اسلامی نظریہ حکومت
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف علی اصغر رضوانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


اسلامی نظریہ حکومت کے بارے میں بتیس سبق

مصنف : علی اصغر رضوانی


پہلا باب :

دين اور سياست

سبق نمبر ۱: سياست اور اس كے بنيادى مسائل

سبق نمبر ۲: اسلام اور سياست

سبق نمبر ۳: دينى حكومت كى تعريف

سبق نمبر ۴ : سياست ميں حاكميت دين كى حدود

سبق نمبر ۵: دينى حكومت كے منكرين

سبق نمبر ۶: سيكولرازم اور دينى حكومت كا انكار

سبق نمبر ۷،۸: دينى حكومت كى مخالفت ميں كى ادلّہ


تمہيد:

''دين اور سياست كا باہمى تعلق '' گذشتہ چند عشروں سے اسلامى معاشروں ميں ايك اہم ترين فكرى بحث كے طور پر سامنے آياہے _ ايران ميں ا سلامى انقلاب كى كاميابى اور اسلامى جمہورى نظام كى تشكيل نے اس بحث كو مزيد وسعت دى ہے _ اوراسلامى حكومت كو بہت سے لكھاريوں اور مفكرين كى توجہ كا مركز بنادياہے _

دينى حكومت كے مختلف پہلو قابل غور ہيں _ پہلے باب ميں ہمارى كوشش يہ ہے كہ ''دين اور سياست كے باہمى تعلق'' كے مختلف پہلوؤں كو اختصار كے ساتھ واضحكريں اور دينى حكومت كى ايك واضح تصوير آپ كے سامنے پيش كريں_ دينى حكومت كے تصور كوموجودہ دور كے بعض سياسى مفكرين كى شديد مخالفت كا سامنا ہے لہذا اس باب ميں ہم انكى مخالفت كى مختلف قسموں كاجائزہ ليتے ہوئے ان ميں سے بعض كى ادلة كے جواب ديں گے_


پہلا سبق :

سياست اور اس كے بنيادى مسائل

انسان ايك اجتماعى موجودہے كيونكہ عاطفى ، اقتصادى اور ثقافتى ضروريات اسے ايك اجتماعى اور معاشرتى زندگى گزارنے پر مجبور كرتے ہيں _ گھرانہ ، خاندان ، قبيلہ، ديہات، شہر ، ملك اور قوم و ملت تمام اجتماعى زندگى كے مختلف جلوے ہيں اجتماعى زندگى ميں تمام افراد كے منافع اور ضروريات ايك دوسرے كے ساتھ مربوط ہوتے ہيں _ بنابريں ايسے موارد بھى آتے ہيں كہ جن كا تعلق پورے معاشرہ كے ساتھ ہوتاہے _ اور ہر فرد اپنے طور پر تنہا ان كے متعلق فيصلہ نہيں كرسكتا_

مثال كے طور پر اگر ہم ايك قبيلہ كو مدنظر ركھيں تو اگر چہ اس كا ہر فرد اپنے طور پر اپنے كچھ ذاتى مسائل كا فيصلہ كرسكتاہے اور اپنے ذاتى فيصلےكے مطابق عمل كر سكتاہے_ ليكن كسى دوسرے قبيلہ كے ساتھ جنگ يا صلح جيسے مسائل ميں اپنى انفرادى رائے كے مطابقفيصلہ نہيں كرسكتا_ كيونكہ جنگ يا صلح ايسے مسائل ہيں جوپورے معاشرے كے ساتھ مربوط ہيں نہ كہ انفرادى مسائل كہ معاشرے كا ہر فرد انفرادى طور پر ان كے متعلق فيصلہ كرے اور اپنى ذاتى تشخيص كے مطابق عمل كرے _

يہ حقيقت ہے كہ چھوٹے بڑے ہر معاشرے ميں كچھ اجتماعى مسائل اور مشكلات ہوتى ہيں كہ جن كے حل


كرنے كيلئے اجتماعى فيصلوں كى ضرورت ہوتى ہے اور اسى حقيقت نے انسان كو'' رياست و حكومت ''كے قبول كرنے كى طرف راغب كيا ہے _ طول تاريخ ميں جہاں پر بھى انسانى معاشرہ رہاہے ''رياست اور حكومت'' كا وجود بھى اسكے ہمراہ رہاہے_ہر معاشرے نے چاہے وہ جس شكل ميں بھى ہو_ اپنے اجتماعى امور كى تدبير كيلئے ايك فرد يا چند افراد كو رئيس ، حاكم، امير، والى ، سلطان اور بادشاہ ايسے مختلف عناوين كے تحت قبول كيا ہے _

ہر انسانى معاشرے ميں ايك يا چند افراد ''سياسى اقتدار ''كے حامل ہوتے ہيں _ اور اس كے اجتماعى امور كى تدبير اور اجتماعى زندگى كے مختلف امور كو انجام دينا ان كى ذمہ دارى ہوتى ہے _ بنابريں ''سياست''(۱) كى يوں تعريف كى جاسكتى ہے :

'' سياست'' يعنى ايك معاشرے كے بڑے بڑے مسائل و مشكلات كے بارے ميں فيصلہ كرنا اور انكى تدبير كرنا_ يہ سرپرستى اس معاشرے كى مشكلات كو رفع كرنے ، مختلف امور كو منظم كرنے ، منصوبہ بندى اور اسكے اجراء كو شامل ہے _

____________________

۱)سياست لفظ '' سوس'' سے نكلاہے_ جس كے لغوى معنى رياست ، پرورش، سزا دينا اور رعايا كے امور كى ديكھ بھال كرنا ہے_

ابن منظور كہتے ہيں: السوس: الرياسة ،يقال: ساسوہم سوساً و ساس الا مرَ سياسة قام بہ (لسان العرب ج۶ ص ۱۰۸ ''سوس'')_

فيروز آبادى كہتے ہيں : سُستُ الرّعية سياسة : امرتہا و نہيتہا و سُوّسَ فلانٌ ا مرَ الناس صُيّر ملكاً (القاموس المحيط ص ۷۱۰ '' سوس'') سياسى لغت ناموں ميںسياست كى مختلف تعريفيں كى گئي ہيں ان ميں سے بعض كى طرف ہم اشارہ كرتے ہيں _

الف: انسانى معاشروں پر حكومت كرنے كے فن كو'' سياست'' كہتے ہيں _

ب:مختلف مسائل كے حل كے بارے ميں فيصلہ كرنا_

ج:ملكى امور كے انتظام كيلئے حكومت جن تدابير كو كام ميں لاتى ہے انہيں سياست كہتے ہيں _

د:اجتماعى امور كو منظم كرنے كيلئے حكومت جس طاقت كو بروئے كار لاتى ہے اس كے علم كو سياست كہتے ہيں _


'' سياست'' كے بہت سے ديگر معانى بھى ہيں بطور مثال اگر ہم سياست كے عملى پہلو كو مدنظر ركھيں تو كہہ سكتے ہيں : سياسى قدرت كو حاصل كرنے كيلئے كوشش اور اسكى حفاظت اور تقويت كرناسياست كہلاتاہے_

اگر ہم سياست كے فكرى اور نظرياتى پہلو كو ديكھيں تو پھر يوں تعريف كرسكتے ہيں : سياسى طاقت حكومتى ڈھانچہ اور سياسى حكومت ميں مختلف گروہوں كے باھمى تعلقات كا مطالعاتى جائزہ، سياست كہلائے گا _

بہر حال سياست ، سياسى اقتدار سے متعلقہ ابحاث اور اجتماعى امور كى تدبير ہميشہ سے صاحبان فكر كى توجہ كا مركز رہى ہيں _ افلاطون كى كتاب '' جمہوريت ''، ارسطو كى كتاب'' سياست'' اور ابو نصر فارابى كى كتاب ''مدينہ فاضلہ'' اس بات كى شاہد ہيں كہ عظيم مفكرين كے نزديك سياست كے موضوع كو ہميشہ بڑى سنجيدگى سے ليا گيا ہے_ انسانى معاشروں كے دن بدن پيچيدہ ہونے اور ان كے ايك دوسرے كے ساتھ بڑھتے ہوئے سياسى ، اقتصادى اور ثقافتى تعلقات نے سياسى ابحاث كو مزيد اہميت كا،حامل بنادياہے اور انكى وسعت ميں مزيداضافہ كردياہے_

علم سياست اور سياسى فلسفہ(۱)

عنوان '' سياست'' كے تحت داخل مسائل بہت مختلف اور متنوع ہيں_'' علم سياست'' ، ''سياسى فلسفہ'' ، ''سياسى آئيڈيالوجي'' اور ''سياسى تجزيہ'' جيسے الفاظ ميں سے ہر ايك سياست كے ساتھ مرتبط مختلف امور كى تحقيقات اور مطالعات كے ايك گوشے كى طرف اشارہ ہے _ ان ميں سے بعض مطالعات عملى مباحث كے

___________________

۱) political philosophy


ساتھ مختص ہيں جبكہ بعض كا تعلق نظرياتى پہلوسے ہے_ اس تنوع اور وسعت كا راز يہ ہے كہ سياسى سوالات اور سياسى افكار بہت ہى مختلف اقسام كے ہيں اور علم سياست كا ايك شعبہ ان تمام سوالات اور ضروريات كا جواب نہيں دے سكتا _ بعض سياسى سوالات اور احتياجات كا تعلق عمل سے ہے_ مثلا ايك ملك كے سياسى ماہرين اور سياستدان جاننا چاہتے ہيں كہ ہمسايہ اور دوسرے ممالك سے تعلقات قائم كرنے ميں انكا موقف كيا ہونا چاہيے اور عالمى سطح پر بين الاقوامى تعلقات كو كس طرح استوار كريں تو اس كيلئے ان كے پاس عالمى اور بين الاقوامى سطح پر قائم سياسى اقتدار اور طاقتوں كے متعلق اسى طرح جامع تجزيہ ہونا چاہيئےہ جس طرح قومى سطح پر ان كے لئے علاقہ كى سياست كے پيچ و خم سے آگاہ ہونا ضرورى ہے _ پس عالمى اور علاقائي حالات سے آگاہ ہونے كے بعد اپنے سياسى اہداف اور قومى منافع كو متعين كريں اور انتہائي دقت نظر سے طے كريں كہ ان كے دراز مدت اورمختصر مدت مفادات كونسے ہيں اس مرحلے كے بعد اگلے مرحلے ميں وہ اپنے سياسى اہداف كے حصول كيلئے ايك منظم لائحہ عمل تيار كريں اور وسيع پيمانے پر منصوبہ بندى كريں اور پھر بڑى باريك بينى سے انہيں عملى جامہ پہنائيں_

اس قسم كے سياسى مطالعات جو عملى پہلو كے حامل ہيں_'' علم سياست''، ''سياسى تجزيہ و تحليل'' اور'' لشكرى و فوجى مطالعات ''(۱) جيسے شعبوں كے ساتھ مماثلت ركھتے ہيں _ اور ان فنون اور شعبوں پر مسلط ہونا اس قسم كے سوالات اور مسائل كے جواب دينے كيلئے مفيد ثابت ہوسكتے ہيں_

دوسرى قسم كے سياسى سوالات اور مسائل كا تعلق علمى اور نظرياتيپہلو سے ہے_ عملى پہلوكى نسبت علمى پہلو عالَم سياست ميں بنيادى اور اساسى حيثيت ركھتا ہے_ يہاں پر ہم اس قسم كے چند سوالات كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

____________________

۱) Strategie studies


بنيادى طور پر ہميں حكومت كى احتياج كيوں ہے؟

حكومت كرنا كن افراد كا حق ہے؟

حكمرانوںاور سياسى اقتدار كے حاملين كى اطاعت كيوں ضرورى ہے؟

عوام كے مقابلے ميں حكمرانوں كے فرائض كياہيں؟

حكومت كے اہداف كيا ہونے چاہئيں؟

حكومت كس حد تك عوام كى آزادى كو محدود كرنے كا حق ركھتى ہے؟

كيا حكومت صرف مادى فلاح و بہبود اور امن و امان كى ذمہ دار ہے؟ يا معاشرے كى خوشحالى اوراسكي

روحانى ضروريات كو پورا كرنے كى بھى ذمہ دار ہے؟

معاشرہ كى خوشحالى اور خير و بركت سے كيا مراد ہے؟ اور اس كا معيار كيا ہے؟

معاشرتى امور كو چلانے اور انكى منصوبہ بندى كرنے ميں معاشرتى انصاف كا كيا كردار ہے؟

معاشرتى انصاف اور اقتصادى و انفرادى آزادى كے در ميان تضاد اور ٹكراو كى صورت ميں كسے ترجيح دى جائے گى ؟

اس قسم كے بنيادى سوالات كى تحقيق '' سياسى فلسفہ'' ميں كى جاتى ہے_

مختلف سياسى مكاتب كہ جنہيں ہم ''سياسى افكار و نظريات'' سے تعبير كرتے ہيں انہى سوالات كے جوابات كى بنياد پر تشكيل پاتے ہيں_ دوسرے لفظوں ميں ہر سياسى مكتب كى بنياد ايك مخصوص سياسى نظريہ ( سياسى فلسفہ) پر ہوتى ہے _ مثال كے طور پر'' لبرل ازم''(۱) ايك سياسى مكتب فكر ہے _ وہ ان سوالات كے

____________________

۱) Liberalism


ايسے جواب ديتے ہيں جو بعض جہات سے دوسرے سياسى مكتب فكر مثلا اشتراكيت (۱) كى تعليمات سے بالكل مختلف ہوتے ہيں _ لبرل ازم فردي، اقتصادى اور ثقافتى آزادى كا حامى ہے_ اور اس نظريے كا قائل ہے كہ معاشرتى انصاف كے بہانے، ذاتى مالكيت اور اقتصادى آزادى پر قدغن نہيں لگايا جاسكتا_ لبرل ازم كى نظر ميں حكومت كے اختيارات محدود ہونے چاہيں_ حكومت كا كام صرف رفاہ عامہ ، امن و امان قائم كرنا اورانسانى حقوق كے بنيادى ڈھانچے كى حفاظت كرنا ہے _ سعادت ، خوشبختى ، معنويات اور اخلاقيات كا تعلق انسان كى انفرادى زندگى كے ساتھ ہے _ يہ حكومت كے فرائض ميں شامل نہيں ہيں _ اس كے مقابلہ ميں سوشلزم كہتاہے: معاشرتى انصاف كا قيام حكومت كى سب سے بڑى اور اہم ذمہ دارى ہے اسى لئے اقتصادى امور حكومت كے كنٹرول ميں ہونے چاہيں جبكہ ذاتى مالكيت يا تو بہت محدود ہونى چاہيے ياپھر اسكا سرے سے ہى خاتمہ كردينا چاہيے_يہاں پردو نكات كى وضاحت ضرورى ہے_

۱ : علم سياست اور سياسى تجزيہ و تحليل كے ساتھ مربوط بہت سے مسائل ہميشہ جديد اور تبديل ہوتے رہتے ہيں كيونكہ عالمى سطح پر حكومتيں اور سياسى تعلقات بدلتے رہتے ہيں_

اقتصادى ، ثقافتى اور سياسى تبديلياںعلاقائي اور عالمى سياست پر اثر انداز ہوتى ہيں جس كے نتيجہ ميں سياسى ماہرين كو ہميشہ نت نئے سوالات اور مسائل كا سامنا كرنا پڑتا ہے_ ليكن ''سياسى فلسفہ''كے متعلقہ مسائل

ميں كوئي تبديلى نہيں ہوتى يہ اساسى اور مخصوص مسائل ہوتے ہيں كہ جن سے سياسى ماہرين دوچار رہتے ہيں_

ہر سياسى ماہر جب اپنے مخصوص نظريات كے تحت ان سوالات كا جواب ديتا ہے تو اس سے ايك سياسى نظريہ يا مكتب تشكيل پاتا ہے_ لہذا ملكى يا بين الاقوامى سياست ميں تبديلى آنے سے يہ سياسى مكاتب تبديل نہيں ہوتے_

____________________

۱) socialism


۲: ''سياسى فلسفہ'' كے دائرہ ميں بہت سے سوالات آتے ہيں_ جيسا كہ اوپر اشارہ ہوچكا ہے كہ ان سوالات كے جو جواب ديئے جاتے ہيں انہى كى بنياد پر سياسى مكاتب تشكيل پاتے ہيں اورا سى بنياد پر ان كى شناخت ہوتى ہے _ ليكن اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ ان مختلف سياسى مكاتب ميں كوئي وجہ اشتراك نہيں ہے اور سياسى فلسفہ كے تمام مسائل كے جوابات ايك دوسرے سے بنيادى فرق ركھتے ہيں_ ممكن ہے كہ ايك سياسى مكتب كى دوسرے سياسى مكاتب سے عليحد گى اورامتياز صرف ايسى ہى بعض مباحث ميں ہو_ اور بعض ديگر جہات سے وہ دوسرے سياسى مكاتب سے اتفاق نظر ركھتا ہو _ مثلا '' اشتراكى جمہوريت '' (۱) اور '' آزاد جمہوريت''(۲) جو كہ سياسى نظريات كے عنوان سے دو رقيب مكتب فكر ہيں ، اس نكتہ پر متفق ہيں كہ جمہوريت اور را ے عامہ سياسى حاكميت كے جواز كى بنياد ہے اور حكومت و حكمران كا انتخاب عوام كى را ے كى بنياد پر ہونا چاہيے اور ان دو مكاتب ميں اختلافى نكتہ يہ ہے كہ پہلا مكتب فكر معاشرتى عدل و انصاف پر زور ديتا ہے اور دوسرا شخصى آزادى و خصوصى مالكيت پر، ايك اشتراكيت كى بات كرتا ہے اور دوسرا انفراديت كى _

____________________

۱) Social Democracy

۲) Liberal Democracy


خلاصہ

۱) ''رياست'' انسان كى اجتماعى زندگى كا جزء لاينفك ہے _ ہر معاشرہ اپنے اجتماعى امور كے نظم و تدبير كيلئے ايك يا چند افراد كے سياسى اقتدار كو تسليم كرتا ہے_

۲)'' سياست'' يعنى معاشرتى امور كى تدبير ، ہميشہ سے مفكرين كى توجہ كا مركز بنى ہوئي ہے_

۳) دنيائے سياست كے مختلف شعبے ہيں_ اسى لئے علم و تفكر كے متعدد گوشے اس كے مسائل كے ساتھ مربوط ہيں_

۴) علم سياست ، سياسى تجزيہ و تحليل اور سياسى نظريات كا عملى سياست كى مباحث كے ساتھ گہرا تعلق ہے_

۵)''سياسى فلسفہ ''سياست كى علمى اور بنيادى مباحث كو زير بحث لاتا ہے_

۶) ہر سياسى مكتب اور نظريہ كى بنياد ايك مخصوص سياسى فلسفہ پر ہوتى ہے_

۷) عملى سياست كو ہميشہ نت نئے مسائل اورموضوعات كا سامنا كرنا پڑتا ہے_ جبكہ سياسى فلسفہ كے متعلقہ مسائل ہميشہ ثابت اور استوار ہوتے ہيں_

۸) ممكن ہے مختلف سياسى مكاتب فكر سياسى فلسفہ كے بعض مسائل ميں ايك ہى را ے ركھتے ہوں_


سوالات :

۱) كيا وجہ ہے كہ ہر انسانى معاشرہ ''حكومت اور سياسى اقتدار ''كا حامى اور خواہشمند ہوتا ہے؟

۲) سياست كى تعريف كيجئے؟

۳)علمى سياست كا كونسا شعبہ عملى سياست كے شعبوں كى تحقيق و بررسى كرتا ہے؟

۴) چند ايسے سوالات ذكر كيجئے جن كا جواب ''سياسى فلسفہ'' ديتا ہے؟

۵) لبرل ازم ايك سياسى مكتب فكر كے عنوان سے كن امور كا دفاع كرتا ہے؟

۶) روز مرہ كے سياسى اور اقتصادى تحولات سياسى مطالعات كے كس شعبہ پر اثر انداز ہوتے ہيں؟


دوسرا سبق :

اسلام اور سياست

حكومت ايك اجتماعى ضرورت ہے_ چونكہ انسانى معاشرہ ايسے افراد سے تشكيل پاتاہے كہ جنكے مفادات ، تعلقات اور طرزتفكر متضاد اور متعارض ہيں لہذا اسے ايك حكومت كى ضرورت ہے_ انسانى اجتماع چاہے وہ ايك محدود اور مختصر شكل ميں ہى كيوں نہ ہو جس طرح ايك قبيلہ يا ديہات ، اُس ميں بھى رئيس و مرئوس (حاكم اور رعيت) كى ضرورت ہے _ مفادات كا ٹكراؤ ، باہمى تنازعات ، حق تلفى اور امن عامہ كو خراب كرنے والے عناصر ، ايسے عوامل ہيں جو ان امور كى ديكھ بھال كرنے والى اور نظم ونسق كو برقرار ركھنے والى مركزيت كا تقاضا كرتے ہيں _بنابريں اس مركزيت كے بغير كہ جسے ہم حكومت يا رياست كہتے ہيں معاشرہ نامكمل رہے گا اور اپنى بقا سے بھى ہاتھ دھو بيٹھے گا _ يہمركزيت سياسى اقتدار ،قوت فيصلہ اورقدرت امر و نہى كى حامل ہو گي_

جب خوارج نے اپنے فكرى انحطاط اور شورش طلب انداز ميں لا حكم الاللہ ( خدا كے سوا كسى كا حكم قابل قبول نہيں) كا نعرہ بلند كيا اور اسلامى معاشرے كيلئے حكومت و حكمرانى كى نفى اور اپنے اوپر صرف خدا كى حكومت كے خواہاں ہوئے تو اميرالمؤمنين نے فرمايا:


انه لا بد للناس من امير برّ: اوفاجر ، يعمل فى امرته المؤمن ، و يَستمتعُ فيها الكافر، و يُبَلّغُ الله فيها الاجل، و يُجمع به الفيء ، و يقاتلُ به العَدو، و تأمن به السُبُل ، و يُؤخذ به الضعيف من القويّ، حتى يَستريحَ برّ ، و يستراح من فاجر (۱)

لوگوں كيلئے ايك حاكم كاہونا ضرورى ہے _ خواہ وہ اچھا ہو يا برا _ تا كہ مومن اس كے زير سايہ اپنے كام انجام دے سكے _ اور كافر اس كے عہد ميں لذائد سے بہرہ مند ہوگا _ اللہ تعالى اس نظام حكومت ميں ہر چيز كو اس كى آخرى حدوں تك پہنچا دے گا اسى حاكم كى وجہ سے مال غنيمت جمع ہوتا ہے، دشمن سے لڑا جاتا ہے، راستے پر امن رہتے ہيں،قوى سے كمزور كا حق دلايا جاتا ہے، يہاں تك كہ نيك لوگ خوشحال اور برے لوگوں سے امان پاتے ہيں _

امير المؤمنين كا يہ فرمان حكومت كے ضرورى ہونے كى نشان دہى كرتا ہے_ اور اس بات كا عند يہ ديتاہے كہ انسانى معاشرے كيلئے حكومت كى اتنى اہميت ہے كہ ايك غاصب اور فاجر و فاسق كى حكومت بھى معاشرہ كى بد امنى اور فقدان حكومت سے بہتر ہے كيونكہ حكومت اگر چہ فاسق و فاجر كى ہى كيوں نہ ہو بعض اجتماعى نقائص اور خاميوں كو چھپا ديتى ہے _ اور بعض اجتماعى ضروريات كو پورا كر تيہے _

قرآن و حديث كے مطالعہ سے واضح ہوجاتا ہے كہ اسلام نے ايك دينى فرمان يا حكم كے تحت مسلمانوں كو حكومت كى تشكيل كى دعوت نہيں دى كيونكہ لوگ خود بخود حكومت كى تشكيل كرتے ہيں اور اس كيلئے

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۴۰_


انہيں كسى دعوت ، ترغيب يا نصيحت كى ضرورت نہيں ہے اس نكتے كى طرف عظيم مفكر اور فيلسوف علامہ طباطبائي نے اپنى كتاب تفسير الميزان ميں اشارہ فرماياہے: قطعى طور پر لوگ اپنے معاشرے ميں حكومت اور رياست كے قائل ہيں _ اور اپنے انتظامى امور كيلئے ايك يا چند افراد كو سياسى اقتدار سونپ ديتے ہيں _ اسى لئے قرآن كريم نے لوگوں كو حكومت كى تشكيل كى دعوت نہيں دى بلكہ اسے ان ضرورى و بديہى امور ميں سے لياہے كہ جن ميں كسى دعوت يا تشويق كى ضرورت نہيں ہے _ وہ چيز جس كى طرف قرآن كريم لوگوں كو دعوت ديتاہے وہ محور دين پر اجتماع و اتفاق ہے_ (۱)

اس كے باوجود كيا حكومت اور سياست انسانى معاشرے كى ايك واقعى ضرورت كے عنوان سے دين اسلام كى مورد توجہ قرار نہيں پائي؟ يہ دين جس نے خود كو دين كامل اور خاتم الاديان كہا ہے، كيا يہ اس حقيقت سے آنكھيں بند كر كے گزرگيا اور اس كے متعلق كوئي ہدايت يا فرمان جارى نہيں كيا ؟ كيا اسلامى تعليمات صرف انسان كى انفرادى زندگى اور اس كے خدا كے ساتھ تعلق تك محدود ہيں؟ كيا اس دين مبين نے اجتماعى تعلقات ، معاشرتى امور كا نظم ونسق اور سياست و حكومت كوخود لوگوں كے حوالے كر دياہے؟ كيسے مان ليا جائے كہ وہ دين كامل جس نے پيدائشے سے ليكر وفات تك انسان كى زندگى كى بہت سى جزئيات ميں ہدايت و راہنمائي كى ہے، اس نے حكومت اور معاشرے كے نظم و نسق جيسے اہم امور جو كہ انسان كى شخصيت اور سعادت ميں اہم كردار ادا كرتے ہيں، كے متعلق كچھ نہيں كہا اور ان كے متعلق كسى قسم كا اظہار نظر نہيں كيا_

يہ تمام سوالات در حقيقت ايك سوال كو جنم ديتے ہيں كيا اسلام سياسى فكر كا حامل ہے ؟ اس سوال كے مثبت جواب كا مطلب يہ ہے كہ اگر چہ اصل حكومت كے بديہى ہونے كى وجہ سے اسلام نے اسے بيان

____________________

۱) تفسير الميزان ج ۳ ، ص ۱۴۴، ۱۴۹_ سورہ آل عمران آيت ۲۶ كے ذيل ميں_


كرنے كى ضرورت محسوس نہيں كى ليكن اس كے متعلق اظہار نظر كيا ہے كہ حكومت كيسے كى جائے اور حكمرانى كا حق كسے حاصل ہے _ جس طرح اسلام نے گھريلو اور اجتماعى زندگى ميںلوگوں كے باہمى روابط كو بيان كيا ہے اسى طرح حكومت و سياست ميں حكمرانوں اور عوام كے باہمى تعلق اور ہر ايك كے حقوق اور ذمہ داريوں كو بھى بيان فرمايا ہے_

بنا بر يں معاشرتى اور سياسى ميدان سے اسلام كو حذف كرنا اوراسے ا نفرادى زندگى اور گوشہ نشينى كى طرف مائل كرنے والا دين قرار دينا اسے اپنى حقيقت سے جدا كرنے كے مترادف ہے _ اسلامى جمہوريہ ايران كے بانى امام خمينى (رح) ان بلند پايہ علماء اور فقہاء ميں سے تھے جنہوں نے اسلام كے اجتماعى اور معاشرتى پہلو پر خاص توجہ دى اور اس بات پر مصر تھے كہ اسلام كو راہبانہ دين قرار دينا در حقيقت اغيار اور استعمارى طاقتوں كى سازش ہے جن كى كوشش ہے كہ اس فكر كے ذريعہ اسلامى ممالك كى پسماندگى كے اسباب فراہم كئے جائيں_ امام خمينى فرماتے ہيں

اسلام ان مجاہدين كا دين ہے جو حق و عدالت كے خواہاں ہيں ان لوگو ں كا دين ہے جو آزادى اور استقلال كے چاہنے والے ہيں ، يہ استعمار كے خلاف جہد و جہد كرنے والوں كا مكتب ہے _ ليكن انہوںنے اسلام كوايك اور طرح سے پيش كيا ہے اورپيش كرتے ہيں _ لوگوں كے ذہنوں ميں اسلام كا غلط تصور ڈالا ہے علمى مدارس ميں اس كى شكل مسخ كركے پيش كى گئي ہے ، تا كہ اسلام كى جاودانى اور انقلابى خصوصيات كو اس سے چھين ليا جائے _ مثلا يہ تبليغ كر رہے ہيں كہ اسلام معاشرتى دين نہيں ہے ، دين حيات نہيں ہے، اس كے پاس معاشرتى نظام نہيں ہے ، كوئي قانون نہيں ہے ، كوئي حكومتى دستور نہيں ہے اور نہ ہى حكمرانى كا كوئي لائحہ عمل ہے(۱) _

____________________

۱) ولايت فقيہ ، ص ۴_


سياست ميں اسلام كے دخيل ہونے كى ادلّہ

اسلام ايك اجتماعى اور معاشرتى دين ہے ، اس كى حكومت و فرمانروائي انفرادى زندگى سے وسيع ترہے اوريہ مختلف اجتماعى اور سياسى روابط پر مشتمل ہے _ اس مدعا كو دو دليلوں سے ثابت كيا جا سكتا ہے _

الف _ استقرائي روش كے ساتھ ہم كتاب و سنت ميں غور كرتے ہيں اور مختلف فقہى ابواب ميں دينى تعليمات كا مطالعہ كرتے ہيں _ اس تدريجى اور ہمہ گير جستجو سے واضح ہو جائے گا كہ بعض صوفيانہ اور راہبانہ اديان جيسے بدھ مذہب او رعيسائيت كے بعض فرقوں كى طرح كيا اسلام بھى ايك انفرادى دين ہے كہ جس كا معاشرتى اور اجتماعى امور سے كوئي تعلق نہيں ہے ؟يا عبوديت ، خدا كے سامنے انسان كى بندگى كى كيفيت كے بيان ، لوگوں كے با ہمى تعلقات ، اخلاقيات او رمعنوى زندگى كے بيان كرنے كے ساتھ ساتھ اسلام نے انسان كى اجتماعى زندگى كے مختلف پہلوؤں كے بارے ميں بھى اظہار نظر كيا ہے اور انسان كى اجتماعى زندگى كے مختلف ابعاد ميں سے ايك ،مسئلہ حكومت و سياست بھى ہے _اس طرز جستجو كو ہم'' روش درون ديني'' كا نام ديتے ہيں كيونكہ اس ميں ہم اپنے سوال كا جواب براہ راست اندرون و باطن دين يعنى قرآن و سنت جو كہ اس كے اصلى منابع ہيں سے دريافت كريں گے _

ب_ سياست اور اجتماعى زندگى ميں اسلام كے دخيل ہونے كے اثبات كا دوسرا طريقہ اس دين مبين كے بعض اوصاف اور خصوصيات كے ساتھ تمسك ہے _ اسلام كابعض خصوصيات سے متصف ہونا ، مثلا يہ دين كامل ہے ، دين خاتَم ہے ، اس كى آسمانى كتاب يعنى قرآن كريم ہرشئے كى وضاحت كرنے والى ہے(۱) اور ان تمام امور پر مشتمل ہے جن پر انسان كى ہدايت اور سعادت موقوف ہے اس كا عقلى اور منطقى لازمہ يہ ہے

____________________

۱) سورہ نحل آيت ۸۹_


كہ يہ دين اجتماعى امور ميں دخالت ركھتاہے _ اس استدلال سے معلوم ہوتاہے كہ كمال دين اوراس كے قلمرو ميں حكومت اور اجتماعى امور كا داخل ہونالازم و ملزوم ہيں _ اوراجتماعى امور اور سياست ميں دين كا راہنمائي نہ كرنا اس كے ناقص ہونے كى دليل ہے _اس دوسرے طرز استدلال كے بارے ميں ہم آئندہ مزيد گفتگو كريں گے _ يہاں صرف پہلے طرز استدلال يعنى روش جستجو (استقرائي روش) پرروشنى ڈالتے ہيں _

۱۳۴۸ ھ ش ميں نجف اشرف ميں جب امام خمينى نے دينى حكومت كے متعلق ابحاثكيں تو اسى پہلے طريقے سےسياست او راجتماعى امور ميں اسلام كى دخالت پر استدلال كيا_ انہوں نے اس نكتہ پر زور ديا كہ اسلامى قوانين اور شرعى احكام كى ماہيت اور كيفيت بتاتى ہے كہ يہ قوانين اسلامى معاشرہ كے سياسى ، اقتصادى اور ثقافتى امور كو منظم كرنے كيلئے بنائے گئے ہيں اور يہ احكام حكومت كى تشكيل كے بغيرقابل اجرا نہيں ہيں _ اس قسم كے احكام كے اجرا كيلئے مسلمانوں كى شرعى ذمہ دارى ہے كہ وہ ايك حكومت تشكيل ديں _ اس قسم كے احكام اسلامى فقہ كے تمام ابواب ميں بكھرے ہوئے ہيںبطور نمونہ ايسے بعض احكام كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

ان ميں سے ايك مورد ''اسلام كے مالى احكام'' ہيں _ اسلام ميں جو ماليات مقرر كئے گئے ہيں وہ صرف غرباء اور سادات كى ضروريات پورى كرنے كيلئے نہيں ہيںبلكہ ايك عظيم حكومت كى تشكيل او راس كے ضرورى اخراجات پورے كرنے كيلئے بھى ہيں كيونكہ وہ اموال جن كا تعلق مسلمانوں كے بيت المال سے ہے ان ميں سے ايك ''خمس '' ہے _ فقہ اہلبيت كے مطابق زرعى منافع ،كاروبار، زمين كے اوپر اور زمين كے نيچے موجود تمام ذرائع آمدنى ميں سے اور بطور كلى ہر قسم كے فائدے اور منفعت ميں سے عادلانہ طور پر خمس ليا جاتاہے _ واضح سى بات ہے كہ اس قدر كثير در آمد ايك اسلامى مملكت كو چلانے اور اس كے مالى اخراجات كو پورا كرنے كيلئے ہے وگرنہ اس قدر سرمايہ فقيرسادات كى ضروريات سے بہت زيادہ ہے _ اس قدر وسيع بجٹ


جبكہ اس كے ساتھ اموال زكوةبھى ہوں در حقيقت ايك معاشرہ كى ضروريات كو پورا كرنے كيلئے ہے _ ''جزيہ'' جو كہ ذمى كفار سے ليا جاتا ہے اور اسى طرح زرعى محصولات بھى ايك بڑى درآمد كوتشكيل ديتے ہيں_ يہ تمام امور اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ اس قسم كے تمام مالى منابع ايك معاشرہ كى ضروريات كو پورا كرنے او رحكومت كو تشكيل دينے كيلئے ہيں _

ان ميں سے دوسرا مورد وہ احكام ہيں جو اسلامى نظام كى حفاظت اور اسلامى سرزمين اور ملت مسلمہ كے استقلال كے دفاع كيلئے بنائے گئے ہيں انہى دفاعى احكام ميں سے ايك ، قرآن مجيد كى اس آيت شريفہ''و اعدوالهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخيل'' (۱) ميں بيان كيا گيا ہے اور مسلمانوں كو كہا جا رہا ہے كہ وہ ہر قسم كے خطرہ سے پہلے اپنى فوجى و دفاعى قوت كو مہيا كرليں اوراپنى حفاظت كا سامان پہلے سے تيار ركھيں _

اس قسم كا ايك اور نمونہ اسلام كے عدالتى اور انسانى حقوق كے متعلق احكام ميں ديكھا جاسكتاہے_ اس قسم كے بہت سارے احكام يا''ديات'' ہيں كہ جنہيں ليكر حق داروں كو دينا ہوتاہے يا''حدود و قصاص''ہيں كہ جنہيںاسلامى حاكم كے زير نظر اجرا كيا جاتاہے اور اس قسم كے امور ايك حكومت كى تشكيل كے بغير قابل عمل نہيں ہيں _ يہ تمام قوانين حكومت كے ساتھ مربوط ہيں اور حكومتى قوت كے بغير ايسے اہم امور كو كوئي انجام نہيں دے سكتا _(۲)

اسلام كا سياسى فلسفہ اور سياسى فقہ

يہ تسليم كرلينے كے بعد كہ اسلام سياسى ابعاد كا حامل ہے اور اس كى بعض تعليمات حكومت اور سياست كے

____________________

۱) سورہ انفال آيت ۶۰_

۲) لايت فقيہ (امام خمينى ) ص ۲۰ تا ۲۵_


ساتھ مخصوص ہيں _ يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اسلام كا سياسى تفكر كن شعبوں پر مشتمل ہے ؟

مجموعى طور پر اسلام كے سياسى تفكر كو دو حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے _ ايك حصے كو '' اسلام كا سياسى فلسفہ '' اور دوسرے كو '' اسلام كى سياسى فقہ '' كا نام ديتے ہيں _ گذشتہ سبق ميں اشارہ كرچكے ہيں كہ ہر سياسى مكتب فكر كو چند بنيادى سوالات كا جواب دينا ہوتا ہے _ ايسى مباحث كو '' سياسى فلسفہ '' كا نام ديا جاتا ہے _ بنابريں اسلام كے سياسى تفكر كو بھى ايك خاص علمى بنياد پر استوار ہونا چاہيے اور دنيائے سياست كے ان بنيادى سوالات كے مناسب اور مخصوص جوابات دينا چا ہيے _

اسلام كے سياسى تفكر كا دوسرا حصہ يعنى ''سياسى فقہ '' يا '' فقہ الحكومة '' حكومت كى نوعيت اور اسكى شكل و صورت ، حكمرانوں كے مقابلے ميں عوام كے حقوق ، حكومت اور حكمرانوں كے سلسلہ ميں عوام كى ذمہ دارياں ، مذہبى اقليتوں كے حقوق اور اسلامى حكوت (دار الاسلام)كے غير اسلامى حكومتوں ( دارالكفر) كے ساتھ تعلقات جيسى ابحاث پر مشتمل ہے باالفاظ ديگر پہلا حصہ علمى و بنيادى سياست كى مباحث پر مشتمل ہے_ جبكہ يہ حصہ عملى سياست اور معاشرے كے انتظامى و اجرائي امور كے زيادہ قريب ہے _


سبق كا خلاصہ :

۱) حكومت اور رياست كے بغير معاشرہ ،نامكمل اور زوال پذير ہے _

۲) اسلام ، حكومت كو ايك اجتماعى او رمعاشرتى ضرورت سمجھتا ہے اسى لئے اس نے لوگوں كو تشكيل حكو مت كى طرف دعوت نہيں دى بلكہ حكومت كيسى ہونى چاہيئے ؟ اس بارے ميں اپنى رائے دى ہے _

۳) اسلام كو سياست سے جدا سمجھنا اس دين حنيف كى حقيقت كو مسخ كردينے كے مترادفہے _

۴) اسلام كے لئے سياسى اور اجتماعى پہلو كا وجود دو طريقوں سے ثابت كيا جاسكتاہے _

الف:روش استقرائي ( طرز جستجو )اور اسلامى تعليمات كا مطالعہ ، اسلام كے سياسى اور اجتماعى پہلو كے اثبات كى بہترين راہ ہے_

ب: اسلام كا آخرى اور مكمل دين ہونا اس كے اجتماعى اور سياسى پہلو كے وجود كى دليل ہے _

۵) اسلام كے بعض قوانين ايك جائز دينى حكومت كے بغير قابل اجرا نہيں ہيں _

۶) اسلام كے سياسى تفكر كو دو حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے _

الف: اسلام كا سياسى فلسفہ

ب: اسلام كى سياسى فقہ


سوالات:

۱) امير المومنين نے خوارج كو جو جواب ديا تھا اس سے ''ضرورت حكومت ''كے سلسلہ ميں كيا حاصل ہوتاہے؟

۲) اسلام نے لوگوں كو اصل حكومت كى تشكيل كى ترغيب كيوں نہيں دلائي ؟

۳) سياست ميں اسلام كے دخيل ہونے كے اثبات كيلئے طرز جستجو يا روش استقرائي سے كيا مراد ہے ؟

۴) اسلام كے كامل اور خاتم الاديان ہونے سے اس كے سياسى اور اجتماعى امور ميں دخيل ہونےپر كيسے استدلال كيا جاسكتا ہے ؟

۵) كونسے احكام شرعى كا اجراء اسلامى حكومت كى تشكيل پر موقوفہيں ؟

۶) اسلام كے مالى احكام كس طرح اسلام كے سياسى پہلو پر دليل بن سكتے ہيں ؟

۷) اسلام كا سياسى تفكر كنحصوں پر مشتمل ہے ؟


تيسرا سبق:

دينى حكومت كى تعريف

انسان كى اجتماعى زندگى كى طويل تاريخ مختلف قسم كى حكومتوں اور رياستوں كے وجودكى گواہ ہے جنہيں مختلف خصوصيات كى بنياد پر ايك دوسرے سے جدا كيا جاسكتاہے اور انہيں مختلف اقسام ميں تقسيم كيا جاتاہے_ مثلاً استبدادى و غير استبدادي،جمہورى و غير جمہوري، استعمارى و استعمار كا شكار حكومتيں ، سوشلسٹ و غير سوشلسٹ، ترقى يافتہ و پسماندہ حكومتيں و غيرہ ان ميں سے ہر تقسيم ايك مخصوص معيار كى بنياد پر ہے _ اسى طرح ايك تقسيم يہ بھى ہوسكتى ہے : دينى حكومت اور سيكولر حكومت _

دينى حكومت ايك اصطلاح ہے جو دو چيزوں سے مركب ہے، حكومت اور دين كيساتھ اس كى تركيب ، اصلى اور بنيادى سوال يہ ہے كہ اس تركيب ميں ''دينى ''سے كس مطلب كا افادہ مقصودہے ؟ دين اور حكومت كى تركيب سے كيا مراد ہے؟ ايك حكومت كے دينى يا غير دينى اور سيكولر ہونے كا معيار كيا ہے؟ ان سوالات كے جواب دينے سے پہلے بہتر ہے حكومت كى تعريف كى جائے _


حكومت اور رياست كے معاني

حكومت(۱) اور رياست(۲) گذشتہ اور موجودہ ادوار ميں متعدد معانى ميں استعمال كئے گئے ہيں ان ميں سے بعض معانى مترادف ہيں اور بعض اوقات انہيں مختلف معانى ميں استعمال كيا گيا ہےمثلا جديد دور ميں رياست كامعنى حكومت سے وسيع تر ہے جديد اصطلاح كے مطابق رياست نام ہے ان افراد كے اجتماع كا جو ايك مخصوص سرزمين ميں ساكن ہوں اور ايسى حكومت ركھتے ہوں جو ان پر حاكميت كرتى ہو_ اس تعريف كے مطابق رياست چار اجزا كے مجموعہ كا نام ہے_آبادي،سرزمين ،حكومت، حاكميت_ اس اصطلاح كى بناپر حكومت اور رياست دو مترادف اصطلاحيں نہيں ہيں بلكہ حكومت رياست كا ايك حصہ ہے اور رياست كو تشكيل دينے والے چار عناصر ميں سے ايك عنصر حكومت ہے جو ان اداروں كے مجموعہ كا نام ہے جو ايك دوسرے كے ساتھ مرتبط ہوكر ايك مخصوص سرزمين ميں بسنے والى انسانى آبادى پر حكمرانى كرتى ہے_بنابريں ايرانى رياست اور فرانسيسى رياست و غيرہ انكى حكومتوں سے وسيع تر مفہوم ہے _

ليكن اگر رياست سے مراد وہ منظم سياسى طاقت ہو جو امر و نہى كرتى ہے تو يہ حكومت كے مترادف ہوجائے گى اور اس تعريف كى بناپر رياست صرف كا بينہ اور قوّہ مجريہ كا نام نہيں ہے كہ جن كا كام قانون نافذ كرناہے بلكہ تمام حكومتى ادارے مثلاً قانون ساز ادارے، عدليہ، فوجى اور انتظامى ادارے سب اس ميں شامل ہيں _ در اصل اس تعريف كى رو سے رياست اور حكومت اس قوت حاكمہ كا نام ہے جس ميں معاشرہ پر حاكم سياسى اقتدار كے حامل تمام ادارے شامل ہيں _ اس وقت زير بحث حكومت و رياست سے مراد يہى دوسرا معنى ہے كہ اس معنى ميں حكومت اور رياست جب دين سے مركب ہوتى ہے تو اس كا قابل قبول معنى كونسا ہے_

____________________

۱) Government

۲) State


دينى حكومت كى مختلف تعريفيں

دينى حكومت كى مختلف تعريفيںكى جاسكتى ہيں _ دوسرے لفظوں ميں دينى حكومت كى مختلف اور متنوع تفسيريں بيان كى جاسكتى ہيں و اضح سى بات ہے كہ ان ميں سے كچھ تعريفيں صحيح نہيں ہيں ہم اجمالى طور پر ان ميں سے بعض كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

۱) دينى حكومت اس حكومت كو كہتے ہيں جس ميں ايك مخصوص دين كے معتقدين اور ماننے والے سياسى اقتدار كے حامل ہوں معاشرے كى سياسى طاقت اور سياسى ادارے كسى خاص دين كے پيرو افراد_ جيسے پيروان اسلام يا مسيحيت_كے ہاتھوں ميں ہوںاس تعريف كى بناپردينى حكومت يعنى ديندارافراد كى حكومت_

۲) دينى حكومت يعنى وہ حكومتكہ جس ميں سياسى اقتدارايك مخصوص طبقہ بنام'' رجال دين'' يعني( مذہبى افراد) كے ہاتھ ميں ہو اس تعريف كى بنا پر چونكہ سياسى اقتدار كے حامل مختلف ادارے مذہبى افراد كے ہاتھ ميں ہوتے ہيں اسى لئے اسے دينى حكومت كہتے ہيں _

اس دينى حكومت كى افراطى شكل و صورت يورپ ميں قرون وسطى ميں ملاحظہ كى جاسكتى ہے _ بعض اديان مثلاً كيتھولك مسيحيت ميںمذہبى افراد خاص تقدس اور احترام كے حامل ہوتے ہيں اور عالم الوہيت و ربوبيت اور عالم انسانى كے درميان معنوى واسطہ شمار ہوتے ہيں _ قرون وسطى ميں يورپ ميں جو حكومت قائم ہوئي تھى وہ مذكورہ دينى حكومت سے سازگار تھى _ عيسائيوں كے مذہبى افراد اور كليسا كے پادرى خدا اور مخلوق كے درميان واسطہ ہونے كے ناطے مخصوص حق حاكميت كے حامل سمجھے جاتے تھے _ يہ حق حاكميت خدا كى حكومت اور ربوبيت كى ايك كڑى تھى اور يہ تصور كيا جاتا تھا كہ مذہبى افراد چونكہ ملكوت كے ساتھ مربوط و متصل ہيں لہذا قابل تقديس و احترام ہيں ، اسى لئے ان كے فيصلے، تدابير اور كلام، وحى الہى كى طرح مقدس، ناقابل اعتراض


اور غلطيوں سے مبرّا ہيں _

۳) دينى حكومت وہ حكومت ہے جو ايك خاص دين كى تبليغ ، دفاع اور ترويج كرتى ہے _ اس تعريف كے مطابق ايك دينى حكومت كا معيار ايك مخصوص دين كا دفاع اور تبليغ ہے _ بنابريں ايران ميں صفويوں اور قاچاريوں كى حكومت، سعودى عرب ميں وہابيوں كى حكومت اور افغانستان ميں طالبان كى حكومت مذكورہ دينى حكومت كے مصاديق ہيں كيونكہ يہ حكومتيں اپنے سياسى اقتدار كو ايك خاص دين كے دفاع، تبليغ اور ترويج كيلئے استعمال كرتى ہيں_

۴)دينى حكومت وہ حكومت ہے جو سياست اور معاشرے كے انتظامى امور ميں ايك خاص دين كى مكمل مرجعيت و حاكميت كو تسليم كرتى ہو يعنى اپنے مختلف حكومتى اداروں ميں ايك خاص دين كى تعليمات كى پابند ہو اور كوشش كرتى ہو كہ قانون بنانے ، عوامى كاموں، معيشت اور اجتماعى امور ميں دينى جھلك نظر آئے اور ان تمام حكومتى امور ميں دينى تعليمات كا ر فرما ہوں اور انہيں دين سے ہم آہنگ كرے _ دينى حكومت كا يہ معنى در حقيقت'' دينى معاشرہ ''كى تشكيل كا خواہاں ہے يعنى حكومت يہ چاہتى ہے كہ ثقافتى ، اقتصادي، سياسى اور فوجى و عسكرى تمام اجتماعى امور دينى تعليمات كى بنياد پر تشكيل پائيں _ دينى معاشرہ كو دين كى فكر ہے اور يہ فكر ہمہ گير ہے كسى خاص جہت ميں محدود نہيں ہے_ دينى معاشرہ چاہتاہے كہ اس كے تمام امور دين كے ساتھ ہم آہنگ اور ہم آوازہوں_ اس معنى كى بنياد پر دينى حكومت دين كيلئے ايك خاص شان و اہميت كى قائل ہے _ اُس كى تعليمات كو اپنے لئے نصب العين قرار ديتى ہے_ دين كى حاكميت اور سياسى و انتظامى ميدانوںميں اس كى اہميت كو تسليم كرتى ہے اور معاشرتى و سماجى امور ميں دينى تعليمات كى دخالت كا معيار ان امور ميں دين كا وارد ہونا ہوگا_ دوسرے لفظوں ميں سياسى اجتماعى اور سماجى امور ميں دين كى دخالت كى حدود مكمل طور پر دينى


تعليمات كے تابع ہيں اور جس شعبہ ميں جتنى مقدار دين نے اپنا كوئي پيغام ديا ہو اور اپنى تعليمات پيش كى ہوں اس حكومت كيلئے وہ پيغام اور تعليمات قابل قبول ہوتى ہيں _

مذكورہ چار تعريفوں كا مختصر تجزيہ

مذكورہ چار تعريفوں ميں سے چوتھى تعريف دينى حكومت كى ماہيت و حقيقت كے ساتھ زيادہ مناسبت ركھتى ہے _ كيونكہ ان ميں سے بعض تعريفيں دينى حكومت كے صرف ايك پہلو كى طرف اشارہ كرتى ہيں _ صرف حكمرانوں اور سياسى اقتدار كے حامل افراد كا كسى خاص دين كا معتقد ہونا اس حكومت كے دينى ہونے كى علامت نہيں ہے _ آج دنيا كے اكثر ممالك كہ جن كى حكومتيں غير دينى ہيں ان كے بہت سارے سركارى عہديدار انفرادى طور پردين دار ہيں ، ليكن ان كا ايك خاص دين كے ساتھ لگاؤ اور تديّن ان كى حكومت كے دينى ہونے كى دليل نہيں ہے _ پہلى تعريف ميں جو'' حكومت كے دينى ہونے كا معيار'' بيان كيا گيا ہے وہ چوتھى تعريف ميں بھى شامل ہے_ كيونكہ دين كى حاكميت اور مختلف سركارى اداروں ميں دينى تعليمات كى فرمانروائي كا لازمہ ہے كہ سركارى حكام نظرياتى اور عملى طور پر اس دين كے معتقد ہوں _ اسى طرح تيسر ى تعريف ميں بيان شدہ معيار بھى چوتھى تعريف ميں مندرج ہے كيونكہ جو حكومت دينى معاشرے كى تشكيل اور سماجى و اجتماعى امور ميں دينى تعليمات كے نفوذ كى كوشش كرتى ہے اور حكومتى امور اور قوانين كو دين كے ساتھ ہم آہنگ كرنے كى خواہاں ہوتى ہے _ وہ فطرى طور پر اس دين كا دفاع كرے گى اور اس كى تبليغ و ترويج كيلئے كوشش كرے گى _

دينى حكومت كى دوسرى تعريف كى بنياد'' مذہبى افراد'' كے بارے ميں ايك خاص تصور پر ہے كہ بہت سے اديان، مذہبى شخصيات اور دينى علماء كے متعلق ايسا تصور نہيں ركھتے _ مثال كے طور پر اسلام كسى طرح بھى علماء


دين كيلئے كسى خاص طبقاتى حيثيت كا قائل نہيں ہے اور انہيں مقام عصمت كا حامل نہيں سمجھتا_ اس لئے دينى حكومت كى ايسى تفسير كى كوئي راہ نہيں نكلتى _ علاوہ بر ايں صرف علماء دين اور مذہبى افراد كے ہاتھ ميں حكومتى عہدوں كا ہونا اس حكومت كے دينى ہونے كى دليل نہيں ہے بلكہ حقيقت وہى ہے جو چوتھى تعريف ميں بيان كى گئي ہے كہ مختلف اجتماعى و سماجى امور اور حكومتى اداروں ميں دينى تعليمات كا اجرا ہى حكومت اور سياست كو دينى رنگ دے سكتاہے_

قابل ذكر ہے كہ دينى حكومت سے ہمارى مراد كسى خاص دين سے متصف حكومت نہيں ہے _ بلكہ دنيا كے جس گوشہ ميں كوئي حكومت دينى تعليمات كے آگے سر تسليم خم كردے، اس كى فرمانروائي كو قبول كرلے اور اپنے اداروں ميں دينى تعليمات رائج كردے وہ دينى حكومت كہلائے گى چاہے وہ دين آسمانى اديان ميں سے ہو يا ايسے اديان ميں سے ہو جن كے متعلق ہم مسلمانوں كا عقيدہ ہے كہ ان كا تعلق وحى الہى سے نہيں ہے بلكہ شرك و تحريف سے آلودہ ہيں _

نيز توجہ رہے كہ اگر دين سے ہمارى مراد دين اسلام ہو تو پھر دينى حكومت وہى حكومت ہوگى جو اسلامى تعليمات كے مطابق ہو اور اسلامى تعليمات سے مراد وہ دينى اصول و ضوابط ہيں جو معتبر دينى منابع سے ماخوذ ہوں بنابريں كوئي فرق نہيں ہے كہ وہ دينى تعليمات ،وحى اور معتبر روايات سے حاصل ہوئي ہوں يا معتبر عقلى ادلّہ سے_ البتہ چونكہ اسلامى تعليمات كا اصلى اور اہم ترين منبع قرآن و سنت ہيں اسى لئے دينى حكومت اور سياست ميں اسلام كے دخيل ہونے پر بحث و تحقيق كرنے والے بہت سے افراد كى ''دينى تعليمات''سے مراد وہ تعليمات ہيں جو قرآن اور احاديث سے حاصل ہوئي ہوں_


خلاصہ :

۱ لفظ ''حكومت اور رياست ''كے متعدد معانى ہيں كہ جن ميں سے بعض معانى مترادف ہيں_

۲ دور حاضر كى جديد اصطلاح ميں رياست كى جو تعريف كى جاتى ہے ، حكومت اس كا ايك شعبہ اور حصہ ہے _

۳ دينى حكومت كى مختلف تعريفيں كى جاسكتى ہيں يعنى دين اور رياست كى تركيب سے متفاوت معانى پيش كئے جاسكتے ہيں _

۴ اجتماعى اور سياسى زندگى ميں دين كى حاكميت كو قبول كرنے والى حكومت كو دينى حكومت كہنا دين و رياست كى مجموعى حقيقتكے ساتھ زيادہ مطابقت ركھتى ہے_

۵ اس سبق ميں دينى حكومت كى جوچوتھى تعريف كى گئي ہے وہ ايك جامع تعريف ہے اور اس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ ايك حكومت كے دينى ہونے كا معيار يہ ہے كہ معاشرے كے مختلف سياسى شعبوں ميں دينى تعليمات حاكم ہوں_

۶ مختلف سياسى شعبوں ميں دين كى حاكميت كو تسليم كرنے والى حكومت كو دينى حكومت كہنا ، ايك ايسى عام تعريف ہے جو كسى مخصوص دين كے ساتھ مربوط نہيں ہے_


سؤالات

۱ دور حاضر ميں رياست كى تعريف كيا ہے ؟

۲ كونسى تعريف كے مطابق رياست اور حكومت دو مترادف اصطلاحيں ہيں ؟

۳ كونسى تعريف ميں دينى حكومت دين داروں كى حكومت كے مترادف ہے ؟

۴ دينى حكومت كى كونسى تعريف جامع اور قابل قبول ہے ؟

۵ باقى تعريفوں كى نسبت دينى حكومت كى چوتھى تعريف كونسے امتيازات كى حامل ہے ؟


چوتھا سبق:

سياست ميں حاكميت دين كى حدود

گذشتہ سبق سے واضح ہوگيا كہ حكومت كے دينى ہونے كا معيار يہ ہے كہ حكومت اور سياست كے مختلف شعبوں ميں دينى تعليمات كى حكمرانى ہو _وہ چيز جو دينى حكومت كو دوسرى حكومتوں سے جدا اور ممتاز كرتى ہے ، وہ معاشرے كے سياسى اور ديگر امورميں دين كى حاكميت كو تسليم كرنا ہے_ اس بحث ميں بنيادى سوال يہ ہے كہ اس حاكميت كا دائرہ كس حد تك ہے اور دين كس حد تك دنيائے سياست وحاكميت ميں دخيل ہے ؟

دوسرے لفظوں ميں صاحبان دين كيلئے سياست كے كن شعبوں اور حكومت كے كن اداروں ميں دين اور اس كى تعليمات كو بروئے كار لانا ضرورى ہے ؟ اور كونسے شعبوں ميں دين كى حاكميت سے بے نياز ہيں ؟ ايك دينى حكومت كے كونسے پہلو مدنى اور بشرى ہيں اور كونسے پہلو دينى تعليمات سے ماخوذ ہونے چاہيں؟

اس اہم ترين مسئلہ كى تحقيق سے پہلے حكومت اور سياست كے مختلف پہلوؤں اور شعبوں كى شناخت ضرورى ہے _ كيونكہ حكومت كے متعلق قابل بحث پہلوؤں سے مكمل آگاہى ، ان تمام پہلوؤں ميں دين كى دخالت كے سمجھنے ميں مددگار ثابت ہوسكتى ہے _


حكومت اور اس كے سياسى پہلو:

ہم نے حكومت اور رياست كى تعريف كى تھى : '' وہ منظم سياسى قوت جو امر و نہى اور ايك مكمل نظام كے اجرا كى حامل ہو '' اس سياسى قوت كے متعلق مختلف جہات قابل بحث ہيں _ اگر چہ يہ سياسى ابحاث مختلف اور ايك دوسرے سے جدا ہيںليكن باہمى ربط كى حامل ہيں _ حكومت سے متعلق مختلف سياسى پہلوؤں كو درج ذيل صورت ميں بيان كيا جاسكتا ہے _

۱_ حكومتيں مختلف قسم كى ہوتى ہيں ، جمہورى ، شہنشاہى اور نيم شہنشاہى و غيرہ _ بنابريں حكومت سے متعلق بنيادى مباحث ميں سے ايك يہ طے كرناہے كہ كون سا سياسى طرز حكومت معاشرہ پر حاكم ہے_

اسى طرح صاحبان اقتدار كى انفرادى خصوصيات اور شرائط كا تعيّن اسكى بنيادى بحث شمار ہوتى ہے_ سياسى نظام كى نوعيتكى تعيين ہر معاشرے كے سياسى اقتدار كے حامل اداروں كى ضرورى خصوصيات كى ايك حد تك پہچان كروا ديتى ہے _

۲_ ہر حكومت كا ايك حكومتى ڈھانچہ ہوتاہے يعنى ہر حكومت مختلف اداروں اور قُوى سے تشكيل پاتى ہے _ حكومتى ڈھانچے كى تعيين ، اس كے اداروں كے آپس ميں ارتباط كا بيان اور ہر ادارے كے اختيارات اور فرائض كى وضاحت ، سياست اور حكومت كے اہم ترين مسائل ميں سے ہيں _

۳_ ہر رياست اور حكومت قدرت واقتدار(۱) كى حامل ہوتى ہے _ يعنى امرو نہى كرتى ہے ، قوانين بناتى ہے اور انكےصحيح اجرا پر نظارت كرتى ہے _ ايك اہم بحث يہ ہے كہ اس اقتدار كى بنياد كن اہداف اور اصولوں پر ہونى چاہيئے ؟ مختلف حكومتى ادارے جو عوام كو امرو نہى اور روك ٹوك كرتے ہيں وہ كن اصولوں كى بنياد پر

____________________

۱) Authority


ہونے چاہيں؟ مثال كے طور پر ايك سوشلسٹ نظريات كى حامل حكومت جو كہ ماركسزم كى تعليمات كى قائل اور وفادار ہے اپنے اقتدار ميں ماركسزم كى تعليمات كے تابع ہے_ اس قسم كى حكومتوں ميں قانون گزارى ، اقتصادى پروگرام ،آئينى اور ثقافتى تعلقات اور بين الاقوامى معاملات ميں اس مكتب كے اصولوں پرخاص توجہ دى جاتى ہے _ جس طرح كہ '' لبرل جمہورى '' حكومتوں ميں ''جيسا كہ آج كل يورپ اور آمريكہ ميں قائم ہيں '' اقتدار كى بنياد لبرل ازم كے اصولوں پر قائم ہے _ ان ممالك ميں جمہوريت اور اكثريت كى رائے بطور مطلق نافذ العمل نہيں ہوتى بلكہ لبرل ازم اسے كنٹرول كرتا ہے _ آمريت ، اقتدار اور حكومت كا دائر ہ كار ان اصولوں پر قائم ہوتا ہے جنہيں لبرل ازم كے تابع بنايا جاتا ہے _

۴_ ہر حكومت كى كچھ ذمہ دارياں ہوتى ہيں جنہيں وہ اپنے عوام كى فلاح و بہبود كيلئے انجام ديتى ہے_ حكومت سے مربوط مباحث ميں سے ايك بحث يہ بھى ہے كہ يہ وظائف اور فرائض كيا ہيں ؟ اور عوام كے مقابلے ميں حكومت كى ذمہ دارياں كيا ہيں ؟

۵_ اپنے افعال اور فرائض كى انجام دہى اور حكومت كى سياسى قدرت كا سرچشمہ اقتدار اعلى(۱) ہوتاہے_

ہر حكومت اپنے اقتدار اعلى كا سہارا ليتے ہوئے مختلف ميدانوں ميں اپنى سياسى قوت كو بروئے كار لاسكتى ہے اور اندرون و بيرون ملك اپنے سياسى ارادوں كو عملى جامہ پہنا سكتى ہے _ ہر حكومت اپنے اقتدار اعلى كى بناپر مختلف احكام نافذ كرتى ہے _ پس سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ كيا اس كا اقتدار اعلى جائز اور مشروع ہے يا نہيں ؟ دوسرے الفاظ ميں كيا وہ حكومت كرنے كا حق ركھتى ہے يا نہيں ؟

سياسى فلسفہ ميں مشروعيت(۲) و غير مشروعيت كى بحث اہم ترين مباحث ميں سے شمار ہوتى ہے _ كوئي بھي

____________________

۱) Sovereignty

۲) Legitimacy


سياسى مكتب اس سے بے نياز نہيں ہے _ كيونكہ حكومتى اركان اور ادارے ، اور تمام سياسى فيصلے اور تدابير اپنى حقانيت اور مشروعيت، حكومت كے حق حاكميت اور مشروعيت سے حاصل كرتے ہيں _ ہر حكومت ميں يہ صلاحيت اور قدرت ہونى چاہيے كہ وہ اپنى مشروعيت كا معقول طريقے سے دفاع كرسكتى ہو _

اس مختصر اور اجمالى وضاحت سے روشن ہوجاتا ہے كہ حكومت و رياست كے متعلق كم ازكم پانچ اساسى محور قابل بحث ہيں _ اب ديكھنا يہ ہے كہ ان پانچ محوروں ميں سے كن ميں ''دين'' حاكميت كى صلاحيت ركھتا ہے ؟ دوسرے لفظوں ميں ان پانچ ميدانوں ميں كس ميدان ميں دينى حكومت ، دين كے تابع ہے ؟ كيا يہ دعوى كياجاسكتا ہے كہ ان ميں سے بعض ميں دين كو دخل اندازى كرنے كا حق نہيں ہے اور دين كى حاكميت صرف ان ميں سے بعض ميں ہے ؟

حاكميت دين كى حدود

سياست ميں دين كے دخيل ہونے كى بحث دو لحاظ سے قابل تحقيق ہے :

الف: كس حد تك دين كا دخيل ہونا ممكن ہے_

ب : كس حد تك دين عملا دخيل ہے_

پہلى بحث سے مراد يہ ہے كہ سياست كے كونسے پہلو دين كے محتاج ہيں؟ اور كہاں پر دين اپنى تعليمات سے نواز سكتا ہے اور اپنى حاكميت كو بروئے كار لاسكتا ہے ؟ يہاں اصلى اور بنيادى سوال يہ ہے كہ كيا ممكن ہے دين ان پانچوں ميدانوں ميں دخيل اور معاشرہ كى سياسى زندگى كے تمام شعبوں ميں اس كى راہنمائي كرے ؟ يا يہ كہ بعض شعبوں كا تعلق صرف لوگوں سے ہے اور دين كيلئے سزاوار نہيں ہے كہ وہاں اظہار نظر كرے ؟

دوسرى بحث سے مراد ايك تو اس بات كى تعيين ہےكہ دين مبين اسلام نے سياست كے پانچ ميدانوں


ميں سے كن ميں عملى طور پر اظہار نظر كياہے؟ دوسرا يہ كہ ان ميدانوں ميں دين كى تعليمات كس حد تك ہيں ؟ سياست كے مختلف پہلوؤں ميں دين كى دخالت كے امكان كے متعلق ہمارے نزديك دين كى حاكميت كى راہ ميں كوئي شئے مانع نہيں ہے_اور دين ان تمام ميدانوں ميں اپنا پيغام دے سكتا ہے _ منطقى لحاظ سے ضرورى نہيںہے كہ دين كى دخالت سياست كے بعض شعبوں تك محدودرہے بلكہ ممكن ہے دين ،حكومت كے تمام شعبوں ميں اپنى رائے كا اظہار كرے بعنوان مثال سياسى ڈھانچہ ،حكومت كى نوعيت، دينى معاشرے كے حكمرانوں كى شرائط ،خصوصاً رہبر و قائد كى خصوصيات جيسے ابواب ميں دين اپنى تعليمات پيش كرسكتاہے_ دين حكومت كى مشروعيت اور حق حاكميت كے متعلق اپنى رائے كا اظہار كرسكتا ہے _ كونسى حاكميت مشروع ہے اور كونسى نامشروع ،اسكى تعيين كرسكتا ہے ، حكّام پر عوام كے حقوق ، لوگوں كے سلسلہ ميں حكمرانوں كے وظائف اور عوام پر حكمرانوں كے حقوق جيسے امور ميں اپنى رائے دے سكتا ہے _ سياسى اقتدار كے حامل افراد كے لئے اہداف اور اقدار معين كرسكتا ہے تا كہ وہ معيّنہ اصولوں اور اہداف كے مطابق اپنى سياست كو آگے بڑھائيں اورمعاشرتى امور كو انجام ديں _

بنابريں از نظر امكان''سياست ميں دين كى حاكميت '' بلا قيد و شرط ہے اور اسے سياست كے چند مخصوص شعبوں ميں محدود كرنا صحيح نہيں ہے _

يہ تسليم كرلينے كے بعد كہ سياست كے مختلف شعبوں ميں منطقى طور پر دين كى دخالت ممكن ہے ، بعض افراد قائل ہيں كہ مختلف حكومتى شعبوں ميں دين كى حاكميت نہيں ہونى چاہيئے _ ان كى نظر ميں بعض ادلّہ كى روسے دين خود كو سياست سے دور ركھے_ اور ان تمام امور كو لوگوں ، عقل اور تجربہ كے حوالے كردے _ آنے والے اسباق ميں ہم دينى حكومت كے ان منكرين كى ادلہ پر بحثكريں گے _


پس يہ مان لينے كے بعد كہ سياست سے متعلق ان پانچ ميدانوں ميں دين كى دخالت ممكن ہے دوسرے مرحلے كو مورد بحث قرار ديتے ہيں _ حكومتى اور سياسى امور ميں دين كى دخالت كس حد تك ہے ؟ اس كى تعيين صرف ايك طريقے سے ممكن ہے اور وہ بلاواسطہ دين اور پيام الہى كى طرف رجوع كرنا ہے _ اسلام كى اجتماعى اور سماجى تعليمات كى طرف عالمانہ اور باريك بينى سے رجوع كرنا ، اس حقيقت كى نقاب كشائي كرتا ہے كہ مذكورہ پانچ ميدانوں ميں سے دين نے كس ميں اپنى راہنمائي و ہدايت سے نوازاہے اور كس حد تك گفتگو كى ہے _ اور كونسے امور كو لوگوں اور ان كى عقل و تدبير پر چھوڑا ہے _ دين كى طرف رجوع اور اس كے مطالب كے ادراك سے واضح ہوجاتا ہے كہ دين نے كس شعبہ ميں اور كس حد تك اپنى حاكميت كو ثابت كيا ہے اور ان كے بارئے ميں اظہار نظر كيا ہے اور كن امور كو لوگوں كے حق انتخاب اور رائے پر چھوڑا ہے كسى بھى صورت ميں دين كى تعليمات كى طرف رجوع كرنے سے پہلے سياست كے بعض شعبوں ميں دين كو دخل اندازى سے نہيں روكا جاسكتا يا بعض امور ميں اس كے اظہار نظر اور دخالت كودين كے اہداف اور اسكى شان كے منافى قرار نہيں ديا جاسكتا _


خلاصہ:

۱) حكومت اور سياست كے پانچ پہلو ہيں جو ايك دوسرے كے ساتھ مربوط ہيں _

۲) سياسى نظام كى نوعيت كى تعيين ، نيز اس كے اداروں كى كيفيت و كميت ،سياست كى اہم ترين مباحث ہيں _

۳) اہم ترين سياسى مباحث ميں سے ايك يہ ہے كہ ہر حكومت كا اقتدار كن اصولوں اور اہداف كى بنياد پر ہونا چاہيے _

۴) ہر حكومت اپنى قانونى حكمرانى كى بنياد پر احكام جارى كرتى ہے _

۵) سياسى اقتدار كى مشروعيت كى بحث حاكميت كے جائز اور ناجائز ہونے كى بات كرتى ہے اور اس بنيادى سوال كا جواب ديتى ہے كہ حكومت كا حق كن افراد كو حاصل ہے _

۶)'' دين'' سياست كے مذكورہ بالا پانچ بنيادى ميدانوں ميں اپنى رائے كا اظہار كرسكتا ہے _

۷) سياسى امور ميں دين كى حاكميت دومرحلوں ميں قابل بحث و تحقيق ہے _

الف: كونسے سياسى موارد ميں دين كى دخالت ممكن ہے ؟

ب: كن موارد ميں اسلام نے عملى طور پر اپنى رائے كا اظہار كيا ہے ؟

۸) دوسرے سوال كا جواب صرف دينى تعليمات كى طرف رجوع كرنے سے ہى مل سكتا ہے _ تا كہ واضح ہوسكے كہ حكومتى امور ميں اسلام نے كس حد تك دخالت كى ہے _


سوالات :

۱) حكومت اور سياست سے مربوط پانچ مباحث كو اختصار كے ساتھ بيان كيجئے_

۲) اقتدار سے كيا مراد ہے ؟ اور اس كے متعلق كونسى بحث اہم ہے ؟

۳) مشروعيت كى بحث كيا ہے ؟ اورقانونى حاكميت كى بحث سے اس كا كيا تعلق ہے ؟

۴) حكومت كے ان پانچ ميدانوں ميں سے كس ميدان ميں ''دين'' حكمرانى كرسكتاہے ؟

۵) ان پانچ موارد ميں سے ہر ايك ميں دخالت دين كى حدود كى تشخيص كا طريقہ كيا ہے ؟


پانچواں سبق:

دينى حكومت كے منكرين

''دينى حكومت'' ايك سياسى نظريہ ہے ، جو مختلف سياسى و حكومتى امور ميں دين كى حكمرانى كوتسليم كرنے سے وجود ميں آتا ہے _ دينى حكومت وہ حكومت ہے جو دين كے ساتھ سازگار ہوتى ہے اور كوشش كرتى ہے كہ دين كے پيغام پر لبيك كہے جو انتظامى امور ، اجتماعى و سماجى روابط اور ديگر حكومتى امور ميں دين كى باتوں پركان دھرے اور معاشرتى امور كو دينى تعليمات كى روشنى ميں منظم كرے _يہ تمام بحث گذر چكى ہے _

دين اور حكومت كى تركيب اور دينى حكومت كے قيام كے ماضى ميں بھى مخالفين رہے ہيں اور آج بھى موجود ہيں _ اس مخالفت سے ہمارى مراد دين اور حكومت كى تركيب كا نظرياتى انكار ہے اور دينى حكومت كے خلاف سياسى جنگ اور عملى مخالفت ہمارى بحث سے خارج ہے_ دينى حكومت كے منكرين وہ افراد ہيں جو نظريہ'' تركيب دين و حكومت ''اور مختلف سياسى امور ميں دين كى حكمرانى كو منفى نگاہ سے ديكھتے ہيں اور اس كاانكار كرتے ہيں_ اس انكار كى مختلف ادلّہ ہيں اختلاف ادلّہ كے اعتبار سے دينى حكومت كے مخالفين و منكرين كى ايك مجموعى تقسيم بندى كى جاسكتى ہے _

دينى حكومت كے مخالفين تين گروہوں ميں تقسيم ہوتے ہيں_


۱_ وہ مسلمان جو معتقد ہيں كہ اسلام صرف انسان كى معنوى اور اخلاقى ہدايت كيلئے آيا ہے اور فقط انسان كو آداب عبوديت سيكھاتا ہے ان افراد كے بقول اسلام نے سياسى امور ميں كسى قسم كى مداخلت نہيں كى ہے _ دين اور سياست دو الگ الگ چيزيں ہيں اور دينى اہداف سياست ميں دين كى دخالت كے ساتھ مطابقت نہيں ركھتے _

دينى حكومت كے مخالفين كايہ گروہ سياسى امور ميں دين كى حكمرانى كا كلى طور پر انكار نہيں كرتا بلكہ اس كا اصرار يہ ہے كہ اسلامى و دينى تعليمات ميں سياسى پہلو مفقود ہے _ يہ افراد اس بات كو تسليم كرتے ہيں كہ اگر دينى تعليمات ميں تشكيل حكومت كى دعوت دى گئي ہوتى اور دين نے مختلف سياسى شعبوں اور حكومتى امور ميں عملى طور پر راہنمائي كى ہوتى تو دينى حكومت كى تشكيل ميں كوئي ركاوٹ نہ ہوتى _ بنابريں دينى حكومت كے قائلين كے ساتھ ان كاجھگڑا فقہى و كلامى ہے _ نزاع يہ ہے كہ كيا دينى تعليمات ميں ايسے دلائل اور شواہد موجود ہيں جوہميں دينى حكومت كى تشكيل اور دين و سياست كى تركيب كى دعوت ديتے ہيں ؟

۲_ دينى حكومت كے مخالفين كا دوسرا گروہ ان افراد پر مشتمل ہے ، جو تاريخى تجربات اور دينى حكومتوں كے قيام كے منفى نتائج كى وجہ سے دين اور سياست كى جدائي كے قائل ہيں _ ان كى نظر ميں دينى حكومت كى تشكيل كے بعض تاريخى تجربات كچھ زيادہ خوشگوار نہيں تھے _ اس كى واضح مثال قرون وسطى ميں يورپ ميں قائم كليسا كى حكومت ہے كہ جس كے نتائج بہت تلخ تھے _

اس نظريہ كے قائلين كى نظر ميں دين و سياست كى تركيب دين كے چہرہ كو بگاڑ ديتى ہے اور اس سے لوگوں كا دين كو قبول كرنا خطرے ميں پڑجاتاہے_ لہذا بہتر ہے كہ دين كو سياست سے جدا ركھا جائے_ چاہے سياست اور حكومت كے سلسلہ ميں دينى تعليمات موجود ہى كيوں نہ ہوں _ بنابريں اس گروہ كے بقول بحث


اس ميں نہيں ہے كہ دين سياسى پہلو كا حامل نہيں ہے بلكہ يہ افراد سياست اور حكومت ميں دينى تعليمات كى دخالت ميں مصلحت نہيں سمجھتے _ ان كا عقيدہ ہے كہ اگر چہ دين سياسى جہات كا حامل ہى كيوں نہ ہو تب بھى دينى حكومت كى تشكيل كے منفى اور تلخ نتائج كى وجہ سے اس قسم كى دينى تعليمات سے ہاتھ كھينچ لينا چاہيے اور سياست كو خالصة ً لوگوں پر چھوڑ ديناچاہيے _

۳_ دينى حكومت كے مخالفين كا تيسرا گروہ وہ ہے جو امور سياست ميں دين كى مداخلت كاكلى طور پرمخالف ہے _ يہ افراد سياسى اور حكومتى امور ميں دين كى حكمرانى كو تسليم نہيں كرتے _ ان كى نظر ميں بات يہ نہيں ہے كہ كيا حكومتى امور او رمعاشرتى نظام كے متعلق دين كے پاس تعليمات ہيں يا نہيں ؟ بلكہ ان كى نظر ميں دين كو اجتماعى اور سياسى امو رسے الگ رہنا چاہيے اگر چہ اجتماعى اور سياسى امور كے متعلق اس كے پاس بہت سے اصول اور تعليمات ہى كيوں نہ ہوں _ اس نظريہ كى بنياد پر اگر دين، سياسى امور ميں اپنے لئے حكمرانى كا قائل ہو اور اس نے دينى حكومت تشكيل دينے كا كہا ہو ،اور مختلف سياسى امور ميں اپنى تعليمات پيش بھى كى ہوں ليكن عملى طور پر سياسى امور ميں دين كى حاكميت كو تسليم نہيں كيا جا سكتا كيونكہ سياست او رمعاشرتى نظام مكمل طو ر پر انسانى اور عقلى امر ہے او ردين اس ميں مداخلت كى صلاحيت نہيں ركھتا اور اس ميں دين كو دخيل كرنے كا واضح مطلب، انسانى علم و دانش اور تدبر وعقل سے چشم پوشى كرنا ہے_يہ افراد در حقيقت سيكو لر حكومت كى حمايت كرتے ہے اور مكمل طور پر سيكولرازم كے وفادار ہيں _

سياست سے اسلام كى جدائي

جيسا كہ اشارہ ہو چكا ہے : دينى حكومت كے مخالفين كا پہلا گروہ يہ اعتقاد ركھتا ہے كہ اسلام نے اپنى تعليمات ميں مسلمانوں كو دينى حكومت كى تشكيل كى ترغيب نہيں دلائي _ان كا زور اس بات پر ہے كہ


آنحضرت (ص) مدينہ ميں كئي سال رہے ليكن كيا آپ (ص) نے وہاں حكومت تشكيل دى ؟اگر مان بھى ليا جائے كہ حكومت قائم كى تھى سوال يہ ہے كہ كيا اس حكومت كے قيام كا سرچشمہ فرمان الہى اور دعوت دينى تھى ؟ يا نہيں بلكہ اس كا سرچشمہ صرف عوام تھے ،اور تشكيل حكومت كے سلسلہ ميں اسلامى تعليمات خاموش تھيں ؟

تاريخى حقيقت يہ ہے كہ ہجرت مدينہ كے بعد آنحضرت (ص) نے اطراف مدينہ كے قبائل كو اسلام كى دعوت دى تھى اورايك اتحاد تشكيل ديا كہ جس كا مركز مدينة النبى تھا_

اس سے مسلمانوں نے ہميشہ يہى سمجھا كہ آنحضرت (ص) نے مدينہ ميں حكومت بنائي تھي_ نبوت اور ہدايت وراہنمائي كے ساتھ ساتھ مسلمانوں كے سياسى امور كى باگ ڈور بھى آپ (ص) كے ہاتھ ميں تھى آپ (ص) كے اس اقدام كا سرچشمہ وحى اور الہى تعليمات تھيں او رآنحضرت (ص) كى سياسى ولايت كا سرچشمہ فرمان الہى تھا:

''( النبى اولى بالمؤمنين من انفسهم ) ''

نبى تمام مومنين سے ان كے نفس كى نسبت زيادہ اولى ہے_ (سورہ احزاب آيت۶)

''( انّا انزلنااليك الكتاب بالحق لتحكم بين الناس بمااريك الله ) ''

ہم نے آپ پر برحق كتاب نازل كى ہے تاكہ آپ لو گوں كے در ميان حكم خدا كے مطابق فيصلہ كريں_(سورہ نساء آيت ۱۰۵)

ان دو آيات ميں الله تعالى نے مسلمانوں پر آنحضرت (ص) كو ولايت عطا فرمائي ہے اور آپ (ص) كو حكم دياہے كہ قرآن نے آپ كو جو سيكھاياہے اس كے مطابق لوگوں كے در ميان فيصلہ كريں_ اسى طرح دوسرى آيات ميں مسلمانوں كو حكم دياہے كہ وہ آپ (ص) كى اطاعت كريں_

''( اطيعواالله واطيعواالرسول ) ''

خدا اور رسول كى اطاعت كرو (سورہ نساء آيت۵۹)


( ''فلا و ربّك لا يؤمنون حتى يحكّموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوافى انفسهم حرجامّما قضيتَ و يسلّمواتسليماً'' )

پس آپ(ص) كے پروردگار كى قسم يہ كبھى بھى صاحب ايمان نہيں بن سكتے جب تك آپ كو اپنے باہمى اختلاف ميں منصف نہ بنائيں اور پھر جب آپ فيصلہ كرديں تو اپنے دل ميں كسى تنگى كا احساس نہ كريں_ اور آپ كے فيصلہ كے سامنے سرا پا تسليم ہوجا ہيں_(سورہ نساء آيت ۶۵)

اس مشہور و معروف تفسير كى بنياد پر صدر اسلام ميں مسلمانوں كے دينى حكومت كے تشكيل دينے كا سرچشمہ دين اور اس كى تعليمات تھيں اور يہ اقدام مكمل طور پر دينى اور مشروع تھا اور در حقيقت يہ دين كے پيغام پر لبيك تھا_ ليكن آخرى عشروں ميںبعض سنى اور بہت كم شيعہ مصنفين نے اس معروف تفسير اور نظريہ كى مخالفت كى ہے_(۱)

مدينہ ميں آنحضرت (ص) كى اس سياسى حاكميت كى يہ افراد كچھ اور تفسير كرتے ہيں_ بعض تو سرے سے ہى اس كے منكر ہيں اور اس بات پر مصر ہيں كہ آنحضرت (ص) صرف دينى رہبر و قائد تھے اور انہوں نے حكومتى و سياسى امور كبھى بھى اپنے ہاتھ ميں نہيں لئے تھے_ جبكہ اس كے مقابلہ ميں بعض افراد معتقد ہيں كہ آنحضرت (ص) سياسى ولايت بھى ركھتے تھے ليكن يہ ولايت خدا كى طرف سے عطا نہيں ہوئي تھى بلكہ اس كا سرچشمہ رائے عامہ تھي_ اورلوگوںنے ہى حكومت آپ كے سپرد كى تھي_ پس دين نے اپنى تعليمات ميں تشكيل حكومت كى دعوت نہيں دى ہے اور رسولخدا (ص) كى حكومت خالصةًايك تاريخى اور اتفاقى واقعہ تھا لہذا اسے ايك دينى دستور كے طور پر نہيں ليا جاسكتا_

ہم اس كتاب كے دوسرے باب ميں جو اسلام كے سياسى تفكر كى بحث پر مشتمل ہے مذكورہ نظريوں كے

____________________

۱) اس بحث كا آغاز ۱۹۲۵ عيسوى ميں مصرى مصنف على عبدالرزاق كى كتاب '' الاسلام و اصول الحكم'' كے چھپنے كے بعد ہوا_


بارے ميں تفصيلى گفتگو كريں گے اور دينى حكومت كے مخالف اس گروہ كى ادلہ كا جواب ديں گے_

دينى حكومت كا تاريخى تجربہ :

پہلے اشارہ كر چكے ہيں كہ دينى حكومت كے مخالفين كا دوسرا گروہ دينى حكومت كى تشكيل كے منفى اور تلخ نتائج پر مصر ہے اور يہ افراد اپنے انكار كى بنياد انہى منفى نتائج كو قرار ديتے ہيں_ ان كى ادلّہ كا محور دينى حكومت كے قيام كے تاريخى تجربات كا تنقيدى جائزہ ہے_

ان افراد كے جواب كے طور پر ہم چند نكات كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

۱_ انسانى تاريخ مختلف قسم كى دينى حكومتوں كى گواہ ہے_ ان ميں سے بعض اپنى تاريخى آزمائشےوں ميں كامياب نہ ہوسكيں ليكن بعض انبيائ اور اوليا الہى كى حق اور عدل و انصاف پر مبنى حكومتيں دينى حكومت كى تاريخ كا سنہرى ورق ہيں_ مدينہ ميں آنحضرت (ص) كى دس سالہ قيادت و رہبرى اور حضرت امير المؤمنين كى تقريباً پانچ سالہ حكومت، دينى حكومت كى بہترين مثاليں ہيں_ جن كى جزئيات اور درخشاں دور تاريخ كے ہر محقق اور مورّخ كے سامنے ہے_ اس دور ميں عدل ، تقوى اور فضيلت كى حكمرانى كے روح پرور جلوے ايسے خوشگوار اور مسرت انگيز ہيں كہ نہ صرف مسلمانوں كيلئے بلكہ پورى انسانيت كيلئے قابل فخر و مباہات ہيں_ بنابريں كلى طور پر تمام دينى حكومتوں كو يكسر رد نہيں كيا جاسكتا _ بلكہ علمى انصاف كا تقاضا يہ ہے كہ ہر تاريخى تجربہ كا باريك بينى سے جائزہ ليا جائے_

۲_ دينى حكومت كے بھى مراتب اور درجات ہيں_ عالم اسلام اور عيسائيت كى بعض دينى حكومتيں اگر چہ بہت اعلى اور مطلوب حد تك نہيں تھيں ليكن اپنے دور كى غير دينى حكومتوں سے بہت بہتر تھيں_ عالم اسلام كى


ابتدائي سو سالہ اسلامى حكومتيں '' اگر چہ ہمارے نزديك ان ميں سے اكثر حكومتيں غاصب تھيں اور اسلامى اصولوں پر استوار نہيں تھيں'' اس كے باوجود دينى حكومت كے كچھ مراتب كا پاس ضرور ركھتى تھي_ لہذا يہ ادعا كيا جاسكتا ہے كہ يہ حكومتيں اپنے دور كى غير دينى حكومتوں كى نسبت بہت سے بہتر نكات كى حامل تھيں_مفتوحہ علاقوں كے رہنے والوں سے مسلمان فاتحين كے سلوك كو بطور نمونہ پيش كيا جاسكتا ہے كہ جس نے ان كے اسلام لانے ميں اہم كردار ادا كيا_ اس لحاظ سے كشور كشائي كے خواہشمند سلاطين اور دوسرى فاتح حكومتوں كا ان سے مقائسہ نہيں كيا جاسكتا_

۳_ اس حقيقت سے انكار نہيں كيا جاسكتا كہ بہت سے اعلى حقائق ، گرانقدرمفاہيم اور بلند و بالا اہداف سے غلط استفادہ كيا جاسكتا ہے _ كيا نبوت كے جھوٹے دعوے نہيں كئے گئے ؟ كيا آبادكارى اور تعمير و ترقى كے بہانے استعمارى حكومتوں نے كمزور ممالك كو تاراج نہيں كيا؟ موجودہ دور ميں جمہوريت اور آزادى كى علمبردار مغربى حكومتوں نے حقوق بشر اور آزادى كے بہانے عظيم جرائم كا ارتكاب نہيں كيا؟ اور فلسطين جيسى مظلوم قوموں كے حق ميں تجاوز نہيں كيا؟

ان غلط استفادوں اور تحريفات كا كيا كيا جائے؟ كيا نبوت ، امامت ، دين ، آزادى اور حقوق بشر كو ترك كرديا جائے؟ صرف اس دليل كى بنياد پر كہ بعض افراد نے بعض موارد ميں ان گرانقدر اور مقدس امور سے غلط استفادہ كيا ہے؟ بلكہ معقول اور منطقى بات يہ ہے كہ ہوشيارى ، دقت ، آگاہى اور طاقت سے غلط كاريوں اور سوء استفادہ كى روك تھام كى جائے_

دينى حكومت بھى ان مشكلات سے دوچار ہے _ دين كے تقدس اوردينى حكومت سے غلط فائدہ اٹھانے اور دين كى حقيقت اور روح كو پس پشت ڈال دينے كا امكان ہميشہ موجود ہے_ دينى حكومتوں كو راہ راست


سے بھٹكنے اور دينى تعليمات سے ہٹنے كا خطرہ ہميشہ موجود رہتا ہے لہذا صاحبان دين كى علمى آگاہى اور نظارت كى ضرورت مزيد بڑھ جاتى ہے_ ليكن كسى صورت ميں بھى يہ بات عقلى و منطقى نہيں ہے كہ ان خطرات كى وجہ سے دين كى اصل حاكميت اور سماج و سياست ميں اس كے كردار سے منہ موڑليا جائے_صاحبان دين كو ہميشہ اس كى طرف متوجہ رہنا چاہيے كہ حقيقى اسلام كا نفاد اور دين مقدس كى گرانقدر تعليمات كى بنياد پر اجتماعى امور كى تدبير لوگوں كيلئے كس قدر شيريں ، گوارا اور پر ثمر ہے_


خلاصہ

۱) دين اور سياست كى تركيب كے مخالفين تين قسم كے ہيں_

الف : دينى حكومت كے مخالفين كا ايك گروہ وہ مسلمان ہيں جن كا عقيدہ يہ ہے كہ اسلام نے دينى حكومت كے قيام كى دعوت نہيں دى اور سياست كے متعلق اس كے پاس كوئي خاص اصول اور تعليمات نہيں ہيں_

ب: مخالفين كا دوسرا گروہ دينى حكومت كے انكار كى بنياد ماضى ميں قائم دينى حكومتوں كے تلخ اور ناخوشگوار نتائج كو قرار ديتا ہے_

ج : تيسرا گروہ سرے سے اجتماعى اور سياسى امور ميں دين كى حاكميت كو تسليم ہى نہيںكرتا_

۲) تاريخى حقيقت يہ ہے كہ آنحضرت (ص) نے دينى حكومت قائم كى تھى اور ان كى سياسى فرمانروائي كا سرچشمہ وحى الہى تھى _

۳) طول تاريخ ميں تمام دينى حكومتيں منفى نہيں تھيں بلكہ ان ميں سے بعض قابل فخر اور درخشاں دور كى حامل تھيں_

۴)مقدس امور سے غلط استفادہ كا امكان صرف دين اور دينى حكومت ميں منحصر نہيں ہے بلكہ دوسرے مقدس الفاظ و مفاہيم سے بھى غلط استفادہ كيا جاسكتا ہے_


سوالات :

۱) دين و سياست كى تركيب كے مخالفين كى مختصر تقسيم بندى كيجئے_

۲) جو افراد دينى حكومت كے انكار كى وجہ تاريخ كے تلخ تجربات كو قرار ديتے ہيں وہ كيا كہتے ہيں؟

۳) رسولخد ا (ص) كى سياسى ولايت كا سرچشمہ كيا ہے؟

۴) دينى حكومت كے منكرين كے دوسرے گروہ كو ہم نے كيا جواب ديا ہے؟


چھٹا سبق:

سيكولرازم اور دينى حكومت كا انكار

گذشتہ سبق ميں اشارہ كرچكے ہيں كہ دينى حكومت كے منكرين كا تيسرا گروہ اجتماعى اور سياسى امور ميں سرے سے ہى دينى حاكميت كى مخالفت كرتا ہے اور سيكولر حكومت كى حمايت كرتا ہے_ اگر چہ اس نظريہ كے قائلين خود كو سيكولر نہيں كہتے ليكن حقيقت ميں سيكولرازم كے بنيادى ترين اصول كے موافق اور سازگار ہيںكيونكہ يہ اجتماعى اور سياسى امور ميں دين سے بے نيازى كے قائل ہيں ان افراد كى ادلّہ كى تحقيق سے پہلے بہتر ہے سيكولرازم اور اس كے نظريات كى مختصر وضاحت كردى جائے_

