اسلام اور مغربی تمدن کی یلغار
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف آیت اللہ محمد مہدی آصفی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : اسلام اور مغربی تمدن کی یلغار

مؤلف : آیة اللہ محمد مہدی آصفی

مترجم: سید شاہد رضا رضوی السونوی

تصحیح: محمد کامل

نظر ثانی: مرغوب عالم عسکری

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

طبع اول : ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ ء

تعدد : ٣٠٠٠

مطبع : اعتماد

www.ahl-ul-bayt.org

Info@ahl-ul-bayt.org


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلامکی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای آیة اللہ محمد مہدی آصفی کی گرانقدر کتاب وہابیان کو فاضل جلیل مولاناسید شاہد رضا رضوی الہ آبادی السونوی نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


مقدمہ

کتاب حاضر ''الجسور الثلاثہ ''کے عنوان پر حضرت آیة اللہ محمد مھدی آصفی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی اس کتاب (الجسور الثلاثہ) کو رشتہ تحریر میں لائے، جس کو مرکز ''الغدیر'' نے زیور طبع سے آراستہ کیا۔

اپنے اس تحلیل و تجزیہ میں، مؤلف نے مغربی و انگریزی، ثقافتی اور مذہبی یلغار کو جس میں ماضی اور دور حاضر کے باہمی روابط کے پلوں کو توڑ کر عصر حاضر کو گذشتہ امتوں سے رشتہ توڑ کر اسے اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے، اسی حملہ کی وضاحت کرتے ہوئے مؤلف نے ان باہمی روابط پیدا کرنے والے پلوں کا تعارف کرایا ہے، باہمی روابط پیدا کرنے والے پلوں، ان کے کردار نیز ان کی حیثیت کو بھی بیان کیا ہے اور یہ باہمی ربط پیدا کرنے والے پل حسب ذیل ہیں:

گھر، مدرسہ اور مسجد

علامہ مجاہد حضرت آیة اللہ محمد مہدی آصفی صاحب قبلہ کی نظر میں قدامت پسندی اور (فکرنو) جدت پسندی میں کوئی مقابلہ اور ٹکراؤ نہیں ہے۔ اس لئے کہ کوئی بھی سمجھدار انسان نئے پن اور جدت پسندی کی ضرورت اور اس کی حتمیت اور قطعی ہونے کا منکر نہیں ہے، چونکہ جدت پسندی اور فکرنو یہ ہمارے معاشرہ کی شدید ضرورت ہیں؛ بلکہ ہمارے اختلاف کا اصلی مرکز اور محور، کاٹ چھانٹ اور اس کے ملانے (جوڑ توڑ) سے متعلق ہے۔ اسی بنا پر اعتراض اور اشکال کو مندرجہ ذیل دو بنیادی سوالوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:

(١) ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیلی اور تغیر کیسے واقع ہو سکتا ہے؟

(٢) کیا یہ کام جڑوں کے کاٹ دینے اور ان کو سرے سے ختم کر دینے سے امکان پذیر ہو سکتا ہے؟ یا ان کو آپس میں ملا دینے اور ان کی بنیادوں میں ایک نئے روابط نیز باہمی اور اخلاقی بالا دستی کے ذریعہ اس بات کو ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ قوموں اور نسلوں کو ایک دوسرے سے نزدیک اور ان کو باہم متصل کیا جائے؟


انھیں دو سوالوں اور اعتراضوں کے ذریعہ مصنف نے اس مسموم تحریک (مذہب اور ثقافت سے جدائی کی تحریک) کی علامتوں، ان کی شناخت اور پہچان کے ذریعہ ان کے وجود، اس (مغربی تحریک) کی طرف دعوت دینے اور اپنی طرف جذب کرنے والے افراد اور اس (تحریک) کے نمودار اور آشکار ہونے والے آثار کے بارے میں اِن سوالوں کا جواب دیتے ہیں، ان کی نظر میں ایک نسل کو دوسری نسل سے جدا کر نے کی تحریک نے ابتدا میں ملت اسلامیہ کو ان کی گذشتہ تہذیب و ثقافت اور تاریخ میں گہری جڑیں رکھنے والی قدیمی وراثت سے جدا اور بے دخل کر دیا نیز اپنے سر میں یہ سودا پال لیا کہ اسلامی تہذیب و ثقافت کو نسل نو کے سامنے مسخ اور اس کا چہرہ بگاڑ کر ا س کے سامنے پیش کیا جائے؛ تا کہ وہ اپنی حقیقی اور واقعی دینی وراثت سے بالکل نا واقف رہیں۔ لیکن خدا وند عالم کا ارادہ یہ ہے کہ امت اسلامی کو خواب خرگوش سے بیدار کرکے اس امر کی طرف متوجہ کر دے؛ لہذا ملت اسلامیہ پر لازم ہے کہ خواب غفلت کو چھوڑ کر اپنے مذہبی اور ثقافتی امور میں چوکنّا، ہوشیار اور چاک و چوبند رہے اور عنقریب پیش آنے والے خطروں سے استقامت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیلئے ہمیشہ ایک جانباز سپاہی کے مانند چو کنا رہے؛ اسی لئے مسائل اور حالات سے آگاہ اور مخلص لوگ اپنی اولاد کو حقیقی طرز نو اور جدت پسندی سے متعارف کرانے کے لئے فکر نو کی نشاندہی کرنے اور آپس میں باہمی ارتباط پیدا کرنے والے ان پُلوں کی تعمیر نو اور اُن کو ہر قسم کے یلغار اور حملوں سے بچانے کے لئے آمادہ کر لیا ہے۔

اس مقام پر امت اسلامی کے دشمن تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں اور دین و مذہب پرنا گہانی مخفیانہ حملہ کر نے کی گھات میں ہیں، اس طرح سے کہ وہ خود سمجھتے ہیں کہ ظاہر بظاہر اور آمنے سامنے ان سے مقابلہ کرنا آسان کام نہیں ہے لہذا ہمیں مغربی مکرا ور حیلوں سے مقابلہ کرنے اور اس سے نمٹنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ مغرب اور مغرب زدہ لوگوں سے مقابلہ کر نے کے لئے مناسب ساز و کار اور وسائل کے بارے میں پور ی جان کاری حاصل کرلی جائے، اس کے بعد اس مقام پر ہمیں ہر قسم کے ضروری ا سلحوں سے مسلح ہوکر پوری تیاری کر لینی چاہئے۔ اس قیمتی اور بااہمیت تحقیقی ترجمہ کو آپ (باذوق) قارئین کی نذر قرأت کر رہا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ اس ناچیز خدمت کے ذریعہ مسلمانوں کے اس عظیم جہاد میں، میں بھی شریک ہو کر سرخرو ہو جائوں۔


پیش لفظ

گو کہ ترجمہ اور ترجمہ نگاری بہت ہی دشوار گذار وادی میں قدم رکھنے کے مترادف ہے لیکن مؤلف موصوف کے اس تجزیاتی اور تحقیقی بیان نے مجھے مسخر کر لیا اور میں مجبور ہو گیا کہ اس کتاب یعنی الجسور الثلاثہ کا ترجمہ اسلام اور مغربی تمدن کی یلغار کے نام سے کروں ''الجسور الثلاثہ ''باہمی ارتباط پیدا کرنے والے تین پُل جو نسل حاضر کو نسل گذشتہ اور آیندہ سے جوڑتے ہیں اس کتاب کے مؤلف کی علمی شہرت جنگل کی آگ کی طرح علمی حلقوں کے درمیان پھیل گئی اور پھر عوام الناس بھی آپ کے فیض وجود سے بہرہ مند ہو نے لگے، اس طرح آہستہ آہستہ آپ مکمل اور ہمہ جہت شخصیت کے طور پر پہچانے جانے لگے اور اپنے علمی آثار کے ذریعہ ہر دل عزیز اور سبھی لوگوں کے محبوب ہوگئے۔ مختلف علوم و فنون میں آپ کی درجنوں کتابیں دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوکر مو منین کے دل و دماغ کو تازگی عطا کر کے ان کے ایمان و عمل کو جلا بخش رہی ہیں۔

آپ کی کتابوں کا خاصہ یہ ہے کہ آپ نے زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر قوم و ملت کو صحیح نسخہ تجویز کرکے ان کو شفا خانۂ اہل بیت علیہم السلام کی طرف مناسب نشان دہی کردی ہے۔ آپ کا تجزیاتی انداز نگارش و تحریر، لوگوں کے دلوں کو اپنے مقناطیسی مدار میں کھینچ کر اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں۔ اگر آپ کے لطیف اور ظریف بیان میں ذرا سی دقت اور غور فکر کیا جائے تو کوئی بھی متفکر بغیر متأثر ہوئے نہیں رہ سکتا۔

اس کتاب میں اسلام و مسلمین کے جانی دشمن مغربی اور انگریزی تمدن، اس کے دعویدار اور علمبر داروں کی حرکات و سکنات اور راہ وچاہ کی طرف پوری توجہ مبذول کرائی ہے۔ دینی اور تربیتی مراکز کی نشان دہی کرکے اس پر ہونے والے حملے کو پوری طرح اجاگر کر دیا ہے؛ اس کے بعد ملت اسلامیہ کو مغربی دشمن سے نمٹنے کے مختلف طریقے اور راہ و چاہ مناسب تدبیر سے آگاہ کردیا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دشمنوں نے اسلامی گرانقدر وراثتوں کو کن کن حیلوں اور بہانوں سے برباد کردیا ہے یا پھر پورے طور پر برباد کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ تعجب کا مقام تو یہ ہے کہ اس کے بعد بھی بہت سے بھولے بھالے یا پھر مغربی تمدن کے مستعار حکام و سلاطین اور صاحبان قلم اور دانشوروں کے ریلے نے انگریزوں یا ان کی بدبودار تہذیب سے گرویدہ ہو گئے، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائیکہ وہ لوگ احساس کمتری کے شکار ہوگئے ہیں یا پھر وہ لوگ خود فروختہ اور بے زر خریدہ غلام بن گئے اور ان کا گن گانے لگے اور انھیں کے تابع محض ہو کر رہ گئے۔


نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں بھولے بھالے مسلمان دانشوروں کے ہاتھوں میں تیشہ د ے دیا گیا اور اپنے آپ یہ لوگ تمدن اسلامی کے سایہ دار درخت کو کاٹنے پر تُل گئے اور اپنی ہی قدیمی تاریخی تہذیب و ثقافت کو جڑ سے ختم کرنے کے در پے ہو گئے اور اس طرح لوگوں کو مغربی تہذیب و ثقافت کی طرف شوق دلانے میں مصروف ہو گئے جیسے ان کا تعلق کسی بے گانہ ثقافت سے ہو کہ وہ برائے نام مسلمان بھی باقی رہیں اور اسلامی روح کا جنازہ دھوم سے اپنے کندھوں پر نکال دیں۔ ترقی کے نام پر دینی ارتقائی اور اقتصادی نظام کو یکسر بھلا دیا اور انگریزوں کے پیچھے پیچھے ان کے نقش قدم پر چلنے، دین و مذہب کو ترقی کی راہ میں مانع اور سد راہ گرداننے لگے اور اس طرح انھیں نے اپنے ترقی یافتہ دینی اقتصادی اور ترقیاتی نظام کو یکسر پس پشت ڈال دیا۔

ان سب چیزوں پر مصنف موصوف نے بڑے ہی آب و تاب کے ساتھ روشنی ڈالی اور دشمن کے حملوں کی کاٹ، اس کا دفاع اور تاریخی حقائق کو تجزیاتی طور پر بڑے ہی ماہرانہ انداز میں پیش کیا ہے، اسی طرح اسلام کی مخالفت کرنے والوں کا پردہ فاش کر کے ان کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ وہ اس بہانے سے اسلام اور اسلامی ثقافتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنا چاہتے ہیں؛ ورنہ یہ لوگ خود ''فولکلور'' یعنی تودہ شناسی قدیم جاہلی ثقافت اور تمدن کی وسعت کے لئے اتنی تگ و دو نہ کرتے۔ اسی طرح آثار قدیمہ کے احیا میں خاص عقائد اور مجرمانہ فکر کے حامل لوگ کروڑوں روپئے خرچ نہ کرتے۔ اس کام سے ان کا اصلی مقصد یہ تھا کہ دین مبین اسلام کو ہستی سے ساقط اور نیست و نا بود کر دیں۔

اسی لئے میں نے یہ چاہا کہ دشمنوں کے چہروں پر پڑی ہوئی نفاق کی نقاب کو، دوسری مختلف زبانوں میں ترجمہ کے ذریعہ اس کو نوچ کر پھینک دوں اور مسلمانوں کو ان عظیم خطروں کی طرف توجہ دلاتا چلوں کہ اہل اردو حضرات بھی اس تجزیاتی بیان سے استفادہ کر سکیں او ر اس طرح دوست و دشمن کی بخوبی پہچان کرلیں نیز بڑی ہی ہوشیاری، تدبیرو فراست اور کیاست کے ذریعہ اچھے اور برے کی تشخیص دے لیں نیز ہر ظاہری زرق و برق سے دھوکہ نہ کھائیں۔


دوستوں کے اصرار اور اپنے شوق کی خاطر میں نے اس ترجمہ کو شروع کردیا اور اب بحمد للہ بڑی ہی کوششوں سے پورا ہوگیا ہے۔ اس ناچیز کی استدعا ہے کہ اس کتاب میں جو نقائص پائے جاتے ہوں (جیسا کہ غیر معصوم کا خاصہ بھی یہی ہے) اس کے بارے میں حقیر کو ضرور یاد دہانی کرا دیں؛ اگرچہ میں نے اس ترجمہ میں اپنے تئیں بہت ہی دقت سے کام لیا ہے۔

آخر کلام میں، سب سے پہلے میں مجمع جہا نی اہل البیت علیہم السلام اور اس کے خادمین کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں جنھوں نے اس ناچیز خدمت کے ذریعہ حقیر کو خادمین مذہب و ملت میں شامل کردیا ہے ۔ میں ہر قسم کا تعاون کر نے والے احباب اور افاضل کا شکر گذار ہوں جنھوں نے نظر ثانی اور تحریر و ترتیب (کمپوزنگ) میں مدد کرکے اس تحریر میں چار چاند لگا دیا ہے میں ان افاضل کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں۔

والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

سید شاہد رضا رضوی الہ آبادی السونوی

حوزۂ علمیہ قم مقدسہ ایران


مؤلف کی زندگی اور ان کے آثار کی ایک جھلک

حضرت آیة اللہ محمد مھدی آصفی دام ظلہ ١٩٣٨ء مطابق ١٣١٧ ہجری شمسی میں نجف اشرف میں پید اہوئے۔ آپ کے والد شیخ علی محمد آصفی کا شمار اس زمانہ کے بر جستہ فقہا اور حوزہ علمیہ نجف اشرف کے بہت ہی اہم اساتید میں ہوتا تھا۔ آپ کے والد کے متعدد آثار، قرآنی موضوعات پر بطور یادگار آج بھی قارئین کرام کی آنکھوں کو خیرہ کر رہے ہیں۔

آیة اللہ محمد مھدی آصفی صاحب قبلہ دامت برکاتہ ابتدائی تعلیم اور قدرے دورہ متوسطہ گذارنے کے بعد، دینی تعلیم کے میدان میں وارد ہوئے۔ اس کے مقدمات، منجملہ نحو، صرف، منطق اور بلاغت،کے حصول میں مشغول ہوگئے۔

دروس سطح مثلاً فقہ و اصول اور فلسفہ کو اس زمانہ کے معروف اساتذہ، مرحوم شیخ صدر الدین باد کوبی، شیخ مجتبیٰ لنکرانی، سید جعفر جزائری رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اور اپنے والد مرحوم طاب ثراہ کے پاس حاصل کیا۔ درس خارج، اصول و فقہ کے لئے حضرت آیة اللہ میرزا باقر زنجانی مرحوم کے پاس زانوئے ادب تہہ کیا نیز آیة اللہ حسین حلی مرحوم و آیة اللہ العظمی ٰالحاج آقائے سید محسن الحکیم قدّس اللّٰہ نفسہما کے پاس شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ اور ایک مدت تک آپ بانیٔ انقلاب آےة اللہ العظمی ٰحضرت امام الحاج آقائے سید روح اللہ الخمینی قُدّس سرّہ الشریف کے درس مکاسب میں حاضر ہوتے رہے، لیکن حصول علم میں آپ نے حضرت آیة اللہ العظمیٰ الحاج آقائے سید ابوالقاسم الخوئی طاب ثراہ سے سب سے زیادہ کسب فیض کیا۔

آپ نے حوزوی علوم کے حصول کے ضمن میں رائج تعلیمی نظام میں بھی بغداد یونیورسٹی کے شعبۂ معارف اسلامی سے بی اے کی سند حاصل کی اور اس کے بعد ایک عرصہ تک عراق کی موجودہ بَعثی حکومت کی سی، آئی، ڈی، ( C.I.D .) (ادارۂ اطلاعات اور خفیہ ایجنسی) کے تحت تعقیب رہے، اس کے بعد سات مہینہ رو پوشی کے زمانہ کو گزارتے ہوئے سوریہ کے راستہ ایران کی طرف ہجرت کی؛ اس طرح وہ جاں بر ہونے میں کامیاب ہوگئے۔


آپ ایران میں ایک مدت تک حضرت آیة اللہ العظمیٰ الحاج آقائے سید محمد رضا الموسوی گلپائیگانی اور آیة اللہ میرزا ہاشم آملی کے درس میں حاضر ہوئے اور آیة اللہ الحاج میرزا ہاشم آملی طاب ثراہ سے اجازہ اجتہاد یعنی سند اجتہاد بھی حاصل کرلی۔

حضرت استاد آیة اللہ مہدی آصفی صاحب قبلہ دامت برکاتہ اپنی طالب علمی کے دوران سے ہی حوزۂ علمیہ نجف اشرف او رپھر اس کے بعد، ڈگری کالج اور اسی طرح حوزۂ علمیہ قم میں بھی، فقہ و اصول، قرآنی علوم،تفسیر و فلسفہ کے شعبوں میں تدریس کے فریضہ کو بھی بہ حسن و خوبی ادا کیا۔ عنفوان شباب سے ہی آپ کو تصنیف و تالیف اور تحقیق کا بڑا شوق تھا اور وہ اس کی طرف بہت مائل تھے، اسلامی تہذیب و ثقافت کے مختلف موضوعات پر چالیس سے زائد کتابیں اور جرائد، مثال کے طور پر فقہ و اصول، سیرت و تاریخ، فلسفہ اور اسلامی عقائد کو عربی زبان میں تالیف فرمایا ہے۔ آپ کی اکثر کتابیں اور جریدے زیور طبع سے آراستہ ہو چکے ہیں، جن میں سے بعض کتابیں تو ایسی بھی ہیں جنہیں بارہا عراق، ایران اور لبنان میںچھاپا جا چکا ہے، اور ان میں سے کچھ کتابیں دنیا کی مختلف زندہ زبانوں مثلاً اردو، فارسی، انگریزی، فرانسیسی اور ترکی زبانوں میں ترجمہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں۔

استاد معظم جناب مہدی آصفی صاحب قبلہ دامت برکاتہ، قرآن مجید میں کشش اور اس کے جذاب ہونے کے بارے میں اس طرح فرما رہے ہیں:

''قرآن مجید میں ایسی کشش اور جذابیت پائی جاتی ہے، جس کے ذریعہ قرآن انسان کو مقناطیسی انداز میں اپنے مدار میں کھینچ لیتا ہے اور جیسے ہی انسان قرآن کی مقناطیسی جذابیت کے مدار میں پہونچتا ہے، پھر وہ اپنے آپ کو اس سے جد ا کرنے کی قدرت کو کھو بیٹھتا ہے اور اس میں پوری طرح ضم ہو جاتا ہے۔ ''

حضرت آیة اللہ عالی جناب الحاج آقائے محمد مھدی آصفی صاحب قبلہ دامت برکاتہ کے بعض مطبوعہ آثار مندرجہ ذیل ہیں:


اسمائے کتب

١

التقویٰ في القرآن

تقویٰ قرآن کی روشنی میں

٢

العلاقة الجنسیة في القرآن

جنسی روابط قرآن کی روشنی میں

٣

آیة الکنز

آیۂ کنز (خزانہ کے بارے میں)

٤

وع القرآن

قرآنی آواز

٥

المیثاق

عہد و پیمان

٦

آیة التطہیر

آیۂ تطہیر


٧

المذھب التاریخ في القرآن

تاریخی مذہب قرآن کی نظر میں

٨

الشہود في القرآن

شہود قرآن کی نظر میں

٩

الولاء و البرائة

تولیٰ و تبریٰ

١٠

الکلمات الابراہیمیة العشرة

حضرت ابراہیم کی دس باتیں

١١

الاستعاذة

اللہ سے پناہ چاہنا

١٢

تفسیر بخشی از سورۂ بقرة

سورۂ بقرہ کی بعض آیات کی تفسیر

١٣

تفسیر سورۂ انفال

سورۂ انفال کی تفسیر


١٤

در آمدی بر علم تفسیر

علم تفسیر پر ایک تبصرہ

١٥

الجسور الثلاثة

باہمی ربط دینے والے تین پل (کتاب ھٰذا)

اور بہت سی دوسری کتابیں ہیں جو ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

آخر میں استاذ علّام حضرت آیة اللہ الحاج شیخ محمد مھدی آصفی صاحب قبلہ کی صحت و سلامتی، عمر درازی اور ان کی اور خود اپنے آپ کی روز افزوں توفیق کے لئے درگاہ رب العزّت میں آرزو مند اور دعا گو ہوں۔(مترجم)


دینی اور ثقافتی وراثت

دینی میراث اور اس کے مقدسات کا بعد والی نسلوں میں منتقل کرنا، افکار و عقائد، رسم و رواج اور عمل کا ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا نام دینی ثقافت ہے۔ اس میراث کو منتقل کرنے کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں؛ جیسا کہ نباتات، اور انسانوں کی زندگی کے لئے بھی کچھ قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے ہیں۔

ان قوانین پر عمل کر نے کے سبب، مذہب کو اس کی تمام ذاتی وراثتوں کے ساتھ بخوبی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیا جا سکتا ہے، چنانچہ جس مقام پر گذشتہ نسل کا خاتمہ ہوتا ہے وہیں سے آنے والی دوسری نسل کا آغاز ہوتا ہے۔ انھیں اسباب کے ذریعہ، اس عظیم دینی اور فکری تحریک کا آغاز جو حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم، نوح، موسیٰ، عیسیٰ علیھم السلام اور حضرت محمد مصطفےٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ ہم تک پہونچا ہے۔ ہم بھی اسی مستحکم اور استوار ماضی کا ایک حصہ اور تاریخ کی گہرائیوں میں انھیں عمیق اور طولانی جڑوں کی شاخوں میں ہمارا شمار ہوتا ہے۔ ان اسلامی معارف اور عقائد کے خزانوں کو دینی میراث کے ذریعہ اس کے مقدسات کو سینہ بہ سینہ اور نسل در نسل منتقل کرنے میں مشغول ہیں۔

بیشک، یکے بعد دیگرے، ان ارتباطی پُلوں کی حفاظت نے، مذہبی وراثت کے انتقال کے کام میں سرعت بخشی ہے، جیسا کہ ان ارتباطی پُلوں میں رکاوٹ ایجاد کرنا اور ان کو ڈھا دینا، ایک نسل سے دوسری نسلوں کے درمیان بہت بڑی رکاوٹ سدّ راہ محسوب ہوگی۔

نتیجتاً اگر ان ارتباطی پُلوں کی فعاّلیت کو سماج میں مذہبی فرائض کی انجام دہی سے روک دیا جائے، تو بیشک نسل حاضر کا گذشتہ نسلوں اور آنے والی تمام نسلوں کے درمیان یکسر رابطہ ختم ہو جائے گا۔

اور وہ اہمیت کے حامل خاص ارتباطی پُل مندرجہ ذیل ہیں:

(١) گھر

(٢) مدرسہ

(٣) مسجد


ان تینوں ارتباطی پُلوں کے ذریعہ ہمیشہ سیاست اور دین کی جدائی کے مسئلہ میں دینی تحریک (یعنی دین اور سیاست میں جدائی ممکن نہیں ہے) ہمیشہ آگے آگے اور پیش قدم رہی ہے، زمانہ حاضر کو گذشتہ زمانہ سے اور اولاد کو ان کے باپ دادائوں (آباء اجداد) سے اس طرح منسلک کر دیا ہے جس طرح تسبیح کے دانوں کو ایک دوسرے سے پرو دیا جاتا ہے۔ گھر، مدرسہ ( School ) اور مسجد کے اس اہم اور کلیدی کردار کے ذریعہ جو مذہب کی تبلیغ و ترویج اور نسلوں کو ا پس میں ایک دوسرے سے جوڑنے کا وسیلہ ہیں۔ دین اسلام نے ان تینوں مراکز پر خصوصی توجہ مبذول کرائی ہے اور ان کے ساز و کار پر خاص توجہ رکھنے کی سفارش اور نصیحت کی ہے۔ اب ان تمام باتوں کے بیان کرنے کے بعد ہم ان پُلوں کے کلیدی اور اساسی کردار ادا کرنے کے بارے میں درج ذیل عبارت میں اختصار سے وضاحت کررہے ہیں:

١)گھر

یہاں گھر سے مراد گھرانہ ہے۔ جوانوں میں دینی وراثت کو منتقل کرنے میں گھر اور گھر والوں کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے؛ اس لئے کہ عقائد کی بنیادیں ایک بچہ کی شخصیت کے نکھار پر موقوف ہیں۔ اس کی شخصیت میں نکھار گھر اور گھر والوں سے وجود میں آتا ہے۔ یہ بنیادی چیزیں انسان کی شخصیت کو اجاگر کرنے میں اس کے مستقبل کے حوالہ سے بہت تیزی سے اثر انداز ہوتی ہیں۔

مولائے کائنات امیر المؤمنین حضرت علی نے امام حسن مجتبیٰ سے فرمایا:

(اِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ کَالْاَرْضِ الْخَالِیَّةِ، مَا اُُلْقَِ فِیْهَا مِنْ شَْئٍِ قَبِلَتْهُ، فَبَادَرْتُکَ بِالْاَدَبِ قَبْلَ اَنْ یَّقْسُوَ قَلْبُکَ وَ یَشْتَغِلُ لُبُّکَ(١)

''بچہ کا دل اس آمادہ زمین کے مانند ہے کہ اس میں جو بھی چیز ڈالی جاتی ہے، وہ اس کو قبول کر لیتی ہے، اسی لئے میں نے تمھیں پہلے ادب سکھانا شروع کردیا، قبل اس کے

____________________

(١)نہج البلاغة صبحی صالح ص٣٩٣۔


کہ تمہارا دل سخت ہو جائے اور تمہارے سر میں کوئی دوسرا سودا پرورش پانے لگے'' (یعنی تمہاری فکر تم کو دوسرے امور میں مشغول کردے۔)

ہر گھر کی سلامتی اور امنیت اس کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، لڑکوں کو صحیح تربیت دینے میں سلامتی کے اثرات بہت زیادہ ہیں اور ان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے؛ جیسا کہ گھر کے اندر کا فساد (فاسد گھرانہ) نسل نو کو فساد میں آلودہ کرنے اور جوانوں کو برباد کرنے میں اساسی اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی گئی ہے:

(مَا مِنْ بَیْتٍ لَیْسَ فِیْهِ شَْئ مِنَ الْحِکْمَةِ اِلاَّ کَانَ خَرَاباً .)(١)

''جس گھر میں حکمت کا یکسر گذر نہ ہو، (یعنی حق و حقیقت کا بالکل نام و نشان بھی باقی نہ رہے) بلا شک و شبہہ یہ گھر بربادی کے دہانے پر ہے۔''

اس کے بر خلاف، صالح اور نیک گھرانہ؛ ایسا گھرانہ ہے جو اس بات پر قادر ہے کہ نسلوں کی اصلاح اور اس کے سنوارنے اور سدھارنے کی صلاحیت اور قدرت کو بڑی ہی جد و جہد اور عرق ریزی کے ساتھ بروئے کار لائے۔ مذہب کے مقدسات اور اس کی وراثت کو بڑی ہی دیانت اور امانت داری کے ساتھ اس نسل کے حوالہ کردے جس کی وہ خود پرورش کر رہا ہو۔

مولائے کائنات امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے دین، دینداری اور

____________________

(١)مجمع البیان ج١، ص٣٨٢ ۔


تاریخی معلومات اور درآمدات کا خلاصہ نیز اس کے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کی کیفیت کو اپنے بیٹے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے اس طرح بیان فرمایا:

(اَْ بُنََّ! اِنِّ وَ اِنْ لَمْ اَکُنْ عُمِّرْتُ عُمْرَ مَنْ کَانَ قَبْلِْ، وَ قَدْ نَظَرْتُ فِ اَعْمَالِهِمْ وَ فَکَّرْتُ فِ اَخْبَارِهِمْ و َسِرْتُ فِ آثَارِهِمْ، حَتیّٰ عُدْتُ کَاَحَدِهِمْ، بَلْ کَاَنِّ بِمَاْ اِنْتَهیٰ اِلَّ مِنْ اُمُورِهِمْ قَدْ عُمِّرْتُ مَعْ اَوَّلِهِمْ اِلیٰ آخِرِهِمْ فَعَرَفْتُ صَفْوَ ذَلِکَ مِنْ کَدِرِه، وَ نَفْعِه مِنْ ضَرَرِه، فَاْسْتَخْلَصْتُ لَکَ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ نَخِیْلَهُ وَ تَوَخَّیْتُ لَکَ جَمِیْلَهُ، صَرَّفْتُ عَنْکَ مَجْهُولَه ۔)(١)

''اے میرے لخت جگر! اگرچہ میں نے اتنی عمر نہیں پائی جتنی اگلے لوگوں کی ہوا کرتی تھی، لیکن میں نے ان کے اعمال میں غور و خوض کیا ہے، ان کے اخبار میں غور و فکر اور دقت کی ہے؛ ان کے آثار میں سیر و سیاحت کی ہے۔ میں صاف اور گندے کو خوب پہچانتا ہوں۔ نفع و ضرر میں امتیاز (کی صلاحیت) رکھتا ہوں۔ میں نے ہر امر کی خوب چھان بین کرکے اس کا نچوڑ اور حقیقت سامنے پیش کر دیا ہے اور سب سے اچھے کی تلاش کر لی ہے اور بے معنی چیزوں کو تم سے دور کر دیا ہے۔''

