكول و چين حرام كرديتے ہيں _بلكہ بعض تواس كى خاطر شادى شدہ زندگى كے مقدس پيمان كو بھى متزلزل كرنے پر آمادہ ہوجاتے ہيں _

ہم اس بات كوتسليم كرتے ہيں كہ مرد كو گھر امور ميں دخل دينے كا اور اچھا برابتانے كاحق ہے اور اس كتاب كے پہلے حصہ ميں خواتين كونصيحت كى جا چكى ہے كہ مرد كے اس حق كو مانيں اور اس كى دخل اندازيوں كے مقابلے ميں كسى رد عمل كا اظہار نہ كريں ليكن مرد كو جو ك خاندان كا سرپرست اور منيجر ہے احتياط سے كام لينا چاہئے سوجھ بوجھ اور تدبر كو ملحوظ ركھنا چاہئے _ اگر گھركے امور ميں دخل اندازى كرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے كہ عاقلانہ اور صحيح طريقہ اختيار كرے تا كہ اس كى بات مؤثر ثابت ہو _

چونكہ مرد كو اتنى فرصت نہيں ہوتى كہ گھر كے تمام امور ميں دخل دے اور اصولى طور پر اسے اس سلسلے ميں كوئي مہارت بھى نہيں ہوتى اس لئے صلاح اسى ميں ہے كہ امور خانہ دارى كا كل اختيار اپنى بيوى كے سپرد كردے اور اس سلسلے ميں اسے پور ى آزادى دے كہ اپنے سليقے اور ذوق كے مطابق گھر كا انتظام چلائے _ اگر اس سلسلے ميں اس كے كچھ خاص نظريات ہوں تو صلاح و مشورہ كے طور پر، نہ كہ زورزبردستى اور حكم كے طور پر، اپنى بيوى كو بتادے اور اس سے كہے كہ اس كے سليقے اور نظريے كہ بھى لحاظ ركھے _ بيوى كو جب اپنے شوہر كے ذوق كا علم ہوجائے تو اگر وہ عقلمند اورمدبر ہے اورگھر اور زندگى سے دلچسپى ركھتى ہے تو اسے چاہئے كہ كوشش كرے كہ


اپنے شوہر كى مرضى و خوشى كا خيا ل ركھے _ اوراگر گھر كے بعض امور ميں شوہر كى رائے كو مناسب نہ سمجھے تو نہايت نرمى و ملائمت سے اور مناسب الفاظ ميں اپنے شوہر سے اس كا ذكر كردے _ ايسى صورت ميں مرد كا احترام باقى رہے گا اور اس كى شخصيت مجروح نہيں ہوگى اور ايك حد تك اس كى رائے مان لى جائے گى _ كيونكہ اكثر خواتين اس صورت ميں مرد كى دخل اندازيوں كو تو قبول كرليتى ہيں ليكن اگراعتراضات كى شكل ميں اور دائمى طور پر ہو تو نہ صرف يہ كہ اس كا كوئي اثر نہيں ہوتا بلكہ اس كا نتيجہ برعكس نكلنے كا بھى امكان ہے _ كيونكہ بيوى آہستہ آہستہ شوہر كے مسلسل اعتراضات كى عادى ہوجاتى ہے اور اس كو اہميت نہيں ديتى _ ايسى صورت ميں شوہر كى شخصيت اس كى نظر ميں بے وقعت ہوجاتى ہے اور اس كى باتوں پر توجہ نہيں ديتى _ حتى كہ بجااور بہت اہم اعتراضات كو بھى درخوراعتنا نہيں سمجھتى _ اپنے دل ميں سوچتى ہے كہ جو بھى كام كروں گى آخر اس پر اعتراضات اور جھڑ پ تو ہونى ہى ہے ، لہذا كيا ضرورت ہے كہ اس كى رضامندى حاصل كرنے كيلئے زحمت اٹھاؤں _ اس كى توعادت ہى اعتراضات كرنے اور عيبب نكالنے كى ہے ، جتنا كرے كرنے دو _ رفتہ رفتہ گھر دارى اور شوہر كے كاموں كى طرف سے سرد مہرى برتنے لگتى ہے ، بعض اوقات انتقام كى غرض سے اسى كى طرح وہ بھى اعتراض اور عيب جوئي كرنے لگتى ہے _

ايسى صورت ميں گھر كا ماحول، جسے سكون و آرام كامركز ہونا چاہئے دائمى كشمكش كا شكار ہوكر ميدان جنگ ميں تبديل ہوجاتا ہے _ ممكن ہے مسلسل اعتراضات او رجھگڑوں سے اتنا تنگ آجائے كہ ايسى زندگى پر عليحدگى كو ترجيح دے اور شادى شدہ زندگى كے تانے بانے بكھر جائيں _

بيوى خواہ كتنى ہى عاقل اور بردبار ہوبالآخر مسلسل اعتراضات اور تحقير سے تھك جاتى ہے

مثال كے طور پر ذيل كے واقعہ پر توجہ كيجئے :

ايك شخص نے پولى چوكى ميں رپورٹ درج كرائي كہ اس كى بيوى دومہينے ہوئے لڑكر اپنے باپ كے گھر چلى گئي ہے _ اس شخص كى بيوى نے بتايا كہ ميرے شوہر كو گھر كے كاموں ميں ميرا طريقہ كارپسند نہيں ہے _ كھانا پكانے اورگھر كے انتظامات كے سلسلے ميں ہميشہ ميرى تحقير كيا كرتا ہے اس لئے ميں اس كے گھر سے آگئي ہوں _ اس كى باتيں سنتے سنتے ميرے كان پك گئے _(۱۸۶)


مرد كو يہ نكتہ دھيان ميں ركھنا چاہئے كہ گھر كے امور كى تنظيم اور گھر كا انتظام عورت سے مخصوص ہے اور يہ اس كى ذمہ دارى ہے _ اس كے اس حق كو سلب نہيں كرنا چاہئے كہ وہ ايك بے ارادہ مشين بن كررہ جائے _ بلكہ اس كو مكمل آزادى و اختيار دينا چاہئے تا كہ اپنے ذوق و سليقے كو بروئے كارلائے اور شوق و دلچسپى كے ساتھ امور خانہ دارى كو انجام دے _ يہ بات مصلحت سے بعيد ہے كہ مرد اس سلسلے ميں سختى اور ہٹ دھرمى سے كام ليں اور بہانہ تراشياں كريں _ كيونكہ گھر كا سكون و چين اور باہمى ميل محبت تمام چيزوں پر مقدم ہے _


تسلى اور دلجوئي

جس طرح سے مرد ہميشہ ايك حال ميں نہيں رہتے اسى طرح عورتيں بھى مختلف حالات سے گزرتى ہيں كبھى خوش و مسرور اور مسكراتى ہوئي اور كبھى غمگين و افسردہ اور كبھى بدمزاج اور غصہ كى حالت ميں اس كى مختلف وجوہات ہوسكتى ہيں مثلاً گھر كے دشوار كاموں كے سبب بہت تھك گئي ہوں _ بچوں كے شور و ہنگاموں نے پريشان كرديا ہو _ كسى جان پہچان والے يا ہمسايہ كے طعنہ اور تير ونشتہ نے رنجيدہ كرديا ہو _ ساتھيوں كى غلط شان وشوكت اور چمك دمك سے متاثر ہوگئي ہوں _ جى ہاں اس قسم كے گوناگوں حالا ت پيش آسكتے ہيں جنھوں نے ان كى روح پر ايسا ڈالا ہو كہ پريشانى كى شدّت نے انھيں بے حال كرديا ہو اور اپنے دل كى بھڑاس نكالنے كے لئے كسى بہانے كى تلاش ميں ہوں _

خواتين چونكہ لطيف و نازك احساسات و جذبات كى مالك ہوتى ہيں اس لئے مردوں كے مقابلے ميں ناگوار حادثات سے جلدى متاثر ہوجاتى ہيں اور اپنے رد عمل كا اظہار كرديتى ہيں _ معمولى بات سے رنجيدہ اور غصہ ہوجاتى ہيں چونكہ جذباتى ہوتى ہيں اس لئے دشواريوں كو برداشت كرنے كى ان ميں تاب نہيں ہوتى اور فوراً چيخنا چلّانا شروع كردتى ہيں _

ايسے موقعوں پر انھيں كسى كى تسلى اور ہمدردى كى ضرورت ہوتى ہے نرمى اور ملائمت سے ان كے اعصاب كو سكون پہونچانا چاہئے _ اور اس كام كے لئے شوہر سے بہتر او ركوئي


نہيں ہوسكتا كيونكہ وہ ان كا شريك زندگى ، غمخوار اور محرم ترين انسان ہے _ ايسے موقع پر شوہر كو چاہئے اپنى بيوى كى مدد كريں اور اس كى پمردہ اعصاب كو سكون پہونچائيں _

برادر عزيز جب آپ گھر ميں داخل ہوں اور اگر ديكھيں كہ آپ كى بيوى غصہ ميں ہے يا پريشان ہے _ اس كى صورت بگڑى ہوئي ہے يا چہرہ اترہواہے تو اس كى خلاف توقع حالت كو ديكھ كراسكے حال زار پررحم كھايئے اگر ناراضگى يا پريشانى كے سبب اس نے آپ كو سلام نہيں كيا تو آپ سلام كرليجئے سلام كرلينے سے آپ كى عزت نہيں گھٹ جائے گى _

نرمى و محبت سے اس سے بات كيجئے _ ہرروز سے زيادہ گرمجوشى اور محبت و مہربانى كا مظاہرہ كيجئے _ ترشروئي اور غصہ سے پرہيز كيجئے _ گھر كے كاموں ميں اس كى مد دكيجئے دھيان ركھئے كہ آپ كے منھ سے كوئي نامناسب يا سخت لفظ نہ نكل جائے _ مسخرہ پن كرنے سے اجتناب كيجئے _ اگر بات كرنے كے موڈ ميں نہيں ہے تو اس كے پيچھے نہ پڑجايئےلكہ اسے اس كے حال پر چھوڑ ديجئے _ يہ نہ كہئے كہ كيا ہوگيا كيوں منھ پھلائے بيٹھى ہو؟ اگر آپ سے اپنا درد دل كہنا چاہے تو اس كى باتيں خوب توجہ سے سنئے اور اظہار افسوس كيجئے _ اور ايسا اظہار كيجئے گويا جو ناگوار واقعات پيش آئے ہيں ان سے آپ اس سے بھى زيادہ متاثر ہوئے ہيں اس كو دل بھر كے اپنى باتيں كہہ لينے ديجئے تا كہ اس كا دل ہلكا ہوجائے _

جب وہ پر سكون حالت ميں آجائے تو ايك مہربان سرپرست بلكہ ہمدرد شوہر كى مانند ، اس كى پريشانيوں كو رفع كرنے كے لئے عقل و تدبر سے كوشش كيجئے _ اس كو تسلى و تشفى ديجئے اور صبر و بردبارى سے كام لينے كے لئے ہمت دلايئے خوش گفتارى كے ساتھ نرم لہجے ميں دليل و ثبوت كے ذريعہ زندگى كے ناگوار حادثات كو ناقابل اعتنا اور معمولى بتايئے حوادث زمانہ كو برداشت كرنے كے لئے اس كى حوصلہ افزائي كيجئے _ اور قابل علاج مسائل ميں اس كى مدد كرنے كا وعدہ كيجئے _ اگر آپ نے ذرا صبرو تحمل اور دانشمندى سے كام ليا تو بہت جلد پريشانى اور تشويش سے نجات مل جائے كى اور آپ كى زندگى پہلے كى مانند بلكہ اور بہتر طريقے سے معمول پر آجائے گى ليكن اگر آپ نے اس كى وقتي


غصہ اور تند مزاجى كے مقابلے ميں بد اخلاقى اور بدمزاجى كا مظاہرہ كيا تو ممكن ہے لڑائي جھگڑے اور مارپيٹ كى نوبت آجائے بلكہ اس كا بھى امكان ہے كہ آپ ميں سے كسى ايك يا دونوں كى ضد كے سبب طلاق وجدائي كى نوبت آجائے _

عيب تلاش نہ كيجئے

اس دنيا ميں كوئي انسان ايسا نہيں جس ميں سارى خوبياں جمع ہوگئي ہوں اور تمام برائيوں اور نقائص سے مكمل طور پر پاك و منزہ ہو _ عموماً ہر انسان ميں طرح طرح كى خامياں اور خوبياں پائي جاتى ہيں مثلا كوئي دبلا ہے تو كوئي بہت موٹا ، كسى كى ناك بہت لمبى ہے تو كسى كا دہانہ بڑا ہے ، كسى كے دانت بڑے بڑے ہيں تو كسى كا رنگ كالاہے ، كسى كا قد چھوٹا ہے تو كسى كا غير معمولى طور پر لمبا، كسى كے منہ سے بو آتى ہے تو كسى كے پيروں سے _ كوئي شرميلا اور كم گوہے اور كوئي بہت تيز طرار اور باتونى ، كوئي گندہ رہتا ہے، كوئي بدتميز و بے ادب ہے ،كوئي مہماندارى كے آداب سے نا آشنا ہے ، كوئي جاہل ہے، كوئي غصہ ور، كوئي افسردہ و پمردہ رہتا ہے ، كسى كو كھانا پكانے كا سليقہ نہيں ، كوئي فضول خرچ ہے ، كوئي بہت زيادہ كھاتا ہے اور كوئي كم خوراك ہے _ كوئي بد اخلاق ہے اور كوئي حاسد كوئي كاہل ہے اور كوئي بد زبان ، كوئي خود غرض ہے اور كوئي كينہ پرور _ غرضكہ اس قسم كے سينكڑوں چھوٹے بڑے عيوب انسانوں ميں پائے جاتے ہيں كوئي بھى مرد يا عورت ايسى نہيں ملے گى جس ميں ان ميں سے كوئي ايك يا چند عيب موجود نہ ہوں _

مرد عام طور پر شادى سے پہلے اپنے ذہن ميں ايك ايسے خيالى پيكر كومجسم كرليتے ہيں جو ہر عيب سے پاك اور ہر لحاظ سے مكمل ہوتا ہے اور اسے اپنے آئيڈيل كانام ديتے ہيں _ اورسوچتے ہيں كامل ترين صفات كى مالك ايك فرشتہ صفت لڑكى ان كى شريك حيات بنے گى وہ اس حقيقت سے غافل ہوتے ہيں كہ ايسى ہستى كا دنيا ميں وجود ہى نہيں ہے _ جب شادى كرتے ہيں اور بيوى انكے خيال خاكہ پر پور نہيں اترتى تو اعتراض كرنا اور عيب نكالنا شروع كرديتے ہيں _ شادى شدہ


زندگى كو ناكام اور اپنے آپ كو بد نصيب تصور كرنے لگتے ہيں ہميشہ اپنى بد قسمتى اور ناكامى كا رونا روتے رہتے ہيں _ عيب نكالنے كى فكر ميں رہتے ہيں _ حتى كہ بہت معمولى اور ناقابل اعتنا خاميوں كو بھى نظر انداز نہيں كرتے اور ايك بہت چھوٹى سى خامى كو اپنے ذہن ميں بہت بڑا تصور كرليتے ہيں _ بيوى كى تحقير كرتے رہتے ہيں يا دوسروں كے سامنے اس پرتنقيد كرتے ہيں اور اس طرح اپنى شادى شادہ زندگى كے سكون و ثبات كو متزلزل كركے خود اپنى اور اپنى بيوى كى رنجيدگى و پريشانى كے اسباب فراہم كرتے ہيں _

ان عيب جوئيوں كا نتيجہ يہ ہوتا ہے كہ بيوى دلى طور پر مكدر ہوجاتى ہے اور رفتہ رفتہ اس كى محبت اور دلچسپى ميں كمى پيدا ہوتى جاتى ہے _ زندگى ، خانہ دارى اور شوہر كى طرف سے اس كى توجہ كم ہوتى جاتى ہے _ اپنے دل ميں سوچتى ہے كہ ايسے مرد كے گھر ميں كيوں اس قدر زحمتيں اٹھاؤں، يا كبھى وہ بھى انتقام كے طور پر بدلہ لينے پر اتر آتى ہے اور شوہر كى عيب جوئي شروع كردتى ہے _

مثلاً شوہر ، بيوى كى شكل و صورت كى برائي كرتا ہے وہ اجو اب ميں اس كى شكل و صورت يا قدو قامت كى برائي كرتى ہے اوراس طرح ايك دوسرے كى مذمت اور عيب جوئي كا سلسلہ جارى رہتا ہے _ كسى كو كسى ميں كوئي بھى خوبى نظر نہيں آتى _ اور اس طرح زندگى جسے مسرت و لطافت و پاكيزگى سے مملو ہونا چاہئے باہمى كشمكس اور ايك دوسرے كى عيب جوئي اورتحقير و بے عزتى كرنے ميں گزرجاتى ہے _

اگر اسى صورت سے زندگى كى گاڑى چلتى رہے تو آخر عمر تك اچھے دن ديكھنا نصيب نہيں ہوتے _ كيونكہ ايسا گھر جس ميں خلوص و صفائي اور مہرو محبت نہ ہو خوشى او راطمينان و سكون كى نعمت سے محروم ہوتا ہے _ اس كے علاوہ جو مرد اپنى شادى شدہ زندگى كو ناكام اور اپنے آپ كو بدنصيب سمجھتے ہيں اور ناخوش رہتے ہيں اور وہ عورت جو مسلسل تحقير و عيب جوئي كا نشانہ بنتى رہتى ہے ، دونوں ہى ہميشہ خطرناك امراض خصوصاً نفسياتى اور روحانى بيماريوں ميں مبتلا رہتے ہيں اگر لڑائي جھگڑے بڑھتے گئے اور طلاق و جدائي تك بات پہونچ گئي تو عموماً مياں بيوى دونوں ہى كى زندگياں تباہ ہوجاتى ہيں خاص طور پر اگر بچہ بھى ہوگيا ہو _ كيونكہ اول تو ايسا مرد سماج ميں اپنى حيثيت و آبرو كھو بيٹھنا ہے اور


لوگوں ميں ايك ہوس پرست اور بيوقوف انسان مشہور ہوجاتا ہے _

دوسرے يہ كہ پہلى شادى اور طلاق كے نتيجہ ميں اپنے مالى اعتبار سے بھى بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے كہ جس كى تلافى مشكل ہے اور دوسرى شادى كے لئے بھى بہت خرچ كى ضرورت ہے كہ جسكى فراہمى آسان كام نہيں _ ان نقصانات كو برداشت كركے بعيد نظر آتا ہے كہ اپنى اقتصادى حالت كو آسانى كے ساتھ بہتر بناسكے گا _

تيسرے يہ كہ معلوم نہيں آسانى كے ساتھ مناسب اور بے عيب بيوى مل سكے گى اول تو يہ كہ پہلى بيوى كو طلاق دينے سے جو بدنامى ہوجاتى ہے اس كے سبب بہت كم لڑكياں اس سے شادى كرنے كيلئے تيارہوتى ہيں _ فرض كيجئے لڑكى مل بھى گئي تو معلوم نہيں پہلى بيوى سے بہتر ہوگى يا نہيں _ البتہ اس بات كا امكان ہے كہ وہ مخصوص عيب اس ميں نہ ہو جو پہلى بيوى ميں نظرآتا تھا _ ليكن ايسا بہت كم اتفاق ہوتا ہے بلكہ ممكن ہى نہيں ہے كہ مكمل طور پر بے عيب اور ہر نقص سے مبرا ہو _ دوسرى بيوى ميں متعدد و عيوب موجود ہوں گے _ خدا نہ كرے پہلى بيوى سے بھى بدتر ہو _ايسى صورت ميں چاروناچار جيسے بھى ہو اس سے نبھانا پڑے گا _ ايسے بہت كم مرد مليں گے جو اپنى دوسرى شادى سے خوش و مطمئن ہوں ليكن اپنى عزت و آبرو برقرار ركھنے كے لئے مجبور ہيں كہ نبھائے جائيں_ اكثر ديكھنے ميں آيا ہے كہ بہت سے ردوں نے دوسرى بيوى كو چھوڑكر پھر پہلى بيوى سے تعلقات بحال كرلئے _

برادر عزيز اپنى بيوى كو بدبينى اور عيب جوئي كى نظر سے كيوں ديكھتے ہيں؟ اور بعض چھوٹے چھوٹے اور ناقابل اعتنا عيوب كو اس قدر اہميت ديتے ہيں كہ رفتہ رفتہ وہ عيب بہت بڑے اور ناقابل معافى عيب بن كر آپ كى نظروں ميں سماجائيں اور آپ كى اور آپ كے خاندان كى زندگيوں كو تباہ كرڈاليں _ كيا آپ كى نظر ميں كوئي ايسى عورت ہے جس ميں كوئي عيب نہ ہو ، كيا آپ خود تمام عيوب سے پاك و مبرا ہيں كہ اس بات كى توقع كرتے ہيں كہ بيوى مكمل طور پر بے عيب ہو _

اصولى طور پر ان چھوٹے چھوٹے خاميوں كى كوئي اہميت اور وقعت ہى نہيں ہے كہ اس كى خاطر


زندگيوں كو تباہ كرڈالا جائے

آپ اپنى بيوى كے صرف عيوب اور خاميوں كو ہى ديكھتے ہيں اور اس كى خوبيوں كو نظر انداز كرديتے ہيں اگر آپ انصاف كى نظر سے ديكھيں اور حقيقت كا مقابلہ كرسكيں تو ديكھئے كہ اس ميں بہت سى ايسى خوبياں بھى موجود ہيں جن كے سامنے اس كى خامياں ماند پڑگئي ہيں _ اور ان خوبيوں پر اگر توجہ كريں تو وہ معمولى سا عيب در اصل عيب شمار كرنے كے قابل ہى نہيں ہوگا _ اسلام ميں عيب جوئي كو ايك بہت بڑى اور ضرر رساں صفت كہا گيا ہے اور سختى سے اس كى ممانعت كى گئي ہے _

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں : اے وہ لوگو جو زبان سے تو اسلام كے مدعى ہو ، ليكن ايمان نے تمہارے قلوب پر اثر نہيں كيا ہے ، مسلمانوں كى بدگوئي نہ كرواور عيب جوئي كى فكر ميں نہ رہا كرو ، جو شخص دوسروں كى عيب جوئي كرتا ہے وہ خدا كى عيب جوئي كا نشانہ بنے گا اور ايسا شخص خواہ اپنے گھر ميں ہو ، رسوا ہوگا _(۱۸۷)

بدگوئي كرنے والوں كى باتوں پر دھياں نہ ديجئے

ايك بہت برى عادت جو عام طور پر لوگوں ميں پائي جاتى ہے وہ ہے دوسروں كى مذمت اور بدگوئي كرنا _ يہ گندى عادت دوستوں اور خاندانوں ميں دشمنى اور كدورت پيدا كرديتى ہے ، خاندانوں كو تباہ كرديتى ہے _ گھر كے پر خلوص ماحول كى رونق ختم كرديتى ہے اور اكثر اوقات و قتل و غارت گرى كے اسباب فراہم كردتى ہے _عيب جوئي اور بدگوئي كے مختلف اسبا ب و عوامل ہوتے ہيں _ كبھى حس كے سبب كسى كى بدگوئي كى جاتى ہے _ كبھى دشمنى اور كينہ كے سبب اور كبھى انتقام لينے كى خاطر كبھى دوسرں كى برائي كرنے كا مقصد اپنى خود ستائي كرنا ہوتا ہے _ كبھى مذمت كسى كو كسى دوسرے كى طرف سے بدظن كرنے اور اپنى محبت جتانے كے لئے كى جاتى ہے تا كہ اس كى محبت و توجہ كو اپنى طرف مبذول كرسكے _

كبھى اس كے ذريعہ خيرخواہى اور دوستى ظاہر كرنا ہوتا ہے ليكن ايسا بہت كم ہى ہوتا ہے كہ واقعى ہمدردى اورخيرخواہى كرنے كا ارادہ ہو _ ايسے ہى مواقع پر ايك ہوشيار اور عاقل انسان كا فرض ہے كہ


وہ ان بدگوئيوں كا اثر قبول نہ كرے بلكہ نہايت احتياط اور توجہ سے كہنے والے كے مقصد كو سمجھے او ردھيان ركھے كہ اس كى ظاہر دارى سے دھوكانہ كھائے اور اس كے شيطان ہتھكنڈوں كے زير اثر نہ آجائے _

مرد كو ايك اہم نكتہ مد نظر ركھنا چاہئے كہ عموماً اس كى ماں، بہن ، بھائي اور بھائي كى بيوى ، اس كى بيوى كے بارے ميں اچھے خيالات نہيں ركھتيں خواہ بظاہر ان كے آپسى تعلقات اچھے ہوں _

اس قضيہ كى اصل وجہ يہ ہوتى ہے كہ شادى سے پہلے لڑكا اپنے ماں باپ كے خاندان كا ايك فرد شمار كيا جاتا ہے _ اور اس كى اپنى الگ سے كوئي حيثيت نہيں ہوتى _ ماں باپ سالہا سال تك اپنے لڑكے كى تعليم و تربيت اورپرورش كے سلسلے ميں زحمتيں اٹھاتے ہيں اميد كرتے ہيں كہ بڑھاپے ميں ان كا سہارا بنے گا _ اگر چہ والدين خود اپنے بيٹے كى شادى كرتے ہيں اور بظاہر وہ ايك آزاد شخصيت كا مالك بن جاتا ہے ليكن اس سے توقع ركھتے ہيں كہ اپنے ماں باپ سے قطع تعلق نہ كرلے اور خود مختار ہونے كے باوجود ان كا مطيع و فرمانبردار رہے _ اور پہلے سے زيادہ ان سے محبت كااظہار كرے اور تمام امور ميں ، حتى كہ بيوى كو بھى ان پر ترجيح نہ دے _ اور پہلے كى مانند اس كى تمام تر توجہ ان پر مركوز رہے _

ليكن جب لڑكا شادى كرتا ہے تو اس كى خواہش ہوتى ہے كہ ايك خوش ومسرور ، آبرومند اور آزادانہ زندگى كا آغاز كرے_ چونكہ اپنى نئي نويلى بيوى كو اپنى نئي زندگى كا شريك اور ايك اہم ركن سمجھتا ہے اس لئے اس سے عشق ود لچسپى كا اظہار كرتا ہے شب و روز محنت و مشقت كرتا ہے تا كہ زندگى كى ضروريات فراہم كركے اپنى اور اپنى بيوى كى زندگى كے لئے آرام و آسائشے كے اسباب مہيا كرے _ چونكہ اس سلسلے ميں اس كى مشغوليات بڑھ جاتى ہيں اس لئے اپنى سابقہ زندگى سے جدا ہوجاتا ہے اور اپنے گھروالوں سے اظہار محبت كرنے كا موقع كم ملتا ہے _

ايسے موقعہ پر اس كى ماں نہيں خطرہ كا احساس كرتى ہيں اور انھيں خدشہ پيدا ہوتاہے كہ ان كے خاندان ميں ايك غير لڑكى كے آجانے سے ان كا بيٹا ہاتھ نكل جائے گا_ اور لڑكا اپنى بيوى سے جتنا زيادہ محبت كرتا ہے انھيں زيادہ خطرہ لاحق ہوجاتاہے _ انھيں ڈرہوتاہے كہ كہيں ان كا بيٹا انھيں ، بالكل نظر انداز


نہ كردے اور اس سلسلے ميں سارا الزام بہوكے سر تھونپى ہيں اور اس خطرہ كوٹالنے كے لئے كوشش نہ كرتى ہيں كہ بيوى كى محبت اس كے دل سے كم كرديں اور اس مقصد كے تحت نئي نويلى بہو ميں عيب نكالنا شروع كردتى ہيں _ معمولى خاميوں كو بڑھا چڑھا كربيان كرتى ہيں _ اس كے شوہر سے اس كى برائياں كرتى ہيں بلكہ بعض عورتيں تو دروغ گوئي سے بھى دريغ نہيں كرتيں _ بہوكونيچا دكھانے كے لئے طرح طرح كے منصوبے بناتى ہيں اور اس كو شوہر كى نظروں سے گرانے كى كوشش كرتى ہيں _

اگر مرد سادہ لوح اور كانوں كا كچاہے تو ان كى ظاہرى ہمدرديوں سے متاثرہوكر ان كى باتوں ميں آجاتا ہے اور بيوى كى برائياں اور خامياں سن سن كر بيوى سے بيزار ہوجاتا ہے _ بہانے تلاش كرتا ہے اوربات بے بات جھگڑآ كرتا ہے _ بہت معمولى معمولى باتوں كو نظر انداز كرنے كے بجائے بہت اہميت ديتا ہے اور بيوى كو تنقيد و اعتراض كا نشانہ بناتا رہتا ہے اور اس طرح گھر كا ماحول اعتراضات و عيب جوئي كا ميدان بن جاتا ہے اور آپس ميں ميل محبت اور صلح و صفائي كے بجائے ، ہر وقت باہمى چپلقش ، نزاع و بيزارى كا بازارگرم رہتا ہے _ شوہر جتنا زيادہ ماں بہنوں كى باتوں پر توجہ ديتا ہے اتنى ہى زيادہ ان كى ہمت بندھتى ہے اور زيادہ سے زيادہ بہوكى عيب جوئي اور برائياں كرتى ہيں اور ان كى فتنہ انگيز ياں مياں بيوى كے درميان نفرت ، مارپيٹ حتى كہ عليحدگى كا باعث بن سكتى ہيں _ بعض ساس ننديں بيچارى بہوكو اس قدر اذيتيں پہونچاتى ہيں كہ بعض اوقات بہويں پريشان ہوكر خودكشى كا اقدام كرڈالتى ہيں _ ايسى عورتوں كى كافى تعدا د موجود ہے جو اپنى ساس نندوں ياديور جيٹھوں كے ہاتھوں تنگ ہوكر اپنى زندگيوں سے ہاتھ دھوبيٹھيں _ ہم اخباروں اور رسالوں ميں ان كى داستانيں پڑھتے رہتے ہيں مثال كے طور پر ذيل كے سچے واقعات پيش خدمت ہيں :_

ايك نئي نويلى دلہن نے اپنى شادى كے چند روز بعد ہى سوئي نگل لى _ آپريشن كے بعد اس نے اخبار اطلاعات كے نامہ نگار كو بتايا كہ ايك ہفتہ ميرى فلاں شخص سے شادى ہوئي ہے جب ميں بياہ كر اپنے شوہر كے گھر آئي تو ميں بھى اپنے آپ كو دوسرى عورتوں كى مانند خوش نصيب تصوركرتي


تھى ليكن ابھى چند دن بھى نہيں گزرے تھے كہ نند اور شوہر كى جانب سے اذيتوں كا سلسلہ شروع ہوگيا _ جس زندگى كو ميں سمجھتى تھى كہ ميرے لئے بہشت ہوگى وہ جہنم ثابت ہوئي _ اتنى كم مدت ميں ہى شوہر كے رشتہ داروں نے مجھ كو اس قدر اذيتيں اور تكليفيں پہونچائيں كہ زندگى سے دل بھر گيا _ سوئي نكل كر ميں اپنى زندگى كا خاتمہ كرنا چاہتى تھى _(۱۸۸)

ايك عورت نے اپنے كپڑوں ميںآگ لگالى اور زندگى كے آخرى لمحات ميں پوليس كو بيان ديا كہ : ميرے شوہر كے بھائيوں نے ميرى زندگى تلخ كردى _ ان كى اذيتوں اور آزار سے تنگ آكر ميں نے اپنے كپڑوں ميں آگ لگالى _(۱۸۹)

ايك نئي شادى شدہ دلہن نے ساس كى بدسلوكيوں سے تنگ آكر اپنے كپڑوں ميں آگ لگالى _(۱۹۰)

ايك عورت نے ساس كى بدسلوكيوں اور بہانہ بازيوں كے سبب آگ لگاكر اپنا خاتمہ كرليا __(۱۹۱)

بعض اوقات ساس نندوں كى فتنہ انگزياں اور جھگڑے بہت خطرناك ثابت ہوتے ہيں اور شادى شدہ جوڑے كى زندگى كى بنيادوں كو متزلزل كرديتے ہيں _خاندانوں كى خوشى و آسائشے كو سلب كرديتے ہيں لہذا ان باتوں كو نظر انداز نہيں كرنا چاہئے بلكہ عقل و تدبر سے كام لے كر ان كو حل كرنے كى فكر كرنى چاہئے _ انكے منہ تو بند نہيں كئے جا سكتے ليكن اس كا حل يہى ہے كہ ان كى باتوں ميں نہ آجائے _

مرد كو يہ بات اپنى ذہن نشين كرلينى چاہئے كہ مذمت ، عيب جوئي اور برائياں، خواہ ماں كے يا نہيں يا ان كے علاوہ اور كوئي رشتہ دار، وہ ہمدردى اور خيرخواہى كى غرض سے نہيں كى جاتيں بلكہ ان كا سبب سد ، كينہ انتقام ، خود نمائي ، او رناجائز فائدہ حاصل كرنا ہوتا ہے _ چونكہ نئي دلہن كى خوشى و آسائشے ان كے لئے رشك و حسد كا باعث بنتى ہے اور سمجھتى ہيں كہ بہونے آكر ان كے بيٹے پر قبضہ جماليا ہے اس لئے اسے اپنا رقيب سمجھنے لگتى ہيں _ يا بعض مائيں لڑكى كى آمدنى س خود پورا پورا استفادہ كرنا چاہتى ہيں اس لئے بہوكا وجود ان كى نظروں ميں كھٹكنے لگتا ہے يا بعض اپنے آپ كو خيرخواہ ثابت كرنے كے لئے بہوكى برائياں كرتى ...ميٹے كے دل پر بہو قبضہ نہ كرلے _


ايسى عورتوں كو صرف اپنى فكر ہوتى ہے اوراپنے مفاد پر اپنے بيٹے بہو كى زندگيوں كو قربان كردتى ہيں كيونكہ اگر خيرخواہ ہوتيں تو بہو كى برائياں او رعيب جوئي كركے ان كى زندگيوں ميں تلخياں نہ بھر ديتيں بلكہ انكے درميان باہمى محبت اور تعلقات كو مستحكم و پائيدار بنانے كى كوشش كرتيں _

تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے كہ جب كسى لڑكى كو اپنى بيٹے كے لئے پسند كرتى ہيں تو اس كى تعريف ميں آسمان زمين كے قلابے ملا ديتى ہيں ليكن جب وہى لڑكى بہوبن كر ان كے گھر آجاتى ہے تو صورت حال بدل جاتى ہے اور اسى لڑكى ميں سينكڑوں عيب اور نقص پيدا ہوجاتے ہيں _

برادر عزيز ظاہرى ہمدرديوں اور چرب زبانيوں سے دھوكانہ كھاجايئے اكثر وہ عيوب جو آپ كى بيوى ميںنكالے جاتے ہيں يا تودر اصل عيب ہى نہيں ہوتے يا اتنے معمولى ہوتے ہيں كہ عقلمند انسان ان پر توجہ نہيں ديتا ہے _ فرض كيجئے كوئي خامى ہے بھى تو كيا دنيا ميں كوئي انسان بے عيب ہے ؟ جو آپ اس بات كى توقع ركھتے ہيں كہ آپ كى بيوى ہر عيب سے پاك ہوگي

كيا آپ كى ماں بہنيں جو آپ كى بيوى كى عيب جوئي كيا كرتى ہيں خود ہر عيب سے مبرا ہيں ؟ اگر آپ كى بيوى ميں كوئي كمى ہے تو كيا ہوا ، سينكڑوں دوسرى خوبياں بھى تو موجود ہيں اس كى خوبيوں كو كيوں نہيں ديكھتے ؟ اگر آپ ا ن كى باتوں پر توجہ ديں گے تو گھر ہرروز حشر كا ميدان بنا رہے گا _ آپ كى زندگى اجيرن ہوجائے گى اور زندگى اور بيوى سے بيزار ہوجائيں گے آپ كى بيوى بھى آپ سے اور اپنى زندگى سے بيزار ہوجائے گى _ اور اسى طرح زندگى كى گاڑى چلتى رہى تو زندگى ميں كبھى سكون و چين نصيب نہ ہوگا اگر تنگ آكر عليحدگى اختيار كرلى يا طلاق ديدى تو بھى عموماً حالا ت ميں بہترى پيد ا نہيں ہوتى ، مالى نقصانات اورذہنى پريشانيوں كے علاوہ بدنامى الگ ہوتى ہے _ ہر ايك ايسے آدمى كو اپنى بيٹى دينے كو تيار نہيں ہوتا يادوسرى شادى ہو بھى گئي تو ماں بہنيں اپنے فرائض سے سبكدوش نہيں ہوجائيں گى بلكہ اگر ان كى مرضى كے مطابق نہ ہوئي تو پھر عيب جوئي اور تنقيد شروع كرديں گي_ پس بہترى اسى ميں ہے كہ شروع ميں ہى ان سے صاف صاف كہديجئے كہ اگر آپ چاہتى ہيں كہ ہمارے تعلقات اور آمد و رفت


برقرار رہے تو ميرى بيوى كى برائياں نہ كيا كيجئے _ اور ہمارے باہمى تعلقات ميں مداخلت نہ كيجئے _ ميرى بيوى ميں كوئي برائي نہيں ہے وہ مجھے پسند ہے اور مجھے اس سے محبت ہے _ جب وہ لوگ ديكھيں گى كہ ان كى باتوں كا آپ پر كوئي اثرنہيں ہوتا تو خود ہى خاموش ہوجائيں گى اور آپ بھى اس روز روز كى مصيبت سے نجات پاجائيں گے _

البتہ اس نكتہ كو بھى مد نظر ركھنا چاہئے كہ بعض ماں بہنيں اتنى آسانى سے دستبردار نہيں ہوجاتيں بلكہ اپنے مقصد كى تكميل اور بہو سے انتقام لينے كے لئے جھوٹ بولنے اور تہمت لگانے سے بھى دريع نہيں كرتيں _ اور ان كا يہ حربہ بعض وقت اتنا كارگر ثابت ہوتا ہے كہ شوہر اپنے ہوش و حواس كھوبيٹھتا ہے اور تحقيق كئے بغير بے گنا ہ بيوى كو طلاق دے ديتا ہے يا بعض اوقات قتل تك كرديتا ہے_

اكثر ظلم وقتل اور طلاقيں ان ہى بدگوئيوں اور ناروا تہمتوں كے سبب وقوع ميں آتى ہيں _