سيكولرازم كى تعريف:

سيكولرازم(۱) وہ نظريہ ہے جو يورپ ميں عہد '' رنسانس'' كے بعد اقتصادى ، ثقافتى اور سماجى تحولات كے نتيجہ ميں معرض وجود ميں آيا_ اس كا اہم ترين نتيجہ اور اثر سياست سے دين كى عليحد گى كا نظريہ ہے_ سيكولرازم كا فارسى ميں دنيوى ، عرفى اور زمينى جيسے الفاظ سے ترجمہ كيا گيا ہے_ اور عربى ميں اس كيلئے '' العلمانيہ '' اور

____________________

۱) Secularism


''العَلَمانية ''كے الفاظ استعمال كئے جاتے ہيں_ جنہوں نے سيكولرازم كيلئے لفظ ''العلمانيہ'' كا انتخاب كيا ہے_ انہوں نے اس كو '' علم '' سے مشتق جانا ہے _ اور اسے علم كى طرف دعوت دينے والا نظريہ قرار ديا ہے اور جنہوں نے اس كيلئے ''العَلمانية'' كے لفظ كا انتخاب كيا ہے _ انہوں نے اسے عالَم ( دنيا ، كائنات) سے مشتق سمجھاہے اور سكولرازم كو آخرت كى بجائے دنيا پر ستى والا نظريہ قرار ديا ہے كہ وحى الہى سے مدد لينے كى بجائے انسان كى دنيوى طاقت مثلا عقل و علم سے مدد لى جائے_

فارسى اور عربى كے اس جيسے ديگر الفاظ اور خود لفظ (سيكولر) اس اصطلاح كے تمام اور ہمہ گير مفہوم كو ادا نہيں كرسكتے _ طول زمان كے ساتھ ساتھ بہت سى تاريخى اصطلاحوں كى طرح لفظ سيكولرازم اور سيكولر بھى مختلف اور متعدد معانى ميں استعمال ہوتے رہے ہيں اور تاريخى تحولات كے ساتھ ساتھ ان كے معانى بدلتے رہے ہيں_ابتدا ميں سيكولر اور لائيك(۱) كى اصطلاحيں غير مذہبى و غير دينى معانى و مفاہيم كيلئے استعمال ہوتى تھيں_قرون وسطى ميں يورپ ميں بہت سى موقوفہ اراضى ( وقف شدہ زمين) تھيں جو مذہبى افراد اور راہبان كليسا كے زير نظر تھيں جبكہ غير موقوفہ اراضى غير مذہبى يعنى سيكولر افراد كے زير نظر تھيں اس لحاظ سے سيكولر غير مذہبى اور غير پادرى افراد كو كہا جاتا تھا_

____________________

۱) آج بہت سى حكو متوں كو لائيك اور سيكولر كہا جاتاہے _ قابل غور ہے كہ سيكولر اور لائيك كے درميان كوئي بنيادى فرق نہيں ہے_ اور دونوں اصطلاحيں ايك ہى مخصوص نظريہ پر دلالت كرتيں ہيں _ وہى نظريہ جو سياست ميں دين كى مداخلت كو قبول نہيں كرتا _ اس نكتہ كى وضاحت ضرورى ہے كہ پروٹسٹنٹ t Protestan (دين مسيحيت كے ماننے والوں كا ايك فرقہ) علاقوں ميں سيكولرازم اور سيكولر كى اصطلاحيں رائج ہوئيں_ ليكن كيتھولك ممالك مثلا فرانس و غيرہ ميں لائيك اور لائيسيتہ ( Laicite ) كى اصطلاح مشہور ہوئي _ و گرنہ لائيك اور سيكولر ميں معنى كے لحاظ سے كوئي فرق نہيں ہے_


زمانہ كے گزرنے كے ساتھ ساتھ لفظ سيكولر اور لائيك ايك مخصوص معنى ميں استعمال ہونے لگے_ حتى كہ بعض موارد ميں اس سے دين اور صاحبان دين سے دشمنى كى بو آتى ہے _ ليكن اكثر موارد ميں انہيں غير مذہبيت يا كليسا اور مذہبى لوگوں كے تحت نظر نہ ہونے كيلئے استعمال كيا جاتا تھا نہ كہ دين دشمنى كے معنى ميں_ مثلا سيكولر مدارس ان سكولوں كو كہتے ہيں جن ميں دينى تعليم كى بجائے رياضى يا دوسرے علوم كى تعليم دى جاتى ہے اور ان كے اساتذہ مذہبى افراد اور پادرى نہيں ہوتے _

آہستہ آہستہ يہ فكر اور نظريہ رائج ہونے لگا كہ نہ صرف بعض تعليمات اور معارف ، دين اور كليسا كے اثر و نفوذ سے خارج ہيں بلكہ انسانى زندگى كے كئے شعبے دين اور كليسا كے دائرہ كار سے خارج ہيں_

يوں سيكولرازم اور لائيك نے ايك نئي فكرى شكل اختيار كر لى اور سيكولرازم نے كائنات اورانسان كو ايك نيا نظريہ ديايہ نيا نظريہ بہت سے موارد ميں دين كى حاكميت اور اس كى تعليمات كى قدر و قيمت كا منكر ہے_

سيكولر حضرات ابتداء ميں علم اور ايمان كى عليحد گى پر اصرار كرتے تھے_ اس طرح انہوں نے تمام انسانى علوم حتى كہ فلسفى اور ماورائے طبيعت موضوعات كو بھى دينى حاكميت اور دينى تعليمات كے دائرے سے خارج كرديا_البتہ ان لوگوںكى يہ حركت اور فكر كليسا كى سخت گيرى كا نتيجہ اور رد عمل تھا كہ جنہوں نے علم و معرفت كو عيسائيوں كى مقدس كتب كى خو د ساختہ تفسيروں ميں محدود كرديا تھا اور دانشوروں كى تحقيقات اور علمى رائے كى آزادى كو سلب كرليا تھا_ مسيحى كليساؤں نے قرون وسطى كے تمام علمى ، ادبى اور ثقافتى شعبوں ميں مقدس كتب اور اپنى اجارہ دارى قائم كر ركھى تھي_ اس وجہ سے سيكولر حضرات رد عمل كے طور پر'' سيكولر علوم اور وہ علوم جو دين اور كليسا كى دسترس سے خارج تھے'' كے دفاع كيلئے اٹھ كھڑے ہوئے_

علم طبيعيا سے علم فلسفہ ميں بھى يہى بات سرايت كر گئي اور سيكولر فلسفہ كى بنياد پڑي_ پھر آہستہ آہستہ سياسى


اور سماجى و اجتماعى امور بھى اس ميں داخل ہوگئے اور علم و فلسفہ كى طرح سياسى ميدان ميں بھى سيكولرازم كى راہ ہموار ہوگئي _ سيكولر افراد كے ہاں سياست سے دين كى جدائي كا نظريہ اور سياسى امور ميں دين اور كليساكى حاكميت كى نفى كا نظريہ شدت اختيار كر گيا لہذا سيكولرازم نہ صرف سياست سے دين كى عليحد گى كا حامى ہے بلكہ علم سے بھى دين كى جدائي كا دفاع كرتا ہے_ بنيادى طور پر سيكولرازم اس كا خواہاں ہے كہ ان تمام امور كو سيكولر اور غير دينى ہوجانا چاہيے جو دين كے بغير قائم رہ سكتے ہيں_ پس سيكولرازم ، سيكولر علم ، سيكولر فلسفہ ، سيكولر قانون اور سيكولر حكومت كا حامى ہے_

سيكولر ازم كى بنياد ايك ايسى چيز پر ہے جسے'' سيكولر عقلانيت''(۱) كہتے ہيں _ اس مخصوص عقلانيت(۲) نے موجودہ مغربى معاشرہ كى تشكيل ميں بہت بڑا كردار ادا كيا ہے_ '' سيكولر عقلانيت '' نے ايك طرف حاكميت دين كى حدودكے متعلق نئے نظريات پيش كئے ہيں تو دوسرى طرف انسانى عقل اور علم كى اہميت پر زور ديا ہے_ سيكولرازم صرف انسان كى انفرادى زندگى اور اس كے خدا كے ساتھ تعلق ميں دين كى حاكميت كا قائل ہے جبكہ انسان كى علمى اور اجتماعى زندگى ميں دين كى حكمرانى كو تسليم نہيں كرتا_ بلكہ ان امور ميں انسانى علم اورعقل كى فرمانروائي پر زور ديتا ہے'' سيكولر عقلانيت'' كے نزديك انسانى علم و عقل ہر قسم كے سرچشمہ معرفت سے مستقل اور بے نياز ہے لہذا اسے اپنے استقلال اور بے نيازى پر باقى رہنا چاہيے _ انسانى عقل اور علم ، دين اور ہر قسم كے سرچشمہ معرفت سے بے نياز اور مستقل رہتے ہوئے انسانى زندگى كى پيچيدگيوں كو حل كرنے كى صلاحيت ركھتے ہيں_ اس طرح سيكولرازم نے سيكولر عقلانيت اور انسانى عقل و علم كے بارے ميں اس خاص

____________________

۱) Secular Rationality

۲) Rationality


نظريہ كى بناء پر آہستہ آہستہ مختلف علمى امور سے دين كى حاكميت كو ختم كيااور علمى زندگى اورموجودہ مغربى معاشرہ كے مختلف شعبوں ميں خود انسان اور عقل پر زيادہ زور دينے لگا _ (۱)

دين اور سيكولرازم

سيكولرازم عقل اورا نسانى علم كو وحى اور دينى تعليمات سے بے نياز سمجھتا ہے اور ان تمام امور ميں دين كى طرف رجوع كرنے كى نفى كرتا ہے جن تك انسانى عقل اور علم كى رسائي ہے _ سيكولرازم كى نظر ميں صرف ان امور ميں دين كى حاكميت قبول ہے جن تك انسانى عقل اور علم كى رسائي نہيں ہوتى _دين كے ساتھ سيكولرازم كے اس رويہ كو كيا الحاد اور دين دشمنى كا نام ديا جاسكتا ہے؟

حقيقت يہ ہے كہ حاكميت دين كى حدود سے متعلق سيكولرازم كى تفسير اس تفسير سے بالكل مختلف ہے جو صاحبان دين كرتے ہيں_ صاحبان دين كے نزديك دين كى مشہور، رائج اور قابل قبول تشريح يہ ہے كہ دين كى حاكميت صرف انسان كى خلوت اور خدا كے ساتھ اس كے انفرادى رابطے تك منحصر نہيں ہے بلكہ ايك انسان كا دوسرے انسان سے تعلق ، اور انسان كا كائنات اور فطرت سے تعلق سب دينى ہدايت كے تابع ہيںاور اجتماعى زندگى كے مختلف شعبوں ميں دين نے اپنى تعليمات پيش كى ہيں_ دين كے بارے ميں اس رائج فكر كے ساتھ ''سيكولر عقلانيت'' اتنا فرق نہيں ركھتى كہ ہم سيكولرازم كو ملحد اور دشمن دين سمجھيں _ سيكولرازم كا انسانى عقل و علم كے وحى اور دينى تعليمات سے جدا اور بے نياز ہونے پر اصرار ايمان اور دين كے ساتھ تضاد نہيں ركھتا _ سيكولرازم يقيناً دين كى حاكميت كو محدود كرتا ہے اور وہ امور جو عقل انسانى اور علم بشرى كى دسترس ميں ہيں انہيں ايمان اور دين كى فرمانروائي سے خارج سمجھتا ہے_ اس قسم كے موارد ميںانسانى علم و فہم سے حاصل شدہ

____________________

۱) سيكولرازم كے متعلق مزيد تفصيل كيلئے احمد واعظى كى كتاب حكومت دينى (نشر مرصاد ۱۳۷۸قم ) كى دوسرى فصل كا مطالعہ فرمائيں_


ظن و گمان كودينى تعليمات سے حاصل ہونے والے يقين و اعتقاد پر ترجيح ديتاہے اور اس كو شش ميں رہتا ہے كہ دينى اعتقادات كو عقل و علم اور انسانى منطق كى كسوٹى پر پركھے ليكن اس كے باوجود سيكولرازم كو ملحد اور دشمن دين نہيں كہا جاسكتا_

ہمارى نظر ميں سيكولر ہونے كى بنياد'' سيكولر عقلانيت'' كے قبول كرنے پر منحصر ہے يعنى ہر شخص جو خود پر بھروسہ كرتا ہے، انسانى علم و عقل كے مستقل ہونے كا عقيدہ ركھتا ہے ، دين كى حاكميت كو انسان كے عالم غيب كے ساتھ رابطہ ميں منحصر سمجھتا ہے اور جو امور انسانى عقل و علم كى دسترس ميں ہيں، ان ميں دين كى مداخلت كو ممنوع قرار ديتا ہے وہ ايك سيكولر انسان ہے_ چاہے وہ حقيقتاً خدا اور كسى خاص دين كا معتقد ہو يا بالكل منكر دين اور ملحد ہو _

مختصر يہ كہ سيكولرازم صرف ان امور ميں دين كے نفوذ كا قائل ہے جو انسانى عقل كى دسترس سے خارج ہوں _ يہ وہ انفرادى امور ہيں جو انسان اور خدا كے تعلق كے ساتھ مربوط ہيں_ يہ ہر فرد كا حق ہے كہ وہ اس ذاتى تعلق كو ردّ يا قبول كرنے كا فيصلہ كرے _ اس لحاظ سے اس رابطے و تعلق كے انكار يا اقرار پر سيكولرازم زور نہيں ديتا_ اور دينى امور ميں سہل انگارى كا معتقد ہے اور يہ سہل انگارى الحاد يا بے دينى نہيں ہے_ البتہ سيكولر شخص كى دين دارى ايك مخصوص ديندارى ہے جو عقل كى محوريت پر استوار ہے اور دين كى حاكميت كو بہت محدود قرار ديتى ہے_

گذشتہ مطالب كو ديكھتے ہوئے سيكولرازم كا بنيادى نكتہ '' سيكولر عقلانيت'' كو تسليم كرنا ہے_ يہ عقلانيت جو خود پر بھروسہ كرنے اورا نسانى عقل و علم كو وحى اور دينى تعليمات سے بے نياز سمجھتى ہے بہت سے امور ميں دينى مداخلت كيلئے كسى گنجائشے كى قائل نہيں ہے _ دين اور انسان كى علمى طاقت كے متعلق يہ فكر متعدد نتائج كى حامل


ہے اور بہت سے امور كو سيكولر اور غير دينى كرديتى ہے _ علم ، فلسفہ ، قانون ، اخلاق اور سياست تمام كے تمام غير دينى اور سيكولر ہو جاتے ہيں_ بنابريں سياست سے دين كى جدائي بھى سيكولرازم كے نتائج و ثمرات ميں سے ايك نتيجہ ہے، نہ كہ صرف يہى اس كا نتيجہ ہے _ لہذا'' سياست سے دين كى جدائي'' سيكولرازم كى دقيق اور مكمل تعريف نہيں ہے_ كيونكہ اس صورت ميں سيكولرازم كى بنياد يعنى سيكولر عقلانيت كے ذريعہ تعريف كى بجائے اس كے ايك نتيجے كے ذريعہ تعريف ہوجائے گى اسى طرح الحاد اور بے دينى كے ساتھ بھى اس كى تعريف كرنا صحيح نہيں ہے كيونكہ ممكن ہے كوئي خدا پر ايمان ركھتا ہو ليكن سيكولر عقلانيت كو تسليم كرتے ہوئے عملى طور پر سيكولرازم كا حامى ہو_

سيكولرازم كے مفہوم كى اجمالى وضاحت اور دين دارى كے ساتھ اس كى نسبت كے بعد دينى حكومت كى نفى پر اور سياست اور معاشرتى نظام ميں دين كى مداخلت كے انكار پر سيكولرازم كى بعض ادلہ ذكر كرنے كى بارى ہے اور آنے والے سبق ميں ہم ان كى دو اصلى دليلوں پر بحث كريں گے_


خلاصہ :

۱) دينى حكومت كے مخالفين كا تيسرا گروہ سيكولرازم كى فكر كو قبول كرتا ہے_

۲) '' سيكولرازم '' ايك خاص علمى نظريہ ہے جو '' رنسانس'' كے بعد منظر عام پرآيا_

۳) '' سيكولرازم '' كے تحت اللفظى تراجم اس كے مفہوم كى صحيح عكاسى نہيں كرتے _

۴)''سيكولر'' اور '' لائيك'' دو مترادف اصطلاحيں ہيں_

۵)لفظ '' سيكولر'' كا معنى وقت كے ساتھ ساتھ بدلتارہاہے_

۶) سيكولراز م كى بنياد'' سيكولر عقلانيت ''كے قبول كرنے پر ہے_سيكولر عقلانيت خود پر بھروسہ كرنے اور دين اور دينى تعليمات سے عقل و علم كى بے نيازى كى قائل ہے_

۷) '' سيكولرازم ''بہت سے شعبوں ميں دين كى حاكميت سے انكار كرتا ہے_

۸) سياست سے دين كى جدائي كے ساتھ سيكولرازم كى تعريف كرنا صحيح نہيں ہے_كيونكہ يہ تو اس كا ايك نتيجہ ہے جيسا كہ علم اور فلسفہ سے دين كى جدائي بھى اس كے نتائج ميں سے ہے_

۹) سيكولرازم كا معنى دين دشمنى اور الحاد نہيں ہے_ بلكہ يہ دين كى حاكميت كو محدود كرنا چاہتا ہے_

۱۰) موحد اور ملحد دونوں سيكولر ہوسكتے ہيں، كيونكہ دين دارى اور الحاد ميں سے كوئي بھى اسكى بنياد نہيں ہے بلكہ اس كى بنياد سيكولر عقلانيت كے قبول كرنے پر ہے_


سوالات :

۱) لفظ '' سيكولرازم'' كا اردو اور عربى ميںترجمہ كيجئے؟

۲)لفظ ''سيكولر'' اور لفظ'' لائيك'' ميں كيا فرق ہے؟

۳)ابتدا ميں لفظ'' سيكولر ''كن معانى ميں استعمال ہوتا تھا؟

۴)''سيكولر عقلانيت ''سے كيا مراد ہے ؟

۵)سيكولرازم اور دين دارى ميں كيا نسبت ہے؟

۶)دين كى حاكميت كے متعلق سيكولر ازم كا كيا عقيدہ ہے؟

۷) كيا سياست سے دين كى جدائي كے ساتھ سيكولرازم كى تعريف كرنا صحيح ہے؟


ساتواں سبق:

دينى حكومت كى مخالفت ميں سيكولرازم كى ادلہ -۱-

پہلى دليل:

سياست ميں دين كى عدم مداخلت پر سيكولرازم نے جو استدلال كئے ہيں ان ميں سے ايك وہ ہے جسے ''مشكل نفاذ شريعت ''كے نام سے ياد كيا جاتاہے _يہ استدلال جو دو اساسى مقدموں پر مشتمل ہے، شريعت كے نفاذ كے ممكن نہ ہونے پر استوار ہے _ دينى حكومت كے قائلين اپنے استدلال اور ادلّہ ميں اس نكتہ پر اصرار كرتے ہيں كہ اسلامى شريعت ميں كچھ ايسے احكام اور قوانين ہيں جن كا اجرا ضرورى ہے _ دوسرى طرف يہ احكام حكومت كى پشت پناہى كے بغير قابل اجرا نہيں ہيں _ لہذا مختلف اجتماعى امور ميں شريعت كے نفاذ كيلئے دينى حكومت كا قيام ضرورى ہے _ سيكولرازم دينى حكومت كى تشكيل كى نفى كيلئے اس نكتہ پر اصرار كرتا ہے كہ اجتماعى اور سماجى امور ميں شريعت كا نفاذ مشكل ہے اور معاشرہ ميں فقہ اور شريعت كو نافذ نہيں كيا جاسكتا_ اس طرح وہ اپنے زعم ناقص ميں دينى حكومت كى تشكيل پر سواليہ نشان لگاتے ہيں_ كيونكہ دينى حكومت كے قيام كى اساس اور بنياد معاشرے ميں دين اور شريعت كے نفاذ كے علاوہ كچھ بھى نہيں ہے_


سيكولرازم كے استدلال كا پہلا مقدمہ يہ ہے كہ اجتماعى اورسماجى روابط و تعلقات ہميشہ بدلتے رہتے ہيں_ طول تاريخ ميں انسان كے اجتماعى اور اقتصادى روابط تبديل ہوتے رہے ہيں اور اس تبديلى كا سرچشمہ علمى اور انسانى تجربات كا رشد ہے_ ديہاتى اور قبائلى معاشرہ ميں حاكم سياسى ،ثقافتى اور اقتصادى روابط ،صنعتى اور نيم صنعتى معاشرہ پر حاكم اجتماعى روابط سے بہت مختلف ہيں _ بنابريں اجتماعى زندگى كے تحول و تغير كى بناپر اجتماعى روابط ميں تبديلى ايك ايسى حقيقت ہے جس سے انكار نہيں كيا جاسكتا_

دوسرا مقدمہ يہ ہے كہ دين اور اس كى تعليمات ثابت اور غير قابل تغيير ہيں_كيونكہ دين نے ايك خاص زمانہ جو كہ اس كے ظہور كا دور تھا ميں انسان سے خطاب كيا ہے اور اس زمانے كو ديكھتے ہوئے ايك مخصوص اجتماع كےحالات اور خاص ماحول كے تحت اس سے سروكار ركھاہے_ دين اور شريعت ايسى حقيقت نہيں ہے جو قابل تكرار ہو_ اسلام نے ايك خاص زمانہ ميں ظہور كيا ہے اور اس طرح نہيں ہے كہ سماجى تحولات كے ساتھ ساتھ وحى الہى بھى بدل جائے اور اسلام بھى نيا آجائے _ دين ايك امر ثابت ہے اور سماجى تحولات كے ساتھ اس ميں جدّت پيدا نہيں ہو تى اور اس كے اصول و ضوابط اور تعليمات نئے نہيں ہوجاتے _ ان دو مقدموں كانتيجہ يہ ہے كہ ايك امر ثابت، امر متغير پر قابل انطباق نہيں ہے _ دين جو كہ امر ثابت ہے ہر زمانے كے مختلف اجتماعى اور سماجى روابط كو منظم نہيں كرسكتا_ صرف اُن معاشروں ميں شريعت كا نفاذ مشكل سے دوچار نہيں ہوتا جو اس كے ظہوركے قريب ہوں كيونكہ اس وقت تك ان معاشروں كے اجتماعى روابط ميں كوئي بنيادى تبديلى نہيں ہوئي تھى _ ليكن ان معاشروں ميں شريعت كا نفاذ مشكل ہوتاہے، جن كے اجتماعى مسائل نزول وحى كے زمانہ سے مختلف ہيںپس شريعت كے نفاذ كے غير ممكن ہونے كا نتيجہ يہ ہے كہ سياسى اور اجتماعى امور ميں دين كى حاكميت اور دينى حكومت كى تشكيل كى ضرورت نہيں ہے_


اس پہلي دليل كا جواب

اس استدلال اور اس كے دو اساسى مقدموں پر درج ذيل اشكالات ہيں _

۱_ اجتماعى امور اور روابط ميں تبديليوں كا رونما ہونا ايك حقيقت ہے ليكن يہ سب تبديلياںايك جيسى نہيں ہيں اور ان ميں سے بعض شريعت كے نفاذ ميں ركاوٹ نہيں بنتيں _ اس نكتہ كو صحيح طور پر سمجھ لينا چاہيے كہ تمام اجتماعى تغيرات اساسى اور بنيادى نہيں ہيں بلكہ بعض اجتماعى تبديلياں صرف ظاہرى شكل و صورت كے لحاظ سے ہوتى ہيں بايں معنى كہ گذشتہ دور ميں معاشرے ميں لوگوں كے درميان اقتصادى روابط تھے آج بھى ويسے ہى اقتصادى روابط موجود ہيں ليكن ايك نئي شكل ميں نہ كہ نئے روابط نے ان كى جگہ لى ہے_ مختلف اجتماعى روابط ميں شكل و صورت كى يہ تبديلى قابل تصور ہے_ مثلاًتمام معاشروں ميں اقتصادى و تجارتى تعلقات; خريد و فروخت، اجارہ ، صلح اور شراكت جيسے روابط اور معاملات كى صورت ميں موجود رہے ہيں اور آج بھى موجود ہيں _زمانہ كے گزرنے كے ساتھ ساتھ ان كى شكل و صورت ميں تبديلى آجاتى ہے ليكن ان معاملات كى اصل حقيقت نہيں بدلتي_ اگر ماضى ميں خريد و فروخت ،اجارہ اور شراكت كى چند محدود صورتيںتھيں ، تو آج انكى بہت سارى قسميں وجود ميں آچكى ہيں _ مثلاً ماضى ميں حصص كاكا روبار كرنے والي(۱) اور مشتركہ سرمايہ كى(۲) بڑى بڑى كمپنياں نہيں تھيں_ اسلام نے ان معاملات كى اصل حقيقتكے احكام مقرر كر ديئے ہيں _ تجارت ، شراكت اور اجارہ كے متعلق صدر اسلام كے فقہى احكام ان تمام نئي صورتوں اور قسموں كے ساتھ مطابقت ركھتے ہيں كيونكہ يہ احكام اصل حقيقت كے متعلق ہيں نہ كہ ان كى كسى مخصوص شكل و صورت كے متعلق_ لہذا اب بھى باقى ہيں _

____________________

۱) Exchange. Stock

۲) jointstock companis


اسى طرح اسلام نے بعض اقتصادى معاملات كو ناجائز قرار ديا ہے _ آج اگر وہ نئي شكل ميں آجائيں تب بھى اسلام كيلئے ناقابل قبول ہيں اور اس نئي شكل پر بھى اسلام كا وہى پہلے والا حكم لاگو ہوتا ہے _ مثلاً سودى معاملات اسلام ميں حرام ہيں _ آج نئے طرز كے سودى معاملات موجود ہيں جو ماضيميں نہيں تھے _ اگر تجزيہ و تحليل كرتے وقت مجتہد كو معلوم ہوجائے كہ يہ سودى معاملہ ہے تو وہ اس كى حرمت اور بطلان كا حكم لگا دے گا _ بنابريں اس نئے مورد ميں بھى سود والا حكم لگانے ميں كوئي دشوارى نہيں ہوگى _ لہذا اقتصادى روابط و معاملات ميں تغير و تبدل شرعى احكام كے منطبق ہونے ميں ركاوٹ نہيں بنتا _

۲_ بعض اجتماعى تحولات، ايسے مسائل كو جنم ديتے ہيں جوحقيقت اور شكل و صورت كے لحاظ سے بالكل نئے ہوتے ہيں كہ جنہيں ''مسائل مستحدثہ'' كہتے ہيں اس قسم كے مسائل كا حل بھى شريعت كے پاس موجود ہے_ پس سيكولرازم كے استدلال كا دوسرا مقدمہ كہ'' دين ثابت ہے اور تغير پذير اشياء پر منطبق ہونے كى صلاحيت نہيں ركھتا'' درست نہيں ہے كيونكہ دين اگر چہ ثابت ہے اور معاشرتى تحولات كے ساتھ ساتھ تبديل نہيں ہوتا ليكن اس كے باوجود دين مبين اسلام ميں ايسے قوانين و اصول موجود ہيں جن كى وجہ سے فقہ اسلامى ہر زمانہ كے مسائل مستحدثہ (نئے مسائل ) پر منطبق ہونے اور ان كو حل كرنے كى قدرت و صلاحيت ركھتى ہے اور اس ميں اسے كوئي مشكل پيش نہيں آتى _ ان ميں سے بعض اصول و قوانين يہ ہيں_

الف_ اسلامى فقہ خصوصاً فقہ اہلبيت ميں اجتہاد كا دروازہ كھلا ہے بايں معنى كہ فقيہ اور مجتہد كا كام صرف يہ نہيں ہے كہ فقہى منابع ميں موجود مسائل كے احكام كا استنباط كرے بلكہ وہ فقہى اصول و مبانى كو مد نظر ركھتے ہوئے جديد مسائل كے احكام كے استخراج كيلئے بھى كوشش كرسكتا ہے _

ب_ شرط كى مشروعيت اور اس كى پابندى كا لازمى ہونا فقہ كے بعض شرائط اور جديد مسائل كے ساتھ


مطابقت كى راہ ہموار كرتا ہے كيونكہ بہت سے نئے عقلائي معاملات كو ''شرط اور اس كى پابندى كے لزوم'' كے عنوان سے جواز بخشا جاسكتاہے _ مثلاً عالمى تجارت كے قوانين ،دريائي اور بحرى قوانين، قوانين حق ايجاد ، فضائي راستوںاور خلائي حدود كے قوانين سب نئے امور اور مسائل ہيں كہ جن كے متعلق اسلامى فقہ ميں واضح احكام موجود نہيں ہيں _ ليكن اسلامى نظام ان ميں سے جن ميں مصلحت سمجھتاہے ان كو بين الاقوامى يا بعض انفرادى معاملات كے ضمن ميں قبول كرسكتاہے اور لوگوں كو ان كى پابندى كرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے كيلئے راہنمائي كرسكتا ہے _

ج_ مصلحت كے پيش نظر جامع الشرائط ولى فقيہ كا حكم حكومتى زمانہ كے تقاضوں كے ساتھ فقہ كى مطابقت كے اہم ترين اسباب ميں سے ہے _نئے امور كہ جن كے متعلق مخصوص فقہى حكم موجود نہيں ہے ميں ولى فقيہ حكومتى حكم كے تحت ان كى شرعى حيثيت كا تعين كرسكتا ہے_

مختصر يہ كہ:

اولاً: تو تمام اجتماعى تبديلياں ايسى نہيں ہيں جو نئے شرعى جواب كا مطالبہ كريں اور نفاذ شريعت ميں دين كا ثبات اور استحكام ركاوٹ پيدا كرے كيونكہ صرف شكل وصورت بدلى ہے لہذا شريعت كا حكم آسانى سے اس پر منطبق ہوسكتا ہے _

ثانياً: اگر اجتماعى تحولات كى وجہ سے بالكل نئے مسائل پيدا ہوجائيں تب بھى اسلامى فقہ ميں ايسے اسباب وا صول موجود ہيں جن كى وجہ سے شريعت ان نئے مسائل كيلئے بھى جواب گو ہوسكتى ہے _ بنابريں '' ثبات دين'' كا معنى يہ نہيں ہے كہ دين كا جديد مسائل پر منطبق ہونا ممكن نہيں ہے _ بلكہ دين ثابت ميں ايسےعناصرموجود ہيں كہ جن كى بناپر دين جديد تبديليوںاور مسائل كے قدم بہ قدم چل سكتا ہے _


خلاصہ :

۱)'' سيكولرازم'' دينى حكومت كو تطبيق اور نفاذ شريعت كى مشكل سے دوچا ر سمجھتاہے _

۲) دينى حكومت كى مخالفت كے سلسلہ ميں ''سيكولرازم'' كى مشہور دليل يہ ہے كہ فقہ اپنے ثبات كى وجہ سے اجتماعى تحولات پر منطبق نہيں ہوسكتى _

۳)''سيكولرازم'' كے استدلال كا بنيادى نكتہ يہ ہے كہ دين ثابت ہے اور اجتماعى روابط تبديل ہوتے رہتے ہيں اور ثابت چيز متغيّر شےء پر منطبق نہيں ہو سكتى پس دين معاشرے ميں قابل اجرا نہيں ہے _

۴) حقيقت يہ ہے كہ اجتماعى تغيرات ايك جيسے نہيں ہيں _

۵) اجتماعى معاملات كى شكل و صورت ميں تبديلى نفاد شريعت ميں مشكل پيدا نہيں كرتى _

۶) اگر چہ بعض تبديلياں بالكل نئي ہيں ليكن شريعت ميں ان كيلئے راہ حل موجود ہے _

۷) دين اگر چہ ثابت ہے ليكن اس ميں مختلف حالات كے ساتھ سازگار ہونے كے اسباب فراہم ہيں_


سوالات :

۱) دينى حكومت كى نفى پر ''سيكولرازم'' كى پہلى دليل بيان كيجيئے _

۲) دو قسم كے اجتماعى تغيرات كى مختصر وضاحت كيجيئے _

۳) كس قسم كے اجتماعى تغيرات ميں شريعت كا اجرازيادہ مشكل ہے ؟

۴)''سيكولرازم'' كے پہلے استدلال كا اختصار كيساتھ جواب بيان كيجئے_

۵) جديد مسائل پر اسلامى فقہ كو قابل انطباق بنانے والے عناصر كى چند مثاليں پيش كيجئے_


آٹھواں سبق :

دينى حكومت كى مخالفت ميں سيكولرازم كى ادلّہ -۲-

دوسرى دليل :

سيكولرازم كى پہلى دليل اس زاويہ نگاہ سے بيان كى گئي تھى كہ اجتماعى معاملات اور مسائل ہميشہ بدلتے رہتے ہيں جبكہ دين و شريعت ثابت ہے لہذا فقہ ان معاملات اور مسائل كا جواب دينے سے قاصر ہے _ سياست اور اجتماع كے متعلق فقہ كى ناتوانى پر سيكولرازم كى دوسرى دليل درج ذيل مقدمات پر مشتمل ہے _

۱_ فقہ كے سياسى اہداف ميں سے ايك معاشرتى مشكلات كا حل اور انسان كى دنيوى زندگى كے مختلف پہلوؤں كى تدبير كرنا ہے غير عبادى معاملات مثلاً ارث ، وصيت، تجارت ، حدود اور ديات ميں واضح طور پريہ ہدف قابل فہم ہے _ مثال كے طور پر معاشرتى برائيوں كو روكنے كيلئے حدود و ديات كا باب اور معاشرہ كى اقتصادى مشكلات كے حل كيلئے مختلف تجارتى اور معاملاتى ابواب كارسازہيں _

۲_ گذشتہ ادوار ميں اجتماعى روابط بہت ہى سادہ اور لوگوں كى ضروريات نہايت كم اور غير پيچيدہ تھيں _ فقہ آسانى سے ان اہداف سے عہدہ برا ہو سكتى تھى اور انسان كى اجتماعى ضروريات كو پورا كرنے كى صلاحيت


ركھتى تھى بنابريں فقہ اور فقہى نظارت صرف اس معاشرہ كے ساتھ ہم آہنگ ہوسكتى ہے جو نہايت سادہ اور مختصرہو_

۳_ آج معاشرہ اور اجتماعى زندگى مخصوص پيچيدگيوں كى حامل ہے لہذا اس كى مشكلات كے حل كيلئے علمى منصوبہ بندى(۱) كى ضرورت ہے اور موجودہ دور كى مشكلات كو فقہ اپنى سابقہ قد و قامت كيساتھ حل كرنے سے قاصر ہے كيونكہ فقہ بنيادى طور پر منصوبہ بندى كے فن كو نہيں كہتے بلكہ فقہ كا كام احكام شريعت كو بيان كرنا ہے فقہ صرف قانونى مشكلات كو حل كرسكتى ہے جبكہ موجودہ دور كى تمام مشكلات قانونى نہيں ہيں _

ان مقدمات كا نتيجہ يہ ہے كہ فقہ موجودہ معاشروں كو چلانے سے قاصر ہے كيونكہ فقہ صرف قانونى مشكلات كا حل پيش كرتى ہے جبكہ موجود معاشرتى نظام كو ماہرانہ اور فنى منصوبہ بندى كى ضرورت ہے _ لہذا آج كى ماہرانہ علمى اورسائنٹيفك منصوبہ بنديوں كے ہوتے ہوئے فقہى نظارت كى ضرورت نہيں ہے _

اس دوسرى دليل كاجواب:

مذكورہ دليل ''دينى حكومت'' اور'' اجتماعى زندگى ميں فقہ كى دخالت ''كى صحيح شناخت نہ ہونے كا نتيجہہے _ اس دليل ميں درج ذيل كمزورنكات پائے جاتے ہيں _

۱_ اس دليل كے غلط ہونے كى ايك وجہ فقہى نظارت اور علمى و عقلى نظارت(۲) كے در ميان تضاد قائم كرنا ہے _گويا ان دونوں كے درميان كسى قسم كا توافق اور مطابقت نہيں ہے _ اس قسم كے تصور كا سرچشمہ عقل اور دين كے تعلق كا واضح نہ ہونا اوردينى حكومت اور اس ميں فقہ كے كردار كے صحيح تصور كا فقدان ہے_ اسى ابہام كى وجہ سے سيكولرازم نے يہ سمجھ ليا ہے كہ معاشرے كى تمام تر زمام نظارت يا تو فقہ كے ہاتھ ميں ہو اور تمام تر

____________________

۱) scientific management


اجتماعى و سماجى مشكلات كا حل فقہ كے پاس ہو اور علم و عقل كى اس ميں كسى قسم كى دخالت نہ ہو يا فقہ بالكل ايك طرف ہوجائے اور تمام تر نظارت علم و عقل كے پاس ہو_

اس تضاد كى كوئي بنياد اور اساس نہيں ہے دينى حكومت اور سيكولر حكومت ميں يہ فرق نہيں ہے كہ دينى حكومت عقل ، علم اور انسانى تجربات كو بالكل ناديدہ سمجھتى ہے اور معاشرے كے انتظامى امور ميں صرففقہى احكام پر بھروسہ كرتى ہے جبكہ سيكولر حكومت معاشرتى امور ميں مكمل طور پر عقل و علم پر انحصار كرتى ہے _اس قسم كى تقسيم بندى اور فرق كاملاً غير عادلانہ اور غير واقعى ہے_دينى حكومت بھى عقل و فہم اور تدبيرومنصوبہ بندى سے كام ليتى ہے_ دينى حكومت اور سيكولر حكومت ميں فرق يہ ہے كہ دينى حكومت ميں عقل اور منصوبہ بندى كو بالكل بے مہار نہيں چھوڑ اگيا بلكہ عقل دينى تعليمات كے ساتھ ہم آہنگ ہوتى ہے اور دينى حكومت عقل سے بے بہرہ نہيں ہے_ بلكہ اسے وہ عقل چاہيے جو شريعت كے رنگ ميں رنگى ہو اور دينى حكومت ميں نظارت اور عقلى منصوبہ بندى كيلئے ضرورى ہے كہ وہ دينى تعليمات سے آراستہ ہوں اور اسلامى حدودكو مد نظر ركھتے ہوئے معاشرتى امور كو چلائے _ سيكولر حكومت ميںعقلى نظارت ،بے مہار اور دين سے لا تعلق ہوتى ہے _ ايسى عقلينظارت دين سے كوئي مطابقت نہيں ركھتى _

۲_ دينى حكومت ميں دين كى حاكميت اور اسلامى احكام كى رعايت كا يہ معنى نہيں ہے كہ حكومت كے تمام كام مثلاً قانون گذارى ، فيصلے اور منصوبہ بندى جيسے امور بلاواسطہ'' فقہ سے ماخوذ'' ہوں _ دينى حكومت كى اساس اس پر نہيں ہے كہ معاشيات كى جزوى تدابير، بڑے بڑے سياسى اور اقتصادى منصوبے اور اجتماعى پيچيدگيوں كا حل عقل و علم كى دخالت اور مددكے بغير براہ راست فقہ سے اخذ كيا جائے_ يہ بات نا ممكن ہے اور دين نے بھى اس قسم كا كوئي دعوى نہيں كيا _ نہ ماضى ميں اور نہ حال ميں كبھى بھى فقہ تمام مشكلات كا حل نہيں


رہى بلكہ ماضى ميں بھى جو مشكلات سيكولر افراد كى نظر ميں صرف فقہ نے حل كى ہيں در حقيقت ان ميں عقل اور انسانى تجربات بھى كار فرما رہے ہيں_ آنحضرت (ص) ،اميرالمؤمنيناور صدر اسلام كے دوسرے خلفاء نے اسلامى معاشرے كے انتظامى امور ميں جس طرح فقہ سے مدد لى ہے اسى طرح عقلى چارہ جوئي، عرفى تدابير اور دوسروں كے مشوروں سے بھى فائدہ اٹھايا ہے _ ايسا ہرگز نہيں ہے كہ فقہ تمام اجتماعى مسائل اور مشكلات كا حل رہى ہو اور اس نے عقل و تدبيركى جگہ بھى لے لى ہو _ پس جس طرح ماضى ميں دينى حكومت نے فقہ اور عقل و عقلى تدابير كو ساتھ ساتھ ركھا ہے اسى طرح آج بھى دينى حكومت ان دونوں كو ساتھ ساتھ ركھ سكتى ہے _ سيكولر حضرات كو يہ غلط فہمى ہے كہ ماضى ميں دينى حكومت صرف فقہ كى محتاج تھى اور آج چونكہ دنيا كو اجتماعى اورناقابل انكار منصوبہ بندى كى ضرورت ہے لہذا دينى حكومت جو كہ صرف فقہى نظارت پر مشتمل ہوتى ہے معاشرتى نظام كو چلانے سے قاصر ہے_

۳_ اجتماعى زندگى ميں فقہ كے دو كام ہيں_ ايك : مختلف پہلوؤں سے قانونى روابط كو منظم كرنا اور ان كى حدود متعين كرنا_ دوسرا : ثقافت ، معيشت اور داخلى و خارجى سياست كے كلى اصول و ضوابط مشخص كرنا_دينى حكومت كا فقہ پر انحصار يا فقہى نظارت كا مطلب يہ ہے كہ وہ حكمراني، خدمتگزاري،كا ركردگى اور قوانين بنانے ميں ان قانونى حدود كا بھى خيال ركھے اور ان اصول و قوانين كے اجرا اور اپنے اہداف كے حصول كيلئے عملى منصوبہ بندى بھى كرے_ فقہى نظارت كا معنى يہ نہيں ہے كہ فقہ صرف افراط زر ، بے روزگارى اور ٹريفك كى مشكلات كو حل كرے بلكہ فقہى نظارت كا معنى يہ ہے كہ اسلامى معاشرے كے حكمران اور منتظمين اقتصادى اور سماجى مشكلات كو حل اوران كى منصوبہ بندى كرتے وقت شرعى حدود كى رعايت كريں _ اور ايسے قوانين كا اجرا كريں جو فقہى موازين كے ساتھ سب سے زيادہ مطابقت ركھتے ہوں _ لہذا دليل كے تيسرے حصّے ميں جو يہ


كہا گيا ہے كہ فقہ صرف قانونى پہلو ركھتى ہے اور تمام معاشرتى مسائل قانونى نہيں ہيں وہ اس نكتے پر توجہ نہ دينے كى وجہ سے كہا گيا ہے _ اگرچہ تمام معاشرتى مسائل قانونى نہيں ہيں ليكن ايك دينى معاشرے ميں ان مشكلات اور جديد مسائل كے حل كا طريقہ بہت اہميت ركھتا ہے_ ايك اجتماعى مشكل كے حل كے مختلف طريقوں ميں سے وہ طريقہ اختيار كيا جائے جس ميں اسلامى احكام كى زيادہ رعايت كى گئي ہو اورجو اسلامى اصولوں سے زيادہ مطابقت ركھتا ہو _ پس كسى اجتماعى مشكل كے قانونى نہ ہونے كا مطلب يہ نہيں ہے كہ اس كے حل كيلئے اسلامى احكام كو بالكل نظر انداز كرديا جائے_

يہ دو دليليں جو ان دو سبقوںميں بيان كى گئي ہيں ''سياست اور معاشرتى نظارت ميں دين كى عدم دخالت '' پر سيكولر حضرات كى اہم اور مشہورترين ادلّہ ميں سے ہيں _باقى ادلّہ اتنى اہم نہيں ہيں لہذا انہيں ذكر نہيں كرتے اورانہيں دو پر اكتفاء كرتے ہيں _


خلاصہ :

۱) فقہ كے اہداف ميں سے ايك انسانى معاشرے كى اجتماعى مشكلات كو حل كرنا ہے _

۲)سيكولر حضرات كا خيال ہے كہ ماضى ميں ان مشكلات كے حل كرنے ميں اسلامى فقہ كامياب رہى ہے ليكن موجودہ جديد دور ميں وہ اس كى صلاحيت نہيں ركھتي_

۳) موجودہ دور، خاص قسم كى پيچيدگيوں اور مسائل كا حامل ہے پس اس كى تمام مشكلات فقہ سے حل نہيں ہو سكتيں لہذا ان كے حل كيلئے علمى نظارت اور منصوبہ بندى كى ضرورت ہے _

۴) سيكولر حضرات كا خيال ہے كہ علمى و عقلى نظارت، فقہى نظارت كى جانشين بن چكى ہے_

۵) سيكولر حضرات كى نظر ميں فقہ صرف قانونى مشكلات كو بر طرف كرتى ہے جبكہ موجودہ دور كى مشكلات صرف قانونى نہيں ہيں_

۶) سيكولر حضرات كو فقہى نظارت اور علمى نظارت كے درميان تضاد قرار دينے ميں غلط فہمى ہوئي ہے _

۷) دينى حكومت اور فقہى نظارت نے ماضى سے ليكر آج تك عقل سے فائدہ اٹھايا ہے _

۸) امور حكومت ميں فقہ كو بروئے كار لانا ،عقل سے مدد حاصل كرنے كے منافى نہيں ہے _

۹)دينى حكومت ميں اجتماعى مشكلات كے حل ، منصوبہ بندى اور نظارت ميں فقہى موازين اور دينى اقدار كى رعايت كرنا ضرورى ہے _


سوالات :

۱) سيكولرحضرات اجتماعى اور سماجى مشكلات كے حل كرنے ميں فقہ كى توانائي اور صلاحيت كے بارے ميں كيا نظريہ ركھتے ہيں؟

۲) دينى حكومت كى نفى پر سيكولر حضرات كى دوسرى دليل كو مختصر طور پربيان كيجئے ؟

۳) سيكولر حضرات كى نظر ميں موجودہ دور كيلئے كس قسم كى نظارت كى ضرورت ہے ؟

۴) كيا علمى نظارت اور فقہى نظارت ميں تضادہے ؟

۵) اجتماعى زندگى ميں فقہ كا دائرہ كاركيا ہے ؟

۶) ''معاشرے كى نظارت ميں دين كى حاكميت ''سے كيا مراد ہے ؟


دوسرا باب :

اسلام اور حكومت

سبق نمبر ۹،۱۰ : آنحضرت (ص) اور تاسيس حكومت

سبق نمبر ۱۱ : آنحضرت (ص) كے بعد سياسى ولايت

سبق نمبر ۱۲ : شيعوں كا سياسى تفكر

سبق نمبر ۱۳، ۱۴ : سياسى ولايت كى تعيين ميں بيعت اور شورى كا كردار


تمہيد :

گذشتہ باب ميں ہم نے كہا تھا كہ دينى حكومت كا معنى '' حكومتى امور ميں دينى تعليمات كى دخالت اور مختلف سياسى امور ميں دين كى حاكميت كو قبول كرناہے'' _ دينى حكومت كے مخالفين كى ادلّہ پر ايك نگاہ ڈالتے ہوئے ہم يہ ثابت كرچكے ہيں كہ اجتماعى و معاشرتى امور ميں دين كى حاكميت اور دينى حكومت كى تشكيل ميں كوئي ركاوٹ نہيں ہے _

اس باب ميں اس نكتہ كى تحقيق كى جائے گى كہ كيا اسلام مسلمانوں كو دينى حكومت كى تشكيل كى دعوت ديتا ہے يانہيں ؟ اور حكومت كى تشكيل، اس كے اہداف و مقاصد اور اس كے فرائض كے متعلق اس كا كوئي خاص نظريہ ہے يا نہيں ؟ دوسرے لفظوں ميں كيا اسلام نے دين اور حكومت كى تركيب كا فتوى ديا ہے ؟ اور كوئي خاص سياسى نظريہ پيش كيا ہے ؟

واضح سى بات ہے كہ اس تحقيق ميں دينى حكومت كے منكرين كى پہلى قسم كى آراء اور نظريات جو كہ گذشتہ باب ميں بيان ہوچكے ہيں پر تنقيد كى جائے گى _ يہ افراد اس بات كا انكار نہيں كرتے كہ معاشرے اور سياست ميں دين كى دخالت ممكن ہے _ اسى طرح اس كے بھى قائل ہيں كہ اجتماعى امور ميں دين كى حاكميت ميں كوئي ركاوٹ نہيں ہے بلكہ ان كا كہناہے كہ'' اسلام ميں ايسا ہوانہيں '' _ يعنى ان كى نظر ميں اسلام نے حكومت كى تشكيل ، اس كى كيفيت اور حكومتى ڈھانچہ جيسے امور خود مسلمانوں كے سپرد كئے ہيں اور خود ان كے متعلق كسى قسم كا اظہار رائے نہيں كيا _


نواں سبق:

آنحضرت (ص) اور تاسيس حكومت -۱-

كيا اسلام نے دينى حكومت كى دعوت دى ہے؟ كيا مختلف سياسى اور حكومتى امور ميں اپنى تعليماتپيش كى ہيں ؟ اس قسم كے سوالات كے جواب ہميں صدر اسلام اور آنحضرت (ص) كى مدنى زندگى كى طرف متوجہ كرتے ہيں_

آنحضرت (ص) نے اپنى زندگى كے جو آخرى دس سال مدينہ ميں گزارے تھے اس وقت امت مسلمہ كى قيادت اور رہبرى آپ كے ہاتھ ميں تھى _سوال يہ ہے كہ يہ قيادت اور رہبرى كيا مسلمانوں پر حكومت كے عنوان سے تھي؟ يااصلاً آ پ (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى بلكہيہ رہبرى و قيادت صرف مذہبى اور معنوى عنوان سے تھى ؟

گذشتہ زمانے كے تمام مسلمانوں اور موجودہ دور كے اسلامى مفكرين كى اكثريت معتقدہے كہ تاريخى شواہد بتاتے ہيں كہ اس وقت آنحضرت (ص) نے ايك اسلامى حكومت تشكيل دى تھى جس كا دارالحكومت مدينہ تھا _ اس مشہور نظريہ كے مقابلہ ميں قرن اخير ميں مسلمان مصنفينكى ايك قليل تعداد يہ كہتى ہےكہ پيغمبر


اكرم (ص) صرف دينى رہبر تھے اور انہوں نے كوئي حكومت تشكيل نہيں دى تھى _

آنحضرت (ص) كى قيادت كے سلسلہ ميں دو بنيادى بحثيں ہيں :

الف_ كيا آپ (ص) نے حكومت تشكيل دى تھى ؟

ب_ بنابر فرض تشكيل حكومت كيا آنحضر ت (ص) كى يہ رياست اور ولايت ،وحى اور دينى تعليمات كى رو سے تھى يا ايك معاشرتى ضرورت تھى اور لوگوں نے اپنى مرضى سے آپ(ص) كو اپنا سياسى ليڈر منتخب كر ليا تھا؟ پہلے ہم پہلے سوال كى تحقيق كريں گے اور ان افراد كى ادلّہ پر بحث كريں گے جو كہتے ہيں : آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى _

حكومت كے بغير رسالت

مصرى مصنف على عبدالرازق اس نظريہ كا دفاع كرتے ہيں كہ آنحضرت (ص) كى قيادت ورہبرى صرف مذہبى عنوان سے تھى اور اس قيادت كا سرچشمہ آپ كى نبوت اور رسالت تھى اسى وجہ سے آپ كى رحلت كے بعد اس قيادت كا خاتمہ ہوگيا _ اور يہ امر جانشينى اور نيابت كے قابل نہيں تھا _ آنحضرت (ص) كى رحلت كے بعد خلفاء نے جو قيادت كى وہ آنحضرت (ص) والى رہبرى نہيں تھى بلكہ خلفاء كى قيادت سياسى تھى اور اپنى اس سياسى حكومت كى تقويت كيلئے خلفاء نے آنحضرت (ص) كى دينى دعوت سے فائدہ اٹھايا_ اس نئي حكومت كے اہلكاروں نے خود كو خليفہ رسول كہلوايا جس كى وجہ سے يہ سمجھ ليا گيا كہ ان كى رہبرى رسول اكرم (ص) كى قيادت كى جانشينى كے طور پر تھى حالانكہ آنحضرت (ص) صرف دينى قيادت كے حامل تھے اور يہ قيادت قابل انتقال نہيں ہے_ پيغمبر اكرم (ص) سياسى قيادت كے حامل نہيں تھے كہ خلفا آپ كے جانشين بن سكتے(۱) _

____________________

۱) ''الاسلام و اصول الحكم ''على عبدالرازق صفحہ ۹۰، ۹۴_


عبدالرازق نے اپنے مدعا كے اثبات كيلئے دو دليلوں كا سہارا ليا ہے _

الف _ پہلى دليل ميں انہوں نے بعض قرآنى آيات پيش كى ہيں ان آيات ميں شان پيغمبر (ص) كو رسالت ، بشير اور نذير ہونے ميں منحصر قرار ديا گيا ہے _ ان كے عقيدہ كے مطابق ''اگر آنحضرت (ص) رسالت اور نبوت كے علاوہ بھى كسى منصب كے حامل ہوتے يعنى حكومت اور ولايت كے منصب پر بھى فائز ہوتے تو كبھى بھى ان آيات ميں ان كى شان كو نبوت ، بشير اور نذير ہونے ميں منحصر نہ كيا جاتا''(۱)

ان ميں سے بعض آيات يہ ہيں_

( ''ان ا نا الّا نذيرو بشير '' ) (۲)

ميں تو صرف ڈرانے اور بشارت دينے والا ہوں _

( ''وَ مَا على الرسول الّا البلاغ المبين '' ) (۳)

اور رسول كے ذمہ واضح تبليغ كے سوا كچھ بھى نہيں ہے _

( ''قل انّما ا نا بشر مثلكم يُوحى الي'' ) (۴)

كہہ ديجيئے ميں تمھارے جيسا بشر ہوں مگر ميرى طرف وحى آتى ہے_

( ''انّما ا نت منذر'' ) (۵)

يقيناً تو صرف ڈرانے والا ہے _

____________________

۱) ''الاسلام و اصول الحكم ''على عبد الرازق صفحہ ۷۳_

۲) سورہ اعراف آيت۱۸۸_

۳) سورہ نور آيت ۵۴_

۴) سورہ كہف آيت۱۱۰_

۵) سورہ رعد آيت ۷_


'' ( فان ا عرضوا فما ا رسلناك عليهم حفيظاً ان عليك الا البلاغ'' ) (۱)

اگر يہ روگردانى كريں تو ہم نے آپ كو ان كا نگہبان بنا كر نہيں بھيجا ہے _ آپ كا فرض صرف پيغام پہنچا دينا ہے_

ب_ آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى _ عبدالرازق اس كى دوسرى دليل يہ ديتے ہيں كہ آج كل ہر حكومت بہت سے شعبوں اور اداروں پر مشتمل ہوتى ہيں _ ضرورى نہيں ہے كہ گذشتہ دور كى حكومتيں بھى اسى طرح وسيع تر اداروں پر مشتمل ہوں ليكن جہاں بھى حكومت تشكيل پاتى ہے كم از كم كچھ سركارى محكموں مثلاً انتظاميہ ،داخلى و خارجى اور مالى امور سے متعلقہ اداروںو غيرہ پر مشتمل ہوتى ہے_ يہ وہ كمترين چيز ہے جس كى ہر حكومت كو احتياج ہوتى ہے ليكن اگر ہم آنحضرت (ص) كے دور فرمانروائي كى طرف ديكھيں تو كسى قسم كے انتظامى اداروں كا نشان نہيں ملتا _ يعنى آنحضر ت (ص) كى حاكميت ميں ايسے كمترين انتظامى ادارے بھى مفقود ہيں جو ايك حكومت كيلئے ضرورى ہوتے ہيں_

ممكن ہے ذہن ميں يہ خيال آئے كہ چونكہ آنحضرت (ص) ايك سادہ زندگى بسر كرتے تھے لہذا انہوں نے اپنى حكومت كے دوران اس قسم كے اداروں كے قائم كرنے كى ضرورت محسوس نہيں كى ليكن عبدالرازق كے نزديك يہ احتمال صحيح نہيں ہے كيونكہ اس قسم كے ادارے ايك حكومت كيلئے ناگزير ہيں اور سادہ زندگى كے منافى بھى نہيں ہيں _ لہذا ان امور اور اداروں كا نہ ہونا اس بات كى دليل ہے كہ آنحضر ت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى اور يہ كہ اسلام صرف ايك دين ہے اور رسالت پيغمبر اكرم (ص) دينى حكومت كے قيام كو شامل نہيں تھي_(۲)

____________________

۱) سورہ شورى آيت ۴۸_

۲) الاسلام و اصول الحكم صفحہ ۶۲_ ۶۴_


پہلى دليل كا جواب

قرآن مجيد كى طرف رجوع كرنے سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ آنحضرت (ص) كے مناصب اور ذمہ دارياں پيام الہى كے ابلاغ اور لوگوں كو ڈرانے ميں منحصر نہيں تھے بلكہ قرآن كريم نے كفار اور منافقين كے ساتھ جہاد، مشركين كے ساتھ جنگ كيلئے مومنين كى تشويق ، عدالتى فيصلے اور معارف الہى كے بيان جيسے امور كو بھى آنحضرت (ص) كى ذمہ دارى قرار ديا ہے_

اور يہ امور پيام الہى كے ابلاغ اور لوگوں كو ڈرانے جيسے امور كے علاوہ ہيں _ ان ميں سے ہر منصب كيلئے ہم بطور دليل ايك آيت پيش كرتے ہيں_

''( يا ايها النبى جاهد الكفار و المنافقين و اغلظ عليهم ) ''(۱)

اے پيغمبر (ص) آپ كفار اور منافقين سے جہاد كريں اور ان پر سختى كريں_

''( يا ايها النبى حرّض المومنين على القتال ) ''(۲)

اے پيغمبر مومنين كو جہاد پر آمادہ كريں_

''( وما كان لمومن و لا مومنة اذا قضى الله و رسوله امراً ان يكون لهم الخيرة من امرهم ) ''(۳)

كسى مومن مرد يا عورت كو اختيار نہيں ہے كہ جب خدا اور اس كا رسول كسى امر كے بارے ميں فيصلہ كريں تو وہ بھى اپنے امر كے بارے ميں صاحب اختيار بن جائے_

____________________

۱) سورہ تحريم آيت ۹_

۲) سورہ انفال آيت ۶۵_

۳) سورہ احزاب آيت۳۶_


'' ( و انزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزّل اليهم ) ''(۱)

اور آپ (ص) كى طرف قرآن كو نازل كيا تا كہ لوگوں كيلئے جواحكام آئے ہيں انہيں بيان كرديں_

اس حقيقت كو ديكھتے ہوئے كہ آنحضرت (ص) مختلف مناصب كے حامل تھے معلوم ہوتاہے كہ عبدالرازق كى پيش كردہ آيات ميں موجود '' حصر'' حقيقى نہيں بلكہ ''اضافي'' ہے _ حصر اضافى كا مطلب يہ ہے كہ جب سامنے والا يہ سمجھ رہا ہو كہ موصوف دو صفتوں كے ساتھ متصف ہے تو متكلم تاكيداً مخاطب پر يہ واضح كرتا ہے كہ نہيں موصوف ان ميں سے صرف ايك صفت كے ساتھ متصف ہے _ مثلاً لوگ يہ سمجھتے تھے كہ آنحضرت (ص) كى ذمہ دارى پيام الہى كا پہنچانا بھى اور لوگوں كو زبردستى ہدايت كى طرف لانا بھى ہے_ اس و ہم كو دور كرنے كيلئے آيت نے حصر اضافى كے ذريعہ آنحضرت (ص) كى ذمہ دارى كو پيام الہى كے ابلاغ ميں منحصر كر ديا ہے اور فرمايا ہے :( ''و ما على الرسول الا البلاغ'' ) اور رسول كے ذمہ تبليغ كے سوا كچھ نہيں ہے(۲) يعنى پيغمبر اكرم (ص) كا كام لوگوں كو زبردستى ايمان پر مجبور كرنا نہيں ہے بلكہ صرف خدا كا پيغام پہنچانا اور لوگوں كو راہ ہدايت دكھانا ہے_ لوگ خود راہ ہدايت كو طے كريں اور نيك كاموں كى طرف بڑھيں_ پس آنحضرت (ص) لوگوں كى ہدايت كے ذمہ دار نہيں ہيں بلكہ صرف راہ ہدايت دكھانے كے ذمہ دا ر ہيں آنحضرت (ص) صرف ہادى ہيں اور لوگوں كى ہدايت كے ذمہ دار نہيں ہے _ بلكہ لوگ خود ہدايت حاصل كرنے اور نيك اعمال بجا لانے كے ذمہ دار ہيں_ اس حقيقت كو آيت نے حصر اضافى كے قالب ميں يوں بيان فرمايا ہے_(۳)

____________________

۱) سورہ نحل آيت۴۴_

۲) سورہ نورآيت ۵۴_

۳) تفسير ميزان ج ۱۲ ، ص ۲۴۱، ۲۴۲ سورہ نحل آيت ۳۵ كے ذيل ميں _ ج ۱۰ ص ۱۳۳ سورہ يونس آيت نمبر۱۰۸ كے ذيل ميں _


( ''فمن اهتدى فانما يهتدى لنفسه و من ضل فانما يضّل عليها و ما انا عليكم بوكيل'' ) (۱)

پس اب جو ہدايت حاصل كرے گا وہ اپنے فائدہ كيلئے كرے گا اور جو گمراہ ہوگا وہ اپنے آپ كا نقصان كرے گا اور ميں تمہارا ذمہ دار نہيں ہوں _

بنابريں عبدالرازق سے غلطى يہاں ہوئي ہے كہ انہوں نے مذكورہ آيات ميںحصر كو حقيقى سمجھا ہے اور ان آيات ميں مذكورمخصوص صفت كے علاوہ باقى تمام اوصاف كى آنحضرت (ص) سے نفى كى ہے_ حالانكہ ان آيات ميںحصر'' اضافي'' ہے بنيادى طور پريہ آيات دوسرے اوصاف كو بيان نہيں كررہيںبلكہ ہر آيت صرف اس وصف كى نفى كر رہى ہے جس وصف كا وہم پيدا ہوا تھا_

دوسرى دليل كا جواب :

ظہور اسلام سے پہلے كى تاريخ عرب كااگر مطالعہ كيا جائے تو يہ حقيقت واضح ہوجاتى ہے كہ ظہور اسلام سے پہلے جزيرہ نما عرب ميں كوئي منظم حكومت نہيں تھى _ ايسى كوئي حكومت موجود نہيں تھى جو ملك ميں امن و امان برقرار كر سكے اور بيرونى دشمنوں كا مقابلہ كر سكے صرف قبائلى نظام تھا جو اس وقت اس سرزمين پر رائج تھا_ اس دور كى مہذب قوموں ميں جو سياسى ڈھانچہ اور حكومتى نظام موجود تھا جزيرة العرب ميں اس كا نشان تك نظر نہيں آتا _ ہر قبيلے كا ايك مستقل وجود اور رہبر تھا_ ان حالات كے باوجود آنحضرت (ص) نے جزيرة العرب ميں كچھ ايسے بنيادى اقدامات كئے جو سياسى نظم و نسق اور تأسيس حكومت كى حكايت كرتے ہيں حالانكہ اس ماحول ميں كسى مركزى حكومت كا كوئي تصور نہيں تھا_ يہاں ہم آنحضرت (ص) كے ان بعض اقدامات كى طرف اشارہ كرتے ہيں جو آپ (ص) كے ہاتھوں دينى حكومت كے قيام پر دلالت كرتے ہيں_

____________________

۱) سورہ يونس آيت نمبر۱۰۸_


الف _ آنحضرت (ص) نے مختلف اور پراگندہ قبائل كے درميان اتحاد قائم كيا _ يہ اتحاد صرف دينى لحاظ سے نہيں تھا بلكہ اعتقادات اور مشتركہ دينى تعليمات كے ساتھ ساتھ سياسى اتحاد بھى اس ميں شامل تھا _ كل كے مستقل اور متخاصم قبائل آج اس سياسى اتحاد كى بركت سے مشتركہ منافع اور تعلقات كے حامل ہوگئے تھے_ اس سياسى اتحاد كا نماياں اثر يہ تھا كہ تمام مسلمان قبائل غير مسلم قبائل كيساتھ جنگ اور صلح كے موقع پر متحد ہوتے تھے_

ب _ آنحضرت (ص) نے مدينہ كو اپنا دارالحكومت قرار ديا اور وہيں سے دوسرے علاقوں ميں والى اور حكمران بھيجے طبرى نے ايسے بعض صحابہ كے نام ذكر كئے ہيں_ اُن ميں سے بعض حكومتى امور كے علاوہ دينى فرائض كى تعليم پر بھى مامور تھے جبكہ بعض صرف اس علاقہ كے مالى اور انتظامى امور سنبھالنے كيلئے بھيجے گئے تھے جبكہ مذہبى امور مثلانماز جماعت كا قيام اور قرآن كريم اور شرعى احكام كى تعليم دوسرے افراد كى ذمہ دارى تھى _

طبرى كے بقول آنحضرت (ص) نے سعيد ابن عاص كو ''رمَعْ و زبيد '' كے درميانى علاقے پر جو نجران كى سرحدوں تك پھيلا ہوا تھا عامر ابن شمر كو ''ہمدان ''اور فيروز ديلمى كو ''صنعا ''كے علاقے كى طرف بھيجا _ اقامہ نماز كيلئے عمرو ابن حزم كو اہل نجران كى طرف بھيجا جبكہ اسى علاقہ سے زكات اور صدقات كى جمع آورى كيلئے ابوسفيان ابن حرب كو مامور فرمايا_ ابو موسى اشعرى كو ''مأرب ''اور يعلى ابن اميہ كو ''الجند ''نامى علاقوں كى طرف روانہ كيا(۱)

ج _ مختلف علاقوں كى طرف آنحضرت (ص) كا اپنے نمائندوںكو خطوط ديكر بھيجنا اس بات كى واضح دليل ہے كہ آپ (ص) نے اپنى قيادت ميں ايك وسيع حكومت قائم كى تھى _ ان ميں سے بعض خطوط اور عہد نامے ايسے ہيں جو دلالت كرتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے ان افراد كو حاكم اور والى كے عنوان سے بھيجا تھا_ عمرو بن حزم

____________________

۱) تاريخ طبرى ( تاريخ الرسل و الملوك ) ج ۳ ص ۳۱۸_


كو آپ نے حكم نامہ ديا تھا اس ميں آپ (ص) نے لكھا تھا :لوگوں سے نرمى سے پيش آنا ليكن ظالموں سے سخت رويہ ركھنا _ غنائم سے خمس وصول كرنا اور اموال سے زكات ان ہدايات كے مطابق وصول كرنا جو اس خط ميں لكھى گئي ہيں (۱) واضح سى بات ہے كہ ايسے امور حاكم اور والى ہى انجام دے سكتا ہے_

د _ آنحضرت (ص) كے ہاتھوں حكومت كے قيام كى ايك اور دليل يہ ہے كہ آپ (ص) نے مجرموں اور ان افراد كيلئے سزائيں مقرر كيں جو شرعى حدود كى پائمالى اور قانون شكنى كے مرتكب ہوتے تھے اور آپ (ص) نے صرف اخروى عذاب پر اكتفاء نہيں كيا اورحدود الہى كا نفاذ اور مجرموں كيلئے سزاؤں كا اجراحكو متى ذمہ داريوں ميں سے ہيں_

ہ_ قرآن كريم اور صدر اسلام كے مومنين كى زبان ميں حكومت اور سياسى اقتدار كو لفظ''الامر''سے تعبير كيا جاتا تھا_

''( و شاورهم فى الامر'' ) (۲) اور اس امر ميں ان سے مشورہ كرو _( ''و امرهم شورى بينهم'' ) (۳) اور آپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں _

اگر آنحضرت (ص) كى رہبرى اور قيادت صرف دينى رہبرى ميں منحصر تھى تو پھر رسالت الہى كے ابلاغ ميں آپ (ص) كو مشورہ كرنے كا حكم دينا ناقابل قبول اور بے معنى ہے لہذا ان دو آيات ميں لفظ ''امر'' سياسى فيصلوں اور معاشرتى امور كے معنى ميں ہے_

____________________

۱) اس خط كى عبارت يہ تھى _''امره ان ياخذ بالحق كما امره الله ، يخبر الناس بالذى لهم و الذى عليهم ، يلين للناس فى الحق و يشتدّ عليهم فى الظلم ، امره ان ياخذ من المغانم خمس الله ''

ملاحظہ ہو: نظام الحكم فى الشريعة و التاريخ الاسلامى ، ظافر القاسمي، الكتاب الاول ص ۵۲۹_

۲) سورہ العمران آيت ۱۵۹_

۳) سورہ شورى آيت ۳۸_


خلاصہ :

۱) آنحضرت (ص) اپنى امت كے قائد تھے اور تمام مسلمان قائل ہيں كہ آپ نے حكومت تشكيل دى تھى _ موجودہ دور كے بعض مسلمان مصنفين آپ (ص) كى دينى قيادت كے معترف ہيں ليكن تشكيل حكومت كا انكار كرتے ہيں_

۲) آپ (ص) كى حكومت كے بعض منكرين نے ان آيات كا سہارا ليا ہے جو شان پيغمبر كو ابلاغ وحى ، بشارت دينے اور ڈرانے والے ميں منحصر قرار ديتى ہيں اور ان آيات ميں آپ كى حاكميت كاكوئي تذكرہ نہيں ہے_

۳) ان آيات سے'' حصر اضافي'' كا استفادہ ہوتا ہے نہ كہ'' حصر حقيقي'' كا _ لہذايہ آنحضر ت (ص) كے سياسى اقتدار كى نفى كى دليل نہيں ہيں_

۴)بعض منكرين كى دوسرى دليل يہ ہے كہ مسلمانوں پر آپ (ص) كى حاكميت ميں ايسے كمترين امور بھى نہيں پائے جاتے جو ايك حكومت كى تشكيل كيلئے انتہائي ضرورى ہوتے ہيں_

۵) تاريخ شاہد ہے كہ آنحضرت (ص) نے اس دور كے اجتماعى ، ثقافتى اور ملكى حالات كو مد نظر ركھتے ہوئے حكومتى انتظامات كئے تھے_

۶) مختلف علاقوں كى طرف صاحب اختيار نمائندوں كا بھيجنا اور مجرموں كيلئے سزائيں اور قوانين مقرر كرنا آنحضرت (ص) كى طرف سے تشكيل حكومت كى دليل ہے_


سوالات :

۱) آنحضرت (ص) كى زعامت اور رياست كے متعلق كونسى دو اساسى بحثيں ہيں؟

۲) آنحضرت (ص) كے ہاتھوں تشكيل حكومت كى نفى پر عبدالرازق كى پہلى دليل كونسى ہے؟

۳) عبدالرازق كى پہلى دليل كے جواب كو مختصر طور پر بيان كيجئے_

۴)عبدالرزاق كى دوسرى دليل كيا ہے ؟

۵) آنحضرت (ص) كے ذريعے تشكيل حكومت پر كونسے تاريخى شواہد دلالت كرتے ہيں؟


دسواں سبق:

آنحضرت (ص) اور تأسيس حكومت -۲-

محمد عابد الجابرى نامى ايك عرب مصنف آنحضرت (ص) كى دينى حكومت كى نفى كرتے ہوئے كہتے ہيں كہ آپ (ص) نے كوئي سياسى نظام اور دينى حكومت تشكيل نہيں دى تھى بلكہ آپ (ص) كى پورى كوشش ايك ''امت مسلمہ ''كى تاسيس تھى _ آپ (ص) نے كوئي حكومت قائم نہيں كى تھى بلكہ آپ (ص) نے لوگوں ميں ايك خاص اجتماعى اور معنوى طرز زندگى كو رائج كيا اور ايسى امت كو وجود ميں لائے جو ہميشہ دين الہى كى حفاظت كيلئے كوشش كرتى رہى اور اسلام اور بعثت نبوى كى بركت سے ايك منظم معنوى اور اجتماعى راہ كو طے كيا_ اس معنوى و اجتماعى راہ كى توسيعكى كوششوں اور امت مسلمہ كى پرورش كے باوجود آنحضرت (ص) نے اپنے آپ (ص) كو بادشاہ ، حكمران يا سلطان كا نام نہيں ديا _ بنابريںدعوت محمدى سے ابتدا ميں ايك ''امت مسلمہ'' وجود ميں آئي پھر امتداد زمانہ كے ساتھ ايك خاص سياسى ڈھانچہ تشكيل پايا جسے اسلامى حكومت كا نام ديا گيا _ سياسى نظم و نسق اور


حكومت كى تشكيل عباسى خلفا كے عہد ميں وقوع پذير ہوئي _ صدر اسلامكےمسلمان اسلام اور دعوت محمدى كو دين خاتم كے عنوان سے ديكھتے تھے نہحكومت كے عنوان سے_ اسى لئے ان كى تمام تر كوشش اس دين كى حفاظت اور اس امت مسلمہ كى بقا كيلئےرہى نہ كہ سياسى نظام اور نوزائيدہ مملكت كى حفاظت كيلئے_ صدر اسلام ميں جو چيز اسلامى معاشرے ميں وجود ميں آئي وہ امت مسلمہ تھى پھر اس دينى پيغام اور الہى رسالت كے تكامل اور ارتقاء سے دينى حكومت نے جنم ليا_

عابد جابرى نے اپنے مدعا كى تائيد كيلئے درج ذيل شواہد كا سہارا ليا ہے_

الف _ زمانہ بعثت ميں عربوںكے پاس كوئي مملكت اور حكومت نہيں تھى _ مكہ اور مدينہ ميں قبائلى نظام رائج تھا جسے حكومت نہيں كہا جا سكتا تھا كيونكہ حكومت كا وجود چند امور سے تشكيل پاتا ہے: اس سرزمين كى جغرافيائي حدود معين ہوں ،لوگ مستقل طور پر وہاں سكونت اختيار كريں_ايك مركزى قيادت ہو جو قوانين كے مطابق ان لوگوں كے مسائل حل كرے _جبكہ عرب ميں اس قسم كى كوئي شئے موجود نہيں تھي_

ب _ آنحضرت (ص) نے اس دينى اور معاشرتى رسم و رواج اور طرز زندگى كى ترويج كى جسے اسلام لايا تھا اور خود كو حكمران يا سلطان كہلو انے سے اجتناب كيا _

ج _ قرآن مجيد نے كہيں بھى اسلامى حكومت كى بات نہيں كى بلكہ ہميشہ امت مسلمہ كا نام ليا ہے ''و كنتم خير امّة ا ُخرجت للناس''تم بہترين امت ہو جسے لوگوں كيلئے لايا گيا ہے_(۱)

د _ حكومت ايك سياسى اصطلاح كے عنوان سے عباسى دور ميں سامنے آئي _ اس سے پہلے صرف'' امت مسلمہ '' كا لفظ استعمال كيا جاتا تھا جب امويوں سے عباسيوں كى طرف اقتدار منتقل ہوا تو ان كى اور ان

____________________

۱) سورہ آل عمران آيت ۱۱۰_


كے حاميوں كى زبان پر'' ہذہ دولتنا'' ( يہ ہمارى حكومت ہے) جيسے الفاظ جارى ہوئے جو كہ دين و حكومت كے ارتباط كى حكايت كرتے ہيں اور امت كى بجائے حكومت اور رياست كا لفظ استعمال ہونے لگا _ (۱)

جابرى كے نظريئےکا جواب :

گذشتہ سبق كا وہ حصہ جو عبدالرازق كى دوسرى دليل كے جواب كے ساتھ مربوط ہے جابرى كے اس نظريہ كے رد كى دليل ہے كہ آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى _ يہاں ہم جابرى كے نظريہ كے متعلق چند تكميلى نكات كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

۱_ اسلام اور ايمان كى بركت سے عرب كے متفرق اور مختلف قبائل كے درميان ايك امت مسلمہ كى تشكيل اور ايك مخصوص اجتماعى اور معنوى طرز زندگى اس سے مانع نہيں ہے كہ يہ امت ايك مركزى حكومت قائم كر لے _كسى كو بھى اس سے انكار نہيں ہے كہ آنحضرت (ص) مختلف اور متعدد قبائل سے'' امت واحدہ'' كو وجود ميں لائے_ بحث اس ميں ہے كہ يہ امت سياسى اقتداراور قدرت كى حامل تھى _ حكومت كا عنصراس امت ميں موجود تھا اور اس حكومت اور سياسى اقتدار كى قيادت و رہبرى آنحضرت (ص) كے ہاتھ ميں تھى _

گذشتہ سبق كے آخر ميں ہم نے جو شواہد بيان كئے ہيں وہ اس مدعا كو ثابت كرتے ہيں_

۲_ عبدالرازق اور جابرى دونوں اس بنيادى نكتہ سے غافل رہے ہيں: كہ ہر معاشرہ كى حكومت اس معاشرہ كے مخصوص اجتماعى اور تاريخى حالات كى بنياد پر تشكيل پاتى ہے_ ايك سيدھا اور سادہ معاشرہ جو كہ پيچيدہ مسائل كا حامل نہيں ہے اس كى حكومت بھى طويل و عريض اداروں پر مشتمل نہيں ہوگى _جبكہ ايك وسيع معاشرہ جو كہ مختلف اجتماعى روابط اور پيچيدہ مسائل كا حامل ہے واضح سى بات ہے اسے ايك ايسى حكومت

____________________

۱) الدين و الدولہ و تطبيق الشريعة محمد عابد جابرى ص ۱۳_ ۲۴ _


كى ضرورت ہے جو وسيع انتظامى امور اور اداروں پر مشتمل ہوتا كہ اس كے مسائل حل كر سكے _ جس غلط فہمى ميں يہ دو افراد مبتلا ہوئے ہيں وہ يہ ہے كہ انہوں نے آنحضرت (ص) كے دور كے اجتماعى حالات پر غور نہيں كيا _ انہوں نے حكومت كے متعلق ايك خاص قسم كا تصور ذہن ميں ركھا ہے لہذا جب آنحضرت (ص) كے دور ميں انہيں حكومت كے متعلق وہ تصور نہيں ملا توكہنے لگے آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى بلكہ عباسيوں كے دور ميں ا سلامى حكومت وجود ميں آئي _

يہ نظريہ كہ جس كا سرچشمہ عبدالرازق كا كلام ہے كى ردّ ميں ڈاكٹر سنہورى كہتے ہيں :

عبد الرازق كى بنيادى دليل يہ ہے كہ ايك حكومت كيلئے جو انتظامى امور اور ادارے ضرورى ہوتے ہيں_ وہ رسولخدا (ص) كے زمانہ ميں نہيںتھے_ ليكن يہ بات عبدالرازق كے اس مدعاكى دليل نہيں بن سكتى كہ آپ (ص) كے دور ميں حكومت كا وجود نہيں تھا_ كيونكہ اس وقت جزيرة العرب پر ايك سادہ سى طرز زندگى حاكم تھى جو اس قسم كے پيچيدہ اور دقيق نظم و نسق كى روادار نہيں تھى لہذا اس زمانہ ميں جو بہترين نظم و نسق ممكن تھا آنحضرت (ص) نے اپنى حكومت كيلئے قائم كيا _ پس اس اعتراض كى كوئي گنجائشے نہيں رہتى كہ ''اگر آپ نے حكومت تشكيل دى تھى تو اس ميں موجود ہ دور كى حكومتوں كى طرح كا نظم و نسق اور انتظامى ادارے كيوں نہيں ملتے_ كيونكہ اس قسم كانظم و نسق اور طرز حكومت آنحضرت (ص) كے زمانہ كے ساتھ مطابقت نہيں ركھتا تھا ليكن اس كے باوجود آپ نے اپنى اسلامى حكومت كيلئے ماليات ، قانون گذارى ، انتظامى امور اور فوجى ادارے قائم كئے_(۱)

۳_ ہمارا مدعا يہ ہے كہ آنحضرت (ص) سياسى اقتدار اور ايك مركزى حكومت كى ماہيت كو وجود ميں لائے_ ہمارى بحث اس ميں نہيں ہے كہ اس وقت لفظ حكومت استعمال ہوتا تھا يا نہيں يا وہ الفاظ جو كہ عموماً حكمران

____________________

۱) ''فقہ الخلافة و تطورہا ''عبدالرزاق احمد سنہورى ص ۸۲_


استعمال كرتے تھے مثلاً امير ، بادشاہ يا سلطان و غيرہ آنحضرت (ص) نے اپنے لئے استعمال كئے يا نہيں؟تاكہ جابرى صرف اس بنا پر كہ آپ (ص) نے خود كو حكمران يا بادشاہ نہيںكہلوايا ياعباسيوں كے دور ميں ''ہمارى حكومت '' جيسے الفاظ رائج ہوئے تشكيل حكومت كو بعد والے ادوار كى پيداوار قرار ديں_

وہ تاريخى حقيقت كہ جس كا انكار نہيں كيا جاسكتا يہ ہے كہ آنحضرت (ص) كے دور ميں مدينہ ميں سياسى اقتدار وجود ميں آچكا تھا _ البتہ يہ حكومت جو كہ اسلامى تعليمات كى بنياد پر قائم تھى شكل و صورت اور لوگوں كے ساتھ تعلقات ميں اس دور كى دوسرى مشہور حكومتوں سے بہت مختلف تھى _

آنحضرت (ص) كى حكومت كا الہى ہونا :

اس نكتہ كى وضاحت كے بعد كہ آنحضرت (ص) نے مدينہ ميں حكومت تشكيل دى تھى اور آپ كى رسالت اور نبوت سياسى ولايت كے ساتھ ملى ہوئي تھى _ اس اہم بحث كى تحقيق كى بارى آتى ہے كہ آنحضرت (ص) كو يہ حكومت اور سياسى ولايت خداوند كريم كى طرف سے عطا ہوئي تھى يا اس كا منشأ رائے عامہ اور بيعت تھى ؟ دوسرے لفظوں ميں كيا آ پ (ص) كى سياسى ولايت كا منشأدينى تھا يا عوامى اورمَدني؟

اس سوال كا جواب اسلام اور سياست كے رابطہ كى تعيين ميں اہم كردار ادا كرے گا _ اگر آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت اور حكومت كا منشا دينى تھا_ اور يہ منصب آپ (ص) كو خدا كى طرف سے عطا كيا گيا تھا تو پھر اسلام اور سياست كا تعلق'' ذاتي'' ہوگا _ بايں معنى كہ اسلام نے اپنى تعليمات ميں حكومت پر توجہ دى ہے اور مسلمانوں سے دينى حكومت كے قيام كا مطالبہ كيا ہے لہذا آنحضرت (ص) نے اس دينى مطالبہ پر لبيك كہتے ہوئے حكومت كى تشكيل اور مسلمانوں كے اجتماعى اور سياسى امور كے حل كيلئے اقدام كيا ہے_ اور اگر آنحضرت (ص) كى حكومت اور سياسى ولايت كا منشأ و سرچشمہ صرف لوگوں كى خواہش اور مطالبہ تھا تو اس صورت ميں اسلام اور حكومت كے درميان تعلق ايك ''تاريخى تعلق ''كہلائے گا _ اس تاريخى تعلق سے مراد يہ


ہے كہ اسلام نے اپنى تعليمات ميں دينى حكومت كى تشكيل كا مطالبہ نہيں كيا اور آنحضرت (ص) كيلئے سياسى ولايت جيسا منصب يا ذمہ دارى قرار نہيں دى بلكہ رسولخدا (ص) كے ہاتھوں دينى حكومت كا قيام ايك تاريخى واقعہ تھا جو اتفاقاً وجود ميں آگيا _ اگر مدينہ كے لوگ آپ(ص) كو سياسى قائد كے طور پر منتخب نہ كرتے اور آپ (ص) كى بيعت نہ كرتے تو اسلام اورحكومت كے درميان اس قسم كا تعلق پيدا نہ ہوتا كيونكہ اس نظريہ كے مطابق اسلام اور سياست كے درميان كوئي ''ذاتى تعلق'' نہيں ہے اور نہ ہى اس دين ميں سياسى ولايت كے متعلق اظہار رائے كياگيا ہے _

اس نظريہ كے حاميوں ميں سے ايك كہتے ہيں :

آسمانى پيغام كو پہنچانے كيلئے رسولخدا (ص) كى اجتماعى ، سياسى اور اخلاقى قيادت سب سے پہلے لوگوں كے منتخب كرنے اور بيعت كے ذريعہ وجود ميں آئي پھر اس بيعت كو خداوند كريم نے پسند فرمايا جيسا كہ سورہ فتح كى آيت'' لقد رضى اللہ عن المومنين اذ يبايعونك تحت الشجرة ''(۱) ''بے شك اللہ تعالى مومنوں سے اس وقت راضى ہو گيا جب وہ درخت كے نيچے تيرى بيعت كر رہے تھے''_ سے معلوم ہوتا ہے ايسا نہيں ہے كہ آنحضرت (ص) كى سياسى قيادت الہى ماموريت اور رسالت كا ايك حصہ ہو بلكہ آپ كى سياسى قيادت اورفرمانروائي جو كہ لوگوں كى روزمرہ زندگى اور عملى و اجرائي دستورات پر مشتمل تھى لوگوں كے انتخاب اور بيعت كے ذريعہ وجود ميں آئي لہذا يہ رہبرى وحى الہى كے زمرے ميں نہيں آتي_

يہ نظريہ صحيح نہيں ہے كہ دين اور سياست كا تعلق ايك تاريخى تعلق ہے اور آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت ايك مدنى ضرورت تھى _ آپ (ص) كى حكومت اس دور كے تقاضے اور لوگوں كے مطالبہ سے اتفاقاً وجود ميں نہيں

____________________

۱) سورہ فتح آيت نمبر۱۸_


آئي تھى _بلكہ اس كا سرچشمہ اسلامى تعليمات تھيں اور جيسا كہ آگے ہم وضاحت كريں گے كہ لوگوں كى خواہش اور بيعت نے درحقيقت اس دينى دعوت كے عملى ہونے كى راہ ہموار كى _ متعدد دلائل سے ثابت كيا جاسكتا ہے كہ آپ (ص) كى سياسى ولايت كا سرچشمہ اسلام اور وحى الہى تھى ان ميں سے بعض دلائل يہ ہيں_

الف _ اسلام كچھ ايسے قوانين اور شرعى فرائض پر مشتمل ہے كہ جنہيں دينى حكومت كى تشكيل كے بغير اسلامى معاشرہ ميں جارى نہيں كيا جاسكتا _ اسلامى سزاؤں كا نفاذ اور مسلمانوں كے مالى واجبات مثلا ً زكوة ، اور اموال و غنائم كے خمس كى وصولى اور مصرف ايسے امور ہيں كہ دينى حكومت كى تشكيل كے بغير ان كا انجام دينا ممكن نہيں ہے _ بنابريں دينى تعليمات كے اس حصہ كو انجام دينے كيلئے آپ (ص) كيلئے سياسى ولايت ناگزير تھي_ ہاں اگر مسلمان آپ (ص) كا ساتھ نہ ديتے اور بيعت اور حمايت كے ذريعہ آپ (ص) كى پشت پناہى نہ كرتے تو آپ كى سياسى ولايت كو استحكام حاصل نہ ہوتا اور دينى تعليمات كا يہ حصہ نافذ نہ ہوتا _ ليكن اس كا يہ معنى نہيںہے كہ آپ(ع) كى سياسى ولايت كا منشأ عوام تھے اور اسلام سے اس كا كوئي تعلق نہيں تھا_

ب _ قرآنى آيات رسولخدا (ص) كى سياسى ولايت كو ثابت كرتى ہيں اورمؤمنين سے مطالبہ كرتى ہيں كہ وہ آپ (ص) كى طرف سے ديے گئے اوامر اور نواہى كى اطاعت كريں:

( '' النبى اولى بالمومنين من انفسهم '' ) (۱)

بے شك نبى تمام مومنوں سے ان كے نفس كى نسبت اولى ہيں _

( '' انما وليّكم الله و رسوله و الذين آمنوا الذين يقيمون الصلوة و يؤتون الزكوة و هم راكعون'' ) (۲)

____________________

۱) سورہ احزاب آيت ۶_

۲) سورہ مائدہ آيت۵۵_


يقينا ً تمہارا ولى خدا ، اس كا رسول اور وہ صاحبان ايمان ہيں جو نماز قائم كرتے ہيں اور حالت ركوع ميں زكوة ديتے ہيں _

( '' انا انزلنا اليك الكتاب بالحق لتحكم بين الناس بما اريك الله'' ) (۱)

ہم نے تمہارى طرف بر حق كتاب نازل كى تا كہ لوگوں كے درميان حكم خدا كے مطابق فيصلہ كريں_

اس قسم كى آيات سے ثابت ہوتا ہے كہ آنحضرت (ص) مومنين پر ولايت ،اولويت اور حق تقدم ركھتے ہيں_ بحث اس ميں ہے كہ يہ ولايت اور اولويت كن امور ميں ہے _ ان آيات سے يہى ظاہر ہوتا ہے كہ يہ ولايت اور اولويت ان امور ميں ہے جن ميں لوگ معمولاً اپنے رئيس كى طرف رجوع كرتے ہيں يعنى وہ اجتماعى امور جن كے ساتھ معاشرہ اور نظام كى حفاظت كا تعلق ہے _ مثلاً نظم و نسق كا برقرار ركھنا ،لوگوں كے حقوق كى پاسدارى ، ماليات كى جمع آورى ، انكى تقسيم اورمستحقين تك ان كا پہنچانا اور اس طرح كے دوسرے ضرورى مصارف ، مجرموں كو سزا دينا اور غيروں سے جنگ اور صلح جيسے امور _

ج_ وہ افراد جو آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت كو مدنى اور غير الہى سمجھتے ہيں ان كى اہم ترين دليل مختلف موقعوں پر مسلمانوں كا رسولخدا ا(ص) كى بيعت كرنا ہے _ بعثت كے تير ہويں سال اہل يثرب كى بيعت اور بيعت شجرہ( بيعت رضوان) كہ جس كى طرف اسى سبق ميں اشارہ كيا گيا ہے يہ وہ بيعتيں ہيں جن سے ان افراد نے تمسك كرتے ہوئے كہا ہے كہ آنحضرت (ص) كى حكومت كا منشأ دينى نہيں تھا _

بعثت كے تير ہويں سال اعمال حج انجام دينے كے بعد اور رسولخدا (ص) كى مدينہ ہجرت سے پہلے اہل يثرب كے نمائندوں نے آنحضرت (ص) كى بيعت كى تھى _ جسے بيعت عقبہ كہتے ہيں_ اگر اس كا پس منظر ديكھا

____________________

۱) سورہ نساء آيت ۱۰۵_


جائے تو بخوبى واضح ہوجاتا ہے كہ اس بيعت كا مقصد مشركين مكہ كى دھمكيوں كے مقابلہ ميں رسولخدا (ص) كى حمايت كرنا تھا _ اس بيعت ميں كوئي ايسى چيز نہيں ہے جو دلالت كرتى ہو كہ انہوں نے آنحضرت (ص) كو سياسى رہبر كے عنوان سے منتخب كيا ہو _ اس بيعت كے وقت آنحضرت (ص) نے فرمايا:

''امّا مالى عليكم فتنصروننى مثل نسائكم و ابنائكم و ان تصبروا على عضّ السّيف و ان يُقتل خياركم ''

بہر حال ميرا تم پر يہ حق ہے كہ تم ميرى اسى طرح مدد كرو جس طرح اپنى عورتوں اور بچوں كى مدد كرتے ہو اور يہ كہ تلواروں كے كاٹنے پر صبر كرو اگر چہ تمہارے بہترين افراد ہى كيوں نہ مارے جائيں_

براء بن معرور نے آنحضرت (ص) كا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں ليا اور كہا :

''نعم و الذى بعثك بالحق لنمنعنّك ممّا نمنع منه ازرنا ''(۱ )

ہاں اس ذات كى قسم جس نے آپ كو حق كے ساتھ مبعوث كيا ہے ہم ہراس چيز سے آپ كا دفاع كريں گے جس سے اپنى قوت و طاقت كا دفاع كرتے ہيں_

بيعت رضوان كہ جس كى طرف سورہ فتح كى اٹھارويں آيت اشارہ كر رہى ہے سن چھ ہجرى ميں ''حديبيہ'' كے مقام پر ہوئي اس بيعت سے يہ استدلال كرنا كہ آنحضرت(ص) كى حكومت كا منشا مدنى اور عوامى تھا ناقابل فہم بہت عجيب ہے كيونكہ يہ بيعت مدينہ ميں آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت اور اقتدار كے استحكام كے كئي سال بعد ہوئي پھر اس بيعت كا مقصد مشركين كے ساتھ جنگ كى تيارى كا اظہار تھا _ لہذا سياسى رہبر كے انتخاب كے مسئلہ كے ساتھ اس كا كوئي تعلق نہيں تھا _

