حقوق والدین کا اسلامی تصور( قرآن وحدیث کی روشنی میں)
گروہ بندی گوشہ خاندان اوراطفال
مصنف حجت الاسلام شیخ باقر مقدسی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


حقوق والدین کا اسلامی تصور

( قرآن وحدیث کی روشنی میں)

تالیف: محمد باقر مقدسی


انتساب

اپنے شفیق اور مہربان والدین کے نام۔


مقدمہ

بسم اللّٰه الرحمن الرحیم

الحمد للّٰه رب العالمین والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین وآله الطاهرین.

اس مختصر کتابچہ میں والدین کی عظمت انکے احتر ام اور حقوق کو قرآن وسنت کی روشنی میں نہایت مختصر اورسادہ الفاظ میں پیش کرنے کی کو شش کی گئی ہے ۔

تاکہ معاشرے کے تمام افراد والدین کی قدرومنزلت سے صحیح معنوں میں آگاہ ہو سکیں، چنانچہ عصرحاضر میں انسان جس برق رفتاری سے ظا ہری ترقی اور خوشحالی کے منازل طے کر رہا ہے وہاں اتنی ہی تیزی سے انسانی معاشرے سے معنوی اور اخلاقی قدریں بھی ختم ہوتی دیکھائی دیتی ہیں ترقی کے نام پر اسلامی معاشرے پر مغربی تہذیب وتمدن کی بالا دستی کے نتیجے میں اب ہمارے درمیان بھی ماں باپ کی عزت واحترام کا تصور گویا دفن ہو چکا ہے اب جوان بیٹے، بوڑھے ماں باپ کو تنھا چھوڑکر اپنی خوبصورت بیوی کو لے کر اپنے لئے پرعیش زندگی فراہم کرتے ہیں لیکن اس سے آگے وہ ماں باپ کی خدمت کو اپنی ڈیوٹی نہیں سمجھتے۔

جب کہ اسلامی تعلیما ت اسکے بر عکس ہیں اسلام نہ صرف زندگی میں والدین کے احترام اور خدمت کو واجب قرار دیتا ہے بلکہ انکے مرنے کے بعد بھی ان کے نام پر صد قہ، خیرات اور فاتحہ خوانی کی شکل میں انکے حقوق ادا کر نے پر زور دیتا ہے لہٰذا ان کے مرنے کے بعد ان کے نام کار خیر انجام نہ دینا حقیقت میں اسلامی تعلیمات سے واقف نہ ہونے کے مترادف ہے وگرنہ خداوندعالم نے ماں باپ کی عظمت کو اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ ماں باپ کی برکت سے زندگی کے تمام مراحل میں کا میابی ،دولت وثروت میں ترقی، معاشرے میں نیک نامی ،مشکلات میں کمی عمر میں اضافہ اور روز قیامت کے عقاب سے نجات مل سکتی ہے لہٰذا خدا نے قرآن مجید میں متعدد آیا ت کریمہ میں اپنی اطاعت اور پرستش کے حکم کے ساتھ والدین سے نیک رفتار ی سے پیش آنے کا حکم دیا ہے کہ یہ حقیقت میں اس بات کی دلیل ہے کہ والدین کی عظمت خدا کی نظر میں بہت زیادہ ہے۔


لہٰذا والدین کے حقوق ہمارے کاندھوں پر اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا ادا کرنا ہر انسان کی بس سے خارج ہے کیونکہ قرآن اور روایات میں والدین کا حق اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ تم ما ں باپ سے اف تک نہ کہو، نیز روایت میں فرمایا کہ ماں باپ کی طرف ناراضگی او ر غم وغصہ کی نگاہ سے دیکھنا عاق والدین اور جنت سے محروم ہونے کا باعث بنتا ہے لہٰذا آئمہ معصومین کے زرین اقوال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ والدین کے حقوق کتنے باریک اور سنگین ہیں جبھی تو مرحوم علامہ مجلسی نے اپنی گراں بہا کتاب (بحار) میں والدین کے حقوق سے مربوط روایات کو جمع کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ والدین کے حقوق کا ادا ہونا ہم جسیے عاصی افراد سے بہت مشکل ہے۔

لہٰذا اگر ہم اس قضیہ کی تحلیل کر یں کہ حقوق والدین کی رعایت لازم ہے تو یہ نتجہ نکلتاہے کہ حقوق والدین کی رعایت کرنا انسا نیت اور فطرت کا تقاضا ہے کیونکہ ماں باپ اولاد کے وجود میں علت کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذااپنی تمام تر توانائی اور جوانی اولاد کی فلاح وبہود اور پرورش میں صرف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تا کہ اولاد جوان اور صحت مند نظر آئے لہٰذا ان کے حقوق کو ادا کرنا حقیقت میں ایک قرضہ ادا کرنے کی مانند ہے جو ہمارے ذمہ پر تھا اور اس کو ادا کرنے کے نتیجہ میں کل ہمارے بچے بھی ہمارے حقوق کی رعایت کریںگے ۔


لہٰذا معصوم علیہ السلام نے فرمایا تم لوگ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو تاکہ تمہارے بچے تم سے نیکی کریںلہٰذا اس طرح خیال کرنا کہ ہم معاشرے میں اپنی کو شش اور زحمت کے نتیجے میں کا میاب ہوئے ہیں ماں باپ کا کوئی دخل نہیں ہے ایسے خیال کا اسلام نے شدت سے منع کیا ہے لہٰذا مرحوم شیخ انصاری ؒ جن کی شخصیت علم وتقوی کے حوالے سے کسی سے مخفی نہیں ہے ، اور تاریخ فقہاء تشیع میں شیخ انصاری کو مرکز یت حاصل ہے ، جب ان کی ماںدنیا سے گذرگئی تو آپ نے ان کے جنازہ پر دونوں زانووںکو زمین پر رکھ کر بہت زیادہ گریہ فرمایا تو یہ حالت دیکھ کر آپ کے شاگردوں میں سے ایک آپ کو تسلی دینے کے لئے قریب گیا اور کہنے لگا:

''اے استاد محترم! ایک عمر رسیدہ ماں کے جنازہ پر اس طرح رونا آپ کے علمی مقام ومنزلت کے ساتھ سازگار نہیں ہے لہٰذا تحمل کریں''

جب آپ نے یہ بات سنی تو کہا:

''اے آقا میرا علم اور مقام ومنزلت اسی ماں کی تربیت اور زحمت کا نتیجہ ہے اس سے ہٹ کر دیکھیں تو مجھ میں کوئی کامیابی اور صلاحیت نہیں پائی جاتی ''

لہٰذا ایسی بات کرنا حقیقت میں والدین کی معرفت سے دوری کی علامت ہے۔

لیکن دور حاضر میںاسلامی افکار اور تصورات پر مغربی افکار وتصورات غالب آنے کی وجہ سے بہت سارے باایمان اور مسلمان حضرات بھی اسلامی افکار اور تعلیمات دینی سے دور نظر آتے ہیں لہٰذا ہم نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا کہ ''حقوق والدین کا اسلامی تصور'' کے عنوان سے کچھ مطالب اپنے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کروں، تاکہ ہم سب حقوق والدین سے بھرپور آگاہی کے بعد ان کو عملی جامہ پہناسکیں۔

خداوندکریم ہم سب کو اسلامی تعلیمات اور افکار سے آگاہ ہونے کی توفیق کے ساتھ والدین کا احترام اور ان کے حقوق کی رعایت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے، اور اس ناچیز زحمت پر حضرت فاطمہ زہرا =کے صدقہ میں ذات باری تعالیٰ کی رضایت کا خواہاں ہوں۔

الاحقر باقر مقدسی ہلال آبادی

حوزہ علمیہ قم المقدسہ

٢٢/ ذیقعدۃ الحرام ١٤٢٣ق ھ


پہلی فصل

احترام والدین

الف۔قرآن کی روشنی میں

ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( وَإِذْ أَخَذْنَا مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ اﷲَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ) (١)

ترجمہ: اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

تحلیل آیت:

اس آیت شریفہ میں اللہ تعا لی دو مطلب کی طرف پوری بشریت کی توجہ کو مبذول فرماتا ہے .توحید عبادی ،یعنی عبادت اور پر ستش کا مستحق صرف خدا ہے، عبادت اور پرستش میں کسی کو شریک قرار دنیااس آیت کے مطابق شرک ہے کیونکہ

____________________

(١)بقرۃ آیت ٨٣.


خدانے نفی اور اثبات کی شکل میں فرمایا: لاتعبدون الااﷲ یعنی سوائے خدا کے کسی کی عبادت نہ کرنا کہ یہ جملہ حقیقت میں تو حیدعبادی کو بیان کرناچاہتا ہے اور علم کلام میں تو حید کوچار قسموں میں تقسیم کیا ہے:

١۔ تو حید ذاتی کہ اس مطلب کو متعدد عقلی اور فلسفی دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے۔

٢۔ توحید صفاتی ۔

٣۔ تو حید افعالی۔

٤۔تو حید عبادی۔ توحیدعبادی سے مراد یہ ہے کہ صرف خدا کی عبادت کریں ۔کسی قسم کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھر ائیں ۔

لہٰذا ریا جیسی روحی بیماری کو شریعت اسلام میں شدت سے منع کیا گیا ہے اور شرک کو بد ترین گنا ہوں میں سے قراردیا گیا ہے ۔

جیسا کہ خدانے صریحاآیت شریفہ میں بیان کیا ہے کہ تما م گناہ تو بہ کے ذریعہ معاف ہو سکتے ہیں الاالشرک مگر شرک کے کہ اس گناہ کو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا ۔

٢۔ دوسرا مطلب جو خدا نے تو حید عبادی کے ساتھ ذکر فرما یا ہے''وباالوالدین احسانا ''کا جملہ ہے یعنی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔


دنیا میں ہر انسان فطری طور پر اس چیز کا معتر ف ہے کہ وہ خود بخود وجود میں نہیں آیاہے بلکہ کسی اور انسان کے ذریعہ عدم کی تاریکی سے نکل کروجود کی نعمت سے مالا مال ہوا ۔ لہٰذاانبیاء الٰہی کی تعلیمات اور تاریخی حقائق کے مطالعہ کر نے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیدا ئش کے اعتبار سے پوری بشریت تین قسموں میں تقسیم ہوتی ہے :

١۔ یا تو انسان کو والدین کے بغیر خدا نے خلق کیا ہے یہ سنت کائنات میں صرف حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء کے ساتھ مخصوص ہے لیکن حضرت آدم کے بعد خدا نے بشر کی خلقت میں والدین کے وجود کو جزعلت قراردیاہے، یعنی والدین کے بغیر حضرت آدم(ع) اور حضرت حوا کے بعد کسی کو وجود نہیں بخشا ہے ۔

٢۔بشریت کی دوسری قسم کو صرف ماں کے ذریعے لباس وجود پہنایا ہے جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کہ اس قصہ کو خدانے قرآن مجید میں مفصل بیان کیا ہے ، پیدائش کا یہ طریقہ بھی محدود ہے اورصرف حضرت عیسیٰ سے مخصوص ہے۔

٣۔ تیسری قسم وہ انسان ہے جسے اللہ نے والدین کے ذریعہ وجودمیں لایا ہے۔

لہٰذا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ باقی سارے انسان ماں باپ کے ذریعہ وجود میں آئے ہیں اسی لئے والدین کے ساتھ نیکی کرنا اورحسن سلوک کے ساتھ پیش آنا ہر انسان کی فطری خواہش ہے، اگر چہ معاشرہ اور دیگر عوامل کی تاثیرات اس فطری چاہت کو زندہ اور مردہ رکھنے میں حتمی کردار ادا کرتی ہیں۔

پس اگر معاشرہ اسلامی تہذیب وتمدن کا آئینہ دار ہو تو یہ فطری خواہشات روز بروز زندہ اور مستحکم ہو جاتی ہیں، لیکن اگر کسی معاشرہ پر غیر اسلامی تہذیب وتمدن کی حکمرانی ہو تو فطری خواہشات مردہ ہو جاتی ہیں اور والدین کے ساتھ وہی سلوک روا رکھتے ہیں جو حیوانات کے ساتھ رکھتے ہیں۔

لہٰذا دو ر حاضر میں بہت ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں کہ اکثر اولاد والدین کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک نہیں رکھتے بلکہ بڑھاپے اورضعیف العمری میں بیمار ماں باپ کی احوال پرسی اور عیادت تک نہیں کرتے، حالانکہ اولاد اپنے وجود میں والدین کی مرہون منت ہیں اور ان کی کا میابی پرورش اور تربیت میں والدین کی زحمتوں اور جانفشانیوں کا عمل دخل ہے۔


لہٰذا روایت میں والدین سے طرز معاشرت کا سلیقہ اور ان کی عظمت اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اور احسان یہ ہے کہ تم والدین کو کو ئی بھی تکلیف نہ پہنچنے دیں ،اگر تم سے کوئی چیز مانگے تو انکار نہ کریں، ان کی آواز پر اپنی آواز کو بلند نہ کرے ان کے پیش قدم نہ ہو ان کی طرف تیز نگاہ سے نہ دیکھو اگر وہ تمھیں مارے تو جواب میں کہو:

''خدا یا ان کے گناہوں کو بخش دے اور اگر وہ تمھیں اذیت دے تو انہیں اف تک نہ کہو''۔(١)

دوسری آیت :

( وَاعْبُدُوا اﷲَ وَلاَتُشْرِکُوا بِهِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ) (٢)

اور خدا ہی کی عبادت کر ے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھر اؤاور ماں باپ کے سا تھ اچھا سلوک کرو۔

تفسیرآیت :

خداوند کریم اس آیت شریفہ میں تین نکات کی طرف اشارہ فرماتا ہے:

١۔ اللہ کی عبادت کریں۔

٢۔ اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھرائیں ۔

٣۔ ماں باپ کے ساتھ اچھے رفتار سے پیش آئے ۔

تفسیر عیاشی میں''وبالوالدین احسانا'' کے ذیل میں سلام جعفی نے امام محمد باقر علیہ السلام سے اور آبان بن تغلب نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے :

____________________

(١) ترجمہ حافظ فرمان علی ص ١٦ حاشیہ

(٢) سورہ نساء آیت ٣٦.


''نزلتْ فی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم وفی علی علیه السلام'' یعنی یہ آیت( وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا )

حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی علیہ اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی کہ ان کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آئیں ۔نیز ابن جلبہ سے منقول روایت اس کی تائید کرتی ہے کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

'' اناوعلی ابوا هذه الامة''

یعنی میں اور علی علیہ السلام اس امت کے باپ ہیں پس ان دو رواتیوں کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ وبالوالدین احسانا سے حضرت پیغمبر اور حضرت علی مراد ہے لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیوں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی کے بارے میں وبالوالدین کا جملہ استعمال ہوا جب کہ عربی زبان میں والدین سے مراد ماں باپ ہیں ۔

جواب یہ ہے جیسا کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت اور ترقی وتکامل کے لئے ہر قسم کی زحمتیں اور مشکلات برداشت کرتے ہیں، حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی علیہ السلام پوری زندگی امت اسلامی کی تربیت اور روحی وفکری نشوو نما کی خاطر ہر قسم کی سختیوں اور رکا وٹوں کو تحمل کرتے رہے۔


لہٰذا قرآن کی نظر میں جہاں والدین سے حسن سلوک ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے اسی طرح اولیاء خدا کی اطاعت وفرما نبرداری بھی ایمان کا لازمی حصہ ہے، اس لئے وبالوالدین احساناً حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونا ہماری بات کے ساتھ نہیں ٹکرارہا ہے۔

تیسری آیت:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

( قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُوا بِهِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ) (١)

اے رسول کہدو کہ تم آؤ جو چیزیں تمہارے پروردگار نے حرام قراردیا ہے کہ وہ تمھیں پڑھ کر سناؤں وہ یہ ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک نہ ٹھراؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔

تفسیر آیت :

اللہ تعالی نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر٨٣/اور سورۃ انعام کی آیت نمبر ١٥٢/اور سورہ نساء کی آیت ٣٦/ میں ایک ہی مطلب کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں، صرف خدا کی عبادت کریں۔ اور کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں کیونکہ شرک (جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ) اسلام میں سب

____________________

(١)سورہ انعام ١٥٢.


سے بڑا گنا ہ محسوب ہوتا ہے۔

چوتھی آیت :

ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا ) (١)

اور تمہا رے پروردگارنے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ سے نیکی اور اچھا سلوک کرنا۔

تفسیر آیت:

چنانچہ اس آیت شریفہ میں دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آیات گذشتہ میں خدا نے تو حید عبادی کے ساتھ احترام والدین کا تذکرہ فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں بھی توحید عبادی کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی نظر میں تو حید کے اقرار کے بعد اہم ترین ذمہ داری احترام والدین ہے کیوںکہ ان چاروں آیات میں خدا نے صریحا فرمایا کہ صرف میری عبادت کر ے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تعجب آور بات ہے کہ بحیثیت مسلمان قرآن مجید کی شب

____________________

(١)سورہ اسرائیل آیت٢٣.


وروز تلاوت کے باوجود بعض افراد ایسی عظیم ذمہ داری سے شانہ خالی کئے بیٹھے ہیں لہٰذا ہر معاشر ے میں بہت سے والدین مشاہدہ میں آتے ہیں جو اپنی اولاد سے ناراض اور ناامید دنیا سے رخت سفر باندھ لیتے ہیں ۔

ب۔ فطرت کی روشنی میں

جب انسان عقل وشعور اور رشد فکری کا مرحلہ طے کرتا ہے تو اپنے اور کائینات کی دوسری مخلوقات کے بارے میں غورو فکر کرتا ہے اور یہ درک کر لیتا ہے کہ اس میں اور باقی مخلوقات میں فرق ہے، لہٰذا وہ اپنی زندگی کو ایک منظم اورباارادہ زندگی قرار دیتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں ما ں باپ ہی کو اپنا ہمدر داور مددگار تصور کرتا ہے، قدرتی طور پر اس کا دل والدین کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے ان کے چہرے کی زیارت تسکین قلب کا وسیلہ ہے جب کہ ان سے دوری انسان پر شاق گزرتی ہے ۔اور سب سے بڑھ کریہ کہ والدین کا احترام اور ان سے محبت کرنا زمان ومکان سے بالاتر فطری امر ہے۔


اگرچہ یہ بھی اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ معاشرتی او ربیرونی عوامل اس فطری اور طبیعی چاہت پر اثر انداز ہوجاتے ہیں اور اس کی شدت وضعف یا کمی بیشی کا باعث ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن کی متعدد آیات میں والدین کااحترام کرنا کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں کیا ہے ارشاد خداوندی ہے :

( وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَتُطِعْهُمَا إِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) (١)

اور ہم نے انسانو ں کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتا ؤ ں کرنے کی نصیحت کی ہے اور اگر وہ تمھیں میرے ساتھ کسی چیز کے شریک ٹھہرانے پر مجبور کر یں کہ جس کا تمھیں علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا (کیو نکہ ) تمھیں میری طرف ہی لوٹ کرآنا ہے پس جو کچھ تم نے(دنیامیں) انجام دیئے ہیں تمھیں خبر دوںکا۔

شان نزول آیت :

اس آیت شریفہ کا شان نزول یوںذکر ہوا ہے کہ سعد بن وقاص کہتا ہے کہ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا جب میں مسلمان ہوا تو ما ں نے کہا کہ تو نے یہ کو ن سا دین اختیا ر کیا ہے اس کو چھوڑ دے ورنہ میں کھا نا پینا ترک کروں گی یہا ں تک کہ مرجاؤں اور لوگ تجھے ملامت کریں گے کہ ما ں کا قاتل ہے میں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں آخر اس نے کھا نا پینا چھو ڑ دیا جب دو وقت گزر گئے تو میں نے کہا اے اماں اگر تیری سو جانیں ہوں اور ایک ایک مجھ سے جدا ہو اور میں دیکھتا رہوں تو بھی

____________________

(١)سور ہ عنکبوت آیت ٨.


میں اپنا دین تر ک نہیں کر سکتا لہٰذا کھائیں اور پیئںورنہ تجھے اختیار ہے ۔

تفسیر آیہ شریفہ :

خدا نے مذکورہ آیت میں انسانوں سے خطاب کرکے یہ بتلایا ہے کہ والدین کا احترام رکھنے کاجذبہ اور شعور اللہ تعالی نے پہلے سے ہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کررکھاہے ، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر والدین اپنے کسی فرزند کو اسلامی اصول وضوابط اور احکام خداوندی پر عمل پیرا ہونے سے منع کرے تو واجب الا طاعت نہیں ہیں کہ حقیقت میں یہ جملہ والدین کے احترام کی حدبندی کی تو ضیح دینا چاہتا ہے۔

دوسری آیت:

( وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَی وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِی عَامَیْنِ أَنْ اشْکُرْ لِی وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیرُ ) (١)

اور ہم نے پورے انسانوں کو اپنے والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرنے کا حکم دیا ہے (کیونکہ ) اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں سختی پر سختی

____________________

(١)سورہ لقمان آیت١٤.


کے ساتھ برداشت کیا ہے اور اس کی دودھ بڑھائی بھی دوسال میں ہوئی ہے ۔

لہٰذا میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو کہ تمھاری باز گشت میر ی طرف ہی ہے۔

تفسیر آیت :

اس آیت شریفہ میں دو مطلب کی طرف اشارہ ہے:

١۔احترام والدین کا حکم فطرت انسان سے مربوط ہے لہٰذاحترام والدین مسلمانوں کے ساتھ مختص نہیں ہے ۔

٢۔ماں کے احترام او راس کے ساتھ نیکی کرنے کی علت بھی ذکر کی گئی ہے یعنی ماں کا احترام لازم ہے کیونکہ ماں نے نو ٩/ ماہ تک سختی کے ساتھ پیٹ میں تمھاری حفاظت کی ہے پھر دوسال تک دودھ پلانے کی خاطر زحمتیںاٹھائی ہیں، لہٰذا حقیقت میں دیکھا جائے تو ماں باپ فرزندان کے منعم او رمحسن ہیں اور ہر منعم فطری طورشکر گزاری کا مستحق ہے گویا اللہ تعالی یہ فرمارہا ہے کہ جس طرح میں تمھارا منعم ہوں، اسی طرح والدین بھی تمھارے منعم ہیں ، جس طرح اللہ پر اعتقاد رکھنا ، ان سے محبت کرنا فطری امر ہے اسی طرح والدین سے محبت کرنا اور انکا احترام رکھنا بھی فطرت کا تقاضاہے لہٰذا دونوں آیتوں میں وو صینا الانسان کو الف لام کے ساتھ ذکر کیا ہے ،جوتمام انسانوںکے اس امر میں مساوی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔


تیسری آیت:

( وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ کُرْهًا وَوَضَعَتْهُ کُرْهًا ) (١)

اور ہم نے انسان کو اپنے ما ں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی نصیحت کی ہے (کیونکہ) اس کی ماں نے بہت رنج اور مشقت کے ساتھ شکم میں اس کو برداشت کیا ہے اور بہت ہی رنج کے ساتھ جنا ہے۔

تفسیر آیت :

ان تینوں آیات کا مدلول ایک چیزہے کہ خدا نے فرمایا ہے .کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین سے احترام اور اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے دوسرا مطلب والدین کی اطاعت اور احترام کی حد بندی بھی کی گئی ہے یعنی خالق کی اطاعت کے بعد اولین واجب الاطاعت والدین ہیں لیکن والدین کی اطاعت اور احترام یہاں تک واجب ہے کہ وہ خالق کے مخالفت اور شریک ٹھرانے کا حکم نہ دیں اگر والدین

____________________

(١)سورہ احقاف آیت ١٥.