حضرت امیر المؤمنین مولائے کائنات امام علی بن ابی طالب علیہما السلام نے

روشنی ڈالی ہے، جس میں آپ نے اپنی حد درجہ عالی تربیت و پرورش نیز حضرت کی شخصیت کی تعمیر میں کن کن چیزوں کی رعایت کی گئی اس کی اس طرح خبر دے رہے ہیں:

____________________

(١)نہج البلاغة نامہ ٣١۔


(و َقَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِالْقَرَابَةِ الْقَرِیْبَةِ و َالْمَنْزِلَةِ الْخَصِیْصَةِ، وَضَعَنِ فِ حِجْرِه وَ اَنَا وَلَد یَضُمُّنِ اِلیٰ صَدْرِه، وَ یَکْنِفُنِ فِ فَرَاشِه و َیَمَسُّنِ جَسَدَهُ، یَشُمُّنِ عِرْفَهُ، وَ کَانَ یَمْضَغُ الشَّیْئَ یُلَقِّمُنِیْهِ، و َمَا وَجَدَ لِ کَذِبْة فِ قَوْلٍ، و َلاَ خَطْلَةٍ فِ فِعْلٍِ... وَ لَقَدْ کُنْتُ اَتَّبِعُهُ اِتِّبَاعَ الْفَصِیْلِ اَثَرَ اُمِّه یَرْفَعُ لِ فِ کُلِّ یَوْمٍ مِنْ اَخْلاَقِه عِلْماً، و َیَأْمُرُ بِالْاِقْتِدَائِ بِه و َلَقَدْ کَانَ یُجَاوِر ُفِ کُلِّ سَنَةٍ بِحَرَائَ فَأَرَاهُ، و َلَا یَرَاهُ غَیْرِ. وَلَمْ یَجْمَعْ بَیْت وَاحِد یَوْمَئِذٍ فِ الْاِسْلاَمِ غَیْرَ رَسُولِ اللّٰهِ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وَخَدِیْجَةَ و َاَنَا ثَالِثُهُمَا. اَریٰ نُورَ الْوَحِْ وَ الرِّسَالَةِ و َاَشُمُّ رِیْحَ النُّبُوَّةِ .)(١)

''رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک میرے مقام اور میری منزلت اور آپ سے میری رشتہ داری اور قرابتداری اور آپ سے میری قربت کو خوب جانتے ہو۔ انھوں نے بچپنے سے ہی مجھے اپنی گود میں لیکر اپنے سینے سے لگاتے، اپنے بستر پر سلاتے، جیسے ہی میرا جسم آپ کے بدن مبارک سے مس ہوتا تو آپ مجھے مسلسل شمیم رسالت سے سر فراز فرماتے۔ اور آپ غذا کو اپنے دانتوں سے چبا کر مجھ کو کھلاتے تھے۔ نہ انھوں نے میری گفتار میں جھوٹ کا مشاہدہ کیا، اور نہ ہی میرے اعمال و کردار میں کبھی کسی لغزش کو سرزد ہوتے ہوئے دیکھا۔ اور میں ہمیشہ ہر حالت (سفر و حضر) میں آپ کے ساتھ اسی طرح چلتا تھا، جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔ ہر روز آپ اپنی اخلاقی خصوصیات کی مجھے نشاندہی فرماتے اور پھر مجھے اس کے اتباع پر مقرر فرماتے تھے۔ آنحضرت ہر سال ایک وقت غار حرا میں جاکر خلوت اور گوشۂ تنہائی اختیار فرماتے تھے، جہاں فقط میں ہی آپ کے نور کو دیکھنے پر قادر تھا، وہاں پر کوئی اور نہ ہوتا تھا۔ اور یہ کسی اور کے بس کا روگ بھی نہ تھا۔ اس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور خدیجہ کے علاوہ مسلمان گھر دیکھنے کو نہیں ملتے تھے، ان لوگوں کے علاوہ تیسرا صرف میں تھا۔ صرف میں نور وحی و رسالت کا مشاہدہ کرتا تھا، اور شمیم نبوت سے اپنے دل و دماغ کو معطر رکھتا تھا۔''

____________________

(١)نہج البلاغة خطبہ ١٩٢،]خطبۂ قاصعہ [


٢)مدرسہ

مدرسہ سے مراد وہ دینی مراکز، وسائل اور ذرائع تبلیغ ہیں، جو انسان کی زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کی دینی تحریک اور جوانوں کو تعلیم دینے کا واحد وسیلہ اور ذریعہ ہیں اور اس کا میدان بہت وسیع ہے۔ مدرسہ، کتاب اور جوانوں کی تعلیم کے لئے مختلف طریقۂ کار، تعلیم دینے والے افراد، اور مدرسین، دینی و مذہبی نیز ثقافتی و تربیتی کو ششیں، رسم الخط، ( طرز تحریر) زبان، مذہب، تبلیغات، اور اخبارات وغیرہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔

اس وسیع دائرہ کے تحت مدرسہ ان اہم ترین پلوں میں سے ایک ہے جو دینی وراثت کو ایک نسل سے دو سر ی نسل میں منتقل کرنے، بعض نسلوں کو بعض دوسری نسلوں سے جوڑنے اور اسی طرح ترقی یافتہ نسل کو پست او ر عقب ماندہ نسل سے جوڑ کر ان میں آپس میں میل ملاپ کی ذمہ داری کا حامل ہے۔

چنانچہ یہ (مدرسہ) تمام لوگوں کی پہلی اور ابتدائی تعلیم گاہ، گھر ہی میں سمٹ جاتی ہے، اور ہر انسان اپنی ابتدائی تعلیم کو گھر ہی سے حاصل کرنا شروع کرتا ہے، اس لئے بلا شک و شبہہ دوسرے درجہ میں، یعنی اس کی تعلیمات کا دوسرا مرکز مدرسہ اور اسکول ( School ) ہے؛ جہاں اس کی عقل میں نکھار آتا ہے۔

اسلامی قوانین اور اس کے دستور میں استاد کی عظمت و منزلت اور اس کے احترام کے بارے میں بہت زیادہ تاکید اور شفارش کی گئی ہے، ہمارے اور آپ کے پانچویں امام، حضرت امام محمد باقر ـ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کرتے ہوئے فرمایا:

(اِنَّ مُعَلِّمَ الْخَیْرِ یَسْتَغْفِرُ لَهُ دَوَابُّ الْاَرْضِ و َحِیْتَانُ الْبَحْرِ وَ کُلُّ ذِ رُوحٍ فِ الْهَوَائِ وَ جَمِیْعُ اَهْلِ السَّمَائِ وَ الْاَرْض )(١)

جو استاد نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے، اس کے لئے زمین پر تمام بسنے، چلنے اور رینگنے والے، دریا کی مچھلیاں، ہوا اور فضا میں زندگی بسر کرنے والے، اسی طرح زمین و آسمان میں بسنے والی (خداوند عالم کی) تمام مخلوق اس استاد (اور معلم) کے لئے استغفار کرتی ہیں۔''

امام صادق نے بھی ارشاد فرمایا:

(مَنْ عَلَّمَ خَیْراً فَلَهُ بِمِثْلِ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِه. قُلْتُ: فَأِنْ عَلَّمَهُ غَیْرُهُ یَجْرِی ذَلِکَ لَهُ ؟ قَالَ(ع) اِنْ عَلَّمَ النَّاسَ کُلَّهُمْ جَریٰ لَهُ. قُلْتُ: و َاِنْ مَاتَ ؟ قَالَ(ع): و َاِنْ مَاتَ(٢)

____________________

(١)بحارالانوار ج٢، ص١٧۔

(٢)بحارالانوار ج٢ ص١٧


ہر وہ شخص جو خیر کی تعلیم دے، اس کا اجر اس شخص کے جیسا ہے جس نے اس پر عمل کیا ہو۔ راوی نے سوال کیا: اگر وہ شخص جس نے اس (استاد) سے براہ راست تعلیم حاصل کی ہو اور بعد میں دوسرے شخص کو تعلیم دے، تو اس کا اجر کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اگر دوسرا فرد (یعنی سیکھ کر سکھانے والا) روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دے دے، پھر بھی سکھانے والے پہلے استاد کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ راوی نے پھر سوال کیا: اگر پہلے والا استاد دنیا سے اٹھ چکا ہو تو کیا ہوگا ؟ تو حضرت نے (اس سوال کے جواب میں) فرمایا : پھر بھی اس کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور اس کو (یعنی پہلے والے استاد اور معلم کو) وہی اجر دیا جائے گا۔''

حضرت امام صادق نے رسول خدا اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یوں نقل فرمایا:

(یَجِیُٔ الرَّجُلُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَ لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَالسَّحَابِ الرُّکَامِ اَوْ کَالْجِبَالِ الرَّوَاسِی، فَیَقُولُ: یَارَبِّ اَنّٰی لِی هٰذا و َلَمْ اَعْمِلْهَا؟ فَیَقُولُ: هٰذا عِلْمُکَ الَّذِی عَلَّمْتَهُ النَّاسَ یُعْمَلُ بِه بَعْدَکَ )(١)

''قیامت کے دن ایک شخص عرصہ حساب میں لایا جائے گا، اس عالم میں کہ اس کی نیکیاں بادلوں کی طرح آفاق میں پھیلی اور مستحکم پہاڑوں کی طرح استوار ہوں گی۔ وہ شخص آتے ہی (یہ سب نیکیاں دیکھنے کے بعد) بڑی حیرت اور بے چینی سے بول پڑے گا: اے میرے پروردگار! اور اے میرے پالن ہار! میں کہاں؟ اور اتنی ساری نیکیاں کہاں؟! میں نے ان سب نیکیو ں کو ہرگز انجام نہیں دیا۔ خدایا! یہ میرے اعمال نہیں ہیں،

____________________

(١)بحارالانوار ج٢، ص١٨


میں نے ا ن تمام اعمال کو انجام نہیں دیا تو اسے بتایا جائے گا: کہ یہ وہی علم ہے جس کو تونے لوگوں کو سکھایا ہے اور انھوں نے تیرے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد اس پر عمل کیا ہے۔''

عبد الرحمٰن سَلَمِی نے حضرت ابا عبد اللہ امام حسین ـ کے بیٹوں میں سے

ایک بیٹے کو سورۂ حمد کی تعلیم دی۔ جب اس بچے نے سورہ حمد کو اپنے والد گرامی

(حضرت امام حسین ـ) کے حضور تلاوت کی تو امام نے بہت سارا مال زیورات اور گہنے اپنے بیٹے کے معلم کو بخش دیئے اور اس (معلم) کے منھ کو موتیوں سے بھردیا۔ جب آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

''مال اور زیورات کی اتنی تھوڑی سی مقدار اس (استاد) کے تعلیم دینے کی اجرت کے برابر ہرگز قرار نہیں پاسکتی!''(١)

____________________

(١)المناقب ابن شہر آشوب، مطبوعہ نجف اشرف، ج٣، ص٢٢٢؛ مستدرک الوسائل، ج١، ص٢٩


٣)مسجد

ارتباطی پلوں کی قسموں میں سے تیسرا اور آخری پل جو تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے ایک نسل کو دوسری نسل سے جوڑتا ہے،وہ مسجد ہے۔ (یعنی وہ تیسرا وسیلہ جس کے ذریعہ دین میں وسعت دیکر اس کی حفاظت کی جائے۔) اسلام میں مسجد، عبادت اور فکری ارتقا نیز انتظام و انسجام کا بہترین مرکز ہے، اخلاقی، سیاسی اور نیک کاموں کی انجام دہی پر تعاون اور یہ (مسجد) خدمت خلق کا بہترین مرکز ہے، اور اس طرح کی کوشش اور فعالیت میں کلیدی اور بنیادی کردار ادا کرتا ہے؛ نیز یہ جگہ ایک مقدس فریضہ کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔

درج ذیل بیان مسجد کے کردار اور اس کے ابدی نقوش اور اس کی اہمیت اور حیثیت کو اسلام نے بڑے آب و تاب کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے۔

مولائے کائنات مولائے کائنات امیر المؤمنین حضرت علی نے اس سلسلہ میں اس طرح فرمایا:

(مَنِ اْخْتَلَفَ اِلیٰ الْمَسْجِدِ، أَصَابَ اِحْدیٰ الثَّمَانِ: ١أَخاً مُسْتَفَاداً فِی اللّٰه ٢أَوْ عِلْماً مُسْتَطْرِفاً ٣أَوْ آیَةً مُحْکَمَةً ٤أَوْ رَحْمَةً مُنْتَظِرة ٥أَوْ کَلِمَةً تَرُدُّهُ عَنْ رَدیً ٦أَوْ یَسْمَعُ کَلِمَةً تَدُلُّ عَلیٰ الْهُدیٰ ٧أَوْ یُتْرَکُ دُنْیَا خَسِیْسَةً ٨أَوْ حَیَائً )(١)

''جو شخص بھی مسجد میں رفت و آمد رکھتا ہے ، اس کو ان آٹھ چیزوں میں سے ایک چیز ضرور حاصل ہو جاتی ہے: ١۔ دین میں بھائی چارگی؛ ٢۔ نت نئی اور جدید معلومات؛ ٣۔ مستحکم نشانی؛ ٤۔ اور ایسی رحمت و بخشش جس کا انتظار کیا جا رہا ہو؛ ٥۔ ایسی بات جو ہم کو پستی اور ذلت (ہلاکت) سے دور کردے ؛٦۔ ایسی بات پر کان دھرنے اور غور سے سننے کی توفیق جو انسان کو صحیح راستہ دکھائے اور اس کی ہدایت کر سکے؛ ٧۔ اور اس ذلیل اور پست دنیا کو ترک کر دے اور اس سے لو نہ لگائے؛٨۔ حیا کو اپنا پیشہ بنالے۔''

اسلامی تاریخ میں، مسجدیں، دینی اور مذہبی مدارس، وہ منبر جو اخلاق اور تربیت

____________________

(١)بحارالانوار ج٨٣، ص٣٥١


کے رواج اور اس کو وسعت دینے میں مددگار ہیں، فعالیت و کوشش اور جد و جہد کے مراکز، معاشرتی، سماجی اور سیاسی خدمات میں سماجی اور معاشرتی مراکز، اور ایسے پرکار (فعاّل) ادارے، مسلمانوں کی زندگی میںاسلامی تمدن کی وراثت کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے میں بنیادی ذمہ داری اور کلیدی حیثیت کے حامل ہیں، جیسا کہ یہی مراکز اسلامی افکا رکے مضبوط قلعے اور مقدسات اسلامی بھی شمار کئے جاتے ہیں۔ انھیں محاذوں کے ذریعہ مسلمان اپنی فکری اور مذہبی وراثت کو جاہل دشمن کی غارت، یلغار اور لوٹ پاٹ سے بچا لیتے ہیں۔

حوزہ علمیہ اور دینی مدارس کی بنیاد

اس واسطہ کہ مساجد اپنے نقش اور کردار کو امت اسلامی کی خدمت میں اپنی پوری قدرت کے ساتھ بہ حسن و خوبی نیز اپنی دینی اور مذہبی وراثت کو بعد والی نسلوں میں منتقل کر سکیں، لازم اور ضروری ہے کہ انسانی اور مذہبی حمایت برقرار رکھیں۔ کیوں کہ مسجدیں دانشوروں، خطبا اور ان مقررین کو جو لوگ عوام کو ہوشیار بنانے اور اسلامی معاشرہ میں انقلاب برپا کرنے کی تحریک کی ذمہ داری کے حامل ہیں ، ان کے لئے یہ بات ضروری ہے اور یہ اہم فریضہ بھی انھیں دینی اداروں اور مراکز (حوزۂ علمیہ یا دینی اور مذہبی مدارس کے وجود ) کے ذریعہ امکان پذیر ہے۔ اس امر کی انجام دہی ان امور کی بجا آوری، اسلامی اسکولوں ( colleges Islamic ) کا قیام ہے، (دینی اعلیٰ مدارس) جن کی ذمہ داری اسلام کے مختلف گوشوں اور دینی مسائل میں خاص مہارت کے حامل افراد کی تربیت مقصود ہے۔

اس بنا پر لازم ہے کہ بعض مسلمان اپنے علاقوں اور وطن سے کوچ کریں اور اس طرح دین اسلام کی گہرائیوں اور ان کی تہہ تک پہونچ کر پوری طرح مہارت حاصل کرلیں اور اس کو بڑی ہی عرق ریزیوں سے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے، اپنے کلیدی اور اساسی کردار کو بروئے کار لائیں، تاکہ عوام الناس کی مشکلات کا حل نکالنے کے لئے، آیۂ کریمہ کے مطابق اس حساس ذمہ داری کو اچھی طرح نبھا کر عوام کے مختلف مسائل کا مناسب جواب دے سکیں۔


(فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَة لِیَتَفَقَّهُوا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ )

''ہر گروہ میں سے ایک گروہ (کے لوگ) کوچ کیوں نہیں کرتے، تاکہ دینی مسائل کا علم حاصل کریں اور علم حاصل کرنے کے بعد اپنے یہاں (وطن) کے لوگوں کے پاس پلٹ آئیں اور ان کو ڈرائیں شاید وہ لوگ ڈرنے لگیں۔''(١)

اس بنا پر ''مسجد کی بنیاد '' جو کہ تمام مذہبی اداروں کو شامل ہے، جن کو اصطلاحاً (مدارس علمیہ ) دینی مدرسوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان اداروں اور دینی مدارس کے قائم کرنے والوں کو ہم ''مرجعیت'' کے نام سے جانتے ہیں۔ مقام افتا میں فتویٰ دینے والے لوگ، وعظ و نصیحت اور اخلاقی تقاریر کے مراکز کو بھی اس سے ملحق کر تے ہیں۔

مسجد اپنی اس وسیع و عریض تعریف کے ساتھ لوگوں کی زندگی کے وسیع معیار اور ملاک کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اُن میں سے سب سے اہم افکار اور مقدسات کو انسانی تاریخ میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا ذریعہ اور اہم ترین قلعہ شمار ہوتا ہے، جو اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ ہماری مذہبی اور دینی وراثت کو نابودی اور ہر قسم کے انحراف، گمراہی اور کجی سے بچا سکے۔ خصوصاً اِن تلخ تجربوں کے دوران، اس طولانی عرصہ میں ہماری ترقی کے بہت سے پل اور مذہبی قلعے جن کو ہمارے دشمنوں نے ہم سے چھین کر اسلام و مسلمین پر کاری ضرب لگا ئی ہے؛ ان سب چیزوں کو دشمن کے چنگل سے چھڑا کر دوسری نسلوں میں منتقل کردیں۔

ان دشوار گذار برسوں میں، مسجد نے اپنے استقلال کو محفوظ کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ دشمن اس قوی اور مستحکم ادارہ کو ختم کرنے، اس پر گھراؤ اور اس کو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں، منحرف کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس محاذ پر، مسجد، مذہبی پناہ گاہوں اور قلعوں میں سب سے آخری پناہ گاہ اور قلعہ تھی، جس نے مغربی (انگریزی) تحریکوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے دین کا کوئی بھی سرمایہ مغربی لوگوں (انگریزوں) کے برباد کرنے اور نابود کرنے سے بچ نہ پاتا، نتیجتاً تمام اسلامی آثار مٹ کر ہستی سے ختم ہو جاتے۔

____________________

(١)سورہ مبارکہ توبہ آیت١٢٢


ماضی اور مستقبل کے ارتباطی پُلوں کاانہدام

گھر، (گھرانہ) مدرسہ اور مسجد یہ ایسے تین ارتباطی پل ہیں جو ہمارے دین و مذہب اور تہذیب و تمدن کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرتے اور ہم کو گہری جڑوں کے ساتھ ہمار ی تہذیب و تمدن اور ثقافت سے جوڑ تے ہیں۔ اگر یہ راستے آپس میں بہم جوڑ دینے والے پُل نہ ہوتے تو ہمارا گذشتہ زمانہ سے بالکل رابطہ ختم ہو جاتا، اسلامی امت جس کی جڑیں تاریخ میں بہت مستحکم اور استوار ہیں نیز دینی و مذہبی تہذیب و تمدن کی حامل ہیں، اس کی بنیادوں میں، حقیقت اور گہرائی پائی جاتی ہے اور ایسی صورت میں یعنی جب اس کا رابطہ ختم ہو جائے تو وہ ایک ایسے (بے خاصیت) پودے میں تبدیل ہو جائے گا جس میں گہری جڑیں نہیں پائی جاتیں اور بہت ہی سطحی ہوتی ہیں۔ وہ درخت جس کی جڑیں گہری اور ثابت ہیں اور شاخیں آسمان سے متصل یعنی بہت ہی بلند ہیں وہ ایک خود رو، بیکار اور زائد پودے اور سبزے میں تبدیل ہو جائے گا، اس کے بعد آہستہ آہستہ فنا کے گھاٹ اترجائے گا، جس طرح یہ خودرو پودا اُگا تھا اسی طرح وہ اپنی ابتدائی حقیقت کی طرف پلٹ جائے گا۔

بلاشک و شبہہ جس طرح اسلام ان ارتباطی (گذر گاہوں) پلوں کی حفاظت میں کوشاں اور امت اسلامی جس کو مؤثر بنانے کے لئے اپنی ساری قوت صرف کررہی ہے، ٹھیک اس کے بر خلاف عالمی سامراج اور استکبار بھی اپنی پوری طاقت اور قدرت کے ساتھ ان ارتباطی پلوں کو پورے طور سے منہدم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہر روز ایک نہ ایک ترکیب، حیلہ حوالہ اور نت نئے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے کی کوششوں میں سر گرم ہے۔ اس بات کو بڑے ہی وثوق و اطمینان اور جرأت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے، کہ ہماری باہمی زندگی میں سیاسی کھائی ایجاد کرکے ہمارے اور کافر برادری کے درمیان ایک جنگ چھیڑ دی ہے، جو ان پلوں کے ''توڑنے اور جوڑنے'' کی صورت میں ہمارے درمیان باقی ہے۔


سامراج کی استکباری طاقتیںاور ان کے آگے پیچھے کرنے والے نوکر شاہی لوگوں، حکومت کے ذمہ داروں اور دانشوروں کے ذریعہ اسلام میں پھوٹ ڈالنے کی اپنی جیسی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، اس زور آزمائی کو قدامت پسندی، بنیاد پرستی بنام جدت پسندی اور فکر نو کی جنگ کا نام دے دیا ہے، جبکہ حقیقت اس کے علاوہ کچھ اور ہی ہے۔ قدامت پسندی اور فکر نو کے در میان کوئی گیر و دار نہیں پائی جاتی ہے، بلکہ یہ جنگ باہمی ارتباطی پُلوں کو منہدم کرنے اور ان کی تعمیر نو سے متعلق ہے۔ عالمی سامراج اور استکبار کی ساری کوشش اس بات پر ہوتی ہے کہ امت مسلمہ کو اس کے ماضی کی گہری جڑوں والی تاریخ سے بالکل جدا کر دے۔ وہ ارتباطی پل جو دور حاضر اور زمانۂ حال کو ماضی اور مستقبل سے جوڑ تے ہیں، ان رابطو ں کو بالکل سے منہدم اور خاک سے یکساں کر دے۔ اس کے بر خلاف صالح اور مخلص لوگ اسلامی امت کی جہاں دیدہ، آگاہ، ہوشیار اور تجربہ کار اولادیں، ان دھوکہ دھڑیوں، مکاریوں اور فریب میں آنے والی نہیں ہیں، ان کی ساری کوشش اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے حال کو (حاضر کو) گذشتہ کل یعنی ماضی سے پوری طرح جوڑ دیں۔ نیز ہماری (دینی اور مذہبی) وراثتیں اور ان کی تاریخ میں گہری جڑوں کی حفاظت اور بقاء کے لئے بہر صورت فکر مند ہیں کہ کیسے اس امانت کو آنے والی نسلوں کے حضور صحیح و سالم پیش کر دیں۔

توڑنے اور جوڑنے کے درمیان کا یہ اختلاف ہر مقام اور موقع پر پایا جاتا ہے۔ مدرسہ و اسکول، جامعہ ( University ) (وہ اعلیٰ تعلیم گاہ جس کو' دانشگاہ ' بھی کہا جاتا ہے) سڑکیں، ہنر اور پیشہ، ادبیات، اصطلاحیں، رسم و رواج، زبان، تحریر اور رسم الخط، شعر گوئی، طرز زندگی، طرز فکر، محاوراتی زبان اور ہماری زندگی میں رائج بہت سی دوسری چیزیں ہیں؛ جس کے لئے بعض لوگ اپنے ذاتی منافع کے حصول کے تحت اختلاف کے بیج بوتے پھرتے ہیں۔


ثقافتی تخریب کاری

اس مقام پر یہ سوال اٹھتا ہے: عالمی استکبار ہماری تہذیب و ثقافت کے خلاف تخریبی رویہ اختیار کرنے کے لئے کیوں کمر بستہ، ہمارے مذہب و تمدن کو نابود کرنے کے کیوں درپے ہیں؟

یہ سوال، بہت ہی بر محل، اچھا اور مناسب ہے، بے شک استکباری جنگ کا منصوبہ بنانے والے لوگوں اور عالمی استکبار کے نزدیک، ہمارے تمدن اور اسلامی ثقافت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ان کے لئے یہ بات کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں ہے کہ وہ اس کے بدلہ کوئی تہذیب و ثقافت پیش کریں؛ بلکہ وہ تو سرے سے کسی تہذیب و ثقافت اور تمدن کے پیشوا اور امن کے سفیر ہی نہیں ہیں کہ کسی تمدن کے بارے میں سوچیں۔ ان میں برائے نام بھی تہذیب نہیں پائی جاتی ہے کہ ان کو کسی تمدن اور تہذیب کے مٹانے کے بارے میں غور و خوض کی ضرورت پڑے، اس (تہذیب و ثقافت اسلامی ) کے بدلہ کسی اور تمدن اور ثقافت کو لانے کی سو چیں؛ بلکہ یہ لوگ مال و دولت اور سرمایہ کو ہر ممکن طریقہ سے ڈھونڈھ نکالنے میں خاصی مہارت کے حامل، شباب و کباب کے متوالے، سنہرے اور کالے سونے کو ہر جگہ ،بہر صورت اور ہر قیمت پر اکٹھا کرنے کی جستجو اور تلاش میں ہیں۔

جو بھی شرق و غرب کے بارے میں شناخت رکھتا ہے، بغیر کسی چوں چرا کے اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے۔ اسے بھی چھوڑیں، وہ سادہ لوح لوگ جو یہ تصور کرتے ہیں کہ مغرب کا سرمایہ داری اور شرق کا اشتراکیت کا نظام (کمیونزم) یہ دونوں ہماری زندگی میں انسانی اور اخلاقی کردار ادا کرتے ہیں! وہ بھی اس بات کو بخوبی جانتے ہیں۔ در حقیقت، غرب و شرق اس ملت اسلامیہ کی زندگی میں مذہبی خراب کاری، تباہی اور ایک نسل کو دوسری نسل سے جوڑنے والے ارتباطی پلوں کو ڈھانے اور بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے سے، کن منافع اور مصالح کی تلاش میں ہیں؟


میری نظر میں یہ قضیہ بھی ان کی اسی سنہرے اور کالے سونے کو لوٹنے، اس کو غارت کرنے اور اس کو ہتھیانے کے لئے دانت تیز کرنے کی طرف پلٹتا ہے کہ سنہرے اور کالے سونے پر قبضہ جمالیں۔

بیشک اگر مذہب اور دین کی بنیادیں گہرائی میں اتری ہوئی ہوں تو اس کے ذریعہ امت مسلمہ ہر قسم کی غارت گری، بربادی اور نظامی حملوں کاقطعی طور پر مقابلہ کی صلاحیت اور استعداد پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ خاصیت، ہر گہری جڑ رکھنے والی تہذیب و تمدن میں پائی جاتی ہے۔ (یعنی جو قوم و ملت ان صفات اور خصوصیات کی حامل ہو اس میں ان صلاحیتوںکا پیدا ہو جانا فطری امر ہے۔ مترجم)

اسی بناپر، جب تک ایک امت اپنے گذشتہ اور اپنے تہذیب و ثقافت اور تمدن سے باہمی ربط رکھے اور اس سے منسلک رہ کر اپنی تاریخی اور ثقافتی شخصیت کی طرف متوجہ رہے تو اس کے بارے میں آگاہی ضرور حاصل کرلے گی۔ وہ قوم ہر قسم کے حملے، ناجائز قبضے اور غلط فائدے اٹھانے والوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اجنبی لوگوں کے سیاسی اور فکری نفوذ کے مقابلہ میں اٹھ کھڑی ہوگی؛ یعنی فوراً قیام کرنے پر آمادہ ہو جائے گی اور اس طرح سے فتح و ظفر اور کامیابی اس کے قدم چومنے لگے گی۔

مغربی افراد، اپنا تسلط جمانے اور مسلمانوں کے درمیان نفوذ پیدا کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان وارد ہو گئے، تاکہ ان کو ہر طرف سے لوٹیں اورطرح طرح کے بہانے بنا کر ہر ممکنہ تدبیر کے ذریعہ ان کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ البتہ مغربی دنیا یہ جانتی ہے کہ امت مسلمہ کسی بھی اجنبی اور غیرکی دخالت کو برداشت نہیں کرسکتی۔ لہٰذا وہ ہر قسم کے قبضہ اور تسلط کے مقابلہ میں قیام کرنے پر آمادہ ہوجائے گی۔ وہ قوم اس نکتہ کی طرف متوجہ ہے کہ اس میں پائیداری، استحکام اور استواری کی بنیاد، دین، تہذیب و ثقافت اور عقل و خرد کی سوغات دینے والا صرف اسلامی تمدن ہی ہے، جو اس قوم کے دل و دماغ میں راسخ ہے۔ لہذا اس بات کا امکان بھی نہیں پایا جاتا ہے کہ اجنبی لوگ مسلمانوں کے خزانوں اور ان کے مال و دولت کی طرف تیکھی نظر سے دیکھ لیں یعنی ان کی دولت پر ڈاکہ ڈالنے کامنصوبہ بنائیں، لیکن اس مقام پر یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ امت مسلمہ پہلے ہی سے اپنے آپ اور اپنے اولاد کی افکار کو اپنے قبضہ میں لے کر اس پر کڑا پہرا لگائے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سے اس بات کا بھی امکان نہیں پایا جاتا کہ مسلمانوں کے مال و دولت اور ثروت کی طرف کوئی اجنبی، غلط فائدہ اٹھانے کے لئے کوئی راستہ کھوج نکالے؛ اس سے پیشتر ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے راستہ کو دین اور مذہب کے اصولوں پر استوار کر لیں اور اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے، احساس ذمہ داری کے تحت اپنی وراثتوں کی حفاظت کریں۔


