دولت کا بہترین مصرف
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف فرازمند
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


دولت کا بہترین مصرف

تالیف: فرازمند


مقدمہ

بہ نام خدائے رحمان و رحیم

ایک درخشاں انسانی اخلاق

انسانی امدا د کو اسلام میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

نیازمندوں کی صرف مدد ہی نہیں بلکہ ہر کار خیر اورمثبت سماجی کام جیسے مدرسہ بنانا، اسپتال کھولنا، سڑک بنوانا،ثقافتی مرکز قاء،کرنا، مساجد وغیرہ تعمیر کرانایہ سب ”انفاق فی سبیل اللہ “کے عنوان کے تحت آتے ہیںاور بہترین عمل شمار ہوتے ہیںاور دنیا و آخرت میں بہت سے معنوی اور مادی برکات اور اثرات کا سرچشمہ ہیں۔

اسکی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ سیکڑوں آیات و روایات میں سے نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل آیت اور روایات کو ملاحظہ کیا جائے:

۱) قرآن کریم میں آیا ہے:

( لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ) (۱)

تم ہرگز نیکی کی حقیقت تک نہیں پہونچ سکتے مگر یہ کہ اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق کرو۔

۲) رسول اکرم نے ارشاد فرمایا:

من افضل الاعمال ابراد الاکباد الحارة و اشباع البطون الجائعة، فوالذی نفس محمد بیده ما آمن بی عبد یبیت شبعان و اخوه او جاره یبیت جائعاً (۱)

بہترین اعمال میں سے (ایک عمل) جلتے ہوئے دلوں کو ٹھنڈا کرنا(پیاسوں کو پانی پلانا)اور بھوکے پیٹوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس پروردگار کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (ص) کی جان ہے ، جو شخص پیٹ بھر کر سوجائے اور اس کا مسلمان بھائی یا پڑوسی بھوکا ہو تووہ مجھ پر ایمان نہیں لایا ہے۔

۳) آپ ہی سے منقول ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:

خیر الناس انفعهم للناس (۳)

لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو زیادہ نفع اور فائدہ پہونچانے والا ہو۔

۴) امیر المومنین حضرت علی - ارشاد فرماتے ہیں:

سوسوا ایمانکم بالصدقة وحصنوا اموالکم بالزکاة و ادفعوا امواج البلاء بالدعاء (۴)

اپنے ایمان کو صدقہ دے کر محفوظ رکھو اور اپنے مال و دولت کو زکات دے کر محفوظ بناو اور دعا کے ذریعہ بلاء و مصیبت کی موجوں کو اپنے آپ سے دور رکھو۔

۵) آپ نے ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا:

الصدقة دواء منجح (۵)

صدقہ ایک شفا بخش دوا ہے۔

اسلام نے مختلف شکل میں ان امداد کی سفارش اور تاکید کی ہے؛ تحفہ، صدقہ، صلہ رحمی، کھانا کھلانا، ولیمہ، وقف، ایک سوم مال کی وصیت، واجبی اور مستحبی زکات وغیرہ۔

یہ قیمتی اور بابرکت اسلامی ثقافت باعث بنی ہے کہ اسلامی معاشروں میں انسانی امداد ایک عظیم پیمانہ پر انجام پائے اور بہت سے نیازمند افراد اس کے زیر سایہ آجائیں۔کبھی ”جشن نیکوکاری“ کے نام سے تو کبھی ”ہفتہ اکرام “ کے نام پر ، کبھی ”اعیاد مذہبی “ اور ” ایام سوگواری“ کے عنوان سے ، اور کبھی ” افطاری“ اور ”ستاد رسیدگی بہ امور دیہ و کمک بہ زندانیان نیازمند“ اور کبھی” کمک بہ ازدواج جوانان“ اور دوسرے عناوین کے تحت۔

اس کے علاوہ ہزاروں مدرسے، اسپتال ، مساجد ، کتب خانے اور سستے گھر اسی جذبہ کے تحت بنائے گئے ہیں۔

یقینا جب بھی اس جذبہ کو باقی رکھا جائے اور اس میں وسعت دی جائے تو سماج سے محرومیت تو دور کیا جاسکتا ہے اور ہمارا سماج بہترین اور محبت و عطوفت سے لبریز انسانوں کا مجموعہ بن جائے گا۔

اس سلسلہ میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ انسانی امداد صرف غربت کو ختم کرنے یا طبقاتی فاصلہ سے ٹکراو کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ مدد کرنے والے کی تربیت اور روحی ترقی کا وسیلہ بھی ہے؛ جو شخص اپنے بہترین اموال میں سے ایک حصہ الگ کرتا ہے اور اسے ایک آبرومند انسان کی کمک کے لئے مخصوص کرتا ہے یا ایک عام المنفعہ مرکز بناتا ہے وہ ہر چیز سے پہلے اپنی روح کو پاک و پاکیزہ بناتا ہے اور اپنے دل کو صفا بخشتا ہے۔

قرآن مجیدنے اس کے لئے ایک بہترین تعبیر بیان کی ہے ،وہ رسول خدا (صلي الله عليه و آله و سلّم) کو حکم دیتا ہے اور فرماتاہے:

( خذ من اموالهم صدقة تطهرهم و تزکیهم بها ) (۶)

(اے رسول !) آپ ان کے اموال میں سے زکات لیجئے تاکہ اس کے ذریعہ ان کو پاک و پاکیزہ کریں اور انھیں رشد و نمو عطا فرمائیں۔

بے شک انسانی امداد انسان کی روح کو ترقی اور بالندگی عطا کرتی ہے اور اسے رشد و نمو بخشتی ہے، اوراسے بخل ، حسد، دنیا پرستی، لالچ اور خودخواہی جیسی برائیوں سے پاک و پاکیزہ بناتی ہے اور دن بہ دن اسے خدا سے نزدیک کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، اس کے مال و دولت میں برکت بھی ہوتی ہے اوراس پر روزی کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ حضرت علی - ارشاد فرماتے ہیں:

اذا ملقتم فتاجروا الله بالصدقة (۷)

جب تمہاری زندگی تنگ ہوجائے اور غربت کے آثار نمایاں ہو جائیں تو صدقہ کے ذریعہ خدا سے تجارت کرو اور اپنی زندگی کو رونق عطا کرو۔اسی سلسلہ میں فاضلہ خاتون محترمہ” ج۔ فراز مند“ نے انفاق سے متعلق آیات- جو بہت ہی معنی خیز ہیں-کوایک خاص انداز میں جمع کیا ہے ۔ وہ آیات جو انفاق کی اہمیت کو بھی بیان کرتی ہیں اور اس کے کمال کے شرائط اور قبولیت کے موانع کو بھی بیان کرتی ہیںاور انفاق کے سلسلہ میں اولویت کو بھی ۔انھوں نے ان آیات کی تفسیر میں ” تفسیر نمونہ“ سے کافی مددلی ہے اس کے علاوہ انھوں نے ہر باب میں چند حدیثوں کا اضافہ کیا ہے اور ایک سبق آمیز اور دلچسپ مجموعہ تیار کیا ہے۔

امید ہے کہ اس کا فائدہ عام ہو اور یہ کتاب اس بات کا وسیلہ قرار پائے کہ لوگ اس اہم سماجی مسئلہ- جو اسلامی تعلیمات کے اصول میں ہے -کی طرف مزید توجہ دیں۔

”گروہ معارف“ بھی اس علمی اور دینی خدمت کا شکریہ ادا کرتا ہے اور امید وار ہے کہ یہ کتاب ایک دن سماج کے مختلف طبقے کے لئے ایک درسی کتاب قرار پائے ۔

جمادی الاولیٰ ۱۴۲۴ ء ھ

گروہ معارف

____________________

(۱)سورہ آل عمران:آیت ۹۲

(۲)بحار الانوار:ج۷۱، ص ۳۶۹

(۳)نہج الفصاحہ

(۴)نہج البلاغہ: کلمات قصار۱۴۶

(۵)نہج البلاغہ: کلمات قصار۷

(۶)سورہ توبہ: آیت ۱۰۳)

(۷)نہج البلاغہ: کلمات قصار۲۵۸)


پہلی فصل : اسلام میں انفاق کی اہمیت

۱. انفاق ایک با برکت دانہ

قرآن کریم انفاق کو ایک بہت ہی خوبصورت انداز میں اس طرح بیان فرماتا ہے:

( مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّآئَةُ حَبّةٍ وَاللّٰهُ یُضَاعِفُ لِمَن یَّشَآءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ) (سورہ بقرہ:آیت ۲۶۱)

جو لوگ راہِ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی مثال اس دانہ(بیج)کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اضافہ بھی کر دیتا ہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور علیم و دانا بھی۔(علامہ جوادی)

وضاحت

انفاق اورسماجی مشکلات کا حل

سماجی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل طبقاتی فاصلہ اور دوری ہے جس میں انسان ہمیشہ گرفتار رہا ہے اور آج بھی جبکہ صنعتی اور مادی ترقی عروج پر ہے پورا سماج اس طبقاتی کشمکش میں مبتلاہے ۔ایک طرف فقر،غربت اور ناداری ہے تودوسری طرف مال وثروت کی کثرت و فراوانی۔

کچھ لوگ اتنے زیادہ مال وثروت کے مالک ہیں جن کا حساب نہیں لگایاجاسکتا اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو فقیری اور تنگ دستی سے نالاں ہیں اور زندگی کی ابتدائی ضروری اشیاء جیسے روٹی، کپڑا،اور مکان کا مہیا کرنا ان کے لئے ایک بہت مشکل کام ہے۔

واضح سی بات ہے کہ جس سماج کی بنیاد کا ایک حصہ دولتمندی اور مالداری پر اور دوسرا حصہ فقر اور بھوک پر استوار ہو اس سماج میں بقااوردوام کی صلاحیت نہیں پائی جاسکتی اور کبھی بھی سعادت اور خوشحالی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا ہے۔

ایسے معاشرہ میں پریشانی،اضطراب،بد بینی وبد گمانی اور سب سے اہم چیز دشمنی اورعداوت حتمی اور یقینی چیز ہے۔

اگر چہ یہ اضطراب گذشتہ انسانی معاشروں میں بھی موجود تھا لیکن ہمارے زمانہ میں طبقاتی فاصلے زیادہ اور خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں اس لئے کہ ایک طرف سے انسانی امداد اور واقعی تعاون کے دروازے بند ہو چکے ہیں تو دوسری طرف سے سود خوری،طبقاتی فاصلہ کا ایک اہم سبب ہے۔ کے دروازے مختلف شکلوں میں کھل چکے ہیں کمیونزم اور اس کے جیسے دوسرے مکاتب فکرکا وجودمیں آنا، خونریزیاںاور اس صدی میں چھوٹی بڑی وحشتناک اور تباہ کن جنگوں کا واقع ہونا جو آج بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں جاری ہیں،انسانی معاشرہ کی اکثریت کی محرومیت کا ردِعمل اور نتیجہ ہیں ۔دانشمندوں اور مفکرین نے سماج کی ہر مشکل کوحل کرنے کی فکر کی اور ہر ایک نے ایک راہ اور جدا جدا راہوں اور طریقہ کار کاانتخاب کیا،کمیونزم نے ذاتی اور شخصی مالکیت کو ختم کر کے، سرمایہ داری نے زیادہ سے زیادہ مالیات اور ٹیکس لے کر اور عام فلاحی اداروں (جن میں زیادہ تر نمائشی ہیں چہ جائےکہ حاجت مندوں کی مشکل حل کریں)کو تشکیل دے کراپنے اپنے گمان میں اس مشکل کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ کوئی بھی اس راہ میں موثر قدم نہیں اٹھا سکا ہے اس لئے کہ اس مشکل کا حل،مادیت اور مادی افکار کے ذریعہ ممکن نہیں ہے جو پوری دنیا پر حاکم ہے اس لئے کہ مادی تفکر میں بلا غرض اوربلااجرت مدد اور تعاون کی کوئی جگہ نہیںہے۔

آیات قرآنی میں غور وفکر کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ وہ نظام جو سماج کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ روش سے سرمایہ دارانہ اور غربت و افلاس کے دوطبقوں میںبٹ چکا ہے اس کا خاتمہ کر دے اور جو لوگ اپنی زندگی کی ضروریات کو دوسروں کی مددکے بغیر پورا نہیں کر سکتے ان کی سطح کو اتنا بلند کر دے کہ کم سے کم ضروریات زندگی کے مالک ہوں۔ اسلام نے اس مقصد اور ہدف تک رسائی کے لئے ایک وسیع نظام اور قانون کو مدنظر رکھا ہے ۔

سودخوری کو مکمل طریقہ سے حرام قرار دینا،اسلامی مالیات(ٹیکس) جیسے زکوٰة، خمس، وغیرہ کی ادائےگی کو واجب قرار دینا ،انفاق،وقف،قرض ا لحسنہ اور مختلف مالی امداد کی تشویق کرنا ،اس نظام کا ایک حصہ ہے اور سب سے اہم چیز لوگوں میں روحِ ایمان، بھائی چارگی اور مساوات کو زندہ کرنا ہے ۔

ایک خوبصورت مثال

( مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اموالهم فی سبیل الله کمثل جنة ) ( بقرہ/ ۲۶۱)

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیہ کریمہ میں انفاق سے مراد راہ جہاد میں انفاق اور خرچ کرنا ہے اس لئے کہ اس آیت سے پہلے والی آیتوں میں جہاد کا تذکرہ ہوا ہے۔ لیکن واضح سی بات ہے کہ یہ مناسبت انفاق کو جہاد سے مخصوص کرنے کا سبب نہیں بنتی۔ اس لئے کہ کلمہ سبیل اللہ جو کہ بطور مطلق ذکر ہوا ہے ہر قسم کے جائز خرچ اور مصرف کو شامل ہے ۔ اس کے علاوہ اس آیت کے بعد کی آیات، جہاد کے بارے میں نہیں ہیں۔ اسلئے کہ - ”انفاق“ کی بحث کو مستقل طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ اورتفسیر مجمع البیان کے نقل کے مطابق روایات میں بھی آیت کے عمومی معنیٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

بہرحال اس آیہ کریمہ میںراہ ِخدا میں انفاق کرنے والوں کو با برکت دانہ سے تشبیہ دی گئی ہے جو زرخیز زمین میں بوئے جائیں جبکہ ان افراد کو دانہ سے تشبیہ نہیں دینا چاہئے تھا بلکہ ان کے انفاق کو دانہ سے تشبیہ دینا چاہیئے یا ان لوگوں کو کسانوں سے تشبیہ دینا چاہئے تھاجو دانہ چھڑکتے اور بوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض مفسرین نے کہاہے کہ اس آیت میں ایک کلمہ حذف کر دیا گیا ہے (”اَلَّذِیْنَ“) سے پہلے کلمہ ”صدقات“ تھا یا کلمہ ”حبة“ سے پہلے”باذر“تھا)

لیکن اس آیت میں کسی کلمہ کے حذف ہونے یا پوشیدہ ماننے پر کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اس تشبیہ میں ایک اہم راز پوشیدہ ہے اور انفاق کرنے والوں کو با برکت دانوں سے تشبیہ دینا ایک عمیق اور خوبصورت تشبیہ ہے۔

قرآن کریم اس بات کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ ہر انسان کا عمل اس کے وجود کا پرتو اور عکس ہے ۔عمل جس قدر وسعت پیدا کرے گا در حقیقت انسان کا وجود بھی اتنا ہی وسیع ہوتا چلاجائے گا ۔

اس سے واضح لفظوں میں قر ا ٓن مجید،انسان کے عمل کو اس کی ذات سے الگ نہیں جانتا ہے بلکہ دونوں کو ایک ہی حقیقت کی مختلف شکل کے طور پر بیان کرتا ہے لہٰذاکسی چیز کو محذوف مانے بغیربھی یہ آیت قابل تفسیرہے اور ایک عقلی حقیقت کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسے نیکی کرنے والے افراد دانوں کے مانند ہیں جو ہر طرف جڑ اور شاخ پھیلا لیتے ہیں اور ہر جگہ کو اپنے زیرِ سایہ لیتے ہیں ۔

قرآن کریم نے ”( حَبَّةٍاَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ ) “ میں اس بابرکت بیج کی صفت کو اس طرح بیان کیا ہے:

اس بیج سے سات بالیاں اگتی ہیں اور ہر بالی میں سوسودانے ہوتے ہیں اس طرح دانے سات سو گنا زیادہ ہو جاتے ہیں ۔

کیا یہ ایک فرضی تشبیہ ہے ؟اور ایسا دانہ کہ اس سے سات سو دانے اگیں خارجی وجود نہیں رکھتا ؟ ان دانوں سے مراد ارزن ( چینا ایک قسم کا غلّہ) کے دانے ہیں جن میں یہ تعداد مشاہدہ کی گئی ہے (چونکہ کہا گیا ہے کہ گیہوں اور اس کے مانند دانوں میں ایسا نہیں دیکھا گیا ہے )لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ چند سال پہلے جب بہت زیادہ بارش ہوئی تھی تو اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ایران کے جنوب میں ایک گاؤں کے ایک کھیت میں گیہوں کی سب سے بڑی بڑی بالیاںپیدا ہوتی ہیں اور ہر بالی میں تقریباً چار ہزار گیہوں کے دانے ہیں ۔یہ واقعہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کی تشبیہ ایک واقعی اور حقیقی تشبیہ ہے۔

اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ”( وَاللّٰهُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰهُ وَاسع علیم ) اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اضافہ بھی کر دیتا ہے ۔

کلمہ”یُضَاعِفُ“ مصدرضعفسے دوگنا یا چند گنا کے معنی میں ہے ۔

لہٰذا اس جملہ کا معنی یہ ہے کہ پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے اس برکت کو دوگنا یا چند برابر کر دیتاہے ۔

مذکورہ باتوں کے پیش نظر ایسے دانے بھی پائے جاتے ہیں جو سات سودانوں سے کئی گنا دانے دیتے ہیں لہٰذا یہ تشبیہ ایک حقیقی تشبیہ ہے ۔

آیت کے آخری جملہ میں پروردگار کی قدرت اور علم کی وسعت کیطرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ انفاق کرنے والے بھی اس بات سے آگاہ ہوجائیں کہ خداوندِعالم ان کے عمل اور نیت سے بھی آگاہ ہے اور انہیں ہر طرح کی برکت عطا کرنے پر قادر بھی ہے۔


۲ نماز، انفاق کے ساتھ

پروردگارِعالم ارشاد فرماتاہے:

( اَلَّذِیْنَ یُو مِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰةَوَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنْفِقُوْنَ )

متقین وہ لوگ ہیں جو غیب پرایمان رکھتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور وہ تمام نعمتیں جو ہم نے ان کو روزی کے طور پر دی ہیں ان میں سے انفاق کرتے ہیں ۔ ( سورہ بقرہ:آیت ۳)

بے شک صاحبانِ ایمان نماز کے ذریعہ اپنے پروردگار سے رابطہ کے علاوہ خلق خدا سے بھی بہت قریبی اور دائمی رابطہ رکھتے ہیں۔ اسی بنا پرصاحبانِ ایمان کی تیسری صفت کو مذکور ہ آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور جو نعمتیںہم نے انہیں روزی کے طور پر دی ہیں ان میں سے انفاق کرتے ہیں۔( وَمِمَّا رَزَقْنَا هُمْ یُنْفِقُوْنَ )

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کریم یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ:”( مِنْ اَمْوَالِهِمْ یُنْفِقُوْنَ ) “(وہ اپنے اموال میں سے انفاق کرتے ہیں)بلکہ فرما رہا ہے: ”وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ“ہم نے جو انہیں روزی دی ہے، اس میں سے انفاق کرتے ہیںاس بیان کے ذریعہ پروردگار عالم نے مسئلہ انفاق کو اتنی عمومیت اوروسعت دے دی ہے جو ہر قسم کی مادی اور معنوی نعمت کو شامل کئے ہوئے ہے۔

لہٰذا متقی اور پرہیز گار وہ افراد ہیں جونہ صرف اپنے اموال سے بلکہ اپنے علم، عقل، جسمانی قوت،سماج میں اپنے اثرورسوخ اور مقام ومنزلت اور ہر سرمایہ میں سے جزااور بدلے کی امید کے بغیر،حاجتمندوں کو عطا کرتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ انفاق اس کائنات کا ایک عمومی قانون ہے خاص طور سے ہر زندہ موجود کے بدن میں بھی یہ قانون پایا جاتا ہے۔ انسان کا دل صرف اپنے لئے کام نہیں کرتا ہے بلکہ جو کچھ اسے حاصل ہوتا ہے وہ اس میں سے سارے خلیوں پر انفاق کرتا ہے ۔دماغ ،آنتیں اور بدن کے دوسرے تمام اعضاء سب کے سب اپنے عمل سے حاصل ہونے والے نتیجہ میں سے ہر وقت انفاق کرتے رہتے ہیں قاعدةً اجتماعی زندگی انفاق کے بغیر بے معنی ہے۔

در حقیقت انسانوں سے رابطہ پروردگار عالم سے رابطہ کا نتیجہ ہے، جس کاخدا سے رابطہ برقرار ہو جائے اور جملہ ”مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ“ کے مطابق تمام روزی اور نعمت کو خدا کی عطا جانے (نہ کی اپنی طرف سے)اور پروردگار کی اس عطا کواپنے پاس رکھی ہوئی چند روزہ امانت جانے، ایسا شخص راہِ خدا میں انفاق اور بخشش کرنے سے کبیدہ خاطر نہیں ہوتا بلکہ خوشحال ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس نے مالِ خدا کو اس کے بندوں کے اوپر خرچ کیا ہے اور نتیجہ میں اس انفاق کی مادی اور معنوی برکات اور اثرات کواپنے لئے خریدا ہے۔

یہ طرز فکرانسان کو بخل،کنجوسی اور حسد سے دور کرتا ہے اور عالم تنازع کو دنیائے تعاون میں بدل دیتا ہے ۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر شخص اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہے کہ جو نعمتیں اس کے اختیار میں ہیں انہیں ضرورت مندوں کے سپرد کر دے اور کسی کی جزا اور عوض کی امیدکے بغیر سورج کی طرح نور افشانی کرے ۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جملہ ”مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ“کی تفسیر میں امام جعفرصادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایاہے ”اِنَّ مَعْنَاہُ وَمِمَّا عَلَّمْنَاہُمْ یَبَثُّوْنَ“یعنی جو علوم ہم نے انہیں سکھائے ہیں وہ ان کو نشر کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

واضح سی بات ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انفاق صرف علم سے مخصوص ہے بلکہ چونکہ اکثر افراد مسئلہ انفاق میں مالی اورمادی انفاق کی طرف متوجہ ہو تے ہیں لہٰذا امام - نے اس معنوی انفاق کوذکرکرکے انفاق کی وسعت اور عمومیت کو بیان کرنا چاہاہے۔

اس کے نتیجہ میں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مذکورہ آیت میں انفاق صرف زکوٰة واجب یا زکوٰة واجب ومستحب سے مخصوص نہیں ہے بلکہ انفاق کا ایک وسیع اور عام معنی ہے جو ہر قسم کی بلا عوض مدد اور تعاون کو شامل کئے ہوئے ہے۔

۳. انفاق،عفو و در گذشت اور غصہ کو پی جانا

سعادت کے تین اہم اسباب -

سورئہ آلِ عمران آیت نمبر ۱۳۴ میں اس طرح ذکر ہوا ہے :

( اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّاءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْکٰاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَا فِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْن )

(صاحبانِ تقویٰ وہ لوگ ہیں )جو دکھ اور سکھ ہر حال میں انفاق کرتے اور غصہ کوپی جاتے ہیںاور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیںاور خدااحسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

وضاحت

چونکہ اس سے پہلے والی آیہ کریمہ میں صاحبانِ تقویٰ سے بہشتکا وعدہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس آیت میں ان کا تعارف کراتے ہوئے ان کے چند بلند وبالا صفات حمیدہ کوبیان کیا گیا ہے :

۱ ۔صاحبان تقویٰ ہر حال میںانفاق کرتے ہیں چاہے راحت وآرام اور وسعت رزق کا زمانہ ہویا سختی اور محرومی کا دورہو ۔”( اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ ) “ صاحبان تقویٰ اپنے اس عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرناان کی روح و جان میںراسخ ہو چکا ہے اسی بنا پر وہ ہر حال میں اس کام کے لئے قدم اٹھاتے ہیں ۔ واضح رہے کہ صرف راحت اور آسائش میں انفاق کرنا ان کی روح و جان میں رسوخ کی دلیل اور صفت سخاوت کی علامت نہیں ہے بلکہ جو لوگ ہر حال میں مدد اور انفاق کے لئے قدم اٹھاتے ہیں وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ صفت ان کے وجود اور ذات میں جڑ پکڑ چکی ہے ۔

ممکن ہے کہ اس مقام پر یہ سوال کیا جائے کہ انسان تنگدستی اور فقر میں کس طرح انفاق کر سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب بہت واضح ہے --؛اس لئے کہ اولاًفقیر اور تنگدست افراد بھی حتی الامکان دوسروں کی مدد کے لئے انفاق کر سکتے ہیں ثانیاًانفاق صرف مال و ثروت سے ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ خدا کی عطا کردہ ہر نعمت میں سے ہو سکتا ہے چاہے مال ودولت ہو یا علم و دانش یا دوسری نعمتیں ۔

اس بیان کے ذریعہ خدا وند عالم عفو ودر گذر ،فداکاری اور سخاوت کے جذبہ کو فقیر اور تنگدست افراد میں بھی پیدا کرنا چاہتا ہے تا کہ انسان بہت سی ایسی بری صفتوں سے محفوظ رہ سکے جو کنجوسی کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہیں۔

جو لوگ راہ خدا میں انفاق کو چھوٹا ، معمولی اور حقیر سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہر انفاق کو الگ الگ نظر میں رکھا ہے ورنہ اگر انہیں چھوٹی چھوٹی مدد اور انفاق کو جمع کیا جائے۔ مثال کے طور پر ایک ملک کے تمام افراد۔ فقیر اور مالدار۔ سب کے سب محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لئے ایک مختصر سی رقم انفاق کریں اور اس کو سماجی اہداف کی ترقی کے لئے خرچ کیا جائے تو اس کے ذریعہ بہت بڑے بڑے کام انجام دئے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انفاق کے معنوی اور اخلاقی اثر کا تعلق انفاق کے حجم اور اس کی کمی اور زیادتی سے نہیں ہے بلکہ انفاق کا اثراور فائدہ ہر حال میں انفاق کرنے والے کوپہنچتا ہے ۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہاں پر آیہ کریمہ میں سب سے پہلے صاحبان تقویٰ کی برجستہ صفت انفاق کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیات ان صفات کے مقابلے میں ہیں جو سود خوروں اور سرمایہ داروں کے بارے میں اس سے قبل کی آیات میں بیان کی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ مال و دولت میں سے انفاق وہ بھی راحت اور سختی کی حالت میں تقویٰ کی واضح نشانی ہے ۔اس کے بعد غصہ کو پی جانے اور عفو وبخشش کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ“

اور چونکہ یہ ساری چیزیں احسان اور نیکی کے مفہوم میں سمٹی ہوئی ہیں لہٰذا آیت کے آخر میں ارشاد فرماتا ہے : خدا وندعالم احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔

اس سے بڑا فخر اور کیا ہو سکتا ہے کہ خدا انسان سے خوش ہو اور اسے دوست رکھے۔

۴ انفاق نہ کر سکنے پر گریہ

قرآن مجید مندرجہ ذیل آیات میں ان صاحبان ایمان کا تذکرہ کررہا ہے جو راہ خدا میں (جہاد کے لئے)انفاق پر قدرت اور توانائی نہ رکھنے کی وجہ سے آنسو بہا رہے تھے۔ خدا وندعالم ان کو تسلی دیتے ہوئے انھیںایک ایسی چیز کا حکم دیتا ہے جو انفاق کا جانشین ہےملاحظہ فرمایئے :

( لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلیٰ الْمَرْضیٰ وَلَا عَلیٰ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِه مَا عَلیٰ الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ وَّلَا عَلیٰ الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتُوْکَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتُ لَآ اَجِدُ مَآ احْمَلَکُمْ عَلَیْهِ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَناً اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ ) (سورہ توبہ:آیت ۹۱ ۔ ۹۲)

جو لوگ کمزور ہیں یا بیمار ہیں یا ان کے پاس راہ خدا میںخرچ کرنے کے لئے کچھ نہیںہے ان کے بیٹھے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ خدا ورسول کے حق میں اخلاص رکھتے ہوں کہ نیک کردار لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

اور ان پر بھی کوئی الزام نہیں ہے جو آپ کے پاس آئے کہ انہیں بھی سواری پر لے لیجئے تو آپ ہی نے کہہ دیا کہ ہمارے پاس سواری کا انتظام نہیںہے اوروہ آپ کے پاس سے اس عالم میں پلٹے کہ ان کی آنکھوں سے آنسوجاری تھے اورانہیں اس بات کا رنج تھا کہ ان کے پاس راہ خدامیں خرچ کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔

وضاحت

مذکورہ بالا آیات میں پہلی آیت کے شان نزول کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ایک مخلص اور وفادارصحابی نے آپ سے عرض کی:

اے اللہ کے رسول !میں بوڑھا،نابینا اورضعیف وناتواںہوں اور میرے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میدان جہاد تک لے جائے ۔لہٰذا اگر میں جہاد میں شرکت نہ کروں تو کیا میرا عذر قابل قبول ہے؟ رسول اکرم نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار فرمائی اتنے میں مذکورہآیت نازل ہوئی اور اس طرح کے افراد کو جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔

اس شان نزول سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ نا بینا افراد بھی پیغمبر اسلام کی اطلاع اور اجازت کے بغیر جنگ سے منہ نہیں موڑ سکتے تھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ شاید میدان جہاد میںایسے افراد کا وجود مجاہدین کی تشویق کا سبب بنے گا یا کم از کم لشکر کی کثرت کے لئے مفید واقع ہوگا کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے اپنے وظیفہ کو دریافت کر لیا کرتے تھے۔

دوسری آیت کے سلسلے میں بھی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ فقرائے انصار میں سے سات افراد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حا ضر ہوئے اور انہوںنے درخواست کی کہ جہاد میں شرکت کیلئے انہیں کوئی سواری دی جائے چونکہ آنحضرت کے پاس کوئی سواری نہیں تھی لہٰذا انہیں منفی جواب دے دیا۔ آنحضرت کا جواب سنتے ہی وہ لوگ آنسوبہاتے ہوئے آپ کی خدمت سے واپس ہوئے اور بعد میں ”بکاؤن“ (بہت زیادہ گریہ کرنے والے)کے نام سے مشہور ہوئے۔

۵. انفاق کا اجر عظیم

خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( آمِنُوْابِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه وَاَنْفِقُوْا مِمَّاجَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ فَالَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَ اَنْفَقُوْ لَهُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ ) ( سورئہ حدید آیت / ۷)

تم لوگ اللہ اور رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب قرار دیا ہے تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے راہ خدا میں خرچ کیا ان کے لئے اجر عظیم ہے ۔

وضاحت

ایمان اورانفاق دو عظیم سرمائے

مذکورہ بالا آیت تمام انسانوں کو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان اور راہ خدامیں انفاق کی دعوت دے رہی ہے ۔

ارشاد ہوتا ہے :خدا اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔( آمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه )

یہ دعوت ایمان اور انفاق ایک عمومی دعوت ہے جو تمام انسانوں کو دی جا رہیہے۔ صاحبان ایمان کو راسخ اور کامل ایمان کی دعوت دی جا رہی ہے اور غیرمومنین (کفار و مشرکین-)کو ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے ایسی دعوت جو دلیل کے ساتھ ہے اور اس کی دلیل اس سے قبل کی آیات توحیدی میںذکر کی جا چکی ہے۔

اس کے بعد ایمان کے ایک اہم اثر ”راہ خدا میں انفاق“ کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :اس مال میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب قرار دیا ہے۔

یہ پروردگار کی عطا کردہ نعمتیںجو انسان کے اختیار میں ہیں ان میں ایثار، فداکاری اور انفاق کی دعوت ہے اور پروردگار نے اس دعوت کو ایک اہم نکتہ سے جوڑ دیا ہے جس کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔وہ یہ کہ اصل میں مالک حقیقی خداوندعالم ہے اور یہ مال ودولت امانت کے طور پر کچھ دنوں کے لئے تمہارے حوالے کئے گئے ہیںویسے ہی جیسے تم سے پہلے دوسروں کے اختیار میں تھے اور آئندہ بھی دوسروں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔

بے شک ایسا ہی ہے اسلئے کہ قرآن کریم کی دیگر آیات میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ساری کائنات کا حقیقی مالک پروردگار عالم ہے۔ اس حقیقت اور واقعیت پر ایمان رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اس کے ”امانتدار“ہیں اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ امانتدار ،صاحب امانت کے فرمان کو نظر انداز کر دے !