سے ایسا حکم صادر ہو جائے تو ماننا ضروری نہیں ہے،تیسر امطلب یہ ہے کہ باپ سے بھی زیادہ ماں کا احترا م لازم ہے۔

لہٰذا ان آیات کی روشنی میں بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ والدین کا احترام رکھنا کسی خاص مذہب اور فرد کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اس لئے تو ریت میں احترام والدین کے بارے میں مستقل ایک فصل ہے یہا ں تک کہ والدین کے ساتھ بدگوئی کرنے یا نا سزا کہنے کی صورت میں پھانسی کا حکم مذ کورہے ۔

ج۔ سنت کی روشنی میں

چنا نچہ گذشتہ بحث سے بخوبی روشن ہوا کہ والدین کے ساتھ احترام اور ان سے نیک برتا ؤں کا حکم ادیان الٰہی میں سے صرف اسلام سے مخصوص نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کریم تمام کتب آسمانی کا خلاصہ اور تر جمان کی حیثیت سے حضرت یحيٰ علیہ السلام کی یوں تو صیف کررہا ہے :

( وَکَانَ تَقِیًّا وَبَرًّا بِوَالِدَیْهِ ) (١)

اور وہ پر ہیز گار اور ماں باپ کے ساتھ نیکو کار تھے۔

. نیز حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہورہا ہے :

____________________

(١)سورہ مریم آیت ١٣، ١٤


( یَاأُخْتَ هَارُونَ مَا کَانَ أَبُوکِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا کَانَتْ أُمُّکِ بَغِیًّا فَأَشَارَتْ إِلَیْهِ قَالُوا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا قَالَ إِنِّی عَبْدُ اﷲِ آتَانِی الْکِتَابَ وَجَعَلَنِی نَبِیًّا وَجَعَلَنِی مُبَارَکًا أَیْنَ مَا کُنتُ 'وَأَوْصَانِی بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ مَا دُمْتُ حَیًّا وَبَرًّا بِوَالِدَتِی وَلَمْ یَجْعَلْنِی جَبَّارًا شَقِیًّا ) (١)

(ترجمہ )اے ہارون کی بہن نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تو تیری ماں بد کارہ تھی (لہٰذا یہ کیاکیا ہے )تو حضرت مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا (کہ کچھ پو چھنا ہے اس سے پوچھ لو ) وہ کہنے لگے کہ ہم پنگوڑے میں موجود بچے سے کیسے گفتگو کریں (اس وقت وہ بچہ ) بولنے لگا کہ بیشک میں خدا کابندہ ہوں مجھ کو اللہ نے کتاب (انجیل ) عطاکی ہے اور مجھ کو نبی قرار دیا ہے ۔اور جہاں کہیں رہوں خدا نے مجھ کو مبارک قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں نماز انجام دینے اور زکواۃ دینے کی نصیحت کی ہے اور مجھے اپنی ماں کا فرمانبردار بنایا ہے اور (الحمدللہ) نافرمان اور سرکش قرار نہیں دیا ہے ۔

____________________

( ١)سورہ مریم آیت ٢٨ تا٣٢.


تفسیرآیت :

آیہئ شریفہ میں ایک مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ باپ کے بغیر وجود میں آئے جو عادت اور طبیعت کے خلاف تھا اس لئے حضرت مریم کے خاندان والوں نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کی سرزنش کی یہاں تک کہ حضرت مریم (ع) کو ہارون نامی بدکار شخض کی بہن کہہ کے پکارا لیکن خدا نے اس تہمت کو اپنی قدرت سے یوں دورکیا کہ اللہ کے حکم سے حضرت عیسی علیہ السلام نے گہوارے میں ہی ان سے ہم کلام ہو کر انہیں لاجواب کردیا .دوسرا مطلب یہ ہے کہ دونوں آتیوںمیں حضرت عیسیٰ (ع) اور حضرت یحيٰ (ع) کی والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کا تذکرہ ہوا ہے تا کہ یاد دہانی ہوجائے کہ والدین سے خیر وبھلائی کا حکم تمام آسمانی ادیان میں بیان ہوا ہے اور دین اسلام تمام ادیان الٰہی کا نچوڑہونے کی حیثیت سے اس کا ترجمانی کرتا ہے اسی لئے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔

جناب مرحوم کلینی نے اپنی گراں بہاکتاب اصول کافی میں مفصل ایک باب اسی عنوان کے ساتھ مخصوص کیا ہے،جس میں معصومین علیہم السلام سے مروی روایات کو جمع کیا ہے جن میں سے چند روایات بطور نمونہ ذکر کیا جا تا ہے ،ابن محبوب خالدبن نافع سے وہ محمد بن مروان سے روایت کرتا ہے:


قال : سمعت ابا عبد اللّٰه علیه السلام یقول ان رجلا اتی النیی صلی اللّٰه علیه واله وسلم فقال یا رسول اللّٰه اوصنی فقال لا تشرک باللّٰه شیأاً وان حرقّت بالنار، وعذبت الا وقلبک مطمئن بالا یمان ووالدیک فاطعمهما وبرّهما حیین کا نا او میتین وان امراک ان تخرج من اهلک ومالک فافعل، فان ذالک من الایمان ۔(١)

(ترجمہ )محمد بن مروان نے کہا کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک دن ایک شخض پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا اے خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے کچھ نصیحت فرما ئیے ۔تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کبھی بھی خدا کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھر ائے اگر چہ تجھے آگ میں جلادیا جائے اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچا دے پھر بھی اطمینان قلبی سے رہو، اپنے والدین کو کھانا کھلاتے رہو اور ان کے ساتھ نیکی کر وںچا ہے وہ زندہ ہوں یا مردہ اگر چہ وہ تجھے اپنے اہل وعیاں اور مال ودولت سے علیحد گی اختیار کرنے کا حکم دیں توپھر بھی اطاعت کریں کیونکہ یہی ایمان کی علامت ہے ۔

تفسیر وتحلیل:

اس حدیث شریف میں امام جعفرصادق علیہ السلام نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے

____________________

(١)کافی ج٢ ص ١٢٦.


حوالے سے دو مطلب کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ ایک یہ کہ شرک بہت بڑا جرم ہے۔ کہ اس جرم کا کبھی بھی مرتکب نہ ہو دوسرا والدین کے ساتھ نیکی کرنا کہ ان دو چیزوں کی رعایت سے سعادت دنیوی واخروی سے بہر مند ہو سکتا ہے ۔

دوسری روایت :

دوسری روایت کو حسین بن محمد نے معلی بن محمد سے انہوں نے جناب وشاسے انھوں نے منصور بن حازم سے اور انہوں نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے :

''قال قلت ای الا عمال افضل قال الصلواة بوقتها وبِرُّ الوالدین والجهاد فی سبیل اللّٰه عز وجل ''(١)

(ترجمہ ) ابن حازم نے کہا کہ میں نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے پوچھا کہ اعمال میں سب سے بہترین کو ن سا عمل ہے ؟تو آپ نے فرمایا:

''نماز کو مقررہ وقت پر پڑھنا اوور والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور راہ خدا میں جہاد کرنا۔''

اس حدیث میں تین ایسے کاموں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو باقی سارے اعمال سے افضل ہیں نماز کو اس کے مقرر ہ وقت پر انجام دینا کہ ہمارے معاشرے

____________________

(١)کافی ج ١ص١٢٧


میں نماز تو انجام دیتے ہیں لیکن وقت کی رعایت نہیں کرتے ایسے افراد کو اگر چہ تارک الصلوۃنہیں کہا جاتا مگر نماز کو عذر شرعی کے بغیر اسکے مقررہ وقت پر انجا م نہ دینے کی خاطر ثواب میں کمی ہو جاتی ہے ۔

دوسرا والدین کی خدمت ہے .والدین عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے جتنے ضعیف ہوں ،بڑھاپے کی وجہ سے ظاہری حلیے میں تبدیلی آگئی ہو اورمزاج کے اعتبار سے ہمارے مخالف ہوں پھر بھی انکی خدمت خدا کی نظر میں بہتر ین کا موں میں سے ہے۔

تیسرا راہ خدا میں جہاد ہے جواس مادی دور میں انسان کے لئے بہت مشکل کا م ہے لیکن نتیجہ اور عاقبت کے لحاظ سے بہترین اعمال میں سے شمار ہوتاہے۔

تیسری روایت :

علی ابن ابراہیم نے محمد بن عیسی سے وہ یونس بن عبدالرحمن سے انہوں نے درست بن ابی منصور سے اور وہ امام موسی کاظم علیہ السلام سے یوں نقل کرتے ہیں:

قال سئل رجل رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ماحق الوالد علی ولده قال لا یسمیه بأ سمه ولا یمشی بین یدیه ولا یجلس قبله ولاسب له ۔(١)

____________________

(١)کافی ج٢ ص ١٢٧


ترجمہ: امام ہفتم (ع)نے فرمایا کہ ایک دن کسی شخص نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا کہ باپ کا حق فرزند پر کیا ہے ؟

تو آپ نے فرمایا کبھی نام سے ان کو نہ پکارے پیش قدم نہ ہو ۔چلتے ہوئے ان کے آگے نہ ہو ان کو پشت کرکے نہ بیٹھیں اور گالی گلوچ نہ دے ۔

چوتھی روایت:

علی ابن ابراہیم نے محمد بن علی سے انہوں نے حکم بن مسکین سے اور انھوں نے محمد بن مروان سے اور وہ امام ششم سے نقل کرتے ہیں :

''قال ابوعبداللّٰه علیه السلام ما یمنع الرجل منکم ببر والدیه حیین او متیین یصلی عنهما ویتصدق عنهما ویحج عنهما ویصوم عنهما فیکون الذی صنع لهما وله مثل ذالک فیزیده اللّٰه عز وجل ببرّه وصلته خیراً کثراً'' (١)

محمد بن مروان نے کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کون سی چیز تمہارے والدین کے ساتھ نیکی کرنے میں رکاوٹ ہے؟ چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ نیکی کرنا چاہئے ان کی طرف سے نماز پڑھے ان کے نام سے صدقہ دے اور ان کی طرف سے حج بجالائے اور ان کے حق میں روزہ رکھیں تاکہ خداوندعالم اس

____________________

(١)اصول کافی ج٢ ص ١٢٧.


نیک برتاؤ اور صلہ رحمی کی خاطر اسے خیر کثیر سے مالامال فرمائے۔

پانچویں روایت:

محمد بن یحيٰ نے احمد بن محمد بن عیسی سے انہوں نے معمر بن خلاد سے نقل کیا ہے:

''قلت لابی الحسن الرضا علیه السلام ادعو لوالدی اذا کانا لا یعرفان الحق قال ادع لهما وتصدق عنهما وان کانا حیین لایعرفان الحق فدارهما فان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم قال ان اللّٰه بعثنی بالرحمة لا بالعقوق''

معمر بن خلاد کہتا ہے کہ میں نے امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا میں اپنے ماں باپ کے حق میں دعا کرسکتا ہوں جب کہ وہ دونوں حق سے بے خبر ہوں، تو آپ نے فرمایا کہ ان کے حق میں دعا کریں اور ان کی طرف سے صدقہ دیں اگر وہ زندہ ہیں اور حق سے بے خبر ہیں تو ان کے ساتھ مداراکریں، کیونکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا نے مجھے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ہے نہ جدائی ڈالنے اور آپس میں دوری کے لئے۔(۱)

____________________

(١)اصول کافی ج٢ ص ١٢٧.


چھٹی روایت:

علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے انھوں نے ابن ابی عمَیر سے انہوں نے ہشام بن سالم سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے:

''قال جاء رجل الی النبی صلی اللّٰه علیه وآله وسلم فقال یا رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم من ابرُّ قال امّک قال ثم من، قال امّک، قال ثم من؟ قال امّک قال ثم من؟ قال اباک'' (١)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک شخص پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آیا اور پوچھا: اے خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کس کے ساتھ نیکی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ نیکی کر پوچھا پھر کس کے ساتھ فرمایا:اپنی ماں کے ساتھ، پھر پوچھا:اس کے بعدفرمایا: اپنی ماں چوتھی دفعہ پوچھا کس کے ساتھ فرمایااپنے باپ کے ساتھ نیکی کر۔

اس روایت میں سائل نے تین دفعہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا:آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تینوں دفعہ ماں کی خدمت کرنے کا حکم دیا اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ماں کی خدمت باپ کی خدمت سے زیادہ اہم ہے ،انشاء اللہ اس سلسلے میںماں کی عظمت کے عنوان سے مفصل بحث ہو گی ۔

____________________

(١)کافی ج٢ ص ١٢٨.


ساتویں روایت:

امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے:

'' قال جاء رجل وسأل النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عن برالوالدین فقال اَبرّر امک ابررامکّ ابرر اباک ابرر اباک وبداء بالامّ قبل الأب'' (١)

امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک شخص پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آیا اور والدین کے ساتھ نیکی کرنے کے بارے میں پوچھا تو آنحضرت (ع) نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ نیکی کر اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرے اپنی ماں کے ساتھ نیکی کر(پھر فرمایا ) اپنے باپ کے ساتھ نیکی کراپنے باپ کے ساتھ نیکی کر اپنے باپ کے ساتھ نیکی کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باپ کی خدمت سے پہلے ماں کی خدمت کو ذکر فرمایا اس سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ ماں کی عظمت اور اہمیت باپ سے زیادہ ہے۔

د ۔ سیرت انبیاء کی روشنی میں

اگر کو ئی شخص انبیا ء علیہم السلام کی سیرت کا مطا لعہ کرے تو بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ والدین کی خدمت انبیاء ،اورآئمہ معصومین کی سیرت ہے لہٰذا ہر نبی نے اپنے دور نبوّت میں اپنی امت سے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی سفارش کی ہے چنانچہ حضرت شیث بن آدم علیہ السلام نے سولہ نیک خصلتوں کی تاکید کی ہے ان

____________________

(١)کافی ج ٢ ص ١٣٠


میں سے چوتھی خصلت والدین کی خدمت سے متعلق ہے نیز حضرت نوح علیہ السلام (جو دنیا سے گذرے ہوئے انبیا ء میں سے سب زیادہ دنیا میں زندگی کرنے والی ہستی ہے جیسا کہ روایت ہے :

''روی ان جبرئیل علیه السلام قال لنوح علیه السلام یا اطول الا نبیاء عمر ا کیف وجدت الدنیا قال کدارٍ لها بابان دخلت من احد هما وخرجت من الاخر'' (١)

یعنی روایت کی گئی ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت نوح علیہ السلام سے کہا اے سارے پیغمبر وں میں سب سے زیادہ لمبی عمر پانے والے بنی دنیا کو کیسے پایا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا دنیا کو ایک ایسے گھر کی مانند پایا کہ جس کے دو در وازے ہو کہ ایک سے داخل ہوا اور دوسرے سے خارج ہوا ) کی سیرت بھی برالوالدین ہے یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی حیات طیبہ بھی والدین کے احتر ام اور ان کی خدمت گزاری کے لحاظ سے ہمارے لئے مشعل ہدایت ہے چنانچہ ماں باپ کے حق میں آپ کی دعا ء کو قرآن کریم میں یوں حکایت کی ہے:

( رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِی مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلاَتَزِدْ الظَّالِمِینَ إِلاَّ تَبَارًا ) (٢)

____________________

(١)ارزش پدر ومادر.

(٢)سورہ نوح آیت٢٨ )


خدا یا مجھ کواورمیرے ماں باپ کو اور جو مومن میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایماندار مردوں اور مومنہ عورتوں کو بخش دے اور ان ظالموں کی صرف تباہی زیادہ کر ۔

اسی طرح حضرت یحیی علیہ السلام کی سیرت طیبہ کو اللہ تبارک تعالیٰ قرآن مجید میں یوں حکایت کرتا ہے (وکان تقیا وبرا بوالدیہ ) یعنی آنحضرت پر ہیز گار اور ماں باپ کے ساتھ نیکو کار تھے نیز حضرت عیسی علیہ السلام کی سیرت'' وبرا بوالدتی'' تھی حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ایک روایت ہے کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مصر کی سلطنت سنبھالی تو حضرت یعقوب علیہ السلام آپ سے ملنے کے لئے وارد مصرہوئے حضرت یوسف علیہ السلام استقبال کے موقع پر مرکب پر سوار رہے اس وقت جناب جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے او رکہا اے یوسف ہاتھ کھولو جب یوسف نے ہاتھ کھولا تو ان کے ہاتھ سے ایک نورآسمان کی طرف گیا تو حضرت یوسف (ع) نے سوال کیا اے جبرئیل یہ نور کیا ہے ؟ جو آسمان کی طرف جارہا ہے تو جبرئیل نے فرمایا: یہ نور نبوت تھا جو تمہارے باپ کے استقبال کے موقع پر مرکب سے نہ اترنے کی وجہ سے آپ سے جدا ہوگیا ہے اب تمہارے صلب سے کوئی نبی نہیں ہوگا۔(١)

____________________

(١) ارزش پدر ومادر.


نیز حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سیرت بھی یہی تھی چنانچہ روایت ہے کہ حضرت اسماعیل (ع)اپنے والدگرامی حضرت ابراھیم علیہ السلام کے قدمگاہ کی جب بھی زیارت کرتے توفر ط محبت میں گریہ فرماتے اور بوسہ دیتے تھے اسی طرح حضرت ختمی مر تبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت طیبہ سب سے نمایاں ہے اگر چہ آپ (ع)کے والد گرامی آپ کی تولد سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے اور والدہ گرامی بھی کم سنی میں آپ سے جدا ہو گئی لیکن والدین کے احترام کا اندازہ یہیں سے لگاسکتے ہیں کہ آپ اپنی خواہر رضاعی کے احترام میںکھڑے ہوجاتے تھے اور ہمیشہ اپنی مادر رضاعی کے ساتھ نیکی کرنے اور ان کو خوش رکھنے کی سعی فرماتے اور ہمیشہ والدین کے احترام اور ان کے ساتھ نیک سلوک کی تاکید فرماتے تھے۔


دوسری فصل

حقوق والدین

الف: مالی تعاون :

والدین کے حقوق میں سے اہم ترین حق ان کی مالی امداد اور تعاون ہے لہٰذا شریعت اسلام میں واجب النفقہ افراد میں سے سب سے پہلے والدین کو ذکر کیا ہے اگرچہ یہ بات مسلم ہے کہ والدین کا احترام ہر جہات سے اولاد پر لازم ہے لیکن کچھ حقوق ہیں جن کے بارے میں روایات اور آیات میں زیادہ تاکید کی گئی ہے ، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

( یَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ وَالْیَتَامیٰ وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیل ) (١)

ترجمہ: آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ راہ خدا میں کیا خرچ کرے تو

____________________

(١)سورہ بقرہ آیت ٢١٥.


( ان کے جواب میں ) کہد و کہ تم اپنی نیک کمائی میں سے جو کچھ خرچ کریں تو وہ (تمھارے ) ماں باپ رشتہ دارں یتیموں حاجت مندوں اور مسا فروں کا حق ہے۔

تشریح :

آیت شریفہ میں دستور دیا ہے کہ بہترین مصرف والدین یتیم اورمسافر ہےں اگر کوئی شخص ماں باپ کی مالی مجبوری کے وقت ان سے تعاون کریں تو گویا اس نے راہ خدا میں تعاون اور خرچ کیا ہے کیو نکہ جس طرح بیوی بچوں کے اخراجات واجب ہے اسی طرح والدین کے اخراجات اولاد پر واجب ہے نیز دو سری آیت میں مالی تعاون کے دستور کو یوں بیان فرمایا ہے :

( کُتِبَ عَلَیْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِینَ ) (١)

تم کو حکم دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی پر موت آکھڑی ہو اور اگر وہ کچھ مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابت داروں کیلئے دینے کی

____________________

(١)سورہ بقرہ آیت١٨٠.


وصیت کرے (کیونکہ ) جو خدا سے ڈرتے ہیں ان پر یہ ایک حق ہے ۔

تفسیر:

اس آیت میںخدا نے ماں باپ اور رشتہ داروں کی مدد اور تعاون کرنے کا حکم دیا ہے لیکن پہلی آیت اور اس میں فرق یہ ہے کہ گذشتہ آیت میں ہر حالت میں والدین کے ساتھ مالی تعاون کرنے کا حکم دیاہے لیکن اس آیت میں فرمایا کہ موت کے وقت بھی مالی تعاون سے دریغ نہ کریں لہٰذا دونوں آیات کو سامنے رکھیں تو یہ نتیجہ نکاتا ہے کہ اولاد پر والدین کی ذمہ داری بہت ہی سنگین ہے کیونکہ مرض الموت کے موقع پر بھی ان کو فراموش نہ کر نے کی تاکید کی گئی ہے ،اور تر کہ میں سے کچھ ان کو دینے کی وصیت کرنے کا حکم ہوا ہے نیزمتعدد روایات میں والدین کے مالی تعاون کرنے کا حکم یوں ذکر ہوا ہے :

١۔وان لاتکلفهما ان یسألاک شیأا مما یحتا جان الیه ۔(١)

یعنی والدین کے حقوق میںسے ایک یہ ہے کہ کسی چیز کی ضرورت کے موقع پر ان کو ما نگنے کی تکلیف تک نہ دینا ۔

٢۔ اسی طرح دوسری روایت میں فرمایا :

''ووالدیک فاطعمهما وبرهما ''(٢)

____________________

(١)کافی،ج٢ص١٢٦.

(٢)اصول کافی جلد ٢


جب پیغمبر سے کسی نے کچھ نصیحت کرنے کی سفارش کی تو آپ نے فرمایا اپنے والدین کو کھانا کھلائیں اور ان سے نیکی کریں یعنی ان کے لباس اور اشیاء خورد ونوش کو اپنے احتیاجات پر مقدم کرنا اپنے کھانے کی مانند یا اس سے بہتر کھانا کھلانا ان کے سفر کے مخارج چاہے واجب ہویا مستحب فراہم کرنا اور ان کیلئے گھر وغیرہ کا بندوبست کرنا ،ان کی طرف سے فوت شدہ حج ونماز اور روزہ وغیرہ کو انجام دینا یا ان کاخرچہ دینا نیکی کے کا مل ترین مصادیق میں سے ہیں ۔

لیکن ہمارے معاشرے پر غیر اسلامی تھذیب وتمدن حاکم ہونے کے نتیجہ میں اولاد اپنی ذمہ دار یوں کو انجام دینے میں کو تا ہی کرتے ہیں جب کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی تہذیب وتمدن سے عاری ایسے ہے کہ کر وڑوں درہم ودینار کے مالک ہونے کے باوجود والدین کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کی سعادت سے محروم ہیں کیو نکہ والدین اور اولاد کے مابین ہونے والا فطری رابطہ غیراسلامی تھذیب تمدن کا شکارہو چکا ہے لہٰذا ایسے لوگوں کے نزدیک والدین اور دوسروں کے درمیان کو ئی تفاوت نظر نہیں آتا حالانکہ والدین واجب الا طاعہ بھی ہیں اور واجب النفقہ بھی لہٰذا عبدالرحمن بن الحجاج امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کرتے ہیں:''قال خمسة لا زمون له لا یعطون فی الزکاة شئیاالاب و الام والولدوالمملوک والمرأة و ذالک انّهم عیاله لازمون له'' (١)

____________________

( وسائل ج ١٥ ،ص٢٢٧)


امام علیہ السلام نے فرمایا زکوۃ میں سے کوئی چیز پانچ قسم کے افراد کو نہیں دی جاسکتی ہے ماں باپ فرزند غلام اور بیوی کیو نکہ یہ سب اس کے واجب النفقہ عیال میں سے ہیں نیز دوسری روایت جمیل بن دراج سے منقول ہے :

''لا یجبر الرجل الاعلی نفقة الابوین والولد ''(١)

امام نے فرمایا سوائے ماں باپ اور بچے کے کسی آدمی کو خرچہ دینے پر جبری نہیں کیا جاسکتا ہے اسی طرح تیسری روایت جناب محمد بن مسلم امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کرتے ہیں :

''قال قلت له من یلزم الرجل من قرابته ممن ینفق علیه قال الوالدان والولد والزوجه ''(٢)

محمد بن مسلم نے کہا کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا رشتہ داروں میں سے کن کو خرچہ دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ماں باپ، بچے اور بیوں کیلئے خرچہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

مذکورہ روایات سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ والدین ہمارے بچے اور بیوی کی مانند واجب النفقہ ہیں اسی لئے کتب فقہی میں واجب النفقہ افراد

____________________

(١)وسائل ج١٥.

(٢)وسائل ١٥.