____________________

۱) مناقب آل ابى طالب ج ۱، ص ۱۸۱_


خلاصہ :

۱) عصر حاضر كے بعض مصنفين قائل ہيں كہ آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى بلكہ ايك امت مسلمہ كى نبياد ركھى تھى _ امت مسلمہ كى تشكيل كے بعد عباسيوں كے دور ميں دينى حكومت قائم ہوئي _

۲) اس مدعا كى دليل يہ ہے كہ رسولخد ا (ص) كے دور ميں جو قبائلى نظام رائج تھا اس پر حكومت كى تعريف صادق نہيں آتى _ دوسرا يہ كہ آنحضرت (ص) نے اپنے آپ كو امير يا حاكم كا نام نہيں ديا نيز قرآن نے بھى مسلمانوں كيلئے ''امت ''كا لفظ استعمال كيا ہے _

۳) اس نظريہ كے حامى اس نكتہ سے غافل رہے ہيں كہ ہر معاشرے اور زمانے كى حكومت اس دور كے اجتماعى حالات كے مطابق ہوتى ہے لہذا دور حاضر ميں حكومت كى جو تعريف كى جاتى ہے اس كا رسولخدا (ص) كے زمانے كى حكومت پر صادق نہ آنا اس بات كى نفى نہيں كرتاكہ مدينہ ميں آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل دى تھى _

۴) دوسرا نكتہ جس سے غفلت برتى گئي ہے وہ يہ ہے كہ بحث لفظ ''حكومت، رياست اور امارت'' ميں نہيں ہے _ ہمارا مدعا يہ ہے كہ رسولخدا (ص) كے زمانہ ميں حكومت اور سياسى ولايت موجود تھى _

۵) مسلمانوں ميں حكومت كا وجود ان پر لفظ ''امت'' كے اطلاق كے منافى نہيں ہے _

۶) اصلى مدعا يہ ہے كہ آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت اسلام اور سياست كے در ميان ذاتى تعلق كا نتيجہ ہے نہ كہ ايك اتفاقى اور تاريخى واقعہ _ پس اسلام اور سياست كا تعلق ايك تاريخى تعلق نہيں ہے_

۷) آنحضرت (ص) كى حكومت كے الہى اور غير مدنى ہونے پر بہت سى ادلّہ موجود ہيں _


سوالات :

۱) جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے حكومت كى بجائے امت مسلمہ كى نبياد ركھى تھى اس سے ان كى مراد كيا ہے ؟

۲) اس مدعا پر انہوں نے كونسى ادلّہ پيش كى ہيں ؟

۳) آنحضرت (ص) كے ہاتھوںتشكيل حكومت كے منكرين كے اس گروہ كو كيا جواب ديا گيا ہے؟

۴) اسلام اور سياست كے درميان ''ذاتى تعلق'' اور ''تاريخى تعلق'' سے كيا مراد ہے ؟

۵)اس بات كى كيا دليل ہے كہ آنحضرت (ص) كى حكومت الہى تھى اور اس كا سرچشمہ دين تھا ؟ اور يہ كہ آپ (ص) كى حكومت مدنى نہ تھي_


گيا رہواں سبق:

آنحضرت (ص) كے بعد سياسى ولايت

گذشتہ سبق ميں اس نكتہ كى طرف اشارہ كرچكے ہيں كہ آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت، شرعى نص اور وحى الہى كى بنياد پر تھى اور اس ولايت كى مشروعيت كا سرچشمہ فرمان الہى تھا _ اب سوال يہ ہے كہ كيا رحلت كے بعد مسلمانوں كے سياسى نظام اور امت كے سياسى اقتدار كے متعلق اسلامى تعليمات اور دينى نصوص ميں اظہار رائے كيا گيا ہے ؟ يا اسلام اس بارے ميں خاموش رہا ہے اور امر ولايت اور سياسى اقتدار اور اس كى كيفيت كو خود امت اور اس كے اجتہاد و فكر پر چھوڑ ديا ہے ؟

يہ مسئلہ جو كہ'' كلام اسلامي'' ميں ''مسئلہ امامت'' كے نام سے موسوم ہے طول تاريخ ميں عالم اسلام كى اہم ترين كلامى مباحث ميں رہا ہے اوراسلام كے دو بڑے فرقوں يعنى شيعہ و سنى كے درميان نزاع كا اصلى محور يہى ہے _ اہلسنت كہتے ہيں: آنحضرت(ص) كى رحلت كے بعد امر حكومت كے متعلق دينى نصوص ساكت ہيں اور نظام حكومت ، مسلمانوں كے حكمران كى شرائط اور اس كے طرزانتخاب كے متعلق كوئي واضح فرمان نہيں ديا گيا _ آنحضرت(ص) كے بعد جو كچھ ہوا وہ صدر اسلام كے مسلمانوں كے اجتہاد كى بناپرتھا _ اہل سنت اس اجتہاد كا نتيجہ


''نظام خلافت''كے انتخا ب كو قرار ديتے ہيں _

جبكہ اس كے مقابلے ميں اہل تشيع يہ كہتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے اپنى زندگى ميں ہى حكم خدا سے متعدد شرعى نصوص كے ذريعہ امت كى سياسى ولايت اور'' نظام امامت'' كى بنياد ركھ دي_

ان دو بنيادى نظريات كى تحقيق سے پہلے جو كہ آپس ميں بالكل متضاد ہيں اس نكتہ كى وضاحت ضرورى ہے كہ اہلسنت نے ''مسئلہ امامت'' كو وہ اہميت اور توجہ نہيں دى جو شيعوں نے دى ہے _ اہلسنت كے نزديك مسئلہ خلافت ، شرائط خليفہ اور اس كى تعيين كا طريقہ ايك فقہى مسئلہ ہے _ جس كا علم كلام اور اعتقاد سے كوئي تعلق نہيں ہے _ اسى لئے انہوں نے اسے اتنى اہميت نہيں دى _ ان كى كلامى كتب ميںاس مسئلہ پر جووسيع بحث كى گئي ہے وہ در حقيقت ضد اور شيعوں كے رد عمل كے طور پر كى گئي ہے _ كيونكہ شيعوں نے اس اہم مسئلہ پر بہت زور ديا ہے اور'' مسئلہ امامت'' كو اپنى اعتقادى مباحث كے زمرہ ميں شمار كرتے ہوئے اسے بہت زيادہ اہميت دى ہے _ لہذا اہلسنت بھى مجبوراً اس فرعى اور فقہى بحث كو علم كلام اور اعتقادات ميں ذكر كرنے لگے بطور مثال ،غزالى مسئلہ امامت كے متعلق كہتے ہيں :

''النظر فى الامامة ليس من المهمات و ليس ايضاً من فنّ المعقولات بل من الفقهيات''

امامت كے بارے ميں غور كرنا اتنا اہم نہيں ہے اور نہ ہى يہ علم كلام كے مسائل ميں سے ہے بلكہ اس كا تعلق فقہ سے ہے(۱)

مسئلہ امامت شيعوں كے نزديك صرف ايك فرعى اور فقہى مسئلہ نہيں ہے اور نہ ہى معاشرتى نظام كے چلانے كى كيفيت اور سياسى ولايت ميں منحصر ہے بلكہ ايك كلامى مسئلہ ہے اور جزء ايمان ہے لہذا ائمہ

____________________

۱) الاقتصاد فى الاعتقاد، ابوحامد غزالى ص ۹۵_


معصومين كى امامت پر اعتقاد نہ ركھنا در حقيقت دين كے ايك حصّے كے انكار اور بعض نصوص اور دينى تعليمات سے صرف نظر كرنے كے مترادف ہے ،جس كے نتيجہ ميں ايمان ناقص رہ جاتا ہے _ شيعوں كے نزديك امامت ايك ايسا بلند منصب ہے كہ سياسى ولايت اس كا ايك جزء ہے _ شيعہ ہونے كا اساسى ركن امامت كا معتقد ہونا ہے _ يہى وجہ ہے كہ اہلسنت كے مشہور عالم ''شہرستاني'' '' شيعہ'' كى تعريف كرتے ہوئے كہتے ہيں: الشيعة ہم الذين شايعوا علياً على الخصوص و قالوا بامامتہ و خلافتہ نصاً و وصيتاً اما جلياً و اما خفيا و اعتقدوا ان امامتہ لا تخرج من اولادہ (۱ ) شيعہ وہ لوگ ہيں جو بالخصوص حضرت على كا اتباع كرتے ہيں اور آنحضرت (ص) كى ظاہرى يا مخفى وصيت اور نص كى روسے انكى امامت اور خلافت كے قائل ہيں اور معتقد ہيں كہ امامت ان كى اولاد سے باہر نہيں جائے گى _

اہلسنت اور نظريہ خلافت :

اگر موجودہ صدى كے بعض روشن فكر عرب مسلمانوں كے سياسى مقاصد اور نظريات سے چشم پوشى كرليں تو اہلسنت كا سياسى تفكر تاريخى لحاظ سے نظام خلافت كے قبول كرنے پر مبتنى ہے _

اہلسنت كے وہ پہلے مشہور عالم ماوردى(۲) كہ جنہوں نے اسلام كى سياسى فقہ كے متعلق ايك مستقل كتاب لكھى ہے كے زمانہ سے ليكر آج تك سياسى تفكر كے بارے ميں انكى سب تحريروں كا محور نظريہ خلافت ہے_

اہلسنت كى فقہ سياسى اور فلسفہ سياسى دينى نصوص كى بجائے صحابہ كے عمل سے متاثر ہے _ اہلسنت سمجھتے ہيں كہ خليفہ كى تعيين كى كيفيت اورشرائط كے متعلق قرآن اور سنت ميں كوئي واضح تعليمات موجو د نہيں ہيں

____________________

۱) الملل و النحل، شہرستانى ج ۲ ص ۱۳۱_

۲) على ابن محمد ابن حبيب ابوالحسن ماوردى ( ۳۶۴ _ م ۴۵۰ ق) شافعى مذہب كے عظيم فقہا ميں سے ہيں فقہ سياسى كے متعلق ''احكام سلطانيہ'' كے علاوہ ديگر كتب كے بھى مؤلف ہيں جيسے ''الحاوي'' اور ''تفسير قرآن'' _


بلكہ يہ امر اجتہاد امت كے سپرد كيا گيا ہے _ سياست ، معاشرہ كے انتظامى امور ، حاكم اور خليفہ كے انتخاب كا طريقہ اور اس كے اختيارات كے متعلق آنحضرت (ص) كى رحلت كے بعدجو كچھ بھى ہوا ہے وہى حجت ہے كيونكہ يہ سب كچھ رسولخد ا (ص) كے صحابہ كے اجتہاد اور راے كى بناپر ہوا ہے اور ان كا ا جتہاد حجت اور معتبر ہے _

اہلسنت كے سياسى نظام كے دينى نصوص كى بجائے رحلت رسول (ص) كے بعد پيش آنے والے واقعات سے وابستہ ہونے كى وجہ سے سياسى تفكر كے سلسلہ ميں علماء اہلسنت مشكل ميں پڑگئے ہيں كيونكہ يہ سياسى واقعات ايك طرح كے نہيں تھے لہذا ان كے مختلف ہونے كى وجہ سے انكى آراء بھى مختلف ہيں_ بطور مثال خليفہ كے انتخاب كى كيفيت اوراس كى سياسى ولايت كى مشروعيت كے سرچشمے كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے_

خليفہ اول كا انتخاب سقيفہ ميں موجود بعض مہاجرين و انصار كى بيعت سے عمل ميں آيا _ جبكہ امير المومنين حضرت على ، حضرت ابوذر ،حضرت سلمان، حضرت مقداد اور حضرت زبير جيسے جليل القدر صحابہ اس بيعت كے مخالفت تھے_ خليفہ دوم حضرت ابوبكركى تعيين كے ذريعے منتخب ہوئے خليفہ سوم كا انتخاب اس چھ ركنى شورى كى اكثريت رائے سے عمل ميں آيا جسے حضرت عمر نے بنايا تھا _ جبكہ حضرت على كا انتخاب مہاجرين و انصار كے اتفاق رائے اور عامة الناس كى بيعت سے ہوا _ جيسا كہ آپ نے ملاحظہ فرمايا: خلفاء كے بر سر اقتدار آنے كا طريقہ ايك نہيں تھا _ ان چار خلفاء كے بعد سياسى ولايت كاسرچشمہ مزيد مشكلات اور ابہامات كا شكار ہوگيا كيونكہ معاويہ سميت بہت سے اموى اور عباسى خلفاء نے طاقت اور غلبہ كے زور پر حكومت حاصل كى _ ان كا انتخاب مسلمانوں كى رائے ، بيعت يا اہل حل و عقد كے ذريعہ عمل ميں نہيں آيا_

خلافت اور اس كے انتخاب كے متعلق اہلسنت كے صاحبان نظر كا نظريہ كلى طور پر آنحضرت (ص) كى رحلت كے بعد پيش آنے والے واقعات سے متاثر ہے _ ان كى ہميشہ يہ كوشش رہى ہے كہ اپنے سياسى نظام كو


اس طرح پيش كيا جائے كہ وہ ان تمام واقعات كے ساتھ ہم آہنگ ہوسكے_ مثلاً آپ خليفہ كے انتخاب كى كيفيت اور مشروعيت كے متعلق ''ماوردي'' كے كلام كو ديكھيں كہ وہ كس طرح انتخاب خليفہ كے ان مختلف طريقوں كو جمع كرتے ہيںوہ كہتے ہيں :امامت كا اثبات دو طريقوں سے ممكن ہے _ ايك اہل حل و عقد كے اختيار اورانتخاب سے اور دوسرا سابق امام كى وصيت و تعيين سے _ اس دوسرے طريقہ ميں يہ اختلاف پايا جاتا ہے كہ كيا اہل حل و عقد كے اجماع كے بغير خلافت ثابت ہوسكتى ہے؟

حق يہ ہے كہ كسى امام كى امامت و خلافت سابقہ امام كى تعيين سے ثابت ہوجاتى ہے اور اس كيلئے اہل حل و عقد كى رضايت ضرورى نہيں ہے كيونكہ حضرت عمر كى امامت صحابہ كى رضايت پر موقوف نہيں تھى _ دوسرا يہ كہ سابقہ خليفہ بعد والے خليفہ كے تعيّن كا دوسروں كى نسبت زيادہ حق ركھتا ہے_ اور وہ دوسروں يعنى اہل حل و عقد سے زيادہ با اختيار ہے_(۱)

اہل سنت كے نظريہ خلافت كے متعلق دوسرا اہم نكتہ يہ ہے كہ كيا خليفة المسلمين ہونا ،صاحب خلافت كيلئے كسى خاص اخلاقى اور معنوى مقام و منزلت پر دلالت نہيں كرتا؟

صدر اسلام ميں لفظ ''خليفہ ''كو اس كے لغوى معنى ميں استعمال كيا جاتا تھا اور اس پر كوئي خاص معنوى شان و منزلت مترتب نہيں كرتے تھے_ ''خلافت ''لغوى لحاظ سے مصدر ہے_ جس كے معني'' غير كى جانشينى '' اور ''نيابت'' كے ہيں _ خليفہ وہ ہے جو كسى دوسرے كى جگہ پر آئے _بنابريں خليفہ رسول وہ شخص ہے جو آنحضرت(ص) كے بعد مسلمانوں كى قيادت اپنے ہاتھ ميں لے_ خليفہ اول كے بعد خليفہ وہ ہے جو رسولخدا (ص) كے جانشين كے بعد مسلمانوں كا قائد بنے_ يعنى وہ رسولخدا (ص) كے خليفہ كا خليفہ ہے_ خود خلفاء كے كلام

____________________

۱) الاحكام السلطانيہ، ابوالحسن ماوردى ص ،۶و ۱۰ _


سے بھى ظاہر ہوتا ہے كہ ابتدائے استعمال ميں عنوان ''خليفہ ''كسى خاص معنوى معانى كا حامل نہيں تھا اور آنحضرت (ص) كى ذاتى صفات و كمالات كا حامل ہونے سے حكايت نہيں كرتا تھا_ ليكن امتداد زمانہ كے ساتھ ساتھ حكومتوں كے استحكام كيلئے اس منصب كو معنوى تقدس اور احترام كا لبادہ پہنايا جانے لگا اور خليفہ رسول كو آنحضرت (ص) كے معنوى كمالات كا حامل بھى سمجھا جانے لگا_

آخرى نكتہ جس كى طرف اشارہ ضرورى ہے يہ ہے كہ خلافت اسلاميہ كى تاريخ گواہ ہے ، كہ ايسے افراد بھى بر سر اقتدار آئے جو اگر چہ خليفہ رسول كے نام پر حكومت كر رہے تھے_ ليكن سيرت و كردار ، اور اخلاقى صفات و كمالات كے لحاظ سے نہ صرف رسولخدا (ص) بلكہ ايك عام مسلمان سے بھى كو سوں دور تھے_ يہ مسئلہ خود اس سوال كيلئے كافى ہے كہ اہلسنت جس نظام خلافت پر بہت زور ديتے ہيں اس نظام اور نظام سلطنت و ملوكيت ميں كيا فرق ہے؟ اس ابہام ميں مزيد اضافہ اس بات سے ہوتا ہے كہ نظام خلافت كے حاميوں ميں سے بعض نے تو امام يا خليفہ كى مخصوص شرائط بھى بيان نہيں كيں_ بلكہ بعض كے كلام سے تو يہ ظاہر ہوتا ہے كہ مسلمانوں كے حكمران كى اطاعت كے واجب ہونے ميں اس كا متقى اور عادل ہونا سرے سے شرط ہى نہيں ہے_ ابوبكر باقلانى (م۴۰۳ھ ) جمہور اہل حديث سے نقل كرتے ہيں : ''حاكم يا امام كے فسق و فجور كا ظاہر ہونا، اس كے ہاتھوں نفوس محترمہ كى ہتك حرمت ، حدود الہى كى پائمالى اور لوگوں كے مال كا غصب ہونا اس كى قدرت كے فقدان اور اطاعت سے خارج ہونے كا باعث نہيں بنتا'' _ اس نظريہ كى تائيد كيلئے اہل حديث آنحضرت (ص) اور صحابہ سے منقول روايات كا سہارا ليتے ہيں _ مثلا:

''اسمعوا وأطيعوا و لو لعبد اجدع و لو لعبد حبَشى و صَلُّوا وَرائَ كلّ برّ و فاجر''


'' حاكم كى اطاعت كرو اگر چہ وہ ناك كٹا غلام ہى كيوں نہ ہو اور اگر چہ وہ حبشى غلام ہى كيوں نہ ہو اور ہر نيك يا بد كے پيچھے نماز پڑھو''_

يا يہ روايت كہ:

''أطعهم و ان أكَلُوا مالَك و ضَرَبُوا ظهرَك'' (۱)

'' حكمرانوں كى اطاعت كرو چاہے انہوں نے تمہارے اموال غصب كئے ہوں اور تمھيں مارا پيٹا ہو''_

مخفى نہ رہےكہ احمد بن حنبل جيسے بعض گذشتہ علماء اہلسنت معتقد ہيں كہ حسن ابن على كے بعد والے حكمرانوں پر خليفہ كا اطلاق مكروہ ہے_ يہ علماء خلافت اور ملوكيت و سلطنت ميں فرق كے قائل ہيں_ ان كى دليل وہ روايت ہے جسے ابوداود اور ترمذى نے آنحضرت (ص) سے نقل كيا ہے :

''الخلافةُ فى أُمتى ثلاثونَ سنة ثمّ ملك بعد ذلك'' (۲)

ميرى امت ميں تيس (۳۰) سال تك خلافت ہے اس كے بعد ملوكيت ہے_

اس كے باوجود اكثر علماء اہلسنت كى عملى سيرت يہ رہى ہے كہ انہوں نے اپنے حكمرانوں اور خلفاء كى اطاعت كى ہے اور ان كى مخالفت كرنے سے پرہيز كيا ہے_ اگر چہ ان ميں سے بہت سے خلفا ء فاسق و فاجر تھے_

____________________

۱) التمہيد فى الردّ على الملحدة، ابوبكر باقلانى ،ص ۲۳۸_

۲) مأثر الانافة فى معالم الخلافہ ، احمد ابن عبداللہ قلقشندى ،ص ۹_


خلاصہ :

۱) اسلامى علم كلام ميں مسئلہ امامت اس سوال كا جواب ہے كہ كيا اسلامى تعليمات نے رحلت رسو ل (ص) كے بعد سياسى ولايت كے متعلق سكوت اختيار كيا ہے يا نہيں؟

۲) اہلسنت معتقد ہيں كہ سياسى قيادت كا تقرر خود ا مت كے سپرد كيا گيا ہے اور صدر اسلام كے مسلمانوں نے اپنے اجتہاد اور رائے سے ''نظام خلافت ''كا انتخاب كيا_

۳) شيعہ ''نظام امامت ''كے معتقد ہيں اور يہ عقيدہ ركھتے ہيں كہ دينى نصوص نے رحلت رسولخدا (ص) كے بعد مسئلہ امامت كو واضح كرديا ہے_

۴)''امامت ''اہلسنت كے نزديك ايك فرعى مسئلہ ہے جبكہ شيعہ اسے ايك اعتقادى مسئلہ اور اصول دين ميں سے قرار ديتے ہيں_

۵) اہلسنت كے سياسى تفكر اور نظريہ خلافت كى بنياد صحابہ كے عمل پر ہے_

۶) صدر اسلام كے خلفاء كے تعيّن اور طرز انتخاب كے مختلف ہونے كى وجہ سے اہلسنت كا سياسى تفكر ايك جيسا نہيں رہا اور اتفاق نظر سے عارى ہے_

۷) ابتداء ميں لفظ ''خليفہ ''معنوى خصوصيات كا حامل نہيں تھا ليكن مرور زمان كے ساتھ ساتھ خليفہ كو رسولخدا (ص) كے دينى اور معنوى جانشين كے طور پر متعارف كرايا گيا_

۸) بہت سے موارد ميں اہلسنت كے مورد نظر ''نظام خلافت '' اور ''نظام سلطنت'' كے درميان فرق كرنا مشكل ہے_


سوالات :

۱) مسئلہ امامت ميں اصلى نزاع كيا ہے؟

۲)'' نظام خلافت'' سے كيا مراد ہے؟

۳) اہل تشيع اور اہل تسنن كے نزديكمسئلہ امامت كا كيا مقام ہے؟

۴) سياسى تفكر اور نظريہ خلافت كو بيان كرنے كيلئے اہلسنت نے كس چيز پر اعتماد كيا ہے؟

۵) نظريہ خلافت سے متعلق سياسى ولايت كى مشروعيت كو بيان كرنے ميں اہلسنت كيوں مشكل سے دوچار ہوئے؟

۶) اہلسنت كے در ميان لفظ ''خلافت اور خليفہ'' كے استعمال نے كن راہوں كو طے كيا ہے؟

۷) نظام خلافت كو نظام سلطنت و ملوكيت سے تميز دينے ميں كونسى شئے ابہام كا باعث بنى ہے؟


بارہواں سبق :

شيعوں كا سياسى تفكر

سياسى ولايت كے سلسلہ ميں آنحضرت (ص) كى رحلت كے بعد شيعہ ''نظريہ امامت ''كے معتقد ہيں _ شيعہ معتقد ہيں كہ ائمہ معصومين صرف سياسى ولايت اور شان و منزلت كے حامل نہيں تھے بلكہ ان كا ايمان ہے كہ ائمہ معصو مين وحى الہى كے علاوہ آنحضرت (ص) كى تمام صفات و كمالات ميں آپ (ص) كے جانشين ہيں _ بنابريں ائمہ معصومين سياسى ولايت سميت ولايت معنوي، معاشرہ كى دينى راہنمائي اور لوگوں كو دينى حقائق كى تعليم دينے جيسى خصوصيات كے بھى حامل ہيں _ وہ رسولخد ا (ص) كے حقيقى خلفاء ، وارث اور جانشين ہيں اور اس وراثت كا لازمہ يہ ہے كہ معنوى ، علمى اور سياسى اوصاف ميں رسولخدا (ص) كے بعد ائمہ معصومين تمام لوگوں سے افضل ہوں اور امامت اور خلافت نبوى كے منصب كيلئے اپنے دور كے تمام افراد سے زيادہ شائستہ ہوں _ اسى وجہ سے اہلسنت كے بعض علماء نے شيعہ كى تعريف ميں اسى نكتہ كى طرف اشارہ كيا ہے _

ابن حزم '' اہل تشيع'' كى تعريف كرتے ہوئے كہتے ہيں :


''و مَن وافق الشيعة فى أنّ عليّاً أفضل الناس بعد رسول الله (ص) و أحقّهم بالامامة و وُلده من بعده، فهو شيعى و إن خالفهُم فيما عدا ذلك مما اختلف فيه المسلمون، فإن خالَفَهُم فيما ذكرنا فليس شيعيّاً'' (۱)

جو شخص شيعوں كى اس بات سے اتفاق كرتا ہے كہ رسولخدا (ص) كے بعد على سب سے افضل ہيں_ اور آپ(ع) اور آپ (ع) كى اولاد دوسروں سے زيادہ حقدار امامت ہے وہ شيعہ ہے اگر چہ مسلمانوں كے نزديك مورد اختلاف ديگر چيزوں ميں شيعوں سے اختلاف رائے ركھتا ہو اور اگر وہ اس چيز ميں شيعوں سے اتفاق نہيں كرتا جسے ہم نے ذكر كيا ہے تو وہ شيعہ نہيں ہے_

شيعوں كا سياسى نظريہ اہلسنت كے نظريہ خلافت سے دو بنيادى نكات ميں مختلف ہے پہلانكتہ يہ ہے كہ آنحضرت (ص) كى رحلت كے بعد امر حكومت اور سياسى ولايت كے متعلق شيعہ دينى نصوص كو ساكت نہيں سمجھتے بلكہ معتقد ہيں كہ آنحضرت (ص) كے بعد خليفہ كے تقرر كے سلسلہ ميں بہت سى معتبر نصوص موجودہيں _ اسى وجہ سے وہ ائمہ معصومين كى ولايت كے جواز كا مبداء و سرچشمہ ،ارادہ الہى اور خدا كى طرف سے تعيين كو سمجھتے ہيں_ اہلبيت كى ولايت اور امامت ايك الہى منصب ہے جيسا كہ امت پر رسولخد ا (ص) كى ولايت كا سرچشمہ الہى تھا اور اس كا جواز لوگوں كى بيعت اور رائے كا مرہون منت نہيں تھا_

دوسرا نكتہ اختلاف يہ ہے كہ شيعوں كى نظر ميں لفظ ''امام'' خليفہ رسول كے حقيقى معنى ميں ہے يعنى معنوي، علمى اور سياسى تمام جہات ميں رسولخدا (ص) كا جانشين _ جبكہ اہلسنت خلفاء كى جانشينى كو اس كے لغوى معنى ميں ليتے ہيں _ يعنى بعد ميں آنے والا _ البتہ ائمہ معصومين كے متعلق شيعوں كے اعتقاد سے متاثر ہوكر

____________________

۱) الفصَل فى الملل و الاہواء و النحل ج ۲، ص ۱۱۳_


اہلسنت كے بعض علماء نے يہ نظريہ قائم كرليا ہے كہ آنحضرت (ص) كے بعد پہلے چار خُلفاء بالترتيب تمام لوگوں سے افضل ہيں _ حالانكہ اس عقيدہ كا صدر اسلام حتى كہ خليفہ اول اور دوم كے دور ميںبھى كوئي وجود نہيں تھا_ اہلسنت ميں يہ عقيدہ اموى اور عباسى خلفاء كے ذريعہ آيا جس كى تقويت انہوںنے اپنے سياسى اغراض اور شيعوں كى ضد ميں آكر كى انہوں نے اس عقيدہ كى ترويج كى بہت زيادہ كوششيں كيں كہ وہ بھى رسولخدا (ص) كى بعض خصوصيات كے حامل ہيں (۱) _

بہت سى معتبر روايات دلالت كرتى ہيں كہ امامت كا ايك خاص اجتماعى اور ايمانى مقام و منزلت ہے امامت اسلام كے دوسرے فروع اور اجزا كى طرح نہيں ہے _ بلكہ بہت سے احكام اور فروع كا قوام اور اسلام و مسلمين كى اساس ''امامت'' پر ہے _ ہم بطور نمونہ بعض روايات كى طرف اشارہ كرتے ہيں _

مرحوم شيخ كليني جناب زرارہ كے واسطہ سے امام باقر سے نقل كرتے ہيں :

بُنى الاسلام على خمسة أشيائ: على الصلاة و الزكاة و الحجّ والصوم و الولاية قال زرارة: فقلت و أيّ شيء من ذلك أفضل؟ فقال: الولاية أفضل; لانّها مفتاحهنّ والوالى هو الدليل عليهنّ ثمّ قال: ذروة الامر و سنامه و مفتاحه و باب الا شياء و رضا الرحمان الطاعة للامام بعد معرفته ان الله (عزوجل) يقول:( ( مَن يُطع الرَّسولَ فَقَد أطاعَ الله َ و مَن تَولّى فَما أرسلناك عَليهم حَفيظاً ) )(۲)

____________________

۱) الاسلام السياسي، محمد سعيد العشماوى ص ۹۳و ۹۴_

۲) الكافى جلد ۲ صفحہ ۱۸_۱۹، باب دعائم الاسلام حديث ۵ جبكہ حديث ميں مذكور آيت سورہ نساء كى ۸۰ نمبر آيت ہے_


اسلام كى بنياد اور اساس پانچ چيزوں پر ہے : نماز ، زكوة ، حج، روزہ اور ولايت _

جناب زرارہ كہتے ہيں : ميں نے پوچھا كہ ان ميں سے افضل كونسى چيز ہے ؟ امام نے فرمايا :ولايت سب سے افضل ہے كيونكہ يہ ان تمام كى كنجى ہے اور ولى ان پرراہنمائي كرنے والا ہے پھر فرمايا: امر دين كا بلندترين مرتبہ اور اس كى كنجى ، تمام اشياء كا دروازہ اور خدا كى رضا، امام كى معرفت كے بعد اس كى اطاعت ميں پنہاں ہے _ الله تعالى فرماتا ہے: جس نے رسول كى اطاعت كى اس نے خدا كى اطاعت كى اور جس نے روگردانى كى تو ہم نے تمھيں ان پر نگران بنا كر نہيں بھيجا_

امام رضا ايك حديث ميں امامت كو زمام دين ، مسلمانوں كا نظام حيات ، اسلام كى اساس اور بہت سے احكام كى تكميل كى بنياد قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں :

''انّ الامامة زمام الدين و نظام المسلمين و صلاح الدنيا و عزّ المؤمنين انّ الامامة أسّ الاسلام النامى و فرعه السامي_ بالامام تمام الصلاة و الزكاة والصيام والحجّ والجهاد و توفير الفيء و الصدقات وامضاء الحدود والأحكام و منع الثغوروالاطراف الامام يحلّ حلال الله و يحرم حرام الله و يقيم حدود الله و يذبّ عن دين الله ''(۱)

يقيناً امامت زمام دين ، مسلمانوں كا نظام حيات ، صلاح دنيا اور صاحبان ايمان كى عزت ہے_ امامت اسلام كى نشو و نما كرنے والى جڑ اور اس كى بلندترين شاخ ہے _ نماز، روزہ، حج،زكوة اور جہاد كى تكميل امام كے ذريعہ سے ہوتى ہے _ غنيمت اور صدقات كيشرعى قانون

____________________

۱) الكافى جلد ۱، صفحہ ۲۰۰ ، باب نادرجامع فى فضل الامام وصفاتہ حديث۱ _


كے مطابق تقسيم ، حدود و احكام كا اجر اء اور اسلامى سرزمين اور اس كى سرحدوں كى حفاظت امام كے وسيلہ سے ممكن ہے _ امام ہى حلال خدا كو حلال اور حرام خدا كو حرام كرتا ہے حدود الہى كو قائم كرتا ہے اور دين كا دفاع كرتاہے_

حضرت على بھى امامت كو امت كا نظام حيات اور اسكى اطاعت كو اسكى تعظيم قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں :

''فَرَضَ الله الإيمان تَطهيراً من الشرك والإمامة نظاماً للأُمة والطاعة تعظيماً للإمامة'' (۱)

الله تعالى نے ايمان كو شرك سے بچنے كيلئے ، امامت كو نظام امت اور اطاعت كو امامت كى تعظيم كيلئے واجب قرار دياہے _

قابل ذكر ہے كہ شيعوں كا سياسى تفكر دو مرحلوں ميں قابل تحقيق ہے _

الف: امام معصوم كے حضور كے زمانہ ميں

ب : امام زمانہ( عجل اللہ فرجہ الشريف ) كى غيبت كے زمانہ ميں

امام كے حضور كے زمانہ ميں سياسى ولايت كے متعلق شيعہ علماء كا نظريہ مكمل طور پر متفقہ اور واضح ہے_ شيعہ نظريہ امامت كے معتقد ہيں اور امت كى ولايت كو امام معصوم كى امامت كا ايك حصہ اور جز سمجھتے ہيں _ تمام وہ حكومتيں جو اس حق خدا كو پامال كر كے تشكيل پائي ہوں انہيں غاصب اور ظالم قرار ديتے ہيں اور اس نظريہ ميں كسى شيعہ عالم كو اختلاف نہيں ہے ، كيونكہ شيعوں كى شناخت اور قوام اسى اعتقاد كى بناپر ہے _وہ شئے جو قابل بحث و تحقيق ہے وہ غيبت كے زمانہ ميں شيعوں كا سياسى تفكر ہے _

____________________

۱ ) نہج البلاغہ حكمت ۲۵۲_


زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى تفكر :

زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى تفكر اس طرح واضح ، روشن اور متفق عليہ نہيں ہے جس طرح زمانہ حضور ميں ہے _ شيعوں كا كوئي عالم دين ائمہ معصومين كى سياسى ولايت اور امامت ميں شك و ترديد كا شكار نہيں ہے كيونكہ امامت ميں شك تشيّع سے خارج ہونے كے مترادف ہے _ائمہ معصومين كى امامت پر نہ صرف سب كا اتفاق ہے بلكہ تشيّع كى بنياد ہى امامت كے نظريہ پر ہے _ ليكن سوال يہ ہے كہ امام معصوم كى غيبت كے زمانہ ميں بھى ان كى سياسى ولايت كے متعلق يہى اتفاق نظر ہے ؟

حقيقت يہ ہے كہ تمام جہات سے ايسا اتفاق نظر موجود نہيں ہے _ يعنى ايك واضح و ثابت قول كى تمام علماء شيعہ كى طرف نسبت نہيں دى جاسكتى _ كيونكہ اس بحث كے بعض پہلوؤں ميں ان كے در ميان اختلاف پايا جاتا ہے _ آئندہ كى بحثوں ميں آئے گا كہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشريف كى غيبت كے دوران علماء شيعہ ''فقيہ عادل'' كى ولايت كے قائل ہيں _ اور فقيہ عادل كو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشريف كا نائب عام سمجھتے ہيں _ ليكن اس فقيہ عادل كى ولايت كى حدود اور اختيارات ميں اتفاق نہيں ہے _ ولايت فقيہ كى حدود كے سلسلہ ميں ايك واضح اور مشخص نظريہ كى تمام علماء كى طرف نسبت نہيں دى جاسكتى _

ولايت فقيہ كى تاريخ پر بحث كے دوران تفصيل سے آئے گا كہ علماء شيعہ ''اصل ولايت فقيہ'' اور فقيہ عادل كى بعض امور ميں امام معصوم كى جانشينى پر اتفاق نظر ركھتے ہيں _اختلاف اس ميں ہے كہ اس ولايت كا دائرہ اختيار كس حد تك ہے _

بعض بڑے شيعہ فقہاء اس ولايت اور جانشينى كو عام اور ان تمام امور ميں سمجھتے ہيں كہ جن ميں امام كى جانشينى ممكن ہے اور اس طرح فقيہ كى ''ولايت عامہ'' كے قائل ہيں _ جبكہ بعض دوسرے فقہا اس جانشينى كو محدود اور خاص موارد ميں قرار ديتے ہيں _


مسلمان معاشرے كے اجتماعى اور سياسى امور ميں فقيہ كى سياسى ولايت اس كى ولايت عامہ كے اثبات پر موقوف ہے _ كيونكہ امام معصوم كى خصوصيات ميں سے ايك آپ كى سياسى ولايت بھى ہے اور يہ خصوصيت قابل نيابت ہے _ جبكہ ائمہ معصومين كا مقام عصمت، علم الہى اور معنوى كمالات قابل نيابت نہيں ہيں _ تيسرے باب ميں ہم ولايت فقيہ اور اس كى ادلّہ پر تفصيلى بحث كريں گے _ اسى طرح'' فقيہ عادل'' كا منصب ولايت پر فائز ہونا اور اس كے دائرہ اختيار پر بھى گفتگو كريں گے _

البتہ اس بات كا اعتراف كرنا پڑے گا كہ شيعہفقہا نے ''فقہ سياسي'' يعنى ''فقہ حكومت'' كى مباحث كو اس قدرا ہميت نہيں دى جس طرح دوسرى عبادى اوربعض معاملاتى مباحث كو دى ہے _ بہت سے فقہا نے تو اس قسم كى فقہى فروعات كو بيان ہى نہيں كيا اور انہيں مورد بحث ہى قرار نہيں ديا _ اور اگر بيان بھى كياہے تو بہت مختصر اور اس كے مختلف پہلوؤں اور مسائل كا اس طرح دقيق تجزيہ و تحليل نہيں كيا جس طرح عبادى اور معاملاتى مسائل كا كيا ہے _ يہ بات دوسرے فقہى ابواب كى نسبت ''فقہ سياسي'' كے باب كے ضعف كا باعث بنى ہے _ يقينا اگر شيعوں كے جليل القدر فقہاء دوسرے عبادى ابواب كى طرح '' فقہ الحكومة '' كے باب ميں بھى دقيق بحث كرتے تو آج شيعوں كے سياسى تفكر ميں مزيد ارتكاء ديكھنے كو ملتا _

امويوں اور عباسيوں كے زمانہ ميں حكمرانوں كى طرف سے شيعوں پر اس قدر دباؤ تھا اور ان كے حالات اسقدر ناسازگار تھے كہ اولاً ائمہ معصومين تك دسترسى كے امكان كى صورت ميں بھى تقيہ كى وجہ سے اس قسم كے حساس سياسى مسائل پر گفتگو كرنے سے اجتناب كرتے تھے _ كيونكہ اس سے موجودہ حكومتوں كى واضح نفى ہوتى تھى لہذا اس قسم كے مسائل پر بحث كرنے كيلئے حالات سازگار نہيں تھے _ ثانياً يہ اقليت اس قدر دباؤ اور محروميت كا شكار تھى كہ خود كو بر سر اقتدار لانے اور ايك صحيح دينى حكومت كى تشكيل كو انتہائي مشكل سمجھتى


تھى لہذا اس نے اپنى تمام تر ہمت اپنى بقا اور غاصب حكومتوں سے نفرت ميں صرف كردى اور حكومتى روابط ، مسائل اور سياسى نظام كے متعلق سوالات كے بارے ميں بہت كم فكر كى _بنابريں عبادى احكام كى نسبت'' فقہ سياسي'' كے متعلق روايات كا ذخيرہ بہت كم ہے _

اسى طرح امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشريف كى غيبت كے بعد بھى شيعوں كيلئے اجتماعى اور سياسى حالات سازگار نہيں تھے_ لہذا علماء شيعہ نے سياسى مباحث كے پھيلاؤ اور اس كى تحقيقات ميں كوئي خاص اہتمام نہيں كيا _


خلاصہ :

۱) شيعہ ائمہ معصومين كيلئے سياسى ولايت سے وسيع تر مقام و منزلت كے قائل ہيں _

۲) يہ مخصوص شان و منزلت جو ان كى افضليت كے اعتقاد كا باعث ہے _ شيعہ كى پہچان ہے اور امامت كے متعلق شيعہ اور سنى كے درميان وجہ افتراق يہى ہے _

۳) مكتب اہلبيت اور معصومين كى روايات كى روشنى ميں امامت ايك عظيم اجتماعى اور دينى شان ومنزلت كى حامل ہے اور سياسى ولايت ميں محدود نہيں ہے _

۴) شيعوں كا سياسى تفكر دو مرحلوں ميں قابل تحقيق ہے _

الف : امام معصوم كے زمانہ ظہور ميں

ب : زمانہ غيبت ميں

۵) زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى تفكر زمانہ حضور ميں سياسى تفكر كى طرح واضح اور روشن نہيں ہے _

۶) زمانہ غيبت ميں تمام شيعہ علمائ'' اصل ولايت فقيہ ''كے قائل ہيں ليكن اس ولايت كے دائرہ اختيار ميں اختلاف نظر ركھتے ہيں _

۷) شيعہ علماء كے درميان ''سياسى فقہ'' كے متعلق مباحث كى كمى كى وجہ ظالم اور فاسق حكومتوں كا دباؤ ہے _


سوالات :

۱) اہل تشيع كے نظريہ'' امامت ''اور اہلسنت كے نظريہ ''خلافت ''كے در ميان دو بنيادى فرق بيان كيجيئے _

۲) روايات اہلبيت نے امامت كيلئے كونسى اجتماعى اور ايمانى شان و منزلت كو بيان كيا ہے ؟

۳) شيعوں كے زمانہ حضور اور زمانہ غيبت كے سياسى تفكر ميں كيا فرق ہے ؟

۴) زمانہ غيبت ميں ولايت فقيہ كے متعلق علماء شيعہ كے درميان وجہ اشتراك اور وجہ اختلاف كيا ہے ؟

۵) شيعہ علماء كے درميان عبادى مباحث كى نسبت ''سياسى فقہ'' كى مباحث كے كم ہونے كى وجہ كيا ہے ؟


تيرہواں سبق:

سياسى ولايت كى تعيين ميں بيعت اور شورى كا كردار -۱-

اہلسنت كے سياسى نظريہ كى وضاحت كے دوران ميں اس نكتہ كى طرف اشارہ ہو چكا ہے كہ وہ آنحضرت (ص) كے بعد سياسى ولايت كے سلسلہ ميں دينى متون كو ساكت سمجھتے ہيں اور معتقد ہيں كہ سياسى ولايت كا كام خود امت كے سپرد كيا گيا ہے _ شورى يعنى ''اہل حل و عقد'' كى رائے اور'' بيعت مسلمين ''اسلامى حاكم كى تعيين كرتے ہيں _ واضح ہے كہ ايسا دعوى شيعہ عقائد كے ساتھ سازگار نہيں ہے _ علم كلام كى كتابوں ميں امامت كے متعلق جو معتبر اور متعدد ادلّہ قائم كى گئي ہيں وہ اس دعوى كو بے معنى قرار ديتى ہيں _ ائمہ معصومين كى امامت ''انتصابى ''يعنى خدا كى طرف سے مقرركردہ ہے_ لوگوں كى بيعت صرف امام كے اختيارات كو عملى جامعہ پہنانے ميں مددگار ثابت ہوتى ہے اوراس كا امامت كى حقيقت ميں كوئي كردار نہيں ہوتا_ ليكن سوال يہ ہے كہ كيا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشريف كى غيبت كے دوران بھى اس دعوے كو تسليم كيا جاسكتا ہے ؟ اور كيازمانہ غيبت ميں سياسى ولايت كا اختيار خود شيعوں كو حاصل ہے اور بيعت اور شورى سياسى رہبر كا انتخاب كرے گي؟ يہ بحث اس مفروضہ كى بناپر ہے كہ ائمہ معصومين كى نيابت عامہ موجود نہيں ہے اور روايات كى روسے فقيہ


عادل كو ولايت تفويض نہيں كى گئي _

اس سبق اور اگلے سبق ميں ہم ان دونكتوں كى تحقيق كريں گے _ پہلا يہ كہ كيا روايات ميں اس دعوى كے تسليم كرنے پر كوئي دليل موجود ہے ؟ اور كيا زمانہ غيبت ميں بيعت اور شورى ''سياسى زندگي'' كا تعيّن كرسكتے ہيں ؟ دوسرا يہ كہ اصولى طور پر اسلام كے سياسى تفكر ميں بيعت اور شورى كا كيا كردار ہے ؟

حضرت اميرالمومنين سے بعض ايسى روايات منقول ہوئي ہيں جو صريحاً كہتى ہيں كہ سياسى ولايت كا حق خود امت كو حاصل ہے _ لہذا اگر مسلمانوں كى شورى كسى كو مقرر كردے اور لوگ اس كى بيعت كرليں تو وہى مسلمانوں كا حاكم اور ولى ہے _ اس قسم كى روايات كى تحقيق سے پہلے ضرورى ہے كہ بيعت اور اس كى اقسام كے متعلق مختصر سى وضاحت كردى جائے _

بيعت كا مفہوم اور اس كى اقسام :

بيعت ايك قسم كا عہد و پيمان اور عقد ہے جو ظہور اسلام سے پہلے عرب قبائل ميں رائج اور مرسوم تھا لہذا يہ ايسا مفہوم نہيں ہے جسے اسلام نے متعارف كروايا ہو _ البتہ متعدد مواقع پر سيرت نبوى (ص) نے بيعت مسلمين كو شرعى جواز بخشا ہے _

بيعت اور بيع لفظ ''باع'' كے دو مصدر ہيں اسى وجہ سے بيعت كا مفہوم بڑى حد تك بيع كے مفہوم سے مطابقت ركھتا ہے جو كہ خريد و فروخت كے معنى ميں ہے _ بيع وہ عقد اور معاملہ ہے جس ميں فروخت كرنے والے اور خريدار كے در ميان مال كا تبادلہ ہوتا ہے _ اسى طرح بيعت وہ معاملہ ہے جو ايك قوم كے رہبر اور اس كے افراد كے درميان قرار پاتا ہے اس بنياد پر كہ بيعت كرنے والے اپنى اطاعت ، اپنے وسائل و امكانات اور اموال كو اس كے زير فرمان قرار دے ديتے ہيں_


جس طرح بيع (خريد و فروخت)ميں معاملہ كرنے والوں كے درميان ابتدا ميں قيمت اور دوسرى شرائط طے پاتى ہيں پھر معاملہ انجام پاتا ہے _ '' غالباًيہ معاملہ گفتگو كے ذريعہ انجام ديا جاتا ہے ليكن كبھى كبھى فعل يعنى صرف عملى طور پر بھى انجام پاتا ہے كہ جسے بيع معاطات كہتے ہيں ''_ بيعت ميں بھى اسى طرح پہلے گفتگو ہوتى ہے اور تمام شرائط پر رضايت حاصل كى جاتى ہے پھر دوسرے كے ہاتھ ميں ہاتھ دے كر اپنى رضايت كا اقرار كيا جاتا ہے _ اس طرح بيعت ہوجاتى ہے يہ معاہدہ بيعت مختلف طرح كا ہوسكتا ہے اسى لئے ہميں بيعت كى مختلف قسميں ديكھنے كو ملتى ہيں _بيعت كى جو قسم غالب اور رائج ہے وہ مقابل كى سياسى ولايت كو قبو ل كرنے سے متعلق ہے_ عربوں كے در ميان ايك شخص بيعت كے ذريعہ دوسرے شخص كى سياسى ولايت كو قبول كرليتا تھا _ سقيفہ ميں حضرت ابوبكر كى بيعت ، قتل عثمان كے بعد امير المومنين حضرت على كى بيعت اور خليفہ كے تعيّن كے لئے حضرت عمر نے جو شورى تشكيل دى تھى اس ميں عبدالرحمن ابن عوف كا حضرت عثمان كى بيعت كرنا يہ سب خلافت اور سياسى ولايت پر بيعت كرنے كے موارد ہيں_ ليكن بيعت صرف اسى قسم ميں منحصر نہيں ہے كيونكہ كبھى بيعت اس لئے كى جاتى تھى تا كہ دشمن كے مقابلہ ميں جہاد اور ثابت قدمى كا عہد ليا جائے _ جس طرح بيعت رضوان كا واقعہ ہے جو كہ حديبيہ كے مقام پر ۶ ہجرى ميں لى گئي_ سورہ فتح كى اٹھارہويں آيت ميں اس كى طرح اشارہ ہے _

( ''لَقَد رَضيَ الله ُ عَن المؤمنينَ اذيُبا يعُونَك تَحْتَ الشَّجرة فَعَلمَ ما فى قلُوبهم فا نْزَلَ السَّكينَةَ عَلَيْهم'' )

خدا صاحبان ايمان سے راضى ہوگيا جب وہ درخت كے نيچے تيرى بيعت كر رہے تھے جو كچھ ان كے دلوں ميں تھاوہ اسے جانتا تھا پس اس نے ان پر سكون نازل كيا _


۶ ہجرى تك مسلمانوں پر رسولخدا (ص) كى سياسى اور دينى قيادت اور ولايت كو كئي سال گذر چكے تھے _ لہذا يہ بيعت آنحضرت (ص) كو سياسى قيادت سونپے كيلئے نہيں ہوسكتى _ جناب جابر جو كہ اس بيعت ميںموجود تھے كہتے ہيں : ہم نے يہ بيعت اس بناپر كى تھى كہ دشمن كے مقابلہ ميں فرار نہيں كريںگے_ ''بايَعنا رسول الله (يَومَ الحُدَيبية) على ا ن لانَفرّ'' (۱) _

بعض اوقات بيعت كا مقصد ايك شخص كى اس كے دشمنوں كے مقابلہ ميں حمايت اور دفاع كا اعلان كرنا ہوتاتھا _ جس طرح بعثت كے تيرہويں سال مقام عقبہ ميں اہل يثرب كے نمائندوں نے آنحضرت (ص) كى بيعت كى تھى _(۲)

بيعت كى ان تمام اقسام ميں يہ بات مشترك ہے كہ ''بيعت كرنے والا ''بيعت كى تمام طے شدہ شرائط كا پابند ہوتا ہے _ بيعت ايك ايسا عہد و پيمان ہے جس كا پورا كرنا بيعت كرنے والے كيلئے ضرورى ہوتا ہے _

بيعت كے مفہوم كى وضاحت كے بعد ان بعض روايات كو ذكر كرتے ہيں جن سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ اسى شخص كى ولايت قابل اعتبار ہے جس كى لوگ بيعت كر ليں _ ظاہرى طور پر يہ روايات ''نظريہ انتخاب'' كى تائيد كرتى ہيںيعنى سياسى ولايت كے تعيّن كا حق خود مسلمانوں كو دياگيا ہے _

نظريہ انتخاب كى مؤيد روايات

امير المومنين حضرت على فرماتے ہيں :

''إنّه بايعنى القوم الذين بايعوا أبابكر و عمر و عثمان على ما

____________________

۱) جامع البيان ابن جرير طبري، جلد ۲۶، صفحہ ۱۱۰، ۱۱۳ مذكورہ آيت كے ذيل ميں_

۲) السيرة النبويہ، جلد۲، صفحہ ۸۴،۸۵_


بايعوهم عليه ، فلم يكن للشّاهد أن يختار و لا للغائب أن يردّ ، و إنّما الشورى للمهاجرين والانصار، فإن اجتمعوا على رجل سمّوه إماماً كان ذلك لله رضي'' (۱)

جن لوگوں نے ابوبكر ، عمر اور عثمان كى بيعت كى تھى انہى لوگوں نے انہى شرائط پر ميرى بھى بيعت كى ہے لہذا جو بيعت كے وقت حاضرتھا اسے نئے انتخاب كا اختيار نہيں اور جو غائب تھا اسے ردّ كرنے كا حق حاصل نہيں يقينا شورى مہاجرين اور انصار كيلئے ہے پس اگر وہ كسى شخص پر متفق ہو جائيں اور اسے امام منتخب كرليں تو خدا اس پر راضى ہے _

ايك اور مقام پر فرمايا :

''و لعمرى لئن كانت الإمامة لا تنعقد حتّى يحضرها عامّة الناس فما إلى ذلك سبيل، و لكن أهلها يحكمون على من غاب عنها ثمّ ليس للشّاهد أن يرجع و لا للغائب أن يختار'' (۲)

مجھے اپنى جان كى قسم اگر امامت كے انتخاب كيلئے تما م لوگوں كا حاضر ہونا شرط ہوتا تو امام كا انتخاب كبھى بھى نہ ہوتا ليكن اہل حل و عقد غائب افراد پر حجت ہوتے ہيں پھر حاضر كيلئے پلٹنے كا اختيار نہيں اور غائب كو نئے انتخاب كا حق حاصل نہيں _

____________________

۱) نہج البلاغہ ، مكتوب ۶ _

۲) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۷۳_


شيخ مفيد كہتے ہيں :جب عبدالله ابن عمر، سعد ابن ابى وقاص ، محمد بن مسلمہ ، حسان ابن ثابت اور اسامہ ابن زيد نے حضرت على كى بيعت سے انكار كيا ، تو آپ نے خطبہ ديتے ہوئے فرمايا :

''أيّها الناس، إنّكم بايعتمونى على ما بويع عليه من كان قبلي، و إنّما الخيار إلى الناس قبل أنْ يبايعوا ، فإذا بايَعوا فلا خيار لهم، وإنّ على الإمام الاستقامة، و على الرعية التسليم و هذه بيعة عامّة و من رغب عنها رغب عن دين الاسلام ، و اتّبع غير سبيل أهله ...''(۱)

اے لوگوں تم نے انہى شرائط پر ميرى بيعت كى ہے كہ جن شرائط پر مجھ سے پہلے والوں كى بيعت كى تھي_ لوگوں كو بيعت كرنے سے پہلے اختيار حاصل ہے ليكن جب وہ بيعت كرليں تو پھر اختيار نہيں ہے _ امام كيلئے استقامت و پائيدارى اور رعيت كيلئے اطاعت اور پيروى ہے _ يہ بيعت عامہ ہے جس نے اس سے روگردانى كى اس نے دين سے منہ پھيرا اور اہل دين كے راستہ سے ہٹ گيا

قتل عثمان كے بعد جب لوگوں نے بيعت كرنا چاہى اور خلافت كى درخواست كى توآپ (ع) نے فرمايا :

بيعت تمھارے ساتھ مربوط نہيں ہے بيعت كا تعلق اصحاب بدر سے ہے جسے وہ خليفہ منتخب كرليں وہى مسلمانوں كا خليفہ ہوگا _(۲)

____________________

۱) ارشاد جلد ۱، صفحہ ۲۴۳ _ نہج البلاغہ مكتوب ۶ _

۲) ا نساب الاشراف، بلاذرى جلد۴، صفحہ ۵۵۹_


اس قسم كى روايات سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ خليفة المسلمين كے انتخاب كا اختيار مسلمانوں كے ہاتھ ميں ہے وہ افراد جو انتخاب كى صلاحيت ركھتے ہيں اور'' اہل حل و عقد'' شمار ہوتے ہيں، اگر كسى كى بيعت كرليںتو وہى مسلمانوں كا امام اور خليفہ ہے اور اس كى اطاعت واجب ہے اور دوسروں كو اس كى مخالفت كا حق حاصل نہيں ہے _ آخرى روايت صريحاً جبكہ بعض ديگر روايات ظاہرى طور پر يہ كہہ رہى ہے كہ حاكم اور خليفة المسلمين كے تعيّن ميں تمام افراد كى رائے اور بيعت كى اہميت ايك جيسى نہيں ہے بلكہ ايمان، جہاد اور شہادت ميں سبقت حاصل كرنے والے اس انتخاب كى اہليت ركھتے ہيں _ بہر حال يہ روايات صراحتاً اس قول كے متضاد ہيں كہ امام '' منصوب من الله '' ہوتا ہے _ كيونكہ ان روايات سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ امت كى سياسى ولايت انتخابى ہے اور اس كے انتخاب كا حق امت كے اہل حل و عقد كو حاصل ہے _ (۱)

صدور روايات كا زمانہ اور ماحول:

سوائے ان مختصر كلمات كے جو بيعت سقيفہ اور حضرت عمر كى مقرر كردہ چھ نفرى شورى كے متعلق ہيں _ بيعت اور شورى كے متعلق حضرت على سے جو اقوال منقول ہيں آپ كى خلافت كے مختصر عرصہ اور لوگوں كے بيعت كرنے كے بعد صادر ہوئے ہيں _

بيعت اور شورى كے متعلق اپنى خلافت كے دوران آپ نے جو بيانات ديئے ہيں انہيں تين حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے _ ان ميں سے بعض اپنى بيعت كى توصيف اور وضاحت كے بارے ميں ہيں اور يہ كہ كونسى شرائط پر بيعت ہوئي اور پہلے تين خلفاء كى بيعت كى نسبت يہ بيعت كونسى خصوصيات كى حامل تھى _ نمونہ

____________________

۱) مذكورہ بحث ان روايات كى سند كى تحقيق سے صرف نظر كرتے ہوئے اور انہيں صحيح فرض كرتے ہوئے كى جارہى ہے_ وگرنہ اگر روايات كے مصادر پر غور كيا جائے تو اكثر روايات سند كے اعتبار سےضعيف ہيں_


كے طور پرہم اس قسم كے بعض بيانات كى طرف اشارہ كرتے ہيں _ حضرت اميرالمؤمنين فرماتے ہيں:

''بايَعَنى الناس غَير مُستكرهين و لا مُجبرين ، بل طائعين مُخيَّرين'' (۱)

لوگوں نے ميرى بيعت اكراہ اور مجبورى كے عالم ميں نہيں كى بلكہ رضا و رغبت كے ساتھ كى ہے _

مزيد فرماتے ہيں:

''لم تكن بيعتكم ايّاى فَلتة ، و ليس أمرى و أمركم واحد، إنّى أريدكم لله و أنتم تريدوننى لانفسكم'' (۳)

تمھارا ميرى بيعت كرنا اچانك پيش آنے والا واقعہ نہيں تھا، اور ميرا اور تمھارا معاملہ بھى ايك جيسا نہيں ہے ، ميں تمھيں خدا كيلئے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنے لئے چاہتے ہو _

جب بعض افراد نے بيعت پر اصرار كيا تو آپ (ع) نے انہيں فرمايا: ميرى بيعت مخفى طور پر نہيں ہونى چاہيے_

''ففى المسجد، فإنّ بيعتى لا تكون خفيّاً و لا تكون إلاّ عن رضا المسلمين '' (۳)

ميرى بيعت مسجد ميں ہوگى مخفى نہيں ہوگى بلكہ تمام مسلمانوں كى رضا مندى سے ہوگى _

____________________

۱) نہج البلاغہ مكتوب ۱_

۲) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۳۶_

۳) تاريخ طبرى ج ۴ ، ص۴۲۷_


اس قسم كى روايات ہمارى بحث سے خارج ہيں جو حضرت اميرالمؤمنين كى بيعت كى كيفيت كو بيان كرتى ہيں _

دوسرى قسم كے بيانات وہ ہيں جو آپ نے بيعت نہ كرنے والے عبدالله ابن عمر ، اسامہ ابن زيد اور سعد ابن ابى وقاص اور بيعت توڑنے والے طلحہ و زبير جيسے افراد كو مخاطب كر كے فرمائے ہيں _

حضرت اميرالمؤمنين سے منقول اس قسم كى روايات دونكتوں پر اصرار كرتى ہيں پہلا نكتہ يہ ہے كہ جن افراد نے رضا و رغبت كے ساتھ بيعت كى ہے ان پراطاعت واجب ہے دوسرا يہ كہ لوگوں كا آپ كى بيعت كرنا بيعت عمومى اور اختيارى تھى لہذا بيعت توڑنے اور نہ كرنے والے پيمان شكن اور مسلمانوں كى مخالفت كرنے والے شمار ہوں گے _

تيسرى قسم كے كلمات جو كہ سب سے اہم ہيں، وہ ہيں جو معاويہ اور اہل شام كے دعووں كے مقابلے ميں بيان كئے گئے ہيں _ انہوں نے حضرت اميرالمؤمنين كى بيعت كے صحيح ہونے پر اعتراض كيا تھا اور ان كا كہنا تھا كہ معاويہ ، عمرو ابن عاص اور دوسرے قريش شام كا خليفہ كو منتخب كرنے والى شورى ميں شامل نہ ہونا آپ كى خلافت كو غير معتبر قرار ديتا ہيں _آپ (ع) سے صادر ہونے والے بہت سے كلمات كا تعلق اسى تيسرى قسم سے ہے _آنے والے سبق ميں ہم ان كلمات كا تجزيہ و تحليل اور يہ بحث كريں گے كہ كيا يہ كلمات سياسى ولايت كے انتخابى ہونے كى تائيد كرتے ہيں يا نہيں _


خلاصہ:

۱) بعض لوگ اس نظريہ كے حامى ہيں كہ بعض روايات كى رو سے سياسى ولايت كے سلسلہ ميں بيعت اور شورى پر اعتبار كيا جاسكتاہے_بنابريں زمانہ غيبت ميں سياسى ولايت خود لوگوں كے سپرد كى گئي ہے اور انتصابى نہيں ہے_

۲) بيعت ايك ايسا عہد و پيمان ہے جو ظہور اسلام سے پہلے موجود تھا اور رسول خدا (ص) نے اس كى تائيد فرمائي ہے_

۳)بيعت كى مختلف قسميں ہيںلہذا يہ صرف ''سياسى ولايت'' كے انتخاب ميں منحصر نہيں ہے_

۴) اسلامى معاشرہ كے حاكم كى تعيين كيلئے بيعت اور شورى كے معتبر ہونے كے سلسلہ ميں حضرت اميرالمؤمنين سے روايات نقل ہوئي ہيں_

۵) يہ روايات كچھ خاص سياسى حالات كے پيش نظر صادر ہوئي ہيں _ اور يہ روايات ان لوگوں كے مقابلہ ميں بيعت اور شورى كى تائيد كرتى ہيں جنہوں نے حضرت امير المؤمنين كى بيعت پر اعتراض كيا تھا يابيعت سے انكار كيا تھا يا طلحہ و زبير كى طرح بيعت شكنى كى تھي_


سوالات

۱) وہ افراد جو زمانہ غيبت ميں سياسى ولايت كو انتخابى سمجھتے ہيں ان كى دليل كيا ہے ؟

۲) بيعت كيا ہے اور اس كى كتنى قسميں ہيں ؟

۳) كيا ''بيعت رضوان'' رسول خدا (ص) كو سياسى ولايت سونپنے كيلئے تھي؟

۴) حضرت امير المؤمنين سے منقول بعض روايات سے بيعت اور شورى كے متعلق كس نكتہ كى طرف اشارہ ملتاہے؟

۵) اس قسم كى روايات كے صادر ہونے ميں كونسے حالات كار فرما تھے؟


چودہواں سبق:

سياسى ولايت كى تعيين ميں بيعت اور شورى كا كردار -۲-

پہلے گذر چكا ہے كہ سياسى ولايت كے انتخابى ہونے كے قائلين نے اپنے اس نظريہ كے اثبات كيلئے حضرت امير المؤمنين سے منسوب بعض كلمات و روايات كو بطور دليل پيش كيا ہے _ وہ يہ سمجھتے ہيں كہ ان كلمات سے يہى ظاہر ہوتاہے كہ اسلامى معاشرہ كے حاكم اور خليفہ كے انتخاب كا حق خود امت كو ديا گيا ہے _ بنابريں كم از كم زمانہ غيبت ميں اسلامى معاشرہ كى سياسى ولايت انتخابى امر ہے نہ كہ انتصابى اور يہ اعتقاد صحيح نہيں ہے كہ امت كيلئے فقيہ عادل نصب كوكيا گيا ہے بلكہ يہ امر'' شورى مسلمين'' اور ''بيعت امت'' كے سپرد كيا گيا ہے _

ہمارى نظر ميں ان روايات سے مذكورہ بالا مطلب اخذ كرنا صحيح نہيں ہے _ كيونكہ يہ تمام روايات '' جدال احسن''(۱)

____________________

۱) سورہ نحل كى آيت ۱۲۵ ميں ارشاد ہوتاہے: ''ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة و جادلهم بالتى هى احسن '' اللہ تعالى نے رسول خدا (ص) سے فرمايا ہے كہ وہ حق اور سعادت كى طرف دعوت دينے كيلئے برہان، خطابہ اور جدل تينوں كو بروئے كار لائيں _ تفسير الميزان ج ۱۲ ص ۳۷۱ ، ۳۷۲ _

جدل استدلال كى وہ قسم ہے جس ميں استدلال كرنے والا اپنے مدعا كے اثبات كيلئے مخاطب كے نزديك مقبول اور مسلمہ قضايا سے كام ليتاہے _ اسے اس دعوى كے قبول كرنے پر مجبور كرتاہے _ ہميشہ يہ ہوتاہے كہ استدلال كرنے والے كے نزديك ان مقدمات كى صحت مشكوك ہوتى ہے يا بالكل ناقابل قبول ہوتى ہے اور اپنے مدعا كے اثبات كيلئے اس كے پاس اور ادلّہ ہوتى ہيں _ ليكن طرف مقابل كو منوانے اور اپنے مقصد تك پہنچنے كيلئے ان صحيح اور يقينى مقدمات كى بجائے ان مقدمات سے استفادہ كرتاہے جو طرف مقابل كيلئے قابل قبول ہوں دوسرے لفظوں ميں برہان كى بجائے جدل سے استفادہ كرتاہے كيونكہ طرف مقابل برہانى مقدمات كو تسليم نہيں كرتا جبكہ جدلى مقدمات كو مانتاہے_


كے زمرے ميں آتى ہيں _ لہذا ان روايات كو جدل سے ہٹ كر كسى اور مورد ميں استدلال كے طور پر پيش نہيں كيا جاسكتا_

وہ مقدمات جنہيں استدلال جدلى ميں بروئے كار لايا جاتاہے انہيں استدلال برہانى كے مقذمات كى طرح صحيح اور حق قرار نہيں ديا جاسكتا_كيونكہ جدلى استدلال كے مقدمات سے صرف اس ليئے استفادہ كيا جاتاہے چونكہ وہ مخاطب كے نزديك مسلّم اور قابل قبول ہوتے ہيں _ ليكن اس كا معنى يہ نہيں ہے كہ وہ مقدمات بذات خود بھى قابل قبول اور مسلم ہوں _ ہمارا مدعا يہ ہے كہ حضرت امير المؤمنين نے يہ استدلال ان لوگوں كے سامنے كيا ہے جو آپ (ع) كى خلافت و امامت كو تسليم كرنے سے انكار كررہے تھے_ يعنى بجائے ان اموركے جو آپ (ع) كى امامت اور ولايت كى حقيقى ادلہ ہيں كہ آپ ''منصوب من اللہ'' ہيں ان امور سے استدلال كيا ہے جو مخالفين كے نزديك قابل قبول ہيں اور جن كى بناپر پہلے تين خلفاء كى خلافت قائم ہوئي ہے_ آپ كے استدلال كا بنيادى نكتہ يہ تھا كہ جس دليل كى بناپر تم لوگوں نے پہلے تين خلفاء كى خلافت قبول كى ہے اسى دليل كى بناپر ميرى خلافت تسليم كرو كيونكہ ميرى امامت '' بيعت امت ''اور ''شورى كے اتفاق و اجماع ''سے بالاتر درجات كى حامل ہے _

ان روايات كے جدلى ہونے كى دليليں

حضرت امير المؤمنين نے اپنى خلافت كے ابتدائي ايام ميں معاويہ كو خط لكھا جس ميں اسے قتل عثمان اوراپنے ساتھ لوگوں كى بيعت كى اطلاع دى اور اسے كہا كہ وہ بھى شام كے سركردہ افراد كو لے آئے اور بيعت كرے آپ (ع) نے فرمايا:


''أمّا بعد ، فإنّ الناس قَتَلوا عثمان من غَير مشورة منّي، و بايَعونى عن مشورة منهم و اجتماع، فإذا أتاك كتابى فبايع لى و أوفد إليّ أشراف أهل الشام قبلك'' (۱)

اما بعد، لوگوں نے ميرے مشورے كے بغير عثمان كو قتل كرديا ہے اور اپنى رائے اور اجماع سے ميرى بيعت كرلى ہے _ جب ميرا خط تجھ تك پہنچے تو تم بھى ميرى بيعت كرلينا اور شام كے سركردہ افراد كو ميرى طرف بھيجنا _

معاويہ نے امام كے خط كا مثبت جواب نہيں ديا اور بيعت كى بجائے آپ (ع) كے خلاف جنگ كى تيارى كرنے لگا _ جنگ كيلئے اسے ايك بہانے كى ضرورت تھى لہذا امام كے مضبوط استدلال كے سامنے يہ بہانہ پيش كيا اولاً: حضرت على اور سابقہ خلفاء كے درميان فرق ہے _ اس طرح آپ كى امامت اور خلافت كى مخالفت كي_

ثانياً: يہ بہانہ كيا كہ حضرت عثمان كے قاتل حضرت على كے زير حمايت ہيں لہذا امام سے يہ كہا كہ قاتلين كو شام روانہ كريںتا كہ انہيں سزا دى جاسكے اور ان سے قصاص لينے كے بعد خليفہ كے انتخاب كيلئے مسلمانوں كى شورى تشكيل دى جائے گى _ در حقيقت معاويہ يہ كہنا چاہتا تھا كہ بيعت اور شورى حضرت على كى خلافت كو اہل شام كيلئے لازم قرار نہيں ديتى كيونكہ مدينہ اور بصرہ كے اشراف كے برعكس شام كے سركردہ افراد شورى ميں شامل نہيں تھے_ معاويہ كے گستاخانہ جواب كو مبرد نے يوں نقل كيا ہے _

''أما بعد، فَلَعَمرى لو بايعك القوم الَّذين بايعوك و أنت بري من دَم عثمان ، كنتَ كأبى بكر و عمر و عثمان، و لكنّك

____________________

۱) شرح نہج البلاغہ، ابن ابى الحديد جلد ۱ ص ۲۳۰_


أغريت بعثمان المهاجرين و خذّلت عنه الأنصار ، فأطاعك الجاهل و قوى بك الضعيف، و قد أبى أهل الشام إلا قتالك حتّى تدفع اليهم قتلة عثمان، فإن فعلت كانت شورى بين المسلمين ''(۱)

اما بعد: مجھے اپنى جان كى قسم اگر لوگوں نے تيرى بيعت اس حالت ميں كى ہوتى كہ تو خون عثمان سے برى ہوتا تو پھر تو تم ابوبكر، عمر اور عثمان كى طرح ہوتے_ ليكن تم نے مہاجرين كو قتل عثمان اور انصار كو ان كى مدد نہ كرنے پراكسايا ہے _ پس جاہل نے تيرى اطاعت كى ہے اوركمزور تيرى وجہ سے مضبوط ہوگيا اوراہل شام كو تو تيرے ساتھ صرف جنگ كرنا ہے مگر يہ كہ تو عثمان كے قاتلوں كو ان كى طرف بھيج دے _ اگر تو نے ايسا كيا تو پھر خليفہ كے انتخاب كيلئے مسلمانوں كى شورى قائم ہوگي_

جنگ صفين كے دوران معاويہ نے ايك اور خط لكھا جس ميں اس نے شورى اور حضرت امير المؤمنين كى بيعت كو غير معتبر قرار ديا _ اس دليل كى بناپر كہ اہل شام نہ اس ميں حاضر تھے اور نہ اس پر راضى تھے

''فَلَعَمرى لو صحَّت خلافتك لكنت قريباً من أن تعذر فى حرب المسلمين ، و لكنّها ما صحت لك، أنّى بصحّتها و أهل الشام لن يدخلوا فيها و لم يرتضوا بها'' (۲)

مجھے اپنى جان كى قسم اگر تيرى خلافت صحيح ہوتى تو تيرا مسلمانوں كى جنگ ميں صاحب عذر ہونا قريب تھا ليكن وہ صحيح نہيں ہے كيونكہ اہل شام اس ميں داخل نہيںتھے اور اس پر راضى نہيں ہيں_

____________________

۱) الكامل، مبرد جلد۱ صفحہ ۴۲۳ _ شرح نہج البلاغہ جلد۳ صفحہ ۸۸_

۲) بحارالانوار جلد۳۳ صفحہ ۸۰ ، شرح نہج البلاغہ جلد۱۴ صفحہ ۴۲_


معاويہ اہل شام كو يہ تأثر دينے ميں كامياب ہوگيا كہ خون عثمان كے قصاص سے بڑھ كر كوئي شئے اہم نہيں ہے اور خلافت على كيلئے جو بيعت اور شورى منعقدہوئي ہے وہ قابل اعتبار نہيں ہے لہذا ضرورى ہے كہ قاتلوں كو سزا دينے كے بعد شورى تشكيل پائے_ جنگ صفين ميں معاويہ كى طرف سے بھيجے گئے نمائندہ گروہ ميں سے ايك حبيب ابن مسلمہ نے حضرت على سے مخاطب ہوكر كہا _

''فَادفع إلينا قَتَلة عثمان إن زعمتَ أنّك لم تقتله_ نقتلهم به ، ثمّ اعتزل أمر الناس، فيكون أمرهم شورى بينهم ، يولّى الناس أمرهم من أجمع عليه رَأيهم'' (۱)

اگر تم سمجھتے ہو كہ تم نے عثمان كو قتل نہيں كيا تو پھر ان كے قاتل ہمارے حوالے كردو تا كہ ہم انہيں قتل كرديں_ پھر امر خلافت لوگوں كے سپرد كردو_ ايك شورى تشكيل پائے گى اور لوگ اپنے لئے جسے چاہيں گے اسے اتفاق را ے سے خليفہ منتخب كرليں گے _

اس قسم كى سركشى ، مخالفت اور ادلّہ كے سامنے حضرت امير المؤمنين نے ان امور سے استدلال كيا جو اُن كيلئے قابل قبول تھے حتى كہ دشمن بھى ان سے انكار نہيں كرسكتا تھا_ تمام مسلمان ، اہل شام اور حضرت اميرالمؤمنين كى بيعت كى مخالفت كرنے والے ، حتى كہ معاويہ بھى پہلے تين خلفاء كے طريقہ انتخاب كو مانتے تھے_ لہذا حضرت امير المؤمنين نے استدلال كے مقام پر ان افراد كے سامنے مہاجرين اور انصار كى بيعت اور شورى كے صحيح اور قابل اعتبار ہونے كو پيش كيا اور اپنى امامت كيلئے انہى مطالب سے استدلال كيا جو مخالفين كے نزديك مسلم اور قابل قبول تھے_

امام نے بيعت سے روگردانى كرنے والوں كو مخاطب كركے فرمايا:

____________________

۱) تاريخ طبرى جلد۵ صفحہ ۷ ، البدايہ والنہايہ جلد۷ صفحہ ۲۵۹_


''أيّها الناس، إنّكم بايعتمونى على ما بويعَ عليه مَن كان قبلي، و انّما الخيارُ إلى الناس قبل أن يُبايعوا'' (۱)

اے لوگو تم نے ميرى بيعت انہى شرائط پر كى ہے جن پر تم نے مجھ سے پہلے والوں كى بيعت كى تھى اور لوگوں كو بيعت كرنے سے پہلے اختيار ہوتاہے _

معاويہ اور اہل شام كے مقابلہ ميں بھى اسى طرح استدلال كرتے ہوئے فرمايا:

كہ جن لوگوں نے مجھ سے پہلے والے خلفاء كو منتخب كيا تھا انہى لوگوں نے اصرار اور اپنى رضا و رغبت كے ساتھ ميرى بيعت كى ہے _ پس تم پر ميرى اطاعت اسى طرح واجب ہے جس طرح مجھ سے پہلے والے خلفاء كى اطاعت كرتے تھے _(۲)

حضرت امير المؤمنين ، معاويہ كو تنبيہ كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ اطاعت كيلئے تيرا بيعت كے وقت موجود ہونا ضرورى نہيں ہے كيونكہ پہلے تمام خلفا كى بيعت اور شورى ميں بھى تو موجود نہيں تھا_ فرمايا:

''لأنّ بيعتى فى المدينة لزمتك و أنت بالشام كما لزمتك بيعة عثمان بالمدينة و أنت أمير لعمر على الشام، و كما لزمت يزيد أخاك بيعة عمر و هو أمير لابى بكر على الشام'' (۳)

مدينہ ميں ميرى بيعت كا ہونا تجھ پر اطاعت كو واجب قرار ديتاہے چاہے تو شام ميں ہو جس طرح عثمان كى مدينہ ميں بيعت تيرے لئے لازم ہوگئي تھى جب كہ تو عمر كى طرف سے شام پر

____________________

۱) ارشاد شيخ مفيد جلد۱ صفحہ ۲۴۳_

۲) شرح نہج البلاغہ جلد۳ صفحہ۷۵_

۳) شرح نہج البلاغہ جلد۱۴ صفحہ ۴۴_


حاكم تھا_ اور جس طرح تيرے بھائي يزيد كيلئے عمر كى بيعت لازم ہوگئي تھى جبكہ وہ ابوبكر كى طرف سے شام كا والى تھا_

مزيد فرمايا كہ معاويہ اور قريش طلقا ( آزاد كردہ ) ميں سے ہيں اور خليفہ كو مقرر كرنے والى شورى ميں شموليت كى اہليت نہيں ركھتے فرمايا :

( ''وَ اعلَم أنّك من الطُلَقاء الَّذين لا تَحلُّ لَهُم الخلافة و لا تعرض فيهم الشوري'' ) (۱)

اور جان لوكہ تم طلقا ميں سے ہو ، جو كہ خلافت كے حقدار نہيں ہيں اور شورى ميں بھى شموليت كى اہليت نہيں ركھتے_

''أما قولك إنّ أهل الشام هم الحُكّام على أهل الحجاز فهات رجلاً من قريش الشام يقبل فى الشورى أو تحلّ له الخلافة، فإن زعمتَ ذلك كذبك المهاجرون والانصار'' (۲)

اور تيرا يہ كہنا كہ اہل شام اہل حجاز پر حاكم ہيں تو يہ كيسے ممكن ہے كہ شام كے قريش كا ايك فرد شورى ميں قابل قبول ہو يا اس كيلئے خلافت جائز ہو _ اگر تو ايسا سمجھتاہے تو مہاجرين اور انصار تجھے جھٹلا ديںگے _

اسكے پيش نظر اور ان ادلّہ كو ديكھتے ہوئے جو امام كى امامت كے'' منصوب من اللہ ''ہونے پر دلالت كرتى ہيں كوئي شك و شبہہ باقى نہيں رہتا كہ امام كا تعيين خليفہ ميں بيعت اور شورى كے معتبر ہونے پر

____________________

۱) وقعة صفين صفحہ ۲۹_

۲) بحارالانوار جلد۳۲ ، صفحہ ۳۷۹ ، شرح نہج البلاغہ جلد۳ صفحہ ۸۹_


تاكيد كرنا، اور يہ كہنا كہ خليفہ كا تقرر مہاجرين اور انصار كے ہاتھ ميں ہے از ''باب جدل'' تھا_ جس طرح آپ(ع) نے اسى ''جدال احسن'' كے ذريعہ اس وقت استدلال كيا تھا جب سقيفہ ميں حضرت ابوبكر كى بيعت ہوئي تھي_ انصار كے مقابلہ ميں قريش نے ابوبكر اور عمر كى رہبرى ميں آنحضرت (ص) - سے اپنى قرابت كو دليل قرار ديا تھا اور انصار نے اسى دليل كى بناپر خلافت، مہاجرين قريش كے سپرد كردى تھي_

حضرت على نے بھى اسى استدلال سے استفادہ كرتے ہوئے فرمايا: اگر خلافت كا معيار قرابت رسول (ص) ہے تو ميں سب سے زيادہ آنحضرت (ص) كے قريب ہوں _ تعيين امامت كيلئے اس قسم كے تمام استدلال ''جدلي'' ہيں كيونكہ آپ (ع) كى امامت كى دليل خدا كا آپ كو امام مقرر كرنا ہے آنحضرت (ص) سے قرابت آپ كى امامت كى دليل نہيں ہے _ امام نے معاويہ كو جو خط لكھا اس ميں اسى استدلال ''جدلي'' كا سہارا ليا_

''قالَت قريش مّنّا أمير و قالت الأنصار منّا أمير; فقالت قريش: منّا محمّد رسول الله (ص) فنحن أحقّ بذلك الأمر ، فعرفت ذلك الأنصار فسلمت لهم الولاية و السلطان فاذا استحقوها بمحمد (ص) دون الانصار فإنّ أولَى الناس بمحمّد أحقّ بها منهم'' (۱)

قريش نے كہا كہ امير ہم ميں سے ہوگا اور انصار نے كہا ہم ميں سے_ پھر قريش نے كہا كہ رسول خد ا (ص) ہم ميں سے تھے لہذا خلافت ہمارا حق ہے _ انصار نے اسے تسليم كرليا اور خلافت و ولايت ان كے سپرد كردى _لہذا جب محمد (ص) سے قرابت كى وجہ سے وہ خلافت كے مستحق قرار پائے ہيںنہ كہ انصار تو جو قرابت كے لحاظ سے محمد (ص) كے زيادہ قريب ہے وہ خلافت كا ان سے زيادہ حق ركھتاہے_

____________________

۱) وقعة صفين صفحہ ۹۱_


ممكن ہے كوئي يہ كہے كہ ہم اسے تسليم كرتے ہيں كہ ائمہ معصومين كى ولايت كے اثبات كيلئے بيعت اور شورى كو معتبر قرار دينا استدلال جدلى ہے ليكن زمانہ غيبت ميں اسلامى معاشرہ كے حاكم كے تعين كيلئے بيعت اور شورى كو معتبر قرار ديا جاسكتاہے _ پس بنيادى لحاظ سے بيعت اور شورى ناقابل اعتبار نہيں ہيں بلكہ امام معصوم كے زمانہ ميں ائمہ معصومين كى امامت كى ادلّہ كو ديكھتے ہوئے ناقابل اعتبار ہيں ليكن زمانہ غيبت ميں قابل اعتبار ہيں _ دوسرے لفظوں ميں امام كا ''استدلال جدلي'' غلط مقدمات پر مشتمل نہيں تھا بلكہ يہ مقدمہ (بيعت اور شورى كا معتبر ہونا) صرف امام معصوم كے حضور كے زمانہ ميں ناقابل اعتبارہے وگرنہ بذات خود يہ معتبر ہے _ جو لوگ اس نظريہ كے حامى ہيں وہ لوگ امامكے استدلال جدلى كو زمانہ غيبت ميں اسلامى معاشرہ كے حاكم كے تقرر كيلئے بيعت اور شورى سے تمسك كى راہ ميں مانع نہيں سمجھتے _ اگر فقيہ عادل كى ولايت عامہ كى ادلّہ صحيح اور كامل ہيں تو پھر اس بحث كى گنجائشے نہيں رہتى يعنى جس طرح امام معصوم كى امامت كى ادلّہ سياسى ولايت كے تقرر ميں بيعت اور شورى كے كردار كو كالعدم قرار ديتى ہيں اسى طرح ولايت فقيہ كى ادلّہ بھى بيعت اور شورى كو كالعدم قرار ديتى ہيں _

بحثكے آخر ميں اس نكتہ كى وضاحت ضرورى ہے كہ ہمارى بحث اس ميں ہے كہ يہ تحقيق كى جائے كہ سياسى تسلط كے جواز ميں بيعت اور شورى كا كيا كردار ہے _وگرنہ اس سے كسى كو انكار نہيں ہے كہ سياسى ولايت كا عينى اور خارجى وجود لوگوں كى رائے اور بيعت كے تابع ہے _ اكثر ائمہ معصومين اسى وجہ سے اپنى شرعى اور الہى ولايت كو لوگوں ميں عملى نہيں كروا سكے ، چونكہ لوگوں نے آپ كى اعلانيہ بيعت نہيں كى تھي_


خلاصہ :

۱) خليفہ كے تقرر كے سلسلہ ميں بيعت اور شورى كے معت۱بر ہونے كے متعلق حضرت على سے منقول روايات ''جدل'' كے باب سے ہيں _اور ولايت كو انتخابى قرار دينے ميں ان ادلہ سے استدلال نہيں كيا جاسكتا_

۲) حضرت على كى امامت كى مخالفت كيلئے معاويہ كا ہدف بيعت اور شورى كو غير معتبر قرار دينا تھا تا كہ اس طرح آپ (ع) كى خلافت پر سوا ليہ نشان لگايا جاسكے_

۳) معاويہ يہ چاہتا تھا كہ حضرت عثمان كے قاتلوں كو سزا دينے كے بعد حاكم اور امام كے انتخاب كيلئے شورى تشكيل دى جائے جس ميں خود اس جيسے افراد بھى موجود ہوں _

۴ )اپنى خلافت كيلئے ہونے والى بيعت كى حقانيت ثابت كرنے كيلئے، حضرت امير المؤمنين نے ان امور كا سہارا ليا جو مسلمانوں كے نزديك مسلم اور قابل قبول تھے اور جن كامعاويہ اور اہل شام بھى انكار نہيں كرسكتے تھے_ پس آپ كا استدلال ''جدال احسن ''كے زمرے ميں آتاہے _

۵) حضرت اميرالمومنين كى امامت پر ادلّہ كا موجود ہونا ، اورآپ (ع) كا ان نصوص سے تمسك نہ كرنا اس بات كى دليل ہے كہ آپ كے يہ كلمات جدل كے باب سے تھے_

۶) اگر ولايت فقيہ كى ادلّہ صحيح اور مكمل ہوں تو زمانہ غيبت ميں سياسى ولايت كے متعلق'' نظريہ انتخابي''كيلئے ان روايات سے تائيد لانے كى نوبت نہيں آتى _


سوالات:

۱)بيعت اور شورى كے متعلق حضرت امير المؤمنين سے منقول روايات سے سياسى ولايت كے انتخابى ہونے پر كيوں استدلال نہيں كيا جاسكتا؟

۲)حضرت على كے ساتھ سياسى تنازعہ ميں معاويہ كا استدلال كيا تھا؟

۳) حضرت امير المومنين نے معاويہ اور اہل شام كے استدلال كا كيا جواب ديا؟

۴) حضرت اميرالمومنين كے استدلال كے جدلى ہونے كے شواہد بيان كيجئے ؟

۵) كيا زمانہ غيبت ميں سياسى ولايت كے انتخابى ہونے كيلئے اس قسم كى روايات سے تمسك كيا جاسكتاہے؟


تيسرا باب:

ولايت فقيہ كا معنى ، مختصر تاريخ اور ادلّہ

سبق ۱۵ : ولايت فقيہ كا معني

سبق۱۶: وكالت و نظارت فقيہ كے مقابلہ ميں انتصابى ولايت

سبق ۱۷ _۱۸: ولايت فقيہ كى مختصر تاريخ

سبق ۱۹ : ولايت فقيہ ايك كلامى مسئلہ ہے يا فقہي؟

سبق ۲۰،۲۱،۲۲ : ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ

سبق ۲۳ : ولايت فقيہ پر عقلى دليل


تمہيد :

پہلے گذرچكاہے كہ شيعوں كا سياسى تفكر'' نظريہ انتصاب ''پر استوار ہے اور شيعہ معتقدہيں كہ ائمہ معصومين كى امامت اور ولايت خدا كى طرف سے ہے اور اس كا اعلان خود رسول خدا (ص) نے فرمايا ہے _ اہم سوال جو زير بحث ہے وہ يہ ہے كہ كيا زمانہ غيبت ميں فقہاء عادل كو ولايت عامہ اور ائمہ معصومين كى نيابت حاصل ہے ؟ مذكورہ باب اسى اساسى سوال كى تحقيق كے متعلق ہے _

اس باب ميں ابتداً ولايت فقيہ كا معنى واضح كيا جائے گا اور محل نزاع پر عميق نظر ڈالى جائے گى _ تا كہ اس كے متعلق جو غلط فہمياں ہيں انہيں دور كيا جاسكے_

اس كے بعد علمائ شيعہ كے اقوال اور ولايت فقيہ كى تاريخ پر ايك نگاہ ڈاليں گے _ ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ كى تحقيق اس باب كى اہم ترين بحث ہے اور اس سے پہلے يہ واضح كريں گے كہ مسئلہ ولايت فقيہ ايك كلامى بحث ہے يا فقہي؟ اس مسئلہ كا جواب براہ راست ان ادلّہ پر اثر انداز ہوتاہے جو ولايت فقيہ كے اثبات كيلئے قائم كى گئي ہيں _ مسئلہ ولايت فقيہ كو كلامى سمجھنا يا كم از كم يہ اعتقاد ركھنا كہ مسئلہ فقہى ہونے كے ساتھ ساتھ اس ميں كلامى پہلو بھى ہے اس سے ولايت فقيہ پر عقلى ادلہ پيش كرنے كى راہ ہموار ہوجائے گي_


پندرہواں سبق:

ولايت فقيہ كا معني

لغوى لحاظ سے ولايت '' و _ ل _ ي'' سے ماخوذ ہے _ واو پر زبر اور زير دونوں پڑھے جاتے ہيں _ اس كے ہم مادہ ديگر كلمات يہ ہيں _ توليت ، موالات ، تولّى ، وليّ، متولّي، استيلائ، ولائ، مولا، والى _

لغوى لحاظ سے ولايت كے متعدد معانى ہيں مثلاً نصرت ، مدد، امور غيركا متصدى ہونا اور سرپرستى وغيرہ_البتہ ان معانى ميں سے سرپرستى او رغير كے امور ميں تصرف ولايت فقيہ سے زيادہ مناسبت ركھتے ہيں_جو شخص كسى منصب يا امر كا حامل ہو اسے اس امر كا سرپرست، مولى اورولى كہا جاتاہے، بنابريں لفظ ولايت اور اس كے ہم مادہ الفاظ يعنى ولي، توليت ، متولى اور والى سرپرستى اور تصرف كے معنى پر دلالت كرتے ہيں اس قسم كے كلمات كسى دوسرے كى سرپرستى اور اس كے امور كى ديكھ بھال كيلئے استعمال ہوتے ہيں اور بتلاتے ہيں كہ ولى اور مولا دوسروں كى نسبت اس تصرف اور سرپرستى كے زيادہ سزاوار ہيںاور ولى و مولا كى ولايت كے ہوتے ہوئے دوسرے افراد اس شخص كى سرپرستى اور اس كے امور ميں تصرف كا حق نہيں ركھتے(۱)

____________________

۱) مولى اور ولى كے معانى كى مزيد تفصيل كيلئے كتاب الغدير ، جلد۱، صفحہ ۶۰۹ ، ۶۴۹ اور فيض القدير ،صفحہ ۳۷۵_ ۴۴۸ كى طرف رجوع كيجئے _


قرآن كريم ميں جو الفاظ ان معانى ميں استعمال ہوئے ہيں _ وہ اللہ تعالى ، رسول -(ص) اور امام كيلئے استعمال ہوئے ہيں _

( '' إنَّمَا وَليُّكُمُ الله ُ وَرَسُولُهُ وَالَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم رَاكعُونَ'' ) (۱)

سواے اس كے نہيں كہ تمہارا ولى خدا ، اس كا رسول اور وہ مومن ہيں جو نماز قائم كرتے ہيں اور حالت ركوع ميں زكوة ديتے ہيں _

و ، ل ، ى كے مشتقات كے معانى اور قرآن و روايات ميں ان كے استعمال كى تفصيلى بحث ہميں ہمارى اصلى بحث سے دور كردے گى ، كيونكہ ولايت اور اس سے ملتے جلتے الفاظ يعنى والى اور ولى و غيرہ كا اصطلاحى معنى واضح اور روشن ہے_

جب ہم كہتے ہيں : كيا رسول خدا (ص) نے كسى كو مسلمانوں كى ولايت كيلئے منصوب كيا ہے ؟ يا پوچھتے ہيں : كيا زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل و لايت ركھتا ہے ؟ واضح ہے كہ اس سے ہمارى مراد دوستي، محبت اور نصرت وغيرہ نہيں ہوتي_ بلكہ اس سے مراد اسلامى معاشرہ كے امور كى سرپرستى ہوتى ہے _ ولايت فقيہ كا معنى يہ ہے كہ فقيہ عادل اسلامى معاشرہ كى سرپرستى اور حاكميت كا حقدار ہے اور اس شرعى اور اجتماعى منصب كيلئے منتخبكيا گيا ہے _