مثال كے طور پر ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے

ايك نوجوان جوڑا جن كے نام اور تھے تبريز ميں خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت ميں طلاق حاصلہ كرنے كى غرض سے حاضر ہوئے _ شوہرنے عدالت ميں كہا كہ ميرى بيوى ميرے بھائي كو جو كہ اصفہان ميں رہتا ہے عاشقانہ خطوط لكھتى ہے _ كل رات مجھے اس كے كپڑوں كى المارى ميں كچھ خطوط ملے ہيں _ بيوى نے جوكہ زار و قطاررورہى تھى وضاحت كى اور كہا كہ ميرى ساس اورنند كو ... ہر بات پر مجھ سے اختلاف ہے اور وہ مجھے ہميشہ اذيتيں پہونچاتى ہيں اب جبكہ انھوں نے ديكھا كہ ان كے اعتراضات كا كوئي اثر نہيں ہوتا تو انھوں نے يہ خط لكھ كر ميرے كپڑوں كى المارى ميں ركھ ديئےا كہ ميرے شوہر كو بھڑكاكر مجھے طلاق دلواديں _ عدالت نے مياں بيوى كے درميان صلح كرادى فقط آخر ميں شوہر سے كہا كہ اپنى ماں بہن سے كہدو كہ جواں بہو كے اس قدر پيچھے نہ پڑى رہا كريں _(۱۹۲)

ايك ۲۴ سالہ عورت نے ساس كے مظالم سے تنگ آكر اپنے اوپر تيل چھڑك كر آگ لگالى _ كچھ لمحوں كے بعد اس كى چيخيں سن كر پڑوسى مددكو دوڑ ے او اسے تہران كے ايك اسپتال ميں لئے گئے


اسپتال ميں اس عورت نے اپنے بيان ميں كہا: ميرى ساس ميرے ساتھ رہتى ہے بہت غصہ وار اور بہانہ باز ہے ہميشہ مجھ پر اعتراضات كرتى رہتى ہے _ ميرے اور ميرے شوہر كے درميان جھگڑا كرتى ہے _ كل جب ميں سودا خريدنے كے لئے بازارگئي تو راستے ميں ميرى ايك پرانى دوست مل گئي _ چند لمحے ہم دونوں آپس ميں باتيں كرتے رہے _ جب ميں گھر پہونچى تو ميرى ساس نے پوچھا: اتنى دير كہاں رہيں؟ ميں نے اپنى زمانہ طالب علمى كى ساتھى سے ملاقات كا حال بيان كيا _ ليكن وہ سرہلا كر بولى :'' جھوٹ بولتى ہے _ تيرى يہ ہمت ہوگئي ہے ، ميں نے سنا ہے تو محلے كے قصاب سے عشق لڑاتى ہے'' _ اس بات نہ مجھے بيحد غضبناك كرديا اور ميں نے اس سے نجات حاصل كرنے كے لئے خودكشى كرنے كا فيصلہ كرليا _(۱۹۰)

ايسے موقعوں پر مرد كو چاہئے كہ نہايت صبرو تحمل ، احتياط او ربردبارى سے كام لے اور اس بات كى خوب اچھى طرح چھان بين كرے اور جب تك كوئي بات پورى طرح ثابت نہ ہوجائے ہر قسم كے اقدام سے سختى سے پرہيز كرے _

يہاں پر ايك بات اور ياد دلاديں كہ ماں باپ اپنى اولاد كى تعليم و تربيت اور پرورش ميں بيحد زحمتيں اٹھاتے ہيں اور اولاد سے بھى بہت سى اميديں ركھتے ہيں اور اپنے بڑھاپے كا سہارا سمجھتے ہيں اور وہ حق بجانب بھى ہيں _ شرعى اعتبار سے بھى ضرورى ہے او رانسانيت كا بھى يہ تقاضا ہے كہ جب اولاد بڑى ہوجائے اور اسے طاقت و توانائي حاصل ہوجائے تو والدين كے حقوق كو يكسرفراموش نہ كردے اور اپنے بيوى بچوں ميں محو نہ ہوجائے _ والدين كى سپاس گزارى ہرحال ميں واجب ہے شادى كے بعد بھى ان كى خدمت و احترام كرنا چاہئے اگر وہ محتاج اور ضرورت مند ہيں تو ان كى مدد كرنى چاہئے _ ان كے مقابلے ميں ہميشہ عجز و انكسارى كرنا چاہئے اور ان سے ہميشہ محبت و خلوص كا اظہار كرنا چاہئے _ ان سے رابطہ منقطع نہيں كرلينا چاہئے _ ان كى احوال پرسى كرنے كے لئے ان كے پاس جاتے رہنا چاہئے ان كو اپنے پاس بلاتے رہنا چاہئے _ كوئي ايسا كام نہيں كرنا چاہئے جس سے ان كى دل آزارى ہو _ اپنى بيوى بچوں كو بھى بتانا چاہئے كہ ان كا احترام كريں ان كى خاطر تواضع كريں _ انھيں سمجھانا چاہئے


كہ ہمارى بہترى اسى ميں ہے كہ اپنے والدين اور دوسرے رشتہ داروں سے محبت كريں _ اس طرح ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں كے حقوق بھى ادا كئے جا سكتے ہيں اور انھيں خوش بھى ركھا جا سكتاہے اگر انھيں بہوسے يہ خطرہ نہ ہو كہ وہ انھيں ان كے بيٹے سے چھڑادے گى تو كوئي وجہ نہيں ہے كہ بةوكى مخالفت كريں بلكہ اس كى حمايت اور طرفدارى كريں گى _ آخر ميں اس بات كى بھى ياد دہانى كراديں كہ بيوى كو اپنے شوہر سے يہ توقع نہيں ركھنى چاہئے كہ وہ اپنے ماں باپ اور عزيزوں كو يكسر فراموش كردے اور ان كى زحمتوں اور محبت كو مكمل طور پر نظر انداز كردے اور ان سے رابطہ منقطع كرلے _ يہ بات بالكل غير فطرى ہے _

بہو اگر عقلمندى اور تدبر سے كام لے كر اپنى ساس نندوں كے ساتھ اچھا برتاؤ كرے تو وہ اس كى اپنى ماں بہنوں سے بڑھ كر مہربان و ہمدرد بن سكتى ہيں _ اگر ان كا احترام كرے ان سے محبت كا اظہار كرے اور ان كے ساتھ نيكى كرے _ كاموں ميں ان سے صلاح و مشورہ لے ان كے يہاں سے برابر آمد و رفت ركھے تو نہ صرف يہ كہ وہ اس كى مخالفت نہيں كريں گى بلكہ ہميشہ اس كى حامى و مددگار بنيں گى اس موضوع كے متعلق كتاب كے پہلے حصہ ميں مفصل بحث كى جا چكى ہے _


اس كى لغزشوں كو نظر انداز كيجئے

ہر انسان سے خطا سرزد ہوتى ہے سوائے معصوم كے دنيا ميں كوئي نہيں جس سے زندگى ميں كبھى كوئي لغزش يا غلطى نہ ہوئي ہو _ كبھى كبھى انسان سے جہالت اورنادانى كے سبب ناماسب كام انجام پا جاتے ہيں _ اس سلسلے ميں عورت مرد ميں كوئي فرق نہيں ہے _ شادى شادہ زندگى ميں بيوى سے بھى يقينا غلطيان اور كوتاہياں ہوتى ہيں _ نادانى ، عدم توجہ يا غصہ كى شدت ، كوئي بھى وجہ ہوسكتى ہے كہ اپنے شوہر كى نسبت بے ادبى كردے يا اس كے منھ سے نامناسب الفاظ نكل جائيں يا طنز آميز جملے بول دے ياغصہ سے بے قابو ہوكر چيخنے چلّانے لگے _ يا شوہر كى اجازت كے بغير يا اس كے منع كرنے كے باوجود كوئي كام كرے _ يا بے احتياطى يا نادانى يا بے توجہى كے سبب كوئي مالى نقصان كردے _ غرضكہ اس قسم كى سينكڑوں دوسروں باتيں ہوسكتى ہيں جن سے كم و بيش ہر خاندان كو


سابقہ پڑتا ہے _

البتہ اس بات كى ياددہانى ضرورى ہے كہ مياں بيوى دونوں كو چاہئے كہ ايك دوسرے كو خوش ركھنے كى كوشش كريں اور ان كاموں سے سختى سے اجتناب كريں جو ايك دوسرے كى ناراضگى و رنجيدگى كا باعث ہوں _ ليكن ايسا اتفاق كم ہى ہوتا ہے كہ مياں بيوى كبھى كوئي غلطى ہى نہ كريں_

بعض مرد يہ سوچتے ہيں كہ بيوى كى لغزشوں اور غلطيوں پر، خواہ وہ چھوٹى اور معمولى ہى كيوں نہ ہوں ،سختى سے بازپرس كرنى چاہئے تا كہ اس كى تكرار نہ ہو _ اور شادى ہوتے ہى اسے آنكھيں دكھانى چاہئے اور اپنے رعب ميں لے لينا چاہئے تا كہ اس كے ہوش حواس درست رہيں اور كوئي غلطى نہ كرے _

ليكن تجربے سے ثابت ہوا ہے كہ اس قسم كى باتوں سے نہ صرف يہ كہ حسب دلخواہ نتيجہ برآمد نہيں ہوتا بلكہ اكثر اس كاانجام برعكس ہوتا ہے كيونكہ جو عورتيں شوہر كى زيادہ سختيوں اور دباؤ كا شكار رہتى ہيں وہ كچھ دن تو صبر و برداشت سے كام لے سكتى ہيں ليكن آخر كار ان حالات سے تنگ آجاتى ہيں اور اس وقت ممكن ہے عاجز آكر اس قيد و بند سے آزدادہونے كا فيصلہ كرليں يا شوہر كى سختيوں ، اعتراضات عتاب آور ناروا سلوك كى عادى ہوكر اس كى طرف سے بے پروا ہوجائيں _ اپنے دل ميں سوچتى ہيں كہ ميرا شوہر تو معمولى معمولى باتوں پر غصہ ہوجاتا ہے غير ارادى طور پر مجھ سے كوئي غلطى يا كوتاہى ہوجاتى ہے تو مجھ نہيں چھوڑتا اور مجھ پر سختى كرتا ہے پس بہتر ہے كہ اس كى باتوں پر توجہ نہ دوں تا كہ ٹھيك ہوجائے اور ظلم و ستم سے بازآئے _ اور اس طرح شوہر سے گستاخى كرتى ہيں _ برابر سے جواب ديتى ہيں اور اس كى مخالفت و نافرمانى كرنے كى عادت پڑجاتى ہے _

ايسى صورت ميں مختلف نتائج سامنے آتے ہيں:

مثلاً مرد بيوى پر سختى و ظلم كرنے سے دستبردار نہيں ہوتا اور اس كا نتيجہ يہ ہوتا ہے كہ ہٹ دھرمى كشمكش لڑائي جھگڑے كا سلسلہ ہميشہ جارى رہتا ہے اور اگر اسى طرح زندگى گزرتى رہے تو سارى زندگى ميں كبھى خوشى و سكون ميسر نہيں ہوتا _ يا يہ ہوتا ہے كہ مرد اس كشمكش سے تنگ آكر بيوي


كے سامنے جھك جاتا ہے اور اسے مكمل آزادى دے ديتا ہے _ ايسى صورت ميں كہ جو عورت زور آزمائي اور مخالفت كے ذريعہ قيد و بند سے رہائي حاصل كرے گى وہ كاميابى اور آزادى كا احساس كرے گى نتيجہ اپنے شوہر اور اس كى باتوں كى طرف سے بے اعتنائي برتے گى _ نادان شوہر بھى جو كہ شادى شدہ زندگى اور زن دارى كے اصول و رائض سے ناواقف سے ناچار ہوجائے گا كہ بيوى خواہ بڑى غلطياں ہى كيوں نہ كرے خاموش رہے _ يا تيسرى صورت يہ ہوتى ہے كہ ضد اوررسہ كشى كے نتيجہ ميں ان ميں سے كسى ايك كى جان پر بن جاتى ہے اور ايسى صورت ميں عليحدگى كو ترجيح ديتے ہيں _

ايسى صورت ميں مرد عورت دونوں كو ہى نقصان پہونچتا ہے يوں آسانى كے ساتھ اطمينان نصيب ہونا مشكل ہى معلوم ہوتا ہے لہذا بيوى كے عيوب كى اصلاح كرنے كے لئے سختى اور شدت عمل سے كام لينا كوئي دانشمندانہ فعل نہيں ہے بلكہ سختى سے اكثر خراب نتائج بر آمد ہوتے ہيں _ دوستوں ، واقف كاروں كى زندگى اور اخبار ورسائل ميں شائع ہونے والے واقعات سے ان باتوں كى تصديق ہوسكتى ہے _ پس زن دارى ، كا بہترين طريقہ يہ ہے كہ شوہر ميانہ روى سے كام لے _ عقل و تدبر كا راستہ اختيار كرے _ بيوى كى معمولى معمولى غلطيوں اور كوتاہيوں كو ، جو غلطي، غفلت يا بھول كے سبب ہوئي ہوں يكسر نظر انداز كرے_ او ران پڑلڑے جھگڑے نہيں بلكہ بہتر ہے كے ذرا بھى پيشانى پر شكن نہ آنے دے كيونكہ بيوى نے قصداً ايسا نہيں كيا ہے اس لئے شوہر كو غصہ اور بازپرس كرنے كاحق نہيں ہے _ البتہ مناسب موقعہ پر نہايت اچھے اور خوبصورت الفاظ ميں اس كو يادآورى كرادے كہ اس كى بات كا دھيان ركھے تا كہ آئندہ اس قسم كى غلطى عمل ميں نہ آئے _

اگر نادانى كے سبب كوئي خلاف ورزى ہوئي ہے تب بھى مناسب نہيں كہ مرد غصہ اور سختى كرے اور اس كى تنبيہ و بازپرس كرنے كى سوچے _ كيونكہ بيوى نے مخالفت اورنافرمانى كے خيال سے نہيں بلكہ اپنى جہالت اور نادانى كے سبب اسے اچھا سمجھ كر انجام ديا تھا _ ڈانٹنے پھٹكارنے سے كوئي فائدہ نہيں ہوتا بلكہ اس كو نظر انداز كردينا چاہئے اور مناسب موقعہ پر اچھے الفاظ ميں اس عمل كى خرابي


اور اس سے پيدا ہونے والے نقصانات كو دليل و ثبوت كے ذريعہ واضح كرنا چاہئے تا كہ بغير كسى زور زبردستى كے اپنى مرضى و خوشى سے اس فعل سے دستبردار ہونے كا فيصلہ كرلے اور بعد ميں اس كى خلاف ورزى نہ كرے_ ايسى صورت ميں مرد كا احترام ووقار باقى رہ سكتا ہے اور اپنے اس عمل كے ذريعہ وہ بڑى بڑى غلطيوں اور خطاؤں كے وقوع ميں آنے كى ورك تھام كرسكتا ہے _

اگر نرم وملائم لہجے اورباہمى تفاہم كے ذريعہ اپنى بيوى كو اپنا ہم خيال بنا سكے اور بيوى اس كى باتوں پر عمل كرے تو چاہئے كہ بيوى كى قدردانى كرے اور اس كا شكريہ ادا كرے _ ليكن اگر ديكھے كہ اس كى باتوں پر پور توجہ نہيں ديتى اور كبھى كبھى غلطى كرجاتى ہے تو بھى بہتر ہے كہ مرد بيوى كى معمولى غلطيوں كو نظر انداز كردے او راس سے سختى سے پيش نہ آئے اور انتقام لينے اور تنبيہ كرنے كى فكر ميں نہ رہے حتى كہ اس كو قصور وثابت كركے اس بات پر مصر نہ ہو كہ بيوى اس سے معافى مانگے كيونكہ عورتوں ميں عموماً ايك قسم كى ضد اور خودسرى پائي جاتى ہے اگر مرد ان كى اس حالت سے سمجھوتہ كرلے تو ان كے وجود سے فائدہ اٹھاسكتا ہے ليكن اگر ان كے مقابلے ميں سختى اور شدت اختيار كى تو ضد اوركشمكش كے نتيجہ ميں بڑے خراب نتائج برآمد ہوسكتے ہيں _ طلاق حتى قتل تك كى نوبت آسكتى ہے _

عقلمند اور ہوشيار مرد كو چاہئے كہ ہربات كے نتائج كو خوب اچھى طرح پركھ لے اورسختى و ظلم كے نتائج كا ، عفو و درگزر كے نتائج سے مقابلہ كرے تو يقينا عفو و درگزر كو ترجيح دے گا _ البتہ ناقابل معافى خطاؤں اور غلطيوں كے سلسلے ميں مرد دوسرے طريقوں پر عمل كرسكتا ہے _

يہ موضوع اس قدر حساس ہے كہ دين مبين اسلام ميں اس كو عورت كے ايك حق كے عنوان سے مرد پرواجب قرارديا گيا ہے _

حضرت على بن ابى طالب عليہ السلام فرماتے ہيں ، ہر حال ميں عورتوں سے نباہ كرو _ ان سے خوش بيانى كے ساتھ بات كرو _ شايد اس طريقہ كارسے ان كے اعمال نيك ہوجائيں _(۱۹۴)

حضرت امام زين العابدين (ع) فرماتے ہيں : تم پر عورت كا يہ حق ہے كہ اس كے ساتھ مہربانى سے


پيش آؤ _ كيونكہ وہ تمہارى دست نگر ہے _ اس كے كھانے كپڑے كا انتظام كرو _ اس كى نادانيوں كو معاف كردو _(۱۹۵)

امام جعفر صادق عليہ السلام سے لوگوں نے سوال كيا كہ بيوى كا اپنے شوہر پر كيا حق ہے كہ اگر اسے انجام دے تو اس كا شمار نيك بندوں ميں ہوگا؟

فرمايا: اس كے لباس و غذا كا انتظام كرے اور جن كاموں كو اپنى نادانى كے سبب انجام ديتى ہے انھيں معاف كرے _(۱۹۶)

امام جعفر صادق (ع) يہ بھى فرماتے ہيں كو جو شخص اپنے زيردستوں كو معمولى خطاؤں پر تنبيہ كرے اسے اپنى بزرگى اور عزت قائم رہنے كى توقع نہيں كرنى چاہئے _(۱۹۷)

بيوى كى ماں

ايك اور چيز جو مياں بيوى كے درميان ناچاقى پيدا كرتى ہے اور خاندانوں كے سكون و چين كو سلب كرنے كا سبب بنتى ہے بلكہ اس كے باعث بعض اوقات طلاق اور قتل تك كى نوبت آجاتى ہے وہ ہے بيوى كى ماں كى بيجا مداخلت اور روك ٹوك_

بعض مائيں اپنى بيٹى كى شادى سے پہلے اپنے ذہن ميں ايك ايسے داماد كاتصور قائم كرليتى ہيں جو تمام نقائص اور خاميوں سے پاك اور كامل صفات اور خوبيوں كا مالك ہوگا اور اس بات كى متوقع رہتى ہيں كہ ايك ايسے آئڈيل نوجوان سے ، كہ جوان كے نصيب ميں نہ تھا ، اپنى بيٹى كى شادى كريں _ اسى اميد پر كسى نوجواں كو اپنى دامادى كے لئے منتخب كرتى ہيں _ شروع ميں اس كو ايك آئيڈيل انسان مان كر اس سے اپنى محبت و شفقت كا اظہار كرتى ہيں _ شروع ميں اس كو ايك آئيڈيل انسان مان كر اس سے اپنى محبت و شفقت كا اظہار كرتى ہيں _ اس كى خاطر مدارات اور عزت افزائي كرتى ہيں اپنے دل ميں سوچتى ہيں كہ اگر اس ميں كوئي معمولى سى خامى ہوگى تو ميرى ہدايات اور نصيحتوں سے اس كى اصلاح ہوجائے گى _

اگر نيا داماد ان كى مرضى كے مطابق ہوا تو خوش و خرم رہتى ہيں ليكن اگر ان كى مرضى كے مطابق نہ ہوا تو فوراً اس كے علاج كى فكر ميں لگ جاتى ہيں اور شروع ميں ہى فيصلہ كرليتى ہيں كہ


اپنى يا دوسروں كى شادى شدہ زندگى كے دوران جو تجربے حاصل كئے ہيں ان سے استفادہ كرتے ہوئے داماد كو اپنى مرضى كے مطابق ڈھال ليں اس مقصد كے حصول كے لئے پلان بناتى ہيں اور اپنے تمام امكانات سے استفادہ كرتى ہيں _ كبھى ہمدردى اور خيرخواہى كے طور پر اس كو پند ونصيحت كرتى ہيں كبھى لڑجھگڑكے اپنا كام نكالنا چاہتى ہيں _

اپنے مقصد كے حصول كے لئے اپنى بيٹى كو وسيلہ قرارديتى ہيں اور اس كو تلقين كركے اعتراضات كرنے بہانے بنانے ، اور حالات كو ناسازگار بنانے پر مجبور كرتى ہيں _

كبھى اس كو لڑنے جھگڑنے كا حكم ديتى ہيں _ كبھى التماس و گريہ كرنے كا حكم ديتى ہيں _ اس كے شوہر كى بد گوئي اور عيب جوئي كرتى ہيں بے چارى لڑكى جو كہ ابھى زمانے كے سردو گرم سے نا آشنا ہوتى ہے اور اپنا بہترين حامى وخيرخواہ سمجھتى ہے اس كى تلقين و نصيحتوں كا اثر قبو ل كركے اس كے احكام كے مطابق كام كرتى ہے اگراس وسيلے سے داماد قابو ميں آگيا تو كيا كہنے _ ليكن اگر داماد نے ان كى خواہشات كے آگے سرنہ جھكا يا تو ضد اور كشمكش كا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے _ حتى كہ اس ضد كا انجام طلاق مارپيٹ اور قتل كى صورت ميں نكلتا ہے _ يہى وجہ ہے كہ اكثر داماد اپنى بيوى كى ماؤوں سے ناخوش رہتے ہيں اور انكى بيجا مداخلتوں سے پريشان رہتے ہيں _ اپنى بيوى كى بہانہ بازيوں اور عدم موافقت كا باعث سال كوسمجھتے ہيں اور كہتے ہيں كہ وہى اپنى بيٹى كو سكھاتى ہے اور زندگى چين سے گزارنے نہيں ديتى _

نمونے كے طور پر چند دامادوں كے درددل سنتے چليں_

(جوادرم) لكھتاہے : ميرى ساس ايك ديونى ہے ايك ادھا ہے _ ايك دوسروالى ناگن ہے _ خدا جنگل كے بھيڑيئےو بھى ايسى ساس نصيب نہ كرے _ مجھ سے نہ جانے كہاں كا بدلہ لے رہى ہے _ ميرى زندگى تباہ كردى ہے كہ قريب ہے اس كے ہاتھوں ديوانہ ہوكر كوہ و بيابان كى طرف بھاگ جاؤں صرف ميں ہى واحد شخص نہيں ہوں جو اپنى ساس كے ہاتھوں خون كے آنسو رورہاہوں بلكہ اس درد ميں


بہت سے لوگ مبتلا ہيں ميرا خيال ہے ہر سو شادى شدہ مردوں ميں سے ۹۵ افراد اس پريشانى ميں مبتلا ہوں گے _ اور شايد باقى لوگوں كى ساسيں ہى نہ ہوں گى _ محمد ف ر قمطراز ہے : ميرى ساس ميرى او رميرى بيوى كى زندگى ميں بہت دخل ديتى ہے بلا وجہ ہمارى پريشانى كا باعث بنى ہوئي ہے _ ميرى خاندان كى غيبت كرتى ہے _ جب ميں اپنى بيوى كے لئے كوئي چيز خريد كرلاتاہوں فوراً اعتراض كرديتى ہے كبھى اس كے رنگ پر تنقيد كرتى ہے كبھى اس كے ڈيزائن كى برائي كرتى ہے _ ہزار طرح سے كوشش كرتى ہے كہ جو چيزميں خريد كرلايا ہوں اس كو معمولى اورحقير ظاہر كرے _

پرويز_ك لكھتا ہے : اس كى وجہ سے ہم ميں اب تك تين بار طلاق كى نوبت آچكى ہے _ بچھو كى طرح ڈنك مارتى ہے _اپنى بيٹى كو سكھاتى ہے ميرى توہين كرے اورگھركے كام نہ كرے اور بيجا توقعات كرتى رہے _ جب ہمارے گھر آتى ہے ايك ہفتہ تك ہمارا گھر جہنم بنارہتا ہے _ اسى لئے مجھے اس كو ديكھنے كى تاب نہيں _(۱۹۸)

بعض داماد ساسوں كے اثر و نفوذ كو كم كرنے اور ان كى دخل اندازيوں كى روك تھام كرنے كے لئے اس مشكل كا حل يوں تلاش كرتے ہيں كہ ان سے قطع تعلق كرليتے ہيں _ ملاقاتوں اور آمد و رفت كا سلسلہ محدود كرديتے ہيں _ اجازت نہيں ديتے كہ ان كى بيوى اپنے ماں باپ كے گھر جائے يا وہ ان كے گھر آئيں _ ان كى باتوں پر توجہ نہيں ديتے بے اعتنائي برتتے ہيں _ ان دخل اندازيوں پر اعتراض كرتے ہيں _ مختصر يہ كہ ان كے ساتھ سختى سے پيش آتے ہيں _

ليكن مذكورہ روش كوئي عاقلانہ روش نہيں ہے بلكہ اس كا نتيجہ برعكس نكلتا ہے كيونكہ ماں بيٹى كى محبت ايك فطرى تعلق ہے جسے منقطع كردينا ايسى آسانى سے ممكن نہيں ہے _ مرد يہ توقع كيسے كرسكتا ہے كہ وہ لڑكى جس نے سالہا سال اپنى ماں كى آغوش ميں پرورش پائي ہے اور اس كى شفقت سے بہرہ مند رہى ہے اور اب بھى اس كو اپنا بہترين حامى و خيرخواہ


سمجھتى ہے ايك اجنبى مرد سے شادى كے رشتہ ميں بندھ كر بغير چون و چرا اس كى بات مان لے گى اوراپنے ماں باپ كى زحمتوں اور محبتوں كو يكسر فراموش كركے ان سے مكمل قطع رابطہ كرنے پر راضى ہوجائے گى _ يہ چيز ہرگز امكان پذير نہيں ہے اور اگر چند روز كے لئے تعلقات منقطع بھى كرلئے تو يہ حالات ہميشہ باقى نہيں رہ سكتے كيونكہ زور زبردستى اور جبر ، ہميشہ قائم نہيں رہ سكتا _ ايك مدت ممكن ہے صبر و ضبط سے كام لے ليكن آخر كار ايك دن اس كے صبر كا پيمانہ لبريز ہوجائے گا اور اپنے شديد رد عمل كا اظہار كرڈالے گى _ ممكن ہے زيادہ سختيوں سے تنگ آكر گستاخ ہوجائے اور نافرمانى كرنے لگے ممكن ہے شوہر كے رشتہ داروں سے اس كا بدلہ لے اور لڑائي جھگڑا كرے _ اس كے علاوہ ساس سے مكمل قطع رابطہ كرليناناممكن سى بات ہے _ ماں بھى تو اپنى بيٹى سے دستبردار نہيں ہوجائيگى بلكہ يہ امر باعث بنتا ہے كہ دلوں ميں كدورت اور تنفر مزيد بڑھے اور براہ راست يا بالواسطہ طور پر آزار واذيت پہونچانے اور عدم تعاون كرنے كے لئے اپنى بيٹى كى ہمت افزائي كر ے_

ايسى صورت ميں طلاق تك كى نوبت آسكتى ہے بہت سى طلاقيں انھيں غير عاقلانہ ضدوں اور رسہ كشى كے نتيجہ ميں انجام پاتى ہيں _

ان سب باتوں كے علاوہ ، اصول طور پر يہ بات انسان كے مفادميں نہيں ہے كہ اپنى بيوى كے رشتہ داروں سے بجائے اس كے كہ ان كى محبت و حمايت حاصل كى جائے _ ان كے وجود سے استفادہ كيا جائے ان سے رابطہ منقطع كرليں _

بہر حال يہ غير عاقلانہ روش نہ صرف يہ كہ كچھ سودمند ثابت نہيں ہوسكتى بلكہ مشكلات ميں مزيد اضافہ كا باعث بنتى ہے _ صورت حال اور زيادہ نازك ہوجاتى ہے اور اكثر اس كا انجام قتل يا خود كشى ہوتا ہے _

ہندوستان كى پوليس نے رپورٹ دى كہ سنہ ۱۹۷۲ ميں نئي دہلى ميں ۱۴۶ خودكشى كى وارداتيں ہوئي ہيں جن ميں سب كا اصلى سبب داماد اور ساس كے درميان اچھے تعلقات استوار


نہ ہوتا تھے _(۱۹۹)

ايك شخص نے اپنى ساس كى دخل اندازيوں سے پريشان ہوكر خودكشى كرلى _(۲۰۰)

ايك شخص جو اپنى ساس كى بيجا مداخلتوں سے سخت تنگ آچكا تھا ، اس كو ٹيكسى سے باہر پھينك ديا ،(۲۰۱) ايك شخص نے گھونسہ ماركر اپنى ساس كا سرتوڑديا _ اس بات پر غضبناك ہوكر اس كے سالے نے اس كو چاقو سے زخمى كرديا اور بھاگ گيا _(۲۰۲)

ايك شخص اپنى ساس سے اس قدر تنگ آگيا تھا كہ گرم گرم كلے پائے كا پيالہ اس كے سرپر الٹ ديا _ ساس چيخ ماركر زمين پر گر گئي _ اس كو اسپتال لے جايا گيا _ ڈاكٹروں نے معائنہ كرنے كے بعد كہا كہ چونكہ وہ بہت برى طرح جل گئي ہے اور اس كى حالت خطرہ ميں ہے اس لئے اس كو تہران لے جانا چاہئے _ بيوى اپنى ماں كو تہارن لے كر گئي اور اپنے شوہر كہا ہم شوشتر ميں رشتہ ازدواج ميں منسلك ہوئے تھے اور جلدى ہى تہران جاكر طلاق حاصل كرليں گے كيونكہ مجھے تمہارا جيسا شوہر نہيں چاہئے _(۲۰۳)

مذكورہ روش مناسب نہيں اور جہاں تك ممكن ہو اس سے اجتناب كرنا چاہئے كيونكہ يہ روش اس مشكل كا حل نہيں بن سكتى بلكہ دوسرا راستہ بھى موجود ہے جو زيادہ معقول اور زيادہ قابل اطمينان ہے اول تو يہ كہ اس ميں كسى ضرر كا خدشہ نہيں ہے دوسرے اس ميں كاميابى كا امكان زيادہ ہے _ يہ دو نكتے ذہن نشين كرلينے چاہئيں _

۱_ يہ بات مسلم ہے كہ ساس اپنے داماد كى دشمن اور بدخواہ نہيں ہوسكتي_ بلكہ فطرى بات ہے كہ اس كو بہت عزيز ركھتى ہے اور اپنى بيٹى سے محبت كا تقاضہ بھى يہى ہے كہ اپنے داماد سے بھى محبت كرے كيونكہ وہ سمجھتى ہے كہ اس كى بيٹى كى خوشبختى اس كے ہاتھ ميں ہے _ پس اگر ان كى داخلى زندگى ميں مداخلت كرتى ہے تو يقينا اس كى نيت برى نہيں ہوتى بلكہ جو كچھ بھى كرتى ہے ہمدردى اور خيرخواہى كى غرض سے كرتى ہے _

البتہ اس بات كا امكان ہے كہ بيجا مداخلتيں كرے اور اس كى تجاويز غلط يا ضرر بخش ہوں


ليكن وہ محض اس كا نادانى اور جہالت كے سبب ہوسكتى ہيں _ اس كو بدبختى پر محمول نہيں كرنا چاہئے _

۲_ ماں اور اولاد كا تعلق ايك فطرى چيز ہے كہ جس كو آسانى سے منقطع نہيں كيا جا سكتا_ اور اگر كوئي اس تعلق كو منقطع كرنے كے درپے ہوجائے تو يہ ايك غير فطرى عمل ہوگا اور اس كے نتائج بيحد خراب ہوں گے اصولى طور پر يہ چيز انصاف سے كوسوں دورہے كہ انسان ماں بيٹى كے رابطہ كو منقطع كرنا چاہے اور ان كے درميان جدائي ڈال دے _ جس طرح مرد چاہتا ہے كہ آزادى كے ساتھ اپنے ماں باپ سے تعلقات قائم ركھے او رآزادانہ طور پر ان كے پاس جائے اور وہ اس كے پاس آئيں _ اسے خود سوچنا چاہئے كہ اس كى بيوى بھى جذبات و احساسات ركھتى ہے اور اس كا بھى دل چاہتا ہے كہ اپنے رشتہ داروں سے ميل جو ل ركھے _ مذكورہ باتوں كو مد نظر ركھ كر كہا جاتاہے كہ اس مشكل كا بہترين حل يہ ہے كہ ساس سے بلكہ بيوى كے تمام دوسرے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات ركھنا چاہئے اور ان احترام كرنا چاہئے _ مہربانى اور اچھے اخلاق كے ذريعہ ان كى محبت و توجہ حاصل كرنى چاہئے _ نيكى اور محبت كا اظہار كركے انھيں اپنا بنا لينا چاہئے _ كاموں ميں ان سے صلاح ومشورہ لينا چاہئے _ اپنى مشكلات كو ان سے بيان كركے ان كى رائے لينى چاہئے _ ان كى مفيد تجاويز اور ہدايات پر توجہ دينى چاہئے _ ان سے اپنى بيوى كى برائي نہيں كرنى چاہئے _ ايسا كام كرنا چاہئے كہ انھيں يقين ہوجائے كہ وہ ان كى بيٹى كا وفادار ہے _ اور واقعى اس كو چاہتا ہے _ اگر رائے نامناسب ہو تو يہ نہيں سمجھنا چاہئے كہ اس مين ان كى بدبينى كو دخل ہے بلكہ ايسى صورت ميں كوشش كرنى چاہئے كہ اچھے الفاظ ميں ثبوت و دلائل كے ذريعہ اس چيز كے مضر نتائج بيان كردے _ ان كى تجاويز كو غصہ يا بے اعتنائي كے ساتھ رد نہيں كردينا چاہئے حتى كہ اگر بيوى سے بھى كھٹ پٹ ہوگئي ہو تو اس كو شكايت كے طور پر نہيں بلكہ دوستانہ طريقے سے اور مدد طلب كرنے كى غرض سے ان سے بيان كرے اور ان كے خيالات سے استفادہ كرے _ مرد كو چاہئے كہ ہميشہ اس بات كو مد نظر ركھے كہ بيوى كے ماں باپ اور بھائي بہنوں سے محبت كرنا اور ان كا خيال ركھنا ، ازدواجى زندگى كا ايك بہت بڑا راز اور''زن داري'' كے لوازمات ميں شمار ہوتا ہے _ اس طرح سے وہ داماد پر مكمل اعتماد كرتے ہيں اور اس سے محبت كرتے ہيں اور شادى شادہ زندگى كى بہت سى مشكلات خودبخود حل ہوجاتى ہيں _ بنابراين جہاں


يہ ديكھنے آتا ہے كہ اكثر داماد حو اپنى ساسوں سے پريشان ہيں تو ايسا نہيں ہے كہ سارى غلطى ساسوں كى ہى ہوتى ہے بلكہ وہ خود بھى بے قصور نہيں ہوتے _ كيونكہ يہ وہ خود ہوتے ہيں جو اپنے غير خرومند انہ طرر عمل سے ايك حقيقى خير خواہ كو مزاحمت كرنے والا سمجھ ليننے ہيں _

ايسے بہت سے داماد ہيں جواپنى بيوى كے ماں باپ اور بہن بھائيوں سے اچھے تعلقات ركھتے ہيں او ران كى محبت وحمابت سے بہرہ مند ہوتے ہيں _

ذيل كے نمونوں پر غور فرمايئے

منو چہر... لكھتا ہے : ميرى ساس ايك فرشتہ ہے بلكہ فرشتہ سے بھى بہتر ہے ميں اپنى ماں سے زيادہ ان سے محبت كرتاہوں ببجد مہربان ، نيك اور سمجھدار خاتون ہيں ، ميرى داخلى زندگى كى مشكلات كو ميرى ساس حل كرتى ہيں _ ان كا وجود ہمارے خاندان كى خوشبختى اور سعادت كا ضامن ہے ، البتہ ممكن ہے بعض ساسيں ضدى اور خود خواہ جن ميں سوجھ بو جھ اور لياقت نہ ہو اور ان كى بيجامد اخلتوں اور غير علاقلانہ تجاويز سے پيچھا چھڑا نا مشكل ہو _ ليكن ايسى صورت ميں بھى طلاح نہيں كہ ان سے لڑائي جھگڑا كيا جائے اورسخت و خشونت آميز رويہ اختيار كيا جائے _ بلكہ بہتر يہ ہے حتى الا مكان نرمى و محبت اور خوش اخلاقى كے ساتھ ان سے برتا ؤ كيا جائے _ اگر چہان كہ اصلاح نہيں كى جاسكتى ليكن اس طرح ان كى ضد اور اعتراضات كو كسى حد تك كنٹرول كيا جا سكتا ہے اور اس بڑ ے خطرے كوٹا لا جا سكتا ہے جو ممكن ہے ازدواجى زندگى كے محل كو چكنا چور كرد ے اس سلسلے ميں شوہر كے لئے لازم ہے كہ اپنى بيوى كے ساتھ مكمل مفا ہمت پيدار كرنے كى كوشش كرے اور اظہار محبت كے ذريعہ اس كے قلب كو مسخر كر كے اس كا اعتماد حاصل كرے _ اس كے بعد ساس كى بيجامد اخلتوں اور غلط تجاويز كے سلسلے ميں اپنى بيوى سے مناسب الفاظ ميں بات كرے اور اس كے خراب نتائيج كو بيان كرے اور دليل و ثبوت كے ذريعہ اسے سمجھا ئے كہ اس كى ماں كى تجاويز درست نہيں ہيں _

اگر شوہر اپنى بيوى سے پورى طرح مفا ہمت پيدا كرلے اور اسے اپناہم خيال بنا لے تو سارى مشكلات منجملہ ساس كى مشكل بھى خود بخود حل ہو جائے گى _ بہر حال اس بات كو ہر گزفراموش نہيں كرنا چاہئے كہ نرمى اور خوش اخلاقى اور خردمند انہ تدبر كے ذريعہ تمام مشكلات آسانى كے ساتھ حل كى جا سكتى ہيں اور شادى كے مقدس بند ھن كو مستحكم كيا جا سكتا ہے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : دوستى بڑھانا ، نصف عقل ہے _(۲۰۵)

حضرت على كايہ بھى ارشاد ہے كہ : لوگوں سے نزديكى اور ران سے خوش اخلاقى سے پيش آنے سے شراور برائيئں كى روك تھام ہوتى ہے_(۲۰۶)

حضرت على يہ بھى فرماتے ہيں كہ : جو شخص تم سے سختى سے پيش آور شايد اسى وسيلے سے وہ رام ہو جائے _(۲۰۸)