میں سرفہرست والدین کا نام ہے پس والدین کے سا تھ مالی تعاون ہر صورت میں انسان پر واجب ہے جس سے انکار کی کوئی گنجایش نہیں کو تا ہی کی صورت میں مقروض اور قیامت کے دن اس کا عقاب یقینا بہت سنگین ہوگا

ب۔ ماں باپ کے قرضے کو ادا کرنا

والدین کے حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے قرضوں کو ادا کرے اگرچہ اسلام میں ہر مقروض کا قرض ادا کرنے کی تا کید ہوئی ہے اور اس عمل کیلئے بہتر ین پاداش اور جزا معین کیا ہے لیکن واجب نہیں ہے مگر والدین کے ذمہ قرض کو ادا کر نا لازم قرار دیا ہے پس اگر کو ئی دنیا اور آخرت کی خوش بختی چاہتا ہے تو والدین کی اقتصادی مشکلات میں ان کے ساتھ تعاون کرے شاید ان کا کچھ حق بھی ادا ہو اس طرح امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:

'' قلت لابی جعفر علیه السلام هل یجزی الولد والده فقال لیس له جزء الا فی خصلتین یکون الوالد مملوکا فیشتر یه ابنه فیعتقه او یکون علیه دین فیقضیه عنه'' (١)

(ترجمہ )سدیر نے کہا کہ میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا ۔کیا فرزند باپ کے حق کو ادا کرسکتا ہے؟امام (ع)نے فرمایا دو صورتوں میں فرزند باپ کے

____________________

(١)کا فی ٢ ص ١٤٣.


حق کو ادا کر سکتا ہے۔

١۔اگر کسی کا باپ کسی کا غلام ہو اور فرزند اس کو خرید کر آزاد کرے ۔

٢۔ اگر کوئی فرزند باپ کے ذمہ قرضے کو ادا کرے تو ان کا حق ادا ہو سکتا ہے۔

اسی طرح محمد بن مسلم سے وہ امام محمد باقر علیہ السلام سے یوں نقل کرتے ہیں:

'' قال ان العبد لیکون بارا بوالدیه فی حیا تهما ثم یموتان فلا یقضی عنهما دیو نهماولا یستفغر لهما فیکتبه اللّٰه عاقا وانه لیکون عاقا لهما فی حیا تهما غیر بار بهما فاذا ماتا فرض دینهما واستغفر لهما فیکتبه اللّٰه عزوجل بار'' (١)

(ترجمہ ) امام علیہ السلام نے فرمایا بیشک انسان والدین کی زندگی میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہے لیکن جب وہ دونوں دنیا سے چل بسے تو ان کے ذمے موجود قرضوں کو ادا نہیں کرتا اور ان کے حق میں طلب مغفرت نہیں کرتا تو ایسا شخص اللہ کی نظر میں عاق والدین محسوب ہو گا لیکن اگر والدین دنیا سے چل بسے ہوں اور انکے حق میں دعا کرے اور ان کے قرضوں کو ادا کرتا ہے تو اس کو خدا، والدین کے

____________________

(١)کافی ج ٢ ص ١٣٠١٣٠


ساتھ نیکی کرنے والوں میں سے شمار کرتا ہے اگر چہ ان کی زندگی میں ان سے نیکی نہ کی ہو اور عاق ہوچکا ہو۔

تحلیل وتفسیر :

ان دونوں رواتیوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ما ںباپ کے قرضوں کو اپنا قرضہ سمجھ کر ادا کرنا لازم ہے کیونکہ اس کا تعلق حق الناس سے ہے نیز حق اللہ کو بھی ادا کرنا چائیے۔

اگر چہ والدین کی فوت شدہ عبادات کو ادا کرنا اولاد پر واجب ہے یا سنت اس مسئلے میں علماء کے مابین دو نظریے پائے جاتے ہیں:

١۔ماں باپ دونوں کی فوت شدہ عبادتوں کا انجام دینا اولاد پر واجب ہے یہ نظر یہ سید مرتضی علم الہدی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جو چوتھی صدی کے نامور شیعہ علما میں سے تھے۔

٢۔ باپ کی قضا ء شدہ عبادتوں کا انجام دینا واجب ہے لیکن ماں کی قضا شدہ عبادتوں کا ادا کرنا مستحب ہے۔

اکثر علما شیعہ کے درمیان مشہور یہی ہے۔

لہٰذا پہلے نظر یے کی بناء پر ماں باپ کے ذمہ موجود ہر قسم کے حقوق اولاد کے ذمہ ہے، جن کی ادا ئیگی شریعت میں لازم قراردی گئی ہے ۔


ج۔ والدین کے حق میں دعا

مقدمہ کے طور پر بہتر ہے کہ دعا کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ ہو کیونکہ روایات اور آیات کی روشنی میں یہ بات مسلم ہے ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے کے حق میں دعا کرنا شریعت اسلام میں مستحب ہے لہٰذا قرآن کی متعدد آیا ت میں صریحا دعا کرنے کا حکم ہے اور خدا نے ساتھ ہی دعاوں کی استجابت کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ فرمایا :

( وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِی إِذَا دَعَانِی فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُونَ. ) (١)

(ترجمہ)اور اگر میرے بند ے میرے بارے میں تجھ سے پوچھے تو (کہدو) کہ میں ان کے پاس ہی ہوں او راگر کوئی مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں ہر دعا کرنے والے کی (دعاسن لیتا ہوں اور جو مناسب ہوں تو) قبول کرتا ہوں ، پس انھیں چاہئے کہ میرا کہنا ہی مانیں او رمجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ سیدھی راہ پر آجائے۔

____________________

(١)سورہ بقرہ آیت ١٨٦.


تفسیر آیت:

قرآن مجید میں بہت اصرار کے ساتھ دعا کرنے کا حکم ہوا ہے انھیں میں سے ایک یہ آیہ شریفہ ہے اگر انسان غورکرے تو دعا کی حقیقت کا پس منظر سامنے آجاتا ہے کہ انسان فطری طور پر خدا کے محتاج ہونے کا اعتراف کرتا ہے لیکن بسا اوقات انسان جہالت اور خودپسندی کے نتیجہ میں خیال کرتا ہے کہ خالق ہم سے بہت دور ہے کیونکہ ہم دعا کرتے ہیں مگر مستجاب نہیں ہوتی اس تصور کو ردّ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں بندوں کے قریب ہی ہوںبشرطیکہ میرے کہنے پر چلیں، لہٰذا دوسری آیت میں فرمایا:

( وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْکُمْ وَلَکِنْ لاَتُبْصِرُونَ ) (١)

اور ہم اس کے ساتھ تمہاری نسبت زیادہ نزدیک ہے لیکن تمھیں دکھائی نہیں دیتا۔

ایک اور آیہئ شریفہ میں فرمایا:

( نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْکُمْ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ) (۲)

ہم تم سے تمہارے (بدن کے) رگوں سے زیادہ قریب ہیں۔

____________________

(١)سورہ واقعہ آیت ٨٥.

(٢) سورہ ق آیت ١٦.


لہٰذا دوری اور بُعد کا تصور حقیقت میں ناانصافی ہونے کے علاوہ بلادلیل بھی ہے، بلکہ دعا مستجاب ہونے کے لئے کچھ شرائط درکار ہیں لہٰذا خدا نے فرمایا:

( فَادْعُوا اﷲَ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ ) (١)

(ترجمہ) پس تم لوگ خدا سے اخلاص کے ساتھ دعا کرو کہ وہی عبادت کا مستحق ہے اگرچہ کفار بُرا مانےں۔

اللہ تبارک تعالیٰ نے اس آیہئ شریفہ میں دعا مستجاب ہونے کے لئے اخلاص کو شرط قرار دیا ہے ، اور اس شرط کے ساتھ دعا کرنے کا حکم ہے ، اسی طرح ایک اور آیت میں خدا نے فرمایا:

( وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِیْنَ ) (٢)

(ترجمہ)اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعائیں مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا بے شک وہ لوگ جو ہماری

____________________

(١)سورہ غافر آیت ١٤.

(٢)سورہ غافر /مومن آیت ٦٠.


عبادت کرنے سے گریز کرتے ہیں وہ عنقریب ہی ذلیل وخوار ہوکر جہنم میںداخل ہوں گے۔

اس آیہ شریفہ میں اللہ نے دعا کے مستجاب ہونے کے لئے یہ شرط قرار دی ہے کہ تکبر نہ کرے، لہٰذا فرمایا کہ اکڑنے والے افراد کی دعائیں سُنی نہیں جائیں گی کیونکہ وہ قابل سماعت اور استجابت نہیں ہیں چونکہ تکبرّ شیطانی خصلت ہے۔

اسی طرح ایک دوسری آیت میں اس طرح دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

( وَادْعُوْهُ خَوْفاً وَطمعاً اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (١)

ترجمہ: اور خدا سے دعا مانگو عذاب کے خوف اور رحمت کی لالچ میں بے شک خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں کے یقینا قریب ہے۔

اس آیہ شریفہ میں خدا نے تذکرّ دیا ہے کہ عام عادی حالت میں دعا نہیں سنی جاتی بلکہ خوف اور دل شکستگی اور رحمت الٰہی شامل حال ہونے کی امید اور لالچ کے ساتھ دعا کرے تو مستجاب ہے۔

پس ان تمام آیات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرنے کی تاکید اور

____________________

(١)سورہ اعراف آیت ٥٦.


قبول کرنے کا وعدہ خدا نے ہی دیا ہے ساتھ ہی قبول ہونے کے شرائط کو بھی بیان فرمایا تاکہ انسان ان شرائط کو حاصل کرکے اپنی دعاؤں کو اس لائق بنادے کہ بارگاہ احدیت شرف قبولیت بخشے یہ سارے انسان کو دعا کرنے کا حکم ہے لیکن قرآن مجید میںکچھ افراد کے حق میں مخصوص دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے کہ ان افراد میں سے والدین متعدد آیات میں سرفہرست نظر آتے ہیں، چنانچہ اللہ نے حضرت ابراہیم (ع) کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا:

( رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ ) (١)

ہمارے پالنے والے جس دن (اعمال کا) حساب ہونے لگے (تو اس وقت) مجھ کو میرے ماں باپ کو اور سارے ایمان والوں کو بخش دے۔

تفسیر آیت:

اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین ہستیوں کے حق میں دعا فرمائی:

____________________

(١)سورہ ابراہیم آیت ٤١.


١۔ روز قیامت حساب وکتاب کے وقت مجھے معاف کرے۔

٢۔میرے والدین کو بخش دے۔

٣۔او رتمام ایمانداروں کے گناہوں کو معاف فرمائے۔

یہ ساری انبیاء کی سیرت تھی۔

لہٰذادنیا میں انسان جس منصب اور مقام پر فا ئز ہو دعا سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ۔

حضرت ابراہیم (ع)جیسا پیغمبر جو مقام نبوّت مقام رسالت پھر مقام خلّت پھر مقام امامت پر فائز ہونے کے باوجود روز قیامت کے مشکلات سے اپنے حق میں اور والدین کے حق میں طلب مغفرت کرنااس بات کی دلیل ہے کہ روز قیامت بہت ہی سخت اور مشکل دن ہے اور ہم سب دعا سے بے نیاز نہیںہیں لہٰذا والدین کے حق میں دعا کرنا لازم ہے نیز ایک دوسری آیت شریفہ میں حضرت نوح کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ وہ کہتے تھے:

( رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِی مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ) (١)

پالنے والے روز قیامت کے حساب وکتاب کی سختی اور مشکلات

____________________

(١)سورہ نوح آیت ٢٨.


سے مجھے اور میرے والدین اور ہر وہ شخص جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہو ان کو معاف کر ۔

اس جملے سے بھی بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ ماں باپ کے حق میں دعا کرنا ہماری ذمہ داریوں میں سے اہم ترین ذمہ داری ہے لہٰذا حضرت امام سجاد علیہ السلام سے صحیفہ سجادیہ میں ایک مکمل دعا(١) والدین کے حق میں نقل کی گئی ہے اور انہی حضرت(ع) کے نورانی جملات میں سے ایک جملہ یہ ہے:

''واخصص اللهم والدی بالکرامه لدیک والصلوةمنک یا ارحم الراحمین ''(١)

اے میرے معبود میرے ماں باپ کو وہ کرامت اور خیرو بھلائی پنچادے جو تیری درگاہ میں ہے ائے مہربان بخش نے والا۔ دوسرا جملہ یو ں ذکر فرمایا:

''اللهم لا تنسنی ذکر هما فی ادبار صلواتی وفی أوان من آناء اللیل وفی کل ساعة من ساعات نهاری ''

اے میرے معبود ! میری نماز وں کے وقت اور شب وروز کے کسی لمحے میں بھی والدین کی یا دسے مجھے غافل قرارنہ دینا ۔

''اللهم واغفر لی بدعایی لهما واغفرلهما ببرّ هما بی مغفرة

____________________

(١)صحیفہ سجادیہ دعا نمبر ٢٤.


حتما ارض عنهما بشفاعتی لهما رضی عزما بلغهما بالکر امة مواطن السلامته''

اے میرے معبود محمد اور ان کے آل پر درود بیجھے اور ماں باپ کے حق میں میری دعا کے ذریعے مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو ان کے میرے ساتھ نیکی کے بدلے معاف فرما اور تو ان سے میری شفاعت کے واسطے مکمل راضی ہو اور اپنی بزر گی سے انہیں مقام امن میں جگہ عطا فرما :

''اللهم وان سبقت مغفرتک لهما فشفعهما فِيَّ وان سبقت مغفرتک لی فشفعنی فیهما حتی نجمع برئافتک فی دار کرامتک ومحل مغفرتک ورحمتک انک ذوالفضل العظیم والمن القدیم وانت ارحم الراحمین ''

اے میرے معبود اگرتو میرے ماں باپ کو مجھ سے پہلے معاف کرے تو ان دونوں کو میرا شفیع قراردے اور اگر میری مغفرت ان سے پہلے ہو تو مجھے ان کا شفیع قراردے یہاں تک کہ تیری رحمت کے وسیلے سے ہمیں کرامت وبخشش اور رحمت کے گھر میں جمع ہونے کی تو فیق دے بے شک تو ہی بڑافضل والا دائمی نعمت اور احسان کا مالک اور تو ہی مہربانوں میں سے مہربان ترہے ۔

''اللهم اخفض لهما صوتی واطب لهما کلامی والن لهما عرکتی واعطف علیهما قلبی وصیرنی بهما رفیقاً وعلیهما شفیقاً ۔''

اے میرے معبود ان کے لئے میری آواز کو متکبرانہ آواز قرار نہ دے میری گفتگو ان کے ساتھ باعث خوشی قراردے اور میری طبیعت اور اخلاق ان کے ساتھ نیک قرار دے اور میرا دل والدین کے ساتھ نرم قراردے اور مجھے ان کے ساتھ ہم طبیعت اور ہم مزاج بنا دے اور مجھے ان پر مہربانی کرنے اور شفقت کی تو فیق دے ۔

''اللهم اشکر لهما تربیتی واثبهما علی تکرمتی واحفظ لهما ما حفظاه منّی فی صغری''

میرے معبود میری تربیت کے عوض میں ان کو جزای خیر عطا کر اور میرے ساتھ کی ہوی نیکی پر ان کو ثواب دے اور میرے بچپن میں انہوں نے جس طرح میری حفاظت کی ہے اسی طرح انکی حفاظت فرما پس ان جملات اور آیات سے واضح ہو جاتاہے کہ والدین کے حق میں دعا کرنا اولاد کی ذمہ داری ہے اس طرح معصومین (ع) کے فرامین سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کے حق میں دعا کرنے کی بہت زیاد ہ تاکید کئی گئی ہے چنانچہ معمرّ بن خلادسے منقول ہے :


''قلت لابی الحسن الرضا علیه السلام ادعو لوالدی اذا کان لا یعرفان الحق قال ادع لهما ۔''

معمرّ بن خلاد کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے پوچھا کیا میں اپنے والدین کے حق میں دعا کر سکتا ہوں جب کہ وہ حق کو نہیں پہچانتے ؟ اما م نے فرمایا تو ان کے حق میں دعا کر ے

امام سجاد علیہ السلام کے جملات میں سے ایک یہ ہے کہ:

''واستکثر بر همابی وان قل واستقل بری بهما وان کَثُرَ''

(پالنے والے ) ماں باپ نے جو نیکی میرے ساتھ کی ہیں اس کو اگر چہ کم ہی کیوں نہ ہو زیادہ سمجھتا ہوں اور میری نیکی جو والدین کے ساتھ ہوئی ہے جتنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو اس کو کم قرار دےتا ہوں ۔

قارئین محترم ! امام سجادعلیہ السلام کے جملوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ والدین کے حق میں دعا کرنے کا طریقہ بھی معلوم ہو۔

د۔ماں باپ کے سامنے انکساری

ماں باپ کے حقوق میں سے جس کے اسلام میں زیادہ تاکید کی گئی ہے وہ ان کے سامنے انکساری ا ور تو اضع ہے کہ اس کی اھمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اس مسئلہ کے ثبوت و اثبات پرعقلی اورنقلی دلیل دونوں موجود ہیں۔

پہلی آیت:

اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا :

( وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنْ الرَّحْمَةِ ) (١)

____________________

(١)سورہ اسرء آیت٢٤.


''اور ان کے سامنے نیاز سے خاکساری کا پہلو جھکا ئے رکھو۔''

اس جملے کی تفسیر میں معصوم (ع) سے ایک روایت وارد ہوئی ہے کہ تم ماں باپ کی طرف تیز نظر سے آنکھ پھیر کرنہ دیکھو۔اور ان کی آواز پر اپنی آواز ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ بلند نہ کرواور ان کے آگے نہ چلو .ان کا نام لے کر نہ پکارو ان کے آگے نہ بیٹھو، اور ایسا کام بھی انجام نہ دو جس کی وجہ سے ان کو برا بھلا کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر وہ مؤمن ہیں تو مغفرت مانگیں لیکن اگر مومن نہیں ہیں تو ان کی ہدایت اور ایمان کے بارے میں دعا کرے ۔(١)

دوسری آیت:

قرآن کریم میں تو اضع اور انکساری کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا ہے :

( وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) (٢)

اور مومنین میں سے جو تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان کے سامنے اپنا بازو جھکاؤ یعنی تو اضع کرو۔

اس آیت شریفہ میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تواضع سے پیش آنے کا حکم ہوا ہے جب

____________________

(١)تفسیر حافظ فرمان علی ص ٣٩٢.

(٢)شعراء آیت٢١٥.


کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (اولی ٰ باالمؤ منین من انفسهم ) تھے لہٰذا تواضع کرنے کا حکم تعلیمات اسلامی تاکید کے ساتھ بیان کرتی ہے حضرت لقمان حکم نے اپنے فرزندسے کہا:

''تو اضع للناس تکن اعقل الناس'' (١)

لوگوں کے ساتھ خاکساری اور فروتنی کے ساتھ پیش آنا عاقل ترین افراد میں سے محسوب ہو نگے ۔

امام المسلمین حضرت علی علیہ السلام نے تو اضع اور فروتنی کے نتائج کو یوں ذکر فرمایا ہے :

''التواضع سلم الشرف والتکبر راس التلف ''(٢)

لوگوں کے ساتھ تواضع کرنا ترقی اور شرافت انسانی کی علامت ہے تکبر اور غرور نابودی اور ضائع ہونے کا سبب ہے ایک اور حدیث میں حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''العاقل یضع نفسه فیر فع الجاهل یر فع نفسه فیو ضع ''(٣)

.یعنی عقلمند انسان فروتنی اختیار کرتا ہے کہ اس کا نتیجہ اس کی بزرگی اور

____________________

( ١)بحارج ٧٥ص ٢٩٩.

(٢) اخلاق زن وشوہر

(٣)اخلاق زن وشوہر.


بلندمقام ہے جب کہ جاہل انسان اپنی بزرگی دکھاتا ہے کہ اس کا نتیجہ ذلت خواری اور نابودی ہے ۔

تحلیل وتفسیر :

ان آیات اور روایات میںدقت کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تواضع اور انکساری کے ساتھ والدین اور دیگر لوگوں کے ہمراہ زندگی گزارنا عقل مندی ترقی اور انسانی شخصیت کی علامت ہے لہٰذا اگر کوئی شخص شرافت اور مقام کا خواہاں ہے تو ہمیشہ تکبر اور غرور کو خاکساری اور فروتنی میں تبدیل کرے۔

مخصوصا والدین کے ساتھ انکساری اور فروتنی کے ساتھ پیش آنا مکتب اسلام کی خصوصیات میں سے ایک ہے لہٰذا والدین کے سامنے اولاد کا تکبر اور غرور کے ساتھ پیش آنا اور اپنی بزرگی دکھانا شرعا ممنوع ہے چاہے فرزند کسی بھی پوسٹ ومقام کا مالک ہو،چونکہ اگر انسان غور کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسکی بزرگی اسکا پوسٹ اور مقام والدین کی زحمت اورتربیت کی مرہون منت ہے تب ہی تو شیخ انصاری رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت تا ریخ تشیع میں عیاں ہے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر رسیدہ ماں وفات پائی تو آپ شدت کے ساتھ زانو زمین پر رکھ کر ان کے جنازے پر رونے لگے آپ کے شاگردوں میں سے کسی ایک نے جب یہ منظر دیکھا تو شیخ انصاری کو تسلی دینے کی خاطر قریب گئے اور کہا :

آپ کی علمی منزلت اور مقام کے ساتھ ای طرح رونا شائستہ نہیں ہے جب یہ جملہ شیخ انصاری نے سنا تو فرمایا:


ایسی باتیں کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اب تک ماں کی عظمت اور شرافت کو درک نہیں کیا ہے میں آج جس مقام اور منزلت پر پہنچاہوں،وہ ماں کی تربیت اور زحمت کا ہی نتیجہ ہے کہ شیخ انصاری علم فقہ اورعلم اصول کے باپ ہو نے کے با وجود ماں کی عظمت اور ان کے حقوق کو اس طرح عملی جامہ پہنا نا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے حقوق کی ادا ئیگی بہت سنگین ہے ،شہید مطہری کے فرزند ارجمند سے نقل کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ شہید مطہری کبھی اپنے والدین کے حق ادا کرنے میں کو تا ہی نہیں کر تے تھے ہمارے ایک بزرگ استادنے اپنے لکچر کے موقع پر بیان کیا ایک دن ایرانی گورمنٹ کاایک وزیر اپنے والد کو ساتھ لے کر امام خمینی ؒ کی خدمت میں انکے دیدار کو پہنچے امام خمینی ؒ وزیر کو جانتے تھے لیکن ان کے باپ کو نہیں جانتے تھے وزیر اپنے والد سے آگے بیٹھا ہوا تھا امام خمینی ؒ نے پو چھا کہ یہ عمر رسیدہ آدمی کون ہے وزیر نے جواب میں کہا کہ یہ میرا باپ ہے، امام خمینیؒ نے فوراً فرمایا: '' اگر تیرا باپ ہے تو کیوں ان کے آگے بیٹھے ہو کیا تجھے ادب اور تواضع نہیں ہے۔''

پس تمام علماء اور مجتہدین کی سیرت کا مطا لعہ کرنے سے بخوبی واضح ہوتاہے کہ ماں باپ کے حقوق کا ادا ہونا بہت مشکل ہے ان کے حق ادا نہ کرنے کا نیتجہ انشاء اللہ عنقریب تفصیلی طور پر بیان کرین گے۔

ذ ۔ والدین کی طرف سے صدقہ دینا

والدین کے حقوق میں سے ایک ان کے نام پر صدقہ دینا ہے چاہے والدین زندہ ہوں یا مردہ ۔ دین اسلام میں صدقہ اور خیرات کے بہت سے فوائد ذکر ہوئے ہیں ، چنانچہ روایت ہے :

''الصدقة تردالبلاء ''

یعنی صدقہ دینے سے بلا و مصیبتیں دور ہو جاتی ہیں ایک اور حدیث میں ہے کہ صدقہ دینے سے انسان کی زندگی اور عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے لیکن یہاں ہمارا ہدف صدقہ کی اہمیت اور عظمت بیان کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتا نا چاہتے ہیں کہ ماں باپ کے نام پر صدقہ دینا ہماری ذمہ داریوں میں سے ایک ہے تا کہ والدین صدقہ کے ثواب سے محروم نہ ہوں۔


اگر ماں باپ فوت ہو چکے ہوں توزیادہ تاکید کی گئی ہے چنانچہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد عالم برزخ میں اولاد صالح کے ذریعہ اور اپنی زندگی میں انجام دیے ہوئے کا ر خیر کے وسیلے سے مستفیض ہو جاتا ہے، اور اسلام میں ماں باپ کو کسی وقت بھی فراموش نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے خصوصا جمعۃ المبارک کے دن کہ اس کو روایت میںسید الایام کہا گیا ہے اس دن ہمارے سارے اعمال امام زمانہ (ع) کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور سارے اموات اپنے خاندان کے پاس برزخ کی مشکلات لے کر صدقات لینے کے منتظر رہتے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''ان ارواح المؤمنین یا تون فی کل لیلة الجمعة فیقومون ببیو تهم ینادی کل واحد منهم بصوت حزین یا اهلی واولادی واقربائی اعطوا علینا با لصدقة واذکرونا وارحموا علینا ''(١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ مو منین کے ارواح ہر شب جمعہ اپنے گھروں میں لوٹ کر آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک حزین آواز کے ساتھ یوں پکارا کرتے ہیں اے میرے گھروالے اولاد اور میر ے احباب ہمارے نام پر کچھ صدقہ دو اور ہمیں یاد کر اور ہماری تنہائی اور بے کسی پر رحم کر۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شب جمعہ اموات کے ارواح اپنے خاندان کے پا س آکر ان کو صد قہ دینے کی رغبت دلاتے ہیں لہٰذا ان کے نام پر صدقہ دینا اسلام میں مستحب قرار دیا ہے چونکہ مرنے کے بعد انسان کی پوری توجہ اور نگاہ ان کی اولاد اور خاندان کی نیکیوں پر مر کوز ہوتی ہے اگر ان کے نا م پر صد قہ دے یا دعا کرے، یا ان کے نا م پر قرآن خوانی کرے یا کوئی اور کار خیر انجام دے تو ارواح ہمارے حق میں دعا کرتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں لیکن اگر ان کے

____________________

(١)حقوق والدین ، ص ٧٤.