ولايت كى حقيقت اور ماہيت

ولايت فقيہ كى ادلہ كے ذريعہ فقيہ عادل كيلئے جو ولايت ثابت كى جاتى ہے وہ شرعى اعتبارات اور مجعولات ميں سے ہے _ فقاہت ، عدالت اور شجاعت جيسى صفات تكوينى ہيں جبكہ رياست اور ملكيت جيسے امور اعتباري

____________________

۱) سورہ مائدہ آيت ۵۵_


اور وضعى ہيں _ اعتبارى اور وضعى امور ان امور كو كہتے ہيں جو جعل اور قرار دينے سے وجود ميں آتے ہيں يعنى بذات خود خارج ميں ان كااپنا وجود نہيں ہوتا_ بلكہ بنانے والے كے بنانے اور قرار دينے والے كے قرار دينے سے وجود ميں آتے ہيں _ لہذا اگر قرار دينے والا شارع مقدس ہو تو انہيں ''اعتبارات شرعي''كہتے ہيں اورا گر عقلاء اور عرف عام ہوں تو پھر انہيں ''اعتبارات عقلائي ''كہا جاتاہے_ (۱)

جو شخص فقيہ بنتاہے يا وہ شخص جو ملكہ عدالت اور تقوى كو حاصل كرليتاہے وہ ايك حقيقت اور ''تكوينى صفت'' كا حامل ہوجاتاہے _ليكن اگر كسى شخص كو كسى منصب پر فائز كيا گيا ہے اوراس كے لئے ايك حاكميت قرار دى گئي ہے تو يہ ايك حقيقى اور تكوينى صفت نہيں ہے بلكہ ايك قرار داد اور ''عقلائي اعتبار'' ہے ''امر اعتبارى ''اور'' امر تكوينى ''ميں يہ فرق ہے كہ '' امر اعتبارى '' كا وجود واضع اور قرار دادكرنے والوں كے ہاتھ ميں ہوتاہے_ ليكن ''تكوينى حقائق '' كسى بنانے والے يا قرار دينے والے كے ہاتھ ميں نہيں ہوتے كہ قرار كے بدلنے سے ان كا وجود ختم ہوجائے_

ولايت دو طرح كى ہوتى ہے _ تكوينى اور اعتبارى _ وہ ولايت جو فقيہ كو حاصل ہے اور ولايت فقيہ كى ادلہ سے جس كا اثبات ہوتاہے _'' ولايت اعتبارى ''ہے _ولايت تكوينى ايك فضيلت اور معنوى و روحانى كمال ہے _رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين كو دونوں قسم كى ولايت حاصل ہے آپ عصمت، عبوديت اور علم الہى كے اعلى مراتب پر فائز ہونے اور خليفہ خدا ہونے كى وجہ سے ولايت تكوينيہ اور الہيہ كے حامل محسوب ہوتے ہيں جبكہ مسلمانوں كى رہبرى اور قيادت كى وجہ سے سياسى ولايت ركھتے ہيں جو كہ ''ولايت اعتباري''ہے _ امام خمينى اس بارے ميں فرماتے ہيں :

____________________

۱) وہ حاكميت جس كا ايك قوم وقبيلہ اپنے سردار كيلئے اور ايك معاشرہ اپنے حاكم كيلئے قائل ہوتاہے ''اعتبارات عقلائي'' كے نمونے ہيں _ اسى طرح ٹريفك كے قوانين كہ سرخ لائٹ پر ركنا ہے يا يہ سڑك يك طرفہ ہے يہ تمام اعتبارات و مجعولات عقلائي كى مثاليں ہيں_


جب ہم يہ كہتے ہيں كہ وہ ولايت جس كے رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين حامل تھے وہى ولايت زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل كو حاصل ہے تو كوئي ہرگز يہ نہ سمجھے كہ فقہاء كو وہى مقام حاصل ہے جو رسولخدا (ص) اور ائمہ معصومين كو حاصل تھا، كيونكہ يہاں بات مقام كى نہيں ہے بلكہ فريضے اور ذمہ دارى كى ہے_ ولايت يعنى ''حكومت اورملك ميں شرعى قوانين كا اجرا'' ايك سنگين اور اہم ذمہ دارى ہے _ نہ يہ كہ كسى شخص كو ايك عام انسان سے ہٹ كر كوئي اعلى و ارفع مقام ديا جارہا ہے_ دوسرے لفظوں ميں مورد بحث ولايت يعنى حكومت اور اس كا انتظام بہت سے افراد كے تصور كے برعكس كوئي مقام نہيں ہے بلكہ ايك بھارى اور عظيم ذمہ دارى ہے ''ولايت فقيہ '' ايك ''امر اعتبارى عقلائي'' ہے _ لہذا جعل كے سوا كچھ بھى نہيں ہے (۱) _

ياد رہے كہ اس اعتبار سے كہ ولايت فقيہہ ، منصب حكومت اور معاشرتى نظام كے چلانے كو فقيہ كى طرف منسوب كرتى ہے_ ولايت فقيہ ايك'' اعتبار عقلائي ''ہے كيونكہ تمام معاشروں ميں ايسى قرارداد ہوتى ہے اور كچھ افراد كيلئے يہ منصب وضع كيا جاتاہے_ دوسرى طرف چونكہ يہ منصب اور اعتبار روايات معصومين اور شرعى ادلّہ سے فقيہ كو حاصل ہے اس لئے يہ ايك شرعى اعتبار اور منصب بھى ہے _ پس اصل ولايت ايك ''اعتبار عقلائي''ہے اور فقيہ كيلئے شارع مقدس كى طرف اس كى تائيد ايك ''اعتبار شرعى ''ہے _

اسلامى فقہ ميں دوطرح كى ولايت

ولايت كے متعلق آيات اور روايات كو كلى طور پر دو قسموں ميں تقسيم كيا جاسكتاہے يا دقيق تعبير كے مطابق فقہ ميں دو قسم كى ولايت پائي جاتى ہے_ ايك ولايت كا تعلق مومنين كے امور كى سرپرستى سے ہے يہ وہى ولايت ہے جو رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومينكى طرف سے ''زمانہ غيبت'' ميں'' فقيہ عادل '' كو حاصل

____________________

۱) ولايت فقيہ صفحہ ۴۰ ، ۴۱_


ہے _ اس سبق كى ابتدا ء ميں جو آيت ذكر كى گئي ہے _ وہ اسى ولايت كى طرف اشارہ كرتى ہے _ دوسرى ولايت وہ ہے جس ميں ان افراد كى سرپرستى كى جاتى ہے جو فہم و شعور نہيں ركھتے يا اپنے امور انجام دينے سے قاصر ہيں يا موجود نہ ہونے كى وجہ سے اپنے حق سے فائدہ نہيں اٹھاسكتے _ لہذا ضرورى ہے كہ ان كى طرف سے ايك ولى اپنى صواب ديد كے تحت انمحجور، غائب اور بے بس افراد كے امور كى سرپرستى كرے _

باپ اور دادا كى اپنے كم سن، كم عقل اور ديوانے بچوں پر ولايت، مقتول كے اولياء كى ولايت اورميت كے ورثا كى ولايت تمام ا سى ولايت كى قسميں ہيں _ درج ذيل آيات اسى ولايت كى اقسام كى طرف اشارہ كررہى ہيں_

( ''و من قتل مظلوماً فقد جعلنا لوليّه سلطانا فلا يُسرف فى القتل'' ) (سورہ اسراء آيت۳۳)

جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس كے وارث كو ( قصاص كا) حق ديا ہے پس اسے چاہيے كہ قتل ميں زيادتى نہ كرے_

( ''فان كان الذى عليه الحق سفيهاً او ضعيفا او لا يستطيع ان يملّ هو فليملل وليه بالعدل'' ) (سورہ بقرہ آيت ۲۸۲)

اور اگر قرض لينے والا كم عقل يا معذور يا خود لكھوا نہ سكتا ہو تو اس كا سرپرست انصاف سے لكھوادے_

ان دو قسم كى ولايت كے درميان بنيادى فرق سے غفلت اور ان دونوں كو ايك ہى سمجھنے كى وجہ سے ولايت فقيہ كے بعض مخالفين ايك بڑى اور واضح غلطى كے مرتكب ہوئے ہيں _ وہ يہ سمجھنے لگے ہيں كہ ولايت فقيہ وہى محجور و قاصر افراد پر ولايت ہے اور ولايت فقيہ كا معنى يہ ہے كہ لوگ مجنون، بچے ، كم عقل اور محجور افراد كى طرح ايك سرپرست كے محتاج ہيں اور ان كيلئے ايك سرپرست كى ضرورت ہے_ لہذا ولايت فقيہ كا لازمہ لوگوں اور ان كے رشد و ارتكاء كى اہانت ہے _ آنے والے سبق ميں ہم اس غلط فہمى كا جواب ديں گے_


خلاصہ

۱)ولايت كے متعدد معانى ہيں _ ولايت فقيہ سے جو معنى مراد ليا جاتاہے وہ ايك لغوى معنى يعنى سرپرستى اور تصرف كے ساتھ مطابقت ركھتاہے _

۲)ولايت فقيہ ''اعتبارات شرعى ''ميں سے ہے _

۳) معصومين '' ولايت اعتبارى ''كے علاوہ '' ولايت تكوينى ''كے بھى حامل ہيں جو كہ ايك كمال اور معنوى فضيلت ہے _

۴) فقہ ميں دو قسم كى ولايت پائي جاتى ہے_

الف:محجور و عاجز افراد پر ولايتب : مومنين كے اجتماعى امور كى سرپرستي

۵) وہ ولايت جو قرآن كريم ميں رسول خدا (ص) اور اولى الامر كيلئے ثابت ہے اور ان كى پيروى ميں فقيہ عادل كيلئے بھى ثابت ہے ولايت كى يہى دوسرى قسم ہے_

۶) ان دو قسم كى ولايت كے درميان اشتباہ اور دوسرى قسم كى ولايت كے وجود سے غفلت سبب بنى ہے كہ بعض افراد نے ولايت فقيہ كو اس ولايت كى قسم سمجھا ہے جو محجور اوربے بس افراد پر ہوتى ہے_


سوالات:

۱) ولايت فقيہ كا اصطلاحى معنى ولايت كے كونسے لغوى معنى كے ساتھ مناسبت ركھتاہے ؟

۲)اس سے كيا مراد ہے كہ فقيہ عادل كى ولايت ايك'' امر اعتبارى ''ہے ؟

۳) ولايت تكوينى سے كيا مراد ہے ؟

۴) ولايت فقيہ اور ائمہ معصومين كى ولايت ميں كيا فرق ہے ؟

۵) محجور افراد پر ولايت سے كيا مراد ہے؟


سولہواں سبق :

فقيہ كى وكالت اور نظارت كے مقابلہ ميں ولايت انتصابي

اس سبق كا مقصد اس امر كى مزيد وضاحت كرنا ہے كہ'' فقيہ كى ولايت انتصابى سے كيا مراد ہے''؟ اوران لوگوں كے اس نظريہ كے ساتھ اس كا كيا فرق ہے جو ''ولايت فقيہ'' كى بجائے ''وكالت فقيہ ''كے قا ئل ہيں يعنى فقيہ لوگوں كا وكيل ياوہ حكومتى امور پرنظارت كھنے والا ہے _ اس سے ولايت فقيہ كى بحث ميں محل نزاع كے واضح ہونے ميں مدد ملے گى ليكن اس بحث ميں داخل ہونے سے پہلےان غلط فہميوںكى طرف اشارہ كرديا جائے جو ولايت فقيہ كے معنى كے متعلق پائي جاتى ہيں _وہى غلط فہمى جس كى طرف گذشتہ سبق كے آخر ميں ہم اشارہ كرچكے ہيں _ فقيہ كى سياسى ولايت كے بعض مخالفين اس بات پر مصرہيں كہ ولايت فقيہ ميں ''ولايت'' كاوہ معنى كيا جائے جو دوسرے سياسى نظاموں ميں موجود سياسى اقتدار اور قانونى حاكميت سے بالكل مختلف ہے_ گويا اس نظام ميں سياسى اقتدار كى حقيقت مكمل طور پر دوسرے نظاموں كے سياسى اقتدار كى حقيقت سے مختلف ہے _اس فكر اور نظريہ كا منشاو سرچشمہ فقيہ كى ولايت سياسى اور اُس ولايت كو ايك ہى طرح كا قرار دينا ہے جو محجور اور بے بس افراد پرہوتى ہے _وہ يہ سمجھتے ہيں كہ مختلف فقہى ابواب ميں جس ولايت كا ذكر كيا جاتا


ہے وہ ان موارد ميں ہوتى ہے جن ميں '' مولّى عليہ'' (جس پر ولايت ہو)محجور ،بے بس اور عاجز ہو پس ان لوگوں نے سياسى ولايت كو بھى اسى قسم كى ولايت خيال كيا ہے اور اس بات كے قائل ہوئے ہيں كہ فقيہ كى ولايت عامہ كا معنى يہ ہوا كہ معاشرہ كے افراد محجور وبے بس ہيں اور انھيں ايك ولى اور سرپرست كى ضرورت ہے_ لوگ رشد وتشخيص دينے سے قاصر ہيں اور اپنے امور ميں ايك سرپرست كے محتاج ہيں اس نظريہ كے حاميوں ميں سے ايك كہتے ہيں -:

ولايت بمعنى ''سرپرستي'' مفہوم اور ماہيت كے لحاظ سے حكومت اور سياسى حاكميت سے مختلف ہے كيونكہ ''ولايت'' وہ حق تصرف ہے جو ولى امر ''مولّى عليہ '' كے مخصوص مال اور حقوق ميں ركھتا ہے _وہ تصرفات جو ''مولّى عليہ '' عدم بلوغ و رشد اورشعور و عقل كى كمى يا ديوانگى كى وجہ سے اپنے حقوق اور اموال ميں نہيں كرسكتا _جبكہ حكومت يا سياسى حاكميت كا معنى ايك مملكت كوچلانا ہے _

اس قسم كے مطالب دوبنيادى نكات سے غفلت كى وجہ سے بيان كئے جاتے ہيں _

پہلا نكتہ يہ كہ فقہ ميں دو طرح كى ولايت پائي جاتى ہے _ايك وہ ولايت جو معاشرتى امور كى سرپرستى ہے كہ جس كا تعلق حكومت اور انتظامى امور سے ہے اور يہ ولايت اُس ولايت سے بالكل مختلف ہے جو محجور وقاصر افراد پر ہوتى ہے _ولايت كى يہ قسم قرآن كى رو سے رسولخدا (ص) اور اولى الامركيلئے ثابت ہے _كيا رسولخدا (ص) كا مسلمانوں كے ولى امر ہونے كا مطلب يہ ہے كہ صدر اسلام كے مسلمان محجوروعاجز تھے؟ اور اس دور كى ممتازاور سركردہ شخصيات ناقص تھيں ؟جيسا كہ كئي بار وضاحت كى گئي ہے كہ ولايت فقيہ وہى ائمہ معصومين كى ولايت كى ايك قسم ہے البتہ اس فرق كے ساتھ كہ ائمہ معصومين كى ولايت اس اعتبارى ولايت ميں منحصر نہيں ہے- بلكہ ائمہ معصومين مقامات معنوى اور تمام ترولايت و خلافت الہيہ كے بھى حامل


ہيں _

دوسرانكتہ يہ كہ روايات كى روسے امام قيّم و سرپرست ہو تا ہے _ولايت اور امامت كے عظيم عہدہ كے فلسفہ كے متعلق فضل ابن شاذان امام رضا سے روايت نقل كرتے ہيں جس ميں امام كو دين خدا كے نگران اور قيّم،احكام الہى كے محافظ اور بدعتى و مفسد افراد كا مقابلہ كرنے والے كے طور پر متعارف كرواياگيا ہے _روايت كے الفاظ يہ ہيں :

''انه لولم يجعل لهم اماماً قيمّاً اميناً حافظاً مستودعاً ،لدرست الملّة وذهبت الدين وغيّرت السّنن ...فلولم يجعل لهم قيّماحافظاً لما جاء به الرسول (ص) لفسدوا'' (۱)

اگر خداوند متعال لوگوں كيلئے سرپرست، دين كا امين ، حفاظت كرنے والااور امانتوں كا نگران امام قرار نہ ديتا تو ملت كا نشان تك باقى نہ رہتا، دين ختم ہوجاتا اور سنتيں تبديل ہوجاتيں پس اگر خدا ،رسول اكرم (ص) كے لائے ہوئے دين كيلئے كسى كو سرپرست اور محافظ نہ بناتا تو لوگ اس دين كو تباہ كرديتے_

اس قسم كى روايات ميں موجود لفظ ''قيّم ''سے مراد وہ سرپرستى نہيں لى جا سكتى جو باپ اور ولى كو چھوٹے بچے يا كم شعور پر حاصل ہوتى ہے _كيونكہ قرآن اور روايات كى اصطلاح ميں'' قيّم ''اس چيز يا اس شخص كو كہتے ہيں جو خود بھى قائم ہو اور دوسروں كے قوام كا ذريعہ ہو_اسى لئے قرآن كريم ميں دين اور كتاب خدا كو اس صفت كے ساتھ متصف كيا گيا ہے _سورہ توبہ كى آيت ۳۶ ميں ارشاد ہو تاہے:

( ''ذلك الدين القيم '' ) يہى دين قيم ہے_

____________________

۱) بحارالانوار ج۶ ، صفحہ ۶۰ ، حديث ۱_


سورہ روم كى آيت ۴۳ ميں ہے:

( ''فاقم وجهك للدّين القيّم ) ''

آپ اپنے رخ كو دين قيم كى طرف ركھيں_

سورہ بينہ كى آيت ۲ اور ۳ ميں ہے:

( ''رسولٌ من الله يتلوا صحفاً مطهّرة *فيها كتب قيّمة'' )

اللہ كى طرف سے رسول ہے جو پاكيزہ صحيفوں كى تلاوت كرتا ہے _ جن ميں كتب قيمة ہيں_

امام اور اسلامى معاشرہ كا سرپرست اس معنى ميں لوگوں كا قيّم ہے كہ وہ ان كيلئے مايہ انسجام اور زندگى كا سہارا ہو تا ہے _قرآن اور روايت ميں استعمال ہونے والے لفظ ''قيّم ''كو اس معنى ميں نہيں لياجاسكتا جو فقہى كتب ميں محجور وبے كس افراد كى سرپرستى كيلئے استعمال ہو تا ہے _بنابريں ولايت فقيہ كے منكرين كے اس گروہ كويہى غلط فہمى ہوئي ہے كہ انہوں نے فقيہ كى ولايت كو اسى قسم كى سرپرستى سمجھاہے جو محجور و قاصر افراد پرہو تى ہے(۱) _

ولايت انتصابى اور وكالت ونظارت ميں فرق

ولايت فقيہ كى بحث كا بنيادى اور اصلى محور يہ ہے كہ كيا ائمہ معصومين كى طرف سے فقيہہ عادل كو امت پر ولى نصب كيا گيا ہے ؟مسلم معاشرے كے سياسى اور اجتماعى امور كى ديكھ بھال، احكام كے اجرا اور امام معصوم كى نيابت كا اہم ترين فريضہ ادا كرنے كيلئے فقيہ كا امام كى طرف سے مقام ولايت پر منصوب ہونا درحقيقت ولايت فقيہ كى اصلى و بنيادى مباحث ميں سے ہے _''ولايت انتصابي'' كے معنى كى مزيد وضاحت كيلئے ضرورى ہے كہ ''ولايت انتخابي'' يا ''وكالت فقيہ'' سے اس كے فرق كى تحقيق كى جائے _جس طرح اس بات كى وضاحت بھى ضرورى ہے كہ'' ولايت فقيہ'' اور''نظارت فقيہ'' ميں كيا فرق ہے _

____________________

۱) مزيدتفصيل كيلئے كتاب'' حكومت ديني'' صفحہ۱۷۷تا۱۸۵كى طرف رجوع كيجئے_


زمانہ غيبت ميں عادل اور جامع الشرائط فقيہ امام زمانہ(عجل اللہ فرجہ الشريف) كا نائب اور آپ كى طرف سے اسلامى معاشرہ كا منتظم و نگران ہو تا ہے _فقيہ عادل آپ كى طرف سے لوگوں پر ولايت ركھتا ہے يہ ''ولايت''،'' وكالت'' سے جدا ايك عہدہ ہے _فقيہ كى ''ولايت انتصابي'' اور ''ولايت انتخابى ''ميں بنيادى فرق اسى نكتہ ميں پوشيدہ ہے _''ولايت انتخابي'' كے نظريہ كى بنياد پر لوگ انتخاب اور بيعت كے ذريعہ فقيہ كو ''ولايت'' عطا كرتے ہيںگويا كہ لوگوں كا منتخب شدہ شخص ان كا وكيل اور مملكت كے انتظامى امور كا سرپرست ہو تا ہے_ ليكن فقيہ كى ''ولايت انتصابى ''كے نظريہ كى بنياد پر فقيہ عادل لوگوں كا وكيل نہيں ہوتابلكہ اسے يہ منصب شرعى دليلوں اور امام كے منصوب كرنے سے حاصل ہو تا ہے _اور لوگوں كا اسے تسليم كرنا اور اسكى مدد كرنا،اسكے ''منصب اور ولايت'' ميں كوئي بنيادى كردار ادا نہيں كرتا_بلكہ ولايت كو بروئے كار لانے اور اس كے اختيارات كے عملى ہونے ميں مددگار ثابت ہو تا ہے دوسرے لفظوں ميں لوگوں كا فقيہ كى ولايت كو قبول كرلينا اسكى ولايت كے شرعى ہونے كا باعث نہيں بنتا_بلكہ لوگوں كى طرف سے حمايت اور ساتھ دينے سے اس كى مقبوليت اور خارجى وجود كا اظہار ہوتاہے _

''ولايت انتصابى ''كى حقيقت مكمل طورپر''حقيقت وكالت ''سے بھى مختلف ہے _وكالت ميں ايك مخصوص شخص يعنى وكيل ايك خاص مورد ميں ايك دوسرے شخص يعنى ''موكل'' كى جگہ پر قرار پاتا ہے اور اس كى طرف سے عمل انجام ديتا ہے _اصل اختيار موكل كے ہاتھ ميں ہوتا ہے وكيل انہى اختيارات كى بنياد پر كام كرتا ہے جو ايك يا چند موكل اسے ديتے ہيں _جبكہ ولايت ميں ايسا نہيں ہوتا _حتى كہ اگر امام معصوم بھى ايك شخص كو وكيل اور دوسرے كو ولايت كے مقام پر منصوب فرمائيںتو ان دونوں كى حقيقت وحيثيت بھى ايك جيسى نہيں ہوتي_آيت الله جوادى آملى اس بار ے ميں كہتے ہيں :


''ولايت'' اور'' وكالت'' ميں فرق ہے_ كيونكہ وكالت ''موكل'' كے مرنے سے ختم ہوجاتى ہے ليكن ولايت ميں ايسا نہيں ہوتا يعنى اگر امام معصوم كسى كو كسى امر ميں اپنا وكيل قرار ديتے ہيں تو امام كى شہادت يا رحلت كے بعد اس شخص كى وكالت ختم ہوجاتى ہے_ مگر يہ كہ بعد والے امام اس كى وكالت كى تائيد كر ديں_ ليكن ولايت ميں ايسا نہيں ہوتا مثلا اگر امام كسى كو منصوب كرتے ہيں اور وہ آپ (ع) كى طرف سے كسى موقوفہ پر ولايت ركھتا ہو تو امام كى شہادت يا رحلت كے بعد اس شخص كى ولايت ختم نہيں ہوگى _ مگر يہ كہ بعد والے امام اس كو ولايت سے معزول كرديں_ (۱)

دوسرا نكتہ يہ ہے كہ'' ولايت فقيہ ''،''نظارت فقيہ ''سے مختلف ہے _ ولايت كا تعلق نظام كے چلانے اور اجراسے ہے_ ولايت اسلامى معاشرہ كے اہم ترين اور مختلف مسائل اور انتظامى امور كو اسلامى موازين اور قواعد كے مطابق حل كرنے كو كہتے ہيں_ جبكہ نظارت ايك قسم كى نگرانى ہے اور اجرائي عنصركى حامل نہيں ہوتى _ زمانہ غيبت ميں سياسى تفكر ميں محل نزاع ''فقيہ عادل كيلئے ولايت كا اثبات'' ہے جبكہ'' نظارت فقيہ'' موافقين اور مخالفين كے درميان محل نزاع و بحث نہيں ہے اصلى نزاع اور جھگڑا اس ميں ہے كہ كيا فقيہ عادل كو شريعت كى طرف سے ولايت پر منصوب كيا گيا ہے يا نہيں؟ لہذا اس باب ميں فقہى بحث كا محور ہميشہ ''ولايت فقيہ'' رہا ہے نہ كہ ''نظارت فقيہ''_

فقيہ كى ''ولايت انتصابى ''كے نظريہ كى بنياد پر يہ سوال سامنے آتا ہے كہ جامع الشرائط فقيہ كيلئے يہ ولايت كس طرح محقق ہوتى ہے؟

____________________

۱) ولايت فقيہ صفحہ ۳۹۵_


كيا ہر عادل اور جامع الشرائط فقيہ ''شان ولايت'' ركھتا ہے يا ''بالفعل'' اس منصب پر فائزہے ؟

حق يہ ہے كہ اگر'' ولايت فقيہ ''پر روايات كى دلالت صحيح ہو تو پھر ہر ''جامع الشرائط فقيہ '' كيلئے منصب ''ولايت'' ثابت ہے_ اور يہ عہدہ '' اہل حل و عقد ''كے انتخاب يا رائے عامہ جيسے كسى اور امر پر موقوف نہيں ہے_ پس ولايت فقيہ كى ادلّہ كى روسے فقيہ عادل بالفعل ولايت كا حامل ہے _ جس طرح ہر فقيہ عادل بالفعل منصب قضا كا حامل ہوتا ہے اور جھگڑوں كا فيصلہ كر سكتا ہے_

ياد رہے كہ تمام ''و اجدالشرائط فقہاء ''جو كہ'' منصب ولايت ''كے حامل ہيں براہ راست معاشرے كے امور كى نگرانى كے عہدہ پر فائز نہيں ہوسكتے _ جس طرح ايك كيس كے سلسلہ ميں تمام قاضى فيصلہ نہيں دے سكتے _ واضح سى بات ہے كہ جب ايك ''جامع الشرائط فقيہ'' امور كى سرپرستى اپنے ذمہ لے ليتا ہے تو باقى فقہا سے يہ ذمہ دارى ساقط ہوجاتى ہے _ بنابريں ايك فقيہ عادل كو اہل حل و عقد كا منتخب كرنا يا عوام كا اسے تسليم كر لينا دوسرے فقہاء سے منصب ولايت كو سلب نہيں كرتا بلكہ جب تك ايك فقيہ عادل امور كى سرپرستى كر رہا ہے تو دوسروں سے يہ ذمہ دارى ساقط ہے_


خلاصہ :

۱) جوافراد ولايت فقيہ كو اس ولايت كى قسم سمجھتے ہيں جو محجور و بے كس افراد پر ہوتى ہے وہ ولايت كى قانونى حقيقت و ماہيت كو دوسرے سياسى اقتدار كى قانونى حقيقت سے مختلف قرار ديتے ہيں_

۲) اس نظريہ كے قائلين ''فقيہ كى ولايت عامہ ''كو لوگوں كے كم شعور اور بے بس ہونے كا لازمہ سمجھتے ہيں_

۳) اس نظريہ كے قائلين اس سے غافل رہے ہيں كہ اسلامى معارف ميں لفظ ولايت كے مختلف استعمال ہيں_

۴) روايات ميں امام كومعاشرہ كا قيّم كہا گيا ہے_ اور ان روايات ميں ''قيم''،'' ذريعہ حيات و قوام '' كے معنى ميں استعمال ہوا ہے_ جس معنى ميں قرآن نے دين اور آسمانى صحيفوں كو'' قيّم ''كہا ہے_

۵) ''ولايت انتصابى ''مكمل طور پرلوگوں كى طرف سے ''ولايت انتخابي'' اور ''وكالت فقيہ '' كے نظريہ سے مختلف ہے_

۶) ولايت انتصابى ايك قانونى حقيقت ہونے كے لحاظ سے وكالت كى ماہيت سے مختلف ہے_

۷)'' ولايت فقيہ ''حاكميت اور امور كى سرپرستى كے معنى ميںہے لہذا'' نظارت فقيہ '' سے واضح فرق ركھتى ہے_

۸) ولايت فقيہ كى ادلّہ كى رو سے يہ ولايت بالفعل ہر جامع الشرائط فقيہ كو حاصل ہے _ يعنى ہر فقيہ عادل امام كى طرف سے منصوب ہوتا ہے اور اس كى ولايت شرعى ہوتى ہے_


سوالات :

۱) كيا ولايت فقيہ كى قانونى حقيقت دوسرى حكومتوں كے سياسى اقتدار سے مختلف ہوتى ہے؟

۲) وہ افراد جو ولايت فقيہ كو وہ ولايت سمجھتے ہيں جو محجور افراد پر ہوتى ہيں_ انہوں نے كن نكات سے غفلت كى ہے؟

۳) فقيہ كى ''ولايت انتصابى ''،''وكالت فقيہ ''سے كيا فرق ركھتى ہے؟

۴) كيا ولايت فقيہ اور نظارت فقيہ ايك ہى چيز ہے؟

۵) ولايت فقيہ كى ادلّہ كى روسے جامع الشرائط فقيہ كيلئے كس قسم كى ولايت ثابت كى جاسكتى ہے؟


ستر ہواں سبق :

ولايت فقيہ كى مختصر تاريخ -۱-

ولايت فقيہ كى ابتداء آغاز فقہ سے ہى ہوتى ہے_ فقہ اور اجتہاد كى ابتدائ تاريخ سے ہى فقيہ كى بعض امور ميں ولايت كا اعتقاد پايا جاتا ہے _ اس وجہ سے اسے'' فقہ شيعہ'' كے مسلّمات ميں سے سمجھا جاسكتا ہے_ ولايت فقيہ كے متعلق جو شيعہ علماء ميں اختلاف پاياجاتا ہے_ وہ اس كى حدود وقيود اور اختيارات ميں ہے نہ كہ اصل ولايت فقيہ ميں_

قضاوت اور امور حسبيّہ(۱) جيسے امور ميں فقيہ عادل كى ولايت پر سب متفق ہيں_جبكہ اس سے وسيع تر امورميں اختلاف ہے_ يعنى معاشرہ كے سياسى اور انتظامى امور ميں فقيہ ولايت ركھتا ہے يا نہيں ؟ اسے

____________________

۱) امور حسبيّہ سے مراد وہ امور ہيں جن كے چھوڑ دينے پر شارع مقدس كسى صورت ميں بھى راضى نہيں ہے مثلاً بچوں ، ديوانوں اور بے شعور افراد كى سرپرستى _لفظ ''حسبہ' كے معنى اجر اور ثواب كے ہيں _ عام طور پر اس كا اطلاق ان امور پر ہوتا ہے جو اخروى اجر و ثواب كيلئے انجام ديئے جاتے ہيںاور كبھى قربت كے معنى ميں بھى استعمال ہوتا ہے _وہ كام امور حسبيّہ ميں شمار ہوتے ہيں جنہيں قربت خدا كيلئے انجام ديا جاتا ہے يا در ہے كہ امور حسبيّہ واجبات كفائي نہيں ہيں _ كيونكہ واجبات كفائي ان امور كو كہتے ہيں جنہيں ہر شخص انجام دے سكتا ہے اور بعض كے انجام دينے سے دوسروں سے ساقط ہوجاتے ہيں جبكہ امور حسبيّہ ميں تصرف كا حق يا تو صرف فقيہ عادل كے ساتھ مخصوص ہے يا پھر كم از كم فقيہ عادل كے ہوتے ہوئے دوسرے حق تصرف نہيں ركھتے _


''ولايت عامہ فقيہ'' يا ''معصومين كى نيابت عامہ'' سے بھى تعبير كيا جاتا ہے_ فقيہ كى ولايت عامہ سے مراد يہ ہے كہ فقيہ عادل نہ صرف اجرائے احكام ، قضاوت اور امور حسبيّہ ميں امام معصوم كا نائب ہے بلكہ امام كى تمام قابل نيابت خصوصيات كا بھى حامل ہو تا ہے_

ولايت فقيہ كے بعض مخالفين يہ باور كرانا چاہتے ہيں كہ شيعہ فقہ كى تاريخ ميں ولايت عامہ فقيہ كى بحث ايك نئي بحث ہے جو آخرى دو صديوں ميں منظر عام پر آئي ہے جبكہ شيعہ فقہ كى طويل تاريخ ميں اس سے پہلے اس كا كوئي وجود نہيں ملتا حالانكہ فقاہت تشيع كے تمام ادوار ميں اس نظريہ كے قابل اعتبار قائلين موجود رہے ہيں بلكہ بعض بڑے بڑے شيعہ علماء و فقہاء نے اس كے متعلق فتوے بھى ديئے ہيں اور بعض علماء نے اس كے متعلق اجماع كادعوى بھى كيا ہے_ يہاں ہم صرف تين بزرگ فقہاء كے كلام كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

دسويں صدى كے عظيم شيعہ فقيہ جناب محقق كر كى جامع الشرائط فقيہ كيلئے امام كى نيابت عامہ كو اجماعى اور متفق عليہ سمجھتے ہيں اور كہتے ہيں : اس ولايت كا نہ ہونا شيعوں كے امور كے معطل ہونے كا باعث بنتا ہے_(۱)

عظيم كتاب ''جواہر الكلام'' كے مصنف اور نامور شيعہ فقيہ شيخ محمد حسن نجفى امر بالمعروف كى بحث كے دوران امام معصوم كے تمام مناصب ميں فقيہ عادل كى نيابت كو شيعہ علماء كے نزديك ايك مسلّم حقيقت سمجھتے ہيں _ ان كا كہنا ہے كہ فقيہ كى ولايت عامہ سے انكار شيعوں كے بہت سے امور كے معطل ہونے كا باعث بنتا ہے_ اور جنہوں نے فقيہ كى ولايت عامہ كا انكار يا اس ميں شك كيا ہے انہوں نے نہ تو فقہ كے مزہ كو چكھا ہے اور نہ ہى معصومين كے كلام كے رموز كو سمجھا ہے(۲) _آپ فرماتے ہيں:

____________________

۱) رسائل محقق كركى جلد ۱ ، صفحہ ۱۴۲، ۱۴۳_ رسالة فى صلاة الجمعة_

۲) آپ كى آنے والى عبارت كا ترجمہ بھى تقريبا يہى ہے ( مترجم)


ثبوت النيابة لهم فى كثير من المواضع على وجه يظهر منه عدم الفرق بين مناصب الامام اجمع ، بل يمكن دعوى المفروغية منه بين الاصحاب، فانّ كتبهم مملوء ة بالرجوع الى الحاكم ، المراد منه نائب الغيبة فى سائر المواضع لو لا عموم الولاية لبقى كثير من الامور المتعلّقة بشيعتهم معطّلة _ فمن الغريب وسوسة بعض الناس فى ذلك بل كانّه ما ذاق من طعم الفقه شيئاً، و لا فهم من لَحن قولهم و رموزهم امراً (۱)

فقيہ متبحر آقا رضا ہمدانى فقيہ عادل كيلئے امام كى نيابت اور جانشينى كے مسلّمہ ہونے كے متعلق يوں فرماتے ہيں:

زمانہ غيبت ميں اس قسم كے امور (وہ امور عامہ جن ميں ہر قوم اپنے رئيس كى طرف رجوع كرتى ہے) ميں جامع الشرائط فقيہ كے امام كے جانشين ہونے ميں شك و ترديد معقول نہيں ہے جبكہ علماء كے اقوال بھى اس بات كى تائيد كرتے ہيں كيونكہ ان كے كلام سے ظاہر ہوتا ہے كہ يہ بات امور مسلّمہ ميں سے ہے اور يہ بات اس قدر واضح تھى كہ بعض علماء نے تو امام كى طرف سے فقيہ كى نيابت عامہ كى دليل ''اجماع'' كو قرار ديا ہے_(۲)

ہم اشارہ كر چكے ہيں كہ فقہ شيعہ كے طول تاريخ ميں زمانہ قدماء سے ليكر آج تك علمائ'' فقيہ كى ولايت

____________________

۱) جواہر الكلام فى شرح شرائع الاسلام جلد ۲۱، صفحہ ۳۹۶، ۳۹۷_

۲) مصباح الفقيہ جلد ۱۴، صفحہ ۲۹۱ كتاب الخمس _


عامہ'' كے معتقد رہے ہيں اور عظيم فقہاء نے اسى كے مطابق فتوے ديئے ہيں_ بہتر ہے كہ ہم يہاں مختلف ادوار كے علماء كے اقوال ذكر كر ديں_

محمد ابن نعمان بغدادى متوفى ۴۱۳ھ جو كہ شيخ مفيدرحمة الله عليہ كے نام سے مشہور ہيں اور شيعوں كے بہت بڑے فقيہ شمار ہوتے ہيں_ مخالفين كے اس ادعا كو نقل كرنے كے بعد كہ اگر امام زمانہ عجل الله فرجہ الشريف كى غيبت اسى طرح جا رى رہى تو حدود الہى كا اجرا كسى پر واجب نہيں ہے_ كہتے ہيں:

فأما إقامة الحدود فهو إلى سلطان الاسلام المنصوب من قبَل الله تعالى و هم ائمة الهُدى من آل محمد(ص) و من نصبوه لذلك من الاُمراء والحكام ، و قد فَوَّضوا النظرَ فيه إلى فقهاء شيعتهم مع الامكان (۱)

حدود الہى كا اجرا حاكم شرعى كا كام ہے _ وہ حاكم شرعى جسے خدا كى طرف سے مقرر كيا گيا ہو اور وہ ائمہ اہلبيت ہيںيا وہ افراد جنہيں ائمہ معصومين حاكم مقرر كرديں اور ممكنہ صورت ميں انہوں نے يہ كام اپنے شيعہ فقہا كے سپرد كر ركھا ہے_

اس عبارت ميں شيخ مفيد حدود الہى كا اجرا اسلام كے حاكم كى ذمہ دارى قرار ديتے ہيں نہ كہ قاضى كى لہذا ان كا اس بات كى تاكيد كر نا كہ يہ كام جامع الشرائط فقيہ كى خصوصيات ميں سے ہے فقيہ كى ولايت عامہ كى دليل ہے _ كيونكہ صرف حاكم شرع ہى حدود الہى كو جارى كرسكتا ہے_ يہ بات درج ذيل دو روايات كے ساتھ مطابقت ركھتى ہے_

''عن حفص بن غياث قال : سألت اباعبدالله (عليه السلام)

____________________

۱) المقنعہ صفحہ ۸۱۰، كتاب الامر بالمعروف و النہى عن المنكر _


قلت: من يقيم الحدود؟ السلطان او القاضي؟ فقال:'' اقامة الحدود الى من اليه الحكم _''(۱)

حفص ابن غياث كہتے ہيں : ميں نے امام صادق سے پوچھا : حدود الہى كون جارى كرے گا؟ سلطان يا قاضي؟ فرمايا حدود كا اجرا حاكم كا كام ہے_

انّ عليّاً (ع) قال :'' لا يصلح الحكم و لا الحدود و لا الجمعة الا ّ بامام'' (۲)

اميرالمؤمنين نے فرمايا حكومت ، حدود اور جمعہ كى ادائيگى امام كے بغير صحيح نہيں ہيں_

حمزہ ابن عبدالعزير ديلمى (متوفى ۴۴۸_۴۶۳)جو كہ سلار كے لقب سے مشہور ہيں كہتے ہيں:

قد فوّضوا إلى الفقهاء إقامة الحدود والاحكام بين الناس بعد أن لا يتعدّوا واجباً و لا يتجاوزوا حداً و امروا عامة الشيعة بمعاونة الفقهاء على ذلك (۳)

يہ كام فقہاء كو سونپا گيا ہے كہ وہ حدود الہى كو قائم كريں اور لوگوں كے درميان فيصلہ كريں_ وہ نہ واجب سے آگے بڑھيں اور نہ حد سے تجاوز كريں اور عام شيعوں كو اس سلسلہ ميں فقہاء كى مدد كرنے كا حكم ديا گيا ہے_

اس فتوى كے مطابق حدود اور احكام الہى كا اجرا جو كہ'' سياسى ولايت'' كى خصوصيات ميں سے ہے اور ''ولايت قضائي'' سے وسيع تر ايك امر ہے_ شيعہ فقہا كے سپرد كيا گيا ہے اور ائمہ معصومين لوگوں سے يہ چاہتے ہيں كہ وہ اس سلسلہ ميں فقہاء كى مدد كريں_

____________________

۱) وسائل الشيعہ جلد ۱۸ص۲۲۰_

۲) المستدرك جلد ۳ صفحہ ۲۲۰_

۳) المراسم النبويةص ۲۶۱_


عظيم فقيہ ابن ادريس حلّى (متوفى ۵۹۸ھ ق) معتقد ہيں كہ جامع الشرائط فقيہ كو احكام الہى اور شرعى حدود كے اجرا كى ذمہ دارى لينى چاہيے يہ ولايت ''امر بالمعروف اور نہى عن المنكر'' كى ايك قسم ہے اور يہ ہر ''جامع الشرائط'' كى ذمہ داريہے_ حتى كہ اگر اسے فاسق و فاجر حاكم كى طرف سے بھى مقرر كيا جائےتب بھى وہ در حقيقت'' امام معصوم اور ولى امر ''كى طرف سے مقرر كردہ ہے_ حدود الہى كا اجرا صرف امام معصوم كى ذمہ دارى نہيں ہے بلكہ ہر حاكم كا وظيفہ ہے _پس مختلف شہروں ميں امام كے نائبين بھى اس حكم ميں شامل ہيں (۱) _

ابن ادريس حلّي، سيد مرتضى ، شيخ طوسى اور دوسرے بہت سے علماء كو اپنا ہم خيال قرار ديتے ہيں_

''و عليه ( العالم الجامع للشرائط)متى عرض لذلك ا ن يتولّاه (الحدود)لكون هذه الولاية امراً بمعروف و نهياً عن منكر، تعيّن غرضهما بالتعريض للولاية عليه و هو ان كان فى الظاهر من قبل المتغلّب ،فهو فى الحقيقة نائب عن ولى الامر (عج) فى الحكم فلا يحلّ له القعود عنه و اخوانه فى الدين مامورون بالتحاكم و حمل حقوق الاموال اليه و التمكن من انفسهم لحدّ او تاديب تعيّن عليهم ...''

''و ما اخترناه اوّلا هو الذى تقتضيه الادلّة ،و هو اختيار السيد المرتضى فى انتصاره و اختيار شيخنا ابوجعفر فى مسائل خلافه

____________________

۱) آپكى آنے والى عبارت كا ترجمہ تقريبا يہى ہے ( مترجم)


و غيرهما من الجلّة المشيخة الشائع المتواتر ان للحكام اقامة الحدود فى البلد الذى كل واحد منهم نائب فيه من غير توقف فى ذلك'' (۱)

دسويں صدى كے عظيم فقيہ محقق كركى (متوفى ۹۴۰ق )فقيہ عادل كے امام معصوم كے تمام قابل نيابت امور ميں امام كے نائب ہونے پر اصرار كرتے ہيں اور اسے تمام علماء كا متفق الرا ے حكم قرار ديتے ہوئے كہتے ہيں:

اتَّفَقَ أصحابنا (رضوان الله عليهم) على أنّ الفقيه العدل الإمامى الجامع لشرائط الفتوى المعبّر عنه بالمجتهد فى الأحكام الشرعية نائب من قبَل ائمة الهُدى (صلوات الله عليهم) فى حال الغَيْبة فى جميع ما للنّيابة فيه مدخل والمقصود من هذا الحديث هنا أنّ الفقيه الموصوف بالأوصاف المعيّنة منصوب من قبَل أئمّتنا نائب عنهم فى جميع ما للنّيابة فيه مدخل بمقتضى قوله (ع) : '' فإنّى قد جعلته عليكم حاكماً'' و هذه استنابة على وجه كلّي''

ہمارے تمام علماء اس بات پر متفق ہيں كہ وہ شيعہ عادل فقيہ جو فتوى دينے كى صلاحيت ركھتا ہو كہ جسے احكام شرعيہ ميں مجتہد سے تعبير كيا جاتا ہے، زمانہ غيبت ميں ان تمام امور ميں ائمہ ہدى كا نائب ہوتا ہے جو نيابت كے قابل ہيں

حديث معصوم (كہ ميں نے اسے تم پر حاكم قرار ديا ہے) سے مراد يہ ہے كہ وہ فقيہ جو

____________________

۱) السرائر، جلد ۳ ، صفحہ ۵۳۸، ۵۳۹و۵۴۶_


مذكورہ صفات كا حامل ہو _ ائمہ كا مقرر كردہ نائب ہے ان تمام امور ميں جو قابل نيابت ہيں اور يہ نيابت كلى اور عام ہے_ (۱)

شيخ جعفر كاشف الغطاء كے فرزند شيخ حسن كاشف الغطا (متوفى ۱۲۶۲ھ ق)اپنى كتاب ''انوار الفقاہہ'' (جو كہ خطى نسخہ ہے )ميں فقيہ كى '' ولايت عامہ'' كو صراحتاً ذكر كرتے ہوئے كہتے ہيں : فقيہ كى ولايت صرف قضاوت تك محدود نہيں ہے اور اس بات كى نسبت فقہا كيطرف ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

''ولاية الحاكم عامّة لكلّ ما للإمام ولاية فيه لقوله (ع) : '' حجّتى عليكم'' و قوله (ع) : '' فاجعلوه حاكماً'' حيث فهم الفقهاء منه انّه بمعنى الوليّ المتصرّف لا مجرّد أنّه يحكم فى القضائ''

حاكم ( فقيہ جامع الشرائط) كو ان تمام امور ميں ولايت حاصل ہے جن ميں امام (ع) كو ولايت حاصل ہوتى ہے كيونكہ امام (ع) فرماتے ہيں: ''يہ تم پر ميرى طرف سے حجت ہيں''_ نيز فرمايا: ''اسے ( فقيہ كو )حاكم قرار دو'' _ اس سے فقہا نے يہى سمجھا ہے كہ يہاں مراد'' ولى متصرف ''ہے نہ كہ صرف قضاوت كرنے والا_

انوار الفقاہہ كے مصنف كى ولايت عامہ پر ايك دليل يہ ہے كہ ولايت كے سلسلہ ميں نائب خاص اور نائب عام ميں كوئي فرق نہيں ہے _ يعنى اگر امام معصوم كسى شہر ميں ايك نائب خاص مقرر كرتے ہيں مثلا مالك اشتر كو مصر كيلئے ،يا غيبت صغرى ميں نوّاب اربعہ كو، تو ان كى ولايت صرف قضاوت ميں منحصر نہيں ہوتى بلكہ حدود الہى كا اجراء ،شرعى ماليات كى وصولى ، جھگڑوں كا فيصلہ ، امورحسبيّہ كى سرپرستى ، اور مجرموں كو سزا دينا، سب اس ميں شامل ہيں_ پس غيبت كبرى كے زمانہ ميں بھى امام معصوم كى نيابت عمومى ہوگى اور ان تمام امور كى ذمہ دارى فقيہ عادل پر ہوگى _

____________________

۱) ر سائل محقق كركي، جلد ۱ ،ص ۱۴۲، ۱۴۳ (رسالة صلوة الجمعہ)_


خلاصہ:

۱) اصل '' ولايت فقيہ'' شيعہ فقہ كے مسلّمات ميں سے ہے اگر چہ اس ولايت كے دائرہ اختيار ميں اختلاف ہے _

۲)بڑے بڑے شيعہ فقہا نے فقيہ كى ولايت عامہ پر اجماع كا دعوى كيا ہے_ جبكہ بعض مخالفين اسے ايك نيا اور جديد مطلب سمجھتے ہيں_

۳) بعض فقہا كا اس پر اصرار كہ حدود الہى كا اجرا فقيہ عادل كا كام ہے_ ''فقيہ كى ولايت عامہ ''كى دليل ہے_

۴)بعض روايات حدود الہى كے اجرا كو سلطان اور حاكم كى خصوصيات قرار ديتى ہيں نہ قاضى كى _

۵)بعض فقہا صريحاً كہتے ہيں : نائب عام ( زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل)اور نائب خاص (مثلا مالك اشتر اور محمد ابن ابى بكر) كى ولايت كے دائرہ اختيار ميں كوئي فرق نہيں ہے_


سوالات :

۱)ولايت فقيہ ميں محور اختلاف كيا ہے؟

۲)ان تين فقہاء كے نام بتايئےنہوں نے فقيہ كى ولايت عامہ پر اجماع كا دعوى كيا ہے؟

۳)فقيہ كى ولايت عامہ پر محقق كركى نے كس طرح استدلال كيا ہے؟

۴)حدود الہى كا اجرا فقيہ عادل كے ہاتھ ميں ہے_ يہ نظريہ كس طرح ''فقيہ كى ولايت عامہ ''كى دليل ہے؟

۵)ولايت فقيہ كے متعلق ابن ادريس حلّى كى كيا را ے ہے؟

۶)انوار الفقاہہ كے مصنف ولايت فقيہ كے متعلق كيا نظريہ ركھتے ہيں؟


اٹھارہواں سبق :

ولايت فقيہ كى مختصر تاريخ-۲-

ہمارے فقہا كے كلمات ميں حاكم كے جو فرائض اور مختلف اختيارات بيان كئے گئے ہيں وہ قضاوت سے وسيع تر ہيں _ پہلے ہم نمونہ كے طور پر وہ كلمات يہاں ذكر كرتے ہيں_ پھر اس كى وضاحت كريں گے كہ يہاں حاكم سے مراد كيا ہے_

جو شخص اپنے واجب نفقہ كو ادا نہيں كرتا اس كے متعلق محقق حلّى كہتے ہيں:

''إذا دافع بالنفقة الواجبة أجبره الحاكم، فإن امتنع حبسه ...''(۱)

جب كوئي شخص نفقہ واجبہ كو ادا نہ كرے تو حاكم اسے مجبور كرے_ اگر پھر بھى وہ انكار كرے تو اسے قيد كردے

محقق حلى ''خيانت كرنے والے وصى كو معزول كرنا''حاكم كى ذمہ دارى قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں :

''و لو ظهر من الوصيّ عجز ضُمَّ اليه مساعد، وإن ظهر منه خيانة وجب على الحاكم عزله و يقيم مقامه أميناً'' (۲)

____________________

۱) شرائع الاسلام جلد ۲ ،ص ۲۹۷_ ۲۹۸،كتاب النكاح _

۲) شرائع الاسلام جلد ۲، صفحہ ۲۰۳، كتاب الوصية_


اگر معلوم ہوجائے كہ وصى عاجز ہے تو اس كيلئے مددگار معين كيا جائيگا اور اگر معلوم ہوجائے كہ وصى نے خيانت كى ہے تو حاكم كيلئے ضرورى ہے كہ اسے معزول كركے اس كى جگہ كسى امانتدار آدمى كو وصى مقرر كرے_

شيخ مفيد ''ديوانوں اور كم عقل افراد كيلئے وكيل معيّن كرنا ''حاكم كى ذمہ دارى قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

لحاكم المسلمين ا ن يوكّل لسْفهائهم مَن يطالب بحقوقهم و يحتج عنهم و لهم (۱)

مسلمان حاكم كيلئے ضرورى ہے كہ وہ سفيہ افرادپر اس شخص كو وكيل مقرر كرے جو ان كے حقوق كا مطالبہ كرتا ہو اور ان كى طرف سے اور ان كے حق ميں استدلال كرے_

شيخ مفيد حاكم كو'' سلطان'' اور'' ناظر'' جيسے الفاظ سے بھى تعبير كرتے ہيں_ مثلا ًكتاب وصيت ميں فرماتے ہيں:

''فإن ظهر من الوصى خيانة كان للناظر فى أُمور المسلمين أن يعزله'' (۲)

پس اگر وصى خيانت كرے تو امور مسلمين كے ناظر كيلئے ضرورى ہے كہ اسے معزول كردے_

ذخيرہ اندوز كے متعلق حاكم كى ذمہ دارى كو بيان كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

''وللسلطان أن يكره المحتكر على إخراج غلّته و بيعها فى أسواق المسلمين'' (۳)

____________________

۱) المقنعہ، صفحہ ۸۱۶،كتاب الوكالة_

۲) المقنعہ، صفحہ ۶۶۹_

۳) المقنعہ ،صفحہ ۶۱۶_


سلطان كيلئے ضرورى ہے كہ وہ ذخيرہ اندوز كو غلّہ باہر لانے اور اسے مسلمانوں كے بازار ميں فروخت كرنے پر مجبور كرے_

قطب الدين راوندى مرحوم متاجركى بحث ميں فرماتے ہيں كہ حاكم كو حق حاصل ہے كہ وہ ذخيرہ اندوز كو غلّہ جات فروخت كرنے پر مجبور كرے_

فإذا ضاق الطعام و لا يوجد إلّا عند مَن احتكره ، كان للسلطان أن يْجبره على بيعه (۱)

پس جب غلّہ كى كمى ہو جائے اور ذخيرہ اندوز كے سوا كہيں نہ پاياجاتا ہو تو سلطان كيلئے ضرورى ہے كہ وہ اسے بيچنے پر مجبور كرے_

شيخ حسن كاشف الغطاء كتاب انوار الفقاہہ باب قضا ميں لكھتے ہيں : حاكم شرع امام زمانہ -عجل الله فرجہ الشريف كى طرف سے تمام انفال اور اموال ميں وكيل او ر نائب ہے _ اور اس فتوى پر اجماع كا دعوى كرتے ہيں_ ان كى عبارت يہ ہے_

''و كذا الحاكم الشرعى وكيل عن الصاحب عجل الله فرجه الشريف فيما يعود اليه من انفاله و امواله و قبضه قبضه لمكان الضرورة و الاجماع و ظواهر اخبار النيابة و الولاية''

يہ كلمات اگر چہ حاكم كے فرائض كے متعلق بعض فقہاء شيعہ كى آرا اور فتاوى ہيں_ ليكن اس بات كى بھى نشاندہى كرتے ہيں كہ سلطان اور حاكم كے اختيارات قاضى كى قضاوت سے وسيع تر ہيں_حاكم قيد كرسكتا ہے

____________________

۱ ) فقہ القرآن جلد ۲، صفحہ ۵۲_


حدود الہى كو جارى كرتا ہے ، كم شعور اور عاجز افراد كے امور كى ذمہ دارى ليتا ہے، اور حاكم ہر اس شخص كا ولى ہوتا ہے جس كا كوئي ولى نہ ہو _ اسى لئے ان موقوفات عامہ پر بھى اسے ولايت حاصل ہوتى ہے جن كا كوئي ولّى نہ ہو _ اس كا مال قبض كرناگويا امام معصوم (ع) كا مال قبض كرنا ہے_اس لئے امام معصوم (ع) كے زمانہ ميں جن اموال ميں تصرف كرنا امامت كى خصوصيات ميں سے ہے وہ تصرف زمانہ غيبت ميں حاكم كے ہاتھ ميں ہوتا ہے_

اب ديكھنا يہ ہے كہ حاكم ، سلطان يا امور مسلمين كے ناظر سے كيا مراد ہے؟ ہمارا دعوى يہ ہے كہ ان اوصاف كے مالك پہلے مرحلہ ميں خلفاء الہى يعنى محمد وآل محمد ہيں _ ان كے بعد ان كے خاص نائبين اور ان كے بعد يعنى زمانہ غيبت ميں ان كے نائبين عام يعنى جامع الشرائط عادل فقہاء ان اوصاف كے مالك ہيںاور يہ بات بڑے بڑے علماء كے اقوال ميں وضاحت كے ساتھ بيان كى گئي ہے_

شيخ مفيد اسلام كے حاكم اور سلطان كى وضاحت كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

''فأمّا اقامة الحدود فهو إلى سلطان الإسلام المنصوب من قبَل الله تعالى و هُم ائمّة الهُدى من آل محمّد(ع) أو مَن نَصَبُوهُ لذلك من الأُمراء والحُكّام وقد فوّضوا النظر فيه إلى فقهاء شيعتهم مع الإمكان'' (۱)

حدود الہى كا اجرا اس اسلامى حاكم كا كام ہے جو خدا كى طرف سے مقرر كيا گيا ہو _ اور وہ ائمہ اہلبيتہيں_ يا وہ افراد جنہيں يہ حاكم اور والى مقرر كريں اور ممكنہ صورت ميں يہ كام انہوں نے اپنے شيعہ فقہاء كے سپرد كيا ہے_

فخر المحققين محمد بن حسن حلى بھى حاكم كى اسى طرح تعريف كرتے ہيں اور اس كى نسبت اپنے والد حسن بن

____________________

۱) المقنعہ، صفحہ ۸۱۰_


يوسف المعروف علامہ حلّيَ اور ابن ادريس كى طرف ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

المراد بالحاكم هنا السلطان العادل الا صلى أو نائبه فإن تعذ ّر فالفقيه الجامع لشرائط الفتوي، فقوله:'' فإن لم يكن حاكم'' المراد به فقد هؤلاء الثلاثة، و هو اختيار والدى المصنّف و ابن ادريس (۱)

يہاں پر حاكم سے مراد ''خود سلطان عادل ''يا اس كا نائب ہے اور اگر يہ نہ ہوں تو پھر فتوى كى شرائط كا حامل فقيہ _ پس مصنف كا يہ قول كہ اگر حاكم نہ ہو اس سے مراد يہ ہے كہ يہ تينوں نہ ہوں اور اس قول كو ميرے والد ( يعنى مصنف )اور ابن ادريس نے اختيار كيا ہے_

محقق كركى بھى لفظ ''حاكم ''كى يہى تفسير كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

''والمراد به (الحاكم) الإمام المعصوم أو نائبه الخاصّ، و فى زمان الغيبة النائب العامّ_ و هو المستجمع لشرائط الفتوى و الحكم و لا يخفى أنّ الحاكم حيث أُطلق لا يراد به إلاّ الفقيه الجامع للشرائط'' (۲)

حاكم سے مراد امام معصوم يا ان كا'' نائب خاص ''ہے_ اور زمانہ غيبت ميں ''نائب عام''اورنائب عام سے مراد وہ شخص ہے جو فتوى اورفيصلہ كرنے كى تمام شرائط كا حامل ہو مخفى نہيں رہنا چاہيے كہ جب كسى قيد وشرط كے بغير ''حاكم'' كا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد ''جامع الشرائط فقيہ'' ہى ہوتا ہے_

آخر بحث ميں ہم چند مفيد نكات كى طرف اشارہ كرتے ہيں:

____________________

۱) ايضاح الفوائد جلد ۲ ، صفحہ ۶۲۴ كتاب الوصايا_

۲) جا مع المقاصد جلد ۱۱، صفحہ ۲۶۶، ۲۶۷كتاب الوصايا_


۱_ آخرى دو اسباق ميں ہمارى يہى كوشش رہى ہے كہ'' ولايت فقيہ'' كى تائيد كيلئے زيادہ تر فقہا ء كے اقوال پيش كئے جائيں _ كيونكہ اصلى ہدف اس نكتہ كى وضاحت كرنا ہے كہ'' ولايت فقيہ ''كا اعتقاد ايك قديمى بحث ہے نہ كہ ايك نيا مطلب _اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ بعد والے فقہاء كے اقوال ميں مسئلہ'' ولايت فقيہ'' كو بالكل شفاف اور واضح صورت ميں بيان كيا گيا ہے_ دور حاضر كے عظيم فقہاء جو ''فقيہ كى ولايت عامہ'' كے قائل ہيں ان ميں سے آيت اللہ بروجردى ، آيت اللہ گلپايگانى اور اسلامى جمہوريہ ايران كے بانى امام خمينى قابل ذكر ہيں_ (۱)

۲_اہلسنت نے ''الاحكام السلطانية ''كے عنوان سے فقہ سياسى كے متعلق مستقل بحث كى ہے_ اور فقہ الحكومت اور اس كى جزئيات پر تفصيلى نظر ڈالى ہے_ جبكہ شيعوں نے سياسى فقہ كے بارے ميں اس قدر تفصيلى بحث نہيں كى ہے _ اور اس كى وجہ شيعوں كے خاص سياسى اور اجتماعى حالات ہيں_فاسق و فاجر حكومتوں كى مخالفت كى وجہ سے شيعوں پر جو سياسى دباؤ تھا_ اس كى وجہ سے وہ سياسى فقہ كے متعلق مستقل اور تفصيلى بحث نہيں كر پائے اور نہ ہى گذشتہ فقہا حاكم ، والى امر كا دائرہ اختيارات اور سياسى فقہ سے مربوط اس قسم كى دوسرى مباحث مستقل اور براہ راست كرپائے_ جيسا كہ اس مختصر سى تاريخ ميں گذر چكا ہے كہ اس قسم كى مباحث پراگندہ طور پر حدود و ديات ، قضا ، امر بالمعروف و نہى عن المنكر ، نكاح ، وصيت اور مزارعہ كے ابواب ميں كى گئي ہيں _ حتى كہ محقق كركى اور صاحب الجواہر جيسے فقہاء جنہوں نے كھل كر فقيہ كى ولايت عامہ كى حمايت كى ہے_

____________________

۱) ان تين فقہاء كى آراء درج ذيل كتب ميں ملاحظہ كى جاسكتى ہيں _

الف: البدر الزاہر فى صلاة الجمعة و المسافر ، تقريرات دروس آيت الله حاج آقا حسين بروجردي

ب : الہداية الى من لہ الولاية ، تقريرات دروس آيت الله سيد محمد رضاگلپايگاني

ج : كتاب البيع جلد ۲ اور ولايت فقيہ ، امام خميني


انہوں نے بھى اس ولايت عامہ اور اس كى جزئيات كے متعلق تفصيلى اور مستقل بحث نہيں كى ''ولايت فقيہ ''كے متعلق مستقل بحث آخرى دو صديوں ميں كى گئي ہے_پہلى دفعہ ملا احمد نراقى (متوفى ۱۲۴۵) نے اپنى كتاب ''عوائد الايام ''ميں ''ولايت فقيہ ''كے متعلق اچھے خاصے صفحات مختص كئے ہيں_

يہ نكتہ اس حقيقت كى نشاندہى كرتا ہے كہ فقيہ عادل كے محدود اختيارات كا ذكر اور حدود كا اجرا، امور حسبيّہ پر ولايت اور معصومين كے ساتھ مخصوص مالى امور مثلا انفال ، خمس اور سہم امام و غيرہ جيسے خاص مواردميں فقيہ كے نائب امام ہونے پر اصرار كا يہ معنى نہيں ہے كہ فقيہ كى ولايت عامہ پر اعتقاد نہيں ہے_ كيونكہ فقيہ كى ولايت عامہ كے سخت ترين حاميوں نے بھى چند مخصوص موارد كو اپنے مختلف فتاوى كے ذيل ميں حاكم كى ذمہ داريوں كے عنوان سے ذكر كيا ہے_پس محدود موارد كا ذكر كرنا فقيہ كى ولايت عامہ كى مخالفت يا عدم موافقت كى دليل نہيں ہے_ہاں اگر خود فقيہ نے مورد نظر بحث ميں ولايت فقيہ كى محدوديت يا عدم ولايت عامہ كى تصريح كى ہو تو پھر اس فقيہ كو اس نظريہ كا مخالف شمار كيا جاسكتا ہے _

۳_دوسرے علوم و معارف كى طرح فقہ نے بھى امتداد زمانہ كے ساتھ ساتھ ترقى كى ہے_ سياسى فقہ نے بھى دوسرے فقہى ابواب كى طرح ارتكائي مراحل طے كئے ہيں_

قديم علماء كى كتب ميں جو معاملات كى فقہى بحث ہے_ وہ بعد والے علماء كى تصانيف سے قابل موازنہ نہيں ہے_ مثلا دقت بحث كے لحاظ سے شيخ انصارى كى كتاب ''مكاسب'' سے علامہ ، محقق حلى اور شہيدين كى بحث تجارت قابل مقائيسہ نہيں ہيں-_ اسى طرح بعد والے علمائ اصول نے اصول عمليہ اور دليل عقلى كے متعلق جس طرح دقيق اور علمى بحثيں كى ہيںپہلے والے علماء نے نہيں كى _لہذا بالكل واضح سى بات ہے متاخرين علماء شيعہ كے دور ميں سياسى فقہ پر جو بحث كى گئي ہے وہ سابقہ علماء كى بحث كى نسبت تفصيلى اور زيادہ مفيد ہے_


لہذا اس تفصيل كو اس بحث كے جديد ہونے كى دليل قرارنہيں ديا جاسكتا_

۴_فقيہ كي'' ولايت عامہ'' كا انكار اجتماعى امور ميں فقيہ كى سرپرستى كے انكار كے مترادف نہيں ہے_ اس مطلب كى وضاحت كيلئے درج ذيل نكات پر توجہ دينا ضرورى ہے_

الف _اصل ولايت فقيہ كا كوئي فقيہ بھى منكر نہيں ہے_ ولايت فقيہ شيعہ فقہ كے مسلّمات ميں سے ہے_ اختلاف ولايت كے قلمرو اور دائرہ اختيار ميں ہے_

ب _ بعض موارد ميں'' ولايت فقيہ ''سے انكار كا معنى يہ ہے كہ ان موارد ميں شرعى ادلّہ كى روسے ''فقيہ كى ولايت ''ثابت نہيں ہوئي _ مثلا فقيہ كى سياسى ولايت كے منكرين معتقد ہيں كہ ادلّہ روائي كے لحاظ سے امر بالمعروف ، نہى عن المنكر يا حكومت ميں فقيہ كى ولايت ثابت نہيں ہے_

ج_ ممكن ہے كسى كام پر از ''باب ولايت ''فقيہ كو منصوب نہ كيا گيا ہو ليكن اس كام كى سرپرستى فقيہ كى شان ہو نمونہ كے طور پر بعض شيعہ فقہاء كے فتاوى سے استناد كيا جاسكتا ہے كہ وہ امور جو محجور و بے بس افراد كے ساتھ مربوط ہيں_ ان ميں فقيہ عادل كى سرپرستى اور تصرف ''نصب ولايت'' كے باب سے نہيں ہے_ بلكہ'' قدرمتقين'' كے باب سے ہے_ يعنى دوسروں كى نسبت جواز تصرف كا ''فقيہ'' زيادہ حق ركھتا ہے_(۱)

فقيہ كى سياسى ولايت ( حكومت اور امر و نہى ميں ولايت)كے متعلق ممكن ہے كوئي فقيہ، فقيہ كى ''انتصابى ولايت'' كا معتقد نہ ہو ليكن امور حسبيّہ كے عنوان سے حكومت اور اسلامى معاشرہ كے انتظامى امور ميں فقيہ عادل كى سرپرستى كو جائز بلكہ واجب سمجھتا ہو_ آيت اللہ ميرزا جواد تبريزى دامت بركاتہ اس بارے ميں فرماتے ہيں:

____________________

۱) ان فقہا ميں سے ايك آيت اللہ خوئي بھى ہيں: التنقيح فى شرح العروة الوثقى ، تقريرات آيت الله خوئي ، بقلم مرزا على غروى تبريزى _ باب الاجتہاد و التقليد ص ۴۹ _ ۵۰


ولايت فقيہ كے متعلق دو بنيادى نظريے ہيں_ ايك وہ جسے امام خمينى نے اختيا كيا ہے_كہ آپ قرآن و حديث كے ذريعہ ولايت امر و نہي_ كہ جس سے مراد وہى حكومت و مملكت قائم كرنا ہے_ كو فقيہ كيلئے ثابت كرتے ہيں_

دوسرانظر يہ حسبيّہ ہے جسے آيت اللہ خوئي تسليم كرتے ہيں_ اس كى بنا پر'' فقيہ كى ولايت عامہ'' پر ادلّہ عقلى و نقلى كامل نہيں ہيں ليكن معاشرہ ميں كچھ امور ايسے ہوتے ہيں_ جنہيں بے لگام و معطل چھوڑ دينے پر شارع مقدس راضى نہيں ہے_ اور اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ صرف فقيہ ہى ان امور كى سرپرستى كرسكتا ہے يتيموں كى سرپرستى ، بچوں كى سرپرستى و كفالت اور مسلم سرحدوں كى حفاظت امور حسبيّہ ميں سے ہيں_ يہ بھى كہا جاسكتا ہے كہ اسلامى نظام كى حفاظت ان سب ميں سے اہم ترين امر ہے_ اسى لئے مومنوں كى جان و مال كى حفاظت كيلئے فوج تيار كرنا اور ان كے امور كى انجام دہى كيلئے ادارے قائم كرنا بہت ضرورى ہے_(۱)

____________________

۱) انديشہ حكومت ، شمارہ ۲، مرداد ۱۳۷۸ ، صفحہ ۴_


خلاصہ :

۱)شيعہ فقہا نے فقہى كتب ميں حاكم كے بہت سے فرائض گنوائے ہيں_ اور كبھى اسے ''ناظر'' اور ''سلطان'' كے عنوان سے بھى ياد كيا ہے_

۲)علماء كے كلمات ميں حاكم كے اختيارات قاضى كے اختيارات اور فرائض سے وسيع تر ہيں_

۳)شيخ مفيد پہلے مرحلہ ميں سلطان اور حاكم سے مراد امام معصوم ليتے ہيںاور زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل_ فخر المحققين نے بھى يہى تعريف كى ہے اور اس تعريف كو علامہ حلّى اور ابن ادريس سے منسوب كيا ہے_

۴)ولايت فقيہ كى بحث ہمارى فقہ كى تاريخ كے ساتھ ہى شروع ہوتى ہے_ اگر چہ متاخرين كے ادوار ميں اس پر تفصيلى بحث ہوئي ہے_

۵)ولايت فقيہ كى مستقل اور جداگانہ بحث محقق نراقى كى كتاب عوائد الايام سے شروع ہوئي ہے اور اس سے پہلے حتى كہ ولايت فقيہ كے سخت حاميوں نے بھى مستقل بحث نہيں كى تھي_

۶)ولايت فقيہ كى بحث كا ارتكاء كوئي نئي بات نہيں ہے_ كيونكہ بہت سى اصولى اور فقہى ابحاث نے زمانہ كے ساتھ ساتھ ترقى كى ہے_

۷)فقيہ كى ''ولايت انتصابي'' كا انكار مسلمانوں كے اجتماعى امور ميںفقيہ كى سرپرستى كے انكار كے مترادف نہيں ہے_


سوالات :

۱) علماء كے اقوال ميں حاكم اور قاضى كے در ميان كيا فرق ہے؟

۲) شيخ مفيد نے حاكم يا سلطان كى كيا تعريف كى ہے؟

۳) كس دور ميں فقہى كتب ميں ولايت فقيہ كى مستقل بحث شردع ہوئي ؟

۴) متقدمين علماء كے اقوال ميں ولايت فقيہ پر مستقل بحث كا نہ ہونا اور اس كى تمام جزئيات كى وضاحت نہ كرنا كيوں اسے غير معتبر قرار نہيں ديتا؟

۵) فقيہ كي'' ولايت انتصابى ''كا انكار، اجتماعى امور ميں فقيہ كى سرپرستى كے منافى نہيں ہے_ كيوں؟


انيسواں سبق :

ولايت فقيہ، كلامى مسئلہ ہے يا فقہى ؟

دوسرے باب ميں گزر چكاہے كہ'' امامت ''اہلسنت كے نزديك ايك فقہى مسئلہ ہےجبكہ اہل تشيع كے نزديك كلامى مسئلہہے _ اگر اہلسنت كى كلامى كتب ميںيہ مسئلہ مورد بحث قرار پايا ہے تو اس كا سبب يہ ہے كہ شيعوں نے اس مسئلہ كو بہت زيادہ اہميت دى ہے اور اسے كلامى مباحث ميں ذكر كيا ہے_ اس سبق كا اصلى محور اس بات كى تحقيق كرنا ہے كہ كيا ائمہ معصومين كى ولايت اور امامت كى طرح ''ولايت فقيہ ''بھى ايك كلامى مسئلہ ہے يا فقہى بحث ہے اور اعتقادى و كلامى مباحث سے اس كا كوئي تعلق نہيں ہے؟

ہر قسم كا فيصلہ كرنے سے پہلے ضرورى ہے كہ كلامى مسئلہكى واضح تعريف اورفقہى مسئلہ سے اس كے فرق كى وضاحت كى جائے_ كلامى اور فقہى ہونے كا معيار كيا ہے؟ اسے پہچانا جائے تا كہ ولايت فقيہ كے كلامى يا فقہى مسئلہ ہونے كا نتيجہ اور ثمرہ ظاہر ہوسكے_

كسى مسئلہ كے كلامى يا فقہى ہونے كا معيار :

ابتدائے امر ميں ممكن ہے يہ بات ذہن ميں آئے كہ ايك مسئلہ كے كلامى ہونے كا معيار يہ ہے كہ اس كا


اثبات عقلى دليل سے ہو_ اور مسئلہ فقہى وہ ہے جس كا اثبات شرعى اور نقلى ادلّہ سے ہو _ اس لئے علم كلام كو علوم عقليہ اور علم فقہ كو علوم نقليہ ميں سے شمار كيا جاتا ہے_

ليكن يہ معيار مكمل طور پر غلط ہے_ كيونكہ علم فقہ ميں بھى ادلّہ عقليہ كو بروئے كار لايا جاتا ہے جس طرح كہ بعض كلامى مباحث ادلّہ نقليہ كى مدد سے آشكار ہوتى ہيں_ دليل عقلي، علم فقہ ميں دو طرح سے فقہى استنباط ميں مدد ديتى ہے_

الف _ مستقلات عقليہ : مثلا اطاعت خدا كا وجوب ايك فقہى مسئلہ ہے_ اور اس كى دليل عقل كا حكم ہے_ اور عقل اس حكم ميں مستقل ہے _ اور كسى نقلى (شرعي)دليل كى دخالت كے بغير يہ حكم لگاتى ہے_

ب _ غير مستقلات عقليہ يا ملازمات عقليہ، غير مستقلات عقليہ سے مراد وہ قضايا عقليہ ہيں جو دو شرعى حكموں كے درميان ملازمہ كے ادراك كى بنياد پر صادر ہوتے ہيں_ عقل ايك شرعى حكم كے معلوم ہونے كے بعد اس حكم اور دوسرے حكم كے درميان ملازمہ كو ديكھتى ہے_ اس طرح ايك شرعى حكم سے دوسرے شرعى حكم كى طرف جاتى ہے_ اوريوں عقل اس شرعى حكمكے استنباط ميں فقيہ كى مدد كرتى ہے_

لہذا يہ دعوى نہيں كيا جاسكتا كہ علم فقہ ايسا علم ہے جس كے مسائل ادلّہ نقليہ سے حل ہوتے ہيں اور اس ميں دليل عقلى كى كوئي مدد شامل نہيں ہوتى _ اسى طرح يہ دعوى بھى نہيں كيا جاسكتا كہ علم كلام ادلّہ نقليہ سے مدد نہيں ليتااور اس كے تمام مسائل ادلّہ عقليہ كى بنياد پر حل ہوتے ہيںكيونكہ بعض كلامى مباحث جو كہ مبدا ومعاد سے مربوط ہيں ميں ادلّہ نقليہ يعنى قرآن اور روايات سے مدد لى جاتى ہے معاد (قيامت) ايك كلامى بحث ہے _ ليكن اس كى بعض تفصيلات صرف عقلى ادلّہ سے قابل شناخت نہيں ہيں بلكہ ان كيلئے ادلّہ نقليہ سے استفادہ كرنا بھى ناگزير ہوتا ہے_


حقيقت يہ ہے كہ علم فقہ ،مكلفين كے افعال كے متعلق بحث كرتا ہے_ ان كے اعمال كے احكام كى تحقيق و بررسى كرتا ہے_ علم فقہ بحث كرتا ہے كہ كونسے افعال واجب ہيں اور كونسے حرام ،كونسے اعمال جائز ہيں اور كونسے ناجائز _ ليكن علم كلام، مبدا و معاد كے احوال كے متعلق بحث كرتا ہے_ علم كلام كا مكلفين كے افعال سے كوئي تعلق نہيں ہوتا_ جائز و ناجائز پر بحث نہيں كرتا_ علم كلام ميں افعال خدا كے متعلق بحث كى جاتى ہے مثلا علم كلام ميں يہ بحث كى جاتى ہے كہ كيا خدا پر رسولوں كا بھيجنا واجب ہے؟ كيا خدا سے قبيح افعال سرزد ہو سكتے ہيں؟ كيا نيكى كرنے والوں كو اجر دينا خدا پر واجب ہے؟ (۱)

بعثت انبياء اور ارسال رُسُل كا وجوب ايك كلامى بحث ہے_ كيونكہ يہ ايك اعتقادى بحث ہے جو خدا كے مبدا اور فعل كے ساتھ مربوط ہے _ ليكن انبياء كى اطاعت كا واجب ہونا اور ان كى دعوت پر لبيك كہنا ايك فقہى بحث ہے _كيونكہ اس حكم كا تعلق مكلف كے عمل سے ہے_ اس كا موضوع فعل انسان ہے _ اور كرنا يا نہ كرنا انسان كے ساتھ مربوط ہے_

اسى معيار كو ديكھتے ہوئے ولايت فقيہ كى بحث كو شروع كرتے ہيں_ بے شك يہ بحث فقہى پہلووں كى بھى حامل ہے_ مسئلہ ولايت فقيہ ميں كچھ ايسى جہات بھى ہيں جن كا تعلق مكلفين كے عمل سے ہے_ اور ان كا شرعى حكم فقہى تحقيق كے قابل ہے_ مثلا درج ذيل مسائل فقہى مسائل ہيں جو كہ ولايت فقيہ كے ساتھ مربوط ہيں_

مسلمانوں كے اجتماعى اور عمومى امور ميں فقيہ كى سرپرستى اور حاكميت جائز ہے يا نہيں؟ كيا اجتماعى اور سياسي

____________________

۱ ) ياد رہے كہ افعال خدا ميں جس'' وجوب'' كاذكر كيا جاتا ہے_ وہ وجوب تكليفى كى قسم سے نہيں ہے_ بلكہ اس كا معنى ''ضرورت ''كے ہيں_ يعنى خدا يہ كام ضرور انجام دے گا_ كوئي فعل اس پر واجب نہيں ہو تا _ وہ تمام ضرورتوں كا سرچشمہ ہے_ دوسرے لفظوں ميں جس وجوب كا ذكر علم كلام ميں ہوتا ہے وہ وجوب عن اللہ ہوتا ہے نہ كہ وجوب على اللہ _


امور ميں فقيہ كے اوامر و نواہى كى اطاعت مسلمانوں پر واجب ہے يا نہيں؟ كيا مسلمانوں كے عمومى مسائل ميں ولايت كو عملى كرنے ميں فقيہ كى مدد كرنا واجب ہے يا نہيں؟ كيا مسلمانوں كيلئے جائز ہے كہ فقيہ عادل كے علاوہ كسى دوسرے شخص كو اپنے امور ميں حاكم بنا ليں؟ كيا ولى فقيہ كے احكام كى اطاعت دوسرے فقہا پر بھى واجب ہے؟

لہذا قطعى طور پر مسئلہ ولايت فقيہ فقہى پہلوؤں كا حامل ہے_ اسى لئے علم فقہ ميں اس كى تحقيق ضرورى ہے_ ليكن ديكھنا يہ ہے كہ كيا اس ميں كلامى پہلو بھى ہيں يا نہيں؟

ولايت فقيہ كا كلامى پہلو:

ولايت فقيہ كا كلامى پہلو مسئلہ امامت كے ساتھ منسلك ہے_ كيونكہ مسئلہ ولايت فقيہ كو اگر اسى نظر سے ديكھا جائے جس نظر سے مسئلہ امامت كو ديكھا جاتا ہے تو اس كا كلامى پہلو واضح ہوجائے گا اور مسئلہ امامت كى طرح يہ بھى ايك كلامى بحث شمار ہوگا_ شيعہ بحث امامت كو كيوں كلامى مسئلہ سمجھتے ہيں؟ اس كا جواب يہ ہے كہ شيعہ اس پر فقہى نظر نہيں ركھتے_ اور فعل مكلفين كے حكم كے پس منظر ميں اسے نہيں ديكھتے -_شيعہ امامت كے متعلق اس طرح سوال نہيں كرتے كہ '' كيا مسلمانوں پر امام اور حاكم كا مقرر كرنا واجب ہے؟ ''كيا امام كى اطاعت واجب ہے؟ كيا مسلمانوں پر حكومت تشكيل دينا واجب ہے اور يہ كہ رحلت رسول صلى الله عليہ و آلہ و سلم كے بعد كسى كو اپنے حاكم كے طور پر مقرر كريں_

امامت پر اس طرح كى نظر (اہلسنت كى نظر يہى ہے) اسے فقہى مسئلہ قرار ديتى ہے _ كيونكہ اس وقت بات مسلمانوں كے عمل اور ان كے حاكم مقرر كرنے پر ہوگى _ ليكن اگر اسے فعل خدا كے پس منظر ميں ديكھيں اور مسئلہ امامت كو مسئلہ نبوت اور ارسال رسل كى طرح خدا كا فعل قرار ديں _ اور يہ سوال كريں كہ كيا رحلت


رسول (ص) كے بعد خدا نے كسى كو امت كى ہدايت كيلئے مقرر كيا ہے؟ كيا امام مقرر كرنا خدا پر واجب ہے؟ تو اس وقت كلامى مسئلہ شمار ہوگا_ كيونكہ گذشتہ معيار كے مطابق يہ سوال مبدا و معاد كى بحث كے زمرہ ميں آتا ہے_ اور اس لحاظ سے يہ افعال الہى كى بحث ہے_ جو كہ ايك كلامى بحث ہے_

اور اگر مسئلہ ولايت فقيہ كو ولايت معصومين كا استمرار سمجھتے ہوئے امام معصوم كى انتصابى ولايت و امامت كى طرح فقيہ عادل كي'' ولايت انتصابى ''پر فعل خدا كے زاويہ سے بحث كريں_تو يہ ايك كلامى بحث كہلائے گى _ آيت اللہ جوادى آملى اس مطلب كى وضاحت كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

ولايت فقيہ كے متعلق كلامى بحث يہ ہے كہ خداوند قدوس جو كہ تمام ذرات كائنات كا عالم ہے_ ''لا يعزب عنہ مثقال ذرة''(۱) وہ تو جانتا ہے كہ ائمہ معصومين ايك محدود زمانہ تك موجود رہيں گے_ اور آخرى امام عجل الله فرجہ الشريف ايك لمبى مدت تك پردہ غيب ميں رہيں گے_ تو كيا اس زمانہ غيبت كيلئے بھى كچھ دستور مقرر كئے ہيں؟ يا امت كو اس كے حال پر چھوڑ ديا ہے؟ اور اگر دستور بنايا ہے تو كيا وہ دستور جامع الشرائط فقيہ كو رہبرى كيلئے منصوب كرنا ہے_ اور لوگوں كيلئے اس مقرر كردہ رہبر كى طرف رجوع كرنا ضرورى ہے؟ ايسے مسئلہ كا موضوع ''فعل خدا ''ہے _ لہذا ولايت فقيہ كا اثبات اور اس پر جودليل قائم ہوگى اس كا تعلق علم كلام سے ہوگا_(۲)

امام خمينى بھى ان فقہاء ميں شامل ہيں جو مسئلہ ولايت فقيہ كو كلامى پس منظر ميں ديكھتے ہيں_ اور اس نكتہ پر مصرّ ہيں كہ جو ادلّہ امام معصوم كے تقرر كا تقاضا كرتى ہيں اور امامت كے سلسلہ ميں ان سے استدلال كيا جاتا ہے_ وہى ادلّہ زمانہ غيبت ميں حاكم كے تقرر اور حكومت كى تشكيل كا تقاضا كرتى ہيں_

____________________

۱) اس سے كوئي معمولى سا ذرہ پوشيدہ نہيں ہے _ سورہ سبأ آيت نمبر۳_

۲) ولايت فقيہ صفحہ ۱۴۳_


'' حفظ النظام من الواجبات الا كيدة، و اختلال اُمور المسلمين من الا ُمور المبغوضة، و لا يقوم ذا و لا يسدّ عن هذا الاّ بوال: و حكومة مضافاً الى ا نّ حفظ ثغور المسلمين عن التّهاجم و بلادهم عن غلبة المعتدين واجب عقلاً و شرعاً; و لا يمكن دلك الاّ بتشكيل الحكومة و كلّ ذلك من ا وضح ما يحتاج اليه المسلمون، و لا يعقل ترك ذلك من الحكيم الصانع ، فما هو دليل الامامة بعينه دليل على لزوم الحكومة بعد غيبة ولى الا مر (عج) فهل يعقل من حكمة الباري الحكيم اهمال الملّة الاسلاميّة و عدم تعيين تكليف لهم؟ ا و رضى الحكيم بالهرج والمرج واختلال النظام'' ؟(۱)

نظام كى حفاظت واجبات مؤكدة ميں سے ہے اور مسلمانوں كے امور كا مختل ہونا ناپسنديدہ امور ميں سے ہے_ ان كى سرپرستى اور حفاظت سوائے حاكم اور حكومت كے كوئي نہيں كرسكتا_ علاوہ بريں مسلمانوں كى سرحدوں كى حفاظت اور دشمن سے ان كے شہروں كو محفوظ ركھنا عقلاً اور شرعاً واجب ہے اور يہ حكومت تشكيل ديئے بغير ممكن نہيں ہے_ ان تمام امور كى مسلمانوں كو احتياج ہے_ اور حكيم صانع (اللہ تعالى ) كا انہيں ايسے ہى چھوڑ دينا معقول نہيں ہے _ جو امامت كى دليل ہے بعينہ وہى دليل امام زمانہ عجل الله فرجہ الشريف كى غيبت كے زمانہ ميں لزوم حكومت كى دليل ہے_ كيا خداوند حكيم كى حكمت سے معقول ہے كہ وہ ملت اسلاميہ كو

____________________

۱) كتاب البيع ، امام خمينى ، جلد ۲ ، صفحہ ۴۶۱، ۶۲ ۴_


بے مہار چھوڑ دے _ اور ان كيلئے كوئي شرعى فريضہ متعين نہ كرے _ يا حكيم مطلق اختلال نظام پر راضى ہوگا _

گذشتہ مطالب سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ زمانہ غيبت ميں حكومت اور ولايت فقيہ كى بحث فقہى بھى ہوسكتى ہے اور كلامى بھى _ اور اس مسئلہ كا كلامى ہونا اس كے فقہى ابعاد سے مانع نہيں ہے_ زمانہ غيبت ميں حكومت كے متعلق شرعى نقطہ نظر كے اظہار كے ضرورى ہونے كے لحاظ سے ايك كلامى مسئلہ ہے_ اور جب مسلمانوں كے حاكم كى شرائط اور فرائض اور دوسرى طرف اس سلسلہ ميں عوام كى ذمہ داريوں پر بحث كريں گے تو يہ ايك فقہى مسئلہ كہلائے گا_ جس طرح امامت كى عقلى ادلّہ سے نصب امام كا وجوب ثابت ہے_ اسى طرح نقلى ادلّہ مثلا واقعہ غدير خم سے اس كے مصاديق معين ہوتے ہيں_ ولايت فقيہ كى عقلى ادلّہ سے يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ شرعى اعتبار سے والى اور حاكم كا مقرر كرنا ضرورى ہے اور روائي ادلّہ سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ زمانہ غيبت ميں وہ حاكم ''فقيہ عادل'' ہے_

آخرى نكتہ يہ ہے كہ تمام كلامى بحثيں اہميت كے لحاظ سے برابر نہيں ہيں_ بعض كلامى بحثيں اصول دين كى ابحاث كا جز ہيںمثلا نبوت اور معاد كى بحث _ جبكہ امامت كى بحث اصول مذہب كى ابحاث كا حصہ ہے_

اصل معاد اصول دين ميں سے ہے ليكن اس كے مسائل كى تفصيلات اور جزئيات كلامى ہونے كے باوجود اہميت كے لحاظ سے اصل معاد كى طرح نہيں ہيں_ بنابريں زمانہ غيبت ميں ولايت فقيہ اور حكومت كا مسئلہ كلامى ہونے كے باوجود رتبہ كے لحاظ سے مسئلہ امامت سے كمتر ہے_ اسى لئے اصول مذہب ميں سے نہيں ہے_


خلاصہ:

۱) يہ بات واضح ہونى چاہيے كہ كيا ولايت فقيہ ايك فقہى مسئلہ ہے يا كلامي؟

۲)بعض كو يہ غلط فہمى ہوئي ہے كہ كسى مسئلہ كے كلامى ہونے كا معيار يہ ہے كہ اس پر عقلى دليل كا قائم كرنا ممكن ہو_

۳) كسى مسئلہ كے فقہى ہونے كا معيار يہ ہے كہ اس كا تعلق مكلفين كے عمل سے ہو _

۴)مسئلہ كلامى مبدا و معاد كے احوال سے بحث كرتا ہے_ لہذا اگر فعل خدا كے بارئے ميں بحث ہو ، تو وہ مسئلہ كلامى ہوگا_ اور اگر فعل مكلف كے متعلق ہو تو فقہى مسئلہ كہلائے گا_

۵)مسئلہ ولايت فقيہ فقہى اور كلامى دنوں پہلوؤں كا حامل ہے_ اور دونوں جہات سے قابل بحث و تحقيق ہے_

۶) اگر كوئي ولايت فقيہ كو اس لحاظ سے ديكھے كہ كيا زمانہ غيبت ميں فقيہ كا مقرر كرنا اسى طرح خداوند عالم پر واجب ہے جس طرح رحلت رسول صلى الله عليہ و آلہ و سلم كے بعد امام معصوم كا مقرر كرنا واجب ہے_تو يہ ولايت فقيہ كا كلامى پہلو ہے_

۷) امام خمينى نے ولايت فقيہ كے كلامى پہلو سے بھى بحث كى ہے _ اور معتقد ہيں كہ وہ عقلى ادلّہ جو ائمہ كى امامت پر قائم كى گئي ہيں ، زمانہ غيبت ميں ولايت اور حكومت كے ضرورى ہونے پر دلالت كرتى ہيں_

۸) اہميت كے لحاظ سے تمام كلامى بحثيں مساوى نہيں ہيں _ لہذا ولايت فقيہ كى اہميت بحث امامت و نبوت كى اہميت سے كمتر ہے_


سوالات:

۱) كسى بحث كے فقہى ہونے كا معيار كيا ہے؟

۲)كسى بحث كے كلامى ہونے كا معيار كيا ہے؟

۳) وہ افراد جو كسى مسئلہ كے كلامى ہونے كا معيار يہ قرار ديتے ہيں كہ اس پر عقلى دليل قائم كرنا ممكن ہو _ انہوں نے كہاں غلطى كى ہے؟

۴)مسئلہ ''ولايت فقيہ ''كلامى اور فقہى دونوں پہلوؤں كا حامل كيوں ہے؟

۵)مسئلہ ولايت فقيہ كے بارے ميں كلامى نظر سے كيا مراد ہے ؟

۶)ولايت فقيہ كے متعلق امام خمينى كا نظريہ كيا ہے؟


بيسواں سبق :

ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ- ۱ -

پہلے گذر چكا ہے كہ ولايت فقيہ كى بحث ميں محل نزاع ''امور عامہ ميں فقيہ عادل كيلئے ولايت كا اثبات ہے''_ كيونكہ قضاوت اور محجور و بے بس افراد كے امور ميں فقيہ كى ولايت پر سب فقہاء متفق ہيںاور اس ميں كوئي نزاع اور اختلاف نہيں ہے_ لہذا وہ شئے جس كے اثبات يا انكار ميں اختلاف ہے وہ'' فقيہ كى ولايت عامہ ''ہے_