حضرت على ايك اور مو قعہ پر فرماتے ہيں : ايك دوسر ے سے نزديكى اختيار كرو _ اور احسان كرو _ لرالى جھگڑ ے اور دورى سے پرہيز كرو _(۲۰۸)


دھيان ركھئے

عورت جذباتى ہوتى ہے اور اگثر اس كى عقل پر اس كے احساسات و جذ بات غالب آجاتے ہيں كرد كے مقابلے ميں عورت جلدى يقين كرليتى ہے اور جلدى فريب كھا ليتى ہے چونكہ حساس اور لطيف روح كى مالك ہوتى ہے اس لئے جلدى متاثر ہو جاتى ہے _ جلد كسى چيز كى شيفتہ ہو جاتى ہے جلدى آزردہ خاطر ہو جاتى ہے _ ظاہرى ہے _ ظاہرى چيزوں سے فريب كھا جاتى ہے _ اپنے احساسات پر كنٹرول پانا اس كے لئے دشوار ہے جب اس كے جذبات مشتعل ہوتے ہيں تو انجام كار سوچے بغير فيصلہ كرليتى ہے لہذااگر مرد اپنى بيوى كے اعمال و كردار پر نظر ركھے تو يہ چيزخاندان كے مفاد ميں ہوگى اور اس كے ذريعہ بہت سے احتمالى خطرات كى روك تھام كى جاسكتى ہے _ اسى لئے اسلام كے مقدس آئين ميں كرد كو خاندان كا سر پرست مقرر كيا گيا ہے اور اس كو


ذمہ دارياں سو نپى گئي ہيں _ خداوند حكيم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

مرد عورتوں كے سر پرست ہيں كيونكہ خدانے بعض لوگوں كو بعض دوسروں پر برتى عطا كى ہے چونكہ مردوں نے عورتوں پراپنا مال خرچ كيا ہے _ پس نيك بخت بيبياں تو شوہر وں كى تا بعدارى كرتى ہيں اور ان كے پيٹھ پيچھے جس طرح خدانے حفاظت كى ہے وہ بھى ہر چيز كى حفاظت كرتى ہيں(۲۰۹)

مرد كوچونكہ خاندان كا سر پر ست مقرر كيا گيا ہے اس لئے وہ ايسا نہيں كرسكتے كہ اپنى بيوى كو بالكل آزاد چھوڑ ديں بلكہ ان كى مخصوص ذمہ دارى كايہ تقاضہ ہے كہ ہميشہ ان كى نگہبانى كريں اور اس كے اعمال و حركات پر نظر ركھيں تا كہ كہيں ايسانہ ہو كہ اپنى سادہ لوحى كے سبب منحرف نہ ہو جائے _ اگر ديكھے كہ فاسداورنا مناسب لوگوں كے ساتھ ميل جول ركھتى ہے تو اچھے الفاظ ميں اس كو متنبہ كرديں _ اور اس كے نقصان و ضررسے آگاہ كرديں اوران لوگوں سے اس كى دوستى و آمد و رفت كو حبس طرح بھى ہو منقطع كرديں _ اجازت نہ ديں كہ جسم كے خطوط كو واضح كرنے والے لباس اور سبح دھج كربا لكل آزادانہ طور پر گھر سے باہر نكلے اور غير وں كى پر ہوس نگاہوں كانشانہ نبے _ اجازت نہ دے كہ عيش و عشرت كى محفلوں ميں شركت كرے _ عورت كو اگر مطلق العنان اور بالكل آزاد چھوڑ ديا جا ئے اور لوگوں سے اس كے ميل جول اور آمد و رفت پر كوئي پابندى نہ ہو تو ممكن ہے شيطان صفت اور بد كار لوگوں كے دام ميں گرفتار ہو جا ئے اور اخلا قى بے راہروى كے دلدل ميں پھنس جائے _

شوہر كو چاہئے كہ ان بے گناہ خواتيں كے اعداد و شما ر پر نظر ڈالے جو اپنے شوہر وں كى عدم توجہ كاشكار ہو كردھوكہ بازوں اور مكار لوگوں كے جال ميں گرفتار ہو كر بد كارى اور گمراہى كے گڑھے ميں گر پريں _ اور قبل اس كے كہ ان كى معصوم بيوى بھى اس ميں پھنس جائے اس كى روك تھلم كريں _

ايسى بہت سى پاك دامن اور گھر بلوخواتيں ہيَ جو محض ايك نامناسب شنبہ پارٹى يا ايك


فاسد محفل مين فريب كھا كر شوہر كى عزت وآبرو اور اپنے گھر باركو گنو ابيٹھيں _ جو شخص اپنى بيوى كو اجازت دتياہے كہ بغير كسى روك تھام كے جہاں چاہے جائے ہر قسم كى محفل ميں شركت كرے جس سے چا ہے ، دوستى كرے وہ خود اپنے آپ سے اور بيوى سے بہت بڑى خيانت كرتا ہے _ كيونكہ اسى كى غفلت كے سبب ايك بے گناہ خاتوں سينكڑوںخطرات مين گھر جاتى ہے جن سے پيچھا چھڑانا آسان كام نيہں ہے _ يہ چيز جلتى ہوئي آگ پرتيل چھڑ كنے كے مترادف ہے اور اس كے شعلوں سے محفوظ رہنے كى تو قع كرنا نہيت احمقانہ بات ہو گى _

كس قدر نادان ہيں وہ مرد جو اپنى بيوى بٹيوں كو نامناسب و ضع قطع ميں گھر سے باہر سڑكوں پر پھراتے ہيں اورنوجواں كى پر شوق نگاہوں كے لئے سامان بہم پہونچاتے ہيں اور پھر توقع ركھتے ہيں كہ ان پر كوئي ذرا سى بھى غلط نظر نہيں ڈالے گا اور وہ بڑى شرافت كے ساتھ گھر واپس آجائيں گى _

غلط اور جھوٹى آزادى سے بيحد خراب نتائج برآمد ہوتے ہيں _ بيوى اگر اپنے ناجائز مطالبات منوانے ميں كامياب ہوگئي اور اس نے ايك قدم آگے بڑھايا اور شوہر كو اپنا مطيع بنا سكى تو اس كى خواہشات اور مطالبات كا دائرہ روزبروز وسيع ہوتا جائے گا _ ايسى صورت ميں نہ صرف خود كہ بلكہ اپنے شوہر اور بچوں كو بھى بدبختى اور تاريك كے كنويں ميں ڈھكيل دے گى _

اسى وجہ سے پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں كہ مرد اپنے خاندان كا سرپرست ہوتا ہے اور ہر سرپرست پر اپنے ماتحتوں كى نسبت ذمہ دارى عائد ہوتى ہے _(۲۱۰)

پيغمبر اكرم (ص) يہ بھى فرماتے ہيں كہ عورتوں كو اچھے كام كرنے پر آمادہ كرو قبل اس كے كہ وہ تم كو برے كام كرنے پر مجبور كريں _(۲۱۱)

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں مرد كى سعادت مندى اسى ميں ہے كہ وہ اپنے خاندان كا سرپرست اورولى ہو _(۲۱۲)

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : جو شخص اپنى بيوى كى اطاعت كرے خدا اس كو آگ ميں ڈال دے گا _ لوگوں نے پوچھا يا رسول اللہ يہ كس قسم كى اطاعت كے بارے ميں آپ نے فرماياہے ؟ فرمايا: بيوى اگر چاہے كہ عوامى حماموں ، شادى بياہ كى محفلوں ، عيد اور سوگوارى كى مجلسوں ميں باريك اورزرق برق لباس پہن كر جائے اور شوہر اس كو اجازت ديدے _(۲۱۳)


پيغمبر اكرم فرماتے ہيں كہ ہر وہ مرد كہ جس كى بيوى آرائشے كركے گھر سے باہر جائے بے غيرت ہے اور جو اسے بے غيرت كہے وہ گناہكار نہيں ہے اور جو عورت سج دھج كر اور خوشبو لگا كر گھر سے باہر جائے اوراس كا شوہر اس بات پرراضى ہو ، خدا اس كے ہر قدم پر اس كے شوہر كے لئے دوزخ ميں ايك گھرتعمير كرے گا _(۲۱۴)

آخر ميں دو باتوں كى ياد دہانى كرانا ضرورى معلوم ہوتا ہے :_

۱_ يہ صحيح ہے كہ مرد كو اپنى بيوى كى نگہبانى كرنى چاہئے ليكن يہ چيز نہايت عقلمند اور سمجھدارى سے كام لے كر نہايت متانت و احتياط كے ساتھ انجام دينا چاہئے _ حتى المقدور غصہ اور سختى سے اجتناب كرنا چاہئے _ حتى المقدور غصہ اور سختى سے اجتناب كرنا چاہئے _ جہاں تك ممكن ہو امر و نہى ''حكم'' كى صورت ميں نہ ہو كہ مباداى بيوى كو اپنى آزادى سلب ہوجائے اور قيد و بند كا احساس ہونے لگى اور اس كے نتيجہ ميں وہ اپنے رد عمل كا اظہار كرے اور بسا اوقات اس كا انجام ضد اور كشمكش ہو بہترين طريقہ يہ ہے كہ اظہار محبت اور خوش اخلاقى كے ذريعہ اس كا اعتماد حاصل كرے اور باہمى مفاہمت پيدا كرے _ ايك ہمدرد اور مہربان سرپرست كى مانند اچھے الفاظ ميں نرم و ملائم لہجے كے ساتھ ، خيرخواہى كے انداز ميں امور كى اچھائي اور برائي كو اس پر واضح كرے تا كہ وہ خود ہى خوشى خوشى دل سے اچھے كاموں كى طرف راغب رہے اور نامناسب كاموں سے پرہيز كرے _

۲_ مرد كو اعتدال اور ميانہ روى سے كام لينا چاہئے جس طرح كہ لاابالى پن او ر بالكل آزاد چھوڑدينا مناسب نہيں ہے اسى طرح سختى اور شك و شبہ كرنا درست نہيں عورت بھى مرد كى طرح آزاد پيدا كى گئي ہے اور اسے بھى آزادى كى ضرورت ہے _ بے خطر آمد و رفت او رلوگوں سے


ملنے ملانے ميں اسے آزادى ہونى چاہئے _ اسے آزادى حاصل ہونى چاہئے كہ اپنے ماں باپ بہن بھائيوں اور دوسرے رشتہ داروں كے يہاں آئے جائے _ قابل اعتماد اور اچھے دوستوں سے تعلقات قائم ركھے سوائے ان موقعوں كے جس سے كسى نقصان كا خدشہ ہو ، اسے پورى آزادى ہونى چاہئے _ ہر حال ميں ممانعت اور پابندياں ايك حد تك ہونى چاہئيں _ اگر حد سے تجاوز كرگئيں اور سختى اور آزادى سلب كرلينے كى حد تك بڑھ گئيں تو اس كے نتائج اكثر بيحد خراب ہوتے ہيں _ دل ميں كدورت و تنفر پيدا ہوجاتا ہے _ خاندان كا باہمى خلوص اور صميميت ختم ہوجاتى ہے _ بيوى زيادہ دباؤ اور سختى ہونے كى صورت ميں ممكن ہے اس قدر عاجز آجائے كہ ان قيد و بند كو توڑكر ہر قيمت پر آزادى حاصل كرنے كا فيصلہ كرلے _ بلكہ طلاق يا عليحدگى اختيار كرنے پر بھى راضى ہوجائے _

ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے

... نام كى ايك نوجوان خاتون نے خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت ميں اخبار'' اطلاعات'' كے نامہ نگار سے كہا : پانچ سال قبل نام كے شخص سے ميرى شادى ہوئي تھى _ اس وقت ميں بيحد خوش تھى ليكن افسوس يہ خوش دائمى نہ تھى _ ميرا ايك بيٹا اور ايك بيٹى ہے كچھ دنوں سے ميرا شوہر شكى ہوگيا ہے اور ہر ايك كو شك و شبہ كى نظر سے ديكھنے لگا ہے _ جس كى وجہ سے ہمارى زندگى تلخ ہوگئي ہے _ مجھے كسى سے ملنے جلنے نہيں ديتا _ حد تو يہ ہے كہ جب گھر سے باہر جاتا ہے تو باہر سے دروازے ميں تالا لگاكر جاتاہے تا كہ جب تك وہ لوٹ نہ آئے ميں اور بچے گھر كے قفس ميں قيد رہيں حتى كہ مجھے اتنى بھى آزادى حاصل نہيں كہ كبھى كبھى اپنے ماں باپ سے ملنے چلى جايا كروں _ ميرے خاندان والے بھى ميرے شوہر كى ان عادتوں كے سبب مجھ سے ملنے نہيں آتے _ اب ميرا دل غم سے پھٹا جاتا ہے _ ايك طرف اپنے بچوں كے مستقبل كا خيال آتا ہے دوسرى طرف اب اس صورت سے جينا دو بھر ہوگيا ہے _ ميں عدالت سے طلاق حاصل كرنے آئي ہوں _(۲۱۵)

افسوس ہے كہ اس قسم كے مردوں كى بڑى تعداد پائي جاتى ہے جو بيجا شك و شبہ يا غلط عادتوں


كے سبب اپنے بيويوں پر اس قدر سختى كرتے ہيں كہ ان بيچاريوں كى جان پر بن جاتى ہے اور باوجود اس كے اپنے شوہر اور بچوں سے محبت كرتى ہيں ناچار عليحدہ ہوجانے پر مجبور ہوجاتى ہيں _

آخر يہ كون سى مردانگى ہے كہ مر د اپنى طاقت و قدرت اور مردانگى كا مظاہرہ كرنے كے لئے بے گناہ بيوى پر اتنا ظلم و ستم ڈھائے _ حتى كہ اس كو اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں سے ملنے جلنے كا حق بھى حاصل نہ رہے؟

كيا آپ نے كبھى سوچاہے كہ يہى سختياں بعض اوقات پاكدامن عورتوں كے گمراہ ہوجانے كا سبب بن جاتى ہيں؟

كيا آپ نے كبھى اس بات پر غور كيا ہے كہ اس قسم كى غلط سختيوں اور پابنديوں كے نتيجہ ميں بعض خاندان كيسے تباہ و برباد ہوجاتے ہيں _

فرض كيجئے كوئي عاقل اور جانثار قسم كى خاتون كسى طرح ايسے حالات سے سمجھوتہ كرلے ليكن بلاشك ايسے خاندان سے محبت و خلوص اورسكون ناپيد ہوجائے گا _ بھلا يہ كس طرح اميد كى جا سكتى ہے كہ وہ خاتون جو خود كو بالكل بے اختيار، مجبور اور قيدى سمجھے، شوہر اور بچوں سے اظہار محبت كريگى اور نہايت دلچسپى ، توجہ اور دلجمعى كے ساتھ گھر كے كام كاج كو انجام دے گي؟

تنبيہ

مياں بيوى چونكہ ايك مشتركہ خاندانى زندگى كى تشكيل كرتے ہيں لہذا گھر كے امور كى انجام وہى ميں دونوں ميں ہم آہنگى اور باہمى كوشش و مشاركت ہونى چاہئے _ ليكن بہرحال بعض امور كے متعلق دونوں كے مختلف نظريات بھى ہوتے ہيں _ مرد چاہتا ہے كہ خاندان كے تمام امور اس كى مرضى و خواہش كے مطابق انجام پائيں اور بيوى اس كى مطيع ہو _ اس كے برعكس بيوى كى بھى يہى خواہش ہوتى ہے _

ايسے ہى موقعوں پر طرفين كى جانب سے احكام صادر كرنا اور اس كى مخالفت كرنے كا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مخالفتوں اور كشمكشوں كا آغاز ہوتا ہے _ اس كا بہترين طريقہ يہى ہے كہ مياں بيوي


ايك دوسرے پر احكام صادر كرنے اور روك ٹوك لگانے سے دستبردار ہوجائيں اورجن امور ميں اختلاف نظر پايا جاتا ہو اس ميں باہمى صلاح و مشورہ اور تبادلہ خيالات كے ذريعہ مفاہمت پيداكرليں اور اگر ہٹ دھرمى اور زور زبردستى سے كام نہ ليں تو زيادہ تر مسائل آسانى سے حل ہوجائيں گے اور دونوں آپس ميں مفاہمت پيدا كرليں گے كيونكہ ان ميں سے كسى كو بھى يہ حق نہيں ہے كہ اپنے عقيدے اورنظريات كودوسرے پر زبردستى مسلط كرے اور اپنے حكم كے مطابق عمل كرنے پر مجبور كرے _ اور خلاف ورزى كى صورت ميں اسے كوئي حق نہيں پہونچتا كہ اس كى سرزنش و تنبيہ كرے _ ليكن بعض مرد يہ بہانہ كركے كہ وہ خاندان كے ولى و سرپرست ہيں اپنے لئے اس حق كو روا سمجھتے ہيں_ وہ سمجھتے ہيں كہ ان كو زور زبردستى كے ذريعہ اپنے خيالات منوانے كا پورا اختيار ہے اور انھيں يہ حق حاصل ہے كہ وہ اپنى مرضى كے مطابق حكم چلائيں اورروك ٹوك لگائيں _ اس قسم كے مرد سمجھتے ہيں كہ ان كى بيوى كا فرض ہے كہ ان كے احكام كى پابندى كرے اور كسى صورت ميں بھى خلاف ورزى نہ كرے اور خلاف ورزى كى صورت ميں وہ اپنے آپ كو حق بجانب سمجھتے ہيں كہ اس پر عتاب نازل كريں _ اسے برا بھلا كہيں _ برے لہجے ميں خطاب كريں _ اسے دھمكى ديں اور اس كى سرزنش كريں اور ايسا غير اخلاقى رويہ اختيار كرنا وہ اپنا شرعى حق سمجھتے ہيں _ حتى كہ بعض اوقات اسے اذيت پہونچاتے ہيں اور مارتے پيٹتے ہيں _

حالانكہ مرد كو ہرگز يہ حق حاصل نہيں ہے كہ وہ اپنى بيوى كو اذيت و آزار پہونچائے اوراسے مارے پيٹے _ زمانہ جاہليت ميں جبكہ مرد مہربانى او رانسانيت سے بہت كم بہرہ مند تھے اپنى بيويوں پر ظلم و ستم كرتے تھے ان كو مارتے پيٹتے تھے اسى لئے رحمت للعالمين پيغمبر اسلام (ص) نے اس غلط اوربيہودہ رسم كو ختم كيا اور فرمايا: جو مرد اپنى بيوى كے منہ پرتھپڑمارے گا خداوند عالم دوزخ كے مالك فرشتہ كو حكم دے گا كہ دوزخ ميں اس كے منہ پر ستر تھپڑمارے _ جو مرد كسى مسلمان عورت كے بالوں كو ہاتھ لگائے گا ( يعنى اذيت پہونچانے كى خاطر بال نوچے گا ) دوزخ ميں اس كے ہاتھوں ميں آتشيں كيليں ٹھونكى جائيں گى _(۲۱۶)


رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے عورتوں كو مارنے كى ممانعت فرمائي ہے سوائے ايسى صورت ميں كہ جب تنبيہ واجب ہو _(۲۱۷)

اسلام كے پيغمبر (ص) عاليقدر فرماتے ہيں : جو مرد اپنى بيوى كو مارتا ہے اور تين سے زيادہ بارضرب لگاتا ہے خدا اس كو قيامت ميں مخلوق كے سامنے رسوا كرے گا اور پہلى اور بعد كى تمام مخلوقات ايسے مرد كا تماشہ ديكھيں گى _(۲۱۸)

پيغمبر اكرم (ص) فرماتے ہيں : ميں ايسے مرد پر حيرت كرتاہوں جو اپنى بيوى كو مارتا ہے حالانكہ اپنى بيوى سے زيادہ وہ خود ماركھانے كے لائق ہے _ اے لوگو اپنى بيويوں كو لكڑى سے نہ مارو_ كيونكہ اس كا قصاص ہے _(۲۱۹)

جو مرد اپنى بيوى كو مارتا ہے اور اس پر ظلم و ستم كرتا ہے وہ ستم گر اور ظالم ہے اور اس دنيا ميں بھى اور آخرت ميں بھى اس كى سزاپائے گا _ وہ بھى ايسى ناتواں اورنازك صنف پر ظلم كرنا جو سينكڑوں اميدوں اور آرزوؤں كے ساتھ شوہر كے گھر آئي ہے _ يہ سوچ كر آئي ہے كہ اس پناہ ميں عزت و آبرو كے ساتھ زندگى گزارے گى اور وہ اس كا حامى و مددگار اورغمخوار ہوگا اور مشكلات ميں اس كى مدد كرے گا _

عورت خدا كى جانب سے ايك امانت ہے جو مرد كو سونپى گئي ہے _ كيا كوئي امانت الہى كے ساتھ ايسا سلوك كرتا ہے ؟

امير المومين حضرت على (ع) فرماتے ہيں : عورتيں مردوں كو امانت كے طور پر سونپى گئي ہيں _ وہ اپنے نفع و نقصان كى مالك نہيں ہيں _ وہ تمہارے پاس خدا كى امانت كے طور پر ، ميں ان كو تكليف نہ پہونچاؤ اور ان پر سختى نہ كرو_(۲۲۰)

جو مرد اپنى بيوى پر ہاتھ اٹھاتے ہيں وہ اس كى روح پر كارى ضرب لگاتے ہيں اور اس سے دل ميں جو گرہ پڑجاتى ہے اس كو دوركرنا محال ہوتا ہے _


خاندان كا سكون چين ختم ہوجاتا ہے _ ميرى سمجھ نہيں آتا كہ جو شوہر اپنى بيوى كى تحقير و توہين كرتے ہيں آور اسے مارتے پيٹتے ہيں كس منہ سے ازدواجى روابط برقرار كرتے ہيں _ واقعاً قابل شرم بات ہے _ حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : اے لوگو تم ميں سے جو لوگ اپنى بيوى كو مارتے ہيں پھر كس طرح اس كو اپنى آغوش ميں لے ليتے ہيں؟(۲۲۱)

لہذا ايسى صورت ميں شوہر كا اپنى بيوى پر كوئي حق نہيں رہ جاتا_ اور شرعاً ، قانوناًاور اخلاقاً اس كو حق حاصل نہيں كہ بيوى كو كسى كام پر مجبور كرے اور خلاف ورزى كى صورت ميں اس كى تنبيہ كرے اور مارے پيٹے _ مثلاً بيوى شرعى طور پر ذمہ دار نہيں ہے كہ گھر كے كام انجام دے _ مثلاً گھر كى صفائي كرنا _ كھانا پكانا_ برتن دھونا _ كپڑے دھونا، بچوں كى ديكھ بھال كرنا ، سلائي بنائي كرنا اور اس قسم كے دوسرے گھريلو كام انجام دينا عورت پر شرعى اعتبار سے واجب نہيں ہے _ حالانكہ عورتيں نہايت شوق ودلچسپى سے گھر كے كاموں كو انجام ديتى ہيں اور اس سلسلے ميں كوئي حرف شكايت زبان پر نہيں لاتيں _ ليكن يہ سب ان كے اوپر واجب نہيں ہے شوہر كو چاہئے ان كاموں كى انجام دہى پر اپنى بيوى كاشكريہ ادا كرے اس كى قدردانى كرے اور اظہار تشكر كے ذريعہ اس كى ہمت افزائي كرے _ ليكن اگر وہ بعض كاموں كو انجام نہ دے يا اچھى طرح نہ كرے تو مرد كو يہ حق نہيں پہونچتا كہ بيوى كى تنبيہ و سرزنش كرے اور اس كو مارے پيٹے_

اسلام نے صرف اسى صورت ميں تنبيہ كو جائز قرار ديا ہے جہاں پر شوہر كا حق ضائع ہورہا ہو _ او راس كى دو صورتيں ہيں _

۱_ مرد كو شرعى اور قانونى طور پر حق حاصل ہے كہ اپنى بيوى سے جنسى تعلقات قائم كرے اور اپنى خواہشات كے مطابق اس سے لذت حاصل كرے اور بيوى كى يہ قانونى اور شرعى ذمہ دارى ہے كہ شوہر كى جنسى خواہشات كى تكميل كرے اور اپنے آپ كو اس كے اختيار ميں ديدے اگر بيوى جنسى خواہشات كى تكميل سے دريغ نہيں كرتى تو كوئي مشكل پيدا نہيں ہوگى البتہ اگر مرد كو


جنسى خواہش كى انجام دہى سے روكے تو ايسى صورت ميں بہتر ہے كہ مرد پہلے تو بيحد محبت و نرمى سے سمجھائے بلكہ اس كو تحفے تحائف دے كر اس كا دل اپنے ہاتھ ميں لے لے ليكن اگر محسوس كرے كہ بيوى كا مقصد اذيت پہونچانا ہے اور محض اپنى ضد كى وجہ سے كسى طرح راضى نہيں ہوتى اور مرد كے لئے صبر و ضبط مشكل ہے تو ايسے موقعہ پر شوہر كو تنبيہ كرنے كا حق حاصل ہے ليكن اس ميں بھى احتياط اور حفظ مراتب كاخيال ركھے ايسے ہى موقعہ كے لئے قرآن مجيد ميں كہا گيا ہے : تمہارى بيوياں اگر تمہيں تمہارى جنسى خواہشات كى تكميل سے روكيں تو پہلے انھيں سمجھاؤ اس پر بھى نہ مانيں توان كے ساتھ سونا چھوڑدو_ اور اس كے بعد بھى نہ ماميں توان كو مارو _ (مگر اس طرح سے كہ خون نہ نكلے اور كوئي عفو نہ ٹوٹے)پس اگر وہ تمہارى بات مان جائيں تب ان پر ظلم كرنا جائز نہيں _ خدا تو سب سے بزرگ و برتر ہے _(۲۲۲)

جيسا كہ آپ نے ملاحظہ فرمايا خداوند تعالى نے اس آيت شريفہ ميں شوہر كو اجازت دى ہے كہ اگر تمہارى بيوى ، تمہارے جائز مطالبات پورے نہ كرے _ يعنى تمہيں جنسى تسكين بہم پہونچانے سے گريز كرے اور اس سے اس كا مقصد تم كو اذيت پہونچانا ہو توايسى حالت ميں تم كو تنبيہ كرنے كا حق ديا گيا ہے وہ بھى تين مرحلوں ميں پند ونصيحت اور پيار ومحبت سے راضى كرنا _

۲_ پند ونصيحت سے كام نہ چلے توان سے اپنے بستر جداكر لويا بستر ميں ان كى طرف پشت كركے سؤو اوراس طرح اپنى ناراضگى اور غصے كا اظہار كرو_

۳_ اگر يہ عمل بھى مؤثرثابت نہ ہو اور بيوى اسى طرح اپنى ضد پر قائم رہے اور مرد كو اجازت نہ دے كہ وہ اپنے جائز اور قانونى حق سے استفادہ كرے تو صرف ايسى صورت ميں مارسكتا ہے ليكن اس حالت ميں بھى مرد كو يہ حق حاصل نہيں كہ حد سے تجاوز كر جائے اور ظلم و ستم كرنے لگے _ اس سلسلے ميں بھى چند نكات كو پيش نظر ركھنا چاہئے _

۱_ ضرب لگانے كا مقصد اصلاح ہو نہ كہ انتقام جوئي_

۲_ يا توہاتھ سے يانازك لكڑى سے يہ كام انجام دے _ جيساكہ روايات ميں آيا ہے مسواك


كى لكڑى ہونى چاہئے _

۳_ اس طرح مارے كہ اس كا بدن سياہ يا سرخ نہ ہوجائے ورنہ اس كو جرمانے كے طور پر قصاص دينا پڑے گا _

۴_ ان جگہوں پر ضرب لگانے سے قطعى طور پر اجتناب كرے جونازك ہيں اور نقصان پہونچنے كا احتمال ہو مثلاً آنكھ ، سر پيٹ_

۵_ ضرب اس طرح نہ لگائي جائے كہ شديد كدورت كا سبب بن جائے او ربيوى كو اور زيادہ ضد او نفرت پيدا ہوجائے _

۶_ ہميشہ اس بات كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ وہ خاتون اس كى بيوى ہے اور اس كے ساتھ اسے زندگى بسر كرنا ہے _ سچى محبت اور خلوص كے ساتھ ہى وہ اس كے وجود سے استفادہ كرسكتاہے _

۷_ ضرب سے كام لينا صرف اسى صورت ميں تجويز كيا گيا ہے كہ بيوى اس كے جنسى مطالبات كو پورا كرنے سے معذور نہ ہو _ مثلاً حيض كى حالت ميں ، رمضان ميں روزہ كى حالت ميں ، حالت احرام ميں ، يا بيمار ہونے كى صورت ميں اس كى خواہش پورى كرنے سے مانع رہے تو ايسى صورت ميں مرد كو ہرگز اسے تنبيہ كرنے كا حق نہيں ہے _

بيوى اگر گھر سے باہر جانا چاہتى ہے تو اسے اپنے شوہر سے اجازت حاصل كرنى چاہئے اگر اجازت نہ دے تو شرعاً اسے گھر باہر جانے كاحق نہيں ہے اور اگر اجازت كے بغير گھر سے باہر جائے گى تو گناہ كى مرتكب ہوگى _

حديث ميں آيا ہے كہ پيغمبر اكرم نے اس بات كى ممانعت كى ہے كہ عورت شوہر كى اجازت كے بغير گھر سے باہر نكلنے اور فرمايا ہے كہ جو عورت اپنے شوہر كى اجازت كے بغير گھر سے باہر جاتى ہے تو تمام آسمانى فرشتے اور جن وانس اس پر اس وقت تك لعنت بھيجتے رہتے ہيں جب تك وہ گھر واپس نہيں آجاتى _(۲۲۳)


ليكن مرد كو اس سلسلے ميں سختى سے كام نہيں لينا چاہئے اور اپنے اس حق كے ذريعہ اسے اذيت نہيں پہونچانى چاہئے _ بہتر ہے جہاں جانے ميں كوئي ہرج نہ ہوں وہاں جانے سے نہ روكے اور اسے جانے كى اجازت ديدے اس كو يہ حق اپنى طاقت و قدرت كا مظاہرہ كرنے اور بيوى پر بيجا دباؤ ڈالنے كى غرض سے نہيں ديا گيا ہے بلكہ اس كا مقصد يہ ہے كہ مرداپنى بيوى كو نامناسب جگہوں پر جانے سے بازركھے اور اس كى عصمت و آبرو كى حفاظت كرے _

بيجا سختياں نہ صرف يہ كہ مفيد ثابت نہيں ہوتيں بلكہ خاندان ميں ايك دوسرے پر سے اعتماد اٹھ جاتاہے اور باہمى انس و محبت باقى نہيں رہتا _ حتى كہ بعض اوقات سركشى اور انحراف كا سبب بنتا ہے البتہ اگر ديكھے كہ وہ مناسب جگہ پر جاتى ہے جو اخلاقى پستى اور گناہ كے ارتكاب كا باعث بنتا ہے ايسى حالت ميں بيوى كو سختى سے منع كردينا چاہئے اور عورت پر بھى واجب ہے ،كہ اطاعت كرے اور ايسى محفل ميں جانے سے پرہيز كرے _

اگر بيوى شوہر كے احكام كى خلاف ورزى كرے اور بغير اجازت يا شوہر كے منع كرنے كے باوجود گھر سے باہر جائے تو مرد كو حق حاصل ہے كہ اس كو اسى صورت سے جيسا كہ پہلے ذكر كيا جا چكا ہے تنيہ كرے _ ان ہى مراحل اور شرائط كا لحاظ ركھے _ البتہ بيوى چند حالتوں ميں شوہر كى اجازت كے بغير گھر سے باہر جا سكتى ہے اور شوہر كو حق نہيں كہ اسے روكے _

۱_ دين كے ضرورى مسائل سيكھنے كے لئے گھر سے باہر جانا _

۲_ استطاعت كى صورت ميں حج كے لئے سفر كرنا _

۳_ قرض ادا كرنے كے لئے گھر سے باہر جانا جبكہ گھر سے باہر جائے بغير ممكن نہ ہو _

شكّى مرد

يہ صحيح ہے كہ شوہر كو اپنى بيوى كى نگرانى كرنا چاہئے ليكن نہ اس طرح كہ شك و شبہ كى حد تك بڑھ جائے _ بعض مرد بدگمانى اور شك كى بيمارى ميں مبتلا ہوتے ہيں اور بلا سبب اپنى بيوى پر شك


كرتے رہتے ہيں اور سمجھتے ہيں كہ وہ ان كى وفادار نہيں ہيں _

جو مرد اس خانماں سوز مرض ميں مبتلا ہوتے ہيں وہ خود اپنى اور اپنے خاندان كى زندگياں تلخ كرديتے ہيں _ بہانے تلاش كرتے ہيں اور اعتراض كرتے ہيں _ اپنى بيوى كى حركات و سكنات كو شك كى نظرسے ديكھتے ہيں اور سايہ كى طرح اس كا پيچھا كرتے ہيں چونكہ دل ميں شك ہوتا ہے اس لئے انھيں دروديوار پر شك ہوتا ہے _ جو چيزيں خيانت اور بے وفائي كى دليل نہيں ہوتيں ، اپنے وہم كے سبب ان باتوں كو بھى بيوى كى بے وفائي كى قطعى دليل تصوركر ليتے ہيں _ مثلاً فلاں مرد نے چونكہ اس كو خط لكھا ہے يقينا دونوں ميں تعلقات رہے ہوں گے فلاں جوان كى فوٹو اس كے پاس تھى ضرور اس كو چاہتى ہوگى _ فلاں مرد نے سلام اور احوال پرسى كى تھى اس سے پتہ چلتا ہے كہ بيوى وفادار نہيں جوان ہمسائے نے كوٹھے كى چھت سے اس پر نظر ڈالى تھى يقيناً دونوں ايك دوسرے كو چاہتے ہيں _ يا بيوى نے فلاں مرد كى تعريف كى نھى اس كا مطلب ہے وہ اس پر فريفتہ ہے _ يا بيوى نے خط مجھ سے چھپايا تھا يقينا وہ اس كے معشوق كا خط ہوگا _ يا پہلے كے مقابلے ميں اب مجھ سے كم اظاہر كرتى ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے كسى اور كو چاہنے لگى ہے _ يا ميرى بيٹى كى شكل مجھ سے نہيں ملتى اس سے بيوى كى خيانت ظاہر ہوتى ہے _

غرضكہ شكى مرد اس طرح كى بلكہ اس بھى معمولى باتوں كو خيانت كى قطعى دليل مان كر بيوى پر شك كيا كرتے ہيں _ اس سے بھى بدتر تو اس وقت ہوتا ہے جب اس كى ماں ، بہن يا كوئي ہمسايہ دشمنى يا جلن كے سبب اس كے خيال كى تائيد كردے _ اس صورت ميں بيوى كا جرم و خيانت ان كى نظر ميں يقينى ہوجاتا ہے _

جو بد نصيب خاندان شك كے مرض كا شكار ہوجاتے ہيں انھيں كبھى سكون و چين نصيب نہيں ہوتا مرد ايك خفيہ پوليس كى مانند ہميشہ اپنى بيوى كے ہر ہرفعل كى نگرانى كرتا ہے اور معمولى معمولى باتوں پر اسے شك ہوتا ہے اور دائمى طور پر پريشانى ميں مبتلا رہتا ہے _ بيچارى بيوى بھى ہميشہ ايك بے گناہ


مجرم كى مانند ذہنى اذيت و پريشانى ميں مبتلا رہتى ہے _ اور سخت پابنديوں اور كڑى نگرانى كى حالت ميں زندگى گزارنے پر مجبور ہوتى ہے _

ايسے خاندان كى بنياديں ہميشہ متزلزل رہتى ہيں اور ہروقت طلاق كا خطرہ لاحق رہتا ہے شك و شبہ كے نتيجے ميں قتل و غارت گرى تك كى نوبت آجاتى ہے _

ايسے مردوں كى كافى تعداد پائي جاتى ہے جنھوں نے اپنى بے گناہ بيويوں كو اپنى بيجا بد گمانى كے سبب قتل كرديا اور خود بھى خودكشى كرلى _

شادى شدہ زندگى كے لئے يہ چيز نہايت خطرناك ہے ، ايسے موقعہ پر مياں بيوى كو ضد اور ہٹ دھرمى چھوڑدينا چاہئے اور ناگوار حادثات كے وقوع ميں آنے سے قبل ہى عقل و تدبر سے كام لے كر اس كا حل تلاش كرلينا چاہئے _ مياں بيوى اگر ذرا بھى سمجھدارى سے كام لے كر اس عظيم خطرہ كو ، جوكہ ان كى تا ك ميں ہے ، محسوس كر ليں اور احتياط و عاقبت انديشى كے ساتھ اس مسئلہ كو حل كرنے كى كوشش كرليں تو يہ كوئي ايسا دشوار اور ناقابل حل مسئلہ نہيں ہے _ مرد كو چاہئے بيجا وہم اور شك و شبہ سے پرہيز كرے اورسمجھدارى سے كام لے _ كسى پزشك كرنا بہت اہم اور بڑى ذمہ دارى كى بات ہے _ جب تك ٹھوس ثبوت و دلائل كے ذريعہ خيانت ثابت نہ ہوجائے كسى پر تہمت نہيں لگائي جا سكتى _

خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے : اے لوگوجو ايمان لائے ہو، بہت سى بدگمانيوں سے اجتناب كرو كيونكہ بعض بدگمانياں گناہ ہوتى ہيں _(۲۲۴)

حضرت رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : جو شخص اپنى بيوى كو بلا سبب زنا كى تہمت لگائے ، اس كى سارى نيكيوں كا ثواب اس سے اس طرح الگ ہوجاتا ہے جس طرح سانپ اپنى كينچلى سے باہر نكل آتا ہے اور اس كے بدن كے ہر بال كے برابر ہزار گناہ اس كے نامہ اعمال ميں لكھے جاتے ہيں _(۲۲۵)

پيغمبر اكرم(ص) فرماتے ہيں: جو شخص كسى مومن مرد يا عورت پر بہتان باندھے گا _ خداوند عالم قيامت ميں اس كو آگ كى بھٹى پر ركھے گا تا كہ اپنے جرم كى سزاپائے _(۲۲۶)


جب تك بيوى كى خيانت شرعى طور سے دليل و ثبوت كے ذريعہ ثابت نہ ہوجائے مرد كو حق نہيں كہ اس كو ملزم ٹھہرائے _ بيوى پر جھوٹى تہمت لگانا اتنا عظيم گناہ ہے كہ اسلام ميں اس كى سزا ۸۰ كوڑے مقرر كى گئي ہے _