حقوق ادا نہ کرے تو ہماری نابودی ھلاکت اور فقرو فاقہ میں مبتلا ہونے کی دعا کرتے ہیں کیونکہ جب ہماری طرف سے ان کے حقوق ادا کرنے میں کو تاہی یا سستی ہو تو ان کی طرف سے ہما ری نا کامی اور نابودی کی دعا کرنااس کا لازمہ ہے۔

لہٰذا مرنے کے بعد خیال نہ کرے کہ اموات ہمارے صدقہ دعا اور دیگر کار خیر کی محتا ج نہیں ہیں کیونکہ عالم برزخ میں اگر چہ حیات مادی نہیں ہوتی لیکن مثالی زندگی یقینی ہے لہٰذا کچھ حضرات نے عالم برزخ کو عالم مثال سے تعبیر کیا ہے۔

اربعین سلیمانی سے منقول ہے کہ والدین کے حقوق اولا د پر اسی (٨٠) کے قریب ہیں ان میں سے چالیس حقوق ان کی دنیوی زندگی سے اور چالیس اخروی زندگی سے مربوط ہیں دنیوی زندگی سے مربوط چالیس حقوق میں سے دس حقوق اولاد کے بدن پر دس حقوق ان کی زبان پر دس حقوق ان کے قلب پر دس حقوق ان کے مال پر ہیں جو حقوق انسان کے بدن سے مربوط ہیں وہ درج ذیل ہیں ۔

١۔ والدین کے سامنے انکساری اور ان کی خدمت کرنا اس مطلب کو قرآن میں صریحا ذکر کیا ہے:

( وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنْ الرَّحْمَةِ ) (١)

اورمحمد بن مکدر سے روایت کی گئی ہے کہ میرا ایک بھائی تھا جورات نماز اور

____________________

(١)سورۃ اسراء آیت٢٤.


عبادت میں بسر کرتا تھا جبکہ میں اپنی والدہ کی خدمت کرتا تھا اور اس خدمت کا ثواب ان کی عبادت کے ثواب سے تبدیل کرنے میںراضی نہیں ہوتا تھا۔

٢۔ حدسے زیادہ ان کا احترام کرنا چنا نچہ اس کی تفصیل گذرگئی ۔

٣۔ والدین کے آگے اور ان کو پشت کرکے نہ بیٹھنا۔

٤۔ ان کے فرمان اور دستورات پر عمل کرنا جب کہ وہ خلاف شرع نہ ہو۔

٥۔اگر مستحب روزہ یا مستحب عبادت انجام دینا چاہیں تو ان کی اجازت سے انجام دینا ۔

٦۔ ان کی رضایت کے بغیر مستحبی سفر نہ کرنا ۔

٧۔والدین کے احترام کے لئے کھڑ ا ہوجانا اور جب تک وہ نہ بیٹھیں نہ بیٹھنا ۔

٨۔راستہ چلتے وقت اگر کوئی ضرر یا عذر شرعی نہ ہو تو ان سے پہلے نہ چلنا ۔

٩۔ہمیشہ ان کے ساتھ نیکی کرنے کی فکر کرنا ۔

١٠ ہمیشہ ان کی خدمت کے لئے تیار رہنا ۔


اولاد کی زبان پر لازم حقوق :

١۔ نرم لہجے سے گفتگو کر نا ۔

٢۔ اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کرنا ۔

٣۔ زبان کے ذریعہ ناشایستہ گستاخی نہ کرنا ۔

٤۔ ان کو نام سے نہ پکارنا ۔

٥۔ جب وہ گفتگو کررہے ہوں تو قطع کلامی نہ کرنا ۔

٦۔ اگر ان کی بات خلاف شرع نہیں تو رد نہ کرنا ۔

٧۔ا ن کو امرونہی کی شکل میں خطاب نہ کرنا ۔

٨۔ بیجا اف تک نہ کہنا کہ جس سے ان کو اذیت ہوتی ہو ۔

٩۔ان کے خلاف شکایت نہ کرنا ۔

١٠۔ہمیشہ ان کے ساتھ ادب اور اخلاق حسنہ کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کرنا۔


اولاد کے قلب پر لازم حقوق :

١۔ والدین کے لئے نرم دل ہو ۔

٢۔ ہمیشہ ان کی محبت دل میں ہو یعنی ایسا خیال نہ کرے کہ والدین نے میرے ساتھ یہ کیا یا میری کامیابی اور ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا ۔

٣۔ ان کی خوشی میں شریک ہو ۔

٤ ۔ ان کے دکھ اور غم میں شریک ہو ۔

٥۔ ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھے یعنی ان کے دشمنوں سے دوستی نہ کرے۔

٦۔ ان کی بد گوی اور دیگر اذیتوں پر مغموم نہ ہو ۔

٧۔اگر والدین ظلم وستم یا مار پٹائی کرے تو ناراض نہ ہو بلکہ ان کے ہاتھوں کو بوسہ کرے۔

٨۔ جتنا ان کے حقوق ادا کر ے پھر بھی کم سمجھے ۔

٩۔ ہمیشہ دل میں ان کی رضایت کو جلب کرنے کی کوشش ہو ۔

١٠۔ ان کا وجود اگر باعث زحمت اور مشقت ہو پھر بھی ان کی طول عمر کے لئے دعا کرنا۔

مذکورہ تمام حقوق کے بارے میں آئمہ معصومین (ع)سے منقول روایتیں بھی ہیں تفصیل سے مطالعہ کرنا چاہیں تو بحار االانوار کی بحث حقوق والدین وسائل الشیعہ یا اصول کا فی وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔


والدین سے مربوط مالی حقوق:

١۔ ان کو لباس اپنے لباس سے پہلے فراہم کرنا ۔

٢۔ ان کے کھا نے کو اپنے کھانے کی مانند یااس سے بہتر مھیا کرنا ۔

٣۔ان کے قرض کو ادا کرنا ۔

٤۔ ان کے سفر کے مخارج (چاہے واجب ہوں یا مستحب )دینا ۔

٥۔ ان کے فوت شدہ حج اور روزہ غیرہ انجادینا۔

٦۔ ان کو مسکن اور مکان مہیا کرنا ۔

٧۔ اپنی دولت اور ثروت ان کے حوالہ کرنا تا کہ وہ احتیا ج کے مو قع پر اپنی مرضی سے تصرف کرسکیں ۔

٨۔ ان کی زندگی کے تمام لوازمات برداشت کرنا ۔

٩۔ دولت اور ثروت کو ان کی عزت کا ذریعہ قرار دینا ۔

١٠۔ اپنے مال کو ان کا مال سمجھنا ۔


مرنے کے بعد اولاد پر لازم حقوق:

روایات میں بیان شدہ ایسے چالیس حقوق ہیں جو والدین کے مرنے کے بعد اولاد پر لازم ہوتے ہیں :

١۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کی تجہیز وتکفین کو سرعت سے انجام دینا۔

٢۔ ان کی تجہیز وتکفین وغیرہ میں ہو نے والے اخراجات پر ناراض نہ ہونا ۔

٣۔مرنے کے بعد ان کے نا م پر مو ازین شرع کے مطابق مراسم انجام دینا۔

٤۔ ان کی وصیت پر عمل کرنا ۔

٥۔ دفن کی رات ان کے نا م پر نماز وحشت پڑھنا اور دوسروں سے پڑھوانا۔

٦۔ جو مراسم شرعی ان کے نام پر انجام دیتے ہیں جیسے قرآن خوانی اور مجالس عزا وغیرہ ان کو قصد قربت کے ساتھ انجام دینا ،نہ این کہ ریا کاری اور اپنی بزرگی دکھانے کی نیت ہو ۔

٧۔ اگر تا جر یا کا روباری انسان ہے تو فورا حساب کتاب کرکے ان کے ذمہ کو ہر قسم کی دین اور قرض سے بر ی کرنا ۔

٨۔اگر ثلث مال کی وصیت کی ہے تو فورا اس کو جدا کرکے بقیہ ترکہ کو وارثین کے مابین تقسیم کرنا ۔

٩۔ ہمیشہ ان کے نام قرآن کی تلاوت کرنا ۔

١٠۔ ہر نماز کے بعد ان کے حق میں دعا کر نا خصوصا نماز شب کے موقع پر ا ن کو فراموش نہ کرنا ۔

١١۔ ہر روز ان کے نام پر صدقہ دینا ۔

١٢۔ اگر کوئی عذریا مشکل نہیں ہے تو ہر روز نماز والدین انجام دینا ۔

١٣.۔ان کے مصائب پر صبر و استقامت سے کام لینا ۔


١٤۔ ان کی عبادت واجبہ کی قضا انجام دینا یا کسی کو اجیر بنانا ۔

١٥۔ ایام روزہ اور ماہ رمضان المبا رک میں ان کو شریک ثواب قرار دینا ۔

١٦۔ والدین کی قبر پر ان کی زیارت کے لئے جانا ۔

١٧۔ ان کے قبر پر آیت الکر سی اور قرآن کی تلاوت اور صلوات بھیجنا۔

١٨ جب کسی معصوم کی زیارت کرنے کا شرف حاصل ہو تو ان کی نیابت میں زیارت کرنا ۔

١٩ ۔ان کی نیابت میں عمرہ اور حج انجام دینا۔

٢٠۔اگر اپنا واجبی حج انجام دینے کے لئے مکہ مکرمہ جائے تو والدین کو فراموش نہ کرنا۔

٢١۔اگر کو ئی شخص ان پر ناراض ہو تو اس کو کسی صورت میں راضی کرانا ۔

٢٢۔ان کی طرف سے رد مظالم کرنا اور اگر کسی کے حقوق ان کے ذمہ ہوں تو اسے ادا کرنا ۔

٢٣۔ ان کے نام ہر ہفتے میں یا ہر مہینے میں مجلس امام حسین علیہ السلام بر پا کرنا ۔

٢٤۔ ان کے نام پر قربانی کرنا ۔


٢٥۔ اگر ان سے کسی کار خیر کا انجام دینا باقی رہا ہے تو اس کو انجام دینا۔

٢٦ ۔ا گر کسی کے مال کو غصب کیا ہے تو ادا کرنا ۔

٢٧۔ خمس وزکا ۃ اگر ادا نہیں کیاہے تو ادا کرنا ۔

٢٨ ۔کسی کے باپ اور ماں کو بد گوی نہ کرنا تاکہ وہ تمہارے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ کر یں۔

٢٩۔ لوگوں سے نیکی کرنا تاکہ وہ تمہارے والدین کے حق میں دعا کرے ۔

٣٠۔ ماں باپ کے دوستوں کا احترام کرنا ۔

٣١۔ معاشرہ میں کو ئی ایسا کام انجام نہ دےنا جس سے تمہارے والدین کو برا بھلا کہا جائے ۔

٣٢ ۔ ہمیشہ ان کی نجات کیلئے کو شش کرنا ۔

٣٣۔ ان کے آ ثارکی حفاظت کرنا ۔

٣٤ ۔ ماں باپ کی دیدار میسرنہ ہو تو ان کے بجائے چچا اور ماموں کی زیارت کرنا۔

٣٥۔اگر ان کی زندگی میں ان کے حقوق ادا ء نہ کیئے ہوں تو مرنے کے بعد ان کی رضائیت جلب کرنے کی کوشش کرنا ۔

٣٦۔ ان کے خواب میں نظر آنے کی دعا کرنا ۔

٣٧ ۔ ان کے قبور اور اسامی کا احترام رکھنا ۔


٣٨۔ اگر والدین مومن ہیں تو ان سے ملنے کی تمنا کرنا ۔

٣٩۔ ہمیشہ ان کے نام پر کار خیر انجام دینا ۔

٤٠۔ ان کے قبور خراب ہونے سے بچانا ۔(١)

یہ تمام حقوق آیات اور روایات اہل بیت علیہم السلام کی روشنی میں ثابت ہیں ۔

ر ۔ماں باپ کا احترام جہاد سے افضل

ہر با شعور آدمی پر واضح ہے کہ اسلام نے والدین کے لئے جو مقام ومنز لت عطا کیا ہے کو ئی اور نظام یا معاشر ہ اتنی عظمت اور احترام کا قائل نہیں ہے اس اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں تمام کاموں سے افضل اور سنگین جہا د فی سبیل اللہ کو قرار دیا ہے ۔

چنانچہ اس مطلب کو قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے :

( وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اﷲِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ ) (٢)

اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ

____________________

(١)ارزش پدرومادر ص ٧٣

(٢)آل عمران آیت ١٦٩.


ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں سے رزق پارہے ہیں۔

شہادت کی عظمت بیان کرنے کے لئے ایک مستقل کتاب در کار ہے لیکن یہاں مختصر اشارہ کرنا مقصود ہے روایات معصومین علیہم السلام کا مطا لعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہا د فی سبیل اللہ سے والدین کا احترام ا فضل ہے ان مطالب کو ثابت کرنے کیلئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول کافی ہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے امام (ع) نے یوں فرمایا :

''اتی رجل الی رسول اﷲ صلی اللّٰه علیه وآله وسلم،فقال یا رسول اﷲ (صلی اللّٰه علیه وآله وسلم)انی راغب فی الجهاد نشیط، فقال له البنی صلی اللّٰه علیه وآله وسلم تجاهدفی سبیل اللّٰه فانک ان تقتل تکن حیّاً عندا لله ترزقون وان تمت فقد وقع اجرک علی اللّٰه وان رجعت رجعت من الذ نوب کما ولدت قال یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم ان لی والدین کبیر ین یزعمان انهما یأ نسان بی ویکر هان خروجی فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم فقر مع والدیک فوالذی نفسی بیده لا نسهما بک یوما ولیلة خیر من جهاد سنة'' (١)

____________________

(١)کافی ج٢ ص١٢٨.


ایک شخص پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے رسول خدا (ع)میں جنگ میں جاکر جام شہادت نوش کرکے خو شی حاصل کرنے کا خواہاںاور اس کام کے لئے بے تاب ہوں تو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا:

'' (اگر ایسا ہے ) تو راہ خدا میں جہاد کے لئے چلے جاؤ اگر راہ خدا میں شہید ہو گیا توحیات جاودانی ہے اور پروردگار کے یہاں رزق پاؤگے اور اگر طبیعی موت سے مر جائے تو تجھے خدا شہادت کا درجہ عطا کرے گا اور اگر تو زندہ واپس آئے تو تمام گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر واپس آئے ہو جیسے ماں کے پیٹ سے ابھی نکل کر آئے ہو، اس وقت سائل نے کہا کہ اے خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے عمر رسیدہ ماں باپ زندہ ہیں اور مجھ سے مانوس ہیں میرا (گھر سے ) خارج ہو نا وہ پسند نہیں کرتے اس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اگر ایسا ہے تو اپنے والدین کے ساتھ رہیں، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تمہارا ان سے ایک رات اور ایک دن انس اور پیار کرنا ایک سال کی جنگ ( جہاد ) سے بہتر ہے۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اذن جہاد مانگی تو پیغمبر اکرم (ع) نے فرمایا :

''الک والدة قال نعم قال الز مها فان الجنة تحت اقدامها'' (١)

____________________

(١)السعادات ج٢ ص٢٦٧.


کیا تمہاری ماں زندہ ہے تو اس نے کہا جی ہاں اس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا تو ان کے پاس رہ کر ان کی خدمت انجام دے کیو نکہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے

مذکر رہ دو روایتوں سے والدین کی عظمت اور مقام کا انداز ہ لگا یا جاسکتا ہے کہ خدا کی نظر میں والدین کتنے عزیز ہیں ایک اور روایت صاحب وسائل نے یو ں نقل کی ہے:

''ا تی ر سول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم رجل انی رجل شاب نشیط واحب الجهاد ولی والدة تکره ذالک فقال النبی صلی اللّٰه علیه وآله وسلم ارجع مع والد تک فوالذ ی بعثنی بالحق لا نسها بک لیلة خیر من جهاد فی سبیل اللّٰه ''(١)

کسی شخص کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آنے کا شرف حاصل ہوا، (کہا : یا رسول اللہ ) میں ایک طاقتور جوان ہوں اور جہاد میں جانا چاہتا ہوں لیکن میری ماں زندہ ہے وہ اس کو پسند نہیں کرتی (اس وقت ) پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا تو اپنی والدہ کے پاس پلٹ جاؤ چونکہ اس ذات کی قسم کہ جس نے مجھے مبعوث کیا کہ ماں کا تم سے ایک رات مانوس ہونا جہاد سے افضل ہے۔

____________________

(١)وسائل الشیعہ ج١٥ ص٢٠


نیز پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''رقودک علی السریر الی جنب والدیک فی برّہما افضل من جہادک بالسیف فی سبیل اللّٰہ ۔''(١)

ماں باپ کے ساتھ ان کے تخت خواب کے ساتھ سونا اور ان سے نیکی کرنا تلوار کے ساتھ راہ خدا میں جنگ کرنے سے افضل ہے۔

س۔ماں باپ کافر بھی ہوں تو قابل احترام ہیں

اسلام وہ واحد نظام ہے جو انسان کی سعادت او راس کو کمال تک پہنچانے کی خاطر ہر مثبت اور منفی نکات کی طرف اشارہ کرتا ہے اسلامی تعلیمات میں سے ایک نکتہ جس کی طرف متعدد آیات میں اشارہ ہواہے یہ ہے :

مشرکوں اور کا فروں سے دوستی رکھنا حرام ہے لیکن اس قانون سے والدین کو مستثنیٰ کیا ہے ۔

یعنی اگر والدین یا ان میں سے ایک غیر مؤمن یا فاسق یا کافر ہو پھر بھی قابل احترام ہیں ان سے روابطہ حسنہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے زکریا ابن ابراہیم سے منقول ہے:

''قال ذکر یا ابن ابراهم لابی عبداله انی کنت نصرانیا

____________________

(١)ارزش پدر ومادر ص ١٨٧.


فاسلمت وان ابی وامی علی النصرانیة واهل بیتی وامی مکفو فة البصر فأ کون معهم واکل فی اٰنتیهم ،قال: یا کلون لحم الخنز یر؟ فقلت لا ولا یمسو نه، فقال علیه السلام: لا با س فانظر امک فبرها، فاذا ما تت فلا تکلها الی غیرک ''(١)

زکر یا ابن ابراہیم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پو چھا کہ میں مسیحی تھا اب مسلمان ہو چکا ہوں لیکن میرے والدین اور خاندان اس وقت بھی مسیحی ہیں اور میری ماں نا بینا ہے میں ان کے ساتھ زندگی کر رہا ہوں اور ان کے ساتھ کھانا کھاتا ہوں کیا یہ میرے لئے جائز ہے ؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا وہ سور کا گوشت کھاتے ہیں، میں نے کہا نہیں وہ سور کا گوشت نہیں کھا تے اور اس کو ہاتھ تک نہیں لگا تے ۔

تب امام (ع)نے فرمایا کہ ان کے ساتھ رہنے اور کھا نے میں کوئی حرج نہیں ہے ان کے ساتھ رفت وآمد رکھنے کے ساتھ ماں کا خیال رکھیں اور ان سے نیکی کریں اگر وہ مر جائے تو اس کا جنازہ دوسروں کے حوالہ نہ کرے .ایک روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں ارشادفرمایا ہے :

''قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم بعلی علیه

____________________

(١)اصول کا فی ج ٢ ص ٩١٦١.


السلام یا علی اکرم الجار ولو کان کا فرا واکرم الضیف ولو کان کا فرا واطع الوالدین ولو کا نا کا فرین ولا ترد السا ئل وان کان کا فرا قال صلی اللّٰه علیه وآله وسلم یا علی رأیت علی باب الجنة مکتو با انت محرمّة علی کل بخیل ومراء وعاق ونمام'' (١)

حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اے علی علیہ السلام ہمسایہ سے نیکی کرو اگر چہ وہ کا فر ہو نیز مہمانوں کا احترام رکھو اگر چہ وہ کا فر ہی کیوں نہ ہو، والدین کی اطاعت کرو اگر چہ وہ کافر ہوں اور مانگنے والے کو خالی واپس نہ لو ٹا ؤ اگر چہ وہ کا فر ہی کیوں نہ ہو پھر آپ نے فرمایا اے علی علیہ السلام میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا ہے کہ اے جنت تم ہر کنجوس ریا کار عاق والدین اور سخن چین افراد پر حرام ہے ۔

تحلیل وتفسیر حدیث :

اگر چہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین فاسق ہوں یا کا فرمشرک ہوں یا مومن تمام حالات میں ان کا احترام رکھنا اخلاقی طور سے اولاد پر لازم ہے لیکن فقہ میں جو احکام کا فروں کے بارے میں آئے ہیں وہ اپنی جگہ پر محفوظ ہیں ان کی نجاست طہارت، ارث وغیرہ کا حکم احترام والدین سے ایک الگ مسئلہ ہے جن کے بارے میں روایات مذکورہ ساکت ہیں۔

____________________

(١)جامع الا خبا ر ، ص ٨٣.


ایک روایت یہ ہے کہ( بر الوالدین وان کا نا فاجرین).والدین کے ساتھ نیکی کرو اگر چہ وہ فاجر اور ستم گر ہی کیوں نہ ہوں اسی طرح امام محمدباقر علیہ السلام نے فرمایا:

''ثلاث لم یجعل اللّٰه عزوجل لا حد رخصة ادا ء الامانة الی البروالفا جر الوفاء بالعهد الی البر و الفا جر وبرالو الدین برین کانا او فاجرین ''(١)

امام نے فرمایا کہ خدا نے تین چیزوں کو چھوڑ نے کی اجازت نہیں دی ہے :

١ ۔ امانت کو ادا کرنا چاہے رکھنے والا نیک آدمی ہو یا برا ۔

٢۔ وفاء بہ عہد کرنا چاہے نیک ہو یا برا ۔

٣۔ والدین کے ساتھ نیکی کرنا چاہے وہ نیک ہوں یا برے۔

نیز امام رضاعلیہ السلام نے فرمایا:

'' برالوالدین واجب وان کا نا مشرکین، ولا طاعة لهما فی معصیة الخالق'' (٢)

ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا لازم ہے اگر چہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں

____________________

(١)بحار ج٧٤.

(٢) بحارالانوارج ٧٤.