ولايت ايك منصب ہے_ اور بعض افراد كيلئے اس كا ہونا شرعى اثبات كا محتاج ہے_ كيونكہ اصل اوّلى كے تحت كوئي كسى پر ولايت نہيں ركھتا _ اور اسے ''اصل عدم ولايت'' سے تعبير كرتے ہيں_ اصل اوّلى يہ ہے كہ كوئي كسى پر ولايت نہيں ركھتا _ مگر يہ كہ كسى معتبر شرعى دليل سے اس كى ولايت ثابت ہو جائے_ معتبر شرعى دليل كى دو قسميں ہيں_ نقلى اورعقلى _ دليل نقلى قرآنى آيات اور معصومين سے صادرہ معتبر روايات پر مشتمل ہوتى ہے جبكہ دليل عقلى وہ ہوتى ہے جو معتبر اور صحيح مقدمات سے حاصل ہو _ اس طرح وہ شرعى حكم كو كشف كرسكتى ہے_ اسى وجہ سے عقلى دليل كو'' دليل معتبر شرعي'' بھى كہتے ہيں_ كيونكہ وہ نظر شرع سے كاشف ہوتى ہے_


قضاوت اور محجور و بے بس افراد كى سرپرستى يعنى امور حسبيہ ميں فقيہ عادل كى ولايت ''دليل معتبر شرعي''سے ثابت ہے_ قابل بحث نكتہ يہ ہے كہ كيا فقيہ كى سياسى ولايت يعنى مسلمانوں كے اجتماعى امور اور امر و نہى ميں فقيہ عادل كى ولايت ثابت ہے يا نہيں؟

ايسى ولايت كے اثبات كيلئے ہمارے پاس تين راستے ہيں_ مشہور اور متداول راستہ معصومين كى روايات سے تمسك كرنا ہے_

دوسرا راستہ دليل عقلى ہے جيسا كہشيعہ علماء نے بحث امامت ميں دليل عقلى سے تمسك كيا ہے_

تيسرا راستہ امور حسبيہ كے ذريعہ سے ولايت كا ثابت كرنا ہے_ امور حسبيہ ميں فقيہ كى ولايت كو تمام فقہا قبول كرتے ہيں_ كيا امر و نہى اور حكومت ميں ولايت كو باب حسبہ كے ذريعہ فقيہ عادل كيلئے ثابت كيا جاسكتاہے_ ادلّہ روائي اور عقلى كو بيان كرنے سے پہلے اس تيسرى راہ كى تحقيق و بررسى كرتے ہيں_

فقيہ كى ولايت عامہ كا اثبات از باب حسبہ

پہلے اشارہ كر چكے ہيں كہ امور حسبيہ سے مراد وہ امور ہيں جن كے ترك كرنے پر شارع مقدس كسى صورت ميں راضى نہيں ہے_ وہ ہر صورت ميں ان كے وجود اور ادائيگى كا خواہاں ہے_ امور حسبيہ كى سرپرستى كس كے ذمہ ہے؟ اس ميں دو بنيادى نظريئے ہيں_ تمام شيعہ فقہاء قائل ہيں كہ جامع الشرائط فقيہ ان امور ميں ولايت ركھتا ہے اور قضاوت پر ولايت كى مثل امور حسبيہ كى سرپرستى بھى فقيہ عادل كے مناصب ميں سے ہے_ بہت كم شيعہ فقہاء ايسے ہيں جو فقيہ عادل كو اس منصب كيلئے منصوب قرارنہيںديتے اور امور حسبيہ ميں فقيہ كى ولايت شرعيہ كے منكر ہيں_ منصب ولايت كے انكار كا معنى يہ نہيں ہے كہ وہ ان امور ميں فقيہ كى سرپرستى اور تصرف كى اولويت كے بھى منكر ہيں _ كيونكہ ان كى نظر ميں ان امور ميں تصرف قدر متيقن كے


باب سے فقيہ عادل كيلئے ثابت ہے_ فقيہ عادل كى موجودگى اور اس منصب كيلئے اس كى آمادگى كى صورت ميں دوسرے لوگ ان امور ميں حق تصرف نہيں ركھتے _ كيونكہ ''عادل مومنين'' كے جواز تصرف اور سرپرستى ميں شك ہے_ جبكہ فقيہ عادل كى سرپرستى قطعى طور پر بلا اشكال و شك ہے_ (۱) پس عادل مومنين اسى صورت ميں امور حسبيہ كى سرپرستى كرسكتے ہيں جب فقيہ عادل موجود نہ ہو يا اس پر قدرت نہ ركھتا ہو_

عام طور پر بچے، پاگل اور كم عقل قسم كے افراد كہ جن كے باپ دادا نہ ہوں كے امور كى سرپرستى امور حسبيہ كى مثاليں ہيں_ البتہ بعض فقہا امور حسبيہ كے دامن كو بہت وسيع سمجھتے ہيں_ ان كى نظر ميں اگر امور حسبيہ كى تعريف پر غور كريں تو مسلمانوں كے دفاع اور ان كے نظام اور سرحدوں كى حفاظت سے مربوط تمام امور اس ميں شامل ہيں لہذا اس صورت ميں مسلمانوں كے اجتماعى اور سياسى امور ميں فقيہ عادل كى سرپرستى اور حاكميت كو امور حسبيہ ميں سے قرار ديا جاسكتا ہے_ بنابريں مشہور فقہا كے نظريہ كے مطابق فقيہ عادل امور حسبيہ ميں منصب ولايت كا حامل ہے لہذا وہ مسلمانوں كے امور عامہ پر ولايت ركھتا ہے يا دوسرے نظريہ كى بنا پر ان امور ميں فقيہ كى ولايت'' قدر متقين ''كے باب سے ہے يعنى جن افراد كيلئے تصرف جائز ہے ان ميں سے فقيہ كے تصرف كا جواز يقينى ہے_حاكميت كى شرائط كے حامل فقيہ عادل كے ہوتے ہوئے دوسرے ان امور كى سرپرستى نہيں كرسكتے_

آيت اللہ سيد كاظم حائرى اس استدلال كو يوں بيان كرتے ہيں :

يقينى سى بات ہے كہ شارع مقدس ان مصالح اور احكام كے ضائع ہونے پر راضى نہيں ہے جو اسلامي

____________________

۱) موجودہ دور كے فقيہ آيت اللہ خوئي اسى نظريہ كى طرف مائل ہيں_ التنقيح فى شرح العروة الوثقى ، باب الاجتہاد و التقليد صفحہ ۴۹، ۵۰_


حكومت كے نہ ہونے كى وجہ سے ضائع ہوجاتے ہيں_ دوسرے لفظوں ميں خدا راضى نہيں ہے كہ مسلمانوں كے انتظامى امور، فاسق ، كفار اور ظالموں كے ہاتھ ميں ہوں_ جبكہ يہ امكان بھى موجود ہو كہ وہ مومنين جو كلمة اللہ كى سربلندى اور حكم الہى كے مطابق حكومت كرنے كے متعلق سوچتے ہيں، مسلمانوں كے امور كو اپنے ہاتھ ميں لے ليں_ يہ ايك واضح سى بات ہے جس ميں فقہى لحاظ سے كوئي بھى ترديد نہيں كرسكتا_

دوسرى بات يہ ہے كہ فقيہ كے ہاتھوں ان امور كا انجام پانا متعين ہے_ ( دوسرا كوئي شخص مسلمانوں پر حكومت نہيں كرسكتا) اور اس كى دو دليليں ہيں:

ادلہ شرعيہ سے يہ بات ثابت كى جائے كہ امت مسلمہ كے رہبر ميں فقاہت كى شرط كا ہونا ضرورى ہے_

يا امور حسبيہ ميں يقينى امر يہى ہے كہ فقيہ ان كى سرپرستى كرسكتا ہے اور اصل عدم ولايت كى روسے غير فقيہ اس منصب كا حامل نہيں ہوسكتا _(۱)

جيسا كہ آپ نے ملاحظہ كيا يہ دليل اولويت ،اجتماعى امور ميں فقيہ عادل كى سرپرستى كا اثبات كرتى ہے_ اس سے مزيد يعنى ''ولايت انتصابي'' كے اثبات كيلئے ہم ولايت فقيہ كى دوسرى ادلّہ خصوصاً ادلّہ روائي كے محتاج ہيں_

ولايت فقيہ كى ادلّہ روائي:

روايات، فقيہ كى ولايت عامہ كى اہم ترين ادلّہ ميں سے شمار ہوتى ہيں_ جو ابتدا سے ليكر آج تك ولايت فقيہ كے معتقد فقہاء كے يہاں مورد تمسك قرار پائي ہيں_

يہاںہم ان ميں سے بعض اہم روايات كى تحقيق و بررسى كرتے ہيں_

____________________

۱) ولاية الامر فى عصر الغيبةصفحہ ۹۶_


الف _ توقيع امام زمانہ (عجل الله تعالى فرجہ الشريف) (۱)

فقيہ كى ولايت عامہ كے اثبات كى معتبرترين دليل وہ روايت ہے جسے شيخ صدوق نے اپنى كتاب ''كمال الدين'' ميں نقل كيا ہے_ اس نقل كے مطابق اسحاق ابن يعقوب نے حضرت امام زمانہ (عجل الله فرجہ الشريف ) كى خدمت اقدس ميں ايك خط لكھاجس ميں چند مسائل پوچھے_ اس توقيع كے بعض حصوں سے بہت سے فقہاء نے فقيہ كى ولايت عامہ پر استدلال كيا ہے_

''عن محمدبن محمد بن عصام ، عن محمد بن يعقوب ، عن اسحاق بن يعقوب قال : سألت محمدبن عثمان العمرى ان يوصل لى كتابا قد سألت فيه عن مسائل اشكلت على ، فورد التوقيع بخط مولانا صاحب الزمان(عجل الله فرجه الشريف) ''امّا ما سألت عنه ارشدك الله و ثبتك امّا الحوادث الواقعة فارجعوا فيها الى رواة حديثنا _ فانهم حجتى عليكم و انا حجة الله عليهم'' (۲)

____________________

۱) ''توقيع ''لغت ميں خط پر نشان لگانے كو كہتے ہيں _ نيز خط پر بڑے لوگوں كے نشان و دستخط اور شاہى فرمان پر شاہى مہر كو بھى توقيع كہتے ہيں_ اسى طرح ائمہ معصومين (عليہم السلام)خصوصاً امام زمانہ (عجل اللہ تعالى فرجہ الشريف) كے وہ خطوط جو آپ كے نواب اربعہ كے ذريعہ ابلاغ كئے گئے ہيں_ وہ تاريخ اور حديث كى كتب ميں'' توقيعات'' كے نام سے مشہور ہيں_ ولايت فقيہ، امام خمينى صفحہ ۶۷_

۲) كمال الدين ،جلد ۲ ،باب ۴۵، حديث ۴ صفحہ ۴۸۳_ الغيبة ،شيخ طوسي، صفحہ ۲۹۰، ۲۹۳ ديگر سب كتابوں ميں انہيں دو كتابوں سے نقل كى گئي ہے_ ۱۸۲


محمد ابن محمد ابن عصام نے محمد ابن يعقوب سے اور وہ اسحاق ابن يعقوب سے نقل كرتے ہيں وہ كہتے ہيں : ميں نے محمد ابن عثمان عمرى سے كہا ميرا يہ خط امام زمانہ (عج) تك پہنچاديں اس ميں ميں نے اپنى مشكلات كے بارے ميں سوالات پوچھے ہيں تو امام (ع) كى طرف سے توقيع صادر ہوئي جس ميں آپ نے فرمايا :خدا آپ كا بھلا كر ے اور آپ كو ثابت قدم ركھے پيش آنے والے واقعات ميں ہمارى احاديث نقل كرنے والوں كى طرف رجوع كرو_ وہ ميرى طرف سے تم پر حجت ہيں اور ميں خدا كى طرف سے ان پر حجت ہوں _

ولايت عامہ كے اثبات كيلئے يہ واضح ترين روايت ہے اس روايت سے استدلال كرنے والوں نے عام طور پر اس كے دوسرے جملے '' فانہم حجتى عليكم و انا حجة اللہ عليہم '' سے تمسك كيا ہے_ اگر چہ بعض فقہاء مثلا امام خمينى نے پہلے جملہ '' اما الحوادث الواقعة فارجعوا فيہا الى رواة حديثنا'' سے بھى استدلال كيا ہے_ بنابريں روايت كے دونوں جملے فقيہ كى ولايت عامہ كى دليل ہيں_

پہلے جملہ سے استدلال اس طرح كيا گيا ہے كہ امام عليہ السلام نے پيش آنے والے مسائل و واقعات ميں اپنا فريضہ معلوم كرنے كيلئے احاديث نقل كرنے والوں كى طرف رجوع كرنے كو كہا ہے_ واضح ہے كہ بغير ''تفقہ'' كے حديث نقل كرنے والے مراد نہيں ہيں_ظاہر روايت يہ ہے كہ يہ رجوع كرنا نئے مسائل كے شرعى حكم كے پوچھنے كے باب سے نہيں ہے_ كيونكہ يہ تو سبھى جانتے ہيں كہ زمانہ غيبت ميں شرعى حكم پوچھنے كيلئے فقہا كے پاس جانا پڑتا ہے _ پس اس رجوع كرنے سے مراد ''پيش آنے والے واقعات ميں ايك شخص يا امت كے شرعى فريضہ كى تعيينہے''_ اور يہ اس بات كى دليل ہے كہ شيعہ فقہا فتوى دينے كے ساتھ ساتھ اجتماعى مسائل ميں لوگوں كے شرعى فريضہ كى تعيين كرنے والے بھى ہيں_ امام خمينى اس بارے ميں فرماتے ہيں:


''حوادث واقعہ'' سے مراد وہ اجتماعى مشكلات اور مسائل ہيں جو مسلمانوں كو پيش آتے تھے_ اور انہوں نے بطور كلى سوال كيا كہ اب ہمارا آپ سے رابطہ نہيں ہوسكتا لہذا ان اجتماعى مسائل كا كيا كريں؟ ہمارا فريضہ كيا ہے؟ يا چند مسائل كا ذكر كيا اور كہا : ان مسائل ميں ہم كس كى طرف رجوع كريں؟ ظاہرى طور پر يہ معلوم ہوتا ہے كہ انہوں نے بطور كلى سوال كيا ہے اور حضرت امام زمانہ (عجل اللہ فرجہ الشريف) نے اسى سوال كے مطابق جواب ديتے ہوئے فرمايا كہ حوادث و مشكلات كے وقت ہمارے رواة يعنى فقہاء كى طرف رجوع كرو_ (۱)

امام كا دوسرا جملہ ''فانهم حجتى عليكم وانا حجة الله عليهم '' بھى فقيہ كى ''ولايت عامہ ''پر دلالت كرتا ہے_ كيونكہ آپ نے خود كو فقہا پر خدا كى حجت اور فقہا كو لوگوں پر اپنى حجت قرار ديا ہے_ ائمہ معصومين كے حجت ہونے كا معنى يہ نہيں ہے كہ شرعى احكام كے سلسلہ ميں ان كى طرف رجوع كيا جائے بلكہ ان كے اقوال و اعمال اور سيرت و كردار تمام امور ميں نمونہ عمل ، اسوہ اور سرمايہ نجات ہيں_ ان كى اطاعت پسنديدہ اور نافرمانى گمراہى ہے _ ان كى پيروى كرنے والے بارگاہ الہى ميں حجت اور دليل ركھتے ہيں اور ان سے منہ پھيرنے والوں اور نافرمانى كرنے والوں كا كوئي عذر بارگاہ الہى ميں قابل قبول نہيں ہے_اس بنياد پر جس طرح ''معارف الہى اور احكام شرعى كے فہم سے ليكر امور مسلمين كى تدبير تك'' تمام لوگ اپنے امور ميں بعنوان حجت، ائمہ معصومين كى طرف رجوع كرنے كے پابند ہيں اسى طرح زمانہ غيبت ميں چونكہ وہ حجج الہيہ تك دسترسى نہيں ركھتے اور ائمہ معصومين كى طرف سے فقہاء بعنوان حجت لوگوں پر مقرر ہيں لہذا مومنين پابند ہيں كہ وہ اپنے تمام امور ميں ان كى طرف رجوع كريں_(۲)

____________________

۱) ولايت فقيہ صفحہ ۶۹_

۲) كتاب البيع ،امام خمينى جلد ۲ صفحہ ۴۷۴، ۴۷۵_


جيسا كہ گذرچكا ہے كہ فقيہ كى ولايت عامہ كے اثبات كيلئے يہ روايت بہت واضح ہے_اسى بنا پر بعض افراد نے فقيہ كے تقرر كى عمدہ اور قوى ترين دليل اسى روايت كو قرار ديا ہے_

'' و لكنّ الذى يظهر بالتدبّر فى التوقيع المروى عن امام العصر (عج) الذى هو عمدة دليل النصب انّما هو اقامة الفقيه المتمسك برواياتهم مقامه بارجاع عوام الشيعة اليه فى كل ما يكون الامام مرجعاً فيه كى لا تبقى شيعته متحيرين فى ا زمنة الغيبة'' (۱)

وہ توقيع جو امام عصر(عجل الله فرجہ الشريف) سے مروى ہے وہ فقيہ كے تقرركى عمدہ ترين دليل ہے _ جو چيز اس سے ظاہر ہوتى ہے وہ يہ ہے كہ ائمہ معصومين كى روايات سے متمسك ہونے والا فقيہ ہر اس شئے ميں شيعوں كيلئے مرجع ہے جس ميں امام مرجع ہوتے ہيں تا كہ زمانہ غيبت ميں شيعہ سرگردان نہ رہيں_(۱)

'' لعلّ ا قواها نصّاً فى الدلالة ، التوقيع الرفيع الدى ا خرجه شيخنا الصدوق فى كمال الدين'' (۲)

شايد دلالت كے لحاظ سے قوى ترين نص وہى توقيع ہے جسے ہمارے شيخ جناب صدوق نے كمال الدين ميں نقل كيا ہے_

سند كے لحاظ سے اس حديث ميں صرف ايك مشكل ہے اور وہ سلسلہ سند ميں ''اسحاق ابن يعقوب ''كا

____________________

۱) مصبا ح الفقيہ _ رضاہمدانى ، كتاب الخمس جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۹_

۲) ولاية الفقہاء فى عصر الغيبة صفحہ ۱۰_


ہونا ہے_ اس شخص كيلئے كتب رجالى ميں كوئي خاص توثيق موجود نہيں ہے_ ليكن درج ذيل شواہد كى بنا پر اس توثيق كا نہ ہونا حديث كے معتبر ہونے كيلئے ضرر رساں نہيں ہے_

۱_توقيع كے صدور كا ادعا اور امام معصوم سے ايك حديث كے سننے كے ادعا ميں واضح فرق ہے _امام كى طرف سے كسى شخص كے پاس توقيع كاآنا اس كے امام (ع) كے نزديك مقام و مرتبہ ، قرب اور قابل اعتبار ہونے كى دليل ہے_

شيخ طوسى ، شيخ صدوق اور شيخ كلينى جيسے ممتاز علماء نے تسليم كيا ہے كہ اسحاق ابن يعقوب صدور توقيع كے اپنے دعوى ميں سچے ہيں_ اگر ان علماء كو اسحاق ابن يعقوب كى وثاقت پر اعتراض ہوتا تو كبھى بھى اس كے دعوے كى تصديق نہ كرتے اور اسے نقل بھى نہ كرتے _

۲_كلينى مرحوم زمانہ غيبت ميں موجود اور اسحاق ابن يعقوب كے ہم عصر تھے_ اور ان كے نزديك اس توقيع كى صحت محرز تھى _ بنابريں كلينى مرحوم كا اسے نقل كرنا اس توقيع كے صدور كے سلسلہ ميں اسحاق ابن يعقوب كے دعوى كے صحيح ہونے كى دليل ہے_ لہذا سند كے لحاظ سے اس روايت ميں كوئي مشكل نہيں ہے_(۱)

____________________

۱) ولاية الامر فى عصر الغيبة، صفحہ ۱۲۳، ۱۲۴_


خلاصہ :

۱)ولايت ايك منصب ہے_ اور افراد كيلئے اس كا اثبات ''شرعى دليل ''كا محتاج ہے _ كيونكہ اصل يہ ہے كہ كوئي كسى پر ولايت نہيں ركھتا_

۲)فقط شرعى دليل كى وجہ سے ''اصل عدم ولايت''سے صرف نظر كيا جاسكتا ہے _ اور شرعى دليل كى دوقسميں ہيں_ نقلى و عقلي_

۳) شرعى دليل كے ذريعہ قضاوت اور امور حسبيہ جيسے امور ميں فقيہ عادل كى ولايت كے اثبات پر تقريبا تمام فقہاء متفق ہيں _ ''ولايت تدبيري'' يا ''سياسى امور ميں ولايت'' كے متعلق علماء ميں اختلاف ہے_

۴) فقيہ كى ''ولايت عامہ'' كو ''امور حسبيہ كے باب ''سے بھى ثابت كيا جاسكتا ہے _

۵) دليل حسبہ مسلمانوں كے اجتماعى امور ميں فقيہ عادل كى حاكميت كى اولويت اور ضرورت كو ثابت كرتى ہے ليكن فقيہ عادل كي'' ولايت انتصابي'' پر دلالت نہيں كرتى _

۶) ولايت فقيہ كى اہم ترين دليل روائي ،''توقيع امام زمانہ''(عجل اللہ فرجہ الشريف) ہے _

۷) اس روايت كے دو جملوں سے ''ولايت فقيہ ''پر استدلال كيا جاسكتا ہے _

۸) اس روايت ميں كوئي سندى مشكل نہيں ہے اورجو اشكال كيا گيا ہے وہ قابل حل ہے _


سوالات:

۱)'' اصل عدم ولايت ''سے كيا مراد ہے ؟

۲) كس ذريعہ سے اصل عدم ولايت سے قطع نظر كيا جاسكتا ہے ؟

۳) باب حسبہ سے فقيہ كى ولايت عامہ كو ثابت كيجيئے ؟

۴) كيا دليل حسبہ فقيہ كى ''ولايت انتصابى ''كو ثابت كرتى ہے ؟

۵)جملہ '' اما الحوادث الواقعة'' سے ولايت فقيہ پر كس طرح استدلال كيا جاسكتا ہے ؟

۶) توقيع كى سندى مشكل كا جواب ديجيئے ؟


اكيسواں سبق:

ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ -۲)

ب: مقبولہ عمر ابن حنظلہ(۱)

محقق كر كى نے كتاب ''صلوة الجمعة ''ميں اور محقق نراقى ، صاحب جواہر اور شيخ انصارى نے ''كتاب القضائ'' ميں اور دوسرے بہت سے فقہاء نے ''فقيہ كى ولايت عامہ'' پر عمر ابن حنظلہ كى اس روايت سے استدلال كيا ہے_

محمد بن يعقوب، عن محمّد بن يحيي، عن محمّد بن الحسين، عن محمّد بن عيسي، عن صفوان بن يحيي، عن داود بن الحصين، عن عمر بن حنظلة، قال: سألت أبا عبدالله (ع) عن رجلين من أصحابنا بينهما مُنازعة فى دين أو ميراث، فتحاكما الى السلطان والى القضاة، أيحلّ ذلك؟ قال(ع) : ''من تحاكم اليهم فى حق أو باطل فانّما تحاكم إلى الطاغوت،وما يحكم له فانّما يأخذ سحتاًوان كان حقّاً ثابتاً له ; لانه أخذه بحكم الطاغوت و ما أمر الله أن يكفر به ، قال الله تعالى : (يريدون أن يتَحاكَموا الى الطاغوت و قد أمروا أن يَكفروا به)

____________________

۱) شيخ طوسى اور برقى نے عمر ابن حنظلہ كو امام صادق اور امام باقر كے اصحاب ميں سے قرار ديا ہے عمر ابن حنظلہ ايك مشہور راوى ہيں _ زرارہ، ہشام ابن سالم ، عبدالله ابن بكير ، عبدالله ابن مسكان اور صفوان ابن يحيى جيسے ممتاز روايوں نے ان سے روايات نقل كى ہيں_


قلت: فكيف يصنعان؟ قال: '' ينظران من كان منكم ممَّن قد رَوى حديثنا و نظر فى حلالنا و حرامنا و عرف أحكامنا فليَرضَوا به حَكَماً ; فانى قد جعلته عليكم حاكماً، فإذا حكم بحكمنا فلم يقبل منه فانّما استخفَّ بحكم الله و علينا ردّ والرادُّ علينا الرّادُّ على الله و هو على حدّ الشرك بالله ''

محمد ابن يعقوب، محمد ابن يحيى سے ،وہ محمد ابن الحسين سے ، وہ محمد ابن عيسى سے ، وہ صفوان ابن يحيى سے، وہ داود ابن الحسين سے اور وہ عمر ابن حنظلہ سے روايت كرتے ہيں وہ كہتے ہيں ميں نے امام صادق سے ان دو شيعہ افراد كے متعلق پوچھا جو قرض يا ميراث كے جھگڑے كا فيصلہ كرانے كيلئے سلطان يا قاضى كے پاس جاتے ہيں _ كيا ايسا كرناان كے لئے جائز ہے ؟ آپ نے فرمايا :جو ان كے پاس حق يا با طل فيصلہ كرانے جاتا ہے وہ گويا طاغوت كے پاس فيصلہ كروانے كيلئے جاتا ہے _ اور جو وہ اس كے حق ميں فيصلہ ديتا ہے اگر چہ صحيح ہى كيوں نہ ہو تب بھى اس نے حرام كھا يا ہے كيونكہ اس نے اسے طاغوت كے حكم سے ليا ہے _ جبكہ خدا نے طاغوت كے انكاركا حكم ديا ہے _ خدا فرماتا ہے : وہ چاہتے ہيں اپنے فيصلے طاغوت كے پاس لے جائيں حالانكہ انہيں اس كے انكار كا حكم ديا گيا ہے(۱) راوى كہتا ہے ميں نے پوچھا: پھر وہ كيا كريں؟ آپ نے فرمايا: اس كى طرف رجوع كريں جو تم ميں سے ہمارى احاديث كو نقل كرتا ہے ، ہمارے حلال و حرام ميں غور و فكر كرتا ہے اور ہمارے احكام كو پہچانتا ہے پس اسے حَكَم ( فيصلہ كرنے والا) بنائيں ميں نے اسے تم پر حاكم قرار ديا ہے _ پس جب وہ ہمارے حكم كے مطابق فيصلہ كرے_

____________________

۱) سورہ نساء آيت ۶۰_


اور پھر اس فيصلے كو قبول نہ كيا جائے تو گويا قبول نہ كرنے والے نے خدا كے حكم كو خفيف شمار كيا ہے اور ہميں جھٹلايا ہے _ اور جو ہميں جھٹلائے اس نے خدا كو جھٹلاياہے اور خدا كو جھٹلانااس سے شرك كرنے كے مترادف ہے (۱) _

فقيہ كى ولايت عامہ پر اس روايت كى دلالت درج ذيل مقدمات پر توجہ كرنے سے واضح ہوجاتى ہے _

۱_ عمر ابن حنظلہ كا سوال فيصلہ كيلئے قضات كيطرف رجوع كرنے كے بارے ميں نہيں ہے بلكہ اپنے تنازعات ميں سلطان اور قاضى كے پاس جانے كے جواز كے متعلق ہے _ عام طور پر ايسے تنازعات ہوتے ہيں جن كے حل اور فيصلہ كيلئے والى اور سلطان كى دخالت ضرورى ہوتى ہے اور قاضى كے پاس رجوع كرنے كى قسم سے نہيں ہوتے مثلاً علاقائي اور قومى و قبائلى جھگڑے ايسے ہوتے ہيں كہ اگروالى اور سياسى اقتدار كے حامل افراد بر موقع ان ميں دخالت نہ كريں تو قتل و غارت اور سياسى و اجتماعى حالات كے خراب ہونے كا خطرہ پيدا ہوجاتا ہے _ البتہ چھوٹے موٹے انفرادى جھگڑوں كا فيصلہ كرنا قاضى كا كام ہے اور والى يا سلطان كے ساتھ ان كا كوئي تعلق نہيں ہوتا_

۲_ امام نے دونوں قسم كے فيصلوں كيلئے ،چاہے وہ والى كے ساتھ مربوط ہوں يا سلطان كے ساتھ، ان كى طرف رجوع كرنے كو طاغوت كى طرف رجوع كرنے كے مترادف قرار ديا ہے اور اسے ممنوع قرار ديتے ہوئے سورہ نساء كى آيت ۶۰ سے استدلال كيا ہے كہ جس ميں صاحبان ايمان كو طاغوت كے انكار كرنے كا حكم ديا گيا ہے اور فيصلوں كيلئے طاغوت كے پاس جانے سے منع كيا ہے _ اس آيت ميں طاغوت سے مراد خاص طور پر نامشروع سلطان نہ بھى ہو مگريقينى طور پر يہ والى اور سلطان اس ميں شامل ہے _

كيونكہ اولا قاضى كا صفت طاغوت كے ساتھ متصف ہونے كا سبب اس كا فاسق و فاجر حكومت كے

____________________

۱) وسائل الشيعہ، جلد ۲۷صفحہ ۱۳۶، ۱۳۷، باب ۱۱، از ابواب صفات قاضى ،حديث ۱_


ساتھ منسلك ہونا ہے وہ قاضى جو نامشروع اور فاسق و فاجر حكومت سے منسلك ہو وہ طاغوت اور ناحق ہے_

ثانياً اس آيت سے پہلے والى دو آيات ميں صرف قاضى كى طرف رجوع كرنے كا ذكر نہيں ہے بلكہ ان ميں قاضى اور سلطان كے فيصلے اور قضائي و حكومتى امور دونوں كے متعلق تنازعات كا ذكر ہے _ الله تعالى سورہ نساء كى آيت ۵۸ميں فرماتا ہے :

( ''ان الله يأمركم ا ن تُؤدُّوا الا مانات الى ا هلها و اذا حكمتم بين النّاس ا ن تحكُمُوا بالعَدل'' )

بے شك خدا تمھيں حكم ديتا ہے كہ امانتوں كو ان كے اہل تك پہنچا دو اور جب لوگوں كے در ميان كوئي فيصلہ كرو تو انصاف كے ساتھ كرو _

اس فيصلہ كرنے ميں سلطان ، والى اور قاضى كا فيصلہ بھى شامل ہے _ اور اس كے'' قاضى كے فيصلہ'' ميں منحصر ہونے كى كوئي دليل نہيں ہے _ اس آيت كى رو سے ہر حاكم انصاف كے ساتھ فيصلہ كرنے كا پابند ہے چاہے وہ قاضى ہو يا حاكم و والى _

اسى سورہ كى آيت ۵۹ ميں خدا فرماتا ہے :

( ''اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و ا ولى الا مر منكم فان تَنازَعتم فى شيئ: فردّوه الى الله والرسول'' )

الله كى اطاعت كرو اور رسول (ص) كى اطاعت كرو اور اپنے ميں سے صاحبان امر كى پھر اگر تمھارا آپس ميں كسى بات پر اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول (ص) كى طرف پلٹا دو _

رسول اور اولى الامر كى اطاعت صرف شرعى احكام اور قضاوت ميں منحصر نہيں ہے _بلكہ ان كے حكومتى اوامر و نواہى بھى اس ميں شامل ہيں يعنى وہ احكام اور اوامر جو ''والي'' حاكم ہونے كے عنوان سے صادر كرتا ہے


_ بنابريں اس روايت ميں طاغوت كى طرف رجوع كرنے كى ممانعت ميں_ كہ جس پر اس روايت ميں سورہ نساء كى آيت(۶۰) سے استدلال كيا گيا ہے _ ان دو آيات كے قرينہ كى بناپر ''طاغوتى حاكم ''اور'' طاغوتى قاضي'' دونوں شامل ہيں نہ كہ صرف طاغوتى قاضى _

۳_ امام اس كے راہ حل كيلئے شيعہ فقيہ كو بعنوان حاكم مقرر فرما رہے ہيں _'' انّى قد جعلته عليكم حاكماً '' ( ميں نے اسے تم پر حاكم مقرر كيا ہے ) يہ تقرر، قضاوت اور ولايت و حكومت دونوں ميں ہے_ كيونكہ مذكورہ بالا دو مقدموںكى رو سے سلطان اور قاضى دونوں كى طرف رجوع كرنے كے متعلق پوچھا گيا ہے_(۱)

شيخ انصارى نے كتاب ''قضاء و شہادات'' ميں امام كے قول ''انى قد جعلتہ عليكم حاكما'' سے يہ استنباط كيا ہے كہ فقيہ كى ولايت قضاوت اور تنازعات ميں منحصر نہيں ہے بلكہ اس سے عام ہے _ بالخصوص اس چيز كے پيش نظر كہ سياق عبارت كا تقاضا يہ تھا كہ امام يہ فرماتے: ''انّى قد جعلته عليكم حَكَماً ''حضرت امام صادق نے ''حَكَما''(۲) كى بجائے ''حاكم'' كا لفظ استعمال كر كے اس نكتہ كى وضاحت كى ہے كہ فقيہ عادل كے احكام كا دائرہ نفوذ، قضاوت اور تنازعات تك محدود نہيں ہے بلكہ تمام امور ميں اس كے احكام نافذ ہيں _ يعنى ہر وہ كلى يا جزئي حكم جس ميں امام اور سلطان مداخلت كا حق ركھتے ہيں _ ان كى طرف سے مقرر كردہ حاكم بھى ان ميں ولايت اور تسلط ركھتا ہے شيخ انصارى فرماتے ہيں:_

''ثم ان الظاهر من الروايات المتقدمة ، نفوذ حكم الفقيه فى جميع خصوصيات الاحكام الشرعية و فى موضوعاتها الخاصة ، بالنسبة الى ترتب الاحكام عليها _

____________________

۱) ''كتاب البيع ''امام خمينى ،جلد ۲، صفحہ ۴۷۶، ۴۷۹_

۲) حَكَم يعنى فيصلہ كرنے والا _


لان المتبادر عرفاً من لفظ ''الحاكم'' هو المتسلّط على الاطلاق، فهو نظير قول السلطان لاهل بلدة: ''جعلت فلاناً حاكماً عليكم'' حيث يفهم منه تسلّطه على الرعيّة فى جميع ما له دخل فى اوامر السلطان جزئياً او كلياً ''و يؤيده العدول عن لفظ ''الحكم'' الى ''الحاكم'' مع ان الانسب بالسياق حيث قال : ''فارضوا به حكما ''ان يقول:'' فانى قد جعلته عليكم حكما'' (۱)

سند كے حوالے سے اس روايت ميں كوئي خاص مشكل نہيں ہے كيونكہ عمر ابن حنظلہ كے علاوہ اس روايت كے تمام راوى توثيق شدہ ہيں _ مشكل صرف عمر ابن حنظلہ كے سلسلہ ميں ہے كہ علماء كى طرف سے اس كى توثيق نہيں ہوئي _ ليكن يہ مشكل بھى درج ذيل وجوہات كى بناپر باقى نہيں رہتى _

الف : عمر ابن حنظلہ بہت مشہور آدمى تھے _ اور انہوں نے كثرت سے روايات نقل كى ہيں اور زرارہ ، ہشام ابن سالم ، صفوان ، عبدالله ابن بكير اور عبدالله ابن مسكان جيسے امام كے جليل القدر صحابہ نے ان سے روايات نقل كى ہيں اور ان بزرگوں كانقل كرنا اور كثير الرواية ہونا ان كے قابل و ثوق ہونے كى دليل ہے _

ب: كافى ميں ايك روايت موجود ہے جس ميں امام صادق عليہ السلام نے عمر ابن حنظلہ كى تعريف كى ہے(۲)

____________________

۱) القضاء و الشہادات صفحہ ۴۸، ۴۹ _عبارت كا مفہوم پہلے بيان ہوچكاہے ( مترجم )_

۲) على ابن ابراہيم، محمد ابن عيسى سے ،وہ يونس سے، اور وہ يزيد ابن خليفہ سے نقل كرتے ہيں : وہ كہتے ہيں ،ميں نے امام صادق سے عرض كيا : عمر ابن حنظلہ نے'' وقت'' كے متعلق آپ سے روايت كى ہے امام صادق فرمايا: وہ ہم پر جھوٹ نہيں بولتا ...كافى جلد ۳ صفحہ ۲۷۵ باب وقت الظہر و العصر حديث ۱_


سب سے اہم بات يہ ہے كہ اس روايت پر علماء نے عمل كيا ہے اور اسے قابل قبول سمجھا ہے اسى وجہ سے اس كا نام ''مقبولہ عمر ابن حنظلہ ''پڑ گيا ہے _ شہيد ثانى نے عمر ابن حنظلہ كى وثافت پر تاكيد كرتے ہوئے اس روايت كو علماء كيلئے قابل قبول قرار ديا ہے _فرماتے ہيں :

و عمر بن حنظلة لم ينصّ الأصحاب فيه بجرح و لا تعديل ، و لكن أمره عند سهل ; لأنّى حقّقت توثيقه من محلّ آخر و إن كانوا قد أهملوه ، و مع ما ترى ف هذا الإسناد قد قبل الأصحاب متنه و عملوا بمضمونه ، بل جعلوه عمدة التفقّه ، واستنبطوا منه شرائطه كلّها ، و سمّوه مقبولّا (۱)

علماء كى طرف سے عمر ابن حنظلہ كے بارے ميں كوئي واضح جرح و تعديل واقع نہيں ہوئي ليكن يہ امر ميرے لئے بہت سہل و آسان ہے _ چونكہ ميں نے ايك دوسرے ذريعہ سے ان كى توثيق ثابت كردى ہے _ اگرچہ علماء نے اس كے بارے كچھ نہيں كہا _ اور اس سند كے باوجود علماء نے اس روايت كے متن كو قبول كيا ہے، اس كے مضمون پر عمل كيا ہے بلكہ اسے تفقہ كا ايك اہم ذريعہ قرار ديا ہے اور اس كى تمام شرائط كا اس سے استنباط كيا ہے _ اور اس كا نام مقبولہ ركھا ہے _

____________________

۱) الرعاية لحال البداية فى علم الدراية صفحہ ۱۳۱، اس بارے ميں مزيد تحقيق كيلئے شہيد ثانى كے فرزند صاحب معالم كى كتاب منتقى الجمان'' جلد ۱، صفحہ۱۹ كى طرف رجوع كيجئے_ شہيد ثانى كے علاوہ سيد جعفر مرتضى عاملى بھى ابن حنظلہ كى روايت كو صحيح سمجھتے ہيں اور آيت الله سيد محمد على موحد ابطحى كہتے ہيں: ہم نے اپنى كتب رجاليہ ميں ابن حنظلہ كى وثاقت كى ادلّہ ذكر كى ہيں اور ہم نے ان ميں ذكر كيا ہے كہ امام باقر ، امام صادق اور امام كاظم عليہم السلام كے موثق اصحاب نے ان سے روايات نقل كى ہيں ان ميں سے ايسے اصحاب بھى ہيں جو قابل وثوق افراد كے سوا كسى سے روايت نقل نہيںكرتے _ مثلاً صفوان ابن يحيى اور يہى دليل يزيد ابن خليفہ كے متعلق بھى جارى كى جاسكتى ہے (رسالہ فى ثبوت الہلال صفحہ ۷۷)_


ج: مشہورہ ابى خديجہ :

شيخ طوسى امام صادق كے ايك قابل اعتماد صحابى جناب ابى خديجہ سے درج ذيل روايت كو نقل كرتے ہيں اور اس روايت سے بھى امور عامہ ميں فقيہ كى ولايت كو ثابت كيا گيا ہے_

''محمد بن حسن إسناده عن محمّد بن على بن محبوب، عن أحمد بن محمّد، عن حسين بن سعيد، عن أبى الجَهْم، عن أبى خديجة، قال: بعثنى أبو عبد الله (ع) إلى أصحابنا فقال: ''قل لهم : إيّاكم إذا وقعتْ بينكم الخصومة أو تَدَارَى فى شى ء من الا خذ والعطاء أن تحاكموا إلى أحد من هولاء الفُسّاق_ اجعلوا بينكُم رجلاً قد عرف حلالنا و حرامَنا; فانّى قد جعلتُه عليكم قاضياً و ايّاكم أن يُخاصم بعضكم بعضاً إلى السّلطان الجائر'' (۱)

محمد ابن حسن اپنے اسناد كےساتھ محمد ابن على ابن محبوب سے ، وہ احمد ابن محمد سے ، وہ حسين ابن سعيد سے، وہ ابى جہم سے، اور وہ ابى خديجہ سے نقل كرتے ہيں :

وہ كہتے ہيں : مجھے امام صادق نے اپنے ماننے والوں كے پاس بھيجا اور فرمايا:

ان سے كہہ دو كہ جب تمھارے در ميان كوئي جھگڑا ہوجائے _ يالين دين كے معاملہ ميں كوئي تنازع ہوجائے تو اسے حل كرنے كيلئے خبردار كسى فاسق حاكم كے پاس مت جانا اپنے در ميان ايك ايسے شخص كو مقرر كرو جو ہمارے حلال اور حرام سے واقف ہو، ميں اسے تم پر قاضى مقرر كرتاہوں _ خبردار اپنے جھگڑے ليكر فاسق وفاجر حاكم كے پاس مت جانا _

اس روايت سے فقيہ كى ولايت عامہ پر استدلال بہت حد تك مقبولہ عمر ابن حنظلہ كے استدلال سے

____________________

۱) وسائل الشيعہ جلد ۲۷ ، صفحہ ۱۳۹، باب ۱۱ _ از ابواب صفات قاضى حديث ۶_


قريب ہے _ كيونكہ اس روايت ميں بھى اپنے تنازعات كے سلسلہ ميں نہ صرف فاسق و فاجر قاضيوں كے پاس جانے سے منع كيا گيا ہے بلكہ حاكم اور سلطان كے پاس جانے سے بھى منع كيا گياہے _ اور اس كى بجائے فقيہ عادل كے پاس جانے كى تاكيد كى گئي ہے _

امام خمينى اس روايت سے استدلال كرتے ہوئے فرماتے ہيں :

روايت ميں مذكور جملہ '' تدارى فى شئي '' سے مراد ''معاملاتى اختلافات'' ہيں يعنى اپنے معاملاتى اختلافات اور ايك دوسرے كے خلاف دعاوى ميں فساق كى طرف رجوع نہ كرو اور بعد والے جملہ '' كہ ميں نے تمھارے لئے قاضى مقرر كيا ہے '' سے معلوم ہوتا ہے كہ فسّاق سے مراد وہ قاضى ہيں جو اس وقت كے ناجائز حكمرانوں كى طرف سے منصب قضاوت پر فائز تھے _ اور حديث كے ذيل ميں فرماتے ہيں: و اياكم ان يخاصم بعضكم بعضاً الى السلطان الجائر _ يعنى وہ امور جن كا تعلق ''اجرائي طاقت '' سے ہے ان ميں ان حكّام كى طرف رجوع نہ كرو ، اگر چہ فاسق سلطان كلى طور پر ايك ناجائز طاقت ہے اور تمام غير اسلامى حكمران ، اسى طرح قاضى ،قانون بنانے والے، اوراس قانون كا اجرا كرنے والے تينوں اس ميں شامل ہيں، ليكن يہ ديكھتے ہوئے كہ ابتدا ميں ہى فاسق قاضيوں كے پاس جانے سے منع كرديا گيا ہے لہذا يہ ممانعت دوسرے گروہ يعنى قانون كا اجرا كرنے والوں كے سلسلہ ميں ہے _ آخرى جملہ اسى پہلے جملہ كى تكرار '' يعنى فساق كى طرف رجوع كرنے كى ممانعت'' نہيں ہے _ كيونكہ ابتدا ميں ان امور ميں فاسق قاضى كى طرف رجوع كرنے سے منع كيا گيا ہے جو اس كے ساتھ مربوط ہيں _ مثلاً بازپرسى اور گواہى و غيرہ پھر امام نے خود قاضى كو مقرر كيا ہے اور اپنے ماننے والوں كا فريضہ بيان كيا ہے اور آخر ميں امام نے سلاطين كى طرف رجوع كرنے سے روكا ہے_(۱)

____________________

۱) ولايت فقيہ ، صفحہ ۸۲_


عظيم فقيہ شيخ مرتضى انصارى معتقد ہيں كہ قاضى كو منصب قضاوت پر قرار دينا قاضى كے دائرہ اختيارات كو صرف جھگڑوں كا فيصلہ كرنے تك محدود نہيں كرتااور ائمہ معصومين كے زمانہ ميں منصب قضاوت وسيع تر اختيارات كاحامل ہوتا تھا،يعنى قاضى بہت سے امور عامہ كے انتظام كا ذمہ دار ہوتا تھا لہذا يہ روايت امور عامہ ميں فقيہ كى ولايت كو ثابت كرتى ہے_ اور ہمارے زمانے كى اصطلاحى قضاوت تك محدود نہيں ہے_

''المتبادر من لفظ ''القاضي'' عرفاً: من يُرجَع اليه و ينفذ حكمه و الزامه فى جميع الحوادث الشرعيّة كما هو المعلوم من حال القضاة ، سيّما الموجودين فى ا عصار الا ئمّة عليهم السلام من قضاة الجور _ و منه يظهر كون الفقيه مرجعاً فى الامور العامّة ، مثل الموقوفات وا موال اليتامى والمجانين والغيّب ; لا نّ هذا كلّه من وظيفة القاضى عرفاً'' (۱)

لفظ قاضى سے عرفاً ذہن ميں اس شخص كا تصور آتا ہے جس كا حكم تمام شرعى مسائل ميں نافذ العمل ہے_ جيسا كہ قضاوت كے حالات سے معلوم ہے_ خصوصاً سلاطين ظلم وجور كے مقرر كردہ وہ قاضى جو ائمہ معصومين كے دور ميں موجود تھے_ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ فقيہ امور عامہ كا بھى ذمہ دار ہے_ مثلا موقوفات ، يتيموں ، ديوانوں اور غائب افراد كے اموال وغيرہ_ كيونكہ عرفاً يہ تمام قاضى كے فرائض ميں شامل ہيں_

____________________

۱) القضاء و الشہادات صفحہ ۴۹_


ياد رہے : امام عليہ السلام كے صرف اس جملہ ''انى قد جعلتہ عليكم قاضياً ''سے سياسى ولايت پر استدلال نہيں كيا جاسكتا _ اور وہ جو شيخ انصارى نے كہا ہے وہ قضاوت كے علاوہ امور حسبيہ ميں ولايت ہے_ اس بنا پر ولايت عامہ پر مقبولہ عمر ابن حنظلہ كى دلالت مشہورہ ابى خديجہ كى دلالت سے واضح اور روشن تر ہے_ كيونكہ اس ميں فقيہ كو '' منصب حكومت'' پر بھى مقرر كيا گيا ہے جبكہ مشہورہ ابى خديجہ ميں صرف منصب قضاوت پر مقرر كيا گيا ہے_ البتہ روايت ابى خديجہ ميں سلطان كى طرف رجوع كرنے كى ممانعت اس بات كى دليل ہے كہ شيعوں كو اس قسم كے امور ميں بھى سلطان كى بجائے فقيہ كى طرف رجوع كرنا چاہيے_ اگر چہ مقبولہ عمر ابن حنظلہ كى طرح اس كى دلالت اس قدر واضح نہيں ہے_


خلاصہ :

۱) ولايت فقيہ پر دلالت كرنے والى روايات ميں سے اصلى روايت '' مقبولہ عمر ابن حنظلہ''ہے_

۲) اس حديث ميں شيعوں كو نہ صرف فاسق حكومت كے قاضيوں، بلكہ فاسق حكمرانوں كى طرف رجوع كرنے سے بھى منع كيا گيا ہے_

۳) اس حديث ميں امام نے شيعوں كو پابند قرار ديا ہے كہ وہ فاسق حكمران اور قاضى كى بجائے فقيہ كى طرف رجوع كريں اور اسى كو ''حاكم ''قرار ديا ہے_

۴)اس روايت ميں كوئي سندى مشكل نہيں ہے كيونكہ اس كے تمام راوى ثقہ ہيں اور عمر ابن حنظلہ كى اگر چہ براہ راست توثيق نہيں كى گئي ليكن ان كى روايت علماء كے نزديك قابل قبول ہے_

۵)ولايت فقيہ كى روائي ادلّہ ميں سے ايك روايت '' مشہورہ ابى خديجہ ''بھى ہے اور اس كا طرز استدلال مقبولہ عمر ابن حنظلہ كے طرز استدلال سے بڑى حدتك ملتا جلتا ہے_

۶) ولايت فقيہ پر '' مقبولہ عمر ابن حنظلہ '' كى دلالت '' مشہورہ ابى خديجہ ''كى دلالت سے واضح تر ہے_كيونكہ ''مقبولہ '' ميں فقيہ كو براہ راست ''حاكم '' قرار ديا گيا ہے _


سوالات :

۱) شيعوں كے كس ممتاز فقيہ نے ''فقيہ كى ولايت عامہ'' پر'' مقبولہ عمر ابن حنظلہ'' سے استدلال كيا ہے؟

۲)ولايت فقيہ پر بطور مختصر'' مقبولہ عمر ابن حنظلہ'' سے استدلال كيجيئے؟

۳) عمر ابن حنظلہ كى براہ راست توثيق نہيں كى گئي _ اس سندى مشكل كو كس طرح حل كيا جائے گا؟

۴) مشہور ہ ابى خديجہ سے فقيہ كى ولايت عامہ پر استدلال كيجيئے؟

۵) منصب قضاوت پر فائز فقيہ كے دائرہ اختيارات كے متعلق شيخ انصارى كا كيا نظريہ ہے؟

۶)فقيہ كى ولايت عامہ پر'' مشہورہ ابى خديجہ'' كى دلالت ''مقبولہ عمر ابن حنظلہ'' كى دلالت كى نسبت وضاحت كے لحاظ سے كيوں كمتر ہے؟


بائيسواں سبق:

ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ -۳-

عمر ابن حنظلہ اور ابى خديجہ كى روايات ميں امام نے فقيہ كيلئے ''منصب ''قرار ديا ہے اور جيسا كہ گذشتہ سبق كے آخر ميں اشارہ كرچكے ہيں : عمر ابن حنظلہ كى روايت ميں بيان كئے گئے منصب كا دائرہ اختيار بہت وسيع ہے كيونكہ اس ميں فقيہ كو منصب ''حاكميت ''پر مقرر كيا گيا ہے اورابى خديجہ كى روايت ميں منصب قضاوت پر_ اگر چہ مشہورہ ابى خديجہ ميں بھى قضائي اور حكومتى دونوں قسم كے امور ميں شيعوں كو فاسقوں كى طرف رجوع كرنے سے منع كيا گيا ہے _ اس سے يہ اشارہ ملتا ہے كہ حكومتى امور ميں بھى شيعوں كو'' فقيہ عادل'' كى طرف رجوع كرنا چاہيے_ جيسا كہ پہلے گزر چكا ہے كہ'' منصوب كرنے'' اور ''وكالت ''ميں بنيادى فرق ہے لہذا فقيہ عادل كا ولايت كى مختلف اقسام پر فائز ہونا ، جن كا ان دو روايات سے استفادہ ہوتا ہے_ امام عليہ السلام كى زندگى كے ساتھ مشروط نہيں ہے_ جبكہ اس كے بر عكس وكالت موكل كى وفات كے ساتھ ختم ہوجاتى ہے_چونكہ بعد والے امام اور معصوم نے اس منصب كو ختم نہيں كيا ہے لہذا فقيہ عادل اس منصب ولايت پر باقى ہے_


ولايت انتصابى كے متعلق كچھ ابہامات كا جواب :

ان دو روايات ميں موجود'' انتصاب'' كے متعلق كچھ ابہامات اور سوالات اٹھائے گئے ہيں_ يہاں ہم انہيں اختصار كے ساتھ بيان كرتے ہيں_

۱_ شيعہ معتقدہيں كہ امام صادق اور ان كے بعد ان كے معصوم فرزند، امت كے امام ہيں_ لہذا امام معصوم كے ہوتے ہوئے فقيہ عادل كو ولايت پر منصوب كرنے كا كيا مطلب ہے ؟كيا ايسا ممكن ہے كہ جس زمانہ ميں امام معصوم موجود ہيں_ اور ولايت عامہ كے حامل ہيں _ كوئي دوسرا شخص يا افرادان كى طرف سے ولايت عامہ كے حامل ہوں_

جواب : امام معصوم كى موجودگى ميں كسى كو ولايت پر منصوب كرنا اسى طرح ہے _ جس طرح كوئي صاحب اختيار حكمران دوسرے شہروں ميں اپنے نمايندے مقرركرتا ہے_ كيا مسلمانوں كے امور كے انتظام كيلئے رسولخد ا (ص) نے مدينہ سے دور دوسرے شہروں ميں اپنے نمائندے نہيں بھيجے تھے؟ جس طرح امير المؤمنين كو يمن بھيجا تھا_ يا خود امير المؤمنين نے مالك اشتر كو مصر اور چند دوسرے افراد كو مختلف علاقوں كا والى اور حاكم بنا كر بھيجا تھا_ بنابريں اس ميں كيا حرج ہے كہ امام صادق اپنے زمانہ ميں ان شيعوں كے امور كى سرپرستى كيلئے جو آپ (ع) سے دور رہتے ہيں اور تقيہّ يا طولانى سفر كى وجہ سے آپ كے پاس نہيں آسكتے_ ايك فقيہ عادل كو مقرر كريں _ اور اپنى طرف سے اسے امت پر ولايت عطا كريں؟

۲_ خود امام صادق بسط يد نہيں ركھتے تھے اور امت پر ولايت عامہ كا اجر انہيں كر سكے تو كيسے مان ليا جائے كہ ان كى طرف سے مقرر كردہ شخص يعنى فقيہ عادل ''ولايت عامہ'' كا حامل ہے؟

جواب :يہ ہے كہ ولايت دوسروں كے امور ميں جواز اور اولويت تصرف كے سوا كوئي چيز نہيں ہے_


ولايت پر منصوب كرنے كا معنى اس تصرف كو قانونى اور شرعى جواز عطا كرنا ہے_ فقيہ عادل كو ولايت پر منصوب كرنے كا معنى يہ ہے كہ صاحب ولايت اور وہ ذات جس كے ہاتھ ميں امر ولايت اور اس كى مشروعيت كا اختيار ہے كى طرف سے فقيہ عادل ان تصرفات ميں زيادہ حق ركھتا ہے_ اور اس قسم كے تصرفات پر اس كى ولايت مشروع اور حق ہے_ چاہے يہ تصرفات قضاوت اور امور حسبيہ ميں ہوں يا امت كى سرپرستى اور تمام امور عامہ تك اس كا دائرہ اختيار وسيع ہو_

ولايت پر منصوب ہونا ،اور جسے منصوب كيا گيا ہے ولايت كے عملى كرنے ميں اس كے ہاتھوں كا كھلا ہونا، دو مختلف چيزيں ہيں_ عملى طور پر ولايت كو بروئے كار لانا اور اس سے متعلقہ امور كو انجام دينا وسائل اور امكانات كے تابع ہے_ كبھى ولايت كے اصلى حامل يعنى امام معصوم كيلئے ولايت كے اعمال اور ذمہ داريوں كو بروئے كار لانے كيلئے ماحول سازگار نہيں ہوتا _ اور اس كى شرائط و امكانات فراہم نہيں ہوتے_ ليكن اس كا معنى يہ نہيں ہے كہ امام كى ولايت ختم اور لغو ہوگئي ہے_ كيونكہ منصب ولايت پر فائز ہونا اور خارج ميں اس كا عملى وجود دو الگ الگ چيزيں ہيں_ علاوہ بريں امام كے زمانہ ميں ولايت كو بروئے كار لانے كى راہيں كلى طور پر مسدود نہيں تھيں_ يعنى محجور اور مبسوط اليد ہونا دو نسبى امر ہيں_ امام كى طرف سے مقرر كردہ شخص اگرچہ اس حالت ميں نہيں تھا كہ وہ شيعوں كے امور عامہ كى سرپرستى كرے ليكن ان كے امور قضائي اور امور حسبيہ كى سرپرستى كرنے كى قدرت ركھتا تھا _ ان دو روايات سے پتہ چلتاہے كہ امام فقيہ عادل كيلئے ولايت عامہ كو ثابت سمجھتے تھے، اور اسے اپنى طرف سے مقرر فرماتے تھے_ اب اس ولايت كو بروئے كار لانے ميں فقيہ كى بے بسى اور اختيار ايك دوسرا امر ہے جو حالات و شرائط كے تابع ہے_

۳_ امور مسلمين كى ولايت پر سب فقہاء كومنصوب كرنا ہرج و مرج اور اختلال نظام كا باعث بنتا ہے_


چونكہ فرض يہ ہے كہ ان دو روايات كى بنا پر فقيہ عادل شيعوں كے امور كى سرپرستى كرتا ہے_ دوسرى طرف مقرر كردہ فقہاء كى تعداد معين نہيں ہے اور يہ بھى ممكن ہے كہ ايك ہى وقت ميں سينكڑوں جامع الشرائط فقيہ عادل موجود ہوں _ كيا يہ معقول ہے كہ ايك ہى وقت ميں سب فقہاء منصب ولايت كے بالفعل حامل ہوں _ لہذا اس مشكل كو ديكھتے ہوئے اس انتصاب كے دائرہ اختيار كى محدوديت كے قائل ہونے كے سوا كوئي چارہ نہيں ہے اور ضرورى ہے كہ ان دو روايات ميں فقيہ كى ولايت كو ''قضاوت'' ميں منحصر قرار ديں_

جواب : يہ ہے كہ اس نكتہ كى ہم پہلے وضاحت كرچكے ہيں كہ ولايت پر منصوب ہونے اورعملى طور پر افعال و اعمال كو بجالانے ميں واضح فرق اور ہر ايك كى اپنى مخصوص شرائط اور خصوصيات ہيں_ فقيہ كى ولايت انتصابى كا معنى يہ ہے كہ ہر جامع الشرائط فقيہ منصب ولايت و نيابت كا حامل ہے اور اس كے متعلقہ امور ميں اس كے احكام اور تصرفات، شرعى لحاظ سے معتبر ہيں اس كا يہ معنى نہيں ہے كہ ہر وہ مورد جس ميں ''ولايت فقيہ '' كے حكم كى ضرورت ہو اس ميں تمام فقہاء اپنى نظرديں اور حكم صادر كرديں_ جس طرح ايك شہر ميں اگر پچاس قاضى موجود ہوں اور تحقيق كيلئے كيس كى فائل ايك كے پاس آئے تو دوسرے قاضى اس ميں مداخلت نہيں كرتے_ اور ايك قاضى كا اس كيس كو اپنے ہاتھ ميں لے لينا دوسروں كو فيصلہ صادر كرنے سے روك ديتا ہے_اسى طرح فقيہ عادل كا ولايت كا حامل ہوناذمہ دارى كو اس كى طرف متوجہ كرتا ہے اور لوگوں پر ايك فريضہ عائد ہو جاتا ہے _ لوگ پابند ہيں كہ اپنے معاملات ميں فقيہ عادل كى طرف رجوع كريں، طاغوت سے منہ پھير ليں ، اور اسلامى معاشرہ كے امور كى باگ ڈور كسى غير اسلام شناس كے ہاتھ ميں نہ ديں بلكہ فقيہ عادل اور امين كے ہاتھ ميں ديں_ فقيہ عادل كا بھى يہ فرض ہے كہ جب شرائط مكمل ہوں ، حالات سازگار ہوں اور لوگ اس كى طرف رجوع كريں تو وہ اس الہى فريضہ كو پورى طرح نبھائے _ اب اگر صاحب ولايت، فقيہ كى طرف لوگ


رجوع كرتے ہيں ياا ہل حل و عقد كے انتخاب كے ذريعہ لوگوں كے امور كى سرپرستى اس كے ہاتھ ميں دے دى گئي ہے تو دوسرے فقہا ء كا فريضہ ساقط ہوجاتا ہے _ بنابريں تمام جامع الشرائط فقہاء منصب ولايت كے حامل ہيں اور ايك فقيہ عادل كے امور كى سرپرستى اپنے ذمہ لينے سے دوسرے فقہاء كى ذمہ دارى ختم ہوجاتى ہے _

دوسرے لفظوں ميں ہر فقيہ كے كسى امر ميں تصرف كا جواز اس بات كے ساتھ مشروط ہے كہ دوسراكوئي فقيہ اس كام ميں اپنى ولايت كو بروئے كار نہ لارہا ہو _ اس صورت ميں كسى قسم كا اختلال نظام لازم نہيں آتا _ اختلال نظام اس وقت لازم آتا ہے جب ولايت كے عہدہ پر فائز تمام فقہاء عملى اقدامات شروع كرديں_

ولايت فقيہ كى تائيد ميں مزيدروايات

ان تين روايات كے علاوہ جو اب تك ولايت فقيہ كے اثبات كيلئے پيش كى گئي ہيں دوسرى روايات بھى ہيں جن سے استدلال كياگيا ہے البتہ دلالت اور سند كے لحاظ سے يہ اُن روايات كى مثل نہيں ہيں ليكن اس كے باوجود فقيہ كى ولايت عامہ كى تائيد كے عنوان سے ان سے تمسك كيا جاسكتا ہے _ ہم يہاں اختصار كے طور پر انہيں بيان كرتے ہيں _

۱_ صحيحہ قدّاح :

على ابن ابراهيم عن ابيه عن حماد بن عيسي، عن القدّاح (عبدالله بن ميمون)، عن أبى عبدالله (عليه السلام) قال: قال رسول الله (ص) : '' مَن سلك طريقاً يطلب فيه علماً، سلك الله به طريقاً الى الجنّه و انّ العلماء ورثة الانبيائ،إنّ الانبياء لم يُورثُوا ديناراً و لا درهماً


و لكن ورّثوا العلم; فَمَن أخذ منه أخذ بحَظّ وافر'' (۱)

على ابن ابراہيم اپنے والد سے ، وہ حماد ابن عيسى سے اور وہ قداح ( عبدالله ابن ميمون) سے اور وہ امام صادق سے نقل كرتے ہيں كہ رسول خدا (ص) نے فرمايا: ''جو طلب علم كيلئے نكلتا ہے خدا اس كيلئے جنت كى راہ ہموار كرديتا ہے بے شك علماء انبياء كے وارث ہيں انبيائ كاورثہ درہم و دينار نہيں ہوتے بلكہ ان كا ورثہ '' علم'' ہے _ جس نے اس سے كچھ پاليا گويا اس نے بہت بڑا حصہ لے ليا ''_

اس روايت كى سند صحيح ہے _ اور اس كے تمام رواى ''ثقہ ''ہيں _بعض فقہا مثلاً '' عوائد الايام'' ميں ملا احمد نراقى اورولايت فقيہ ميں امام خمينى نے ولايت فقيہ كے اثبات كيلئے اس روايت سے تمسك كيا ہے اس روايت سے استدلال كى كيفيت يہ ہے كہ اس كے جملہ''العلماء ورثة الانبيائ'' كے مطابق فقہا اور علمائے دين ،رسول خدا (ص) كى تمام قابل انتقال خصوصيات ميں آپ (ص) كے وارث ہيں اور ان خصوصيات اور ذمہ داريوں ميں سے ايك '' امت كى سرپرستى اورحاكميت '' بھى ہے _ علماء كيلئے انبياء كى وراثت صرف علم تك محدود نہيں ہے كيونكہ يہ وراثت مطلق ہے _ صرف وہ خصوصيات جو كسى خاص دليل كے ذريعہ مقام نبوت كے ساتھ مخصوص ہيں وراثت ميں نہيں آئيں گئيں_ البتہ اس روايت ميں ايك احتمال يہ ہے كہ پہلے اور بعد والے جملوں كو ديكھتے ہوئے اس روايت سے يہ اشارہ ملتا ہے كہ يہ وراثت علم ، احاديث اور معارف انبياء ميں منحصر ہے اور انكى ديگر ذمہ داريوں كو شامل نہيں ہے _ اگر يہ جملات اختصاص اور محدوديت كيلئے قرينہ بن سكتے ہوں تو پھر''العلماء ورثة الانبياء ''كے اطلاق سے تمسك نہيں كيا جاسكتا_(۲)

____________________

۱) كافى جلد ۱ ، صفحہ ۴۲ ، باب ثواب العالم و المتعلم حديث۱_

۲) ولايت فقيہ، امام خميني، صفحہ ۸۶، ۹۲_


۲_ مرسلہ صدوق :

شيخ صدوق نے اپنى مختلف كتب ميں اس روايت كو نقل كيا ہے :

قال امير المؤمنين(ع) قال رسول الله (ص) : ''اللهمّ ارحم خلفائي'' _ ثلاث مرّات: _ قيل : يا رسول الله ، و مَن خلفاؤك؟ قال: '' الّذين يأتون من بعدى يروون عنّى حديثى و سُنّتي'' (۱)

اميرالمؤمنين فرماتے ہيں: رسولخدا (ص) نے تين مرتبہ فرمايا: اے پروردگار ميرے خلفاء پر رحم فرما _پوچھا گيا اے الله كے رسول (ص) آپ كے خلفا ء كون ہيں ؟ فرمايا :وہ افراد جو ميرے بعد آئيں گے اور ميرى حديث اور سنت كو نقل كريںگے_

شيخ صدوق نے اپنى متعدد كتب ميں اس روايت كو معصوم كى طرف نسبت دى ہے اور بطور مرسل نقل كيا ہے_ مراسيل صدوق بہت سے علماء كيلئے قابل اعتبار ہيں خصوصاً اگر انہيں بطور جزم معصوم كى طرف نسبت ديں_ بہت سے فقہاء مثلاً صاحب جواہر ، ملا احمد نراقى ، صاحب عناوين يعنى مير عبد الفتاح مراغى ، آيت الله گلپائيگانى اور امام خمينى نے ولايت فقيہ كے اثبات كيلئے اس روايت سے استدلال كيا ہے _ كيفيت استدلال اس طرح ہے _

الف: رسول خدا (ص) وحى ، اس كے ابلاغ ، عصمت اور علم الہى جيسى خاص صفات سميت قضاوت ، تنازعات كے فيصلے اور اسلامى معاشرے كے امور كى سرپرستى ايسى خصوصيات كے بھى حامل تھے _ آنحضرت (ص) كى بعض خصوصيات دوسروں كى طرف منتقل ہونے كى صلاحيت ركھتى ہيں _ قضاوت اور اسلامى معاشرہ كى سرپرستى انہى خصوصيات ميں سے ہيں جو دوسروں كى طرف منتقل ہوسكتى ہيں _

____________________

۱) عيون اخبار رضا ،جلد ۲، صفحہ ۳۷، باب ۳۱،حديث ۹۴_ من لايحضرہ الفقيہ، جلد ۴، صفحہ ۴۲۰_ معانى الاخبار، صفحہ ۳۷۴_


ب : اس روايت كى رو سے آنحضرت (ص) نے ايك گروہ كو اپنے خلفاء كے عنوان سے مورد لطف و دعا قرار ديا ہے اس گروہ كيلئے آنحضرت (ص) كى جانشينى ،قابل انتقال صفات ميں ہے اور ان صفات ميں امت كے امور كى سرپرستى يقينا شامل ہے _

ج: ''خلفائي'' كى تعبير مطلق ہے اور ائمہ معصومين ميں منحصر نہيں ہے بنابريں خلفاء بلاواسطہ ( ائمہ(ع) ) اور خلفاء بلواسطہ ( علمائ) دونوں اس ميں شامل ہيں _

د: جملہ ''الذين يأتون من بعدى يروون حديثى و سنّتى '' سے مراد عام راوى اور محدثين نہيں ہيں_ بلكہ وہ راوى مراد ہيں جو روايات ميں تفقہ اور سمجھ بوجھ بھى ركھتے ہوں _ پس يہ تعبير صرف امت كے فقہا اور علماء كى شان ميں ہے نہ كہ ہرر وايت كرنے والے كى شان ميں _(۱)

۳_ ''غرر الحكم و دررالكلم ''ميں امير المومنين حضرت على سے روايت كى گئي ہے كہ آپ (ع) نے فرمايا:

''العلماء حُكّامٌ على الناس'' (۲)

علماء لوگوں پر حاكم ہيں _

اسى مضمون كى ايك روايت كراجكى مرحوم نے ''كنزالفوائد'' ميں امام صادق سے بھى نقل كى ہے آپ (ص) فرماتے ہيں :

''الملوك حُكّامٌ على النّاس وا لعلمائُ حُكّامٌ على الملوك'' (۳)

بادشاہ لوگوں پر حاكم ہوتے ہيں اور علماء بادشاہوں پر حاكم ہوتے ہيں _

____________________

۱) كتاب البيع، امام خمينى جلد ۲ ، صفحہ ۴۶۸_۴۷۰_

۲) غرر الحكم، آمدى جلد ۱ صفحہ ۱۳۷و ۵۰۶_

۳) كنزالفوائد جلد ۲ صفحہ ۳۳_


ولايت فقيہ پر اس روايت كى دلالت واضح ہے ليكن سندى ضعف كى وجہ سے اسے ولايت فقيہ كے مؤيّدات ميں سے شمار كيا ہے _

۴_ ابن شعبہ حرانى نے '' تحف العقول'' ميں امر بالمعروف و نہى عن المنكر كے متعلق امام حسين كا ايك خطبہ نقل كيا ہے جس ميں آپ نے اپنے دور كے علماء كو متنبہ كرتے ہوئے فرمايا ہے كہ تمھارے مقام و منزلت كو غاصبوں نے غصب كرليا ہے _ مسلمانوں كے امور كى سرپرستى تم علماء امت كے ہاتھ ميں ہونى چاہيئے _ امام فرماتے ہيں :

''و أنتم أعظم النّاس مصيبة ً كما غلبتم عليه من منازل العلماء لو كنتم تشعرون; ذلك بأنّ مجارى الأمور والاحكام على أيدى العلماء بالله و الاُمناء على حلاله و حرامه فأنتم المسلوبون تلك المنزلة و ما سلبتم ذلك الا بتفرّقكُم عن الحقّ واختلافكم فى السنّة بعد البيّنة الواضحة_ و لو صبرتم على الاذى و تحمّلتم المؤونة فى ذات الله كانت أمور الله عليكم ترد، و عنكم تصدر، و اليكم ترجع و لكنّكُم مكّنتم الظلمة من منزلتكم'' (۱)

تم سب سے زيادہ مصيبت زدہ ہو اگر تمہيں كچھ شعور ہو تو جا ن لو كہ تمھارے مقام و مرتبہ پر تسلط قائم كر ليا گياہے_ امور كى تدبير اور احكام كا اجرا ان علماء ربانى كے ہاتھ ميں ہوتا ہے جو خدا كے حلال وحرام كے امين ہوتے ہيں پس تم سے يہ مقام و مرتبہ چھين ليا گيا _ اور اس كى وجہ يہ ہے كہ تم نے حق سے منہ پھيرليا ،واضح دليل آنے كے باوجود تم نے سنت ميں اختلاف

____________________

۱) تحف العقول عن آل الرسول (ص) جلد ۱، صفحہ ۲۳۸_


كيا ،اگر تم تكليف پر تھوڑا ساصبر كرليتے اور خدا كى راہ ميں مصائب برداشت كرتے تو امور الہى تمہارى طرف پلٹاديئے جاتے، تم ان كے سرپرست ہوتے، اور تمھارى طرف رجوع كيا جاتا _ ليكن تم نے اپنا مقام و مرتبہ ظالموں كے حوالے كرديا _

اس روايت كى دلالت مكمل ہے ليكن گذشتہ روايت كى طرح سندى مشكل سے دوچار ہے اسى لئے ولايت فقيہ كے مؤيدات ميں شامل ہے _ ان كے علاوہ دوسرى روايات بھى ہيں جنہيں ہم طوالت سے بچنے كيلئے ذكر نہيں كررہے _


خلاصہ :

۱) امام (ع) نے بعض روايات ميں فقيہ كو منصب عطا كيا ہے _ اور امام (ع) كے زمانہ حضور اور غيبت دونوں ميں يہ منصب ان كے پاس ہے_

۲) امام كا ولايت كليہ كا حامل ہونا ،بعض امور ميں شيعوں كو فقہاء كى طرف رجوع كرنے كا حكم دينے سے مانع نہيں ہے _

۳) امام صادق نے اس دور ميں فقہاء كو ولايت پر منصوب كيا جب آپ اپنے اختيارات استعمال كرنے ميں بے بس تھے _ اور اس سے كوئي مشكل پيدا نہيں ہوتى كيونكہ نصب ولايت اور ولايت كو بروئے كار لانا ،دو الگ الگ چيزيں ہيں _

۴)فقيہ كى ولايت انتصابى كى ادلّہ پر بعض افراد كا اعتراض يہ ہے كہ امام كى طرف سے فقہا كو ولايت كا حاصل ہونا معاشرتى نظام كے مختل ہونے اور خرابى كا باعث بنتا ہے _

۵) ايك ہى واقعہ ميں مختلف فقہا كا ولايت كو بروئے كار لانا اختلال نظام كا موجب بنتا ہے نہ ان كامنصب ولايت _

۶) بعض روايات ضعف سند يا عدم وضاحت كى وجہ سے ولايت فقيہ كے مؤيّدات كے زمرہ ميں آتى ہيں_

۷) وہ روايات جو علماء اور فقہاء كو انبياء (ع) كا وارث اور رسول خدا (ص) كا خليفہ قرار ديتى ہيں فقيہ كى ولايت كى دليل ہيں كيونكہ معاشرے كے امور كى تدبير اور ولايت بھى انبياء كى صفات ميں سے ہيں_


سوالات :

۱) ''فقيہ كى ولايت انتصابى ''كا نظريہ كن اعتراضات اور ابہامات سے دوچار ہے ؟

۲) اگر ہر فقيہ عادل ''منصب ولايت'' كا حامل ہو تو كيا اختلال نظام كا باعث بنتا ہے ؟

۳) كيا وہ امام معصوم جو خود بے بس ہو وہ كسى اور كو ولايت عامہ پر منصوب كرسكتا ہے ؟

۴) روايت''اللهم ارحم خلفائي ''سے فقيہ كى ولايت پر استدلال كيجيئے _

۵) روايت ''العلماء ورثة الانبياء '' كس طرح فقيہ كى ولايت پر دلالت كرتى ہے ؟


تيئيسواں سبق :

ولايت فقيہ پر عقلى دليل

ہم گذشتہ چند اسباق ميں ولايت فقيہ كى اصلى ترين ادلّہ روائي پر نظر ڈال چكے ہيں اب ولايت فقيہ پر قائم عقلى ادلّہ كى تحقيق و بررسى كرتے ہيں _

ہمارے علماء نے ہميشہ نبوت اور امامت كى بحث ميں عقلى ادلّہ سے استدلال كيا ہے '' برہان عقلى '' عقلى اور يقينى مقدمات سے تشكيل پاتا ہے _ يہ مقدمات چار خصوصيات يعنى كليت ، ذاتيت، دوام اور ضرورت كے حامل ہونے چاہي ں_

اسى وجہ سے ان سے جو نتيجہ حاصل ہوتا ہے وہ بھى كلى ، دائمى ، ضرورى اور ذاتى ہوتا ہے اور كبھى بھى جزئي يا افراد سے متعلق نہيں ہوتا_ اسى وجہ سے نبوت اور امامت كے متعلق جو برہان قائم كئے جاتے ہيں وہ كسى خاص شخص كى نبوت يا امامت كے متعلق نہيں ہوتے _ اور نہ ہى كسى خاص فرد كى نبوت يا امامت كو ثابت كرتے ہيں _ بنابريں ولايت فقيہ كے مسئلہ ميں بھى وہ عقلى دليل جو خالصةً عقلى مقدمات سے تشكيل پاتى ہے جامع الشرائط


فقيہ كى اصل ولايت كو ثابت كرتى ہے _اور يہ كہ كونسا ''فقيہ جامع الشرائط ''اس ولايت كا حامل ہو ؟يہ ايك جزئي اور فردى امر ہے لہذا اس كا تعيّن عقلى دليل سے نہيں ہوگا _ (۱)

دليل عقلى كى دو قسميں ہيں _

الف: عقلى محض ب: عقلى ملفّق

دليل عقلى محض وہ دليل ہے جس كے تمام مقدمات خالصةً عقلى ہوں اور ان ميں كسى شرعى مقدمہ سے استفادہ نہ كيا گيا ہو _

دليل عقلى ملّفق يا مركب وہ دليل عقلى ہے جس كے بعض مقدمات شرعى ہوں مثلاً آيات يا روايات يا كسى شرعى حكم سے مدد لى گئي ہو اور اس برہان كے تمام مقدمات خالصةً عقلى نہ ہوں _ولايت فقيہ كے باب ميں ان دونوں قسم كى عقلى ادلّہ سے استدلال كيا گيا ہے _ ہم بھى اس سبق ميں بطور نمونہ دونوں قسموں سے ايك ايك نمونہ ذكر كريں گے _

ولايت فقيہ كى عقلى ادلّہ كے بيان كرنے سے پہلے دو نكات كا ذكر كرنا ضرورى ہے _

اس ميں كوئي مانع نہيں ہے كہ عقلى دليل كا نتيجہ ايك شرعى حكم ہو _كيونكہ عقل بھى شرعى احكام كے منابع ميں سے ہے اور شارع مقدس كى نظر كو كشف كرسكتى ہے _ علم اصول ميں مستقلات عقليہ اور غير مستقلات عقليہ پر تفصيلى بحث كى گئي ہے اور علماء علم اصول نے بتايا ہے كہ كن شرائط پر عقل شرعى حكم كو كشف كرسكتى ہے _ شرعى حكم كے استنباط ميں عقلى دليل كا بھى وہى كردار ہے جو دوسرى شرعى ادلّہ كا ہے شارع مقدس كى نظر كو كشف كرنے

____________________

۱) ولايت فقيہ، عبدالله جوادى آملى ،صفحہ ۱۵۱_


ميں عقلى دليل كا قابل اعتبار ہونا اپنى جگہ پر ثابت ہوچكا ہے بنابريں ولايت فقيہ پر '' دليل عقلى محض'' مستقلات عقليہ كى قسم سے ہے اور مستقلات عقليہ ميںكسى نقلى دليل سے مدد نہيں لى جاتى _

دوسرا نكتہ: يہ ہے كہ امامت اور نبوت پر قائم عقليدليل كى تاريخ بہت پرانى ہے _ ليكن ولايت فقيہ پر عقلى دليلبعد والے ادوار ميں قائم كى گئي ہے _ محقق نراقى پہلے شخص ہيں جنہوں نے ولايت فقيہ كے اثبات كيلئے عقلى دليل كا سہارا ليا ہے پھر ان كے بعد آنے والے فقہاء نے اسے آگے بڑھايا ہے _ مختلف طرز كى عقلى ادلّہ كى وجہ ان كے مقدمات كا مختلف ہونا ہے اور بہت سے موارد ميں ايك مشترك كبرى مثلاً ''قاعدہ لطف ''يا ''حكمت الہى ''سے مدد لى گئي ہے _

ولايت فقيہ پر دليل عقلى محض

نبوت عامہ كى ضرورت پرفلاسفہ كى مشہور برہان كو اس طرح بيان كيا جاسكتا ہے كہ جس كا نتيجہ نہ صرف ''ضرورت نبوت ''بلكہ ''ضرورت امامت'' نيز ''ضرورت نصب فقيہ عادل ''كى صورت ميں سامنے آئے _ يہ برہان جو كہ ''معاشرہ ميں ضرورت نظم ''كى بنياد پر قائم ہے قانون خدا اور اسكے مجرى كے ضرورى ہونے كو ثابت كرتى ہے _ قانون كو جارى كرنے والا پہلے مرحلہ ميں نبى ہوتا ہے اس كے بعد اسكا معصوم وصى اور جب نبى اور امام معصوم نہ ہوں تو پھر ''قانون شناس فقيہ عادل'' كى بار ى آتى ہے _ بوعلى سينا جيسے فلاسفر كہ جنہوں نے اس برہان سے تمسك كيا ہے نے اسے اس طرح بيان كيا ہے كہ وہ صرف ''اثبات نبوت'' اور ''بعثت انبياء كے ضرورى ہونے'' كيلئے كار آمد ہے _(۱)

____________________

۱) الالہيات من الشفاء ،صفحہ ۴۸۷، ۴۸۸_ المقالة العاشرہ، الفصل الثانى _


ليكن ہمارا مدعا يہ ہے كہ اسے اس طرح بيان كيا جاسكتا ہے كہ امام معصوم كى امامت اور فقيہ عادل كى ولايت كے اثبات كيلئے بھى سودمند ثابت ہو _ اس برہان كے مقدمات درج ذيل ہيں :

۱_ انسان ايك اجتماعى موجود ہے اور طبيعى سى بات ہے كہ ہر اجتماع ميں تنازعات اور اختلافات رونما ہوتے ہيں _ اسى لئے انسانى معاشرہ نظم و ضبط كا محتاج ہے _

۲_ انسان كى اجتماعى زندگى كا نظم و ضبط اس طرح ہونا چاہيے كہ وہ انسانوں كى انفرادى اور اجتماعى سعادت اور كمال كا حامل ہو _

۳_ اجتماعى زندگى كا ايسا نظم و ضبط جو ناروا اختلافات اور تنازعات سے مبرّا اور انسان كى معنوى سعادت كا ضامن ہو وہ مناسب قوانين اور شايستہ مجرى قانون ( قانون جارى كرنے والا) كے بغير ناممكن ہے _

۴_ خدا تعالى كى مداخلت كے بغيرتنہا انسان اجتماعى زندگى كے مطلوبہ نظم و ضبط كے قائم كرنے كى قدرت نہيں ركھتا _

۵_ خدائي قوانين اور معارف الہى كے كسى نقص و تصرف كے بغير مكمل طور پر انسان تك پہنچنے كيلئے ضرورى ہے كہ اس كولانے اور حفاظت كرنے والا'' معصوم ''ہو _

۶_ دين كامل كى تبيين اور اس كے اجرا كيلئے وصى اور امام معصوم كى ضرورت ہے _

۷_ اور جب نبى اور امام معصوم نہ ہوں تو پھر مذكورہ ہدف( مطلوبہ اجتماعى زندگى اور قوانين الہى كا نفاذ ) وحى شناس اور اس پر عمل كرنے والے رہبر كے بغير حاصل كرنا ممكن نہيں ہے _

اس برہان كا چھٹا مقدمہ'' تقرر امام'' كى ضرورت كيلئے سود مند ہے جبكہ ساتواں مقدمہ زمانہ غيبت ميں رہبر كے تقرركى ضرورت كو ثابت كرتا ہے _


اسى برہان كو آيت ا لله جوادى آملى نے يوں بيان كيا ہے :

انسان كى اجتماعى زندگى اور اس كا انفرادى اور معنوى كمال ايك طرف تو ايسے الہى قانون كا محتاج ہے جو انفرادى اور اجتماعى لحاظ سے ہر قسم كے ضعف و نقص اور خطا و نسيان سے محفوظ ہو اور دوسرى طرف اس قانون كامل كے نفاذ كيلئے ايك دينى حكومت اور عالم و عادل حكمران كى ضرورت ہے _ انسان كى انفرادى يا اجتماعى زندگى ان دو كے بغير يا ان ميں سے ايك كے ساتھ متحقق نہيں ہو سكتى _ اجتماعى زندگى ميں ان دو كا فقدان معاشرہ كى تباہى و بربادى اور فساد و خرابى كا باعث بنتا ہے جس پر كوئي بھى عقلمند انسان راضى نہيں ہوسكتا يہ عقلى برہان كسى خاص زمانہ يا مقام كے ساتھ مخصوص نہيں ہے _ زمانہ انبيائ بھى اس ميں شامل ہے كہ جس كا نتيجہ ضرورت نبوت ہے اور آنحضرت (ص) كى نبوت كے بعد والا زمانہ بھى اس ميں شامل ہے كہ جس كا نتيجہ ضرورت امامت ہے اسى طرح امام معصوم كى غيبت كا زمانہ بھى اس ميں شامل ہے كہ جس كا نتيجہ ''ضرورت ولايت فقيہ ''ہے _(۱)

''دليل عقلى محض ''صرف مذكورہ دليل ميں محدود نہيں ہے بلكہ اس كے علاوہ بھى براہين موجود ہيں جو خالصةً عقلى مقدمات سے تشكيل پاتى ہيں اور زمانہ غيبت ميں نصب ولى كى ضرورت كو ثابت كرتى ہيں _

دليل عقلى ملفق

ولايت فقيہ كى عقلى دليل كو بعض شرعى دلائل اور مقدمات عقليہ كى مدد سے بھى قائم كيا جاسكتا ہے _ يہاں ہم اس طرح كے دو براہين كى طرف اشارہ كرتے ہيں _

استاد الفقہاء آيت الله بروجردى درج ذيل عقلى اور نقلى مقدمات كى مدد سے فقيہ كى ولايت عامہ كو ثابت كرتے ہيں _

____________________

۱) ولايت فقيہ صفحہ ۱۵۱، ۱۵۲_


۱_ معاشرہ كا رہبر ايسى ضروريات كو پورا كرتا ہے جن پر اجتماعى نظام كى حفاظت موقوف ہوتى ہے _

۲_ اسلام نے ان عمومى ضروريات كے متعلق خاص احكام بيان كئے ہيں اور ان كے اجرا كى ذمہ دارى مسلمانوں كے حاكم اور والى پر عائد كى ہے_

۳_ صدر اسلام ميں مسلمانوں كے قائد اور راہنما رسول خدا (ص) تھے اور ان كے بعد ائمہ معصومين اور معاشرے كے امور كا انتظام ان كا فريضہ تھا _

۴_ سياسى مسائل اور معاشرتى امور كى تدبير و تنظيم اس زمانے كے ساتھ مخصوص نہيں تھى _ بلكہ ان مسائل كا تعلق ہر زمانہ اور ہر جگہ كے مسلمانوں سے ہے _ ائمہ معصومين كے دور ميں شيعوں كے پراگندہ ہونے كى وجہ سے آسانى كے ساتھ ا ئمہ تك ان كى دسترسى ممكن نہيں تھى _ اس كے باوجود ہميںيقين ہے كہ آپ نے ان كے امور كى تدبير و انتظام كيلئے كسى كو ضرور مقرر كيا ہوگا تا كہ شيعوں كے امور مختل نہ ہوں _ ہم يہ تصور بھى نہيں كرسكتے كہ ايك طرف زمانہ غيبت ميں ائمہ معصو مين نے لوگوں كو طاغوت كى طرف رجوع كرنے سے منع كيا ہو اور دوسرى طرف سياسى مسائل ، تنازعات كے فيصلے اور دوسرى اجتماعى ضروريات كو پورا كرنے كيلئے كسى كو مقرر بھى نہ كيا ہو _

۵_ ائمہ معصومين كى طرف سے والى اور حاكم كے تقرر كے ضرورى ہونے كو ديكھتے ہوئے فقيہ عادل اس منصب كيلئے متعين ہے _ كيونكہ اس منصب پر غير فقيہ كے تقرر كا كوئي بھى قائل نہيں ہے _ پس صرف دو احتمال ممكن ہيں _

الف : ائمہ معصومين نے اس سلسلہ ميں كسى كو مقرر نہيں كيا صرف انہيں طاغوت كى طرف رجوع كرنے سے منع كيا ہے _


ب: اس ذمہ دارى كيلئے فقيہ عادل كو مقرر كيا ہے _

مذكورہ بالا چار مقدمات كى رو سے پہلا احتمال يقينى طور پر باطل ہے _ پس قطعى طور پر فقيہ عادل كو ولايت پر منصوب كيا گيا ہے _(۱)

آيت الله جوادى آملى اس ''دليل عقلى مركب ''كو يوں بيان كرتے ہيں :

دين اسلام كا قيامت تك باقى رہنا ايك قطعى اور واضح سى بات ہے زمانہ غيبت ميں اسلام كا تعطل كا شكار ہوجانا، عقائد ، اخلاق اور اعمال ميں اسلام كى ابديت كے منافى ہے _ اسلامى نظام كى تأسيس ، اس كے احكام اور حدود كانفاذ اور دشمنوں سے اس دين مبين كى حفاظت ايسى چيز نہيں ہے كہ جس كى مطلوبيت اور ضرورى ہونے ميں كسى كو ترديد و شك ہو _ حدود الہى اور لوگوں كى ہتك حرمت ، لوگوں كى ضلالت و گمراہى اور اسلام كا تعطل كا شكار ہوجانا كبھى بھى الله تعالى كيلئے قابل قبول نہيں ہے_ اسلام كے سياسى اور اجتماعى احكام كى تحقيق و بررسى اور نفاذ جامع شرائط فقيہ كى حاكميت كے بغير ممكن نہيں ہے _ ان امور كو ديكھتے ہوئے عقل كہتى ہے : يقينا خداوند كريم نے عصر غيبت ميں اسلام اور مسلمانوں كو بغير سرپرست كے نہيں چھوڑا(۲)

اس دليل كے تمام مقدمات عقلى نہيں ہيں بلكہ اسلام كے اجتماعى اور اقتصادى احكام كے نفاذ ، مثلاًحدود و قصاص ، امر بالمعروف و نہى عن المنكر ، زكات اور خمس سے با صلاحيت حكومت كے وجود پر مدد لى گئي ہے_ لہذا يہ دليل عقلى محض نہيں ہے _

____________________

۱) البدر الزاہر فى صلاة الجمعة و المسافر ۷۳ _ ۷۸

۲) ولايت فقيہہ ص ۱۶۷_ ۱۶۸_


خلاصہ :

۱) بعض فقہى مسائل ميںعقلى دليل كا سہارا ليا جاتا ہے _ اور دليل عقلى نظر شارع كو كشف كرتى ہے_

۲) دليل عقلى كى دوقسميں ہيں _ ''دليل عقلى محض ''اور'' دليل عقلى ملفق ''دليل عقلى محض مكمل طور پر عقلى اور يقينى مقدمات سے تشكيل پاتى ہے _ جبكہ دليل عقلى ملفق ميں عقلى مقدمات كے علاوہ شرعى مقدمات سے بھى استفادہ كيا جاتا ہے _

۳) بحث امامت اور نبوت ميں دليل عقلى سے استدلال كرنا ايك قديمى اور تاريخى امر ہے _ ليكن ولايت فقيہ كى بحث ميں اس سے استفادہ كرنا بعد كے ادوار ميں شروع ہوا ہے_

۴)وہ دليل جسے فلاسفہ نے نبوت عامہ اور بعثت انبياء كى ضرورت پر پيش كيا ہے اسے اس طرح بھى بيان كيا جاسكتا ہے كہ اس سے امام كى امامت اور فقيہ كى ولايت ثابت ہوجائے _

۵)ولايت فقيہ پر قائم دليل عقلى ملفق كى روح اور جان يہ ہے كہ اسلام ہر دور اور ہر جگہ پر انسان كى ضروريات كو پورا كرنے كيلئے ہے _ اور جس طرح اسلام كے نفاذ كيلئے امام معصوم كى ضرورت ہے اسى طرح زمانہ غيبت ميں ايك اسلام شناس مجرى قانون كى بھى ضرورت ہے _

۶) دليل عقلى ،امام اور فقيہ كے تقرر كى ضرورت كو ثابت كرتى ہے ليكن كبھى بھى جزئي اور شخصى نتيجہ نہيں ديتى اور اس بات كو مشخص نہيں كرتى كہ امام كون ہوگا _


سوالات :

۱)'' دليل عقلى محض'' كى تعريف كيجئے_

۲) ''دليل عقلى ملفق يا مركب'' كى تعريف كيجئے _

۳) فقہ ميں دليل عقلى كى كيا حيثيت ہے ؟

۴)ولايت فقيہ پر قائم ايك ''دليل عقلى محض ''كو مختصر طور پر بيان كيجئے_

۵) آيت الله بروجردى نے ولايت فقيہ پر جو دليل عقلى ملفق قائم كى ہے اسے اختصار كے ساتھ بيان كيجئے _


چوتھا باب:

دينى حكومت كى خصوصيات اور بعض شبہات كا جواب

سبق ۲۴ : فلسفہ ولايت فقيہ

سبق ۲۵:رہبر كى خصوصيات اور شرائط

سبق ۲۶:رہبر كى اطاعت كا دائرہ اور حدود

سبق ۲۷:حكومتى حكم اور مصلحت

سبق ۲۸:حكومتى حكم اور فقيہ كى ولايت مطلق

سبق ۲۹ ، ۳۰ : دينى حكومت كے اہداف اور فرائض

سبق ۳۱، ۳۲ : دينى حكومت اور جمہوريت


تمہيد:

زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى تفكر نظريہ ولايت فقيہ كے ساتھ جڑا ہوا ہے _ اور ہمارے سياسى نظام كى بنياد ''ولايت'' پر استورا ہے_گذشتہ باب ميں ہم نے شيعہ فقہا كى كتب سے ولايت كے اثبات اور اس نظرئے كى تاريخى حيثيت پر تفصيلى بحث كى ہے_ اس باب ميں ہم ولائي حكومت كے مختلف پہلووں كى تحقيق، اور اس كى بعض خصوصيات اور اہداف پر روشنى ڈاليں گے حقيقت يہ ہے كہ آج كے دور ميں پورى دنيا ميں سيكولر، اور لبرل جمہورى حكومتيں مقبول عام ہيں جبكہ دينى حكومت اور ولايت فقيہ مختلف قسم كے حملوں كا شكار ہے جسكى وجہ سے ولايت فقيہ اور دينى حاكميت پر مبتنى سياسى نظريہ كے مقابلہ ميں لوگوں كے اذہان سيكولر اور غيردينى سياسى فلسفہ سے زيادہ آشنا اور مانوس ہيں لہذا دينى حكومت اور ولايت فقيہ كے نظريہ كو ثابت كرنے كيلئے ٹھوس اور منطقى ادلہ كى ضرورت ہے_

بعض شبہات اور اعتراضات كى بنيادى وجہ بغض اور كينہ و حسد ہے جبكہ بعض اعتراضات غلط فہمى كى وجہ سے پيدا ہوئے ہيں_ ان دوسرى قسم كے شبہات كے جواب كيلئے استدلالى اور منطقى گفتگو كے علاوہ كوئي چارہ نہيں ہے _ بنابريں اس باب ميں دو بنيادى اہداف ہيں_ ايك طرف ''حكومت ولائي'' كے متعلق پائے جانے والے بعض ابہامات اور شبہات كا جواب ديا جائے گا اور دوسرى طرف دينى حكومت كى بنيادى خصوصيات اور اس كے اہداف كى طرف اشارہ كيا جائے گا_


چوبيسواں سبق:

فلسفہ ولايت فقيہ

دوسرے معاشروں كى طرف اسلامى معاشرہ بھى سياسى ولايت اور حاكميت كا محتاج ہے جيسا كہ پہلے باب ميں گذرچكاہے كہ انسانى معاشرہ اگرچہ كامل، شائستہ، منظم اور حق شناس افراد سے بھى تشكيل پايا ہو_ تب بھى اسے حكومت اور سياسى ولايت كى ضرورت ہوتى ہے _ كيونكہ اس اجتماع كے امور كى تنظيم و تدبير ايك حكومت كے بغير ناممكن ہے _ وہ شے جو سياسى اقتدار اور ولايت كے وجود كو ضرورى قرار ديتى ہے وہ معاشرے كا نقص اور احتياج ہے_ حكومت اور سياسى اقتدار كے بغير معاشرہ ناقص اور متعدد كمزوريوں كا شكار ہے _ حكومت اور سياسى ولايت كى طرف احتياج اس معاشرہ كے افراد كے ناقص ہونے كى وجہ سے نہيں ہوتي_ بنابريں اگر ہمارے دينى متون ميں فقيہ عادل كيلئے ولايت اور حاكميت قرار دى گئي ہے تو اس كا مقصد فقط اسلامى معاشرہ كے نواقص كا جبران اور تلافى كرنا ہے _ اسلامى معاشرے كى حاكميت، ولايت اور سرپرستى كيلئے فقيہ عادل كے تقرر كا معنى يہ نہيں ہے كہ مسلمان ناقص اوركم فہم ہيں اور انہيں ايك سرپرست كى ضرورت ہے _


بلكہ يہ انسانى اجتماع اور معاشرے كا نقص ہے كہ جو سياسى اقتدار و ولايت كے تعين سے برطرف ہوجاتاہے_

جيسا كہ تيسرے باب ميں تفصيل سے گذرچكاہے بہت سے شيعہ فقہا زمانہ غيبت ميں اس سياسى ولايت كو جامع الشرائط فقيہ عادل كا حق سمجھتے ہيں، يا اس وجہ سے كہ ادلّہ روائي ميں اس منصب كيلئے فقيہ كا تقرر كيا گيا ہے يا امور حسبيہ كے باب سے كہ ان امور ميں '' فقيہ'' كا حق تصرف قطعى امر ہے اور فقيہ كے ہوتے ہوئے دوسرے افراد ان امور كى سرپرستى نہيں كرسكتے _ حتى كہ وہ افراد جو زمانہ غيبت ميں سياسى ولايت كا معيار امت كے انتخاب كو سمجھتے ہيں اور فقيہ كے تقرر كے منكر ہيں وہ بھى معتقد ہيں كہ امت '' فقيہ عادل'' كے علاوہ كسى اور شخص كو حاكميت كيلئے منتخب نہيں كرسكتى _ يعنى فقيہ كى ولايت انتخابى كے قائل ہيں_ پس يہ ادعا كيا جاسكتاہے كہ زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى نظريہ''' فقيہ عادل'' كى سياسى ولايت پر استوار ہے اور فرق نہيں ہے كہ اس زعامت اور حاكميت كا سرچشمہ ادلّہ روائي ہوں جو فقيہ كو منصوب كرتى ہيں يا اسے امور حسبيہ كے باب سے ثابت كريں يا لوگوں كے منتخب شخص كيلئے فقاہت كو شرط قرار ديں _حقيقت ميں اس نكتہ كا راز كيا ہے ؟ كيوں شيعہ علماء مصرّ ہيں كہ اسلامى معاشرہ كے سربراہ كيلئے فقاہت شرط ہے ؟

اس سوال كا جواب اس نكتہ ميں پنہا ن ہے كہ اسلامى معاشرہ ميں حكومت كى ذمہ دارى يہ ہے كہ مسلمانوں كے مختلف امور كو شرعى تعليمات كے مطابق بنائے_ سيكولر حكومتوں كے برعكس _كہ جو صرف امن و امان برقرار كرنے اور رفاہ عامہ جيسے امور كو لبرل يا دوسرے انسانى مكاتب كے اصولوں كے تحت انجام ديتى ہيں_ دينى حكومت كا ہدف ہر صورت ميں فقط ان امور كا انجام دينا نہيں ہے بلكہ اسلامى معاشرہ ميں اجتماعى تعلقات و روابط كو اسلامى موازين اور اصولوں كے مطابق بنانا اور مختلف اقتصادى و معاشى امور ،قانون ، باہمى تعلقات، اور ثقافتى روابط كودين كے ساتھ ہم آہنگ كرنا ہے_ لہذا اسلامى معاشرہ كے رہبر كيلئے اجتماعى امور كى تنظيم


كى صلاحيت اور توانائي كے ساتھ ساتھ اسلام اور اس كے موازين و اصولوں سے كافى حد تك آشنا ہونا بھى ضرورى ہے_ پس چونكہ مسلمانوں كى سرپرستى اور سياسى ولايت كا بنيادى اور اصلى ركن اسلام شناسى ہے لہذا اسلامى معاشرے كا سرپرست و سربراہ فقيہ ہونا چاہيے_

يہ نكتہ اہلسنت كے بعض روشن فكر علماء كى نظر سے بھى پنہاں نہيں رہا _ اہلسنت اگرچہ ولايت انتصابى كے معتقد نہيں ہيں اور اكثريت اس كى قائل ہے كہ سياسى رہبر كے تقرر كى كيفيت اور طريقہ كار كے متعلق دينى متون خاموش ہيں _ اس كے باوجود بعض نئے مصنفين اس بات پر مصر ہيں كہ سياست اور اجتماع كى اخلاقى اقدار، اجتماعى تعليمات اور بعض اصولوں كا تعين اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ اسلامى معاشرے كے انتظام كى مطلوبہ شكل تقاضا كرتى ہے كہ اسلامى معاشرہ كے حكّام'' عالم دين'' ہونے چاہئيں_

قرآن اور احاديث ميں كچھ ايسے امور بھى موجود ہيں جنہيں كم از كم اسلام ميں حكومت كے اخلاقى اصول كہا جاسكتاہے _ مثلاً شورى كى مدح اور حكومت كے سلسلہ ميں مشورہ كرنے كى ترغيب دلانا، عدل و انصاف اور فقراء و مساكين كى رعايت كى دعوت دينا وغيرہ ، واضح ہے كہ حكومت ميں ان اخلاقى اصولوں كے اجرا كيلئے ضرورى ہے كہ حكمران'' عالم دين'' ہو ں_ اور ان اصولوں كو جارى كرنے ميں مخلص ہوں _(۱)

شرط فقاہت ميں تشكيك

اس اكثريتى اور مشہور نظريہ '' كہ امت مسلمہ كے سياسى حاكم ميں فقاہت اور دين شناسى شرط ہے اور فقيہ

____________________

۱) الدين والدولة و تطبيق الشريعة، محمد عابد جابرى صفحہ ۳۴_


كيلئے ولايت انتصابى ثابت ہے يا كم از كم سياسى ولايت ميں فقاہت شرط ہے'' كے برعكس بعض افراد جو كہ فقيہ كى سرپرستى كے منكر ہيں ان كى نظر ميں اسلامى تعليمات كے نفاذ اور فقيہ كى سرپرستى كے درميان كوئي ملازمہ نہيںہے_ درست ہے كہ اسلام اجتماعى اور سياسى تعليمات ركھتا ہے اور مخصوص اصولوں اور اقدار پر تاكيد كرتاہے_ ليكن اس كا يہ مطلب نہيں ہے كہ معاشرہ كا سياسى اقتدار'' فقيہ'' كے ہاتھ ميں ہو كيونكہ فقيہ كا كام احكام بيان كرنا ہے _ ليكن معاشرہ كے امور كى تنظيم اورسرپرستى كيلئے ان احكام كا اجرا اور اس كيلئے عملى اقدام كرنا فقيہ كى ذمہ دارى نہيں ہے لہذا سياسى اقتدار كيلئے فقاہت كى شرط ضرورى نہيں ہے _اگر اجتماعى اور سياسى امور ميں فقيہ كى شركت كو ضرورى سمجھيں تواحكام الہى كے اجرا ميں اس كى نظارت كے قائل ہوں اور واضح سى بات ہے كہ نظارت فقيہ اور ولايت فقيہ دو مختلف چيزيں ہيں اور '' نظارت ''كسى بھى اجرائي ذمہ دارى كو'' فقيہ'' كا منصب قرار نہيں ديتي_

اسلامى معاشرہ كے نظام كے چلانے ميں ''فقاہت'' كى شرط كو قبول نہ كرنے والے بعض لوگ استدلال كرتے وقت سياستدان اور فقيہ كے درميان تفاوت كو مد نظر ركھتے ہيں_ ان كى نظر ميں سياست اور معاشرہ كے امور كا اجرا ايك ايسا فن ہے جس كا تعلق جزئيات سے ہے_ جبكہ فقاہت اور اس سے اعلى تر مناصب يعنى امامت اور نبوت اصول اور كليات سے سروكار ركھتے ہيں_ اصول اور كليات ميں ماہر ہونے كا لازمہ يہ نہيں ہے كہ فقيہ معاشرہ كے نظام كى جزئيات ميں بھى مہارت ركھتا ہو _اصول ، كليات اور احكام ثابت اور نا قابل تغير ہيں جبكہ سياست ہميشہ جزئي اور تبديل ہونے والے امور كے ساتھ سر و كار ركھتى ہے_

جس طرح كوئي فلسفى اپنے عقلى نظريات اورفقيہ اپنے اجتہاد اور دين ميں سمجھ بوجھ كے باوجود بغير كسى تربيت اور تجربہ كے كپڑا نہيں بنا سكتا اور ڈارئيونگ نہيں كرسكتا _ اسى طرح فلسفى اپنى


عقل نظرى اور فقيہ احكام دين ميں مہارت ركھنے كے باوجو دسياست نہيں كرسكتا _ كيونكہ فلسفہ ايك تھيورى اور نظرى امر ہے _اسى طرح فقاہت يا اخلاقى تھيورى ايك ثابت اور غير متغيّرش ے ہے جبكہ سياست خالصةً ايك متغير شے ہے حكومت اور تدبيرامور مملكت جو كہ لوگوں كے روز مرہ امور كى ديكھ بھال ، امن عامہ كا نظام اور اقتصادى امور سے عبارت ہيں تمام كے تمام عقل عملى كى شاخيں اور جزئي اور قابل تغير چيزيں ہيں كہ جن كا تعلق حسى اور تجرباتى موضوعات سے ہے لہذا لازمى طور پر ان كى وضع و قطع ،الہى فرامين اور وحى سے مختلف ہے _ تجرباتى موضوعات كى صحيح تشخيص صرف لوگوں كى ذمہ دارى ہے اور جب تك وہ صحيح طور پر ان امور كو تشخيص نہ دے ليں شريعت كے كلى احكام عملى طور پر نافذ نہيں ہوسكتے_

اس نظريہ كے بعض دوسرے حامى فقيہ كے كردار كو اصول اور كليات ميں منحصر نہيں سمجھتے _ بلكہ اس كيلئے شان نظارت كے بھى قائل ہيں_ ان كى نظر ميں ايك دينى حكومت كے وجود و تحقق كيلئے ضرورى نہيں ہے كہ اس كى رہبرى فقيہ عادل كے ہاتھ ميں ہو بلكہ فقيہ اگر مشير اور ناظر كے عنوان سے ہو ، اور حكّام شريعت كے نفاذ ميں مخلص ہوں تو دينى حكومت قائم ہوسكتى ہے_

گذشتہ مطالب كى بنا پر سياسى حاكميت ميںفقاہت كى شرط قرار نہ دينے اور نتيجتاً فقيہ كى سياسى ولايت سے انكار كا نظريہ دو امور پر استوارہے_

ايك يہ كہ فقہ ميں مہارت كا حاصل ہونا معاشرہ كے سياسى اور انتظامى امور كى سرپرستى ميں فقيہ عادل كى اولويت پر دلالت نہيں كرتا_

دوسرا يہ كہ دينى حكومت كى تشكيل اور معاشرہ ميں دينى احكام اور اہداف كا حصول فقيہ كى سياسى حاكميت ميں منحصر نہيں ہے بلكہ ايسى دينى حكومتوں كا تصور كيا جاسكتا ہے جن ميں فقيہ كو ولايت حاصل نہ ہواور فقط احكام كى تبيين يا زيادہ سے زيادہ شرعى احكام پر نظارت كرنا اس كى ذمہ دارى ہو_


فقيہ كى سياسى ولايت كا دفاع:

وہ نظريہ جو اسلامى معاشرہ كے اجتماعى اموركى تدبير كيلئے فقاہت كو شرط قرار نہيں ديتا اور فقيہ كى سياسى ولايت كو ضرورى نہيں سمجھتا درحقيقت بہت سے اہم نكات سے غفلت بر تنے كى وجہ سے وجود ميں آيا ہے_

اس نظريہ كى تحقيق اور تنقيد كيلئے درج ذيل نكات پر سنجيدگى سے غور و فكر كرنے كى ضرورت ہے_

۱_ كيا فقيہ كى سياسى ولايت كے قائلين كى نظرميں اس اجتماعى منصب كے حصول كى واحد علت اور تنہا شرط فقاہت ہے؟ يا اسلامى معاشرہ كى سياسى حاكميت كى ضرورى شروط ميں سے ايك شرط ''فقاہت'' ہے؟ جيسا كہ بعد والے سبق ميں آئے گا كہ دينى منابع ميں مسلمانوں كے امام كے جو اوصاف اور خصوصيات بيان كى گئي ہيں ، ان ميں سے اسلام شناسى اور دين ميں تفقہ و سمجھ بوجھ اہم ترين خصوصيات ميں سے ہے_ عدالت ، شجاعت ، حسن تدبير اور معاشرتى نظام كے چلانے كى صلاحيت اور قدرت بھى مسلمانوں كے امام اور والى كى معتبر شرائط ميں سے ہيں_ اس اجتماعى ذمہ دارى اور منصب ميں مختلف اوصاف كى دخالت سے واضح ہوجاتا ہے كہ اسلامى معاشرہ كے سرپرست كيلئے فقط فقاہت كا ہونا كافى نہيں ہے تا كہ كہا جائے كہ صرف دين ميں تفقہ، معاشرتى نظام كوچلانے كى ضرورى صلاحيت پيدا نہيں كرتااور سياست اورمعاشرتى نظام كو چلانے كيلئے جزئيات كے ادراك كى خاص توانائي كى ضرورت ہے ، جبكہ فقاہت فقط احكام كليہ اور اصول كو درك كرسكتى ہے_

۲_ اگر چہ موجودہ سيكولر حكومتوں ميں سياسى اقتدار كے حاملين اجتماعى امور كى تدبير ، امن عامہ اور رفاہ عامہ جيسے امور كولبرل اصولوں اور انسانى حقوق كى بنياد پر انجام ديتے ہيں ليكن دينى حكومت دين كى پابند ہوتى ہے_ اور مذكورہ بالا اہداف كو شرعى موازين اور اسلامى اصولوں كى بنياد پرتأمين كرتى ہے_ بنابريں سياست اور اسلامى معاشرہ كى تدبير كو كلى طور پر عملى سياست ،عقل عملى اور فن تدبير كے سپرد نہيں كيا جاسكتا كيونكہ ايسى


حكومت كى تدبيراور سياست كو دينى موازين اور شرعى تعليمات كے مطابق ہونا چاہيے _ پس ايسے معاشرہ كے سرپرست كيلئے ضرورى ہے كہ سياسى صلاحيت اور فن تدبير كے علاوہ فقاہت سے بھى آشنا ہو اور اسلامى تعليمات كى بھى شناخت ركھتا ہو _ اس مدعا كى دليل يہ ہے كہ اسلامى معاشرہ ميں بعض مواردميں نظام اور مسلم معاشرہ كى مصلحت يہ تقاضا كرتى ہے كہ حاكم ايك حكومتى حكم صادر كرے جبكہ بعض موارد ميں يہ حكومتى حكم ،اسلام كے احكام اوّليہ كے منافى ہوتا ہے _ فقيہ عادل كى ولايت عامہ كى ادلّہ كى بنياد پر اس حكومتى حكم كا صادر كرنا'' فقيہ'' كا كام ہے اور اس كے ولائي احكام كى اطاعت كرنا شرعاً واجب ہے_ حالانكہ اگر اسلامى معاشرہ كا حاكم اور سياسى اقتدار كا مالك ''فقاہت'' كا حامل نہ ہو تو نہ ہى وہ ايسے احكام صادر كرنے كا حق ركھتا ہے اور نہ ہى اس كے ان احكام كى پيروى كے لزوم كى كوئي دليل ہے كہ جو ظاہرى طور پر شريعت كے منافى ہيں_

دوسرا شاہد يہ ہے كہ مختلف اجتماعى امور ميں اسلامى تعليمات كے اجرا سے طبيعى طور پر بعض موارد ايسے بھى پيش آجاتے ہيں كہ جن ميں بعض شرعى احكام دوسرے بعض شرعى احكام سے ٹكرا جاتے ہيں اور ان ميں سے ايك پر عمل كرنا دوسرے كے ترك كرنے كا باعث بنتا ہے _ ان موارد ميں حاكم كو تشخيص دينا ہوگى كہ كونسا حكم اہم اور كونسا غير اہم ہے_ اورحاكم اہم كو غير اہم پر ترجيح دے گا_ اہم موارد كو تشخيص دينے اور غير اہم كو چھوڑنے كا حكم دينے كيلئے ضرورى ہے كہ حاكم دينى تعليمات سے گہرى آگاہى ركھتا ہو_

يہ دو دليليں نشاندہى كرتى ہيں كہ اسلامى معاشرہ كى سرپرستى كيلئے دوسرى حكومتوں ميں رائج تدبيرى مہارت كے ساتھ ساتھ ''فقاہت'' كى صلاحيت بھى ضرورى ہے كسى حكومت كا دينى ہونا معاشرہ كى رہبرى كيلئے ايسى شرط كا تقاضا كرتى ہے_

۳_ وہ افراد جو ولايت فقيہ كى بجائے فقيہ كى مشاورت اور نظارت كى بات كرتے ہيں انہيں يہ ياد ركھنا چاہيے كہ فقہاء كو اقتدار سے دور ركھ كر اور فقط انہيں سياسى نظام پر نظارت دينے سے يہ ضمانت نہيں دى جاسكتى


كہ دينى حكومت اپنے اہداف كو حاصل كر سكے گى _ يعنى اگر پيراگراف نمبر ۲ سے چشم پوشى كر ليں اور فقہاء كے علاوہ دوسرے افراد كو سياسى اقتدار دے ديں اور فقيہ كے كردار كو فقط نظارت ميں محدود كرديں تو كيسے اس بات كى ضمانت دى جاسكتى ہے كہ اسلامى نظام برقرار رہے گا اور صاحبان اقتدار '' ناظر فقيہ ''كے اصلاحى مشوروں پر عمل كريں گے_ جب تمام اجرائي امور ان افراد كے ہاتھ ميں ہوں جو شناخت اسلام ميں مہارت نہيں ركھتے تو طبيعى طور پر شريعت كے منافى كام بڑھتے جائيں گے _ تو كن اسباب كى رو سے انہيں فقہاء كى نظارت كا نتيجہ قرار ديا جائے گا_

تجربہ سے ثابت ہوچكا ہے كہ قانوں ساز اداروں ميں اساسى قانون ميں فقيہ كو فقط ناظر قرار دينا اس نظام كے شرعى ہونے كيلئے كافى نہيں ہے_ تاريخ گواہ ہے كہ يہ اساسى قانون جلد ہى ختم ہوگيا _ اور عملى طور پر ملك كے سياسى منظر سے فقہاء كى نظارت محو ہوگئي_ اس كى واضح مثال نہضت مشروطہ ہے(۱)

____________________

۱) تيرہويں ہجرى شمسى كے ابتدائي دس عشروں ميں ايران ميں داخلى ظلم و استبداد اور بيرونى استعمار كے خلاف روحانيت (علمائ) كى قيادت ميں ايك تحريك چلى تھى _ يہ قيام قاجار كى ظالمانہ حكومت كے خاتمہ يعنى ۱۳۲۳ سے ۱۳۸۴ تك جارى رہا_ اس تحريك كے راہنماؤں كا يہ اصرار تھا كہ قومى اسمبلى كے تمام قوانين شريعت اور دينى احكام كے ساتھ مشروط ہوں _ اسى لئے اس تحريك كو نہضت مشروطہ كے نام سے شہرت حاصل ہوئي _

اگر چہ يہ قيام علماء كى راہنمائي ميں شروع ہوا اور انہى كے زير سايہ آگے بڑھا_ اور تمام مجاہدين اور كاركنوں كى تمام تر كوشش يہى رہى كہ دين كى حاكميت قائم ہوجائے_ اور بيرونى طاقتوں كے تسلط كا خاتمہ ہوجائے_ ليكن چونكہ اسلامى حكومت كے تحقق اور شريعت كے نفاذ كيلئے ضرورى اقدامات نہيں كئے گئے اور نہ ہى مراجع تقليد كى آراء كا خيال ركھا گيا اسى لئے تھوڑے ہى عرصہ ميں جيسا كہ اوپر اشارہ ہوچكا ہے اس تحريك نے كاميابى حاصل كرنے كے بعد نہ صرف اپنے اسلامى افكار سے چشم پوشى كرلى _ بلكہ آيت اللہ شيخ فضل اللہ نورى جيسے افراد كو جام شہادت نوش كرنا پڑا اور روحانيت كو حكومتى اداروں سے بے دخل ہونا پڑا_


خلاصہ :

۱) ''فقيہ عادل'' كيلئے ولايت كا عہدہ معاشرہ كے نقص اور ضعف كى تلافى كيلئے ہے_

۲)شيعہ فقہا معاشرتى امور كى سرپرستى كيلئے فقاہت كو ضرورى سمجھتے ہيں حتى كہ وہ فقہاء بھى جو فقيہ كى ولايت انتصابى كے معتقد نہيں ہيں_

۳) سياسى سرپرستى ميں فقاہت كى شرط كا فلسفہ يہ ہے كہ حكومتى اہداف اور امور امن و امان اور رفاہ عامہ ميں منحصر نہيں ہيں بلكہ مختلف اجتماعى روابط كو اسلامى احكام كے ساتھ ہم آہنگ كرنا بھى حكومتى اہداف كا ايك حصہ ہے_

۴) ولايت فقيہ كے بعض مخالفين نفاذ اسلام اور ولايت فقيہ كے درميان ملازمہ كے قائل نہيں ہيں_ ان كى نظر ميں معاشرہ كا انتظام سنبھالنا سياست دانوں كا كام ہے نہ كہ فقيہ كا _ فقيہ اصول اور كليات كا ماہر ہے _ جبكہ معاشرہ كا انتظام ہميشہ جزئيات اور تغيرات كے ساتھ پيوستہ ہے_

۵)ولايت فقيہ كے بعض دوسرے مخالفين دينى حكومت اور ولايت فقيہ كے درميان ملازمہ كے قائل نہيں ہيں _ كيونكہ اسلامى نظام'' فقيہ كى نظارت'' سے بھى ممكن ہے_

۶) ولايت فقيہ كے مخالفين نے چند بنيادى نكات سے غفلت برتى ہے ان ميں سے ايك نكتہ يہ ہے كہ سياسى سرپرستى كى واحد شرط ''فقاہت'' نہيں ہے تا كہ يہ كہا جائے كہ معاشرہ كى تدبير كيلئے كچھ ايسى خصوصيات كى بھى احتياج ہوتى ہے كہ جن ميںاصول اور كليات كا جان لينا كافى نہيں ہے_

۷) تاريخى تجربہ نے ثابت كيا ہے كہ فقط ''نظارت فقيہ '' مختلف معاشرتى امور اور سياست كو اسلام كے ساتھ ہم آہنگ نہيں كرسكتي_


سوالات :

۱) كيا مختلف فقہى مسالك متفق ہيں كہ اسلامى معاشرہ كى سرپرستى كيلئے فقاہت شرط ہے؟

۲)سياسى ولايت ميں فقاہت كى شرط كا فلسفہ كيا ہے؟

۳) ان لوگوں كے پاس كيا دليل ہے جو معاشرہ كے سياسى امور كى سرپرستى ''فقيہ ''كا كام نہيں سمجھتے؟

۴)ان افراد كے كلام كا ماحصل كيا ہے جو ''ولايت فقيہ'' كى بجائے ''نظارت فقيہ ''كے قائل ہيں؟

۵)ان افراد كے شبہ كو كيسے رد كيا جاسكتا ہے جو سياسى ولايت كو فقيہ كى شان نہيں سمجھتے؟

۶)ان لوگوں كو كيا جواب ديا جاسكتا ہے جو'' ولايت فقيہ ''كى بجائے ''نظارت فقيہ ''كے قائل ہيں؟


پچيسواں سبق :

رہبر كى شرائط اور خصوصيات

دوسرے سياسى مكاتب فكركے مقابلہ ميں اسلام كے سياسى تفكر كى امتيازى خصوصيات ميں سے ايك خصوصيت يہ ہے كہ يہ معاشرہ كے سياسى رہبر كيلئے مخصوص شرائط اور اوصاف كا قائل ہے_ آج كے رائج جمہورى نظاموں ميں محبوبيت اورووٹ حاصل كرنے كى صلاحيت كو بہت زيادہ اہميت دى جاتى ہے اورانہيں مكمل طور پر صاحبان اقتدار كے انفرادى كمالات اور خصوصيات پر ترجيح دى جاتى ہے_پروپيگنڈہ ، عوام پسند حركات اور پر كشش نعروں سے لوگوںكے اذہان كو ايك مخصوص سمت متوجہ كرنا اور پھر مقابلہ كے وقت لوگوں كى آراء كو اپنے حق ميں ہموار كرنا رائج جمہورى نظاموں ميں خصوصى اہميت ركھتاہے_

اس كے برعكس اسلام كے مطلوبہ سياسى نظام ميں وہى شخص ولايت كے منصب كا حامل ہوسكتا ہے جو مخصوص انفرادى كمالات اور فضائل كا حامل ہو_ يہاں ہم ان اوصاف ميں سے اہم ترين اوصاف كو ذكر كرتے ہوئے ان آيات و روايات كى طرف اشارہ كرتے ہيں جو ان اوصاف كے ضرورى ہونے كى شرعى ادلّہ ہيں_


الف : فقاہت

اسلامى معاشرہ كے حاكم كى واضح اور اہم ترين صفت اس كا اسلام اور دين كى اعلى تعليمات سے مكمل طور پر آگاہ ہونا ہے_ گذشتہ سبق ميں ہم اسلامى معاشرہ كے حاكم ميں اس شرط كے وجود كے فلسفہ كى طرف اشارہ كر چكے ہيں_ اس صفت كى اہميت اس نكتہ سے واضح ہوجاتى ہے كہ زمانہ غيبت ميں شيعوں كے سياسى نظام كے تعارف كيلئے اس صفت سے مدد حاصل كى جاتى ہے_ اور اس نظام كو ''ولايت فقيہ'' پر استوار كہا جاتاہے_ حالانكہ اسلامى معاشرہ كے حاكم كيلئے اور بھى شرائط ہيں_ ہم اس نظام كو'' ولايت عادل'' ، ''ولايت مدبر'' يا ''ولايت مومن و متقى '' پر استوار بھى كہہ سكتے ہيں كيونكہ يہ تمام اوصاف بھى اسلامى حاكم كيلئے شرط ہيں _ ليكن دوسرے اوصاف كى نسبت اس وصف'' فقاہت '' كى اہميت كى وجہ سے اسے دوسرے اوصاف پر ترجيح ديتے ہيںاور اسلامى معاشرہ كى ولايت كو ''ولايت فقيہ'' كے نام سے موسوم كرتے ہيں_

فقاہت كى شرط كا ''ولايت فقيہ ''كى روائي ادلّہسے واضح ثبوت ملتا ہے_ ہم نمونہ كے طور پر ان روايات كے بعض جملوں كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

مقبولہ عمر ابن حنظلہ ميں ہے:

''من كان منكم ممّن قد روى حديثنا و نظر فى حلالنا و حرامنا و عرف احكامنا فليرضوا به حكما، فانّى قد جعلته عليكم حاكماً'' (۱)

تم ميں سے جس شخص نے ہمارى احاديث كى روايت كى ہو اورہمارے حلال و حرام ميں غور و

____________________

۱) وسائل الشيعہ ج ۲۷، ص ۱۳۶، ۱۳۷، باب ۱۱ ، از ابواب صفات قاضى ح ۱_


فكر كيا ہو اور ہمارے احكام سے واقف ہو اسے اپنا حَكَم( فيصلہ كرنے والا) قراردو كيونكہ ميں نے اسے تم پر حاكم بنايا ہے_

مشہورہ ابى خديجہ ميں امام صادق فرماتے ہيں:

''ولكن انظروا الى رجل منكم يعلم شيئاً من قضائنا فاجعلوه بينكم'' (۱)

ليكن ديكھو تم ميں سے جو شخص ہمارى قضاوت سے واقف ہو اسے اپنے درميان ( قاضي) قراردو_

حضرت امير المومنين فرماتے ہيں:

قال رسول الله (ص) ''اللهم ارحم خلفائي'' ثلاث مرّات قيل يا رسول الله : و من خلفائك ؟ قال ''الذين ياتون من بعدى يروون حديثى و سنتي'' (۲)

پيغمبر اكرم (ص) نے تين دفعہ فرمايا: خدايا ميرے خلفا پر رحم فرما پوچھا گيا يا رسول اللہ آپكے خلفا كون ہيں ؟ تو فرمايا جو ميرے بعد آئيں گے اور ميرى حديث و سنت كى روايت كريں گے_

توقيع امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشريف ميںہے:

''اما الحوادث الواقعة فارجعوا فيها الى رواة احاديثنا'' (۳)

پيش آنے والے واقعات ميں ہمارى احاديث كے راويوں كى طرف رجوع كرو_

ولايت فقيہ كى ادلّہ روائي كى متعلقہ بحث ميں ہم نے ان روايات پر تفصلى بحث كى ہے اور ثابت كرچكے ہيں كہ '' رواة احاديث ''سے يہاں مراد صرف احاديث كو نقل كرنے والے نہيں بلكہ وہ علماء ہيں جو دين ميں

____________________

۱) كافى ج ۷ ، ص ۴۱۲، كتاب القضا و الاحكام باب كراھية الارتفاع الى قضاة الجور ،ح ۴_

۲) كمال الدين ،شيخ صدوق ،ج ۲ ، باب ۴۵ ، ح ۴_

۳) عيون اخبار الرضا ،ج ۲ ، ص ۳۷ ، باب ۳۱ ، ح ۹۴_


سمجھ بوجھ ركھتے ہيں اور ائمہ معصومين كى احاديث كے مفاہيم اور دقيق اشارات سے آگاہ ہيں _ وگرنہ صرف نقل حديث مرجعيت اور ولايت كيلئے كافى نہيں ہے_

ب : عدالت

سياسى ولايت اور اجتماعى امور كى تدبير سے كم مرتبہ امور مثلاً امامت جماعت اور قضاوت ميں بھى شيعہ فقہا عدالت كو شرط سمجھتے ہيں _ پس اس سے انكار نہيں كيا جاسكتا كہ امت كى امامت جيسے عظيم امر جو كہ لوگوں كى سعادت اور مصالح كے ساتھ مربوط ہے ميں عدالت ايك بنيادى شرط ہے_

بہت سى آيات اور روايات سے استفادہ ہوتا ہے كہ فاسق اور ظالم كا اتباع جائز نہيں ہے_ قرآن مجيد ميں اللہ تعالى ہميں ظالموں كى طرف جھكاؤ سے منع كرتا ہے_

( ''و لا تَركَنوا إلى الّذين ظَلَموا فتمسَّكم النار و ما لَكُم من دون الله من أولياء ثمّ لا تُنصرون'' ) (۱)

اور ظالموں كى طرف جھكاؤ مت اختيار كرو ورنہ جہنم كى آگ تمھيں چھولے گى اور خدا كے علاوہ تمھارا كوئي سر پرست نہيں ہے پھر تمہارى مدد بھى نہيں كى جائے گي_

ظالموں كى طرف تمايل اور ان پر تكيہ كرناان كى دوستى اور اتباع سے وسيع تر ايك مفہوم ہے _ پس غير عادل امام اور رہبر كى نصرت ، مدد اور اطاعت بھى اس ميں شامل ہے _ ظالموں كى طرف جھكاؤ كى وضاحت كے ذيل ميں على بن ابراہيم ايك روايت نقل كرتے ہيں:

''ركون مودّة و نصيحة و طاعة'' (۲)

جھكاؤ سے مراد دوستى ، نصيحت اور اطاعت والا جھكاؤہے _

____________________

۱) سورہ ہود آيت ۱۱۳_

۲) تفسير على ابن ابراہيم قمى ج ۱ ، ص ۳۳۸ ، اسى آيت كے ذيل ميں_


اللہ تعالى نے بہت سى آيات ميں لوگوں كومسرفين گناہگاروں اور ہوا پرست افراد كى اطاعت سے منع كيا ہے_ يہ تمام امور بے عدالتى كى علامت ہيں_

''و لا تُطيعوا أمرَ المُسرفين* الّذين يُفسدون فى الا رض و لا يُصلحون'' (۱)

اور زيادتى كرنے والوں كى اطاعت نہ كرو_ جو زمين ميں فساد برپا كرتے ہيں اور اصلاح نہيں كرتے_

''و لا تطع من اغفلنا قلبه عن ذكرنا و اتبع هواه و كان امره فرطاً'' (۲)

اور اس كى اطاعت نہ كرو جس كے قلب كو ہم نے اپنى ياد سے غافل كر ديا ہے وہ اپنى خواہشات كا تابع ہے اور اس كا كام سراسر زيادتى كرنا ہے_

بہت سى روايات ميں بھى امام اور رہبر كيلئے عدالت كو شرط قرار ديا گيا ہے_

حضرت امام حسين اہل كوفہ كو لكھتے ہيں:

''فلعمرى ما الامام الاّ الحاكم بالكتاب ، القائم بالقسط والدائن بدين الله'' (۳)

مجھے اپنى جان كى قسم امام وہى ہو سكتا ہے جو قرآن كے مطابق فيصلہ كرے، عدل و انصاف قائم كرے اور دين خدا پر عمل كرے_

____________________

۱) سورہ شعراء آيت ۱۵۱، ۱۵۲_

۲) سورہ كہف آيت ۲۸_

۳) ارشاد مفيد ج ۲ ، ص ۳۹_


امام باقر محمد ابن مسلم كو مخاطب كر كے فرماتے ہيں:

'' ...والله يا محمّد، مَن اصبح من هذه الا مة لا امامَ له من الله (عزوجل) ظاهر عادل أصبح ضالاً تائهاً ، و ان ماتَ على هذه الحالة مات ميتة كفر و نفاق و اعلم يا محمّد، أنّ أئمة الجور وأتباعهم لمعزولون عن دين الله قد ضلّوا و ا ضلّوا'' (۱)

اے محمد، خدا كى قسم اس امت ميں سے جس شخص نے خدا كى طرف سے مقرر كردہ امام عادل كے بغير صبح كى اس نے گمراہى اور ضلالت كى حالت ميں صبح كى اور اگر وہ اس حالت ميں مرگيا تووہ كفر و نفاق كى موت مرا _ اے محمد، جان لو يقيناً فاسق اور فاجر ائمہ اور ان كا اتباع كرنے والے دين خدا پر نہيں ہيں_ وہ خود بھى گمراہ ہيں اور دوسروں كو بھى گمراہ كرتے ہيں_

معاويہ كے سامنے امام حسن خطبہ ديتے ہوئے فرماتے ہيں: جو شخص ظلم كرے اور عدالت كى راہ سے ہٹ جائے وہ مسلمانوں كا خليفہ نہيں ہوسكتا_

''انما الخليفة مَن سار بكتاب الله و سنة نبيّه (صلى الله عليه وآله و سلم) و ليس الخليفة من سار بالجور'' (۲)

يقيناخليفہ وہى ہے جو كتاب خدا اور سنت رسول (ص) پر عمل كرے_ جو ظلم و جور كى راہ پر چلے وہ خليفہ نہيں ہے_

يہ آيات و روايات جن كى طرف ہم نے بطور نمونہ اشارہ كيا ہے _ ان سے معلوم ہوتا ہے كہ فاسق و فاجر اور ظالم شخص امت كا شرعى حاكم نہيں ہوسكتا اور غير عادل كى ولايت ولايت طاغوت كى اقسام ميں سے ہے_

____________________

۱) كافى ج ۱، ص ۱۸۴، باب معرفة الامام و الرد عليہ ح ۸_

۲) مقاتل الطالبين، ابو الفرج اصفہانى ص ۴۷_


ج : عقل ،تدبير ، قدرت ، امانت

مذكورہ بالا شرائط عقلائي پہلو كى حامل ہيں _ يعنى سرپرستى كا طبيعى تقاضا يہ ہے كہ انسان ان خصوصيات و شرائط كا حامل ہو اور لوگ ان صفات كو معاشرے كے منتظم كيلئے ضرورى سمجھتے ہيں_ آيات و روايات ميں بھى تاكيد كى گئي ہے كہ معمولى منصب پرفائز لوگوں كيلئے ان خصوصيات كا ہونا ضرورى ہے_

جبكہ معاشرہ كى امامت و رہبرى تو بہت بڑا منصب ہے_

ارشاد خداوندى ہے:

( ''لا تؤتوا السُفهائَ ا موالكم الّتى جعل الله لكم قياماً ) ''

ناسمجھ لوگوں كو اپنے وہ اموال نہ دو جن پر اللہ نے تمہارا نظام زندگى قائم كرركھاہے_(۱)

جب بادشاہ مصر سے حضرت يوسف نے كہا كہ مجھے وزير خزانہ بنادے تو اپنى دو خصوصيات ''علم اور امانت دارى ''كو ذكر كيا _ يہ اس بات كى دليل ہے كہ معاشرہ كے رہبر كو ان خصوصيات كا حامل ہونا چاہيے_

( '' قال اجعلنى على خزائن الارض انّى حفيظ عليم'' ) (۲)

كہا مجھے زمين كے خزانوں پر مقرر كردو ميں محافظ بھى ہوں اور صاحب علم بھي_

حضرت شعيبكى بيٹى نے جب حضرت شعيب كے اموال كى سرپرستى كيلئے حضرت موسى كا تعارف كروايا تو آپ (ع) كى خصوصيات ميں سے ''قدرت و توانائي ''اور '' امين'' ہونے كا خاص طور پر تذكرہ كيا _ لہذا معاشرہ كے سرپرست كو بطريق اولى ان خصوصيات كا حامل ہونا چاہيے_

'' قَالَت إحدَاهُمَا يَاأَبَت استَأجرهُ إنَّ خَيرَ مَن استَأجَرتَ

____________________

۱) سورہ نساء آيت ۵_

۲) سورہ يوسف آيت ۵۵_


القَويُّ الأَمينُ'' (۱)

ان ميں سے ايك لڑكى نے كہا اے بابا جان اسے اجير ركھ ليجيئے _ كيونكہ آپ جسے بھى اجير ركھيں گے ان ميں سے سب سے بہتر وہ ہوگا جو صاحب قوت بھى ہو اور امانتدار بھي_

حضرت على تاكيد فرماتے ہيں كہ امت كے امور كى باگ ڈور كم عقل، نالائق اور فاسق افراد كے ہاتھ ميں نہيں ہونى چاہيئے_

''و لكنَّنى آسى أن يليَ أمر هذه الا ُمَّة سُفهاؤُ ها و فُجّارُها ، فيتَّخذوا مالَ الله دُوَلاً و عبادَه خَوَلاً والصالحين حَرباً والفاسقين حزباً'' (۲)

ليكن مجھے يہ غم رہے گا كہ اس امت كى حكومت بيوقوفوں اور فاجروں كے ہاتھ ميں آجائے گى ، وہ بيت المال پر قابض ہوجائيں گے، خدا كے بندوں كو غلام بناليں گے، نيك لوگوں سے لڑيں گے، اور بدكاروں سے دوستى كريںگے_

فضل ابن شاذان امام رضا سے روايت كرتے ہيں كہ ''امين امام'' كے نہ ہونے سے شريعت نابود ہوجاتى ہے_

''انّه لو لم يَجعل لَهُم ، اماماً قَيّماً أميناً حافظاً مستودعاً لَدَرَست الملَّة''

اگر ان كيلئے امين ، حفاظت كرنے والا اور امانتدار امام قرار نہ ديا جائے تو ملت محو ہوجائے_(۳)

____________________

۱) سورہ قصص آيت ۲۶_

۲) نہج البلاغہ ، مكتوب ۶۲_

۳) علل الشرائع شيخ صدوق ،باب ۱۸۲، ح ۹ ، ص ۲۵۳_


حضرت امير المؤمنين حسن تدبير اور سياست كو اطاعت كى شرط قرار ديتے ہوئے فرماتےہيں :

''من حسنت سياستهُ وجبت طاعتُه''

جس كى سياست صالح ہو اس كى اطاعت واجب ہے_(۱)

''مَن احسن الكفاية استحق الولاية'' (۲)

جو حسن تدبير ركھتا ہو وہ حكومت كا حقدار ہے_

ايك روايت ميں حضرت امير المؤمنين لشكريوں كے امور كى سرپرستى كيلئے علم ، حسن تدبير ، سياست اور حلم و بردبارى جيسى صفات كو ضرورى قرار ديتے ہيں _

''و لّ أمر جنودك أفضلهم فى نفسك حلماً وأجمعهم للعلم و حسن السياسة و صالح الا خلاق'' (۳)

تيرے لشكر كى سرپرستى اور كمانڈ اس شخص كے ہاتھ ميں ہونى چاہيئے جو تيرے نزديك ان سب سے زيادہ بردبار ہو _ علم ، حسن سياست اور اچھے اخلاق كا حامل ہو_

ولايت اور رہبرى كى اہم ترين صفات اور شرائط ہم بيان كرچكے ہيں _ ليكن ايك اہم اور قابل توجہ بحث يہ ہے كہ كيا فقہ ميں اعلميت ( سب سے زيادہ فقہ كو جاننے والاہونا) بھى معاشرہ كى امامت اور ولايت كيلئے شرط ہے؟ اس بحث كو ''فقاہت'' كے شرط ہونے كو ثابت كرنے كے بعد ذكر كيا جاتا ہے_

____________________

۱) غرر الحكم آمدي،ج ۵ ، ص ۲۱۱، ح ۸۰۲۵_

۲) غرر الحكم ، صفحہ ۳۴۹ حديث ۸۶۹۲_

۳) دعائم الاسلام ج ۱ ص ۳۵۸_


فقہ ميں اعلميت كى شرط

سياسى ولايت اور رہبرى كى شروط كى بحث كا ايك اہم نكتہ ''اعتبار اعلميت ''ہے _ يعنى كيا ضرورى ہے كہ ولى فقيہ شرعى احكام كے استنباط اور قوت اجتہاد ميں دوسرے تمام فقہاء سے زيادہ اعلم ہو؟ جامع الشرائط فقيہ مختلف ولايات كا حامل ہوتا ہے_ شرعى فتاوى دينا اس كى شان ہے ،منصب قضاوت پر فائز ہوتا ہے_ امور حسبيہ پر ولايت ركھتا ہے_ ولايت عامہ اور حاكميت كا حامل ہوتا ہے_ سوال يہ ہے كہ ان تمام ولايات ميں فقہى اعلميت شرط ہے؟ فقيہ كے بعض امور و اوصاف ميں اعلميت كى شرط زيادہ كار آمد ہے_ مثلاً منصب قضاوت كى نسبت فتوى دينے اور مرجعيت كيلئے فقہ ميں اعلميت كى شرط زيادہ مناسبت ركھتى ہے كيونكہ اگر منصب قضاوت كيلئے اعلميت كو شرط قرار ديں تو اس كا لازمہ يہ ہے كہ تمام اسلامى ممالك ميں صرف ايك ہى قاضى ہو_ اور يہ عسر و حرج اور شيعوں كے امور كے مختل ہونے كا باعث بنے گا_ اب بحث اس ميں ہے كہ كيا ''ولايت تدبيرى ''اور '' سياسى حاكميت'' قضاوت كى مثل ہے يا فتوى كى مثل ؟ اور كيا فقہى اعلميت اس ميں شرط ہے؟

اگر ہم روايات كو ان كى سند كے ضعف و قوت سے قطع نظر كركے ديكھيں تو ان سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ '' اعلميت شرط'' ہے _ كتاب سليم ابن قيس ہلالى ميں حضرت اميرالمؤمنين سے روايت كى گئي ہے كہ :

''ا فينبغى أن يكونَ الخليفة على الا ُمّة الاّ اعلمهم بكتاب الله و سنّة نبيّه و قد قال الله : ( ( أفمن يَهدى الى الحقّ أحقّ أن يتّبع أمّن لا يَهدّى إلاّ أن يُهدي ) ) (۱)

____________________

۱) كتاب سليم بن قيس ہلالي، ص ۱۱۸_


امت پر خليفہ وہى ہو سكتا ہے جو دوسروں كى نسبت كتاب خدا اور سنت رسول (ص) كو زيادہ جانتا ہو _ كيونكہ اللہ تعالى فرماتا ہے : كيا جو شخص حق كى طرف ہدايت كرتا ہے زيادہ حقدار ہے كہ اس كا اتباع كيا جائے يا وہ شخص جو ہدايت كرنے كے قابل نہيں ہے بلكہ يہ كہ خود اس كى ہدايت كى جائے_

برقى اپنى كتاب ''المحاسن'' ميں رسولخدا (ص) سے روايت كرتے ہيں:

''مَن أمّ قوماً و فيهم أعلم منه أو أفقه منه لَم يَزَل أمرهم فى سفال الى يوم القيامة'' (۱)

جب كسى قوم كا حاكم ايسا شخص بن جاتا ہے كہ اس قوم ميں اس سے زيادہ علم ركھنے والا اور اس سے بڑا فقيہ موجودہو تو قيامت تك وہ قوم پستى كى طرف گرتى رہے گے_

معاويہ كے سامنے امام حسن خطبہ ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

''قال رسول الله (ص) :'' ما ولّت أُمة أمرها رجلاً قطّ و فيهم من هو أعلم منه الاّ لم يزل أمرهم يذهب سفالاً حتّى يرجعوا الى ما تركوا'' (۲)

رسولخدا (ص) نے فرمايا ہے كہ جب امت اپنى حكومت ايسے شخص كے حوالہ كرديتى ہے جس سے زيادہ علم ركھنے والے موجو د ہوں تو وہ امت ہميشہ پستى اور زوال كى طرف بڑھتى رہتى ہے _ يہاں تك كہ اسكى طرف پلٹ آئيں جسے انہوں نے ترك كيا تھا_

____________________

۱) المحاسن برقى ،ج ۱ ، ص ۹۳ ، ح ۴۹_

۲) غاية المرام ،بحراني، ص ۲۹۸_


اس مسئلہ كے حل كيلئے درج ذيل نكات پر غور كرنا ضرورى ہے_

۱_ شيعہ فقہاء كے اقوال كا مطالعہ كرنے سے معلوم ہوتا ہے كہ فتوى ، تقليد اور مرجعيت كے علاوہ كسى اور امر ميں اعلميت شرط نہيں ہے_ جنہوں نے اعلميت كو شرط سمجھا ہے انہوں نے اسے مرجعيت اور تقليد ميں منحصر قرار ديا ہے_آيت اللہ سيد كاظم طباطبائي كتاب ''العروة الوثقى '' ''جو كہ بعد والے فقہاء كيلئے ہميشہ سے قابل توجہ رہى ہے '' ميں كہتے ہيں:

لا يعتبر الأعلمية فى ما أمره راجع إلى المجتهد إلاّ فى التقليد ; و أمّا الولاية فلا يعتبر فيها الأعلمية (۱)

مجتہدكے ساتھ مربوط امور ميں سے تقليد كے علاوہ كسى ميں اعلميت شرط نہيں ہے، ولايت ...ميں بھى اعلميت شرط نہيں ہے_

وہ فقہاء جنہوں نے كتاب العروة الوثقى پر حواشى تحرير فرمائے ہيں انہوں نے بھى اس مسئلہ كو قبول كيا ہے_ بنابريں آيت اللہ حائرى ، آيت اللہ نائينى ، آيت اللہ ضياء عراقى ، آيت اللہ كاشف الغطائ، سيد ابوالحسن اصفہانى ، آيت اللہ بروجردى ، سيد احمد خوانسارى ، امام خمينى ، آيت اللہ ميلانى ، آيت اللہ گلپايگانى ، آيت اللہ خوئي ، آيت اللہ محسن حكيم اور آيت اللہ محمود شاہرودى (رحمة اللہ عليہم) بھى حاكم شرعى كيلئے فقہى اعلميت كو شرط قرار نہيں ديتے_

شيخ انصارى (رحمة اللہ عليہ) بھى اختلاف فتوى كے وقت اعلميت كو معتبر سمجھتے ہيں حاكم شرع كى ولايت ميں اسے شرط قرار نہيں ديتے_

____________________

۱) العروة الوثقى ،مسئلہ ۶۸، اجتہاد و تقليد_


آپ فرماتے ہيں :

''و كذا القول فى سائر مناصب الحكم كالتصرّف فى مال الإمام و تولّى أمر الأيتام و الغيّب و نحو ذلك; فإنّ الاعلمية لا تكون مرجّحاً فى مقام النصب و إنّما هو مع الاختلاف فى الفتوى ''(۱)

اور يہى قول تمام مناصب حكم ميں جارى ہے_ مثلا مال امام ميں تصرف ، يتيموں اور غائب كے امور كى سرپرستى و غيرہ ، كيونكہ ان سب مناصب ميں اعلميت كو ترجيح حاصل نہيں ہے البتہ جب فتاوى ميں اختلاف ہوجائے تو اس وقت اعلميت كو ترجيح دى جائے گى _

صاحب جواہر كہتے ہيں : نصب ولايت كے متعلق جو نصوص اور روايات ہيں ان ميں فقاہت كى شرط ہے نہ كہ اعلميت كى _

''بل لعل اصل تأهل المفضول و كونه منصوباً يجرى على قبضه و ولايته مجرى قبض الافضل من القطعيات التى لاينبغى الوسوسة فيها، خصوصاً بعد ملاحظة نصوص النصب الظاهرة فى نصب الجميع الموصوفين بالوصف المذبور لا الافضل منهم، والا لوجب القول '' انظروا الى الافضل منكم'' لا ''رجل منكم'' كما هو واضح بأدنى تأمّل'' (۲)

____________________

۱) التقليد ،شيخ انصارى ،ص ۶۷_

۲) جواہر الكلام ،ج ۴۰، ص ۴۴، ۴۵_


۲_اجتماعى امور كى تدبير كيلئے حكم كى شناخت كے علاوہ موضوع كى پہچان اورشناخت بھى ضرورى ہے _ دوسرے لفظوں ميں معاشرے كے امور كے انتظام اورتدبير كيلئے فقط جزئي احكام اور فقہى فروعات كے استنباط كى صلاحيت كافى نہيں ہے _ بنابريں ممكن ہے ان روايات ميں موجود لفظ اعلميت سے مراد يہ ہو كہ حكم اور موضوع كى شناخت سميت ہر لحاظ سے توانائي اور صلاحيت ركھتا ہو، يعنى وہ امت جس ميں ايك ايسا شخص موجود ہو جو انتظامى امور كے سلسلہ ميں اعلم ہو اور علمى اور عملى صلاحيت كے لحاظ سے دوسروں سے آگے ہو، اسے چھوڑ كر اپنے امور اس شخص كے حوالہ كرنا جو اعلم نہيں ہے كبھى بھى سعادت و كاميابى كا باعث نہيں بن سكتا_

۳_فقاہت اور اجتہاد كے مختلف پہلو ہيں; ممكن ہے ايك فقيہ عبادات كے باب ميں اعلم ہو ، دوسرا معاملات ميں اور تيسرا اجتماعى اور سياسى امور ميں اعلم ہو_

حكم اور موضوع كى مناسبت كا تقاضا يہ ہے كہ اگر اعلميت كى شرط پر مصرّ رہيں تو پھر اجتماعى اور سياسى امور ميں اعلميت ''سياسى رہبر اور ولى ''كيلئے معيار ہونى چاہيے كيونكہ صرف عبادات يا معاملات ميں اعلميت'' سياسى ولايت'' كيلئے ترجيح كا باعث نہيں بنتى _بعض روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ معاشرتى اور سياسى امور ميں ''اعلميت'' معيار ہے _ مثلا اس روايت ميں '' فيہ'' كى ضمير اعلميت كو حكومت ميں محدود كر رہى ہے_

''ايها الناس، انّ احق الناس بهذا الامر ا قواهم عليه، و اعلمهم با مر الله فيه'' (۱)

اے لوگو حكومت كرنے كا سب سے زيادہ حقدار وہ ہے جو اس پر سب سے زيادہ قادر ہو اور اس حكومت كے سلسلہ ميں دوسروں كى نسبت امر خدا كو زيادہ جانتا ہو _

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۳_


خلاصہ :

۱) اسلام كے سياسى نظام كى ايك خصوصيت يہ ہے كہ وہ سياسى اقتدار كيلئے ذاتى اور انفرادى خصوصيات اور كمالات كا بھى قائل ہے_

۲) اسلامى معاشرہ كے حاكم كى اہم ترين صفت ''فقاہت'' اور اسلام كے بارے ميں مكمل اور عميق آگاہى ہے_

۳) ولايت فقيہ كى ادلّہ روائي سے ''فقاہت كى شرط'' كا صاف پتہ چلتا ہے_

۴)بہت سى نصوص ميں شيعوں كو احاديث كى روايت كرنے والے راويوںكى طرف رجوع كرنے كى ترغيب دلائي گئي ہے كہ جس سے مراد فقہاء ہيں، كيونكہ فقاہت اور تفكر كے بغير فقط احاديث كا نقل كرنا مرجعيت كيلئے كافى نہيں ہے_

۵)اسلامى حاكم كى دوسرى اہم ترين شرط اسكا ''عادل'' ہوناہے_

۶)قرآن مجيد ميں اللہ تعالى نے مختلف آيات كے ذريعہ لوگوں كو ان افراد كى اطاعت كرنے سے منع كيا ہے جن ميں كسى لحاظ سے بے عدالتى ہو_

۷) ادلّہ روائي سے معلوم ہوتا ہے كہ فاسق و فاجر كى ولايت ، ''ولايت طاغوت ''كى قسم ہے_

۸)رہبرى اور حاكميت كى بعض صفات اور شرائط مثلا ً عقل ، حسن تدبير اور صلاحيت، عقلائي پہلو كى حامل ہيں_

۹) شرائط رہبرى كى مباحث ميں سے ايك اہم بحث اعلميت كى شرط كا معتبر ہونا ہے_

۱۰) اكثرفقہا كى نظر ميں اعلميت فتوى كى شرط ہے_ ليكن فقيہ كى دوسرى ذمہ داريوں مثلا قضاوت اور امور حسبيہ كى سرپرستى ايسے امور كيلئے اعلميت شرط نہيں ہے_

۱۱) معاشرتى امور كى تدبير كيلئے حكم كى شناخت كے علاوہ موضوع كى شناخت ، سياسى حالات سے آگاہى اور داخلى و عالمى روابط كے متعلق معلومات بھى ضرورى ہيں لہذا بعض روايات ميں جو اعلميت كو شرط قرار ديا گيا ہے اسے صرف حكم كى شناخت كے استنباط ميں محدود نہيں كيا جاسكتا_


سوالات :

۱) سياسى ولايت ميں '' فقاہت كى شرط''پر كيا دليل ہے؟

۲) سياسى ولايت ميں عدالت كى شرط كى بعض ادلّہ كو اختصار كے ساتھ بيان كيجئے_

۳)استنباط ميں اعلميت ،شرعى ولايت كى كونسى قسم كے ساتھ زيادہ مناسبت ركھتى ہے؟

۴)قضاوت كے منصب كيلئے اعلميت شرط نہيں ہے _كيوں؟

۵)كيا ''سياسى ولايت ''ميں ''اعلميت'' شرط ہے؟


چھبيسواں سبق:

رہبر كى اطاعت كى حدود

اس سبق كا اصلى موضوع يہ ہے كہ ولايت فقيہ پر مبنى نظام ميں لوگ كن امور ميں رہبر كى اطاعت كرنے كے پابند ہيں اور ولى فقيہ كى اطاعت كا دائرہ كس حد تك ہے؟ كيا بعض امور ميں اس كى مخالفت كى جاسكتى ہے؟ اور كيا اس كے فيصلے يا نظريئے كو رد كرسكتے ہيں؟اس سوال كے جواب سے پہلے دو تمہيدى مطالب كى طرف توجہ دينا ضرورى ہے_ پہلا يہ كہ ولايت فقيہ پر مبتنى سياسى نظام ميں رہبر كا كيا مقام ہے؟ اس كى وضاحت كى جائے_ اس كے بعد مختلف قسم كى مخالفتوں اور عدم اتباع كى تحقيق كى جائے_

نظام ولايت ميں رہبر كا مقام

قرآن كريم ميں اللہ تعالى خود كو ولى يكتا اور يگانہ و بلا اختلاف حاكم قرار ديتا ہے_ وہ انسانوں پر حقيقى ولايت ركھتا ہے، اور قانون گذارى اور امر و نہى كا حق فقط اسى كو حاصل ہے ارشاد خداوندى ہے:


( ''فالله هو الولي'' ) (۱)

پس خدا ہى ولى ہے_

( ''ان الحكم الا لله'' ) (۲)

حكم فقط خدا كى طرف سے ہے_

( ''ما لكم من دون الله من وليّ'' ) (۳)

اللہ كے سواتمہارا كوئي ولى نہيں ہے_

( ''انما وليكم الله'' ) (۴)

تمھارا ولى فقط خدا ہے_

( ''الا له الخلق و الامر'' ) (۵)

خبرداراسى كيلئے خلق اور امرہے_

ان مطالب كو اگر ''اصل عدم ولايت ''كے ساتھ ملا كر ديكھيں تو يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ كوئي شخص بھى كسى دوسرے پر ولايت نہيں ركھتا ، اور اسے حكم دينے يا اس كيلئے قانون بنانے كا حق نہيں ركھتا_ يہ مقام و منزلت فقط خدا كو حاصل ہے_ ہاںاگر حقيقى ولايت كا مالك يعنى خدا ايك يا چند افراد كو يہ ولايت بخش دے اور حق اطاعت عطا كردے تو پھر ان مقرر كردہ افراد كى ولايت بھى معتبر اور مشروع ہوگى _ قرآن و احاديث كى رو سے اللہ تعالى نے يہ ولايت معصومين كو عطا كى ہے_ اور ''ولايت انتصابي'' كى ادلّہ كے لحاظ سے ائمہ معصومين كى طرف سے عادل فقہا اس ولايت كے حامل ہيں_لہذا زمانہ غيبت ميں علماء كے اوامر و نواہى قابل اعتبار و قابل اطاعت ہيں_ اس لحاظ سے فقيہ كى ولايت رسولخدا (ص) اور ائمہ اہلبيت كى ولايت كى ايك كڑى ہے_ اور رسولخدا (ص) اور ائمہ كى ولايت كا سرچشمہ خداوند كريم كى ولايت و حاكميت ہے_

____________________

۱) (سورہ شورى آيت ۹)_

۲) (سورہ انعام آيت ۵۷)_

۳) (سورہ بقرہ آيت ۱۰۷)_

۴) (سورہ مائدہ آيت ۵۵)_

۵) (سورہ اعراف آيت۵۴)_


ولايت فقيہ كى نصوص اور ادلّہ كا نتيجہ يہ ہے كہ '' فقيہ عادل ''حكومت كرنے كا حق ركھتا ہے اور سياسى ولايت كا حامل ہونے اور ائمہ معصومين كى طرف سے منصوب ہونے كى وجہ سے امر و نہى اور مسلم معاشرہ كے اجتماعى اورعمومى قوانين بنانے كا حق ركھتا ہے اور اس كے فرامين كى اطاعت واجب ہے_

فقيہ كى ''ولايت انتصابي'' كى بنياد پر باقى حكومتى اداروں كى مشروعيت بھي'' ولى فقيہ'' كے حكم كى بنا پر ہوگي_ فقيہ كى سياسى ولايت كى مشروعيت حكومتى ڈھانچے كے باقى اداروں كى مشروعيت كا سرچشمہ ہے كيونكہ اگر ولى فقيہ كا نفوذ نہ ہو تو باقى تمام حكومتى اداروں اور وزارتوں كى '' مشروعيت'' بحران كا شكار ہوجائے گى _ مثال كے طور پر كچھ وزراء كا بينہ ميں كوئي قرار داد منظور كرتے ہيں، پارليمينٹ ميں كوئي قانون پاس كرتے ہيں، يا كسى معاملہ ميں اپنے اختيارات استعمال كرتے ہيںتو سوال يہ ہے كہ پارليمينٹ ميں منظور شدہ قانون كے ہم كيوں پابند ہوں ؟ كيوں حكومتى فرامين پر عمل كريں؟ كس بنياد پر ملك كے انتظامى اور قضائي قوانين كا احترام كريں؟ اور كس دليل كى رو سے ان كى اطاعت كريں؟

قرآنى آيات كى روسے قانون بنانے اور فرمان دينے كا حق خدا اور ان افراد كو حاصل ہے جو اس كى طرف سے ولايت ركھتے ہوں_

سورہ نساء كى آيت ۵۹ ميں ارشاد خداوندى ہے_

''اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم ''

اللہ كى اطاعت كرو اور رسول اور جو تم ميں سے صاحبان امر ہيں ان كى اطاعت كرو_

لہذا ان كے علاوہ كوئي شخص امر و نہى كرنے اور قانون بنانے كا حق نہيں ركھتا_مگر جب اس كى ولايت اور اختيار ان امور ميں ثابت ہوجائے تو پھر اسے يہ اختيار حاصل ہوجائے گا_


پس كچھ لوگوں كا بعض افراد كى را ے سے پارليمينٹ ميں پہنچ جانا ان كے قانون وضع كرنے اور امر و نہى كرنے كو شرعى جواز عطا نہيں كرتا _ را ے دينے اور نہ دينے والوں كيلئے ان كى اطاعت اور ان كے بنائے ہوئے قوانين كو تسليم كرنے كيلئے كوئي شرعى وجوب نہيں ہے_ كيونكہ لوگوں كى را ے اس شخص كو حكمرانى كے امور ميں شرعى ولايت كے منصب كا حامل قرار نہيں ديتي_ مگريہ كہ شرعى ولايت كا حامل شخص كسى كو قانون گذارى اور امر و نہى كا حق دے دے_

يہ بحث سياسى اقتدار كے سب اركان ميں جارى ہے_ مثلا عدليہ ميں اگر قاضى اس شخص كى طرف سے مقرر كيا گيا ہے جس كى ولايت مشروع ہے تو پھر اس قاضى كا فيصلہ بھى شرعى حيثيت ركھتا ہے_ اسى وجہ سے ہمارى روايات ميں اُن افراد كى حكومت اور ولايت كو'' ولايت جور اور ولايت طاغوت'' سے تعبير كيا گيا ہے جو اسلامى معاشرہ كى سرپرستى كى شرائط كے حامل نہيں ہيں اور ان كے حكّام اور عمّال كو ظالم اور طاغوت كے كارندے كہا گيا ہے_

بنابريں شيعوں كے سياسى نظام ميں ولايت فقيہ كو بہت بڑى اہميت حاصل ہے_ كيونكہ سياسى نظام كے تمام اركان كى مشروعيت كا سرچشمہ يہى ہے_ اسى نظريہ كى بناپر اسلامى جمہوريہ كے اساسى قانون ميں جو كہ ولايت فقيہ پر مبتنى ہے بنيادى قانون كى تصويب اور عوام كى را ے سے منتخب ہونے والے صدر كيلئے رہبر كى تائيد حاصل كرنا ضرورى ہے_ صرف يہ كہ كچھ افراد نے مل كر قانون بناديا اور لوگوں نے بھى اس كے متعلق مثبت را ے دے دى اس سے شرعى طور پر اس كى اطاعت كا لازم ہونا ثابت نہيں ہوتا _ مگر يہ كہ '' صاحب ولايت شرعي'' اس كى تائيد كردے اور اس كے شرعى ہونے كى گواہى دے دے_ اسى طرح صدر كے اوامر و نواہى كى مشروعيت رہبر كى تائيد سے مربوط ہے كيونكہ صدر كيلئے لوگوں كى را ے اسے شرعى ولايت عطا نہيں كرتي_


مخالفت كى اقسام

اسلام كے سياسى نظام ميں رہبرى اور ولايت كے اعلى مقام كى وضاحت كے بعد اس نكتہ كى تحقيق ضرورى ہے كہ كونسے موارد ميں رہبر كى اطاعت واجب ہے؟ اور كونسے موارد ميں ولى فقيہ كى مخالفت كى جاسكتى ہے؟ اس سے پہلے يہ جان لينا ضرورى ہے كہ مخالفت دو طرح كى ہوتى ہے :

الف : مخالفت عملى ب : مخالفت نظري

مخالفت عملي: سے مراد يہ ہے كہ حكومت كے فرامين اور قوانين پر عمل نہ كرنا _ جو شخص كسى حكومت كى عملا مخالفت كرتا ہے وہ در حقيقت ملكى مجرم ہے اور عملاً اس حكومت كے سياسى اقتدار كے ساتھ بر سر پيكار ہے_

مخالفت نظرى :كا تعلق اعتقاد ، را ے اور نظر و فكر سے ہے_ وہ شخص جسے حكومت كے بعض قوانين اور منصوبوں پر اعتراض ہے اورانہيں صحيح نہيں سمجھتا ليكن عملى طور پر مخالفت بھى نہيں كرتا اسے نظرى مخالف كہا جاتا ہے_ ايسے شخص كوقانون شكن يا ملكى مجرم نہيں كہتے بلكہ بعض منصوبوں كے متعلق اس كى را ے حكومت كى را ے سے مختلف ہوتى ہے_

ولى فقيہ كى مخالفت كا امكان

ان دو تمہيدى نكات يعنى رہبرى اور ولايت كا مقام اور اس كى مخالفت كى اقسام كے ذكر كرنے كے بعد اس سبق كے اصلى سوال كے جواب كى بارى آتى ہے_سوال يہ تھا كہ نظام ولايت ميں ولى فقيہ كى اطاعت واجب محض ہے يعنى كسى بھى صورت ميں اسكى مخالفت نہيں كى جاسكتى نہ عملى نہ نظرى يا شرعاً اس كى مخالفت ممكن ہے؟

وہ احكام يا فرامين جوولى فقيہ صادر كرتا ہے دوسرے سياسى نظاموں كے صاحبان اقتدار كے فرامين كى


طرح دو اركان پر مشتمل ہوتے ہيں_

الف: موضوع كى شناخت _

ب : اس موضوع كے مناسب حل كى تشخيص يعنى حكم كى شناخت _

حالات اور موضوع كى دقيق اور گہرى شناخت ہر قسم كے فيصلے اور حكم كيلئے ضرورى ہے_ مخصوصاً وہ موضوعات جن كا تعلق ملك كے اجتماعى مسائل سے ہو اور جو عوام كى تقدير پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہوں مثلا وہ مسائل جن كا تعلق ملك كے امن و امان ، ثقافت اور اقتصاد سے ہے_ اس قسم كے اہم اور بنيادى موضوعات ميں بہت كم ايسے موارد ملتے ہيں جن ميں تمام صاحبان نظر كى آراء مكمل طور پر ايك دوسرے سے ملتى ہوں _ اس قسم كے كسى مسئلہ ميں اگر ولى فقيہ كوئيحكم صادر كرے توممكن ہے اس نے جو موضوعات كى تشخيص دى ہے وہ دوسرے صاحبان نظر كى رائے كے مخالف ہو _ كيا اس بات پر كوئي دليل ہے كہ ولى فقيہ كى تشخيص ،كلى طور پر تمام موارد ميں دوسرے موضوع شناس افراد كى تشخيص پر ترجيح ركھتى ہے ؟ اور نتيجتاً اس موضوع كى شناخت كا قبول كرنا تمام افراد پر واجب ہے _ اور وہ اس كى مخالفت ميں اپنى را ے كے اظہار كا حق نہيں ركھتے؟

اگر ولى فقيہ نے صدور حكم اور اپنے فيصلہ كو آخر ى شكل نہيں دى تو پھر اس موضوع كے سلسلہ ميں صاحبان نظر كيلئے نقد و تنقيد اور تحقيق و بررسى كا دروازہ كھلا ہے_ اور ولى فقيہ كے نظريہ كامعلوم ہوجانا اس بحث و تحقيق ميں ركاوٹ نہيں بن سكتا _اولياء دين كى عملى سيرت گواہ ہے كہ انہوں نے اپنے دوستوں كو اجازت دے ركھى تھى كہ وہ ان موضوعات و مسائل ميں اپنى را ے دے سكتے ہيں ، چاہے وہ ان كى را ے كے مخالف ہى كيوں نہ ہو _ ان كا مسلمانوں اور اپنے دوستوں سے مشورہ لينا اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ '' شناخت موضوع'' ميں ان كى اطاعت ضرورى نہيں ہے_


ليكن جس وقت ولى فقيہ اور اسلامى معاشرہ كا حاكم كسى موضوع كو آخرى شكل دے دے اور ايك حكم صادر كردے تو تمام افراد پر اس حكم كا اتباع كرنا واجب ہے اور كسى كو حق نہيں پہنچتا كہ وہ شناخت موضوع ميں اختلاف نظر كے بہانے اس الزامى حكم كى مخالفت كرے اور ملكى مجرم بنے_ بنابريں ولى فقيہ كے احكام اور فرامين كى عملى اطاعت ضرورى ہے اگر چہ شناخت موضوع ميں ايسا نہيں ہے_

ولى فقيہ كے احكام كى اطاعت كے وجوب كى فقہى دليل مقبولہ عمر ابن حنظلہ جيسى بعض روايات ہيں كہ جن ميں حاكم كے حكم كى مخالفت كو حكم خدا كے خفيف سمجھنے،مخالفت اہلبيت اور خدا كے حكم سے روگردانى كرنے كے مترادف قرار ديا گيا ہے_

''فاذا حكم بحكمنا فلم يقبل منه فانّما استخف بحكم الله و علينا ردّ و الرادّ علينا الراد على الله '' (۱)

ممكن ہے كوئي يہ تصور كرے كہ اس روايت ميں انكار اور عدم جواز ردّ سے مراد حكم قاضى كا رد كرنا ہے اور حاكم شرع اور ولى فقيہ كا حكومتى حكم اس ميں شامل نہيں ہے _ يہ تصور اس غفلت كا نتيجہ ہے كہ قضاوت بھى جامع الشرائط فقيہ كى ولايت كا ايك شعبہ ہے_ جب ايك مخصوص جزئي نزاع ميں فقيہ كے حكم كى مخالفت نہيں كى جاسكتى تو فقيہ كے اس سے بڑے منصب ميںجو كہ اسلامى معاشرہ كا نظام چلانا ہے، اور حكومتى احكام صادر كرنا ہے ميں يقيناً اس كے فرامين كى مخالفت جائز نہيں ہے_ علاوہ ازيں امام صادق نے يہ جملہ فقيہ كو منصب حكومت پر فائز كرنے كے بعد فرمايا ہے پس يہ حديث حاكم كى مخالفت كے متعلق ہے اورصرف قاضى كى مخالفت ميں منحصر نہيں ہے_

____________________

۱) وسائل الشيعہ، ج ۲۷، ص ۱۳۶، ۱۳۷_ باب ۱۱، ابواب صفات قاضى ح ۱_ ترجمہ پہلے گزر چكا ہے_


حاكم اور ولى امر كى عملى مخالفت جائز نہيں ہے ليكن نظر اور را ے ميں اس كا ساتھ دينا ضرورى نہيں ہے_ يعنى مومنوں پر واجب نہيں ہے كہ وہ اعتقاد اور نظر ميں بھى حاكم كے ہم را ے اور ہم خيال ہوں بلكہ ان سے فقط يہ كہا گيا ہے كہ عملاًاس كے مطيع ہوں اور اختلال نظام كے اسباب پيدا نہ كريں اسى وجہ سے بعض فقہاء نے اگر چہ حكم حاكم كى مخالفت اور ردّ كرنے كو حرام قرار ديا ہے ، ليكن اس كے متعلق بحث كو حرام قرار نہيں ديا_ (۱)

ولى فقيہ كى اطاعت كا دائرہ حكومتى احكام تك محدود ہے _ اگر ولى فقيہ كسى مورد ميں حكم نہيں ديتا بلكہ فقط ايك چيز كو ترجيح ديتا ہے يا مشورے كے طور پر اپنى رائے كا اظہار كرتا ہے ہے ،تو اس وقت اس كى اطاعت شرعاً واجب نہيں ہے_ اسى طرح ولى فقيہ كے حكومتى حكم كى اطاعت اس كے مقلدين كے ساتھ مخصوص نہيں ہے بلكہ ہر مسلمان مكلف حتى كہ صاحب فتوى مجتہد پر بھى اس حكومتى حكم كى اطاعت واجب ہے_(۲)

آنے والے سبق ميں ہم حكومتى حكم كى حقيقت و ماہيت اور اس سے متعلقہ مباحث پر تفصيلى گفتگو كريں گے_ اسلامى معاشرہ كے رہبر كے حكم كے نفوذ اور اس كى عملى مخالفت كے عدم جواز پر اسلام كى تاكيد اور اصرار اس وجہ سے ہے كہ اسلامى حاكم امت مسلمہ كى عزت و اقتدار كا محور ہے، امت كى وحدت اور اس كى صفوںميں اتحاد عادل ، فقيہ، امين اور متقى رہبر كى عملى اطاعت اور ہمراہى ميں مضمر ہے _ اس كى عزت، امت مسلمہ كى حفظ حرمت اور احترام كا باعث بنتى ہے_ محمد ابن سنان نے جب امام رضا سے جنگ سے فرار ہونے كى حرمت

____________________

۱) جو اہر الكلام ،ج ۴۰ ، ص ۱۰۵_

۲) فقہاء نے صريحاً كہا ہے كہ ولى فقيہ كى اطاعت شرعى كا دائرہ حكومتى حكم تك محدود ہے_ اور يہ اطاعت باقى تمام فقہاء پر واجب ہے_ العروة الوثقى كے باب اجتہاد و تقليد كے مسئلہ ۵۷ ميں آيا ہے كہ جامع الشرائط حاكم كے حكم كى مخالفت جائز نہيں ہے _ حتى كہ دوسرے مجتہد كيلئے بھى ،مگر يہ كہ اس كا غلط ہونا ثابت ہوجائے _ آيت اللہ سيد كاظم حائرى اس سوال كا جواب ديتے ہوئے كہ جب ايك جامع الشرائط فقيہ( ولى فقيہ) كوئي حكم دے تو كيا اس شہر كے دوسرے فقہاء پر اس حكم كى اطاعت واجب ہے جواب ديتے ہيں ''ہاں''نيز اس سوال _ كہ كيا ان افراد پر ولى فقيہ كے اوامر كى اطاعت واجب ہے جو اس كے مقلد نہيں ہيں _كا جواب ديتے ہوئے كہتے ہيں كہ راہبر ولى امر ہونے كى حيثيت سے جو حكم ديتے ہيں سب پر اس كى اطاعت واجب ہے چاہے وہ اس كے مقلد نہ بھى ہوں _

ملاحظہ ہو: الفتاوى المنتخبہ ج ۱ ، كتاب الاجتہاد و التقليد ،مسئلہ ۳۶، ۴۷_


كى وجہ پوچھى تو آپ نے فرمايا:

اللہ تعالى نے جنگ سے فرار كو اسلئے حرام قرار ديا ہے چونكہ يہ فرار دين كے ضعف و كمزورى اور انبياء كرام (ع) اورعادل ائمہ كو خفيف سمجھنے كا باعث بنتا ہے اور دشمن كے مقابلہ ميں ان كى نصرت كے ترك كرنے كا موجب بنتا ہے_ اور يہ كام مسلمانوں كے خلاف دشمن كى جرا ت ميں اضافہ كرتا ہے_(۱)

امام صادق رسولخدا (ص) سے نقل كرتے ہيں : مسلمان كيلئے جائز نہيں ہے كہ وہ ايسى مجلس ميں حاضر ہو جس ميں امام كو برا بھلا كہا جاتا ہو _ حديث يہ ہے:

''قال رسول الله (ص) من كان يؤمن بالله و اليوم الاخر فلا يجلس فى مجلس يسبّ فيه امام ''(۲)

آنحضرت فرماتے ہيں جو خدا اور روز قيامت پر ايمان ركھتا ہے اس كيلئے جائز نہيں ہے كہ ايسى مجلس ميں حاضر ہو جس ميں امام كو برا بھلا كہا جاتا ہو_

آخر ميں اس نكتہ كا بيان كرنا ضرورى ہے كہ ہمارى بحث اس ميں تھى كہ شرعاً ولى امر كى اطاعت كا دائرہ كہاں تك ہے _ اور قانونى اطاعت ہمارى بحث سے خارج ہے_ كيونكہ ہر حكومت كے مختلف اداروں كے كچھ قوانين و ضوابط ہوتے ہيں كہ جن كا قانونى لحاظ سے اتباع واجب ہو تا ہے_اور ان كى خلاف ورزى كرنے والے كا محاكمہ ہوتا ہے_ ولايت فقيہ والے نظام ميں حكومتى احكام و فرامين كى قانونى اطاعت كے علاوہ شرعى اطاعت بھى واجب ہے _

____________________

۱) وسائل الشيعہ، ج ۱۵، ص ۸۷ باب ۲۹، ابواب جہاد العدو ح ۲_

۲) وسائل الشيعہ ج ۱۶ ص ۲۶۶ باب ۳۸ ،ابواب امر و نہى ح ۲۱_

نوٹ: وہ ممالك جو ولى فقيہ كے زير سايہ ہيں اس ميں رہنے والے مسلم و غير مسلم اسى طرح وہ ممالك جن پر ولى فقيہ كا كنٹرول نہيں ہے ميں بسنے والوں كيلئے ولى فقيہ كے حكم كى اطاعت كہاں تك واجب ہے _ اس كيلئے ضميمہ ۲ و ۳ كى طرف رجوع كريں_


خلاصہ :

۱) اصل عدم ولايت اور اس كو ديكھتے ہوئے كہ ولى حقيقى فقط خدوند كريم كى ذات ہے_ ہر قسم كى ولايت كى مشروعيت كا سرچشمہ براہ راست يا بابلواسط تقرّر الہى ہے_

۲)فقيہ كى ولايت انتصابى كى بنياد پر سياسى نظام كے تمام اركان اپنى مشروعيت اور جواز ''ولايت فقيہ''سے اخذ كرتے ہيں _ يہ امر اس منصب كے اعلى مقام كى نشاندہى كرتا ہے_

۳)صرف عوام كى را ے كسى شخص كو قانون گذارى اور امر و نہى كے منصب كا حامل قرار نہيں ديتى _

۴)سياسى صاحبان اقتدار كى مخالفت كى دو قسميں ہيں ، مخالفت عملى اور مخالفت نظري_

۵) جرم عملى مخالفت كے ذريعہ ہوتا ہے_ البتہ كسى فرمان يا قانون كے صحيح نہ ہونے كااعتقاد ركھنا ملكى جرم كا باعث نہيں بنتا_

۶) ولى فقيہ كے احكام اور فرامين كى عملى مخالفت جائز نہيں ہے _ جبكہ اس كى نظرى موافقت ضرورى نہيں ہے_

۷) دوسرے نظاموں كے مقابلہ ميں نظام ولايت فقيہ كو يہ امتياز حاصل ہے كہ اس نظام ميں حكومتى قوانين كى عملى مخالفت جرم كے ساتھ ساتھ شرعى مخالفت بھى شمار ہوتى ہے_

۸)فقيہ عادل كے حكومتى احكام كى اطاعت كا وجوب مقبولہ عمر ابن حنظلہ جيسى روايات سے ثابت ہوتا ہے_

۹)ولى فقيہ كے حكومتى احكام كى اطاعت صرف اس كے مقلدين كے ساتھ مخصوص نہيں ہے _ بلكہ ہر مكلف چاہے وہ مجتہد و فقيہ ہى كيوں نہ ہو اس پر ان احكام كى اطاعت واجب ہے_


سوالات :

۱) اسلام كے سياسى نظام ميں'' فقيہ عادل ''كے مقام كو كيوں خاص اہميت حاصل ہے؟

۲) تمام حكومتى اداروں كى مشروعيت كا سرچشمہ ''ولى فقيہ ''كيوں ہے؟

۳) مخالفت عملى اور مخالفت نظرى سے كيا مراد ہے؟

۴)ولى فقيہ كى كونسى مخالفت جائز ہے؟

۵)ولائي نظام ميں اطاعت كا دوسرے سياسى نظاموں كے ساتھ كيا فرق ہے؟

۶) اسلام، رہبر كے حكم كے نفوذ اور اس كى اطاعت كے وجوب پركيوں اصراركرتا ہے؟

۷) فقيہ عادل كے حكومتى احكام كى اطاعت كن افراد پر واجب ہے؟


ستائيسواں سبق :

حكومتى حكم اور مصلحت

پہلے گذر چكا ہے كہ ''فقيہ عادل'' ولايت عامہ كا حامل ہوتا ہے اور اس كا حكومتى فرمان نہ صرف اس كے مقلدين كيلئے بلكہ دوسرے فقہاء اور ان كے مقلدين كيلئے بھى واجب الاطاعت ہوتا ہے _ يہاں چند سوال ہيں_ حكومتى حكم سے كيا مراد ہے؟ حكومتى حكم اور فتوى ميں كيا فرق ہے؟ حكومتى حكم كن مبانى كى بنياد پر صادر ہوتا ہے؟ كيا حكومتى حكم، قاضى كے حكم كى قسم سے ہے يا اس سے مختلف ہے؟ كيا حكومتى حكم ''فقہ كے احكام ثانويہ'' كى قسم سے ہے؟ كيا حكومتى احكام كے صدور كى كوئي مخصوص حد ہے؟ اس قسم كے سوالات، حكومتى حكم كى حقيقت و ماہيت ، مبنى اور اس كى حد ،كے متعلق بحث كے ضرورى ہونے كو آشكار كرتے ہيں_ اس لئے ضرورى ہے كہ پہلے حكم كى اقسام كى تحقيق و بررسى كى جائے_ تا كہ حكم حاكم اور دوسرے شرعى احكام اور فتوى كے درميان فرق واضح ہوجائے_


حكم كى اقسام

الف : شرعى حكم

حكم كى مشہورترين قسم، شرعى حكم ہے_ شرعى حكم سے مراد يہ ہے كہ اسے شارع مقدس نے ''وضع'' كياہو_ قوانين الہي، شرعى حكم كى واضح مثاليں ہيں_ شرعى حكم كو شارع مقدس صادر كرتا ہے_ اور اسى كے وضع كرنے سے وجود ميں آتا ہے_ شرعى حكم كى دو قسميں ہيں_حكم تكليفى اورحكم وضعي_ ''احكام تكليفي'' سے مراد وہ شرعى قوانين ہيں جو مكلفين كے افعال كے جائز يا ناجائز ہونے كے متعلق اظہار نظر كرتے ہيں_ اس قسم كے احكام اس بات كو واضح اور روشن كرتے ہيں كہ كونسے كام انجام دينا ضرورى ہيں ، اور كن كاموں سے پرہيز كرنا ضرورى ہے_ كونسے كاموں كو انجام دينا بہتر ہے_ اور كونسے كاموں كو ترك كرنا بہتر ہے احكام تكليفى كى پانچ قسميں ہيں_ واجب ، حرام ، مستحب ، مكروہ اور مباح _

شرعى احكام كى دوسرى قسم'' احكام وضعي'' ہے_احكام وضعى بھى شارع مقدس كے وضع كردہ ہيں_ يہ احكام براہ راست مكلف كے فعل كے جائز يا ناجائز ہونے كے متعلق اظہار نظر نہيں كرتے_ احكام وضعى ميں شارع مقدس كے جعل كى وجہ سے شرعى معانى وجود ہيں آجائے ہيں جو'' مخصوص احكام تكليفى ''كا موضوع قرار پاتے ہيں_ مثلا طہارت ، نجاست ،مالكيت اور زوجيت و غيرہ وضعى احكام كے مصاديق ہيں_ نجاست كوئي تكليفى حكم نہيں ہے _ ليكن وہ امور جو شارع كے جعل كردہ اس حكم وضعى كے تحت نجس قرار ديئے گئے ہيں حكم تكليفى كا موضوع قرار پاتے ہيں _ ان كا كھانا پينا اور بعض موارد ميں ان كى خريد و فروخت، حرام ہوجاتى ہے_'' شرعى حكم'' كى اور بھى اقسام ہيں مثلا حكم ظاہرى ، حكم واقعي، حكم اوّلى اور حكم ثانوى و غيرہ كہ دوران بحث ان ميں سے بعض پر ايك نظر ڈاليں گے_


فقہاء كے اجتہاد كا معنى يہ ہے كہ منابع و مصادر سے شرعى حكم كو كشف كرنے كى كوشش كى جائے_ بنابريں مجتہد كافقہى فتوى در حقيقت شارع مقدس كے ''شرعى حكم كا بيان'' ہے_ فقيہ اپنے فتوى سے شرعى حكم جعل نہيں كرتا بلكہ شارع مقدس كے بنائے ہوئے حكم كو بيان كرتا ہے_ مقام استنباط ميں فقيہ اور مجتہد كا فريضہ شارع مقدس كے بنائے ہوئے شرعى حكم كو كشف كرنا ہے_

ب: قاضى كا حكم

تنازعات اور لڑائي جھگڑوں كى تحقيق كے بعد قاضى جو حكم صادر كرتا ہے وہ خود قاضى كا جعل كردہ حكم ہے_ فتوى كى قسم سے نہيں ہے_ كيونكہ فتوى جعل شارع كا بيان كرنا ہے جبكہ مقام قضاوت ميں قاضى حكم كوجعل كرتا ہے_اگر چہ قاضى كا حكم شرعى احكام سے غير مربوط نہيں ہوتا اور قاضى شرعى موازين كے مطابق حكم صادر كرتا ہے جھگڑوں كا فيصلہ كرتا ہے ليكن اس كا كام شرعى حكم كا بيان كرنا نہيں ہوتا بلكہ شرعى احكام كو مد نظر ركھتے ہوئے حكم صادر كرنا ہوتا ہے_ قاضى دونوں طرف كے دلائل سنتا ہے ، پھر ايك طرف'' قرائن و شواہد'' اور دوسرى طرف ''شرعى احكام اور قوانين'' كو مد نظر ركھتے ہوئے حكم صادر كرتا ہے_ پس قاضى كا حكم'' شرعى حكم'' كے علاوہ ايك الگ حكم ہے_

ج: حكومتى حكم

اب تك يہ معلوم ہو چكا ہے كہ فقيہ فتوى دينے كے علاوہ بھى حكم جعل كرسكتا ہے _ اور يہ جعل حكم ''مقام قضاوت'' ميں ہوتا ہے_ سوال يہ ہے كہ فقيہ عادل كا جعل كردہ حكم، فقط تنازعات كے حل اور جھگڑوں كے ختم كرنے تك محدود ہے؟ يقينى طور پر ايسے موارد آتے ہيں جہاں فقہاء نے يہ تسليم كيا ہے كہ ''فقيہ عادل'' تنازعات كے حل كے علاوہ دوسرے مقامات پر بھى حكم ''جعل'' كرسكتا ہے_


اس قسم كے احكام كے دو مشہور مورد ،''رؤيت ہلال ''اور ''حدود الہى كا اجرا'' ہيں_ شيعہ فقہاء نے صراحت سے كہا ہے كہ حدود الہى كا اجرا ،جامع الشرائط فقيہ كى خصوصيات ميں سے ہے اور ان حدود كا اجرا، حاكم شرعى كے حكم كا محتاج ہے _ حدود الہى كا اجرا، تنازعات كى قسم سے نہيں ہے تا كہ اسے قضاوت كے موارد ميں سے قرار ديا جائے_

اس بات كو تسليم كرنے كے بعد كہ فقيہ ''ولايت عام ''ركھتا ہے ، اور جامع الشرائط فقيہ كى ''ولايت '' فتوى دينے ، قضاوت اور بے بس افراد كى سرپرستى كرنے تك محدو دنہيں ہے_ وہ ولايت تدبيرى (سياسى ولايت) كا بھى حامل ہوتا ہے اور جانشينى كے قابل ، تمام امور ميں امام معصوم كا نائب ہوتا ہے_ حكومتى حكم كے صدور كو فقط ''رؤيت ہلال'' اور '' حدود الہى كے اجرا ''ميں منحصر نہيں كيا جاسكتا _ جواہر الكلام كے مصنف فقيہ كى ولايت عامہ كے حامى كے عنوان سے مقبولہ عمر ابن حنظلہ كے جملہ ''انى جعلتہ حاكماً'' كے اطلاق كے پيش نظر ''فقيہ عادل كے حكم كو قضاوت ميں منحصر نہيں سمجھتے'' بلكہ اس سے وسيع اور عام سمجھتے ہيں_ وہ اس مطلب كو حكم حاكم اور فتوى كے درميان فرق كى وجہ بيان كرنے كے ضمن ميں يوں ذكر كرتے ہيں_

''الظاهر أنّ المراد بالاولى الفتوي الإخبار عن الله تعالى بحكم شرعى متعلق بكلى ، كالقول بنجاسة ملا قى البول أو الخمر وأمّا الحكم فهو انشاء إنفاذ من الحاكم لا منه تعالى لحكم شرعى أو وضعى أو موضوعهما فى شيء مخصوص_ و لكن هل يشترط فيه مقارنته لفصل خصومة كما هو المتيقّن من أدلّته؟ لا أقل من الشك والاصل عدم ترتّب الآثار على غيره، أو لا يشترط; لظهور قوله(ع) : '' إنّى جعلتُه حاكماً'' فى أنّ له الانفاذ


والإلزام مطلقاً و يندرج فيه قطع الخصومة التى هى مورد السؤال، و من هنالم يكن إشكال عندهم فى تعلّق الحكم بالهلال والحدود التى لا مخاصمة فيها'' (۱)