صرف احتمال كى صورت ميں يا خيالى علائم و شوہاہد كے سبب ايك ايسے اہم موضوع كو ثابت نہيں كيا جا سكتا _ مثلاً جوانى ميں كسى كو خط بھيجا يا كسى نے اس كو خط يا فوٹوا بھيج ديا تو يہ اس كى خيانت كى دليل نہيں ہوسكتى _

يہ صحيح ہے كہ اس قسم كے كام ہرگز نہيں كرنا چاہئيں _ البتہ ہوسكتا ہے سادگى يا نادانى كے سبب اس غلطى كى مرتكب ہوگئي ہو ليكن حقيقتاً پاكدامن اور عفيفہ ہو جوانى ميں اس قسم كى غلطياں سرزد ہوجاتى ہيں _ اگر كوئي مرد خط بھيجتا ہے تو اس كا خط قبول نہيں كرنا چاہئے ليكن اگر نادانى كے سبب خط قبول كرليا يا بدنامى كے خوف سے چھپاديا تو صرف اس خط كو خيانت كى دليل نہيں ٹھہارايا جا سكتا اگر كسى غيرمرد كو سلا م كرليا اور احوال پرسى كرلى ،اگر چہ كسى غير مرد سے گرمجوشى كا اظہار كرنا اچھى بات نہيں ليكن صرف يہ بات خيانت كى دليل نہيں ہوسكتى _ ممكن ہے اپنے خيال ميں خوش اخلاقى كا مظاہرہ كرنا چاہتى ہو يا كوئي دوسرى وجہ ہوسكتى ہے _ ممكن ہے اس كے باپ يا بھائي كے دوستوں ميں سے ہو ، يا كسى رشتے سے اس سے پہلے سے واقفيت رہى ہو _ اگر كسى مرد كى تعريف كردى تو يہ اس بات كى دليل نہيں ہے كہ اس پر فريفتہ ہے اگر چہ بيوى كے لئے يہ مناسب نہيں كہ اپنے شوہر كے سامنے كسى دوسرے مرد كى تعريف كرے ليكن شايد سادگى يا عدم توجہ كے سبب ايسا كيا ہو_ ليكن محض اس بات كو خيانت كى علامت نہيں سمجھنا چاہئے _

اگر اپنے خط كو پوشيد ہ ركھتى ہے يا كسى بات ميں جھوٹ بولا يا غلط بيانى كردى تو يہ چيز بھى خيانت كى دليل نہيں _ ممكن ہے بدنامى كے خوف سے خط چھپا ديا ہو يا خط ميں جو بات لكھى ہوا سے اپنے شوہر سے مخفى ركھنا چاہتى ہو _ يا غلط بيانى كى كوئي اور وجہ بھى ہوسكتى ہے _ اگر پہلے كى بہ نسبت


كم اظہار محبت كرتى ہے تو يہ اس بات كى دليل نہيں كہ اس نے كسى دوسرے سے دل لگاليا ہے اس كى دوسرى وجوہات ہوسكتى ہيں _ كسى بات پر ناراض يا غصہ ہو ، بيمار ہو ، شوہر كى بے توجہى اورعدم اظہار محبت كے سبب دل برداشتہ ہوگئي ہو _ بہر حال اس قسم كى باتوں كو خيانت كى علامت ہرگز نہيں كہا جا سكتا _ مختصراً يہ كہ جو باتيں شك كا باعث بنتى ہيں اگر نيك نيتى سے ان پر غور كيا جائے تو وہ اصل ميں نہايت معمولى معلوم ہوں گى _

برادر عزيز خدا كے لئے بد ظنى اور شك ووسواس چھوڑديجئے _ ايك عادل قاضى كى مانند اپنى بيوى كى خيانت كے شواہد و دلائل كا نہايت توجہ اور انصاف كے ساتھ جائزہ ليجئے اور خوب سوچ سمجھ كر ان دلائل كو پركھئے اور ديكھئے كہ كيا آپ كا شك واقعى درست ہے يا صرف بد گمانى ہے ؟

ہم يہ نہيں كہتے كہ لا ابالى اور بے غيرت بن جايئےلكہ ہمارا مقصد يہ ہے كہ جو چيز پورى طرح ثابت ہوجائے صرف اسى پر يقين كيجئے اس سے زيادہ نہيں _

بيجا توہمات اور مہمل شواہد پر يقين كركے كيوں اپنى اور اپنے خاندان كى زندگى عذاب ميں مبتلا كرنے كے درپے ہيں _ اگر اسى قسم كے خيالى شواہد كى بناء پر كوئي آپ پر الزام لگائے تو آپ پركيا گزرے گي؟ انصاف اور ضمير كا تقاضہ كيا ہے ؟ كيوں اپنى اور اپنى بيوى كى عزت و آبرو خاك ميں ملا نے پر تلے ہوئے ہيں ؟ اس كے حال زار پر آپ كو رحم نہيں آتا؟ كيا آپ نہيں سوچتے كہ ممكن ہے آپ كى بددلى اور بيجا تہمتوں كا نتيجہ يہ ہو كہ آپ كى پاكدامن بيوى عفت و عصفمت كى وادى سے نكل كرتباہى و گمراہى كے گڑھے ميں جاگرے؟

حضرت على (ع) نے اپنے بيٹے سے فرمايا: دھياں ركھو جہاں ضرورت نہ ہو وہاں غيرت مندى نہ دكھاؤ_ كيونكہ يہ عمل صحيح افراد كو گمراہى كى طرف اور پاكدامن افراد كو گناہ كى جانب مائل كردينے كا سبب بنتاہے _(۲۲۷)


اگر آپ كو اپنى بيوى پر سك ہے تو يہ بات ہر ايك سے بيان نہ كيجئے كيونكہ ممكن ہے كچھ لوگ دشمنى ہا نادانى كے سبب يا ہمدردى جتانے كے لئے بغير تحقيق كئے آپ كے خيال كى تائيد كرديں بلكہ كچے اور بے بنياد باتوں كا بھى اضافہ كرديں جو آپ كے شك كو يقين ميں بدل دے اور آپ كى دنيا و آخرت تباہ ہوجائے _ خاص طور پر اس سلسلے ميں اپنى ماں بہنوں سے ہرگز بات نہ كريں كيونكہ عام طور پر ساس ننديں بہوسے رقابت ركھتى ہيں ايسے مواقع پر توان كے حسد و كينہ ميں تحريك پيداہوگى اور وہ انجام سوچے سمجھے _ بغير آپ كے شك كو مزيد تقويت پہونچانے كے اسباب فراہم كرديں گى _ اگر آپ دوسروں كى رہنمائي حاصل كرنا چاہئے ہيں تو اپنے عاقل ، تجربہ كار، خيرخواہ اور عاقبت انديش قسم كے دوستوں سے مشورہ ليجئے _ سب سے بہتر طريقہ تو يہ ہے كہ اپنى بيوى كے جن اعمال و حركات پر آپ كو شك ہے ان كے متعلق نہايت صبروسكون اور صراحت كے ساتھ اپنى بيوى سے بات كيجئے اور وضاحت طلب كيجئے _ ليكن اس سے آپ كا مقصد ، ہر حال ميں اپنے شك كو ثابت كرنا نہ ہو _ بلكہ وقتى طور پر شك كو اپنے ذہن سے نكال ديجئے اورايك عادل قاضى كى مانند اپنى بيوى كى وضاحتوں كو غور سے سنئے اور اس كى توضيات كو يكسر غلط نہ سمجئھے تھوڑى دير كے لئے فرض كر ليجئے كہ آپ كا بہنوئي آپ كے پاس فيصلہ كرانے آيا ہے اور اپنى بيوى كى اس قسم كى شكايت كرتا ہے _ ديكھئے آپ اس كا فيصلہ كس طرح كريں گے؟

اپنى بيوى كے سلسے ميں بھى اسى طرز فكر سے كام ليجئے _ اس كا گريہ زارى اور دليل و ثبوت آپ كے پتھر دل پر اثر كيوں نہيں كرتا ؟ آپ كو اس كى باتوں پر يقين كيوں نہيں آتا ؟ بردبار اور عاقل بنئے _ مبادا فقط ان بے بنياد شك و شبہات كى بناء پر آپ اپنى بيوى كو طلاق دے ديں اور اپنى اور اس كى زندگى تباہ كرليں _ فرض كيا اس بيوى كو طلاق ديدى اور بہت زيادہ اخراجات برداشت كرنے كے بعد ايك دوسرى بيوى كا انتخاب كرليا تو كيا گارنٹى ہے كہ دوسرى اس سے بہتر ہوگى _ آپ كى شكى طبيعت پھر آپ كو شك ميں مبتلا كرسكتى ہے آپ كو اپنے بے گناہ بچوں كا خيال نہيں آتا ؟ آخر ان معصوموں كا كيا قصور ہے كہ وہ بيمارے آپ كے شك كے


مرض كى بھينٹ چڑ ھ جائيں _ ان كى پمردہ صورت اور حسرت بھرى نگاہوں پر نظر ڈالئے اور بددلى چھوڑديجئے كہيں ايسا نہ ہو كو بيجا شك و شبہ ميں مبتلا ہوكر آپ خودكشى كا ارتكاب كرڈاليں يا اپنى بے گناہ بيوى كوقتل كرڈاليں _ ايك طرف قتل جيسے عظيم گناہ كے مرتكب ہوں كہ جس كى سزا خدانے دوزخ ركھى ہے اور دوسرى طرف اپنى نزدگى تباہ كرڈاليں يہ بات ذہن نشين رہے كہ خون زيادہ دن چھپا نہيں رہتا ايك نہ ايك دن جرم ظاہر ہوجاتا ہے اور مجرم كيفر كردار كو پہونچتا ہے پھانسى كے تختہ پر لٹكايا جاتا ہے ، يا سارى عمر قيد ميں بسر كرنى پڑتى ہے _

مجرمين كے اعداد و شمار پر نظر ڈالئے جن ميں كچھ كى خبريں تو اخبار ورسائل ميں بھى شائع ہوتى رہتى ہيں تا كہ اس قسم كے جرم كے نتائج آپ پرروشن ہوں _

اس قسم كے شكى مردوں كى بيويوں پر بھى بہت بھارى ذمہ دارى عائد ہوتى ہے ان كو چاہئے كہ خود اپنى اور اپنے شوہر اور بچوں كى بھلائي كى خاطر ايثار و قربانى سے كام ليں اور اچھى طرح سے شوہر دارى كر يں _ ايسے ہى دشوار اور مشكل موقعوں پر خواتين كى لياقت ، سمجھداري، دانشمندى اور تدبر كا امتحان ہوتا ہے _

خواہر عزيز سب سے پہلے تو اس بات كو سمجھ ليجئے كہ آپ كا شوہر ايك خطرناك نفسياتى بيمارى ميں مبتلا ہے _ بلا سبب تو اپنى آپ كى زندگى تلخ نہيں كرے گا اور اصل وہ بيمار ہے _ جى ہاں شك كا مرض بھى خطرناك بيماريوں ميں شمار كيا جاتا ہے _ لہذا بيمار كا علاج ہونا چاہئے تا كہ اس كا مرض دور ہوجائے _ حتى الامكان اس سے والہا نہ نحبت كا اظہار كيجئے _ اس قدر اپنى محبت و لگاؤ كا اظہار كيجئے كہ اس كو يقين جائے كہ آپ كے دل ميں اس كے علاوہ اور كسى كى جگہ نہيں ہوسكتى _ اگر اعتراضات كرے بہانہ بازياں كرے تو صبر كيجئے _ اس كے غصہ اور بدمزاجى كے مقابلے ميں بردبارى سے كام ليجئے _ اس كى سختياں كو برداشت كرليجئے _ آہ و فرياد نہ كيجئے _ لڑائي جھگڑانہ كيجئے _ اس كى باتوں كے مقابلے ميں ہٹ دھرى محسوس كرتى ہيں كہ آپ كے خطوں اورآپ كى حركات و سكنات پر كنٹرول


تو ابرو پربل نہ آنے ديجئے _ روزمرہ كے تمام واقعات اور سارى باتيں اس سے باتيں اس سے بيان كرديا كيجئے _

كوئي بات اس سے پوشيدہ نہ ركھئے _ جس بات كى توضيح طلب كرے بے كم و كاست حقيقت اسے بتاديا كيجئے _ جھوٹ بولنے اور كوئي بات چھپانے سے پورى طرح اجتناب كيجئے _ كيونكہ اگر ايك مرتبہ آپ كاجھوٹ اس پر كھل گيا تو وہ آپ كے جرم كى سند اور قطعى ثبوت مان ليا جائے گا _ او رپھر اس كے شك كو دورنا بيحد مشكل ہوجائے گا _

اگر كہے كہ فلاں شخص سے نہ ملو _ فلاں كام انجام نہ دو تو بغير چون و چرا مان ليجئے اور ضد يا بحث نہ كيجئے ورنہ اس كى بدگمانى بڑھ جائے گى _

اگر كہے كہ فلاں شخص سے نہ ملو _ فلاں كام انجام نہ دو تو بغير چون و چرامان ليجئے اور ضد يا بحث نہ كيجئے ورنہ اس كى بدگمانى بڑھ جائے گى _

غرضكہ ان تمام كاموں سے پرہيز كيجئے جن سے شك و بدگمانى پيدا ہونے كا امكن ہو _

حضرت على (ع) فرماتے ہيں: اگر كوئي شخص اپنے آپ كو مشكوك حالت سے دوچار كرلے تو اس پر شك و شبہ كرنے والوں كو ملامت نہين كرنا چاہئے _(۲۲۸)

اگركسى خاص شخص كى جانب سے مشكوك ہے يا اسے ناپسند كرتا ہے تو آپ اس سے مكمل طور پر قطع تعلق كرليں _

كچھ خاص افراد سے دوستى قائم ركھنے كے مقابلہ ميں كيا يہ بہتر نہيں ہے كہ ان سے كنارہ كشى اختيار كركے اپنى اور اپنے شوہر كى زندگى تلخ ہونے سے بچاليں _ اپنے دل ميں يہ نہ سوچئے كہ كيا ميں اپنے شوہر كى زر خريد لونڈى ہوں يا نوكر ہوں كہ اس قدر سختياں اور پابندياں برداشت كروں جى نہيں آپ غلام نہيں ہيں البتہ ايك بيمار مرد كى شريك حيات ہيں _

جس وقت آپ شادى كے مقدس رشتے سے منسلك ہوئي تھى تو گويا آپ نے عہد كيا تھا كہ مشكلات اور پريشانيوں ميں ايك دوسرے كے شريك و غمخوار رہيں گے _ كيا رسم و فادارى يہى ہے كہ آپ اپنے بيمار شوہر سے كشمكش جارى ركھيں اور ہٹ دھرمى اور ضد سے كام ليتى رہيں بيكار افكار سے دامن چھڑايئےور عقلمند اور عاقبت انديش نبئے _ يقين مانئے اپنے شوہر اور


خاندان كى خاطر آپ كا ضبط و تحمل اور اثار و فداكار بيحد اور لائق ستائشے ہے _ عورت كا ہنر تو اسى ميں ہے كہ وہ ايسے دشوار گزار اور نازك حالات ميں ايسے مردوں كا ساتھ نبھائے _ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں :عورت كا جہاد يہى ہے كہ اپنے شوہر كى اذيتوں كے مقابلے ميں بردبارى سے كام لے _(۲۲۹)

ايسا كوئي نہ كيجئے كہ جس سے آپ كے شوہر كو شك پيدا ہوجائے يا اس كے شك ميں مزيد اضافہ ہوجائے _ غيرمردوں خصوصاً ان لوگوں كى جن كى طرف سے آپ كا شوہر بد ظن ہے ، تعريف نہ كيجئے _ نامحرم مردوں پر نگاہ ڈالئے _ پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں : جو شادى شدہ عورت نامحرم مردوں پر شوقيہ نگاہ ڈالے گى خداوند عالم اس پر شديد عذاب نازل كرے گا _(۲۳۰)

غيرمردوں سے ربط ضبط نہ ركھئے اور ان سے بات چيت نہ كيجئے _ اپنے شوہر كى اجازت كے بغير ان كے گھر نہ جايئے كسى غير مرد كى كارميں لفٹ نہ ليجئے آپ كا باعصمت اور پاكدامن ہونا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تمام امور سے مكمل طور پر دوررہنا بھى ضرورى ہے جن سے شك و شبہ پيدا ہونے كا امكان ہو _ ممكن ہے غفلت يا سادگى ميں آپ سے كوئي ايسا معمولى سا فعل سرزد ہوجائے جو آپ كے شوہر كو بدگمان كردے _ ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے_

ايك ۲۷ سالہ لڑكى نے عدالت ميں بتايا : آٹھ سال قبل ۱۹۶۳سنہ ء كے موسم سرما كا ايك برفيلا دن ميرى مصيت و پريشانى كا باعث بن گيا جب ميں اپنى دوست كے اصرار پر ، اپنے گھر واپس آنے كے لئے اس كے ماموں كى كارميں بيٹھ گئي اس واقعہ سے دوماہ قبل جبكہ ميں اسكول ميں زير تعليم تھى ميرا عقد ہواتھا ہواتھا ، واقعہ يوں ہے، كہ ايك دن اپنے نوٹس تيار كرنے كے لئے اپنى ايك ہم جماعت كے گھر گئي تھي_ واپسى كے وقت برف بارى شروع ہوگئي ميرى دوست نے مجھ سے كہا كہ ميرا ماموں تمہيں اپنى كارسے گھر پہونچادے گا _ اتفاق سے جب ميں گھر كے نزديك پہونچى توگلى سرے پرميرا شوہر كھڑا ہواتھا _ اسے ديكھ كر مجھ خوف محسوس ہوا او رميں نے اپنى دوست كے ماموں سے كہا كہ مجھے يہيں اتاركر جلدى سے واپس چلا جائے _ وہ بھى ايك مجرم كى مانند فوراً فرارہوگيا _ اور يہى امر ميرے شوہر كى بدگمانى ميں اضافے


كا سبب بنا _ بعد ميں جب اس نے اعتراض كيا تو ميں نے ڈركرسرے سے انكار ہى كرديا اور اس بات نے ميرے شوہر كو اس حد تك ميرى طرف سے بدگمان كرديا كہ بعد ميں ميرى دوست اور اس كے گھر والوں كى گواہى بھى اس كو مطمئن اور آسودہ خاطر نہ كرسكى اوراس كا شك دور نہ ہوا _

اس كے بعد سے ميرا شوہر نہ تو مجھے ساتھ ركھنے پر راضى ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ديتا ہے اس واقعہ كو آٹھ سال ہورہے ہيں اور ميں اسى طرح زندگى گزاررہى ہوں _(۲۳۱)

قارئين كرام كى نظر ميں اس داستان ميں اصل قصور وار كون ہے ؟

ميرى نظر ميں اصل قصور توبيوى كا ہے جس نے اپنى ناسمجھى اورنادانى كے سبب خوداپنے اور اپنے شوہر كے لئے مصيبت كھڑى كردي_

۱_ پہلا غلط كام تو يہ كيا كہ ايك غير مرد كى كارميں سوار ہوگئي _ فرض كيجئے شوہر نے نہ بھى ديكھا ہوتا تب بھى اصولى طور پر ايك غير مرد كى كارميں عورت كا بيٹھنا ہى ايك بہت غلط اور خطرناك كام ہے _

۲_ چلئے مان ليجئے ناسمجھى كے سبب غير مرد كى كارميں بيٹھ گئي تھى _ ليكن جب شوہر كو گلى كے سرے پر كھڑے ديكھا تھا تو چاہئے تھا اسى وقت اس شخص سے كارروكنے كو كہتى اوركارسے اتركر شوہر كے ساتھ گھر جاتى اورسارى بات اسے بتاديتى _

۳_ بہت برى غلطى يہ كى كہ اس شخص كو بھاگ جانے كو كہا _

۴_ چوتھى غلطى يہ كى بعد ميں تمام واقعہ سے سرے سے انكار ہى كرديا _ حالانكہ ان سب باتوں كے بعد بھى موقعہ تھا كہ جب شوہر نے پوچھا تھا تو بے كم و كاست سارى بات بيان كرديتى اور اپنى غلطى كا اعتراف كرتى كہ نا سمجھى يا مروت كے سبب يہ نامناسب كام انجام ديا _

البتہ اس سلسلے ميں مرد بھى بے قصور نہيں ہے _ محض اس واقعہ كو خيانت كى قطعى دليل نہيں سمجھ لينا چاہئے تھا _ اس كو اس امكانى صورت حال پر توجہ دينى چاہئے تھى كہ اس كى بيوى غفلت ناتجربہ كارى يا ناسمجھى كے سبب اس غلطى كى مرتكب ہوئي ہے اور بعد ميں الزام كے ڈرسے اس نے اس شخص كو بھا گ جانے كى ہدايت كى اور اسى سبب سے اصل واقعہ سے انكار كررہى ہے _ دانشمندى كا تقاضہ تويہ تھا كہ نہايت انصاف اور غير جانبدارى كے ساتھ اس واقعہ كى پورى طرح تحقيق اور چھان بين كرتا اور ہر طرف سے اطمينان حاصل كرنے كے بعد اس كى غلطى كو معاف كردتيا اور اس پر زيادہ سختى نہ كرتا _


بدكردار عورت

اگر شواہد و دلائل ذريعہ قطعى طور پر ثابت خو جائے بيوى كا چال چلنى اچھا نہيں ہے اور اس كے غير مردوں سے نا جائز تعلقات ہيں تو مرد بيحد مشكل ميں پڑ جاتا ہے ايك طرف اس كى عزت و آبر و خطرہ ميں پڑ جاتى ہے دوسرى طرق ايسى باعث ننگ بات برداشت كرنا دشوار ہوتا ہے _

ايسى حالت ميں كرد كے لئے اس صورت حال سے بخات حاصل كرنا بيحد دشوار اور خطر ناك ہو جاتا ہے _

ايسے موقعہ پر مرد كے سامنے چند راستے ہوتے ہيں : _

۱_ اپنے خاندان كى عزت و آبرو قائم ركھنے كے لئے دل پر پتھر ركھ كر بيوى كى خيانت كاريوں كو نظر انداز كرد ے اور راسى طرح آخر عمر تك نبھا تارہے _ البتہ يہ راستہ صحيح نہيں ہے كيونكہ كوئي غيرت مند مرد اس بات كا متحمل نہيں ہو سكتا كہ بيوى كى بد كردار يوں اور نا جائز بچوں كے وجود كو برداشت كرتار ہے _ غيرت ، مرد كے لئے ايك پسند يدہ صفت ہے اور بے غيرت مرد خدا و رسول نظر ميں ذليل و خوار ہوتا ہے _

واقعا ايسے نامرد لوگوں كى زندگى باعث ننگ و عار ہوتى ہے جو ايسى بے عزتى كو برداشت كرتے رہتے ہيں _ نہ صرف يہ كہ وہ مرد ، نہيں بلكہ جالوروں سے بھى بدتر ہيں _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں : پانچ سو سال ميں طے ہونے والے راستے سے بہشت كى خوشبو آتى ہے ليكن دوقسم كے لوگ بہشت كى خوشبو محروم ہيں ۰ والدين كے عاق كئے ہوئے اور بے غيرت مرد _ كسى نہے آپ سے پوچھا _ يارسول اللہ بے غير ت مرد


كون ہيں ؟ فرمايا وہ مرد جو جانتا ہے كہ اس كى بيوى زناكار ہے ( اور اس كى بدكردارى پر خاموش رہے)

۲_ اپنى بيوى يا كے عاش كو قتل كردے _ اس طريقے سے انتقام لے كر وقتى طور پر اپنے دل كو تسلى دے سكتا ہے ليكن يہ كام بہت خطرناك ہے اور اس كاانجام اچھا نہيں ہوتا كيونكہ ايسا بہت كم ہوتا ہے كہ قتل كا جرم ہميشہ چھپارہے ايك نہ ايك دن قاتل پكڑاجاتاہے اورسزاپاتاہے _ عدالت ميں بھى بيوى كى بدكردارى اتنى آسانى سے ثابت نہيں ہوسكتى لہذا برى ہونے كے امكانات بہت كم ہوتے ہيں يا تو سزائے موت كاحكم سنايا جاتا ہے يا كم سے كم طويل المدت قيد كى سزا بھگتنى پڑتى ہے _ زندگى تباہ ہوجاتى ہے _ بچے بيچارے الگ تباہ و برباد اور بے آسرا ہوجاتے ہيں لہذا يہ دانشمندى نہيں كہ انسان جذبات ميں آكر اپنے نفس كى تسلى اور كينہ كى آگ كو ٹھنڈا كرنے كے لئے ايسے خطرناك كام كا اقدام كرے اور اپنے جان خطرہ ميں ڈال لے _

مرد كو چاہئے عاقل ، بردبار اور عاقبت انديشى ہو _ اسے اپنے نفس پر اتنا كنٹرول ہونا چاہئے كہ ايسے جنون آميز كام سے پرہيز كرے _ اور اس كا صحيح حل تلاش كرے _

۳_ خودكشى كرلے تا كہ بيوى كى بدكردار يوں كو اپنى آنكھوں سے نہ ديكھے اورايسى ننگين زندگى سے نجات حاصل كرلے البتہ يہ راستہ بھى دانشمندوں كانہيں ہے _ اول تو اپنى زندگى كو ختم كرلينا شرعى لحاظ سے ايك عظيم گناہ ہے اور اس كى سزا خداوند عالم نے دوزخ مقرر كى ہے _دوسرے يہ كہ اپنے آپ كو نابود كردينا كسى طرح درست نہيں _ يہ كون سى دانشمندى ہے كہ انسان دوسروں سے انتقام لينے كى خاطر اپنى دنيا و آخرت خراب كرلے اوربيوى كو اپنى بد چلنى جارى ركھنے كى پورى آزادى مل جائے _ شايد يہ سب سے بدترين راہ ہے _

۴_ جب بيوى كى بد چلنى بطور كامل ثابت ہوجائے اور ديكھے كہ وہ كسى طرح ناجائز كاموں سے دستبردار ہونے كو تيارنہيں ہے تو بہترين طريقہ يہ ہے كہ اس كو طلاق دے كر اس كے شر سے نجات حاصل كرلے _ يہ نہايت دانشمندانہ اقدام ہے اور اس ميں كوئي خطرہ بھى نہيں ہے _


يہ صحيح ہے كہ طلاق كے سبب زندگى تباہ ہوجاتى ہے اور بہت نقصانات اٹھانے پڑتے ہيں جن كا برداشت كرنا دشوار ہوتا ہے خصوصاً ايسى حالت ميں كہ اگر بچے بھى ہوگئے ہوں _ ليكن بہر حال ايسى صورت ميں اس كے علاوہ اور كوئي چارہ بھى نہيں ہے _ بہترين طريقہ يہى ہے كہ بيوى كو طلاق دے كر بچوں كو اپنے پاس ركھے كيونكہ معصوم بچوں كو ايك فاسد اور بدكردار عورت كے سپردكرنا نامناسب نہيں _ اگر چہ بچوں كو پالنا دشوار كام ہے ليكن مرد كو اطمينان ركھنا چاہئے كہ اس نے خدا كى خوشنودى كے لئے يہ راستہ منتخب كيا ہے لہذا خدا بھى اس كى مدد كريگا اور جلد ہى ايك پاكدامن اور باعصمت شريك حيات اس كو مل جائے گى اور اپنى بقيہ زندگى آبرومندانہ طريقے سے گزار سكے گا _

غيرعورتوں پر نظر ڈالنے سے اجتناب كيجئے

مرد شادى كرتے وقت نہايت تلاش و جستجو سے كام ليتے ہيں تا كہ بيوى نيك اور ان كے پسند كے مطابق ہو _ اس موقعہ پر جس قدر احتياط اور عاقبت انديشى سے كام ليں اچھى بات ہے _ كيونكہ شادى سے انسان كى زندگى كا آغاز ہوتا ہے اور اس كے مستقبل كى سرنوشت يعنى خوش نصيبى يا بدبختى يہيں سے شروع ہوتى ہے _ البتہ جب كسى لڑكى كو اپنا شريك زندگى منتخب كركے اس سے رشتہ ازدواج قائم كرليں اس كے بعد بيوى كے علاوہ كسى عورت پر نظر ڈالنى چاہئے اور دوسرى تمام عورتوں كو ، جو بھى ہوں اور جيسى بھى ہوں ہر حال ميں نظر انداز كرنا چاہئے _ اور سوائے اپنى بيوى كے كسى دوسرى عورت ميں دلچسپى نہيں لينى چاہئے اس كے علاوہ اور كسى كا خيال بھى دل ميں نہيں لانا چاہئے ايك معصوم لڑكى اپنى شوہر كى خاطر اپنے ماں باپ اور خاندان كو چھوڑكر سينكڑوں اميدوں اور آرزوؤں كے ساتھ اس كى پناہ ميں آتى ہے كہ اپنى تمام ترہستى كو اپنے شوہر كے سپرد كردے اور دونوں ايك دوسرے كے شريك زندگى ، اور يادوغمخوار بن كر زندگى كى راہوں كو طے


كريں ، عاقل اور سنجيدہ مرد بچگانہ حركتوں اور ہوس بازى سے دستبردار ہوجاتے ہيں اور اپنى تمام تر توجہ اپنى نئي زندگى اور خاندان كى جانب مركوز كرديتے ہيں _ كسب معاش ميں تن دہى سے مشغول رہتے ہيں تا كہ عزت و آبرو كے ساتھ اپنى بيوى بچوں كے ہمراہ خوشى و اطمينان كے ساتھ زندگى گزاريں اور روحانى سكون اور مہرو محبت كى نعمت سے ، جو كہ سب سے بڑى نعمت ہے ، بہرہ مند ہوں ف جولوگ خوش و خرم اور صلح و سلامتى كے ساتھ زندگى گزارنا چاہتے ہيں ان كو چاہئے شادى كے بعد اپنى سابق بچگانہ حركتوں اور ادھر ادھروں لگانے اور نظريں سينكنے جيسى خانماں سوز حركتوں كو چھوڑديں اور اپنى زندگى كى روش بدل ليں _

ايك شادى شدہ مرد كے لئے يہ بات نہايت باعث ننگ ہے كہ وہ كسى غير عورت يا عورتوں سے گرمجوشى سے طے _ ان سے ہنسى مذاق كرے يا ان ميں دلچسپى لے اگر مرد اپنى بيوى كو كسى غيرمرد سے ہنسى مذاق كرتے ديكھتا ہے تو اسے بہت برا لگتا ہے اور اس كى غيرت جوش ميں آجاتى ہے ليكن اس بات سے كيوں غافل رہتا ہے كہ اس كى بيوى بھى اس كى طرح احساسات و جذبات ركھتى ہے اور اسے بھى اپنے شوہر كا غير عورتوں سے ہنسى مذاق كرنا بيحد برا لگتا ہے اور يہ عمل ايك طرح كى خيانت اور بے وفائي شمار كيا جاتا ہے _ بيوى جب ديكھتى ہے كہ اس كا شوہر دوسرى عورتوں ميں دلچسپى ليتا ہے ان سے ہنسى مذاق اور چھيڑچھاڑكرتا ہے تو اس كى غيرت اور حسد كے جذبے ميں تحرك پيدا ہوتا ہے اور وہ انتقام لينے كے درپے ہوجاتى ہے _ شوہر كى نسبت اس كى عزت و محبت ميں كم آجاتى ہے _ گھر اور زندگى سے اس كى دلچسپى ختم ہوجاتى ہے گھر كے كاموں سے اس كا دل اچاٹ ہوجاتا ہے _ حتى كہ اس بات كا بھى امكان ہے كہ انتقام كى خاطر بيوى بھى غير مردوں ميں دلچسپى لينا شروع كردے يا اپنے ہوس پرست شوہر سے عليحدہ ہوجانا ناپسند كرے _ ايك عورت نے تہران ميں خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت كے شعبہ ۴۵ ميں شكايت كى كہ وہ اپنے شوہر سے عليحدہ ہونا چاہتى ہے _ ان مياں بيوي


كى ۳۳ سال قبل شادى ہوئي تھي_ اس عورت نے بتايا كہ ميرے شوہر كى عادت ہے كہ سے جو عورت ملتى ہے اس سے مذاق كرتا ہے _(۲۳۳)

ايك عورت نے عدالت ميں كشايت كى كہ : ميرا شوہر ميرى دوستوں سے اپنى دلچسپى كا اظہار كرتا ہے _ اس كى اس برى عادت كے سبب ميں اپنى دوستوں كو اپنے گھر نہيں بلا سكتى _ چونكہ وہ سب كہتى ہيں كہ تمہارا شوہر ہم ميں دلچسپى ليتا ہے اور يہ بات ميرى خفت و شرمسارى كا باعث بنتى ہے _(۲۳۴)

ايك شادى شدہ مرد كے لئے نہايت شرمناك بات ہے كہ وہ دوسرى عورتوں كو گھورے يا ان پر نظريں ڈالے _ ان نظر بازيوں كا سوائے دلى اضطراب و بے چينى ، اعصابى كمزورى اور گھر اور خاندان كى طرف سے بے توجہى كے اور كوئي نتيجہ بر آمد نہيں ہوتا _ خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

نامحرم عورتوں كى طرف ديكھنے سے اپنى نظريں بچاؤ_(۲۳۵)

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : نگاہ شيطان كى جانب سے پھينكتے ہوئے زہر آلود تير كى مانند ہوتى ہے اور ايك نگاہ ممكن ہے حسرت و رنج كا باعث بن جائے _(۲۳۶)

ماہر نفسيات نے نظربازى كو ايك قسم كى نفسياتى بيمارى بتايا ہے _جو آنكھيں ، اس ذليل حركت كى عادى ہوجاتى ہيں وہ كبھى سير نہيں ہوتين _ ان ہى بدنگاہيوں كا نتيجہ ہوتا كہ بہت سے پاك سيرت جوان ، اپنى عفت و ناموس گنوا كرفتنہ و فساد اورگمراہى كى وادى ميں گر پڑتے ہيں كيونكہ جب ہوسناك نگاہيں محو تماشہ ہوتى ہيں تو دل بدى كى طرف مائل ہوجاتا ہے _ ايك مرتبہ دو مرتبہ زيادہ سے زيادہ دس مرتبہ انسان اپنے آپ پرقابو پا سكتا ہے ليكن آخر كار عنان نفس ہاتھ چھوٹ جاتى ہے اور نفسانى خواہشات كا مطيع بن جاتا ہے _

امام صادق (ع) فرماتے ہيں : پے درپے نگاہيں ، قلب ميں شہوت پيدا كرتى ہيں اور يہى چيز ، بد نظر افراد كى گمراہى كے لئے كافى ہوتى ہے _(۲۳۷)


اسلام چونكہ نظر بازى كے خراب نتائج سے واقف ہے اس لئے اس فعل كى سختى سے ممانعت كرتاہے _

كوچہ و بازار ميں اگر مرد كى نگاہ بے اختيار كسى نامحرم عورت پڑپڑجائے تو يہ نہيں كہ باربار اسے ديكھت ہے بلكہ چاہئے كہ فوراً نظريں سچى كرلے يا دوسرى طرف متوجہ ہوجائے ، نامحرموں كى جانب سے چشم پوشى شايد پہلے مرحلے ميں كسى حد تك دشوار ہوليكن اگر ذرا صبر كے ساتھ اس كى عادت ڈال لى جائے تو يہ امر آسان ہوجائے گا _

عقلمند لوگ جانتے ہيں كہ اس نازيبا حركت كے نتيجہ ميں قتل و غارت گرى ، خودكشى ، طلاق ، اعصاب كى كمزورى ، نفسياتى امراض، دل كى بيمارى ، ذہنى پريشانياں، دائمى رنج و غم اور خاندانى اختلافات و غيرہ جيسے خطرات ظہور ميں آتے ہيں لہذا ان خطرات سے بچنے كى خاطر اس مفسدانہ حركت سے دامن بچانا اور استقامت سے كام لينا ، خود انسان كے اپنے مفاد ميں ہے _

ہم جانتے ہيں كہ جوانى كے ہيجان انگيز دور ہيں ، ايسى حالت ميں كہ بعض عورتيں آزادانہ طور پر نيم عرياں حالت ميں سج دھج كرباہر گھومتى ہيں ،نظريں بچانا ذرا مشكل كام ہے ليكن بہر صورت ضرورى ہے _

اگر مرد صبرو استقامت سے كام لے اور اس علم كى عادت ڈال لے تو بہت سے مفاسد كا خود بخود علاج ہوجاتا ہے اور ان جھوٹى اوروقتى لذتوں كے عوض ، ذہنى سكون و آسائشے اور خاندان كى مہرومحبت كى لذت سے پورى طرح لطف اندوز ہوسكتا ہے_

برادر عزيز اگر زندگى ميں سكون و چين اور حقيقى خوشى ومسرت كى نعمتوں كا لطف اٹھانا چاہتے ہيں تو شادى كے بعد ، اپنى بيوى كے علاوہ دوسرى تمام عورتوں كى جانب سے چشم پوشى اختيار كيجئے _ اپنى بيوى كے سامنے كبھى غير عورتوں كى تعريف نہ كيجئے _ كبھى نہ كہئے كہ كاش ميري


فلاں لڑكى سے شادى ہوئي ہوتى _ يا فلاں لڑكى مجھ سے شادى كى خواہشمند تھى _ فلاں لڑكى مجھكو چاھتى _ سينكڑوں لوگ مجھ سے اپنى لركيوں كى شادى كرنے كے آرزومند تھے _ يا فلاں لڑكى تم سے بہتر تھى و غيرہ جيسى باتيں ہرگز بيوى سے نہ كہئے كيونكہ اس قسم كى باتيں بيوى كو شك ميں مبتلا كرديتى ہيں اور شوہر سے اس كى محبت دلچسپى ميں كمى آجاتى ہے _ زندگى كى لطافتوں سے بيزار ہوجاتى ہے ممكن ہے وہ بھى مقابلہ بہ مثل كرے اور دوسرے مردوں كى آپ كے سامنے تعريف كرے يا اپنے سابق خواستگاروں كا دلچسپى كے ساتھ ذكركرے _ اور اس كا انجام سوائے باہمى كدورت اور دائمى جھگڑے كے اور كچھ نہ ہوگا _ ايك شادى شدہ مرد كے لئے يہ بات نہيں قابل شرم ہے كہ وہ دوسرى عورتوں پر نظر ركھے اور ان ميں دلچسپى لے _

كس قدر بدبخت اور نادان ہيں وہ لوگ جو اپنى پاكدامن اور باعصمت اور محبت كرنے والى معصوم بيويوں كو چھوڑكر، چند لمحوں كى عيش كوشى كى خاطر، آوارہ وہر جائي عورتوں كے پيچھے پھرتے ہيں _ اس قسم كے مرد در اصل انس و محبت اور خاندان كى صميميت و صفائي سے بالكل نابلد ہوتے ہيں وہ جانوروں كى مانند سوائے كھانے پينے ، سونے اور شہوت كے كے اور كچھ نہيں جانتے _ انسانيت اورجذبات و احساسات سے يكسر عارى ہوتے ہيں _