لیکن جب وہ نافرمانی خدا کرنے کا حکم دیں تو اطاعت لازم نہیں ہے۔

اسی طرح ایک روایت جناب جابر سے یوں نقل کی گئی ہے:

''قال سمعت رجلا یقول لابی عبد اللّٰه ان لی ابوین مخا لفین فقال برهما کما تبر المسلمین ممن یتولانا ''(١)

جابر نے کہا میں نے سنا کہ ایک شخص نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے عرض کیا میرے والدین آپ کے مخالف ہیں ( کیا وہ قابل احترام ہیں ) آپ نے فرمایا ان سے نیکی کرو جس طرح میرے ما ننے والے مسلمانوں سے نیکی کی جاتی ہے ۔

ش۔ ماں ، باپ سے محبت کا حکم

دوستی اور محبت ،والدین اور اورلاد کے ما بین ایک امر طبیعی ہے لیکن جب انسا ن غلط سوسائٹی اور مغر ب زدہ معا شرہ میں تعلیم وتربیت حاصل کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ والدین کے ساتھ اولاد کی محبت اور دوستی کم ہو جا تی ہے ۔کیو نکہ والدین ان کے مزاج اور طبیعت کے منافی ہیں لہٰذا جب والدین نیک مشورے یا نیک نصیحتوں سے ان کو سمجھا نا چاہتے ہیں تو وہ ان کی نصیحت اور باتوں پر عمل نہیں

____________________

(١)بحار ج١٧٤.


کرتے جس کے نتیجہ میں والدین کے ساتھ ہونے والی قدرتی محبت ختم ہو جاتی ہے لہٰذا والدین کے ساتھ عام عادی انسان کی طرح سلوک کرنے لگتے ہیں جب کہ یہ اسلام میں بہت ہی مذ مو م طریقہ ہے۔ کیونکہ والدین کے ساتھ محبت اور دوستی کرنے کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں ارشاد فرمایا ہے:

'' قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم احفظ ودّ ابیک لا تفطئه فیطفئی اللّٰه نورک ''(١)

آپ نے فرمایا تم کو چایئے کہ اپنے باپ کے ساتھ دوستی اور محبت کو ہمیشہ بر قرار رکھیںاور ان سے قطع محبت نہ کرو کیونکہ اگر ان سے محبت اور دوستی کو قطع کروگے، تو خدا تمہارے نور کو قطع کر یگا۔

لہٰذا بہت ساری روایات میں اس طرح کا جملہ پایا جاتا ہے کہ خدا کی رضایت اور اسکی اطاعت ماں باپ کی رضایت اور اطاعت میں پو شیدہ ہے کہ اس جملے کی حقیقت یہ ہے کہ انسان ماںباپ کو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور علت کی بناء پر کبھی بھی برانہ مانیں بلکہ ہمیشہ ان سے دوستی اور محبت سے پیش آئیں۔

کیونکہ یہی ماں باپ انسان کی نجا ت اور آبا د ہو نے کا ذریعہ ہیں پس اگر

____________________

(١) نقل از ارزش پدر ومادر.


ہم والدین کی شناخت کر یں اور ان کو ہمیشہ خوش رکھیں یاان کی اطاعت کرتے رہیں تو در حقیقت خدا کی شنا خت اور اس کی رضایت اور اسکی اطاعت حاصل کئے ہو ئے ہیں لہٰذا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

'' بر الو الدین من حسن معر فت العبد با اللّٰه ''(١)

١۔ والدین کے ساتھ نیکی کرنا انسان کا خدا کی بہتر ین شنا خت ہونے کی دلیل ہے ۔ نیز اگر انسان ائمہ معصومینصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت اور دوستی کرنے کا خواہاں ہو تو ائمہ معصو مین علیہم السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''قال الصادق علیه السلام من وجد برد حبنا علی قلبه فلیشکر الدعا لامه فانها لم تخن اباه ''(٢)

آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص ہم اہل بیت (علیہم السلام) کی محبت کو اپنے دل میں احساس کرے تو وہ اپنی ما ں کے حق میںبہت زیادہ دعا کرے،کیونکہ اس نے اس کے باپ کے ساتھ خیانت نہیں کی ہے، لہٰذا ماں باپ سے دوستی اور نیکی کرنا حقیقت میں خدا اور ائمہ سے دوستی اور محبت کرنے کی علامت ہے جب ہم والدین سے محبت کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ ان کے ہم کلام اور ہم صحبت ہو جاتے ہیں کہ والدین سے ہم کلام ہونا شریعت اسلام میں بہت

____________________

(١) مستد رک ج ١٥ ص ١٩٨

(٢) من لایحضر الفقیہ ج ٣ ص ٣٢٥.


ہی اہم مسئلہ اور قابل ارزش کام ہے .لہٰذا پیغمبر اکرم نے اس مسئلہ کو یوں ارشا د فرمایا ہے :''قال رجل یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم من احق بحسن صحا بتی ؟قا ل امک قال ثم من ؟قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم امک قال ثم من ؟ قال ابوک ''(١)

ایک شخص نے پیغمبر اکرم سے پو چھا اے خدا کے رسول ہم کلام اور ہم صحبت ہونے کے لئے کون سزا وار ہے ؟ آپ نے دوبار فرمایا تمہاری ماں بہتر ہے ۔ تیسری دفعہ پو چھا پھر کون سزاوار ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہا را باپ سزاوار ہے۔

پس محترم قارئین! اگر ان مختصر جملات پر غور کریں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے :

١۔ والدین سے محبت کرنا خدا اور آئمہ علیہم السلام سے محبت کرنے کی علامت ہے۔

٢۔ ان سے نیکی کرنا خدا کی بہتر ین شناخت ہو نے کی علامت ہے۔

٣۔ زندگی میں بہتر ین ہم کلام اور ہم صحبت ماں باپ ہیں ۔

لہٰذا قرآن مجید میں حضرت یعقوب اور حضرت یو سف کا قصہ نجوبی اس مطلب کو بیان کرتا ہے کہ ماں باپ اور فرزندان کے مابین دوستی اور محبت ہو نی چائیے صرف ان کے اخراجات فراہم کرنا کافی نہیں ہے ۔

____________________

(١) مستد رک ١٠ / وسائل ج١٥


تیسری فصل

احترام والدین کا دنیامیں نتیجہ

اگر احترام والدین سے مربوط روایات معصومین علیھم السلام کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت اور احترام کا نتیجہ دو قسم کا ہے:

١۔ دنیوی نتیجہ۔

٢۔ اخروی نتیجہ ۔

یہاں اختصار کے ساتھ دنیوی اور اخروی نتا ئج کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے دنیوی نتائج میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

١۔ان اللّٰه تعالی وضع اربعا فی اربع برکة العلم فی تعظیم الا ستاذ وبقاء الایمان فی تعظیم اللّٰه ولذت العیش فی بر الوالدین والنجات من النار فی ترک ایذاء الخلق ۔(١)

خدا وند متعال نے چار چیزوں کو چار چیزوں میں قرار دیا ہے:

____________________

(١) کیفر کر دار ج ١ص ٢٢٤.


١۔ علم کی بر کت کو استا د کے احترام میں۔

٢۔ ایمان کی بقاء کو خدا کے احترام میں۔

٣۔ دنیوی زندگی کی لذت کوو الدین کے ساتھ نیکی کرنے میں۔

٤۔ جہنم کی آگ سے نجات پا نے کو لوگوں کو اذیت نہ پہچانے میں ۔

ہر با شعور انسان کی یہ کو شش ہو تی ہے کہ اس کی زندگی خوش گوار ہواور اس سے لذت اٹھائے زندگی کی شیرینی اور لذت سے بہرہ مند ہونے کی خاطر مال اولاد خوبصورت بنگلہ گاڑی اور بیوی وغیرہ کی آرزو ہو تی ہے لیکن اگر ہم غور کریں کہ ہمارے پاس یہ ساری چیزیں مہیا ہوں لیکن والدین سے رشتہ منقطع اور ان کی خد مت انجام دینے سے محروم ہو تو وہ زندگی ان لوازمات زندگی کے باوجود شیرین اور لذت آور نہیں ہو سکتی ۔


لہٰذا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ دنیوی زندگی کی لذت ماں باپ کی خدمت اور احترام رکھنے میں پوشیدہ ہے پس اگر کوئی شخص دنیوی لوازمات زندگی کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھے لیکن والدین کا احترام نہ کرے تو یہ خام خیالی اور کج فکری کا نتیجہ ہے کیونکہ والدین کا احترام دنیوی زندگی میں سعاد ت مند ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے ، لہٰذا ذات باری تعالی کی اطاعت کے بعد والدین کی اطاعت ہم پر لازم ہے، تب ہی تو متعدد روایات میں ان کے حقوق اور احترام کی سفارش کی گئی ہے لہٰذا امام جعفر صادق علیہ السلام نے والدین کی خدمت اور احترام کی تاکید کرتے ہوئے یوں ذکر فرمایا ہے :

''ویجب للوالدین علی الولد ثلا ثه اشیاء شکر هما علی کل حال وطاعتهما فیما یا مر انه و ینهیا نه عنه فی غیر معصیة اللّٰه ونصیحتهما فی السر والعلانیة وتجب للولد علی والده ثلا ثة خصال اختیا ره لوالدته وتحسن اسمه والمبا لغة فی تا دیبه ''(١)

'' فرزند پر ماں ،باپ کے حق میں سے تین چیزیں لازم ہیں:

١۔ ہر وقت ان کا شکر گزار ہونا۔

٢۔ جن چیزوں سے وہ نہی اور امر کرے اطاعت کرنا بشر طیکہ معصیت الہی نہ ہو۔

٣۔ ان کی موجود گی اور عدم موجود گی میں ان کے لئے خیر خواہی کرنا۔

اسی طرح باپ پر اولاد کے تین حق ہیں:

١۔ اچھا نا م رکھنا ۔

٢۔ اسلامی آئین کے مطابق تر بیت کرنا۔

٣۔ ان کی تربیت کیلئے اچھی ماں کا انتخاب کرنا ۔

____________________

(١)تحف العقول ص ٣٣٧.


لہٰذا جو شخص دنیامیں زندگی کی لذت اور سعادت کے خواہاں ہے اسے چاہئے کہ والدین کی خدمت سے کبھی کو تا ہی نہ کریں ۔

الف۔ ماں باپ کی طرف دیکھنا عبادت ہے

اسلام میں کئی ہستیوں کے چہروں کو دیکھنا عبادت قرار دیا ہے:

١۔ عالم دین کے چہر ے کو دیکھنا ۔

٢۔ معصومین کے چہرے کو دیکھنا ۔

٣۔ والدین کے چہرے کو دیکھنا عبادت کا درجہ دیا گیا ہے کہ یہ حقیقت میں ما ں باپ کی عظمت اور فضیلت پر دلیل ہے ۔

ماں باپ کی طرف دیکھنے کی دو صورتیں ہیں :

١۔ ناراضگی اور غم وغصہ کی حالت میں دیکھنا کہ اس طرح دیکھنا باعث عقاب اور دنیوی زندگی کی لذتوں سے محروم ہو نے کا سبب ہے کہ جس سے شدت سے منع کیا گیا ہے چنا نچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا :

''من العقوق ان ینظر الرجل الی ابویه یحد الیهما النظر'' (١)

____________________

(١)بحار ج ٧١


برے اور عقاب آور کا موں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان والدین کی طر ف تند وتیز نگاہوں سے دیکھے۔

ایک اور روایت میں فرمایا :

''من نظر الی ابوبیه بنظر ماقت وهما ظالمان له لم یقبل اللّٰه له صلواة ''(١)

اگر کو ئی شخص اپنے ماں باپ کی طرف ناراض اور غضب کی نگاہ سے دیکھے تو خدا اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا اگر چہ والدین نے اس پر ظلم بھی کیا ہو۔

لہٰذا اگر کسی روایت میں والدین کی طرف دیکھنے کی تعریف آئی ہے اسے عبادت قرار دی ہے تو اس سے مراد محبت اور پیار کی نگاہ ہے۔

دوسری قسم یہ ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا

''النظر الی وجه الوالدین عبادة ''(٢)

ماں باپ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے یعنی باعث نجات اور سعادت ہے ۔ دوسری روایت میںامام رضا علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا:

''النظرالی الو الدین برأ فة ورحمة عبادة ۔''(٣)

____________________

(١)اصول کافی ج ٢ ص ٣٤٩.

(٢)مستدرک ج١٥ ص ٣٠٤.

(٣)حقوق زن وشوہر.


ماں باپ کی طرف مہرو محبت کے ساتھ دیکھنا عبادت ہے اسی طرح پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں فرمایا:

'' نظرالولد الی والدیه حبا لهما عبادة'' (١)

ماں باپ سے مہر ومحبت کی نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے ۔ نیز ایک روایت جنا ب اسماعیل نے اپنے والدبزرگوار حضرت امام جعفر صادق + سے اور امام نے اپنے آباء علیہم السلام سے نقل کی ہے:

''قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم نظرالولد الی والدیه حبالهما عبادة'' (٢)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا فرزند کا ماں باپ کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے ۔

اسی طرح ایک روایت میں ما ں باپ کی طرف دیکھنے کو حج مقبول جیسا ثواب ذکر ہوا ہے :

''عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم ما من ولد بار ینظر الی والد یه نظر رحمة الا کا ن له بکل

____________________

(١)کشف الغمتہ (ص ٢٤٢ نقل ارزش پدر ومادر

(١)بحار الانوار ج ٧٢


نظرة حجة مبرورة فقالو یا رسول اللّٰه وان نظر فی کل یوم مائة قال نعم اللّٰه واطیب ۔''(١)

ابن عباس نے کہا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کوئی بھی فرزند محبت کی نگاہ سے والدین کی طرف دیکھے تو ہر نظر کے بدلے حج مقبول کے برابر ثواب ہے اس وقت لوگوں نے کہا اے رسول خدا اگر ایک دن میں سودفعہ دیکھے پھر بھی حج کے برابر ہے ؟ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہا ں حج کے برابر ہے (کیو نکہ ) خدا ہر چیز سے بزرگ تر اور ہر عیب سے منزہ ہے ۔

گذشتہ روایات کی روشنی میں کئی مطالب واضح ہو جاتے ہیں:

١۔ ماں باپ کی طرف دیکھنے کی دوصورتیں ہیں غم وغصہ کی نگاہ سے دیکھنا یہ شریعت اسلام میں شدت سے منع کیا گیا ہے۔

٢۔ مہر ومحبت سے دیکھنا یہ عبادت ہے۔

٣۔ ماں باپ کی طرف دیکھنے کا ثواب حج مقبول کے برابر ہے والدین مومن ہو یا فاسق فاجر ہو یا کافر قابل احترام ہےں ۔

ب۔ ماں باپ کی خدمت میں طول عمر

والدین کی خدمت اور احترام کرنے کے دنیا وی نتائج میں سے اہم ترین

____________________

(١)بحار الانوار


نتیجہ یہ ہے کہ ماں باپ کا احترام اور ان کی خدمت کرنے سے خدا اس کو دنیا میں طویل اور لمبی زندگی عطا کر تا ہے چنا نچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں فرمایا :

'' قال النبی من احب ان یکو ن اطول النا س عمرا فلیبر والدیه'' (١)

اگر کوئی شخص طول عمر کے خواہان ہو تو ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو ۔

اس روایت میں پیغمبر نے شرط کے ساتھ فرمایا جو لوگ دنیوی زند گی کے تمام مراحل میں کا میابی اور طولانی عمر چا ہتے ہیں تو والدین کے ساتھ نیکی اور ان کا احترام فراموش نہ کرے۔

نیز دوسری روایت میں آنحصرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''من سره ان یمد له فی عمره ویبسط له فی رزقه فلیصل ابویه فان صلتها من طاعة اللّٰه '' (٢)

اگر کو ئی شخص عمر طولانی اور رزق میں اضافہ ہونے کا خواہاں ہو تو والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرے اور ہمیشہ رابط رکھے چو نکہ ان سے نیک رفتار ی اوراچھا

____________________

(١)مستدرک ج ١٥

(٢) بحارج ٧٤ صفحہ ٨٦.


سلوک کرنا اطاعت الٰہی کے مصادیق میں سے ایک ہے۔

نیز ایک اوردوسری روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

'' ان کنت ترید ان یزاد فی عمر ک فبر شیحک یعنی ابویه'' (١)

اگر تم اپنی عمر میں تر قی اور اضافہ ہونا چاہتے ہو تو اپنے ماں باپ کی خدمت انجام دو اور ان کے ساتھ نیکی کرو اسی طرح ایک اور روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :

''من بر والد یه طوبٰی له و زادا له فی عمره'' (٢)

خوش نصیب بند ہ وہ ہے جو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرتا ہے کیو نکہ ایسے بندے کو خدا اس کے عوض میں اس کی دینوی زندگی میں اضا فہ فرماتاہے۔

اگر انسان ان تمام روایات کی تحلیل وتفسیر کرے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ طول عمر کا مسالہ بہت ہی مشکل اور اہمیت کا حامل ہے لیکن انسان غور کرے تو والدین کی برکت سے اور ان کی خدمت کرنے کے نتیجے میں خدا انسان کی دنیوی زندگی میں اضافہ فرماتا ہے جبکہ آیت یہ ہے کہ اگر مو ت کے مقررہ وقت آپہنچے تو ایک لحظہ تقدم و تاخر کی گنجائش محال ہے ۔

____________________

(١) بحار ج ٧١

(٢)بحار الانوار.


لیکن والدین کی خدمت اور احترام ایسا سبب ہے کہ اس کو انجام دینے والے کو خدا طویل عمر اور لمبی زندگی عطا کرتا ہے کہ جس کے خواہاں ہر انسان ہیں چاہے امیر ہو یا غریب عورت ہو یا مرد۔

لہٰذاان احادیث کی روشنی میں بخوبی کہہ سکتا ہے کہ سعادت دنیوی اور اخروی ماں باپ کی خد مت میں پوشیدہ ہے کیونکہ روایات میں آیا ہے کہ خداوندعالم ماں،باپ کی خدمت کر نے والوں کو عمر اور دولت میںاضافہ کرتا ہے کہ یہ دونوں سعادت دنیا وآخرت کا سبب ہیں لہٰذا اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ والدین کتنی بڑی نعمت ہیں کہ خداہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق اور ان کے تابع ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔

ج ۔والدین کے احترام میں دولت

دنیوی نتائج میں سے تیسرا اہم نتیجہ یہ ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اور خوش رفتار ی سے پیش آنے کے نتیجے میں خدا اس کو دنیا میں دولت مند اور فقر وفاقہ سے نجات دیتا ہے کہ یہ والدین کی عظمت اور حقوق کی ادا ئیگی شر یعت اسلام میں لازم ہو نے کی دلیل ہے ۔کیو نکہ دنیا میں ہر انسان کی خواہش یہی رہتی ہے کہ اپنے آپ کو دولت مند اور امیر بنائے تا کہ کسی کا بوجھ نہ بنے اور معاشرے میں باوقار اور عزت مند نظر آئے، لہٰذا ہزاروں مشقتیں اٹھا نے پر آمادہ ہے تا کہ دولت سے محروم نہ ہو پائے ،اگر انسان شریعت اسلام کے اصول و ضوابط سے واقف ہو تو کبھی بھی دولت میں اضافہ کا میا ب زندگی گذار نے میں مانع پیش نہیں آتا کیو نکہ نظام اسلام نے دنیوی زندگی کو آباد کرنے میں اتنی اہمیت دی ہے کہ جتنی اہمیت ابدی زندگی کو دی گئی ہے۔


چنانچہ اس مطلب کو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے علماء یوں نقل کرتے ہیں:

''اعملوا لدینا کم کا نک تعیش ابداً و اعملوا لآ خرتکم کانک تموت غدا ''(١)

تم لوگ دنیا میں اتنی زحمت اٹھا ؤکہ گویا ہمیشہ زندہ رہو گے اور آخرت کیلئے اتنا کام کرو کہ گویا کل ہی مر جاؤ گے۔

لہٰذا اگر ہم غور کریں تو عقل بھی دنیوی زندگی کو حلال طریقے کے ساتھ آباد کرنے کی تاکیدکرتی ہے کیونکہ یہی دنیوی زندگی میں ہی ابدی زند گی کی آبادی اور نا بودی پو شیدہ ہے اور دولت دنیوی زند گی کو آباد کرنے کے ذرا ئع میں سے ایک اہم ذر یعہ ہے کہ اگر ہم والدین کے حقوق کی رعایت کر ینگے تو خدا نے اس کو دولت مند بنانے کی ضمانت دی ہے کہ اس مطلب کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں فرمایا ہے :

____________________

(١)نہج البلاغہ.


''من یضمن لی برالوالدین وصلة الرحم اضمن له کثرة المال وزیادة العمر والمحبة فی العشیرة ''(١)

یعنی اگر کوئی شخص مجھے ضما نت دے کہ میں والدین کا احترام اور صلہ رحم ترک نہیں کروں گا تو خدا اس کے مال اور عمر میں اضافہ کرنا اور ان کے خاندان میں وہ عزیز ہونے کی میں ضمانت دیتا ہوں

نیزدوسری روایات میں اس طرح کی تعبیریں بہت زیادہ ہیں کہ ویبسط الرزق یعنی اگر ہم والدین کے حقوق کو ادا کریں تو خدا ہماری دولت میں مزید اضافہ فرمائے گا بہت ساری روایات جو عاق والدین کی مذمت پر دلالت کرتی ہے کہ ان میں سے بھی کچھ روایات سے واضح ہو جا تا ہے کہ والدین کا احترام نہ کرنے کے نتیجہ میں اس کی عمر میں کو تا ہی دولت میں کمی آجاتی ہے کہ ان روایات سے انشاء اللہ بعد میں تفصیلی گفتگو ہو گی۔

لہٰذا والدین کا احترام رکھنا حقیقت میں ہما ری زندگی آباد ہو نے کا ذر یعہ ہے لیکن ہماری نا دانی ہے کہ ہم والدین کے حقوق کو ادا کرنا وبال جان سمجھتے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیمات سے محروم اور اصول وضوابط کے پا بند نہ رہنے کا نتیجہ ہے وگر نہ بہت ساری روایات اس طرح کی ہے کہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ

____________________

(١) مستدک نقل از کتاب ارزش پدر ومادر


احترام سے پیش آئیں تا کہ کل ہمارے فرزندان بھی ہمارے ساتھ احترام سے پیش آسکیں۔

پس اگر ہم دولت مند اور امیر ہو نے کی خواہش رکھتے ہیں تو والدین کے حقوق کو کبھی فرامو ش نہ کریں اور یہ خیال نہ کرے کہ والدین کے حقوق ادا کئے بغیر ہم دولت مند اور امیر بن سکتے ہیں کیونکہ ایسا خیال اور فکر تعلیمات اسلامی سے دور ہے .ماں باپ کے حقوق ادا کئے بغیر کبھی دولت مند نہیں ہو سکتا ہے لہٰذا دنیا میں بہت زحمتوں کے باوجود ہماری دولت میں تر قی نہ ہو نے کا سبب یہ ہے کہ ہم والدین کے حقوق کو ادا نہیں کرتے اور ان کو اپنے بچے اور بیوی کے حد تک عملی میدان میں احترام کے قائل نہیں ہیں کہ اس کا نتیجہ دنیا میں دولت مند ی اور لمبی زندگی سے محرومی ہے ،لہٰذا امام رضا علیہ السلام نے باپ کی اطاعت اور حقوق ادا کرنے کو اس طرح بیان فرمایا ہے

''قال الرضا علیک بطا عة الاب وبره والتو اضع والخضوع والا عظام والا کرام له وخفض الصوت بحضرته فانّ الاب اصل الا بن والابن فرعه لولاه لم یکن لقدرة اللّٰه ابذ لوا لهم الامو ال والجاه و النفس ''(١)

____________________

(١)۔ بحار ج١٧ چاپ بیروت.