عالمی سامراج و استکبار کے منصوبوں کو بروئے کار لانے اور ان کو ہر قیمت پر کامیاب بنانے والے، ان تمام حقیقتوں کو بخوبی جانتے ہیں اور اس مشکل کو بر طرف کرنے اور اس استقامت سے مقابلہ کی فکر کو جڑ سے مٹانے کے لئے بڑی ہی سنجیدگی سے مشغول ہیں؛ اپنے مقصد کے حصول کے لئے ایک لمحہ بھی فروگذار نہیں کرتے۔ ہمہ تن گوش اپنی تحریک کی کامیابی کی چارہ جوئی میں لگے ہوئے ہیں۔ (لہٰذا مسلمانوں کا بھی عینی فرض بنتاہے کہ وہ دشمن اور اس کے حربہ سے ایک آن کے لئے بھی غافل نہ ہوں نیز دشمن سے مقابلہ کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں۔ مترجم)

اسلامی ثقافت کو بے اہمیت بنانے کا منصوبہ

اسی وقت تہذیب و ثقافت کو بے اہمیت بنانے کا منصوبہ کامیاب ہوسکتا ہے جب امت اسلامی اپنی ثقافت کھو بیٹھے اور بے بند و بار ہو جائے تو ایسی صورت حال کے مدنظر، اس قوم میں دشمن سے مقابلہ اور استقامت کی قدرت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ عالم استکبار کو دنیائے اسلام سے منافع حاصل کرنے کے لئے دائمی مراکز قائم کرنے کا خواب و خیال دل و دماغ سے نکال دینا چاہئے؛ اس لئے کہ یہ خواب اپنی تعبیر کو حاصل نہ کر پائے گا اور فرنگیوں کو زبوں حال و سر خوردہ، بڑی ہی ذلت وخواری سے الٹے پاؤں واپس پلٹنا پڑے گا۔

انہیں اسباب و عوامل کے تحت اگر مسلمان لوگ غفلت برتیں تو ملت اسلامیہ اپنے ثقافتی اقدار اور اس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرے اور اگر اپنی گذشتہ وراثتوں اور قدیم تمدن سے یکسر قطع رابطہ کرلے تو بہت ہی آسانی سے دوسری قومیں تسلط حاصل کر کے ہماری ثقافت پر قابض ہو جائیں گی اور مسلمانوں پر ہر اعتبار سے مسلط ہو جائیں گی۔ آخر کار مسلمانوں کو مجبور ہو کر غیروں کی برتری کو قبول ہی کر لینا پڑے گا۔ ایسی صورت حال میں دشمن مال، دولت و ثروت اور خشکی و نی تمام چیزوں پر اپنا قبضہ جما لینے پر قادر ہو جائے گا۔


وہ ارتباطی پل جو ہمارے حال کو ماضی سے جوڑتے اور اسی طرح وراثتوں اور ثقافتوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ملا دیتے ہیں، وہ تمام کے تمام پل منہدم کردئے جائیں گے۔ اس طرح سے دشمنوں کا اپنے مقصد کو جامۂ عمل پہنانے کا تصور ممکن ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں عالمی استکبار ارتباطی پلوں کے منہدم کردینے کا جرأت مندانہ اظہار کرنے پر کمر بستہ ہو جائے گا، اس طرح سے دور حاضر (حال) کا زمانۂ ماضی سے جدائی کے تمام اسباب معلوم ہو جائیں گے۔ ہماری حالیہ سیاسی اور ثقافتی زندگی میں بہت بڑا فاجعہ اور بلا کی مصیبت، رو نما ہو نے لگیں گی اور طرح طرح کی فضیحتیں د امن گیر ہو جائیں گی، اور تاریخ ان سیاہ کارناموں کو من و عن ثبت کرلے گی۔

مغرب پرستی کی علامتیں یا اسلامی ثقافت کا انہدام

یہاں پر مغربی تمدن کی طرف جھکاؤ کی تحریک کے علائم یا حقیقی ثقافت سے دوری کے بارے میں بیان کریں گے تاکہ نسل نو (انقلابی نسل) مغرب (یورپ ) کے خطرناک عزائم، خاص طور سے اس وقت جب دنیا میں مسلمانوں کے درمیان ایک خاص وقت میں اپنے منصوبوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہوں، ایسے ہنگام میں ملت اسلامیہ کو زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کرکے اسلام دشمن طاقتوں کے چھکے چھڑا دینا چاہئے۔

گذشتہ زمانہ میں مغربی دنیا کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ عثمانی حکومت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے، اس طرح سے کہ پھر سے اس میں آثار حیات پیدا نہ ہونے پائیں۔ عثمانی حکومت (اپنی تمام آشکارا کمیوں اور خامیوں کے باوجود) ایک سیاسی مرکز، فوجی اور اقتصادی اعتبار سے پورے علاقے میں قوی اور مقتدر (حکومت) نظام محسوب ہوتا تھا کہ اسلامی دنیا، مغربی طمع کاریوں کے مقابلہ میں ڈٹ کر اس کا منھ توڑ جواب دے رہا تھا۔


آخرکار ١٣٤٢ ہجری شمسی مطابق ١٩٢٢ ء میں مغربی دنیا عثمانی حکومت کی بساط کو الٹ دینے پر قادر ہوگئی؛ اس کے بعد جب پورے طور پر ضعیف اور کمزور ہوکر یہ نظام ٹوٹ گیا تو ایسی صورت میں خلیفۂ وقت کو خلافتی اور دولتی امور میں صرف نماز جمعہ اور اس کے خطبہ دینے کی اجازت تھی، اپنے محل اور درباریوں کے علاوہ اسے کوئی اختیار حاصل نہیں تھا، خلیفۂ وقت کا اقتدار انھیں جزوی چیزوں میں سمٹ کر رہ گیا تھا۔

عثمانی حکومت کے ٹوٹ جانے کے بعد مغربی خونخوار درندوں نے چین کا سانس لیا۔ اس طرح مسلمانوں کے درمیان قوی اور مقتدر سیاسی اور بانفوذ طاقت ختم ہو گئی۔ اس طرح یہ میدان دشمنوں کے لئے بالکل خالی ہو گیا۔ نتیجتاً مغربی افکار نے اپنے اثر و رسوخ بڑھانا شروع کردیا اور امت اسلامیہ کو ان کی ثقافت اور مذہب سے سوچی سمجھی اور منظم سیاست کے تحت دور کرنا شروع کردیا۔ ایک تحریک پہلے ہی سے پھل پھول اور رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہی تھی، لیکن عثمانی حکومت کے ٹوٹتے ہی زندگی کے تمام گوشوں میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہونے لگی، دیکھتے ہی دیکھتے خاصی تبدیلی پیدا ہوگئی۔ وہ حکام جنھوں نے مغربی رجحان کی ٹھیک ایسے وقت میں حمایت کی جب عثمانی حکومت خاتمہ کے دہانے پر کھڑی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔


مغرب پرست حکام اور اس کی حمایت

اُسی وقت اسلامی دنیا (عرصہ) کے سیاسی حلقہ میں، کچھ ایسے حکام اور حکومتیں اقتدار میں آئیں جو آشکارا طور پر مسلمانوں کو ان کی غنی ثقافت اور گہری جڑیں رکھنے والے مذہب سے جدائی اور مغربی تہذیب سے رشتہ ناطہ جوڑنے کی باتیں کرتے ہوئے ''تجدد اور جدت پسندی'' ( Modernity ) اور ترقی کا راگ الاپتے ہوئے ان کی طرف اپنے والہانہ میلان اور رجحان کا اظہار کر رہے تھے۔ اس مقام پر ایسی ہی فکر کے حامل کچھ رہنماؤں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

کمال آتا ترک

مصطفےٰ کمال آتا ترک عثمانی حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد ١٩٢٣ ء سے ١٩٣٨ء تک کے لئے ترکی کی حکومت کو سنبھال لیا۔(١)

____________________

(١)مصطفےٰ کمال ١٩٣٠ء میں ''آتاترک یا بابائے ترک'' کے لقب سے ملقب ہوا اور اپنے مرتے دم تک (ساری عمر) ترکی کی حکومت پر مقتدرانہ حاکم رہا۔اس طرح ترکی کی کرسیٔ صدارت پر مرتے دم تک باقی رہا، بلکہ درحقیقت مرتے دم تک مطلق العنان بادشاہ بنا رہا۔ اس کی حکومت پندرہ سال تک باقی رہی۔ آتاتورک ترکی کی اُس حکومت کو جو مذہب پر استوار تھی، اس کو غیر مذہبی حکومت میں تبدیل کردیا۔ اس نے یہ دستور دے دیا کہ تمام چیزیں ترکوں کی اپنی گذشتہ تاریخ اور رسم و رواج کے مطابق ہونی چاہئیں اورہر وہ چیز جو عثمانی بادشاہت یا اسلام کے بارے میں ہو، اس کو ترکی کے تمام اسکولوں اور نظام سے بالکل حذف کردیا جائے، اس کی جگہ پر مغربی رسم و رواج کو رائج کر دیاجائے ؛ اسی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لیا جائے ۔ ترکوں کو مغربی لباس پہننے پر مجبور کیا جائے، عربی رسم الخط کو ختم کرکے اس کی جگہ پر لاتینی ( Latin )حروف کے ذریعہ نیا رسم الخط رائج کیا جائے۔ آتاترک نے لائیک (بے دینی کے) نظام کو برقرار کرنے کے واسطہ، مردوں اور عورتوں میں ایک لباس کے رواج کو اپنے نظام کا جز قرار دیا ۔اس طرح بے پردگی کو قانونی حیثیت دے کر تمام جگہوں پر ضروری اور لازم قراردے دیا جائے جیسا کہ ابھی تک ترکی حکومت کی انتظامیہ اسی قانون(منع حجاب کی پیرو ی کرتی رہی ہے ۔ اس ملک کے مسلمانوں کے پے در پے اعتراض اور اصرار کے باوجود پردہ دار لڑکیوں کو یونیورسیٹیوں میں جانے یعنی داخلہ سے منع کردیا ہے اور وہاںپر صرف مغربی ثقافت کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔مترجم فارسی)


رضا شاہ پہلوی(١)

شاہ (ملعون) ایران ١٩٢٥ء سے ١٩٤١ء تک عثمانی حکومت کے تختہ پلٹنے کے بعد زمام حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔

____________________

(١)رضا خان شاہ ایران (ملعون) پہلوی سلسلہ کا مؤسس جس نے ١٢٩٩ ہجری شمسی (ایرانی سال کے مطابق) میں حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ وہ (شاہ ملعون) احمد شاہ ، جو خاندان قاچار کا آخری بادشاہ اور چشم و چراغ تھا، اس کی طرف سے''سپہ سالاری'' کے منصب پرفائزہو کر اسی لقب سے مشہو ر ہوگیا۔

وزیرجنگ(دفاع) ہونے کے بعد اپنے وزارت عظمیٰ کے عہد میں قاچاری بادشاہت کے خاتمہ کی فکراس کے دل و دماغ میں پروان چڑھنے لگی۔ ابتدأ میں رضا خان (شاہ ایران ) ایران میں جمہوری حکومت اعلان کرنے کی فکر میں تھا کہ آتاترک کی طرح دین مخالف (لائیک)جمہوری حکومت لائے، لیکن اس پیش کش کی فوراً مخالفت ہوجانے کی وجہ سے، اپنے نقشہ کو بروئے کار نہ لاسکا، بلا فاصلہ کسی دوسرے حل تلاشنے کے چکر میں پڑگیا اور اپنے منصوبہ میں تبدیلی کردی۔ ٩ آبان ١٣٠٤ ہجری شمسی کے جلسہ میںعام منظوری حاصل کر لی گئی کہ قاچاری بادشاہت کو ختم کردیاجائے۔ پارلمانی قومی مجلس ،'' مجلس مؤسِّسین'' کی تاسیس کے بعد، اپنے حق میں ایسے حالات فراہم کئے کہ یہ حکومت اسی(رضا شاہ) کو سونپ دی جائے۔'' مؤسِّسین کی کمیٹی'' نے ٢١آذر ١٣٠٤ ہجری شمسی میں سلطنت کو ایرانی مہینہ کے اعتبار سے ٢٥ شہریور تک کے لئے اس کے حوالہ کردیا۔ وہ روس اور برطانیہ کی افواج کا ایران پرحملہ اور اس پرچڑھائی کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگیا۔ اس مدت تک ''رضاشاہ'' کے عنوان سے حکومت کے تخت پربراجمان رہا۔

وہ مختلف عوامل و اسباب کے ذریعہ مغربی تہذیب کو پھیلانے اوراس کو وسعت دینے ،اس کے ساتھ ہی اسلامی تہذیب و ثقافت کی بساط الٹنے کی ہر ممکن کوشش میں مشغول ہو گیا ۔ اس کی گستاخی اور بدتمیزی اس درجہ اوج پر پہونچ گئی کہ ایران کے ایسے شیعی اور مسلمان ملک میں، جو مرکز تشیع سے یاد کیا جاتا رہا ہے وہاں پر ١٧ دی ١٣١٤ ہجری شمسی کو ''کشف حجاب'' یعنی بے پردگی کا حکومتی حکم صادرکردیا؛ اس کے اجرا کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اس (شاہ ملعون) کا بے پردگی کے سلسلہ میں اصرار اس بات کا سبب ہوا کہ بعد، اس نے افغانستان کو مغربی ملک بنانے کی فکر کو اپنے دل و دماغ میں پروان چڑھانا شروع کردیا کہ خود یہیخاص طور سے طبقۂ روحانیت اورعموماًتمامی مسلمانوں نے ملک گیر پیمانہ پر اس حکومت پر بہت شدّ و مدّ کے ساتھ اعتراض کرنا شروع کردیا؛ انھیں اعتراض آمیز اور بھڑکیلے اجتماعات میںاس کی اس حرکت کے خلاف ایک بہت بڑا اجتماع ہوا، جس میںحاضرین اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے تھے۔ یا پھر برجستہ روحانی شیخ محمد تقی بہلول کی پردہ فاش تقریر جس نے ''رضاخان'' کی دین مخالف تحریکوں کو اجاگر کر کے اس کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ پھر لوگوں میںاعتراض کی آگ اوربھڑک گئی۔ رضا خان کے جلادوں نے اس ملعون کے حکم سے اس مسجد پر بے شرمانہ ناگہانی حملہ کروادیا؛ لوگوں کو گولیوں کی باڑھ پر باندھ دیا۔ اس حملہ میں تقریباً تین ہزار لوگ شہید ہوگئے، پھر بھی شاہ نے صرف اسی جرم و جنایت پر اکتفا نہیں کی؛ بلکہ جیسے ہی اس بات کا احتمال دیا کہ عمومی اور عوامی قیام برپا ہوسکتا ہے، مشہد کے تمام مبارز علماء اور مجاہدین کو گرفتار کرکے جلا وطن کردیاگیا۔جلا وطن علماء میں سے کچھ کو تہران روانہ کر دیا گیا، ان میں سے تین معروف، سرشناختہ اور مسلّم مجتہد تھے؛ بلکہ ان کا شمار مراجع کرام کی فہرست میں ہوتا تھا۔ اُن میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں :

آیة اللہ الحاج آقا ئے حسین قمی صاحب قبلہ و کعبہ ، آیة اللہ الحاج آقائے سید یونس اردبیلی صاحب قبلہ و آیة اللہ الحاج شیخ آقائے محمد آقا زادہ صاحب قبلہ دامت برکاتہم کے نام ہیں۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ رضاخان کے حکم سے حضرت آیةاللہ آقازادہ صاحب قبلہ کو خلع لباس کردیاگیا، اور پولس کے اعلیٰ افسر ''سرپاس'' کے زمانہ میں(جو اس وقت تھانہ کا انچارج تھا) ڈاکٹر احمدی کے ذریعہ (زہر کا) انجکشن د لواکر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس طرح وہ شہادت کے بلند درجہ پر فائز ہو گئے ۔ ''مترجم فارسی''


امان اللہ خاں

افغانستان کا حاکم جو ١٩١٩ء سے ١٩٢٩ء تک وہاں کا بادشاہ تھا۔ اس (امان اللہ خان) نے مغربی ممالک میں اپنی آمد و رفت برقرار کئے ہوئے تھا۔

١٩٢٧ئ، یعنی حکومت اسلامی کے ٹوٹنے کے پانچ سال بات اس کی حکومت کے زوال اور اس کے مغربی ممالک کی طرف فرار کرنے کا سبب بنی۔(١) مشہور ہے کہ یہ حکمران مغربی ممالک کی طرف شدید تمایل و رجحان رکھتے تھے اور ان کی ساری کوشش اس پر ہوتی تھی کہ فوراً سے پیشتر موقع ملتے ہی اسلامی علامتوں اور اس کی بنیادوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیں اور دنیا میں اسلام کی سیاسی موجودگی اور اس کی حیثیت کو بالکل سے ختم کرکے اس کی جگہ پر مغربی تمدن اور تہذیب کو اپنے ممالک میں لاکر اسے رواج دیدیں۔ اس طرح علاقائی اور چھوٹی چھوٹی قوم پرست ( Nationalist ) کٹھ پتلی حکومتوں کو اسلامی حکومتوں کا قائم مقام بناکر اپنا اُلّو سیدھا کر لیں۔

زمانہ کے اس حصہ میں، دور حاضر کی سیاسی تاریخ میں، نمودار ہونے والے بہت سے حادثات رونما ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک حادثہ کا وجود میں آنا، خود مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا بیج ڈالنے میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اور ان

____________________

(١)اس لئے کہ اس کا ( امان اللہ کا)اصرار اورسارا زور افغانستان کے مسلمانوں کی مقاومت اور صلابت کے مقابلہ میں بے اثرہو کر رہ گیا اور اس کے منحوس منصوبے، نقش برآب ہو گئے، یعنی بے اثر ہو گئے۔ اس اعتبار سے

اُس(امان اللہ خاں) کو زیادہ موقع نہ ملا اور اپنے منحوس اہداف ومقاصد کو حاصل نہ کر سکا۔ (مترجم)


میں سے ایک ''سائکس پیکو''(١) کا معاہدہ ہے جس نے دنیائے اسلام کو بہت سی چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں تبدیل کردیا۔ اور دوسرا معاہدہ ''بالفور معاہدہ''(٢) ( Balfur treaty )

____________________

(١) یہ قرار اور معاہدہ ، صیغۂ راز اور خفیہ قرار تھی جس کو ١٩١٦ء میں پہلی عالمی جنگ کے شورشرابہ کے دوران برطانیہ اور فرانس نے آپس میں طے کرکے ایک دوسرے کی موافقت حاصل کرلی جائے اور اپنے اپنے دستخط کردئے اور اس کو قانونی مان لیا۔ اسی سبب یہ دونوںممالک (برطانیہ اور فرانس) پہلی عالمی جنگ ختم ہونے سے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں عثمانی بادشاہت کی وراثت کو دونوں نے صیغۂ راز میں رکھکر آپس میں تقسیم کرلیا۔ اس قرار اور معاہدہ کے تحت سوریہ، لبنان اور ترکی کا کچھ فی الوقت جنوبی حصہ، فرانس کے حصہ میں، فلسطین، خلیج فارس کے آس پاس اور گرد ونواح کے علاقے، جو فی الحال سر زمین عراق میں بغداد کے نام سے موسوم ہے وہ برطانیہ کے حصہ میں آگیا ، ا س طرح اس کو اپنی ملکیت میں لے لیا۔ برطانیہ اور فرانس نے عثمانی حکومت کے باقی ماندہ تحت انتظام علاقوں کو تحت نفوذ علاقوں کے عنوان سے آپس میں اس طرح تقسیم کرلیا؛ کردستان اور ارمنستان کے کچھ حصہ کو اپنے ذھن میں روس کے لئے طے کرلیا تھا۔ اس قرار کا ایک نسخہ بطور صیغۂ رازکے روس کے حوالہ کردیاگیا۔ جو ''بال شویکی'' قوموں کے انقلاب کی کامیابی کے بعد یہ خفیہ سندیں سب پر آشکارہوگئیں، جس پر اس کے (روس) دوسرے متحدوں، برطانیہ اور فرانس اپنے واقعی مقاصد کا راز کھل جانے کی وجہ سے اِن متحدوں کی بد گمانی میںاضافہ ہوا۔ اس معاہدہ پر ہونے والی شدید مخالفت کے باوجود معاہدہ پر عمل درآمد ہوگیا۔ برطانیہ اور فرانس نے عملی طورپر (سائکس۔ پیکوکے) معاہدہ کے متن پر بر محل اور بروقت اجراء کردیا۔ اور عثمانی شہنشاہیت کی وراثت، جنگ کے بعد، سرپرستی یا پھر برطانیہ اور فرانس کے تسلط کے سبب انھیں دونوں کے ہاتھ لگ گئی۔ صرف بین النہرین کا وہ علاقہ جو بعد میں برطانیہ کی حمایت سے ایک مستقل ملک ''عراق'' کے نام سے وجود میں آگیا۔ اسی وجہ سے برطانیہ اور فرانس کے درمیان شدید اختلاف وجود میں آگیا، لیکن برطانیہ نے فرانس کو عراقی مٹی کے تیل کی کمپنی میں٢٥٪ حصہ دیکر فرانسوی اعلیٰ عہدہ داروں کے اختلاف کو کسی طرح رفع و دفع کردیا۔ (مترجم: فرہنگ جامع سیاسی، ص٥٤٨ و ٥٤٩)

(٢) اعلان بالفور جو دنیا میں پہلی یہودی حکومت تشکیل پانے والے دن کے عنوان سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اور وہ برطانیہ کے وزیرخارجہ( Lord Balfur ) کاایک خط ہے جو پہلی عالمی جنگ میں بعنوان ( Lord Roathslead ) جو برطانیہ کے صہیونی ادارہ کا صدر ہے، جس کے ضمن میں برطانیہ کے وزیر خارجہ نے (فلسطین میں یہودیوں کے لئے وطن کی داغ پیل ڈال دی) اور اس غاصب حکومت کا اعلان کردیا۔ اس خط کے روانہ کرتے ہی بلا فاصلہ مورخہ ٢ نومبر ١٩١٧ء کو لارڈ روتھسلیڈ نے ( Lord Roathslead ) یہودیوں کی فلسطین میں منظم طور پر منتقلی شروع کردی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں ان دونوں جنگوں کے فاصلہ کے دوران، اس وقت فلسطین میں بسنے کے بعد، یہودیوں کی تعداد ستّر ہزار سے بڑھ کر ساڑھے چار لاکھ افراد تک پہونچ گئی۔ آخر کار ١٩٤٨ء میں اسرائیل کے حکومت بننے پر تمام ہوئی (یعنی اسرائیل کی نامشروع غاصب حکومت وجود میں آگئی) ''مترجم: جامع سیاسی، ص١٦٤ و ١٦٥''


١٩١٧ء میں وجود میں آیا، اوراس معاہدہ پر استوار ہے کہ فلسطین میں صیہونی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔

اگر ہم یہ تصور کریں کہ رونما ہونے والے یہ تمام کے تمام حوادث پہلے سے بغیر کسی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت یہ سب حادثات اچانک وجود میں آگئے ہیں، تو یہ بہت ہی بچکانہ اور بیوقوفی محسوب ہوگی اور ہماری سادہ لوحی اور نا سمجھی کہی جائے گی۔ اگر ہم یہ تصور کریں کہ ان کی ساری کوششیں صرف اس بات پر رہی ہیں کہ اپنے ملک میں صنعت اور ٹکنالوجی کو لانا ہے اور صرف ترقی یافتہ علمی مہارت کا قیام عمل میں لانا مقصود ہے۔ اور اپنی تحقیق و مہارت کو بروئے کار لا کر اس سے صحیح استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات بہت ہی نا مناسب ہوگی۔

یہ حکومت کے اعلیٰ عہدہ دار لوگ، تبدیلی و تحول نیز جدت پسندی کے بہانہ سے درج ذیل چیزوں کو نابود کرنا چاہتے ہیں:

(١) عربی رسم الخط اور اس کے حروف۔

(٢) فصیح عربی زبان۔ (چونکہ عوامی زبان لکھی اور پڑھی نہیں جاتی، اس سے کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں تھا، لہٰذا اس زبان کو ختم نہیں کیا۔)

(٣) اسلامی پردہ۔

(٤) قضاوت شرعی اور اس کے مطابق حکم دینا۔

(٥) حلال و حرام میں اقامۂ حدود الٰہی۔

(٦) اخلاق اور آداب (اسلامی)۔

اور دوسرے بہت سارے امور کے خلاف کمر بستہ ہو کر ساری طاقت کے ساتھ عملی طور سے مقابلہ کرنا شروع کردیا۔

انتظامی صلاحیتوں کے مالک افراد مختلف اسلامی ممالک کے دانشوروں اور ادیبوں کی ایک جماعت بھی انھیں حکام اور اعلیٰ عہدہ داروں کی جی حضوری میں مشغول ہو گئی اور آشکارا طور پر مسلمانوں کو مغربی بنانے، عالم اسلام کو مغربی سامری کے بچھڑے سے وابستہ کرنے اور ملت اسلامیہ کو اپنے ماضی اور اپنی تاریخ سے بالکل جدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تمدن اور تہذیب و ثقافت سے بالکل محرومیت کا احساس کر رہے تھے، اس کے نتیجہ میں یہ لوگ احساس کمتری کا شکار ہو گئے تھے۔ (بالکل ویسے ہی جیسے ان کے پاس سے تہذیب و ثقافت نام کی کسی چیز کا گذر تک نہ ہوا ہو جب کہ اسلامی تہذیب تمام تہذیبوں سے بہتر اور بہت ہی اعلیٰ ثقافت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ وائے ہو! ایسی عقلوں پر جو اسلامی ثقافت کو برا اور ناکافی سمجھتے ہیں۔ مغربی تہذیب کی طرف ترجیح دینے کی ہوڑ اور علانیہ طور پر مغربی تہذیب کی دعوت دینے میں پیش پیش رہنے والے لوگوں میں سر فہرست ایسے افراد موجود ہیں جن کا شمار مفکرین، مصنفین، صاحبان نظر اور صاحبان قلم میں ہوتا ہے۔ مترجم)


صاحبان قلم اور مفکرین مغرب پرستی میں پیش پیش

مغربی تہذیب کی طرف جھکاؤ اور اس کی طرف دعوت دینے اور ان کے دامن میں پناہ لینے کی تشویق کرنے والے قافلہ میں، صاحبان قلم اور ادباء کے ایسے محترم چہرے سامنے آئے جنھوں نے اپنی دعوت کو کتابوں، تصنیفوں، تحریروں اور اپنے ادبی آثار کے ذریعہ قوت بخشی (بلکہ اپنی تحریروں کو اجانب کے نام وقف کر دیا۔) میں اس مقام پر (اس بحث میں) ان افراد میں سے کچھ کی طرف اشارہ کر رہا ہوں: تاکہ اس نسل کے جوان، اس بات سے بخوبی آگاہ ہو جائیں، کہ کس قدر رہبران کفر، عالمی استکبارا ور سامراج کے کالے کرتوت، ان کی قدرت اور حیثیت کتنی زیادہ ہے جس کو امت اسلامیہ اور اس کی تہذیب و ثقافت کے خلاف، اس نسل سے پہلے والی نسلوں کے لئے، کن کن دسیسوں، حیلوں اور اپنی چالوں کو بروئے کار لائے اُن سب کو اچھی طرح سے پہچان لیں۔ (سوچ سمجھ کر کوئی مناسب قدم اُٹھائیں۔ مترجم)

ڈاکٹر طہ حسین اور مغربی تہذیب کی دعوت

عرب سماج میں کچھ مصنفین اور قلم کاروں نے مغربی تہذیب کی طرف میلان کا اظہار کیا، جن میں ڈاکٹر طہ حسین کا نام پیش پیش اور سر کردہ لوگوں میں لیا جاتا ہے؛ ڈاکٹر طہ حسین کی شخصیت اتنی عظیم اور بلند ہے کہ عربوں کے درمیان اس مصری صاحب قلم کا نام ادبیات عرب میں تکیہ گاہ اور ریڑھ کی ہڈی نیز سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

''ڈاکٹر طہ حسین'' نے مغربی (انگریزی)تہذیب و تمدن اور ثقافت کے متعلق اپنے اشتیاق اور عشق کو بڑی ہی بے صبری سے ظاہر کرنا چاہا ہے، اس حد تک کہ جب یہ اپنے وطن یعنی اپنے ملک مصر پلٹ کر آئے تو اپنے یہاں کے لوگوں کو اسلامی تہذیب و ثقافت یعنی اپنی ہی تہذیب سے دوری اختیار کرنے پر زور دینے لگے۔ مغربی تہذیب کے اختیار اور اس کے قبول کرنے نیز ان (انگریزوں) کے قدموں میں پناہ لینے کی تلقین کرنے میں مشغول رہے؛ اچھے برے اور تلخ و شیریں غرض کہ انگریزوں کی تمام چیزوں کو قبول کرنے اور ان سب کو اپنانے کی مستقل دعوت دیا کرتے تھے۔