سپاس گزار بنيئے

ممكن ہے بعض مردوں كو گھر كے كام ذرا بھى اہم معلوم نہ ہوتے ہوں ليكن اگر ذرا بھى انصاف سے كام ليں تو اعتراف كرنا پڑے گا كہ گھر كے كام دشوار اور بہت تھكادينے والے ہوتے ہيں ايك گھريلو خاتون اگر شب و روز گھر كے كام كرے تب بھى بعض كام كسى حد تك پڑے رہ جاتے ہيں _ كھانا پكانا ، گھر كى صفائي ، كپڑے دھونا ، استہرى كرنا، برتن دھونا ، گھر كا سامان ٹھيك ٹھاك كرنا، اور سب سے بڑھ كر بچوں كى پرورش اور نگہداشت آسان كام نہيں ہيں _ وہ بھى ايك ، ايك خاتون خانہ حقيقتاً گھر ميں شديد زحمت برداشت كرتى ہے _


مرد سمجھتا ہے وہ غذا جو دن ميں تين با رپكى پكائي اس ك سامنے آجاتى ہے يوں ہى بڑى آسانى سے تيار ہوجاتيہے يا گھر كے مختلف چھوٹے بڑے كام خودبخود انجام پاجاتے ہيں _ بچوں كى پرورش اور ديكھ بھال كو تو كچھ شماررہى نہيں كيا جاتا_

اگر مرد گھر ميں ايك مہينہ رہ كر گھر كے تمام امور اور بچوں كى نگہداشت و پرورش كى ذمہ دارى لے اس وقت اس كو ان كاموں كى اہميت معلوم ہوگى اور بيوى كى طاقت فرسا زحمات كا اندازہ ہوسكے گا _ بيوى ان تمام زحمتوں كو برداشت كرتى ہے اور كوئي شكايت بھى نہيں كرتى ليكن شوہر سے اس بات كى توقع ضروركرتى ہے كہ اس كى زحمتوں كى قدر كرے اور اس كا ممنو ن ہو _ وہ چاہتى ہے كہ شوہر ہميشہ اس پر توجہ كرے اور اس كے ذوق و سليقہ كو قدر كى نگاہ سے ديكھے _

برادرعزيز جس وقت آپ قرينے سے سجے سجائے ، صرف ستھرے گھر ميں داخل ہوتے ہيں اگر اس وقت اپنى بيوى كے ذوق و سليقہ اور زحمات كى تعريف كرديں تو كيا ہرج ہوجائے گا ؟ اگر كبھى كبھى اس كے تيار كئے ہوئے لذيذ كھانوں كى تعريف كرديں تو آپ كا كيا چلا جائے گا _ كيا ہرج ہے اگر بچوں كى پرورش اور نگہداشت كے موضوع كو ، جو كہ حقيقتاً بہت سخت ، ليكن بہت اہم كام ہے ،اہميت ديں اور كبھى كبھى اس كے اس صبر آزما اوركٹھن كام كا شكريہ ادا كرديا كريں؟ آپ اس نكتہ سے غافل ہيں كہ آپ كا اظہار تشكر اس ميں كتنى ہمت اور حوصلہ پيداكردے گا _ اور اس كو مزيد كام ، كوشش اور فداكارى كے لئے آمادہ كردے گا _ اگر آپ اپنى بيوى كے كاموں پر ذرا بھى توجہ نہ كريں اور ان كو معمولى ظاہركريں تو رفتہ رفتہ گھر كے كاموں سے اس دلچسپى كم ہوجائے گى _ اپنے دل ميں سوچے گى كہ جس گھر ميں اس كے كسى كام كى قدر نہ ہو وہاں زحمتيں اٹھانے سے كيا فائدہ _ ايك وقت آئے گا جب كسى كام ميں اس كا دل نہيں لگے گا _ اس وقت آپ داد و فرياد كريں گے كہ ميرى بيوى كسى كام ميں دلچسپى نہيں ليتى _ يہ نہيں كرتى وہ نہيں كرتى _ يہ كام پڑارہ گيا وغيرہ


اگر يہ نوبت آگئي تو سمجھ ليجئے خود اپنے كئے كا كوئي علاج نہيں _ قصور خود آپ كا ہے كہ آپ زن دارى ، كے طور طريقوں سے ناواقف ہيں _ اگر ايك غيرآدمى آپ كامعمولى سا كا م كرديت ہے تو آپ باربار اس كا شكريہ ادا كرتے ہيں ليكن اپنى بيوى كى رات دن كى زحمتوں كى طرف سے غافل ہيں اور اس بات كے لئے تيار نہيں كہ مفت ہيں ، شكريہ كا ايك لفظ بول كر اس كا دل شاد كركے اس كى سارى تھكن دوركرديں _

ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے

ايك ۲۹ سالہ گھريلو خاتون تہران سے لكھتى ہے : ميرا شوہر بڑا حق ناشناس ہے صبح سے شام تك زحمتيں اٹھاتى ہوں _ برتن اور كپڑے دھونے اور كھانا پكانے سے لے كر گھر كى صفائي و سجاوٹ ، اس كے اور بچوں كے كپڑوں كى سلائي و غيرہ تك سب كام ميں تنہا انجام ديتى ہوں ،جب گھر آتا ہے تو كسى چيز پر توجہ ہى نہيں ديتا اور اپنے رويے سے ايسا اظہار كرتا ہے گويا ميں نے اب تك كوئي كام ہى نہيں كيا ہے _ استرى كئے ہوئے كپڑے، صاف ستھرى ٹائي ، پالش كئے چمچماتے جوتے اس كے لئے تيار ركھتى ہوں _ ليكن كبھى شكريہ كا ايك لفظ اس كے منھ سے نہيں نكلتا _ اگر ميں خود كچھ بيان كروں تو سختى سے ميرى بات منقطع كركے جھڑك ديتا ہے اور كہتا ہے اچھا اپنے كاموں كو اتنا بڑھا چڑھا كے بيان نہ كرو _ آخر كون سا ايسا بڑا كام انجام ديا ہے ؟ آسمان سے تارے توڑلائي ہو يا كوہ دماوند كى چوٹى فتح كرلى ہے ؟ حالانكہ ميرى محنت و مشقت اور سليقے كى وجہ سے ہى گھر كى ساكھ بنى ہوئي ہے _(۲۳۸)

بعض مرد ، بيوى اور اس كے كاموں كى طرف سے بے اعتنائي برتنا، مرد انگى سمجھتے ہيں اور كہتے ہيں كہ اگر بيويوں كى تعريف كى تو سرپر چڑھ جائيں گى _ بعض مردوں كا خيال ہے كہ غيروں كا شكريہ ادا كيا جاتا ہے _ مياں بيوى كے درميان ان چونچلوں كى كيا ضرورت ہے ، حالانكہ يہ خيال بالكل غلط ہے _ كيونكہ ہر احسان كرنے والا ، نفسياتى طور سے قدرداني


كا خواہشمند ہوتاہے _ قدردانى تشويق كاباعث بنتى ہے خصوصاً گھريلو خواتين كو گھر كے ہرروز وہى تھكادينے والے كام انجام دينے كے سلسلے ميں سب سے زيادہ قدردانى كى ضرورت ہوتى ہے _ يہى وجہ ہے كہ دين مبين اسلام ميں تشويق اور سپاس گزارى كو اچھے اخلاق ميں شمار كيا جاتا ہے _

امام صادق (ع) فرماتے ہيں :جو شخص كسى مسلمان كى ستائشے كرتا ہے خداوند عالم قيامت تك اس كى ستائشے لكھتا ہے _(۲۳۹)

پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں : جو شخص كسى مسلمان كا احترام كرتا ہے اور خوش خلقى كے ساتھ اسكى دلجوئي كرتا ہے اور اس كے رنج و غم كو برطرف كرتا ہے ، وہ ہميشہ خدا كى رحمت كے سائے ميں رہے گا _(۲۴۰)

گھر ميں بھى صاف ستھرے رہئے

صفائي كا خيال ركھنا ، ہر ايك كے لئے اور ہر جگہ ضرورى ہے _ انسان كو چاہئے اپنا بدن اور لباس صاف ستھراركھے _ برابر نہائے _ ہر روز صابن سے منھ ہاتھ دھوئے _دانتوں ميں برش كرے _ بالوں ميں كنگھى كرے _ سراورداڑھى كے بال نبائے _ ہر روز اپنے پير دھوئے تا كہ بدبونہ آئے _ صاف موزے پہنے _ صاف ستھرے كپڑے پہنے ، اپنى مالى استطاعت كے مطابق اچھا لبا س پہنے _

اسلام ميں اچھے اور صاف ستھرے لباس پہننے كى بہت تاكيد كى گئي ہے _ حضرت رسول خدا (ص) كا ارشاد گرامى ہے _ صفائي ، ايمان كا جزو ہے _(۲۴۱)

پيغمبر اسلام (ص) نے ايك شخص كو الجھے بالوں ، برى وضع اور كثيف حالت ميں ديكھا تو فرمايا: خدا كى نعمتوں سے استفاد ہ كرنا ، دين كا جزوہے _(۲۴۲)

پيغمبر گرامي(ص) فرماتے ہيں :گندہ آدمى ، برابندہ ہوتا ہے _(۲۴۳)

پيغمبر گرامى (ص) كا يہ بھى ارشاد ہے كہ : جبرئيل (ع) نے مسواك كے بارے ميں مجھ سے اس قدر سفارش كى ہے كہ ميں اپنے دانتوں كى طرف سے بہت متفكر رہتا ہوں _(۲۴۴)


حضرت على (ع) فرماتے ہيں : خدا خود زيبا ہے اور زيبائي كو پسند كرتا ہے اور اپنى نعمتوں كے آثار اپنے بندوں ميں ديكھنا پسند كرتا ہے _(۲۴۵)

پاكيزگى اورخوبصورتى صرف عورتوں سے مخصوص نہيں ہے بلكہ مرد كو بھى اپنى وضع قطع ٹھيك ركھنى چاہئے _ صاف ستھر اور سليقے سے رہنا چاہئے _ بہت سے مرد اپنے لباس اور صفائي كى طرف بالكل توجہ نہيں ديتے _ ديردير ميں نہاتے ہيں _ سر اور داڑھى كے بال برھ گئے تو كوئي فكر نہيں _ گندے لباس اور الجھے بالوں كے ساتھ گھر اور باہر گھومتے رہتے ہيں ان كے پسينے اورپاؤں كى بدبو دوسرے لوگوں كے لئے پريشانى كا باعث بنتى ہے _البتہ بہت سے لوگ صاف ستھرا اور عمدہ لباس پہننے اور بننے نور نے كے توشوقين ہوتے ہيں مگر صرف گھر كے باہر، دوسرے لوگوں كے سامنے _ ليكن گھر ميں اس چيز كا ذرا بھى لحاظ نہيں ركھتے _ جب باہر ، آفس ، بازار يا كسى محفل ميں جانا ہوتا ہے تو خوب بنتے سنورتے ہيں اور بہترين لباس پہن كر گھرسے باہر نلكتے ہيں ليكن گھر واپس آتے ہى استرى كئے قيمتى لباس كو فوراً اتاركر ميلے كچيلے كپڑے پہن ليتے ہيں _ ايسا كم ہى اتفاق ہوتا ہے كہ گھر ميں بھى آرائشے و زيبائشے كا خيال ركھيں _ صبح سوكر اٹھے تو يونہى الجھے بالوں اور چيپڑلگى آنكھوں كے ساتھ ناشتہ كرنے بيٹھ گئے _ اگر اتفاق سے دو ايك روز گھر سے باہر جانانہ ہو ا تو اسى طرح عجيب و غريب حليہ بنائے رہيں گے اور گھر ميں اس طرح رہيں گے گويا كسى كى ان پر نظر ہى نہيں پڑے گى _ صفائي اور آرائشے و زيبائشے تو فقط گھر سے باہر دوسرے لوگوں كے لئے كى جاتى ہے _ اپنے گھر والوں سے كوئي مطلب نہيں

برادر عزيز جس طرح گندى ، ميلے كچيلے كپڑے پہنے بيوى آپ كو اچھى نہيں لگتى اور آپ چاہتے ہيں كہ آپ كى بيوى گھر ميں صاف ستھرى اچھى حالت سے رہے تويقين مانئے وہ بھى آپ سے يہى توقع ركھتے ہے _ اسى بھى بد وضع شوہر اچھا نہيں لگتا _ وہ چاہتى ہے كہ اس كا شوہر ہميشہ صاف ستھرا اسمارٹ نظر آئے _


اگر آپ گھر ميں خراب حليہ بنائے رہيں گے اور آپ كى بيوى باہر اسمارٹ ، صاف ستھرے مردوں كو ديكھے گى تو سوچے گى كہ يہ مرد كسى دوسرى دنيا سے آئے ہيں _ جب آپ كا ان سے مقابلہ كرے گى تو رنجيدہ ہوگى _ آپ گھر ميں صاف ستھرے عمدہ لباس پہن كررہئے تا كہ آپ كى بيوى سمجھے كہ آپ بھى دوسروں كم نہيں ہيں اور اس كى محبت ميں اضافہ ہو اور اس كا دل خوش رہے اور گھر سے اس كى دلچسپى قائم رہے _ اورگمراہ ہونے سے محفوظ رہے _ اصولى طور پر غير مردوں اور گلى كو چوں كى عورتوں كے لئے زينت كرنے سے آپ كو كيا فائدہ ہوگا ؟ ان سے آپ كو كيا مطلب _ البتہ بيوى كے سامنے ، جو كہ آپ كى شريك زندگى ہے ، اور آپ كو اس كى محبت كى ضرورت ہے _ اچھى وضع قطع سے رہنا ، خود آپ كے مفاد ميں بھى ہے _ در اصل مياں بيوى دونوں كے دلى سكون و چين سے ہى گھر ميں خوشگوار فضا قائم رہ سكتى ہے _

يہى وجہ ہے كہ دين مبين اسلام ميں مردوں كو تاكيد كى گئي ہے كہ اپنى بيويوں كے لئے آرائشے و زينت كريں _

پيغمبر اسلام(ص) فرماتے ہيں : كہ مرد پر واجب ہے كہ اپنى بيوى كى غذا اور لباس كا انتظام كرے اور برى وضع قطع سے اس كے سامنے نہ آئے _ اگر اس نے ايسا كيا تو گويا اس كا حق ادا كيا ہے _(۲۴۶)

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں :مردوں كو چاہئے اپنى بيوى كے سامنے قاعدے سے اور اچھے وضع قطع سے رہيں _ جس طرح سے كہ وہ پسند كرتے ہيں كہ ان كى بيوياں ان كے لئے بنيں سنوريں _(۲۴۷)

حسن بہ جہم كہتے ہيں : حضرت ابوالحسن (ع) كوميں نے ديكھا كہ خضاب لگائے ہوئے ، ميں نے عرض كيا آپ نے خضاب لگايا ہے ؟ فرمايا : ہاں ،قاعدے سے اچھى طرح رہنا ، عورتوں كى عفت كا باعث ہوتا ہے _ اور مردوں كا برے حلئے سے ، بدوضع طريقے سے رہنا ، سبب بنتا ہے كہ عورتيں اپنى عفت كو بيٹھيں _ پھر فرمايا : كيا تم كو اپنى بيوى كو برى وضع قطع ميں ديكھنا اچھا لگے گا؟ ميں نے كہا نہيں _ فرمايا وہ بھى بالكل تمہارى جيسى ہوتى ہيں _(۲۴۸)

امام رضا (ع) فرماتے ہيں : بنى اسرائل كى عورتيں اسى وجہ سے اپنى عفت و عصمت گنوابيٹھى تھيں كيونكہ ان كے مرد اچھى طرح قاعدے سے رہنے اورخوبصورتى كا لحاظ نہيں ركھتے تھے _

پھر فرمايا : جس بات كى توقع تم اپنى بيوى سے كرتے ہو ، ويسى ہى توقع وہ تم سے كرتى ہيں _(۲۴۹)


اپنى بيوى كى تيماردارى كيجئے

مياں بيوى كو ہميشہ ايك دوسرے كے تعاون اوراظہار محبت كى ضرورت ہوتى ہے ليكن يہ ضرورت بعض موقعوں پر شديد تر ہوجاتى ہے _ انسان كو بيمارى اور پريشانى كے موقع پرہميشہ سے زيادہ توجہ اور دلجوئي كى ضرورت ہوتى ہے _ بيمار كے لئے جس قدر ڈاكٹر اور دوا ضرورى ہے اسى قدر بلكہ اس زياد توجہ اور تيمار دارى كى ضرورت ہوتى ہے _ تسلى و تشفى اور نوازش سے بيمار كے اعصاب كو سكون ملتا ہے _ اور يہ چيز اسے جينے كا حوصلہ عطا كرتى ہے _ بيوى بيمارى كے موقع پر اپنے شوہر سے متمنى ہوتى ہے كہ وہ اس كا علاج كرائے اور ماں باپ سے بڑھ كر اس كى تيماردارى كرے _ اس كى نوازشيں اور ہمدردياں ،محبت و خلوص كى علامتيں سمجھى جاتى ہيں _ ايك بيوى جو رات دن ايك خادمہ كى مانند گھر كے تمام كام انجام ديتى ہے اور زحمتيں اٹھاتى ہے ، بيمارى كے موقع پر اپنے شوہر سے اس بات كى توقع كرنے ميں حق بجانب ہے كہ وہ اس كے علاج معالجہ كے لئے تگ ودو كرے اس كى تيماردارى كرے _

ڈاكٹر اور دوا كا خرچہ ، زندگى كى ان ضروريات او رنفقہ ميں شامل ہے جس كا انتظام كرنا شوہر پرواجب ہے _

وہ عورت جو شب و روز بغير كسى اجرت كے گھر ميں زحمت اٹھاتى ہے كيا اس بات كى حقدار نہ ہوگى كہ بيمارى كے موقعہ پر شوہر اس كے دوا علاج پر روپيہ پيسہ خرچ كرے؟


بعض مرد اس سلسلے ميں ذرا بھى انصاف سے كام نہيںليتے ايسے مرد جذبات سے عارى ہوتے ہيں _

جس وقت ان كى بيوى صحيح و سالم ہوتى ہے زيادہ سے زيادہ اس كے وجود سے استفادہ كرتے ہيں ليكن جب بيمار ہوجاتى ہے تو اس كى صحت يابى كے لئے دواعلاج پر روپيہ خرچ كرنے ميںان كى جان پر بنتى ہے اور اگر بيمارى طول پكڑگئي يا زيادہ خرچ كرنا پڑے تو اس كو يوں ہى بغير دواج علاج كے چھوڑ ديتے ہيں _

كيا رسم وفا ہى ہے ؟ كيا مردانگى كا تقاضا يہى ہے ؟

ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے

ايك عورت نے اپنے شوہر كے خلاف شكايت درج كراتے ہوئے بتايا كہ ميں نے مدتوں اچھے برے ہر حال ميں اپنے شوہر كا ساتھ نبھايا اور نہايت توجہ كے ساتھ اس كى خدمت كى _ اب جبكہ ميں بيمارہوگئي ہوں مجھكو گھر سے باہر نكال ديا اور كہتا ہے كہ مجھے بيمار بيوى نہيں چاہئے _(۲۵۰)

برادرعزيز اگر آپ كو اپنے خاندان سے تعلق خاطر ہے تو جب آپ كى بيوى بيمار ہوجائے تو اسے فوراً ڈاكٹر كے پاس لے جايئے ضرورى دوائيں فراہم كيجئے _ ڈاكٹر اور دوائيں ہى كافى نہيں ہيں بلكہ ايسے موقعہ پر مہربان والدين كى مانند اس كى تيمار دارى كيجئے _ وہ اپنے ماں باپ كو چھوڑ كر آپ كے پاس آئي ہے اس اميد كے ساتھ اس نے اپنے آپ كو آپ كے سپرد كرديا ہے كہ آ پ اس ماں باپ سے زيادہ اس كے لئے مہربان ثابت ہوں گے _ وہ آپ كى شريك زندگى ، آپ كے بچوں كى ماں ، اور آپ كى يارومددگار ہے ، بيمارى كے وقت پہلے سے زيادہ اس سے اظہار محبت و ہمدردى كيجئے _ تكليف كى شدت سے كراہتى ہے يا چيختى چلّاتى ہے تو غصہ نہ كيجئے بلكہ افسوس ظاہر كيجئے _ اس كى تسلى و تشفى كى باتيں كيجئے _ اس كو اميد دلايئے ڈاكٹر نے اس كے لئے جو غذائيں تجويز كى ہوں ان كو فراہم كيجئے _ اگر


كسى خاص غذا يا پھل سے رغبت ركھتى ہو اور ڈاكٹر نے منع نہ كيا ہو تو جس طرح سے بھى ممكن ہو سكے اس كے لئے مہيا كيجئے _ اپنے ہاتھ سے دوا اور كھانا كھلايئےيونكہ آپ كا يہ فعل اسكى خوشى اور اس كے اعصاب كو تقويت پہونچانے كا باعث بنے گا _ بچوں كى نگرانى كيجئے وہ شور نہ مچائيں _ اپنا بستر اس كے بستر كے قريب بچھايئےور رات كو پورى طرح اس كى ديكھ بھال كيجئے _ رات ميں اٹھ كر اس كى خبر گيرى كيجئے اگر بيدا رہو تو اس كى احوال پرسى كيجئے _ اگر شدت تكليف سے اسے نيند نہ آرہى ہو تو آپ بھى حتى المقدور جاگتے رہنے كى كوشش كيجئے _ اگر آپ سوئيں تو ايك بچے يا نرس كى ڈيوٹى لگا ديجئے تا كہ ہميشہ اس كے پاس ايك آدمى جاگتا رہے اور اس كى ديكھ بھال كرتا رہے _ ايسا نہ ہو كہ آپ تو پورى رات چين سے سوتے رہيں اور آپ كى بيوى شدت تكليف سے كراہتى رہے _

اگر آپ نے ايسے نازك موقعہ پر اپنى بيوى كى پورى طرح ديكھ بھال كى اور ايك محبت كرنے والے شوہر كا فرض ادا كيا تو چيز اس كو حوصلہ علا كرے گى آپ كى محبت و وفادارى پر اسے يقين كامل ہوجائے گا اور آپ سے اس كى محبت ميں مزيد اضافہ ہوجائيگا صحت ياب ہونے كے بعد پہلے سے زيادہ و دلبستگى كے ساتھ گھر كے فرائض انجام دے گى آپ كى محبت و نوازش كو ہرگز فراموش نہيں كرے گى _

پيغمبر اسلام(ص) فرماتے ہيں : تم بہترين شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں كے لئے اچھا ہو _ ميں اپنے اہل خاندان كى نسبت سب سے بہتر ہوں _(۲۵۱)

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں : جو شخص كسى بيمار كى صحت يابى كے لئے كوشش كرے خواہ وہ اپنى كوشش ميں كامياب ہويا نہ ہو ، اپنے گناہوں سے اس طرح پاك ہوجائے مثل اس روز كے جب ماں كے پيٹ سے پيدا ہواتھا _ ايك انصارى نے پوچھا ، يا رسول اللہ ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر مريض خود اس كے گھر والوں


ميں سے ہوتو كيا ، زيادہ ثواب نہ ہوگا ؟ فرمايا: كيوں نہيں(۲۵۲)

خاندان كے اخراجات

بيوى كا نان و نفقہ شوہر پرواجب ہے يعنى قانونى اور شرعى طور سے مرد اس بات كا ذمہ دار ہے كہ خاندان كے تما م اخراجات ، يعنى پوشاك ، خوراك ، مكان حتى ڈاكٹر كى فيس اور دوا كا انتظام كرے اور اگر اس نے اس ذمہ دارى كو پورا نہ كيا يا كوتاہى كى توشرعى اور قانونى لحاظ سے وہ اس امر كا جواب وہ ہوگا _ بيوى بچوں كو ہميشہ يہ كہہ كرٹالا نہيں جا سكتا كہ ''ميرے پاس نہيں ہے '' انھيں ہر حال ميں چاہئے انكى خواہشوں اور مطالبات كى حد و انتہا نہيں ہوتى _ رقابت كى حس ، ان ميں بہت قوى ہوتى ہے _ اسى لئے مرد بے چون و چرا ان كے تمام مطالبات پورے نہيں كرسكتا اور نہ ہى ايسا كرنا مناسب ہے _

عقلمند مرد گھر كے تمام اخراجات كاحساب لگاتا ہے _ لوازم زندگى كى ضرورت كے مطابق درجہ بندى كرتا ہے _ زندگى كى اولين ضروريات مثلاً خوراك و پوشاك كو سب چيزوں پر فوقيت ديتا ہے _ اپنى آمدنى كا كچھ حصہ آڑے وقت كے لئے بچاكرركھتا ہے _ آمدنى كا كچھ حصہ مكان كے كرايہ كے لئے يا مكان خريدنے كے لئے جمع كرتا ہے كچھ حصہ بجلى ، پانى ٹيليفوں، ٹيكس اور بچوں كى اسكول فيس و غيرہ كے لئے ركھتا ہے _ گھر كے ضرورى سازوسامان كو بھى مد نظر ركھتا ہے اور سارى ضرورى چيزوں كيلئے اپنى آمدنى كے مطابق بجٹ بناتا ہے _ اسراف و فضول خرچى سے گريز كرتا ہے _

ايك مدبر انسان اپنى چادر كے مطابق پير پھيلانے كى كوشش كرتا ہے ہر وہ خاندان جو اپنى آمدنى اوراخراجات كا بجٹ بناليتے ہيں اور عقل و تدبر كے ساتھ اپنى آمدنى كا لحاظ كركے خرچ كرتے ہيں وہ نہ صرف يہ كہ قرض لينے يا ديواليہ ہوجانے كى مصيبت سے محفوظ رہتے ہيں بلكہ جلدى ہى اپنى خوشحالى اور بہتر زندگى كے اسباب فراہم كرليتے ہيں _

خداوند كريم نے اقتصاديات اور ميانہ روى كو ايمان كى علامت قرارديا ہے _ قرآن مجيد ميں فرماتاہے : جو لوگ اس طرح خرچ كريں كہ نہ اسراف كريں اور نہ بخل سے كام ليں وہ لوگ


اعتدال پسند ہوتے ہيں _(۲۵۳) امام صادق (ع) فرماتے ہيں : جو شخص اپنى آمدنى كا لحاظ ركھئے ميں ضمانت ليتا ہوں كہ وہ كبھى فقير نہيں ہوگا _

امام جعفر صادق (ع) ايك اور موقع پر فرماتے ہيں : چار قسم كے لوگوں كى دعا قبول نہيں ہوتى ان ميں سے ايك وہ ہيں جو اپنا مال بيكار تلف كرتے ہيں اور پھر كہتے ہيں كہ اے خدا مجھ كو روزى عطا كر ،پس خدا فرماتا ہے كيا ميںنے تم كو حكم نہيں ديا تھا كہ اخراجات پر كنٹرول كرو _(۲۵۵)

عبداللہ بن ابان كہتے ہيں : ميں نے امام موسى كاظم (ع) سے خاندان پر بخشش كے متعلق سوال كيا _ فرمايا : اسراف اور كم خرچ كرنا دونوں مكروہ ہيں _ ميانہ روى سے كام لينا چاہئے _(۲۵۶)

عقلمند اور عاقبت انديش انسان ، حتى الامكان قرض لينے اور قرض پر سامان خريد نے سے پرہيز كرتے ہيں _ اور غير ضرورى مصارف كے لئے اپنے آپ كو قرض كے بوجھ تلے نہيں دبا تے _ وہ پيسہ جو بينكوں يا دوسرے اداروں سے سود كى شرح پر قرض لے كر فراہم كيا جائے شرعى اور عقلى اعتبار سے پسنديدہ نہيں ہے _

قسطوں پر چيزيں خريدنا ، اگر چہ ممكن ہے زندگى كو بظاہر پر كشش بنادے ليكن در حقيقت خاندان كى خوشى اور سكون كو سلب كرنے كا باعث بنتاہے _ قسطوں پر مكان ، قسطوں پر فريج ، قسطوں پرٹى وى ، قسطوں پر كار، قسطوں پر ٹيليفون ، قسطوں پر قالين و غيرہ و غيرہ _ يہ كوئي زندگى ہوئي ؟ آخر ايسا كيا ضرورى ہے كہ انسان غير ضرورى اشياء كو زيادہ قيمتوں پر خريد ے اور قسطيں ادا كرنے كے لئے اپنى آمدنى كا ايك حصہ بينكوں اور دوسرے اداروں كے فنڈميں بھرے _ كيا يہ بہتراور زيادہ مفيد نہ ہوگا كہ ذرا صبر سے كام لے كہ مالى حالت كچھ بہتر ہوجائے اس كے بعد وہى چيزيں كم قيمت پر نقد ادا كركے خريد لے ؟

يہ درست ہے كہ روپيہ پيدا كرنا مشكل كام ہے اور انسان كى زندگى پر اس كا بہت اثر پڑتا ہے ليكن اس سے اہم بات روپيہ كو صحيح طريقے سے خرچ كرنا ہے _ بہت سے ايسے خاندان ہوتے ہيں جو اپنے اچھى آمدنى كے باوجود ہميشہ پريشان اور مقروض رہتے ہيں _


اس كے برعكس بہت سے ايسے لوگ بھى ہوتے ہيں جو اپنى معمولى آمدنى كے باوجود نہايت سكون و اطمينان كے ساتھ آبرومندانہ طريقے سے زندگى گزارتے ہيں ان كى حالت ہر لحاظ سے اچھى اور اطمينان بخش ہوتى ہے _

ان دونوں قسم كے گروہوں ميں فرق يہى ہے كہ اپنى آمدنى كو كس طرح سے خرچ كرتے ہيں _ لہذا خاندان كى فلاح و بہبودى اسى نكتہ ميں مضمر ہے كہ مرد نہايت احتياط اور عقلمندى كے ساتھ يا تو ذاتى طور پر گھر كے اخراجات چلانے كى ذمہ دارى لے اوراگر خريد و فروخت كا كام كسى دوسرے كے سپردے تو اس كى نگرانى كرے _

آخر ميں ايك نكتے كا ذكر كرنا ضرورى معلوم ہوتا ہے كہ اگر چہ احتياط سے خرچ كرنا اچھى بات ہے اور خاندان كے مفاد ميں ہے ليكن سخت گيرى بھى اچھى چيز نہيں ہے _ اگر مرد كى مالى حالت اچھى ہے تو اسے چاہئے كہ اپنے بيوى بچوں پر اچھى طرح خرچ كرے _ اپنى آمدنى كے مطابق ان كے عمدہ لباس خوراك اور آرام وہ رہائشے كا بند و بست كرے _

مال و دولت خرچ كرنے اور زندگى كى ضروريات مہيا كرنے كے لئے ہوتى ہے نہ كہ محض جمع كرنے اور اپنے پيچھے باقى چھوڑ دينے كے لئے _ انسان كى زندگى سے اور اس كى بيوى بچوں كے رہن بہن اور غذا و لباس سے اس كى دولت و ثروت كا اظہار ہونا چاہئے _

آخر اس سے كيا فائدہ كہ مرد دن رات محنت كرے اور خوداپنے آپ كو اور اپنے خاندان كو سختى ميں ڈالے ركھے اور مال وپونچى جمع كركے اس دنيا سے رخصت ہوجائے جب تك زندہ رہے بيوى بچے عمدہ غذا اور اچھے لباس كے لئے ترستے رہيں اور غذائي كمى كے سبب ہميشہ بيمار يا كمزور رہيں اور اس كے مرنے كے بعد دولت كى تقسيم ميں آپس ميں لڑيں جھگڑيں _

اگر خدا نے انسان كودولت كى نعمت عطا كى ہے تو اسے چاہئے كہ اپنى آمدنى كے مطابق اپنے خاندان كا معيار زندگى بہتر بنائے_ ان كے لئے قيمتى لباس اور غذا كا انتظام كرے اپني


آمدنى كے مطابق ہر فصل كے پھل ان كے لئے فراہم كرے _

پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں: وہ شخص ہم سے نہيں ہے جو مال و دولت كے اعتبار سے خوشحال ہو ليكن اپنے بيوى بچوں پر سخت گيرى كرے _(۲۵۷)

حضرت موسى بن جعفر (ع) فرماتے ہيں : مرد كے اہل و عيال اس كے پاس اسير كى مانند ہوتے ہيں پس خدا نے اس كو جو كچھ نعمت عطا كى ہے اسے چاہئے كہ اپنے اسيروں پر فراخدلى سے خرچ كرے _ ورنہ ممكن ہے خدا اس سے نعمتيں چھيں لے _(۲۵۸)

امام رضا (ع) فرماتے ہيں: مناسب يہ ہے كہ مرد اپنے اہل و عيال پر اچھى طرح خرچ كرے تا كہ وہ اس كى موت كا انتظار نہ كريں _(۲۵۹)

امير المومنين حضرت على (ع) فرماتے ہيں : ہر جمعہ كو اپنے اہل و عيال كے لئے پھل مہيا كرو تا كہ وہ لوگ جمعہ كے آنے سے خوش ہوں _(۲۶۰)

گھر كے كاموں ميں اپنى بيوى كى مدد كيجئے

يہ صحيح ہے كہ گھر كے كاموں كى ذمہ دارى عورتوں پر ہوتى ہے اور انھيں اس سے انكار بھى نہيں ہے _ ليكن اس بات كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ امور خانہ دارى آسانى كام نہيں ہے _

گھر كے كام اتنا زيادہ ہوتے ہيں كہ ايك گھريلو خاتون شب و روز گھر كے كام انجام ديتى ہے اس كے بعد بھى بہت سے كام باقى رہ جاتے ہيں خصوصاً بعض خلاف معمول موقعوں پر مثلاً مہمانوں كى آمد سے كام بڑھ جاتے ہيں اور خاتون خانہ كو بيحد تھكاديتے ہيں _

گھر كے كام انجام دينے سے بيوى كوانكار نہيں مگر وہ اپنے شوہر سے اس بات كى ضرور متمنى رہتى ہے كہ كبھى كبھى وہ اس كى مدد كرديا كرلے _

جس وقت مرد گھر ميں داخل ہو اور ديكھے كہ اس كى بيوى ہر طرف سے كاموں ميں گھرى ہوئي ہے تو يہ مناسب نہيں كہ خود جاكر ايك گوشے ميں آرام كرے اور اس بات كا انتظاركرے


اس كى بيوى فوراً چائے ناشتہ لے كر حاضر ہوگى _ بلكہ محبت ، انسانيت اور خاندانى صلح وصفائي كا تقاضہ يہ ہے كہ ايسے موقع پر اپنى بيوى كى مدد كو بڑھے اور جو كام انجام دے سكتا ہو اسے كرے _

يہ كوئي مردانگى كى بات نہيں ہے كہ گھر ميں كسى كام ميں ہاتھ نہيں لگائيں بلكہ بيٹھے بيٹھے حكم چلاتے رہيں اور اعتراضات اور روك ٹوك كرتے رہيں _

گھر كوئي كمانڈہيڈكوارٹر نہيں ہے بلكہ محبت و خلوص كا مركز ، باہمى تعاون اور ہم آہنگى كى جگہ ہے _ يہ نہ سوچئے كہ اگر ميں گھر ميں كام كروں گا تو ميرى عظمت و بزرگى ميں كمى آجائے گى اور ميرا رعب و دبدبہ كم ہوجائے گا _ جى نہيں يہ خيال بالكل غلط ہے بلكہ آپ كا يہ طرز عمل آپ كى بيوى كى نظروں ميں آپ كى قد رو منزلت بڑھادے گا اور دوسرے بھى آپ كو مہربان اورہمدرد انسان تصور كريں گے _ پيغمبر اسلام (ص) اپنى اتنى عظمت و بزرگى اور اعلى مقام كے باوجود گھر ميں كام كرتے تھے _(۲۶۱)

سروركائنات(ص) كى زوجہ حضرت عائشےہ كہتى ہيں : جب رسول خدا (ص) كو فرصت ہوتى تو اپنا لباس خود سيتے تھے اپنے جوتوں كى مرمت كرتے تھے اوردوسرے عام مردوں كى طرح گھر ميں كام كرتے تھے _(۲۶۲)

اسى طرح حضرت على بن ابى طالب (ع) اور دوسرے ائمہ معصومين (ع) ، امور خانہ دارى ميں اپنى بيويوں كى مدد كرتے تھے _

گھر جلدى آيا كيجئے

مرد جب تك شادى نہيں كرتا آزاد ہے _ چاہے گھر ديرسے آئے يا جلدى _ ليكن جب شادى كرلے تو اس كو اپنا پروگرام ضرورتبديل كرنا چاہئے اور جلدى گھر آنا چاہئے _

شوہر كو يہ بات مد نظر ركھنا چاہئے كہ اس كى بيوى صبح و شام تك گھر ميں زحمت اٹھاتى رہتى ہے _ گھر كے كام انجام دے كر ، كھانا پكاكر، كپڑے دھوكر، اور گھر كو صاف ستھرا كركے اب اپنے شوہر كى منتظر ہے كہ اس كا شوہر آئے تو دونوں ساتھ بيٹھ كرباتيں كريں _ او رانس و محبت كى لذت سے محفوظ ہوں _ بچے بھى باپ كے منتظر رہتے ہيں _ يہ چيز انسانيت اورانصاف سے


بعيد ہے كہ مرد رات كو سيرو تفريح كے لئے يا كسى دوست كے يہاں وقت گزارنے يا گپ لڑانے كے لئے چلا جائے اور بيچارى بيوى اور بچے اس كے انتظار ميں بيٹھے رہيں ؟

كيا شوہر كا فرض بس اتنا ہى ہے كہ بيوى كو غذا اور لباس فراہم كردے ؟ بيوى شريك زندگى ہوتى ہے نہ كہ بغير تنخواہ واجرت كے خادمہ _ وہ شوہر كے گھر اس لئے نہيں آتى ہے كہ شب و روز محنت مشقت كرے اور بدلے ميں ايك ٹكڑا روئي كھالے _ بلكہ يہ اميد لے كر آئي ہے كہ دونوں دائمى طور پر ايك دوسرے كے مونس و غمگسار اور ساتھى و ہمدرد بن كر زندگى گزار يں گے بعض مرد انسانيت اور جذبات و احساسات سے بالكل عارى ہوتے ہيں اور بالكل انصاف سے كام نہيں ليتے اپنى پاكدامن اور باعصمت بيوى اورمعصوم بچوں كو گھر ميں چھوڑديتے ہيں اور خود آدھى آدھى رات تك گھر سے باہر عياشى اورسير و تفريح ميں گزارديتے ہيں _