'' تم پر باپ کی اطاعت کرنا اور ان سے خوش فتا ری سے پیش آنا اور ان کے سامنے انکسار ی اور ان کو بز رگی کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کے سا منے آ واز بلند نہ کرنا لازم ہے ۔ کیونکہ باپ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کہ فرزند اس کے شاخہ کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اگر باپ نہ ہو تا تو خدا اس کو خلق ہی نہ کرتا پس اپنے اموال کو اور مقام ومنزلت کو ان پر فدا کر ۔''

د۔ والدین کے احترام میں کامیابی

ہر معا شرہ ا ور سو سائٹی کے باشعور افراد کی کو شش یہی رہی ہے کہ ہم اپنے فیلڈ اور شعبہ میں کامیابی سے ہمکنار ہو لیکن کامیابی کے حصول کی خاطر شب وروز تلاش کے باوجود بہت ایسے افراد نظر آتے ہیں کہ جو بر سوں مشقتیں اٹھا نے کے باوجود کا میا بی سے محروم رہ جاتے ہیں کہ شاید جس کی علت یہ ہو کہ ہم نے والدین جیسی عظیم ہستیوں کے احترام کی رعایت نہیں کی ہے جسکا نتیجہ دنیا میں کا میا بی سے محروم اور معا شرہ میں بد نا می کا باعث بنتا ہے کیو نکہ ہم والدین کے نیک نصیحتوں پر عمل کے بجا ئے لاابالی قسم کے افراد کے مشوروں پر چلتے ہیں اور والدین کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے کہ جس کا لازمہ دنیا میں ہزاروں زحمتیں اٹھا نے کے باوجود کا میابی جیسی نعمت سے محروم رہنا ہے، چو نکہ جب کو ئی فرزند والدین کی نصیحت اور مشورے پر عمل کئے بغیر ان کو ناراض ہو نے دیتا ہے تو والدین ان کی ناکامیابی دیکھ کر ایک لمبی سی سانس ناراضگی کی حالت میں لیتے ہیں تو وہ عرش تک پہونچتی ہے کہ اس کا نتیجہ فرزند مزید ناکامی اور بربادی میں مبتلا ہوتا ہے۔


لہٰذا روایت میں ہے کہ والدین جب اولاد کے حق میں دعا کرتے ہیں تو کبھی خدا اس کو رد نہیں کرتا ہے کہ اس مطلب کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں فرمایا ہے:

'' اربعة لاترد دعوة ویفتح لهم ابواب السماء ویصیر الی العرش دعاء الوالد لولده والمظلوم علی من ظلمه والمعمر حتی یرجع والصائم حتی یفطر ۔''(١)

چار ہستی خدا کی نظر میں اس طرح کے ہیں کہ اگر وہ دعا کرے تو کبھی استجابت سے محروم نہیں ہوتے:

١۔باپ فرزند کے حق میں دعا کرے۔

٢۔مظلوم ظالم کے خلاف دعا کرے۔

٣۔عمرہ انجام دینے والے کی دعا عمرہ سے واپس آنے تک۔

٤۔روزہ دار کی دعا افطار کرنے تک۔

____________________

(١) کتاب ارزش پدر ومادر.


یہ وہ افراد ہیں جن کے لئے خداوندعالم نے رحمتوں کے دروازے کھول رکھے ہےں، تاکہ ان کی فریاد عرش تک پہنچ جائے ۔

لہٰذا انسان کی کامیابی اور دنیوی زندگی کو شادابی کے ساتھ گزارنے میں ماں باپ کی بہت بڑی دخالت ہے تب بھی تو دنیا میں ایسے فرزند بھی نظر آتے ہیں کہ والدین کی نیک نصیحتوں او راچھے مشوروں پر نہ چلنے کے نتیجہ میں دنیوی زندگی اوراخروی زندگی دونوں کی سعا دتمند ی سے محروم رہے ہیں لہٰذا قدیم زمانے میں ایک دولت مند کہ جس کا ایک عیاش فرزندتھا اس دولت مند باپ نے اس عیاش بیٹے سے بارہا لوگوں کے ساتھ اچھے سلوک اور نیک رفتار ی سے پیش آنے کی نصیحت کی مگر اس نے نہیں مانا۔

لیکن جب باپ کی موت قریب ہوئی تو باپ نے اس کو اپنے قریب بلایا اور کہنے لگا کہ اے میرے عیاش بیٹے میرا آخری وقت ہے لہٰذا میں تجھے وصیت کرتا ہوںاوراس گھر کے فلاںکمرے کی چابی تیرے حوالے کرتا ہوں کہ جب تو ہر قسم کی منزلت ومقام سے کھوبیٹھے تو اس کمرے کے دروازے کو کھولنا اور اس کی چھت کے ساتھ ایک رسی آویزان کی گئی ہے اس وقت اس رسی کو کھینچ کر اپنے گردن کو لٹکانا تاکہ تو زندگی سے نجات پائے وہ فرزند باپ کے مرنے کے کچھ سالوں بعد ثروت اور دیگر عیاشی کے ضروریات کھوبیٹھا تو باپ کی وصیت یاد آئی۔


لہٰذا فورا کمرے کی چابی کھولنے لگا تو دیکھا کہ چھت کے ساتھ ایک رسی آویزان ہے کہ وہ عیاش بیٹا زندگی سے تنگ آچکا تھا لہٰذا فوراً زندگی سے نجات پانے کی خاطر رسی کو مضبوطی سے کھینچ کر گردن سے لٹکانے کی کوشش کی کہ اتنے میں رسی کے ساتھ سونے کی ایک تھیلی چھت سے گرپڑی تو فوراً باپ کی نصیحتوں اور نیک مشوروں کو یاد کرنا شروع کیا اور اپنی بدبختی اور نا کا میا بی کی ملامت شروع کردی اور کہنے لگا کہ میرے باپ میری کا میابی کو کسی حد تک دل سے چاہتے تھے لیکن میں نے ان کی نصیحتو ں پر عمل نہیں کیا نتیجہ خود کشی تک پہنچا لیکن پھر بھی باپ نے مجھے نجات دی(١) ۔

لہٰذا روایت میں ایسا جملہ مکر ر آیا ہے کہ الاب اصل وفرعہ ابنہ یعنی باپ علت ہے فرزند معلول ہے کہ معلول کی کا میا بی اور نا کامی علت میں پوشیدہ ہے ۔پس اگر غور کر یں تو معلو م ہو گا کہ ہمیں دنیا میںکا میابی کی طرف لے جانے والے صرف والدین اور انبیا ء اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں لہٰذا انہیں کے نصیحتوں اور مشورں پر چلنا ہمار ی کا میا بی کا سبب بنتا ہے ۔

ز۔ ماں ،باپ پر سختی کی ممانعت

ماں ،باپ کے متعلق احکامات میں سے ایک یہ ہے کہ اولاد کا ان پر سختی کرنا فقہی رو سے حرام ہے چاہے ناز یبا الفاظ استعمال کر کے اذیت پہنچائے یا ناشائستہ

____________________

(١)داستان ہائے شیرین ،ص ١٣٠


فعل کے ذریعے ان کو ناراض کرے ،شر عا ًقابل مذمت ہے چنا نچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ابن مہزم نے یوں نقل کیاہے :

''عن ابن مهزم قال فلمادخلت علیه قال لی مبتد أً یا ابامهزم مالک ولخالده (یعنی ام) اغلظت فی کلا مها البار حة اما علمت ان بطنها منزل قد سکنته وان حجرها مهدقدعمر ته وثدیها وعاء قد شربته قلت بلی قال علیه السلام فلا تظفها ۔''(١)

ابن مہزم نے کہا کہ جب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو امام علیہ السلام کی نظر مجھ پر پڑ تے ہی فرمایا ۔اے ابن مہز م کل تو اپنی ماں کے ساتھ کسی چیز پر جھگڑا کر رہا تھا اور تو ان کی گفتگو سے کیوں ناراض ہوا کیا تم نہیں جانتے کہ ان کا شکم تمہاری منزل تھی کہ جس میں تو رہا کرتا تھا اور ان کا دامن تیرا گہوار تھا کہ جس میں تو آرام سے لطف اندوز ہوتا تھا اور ان کا دودھ تیر ا کھانا اور پینا کہ جس سے تو شرب ونوش کرتا تھا ۔(ابن مہزم نے کہا ) جی ہاں اس طرح تھا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا پس ان پر سختی نہ کر۔

اس حدیث سے والدین کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لہٰذا ماں باپ کو کسی قسم کی سختی اور اذیت پہنچانا شر یعت اسلام میں حرام اور ہر انسان کی نظر

____________________

١۔ مستدر ک ج ١٥ ص١٩١.


میں مستحق مذمت ہے ۔ نیز اور ایک روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے :

''ملعون من سب امه ''(١)

١۔ جو شخص ماں کو دشنام اور گالی دے یا ان کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کرے گا وہ خدا کی رحمت سے دور ہے خواہ وہ فعلی اذیت ہو یا قولی، اسلام کی نظر میں کوئی فرق نہیں ہے پس ماں، باپ کی شان میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا موجب عقاب او رنابودی کا سبب ہے ۔

اسی طرح روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ ماں باپ کو مارنا بہت ہی شدت کے ساتھ ممنوع قرار دیا گیا ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا:

''ملعون ملعون من ضرب والده او والدته ''(٢)

معلون ہے ملعون ہے وہ شخص جو اپنے ماں باپ کو مارے۔

تفسیر وتحلیل:

ان روایات سے کئی مطلب کا استفادہ ہوتا ہے:

١۔ قول وگفتار کے ذریعہ ماں باپ پر سختی کی ممانعت۔

____________________

(١) نہج الفصاحہ

(٢)ارزش پدر ومادر.


٢۔ ان کو گالی دینے کی شدت سے ممانعت کی گئی ہے۔

٣۔ ان کو مارنا پیٹنا حرام ہے۔

یہ مطالب توضیح طلب ہیں لیکن اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف اسی اجمالی تذ کر پر اکتفا کرتا ہوں اگر چہ اخبار ی کتب میں روایات صحیح السند کی شکل میں یا مر سلہ اور مسند کی صورت میں بہت زیادہ ہیں لیکن تحصیلات کے اوقات کو نعمت سمجھ کر اجمالی اشارہ کو کا فی سمجھتا ہوں ۔

لہٰذا اگر کو ئی شخص والدین پر سختی سے پیش آیا یا نعوذ بااللہ مارنے پیٹنے کی حد تک پہونچ گیا تو خدا اس کی دولت میں کمی عمر میں کو تا ہی ،دنیوی کا مو ں میں نا کا میابی ،معا شرے میں بد نامی ، اور ہر قسم کی عزت وشرافت سے محروم کرنے کے علاوہ موت کے وقت بہت ہی اذیت اور عالم برزخ میں سختی اور قیامت کے دن حساب وکتا ب کے مو قع پر خسارہ سے دو چار ہو گا پس والد ین کا احترام کرنا اور ان پر ہر قسم کی سختی پہنچانے سے پر ہیز کرنا ، فطری اور عقلی دلیلوں کی چاہت کے باوجود انبیاء اور ائمہ معصومین (ع) کے فرامین کا خلاصہ ہے ۔ لہٰذا اگر آپ ماں باپ پر سختی کریں گے تو کل آپ کی اولاد بھی آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے چنانچہ اس مطلب کو معصومصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں فرمایا : ''بروا آبائکم تبر ابنا ئکم ''(١)

____________________

(١)اصول کافی.


تم اپنے والدین کے سا تھ نیکی کرو تا کہ کل تمھا رے فرزندان بھی تمہارے ساتھ نیکی کریں

ر۔ والدین کی رضایت میں خدا کی رضایت

پورے مسلمانوں کی کو شش یہی رہتی ہے کہ خدا وندعالم ہماری ہر حرکات وسکنات پر راضی ہو اسی لئے طر ح طرح کی زحمتوں کے باوجود فروع دین اور اصول دین کے احکام کے پابند ہو جا تے ہیں تا کہ خدا وند علی الا علی کی رضایت جلب کرنے سے محروم نہ رہیں ،لہٰذاہزاروں روپئے خمس کی شکل میں یا صدقہ اور دیگر وجوہات کو ادا ء کر کے خداکی خوشنودی حاصل کرنے میں سر گرم رہتے ہیں لیکن اگر ہم اسلام کے اصول وضوابط سے تھوڑی سی آگا ہی رکھتے ہوں تو معلوم جائے گا کہ خدا نے اپنی رضایت وخوشنودی اور ناراضگی کو ماں، باپ کی رضایت اور نارضگی میں مخفی رکھا ہے ،جیسا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے :

''اول ما کتب علی اللوح انااللّٰه ولااله الا انا من رضی عنه والد ه فانا عنه راض ومن سخط علیه والده فانا علیه ساخط'' (١)

یعنی لوح محفوظ پر سب سے پہلے یہ لکھا گیا ہے :میں اﷲ ہوں اور میرے

____________________

(١)معراج السعادۃ ص ٨٤ ٣


علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کہ اگر کسی پر اس کے ماں باپ خوش ہو تو میں بھی اس پر خوش ہوں لیکن اگر کسی پر اس کے والدین ناراض ہوں تو میں بھی اس سے ناراض ہوں۔

.نیز دو سری روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''رضاء الر ب فی رضاء الوالدین وسخطه فی سخطهما'' (١)

خدا کی رضایت ما ں باپ کی رضایت میں پو شیدہ ہے اور ان کی ناراض گی ماں باپ کی نا راضگی میں مخفی ہے ۔

مذ کورہ روایات کے مضمون کے مطابق ایک حکایتبھی ہے جو قابل ذکر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دن حضرت داؤد علیہ السلام زبور کی تلاوت کررہے تھے اتنے میں اچانک ایک خاص کیفیت اور حالت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر طاری ہو ئی اور سوچ کرکہنے لکے کہ شائید دنیا میں مجھ سے زیادہ عبادت گذار کوئی اور نہ ہو کہ جب اس طرح سوچنے لگے تو خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی :

''اے داؤد اگر اتنی عبا دت سے اپنے آپ کو دنیا میں عابد تر سمجھتے ہو تو اس پہاڑکے اوپر جاکر دیکھو کہ میرا ایک بندہ سات سو سال سے میری عبادت اور مختصر سی کو تا ہی پر مجھ سے طلب مغفرت کررہا ہے جب کہ وہ کو تا ہی میر ی نظر میں جرم نہیں ہے چنا نچہ جب حضرت داؤد نے اس پہاڑپر جا کر دیکھا کہ ایک عابد عبادت اور

____________________

( ١)کنز العمال ج ١٦ ص ٨٠ ٣ نقل از اخلاق زن وشوہر


رکوع وسجود کے نتیجے میں بہت ہی کمزور ہوچکا ہے اورنماز میں مشغول ہے تھوڑی دیر جناب داؤد منتظر رہے جیسے ہی اس عابد نے نماز تمام کی حضر ت داؤد(ع) نے اس کو سلام کیا عابد حضرت (ع) کے سلام کے جواب دینے کے بعد پوچھنے لگا کہ تو کون ہے ؟

حضرت داؤد نے فر مایا کہ میں داؤد ہوں کہ جیسے ہی داؤد کا نام سنا تو کنے لگا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو داؤد ہے تو میں تیر ی ترک اولی کی وجہ سے تیرے سلام کا جواب نہیں دیتا لہٰذا اس پہا ڑ پر ہی خدا سے معا فی ما نگیں ۔کیو نکہ میں ایک دن گھر کی چھت پررفت آمد کرنے کے نتیجہ میں میری ما ں پر کچھ خاک آپڑی تھی کہ اسی کی معافی کے لئے سات سو سال سے میں اس پہاڑ پر خدا سے طلب مغفرت کررہا ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میری ماں مجھ سے راضی ہو ئی ہے یا نہیں ؟(١)

پس والدین کی عظمت اور بزرگی کی وجہ سے خدانے اپنی رضایت کو ان کی رضایت میں مخفی رکھا ہے اگر خدا کی رضا یت چاہتے ہو تو والدین کے احترام اور حقوق کو ادا کرکے ان کو راضی کریںکہ اس کا نتیجہ خو شنودی الہی کا حصول ہے دنیا وآخرت میں سعادت سے مالا مال ہو نے کا سبب ہے ۔

____________________

١۔ الدین فی نصص ج٣ ،٢٣نقل از ارزش درومادر


چوتھی فصل

احترام والدین کا آخرت میں نتیجہ

روایات اور آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ہر انسا ن تین عالموں سے گزر تا ہے اور یہ حتمی ہے :

١۔ عالم دنیا۔

٢۔عالم برزخ۔

٣۔ عالم آخرت ۔

ان تینوں زند گیوں میں والدین کے احترام کا نتیجہ ضرورملتا ہے لہٰذا عالم دنیا کے نتائج کی طرف بہت ہی اختصارکے ساتھ اشارہ کرنے کے بعد مناسب ہے کہ عالم برزخ اور عالم آخرت میں والدین سے اچھے سلوک اور نیک رفتاری سے پیش آنے کے نتائج کی طرف بھی اشارہ کروں۔

الف ۔قبر کے عذاب سے نجات :

ان نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ حالت احتضار اور عالم بر زخ میں والدین کے احترام اور ان کے ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں کو شدت اور سختی سے نجات ملتی ہے فشار قبر ونکیرین کے سوال وجواب کے موقع پر مشکلات سے دو چارنہیں ہو تا نیز قبر کی تاریکی اور تنہا ئی کے وقت والدین کا احترام نور اور ساتھی کی حیثیت سے عالم بر زخ میں رونما ہو جاتاہے ۔


ب۔ گناہوں کی معافی کا سبب:

گنا ہ خدا اور عبد کے درمیان ایک پر دہ ہے کہ جس سے عبد کو خدا کی حقانیت اور کرامت نظر نہیں آتی ہے نیز گناہ انسان کی قدرتی صلاحیتیں ختم ہونے کا ذریعہ بھی ہے لہٰذا خداوند اپنے بندوں سے دور اور مخفی ہو نے کا تصور گناہوں کا نتیجہ ہے کیونکہ غیر معصوم ہر انسا ن کسی نہ کسی معصیت اور گنا ہ میں ضرور مر تکب ہو جاتا ہے لیکن خدا نے اپنے گنا ہگار بند ہ کو نجات دینے کی خاطر اس کو اپنے قریب قرار دینے کی خاطر تو بہ جیسی نعمت فراہم فرما یا ہے ،یعنی اگر تو بہ کرے تو میں تمھارے گنا ہوں کو معا ف کروں گا کہ یہ واضح دلیل ہے کہ خدا اپنے بندوں کے ساتھ نیکی اور اچھائی کے خوا ہاں ہے کہ اگر تو بہ کی بھی تو فیق نہ ہو پا ئے تو مایوس نہ رہے بلکہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر ے تا کہ اس کے عوض میں گنا ہوں کو معاف کیا جاسکے کہ اس مطلب کی طرف پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں اشارہ فرمایا ہے:

''جاء رجل الی النبی فقال انی ولدت بنتا حتی اذابلغت جئت بها الی قلیب فد فعها فی جوفه فما کفارة ذالک فقال رسول اللّٰه الک ام حیة قال لا قال فلک خالة حیة، قال نعم قال صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فا بر ر ها فانها بمنز لته الام یکفر عنک ما صنعت'' (١)

ایک شخص پیغمبر ؐ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ اے خدا کے رسول میری ایک بیٹی تھی کہ اس کو میں نے تربیت دی پھر جب جوان ہوئی تو میں نے زندہ کنویںمیں پھینک کر ختم کردیا اس کا کفارہ کیا ہے؟

آنحضرت ؐ نے فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے اس نے کہا کہ میری ماں زندہ نہیں ہے پھر آپ ؑنے فرمایا کیا تیری خالہ زندہ ہے؟اس نے کہا جی ہاں میری خالہ زندہ ہے پس جاؤ خالہ کی خد مت کرو کیو نکہ خالہ ماں کی مانند ہے کہ اس کی خد مت کرنے سے خدا تیرے گناہ کو معاف کرے گا ۔

پس والدین کے احترام باعث نجات ہے ۔

نیز دوسری روایت جسے امام محمد باقر علیہ السلام نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کرتے ہو ئے فرمایا کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کو انجام

____________________

( ١) اصول کا فی ج ٢ ، ٦٣ ١.


دینے سے خدا وند کریم ضرور اس کا گناہ معاف کرتا ہے لہٰذا خدا کی لعنت ہو اس شخص پر جوان تینوں کو انجام دینے کی فر صت کو ہاتھ سے جانے دے، اور ان کے ذریعے گنا ہوں کی معافی خدا سے نہ چاہے :

١۔ اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک کے اعمال اور عبادات انجام دے ۔

٢۔ اگر کوئی شخص ما ں باپ کے ساتھ نیکی اور احسان کرے ۔

٣۔ جب میر انام سنا جاتا ہے تو اس وقت درود بھیجے کہ آپ نے فرمایا جو بھی شخص ایسی فر صت کو ہاتھ سے جانے دے خدا اس کو اپنی رحمت سے دور رکھا کرتا ہے ۔(١)

اور ایک روایت آنحضرت ؐسے یوں منقول ہے کہ ایک شخص کو آنحضرت کی خدمت میں آنے کا شرف حاصل ہوا اور آنحضرت سے پو چھا اے خدا کے رسول ؐ شایدکوئی ایسا گناہ نہ ہو جو میں نے انجام نہ دیا ہو لہٰذا کیا میر ی توبہ قابل قبول ہے آنحضرت ؐ نے اس سے سوال کیا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں میرا باپ زند ہ ہے اس وقت آنحضرت نے فرمایا جاؤ ان سے نیکی کرو لیکن وہ جانے کے بعد آپ نے فرمایا کا ش اس کی ماں زندہ ہو تی(٢)

____________________

(١) ارزش پدرومادرص٤٠٠.

(٢) ارزش پدر ومادر


لہٰذا آپ ان روایات سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ والدین کا احترام کتنا اہم اور مفید ہے کہ جس سے ہمارے تمام گناہوں کو معاف کیا جاسکتا ہے جبھی تو ایک دفعہ ہمارے استا د محترم نے درس کے دوران ایک واقعہ سنا یا تھا جسکا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص عارف تھا کہ وہ ہمیشہ دن کے کسی وقت قبور کی زیارت کو جاتے تھے ایک دن اچا نک کسی جدید قبر سے ان کا گذر ہوا تو دیکھا کہ اس قبر پرایک عجیب سا بچھو ہے تھوڑی دیر دیکھتا رہا تو دیکھا کہ بچھو اس کے قبر کے اندر جانے لگا اتنے میں قبر سے فریاد کی آواز آنے لگی اس وقت عارف نے خدا سے مناجات کرکے اس کی روح سے پوچھا :

اے بندہ خدا تو نے دنیا میں کون سا گناہ انجام دیا تھا جس کے نتیجہ میں خدا نے تم پر ایسا بچھو مسلط کیا ہے اس نے کہا کہ میں نے دنیا میں والدین کا احترام اور ان کے حقوق کی رعایت نہ کی تھی اس کے نتیجہ میں یہ بچھو ہر روز ایک دفعہ میری قبر میں آتا ہے او رمجھے اتنی اذیت دیتا ہے کہ میں بے اختیار فریاد کرنے لگتا ہوں۔


ج۔ والدین کی خدمت میں جنت

ہر مسلمان کا اعتراف ہے کہ مرنے کے بعد اس دنیوی زندگی کی پوری حرکات وسکنات کا حساب وکتاب یقینی ہے اس کاحساب وکتاب کے بعد ابدی زندگی کا آغاز جنت یا جہنم سے ہوگا لہٰذا ہر شخص جنت کی تلاش اور جہنم سے نجات پانے کی خاطر دنیا میں نیکی اور اسلام کے اصول وضوابط پر چلنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اگر انسان انبیاء اور ائمہ ٪کی سیرت اور اقوال پر غور کرے تو معلوم ہوگاکہ خدا نے جنت اپنے بندوںکو بہت ہی آسان کام کے بدلے میں دیا ہے کیونکہ خدا نے جنت میں جانے کے بہت سارے ایسے اسباب بتائے ہیں کہ جو بہت ہی مختصر اور آسان ہیں۔کہ ان مختصر اور آسان کا موں کو انجام دینے پر خدا نے ابدی زندگی میں جنت دینے کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت پیغمبر اکرم نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے:

''قال الجنة تحت اقدام الا مهات ''(ا )

جنت ما وؤں کے قد موں کے نیچے ہے ۔

تو ضیح :

اگر چہ یہ روایت ماں کی خدمت انجام دینے کو باعث نجات ہونے پر دلالت کرتی ہے لیکن دوسری روایات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ جنت باپ کی خدمت کرنے کی صورت میں بھی دینے کا وعدہ کیا ہے ۔لہٰذا اس روایت یا اس روایت کی مانند دوسری روایات میں ماں کا ذکر کرنا شاید احساس عاطفی کی بنیاد پر ہو یعنی حقیقت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ بتانا چا ہتے ہیں کہ ماں کی خدمت باپ کی

____________________

(ا ) مستدر ک الو سائل ج ١٥.