اس اہم نکتہ کی طرف توجہ، انسان کے اندر جذبہ سخاوت اور ایثار پیداکرتا ہے اور اس کے دل اور ہاتھ کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کھو ل دیتا ہے ۔

”مستخلفین“ (نائب اور جانشین ) کی تعبیر ممکن ہے انسان کے زمین اور نعمات زمین میں خدا کے نمائندہ اور جانشین ہونے کی طرف اشارہ ہو یاگذشتہ امتوں کی جانشینی کی طرف اشارہ ہو یا دونوں کی طرف اشارہ ہو۔

”تعبیر“ ”مما“(ان چیزوں میں سے)ایک عام تعبیر ہے جو صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر سرمایہ اور نعمت الٰہی کو شامل ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ انفاق کا ایک وسیع اور عام معنی ہے جو صرف مال سے مخصوص نہیں ہے بلکہ علم،ہدایت،سماجی اثرو رسوخ اور دوسرے مادی اور معنوی سرمایہ کو بھی شامل ہوتا ہے۔

اس بیان کے بعد مزید تشویق کے لئے ارشاد فرماتا ہے: تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے خدا کی راہ میں خرچ کیا ان کے لئے اجر عظیم ہے۔( فَالَّذِیْنَ آمَنُوْامِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ )

کلمہکبیرکے ذریعہ اجرکی صفت لانا ،الطاف اور نعمات الٰہی کی عظمت اور اس کی ہمیشگی کو بیان کرنا ہے ۔یہ اجر عظیم صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی انسان کو نصیب ہوگا ۔

راہ خدا میں انفاق کے حکم کے بعد اس کی ایک دلیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :اور راہ خدا میں انفاق کیوں نہ کرو جبکہ زمین وآسمان کی ساری میراث اسی کی ہے ! ”( وَ مَا لَکُمْ اٴَلاَّتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلِلَّهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ )

یعنی آخر کار تم سب اس کائنات اور اس کی ساری نعمتوں سے آنکھ بند کرکے ،سب کچھ چھو ڑ کر چلے جاؤ گے لہٰذا فی الحال جبکہ یہ ساری چیز یں تمہارے اختیار میں ہیں ان سے اپنا حصہ کیوں نہیں لے لیتے ؟

راغب اصفہانی نے کہا ہے کہ ”میراث “اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر کسی قرار داد اور معاہدہ کے کسی کو حاصل ہو اور مرنے والے کی جانب سے جو چیز اس کے رشتہ داروں کی طرف منتقل ہوتی ہے وہ اسی کا ایک مصداق ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے یہی معنی سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔

تعبیر( ”لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ “ ) اس لئے ہے کہ نہ صرف روئے زمین کی مال ودولت بلکہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہے سب خدا وند عالم کی طرف پلٹ جائے گا جب ساری مخلوقات مر جائے گی تو پروردگار ان سب کا وارث ہوگا۔

دوسرے اعتبار سے چونکہ مختلف حا لات اور مواقع میں انفاق کی اہمیت اور قیمت میں فرق ہوتا ہے اسی وجہ سے بعد کے جملہ میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

”جنہوں نے فتح اور کامیابی سے پہلے راہ خدا میں انفاق کیا اور جہاد کیا ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جنہوں نے فتح کے بعد اس کام کو انجام دیا: ”( لَاْ یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ )

اس آیت میں فتح سے مراد کون سی فتح ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے اس کو ۸ ھء میں فتح مکہ کی طرف اشارہ جانا ہے اور بعض نے ۶ ھء میں فتح حدیبیہ کی طرف ۔

چونکہ سورئہ ”( اِنَّا فَتَحْنَاْ لَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً ) “میں کلمہ ”فتح “سے مراد فتح (صلح )حدیبیہ ہے لہٰذا یہاں پر بھی مناسب یہی ہے کہ مراد فتح حدیبیہ (صلح حدیبیہ) ہو، لیکن تعبیر ”قاتل“(جنگ و جہاد کیا ) فتح مکہ سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے اس لئے کہ صلح حدیبیہ میں کوئی جنگ پیش نہیں آئی لیکن فتح مکہ میں ایک مختصر سی جنگ ہوئی جو زیادہ مقاومت اور مقابلہ سے رو برونہ ہو سکی۔

یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ اس آیت میں”الفتح“سے مراد مختلف جنگوں میں مسلمانوں کی طرح طرح کی فتح اور کامیابی ہو ۔ یعنی جن لوگو ںنے سخت اوربحرانی حالات میں انفاق کرنے اور راہ خدا میں جاںنثاری کرنے سے کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں کی ان لوگوں سے برتر اور افضل ہیں جو طوفان حوادث اور سختیوں کے خاتمہ کے بعد اسلام کی مدد کے لئے دوڑتے ہیں اور آیت کی یہ تفسیر زیادہ مناسب ہے۔

اسی لئے مزید تاکید کے لئے ارشاد فرماتا ہے: ان لوگوں کا مقام اور منزلت ان لوگوں سے برتر اور بالا تر ہے جنہوں نے فتح کے بعد انفاق اور جہاد کیا ”( اُولٰئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْامِنْ بَعْدِوَقَاتَلُوْا )

اس نکتہ کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ بعض مفسرین اس بات پر مصر ہیں کہ انفاق اور راہ خدا میں خرچ کرنا جہاد سے برتر اور افضل ہے اور شاید آیہ کریمہ میں”انفاق“ کو جہاد سے پہلے ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہو۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ مالی انفاق کو جہاد پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جنگی وسائل ،مقدمات اور اسلحے مال ہی سے خریدے اور فراہم کئے جاتے ہیں ورنہ بلا شک و شبہ جاںنثاری اور راہ خدا میںشہادت کے لئے آمادہ رہنامالی انفاق سے بر تر اور بالا تر ہے۔

بہرحا ل چونکہ دونوں دستہ (فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد انفاق کرنے والے ) درجات میںفرق کے ساتھ ساتھ پروردگار کی خاص عنایت کے حقدار ہیں لہٰذا ارشاد فرماتا ہے: خدا وندعالم نے دونوں گروہ سے نیکی کا وعدہ کیا ہے : ” وَکُلاًّ وَّعَدَاللّٰہُ الْحُسْنیٰ “

دونوں دستہ سے نیکی کا وعدہ کرنا خدا کی جانب سے ہر اس شخص کی قدر دانی ہے جو حق کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں کلمہ ”حسنیٰ“اس آیہ کریمہ میںایک عام معنی میں ہے جو ہر طرح کے ثواب اور دنیا و آخرت کے جزائے خیر کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔

اورچونکہ ہر انسان کے عمل کی قیمت اس کے خلوص کی بنیاد ہو تی ہے لہٰذا پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہے:تم جو کچھ بھی انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ اور باخبر ہے”( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ“ ) یعنی خداوند عالم تمہارے اعمال کی مقدار اور کیفیت سے بھی آگاہ ہے اور نیت وخلوص سے بھی باخبرہے ۔

مذکورہ آیت میں ایک بار پھر راہ خدا میں انفاق کی تشویق کے آخر میں ایک خوبصورت تعبیر بیان کی گئی ہے :کون ہے جو پروردگار کو قرض دے اور جو مال ودولت خدا نے اسے عطا کیا ہے ان میں سے انفاق کرے تاکہ پروردگار اسے کئی گنا کر دے اور اس کے لئے بہت زیادہ اور با قیمتی اجر ہے: ”( مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهُ قَرْضاًحَسَناًفَیُضَاعِفْهُ لَهُ وَلَهُ اَجْرٌ کَرِیْمٌ )

واقعاً یہ ایک عجیب وغریب تعبیر ہے وہ خدا جو ساری نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اور ہمارے وجود کا ذرہ ذرہ ہر لمحہ اس کے بے پایاں دریائے فیض سے بہرہ مند ہو رہا ہے اور اسی کی ملکیت ہے۔ اس نے ہم کو صاحب مال و دولت شمار کیا ہے اور ہم سے قرض کا مطالبہ کر رہا ہے ۔اور عام قرض کے خلاف جہاں اتنی ہی مقدار واپس کی جاتی ہے وہ اس میں کئی گنا اور کبھی سو گنا اور کبھی ہزار گنا اضافہ کر دیتا ہے اور ان سب باتوں کے علاوہ ”( اَجْرٌ کَرِیْمٌ ) “کاوعدہ بھی کرتا ہے جو ایک عظیم اجر ہے جس کی مقدار خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔

جذبہ انفاق

گذشتہ آیتوں میں راہ خدا میں خرچ کرنے (چاہے جہاد کے لئے ہویاحا جت مندوں کی مدد کے لئے )کی تشویق کو مختلف عبارتوں میںبیان کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک اس مقصد کی طرف قدم بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں ۔

ایک آیت میں مال و دولت میںلوگوں کی ایک دوسرے یا پروردگار کی جانشینی اور نیابت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حقیقی مالکیت کو خدا سے مخصوص جانتا ہے اور سارے انسانوں کو ان اموال میں اپنا نائب بنانا، یہ تفکر اور طرز فکرانسان کے ہاتھ اور دل کو انفاق کے لئے کھولتا ہے اور اس راہ میں قدم اٹھانے کا سبب بنتا ہے۔

دوسری آیت ،ایک دوسری تعبیر بیان کرتی ہے جو مال ودولت کی نا پائیداری اور انسانوں کے بعد باقی رہ جانے کی حکایت کرتی ہے اور وہ تعبیر ”میراث“ ہے ارشاد فرماتاہے ”آسمان وزمین کی میراث خداوندعالم ہی کی ہے “

تیسری آیت میں ایک ایسی تعبیر بیان کی گئی ہے جو سب سے زیادہ حساس ہے اور خدا وند عالم کو قرض لینے والا اور انسانوں کو قرض دینے والا بتارہی ہے ۔ایسا قرض جس میں سود اور سود کی حرمت کاگزر نہیں اور اس کے مقابلہ میں کئی گنا بلکہ ہزاروں گنا واپس دیا جا ئے گا ۔ اس عظیم اجر کے ساتھ جوکسی کی فکر میں سما نہیں سکتا ۔

یہ سارے بیانات اس لئے ہیں کہ کج فکری ، حرص ولالچ ،حسد ، خود خواہی ،فقر اور تنگدستی کا خوف ، بڑی بڑی آرزؤں کو ختم کردیا جائے جو راہ خدا میں انفاق کے لئے رکاوٹ بنتی ہیں اور عطوفت، مہربانی ،ہم نوع دوستی اور تعاون کی بنیاد پر ایک خوشحال معاشر ہ اور کووجود میں لایا جا سکے۔

۶. سرمایہ جاودانی

( قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِه وَیَقْدِرُ لَه وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیْ ءٍ فَهُوَیُخْلِفُه وَ هُوَ خَیْرُالرَّاْزِقِیْنَ ) (سورہ سبا: آیت ۳۹)

بے شک ہمارا پروردگار اپنے بندوں میں جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت پیدا کرتا ہے اور جس کے رزق میں چاہتا ہے تنگی پیدا کرتا ہے اور جو کچھ اس کی راہ میں خرچ کروگے وہ اس کا بدلہ بہر حال عطا کرے گا اور وہ بہتر رزق دینے والا ہے۔

وضاحت

اس آیہ کریمہ میں ان لوگوں کی بات کا جواب دیا گیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ مال واولاد خدا کی بارگاہ میں قربت کی دلیل ہےں ۔لہٰذا اس تاکید کے ساتھ ارشاد فرماتا ہے کہ: اے پیغمبر کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار اپنے بندوںمیں جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت پیدا کرتا ہے اور جس کے رزق میں چاہتا ہے تنگی پیدا کرتا ہے: ”قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ وَ یَقْدِرُ لَہ“اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے: تم خدا کی راہ میں جو بھی خرچ کروگے وہ اس کا بدلہ بہر حال عطا کرے گااور وہ بہترین روزی دینے والا ہے۔

اگر چہ اس آیت کا معنی گذشتہ مطلب کی تاکید ہے لیکن دو جہت سے اس میں نیا معنی ہے :پہلا یہ کہ گذشتہ آیت کا معنی یہی معنی تھا مگر اس میں زیادہ تر کفار کے اموال اور اولاد کے سلسلہ میں بیان ہے جبکہ اس آیت میں کلمہ -”عباد“ (بندے) صاحبان ایمان کی طرف اشارہ ہے یعنی خداوند عالم صاحبان ایمان کی بھی روزی میںوسعت پیدا کرتا ہے اگر ان کی مصلحت کے مطابق ہو اور کبھی ان کی روزی میں تنگی پیدا کرتا ہے جب ان کی مصلحت اس بات کا تقاضا کرے۔ بہرحال روزی کی وسعت اور تنگی کسی انسان کے بارگاہ الٰہی میں مقرب ہونے یااس کی بارگاہ سے دور ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ گذشتہ آیت دو مختلف افراد کی روزی میں وسعت اور تنگی کو بیان کر رہی تھی لیکن یہ آیہ کریمہ ممکن ہے ایک ہی انسان کی دو مختلف حالتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہو کہ کبھی اس کی روزی میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی تنگی ۔

اس کے علاوہ آیت کے شروع میں بیان کیا جانے والا مطلب آخرآیت میں بیان ہونے والے مطلب کے لئے ایک مقدمہ ہے اور وہ راہ خدا میں انفاق کرنے کی تشویق کرنا ہے۔

جملہ”فہو یخلفہ“ ایک بہترین تعبیر ہے جو اس بات کو بیان کر رہی ہے کہ راہ خدامیں خرچ ہونے والی ہر شیء ایک فائدہ مند تجارت کے مثل ہے۔ اس لئے کہ خدا وند عالم نے اس کے بدلے کو اپنے ذمہ لیا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ جب ایک کریم اور سخی انسان کسی چیز کے عوض کو اپنے ذمہ لیتا ہے تووہ صرف برابری اور مساوات کی ہی رعایت نہیں کرتا بلکہ اس کے عوض کو کئی گنا اور کبھی کبھی سو گنا کر کے واپس کرتا ہے۔

البتہ یہ وعدئہ الٰہی روز قیامت سے مخصوص نہیں ہے وہ تو اپنی جگہ محفوظ ہے ہی بلکہ وہ دنیا میں بھی طرح طرحبرکتوں اور رحمتوں کے ذریعہ اس انفاق کی جگہ کوبطور احسن پرُ کردیتا ہے۔

جملہ ”( هُوَ خَیْرُ الرَّاْزِقِیْنَ ) “ (وہ بہترروزی دینے والا ہے) کا ایک وسیع اور عام معنی ہے اور مختلف زاویہ نظر سے غور و فکر کے قابل ہے۔

وہ تمام روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ کیا چیز عطا کرے اور کس مقدار میں عطا کرے تاکہ انسان کی تباہی اور گمراہی کا سبب نہ بننے پائے اسلئے کہ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے وہ جو بھی چاہے عطا کرسکتا ہے اسلئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

وہ عطا کے مقابلہ میں جزا نہیں چاہتا اس لئے کہ وہ غنی بالذات ہے یعنی ہر چیز سے بے نیاز ہے یہاں تک کہ وہ بغیر درخواست اورطلب کے بھی بندوں کو عطا کرتا ہے اس لئے کہ وہ حکیم اورہر چیز سے باخبر ہے ۔

بلکہ اس کے علاوہ اس کائنات میں کوئی دوسرا رازق ہی نہیں ہے اس لئے کہ ہر چیز اسی کی عطاہے اور جو شخص بھی کسی دوسرے کو کوئی چیز دیتا ہے ”وہ روزی کومنتقل کرنے والا ہے “ روزی دینے والا نہیںہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پروردگار فنا ہو جانے والے مال کے بدلے باقی رہنے والی نعمت عطا کرتا ہے اور”قلیل “ مال کے عوض میں ”کثیر“ نعمت عطا کرنے والا ہے۔


چند اہم نکتے

الف)انفاق اضافہ کا سبب ہے کمی اور نقصان کا نہیں

مذکو رہ بالا آیت میں فرمان خدا ہے: ”راہ خدا میںجوکچھ بھی خرچ کروگے خدا وندعالم بہرحال اس کا بدلہ دے گا“یہ ایک بہت ہی معنی دار تعبیر ہے:

۱) کلمہ ”شیء“ اپنے وسیع اور عام معنی میں ہر قسم کے مادی ،معنوی او رچھو ٹے بڑے انفاق کو شامل ہے اسی طرح ہر ضرورت مند شخص جس پر انفاق کیا جائے سب کو شامل ہے۔

سب سے اہم بات انسان کا اپنے مال کو راہ خدا میں خرچ کرنا ہے کیفیت اور کمیت (مقدار) معیارنہیں ہے۔

۲) پروردگار اپنی راہ میں خرچ ہونے والے مال کو فنا سے نکال کر بقا کا رنگ دینا چاہتا ہے اس لئے کہ اس نے ضمانت لی ہے کہ اپنی کئی گنا اور کبھی ہزار گنا (اور کم ازکم دس گنا)مادی اور معنوی نعمتوں کے ذریعہ اس انفاق کا عوضدے گا ۔

لہٰذا انفاق کرنے والا جب اس جذبہ اور عقیدہ کے تحت راہ خدا میں اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تو وہ زیادہ سخاوت کے ساتھ خرچ کرتا ہے ،اور کبھی بھی نقصان ، کمی اور فقر و تنگدستی کی فکر نہیں کرتا بلکہ پروردگار کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے اسے اپنے ساتھ ایک فائدہ مند تجارت کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔

اوریہ وہی تعبیر ہے جسے پروردگار عالم نے سورئہ صف کی دسویں اور گیارہویں آےت میں بیان فرمایا ہے :

( یَا اَیُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا هَلْ اَدُلُّکُمْ عَلیٰ تِجَارَةٍ تُنْجِیْکُمْ مِنْ عَذَاْبٍ اَلِیْمٍ تُو مِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه وَتُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ )

اے ایمان والو!کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچائے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور راہ خدا میں اپنی جان ومال سے جہاد کرو اگر تم جاننے والے ہوتو یہی تمہارے حق میںسب سے بہتر ہے۔

رسول خداسے منقول ہے کہ آپ نے ارشادفرمایا :

ینادی مناد کل لیلة لدوا للموت!

ینادی منادابنواللخراب !

وینادی منا داللّهمّ هبّ للمنفق خلفاً!

و ینادی مناد اللّهمّ هبّ للممسک تلفاً!

وینادی مناد ليت الناس لم یخلقوا!

وینادی مناد لیتهم اذخلقوا فکروافیماله خلقوا!

ہر رات ایک آسمانی منادی ندا دیتا ہے (اے انسانوں!) پیدا کرو مرنے کے لئے ۔

دوسرا ندا دیتا ہے:گھر بناؤ ویران ہونے کے لئے۔

ایک منادی ندادیتا ہے :پروردگارا!جو لوگ انفاق کرنے والے ہیں ان کے لئے عوض اور بدلہ قرار دے۔

اور ایک منادی ندا دیتا ہے :پروردگارا!جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں ان کے اموال کوضائع کر دے۔

دوسرا ندا دیتا ہے : اے کاش کہ انسان خلق نہ ہوئے ہوتے۔

دوسرا ندا دیتا ہے : اب جبکہ انسان خلق کر دئیے گئے ہیں اے کاش کہ ذرا فکر کرتے کہ کس لئے خلق کئے گئے ہیں ۔

یہ ندا دینے والے فرشتے ہیں جو پروردگار کے حکم سے اس کائنات کے امور کی تدبیر کرتے ہیں۔ایک دوسری حدیث میں آنحضرت ارشاد فرماتے ہیں :”من ایقن بالخلف سخت نفسه بالنّفقة

جو عوض اور بدلے کا یقین رکھتا ہوگا وہ سخاوت کے ساتھ راہ خدا میں خر چ کرتا ہے ۔

امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہماالسلام نے بھی ایک حدیث میں اسی مطلب کو بیان فرمایا ہے۔

لیکن سب سے اہم مسئلہ انفاق کا حلال اورجائز مال میں سے ہونا ہے اس لئے کہ خدا وند مال حرام سے انفاق کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں برکت عطا کرتا ہے۔

ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کی: قرآن میں دو ایسی آیتیں ہیں جن کو میں کافی غور وفکر کے بعد بھی نہیں سمجھ پا رہا ہوں ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:وہ کون سی آیات ہیں ؟ اس شخص نے عرض کی: پہلی آیت یہ ہے جس میں خدا وندعالم ارشاد فرماتا ہے ”اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ “ ”مجھ سے دعامانگومیں تمہاری دعاؤںکو قبول کروں گا“۔اس آیت کے مطابق میں پروردگار سے دعا کرتا ہوںلیکن میری دعا قبول نہیں ہوتی ۔

امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:کیا تم فکر کر رہے ہو کہ پروردگار نے وعدہ خلافی کی ہے ؟اس نے عرض کی:

ہر گز نہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:پھر کیا وجہ ہے ؟

اس نے کہا :میں نہیں جانتا ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا :لیکن میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں:

من اطاع اللّٰه عزوجل فیما اٴمره من دعائه من جهة الدعا ء اجابه

خداوند عالم نے دعا کرنے کے سلسلہ میں جس طریقہ دعا کا حکم دیا ہے جو شخص بھی اس میں پروردگار کی اطاعت کرے گا وہ اس کی دعا قبول کرے گا ۔

اس نے سوال کیا :وہ طریقہ دعا کیا ہے؟

آپ نے فرمایا: سب سے پہلے خدا کی حمد وثنا کرو اور اس کی نعمتوں کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کروپھر صلوات پڑھو،اس کے بعد اپنے گناہوں کو یاد کرو،اور بارگاہ الٰہی میں ان کا اعتراف کرو اور خدا سے پناہ طلب کرو ، گناہوں سے توبہ کرو، یہ ہے طریقہ دعا۔

اس کے بعد آپ - نے فرمایا :دوسری آیت کون سی ہے ؟

اس نے عرض کی: یہ آیہ کریمہ ہے:”( وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُه )

میںراہ خدامیں خرچ کرتا ہوں لیکن کوئی ایسی چیز جو اس کابدلہ ہو مجھے نظر نہیں آتی ۔

امام علیہ السلام نے فرمایاکیا تم خیال کر رہے ہو کہ خدا نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے ؟

اس نے کہا: نہیں ہر گز نہیں۔

آپ -نے فرمایا: پھر ایسا کیوں ہے؟

اس نے عرض کی: مجھے علم نہیں۔

آپ- نے فرمایا :”( لوان احد کم اکتسب المال من حلّه وانفقه فی حلّه لم ینفق درهماً اِلّااخلف علیه )

تم میں سے جو شخص بھی مال حلال حاصل کرے اور راہ خدا میں حلال طریقہ سے خرچ کرے تو وہ ایک درہم بھی انفاق نہیں کرے گا مگر یہ کہ پروردگار اس کا عوض اسے ضرور عطا کرے گا۔

(ب) اپنے اموال خدا کے پاس محفوظ کرو

اس مقام ایک پر مفسر قرآن نے ایک بہت خوبصورت تحلیل پیش کی ہے وہ کہتے ہیں :تعجب کی بات ہے کہ اگر کسی تاجر کو معلوم ہو جائے کہ اس کا مال ضائع اور برباد ہونے والا ہے تو وہ قرض پر بھی اسے بیچنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے چاہے خریدار فقیرہی کیوں نہ ہو وہ کہتا ہے کہ فقیر کے ہاتھ قرض کے طور پربیچنا اس سے بہتر ہے کہ اسے ایسے ہی چھوڑ دیا جائے وہ ضائع ہو جائے۔

اور اگر ایسی حالت میں کوئی تاجر اپنے سامان کو بیچنے پر اقدام نہ کرے اور سرمایہ ضائع ہو جائے تو ہر ایک اسے”خطا کار“کہے گا۔

اور اگر ایسی صورت میں تاجر کو کوئی مالدار خریدار مل جائے اور اس کے ہاتھ نہ بیچے تو اسے بے عقل کہا جائے گا۔

اور اگراسے ایک مالداراور ثروت مند انسان مل جائے جو قابل اطمینان سند اور قول نامہ لکھ کر اسے دے اور تاجر اس کے ہاتھ فروخت نہ کرے تو اس کو دیوانہ کہا جاتاہے ۔ لیکن تعجب ہے کہ ہم سب یہی کام کرتے ہیں اور کوئی بھی اسے جنون اور دیوانگی نہیں کہتا۔

اس لئے کہ ہمارے سارے اموال زائل اور ختم ہو جانے والے ہیں ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے فنا ہو جانے والے مال کو راہ خدامیں خرچ کرنا گویا اس کو قرض دینا ہے اور وہ بہت ہی معتبر ضامن ہے جو فرماتا ہے: ”وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیءٍ فَهُوَ یُخْلِفُه

حا لانکہ خود پروردگار نے ان ساری نعمتوںکو ہمارے پاس رہن رکھا ہے اس لئے کہ جو کچھ بھی انسان کے اختیار میں ہے وہ خدا کی طرف سے عاریہ کے طور پر ہے۔

ان تمام باتوںکے با وجودہم اپنے بہت سے اموال میں سے انفاق نہیں کرتے اور آخر کار وہ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں نہ ہی ان میں کوئی اجر ملتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص ہمارا شکر یہ ادا کرتا ہے۔

(ج)مفہوم انفاق کی وسعت

اسلام میں انفاق کے دائرہ کی وسعت کو جاننے کے لئے مندرجہ ذیل حدیث کی طرف توجہ ہی کافی ہے:

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا :

کل معروف صدقة ،وما انفق الرجل علی نفسه واهله کتب له صدقة وما وقیٰ به الرّجل عرضه فهو صدقة،وما انفق الرّجل من نفقة فعلیٰ اللّٰه خلفها الا ما کان من نفقة فی بنیان او معصیة

ہر نیک کام جو راہ خدا میں انجام پائے وہ صدقہ اور انفاق ہے (صدقہ صرف مالی انفاق سے مخصوص نہیں ہے) اور جو کچھ بھی انسان اپنی اور اپنے خانوادہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خرچ کرے وہ بھی انفاق اور صدقہ ہے۔ انسان اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے جو کچھ خرچ کرتا ہے اسے بھی صدقہ اور انفاق کہا جاتا ہے اور انسان جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرے گا اس کا عوض اور بدلہ خدا کے ذمہ ہے مگر یہ کہ وہ مال جو گھر بنانے یا خدا کی نافرمانی اور گناہ میں خرچ کیا جائے۔

حدیث میں گھر بنانے پر خرچ ہونے والے مال کو انفاق اور صدقہ سے الگ کرنے کی وجہ ممکن ہے کہ یہ ہو کہ گھر باقی رہنے والی چیز ہے اس کے علاوہ اکثر لوگوں کی توجہ اور نگاہ بھی اسی پر ہوتی ہے۔


۷. تمہارے انفاق خدا کے یہاں محفو ظ ہیں

( وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ نَّفَقَةٍ اٴَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاٴِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُه‘وَمَا لِلظَّا لِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) (سورئہ بقرہ :آیت ۲۷)

اور تم جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کروگے یا نذر کروگے تو خدا اس سے باخبر ہے البتہ ظالمین کا کوئی مددگار نہیں ہے۔

وضاحت

یہ آیہ کریمہ ہم کو اس بات کی طرف توجہ دلارہی ہے کہ تم جوکچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرو چاہے واجب ہو یا مستحب،کم ہو یا زیادہ ،حلال طریقہ سے حاصل کیا ہویا حرام راستہ سے ،خلوص کے ساتھ راہ خدا میں انفاق کیا ہویا ریاکاری کے ساتھ ،منت اوراذیت کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر ،ان اموال میں سے ہو جن کے انفاق کرنے کا حکم خدا نے دیا ہے یا نذر کے ذریعہ اپنے اوپر واجب کر لیا ہے جس طرح بھی ہو خدااس سے آگاہ اور باخبر ہے اوراسی کے مطابق جزا دے گا۔

مختصر یہ کہ سارے انفاق پروردگار کی نگاہوں کے سامنے ہیں کتنا اچھا ہوتا کہ سارے انفاق پاک و پاکیزہ اور حلال اموال میں سے ہوں۔

( وَمَالِلظَّالِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) “ یہ آیہ کریمہ اس بات کا پیغام دے رہی ہے کہ:ستمگروں اور ظالموں کا کوئی یار ومددگا ر نہ ہوگا یعنی جو لوگ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ محروموں اور فقیروں کو نجات دلاتے ہیں یا سماجی کاموں میں اپنے مال کو خرچ کرکے سب کے لئے آرام وآسائش کے سامان فراہم کرتے ہیں یہ انفاق دنیا و آخرت میں ان کا ناصر و مددگار ہوگا اوروہ ضرورت کے وقت اس سے استفادہ کریں گے ۔ جبکہ مالدار بخیل یا انفاق کرنے والے ریاکار اور لوگوں کو تکلیف پہچانے والے ،اس طرح کے ناصرو مددگار سے محروم ہوں گے ۔

ممکن ہے کہ یہ جملہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ ریا کاروں، بخیلوں اور منت گذاروں اور اذیت پہنچانے والوںکے لئے قیامت میں عذاب الٰہی کے مقابلے میں کوئی بھی ان کا حامی و مددگار اور شفاعت کرنے والا نہ ہو گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ظلم وستم کرنے والے ہیں جنہو ں نے فقیروں کے حقوق کو پامال کیا ہے ۔عدالت الٰہی میں کوئی ان کا دفاع کرنے والا نہ ہوگا اور یہ ان کے ظلم و ستم کا نتیجہ ہوگا ۔

اور خوشابحال ان افراد کا جنہوں نے انسانی امداد اور راہ خدا میں انفاق کے ذریعہ اپنے لئے ناصرو مددگا رکا انتظام کر رکھا ہے۔

۸ راہ خدا میں انفاق کرو اور فقر سے نہ ڈر و

خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے :

( اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاٴْ مُرُ کُمْ بِالْفَحْشَآءِ وَاللّٰهُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلاً وَّ اللّٰهُ وَاْسِعٌ عَلِیْمٌ ) (سورئہ بقرہ آیت/ ۲۶۸)

شیطان تم سے(انفاق کے وقت) فقیری کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں برائیوں کا حکم دیتا ہے۔ اورخدا مغفرت اور فضل و احسان کا وعدہ کرتا ہے۔ خدا صاحب وسعت بھی ہے اور علیم ودانا بھی۔

شیطانی افکار سے جنگ

خدا وند عالم اس سے پہلی والی آیت میں فرماتا ہے کہ: راہ خدا میں خرچ کرتے یازکوٰة نکالتے وقت شیطان تمہیں فقیری اور تنگدستی سے ڈراتا ہے (خاص طور سے اس وقت جب اچھے اور قابل توجہ اموال کو خرچ کرنا چاہو ) اور بسا اوقات یہ شیطانی وسوسہ انفاق اور بخشش کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہےں یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے یہ وسوسہ، خمس وزکوٰة نکالنے اور دوسرے واجب انفاق میں بھی اثرانداز ہو جائیں۔

پروردگار لوگوں کو آگاہ اور خبر دار کرنا چاہتا ہے کہ فقر اور تنگدستی کے خوف سے انفاق نہ کرناایک غلط فکر اور شیطانی وسوسہ ہے اور چونکہ یہ ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ خیا ل آئے یہ خوف فقر اگر چہ شیطان کی طرف سے ہے لیکن ایک منطقی اور قابل توجہ خوف ہے ۔لہٰذا بلا فاصلہ ارشاد فرماتا ہے ”وَیَاْ مُرُکُمْ بِالْفَحْشَآءِ “شیطان تمہیں گناہ اور نا فرما نی پر اکساتا ہے لہٰذا یہ فقر اور تنگدستی کا ایک غلط اور بے جا خوف ہے اس لئے کہ شیطان باطل اور گمراہی کے علاوہ کسی اور چیز کی دعوت نہیں دیتا ۔

در حقیقت ہر منفی فکر کا سر چشمہ فطرت سے انحراف اور شیطانی وسوسہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے لیکن ہر مثبت اور کار ساز فکر اور بلند نظری سے آمیختہ فکر کا سر چشمہ الٰہی الہام اور خدا داد پاک وپاکیزہ فطرت ہے ۔

چونکہ شیطانی وسوسہ قوانین خلقت اور سنت الٰہی کے خلاف ہے لہٰذا اس کا نتیجہ بھی انسان کے لئے بد بختی ہے۔

اس کے مقابلے میں قوانین الٰہی انسانی فطرت اور خلقت کے عین مطابق ہیں ۔

واضح لفظوں میں یہ کہ پہلی نظر میں انفاق اور مال کو خرچ کرنا مال کوکم کرنے کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور یہ وہی شیطانی نظریہ ہے ۔ لیکن غور وفکر اور وسعت نظر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انفاق معاشرہ کی بقا کا ضامن، سماجی عدالت کو مستحکم و استوار کرنے والا ہے اور طبقاتی فاصلے کو کم کرنے کا سبب اور ترقی کا ذریعہ ہے اور یہ بات بھی مسلّم ہے کہ معاشرہ کی ترقی کی صورت میں اس معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے آرام و آسائش کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور یہ وہی الٰہی نظر یہ اور طرز فکرہے۔

خلاصہ یہ کہ ایک بد بخت اور ناکارہ معاشرہ میں ایک خوشبخت اور سعادت مند زندگی بسر نہیں کی جا سکتی ۔

لہٰذا قرآن مجید مسلمانوں کو اس اہم امر کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ اگر ظاہراًانفاق تمہاری کسی چیز کو کم کر رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ تمہارے سرمایہ میںہی اضافہ کرتا ہے اور مادی ومعنوی دونوں لحاظ سے سعادت و خوشبختی کا سبب بنتا ہے۔

آج دنیا میں جہاں طبقاتی فاصلہ، جنگوں اور دوسرے حوادث میں مال ودولت کی بربادی کے پیش نظر اس آیت کے معنی کو درک کرنا کو ئی مشکل بات نہیں ہے۔