وہ روپيہ پيسہ جيے گھر ميں خرچ ہونا چاہئے _ گھر سے باہر تلف كرديتے ہيں _ در اصل ان پيچاروں نے ابھى تك حقيقى محبت و انس كى لذت كو درك نہيں كيا ہے كہ فضول اور بيہودہ عيش و عشرت كو تفريح سمجھتے ہيں _ انھيں ذرا بھى خيال نہيں آتا كہ اس طرز عمل سے وہ اپنى حيثيت و آبرو كو خاك ميں ملائے دے رہے ہيں اور لوگوں كے درميان ايك ہوس باز و آوارہ مشہور ہوجاتے ہيں اپنى بھى مٹى پليد كرتے ہيں اور بيچارے بيوى بچوں كى بھى _ آخر كار تنگ آكر ان كى بيوياں عليحدگى اور طلاق كا مطالبہ كرديتى ہيں اور شادى شدہ زندگى كے تانے بانے بكھر جاتے ہيں _ عبرت كے لئے ذيل كے واقعات پر توجہ فرمايئے

ايك شخص جس نے اپنى كو طلاق دے دى تھى عدالت ميں كہا: شادى كے ابتدائي ايام ميں جوانى كے نشے ميں ہر شب اپنى بيوى كو گھر ميں تنہا چھوڑكر اپنے خراب دوستوں كے ساتھ سيروتفريح اور عيش و عشرت كى خاطر گھر سے باہر چلا جاتا اور صبح كے قريب واپس آتا _ ميرى جوان بيوى نے ميرى ان حركتوں سے عاجز آكر مجھ سے طلاق لے لى _ ہمارے دس بچے تھے _ يہ طے ہو اكہ


مہينے ميں دو مرتبيہ ان كو ديكھوں گا _ كافى دن تك يہ سلسلہ چلتا رہا _ ليكن اب ايك مدت سے وہ مجھ سے مخفى ہوگئے ہيں اور ميں اپنے بچوں كو ديكھنے كے لئے بہت بے چين ہوں _(۲۶۳)

ايك عورت كہتى ہے _ تنہائي سے ميں بے حد عاجز آچكى ہوں _ ميرے شوہر كو ميرى اورميرى جان ليوا تنہائي كا ذرا بھى احساس نہيں ہوتا _ ہر روز آدھى رات تك گھر سے باہر سير وتفريح ميں وقت گزارتا ہے _(۲۶۴)

جناب محترم آپ بيوى بچوں والے ہيں اب آپ كو ہرگز يہ حق نہيں ہے كہ پہلے كى طرح آزادنہ گھومتے پھريں _ اپنے مستقبل اور اپنے خاندان كى فكر كيجئے _ اب آوراہ گردى اورعياشى سے دستبردار ہوجايئے اپنے نامناسب دوستوں سے دامن چھڑا ليجئے _ كام سے فارغ ہوكر سيدھے گھر آيا كيجئے اور اپنے بيوى بچوں كے ساتھ بيٹھٹے _ اور زندگى كا حقيقى لطف اٹھايئے فرض كيجئے آپ اچھے دوستوں كے درميان اٹھتے بيٹھے ہوں اور ان كى محفل ميں وقت گزارتے ہوں ليكن نصف شب تك گھر سے باہر رہنا كسى طرح مناسب نہيں _ آپ كے لئے يہ چيز ہرگز فائدہ بخش نہيں ہوگى بلكہ آپ كى زندگى كو متلاطم كردے گى _

وفادار بنيئے

جب مرد اور عورت رشتہ ازدواج ميں منسلك ہوجاتے ہيں تو ان كى انفرادى زندگى ايك مشترك اجتماعى زندگى ميں تبديل ہوجاتى ہے اس مقدس بندھں كے معنى يہ ہيں كہ مياں بيوى اس بات كا عہد كرتے ہيں كہ آخر عمر تك دونوں ساتھ زندگى گزاريں گے اور دونوں مل كر باہمى طور پر زندگى كا نظم و نسق چلائيں گے اور ايك دوسرے كى مدد كريں گے _ ايك دوسرے كے آرام و آسائس كے لئے كوشش كريں گے ايك دوسے كے مونس و غمخوار اور ساتھى ہوں گے _ جوانى اوربڑھاپے توانائي اور ناتوانى صحت و سلامتى اور دكھ بيمارى ميں ، سختيوں اورخوشحالى ف غرضكہ اچھے برے ہر حال ميں ايك دوسرے كا ساتھ نبھائيں گے _


انسانيت اورشرافت كا تقاضہ ہے كہ مياں بيوى آخر عمر تك اس مقدس پيمان كو نبھاتے ہيں اور زندگى كى مشكلات اور پريشانيوں ميں اپنے عہد كو فراموش نہ كريں _ ايك لڑكى جو عين جوانى اور شباب كے دور ميں ، جبكہ اس كے بہت سے خواستگار ہوتے ہيں ، سب سے دامن جھٹك كر اپنى ہستى كو صرف اپنے شوہر كے لئے مخصوص كردتى ہے اور يہ اميد كرتى ہے كہ سارى زندگى اپنے شوہر كى پناہ ميں بسر كرے گي_ يہ چيز مردانگى كے خلاف ہے كہ عمر ڈھل جانے اور خوبصورتى و شادابى ميں كمى آجانے كے بعد وہ اپنى بيوى كو چھوڑدے اوردوسرى بساط بچھانے يا عيّاشى كرنے كى فكر كرے _

نادارى اور تنگدستى كے وقت بيوى ساتھ نبھاتى رہى اور اس كے گھر ميں زحمتيں اٹھاتى رہى ، كبھى آدھا پيٹ كھيا ، اس اميد ميں كہ ان كى زندگى ميں بھى كبھى اچھے دن آئيں گے اور آخر عمر اطمينان و فارغ البالى سے گزرے گى _ يہ رسم وفا نہيں ہے كہ جب مرد كى مالى حالت بہتر ہوجائے اور كچھ مال ودولت جمع كرلے تو دوسرى بيوى لانے كا سودا سماجائے _ يا بيوى كو گھر ميں چھوڑ كر خود عيش و عشرت اور موج اڑانے لگے _

يہ كون سى انسانيت ہے كہ سلامتى اور توانائي كى حالت ميں بغير كسى تنخواہ و اجرت كے ، بيوى كئي كئي خدمت كاروں كے برابر شوہر كے گھر ميں تنہا زحمت اٹھاتى رہى _ ليكن جب بيماراوركمزور ہوجائے تو اس كو چھوڑكر خود مستى مارنے كى فكر ميں لگ جائے _ حالانكہ ايسے وقت ميں شوہر كا فرض ہے كہ ناتوانى اور كمزورى كى حالت ميں اس كى مدد كرے اور اس سے ہمدردى كرے اسے تسلى دلائي _واقعاً بعض مرد مردانگى اوراحساسات و جذبات سے يكسر مبرا ہوتے ہيں جب ان كى بيوى جوان ، صحيح و سالم اور خوبصورت و شاداب رہتى ہے اس سے پھر پورا استفادہ كرتے ہيں ليكن بعد ميں جب اس كى جوانى اور شادابى ميں كمى آجاتى ہے تو اس كو چھوڑ كر عياشى ميں پڑجاتے ہيں يا نہايت فضول بہانے كركے اس كو


طلاق دے ديتے ہيں

ذيل كے سچے واقعات پر توجہ فرمايئے_

ايك مرد اپنى بيوى كو منحوس كہہ كر طلاق دے ديتا ہے كيونكہ شادى كے بعد اس كے باپ كا انتقال ہوگيا اور ماموں كا ديوانيہ نكل گيا تھا _(۲۶۵)

ايك شخص اپنى بيوى كو طلاق دينے كى وجہ بيان كرتے ہوئے كہتا ہے : اس سے بہتر وجہ كيا ہوسكتے ہے كہ مجھے تم سے محبت نہيں ہے _ حالانكہ اس نے محبت كركے شادى كى تھى _(۲۶۶)

ايك عورت نے اپنے شوہر كے خلاف شكايت كى كہ مدتوں ميں نے اچھے برے ہر حال ميں اپنے شوہر كا ساتھ ديا _ اور نہايت خلوص و محبت كے ساتھ اس كى خدمت كى _ اب جبكہ ميں بيمار ہوگئي ہوں مجھ كو گھر سے نكال ديا اور كہتا ہے كہ مجھے بيمار بيوى نہيں چاہئے _(۲۶۷)

عاليجناب آپ حيوان نہيں ہيں كہ آپ كے سر ميں سوائے خود غرضى ، پيٹ بھرنے اور شہوت رانى كے اور كچھ نہيں سماتا _ آپ انسان ہيں ، انسان كو رحم ، شفقت و مہربانى اور ايثار و قربانى جيسى صفات كاحال ہونا چاہئے _ ايك معصوم لڑكى نے آپ كى خاطر ، اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں كو چھوڑكر اپنى جوانى و شادابى او رعفت و عصمت كو آپ كے سپرد كرديا _ ايك خدمت گارسے بڑھ كر آپ كے گھر ميں زحمتيں اور تكليفيں برداشت كيں ، ہر حال ميں آپ كا ساتھ ديا _ ہر طرح كارنج و محرومى برداشت كى _ كيا يہ سزاوار ہے كہ آپ اس كو چھوڑ كر عياشى كى فكر ميں پڑجائيں؟ اپنے اس طرز عمل سے آپ اس پر ظلم و ستم ڈھارہے ہيں اور ستم گار كو اسى دنيا ميں اس كے اعمال كى سزا مل جاتى ہے _ اگر آپ كسى اور عورت كے ساتھ عياشى كرتے ہيں تو چند لمحوں كى لذت كى خاطر، سينكڑوں ذہنى پريشانيوں اور الجھنوں ميں گرفتار ہوجائيں گے _ آپ كى عزت و آبرو خاك ميں مل جائے گى اور لوگوں ميں آپ خود غرض اور بے رحم مشہور ہوجائيں گے _ آپ كے بچے آپ كى اس حركت سے رنجيدہ خاطر ہوجائيں گے اور ہرروز آپ كى پريشانى اور الجھن ميں اضافہ ہوتا رہے گا _ اگر آپ كى بيوى بيمارہے تو اس كا


علاج كرايئےا كہ صحت ياب اور صحيح و سالم ہوجائے _ اگر اس كا مرض لا علاج ہے تو اپنى مردانگى اورايثار و فداكارى كا ثبوت ديجئے اور جب تك زندہ رہے دوسرى شادى نہ كيجئے _

كيا آپ كا ضمير كو اس بات كى اجازت ديتا ہے كہ ايك مريض جو اپنى بيمارى كے سبب خود ہى دكھى اور پريشان ہے اسے آپ مزيد رنج پہونچائيں؟ اگر آپ اس كى جگہ ہوتے اور بيمارى اورسختى ميں مبتلا ہوتے تو اس كيا توقع ركھتے؟ وہى توقع وہ آپ سے ركھتى ہے

ايسى حالت ميں كہ آپ بيمارہوں اور آپ كى بيوى آپ سے عليحدگى كا مطالبہ كرے توكيا اس كا يہ فعل درست ہوگا؟ آپ اور دوسروں كى نظر ميںايك خود غرض اور بے وفا عورت شمار ہوگى _ اگر وفادارى اور ايثار كى آپ كى نظر ميں كچھ قدر ومنزلت ہے تو آپ بھى وفادارى سے كام ليجئے _


تعليم و تربيت

ايك لڑكى جب شوہر كے گھر بياہ كرآتى ہے تو اس پر اس گھر چلانے كى ذمہ دارى آپڑتى ہے _ ايك گھر كا نظم و نسق چلانے كے لئے مختلف باتوں كا جاننا ضرورى ہوتا ہے _ مثلا كھانا پكانا كپڑے دھونا ، صفائي كرنا، استرى كرنا، سلائي كرنا، گھر كے سازوسامان كو قرينے سے ركھنا، مہمان نوازى كے آداب ، ملنے جلنے كے آداب شوہر كى ديكھ بھال اور بچہ كى نگہداشت اور اس قسم كے دوسرے كاموں سے واقف ہونا چاہئے _ شوہر اپنى نئي تويلى دلھن سے توقع ركھتا ہے كہ وہ يہ سارے كام جانتى ہوگى اور ايك مكمل تربيت يافتہ عورت ہوگى _ ليكن افسوس يہ سارى توقعات خاك ميں مل جاتى ہيں اورنئي دلہن يا تو آداب زندگى ہے بالكل ہى نابلد ہوتى ہے يا اس كى معلومات محدود ہوتى ہيں_

اب كيا كريں؟ ہمارے سماج كى يہ بھى ايك بڑى خامى ہے _ نہ ماں باپ اپنى لڑكى كو آداب و زندگى سكھاتے ہيں اور نہ ہى اسكول و كالج كے نصاب ميں اس قسم كى تعليم وتربيت دينا شامل ہوتا ہے _

حالانكہ بجائے بے فائدہ چيزيں سكھانے كے ، لڑكيوں كو آداب زندگى كى تعليم دى جائے تو ان كے كام


بھى آئے گى _ بہر حال كوئي چارہ ہى نہيں لہذا اس كے علاج كى فكر كرنى چاہئے _ مرد چونكہ چاہتا ہے كہ اپنى بيوى كے ساتھ زندگى بسر كرے اس لئے ناچار ہے كہ اس كى تعليم و تربيت كرے _ تا كہ اس كى خامياں دور ہوجائيں _ عموماً شوہر عمر ميں اپنى بيوى سے بڑا ہوتا ہے اس لئے اس كے تجربات اور اطلاعات بھى زيادہ ہوتى ہيں _

اگر ذرا صبر و حوصلے سے كام لے تو بيوى كى خاميوں كو دور كركے اپنى مرضى كے مطابق اس كى تربيت كرسكتا ہے _ جن كاموں سے وہ واقف ہے انھيں نہايت نرمى اور شيريں بيانى كے ساتھ اسے سكھادے اس سلسلے ميں گھر كى تجربہ كارخواتين مثلاً ماں، بہن ، خالہ ، پھوپھى و غيرہ كى مدد لى جا سكتى ہے ،كھانا پكانے، خانہ داري، مہمان داري، شوہر داري، طرز معاشرت ، اور ملنے جلنے كے آداب و غيرہ سے متعلق كتابيں اسے پڑھنے كے لئے دينى چاہئيں_ اخلاقى كتابيں پڑھنے كى اسے ترغيب دلانى چاہئے _ اگر ديكھے كہ بيوى بداخلاق اور غير مہذب ہے تو ہمدردى اور نرمى كے ساتھ اسے سمجھانا چاہئے ليكن مہربانى اور ہمدردى كے انداز ميں خلوص ونرمى كے ساتھ ، نہ كہ اعتراض ، لعن طعن كے ساتھ كے ساتھ ، كيونكہ اسى صورت ميں نتيجہ برعكس برآمد ہوسكتا ہے _

مرد اگر شادى كے شروع كے ايك دو سال ذرا صبر وحوصلہ سے كام لے اور عقل و تدبر كے ساتھ اپنى بيوى كى تعليم و تربيت پر كمر ہمت باندھ لے تو اپنى مرضى كے مطابق اس كى تربيت كرسكتا ہے _ خواہ سوفيصد ى كاميابى نہ ہو ليكن بلا شك كسى حد تك اس كى خاميوں كو دور كر سكتا ہے _

يہ درست ہے كہ اس كام كے لئے وقت اور صبر و حوصلہ در كار ہے ليكن اس سلسلے ميں جس قدر محنت كرے گا خود اس كے مفاد ميں ہوگا _ كيونكہ اپنى شريك زندگى اور اپنے بچوں كى سرپرست كى تكميل كركے آخر عمر تك اس عمل كے ثمرات سے بہرہ مند ہوگا _

ايك اہم امر جس پر مرد كو توجہ دينى چاہئے وہ يہ ہے كہ اس كى نئي نويلى دلہن ايك مسلمان لڑكى ہے اور قاعدے سے اس كو دين اسلام كے احكام اور قوانين سے واقف ہونا چاہئے _ ليكن


اكثر لوگ اسلام كے شرعى مسائل سے ناواقف ہوتے ہيں حتى كہ اسلام كى ابتدائي تعليمات مثلاً نماز ، وضو ، غصل اور تيمم و غيرہ جيسے بنيادى احكامات سے بھى بعض لڑكياں ناواقف ہوتى ہيں _ البتہ يہ ماں باپ كا فرض ہے كہ اپنى لڑكيوں كو اسلام كے احكام و قوانين سے روشناس كرائيں اور واجب احكام ياد كرائيں ليكن اب جبكہ انہوں نے اس سلسلے ميں كوتاہى كى ہے اور سادہ لوح بے گناہ لڑكى كوتعليم ديئےغير شادى كے بندھن ميں باندھ ديا ہے تو يہ اہم اور سنگين فريضہ شوہر پر عائد ہوتا ہے كہ اس دينى مسائل سے روشناس كرائے اور اسلام كے واجبات اور محرمات يعنى واجب اور حرام چيزوں كے بارے ميں بتائے _ اس كى عقل و فہم كے مطابق اس كو اسلامى اخلاق و عقائد كى تعليم دے _ اگر آپ خود اس كام كو انجام دے سكيں تو كيا كہنے _ اس كے علاوہ اہل علم سے مشورہ كركے سودمند اور علمى و اخلاقى و دينى كتابيں اور رسالے مہيا كركے اسے پڑھنے كى ترغيب دلايئے اسلامى دينى مسائل كى كتاب اس كو پڑھنے كو ديجئے _ ضرورت ہو تو ايك قابل اعتماد اور عالم و ديندار استاد كو اس كى تعليم و تربيت كے لئے مقرر كيجئے _

بہر حال بيوى كو اچھى باتوں كى طرف راغب كرنا اور منكرات سے روكنا ، اور اس كى رہنمائي كرنا شوہر كافرض ہے اگر اس نے اپنے اس فريضہ كو ادا كيا تو ايك ديندار، نيك و مہربان، خوش اخلاق اور دانا بيوى كى ہمراہى ميں زندگى بسر كرے گا اور اخروى ثواب كے علاوہ اس دنيا ميں ہى كاميابى سے ہمكنار ہوگا اور ار اپنے اس فريضہ كى انجام دہى ميں كوتاہى كى تو اس دنيا ميں ايك ضعيف الايمان اور لا علم بيوى كا ساتھ رہے گا جو دينى و اخلاقى اصولوں سے بے بہرہ ہوگى اور قيامت ميں بھى خداوند قہار اس سلسلے ميں بازپرس كرے گا ، خداوند بزرگ و برتر قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

اے ايماندارو خود اپنے آپ كو اور اپنے خاندان والوں كو جہنم كى اس آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن آدمى اور پتھرہوں گے _(۲۶۸)

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں كہ جس وقت مذكورہ آيت نازل ہوئي اس كو سن كر ايك مسلمان


رونے لگا اور بولاميں خود اپنے نفس كو آگ سے محفوفاركھنے سے عاجز ہوں چہ جائيكہ اس پرمجھے يہ ذمہ دارى سونپى گئي ہے كہ اپنے خاندان والوں كو بھى دوزخ كى آگ سے بچاؤ_ پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: اسى قدر كافى ہے كہ جن كاموں كو تم انجام ديتے ہو اسى كو كرنے كو ان سے كہواور خودجن كاموں كوتمہيں چاہئے ترك كرو ان سے انھيں روكتے رہو_(۲۶۹)

پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: مرد كو خاندان كا سرپرست مانا گيا ہے _ ہر سرپرست كے ذمہ اپنے ماتحتوں كى نسبت ذمہ دارى ہوتى ہے _(۲۷۰)

رسول خدا صلى اللہ عليہ و الہ و سلم نے عورتوں كو ياددہانى كرائي ہے كہ قبل اس كے كہ وہ (شوہر) تمہيں برے كام كرنے پر مجبور كريں تم انھيں نيك كام كرنے كى ترغيب دلاؤ_(۲۷۱)

بچوں كى پيدائش

ايك چيز جو كبھى كبھى مياں بيوى كے درميان اختلاف پيدا كرنے كا سبب بنتى ہے وہ ہے بچہ كى پيدائشے يہ اختلاف كبھى اس موضوع پر ہوتا ہے كہ بيوى بچہ چاہتى ہے اور شوہر بطور كلى اس كا مخالف ہوتا ہے يا كبھى اس كے برعكس ہوتا ہے _ يہ اختلاف كبھى اس قدر شدت اختيار گرجاتا ہے كہ ضداوركشمكش كا سلسلہ جارى رہتا ہے اور اس كا خاتمہ ہوتا ہے طلاق پر_

... نام كى ايك خاتون نے خاندان كى حميات كرنے والى عدالت ميں كہا كہ : ميں نے ۲۷ سال كى عمر ميں اپنى پسند سے يونيورسٹى كے تعليم يافتہ ايك مرد سے جو كہ ايران كى ايك يونيورسٹى ميں استاد ہے شادى كى _ اور ميں بہت خوش و خرم تھى _ ليكن ميرا شوہر بچہ پيدا كرنے كا سخت مخالف ہے _ اس كى اس بات نے مجھے سخت مضطرب اور پريشان كرديا ہے _ اصولى طور پر جبكہ ہم دونوں صحيح و سالم ہيں اوربچہ پيدا كرسكتے ہيں _ روپيہ پيسہ كى بھى ہمارے پاس كمى نہيں ہے غرضكہ ہر لحاظ سے ہم اس قابل ہيں كہ كم سے كم دو بچوں كى پرورش آسانى سے كرسكتے ہيں _ ميرى سمجھ ميں نہيں آتا كہ ميرا شوہر بچے كى پيدائشے كى اس قدر شدت سے مخالفت كيوں كرتا ہے _ حالانكہ اسے بچے


برى نہيں لگتے اپنى بہن اور دوستوں كے بچوں كو اس قدر والہا نہ طريقے سے پيار كرتا ہے كہ جو اسے ديكھے سمجھے گا بيچارہ بچوں كا بھوكا ہے _ اب ميرى عمر ۲۰ سال ہوگئي ہے اور دنيا كى ہر عورت ماں بننے كى آرزومند ہوتى ہے _ ميرا شوہر ميرى آرزو سے واقف ہے مگر اس كے باوجود كہتا ہے بچہ ہمارے درميان مزاحم ہوگا اور ہمارى پريشانى كا باعث بنے گا _ مختصر يہ كہ اس قسم كے غير منطقى دلائل پيش كرتا ہے '' _

اس خاتون نے اتنا كہہ كر بڑى مشكل سے اپنے آنسوؤں پر قابو پايا مگر ظاہر ہوتا تھا كہ اس كواس بات كا بے حد شديد صدمہ ہے اور يہ بات ان كے درميان اس حد تك اختلاف كا سبب بن گئي ہے كہ دونوں عليحدہ ہونے پر راضى ہوگئے ہيں تا كہ وہ خاتون دوسرى شادى كركے اپنى ماں بننے كى آرزو كى تكميل كرسكے اورڈاكٹر صاحب اپنى علمى تحقيقات انجام ديتے رہيں _(۲۷۲)

بچے كى خواہش ہر انسان بلكہ ہر حيوان كى ايك فطرى آرزو ہے _ بچے كا وجود ، انسان كى شادى شدہ زندگى كا بہترين ثمرہ اور بہترين يادگار شماركيا جاتا ہے _ اگر انسان صاحب اولاد ہو تو اسكى موت سے اس كى زندگى كى ياديں ختم نہيں ہوجاتيں بلكہ گويا اس كى عمر بہت طويل ہوجاتى ہے _

لا ولد انسان اپنے آپ كو بے وارث اورتنہا محسوس كرتا ہے اوريہ احساس بڑھاپے ميں شديدتر جاتا ہے _ بچے كا وجود خاندانى زندگى كو گرم اور پر لطف بناتا ہے جس گھر ميں بچہ نہ ہو اس گھر ميں ويرانى برستى ہے _ جوش وولولہ كا نام ونشان تك نہيں ہوتا _ بے اولاد جوڑوں كو ہميشہ رشتہ ازدواج منقطع ہوجانے كاخطرہ لاحق رہتا ہے _

امام صادق (ع) فرماتے ہيں : شائستہ اولاد، انسان كى سعادت كا باعث بنتى ہے _(۲۷۳)

پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں : زيادہ اولاد پيدا كرو تا كہ قيامت كے روز، تمہارے وسيلے سے تمام امتوں فخر كروں _(۲۷۴)


جى ہاں اولاد سے محبت ايك فطرى امر ہے ليكن بعض انسان آئين فطرت سے منحرف ہو كر ايك قسم كى بيمارى ميں مبتلا ہوجاتے ہيں _ كبھى فقر و تنگدستى كا بہانہ كرتے ہيں _ حالانكہ روزى كى ضمانت خدانے لى ہے اور كسى نہ كسى ذريعہ سے روزى پہونچاتا ہے _ بكربن صالح كہتے ہيں: حضرت ابوالحسن (ع) كو ميں نے لكھا كہ پانچ سال سے بچہ پيدا كرنے سے گريز كررہاہوں كيونكہ ميرى بيوى راضى نہيں كہتى ہے چونكہ ہم تہى دست ہيں اس لئے بچہ كى پرورش كرنا مشكل ہے _ اس سلسلے ميں آپ كى كيا رائے ہے ؟

حضرت نہ مجھ كو لكھا كہ بچے كى پيدايش سے مانع نہ ہو كيونكہ خدا روزى پہونچانے والا سے _(۲۷۵)

حتى كہ كبھى خدا بچہ كے وجود كى بركت سے ماں باپ كى روزى ميں اضافہ كرتا ہے _ بہت سے لوگ ہيں جو بچوں كى پيدائشے سے قبل پريشانى اور تنگدستى ميں مبتلا تھے مگر بعد ميں خوشحال ہوگئے _ بعض لوگ بچے كے وجود كو آزادى ميں ركاوٹ اور مزاحمت سمجھتے ہيںحالانكہ بچہ نہ صرف يہ كہ مزاحم نہيں ہوتا بلكہ ماں باپ كے لئے تفريح اور دل بہلانے كا بہترين وسيلہ ہوتا ہے _

يہ صحيح ہے كہ بچے كى پرورش اور تعليم و تربيت ميں بہت زحمتيں اٹھاتى پڑتى ہيں ليكن چونكہ يہ ايك فطرى عمل ہے اس لئے اس كو برداشت كرنا مشكل نہيں ہے بلكہ منفعت بخش ہوتا ہے _ حقيقتاً وہ جوڑے كس قدر خود غرض ، ضدى اور كوتاہ فكرہوتے ہيں جن كے درميان بچہ پيدا كرنے كا مسئلہ باہمى نزاع كا سبب بن جاتا ہے اور اس كى خاطر ازدواجى زندگى كے مقدس بندھن كو توڑ ڈالتے ہيں _

كيا ايك مرد ہ وہ بھى ايك دانشور كو يہ بات زيب ديتى ہے كہ وہ بچہ پيدا كرنے كى ، جوكہ ہر ماں باپ كى ايك فطرى آرزو ہوتى ہے ، مخالفت كرے اور اس بات پر اسے اس قدر شديد اصرار ہوكہ شادى شدہ زندگى كى بنيادوں كو درہم برہم كرنے پر تيار ہوجائے _ كچھ لوگوں كے يہاں بچہ كى پيدائشے كے مسئلہ پر اختلاف نہيں ہوتا ليكن دير يا جلدى كے مسئلہ پر اختلاف ہوتا ہے _


بيوى يا مياں كوئي ايك كہتا ہے كہ جوانى كے دور كو خوشى اور آزادى و بے فكرى كے ساتھ گزارنا چاہئے _ بچے كا وجود آزادى ميں مانع ہوتا ہے _ جوانى كے ايام ميں بچے كى پيدائشے سے گريز كرنا چاہئے البتہ آخر عمر ميں ايك دوبچے ہوجائيں تو كوئي بات نہيں _ ليكن ان ميں سے دوسرے كو اس بات سے اختلاف ہوتا ہے اوريہى اختلاف لڑائي جھگڑے اور كشمكش كا باعث اور كبھى كبھى عليحدگى و طلاق كا سبب بن جاتا ہے _ ايك بات كى يادآورى ضرورى معلوم ہوتى ہے كہ اگر انسان اولاد چاہتا ہے تو بچے جتے جلدى ہوجائيں اتنا ہى بہتر ہے كيونكہ جوانى كے دور كى اولاد ، بڑھاپے كے دور كے اولاد س كئي لحاظ سے بہتر ہوتى ہے _ اول تو يہ كہ ايسے بچے عموماً زيادہ تندرست و توانا ہوتے ہيں دوسرے چونكہ زيادہ مدت تك ماں باپ كے ساتھ رہنے كا موقع ملتا ہے اس لئے ان كى تعليم و تربيت زيادہ بہتر طريقے سے ہوسكتى ہے _ اس كے برخلاف بڑھا پے كى اولاد عموماً تعليم و تربيت سے بالكل محروم ہوجاتى ہے اور ماں باپ كى موت يا ان كے معذور ہوجانے كے باعث اكثر بدبخت اور دوسروں كے دست نگر ہوجاتے ہيں _

تيسرے يہ كہ جوانى ميں پيدا ہونے والے بچے، جب تك ان كے ماں باپ بوڑھے اورريٹائر ہوں ، ايك مقام و منصب حاصل كرليتے ہيں _ اس طرح بڑھاپے اور ناتوانى كے زمانے ميں ماں باپ اپنى اولاد كى مدد سے بہرہ مند ہوسكتے ہيں بہرحال اس بات ميں كوئي شك نہيں كہ جوانى ميں اولاد كى پيدائشے ، بڑھاپے كے دورسے بہتر ہے _ ليكن يہ بات اس قدر بھى اہم نہيں ہے كہ اس كے باعث باہمى لڑائي جھگڑے اور طلاق كى نوبت آجائے _ بہتر ہے كہ كوئي ايك جھك جائے اور جھگڑے كو رفع كرے _ كبھى بچوں كى تعداد كے مسئلہ پر اختلاف ہوتا ہے مثلا ً مرد زيادہ بچے چاہتا ہے ليكن بيوى اس كى مخالفت كرتى ہے يا اس كے برعكس _

ايك عورت ايسى حالت ميں كو دو بچوں كو گود ميں لئے ہوئے تھى كہتى ہے:

شادى كے بعد چار سال كے اندر دو لڑكياں ہوئيں ليكن چونكہ ميرے شوہر كوبيٹے


كى خواہش تھى اس لئے پھر حاملہ ہوگئي _ ليكن اس بار بھى ميرے شوہر كى خواہش كے برخلاف لڑكى پيدا ہوگئي اور اب ميرى تين بيٹياں ہوگئي ہيں _ ميرا شوہر ايك بينك ميں كام كرتا ہے اس كى آمدنى بس ہم دو مياں بيوى اور تين بچوں كے گزارے بھر كے لئے ہے _ ايك مدت سے اس بات پر مصر ہے كہ بچوں كى پيدائشے كا سلسلہ جارى رہے تا كہ شايد كبھى ايك بيٹا پيدا ہوجائے _ ميں اس كى محتمل نہيں ہوسكتى كيونكہ ايك تيسرے درجے كے طبقے سے تعلق ركھنے والے خاندان كے لئے كہ جس كى آمدنى نہايت معمولى ہے زيادہ اولاد ماں باپ كے لئے پريشانى كا باعث بن جاتى ہے _ بارہا ميں نے اس سےكہا كہ لڑكى لڑكے ميں كوئي فرق نہيں مگر وہ سنتا ہى نہيں مجھے خطرہ ہے كہ كہيں پھرلڑكى نہ ہوجائے تو اس وقت ميرا شوہر لڑكے كا بہانہ كركے پانچويں بچے كى فكر كرے گا اس بات سے مجھ اختلاف ہے اور يہى مسئلہ ہميں عدالت ميں لانے كابا عث بناہے _(۲۷۶)

يہاں اس بات كى ياددہانى ضرورى معلوم ہوتى ہے كہ زيادہ بچوں كے اخراجات پورے كرنا اور ان كى تعليم و تربيت بہت دشوار كام ہے _ اور وہ بھى اس زمانے ميں كم آمدنى والے افراد كيلئے بہترہے كہ مياں بيوى ہٹ دھرمى چھوڑكر اپنے مالى امكانات اوراپنے حالات كو مد نظر ركھ كر اولاد كى تعداد كے بارے ميں اتفاق رائے كريں _ ضد اورہٹ دھرمى كوئي اچھى بات نہيں ہے _ مياں بيوى كو عقل و تدبر سے كام لينا چاہئے اور اپنى مشكلات كو آپس ميں مل كر طے كرلينا چاہئے اگر ان ميں سے كوئي ايك ضدپر اڑاہوا ہے اور دوسرا مفاہمت كرے تو لڑائي جھگڑے اور عليحدگى كى نوبت نہيں آئے گى _

در اصل يہ موضوع اتنا اہم نہيں ہے _ كثير الاولاد اوركم بچے والے خاندان بہت سے ہوتے ہيں _ لہذا صرف اس بات كى خاطر مياں بيوى آپس ميں لڑيں جھگڑيں اور شادى كے مقدس بندھن كو توڑڈاليں يہ كسى طرح بھى مناسب نہيں اور نہ ہى كسى كے مفاد ميں ہے _

كبھى لڑكے اور لڑكے كے موضوع پر اختلاف ہوتا ہے _ مياں بيوى دونوں ہى زيادہ تر


لڑكے كو لڑكى پرترجيح ديتے ہيں اورلڑكى كى پيدائشے سے انھيں خوشى نہيں ہوتى _ اگر لڑكى ہوجاتى ہے تو چونكہ كوئي چارہ نہيں بيوى تو خاموشى رہتى ہے ليكن اكثر مرد ناراضگى كا اظہار كرتے ہيں _

البتہ مختلف قسم كے مرد ہوتے ہيں بعض مرد دل ميں رنجيدہ ہوتے ہيں ليكن خوددارى سے كام ليتے ہيں اور اپنے شديد رد عمل كا اظہار نہيں كرتے فقط ملال ظاہر كرتے ہيں اور ان كامنہ لٹك جاتا ہے وضع حمل كے زمانے نے ميں اپنى بيوى پر پورى توجہ نہيں ديتے _ كچھ دنوں تك رنجيدہ رہتے ہيں _ بعض لوگ اپنے شديد رد عمل كا اظہار كرتے ہيں _ اپنى بے گناہ بيوى سے لڑتے ہيں مختلف بہانے كركے غصہ كرتے ہيں _ بعض توحد سے تجاوز كرجاتے ہيں _ بيوى كو مارتے پيٹتے ہيں اور طلاق دينے پر بھى آمادہ ہوجاتے ہيں _

ايك عورت نے عدالت ميں بتايا : سواسال قبل ميرى شادى ہوئي تھى چھ ماہ بعد ميں حاملہ ہوگئي _ ميرا شوہر كہا كرتا تھا كہ مجھے بيٹا چاہئے _ مجھے محسوس ہوتا تھا كہ ميرے پيٹ ميں ايك كے بجائے دو يا تين بچے ہيں _

چند روز قبل اسپتال ميں ميرى دو جڑوال لڑكياں پيد اہوئيں _ جب نرس نے مجھے دو جڑوال لڑكيوں كى خبر سنائي تو ميں خوشى سے پھولى نہيں سمار ہى تھى _ جب ميرا شوہر مجھے ديكھنے آيا اور اسے دو لڑكيوں كى خبر سنائي تو وہ ناراض ہوگيا اور كچھ دير بعد كوئي بہانہ كركے كمرے سے باہر چلا گيا اور پھر واپس نہيں آيا _ رات كو جب ميرا شوہر مجھے لينے آيا تو ميں نے اس سے كہا كہ بچيوں كولے آؤ_ وہ پچھلے دروازے سے باہر نكل گيا اورشور مچانے اور غصہ كرنے لگا بولا '' دو جڑوال لڑكياں نہيں ہونى چاہئے تھيں_ ان بچيوں كو يہيں چھوڑ دو '' ميں بھى اپنے باپ كے گھر چلى آئي اور اب طلاق كى درخواست كرتى ہوں _(۲۷۷)

ايك خاتون نے عدالت ميں اخبار اطلاعات كے رپورٹر كوبتايا: اپنى ۲۱ سالہ شادى شدہ زندگى ميں نے خون كے گھونٹ پى پى كر گزارى ہے _ پانچ بچوں كى پيدائشے كے بعد مجھے عليحدہ


ہونے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے _كيونكہ ميرا شوہر ايك ايسى عورت سے شادى كرنا چاہتا ہے جس ميں صرف ايك خوبى ہو كہ وہ لڑكا پيدا كرسكے _ اس خاتون نے بڑے دكھ سے كہا ميرا قصور صرف يہ ہے كہ ميں نے لڑكيوں كو جنم ديا ہے _ ميرى پانچ لڑكياں ہيں سب كى سب خوبصورت ، ذہن و عقلمند اور پڑھنے ميں تيز ہيں _ اور كبھى اپنے باپ كے لئے پريشانى كا باعث نہيں بنيں _ جب خدا كى مرضى نہيں كہ مجھے ايك بيٹادے تو اس كے لئے ميں كيا كروں؟ آج تك ميرا شوہر مجھے سے يہ اصرار كرتا رہا ہے كہ ميں اس ايك اور شادى كرنے كى اجازت دے دوں _(۲۷۸)

افسوس كہ يہ برى عادت جو بعض مردوں ميں پائي جاتى ہے در اصل دور جاہليت كى يادگار كے طور پر ہمارے درميان آج بھى باقى ہے _ وہ دور جس ميں مردوں كو عورت كے انسان ہونے ميں شبہ تھا لڑكى كا باپ بن جانے سے حقارت و شرمندگى محسوس كرتے تھے بے گناہ لڑكيوں كو زندہ دفن كرديتے تھے _ قرآن مجيد ان لوگوں كے بارے ميں فرماتا ہے :_

جس وقت ان ميں سے كسى كو لڑكى پيداہونے كى خبر ملتى تو شرم كے مارے اس كا چہرہ سياہ پڑجاتا اور خشم ناك ہوجاتا _ اور اس كى خبر كو سن كر اپنى قوم كے لوگوں كى نظروں سے چھپا چھپا پھر تا اور سوچتا كہ آيا خفت وخوارى كے ساتھ اس كى حفاظت كرے يا اسے (زندہ ہي) زمين ميں چھپادے _ديكھو يہ لوگ كس قدر بے انصافى سے كام ليتے ہيں _(۲۷۹)

ليكن اسلام ان غلط افكار كا مقابلہ كرتا ہے عورت و مرد كو يكساں اور برابر قرار ديتاہے _ پيغمبر اسلام ''رحمة للعالمين'' (ص) فرماتے ہيں : تمہارى بہترين اولاد لڑكياں ہيں _(۲۸۰)

حضرت پيغمبر اكرم (ص) فرماتے ہيں : عورت كى خوش قدمى كى علامت ہے كہ اس كى پہلى اولاد لڑكى ہو _(۲۸۱)