خدمت پر مقدم ہے کیو نکہ عورتوں کا احساس مردوں کے احساس سے بہت زیادہ ہے اور وہ جلدی متا ثر ہو جاتی ہیں لہٰذا دوسری روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم تحت اقدام الامهات روضة من ریاض الجنة ''(١)

ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت کے باغوں میں سے بہت سارے باغ پوشیدہ ہیں۔

تحلیل :

ان دو روایتوں کو آپس میں مقائیسہ کریں تو یہ نتیجہ ملتا ہے :

١۔ والدین کا احترام اور ان کی خدمت کرنا جنت میں جانے کا باعث ہے ۔

٢۔ جنت میں بہت سارے باغات ہیں کہ وہ باغات ہر قسم کے میوہ جات وافر مقدار کے ساتھ اور ہر قسم کے پھولوں سے معطر ہے کہ ان باغات میں سے کئی باغ خدا نے اپنے بندوں کو والدین کے ساتھ نیکی اور اچھے سلوک کرنے کے عوض میں عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے کہ یہ والدین کی عظمت اور شرافت کی دلیل ہے کہ ایسی شرافت اور عظمت مسلمانوں میں سے صرف والدین کو حاصل ہے لہٰذا اسلام

____________________

(١) مستدرک چاپ قدیم ج ٢.


میں والدین بننے کی خاطر ازدواج اور تربیت اولاد کی کتنی اہمیت اور تا کید کی گئی ہے۔ پس اگر ہم والدین کی حقیقت سے آگاہ ہوجائیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری دنیوی زندگی میں کا میا بی والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے ۔

نیز ایک اور روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

''قال النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا شاب هل لک من تعول قال نعم قال من؟ قال امی فقال النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الز مها فان عند رجلیها الجنة'' (١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اے جوان کیا تمھارے رشتہ داروں میں سے کوئی زند ہ ہے ؟ جوان نے کہا جی ہاں میری ماں زندہ ہے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا پس تم کو چاہئے کہ ما ں کی خدمت کرو کیو نکہ بہشت ان کے پیروں کے نیچے ہے ۔ اسی طرح اور ایک روایت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یوں نقل کی گئی ہے :

'' ان رجلا اتی النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فقال انّی نذرت لله ان اقبل باب الجنة وجبهة حورالعین فقال له النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبّل رجل امک وجبهةابیک ۔''(٢)

بتحقیق ایک شخص پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا (اے خدا کے

____________________

(١)میزان الحکمتہ ج ١٠ ٧١٢ ،نقل از کتا بچہ مادر

(٢)قرۃالعین فی حقوق الوالدین ٢٨.


رسول ) میں نے جنت کے دروازے اور حورالعین کی پیشانی کو بوسہ دینے کی نذر کی ہے (اس کو انجام دینے کیلئے کیا کروں)آپ نے فرمایا تو اپنی ماں کے پاؤں اور باپ کے پیشا نی کو بوسہ دو یعنی اگر ہم جنت کے دروازے اور حور العین کو بوسہ دینے کے خواہاں ہیں تو ماں باپ کا احترام کریں کیو نکہ ماں باپ کے احترا م میں جنت اور حورا لعین مخفی ہے۔

د ۔ حساب وکتا ب میں آسانی

عالم آخرت میں والدین کے احترام کے نتائج میں سے ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ والدین کی خد مت کرنے سے روز قیامت حساب وکتا ب میں آسانی ہوجاتی ہے کہ شریعت اسلام میں حساب وکتاب کا مسئلہ معاد کے مسائل میں سے بہت پیچیدہ اور اہم مسئلہ شمار کیا جاتا ہے لہٰذا قرآن مجید میں سب سے زیادہ آیات قیامت اور حساب وکتاب کے بارے میں نازل ہو ئی ہیں اسی طرح معاد کے موضوع پر لکھی ہو ئی کتابوں میں سب سے زیادہ روایات روز قیامت اور حساب وکتاب کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے۔


حسا ب وکتاب کی سختی کو بھی روایت میں اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ جب محشر کے میدا ن میںحساب کتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا تو اتنی سختی سے دوچار ہوگی کہ ان کے جسم سے نکلا ہوا پسینہ چالیس اونٹوں کے سیراب کے لئے کا فی ہے چنانچہ قیامت کے دن حساب کے بارے میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں ارشا د فرمایا ہے:''قال رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ''کل محا سب معذب فقال له قائل یا رسول اللّٰه فاین قول اللّٰه عزوجل فسو ف یحاسب حسابا یسیرا قال ذالک العرض یعنی التصفح ''(١)

آپ نے فرمایا کہ جن افراد سے حساب لیا جاتا ہے ان کو سزا بھی دی جاتی ہے یعنی (حساب جن افراد سے لیا جاتا ہے ان کو سختی کی جاتی ہے ) کہ اس وقت کہنے والے نے کہا کہ اے خدا کے رسول اگر ہر ایک سے حساب کے وقت سختی کی جاتی ہے تو خدا کا یہ قول کیا ہے جلد ہی حساب آسانی سے لیا جاتا ہے تو آپ نے فرمایا اس سے اعمال کے جستجو اور تحقیق مراد ہے،نہ اینکہ حساب وکتاب کے وقت آسانی اور کمی۔

لہٰذا بہت ساری روایات میں مختلف قسم کی تعبیرات کا مقصد یہ ہے کہ حساب کے وقت سختی کی جاتی ہے کہ جن پر کسی کو حق اعتراض نہیں ہے ۔نیز حساب وکتاب کی کمیت وکیفیت کے بارے میں بھی امام علی علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے:

''سئل علی علیه السلام کیف یحا سب اللّٰه الخلق علی کثرتهم؟ فقال علیه السلام کما یر ز قهم علی کثر تهم فقیل فکیف

____________________

(١) معانی الا خبار طبع حیدری ٢٦٢.


یحا سبهم ولا یر ونه ؟ فقال علیه السلام کما یرز قهم ولا یرونه'' (١)

جب امام علی علیہ السلام سے پو چھا گیا کہ ( اے علی ) خدا اپنے اتنے سارے بندوں سے کیسے حساب لے گا ؟

آپ نے فرمایا کہ جس طرح اتنی کثرت کے ساتھ مخلوقات کو روزی دیتا ہے اسی طرح حساب لے گا پھر آپ سے پو چھا گیا ۔ کیسے خدا مخلوقات سے حساب لیتا ہے جب کہ ان کو خدا نظر نہیں آتا آپ نے فرمایا کہ جس طرح ان کو روزی دی ہے جب کہ ان کو نظر نہیں آتا۔

پس حساب کتاب اور ان کی سختیوں سے کو ئی بھی بشر خارج نہیںہے اور یہ حتمی ہے لیکن اگر کوئی شخص دنیا میں والدین کی خدمت انجام دیتا رہا ہے اور ان کے احترام میں کو شاں رہے تو اس کے بد لے میں خدا حساب وکتاب کی سختی سے نجات دیتا ہے :

اس مطلب کو امام محمد باقر علیہ السلام نے یو ں ارشاد فرمایا ہے:

''برالوالدین تهونان الحساب ''(٢)

____________________

(١) نہج البلا غہ حکمت ٣٠٠ نقل از معا د شنا سی.

(٢)مشکاۃ الا نوار ٦٥ ١ ،نقل از کتا بچہ مادر


یعنی ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا حساب وکتاب میں آسانی ہو نے کا سبب ہے۔ لہٰذا والدین ہی دنیوی زند گی کی آبا دی ، اور فشار قبر سے نجات ، قیامت کے دن حساب وکتاب میں آسانی ، اور جنت میں داخل ہو نے کا سبب ہے ۔


پانچویں فصل

عاق والدین

الف۔ سب سے بڑا گنا ہ عاق والدین

شریعت اسلام میں دو قسم کے گنا ہ کا ذکر کیا گیا ہے : ١۔ کبیرہ ۔٢۔ صغیرہ ۔

گنا ہ کبیرہ ان گناہوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کو انجام دینے کی صورت میں خدا کی طرف سے عقاب مقرر کیا گیاہے لہٰذا اگر آپ گناہ کبیر ہ کی حقیقت اور تعداد سے باخبر ہو نا چا ہتے ہیں تو جناب مرحوم آیت ١للہ شہید محراب دستغیب کی ارزش مند کتاب گناہان کبیر ہ اور تفسیر کی کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں لیکن گناہ کبیر ہ میں کچھ ایسے گناہ ہے کہ جن کو اکبر الکبا ئر سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ جن میں سر فہر ست عاق والدین ہے یعنی عاق والدین تمام گنا ہان کبیر ہ میں سب سے بڑا گنا ہ ہے کہ اس مطلب کی طرف پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں اشارہ فرمایا ہے:

''اکبر الکبائر الشرک بااللّٰه وقتل النفس وعقوق الوالدین وشها دة الزور'' (١)

____________________

١۔ نہج الفصاحتہ، ص٨٢


'' گناہ کبیر ہ میں سے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ خدا کے ساتھ شریک ٹھرانا اور کسی کو قتل کرنا ،ما ں ،باپ کے ساتھ برے سلوک سے پیش آنا اور جھوٹی شہا دت دینا ہے ۔ ''

نیز دوسری روایت میں آنحضرت نے یوں ارشاد فرمایا ہے:

''قال رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : خمس من الکبا ئر: الشر ک بااللّٰه وعقوق الوالدین والفرار من الز حف وقتل النفس بغیر حق والیمین الفاجرة تذعه الدیار بلاقع'' (١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں گناہ کبیرہ میں سے ہیں :

١ ۔خدا کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا ۔

٢۔ ماں پاب کے ساتھ برا سلوک کرنا، عاق والدین۔

٣۔ جہاد کے مو قع پر بھا گنا ۔

٤۔ کسی کو نا حق قتل کرنا ۔

٥۔ جھوٹی قسم کھا کر اپنے آپ کو نابود کرنا ۔

نیز اور ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

____________________

(١) جامع الا خبار، ص٨٤ ، نقل از ارزش پدر ومادر


''ان اکبر الکبا ئر عند اللّٰه یوم القیا مة الشر ک با اللّٰه وقتل نفس المؤمن بغیر الحق والفرار من سبیل اللّٰه یوم الز حف وعقوق الوالدین'' (١)

بے شک روز ہ قیامت خدا کی نظر میں سب سے بڑا گناہ کبیرہ میں سے یہ ہے کہ خدا کے ساتھ شریک ٹھرانا اور کسی مؤ من کو مار ڈالنا جنگ کے مو قع پر راہ خدا سے بھاگنا اور ماں باپ کو ناراض کرنا اسی طرح اخباری کتابوں میں عاق والدین کاگناہ کبیر ہ میں سے یا تمام گنا ہوں سے بڑا گناہ ہو نے پر بہت ساری روایات پائی جاتی ہیں۔

چنا نچہ امام جعفر الصادق علیہ السلام نے فرمایا:

'' الذ نوب التی تظلم الهواء عقوق الوالدین'' ( ٢)

گناہوں میں سے جو فضاء کو تاریک اور آلودہ کرتا ہے وہ عاق والدین کا گناہ ہے ۔

ان مذ کو رہ احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ والدین کو ناراض کرنا سب سے بڑا گناہ ہے اس گنا ہ کے نتیجہ میں اولاد کی زندگی برباد ہو نے کے علاوہ رب

____________________

(١) میزان الحکمتہ باب العقوق

(٢) بحارالانوار، ج٨٤ ، نقل از کتاب ارزش پدر ومادر


العزت کے فیض وکرم سے محروم ہو جاتا ہے لہٰذا حضرت امام علی علیہ السلام کے دور میںآپ ایک دفعہ رات کے آخری وقت اپنے فرزند بزرگوار امام حسن علیہ السلام کو لے کر کنار خانہ کعبہ خدا سے مناجات کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک مسکین خانہ کعبہ میں خدا سے راز ونیاز کرتے ہو ئے آنسو بہارہا ہے ۔

امام علیہ السلام نے اس کی اس حالت کو دیکھ کر امام حسن علیہ السلام سے فرمایا اے بیٹا حسن ؑاس مسکین کو میرے پاس لے کر آنا اما م حسن ؑمسکین کے پاس پہونچے تو دیکھا کہ مسکین بہت غمگین حالت میں پڑا ہے لہٰذا کہنے لگے اے خدا کے بند ے تجھے حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا زاد بھائی کی دعوت ہے لہٰذا اٹھ ۔

جب مسکین نے امام علی ؑکی دعوت کو امام حسن ؑکی زبان سے سنا تودوڑتا ہوا امام علی ؑکی خدمت میں پہنچا تو امام نے اس سے پو چھا اے مسکین تیری کیا حاجت ہے ؟

مسکین نے کہا: اے میرے مو لاحقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنے باپ کو اذیت پہنچائی ہے کہ جس کی بنا ء پر میرے والد نے مجھے عاق کردیا ہے اس کے نتیجہ میںمیرے بدن کا نصف حصہ فالج کی بیماری میں مبتلا ہے۔


امام (ع)نے فرمایا: یہ بتاؤ تم نے باپ کو کیا اذیت پہنچا ئی تھی؟

وہ کہنے لگا کہ میں ایک جوان اور عیاش بندہ تھا کہ ہر قسم کے گناہ میں مرتکب ہو تا تھا باپ مجھے گناہ کرنے سے منع کرتے تھے لیکن میں ان کی نصیحت پر عمل نہ کرنے کے علاوہ دوسرے گنا ہوں کا زیادہ مرتکب ہوا کہ حتی ایک دن میں کسی گناہ کا مرتکب تھا اس وقت میرے باپ نے مجھے منع کیا تو میں نے اس کے جواب میں ایک لاٹھی لے کر باپ کو مارنے لگا تو باپ نے ایک لمبی سانس لی اور اسکے بعدمجھ سے کہنے لگے کہ آج ہی میں خانہ کعبہ جاکر تجھے عاق اور نفرت کروں گا ۔

باپ نے مجھے عاق کیا جس کے نتیجہ میں میرے بدن کا نصف حصہ فالج کی بیماری سے دو چار ہوا ہے اس وقت اس مسکین نے بدن کے مفلوج حصے کو امام علی علیہ السلام کو دکھایا،لیکن جب میں پشیمان ہوا تو میں باپ کے پاس گیا اور معذرت خواہی کی اورباپ سے در خواست کی کہ میرے حق میں دعا کریں باپ راضی ہو گئے اور خانہ کعبہ کی جس جگہ سے مجھے عاق کیا تھا اس جگہ میرے حق میں دعا کرنے کے بعد شہر مکہ کی طر ف جانے کی خاطر اونٹ پر سوار ہوئے جب کسی صحر ا میں میںپہونچے تو ایک پر ندہ آسمان کی طرف سے آنے لگا اور عجیب سے کوئی پتھر باپ کے اونٹ کی طرف پھینکا کہ جس کے نتیجہ میں باپ اونٹ سے گر کر دنیا سے چل بسے اور میں نے وہیں پر ہی دفن کیا ۔

لہٰذا ابھی انھیں کی یاد میں رات کے وقت تنہا ئی کے حالت میں خدا سے رازونیا ز کررہا ہوں لیکن میرے باپ نے اظہاررضایت کی مگر میرے بدن کا مفلوج حصہ ٹھیک نہیں ہوا ۔


امام علیہ السلام نے فرمایا:

اے مسکین اگر تیر ا باپ تم سے راضی ہوا ہے تو تیری سلامتی کے لئے میں دعا کرتا ہوں امام نے دعا فرمائی کہ اس کے نتیجے میں مفلوج حصہ ٹھیک ہوا پھر امام اپنے فرزند بزر گوار کے پاس آئے اور فرمایا:

''علیکم ببرالوالدین ''(١) تم پر والدین کے ساتھ نیکی کرنا فرض ہے لہٰذا کوئی ایسا عمل انجام نہ دیں جس سے تمہارے والدین تمہارے ساتھ نفرت کرنے لگیں ۔

ب۔ عاق والدین کی مذ مت

تعلیمات اسلامی کی روشنی میں روشن ہے کہ والدین کی عظمت بہت ہی زیادہ ہے لہٰذا والدین کو ناراض کرانا ان کے مشکلات کے موقع پر کام نہ آنا اور ان کے حقوق کو ادا کرنے میں کو تاہی کرنا اور ان کی خدمت انجام دینے سے انکار کرنا موجب عاق والدین بن جاتا ہے کہ جس کی شریعت اسلام میں بہت ہی مذ مت کی گئی ہے۔

جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

'' لو علم اﷲ شیا ہو ادنی من اف نہی عنہ وہو من اد نی

____________________

(١)کتاب ارزش پدر ومادر ،ص٣٨٩.


العقوق ومن العقوق ان ینظر الرجل الی والد یه فیحدّ النظر الیهما'' (١)

یعنی اگر خدا کی نظر میں کلمہ اف سے کمتر کو ئی اور کلمہ ہو تا تو ما ں باپ کے حق میں اس سے منع کرتا کیونکہ کلمہ اف والدین کو ناراض کرنے والے الفاظ میں سے مختصر تر ین کلمہ ہے ۔ لہٰذا اگر کو ئی ما ں ،باپ کی طر ف ناراضگی کی حالت میں دیکھیں تو وہ بھی عاق والدین میں سے ہے۔

توضیح:

مذکورہ روایت میں اگر غور کیا جائے تو دو مطالب کی طرف اشارہ ملتا ہے:

١۔ عاق والدین متعددمراتب پر مشتمل ہے کہ ان مراتب میں سے کمترین مرتبہ والدین سے اف کہنا کہ اس مطلب کی طرف خدا نے بھی اشارہ فرمایا:

( فَلاَتَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلاَتَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا کَرِیمًا ) (٢)

٢۔ عاق والدین شریعت اسلام میں ایک مذموم کام ہے لہٰذاعاق والدین کے بارے میں امام ہادی علیہ السلام نے فرمایا:

____________________

(١) جامع السعا دا ت ج٢ نقل از کتاب ارزش پدر ومادر

(٢)سورہ اسراء آیت ٢٣.


''العقوق یعقب القلة ویؤدی الی الذلة ''(١)

یعنی عاق والدین دولت او رعمر میں کمی او رانسان کو ذلت وخواری کی طرف لے جانے والے اسباب میں سے ایک ہے۔پس معلوم ہوا کہ عاق والدین انسان کی زندگی نابود ہونے کا ذریعہ ہے چاہے دنیوی زندگی ہو یا اخروی۔

چنانچہ اس مطلب کی طرف پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اشارہ فرمایا:

''قال رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خمسة من مصائب الآخرة فوت الصلاة وموت العالم ورد السائل ومخالفة الوالدین وفوت الزکاة ۔''(٢) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزیں اخروی زندگی کے لئے باعث مصیبت ہوجاتی ہیں:

١۔نماز کا نہ پڑھنا۔

٢۔ عالم دین کامرنا۔

٣۔سائل کو مایوس واپس کرنا۔

٤۔ ماں باپ کی مخالفت کرنا۔

٥۔ زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا۔

____________________

(١) مستدرک نقل از کتاب ارزش پدر وماد.

(٢) نصائح، ص ٢٢٢ نقل از کتاب ارزش پدر ومادر.


لہٰذا ماں باپ کی مخالفت اور ان کے عاق سے پرہیز نہ کرنے کی صورت میں دنیا وآخرت دونوں میں انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے چنانچہ جناب زمخشری ( مولف تفسیر کشاف )کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کسی حادثہ میں ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی جب وہ بغداد پہونچے تو کسی نے ان سے اس کی علت پوچھی تو انہوں نے یوں جواب دیا کہ میں بچہ تھا اس وقت میں نے ایک چڑیا پکڑکر دھاگے سے اس کو باندھ دیا لیکن وہ چڑیا میرے ہاتھ سے نکل کر کسی سوراخ میں جانے لگی تو مجھے بہت غصہ آیا اس کے نتیجہ میں میں نے اس کو سوراخ سے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی جب اس بات کی خبر میری ماں تک پہنچی تو میری ماں مجھ سے نفرت کرنے لگی اور دعا کی:

'' خدا تیری ٹانگ کو بھی اسی طرح بدن سے الگ کردے''

اس کے نتیجہ میں میری ٹانگ کی یہ حالت ہوئی ہے کہ جب میں بالغ ہوا تو گھوڑے پر سفر کررہا تھا کہ اس سے اترتے وقت میری ٹانگ ایسی ہوگئی اور میں نے سارے ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج کرایا لیکن صحیح علاج نہ ہوسکا لہٰذا مجھے اپنی ٹانگ کو کٹوانا پڑا ۔(١)

اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام نے عاق والدین کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

____________________

(١) نقل از کتاب ارزش پدر ومادر.


''ثلاثة من الذنوب تعجل عقوبتها ولاتوأخر الی الآخرة عقوق الوالدین والبغی علی الناس وکفر الاحسان'' (١)

آپ نے فرمایاکہ تین گناہ ایسے ہیں جن کا عقاب قیامت آنے سے پہلے دنیا ہی میں دیا جاتا ہے:

١۔ والدین کی مخالفت اور ناراضگی کا گنا ہ ۔

٢۔ لوگوں پر ظلم وستم کرنا ۔

٣۔ نیکی کے بدلے میں بر ائی کرنے کا گناہ ۔

اس طرح اسلامی کتابوں میں ماں باپ کی مخالفت اور عاق والدین کی مذمت کرتے ہوئے مختلف قسم کے نتائج قصہ وکہانی کی شکل میں ذکر کیا ہے کہ اس کا مقصد ہمارے لئے عبرت ہے ۔

جیسا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں ایک شخص دولت مند اور جوان تھا اور اس کا ایک ضعیف باپ بھی تھا اس جوان نے اپنے باپ کا احترام کرنا چھوڑدیا نتیجہ خدا نے اس کی پوری دولت ختم کرکے فقر وتنگدستی اور بیماری میں مبتلا کردیا اس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اصحاب سے فرمانے لگے:

____________________

(١) بحار الانوار ج ٧٣.


''اے لوگو ! ماں باپ کی مخالفت اور ان کو آزار واذیت دینے سے پرہیز کرو کیونکہ ہمارے لئے اس دولت مند جوان کی حالت بہترین عبرت ہے کہ خدا نے اس کو والدین کی خدمت نہ کرنے کے نتیجے میں دولت وثروت کو فقر وفاقے میں تبدیل کردیا صحت وتندرستی کو چھین کر مرض میں مبتلا کردیا خدا نے اس کو والدین کی خدمت نہ کرنے کے نتیجہ میں دولت کے بدلے فقر ، صحت کے بدلے میں بیماری اور سعادت دنیوی سے محروم کردیا ہے،چنانچہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''ایاکم ودعوۃ الوالد فانہ ترفع فوق السحاب یقول اللّٰہ عز وجل ارفعوہا الی استجیب لہ وایاکم ودعوۃ الوالدۃ فانہا احدّ من السیف''(١)

تم لوگ باپ کی نفرت سے پرہیز کرو، کیونکہ جو شخص باپ کی نفرت سے پرہیز کرے گا وہ خدا کی نظر میں آسمانی ابر سے بلندتر ہے اور خدا ان کے حق میں فرماتا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو تاکہ میں تمہاری دعا کو قبول کروں، اس طرح ماں کی نفرت سے بھی پرہیز کرو کیونکہ ماں کی نفرت تلوار سے تیز ہے۔

تفسیر وتوضیح:

مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں عاق والدین کے بارے میں روایات کو جمع کرنے کے بعد فرمایا کہ حقوق والدین کا ادا کرنا او ران کی نفرت سے

____________________

(١) نقل از کتاب ارزش پدر ومادرص٣٨٨.