ڈاکٹر طہ حسین صاحب نے اپنی کتاب ''مستقبل الثقافة فی مصر''(١) میں لکھا ہے: ''ہمارے (مالدار طبقہ کی) مادی زندگی خالص مغربی اور یورپی تہذیب و تمدن کے عین مطابق ہے، گویا ہمارے مالداروں کی مادی زندگی میں انگریزی ثقافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اور دوسرے مختلف طبقات کا معیار زندگی اُن کی قدرت کے اختلاف، گروہوں کے معیار زندگی نیز مالی اعتبار سے ان کی معاشرہ میں حیثیت نیز مالی تمکن اور قدرت کے اعتبار سے یورپ کی زندگی سے کم و بیش قریب ہے۔ ''ڈاکٹر طہ حسین صاحب''کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عام مصری لوگوں کا مثالیہ اور نمونہ ( Ideal ) وہی تہذیب ہے جو یورپ برادری کی مادی زندگی سے مطابقت رکھتی ہے۔ لہذا ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم انگریزی اور مغربی تہذیب کو اپنی زندگی کا جز بنا لیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لیں۔ اسی طرح ہماری معنوی اور روحانی زندگی بھی اپنے مختلف رنگ و روپ میں بعینہ یورپ ہی (مغربی) کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ ہمارا حکومتی نظام بھی مغربی طور و طریقہ کے مطابق ہے۔ ہم نے اس کو بلا شک و شبہہ مغربی اور انگریزی نظام ہی سے اخذ کیا ہے۔ اگر اس زاویہ نگاہ سے ہم اپنی ہی بعض چیزوں پر اعتراض کرنا شروع کردیں تو بلا شبہہ حکومتی اور سیاسی زندگی میں ہماری ڈھیل ہی کے سبب انھوں (انگریزوں) نے اس ثقافت کو حاصل کرنے میں ہم پر سبقت حاصل کرلی ہے اور ہم اس دوڑ میں ان لوگوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ (لہٰذا ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان سے پہلے ہی اس راستہ کا اتخاذ کر کے اس پر گامزن ہو جائیں۔)

____________________

(١)مستقبل الثقافة فی مصر، ص٣١سے ٣٦ تک۔


ہم گذشتہ صدی سے اپنی بنیادوں اور تعلیمی و تربیتی نظام کو خالص مغربی طور طریقہ پر استوار کئے ہوئے ہیں، اس میں کسی قسم کے شک و شبہہ اور چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

بلا شک و شبہہ اسی لئے ہم اپنی اولاد کو تعلیمی نظام کے ہر مرحلہ (ابتدائی، متوسطہ اور عالی) میں مغربی انداز سے ان کی تربیت اور پرورش کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم ہر میدان میں انکی ترقی اور برتری کو اپنی آنکھوں سے مشاہد ہ کر رہے ہیں۔''

اس وقت '' ڈاکٹر طہ حسین'' اس نتیجہ پر پہونچے کہ یہ تمام چیزیں اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اس نئے دور و زمانہ میں، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم ہر روز اس سے پہلے والے دن کی بہ نسبت طاقتور ہوتے چلے جائیں اور اتنی ترقی کریں کہ یورپ والوں (انگریزوں) کے برابر ہو جائیں، تاکہ حقیقی معنوںمیں بالکل انھیں کا جزء اور ان کے پیرو کار قرار پا جائیں۔(١) (سلام ہو! ایسی عقل پر اور تف ہو ایسے انسانوں پر جو حد درجہ کے احساس کمتری کے شکار ہو گئے ہیں اور اسلام کے اس آب زلال اور صاف و شفاف چشمہ سے دور بھاگ رہے ہیں۔ مترجم)

''ڈاکٹر طہ حسین صاحب'' کے نزدیک یہ مسئلہ، بالکل واضح اور شفاف ہے، اس میں شک و شبہہ اور چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انھوں نے ہر وہ چیزیں جو یورپ کی جھولی میں موجود ہیں ان تمام چیزوں کی کامل پیروی کے لئے مسلمانوں کو دعوت دی ہے، علم، صنعت و ٹکنالوجی اور صرف معماری کے ہنر اور آرٹ ( Art ) وغیرہ میں ہی یورپ

____________________

(١)مستقبل الثقافة فی مصر، ص٣١سے ٣٦ تک۔


والوں کی پیروی نہیں کرنا چاہئے، بلکہ وہ (ڈاکٹر طہ حسین صاحب) مغرب کی تمام امور میں کامل پیروی اور ہر لحاظ سے اسلامی تہذیب، تاریخ و تمدن اورتا ریخ میں گہری جڑیں رکھنے والی وراثت اور ہمارے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے بھی ہم کو جدا کرنے کی پوری کوششوں میں مشغول رہے ہیں، تاکہ لفظی اور معنوی اور ان کی اصلیت (ماہیت اور حقیقت) کے اعتبار سے ہم ان کا عوض اور بدل قرار پاسکیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر طہ حسین صاحب کہتے ہیں: نظریہ، فکر اور سوچ، نتیجہ اخذ کرنے اور حکومت داری کے طور طریقہ کے اعتبار سے بھی ہمارے لئے مناسب ہے کہ ہم انھیں کے جیسے ہو جائیں۔ (یعنی یورپ برادری کے طور طریقہ کی تأسی کرکے بطور کامل ان کے پیرو ہو جائیں۔)اس بنا پر، صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ہماری زندگی یورپ والوں کے طور طریقہ پر استوار ہو جائے، بلکہ ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ زاویۂ نظر، درک؛ اپنی سمجھ، تحلیل تجزیہ، پرکھ، اور جانچ پڑتال کے معیار کے اعتبارسے بھی، انہیں کے ایسی زندگی بسر کریں؛ اس طرح کی زندگی جس طرح یورپ والے اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔ (جناب ڈاکٹر طہ حسین کے خیال کے مطابق) یہ بھی ضروری ہے کہ دینی اور مذہبی تمام امور میں بھی انھیں کا کاملاً اتباع کیا جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سبھی امور میں یورپ والوں کے طور طریقہ پر گامزن رہیں اور کاملاًا ن کے تابع ہو جائیں۔ حتیٰ زندگی کی راہ و رسم اور معاشرہ کے میل جول کے مختلف انداز، طور طریقوں، نشست و برخاست مختلف اقدامات اور وہ امور جو اُن (انگریزوں) کے لئے نا پسندیدہ ہیں ان میں بھی ہم کو ان کے چشم و ابرو کے اشارہ پر چلنا چاہئے۔


اگر ان سب باتوں کو ''عرب کے بہت بڑے ادیب'' کی جانب سے آپ (قارئین کرام) کو اس بات کا یقین نہ آرہا ہو تو میری زبان سے ''مستقبل الثقافة فی مصر'' (مصر میں ثقافت کا مستقبل) کی چند سطروں کو ملاحظہ کرکے غور و خوض کے بعد مطالعہ فرمائیں:

''ہم پر یہ لازم ہے کہ یورپ والوں کے طور طریقوں ان کی ہدایات اور صرف ان کے بتائے ہوئے راستہ پر چلیں یعنی ان کی راہ و روش کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دے لیں، تاکہ تہذیب و تمدن میں یورپ والوں کے برابر اور ان کے دوش بدوش رہ سکیں۔ ان کی اچھائیوں اور برائیوں، ان کے خوش گوار و ناخوش گوار مواقع اور جو چیز بھی ان کے لئے پسندیدہ اور ناپسند ہے، نیز جس چیز کی وہ تعریف کرتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں، ان تمام چیزوں کے بارے میں ہم پر یہ لازم ہے کہ اہل یورپ کو یہ بتادیں: ہم تمام چیزوں کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے وہ دیکھتے ہیں ویسے ہی ہم بھی جانچ پڑتال، چھان بین اور تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں جیسے وہ لوگ اپنی زندگی کے مختلف امور میں فیصلہ کر تے ہیں ہم بھی ویسے ہی فیصلہ لیتے ہیں۔''(١)

اب ''ڈاکٹر طہ حسین'' کے تذکرہ کو یہیں پر روک دیتے ہیں، اور اب ہم ایک، دوسرے ایسے دانشور کا تذکرہ کر رہے ہیں جس کا تعلق ترکی کی سر زمین سے ہے۔

____________________

(١)مستقبل الثقافة فی مصر، ص٤١سے ٤٤ تک۔


ضیا کوک آلب

وہ بھی مغربی تہذیب و تمدن (مغربی رجحان) کی طرف دعوت دینے والے لوگوں میں آگے آگے نظر آتے ہیں۔ یہ ''جدید ترکی'' کے قانون گذار اور اس کے قواعد و ضوابط بنا نے اور اس کی نوک پلک ٹھیک کرنے والے ہیں، یہ ایسے واحد شخص ہیں، جن کے بارے میں امریکی پادری ''ہیرولڈ اسمتھ ''( Harolld Smith )کہتا ہے: ضیا کوک آلب اسلامی تہذیب و تمدن سے بالکل دور کردینے والا اور لوگوں کو مغربی (انگریزی) تہذیب و ثقافت کے پیروں میں ڈال دینے والا پہلا مسلم رہبراور ہیرو ہے۔''

ہندوستانی اہل قلم'' سید ابو الحسن ندوی'' نے اس کے بارے میں یوں تحریر کیا ہے: ''ضیا کوک آلب نے بڑی ہی قدرت اور صراحت کے ساتھ صاف صاف اور واضح الفاظ میں ترکی کو اپنے ماضی قریب سے جدائی، اور خالص وطن پرستی کی اساس پر پیش کرنا چاہا، مغربی تہذیب و تمدن کو اس اعتبار سے برتری دینے لگا اور یہ راگ الاپنے میں مصروف ہو گیا کہ یہ (انگریزی تہذیب) جمہوریۂ ترکی کی ہی قدیمی تہذیب اور اسی کی ثقافت کا ہی ایک حصہ ہے۔ (اس کے زعم ناقص میں) ترکوں نے بھی اس ثقافت کو دنیا والوں کے سامنے پیش کرنے اور اس کی حفاظت میں اساسی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے۔ اس (ضیا کوک آلب) کے مقالات میں سے ایک مقالہ میں اس طرح آیا ہے: مغربی تمدن اور تہذیب و ثقافت دریائے مڈیٹرانہ کے آس پاس رہنے والوں کے تمدن ہی کی بقا کا نام ہے، سومری اور فینقی کے خانہ بہ دوش اور بادیہ نشین ترک اس تہذیب کے بانی تھے، جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے:


دور حاضر سے پہلے والے دور (یعنی دور قدیم) کوعصر وحشت کے نام سے یاد کیا گیا ہے... ایک لمبے عرصہ کے بعد آنے والے مسلمان ترکوں نے اس تہذیب و ثقافت اور تمدن کو ترقی دی، انھیں لوگوں (ترکوں) نے یورپ والوں میں اس تہذیب اور اپنے قدیمی تمدن کو منتقل کر دیا۔ اسی بنا پر ہم ترک لوگ اپنے آپ کو یورپ ہی کی تہذیب و ثقافت اور تمدن کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ اس تہذیب و ثقافت اور تمدن کو وجود بخشنے میں ہمارا بنیادی اور کلیدی کردار رہا ہے۔''(١)

''ضیا کوک آلب'' نے مغربی تمدن اور تہذیب و ثقافت سے وابستہ ہونے کے اسباب و عوامل اور مغربی (انگریزی) تمدن کی طرف لوگوں کو اس طرح مائل کر دینا، دین و مذہب سے جدائی اور کنارہ کشی کا باعث نہیں ہے۔ اس نے اس کے ضمن میں اس طرح لکھا ہے: ''جب بھی کوئی قوم و ملت کوئی بڑا اقدام کرے اور وہ رشد و ترقی کی طرف زبر دست چھلانگ لگائے تو اس پر یہ لازم ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت میں تبدیلی پیدا کرے۔

____________________

(١)الصراع بین الفکرة الاسلامیة والفکرة الغربیة، ص٤١و٤٢، ماخوذ از:

( Turkish and Western Civilization,pg:۲۹۷ )


چونکہ یہ ترک لوگ ایشیا کے وسطی علاقہ میں زندگی گذار رہے تھے شروعات میں یہ لوگ مشرق بعید سے نزدیک ہوئے اور اس ہنگام میں جب کہ عثمانی شہنشاہیت کا خاتمہ ہوگیا تو بیزانس (مشرقی روم) کے علاقہ میں وارد ہوگئے، فی الحال اپنی جمہوری اور عوامی حکومت نے ان کے منتقل کرنے کی صورت میں مغربی ثقافت اور تمدن کے قبول کرنے کا پختہ اور مصمم ارادہ کر لیا ہے۔''(١)

اس (ضیا کوک آلب) کی نظر میں دین اور تمدن میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا، یا تمدن کا دین سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر چہ اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ لوگ مختلف رنگ و روپ اور ادیان کے حامل ہو جائیں اور وہ ایک ہی تمدن اور تہذیب و ثقافت کو اختیار کرلیں جس سے دوسرے افراد وابستہ ہوں۔

ضیا صاحب نے یہاں تک لکھ دیا ہے:'' اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ عوام الناس مختلف ادیان کے پیرو ہوں، اس کے باوجود وہ لوگ ایک ہی تہذیب و تمدن کے حامل ہو سکتے ہوں۔ کسی بھی تہذیب اور ثقافت کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں عیسائی اور اسلامی تہذیب و ثقافت علیٰحدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ مغربی تمدن کو عیسائی تہذیب و تمدن کا نام دے دیا جائے، بالکل اسی طرح یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ شرقی تہذیب و ثقافت اور تمدن کو اسلامی تہذیب اور تمدن کا نام

____________________

(١)الصراع بین الفکرة الاسلامیة والفکرة الغربیة، ص٤٢، ماخوذ از:

( Turkish and Western Civilization,pg:۲۹۷ )


دے دیا جائے'' وہ اپنی اس تعبیر کو ثابت کرنے کے لئے بطور مثال روس کے تمدن کو پیش کرتا ہے کہ وہ بیزانس کی تہذیب اور اس کے تمدن سے جدا ہوگیا اور مغربی تہذیب کا گرویدہ ہوکر اسے قبول کر لیا:

''پطر کبیر نے روس کے عوام الناس کو بیزانس کے تمدن کے تسلط سے نجات دلانے کی تحریک مبارزہ اور روس کے لوگوں کو مغربی تمدن کی طرف دعوت دینے میں، بہت زیادہ سختیاں اور مصیبتیں برداشت کیں۔ اس طرح اس انقلاب کے بعد، روس کے لوگوں نے بہت تیزی کے ساتھ ترقی کی جانب فعالیت کے سفر کا آغاز کر دیا۔ (یعنی دن دونی رات چوگنی ترقی کے ارتقائی سفر کو تیزی سے طے کرنا شروع کردیا۔ مترجم) یہ معاشرتی حقیقت اس نکتہ کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ صرف مغربی تہذیب و تمدن ہی ارتقاء اور کامیابی کی شاہ راہ پر رواں دواں ہے اور اثبات مدعا کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے، مزید کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔(١)

____________________

(١)الصراع بین الفکرة الاسلامیة والفکرة الغربیة، ص٤٣و٤٤، ماخوذ از:

( Turkish and Western Civilization,Pg:۲۷۰-۲۷۵ )


سر سید احمد خاں

(سر) سید احمد خاںصاحب یا سید احمد خان متقی دہلوی صاحب (١٢٣٢ ہجری قمری مطابق ١٣١٥ شمسی) ہندوستان کے مسلم دانشور اور'' محمڈن انگریزی اسکول'' ( College ) کے بانی ہیں، جس کو اس محترم دانشور نے ١٨٧٥ء میں تاسیس کیا۔ جیسا کہ خود ہی اس طرح کہتے ہیں: میں نے اس ''جامعہ'' ( University ) کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ مغربی تہذیب و ثقافت سے متأثر اسلام نو کی ترویج کر سکوں، یہ وہی''دانش گاہ'' ( University ) ہے، جس کو اسلامی یونیورسٹی علی گڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سر سید احمد خاں دہلوی کا شمار بھی انھیں صف او ل کے مغربی رجحان کی طرف دعوت دینے والوں میں ہوتا ہے، جنھوں نے (عوام الناس) کو اسلامی تہذیب اور ثقافت سے دور کیا ہے، اور مغربی تمدن کی گود میں پناہ لینے کے لئے، ہمیں اس کی طرف دعوت دی ہے۔

انہوں(سر سید احمد خاں) نے اس طرح تحریر کیا ہے:''مسلمانوں پر لازم اور ضروری ہے کہ مغربی تہذیب و تمدن کو پورے طور سے قبول کرنے میں اس کی بہ نسبت اپنے اشتیاق اور رغبت کا اظہار کریں۔ ایسا کام انجام دیں جس سے مہذب اور متمدن (فرنگی) لوگوں کی نظر میں، خوار و ذلیل قرار نہ پائیں اور متمدن اور تہذیب یافتہ کہے ( Civilized ) جائیں۔''(١)

''سر سید احمد خان دہلوی'' اپنی کتاب'' احکام طعام أہل الکتاب'' میں لوگوں کو انگریزوں اور یورپ والوں کے طرز زندگی اختیار کرنے اور ان کے جیسا ہو جانے نیز انگریزوں کے اخلاق و عادات کے مطابق زندگی گذارنے کا شوق دلاتے ہیں۔(٢)

____________________

(١)الصراع بین الفکرة الاسلامیة والفکرة الغربیة، ص٤٣ و ٤٤، ماخوذ از:

( Turkish and Western Civilization, PP.۲۷۰ - ۲۷۵ )

(٢)الصراع بین الفکرة الاسلامیة والفکرة الغربیة، ص٧٣۔


قاسم امین(١)

قاسم امین صاحب کا شمار عریانیت کی طرف دعوت دینے والوں اور پردہ سے مطلق آزادی بنام آوارگی کے دعویداروں میں ہوتا ہے، جو مغربی تہذیب و تمدن سے وابستگی اور اس کو ہر قیمت پر قبول کرنے کی مصرانہ دعوت دیتا اور اسی تہذیب میں گھل ملکر اس (انگریزی تہذیب و ثقافت) میں فنا ہو کر بالکل ویسے ہی ہو گیا تھا۔ اس نے اپنی کتاب ''المرأة الجدیدة'' (عصر حاضر کی خاتون) میں لکھا ہے:''اور یہ وہی درد ہے جس کے علاج کے لئے ہمیں لازم اور مناسب اقدام کے لئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے، اس لئے کہ اس درد کی کوئی اور دوا نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ ہم اپنے بچوں کو مغربی تہذیب و تمدن کے اعتبار سے ان کی شناخت کرائیں اور اس کے متعلق ضروری آگاہی فراہم کرائیں اور اصول و فروع کے تمام امور میں مغربی تمدن کی اساس اور اس کے معیار پر اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ اب وہ وقت آگیا ہے (مجھے امید ہے کہ دیر نہیں لگے گی) جب حقیقت اپنے آپ دمکتے اور چمکتے سورج کے مانند ہماری نظروں کے سامنے آشکار ہوجائے گی، اس وقت ہم مغربی (انگریزی) ثقافت اور تہذیب و تمدن کی اہمیت کو بخوبی سمجھ لیں گے نیز ہمیں یقین حاصل ہو جائے گا کہ

____________________

(١)قاسم امین بیسویں صدی کے نصف میں ان عرب مسلمانوں میںایک ایسا پیش قدم انسان ہے جو مغربی تہذیب و تمدن کے رجحان کارواج دینے والا اورپورے معاشرہ کو اس کی طرف دعوت دینے والا ہے۔ اس نے پہلی مرتبہ اسلامی دنیاوی رجحان کے قوانین اور قواعد و ضوابط تدوین کئے ہیں اور ان کو انتزاعی اور احتیاط کے طور پر نہیںجاتاہے، بلکہ ان قوانین کو معاشرہ کے حیاتی مسائل کے عنوان سے بنا کران کو بیان کیا ہے۔ قاسم امین کی نظر میں، عقل، علم کی حکایت کرتی ہے اور عقل کا فائدہ تب ہے جب وہ سماج اور معاشرہ کی بیماریوں اور اس کے تمام جوانب اور پہلوؤںسے، اس کے علاج کے لئے اپنے خاص اورذاتی تدبیروںکو ڈھونڈھ نکالے اور اُن کوبروئے کارلائے۔اس نے اپنی کتاب ''اَلْمَرْأَةُ الْجَدِیْدَةُ '' (دور حاضر کی خاتون) میں یہ اعلان کردیا کہ صرف علم ہی حقیقت اور فائدہ کے حصول کی اور فائدہ کے حصول کی مفید و معتبربنیاد، اور اس کی وہ با عظمت چیزوں کی واحدنشانی ہے۔ ''امین'' انیسویں صدی کے دوسرے اورمغربی دانشوروںکی طرح ہر موجود کو مشاہدات کے ذریعہ ثابت کرنے والوں کا حامی اوربالکل انھیںکے جیسا نظریہ رکھتا تھا کہ اسلامی معاشرہ کی نجات، ان کی نادانی اور جہالت پر قابو پاکرجہالت اور نادانی اس کو دور کرنے میں ہے، اور علم کی وسعت اس کی وضاحت اور عوامی سطح پر اس کو پھیلانے اور اس کورواج میں ہے۔ امین کے لادینیت کے نظریہ کے مطابق، خیر، ایسی چیز ہے جس کو عموماً عملی طور پردیکھاجاسکتا ہو یعنی اس کے عمل کے اعتبارسے اس کا مشاہدہ فطری ہے۔ کجا اس کے وجود کی حقیقت اور معنوی یا اخلاقی حالت۔ احتمالاً وہ پہلا روشن فکرمسلمان ہے جس نے علانیہ طور پر اعلان کردیا: '' کہ واقعی آزادی کے حامل ملک میں، کسی کے لئے بھی خدا اور اس کے پیغمبروں کے انکار کردینے اوران کے نہ ماننے پر ملک بدر کر دیا جائے یہ کسی کے لئے زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک شخص کواس کے وطن سے نکال دے، یا پھر وہاں کے لوگوں کے رسم و رواج اور آداب و قوانین سے ہراساں رہے امین اس بات کے قائل ہونے پر مجبور ہوگیا تھا کہ معاشرہ میں ''دائمی اورنا محسوس تبدیلی حاکم ہے'' اور یہ چاروں قدرتیں اور طاقتیں اس تبدیلی کے طریقہ اور انداز اوررویہ کوتعیین کرتی ہیں: فطری ماحول، ایک دوسرے سے وراثت حاصل کرنا، یا قومی حالات کی فراہمی، معاشرہ سے حشر و نشروعلمی تحقیقات اورمختلف نئی نئی ایجادات۔(روشن فکران عرب وغرب، ہشام شرابی، ترجمۂ عبد الرحمٰن عالم سیاسی مطالعات کا بین الاقوامی دفتر، طبع اول، تہران ١٣٦٨ ھ شمسی مطابق ١٩٨٩ء ص ١٠٤سے ١٠٨ تک) ۔


فی الحال جو ہمارے حالات ہیں، ان کے رہتے ہوئے شمہ برابر اصلاح کا امکان نہیں پایا جاتا، مگر یہ کہ ہمیں روز مرہ کا جدید علم حاصل ہو جائے؛ انسانوں کے نت نئے اور مختلف، رنگ برنگے امور، چاہے وہ مادی ہوں یا ادبی، قدرت علم کے تابع، اور اس کے دست نگر ہیں۔ اسی وجہ سے ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں، کہ مہذب لوگوں کے درمیان ہر چند قومیت، لسانیت، جنسیت، خاندان اور دینی اعتبار سے گو ناگوں اختلافات کے با وجود ، حکومت کی ماہیت اور اس کے انتظام و انصرام نیز اس کی دیکھ ریکھ، عدالتوں، محکموں اور اداروں میں، اور ان گھرانوں کی تربیت کے طریقۂ کار میں بہت زیادہ شباہت پائی جاتی ہے۔ اور یہ سب، وہی چیزیں ہیں جو ہم کو اس بات کے لئے تیار کرتی ہیں کہ ہم یورپ والے اور ان کے اصول و قواعد اور ضوابط اور اس کی تدوین کے صحیح او ر مناسب طور طریقے، بلکہ بہت ہی ابتدائی اخلاق، اطوار، آداب اور اعمال و رفتار یہاں تک کہ لباس پہننے کے طریقے، ایک دوسرے کی احوال پرسی، کھانے پینے کی راہ و روش وغیرہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں، یہ وہی خیر ہے جو ہم کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ ہم یورپ والوں کی کامل پیروی کریں اور اپنے ذوق و شوق اور جدید رسم و رواج میں یورپ کی عورتوں کو نمونۂ عمل قرار دیں۔''(١)

____________________

(١)المرأة الجدیدة ص١٨٥و١٨٦ ، ندوی کی کتاب ''الصراع'' سے ماخوذ ص١٠٩و١١٠۔


سید حسن تقی زادہ

سیدحسن تقی زادہ کا شمار ایران کی تحریک مشروطیت کے رہبروں میں ہوتا ہے۔ یہ تحریک، قاچاری حکومت کے آخری دور میں، قاچاری بادشاہوں کے ظلم و استبداد سے مقابلہ کرنے کی غرض سے، اسلام سے قریب یا پھر اسلامی دائرہ کے اندر آزاد حکومت بنانے کے لئے مشروطیت کا قانون پیش کی، اگر تقی زادہ کی جولان فکری کو سیاست سے جدا کرنا اور مغربی انداز کی آزادی خواہ حکومت بنانا مقصود نہ ہوتا تو ایسی حکومت اسلام سے کوئی منافات نہیں رکھتی، ان (تقی زادہ) کا شمار تحریک مشروطہ کے رہبروں میں ہوتا ہے اور ان کا اعتقاد یہ تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن ، انسانی فضیلتوں کی چوٹی پر واقع ہے، لہٰذا ہمیں اس کی تقلید و تأسی اور اسی کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا چاہئے۔(١)

دوسرے دورہ میں قومی مجلس (پارلیمان) کی فعالیت کے تحت، تقی زادہ نے اپنے بعض دوستوں(٢) کے تعاون سے، ''آزادی خواہ پارٹی'' کی بنیاد ڈالی۔آزادی خواہ

____________________

(١)اوراق تازہ یاب مشروطیت ونقش تقی زادہ (مشروطیت کے تازہ یاب اوراق اور اس میں تقی زادہ کا اہم کردار) ایرج افشار،ص٦٨۔

(٢)مثال کے طور پر، سلیمان میرزا، حسین قلی خان نواب، وحید الملک اور سید محمد رضا مساوات ۔


پارٹی یا '' فرقۂ آزادی خواہ'' ایران کی پہلی سیاسی پارٹی(١) تھی جس نے برطانیہ سے بہت اچھے روابط بنا رکھے تھے، اس کے مختلف شہروں میں ان کے کارندے ایرانی عوام کو اس پارٹی میں شامل ہونے کے لئے تشویق و ترغیب دلا رہے تھا۔(٢)

اس پارٹی کے منظور اور طے شدہ اہم ترین ابتدائی اصول میں سے یہ ہے کہ دین کا سیاست سے بالکل جدا اور الگ تھلگ رہنا، نیز سیاست کے میدان میں علماء کا بالکل دخل اندازی نہ کرنا،(٣) اور اس پارٹی کی وابستگی کے شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ دینی راہنما اور علماء سے بالکل نسبت نہ رکھتا ہو اور اسی طرح دینی اور اسلامی امور کے فروغ دینے میں مشغول نہ ہو۔(٤)

تقی زادہ کا شمار آزادی خواہ پارٹی کے سرسخت ترین حامیوں میں ہوتا ہے ؛ نیز ان کا شمار قومی مجلس کونسل کے اہم رہبروں میں ہوتا تھا۔

اس کے با وجود کہ یہ (سید حسن تقی زادہ) اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میںعمامہ سے ملبس تھا اور اس کا شمار دینی مدارس کے فارغ التحصیل لوگوں میں ہوتا تھا، یعنی ظاہراً روحانی تھا پھر بھی اس کا اعتقاد یہی تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن کے سامنے سر تسلیم خم کر کے؛ با

ادب اپنا ماتھا ٹیک دینا ضروری ہے اور اس بات کا بھی قائل تھا کہ مغربی تمدن اور ثقافت کو

____________________

(١)اوراق تازہ یاب مشروطیت ونقش تقی زادہ ص٣٤٩۔

(٢)ایران کے سیاسی احزاب کی مختصر تاریخ، ملک الشعراء بہار، ج١، ص١٢۔

(٣)فراموش خانہ و فراماسونری در ایران، اسماعیل رائین، ج٢، ص٢٠٩۔

(٤)اوراق تازہ یاب مشروطیت ونقش تقی زادہ ص٣٥٢ و٣٦٠۔


عوام کے درمیان رواج دینے اور اس کو قبول کرنے کے حالات فراہم کئے جائیں۔ اس بارے میں اس نے ایک تقریر بھی کی ہے جو موجود ہے، جس کو اس نے ''مغربی تمدن کو اخذ کرنے اور اپنانے'' کے عنوان سے ایرانی سال کے مطابق، ١٣٤٠ھ میں مہرگان کی ورزشگاہ میں کی ہے۔(١)

١٩٢٠ء میں ''کاوہ'' نامی جریدہ کے ساتویں شمارہ میں اس کے ایک مقالہ کی طباعت ہوئی ہے، اس نے ہماری تاریخ میں دیرینہ اور گہری جڑوں والی تہذیب و ثقافت کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کیا ہے ۔(٢) و(٣)

مغربی تمدن کی طرف جھکاؤ اور اس کی طرف رجحانات، یہی سب وہ عوامل اور اسباب ہیں جو اس بات کا باعث ہوئے کہ حوزۂ علمیہ نجف اشرف میں اس وقت کے مراجع تقلید میں سے دو حضرات نے اس کو ''قومی مجلس کونسل '' سے اخراج کر نے اور اس کی جلا وطنی کا حکم دیا ہے؛(٥) یہی امر سبب بنا کہ اس کو ایران سے نکال دیا گیا۔

اس نے خاندان قاچار کا تختہ پلٹ جانے کے فوراً بعد، رضا شاہ پہلوی کے ایران کی شاہی حکومت پر تخت نشین ہوتے ہی وہ (سید حسن تقی زادہ) دوبارہ ایران پلٹ آیا۔

____________________

(١)فراموش خانہ و فراماسونری در ایران ، اسماعیل رائین ، ج٢، ص٢٠٩۔

(٢)تاریخ سیاسی معاصر ایران ، دکتر سید جلال الدین مدنی ج١، ص٣٦۔

(٣)تقی زادہ نے ١٩٢٠ء کے شائع ہونے والے جریدہ ''کاوہ'' کے ساتویں شمارہ میں اپنے مقالہ میں اس طرح تحریر کیا ہے : ''ایرانی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ بھی یونانیوں کی طرح دمکتی ہوئی ثقافت اور چمکتے ہوئے بہت ہی عالی تمدن اور مستقبل کے مالک ہیں، کہ اگر ان کیثابت شدہ تاریخی اور علمی حقایق کو سامنے پیش کردیا جائے تو اس میں بھی ایران نے علم و ترقی کے میدان میں کوئی خاص خدمت نہیں کی ہے۔ دنیا میں دوسری تمام اقوام کی طرح جن چیزوں کے وہ حامل بھی تھے اس میں بھی یونانی تمدن اور ان کے علم کے مرہون منت رہے ہیں ''۔(مترجم)