اس آیہ کریمہ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ”انفاق نہ کرنے“اور فحشاء اور اخلاقی برائیو ں کے درمیان ایک گہرا رابطہ پایا جاتا ہے ۔اگر فحشاء ،بخل اور کنجوسی کے معنی میں ہو تو ان دونوں کے درمیان اس اعتبار سے رابطہ ہے کہ راہ خدا میں انفاق اور بخشش کو ترک کرنا آہستہ آہستہ انسان کے اندر بخل جیسی بری صفت پیدا کر دیتا ہے اور اگر فحشاء ہر طرح کے گناہ یا جنسی گناہ کے معنی میںہو تو فحشاء اور ترک انفاق کے درمیان کا رابطہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے اس لئے کہ بہت سے گناہ جیسے بے عفتی اور جسم فروشی کی جڑ، غربت ،فقیری اور ناداری ہے۔

اس کے علاوہ راہ خدا میں انفاق کرنے کے کچھ معنوی اثرات و برکات پائے جاتے ہیں جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”( وَاللّٰهُ یَعِدُکُمْ مَغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلاً ) “’

تفسیرمجمع البیان میں امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ انفاق کرتے وقت دو چیز خدا کی طرف سے ہو تی ہیں اور دو چیز شیطان کی جانب سے،خدا کی طرف سے گناہوں سے مغفرت اور روزی میں برکت ووسعت اور شیطان کی جانب سے فقر کا خوف اور فحشاء اور گناہ کا حکم ۔

لہٰذاآیہ کریمہ میں مغفرت سے مراد گناہوں کی بخشش اور معافی ہے اورفضل سے مراد انفاق کے سایہ میں وسعت اورگشائش رزق و روزی ہے (جیسا کہ ابن عباس سے اس مطلب کونقل کیا گیا ہے)

حضرت علی نے ارشاد فرمایا جب سختی اور تنگدستی میں گرفتار ہو جاؤ تو راہ خدا میںانفاق کرکے خدا کے ساتھ تجارت کرو یعنی راہ خدا میں خرچ کروتاکہ تنگدستی سے نجات حاصل کر سکو ۔

پروردگارعالم آخر آیت میں فرماتا ہے:”( وَاللّٰهُ وَاْسِعٌ عَلِیْمٌ )

اس فقرہ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ چونکہ خدا وند عالم کی قدرت وسیع اور لا محدود ہے لہٰذا وہ اپنے کئے ہوئے وعدوں پر عمل کر سکتا ہے۔ پس اس کے وعدہ پر اطمینان رکھنا چاہئے ۔ نہ کہ مکار اور کمزور شیطان کے وعدہ پر ۔ جو انسان کو گناہوں کی طرف کھینچتا ہے اور چونکہ وہ مستقبل سے آگاہ نہیں ہے اور قدرت نہیں رکھتا لہٰذا اس کا وعدہ گمراہی اور گناہوں کی تشویق کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں ہوسکتا ۔

۹. غیر مسلمین پر انفاق کرو

( لَیْسَ عَلَیْکَ هُدَاْهُمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَمَاْ تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍفَلِا ٴَنْفُسِکُمْ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلاَّابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ وَمَا تُنْفِقُوامِنْ خَیْرٍ یُوَفَّ اٴِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْلَاْ تُظْلَمُوْنَ ) (سورہ بقرہ:آیت ۲۷۲)

اے پیغمبر! ان کی ہدایت پا جانے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے بلکہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اے لوگو!جو مال بھی تم راہ خدا میں خرچ کروگے وہ دراصل اپنے ہی لئے ہوگا اور تم صرف خوشنودی خدا کے لئے خرچ کرتے رہو اور جو کچھ بھی خرچ کرو گے پوراپورا تمہاری طرف واپس آئے گا اور تم پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔

شان نزول

تفسیر مجمع البیان میں اس آیت کے نزول کے بارے میں عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ مسلمان ، غیر مسلمین پر انفاق اور ان کی مدد کرنے پر راضی نہیں تھے لہٰذا مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ ضرورت کے وقت غیر مسلمین پر انفاق اور ان کی مدد کی جا سکتی ہے ۔

اس آیت کا ایک دوسرا بھی شان نزول نقل ہوا ہے جو گزشتہ شان نزول سے مختلف ہے اور وہ یہ ہے کہ سفر ”عمر ةالقضاء“میں اسماء نامی ایک مسلمان خا تون رسول خد(صلي الله عليه و آله و سلّم) کی خدمت میں حاضر ہوئی۔اس کی ماں اور دادی اسے تلاش کرتی ہوئی اس کے پاس آئیں اوراس سے مالی مدد چاہی ۔چونکہ یہ دونوں مشرک اور بت پرست تھیں لہٰذا اسماء نے ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا اور کہا :اس سلسلہ میں پہلے آنحضرت سے اجازت حاصل کر لوں اس لئے کہ آپ لوگ میرے دین کی پیروکار نہیں ہیں ۔

اسماء رسول خد(صلي الله عليه و آله و سلّم) کی خدمت میں آئی اور اس سلسلہ میں آپ سے اجازت طلب کی ،اس وقت مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور اسماء کو اپنی غیر مسلم ماں اور دادی پر خرچ اور مالی مدد کی اجازت دی۔

توضیح

پروردگار عالم فرماتا ہے :( لَیْسَ عَلَیکَ هُدَاهُمْ )

اس جملہ کے مخاطب رسول خد (صلي الله عليه و آله و سلّم) ہیں۔ اس آیت اور اس سے قبل کی آیات میںرابطہ پایا جاتا ہے اس لئے کہ ان آیات میں مسئلہ انفاق کو کلی طور پر بیان کیا گیا ہے اور اس آیت میںغیر مسلمین پرانفاق کرنے کے جواز کا تذکرہ ہے یعنی غیر مسلم فقراء اور مساکین پر اس مقصد کے تحت انفاق نہ کرنا کہ وہ فقر اور سختی کے دباو میں آکراسلام قبول کرلیں اور ہدایت پاجائیں یہ صحیح نہیں ہے ۔ جس طرح سے خداوند عالم کی نعمتیں اور بخششیں اس کائنات میں تمام انسانوں کے لئے ہیں (ان کے عقیدہ اور دین سے قطع نظر) لہٰذا مومنین کو چاہئے کہ مستحبی انفاق اور مالی امداد اور فقراء کی ضرورتوں کو پورا کرتے وقت غیر مسلم فقیروں اور ناداروں کا بھی خیال رکھیں ۔

البتہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب غیر مسلمین فقراء پر انفاق اور ان کی مالی امداد ایک انسانی مدد کے عنوان سے ہو، کفر کی تقویت اوردشمنوں کے ناپاکمنصو بوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نہ ہو ۔ بلکہ یہ انفاق غیر مسلمین کو اسلام کی انسان دوستی کی تعلیم سے آگاہ کرنے کا سبب بنے ۔

----”پیغمبر اسلام کے اوپر انسانوں کی ہدایت کرنا واجب نہیں ہے“ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آنحضرت تبلیغ اور لوگوں کی راہنمائی کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ تبلیغ اور راہنمائی آپ کی ایک بنیادی ذمہ داری ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی ذمہ داری یہ نہیںہے کہ لوگوں پر دباو ڈالیں اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں ۔دوسرے لفظوں میں مراد جبری ہدایت کی نفی ہے نہ کہ اختیاری ہدایت کی یا پھر اس سے مراد ہدایت تکوینی کی نفی ہے نہ کہ ہدایت تشریعی کی۔

انفاق کا اثر انفاق کرنے والے کی زندگی میں

خداوندعالم فرماتاہے: ”( وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَیْرٍ فَلِا ٴَ نْفُسِکُمْ )

یہ جملہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ راہ خدا میں انفاق کے فائدے تمہاری طرف ہی پلٹتے ہیں اور دوسری طرف انفاق کرنے والے کو اس پسندیدہ عمل کی تشویق کر رہا ہے اس لئے کہ جب انسان کو اس بات کا علم ہو کہ اس کے عمل کا نتیجہ اور فائدہ خوداسی کو حاصل ہونے والا ہے تو وہ اس کام کو اور مزید دلچسپی کے ساتھ انجام دے گا ۔ ممکن ہے کہ شروع میں ایسا معلوم ہو کہ یہاں پر انفاق کے فائدے سے مراد اخروی ثواب اور انعامات الٰہی ہیں اگر چہ یہ معنی اپنی جگہ صحیح ہے لیکن یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ انفاق کے فائدے اور ثواب صرف آخرت سے مخصوص ہیں اور وہیں ملیں گے بلکہ اس دنیا میں بھی انھیں اس کا فائدہ پہنچے گا ۔انفاق کے دنیاوی فائدے میں سے معنوی اعتبار سے انفاق کرنے والے میں عفودر گذشت ، بخشش ،فدا کاری اورانسان دوستی کے جذبہ کو پروان چڑھاتا ہے روحی تکامل اور شخصیت کے پروان چڑھنے میں موثر واقع ہونا ہے اور مادی لحاظ سے سماج میں محروم اور فقیر افراد کا وجود بہت سی مشکلات کا سبب بنتا ہے ۔ یہی مشکلات کبھی کبھی پوری مالکیت کو ختم اور سارے مال و ثروت کو نگل کر نیست و نابود کر دیتی ہیں۔انفاق، طبقاتی فاصلہ کو ختم کرتا ہے اور طبقاتی فاصلہ کی وجہ سے ہو نے والے خطرات کو نیست و نابود کر دیتا ہے ۔

انفاق محروم طبقہ کے غصہ اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھادیتا ہے اور ان کے جذبہ انتقام اور کینہ و حسد کو ختم کر دیتا ہے ۔

لہٰذا سماج کی سلامتی اور انسیت کے اعتبار سے انفاق خود، انفاق کرنے والے کے نفع اورحق میں ہے۔

پروردگار عالم فرماتا ہے : ”( وَمَاتُنْفِقُوْنَ اِلاَّ ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ )

یعنی مسلمان اپنے اموال کو راہ خدا میںخرچ نہیں کرتے مگر پروردگار کی رضایت اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ۔

بعض مفسرین کے قول کے مطابق ممکن ہے کہ یہ جملہ ”جملہ خبریہ“ ہو اور ”نہی“کے معنی میں استعمال کیا گیا ہو یعنی اے مسلمانو ! انفاق نہ کرو مگر رضائے پروردگار کے لئے۔ اس لئے کہ انفاق کے سارے فائدے اسی وقت سامنے آئیں گے جب خدا اور اس کی رضا کے لئے اسے انجام دیا جائے۔

معنی وجہُ اللّٰہ

لغت میں وجہ چہرہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی ”ذات“کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ لہٰذا ”وجہ اللہ“سے مراد ذات پروردگار ہے یعنی انفاق کرنے والے کو چاہئے کہ پروردگار اور اس کی خوشنودی کو نظر میں رکھے۔ آیہ کریمہ میں کلمہ وجہ کو استعمال کیا جانا ایک طرح کی تا کید ہے اس لئے جملہ ”برائے ذات خدا“کی تاکید جملہ ”برائے خدا“ سے زیادہ ہے ۔

اس کے علاوہ چہرہ بدن کا سب سے اہم اور نمایاں حصہ ہے اس لئے کہ بہت سے اہم اعضاء ، آنکھ، کان ، زبان، چہرہ ہی کا جزء ہیں ۔ لہٰذا کلمہ وجہ کا استعمال شرافت ،اہمیت اور عظمت کی نشاندہی کرتا ہے اور آیت میں کلمہ وجہ بطور کنایہ ذات پروردگار کے لئے استعمال کیا گیا ہے ۔ جو اس کی عظمت ،احترام اور اہمیت کو سمجھاتا ہے ورنہ واضح سی بات ہے کہ خداکا نہ جسم ہے اور نہ ہی اس کا چہرہ۔ آیت کے آخری حصہ میں ارشاد فرماتا ہے : ”( وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَاْ تُظْلَمُوْنَ )

یہ جملہ گذشتہ بیان کو مزیدواضح کررہا ہے کہ” گمان نہ کرو کہ اپنے کئے ہوئے انفاق سے مختصر فائدہ حاصل کرو گے بلکہ تم جو کچھ انفاق کروگے بطور کامل تمہیں پلٹادیا جائے گا اور ذرہ برابر بھی تمہارے اوپر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ لہٰذا دل کھول کر راہ خدا میں انفاق کرو۔“

یہ جملہ قیامت میں انسانی اعمال کے مجسم ہونے پربھی ایک دلیل ہے اس لئے کہ اس میں بیان کیا جا رہا ہے کہ تم جو کچھ بھی انفاق کرو گے وہی تمہیں واپس کر دیا جائے گا۔لہٰذا اس کے بارے میں آپ خوب غورو فکر کریں ۔

۱۰ انفاق کرکے اپنے آپ کو خطروں سے بچائیں

( وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَاْ تُلْقُوْا بِاٴَیْدِیْکُمْ اِلیَ التَّهْلُکَةِ وَاَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْن ) (سورئہ بقرہ: آیت ۱۹۵)

خدا کی راہ میں انفاق کرو (ترک انفاق سے) خود کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو کیونکہ خدا وند عالم نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

وضاحت

جہاد میں جس طرح مخلص ،دلیر اور تجربہ کار افراد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح مال ودولت کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔کیو نکہ جہاں جہاد کے لئے روحی اور جسمی تیاری ضروری ہے وہیں مناسب اسلحہ اور جنگی وسائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔یہ صحیح ہے کہ جنگ میں مجاہدوں کے لئے بلند حوصلے کو کافی اہمیت حاصل ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں جنگی وسائل کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیہ مبارکہ اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ اس راہ میں انفاق نہ کرنا گویا خود کو اور مسلمانوں کوہلاکت میں ڈالنا ہے ۔

خاص طورسے صدر اسلام میں بہت سارے مسلمان میدان جنگ میں جانے کاشوق اور جذبہ تورکھتے تھے لیکن فقیر اور نادار ہونے کی وجہ سے جنگ کے معمولی اسلحے اور وسائل کو بھی فراہم نہیں کر سکتے تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ ایسے افرا د رسول خدا کی خدمت میں آتے تھے اورآپ سے تقاضا کرتے تھے کہ ان کے لئے جنگی وسائل اور اسلحے فراہم کئے جائیں اور انہیں میدان جنگ میں پہنچایا جائے لیکن وسائل اور اسلحے فراہم نہ ہونے کی صورت میں وہ افراد گریہ کنا ں اور غمگین آنحضرت کی خدمت سے واپس جاتے تھے :”( تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُهُمْ تَفِیْضَ مِنَ الدَّمْعِ حَزَناً اَلَّا یَجِدُوْا مَاْ یُنْفِقُوْنَ )

اگر چہ یہ آیت ، آیات جہاد کے ضمن میں نازل ہوئی ہے لیکن اس سے ایک سماجی حقیقت کا استفادہ کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ بطور کلی انفاق معاشرہ کے افراد کی ہلاکت سے نجات کا سبب ہے اسی کے برعکس جب انفاق اور فقراء کی امداد کو بھلا دیا جائے اور ساری دولت معاشرہ کے چند افراد کے پاس جمع ہوجائے تو محروموں اور فقیروں کی اکثریت وجود میں آئے گی اور بسا اوقات معاشرہ میں ایک عظیم اور زبردست دھماکہ ہوگااور سرمایہ داروں کی جان ومال کو اس کی آگ میں جلا کر راکھ کر دے گا۔ (سورئہ توبہ۔آیت/ ۹۲)

اس بیان کے ذریعہ مسئلہ انفاق اور ہلاکت سے نجات کے درمیان رابطہ واضح ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا انفاق محروموں اور ناداروں کے لئے فائدہ مندہونے سے پہلے دولت مندوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ بے شک دولت کی تقسیم اس کی محافظ ہے جیسا کہ حضرت علی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :

حَصِّنُوْا اَمْوَاْلَکُمْ بِالزَّکٰوةِ “زکوٰةدے کر اپنے اموال کی حفاظت کرو۔

آیت کے آخری حصہ میں پروردگار عالم نے لوگوں کے ساتھ احسان اور نیک برتاو کرنے کا حکم دیا ہے ۔”وَاَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ “یعنی پروردگار عالم مرحلہ جہاد اور انفاق سے مرحلہ احسان اور کی طرف ہدایت کررہا ہے اس لئے کہ مرحلہ احسان کا انسانی تکامل اور بلندی کا سب سے اہم مرحلہ ہے جس کی طرف اسلام نے انسانوں کو متوجہ کیا ہے۔

اس جملہ کا آیہ انفاق کے ذیل میں ذکر کیا جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انفاق، احسان ،نیک برتاو اور مہربانی کے ساتھ ہونا چاہئے اور ہر قسم کے احسان جتانے اور سامنے والے کو رنجیدہ اور دکھ دینے والی باتوں سے دور اور خالی ہونا چاہئے ۔

۱۱ کون لوگ آتش جہنم سے دور ہیں ؟

( وَسَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقیٰ الَّذِیْ یُو تِیْ مَالَه یَتَزَکّٰی )

اوراس (بھڑکتی ہوئی آگ) سے عنقریب صاحب تقویٰ کو محفوظ رکھا جائے گا۔جو اپنے مال کو دے کر پاکیزگی کا اہتمام کرتا ہے۔(سورئہ لیل آیت: ۱۷،۱۸)

اس مقام پر قرآن مجید ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں سے دور ہوں گے۔

تو ضیح

آیہ کریمہ میں لفظ(( یَتََزَ کّٰی ) ) قصد قربت اور خلوص نیت کی طرف اشارہ ہے چاہے یہ جملہ روحی اور معنوی رشد ونمو حاصل کرنے یا اموال کی پاکیزگی کے معنی میںہو۔ اس لئے کہ کلمہ ”تزکیہ“ رشدو نمو کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پاک کرنے کے معنی میں بھی ۔

سورہ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:

( ’خُذْ مِنْ اَمْوَاْلِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَکِّیْهِمْ بِهَا وَ صَلِّ عَلَیْهِمْ ٴاِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّهُمْ )

پیغمبرآپ ان کے اموال میں سے زکوٰة لے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہو جائیں انہیں دعائیں د یجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی۔ (سورہ توبہ آیت / ۱۰۳)

اس کے بعد انفاق میں خلوص نیت پر مزید تاکید کےلئے فرماتا ہے: ”وَمَا لِاٴَحَدٍ عِنْدَه مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَیٰ

(جبکہ اس کے پاس کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کی جزا دی جائے )بلکہ انسان کا مقصد صرف رضائے پروردگار کو حاصل کرناہے ”اَلِاَّابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلیٰ “(سوائے یہ کہ وہ خدائے بزرگ کی مرضی کا طلبگار ہے۔)

دوسرے لفظوں میں لوگوں کے درمیان بہت سے انفاق ،اس کے اوپر کئے گئے انفاق کے جواب میں ہوتے ہیں اگر چہ حق شناسی اور احسان کا جواب احسان کے ذریعہ دینا ایک پسندیدہ کام ہے لیکن اس کاحساب متقین کے خالصانہ انفاق سے الگ ہے۔ اسی لئے مذکورہ آیات اس بات کو بیان کررہی ہےں کہ صاحبان تقویٰ کا دوسروں کے اوپر انفاق کرنا نہ ریا کاری کی بنا پر ہوتا ہے اور نہ ہی گذشتہ خدمات کے جواب میں ہوتا ہے بلکہ ان کا مقصدصرف اور صرف رضائے الٰہی کا حصول ہوتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ان کے انفاق کو ایک خاص اہمیت عطا کرتی ہے۔

آیہ کریمہ میں لفظ”وجہ“ ذات کے معنی میں ہے اور اس سے مراد پروردگار کی رضایت اور خوشنودی ہے ۔

تعبیر”ربہ الاعلیٰ“ اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ انفاق معرفتخداکے ساتھ انجام پاتا ہے ۔ اس حا لت میں کہ وہ پروردگار کی ربوبیت سے بھی آگاہ ہےں اور اس کے بلند وبالا مقام و منزلت سے بھی باخبر ہےں ۔

اس کے ضمن میں ہر طرح کی غیر خدا کی نیت کی نفی بھی ہو رہی ہے جیسے خوشنامی اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے انفاق کرنا یامعاشرہ میں مقام و منزلت حاصل کرنے کے لئے اور اسی کے مثل دوسرے امور ۔ اس لئے کہ جملہ ”( اِلاَّابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلیٰ ) “ کا مفہوم انفاق کے مقصد کوپروردگارعالم کی مرضی اور خوشنودی سے مخصوص کرنا ہے۔

۱۲. بلند وبالا مقاصد تک پہنچنے کا راستہ

( لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا ِممَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِیْمٌ ) (سورئہ آل عمران: آیت ۹۲)

تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کرو اور جو کچھ بھی انفاق کروگے خدا اس سے بالکل باخبر ہے۔

توضیح

( لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّونَ )

لغت میں کلمہ ”بِرّ“ وسعت کے میں معنی میں ہے اسی لئے وسیع صحراوں اور بیابانوں کو ”برّ“ کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے وہ نیک اعمال جن کا نتیجہ وسیع ہوتا ہے اور دوسروں تک بھی پہنچتا ہے اسے ”برّ“کہا جاتا ہے کلمہ ”برّ“ اور ”خیر“ کے درمیان یہ فرق ہے کہ ”برّ“ اس نیکی کو کہتے ہیں جو توجہ ، قصد اور اختیار کے ساتھ انجام دی جائے لیکن ”خیر“ دوسروں کے ساتھ کی جانے والی ہر نیکی کوکہتے ہیں چاہے قصد وارادہ کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر۔

آیت اسی بات کی طرف متوجہ کر رہی ہے کہ: تم ہر گز ”برّ“ اور نیکی کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے مگر یہ کہ اپنی محبوب اور پسندیدہ چیز وں میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔

آیہ کریمہ میں کلمہ ”برّ“ سے مراد کیا ہے ؟اس سلسلہ میں مفسرین نے مختلف اقوال ذکر کئے ہیں: بعض نے کہا ہے کہ ”بِّر“ سے مراد بہشت ہے اور بعض نے تقویٰ اور پرہیزگاری کو مراد لیا ہے اور بعض نے جزائے خیر کو۔

لیکن دیگر آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ ”بِرّ“ایک وسیع اور عام معنی میں ہے اور ہرطرح کی نیکی ، ایمان اور عمل صالح کو برّ کہا جاتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی ۱۷۷ ویں آیت میں آیا ہے کہ خدا،قیامت اور انبیائے الٰہی پر ایمان رکھنا ،محتاجوں اور نیاز مندوں کی مدد کرنا ،نماز، روزہ،وفائے عہد اور مشکلات وسخت حوادث کے مقابلہ میں صبر کرنا یہ سب ”برّ“ہیں۔

لہٰذا واقعی نیکی کے بلند وبالا مقام تک رسائی کی بہت سی شرطیں ہیں جن میں سے ایک شرط مال کا انفاق ہے جو انسان کے لئے ایک پسندیدہ اور محبوب شے ہے اس لئے کہ خدا سے واقعی محبت اور انسانی اخلاق و اقدار کا احترام اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب انسان دور اہے پرکھڑا ہو ایک طرف مال و دولت اورمقام و منصب ہو اور وہ اس سے شدید محبت رکھتا ہو اور دوسری طرف خدا، حقانیت ،انسانی عطوفت اور احسان ونیکی ہو ۔

اب اگر وہ خدا وند عالم کے لئے مال وثروت سے قطع نظر کرلے تو اس کی محبت سچی ہے اور اگروہ اس سلسلہ میں فقط جزئی باتوں سے صرف نظر کرنے پر تیار ہو تو خداوند عالم سے اس کی محبت بھی اسی مقدار میں ہے۔اور یہ چیز کسی کے ایمان اور شخصیت کو تولنے کا معیار و میزان ہے ۔

دلوں میں آیات قرآنی کا نفوذ

صدر اسلام میں بعض مسلمانوں کے دلوں میں آیات قرآنی کا اتنا جلدی اور گہرا اثر ہوتا تھا کہ نزول آیات کے فوراً بعد اس کا اثر ظاہر ہو جاتا تھا ۔نمونہ کے طور پر مذکورہ آیت کے سلسلہ میں تاریخ اورتفسیر کی کتابوںمیں مندرجہ ذیل واقعات آئے ہیں :

۱) رسول خد(صلي الله عليه و آله و سلّم) کے صحابی ابوطلحہ انصاری کا مدینہ منورہ میں ایک بہت ہی وسیع وعریض کھجور کا باغ تھا ،مدینہ میں ہر ایک کی زبان پر اس کا چرچا تھا۔ اس باغ میں پانی کا ایک چشمہ تھا۔ جب بھی رسولخدا اس باغ میںتشریف لے جاتے اس چشمہ سے پانی پیتے اور وضو فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ اس باغ کی آمدنی بھی بہت اچھی تھی اس آیہ کریمہ کے نزول کے بعد ابو طلحہ انصاری آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: آپ تو جانتے ہیں کہ میرے نزدیک سب سے محبوب شے یہی باغ ہے اور میں اس کو راہ خدا میں انفاق کرنا چاہتا ہوں تاکہ روز قیامت میرے لئے ذخیرہ بن سکے ۔ آپ نے فرمایا”بخ بخ ذٰلک مال رابح لک“ شاباش شاباش یہی وہ ثروت ہے جو تمہارے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: میری نظر میں بہتر یہ ہے کہ اس باغ کو ضرورت مند اور فقیر رشتہ داروں کو بخش دو۔“

ابو طلحہ انصاری نے رسول کریم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردیا ۔

۲) ایک دن جناب ابوذر کے گھر ایک مہمان آیا۔ چونکہ جناب ابوذر سادہ اور معمولی زندگی بسر کرتے تھے لہٰذا انہوں نے مہمان سے معذرت چاہی کہ مشکلات کی بنا پر میں خود تمہاری مہمان نوازی نہیں کر سکتا۔ فلاں مقام پر میرے چند اونٹ ہیں ۔ زحمت کرکے ان میں سے ایک سب سے اچھا اونٹ لیتے آو (تاکہ تمہارے لئے قربانی کروں )مہمان گیا اور ایک لاغراور کمزور اونٹ لے کر آیا ۔جب ابوذر نے دیکھا تو اس سے فرمایا: تم نے حق امانت ادا نہیں کیا ۔ کیوں ایسا اونٹ لائے ہو؟اس نے جواب میں عرض کیا کہ: میں نے سوچا: ایک دن آپ کو ان اونٹوں کی ضرورت پڑے گی۔جناب ابوذر نے فرمایا: میری نیاز مندی کا زمانہ وہ ہے جب میں اس دنیا سے آنکھ بند کر لوں (کتنا اچھا ہوگا کہ اس دن کے لئے کچھ ذخیرہ کرلوں) اور خدا وند عالم فرماتا ہے:”( لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ )

۳) خلیفہ عباسی ہارون رشید کی زوجہ زبیدہ کے پاس ایک بہت ہی گراں قیمتی قرآن تھا ،زبیدہ نے اسے زرو زیورات اور جواہرات سے مزین کر رکھا تھا اور اس سے بہت زیادہ محبت رکھتی تھی۔ ایک دن جب اسی قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے آیہ”( لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ ) “تک پہنچی تو آیت کو پڑھ کر میں ڈوب گئی اوراپنے آپ سے کہا :میرے نزدیک اس قرآن سے زیادہ محبوب کوئی دوسری چیز نہیں ہے لہٰذا اسی کو راہ خدا میں انفاق کر دینا چاہئے۔اس نے ایک شخص کو جوہری کے پاس بھیجا اور اس قرآن کے سارے زروزیورات اور جواہرات کو فروخت کرکے اس کی قیمت سے حجاز کے بیابانوں اور صحراؤں میں بیابان نشینوں کی پانی کی ضرورتوں کو پوراکرنے پر خرچ کر دیا (کنویں کھدوائے)لوگ کہتے ہیں کہ ان کنوؤں کے آثار آج بھی موجود ہیں اور زبیدہ کے نام پر ان کا نام رکھا گیا ہے۔

( وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیٍٴ فَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِیْمٌ )

آخر آیت میں انفاق کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے فرماتا ہے :تم جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کروگے، کم ہویا زیادہ ،محبوب مال میں سے ہو یا غیر محبوب مال میں سے، خداوند عالم سب سے آگاہ اور با خبر ہے۔ لہٰذا کوئی بھی چیز اس کے نزدیک نہ ہی گم ہوگی اور نہ ہی پوشیدہ اور نہ ہی اس کی کیفیت اس پر مخفی رہے گی۔(یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ راہ خدا میں انفاق ہونے والی ہر چیز محفوظ ہے اور انفاق کرنے والے روز قیامت ان سب کی جزا دریافت کریں گے۔)

انفاق ،روایات اسلامی میں

۱) رسولخدا نے ارشاد فرمایا :

من اعطی درهماً فی سبیل الله کتب الله له سبعمائة حسنة (۱)

جو شخص راہ خدا میں ایک درہم بھی خرچ کرے گاپروردگار اس کے نامہ اعمال میں سات سو نیکیاں لکھے گا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ روایات میں راہ خدا میں انفاق کے علاوہ کسی دوسرے عمل خیر کے بارے میں اس طرح کے عظیم ثواب کا ذکر نہیں ملتا لہٰذا یہ روایت انفاق کی ایک خاص اہمیت کو بیان کررہی ہے جبکہ یہ کمترین جزا اور ثواب ہے جو انفاق کرنے والوں کو عطا کیا جائے گا ورنہ ”وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ “ کے مطابق کچھ افراد کو دو گنا یا کئی گنا ثواب ملے گا۔

۲) امیرالمومنین حضرت علی نے ارشادفرمایا:

طوبیٰ لمن انفق الفضل من ماله وامسک الفضل من کلامه (۲)

کتنے اچھے ہیں وہ افرادجو اپنی ضرورت کے بعد بچے ہوئے ،مال کو انفاق کردیں اور فضول باتوں سے پر ہیزکریں۔

۳) امام علی سے منقول ہے کہ آپ نے ارشادفرمایا:

لیس لاحد من دنیا الاما انفقه علی اخراه (۳)

دنیا سے ہر شخص کا وہی حصہ ہے جو اس نے اپنی آخرت کے لئےخرچ کیا ہے۔

۴) نیزارشاد فرمایا:

انما لک من مالک ماقدّمته لاخرتک واٴخّرته فللوارث (۴)

تمہارے مال میں بس وہی حصہ تمہارا ہے جو تم نے اپنی آخرت کے لئے بھیج رکھا ہے اور جو چھوڑ کر جاو گے وہ وارثوں کا حصہ ہوگا۔

تجربہ اور مشاہدہ بھی اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض ورثہ میراث پر اس طرح دل باختہ ہو جا تے ہیں کہ صاحب مال کی طرف کم توجہ دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کی واجبی وصیت پر بھی عمل نہیں کرتے ۔

۵) امام جعفر صادق نے ارشادفرمایا:

ملعون ملعون من وهب اللّٰه له ما لاً فلم یتصدّق منه بشیٓءٍ (۵)

بارگاہ خدا سے نکالا ہوا اور ملعون ہے وہ شخص جسے خداوندعالم مال وثروت عطا کرے اور وہ اس میں سے راہ خدا میں خرچ نہ کرے ۔

۶) امام علی ارشادفرماتے ہیں:

انّ العبد اِذامات قالت الملا ئکة ماقدم و قال الناس ما اٴخّر (۶)

جب کوئی شخص اس دنیا سے فوت کر جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ مرنے والے نے آخرت کے لئے کیا بھیج رکھا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ کیا چھوڑ کر گیا ہے۔

۷: ۔ایک شخص امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: میرے کئی بچے ّہیں اور (اس وقت) سب کے سب بیمار ہیں ۔ آپ نے فرمایا :

داو وهم بالصّدقة فلیس شیء اسرع اجابة من الصّدقة ولا اجدیٰ منفعة علی المریض من الصّدقة (۷)

راہ خدا میں صدقہ دے کر مریضوں کا علاج کرو ، دعا کی قبولیت کے لئے صدقہ سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے اور بیماروں کے علاج کے لئے اس سے زیادہ مفید اور نفع بخش کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔

____________________

(۱)میزان الحکمة ،ح۲۰۶۲۴

(۲)بحارالانوار،ج/۹۶،ص/۱۱۷

(۳)غررالحکم

(۴)غررالحکم

(۵)بحار الانوار،ج۹۶،ص۱۳۳

(۶)بحارالانوار،ج۹۶،ص۱۱۵

(۷)میزان الحکمة، ح ۱۰۳۶۶


دوسری فصل : انمول انفاق کے شرائط

۱۳ انمول انفاق

ی( ٰآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْااٴَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَ مِمَّا اٴَخْرَ جْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَلَاْ تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْه تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِ یْهِ اِلَّااٴَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰه غَنِیٌّ حَمِیْدٌ ) (سورہ بقرہ:آیت ۲۶۷)

اے ایمان والوں :اپنی پاکیزہ کمائی اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لئے پیدا کیا ہے ،سب میں سے ر اہ خدا میں خرچ کرو اور خبردار انفاق کے ارادے سے خراب مال کو ہاتھ بھی نہ لگانا کہ اگر یہ مال تم کو دیا جائے تو آنکھ بند کئے بغیر چھو ےں گے بھی نہیں ۔ یاد رکھو کہ خدا سب سے بے نیاز اور سزا وار حمد و ثنا بھی ہے۔

توضیح

اس آیہ کریمہ کی شان نزول کے بارے میں امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں سود کے ذریعہ مال ودولت جمع کر رکھا تھا اور اس مال میں سے راہ خدا میں خرچ کرتے تھے ۔ پروردگار عالم نے انہیں اس کام سے منع کیا اور انہیں حکم دیا کہ پاک اور حلال مال میں سے انفاق کریں ۔

تفسیر مجمع البیان میں مذکورہ حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام علی سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :یہ آیہ کریمہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو انفاق کے وقت خشک اور خراب کھجوروں کو اچھی کھجوروں میں ملا دیتے تھے لہٰذا انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اس کام سے پرہیز کریں ۔

ان دونوں شان نزول میں آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ممکن ہے کہ مذکورہ آیت دونوں افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہو ۔ پہلا شان نزول مال کی معنوی پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا شان نزول انفاق کے ظاہری اور مادی مرغوبیت کی طرف اشارہ ہے۔

لیکن اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ سورہ بقرہ کی ۲۷۵ ویںآیت کے مطابق جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں سود خوری کے ذریعہ مال و ثروت جمع کر رکھا تھا آیت کے نزول کے بعد انہوں نے سود خوری سے پرہیز کیاتوگذشتہ اموال ان کے لئے حلال ہو گئے یعنی یہ قانون گذشتہ اموال میں نافذ نہیں ہوا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ سود سے محفوظ مال کے حلال ہونے کے باوجوداس میں اور دوسرے اموال میں کافی فرق ہے ۔در حقیقت یہ مال ان اموال کی طرح ہے جو مکروہ اور نا پسندیدہ راستہ سے حاصل کیا گیا ہو۔

کن اموال کو انفاق کیا جائے

اس آیہ کریمہ میں راہ خدا میں انفاق کئے جانے والے مال کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ آیت کے پہلے جملہ میں پروردگار عالم، صاحبان ایمان کو حکم دے رہا ہے کہ ”طیبات“ میں سے انفاق کرو۔ لغت میں طیب، پاکیزہ کے معنیہے اور طیبات اس کی جمع ہے۔ جس طرح ظاہری اور مادی پاکیزہ چیز کو طیب کہا جاتا ہے اسی طرح باطنی اور معنوی پاکیزہ شے کو بھی طیب کہا جاتا ہے۔یعنی ایسے مال میں انفاق کرنا چاہئے جو اچھا،مفید اور قیمتی بھی ہو اور ہر طرح کے شک و شبہ اور آلودگی سے خالی بھی ہو۔

مذکورہ بالا شان نزول بھی آیت کی عمومیت پر تاکید کر رہا ہے۔جملہ ”( وَلَسْتُمْ بِآخِذِ یْهِ اِلَّااٴَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ ) “(یعنی اوراگریہ خراب مال تم کو دیا جائے تو آنکھ بند کئے بغیر چھوو گے بھی نہیں ،)اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس سے مراد صرف ظاہری پا کیزگی ہے ۔اس لئے کہ با ایمان افرادبھی ظاہری اعتبار سے آلودہ اور بے قیمت یا معمولی مال کولینے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی مشتبہ مال کو ، مگر چشم پوشی اور کراہیت کے ساتھ ۔

۱۴ انفاق کے مختلف طریق ے

جملہ ”ما کسبتم“(جو تم حاصل کرو) تجارت کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔

لہٰذا جملہ ”مما اخرجنا“ ہر طرح کی آمدنی کو شامل ہے اس لئے کہ سارے اموال کا سرچشمہ زمین اور اس کے مختلف منابع ہیں یہاں تک کہ صنعت ،تجارت اور کاریگری وغیرہ بھی اسی کے ذریعہ انجام پاتی ہے ۔

اسی کے ضمن میں یہ جملہ اس بات کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ ہے کہ پروردگار عالم نے ان سارے منابع کو تمہارے اختیار میں قرار دیا ہے لہٰذا ان میں سے راہ خدا میں انفاق کرنے سے ذرہ برابر بھی مضائقہ نہیں کرنا چاہئے ۔

اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے: ”( وَلَاْ تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِ یْهِ اِلَّااٴَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ )

چونکہ بعض لوگوں کی عادت بن جاتی ہے کہ ہمیشہ کم قیمت ،ناقابل استعمال چیزوں کو انفاق کرتے ہیں اس طرح کے انفاق نہ ہی انفاق کرنے والوں کی معنوی تربیت اور روحانی رشد کا سبب بنتے اور نہ ہی ضرورت مندوں کے لئے نفع بخش ثابت ہوتے ہیں بلکہ اس سے ان کی ایک طرح کی اہانت اور تحقیر ہوتی ہے ۔

لہٰذا یہاں پر صاف لفظوں میں لوگوں کو اس کام سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے: کیونکر اس طرح کے مال کو راہ خدا میں انفاق کر رہے ہو جسے تم بھی ناگواری اور کراہیت کے بغیراسے قبول کرنے پر تیار نہ ہو گے؟!! کیا تمہارے مسلمان بھائی اور اس سے بالا تر وہ پروردگار کہ جس کی راہ میں انفاق کررہے ہووہ سب تمہاری نظر میں تم سے کمتر ہوں!