بچنا بہت مشکل ہے لہٰذا بہترین ذمہ داری اطاعت الہٰی کے بعد ماں باپ کی اطاعت ہے پس ان کو اپنی جوانی اور خواہشات کی منافی قرار دینا ان کی نیک باتوں پر عمل نہ کرنا باعث عقاب ہے۔

ج۔عقوق والدین کا عقاب دنیامیں

اگرچہ سارے مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر گناہ کا حساب وکتاب اور ثواب وعقاب دنیا میں نہیں دیا جاتا بلکہ فلسفہ معاد ہی حساب وکتاب اور ثواب وعقاب ہے لیکن کچھ گناہ ایسے ہیں جن کے ارتکاب کی صورت میں دنیا میں ہی عقاب کیا جاتا ہے کہ جن میں سے ایک عاق والدین ہے یعنی اگر کسی فرزند سے ماں باپ نے نفرت کی ہو تواس کا عقاب دنیا میں ہی دیاجاتا ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے:(اگرچہ اس روایت کو کسی مناسبت سے پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے)

''ثلاثة من الذنوب تعجل عقوبتها ولاتوأخر الی الآخرة عقوق الوالدین والبغی علی الناس وکفر الاحسان'' (١)

آپ نے فرمایاکہ تین گناہ ایسے ہیں جن کا عقاب قیامت آنے سے پہلے دنیا ہی میں دیا جاتا ہے :

____________________

(١) بحار الانوار ج ٧٣.


١۔ والدین کی مخالفت اور ناراضگی کا گنا ہ ۔

٢۔ لوگوں پر ظلم وستم کرنے کا گناہ۔

٣۔ نیکی کے بدلے میں بر ائی کرنے کا گناہ ۔

نیز دوسری روایت میں حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''کل الذنوب یوخر اللّٰه تعالیٰ ما شاء منها الی القیامة الا عقوق الوالدین فان اللّٰه یعجله لصاحبه فی الحیاة الدنیا قبل الممات'' (١) یعنی خداوندعالم ہر گناہ کے عقاب کو قیامت تک تاخیر کرتا ہے مگر عاق والدین، کیونکہ عاق والدین میں مرتکب افراد کو خدا دنیا ہی میں مرنے سے پہلے عقاب کرتا ہے۔

توضیح وتفسیر:

گناہ کی دوقسمیں ہیں:

١۔ وہ گناہ جس کا عقاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوتا ہے۔

٢۔ وہ گناہ جس کا عقاب دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ضرور ہو گا۔

عاق والدین ایسا گناہ ہے کہ اس کا عقاب دنیا وآخرت دونوں میں کیا جاتا ہے لہٰذا متعدد روایات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ عاق والدین سب سے بڑا

____________________

(١) نہج الفصاحہ ص ٤٥٨.


گناہ ہے،کہ شاید اسی بناء پر خدا عاق والدین کے گناہوں کو معاف نہیں کرتا ہے بلکہ دنیا ہی میں اس کو عقاب کیا جاتا ہے ۔

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

''قال النبی یقال للعاق اعمل ما شئت فانی لااغفرک ویقال للبار اعمل ماشئت فانی ساغفر لک ''(ا)

آپ نے فرمایا جو شخص عاق والدین ہے اس سے کہا جاتا ہے کہ تو جو کچھ چاہے کرلے میں کبھی بھی تیرے گناہوں کو معاف نہیں کروں گا لیکن جو شخص ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ تو جو چاہے کر ے میں تیرے گناہوں کو عنقریب معاف کردوں گا ۔

یعنی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حقیقت میں مغفرت اور گناہوں سے نجات ملنے کی شرط کو بیان کرنا چاہتے ہیں:

جو شخص ماں باپ کو ناراض کرتا ہے اس سے کہا جاتا ہے کہ تو جو چاہے کرے لیکن میں کبھی بھی تیرے گناھوں کو معاف نہیں کروں گا لیکن جو شخص ماں، باپ کے ساتھ نیکی کرکے ان کو خوش کرتا ہے اس سے کہا جاتا ہے کہ تو جو چاہے کر ے میں ضرور تیرے گناہوں کو عنقریب معاف کروں گا ۔

____________________

(ا)بحارالانوار، ج ٧٤.


توضیح و تحلیل :

اس مذکورہ روایات کی مانند بہت زیادہ روایات نقل کی گئی ہیں کہ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص والدین کے احترام اور حقوق ادا کرنے سے محروم ہوجاتا ہے تو خدا اس کے کسی بھی کار خیر اور عبادت کو قبول نہیں کرتا اسی لئے کچھ روایات میں عاق والدین کے بارے میں اس طرح کی تعبیر وارد ہوئی ہے کہ

''اعمل ماشئت من الطاعة ''

پھر بھی میں تیری عبادت کو قبول نہیں کروں گا پس عاق والدین بہت مشکل کام ہے خدا ہمیں عاق والدین سے نجات دے اور ہماری جوانی خوبصورت بیوی اور کوٹھی ،والدین کے احترام کو پامال کرنے کا سبب نہ بنے کیونکہ جوانی، خوبصورت بیوی اور کوٹھی عاق والدین کاسبب ہے تب بھی تو قدیم زمانہ میں کسی عمر رسیدہ ضعیف باپ کا ایک نوجوان بیٹا تھاجس کی شادی ایک خوبصورت خاتون سے ہوئی تھی اور عمر رسیدہ ضعیف باپ کچھ عرصہ جوان بیٹے کے ساتھ ایک ہی گھر میں زندگی گزار رہے تھے پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جوان بیٹا اور خوبصورت دلہن جوانی کی مستی میں عمر رسیدہ باپ کو اپنے مزاج کے منافی سمجھنے لگے۔

لہٰذا ایک ہی دستر خوان پر ساتھ کھانا کھانا صفائی اور پاکیزگی کے منافی قرار دینے لگے اور عمر رسیدہ باپ کو الگ دستر خوان پر کھانا کھلا نا شروع کیا زیادہ مدت نہ گزری تھی اتنے میں ضعیف باپ کے پوتہ نے اس حالت کو دیکھا تو پوتا اگرچہ چھوٹا تھا لیکن جوان باپ اور جوان ماں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا:


جو سلوک آپ لوگوں نے مرے دادا کے ساتھ کیا ہے وہی سلوک ان کے پوتے آپ لوگوں کے ساتھ بھی کریں گے یہ سنکر جوان بیٹا اور جوان بیوی متاثر ہوے اور باپ کو دوبارہ اپنے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھلانا شروع کردیا اور ان کا احترام کرنا شروع کیا لہٰذا ہر جہات سے والدین کا احترام بہت مشکل ہے(ا)

د۔عاق والدین کے مراتب

عاق والدین کے مراتب مختلف ہیں یعنی کچھ حالتوں میں عاق والدین کا عقاب دوسری حالت کی نسبت کم ہے جیسے کسی نے ماں ،باپ کی (نعوذ باللہ ) پٹائی کی ہو کسی نے ماں ،باپ کی باتوں پر عمل نہیں کیا ہو یہ دونوں عاق والدین ہیں لیکن باتوں پر عمل نہ کرنے کا عقاب مارنے پیٹنے کی نسبت کم ہے ،لہٰذا روایات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ادنی ترین عاق والدین کا مرتبہ ان سے اف کہناہے یاناراضگی کی حالت میں ان کی طرف دیکھنا ہے لہٰذا اولاد اور فرزندان یہ خیال نہ کریں کہ ہم والدین کو مارنے پیٹنے کا مرتکب نہیں ہیں پس ہم عاق والدین سے محفوظ ہیں کیونکہ عاق والدین کے مراتب میں سے ادنی ترین مرحلہ ان کو غم وغصہ کی

____________________

(ا)داستانھای شیرین شنیدنی


حالت میں دیکھنا ان کو اف کہنا ہے تب بھی تو قرآن میں فرمایا :

''ولا تقل لهما اف ''

یعنی ماں،باپ کو اف تک نہ کہو کیوں کہ یہ عاق والدین کے مراحل میں سے پائین ترین مرحلہ ہے چنانچہ اس مطلب پر امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایاہے :

''لو علم اﷲ شیا ادنی من اف نهی عنه هومن ادنی العقوق ومن العقوق ان ینظر الرجل الی والدیه فیحد النظر الیهما (ا)

اگر خدا کی نظر میں کلمہ اف سے کمتر کوئی اور کلمہ ہوتا تو اس سے بھی نہی کرتا کیونکہ وہ عقوق کے مراحل میں سے کمترین مرحلہ ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ماں،باپ کی طرف غم وغصہ کی حالت میں دیکھے تو اس سے بھی عاق والدین ہوجاتا ہے ۔

توضیح و تحلیل :

یعنی ہر وہ فعل وقول جو ماں ،باپ کے بے احترامی کا باعث بنتا ہے اور ان کی ناراضگی کا سبب ہوجاتا ہے وہ عاق والدین ہے چاہے کم ہو یا زیادہ، لہٰذا ایک روایت میں امام نے فرمایا اگر کسی نے ماں ،باپ کی طرف ناراضگی کی حالت میں دیکھا تو خدا اس کی عبادت قبول نہیں کرتا اگر چہ ماں، باپ نے اس پر ظلم ہی

____________________

(ا) بحار الانوار، ج ٧١ ص ٦٤.


کیوں نہ کیا ہو،اسی لئے عبادت کی قبولیت کی شرط احترام والدین ہے۔

پس وہ لوگ جو دولت اور عمر میں ترقی کے خواہاں ہیں تو ہمشہ والدین کو خوش رکھیں، کیونکہ والدین کی خوشی ہمار ی آبادی اورسعادتمندی کا ذریعہ ہے اور ان کی ناراضگی ہماری نابودی اور ہر قسم کی خیرو برکت سے محروم ہونے کا سبب ہے ،لہٰذا ہر معاشرے میں ایسے افراد بطور شاہد ملیں گے جنہوں نے والدین کے حقوق کو ادا نہیں کیا جس کے نتیجہ میں معاشرہ میں کامیابی اور عزت جیسی نعمت سے محروم اور توہین وذلت ،بیماری، فقر و فاقہ کے شکار نظر آتے ہیں۔

اسی لئے آئمہ معصومین علیہم السلام کے فرامین اور ذرین اقوال کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ والدین کا احترام اور ان کے حقوق ادا کرنا حقیقت میں ہماری آیندہ زندگی کی آبادی کا ذریعہ ہے اور والدین کے ناراض ہونے کے مختلف مراحل و مراتب ہیں کچھ مراحل کا عقاب دنیا آخرت دونوں میں کیا جاتاہے کچھ مراحل اور مراتب کا عقاب صرف آخرت میں ہے کچھ مراتب کا عقاب عالم دنیا اور موت کے وقت کیا جاتا ہے کچھ مرتبوں کا عقاب عالم برزخ اور قبر کی تنہائی کے موقع پر کیا جاتاہے ۔


ز۔عاق والدین جنت سے محروم ہونے کا ذریعہ

دور حاضر کے اکثر انسان جنت اور جہنم کے منکر ہیں کیونکہ وہ لوگ مادی زندگی کے بعد معنوی اور ابدی زندگی کے نام کی کسی چیزکے قائل نہیں ہیں لہٰذا اس مادی زندگی کی آبادی کی خاطر خواہشات کے منافی ہر عامل سے مقابلہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور تعلیمات اسلامی پر سلب آزادی اور خواہشات کے منافی قرار دیتے ہوے طرح طرح کے اشکال کرتے ہوے نظر آتے ہیں اسی لئے خواہشات کو پورا کرنے کی خاطر ہر قسم کے عجائب گھر اور خواہشات کی سازگار چیزوں کا تعارف کرارہے ہیں لیکن جو قرآن و سنت کے معترف ہیں۔

ان کا نظریہ ہے کہ مادی زندگی معنوی زندگی کا مقدمہ ہے چنانچہ وہ لوگ تعلیمات اسلامی کے پابند ہوجاتے ہیں تاکہ روز قیامت جنت سے محروم نہ رہیں لہٰذا اگر کوئی شخص ماں ،باپ کے حقوق اور احترام کو پابندی سے انجام دے تو نتیجہ جنت ہے لیکن اگر مسئلہ بر عکس ہو یعنی ماں، باپ کا احترام نہ رکھیں اور عاق والدین کا مصداق بنے تو ایسا شخص روز قیامت جنت سے محروم ہوگا۔

چنانچہ اس مطلب کو امام صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''قال الصادق علیه السلام اذا کان یوم القیامة کشف غطاء من اغطیة الجنة فوجد ریحها من کانت له روح من مسیرة خمس ماة عام الا صنف واحد قلت ومن هم قال العاق الولدین'' (ا)

____________________

(ا) نہج الفصاحۃص ٦٧.


امام نے فرمایا کہ جب قیامت برپا ہوگی تو خدا وند جنت کے پردے کو ہٹادے گا تو سوائے ایک گروہ کے باقی سارے مؤمنین پانچ سو سال کے عرصے میں طے کرنے والی مسافت سے پہلے جنت کی خوشبو سونگھ لےں گے اس وقت راوی نے کہا کہ میں نے امام علیہ السلام سے پوچھا وہ گروہ کون ہے جو جنت کی خوشبو سے محروم ہے ؟

امام علیہ السلام نے فرمایا : وہ عاق والدین کا مصداق بننے والا ہے۔

نیز دوسری روایت میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں ارشاد فرمایا :

''ایاکم وعقوق الوالدین فان ریح الجنة توجد من مسیرة الف عام ولا یجد ها عاق ولا قاطع رحم'' (١)

اے لوگو! تم والدین کی نفرت سے بچو کیونکہ ہر جنتی کو جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت پہلے احساس کرے گا لیکن جو عاق والدین کا مصداق ہے اور صلہ رحمی سے محروم ہے وہ جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔

توضیح وتحلیل :

مذکورہ روایات سے یہ استفادہ ہوجاتا ہے کہ ہر جنتی جنت میں جانے سے پہلے نعمت اور خوشبو سے بہرہ مند ہوجاتا ہے لیکن جو شخص دنیا میں ماں ،باپ کا

____________________

(١) کافی ج ٢ ص ٣٤٩


احترام اور ان کے حقوق ادا کرنے سے محروم رہا ہے اس کو قیامت کے دن جنت اور جنت کی خوشبو سے محروم رکھا جائے گا۔

لہٰذا اگر جنت اور جنت کی خوشبو سونگھنے کی خواہش ہے تو ماں ،باپ کے احترام کو عملی جامہ پہنائیں ماں ،باپ کو عمر رسیدہ اور ہر قسم کی ناتوانی کی حالت میں مزاحم نہ سمجھیں کیونکہ خداوند عالم کی اطاعت کے بعد انبیاء اور آئمہ معصومین نے جن ہستیوں کی اطاعت ہم پر لازم قرار دیا ہے وہ ماں ،باپ ہیں لہٰذا ماں ،باپ کے حقوق کی رعایت فطرت اور عقل کی چاہت ہونے کے علاوہ کتاب و سنت میں بہت تاکید کی گئی ہے ۔

ر۔والدین کے حق میں نماز

پیغمبر اکرم حضرت محمد ؐنے فرمایا :

''العبد المطیع لوالدیه ولربه فی اعلی علیین ''(١)

''ہر وہ بندہ جس نے اپنے والدین اور اپنے رب کی اطاعت کی وہ آخرت میں سب سے عالی ترین مقام پر فائز ہوجائے گا ۔''

نیز امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا :

____________________

(١) نہج الفصاحہ.


''وانظر وا هل تری احدا من البشر اکثرنعمة علیک من ابیک وامک'' (١)

غور کریں کیا کوئی ایسا انسان پائیں گے جس نے ماں ،باپ سے بڑھ کر تمہارے لئے نعمت دی ہو ۔

ماں ب،باپ کی اتنی عظمت کی وجہ سے ان کے نام دو رکعت نماز ان کی طلب مغفرت کی خاطر مستحب قرار دیا گیا ،

جو ہماری فقہی اوردعاؤں کی کتابوں میں معروف ہے اس نماز کو انجام دینے کی بہت تاکید کی گئی ہے تاکہ والدین اگر اولاد پر ناراض ہیں تو اس نماز کی برکت سے خدا ان کے درجات میں اضافہ کرنے کی وجہ سے والدین اولاد پر خوش ہوجاتے ہیں جس کو انجام دینے کی کیفیت درج ذیل ہے :

نیت:

میں ماں، باپ کی دو رکعت نماز انجام دیتا ہوں قربۃ الی اللہ کہہ کر تکبیرۃ الاحرام پڑھے پھر پہلی رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ یہ آیت پڑھیں :

''( رب اغفرلی ولوالدییّ وللمومنین یوم یقوم الحساب ) ''

پھر رکوع وسجود انجام دینے کے بعد دوبارہ کھڑے ہوجاے اور دوسری

____________________

(١) کشکول ج٢.


رکعت میں حمد کے بعد یہ دعادس مرتبہ پڑھیں :

''رب اغفرلی ولوالدیّ ولمن ادخل بیتی مومنا والمومنین والمومنات ''

پھر قنوت انجام دے پھر رکوع و سجود انجام دینے کے بعد سلام و تشہد پڑھیں، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد تعقیبات میں دس مرتبہ یہ دعا پڑہیں :''رب ارحمهما کما ربیانی صغیرا'' (١)

پالنے والے میرے ماں ،باپ پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے میرے بچپن میں مجھے پالا ہے۔

شریعت اسلام میں والدین کے نام نماز مستحب قرار دینا ، اس بات کی دلیل ہے کہ والدین کا مقام اللہ تعالی اور شریعت اسلام کی نگاہ میں بہت عظیم ہے کیونکہ شریعت میں معصومین علیہم السلام کے بعد سوائے والدین کے اور کسی عام انسان کے نام کوئی نماز مستحب نہیں ہے ۔

یہ حقیقت میں والدین کی عظمت پر ایک ایسا اشارہ ہے جس سے انسان حیران رہ جاتاہے۔

____________________

(١)مفاتیح الجنان، ص ٣٩٤.


خاتمہ

( ''لایکلف اللّٰه نفسا الا وسعها ) ''

خدا وند نے کسی بھی انسان کو اسکی قدرت سے بالا تر کوئی تکلیف نہیں دی ہے لہٰذا دور جدید میں خیالات اور تفکرات کو زمانہ کے تقاضوں کے مطابق جمع بندی کرنا اخلاقی فرائض میں سے ایک ہے لیکن بہت ہی مصروفیات اور قلت وقت کی وجہ سے گذشتہ قضا یا کی توضیحات صرف آیات اور روایات کی حد تک رہی ہے اگرچہ حقوق والدین کی بحث اور اس کا موضوع بہت اہم ہونے اور روایات میں وسیع پیمانہ پربیان ہونے کی وجہ سے پورا سیر بحث مکمل کرنا بہت ہی دشوار ہے کیونکہ احترام والدین آیات وروایات میں مفصل بیان کرنے کے علاوہ فطری اور عقلی بھی ہے لہٰذا اس کو عقل اور فطرت کی روشنی میں توضیح دینا آج کل کے ہر محقق کا پسندیدہ نظریہ ہے لیکن بہت سے افراد قضایائے عقلی اور فطری کو مشکل سمجھتے ہیں لہٰذا بہت ہی احتیاط کے ساتھ احترام والدین سے مربوط عناوین کو سادہ سے سادہ الفاظ میں توضیح دیے ہیں تاکہ خوش نصیب افراد کے لئے احترام والدین اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا باعث بنے۔

خالق منان سے امام زمان (ع)کے صدقے میں میری ناچیز زحمت کو قبول کرنے کی درخواست کے ساتھ ۔

قارئین کرام سے بھی گذارش ہے کہ میرے لئے خلوص اور ایمان کی دعا فرمائیں۔

گرقبول افتد زہ عز وشرف۔

الاحقر المذنب محمد باقر مقدسی ہلال آبادی

حوزہ علمیہ قم.

١٧ /ربیع الاول ١٤٢٣ق ھ


فہرست منابع

قرآن کریم

الف

السعادات جلد د وم

اصول کافی

الدین فی نصص

ارزش پدر ومادر

اخلاق زن وشوہر

ب

بحارالانوار ج٢،١٧،٧١،٧٢،٧٣،٧٤

ت

تحف العقول

تفسیر فرمان علی نجفی

ج

جامع الاخبار

جامع السعادات

ح

حقوق والدین


د

داستانہای شیرین وشنیدنی

ق

قرۃ العین فی حقوق الوالدین

ک

کشکول ج ٢

کتابچہ ای بنام مادر

کشف الغمہ

کنز العمال

کیفر کردارجلد اول

م

من لایحضرہ الفقیہ

معانی الاخبار

مفاتیح الجنان

معاد شناسی


مشکاۃ الانوار

معراج السعادہ

میزان الحکمۃ جلد ١٠

مستدرک

ن

نہج البلاغہ

نصائیح

و

وسائل الشیعہ

پرنٹ چہارم آمادہ چاپ۔

پرنٹ چہارم شد۔


فہرست

انتساب ۴

مقدمہ ۵

پہلی فصل ۸

احترام والدین ۸

الف۔قرآن کی روشنی میں ۸

تحلیل آیت: ۸

دوسری آیت : ۱۱

تفسیرآیت : ۱۱

تیسری آیت: ۱۳

تفسیر آیت : ۱۳

چوتھی آیت : ۱۴

تفسیر آیت: ۱۴

ب۔ فطرت کی روشنی میں ۱۵

شان نزول آیت : ۱۶

تفسیر آیہ شریفہ : ۱۷

دوسری آیت: ۱۷

تفسیر آیت : ۱۸

تیسری آیت: ۱۹

تفسیر آیت : ۱۹


ج۔ سنت کی روشنی میں ۲۰

تفسیرآیت : ۲۲

تفسیر وتحلیل: ۲۳

دوسری روایت : ۲۴

تیسری روایت : ۲۵

چوتھی روایت: ۲۶

پانچویں روایت: ۲۷

چھٹی روایت: ۲۸

ساتویں روایت: ۲۹

د ۔ سیرت انبیاء کی روشنی میں ۲۹

دوسری فصل ۳۳

حقوق والدین ۳۳

الف: مالی تعاون : ۳۳

تشریح : ۳۴

تفسیر: ۳۵

ب۔ ماں باپ کے قرضے کو ادا کرنا ۳۸

تحلیل وتفسیر : ۴۰

ج۔ والدین کے حق میں دعا ۴۱

تفسیر آیت: ۴۲

تفسیر آیت: ۴۵


د۔ماں باپ کے سامنے انکساری ۴۹

پہلی آیت: ۴۹

دوسری آیت: ۵۰

تحلیل وتفسیر : ۵۲

ذ ۔ والدین کی طرف سے صدقہ دینا ۵۳

اولاد کی زبان پر لازم حقوق : ۵۷

اولاد کے قلب پر لازم حقوق : ۵۸

والدین سے مربوط مالی حقوق: ۵۹

مرنے کے بعد اولاد پر لازم حقوق: ۶۰

ر ۔ماں باپ کا احترام جہاد سے افضل ۶۳

س۔ماں باپ کافر بھی ہوں تو قابل احترام ہیں ۶۷

تحلیل وتفسیر حدیث : ۶۹

ش۔ ماں ، باپ سے محبت کا حکم ۷۱

تیسری فصل ۷۵

احترام والدین کا دنیامیں نتیجہ ۷۵

الف۔ ماں باپ کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۷۸

ب۔ ماں باپ کی خدمت میں طول عمر ۸۱

ج ۔والدین کے احترام میں دولت ۸۴

د۔ والدین کے احترام میں کامیابی ۸۸

ز۔ ماں ،باپ پر سختی کی ممانعت ۹۱


تفسیر وتحلیل: ۹۳

ر۔ والدین کی رضایت میں خدا کی رضایت ۹۵

چوتھی فصل ۹۸

احترام والدین کا آخرت میں نتیجہ ۹۸

الف ۔قبر کے عذاب سے نجات : ۹۸

ب۔ گناہوں کی معافی کا سبب: ۹۹

ج۔ والدین کی خدمت میں جنت ۱۰۲

تو ضیح : ۱۰۲

تحلیل : ۱۰۳

د ۔ حساب وکتا ب میں آسانی ۱۰۵

پانچویں فصل ۱۰۹

عاق والدین ۱۰۹

الف۔ سب سے بڑا گنا ہ عاق والدین ۱۰۹

ب۔ عاق والدین کی مذ مت ۱۱۴

توضیح: ۱۱۵

تفسیر وتوضیح: ۱۱۹

ج۔عقوق والدین کا عقاب دنیامیں ۱۲۰

توضیح وتفسیر: ۱۲۱

توضیح و تحلیل : ۱۲۳

د۔عاق والدین کے مراتب ۱۲۴


توضیح و تحلیل : ۱۲۵

ز۔عاق والدین جنت سے محروم ہونے کا ذریعہ ۱۲۷

توضیح وتحلیل : ۱۲۸

ر۔والدین کے حق میں نماز ۱۲۹

نیت: ۱۳۰

خاتمہ ۱۳۲

فہرست منابع ۱۳۳