حضرت رسول خدا (ص) ، يہ بھى فرماتے ہيں _ جو شخص تين بيٹيوں يا تين بہنوں كى پرورش كرے اس پر بہشت واجب ہوگئي _(۲۸۲)


اگر لڑكى خراب چيز ہوتى تو خداوند عالم اپنے پيغمبر (ص) كى نسل كو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كے ذريعہ قائم نہ كرتا _

جناب محترم آپ روشن خيال اور تہذيب يافتہ ہونے كا دعوى كرتے ہيں _ ان غلط افكار كو دور پھينكئے _ بيٹے اوربيٹى ميں كيا فرق؟ دونوں ہى آپ كى اولاد اور اپنے ماں باپ كى يادگار ہوتے ہيں _ دونوں ہى انسان ہيں اور ترقى وتكامل كے قابل ہيں _ اگر لڑكى كى صحيح طريقے سے تعليم و تربيت كى جائے تو وہ سماج كى ايك برجستہ فرد ہوسكتى ہے _ اور معاشرے ميں قابل قدر خدمات انجام دے سكتى ہے اور اپنے والدين كى سربلندى و افتخار كا باعث بن سكتى ہے _ بلكہ بيٹى كئي لحاظ سے بيٹے سے برتر ہوتى ہے _ مثلاً

بيٹياں ، اپنے والدين كا زيادہ خيال كرتى ہيں _ بعض لڑكے جب بڑے ہوجاتے ہيں اور آزاد ہوجاتے ہيں تو اپنے والدين پر زيادہ توجہ نہيں ديتے _ اگر ان كو آزار نہيں پہونچاتے تو اپنے وجود سے كوئي خاص فائدہ بھى نہيں پہونچاتے _ ليكن لڑكى ہر حال ميں اپنے والدين كى نسبت ہمدرد اور مہربان ہوتى ہے خصوصاً اگر والدين بيٹے بيٹى ميں فرق نہ كريں اور بيٹيوں كے حقوق پائمال نہ كريں تو ہميشہ اپنى بيٹيوں كى نظروں ميں محترم و محبوب رہتے ہيں _

اقتصادى لحاظ سے بھى بيٹى ، بيٹے كے مقابلے ميں كم خرچ ہوتى ہے _ ماں باپ كے پاس رہنے كا وقفہ كا نسبتاً كم ہوتا ہے _ بڑے ہوتے ہى ايك مختصر جہيز لے كر شوہر كے گھر چلى جاتى ہے _ اس كے بعدماں باپ اس كے فرض سے سبكدوش ہوجاتے ہيں ليكن بيٹا زيادہ مدت تك بلكہ آخر عمر تك ماں باپ كے سرپربار ہوتا ہے _ اس كى تعليم كا خرچ اٹھانا ، پھر اس كے لئے مناسب كام تلاش كرنا _ اس كى شادى كرنا، شادى كے اخراجات اٹھانا ، اس كے بعد جب ضرورت ہوئي والدين كے سرپر آپڑا _

اگر والدين بيٹے بيٹى ميں فرق نہ كريں اوراپنے داماد كے ساتھ اچھا سلوك كريں اور اپنے بيٹے جيسى محبت كريں اور اس كى مشكلات اور پريشانيوں ميں اس كى مدد كريں تو اكثر داماد بيٹے سے


زيادہ محبت كرنے والے ہوتے ہيں _

اصولى طور پر بيٹى كى پيدائشے ميں آخر بيوى كا كيا قصور ہے جو شوہر اس پر اعتراض كرتے ہيں اس ميں مياں بيوى دونوں ہى شريك ہيں _

ممكن ہے بيوى شوہر پر اعتراض كرے كہ لڑكى كيوں پيدا كى _ در حقيقت اس ميں قصور وار كوئي بھى نہيں ہے بلكہ يہ چيز تو خدا كى مرضى و مصلحت پر منحصر ہوتى ہے _ وہ جس كو چاہتا ہے لڑكى ديتا ہے اور جس كو چاہتا ہے لڑكا عطا كرتا ہے _ البتہ كچھ دانشوروں كا خيال ہے كہ لڑكے يا لڑكى كى پيدائشے حمل كے شروع كے دومہينوں ميں ماں كى غذاكى نوعيت پر منحصر ہے ان كا كہنا ہے كہ غذا كے مخصوص پروگرام كے تحت حسب ودلخواہ اولاد پيدا كى جا سكتى ہے _

لہذا جن لوگوں كى شديد خواہش ہے كہ بيٹا پيد اہو بہتر ہے كہ اس سلسلے ميں اس فن كے ماہر ين سے مشورہ كريں اور بلا سبب اپنى اور اپنى بيوى كى پريشانى اور ناراضگى كے اسباب فراہم نہ كريں _ ايك عقلمند اور روشن خيال انسان بيٹى كى پيدائشے كى خبر سن كر نہ صرف يہ كہ رنجيدہ نہيں ہوتا بلكہ خوشى و شادمانى كا اظہار كرتاہے _ اس خيال سے كہ دوسرے اور اس كى بيوى يہ نہ سوچيں كہ بيٹى كى پيدائشے پر اسے افسوس ہے ، معمول سے كچھ زيادہ ہى خوشى ظاہر كرتا ہے _ بيوى كى نسبت زيادہ نوازش ومحبت سے پيش آتا ہے اور امكان ميں ہوتو اس كوتحفہ پيش كرتا ہے _ اپنى نومولود بچى كى ولادت پر جشن مناتا ہے _ اگر بيوى بيٹى كى پيدائشے سے رنجيدہ ہے تو اس كو تسلى ديتا ہے اور دليل و ثبوت كے ذريعہ واضح كرتا ہے كہ بيٹے اور بيٹى ميں كوئي فرق نہيں _ خود بھى كبھى بيٹوں كو بيٹيوں پر ترجيح نہيں ديتا او راس طرح عہد جاہليت كے فرسودہ اور فضول خيالات سے مقابلہ كرتا ہے _

ايک شخص رسول خدا (ص) کے پاس بيئها تها که اس کوبيئي کي پيداکش کي خبر ملي - يه خبر سن کر اس کے چهرهے کارنگ متغير هوگيا - پيغمبر اکرم (ص) نے پوچها - تمهارے چهرے کي رنگت کيوں بدل بدل گئي ؟ عرض کيا جب ميں گهر سے چلاتها اس دقت سيري بيوئي و ضع خمل کمي حالت بس تهي اب مجھے اطلاع ملى ہے كہ لڑكى پيدا ہوئي ہے _ رسول خدا (ص) نے فرمايا : زمين اس كو جگہ دے گى اور آسمان اس كے سرپر سايہ كرے گا _ اور خداوند عالم اس كو روزى عطاكرے گا _ وہ پھول كى مانند ہے كہ جس كے وجود سے تم كو فائدہ ہوگا _(۲۸۳)


زمانہ حمل اورزچگي

زمانہ حمل بہت حساس اورسرنوشت ساز دور ہوتا ہے _ ماں كى غذا اور اس كى جسمانى حركات و نفسياتى حالات خود اس كے مستقبل پر اور اس كے رحم ميں پرورش پانے والے بچے ، دونوں پر بہت زيادہ اثر ڈالتے ہيں _

بچے كى سلامتى يابيمارى ، طاقت ياكمزوري، خوبصورتى يا بد صورتى ، خوش اخلاقى يا بداخلاقى اور كسى حد تك ذہانت و عقلمندى اسى زمانے ميں جبلكہ وہ رحم مادر ميں ہوتا ہے تشكيل پاتى ہے _

ايك دانشور لكھتا ہے : بچے كے والدين كے ہاتھ ميں ہے كہ اس كى اچھى طرح نشو و نما كريں يا خراب اور غمگين گوشہ ميں اس كى پرورش كريں _ يہ امر مسلم ہے كہ مذكورہ دوسرى جگہ انسانى روح كے رہنے كے لائق نہيں ہوتى اس لئے انسانيت كے مقابلہ ميں ماں باپ كے كندھوں پر بہت بھارى ذمہ دارى ركھى گئي ہے _(۲۸۴)

لہذا زمانہ حمل كو ايك عام زمانہ نہيں سمجھنا چاہئے _ اور اس كى طرف سے بے توجہى برتنى چاہئے بلكہ دوران حمل كى ابتدا سے ہى ماں باپ پر بہت بڑى ذمہ دارى عائد ہوجاتى ہے كہ اگر ذرا بھى غفلت برتى تو شديد ا ً اور ناقابل تلافى مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ يہاں پر چند باتوں كا تذكرہ ضرورى معلوم ہوتا ہے _

۱_ غذائي پروگرام : جو بچہ ماں كے رحم ميں پرورش پاتا ہے وہ ماں كے خون سے غذا حاصلہ كرتا ہے اور نشو ونما پاتا ہے _ اس بناء پر ماں كى غذا ، اتنى مكمل اور بھر پور ہونى چاہئے كہ خود اپنى غذائي ضروريات كو پورا كرے اور صحيح و سالم زندگى گزارے اور دوسرى طرف بچے كے جسم و جان


كى پرورش كے لئے جن غذائي مواد كى ضرورت ہوتى ہے وہ اسے فراہم ہوسكے تا كہ اچھى طرح صحت و سلامتى كى ساتھ نشو و نما پا سكے ، لہذا ايك حاملہ عورت كا غذائي پروگرام بہت مناسب اور ممكن ہونا چاہئے _ كيونكہ بعض غذائي مواد مثلاً مختلف وٹامن ، معدنى مواد، پروٹين ، چربى ، شكر اور نشاستہ و غيرہ كى كمى يا فقدان سے ماں اور بچے (جو كہ ماں كے خون سے غذا حاصل كرتا ہے ) دونوں ہى كى صحت و سلامتى كو خطرہ لاحق ہوتا ہے _

امام صادق (ع) سے ايك حديث منقول ہے كہ ''مال جو كچھ كھاتى ہے اور پيتى ہے ، ماں كے رحم ميں موجود بچے كى غذا اسى سے بنتى ہے _(۲۸۵)

يہاں پر ايك اور مشكل بھى پيش آتى ہے _ بعض خواتين كا حمل كے پورے زمانے ميں يا كچھ مدت تك عام مزاج نہيں رہتا بلكہ بعض كھانوں سے انھيں نفرت ہوجاتى ہے يا كم خوراك ہوجاتى ہيں جبكہ اس زمانے ميں انھيں زيادہ غذا كى ضرورت ہوتى ہے اس لئے جن غذائي چيزوں سے انھيں رغبت ہواور وہ مختلف غذائي مواد سے بھرپور بھى ہوں اور ان كا حجم بھى ہو ان كے لئے مہيا كى جائيں _ اس قسم كے غذائي پروگرام كى تنظيم كرنا دشوار كام ہے بالخصوص ان افراد ك ےلئے جن كى آمدنى كم ہو اور حفظان صحت او رغذاؤں كى خاصيت سے پورى طرح آگاہ نہ ہوں _ يہاں پر بچے كے باپ كے اوپر بہت بڑى ذمہ دارى عائد ہوتى ہے _ اس كو چاہئے اپنے امكان بھر كوشش كرے اوراپنى حاملہ بيوى اور بچے كے لئے جو كہ ابھى رحم مادر ميں پرورش پارہا ہے ، مناسب اور طاقت و توانائي سے بھر پور غذائيں مہيا كرے _ اگر اس نے عظيم ذمہ دارى سے كوتاہى كى تو اس كى بيوى اور بچے دونوں كى صحت و سلامتى كو نقصان پہونچے گا _ اس دنيا ميں بھى اس كا خميازہ بھگتنا پڑے گا اور آخرت ميں بھى خدا كے عتاب كا نشانہ بننا پڑے گا _

۲_ ذہنى سكون : ايام حمل كے دوران عورت كو مكمل ذہنى سكون و آرام كى ضرورت ہوتى ہے اور اسے زندگى سے بھر پور اور خوش و خرم رہنا چاہئے _ كيونكہ جسمانى آرام اور ذہني


سكون اور خوشى ومسرت خو د اس كى صحت و سلامتى پر بھى اثر انداز ہوتى ہے اور اس كے شكم ميں پرورش پانے والے بچے كے جسم اورنفسيات پر بھى اس كا بہت اثر پڑتا ہے _ خوشى و سكون كا ماحول فراہم كرنا بھى شوہر كى ذمہ دارى ہے شوہر كو چاہئے ہميشہ اپنى محبتوں اور نوازشوں اور دلجوئيوں سے اپنى بيوى كے دل كو گرم اورخوش ومطمئن ركھے ليكن حمل كے زمانے ميں اس ميں اور اضافہ كردينا چاہئے _ شوہر كا سلوك ايسا ہونا چاہئے كہ اس كى بيوى اپنے وجود ميں پيدا ہونے والے اس تغير پر غرور و شادمانى محسوس كرے اور اپنے آپ پر فخر كرے كہ اس كى سرشت ميں ايك اچھے اور سالم انسان كى پرورش كى ذمہ دارى ركھى گئي ہے _ اور اسے اطمينان ہو كہ اس كا شوہر اپنے پورے وجود سے اسے چاہتا ہے اور اپنے ہونے والے بچے سے بھى دلچسى ركھتا ہے _

۳_ شديد حركات سے پرہيز كرنا چاہئے : حمل كے زمانے ميں عورت كو آرام كى ضرورت ہوتى ہے اور اسے دشوار اور بھارى كاموں سے پرہيز كرنا چاہئے _ بھارى چيزيں اٹھانا، تيزتيز چلنا ، اچھلنا ، كودنا خود اس كے اور بچے كے لئے نہايت مضر اور نقصان دہ ثابت ہوسكتا ہے _ حاملہ عورتوں كو اس بات كو پورا دھيان ركھنا چاہئے _ شوہروں كا بھى فرض ہے كہ اپنے بيويوں كو بھارى چيزيں نہ اٹھانے ديں اور بھارى كام نہ كرنے ديں بلكہ بھارى كام خود انجام ديں _

۴_ زمانہ حمل ميں بعض خواتين وضع حمل كے مراحل سے بہت زيادہ خوفزدہ رہتى ہيں _ خصوصاً جن خواتين كا پہلا بچہ ہو يا جن كے بچے غير فطرى طريقے سے پيدا ہوتے ہوں _اس سلسلے ميں بھى شوہر كو اپنى بيوى كى مدد كرنى چاہئے اسے تسلى دے ہمت بندھائے _ _اور بتائے كہ اگر اپنى صحت و تندرسى كا خيال ركھا تو بچے كى پيدائشے ميں كوئي مشكل نہ ہوگى يہ ايك فطرى عمل ہے جس سے تمام عورتوں كو گزرنا پڑتا ہے اور اس كو برداشت كرنا بہت مشكل نہيں ہے اس تكليف بصورت بچہ عطا فرمائے گا جو ہمارے لئے افتخار كا باعث ہوگا _ اور اپني


ہر طرح كى مدد كا وعد كرے _ و غيرہ

۵_ بچے كى پيدائشے كا مرحلہ سخت ہوتا ہے _ حاملہ عورتيں احتمالى خطرات و نتائج سے خوفزدہ ہوتى ہيں _ وضع حمل كے بعد بھى ضعف و كمزورى باقى رہتى ہے _ بچے كى پيدائشے كے سلسلے ميں عورت كو نو ماہ حمل كى زحمت ، پھر بچے كو جنم دينے كے سخت اور صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے اوردودھ پلانا ہوتا ہے _ ليكن بچے كو وجود ميں لانے ميں شوہر پورى طرح دخيل رہتا ہے _ در حقيقت بچہ ماں باپ دونوں كے اشتراك سے وجود ميں آتا ہے _ اگر چہ اس نئے وجود كا مركز ماں كا رحم ہوتا ہے _ لہذا شوہر كا اخلاقى ، انسانى اور اسلامى لحاظ سے يہ فريضہ ہے كہ زچگى كے سخت مراحل سے گزرنے ميں اپنى بيوى كى دلجوئي كرے _ اور پورى كوشش كرے كہ يہ مرحلہ آسانى سے انجام پاجائے _ اگر ڈاكٹر ، دوا اور اسپتال لے جانے كى ضرورت ہو تو اس سے دريغ نہ كرے _ اظہار محبت كے ذريعہ بيوى كى ہمت بنڈھائے _ جب بيوى اسپتال ميں ہو تو برابر اس كى احوال پرسى كرتا رہے _ برابر اس كے پاس جائے بچے كى پيدائشے كے بعد ممكن ہو تو فوراً اس كے پاس جائے _ جب بيوى و بچہ اسپتال سے گھر آئيں تو بہتر ہے كہ خود ساتھ رہے _ اور گھر ميں اس كے آرام كے سامان مہيا كرے _ كمزورى كے زمانے ميں اسے بھارى كام نہ كرنے دے _ كوشش كرے كہ اس كے لئے مقوى غذاؤں كا انتظام رہے تا كہ وہ اپنى كھوئي ہوئي طاقت كو پھر سے محال كرلے اور صحت و سلامتى كے ساتھ اپنے كاموں او رنوزاد كى پرورش ميں مشغول ہوجائے _

مرد اگر اس طرح سے اپنے اخلاقى و اسلامى فريضہ كو پورا كرے گا تو خدا اسے اجر عطا فرمائيگا حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں كہ تم ميں بہترين مرد وہ ہے جو اپنى بيوى كے ساتھ اچھا سلوك كرے _ اور ميں تم سب كى بہ نسبت اپنى بيويوں سے سب سے اچھا سلوك كرنيوالا ہوں _(۲۸۶)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : خدا اس شخص پر رحمت نازل كرتا ہے جو


اپنے اور اپنى بيوى كے درميان اچھا رابط قائم ركھتا ہے كيونكہ خداوند عالم نے مرد كو اختيار ديا ہے اور اس كو سرپرست بنايا ہے _(۲۸۷)

مرد اپنے اچھے طرز سلوك سے اپنے خاندان كے مركز كو اور زيادہ پر خلوص اور گرم بنا كر ازدواجى زندگى كو مزيد مستحكم و پائيدار بنا سكتا ہے _ ايسے مرد كى بيوى بھى اپنے مہربان شوہر كى نوازش محبتوں اور زحمتوں كا جواب بھى محبت سے دے گى اور نہايت ذوق و شوق اور دلچسپى كے ساتھ زندگى كے كاموں ميں مشغول رہے گى _

بچہ كى پرورش ميں بيوى كى مدد كيجئے

بچے ، مياں بيوى كى مشتركہ ازدواجى زندگى كا ثمرہ ہوتے ہيں _ بچے كى پيدائشے ميں دونوں برابر كے حصہ دار ہوتے ہيں ان كے نفع و نقصان ميں دنوں شريك ہوتے ہيں _ لہذا بچے كى پرورش و نگہداشت بھى مياں بيوى كا مشرتكہ فريضہ ہے نہ كہ فقط بيوى كا يہ صحيح ہے كہ مائيں نہايت محبت و رغبيت كے ساتھ اپنے بچے كى پرورش كرتى ہيں اور بچے كے تمام كام نہلانا دھلانا ، دودھ پلانا و غيرہ نہايت دلچسپى اور توجہ كے ساتھ انجام ديتى ہيں _ بچے كى ديكھ بھال اور پرورش ميںہر قسم كى تكليف و زحمت برداشت كرتى ہيں _ بچہ بيمار يا بے چين ہو تو سارى رات جاگ كر گزارديتى ہيں اس كے رونے چيخنے چلاّنے كو برداشت كرتى ہيں ليكن شوہروں كو بھى چاہئے كہ اپنى بيوى كے ايثار اور زحمات كو معمولى نہ سمجھيں اور يہ نہ كہيں كہ بچہ كى پرورش كرنا عورت كا كام ہے ميرى اس سلسلے ميں كوئي ذمہ دارى نہيں _ يا جب بچہ بے چين ہو اور رورہا ہو تو بچہ كو ماں كے پاس چھوڑ كر خود دوسرے كمرے ميںجا كر سوجائے _

برادر عزيز يہ بات بالكل درست نہيں _ يہ بچہ آپ دونوں كا ہے_ اس كى ديكھ بھال بھى آپ دونوں كا مشتركہ فريضہ ہے _ كيا آپ محبت و جذبات سے عارى ہيں ؟ كيا انصاف ہے كہ آپ خود تو ايك كونے ميں جاكر آرام كريں اور بيچارى بيوى كو تنہا اس شور اور پريشانى سے


نپٹنے كے لئے چھوڑديں؟ كيا زن دارى اور خاندان سے محبت اسى كا نام ہے ؟ اگر آپ دن بھر كے كاموں سے تھك گئے ہيں تو آپ كى بيوى بھى تو سارے دن گھر كے كاموں ميںمشغول رہى ہے اور تھكى ہارى ہے _ اگر آپ كو نيند آرہى ہے تو اس كو بھى نيند آرہى ہوگى _ اگر بچہ كے رونے اور چيخنے چلاّنے سے آپ كے اعصاب خستہ ہوجاتے ہيں تو بيچارى ماں بھى تو پريشان ہوجاتى ہے ليكن اس كے لئے سوائے برداشت كرنے كے اور كوئي چارہ ہى نہيں ہے _

برادر محترم انصاف ، ضمير ، اسلامى اخلاق اور رفيق زندگى كا ساتھ نبھانے كا تقاضہ يہ ہے كہ ايسے حساس موقعوں پربچے كى نگہداشت ميں اپنى بيوى كى مدد كريں يا تو دونوں مل كر بچے كو چى كرائيں اس كے بعد سوئيں _يا كچھ ويربچے كو آپ ديكھيں اور آپ كى بيوى سوجائے _ اور كچھ دير بيوى بچے كو ديكھے اور آپ سوجائيں _ اگر آپ كى بيوى رات كو جاگنے كے سبب صبح كى نماز كے بعد آرام كرنا چاہے تو آپ اس سے اس بات كى توقع نہ كريں كہ ہرروز كى مانند وہ آپ كے لئے ناشتہ تيار كرے _ كيا ہرج ہے اگر آپ خود چائے اور ناشتہ تيار كركے كھاليں اور بيوى كے لئے بھى تيار كركے باہر جائيں _ جب سفر يا دعوت ميں جائيں تو ضرورى نہيں ہے كہ بيوى ہى سارے وقت بچے كو گود ميں لئے رہے _ بلكہ آپ اس كام ميں بھى اس سے تعاون كريں _ بطور مجموعى بچے كى ديكھ بھال اور پرورش ميں آپ پورى طرح مدد كريں _ زن دارى اوراسلامى اخلاقى اسى كانام ہے _ اور يہ چيز آپ كى زندگى كو خوشى و مسرت سے ہمكناركرے گى _

البتہ بہنوں سے بھى اس سلسلے ميں عرض ہے كہ شوہر بہت زيادہ توقعات نہ ركھيں كيونكہ كسب معاش اور ضروريات زندگى كو مہيا كرنے ميں اسے گوناگون مشكلات اورزحمتوں كا سامنا پڑتا ہے اورانھيں يہ بات ذہن ميں ركھنى چاہئے كہ مرد كو گھر سے باہر طرح طرح كى مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے اور تھكاہارا آرام وسكون حاصل كرنے كى غرض سے گھر آتاہے لہذا يہ توقع نہ كريں كہ جب وہ گھر آئے تو كپڑے اتاركرفوراً بچے اور گھر كے كاموں ميں مشغول ہوجائے _ اس سلسلے


ميں ضرورت سے زيادہ اور عام حالات ميں اسے سے مدد كى اميد نہيں ركھنى چاہئے _

اختلافات كو حل كرنے ميں سب سے بڑى ركاوٹ

خاندانى اختلافات كو دوركرنے ميں جو چيز سب سے بڑى ركاوٹ بنتى ہے وہ خود بينى اور خودپسندى كى بيمارى ہے_ افسوس بہت سے لوگ اس مہلك بيمارى ميں مبتلا ہوتے ہيں _ اس مرض ميں مبتلا انسان كى عقل پر پردے پڑجاتے ہيں _

ايسا انسان صرف اپنى خوبيوں كو ديكھتا ہے اورانھيں بہت بڑا تصور كرتا ہے ليكن اسے اپنے آپ ميں كوئي بھى خامى يابرائي نظر نہيںآتى _ اس وقت اور بھى بدتر ہوتا ہے جب اس مرض ميں مبتلا دو سرا شخص بھى مل جائے اور ايك دوسرے كى عيب جوئي كريں _

كہيں مياں بيوى دونوں اس مرض كا شكار ہوتے ہيں او ركہيں ان ميں سے صرف ايك اس مرض ميں مبتلا ہوتا ہے _ جہاں دونوں ہى اس بيمارى گرفتار ہوں وہاں رات دن لڑائي جھگڑے اور تنقيد كا سلسلہ جارى رہتا ہے _ دونوں ايك دوسرے كے عيبوں پر نظر ركھتے ہيں اور اسے بڑا كر كے پيش كرتے ہيں او رتنقيد كرتے رہتے ہيں ليكن اپنے آپ كو ہر قسم كے عيوب ونقائص سے مبرا سمجھتے ہيں _ اگر مياں بيوى ميں سے كوئي ايك اس مرض ميں مبتلا ہوتا ہے تو وہ دوسرے پر نكتہ چينى كرتا ہے ليكن خود كو بالكل پاك و بے عيب سمجھتا ہے _ جہاں پر مياں بيوى دونوں ہى اس مرض كا شكار ہوتے ہيں وہاں ان كى اصلاح بيحد دشوار كام ہے چونكہ خود كو بے عيب سمجھتے ہيں اور پند و نصيحت سننے كے روا دار نہيں ہوتے _ جب ريڈيو يا ٹيلى وين(۱) سے خاندان سے متعلق نشر ہونے والے

۱_ اسلامى جمہوريہ ايران كے ريڈيو اور ٹيلى وين سے خاندانوں كى اصلاح كے متعلق بے حد مفيد اور كار آمد پرو گرام د لچسپ انداز ميں نشر ہوتے ہيں _ سلسلہ وار ڈراموں ، تقريروں اور انٹر و يو و غيرہ كى شكل ميں خاندانى مسائل اور ان كے حل پر روشنى ڈالى جاتى ہے _ كئي سال سے ايك مشہورعالم دين حجة الا سلام حسينى اخلاق در خانوادہ نامى پرو گرام ٹيلى وين سے بے حد دلچسپ اور دلنشين اور انداز ميں پيش كرر ہے ہيں _ ( مترجم )


پروگراموں كو سنتے ہيں اگر كسى ايسے عيب كے بارے ميں بتايا جاتا ہے جو ان ميں سے كسى ايك ميں موجود ہوتا ہے تو اس كو نہايت توجہ سے سنتے ہيں اور فوراً دوسرے فريق كى طرف رخ كركے بولنا شروع كرديتے ہيں ليكن اگر كسى ايسے عيب كا ذكر كيا جارہا ہو جو خود ان ميں موجود ہو تو اس پر ذرا بھى غورنہيں كرتے اور اپنے آپ كو اس سے پاك و مبرا سمجھتے ہيں _ اخلاقى كتابيں خريد كرلاتے ہيں اور بيوى كوديتے ہيں كو لواسے پڑھواوراپنے فرائض پر عمل كروليكن خود ان كتابوں كو پڑھنے كى ضرورت محسوس نہيں كرتے كيونكہ خود كو سو فيصد بے عيب سمجھتے ہيں _ بعض افراد ميں خودپسندى اتنى زيادہ اوراتنى عميق ہوتى ہے كہ انھيں اپنے اس مرض كا ذرا بھى احساس نہيں ہوتا _ ظاہر ہے ايسے خاندانوں كى اصلاح اور ان كى مشكلات كو حل كرنا نہايت دشوار بلكہ ناممكن ہوتا ہے _ وہ مجبور ہيں كہ ياتو سارى عمر اختلافات لڑائي جھگڑے اور رنج و مصيبت كے ساتھ زندگى گزاريں يا طلاق و عليحدگى اختياركريں اور اس سے پيدا ہونے والے خراب نتائج كو برداشت كريں _ لہذا ان تمام خاندانوں سے جو كہ اس طرح كے اختلافات كا شكار ہيں استدعا كى جاتى ہے كہ خود بينى اور خودغرضى سے دستبردار ہوجائيں اور كم سے كم اس بات پر غور كريں كہ ممكن ہے ان كے اندر بھى كوئي عيب موجود ہو اوران كا بھى قصور ہو _ اور كسى مناسب موقع پر بغير كسى تعصب اور خودخواہى كے ، دوامين اورعادل قاضيوں كى مانند مل كربيٹھيں اور اپنے اختلافات كے موضوع پر بات چيت كريں _ بغير كسى تعصب كے اوراپنا دفاع كئے بغير خوب غور سے ايك دوسرے كى بات سنيں _ ہر ايك اپنى اصلاح كى غرض سے ، كوئي بات چھپائے بغير اپنے قصور اور غلطيوں كو نوٹ كرے _ اس كے بعد دونوں ارادہ كريں كہ اپنے عيوب كى اصلاح كرنے كى كوشش كريں گے _ اگر واقعى اپنے اختلافات كو حل كرے اور آپس ميں مفاہمت پيدا كرنے كى ضرورت محسوس كرتے ہيں تو اس طريقے سے اپنى مشكلات كا حل بخوبى تلاش كرسكتے ہيں اور اپنى گم گشتہ محبت اور صلح و صفائي كو پھر سے حاصل كرسكتے ہيں _


اگر اپنے مسائل باہمى تبادلہ خيالات كے ذريعہ حل كرنے ميں دشوارى محسوس كريں تو ثالث كے طور پر كسى تجربہ كار، خيرخواہ، مومن اور قابل اعتماد شخص سے مدد لے سكتے ہيں _ يہ شخص اگر اپنے عزيزوں ميں سے ہو تو زيادہ اچھا ہے _ اس موقع پر اپنے حالات ميں اصلاح كى غرض سے كوئي بات چھپائے بغير، اختلافات پيدا كرنے والى تمام باتيں بے كم و كاست كو بتاديں _ اور اس سے كہيں كہ ان كے مسائل كا فيصلہ كرے _ اس ثالث كى باتوں كو خوب غور سے سنيں اگر كسى بات ميں كوئي شك و شبہ ہو تو اس سے وضاحت سے پوچھيں _ اور اس كى بتائي ہوئي باتوں پر عمل كرنے كے ارادے سے انھيں نوٹ كرليں _ اور تمام باتوں پر نہايت ايماندارى كے ساتھ عمل كريں اوراپنے خاندان كے كھوئے ہوئے سكون و چين كو پھر سے بحال كرليں _ اگر چہ خودخواہى اور ضد كو چھوڑدينا اور اپنے خاندان كے كھوئے ہوئے سكون و چين كو پھر سے بحال كرليں _ اگرچہ خودخواہى اور ضد كو چھوڑدينا اور كسى ثالت كى باتوں كو مان ليناآسان كام نہيں ہے _ ليكن ايك دانشمند انسان ، جو اپنے خاندان كے ثبات و بقا او رسكون و آرام كا خواہان ہوتا ہے ، اس كے لئے يہ كام چندان مشكل نہيں ، اس كے نتيجہ ميں اس كے حاصلہ مفيد نتائج سے بہرہ مند ہوسكتا ہے _

مياں بيوى كے ماں باپ يا قريبى رشتہ دار اگران كے اختلافات سے واقف ہوں تو انھيں چاہئے كسى كى بيجا حمايت كئے بغير انھيں سلجھانے كى كوشش كريں _ بہتر ہے كہ خاموشى كے ساتھ اختلافات كومزيد ہوا ديئےغير نہايت غير جانبدارى كے ساتھ ، اختلافات كے موضوع كو ايك ايماندار، خيرخواہ اور تجربہ كارشخص كے سامنے پيش كريں اور اس سلسلے ميں اس سے مدد ليں تا كہ خدا كى مدد سے ان كے اختلافات رفع ہوجائيں _

خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے : اگر مياں بيوى ميں جدائي اور جھگڑا پيدا ہونے كا انديشہ ہو تو ايك شخص كو مرد كے رشتہ داروں ميں سے اور ايك شخص كو بيوى كے رشتہ داروں ميں


سے منتخب كرو اگر يہ دونوں ثالث آپس ميں ميل كرادينا چاہيں گے تو خداوند عالم ان كے درميان توافق پيدا كرے گا _ خدا بيشك تمام چيزوں سے واقف اور تما م رموز سے باخبر ہے _(۲۸۸)

طلاق

اگر چہ اسلام كى نظر ميں طلاق ايك جائز اور شرعى امر ہے ليكن اسى كے ساتھ اسے بدترين اور نہايت ناپسنديدہ فعل قرارديا گيا ہے _ امام جعفرصادق (ع) فرماتے ہيں : شادى كيجئے ليكن طلاق نہ ديجئے كيونكہ طلاق واقع ہونے سے عرش خدا لرز جاتا ہے _(۲۸۹)

حضرت امام جعفر صادق (ع) يہ بھى فرماتے ہيں : خداوند عالم اس گھر كو دوست ركھتا ہے جہاں شادى انجام پائے اور اسے وہ گھر ناپسند ہے جہاں طلاق دى جائے _ خدا كے نزديك سب سے زيادہ قابل نفرت اور ناپسنديدہ چيز طلاق ہے _(۲۹۰)

شادى كرنا ، جوتا اور موزہ خردينا نہيں ہے كہ جب دل بھرگيا اٹھاكے پھينك ديا اوردوسرا جوتا خريدليا _ شادى ايك مقدس انسانى عہد و پيمان اور معنوى ملن ہے _ دو اانسان باہم عہد و پيمان كرتے ہيں كہ آخر عمر تك ايك دوسرے كے يارومددگار اور مونس و غمخوار رہيں گے _ اسى مقدس عہد پر بھروسہ كركے لڑكى اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں كو چھوڑ كر سينكڑوں آرزؤں كے ساتھ شوہر كے گھر ميں قدم ركھتى ہے اور اپنى عفت و عصمت كو اس كے حوالے كرديتى ہے ، اسى ملكوتى عہد پر اعتماد كركے مرد عقد و شادى اور ضروريات زندگى كو فراہم كرنے كے لئے بہت زيادہ خرچہ كرتا ہے _ اور شب و روز اپنے خاندان كے آرام و آسائشے كے لئے زحمت اٹھاتا ہے شادى كوئي ہوس بازى يا كھيل تماشہ نہيں ہے كہ مرد يا عورت كوئي معمولى بہانہ كركے اس كو توڑ ڈاليں _ يہ درست ہے كہ طلاق كو جائز قرارديا گيا ہے ليكن اسلام كى مقدس شرع ميں اسكى سختى سے ممانعت كى گئي ہے _ افسوس كہ اسلامى ممالك ميں يہ گھناؤنى چيز اس قدر رائج ہوگئي ہے كہ اس نے خاندانوں كى بنيادوں كو متزلزل كركے ازدواجى زندگى كے اعتماد كو سلب كرليا ہے


طلاق جائز ہے ليكن بے حد ناگزير مواقع كے علاوہ اس سے استفادہ نہيں كرنا چاہئے پيغمبر اسلام (ص) كا فرمان ہے كہ مجھ سے جبريل امين نے عورتوں كے بارے ميں اس قدر تاكيد كى ہے كہ ميں سمجھتا ہوں سواے اس موقع كہ وہ زنا كى مرتكب ہوئي ہوں انھيں ہرگز طلاق نہيں دينى چاہئے _(۲۹۱)

ہمارے معاشرے ميں جو طلاقيں انجام پاتى ہيں ان ميں سے اكثر كے اسباب و علل بے بنياد اور ناقابل توجہ ہوتے ہيں بلكہ اكثر بچگانہ بہانوں اور مياں بيوى كے ضد كے نتيجہ ميں انجام پاتى ہيں _ اور نہايت چھوٹى چھوٹى اور غير اہم باتوں كى خاطر شادى شدہ زندگى كا شيرازہ بكھر جاتاہے _ ليكن مياں يا بيوى اپنى نادانى اور خود غرضى سے ايك نہايت معمولى بات كو اس قدر بڑا بناديتے ہيں كہ مفاہمت اور سمجھوتہ ناممكن بن جاتا ہے ذيل كے واقعات پر توجہ فرمايئے

ايك ۲۴ سالہ خاتون اپنے شوہر سے فرمائشے كرتى ہے كہ اس كے ماں باپ كوشاندار دعوت دے _ چونكہ شوہر اس كى يہ فرمائشے پورى نہيں كرتا اس لئے طلاق كا مطالبہ كرتى ہے _(۲۹۲)

ايك مرد اس سبب سے كہ اس كى بيوى كے يہاں لڑكياں پيدا ہوتى ہيں ، پانچ بچوں كے ہوتے ہوئے اس كو طلاق دے ديتا ہے _(۲۹۳)

ايك عورت اس بناء پر طلاق كاتقاضہ كرتى ہے كہ اس كا شوہر عارف قسم كا ہے اورزندگى ميں دلچسپى نہيں ليتا _(۲۹۴)

ايك مرد ، ايك دولتمند خاتون سے شادى كرنا چاہتا ہے اس لئے اپنى بيوى كو طلاق دينے كى درخواست كرتا ہے _(۲۹۵)

ايك عورت اس وجہ سے كہ ا س كے شوہر نے اپنے كوٹ كى آستين ميں روپيہ چھپا ركھا تھا ، عليحدگى كا مطالبہ كرتى ہے _(۲۹۶)

ايك شخص اپنى بيوى كو منحوس كہہ كر طلاق ديتا ہے كيونكہ شادى كے بعد اس كے باپ كا انتقال ہوگيا اور اس كے ماموں كا ديواليہ نكل گيا _(۲۹۷)


اكثر طلاقيں اسى قسم كى معمولى اور غير اہم باتوں كى بنياد پر انجام پاتى ہيں _ اگر مياں بيوى انجام كار كے متعلق غور كريں تو اس منحوس چيز سے پرہيز كريں _

جو مياں بيوى عليحدہ ہونا چاہتے ہيں انھيں چاہئے جلد بازى سے ہرگز كام نہ ليں بہتر ہے كہ پہلے اس كے نتائج اور اپنے مستقبل كے بارے ميں خوب غور و فكر كريں _ اس كے بعد فيصلہ كريں خاص طور پر ان دو باتوں كے متعلق اچھى طرح غور و فكر كرنا چاہئے _

۱_ جو مياں بيوى عليحدہ ہونا چاہتے ہيں يقينا بعد ميں دوسرى شادى كرنے كا ارادہ ركھتے ہوں گے مرد سوچتا ہے كہ اس بيوى كو طلاق دے كر اپنى پسند كے مطابق دوسرى عورت سے شادى كرلوں گا عورت بھى يہى سوچتى ہے كہ اس شوہر سے طلاق حاصل كركے ايك آئيڈيل مرد سے شادى كرلوں گى ليكن ان مياں بيوى كو يہ بات ذہن نشين كرلينى چاہئے كہ عليحدہ ہونے كى صورت ميں و ہ بدنامى كا شكار ہوجائيں گے _ ہوس باز، خود غرض اور بے وفا مشہور ہوجائيں گے _ مرد جس لڑكى كو شادى كا پيغام بھجواتے گا تحقيق كے بعد اس كے گھروالوں كو معلوم ہوجائے گا كہ اس نے اپنى بيوى كو طلاق دى ہے اور اس سبب سے اس كا كردار مشكوك ہوجائے گا _ وہ لوگ سوچيں گے كہ يا تو يہ آدمى اچھا نہيں ہے جس كے سبب اس كى بيوى نے طلاق لے لى يا اس نے اپنى بيوى كو طلاق دے دى جس سے معلوم ہوتا ہے كہ وفادار نہيں ہے _