در حقیقت یہ آیہ کریمہ ایک دقیق نکتہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور وہ یہ کہ جو کچھ راہ خدا میں خرچ کیا جاتا ہے اس کے ایک طرف فقراء اور ضرورت مند افراد ہیں اور دوسری طرف خدا ہے جس کی راہ میں انفاق کیا جا رہا ہے ۔ایسی صورت میں اگر پست اورکم قیمت اموال کو منتخب کیا جائے تو ایک طرفمقام اقدس پروردگار کی توہین ہو گی کہ اس کو طیب اور پاکیزہ چیزوں کے لائق نہیں سمجھا اور دوسری طرف فقراء اور ضرورت مندوں کی تحقیر اور بے عزتی ہو گی۔ اس لئے کہ ممکن ہے تنگدستی کے باوجود بھی وہ ایمان اور انسانیت کے بلند وبالا مرتبہ پر فائز ہوں اور اس طرح کے انفاق کے نتیجہ میں ان کی روح کبیدہ خاطر ہو جائے۔

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے جو جملہ ”لاتیمموا“ (قصد و ارادہ نہ کرو ) میں پوشیدہ ہے۔ اس جملہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان جو کچھ بھی انفاق کررہا ہے اگر اس کے درمیان بغیر کسی توجہ کے کوئی ناپسندیدہ اور کم قیمت چیز شامل ہو جائے تو یہ شخص مذکورہ حکم میں داخل نہیں ہے اس لئے کہ یہ حکم ان لوگوں کے سلسلہ میں ہے جو جان بوجھ کر اس طرح کے انفاق پر اقدام کرتے ہیں ۔

آیت کے آخر میں ارشاد فرماتا ہے : ”( وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰه غَنِیٌّ حَمِیْدٌ ) “ آگاہ رہو کہ اس خدا کی راہ میںخرچ کر رہے ہو جو تمہارے انفاق سے بے نیاز ہے اور ساری حمد و ثنا اسی کے لئے ہے اس لئے کہ اسی نے یہ ساری نعمتیں تمہارے اختیار میں قرار دی ہیں ۔

یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں پر” حمید “(تعریف کرنے والے) کے معنی میں ہو یعنی پروردگار عالم تمہارے انفاق سے بے نیازی کے باوجود تمہاری تعریف کرتا ہے اورتمہیں اس کی جزادیتا ہے لہٰذا کوشش کرو کہ پاک وپاکیزہ اور حلال اموال میں سے اس کی راہ میں انفاق کرو۔


۱۵ انفاق ہر چیز اور ہر طریقہ سے

( اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اٴَمْوَاْلَهُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّهٰارِ سِرّاًوَّعَلَاْنِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَاْ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاْ هُمْ یَحْزَنُوْنَ ) (سورئہ بقرہ: آیت ۲۷۴)

جولوگ اپنے اموال کو راہ خدا میں رات میں ،دن میں، خاموشی سے اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ان کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ حزن۔

توضیح

بہت سی روایات میں آیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے اس لئے کہ آپ نے ایک درہم رات میں ، ایک درہم دن میں، ایک درہم علانیہ اورایک درہم خاموشی سے اور پوشیدہ طور سے راہ خدا میں انفاق کیا تھا۔ لیکن قرآن کریم نے اسے انفاق کے مختلف طریقے اور کیفیتوں کے سلسلہ میں ایک حکم کے عنوان سے بیان کیا ہے اور انفاق کرنے والوں کی یہ ذمہ داری قرار دی ہے کہ وہ علانیہ اور پوشیدہ انفاق کرنے کے لحاظ سے سامنے والے کی اخلاقی اور سماجی حیثیت اورعزت و آبرو کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں۔

یعنی جب حاجت مند پر انفاق کو ظا ہر کرنے کی کوئی علت اور سبب نہ ہو تو ان کی عزت و آبرو کی حفاظت اور مزید خلوص کے لئے پوشیدہ طور پر انفاق کیا جائے اور جہاں پر کوئی مصلحت (مثلاً دینی شعائر کی تعظیم کرنا، دوسروں میں شوق پیدا کرناہو)اور کسی حاجت مند مسلمان کی بے عزتی اور توہین کا سبب نہ ہو تو علانیہ انفاق کیا جا سکتا ہے۔

پروردگار عالم اس طرح انفاق کرنے والوں کو اجر و ثواب کیخوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے: --”( فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَاْ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاْ هُمْ یَحْزَنُوْنَ ) “(ان کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ حزن) چونکہ انسان زندگی بسر کرنے کے لئے اپنے آپ کو مال و دولت سے بے نیاز نہیں پاتاہے لہٰذا وہ عام طور سے انہیں کھو دینے پر غمگین ہو جاتا ہے اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ آئندہ اس کے حالات کیسے ہو ں گے ۔

یہی فکر بہت سے مواقع پرانسان کو انفاق کرنے سے روک دیتی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو ایک طرف پروردگار کے کئے ہوئے وعدوں پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسری طرف انفاق کے سماجی اثرات و برکات کو جانتے ہیں ۔ ایسے لوگ راہ خدا میں انفاق کرتے ہیں نہ آئندہ کے سلسلہ میں فکر مند اور خوف زدہ ہوتے ہیں اور نہ مال کے چلے جانے پر غمگین ہوتے ہیںاس لئے کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے جو چیز راہ خدا میں دی ہے اس سے کہیں زیادہ فضل خدااور اس کی انفرادی سماجی اور اخلاقی برکتوں میں سے اسے اس دنیا میں بھی حاصل ہو گا آخرت میں بھی۔

( قُل لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُقِیْمُواالصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَا هُمْ سِرّاًوَّ عَلَاْنِیَةًمِّنْ قَبْلِ اٴَنْ یَّا تِیَ یَوْمٌ لاَّ بَیْعٌ فِیْهِ وَلَاْ خِلَاْلٌ )

اورآپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے چھپا کر اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی۔(سورئہ ابراہیم آیت/ ۳۱)

تو ضیح

پروردگار عالم پہلے فرماتا ہے کہ: اے میرے رسول آپ میرے با ایمان بندوں سے کہہ دیجئے کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ بھی میں نے انہیں روزی عطا کی ہےاس میں سے چھپا کر اور علانیہ انفاق کریں”( قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُقِیْمُواالصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَا هُمْ سِرّاًوَّ عَلَاْنِیَةً ) “اس کے بعد فرماتاہے :قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ ہی تجارت کام آئے گی کہ انسان اس کے ذریعہ اخروی سعادت اور عذاب سے نجات کو خریدسکے اور نہ ہی کوئی دوستی اور رفاقت کام آئے گی( مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّا تِیَ یَوْمٌ لاَّ بَیْعٌ فِیْهِ وَلَاْ خِلَاْلٌ ) بے شک اس دن بازار عمل بند ہو جائے گا اور کسی طرح کی کوئی بھی خرید و فروخت اور تجارت نہ ہوگی ۔ صرف وہی زاد راہ کام آئے گا جسے پہلے سے مہیا کر رکھا ہے اور ہر شخص اپنے عمل کے مطابق جزایا سزا پائے گا ۔ ایسے دن کے لئے بہترین زاد راہ یہی انسانی امداد اور حاجت مندوں پر انفاق کرنا ہے۔

۱۶ پوشیدہ طور پر انفاق بہتر ہے

( اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِیَ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُوتُوْهَا الْفُقَرَ آءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ یُکَفِّرُ عَنْکُمْ مِنْ سَیِّئَاتِکُمْ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ) (سورئہ بقرہ آیت/ ۲۷۱)

اگرتم صدقہ کو کھلے عام دوگے تویہ بھی ٹھیک ہے ۔اور اگر چھپا کر فقراء کے حوالے کردوگے تو یہ بھی بہت بہتر ہے لہٰذا اس کے ذریعہ تمہارے بہت سے گناہ معاف ہو جائیں گے اور خدا تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

وضاحت

بے شک راہ خدا میں انفاق کرنا چاہئے علانیہ ہو یا چھپا کر ہر ایک کا مفید اور نفع بخش اثر اور فائدہ ہوتا ہے ۔اس لئے کہ جب انسان کھلے عام اپنے مال کو راہ خدا میں خرچ کرتا ہے اور اگر یہ انفاق واجب ہو تو لوگوں کو اس طرح کے نیک کام کے شوق کے علاوہ انفاق کرنے والے سے اس تہمت کو دور کرتا ہے کہ اپنے واجب وظیفہ پر عمل نہیں کیا ۔

اور اگر مستحب ہو تو در حقیقت یہ ایک طرح کی عملی تبلیغ ہے کہ لوگوں کوعمل صالح ،محرومین اور فقراء کی حمایت اور مدد اور عوامی منفعت کے کاموں کو انجام دینے کا شوق پیدا کرتا ہے ۔

اوراگر خفیہ طور سے اور لوگوں کی نظروں سے دور ہو کر انفاق کیا جائے تو اس میں ریا کاری کا امکان کم ہوجاتا ہے بلکہ مزید خلوص کے ساتھ انجام پاتا ہے خاص طور سے فقراء کی مدد کرنے میں ان کی عزت و آبرو کی حفاطت زیادہ بہتر طریقہ سے ہوتی ہے ۔ اس لئے آیت کہہ رہی ہے :”دونوں طریقہ انفاق بہتر ہےں لیکن خفیہ انفاق زیادہ بہتر ہے۔ “

بعض مفسرین نے کہاہے کہ یہ حکم مستحبی انفاق کے بارے میں ہے اور واجبی انفاق جیسے زکوٰةوغیرہ میں بہتر یہ ہے کہ ہمیشہ علانیہ ہونا چاہئے لیکن یہ بات مسلّم ہے کہ دو نوں حکم (انفاق کو ظاہر کرنا یا مخفی کرنا)میں کوئی ایک بھی حکم عمومی نہیں ہے بلکہ مواقع کے مختلف ہونے کے اعتبار سے ہیں لہٰذا جب تشویق کا اثر زیادہ ہواور خلوص کے لئے نقصان دہ نہ ہو تو بہتر ہے کہ علانیہ انفاق کیا جائے اور جب آبرو منداور باعزت افراد ہوں اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کا سبب بنے کہ خفیہ اور پوشیدہ طور سے انفاق کیا جائے اور ریاکاری یا خلوص کے ختم ہو جانے کا ڈر ہو تو ایسی صورت میں خفیہ طور سے انفاق کرنا بہتر ہے۔

بعض حدیثوں میںآیا ہے کہ واجبی انفاق کو علانیہ اور مستحبی انفاق کو پوشیدہ طور پر ہونا چاہئے۔

حضرت امام جعفرصادق سے منقول ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: زکوٰة واجب کو کھلے عام اپنے مال سے نکالو اور کھلے عام انفاق کرو لیکن مستحبی انفاق کو اگر پوشیدہ طور سے خرچ کرو تو زیادہ بہتر ہے۔

اس طرح کی دیگر احادیث گذشتہ باتوں کے خلاف نہیں ہیں اس لئے کہ واجب ذمہ داریوںکی انجام دہی میں دکھاوے کی گنجائش کم ہوتی ہے اس لئے کہ واجب ہے اور ہر شخص کو انجام دینا واجب ہے اور ایک لازمی مالیات اور ٹیکس کے مانند ہے جسے ہر فرد کو ادا کرنا ضروری ہے لہٰذا اس کو کھلے عام انجام دینا بہتر ہے۔ لیکن مستحبی انفاق جس میں وجوب کا پہلو نہیں ہوتا لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کو علانیہ اور ظاہر کرنا خلوص نیت کے لئے مضر اور نقصان دہ ہو لہٰذا اس کو پوشیدہ طور سے انجام دیناہی زیادہ بہتر ہے۔

”وَ یُکَفِّرُ عَنْکُمْ مِنْ سَیِّئَاتِکُم “ اس جملہ سے معلوم ہوتاہے کہ راہ خدامیں انفاق کا گناہوں کی بخشش میں بہت گہرا اثر ہے اس لئے کہ حکم انفاق کے بعد اسی جملہ میں فرمایا ہے :اور پروردگار تمہارے گناہوں کومعاف کردے گا ۔

البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چھوٹے سے انفاق کے اثر میں سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے بلکہ کلمہ ”من“ جو عام طور سے تبعیض یعنی (بعض ) کے لئے استعمال ہوتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انفاق گناہوں میں سے بعض گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے اور وہ بھی انفاق کی مقدار اور میزان خلوص سے مربوط ہے ۔

انفاق گناہوں کی بخشش کا سبب ہے اس سلسلہ میں شیعہ وسنی دونوں کتابوں میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ۔انہیں میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ: پو شیدہ طورپر انفاق کرنا غضب الٰہی کو ختم کر دیتا ہے اورجس طرحپانی آگ کو بجھا دیتا ہے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے کہ :سات لوگ ایسے ہیں جنہیںاللہ اس دن اپنی رحمت کے سایہ میں لئے ہوگا جس دن اس کے سایہ رحمت کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا :

۱ ۔ حاکم عادل،

۲ ۔ وہ جوان جو عبادت اور بندگی خدا میں پروان چڑھے ،

۳ ۔ جس کا دل مسجد سے وابستہ ہو،

۴ ۔ وہ لوگ جو دوسروں کو اللہ کے لئے دوست رکھتے ہیں اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوتے ہیں اور عشق و محبت کے ساتھ جدا ہوتے ہیں۔

۵ ۔ وہ شخص جسے ایک خوبصورت اور صاحب مقام و منزلت عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ شخص خدا کے خوف سے گناہ پر آمادہ نہ ہو ۔

۶ ۔ وہ شخص جو پوشیدہ طور سے انفاق کرے اس طرح سے کہ اگر داہنے ہاتھ سے انفاق کرے تواس کا بایاں ہاتھ با خبر نہ ہو ۔

۷ ۔ جو شخص تنہائی میں خدا کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے اشک جاری ہو جائیں ۔

”وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ“ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی انفاق کیا جا تا ہے خدا اس سے با خبر ہے چاہے علانیہ ہو یا پوشیدہ طور پر۔ اسی طرح وہ تمہاری نیتوں سے بھی باخبر ہے ۔ انفاق کو علانیہ یا پوشیدہ طور سے کس مقصد کے تحت انجام دے رہے ہو ۔

بہر حال انفاق میں جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے مالپاک و پا کیزہ ہواور عمل میں خلوص ہو دوسروں کے باخبر ہونے یا نہ ہونے کا کوئی اثر نہیں ہے بلکہ علم خدامیں آنا اور اس کا آگاہ ہونا ہی سب سے اہم چیزہے اسلئے کہ وہ علیم ہے اور وہی ہر عمل کی جزا دینے والاہے اور ہر ظاہر وباطن سے باخبر ہے۔


تیسری فصل : کس پر اورکس طرح انفاق کریں؟

۱۷ کیسے اور کس پر انفاق کریں؟

( وَءَ ا تِ ذَاالْقُرْبَیٰ حَقَّه وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلَاْ تُبَذِّرْ تَبْذِیْراً ) (سورہ اسراء: آیت ۲۶)

اوردیکھو قرابتداروں ،مسکین اور غربت زدہ مسافر کو اس کا حق دے دو اور خبر دار اسراف سے کام نہ لینا ۔

( اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْ ااِخْوَانَ الشَّیَا طِیْنِ وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِرَبِّهِ کَفُوراً ) (سورہ اسراء: آیت ۲۷)

اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان تو اپنے پروردگار کا بہت بڑا انکار کرنے والا ہے ۔

( وَلَاْتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَةً اِلیٰ عُنُقِکَ وَلَاْ تَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَمَلُوْماًمَّحْسُوراً ) (سورہ اسراء:آیت ۹۲)

اور خبردارنہ اپنے ہا تھوں کو گردنوں سے بندھا ہوا قرار دو اور نہبا لکل پھیلا دو کہ آخر میں قابل ملا مت اور خالی ہاتھ بیٹھے رہ جاو۔

وضاحت

انفاق میں میانہ روی کی رعایت کرنا

ان آیات میں راہ خدا میں انفاق کرنے اور قرابتداروں ،مساکین اور غربت زدہ مسافروں کے حق کی ادائیگی کے بارے میں اسلامی احکام کو بیان کیا گیا ہے اور انفاق کرنے میں ہر طرح کے اسراف اور فضول خرچی سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے اور خدا وندعالم ان احکام کو چند مرحلے میں بیان فرمایا ہے: پہلے مرحلے میں ارشادفرماتا ہے: ”قرابتداروں اور رشتہ داروں کا حق انہیں دے دو:( وَءَ ا تِ ذَاالْقُرْبَیٰ حَقَّه )

اور مساکین اور غربت زدہ مسافرین کاحق بھی ان کے حوالے کر دو:( وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ )

اور خبردار اسراف سے کام نہ لو :( وَلَاْ تُبَذِّرْ تَبْذِیْراً )

کلمہ تبذیر مصدر بذرسے بیج اور چھڑکنے کے معنی میں ہے لیکن یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب انسان اپنے اموال کو غیر منطقی اور نا مناسب طریقہ سے خرچ کرے۔ فارسی میں مترادف ”ریخت وپاش“( چھڑکنا اور پھیلانا) ہے۔

دوسرے لفظوں میں، تبذیر یہ ہے کہ مال کو نادرست مقام پر خرچ کیا جائے اگر چہ کم ہی کیو ں نہ ہو ،اور اگر اسے اس کے صحیح مقام پر خرچ کیا جائے توتبذیر نہیں ہے اور اگر یہی حد سے بڑھ جائے تو اسے اسراف کہتے ہےں۔

تفسیر عیاشی میں امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیہ کریمہ کے ذیل میں ایک سوال کرنے والے کے جواب میں فرمایا:

مَنْ اَنْفَقَ شَیْئاًفِیْ غَیْرِ طَاعَةِ اللّٰه فَهُوَ مُبَذِّرٌوَ مَنْ اَنْفَقَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَهُوَ مُقْتَصِدٌ

غیراطاعت پروردگارمیں اپنے مال کو خرچ کرنے والا مبذر(اسراف کرنے والاہے) اور راہ خدا میں خرچ کرنے والا مقتصد اور میانہ روہے ۔

ایک دوسری حدیث میں آنحضرت سے منقول ہے کہ ایک دن آپ نے حاضرین کی مہمان نوازی کے لئے کھجور لانے کا حکم دیا ۔ بعض لوگوں نے کھجور کھا کر اس دانہ کو دور پھینک دیا تو آپ نے فرمایا : ”یہ کام نہ کرو اس لئے کہ یہ تبذیر اور اسراف ہے اور خدا ضائع کرنے کو دوست نہیں رکھتا۔“

مسئلہ اسراف اور تبذیر کو واضح کرنے کے لئے اس حد تک کوشش کی گئی ہے کہ ایک حدیث میںآیا ہے کہ : رسول خدا ایک راستہ سے گذررہے تھے۔ آپ کے صحابی، سعد وضو کرنے میں مصروف تھے اوروہ بہت زیادہ پانی بہا رہے تھے آپ نے یہ دیکھ کر سعد سے فرمایا: اے سعد! کیوں اسراف کر رہے ہو؟! سعدنے عرض کیا :کیا وضوکرنے میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا :”نَعَمْ اِنْ کُنْتَ عَلیٰ نَہْرٍجَارٍ“(بے شک اگرچہ تم بہتی ہوئی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو اور اس سے وضو کرو۔)

آیہ کریمہ میں ”ذِی الْقُرْبیٰ “سے مراد سارے قرابتدار ہیں یاصرف رسولخدا کے قرابتدار مراد ہیں؟(اس لئے کہ آیت میں خطاب آنحضرت سے ہے )اس سلسلہ میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔

متعدد روایات میں آیا ہے کہ ذی القربیٰ سے مراد رسول خدا کے قرابتدار ہیں یہا ں تک بعض روایتوں میں یہ آیا ہے کہ یہ آیت جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کو باغ فدک بخشنے کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے۔

لیکن جیسا کہ پہلے بھی کئی بار بیان کیا جا چکا ہے کہ اس قسم کی روایات آیت کے عمومی معنی کو محدود نہیں کرتی ہیں بلکہ یہ روایات آیت کے واضح مصداق کو بیان کرتی ہیں ۔

لہٰذا جملہ”و آ ت“ میں پیغمبر اسلام سے خطاب اس حکم کے آنحضرت سے مخصوص ہونے کی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ وہ سارے احکام جو ان آیات میں وارد ہوئے ہیں جیسے تبذیر سے نہی، سائل اور مسکین کے ساتھ اچھا برتاو یا کنجوسی اور اسراف سے منع ان سارے احکام کے مخاطب آنحضرت ہیں جبکہ یہ احکام صرف پیغمبر سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ عام ہیں۔

ایک قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ قرابتدار وں ، مساکین اور غربت زدہ مسافر وں کے حق کی ادائیگی کے بعد تبذیر اور اسراف سے روکنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قرابتداروں ،مسکین اور غربت زدہ مسافر کے ساتھ انسانی عطوفت ادائیگی میں اتنی زیادتی نہ ہو جائے کہ ان کے استحقاق سے زیادہ ان پر انفاق کرکے اسراف اور فضول خرچی میں مبتلا ہو جاواس لئے کہ اسراف ہر جگہ مذموم اور قابل ملامت ہے

بعد والی آیت سے منع کرنے کی دلیل کو بیان کر رہی ہے کہ: اسراف کرنے والے شیا طین کے بھائی ہیں :( اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیَا طِیْنِ )

بے شک اسراف کرنے والے،شیطان کے بھائی ہیں اس لئے کہ شیطان کا کام فساد وتباہی ہے اسراف کرنے والے بھی خدا کی نعمتوں کو تباہ وبرباد اوراسے غلط طریقہ سے خرچ کرکے ضائع وبرباد کر ہیں ۔

لہٰذا وہ لوگ جو اضافی کھانا پکا کے، پھینک دیتے ہیں اور وہ لوگ جو دکھاوے کی غرض سے پانچ مہمانوں کے لئے بیس آدمیوں کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں اور بقیہ کھانے کو ضائع کردیتے ہیں اور وہ افراد جو دوسرے ملکوں میں زراعتی اور مہنگی چیزوں کی مہنگائی کو باقی رکھنے کےلئے کافی مقدار میں گیہوں اور مکھن کو دریا میں پھینک دیتے ہیں، سب کے سب شیطان کے بھائی ہیں بلکہ ان میں بہت سے خود شیطان ہیں۔

اس کے بعد والی آیت میں کنجوسی سے منع کیا گیا ہے اور اسراف پر بھی روک لگائی ہے۔ فرماتا ہے:اپنے ہاتھوں کو اپنی گردنوں سے بندھا ہوا قرار نہ دو ،( وَلَاْتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَةً اِلیٰ عُنُقِکَ )

یہ لطیف و دقیق تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انفاق کرنے والا ہاتھ رکھو اور کنجوسوں کی طرح نہ ہو جاوجو اپنے ہاتھوں کو اپنی گردنوںسے زنجیر کے ذریعہ باندھے ہوئے ہیں اور وہ دوسروں کی مدد اور ان پر انفاق نہیں کر سکتے ۔

دوسری طرف اپنے ہاتھوں کو بہت زیادہ نہ کھول دو اور بے حساب و کتاب بخشش اور سخاوت کرنے لگو جو تمہیں کام اور کاروبار سے روک دے اور دوسروں کی ملامت اور مذمت اور لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانے کا سبب بن جائے :و( َلَاْ تَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَمَلُوْماًمَّحْسُوراً )

جس طرح ”ہاتھ کا گردن سے بندھا ہونا“ کنجوسی کی طرف اشارہ ہے اسی طرح ہاتھوں کا مکمل طور سے کھلا ہونا بھی بے حساب انفاق اور بخشش کی طرف اشارہ ہے جیسا کی جملہ ”( لَاْ تَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ ) “سے معلوم ہوتا ہی ہے ۔

اور کلمہ تقعد جو مصدر قعود سے بیٹھنے کے معنی میں ہے کام سے بے کام ہوجانے کی طرف اشارہ ہے۔

تعبیرملوم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کبھی کبھی بہت زیادہ انفاق اور بخشش نہ صرف یہ کہ انسان کو کام کاج اور زندگی کے ضروری کاموں سے روک دیتا ہے بلکہ ملامت کرنے والوں کی زبان کو بھی کھول دیتا ہے۔

محسور مصدر حسر سے برہنہ کرنے کے معنی میں ہے ،اسی لئے حاسراس سپاہی کو کہتے ہیں جس کے بدن پر زرہ اور سر پر ٹوپی (خود) نہ ہو۔

وہ جانور جو زیادہ چلنے کی وجہ سے تھک کر پیچھے رہ جائیں انہیں حسیر اور حاسرکہا جاتا ہے گویا ان کے بدن کے سار ے گوشت یا ساری طاقت وقوت جواب دے دیتی ہے اور وہ برہنہ ہو جاتے ہیں ۔

اس کے بعد آیت کے اس معنی میں وسعت پیدا ہوئی اورہر تھکے اور منزل مقصود تک پہنچنے سے عاجز شخص کو محسوریا حا سرکہا جانے لگا ۔

بہرحال جب بھی انفاق اور بخشش حد سے بڑھ جائے اور انسان کی ساری توانائی وقوت اسی میں خرچ ہونے لگے تو ظاہر سی بات ہے کہ انسان کام کاج اور زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے سے پیچھے رہ جائے گا اور نتیجہ میں لوگوں سے اس کا رابطہ بھی منقطع ہو جائے گا۔

اس آیت کے شان نزول میں اس بات کو واضح طور پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس روایت میں اس آیت کی شان نزول کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے :

ایک دن رسول خدا گھر میں تشریف فرما تھے ، ایک سائل نے دق الباب کیا چونکہ اس وقت آنحضرت کے پاس اسے دینے کے لئے کوئی چیز نہ تھی لہٰذا اس نے آنحضرت سے ان کے پیراہن کا تقاضا کر لیا آپ نے اسے اپنا پیراہن عطا کر دیا اور اس دن نماز کے لئے مسجد میں حاضر نہ ہو سکے ۔ اس واقعہ نے کفار کی زبان کو ملامت کے لئے کھول دیا اور وہ کہنے لگے کہ محمد سوتے رہ گئے یا دوسرے کاموں میں مصروف ہونے کی وجہ سے اپنی نماز کو بھول گئے۔

اس طرح یہ کام دشمن کی ملامت اور دوستوں سے دوری کا سبب ہوا اور”ملوم ومحسور“ کا مصداق بھی قرار پایا اسی وقت مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور رسول خداکو ایسے کام کی تکرار سے منع کیا ۔

اس آیت کا ظاہری حکم ایثار کے خلاف نہیں ہے جس کے بارے میں ہم آئندہ بحث کریں گے ۔

بعض ا فراد نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ کبھی کبھی رسولخدا بیت المال کے سارے اموال فقراء میںاس طرح تقسیم کر دیتے تھے کہ اگر بعد میں کوئی ضرورت مند آجائے تو اسے دینے کے لئے کچھ نہیں بچتا تھا اور اس کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا تھا ۔ اور بسا اوقات آنے والا ضرورت مند شخص آپ کی مذمت اور ملامت کرنے لگتا تھا۔ جس سے آنحضرت کو تکلیف ہوتی تھی لہٰذا حکم نازل ہوا کہ نہ ہی بیت المال کے پورے مال کاانفاق کر دیا جائے اور نہ ہی پورے مال کو بچائے رکھا جائے تا کہ آئندہ اس طرح کی مشکلات پیش نہ آئیں ۔

ایک سوال کا جواب

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ محروم فقیر اور مسکین افراد ہی کیوںہوں کہ ہم کو انفاق کرنا پڑے کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ خداوند عالم انہیں ان کی ضرورت کی تمام چیزیں عطا کر دیتاتا کہ ہم ان اوپر انفاق کرنے کے محتاج نہ ہوتے؟

جواب -

آیت کا آخری حصہ گویا اسی سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے پروردگار عالم فرماتا ہے -:

( ان ربک یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر انه کان بعباده خبیراً بصیراً )

دراصل یہ تمہارے لئے ایک امتحان ہے ورنہ پروردگار کے لئے ہر چیز ممکن ہے وہ اس طرح سے تمہاری تربیت کرنا چاہتا ہے اور تمہارے اندر سخاوت، فدا کاری اور ایثار کے جذبہ کو پروان چڑھا نا چاہتا ہے ۔

اس کے علاوہ اگربعض لوگ بالکل بے نیاز ہو جائیںتو وہ سر کشی پر اتر آئیں گے لہٰذا ان کی مصلحت اسی میں ہے کہ انہیں ایک معین مقدار میں روزی دی جائے جو نہ ہی ان کے فقراور تنگدستی کا سبب ہو اور نہ ہی طغیان اور سرکشی کا باعث ہو۔