(٥)اوراق تازہ یاب مشروطیت ونقش تقی زادہ ص٢٠٧ اور اس کے بعد کے صفحات۔


تہذیب و ثقافت اور علم میں جدائی ناممکن

شاید یہاں پر مفید ہو کہ ایک حساس نکتہ کی طرف اشارہ کرتا چلوں، کہ مغربی تہذیب کی دعوت دینے اور اس کے رجحان کا رواج دینے والے افراد اپنی مذہبی اور ثقافتی وراثت سے ہاتھ اٹھا لینے کے بارے میں جواز تلاش کرنے کے لئے مغربی ثقافت اور تہذیب و تمدن کو اپنا سہارا بنا ر ہے ہیں، وہ یہ کہ جب تک ہم مغربی تمدن کو پوری طرح حاصل نہیں کر لیتے، اس کے تمام اسباب و عوامل کے ساتھ حاصل نہ کر لیں، ان کے علم و صنعت اور ٹکنالوجی کو ( Technology ) حاصل نہیں کر سکتے۔ جب تک مغربی لوگوں کی طرح سوچنے کی کوشش نہیں کریں گے، جب تک ہم مختلف اشیا کے بارے میں انھیں کی طرز فکر کے مطابق تصور کرنا شروع نہیں کریں گے ،جس طرح وہ (انگریز اور مغربی) زندگی گزارتے ہیں، اگر اسی طرح ہم اپنے آپ کو ان کے رنگ میں نہیں ڈھال لیتے ہیں تو کبھی بھی مغربی علم اور ان کی ٹکنالوجی سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے؛ مگر یہ کہ خدا وند عالم و جود ہستی بخش، انسان اور تمام اشیا کے متعلق ہماری فکریں، تصورات اور نظریات بالکل بدل دے، خلاصہ یہ کہ ہمارا کردار اور راہ و روش تہذیب، ثقافت اور تمدن سب کچھ مغربی طرز کے مطابق ہونا چاہئے۔


اس گمراہی اور انحراف کا واحد سبب جدت پسندی اور علم و ثقافت کو ایک دوسرے سے مخلوط کر دینے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔ اگر ہمارے کہنے پر یقین نہ ہو تو ''الثقافة ف المجتمع العرب'' میں ڈاکٹر کامل عیاد کی عبارت ملاحظہ فرمائیں۔ وہ اس طرح لکھتے ہیں: ''ہم مشینوں کے بنانے کے اعتبار سے ترقی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکتے مگر یہ کہ اس (مغربی تہذیب و تمدن) تہذیب و ثقافت کو لوگوں کے درمیان ہر ممکن اعلیٰ پیمانہ پر وسعت دیں۔(١)

اسی وجہ سے ایسے اسباب و عوامل تک رسائی، علم، دانش اور اس کو عملی طور سے جاننا، جیسا کہ وہ لوگ (انگریزی ثقافت کے حامل لوگ) کہتے ہیں ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے مگر یہ کہ ہم اپنے آپ کو بالکل مغربی تہذیب و تمدن کے قدموں میں ڈال دیں؛ چاہے ہم کو ا ن کی تہذیب اچھی لگے یا ہمارے اوپر بہت بار اور ناگوار ہو، اور جیسا کہ ''ڈاکٹر طہ حسین'' بڑی ہی بے شرمی اور بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''اس تمدن کی اچھی بری، تلخ و شیریں، پسند و ناپسند، لائق تعریف ہو یا کہ مذموم'' سبھی کو آنکھ بند کرکے ہمیں قبول کر لینا چاہئے اس لئے کہ بغیر اس عمومیت کے (تمام سطحوں میں مغربی تمدن کو اپنی زندگی کا جز بنا لینا) ہم اس علم دانش تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ جو ہمیں مغربی تہذیب و تمدن اور ان کی ثقافت تک پہونچا دے۔ ''ڈاکٹر کامل عیاد '' اپنی اسی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ''ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ نئی تہذیب و ثقافت،بلکہ رائج تہذیب یعنی مغربی اور انگریزی تہذیب اور ہمارے عقائد کے درمیان

____________________

(١)مستقبل الثقافة ف المجتمع العرب، ص١٦٥۔


کوئی تضاد و تعارض نہیں پایا جاتا۔ حقیقتاً بعض عربی ممالک کے منافع کی حفاظت کرنے والے افراد کے علاوہ جن کی تعداد حسن اتفاق سے اتنی کم ہے جن کو انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے، اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے تو آج کل کوئی بھی اس ضرورت کا منکر نہیں ہے کہ مغربی تہذیب و تمدن کو اخذ کرکے ان کے دکھائے ہوئے راستے پر چلا جائے۔

البتہ بعض ایسے گروہ بھی ہیں جو اپنے آپ کو ''میانہ رو'' گردانتے ہیں۔ ان لوگوں کی نظر میں مغربی تہذیب و تمدن کی صرف اچھی باتوں کو اپنی زندگی کے لئے منتخب کر لینا چاہئے، جو ہماری تہذیب، تمدن اور ثقافت سے مطابقت رکھتی ہوں انھیں پر اکتفا کرلی جائے اور جو ہماری تہذیب و ثقافت کے مخالف ہیں انھیں چھوڑ دیا جائے۔

اس نظریہ میں یہ ضعف پایا جاتا ہے کہ صفات کو مشخص اور جدا کر کے پیش کیا جائے اور وہ عقائد اور رسم و رواج جو مغربی ثقافت سے مخصوص ہیں ان سے بچا جائے اور یہ بہت مشکل امر ہے۔ اسی طرح سے وہ معیار جن کے ذریعہ مغربی تہذیب و ثقافت کے ''محاسن و معائب'' اچھائی اور برائی کو خوب جانچ پرکھ کر اس کی تشخیص دے لی جائے، اگر چہ اس کے بارے میں نظریات میں اختلاف ہے۔''(١)

مصنف نے، اس بات سے کہ محافظہ کاروں (مغربی تہذیب و تمدن ان کی طرز زندگی کے مخالف لوگ) کی تعداد روز بروز گھٹ رہی ہے، اس بات کے لئے انھوں نے بہت ہی خوشحالی کا اظہار کیا، اور یہ کہ اعتدال پسند لوگ ابھی تک مطلب کی تہہ تک نہیں پہونچ پائے ہیں ان کے لئے (مصنف نے) غم و اندوہ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

____________________

(١)مستقبل الثقافة ف المجتمع العرب، ص١٥١، حصوننا مھدّدة من الداخل سے منقول ہے ص١٤٨۔


ان لوگوں (مغربی اور انگریزی ثقافت کے دعوے دار) کے نزدیک سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ان کے پاس سنجش اور کسوٹی کا کوئی پیمانہ نہیں ہے جس کے معیار پر محاسن کو عیوب سے جدا کر کے ان کی شناخت کر سکیں۔ جب یہ کام اس منزل پر پہونچ گیا ہے تو بہتر ہے کہ اس مسئلہ کو یہیں چھوڑ دیں، مزید اس مقام پر ذمہ داری اور فریضہ طے نہ کریں! ہم تو یہ کہتے ہیں:

اگر مغربی تمدن کے رجحان کو رواج دینے والے علم اور تہذیب و ثقافت کے درمیان فرق کے قائل ہوئے اور ان شعبوں میں جن میں ہم ان کو عاجز اور ناتواں اور پچھڑے دکھائی دیتے ہیں، (اور بدرجۂ مجبوری ہم اپنی علمی، صنعتی " Technological " ضرورتوں کو غرب سے بر طرف کر لیتے) نیز زندگی کا وہ شعبہ جن میں ہم مستغنی اور بے نیاز ہیں اور کسی بھی جہت سے دوسری تہذیب و ثقافت کی ہمیں ضرورت نہیں ہے، مثال کے طور پر معارف، اخلاق، مذہب اور تہذیب و تمدن، عقیدہ و فلسفہ وغیرہ (اور اس سلسلہ میں اپنی دھروہر اور وراثت کی طرف مراجعہ کر لیتے) ایک دوسرے سے جدا کرلیتے ہیں، ان چیزوں میں جن کی وجہ سے ہمارے حال، گذشتہ اور تہذیب و تمدن سے گستاخی کی گئی ہے اس میں اپنے آپ کو داخل نہ کرتے اور اسی سرمایہ اور دولت سے ہم اپنے آپ کو علوم اور تجربوں سے آراستہ کرتے جن کی ہم کو ضرورت ہے نیز دولت اور سرمایہ سے اپنی کمیوں اور نقائص کو بر طرف کر کے اپنی مشکلات کا حل نکال لیتے؛ وہ لوگ چاہے ہم کو ہماری اپنی تاریخ، تہذیب و تمدن، ماضی اور تاریخی حقیقت و اصالت سے جدا کرتے یا نہ کرتے۔

لیکن غرب کے علمی اور صنعتی Technological )) انقلاب کے سامنے فکری ضعف اور روحی شکست یعنی احساس کمتری نے ہم کو اس منزل پر لاکر کھڑا کردیا ہے کہ ہم اپنی شخصیت، ذاتی حقیقت اور ماہیت، غنی میراث نیز مذہب اور تمدن کی دولت کو بھی نہیں پہچان سکے، بغیر کسی حساب و کتاب کے ہم اجنبی تہذیب و تمدن اور مذہب پر تنقید کے بجائے مشرقی یا پھر مغربی تہذیب و تمدن کے قدموں میںاپنے آپ کو ڈالے ہوئے ہیں ان کی تہذیب کو سب کچھ سمجھ کر ترجیح دے رہے ہیں۔

مغربی رجحان کی تہذیب و ثقافت اور اس کو رواج دینے والے ہرگز صراحت کے ساتھ اس مسئلہ کے بارے میں اپنے عقیدہ اور طرفداری کا اظہار نہیں کرتے ہیں؛ بلکہ عموماً اپنے آپ کو الفاظ کے پیچھے چھپائے ہوئے ہیں یعنی خود کھل کر سامنے نہیں آتے ہیں اور اپنی گفتگو کو مبہم اور مجمل طور سے پیش کرتے ہیں۔


حقیقت امر یہ ہے کہ مغربی رجحان کی ترویج کرنے والے اس بارے میں کہ اسلام ان کے تمدن کی اچھائی اور برائی صحت و سقم کو تشخیص دے کر ان سب چیزوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں اس بارے میں وہ مطمئن نظر نہیں آتے ہیں، اس بابت وہ شک و تردید کے شکار اور تشویش میں مبتلا ہیں۔

وہ (انگریز نیز مغربی تہذیب کی ترویج کرنے والے) آئیں ہماری باتوں کو کان دھر کے سنیں کہ ڈاکٹر عبد الرحیم مصطفی صاحب اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

''اس موضوع کی دشواری اس مقام پر ظاہر ہوتی ہے جب شریعت سے سازگاری رکھنے والے امور (قانون اسلام کے حدود اربعہ) اور وہ امور جو اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے ان سب کی حد بندی کوئی آسان کام نہیں ہے؛ اس لئے کہ عام افراد اسلام کو سطحی نگاہ سے دیکھتے ہیں؛ اس اعتبار سے کہ انقلاب برپا کردینے والے طریقے اور اصول و قوانین موجود ہیں، جو بہت ہی زیادہ مشکل ہیں۔''(١) مصنف، اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے اس نظریہ کا بڑی ہی صراحت کے ساتھ اظہار کرتے ہیں جو اس دعوت کے اندر چھپا ہوا ہے۔ نام لیکر اس طرح بیان کیا ہے، ''اصلاح کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے'' اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ''اصلاح طلبوں کی بہت مختصر تعداد نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اسلامی قوانین، عربوں کا ابتدا میں شہر وں کی آبادی اور اس کی آباد کاری کے متعلق ہے؛ اس معنی میں کہ یہ قوانین صرف اس زمانہ کے معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، اور یہ وہی چیز ہے جس کا لازمہ یہ ہے کہ حالات اور اس وقت کی اقتضا اور بدلاؤ کے اعتبار سے قوانین میں تبدیلی لائی جائے۔''(٢) اور یہی مصنف کی حقیقی رائے ہے۔ مغربی تمدن اور ثقافت کی طرفداری اور اس سے ساز باز کرنے والے لوگ، صرف دو چیزوں کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں جس کے اظہار کی جرأت ان کے اندر نہیں پائی جاتی ہے اور وہ درج ذیل ہیں:

(١) روحی اور ذہنی اعتبار سے شکست اور مغربی تہذیب و تمدن کے مقابلہ میں احساس ضعف و نا توانی یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ احساس کمتری کا شکار ہونا۔

(٢) الٰہی پیغام و احکام کے متعلق ایمان کا فقدان (قرآن اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) اور اس کے بارے میں شک و شبہہ کرنا کہ یہ رسالت، خدا وند عالم اور قادر مطلق کی جانب سے ہے، یا سرے سے ہی خدا وند عالم کے بارے میں شک و شبہہ میں مبتلا ہیں۔

____________________

(١)و(٢)حرکة التجدید الاسلام ف العالم العربّ الحدیث، ص٤٩، مطبوعہ ١٩٧١ ئ


آرنالڈ ٹوین بی کا نظریہ اور اس پر تنقیدی جائزہ

اصل نظریہ:

ٹوین بی کا عقیدہ یہ ہے کہ تہذیب و ثقافت کا انتخاب یا کامل اور وسیع پیمانے پر ہو، یا پھر اصلاً نہ ہو (ٹوین بی کی نظر میں) اگر کوئی قوم کسی دوسری قوم کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے بعض عناصر اور اجزاء کا (جزئی طور پر) انتخاب کرے تو یہ بیگانہ اور جدا شدہ تہذیب و ثقافت کے اجزاء و عناصر اس بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ وہ قوم جو کسی دوسری قوم کی تہذیب کو اپنے لئے اخذ کرتی ہے اس کی ثقافتی اور مذہبی بنیادوں کو منہدم کر دیں؛ اس لئے کہ یہ عناصر اور اجزا (جو اپنے جسم کے علاوہ دوسرے جسم میں فعالیت کرنا شروع کر دیتے ہیں) مخرب اور نقصان دہ اجزا میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

بہتر ہے کہ ٹوین بی کے کلام کو بڑی ہی دقت اور باریک بینی سے نقل کریں۔ وہ کہتا ہے:

اس وقت جب تجزیہ کا کام اس تہذیب و ثقافت کے پرتو میں جس کے اجزا و عناصر اور تہذیب و تمدن کا صحیح پرتو اور سایا اس پر ہوتا ہے جس کے تشکیل دینے والے اجزا اور عناصر صنعتی ( Technological ) سیاسی، دینی اور ہنر کے لحاظ سے پایۂ تکمیل کو پہونچ جائیں۔ یہ تجزیہ بھی اس مقاومت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے جس میں اجنبی معاشرہ اور بیگانہ سماج خود ان کی تہذیب اور تمدن کے مقابلہ میں نفوذ حاصل کرکے سامنے آجاتا ہے...۔

بلا شک و تردید فن اور تکنیک میں نفوذ اور تاثیر کی صلاحیت دین کے مقابلہ میں زیادہ ہے اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اس قانون کو دقیق ترین شکل و صورت میں یاد کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہوں کہ تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے عنصر کے نفوذ کی طاقت اور اس عنصر کی اہمیت و ارزش کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ عنصر جس کی اہمیت کم ہو اگر وہ کسی ایسے جسم کا حصہ قرار پائے جس پر حملہ کا خطرہ ہر دم بنا ہو تو اس با اہمیت عنصر کی بہ نسبت اس میں مقاومت کی قوت کم ہو جاتی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ تہذیب و تمدن کے کم اہمیت عناصر کا انتخاب موثر تہذیب و ثقافت کے عناصر کے درمیان سے کم اہمیت اجزا کے نشر کرنے کی غرض سے اس وسیع اور خارجی زاویۂ نگاہ اور معیار کے مطابق، تہذیب و تمدن کی دوڑ اور آپسی ہوڑ میں نا مناسب قواعد اور فارمولوں کو جنم دیتا ہے، اس لئے کہ اس کم اہمیت جز کے انتخاب سے اس کھیل کے بد ترین عواقب اور نتائج سامنے آسکتے ہیںاور اس کے علاوہ اور کچھ عائد (حاصل) ہونے والا نہیں ہے۔


بیشک تحلیل و تجزیہ کا ماحصل جو اس کھیل کی روح رواں ہے، معاشرہ کی زندگی کو مسموم کرنے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ وہ سماج جس کے مختلف اجزا تہذیب و تمدن کے مدار اور اس کے محور سے سے جدا ہوکر پورے معاشرتی نظام میں رخنہ ڈال دیتے ہیں۔

وہ عنصر جو مذہبی موثر عناصر سے جدا ہو جاتا ہے اُس کی تشبیہ الکٹران ( Electron ) اور جرثومہ سے دی جاسکتی ہے، جس کا کنٹرول (مہار کرنا) ناممکن ہے؛ اس اعتبار سے کہ یہ عنصر، حاکم نظام سے جدا ہو جائے تو وہ اپنی تخریبی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے اور اس لئے جدا ہوتا ہے، تاکہ اپنے آپ کو مخالف راستے پر لگا لے اور عام نظام کی مخالف سمت اپنا راستہ معین کرلے۔ یہ ثقافتی اور مذہبی جز یا جرثومہ ( Microbe ) یا الکٹران ( Electron ) دوسرے بلند و بالا عناصر اور اجزا سے ارتباط کے وقت مخرب نہیں ہے اس طرح فطرتاً یہ جز یا میکروب ( Microbe ) جو اپنے مدار یا نظام سے الگ ہو گیا ہے یا مذہب کا وہ جز جو اپنی تہذیب اور ثقافت سے جدا ہوگیا ہے، اس وقت تک جب وہ اپنے اصلی نظام کے اندر تھا، اس میں کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی تھی سوائے اس کے کہ یہ طبیعت اور فطرت اپنے اصلی ارتباط سے جس کے زیر سایہ مکمل طور پر بے ضرر تھی اس سے جدا ہو گئی، اس صورت میں بربادی اور تخریب کاری کی طرف زیادہ مائل ہو گئی۔ ایسے حالات میں ایک شخص کا گوشت دوسرے شخص کے لئے مباح اور موت کا پیغام بن گیا ہے۔''(١)

اس کلام سے وہ نتیجہ جس کو ٹوین بی ( Toynbee ) نکالنے پر کمر بستہ ہیں، وہ یہ ہے کہ اگر کوئی قوم کسی دوسری قوم کی تہذیب اور تمدن کو اپنانا ضروری سمجھتی ہے اور اس کا عقیدہ رکھتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنی شخصیت، اصل حقیقت، مقدسات اور تہذیب و تمدن کو چھوڑنے کے لئے سنجیدگی سے غور و فکر کرے، اور اپنی فکری، اخلاقی، ثقافتی و مذہبی

____________________

(١) Toynbee, The World and West, chapter ۵th

حرکة التجدید الاسلام نامی کتاب سے ماخوذ ہے، مصدر سابق صفحہ ٥٠ و ٥١


اور علمی سائنسی اور تکنیکی زندگی میں بالکل اسی قوم کی جیسی ہو جائے جس قوم کو اپنی زندگی کے لئے مثال اور نمونہ بنانا چاہتی ہے۔ اور ان اجزاء اور عناصر کے درمیان فرق پیدا کرکے تہذیب و ثقافت اور تمدن کے لئے مفید اجزاء کو اختیار کرے گا اور وہ اجزا جو غیر مفید اور غیر مطلوب ہوں ان کو چھوڑ دے گا اور یہ محال ہے۔

ٹوین بی ( Toynbee ) کے نظریہ پر تنقیدانہ جائزہ

اس نظریہ پر بہت سے محققین اور صاحبان نظر نے تنقید و تبصرہ کیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ دو ثقافتوں کا انتقال اور میل ملاپ، بلا شک و شبھہ ممکن اور فطری عمل ہے اور اس اعتبار سے ثقافتوں اور تمدن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن کو درج ذیل عبارت سے تعبیر کیا جاتا ہے:

١۔ علمی شعبہ

٢۔ ثقافتی شعبہ۔

١۔ علمی شعبہ :یہ شعبہ ثقافتی شعبہ سے متاثر ہوتا رہتا ہے اور اس کے اثر کو قبول کرتا ہے، ثقافتی شعبہ کے حالات اور موقعیت کے سبب اپنے حقیقی وجود کو حاصل کرلیتا ہے ، جیسا کہ ثقافتی امور، علمی امور کو متاثر کرتے ہیں اور اس کو اپنے ہی رنگ و روپ میں اپنے اعتبار سے ڈھال لیتے ہیں، اسی وجہ سے علمی مسائل مثال کے طور پر جراحی ''آپریشن کرنا، دوائیاں بنانا، طبابت، حساب، ریاضی، مصنوعی بجلی اور برق کے بارے میں معلومات، ذرات اور مختلف مشینوں کے بنانے کا علم، یہ سب کے سب ایسے مسائل ہیں جن کا علم اخلاق، معرفت، عقائد نیز فلسفہ و ادب سے گہرا ربط ہے اور یہ سب انسان کی تمدنی زندگی میں دخیل ہیں، ایسا کہ پہلی قسم (علمی مسائل) کے مسائل دوسری قسم کے مسائل کے سبب وجود میں آتے ہیں، جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، یہ سب ثقافتی مسائل کے ماتحت ہیں۔ اسی وجہ سے علم کیمیا ( Chemistry ) اور دوا بنانے کا علم، ان سب امور میں اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ صحیح زاویہ نگاہ اور انسانیت کی ترقی میں ان کو استعمال کیا جائے۔ حکمت، طبابت اور زراعت یہ سب کے سب کھانے پینے کے مقصد کے حصول کی راہ میں کام آنا چاہئے، ٹھیک اسی طرح اس بات کا بھی امکان پایا جاتا ہے کہ صحیح آگاہی اور معلومات کے نہ ہونے اور انسانی اقدار اور اخلاقی معیار کے فقدان کے باعث، انسانی اقدار کے خلاف بروئے کار لایا جائے۔ ان جان لیوا گیسوں کو کیمیکل بم بنانے کے کام میں استعمال کیا جائے تو یہ سب انسانی اقدار کے فقدان کا سبب ہیں۔


ذرات اور آئیٹم کا بھی یہی حال ہے اس کو بھی صحیح اور مناسب کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے فائدہ حاصل کرنا انسانوں کی سوچ اور ان کی تہذیبوں میں اختلاف کی وجہ سے مختلف ہے، یعنی علمی روابط کے شرائط کا مختلف ہونا جو کبھی قابل اطمنان ہے اور کبھی غیر قابل اطمنان ہے۔

الف: علمی روابط کے ساتھ فضا کا اطمینان بخش ہونا

اس بات سے مندرجہ ذیل نتیجے اخذ کئے جاسکتے ہیں:

اگر کوئی قوم ایسی ثقافتی، مذہبی، اخلاقی اور عقائد کی حقیقت، واقعیت اور اصالت کو محفوظ کرلے، تو علمی روابط اور تہذیبوں کا ایک دوسرے کی طرف منتقل ہونا اسے نقصان نہیں پہونچا سکتا؛ اس لئے کہ جیسے ہی علمی مسائل ایک ثقافت سے رشتہ اور رابطہ توڑکر دوسری ثقافت اور تہذیب میں داخل ہو تے ہیں، تو وہ علم جو اس سے پہلے والی تہذیب و ثقافت کے باعث دوسری والی تہذیب کے متحمل نہیں ہو سکتے اور لوگ بھی دوسری تہذیب و ثقافت سے پوری طرح متاثر ہوئے بغیر صرف اس کے علمی گوشہ کو قبول کر لیں گے۔ درحقیقت تہذیب و ثقافت اور تمدن اس چھننے اور صافی کے مانند ہے جو علمی مسائل سے متعلق ہر چیز کو چھان پھٹک کر صاف و شفاف بنا دیتا ہے؛ اخلاقی حالات سے لیکر قوم و ملت کی موجودیت اور اس کے حضور کے ساتھ ساتھ اجنبی تہذیب و ثقافت کے تمام حالات کو صاف و شفاف بناتا چلا جاتا ہے۔ وہ زہریلے عناصر جو امت مسلمہ کے جسم سے کوئی تال میل نہیں رکھتے ہیں، لیکن ان کی تہذیب اور ثقافت کی ہمراہی کر تے رہتے ہیں اس سے ان لوگوں کو دور رکھتا ہے۔

ب: علمی روابط کے ساتھ فضا کا غیر یقینی ہونا

لیکن اگر کسی ثقافت کو اختیار کرنے والی قوم ضعیف و ناتواں ہو اور اس کے پاس ایسے عناصر کا فقدان ہو جو اخلاقی فکری اور استقامت کے لحاظ سے اجنبی ثقافت سے اسے محفوظ رکھ سکے تو ایسی قوم اگر اپنی زندگی میں بیگانہ اقوام کی ثقافت کے حصول میں اپنے آپ کومشغول کردے یا علمی رابطہ رکھتی ہے تو ان علمی مسائل کے ساتھ اس بیگانہ قوم کی اخلاقی ثقافتی سیاسی حالات و افکار کا منتقل ہونا ناگزیر ہے اور علمی مسائل کو ان ثقافتی مسائل سے علاحدہ کرنا جس کو انتقال تہذیب کے حوالہ سے منتقل کرنے والی قوم کی حمایت حاصل ہے اس کا جدا کرنا محال اور اگر محال بھی نہ ہو تو یہ امر اس کے لئے بس دشوار کام ہوگا۔


دو تاریخی تجربے ہمارے لئے اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں:

١۔ اوائل کی کامیابیوں کے تجربے

اور وہ تجربہ روم و ایران کی فتوحات ہیں۔ اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ملت اسلامیہ ان کامیابیوں اور فتوحات کے دوران، اداری، دفتری اور عدلیہ کے مختلف مسائل سے لیکر حکمت، طبابت، کیمیا ( Chemistry ) اور علم نجوم کو بغیر اس کے کہ ان اخلاق و آداب، تہذیب و ثقافت نیز ان کے تمدن سے متاثر ہو ں ان کے علوم اور سائنسی معلومات کو ان سے اخذ کیا ہے، بلکہ ان مسائل اور علوم کو اپنی تہذیب میں ڈھالا اور اپنے منشا اور چاہت کے مطابق اس کو استعمال کیا۔

(٢) دور حاضر کی مغرب پرستی کا تجربہ

ا ور وہ تجربہ اس وقت کا تجربہ ہے جب امت مسلمہ مغربی تہذیب و تمدن کو گلے لگا رہی تھی، اس وقت عثمانی حکومت کے خاتمہ کے بادل موت کی طرح اس کے سر پر منڈلا رہے تھے اور لوگ پروانہ وار فرنگی تہذیب و تمدن کے اپنانے میں منہمک تھے۔

تجربی علوم میں بہت سارے مسائل کی ضرورت اور اس کی احتیاج، مسائل ریاضی کے حل کی ضرورت اور اداری امور کی انجام دہی سے متعلق مشکلات اور ضروریات نے ملت اسلامیہ کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ مغربی تہذیب و تمدن کی طرف دست نیاز بڑھائیں اور آہستہ آہستہ ان کے حلقہ بگوش ہو جائیں۔ چونکہ ثقافتی اور مذہبی بنیادیں اتنی مضبوط نہیں تھیں، اس لئے وہ اس پر ثابت قدم بھی نہیں رہ پائے، اور وہ خود اپنی حفاظت پر بھی پورے طور سے قادر نہ تھے، اسی وجہ سے غرب نے اپنی خاص ثقافت اور تہذیب کو ان کے اوپر لاد کر اپنے ہی رنگ و روپ میں ڈھال لیا۔


مذہب سے دور کرنے والوں کی کار کردگی

اس تجزیہ اور تحقیق کے بعد اب ہم (ان حکام اور دانشوروں کی) مذہب سے دوری اختیار کرنے کی دعوت دینے اور ان کی کار کردگی کے بارے میں ان لوگوں کی اس کاروائی کی کیفیت کو تفصیل سے بیان کریں گے، جس کو ان لوگوں نے ارتباطی پلوں کو توڑنے کے لئے انجام دیا ہے تا کہ نسل حاضر کو ان کے دمکتے ہوئے ماضی اور مذہبی مصادر میں خلل پیدا کردیں اور اس کے بعد نسل حاضر اور نسل گذشتہ میں جدائی ڈال دینے کی پوری کوششیں کی ہیں۔

ترکی میں عربی حروف کی جگہ لاتینی رسم الخط کا رواج

''مصطفی کمال آتاترک'' (ترکی کا حاکم) یہ وہ شخص ہے، جس نے عثمانی حکومت کا تختہ پلٹ کر اس کی جگہ پر دین مخالف (لائیک) حکومت کا قیام عمل میںلایا اور اس کے بعد وہاں کے تخت پر اپنا قبضہ جما لیا۔ تخت پر بیٹھنے کے فوراً بعد مغربی رجحان کی طرف لوگوں کو مائل کرنے کی سب سے زیادہ کوشش کی۔ اس نے مغربی تہذیب و ثقافت اور ان کے تمدن کی طرف لوگوں کو دعوت دی؛ اس طرح وہ مسلمانوں کی مذہبی اور تاریخی حقایق اور اس کی بنیادوں کا قلع و قمع کر دینا چاہا تھا۔

ترکی میں رائج لکھے جانے والے حروف (حروف تہجی) بے شک و تردید یہ ان قوی ترین وسائل اور ذرائع میں سے ہیں ، جو مذہبی اور فکری اعتبار سے نسلوں کو آپس میں جوڑتے ہیں ۔ جب کسی قوم کا رسم الخط ہی صفحۂ ہستی سے ختم کر دیاجائے تو آپس میں سب سے زیادہ مضبوط اور ہمارے حال و گذشتہ کو آپس میں تعلق پیدا کرنے میں یہ (رسم الخط) سب سے زیادہ مستحکم اور کار آمد وسیلہ ہے، جس کے ذریعہ دو نسلوں کوایک دوسرے (یعنی نسل حاضر کو ماضی اور مستقبل) سے جوڑا جا سکتا ہے۔