ظاہراً فتوى سے مراد اللہ تعالى كے اس شرعى حكم كا بيان كرنا اور اسكى خبر ديناہے جو ايك كلى كے ساتھ مربوط ہوتا ہے، مثلا پيشاب يا شراب كے ساتھ لگنے والى شئے كا نجس ہونا جبكہ ''حكم'' خود حاكم كى طرف سے جعل كردہ ہے نہ كہ اللہ تعالى كى طرف سے كسى شرعى يا وضعى حكم كيلئے يا كسى مخصوص شئے كے موضوع كيلئے_ ليكن كيا اس جعل كردہ حكم ميں شرط ہے كہ صرف تنازعات كے متعلق ہو؟جيسا كہ ادلّہ سے بھى يقينى مقدار يہى معلوم ہوتى ہے يا كم از كم اگر يقينى مقدار نہ بھى ہو تو اس بات كا گمان ہے كہ ادلہ كى دلالت يہى ہے _ اور اصل يہ ہے كہ اس كے علاوہ كسى اور چيز پر يہ آثار مرتب نہيں ہوں گے، يا شرط نہيں ہے؟ كيونكہ معصوم كے قول '' ميں نے اسے تم پر حاكم قرار ديا ہے'' سے يہى ظاہر ہوتا ہے كہ اس كا حكم ہر لحاظ سے نافذ ہے _ اور تنازعات كے فيصلے بھى اسى حكم ميں آجاتے ہيں كہ جس كے متعلق خصوصى طور پر سوال كيا گيا ہے _ اسى لئے علماء اس بات كو تسليم كرتے ہيں كہ رؤيت ہلال اور اجرائے حدود، ميں حاكم كا حكم نافذ العمل ہے _ حالانكہ ان كا تعلق تنازعات سے نہيں ہے_

حكم كى يہ دوسرى اور تيسرى قسم اس لحاظ سے مشترك ہيں كہ دونوں فقيہ كے جعل اور انشاء ہيں اور شارع كے جعل كو كشف كرنے يا بيان كرنے كى قسم سے نہيں ہيں_ البتہ ان دونوں ميں فرق يہ ہے كہ قاضى كا حكم، تنازعات اور جھگڑوں كے فيصلہ كرنے ميں منحصر ہے جبكہ حكومتى حكم تنازعات ميں محدود نہيں ہے_

____________________

۱) جواہر الكلام، ج ۴۰ ، ص ۱۰۰_


حكومتى حكم كے صدور كى بنياد:

حاكم شرع اور فقيہ عادل كے حكم كى چند قسميں ہيں_ جيسا كہ پہلے گزر چكا ہے كہ ماہ مبارك رمضان، شوال اور دوسرے مہينوں كے آغاز كا اعلان، حاكم شرعى كے اختيارات ميں سے ہے_ اگر فقيہ عادل چاند ثابت ہونے كا اعلان كردے تو اس كى اطاعت واجب ہے _ اسى طرح حدود الہى كا اجرا بھى حكم حاكم كى اقسام ميں سے ہے _ اگر چہ شريعت ميں زانى ، محارب ( خدا و رسول سے جنگ كرنے والا)اور شارب الخمر كى حدود بيان كى گئي ہيں _ ليكن ان كے اجرا كيلئے فقيہ عادل كے حكم كى احتياج ہوتى ہے_ حاكم شرع كے احكام كى ايك اور قسم معاشرتى امور اور اسلامى معاشرہ كے اجتماعى مسائل كے ساتھ مربوط ہے حكومتى احكام كى يہى قسم اس وقت ہمارے زير بحث ہے_

اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ ہر سياسى اقتدار كا اہم ترين فريضہ شہريوں كو بعض امور كے انجام دينے اور بعض سے اجتناب كرنے كا پابند كرنا ہوتا ہے_ اجتماعى امور كا انتظام انہى پابنديوں اور امر و نہى كے سايہ ميں پروان چڑھتا ہے_ ولايت فقيہ پر مبتنى سياسى نظام ميں فقيہ عادل جو كہ حاكم شرع ہے عوام كو ان امور پر پابند كرنے كا حق ركھتا ہے اور اس كى حكومتى پابنديوں كى اطاعت شرعاً واجب ہے_

حكومتى احكام كے صدور كى بنياد مسلمانوں اور اسلامى نظام كى مصلحت ہے _ ولى فقيہ مسلمانوں كے مختلف امور كى مصلحت اور رعايت كى بنا پر اسلامى معاشرہ كے اموال ميں تصرف كرتا ہے اور مختلف امور كے انتظام كيلئے احكام صادر كرتا ہے _ امام خمينى اس بارے ميں فرماتے ہيں :

''فللفقيه العادل جميع ما للرسول و الا ئمة (ع) مما يرجع الى الحكومة و السياسة و لا يعقل الفرق، لانّ الوالى _ آيّ شخص كان هو مجرى ا حكام الشريعة والمقيم للحدود الإلهية والآخذ للخراج و سائر الماليات والمتصرّف فيها بما هو صلاح المسلمين _


فالنبيّ (ص) يضرب الزانى ما ة جلدة والإمام (ع) كذلك والفقيه كذلك و يا خذون الصدقات بمنوال واحد و مع اقتضاء المصالح يا مرون الناس بالا وامر التى للوالي، و يجب إطاعتهم ''(۱)

حكومت اور سياست سے متعلقہ تمام اختيارات جو رسولخدا (ص) اور ائمہ معصومين كو حاصل ہيں فقيہ عادل كو بھى حاصل ہيں_ ان ميں تفريق كرنا معقول نہيں ہے كيونكہ والى جو بھى ہو وہى شرعى احكام كو نافذ كرتا ہے، حدود الہيہ كو قائم كرتا ہے ، خراج اور دوسرے ماليات كو وصول كرتا ہے، اور انہيں مسلمانوں كے رفاہ عامہ كے امور ميں خرچ كرتا ہے_ رسولخدا (ص) زانى كو سو كوڑے مارسكتے ہيں_ امام بھى اسى طرح ہيں اور فقيہ بھى _ يہ سب ايك ہى ضابطہ كے مطابق صدقات وصول كرتے ہيں اور مصالح كى بنياد پر لوگوں كو ان اوامر كا حكم ديتے ہيں جو والى كے اختيار ميں ہيں اور لوگوں پر ان احكام كى اطاعت واجب ہے_

يہاں ايك اہم سوال پيش آتا ہے اور وہ يہ كہ وہ مصلحت جو حكومتى حكم كے صدور كى بنياد ہے، اسے اہميت كے لحاظ سے كس درجہ پر ہونا چاہيے كہ حاكم اس حكومتى حكم كے صادر كرنے پر مجبور ہوجائے؟ كيا ہر قسم كى مصلحت ايسے الزامى حكم كے صدور كيلئے كافى ہے؟ يا مصلحت كو اس قدر اہم ہونا چاہيے كہ اسے نظر انداز كرنے سے عسرو حرج اور اختلال نظام لازم آتا ہو؟

اس سوال كو دوسرے انداز سے بھى بيان كيا جاسكتا ہے _ ہم نے علم فقہ اور كلام سے يہ سمجھا ہے كہ ہر فعل كا شارع مقدس كے نزديك ايك'' حكم واقعي'' ہے اور افعال مكلفين ميں سے كوئي بھى فعل پنجگانہ احكام تكليفيہ سے خالى نہيں ہے_ بنابريں حكومتى احكام طبيعى طور پر اس فعل كے حكم واقعى كے مخالف ہوں گے_ بطور مثال تحريم تمباكوكے سلسلہ ميں ميرزا شيرازى كے حكومتى حكم كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے_ شريعت اسلام ميں تمباكو كا استعمال اور اس كى خريد و فروخت مباح ہے_ ليكن اس فقيہ كے حكومتى حكم كى وجہ سے وقتى طور پر اور ان

____________________

۱) البيع ،امام خمينى ج ۲ ص ۴۶۷_


خاص حالات ميں تمباكو كا استعمال اور اس كى خريد و فروخت حرام ہوجاتى ہے _ اب سوال يہ ہے كہ كن موارد ميں مصلحت اور حالات كا تقاضا حكم واقعى كے ملاك( ہمارى مثال ميں اباحت كا ملاك ) پر مقدم ہوجاتے ہيں؟ كيا صرف اسى صورت ميں ہے كہ جب حكومتى حكم كے صدور كى مصلحت كو نظر انداز كرنے سے مومنين كيلئے عسرو حرج لازم آتا ہو اور نظام مسلمين كے اختلال كا باعث بنتا ہو تو فقيہ اس حكم واقعى كے مقابلہ ميں حكومتى حكم صادر كرسكتا ہے؟ يا صرف اگر اسلام اور مسلمين كى مصلحت ،احكام واقعى كے ملاك پر ترجيح ركھتى ہو تويہى ترجيح حكومتى حكم كے صدور كيلئے كافى ہے_ اگر چہ اضطرار ، عسر و حرج اور اختلال نظام كى حد تك نہ بھى پہنچے؟ اس سوال كا جواب اس نكتہ كى وضاحت پر موقوف ہے كہ كيا حكومتى حكم اسلام كے احكام اوّليہ ميں سے ہے يا احكام ثانوية ميں سے؟ اگر حكومتى حكم احكام ثانويہ ميں سے ہے تو اس كا صدور، اضطرار ، عسرو حرج يا اختلال نظام پر موقوف ہے_ دوسرے لفظوں ميں اگر ہم حكومتى حكم كو احكام ثانويہ ميں سے شمار كريں تو اس كا لازمہ يہ ہے كہ وہ مصلحت جو حكومتى حكم كے صدور كى بنياد ہے اسے اس قدر قابل اہميت ہونا چاہيے كہ اسے نظر انداز كرنے سے اختلال نظام مسلمين يا عسرو حرج لازم آتا ہو _ اس مجبورى ميں جب تك ايسے حالات ہيں فقيہ احكام اوليہ كے خلاف وقتى طور پر حكومتى حكم صادر كرے گا_

احكام اوّليہ اور ثانويہ:

پہلے گذر چكاہے كہ انسان كے تمام اختيارى افعال پنجگانہ احكام تكليفيہ ميں سے كسى ايك حكم كے حامل ہوتے ہيں_ بنابريں مكلفين كا ہر فعل ايك حكم اولى ركھتا ہے _ شارع مقدس نے ہر واقعہ اور فعل كے حكم اولى كو مصالح و مفاسد اور اس كے ذاتى اور واقعى ملاكات كے مطابق وضع كيا ہے _ افعال اور اشياء كے احكام اوّليہ ''ذات موضوع'' كو مد نظر ركھتے ہوئے وضع كيئےجاتے ہيں اور اس ميں كسى قسم كے خاص حالات كو پيش نظر نہيں ركھا جاتا _ مردار كا حكم اوّلى ''حرمت'' ہے ، حكم اولى يہ ہے كہ ماہ رمضان كا روزہ ہر مسلمان مكلف پر


واجب ہے ، حكم اولى يہ ہے كہ ہر مسلمان مكلف پر واجب ہے كہ وہ نمازپنجگانہ كيلئے وضو كرے_

كبھى خاص حالات پيش آجاتے ہيں كہ جن كى وجہ سے ''افعال كے حكم اولى ''كو بجا لاناممكن نہيںہوتا_ يہ حالات مكلف كو ايسے دوراہے پرلے آتے ہيں كہ اس كا'' احكام اوليہ'' پر عمل كرنا بہت مشكل ہوجاتا ہے اس صورت ميں شارع مقدس نے مكلف كيلئے ''احكام ثانويہ'' وضع كئے ہيں مثلا اگر چہ مردار كا كھانا حرام ہے، ليكن اگر مكلف اپنى جان بچانے كيلئے اس كے كھانے پر مجبور ہے تو اس صورت ميں اس كيلئے مردار حلال ہے_

( '' فمن اضطر غير باغ و لا عاد فلا أثم عليه '' ) (۱)

اگر كوئي مضطر ہوجائے اور بغاوت كرنے والا اور ضرورت سے تجاوز كرنے والا نہ ہو تو اس پر كوئي گناہ نہيں ہے_

بنابريں اضطرار ايك عارضى عنوان ہے جو كہ مكلف كو ايك خاص حالت ميں عارض ہوكر سبب بنتا ہے كہ جب تك مكلف اس حالت ميں گرفتار ہے اس پر حكم اولى كى بجائےحكم ثانوى لاگو ہوگا _

حكم ثانوى اضطرار ، ضرر،اكراہ ، عسرو حرج اور اختلال نظام جيسے خاص عناوين كے ساتھ مربوط ہوتا ہے_ البتہ احكام اوّليہ اور ثانويہ دونوں حكم واقعى كى قسميں ہيں_ دونوں شارع مقدس كے جعل كردہ ہيں_ البتہ اتنا فرق ہے كہ حكم ثانوى كا مرتبہ حكم اولى كے بعد ہے_ يعنى حكم ثانوى كى بارى اس وقت آئے گى جب كوئي مخصوص عنوان اس پر عارض ہوجائے اور حكم اولى پر عمل كرنا ممكن نہ ہو_ دوسرا يہ كہ حكم ثانوى عارضى ہوتا ہے_

حكم اوّلى اور حكم ثانوى كى وضاحت كے بعد اب يہ ديكھنا ہے كہ حكومتى حكم احكام ثانويہ ميں سے ہے يا اوّليہ ميں سے؟

____________________

۱) سورہ بقرہ آيت ۱۷۳_


خلاصہ :

۱) حكم كے تين مشہور معانى ہيں_ شرعى حكم ، قاضى كا حكم ، حكومتى حكم_

۲) شرعى حكم سے مراد يہ ہے كہ اسے شارع مقدس نے وضع و جعل كيا ہے_

۳)مجتہد كا فتوى شرعى حكم كا كشف و استنباط ہوتا ہے_ يعنى فقيہ مقام فتوى و استنباط ميں شرعى حكم كے بارے ميں خبر ديتا ہے_ اپنى طرف سے حكم جعل نہيں كرتا _

۴) قاضى فيصلہ كے وقت اپنا حكم صادر كرتا ہے اور اس كا حكم فتوى كى قسم سے نہيں ہے_

۵)فقيہ عادل كے اختيارات كو صرف ''مقام قضاوت ميں جعل حكم ''ميں منحصر نہيں كيا جاسكتا _

۶)فقيہ كى ولايت عامہ كى بنياد پر ''حاكم شرع اور فقيہ عادل كے جعل حكم ''كو رؤيت ہلال اور حدود الہى كے نفاذ و اجرا ميں منحصر نہيں كيا جاسكتا _

۷)حكومتى حكم اور حكم قاضى دونوں انشاء اور جعل ہيں_

۸)حكومتى حكم كے صدور كى بنياد مسلمانوں اور اسلامى نظام كى مصلحت ہے_

۹) كيا ہر قسم كى مصلحت حكومتى حكم كے صدور كى بنياد بن سكتى ہے؟ يا اسے اس قدر قابل اہميت ہونا چاہيے كہ اس كے نظر اندازكرنے سے عسروحرج اور اختلال نظام لازم آتا ہو؟

۱۰) اس سوال كا جواب اس نكتہ كى وضاحت پر موقوف ہے كہ حكومتى حكم ،اسلام كے احكام اوّليہ ميں سے ہے يا احكام ثانويہ ميں سے_

۱۱)احكام ثانويہ كا مرتبہ احكام اوّليہ كے بعد ہے_


سوالات :

۱) حكم شرعى ، حكم تكليفى اور حكم وضعى سے كيا مراد ہے؟

۲) حكم قاضى اور فتوى ميں كيا فرق ہے؟

۳)حكومتى حكم اور قاضى كے حكم ميں كيا فرق ہے؟

۴)حكومتى حكم كے صدور كى بنياد كيا ہے؟

۵)حكم اوّلى اور حكم ثانوى كى بحث كا حكومتى احكام كى بحث ميں كيا كردار ہے؟

۶) احكام ثانويہ كيا ہيں اور احكام اوليہ سے ان كا كيسا تعلق ہے؟


اٹھائيسواں سبق :

حكومتى حكم اور فقيہ كى ولايت مطلقہ

گذشتہ سبق ميں يہ ثابت ہوچكا ہے كہ فقيہ عادل جس طرح شرعى حكم كو استنباط كرسكتا ہے اسى طرح حكومتى حكم كے صادر كرنے كا بھى اختيار ركھتا ہے_

فتوى ميں فقيہ كا كام شارع مقدس كے حكم سے پردہ اٹھانا ہے _ اب جبكہ حكومتى حكم خود فقيہ صادر كرتا ہے_ حكومتى حكم كے جعل اور صادر كرنے ميں فقيہ عادل، شرعى اصول و مبانى كو بھى نظر ميں ركھتا ہے اور اسلام و مسلمين كى مصلحت كو بھى _ گذشتہ سبق كا آخرى سوال يہ تھا كہ ''حكومتى حكم اسلام كے احكام اوّليہ ميں سے ہے يا احكام ثانويہ ميں سے''؟

امام خمينى اس مسئلہ كے جواب كو'' اسلام ميں حكومت كے مقام ''كے ساتھ منسلك كرتے ہيں_ ان كى نظر ميں ولى فقيہ كے اختيارات اور حكومتى حكم كے صدور كا دائرہ اور حد، حكومت اور اسلامى نظام كے احكام اوليہ كے ساتھ رابطے كے تعيّن اور اسلام كى نظر ميں حكومت اور نظام كے مقام كو واضح و مشخص كرنے كے تابع ہے_


اسلامى جمہوريہ ايران كے بانى نجف اشرف ميں اپنے فقہ كے دروس خارج ميں اس نكتہ پر اصرار كرتے تھے كہ حكومت اور اسلامى نظام اسلامى فروعات ميں سے ايك فرع يا اجزائے اسلام ميں سے ايك جزء نہيں ہے بلكہ اس كى شان اس سے بہت بلند ہے اس طرح كہ فقہى احكام حكومت اور اسلامى نظام كى حفاظت اور تثبيت كيلئے ہيں _ اسلامى حكومت شريعت كى بقاء اور حفاظت كى ضامن ہے اسى لئے اولياء الہى نے نظام اسلام و مسلمين كى حفاظت اور بقاء كيلئے اپنى جانوں كو خطرات ميں ڈالتے تھے _ ان كى نظر ميں شرعى احكام امور حكومت ميں سے ہيں_ شرعى احكام ذاتاً مقصود اور ہدف نہيں ہيں بلكہ عدل و انصاف قائم كرنے كيلئے اسلامى حكومت كے ذرائع ہيں اسى لئے روايات ميں حاكم اور ولى فقيہ كو اسلام كا قلعہ كہا گيا ہے (۱) _

''الاسلام هو الحكومة بشؤونها، و الاحكام قوانين الاسلام و هى شان من شؤونها ، بل الاحكام مطلوبات بالعرض و امور آلية لاجرائها و بسط العدالة'' (۲)

امام خمينى اس بات پر اصرار كرتے ہيں كہ حكومت اسلام كے احكام اوّليہ ميں سے ہے_ نظام اور اسلامى حكومت كى حفاظت اہم ترين واجبات الہيہ ميں سے ہے اور اسلام كے باقى تمام احكام پر مقدم ہے_ رہبر انقلاب آيت اللہ خامنہ اى كے نام لكھے گئے اپنے ايك خط ميں امام خمينى فرماتے ہيں:

حكومت رسولخدا (ص) كى ولايت مطلقہ كا ايك شعبہ ہے، اسلام كے احكام اوّليہ ميں سے ہے، اور اس كے تمام احكام فرعيہ ،نماز روزہ اور حج و غيرہ پر مقدم ہے(۳)

____________________

۱) امام خمينى كى درج ذيل عربى عبارت كا مفہوم بھى يہى ہے _(مترجم)

۲) كتاب البيع، ج ۲ ص ۴۷۲_

۳) صحيفہ نور ج ۲۰ ، ص ۱۷۰


لہذا حكومتى حكم كا صدور اسلام اور نظام مسلمين كى مصلحت كے ساتھ مربوط ہے_ ضرورى نہيں ہے كہ عناوين ثانويہ مثلا عسروحرج ، اضطرار يا اختلال نظام ميں سے كوئي ہو بلكہ اسلامى حكم كى مصلحت حكومتى حكم كى بنياد قرار پاتى ہے اگر چہ مذكورہ عناوين ميں سے كوئي بھى نہ ہو_

اس كے باوجود انقلاب كے ابتدائي سالوں ميں بعض موارد ميں انہوں نے حكومتى حكم كے صدور اور بظاہر شريعت كے منافى احكام و قوانين بنانے كا حق پارليمنٹ كو ديا ليكن احتياط اور مزيد استحكام كيلئے ايسے قوانين كے وضع كرنے كو اختلال نظام ، ضرورت اور عسرو حرج جيسے ثانوى عناوين كے ساتھ منسلك كرديا_ اگر چہ آپ فقہى لحاظ سے حكومتى حكم كے صدور كو ان عناوين پر موقوف نہيں سمجھتے اور اسے اسلام كے احكام اوليہ ميں سے سمجھتے ہيں_

مورخہ ۲۰/ ۷/ ۱۳۶۰ ھ ش كو قومى اسمبلى كے اسپيكر كو ايك خط كا جواب ديتے ہوئے لكھتے ہيں:

وہ شئے جو اسلامى نظام كى حفاظت ميں دخالت ركھتى ہے ، جس كا انجام دينا يا ترك كردينا اختلال نظام كا باعث بنے، خرابى و فساد كا باعث بنے يا اس سے حرج و مرج لازم آتا ہو، تو پارليمنٹ كے ممبران كى اكثريت را ے كے ذريعہ موضوع كى تشخيص كے بعد اس وضاحت كے ساتھ قانون بنايا جائے كہ جب تك يہ موضوع ہے يہ قانون ہے_ اور موضوع كے ختم ہونے كے ساتھ ہى يہ قانون لغو ہوجائے گاوہ اس قانون كے بنانے اور جارى كرنے كا اختيار ركھتے ہيں_(۱)

اس اصرار كے ساتھ كہ حكومت ''اسلام كے احكام اوليہ'' ميں سے ہے_ اپنى مبارك زندگى كے آخرى سالوں ميں اس ميں اور شدت آگئي اور انہوں نے صاف الفاظ ميں كہہ ديا كہ حكومتى حكم كا صدور'' مصلحت نظام'' پر مبنى ہے _مصلحت نظام اختلال نظام ، ضرورت اور عسر و حرج جيسے عناوين ثانوى سے قطعى مختلف ہے

____________________

۱) صحيفہ نور، ج ۱۵ ، ص ۱۸۸_


اسى لئے مصالح كى تشخيص اور حكومتى حكم كے صادر كرنے ميں ولى فقيہ كى مدد كرنے كے لئے '' مجمع تشخيص مصلحت نظام ''كے نام سے ايك ادارہ تشكيل ديا گيااور حكومتى احكام كے مبانى كى تشخيص كا كام اس كے سپرد كيا گيا_

فقيہ كى ولايت مطلقہ

فقيہ كى '' ولايت عامّہ ''، ''نيابت عامہ'' يا ''عمومى ولايت'' جيسے الفاظ سابقہ فقہاء كے كلمات ميں استعمال ہوتے رہے ہيں_ ليكن '' ولايت مطلقہ'' كى تعبير عام نہيں تھى _ امام خمينى كے كلمات ميں رسولخدا (ص) اور ائمہ معصومين كى سياسى ولايت كو ''ولايت مطلقہ ''سے تعبير كيا گيا ہے_ اور يہى خصوصيت جامع الشرائط فقيہ عادل كيلئے بھى ثابت ہے_ ۱۳۶۸ ھ ش ميں جب اساسى قانون پر نظر ثانى كى گئي تو اس ميں لفظ '' ولايت مطلقہ ''استعمال ہونے لگا _

اسلامى جمہوريہ ايران ميں قواى حاكم يہ ہيں: مقننہ ،مجريہ اور عدليہ يہ تينوں ادارے ولايت مطلقہ كے زير نظر اس قانون كے آئندہ طے پانے والے اصولوں كے مطابق عمل كريںگے_(۱)

''ولايت مطلقہ'' ميں لفظ '' مطلقہ'' اور'' فلسفہ سياست'' كى اصطلاح ميں استعمال ہونے والے لفظ ''مطلقہ''كے درميان لفظى شباہت كى وجہ سے بعض لا علم اور مخالفين نے ولايت فقيہ پر اعتراض كيا ہے _

فلسفہ سياست كى رائج اصطلاح ميں'' حكومت مطلقہ'' ڈكٹيٹر شپ اورمطلق العنان آمريت كو كہتے ہيں_ جس ميں حكومت كا سربراہ اپنى مرضى سے حكومت چلا تا ہے ، دل خواہ قوانين وضع كرتا ہے اور معاشرے كا

____________________

۱) قانون اساسى اصل ۵۷_


خيال نہيں ركھتا_ آنے والے مطالب سے واضح ہوجائے گا كہ فقيہ كى ''ولايت مطلقہ ''بنيادى طور پراس ''حكومت مطلقہ''سے بہت مختلف ہے_

ولايت فقيہ كے مفہوم كے صحيح ادارك كيلئے درج ذيل تمہيد پر غور كرنا ضرورى ہے_

فقہى استنباط كى حقيقت ،در اصل شارع كے جعل اور انشاء كو كشف كرنا ہے_فتوى ، كے وقت فقيہ، نہ حكم كو جعل كرتا ہے نہ نافذ كرتا ہے_ فقيہ، ادلّہ كى طرف رجوع كر كے اس مسئلہ سے پردہ اٹھاتا ہے كہ نماز عشاء واجب ہے، اس حكم كا ايك نفاذ ہے _ اور وہ نماز مغرب كے بعد نماز عشاء كا پڑھنا ہے_ نماز عشاء كا پڑھنا فقيہ كے تعين ، را ے اور نافذ كرنے پر موقوف نہيں ہے_ وہ موارد جن ميں شرعى حكم كو متعدد طريقوں سے عملى اور نافذ كيا جاسكتا ہے ان كے نافذ كرنے كى كيفيت ميں بھى فقيہ كا كوئي كردار نہيں ہوتا_ مثلا اسلامى شريعت ميں شادى كرنا جائز ہے_ اس حكم جواز (بمعناى اعم)كے متعدد نفاذ ہيں يعنى مرد كو اختيار ہے كہ وہ كسى بھى خاندان، قبيلہ يا قوم سے اپنے لئے زوجہ كا انتخاب كرسكتا ہے_اس جواز كے انشاء اور نفاد كى كيفيت ميں فقيہ كا كوئي كردار نہيں ہوتا بلكہ فقط اس شرعى حكم كا كشف كرنا فقيہ كى علمى كوشش كے ساتھ و ابستہ ہے_

جبكہ اس كے مقابلہ ميں ''حكومتى حكم ''ميں جعل اور نفاذ دونوں عنصر ہوتے ہيں _ فقيہ بعض موارد ميں حكم كو جعل كرتا ہے اور بعض موارد ميں نافذ كرتا ہے_ مثلا حدود الہى كے اجراء كے سلسلہ ميں فقيہ عادل كے حكم كے بغير كسى مجرم پر الہى حدود جارى نہيں كى جاسكتيں_ اسى طرح اگر فقيہ كسى مصلحت كى بنياد پر بعض مصنوعات يا اشيا كو ممنوع يا كسى ملك كيساتھ تجارت كرنے كو حرام قرار ديتاہے يا اس كے برعكس ان مصنوعات كى بعض مخصوص ممالك كيساتھ تجارت كو جائز قرار ديتاہے تو اس نے ايك تو حكومتى حكم '' جعل'' كيا ہے اور دوسرا اسے ايك خاص طريقے سے نافذ كرنے كا حكم ديا ہے_ كيونكہ مباح مصنوعات يا اشياء كى تجارت كو متعددطريقوں


سے عملى اور نافذ كيا جاسكتا ہے_ اور اسے مختلف طريقوں سے فروخت كيا جاسكتا ہے _ خاص كيفيت اور موردكا تعيّن ايك حكم كى تنفيذ ميں مداخلت ہے_

حاكم شرع كى تنفيذى دخالت كى دوسرى مثال دو شرعى حكموں ميں تزاحم اور تصادم كا مورد ہے_ معاشرے ميںاجرائے احكام كے وقت بعض اوقات دو شرعى حكموں ميں تصادم ہوجاتا ہے_ اس طرح كہ ايك كو ترجيح دينے كا مطلب دوسرے كو ترك كرنا ہوتاہے _ اس وقت ولى فقيہ اہم مورد كو تشخيص دے كر اہم شرعى حكم كو نافذ كرتا ہے اور دوسرے كو ترك كر ديتا ہے_

موردبحث نكتہ يہ ہے كہ كيا ولى فقيہ كسى اہم شرعى حكم كے بغير بھى كسى دوسرے حكم كے نفاذ كو روك سكتاہے؟ يعنى اگر كسى مورد ميں وجوب يا حرمت كا حكم موجود ہے توكيا اس ميں مصلحت كى صورت ميں ولى فقيہ اس حكم كے برخلاف كوئي دوسرا حكم'' جعل'' كرسكتا ہے؟ مثلا عارضى طور پر مسلمانوں كو حج تمتع سے روك دے؟ يہاں دو مختلف بنيادى نظريے ہيں_ فقيہ كى ''ولايت مطلقہ ''كے حامى اس سوال كا جواب ہاں ميں ديتے ہيں _ ليكن فقيہ كي'' ولايت مقيّدہ '' كے حامى فقيہ عادل كيلئے اس قسم كے كسى حق كے قائل نہيں ہيں_

فقيہ كى ولايت مقيّدہ كے حامى معتقد ہيں كہ حكومتى حكم كى جگہ وہاں ہے جہاں شريعت كا كوئي الزامى حكم نہ ہو اور يہ كہ حكومتى حكم كے صدور ميں'' ولى فقيہ'' شريعت كے تابع ہے كسى تصادم و تزاحم كے بغير صرف كسى مصلحت كى وجہ سے شريعت كے واجب يا حرام كے برعكس كوئي حكم صادر نہيں كرسكتا _ ان كى نظر ميں حكومتى حكم كا دائرہ غير الزامى احكام يا الزامى احكام_ تزاحم كى صورت ميں _اور يا اس موردتك محدود ہے كہ جس كے متعلق شريعت نے كوئي حكم بيان نہيں كيا ولى فقيہ حكومتى حكم كے ذريعہ اس قانونى خلا كو پر كر سكتا ہے_ يہ سكوت يا شريعت كے حكم اوّلى كا نہ ہونا شريعت كے ناقص ہونے كى وجہ سے نہيں ہے بلكہ اس مورد ميں طبعى تقاضا يہ تھا


كہ كسى الزامى حكم سے سكوت اختياركيا جائے _ شہيد صدر فرماتے ہيں:

واقعات اور انسانى ضروريات كى متغير حقيقت باعث بنتى ہے كہ ان ميں كوئي حكم وضع نہ كيا جائے البتہ شارع نے اسے مہمل اور بے مہار نہيں چھوڑا ، بلكہ اسلامى حكومت كے سربراہ كو حق ديا ہے كہ وہ اس موقع كى مناسبت سے حكم جعل كرے_(۱)

علامہ طباطبائي بھى فقيہ كى ولايت مقيدہ كے قائل ہيں _ ان كى نظر ميں اسلامى قوانين دو قسم كے ہيں متغير اور ثابت _

اسلام كے ثابت قوانين و احكام انسان كى فطرت ،اور ان خصوصيات كو مدنظر ركھتے ہوئے بنائے گئے ہيں جو بدلتى نہيں ہيں اور انہيں اسلامى شريعت كا نام ديا گيا ہے _ احكام كى دوسرى قسم جو كہ قابل تغير ہے اور زمان و مكان كى مصلحت كے مختلف ہونے سے مختلف ہوجاتے ہيں يہ ولايت عامہ كے آثار كے عنوان سے رسولخدا (ص) ،ائمہ معصومين اور ان كے مقرر كردہ جانشينوںكى را ے سے مربوط ہوتے ہيں اور وہ انہيں دين كے ثابت قوانين اور زمان و مكان كى مصلحت كے پيش نظر تشخيص ديتے ہيں اور جارى كرتے ہيں _ البتہ اصطلاحى لحاظ سے اس قسم كے قوانين دينى اور شرعى احكام ميں شمار نہيں ہوتے_ ثقافت اور لوگوں كى معاشرتى زندگى كى پيشرفت اور ارتقاء كے لئے ولى امر جو قوانين وضع كرتا ہے واجب الاجرا ہونے كے باوجود وہ شريعت اور حكم الہى كے زمرہ ميں نہيں آتے اس قسم كے قوانين كا اعتبار اس مصلحت كے تابع ہے جو ان كے وضع كرنے كا باعث بنى ہے_ ليكن احكام الہى جو كہ عين شريعت ہيں ہميشہ ثابت رہتے ہيں اور كوئي بھى حتى كہ ولى امر بھى يہ حق نہيں ركھتا كہ وقتى مصلحت كى وجہ سے انہيں تبديل يا لغو كردے(۲)

____________________

۱) اقتصادنا ،شہيد محمد باقر صدر، ص ۷۲۱_

۲) فرازہاى از اسلام، ص ۷۱ _ ۸۰_


اس نظريہ كے مقابلہ ميں كہ جو فقيہ كى ولايت عامہ كو شرعى احكام ميں محدود قرار ديتاہے امام خميني، فقيہ كى ''ولايت مطلقہ ''كا دفاع كرتے ہيں _

اس نظريہ كے مطابق شريعت كے الزامى احكام بھى حكومتى حكم كے صدور ميں ركاوٹ نہيں بن سكتے _ اورفقيہ كى ولايت شريعت كے حصارميں محدود اور منحصر نہيں ہے_ اگر اسلامى نظام اور مسلمانوں كى مصلحت كا تقاضا ہو، تو جب تك يہ مصلحت ہے _جو كہ سب سے اہم مصلحت ہے_ فقيہ وقتى طور پر حكومتى حكم صادر كرسكتاہے اگر چہ وہ حكم شريعت كے كسى الزامى حكم كے منافى ہى كيوں نہ ہو_

پس شرعى احكام كے لحاظ سے فقيہ كى ولايت محدود اور مقيد نہيں ہے بلكہ مطلق ہے _ اس نظريہ كا سرچشمہ اور بنياد يہ ہے كہ امام خمينى كى نظر ميں'' حكومت'' اسلام كے احكام اوليہ ميں سے ہے اور نظام اور اسلامى حكومت كى حفاظت اہم ترين واجبات الہيہ ميں سے ہے اور اسلام كے باقى تمام احكام اوليہ پر مقدم ہے _

حكومت يا ''ولايت مطلقہ'' جو كہ اللہ تعالى كى طرف سے آنحضرت (ص) كو عطا كى گئي ہے اہم ترين حكم الہى ہے اور خدا كے تمام احكام فرعيہ پر مقدم ہے _ اگر حكومتى اختيارات احكام فرعيہ الہيہ ميں محدودہوجائيں تو آنحضرت (ص) كو عطا كى گئي حكومت الہى اور ولايت مطلقہ ايك كھوكھلى سى چيز بن كر رہ جائے گى _ حكومت ہر اس عبادى يا غير عبادى امر كو اس وقت تك روك سكتى ہے جب تك اس كا اجرا مصلحت اسلام كے منافى ہو(۱)

حكومتى حكم كا صدور، حفظ نظام كى مصلحت كے ساتھ مربوط ہے _ امام خمينى كى نظر ميں اگر حفظ نظام كى مصلحت اس حد تك پہنچ جائے كہ ولى فقيہ كى نظر ميں وہ شريعت كے كسي'' حكم اولي'' كے ساتھ ٹكرارہى ہے تو ہميشہ حفظ نظام كى مصلحت مقدم رہے گي_ اور اس شرعى حكم كے ملاك اور مصلحت سے اہم قرار پائے گى اورولي

____________________

۱) صحيفہ نور، جلد ۲۰ صفحہ ۱۷۰_


فقيہ كو يہ حق حاصل ہے كہ وہ اس مصلحت پر عمل كرے او رجب تك وہ مصلحت باقى ہے اہم كو مہم پر ترجيح دے_

آخر ميں اس نكتہ كى وضاحت ضرورى ہے كہ اگر چہ اسلامى جمہوريہ ايران كے قانون اساسى كى شق ۱۱۰ ميں ''ولى فقيہ ''كے وظائف اور اختيارات ذكر كئے گئے ہيں ليكن فقيہ كى ''ولايت مطلقہ'' كو ديكھتے ہوئے اس كے اختيارات ان امور ميں محدود نہيں ہيں بلكہ اس كے اختيارات كا دائرہ اسلامى معاشرہ كے مصالح كى بنياد پر ہوگا_


خلاصہ:

۱) امام خمينى حكومت اور اسلامى نظام كو اسلام كے احكام اوليہ ميں سے سمجھتے ہيں _

۲) ان كى نظر ميں حكومت ،فقہ كے اجزا ميں سے نہيں ہے_ بلكہ تمام كى تمام فقہ نظام مسلمين كى حفاظت كيلئے ہے_ اسى لئے اسلامى حكومت اہم ترين واجبات الہيہ ميں سے ہے _

۳) اس بناپر حكومتى حكم كا صدور كسى ثانوى عنوان كے محقق ہونے پر موقوف نہيں ہے_

۴) امام خمينى انقلاب كے ابتدائي سالوں ميں احتياط كى بناپرحكومتى اورظاہر شريعت كے منافى حكم كو ثانوى عناوين كے ساتھ مربوط سمجھتے تھے_

۵) فقيہ كى ولايت مطلقہ كى بحث براہ راست حكومتى حكم كے صدور كى بحث كے ساتھ منسلك ہے _

۶) فقيہ كى ولايت مطلقہ اور سياسى فلسفہ ميں موجود حكومت مطلقہ كو ايك جيسا قرار نہيں ديا جاسكتا_

۷) فتوى كے برعكس حكومتى حكم ميں جعل و انشاء اور تنفيذ دونوں عنصر ہوتے ہيں _

۸) فقيہ كى ولايت مطلقہ كا لازمہ يہ ہے كہ اگر مصلحت كا تقاضا ہو تو فقيہ عادل شريعت كے الزامى حكم يعنى وجوب و حرمت كے منافى حكم بھى صادر كرسكتاہے_

۹) فقيہ كى ولايت مقيدہ كا معنى يہ ہے كہ فقيہ، فقط شريعت كے غير الزامى احكام كے مقابلہ ميں حكومتى حكم صادر كرسكتاہے _ اس كى ولايت، شريعت كے الزامى احكام كے عدم وجود كے ساتھ مشروط ہے _

۱۰ ) امام خمينى كى نظر ميں جب حفظ نظام كى مصلحت كسى شرعى حكم كى مصلحت كے ساتھ ٹكرا جائے تو حفظ نظام كى مصلحت اہم اور مقدم ہے _


سوالات:

۱) حكومت كے مقام اور احكام شريعت كے ساتھ اس كے رابطہ كے متعلق امام خميني كا نظريہ كيا ہے ؟

۲) فقيہ كى ولايت مطلقہ سے كيا مراد ہے ؟

۳) فقيہ كى ولايت مطلقہ كا حكومت مطلقہ كى بحث سے كيا تعلق ہے ؟

۴) فقيہ كى ولايت مقيدہ سے كيا مراد ہے ؟

۵) جب حفظ نظام كى مصلحت ، شريعت كے احكام اوليہ كے ملاكات سے ٹكرا جائے تو كيا كرنا چاہيے؟


انتيسواں سبق :

دينى حكومت كے اہداف اور فرائض -۱-

كسى سياسى نظام كے دوسرے سياسى نظاموں سے امتياز كى ايك وجہ وہ فرائض ، اختيارات اور اہداف ہيںجو اس كے پيش نظر ہيں _ مختلف مكا تب اور سياسى نظام اپنى حكومت كيلئے مختلف اہداف اور فرائض قرار ديتے ہيں _ اگر چہ بہت سے اہداف مشترك ہوتے ہيں مثلاً امن عامہ كا برقرار كرنا اور دشمن كے تجاوز اور رخنہ اندازى سے خود كو محفوظ ركھنا ايسے اہداف ہيں كہ جنہيںتمام سياسى نظاموں نے اپنے اپنے ذوق و سليقہ كے مطابق اپنے اوپر فرض قرار دے ركھاہے _

آج سياسى ماہرين اور مفكرين كے در ميان حكومت كے فرائض اور اختيارات كے متعلق بڑى سنجيدہ بحثيں ہو رہى ہيں _ بعض سياسى نظريات'' حكومت حداقل'' كا دفاع كرتے ہيں _ ان سياسى فلسفوںكا عمومى اعتقاد يہ ہے كہ جتنا ممكن ہو سكے حكومت مختلف امور ميں كم سے كم مد اخلت كيا كرے_ انيسويں صدى كے كلاسيكى اور آج كے نيولبرل ازم ( New Liberalism ) اقتصادى لحاظ سے بازار تجارت ميں حكومت كى كمترين مداخلت كے قائل ہيں انكا نظريہ يہ ہے كہ بازار ميں موجود كارو بار و تجارت ميں حكومت كى عدم مداخلت سے


اقتصادى توازن بر قرار رہے گا _اور حكومت كى مداخلت آزاد تجارت كے نظم و نسق كو در ہم بر ہم كردے گى _ اس كے مقابلہ ميں سو شلزم كى طرف مائل افراديہ چاہتے ہيں كہ حكومت براہ راست اقتصادى امور ميں مداخلت كرے حتى كہ تمام اقتصادى مراكز حكومت كے ہاتھ ميں ہونے چاہئيں_ اس نظريہ كى ہلكى سى جھلك لبرل ازم كى تاريخ كے ايك مختصر دور ميں دكھائي ديتى ہے _جديد لبرل ازم جو كہ بيسويں صدى كے اوائل سے ليكر ۱۹۷۰ تك رہا ہے رفاہى رياست (۱) كا خواہاں ہے _ وہ چاہتاہے كہ حكومت آزاد تجارت ميں مداخلت كرے تا كہ ايك طرف بازار رونق پكڑے اور دوسرى طرف آسيب پذير طبقے كا دفاع ہو اور معاشرتى اور اجتماعى امور پر كوئي زد نہ پڑے _

اقتصاد سے ہٹ كر سياسى فلسفہ كى ايك اہم ترين بحث يہ بھى ہے كہ سعادت ، اخلاقيات اور معنويات ميں حكومت كا كيا كردار ہے _ اور ان كے ارتقاء كے سلسلہ ميں حكومت كے كيا فرائض ہيں ؟كيا عوام كى سعادت اور نجات بھى حكومت كے اہداف اور فرائض ميں سے ہے؟

ماضى ميں بھى بہت سے سياسى فلسفے خير و سعادت پر گہرى نگاہ ركھتے تھے _سياسى ماہرين اپنے سياسى نظاموں كو خير و سعادت كى بنياد پر متعارف كرواتے تھے اورخيرو سعادت كى جو مخصوص تعريف كرتے تھے اسى لحاظ سے اپنے اہداف اور دستور العمل كو متعين كرتے تھے _آخرى دو صديوں ميں ہم نے ايسے ايسے سياسى نظريات ديكھے ہيں جو اس سلسلہ ميں حكومت كے كردار اور فرائض كوبالكل نظر انداز كرتے ہيں ان نئے نظريات كى بنياد پر خير و سعادت جيسے امور حكومت كے فرائض و اہداف سے خارج ہيں_ حكومت كا كام فقط امن وامان اور رفاہ عامہ كے متعلق سو چناہے _ اور اسے چاہيے كہ خيروسعادت ، اور اخلاق و معنويت جيسے امور خود عوام اور معاشرے كے افراد كے حوالہ كردے_

____________________

۱) Welfare State .


لبرل ازم اس نظريہ كى سخت حمايت كرتا ہے كہ اس قسم كے امور عوام كے ساتھ مربوط ہيں لہذا ان امور ميں حكومت كسى قسم كى مداخلت نہيں كر سكتى ، بلكہ اس قسم كے مسائل ميں مداخلت لوگوں كے ذاتى مسائل ميں مداخلت ہے اور ان كے حقوق اور ان كى شخصى آزادى كو سلب كرنے كے مترادف ہے_ حكومت كو اپنے فرائض عوامى حقوق اور شخصى آزادى كو ملحوظ خاطر ركھ كر انجام دينے چاہيں_ لبرل نظريات كے حامى افراد كى نظر ميں ''حقوق بشر كا عالمى منشور'' جو كہ لبرل نظريات كے اصولوں كى بنياد پر بنايا گياہے، حكومت كے اہداف و فرائض متعين كرنے كيلئے انتہائي مناسب راہنماہے حكومت كو اسى كا دفاع كرنا ہے اور اسے امن وامان برقرار ركھنے ، شخصى مالكيت كى حفاظت، ثقافتى ، مذہبى اور اقتصادى آزادى كيلئے كوشش كر نى چاہيے _ خير و سعادت اور اخلاقيات كو خود عوام كے سپرد كرد ے تا كہ ہر شخص اپنى مرضى كى خير و سعادت كے متعلق اپنے مخصوص نظر يہ كے مطابق زندگى گزار سكے_

ا س تمہيد كو مد نظر ركھتے ہوئے يہ ديكھنا ہے كہ اسلام كن اہداف اور فرائض كو حكومت كے كندھوں پر ڈالتا ہے _حكومت كے متعلق اسلام كا نظر يہ كيا ہے ،اور اس كيلئے كس مقام كا قائل ہے ؟

ہم اس تحقيق كو تين مرحلوں ميں انجام ديں گے ، پہلے حكومت اور اس كے مقام كے متعلق اسلامى نظر يہ كى تحقيق كريں گے _پھر دينى حكومت كے اہداف پر ايك نگاہ ڈاليں گے اور آخر ميں اسلامى سربراہوں كے جزئي وظائف اور فرائض كى طرف اشارہ كريں گے _

حقيقت حكومت از نظر اسلام

دوسرے باب ميں ''اسلام كى نظر ميں امامت اور سياسى قيادت كے مقام و مرتبہ'' كے متعلق ہم تفصيلى گفتگو كر چكے ہيں _يہاں حقيقت و ماہيت كے متعلق بحث سے ہمارى يہ مراد نہيں ہے كہ ہم نئے سرے سے اس كى


اہميت كا تذكرہ كرنا چاہتے ہيں _ بلكہ يہاں ہم يہ جاننا چاہتے ہيں كہ حكومت كو اسلام كس نگاہ سے ديكھتاہے اور اس كے نزديك اس كى ماہيت اور حقيقت كيا ہے ؟

آيات و روايات كى طرف رجوع كرنے سے معلوم ہوتا ہے كہ اسلام كى نگاہ ميں حكومت اور دنيوى مقامات و مناصب بذات خود كوئي اہميت و كمال نہيں ركھتے، ''حكومت'' ذمہ دارى اور امانت كا بوجھ اٹھانے كا نام ہے _ اس ذمہ دارى اور امانت كا بوجھ اٹھانے كيلئے اہليت ، صلاحيت اور انفرادى كمالات كى ضرورت ہے -_ اسى وجہ سے اسلامى معاشرہ كے حاكم كيلئے مخصوص خصوصيات اور شرائط كا لحاظ ركھا گيا ہے - _اسلام كى نگاہ ميں ہر قسم كا اجتماعى منصب خصوصاًحكومت اور امارت ايك الہى امانت ہے لہذا اسے كوئي كمال شمار نہيں كيا جاتا -_ سورہ نساء كى آيت ۵۸ ميں ارشاد خداوندى ہے:

( ''إنَّ الله َ يَأمُرُكُم أَن تُؤَدُّوا الأَمَانَات إلَى أَهلهَا وَإذَا حَكَمتُم بَينَ النَّاس أَن تَحكُمُوا بالعَدل إنَّ الله َ نعمَّا يَعظُكُم به إنَّ الله َ كَانَ سَميعا بَصيرا'' ) (۵۸)

يقينا خدا تمہيں حكم ديتا ہے كہ امانتوں كو ان كے اہل تك پہنچا دو اور جب لوگوں كے درميان كوئي فيصلہ كرو تو انصاف كے ساتھ كرو _ خدا تمھيں بہترين نصيحت كرتا ہے بے شك خدا سننے والا اور ديكھنے والا ہے_

حضرت اميرالمومنين آذربايجان ميں لشكر اسلام كے سپہ سالار اشعث ابن قيس كو ايك خط ميں تاكيد كرتے ہيں كہ حكومت اور امارت تيرے لئے ايك لذيذ لقمہ نہيں ہے كہ تو اس سے لطف اندوز ہو -_ بلكہ ايك بار امانت ہے جسكا تجھے جواب دينا ہے _ بيت المال در حقيقت خدا كا مال ہے _ لہذا اس كيلئے امانتدار محافظ بنو_


انّ عملك ليس لك بطعمة ، و لكنّه ف عْنقك أمانة ، و أنت مسترعى لمَن فوقك ليس لك أن تفتات ف رعيّة ، و لا تخاطر إلّا بوثيقة ، و ف يديك مال من مال الله (عزّوجلّ) و أنت من خْزّانة حتى تسلّمه إلّ (۱)

يہ امارت تيرے لئے روزى كا وسيلہ نہيں ہے- بلكہ تيرى گردن ميں امانت (كا طوق) ہے تمہارے لئے ضرورى ہے كہ اپنے فرمانروا اور امام كى اطاعت كرو، اور تمہيں يہ حق حاصل نہيں ہے كہ اپنى رعيت كے معاملہ ميں جو چاہو كر گزر و خبردار كسى مضبوط دليل كے بغير كوئي اہم قدم مت اٹھانا اور تيرے ہاتھ ميں خدا كا مال ہے تو اس كا ايك محافظ ہے يہاں تك كہ اسے ميرے پاس پہنچا دے

اپنے ايك اور عامل كے نام لكھے گئے خط ميں مقام و منصب سے غلط اور ناجائز فائدہ اٹھانے كو امانت الہى ميں خيانت كے مترادف قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

''فَقَد بلغنى عنك أمر إن كنت فعلته فقد أسخطت ربّك و عصيت إمامك و أخزيتَ أمانتك '' (۲)

تمھارے متعلق مجھے ايك اطلاع ملى ہے _ اگر واقعاً تونے ايسا كيا ہے تو پھر تو نے اپنے رب كو غضبناك كيا ہے، اپنے امام كى نافرمانى كى ہے اور اپنى امانت كو رسوا كيا ہے _

حضرت اميرالمومنين حكومت اور اسكے منصب كو ايك امانت سمجھتے ہيں اور اس ميں خيانت كرنے كو بارگارہ پروردگار ميں ذلت و رسوائي كا باعث قرار ديتے ہيں_ اسلامى نقطہ نظر سے حكومتى اہلكار، خدا كى بارگاہ

____________________

۱) نہج البلاغہ ،مكتوب ۵_

۲) نہج البلاغہ ، مكتوب ۴۰_


ميں اس امانت الہى كے سلسلہ ميں جوابدہ ہيں جو انہوں نے اپنے كندھوں پر اٹھا ركھى ہے _ اہواز كے قاضى ''رفاعہ'' كو لكھتے ہيں :

''اعلم يا رفاعة انّ هذه الامارة امانة فَمَنْ جعلها خيانة فعليه لعنة الله الى يوم القيامة و من استعمل خائنا فان محمد (ص) برى منه فى الدنيا والاخرة'' (۱)

اے رفاعہ جان لو كہ يہ امارت ايك امانت ہے جس نے اس ميں خيانت كى اس پر قيامت تك خدا كى لعنت ہے _اور جو كسى خائن كو عامل بنائے رسولخدا (ص) دنيا و آخرت ميں اس سے برى الذمہ ہيں_-

جلال الدين سيوطى اپنى تفسير ميں حضرت على سے يوں نقل كرتے ہيں :

''حقّ على الإمام أن يحكم بما أنزل اللّه و أن يؤدّ الأمانة ، فإذا فعل ذلك فحقّ على النّاس أن يسمعوا له و أن يطيعوا ، و أن يجيبوا إذا دعوا'' (۲)

امام كيلئے ضرورى ہے كہ وہ خدا كے احكام كے مطابق فيصلے كرے اور امانت كو ادا كرے _ پس جب وہ ايسا كرے تو لوگوں پر واجب ہے كہ اس كى بات سنيں اس كى اطاعت كريں اور جب وہ بلائے تو لبيك كہيں_

حكومت بذات خود كوئي معنوى حيثيت نہيں ركھتي_ اور نہ ہى حاكم كيلئے كوئي كمال شمار ہوتا ہے_ مگر يہ كہ وہ اس سياسى اقتدار كے ذريعہ اس ذمہ دارى اور امانت الہى كو صحيح طور پر ادا كرے_

عبدالله ابن عباس كہتے ہيں كہ بصرہ كى طرف جا تے ہوئے '' ذى قار'' نامى ايك جگہ پر ميں اميرالمومنين كے پاس گيا _ وہ اپنے جوتے كو ٹانكا لگا رہے تھے _ مجھ سے پوچھتے ہيں اس جوتے كى قيمت كيا ہے ؟ ميں نے جواب ديا: كچھ بھى نہيںتو آپ نے فرمايا :

____________________

۱) دعائم الاسلام، ج ۲ ، ص ۵۳۱_

۲) الدر المنثور ،ج ۲ ، ص ۱۷۵_


''واللّه له أحبّ إلّ من إمرتكم ، إلّا أن أْقيم حقّا أو أدفع باطلا'' (۱)

خدا كى قسم ميں اسے تم پر حكومت كرنے سے زيادہ پسند كرتا ہوں _ مگر يہ كہ حق كو قائم كروں اور باطل كو دور كردوں _

بنابريں حكومت اور قيادت اس وقت اہميت ركھتے ہيں جب اس كے اہداف عملى شكل اختيار كرليں اور سياسى اقتدار كے حامل افراد كى تمام تر كوشش ان اہداف كو پورا كرنے كيلئے ہو _

دينى حكومت كے اہداف :

دينى منابع كى طرف رجوع كرنے سے يہ حقيقت عياں ہوجاتى ہے كہ اسلام ،حكومت كے اہداف كو رفاہ عامہ اور امن وامان برقرار كرنے ميں محدود نہيں كرتا _ بلكہ اسلامى معاشرہ كى خير و سعادت اور معنويات سے مربوط امور كو بھى حاكميت كے دستورالعمل ميں سے قرار ديتا ہے دينى حكومت كيلئے ضرورى ہے كہ وہ معاشرے كو ايمان اور اخلاق سے لبريز زندگى فراہم كرئے اور رفاہ عامہ كے ساتھ ساتھ دينى ثقافت اور الہى پيغامات كے فروغ پر بھى زور دے _ دينى حكومت كے اہداف كو بيان كرنے والى بعض آيات اور روايات كى مدد سے ہم ان اہداف ميں سے بعض كى طرف اشارہ كريں گے _ كلى طور پر ہم ان اہداف كو دو بنيادى حصوں ميں تقسيم كرسكتے ہيں _ ايك حصہ معنوى اہداف پر مشتمل ہے اور دوسرا دنيوى اہداف پر_ دينى حكومت كے دنيوى اہداف ايسے امور پر مشتمل ہيں جو بڑى حد تك غير دينى حكومتوں كے بھى مورد نظر ہوتے ہيں _ جبكہ دينى حكومت كے معنوى اہداف وہ امور ہيں جو فقط اسلامى حكومت كے ساتھ مخصوص ہيں اوراسلامى حكومت كو دوسرى حكومتوں سے ممتاز كرتے ہيں_ دينى حكومت كى خصوصيت وہ عہد و پيمان ہے جو ان اہداف كو پورا كرتا ہے _

____________________

۱) نہج البلاغہ ، خطبہ ۳۳ _ارشاد مفيد ،ج ۱، ص ۲۴۷ميں يہى حديث مختصر سے فرق كے ساتھ بيان كى گئي ہے _


الف: معنوى اہداف

دينى حكومت كے معنوى اہداف سے مراد وہ كوششيں ہيں جو معاشرے كى فطرت الہى كے مطابق رشد و ترقى كى خاطر سازگار ماحول فراہم كرنے كيلئے كى جاتى ہيں_ ان ميں سے بعض كا تعلق تہذيب و ثقافت اور صحيح مذہبى پروپيگنڈے سے ہے _ اور بعض احكام شريعت اور حدود الہى كے نفاذ اور آلودگى و تباہى سے معاشرہ كو محفوظ ركھنے كے ساتھ تعلق ركھتے ہيں _ يہاں پر ہم ان آيات و روايات كو بطور نمونہ پيش كرتے ہيں جو دينى حكومت كے معنوى اہداف كو بيان كرتى ہيں _ پھر ان اہداف كى فہرست بندى كريں گے _

جو لوگ زمين پراقتدار حاصل كرليتے ہيں، اللہ تعالى ان كے ليئے كچھ مخصوص فرائض بيان كرتاہے_

مثلا نماز كا قائم كرنا ، نيكى كا حكم دينا اور برائي سے روكنا _سورہ حج كى آيت ۴۱ ميں ارشاد خداوندى ہے_

( ''الذين ان مَكّنا هم فى الارض أقاموا الصلوة و آتوا الزكوة و أمروا بالمعروف و نهوا عن المنكر ولله عاقبة الامور ) _''

يہ وہ لوگ ہيں اگرہم انہيں زمين ميں اختيار ديں تو وہ نماز قائم كريں گے اور زكوة ادا كريں گے ، نيكى كا حكم ديں گے اور برائي سے منع كريں گے _ اور يقينا تمام امور كا انجام خدا كے اختيار ميں ہے_

معاشرتى عدل و انصاف پر اسلام نے بہت زيادہ زور ديا ہے _ يہاں تك كہ اسے دينى حكومت كے بنيادى اہداف ميں شمار كيا ہے _سورہ نحل كى آيت ۹۰ ميں ارشاد ہوتاہے:

( ''ان الله يأمر بالعدل والاحسان'' )

يقينا خدا عدل و انصاف اور نيكى كا حكم ديتا ہے _

سورہ شورى كى آيت ۱۵ ميں ارشاد ہے :

''( اُمرت لاعدل بينكم'' )

مجھے حكم ملاہے كہ تمھارے در ميان انصاف كروں_


سورہ نساء كى آيت ۵۸ ميں حكم ہے :

''ان الله يأمركم ا ن تُودّوا الامانات الى اهلها و اذا حكمتم بين الناس ا ن تحكموا بالعدل ''

بے شك خدا تمھيں حكم ديتا ہے كہ امانتوں كو ان كے اہل تك پہنچادو _اور جب لوگوں كے درميان فيصلہ كرو تو انصاف كے ساتھ كرو _

ابوحمزہ ثمالى نے امام باقر سے امام اور لوگوں كے باہمى حقوق كے متعلق پوچھا تو امام نے عدل و انصاف كو لوگوں كا امام پر حق قرار ديا _ ابوحمزہ ثمالى كہتے ہيں :

''سألت أبا جعفر (ع) ما حقّ الإمام على الناّس؟ قال: '' حقه عليهم ان يسمعوا له و يطيعوا'' قلت: فما حقّهم عليه ؟ قال: '' يقسّم بينهم بالسوية و يعدل فى الرعية ''(۱)

ميں نے امام باقر سے پوچھا كہ امام كا لوگوں پر كيا حق ہے ؟آپ نے فرمايا امام كا ان پر يہ حق ہے كہ وہ امام كى بات سنيں اور اطاعت كريں _پھر ميں نے پوچھا لوگوں كا امام پر كيا حق ہے ؟آپ نے فرمايا: بيت المال كو ان كے در ميان بطور مساوى تقسيم كرے اور رعيت كے درميان عدل و انصاف كرے

حضرت على فرماتے ہيں : ''امام عادل خيرٌ من مطر وابل''

امام عادل موسلہ دھار بارش سے بہتر ہے _(۲)

امام رضا مخصوص معنوى اورثقافتى اہداف كو امام كے فرائض ميں سے شمار كرتے ہوئے فرماتے ہيں :

والإمام يحلّ حلال الله و يحرّم حرام الله و يقيم حدود الله ويذبّ عن دين الله و يدعوا إلى سبيل ربه بالحكمة و الموعظة

____________________

۱) كافى ،ج ۱، ص ۴۰۵، باب مايجب من حق الامام على الرعية، ح۱_

۲) غررالحكم ،آمدى ج ۱ ، ص ۳۸۶، ح ۱۴۹۱_


الحسنة و الحجةالبالغة (۱)

امام حلال خدا كو حلال اور حرام خدا كو حرام قرار ديتا ہے ، حدود الہى كو قائم كرتا ہے ، دين خدا كا دفاع كرتا ہے اور(لوگوں كو ) حكمت ، موعظہ حسنہ اور محكم دليل كے ذريعہ راہ خدا كى طرف دعوت ديتا ہے_

حضرت اميرالمومنين خدا سے مناجات كرتے ہيں _ اور اس نكتہ'' كہ مسلمانوں پر حكومت قبول كرنے كاميرامقصد كوئي دنيوى منصب و اقتدار اور بے قيمت دنيوى مال و متاع كا حصول نہيں تھا ''كے ضمن ميں تين اہداف كا ذكر كرتے ہيں جن ميں سے دو معنوى اہداف ہيں :

''اللهمّ إنّك تعلم انّه لم يكن الذى كان منّا منافسة فى سلطان، ولا التماس شي من فضول الحطام ، و لكنّ لنرد المعالم من دينك ، و نُظهر الاصلاح فى بلادك فيأمن المظلومون من عبادك، و تقام المعطّلة من حدودك ''

اے پروردگار تو جانتا ہے كہ ميں نے يہ كام نہ ملك و سلطنت كے حصول كيلئے كيا ہے اور نہ ہى اس دنيا كے پست و بے قيمت مال كو اكھٹا كرنے كيلئے كيا ہے _

ميں نے يہ قدم اس لئے اٹھايا ہے تا كہ تيرے دين كى تعليمات كو واپس لے آؤں، صلح و سلامتى كو تيرے شہروں ميں برقرار كروں تا كہ تيرے مظلوم بندے امن سے رہ سكيں اور تيرے ان قوانين كو زندہ كروں جنہيں معطل كر ديا گيا ہے_(۲)

حق كا قيام اور باطل سے مبارزت بھى دينى حكومت كے اہداف ميں سے ہے سورہ ص كى آيت ۲۶ ميں ارشادہے : ''يا داود انّا جعلناك خليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق'' اے داود ہم نے تمھيں زمين پر خليفہ مقرركيا ہے _ پس لوگوں كے درميان حق كے ساتھ فيصلہ كرو_

____________________

۱) كافي، ج ۱، ص۲۰۰، باب نادر جامع فى فضل الامام و صفاتہ ،ح ۱_

۲) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۳۱_


حضرت على اور ابن عباس كے درميان ''ذى قار'' كے مقام پر جو مكالمہ ہوا تھا اس ميں آپ (ع) نے حكومت كرنے كا مقصد حق كا قيام اور باطل كو روكنا قرار ديا تھا آنحضرت (ص) نے جب معاذ ابن جبل كو يمن كا والى بنا كر بھيجا تو انہيں كچھ اہم نصيحتيں كيں _ جن ميں سے بعض دينى حكومت كے معنوى اہداف كى طرف اشارہ كرتى ہيں آپ نے فرمايا :

''يا معاذ، عَلّمهُم كتابَ الله وأحسن أدبَهم على الأخلاق الصالحة و أنزل النّاس منازلَهم خيرَهم و شرّهم و أمت أمرَ الجاهليّة إلاّ ما سنّه الإسلام و أظهر أمر الإسلام كلَّه، صغيرَه و كبيرَه، و ليكن أكثر همّك الصلاة: فإنّها رأس الإسلام بعد الإقرار بالدين و ذكّر الناس بالله واليوم الآخر و اتّبع الموعظة; فإنّه أقوى لهم على العمل بما يحبّ الله ثمّ بثّ فيهم المعلّمين، و اعبد الله الّذ إليه ترجع، و لا تَخَف فى الله لومة لائم'' (۱)

اے معاذ لوگوں كو قرآن كى تعليم دينا _ اچھے اخلاق سيكھانا ، اچھے اور برے افراد كو ان كے مقام پرركھنا ...جاہليت كى ہر رسم كو فنا كردينا مگر جس كى اسلام نے اجازت دى ہے _ اسلام كے چھوٹے بڑے ہر حكم كو قائم كرنا _ ليكن تيرى زيادہ كوشش نماز كے متعلق ہونى چاہيے _ كيونكہ دين كا اقرار كرنے كے بعد نماز اسلام كا سب سے اہم ركن ہے ، لوگوں كو خدا اور قيامت كى ياد دلانا ، وعظ و نصيحت كو ياد ركھنا ، يہ ان كے لئے خدا كے پسنديدہ امور پر عمل كرنے كيلئے مدد گار ثابت ہوگا _ پھر معلمين كو ان ميں پھيلادينا اور اس خدا كى عبادت كرنا جس كى طرف تجھے پلٹ كرجانا ہے اور خدا كے سلسلہ ميں كسى ملامت كرنے والے كى ملامت سے مت ڈرنا_

____________________

۱) تحف العقول ،ص ۲۶_


خلاصہ :

۱) دوسرے سياسى نظاموں سے دينى حكومت كو ممتاز كرنے والى ايك چيز اسلامى حكومت كے اہداف اور فرائض ہيں _

۲) موجودہ دور ميں خصوصاً لبرل جمہوريت ميں نظريہ '' حكومت حداقل'' اور حكومت كے اہداف و فرائض كو محدود كرنے كى حمايت كى جاتى ہے _

۳) لبرل جمہورى حكومتيں خير و سعادت اور اخلاق و معنويت جيسے امور كو انفرادى خصوصيات قرار ديتے ہوئے حكومت كے اہداف اور فرائض سے خارج سمجھتى ہے _

۴)دينى حكومت كے اہداف و فرائض كى تحقيق و بررسى ''اسلام كى نگاہ ميں مقام حكومت كى وضاحت ''كے ساتھ مربوط ہے _

۵) اسلام كى نظر ميں حكومت ايك سنگين ذمہ دارى اور عظيم امانت ہے ، اور حكومت كا حاصل كرلينا كسى مقام و منزلت يا كمال پر فائز ہونا نہيں ہے _

۶)حكومت كى اہميت امانت الہى كى ادائيگى ميں ہے اور امانت كا ادا كرنا ان اہداف اور فرائض كے انجام دينے پر موقوف ہے جو حكومت اور حكمرانوں كيلئے مقرر كئے گئے ہيں _

۷) دينى حكومت كے اہداف كو دو بنيادى قسموں يعني'' معنوى اہداف'' اور'' دنيوى اہداف'' ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے _

۸) آيات و روايات ميں حكومت كے معنوى اہداف پر بہت زور ديا گيا ہے _


سوالات :

۱) حكومت كے اہداف اور فرائض كے متعلق لبرل ازم كا كيا نظريہ ہے ؟

۲) لبرل جمہوريت كے معتقدين كے سياسى نظريہ ميں سعادت اور معنويت كا كيا مقام ہے ؟

۳) اسلام كى نگاہ ميں حكومت كى حقيقت كيا ہے ؟

۴) دينى حكومت كے ''معنوى اہداف ''سے كيا مراد ہے ؟


تيسواں سبق :

دينى حكومت كے اہداف اور فرائض -۲-

گذشتہ سبق ميں ہم نے دينى حكومت كے اہداف كو دو حصوں ميں تقسيم كيا تھا مادى اہداف اور معنوى اہداف ، اور بعض وہ آيات و روايات ذكر كى تھيں جو معنوى اہداف كو بيان كرتى ہيں _ معنوى اہداف كو درج ذيل امور ميں خلاصہ كيا جاسكتا ہے _

۱)_ امور كے اجرا ميں حق كا قيام اور حق پرستى جبكہ باطل، شرك اور جاہليت كا خاتمہ

۲)_ عدل و انصاف كو عام كرنا _

۳)_ حدود الہى كا اجرا _

۴)_ معارف الہى كى تعليم اور عبادت و عبوديت كو پھيلانے كيلئے كوششيں كرنا_

۵)_ نيكى كا حكم دينا اور برائي سے روكنا _

۶)_ دين الہى كا دفاع اور توحيد الہى كى دعوت كو عام كرنا _


ب_ دنيوى اہداف

دينى حكومت كے دنيوى اہداف سے مراد وہ اہداف ہيں جن كے بارے ميں عقلى طور پر ہميشہ يہ توقع كى جاتى ہے كہ ايك با صلاحيت عوامى حكومت ان كيلئے خاص اہتمام كرے اور ان كو خصوصى اہميت دے_ يہاں ان اہداف كے ذكر كرنے كا مقصد يہ ہے كہ ہمارے دينى منابع نے امر معاش ،رفاہ عامہ اور معاشرہ كے امن و امان سے سرد مہرى اور بے توجہى نہيں برتي_ اسلامى تعليمات ميں دنيوى آباد كارى كے ساتھ ساتھ ہميشہ آخرت كى فكر بھى اولياء دين كے پيش نظر رہى ہے _ بنابريں دينى حكومت كے اہداف ميں ان امور كى طرف بھى اشارہ كيا گيا ہے جو معاش اور مختلف دنيوى پہلوؤں كے ساتھ مربوط ہوتے ہيں _ دينى حكومت كے دنيوى اہداف وہى اہداف ہيں جن كا دوسرى سيكولر حكومتيں دعوى كرتى ہيں _ بحث كے آخر ميں ہم ان اہداف كے حصول ميں دينى حكومت اور سيكولر حكومت ميں جو بنيادى فرق ہے اس كى طرف اشارہ كريں گے _

قرآن مجيد ميں حفظ امنيت اور اسلامى معاشرہ كى فوجى قوت پر بڑا زور ديا گيا ہے

سورہ انفال كى آيت ۶۰ ميں ارشاد خداوندى ہے:

''( و اعدوا لهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخيل ترهبون به عدوّ الله و عدوّكم ) ''

اور تم بھى جہاں تك ممكن ہوسكے قوت اور گھوڑوں كى صف بندى كا انتظام كرو تا كہ تم اس سے خدا اور اپنے دشمن كو خوفزدہ كرو_

امام صادق بھى امن و امان كى برقرارى اور آباد كارى كو لوگوں كى عمومى ضروريات ميں سے قرار ديتے ہيں كہ ہر معاشرہ ميں ان پر خاص توجہ دينا ضرورى ہے _ آپ فرماتے ہيں:

''ثلاثة اشياء يحتاج الناس طرّاً إليها : الامن والعدل والخصب''


تين چيزوں كى لوگوں كو ضرورت ہوتى ہے _ امن ، انصاف ، اور فراخى و خوشحالي_ (۱)

حضرت على نے مالك اشتر كو جب مصر كا حاكم بناكر بھيجا تو اسے ايك عہد نامہ ديا جس كے شروع ميں چند حكومتى اہداف كى طرف اشارہ كيا گيا ہے _

'' هذا ما أمر به عبدالله عليّ أمير المؤمنين مالك بن الحارث الأشتر فى عهده إليه حين و لاه مصر: جباية خَراجها، و جهاد عدوّها، و استصلاح أهلها و عمارة بلادها (۲)

يہ خدا كے بندے على (ع) اميرالمومنين (ع) كى طرف سے مالك ابن حارث اشتر كو دستور ديا جارہا ہے جب اسے مصر كى ولايت عطا كى كہ: وہ وہاں كا خراج اكھٹا كرے ، اس كے دشمنوں سے جہاد كرے ، اس كے رہنے والوں كى اصلاح اور اس كے شہروں كى آباد كارى كيلئے كوشش كرے_

حضرت اميرالمومنين اپنے ايك خطبہ ميں لوگوں كے حقوق بيان كرتے ہيں كہ جنہيں دينى حكومت كے بنيادى اہداف ميں سے شمار كيا جاسكتاہے _ ان ميں سے بعض يہ ہيں، تعليم و تربيت كا عام كرنا اور ملك كے مالى منابع سے لوگوں كو ان كاحصہ دينا _

''أيّها الناس، إنّ لى عليكم حَقّاً و لكم عليّ حقّ; حقّكُم عليّ، فالنصيحة لكم و توفيرُ فيئكم عليكم و تعليمكم كيلا تجهلوا و تأديبكم كيما تعلموا'' (۳)

____________________

۱) تحف العقول، ص ۲۳۶_

۲) نہج البلاغہ ،مكتوب ۵۳_

۳) نہج البلاغہ ،خطبہ ۳۴_


اے لوگوں ميرا تم پر ايك حق ہے _ اور تمھارا مجھ پر ايك حق ہے _ تمھارا مجھ پر يہ حق ہے كہ ميں تمھيں نصيحت كروں، تمھارے مال كو تم پر خرچ كروں، تمھيں تعليم دوں تا كہ تم جہالت سے نجات حاصل كرلو، اور تمھارى تربيت كروں تا كہ تم عالم ہوجاؤ _

ان صاحبان قدرت كے مقابلہ ميں جو ظلم و ستم كے ذريعہ اپنى ثروت و طاقت ميں اضافہ كرتے ہيں ظلم كے خلافجنگ و مبارزہ اور مظلوموں كى حمايت ان اہداف ميں سے ہيں جن كى اسلام نے بہت زيادہ تاكيد كى ہے _ حضرت على اس امر كو علماء كيلئے ايك منصب الہى سمجھتے ہيں اور اس عہد كے وفا كرنے كو خلافت كے قبول كرنے كى ادلّہ ميں سے قرار ديتے ہوئے _ فرماتے ہيں:

''لو لا حضورُ الحاضر و قيامُ الحجّة بوجود الناصر و ما أخذَ الله على العلماء أن لا يقارّوا على كظَّة ظالم و لا سَغَب مظلوم، لا لقيتُ حَبلَها على غاربها '' (۱)

اگر بيعت كرنے والوں كى موجود گى اور مدد كرنے والوں كے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئي ہوتى اور وہ عہد نہ ہوتا جو خدا نے علماء سے لے ركھا ہے كہ وہ ظالم كى شكم پرى اور مظلوم كى گرسنگى پر آرام سے نہ بيٹھيں تو ميں خلافت كے اونٹ كى مہار اسى كے كند ہے پر ڈال ديتا_

خوارج جو كہ لاحكم الّالله كا نعرہ لگاتے تھے اور اس طرح حكومت كا انكار كرتے تھے_ حضرت على نے ان كے مقابلہ ميں وجود حكومت كے كچھ فوائد گنوائے ہيں جو در حقيقت وہ اہداف ہيں كہ ہر حكومت كيلئے ان كا حاصل كرنا ضرورى ہے _ ان ميں سے ايك ہدف ظالم اور جابر افراد سے كمزوروں اور مظلوموں كا حق وصول كرنا ہے _ فرماتے ہيں :(و يؤخذ به للضعيف من القوي )(۲)

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۳ _

۲) نہج البلاغہ خطبہ ۴۰_


اس (حكومت)كے ذريعہ طاقتور سے مظلوم كا حق واپس ليا جاتا ہے _

مختلف معاشرتى امور كى اصلاح بھى دينى حكومت كے اہداف ميں سے ہے _'' إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت'' ميں تو فقط اصلاح چاہتاہوں جہاں تك مجھ سے ممكن ہوسكے(۱)

حضرت على شہروں كى اصلاح كو اپنى خلافت كے اہداف ميں سے قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں : ''و نُظہر الإصلاح فى بلادك ، فيأمن المظلومون من عبادك''ہم تيرے شہروں ميں امن و بہبودى كى صورت پيدا كريں گے تا كہ تيرے مظلوم بندے امن سے رہيں _(۲)

گذشتہ مطالب كى روشنى ميں دينى حكومت كے دنيوى اہداف كو درج ذيل امور ميں خلاصہ كيا جاسكتا ہے _

۱_ امن و امان قائم كرنا _

۲_ اسلامى سرحدوں كى حفاظت اور دفاع كو مضبوط بنانا

۳_ رفاہ عامہ اور آباد كارى كيلئے اقدام كرنا _

۴_ مختلف معاشرتى امور كى اصلاح _

۵_ عمومى اموال كى حفاظت اور معاشرہ ميں اس كى عادلانہ تقسيم_

۶_ تعليم و تربيت كو عام كرنا _

۷_ معاشرتى ضروريات پورى كرنااور مظلوم اور آسيب زدہ افراد كى حمايت

دينى حكومت كے دنيوى اہداف وہى عمومى اہداف ہيں كہ جن كى ہر حكومت مدعى ہوسكتى ہے _ يہ اہداف عقلائي پہلو كے حامل ہيں اور ان كا بيان كرنا شريعت اور دين كے ساتھ مخصوص نہيں ہے_ اس كے باوجود ان اہداف كے پورا كرنے ميں دينى حكومت دوسرى غير دينى حكومتوں سے مختلف ہے اور يہ فرق دوجہت سے ہے_

____________________

۱) سورہ ہود آيت ۸۸_

۲) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۳۱_


الف: يہ كہ دينى حكومت ان اہداف پر خاص توجہ ديتى ہے_ جبكہ دوسرى حكومتوں ميں اس قسم كا اہتمام ديكھنے كو نہيں ملتا _ بطور نمونہ پانچويں اور ساتويں نمبر شمار كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے _ حكومت كے سلسلہ ميں ائمہ معصومين كى روايات اور آنحضرت (ص) اور اميرالمومنين كى عملى سيرت ميں فقراء ضعفاء اورتہى دست افراد كى مدد كرنے پر بہت زور ديا گيا ہے _ اور دوسرى طرف مختلف معاشرتى امور ميں بيت المال كى عادلانہ تقسيم كى تاكيد بھى كى گئي ہے _

ب: ان اہداف كے حصول كى روش كے لحاظ سے ہے _ دينى حكومت اپنے دنيوى اہداف كو بھى معنوى اہداف كے ساتھ ساتھ ركھتى ہے _ اجتماعى زندگى كے دنيوى اور عقلائي پہلوؤں كو اخلاقيات ، معنويات اور دين كے سايہ ميں آگے بڑھاتى ہے _ مثال كے طور پر معاشرہ كى اصلاح اور آبادكارى اگر چہ دينى حكومت كے دنيوى اہداف ہيں ليكن انہيں بھى معنوى اہداف كے زير سايہ پورا كيا جاتا ہے _ يعنى عدل و انصاف كى حاكميت ان دنيوى اہداف كے حصول كى راہيں ہموار كرتى ہے _ حضرت على فرماتے ہيں :

''العدلُ يضع الأُمور فى مواضعها'' (۱)

عدل يہ ہے كہ تمام امور كو ان كے مقام پر ركھا جائے _

''ما عُمرت البُلدان بمثل العَدل ''(۲)

شہروں كى آبادكارى عدل سے ہى ممكن ہے_

در حقيقت رفاہ عامہ اور امن و امان اسى وقت پابرجا ہوسكتے ہيں جب انسان كى اجتماعى زندگى اخلاقيات ، معنويات اور الہى اقدار سے سرشار ہو_ اسى وجہ سے دينى حكومت كے معنوى اہداف كا تحقق اس كے دنيوى اہداف كے حصول كيلئے مددگار ثابت ہوتا ہے _

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۷۵، ص ۳۵۷، باب احوال الملوك والامرائ، ح ۷۲_

۲) غررالحكم، آمدى ج ۶ ، ص ۶۸،ح ۴۳ ۹۵_


دينى حكومت كے اہلكاروں كے فرائض

دينى حكومت كے مادى اور معنوى اہداف كا حصول اس كے حكّام اور اہلكاروں كے كندھوں پر سنگين ذمہ دارى ہے_ معنوى اہداف پر اسلام كى تاكيداسلامى حكّام سے ايك خاص انفرادى خصوصيات كى خواہاں ہے _ يہ بھى دينى حكومت كى ان خصوصيات ميں سے ہے ہيں جو اسے دوسرى حكومتوں سے ممتاز كرتى ہيں _ ہم يہاں اجمالى طور پر بعض فرائض كى طرف اشارہ كرتے ہيں _

۱_ تقوى الہى كى رعايت :

دينى حكومت نے روح ايمان و تقوى كى تقويت ،معارف الہى كے پھيلاؤ اور عدل و انصاف كے قيام كو اپنا ہدف قرار ديا ہے _ اسى لئے ضرورى ہے كہ حكومتى اہل كار تقوى اور عبوديت سے سرشار ہوں آشكار اور پنہان دونوں حالتوں ميں تقوى الہى كو مد نظر ركھيں ، ان كى گفتار اور كردار ايك ہو _ حضرت على اپنے ايك عامل كو خط لكھتے ہوئے فرماتے ہيں _

''آمره بتقوى الله فى سرائر امره و خفيّات عمله، حيث لا شاهد غيره و لا وكيل دونه، و أمره أن لا يعمل بشيء من طاعة الله فيما ظهر; فيخالف الى غيره فيما أسره و مَن لم يختلف سره و علانيته و فعله و مقالته ، فقد أدّى الامانة و أخلص العبادة'' (۱)

ميں انہيں حكم ديتا ہوں كہ وہ اپنے پوشيدہ امور اور مخفى كاموں ميں الله سے ڈرتے رہيں _ جہاں نہ خدا كے سوا كوئي گواہ ہے اور نہ اس كے سوا كوئي نگران ہے _ اور انہيں حكم ديتا ہوں كہ وہ ظاہر ميں الله كا كوئي ايسا فرمان بجانہ لائيں كہ ان كہ چھپے ہوئے اعمال اسكے خلاف ہوں _

____________________

۱) نہج البلاغہ مكتوب ۲۶_


اور جس شخص كا باطن و ظاہر اور كردار و گفتار مختلف نہ ہو ، اس نے امانتدارى كا فرض انجام ديا اور الله كى عبادت ميں خلوص سے كام ليا _

تقوى كا تقاضا ہے كہ اسلامى مملكت كے حكمران ہر كام ميں الہى فرامين كو مد نظر ركھيں ، اپنى خواہشات نفسانى كو امرخدا پر ترجيح نہ ديں ، امام صادق پيشواؤں كو حق و باطل كى طرف تقسيم كرنے كے بعد اس خصوصيت كو پيشوايان حق كا طرہ امتياز قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

إن الائمة فى كتاب الله عزّوجلّ _ إمامان ; قال الله (تبارك و تعالي): ''و جعلناهم ائمة يهدونَ بأمرنا'' لا بأمر الناس، يقدّمون أمر الله قبل أمرهم، و حكم الله قبل حُكمهم _ قال: ( ( و جعلناهم ائمة يهدون إلى النار ) ) يقدمون أمرهم قبل أمرالله و حُكمهم قبل حكم الله ، و يأخذون بأهوائهم خلاف ما فى كتاب الله (۱)

قرآن مجيد ميں دو قسم كے ائمہ كا ذكر ہے خدا فرماتا ہے '' وجعلناہم أئمة يہدون بأمرنا ...''كہ: ہم نے انہيں پيشوابنايا جو ہمارے حكم كے مطابق راہنمائي كرتے ہيں نہ كہ لوگوں كے امر كے مطابق ، خدا كے امر كو اپنے امر پر اور خدا كے حكم كو اپنے حكم پر ترجيح ديتے ہيں _ دوسرى جگہ خداوند متعال نے فرمايا( ''و جعلنا هم ائمة يهدون الى النار'' ) ''اور ہم نے ان كو ايسے ائمہ قرار ديا جو جہنم كى طرف لے جاتے ہيں '' يہ اپنے امر كو خدا كے امر پر اور اپنے حكم كو خدا كے حكم پر ترجيح ديتے ہيں _ اور كتاب خدا كى ہدايات كے برعكس اپنى خواہشات پر عمل كرتے ہيں _

____________________

۱) كافى ج ۱ ص ۲۱۶ باب ان الائمة فى كتاب اللہ امامان ح ۲ _


۲_ شائستہ قيادت :

اسلامى حكّام كے لئے پہلے مرتبہ ميں يہ ضرورى ہے كہ وہ خود لائق اور پابند افراد ہوں شائستہ اور مہذب افراد كو عہدے ديں ، اسلام و مسلمين كى مصلحت كو تمام روابط و ضوابط پر ترجيح ديں _ حضرت على نے اپنے عہد نامہ ميں مالك اشتر كو حكومتى اہلكاروں كے انتخاب كے سلسلہ ميں خاص توجہ دينے كا حكم دياہے اور مختلف پہلوؤں كو مد نظر ركھنے پر اصرار كيا ہے _

''ثمّ انظر فى أمور عُمّالك فاستعملهم اختباراً ، و لا تولّهم محاباة و اثرة ; فانّهما جماع من شُعب الجَور والخيانة، و توخّ منهم أهل التجربة و الحياء من أهل البيوتات الصالحة و القدم فى الإسلام المتقدّمة: فانّهم أكرم أخلاقاً و أصحّ أعراضاً و أقلّ فى المطامع إشراقاً و أبلغ فى عواقب الامور نظراً''

''ثم اختر للحكم بين الناس أفضل رعيّتك فى نفسك، ممّن لا تضيق به الأمور و لا تُمحكُمه الخصوم، و لا يتمادى فى الزلّة، و لا يحصر من الفيء إلى الحقّ إذا عرفه''(۱)

پھر اپنے عہدہ داروں كے بارے ميں نظر ركھنا اور انہيں اچھى طرح آزمانے كے بعد منصب دينا ، صرف رعايت اور جانبدارى كى بناپر عہدہ نہ دينا كيونكہ يہ چيزيں نا انصافى اور بے ايمانى كا سرچشمہ ہيں ، ايسے لوگوں كو منتخب كرنا جو تجربہ كار اور غيرت مندہوں ، اچھے گھرانوں سے ان كا تعلق ہو ، اسلام كے سلسلہ ميں پہلے سے ان كى خدمات ہوں ، كيونكہ ايسے لوگ بلند

____________________

۱) نہج البلاغة مكتوب ۵۳_


اخلاق ،بے داغ عزت والے ہوتے ہيں حرص و طمع كى طرف كم مائل ہوتے ہيں اور عواقب و نتائج پر زيادہ نظر ركھتے ہيں _ پھر يہ كہ لوگوں كے معاملات كا فيصلہ كرنے كيلئے ايسے شخص كو منتخب كرو جو تمھارے نزديك تمھارى رعايا ميں سب سے بہتر ہو، جو واقعات كى پيچيدگيوں سے اكتا نہ جاتا ہو ، اور نہ جھگڑا كرنے والوں كے رويہ سے غصہ ميں آتا ہو ، اور نہ ہى اپنے كسى غلط نقطہ نظر پر اڑتا ہو اور نہ ہى حق كو پہچان كر اس كے اختيار كرنے ميں طبيعت پر بوجھ محسوس كرتا ہو _

۳_زہد اور سادگى :

گذشتہ سبق ميں ہم اشارہ كرچكے ہيں كہ اسلامى نقطہ نظر سے ''حكومت'' ايك سنگين ذمہ داريوں كى حامل الہى امانت ہے اور ہرگز كسى اجتماعى امتياز يا دولت سميٹنے كيلئے كوئي وسيلہ شمار نہيں ہوتى _ دوسرى طرف كمزوروں كى حمايت اور طاقتور افراد سے ستم رسيدہ اور كمزور افراد كے حق كى وصولي،اسلامى نظام كے اہداف ميں سے ہے لہذا ضرورى ہے كہ حكام اور حكومتى اہلكار فقيروں اور مظلوموں كے درد سے آشنا ہوں اور معاشى و اقتصادى لحاظ سے ان سے دور نہ ہوں _ حضرت اميرالمومنين فرماتے ہيں :

''إنّ الله جعلنى إماماً لخلقه، ففرضَ على التقدير فى نفسى و مطعمى و مَشربى و مَلبسى كضعفاء الناس، كى يقتدى الفقير بفقرى و لا يطغى الغنى غناه '' (۱)

خدا نے مجھے لوگوں كا امام بنايا ہے _ اور مجھ پر واجب قرار ديا ہے كہ ميں اپنے نفس ،كھانے پينے اور لباس ميں فقراء كى طرح رہوں تا كہ فقير ميرے فقر ميں ميرى پيروى كرے اور دولتمند اپنى دولت كى بناپر نافرمانى اور سركشى نہ كرے _

____________________

۱) كافى ج۱ ص ۴۱۰ باب سيرة الامام فى نفسہ ح۱_


معلى ابن خنيس كہتے ہيں : ميں نے خاندان بنى عباس كى معاشرتى حالت اور شان و شوكت ديكھ كر خواہش كى كہ كاش امام صادق-- كو حكومت مل جاتى تا كہ ہم بھى ان كے زير سايہ ايك خوشحال اور عيش و عشرت سے بھرى زندگى گزارتے امامنے جواب ميں فرمايا :

'' هيهات، يا معلّى أما و الله ان لو كان ذاك ما كان إلا سياسة الليل و سياحة النهار و لُبس الخَشن و أكل الجَشب'' (۱)

ہرگز نہيں اے معلى خدا كى قسم اگر ايسا ہوتا (يعنى ہم حكمران ہوتے) تو تدبر شب ،دن ميں كام كاج ، كھردرے كپڑے اور سادہ كھانے كے سوا كچھ نہ ہو تا_

۴_اجتماعى امور ميں مساوات :

اسلامى معاشرہ كے صاحبان اقتدار كے فرائض ميں سے يہ بھى ہے كہ وہ دوسرے عام افراد سے اپنے آپ كو برتر اور ممتازنہ سمجھيں _قانون كے سامنے اپنے كو دوسروں كے برابر سمجھيں_لہذا اگر كسى حكومتى اہلكار سے كوئي جرم سر زدہو جائے تو دوسرے افراد كى طرح اس پر بھى خدا كى حدودجارى ہو نگى _امام صادق فرماتے ہيں :

قال أمير المؤمنين لعمر بن الخطاب : ''ثلاث ان حفظتهن و عملت بهن كفتك ما سواهن و ان تركتهن لم ينفعك شي سواهن'' قال: و ما هنّ يا أبا الحسن؟ قال: '' إقامة الحدود على القريب والبعيد، والحكم بكتاب الله فى الرضا والسخط، و القسم بالعدل بين الاحمر والاسود'' (۲)

____________________

۱) كافى ج۱ ص ۴۱۰ باب سيرة الامام فى نفسہ ح۲_

۲) وسائل الشيعہ، ج۲۷،ص ۲۱۲،۲۱۳، باب ۱، از ابواب آداب قاضى ح ۲_


اميرالمومنين على نے عمر ابن خطاب سے فرمايا اگر تو نے تين چيزوں كا خيال ركھا اور ان پر عمل كيا تو تم دوسرى چيزوں سے بے نياز ہو جائوگے اور اگر ان تين چيزوں كو چھوڑديا تو كوئي دوسر ى شےء تمھيں فائدہ نہيں دے گى _پوچھا اے ابوالحسن وہ كيا ہيں ؟فرمايا :قريبى اور غير قريبى پر حدود الہى كااجرا خوشنودى و ناراضگى ميں قرآن كے مطابق حكم لگانا ،اور سرخ و سياہ كے در ميان عادلانہ تقسيم_

۵_لوگوں سے براہ راست رابطہ :

اسلام نے حكام سے يہ مطالبہ كيا ہے كہ وہ عوام كے ساتھ محبت سے پيش آئيں ،ان كى بات سنيںاور ان سے مشورہ ليں _اس سے عوام كى حوصلہ افزائي ہو گى اور حكاّم بھى ان كے دردسے آشنا ہوں گے اور ان كى مقبوليت ميں اضافہ ہو گا ارشاد خداوندى ہے :

''فبما رحمة: من الله لنْتَ لهم و لو كنت فظّاً غليظ القلب لانفضّوا من حَوْلكَ فاعف عنهم و استغفر لهم و شاورهم فى الامر'' (۱)

(اے رسول )يہ الله كا كرم ہے كہ آپ ان لوگوں كيلئے نرم ہيں _وگرنہ اگر آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو يہ آپ كے پاس سے بھاگ كھڑے ہوتے پس انہيں معاف كردو ، ان كے ليئے استغفار كرو اور معاملات ميں ان سے مشورہ كرلياكرو _

دوسرى جگہ ارشاد ہوتاہے:

''و منهم الذين يُؤذون النبيّ و يقولون هو أذن قل أُذنُ خَير: لَكُم يُؤمن بالله و يُؤمن للمؤمنين و رحمةٌ للّذين آمنوا منكم'' (۲)

____________________

۱) آل عمران آيت ۱۵۹_

۲) سورہ توبہ آيت ۶۱_


ان ميں سے وہ بھى ہيں جو پيغمبر (ص) كو اذيت ديتے ہيں اور كہتے ہيں: وہ تو صرف كان (كے كچے) ہيں_ آپ كہہ ديجئے تمھارے حق ميں بہترى كے كان ہيں كہ خدا پر ايمان ركھتے ہيں ،مومنين كى تصديق كرتے ہيں اور جو تم ميں سے صاحبان ايمان ہيں ان كيلئے رحمت ہيں_

اميرالمومنين مالك اشتر كو نصيحت كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ اپنے اور لوگوں كے در ميان كوئي ركاوٹ قائم نہ كرنا _كيونكہ اس سے لوگوں كے بارے ميں حكاّم كى اطلاع كم ہو جاتى ہے ،حق و باطل مخلوط ہو جاتے ہيں اور حقيقت ان پر مشتبہ ہو جاتى ہے :