جو عورت اپنے شوہر سے طلاق ليتى ہے اس كو جاننا چاہئے كہ دوسرى شادى ميں اس كو بہت سى مشكلات پيش آئيں گى _ كيونكہ لوگ سوچتے ہيں كہ اگر يہ عورت وفادار اور نيك ہوتى تو اپنے شوہر سے طلاق نہ ليتى _

اس لئے مرد عورت دونوں كو دوسرى شادى كرنے ميں بہت سى ركاوٹوں كا سامنا كرنا پڑتا ہے اور اكثر ديكھنے ميں آيا ہے كہ مرد ناچار بقيہ سارى عمرتنہا اور پريشان زندگي


گزارنے پر مجبور ہوجاتاہے _اور عورت بھى مجبوراً سارى عمر ماں باپ يا دوسرے رشتہ داروں كے سرپر پڑى رہتى ہے _ يا بغير كسى ہمدرد كے تنہا زندگى گزارتى ہے _ تنہا زندگى بہت دشوار اور تھكادينے والى ہوتى ہے كبھى كبھى تو يہ تنہائي انسان كو ڈس ليتى ہے اور انسان ايسى زندگى پر موت كو ترجيح ديتا ہے اور اكتا كر خودكشى كرڈالتا ہے _

ايك ۲۲ سالہ جوان عورت نے جو ايك بچہ ہوجانے كے باوجود طلاق لے كر اپنے باپ كے گھر چلى آئي تھى ، اپنى بہن كى شادى كى رات خودكشى كرڈالتى ہے _(۲۹۸)

فرض كيجئے مرد بہت زيادہ مالى نقصانات برداشت كركے اور سعى بسيار كے بعد دوسرى شادى كرنے ميں كامياب ہوجاتاہے ليكن كيا معلوم دوسرى بيوى پہلى سے بہتر ہوگى يا نہيں بلكہ اكثر انجام كا ربدتر ہى ہوتاہے _ اكثر ديكھنے ميں آتا ہے دوسرى شادى بھى ناكام ہوتى ہے او راگر امكانى صورت پيدا ہوگئي تو د وسرى بيوى كو طلاق دے كر پہلى بيوى سے صلح كرليتا ہے _

ايك اسّى سالہ مرد نے عدالت ميں بتايا: تقريباً ساٹھ سال قبل ميں نے ايك عورت سے شادى كى تھى _ ميرى زندگى بہت پرسكون تھى ليكن كچھ مدت كے بعد اپنى بيوى كے ناروا سلوك سے ناراض ہوكر ميں نے اس كو طلاق دے دى _ اس دوران ميں ، ميں ۹۷ مختلف عورتوں سے نكاح او رمتعہ كئے اور طلاقيں ديں _ كافى عرصہ بعد ميں نے محسوس كيا كہ ميرى پہلى بيوى ان سب سے زيادہ وفادار تھى ، بہت كوشش كے بعد ميں نے اسے ڈھونڈ نكالا ، چونكہ وہ بھى ميرى طرح تنہائي سے تھك چكى تھى اس لئے ہم دونوں پھر سے شادى كرنے پر رضامندہوگئے _(۲۹۹)

ايك شخص نے اپنى دوسرى بيوى كو طلا قدے دے دى كيونكہ دوسرى بيوى اس كى پہلى بيوى سے ہونيوالے اس كے دو بچوں كى نگہداشت نہيں كرسكتى تھى _ اور اپنى پہلى بيوى سے ، جسے اس نے پانچ سال قبل طلاق دے دى تھى پھر سے شادى كرلى _(۳۰۰)

۲_ جو مياں بيوى عليحدہ ہونے كى فكر ميں ہيں اگر بال بچوں والے ہيں تو انھيں اس اہم اور


حساس مسئلہ پر بھى غوركرنا چاہئے _ بچوں كى خوشى اور بھلائي اسى ميں ہوتى ہے كہ ماں باپ دونوں ساتھ رہيں تا كہ وہ باپ كے سائے اور ماں كى شفيق آغوش ميں پرورش پائيں _

اگر اس مشترك زندگى كے تانے بانے بكھر جاتے ہيں تو بچوں كى اميدوں كے محل چكنا چور ہوجاتے ہيں _ اور ان كى خوشى و مسرت كا خاتمہ ہوجاتاہے _ اگرباپ ان كى پرورش كى ذمہ دارى لے تو ماں كى بے لوث محبت ومامتا سے محروم ہوجاتے ہيں اور اكثر اوقات سوتيلى ماں سے سابقہ پڑتا ہے _ سوتيلى ماؤوں كا سلوك عام طور پر اچھا نہيں ہوتا _ وہ اپنى سوت كے بچے كو اپنے اوپر ايك بوجھ سمجھتى ہے لہذا اكثر سوتيلى مائيں بچوں كو بہت اذيت و آزار پہونچاتى ہيں _ باپ كے پاس بھى سوائے صبرو خاموشى كے اور كوئي چارہ نہيں ہوتا _

ايك چودہ سالہ دلہن جس نے خودكشى كا اقدام كيا تھا اسپتال ميں بتايا : ميں ايك سال كى تھى جب ميرے ماں باپ عليحدہ ہوگئے اور جيسا كہ ميں نے سنا ہے ميرے باپ نے ڈيڑھ سال بعد دوسرى شادى كرلى اور اب بھى دونوں باہم زندگى گزاررہے ہيں _ ميرى سوتيلى ماں مجھ كو بہت مارتى پٹيتى تھى _ يہاں تك كہ اس نے كئي بار كباب بنانے والى لوہے كى سيخ سے ميرے جسم كو جلا ديا _ اگر چہ ميرے باپ كى ماں حالت اچھى ہے ليكن انھوں نے مجھے اسكول نہ جانے ديا _ ميں ہميشہ اسكول اور كتابوں كى حسرت ميں كڑھتى رہى _ ايك ماہ قبل ميرے باپ نے زبردستى ميرا نكاح ايك ۴۵ سالہ مرد سے كرديا _(۳۰۱)

ايك تيرہ سالہ لڑكى نے گلى ميں رسى ڈال كر خودكشى كرلى _ يہ لڑكى اپنے دو بھائيوں كے ساتھ رہتى تھى _ اس كے بھائي نے بتايا كہ ميرے ماں باپ تين سال قبل عليحدہ ہوگئے تھے _ ميرى ماں نے ايك اور مرد سے شادى كرلى اور دو مہينے قبل ميرے باپ كا بھى انتقال ہوگيا _ ميں كل شام ساڑھے چھ بجے جب گھر واپس آيا تو مجھے معلوم ہوا كہ ميرى بہن نے گلے ميں رستى ڈال كر خودكشى كرلى _(۳۰۲)


اگر بچہ كى سرپرستى ماں كے ذمہ ہوتى ہے تو معصوم بچے باپ كى سرپرستى اور محبت سے محروم ہوجاتے ہيں اكثر اوقات سوتيلے باپ كے ظلم و ستم كا نشانہ بنتے ہيں _

ايك ماں نے اپنے نئے شوہر كى مدد سے اپنے آٹھ سالہ بچے كے ہاتھ پاؤں پلنگ ميں باندھ ديئےور كمرے كا دروازہ بند كركے باہر گھومنے چلى گئي _ جب وہ لوگ واپس لوٹے تو ديكھا كمرے ميں آگ لگ گئي تھى اور بچہ جل كر ختم ہوچكا تھا _(۳۰۳)

طلاق ، خاندان كے محبت بھرے مركز كو درہم برہم كرديتى ہے _ اس خاندان كے بچے لاوارث اور خانماں برباد ہوجاتے ہيں _ كبھى كبھى ماں باپ اپنى خود غرضى اور ضد ميں آكر ان بے گناہ معصوم بچوں كويونہى لا وارث چھوڑديتے ہيں _

۴_۶_۹_اور ۱۲ سال كى عمر كے چار بچے آوارہ اور سرگردان و پريشان ايك پوليس چوكى ميں گئے _ بڑے بچے نے بتايا كہ ہمارے ماں باپ ميں مسلسل لڑائي جھگڑا ہوتا رہتا تھا _ كچھ دن قبل دونوں عليحدہ ہوگئے اور ان ميں سے كوئي بھى ہم لوگوں كى سرپرستى قبول كرنے كے لئے تيارنہيں ہے _(۳۰۴)

جن معصوم بچوں كا كوئي سرپرست نہ رہے اور ان كى كوئي جائے پناہ نہ ہو تو ايسے بچے زيادہ تر آوارہ اور بد معاش بن جاتے ہيں _ ان كى نفسياتى الجھنيں انھيں بچپن سے ہى يا بڑے ہونے كے بعدچوري، ڈكيٹى ، مارپيٹ اور قتل و غارت جيسے جرائم ميں مبتلا كرديتى ہيں ، اخبار ورسائل ميں ہميں ايسے مجرموں كى خبريں برابر پڑھنے كو ملتى ہيں _ اخبار اطلاعات لكھتا ہے :_

بچوں كى اصلاح و تربيت كے مركز ميں تحقيق كرنے سے معلوم ہوا كہ اس مركز كے ايك سوسولہ مجرم جوانوں ميں سے اسّى افراد كى مائيں سوتيلى تھيں اور ان كے كہنے كے مطابق ان كى گمراہى اور بے راہروى كا سبب ان كى سوتيلى ماؤوں كا ظلم و ستم ، سختياں اور برا سلوك تھا _(۳۰۵)

برادر عزيز اور خواہر گرامى خدا كى خوشنودى اور اپنے معصوم بچوں كى خاطر ايثار و فداكاري


سے كام ليجئے ، جو كچھ اب تك ہوا اسے بھول جايئے بہانے نہ تلاش كيجئے _ ہوس بازى سے دستبردار ہوجايئے ايك دوسرے كے معمولى عيوب اور خاميوں كو نظر انداز كيجئے _ باہمى كشمكش اور ہٹ دھرمى چھوڑديجئے _ اپنے اور اپنے معصوم بچوں كے انجام كے بارے ميں خواب اچھى طرح غور و فكر كيجئے يہ بيچارے تو بے قصور ہيں _

ان كى مسكين و افسردہ صورتوں اور حسرت بھرى نگاہوں پر ترس كھايئےہ معصوم آپ سے اس بات كى توقع ركھتے ہيں كہ آپ ان كے اشيانے يعنى خاندان كے پر خلوص مركز كو درہم برہم نہ ہونے ديں گے اور ان بے بال و پر كے چوزوں كو سرگرداں اور بے خانماں نہ كريں گے _

اگر آپ نے ان كى دلى خواہشات و جذبات كو نظر انداز كرديا تو ان كے ننّھے ننّھے دل ٹوٹ جائيں گے اور ان كے نالہ و فغاں بے اثر نہ ہوں گے اور آپ كبھى بھى خوشى و اطمينان محسوس نہ كر سكيں گے !!


فہرست ماخذ

(حواشى )

۱_ سورہ روم آيت ۲۱

۲_ مجمع الزوائد و منبع الفوائد ، مصنف : على بن ابى بكر ابوالحسن نور الدين الہيثمى مصري(م سنہ ۸۰۷ ھ ،سنہ ۱۴۰۵ئ)

۳_بحار الانوار ، مصنف ، علامہ محمد باقر مجلسى (رہ) (م سنہ ۱۱۱۱ھ) جلد ۱۰۳ ص ۲۱۷

۴_ بحارالانوار ، جلد ۱۰۳ ص ۲۲۲

۵_ سورہ روم آيت ۲۱

۶_ وسائل الشيعہ : تاليف : شيخ محمد بن الحسن الحر العاملى (م سنہ) جلد ۱۴ ص ۳

۷_ وسائل الشيعہ جلد ۱۴ ص ۱۳

۸_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۲۳

۹_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۵

۱۰_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۶

۱۱_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۶

۱۲_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۲۳

۱۳_ بحارالانوار ج ۴۳ ص ۱۱۷

۱۴_ كتاب'' در آغوش خوش بختي'' ص ۱۴۲

۱۵_ بحار الانوارج ۱۰۳ ص ۲۵۴

۱۶_ محجة البيضائ: تاليف : محمد بن المرتضى معروف بہ ملا محسن فيض كاشانى ( م سنہ ۱۰۰۰ ھ) ج ۲ ص ۷۰

۱۷_ مستدرك الوسائل ، تاليف : ميرزا حسين النورى الطّبرسى _ ج ۲ ص ۵۵۲_

۱۸_ روزنامہ اطلاعات تہران _ الامار چ سنہ ۱۹ ۷۰ شمارہ ص ۱۳۴۰


۱۹_ سورہ روم ، آيت ۲۱

۲۰_مستدرك ، ج ۲ ص ۵۳۲

۲۱_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۵

۲۲_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۱۸۱

۲۳ _مستدرك ج ۳ ص ۵۵۱

۲۴ _ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۵۳

۲۵_ مستدرك ج ۲ ص ۵۵۱

۲۶ _روزنامہ اطلاعات تہران _ ۴ مئي سنہ ۱۹۷۲ ء شمارہ ۱۳۷۸۷

۲۷ _روزنامہ اطلاعات تہران ، ۲۲ نوامبر سنہ ۱۹۷۱ شمارہ ۱۳۶۵۲

۲۸_ بحار الانوار ج ۷۶ ص ۳۶۳بہ ملا محسن فيض كاشانى ، ج ۲ ص ۹۳۱

۲۹_ محجة البيضاء ج ۲ ص ۷۲

۳۰_ روزنامہ اطلاعات ، ۱۸ نوامبر سنہ ۱۹۷۱ شمارہ ۱۳۶۵۱

۳۱_ روزنامہ اطلاعات ، ۳جنورى سنہ ۱۹۷۲ شمارہ سنہ ۱۳۶۸۹

۳۲_ بحارالانوار ج ۷۱ ص ۳۸۹

۳۳_ بحارالانوار ج ۷۳ ص ۲۹۸

۳۴_ رونامہ اطلاعات ۲۳ جنورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۳۵_ روزنامہ اطلاعت ۲۵ آگست سنہ ۱۹۷۱

۳۶_ بحارالانوار ج ۷۱ ص ۳۷۷

۳۷_ بحار الانوار ج ۱۰۳ص ۲۵۳

۳۸_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۵۳

۳۹_ بحار الانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۲


۴۰_ بحارالانوار ج ۷۶ص ۳۶۷

۴۱ _ مستدرك ج ۲ ص ۵۳۲

۴۲ _ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۱۷

۴۳_ مستدرك ج ۲ ص ۵۳۴

۴۴_ سورہ ابراہيم آيت ۷

۴۵_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۹

۴۶_ شافى _تاليف : محمدبن المرتضى معروف

۴۷_ وسائل الشيعہ ج ۱۱ ص ۵۴۲

۴۸_ روزنامہ اطلاعات ۲۴ دسمبر سنہ ۱۹۶۹

۴۹_ روزنامہ اطلاعات ۲۸ ، نوامبر سنہ ۱۹۷۱ئ

۵۰_ روزنامہ اطلاعات ۶ فرورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۵۱_ روزنامہ اطلاعات يكم مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ

۵۲_ روزنامہ اطلاعات ۲۷ فرورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۵۳_ بحار الانوار ج ۷۳ ص ۳۸۵_

۵۴_ بحارالانوار ج ۱۰۴ ص ۳۸

۵۵_ روزنامہ اطلاعات ۲۲فرورى سنہ ۱۹۷۲

۵۶_ بحارالانوار ج ۱۰۴ ص ۳۹

۵۷_ سورہ نور آيت ۳۱


۵۸_ بحار الانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۵

۵۹_ بحار الانوار ج ۷۴ ص ۱۰۱

۶۰_روزنامہ اطلاعات ، تہران ۴ اگست سنہ ۱۹۷۰

۶۱_بحار الانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۷

۶۲_روزنامہ اطلاعات ۲۸ دسمبر سنہ ۱۹۷۱ ئ

۶۳_روزنامہ اطلاعات ۲۸ دسمبر سنہ ۱۹۷۱

۶۴_روزنامہ اطلاعات ۱۹ جنورى سنہ ۱۹۷۰

۶۵_روزنامہ اطلاعات ۱۶ جولائي سنہ ۱۹۷۰

۶۶_روزنامہ اطلاعات ۱۶ جولائي سنہ ۱۹۷۰

۶۷_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۲۳

۶۸_بحار الانوار ج ۷۴ ص ۵

۶۹_بحارالانوار ج ۷۶ ص ۳۶۷

۷۰_سورہ حجرات آيت ، ۱۲ اللہ بعضہم على بعض و مبا انفقوا من اموالہم فالصالحات قانتات

۷۱_بحارالانوار ج ۷۵ ص ۱۹۴

۷۲_بحار الانوار ج ۷۵ ص ۱۹۴

۷۳_بحارالانوار ج ۵۷ ص ۲۱۸

۷۴_روزنامہ اطلاعات ۱۸ نوامبر سنہ ۱۹۷۱ ء

۷۵_اطلاعات ہفتگى شمارہ ۱۶۲۸

۷۶_روزنامہ اطلاعات ۳۰ نومبر ۱۹۶۹


۷۷_روزنامہ اطلاعات ۲ مئي سنہ ۱۹۷۰ ئ

۷۸_روزنامہ اطلاعات ۳مئي سنہ ۱۹۷۰ ئ

۷۹ _ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۵

۸۰_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۷

۸۱_ بحار الانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۵

۸۲_ روزنامہ اطلاعات ۴ مارچ سنہ ۱۹۷۳

۸۳_ شافى ج۲ ص ۱۳۸

۸۴_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۲۸

۸۵_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۷

۸۶_ بحار الانوار ج ۷۵ ص ۷۱

۸۷_ بحارالانوار ج ۷۴ ص ۱۷۸

۸۸_ سورہ نساء آيہ ۳۴ الرجال قوامون على النساء بما فضّل

۸۹_ روزنامہ اطلاعات ۸ اگست سنہ ۱۹۷۲

۹۰_ بحار الانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۵

۹۱_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۸

۹۲ _ مستد رك ج ۲ ص ۵۳۲۰


۹۳_ شافى ج ۲ ص ۱۲۹

۹۴ _ روزنامہ اطلاعات ۶ اردسمبر ۱۹۷۱

۹۵_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۷

۹۶_ روزنامہ اطلاعات ۲۵ رنومبر ۱۹۶۹

۹۷_ روزنامہ اطاعات ۲۰ راكتوبر ۱۹۶۹

۹۸_ روزنامہ اطلاعات ۲۹ نوامبر سنہ ۱۹۶۹ ئ

۹۹_روزنامہ اطلاعات ۸ مارچ سنہ ۱۹۷۰ئ

۱۰۰_بحار الانوار ج ۷۵ ص ۱۸۶

۱۰۱_روزنام اطلاعات ۸ جولائي سنہ ۱۹۷۰ئ

۱۰۲_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۷

۱۰۳_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۹

۱۰۴_بحار الانوار ج ۷۱ ص ۴۱۹

۱۰۵_روزنامہ اطلاعات _ ۲۴ نوامبر سنہ ۱۹۷۱ئ

۱۰۶_روزنامہ اطلاعات ۱۷ آپريل سنہ ۱۹۷۲ئ

۱۰۷_محجة البيضاء ج ۱ ص ۱۶۶

۱۰۸_مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۳۲

۱۰۹_بحار الانوار ج ۷۹ ص ۳۰۰

۱۱۰_شافى ج ۱ ص ۲۰۸

۱۱۱_بحار الانوار ج ۷۶ ص ۱۷۵

۱۱۲_ بحارالانوار ج ۷۶ ص ۱۷۵


۱۱۳ _بحار الانوار ج ۷۶ ص ۱۷۷

۱۱۴_شافى ج ۱ ص ۲۰۸

۱۱۵_شافى ج ۱ ص ۲۱۵

۱۱۶_بحارالانوار ج ۷۶ ص ۱۷۶

۱۱۷_بحارالانوار ج ۷۶ص ۱۷۶

۱۱۸_شافى ج ۲ ص ۱۲۴

۱۱۹ _شافى ج ۱ ص ۲۰۹

۱۲۰_شافى ج ۱ ص ۲۱۰

۱۲۱_شافى ج ۱ ص ۲۱۱

۱۲۲_شافى ج ۱ ص ۲۱۱

۱۲۳ _شافى ج ۲ ص ۱۲۳

۱۲۴_روزنامہ اطلاعات ۱۲ فرورى سنہ ۱۹۷۰ ئ

۱۲۵_روزنامہ اطلاعات ۱۷ جولائي سنہ ۱۹۷۲ئ

۱۲۶ _روزنامہ اطلاعات ۲ مارچ سنہ ۱۹۷۰ئ

۱۲۷_روزنامہ اطلاعات ۲۳ جنورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۱۲۸ _ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۵

۱۲۹_بحار الانوار ج ۶۲ ص ۳۹۰

۱۳۰_ مستدرك ج ۲ ص ۵۵۱


۱۳۱_بحارالانوار ج ص۱۰۳

۱۳۲_وسائل الشيعہ ج ۱۲ ص ۵۵۷

۱۳۳_وسائل الشيعہ ج ۱۶ ص۵۲۰

۱۳۴_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۳۵۵

۱۳۵_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۳۵۳

۱۳۶_مستدرك ج ۲ ص ۵۵۰

۱۳۷_وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۵

۱۳۸_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص۲۴۸

۱۳۹_مستدرك ج ۲ ص ۵۳۲

۱۴۰_اصول كافى تاليف : ابى جعفر محمد بن يعقوب بن اسحاق كلينى الرّازى ( م سنہ ۳۲۹ ھ ) ج ۵ ص ۸۴

۱۴۱_اصول كافى ج ۵ ص ۸۴

۱۴۲_اصول كافى ج ۵ ص ۸۶ بانوى نمونہ اسلام ص ۷۴

۱۴۳_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۷

۱۴۴_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۵۱

۱۴۵_اصول كافى ج ۵ ص ۱۱۳

۱۴۶_آئين شوہر دارى ث ۱۷۲

۱۴۷_بحارالانوار ج ۱ ص ۱۶۵

۱۴۸_بحارالانوار ج ۱ ص ۱۷۵

۱۴۹_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۵۸


۱۵۰_ وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۹۶

۱۵۱_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۹۷

۱۵۲_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۹۶

۱۵۳_مجمع الزوائد ج ۸ ص ۱۳۸

۱۵۴_بحارالانوار ج ۷۴ ص۶

۱۵۵_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۱۷۵

۱۵۶_روزنامہ اطلاعات ۴ اپريل سنہ ۱۹۷۴ئ

۱۵۷_ وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۱۸۸

۱۵۸_وسائل الشيعہ ج ۵ ص ۱۸۹

۱۵۹_سورہ نساء آيت ۳۴

۱۶۰_ مستدرك ج ۲ ص ۵۵۰

۱۶۱_سورہء بقرہ آيت ۲۲۸

۱۶۲_روزنامہ اطلاعات ۶دسمبر سنہ ۱۹۷۱ ئ

۱۶۳_روزنامہ اطلاعات ۲۶ جنورى سنہ ۱۹۷۲ ئ

۱۶۴_ سورہء روم آيت ۲۱

۱۶۵_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۳۲۶

۱۶۶_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۲۷

۱۶۷_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۸ ۲


۱۶۸_ بحار الانوار ج ۱۰۳ ص ۲۳۶

۱۶۹_ شافى ج ۲ ص ۱۳۸

۱۷۰_ روزنامہ اطلاعات ۲۶ جنورى سنہ ۱۹۷۰ء

۱۷۱_ روزنامہ اطلاعات ۲۷ فرورى سنہ ۱۹۷۲ء

۱۷۲_ بحارالانوار ج ۷۴ ص ۳۰۳

۱۷۳_ مواعظ العدديہ _ تاليف : سيد محمد بن الحسن معروف بہ ابن قاسم الحسينى العالمى ص ۱۵۱

۱۷۴_ بحارالانوار ۱۰۳ ص ۲۲۴

۱۷۵_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۲۶

۱۷۶_شافى ج ۱ ص ۱۶۶

۱۷۷_شافى ج ۱ ص ۱۶۶

۱۷۸_شافى ج ۱ ص ۱۷۶

۱۷۹_محجة البيضاء ج ۲ ص ۵۴

۱۸۰_ بحارالانوار ج ۷۱ ص ۳۸۹

۱۸۱_بحارالانوار ج ۷۱ ص ۳۸۵

۱۸۲_بحارالانوار ج ۷۳ ص ۲۹۸

۱۸۳_بحارالانوار ج ۷۲ ص ۳۲۶

۱۸۴_بحارالانوار ج ۷۲ ص ۱۹۶

۱۸۵_مجمع الزوائد ج ۳ ص ۳۳۱

۱۸۶_روزنامہ اطلاعات ۵ مئي سنہ ۱۹۷۲ئ


۱۸۷_شافى ج ۱ ص ۲۰۶

۱۸۸_ روزنامہ اطلاعات ۱۶ نومبر سنہ ۱۹۶۹ ئ

۱۸۹_روزنامہ اطلاعات ۵ اگست سنہ ۱۹۷۰ئ

۱۹۰_روزنامہ اطلاعات ۳مئي سنہ ۱۹۷۰ ئ

۱۹۱_روزنامہ اطلاعات ۶ مئي سنہ ۱۹۷۰ئ

۱۹۲_روزنامہ اطلاعات ۲۲ فرورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۱۹۳_روزنامہ كيھان ، تہران ۱۴ اپريل سنہ ۱۹۷۳ئ

۱۹۴_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۲۳

۱۹۵_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۵

۱۹۶_ شافى ج ۲ ص ۱۳۹

۱۹۷_بحارالانوار ج ۷۵ ص ۲۷۲

۱۹۸_اطلاعات ہفتگى شمارہ ۱۶۴۶

۱۹۹_روزنامہ كيھان ، تہران ۴ اپريل سنہ ۱۹۷۳ئ

۲۰۰_روزنامہ اطلاعات ۲ مئي سنہ ۱۹۷۰ئ

۲۰۱_روزنامہ اطلاعات ۳ مئي سنہ ۱۹۷۰ئ

۲۰۲_ روزنامہ كيھان ۲۳ فرورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۰۳_ روزنامہ كيھان ۵ مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۰۴_ اطلاعات ہفتگى شمارہ ۱۶۳۶


۲۰۵_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۱۶۸

۲۰۶_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۱۶۸

۲۰۷_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۱۶۸

۲۰۸_بحارالانوار ج ۷۴ ص ۴۰۰

۲۰۹_سورہ ء نساء آيت ۳۴

۲۱۰_مستدرك ج ۲ ص ۵۵۰

۲۱۱_ بحارالانوار ج ۱۰۳ ص۲۲۷

۲۱۲_وسائل الشعيہ ج ۲ ص ۲۵۱

۲۱۳_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۹

۲۱۴_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۹

۲۱۵_روزنامہ اطلاعات ج ۳ اپريل سنہ ۱۹۷۲ ء

۲۱۶_مستدرك ج ۲ ص ۵۵۰

۲۱۷_مستدرك ج ۲ ص۵۵۰

۲۱۸_مستدرك ج ۲ ص ۵۵۰

۲۱۹_بحارالانوار ج ۱۰۳ص ۳۴۹

۲۲۰_مستدرك ج ۲ ص ۵۵۱

۲۲۱_وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۱۹

۲۲۲_سورہ نساء آيت ۳۴

۲۲۳_وسائل الشيعہ ج ۱۳ ص ۱۱۹


۲۲۴_سورہ حجرات آيت ۱۲

۲۲۵_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۴۸

۲۲۶_بحارالانوار ج ۷۵ ص ۱۹۴

۲۲۷_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۵۲

۲۲۸_بحارالانوارج ۷۴ ص ۱۸۷

۲۲۹_وسائل الشيعہ ج ۱۰۳ ص ۱۱۱

۲۳۰_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۳۹

۲۳۱_روزنامہ اطلاعات ۱۳ مارچ سنہ ۱۹۷۳ء

۲۲۲_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۰۹

۲۳۳_روزنامہ اطلاعات ۱۵ فرورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۳۴_روزنامہ اطلاعات ۱۶ فرورى سنہ ۱۹۷۰

۲۳۵_ سورہ نور آيت ۳۰

۲۳۶_وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۳۸

۲۳۷_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۳۹

۲۳۸_ كتاب او نمى داند چرا ؟ ( اوروہ نہيں جانتے ، كيوں ؟) ص ۱۴۰

۲۳۹_شافى ج ۱ ص ۱۹۷

۲۴۰_شافى ج ۱ ص ۱۹۷

۲۴۱_ بحارالانوار ج ۶۲ ص ۱۲۹

۲۴۲_شافى ج ۱ ص ۲۰۸

۲۴۳_شافى ج ۱ ص ۲۰۸


۲۴۴_شافى ج ۱ ص۲۱۰

۲۴۵_شافى ج ۱ ص ۲۱۲

۲۴۶_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۵۴

۲۴۷_مستدرك ج ۲ ص ۵۵۹

۲۴۸_وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۲۲

۲۴۹_بحارالانوار ج ۷۶ ص ۱۰۲

۲۵۰_ روزنامہ اطلاعات ۸ مئي سنہ ۱۹۷۲ ئ

۲۵۱_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۲۲

۲۵۲_ وسائل الشيعہ ج ۲ ص ۶۴۳

۲۵۳_سورہ فرقان آيت ۶۷

۲۵۴_ وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۲۵۸

۲۵۵_ وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۲۶۱

۲۵۶_ وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۲۶۱

۲۵۷_مستدرك ج ۲ ص ۶۴۳


۲۵۸_بحارالانوار ج ۱۰۴ ص ۹ ۶

۲۵۹_ وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۲۴۹

۲۶۰_ بحارالانوار ج ۱۰۴ ص ۷۳

۲۶۱_بحارالانوار ج ۱۶ ص ۲۲۷

۲۶۲_ بحارالانوار ج ۱۰۶ ص ۲۳۰

۲۶۳_ روزنامہ اطلاعات ۲ جولائي سنہ ۱۹۷۰ ئ

۲۶۴_كتاب و نمى دانند چرا ؟ ص ۱۳۸

۲۶۵_ روزنامہ اطلاعات ۱۵ جنورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۶۶_ روزنامہ اطلاعات ۱۷ ستمبر سنہ ۱۹۷۲ ء

۲۶۷_ روزنامہ اطلاعات ۸ مئي سنہ ۱۹۷۲ء

۲۶۸_ سورہ ء تحريم آيت ۶

۲۶۹_وسائل الشيعہ ج ۱۱ ص۴۱۷

۲۷۰_مستدرك ج ۲ ص ۵۵۰

۲۷۱_بحارالانوار ج ۱۰۳ ص ۲۲۷

۲۷۲_روزنامہ اطلاعات ۱۷ فرورى سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۷۳_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۹۷

۲۷۴_ وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۹۶

۲۷۵_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۹۹

۲۷۶_روزنامہ اطلاعات ۲۴ جولائي سنہ ۱۹۷۲ ء

۲۷۷_روزنامہ اطلاعات ۵ جولائي سنہ ۱۹۷۰ئ


۲۷۸_روزنامہ اطلاعات ۷ مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۷۹_سورہ نحل آت ۵۸

۲۸۰ _مستدرك ج ۲ ص ۶۱۵

۲۸۱_مستدرك ج ۲ ص ۶۱۴

۲۸۲_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۱۰۰

۲۸۳_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۱۰۱

۲۸۴_كتاب راز آفرينش انسان ص ۱۰۸

۲۸۵_ بحارالانوار ج ص ۳۴۲

۲۸۶_وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۲۲

۲۸۷_ وسائل الشيعہ ج ۱۴ ص ۱۲۲

۲۸۸_ سورہ نساء آيت ۳۵

۲۸۹_ مكارم الاخلاق ص ۲۳۵

۲۹۰_وسائل الشيعہ ج ۱۵ ص ۲۶۷

۲۹۱_مكارم الاخلاق ص ۲۴۸

۲۹۲_روزنامہ اطلاعات ۳ مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۹۳_ روزنامہ اطلاعات ۷ مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۹۴_ روزنامہ اطلاعات ۷ مارچ سنہ ۱۹۷۳ئ

۲۹۵_ روزنامہ اطلاعات ۹ مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۹۶_ روزنامہ اطلاعات ۷ مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ

۲۹۷_ روزنامہ اطلاعات ۱۵ جنورى سنہ ۱۹۷۲ئ


۲۹۸_ روزنامہ اطلاعات ۸ مارچ سنہ ۱۹۷۰ئ

۲۹۹_ روزنامہ اطلاعات ۱۰ فرورى سنہ ۱۹۷۰ئ

۳۰۰_ روزنامہ اطلاعات ۲۹ دسامبر سنہ ۱۹۶۹ئ

۳۰۱_روزنامہ كيہان تہران ۲۰ نومبر سنہ ۱۹۶۹ئ

۳۰۲_ روزنامہ اطلاعات ۲۴جنورى سنہ ۱۹۷۳ئ

۳۰۳_ روزنامہ اطلاعات ۷ فرورى سنہ ۱۹۷۰ئ

۳۰۴_ روزنامہ اطلاعات ۲۸ مئي سنہ ۱۹۷۰ئ

۳۰۵_ روزنامہ اطلاعات ۱۳ مارچ سنہ ۱۹۷۲ئ


فہرست

عرض مترجم ۴

پيش لفظ ۸

پہلا حصّہ ۱۳

خواتين كے فرائض شادى كا مقصد ۱۳

۱_ بے مقصد گھومنے اور عدم تحفظ كے احساس سے نجات اور خاندان كى تشكيل ۱۳

۲_ جنسى خواہشات كى تسكين ۱۳

۳_ توليد و افزائشے نسل ۱۳

''شوہر داري'' يعنى شوہر كى نگہداشت اور ديكھ بھال ۱۸

محبت كا اظہار كيجئے ۱۹

شوہر كا احترام ۲۲

شكوہ شكايت ۲۶

بے جا توقعات ۳۳

اپنے شوہر كى دلجوئي كيجئے ۳۶

شكر گزار كى عادت ڈالئے : ۳۸

عيب جوئي نہ كيجئے ۴۱

اپنے شوہر كے علاوہ دوسرے مردوں سے سروكار نہ ركھيئے ۴۴

اسلامى حجاب ۴۷

اپنے شوہر كى غلطيوں كو معاف كرديجئے : ۵۰

شوہر كے رشتہ داروں كے ساتھ ميل ملاپ كے ساتھ رہئے ۵۱


اپنے شوہر كے شغل اور پيشے پر اعتراض نہ كيجئے _ ۵۴

اگر پرديس ميں زندگى گزارنے پر مجبور ہوں ۶۰

اگر آپ كے شوہر گھر ميں كام كرتے ہيں ۶۲

اپنے شوہر كى ترقى ميں مدد كيجئے ۶۵

دھياں ركھئے آپ كے شوہر غلط راہ اختيار نہ كر لئيں ۶۷

شكى عورتيں ۷۲

دوسروں كى برائي كرنے والوں كى باتوں پر توجہ نہ ديجئے : ۸۶

خاتون محترم ۸۹

شوہر كى رضامندى ضرورى ہے ، ماں كى نہيں ۹۰

گھر ميں بھى صاف ستھرى اور سجى بنى رہئے : ۹۵

اس پر اپنى مامتا نچھاور كيجئے ۹۸

شوہر كوخاندان كا سرپرست مانئے ۱۰۰

سختيوں كو جھيلنا سيكھئے ۱۰۳

لڑائي جھگڑانہ كيجئے ۱۰۵

مثال كے لئے ذيل كے سچے واقعات پر توجہ كيجئے _ ۱۰۶

اگر غصہ ميں ہو تو خاموش رہئے ۱۰۸

مردوں كے پسنديدہ مشغلے ۱۱۱

خانہ داري ۱۱۲

صفائي ۱۱۴

گھر كى سجاوٹ ۱۱۸


اس سلسلہ ميں ذيل كے واقعہ سے عبرت حاصل كيجئے _ ۱۲۱

كھانا پكانا ۱۲۳

مہمانداري ۱۳۰

دوسرى مشكل ۱۳۲

امين خانہ ۱۳۷

خواتين كے مشاغل ۱۳۹

اپنے فرصت كے اوقات كو ضائع نہ كيجئے ۱۴۴

بچّوں كى پرورش ۱۴۸

۱_ شادى كا ثمرہ ۱۴۸

۲_ بچّوں كى تربيت ۱۴۹

غذا اور صحت ۱۵۳

دوسرا حصہ ۱۵۷

مردوں كے فرائض ۱۵۷

خاندان كا سرپرست ۱۵۸

بيوى كى ديكھ بھال ۱۵۹

اپنى محبت نچھا وركيجئے ۱۵۹

اپنى بيوى كى عزّت اورا حترام كيجئے ۱۶۳

خوش اخلاق بنيئے ۱۶۶

بے فائدہ شكوے شكايات ۱۷۲

اعتراض اور بہانہ جوئي ۱۷۵


تسلى اور دلجوئي ۱۷۹

عيب تلاش نہ كيجئے ۱۸۱

بدگوئي كرنے والوں كى باتوں پر دھياں نہ ديجئے ۱۸۴

اس كى لغزشوں كو نظر انداز كيجئے ۱۹۲

بيوى كى ماں ۱۹۶

دھيان ركھئے ۲۰۴

ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے ۲۰۸

تنبيہ ۲۰۹

شكّى مرد ۲۱۵

بدكردار عورت ۲۲۵

غيرعورتوں پر نظر ڈالنے سے اجتناب كيجئے ۲۲۷

سپاس گزار بنيئے ۲۳۱

گھر ميں بھى صاف ستھرے رہئے ۲۳۴

اپنى بيوى كى تيماردارى كيجئے ۲۳۷

خاندان كے اخراجات ۲۴۰

گھر كے كاموں ميں اپنى بيوى كى مدد كيجئے ۲۴۳

گھر جلدى آيا كيجئے ۲۴۴

وفادار بنيئے ۲۴۶

تعليم و تربيت ۲۵۰

بچوں كى پيدائش ۲۵۳


زمانہ حمل اورزچگي ۲۶۲

بچہ كى پرورش ميں بيوى كى مدد كيجئے ۲۶۶

اختلافات كو حل كرنے ميں سب سے بڑى ركاوٹ ۲۶۸

طلاق ۲۷۱

فہرست ماخذ ۲۷۸

(حواشى ) ۲۷۸