اسی وجہ سے مذہب سے دور کرنے والے (اہل کار) لوگ نیز وہ لوگ جو دین کو ظاہری اور اسے (قشری) طور پر باقی رکھنا چاہتے ہیں، یعنی صرف اوپر اوپر سے مانتے ہیں اور دین کو اس سے زیادہ ماننے کے لئے تیار بھی نہیںہیں۔ بہت ہی تیز بینی اور بڑی ہی ہوشیاری اور ظرافت کے ساتھ مذہب سے دور کرنے کی کار ر وائی میں ہمہ تن مشغول ہیں۔ وہ لوگ صرف شاخ و برگ اور تنے کو ہی کاٹنے پر اکتفا نہیں کر رہے تھے، بلکہ مستحکم ترین ارتباطی وسائل کا نشانہ سادھتے اور اس کے بعد آناً فاناً ان کو ختم کردیتے ہیں۔ جیسا کہ ترکی کی عثمانی حکومت کے ختم ہوتے ہی اس وقت کی نسل نو قدیم جاہلیت کے زمانہ کی طرف پلٹ گئی اور اب وہ قرآن مجید، احادیث نبوی، (قدیم) تاریخ، اخلاق اور فقہ اکبر یعنی عقاید اسلامی اور فقہ کو مصادر اور منابع سے مطالعہ کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

امیر شکیب ارسلان نے اپنی کتاب ''حاضر العالم الاسلام'' میں لکھا ہے:

''اس مغالطہ کو وقت کے صدر جمہوریہ'' مصطفی کمال آتا ترک'' نے رواج دیا، تاکہ وہ اپنے زعم ناقص میں آہستہ آہستہ عقیدہ ٔ اسلامی سے عوام کو جدا کر دے، اسی طرح عربی بولنے سے بھی ترکوں کو روک دے اسی سبب اس نے ترکی کو ایسے شخص کے طریقہ اور راہ و روش کے حوالہ کر دیا جو اسلامی عقائد کو حکومت کے منافی اور خلاف جانتا تھا، اس کے ذریعہ اس کے خاتمہ کا انتظام کر دیا۔ اس امر میں ترکی کی ''عوامی پارٹی''نے اس (کمال آتا ترک) کا اتباع کیا اور اس کی باتوں کو عملی جامہ پہنا دیا۔ ایسی پارٹی جس کا اگر مجموعی طور پر سرسری مطالعہ کیا جائے تو وہ'' مصطفی کمال آتا ترک'' کے سپاہی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ہے اور ''سیاسی پارٹی کی بہ نسبت'' اس (سپاہی ہونے) سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ بغیر اس کی اجازت کے کسی بھی سیاہ و سفید کا حق بھی نہیں رکھتی تھی۔''

نتیجتاً ترکی حکومت کے حالات کے تحت، ہر وہ چیز جو اسلام سے متعلق محسوس ہوتی تھی، اس کو بالکل سے ختم کرکے اس کی بساط الٹ دی اور شریعت پر عمل کو باطل اور (غیر قانونی) قرار دیا پھر شرعی عدالت اور محکموں کو ختم کر دیا، اور ایک وزارت جو مشیخة الاسلام کے نام سے جانی جاتی تھی اس کو منحل (ختم) کرکے ایک چھوٹے سے ادارہ کا نام دے کر اس کو داخلی ناظر کمیٹی کے ماتحت اور اس کا جا نشین بنا دیا، جو ترکی زبان میں ''دیانت ایشی'' یعنی (امور دیں داری) کے نام سے مشہور ہے


ترکی کے اساسی قانون کی ایک شق جو ''اسلام'' کے نام سے آئی تھی ''صرف وہی برائے نام جو جمہوریۂ ترکی کا تنہا دین اسلام ہے '' آہستہ آہستہ اس کو بھی حذف کر دیا اور ر فتہ رفتہ چند برسوں میں عید قربان و فطر کی نمازوں اور اس کے اجتماع اور جشن وغیر ہ کو بھی بالکل ختم کر دیا اور بڑی ہی آسانی سے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ''ترکی کی حکومت ایسی عیدوں اور اجتماعات کو قانونی نہیں جانتی ہے!۔''

لیکن بعد میں جب اس بات کا بار بار مشاہدہ کیا گیا کہ حکومت کے کارندے اور ان کے اہل کار بھی صدر جمہوریہ کے حکومتی دستور کی اَن سُنی کر رہے ہیں اور عید فطر اور عید قربان کے جشن منا رہے ہیں نیز اس کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں، دونوں عیدوں کے مبارک موقع پر حکومتی اداروں میں بھی چھٹیاں کر رہے ہیں۔ لہٰذا صدر جمہوریہ بھی قہراً اور جبراً عید کی مبارک باد کو قبول کر نے پر مجبور ہی ہو گیا اور خوشی منانے پر رضایت دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی محافل کی خوشیوں میں شرکت کرنے لگا لیکن ترکی مطالب کا لاتین رسم الخط میں لکھا جانا، ویسے ہی بر قرار رہا۔ جب کہ اس کی مخالفت بھی کی گئی، ظاہراً اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تعلیمی زمانہ کو کم کرنے اور علمی مطالب کو تیزی سے منتقل کرنے کے لئے یہ کام کیا گیا ہے، تاکہ بچے کم مدت میں زیادہ سے زیادہ معلومات کو حاصل کر لیں اس لئے اس کام کو انجام دیا گیا۔! (اگرچہ مذکورہ سبب خود اس کے رواج دینے والوں کے ضمیر کو مطمئن کرنے سے قاصر ہے۔ مترجم)

لیکن اس کا حقیقی مقصد، ترکوں کو عربوں سے دور کرنا اور آہستہ آہستہ قرآن مجید کی تلاوت کو ختم کرنا اور سب سے بڑھ کر اپنے آقا اور مولا انگریزوں اور یورپ برادری کو خوشحال کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے ترکی کی حکومت سر سے پیر تک انگریزی تہذیب میں ڈوب گئی، اس لئے عدالت اس بات کی مقتضی ہے کہ ترکی کو یورپ برادری میں داخل کر لیا جائے! ٹھیک اسی مقصد کے تحت، ''مصطفی کمال'' نے ترکوں کو ٹوپی پہننے پر مجبور کر دیا، تاکہ ان کا یہ عمل یورپ برادری سے میل جول اور باہمی روابط کو شدت بخشے۔


بے شک عربی رسم الخط کو چھوڑ دینے سے علمی، ادبی، اقتصادی، تجارتی اور معیشتی زندگی پر کاری ضرب لگی ہے۔ دوسری جانب سے لاتینی رسم الخط میں ترکی زبان کا لکھا جانا عام لوگوں کے لئے بہت دشوار گذار ہے۔ (مگر یہ کہ بہت تھوڑے سے لوگ جو لکھنے پڑھنے پر قادر ہیں) اور یہ بات سبب بنی کہ ارسال و ترسیل میں غیر معمولی کمی آگئی اور لوگوں میں خط و کتابت کا رواج بہت کم ہو گیا، نیز کتابوں، جرائد اور اخبار کے پڑھنے والوں میں بہت شدت سے کمی واقع ہوئی ہے، وہ اخبار جن کے قاری اور پڑھنے والے ہزاروں کی تعداد میں ہوا کرتے تھے رسم الخط کی تبدیلی کے بعد اس کے پڑھنے والوں کی تعداد پانچ سو کے آس پاس رہ گئی ہے۔ لہٰذا حکومت نے اس کے ذریعہ ہونے والے اتنے بڑے نقصان کو مجبور اًبرداشت کر لیا؛ نیز ترکی حکومت کو اس کی بھر پائی میں بہت ہی زیادہ دقت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ، قانونی اور سرکاری خط و کتابت اور مراسلات میں بھی بہت دشواری اور دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجہ کے طور پر سرکاری اداروں میں عوام کے کاموں میں کافی تاخیر ہوئی ہے۔ رسم الخط کی تبدیلی سے دسیوں لاکھ جلد کتابیں ضایع ہو گئیں بہت سے ''کتب خانہ'' برباد ہو کر رہ گئے اور ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا، لیکن اگر اس کا ماہرانہ تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ لاتینی رسم الخط میں اتنی زیادہ علامتوں کے بڑھا دینے کے با وجود بھی ترکی زبان کے بعض الفاظ صحیح معنی ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ لاتین حروف تہجی متعدد اور مختلف مقامات پر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں نا کام رہے ہیں، اس وجہ سے ان علامتوں کے ذریعہ ترکی الفاظ اس طرح اپنی اصل سے جدا ہوگئے ہیں گویا ایک مستقل زبان میں تبدیل ہو گئے ہیں! اور اس سے بھی بڑھ کر، اگر چہ لاتینی حروف کا لکھنا پڑھنا جدا اور منفصل ہونے کی وجہ سے قدرے آسان ہے، اس کے باوجود کاغذ کے صفحہ پر جگہ زیادہ گھیرتے ہیں اور عربی کی بہ نسبت، وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہے؛ جبکہ عربی لکھنا خلاصہ نویسی ( Stenography ) سے بہت زیادہ مشابہ اور قریب ہے اور وقت اور جگہ کے اعتبار سے بھی کم خرچ اور دور حاضر کے تحریری اقدار کے اعتبار سے اختصار اور اقتصاد کے لحاظ سے بھی بہت آسان اور مناسب ہے۔


اور اس اعتبار سے ترکی میں روز بروز لکھنے کا مسئلہ پریشان کُن بنتا چلا گیا، لیکن سامراج کے ہاتھوں خود فروختہ لوگ لگا تار عوام کو اس بات پر آمادہ کر رہے ہیں کہ لاتینی رسم الخط میں ہی مکاتبات و مراسلات کو جاری رکھیں؛ تاکہ ان کے انگریز اور یورپ کے آقاؤں پر یہ ثابت کریں کہ ہم لوگ اس رسم الخط سے والہانہ محبت اور اس سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں۔

وہ لوگ جو ان امور سے آگاہی نہیں رکھتے، وہ یہ سوچتے تھے کہ ترکی کی عوام ان کی سرکاری عدالتوں میں حکم شرعی کے عدم نفاذ، اسکول اور اعلیٰ تعلیمی اداروں (کالج) میں دینی تعلیم پر پابندی اور ممنوعیت، زبردستی مسلمان عورتوں کو ان کے حجاب اور پردہ سے روکنا، دانشگاہوں Universities )) میں مردوں اور خواتین کا ایک ساتھ گھل مل جل کر رہنا، لڑکیوں اور لڑکوں کو ایک ساتھ ناچنے ( Dance ) پر زور دینا اسی طرح (یورپ کے انداز پر) ٹوپی پہننے اور لاتینی رسم الخط میں ترکی زبان کے لکھے جانے پر زور اور دوسرے بہت سے امور جن کو ''مصطفی کمال'' نے رائج کیا ہے اس سے یہ لوگ راضی اور خوشنود ہیں! اور وہ لوگ اس راگ کے الاپنے میں مشغول ہیں: ''اگر ترک لوگ ان سب کاموں سے راضی نہ ہوتے تو یہ (ترک) لوگ مخالفتوں کے طوفان اٹھا لیتے اور ایک نیا انقلاب برپا کرد یتے اور ''آتاترک'' کی حکومت کو ہستی سے ساقط کردیتے اور ان حکام کو الٹے پاؤں لوٹ جانے پر مجبور کردیتے!، پھر سے عثمانی حکومت کو مستحکم اور استوار کر دیتے، لیکن ایسا نہ کرنا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ترکی کی عوا م خود ہی عثمانی حکومت کے خاتمہ پر صرف راضی ہی نہیں بلکہ اس بات پر مصر بھی تھی۔


لیکن اگر کوئی شخص جن سختیوں کا ترکی کی عوام کو سامنا کرنا پڑرہا ہے اس پر غور و فکر کرے تو اسے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ کیوں یہ لوگ معاشرہ کے ان حالات کی سختیوں پر مذہب و مسلک اور اپنی عادت و ذوق کے اختلاف کے با وجود صبر وبرد باری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور کیوں حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کو قیام کرنے پر ترجیح دیتے ہیں اور دشمنوں کے لئے راہ ہموار کریں کہ وہ دوبارہ پلٹ آئیں دوسری عالمی جنگ کے منصوبہ کو عملی شکل دیتے ہوئے ترکی پر حکومت کریں۔

لیکن یہ غیر دینی حکومت (لائیک) ابھی تک اس بات پر قادر نہیں ہوسکی کہ ترکی کے مسلمانوں کے ایمان کو سست اور ضعیف کر سکے، یہ لوگ ابھی بھی اپنے قدیمی دین، دین اسلام سے مستحکم اور بہت گہرا تعلق بنائے ہوئے ہیں۔ استانبول اور ترکی کے دوسرے شہروں میں دینی مظاہر کی موجودگی خود اس مدعا کی بہترین دلیل ہے۔ البتہ وہاں پر یورپ برادری کی تہذیب کے مظاہر بھی کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں، وہ بھی جابجا دیکھنے کو مل جاتے ہیں، جیسا کہ ان لوگوں نے اپنے جرائد اور رسالوں میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔

اور اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ ترک معاشرہ کی جانب سے بھی اسلام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، مگر یہ کہ یہی صورتحال طولانی عرصہ تک برقرار رہی اور جدید نسلیں اسلامی تعلیمات سے محروم رہیں اور اسلامی تعلیم (جیسا کہ ابھی تک دینی تعلیم کا فقدان رہا ہے) میں روز بروز اسی طرح سے کمی آتی رہے۔''(١)

____________________

(١)حاضر العالم الاسلام، شکیب ارسلان، ج٣، ص٣٥١سے ٣٥٣ تک۔


مصر و ایران میں عربی رسم الخط کے تبدیلی کی جد و جہد

دوسرے مستعار حکام اور اہل قلم حضرات نے بہت زیادہ کدّ و کاوش کی ہے کہ دنیائے اسلام کے مختلف ممالک سے عربی رسم الخط کو مطلق ختم کردیا جائے، اگرچہ ان کی یہ بیہودہ اور واہی کوششیں رنگ نہ لاپائیں اور اس طرح کی تمام کوششیں محکوم بہ شکست اور بھاری ہزیمت سے روبرو ہوگئیں۔

ایران میں، رضا خان (شاہ) پہلوی (مشہورو معروف ڈکٹیٹر) اس مہم کو سر کرنے کی کمر ہمت باندھی۔ اس نے زرخرید اہل قلم کی ایک جماعت کو اس کام کی انجام دہی کے لئے تیار کر رکھا تھا تاکہ وہ لوگ عربی رسم الخط کے نوشتہ جات اور تحریروں کو لاتینی ( Latin ) رسم الخط میں تبدیل کردیں، لیکن اس کام کی انھیں توفیق حاصل نہیں ہوپائی۔

اسی طرح مصر میں بھی بعض اہل قلم اور اخباروں نے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا چاہا، و ''مقتطف'' نامی مصری جریدہ نے اس دعوت عام کو اپنے صفحات پر جگہ دی۔ ڈاکٹر محمد محمد حسین نے اپنی کتاب ''الاتجاھات الوطنیة'' میں یوں تحریر کیا ہے:''عبد العزیز فہمی'' مصر کی علمی کمیٹی کے سب سے برجستہ اور اہم رکن کہ جو، (١٩٤٣ کی قائم کردہ ملکی کمیٹی کے تیسرے سربراہ تھے، جنھوں نے ملک گیر پیمانہ پر نمائندہ کمیٹی کو تشکیل دیا تھا۔) جس نے عربی تحریر کو لاتینی رسم الخط میں لکھے جانے کی پیش کش کی اور اس کی منظوری کے لئے لائحۂ عمل پیش کیا، وہ رپورٹیں (گزارشات) جو اس کمیٹی کے تین سال کے متعدد اجلاس میں فیصلہ کے بعد بطور نتیجہ وجود میں آئیں، وہ وہاں کے اخباروں میں چھاپی بھی گئیں اور دوسری مختلف علمی کمیٹیوں کو بھی ارسال کی گئی۔''(١)

____________________

(١)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ڈاکٹر محمد محمد حسین، ص٣٣٨۔


آتاترک اور مغرب پرستی کی دعوت

یہاں پر ہم نے ''آتاترک'' نامی کتاب کے مختلف حصوں میں سے اقتباس کیا ہے جس کے مصنف ''عرفان اورگا'' نے ''کمال آتاترک'' کی شخصیت اور اس سے والہانہ محبت اور عشق کا اظہار کرنے کے لئے تحریر کیا ہے۔ کتاب کے یہ مختلف حصّے، حقیقی معنوںمیں یہ اس کے اپنے ذاتی تصورات اور خیالات ہیں، اور یہ ایسے تصورات اور خیالات ہیں جن میں بالکل مبالغہ آرائی اور کمی و زیادتی کا گذر نہیں ہے۔

''اورگا'' تحریر کرتا ہے: ''آتاترک'' نے اس بات پر اطمنان اور یقین کرلیا تھا کہ اس کی جنگ دین سے ہونے چاہئے، اس لئے کہ دین سے جنگ بہت بڑی رقابت کا پیش خیمہ ہے۔ وہ اپنے بچپنے ہی سے اس بات کا معتقد تھا کہ خدا کے وجود کی کوئی ضرورت نہیں ہے، چونکہ خدا کا مفہوم غیر ناطق، گنگ، نامرئی ہے، لوگوں کو دھوکہ میں ڈالنے والا اور ہر حقیقت سے عاری ہے۔ (جیساکہ آتاترک اس بات کا قائل بھی تھا) وہ صرف انھیں محسوسات پر عقیدہ رکھتا تھا جو دیکھنے میں آسکتے ہوں اور عموماً اُن چیزوں کا مشاہدہ ممکن بھی ہو،(۱) اس (کمال آتاترک) کا

____________________

(۱)مؤلف اپنی کتاب میں اس طرح لکھتے ہیں: آتاترک اپنے عمر کے آخری حصہ میںآسمان کی طرف اپنا ہاتھ بلند کرتا تھا اور تمسخر اور تھدید آمیز انداز میں اس کی طرف اشارہ کرتا تھا۔


عقیدہ یہ بھی تھا کہ گذشتہ زمانہ میں اسلام تباہی اور بربادی پھیلانے والا ایک عنصررہا ہے اورترکی کے حق میں بہت بڑی خطا اور جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔ اس نے ترکی کو ایسے نقصانات پہونچائے، جن کی بھرپائی ممکن نہیں ہے۔

اس کا عقیدہ تھا کہ عوام الناس اسلام قبول کرنے کی وجہ سے، فکر و عقیدہ کے حوالہ سے اوہام اور جمود کا شکار ہوگئے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو قضا و قدر کے حوالہ کردیتا اور یہ کہتا: ''کہ خداوند عالم کا ارادہ یہ ہے'' یا ''یہ چیز ہماری تقدیر میں لکھی ہے'' تو اس سے بڑے ہی بے دردی اور سختی سے پیش آتا تھا، وہ (ملعون) اس بات کا بھی عقیدہ رکھتا تھا کہ نعوذ باللہ خدا ہے ہی نہیں، صرف انسان ہی ہے جو اپنی تقدیر کو خود بناتا ہے! اس سے بار بار کہتے ہوئے سنا گیا ہے: ''عقل اور حتمی ارادے کی طاقت الٰہی قدرت پرمسلّط اور غالب ہے۔ اگرچہ دیندار لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں: خدا اپنے امور میں جلدبازی سے کام نہیں لیتا۔ اور کسی کو بھی اس کے حال پر نہیں چھوڑتا۔''وہ یہ کہا کرتا تھا: برقی قدرت ( Electric Power ) کے بارے میں، جس نے کاموں کی سرعت رفتار کو تیز سے تیزتر کردیا ہے، کیا یہ دیندار لوگ اس امر سے ناواقف ہیں؟ کہ بجلی ہماری ہی پیداوار ہے!۔''

آتاترک نے یہ مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ جمہوریۂ ترکی میں وہ کوئی ایسا قانون نافذ کرکے دین و مذہب پر پابندی لگادے، اگرچہ ایسا کرنے کے لئے قدرت و طاقت، فریب کاری اور مکاری کی ضرورت تھی۔(١)

''عرفان اورگا'' نے اسی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر لکھا ہے:

____________________

(١)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ڈاکٹر محمد محمد حسین، ص٢٣٧، ٢٣٨۔


علم النفس ( Psychology ) کے معیار اور اس کے نظریات نیز اس کی حکمت اور فلسفہ یہ سب باتیں ''آتاترک'' کے سامنے ہیچ اور بے معنی تھیں، اسی بنا پر کوئی بھی چیز اس کو اس کے واہی اور بے بنیاد عقیدہ سے روک نہیں سکتی تھی کہ ترکی کے لئے دین کی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ چیز جس کو اس نے دین کے نام پر ترکی کی عوام کے لئے پیش کیا ہے، وہ اس کا ایک نیا خدا ''مغربی اور فرنگی تہذیب و تمدن'' ہے۔

اس (عرفان اورگا) نے اس بات کا بھی اضافہ کیا ہے: ''آتاترک'' بڑی ہی شدت کے ساتھ اسلام اور اس کے صحیح، راسخ ا ور مستحکم عقیدہ رکھنے والوں سے پَکّی دشمنی رکھتا تھا۔ وہ یہ کہا کرتا تھا: ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم زندگی کے مختلف اور تمام پہلوؤں میں، اپنی مردانگی کو ثابت کریں۔ بڑی بڑی مشکلات اور مصیبتیں ہمیں بہت تکلیف دیتی ہیں اور اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مختلف گوشوں میں دنیا سے بالکل کٹ کر رہ گئے ہیں۔ یا پھر ہم نے گوشہ تنہائی اختیار کرلی ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر ان مشکلات کا حل تلاش نہیں کیا ہے۔ ہم کو لوگوں کے بہکانے میں بالکل نہیں آنا چاہئے۔ ہم ایک غنی تہذیب و ثقافت اور تمدن تک پہونچنا چاہتے ہیں، ہم کو اپنے اوپر فخر کرنا چاہئے۔ دنیائے اسلام کے مختلف ممالک کے مسلمانوں کو اپنی نظروں کے سامنے رکھکر دیکھو کہ وہ کتنا زیادہ مصیبتوں، آزمائشوں بلاؤں اور بربادیوں میں مبتلا اور ان کو کتنی ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ اپنی عقل کو پیش رفتہ، ترقی یافتہ اور دمکتی ہوئی تہذیب و (مغربی وفرنگی) ثقافت کو اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں بروئے کار لائیں۔ یہی چیز سبب بنی کہ ایک طولانی عرصہ تک ہم انحطاط، پستی اور ذلت کا شکار رہے اور آخر کار اس ترقی کے سفر میں ہر قافلہ سے پیچھے رہ گئے، اور انحطاط کے بہت ہی گہرے کھڈ میں جا گرے۔ اگر گذشتہ سالوں میں ہمارا معیار کچھ بلند بھی ہوا ہے اور ہم ترقی کے راستہ پر لگ گئے ہیں تو وہ سب اس بات کے مرہون منت ہیں کہ اب ہمارے سوچنے کے انداز میں بھی کچھ تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن ہم کو اس مقام اور منزلت کے حصول کے بعد اب اسی مقام پر آکر ٹھہر نہیں جانا چاہئے، بلکہ ہمیں قیام کرنا چاہئے اور جد و جہد میں بڑی ہی سنجیدگی سے لگ جانا چاہئے۔ تاکہ ہم ترقی کے راستہ پر مستقل آگے بڑھتے رہیں اور دن دونی رات چوگنی ترقی کا ارتقائی سفر تیزی سے طے کرکے اس کی چوٹی تک پہونچ جائیں؛ جو ہوگا وہ بعد میں دیکھا جائے گا اور اس سے نمٹ لیا جائے گا! اور ہمارے لئے اس راستہ کے علاوہ کوئی اور راستہ اور چارۂ کار بھی نہیں ہے۔ عوام کو یہ جان لینا چاہئے کہ تہذیب و تمدن ایک بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلہ کے مانند ہیں اور جو بھی اس کے سامنے نرمی کا ثبوت دے گا اس کو بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کی لپیٹ سے بچایا نہیں جاسکتا۔ آخر کار وہ اس آگ کے شعلوں میں جل کر خاکستر ہو جائے گا۔''(١)

____________________

(١)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ڈاکٹر محمد محمد حسین، ص٢٣٧، ٢٣٨۔


عثمانی حکومت کا تختہ پلٹنے میں ''آتاترک'' کا بنیادی کردار

صاحب کتاب ''آتاترک'' نے لکھا ہے: ہر شخص پر یہ بات ظاہر ہے کہ ''مصطفی کمال آتاترک'' کسی بھی دین کا پابند اور پیرو نہیں تھا، اسی وجہ سے لوگوں کے درمیان یہ مشہور ہو گیا تھا کہ خلافت کی بساط جلدی ہی لپیٹ دی جائے گی۔ جب لوگوں کی زبانوں پر یہ بات چل پڑی کہ ''مصطفی کمال'' نے شیخ الاسلام کے سرپر قرآن مجید کو دے مارا، (جو علمائے اسلام کے بزرگوں میں تھے اور عالَم اسلام میں ان کی شخصیت بہت محترم اور بھاری بھرکم تھی) تواس واقعہ کے بعد عوام بہت ہی زیادہ خوفزدہ ہوگئی، اس لئے کہ اس نے ایک ایسا عمل انجام دیا تھا جس کی جزا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھی کہ فوری اسے قتل کردیا جائے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ حادثہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس وقت پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ تبدیلی آچکی تھی۔(١)

مؤلف نے تقدس اور عظمت کا معیار، آتاتورک کے احترام محبت، انس اور ایثار نیز مغربی تمدن اور انگریزی تہذیب کی بہ نسبت لوگوں کے لگاؤ اور رجحان کو بتایا ہے۔ اور یہ کہ ''آتا ترک'' کا عشق خلیفہ کے بہ نسبت عوام کے عواطف پر کیسے غالب آگیا، جب کہ

____________________

(١)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ڈاکٹر محمد محمد حسین، ص٢٧٦۔


ان کے خون اور رگ و پے میں اسلام اور خلافت کا احترام راسخ ہوچکا تھا۔ اس نے لکھا ہے:

''مصظفیٰ کمال'' اپنی عوام اور اپنے خود ساختہ دستور پر بہت زیادہ اعتماد کرتا تھا اور اسی کی طرف اپنے ہر کام کی نسبت دیتا تھا۔ اپنے اس جدید خدا (مغربی تمدن) کا بڑے ہی گرم جوشی اور عشق کے ساتھ ایک وفادار کی طرح پرستش کرتا تھا۔ یہی امر سبب ہوا کہ اس نے عنوان ''تمدن'' ( Civilization ) کو دنیا کے کونے کونے اور دور افتادہ علاقوں تک پہونچانے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی۔

اس وقت جب وہ تمدن کے حوالے سے گفتگو کرتا تھا تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اُٹھتی تھیں۔ جیسے بہشت کی طر ف توجہ کرتے وقت صوفیائے کرام کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں اور نور ان کے چہروں سے عیاں ہونے لگتا ہے۔''(١)

مصطفی کمال ترکی کی عوام سے کہتا رہتا تھا:

یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم متمدن اور ترقی یافتہ لوگوں کا لباس اختیار کرکے اُسے پہنیں، اور ان کی تہذیب کو اپنائیں، یہ بھی ضروری ہے کہ ہم دنیا اور دنیا والوں پر یہ ثابت کردیں کہ ہم عظیم، بزرگ اور ترقی یافتہ قوم ہیں۔ اور وہ لوگ جو ہماری اور ہمارے طرز زندگی کے بارے میں کافی شناخت نہیں رکھتے ہیں، ترکی کے قدیم رسم و رواج کے سبب ہمارا مذاق اڑاتے ہیں، ہم ان کو کبھی نہیں بخشیں گے۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم فکر نو کی موجوں پر زمانہ کے قدم سے قدم ملاکر انہیں کے راستہ پر گامزن رہیں اور کامیابی کے راستہ طے کریں۔''(٢)

____________________

(١)و(٢)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ڈاکٹر محمد محمد حسین، ص٢٣٣۔


مؤلف نے ان باتوں کے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

''کمال آتاترک'' چلا گیا تاکہ وہ اپنے نظام کی ان وسعتوں کو جن کے ذریعہ اپنی تحریک کا آغازکیا تھا اس کو انجام تک پہونچائے۔ وہ اس بات کا اقرار کرتا تھا کہ ترکی کے سابقہ متعفن، بدبودار اور فاسد نظام سے جمہوریۂ ترکی کو جدا کردے، تمام وہ ویرانیاں اور برائیاں جو اس نظام کا احاطہ کئے ہوئے تھیں، ان نحوستوں کو اس سے یکسر ختم کرکے ان کی اصلاح کردے۔ وہ ایک ایسا شخص ہے کہ جب تک اس نے ترکی کے قدیمی ڈھانچے کو بالکل بدل نہیں دیا، چین سے نہیں بیٹھا۔ بادشاہت کو آزاد جمہوریہ سے، شہنشاہیت کو ایک واحد آزاد ملک اور خالص دینی حکومت کو ایک سادی اور معمولی جمہوریت میں تبدیل کردیا ہے اور یہ اس کی کامیابی کی دلیل ہے۔

اور وہ اس بات کا بھی معترف تھا کہ اس نے بادشاہ (خلیفہ عثمانی) سے حکومت چھین لی اور عثمانی شہنشاہیت سے حالیہ ترکی کے تمام روابط ختم کردیئے اور ابھی بھی پرانی ذہنیت، قدیمی تصورات اور فکر کہن، رسم و رواج، پہناوا، اخلاق و آداب معاشرت اور زمانہ کے نئے نئے رسم و رواج، روز مرہ کی زندگی کی طور طریقہ کو جدید نظام میں تبدیل کر دینا اور ان سب سے ڈٹ کر مقابلہ کرنا، کسی نئے کام کی انجام دہی اور ازسرنو کسی سیاسی مشن کے وجود میں لانے سے بس دشوار ہے۔


آتاترک نے بھی ایسے اقدامات کی معلومات بڑی ہی دشواری سے حاصل کی تھیں، جیسا کہ ایک مرتبہ اس نے یہ کہا بھی تھا: میں اپنے دشمن پر فتحیاب ہو گیا اور اس پر ظفر و کامیابی حاصل کر لی ہے، اور اپنی سر زمین یعنی سرحدوں کو وسیع کرلیا ہے، اب کیا اس بات پر بھی قادر ہوں کہ اپنی عوام پر بھی تسلط حاصل کرپاؤں؟!''(١)