ان سب باتوں کے علاوہ انسانوں ( کچھ موارد کے علاوہ یعنی بے کار اور معمولی افراد کے علاوہ ) کی روزی میں وسعت اور تنگی کا تعلق خود ان کی سعی و کوشش سے ہے اور یہ کہ خدا وند عالم فرما رہا ہے کہ:وہ جس کی روزی کو چاہتا ہے تنگ یا کشادہ کر دیتا ہے۔ یہ مشیت پروردگار بھی اس کی حکمت کے مطابق ہے اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ جو بھی زیادہ کوشش کرے گا اس کا حصہ زیادہ اور جس کی سعی و کوشش کم ہوگی وہ اتنا ہی محروم ہوگا۔

بعض مفسرین نے اس آیت اور اس سے پہلے کی آیات کے درمیان رابطہ کے سلسلہ میں اس احتمال کو قبول کیا ہے کہ اس آخری فقرہ میں انفاق میں افراط و تفریط سے منع کرنے کی دلیل کو بیان کیا گیا ہے۔ گویایہ آیت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پروردگار بھی اپنی ساری قدرت کے باوجود روزی عطا کرنے میں درمیانی راستہ اختیار کرتا ہے اور حد وسط کی رعایت کرتا ہے نہ ہی اتنا زیادہ عطا کرتا ہے کہ فساد اور تباہی کا سبب بن جائے اور نہ ہی روزی میں اتنی تنگی کرتا ہے کہ انسان زحمت میں پڑ جائے یہ تمام چیزیں بندوں کے حالات کی رعایت اور ان کی بھلائی کے پیش نظر ہیں ۔

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ تم بھی اخلاق الٰہی کو اپناو ، اعتدال اور درمیانی راستہ اختیار کرو اور افراط وتفریط سے پرہیز کرو ۔


چند نکتے

یہاں پر محترم قارئین کو چند اہم نکات کی طرف متوجہ کرتے ہیں :

الف) فضول خرچی کی بلا

بے شک روئے زمین پر موجود پروردگار کی نعمتیں،زمین پر بسنے والوں کے لئے کافی ہیں مگراس شرط کے ساتھ کہ انھیں بلا وجہ ضائع اور اسراف نہ کیا جائے بلکہ صحیح اور معقول طریقہ سے ان سے استفادہ کیا جائے اس لئے کہ یہ نعمتیں اتنی زیادہ اور لامحدود بھی نہیں ہیں کہ غلط استعمال اور اسراف سے متاثر ہو کر ختم نہ ہو جائیں ۔

بے شک زمین کے ایک حصہ پر اسراف وتبذیر، دوسرے حصے والو ں کی محرومی کا سبب ہے یا آج کے انسانوں کا اسراف کرنا آئندہ نسلوں کی محرومی کا باعث ہے یہ بات اس دور میں بھی بہت واضح ہے اور ہر شخص اس کوسمجھ سکتا ہے کہ اس زمانہ میں جب اخراجات آج کی طرح نہ تھے، اسلام نے انسانوں کو خبردار کیا کہ زمین پر موجود خدا کی نعمتوں کے استعمال میں اسراف وتبذیر سے کام نہ لیں ۔ اور قرآن کریم نے متعدد آیات میں اسراف کرنے والوں کی سختی سے مذمتاور ملامت کی ہے اور انھیں اس نا پسندیدہ عمل سے منع کیا ہے ۔

ایک جگہ فرماتا ہے: اسراف نہ کرو کہ خدا وند اسراف کرنے والوںکو دوست نہیں رکھتا :( وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّهُ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ) (۱)

دوسرے مقام پر اسراف اورزیادتی کرنے والوں کو جہنمی قرار دیتے ہو ئے فرمایا:( انَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحَا بُ النَّارِ ) (۲)

ایک مقام پر ایسے افراد کی اطاعت اورپیروی کرنے سے لوگوں کو منع فرمایا :( وَلَا تُطِیْعُوْااَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَ ) (۳)

عذاب الٰہی ان کے انتظار میں ہے :( مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِیْنَ ) (۴)

اور اسراف اور زیادہ روی ایک فرعونی عمل ہے:( وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ وَ اِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ ) (۵)

ایسے افراد ہدایت الٰہی سے محروم ہوتے ہیں:( اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ ) (۶)

آخر کار اسراف اور زیادتی کرنے والوں کا انجام ہلاکت اور نابودی ہے:( وَاَهْلَکْنَا الْمُسْرِفِیْنَ ) (۷)

جیسا کہ پہلے بھی ملاحظہ کر چکے ہیں کہ ان آیات میں بھی اسراف اورزیادتی کرنے والوں کو شیطان کا بھا ئی اور ساتھی قرار دیا گیا ہے۔

اسراف کیا ہے؟

اسراف ایک عام معنی میں ہے۔ اسراف ہر اس کام کو کہتے ہیں جسے انجام دینے میں انسان حد سے تجاوز کر جائے عام طور سے یہ کلمہ مالی اخراجات کے سلسلہ میں استعمال ہوتا ہے۔

آیات قرآنی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسراف سختی کے مقا بلے میں ہے جیسا کہ پروردگار عالم نے فرما یا ہے: ”( وَالَّذِیْنَ اِذَااَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذَالِکَ قِوَاماً )

اور وہ لوگ جو انفاق کرتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ سختی سے کام لیتے ہیں بلکہ درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں۔(سورئہ فرقان/آیت/ ۶۷)

____________________

(۱)سورہ انعام :آیت ۱۴۱۔ سورہ اعراف: آیت۳۱

( ۲)سورہ غافر: آیت ۴۳

(۳) سورہ۷ شعراء:آیت۱۵۱

( ۴)سورہ ذاریات:آیت۳۴

(۵) سورہ یونس: آیت۸۳

( ۶)سورہ غافر:آیت ۲۸

(۷)سورہ انبیاء: آیت ۹


ب) اسراف و تبذیر کے درمیان فرق

اسراف و تبذیرکے درمیان کیا فرق ہے ؟اس سلسلہ میں مفسرین نے کوئی خاص بحث نہیں کی ہے لیکن ان دونوں کلمہ کے مصدر کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ دونوں کلمہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں ہوں تو اسراف کسی چیز کو ضائع کئے بغیر حداعتدال سے خارج ہو جانے کے معنی میں ہے مثلاً ہم ایسا گراں قیمت لباس جس کی قیمت ہماری ضرورت کے لباس سے دس گنا زیادہ ہو یااپنے کھانے کو اتنے زیادہ پیسے سے تیار کریں کہ اتنے پیسے میں کئی لوگوں کو کھانا کھلا سکتے ہوں ۔ یہاں پر ہم نے حد سے تجاوز کیا ہے۔ لیکن ظاہراًکوئی چیز ضائع اور برباد نہیں ہوئی ہے۔

لیکن ”تبذیر“یہ ہے کہ کسی چیز کو اس طرح استعمال یا خرچ کیا جائے کہ وہ ضائع اور بربادہو جائے۔مثلاًدو مہمانوں کے لئے دس آدمیوں کا کھانا پکایا جائے اور بچے ہوئے کھانے کو کوڑے دان میں ڈال کر برباد کر دیا جائے جیسا کہ بعض ثروت مند افرادایسا ہی کرتے ہیں ۔

لیکن کبھی کبھی یہ دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور تاکید کے لئے ایک ساتھ لائے جاتے ہیں ۔

حضرت علی - ارشاد فرماتے ہیں

اٴَلاواٴنّ اِعطاء المال فی غیر حقّه تبذیر واسراف وهو یر فع صاحبه فی الدّنیا ویضعه فی الآخرة ویکرمه فی النّاس ویهینه عنداللّٰه

آگاہ ہو جاو کہ غیر مورد استحقاق میں مال کو خرچ کرنا اسراف وتبذیر ہے ممکن ہے یہ عمل دنیا میں انسان کے مرتبہ کو بلند کر دے لیکن یقینا آخرت میں اسے ذلیل کر دے گااور ممکن ہے کہ لوگوں کی نظر میں احترام و اکرام کا سبب بنے لیکن خدا وند عالم کی بارگاہ میں اسے رسوا کر دے گا ۔ (نہج البلاغہ علامہ)

مذکورہ آیت کے ذیل میں بیان کیا گیاہے کہ اسلامی احکام میں اسراف اور تبذیر سے ممانعت کے سلسلہ میں اس قدر تا کید کی گئی ہے کہ وضو کے لئے زیادہ پانی بہانا اگر چہ جاری نہر کا پانی ہی کیوں نہ ہو منع کیا گیا ہے اور امام جعفر صادق نے کھجور کے ایک بیج کو پھینکنے سے منع فرمایا ہے ۔

اس دور میں جب بعض دانشمندوں نے بعض چیزوں کی کمی کا احساس کیا تو ہر چیز کے استفادہ کی طرف خاص توجہ دی یہاں تک کہ کوڑے سے بہترین کھاد بناتے اور ردی چیزوں سے ضرورت کے سامان بناتے ہیں اور گندے پانی کو صاف کرکے اسے کھیتی میں استفادہ کے قابل بناتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے احساس کر لیا ہے کہ دنیا میں موجود مواد لا محدود نہیںہے کہ جن سے آسانی سے صرف نظر کیا جا سکے ۔ پس ضروری ہے کہ تمام چیزوں سے ہر اعتبار سے استفادہ کیا جائے کیا ایسے حا لات میں بھی اسراف و تبذیر ہے ؟

(ج) کیا انفاق، میانہ روی اورایثار کے درمیان کوئی تضاد پایا جاتا ہے؟

انفاق میں میانہ روی کا حکم دےنے والی مذکورہ آیات کے پیش نظر یہ سوال پیش ہے کہ سورہ دہر، اورقرآن کی دوسری آیات اور روایات میں ایسے ایثار کرنے والوں کی مدح کی گئی ہے جو سخت حالات میں بھی اپنے اموال میں سے دوسروں پر انفاق کرتے تھے یہ دونوں حکم کس طرح آپس میں ساز گار ہیں ؟

مذکورہ بالا آیات کے شان نزول اور دوسرے قرینوں میں غوروفکر کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ:

انفاق میں میانہ روی کا حکم وہاں پر ہے جہاں بہت زیادہ بخشش اور انفاق انسانی زندگی میں بہت زیادہ حیرانی و پریشانی کا سبب بن جائے اور انسان ”ملوم ومحسور“ ہو جائے یا ایثار کرنا گھر والوں کے لئے تکلیف دہ اور ان کے ساتھ سختی کا سبب بن جائے، نظام خانوادہ کے درہم برہم ہو جانے کا خوف لاحق ہو جائے اور اگرایسے حالات پیش نہ آئیں تو ایسی صورت میں بے شک ایثار ایک بہت عمدہ اور پسندیدہ عمل ہے۔

اس کے علاوہ میانہ روی کی رعایت ایک عام اور کلی حکم ہے اور ایثار ایک خاص حکم ہے جو بعض معین مواقع پر جاری ہوتا ہے لہٰذا ان دونوں حکم کے درمیان کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ اس پرغور کریں۔

۱۸ انفاق کا بہترین مقام

( لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اٴُحْصِرُ وْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَاْ یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْباًفِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اٴَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمَاهُمْ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافاً وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِیْمٌ )

یہ صدقہ ان فقراء کے لئے ہے جو راہ خدا میں گرفتار ہو گئے ہیں اور کسی طرح سفرکرنے کے قابل بھی نہیں ہیں ۔نا واقف افراد انہیں ان کی حیا اور عفت کی بنا پر مالدار سمجھتے ہیں حا لانکہ تم آثارسے غربت کا اندازہ کر سکتے ہو اگر چہ یہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے ہیں اور تم لوگ جو کچھ بھی انفاق کروگے خدا اسے خوب جانتا ہے۔ (سورہ بقرہ: آیت ۲۷۳)

توضیح

اس آیہ کریمہ کے شان نزول کے بارے میں امام محمد باقر(ع) سے منقول ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

(اصحاب صفہ مکہ اور اطراف مدینہ کے تقر یباً چار سو مسلمان تھے جن کے نہ ہی مدینہ میں گھر تھے اور نہ ہی کوئی رشتہ دار جس کے یہاں جا سکیں لہٰذا یہ افراد مسجد النبی میں مقیم تھے اور میدان جہاد میں جانے کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کرتے تھے )لیکن چونکہ ان کا مسجد میں رہنا مسجد کی شان کے مطابق نہ تھا لہٰذا ان کو حکم دیا کہ مسجد کے کنارے صفہ( ایک بڑے اور وسیع چبوترے )پر منتقل ہو جائیںتومذکورہ بالا آیت ناز ل ہوئی اور دوسرے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنے امکان بھر اپنے ان دینی بھا ئیوں کی مدد سے دریغ نہ کریںاور مسلمانوں نے ایسا ہی کیا (یعنی سبھی نے اپنی حیثیت کے مطابق ان کی مددکی۔)

پروردگار عالم نے اس آیہ کریمہ میں اپنی راہ میں انفاق کے بہترین مواقع اور مقامات کو بیان کیا ہے اور وہ مندرجہ ذیل صفات کے حامل افرادہیں :

۱)( اَلَّذِیْنَ اٴُحْصِرُ وْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ) یعنی وہ افراد جو اہم کاموں مثلاًدشمن سے جہاد کرنے اور علم دین حاصل کرنے کی وجہ سے اپنی زندگی کے اخراجات فراہم کرنے سے عاجز ہیں ، اصحاب صفہ کی طرح جو اس کے واضح مصداق تھے۔

۲)( لَاْ یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْباًفِیْ الْاَرْض ) ِیعنی وہ افراد جو سفر نہیں کر سکتے اورسامان زندگی فراہم کرنے کے لئے ایسے شہروں کی طرف بھی نہیں جا سکتے جہاں بہت زیادہ نعمتیں ہیں ۔لہٰذا جو لوگ اپنی زندگی کے اخراجات کو پورا کر سکتے ہیں انھیں چاہئے کہ سفر کی زحمت و مشقت برداشت کریں اور ہر گز دوسروں کے انفاق اور کمائی پر بھروسہ نہ کریں ۔ مگر یہ کہ کوئی اہم کام ہو جیسے راہ خدا میں جہاد جو مسلمانوں کے لئے ضروری ہے اور پروردگار کی خوشنودی بھی اسی میں ہے۔

۳)( یَحْسََبُهُمُ الْجَاهِلُ اٴَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّف ) جو لوگ ان کے حا لات سے باخبر نہیں ہیں وہ انہیں ان کی خودداری اور عزت نفس کی وجہ سے مالدار اور بے نیاز سمجھتے ہیں۔

۴)( تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمَاهُم ) (آپ ان کو ان کے آثار سے پہچانتے ہیں ) لغت میں سیما علامت اور نشانی کو کہتے ہیں ۔یعنی اگر چہ وہ لوگ اپنے حا لات کوزبان پر نہیں لاتے لیکن ان کے چہروںپر ان کے اندرونی رنج و درد کی نشانیاں موجودہیں جو عاقل اور سمجھ دار انسان کے لئے واضح اور آشکار ہیں۔بے شک (رنگ رخسار ہ خبرمی دہداز سِرّدرون) یعنی رخسار کی رنگت اندرونی راز کی خبر دیتی ہے ۔

۵)( لَاْ یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافاً ) وہ لوگ عام فقیروں کی طرح اصرار کے ساتھ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگتے۔در حقیقت وہ کسی کے آگے دست سوال ہی نہیںپھیلاتے کہ اصرار کی نوبت آئے ۔

اگر قرآن کریم یہ کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ اصرار کے بغیر مانگتے ہیں بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ وہ عام فقیروں کی طرح نہیں ہیں کہ سوال کریں ۔

لہٰذا اس جملہ اور جملہ تَعْرِفُہُمْ بِسِیْمَاہُمْ میں کوئی منافات نہیں ہے ایسے افراد کو ان کے آثارکے ذریعہ پہچانا جاسکتا ہے ، مانگنے کے ذریعہ نہیں۔

اس آیہ کریمہ میں ایک احتمال یہ بھی پایاجاتا ہے کہ جب سخت حالات انہیں اپنا حال بیان کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں تب بھی وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور نہ ہے اصرار کرتے ہیں بلکہ اپنی حاجت کو بہت ہی محترمانہ شکل میں اپنے مسلمان بھائیوںکے سامنے پیش کردیتے ہیں ۔

۶)( وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍفَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِیْمٌ ) یہ جملہ انفاق کرنے والوں کی تشویق کے لئے ہے۔ خاص طور سے ان لوگوں پر انفاق کرنے کے لئے جو عزت نفس اور نیک طینت کے مالک ہیں ۔ اس لئے کہ جب انھیں یہ معلاوم ہو کہ وہ جو کچھ راہ خدا میں خرچ کررہے ہیں چاہے خفیہ طور سے ہی کیوں نہ ہوخدا اس سے باخبر ہے اور انہیں ان کے نیک اعمال کے ثواب سے نوازے گا تو ان میںاس عظیم خدمت کو انجام دینے پر مزید شوق پیدا ہو جائے گا ۔

لیکن افسوس کہ ہر سماج میں اس طرح کے آبرو مند فقیر پائے جاتے ہیں جن کے اندرونی حالات اور رنج و درد سے اکثر لوگ بے خبر ہوتے ہیں ۔لہٰذا باخبر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کو تلاش کریں اور ان کی مدد کریں اور بہترین انفاق یہی انفاق ہے۔

اولویت ،روایات اسلامی میں

۱) رسول خدا نے ارشاد فرمایا :

اِنَّ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ صَدَقَةً

ہرمسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہر روز صدقہ دے۔

بعض اصحاب نے عرض کیا :یا رسولاللہ !کون ہے جو اس کام کی قدرت رکھتا ہے؟

آپ نے فرمایا :

اِمٰا طَتْکُ الاذیٰ عن الطریق صدقة :لوگوں کے راستہ سے رکاوٹ کوبر طرف کرنا بھی صدقہ ہے۔

وارشادک الرّجل الی الطّریق صدقة :ایک اجنبی مسافر کو راستہ کی راہنمائی کرنا بھی صدقہ ہے۔

وعیادتک المریض صدقة : مریض کی عیادت،

واٴمرک با لمعروف صدقة : امر بالمعروف،

ونهیک عن المنکرصدقة :نہی عن المنکر،

وردّک السّلام صدقة : اور سلام کا جواب

یہ سب کے سب صدقہ اور راہ خدا میں انفاق ہیں ۔(۱)

۲) ایک حدیث میں منقول ہے :

کان اٴَبو عبد اللّٰه علیه السلام اذا اعتمّ و ذهب من الّلیل شطره اٴخذ جرابًا فیه خبز و لحم والدّراهم فحمله علی عنقه ثّم ذهب به اٴلی اٴهل الحاجة مناٴهل المدینه فقسّمه فیهم ولا یعرفونه، فلّما مضی اٴبو عبد الله علیه السلام فقدواذٰلک فعلموا انّه کان اٴبا عبداللّٰه علیه السلام (۲)

امام جعفر صادق(ع) نماز عشاء سے فارغ ہونے اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد روٹی ،گوشت اور درہموں سے بھرا ہوا ایک تھیلا اپنے کاندھے پراٹھا ئے ہوئے مدینہ کے فقراء میں تقسیم فرماتے تھے ۔اس طرح کہ وہ لوگ آپ کو پہچان نہ پاتے تھے جب امام(ع) کی شہادت ہو گئی اور مدینہ کے فقراء کی امداد بند ہو گئی تب انھیں کو معلوم ہوا کہ وہ مدد کرنے والے امام جعفر صادق(ع) تھے۔

۳) نیز امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:

لیس المسکین بالطّواف ولا بالّذی تردّه التّمرة والتّمرتان واللّقمة والّلقمتان ولکن المسکین المتعفّف الّذی لا یساٴل النّاس ولایفطن له فیتصدّق علیه (۳)

مسکین وہ شخص نہیں ہے جو ادھر ادھر چکر لگائے یا ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمہ اسے قانع کر دے بلکہ واقعی مسکین وہ ہے جو بہت زیادہ با عفت ہے، لوگوںسے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے اور کسی کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ فقیر ہے تا کہ اس کے اوپر انفاق کرے اور اس کی مدد کرے ایسے شخص کو تلاش کرکے اس پر انفاق کرنا چاہے۔

____________________

(۱) بحار الانوار،ج۷۵،ص ۵۰

(۲)اصول کافی ج۴/ص۸

(۳)کنز العمال ،ح/۱۶۵۵۲


چوتھی فصل : انفاق کی قبولیت کے موانع

۱۹. انفاق قبول ہونے کی شرط

( ٰ یا اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاْتُبْطِلُوْاصَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاٴَذی کالذی ینفق ماله ریاء الناس و لایومن بالله و الیوم الآخر فمثله کمثل صفوان علیه تراب فاصابه وابل فترکه صلداً لا یقدرون علیٰ شیء مما کسبوا والله لا یهدی القوم الکافرین و مثل الذین ینفقون اموالهم ابتغاء مرضات الله و تثبیتاً من انفسهم کمثل جنة بربوة اصابها وابل فآتت اکلها ضعفین فان لم یصبها وابل فطل و الله بما تعملون بصیر ) (سورہ بقرہ:آیت ۲۶۴ ۔ ۲۶۵)

ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا نے اور اذیت کرنے سے برباد نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنے مال کو دکھاوے کے لئے صرف کرتا ہے اور اس کا ایمان نہ خدا پر ہے اور نہ آخرت پر اس کی مثال اس صاف چٹان کی ہے جس پر گرد جم گئی ہو مگرتیز بارش کے آتے ہی بالکل صاف ہو جائے یہ لوگ اپنی کمائی پر بھی اختیا ر نہیں رکھتے اور اللہ کافروں کی ہدایت بھی نہیں کرتا ۔

اور جو لوگ اپنے اموال کو رضائے الٰہی کی طلب اور اپنے نفس کے استحکام کی غرض سے خرچ کرتے ہیں ان کے مال کی مثال اس باغ کی ہے جو کسی بلندی پر ہو اور تیزبارش آکر اس کی فصل کو دو گنا بنا دے اور اگر تیز بارش نہ آئے تو معمولی بارش ہی کافی ہو جائے اور اللہ تمہارے اعمال کی نیتوں سے خوب با خبر ہے۔

وضاحت

انفاق کے عوامل و نتائج مختلف ہوتے ہیںاور اس کی صورتیں بھی متعدد ہوتی ہیں ۔

مذکورہ بالا دو آیتوں میں سب سے پہلے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مومنین کو راہ خدا میں کئے ہوئے انفاق کو احسان جتانے اور اذیت کرنے کے ذریعہ باطل اور بے اثر نہیں کرنا چاہئے ۔

اس کے بعد احسان جتانے ،اذیت اور دکھاوے کے لئے انفاق کرنے اور اخلاص و انسانی محبت کی بنا پر انجام پانے والے انفاق کی خوبصورت مثال بیان کی گئی ہے۔

سخت اور صاف پتھر کے ایک ٹکڑے کو نظر میںرکھیں جس پر مٹی کی ایکباریک پرت ہو اور اس مٹی کی پرت پر چھڑک دیئے جائیں اور اس پر کھلی ہوا اور دھوپ پڑتی ہو اس کے بعد بارش کے بڑے بڑے قطرے برسیں تو بات یقینی ہے کہ بارش کے قطرے اس کے علاوہ کوئی اورکام نہ کرےں گے کہ مٹی کی اس باریک پرت کو دانوں کے ساتھ بہالے جائے گی اور سخت وصاف پتھر جس پر کسی طرح کی کوئی گھاس نہیں اگ سکتی وہ اپنے سخت اور صاف چہرے کو آشکار کر دے گا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ دھوپ ،کھلی ہوا اور بارش کے قطروں نے اس پر کوئی برا اثر ڈالا ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جگہ ان بیجوں کے لئےمناسب نہ تھی ۔یہ پتھر ظاہری طور سے خوبصورت ہے لیکن اندر سے سخت اورکسی چیز کو قبول نہیں سکتا۔ صرف مٹی کی ہلکی سی پرت نے اسے چھپا رکھا تھا ۔ حالانکہ سبزہ اگانے کے لئے ضروری ہے کہ زمین کے علاوہ،زمین کا اندرونی حصہ بھی جڑوں کو قبول کرنے اور اسے خوراک دینے کے لئے تیارہو۔

قرآن کریم نے دکھاوے والے عمل اور احسان جتانے اور آزار واذیت سے ملے ہوئے انفاق کو مٹی کی اس ہلکی پرت سے تشبیہ دی ہے جو سخت پتھر کے ظاہر کو چھپائے ہوتی ہے ۔جس سے کسی طرح کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ کسان کی زحمتوں کو بھی ضائع کر دیتا ہے۔

(یہ وہ مثال ہے جو پہلی آیت میں دکھاوے کے انفاق، احسان اور آزار واذیت کے ساتھ انفاق کے لئے بیان کی گئی ہے۔)

دوسری خوبصورت مثال

ایک سر سبز و شاداب باغ اور کھیت کو نظر میں رکھیں جو بلند اور زرخیز زمین کھلی فضا میں ہوں اوراس پر دھوپ پڑتی ہو اوراس پر بارش کے بڑے بڑے قطرے گریں اوراگر بارش نہ ہو تب بھی کم سے کم شبنم اور ہلکی ہلکی پھوار کے ذریعہ باغ کی لطافت و شادابی ویسے ہی باقی رہتی ہے۔

اس کے نتیجہ میں ایسے کھیت دوسرے کھیتوں کے مقا بلہ میں دو گنا پھل دیتے ہےں اس لئے کہ اس کی زمین بھی زرخیز ہے اورہلکی ہلکی پھوار بھی پھل کو تیار کرنے کے لئے کافی ہیں چہ جائیکہ موسلادھار بارش اس کی وجہ یہ ہے کہ کھیت ایک بلندی پر واقع ہے اور وہ کھلی فضا اور دھوپ سے اچھی طرح بہرہ مند ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ وہ دور سے دیکھنے والوں کی نگاہوں میں ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے اور سیلاب کے خطرے سے بھی محفوظ ہو تا ہے۔

لہٰذا جو لوگ رضائے پروردگار اور روح میں ایمان کے راسخ ہو جانے کی غرض سے انفاق کرتے ہیںوہ اس کھیت کے مانند ہیں جو بابرکت،مفید اورقیمتی ثمر دےتے ہیں۔

یہاں پر چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے:

۱) ”( لَاْ تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاٴَ ذیٰ“ ( ) اپنے انفاق کو احسان جتانے اوراذیت کے ذریعہ باطل نہ کرو)سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کچھ برے اعمال، نیک اعمال کے اثر کو ختم کر دیتے ہیں اور اسی کو احباط کہا جاتا ہے جس کی وضاحت عقائد کی کتابوں میں آئی ہے

۲) دکھاوے کے عمل کو ایک سخت و صاف پتھر کے ٹکڑے سے تشبیہ دینا جسے مٹی کی ایک ہلکی سی پرت نے چھپا رکھا ہوایک واضح تشبیہ ہے اس لئے کہ ریاکار انسان اپنے سخت باطن اور بے فائدہ وجود کو خیر خواہی اور احسان کے پردے میں پوشیدہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسے اعمال انجام دیتا ہے جن کی اس کے وجود میں کوئی ثابت جڑ نہیں ہوتی لیکن بہت جلدہی اس کی زندگی کے نشیب و فراز اس کے اوپر پڑے ہوئے پردے کو ہٹا دیتے ہیں اور اس کےباطن کو سب کے سامنے ظاہر کر دیتے ہیں ۔

۳) جملہ ”( ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتاً مِّنْ اَنْفُسِهِمْ ) “انفاق کے صحیح اور الٰہی مقاصد کو بیان کر رہا ہے اور وہ دو چیزہے: رضائے پروردگار کی طلب(۲) ایمان کو قوی اور مستحکم بنانا اور روحی سکون و اطمینان حاصل کرنا ۔

یہ جملہ بیان کررہا ہے کہ حقیقی انفاق کرنے والے وہ لوگ ہیں جو پروردگار کی خوشنودی اور اچھے اخلاق کو پروان چڑھانے اور ان صفات کو اپنے اندر مستحکم کرنے اور اسی طرح ان اضطراب اور تکلیفوں کو ختم کرنے کے لئے انفاق کرتے ہیں جو محروموں اور فقیروں کی نسبت احساس ذمہ داری کی وجہ سے ان کے وجدان میں پید اہو تی ہیں لہٰذا آیہ کریمہ میں ”مِن“”فی“ کے معنی میں آیاہے۔

۴) جملہ”( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْر ) “ (تم جو کچھ بھی انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ) ہر نیک کام انجام دینے والے کو ٹہوکا دے رہا ہے کہ تمہاری نیت میں یا طرز عمل میں ذرہ برابر بھی ریا کاری کا شائبہ تمہارے نیک عمل کے اجروثواب کو برباد کر سکتا ہے اس لئے کہ خدا مکمل طور سے تمہارے اعمال کانگراں اور دیکھنے والاہے۔

۲۰. موانع قبول

( قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَتْبَعُهَا اٴَذیً وَّاللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ ) (سورئہ بقرہ:آیت ۲۶۳)

(حاجت مندوں کے سامنے)نیک کلام اور مغفرت، اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل دکھانے کا سلسلہ بھی ہو۔خدا سب سے بے نیاز اور بڑا بردبارہے۔

وضاحت

گذشتہ آیات کی طرح یہ آیہ کریمہ بھی انفاق کرنے والوںکو خبردار کر رہی ہے کہ جو لوگ حاجت مندوں کے سامنے نیک کلامی کرتے ہیں اور ان کے اصرار ، یہاں تک کہ ان سخت کلامی کے باوجود بھی انہیں معاف کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کایہ برتاؤ ان لوگوں کے انفاق سے بہتر ہے جو انفاق کے بعد صاحبان حاجت کو اذیت پہونچاتے ہیں ۔

یہ آیہ کریمہ انسانوں کی سماجی حیثیت اور عزت و آبرو کے سلسلہ میں اسلامی اصول کو بیان کر رہی ہے اور جو اس انسانی سرمایہ کی حفاظت کے لئے کوشش کرتے ہیں اور حاجت مندوں کو نیک کلام اور اچھائی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور ان کے راز کو فاش نہیں کرتے ایسے لوگوں کے عمل کو خود خواہ اور کوتاہ نظر افراد کے انفاق سے برتر اور با لاتر قرار دیتی ہے جو ذرا سے انفاق کے بعد با عزت لوگوں کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں اور ان کی شخصیت اور عزت وآبرو سے کھیلتے ہیں۔ درحقیقت ایسے افراد دوسروں کو نفع سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اور اگر کسی کو کوئی چیز دیتے ہیں تو اس کے بدلے میں اس سے کئی چیزیں لے بھی لیتے ہیں ۔

گذشتہ باتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ ”قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ“وسیع اور عام معنی میں ہے اور ہر نیک کلام ،دلداری اوررہنمائی کو شامل ہے۔

مغفرت صاحبان حاجت کی سخت کلامی کو معاف کردینے کے معنی میں ہے جن کا پیمانہ صبر سختیوں اور پریشانیوں کے پے در پے حملہ کی وجہ سے لبریزہو جاتا ہے اورکبھی کبھی بغیر قصد و ارادہ کے ان کی زبان پر سخت کلمات جاری ہو جاتے ہےں ۔

ایسے افراد اس طرح اس ظالم سماج سے انتقام لینا چاہتے ہیں جس نے ان کے حق کو ادا نہیں کیا ہے۔ لہٰذا سماج اور مالدار افراد ان کی محرومیت کو کم کرنے کے لئے کم سے کم جو کام انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان کی سخت کلامی کو برداشت کریں اور خوش دلی اور نرمی سے جواب دے کر ان کی زبانیں بند کر دیں۔

بے شک فقراء کی سخت کلامی کو برداشت کرنا اور ان کے برے برتاو کو معاف کر دینا ان کے غضب کو کم کر دے گا۔ یہاں پر اس اسلامی حکم کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور کبھی کبھی ایسے نیک برتاو کی اہمیت انفاق کرنے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

بعض علماء نے اس آیہ کریمہ میں کلمہ مغفرت کو اس کے اصل معنی (یعنی پوشیدہ کرنا ،چھپا نا )میں لیا ہے اور اس کلمہ کو آبرو مند فقراء اور حاجت مندوں کے اسرار کی پردہ پوشی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ البتہ اس تفسیر اور اوپر بیان کی گئی تفسیر کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اس لئے کہ اگر مغفرت کی ایک عمومی معنی میں تفسیر کی جائے تو عفو و بخشش کو بھی شامل ہو جا ئے گا اور فقراء اور حاجت مندوں کے اسرار کو پوشیدہ رکھنے کو بھی۔

تفسیر نور الثقلین میں رسولخدا سے منقول ہے کہ نے آپ نے ارشاد فرمایا:

اذا سئل السائل فلا تقطعوا علیه مساٴلته حتّی یفرغ منها ثُمَّ ردّوا علیه بوقارٍ و لینٍ اما ببذل یسیراٴوردّ جمیل فاِنّه قد یاٴتکم من لّیس باٴنس ولا جان ینظر ونکم صنیعکم فیماخوّلکم اللّٰه تعالیٰ