''فلا تطوّلنَّ احتجابك عن رعيتك فان احتجاب الولاة عن الرعية شعبة من الضيق و قلة علم بالامور ، و الاحتجاب منهم يقطع عنهم علم ما احتجبوا دونه ...'' (۱)

پس رعايا سے لمبى مدت تك روپوشى اختيار نہ كرنا _كيونكہ حكمرانوں كا رعايا سے چھپ كررہنا ايك طرح كى تنگ دلى اور معاملات سے بے خبر رہنے كا سبب ہے اور يہ روپوشى انہيں بھى ان امور پر مطلع ہونے سے روكتى ہے كہ جن سے وہ ناواقف ہيں

۶_فقر كا خاتمہ اور ضروريات زندگى كى فراہمي:

دينى حكومت كا اہم ترين فريضہ غربت كا خاتمہ اور معاشرہ كے كمزور افراد كى مادى ضروريات كا پور ا كرنا ہے_ اس بارے ميں بہت سى روايات موجود ہيں _ہم نمونہ كے طور پر صرف دو روايات كى طرف اشارہ كرتے ہيں_ رسولخدا (ص) فرماتے ہيں:

''ما من غريم ذهب بغريمه الى و ال من وُلاة المسلمين و

____________________

۱) نہج البلاغہ، مكتوب نمبر ۵۳_


استبان للوالى عُسرته، إلاّ بَرأ هذا المعسرمن دينه و صار دينه على و الى المسلمين فيما يديه من أموال المسلمين '' (۱)

قرضوں كے بوجھ تلے دبا ہوا شخص جب اسلامى حاكم كے پاس جائے اور اپنى بدحالى كا ذكر كرے تو وہ اس قرض سے برى ہوجاتاہے_اس كا يہ قرض حاكم پر ہے اور وہ اسے بيت المال سے ادا كرے_

حضرت على نے ايك بوڑھے فقير كو ديكھا جو بھيك مانگ رہاتھا _ آپ نے پو چھا يہ مرد كون ہے ؟ ساتھيوں نے كہا: عيسائي ہے _حضرت نے فرمايا :''استعملتموه،حتّى اذا كبر و عجز منعتموه؟ أنفقوا عليه من بيت المال'' تم نے اس سے كام لياليكن جب يہ بوڑھا اور عاجز ہو گيا تو اسے پوچھا تك نہيں ؟ اسے بيت المال سے نفقہ عطا كرو(۲)

اسلامى حكمرانوں كے فرائض اس سے بہت زيادہ ہيں جو ہم نے يہاں بيان كئے ہيں واضح سى بات ہے كہ دينى حكومت كے معنوى اور دنيوى اہداف ميں سے ہر ايك اسلامى معاشرہ كے حكاّم پر خا ص فرائض اور ذمہ دارياں عائد كرتا ہے _

____________________

۱) مستدرك الوسائل _ ج۱۳،ص ۴۰۰ ح۱۵۷۲۳ _

۲) وسائل الشيعہ ،ج ۱۵ ،ص۶۶باب ۱۹ از ابواب جہاد العدو ،ح۱ _


خلاصہ :

۱)حق كا قيام ،باطل كا خاتمہ ،عدل و انصاف كى ترويج ،حدودالہى كا اجرا ،نيكى كا حكم د ينااور برائي سے روكنا اور معارف الہى كى تعليم ، دينى حكومت كے اہم ترين اہداف ميں سے ہے _

۲)دينى حكومت كے دنيوى اہداف سے مرادوہ اہداف ہيں جو عقلائي طور پر ہر حكومت كے پيش نظر ہوتے ہيں _

۳)امن وامان كا برقرار كرنا ،سر حدوں كى حفاظت ،رفاہ عامہ كا قيام ،آباد كارى ،تعليم و تربيت كا عام كرنا اور مختلف معاشرتى امور كى اصلاح حكومت كے ا ن اہم ترين اہداف ميں سے ہيں جن كى آيات و روايات ميں بہت تاكيد كى گئي ہے _

۴)دينى حكومت كى يہ خصوصيت ہے كہ وہ اپنے دنيوى اہداف كو بھى معنوى اہداف كے زير سايہ حاصل كرتى ہے_

۵)دينى حكومت كے اہداف خصوصاً معنوى اہداف كا حصول حكومتى اہل كاروں پر سنگين ذمہ دارى لاتا ہے_

۶)تقوى الہى كى رعايت ،شائستہ قيادت ،زہد وسادگى اور قانون كے سامنے سب كا برابر ہونا دينى حكومت كے اہل كاروں كے اہم ترين فرائض ميں سے ہيں _


سوالات :

۱) دينى حكومت كے معنوى اہداف كے پانچ موارد بيان كيجئے ؟

۲)دينى حكومت كے دنيوى اہداف سے كيا مراد ہے ؟

۳)حكومت كے وہ كونسے دنيوى اہداف ہيں جن پر آيات و روايات ميں تاكيد كى گئي ہے ؟

۴)دنيوى اہداف كے حصول كے سلسلہ ميں دينى حكومت كا دوسرى حكومتوں سے كيا فرق ہے ؟

۵)حكومتى عہدے داروںكے انتخاب كے سلسلہ ميں اميرالمومنين نے مالك اشتر كو كونسى نصيحتيں كى ہيں ؟

۶)حكومتى اہل كاروں كے كچھ فرائض بيان كيجئے ؟


اكتيسواں سبق :

دينى حكومت اور جمہوريت -۱-

اسلام كے سياسى فلسفہ كى اہم ترين بحثوں ميں سے ايك ''دين اور جمہوريت'' كے در ميان تعلق كى تحقيق و بررسى ہے _اس بحث ميں بہت سے سوالات اور شبہات پائے جاتے ہيں _ ان ميں سے بعض شبہات كا سرچشمہ اسلام كے اصول ومبانى اور جمہوريت كے اصول و مبانى كے درميان ناقابل حل عدم مطابقت وعدم ہم آہنگى كا تصور ہے _ دينى حكومت اور جمہوريت كى ہم آہنگى كے بعض منكرين اس سرچشمہ كو نظريہ ولايت فقيہ ميں تلاش كرتے ہيں _ان كے خيال ميں اسلام جمہوريت سے ذاتى مخالفت نہيں ركھتا _ليكن ولائي نظام جو كہ ولايت فقيہ پر مبتنى ہے جمہوريت كے ساتھ مطابقت نہيں ركھتا _ بنابريں ايك كلى تقسيم بندى كے لحاظ سے ہميں تين اساسى نظريات كاسامنا ہے _

الف_ ايك نظريہ يہ ہے كہ دينى حكومت اور جمہوريت كى تركيب ممكن ہے اس نظريہ كے مطابق اسلام اور


اس كى تعليمات كى پابندى جمہوريت اورمعاشرہ كے سياسى و انتظامى امور ميں لوگوں كى مداخلت سے مانع نہيں ہے _ جمہورى اسلامى كا نظام اور اس كا اساسى قانون اسى سياسى نظريہ پر قائم ہے _

ب_ وہ نظريہ جو اسلام اور -جمہوريت كے درميان ذاتى تضاد كا قائل ہے يہ نظريہ اس بنياد پر قائم ہے كہ اسلام بنيادى طور پر عوامى قيادت كے ساتھ مطابقت نہيں ركھتا _ اسى لئے نہ صرف'' حكومت ولائي'' اور ولايت فقيہ كا سياسى نظريہ ، بلكہ ہر وہ دينى حكومت جو اسلام كى حاكميت كو تسليم كرتى ہے اور اس كى تعليمات اور احكام كى پابند ہے وہ ايك جمہورى اور عوامى حكومت نہيں ہوسكتى _

ج _ تيسرا نظريہ وہ ہے جو بنيادى طور پر دين اور جمہوريت كى تركيب كے امكان كا منكر نہيں ہے _ بلكہ اسے اس نظام ميں مشكل پيش آرہى ہے جو ولايت فقيہ پر مبتنى ہے _ اس نظريہ كى بنياد پر ولايت فقيہ كے اعتقاد اور جمہوريت كى باہمى تركيب ممكن نہيں ہے _ جمہوريت اور ولائي حكومت كبھى بھى ہم آہنگ نہيں ہوسكتے وہ حكومت جو ولايت فقيہ كى بنياد پر قائم ہوكبھى بھى جمہورى اور عوامى نہيں كہلاسكتى _ جمہوريت پر اعتقاد اور ولايت فقيہ پر اعتقاد، دو متضاد چيزيں ہيں _

ان تين نظريات كے متعلق فيصلہ كرنے اور دينى حكومت كے مخالفين كے نظريہ كے متعلق تفصيلى بحث سے پہلے بہتر ہے : جمہوريت كى حقيقت كے متعلق مزيدآشنائي حاصل كرليں _

جمہوريت كى حقيقت :

جمہوريت ايك يونانى اصطلاح ہے جو دو الفاظ'' demo '' يعنى عوام اور '' cracy '' يعنى حكومت سے مركب ہے _ عوامى حكومت يا عوامى قيادت اپنے دقيق معنى كے ساتھ تو ايك ايسا خواب ہے جو كبھى بھى شرمندہ تعبير نہيں ہوسكتا _ كيونكہ آج كے پيچيدہ معاشرے ميں كہ جہاں روزانہ دسيوں بڑے بڑے معاشرتى فيصلے


كئے جاتے ہيں اور مختلف حكومتى اداروں ميں مختلف قوانين وضع ہوتے ہيں ممكن ہى نہيں ہے كہ يہ فيصلے اور قوانين براہ راست لوگوں كے ذريعے انجام پائيں _ پس ناچار جمہورى حكومتوں ميں كچھ افراد لوگوں كى اكثريت رائے سے ان كى نمائندگى كرتے ہوئے عنان حكومت اپنے ہاتھ ميں لے ليتے ہيں اور در حقيقت عملى طور پر يہى افراد حكومت كرتے ہيں نہ كہ عوام_ البتہ قديم يونان كے شہروں كى حكومتوں ميں بہت سارے فيصلے شہر كے چوك ميں كھلے عام اور لوگوں كى رائے سے انجام ديئے جاتے تھے ليكن وہاں بھى تمام لوگوں كو راے دہى كا حق نہيں تھا كيونكہ خواتين اور غلام رائے نہيں دے سكتے تھے-_

ڈيمو كريسى يعنى جمہوريت ايك ايسا كلمہ ہے جس كى مختلف تفسيريں اور معانى كئے گئے ہيں _ اس مدعى كى دليل يہ ہے كہ مختلف مكاتب فكر نے بالكل متضاد نظريات كے باوجود جمہوريت كى حمايت كى ہے _ لبرل ازم اور فاشزم كے حامى اور قدامت پسند سبھى خود كو جمہوريت نواز كہتے ہيں اور اپنے آپ كو حقيقى جمہوريت قائم كرنے والا قرار ديتے ہيں _ اشتراكى جمہوريت ، لبرل ازم ، آزاد جمہوريت ، صنعتى جمہوريت اور كثيرالراے جمہوريت(۱) جيسى مختلف اصطلاحيں حقيقت ميں اس بات كى نشاندہى كرتى ہيں كہ جمہوريت سے مراد كوئي مخصوص معنى اور اصطلاح نہيں ہے _

جمہوريت كا كوئي ثابت معنى نہيںہے _ دنيا كے بيشتر ممالك ميں مختلف جمہورى حكومتيں قائم ہيں اور جمہوريت مختلف سياسى نظريات كے ساتھ ہم ساز و ہم آہنگ ہے يہ اس بات كى دليل ہے كہ جمہوريت كا كوئي ايسا معنى موجود نہيں ہے كہ جس پر سبھى متفق ہوں_ اس نے مختلف معاشروں كے اجتماعى تحولات اور تغيرات كے ساتھ ساتھ مختلف روپ ڈھالے ہيں _

____________________

۱) Social democracy - Liberal democracy - Industrial democracy


آج چونكہ جمہوريت ايك مثبت معنى ركھتى ہے لہذابہت سے سياسى نظام خود كو جمہوريت نواز كہتے ہيں اگرچہ ان كى حكومتوں ميں عوام كا عمل دخل بہت ہى كم ہو_

بنيادى طور پر جمہوريت كو دو لحاظ سے ديكھا جاتاہے_ از لحاظ قدر و قيمت اور از لحاظ ايك روش _ جمہوريت از لحاظ قدر و قيمت سے مراد يہ ہے كہ اكثريت كا انتخاب ہميشہ معاشرہ كى بھلائي اور حق كے انتخاب كے ہمراہ ہے _ جن موارد ميں عمومى آراء كا لحاظ كيا جاتا ہے وہاں حق باطل سے ممتازہوجاتا ہے _ بنابريں جمہوريت اجتماعى زندگى گزارنے كيلئے مناسب اور صحيح راہ حل دے سكتى ہے _ معاشرہ كى سعادت اور خوشبختى اكثريت كے انتخاب كى مرہون منت ہے _ كلاسيكل جمہوريت يعنى اٹھار ہويں صدى كى جمہوريت اسى نظريہ پر استوار تھى اور آج بھى كچھ گروہ اسى زاويہ نگاہ سے جمہوريت كو ديكھتے ہيں اور اكثريت كى رائے كو حق و باطل كى تشخيص كا معيار قرار ديتے ہيں _ اكثريت كى رائے كو قدر كى نگاہ سے ديكھتے ہيں اور حق و حقيقت كو اسى ميں تلاش كرتے ہيں _

اس نظريہ كا نقطہ استدلال يہ ہے _

واضح سى بات ہے كہ ہر شخص اپنى انفرادى زندگى ميں اپنى ذاتى منفعت اور سعاد ت و خوشبختى كا خواہان ہے_ اور زندگى كے مختلف شعبوں ميں بہترين اور صحيح امور كا انتخاب كرتا ہے _ دوسرے لفظوں ميں لوگ اپنى انفرادى زندگى ميں منافع پر نظر ركھتے ہيں اور اپنى ذاتى خيرو بھلائي كى تلاش ميں رہتے ہيں_ لہذا اجتماعى زندگى ميں بھى اكثريت كا انتخاب ايك صحيح ترين انتخاب ہوگا _ چونكہ لوگ اپنے منافع كا صحيح اور بہترين ادراك ركھتے ہيں اور عمومى منافع و مصالح بھى اسى انفرادى تشخيص پر موقوف ہيں _ ہر فرد نے اجتماعى امور اور معاشرہ كے منافع و مصالح كو اپنى ذاتى تشخيص سے متعين كيا ہے اور اكثريت كى رائے معاشرہ كى خيرو منفعت


كى تعيين و تشخيص ميں عمومى رائے كى نشاندہى كرتى ہے بنابريں ہر اجتماعى واقعہ و مسئلہ آسانى سے خوب و بد اور نافع و مضر ميں تقسيم ہوسكتا ہے _ اور ارادہ عمومى جو كہ اكثريت رائے سے حاصل ہوا ہے اس خوب و بد اور مفيدو مضر كى آسانى سے شناخت كرسكتا ہے _

''جمہوريت از لحاظ ايك روش ''سے مراد يہ ہے كہ جمہوريت صرف اجتماعى تنازعات كا حل اور سياسى اقتدار كى تبديلى كا ايك ذريعہ ہے _ طول تاريخ كے عقلانے تجربہ سے يہ نتيجہ حاصل كيا ہے كہ جمہوريت، حكّام اور صاحبان اقتدار كے تعيّن كا بہترين طريقہ ہے بجائے اس كے كہ مختلف سياسى جماعتيں ، سياسى ليڈر اور اقتدار كے خواہشمند افراد جنگ، قتل و غارت ،دہشت گردى اور اختلافى مسائل كے ذريعہ اقتدار كو اپنے درميان تقسيم كرليں_ اس كيلئے ايك معقول اور بہترين راہ موجود ہے اور وہ حكمران يا پارليمنٹ كے ممبران كى تشخيص اور انتخاب كيلئے رائے عامہ كى طرف رجوع كرنا ہے _ اس لحاظ سے جمہوريت اور اكثريت كى رائے خوب و بد اور صحيح و غلط كا معيار نہيں ہے -ہوسكتا ہے لوگوں كى منتخب شدہ جماعت كہ جس كے متعلق اكثريت نے راے دى ہے عملى طور پر معاشرہ كى فلاح و بہبود كيلئے كوئي قدم نہ اٹھائے _ اكثريت كا انتخاب حق و حقانيت كے انتخاب كى دليل نہيں ہے _

موجودہ دور كے صاحبان نظرجمہوريت كو از لحاظ قدر و قيمت نہيں ديكھتے كوئي بھى يہ تصور نہيں كرتا كہ اكثريت كى رائے حتمى طور پر معاشرہ كى فلاح و بہبود كا پيغام ہے _ جرمن نازى ، اٹالوى فاشسٹ ، اور روسى اور مشرقى بلاك كے كيمونسٹ ،اكثريت كى رائے سے انقلاب لائے اور اقتدار حاصل كرنے ميں كامياب ہوئے _ ليكن عملى طور پر ان كے دور اقتدار انسانى الميوں سے بھرے ہوئے ہيں _

اجمالى طور پر جمہوريت كى حقيقت كے واضح ہونے كے بعد اس نظريہ كى تحقيق كى بارى آتى ہے كہ اسلام اور جمہوريت كے اصولوں ميں توافق اور ہم آہنگى ممكن نہيں ہے _


اسلام اور جمہوريت كے در ميان ذاتى عدم توافق

بعض افراد معتقد ہيں كہ جمہوريت كچھ خاص اصولوں پر مبتنى ہے _ انسان ، معاشرہ اور سياست پر اس كى ايك خاص نگاہ ہے اور مخصوص اہداف كى حامل ہے _ يہ اصول و اہداف ،اسلامى تعليمات اور ان پر حاكم اصولوں كے ساتھ مطابقت نہيں ركھتے _

اسلام اور جمہوريت كے درميان توافق نہيں ہوسكتا اور اسكى ادلة ہم ذكر كريں گے_ اصلاً اسلام اور جمہوريت كے درميان توافق ممكن نہيں ہے مگر يہ كہ اسلام مكمل طور پر سيكولر ہوجائے _ جمہوريت كے نظرى اصول ميں سے ايك يہ بھى ہے كہ انسان سے خطا اور غلطى كا سرزد ہونا ممكن ہے يہ اصول خود ايك دوسرے اصول پر مبنى ہے كہ انسان ايك صاحب اختيار وجود ہے اور اسے انتخاب كا حق ہے _ خطا اور غلطى اس كے اختيار اور انتخاب كا لازمہ ہے انسان كے انتخاب كا بہترين مورد، فكر اور عقائد كى دنيا ہے _ انسان كيلئے يہ امكان ہونا چاہيئے كہ وہ آزادانہ طور پر مختلف آراء و نظريات كے متعلق غور و فكر كرسكے اور آزادانہ طور پر اپنا انتخاب كرسكے _ وہ اديان ميں سے كسى دين يا بے دينى كو اختيار كرنے ميں آزاد ہے _ جمہوريت كا ايك اصول يہ ہے كہ حقيقت واضح نہيں ہے اور وہ سب انسانوں كے درميان منتشر ہے لہذا ہر انتخاب حقيقت اور غير حقيقت كى ايك تركيب ہے_ليكن اگر كو ئي مكتب يا دين خود كو حق و حقيقت كا مظہر سمجھتا ہے اور دوسرے اديان كو كفر ، شرك اور ضلالت كا مجموعہ قرار ديتا ہے تو پھر كسى جمہورى حكومت كى كوئي جگہ نہيں بنتى _ اسلام قرآنى آيات كى روسے فقط خود كو دين بر حق سمجھتا ہے _ درج ذيل آيات صريحاً جمہوريت كى نفى كرتى ہيں _ سورہ يونس كى آيت ۳۲ ميں ارشاد ہوتاہے:

''( ماذا بعدالحق الاالضلال ) ''

اور حق ( كو ترك كرنے) كے بعد ضلالت و گمراہى كے سوا كچھ نہيں _


سورہ آل عمران كى آيت ۸۵ ميں ہے :

( ''من يبتغ غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه'' )

اور جو شخص اسلام كے علاوہ كسى اور دين كا خواہاں ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہيں كيا جائے گا_

سورہ توبہ كى ابتدائي آيات بھى انسانى انتخاب كى نفى كرتى ہيں _

اس استدلال ميں واضح طور پر جمہوريت كے دو بنيادى اصولوںكو مد نظر ركھا گيا ہے _ پہلا يہ كہ'' كثرت رائے معرفت شناختي''ہے _ نسبى گرائي(۱) اور ''تكثر گرائي(۲) معرفت شنا ختي'' سے مراد يہ ہے كہ لوگوں كے پاس حقيقت كو كشف كرنے كا كوئي راستہ نہيں ہے اور حق كو باطل سے صحيح طور پر تشخيص نہيں ديا جاسكتا ،كوئي شخص بھى يہ دعوى نہيں كرسكتا كہ اس كى فكر ،سوچ ،اعتقاد اور دين ،حق ہے اور دوسرے افكار باطل ہيں _ حق و باطل دونسبى چيزيں ہيں اور ممكن ہے ہردين ، اعتقاد اور فكر حقانيت ركھتا ہو _ خالص باطل اور خالص حق كا كوئي وجود نہيں ہے_ يہ شكاكيت اور نسبى گرائي معرفتي، تمام افكار و عقائد اور نظريات كو ايك ہى نگاہ سے ديكھتے ہيں اور سب كو قابل اعتبار سمجھتے ہيں لہذا يہ ايك قسم كا پلورل ازم(۳) ہے اور اس كا لازمہ يہ ہے كہ كسى فكر ، نظريئےور مذہب كو منطق اور استدلال كے ذريعہ ثابت نہيں كيا جاسكتا بلكہ يہ انسان ہيں -جو مختلف آراء و افكار اور مذاہب ميں سے ايك كا انتخاب كرليتے ہيں _ پس حق كو باطل پر اور صحيح كو غلط پر ترجيح دينے كى دعوت دينے كى بجائے آزاد انتخاب كى راہيں ہموار كى جائيں كيونكہ حق كو باطل سے اور صحيح كو غلط سے تميز دى ہى نہيںجاسكتى _

____________________

۱) Relativism

۲) pluralism

۳) pluralism


اسى اصول پر ايك دوسرا اصول مبتنى ہے _ يعنى فكر و بيان اور عقائد و افكار كے انتخاب كى آزادى كا سرچشمہ يہى ''تكثير گرائي معرفتي'' ہے _ كيونكہ اگر ہميں حق كو باطل سے تميز دينے كے امكان كا يقين ہو جائے تو پھر كلى طور پر''آزادى انتخاب'' كا كوئي معنى نہيں رہتا _ كوئي صاحب عقل يہ تصور نہيں كر سكتا كہ حق و باطل كے در ميان تشخيص كا امكان ہوتے ہو ئے ہم اسے حق وباطل كے درميان انتخاب كى دعوت ديں _ كيونكہ معقول اور فطرى بات يہى ہے كہ حق كى تشخيص كے بعد اس كا اتباع كيا جائے _

اس استدلال كى بنا پر دين اور جمہوريت ميں توافق ممكن نہيں ہے _كيونكہ دينى حكومت اسلام كى پابند ہے_ اور فقط اسلام كى حقانيت كو تسليم كرتى ہے بلكہ قوانين كے بنانے اور دوسرے معاشرتى امور ميں اسى اسلام كو اپنا مرجع قرار ديتى ہے _پس كيسے ممكن ہے كہ دينى حكومت اسلام كى پابند ہونے كے ساتھ ساتھ جمہوريت كى بھى پابند رہے _جمہوريت اپنے دو بنيادى اصولوںكے لحاظ سے اسلام اور دوسرے مذاہب كے در ميان كسى فرق كى قائل نہيں ہے اور اسى پريقين ركھتى ہے كہ حقانيت كے اعتبار سے اسلام دوسرے مذاہب سے كوئي امتياز نہيں ركھتا_-

آنے والے سبق ميں ہم اس نظريہ پر بحث كريں گے_


خلاصہ:

۱) دينى حكومت اور جمہوريت كے درميان توافق ممكن ہے_ اس نظريہ كے مقابلہ ميں ايك نظريہ يہ ہے كہ اسلام اور جمہوريت كے درميان ذاتاً ''عدم توافق'' ہے_ اور بعض ''ولايت فقيہ اور جمہوريت ''كے درميان عدم توافق كے قائل ہيں_

۲-) جمہوريت اپنے حقيقى معنى يعنى (عوامى حكومت ) كے لحاظ سے ايسا خواب ہے جو كبھى شرمندہ تعبير نہيں ہوسكتا_

۳-) جمہوريت كى مختلف تفسيريں كى گئي ہيں اور بنيادى طور پر يہ كلمہ لچكدار ہے_

۴) جمہوريت كى مختلف تفاسير كو دو كلى نظريوں ميں تقسيم كيا جاسكتاہے_ ايك وہ نظريہ ہے جو جمہوريت كو اجتماعى امور كے نظم و نسق كا ذريعہ اور روش سمجھتاہے_ اور دوسرا نظريہ اسے قابل قدر و قيمت سمجھتاہے_

۵) دوسرا نظريہ جو كہ جمہوريت كى قدر كا قائل ہے اكثريت كے انتخاب كو معاشرہ كى فلاح و بہبود كے انتخاب كے مترادف قرار ديتاہے_ بنابريں زندگى گزارنے كى كيفيت اكثريت كے انتخاب كى بنياد پر ہونى چاہيے_

۶) موجودہ دور ميں جمہويت كے متعلق ''نگاہ قدر ''كے نظريہ كى اہميت كم ہوچكى ہے اور اس كے حاميوں كى تعداد بہت كم رہ گئي ہے _

۷) بعض افراد يہ سمجھتے ہيں كہ اسلام اور جمہوريت كے درميان عدم توافق كى وجہ جمہوريت كے دو بنيادى اصول ہيں _

۸)''تكثر گرائي معرفت شنا ختي''اور'' مطلق آزادى انتخاب كا حق'' جمہوريت كے دو بنيادى اصول ہيں _

۹) اسلام اپنى تعليمات كى حقانيت پر تاكيد كرتاہے_ لہذا تكثّر حقيقت اور حق و باطل كى تركيب كا معتقد نہيں ہے اور اس كے نزديك حق كو باطل سے تشخيص دى جاسكتى ہے _


سوالات:

۱) دينى حكومت كے جمہوريت كے ساتھ تعلق كے بارے ميں كونسے تين بنيادى نظر يات ہيں؟

۲) جمہوريت اپنے حقيقى مفہوم كے ساتھ قابل وجود كيوں نہيں ہے؟

۳) جمہوريت كے متعلق ''نگاہَ قدر 'سے كيا مراد ہے؟

۴) جمہوريت كو ايك روش سمجھنے سے كيا مراد ہے ؟

۵) اسلام اور جمہوريت كے درميان ''ذاتى تضاد'' كى كيادليل ہے ؟

۶)'' تكثر گرائي معرفت شنا ختي'' سے كيا مراد ہے ؟


بتيسواں سبق:

دينى حكومت اور جمہور يت – ۲-

گذشتہ سبق ميں ہم اس نظريہ كو تفصيل كے ساتھ بيان كرچكے ہيں كہ اسلام اور جمہوريت كے درميان عدم توافق ''ذاتي'' ہے _ اب ہم اس نظريہ كى تحقيق كرتے ہيں_

دين اور جمہوريت كے درميان توافق كا امكان

پہلے اشارہ كرچكے ہيں كہ جمہوريت كى كوئي ايك تفسير يا تعريف نہيں ہے_ جمہوريت كے متعلق مختلف نظريات بيان كئے جاسكتے ہيں_اسلام اور جمہوريت كے درميان ذاتى عدم توافق كى جو وجہ بيان كى گئي ہے وہ جمہوريت كے متعلق ايك خاص نظريہ يعنى جمہوريت تكثر گرا(كثرت رائے) پر مبنى ہے _ البتہ جمہوريت كى يہ تفسير اسلام اور ہر اس مكتب كے ساتھ مطابقت نہيں ركھتى جو بعض امور كو حق اور صحيح سمجھتاہے_ اور ان كے نسبى ہونے كو نہيں مانتا_ جمہوريت كى مختلف تفسيريں ہيں_ اور ان ميں سے بعض مذكورہ بالا استدلال ميں بيان كئے گئے دو بنيادى اصولوں پر مبنى نہيں ہيں _ مثال كے طور پر وہ نظريہ جو جمہوريت كو سياسى اقتدار كى تقسيم كى ايك روش اور معاشرتى امور كے منظم كرنے كا ايك كارآمد وسيلہ سمجھتاہے وہ تكثر گرائي معرفتى اور مطلق


آزادى انتخاب پر موقوف نہيں ہے_

جمہوريت از لحاظ ايك روش كو محدود كيا جاسكتاہے يعنى كچھ مخصوص اصولوں كو حق اور صحيح تسليم كيا جاسكتاہے اس وقت جمہوريت كو ان اصولوں اور اقدار كى حفاظت كے لئے كام ميں لايا جاسكتاہے_ جمہوريت كے اس تصور ميں ايك تو ''نسبيت'' اورتكثرگرائي معرفتى كو ہٹاديا گياہے كيونكہ حقانيت كا اعتقاد پيدا كرچكے ہيں _ دوسرا يہ كہ لوگوں كا انتخاب ،مطلق اور آزاد نہيںہے بلكہ مقيد ہے كيونكہ اس نظريہ كے قائل افراد ان طے شدہ اصولوں كے خلاف كسى اور چيز كا انتخاب نہيں كرسكتے_ پس جمہوريت كا يہ تصور ان دو اصولوں يعني'' تكثر گرائي معرفتى ''اور'' مطلق آزادى انتخاب ''پر موقوف نہيں ہے_

''لبرل جمہوريت'' جمہوريت كے اسى تصور كى بنياد پر تشكيل پائي ہے_ ابتداء ميں لبرل ازم كے حاميوں نے جمہوريت كے سلسلہ ميں اكثريت كے انتخاب كو كوئي خاص اہميت نہيں دى كيونكہ وہ اس سے خوفزدہ تھے كہ كہيں اكثريت رائے ان كے لبرل اصولوں اور اقدار كو پامال نہ كردے_ يہ اپنے لبرل اصولوں مثلاً ذاتى مالكيت كا احترام ، آزاد تجارت، آزادى بازار اقتصاد، مذہبى آزادى اور فكر و بيان كى آزادى پر يقين ركھتے تھے _ لہذا وہ چا ہتے تھے كہ جمہوريت كو ان اصولوں ميں اس طرح پابند كرديں كہ اكثريت رائے ان اصولوں كو پامال نہ كرسكے_ بنابريں لبرل ازم كى حقانيت اور اس كے اصولوں اور اقدار كے صحيح ہونے كے اعتقاد اور جمہوريت ميں ناہم آہنگى نہيں ہے_ لہذا جمہوريت كو لبرل اصولوں اور اقدار ميں مقيد ايك روش تصور كرتے ہوئے اسے'' لبرل جمہوريت'' كہہ سكتے ہيں_

جب ايسا ہے تو پھر كيا مشكل ہے كہ ہم جمہوريت از لحاظ ايك روش كو اسلامى اصول و ضوابط ميں منحصركر د يں اور كہيں: سياسى حكام كے تعيّن كيلئے عوام كى طرف رجوع كريں گے اور لوگ اپنى آراء سے پارليمنٹ كے ممبران


كاانتخاب كريں گے_ ليكن منتخب شدہ ممبران حق نہيں ركھتے كہ اسلامى تعليمات كے منافى قوانين بنائيں_ اكثريت كا انتخاب اور لوگوں كى آراء اس وقت تك قابل احترام ہيں جب تك قبول كئے گئے عقائد كے مخالف نہ ہوں بنابريں جس طرح لبرل عقيدہ كے حامى ''جمہوريت'' كو اپنے اصولوں كے زير سايہ ركھتے ہيں اسى طرح اسلام بھى جمہوريت كو اپنے اصولوں كے زير سايہ ركھتاہے_ پس جمہوريت اور اسلام كے درميان توافق قائم كيا جاسكتاہے_ اسلامى جمہوريہ ايران كا سياسى نظام اس كا عملى نمونہ ہے_ ايران كا اساسى قانون اگر چہ جمہورى نظام كے تحت بنايا گيا ہے اور اس ميں عوام كى آراء شامل ہيں_ ليكن اس كے ساتھ ساتھ خدا كى حاكميت اور اسلامى تعليمات كو بھى مدنظر ركھا گيا ہے اور قومى حاكميت كو الہى حاكميت كے زير سايہ قرار ديا گيا ہے_

ولايت فقيہ اور جمہوريت ميں عدم توافق

گذشتہ سبق ميں اشارہ ہوچكاہے كہ بعض افراد'' ولايت فقيہ اور جمہوريت ''كے درميان عدم توافق كے نظريہ كے قائل ہيں در اصل اس نظريہ كى بنياد ولايت فقيہ كى ايك خاص تحليل و تفسير پرہے-_ وہ يہ كہ يہ افراد ولايت فقيہ كو بے بس ومحجور افراد كى سرپرستى كے باب سے قرار ديتے ہيں_اس نظريہ كى بناپر نظام ولايت فقيہ اورجمہوريت كى تركيب دو متضاد چيزوں كى تركيب كے مترادف ہے_ اور جس اساسى قانون ميں جمہوريت اور ولايت فقيہ كو جمع كيا گيا ہے وہ ناقبل حل مشكل سے دوچار ہے _ كيونكہ اس قانون ميں دو متضاد چيزوں كو جمع كياگيا ہے _

اسلامى جمہوريہ ايران ميں'' مجلس خبرگان رہبري''(۱) كے انتخاب كيلئے عوامى آراء كى طرف رجوع كيا جاتاہے_ اكثريت كى آراء كى طرف رجوع كرنے كا معنى يہ ہے كہ در حقيقت يہ عوام ہى ہيں جو رہبر اور ولي

____________________

۱) Assembly Of experts .


امر كا انتخاب كرتے ہے _ فقہى اصطلاح ميں وہ افراد جو ولايت فقيہ كے نظام ميں'' مولّى عليہ'' فرض كئے جاتے ہيں مثلاً ، بچے اور پاگل و غيرہ _ اگر مولّى عليہ شرعى يا قانونى طور پر اپنے ولى امر كا انتخاب خود كرے تو وہ خود بالغ اور عاقل ہے اور طبيعى طور پر وہ مولّى عليہ نہيں ہے كہ اسے ولى امر كى احتياج و ضرورت ہو _ اور اگر حقيقتاً مولّى عليہ ہے اور اسے ولى امر كى احتياج ہے تو پھر وہ خود كيسے اپنے لئے ولى امر كا انتخاب كرسكتاہے؟

جيسا كہ اس استدلال كى اصلى بنياد اس پر ہے كہ اسلامى جمہوريہ كے اساسى قانون ميں عوام كے بارے ميں تضاد پايا جاتاہے _ كيونكہ ايك طرف جمہوريت ميں يہ فرض ہے كہ عوام سمجھ بوجھ ركھتے ہيں ، صاحب اختيار ہيں اور اپنى سياسى سرنوشت كا تعين كرسكتے ہيں اور ان كى آراء اور انتخاب قابل اعتبار ہيں _ جبكہ دوسرى طرف ولايت فقيہ ميں فرض يہ ہے كہ لوگ مولى عليہ ہيں ، سمجھ بوجھ نہيں ركھتے اور انہيں اپنے امورسنبھالنے كيلئے ايك سرپرست اور ولى كى ضرورت ہے _ بنابريں عوام كے بارے ميں يہ دو فرض جمع نہيں ہوسكتے_ كيونكہ ممكن نہيں ہے كہ لوگ جس وقت رشيد اور مختار شمار كئے جارہے ہيں اسى وقت مولّى عليہ اور غير رشيد بھى ہوں_ پس اس تحليل كى بناپر اساسى قانون ميں جمہوريت اور ولايت فقيہ كى تركيب دو متضاد باتوں كا جمع كرنا ہے _

مذكورہ شبہہ كا جواب:

ولايت فقيہ اور جمہوريت ميں عدم توافق كے شبہ كا منشاء اور سبب در حقيقت ولايت فقيہ كى غلط تفسير ہے _ پندرہويں اورسولہويں سبق ميں اس نكتہ كى وضاحت ہوچكى ہے كہ ولايت فقيہ محجورو بے بس افراد پر ولايت كے باب سے نہيں ہے _ بلكہ اس ولايت كى قسم سے ہے جو رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين كو امت پر حاصل تھى _ بنابريں ولايت فقيہ كى اس صحيح تفسير كى مدد سے يہ نكتہ واضح ہو جاتاہے كہ ولايت فقيہ ميں يہ فرض


نہيں كياگيا كہ لوگ ناسمجھ اور محجورہيں پس اس لحاظ سے جمہوريت اور رائے عامہ كا احترام كرنے ميں كوئي مشكل پيش نہيں آتي_

دينى حكومت اور جمہوريت كى بحث كے آخر ميں اس بات كى وضاحت ضرورى ہے كہ اگر چہ سياسى اور اجتماعى زندگى ميں جمہوريت ايك مقبول روش ہے _ ليكن فوائدكے لحاظ سے اسكے بارے ميں مبالغہ آرائي نہيں كرنى چاہے كيونكہ يہ نئي چيز بہت سى آفات اور نقصانات كى حامل ہے _ جن ميں سے بعض كى طرف يہاں مختصر طور پر اشارہ كيا جاتاہے_

جمہوريت كى آفات

جمہوريت كى روح اور اساس يہ ہے كہ مختلف معاشرتى امور ميں لوگوں كى شركت اور رائے عامہ سے استفادہ كيا جائے_ليكن متعدد وجوہات كى بنياد پر آج جو حكومتيں جمہورى كہلاتى ہيں اس روح سے خالى ہيں_ بہت سى حكومتيں فقط نام كى حد تك جمہورى ہيں اور وہ جمہوريت فقط اس معنى ميں ہے كہ اپنے پر حكومت كرنے والوں كو يا انتخاب كرليں ياردّ كرديں_ در حقيقت يہ سياستدان ہيں جو حكومت كرتے ہيں _

جمہوريت كى ايك اور اہم مصيبت اور مشكل جو كہ اس كى تمام شكلوں ميں موجود ہے اس ميں عوام كا كردار ہے _ عوام عام طور پر سياسى اور اجتماعى مسائل كے بارے ميں غير ذمہ دارانہ رويہ ركھتے ہيں _ اپنے ذاتى امور مثلاً شادي، گھر يا گاڑى كے خريدنے ميں بہت زيادہ غور و فكر اور دقت سے كام ليتے ہيں ان كى پورى كوشش ہوتى ہے كہ مفيد ترين اور بہترين كا انتخاب كريں ليكن اجتماعى اور سياسى امور ميں كاہلى اور تساہل سے كام ليتے ہيں _اس وجہ سے جذباتى نعروں اور پروپيگنڈے كى زد ميں آجاتے ہيں اور داخلى و خارجى عوامل سے متاثر ہوجاتے ہيں_

ايك اور آفت يہ ہے كہ سياسى جماعتيں اور سياستدان جديدترين پروپيگنڈا مشينرى اور حربوں كو بروئے


كار لاكر سياسى طاقت كى تقسيم اورحكومتوں اور صاحبان قدرت پر عوامى نظارت كے سلسلے ميں رائے عامہ كى تاثير كو مشكوك بناديتے ہيں_ عالم سياست ميں رائے عامہ كم ہوتى ہے اكثر بناوٹ اور دھوكا بازى سے كام ليا جاتاہے _ موجودہ جمہوريت ميں بجائے اس كے كہ رائے عامہ ايك اساسى عامل اور متحرك قوت ہو يہ پروپيگنڈا اور مخصوص سياسى جماعتوں كى فعاليت كا نتيجہ ہوتى ہے_ ہر برٹ ماركو زہ كے بقول:

ميڈيا اور پروپيگنڈا لوگوں ميں غلط شعور پيدا كرديتے ہيں _ يعنى ايسے حالات پيدا كرديئے جاتے ہيں كہ لوگ اپنے حقيقى منافع كا اداراك نہيں كرپاتے(۱)

جديد جمہوريت كى بنيادى اور اصلى ترين مشكل يہ ہے كہ تجارت پر حاوى بڑے بڑے افراد معاشرے كے ايك چيدہ گروہ كے عنوان سے معاشروں كى اقتصاديات پر غير مرئي كنٹرول ركھنے كے علاوہ سياست كے كليدى امور پر بھى كنٹرول ركھتے ہيں_ تمام سياسى جماعتيں ان كے زير اثر ہوتى ہيں اوربہت سے موارد ميں موجود ہ لبرل جمہوريت ميں حكومتى منصوبوں ميں لوگوں كا براہ راست عمل دخل بہت كم ہے فقط نمائندوں كے ذريعہ سے ہے اور نمائندے لوگوں كے دقيق انتخاب كے بجائے پروپيگنڈے كے زير اثر اور اقتصادى طاقتوں كى غير مرئي راہنمائي پر منتخب ہوتے ہيں _ واضح سى بات ہے كہ ايسے نمائندے سب سے پہلے تجارتى پارٹيوں كے مفادات كا خيال ركھيں گے_

____________________

۱) مدلہاى دموكراسى ڈيوڈ ہلڈ، ترجمہ بزبان فارسي، عباس مخبر ، صفحہ ۳۴۷_


خلاصہ :

۱) اسلام اور جمہوريت ميں توافق و مفاہمت ممكن ہے _

۲) وہ افراد جو اسلام اور جمہوريت ميں ذاتى عدم توافق كے قائل ہيں در حقيقت ان كے پيش نظر جمہوريت كى ايك خاص تعريف ہے اور وہ'' جمہوريت اكثريت رائے ''كى حمايت كرتے ہيں_

۳) بغير كسى شرط و قيد كے'' مطلق جمہوريت''كا كوئي وجود نہيں ہے _ موجودہ دور ميں بہت سے ممالك لبرل اصولوں اور اقدار كے زير اثر جمہوريت كو تسليم كرتے ہيں _

۴) لبرل جمہوريت كے مقابلے ميں ہم اسلام كے اصولوں كے مطابق جمہوريت كو قائم كرسكتے ہيں_

۵) اسلامى جمہوريہ ايران كا نظريہ عوامى حاكميت كو الہى حاكميت كے زير اثر قبول كرنے كى ايك مثال ہے_

۶) وہ نظريہ جو ولايت فقيہ اور جمہوريت كے درميان عدم توافق كا قائل ہے اس كے پيش نظر ولايت فقيہ كى ايك خاص تعريف ہے _

۷) اگر كوئي غلط طور پر'' ولايت فقيہ كو بے بس اور محجور افراد پر ولايت ''كے باب سے قرار ديتاہے تو اسے ولايت فقيہ اورجمہوريت ميں توافق قائم كرنے ميں مشكل پيش آتى ہے _

۸)'' ولايت فقيہ ''امت پر رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين كى ولايت كے باب سے ہے_

۹) جمہوريت بہت سى مصيبتوں اور آفات سے دوچار ہے_

۱۰) جديد دور ميں جمہوريت كى عظيم ترين آفت يہ ہے كہ لوگوں كے انتخاب كے پيچھے تجارتى يونينز اور پروپيگنڈے كا ہاتھ ہوتاہے _


سوالات:

۱) اسلام اور جمہوريت كے درميان'' ذاتى عدم توافق ''كے نظريہ كا كيا جواب ہے ؟

۲) دينى حكومت جمہوريت كى كونسى تعريف كے ساتھ مطابقت ركھتى ہے ؟

۳) لبرل جمہوريت سے كيامراد ہے؟

۴) حكومت ولائي اور جمہوريت كے درميان عدم توافق كى دليل كيا ہے؟

۵) ولايت فقيہ اور عوامى قيادت كے درميان تضاد والے شبہ كا جواب كيا ہے ؟

۶) جمہوريت كو كن آفات و مشكلات كا سامناہے؟


ضميمہ جات

باسمہ تعالى

ضميمہ نمبر۱

سوال : كيا اہلسنت كے نزديك بھى ''ولايت فقيہ'' نام كى كوئي چيز ہے؟

مختصر جواب:

اہلسنت كے نزديك خود'' خلافت'' در حقيقت '' ولايت فقيہ '' كى مثل ايك چيز ہے _ ليكن كيفيت اور شرائط كے لحاظ سے مختلف ہے _ اہم ترين فرق يہ ہے كہ شيعوں كے اعتقاد كے مطابق زمانہ غيبت ميں ولايت فقيہ رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين (ع) كى حكومت كا تسلسل ہے_ ولى فقيہ بطور عام يا خاص آنحضرت(ص) كى جانب سے منصوب ہونا چاہيے_ ليكن جس خلافت كے اہلسنت قائل ہيں وہ اس طرح نہيں ہے _ تاريخ گواہ ہے كہ خود ان كے اعتقاد كے مطابق خليفہ اول كا تقرر بھى آنحضرت(ص) كى طرف سے نہيں تھا_ بلكہ ان كا تقرر بعض صحابہ كى بيعت كے نتيجہ ميں ہوا تھا_اموى اور عباسى دور ميں جو خلافت تھى اسلامى حكومت سے ذرا بھى مشابہت نہيں ركھتى تھي_

تفصيلى جواب:

انسان نے طول تاريخ ميں معاشرتى انصاف اور اپنى سياسى زندگى كيلئے مختلف نظاموں اور حكومتوں كا


تجربہ كيا ہے _ ليكن رسول خدا(ص) اور امير المؤمنين (ع) كى مختصر دورانيہ كى حكومت كے سوااس نے اپنے بنيادى اہداف اور منطقى آرزؤوں كو ان حكومتوں سے حاصل نہيں كيا _ جبكہ اسلامى نظام نظرياتى لحاظ سے اور تھيورى كى حد تك مكمل تھا اور زمانہ كى پيشرفت اور ارتقاء كے ساتھ مكمل طور پر ہم آہنگ تھا _ ليكن كيوں عملى نہ ہوا _ يہ ايك سربستہ راز ہے جس كى وضاحت كسى اور وقت پر اٹھا ركھتے ہيں_

لفظ '' ولايت فقيہ'' قديم زمانہ سے شيعہ فقہ اور كلام ميں ايك جانا پہچانا كلمہ ہے كہ جوايران ميں اسلامى جمہورى نظام كے نفاذ كے ذريعے مرحلہ عمل ميں آيا _ اور وہ نام ہے '' كائنات اور انسان پر اللہ تعالى كى حاكميت مطلقہ كى بنياد پر زمانہ غيبت ميں وسيع اسلامى سرزمين ميں امت مسلمہ كے دينى اور دنياوى امور ميں ايك زمانہ شناس ' بہادر'اور مدبر فقيہ عادل كى مكمل اور بھر پور حاكميت ''(۱)

امام خمينى فرماتے ہيں : حاكميت كى شرائط براہ راست اسلامى حكومت كى حقيقت سے پھوٹتى ہيں_ عام شرائط يعنى عقل اور تدبر كے علاوہ اس كى دوبنيادى شرطيں اور ہيں _ ايك '' قانون كا علم '' اور دوسرى ''عدالت'' اگر كسى شخص ميں يہ دو شرطيں پائي جاتى ہوں اور وہ قيام كرے وہ حكومت تشكيل دے سكتاہے اور اسے وہى ولايت حاصل ہوگى جو آنحضرت(ص) معاشرتى امور ميں ركھتے تھے اور تمام افراد پر واجب ہے كہ وہ اس كى اطاعت كريں(۲) اس وضاحت كے ساتھ شيعہ نكتہ نظر سے زمانہ غيبت ميں ولايت فقيہ در حقيقت امام معصوم (ع) كى حكومت كا تسلسل ہے اور اس وقت ولى فقيہ امام معصوم (ع) كا نائب سمجھا جاتاہے اس لحاظ سے خدا كى حاكميت، رسول خدا(ص) اور ائمہ معصومين ( عليہم السلام)كى حكومت اور زمانہ غيبت ميں ولايت فقيہ بالترتيب ايك ہى سلسلہ كى كڑياں ہے جو آپس ميں جڑى ہوئي ہيں(۳)

____________________

۱) عباس كعبى '' بررسى تطبيقى مفہوم ولايت فقيہ '' قم ، مؤسسہ انتشاراتى ظفر۰ ۱۳۸ ، ص ۴۱ _ قانون اساسى جمہورى اسلامى ايران اصل پنجم_

۲) '' ولايت فقيہ'' امام خمينى ، مؤسسہ تنظيم و نشر آثار امام خمينى ۱۳۷۳ ص ۳۷_

۳) ايضاً ص ۴۰_


اہلسنت كے نظريہ كے مطابق خلافت نام ہے جانشينى رسول (ص) كے عنوان سے دينى اور دنياوى امور ميں مكمل حاكميت كا _

ابن خلدون كہتے ہيں : خلافت نام ہے دين كى حفاظت اور سياست دنيا كيلئے صاحب شريعت كى طرف سے جانشين ہونا(۱)

ماوردى (متوفى ۴۵۰ ھ ) كہتے ہيں :

الامامة موضوعة لخلافة النبوة فى حراسة الدين و سياسة الدنيا (۲)

خلافت نام ہے دين كى حفاظت اور سياست دنيا كيلئے رسول خدا(ص) كى طرف سے جانشين ہونے كا _

اخوان الصفا كہتے ہيں : بادشاہ زمين پر خدا كے جانشين ہيں _اور دين كے پاسبان ہيں(۳) ماوردى خلافت كى تعريف كرنے كے بعد كہتے ہيں ' ' اصم'' كے علاوہ تمام علماء اسلام متفق ہيں كہ امام كى بيعت واجب ہے _البتہ اس كے وجوب كے مدرك اور دليل ميں اختلاف ہے كہ كيا وہ عقل ہے يا شرع؟ ليكن شريعت نے ''حاكميت'' ولى خدا كے حوالے كى ہے _

اللہ تعالى قرآن ميں فرماتاہے:

( يا ايها الذين آمنوا اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم ) (۴)

____________________

۱_ مقدمہ ابن خلدون ص ۱۶۶_

۲ _ '' الاحكام السلطانيہ'' على بن محمد الماوردى ، بيروت لبنان، دار الكتب الاسلاميہ ۱۹۸۵ ، ۱۴۰۵ ق ص ۵_

۳_ ''نظام حكومتى و ادارى در اسلام'' باقر شريف قرشى ترجمہ عباس على سلطانى مشہد ،بنياد پوہش ہاى اسلامى ۱۳۷۹ ص ۲۴۰_

۴_ سورہ نساء ۵۹_


اے ايمان والو خدا كى اطاعت كرو اور رسول او ر اپنے ميں سے صاحبان امر كى اطاعت كرو_

اس طرح خدا نے '' اولى الامر'' جو كہ معاشرے كے رہبر ہيں كى اطاعت ہم پر واجب قرار دى ہے _

ہشام بن عروة، ابوہريرہ سے روايت كرتے ہيں : رسول خدا(ص) نے فرمايا : ميرے بعد تم پر رہبر حكومت كريں گے _ نيك حاكم نيكى كےساتھ اور بدكردار حاكم برائي كےساتھ _ پس جو حق كے مطابق ہو اس كى اطاعت كرو _ كيونكہ اگر نيك كام كريں گے تو تمہارے اور ان كے فائدے ميں ہوں گے اور اگر برے كام انجام ديں گے تو تمہارے فائدے اور خود ان كے نقصان ميں ہوں گے(۱)

علمائے اہلسنت نے اصل خلافت كو آيت '' اولى الامر'' سے ليا ہے(۲) جبكہ تمام شيعہ علماء اور مفسرين اس بات پر متفق ہيں كہ اس آيت ميں اولى الامر سے مراد ائمہ معصومين (ع) (ع) ہيں جو كہ مادى اور معنوى رہبر ہيں _ اس كى دليل يہ ہے كہ اس آيت ميں اطاعت كو بغير كسى قيد اور شرط كے اور خدا و رسول (ص) كى اطاعت كے رديف ميں ذكر كيا گيا ہے _ لہذا ايسى اطاعت صرف معصومين(ع) كيلئے قابل تصور ہے _ جبكہ دوسرے افراد جن كى اطاعت واجب ہوتى ہے وہ محدود اور قيود و شرائط كے ساتھ ہوسكتى ہے(۳) بہر حال رہبر يا خليفہ كى شرائط بھى متفق عليہ نہيں ہيں _ ماوردى امامت كيلئے درج ذيل شرائط كو معتبر قرار ديتے ہيں _

عدالت اپنى تمام شرائط كےساتھ مرتبہ اجتہاد پر فائز ہونا

____________________

۱ _ الماوردى ص ۵_

۲_ تفسير كبير فخر الدين رازى بيروت دار الكتب العلمية ۱۴۱۱ ق ۱۹۹۰ م ج ۹ ، ۱۰ ص ۱۱۶ ، ۱۱۷، جامع البيان فى تفسير القرآن طبرى ج ۵ ص ۲۴۱ ، ۲۴۲ تفسير المنار ج۵ ص ۱۸۱_

۳ _ '' ترجمہ تفسير الميزان'' محمد حسين طباطبائي ج ۴ ص ۶۳۶_۶۶۳ سورہ بقرہ ذيل آيت ۵۹ پيام قرآن ، ناصر مكارم شيرازى و ہمكاران ج۹ ص ۵۴_


ناقص الاعضاء نہ ہو

صاحب را ے ہونا

شجاعت و بہادري

نسب يعنى امام كا تعلق قبيلہ قريش سے ہو(۱)

البتہ اكثر علمائے اہلسنت عدالت كو شرط نہيں سمجھتے(۲) چنانچہ كہتے ہيں : اولو الامر سے مراد حكام، امراء اور بادشاہ ہيں اور ہر حاكم جو حكومت حاصل كرلے اس كى اطاعت واجب ہے چاہے وہ عادل ہو يا ظالم_

تفسير المنار ميں اشارةً كہا ہے كہ بعض كا نظريہ ہے كہ آيت تمام حاكموں كى اطاعت كے متعلق ہے اور اسے واجب قرار ديتى ہے(۳) اور اس بارے ميں انہوں نے روايات بھى نقل كى ہيں(۴)

مختصر طور پر يوں كہاجاسكتاہے كہ ہمارے عقيدہ كے مطابق خلافت ''الاحكام السلطانيہ'' ميں مذكور تعريف اور خصوصيات كے پيش نظر حيات اسلامى كى ضروريات ميں سے ہے_ ليكن قابل غور نكتہ يہ ہے كہ وہ خلافت جو اموى اور عباسى دور يا حتى رحلت رسول (ص) كے بعد سامنے آئي ، حقيقى اسلامى حكومت كے ساتھ اس كا كوئي تعلق نہيں تھا_ اس دن سے خلافت ابہام كا شكار ہے _ ليكن پہلا سوال يہ ہے كہ رسول خدا(ص) كى طرف سے مقرر كردہ خليفہ كون ہے ؟ تاريخ بتاتى ہے كہ رسول خدا(ص) نے ''يوم الدار''(۵) ميں لفظ خليفہ ، نيابت اور جانشينى كے معنى ميں حضرت على (ع) كيلئے استعمال كيا تھا_

حضرت ابوبكر كى خلافت كے بارے ميں ابن خلدون كہتے ہيں : رسول خدا(ص) كى وفات كے وقت صحابہ نے پيش قدمى كى اور ان كى بيعت كرلى(۶) لہذا وہ آنحضرت(ص) كے مقرر كردہ نہيں ہيں_

____________________

۱) الماوردى ايضاًص ۶_

۲) الاردشاد ،امام الحرمين جوينى ص ۴۲۶ ، ۴۲۷ _ايضاً باقر شريف قرشى ص ۲۵۶ ، ۲۶۰ _

۳) تفسير المنار ج۵ ص ۱۸۱_

۴) صحيح مسلم ج ۳ ، كتاب الامارہ باب اطاعة الامراء و ان منعوا الحق ص ۴۷۴ ، ۴۶۷_

۵) يوم الدار وہ دن ہے جس دن رسول خدا (ص) نے حكم خدا سے اپنے رشتہ داروں كو اسلام كى دعوت دى تھى _

۶) باقر شريف القرشى ص ۲۴۶_


علاوہ برايں '' الاحكام السلطانيہ'' ميں اسلامى حاكم كى جو خصوصيات بيان كى گئي ہيں اگر انكا مصداق خارجى وجود ميں آجائے تو يہ ان صفات كے بہت قريب ہيں جو علماء شيعہ نے ولى فقيہ كے متعلق بيان كى ہيں _ سوائے قريشى ہونے كے كہ جو خالصةً اہلسنت كا نظريہ ہے _البتہ اہلسنت كے چار مذاہب كے بعض فقہاء معتقد ہيں كہ ممكن ہے خلافت اور حكومت طاقت كے زور پر حاصل كى جائے _ اور جو طاقت كے زور پر حاكم بن جائے اسكى اطاعت واجب ہے (۱) احمد ابن حنبل'' علم اور عدالت ''كو شرط نہيں سمجھتے _ اور ايك حديث نقل كرتے ہيں جس كے مطابق ہر وہ شخص جو تلوار (طاقت ) كے زور پر بر سر اقتدار آجائے وہ خليفہ اور امير المؤمنين ہے _ كسى كيلئے جائز نہيں ہے كہ اس كى امامت كا انكار كرے چاہے وہ نيك ہو يا فاسق و فاجر(۲)

ان تمام تنازعات اور اختلافات سے صرف نظر كرتے ہوئے شيعہ اور اہلسنت كے نظريات كے درميان بنيادى فرق يہ ہے كہ شيعہ معتقدہيں زمانہ غيبت ميں صرف وہى افراد حق حكومت ركھتے ہيں جو بطور خاص يا عام اس ذمہ دارى كيلئے آنحضرت(ص) كى طرف سے مقرر كئے گئے ہوں_ اصطلاح ميں اسے ولايت فقيہ كہتے ہيں يعنى اس نظريہ كے مطابق حكومت كا تعين اوپر سے ہوتاہے حتى كہ جو حق عوام كو حاصل ہے وہ خدا كى جانب سے ہے_ايك خدا پرست انسان كبھى بھى حكومت كى بنياد كے طور پر مخلوق كے ارادہ كو قبول نہيں كرسكتا جب تك وہ خالق كے ارادہ سے منسلك نہ ہو _

ليكن اہلسنت كے نظريہ كے مطابق ايسا نہيں ہے _ جيسا كہ خليفہ اول كى خلافت بھى رسول خدا (ص) كے تقرر سے نہيں تھي_ بلكہ بعض صحابہ كى بيعت كے نتيجہ ميں وجود ميں آئي تھي_ اور اسى طرز سے آگے بڑھي_

____________________

۱) ''الفقہ الاسلامى و ادلتہ ''ج ۶ ص ۶۸۲_

۲) ''الماوردي'' ص ۲۰_


باسمہ تعالى

ضميمہ نمبر ۲

سوال:ايسا معاشرہ جس ميں شيعہ ، غير شيعہ، مسلم اور غير مسلم افراد بستے ہيں اس ميں ولى فقيہ كے حكم كى حد ودكيا ہيں ؟

مختصر جواب:

حكومتى مسائل كے سلسلہ ميں وہ ولايت مطلقہ جو اللہ تعالى كى طرف سے رسول خدا (ص) كو عطا كى گئي ہے وہى حكومتى اختيارات ائمہ معصومين (ع) اور ان كے بعد فقيہ عادل كو ديئے گئے ہيں _ اور اس ميں كوئي فرق نہيں ہے_

قرآن مجيد اور شيعہ و سنى احاديث ميں غور كرنے سے معلوم ہوتاہے كہ اسلام ايسا دين نہيں ہے جو فقط عبادات اور انفرادى آداب و رسوم ميں منحصر ہو_ اور سياسى ، اجتماعى اور اقتصادى مسائل پراس كى نگاہ نہ ہو _ فقيہ كا حكم بھى خدا و رسول كا حكم ہے _ اسلام ايك عالمگير دين ہے _ فقط مسلمانوں كےساتھ مخصوص نہيں ہے _ بلكہ آيات و روايات نے صراحت كے ساتھ اس حقيقت كو بيان كيا ہے _اور اسلامى احكام دنيا كے تمام افراد كيلئے ہيں _

تفصيلى جواب:

اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين (ع) كى ولايت ، اس حكومت و ولايت كے واضح ترين مصاديق ميں سے ہے جو ہر دور و زمانہ ميں معاشرے كى ضرورت رہى ہے _ يہ ولايت اورخلافت


خداوند كريم كى طرف سے معصومين (ع) اور زمانہ غيبت ميں '' جامع الشرائط فقيہ '' كو تفويض كى گئي ہے (۱)

ولايت چاہے تكوينى ہو يا تشريعى ، اللہ تعالى كى ذات ميں منحصر ہے _اور اس حاكميت ميں كوئي بھى اس كا شريك نہيں ہے _

عقل نے ہميشہ انسان كو خدا كى اطاعت كا پابند قرار ديا ہے _اور الہى قوانين كى مخالفت كو اس كيلئے حرام قرار ديا ہے _اور يہ ولايت مطلقہ اور اطاعت ہميشہ خدا كى ذات واحدہ ميں منحصر ہے _ مگر يہ كہ خداند متعال مقام تشريع ميں ولايت كا كوئي مرتبہ كسى دوسرے كو تفويض كردے كتاب و سنت كى رو سے اللہ تعالى نے يہ ولايت انبياء اور ائمہ معصومين عليہم السلام كو عطا فرمائي ہے _

مذكورہ سوال كى وضاحت كيلئے ضرورى ہے كہ پہلے فتوى اور حكم كے دقيق معانى بيان كئے جائيں _ نيز حكم اور فتوى كے درميان موجود فرق كو واضح كيا جائے _پھر ولى فقيہ كے حكم كى حدود اور شيعہ و سنى اور مسلم غير مسلم تمام افراد كيلئے اس كى اطاعت كے لازم ہونے كى تحقيق كى جائے_ جناب عميد زنجانى كہتے ہيں لغت ميں حكم: استقرار ، ثبوت اور استحكام كو كہتے ہيں _ ليكن قرآنى اصطلاحى ميں حق كو باطل سے ممتاز كرنے ، اختلاف كو ختم كرنے اور فيصلہ كرنے كو '' حكم'' كہتے ہيں _ جبكہ فقہى اصطلاح ميں ''حكم'' كا اطلاق عام طور پر قانون الہى پر ہوتاہے _ اس كى تعريف بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں حكم نام ہے اس خطاب شرعى كا جو مكلفين كے افعال كے ساتھ مربوط ہو_ اور اس كى دو قسميں ہيں تكليفى اور وضعى(۲)

حكم اور فتوى ميں فرق

اگر حاكم يا جامع الشرائط مجتہد كسى خاص موضوع كے متعلق كوئي حكم صادر كرے تو دوسرے مجتہدين اس

____________________

۱)قال الامام حسن العسكرى (ع) فانى قد جعلته عليكم حاكما فاذا حكم بحكمنا فلم يقبله منه فانما استخف بحكم الله و علينا رد و الراد علينا الراد على الله و هو على حد الشرك بالله _ بحار الانوار ج ۲ ص ۲۲۱ ح۱_

۲) عميد زنجانى ، عباس على '' فقہ سياسي'' ج۲ ص ۱۴۸ انتشارات ۱۳۷۷_


حكم كى مخالفت نہيں كرسكتے اور تمام افراد پر چاہے وہ دوسرے مجتہدين كے مقلد ہوں اس حكم كا اتباع كرنا واجب ہوتاہے _ بلكہ يہ حكم حاكم اور دوسرے مجتہديں پر بھى حجت ہوتاہے _ جبكہ فتوى ميں اگر كوئي مجتہد كسى مسئلہ كے متعلق ايك فتوى ديتاہے تو ممكن ہے بعض ديگر مجتہدين كا فتوى اس كے خلاف ہو (۱)

ولى فقيہ كے حكم كى حدود

''مسئلہ ولايت فقيہ '' كى ايك اہم ترين بحث '' ولى فقيہ كے اختيارات كى حدود'' كے بارے ميں ہے _ كيا يہ اختيارات محدود اور نسبى ہيں ؟ يا ولى فقيہ رسول خدا(ص) كے تمام حكومتى اختيارات كا حامل ہوتاہے ؟ دوسرے لفظوں ميں حكومتى امور ميں فقيہ عادل كى ولايت رسول خدا(ص) كى ولايت كى طرح ہے ؟ يا نہ ؟ اگر چہ بعض افراد فقيہ كے اختيارات كو امور حسبيہ اورمال مجہول المالك ميں تصرف جيسے امور ميں محدود قرار ديتے ہيں _ اور فقيہ عادل كے مكمل اور مطلق اختيارات كے قائل نہيں ہيں _ بلكہ اسے نسبى سمجھتے ہيں _ ليكن اس بات كو ديكھتے ہوئے كہ فقيہ عادل ايك اسلامى حكومت كا سربراہ ہے _ لہذاضرورى ہے كہ وہ اسے بہترين طريقہ سے چلاسكتاہو_ لہذا عوام كے مصالح ، قوانين الہى اور اسلامى موازين و ضوابط كى حدود كے علاوہ ولى فقيہ كے اختيارات كى كوئي حد نہيں ہے _اسى لئے ولايت فقيہ كو ولايت مطلقہ فقيہ سے تعبير كرتے ہيں حكومتى مسائل كے سلسلہ ميں خداوند كريم كى طرف سے رسول خدا كو جو ولايت مطلقہ تفويض ہوئي ہے _ بالكل وہى حكومتى اختيارات ائمہ معصومين (ع) اور ان كے بعد فقيہ عادل كو ديئے گئے ہيں _ اور اس سلسلہ ميں كسى قسم كا كوئي فرق نہيں ہے(۲)

اسى بارے ميں امام خمينى فرماتے ہيں : يہ خيال بالكل غلط ہے كہ رسول خدا (ص) كے حكومتى اختيارات امير المؤمنين (ع) سے زيادہ تھے يا امير المؤمنين كے اختيارات كا دائرہ فقيہ كے اختيارات سے وسيع تر ہے_ البتہ رسول خدا(ص) كے فضائل تمام كائنات سے بڑھ كر ہيں_ اور ان كے بعد حضرت امير المؤمنين كے فضائل

____________________

۱) احكام تقليد و اجتہاد ، موگہى عبدالرحيم ص ۱۶۴ ، سال ۱۳۷۵_

۲) ودموكراسى در نظام ولايت فقيہ كواكبيان ، مصطفى ص ۱۲۶ انتشارات عروج سال ۱۳۷۰_


سب سے زيادہ ہيں _ ليكن معنوى فضائل كى زيادتى حكومتى اختيارات ميں اضافہ كا باعث نہيں بنتى (۱)

قرآن كريم ، شيعہ و سنى احاديث اور مختلف ابواب ميں فقہاء كے فتاوى ميں غور كرنے سے معلوم ہوتاہے كہ اسلام ايك ايسا دين نہيں ہے جو فقط عبادات اور انفرادى آداب و رسوم ميں محدود و منحصر ہو_ اور سياسى ، اجتماعى اور اقتصادى مسائل پر اس كى نگاہ نہ ہو_ خدا ، حكومت ، خاندان ، امت مسلمہ اور غير مسلم امتوں كے متعلق انسان كو اپنى پيدائشے سے ليكر زندگى كے آخرى مراحل تك جو كچھ انجام دينا ہے اس كيلئے اسلام كے پاس قوانين و ضوابط ہيں _ جيسا كہ پہلے كہا جاچكاہے كہ فقيہ كا حكم خدا اور رسول (ص) كا حكم ہے _ اور اسلام ايك عالمگير دين ہے _ فقط مسلمانوں كے ساتھ مربوط نہيں ہے _ جس طرح آيات اور روايات اس حقيقت كى وضاحت كرتى ہيں _ ہم بطور نمونہ بعض كى طرف اشارہ كرتے ہيں _

( و ما ارسلناك الا كافة للناس بشيراً و نذيراً و لكن اكثر الناس لا يعلمون ) (۲)

اور ہم نے تمہيں تمام افراد كيلئے بشارت دينے اور ڈرانے والا بناكر بھيجا ہے _ ليكن اكثر لوگ نہيں جانتے_

لفظ '' الناس'' ميں شيعہ ، سنى ، مسلمان اور غير مسلمان سب شامل ہيں _ نيز ارشاد ہوتاہے يا ايہا الناس انى رسول اللہ اليكم جميعا(۳) اے لوگوں ميں تم سب كى طرف خدا كا بھيجا ہوا ہوں _ لفظ ''الناس '' ضمير '' كم'' اور لفظ '' جميعاً'' سے معلوم ہوتاہے كہ خطاب سب لوگوں سے ہے اور سب اس ميں شامل ہيں _ آيت سے معلوم ہوتاہے كہ رسول خدا(ص) كا تعلق كسى ايك قوم ، گروہ يا قبيلہ كے ساتھ نہيں ہے بلكہ آپ (ص) خدا كى طرف سے تمام افراد كيلئے بھيجے گئے ہيں _

____________________

۱) ولايت فقيہ ، امام خمينى ص ۶۴ مؤسسہ نشر آثار امام خمينى چاپ اول ۱۳۷۳_

۲) سورة نساء ۲۸_

۳) سورة اعراف ۱۵۸_


بسم اللہ الرحمن الرحيم

ضميمہ نمبر ۳

سوال : ولى فقيہ كے ساتھ مسلمانوں كا رابطہ اور تعلق كس طرح كا ہونا چاہيئے؟

مختصر جواب:

۱ _ ولايت فقيہ كے الہى اور عوامى جواز والے نظريے كے مطابق غير مسلم ممالك ميں رہنے والے مسلمانوں پر بھى ولى فقيہ كى اطاعت واجب ہے _

۲ _ امام خمينى فرماتے ہيں : ولى فقيہ تمام صورتوں ميں ولايت ركھتاہے_ ليكن مسلمانوں كے امور كى سرپرستى اور حكومت كى تشكيل مسلمانوں كى اكثريت آرا كے ساتھ وابستہ ہے_

۳ _ جب دوسرے ممالك ميں مسلمانوں كى سرپرستى كرنے ميں كوئي مشكل در پيش نہ ہو تو پھر امت مسلمہ پر ولايت كے سلسلہ ميں كوئي ركاوٹ نہيں رہتى _

۴ _ امير المؤمنين (ع) امام اور امت كے رابطے كو مندرجہ ذيل موارد كے قالب ميں بيان فرماتے ہيں امت كے امام پر يہ حقوق ہيں خيرخواہي، حقوق كى ادائيگي، تعليم، آداب سكھانا اور امت پر امام كے حقوق ہيں بيعت پر قائم رہنا، خيرخواہى كا حق ادا كرنا اور مطيع رہنا_


تفصيلى جواب:

مذكورہ سوال كے جواب كے متعلق سب سے پہلے تو مسئلہ كے تمام مفروضات اور اس كے متعلقہ مسائل پر گفتگو كريں گے _ اور آخر ميں رابطہ كى اقسام كو مورد تحقيق قرار ديں گے_

مفروضات _ ايك اسلامى معاشرہ يا جغرافيايى حدود كے ساتھ متعين ايك اسلامى ملك جو ايك خاص سسٹم اور نظام بنام '' ولايت فقيہ'' كے تحت كام كرتاہو(۱) دوسرے لفظوں ميں ايك ايسى سرزمين جس پر اسلامى حكومت كا مكمل تسلط ہو _ اور ايك خاص حيثيت كى حامل ہو كہ جسے ہم ام القرى كہتے ہيں(۲) ام القرى كى اہم ترين اور اصلى خصوصيت يہ ہے كہ ايك تو اس سرزمين پر اسلامى حكومت قائم ہو اور دوسرا يہ كہ ام القرى كى رہبرى كا دائرہ كار تمام امت مسلمہ كى حد تك ہے _اگر چہ فى الحال سرزمين ام القرى كادائرہ كار محدود حد تك ہے(۳) ان مفروضہ موارد كى طرف ديكھتے ہوئے ولى فقيہ كے ساتھ مسلمانوں كے روابط پر بحث كرتے ہيں_

رابطہ كى اقسام

۱ _ سياسى فقہي۲ _ امت اور امام

رابطہ كى اقسام سے پہلے اسلامى ممالك كى حدود، ولايت فقيہ كے معتبر ہونے كى ادلہ اور ولايت فقيہ كے معتبر ہونے ميں بيعت كے كردار جيسے مسائل كى تحقيق كرتے ہيں از نظر اسلام امت اور اسلامى معاشرہ كى وحدت كا اصلى عامل عقيدہ كى وحدت ہے _ ليكن اس كے باوجود يہ ياد رہے كہ ايك طرف تو طبيعى اور بين الاقوامى جغرافيايى حدود كى حامل سرزمين كلى طور پر فاقد اعتبار نہيں ہے _ چنانچہ ہم ديكھتے ہيں كہ دار الاسلام جو كہ مخصوص حدود كے ساتھ مشخص ہوتاہے اسلامى فقہ ميں اس كے خاص احكام موجود ہيں _

____________________

۱) آيت اللہ مصباح يزدى '' اختيارات ولى فقيہ در خارج از مرزہا'' مجلہ '' حكومت اسلامي'' سال اول ش ۱ ص ۸۱_

۲) محمد جواد لاريجانى '' مقولاتى در استراتى ملى '' تہران مركز ترجمہ و نشر كتاب ۱۳۶۷ ص ۲۵_

۳) محمد جواد لاريجانى '' حكومت اسلامى و مرزہاى سياسي'' مجلہ '' حكومت اسلامى '' سال اول ش ۲ زمستان ۷۵ ص ۴۶ ، ۴۵_


دوسرى طرف عقيدہ كا مختلف ہونا كلى طور پراختلاف كا يقينى عامل نہيں ہے _ كيونكہ ممكن ہے :اسلامى ممالك ميں موجود غير مسلم افرا دكو اسلامى حكومت كى حمايت حاصل ہو_ اورايك طرح سے اس كے شہرى ہوں (۱) ولايت فقيہ كى مشروعيت والے نظريہ كى بناپر ممكن ہے اس كا سرچشمہ ولايت تشريعى الہى ہو يا عوامى ہو _ دوسرى صورت ميں در حقيقت '' بيعت'' ولايت فقيہ كو مشروعيت عطا كرنے ميں بنيادى كردار ادا كرتى ہے _ ولى فقيہ كے مسلمانوں كےساتھ سياسى فقہى تعلق كے بارے ميںآيت اللہ مصباح يزدى فرماتے ہيں :

اگر ہم ولايت فقيہ كى مشروعيت كے سلسلے ميں پہلے نظريہ كے قائل ہوں _ يعنى ولايت فقيہ كا سرچشمہ الہى ولايت تشريعى كو قرار ديں تو پھر اس كا فرمان ہر مسلمان كيلئے لازم الاجراء ہوگا _ پس غير اسلامى ممالك ميں رہنے والے مسلمانوں پر بھى اس كى اطاعت واجب ہوگي_

اور اگر دوسرے نظريہ كے قائل ہوں يعنى ولايت فقيہ كى مشروعيت كا سرچشمہ عوام ہوں _ تو كہہ سكتے ہيں كہ امت كى اكثريت كا انتخاب يا اہل حل و عقد اور شورى كے ممبران كى اكثريت كا انتخاب دوسروں پر بھى حجت ہے_

اس نظريہ كى بنياد پر بھى غير مسلم ممالك ميں رہنے والے مسلمانوں پر ولى فقيہ كى اطاعت ضرورى ہے چاہے انہوں نے اس كى بيعت كى ہو يا نہ(۲)

اسى كے متعلق جب امام خمينى سے فتوى پوچھا گيا كہ كونسى صورت ميں جامع الشرائط ولى فقيہ اسلامى معاشرہ پر ولايت ركھتاہے تو آپ نے فرمايا :

بسمہ تعالى _ تمام صورتوں ميں ولايت ركھتاہے _ ليكن مسلمانوں كے امور كى سرپرستى اور حكومت كى تشكيل مسلمانوں كى اكثريت آراء كےساتھ مربوط ہے كہ جس كا ذكر اسلامى جمہوريہ ايران كے قانون

____________________

۱) سابقہ مصدرآيت اللہ مصباح يزدى ص ۸۴_

۲) آيت اللہ مصباح يزدى _ اختيارات ولى فيہ در خارج از مرزہا حكومت اسلامى سال اول ش ۱ ص ۸۸، ۸۹_


اساسى ميں موجودہے _ اور جسے صدر اسلام ميں بيعت كے ساتھ تعبير كيا جاتا تھا _ روح اللہ الموسوى الخميني (۱)

اس بارے ميں آيت اللہ جوادى آملى فرماتے ہيں :

يہاں دو باتيں ہيں جو ايك دوسرے سے جدا ہونى چاہيں ايك شرعى جہت كے ساتھ مربوط ہے اور دوسرى بين الاقوامى قانون كے ساتھ _شرعى لحاظ سے كوئي مانع نہيں ہے نہ فقيہ كيلئے كہ وہ سب كاوالى ہواور نہ ہى تمام دنيا كے مسلمانوں كيلئے كہ اس كى ولايت كو تسليم كرليں _ بلكہ ايسى ولايت كا مقتضى موجودہے جس طرح مرجع كى تقليد اور قضاوت كا نافذ ہونا ہے _كيونكہ اگر ايك مرجع تقليد (مجتہد) ايك خاص ملك ميں زندگى بسر كرتاہو اور اسى ملك كا رہنے والا ہو تو اس كا فتوى دنيا ميں رہنے والے اس كے تمام مقلدين كيلئے نافذ العمل ہے _ اسى طرح جامع الشرائط فقيہ اگر كوئي فيصلہ صادر كرتاہے تو تمام مسلمانوں پر اس پر عمل كرنا واجب ہے اور اس كى مخالفت كرنا حرام ہے_

اور دوسرا مطلب يعنى بين الاقوامى قانون كے لحاظ سے جب تك كوئي رسمى تعہد او ر قانونى عہد و پيمان اس ولايت كے نافذ ہونے ميں ركاوٹ نہ بنے اور نہ ولايت فقيہ كيلئے كوئي مانع ہو اور نہ ہى دنيا كے دوسرے ممالك كے رہنے والے مسلمانوں كى سرپرستى كيلئے كوئي ركاوٹ ہو تو پھر تقليد اور فيصلے كى طرح يہ ولايت بھى واجب العمل ہوگى _ ليكن اگر كوئي قانونى اور بين الاقوامى عہد اس ولايت كے نفوذ ميں مانع بن جائے اور مخالفين عملى طور پر اس كيلئے ركاوٹ بن جائيں تو پھر فقيہ اور عوام دونوں مجبور ہيں(۲)

اب ہم رابطہ كى دوسرى قسم يعنى امت اور امام كے رابطہ پر بحث كرتے ہيں _ اور اس كيلئے يہاں ہم نہج البلاغہ سے امير المؤمنين (ع) كے كلام كا ايك ٹكڑا ذكر كرتے ہيں _امير المؤمنين قاسطين (اہل صفين) كے

____________________

۱) مصطفى كواكبيان '' مبانى مشروعيت در نظام ولايت فقيہ '' تہران عروج چاپ اول ۱۳۷۸ ص ۲۵۸ ، ۲۵۷_

۲) عبداللہ جوادى آملى '' ولايت فقيہ'' ولايت فقاہت و عدالت'' اسراء ، چاپ اول ۱۳۷۸ ، ص۴۷۸، ۴۷۹_


خلاف جنگ پر ابھارتے ہوئے لوگوں سے فرماتے ہيں :

اے لوگو ميرا تم پر ايك حق ہے او رتمہارا بھى مجھ پر ايك حق ہے _ مجھ پر واجب ہے كہ تمہارى خير خواہى سے دريغ نہ كروں_ بيت المال ميں سے جو تمہارا حق ہے اسے ادا كروں _ تمہيں تعليم دوں تا كہ جاہل نہ رہو_ اور تمہيں آداب سكھاؤں تا كہ اہل علم بنو_

اور ميرا تم پر يہ حق ہے كہ ميرى بيعت پر قائم رہو_ پوشيدہ اور علانيہ طور پر ميرى خير خواہى كا حق ادا كرو _ جب تمہيں بلاؤں تو آجاؤ اور جب حكم دوں تو اس پر عمل كرو(۱)

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۳۴_


اصطلاحات

۱) Rationality

۲) Secular Rationality

۳) Industrial Democracy

۴) Liberalism

۵) Pluralism

۶) Realism

۷) Nazism

۸) fascism

۹) Absolute choiceism

۱۰) Relativism

۱۱) Pluralism

۱۲) Individualism

۱۳) Wholism

۱۴) Political philosophy

۱۵) Strategic Studies

۱۶) Constitutionality

۱۷) Assembly Of Experts


فہرست

پہلا باب : ۴

دين اور سياست ۴

تمہيد: ۵

پہلا سبق : ۶

سياست اور اس كے بنيادى مسائل ۶

علم سياست اور سياسى فلسفہ(۱) ۸

خلاصہ ۱۳

سوالات : ۱۴

دوسرا سبق : ۱۵

اسلام اور سياست ۱۵

سياست ميں اسلام كے دخيل ہونے كى ادلّہ ۱۹

اسلام كا سياسى فلسفہ اور سياسى فقہ ۲۱

سبق كا خلاصہ : ۲۳

سوالات: ۲۴

تيسرا سبق: ۲۵

دينى حكومت كى تعريف ۲۵

حكومت اور رياست كے معاني ۲۶

دينى حكومت كى مختلف تعريفيں ۲۷

مذكورہ چار تعريفوں كا مختصر تجزيہ ۲۹


خلاصہ : ۳۱

سؤالات ۳۲

چوتھا سبق: ۳۳

سياست ميں حاكميت دين كى حدود ۳۳

حكومت اور اس كے سياسى پہلو: ۳۴

حاكميت دين كى حدود ۳۶

خلاصہ: ۳۹

سوالات : ۴۰

پانچواں سبق: ۴۱

دينى حكومت كے منكرين ۴۱

سياست سے اسلام كى جدائي ۴۳

دينى حكومت كا تاريخى تجربہ : ۴۶

خلاصہ ۴۹

سوالات : ۵۰

چھٹا سبق: ۵۱

سيكولرازم اور دينى حكومت كا انكار ۵۱

سيكولرازم كى تعريف: ۵۱

دين اور سيكولرازم ۵۵

خلاصہ : ۵۸

سوالات : ۵۹


ساتواں سبق: ۶۰

دينى حكومت كى مخالفت ميں سيكولرازم كى ادلہ -۱- ۶۰

پہلى دليل: ۶۰

اس پہلي دليل كا جواب ۶۲

خلاصہ : ۶۵

سوالات : ۶۶

آٹھواں سبق : ۶۷

دينى حكومت كى مخالفت ميں سيكولرازم كى ادلّہ -۲- ۶۷

دوسرى دليل : ۶۷

اس دوسرى دليل كاجواب: ۶۸

خلاصہ : ۷۲

سوالات : ۷۳

دوسرا باب : ۷۴

اسلام اور حكومت ۷۴

تمہيد : ۷۵

نواں سبق: ۷۶

آنحضرت (ص) اور تاسيس حكومت -۱- ۷۶

حكومت كے بغير رسالت ۷۷

پہلى دليل كا جواب ۸۰

دوسرى دليل كا جواب : ۸۲


خلاصہ : ۸۵

سوالات : ۸۶

دسواں سبق: ۸۷

آنحضرت (ص) اور تأسيس حكومت -۲- ۸۷

جابرى كے نظريئےکا جواب : ۸۹

آنحضرت (ص) كى حكومت كا الہى ہونا : ۹۱

خلاصہ : ۹۶

سوالات : ۹۷

گيا رہواں سبق: ۹۸

آنحضرت (ص) كے بعد سياسى ولايت ۹۸

اہلسنت اور نظريہ خلافت : ۱۰۰

خلاصہ : ۱۰۵

سوالات : ۱۰۶

بارہواں سبق : ۱۰۷

شيعوں كا سياسى تفكر ۱۰۷

زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى تفكر : ۱۱۲

خلاصہ : ۱۱۵

سوالات : ۱۱۶

تيرہواں سبق: ۱۱۷

سياسى ولايت كى تعيين ميں بيعت اور شورى كا كردار -۱- ۱۱۷


بيعت كا مفہوم اور اس كى اقسام : ۱۱۸

نظريہ انتخاب كى مؤيد روايات ۱۲۰

صدور روايات كا زمانہ اور ماحول: ۱۲۳

خلاصہ: ۱۲۶

سوالات ۱۲۷

چودہواں سبق: ۱۲۸

سياسى ولايت كى تعيين ميں بيعت اور شورى كا كردار -۲- ۱۲۸

ان روايات كے جدلى ہونے كى دليليں ۱۲۹

خلاصہ : ۱۳۷

سوالات: ۱۳۸

تيسرا باب: ۱۳۹

ولايت فقيہ كا معنى ، مختصر تاريخ اور ادلّہ ۱۳۹

تمہيد : ۱۴۰

پندرہواں سبق: ۱۴۱

ولايت فقيہ كا معني ۱۴۱

ولايت كى حقيقت اور ماہيت ۱۴۲

اسلامى فقہ ميں دوطرح كى ولايت ۱۴۴

خلاصہ ۱۴۶

سوالات: ۱۴۷

سولہواں سبق : ۱۴۸


فقيہ كى وكالت اور نظارت كے مقابلہ ميں ولايت انتصابي ۱۴۸

ولايت انتصابى اور وكالت ونظارت ميں فرق ۱۵۱

خلاصہ : ۱۵۵

سوالات : ۱۵۶

ستر ہواں سبق : ۱۵۷

ولايت فقيہ كى مختصر تاريخ -۱- ۱۵۷

خلاصہ: ۱۶۵

سوالات : ۱۶۶

اٹھارہواں سبق : ۱۶۷

ولايت فقيہ كى مختصر تاريخ-۲- ۱۶۷

خلاصہ : ۱۷۶

سوالات : ۱۷۷

انيسواں سبق : ۱۷۸

ولايت فقيہ، كلامى مسئلہ ہے يا فقہى ؟ ۱۷۸

كسى مسئلہ كے كلامى يا فقہى ہونے كا معيار : ۱۷۸

ولايت فقيہ كا كلامى پہلو: ۱۸۱

خلاصہ: ۱۸۵

سوالات: ۱۸۶

بيسواں سبق : ۱۸۷

ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ- ۱ - ۱۸۷


فقيہ كى ولايت عامہ كا اثبات از باب حسبہ ۱۸۸

ولايت فقيہ كى ادلّہ روائي: ۱۹۰

الف _ توقيع امام زمانہ (عجل الله تعالى فرجہ الشريف)(۱) ۱۹۱

خلاصہ : ۱۹۶

سوالات: ۱۹۷

اكيسواں سبق: ۱۹۸

ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ -۲) ۱۹۸

ب: مقبولہ عمر ابن حنظلہ(۱) ۱۹۸

ج: مشہورہ ابى خديجہ : ۲۰۵

خلاصہ : ۲۰۹

سوالات : ۲۱۰

بائيسواں سبق: ۲۱۱

ولايت فقيہ كے اثبات كى ادلّہ -۳- ۲۱۱

ولايت انتصابى كے متعلق كچھ ابہامات كا جواب : ۲۱۲

ولايت فقيہ كى تائيد ميں مزيدروايات ۲۱۵

۱_ صحيحہ قدّاح : ۲۱۵

۲_ مرسلہ صدوق : ۲۱۷

خلاصہ : ۲۲۱

سوالات : ۲۲۲

تيئيسواں سبق : ۲۲۳


ولايت فقيہ پر عقلى دليل ۲۲۳

الف: عقلى محض ب: عقلى ملفّق ۲۲۴

ولايت فقيہ پر دليل عقلى محض ۲۲۵

دليل عقلى ملفق ۲۲۷

خلاصہ : ۲۳۰

سوالات : ۲۳۱

چوتھا باب: ۲۳۲

دينى حكومت كى خصوصيات اور بعض شبہات كا جواب ۲۳۲

تمہيد: ۲۳۳

چوبيسواں سبق: ۲۳۴

فلسفہ ولايت فقيہ ۲۳۴

شرط فقاہت ميں تشكيك ۲۳۶

فقيہ كى سياسى ولايت كا دفاع: ۲۳۹

خلاصہ : ۲۴۲

سوالات : ۲۴۳

پچيسواں سبق : ۲۴۴

رہبر كى شرائط اور خصوصيات ۲۴۴

الف : فقاہت ۲۴۵

ب : عدالت ۲۴۷

ج : عقل ،تدبير ، قدرت ، امانت ۲۵۰


فقہ ميں اعلميت كى شرط ۲۵۳

خلاصہ : ۲۵۸

سوالات : ۲۵۹

چھبيسواں سبق: ۲۶۰

رہبر كى اطاعت كى حدود ۲۶۰

نظام ولايت ميں رہبر كا مقام ۲۶۰

مخالفت كى اقسام ۲۶۴

الف : مخالفت عملى ب : مخالفت نظري ۲۶۴

ولى فقيہ كى مخالفت كا امكان ۲۶۴

خلاصہ : ۲۶۹

سوالات : ۲۷۰

ستائيسواں سبق : ۲۷۱

حكومتى حكم اور مصلحت ۲۷۱

حكم كى اقسام ۲۷۲

الف : شرعى حكم ۲۷۲

ب: قاضى كا حكم ۲۷۳

ج: حكومتى حكم ۲۷۳

حكومتى حكم كے صدور كى بنياد: ۲۷۶

احكام اوّليہ اور ثانويہ: ۲۷۸

خلاصہ : ۲۸۰


سوالات : ۲۸۱

اٹھائيسواں سبق : ۲۸۲

حكومتى حكم اور فقيہ كى ولايت مطلقہ ۲۸۲

فقيہ كى ولايت مطلقہ ۲۸۵

خلاصہ: ۲۹۱

سوالات: ۲۹۲

انتيسواں سبق : ۲۹۳

دينى حكومت كے اہداف اور فرائض -۱- ۲۹۳

حقيقت حكومت از نظر اسلام ۲۹۵

دينى حكومت كے اہداف : ۲۹۹

الف: معنوى اہداف ۳۰۰

خلاصہ : ۳۰۴

سوالات : ۳۰۵

تيسواں سبق : ۳۰۶

دينى حكومت كے اہداف اور فرائض -۲- ۳۰۶

ب_ دنيوى اہداف ۳۰۷

دينى حكومت كے اہلكاروں كے فرائض ۳۱۲

۱_ تقوى الہى كى رعايت : ۳۱۲

۲_ شائستہ قيادت : ۳۱۴

۳_زہد اور سادگى : ۳۱۵


۴_اجتماعى امور ميں مساوات : ۳۱۶

۵_لوگوں سے براہ راست رابطہ : ۳۱۷

۶_فقر كا خاتمہ اور ضروريات زندگى كى فراہمي: ۳۱۸

خلاصہ : ۳۲۰

سوالات : ۳۲۱

اكتيسواں سبق : ۳۲۲

دينى حكومت اور جمہوريت -۱- ۳۲۲

جمہوريت كى حقيقت : ۳۲۳

اسلام اور جمہوريت كے در ميان ذاتى عدم توافق ۳۲۷

خلاصہ: ۳۳۰

سوالات: ۳۳۱

بتيسواں سبق: ۳۳۲

دينى حكومت اور جمہور يت – ۲- ۳۳۲

دين اور جمہوريت كے درميان توافق كا امكان ۳۳۲

ولايت فقيہ اور جمہوريت ميں عدم توافق ۳۳۴

مذكورہ شبہہ كا جواب: ۳۳۵

جمہوريت كى آفات ۳۳۶

خلاصہ : ۳۳۸

سوالات: ۳۳۹

ضميمہ جات ۳۴۰


ضميمہ نمبر۱ ۳۴۰

سوال : كيا اہلسنت كے نزديك بھى ''ولايت فقيہ'' نام كى كوئي چيز ہے؟ ۳۴۰

مختصر جواب: ۳۴۰

تفصيلى جواب: ۳۴۰

ضميمہ نمبر ۲ ۳۴۶

سوال:ايسا معاشرہ جس ميں شيعہ ، غير شيعہ، مسلم اور غير مسلم افراد بستے ہيں اس ميں ولى فقيہ كے حكم كى حد ودكيا ہيں ؟ ۳۴۶

مختصر جواب: ۳۴۶

تفصيلى جواب: ۳۴۶

حكم اور فتوى ميں فرق ۳۴۷

ولى فقيہ كے حكم كى حدود ۳۴۸

ضميمہ نمبر ۳ ۳۵۰

سوال : ولى فقيہ كے ساتھ مسلمانوں كا رابطہ اور تعلق كس طرح كا ہونا چاہيئے؟ ۳۵۰

مختصر جواب: ۳۵۰

تفصيلى جواب: ۳۵۱

رابطہ كى اقسام ۳۵۱

اصطلاحات ۳۵۵