''مصطفی کمال آتا ترک'' نے تین آذار (بہار کا پہلا مہینہ) ١٩٢٤ء میں عثمانی حکومت سے جدید ترکی حکومت میں تبدیلی کا لائحۂ عمل ترکی کی پارلمان ( Turkish Parliament ) کے حوالہ کردیا اور اس کے ساتھ ہی عثمانی حکومت کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ اس نے بڑی ہی جرأت اور صراحت کے ساتھ اسی موضوع پر تقریر کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اس طرح اظہار کیا ہے:

''چونکہ عثمانی شہنشاہیت کی بنیاد اسلام پر استوار تھی اور اسلام کی سرشت اور اس کے خمیر نیز اس کے افکار و تصورات عربی زبان پر استوار ہیں، انسان کے زندگی بسر کرنے، (پیدائش سے مرنے تک) کے کچھ اصول و ضوابط ہیںجس کو اس نے ایک خاص طریقہ پر استوار کیا ہے۔ اسلام نے اپنی اولادوں کو جاہ طلبی کے خلاف تعلیم دے کر ان میں جاہ طلبی کو بالکل ختم کر دیاہے اور بغاوت، سرکشی اور جارحانہ (تہاجمی) کیفیت پر روک لگادی ہے۔ ہر وہ حکومت جس کا سرکاری مذہب اسلام ہو وہ حکومت نابودی کے دہانے پر کھڑی ہے۔''

اگرچہ ترکی کی پارلمان ''عوامی مجلس'' نے ان چیزوں کی منظور ی بھی دے دی تھی، اسکے با وجود لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف زیادہ مرکوز نہیں کرپایا، در حقیقت یہ منظوری پیکر اسلام پر ایک کاری ضرب تھی جو بالکل صحیح نشانہ پر جا لگی۔ ترکی کی پارلمان کا منظور شدہ قانون یہ تھا کہ تعلیم و تربیت کے نظام کویکجا یعنی لڑکیوں اور لڑکوں کے تعلیمی نظام کو مخلوط کر دیا جائے، اس لئے کہ کسی بھی تہذیب و ثقافت کی ترقی میں نظام تعلیم و تربیت ہی اپنا دائمی اور

____________________

(١) Greywoolf ,ص ٢٨٧۔


گہرا اثر چھوڑ تے ہیں۔ اس (کمال آتا ترک) کے اس اقدام سے، وزارت تعلیم نے جمہوری حکومت کے احاطہ میں تمام دوسرے تعلیمی اداروں کو اپنی طرف کھینچ کر اپنے آپ سے مخصوص کرلیا، اور اس طرح دوسرے تعلیمی اداروں پر اپنا تسلط اور اقتدار جمالیا۔ حالات کی تبدیلی اور معلمین و اساتذہ کی سلب آزادی نے اُن کو مفلوج کرکے رکھدیا، اور ان سے اس اختیار کو سلب کرلیا۔

''آتا ترک'' اور اس کے معاصر ''ہٹلر'' کا موازنہ

مشہور و معروف مورخ ''آرنالڈ ٹو ین بی'' ( Toynbee ) اپنی کتاب History) (A Study of مطالعۂ تاریخ میں نہایت ہی فصیح و بلیغ اور مؤثر عبارت کے ضمن میں لکھا ہے: ترکی کے رسم الخط کی تبدیلی اور اس سلسلہ میں ''کمال آتاترک'' کی زیرکی اور فراست نیز اپنے مقصد کے حصول کے لئے بہترین کارروائی کے بارے میں تحریر کرتے ہوئے ا سطرح کہا ہے:

''لوگوں کے درمیان یہ بات پھیل گئی تھی کہ ''کمال آتاترک'' نے ''اسکندریہ'' کے عظیم کتب خانہ کی کتابوں کو (جو گذشتہ نو صدیوں کا بہت بڑا علمی ذخیرہ تھیں) حمام کے چراغوں کے روشن کرنے اور اس کے پانی کو گرم کرنے کی غرض سے نذر آتش کر دیا۔''(١) (بڑی ہی خوبصورتی سے بہانہ تراشا اور اتنا بڑاقومی سرمایہ نابودی کے گھاٹ اتار دیا۔ تاکہ

____________________

(١)اسکندریہ کے کتب خانہ کی آتش سوزی کی طرف اشارہ ہے ،اس کو ایک شاخسانہ قرار دیا۔ اس افسانہ کا خلاصہ

یہ ہے۔ وہ برابر کہا کرتا تھا کہ ان علمی ذخائر کو میں نے اپنے تئیں برباد نہیں کیا، بلکہ یہ سب خلیفہ کے دستور سے ہوا ہے، حالانکہ تاریخی تحقیق اور جانچ پڑتال سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ گڑھا اوربے بنیاد ہے۔ ان علمی ذخیروں کو اس نے خود سرانہ طور پر جلایا ہے۔


وہ اس کو نابود کرکے اپنے مقصد کو حاصل کرلے اور اس طرح اپنے اہم مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے یہ کہاکرتا تھا کہ مطبع اور پریس کا لگانا بہت مشکل بلکہ محال کام ہے۔مترجم)

ہمارے زمانہ میں ہٹلر نے بھی تمام کوششیں کر ڈالیںکہ ہر اس علم کو مٹادے جو اس کے خلاف ہو اور اس کی فکر سے تال میل نہ کھائے اور ایسے علمی ذخائر کو نابودی کے گھاٹ اتار دیتا تھا اور اپنے اس عمل میں کامیابی کے حصول کی خاطر یہ کہا کرتا تھا کہ مطبع اور پریس کا لگانا بہت مشکل بلکہ اس امر کو محال سے زیادہ مشابہ بتایا تھا۔ (تاکہ وہ اپنے مقصد کو اس کے ذریعہ اس افسانہ کی آڑ میں حاصل کرلے اور عوام الناس اس پر زیادہ زور اور دباؤ بھی نہ بنا پائیں۔مترجم)

''مصطفی کمال'' (معاصر ہٹلر) نے اپنے دفاع اور عقل کو ایسے راستہ کے حصول میں لگایا جس کے ذریعہ اس کو کامیابی حاصل ہو، آخرکار اس کے ذریعہ اس کو بہت بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

ترکی کے آمر ( Dictator ) نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ترکوں اور ان کی ذہنیت کو اس تہذیب سے جو اس (آتاترک) کے بقول وحشت گری کا تمدن تھا۔ وہ اپنی پوری قدرت اور تمام کوششوں کو بروئے کار لاکر ترکی کی عوام کو مغربی تمدن کے ثبات، استواری اور استقرا پر کاربند تھا۔ اس نے کتابوں کوجلانے اور نذر آتش کے بجائے! حروف تہجی اور

رسم الخط کی تبدیلی پر ہی اکتفا کیا، اپنے اس اقدام کے ذریعہ اس نے چین کی شہنشاہیت اور عربی خلیفہ کی پیروی سے اپنے کو بے نیاز اور آزاد کرلیا؛ اسی طرح سے فارسی، عربی اور


ترکی زبان کے قدیم علمی ذخائر بھی ایسے ہی حالات، نتائج اور سرنوشت سے دوچار ہوئے؛ جس کے بعد پھر ان ذخائر تک کسی کی رسائی ممکن نہ ہوسکی، یعنی پھر اس کو کوئی سمجھ ہی نہ سکے اور اس کی ضرورت ہی باقی نہ رہ جائے۔ ایسا ہی ہوا کہ لوگ اس کے درک و فہم سے عاجز ہوگئے، پھر آہستہ آہستہ ان زبانوں سے دور ہوگئے۔ اور اس طرح علمی ذخائر یعنی قدیمی کتابوں کو آگ لگانے کی ضرورت بھی باقی نہ رہ گئی؛ اس لئے کہ عربی زبان کے حروف تہجی کی بساط ہی الٹ دی گئی تھی۔ یہ کارروائی اس نتیجہ کے حصول اور اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنے، کتابوں کو غسل خانوں کے پانی گرم کرنے کے مقصد سے نذر آتش کردینا ایک بہانہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ (اس کے علاوہ) اپنے اس اقدام کے ذریعہ (مصنفین، اہل قلم حضرات اور ان کے دیوان) لوگوں کے احساسات اور جذبات یہ سب مردہ عجائب گھر اور میوزیم کی زینت بن گئے اور ان کو طاق نسیاں کے حوالہ کر دیا۔ اور اب اس کا حا صل کرنا ضروری نہیں رہ گیا، چونکہ ان افکار اور شائعات کے اوپر مکڑی نے جالے تن دیئے یعنی یہ سب باتیں ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئیں۔ اب ان کتابوں کو کچھ بوڑھے مولویوں کے علاوہ کوئی پڑھنے والا نہ تھا۔''(١) (یعنی ان کے علاوہ کوئی بھی شخص اس کے پڑھنے پر قادر نہیںتھا، اور کوئی ایسی پرانی اور بوسیدہ تحریروں کو پڑھنے کے لئے راغب و مائل بھی نہیں ہوتا تھا۔مترجم)

____________________

(١)الصراع بین الفکرة الاسلامیة والفکرة الغربیة، الندوی، ص٦٢۔


فصیح زبان کی نابودی

اِن اقدامات کے گذر جانے کے بعد، تہذیب و ثقافت کو مسخ کرنے کے دعوے دار لوگوں نے قرآن کی زبان کو اپنا نشانہ بنایا، یومیہ اخباروں، ادبی اور ہنری آثار، تحریریں، ریڈیو کے نشریات، قصہ گوئی، خطابت و تقریر میں ان ساری چیزوں کے ذریعہ کوشش کر ڈالی کہ ہماری روز مرہ کی زندگی سے فصیح زبان کو ختم کردیں اور قرآن کی زبان کی ان وسعتوں کے باوجود (فصیح عربی زبان) لوگوں کی محدود معاشرتی زندگی اور عوامی زبان (یعنی بازاری اور مقامی زبان) سے تبدیل کر دیں۔ یہ لوگ یہ کہتے ہیں: ''جس قدر یہ لوگ خدا اور رسول کے کلام اور شریعت کے مصادر اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے جڑے رہیں گے، تو کم سے کم عربوں کے لئے اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ ان کی فصیح زبان خاص علاقہ اور محدود لوگوں کے درمیان بولی جا تی ر ہے، اس طرح یہ زبان قدرے محدود ہو جائے گی اس حدتک کہ اس کے لکھنے، پڑھنے اور بولنے والے بہت کم رہ جائیں گے، کہ اگر کم و بیش یہ زبان بولی جاتی رہی، تب بھی وہ اس کے ذریعہ اپنی تہذیب و ثقافت کو محفوظ کر سکتے ہیں۔''

ڈاکٹر طہٰ حسین صاحب (اس بات کی دعوت دینے والوں میں پیش پیش نظر آتے ہیں کہ قرآن کی زبان کو روز مرہ او ر بول چال کی زندگی سے جدا کردیا جائے) وہ اس سلسلہ میں کہتے ہیں: ''کرہ زمین پر (جیسا کہ کہا جاتا ہے) ایسے دیندار پائے جاتے ہیں جو ایثار و قربانی اور جانبازی کے لحاظ سے ہرگز ہم سے کم نہیں ہیں، مگر یہ کہ ان لوگوں نے بغیر کسی زحمت اور تکلیف کے یہ قبول کر لیا ہے کہ فطری طور پر اپنی پسندیدہ اور خاص زبان ضرور ہونی چاہئے لیکن دینی حمایت اور اس کی پابندی کے اعتبار سے وہ اس طرح سوچتے ہیں کہ زبان و ادب ہماری دنیاوی ضروریات کو پورا کرتی ہیں ایسی زبان بھی ان کے پاس ہونی ضروری ہے، ٹھیک اسی طرح بہترین اور خالص دینی زبان ہونا بھی بہت ضروری ہے؛ جس کے ذریعہ وہ اپنی مقدس دینی کتاب کی تلاوت کرتے اور نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں: دینی زبان کو بھی اپنائے رہیں اور زمانہ کے ساتھ ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے رہیں۔


مثال کے طور پر: لاتین ( Latin ) زبان عیسائیوں میں سے بعض لوگوں کی زبان، یونانی زبان عیسائیوں کے دوسری جماعت اور گروہ کی زبان، قبطی زبان(١) عیسائیوں کے تیسرے گروہ کی ایک زبان اور سریانی زبان عیسائیوں ہی کے چوتھے گروہ کی زبان ہے، اسی طرح سے مسلمانوں کے درمیان کچھ افراد ہیں جو عربی زبان میں بات نہیں کرتے یعنی ان کی مادری زبان عربی نہیںہے اور وہ اس زبان کو سمجھتے بھی نہیں ہیں، یہ زبان اُن کے سمجھنے اور سمجھانے کا ذریعہ بھی نہیں ہے، اس کے باوجود ان کی دینی زبان عربی ہی ہے۔ بغیر کسی شک و شبہہ کے یہ لوگ اور ان کے احترام کا طریقہ، اپنے دین کی حمایت، پائبند اور دین سے ان کی والہانہ محبت اور اس کے ساتھ لگاؤ ہم سے کم نہیں ہے۔''(٢)

____________________

(١)زبان گروہی از مردم مصر (مصری لوگوں کے بعض گروہ کی زبان)

(٢)الصراع بین الفکرة الاسلامیة والفکرة الغربیة، الندوی، ص٢٢٩و ٢٣٠۔


پس پردہ سازش(١)

صرف اپنے ذوق و شوق اور اس کے متعلق اپنے جوش و ولولہ کو ثابت کرنے اور دکھاوے کیلئے ہمارے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کے بہی خواہ اور ان کی زندگی کو مرفہ وآسان تر بنانا چاہتے اور ان کی سطح زندگی کو بلند کرنا چاہتے ہیں، (جیسا کہ اسلامی ثقافت اور تہذیب و تمدن کو مٹانے اور بدلنے والوں کا یہ کہنا ہے) لیکن ان لوگوں کی ان چکنی چوپڑی باتوں سے کوئی فائدہ مسلمانوں کا ذرہ برابر نہیں ہے، بے شک فصیح عربی زبان (زبان قرآن) ان لوگوں کے مقصد کے حصول کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ اور سد راہ محسوب ہوتی ہے اسی وجہ سے یہ لوگ اسلامی ثقافت کو سرے سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔

اِن چودہ صدیوں کے اندر، فصیح زبان نے مسلمانوں کی ادبی اور فکری (نہ یہ کہ صرف عربوں کی زندگی بلکہ تمام لوگوں کے بارے میں) زندگی، غور و فکر کے لئے اسلحہ، اور ایک دوسرے کی باتوں کو سمجھنے، مسلمانوں کے آپس میں ایک دوسرے سے قریب ہونے

____________________

(١)وہ عنوان جس کو اس صاحب قلم نے کتاب کے اس حصہ کے لئے قرار دیا ہے ''ملت اسلامیہ سے اس کی وراثتوں کو ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے ۔ اور یہ سازش صرف فصیح عربی زبان کی نابودی کے ذریعہ ہی عملی جامہ پہن سکتی تھی'' اور چونکہ بحث کے طولانی ہونے کا خطرہ لاحق تھا اس وجہ سے مندرجہ بالا عنوان پر ہی اکتفا کر لی گئی ہے اور اس بحث نے اس کی جگہ لے لی۔ (مترجم فارسی)


اور فصیح عربی زبان لکھنے اور بولنے میں، خواہ نظم و نثر قدیم ہوں یا جدید، اس طولانی عرصہ میں مجموعی طور پر علم و دین نے ان کی ہمراہی کی اور بہت ساتھ دیا ہے۔ ادب کی تمام اصناف سخن میں سنجیدہ اور مزاحیہ کلام سے لیکر حماسہ، غزل، مرثیہ اور ادب کے تمام اصناف سخن میں فصیح عربی ادب و زبان نے تعمیری خدمت کی ہے۔ عربی زبان اپنی چُھپی ہوئی لطافت و شیرینی اور نرمی کے سبب، جو اس زبان میں مضمر ہے۔ ہر زمانہ میں لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے میں پیچھے نہیں رہی ہے؛ اور ہرہر موڑ ہر ہر قدم پر انسانوں کی مشکل کشائی میں آگے آگے اور پیش پیش رہی ہے۔

اس بنا پر فصیح زبان کے ناتواں ہونے اور افہام و تفہیم میں سختی اور زحمت کا شاخسانہ! بنایا گیا اور لوگوں کو آسان عربی زبان کا سبز باغ دکھانے کا مظاہرہ اور جوش و ولولہ کسی ایک اہل زبان یعنی عربوں پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے۔ بازاری عامیانہ لہجہ (غیر فصیح یعنی دیہاتی اور محلی لہجہ) اس دور میں اہل عرب کی عقلی، ادبی، سیاسی نیز اقتصادی زندگی کے حوالے سے عرب کے اس فصیح لہجہ کے مقابلہ میں، زیادہ لطیف اور شیرین نہیں ہے۔ (اگر ہم اس کے بر عکس تصور نہ بھی کریں، تب بھی اس سے شیرین کو ئی ا ور زبان نہیں ہو سکتی ہے۔)

زبان کو بہت ہی آسان و شیریں بنا کر پیش کر نے کے سبز باغ دکھانے میں در پردہ ایک سازش کار فرما ہے، جس میں پورا زور اس بات پر لگایا جا رہا ہے کہ عوام کی نظر میں فصیح عربی زبان کی تاثیر کو ختم کر دیا جائے، جو عربوں کی عقلی، ادبی اور سیاسی زندگی میں پوشیدہ (مضمر) ہے۔ اس کو عامیانہ لہجہ میں تبدیل کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ کا قانونی منابع سے مستقیم اور سیدھا رابطہ بالکل ختم کرکے ان (عربوں) کو آپسی میل ملاپ اور ان کے باہمی ارتباط سے محروم کر دیا جائے، اور اسی طرح غور و فکر کے اعتبار سے بھی عربوں کو اسلامی تہذیب و تمدن سے دور کرنے کا ان لوگوں کا مقصد پورا ہو جا ئے گا۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ امت مسلمہ اپنی گذشتہ وراثتوں اور اسلامی ثقافت و تمدن سے دور ہو جائے، قرآن و احادیث سے مستقیم اور سیدھے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوجائے۔ اور پھر اپنی سابقہ زندگی سے عاجز ہوکر مشرق یا مغرب کے قدموں میں پناہ لے لے یا پھر زمانہ والوں کی طرح جاہلی تہذیب و تمدن (فرعونی، زرتشتی، عاشوری، کلدانی وغیرہ) کی طرف پلٹ جائیں؛ اور پھر انھیں کے رنگ میں رنگ جائیں۔


مختلف دبستان ادب میں عوامی لہجہ کی تعلیم پر زور

اپنے اس مقصد کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے کے لئے عربی زبان کے مختلف مکاتب اور مراکز، دانشگاہ اور اعلیٰ تعلیم گاہوں میں تدریس کی کرسیوں اور اسی طرح عربی دنیا میں اسلام کے بڑے بڑے علمی اور ادبی جرائد کو اپنا زر خرید غلام بنا لیا تھا۔ (اس طرح ان کو اپنی خدمت میں لے لیا؛ ان تمام جرائد اور متعدد ادبی حلقوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا تھا اور وہ بے زر خریدہ غلام بن کر ان کے تابع محض ہوگئے تھے۔ مترجم)

احمد حسن الزیات ''رسالہ اور روایہ'' نامی جرائد کے ایڈیٹر اور مدیر اعلیٰ اس طرح کہتے ہیں: ''وہ قاہرہ کے عربی زبان کے مکاتب کی تأسیس کے ابتدائی دور میں بڑے بڑے منتظمین (عربی اور اسلامی مفاد کے محافظ) اور اہل قلم ادبی مکاتب پر مسلط ہوگئے اس کے بعد بھی مصنفین اور صاحبان جرائد نے ان امور کا نظم و نسق اپنے ہاتھوں میں لے لیا؛ یہ وہی لوگ تھے جو عوامی زبان کو اہمیت دینے کے حوالے سے اور اس وجہ سے کہ کہیں زبان جمود کے سبب زمانہ کی رفتار سے پیچھے نہ رہ جائے، اس سلسلہ میں ''مجمع'' یعنی زبان و ادب کے امورِ سے متعلق انتظامیہ کو متعدد مواقع پر ٹوکا اور اس امر پر توجہ دلائی۔''(١)

____________________

(١)اللغة العربیة بین الفصحی و العامیة، ص٨١و ص٨٢۔ جیسا کہ ڈاکٹر محمد محمد حسین نے بھی اپنی کتاب

''حصوننا مھددة من داخلھا'' کے ص٢٠٤ میں اس مطلب کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔


''آخر کار عربی زبان کی حفاظت کی دعوت دینے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مختلف وسائل اور ذرائع کے سبب، وہ دروس جن کو ''عوامی (عامیانہ) ادبیات'' کے نام سے جانا جاتا ہے، عربی زبان کے ادبیات کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کرکے وہ لوگ دانشگاہ (یونیورسٹی) کے تمام شعبوں میں مثلاً شعبۂ ادبیات شعبۂ سماجیات وغیرہ میں دخیل ہو گئے۔ یہاں تک کہ عربی ''الازھر'' کالج کی بنا ڈال دی، اور اُن کو یہ بھی توفیق ہو گئی کہ قاہرہ (یونیورسیٹی) میں اس کے اساتید کی تدریس کے لئے بھی ادبیات کا ایک شعبہ قائم کر لیا جائے، اور انہوں نے ایسا ہی کر دکھایا۔

جب اکثر ماہرین تدریس عربی دبستان ادب میں جمع ہوگئے اس وقت چند صاحبان قلم محققین نے عوامی اور دیہاتی زبان (خاص طور سے قصوں اور بالاخص دیہاتی زبان) پر نکتہ چینی کی اور اعتراض کا بازار گرم کردیا۔ انھیں ''عامیانہ ادب'' میں سے ''ڈاکٹر محمد حسین ہیکل'' کا معروف قصہ ''زینب'' ہے اور اس کے علاوہ دوسرے قصوں کا بھی نام پیش کیا جاسکتا ہے جن پر شدید اعتراض کئے گئے۔ اس دعوت کا زیادہ اثر ادب نو کے حلقوں پر پڑا یعنی شعبۂ ادبیات اور اس سے مربوط کالج اور بڑے مراکز میں تبدیل ہوگئے۔

''قاضی ویلمور'' نے اس بارے میں ''لغة القاہرة'' نامی ایک کتاب تحریر کی انھوں نے اس کتاب میں عوامی زبان کے قواعد و ضوابط وضع کئے اور یہ پیشکش بھی کی کہ اس زبان کو علم و ادب کی زبان قرار دی جائے۔ اور اس نے یہ بھی پیشکش کی کہ عوامی زبان کی تحریر لاتینی رسم الخط میں ہونی چاہئے اور لوگوں کو اسی زبان کے لکھنے پر شوق دلایا جائے۔


''مُقتَطِف'' نامی جریدہ نے اسی رسم الخط میں اس زبان کو لکھنے کی پیشکش کے علاوہ اس کی تعریف بھی بہت کی، لیکن یومیہ اخبار نے لکھ ڈالا کہ اس دعوت کے ذریعہ اسلام کی زبان سے مبارزہ کرنا مقصود ہے اور اس کے علاوہ ان لوگوں کا کوئی مقصد نہیں ہے۔''(١)

مدارس پر قبضہ

(دشمن نے) مدارس کی مختلف سطحوں کی تدریس کے حوالے سے منظم اور مستحکم تحریک چلادی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی اس مہم میں تسلط حاصل کرکے اس کو بھی سر کر لیا۔ اور انھوں (اسلام دشمن طاقتوں) نے دنیا میں بہت سے مدارس، اسکول اور کالج کا قیام عمل میں لائے (اور ان کی تاسیس کی) اور ان مدارس کو چلانے کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا، تاکہ نسل نو کو ماضی کی تاب ناک تاریخ اور گذشتہ وراثتوں سے یکسر جدا کردے؛ ساتھ میں یہ بھی کہ ان مدارس میں مشغول طالب علموں کو بہت ہی سطحی، عمومی اور معمولی تعلیم دی جائے۔ تاکہ یہ لوگ ہمیشہ ہمارے دست نگر اور محتاج رہیں۔

اس اقدام کے ذریعہ عیسائیت کو اپنی تبلیغ و ترویج کا بہترین موقع مل گیا، نوجوانوں اور جوانوں میں اپنی اس تبلیغ سے اس کا کوئی اور مقصد نہیں تھا سوائے یہ کہ یہ لوگ عیسائیت کے بیج کو نوجوانوں اور جوانوں کے دلوں میں ڈال کر اس کو بار آور کرنا چاہتے تھے، تاکہ نسل نو کو ان کی بنیادوں، ماضی کے مستحکم تاریخی حقایق اوران کی پختہ مذہبی اور گہری جڑوں والی ثقافت سے ان کو دور کردیں اور یہی ان کا اصلی مقصد تھا۔

____________________

(١)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ج٢، ص١٣٥۔


بعض تبلیغی اجتماعات میں، عیسائیت کے مبلغین دین اسلام کے خلاف اپنے مقصد کے حصول کے لئے (تبلیغی ساز و کار اور طور طریقہ کو بتاتے ہوئے کہ تبلیغ اس طرح کی جانی چاہئے) وہ لوگ حقیقی اور خفیہ طور پر مسلمانوں کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں، اسی بارے میں وہ آپس میں شکوہ شکایت اور اس سے بہتر کار روائی اور طریقۂ کار کی تلاش کے لئے فکر مند تھے کہ دین اسلام اور مسلمانوں سے کیسے نمٹا جائے۔

اس اجتماع کے اختتام پر، عیسائیوں کے پادری یا کشیش جس کا نام ''سموئیل زایمر'' تھا، وہ اپنی جگہ پر اٹھ کھڑا ہوا؛ اور اس طرح اپنا اختتامیہ بیان دیا۔ وہ اس طرح کہتا ہے: اس اجتماع کے مقررین نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ عیسائیت کی ترویج اور اس کی تبلیغ کا واقعی مقصد، مسلمانوں کو عیسائی بنانا ہرگز نہیں ہے، بلکہ ان کا اصلی مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اُن کے دین اور مذہب سے دور کر دیاجائے؛ ان (مسلمانوں) کو اپنی ثقافت اور تہذیب سے دور کرکے لا مذہب بنا دیا جائے۔ اس بارے میں ہم اپنے ذاتی اور پرائیویٹ اسکولوں اور اسی طرح (دنیائے اسلام کے) سرکاری اسکولوں کے ذریعہ جو کہ ہمارے تعلیمی طریقہ کار کی پیروی کر رہے ہیں ہم یہ کام بہ آسانی انجام دے سکتے ہیں؛ اس لئے کہ ہم نے اُنہیں لوگوں کے درمیان بہت واضح کامیابی حاصل کی ہے۔''(١)

اس موقع پر اسلام پر چھپ کر گھات لگانے اور مخفیانہ حملے کرنے والے (عالمی سامراج، اور استعمار) لوگوں نے اسکولوں، مذہبی اور ثقافتی تعلیم گاہوں میں اپنے نفوذ کے ذریعہ، بہت وسیع پیمانہ پر اسلامی سرزمین پر قبضہ جمانے کی قدرت حاصل کر لی ہے۔

____________________

(١)معرکة التقا لید، ص١٨٠۔


''جنرل پی یرکلیر'' نے لبنان میں فرانس کے طور طریقہ پر ادارہ ہونے والی تعلیم گاہوں اور اسکولوں کے بارے میں اپنی نظر کا اس طرح اظہار کیا ہے:

تقریباً پہلی عالمی جنگ کی ابتدا میں (١٩١٤۔ ١٩١٨ء کے دوران) تعلیم و تربیت کا پورا انتظام واہتمام ہمارے ہاتھوں میں رہا ہے یعنی ہم نے اس کا ادارہ کیا ہے۔(١)

مغربی حملہ آوروں اور چھپ کر گھات لگانے والوں نے باقاعدہ جان لیا ہے کہ یہ اسکول، تعلیم گاہیں اور اعلیٰ تعلیمی مراکز (دانشکدے) یہ سب چیزیں نسل حاضر کو ان کی وراثتوں سے دور کرنے کا بہترین اور مناسب ذریعہ ہیں۔ لہٰذا پہلے نسل نو کو ان کی دینی اور مذہبی وراثتوں اور اسلامی تہذیب وثقافت سے جدا کرکے مغربی (انگریزی) افکار اور یورپ کی تہذیب و ثقافت اور تمدن میں غرق کردیں۔

''لارڈلویڈ'' نے (مصر میں وقت کا عالی رتبہ برطانوی نمائندہ) وکٹوریہ اسکندریہ کالج ( College ) ١٩٢٦ء کی ایک تقریر کے دوران اپنے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے یوں کہتا ہے:

ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم مصریوں اور برطانوی شخصیات کے درمیان طرفینی افہام و تفہیم کے تمام ذرایع، جو فی الحال ہمارے اختیار میں ہیں، فراہم کرکے ان میں مزید استحکام پیدا کریں۔ عموماً آپس کا یہی تفاہم اور باہمی تعلقات ہی ہم کو ہمارے مقصد میں کامیاب بناسکتے ہیں۔ وکٹوریہ کالج کی تأسیس سے ''لارڈکرامر'' کا مقصد بھی یہی تھا۔ دو ملکوں کے درمیان تعلقات بڑھانے اور اس کے استحکام میں دانشکدوں اعلیٰ

____________________

(١)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ج٢، ص٢٦٦۔


تعلیم گاہوں یا کالجوں میں پڑھنے والے جوان لڑکے اور لڑکیوں کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل اور تمام ذرائع سے کہیں زیادہ بہتر، مؤثر اور مناسب وسیلہ ہے، کوئی اور وسیلہ اس کی برابری نہیں کر سکتا ہے۔(١)

وہ (کالج کے) طالب علموں کے بارے میں اس طرح اظہار خیال کرتا ہے: ''وہ وقت زیادہ دور نہیں جب طلباء و اساتذہ کے پاس اٹھنے بیٹھنے اور حشر و نشر کے سبب برطانوی نظریات متأثر ہو جائیں گے۔''