اس حدیث نبوی میں آداب انفاق کے ایک گوشہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ آنحضرت نے ارشاد فرمایا: جب کوئی حاجت مند تم سے کسی چیز کا سوال کرے تو اس کے کلام کو قطع نہ کرو یہاں تک کہ وہ اپنی بات پوری طرح بیان کردے۔اس کے بعدادب اور نرمی سے اس کا جواب دو یا اپنی قدرت بھر کوئی چیز اسے عطا کردو یا شائستہ طریقہ سے اسے واپس کر دو اس لئے کہ ممکن ہے کہ سوال کرنے والا فرشتہ ہو جو تمہارا امتحان لینے کے لئے بھیجا گیا ہے تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں کس طرح عمل کرتے ہو۔

( وَاللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْم ) ٌ

چھوٹے چھوٹے جملے جو آیات کے آخر میں آئے ہیں اور خدا کی کچھ صفتوں کو بیان کرتے ہیں ان کے مضمون انھیں آیات سے مربوط ہوتے ہیں ۔اس نکتہ کے پیش نظر جملہ ”وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْم ٌ “ سے مراد یہ ہے کہ چونکہ انسانی طبیعت سرکش اور باغی ہے لہٰذا وہ منصب ا ور دولت پانے کے بعد اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتی ہے اور کبھی کبھی یہ حالت فقراء کے ساتھ بد کلامی کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا پروردگارفرما رہا ہے کہ صرف خدا ہے جو بے نیاز ہے ۔

درحقیقت صرف خدا ہے جو ہر شے سے بے نیاز ہے اور انسان کی بے نیازی سراب سے زیادہ کوئی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا مال ودولت، فقراء اورحاجت مندوں کے سامنے غرورو گھمنڈ کا سبب نہ بننے پائے اور اس سے بڑھ کر اگر خدا وندعالم اپنے نا شکرے بندوں کے سا تھ حلیم اور برد بار ہے تو صاحبان ایمان کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔

ممکن ہے کہ مذکورہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خدا تمہاری بخشش اور انفاق سے بے نیاز ہے اورتم جو کچھ بھی انجام دیتے ہووہ سب تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہے۔ لہٰذا کسی پر احسان نہ جتاو ۔اس کے علاوہ وہ تمہارے برے برتاو کی نسبت حلیم اور بردبار ہے اور وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتاتاکہ تم بیدار ہو جاواور اپنی اصلاح کر سکو۔اس پر غور وفکر کیجئے۔

۲۱. انفاق کی قبولیت کے دوسرے موانع

( اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَاْلَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَاْ یُتْبِعُوْنَ مَآ اٴَنْفَقُوْامَنًّا وَّلَاْ اَذَیً لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عَنْدَ رَبِّهِمْ وَلَاْ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاْ هُمْ یَحْزَنُوْنَ ) (سورئہ بقرہ/آیت/ ۲۶۲)

جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد احسان نہیں جتاتے اور اذیت بھی نہیں دیتے ان کے لئے پروردگار کے یہاں اجر بھی ہے اور نہ انھیں کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن۔

وضاحت

انمول اور قابل قبول انفاق کیا ہے؟

اس سوال کا جواب مذکورہ آیت میںدیا گیا ہے خدا وند عالم فرماتا ہے: راہ خدا میںکیا گیا انفاق اسی وقت اس کی بارگاہ میں قبول ہوسکتا ہے جب اس کے ساتھ احسان جتا نے اور حاجت مندوں کو تکلیف دینے والی کوئی چیز نہ ہو ۔

لہٰذاجو لوگ راہ خدا میں مال توخرچ کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ریاکاری کرتے ہیں، حاجت مندوں کو اذیت دیتے اوران پر احسان جتاتے ہیںجو ان کی رنجیدگی کا سبب بنتا ہے ایسے افراد اپنے اس ناپسندیدہ عمل کے ذریعہ اپنے اجروثواب کو ضائع کر دیتے ہیں ۔

اس آیہ کریمہ میں جس چیز کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید انسانی زندگی کے سرمایہ کو صرف مادی سرمایہ ہی نہیں جانتا ہے بلکہ وہ معنوی اور اجتماعی سرمایہ پر بھی نظر رکھتا ہے۔

جو شخص کسی کو کوئی چیز دیتا ہے اوراس پر احسان جتاتا ہے یا اسے اذیت دے کر اس کا دل توڑ دیتا ہے تودرحقیقت اس نے اسے کچھ دیانہیںہے اس لئے کہ اس نے ایک مادی سرمایہ دیا ہے اس کے بدلے میںاور ایک معنوی سرمایہ اس سے چھین لیا ہے اور بسا اوقات یہ ذلتیں اور روحی اذیتیں اس مال سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں جو اسے دی گئی ہےں۔

لہٰذااگر ایسے افراد اجروثواب کے مستحق نہ ہوں تو عدالت کے موافق بات ہے بلکہ بہت سے مقامات پر حاجت مند افراد مقروض ہونے کے بجائے طلب گار بن جاتے ہیں۔ اس لئے کہ انسان کی عزت وآبر، مال وثروت سے کہیں زیادہ بر تر و بلند ترہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ آیہ کریمہ میں احسان جتانے اور اذیت دینے کو کلمہ ”ثُمَّ“ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو عام طور سے دو واقعہ کے درمیان فاصلہ کے لئے آتا ہے (اصطلاحاًتراخی کے لئے)لہٰذا آیت کا معنی یہ ہے کہ !جو لوگ انفاق کرتے ہیں اور بعد میں احسان نہیں جتاتے اور اذیت نہیں دیتے ان لوگوں کا اجر و ثواب خدا کے پاس محفوظ ہے ۔

یہ تعبیر خود اس بات کی گواہ ہے کہ قرآن کا مقصد صرف یہی نہیں ہے کہ انفاق ادب و احترام کے ساتھ ہو اور احسان جتا نے سے خالی ہو بلکہ مہینے اور سال گذرنے کے بعد بھی اسے یاد کرکے اس پر احسان نہ جتایا جائے اور یہ تعبیر اسلام میں خالص اور بے ریا خدمات کی طرف نشاندہی کر رہی ہے ۔

متوجہ رہنا چاہئے کہ احسان جتانا اور اذیت دینا جو کہ انفاق کے قبول نہ ہونے کا سبب ہے صرف حاجت مندوں اورفقیروں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ عمومی اور سماجی کاموں میں بھی اس بات کی رعایت کرنا ضروری ہے جیسے راہ خدا میں جہاد کرناعام فلاحی کام انجام دیا مدرسے،مسجدیں ،اور اسپتال بنانا۔

جملہ ”لَھُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ “( ان کے اجرو ثواب ان کے ان پروردگار کے پاس ہیں )راہ خدا میں انفاق کرنے والوں کو اطمینان دلاتا ہے کہ ان کے اجرو ثواب ان پروردگار کے پاس محفوظ ہیں اوروہ اطمینان کے ساتھ اس راہ میں قدم اٹھائیں اس لئے کہ جو چیز خدا کے پاس ہے اس کوہی نابودی کا کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی کمی کا، بلکہ تعبیر”ربہم“ (ان کا پروردگار ) گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا وند عالم ان کے اجر و ثواب کو زیادہ اور برابر اس میں اضافہ کرتا رہتا ہے جیسا کہ دوسری آیات میں بھی اس بات کو بیان کیا گیا ہے۔

جملہ ”وَلَاْ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاْ هُمْ یَحْزَنُوْنَ “اس بات کے پیش نظر کہ ”خوف“،آنے والے امور کے سلسلہ میں ہوتا ہے اور حزن وغم گذری ہوئی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے لہٰذا فرماتا ہے کہ انفاق کرنے والے پروردگار کے نزدیک اپنے اجرو ثواب کے محفوظ ہونے کی وجہ سے نہ ہی مستقبل اور قیامت سے خوفزدہ ہیں اور نہ ہی اپنے کئے ہوئے انفاق پر محزون اور فکر مند ہیں ۔

روایات اسلامی میں انفاق کی قبولیت کے شرائط

روایات میں راہ خدا میں کئے ہوئے انفاق کو آفات سے بچانے کے لئے کچھ تاکیدی احکام بیان کئے گئے ہیں ۔نمونہ کے طور پر:

۱ - حضرت علی - نے ارشاد فرمایا:

آفةالعطاء المطل (۱)

انفاق اور بخشش کی ایک آفت اس میں دیر کرنا ہے۔

۲ - امام جعفر صادق(ع) ارشادفرماتے ہیں:

اذا کانت لک ید عند انسان فلا تفسدها بکثرةالمنّ والذّکر لها ولکن اتبعها باٴفضل منهافاِٴن ذٰلک اجمل بک فی اخلاقک

جب کسی شخص کو کچھ عطا کرو تو احسان جتانے اور زیادہ یاد دلانے کے ذریعہ اسے ضائع نہ کرو بلکہ اسے بہتر چیز دے کر اسے کامل کرو کہ یہ کام تمہارے اخلاق کو بہتر بنانے میںزیادہ موثر ہے۔(۲)

۳- حضرت علی - نے عہد نامہ مالک اشتر میںارشاد فرمایا ہے:

ایاک والمن علیٰ رعیتک باحسانک او التزید فیما کان من فعلک او ان تعدهم فتتبع موعدک بخلفک فان المن یبطل الاحسان والتزید یذهب بنورالحق ۔(۲)

اور خبردار!رعایا پر احسان بھی نہ جتانا اور جو سلوک کیا ہے اسے زیادہ سمجھنے کی کوشش بھی نہ کرنا یا ان سے کوئی وعدہ کرکے اس کے بعد وعدہ خلافی بھی نہ کرنا کہ یہ طرز عمل احسان کو برباد کر دیتا ہے اور زیادتی عمل کا غرور حق کی نورانیت کو فنا کردیتا ہے۔

____________________

(۱) غررالحکم

(۱)بحار الانوار،ج۷۵،ص۲۸۳

(۲)نہج البلاغہ،مکتوب۵۳


پانچویں فصل : نمائشی انفاق

۲۲ ریا کاروں کا انفاق

( وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اٴَمْوَاْلَهُمْ رِئَا ءَ النَّاسِ وَلَاْ یُومِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَاْ بِالْیَوْمِ الْآخِرِ وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطَانُ لَه قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْناً#وَمَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ وَکَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا ) (سورئہ نساء:آیت ۳۸ ۔ ۳۹)

اور جو لوگ اپنے اموال کو لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جس کا شیطان ساتھی ہو جائے وہ بد ترین ساتھی ہے ۔ان کا کیا نقصان ہے اگر یہ اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئیں اور جو چیز اللہ نے ان کو بطور رزق دیا ہے اسے کس راہ میں خرچ کریں اور اللہ ہر ایک کو خوب جانتا ہے۔

الہٰی اورنمائشی انفا ق

یہ آیہ کریمہ متکبر ، خود خواہ اور بخیل افراد کی طرف اشارہ کر رہی ہے جن کا ذکر اس سے پہلی والی آیت میں آیا ہے ۔خدا وند عالم فرماتا ہے: یہ افراد وہ ہیں جو نہ صرف دوسروں کے ساتھ نیکی کرنے میںبخل کرتے ہیںبلکہ دوسروں کو بھی بخل کی دعوت دیتے ہیں :( اَلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاٴْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ )

اور خدا وند عالم نے انہیں جو کچھ عطا کیا ہے اسے پوشیدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگ ان سے کسی طرح کی کوکوئی توقع نہ رکھیں:( وَیَکْتُمُوْنَ مَآ آتَا هُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِه )

اس کے بعد ایسے لوگوں کا انجام اس طرح بیان کرتا ہے کہ :ہم نے کافرین کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیاّ کر رکھا ہے ۔

شاید تعبیر کفر کا راز یہ ہو کہ عام طور سے کفر کا سر چشمہ بخل اور کنجوسی ہے اس لئے کہ بخیل ، پروردگار کی بے نہایت نعمتوں اور اس کے وعدہ پر مکمل ایمان نہیں رکھتے ہیں ۔اوروہ احسان کرنے والوںسے کہتے ہیںکہ دوسروں کی مدد کرنا انہیں فقیر بنا دے گا۔

ایسے لوگوں کے لئے ذلیل و رسوا کن عذاب ہے اس لئے کہ تکبّر اور دوسروں کو ذلیل کرنے کی سزا یہی ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہاں پر کنجوسی صرف مال ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ خداکی دی ہوئی ہر نعمت میںکنجوسی کو شامل ہے بہت سے ایسے افراد ہیں جو مال میں بخیل نہیںہوتے لیکن علم و دانش اور اسی طرح کے دوسرے مسائل میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں ۔

مذکورہ آیت میں کنجوس متکبرین کی ایک دوسری صفت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے خداوند عالم فرماتا ہے کہ: یہ وہ لوگ ہیں جو اگر انفاق بھی کرتے ہیں تو لوگوں کے دکھاوے ، شہرت اور مقام و منصب حاصل کرنے کے لئے ۔ان کا مقصد خدمت خلق اور رضائے الہٰی نہیں ہوتا۔ لہٰذاوہ انفاق کرنے میں سامنے والے کے استحقاق کو نظر میں نہیں رکھتے بلکہ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح انفاق کیا جائے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جاسکے اور اپنی مو قعیت اور مقام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔اس لئے کہ وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا ان کے انفاق میں معنوی وہ جذبہ نہیں ہوتاہے۔

( وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطَانُ لَه قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنا ) انہوں نے شیطان کو اپناساتھی بنا رکھا ہے اورجس نے ایسا کیا اس نے اپنے لئے بدترین ساتھی کاانتخاب کیا ہے اور وہ اس سے اچھا راستہ اختیار نہیں کر سکتا اس لئے کہ اس کی ساری فکر اور منطق ان کے دوست، شیطان کی فکر ومنطق ہے اور شیطان ہی ہے جو اس سے کہتا ہے کہ خالصانہ انفاق فقرو غربت کا سبب بنتا ہے:( اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ ) (سورئہ بقرہ/آیت/ ۲۸۶)

اسی لئے وہ یا تو انفاق نہیں کرتا اور کنجوسی کرتا ہے (جیسا کہ پہلی آیت میں اشارہ ہوا)یا انفاق کرتا ہے تو ایسے مقامات پر جہاں سے شخصی اور ذاتی فائدہ اٹھاسکیں۔(جیسا کہ اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے)

اس آیہ کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ برا ساتھی کس حد تک انسان کے سر انجام میں موثر ثابت ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو پستی کے آخری درجہ تک پہنچا سکتا ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ متکبرین کا شیطان (اور شیطا نی اعمال) سے ایک مسلسل اور مستقل رابطہ ہے صرف وقتی اور اتفاقی نہیں ۔جیسا کہ فرمارہا ہے”انہوں نے شیطان کو اپنا دوست ،ساتھی اور ہمنشین بنا رکھا ہے“

اس کے بعدارشاد فرماتا ہے :( وَمَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْآمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ) کیاہواکہ یہ لوگ اس گمراہی میں پلٹ آئے کاش یہ لوگ خدا اور روز قیامت پر ایمان لے آتے اور پروردگار نے انہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان کو خلوص نیت اور پاکیزہ افکار کے ساتھ اس کے بندوں پر انفاق کرتے اور اس کے ذریعہ دنیا وآخرت میں اپنے لئے سعادت و کامیابی کا انتظام کرتے؟!!

آیت کے آخر میں فرماتا ہے خدا ان کے حالات سے آگاہ اورباخبر ہے۔( وَکَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْماً )

بے شک ہرحال میں خدا وند عالم ان کی نیتوں اور اعمال سے باخبر ہے اور اسی کے مطابق انہیں جزا اور سزا دے گا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ گذشتہ آیات جن میں دکھاوے کے انفاق کو بیان کیا گیا تھا اس میں انفاق کی نسبت ”اموال“ کی طرف دی گئی ہے اور اس آیہ کریمہ میں :مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ خدا کی عطا کردہ روزی کی طرف نسبت دی جا رہی ہے تعبیر کا یہ اختلاف ممکن ہے کہ تین اہم نکتوں کی طرف اشارہ ہو:

۱- دکھاوے کے انفاق میں مال کے حلال اور حرام ہونے کی طرف توجہ نہیں ہوتی جب کہ خدائی انفاق میں حلال اور ”مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ “ کا مصداق ہونے کی طرف توجہ ہو تی ہے۔

۲- دکھاوے کے انفاق میں چونکہ انفاق کرنے والا مال کو اپنے سے متعلق جانتا ہے لہٰذا وہ احسان جتانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا جبکہ خدائی انفاق میں چونکہ اس بات کی طرف توجہ ہوتی ہے کہ ان اموال کو خدا ہی نے انہیں عطا کیا ہے اگر اسمیں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کردیا جائے تو احسان جتانے اور منت گذاری کا کوئی مقام نہیں ہے لہٰذاوہ ہر طرح کی منت گذاری اور احسان جتانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔

۳- دکھاوے کے انفاق عام طور سے مال سے مخصوص ہوتے ہیں اس لئے کہ ایسے افراد معنوی سرمایہ سے محروم ہوتے ہیں کہ ان میں سے کچھ انفاق کر سکیں لیکن خدائی انفاق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ساری مادی اور معنوی نعمتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے چاہے مال اور علم ہو یا سماجی مقام و منزلت یہ سب ”( مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ) “کا مصداق ہیں ۔

۲۳ نمائشی انفاق کا دوسرا نمونہ

( اٴَیَوَدُّ اٴَحَدُکُمْ اٴَنْ تَکُوْنَ لَه جَنَّةٌمِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَاالْاَنْهَارُ لَه فِیْهَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ وَاٴَصَابَه الْکِبَرُوَلَه ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ فَاٴَ صَابَهَا اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ کَذَٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَکُْمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ) ( سورہ بقرہ: آیت ۲۶۶)

کیا تم میں کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجور اور انگور کے باغ ہوں ان کے نیچے نہریں جاری ہوں ان میں ہر طرح کے پھل ہوں اور آدمی بوڑھا ہو جائے اس کے کمزور بچے ہوں اور پھر اچانک تیز گرم ہوا جس میں آگ بھری ہوچل جائے اور سب جل کر خاک ہو جائے خدا اسی طرح اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کر سکو۔

وضاحت

ایک بہترین مثال

( اٴَیَوَدُّ اٴَحَدُکُمْ اٴَنْ تَکُوْنَ لَه جَنَّةٌ ) قرآن کریم اس آ یہ کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ روز قیامت انسان اعمال صالح کا محتاج ہو گا اوریہ کہ کس طرح دکھاوا، احسان جتانا اور اذیت دیناانسان کے انفاق اور نیک اعمال کو بربادکر دیتا ہے اس کی ایک عمدہ مثال ذکر کرتا ہے یہ مثال اس شخص کے حالات کو مجسم کرتی ہے جس نے مختلف قسم کے درختوں جیسے کھجور اور انگور وغیرہ کے سرسبز وشاداب باغ پروان چڑھا رکھا ہواوراس میں برابرپانی جاری ہو جس کی وجہ سے سینچائی کی ضرورت نہ ہو ۔ اور وہ شخص بوڑھا ہو جا ئے اوراس کے کمزوروناتواں بچے اس کے ارد گرد ہوں اور زندگی بسر کرنے کا ذریعہ فقط یہی ایک باغ ہواور اچانک ایسی تیز اورگرم ہوا چلے جو آگ سے بھری ہو اور وہ باغ کو جلا کر راکھ کر دے ایسی صورت میں بوڑھا جو جوانی کی طاقت و قوت کھو چکا ہے اس کے پاس زندگی بسر کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہ ہو اور اس کے بچے بھی کمزورو ناتواں ہوں تو اس کی کیا حالت ہوگی اور اسے کس قدر حسرت اور دکھ ہوگا ۔

جو لوگ نیک عمل انجام دیتے ہیں اور اس کے بعد دکھاوے اور احسان جتانے اوراذیت دینے کی وجہ سے اسے ضائع کر دیتے ہیں ان کا حال بھی اسی بوڑھے باغبان کے مانند ہے جس نے بہت زیادہ زحمتیں برداشت کیں اور جب اس سے فائدہ اٹھانے کی اسے سخت ضرورت ہوئی تو اس کام کے نتیجہ بالکل تباہ و بربادہو گیا اور حسرت وغم کے علاوہ کوئی چیز باقی نہ رہی۔

( کَذَٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَکُْمُ الْآیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ) چونکہ تمام بد بختیاں خاص طور سے احمقانہ کاموں کا سر چشمہ غورو فکر نہ کرنا ہے جیسے احسانجتا ناجس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس کانقصان بہت زیادہ اور جلدی ہوتا ہے لہٰذاخدا وند عالم آخر آیت میں لو گو ں کو غور فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے :

اس طرح خداآیات کو تمہارے لئے واضح کرتا ہے کہ شاید تم غور و فکر کرو۔

دو نکتے

۱- جملہ ”( وَاٴَصَابَه الْکِبَرُوَلَه ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ )

(باغ کا مالک بوڑھا ہے اور اس کے بچے کمزور ہیں ) سے معلوم ہوتا ہے کہ راہ خدا میں انفاق و بخشش کرنا اور حا جت مندوں کی مدد کرنا سرسبز و شاداب باغ کے مانند ہے خودمالک بھی اس کے پھلوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اور اس کے بچے بھی جبکہ ریاکاری ،احسان جتا نا اوراذیت دیناخود اس کی بھی محرومی کا سببہے اور آنے والی نسلوںکی بھی محرومی کا باعث ہے جنھیں اس کے نیک اعمال کے برکات اور ثمرات سے بہرہ مند ہونا ہے ۔

یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والی نسلیں گذشتہ نسلوں کے نیک اعمال کے نتائج و اثرات میں شریک اور حصہ دار ہیں ۔سماجی اعتبار سے بھی ایسا ہی ہے اس لئے کہ اپنے نیک کاموں کی وجہ سے لوگوں کے درمیان جو محبوبیت،حسن شہرت اور اعتماد حاصل کرتے ہیں وہ ان کی اولاد کے لئے بھی ایک بہت بڑا سرمایہ ہے ۔

۲- جملہ”( اِعْصَارٌ فِیْهِ نَار ) ٌ“ یعنی وہ گرد وباد کہ جس میں آگ ہو “ ممکن ہے کہ ان گرد وباد کی طرف اشارہ ہو جو مسموم اور خشک کر دینے والی ہواوں سے پیدا ہوتی ہیں یا وہ گرد وباد جو ایسے مقام سے گذرا ہو جہاں پر آگ جل رہی ہو ۔

معمول کے مطابق گرد وباد اپنے راستہ میں آنے والی ہر چیز کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پہنچا دیتی ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس گردو باد کی طرف اشارہ ہو جو بجلیکے ساتھ ہو جب بھی وہ کسی مقام پر گرتی ہے تو ہر چیز کو راکھ میں بدل دیتی ہے ۔بہر حال بہت جلدی اور مکمل نا بودی اور تباہی کی طرف اشارہ ہے۔(تیسرا احتمال زیادہ مناسب لگتاہے)

نمائشی انفاق ،روایات کی روشنی میں

خلوص نیت تمام عبادات خاص طور سے انسانی امداد اور اعمال خیر کی قبولیت کی شرط ہے اسی لئے اس مسئلہ کو روایات معصومین (ع)میں وسیع پیمانے پر بیان کیا گیا ہے نمونہ کے طور پر یہاں چند روایات کو بیان کیا جا رہا ہے:

۱) رسول خدا ارشادفرماتے ہیں :

سبعةفی ظلّ عرش اللّٰه عزّ وجلّ یوم لا ظلّ اِلاّ ظلّه :رجل تصدّق بیمینه فاخفا ه عن شماله (۱)

سات دستہ ایسے ہیں جو اس دن عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے جس دن سایہ (الٰہی) کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا(ان میں سے) ایک وہ دستہ ہے جو داہنے ہاتھ سے صدقہ دے اور بائیں ہاتھ کو علم بھی نہ ہو گا ۔

۲) حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

افضل ما توسّل به المتوسّلون، الایمان باللّٰه و صدقة السّرّفاِنّها تذهب الحطیئةو تطفی غضب الرّب (۲)

سب سے برتر چیز جس سے توسل کرنے والے توسل کرتے ہیں ، پروردگار پر ایمان لانااور پوشیدہ طور سے صدقہ دینا ہے جو گناہ کو نابود اور غضب الٰہی کو ختم کردیتا ہے ۔

حضرت امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا :

لا تتصدّق علی اٴعین النّاس لیز کوّکَ فاِنّک اٴن فعلت ذٰلک فقد استو فیت اجرک ولکن اٴذا اٴَعطیت بیمینک فلا تطّلع علیها شمالک فاٴن الّذی تتصدّق له سرّاًیجزیک علانیة (۳)

لوگوںکے سامنے انفاق نہ کرو کہ وہ تمہاری تعریف کریں اس لئے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم اپنی جزا حاصل کرچکے ہو۔ (یعنی لوگوں کی تعریف ) لیکن جب بھی تم داہنے ہاتھ سے انفاق کرو تو اس طرح انفاق کرو کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ بھی ہو سکے ۔اس لئے کہ جس کے لئے تم پوشیدہ طورسے صدقہ دے رہے ہو وہ تمہیں علانیہ اس کی جزا دے گا۔

____________________

(۱)بحارالانوار۔ج ۹۳،ص۱۷۷

( ۲)میزان الحکمة،حدیث۱۰۴۱۸

(۳)بحارالانوار،ج ۷۵،ص۲۰۴


چھٹی فصل : انمول انفاق کی دس لازمی شرطیں

۲۴ انمول انفاق کی د س لازمی شرطیں

اس سے پہلے ملاحظہ کرچکے ہیں کہ قرآن مجید نے راہ خدا میں انفاق کے سلسلہ میں ایک لطیف تعبیر بیان کی ہے اور اسے پروردگار کو قرض دینے سے تعبیر کیا ہے ایسا قرض کہ اس کا بہت بڑا فائدہ پروردگار کی طرف سے ادا کیا جائے گا ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسے”قرض الحسنہ “ کہا گیا ہے ،یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ قرض دینے کی بھی مختلف قسمیں ہیں کہ ان میں سے بعض کو ”قرض الحسنہ“ اور بعض کو کم قیمت اور بعض کو بے قیمت و بے وقعت شمار کیا جا سکتا ہے ۔

قرآن مجید نے قرض الحسنہ یا دوسرے لفظوں میں ”انمول انفاق “کی شرطوں کو متعدد آیات میں بیان کیا ہے اور بعض مفسرین نے انھیں جمع کرکے دس شرطیں نکالی ہیں :

۱- انفاق کے لئے مال کے بہترین حصہ کا انتخاب کیا جائے، سستے مال کا نہیں ۔

( یٰآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اٴَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَ مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَلَاْ تَیَمَمُّوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِآخِذِ یْهِ اِلَّآ اٴَنْ تُغْمِضُوْافِیْهِ وَاعْلَمُوْا اٴَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّحَمِیْدٌ )

اے ایمان والو!اپنی پاکیزہ کمائی اور جو کچھ ہم نے زمین میں تمہارے لئے پیدا کیا ہے سب میں سے راہ خدا میں خرچ کرو اور خبر دار انفاق کے ارادہ سے خراب مال کو ہاتھ بھی نہ لگانا کہ اگر یہ مال تم کو دیا جائے تو آنکھ بند کئے بغیر چھوو گے بھی نہیں یاد رکھو کہ خدا سب سے بے نیاز اور سزاوار حمد وثنا بھی ہے۔(۱)

۲ - ایسی چیزوں میں سے انفاق کیا جائے جس کی لوگوں کو ضرورتہو جیسا کہ پروردگار عالم ارشادفرمارہا ہے:

( وَ یُو ثِرُوْنَ عَلیٰ اٴَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ) ( ۲)

اور اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں چاہے انہیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔

۳- ایسے لوگوں پر انفاق کیا جائے جو سخت محتاج ہوں اور اولیت کو نظر میںرکھا جائے ۔

( لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اٴُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ) (۳)

یہ صدقہ ان فقراء کے لئے ہے جو راہ خدا میں گرفتار ہو گئے ہیں۔

۴- انفاق اگر پوشیدہ طور سے ہو تو بہتر ہے ۔

( وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُوتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ) (۴)

اوراگر (انفاق کو) چھپا کر فقیروں کے حوالے کردوگے تو یہ بھی بہت بہتر ہے ۔

۵- انفاق کے ساتھ احسان جتانااور ایذا رسانی نہ ہو ۔

( یآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاْ تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاٴَذیٰ ) (۵)

اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتانے اور اذیت سے برباد نہ کرو۔

۶- انفاق خلوص نیت کے ساتھ ہو ۔

( یُنْفِقُوْنَ اَمْوَاْلَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ) ( ۶)

اپنے اموال کو رضائے الٰہی کی طلب کے لئے خرچ کرتے ہیں۔

۷- انفاق کی جانے والی چیز کو چھوٹی اور کم اہمیت سمجھو۔

جس چیز کو انفاق کر رہے ہو اسے کم اہمیت سمجھو اگرچہ وہ ظاہراً کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو :

( ’وَلَاْ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ )

اس طرح احسان نہ کرو کہ زیادہ کے طلبگار بن جاو۔(۷)

۸- ان چیزوں میں سے انفاق کیا جائے جو محبوب اور پسندیدہ ہوں۔

( لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) (۸)

تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں خرچ نہ کرو۔

۹- کبھی بھی اپنے آپ کو مالک حقیقی تصور نہ کیا جائے بلکہ اپنے آپ کو خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ سمجھنا چاہئے ۔

( وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلفِیْنَ فِیْهِ ) (۹)

اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب قرار دیا ہے۔

۱۰- انفاق حلال مال سے ہونا چاہئے اس لئے کہ خداوند صرف اسی کو قبول کرتا ہے۔

( اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ) (۱۰)

خدا صرف صاحبان تقویٰ کے اعمال کو قبول کرتا ہے۔

جوکچھ بیان کیا گیاوہ انفاق کے قبول ہونے کے شرائط میں سے چند اہم شرائط ہیں آیات و روایات میں غورو فکر کرکے دوسرے اہم شرائط اور اوصاف کو معلوم کئے جا سکتے ہیں ۔

ان میں سے بعض شرطیںواجب ہیں (جیسے احسان نہ جتانا اور اذیت نہ دینا اور ریا کاری نہ کرنا )اور کچھ شرائط کمال ہیں جیسے(اپنی ضرورت کے وقت دوسروں پر ایثار کرنا ) کہ اس کا نہ ہونا انفاق کی اہمیت کو ختم نہیں کرتا۔ اگر چہ اسے سب سے بلند درجہ پربھی قرار نہیں دیا جا سکتاہے ۔

____________________

(۱) سورئہ بقرہ:آیت۲۶۷

( ۲)سورئہ حشر:آیت۹

(۳)سورئہ بقرہ/آیت/ ۲۷۳

( ۴)سورئہ بقرہ/آیت/۲۷۱

(۵)سورئہ بقرہ /آیت۲۶۴

(۶)سورئہ بقرہ/آیت/۲۶۵

(۷)سورئہ مدثر/آیت/۶

( ۸)سورئہ آل عمران /آیت/۹۲

(۹)سورئہ حدید/آیت/۷

(۱۰) سورئہ مائدہ /آیت/۲۷


ساتویں فصل : راہ خدا میں انفاق کے سبق آموز قصے

۱.سول خدا سے سیکھیں

رسول خدا کا پیراہن پرانا ہوگیا تھا،ایک شخص نے آپ کی خدمت میںبارہ درہم ہدیہ کیا۔آپ نے وہ درہم حضرت علی (ع) کے حوالہ کیا تا کہ آپ کے لئے بازار سے ایک پیراہن لائیں۔حضرت علی (ع) نے اتنی ہی قیمت کا ایک لباس خریدا،جب آپ وہ پیراہن رسول خدا کی خدمت میں لائے توآپ نے فرمایا:یہ پیراہن بہت قیمتی ہے۔

اس سے کم قیمت کا پیراہن میرے لئے زیادہ بہتر ہوگا۔کیا تم سوچتے ہو کہ ودکاندار اسے واپس لے لے گا؟

حضرت علی (ع) نے عرض کی:نہیں معلوم۔

آپ نے فرمایا:اس کے پاس جاو شاید راضی ہوجائے؟

حضرت علی (ع) اس دوکاندار کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:رسول خدا نے فرمایا ہے کہ یہ پیراہن میرے لئے زیادہ قیمتی ہے اور میں اس سے سستا اور کم قیمت کا لباس چاہتا ہوں۔دوکاندارراضی ہوگیا اوراس نے وہ بارہ درہم واپس کردیئے۔

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں:میں درہم لے کر واپس آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ خودمیرے ساتھ بازار تشریف لے گئے تاکہ پیراہن خریدیں۔آپ نے راستہ میں ایک کنیز کو دیکھا جوا یک گوشہ میں بیٹھی رو رہی تھی، آنحضرت(ع) اس کے قریب گئے اور رونے کا سبب دریافت فرمایا:کنیز نے کہا:یا رسول اللہ!میرے مالک نے کچھ سامان کی خریداری کے لئے مجھے بازار بھیجا تھا اور میرے پاس چار درہم تھے لیکن میں نے انھیں کھو دیا ہے۔

رسول خدا نے پیراہن کے بارہ درہم میں سے چار درہم اسے عطا فرمائے اور چار درہم کا ایک پیراہن بھی خریدا۔

واپسی میں ایک فقیر نے آپ سے لباس کا تقاضا کیا، آنحضرت نے وہ پیراہن اسے عطا کردیا اور پھر بازار واپس جاکر باقی چار درہم سے ایک دوسرا پیراہن خریدا۔جب اس جگہ پر پہنچے جہاں کنیز سے ملاقات ہوئی تھی تو دیکھا وہ ابھی تک رورہی ہے اس کے پاس گئے اور فرمایا:اب کیوںرورہی ہے؟

کنیز نے کہا مجھے گھر سے نکلے ہوئے بہت دیر ہوگئی ہے میں ڈر رہی ہوں کہ کہیں میرا مالک مجھے مارے نا !

آپ نے فرمایا:تو آگے آگے چلو اور مجھے اپنے مالک کاگھر بتا۔

رسول خداجیسے ہی گھر کے دروازہ پر پہنچے آپ نے صاحب خانہ کو سلام کیا ۔لیکن اس نے تیسری مرتبہ بھی جواب سلام نہ دیا۔رسول خدانے سلام کا جواب نہ دینے کے بارے میں سوال فرمایاتو مکان مالک نے عرض کیا:میں نے چاہا کہ آپ کا درودوسلام ہم پر زیادہ سے زیادہ ہو تاکہ نعمتوں میں اضافے اور ہماری سلامتی کا باعث بنے۔

آنحضرت نے کنیز کاواقعہ بیان فرمایااور اس سے فرمایا: کہ وہ کنیز کو معاف کردے ۔ کنیز کے مالک نے کہا:چونکہ آپ تشریف لائے ہیں اس لئے میں نے اسے آزاد کردیا۔اس وقت آپ نے فرمایا:میں اس قدر خیروبرکت والے بارہ درہم نہ دیکھے تھے۔جنہوں نے دو برہنہ شخص کو لباس اور ایک کنیز کو آزاد کرادیا۔(۱)

____________________

(۱) حیات القلوب/ج/۲،ص/۱۱۶


۲. اخلاص عمل حضرت علی - سے سیکھیں

صاحب کتاب”دررالمطالب“تحریر فرماتے ہیں:ایک دن حضرت علی (ع)نے راستہ میں ایک عورت کو دیکھا کہ جس کے بچے بھوک سے رو رہے تھے اور وہ انھیں بہلا رہی تھی۔ بچوں کو چپ کرانے کے لئے اس نے چند اینٹوں پر ایک دیگ رکھ رکھی تھی جس میں پانی کے علاوہ کچھ نہ تھا اور اس کے نیچے آگ جل رہی تھی تاکہ بچے یہ خیال کریں کہ وہ ان کے لئے کھانا پکارہی ہے اس طرح اس عورت نے ان بچوں کو سلا دیا۔

حضرت علی (ع) یہ ماجرا دیکھ کر قنبر کے ساتھ تیزی سے گھر گئے ۔کھجور کا ایک برتن ، آٹے کی ایک بوری اور تیل،چاول اپنے کاندھے پر رکھ کر وہاں واپس آئے۔قنبر نے آپ(ع) سے عرض کی کہ اجازت دیجئے تاکہ میں ان سامان کو اٹھالوںلیکن آپ(ع) راضی نہ ہوئے۔جب اس عورت کے گھر کے قریب پہنچے تو گھر میں داخل ہونے کی اجازت لے کر گھر میں داخل ہوگئے۔چاول اور تیل پتیلی میں ڈالا اور ایک اچھا کھانا تیار کردیا۔اس کے بعد بچوں کو جگایا اور اپنے ہاتھوں سے انھیں کھانا کھلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ اس کے بعد تھوڑی دیر تک ان کے ساتھ کھیلتے رہے جس سے بچے پہلے والی تکلیف بھول گئے اس کے بعد آپ(ع) گھر سے باہر تشریف لائے۔

قنبر نے عرض کی :اے میرے آقا ومولا!آج میں نے آپ سے دہ چیز مشاہدہ کیا ہے جن میں سے ایک کی علت تو جانتا ہوں لیکن دوسری کا سبب میرے لئے واضح نہیں ہے وہ یہ کہ یتیم بچوں کے سامان کو آپ(ع) نے خود اٹھایا اور اجازت نہ دی کہ میں بھی اس میں شریک ہوتا یہ کام اجرو ثواب کے حصول کے لئے تھا۔لیکن بچوں کے ساتھ کھیل کر ان کو بہلاناکس لئے تھا؟آپ(ع) نے فرمایا:میں جب ان بچوں کے پاس گیا تھا تو وہ بھوک سے رو رہے تھے ،میں نے چاہا کہ جب ان کے پا س سے واپس آوں تو وہ سیر بھی ہوچکے ہوں اور ہنس بھی رہے ہوں۔(۱)

____________________

(۱)شجرہ طوبیٰ


۳ شفاعت کی سند

خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا کی شہادت کے وقت امیرالمومنین حضرت علی (ع) نے آپ کے بستر کے پاس ایک صندوقچہ دیکھا تو آپ نے سوال فرمایایہ کیا ہے؟

جناب فاطمہ زہرا نے عرض کیا:اس صندوقچہ میں ایک سبز حریر ہے اور اس حریر کے درمیان ایک سفید صفحہ ہے اور اس صفحہ میں چند سطریں تحریر ہیں۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا: اس کا مضمون کیا ہے؟بنت رسول نے جواب دیا:شادی کی رات میں اپنے مصلے پر بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک فقیر آیا اور اس نے لباس کا تقاضا کیا۔میرے پاس صرف دو لباس تھے ایک نیا جو اس رات زیب تن کیا تھا اور ایک پرانا جوڑا تھا۔میں نے نئے لباس کو فقیر کو دے دیا۔

صبح میرے والد بزرگوار مجھ سے ملاقات کے لئے تشریف لائے آپ نے فرمایا: فاطمہ تمہارے پاس تو نیا کپڑا تھا اسے کیوں نہیں پہنا۔میں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں فرمایا ہے کہ انسان جو کچھ بھی صدقہ میں دے گا اور اس سے غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرے گا وہ اس کے لئے باقی رہے گا۔ میں نے بھی اس نئے کپڑے کو ایک فقیر کو دے دیا۔

آپ نے فرمایا:اگر تم نیاکپڑا پہنتی اور پرانے کپڑے کو فقیر کو دے دیتی تو یہ تمہارے شوہر کے لئے بھی بہتر ہوتا اور وہ فقیر بھی لباس پاجاتا۔

میں نے عرض کیاکہ اس کام میں بھی میں نے آپہی کی پیروی کی ہے اس لئے کہ میری ماں خدیجہ نے جب آپ کی خدمت کا شرف حاصل کیا اور اپنی ساری دولت آپ کے حوالہ کردیا اور آپ نے ساری دولت راہِ خدا میں عطا کردی یہاں تک کہ ایک سائل نے آپ سے ایک لباس کا مطالبہ کیا تو آپ نے اپنا لباس اسے دے دیااور ان کاموں میں آپ کے مثل کوئی نہیں ہے۔(یہ سن کر)میرے والدرو دیئے اور مجھے سینہ سے لگا لیا۔ اس وقت آپ نے فرمایا:(ابھی)جبرئیل نازل ہوئے تھے اور خدا کی جانب سے تمہیں سلام عرض کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے(کہ خداوندعالم فرماتا ہے)فاطمہ سے کہہ دیجئے وہ کہ جو کچھ بھی مجھ سے چاہتی ہیں طلب کرلیںکہ میں ان کو دوست رکھتا ہوں۔میں نے عرض کی:”یا ابتاہ شغلتنی عن المسئلة لذة خدمتہ لاحاجة لی غیر لقاء ربی الکریم فی دار السلام“بابا جان! خدا کی خدمت کی لذت اور شیرینی نے مجھے کسی دوسری چیز کے مطالبہ سے روک رکھا ہے اور خدا سے ملاقات کے علاوہ میری دوسری کوئی آرزو نہیں ہے۔

میرے والد ماجد نے اپنے دست مبارک کو آسمان کی طرف بلند کیا اورمجھے بھی حکم دیا کہ میں بھی اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کروں ۔اس کے بعد فرمایا:”اللهم اغفرلامتی “ خدایا! میری امت کو بخش دے۔

(اسی وقت)جبرئیل نازل ہوئے اور آپ کی خدمت میں عرض کی: خداوندعالم فرمارہا ہے: تمہاری امت میں سے جو لوگ فاطمہان کے شوہر اور ان کی اولاد سے محبت کریں گے میں انھیں بخش دوں گا۔

میں نے اس بات کے لئے ایک سند اور نوشتہ کا بھی مطالبہ کیا تو جبرئیل یہ سبز حریر لے کر آئے اس میں یہ لکھا ہوا ہے:”کتب ربکم علی نفسہ الرحمة“ جبرئیل ومکائیل نے بھی اس کی گواہی دی ہے۔میرے والد بزرگوار نے فرمایا:اس سبز حریر کو حفاظت سے رکھو اور وفات کے وقت وصیت کرو کہ اسے تمہارے ساتھ قبر میں دفن کر دیں۔ میں چاہتی ہوں کہ قیامت کے دن جب آتش جہنم کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے تو تم میری امت کی بخشش کی دعاکرو۔(۱)

____________________

(۱)ریاحین الشریعہ نقل از ابن جوزی ،ص/۱۰۶


۴ دوست و دشمن پر انفاق

معلی بن خنیس کا بیان ہے کہ برسات کی ایک رات میں نے امام جعفر صادق(ع) کو دیکھا کہ اپنے گھر سے نکل کر ”ظلہ بنی ساعدہ“ (ایک سائبان جس میں بے گھر افراد گرمی اور سردی سے بچنے کے لئے پناہ لیتے تھے)کی طرف تشریف لے جا رہے ہیں۔میںخاموشی سے آپ(ع) کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔راستہ میں آپ(ع) کے دست مبارک سے کوئی چیز زمین پر گر پڑی آپ(ع) نے فرمایا:”بسم اللّٰه اللّٰهم ردّ علینا “خدا میری گمشدہ چیز کو پلٹا دے۔اس وقت میں امام(ع) کے قریب گیا اورآپ(ع) کو سلام کیا آپ(ع) نے فرمایا:-معلّیٰ تم ہو؟میں نے عرض کیا:ہاں،میں آپ(ع) پر قربان ہوجاوں۔آپ(ع) نے فرمایا:تلاش کرو اور جو کچھ بھی پاو مجھے دے دو۔میں نے زمین پر ہاتھ پھیرا،معلوم ہوا کہ بہت زیادہ روٹیاں زمین پربکھری ہوئی ہیں میں جتنی بھی پا سکااسے آنحضرت(ع) کی خدمت میں پیش کردیا۔میں نے دیکھا کہ روٹیوں سے بھرا ہوا ایک بہت بڑا تھیلا ہے جواتنا وزنی ہے کہ اس کا اٹھانا میرے لئے دشوار ہے۔

میں نے عرض کیا:اجازت دیجئے میں اٹھا لوں!آپ(ع) نے فرمایا:میں اس کے اٹھانے کا زیادہ حقدار ہوں۔لیکن تم میرے ساتھ آو تاکہ ایک ساتھ ظلہ بنی ساعدہ چلیں۔جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو وہاں سو رہے تھے۔امام جعفر صادق(ع) ہر ایک کے پاس ایک ایک یا دو دو روٹی رکھتے جاتے تھے۔اس طرح سے آپ(ع) نے سب پر روٹی تقسیم کر،(اس کے بعد)ہم لوگ ظلہ بنی ساعدہ سے باہر آئے۔میں نے عرض کیا:کیا یہ لوگ حق کو پہچانتے ہیں(اور شیعہ ہیں؟)آپ(ع) نے فرمایا:اگر حق کو پہچاننے والے ہوتے تو میں انھیں اپنے گھر کے نمک میں بھی شریک کرتا۔(اے معلی!)جان لوکہ خداوندعالم نے کسی چیز کو بھی خلق نہیں کیا ہے ۔جو اس کا محافظ اور نگہبان ہے۔میرے والد ماجد(امام محمد باقر(ع))جب بھی صدقہ دیتے تھے اورکوئی چیز بھی سائل کے ہاتھ میں رکھتے تھے تو اسے واپس اٹھالیتے تھے اسے چومتے اور سونگھتے تھے اس کے بعد دوبارہ سائل کے ہاتھ میںدے دیتے تھے۔رات میں صدقہ دینا خد اکے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے،گناہوں کو محوکردیتا ہے۔روز قیامت کے حساب وکتاب کو آسان بنا دیتا ہے اور دن میں صدقہ دینا مال اور عمر میں اضافے کا باعث ہے۔حضرت عیسیٰ بن مریم(ع) دریا کے کنارے سے گذرتے تھے تو اپنے کھانے میں سے ایک روٹی دریا میں ڈال دیتے تھے۔ایک حواری نے آپ(ع) سے عرض کی :آپ(ع) نے ایسا کیوں کرتے ہیں جبکہ روٹی آپ(ع) کا کھانا ہے؟آپ(ع) نے فرمایا:میں نے یہ روٹی دریا میں اس لئے ڈالی ہے وہ کسی دریائی جانور کا حصہ بنے۔خدا کے نزدیک اس کام کا بہت بڑا اجر وثواب ہے۔(۱)

____________________

(۱)فروع کافی جلد/۴ ،ص/۹


۵ بھوکے جانور پر انفاق

ایک سال قحط میں جبکہ لوگ بہت زیادہ سختی اور پریشانی میں مبتلا تھے ایک دینی طالب علم نے دیکھا کہ ایک کتیا زمین پرلیٹی ہے اور اس کے بچے اس کے دودھ سے چپکے ہوئے ہیں۔کتیا زمین سے اٹھنا چاہتی ہے لیکن کمزوری کی وجہ سے نہیں اٹھ پاتی وہ اپنی طاقت وقوت کو کھو بیٹھی ہے۔طالب علم کو اس جانور کی یہ حالت دیکھ کر بہت رحم آیا۔اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اس جانور کو دیتا مجبوراً اپنی کتاب کو بیچا اور اس کے پیسہ سے روٹی خرید کر کتیا کے سامنے رکھ دیا۔

کتیا نے آسمان کا رخ کیا اس کی آنکھوں سے آنسو کا قطرہ ٹپکا گویا وہ طالب علم کے لئے دعا کر رہی تھی۔رات میں اس طالب علم نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کوئی کہہ رہا ہے:”انا اعطیناک من لدنا علماً“ میں نے تمہیں اپنے پاس سے علم عطا کیا۔اس طالب علم نے بھی اپنے اندر بہت زیادہ علم کا احساس کیا جس کے نتیجہ میں اسے زیادہ پڑھنے اور مطالعہ کرنے کے رنج و مشقت کی ضرورت نہ تھی(۱)

____________________

( ۱)مجمع النورین/ص/۲۷


۶. خشک سالی

سید نعمة اللہ جزائری،جلیل القدر عالم دین اور مقدس اردبیلی کے شاگرد کہتے ہیںایک خشک سالی میں میرے استاد نے کھا نے کے لئے گیہوں وغیرہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہوتاتھا فقیروں میں تقسیم کردیتے تھے اور اپنے گھر والوں کے لئے بھی فقیروں کی طرح ایک حصہ بچاتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک دن ان کی بیوی کافی غصہ ہوگئی اوراس نے استاد کے اس کام پر اعتراض کیاکہ آپ تو اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں رکھتے اور جو کچھ بھی ہے فقیروں میں تقسیم کردیتے ہیں۔

استاد اس اعتراض کی وجہ سے گھر سے کنارہ کشی کر لیتے ہیں اور مسجد کوفہ میں اعتکاف کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔اعتکاف کے دوسرے دن ایک شخص ان کے دروازہ پر آتا ہے اور بہت اچھے قسم کے گیہوںاور آٹے کی چند بوریاں ان کے لئے لاتا ہے اور کہتا ہے اسے آقا نے بھیجا ہے۔

مقدس اردبیلی کی واپسی پر ان کی زوجہ نے کہا:جو گیہوں آپ نے بھیجا ہے بہت اچھا ہے۔استاد نے کہا:میں نے اس طرح کے مرد عربی کو کبھی نہیں دیکھا ہے اور مجھے اس کی کوئی خبر بھی نہیں ہے اور نہ ہی میں نے یہاں گیہوں بھیجا ہے!مقدس اردبیلی نے اس خدائی تحفہ پر اس کا شکر ادا کیا۔

۷. صدقہ دے کر بلائیں دور کیجئے

امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں:ایک یہودی اس مقام سے گذر رہا تھا جہاں رسول خدا اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرماتھے اس یہودی نے کہا:”

السام علیک“

آنحضرت نے جواب دیا:”علیک“(تم پر ہو)

اصحاب نے عرض کیا:اس یہودی نے توکہا ہے کہ آپ کو موت آجائے۔(سام موت کے معنی میں ہے)

آپ نے فرمایا:میں نے بھی کہا کہ ”تم پر ہو“

اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا:آج اس مرد کو ایک کالا سانپ ڈسےگا اور وہ مر جائے گا۔وہ یہودی وہاں سے چلا گیا اوربیابان سے لکڑیاں جمع کرکے ایک بڑا بوجھ بنایا اور زیادہ دیر نہ گذری کہ وہ واپس آگیا۔جب وہ رسول خدا کے پاس سے گذرنا چاہ رہا تھا تو آپ نے اس سے فرمایا:ذرااس لکڑیوںکے ڈھیر کو زمین پر رکھو۔ اس نے لکڑیوں کو زمین پر رکھ دیا۔اصحاب نے دیکھا کہ ایک کالا سانپ ایک لکڑی کو دانتوں سے پکڑے ہوئے ڈس رہا ہے۔

آنحضرت نے اس یہودی سے سوال کیا:آج تم نے کو ن سا نیک کام انجام دیا ہے؟اس نے کہا:میں نے کوئی خاص کام نہیں کیا ہے۔میں لکڑیاں جمع کررہا تھا اور میرے پاس دو روٹیاں تھیں ایک میں نے خود کھالی اور ایک فقیر کو دے دی۔آنحضرت نے فرمایا:آج تم نے اس صدقہ کے ذریعہ اپنی موت کو دور کیا ہے۔

اس کے بعد آپ نے ارشادفرمایا:”الصدقة ترفع میتة السوء عن الانسان “ صدقہ انسان سے ناگہانی اور ناگوار موت کو پلٹا دیتا ہے۔(۱)

____________________

(۱)فروع کافی/ج/۴،ص/۵


۸. اولیائے خدا سے محبت کا نتیجہ

شہر ربیعہ میں یوسف بن یعقوب نامی ایک مالدار زندگی بسر کرتا تھا ۔کسی نے متوکّل عباسی سے کی چغلخوری کردی۔متوکّل نے اسےسامرہ بلا لیاتاکہ اسے سزا دے۔یوسف سامرہ آتے وقت راستہ میں بہت پریشان تھا۔جب سامرہ کے قریب پہنچا تو اس نے اپنے آپ سے کہا کہ میں اپنے آپ کو سو اشرفی میں خدا سے خریدتا ہوں اگر مجھے متوکّل سے کوئی تکلیف نہ پہنچی تو میں ان اشرفیوں کو”ابن الرض(ع)“(امام محمد تقی)(ع) کی خدمت میں پیش کروں گا ۔جن کو خلیفہ نے مدینہ سے سامرہ بلاکر خانہ نشین کردیا ہے اور میں نے سنا ہے کہ وہ اقتصادی اعتبار سے بہت زیادہ سختی میں ہےں۔

وہ جیسے ہی سامرہ کے دروازہ پر پہنچااس نے اپنے آپ سے کہا بہتر ہے کہ متوکّل کے پاس جانے سے پہلے سو دینار مول(ع)کی خدمت میں لے جاوں لیکن وہ آپ (ع) کا گھر ہی نہیں جانتاتھا،سوچا اگر کسی سے آپ(ع) گھر کا پتہ معلوم کرتا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بات متوکّل کو معلوم ہوجائے کہ میں ”ابن الرض(ع)“ کے گھر کی تلاش میں تھا تو وہ اور زیادہ غضبناک ہوجائے گا۔

وہ کہتا ہے کہ اچانک میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں اپنی سواری کو آزاد چھوڑدوں ممکن ہے خدا کے لطف وکرم سے بغیر کسی سے معلوم کئے امام کے گھر پہنچ جاوں۔وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی سواری کو آزاد چھوڑدیا وہ گلیوں اور بازاروں سے گذرتی ہوئی ایک گھر کے دروازے پر جاکر رک گئی میں نے بہت کوشش کی لیکن وہ وہاں سے آگے نہ بڑھی۔میں نے ایک شخص سے پوچھا یہ کس کا گھر ہے؟اس نے جواب دیا یہ”ابن الرض(ع)“ رافضیوں کے امام کا گھر ہے۔میں نے کہا کہ ان کی عظمت وشرافت کے لئے یہی کافی ہے کہ انھوں نے بغیر سوال کے میری سواری کو اپنے دروازے پر لاکر کھڑا کردیا۔

میں اسی فکر میں تھا کہ ایک سیاہ پوست غلام گھر سے باہر آیا اور کہا: تم ہی یوسف بن یعقوب ہو؟میں نے جواب دیا: ہاں۔غلام نے کہا:سواری سے اترو:وہ مجھے گھر کے اندر لے گیا اور خود ایک کمرہ میں چلا گیا۔میں نے اپنے آپ سے کہاکہ یہ دوسری دلیل ہے کہ جس غلام نے مجھے آج تک دیکھا ہی نہیں وہ کیونکر میرے نام سے آگاہ تھا۔ میں تو ابھی تک اس شہر میں بھی نہیں آیا تھا؟!

غلام دوبارہ آیا اور اس نے کہا:جن سو اشرفیوں کو تونے اپنی آستین میں چھپا رکھا ہے لاواسے دے دو۔میںنے اپنے آپ سے کہا:یہ ہوئی تیسری دلیل۔غلام گیا اور فوراً پلٹ آیا اور اس نے مجھ سے گھر کے اندرونی حصہ کی طرف جانے کو کہا۔ میں نے اپنے خچر کووہیں باندھا اور گھر میں داخل ہوگیا۔میں نے دیکھا کہ ایک شریف اور با عظمت شخص تشریف فرما ہیں۔انہوں نے فرمایا:اے یوسف! کیا تونے اتنی دلیلیں نہیں دیکھیںکہ اسلام لے آو؟میں نے کہا: میں نے یہ اندازہ کافی مشاہدہ کیا ہے۔آپ(ع) نے فرمایا:افسوس کہ تو مسلمان نہ ہوگا لیکن تیرا بیٹا اسحاق مسلمان ہوجائے گا اور وہ میرے شیعوں میں سے ہو گا۔اے یوسف! بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہماری محبت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔خدا کی قسم ایسا نہیںہے بلکہ جو بھی ہم سے محبت کرے گا وہ اس کا فائدہ دیکھے گا۔چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم! اب تم مطمئن ہو کر متوکّل کے پاس جاو اور ذرا بھی نہ گھبراو،تمہیں اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے گی۔جب تم شہر میں داخل ہوئے تو خداوندعالم نے تمہارے لئے ایک ملک کو معین کیا جوتمہارے خچر کی راہنمائی کررہا تھا اور اسے میرے گھر تک لے آیا۔

یوسف بن یعقوب کے بیٹے اسحاق نے جب اپنے باپ کی واپسی پر ماجرا سنا تو وہ مسلمان ہوگیا۔لوگوں نے امام (ع) سے اس کے باپ کے بارے میں سوال کیا توآپ(ع) نے فرمایا:اگر چہ وہ مسلمان نہیں ہوا اور جنت میں نہ جا سکے گالیکن وہ ہم سے محبت کا نتیجہ اور فائدہ ضرور دیکھے گا-(۱)

____________________

(۱)مجمع النورین نقل از خرائج وبحار الانوار/ج/۱۲))


۹. عالم اور محتاج پڑوسی

عظیم الشان عالم دین اور فقیہ علامہ سید جواد عاملی نجفی صاحب کتاب”مفتاح الکرامہ“ بیان کرتے ہیں:

ایک رات میں کھانا کھا رہا تھا کہ یکایک کسی نے دق الباب کیامیں سمجھ گیا کہ وہ جناب علامہ سید بحرالعلوم کا خادم ہے۔ میں نے جلدی سے دروازہ کھولا،سید کے خادم نے کہا:آقا کا رات کا کھانا تیار ہے اور میں نے ان کے سامنے کھانا لگادیا ہے،اور وہ آپ کے منتظر ہیں۔ جلدی چلئے ۔میں خادم کے ساتھ ساتھ سیدعلامہ بحرالعلوم کے گھر گیا ۔جیسے ہی سید کی خدمت میں پہنچا اور ان کی نگاہ مجھ پر پڑی تو انھوں نے فرمایا:تم خدا سے نہیںڈرتے کہ اس کی دیکھ بھال نہیں کرتے؟

میں نے سوال کیا:کیا ہوا ہے؟انہوں نے کہا:تمہارا ایک بھائی ہر رات اپنے گھر والوں کے لئے کم قیمت والا کھجور قرض پر لیتا تھا اور اس کی مالی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ کوئی دوسری چیز نہیں خرید سکتا۔آج سات دن گذر چکے ہیں اور انھوں نے کم قیمتی کھجور کے علاوہ کچھ نہیں کھایا ہے۔وہ آج بھی دوکاندار کے پاس گیا تاکہ وہی کھجور خرید ے لیکن دوکاندار نے کہا کہ تمہارا قرض بہت زیادہ ہوچکا ہے۔وہ شخص شرما گیا اور بغیر کچھ خریدے گھر واپس آگیا،آج اس نے اور اس کے خانوادہ نے بغیرکچھ کھانے کے رات گذاری ہے لیکن تم اچھے اچھے کھانے کھا رہے ہو۔میں تمہارے ایک پڑوسی کی بات کررہا ہوں۔اس کے بعد انہوں نے اس کا نام لیا۔

میں نے عرض کیا:مجھے اس کی حالت کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔سید بحر العلوم نے فرمایا:اگر تمہیں خبر ہوتی اورتم اس کی مدد نہ کرتے تو تم یہودی بلکہ کافر ہوتے۔میرا غصہ اس بات پر ہے کہ تم اپنے دینی بھائیوں کے حالات کیوں نہیں معلوم کرتے اور اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری کیوں نہیں کرتے؟

ابھی میرا خادم کھانے کے ان برتنوں کو اٹھاتا ہے اور تم اس کے ساتھ اس شخص کے گھر جاو اور اس سے کہومیں چاہتا ہوں کہ آج رات ہم ایک ساتھ کھانا کھائیں۔اور اس تھیلی میں ایک مقدار پیسہ ہے اسے اس کے چٹائی کے نیچے رکھ دینا اور برتنوں کو واپس نہ لانا۔خادم نے برتنوں کو ایک بڑی سی سینی میں رکھ کر اٹھایا اور اس کے گھر کے دروازہ تک لے گیا اور وہیں سے واپس ہوگیا۔میں نے دق الباب کیا پڑوسی نے دروازہ کھولا میں گھر میں داخل ہوا اورمیں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آج رات ہم سب ایک ساتھ کھانا کھائیں۔اس نے بھی قبول کرلیا۔جب اس نے سینی کو اپنی طرف کھینچا تودیکھا کہ کھانے کی بہت ہی اچھی خوشبو آرہی ہے اور یہ مالداروں کا کھانا لگ رہا ہے۔

اس شخص نے مجھ سے کہایہ کھانا کسی معمولی آدمی کے یہاں کا نہیں ہے بلکہ کسی مالدار آدمی کے گھر کا معلوم ہوتا ہے۔پہلے اس کا قصہ بیان کرو۔پھر میں کھاوں گا۔اس نے اتنا اصرار کیا کہ مجھے ماجرا بیان کرنا پڑا۔اس نے قسم کھائی اور کہا:خدا کے علاوہ ابھی تک کوئی دوسرامیرے حال سے واقف نہیں تھا۔یہاں تک کہ قریبی پڑوسی بھی نہیں جانتے تو دوسروں کی کیا بات اوراس نے اس واقعہ کو سید بحرالعلوم کی ایک کرامت شمار کیا۔

۱۰ یتیموں کے ساتھ نوازش

شیخ بہائی نے اپنی کتاب کشکول میںیہ واقعہ تحریر کیا ہے :بصرہ کے اطراف میں ایک شخص اس دار فانی سے کوچ کر گیاتھا اور چونکہ وہ گناہوں میںاتنا زیادہ ملوث تھا کہ کوئی بھی اس کی تشییع جنازہ کے لئے تیار نہ ہوا۔اس کی بیوی نے کچھ لوگوں کوکرایہ پر لیا اور وہ جنازہ کو نماز جنازہ کے مقام تک لے گئے لیکن کسی نے اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی آخر کار اسے دفن کرنے کے لئے شہر سے باہر لے گئے۔

اسی اطراف میں ایک مرد زاہدبھی رہتا تھا اور وہ بہت مشہور تھا لوگ اس کی سچائی اور پاکدامنی پر بھروسہ کرتے تھے۔لوگوں نے دیکھا کہ وہ مرد زاہد اس جنازہ کا منتظر ہے۔جیسے ہی جنازہ کو زمین پر رکھا ،وہ قریب آیا اور اس نے کہا کہ نماز جنازہ کے لئے تیار ہو جاو اور اس نے خود نماز جنازہ پڑھائی۔زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ یہ خبر شہر میں پہنچ گئی۔لوگ ماجرا معلوم کرنے اور زاہد سے عقیدت کی بنا پر ثواب حاصل کرنے کی غرض سے گروہ گروہ آتے تھے اور اس جنازہ پر نما زپڑھتے تھے۔سب اس واقعہ سے حیرت زدہ تھے۔آخر کار لوگوں نے اس زاہد سے پوچھا کہ آپ نے کیسے اس جنازہ کے آنے کے بارے میں اطلاع حاصل کی؟

مر دزاہد نے کہا:میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھ سے کہا جارہا ہے کہ جاو اور فلاں جگہ پر کھڑے ہوجاو وہاں ایک جنازہ لائیں گے جس کے ساتھ صرف ایک عورت ہو گی ۔اس جنازہ پر نماز پڑھو کہ اسے بخش دیا گیا ہے۔زاہد نے اس عورت سے دریافت کیا کہ تمہارا شوہر کون سا نیک عمل انجام دیتا تھا جس کی وجہ سے اسے معاف کردیا گیا ہے؟

عورت نے کہا:وہ تو رات ودن گناہوں میں ملوث رہتا تھا۔زاہد نے پوچھا کہ کیا کوئی نیک کام بھی کرتا تھا؟اس نے جواب دیا:ہاں ! وہ تین نیک کام انجام دیتا تھا:

۱ ۔رات میں جب بھی مستی سے ہوش میں آتا تھا تو گریہ کرتا تھا اور کہتا تھا:خدا تو مجھے جہنم کے کس گوشہ میں جگہ دے گا؟!

۲ ۔جب صبح ہوتی تھی تو کپڑا بدلتا، غسل کرتا اور وضو کرکے نماز ادا کرتا تھا۔

۳ ۔اس کا گھر کھبی بھی دو تین یتیموں سے خالی نہیں رہتا تھاوہ یتیموں سے اتنی محبت اور شفقت کرتا تھا کہ جتنی اپنے بچوں سے بھی نہیں کرتا تھا۔(۱)

____________________

(۱)شجرہ طوبیٰ/ج/۲،ص/۲۷۸


۱۱. ایک ہار اور اتنی ساری برکتیں

عماد الدین طبری نے اپنی کتاب”بشارة المصطفیٰ“میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری کا بیان ہے:ایک دن نماز عصر کے بعد رسول خدا ،اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا، بوسیدہ کپڑا پہنے ہوئے کمزوری کی حالت میں وارد ہوااس کے آثار سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوک کی حالت میں کافی طولانی راستہ طے کر کے آیا ہے۔

اس نے عرض کیا: میںایک پریشان حال انسان ہوں آپ مجھے بھوک،عریانی اور مشکلات سے نجات دلائیے۔

رسول خدا نے فرمایا: فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک ایسے شخص کی رہنمائی کرتا ہوں جو تیری حاجتوں کو پورا کردے گا اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس شخص

کے مانند ہے کہ جس نے خوداس کام کو انجام دیاہو ۔

اس کے بعد آنحضرت نے جناب بلال کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو درِ فاطمہ پر لے جائیں۔جب وہ بوڑھا حضرت علی (ع) کے بیت الشرف پرپہنچا تو اس نے اس طرح سلام کیا: ”السلام علیکم یا اهل بیت النبوة “اے خاندان نبوت آپ پر سلام ہو۔آپ(ع)نے سلام کا جواب دیاا وردریافت فرمایا: تم کون ہو؟

اس نے کہا: میں ایک مرد عرب ہوں ،رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ان سے مدد کا تقاضا کیا تھا ۔انہوں نے مجھے آپ کے دروازہ پر بھیج دیا۔

وہ تیسرا دن تھا جسے آل علی علیہ السلام بھوک کی حالت میں گذار رہے تھے اور رسول خدا بھی اس سے آگاہ تھے،بنت رسول نے جب کوئی چیز نہ پائی تو آپ نے گوسفند کی کھال جس پر حسن وحسین علیھما السلام سوتے تھے: اس مرد عرب کو دے دیا اور فرمایا: خداوندعالم تمہیں آسودگی عنایت فرمائے ۔

بوڑھے نے کہا:اے بنت رسول! میں بھوک سے بے حال ہوں اور آپ مجھے گوسفند کی کھال عطا کر رہی ہیں۔

جیسے ہی جناب فاطمہ نے یہ سنا اپنا ہار جسے عبد المطلب (ع)کی صاحبزادی نے آپ کو ہدیہ کیا تھا، اس مرد عرب کو دے دیا۔وہ بوڑھا ہار لے کر مسجد میں آتا ہے۔اس نے دیکھا کہ رسول خدا، اصحاب کے درمیان تشریف فرما ہیں اس نے عرض کیا:یا رسول اللہ!آپ کی بیٹی نے مجھے یہ ہار عطا کیا ہے اور فرمایا ہے کہ میں اسے بیچ دوں ممکن ہے خداوند عالم میرے کاموں میں وسعت عطا فرمائے۔

آنحضرت رونے لگے اور فرمایا:کیونکر خدا وسعت اور راحت نہ دے جبکہ اولین وآخرین کی عورتوں میں سب سے بہتر خاتون نے تجھے اپنا ہار عطا کیا ہے!