مناسب یہ ہے کہ اب اس موضوع پر زیادہ طول نہ دوں اور اس سے زیادہ اس موضوع کے سلسلہ میں بحث نہ کروں؛ اس لئے کہ محترم قاری حضرات خود بھی ڈاکٹر محمد محمد حسین کی تصانیف ''الغارة علیٰ العالم الاسلام'' اور ''الاتجاھات الوطنیة ف الادب المعاصر'' کے ایسی کتابوں سے استفادہ کرسکتے ہیں؛ اسی طرح ڈاکٹر مصطفی خالدی اور عمر فرّوخ کی کتابیں ''التبشیر و الاستعمار،، جس میں نسل حاضر کی افکار اور تہذیب و ثقافت پر نشانہ سادھا گیا ہے، استعمار کی ان خطرناک سازشوں کو بڑی ہی آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا مذکورہ عبارت میں مغربی رجحان کی دعوت دینے والوں اور اسلامی تہذیب و ثقافت پر حملہ کرنے والے لوگوں کے بارے میں سرسری اور غائرانہ تذکرہ کیا جا رہا ہے جس کو انھوں نے نسل حاضر کی تہذیب اور ان کی ماضی کی وراثتوں اور اسلامی ثروت پر ڈاکہ ڈالنے، نیز ان کو منحرف ا ور گمراہ کرنے کی غرض سے اسلامی ممالک میں داخل ہو گئے ہیں۔

____________________

(١)الاتجاہات الوطنیة ف الادب المعاصر، ج٢، ص٢٦٧ و٢٦٨۔


ایک عظیم سازش کے نتائج اور اثرات

ان تمام کدّ و کاوش اور زحمتوں کی اصلی وجہ صرف ایک قضیہ ہے اور وہ یہ کہ ثقافتی اور مذہبی ارتباطی پلوں کا توڑنا اور ان کامنہدم کرنا، جو امت مسلمہ کی نسلوں کو آپس میں اور ان سبھی لوگوں کو دین کے ابتدائی سرچشموں سے جوڑتا ہے۔

یہ وہ پل ہیں جو مذہبی اور ثقافتی میراث کو اخلاق اور افکار کے قالب میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرتے ہیں اور اگر یہ پل منقطع اور منہدم ہو جائیں تو ان نسلوں کے درمیان اخلاقی و فکری، مذہبی و ثقافتی رشتے اور تعلقات باقی نہیں رہ جائیں گے۔

مغربی تہذیب کی دعوت دینے والے اور اسلامی تہذیب و ثقافت پر حملہ کرنے والے لوگ، یکے بعد دیگرے انسلوں کو آپس میں جوڑنے والے پلوں کو برباد کرنے کے لئے نشانہ سادھا ہے اور ان کو بالکل سے ختم اور منہدم کر دیا ہے یا پھر ان کو پوری طرح اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور اس پر تسلط جما لیا ہے:

عربی رسم الخط کو اپنے حملہ کا نشانہ بنایا، یہ لوگ لگاتار اس بات کی کوششوں میں مشغول ہوگئے تاکہ عربی رسم الخط کو لاتینی رسم الخط میں تبدیل کردیں۔ اس کے بعد اپنے حملہ کا رخ فصیح زبان کی طرف موڑ دیا اور بہت سارے اقدام کے ذریعہ اس بات کی کوشش کی فصیح عربی زبان کی جگہ عربی زبان کے مختلف عامیانہ لہجوں کو بروئے کار لائیں۔ (اور جب اس میدان میں بھی مخفیانہ حملہ کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی تو) اس کے بعد اپنی توجہات کا مرکز اسکول اور کالجوں اور اعلیٰ تعلیم گاہوں کو بنالیا اور ان پرتسلط حاصل کرنے کے لئے تعلیمی طور طریقوں اور ان میں، اساتذہ کی تقرری اور ان کی فراہمی اور ان کی درسی کتابوں کے ا نتخاب اور نصاب میں اپنے منشا کے مطابق تبدیلی کی تمام کوششیں کر ڈالیں۔


اس کے بعد مسجدوں دینی مدارس اور اعلیٰ اسلامی تعلیم گاہوں ( Islamic Universities ) پر تسلط حاصل کرنے کی غرض سے بہت سے اقدامات کر ڈالے اور اپنی مختلف چالوں اور حیلوں کو بروئے کارلائے اور نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ ''شیخ الازہر'' کا انتخاب بھی (یعنی شیخ الاسلام ایسا عہدہ ہے جو دینی اعتبار سے خاص عظمت اور اہمیت کا حامل ہے) یہ بھی صدر جمہوریہ کے دستور کے مطابق منصوب ہونے لگا۔(١)

یہاں تک کہ شیخ الازہر کا گھر اور ان کے گھر والے بھی اس طوفان کی لپیٹ سے نہ بچ سکے اور اس بات کی انتھک کوشش میں مشغول ہوگئے کہ آزادی بنام آوارگی اور بے بندوباری اور لاابالی گری کو رواج دیں اور ایک نسل سے دوسری نسل میں ان کے مقدسات اور مذہبی وراثتوں اور تاریخی حقائق کو ان تک منتقل ہونے سے روک دیں۔

اور اسی طرح یہ حملہ کرنے والے اسلام و مسلمین کو مغربی تمدن کے قدموں میں

ڈال دینے والوں یعنی در حقیقت اسلام و مسلمین کے جانی دشمنوں نے بہت کوشش کر ڈالی کہ نسلوں میں اسلامی وراثتوں، مذہبی تہذیبوں، نیز تابناک ماضی کی تاریخ سے اُن کو بالکل دور کر دیں اور ایک ایسے معیار پر ان کی تربیت کریں جو ان کی تمام مذہبی اور ثقافتی بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ (نسل نو کو اس سے دور کردے، اس طرح سے کہ وہ لوگ دوبارہ کبھی اس کی طرف مائل نہ ہوں اور اس طرح سے نسلوں کے باہمی روابط بالکل ختم ہوجائیں۔مترجم

____________________

(١) ١٩٦١ء میں پاس ہونے والے بل اور قوانین کی دفعہ ١٠٣ کے ٥ویں اور ٧ویں شق کے بموجب طے پاگیاہے کہ الازہر کی انتظامیہ کو منظم کرنے کے لئے ایسا کیا گیاہے۔


جاہلی تہذیب و تمدن کو خرابات سے باہر لانا

ان تمام امور کا اصلی سبب، تہذیب کہنہ اور نو کے درمیان کا اختلاف ہرگز نہیں ہے، جیسا کہ جدت پسندی اور مغرب مآبی کی دعوت دینے والے یہ چاہتے ہیں کہ ان مسائل کی ایسی ہی تفسیر کریں، بلکہ ان کی تمام کدّ و کاوش اور اس کی کار کردگی کا اصلی راز، خاص طور سے اس نسل کو اسلام و دین سے روکنے کی طرف ہی پلٹتا ہے؛ مجموعی طور سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ''تہذیب کہنہ اور نو'' کا یہاں پر یکسر کوئی تصور بھی نہیں ہے بلکہ اُن کا اصلی مقصد دین اسلام سے مقابلہ کرنا اور اس کو نیست و نابود کردینا ہے۔

اس دعوت (قدامت پسندی اور جدت پسندی میں کوئی جنگ اور اختلاف بھی نہیں ہے) کی دلیل یہ ہے کہ خود جدت پسندی اور تہذیب نو کی دعوت دینے والے لوگ مذہبی اور ثقافتی پلوں کو ایک خاص طرز کے ذریعہ نسل نو کو قدیم جاہلی تہذیبوں سے تال میل کے لئے مصر، عراق، ایران، ترکی، شام اور اسلامی دنیا کے دوسرے ممالک میں (دین بزرگ اسلام سے بے توجہی کرتے ہوئے اس) پروگرام بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا سارا اختلاف اور بنائے مخاصمت نسل نو کو دین مبین اسلام سے دور رکھنا ہے، جس کو وہ لوگ بیخ و بُن سے اُکھاڑ دینا چاہتے ہیں۔

اگر جدت پسندی اور فکر نو کو رواج دینے کے دعوے داروں کے ساتھ، مغرب مآبی اور جدت پسندی ہی کے دعوے دار مصر میں فرعونی ثقافت، ایران میں سامانی ثقافت، عراق میں بابلی ثقافت، ترکی میں بربری ثقافت اور دوسری بہت سی ثقافتوں کے احیا اور اس کے رواج دینے کے حامی اور اس پر مصر بھی ہیں۔... کیا ہمارے پاس ایسے حالات فراہم نہیں تھے؟ کہ ہم لوگ یہ سمجھ سکیں کہ فطری طو ر پر یہ اختلاف قدیم و جدید ثقافت کے درمیان ہے یا چپقلش اور اختلاف کی بنیاد کوئی اور چیز ہے؟ جس کے ارد گرد تمام اختلافات چکر کاٹ رہے ہیں۔

اس زمانہ میں ہم بالوضوح یہ ملاحظہ کر رہے ہیں کہ جدت پسندی کی دعوت دینے والے بڑی ہی جلد بازی کرکے اس بات کے درپے ہیں کہ تمام حالات اور وسائل سے استفادہ کرکے فرعونی، ہِخامَنشی، ساسانی، بابلی اور بربریت کے دور قدیم کی جاہلی ثقافتوں تہذیبوں اور تمدنوں کوا مت مسلمہ کی زندگی اور تمام ادبی حلقوں میں، شعر و نثر سے لیکر مجسمہ سازی، قصہ گوئی، تھیٹر، سینما، مطبوعات، تعلیمی اور درسی کتابیں، پوشاک اور معماری کے ہنر میں قدیم جاہلی تہذیبوں کا جلوہ دیکھنے کو ملتا ہے، اسی طرح چوراہوں، میدانوں، سڑکوں، محلہ جات اور پارک وغیرہ کے نام رکھنے میں قدیم جاہلی تہذیب و ثقافت کو از سر نو زندہ کر رہے ہیں۔


قدیم جاہلی ثقافتوں کے احیا میں ''فولکلور''(١) کا کردار

قدیم جاہلی تمدن کے احیا کرنے کے مختلف وسائل میں سے ایک وسیلہ ''فولکلور'' ہے، جس سے اُن (قدیم جاہلی تمدن) کے احیا میں استفادہ کیا جاتا ہے۔ واقعاً ''فولکلور'' اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے احیا، نشر اور توسعہ دینے، باہمی روابط پیدا کرنے، عقائد، آئین اور آداب کو بیان کرنے، افسانوں اور قدیم جاہلی خرافات حتی ناچ گانے لباس اور اس کے پہننے کے طور طریقے مقامی گیت اور وہ گانے جو قدیم جاہل امتوں میں دس صدیوں کے درمیان رائج اور حاکم تھے۔ زمانہ نے اس کو اور اس کے کردار کو طاق نسیاں کے حوالہ کر دیا تھا(٢) اور ایسا کیونکر ہے؟

(صدحیف) اس زمانہ میں ''فولکلور'' کے بارے میں مطالعات اور تحقیق و جستجو، جانچ پڑتال اور چھان بین ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ہنر، عقائد و آداب اور عوامی رسم و رواج نے اس طرح اپنے ہاتھ پیر پھیلا لئے ہیں کہ لوگ اس کے سبب دیوانگی اور بے حیائی پر اتر آئے

____________________

(١)''فولکلور'' تودہ شناسی،یعنی مختلف النوع اور بہت سی معلومات کا خزانہ اور یہ ایک ایسے مجموعہ کا نام ہے، جس میں عقائد، افسانہ اور کہانی، آداب اور رسم و رواج، دیہاتی ترانے، گیت وغیرہ پائی جاتی ہیں۔

(٢)مؤلف محترم نے ان چیزوں میں اکل و شرب کو بھی درج کیا ہے۔


ہیں، جن کی وجہ سے دل و دماغ میں بہت زیادہ تشویش ہوگئی ہے۔ اس صدی (قرن) میں ذہن و دماغ کی پر یشانی اور آزار کا اصلی سبب صرف یہی بتایا ہے۔

ہمارے ممالک کے ذمہ دار لوگ (عربی سرزمین کے حکّام مراد ہیں) فراعنہ اور شاہدان جاہلیت کے چہروں کو آشکارا طور پر مسلمانوں کے معاشرہ میں قابل توجہ رونق دیکھنے کو ملتی ہے، میدانوں، سڑکوں، ہوٹلوں، قمارخانے اور دوسرے ثقافتی مراکز، سینیما، پیٹرول پمپ یہاں تک کہ تعمیر گاہوں میں انکی تصاویر لگانے میں اپنے اشتیاق و خوش بختی کا اظہار کرتے ہیں۔ جہاں تک سڑکوں کے نام کی بات ہو بطور مثال ''امسیس اور کورش'' کے نام میں ہوٹلوں کو ضرور مشاہدہ کیا ہوگا ''حمورابی سگریٹ'' اور انھیں کے ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ظاہراً بہت ہی معمولی لگتی ہیں؛ حالانکہ ''ابوذر سلمان فارسی صھیب رومی عمار یاسر مصعب ابن عمیر'' اور انھیں کے ایسے بہت سے اسلامی نام موجود ہیں، ہمارے معاشرہ میں جن کی طرف کوئی توجہ بھی نہیں کی جاتی ہے، اور اس کے مقابلہ میں قدیمی جاہلی ثقافت کے احیا پر اتنا زور دیا جاتا ہے۔

''گِب'' ( Gibb ) نے اپنی کتاب ''وجھة الاسلام،، میں لکھا ہے: عالم اسلام میں مغرب نوازی کا سب سے اہم مظہر قدیم جاہلی تمدن کے احیا اور اس کے اہتمام و انتظام میں ہے۔ اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے؛ جن کو مختلف اسلامی ممالک میں بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ اب بھی وہ تمام آثار قدیمہ مسلمانان عالم کے اختیار اور ان کی دیکھ ریکھ میں ہیں۔ اگر آپ اس اہتمام اور انتظام کو بطور محسوس دیکھنا چاہیں تو مثال کے طور پر ترکی، مصر، عراق، انڈونیشیا اور (ماقبل انقلاب اسلامی) ایران میں ان سب چیزوں کا بآسانی مشاہدہ کرسکتے ہیں۔''

مغربی حملہ آوروں نے جن اسلحوں سے فائدہ اٹھایا ہے اُن میں سے ایک جاہلی تمدن کو ملبوں کے نیچے دبے ہوئے اور زمین کی پرتوں کے اندر سے باہر نکالنا ہے جس سے امت مسلمہ کی زندگی میں دوبارہ پیش کیا جاتا ہے اور ان خرافات کو ''آثار قدیمہ'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔


جاہلی تمدن کے احیا میں آثار قدیمہ کا کردار

مغرب نوازی اور جدت پسندی کے دعوے دار لوگ عالمی سامراج اور استعمار گروں کی توجہات کو غیر معمولی طور پر آثار قدیمہ کی مختلف اشیا اور مسائل کی طرف مبذول کرائی ہے۔ ہمارے ممالک میں بین الاقوامی ہیئتوں اور یونسکو کے ساتھ تعاون کے ذریعہ عجائب گھروں اور چڑیا گھروں کے قیام میں کثیر مال خرچ کیا جارہا ہے، دور جاہلیت کے آثار قدیمہ کے احیا کو اپنے ملبوسات اور پہناوے کے نئے نئے رسم و رواج اور جدید فیشن کی صورت میں ہم نے جاہلی تمدن کو پھر سے زندہ کرلیا ہے۔

''فولکلور ''کی طرف ہماری جی توڑ توجہ، قلبی لگاؤ، قدیمی ہنر اور قدیم جاہلی خرافی عقائد کا احیا، ہماری زندگی میں پوری طرح غیر فطری اور پر اسرار و مرموز لگتا ہے۔ اسی طرح مبالغہ کی حدتک آثار قدیمہ کی حفاظت کا اہتمام اور اس قدر اس کا انتظام و انصرام (اس تعجب خیز اور افراطی رویہ کے ساتھ) ان (قدیمی آثار) کو اکٹھا کرنے کے لئے اتنے کثیر مال و دولت کا صرف کرنا، اس کرّوفر کے ساتھ اسکے اقدار کی حفاظت اور اس طرح سے ان کا پیش کرنا، یہ سب کچھ غیر فطری اور مشکوک نظر آتا ہے۔ ہم جب ان کار روائیوں کی تہہ میں جاکر دیکھتے اور بغور ملاحظہ کرتے ہیں تو اُن کی جڑوں میںیہودیت اور صلیبیت کے تانے بانے بخوبی نظر آتے ہیں۔

محمد غزال کہتا ہے: اس دعوت کو تجسس اور تحقیق، آثار قدیمہ کی شناخت اور باقی رہنے والی تبلیغ کی دعوت کے ذریعہ آثار قدیمہ کی تحقیق و جستجو میں ہمراہی اور ان کو تلاش کیا ہے۔ جیسا کہ دنیا کو ''توت آنخ آمون''(١) کی کشف قبر کی تبلیغ، جس کو ''لارڈ کارنفون'' نے انجام دیا، مشہور کروڑپتی ''راکفلّر'' نے دسیوں ملین ڈالر بغیر کسی عوض کے خرچ کردیئے اور ان کو مردہ عجائب گھر میں فرعونی آثار کی حفاظت کے لئے لگا دیئے، جس نے آثار قدیمہ سے متعلق ایک تعلیم گاہ (کالج) کی بنیاد بھی ڈالی۔ جیسا کہ معروف ہے کہ ''راکفلّر'' یہودی الاصل، بلکہ شدت پسند یہودی تھا، اس کا اتنی زیادہ رقم خرچ کردینا نیز بے دریغ سخاوت کا مظاہرہ کرنا اس بنا پر ہے کہ اس میں صیہونیت کے زبردست اور متعدد مفاد وابستہ اور پوشیدہ تھے۔(٢)

____________________

(١)فرعونی سلسلہ کا ١٨واں (١٣٥٠۔ ١٣٤٢ قبل مسیح) اس نے شہر ''بتس'' آمون ( Ammon ) کی پرستش کو لازم قرار دیا تھا، اس کا مقبرہ جس میں بہت سی گرانقدر اور قیمتی اشیا موجود تھیں، جن کو ١٩٢٢ء میںکشف کیا گیا۔ (مترجم فارسی)

(٢)حقیقة القومیة العربیة، محمد غزال، ص٢٠٥۔اسلام نے آثار قدیمہ پر کافی توجہ مبذول کرائی ہے اور اس کا حامی بھی رہا ہے۔ لیکن یہ توجہ قدیمی جاہلی تمدن پر فخرومبا ہات کے لئے نہیںبلکہ اس سے درس عبرت حاصل کر نے، غرور دنیا اور اس کے فریب سے بچنے کیلئے ہے۔


عراق میں، عراقی حکومت نے ١٩٩١ء میں ''بابل اور آشور'' جیسی قدیم جاہلی ثقافتوں کے احیا کے لئے بہت بڑا اجتماع برپا کیا، جس میں ملک اور بیرون ملک سے بہت سے آثار قدیمہ کے ماہرین کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ شہر موصل میں ''آشور'' اور حلہ میں''بابل'' کے آثار کی تجدید بنا کا نقشہ بنا کر اس کا لائحہ پیش کرکے فورا ًتعمیر نو اور مرمت کا کام شروع کردیا گیا۔ صرف بابل کی مرمت کے لئے بارہ ملین ڈالر کا تخمینہ لگاکر اس کا بجٹ پاس کیا گیا، جس کو عراقی حکومت نے خود ہی ادا کیا؛ اسی وجہ سے عراقی حکومت نے شہروں کے نام تک بدل دیئے اور قدیمی جاہلیت کے نام پر ان شہروں کے نام رکھ دیئے، جیسا کہ موصل کا نام ''نینویٰ'' اور شہر ''حلّہ'' کا نام بابل رکھ دیا اور پرانی تاریخ کے منوں ملبے سے کھینچ کر باہر لے آئے؛ اسے پھر سے زندہ کر دیا۔

ایران میں، شاہ ایران نے لوگوں کی توجہ دین محمدی سے ہٹانے نیز اسلام سے لوگوں کے تعلق کو ختم کرنے کے لئے، ان کو زرتشتی گری، ہِخامَنشی اور ساسانیت سے جوڑنے میں بہت دلچسپی دکھائی؛ اور ان سے خصوصی لگاؤ کا اظہار کیا۔ اس کے متعدد کارناموں میں سے ایک یہ ہے کہ ہجری تاریخ کا خاتمہ کرکے اس کی جگہ شہنشاہی سَنِ تاریخ کو رائج کیا؛ اس جگہ شاہ ایران کے بطور خاص دو کارناموں کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔


شاہ کی حکومت نے، ایرانی سال کے اعتبار سے ١٣٢٠ ہجری شمسی کو، جس دن محمد رضا پہلوی نے ایرانی حکومت کو اپنے اختیار میں لیا تھا، اسی دن کو ٢٥٠٠سالہ ''شہنشاہی شمسی سال'' میں تبدیل کردیا۔ مشورتی مجلس کو نسل نیز عوامی مجلس (سینٹ) نے بھی مشترکہ نشست میں اس (شہنشاہی شمسی سال) کی منظوری دے دی۔(١)

شاہ ملعون نے ٢٥٠٠سال گذرنے پر قدیم زرتشتی تمدن کی یاد تازہ کرنے کے لئے شیراز میں پرسپولیس جس کو آج کل'' تخت جمشید'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، وہاں پر ایک بہت بڑا عالمی جشن برپا کیا؛ اس میں دنیا بھرکی بڑی بڑی سیاسی شخصیتوں اور بادشاہوں کو شرکت کرنے کی دعوت دی۔ ١٠٠ملین ڈالر قدیمی پوشاک اور قدیم گھوڑا گاڑی (بگھیوں) زیورات اور مصنوعی داڑھی، موچھوں (اس زمانہ میں رائج) اور دوسرے لوازمات پر خرچ کردئے۔

آپ کی اطلاع کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ شاہی حکومت نے ''کورش کبیر'' نامی فلم بناکر اس کو (یورپ کے ممالک میں بھیجنے کی غرض سے)(٢) ١٠٠ملین تومان(٣) امریکی فلم لکھنے والے کو ادا کئے۔ اس مقام پر بہت زیادہ شواہد موجود ہیں، جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ شخصیتیں اس بات کی طرف مائل تھیں کہ دنیائے اسلام میں ہر ممکن مختلف طریقوں کے ذریعہ قدیم جاہلی تمدنوں کو پھر سے احیا کیا جائے۔

اسی لئے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کہنہ اور نو کے درمیان کا اختلاف، علم کے دروازوں کو کھولنے اور مغربی پیش رفتہ مہارت (ہمارے لئے) کے حصول نیز علم اور تکنیک تک دست رسی کے لئے نہیں تھیں، بلکہ یہ سب کچھ اسلامی تعلیم کی مخالفت میں انجام دی جارہی تھیں۔ ان تمام اقدامات اور دھوکہ ڈھڑیوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ نسل حاضر کو گذشتہ

____________________

(١)تاریخ سیاسی ایران، ڈاکٹر سید جلال الدین مدنی، ج٢، ص٢٣٣۔

(٢)تقریباً ١٤ میلین ڈالر۔(٣)تاریخ نیم قرن جنایت (٥٠ سالہ جرم و جنایت کی تاریخ) سرہنگ احمد ودّی ص١٨٠۔


تمدن اور ان کی مذہبی اور ثقافتی نیز تاریخی اور قدیمی وراثتوں اور اس کے حقائق سے بالکل عاری کردیا جائے اور انہیں صرف سطحی اور سرسری معلومات فراہم کی جائے؛ یہی ان کا اصلی مقصد ہے۔

اِن تمام اقدامات کی دو مقام پر تطبیق کی جاسکتی ہے:

پہلی صورت: ابتدا میں تہذیب و ثقافت پر حملہ کرنے والے لوگ اس امت کو ان کے گذشتہ مذہب، ثقافت اور تمدن سے جدا کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی دکھاتے۔ (اور بڑے ہی انہماک کے ساتھ اس تخریب میں لگے ہوئے ہیں، ہماری دینی وراثتوں کی طرف للچائی نظروں سے اپنی نظریںجمائے ہوئے ہیں اورہر آن اس کو ہڑپ لینے کی تاک میں ہیں۔مترجم)

دوسری صورت: دوسرے موقع پر یادوسرے مرحلہ میں اپنی دعوت کے رخ کو جوانوں کی ثقافت اور مذہب کی واقعی صورت کو مسخ کر کے قدیمی جاہلی تمدنوں اور ثقافتوں سے جوڑنا چا ہتے ہیں، جو صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں، اور دوبارہ ان تمدنوں کو زندہ کرکے ملبے کے اندر سے نکال کر منظر عام پرلانا چاہتے ہیں، تاکہ واقعی اسلام کے مقابلہ میں انھیں پیش کریں۔

حکومتیں، حکام اور وہ لوگ جو ان کا اتباع کرتے ہیں اور تمام امور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتے اور ان کے تابع محض ہیں، اپنے بہت سے مال و دولت کو صرف انھیں امور میں خرچ کرتے ہیں۔ اپنے اس ہدف کو بروئے کارلانے کے لئے، بڑے بڑے جشن اوراجتماعا ت کو برپا کرنے کی غرض سے بہت سے امدادی ساز و سامان کو اپنے ذاتی اخراجات میں شامل کر لیا۔ اور اس امت کو مختلف سازش کے ذریعہ ثقافت، مذہب اور اس کی قدیم وراثتوں سے جدا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بات طے کرلی ہے کہ اس امت کو اس کی ثقافت اور وراثتوں سے جدا کرکے شرم آور اور گھناؤنے میل جول اور ناجائز تعلقات قائم کرنے کے ذریعہ یہ اقدام کیا ہے کہ ان کو گذشتہ جاہلی اور فرعونی ثقافتوں کے درمیان ایک قسم کا رابطہ قائم کرکے اس باہمی ارتباطی پل کے ذریعہ فرعونی، زرتشتی، کسرائی، بابلی، آشوری اور بربری قدیم جاہلی تہذیب و تمدن سے ان کو پھر سے جوڑ دیں۔

حقیقتاً، تعجب کا مقام ہے کہ انسان اس بات پر افسوس کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ کہ ایسی شرمناک حرکتوں، فریب اور دھوکہ دھڑیوں کے ذریعہ دن دہاڑے امت اسلامی کی ذہنیت کو مسخ کرنا چاہتے ہیں، قدیمی وراثتوں کی بربادی اور اسی طرح آہستہ آہستہ ثقافت اور تمدن کو غارت کرنے میں مشغول ہیں، اس طرح حیلہ گری کا موقف اختیار کر نے کے سبب مقابلہ اور ٹکراؤ کی بھی نوبت نہیں آئی اور وہ لوگ اپنے مقصد تک پہنچ گئے۔ لیکن ''جس کواللہ رکھے اس کو کون چکھے'' کے تحت، اگرچہ اس قوم کو بہت مشکلات اور خطروں میں گھیر دیا گیا ہے، اور وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس امت کو صفحۂ ہستی سے مٹادیں؛ لیکن خدا وند عالم نے ارادہ کر لیا ہے کہ اس قوم کو خواب گراں سے بیدار کردے اور اس نے اپنی اس عزیز اسلامی امت پر نظر لطف و کرم فرما دی ہے؛ بحمد اللہ اب مسلمان لوگ بیدار ہو گئے ہیں۔


فہرست

حرف اول ۴

مقدمہ ۷

گھر، مدرسہ اور مسجد ۷

پیش لفظ ۹

مؤلف کی زندگی اور ان کے آثار کی ایک جھلک ۱۲

اسمائے کتب ۱۴

دینی اور ثقافتی وراثت ۱۷

١)گھر ۱۸

٢)مدرسہ ۲۲

٣)مسجد ۲۵

حوزہ علمیہ اور دینی مدارس کی بنیاد ۲۶

ماضی اور مستقبل کے ارتباطی پُلوں کاانہدام ۲۸

ثقافتی تخریب کاری ۳۰

اسلامی ثقافت کو بے اہمیت بنانے کا منصوبہ ۳۲

مغرب پرستی کی علامتیں یا اسلامی ثقافت کا انہدام ۳۳

مغرب پرست حکام اور اس کی حمایت ۳۵

کمال آتا ترک ۳۵

رضا شاہ پہلوی(١) ۳۶

امان اللہ خاں ۳۷


صاحبان قلم اور مفکرین مغرب پرستی میں پیش پیش ۴۰

ڈاکٹر طہ حسین اور مغربی تہذیب کی دعوت ۴۰

ضیا کوک آلب ۴۵

سر سید احمد خاں ۴۹

قاسم امین(١) ۵۰

سید حسن تقی زادہ ۵۲

تہذیب و ثقافت اور علم میں جدائی ناممکن ۵۵

آرنالڈ ٹوین بی کا نظریہ اور اس پر تنقیدی جائزہ ۶۰

اصل نظریہ: ۶۰

ٹوین بی ( Toynbee ) کے نظریہ پر تنقیدانہ جائزہ ۶۲

الف: علمی روابط کے ساتھ فضا کا اطمینان بخش ہونا ۶۳

ب: علمی روابط کے ساتھ فضا کا غیر یقینی ہونا ۶۳

دو تاریخی تجربے ہمارے لئے اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں: ۶۴

١۔ اوائل کی کامیابیوں کے تجربے ۶۴

(٢) دور حاضر کی مغرب پرستی کا تجربہ ۶۴

مذہب سے دور کرنے والوں کی کار کردگی ۶۵

ترکی میں عربی حروف کی جگہ لاتینی رسم الخط کا رواج ۶۵

مصر و ایران میں عربی رسم الخط کے تبدیلی کی جد و جہد ۷۱

آتاترک اور مغرب پرستی کی دعوت ۷۲

عثمانی حکومت کا تختہ پلٹنے میں ''آتاترک'' کا بنیادی کردار ۷۵


''آتا ترک'' اور اس کے معاصر ''ہٹلر'' کا موازنہ ۷۹

فصیح زبان کی نابودی ۸۲

پس پردہ سازش(١) ۸۴

مختلف دبستان ادب میں عوامی لہجہ کی تعلیم پر زور ۸۶

مدارس پر قبضہ ۸۸

ایک عظیم سازش کے نتائج اور اثرات ۹۲

جاہلی تہذیب و تمدن کو خرابات سے باہر لانا ۹۴

قدیم جاہلی ثقافتوں کے احیا میں ''فولکلور''(١) کا کردار ۹۵

جاہلی تمدن کے احیا میں آثار قدیمہ کا کردار ۹۷