عما ر یاسر نے عرض کیا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس ہار کو خرید لوں؟ آنحضرت نے فرمایا:اس ہار کو خریدنے والے کو خدا وندعالم جہنم سے دور رکھے گا۔جناب عمار یاسر نے مرد عرب سے کہاکہ اس ہار کو کتنے میں بیچوگے۔

اس نے کہا: اتنی قیمت میں بیچوں گا کہ کھانا کھا کر سیر ہوسکوں ، پہننے کے لئے ایک یمانی ردا ء خرید سکوں اور کچھ دینار جسے میں واپسی پر خرچکر سکوں۔جناب عمار نے کہا: میں اس ہار کو دوسو درہم میں خریدوں گا اور تجھے روٹی اور گوشت سے سیر کروں گا ،اوڑھنے کے لئے یمانی رداء بھی دوں گا اور اپنے اونٹ سے تجھے تیرے گھر تک پہنچا وں گا۔

جناب عمار کے پاس جنگ خیبر کے مال غنیمت میں سے جو کچھ بچاتھا،بوڑھے کو اپنے گھر لے گئے اور جو وعدہ کیا تھا وفا کردیا۔

مرد عرب دوبارہ آنحضرت کی خدمت میںحاضر ہوا آپ نے فرمایاکہ کیاتونے لباس لے لیا اور سیر ہوگیا؟اس نے عرض کیاہاںرسول اللہ اورمیں بے نیاز بھی ہوگیا۔

اس وقت آنحضرت نے جناب فاطمہ زہرا کے فضائل کا ایک مختصر ساحصہ بیان فرمایا ۔آپ نے ارشاد فرمایا:میری بیٹی فاطمہ کو جب قبر میں رکھاجائے گا تو ان سے سوال کیا جائے گا:تمہارا خداکون؟وہ جواب دیں گی ”اللّٰہُ رَبِّیْ“سوال ہوگا:تمہارے رسول کون؟جواب دیں گی:”میرے والد“ دوبارہ سوال کریں گے،تمہارے امام اور ولی کون ہیں؟تو آپ جواب دیں گی:”ھذا القائم علی شفیر قبری“میرا امام وہ ہے جو میری قبر کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔(یعنی حضرت علی علیہ السلام)

جناب عمار نے ہار کو سونگھا اور ایک چادریمانی میں رکھ کر”سہم“نامی غلام کو دیا اور کہاکہ اسے رسول خدا کی خدمت میں لے جاو اور میں نے تم کو بھی رسول خدا کو بخشا۔

آنحضرت(ع) نے اسے جناب فاطمہ زہرا کے پاس بھیج دیا۔بنت رسول نے ہار کو لیا اور غلام کو آزاد کردیا۔

یہ ماجرا دیکھ کر غلام ہنسا ۔جناب فاطمہ نے اس کی ہنسی کا سبب دریافت فرمایا تو اس غلام نے کہا: میں اس ہار کی برکتوں پر ہنس رہاہوں کہ اس نے ایک بھوکے کو سیر کردیا ۔ ایک فقیر کو بے نیاز بنادیا۔ ایک برہنہ کو لباس عطا کیا ۔ ایک غلام کو آزاد کرایا اور دوبارہ اپنے اصل مالک کے پاس واپس آگیا۔

۱۲ محتاجوں کی مدد، مانگنے سے پہلے

حضرت امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیںکہ حضرت علی (ع) نے ایک محتاج شخص کے لئے پانچ اونٹ پر کھجورلدوا کر بھجوایاوہ ایک آبرومند اور باعزت آدمی تھا وہ حضرت علی (ع) کے علاوہ کسی دوسرے کے سامنے دست سوال نہیں پھیلاتا تھا۔

آنحضرت کے پاس موجود ایک شخص نے آپ سے عرض کیا:اے علی (ع)!اس شخص نے توآپ(ع) سے کوئی درخواست نہیں کی ہے ،اس کے علاوہ اس کے لئے ایک اونٹ کھجورکافی ہے۔امام(ع) نے فرمایا:”لاکثر اللّٰہ فی المومنین مثلک“ خداوند مومنین میں تم جیسے افراد کو زیادہ نہ کرے۔ میں بخشش کرتا ہوں اور تو کنجوسی کرتا ہے۔ اگر میں کسی کے دست سوال پھیلانے کے بعد اس کی مدد کروں تو میں نے اسے جو کچھ دیا ہے وہ اس کی عزت کی قیمت ہے جو اس نے میرے سامنے گنوائی ہے۔جوبھی ایسا کرے اور اسے معلوم ہوکہ وہ محتاج ہے اوروہ اس کی مدد کرسکتا ہے تو اس نے اپنے پروردگار سے جھوٹ بولا ہے۔اس لئے کہ یہ اپنے اس برادرمومن کے لئے جنت کی دعا کرتا ہے لیکن دنیا کے بے قیمت مال میں سے ذرا سی مالی مدد کرنے سے کتراتا ہے۔اکثرایسا ہوتا ہے کہ کہ بندہ مومن اپنی

دعامیں کہتا ہے:”اللهم اغفر للمومنین والمومنات “جب اپنے برادر دینی کے لئے طلب مغفرت کرتا ہے یعنی اس کے لئے جنت کی دعا کرتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے اس لئے کہ زبان سے تو اس کے لئے جنت چاہتا ہے لیکن منزل عمل میںاسے ذرا سابے قیمت مال دینے میں مضائقہ کرتا ہے-(۱)

____________________

(۱)ریاحین الشریعة/۱۸


۱۳. بے منت صدقے

ایک شخص امام محمد تقی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے چہرہ پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔امام(ع) نے فرمایا:میں تجھے خوش دیکھ رہاہوں،اس خوشی کا سبب کیا ہے؟اس نے عرض کیا:اے فرزند رسول ! میں نے آپ(ع) کے والد بزرگوار سے سنا ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایاہے: سب سے مناسب دنجس دن انسان کو خو ش ہونا چاہئے وہ دن ہے جب صدقہ دینے،نیکی کرنے اور برادر دینی کو فائدہ پہنچانے کی توفیق عطا ہو۔آج میرے پاس دس برادر دینی آئے تھے اور سب کے سب فقیر اورصاحب عیال تھے۔ میں نے ان کی خدمت کی اور ہر ایک کی مدد کی ۔ اسی لئے میں خوش ہوں۔

امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:میری جان کی قسم !بہتر ہے کہ تمہاری یہ خوشی باقی رہے اس شرط کے ساتھ کہ تم نے خود اپنے نیک عمل کو برباد نہ کیا ہو اور اس کے بعد بھی اسے ضائع نہ کرو۔اس نے عرض کیا:کیونکر ممکن ہے میرے نیک اعمال ضائع ہوجائیں جبکہ میں آپ(ع) کے حقیقی اور خالص شیعوں میں سے ہوں؟

امام محمد تقی(ع) نے فرمایا:تم نے ابھی ابھی اپنے اس نیک عمل اور برادران دینی کی مدد کو ضائع کردیا۔اس نے آنحضرت(ع) سے دریافت کیا:میںنے کیونکراسے ضائع کیا ہے؟امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:اس آیہ کریمہ کی تلاوت کر:”لَا تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذَیٰٰ“اپنے صدقاتکو احسان جتانے اور اذیت دینے کے ذریعہ ضائع نہ کرو۔(سورئہ بقرہ/آیت ۲۶۴)

اس شخص نے عرض کیا:میں نے جن لوگوں کی مدد کی ہے نہ ان کو احسان جتایا ، نہ منت گذاری کی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی اذیت دی ہے۔امام(ع) نے ارشاد فرمایا:تیری نظر میں ان لوگوں کی اذیت کرنا زیادہ اہم ہے یا اپنے اوپر مامور فرشتوں کو اذیت دینایا ہم اہل بیت(ع) کو اذیت دےنا ؟

اس نے جواب دیا:آپ(ع) کو اور ملائکہ کو اذیت دےنا۔امام (ع)نے فرمایا:بے شک تونے مجھے اذیت دی ہے۔اس نے سوال کیا:اے فرزند رسول!میں نے اپنے کس عمل کے ذریعہ آپ کو اذیت دی ہے؟

آپ(ع) نے فرمایا:اپنی اسی بات کے ذریعہ کہ تونے کہا:میںآپ کے حقیقی اور خالص شیعوں میں سے ہوں۔تم جانتے ہو کہ ہمارے خالص اور حقیقی شیعہ کون ہیں؟

اس نے تعجب کے ساتھ عرض کیا:نہیں!

آپ(ع) نے فرمایاحزقیل مومن آل فرعون،صاحب یٰس جس کے بارے میں پروردگار فرماتا ہے:”وَجَآءَ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَسْعٰی“سلمان،ابوذر،مقداد اور عمار یاسر۔کیا تم اپنے آپ کو ان افراد کے برابر جانتے ہو؟کیا تم نے اپنی اس بات کے ذریعہ ملائکہ اور ہمیں اذیت نہیں پہنچائی ہے۔اس شخص نے عرض کیا:”استغفراللّٰہ واتوب الیہ یابن رسول اللّٰہ“ پس میں کیا کہوں؟

آپ(ع) نے فرمایا:تم یہ کہو کہ میں آپ کے دوستداروں میں سے ہوں۔میں آپ کے دشمنوں کا دشمن اور دوستداروں کا دوست ہوں۔میں نے عرض کیا:میں ایسا ہی کہوں گااور ایسا ہی ہے میں نے جو کچھ کہا ہے وہ خدا کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے ، آپ اور خدا کے فرشتے بھی اسے ناپسند کرتے ہیں تو میںان سے توبہ کرتا ہوں۔

امام محمد باقر(ع) نے فرمایا:اب تمہارے صدقہ دینے کاثواب پلٹ آیا ہے۔(۱)

____________________

(۱)کلمہ طیبہ /ص۲۵۴


۱۴ میں حضرت علی (ع) سے طلبگار ہوں

صاحب کتاب شرائع جو ایک عظیم الشان شیعہ فقیہہیں وہ اپنی کتاب فضائل علی بن ابی طالب علیہ السلام میں تحریر کرتے ہیں کہ ابراہیم بن ہمران کا بیان ہے کہ شہر کوفہ میں ابو جعفر نامی ایک تاجر تھا اور اس نے تجارت میں ایک بہت ہی پسندیدہ طریقہ اختیار کر رکھا تھا۔اس کی تجارت مادی مقاصد اور مال وثروت میں اضافہ کی خاطر نہ تھی بلکہ اس کا زیادہ ترمقصد خدا کی رضایت رہتا تھا۔

جب کوئی اس سے کوئی چیز مانگتا تو وہ کسی طرح کا کوئی بہانہ نہیں کرتا تھا اور اسے وہ چیز دے دیتا تھا اور اپنے غلام سے کہتا تھاکہ لکھوکہ”حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے مجھ سے اتنا قرض لیا ہے“اوروہ اس نوشتہ کو اسی حالت میں چھوڑ دیتا تھا۔

اسی طریقہ سے اس نے کافی مدت گذاردی۔یہاںتک کہ اس کا دیوالیہ ہوگیا اور اس کے سارے سرمائے ختم ہوگئے۔ایک اس نے دن اپنے غلام سے کہا کہ حساب کا رجسٹر لاو اور قرض لینے والوں میں سے جو مر گئے ہیں ان کا نام اس رجسٹر سے مٹادو۔لیکن جو لوگ زندہ ہیں ان سے مطالبہ کرو۔ یہ کام بھی اس تاجر کے دیوالیہ ہونے کا خاتمہ نہ کرسکا۔ایک دن وہ اپنے گھر کے

دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص وہاں سے گذرا اور اس تاجر کا مذاق اڑاتے ہوئے اس نے کہا:اس نے تمہارے ساتھ کیا کیاجس کے نام پر تم ہمیشہ قرض دیتے تھے اور اپنے آپ کو اس بات سے خوش کر رکھا تھا کہ اس کا نام تمہارے رجسٹر میں ہے(اس کی مراد حضرت علی (ع) تھے)

تاجر ا س مسخرہ سے بہت غمگین ہواا ور اسی غم میں پوری رات گذاردی۔ اس نے رات میں خواب میں رسول خدا اور امام حسن وامام حسین علیھم السلام کو دیکھتا ہے۔رسول خدا نے امام حسن(ع) سے فرمایا:تمہارے والد بزرگوار کہاں ہیں؟حضرت علی (ع) نے فرمایا:میں آپ ہی کی خدمت میں ہوں۔آنحضرت نے فرمایا:تم اس مرد کا قرض اداکیوں نہیں کرتے؟امام(ع) نے عرض کیا:میں آپ کی خدمتمیں آیا ہوں تاکہ اس کا قرض واپس کروںاور آنحضرت کو ایک سفید تھیلی دی جس میں ہزار اشرفیاں تھیں۔

آنحضرت نے مجھ سے فرمایا:اسے لویہ تمہارا حق ہے اور اسے لینے میں تکلف نہ کرو،اس کے بعد میری اولاد میں سے جب بھی کوئی تم سے قرض مانگے تو اسے دے دینا۔اس کے بعد تم کبھی بھی فقیر اور محتاج نہ ہوگے۔

ابو جعفر خواب سے بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلی ہے۔وہ اسے لیکر اپنی زوجہ کے پاس آیا اور اسے دکھایا پہلے تو اس کی بیوی نے یقین نہیں کیا اور کہنے لگی گر تم نے کوئی چال بازی کی ہے تاکہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں سستی کرو تو اللہ سے ڈرو اور اس چال بازی سے باز آجاو۔

تاجر نے پورا خواب بیان کیاتو اس کی بیوی نے کہا:اگر تم نے واقعاًیہ خواب دیکھا ہے تو حساب کا رجسٹر دکھاو۔جب میاں بیوی نے رجسٹر دیکھنا شروع کیا تو دیکھا کہ جہاں بھی حضرت علی (ع) کے نام قرض لکھا ہوا تھا وہاں سے قرض کی مقدار مٹ چکی ہے۔(۱)

____________________

(۱)کشکول بحرانی،ج۲،ص ۲۲۹نقل از روضہ شیخ مفیدو کلمہ طیبہ


۱۵ پاک وپاکیزہ اموال سے انفاق

حضرت امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:میں نے سنا ہے کہ اہل سنت والجماعت، ایک شخص کی بہت تعریف کرتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں ۔میں نے چاہا کہ ایک اجنبی کی طرح اس سے ملاقات کروں۔اتفاق سے ایک دن میں نے ایک مقام پر اس سے ملاقات کی، لوگ اس کے اردگرد جمع تھے لیکن وہ ہر ایک سے دور بھاگ رہا تھا۔وہ ایک کپڑے سے ناک تک اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے تھا وہ مسلسل کوشش کررہا تھا کہ وہ لوگوں سے دور ہوجائے آخرکاراس نے جب ایک راستہ انتخاب کیا اور اس کے اردگرد موجود افراد نے اسے چھوڑدیا۔

میں اس کے پیچھے چل دیا اور اس کے کاموں کو دیکھنے لگا ۔وہ ایک روٹی کی دوکان پر پہنچا ایک مناسب وقت میں جب دوکاندار غافل تھا اس نے دو روٹی اٹھالی اور وہاں سے چلا گیا۔ایک انار بیچنے والے کے پاس گیا وہاں سے دوانار چرا لئے۔مجھے بہت تعجب ہواکہ یہ شخص کیوںچوری کررہا ہے۔

آخرکار راستہ میں بیٹھے ایک بیمار کے پاس پہنچا اور اس نے دونوں روٹی اور دونوںانار اسے دے دیا۔میں نے اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ وہ شہر سے باہر نکل گیاوہ ایک گھر میں داخل ہونے والا تھا کہ میں نے اس سے کہا:اے بندہ خدا! میں نے تیری شہرت سن رکھی تھی، میں تجھے قریب سے دیکھنا چاہتا تھا لیکن اب میں تجھ سے بیزار ہوں۔

اس نے پوچھا:آپ نے کیا دیکھا ہے ؟میں نے کہا:تونے نانوائی سے دو روٹی اور انار کی دکان سے دوانار چرائے ہیں۔اس نے مجھے اپنی بات پوری کرنے کی اجازت نہ دی اور پوچھا آپ کون ہیں؟میں نے جواب دیا:میں اہل بیت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک فرد ہوں۔اس نے میرے وطن کے بارے میں سوال کیا:میں نے کہا:میرا وطن مدینہ ہے۔اس نے کہاکہ آپ شاید جعفر بن محمدبن علی بن حسین علیھم السلام ہیں۔میں نے جواب دیا: بے شک ایسا ہی ہے۔ اس نے کہاکہ تمہارا رسول کی اولاد ہونے کی نسبت کا کیا فائدہ جب آپ نے اپنے جد بزرگوار کے علم ہی کو چھوڑ رکھا ہے۔میں نے سوال کیاکس طرح؟اس نے کہا:اس لئے کہ آپ قرآن کی ہر آیت سے آگاہ ہی نہیںہیں خداوندعالم فرماتا ہے:”( مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه عَشْرُ اَمْثَالِهَا وَمَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلاَ یُجْزَیٰ اِلَّا مِثْلَهَا ) “جو شخص بھی نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے صرف اتنی ہی سزا ملے گی۔(۱)

میں نے دوروٹی اور دو انار چرائے لہٰذا چار گناہ کئے لیکن میں نے انہیں انفاق کردیا اور بیمارکو دے دیااس آیت کی روشنی میں میرے حصہ میں ۴۰ نیکیاں آگئی اور جب ۴۰ میں سے ۴ نیکیاں کم ہوں گی تو میں اس کے بعد بھی ۳۶ نیکیوں کا حقدار ہوں گا۔

میںنے کہا:”ثکلتک امک“تیری ماںتیرے سوگ میں بیٹھے۔تو خدا سے جاہل ہے کیا تونے نہیں سنا ہے کہ خداوندعالم فرماتاہے:”اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ“خدا صرف متقین کے اعمال کو قبول کرتا ہے۔ اس کے بعد میں نے کہا:تونے دوروٹی اور دو انار چرائے لہٰذا چار گناہ کئے اورچونکہ ان کے مالک کی اجازت کے بغیر دوسرے کو دیا لہٰذا چار گناہ اور بڑھ گئے۔(اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا لہٰذا مجبور ہوکر خاموش ہوگیا)اس نے تعجب کے ساتھ بڑے غور سے مجھے دیکھا۔میں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا اور وہاں سے چلا آیا۔(۲)

____________________

(۱)سورئہ انعام/آیت/۱۶۰

( ۲)انوار نعمانیہ،ص۹۲


۱۶ غیرمسلم ضرورتمند کی بھی مدد کرو

امام جعفر صادق(ع) مکہ اور مدینہ کے درمیان راستہ میں تھے،امام کا مشہورومعروف خدمت گذارمصادف بھی آپ کے ہمراہ تھا۔راستہ میں ان کی نگاہ ایک ایسے شخص پر پڑی جو اپنے آپ کو ایک درخت کے تنے پر گرائے ہوئے تھا اس کی حالت غیر تھی۔امام(ع) نے مصادف سے فرمایا:اس کے پاس چلیں اور دیکھیںکہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہ پیاسا ہو اور پیاس کی وجہ سے بے حال ہوگیا ہے۔

دونوں حضرات اس کے قریب گئے۔ امام(ع) نے اس سے دریافت فرمایا:کیا تو پیاسا ہے؟

اس نے کہا:ہاں!

مصادف ،امام علیہ السلام کے حکم سے سواری سے نیچے اترے اور اسے پانی دیا لیکن اس کے قیافہ،لباس اور حالت سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہے بلکہ مسیحی ہے۔جب امام(ع) اور مصادف وہاں سے دور ہوگئے تو مصادف نے امام (ع) سے ایک مسئلہ دریافت کیا اور وہ مسئلہ یہ تھاکہ کیا غیرمسلم افراد کو صدقہ دینا جائز ہے؟

امام(ع) نے ارشاد فرمایا:ضرورت کے وقت ،ہاں(بہت اچھا ہے۔)(۱)

____________________

(۱)وسائل،ج۲،ص۵۰


۱۷ لوگوں کے ہمراہ

مدینہ میں روز بروز گیہوں اور روٹی کی قیمت بڑھتی چلی جارہی تھی،پریشانی اور وحشت تمام لوگوں پر غالب ہوتی جارہی تھی۔جس نے سال بھر کی خوراک کا انتظام نہیں کیا تھا وہ اس کے انتظام کی کوشش کررہاتھا اور جس نے پہلے سے مہیا کررکھا تھا وہ اس کی حفاظت کی کوشش میں لگا تھا۔انہیں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو فقر اور تنگدستی کی وجہ سے مجبور تھے کہ ہر روز بازار سے اپنی خوراک کا انتظام کریں۔امام جعفر صادق(ع) نے اپنے گھر کے اخراجات کے وکیل”معتب“سے دریافت فرمایا:کیا ہمارے گھر میں اس سال گیہوں ہیں؟

معتب نے عرض کیا:ہاںفرزند رسول!گیہوں اتنی مقدار میں ہے کہ کئی مہینے کے لئے کافی ہے۔امام(ع) نے فرمایا:انھیں بازارلے جاواور بیچ دو۔معتب نے عرض کیا:یابن رسولاللہ! مدینہ میں گیہوں نایاب ہے اگر انھیں بیچ دیا تو دوبارہ گیہوں خریدنا ہمارے لئے آسان نہ ہوگا!

امام(ع) نے فرمایا:تم وہی کرو جو میں نے کہاہے ،سارے گیہوں کو لوگوں کے ہاتھ بیچ دو۔معتب نے امام(ع) کے حکم کی تعمیل کی انھوں نے سارا گیہوں بیچ دیا اور اس کی اطلاع امام(ع) کودے دی۔امام جعفر صادق(ع) نے معتب کو حکم دیا:اس کے بعد سے میرے گھر کے لئے روٹی ہر روز بازار سے خریدو،میرے گھر کی روٹی ایسی نہیں ہونی چاہئے جیسی اس وقت عوام استعمال کرتے ہیں بلکہ اس میںکچھ فرق ہونا چاہئے۔آج سے میرے گھر کی روٹی آدھی گیہوں اور آدھی جو سے بنی ہونی چاہئے۔الحمد للہ میں اتنی توانائی رکھتا ہوں کہ سال کے آخر تک اپنے گھر کو گیہوں کی روٹی کھلا کر بہترین طریقہ سے جلا سکوں۔لیکن میں ایسانہیں کروں گاتاکہ میںبارگاہِ الہٰی میں روزی کے مقدر اور معین ہونے کے مسئلہ کی رعایت کرسکوں۔(۱)

____________________

(۱)بحارالانوار،ج۱۱،طبعہ قدیم،ص۱۲۱


۱۸ غربت کی مشکلات کا بہترین راہ حل

وہ رسول خدا کے صحابیوں میں سے تھا، جس پرفقر اور تنگدستی غالب ہو چکی تھی،ایک دن اس نے محسوس کیاکہ بہت زیادہ سختی اور مصیبت میں گرفتار ہوچکا ہے۔اپنی بیوی کے مشورہ پر ارادہ کیا کہ رسول خدا کی خدمت میںجائے اوراپنے حالات بیان کرے اور آنحضرت سے مالی مدد چاہے۔

وہ اسی نیت سے آنحضرتکی خدمت میں گیا۔لیکن اس سے پہلے کہ اپنی حاجت بیان کرتا ،رسول خدا کی زبان مبارک سے یہ جملہ سنا۔”جو بھی ہم سے مدد چاہے گا ہم اس کی مدد کریں گے لیکن اگر کوئی بے نیازی سے کام لے اور مخلوق خدا کے سامنے دست حاجت دراز نہ کرے توخود خداوند اسے بے نیاز بنائے گا۔“

اس نے اس دن کچھ بھی نہ کہا اور اپنے گھر واپس آگیا اور ایک بار پھر فقر کے خوفناک دیوسے روبرو ہوا جو پہلے کی طرح اس کے گھر پر سایہ فگن تھا۔مجبورہوکر دوسرے دن بھی اسی ارادہ سے رسول خدا کی بزم میں حاضر ہوااس دن بھی آنحضرت کی زبان مبارک سے وہی جملہ سنا :”جو بھی ہم سے مدد چاہے گا ہم اس کی مدد کریں گے لیکن اگر کوئی بے نیازی کا اظہار کرے تو خود خداوندعالم اسے بے نیاز کردے گا۔“

اس مرتبہ بھی اپنی حاجت بیان کئے بغیر گھر واپس آگیا۔اوراس نے اپنے آپ کوپہلے کی طرح فقر کے پنجوں میں ضعیف،ناتواںاور مجبور پایا۔تیسری بار بھی اسی نیت سے بزم رسول اکرم میںحاضر ہوا۔اس بار بھی آنحضرت کے لبہائے مبارک حرکت میں آئے اور اسی لب ولہجہ میں اسی جملہ کی تکرار فرمائی۔ اور آپ کا کلام دل کو قوت اور روح کو سکون واطمینان عطا کررہا تھا۔اس بار جب اس صحابی نے یہ جملہ سنا تو اپنے دل میں زیادہ سکون واطمینان کا احساس کیااور اس نے محسوس کیا کہ اس نے اسی جملہ میں اپنی مشکل کاحل تلاش کرلیاہے۔جب وہاں سے باہر آیا تو اس بار زیادہ سکون واطمینان کے ساتھ قدم بڑھا رہاتھااور یہ سوچتا جارہا تھا کہ اب کبھی بھی بندگان خدا سے مدد حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس نہ جاوں گاصرف خدا پر بھروسہ کروں گااور میرے اندر جو قوت وطاقت اور صلاحیت ودیعت کی گئی ہے ان سے استفادہ کروں گااور خدا ہی سے چاہوں گا کہ جس کام کو میں نے اختیار کیاہے وہ اس میں مجھے کامیابی عطا کرے اور مجھے بے نیاز بنادے۔

اس نے سوچا کہ میں کیا کام کرسکتا ہوں؟اس کے ذہن میں آیا کہ وہ اتنا تو کر ہی سکتا ہے کہ جنگل میں جاکر لکڑیاں جمع کرے اور انہیں لاکر فروخت کرے۔وہ عاریةًایک کلہاڑی لے کر جنگل کی طرف ہوگیا۔کچھ لکڑیاں جمع کیںاور انھیں لاکر بیچ دیا۔اس نے اپنی زحمتوں سے حاصل لذت کو چکھا۔

اس نے دوسرے دنوں میں بھی اسی کام کو جاری رکھا یہاں تک کہ آہستہ آہستہ اس نے اسی پیسہ سے ایک کلہاڑی،جانور اور دوسری ضرورت کے سامان خریدے،اور اسی کام کو جاری رکھا یہاں تک کہ مالدار اور نوکر چاکر والا ہوگیا۔

ایک دن رسول خدا اس کے پاس تشریف لے گئے اور آپ نے مسکراتے ہوئے اس سے فرمایا:کیامیں نے نہیں کہا تھا کہ جو بھی ہم سے مدد چاہے گا ہم اس کی مدد کریں گے لیکن جو شخص بے نیازی کا اظہار کرے(یعنی مخلوق خد اکے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے)تو خداوندعالم اسے بے نیاز بنا دے گا۔(۱)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَ صَلَّی اللّٰهُ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ آلِه(ع) الطَّاهِرِیْنَ

____________________

(۱) اصول کافی،ج۲،ص ۱۳۹۔(باب القناعہ) وسفینة البحار،مادہ قنع


فہرست

مقدمہ ۴

ایک درخشاں انسانی اخلاق ۴

پہلی فصل : اسلام میں انفاق کی اہمیت ۷

۱. انفاق ایک با برکت دانہ ۷

وضاحت ۷

انفاق اورسماجی مشکلات کا حل ۷

ایک خوبصورت مثال ۸

۲ نماز، انفاق کے ساتھ ۱۰

۳. انفاق،عفو و در گذشت اور غصہ کو پی جانا ۱۱

سعادت کے تین اہم اسباب - ۱۱

وضاحت ۱۱

۴ انفاق نہ کر سکنے پر گریہ ۱۲

وضاحت ۱۳

۵. انفاق کا اجر عظیم ۱۴

وضاحت ۱۴

ایمان اورانفاق دو عظیم سرمائے ۱۴

جذبہ انفاق ۱۷

۶. سرمایہ جاودانی ۱۸

وضاحت ۱۸


چند اہم نکتے ۲۰

الف)انفاق اضافہ کا سبب ہے کمی اور نقصان کا نہیں ۲۰

(ب) اپنے اموال خدا کے پاس محفوظ کرو ۲۲

(ج)مفہوم انفاق کی وسعت ۲۳

۷. تمہارے انفاق خدا کے یہاں محفو ظ ہیں ۲۴

وضاحت ۲۴

۸ راہ خدا میں انفاق کرو اور فقر سے نہ ڈر و ۲۴

شیطانی افکار سے جنگ ۲۵

۹. غیر مسلمین پر انفاق کرو ۲۷

شان نزول ۲۷

توضیح ۲۷

انفاق کا اثر انفاق کرنے والے کی زندگی میں ۲۸

معنی وجہُ اللّٰہ ۲۹

وضاحت ۳۰

۱۱ کون لوگ آتش جہنم سے دور ہیں ؟ ۳۱

تو ضیح ۳۱

۱۲. بلند وبالا مقاصد تک پہنچنے کا راستہ ۳۲

توضیح ۳۲

دلوں میں آیات قرآنی کا نفوذ ۳۳

انفاق ،روایات اسلامی میں ۳۴


دوسری فصل : انمول انفاق کے شرائط ۳۷

۱۳ انمول انفاق ۳۷

توضیح ۳۷

کن اموال کو انفاق کیا جائے ۳۸

۱۴ انفاق کے مختلف طریق ے ۳۸

۱۵ انفاق ہر چیز اور ہر طریقہ سے ۴۰

توضیح ۴۰

تو ضیح ۴۱

۱۶ پوشیدہ طور پر انفاق بہتر ہے ۴۱

وضاحت ۴۱

تیسری فصل : کس پر اورکس طرح انفاق کریں؟ ۴۴

۱۷ کیسے اور کس پر انفاق کریں؟ ۴۴

وضاحت ۴۴

انفاق میں میانہ روی کی رعایت کرنا ۴۴

ایک سوال کا جواب ۴۷

جواب - ۴۸

چند نکتے ۴۹

الف) فضول خرچی کی بلا ۴۹

اسراف کیا ہے؟ ۴۹

ب) اسراف و تبذیر کے درمیان فرق ۵۱


(ج) کیا انفاق، میانہ روی اورایثار کے درمیان کوئی تضاد پایا جاتا ہے؟ ۵۲

۱۸ انفاق کا بہترین مقام ۵۲

توضیح ۵۲

اولویت ،روایات اسلامی میں ۵۴

چوتھی فصل : انفاق کی قبولیت کے موانع ۵۶

۱۹. انفاق قبول ہونے کی شرط ۵۶

وضاحت ۵۶

دوسری خوبصورت مثال ۵۷

۲۰. موانع قبول ۵۸

وضاحت ۵۸

۲۱. انفاق کی قبولیت کے دوسرے موانع ۶۰

وضاحت ۶۰

انمول اور قابل قبول انفاق کیا ہے؟ ۶۰

روایات اسلامی میں انفاق کی قبولیت کے شرائط ۶۲

پانچویں فصل : نمائشی انفاق ۶۳

۲۲ ریا کاروں کا انفاق ۶۳

الہٰی اورنمائشی انفا ق ۶۳

۲۳ نمائشی انفاق کا دوسرا نمونہ ۶۵

وضاحت ۶۵

ایک بہترین مثال ۶۵


دو نکتے ۶۶

نمائشی انفاق ،روایات کی روشنی میں ۶۷

چھٹی فصل : انمول انفاق کی دس لازمی شرطیں ۶۸

۲۴ انمول انفاق کی د س لازمی شرطیں ۶۸

ساتویں فصل : راہ خدا میں انفاق کے سبق آموز قصے ۷۱

۱.سول خدا سے سیکھیں ۷۱

۲. اخلاص عمل حضرت علی - سے سیکھیں ۷۳

۳ شفاعت کی سند ۷۴

۴ دوست و دشمن پر انفاق ۷۶

۵ بھوکے جانور پر انفاق ۷۷

۶. خشک سالی ۷۸

۷. صدقہ دے کر بلائیں دور کیجئے ۷۸

۸. اولیائے خدا سے محبت کا نتیجہ ۸۰

۹. عالم اور محتاج پڑوسی ۸۲

۱۰ یتیموں کے ساتھ نوازش ۸۳

۱۱. ایک ہار اور اتنی ساری برکتیں ۸۴

۱۲ محتاجوں کی مدد، مانگنے سے پہلے ۸۵

۱۳. بے منت صدقے ۸۷

۱۴ میں حضرت علی (ع) سے طلبگار ہوں ۸۹

۱۵ پاک وپاکیزہ اموال سے انفاق ۹۱


۱۶ غیرمسلم ضرورتمند کی بھی مدد کرو ۹۳

۱۷ لوگوں کے ہمراہ ۹۴

۱۸ غربت کی مشکلات کا بہترین راہ حل ۹۵